1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

کفارہ کی تائید میں مسیحیوں کے حوالجات کی تردید

'عیسائیت ۔ مسیحیت' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 6, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    کفارہ کی تائید میں حوالجات کی تردید جو یسوعیوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں

    (۱)’’اچھا گڈریا میں ہوں۔ اچھا گڈریا بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے۔‘‘

    (۲)’’یسوع کے صلیب دیئے جانے کا دن قریب آیا تو ایک دن روٹی کھانے کے وقت روٹی اور انگور کا رس جماعت میں تقسیم کرتے ہوئے کہا ۔کھاؤ یہ میرا بدن ہے اور پیو، یہ میرا لہو ہے۔

    ابطال: ۔ ۱۔ آدم سے زیادہ گنہگا ر حوا تھی۔ اس لئے جو صرف عورت سے پیدا ہوا وہ زیادہ گنہگار ہوا تو قربان کیسے ہوا؟ قربان تو معصوم ہو سکتا ہے بقول شما (دیکھو توریت۔کہ سانپ نے بہکا کر حوا کو دانہ کھلایا جس پر حوا نے آدم کو بہکایا ۔ (پیدائش ۱۳؍۳)

    ۲۔ انجیل میں لکھا ہے کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے قبل یوحنا اور زکریا مع اپنی بیوی کے نہایت پاک راستباز تھے۔ ثابت ہوا کہ کفارہ پر ایمان لائے بغیر بھی آدمی راستبازہو سکتاہے۔ کفارہ ضروری نہ رہا۔ نیز یسوع سے پہلے جتنے انبیاء تھے ا ن کی نجات کس طرح ہوئی؟

    الف۔ ’’زکریا اور اس کی بیوی وہ دونوں خداوند کے حضور راستباز اور خداوندکے سارے حکموں اور قانونوں پر بے عیب چلنے والے تھے۔‘‘ (لوقا۵،۱/۶)

    ب۔ ’’یو حنا خداوند کے حضور بزرگ۔‘‘ (لوقا ۱/۱۵)

    ج۔ ’’یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں۔‘‘ (متی ۱۱/۱۱)

    د۔ ’’یوحنا نبی سے بھی بڑا تھا۔‘‘ (لوقا ۷/۲۷)

    ۳۔ اگر کفارہ صحیح ہو تو لازم آتا ہے کہ یہودا اسکریوطی مسیح کے پکڑوانے والے کو جزائے خیر ملے اور نجاتِ ابدی کو پہنچے۔

    ۴۔ یہ عدل نہیں کہ گنہگار دنیا میں اچھی طرح گناہ کریں اور عاقبت کو بھی جنت میں داخل ہوں۔ اور ان کے عوض حضرت مسیح بے گناہ صلیب پر چڑھائے جائیں اور دوزخ میں بھی رہیں۔ غرض یہ ظلم ہے۔

    ۵۔ اگر حضر ت عیسیٰ اپنی خوشی سے کفارہ قبول کرتے تو صلیب پر کیوں پکار پکار کر کہتے کہ ایلی ایلی لما سبقتانی یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ معلوم ہوا کہ جبراً صلیب دیا گیا۔ پس وہ کفارہ گناہوں کا کیسے ہوئے؟ (متی ۲۷/۴۶)

    ۶۔ جب مسیح نے سب گناہ اٹھا لئے تو گویا وہ مجموعہ گنا ہوں کا ہوئے۔ پس گناہ گار آدمی اپنے گناہوں سے عذاب ابدی میں رہے گا۔ تو کیا حال ہے اس کا جس نے سب کے گناہ اٹھا ئے۔

    ۷۔ بتقدیر تسلیم کفارہ انبیاء جو پہلے مسیح سے گزرے ہیں لازم آتا ہے کہ کفارہ کے بغیر دوزخ میں رہے ہوں۔ کیونکہ تب تک کفارہ نہ ہو ا تھا ۔

    ۸۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کفارہ سب کا ہو ا ہے یا کہ موجودین کا ۔بر تقدیر ثانی آئندہ اور گزشتہ کے واسطے نیا کفارہ چاہیے ۔بر تقدیر اوّل جب لوگ اور گناہ پیدا نہ ہوئے تھے تو ان کے گناہ کیونکر ایک شخص نے اٹھا لئے؟

    ۹۔ جب مسیح نے سب گناہ اٹھا لئے تو وہ گویا اوّل نمبر پر گنہگاروں میں سے ہوئے۔ پس محتاج ہوئے طرف کسی منجی کے۔ کیونکہ بجز منجی کے نجات ممکن نہیں۔ پس وہ بھی محتاج کفارہ کا ہو گا اور تسلسل لازم آئے گا۔

    ۱۰۔ کفارہ لازم آتا ہے کہ قاتل اور چور وغیرہ مجرموں کو پھانسی کی سزا نہ دی جائے ۔ حالانکہ مسیحی لوگ سزا دیتے اور لیتے بھی ہیں۔

    ۱۱۔ جب کفارہ ہو گیا ۔ تو نیکی کرنے کی کیا حاجت رہی۔ باوجود اس کے مسیح نے چالیس روزے رکھے اور حواری بھی پا بندی نیکی کی کرتے رہے۔

    ۱۲۔ اگر مسیح نے گناہ اٹھائے بھی ہیں تو لازم آتا ہے کہ امور غیر متناہی واقع ہو ں۔

    ۱۳۔ مسیح اگر کفارہ ہو نے کو آئے تھے تو آتے ہی کفارہ کیوں نہ ہوئے ۔ بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ خلقت کو نصیحت کرنے آئے تھے۔ (لوقا ۳/۱۸)

    ۱۴۔ اس کفارہ کے ہونے سے معافی گناہ کی تو نہیں ہوئی بلکہ زیادتی وقوع میں آئی ہے کیونکہ یہودی مسیح کی تحقیر کرنے کے باعث مستحق عذاب کے ہوئے ۔

    ۱۵۔ اگر کفارہ موافق مرضی خدا کے ہوتا تو علامت رحمت ظاہر ہوتیں حالانکہ چار انجیلوں سے ثابت ہے کہ بعد ُسولی کے اس طرح کی علامت خدا کے قہر کی ظاہر ہوئیں کہ کبھی نہ ہوئی ہوں گی۔مثلاً جہان میں اندھیرا ہو جانا اور مردوں کا قبروں سے نکلنا، زمین کا کانپنا ، ہیکل کا پر دہ پھٹ جانا۔ وغیرہ وغیرہ

    ۱۶۔ جبکہ باقرار مسیحیان حضرت عیسیٰ جزو خدا ہیں تو یہ ظاہر ہے کہ صلیب پر کھینچنے والا انسان تھا۔ پس اس سے غلبہ مخلوق کا خالق پر پایا جاتا ہے ۔

    ۱۷۔ کفارہ کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ کسی بخشش کرنے والے کی حاجت نہ رہے۔ حالانکہ کتاب اعمال میں موجودہے کہ حواریین بخشیش دیتے تھے ۔ اور مسیح حواریوں کو فرماتے تھے کہ جس کو تم بخشو گے وہ بخشا جائے گا ۔

    ۱۸ ۔ اناجیل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ قیامت کو عدالت کریں گے۔ اگر یہ سچ ہے تو بطلان کفارہ میں کیا پیچ ہے ۔

    ۱۹۔ ہر ایک فرقے پر اطاعت و تقلید پیشوا ا پنے کی لازم ہے۔ پس اگر مسیح مصلوب ہوئے تو عیسائی کیوں صلیب پر نہیں چڑھتے۔

    ۲۰۔ اعتقاد کفارہ سے تحقیر شان متصور ہے۔ یہ تحقیر ان کے پیرو پولو س بھی کرتے رہے۔ قطع نظر مخالف کے۔ چنانچہ گلتیوں کے خط میں لکھا ہے جو سولی دیا گیا وہ *** ہے۔ (گلتیوں ۳/۱۳) مصلوب خدا کا ملعون ہوتا ہے ۔ (استثنا ۲۱/۲۳)

    ۲۱۔ اگر مسیح کفارہ ہو نے آئے تھے تو دعا ردِّبلا کی نہ مانگتے۔حالانکہ انجیل میں موجود ہے کہ مسیح نے رات بھر بہت تضرع سے یہ دعا مانگی کہ یہ عذاب سولی کا مجھ سے ٹل جائے۔ دیکھو (متی۲۶/۳۹ ومرقس۱۴/۳۶ و لوقا ۲۲/۴۲۔)

    ۲۲ ۔ مسیح من حیث الروح کفارہ ہوئے یا من حیث الجسم۔ بر تقدیر ثانی جسم ان کا بشریت کا تھا اور کل بشر گنہگار ہیں۔ بر تقدیر اوّل روح کو آپ خدا سمجھتے ہیں وہ سولی دئیے جانے سے مبرّا ہے دوسرے روح محسوس نہیں جو صلیب پر کھینچا جاتا ۔ اپنے جسم کے متعلق مسیح خود کہتا ہے جسم کمزور ہے۔ (مرقس ۱۴/۳۸)

    ۲۳۔ الف۔ جو ایمان لاتا ہے نجات پائے گا ۔ ( یوحنا ۱۶تا۳/۱۹ و رو میوں ۳/۲۵ )

    ب۔ ایمانداروں کی علامتیں دیکھو:۔ (متی ۱۷/۲۰ و ۱۸/۹ و ۲۱/۲۱ و مرقس ۱۶/۱۷ و یوحنا۱تا۱۴/۱۱۔) پہاڑ ہٹانا، درخت سوکھانا، زہر کھانا، بیماروں کو شفا دینا۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر چونکہ کسی عیسائی میں یہ علامتیں نہیں، لہٰذا کوئی بھی ایماندار نہیں۔کسی کی نجات نہ ہوئی ۔ کفارہ باطل ۔

    ۲۴ ۔ مسیح کی قربانی خلافِ فطرت و عقل ہے۔ ہمیشہ چھوٹی چیز بڑی چیز پر قربان ہو تی ہے ۔ لفظ قربانی ’’قرب‘‘ سے نکلا ہے ۔

    ۲۵۔ کفارہ پر ایمان لانے کے بعد مسیحی لوگوں سے گناہ سر زد ہی نہیں ہوتے یا ہو تے ہیں، لیکن معاف ہو جاتے ہیں اگر سرزد نہیں ہوتے ، مشاہدہ کے خلاف۔ ہو جاتے ہیں اور معاف ہوتے ہیں، دلیل دو۔

    ۲۶۔ مسیح نے اپنی مرضی سے کفارہ ہو کر اپنے ذمے بندوں کے گناہ لئے یا باپ کی مرضی سے ۔ اگر باپ کی مرضی سے تو باپ غیر عادل۔ اگر اپنی مرضی سے تو خود غیر عادل۔

    ۲۷۔ انسان بوجہ گنہگار ہونے کے کفارہ ہو سکتا تھاوہ فطرتاً گنہگار ہے۔ تمام لوگ ابن آدم ہیں، مگر مسیح ابن اﷲ ہے اور پا ک ہے۔ اس لئے کفارہ ہوا۔ مگر ہم کہتے ہیں وہ ابن آدم بھی ہے ۔ پھر حوا نے بھی گناہ کیا تھا بلکہ آدم سے پہلے اسی نے گناہ کیا، اور مریم بھی اولاد آدم سے تھی ۔ مسیح ان سے پیدا ہوئے۔ ماں کے خواص بچے میں سرایت کرتے ہیں۔مسیح کی ماں بے گناہ نہ تھی نسل آدم سے تھی۔ اس لئے مسیح گناہ سے کیسے پاک ہوئے؟وہ بھی گناہگار ہوئے۔‘‘ جو عورت سے پیدا ہوا کیونکر پاک ٹھہرے۔ (ایوب ۲۵/۴ و ۱۵/۱۴)

    ۲۸۔ آدم کی وجہ سے ساری نسل کا گنہگار ہونا خدا کے عدل کے خلاف ہے ۔

    ۲۹۔ موت گناہ کی سزا ہے ۔ جب گناہ معاف ہو چکا تو پھر موت کیسی ؟ (رومیوں ۶/۱۶)

    ۳۰۔ عورت دردِزِہ سے بچہ جنے گی ۔ مرد پسینہ کی کمائی سے روٹی کمائے گا۔ مگر کفارہ پر ایمان لا کر بھی دردِزِہ ہوتا اور پسینہ کی کمائی سے روٹی نصیب ہوتی ہے۔

    ۳۱۔ یہودیوں نے احسان کیاکہ کفارہ ادا کر دیا ۔ پھر *** کیوں ہوئے؟

    ۳۲۔ چونکہ مسیح کا دعویٰ صرف بنی اسرئیل کی ہدایت کے لئے آنے کا تھا۔ اس کا کفارہ بھی صرف بنی اسرئیل کے لئے ہو گا ۔ تمہارا اس کی تبلیغ کرکے لوگو ں کو دھوکہ دینا کیونکر جائز ہے۔

    الف۔ ’’میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (متی ۱۵/۲۴)

    ب۔ ’’ لڑکوں کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا اچھا نہیں۔ ‘‘ (متی۱۵/۲۶)

    ج۔ ’’ اس نے شاگردوں کو ہدایت کی کہ بنی اسرئیلیوں کے سوا اور کسی کو تبلیغ نہ کرنا۔‘‘ (متی۵،۱۰/۶)

    د۔ پولوس کا یسوع کی وفات کے بعد غیر قوموں کو تبلیغ کرنا محض غصہ کی وجہ سے تھا۔ (اعمال ۵تا۱۸/۷)

    ا ور یسوع کے دوسرے شاگرد پطرس سے جھگڑے کہ تو نے غیر قوموں کے پاس جا کر کیوں منادی کی۔ (اعمال ۱۱/۳) اور اس کے جواب میں اس نے ایک بے معنی سا خواب سنا کر ان کو ٹالنا چاہا ۔ اگر یسوع نے کبھی غیر قوموں کی ہدایت کا بھی دعویٰ کیا ہوتا ۔ تو پطرس اپنی خواب سنانے کی بجائے یسوع کا وہ قول پیش کرتا جس سے ثابت ہوا کہ غیر قوموں میں تبلیغ محض پولوس کی ایجا د ہے۔ پس جب کفارہ بنی اسرئیل میں محدود ہو گیا تو خدا کی باقی ساری مخلوق اس سے محروم ہو گئی اور خدا کے بیٹے کی اتنی بڑی قربانی ’’ کوہ کندن و کاہ بر آوردن ‘‘ کی مصداق ہوئی ۔

    ۳۳۔ قول عیسائی کہ انسان کمزور ہے ۔ گناہ اٹھا نہیں سکتا۔ اس لئے خدا کے بیٹے نے وہ گناہ اٹھالئے ۔ یہ عدل کے خلاف ہے ۔دوسروں کے عوض میں کسی کو سزا کیو ں دی جاوے ۔ اس موقع پر تو ’’ اندھیر نگری چوپٹ راجہ ‘‘ والی مثال صادق آئے گی۔

    ۳۴۔ قول عیسائی کہ اگر خدا گناہوں کی سزا نہ دیوے اور وہ بخش دے تو یہ عدل کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں نے عدل کی تعریف غلط سمجھی ہے ۔ عدلؔ کہتے ہیں کسی کا حق نہ مارنا ۔ جیسے مزدور کو ایک روپیہ کی بجائے دو دے دیں تو یہ عدل کے خلا ف نہیں ۔ ہاں ایک روپیہ کی بجائے آٹھ آنے دے دیں تو خلافِ عدل ہے ۔ اسی طرح گناہ معاف کرنا عدل کے خلاف نہیں۔ ہاں بڑھ کر سزا دینا عدل کے خلاف ہے۔ ثواب میں انعام ہوتا ہے ۔ اگر اعمال سے زیادہ دیا جائے تو خلافِ عدل نہیں۔

    اس کے متعلق انجیل کی شہادت۔صاحبِ مکان کے مزدوروں کا قصہ

    نقلی دلائل

    ۱۔متی۶/۱۴۔’’اگر تم آدمیوں کے گناہ بخشو گے تو تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہیں بخش دے گا۔‘‘پس جب خود خدا نہیں بخش سکتا تو وہ بندوں کو کیسے کہتا ہے کہ تم بخشو؟

    ۲۔استثنا۱۸،۹/۱۹۔اسرائیلیوں کی ہلاکت کو نبی کی دعا سے ٹال دیا۔ معلوم ہوا کہ گناہ بغیر کفارہ بھی معاف ہو سکتے ہیں۔

    ۳۔پیدائش ۲۰/۷۔’’نبی کی دعا ہمارے واسطے شفاعت کرتی ہے اور ہمیں زندگی بخشتی ہے۔‘‘ کسی کفارہ کی ضرورت نہ رہی۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں