1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

چار سوال اہل پیغام سے

'چار سوال اہل پیغام سے' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 14, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    چار سوال اہل پیغام سے

    اہلِ پیغام کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نبی اور رسول نہ تھے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب میں جواپنی نسبت نبوت غیر تشریعی کا دعویٰ پایا جاتا ہے۔ اس سے مراد صرف محدثیت اور مجددیت ہے نہ کہ نبوت۔ کیونکہ آنحضرت صلعم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔ اس پر ہماری طرف سے چار لاینحل سوالات ہیں جو مختلف مواقع پر کئے جاتے رہے ہیں۔

    پہلا سوال:۔ یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:۔

    ’’شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے ۔ ‘‘

    (تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۱۲)

    اس حوالہ سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ ’’نبوت تشریعی‘‘ اور ’’نبوت غیر تشریعی‘‘ آپس میں نقیضین ہیں جن کا اجتماع کسی صورت میں ممکن نہیں۔ گویا دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ’’نبوت تشریعی‘‘ اور ’’نبوت غیر تشریعی‘‘ کا کسی ایک شخص میں ایک ہی وقت میں جمع ہونا غیر ممکن ہے۔ پس جو شخص تشریعی نبی ہو گا اس کیلئے ممکن نہیں کہ اس کے ساتھ ہی وہ غیر تشریعی نبی بھی ہو۔ پس اہلِ پیغام کے عقیدہ کے مطابق ’’غیر تشریعی نبی‘‘ سے مراد مجدد اور محدث لی جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تشریعی نبی مجدد یا محدث نہیں ہوسکتا کیونکہ تشریعی نبوت نقیض ہے غیر تشریعی نبوت کی اور غیر تشریعی نبوت سے مراد مجددیت اور محدثیت ہے بقول اہل پیغام۔ پس تشریعی نبوت نقیض ہوئی مجددیت اور محدثیت کی۔ دونوں چیزوں کا ایک وقت میں اجتماع محال اور غیر ممکن ٹھہرا۔ نتیجہ صاف ہے کہ تشریعی نبی کا مجدد یا محدث ہونا محال ہے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے صاف طور پر ثابت ہے کہ ہر تشریعی نبی محدث ہوتا ہے اور مجدد بھی اور اس طرح سے مجددیت اور محدثیت ہمیشہ تشریعی نبی کے ساتھ جمع ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم (جو تشریعی نبی تھے) کی نسبت تحریر فرمایا ہے:۔

    ’’پس ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدّد اعظم تھے ۔‘‘

    (لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۰۶)

    پس اگراہل پیغام کے خیال کے مطابق غیر تشریعی نبوت سے مراد مجددیت اور محدثیت لی جائے تو اجتماع نقیضین لازم آتا ہے جو محال ہے اور جو مستلزم محال ہو۔ وہ بھی محال اور باطل ہوتا ہے۔ پس غیر تشریعی نبوت سے مراد مجددیت اور محدثیت لینا علمی اور عقلی طور پر محال اور باطل ہے۔ فَتَدَبَّرُوْا اَیُّھَا الْعَاقِلُوْنَ۔

    پس ماننا پڑے گا کہ غیر تشریعی نبوت سے مراد ہر گز ہرگز مجددیت اور محدثیت نہیں ہے بلکہ اس سے وہ نبوت مراد ہے جو بغیر کتاب کے ہواور یہ ظاہر ہے کہ ایک نبی ایک ہی وقت میں شریعت لانے والا او ر نہ لانے والا نہیں ہو سکتا۔ پس ثابت ہو ا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام حضورؑ کی اپنی تحریرات کے رو سے مجددیت اور محدثیت کے اوپر والا مقام ہے جو مقامِ نبوت ہے۔ وَھُوَ الْمُرَادُ۔

    یہ ایک علمی سوال ہے جو سالہا سال سے غیر مبایع مبلغین اور مناظرین کے سامنے پیش ہوتا رہا ہے۔ مگر وہ اس کا کوئی حل نہیں کر سکے۔

    دوسرا سوال:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔

    ’’خدا نے اِس اُمّت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ ‘‘ (ریویو جلد ۱ صفحہ ۴۷۸ نمبر ۶ و حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲)

    اس حوالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح ناصریؑ پر اپنی کلی فضلیت کا دعویٰ کیا ہے اس کے متعلق ہمارا اہل پیغام سے یہ سوال ہے کہ:۔

    ا۔ کیا ایک غیر نبی کو نبی پر ’’کلی فضلیت‘‘ ہو سکتی ہے؟ جواب معہ حوالہ اور عبارت ہونا چاہیے۔

    ب۔ اس ضمن میں خاص طور پر قابلِ غور امر یہ ہے کہ ایک نبی کی سب سے بڑی شان ’’شانِ نبوت‘‘ ہی ہوتی ہے۔ باقی تمام شانیں اس کے بعد اور اس کے ماتحت ہوتی ہیں۔ پس یہ تو ممکن ہے کہ کسی غیر نبی کو نبی پر جزوی فضیلت حاصل ہو مگر یہ ممکن نہیں کہ ایک غیر نبی (جس کو شانِ نبوت ملی ہی نہیں) وہ ایک نبی پر شانِ نبوت میں بھی صرف بڑھ کر ہی نہ ہو بلکہ ’’بہت بڑھ کر‘‘ ہو؟

    تودوسرا سوال اس حوالہ کے متعلق یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’نبی‘‘ نہیں تھے تو آپ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام سے ’’شانِ نبوت‘‘ میں کیونکر بڑھ کر ہیں؟ ہاں ایک بات جواب دیتے وقت مدِّ نظر رکھنی چاہییاور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۹۔۱۵۰ میں یہ تسلیم فرما لیا ہے کہ محولہ بالا عبارت میں حضرت مسیح ناصریؑ پر جزوی فضیلت سے بڑھ کر آپ کو دعویٰ ہے اس لئے اس عبارت کا کوئی ایسا مفہوم بیان کرنے کی کوشش کرنا جس سے صرف جزوی فضیلت کا دعویٰ نکلتا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح کے صریح خلاف ہو گا۔ اور اس لئے ناقابلِ قبول ہے۔

    اس ضمن میں یہ بھی مدنظر رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح ناصری پر اپنی فضیلت کو آیت (البقرۃ:۲۵۴) کے ماتحت قرار دیا ہے۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۶)

    نیز آپ نے فطرتی استعدادوں کے لحاظ سے بھی اپنے آپکو مسیح سے افضلقرار دیا ہے۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۵)

    ’’کارناموں‘‘ کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو افضل بتایا ہے۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۹)

    پھرجلال اور قوی نشانوں کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو افضل قرار دیا ہے۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۸)

    پھر ’’معارف‘‘ اور ’’معرفت‘‘ میں بھی مسیح ناصریؑ پر اپنی فضیلت بتائی ہے۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۵)

    اور یہ بھی حضورؑ نے فرمایا ہے کہ میرے دل پر جو خدا تعالیٰ کی تجلی ہوئی۔ وہ مسیحؑ پر نہیں ہوئی۔

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۶)

    غرضیکہ نبوت کے تمام اجزاء میں آپ مسیح ناصری سے افضل ہیں حضور علیہ السلام نے نزول المسیح حاشیہ صفحہ ۳ تا صفحہ ۶ پر اپنے آپ میں شانِ نبوت بھی تسلیم فرمائی ہے۔ غرضیکہ مسیح ناصری پر کلّی فضیلت حضورؑ کی ’’نبوت‘‘ کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔

    تیسرا سوال:۔ وہی وزنی پتھر ہے جو پچھلے تیس سال سے اہلِ پیغام کے مقاصدِ مذمومہ کے آگے سدِّ راہ ہے اور جس کو باوجود ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے ہلا نہیں سکے۔ یعنی حقیقۃ الوحی کا صفحہ ۳۹۱۔

    ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے مَیں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمّت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے مَیں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اِس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی ۔‘‘

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶،۴۰۷)

    اس عبارت کے متعلق ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعد کی تحریرات میں بمطابق اشتہار فروری ۱۸۹۲ء نبی بمعنی محد ث ہی ہے اور ۱۹۰۱ء کی بعد کی تحریرات میں بجائے نبی کے لفظ کے محدث کا لفظ سمجھنا چاہیے۔ تو حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۱ کی مندرجہ بالا عبارت میں ’’نبی‘‘ کی بجائے ’’محدث‘‘ کا لفظ لگا کر عبارت کا مفہوم شائع فرمائیں۔ جو ہر اہل انصاف کی عقل کے مطابق یہ بنے گا کہ ۱۳۰۰ سال میں محدث کا نام پانے کے لئے صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی مخصو ص ہوئے اور آپ سے پہلے کوئی محدث اس امت میں نہیں گذرا۔

    اس ضمن میں دوسرا حل طلب امر یہ ہے کہ بقول مولوی محمد علی صاحب ’’نبی‘‘ ہونا اور ہے اور ’’نبی کا نام پانا‘‘ شے دیگر ہے۔ ان کے نزدیک ’’نبی‘‘ کا نام پانے سے کوئی شخص فی الواقعہ نبی نہیں بن جاتا۔ تو جب حقیقۃ الوحی کی مندرجہ بالا عبارت میں ’’نبی‘‘ کی جگہ ’’محدث‘‘ کا لفظ لگایا جائے گا۔ تو عبارت یوں بن جائے گی ’’پس محدث کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘ اس سے مولوی محمد علی صاحب کی تحریرات کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلے گا:۔

    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف محدث کانام پانے والے ہیں۔ حقیقی طور پر محدث بھی نہیں ہیں۔

    ۲۔ اُمتِ محمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوا کوئی غیر حقیقی محدث بھی نہیں ہوا۔ چہ جائیکہ اصلی محدث!
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ مصلح موعود ہیں

    چوتھا سوال:۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء (مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۰۱) میں تحریر فرماتے ہیں:۔

    ’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اورپاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہو گا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نوراﷲ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اﷲ ہے کیونکہ خداکی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَالْآخِرِ مَظْہَرُ الْحَقِّ وَ الْعُلَاءِ۔ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔ اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَقْضِیًّا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۹۵،۹۶ بار دوم اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء صفحہ ۳)

    پھر فرماتے ہیں:۔

    ’’اور نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ ’’مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔‘‘ پہلے بشیر کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزولِ رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔‘‘

    (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۵۲ حاشیہ۔ بار دوم)

    ’’بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ …… مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ ’’اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا۔ اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام ا س کا بشیرِ ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کانام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۵۵ا حاشیہ۔ بار دوم)

    ۹ سالہ میعاد:۔ ’’ایسا لڑکا بموجب وعدۂ الٰہی ۹ برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا خواہ جلد ہو خواہ دیر سے، بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔‘‘

    (اشتہار ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء و مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ۹۸ بار دوم)

    سبز اشتہار صفحہ۲۱ حاشیہ کی عبارت اوپر نقل ہو چکی ہے جس میں درج ہے کہ ’’مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا۔ نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے۔‘‘ اب بشیر ثانی کے متعلق دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں:۔

    ’’دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا۔ جس کا دوسرا نام محمود ہے۔‘‘

    (سبز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۱۴۶ حاشیہ بار دوم)

    ’’خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا جیسا کہ بشیر اوّل کی موت سے پہلے ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں اس کے بارے میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے۔ وہ اپنے کاموں میں اولو العزم نکلے گا۔ یخلق اللّٰہ ما یشآء۔‘‘

    (سبز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۵۲ بار دوم)

    ’’دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا۔ جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگرچہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا۔ زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے۔ کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے پوشیدہ ہے اور انجام کار اس کی آنکھوں سے چھپا ہوا ہے۔‘‘

    (سبز اشتہار حاشیہ اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۴۶۔ بار دوم)

    مصلح موعود کی پیدائش

    پیشگوئی مندرجہ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے مطابق پہلے بشیر اول مندرجہ ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کوپیدا ہوا۔ اور نومبر ۱۸۸۸میں فوت ہوگیا۔ اور بشیر ثانی مصلح موعود مورخہ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوا اور اس کا ذکر حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ ۱۲ جون ۱۸۸۹ء میں فرمایا:۔

    ’’خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء و اشتہار (یکم) دسمبر ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے اپنے لطف و کرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اول کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا۔ جس کانام محمود بھی ہوگا اور اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اوالعزم ہو گا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔ وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ سو آج ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء میں مطابق ۹؍ جمادی الاول ۱۳۰۶ھ روز شنبہ میں اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے جس کا نام بالفعل محض تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائیگی۔

    (مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۹۱ بار اوّل)

    ’’کامل انکشاف کے بعدکی اطلاع‘‘

    ۱۔ اسی خیال اور انتظار میں ’’ـسراج منیر‘‘ کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جاوے۔ تب اس کا مفصل اور مبسوط حال لکھا جائے۔‘‘

    (سبز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۴۳۔ بار دوم)

    کتاب سراج منیر میں لکھتے ہیں:۔

    ’’پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہوگا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا۔ اور اس پیشگوئی کی اشاعت کیلئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے۔‘‘

    (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶)

    ’’سبز اشتہار میں صریح لفظوں میں بلا توقف لڑکا پیدا ہونے کا وعدہ تھا۔ سو محمود پیدا ہو گیا ۔ کس قدر یہ پیشگوئی عظیم الشان ہے اگر خدا کا خوف ہے تو پاک دل کے ساتھ سوچو! ۔‘‘

    (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶ حاشیہ)

    ۲۔’’محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی معہ محمود کے نام کے موجود ہے جو پہلے لڑکے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا جو رسالہ کی طرح کئی ورق کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے۔ ‘‘

    (ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۹۹)

    ۳۔ (ا) ’’میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ محمود تب میں نے اِس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا۔ جس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر۱۸۸۸؁ء ہے اور یہ اشتہار مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸؁ء ہزاروں آدمیوں میں شائع کیا گیا اور اب تک اس میں سے بہت سے اشتہارات میرے پاس موجود ہیں۔‘‘

    (تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۴)

    (ب)’’محمود جومیرا بڑا بیٹا ہے اس کے پیدا ہونے کے بارے میں اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸؁ء میں اور نیز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸؁ء میں جو سبز رنگ کے کاغذ پر چھاپا گیا تھا پیشگوئی کی گئی اور سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہونے والے لڑکے کا نام محمود رکھا جائے گا اور یہ اشتہار محمود کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا …… پھر جب کہ اِس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی اور مسلمانوں اور عیسائیوں ا ور ہندوؤں میں سے کوئی بھی فرقہ نہ رہا جو اس سے بے خبر ہو۔ تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹؁ء کو مطابق ۹؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۶؁ھ میں بروز شنبہ محمود پیدا ہوا۔ اور اس کے پیدا ہونے کی مَیں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تکمیل تبلیغ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں۔ اور اس کے صفحہ ۴ میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے ؂

    اے فخرِ رُسل قُربِ تو معلومم شد دیرآمدہ ٔزراہ دُور آمدۂ‘‘

    (تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۹)

    ۴۔ (ا) ’’میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اُس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگر چہ اب تک جو یکم ستمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اُس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ یہ ہے عبارت اشتہار سبز کے صفحہ سات کی جس کے مطابق جنوری ۱۸۸۹ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے اور سترھویں سال میں ہے۔‘‘

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۴)

    (ب) ’’چونتیسواں نشان یہ ہے کہ میرا ایک لڑکا فوت ہو گیا تھا اور مخالفوں نے جیسا کہ اُن کی عادت ہے اس لڑکے کے مَرنے پر بڑی خوشی ظاہر کی تھی تب خدا نے مجھے بشارت دے کر فرمایا کہ اس کے عوض میں جلد ایک اور لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام محمود ہوگا اور اُس کا نام ایک دیوار پر لکھا ہوا مجھے دکھایا گیا تب میں نے ایک سبز رنگ اشتہار میں ہزارہا موافقوں اور مخالفوں میں یہ پیشگوئی شائع کی اور ابھی ستر دن پہلے لڑکے کی موت پر نہیں گزرے تھے کہ یہ لڑکا پیدا ہو گیا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا۔‘‘

    (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲۷)

    غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف اور واضح الفاظ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو ’’مصلح موعود‘‘ قرار دیا ہے۔

    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ بنصرہ العزیز کا دعویٰ

    حضرت امیر المومنین ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے آپ کو غیر مشروط طور پر اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء و سبز اشتہار کی پیشگوئی کا مصداق اور مصلح موعود قرار دیاہے۔ (الفضل ۲۷؍ فروری ۱۹۳۴ء جلد ۲۱ نمبر ۱۰۳ صفحہ ۶ کالم نمبر ۲) پر حضرت ایدہ اﷲ تعالیٰ کی ڈائری شائع ہو چکی ہے۔ جس میں خاکسار خادم کے سوال کے جواب میں حضور نے اپنے آپ کو ’’مصلح موعود‘‘ کی پیشگوئی کا مصداق قرار دیا۔ یہ ڈائری بعد تحریر حضرت اقدس کو دکھا کر شائع کی گئی۔ بعد ازاں ۱۹۴۴ء (الفضل ۲۴؍ فروری، ۱۵؍ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ۲ کالم۳) میں حضور نے الہام الٰہی کی بنا پر مصلح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا۔
     
  3. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ایک شبہ اور اس کا ازالہ

    حضرت اقدس علیہ السلام نے تریاق القلوب میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کو ’’تین کو چار کرنے والا‘‘ مطابق اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء قرار دیا ہے۔

    جواب:۔ (ا) ’’تین کو چار کرنے والا‘‘ کے الہام میں اشارۃً چار(۴) لڑکوں کی پیدائش کا ذکر ہے۔ سو مبارک احمد بھی بوجہ ان میں سے ایک ہونے کے اس کا مصداق ہے لیکن حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ وہ مصلح موعود ہے۔

    ۲۔ مبارک احمد کی ولادت کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام کو ۱۸۸۳ء اور ۱۸۸۶ء میں علیحدہ رؤیا اور الہامات کے ذریعہ علم دیا گیاتھا۔ پس تریاق القلوب صفحہ۴۰، ۴۱، ۴۳ نیز انجام آتھم صفحہ ۱۸۲، ۱۸۳ کی عبارت میں انہی رؤیا اور کشوف کی طر ف اشارہ ہے۔

    فرماتے ہیں:۔

    ا۔ ’’۱۸۸۳ء میں مجھ کو الہام ہوا کہ تین کو چار کرنے والا مبارک ۔ …… اس کی نسبت تفہیم یہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ اس دوسری بیوی سے چار لڑکے مجھے دے گا اور چوتھے کا نام مبار ک ہو گا۔ ‘‘

    (نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۷۴)

    ب۔ ’’شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ …… ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے تین ان میں سے تو آم کے پھل تھے مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا …… کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے۔‘‘

    (مکتوب بنام حضرت خلیفۂ اول رضی اﷲ عنہ مورخہ ۸؍ جون ۱۸۸۶ء مطبوعہ ’’الحکم‘‘ ۱۷؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶)

    گویا یہ رؤیا قریباً جنوری یا فروری ۱۸۸۶ء میں ہوا۔ اور ہر دو عبارات کی رو سے مبارک احمد کے متعلق۔ نیز چار بیٹوں کے متعلق الگ الہام ’’تین کو چار‘‘ کرنے کا بھی تھا۔ مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہو ا کہ اس کو مصلح موعود قرار دیا جائے؟ کیا کہیں یہ لکھا ہے کہ سوائے مصلح موعود کے کوئی اور ’’تین کو چار کرنے والا‘‘ نہیں ہو سکتا؟

    مبارک احمد ’’نو سالہ میعاد کے اندر‘‘ پیدا نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ اس کی تاریخ پیدائش ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ء ہے۔ گویا نو سالہ میعاد ختم ہونے کے چار سال بعد وہ پیدا ہوا۔ اس لئے اس کے متعلق تو یہ شبہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ مصلح موعود ہے۔

    ’’تین کو چار کرنے والا‘‘ کی جو صفت مصلح موعود کی بیان کی گئی ہے۔ وہ الگ ہے۔ وہ اکیلی صفت نہیں بلکہ اس کے ساتھ بیسیوں دوسری علامات ہیں۔ جو مبارک احمد مرحوم میں پائی نہ جاتی تھیں اور حضرت اقدس علیہ السلام کو خود مبارک احمد کی ولادت سے بھی پہلے معلوم تھا کہ وہ چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے گا۔ (ملاحظہ ہو پاکٹ بک ہذا صفحہ ۵۳۲)

    پس حضرت اقدس علیہ السلام کے ذہن میں یہ شبہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ مبارک احمد مصلح موعود ہے۔

    امرِ واقعہ

    جب ہم امر واقعہ کے لحاظ سے دیکھتے ہیں تو یہ عقدہ بالکل حل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مطلقاً حضرت اقدس علیہ السلام کے بیٹوں میں سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ’’مصلح موعود‘‘ ہی چوتھے بیٹھے ہیں۔ (۱) حضرت مرزا سلطان احمد صاحب (۲) فضل احمد (۳) بشیر اول (۴) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ۔ پس ا س لحاظ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مطلقاً بلا شرط تین کو چار کرنے والے ہوئے، لیکن مرزا مبارک احمد نہ تو مطلقاً حضرت اقدس کے چوتھے لڑکے تھے۔ کیونکہ اس لحاظ سے وہ ساتویں تھے نہ وہ صرف دوسری بیوی کے لڑکوں میں سے ہی چوتھے تھے۔ کیونکہ اس لحاظ سے وہ پانچویں تھے۔ (۱) بشیر اول (۲) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (۳) مرزا بشیر احمد (۴) مرزا شریف احمد (۵) مرزا مبارک احمد۔ ہاں دوسری بیوی کے زندہ بچوں میں وہ چوتھے تھے۔ اور اسی لحاظ سے ان کا ذکر حضرت اقدس علیہ السلام نے تریاق القلوب صفحہ ۴۴ میں فرمایا ہے، لیکن اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں نہ تو ’’دوسری بیوی‘‘ کی قید ہے اور نہ ’’زندہ بچوں‘‘ کی شرط ہے۔ پس بلا شرط و قید اگر کوئی ’’تین کو چار‘‘ کرنے والا ہے تو وہ صرف اور صرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہیں جو نو برس کے عرصہ میں میعاد پیشگوئی کے اندر پیدا ہوئے۔ حضور عمر پانے والے اور خلیفۂ ثانی بھی ہو گئے اور دیگر صفات مصلح موعود کا ظہور بھی حضور کی ذات میں ہوا۔ پس حضور ہی بلاشبہ مصلح موعود ہیں۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں