1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر چھٹی دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر چھٹی دلیل

    قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے منکر ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں اوریہ بھی ایک ثبوت ہے ان کے باطل پر ہونے کا۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ فتوحات دیتا ہے اور وہ اپنے مخالفوں پر غالب رہتے ہیں۔اگر کوئی خدا نہیں تو یہ نصرت و تائید کہاں سے آتی ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرعون اور موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے:۔

    (٢٤) فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلۡأَخِرَةِ وَٱلۡأُولَىٰٓ (٢٥) إِنَّ فِى ذَٲلِكَ لَعِبۡرَةً۬ لِّمَن يَخۡشَىٰٓ

    (النٰزعٰت:۲۵۔۲۶)

    یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو اطاعت الٰہی کی نسبت کہا تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ خدا کیسا؟خدا تو میں ہوں ۔پس اﷲ تعالیٰ نے اسے اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی ذلیل کر دیا۔چنانچہ فرعون کا واقعہ ایک بیّن دلیل ہے کہ کس طرح خدا کے منکر ذلیل و خوار ہوتے رہے ہیں۔علاوہ ازیں دنیا میں کبھی کوئی سلطنت دہریوں نے قائم نہیں کی بلکہ دنیا کے فاتح اور ملکوں کے مصلح اور تاریخ کے بنانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو خدا کے قائل ہیں۔ کیا جہان کی ذلت ونکبت اور ایک قوم کی صورت میں کبھی حکومت نصیب نہ ہونا کچھ معنی نہیں رکھتا؟
     

اس صفحے کو مشتہر کریں