1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

’’شرک فی الرسالۃ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والوں سے ایک سوال

'مسئلہ امکان نبوت' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ’’شرک فی الرسالۃ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والوں سے ایک سوال

    جہاں تک حضرت مسیح موعود ؑ کا تعلق ہے حضورؑنے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی سے ایک ذرّہ بھر بھی علیحدگی کو ’’خسران و تباب‘‘قرار دیا ،لیکن ذرا مندرجہ بالا حوالہ جات کو پڑھ کر پھر ان لوگوں سے جو شرک فی النبوۃ کاجھوٹا نعرہ بلند کرتے ہیں ۔ پوچھئے کہ احمدیوں کے خلاف تو ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کے بہانے سے اشتعال انگیزی اور منافرت خیزی کی مہم چلا رہے ہو ۔ لیکن قادری سلسلہ کے لوگوں کے خلاف کیوں محاذ نہیں بناتے ۔ بلکہ اُن کے ساتھ تمہاراکامل اتحاد ہے ۔ ملاحظہ ہوں حوالہ جات ذیل :۔

    ۱ ۔’’کان فی زمن الغوث رجل فاسق مصر علی الذنوب ولکن تمکنت محبۃ الغوث فی قلبہ المحجوب۔ فلما توفی دفنوہ فجاء منکر و نکیر و سئال من ربک و من نبیک و ما دینک فاجابھما فی کل سوال بعبدالقادر فجاء ھما الخطاب من الرب القدیر یا منکر و نکیر ان کان ھذا العبد من الفاسقین لکنہ فی محبۃ محبوبی السید عبدالقادر من الصادقین فلاجلہ غفرت لہ‘‘

    (مناقب تاج الالیاء و برہان الاصفیاء مطبوعہ مصر۔ القطب الربانی والغوث الصمدانی السید عبدالقادر الگیلانی مصنفہ الشیخ عبدالقادر القادری ابن محی الدین الاوطی مطبوعہ مصر صفحہ ۲۳)

    ترجمہ :۔ حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کے زمانہ میں ایک بدکا ر آدمی تھا جوگناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا تھا، لیکن اس کے دل پر حضرت غوث الاعظم کی محبت غلبہ پا چکی تھی پس جب وہ شخص مر گیا تو اسے دفن کر دیا گیا پھر اس کے پاس منکر نکیر آئے اور اس سے تین سوال کئے (۱)تیرا رب کون ہے ( ۲)تیرانبی کون ہے ( ۳)تیرا دین کونسا ہے ؟پس اس شخص نے ان تینوں سوالوں میں سے ہر سوال کاجواب ’’عبدالقادر‘‘ دیا (یعنی یہ کہا کہ میرارب عبدالقادر ہے ۔میرانبی عبدالقادر ہے اور میرا دین بھی عبدالقادر ہے ) پس رب قدیر کی طرف سے آواز آئی کہ اے منکر اور نکیر! سنو! اگرچہ یہ شخص فاسق تھا۔ لیکن یہ میرے محبوب عبدالقادر کا سچا عاشق ہے۔پس اس محبت کی وجہ سے میں نے اسے بخش دیا ہے۔‘‘

    فرمایئے! کہیں ’’شرک فی التوحید‘‘شرک فی الرسالۃاور ’’شرک فی الدین‘‘ میں کوئی کسر تو باقی نہیں رہی ۔

    ۲۔ ’’فَقََالَ لِلْعِیْسِوِیِّ اِنَّ نَبِیَّکُمْ بِاَیِّ کَلَامٍ کَانَ یُخَاطِبُ الْمَیِّتَ حِیْنَ اَحْیَائِہٖ فَقَالَ فِیْ جَوَابِہٖ کَانَ یُخَاطِبُہٗ بِقَوْلِہٖ قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ……فَقَالَ لَہُ الْغَوْثُ اِنَّ صَاحِبَ ھٰذَا الْقَبَرِ کَانَ مُغَنِّیًا فِی الدُّنْیَا اِنْ اَرَدْتَ اَنْ اُحْیِیَہٗ مُغَنِّیًا فَاَنَا مُجِیْبٌ لَکَ فَقَالَ نَعَمْ فَتَوَجَّہَ اِلَی الْقَبَرِ وَ قَالَ قُمْ بِاِذْنِیْ۔ فَانْشَقَّ الْقَبَرُ وَ قَامَ الْمَیِّتُ حَیًّا مُغَنِّیًا۔‘‘

    (کتاب مناقب تاج الاولیاء مطبوعہ مصر)

    ’’یعنی حضرت غوث الاعظم جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ نے ایک عیسائی سے بحث کے دوران میں اس عیسائی سے دریافت کیا:۔ ’’تمہارا نبی( عیسیٰ) مردوں کو کیا کہہ کر زندہ کیا کرتا تھا ؟ عیسائی نے جواب دیا ’’قم باذن اللّٰہکہہ کر۔‘‘ حضرت غوث الاعظم نے فرمایا کہ اس قبر میں مدفون شخص دنیا مین مغنّی تھا اگر تو چاہے تو میں اس کو اس طرح زندہ کر سکتا ہوں کہ یہ گاتا ہوا زندہ ہو جائے۔ عیسائی نے کہا ۔بہت اچھا کرکے دکھایئے ۔ تو حضرت غوث الاعظم نے فرمایا ’’قُمْ بِاِذْنِیْ‘‘(یعنی میرے حکم سے اٹھ!) پس قبر پھٹ گئی اور وہ مردہ گاتا ہو ا زندہ اٹھ کھڑا ہو ا۔‘‘

    گویا مسیح ناصری کو خداکے حکم سے مردے زندہ کرتے تھے ۔ مگر حضرت غوث الاعظم نے اپنے حکم سے مردہ زندہ کیا ۔

    ۳۔ ایک اور فضیلت ملاحظہ فرمایئے:۔ ’’لَمَّا عُرِجَ بِحَبِیْبِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ الْمِعْرَاجِ اسْتَقْبَلَ اللّٰہُ اَرْوَاحَ الْاَنْبِیَآءِ وَالْاَوْلِیَآءِ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ مِنْ مَقَامَاتِھِمْ لِاَجْلِ زِیَارَتِہٖ فَلَمَّا قَرُبَ نَبِیًّا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْعَرْشِ الْمَجِیْدِ رَاٰہُ عَظِیْمًا رَفِیْعًا لَا بُدَّ لِلصَّعُوْدِ اِلَیْہِ مِنْ سُلَّمٍ وَ مِرْقَاۃٍ فَاَرْسَلَ اللّٰہُ اِلَیْہِ رُوْحِیْ فَوَضَعْتُ کَتْفِیْ مَوْضِعَ الْمِرْقَاۃِ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّضَعَ قَدَمَیْہِ عَلٰی رَقَبَتَیْ سَأَلَ اللَّہَ تَعَالٰے عَنِّیْ فَاَلْھَمَہٗ ھٰذَا وَلَدُکَ اسْمُہٗ عَبْدِالْقَادِرِ‘‘ (کتاب مناقب تاج الالیاء مطبوعہ مصرصفحہ۸)

    حضرت غوث الاعظم جیلانی ؒفرماتے ہیں کہ معراج شب جب حبیب خدا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم آسمان پر تشریف لے گئے تو اﷲ تعالیٰ نے جملہ انبیاء اور اولیاء کی روحوں کو ان کے مقامات سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے استقبال و زیارت کے لیے بھیجا ۔پھر جس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عرش الٰہی کے قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ عرش الٰہی بہت بڑا اور اونچا ہے اور اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھنا مشکل ہے ۔ پس آپ کو سیڑھی کی کی ضرورت پیش آئی تویکدم اﷲ تعالیٰ نے میر ی (غوث الاعظم کی )روح کو بھیج دیا ۔ چنانچہ میں نے اپنا کندھا سیڑھی کی جگہ کر دیا پس جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم میرے کندھے پر پاؤں رکھنے لگے تو حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ سے میرے بارے میں دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے ؟ تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے اور ا س کا نام ’’عبدالقادر‘‘ ہے ۔ گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عرش الٰہی تک حضرت غوث الاعظم کی مدد سے پہنچ سکے ۔ حضرت غوث الاعظم فرماتے ہیں:۔

    ۴۔ وَمَا مِنْ نَبِیٍّ خَلَقَہٗ اللّٰہُ تَعَالٰی وَلَا وَلِیٍّ اِلَّا وَقَدْ حَضَرَ مَجْلِسِیْ ھٰذَا اَلْاَحْیَآءُ بِاَبْدَانِھِمْ وَالْاَمْوَاتُ بِاَرْوَاحِھِمْ (کتاب مناقب تاج الاولیا ء مذکور صفحہ ۴۷ مصری )کوئی ایک نبی یا ولی ایسانہیں جو میری اس مجلس میں حاضر نہ آیا ہو ان میں سے جو زندہ ہیں وہ اپنے جسموں سمیتیہاں آئے اور جو فوت ہو چکے ہیں ان کی روحیں حاضر ہوئیں ۔

    نوٹ:۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ تھے تو یقینا وہ بھی آسمان پر سے اترے کر حضرت غوث الاعظم کی مجلس میں حاضرہوئے ہوں گے ۔ پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کم از کم ایک مرتبہ تو آسمان سے نزول فرما چکے ہیں ۔ اب دوبارہ آسمان پر چڑھنے کے لئے کس نصّکی ضرورت ہے ۔ اس حاضری سے آنحضرتؐ بھی مستثنیٰ نہیں ہیں ۔

    ۵۔ حضرت غوث الاعظم ؒ فرماتے ہیں ۔ ’’ھٰذَا وُجُوْدُ جَدِّیْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا وُجُوْدَ عَبْدَالْقَادِرِ‘‘ (کتاب المناقب تاج الاولیاء مصری صفحہ ۳۵ و گلدستہ کرامات صفحہ ۸)کہ یہ میرا اپنا عبدالقادر کا وجود نہیں بلکہ میرے نانا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجود ہے ۔

    ۶۔’’ ھُوَ مُتَصَرِّفٌ فِی التَّکْوِیْنِ بِالْاِذْنِ الْمُطْلَقِ‘‘ (مناقب تاج الاولیاء مصری صفحہ ۳۰) یعنی حضرت غوث الاعظم ؒ کو ’’کُنْ فَیَکُوْن‘‘ کا تصرف حاصل ہے ۔

    ۷۔ ’’لَہٗ الْاَخْلَاقُ الْمُحَمَّدِیَّۃُ وَالْحُسْنُ الْیُوْسُفِیِّ ۔ وَالصِّدْقُ الصِّدِیْقِیُّ وَالْعَدْلُ الْعُمَرِیُّ وَالْحِلْمُ الْعُثْمَانِیُّ وَالْعِلْمُ وَالشُّجَاعَۃُ وَالْقُوَّۃُ الْحَیْدَرِیَّۃُ‘‘(مناقب تاج الاولیاء مصری صفحہ ۱۳) یعنی حضرت غوث الاعظم میں اخلاقِ محمدی، حسنِ یوسفی، صدقِ صدیقی، عدلِ عمر، حلمِ عثمان اور حضر ت علی کا علم، شجاعت اور قوت تھی ۔

    ۸۔ ’’ھُوَ فِیْ مَقَامِ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی‘‘(کتاب مناقب تاج الاولیاء صفحہ۲۸ مطبوعہ مصر) یعنی حضرت غوث الاعظم مقام دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی میں ہیں ۔

    ۹۔ حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں:۔ لوگ جانتے ہیں کہ میں ان جیسا ایک شخص ہوں اگر عالمِ غیب میں میری صفت دیکھیں تو ہلاک ہو جائیں اور فرماتے ہیں :۔

    ’’میری مثال اس دریا کی طرح ہے جس کہ نہ گہراؤ معلوم ہے نہ اوّل و آخر ،ایک نے پوچھا کہ عرش کیا ہے ؟ فرمایا میں ہو ں ’’پوچھا‘‘ کُرسی کیا ہے ؟ فرمایا ’’میں ہوں‘‘ پوچھا خدا کیا ہے ؟ فرمایا ’’میں‘‘ کہا خدا عزوجل کے برگزیدہ بندے ابراہیم ؑ و موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ ۔ محمدؐ علیہم الصلوٰۃ والسلام فرمایا ’’سب میں ہوں‘‘ کہا کہتے ہیں کہ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں جبرئیل ؑ ، میکائیل، اسرافیل،عزرائیل علیہم السلام فرمایا! وہ سب میں ہوں۔ ‘‘

    (ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء چودھواں باب صفحہ ۱۵۴، ۱۵۵ و تذکرۃ الاولیاء اردو شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز مطبع علمی پرنٹنگ پریس بار سوم صفحہ۱۲۸ )

    ب:۔ ابو یزید سے لوگوں نے کہا کہ فروائے قیامت میں خلائق لوائے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے نیچے ہوں گے کہا قسم خدا کی میرا لواء (جھنڈا )محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے لواء سے زیادہ ہے کہ خلائق اور پیغمبر میرے لواء کے نیچے ہوں گے ۔ مجھ جیسا نہ آسمان میں پائیں گے اور نہ زمین میں ۔

    (ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکر ۃ الاولیاء مطبع اسلامیہ لاہو ر بار سوم صفحہ۱۵۹ چودھواں باب )

    نوٹ:۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بایزید بسطامی مجذوب تھے ۔ کیونکہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اﷲ علیہ نے حضر ت بایزید بسطامی کے بارے میں لکھا ہے کہ بقو لِ حضرت جنید بغدادی آپ کے مقام اولیاء امت میں ایسا ہے جیسے جبرئیل کا مقام دوسرے فرشتوں میں ۔

    (کشف المحجوب مترجم اردو صفحہ ۱۲۲ شائع کردہ شیخ الٰہی بخش محمد جلال الدین ۱۳۲۲ ھ مطبع عزیزی لاہو ر
     

اس صفحے کو مشتہر کریں