1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

وید کی تعلیم خلاف عقل و سائنس

'اسلام اور ویدک دھرم' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 5, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    وید کی تعلیم خلاف عقل و سائنس

    ۱۔ ’’ہے دینے ہارے(والے)جیسے لینے والے پڑھانے اور اپدیش کرنے والوں کا میل کرے۔اور وہ آج بکرا وغیرہ جانوروں کے بیچ سے لینے لائق چیز کا چکنا حصّہ یعنی گھی دودھ وغیرہ اُدّلار (نکالا ہوا)کیا ہوا لیویں۔‘‘(اس سے بکرا گھی دینے والا ثابت ہوتا ہے) (تفسیر دیانندی بھاشا یجر وید جلد۲ ادھیائے ۲۱منتر ۴۳)

    نوٹ:۔ اس حوالہ کے پیش کرنے سے یہ مقصو د نہیں کہ گویا ہمارے خیال میں بکرے کے لئے دودھ دینا ممکن ہی نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے قانون شاذ کے ماتحت یہ ممکن ہے ۔چنانچہ اس کا ثبوت صداقت مسیح موعود پر اعتراضات کی ذیل میں ایک اعتراض کے جواب میں موجود ہے۔ہمارا اعتراض تو اس امر پر ہے کہ اس وید منتر سے معلوم ہوتا ہے کہ بکرے کا دودھ دینا قانون عام کے ماتحت ہے اور بجائے بکری اور گائے بھینس کے دودھ اور گھی بکرے سے حاصل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ امر ہمارے روزمرّہ کے مشاہدہ کے خلاف ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی کبھی شاذ کے طور پر جوکہ اَلشَّاذُکَالْمَعْدُوْمِ کے مطابق معدوم کا حکم رکھتا ہے اپنی سنّت شاذہ کا ثبوت دے۔مگر گھی دودھ وغیرہ کو عام طورپر گائے بھینس اور بکری کی بجائے ’’بکرے‘‘کے ساتھ منسوب کرنا یقیناً خلافِ عقل و سائنس اور معارض مشاہدہ و تجربہ ہے۔ خادمؔ

    ۲۔ ’’ہے رعایا کے مالک ایشور جو روح مادہ و غیرہ اشیاء ہیں یہ سب اچھا روپ وغیرہ (مراد خواہش)صفات سے متصف ہوں۔‘‘ (تفسیر دیانند بھاشا یجر وید جلد۱ ادھیائے ۱۰منتر۲۰)

    اس سے مادہ میں خواہش کا ثبوت ملتا ہے۔کیا سائنس سے یہ ثابت ہو سکتا ہے؟

    ۳۔ ’’گر ہست جنوں(عیالداروں)کو چاہیے کہ اس طرح کوشش کریں کہ جس سے تینوں یعنی بھوت(ماضی)بہوشیت(مستقبل)اور ورتمان(حال)زمانہ میں بہت ہی سُکھی ہوں۔‘‘

    (تفسیر ایضاًجلد ۱صفحہ ۲۳۱)

    اس سے آج کا کام کئے ہوئے کا پھل گذشتہ دنوں میں مل جانا چاہیے حال و مستقبل کے لئے تو انسان کر سکتا ہے مگر آج کا پھل پہلے مل چکا ہے یہ کیسے؟بالکل خلافِ عقل ہے۔

    ۴۔ میں جو سوم لتا وغیرہ بوٹیوں(کو)جو زمین وغیرہ سے تین برس پہلے مکمل سُکھ دینے میں عمدہ ظاہر ہوئیں جو حاصل کرنے والے بیماروں کے سو اور سات جنم اور ناڑیوں کے زخموں کو مفید ہیں ان کو جلدی جانوں۔‘‘ (تفسیر ایضاًجلد ۱صفحہ۴۱۶ ادھیائے نمبر۱۲ منتر ۱۵)

    نوٹ:۔ کیا زمین سے قبل بھی بوٹیاں تھیں۔اور ان سے لوگوں نے فائدہ حاصل کیا؟
     

اس صفحے کو مشتہر کریں