1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر چوتھی دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    چوتھی دلیل جو قرآن شریف سے ذاتِ باری کے متعلق ملتی ہے یہ ہے کہ

    وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَہَىٰ (٤٢) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَضۡحَكَ وَأَبۡكَىٰ (٤٣) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحۡيَا (٤٤) وَأَنَّهُ ۥ خَلَقَ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰ (٤٥) مِن نُّطۡفَةٍ إِذَا تُمۡنَىٰ (٤٦)

    (النجم:۴۳تا۴۷)

    یعنی یہ بات ہر ایک نبی کی معرفت ہم نے پہنچا دی ہے کہ ہر ایک چیز کا انتہا اﷲ تعالیٰ کی ذات پر ہی جا کر ہوتا ہے اور خواہ خوشی کے واقعات ہوں یا رنج کے وہ خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں اور موت و حیات سب اسی کے ہی ہاتھ میں ہیں۔اور اس نے مرد اور عورت دونوں کو پیدا کیا ہے ایک چھوٹی سی چیز سے جس وقت وہ ڈالی گئی۔

    ان آیات میں اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہر ایک فعل کا ایک فاعل ہوتا ہے اور ضرور ہے کہ ہر کام کا کوئی کرنے والا بھی ہو۔پس اس تمام کائنات پر اگر غور کرو گے تو ضرور تمہاری رہنمائی اس طرف ہوگی کہ سب اشیاء آخر جا کر ذات باری پر ختم ہوتی ہیں۔اور وہی انتہا ہے تمام اشیاء کی اور اسی کے اشارہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی حالت کی طرف متوجہ کرکے فرمایا کہ تمہاری پیدائش تو ایک نطفہ سے ہے اور تم جوں جوں پیچھے جاتے ہو کمزور ہی ہوتے جاتے ہو۔تم کیونکراپنے خالق ہو سکتے ہو؟جب خالق کے بغیر کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی اور انسان اپنا آپ خالق نہیں ہے کیونکہ اس کی حالت پر جس قدر غور کریں وہ نہایت چھوٹی اور ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اس حالت کو پہنچتا ہے۔اور جب وہ موجودہ حالت میں خالق نہیں تو اس کمزور حالت میں کیونکر خالق ہو سکتا تھا۔تو ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق کوئی اور ہے جس کی طاقتیں غیر محدود اور قدرتیں لا انتہا ہیں۔ غرضیکہ جس قدر انسان کی درجہ بدرجہ ترقی پر غور کرتے جائیں ۔اس کے اسباب باریک سے باریک تر ہوتے جاتے ہیں اور آخر ایک جگہ جا کر تمام دنیاوی علوم کہہ دیتے ہیں کہ یہاں اب ہمارا دخل نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کیوں ہو گیا اور وہی مقام ہے کہ جہاں اﷲ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہوتا ہے اور ہر ایک سائنس دان کو آخر ماننا پڑتا ہے کہ

    وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَہَىٰ (٤٢)
    (النجم:۴۳)

    یعنی ہر ایک چیز کی انتہا آخر ایک ایسی ہستی پر ہوتی ہے کہ جس کو وہ اپنی عقل کے دائرہ میں نہیں لا سکتے اور وہی خدا ہے۔یہ ایک ایسی موٹی دلیل ہے کہ جسے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔

    کہتے ہیں کسی نے کسی بدوی سے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے ۔اس نے جواب دیا کہ جنگل میں ایک اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہو تو میں دیکھ کر بتا دیتا ہوں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے،پھر اتنی بڑی مخلوق کو دیکھ کر کیا میں معلوم نہیں کر سکتا کہ اس کا کوئی خالق ہے۔واقعی یہ جواب ایک سچااور فطرت کے مطابق جواب ہے۔اور اس مخلوقات کی پیدائش کی طرف اگر انسان توجہ کرے تو آخر ایک ہستی کو ماننا پڑتا ہے کہ جس نے یہ سب پیدا کیا۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں