1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

وید کی تعلیم پرمیشور کے متعلق اور پرمیشور کا حُلیہ

'اسلام اور ویدک دھرم' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 5, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    وید کی تعلیم پرمیشور کے متعلق اور پرمیشور کا حُلیہ

    پرمیشور ناقص اور کمزور:۔ ’’اے نہایت ہی قابل عبادت اور سب طرف سے روشن ایشورو عالم!یہ جو آپ کا محیط ہونا اور پرورش کرنا ہے۔اس سے آپ ترقی کو حاصل کریں اور دوسروں کو بڑھائیں آپ خود مضبوط ہوجیئے اور دوسروں کو مضبوط کیجئے۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۳۸منتر۲۱ صفحہ ۱۹۳)

    ’’وہ سدا بڑھنے والا۔حیرت انگیز صفات ،عادات سے متصف پرمیشورہمارا کس طرح دوست ہوئے‘‘الٰی آخرہٖ (یجر وید ادھیائے۴؍۳۶)

    پرمیشور کی بیوی:۔ ’’اے انسانو!میں ایشور جیسے برہمن،کھتری،ویش،شودر اور اپنی استری سیوک وغیرہ کو چار وید روپی بانی کا اپدیش کرتا ہوں ویسے ہی آپ لوگ بھی اچھی طرح اپدیش کریں۔‘ ‘ (منقول از دیانند یجر وید بھاش ادھیائے ۲۶۔منتر ۲ صفحہ ۶۶)

    سُکھ کی خواہش:۔ ’’پرمیشور کہتا ہے کہ میری یہ خواہش عمدگی سے بڑھے اور مجھے وہ غیر میسّر غائبانہ سُکھ حاصل ہو۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۲۶منتر۲)

    پرمیشور کے برابر طاقتور را جہ:۔ ’’اے بیوقوف را جہ !بغیر دودھ کی گائیوں کی طرح ہم لوگ اس متحرک وغیرمتحرک کائنات کے منتظم سُکھ پوروک کو دیکھنے لائق ایشور کے برابر طاقتور۔آپ کی عزت و احترام کریں۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۲۷منتر۳۵ صفحہ ۸۱)

    ناچنے والے پیدا کرنے کی دعا:۔ ’’ہے پرمیشور و راجن!آپ بین بجانے والے اور ہاتھوں سے دادتر بجانے اور تونو نامی باجے کو بجانے والے۔ان سب کو ناچنے کے لئے اور خوشی کے لئے تالی وغیرہ بجانے والے پیدا و ظاہر کیجئے۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۳۰منتر۲۰)

    پس لوگوں کو چاہیے کہ ہنسی اور زنا وغیرہ عیوب کوچھوڑکراورگانے بجانے ناچنے وغیرہ کی تعلیم کوحاصل کرکے خوش ہوں۔لیکن ستیارتھ ب۳نمبر۴۸وباب۶نمبر۱۶میں اِن افعال کوشہوانی عیب لکھا ہے۔

    آریوں کا پرمیشور فریبی:۔’’اے اِندر تونے سوشا کو فریب سے قتل کیا۔‘‘ (رگ وید اشٹک اول انوواک ۳سکت۴شرقی نمبر۷)

    پرمیشور کھاؤپیؤپیٹُو:۔ ’’اِندر کا شکم سوم کا رس کثرت سے پینے کے باعث سمندر کی مانند پھولتا ہے اور تالو کی نمی کی مانند ہمیشہ تر رہتا ہے۔ اِنہیں کھانوں سے اِندر کا پیٹ بھرتا ہے اور قوت حاصل ہوتی ہے ۔اے خوبصورت زنخدان والے اِندر!ان تعریفوں سے خوش ہو۔‘‘ (رگ وید اشٹک اول انوواک ۳سکت۱)

    The Hymns of the Rigiveda translated eith a popular commentary by Ralph T H griffith MACIE Third Edition Vol:1 p:10, 1920)

    پرمیشور کی لاعلمی:۔ ’’اے بیاہے ہوئے مرد عورتو!تم دونوں رات کو کہاں ٹھہرے تھے اور دن کہاں بسر کیا تھا۔تم نے کھانا وغیرہ کہاں کھایا تھا۔تمہارا وطن کہاں ہے۔جس طرح بیوہ عورت اپنے دیور(دوسرے خاوند)کے ساتھ شب باش ہوتی ہے یا جس طرح بیاہا ہوا مرد اپنی بیاہتی عورت کے ساتھ اولاد کے لئے شب باش ہوتا ہے اس طرح تم کہاں شب باش ہوئے تھے؟۔‘‘ (ستیارتھ پرکاش باب ۴ دفعہ ۱۳۰ بھومکاصفحہ ۱۲۵ مترجم نہال سنگھ )

    ’’اِس دنیا میں پاپ اورپُن کا نتیجہ بھوگنے کے لئے دو۲راستے ہیں۔ایک عارفوں یا عالموں کا۔ دوسراعلم و معرفت سے مبرّا انسانوں کا ۔اُن کو پُتریاں اور دیویاں بھی کہتے ہیں ۔میں نے یہ دو راستے سنے ہیں ۔یہ تمام دنیا انہی دو راستوں پر چلی جا رہی ہے۔‘‘ (یجر وید ۴۷؍۱۹۔و رگوید آدی بھوش بھومکا مترجم نہال سنگھ صفحہ ۱۲۲ ۔بیان تناسخ)

    ناک آنکھ کان والا پرمیشور:۔ ’’برہمن اس (ایشور)کا منہ تھا ۔ایشور کے بازوؤں سے کھشتری۔رانوں سے ویش ۔پاؤں سے زمین اور کان سے طرفین پیدا ہوئیں۔چاند مَن(دل) سے پیدا ہوا۔آنکھ سے سورج پیدا ہوا۔منہ سے اندر اور آگ اور سانس سے ہوا پیدا ہوئی۔‘‘ (رگوید منڈل نمبر۱۰سوکت نمبر۹۱منتر ۱۲،۱۳)

    زرہ بکتر پہننے والا پرمیشور:۔ ’’ورن(ایشور)اپنی ساری رعایا میں سب پر حکومت کرنے کے لئے آکر بیٹھا ہے۔سنہری کوچ کو پہنتا ہوا ورن(ایشور)چمکتے ہوئے لباس کو پہنتاہے۔اس کے جاسوس چاروں طرف بیٹھے ہیں۔‘‘ (رگوید منڈل نمبر۱سوکت نمبر۲۵منتر ۲۳)

    ایشور چوری کرتا ہے:۔ ’’اے اِندر دولتوں سے مالا مال پرمیشور!ہم سے الگ کبھی مت ہو ۔ہمارے مرغوب سامان خوراک مت چُراؤاور نہ کسی اور سے چُرواؤ۔

    (رگوید اشٹک نمبر۱ انوواک نمبر۷سوکت نمبر۱۹شرقی ۸ آریہ بھونے مصنّفہ دیو نند)

    سُکھ دکھ برداشت کرنے والا پرمیشور:۔ ’’اے جگدیش ور!جس سبب آپ سب دُکھ سُکھ کے برداشت کرنے والے ہیں۔‘‘ (تفسیر یجر وید سوامی دیانند)

    خدا علم سیکھنے کا محتاج ہے:۔ ’’اے جگت ایشور!میں اورآپ پڑھنے پڑھانے والے دونوں محبت کے ساتھ رہ کر عالم اور دیندار ہوں کہ جس سے دونوں کی ترقی علم ہمیشہ ہووے۔‘‘ (یجر وید بھاش جلد اوّل منتر۲۱)

    ایشور مجسم اور اس کا حُلیہ:۔ ’’ہزاروں سروں والاپُرش(ایشور)ہزاروں آنکھوں والا۔ہزاروں پاؤں والا۔وہ ترلوکی(کائنات)کو سب طرف سے گھیر کر ٹھہرا ہوا ہے۔دس اُنگل پرے۔ (رگوید منڈل نمبر۱۰سوکت نمبر۹۱منترنمبر۱۱)

    پرمیشور کے پاؤں:۔ ’’وشنو(ایشور)اس سارے جگت و کائنات پر پاؤں سے چلا ۔ تین طرح پر اُس نے پاؤں رکھا ۔یہ جگت اس کے دھولی(دھول)والے پاؤں میں اکٹھا ہوا۔
    (رگوید منڈل نمبر۱سوکت نمبر۲۲منتر ۱۷)

    وشنو جو سب کا محافظ ہے اور کسی سے دھوکہ نہیں دیا جاتا ۔وہ سارے کاموں کو کرتا ہوا یہاں سے تین پاؤں چلا۔

    خدا کا دایاں ہاتھ:۔ ہے خزانوں کے مالک اِندر!تجھ سے دولت چاہتے ہوئے ہم نے تیرے دائیں ہاتھ کو پکڑا ہے۔‘‘ (رگ وید منڈل نمبر۱۰سوکت نمبر۴۷منتر ۱۳)

    ایشور کی فرج:۔ پرجاپتی گربھ(حمل)میں وچرتا ہوا بہت طرح سے پیدا ہوتا ہے۔اس کی یونی(فرج)کو عقلمند دیکھتے ہیں۔‘‘ (یجر وید ادھیائے نمبر۳۱منترنمبر۱۹ اردو ترجمہ صفحہ ۱۲۶)

    ایشور کی ترقی:۔ ’’اے بہت اشیاء میں رہنے والے پرماتمن (خدا)جو یہ میری زبان ہے ۔ آپ کو یقیناً بڑھا وے۔‘‘ (یجر وید ادھیائے نمبر۳۳منترنمبر۸۱)

    ایشور سوم رس پیتا ہے:۔ ہے پرمیشور وایو(ایشور)!اپنی الپ شکتی(محدود طاقت) سے سوم اوشدھیوں کا اتم(عمدہ)رس تیار کیا ہے اور بھی جو کچھ ہمارے عمدہ پدارتھ ہیں۔وے آپ کے سرین (نذر)کئے گئے ہیں۔ان کو آپ قبول کریں اور سرو آتما (فراخدلی)سے پان کریں۔‘‘ (رگوید اشٹک ادھیائے نمبر۱ ورگ نمبر۲ منتر۱)

    ایشور کا ثانی:۔ ’’مَیں ایشور سب لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ میرے برابر دھرماتما صفات و افعال وعادات والے آدمی ہی کی رعایا ہو۔‘‘

    ایشور سوتا ہے:۔’’جو برہما (ایشور)تیز رفتار کو مضبوط کرتا ہوا جو کو کنپاتا اور گھروں یعنی جیوؤں (ارواح)کے بیچ قائم ہوتا ہوا سوتا ہے۔‘‘

    (رگوید منڈل نمبر۱ سوکت نمبر۱۶۴منتر ۳۰۔رگوید بھاش جلد ۳ صفحہ ۶۳۳)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں