1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر پہلی دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ

    (١٤) وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ (١٥) بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا (١٦) وَٱلۡأَخِرَةُ خَيۡرٌ۬ وَأَبۡقَىٰٓ (١٧) إِنَّ هَـٰذَا لَفِى ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ (١٨) صُحُفِ إِبۡرَٲهِيمَ وَمُوسَىٰ (١٩)


    (الاعلٰی:۱۵تا۲۰)یعنی مظفر و منصور ہوگیا وہ شخص کہ جو پاک ہوا۔اور اس نے اپنے رب کا زبان سے اقرار کیا اور پھر زبان سے ہی نہیں بلکہ عملی طور سے عبادت کر کے اپنے اقرار کا ثبوت دیا،لیکن تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو حالانکہ انجام کا رکی بہتری ہی اصل بہتری اور دیرپا ہے۔اور یہ بات صرف قرآن شریف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ سب پہلی کتابوں میں یہ دعویٰ موجود ہے۔چنانچہ ابراہیم ؑو موسیٰ ؑنے جو تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اس میں بھی یہ احکام موجود ہیں ۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مخالفین قرآن پر یہ حجت پیش کی ہے۔کہ اپنی نفسانی خواہشوں سے بچنے والے خدا کی ذات کا اقرار کرنے والے اور پھر اس کا سچا فرمانبردار بننے والے ہمیشہ کامیاب و مظفر ہوتے ہیں اور اس تعلیم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ بات پہلے تمام مذاہب میں مشترک ہے۔چنانچہ اس وقت کے بڑے بڑے مذاہب مسیحی، یہودی اور کفار مکّہ پر حجت کے لئے حضرت ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کی مثال دیتا ہے کہ ان کو تو تم مانتے ہو۔انہوں نے بھی یہ تعلیم دی ہے۔پس قرآن شریف نے ہستی باری تعالیٰ کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ بھی پیش فرمایا ہے کہ کل مذاہب اس پر متفق ہیں اور سب اقوام کا مشترکہ مسئلہ ہے چنانچہ جس قدر اس دلیل پر غور کیا جائے نہایت صاف اور سچی معلوم ہوتی ہے۔

    حقیقت میں کل دنیاکے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ہستی ہے جس نے کل جہان کو پیدا کیا۔ مختلف ممالک اور احوال کے تغیّر کی و جہ سے خیالات و عقائد میں بھی فرق پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے جس قدرتاریخی مذہب ہیں سب اﷲ تعالیٰ کے وجود پر متفق اللسان ہیں۔گو اس کی صفات کے متعلق ان میں اختلاف ہو۔موجودہ مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت، یہودیت، بُدھ ازم، سکھ ازم، ہندو ازم اور عقائد زرتشی تو سب کے سب ایک اﷲ، خدا، الوہیم، پرمیشور، پرماتما، ست گُرو یا یزدان کے قائل ہی ہیں مگر جو مذاہب کہ دنیا کے پردہ سے مٹ چکے ہیں ان کے متعلق بھی آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب ایک خدا کے قائل اور معتقد تھے خواہ وہ مذاہب امریکہ کے جُداشدہ ملک میں پیدا ہوئے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں، خواہ روما میں،خواہ انگلستان میں ۔خواہ جاوا اور سماٹرا میں،خواہ جاپان و چین میں، خواہ سائبیریا و منچوریا میں ۔یہ اتفاق مذاہب کیونکر ہوااور کون تھا جس نے امریکہ کے رہنے والے باشندوں کو ہندوستان کے عقائد سے آگاہ کیا؟پہلے زمانہ میں ریل و تار و ڈاک کا یہ انتظام تو تھا نہیں جو اَب ہے۔نہ اس طرح جہازوں کی آمدورفت کی کثرت تھی۔گھوڑوں اور خچروں وغیرہ کی سواری تھی اور بادبانی جہاز آجکل کے دنوں کا سفر مہینوں میں کرتے تھے۔اور بہت سے علاقے تو اس وقت دریافت بھی نہ ہوئے تھے۔پھر ان مختلف المذاق اور مختلف الرسوم اور ایک دوسرے سے ناآشناممالک میں ایک عقیدہ پر کیونکر اتفاق ہو گیا؟مَن گھڑت ڈھکونسلوں میں تو دو آدمیوں کا اتفاق ہونا مشکل ہوتا ہے۔پھر کیا اس قدر قوموں اور ملکوں کا اتفاق جو آپس میں کوئی تبادلۂ خیالات کے ذرائع نہ رکھتی تھیں اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ عقیدہ ایک امر واقعہ ہے اور کسی نامعلوم ذریعہ سے جسے اسلام نے کھول دیا ہے ہر قوم اور ہر ملک میں اس کا اظہار کیا گیا ہے۔اہل تاریخ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ پر مختلف اقوام کے مؤرخ متفق ہو جائیں اس کی راستی میں شک نہیں کرتے۔پس جب اس مسئلہ پر ہزاروں لاکھوں قوموں نے اتفاق کیا ہے تو کیوں نہ یقین کیا جائے کہ کسی جلوہ گر کو دیکھ کر ہی سب دنیا اس خیال کی قائل ہوئی ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں