1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر دوسری دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    دوسری دلیل جو قرآن شریف میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق دی ہے۔ان آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ

    وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَـٰهَآ إِبۡرَٲهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ‌ۚ نَرۡفَعُ دَرَجَـٰتٍ۬ مَّن نَّشَآءُ‌ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ۬ (٨٣) وَوَهَبۡنَا لَهُ ۥۤ إِسۡحَـٰقَ وَيَعۡقُوبَ‌ۚ ڪُلاًّ هَدَيۡنَا‌ۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُ‌ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُ ۥدَ وَسُلَيۡمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ‌ۚ وَكَذَٲلِكَ نَجۡزِى ٱلۡمُحۡسِنِينَ (٨٤) وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلۡيَاسَ‌ۖ كُلٌّ۬ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (٨٥)وَإِسۡمَـٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطً۬ا‌ۚ وَڪُلاًّ۬ فَضَّلۡنَا عَلَى ٱلۡعَـٰلَمِينَ (٨٦)

    (الانعام:۸۴تا۸۷)

    پھر کچھ آیات کے بعد فرمایا کہ :

    أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ‌ۖ فَبِهُدَٮٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡ‌ۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا‌ۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَـٰلَمِينَ (٩٠)

    (الانعام:۹۱)
    یعنی یہ ایک دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابل میں دی اورہم جس کے درجات چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں۔تحقیق تیرا رب بڑا حکمت والا اور علم والا ہے اور ہم نے اسے اسحق ؑ اور یعقوب ؑ دیئے۔ہر ایک کو ہم نے سچا راستہ دکھایا اور نوحؑ کو بھی ہم نے سچا راستہ دکھایا ان سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد ؑ اور سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو بھی اور ہم نیک اعمال میں کمال کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا کرتے ہیں ۔اور زکریاؑ،یحییٰ ؑ، عیسیٰ ؑاور الیاسؑ کو بھی راستہ دکھایااور یہ سب لوگ نیک تھے۔ اور اسمٰعیل ؑ، الیسعؑ، یونس ؑ اور لوط ؑ کو بھی راستہ دکھایا اور ان سب کو ہم نے اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی تھی اور پھر فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے کہ جن کو خدا نے ہدایت دی۔پس تو ان کے طریق کی پیروی کر۔ان آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس قدر نیک اور پاک لوگ جس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ مانی جائے یا وہ بات جو دوسرے ناواقف لوگ کہتے ہیں اور اپنے چال چلن سے ان کے چال چلن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔سیدھی بات ہے کہ انہی لوگوں کی بات کو وقعت دی جائے گی جو اپنے چال چلن اور اپنے اعمال سے دنیا پر اپنی نیکی اور پاکیزگی اور گناہوں سے بچنا اور پرہیز کرنا ثابت کر چکے ہیں۔پس ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ وہ انہی کا تتبّع کرے اور ان کے مقابل میں دوسرے لوگوں کی بات کا انکار کر دے ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر نیکی اور اخلاق کے پھیلانے والے لوگ گزرے ہیں اور جنہوں نے اپنے اعمال سے دنیا پر اپنی راستی کا سکّہ بٹھا دیا تھا وہ سب کے سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک ایسی ہستی ہے جسے مختلف زمانوں میں اﷲ یا گارڈیا پرمیشورلکھا گیا ہے۔ہندوستان کے راستباز رامچندرؑ،کرشنؑ۔ ایران کا راستباز زرتشتؑ۔مصر کا راستباز موسیٰؑ ۔ناصرہ کا راستباز مسیحؑ۔ پنجاب کا ایک راستباز نانکؒ۔ پھر سب راستبازوں کا سرتاج عرب کا نور محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جس کو اس کی قوم نے بچپن ہی سے صادق کا قول دیا اور جو کہتا ہے کہ (یونس:۱۷)میں نے تم میں اپنی عمر گزاری ہے کیا تم میرا کوئی جھوٹ ثابت کر سکتے ہو؟اور اس کی قوم کوئی اعتراض نہیں کر سکتی اور ان کے علاوہ اور ہزاروں راستباز جو وقتاً فوقتاًدنیا میں ہوئے ہیں یک زبان ہو کر پکارتے ہیں کہ ایک خدا ہے اور یہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے ملاقات کی اور اس سے ہم کلام ہوئے۔بڑے سے بڑے فلاسفر جنہوں نے دنیا میں کوئی کام کیا ہو وہ ان میں سے ایک کے کام کا ہزارواں حصہ بھی پیش نہیں کر سکتے۔بلکہ اگر ان لوگوں اور فلاسفروں کی زندگی کا مقابلہ کیا جائے تو فلاسفروں کی زندگی میں اقوال سے بڑھ کر افعال کے باب بہت ہی کم نظر آئیں گے۔وہ صدق و راستی جو انہوں نے دکھلائی وہ فلاسفر کیوں نہ دکھلا سکے؟وہ لوگوں کو راستی کی تعلیم دیتے ہیں مگر خود جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتے لیکن اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کا میں نام اوپر لے چکا ہوں صرف راستبازی کی خاطرہزاروں تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے ہیں لیکن کبھی ان کا قدم اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ان کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے ، ان کو وطنوں سے خارج کیا گیا، ان کو گلیوں اور بازاروں میں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی،ان سے کُل دنیا نے قطع تعلق کر لیا مگر انہوں نے اپنی بات نہ چھوڑی اور کبھی نہ کیا کہ لوگوں کی خاطر جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بچا لیتے اور ان کے عمل نے، ان کی دنیا سے نفرت نے ،نمائش سے علیحدگی نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ بے غرض تھے اور کسی نفسانی غرض سے کوئی کام نہ کرتے تھے۔پھر ایسے صادق ایسے قابل اعتبار یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کی ۔اس کی آواز سنی اور اس کے جلوے کا مشاہدہ کیا تو ان کے قول کا انکار کرنے کی کسی کے پاس کیا و جہ ہے۔جن لوگوں کو ہم روز جھوٹ بولتے سنتے ہیں وہ بھی جب چند ملکر ایک بات کی گواہی دیتے ہیں تو ماننا ہی پڑتا ہے ۔جن کے احوال سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں وہ اخباروں میں اپنی تحقیقاتیں شائع کرتے ہیں تو ہم تسلیم کرلیں گے مگر نہیں مانتے تو ان راستبازوں کا کلام نہیں مانتے ۔دنیا کہتی ہے کہ لنڈن ایک شہر ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔جغرافیوں والے لکھتے ہیں کہ امریکہ ایک براعظم ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔سیّاح کہتے ہیں کہ سائبیریا ایک وسیع اور غیر آباد علاقہ ہے اور ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔کیوں؟اسی لئے کہ بہت سے لوگوں کی گواہی اس پر ہوگئی ہے حالانکہ ہم ان گواہوں کے حالات سے واقف نہیں کہ وہ جھوٹے ہیں یا سچے۔مگر اﷲ تعالیٰ کے وجود پر عینی گواہی دینے والے وہ لوگ ہیں کہ جن کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔انہوں نے اپنے مال و جان ،وطن،عزت و آبرو کو تباہ کرکے راستی کو دنیا میں قائم کیا۔پھر ان سیاحوں اور جغرافیہ والوں کی بات کو ماننا اور ان راستبازوں کی بات کا انکار کرنا کہاں کی راستبازی ہے۔اگر لنڈن کا وجود چند لوگوں سے سن کر ثابت ہو سکتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کا وجود ہزاروں راستبازوں کی گواہی پر کیوں ثابت نہیں ہو سکتا؟

    غرضیکہ ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی رد کے قابل نہیں ہو سکتی۔تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب بالاتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانو ہماری مانو کہ خدا نہیں ہے۔حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دو برابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کو دیکھا اس کی گواہی کو اس کی گواہی پر جو کہتا ہے میں نے اس چیز کو نہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی۔کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں