1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر تیسری دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تیسری دلیل جو قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی فطرت خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہے کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ جن کو فطرت انسانی قطعی طور پر ناپسند کرتی ہے، ماں، بہن اور لڑکی کے ساتھ زنا،پاخانہ ،پیشاب اور اس قسم کی نجاستوں سے تعلق ہے ۔جھوٹ ہے۔ یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے ایک دہریہ بھی پرہیز کرتا ہے۔مگر کیوں؟اگر کوئی خدا نہیں تو کیوں وہ اپنی ماں، بہن اور دوسری عورتوں میں فرق جانتا ہے۔جھوٹ کو کیوں برا جانتا ہے؟کیادلائل ہیں کہ جنہوں نے مذکورہ بالا چیزوں کو اس کی نظر میں بدنما قرار دیا ہے اگر کسی بالائی طاقت کا رعب اس کے دل پر نہیں تو وہ کیوں ان سے احتراز کرتا ہے؟اس کے لئے تو جھوٹ اور سچ ،ظلم اور انصاف سب ایک ہی ہونا چاہئے۔ جو دل کی خوشی ہوئی کر لیا۔وہ کون سی شریعت ہے جو اس کے جذبات پر حکومت کرتی ہے۔وہ خداکی حکومت ہے جس نے دل پر اپنا تخت رکھا ہے اور گو ایک دہریہ زبان سے اس کی حکومت سے نکل جائے لیکن وہ اس کی بنائی ہوئی فطرت سے باہر نہیں نکل سکتا۔اور گناہوں سے اجتناب یا ان کے اظہار سے اجتناب اس کے لئے ایک دلیل ہے کہ کسی بادشاہ کی جواب دہی کا خوف جو اس کے دل پر طاری ہے گو وہ اس کی بادشاہت کا انکار ہی کرتاہے۔

    قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

    لَآ أُقۡسِمُ بِيَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ (١) وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ (٢)

    (القیامۃ :۲،۳)

    یعنی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ خدا ہے نہ کوئی جزا سزاہے ۔ایسا نہیں بلکہ ہم ان امورکی شہادت کے لئے دو چیزیں پیش کرتے ہیں ۔ایک تو اس بات کو کہ ہر بات کے لئے ایک قیامت کا دن مقرر ہے جس میں اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بد مل جاتا ہے۔اگر خدا نہیں تو یہ جزا سزا کیونکر مل رہی ہے اور جو لوگ قیامت کُبریٰ کے منکر ہیں وہ دیکھ لیں کہ قیامت تو اس دنیا سے شروع ہے۔زانی کو آتشک و سوزاک ہوتا ہے ۔شادی شدہ کو نہیں ہوتا۔حالانکہ دونوں ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں ۔دوسری شہادت نفس لوّامہ ہے ۔یعنی انسان کا نفس خودایسے گناہ پر ملامت کرتا ہے کہ یہ بات بری ہے اور گندی ہے۔دہریہ بھی زنا اور جھوٹ کو برا جانیں گے۔تکبر اور حسد کو اچھا نہ سمجھیں گے مگر کیوں ؟ان کے پاس تو کوئی شریعت نہیں ۔اسی لئے نا کہ ان کا دل برا مناتا ہے اور دل اسی لئے برا مناتا ہے کہ مجھے اس فعل کی ایک حاکم اعلیٰ کی طرف سے سزا ملے گی۔گو وہ لفظوں میں اسے ادا نہیں کرسکتا۔اسی کی تائید میں ایک اور جگہ قرآن شریف میں ہے کہ

    فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَٮٰهَا (٨)

    (الشمس:۹)

    اﷲ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الہام کر دیا ہے۔پس نیکی بدی کا احساس خود خدا کی ایک زبردست دلیل ہے اگر خدا نہیں تو کوئی و جہ نہیں کہ ایک چیز کو نیک اور ایک کو بد کہا جائے۔اور لوگ جو دل میں آئے وہ کر لیا کریں۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں