1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر آٹھویں دلیل

'ہستی باری تعالیٰ کے دلائل' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جون 29, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر آٹھویں دلیل

    آٹھویں دلیل جو قرآن شریف سے اﷲ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بات کسی خاص زمانہ کے متعلق نہیں ہے بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نظارے موجودہوتے ہیں ۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ :

    وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌ‌ۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ‌ۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِى وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِى لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ (١٨٦)

    (البقرۃ:۱۸۷)

    یعنی جب میرے بندے میری نسبت سوال کریں تو انہیں کہہ دو کہ میں ہوں اور پھر قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ کیونکر معلوم ہوکہ وہ خدا سنتا ہے۔کیوں نہ کہا جائے کہ اتفاقاًبعض دعا کرنے والے کے کام ہو جاتے ہیں۔جیسے بعض کے نہیں بھی ہوتے اگر سب دعائیں قبول ہوجاتیں تب تو کچھ بات بھی تھی لیکن بعض کے قبول ہونے سے کیونکر معلوم ہو کہ اتفاق نہ تھا بلکہ کسی ہستی نے انہیں قبول کر لیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اپنے ساتھ ایک نشان رکھتی ہے۔چنانچہ ہمارے آقا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام نے ثبوتِ باری کی دلیل میں یہ پیش کیا تھا کہ چند بیمار جو خطرناک طور سے بیمار ہوں چُنے جائیں اور قرعہ سے بانٹ لئے جائیں اور ایک گروہ کا ڈاکٹر علاج کریں اور ایک طرف میں اپنے حصہ والوں کے لئے دعا کروں۔پھر دیکھو کہ کس کے بیمار اچھے ہوتے ہیں۔اب اِس طریق امتحان میں کیا شک ہو سکتا ہے چنانچہ ایک سگ گزیدہ جسے دیوانگی ہو گئی تھی اور جس کے علاج سے کسولی کے ڈاکٹروں نے قطعاً انکار کر دیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ۔اس کے لئے آپ نے دعا کی اور وہ اچھا ہو گیا۔حالانکہ دیوانہ کتّے کے کٹے ہوئے دیوانے ہو کر کبھی اچھے نہیں ہوتے ۔پس دعاؤں کی قبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انہیں قبول کرتی ہے اور دعاؤں کی قبولیت کسی خاص زمانہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔جیسے پہلے زمانہ میں دعائیں قبول ہوتی تھیں ویسی ہی اب بھی ہوتی ہیں۔
     
    ابصار بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں