1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر ساتویں دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر ساتویں دلیل


    ساتویں دلیل اﷲ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ہے کہ اس کی ذات کے ماننے اور اس پر حقیقی ایمان رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی۔خدا تعالےٰ کی ہستی کے منوانے والے ہر ایک ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور جس قدر ان کی مخالفت ہوئی ہے اتنی اور کسی کی نہیں ہوئی لیکن پھر دنیا ان کے خلاف کیا کر سکی؟رامچندرکو بَن باس دینے والوں نے کیا سکھ پایا اور انہوں نے کونسی عشرت حاصل کر لی۔کیا رامچندر کا نام ہزاروں سال کے لئے زندہ نہیں ہو گیا اور ان کا نام ہمیشہ کے لئے بدنا م نہیں ہوا؟اور پھر کرشن کی بات کو رد کر کے کیا فائدہ حاصل کیا؟کیا وہ کرو چھتر کے میدان میں تباہ نہ ہوئے؟فرعون سا بادشاہ جو بنی اسرائیل سے اینٹیں پتھواتا تھا اس نے موسیٰ ؑ سے بے کس انسان کی مخالفت کی مگر کیا موسیٰ ؑکاوہ کچھ بگاڑ سکا۔ وہ غرق ہوگیا اور موسیٰ ؑبادشاہ ہوگئے۔ حضرت مسیحؑ کی دنیا نے جو کچھ مخالفت کی وہ بھی ظاہر ہے اور ان کی ترقی بھی جو کچھ پوشیدہ نہیں۔ان کے دشمن تو تباہ ہوئے اور ان کے غلام دنیا کے بادشاہ ہوگئے۔ہمارے آقا ؐبھی دنیا میں سب سے زیادہ اس پاک نام کے پھیلانے والے تھے۔یہاں تک کہ ایک یورپ کا مصنف کہتا ہے کہ ان کو خدا کا جنون تھا(نعوذ باﷲ)ہر وقت خدا خدا ہی کہتے رہتے تھے۔اُن کی سات قوموں نے مخالفت کی ۔ اپنے پرائے سب دشمن ہوگئے مگر کیا پھر آپ کے ہاتھ پر دُنیا کے خزانے فتح نہیں ہوئے؟اگر خدا نہیں تو یہ تائید کس نے کی؟اگر یہ سب کچھ اتفاق تھا تو کوئی مبعوث تو ایسا ہوتا جو خدا کی خدائی ثابت کرنے آتا اور دنیا اسے ذلیل کر دیتی۔مگر جو کوئی خدا کے نام کو بلند کرنے اٹھاوہ معزز و ممتاز ہی ہوا چنانچہ اﷲ تعالےٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ:

    وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَـٰلِبُونَ (٥٦)

    (المائدۃ:۵۷)

    اور جو کوئی اﷲ اور اس کے رسول ؐاور مومنوں سے دوستی کرتا ہے ۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہی لوگ خدا کے ماننے والے ہی غالب رہتے ہیں۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں