1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر سترھویں دلیل (از خادم صاحب)

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 30, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر سترھویں دلیل (از خادم صاحب)

    ہمارا روزمرّہ کا تجربہ ہے کہ انسان کسی چیز کے اجزاء اور مرکّبات سے جتنا واقف ہو اس چیز کے مستقبل کے متعلق بھی اتنا ہی اس کو علم ہوتا ہے۔مثلاً ایک گھڑی ساز ایک گھڑی بناتا ہے ۔وہ چونکہ اس کے اجزاء اور مرکّبات سے واقف ہے اس لئے وہ بتا سکتا ہے کہ وہ گھڑی کتنا عرصہ کام دے گی۔مگر چونکہ انسان اپنا خالق نہیں اس لئے اپنے وجود کے اجزاء اور دنیا کی اشیاء کی ماہیّت کامل طور پر نہیں جانتا۔اس لئے عالم الغیب بھی نہیں ۔لیکن اگر کوئی ایسی ہستی ہو جو آئندہ کے تمام حالات جانتی ہو تو یقیناً وہ خالق دنیا (خدا) ہوگی۔خدا تعالیٰ اپنے انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے (جو بو جہ انسان ہونے کے بذاتِ خود غیب نہیں جانتے) مگر خدا تعالیٰ اُن پر آئندہ کی خبریں کھولتا ہے (الجن:۲۷،۲۸) اور اس طریق سے اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔دیکھو آنحضرت ﷺکو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل بتایا تھا کہ

    فَٱلۡيَوۡمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ ءَايَةً۬‌ۚ وَإِنَّ كَثِيرً۬ا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَايَـٰتِنَا لَغَـٰفِلُونَ (٩٢) (یونس:۹۳)

    کہ فرعون کے ساتھ جب وہ ڈوب رہا تھا خدا نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کا جسم محفوظ رہے گا۔تورات نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ فرعون بمع اپنے رتھ کے سمندر میں پتھر کی طرح غرق ہو گیا لیکن قرآن نے بتایا کہ اس کی لاش محفوظ ہے ۔چنانچہ ہمارے زمانہ میں اس کا محفوظ جسم برآمد ہونا قرآن کی صداقت اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر زبردست دلیل ہے۔اسی طرح چاند، سورج کو رمضان کے مہینہ میں ۱۳؍اور ۲۸؍تاریخ کو گرہن لگنا اور اس کا امام مہدیؑ کی صداقت پر گواہ ہونا اور پھر اس نشان کا حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے زمانہ ۱۸۹۴ء میں بعینہٖ پورا ہو جانا خدا کی ہستی اور آنحضرت ؐ کی صداقت پر بُرہان قاطع ہے۔

    (سنن دار قطنی جلد دوم باب صفۃ صلوٰۃ الخسوف والکسوف وَھَیئتُھما صفحہ ۱۸۸۔مطبع انصاری دہلی ۱۳۱۰ھ)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں