1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

وحی عقل علم اور ھق ۔ Revelation Rationality knowledge and truth ۔ اردو ۔یونی کوڈ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    وحی عقل علم اور ھق ۔ Revelation Rationality knowledge and truth ۔ اردو ۔یونی کوڈ



    باب اوّل
    تعارف: تاریخی تناظر میں
    فرد اور معاشرہ
    اسلامی مکاتبِ فکر
    فلسفۂ یورپ
    یونانی فلسفہ

    تعارف : تاریخی تناظر میں
    دینی اور لا دینی (سیکولر) نظریات کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں سے بڑے بڑے فلاسفر، دانشور اور مذہبی رہنما عقل،منطق اور الہام کی تقابلی حیثیت کے بارہ میں مختلف خیالات کے حامل رہے ہیں۔ اس لحاظ سے انہیںمختلف مکاتبِ فکر میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
    ایک طبقہ تو وہ ہے جو عقل کو اس حد تک اہمیت دیتا ہے کہ اس کے نزدیک صداقت تک پہنچنے کا یہی ایک واحد اور مستند طریق ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک صرف وہی نتیجہ تسلیم کئے جانے کے قابل ہے جو عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہو۔ لہٰذا ان کے مطابق صداقت کی جو بھی تعریف کی جائے، اس تک رسائی صرف عقل اور استدلال کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ لیکن کچھ مفکرین وہ ہیں جو آسمانی ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک آسمانی ہدایت انسانی فکر کی صحیح رہنمائی کے سلسلہ میں بنیادی اور معین کردار ادا کرتی ہے اور بہت سے الجھے ہوئے اور حل طلب سوالات کے جواب فراہم کرتی ہے۔
    کچھ اور لوگ بھی ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حقیقت کو باطنی تجربات کے ذریعہ صرف اپنی ذات میں ڈوب کر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے جسے وجدان کہا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خود اپنے نفس کے گہرے مطالعہ کے ذریعہ حقیقت کو پایا جا سکتا ہے۔ گویا اس کی چھاپ ہر انسانی روح پر نقش ہے۔ یہ لوگ اپنے نفس کی گہرائی میں غوطہ زن ہو کر خود اپنی ذات کے مطالعہ سے قوانین قدرت کے بنیادی حقائق تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔
    حقیقت تک پہنچنے کا ایک اور طریق تصوف ہے جسے مذہبی اور غیر مذہبی دونوں مکتبہ ہائے فکر نے اپنایا ہے۔ زندگی کے اسرار و رموز کو صوفیانہ رنگ میں دیکھنے کا رجحان مذہب کے ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ ایسے لوگ تمام مکاتبِ فکر میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا انداز فکر فلسفیانہ بھی ہو سکتا ہے اور مذہبی بھی۔ لیکن اخفا اور اسراریت ان سب میں قدرِمشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔
    پھر وہ نام نہاد فلسفی ہیں جنہوں نے ایسی پیچیدہ اور ادق اصطلاحیں وضع کر رکھی ہیں جو عام آدمی کے فہم سے بالا تر ہوتی ہیں۔ اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے نظریات کو پراسرار لفّاظی کے پردوں میں چھپا رکھا ہے۔ تاہم فیثاغورث اور ابن رشد کی طرح کے ایسے مفکرین بھی ہیں جو فی الحقیقت سائنسی ذہن کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ صوفیانہ رنگ بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ حقائق الاشیا ء کی تلاش میں بہت گہرائی تک جاتے ہیںاور محض اشیاء کے ظواہر پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ ان کا بالاستیعاب مطالعہ ہمیشہ نتیجہ خیز اور مفید مطلب ہوتا ہے۔
    مذہبی دنیا میں بھی کئی طرح کے درویش صفت اور صوفی منش بزرگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جو مذہب کی طرف سے عائد کردہ عبادات کو ان کی ظاہری شکل میں بجالانے کے ساتھ ساتھ گہرے مطالب کی تلاش میں بھی کوشاں رہتے ہیں۔ اور کچھ وہ ہیں جو اندرونی سچائی پر اتنا زور دیتے ہیں کہ بسا اوقات عبادات سے بھی بکلی انکار کر دیتے ہیں۔
    لیکن وہ مذاہب جن کی بنیاد الہام پر ہے ان کے پیرو کار بھی ہمیشہ اپنے مباحث میں الہامی صداقتوں تک ہی محدود نہیں رہا کرتے۔ انجام کار ہر مذہب کے بعد کے دور میں ایسے مباحث بھی زیر بحث آنے لگتے ہیں جن کو یکسر مذہبی قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہی صدیوں پرانے سوالات نئے سیاق و سباق میں از سر نو زندہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً عقل کیا ہے؟ انسانی معاملات میں اس کا کیا کردار ہے؟ الہام کا عقل اور منطق سے کیا رشتہ ہے؟
    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بلا استثناء ہر مذہب کے دور انحطاط میں مختلف نظریات کا باہمی تعامل لازماً اس انتشار پر منتج ہوتا ہے جو مذہب کے ظہور سے پہلے موجود تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دست برد کے نتیجہ میں مذہب بالآخر مختلف فرقوں میں تقسیم ہوتا رہا ہے اور اس طرح ایک حد تک قدیم اساطیری تصورات اور فلسفوں کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس صورت حال میں مذہبی شکست وریخت سے پیدا ہونے والے مختلف مکاتبِ فکر شاذ ہی اتحاد اور یکجہتی کا رستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور یوں لگتا ہے کہ انحطاط کے اس عمل کا رخ موڑا نہیں جاسکتا۔
    جن مذاہب کا آغاز خداتعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان کامل سے ہوتا ہے وہ بعد میں رفتہ رفتہ مشرکانہ گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ مذہبی نظریات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور خداتعالیٰ کی وحدانیت کے دنیا میں ازسر نو قیام کیلئے انسان کبھی کبھار اپنی سی کوشش بھی کر دیکھتا ہے لیکن افسوس کہ ایسی کوششیں پوری طرح بار آور نہیں ہوتیں۔ اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی خاص تائید اور رہنمائی کے بغیر اس انحطاط کا رخ کبھی بھی موڑا نہیں جا سکا۔
    گزشتہ فلسفیوں اور صوفیا کے مختلف نظریات پر یہاں مفصّل بحث تو نہیں کی جا سکتی تا ہم ماضی کے کچھ ممتاز دانشوروں نے الہام، عقل اور ان کے باہمی تعلق کے بارہ میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کا مختصر ذکر ضرور کریں گے۔
    ابدی صداقت کیا ہے،علم کسے کہتے ہیں اور اگر ان کے درمیان کوئی تعلق ہے تووہ کیا ہے؟ کیا الہام ایسا علم عطا کرتا ہے جو بالآ خر ابدی سچائی تک لے جاتا ہو یا ہر دو یعنی علم اور ابدی سچائی کے حصول کے لئے مجرد عقل ہی کافی ہے؟ زمانۂ قدیم سے ہی کیا فلاسفر اور کیا مذہبی رہنما اور کیا سیکولر مفکرین ان سوالوں اور ان جیسے دیگر سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن پیشتر اس کے کہ ہم بنظر غائران موضوعات کا مطالعہ کریں مناسب ہو گا کہ پہلے ابدی سچائی کے بارہ میں مختلف مفکرین کے نظریات کی مزید وضاحت کر دی جائے۔
    خداتعالیٰ پر ایمان رکھنے والے تمام لوگ جو ابدی صداقت کے علمبردار ہیں اس کو ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک غیر مبدّل حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ابدی صداقت سے ان کی مراد بنیادی طور پر خداتعالیٰ اور اس کی صفات ہیں لیکن جب سیکولر (خدا کو نہ ماننے والے) فلسفی اِس پر بحث کرتے ہیں تو وہ اکثر خداتعالیٰ کے حوالہ سے بات نہیں کیا کرتے۔ ان کی بحث بالعموم بعض اقدار مثلاً سچائی، دیانت، امانت، خلوص اور وفا وغیرہ کے حوالہ سے ہی ہوا کرتی ہے۔ فلسفیوں کے نزدیک سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ہر آن تغیر پذیر کائنات میں کیا کسی غیرمبدّل حقیقت کا وجود ہے بھی یا نہیں۔ اسی طرح اگر ایک مسلّمہ سچائی کی حیثیت کو بھی چیلنج کیا جائے جیسا کہ اکثر اوقات ہوتا ہے تو انسان سوچنے لگتا ہے کہ مختلف حالات میں سچائی کا مفہوم کہیں مختلف تو نہیں ہو جاتا۔
    اسی سوال کا ایک اور پہلو بھی ہے جو سچائی کے اس تصور سے تعلق رکھتا ہے جو عالم شہود کے پس پردہ عالم غیب کے بارہ میں قائم کیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر ہم سورج کی روشنی کو فی ذاتہٖ ایک مستقل حقیقت سمجھیں تو عین ممکن ہے کہ ہم غلطی پر ہوں۔ روشنی سے زیادہ اہم، روشنی پیدا کرنے والا ریڈی ایشن (Radiation) کا وہ عمل ہے جس کے بہت سے مظاہر میں سے روشنی تو صرف ایک ہے۔ دراصل بنیادی حقیقت تو ریڈی ایشن ہے جو طیف یعنی spectrumمیں ارتعاش پیدا کرنے یا نہ کرنے کے سبب کبھی ظاہر اور کبھی پوشیدہ رہتی ہے۔ دراصل لہروں کا یہی ارتعاش ہے جو ہمیں روشنی کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے سورج کی تابانی کو اپنی ذات میں ایک مستقل حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے اگر سورج کی تابانی کے اصول کو بخوبی سمجھ لیا جائے تو جہاں کہیں بھی ایسا عمل ہو گا وہ ایک ہی نتیجہ پیدا کرے گا اور اس لحاظ سے اس کو ایک ایسی دائمی حقیقت کا نام دیا جا سکے گا جو تابکاری اور روشنی کے قوانین میں کارفرما ہے۔ اس مثال سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ ’ابدیّت‘ کی اصطلاح ہر جگہ کسی نہ ٹوٹنے والے اور ہمیشہ جاری رہنے والے تسلسل کو ظاہر نہیں کرتی۔ ابدیّت سے مراد وہ سبب ہے جس کی موجودگی ہمیشہ ایک جیسے نتائج پیدا کیا کرتی ہے۔
    ابدی صداقت کی اس سادہ تفہیم کے بعد جو خارجی حقائق سے متعلق ہے کشش ثقل کو بجا طور پر ایک دائمی حقیقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ تا ہم اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ کشش ثقل کے عمل میں خفیف سا ردّوبدل بھی اس کی غیر مبدّل اور بنیادی حیثیت کو جھٹلا نہیں سکتا۔
    اس تمام بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگرچہ ہر ابدی صداقت سے علم حاصل ہوتا ہے لیکن ہر علم کو ابدی صداقت نہیں کہہ سکتے۔ علم کسی شے کا وہ ادراک ہے جو ہمارے دماغ میں مستند معلومات کے ایک جزو کے طور پر محفوظ ہو جاتا ہے۔ انسانی علم کا تمام تر ذخیرہ ایسی جزئیات سے مل کر ہی تشکیل پاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یقینی علم کیسے حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے صحیح یا غلط ہونے کو کیسے پرکھا جا سکتا ہے؟ مزید برآں ان علوم کو مختلف شاخوں مثلاً وقتی،نسبتی، ٹھوس اورابدی صداقتوں میں کیسے تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ یہ انسان کی قوتِ استدلال اور قوت ِفکر ہی ہے جو دماغ تک پہنچنے والے پیغامات پر مختلف ممکنہ پہلوؤں سے بار بار غور کرنے کے بعد مختلف نتائج اخذ کرتی ہے۔ یہی وہ ذہنی عمل ہے جو صحیح کو غلط سے اور واضح کو مبہم سے جدا کرتا ہے اور عقل کہلاتا ہے۔
    سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم کے اجزائے ترکیبی کی دریافت کا یہ طریق کار کس حد تک قابل اعتماد ہے؟ جب ہم عقل انسانی کی تفہیم کی اس منزل پر پہنچتے ہیں تو بہت سے پیچیدہ سوال سر اٹھانے لگتے ہیں۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ انسانی ذہن کے اخذ کردہ نتائج میں رد و بدل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جس بات کو ایک عہد میں معقول خیال کیا جائے ضروری نہیں کہ کسی اور عہد میں بھی اسے بعینہٖ قابلِ قبول سمجھا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمل ارتقا کے نتیجہ میں جب سے انسان اپنے حیوانی دور سے نکل کر انسانی دور میں داخل ہوا ہے اس کی قوتِ استدلال بتدریج بالغ نظری کے مقام پر جا پہنچی ہے۔ بعد ازاں ایک طرف توبنی نو ع انسان کے علم وصداقت کے اجتماعی تجربہ میں وسعت پیدا ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی کاوشوں اور عقلی نتائج کے معیار میں بھی بہتری پیدا ہوتی چلی گئی۔
    جس طرح جسمانی ورزش عضلات کو طاقت بخشتی ہے اسی طرح دماغی ورزش کے نتیجہ میں ذہنی، فکری اور یادداشت کی صلاحیتیں بھی نشو ونما پاتی ہیں۔ غالباً اس مشق ہی کا نتیجہ ہے کہ ارتقائی عمل کے دوران جانوروں کے دماغ کی جسامت بڑھتی چلی گئی۔
    ہماری ذہنی استعدادوں کی نشوو نما کا یہ احساس جہاں ایک لحاظ سے خوش آئند ہے وہاں ایک لحاظ سے پریشان کن بھی ہے۔ کیونکہ اس طرح تو انسان کی عہد بعہد ترقی کے دوران اس کی ذہنی اور فکری کاوشیں اور ان سے اخذ کردہ نتائج ہی مشکوک ہو کر رہ جاتے ہیں۔
    کیا یہ قرینِ قیاس نہیں کہ انسانی دماغ نے ارتقا کی جو مختلف منازل طے کی ہیں ان کے دوران ایک ہی قسم کے حقائق سے مختلف نتائج اخذ کئے ہوں؟ اگر معروضی حقائق مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے مختلف دکھائی دیں اور اگر غیر متعصّب ذہن بھی مختلف ادوار میں ان سے مختلف نتائج اخذ کرے تو کیا ایسے نتائج کو مسلّمہ حقائق قرار دینا درست ہو گا؟ لہٰذا محض منطق کے عمل استخراج اور استدلال سے حاصل کردہ علم کو مطلق سچائی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
    اب ہم ان مسائل پر گفتگو کریں گے جن کا تعلق ان ذرائع سے ہے جو علم کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور اس طریق کار سے متعلق ہیں جس سے کسی بھی علم کی صداقت کو پرکھا جا سکے۔ اگر لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے تمام ممکنہ زاویہ ہائے نگاہ کو ایک متحرک پلیٹ فارم پر رکھ دیا جائے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی بھی علم کو پورے یقین کے ساتھ حتمی قرار دے سکیں۔ البتہ ایک زاویۂ نگاہ ایسا ہے یعنی خالقِ کائنات کا جو ازلی ابدی ہے۔ لہٰذا اگر ایک علیم و خبیر، قادر مطلق اور حاضر ناظر ہستی کے وجود کو ثابت کیا جا سکے جو ازلی ابدی ہو، ہر کمزوری سے پاک ہو، اعلیٰ و ارفع، سب طاقتوں کی مالک اور تمام تنزیہی صفات سے متّصف ہو تو صرف اور صرف ایسی ہستی کے حوالہ ہی سے دائمی سچائی کا عرفان ممکن ہے۔ لیکن یہ مفروضہ اس امکان کے ساتھ مشروط ہے کہ نہ صرف یہ کہ ایک قادر مطلق خدا موجود ہے بلکہ وہ بنی نوع انسان کو مکالمہ مخاطبہ سے بھی مشرف فرماتا ہے جسے مذہبی اصطلاح میں الہام کہا جاتا ہے۔
    اتنے اہم موضوعات پر خالصۃً سیکولر اور منطقی بنیادوں پر بحث کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی شامل کر لیا جائے کہ کیا الہام نے انسان کی رہنمائی میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کیاہے تو اس مسئلہ کا حل اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ بایںہمہ اس راہ میں حائل تمام تر دقّتوںکے باوجود ہم اس پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔
    اس مرحلہ پر قاری کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس بحث کی باریکیوں کو سمجھنے کی پو ری کوشش کرے۔ جب وہ ایک بار فلسفیانہ اور عقلی دلائل کی بھول بھلیوں سے واقف ہوجائے گا تو اس معمّہ کو حل ہوتے دیکھ کر وہ یقینا لطف اندوز ہوگا۔
    مذہب کے حوالہ سے جدید مفکرین اور ماہرین عمرانیات کا ایک مکتب فکر ایسا بھی ہے جو مذہب کے ظہور اور ارتقا کو انسان کے عقلی ارتقا کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ ان کے خیال میں ماضی بعید کے ابتدائی دور میں انسان اپنی کمتر عقلی استعداد کے باعث بہت سے دیوتاؤں کی پرستش کی طرف مائل ہوا اور ان شروعات سے بالآخر ایک معبود کے تصور نے جنم لیا جسے خدا، اللہ یا پرماتما وغیرہ مختلف ناموں سے پکارا جانے لگا۔ اگر اس نظریہ کو تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ تاریخ کے ہر دور میں انسان کی بدلتی ہوئی استعدادوں کے مطابق ہی مذہب اپنے ارتقا کی منازل طے کرتا چلا آیا ہے۔
    ظاہر ہے کہ یہ خیال مذاہب عالم کے اس نقطۂ نظر سے بنیادی طور پر متصادم ہے جس کے مطابق مذہب کا منبع و ماخذ الہام الٰہی ہے۔ اس عقیدہ کی رو سے یہ ازلی ابدی اور حکیم خدا ہی ہے جس نے انسان کو مذہب یعنی آسمانی ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے۔ اہل مذہب کے نزدیک انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں شرک کی موجودگی مذہبی انحطاط ہی کی مرہون منت ہوا کرتی ہے۔ انبیاء کے ذریعہ قیام توحید کے بعد یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بعد میں آنے والے زمانہ میں انحطاط کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس امر پر مزید بحث آگے آئے گی۔
    قریباً تمام بڑے مذاہب ایک ایسی وراء الوریٰ ہستی پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں جو انسان سے ہمکلام ہوتی اور اپنے نمائندے خود منتخب کرتی ہے۔ اور اس کی بھیجی ہوئی ہدایت ہی حقیقی علم کے حصول کا واحد اور قابل اعتماد ذریعہ ٹھہر تی ہے۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ محض انسانی تجربہ اور عقلی استنباط سے حاصل کر دہ علم کو پورے وثوق سے کامل سچائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تفصیل اس اجمال کی آئندہ ابواب میں آئے گی۔

    فرد اور معاشرہ
    آزادی ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے۔ چنانچہ انسان بھی اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں۔ آزادی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ انسانیت آزادی سے عبارت ہے۔ آزادی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس کا تانا بانا آزادی ہی سے بُنا ہوا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود انسان کے تمام خود ساختہ ادارے آزادی ہی کے خلاف مصروفِ عمل نظر آتے ہیں۔
    روایت،رواج اور قانون کی عہد بعہد ترقی کا بغور مطالعہ اس دعویٰ کی تصدیق کیلئے کافی ثابت ہوگا۔ ریاست کے ارتقا کا اگر غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو غلامی کی طرف یہ ایک منظم اور مرحلہ وار سفر دکھائی دیتا ہے۔ اس گُتھی کو سلجھانے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے آزادی سے غلامی کی جانب اس تدریجی سفر کے اسباب کا تعین کر لیاجائے۔
    سب سے پہلے یہ امر ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ انسان طبعاً اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر ہی معاشرہ کی حاکمیت تسلیم کرتاہے۔ بصورت دیگر اسے جبر سے ہی اطاعت پر مجبور کیا جاسکتاہے۔ لیکن گروہی زندگی صرف انسان ہی سے مخصوص نہیںہے۔ اگر عالم حیوانات کا نچلی سطح سے اُوپر کی سطح تک بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آغاز میں تو ایک گونہ ابتری کی کیفیت موجود ہے لیکن جوں جوں حیات کی اعلیٰ سطح کی طرف سفر کریں تو بتدریج ہمیں زیادہ منظم، مرتّب اور مرکزیت کی طرف مائل نظامِ حیات سے واسطہ پڑتا ہے۔ کبھی کبھی یہ رجحان بھی ہمارے مشاہدہ میں آتا ہے جیسے کچھ جانوروں نے ضرورت کے تحت بقائے باہمی کی خاطر اکٹھا رہنا سیکھ لیا ہو۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جاندار مخلوق کی ایسی انواع بھی ہیں جن کا ارتقائی لحاظ سے تو مرتبہ اتنا بلند نہیں لیکن ان کی جبلّت اور سرشت میں معاشرتی رکھ رکھاؤ اور نظم وضبط کا ایک عمدہ نمونہ پایا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے اتنے منظم اور منضبط معاشرہ میں کسی تدریجی ارتقاکے آثار نظر نہیں آتے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے یہ معاشرہ اپنی آخری مکمل شکل میں اچانک معرض وجود میں آ گیا ہو۔ ایسی مربوط اور مرتّب طرزِ حیات سے زیادہ سے زیادہ یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نظم و ضبط کایہ ملکہ انہیں فطرتاً ودیعت کیا گیا ہے۔
    مثال کے طور پر کچھ حشرات الارض ہی کو لیں۔ آپ شہد کی مکھی کے معاشرتی نظام کو ارتقا کی کس منزل پر رکھیں گے؟ اگر شہد کی مکھی نے اپنی ارتقائی منازل مرحلہ وار تدریجاً طے کی ہیں تو اس سے پہلے اس کی کیا شکل تھی اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حشرات الارض کا ایک ایسا سلسلہ بھی موجود تھا جو درجہ بدرجہ ترقی کر تا ہوا بالآخر شہد کی مکھی کی تخلیق پر منتج ہوا؟ اسی طرح دیمک اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کا مطالعہ کرتے وقت بھی ہمیں ایسی ہی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہاں بھی کسی تدریجی ارتقاکے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ مخلوق ابتداء ہی سے ایک طے شدہ اور معین نظام کے تحت اپنے مخصوص وظائف پوری تندہی سے بجالارہی ہے جو ان کے RNA اور DNA پر اس طرح نقش ہے کہ وہ اس سے سرموبھی انحراف نہیں کر سکتے یہاںتک کہ انتہائی منضبط اور منظم اشتراکی معاشرے بھی ان کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنی اپنی جگہ ایسی استثنائی اور منظم تخلیق کے عجائبات ہیں جن کے بارہ میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے جن سے ثابت ہوسکے کہ انہوں نے کسی ابتدائی شکل سے رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے ایک انتہائی منظم معاشرہ کی صورت اختیار کر لی ہو۔
    لہٰذا تخلیق حیات کا دو طرح سے مطالعہ کرنا ہو گا۔ اوّل یہ کہ حیات خداتعالیٰ کے تخلیقی ارادہ سے یکدم عدم سے وجودمیں آگئی۔ ہوسکتا ہے کہ سائنسدان اسے بیک وقت ہونے والے بہت سے جینیاتی تحولات کا نتیجہ قرار دیں۔ لیکن یہ مفروضہ سائنسی لحاظ سے قابل اعتنا نہیں ہے۔
    عالم حیوانات کی اجتماعی ترقی کی دوسری قسم عمومی ہونے کے ساتھ ساتھ ارتقائی بھی ہے۔ اگرچہ اس کے نتائج اوپر بیان کردہ مثالوں کی طرح اتنے ڈرامائی نہیں۔ کتوں، بھیڑیوں اور چکاروںمیںبھی اجتماعی بقا کی خاطر مل جل کر رہنے کا مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔ وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں، یہی میلان پرندوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح مچھلیوں، کچھووں اور بحری خارپشت میں بھی ایسی ہی خصوصیات دیکھنے میں آتی ہیں۔ پس اجتماعیت زندگی کا خاصہ ہے۔
    نظم و ضبط کے نتیجہ میں ہی حاکمیت کا تصور جنم لیتا ہے،قیادت ابھر کرسامنے آتی ہے اور معاشرہ کی ہر سطح پر جرم و سزا کے قانون کا دھندلا سا خاکہ اُبھر نے لگتا ہے۔ لہٰذا انسان کا معاشرتی حیوان کی حیثیت سے ارتقا کوئی منفرد اور اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ کم و بیش اکثر جانوروں کی طرح پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے عین مطابق معرضِ وجود میں آیا ہے۔
    یہ سوال کہ دنیا بھر میں معاشرتی زندگی کا ایک ہی وقت میں ارتقا کیسے ممکن ہوا، ایک لمبی بحث کا متقاضی ہے۔ ہم یہاں انسانی معاشرہ کے ارتقا کے بعض ان پہلوؤں کا ذکر کریں گے جن کا ہمارے موضوع سے براہ راست تعلق ہے۔
    شخصی آزادی فی ذاتہٖ ہمیشہ سے معاشرتی پابندیوں سے بر سرِ پیکار رہی ہے۔ ان قوّتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے اس کشمکش کا گہرا ادراک ضروری ہے جو بالآخر شخصی آزادی اور معاشرہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مابین حدود کا تعین کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر فرد سے خاندان، فرد سے قبیلے اور فرد سے ریاست کے تعلقات اس بات پر گواہ ہیں کہ زندگی کو اس کی منظم معاشرتی شکل ہی میں زیر غور لایا جاسکتا ہے۔ اگر انسان فطرتاً آزاد اور آزادی پسند ہے تو پہلے اس بنیادی سوال کا جواب دینا ہو گا کہ آخر معاشرہ کی حاکمیت کے سامنے کیوں سر تسلیم خم کیا جائے؟
    جب بھی کوئی سماجی، نسلی، اقتصادی یا سیاسی نظام اپنی ارتقائی منازل طے کرتا ہے تو یہ عمل ہمیشہ سوسائٹی اور ان افراد کے ما بین جن سے یہ سوسائٹی تشکیل پاتی ہے ’کچھ لو کچھ دو‘ کے ایک ایسے سمجھوتہ کا مرہون منت ہوا کرتا ہے جو تحریری شکل میں موجود نہیں ہوتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی فرد بھی اس وقت تک اپنی آزادی سے رضا کارانہ طور پر دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ اس سودے میں نقصان کی نسبت فائدہ زیادہ ہے۔ بنیادی طورپر وہ اپنے تحفّظ کی خاطر اپنی شخصی آزادی کا سودا کرتا ہے۔ ایک طرف تو وہ اپنے کچھ حقوق سے اس نظام کی خاطر دستبردار ہوجاتا ہے جس کا وہ رکن بنتا ہے۔ دوسری طرف اسے اپنے تحفّظ اور آسان تر زندگی کی ضمانت مل جاتی ہے۔
    یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب معاشرہ کی تشکیل کا عمل شروع ہوتا ہے تو ہر سطح پر افراد ہی زیادہ تر فائدہ میں رہتے ہیں۔ اسی طرح حیوانات میں بھی یہ اصول کارفرمانظر آتا ہے جس طرح انسانی معاشرہ کی ابتدائی سطح پر۔ البتہ انسانی معاشرہ جوں جوں زیادہ منظم ہونے لگتاہے فرداور معاشرہ کے مابین طاقت کا توازن بھی بگڑنے لگتا ہے۔ عوام اور ان پر حکومت کرنے والے چند افراد کا باہمی تناسب جوں جوں بڑھنے لگتا ہے معدودے چند اربابِ اختیار کے ہاتھوں استحصال اور طاقت کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگرچہ اصولاً یہ تو ممکن ہے کہ فرد اپنی آزادی کے عوض کچھ نہ کچھ فائدہ بھی حاصل کرے لیکن عملاً اس کی یہ توقع پوری نہیں ہوتی۔ شخصی آزادی کا بنیادی اصول بتدریج معاشرہ کے مفاد پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاشرہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کا ماحول جہاں ایک طرف تحکّمانہ ہوتا چلا جاتا ہے وہاں فرد کے حقوق بھی سلب ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    اس مضمون پر جامع بحث آگے آئے گی جب ہم مارکس کے نظریہ پر گفتگو کریں گے۔ یہاں صرف اس انحطاط کی بنیادی وجہ تلاش کرنا مقصود ہے کہ ایک نسبتاً ترقی یافتہ اور منظم معاشرہ میں فرد اپنے آپ کو محفوظ و مامون کیوں نہیں سمجھتا؟ جانوروں کے معاشرتی رویہ میں تو ہمیں کہیںبھی ایسا منفی اور بیمار رجحان نظر نہیں آتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انسانی معاشرہ ہی فرد کے حقوق اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں قاصر رہتا ہے؟
    بنی نو ع انسان اور حیوانات میں ایک حدّ فاصل اور واضح مابہ الامتیاز تو بہرحال موجود ہے یعنی یہ کہ حضرت انسان ہی ہے جس میں دھوکہ دہی اور قوانین قدرت کو تہ وبالا کرنے کا خوفناک رجحان پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں انسان باقی تمام جانوروں کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ بے شک بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے جانور بھی دھوکہ دہی کے مرتکب ہورہے ہوں لیکن دراصل یہ مجرمانہ دھوکہ دہی نہیں بلکہ ایک قسم کی حکمت عملی ہوا کرتی ہے۔ جانوروں کے ہاں انسانوں کی مانند دوسروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا تصور نہیں ملتا۔ وہ قوانین قدرت کے مطابق اور ان کی حدود میں رہتے ہوئے ایک منظم اور طبعی زندگی گزارتے ہیں۔ اگر کبھی وہ دھوکہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں تو جینیاتی قوانین کے تحت ہی ایسا کرتے ہیں۔ اور یہ چیز جرم کی تعریف میں نہیں آتی۔ جرم کا شعور تو بالواسطہ نتیجہ ہے ارادہ کی آزادی اور خودمختاری کا۔ جانور تو مکمل طور پر فطرت کے تابع ہوتے ہیں۔ نہ تو وہ اچھے اور برے میں تمیز کرسکتے ہیں اور نہ ہی اچھائی اور برائی ان کیلئے کوئی معنی رکھتی ہے۔
    یہ انسان ہی ہے جو نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے دیدہ دانستہ پہلو تہی کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے میں بھی کوئی عارنہیں سمجھتا۔ کسی نظام کے جزو کے طور پر انسان پر جو اجتماعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کے پس منظر میںانسان کی شخصی آزادی اس لئے بری طرح مجروح ہو کر رہ جاتی ہے کہ انسان کے اندر فطری طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ بسا اوقات دھوکہ دہی کا مرتکب ہو اور عمداً غلط رستہ اختیار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی رکھے کہ وہ اپنی غلط کاریوں کے باوجود بچ کر نکل جائے گا۔ کارل مارکس کا مقولہ ہے کہ ’’انسان ایک بد دیانت مخلوق ہے‘‘۔ بالکل بجا، لیکن اس صورت میں کیا وہ خود بھی بد دیانت قرار نہیں پائے گا اور کیا وہ سوشلسٹ قیادت کو جس کی بنیادیں ہی بددیانتی پر استوار ہیں اس تعریف سے مستثنیٰ قرار دے سکے گا؟ انسانی معاشرہ کا ہر دور میں یہی المیہ رہا ہے اور کوئی بھی نظام اس سے مستثنیٰ نہیں۔ فرد اور معاشرہ کے تعلق میںپائی جانے والی یہ خرابی ہی بڑھتی ہوئی قانون سازی کے رجحان کو جنم دیتی ہے۔
    بظاہر ہر نئے قانون کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف فرد کے حقوق کی حفاظت کی جائے تو دوسری طرف معاشرہ کے حقوق کوتحفّظ دیا جائے تا کہ وہ ناجائز طور پر ایک دوسرے کے حقوق میں دخل اندازی نہ کر سکیں۔ لیکن بد قسمتی سے قانون ساز ادارے کامل انصاف کی فراہمی میں اس وجہ سے نا کام رہتے ہیں کہ انسان کی اپنی بدعنوانی آڑے آ جاتی ہے۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ قانون سازی کے اس اجتماعی عمل کے دوران فردکے حقوق کی حفاظت کے لئے وضع کئے گئے قوانین کے ذریعہ ہی فرد کو اس کے حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
    سر دست ہم مذہبی معاشروں کے بارہ میں کسی لمبی چوڑی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے لیکن معاشرتی فلسفہ کے سیکولر نقطۂ نگاہ سے کسی حد تک مذہب کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ماہرین عمرانیات من حیث الجماعت تسلیم نہیں کرتے کہ مذہب خداتعالیٰ کی قائم کردہ ایک حقیقت ہے۔ ان کے نزدیک مذہب بھی دراصل انسان کے معاشرتی عمل کا ایک گونہ اظہار ہے۔
    اگربفرضِمحال مذہب کے ارتقا سے متعلق ان کا نظریہ درست تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس صورت میں تمام مذہبی معاشروں کو انسان کے معاشرتی طبقات میں ایک انوکھی حیثیت حاصل ہو جانی چاہئے۔ بالفاظِ دیگر مذہب، معاشرہ اور فردکے خلاف ایک مجسّم فریب کی علامت بن کر رہ جاتا ہے۔ بظاہر اس سے وہ ثابت یہ کرنا چاہیں گے کہ تمام بانیان مذاہب (نعوذباللہ من ذٰلک) پرلے درجہ کے مکّار تھے جو خود تراشیدہ خداؤں کے نام پر جان بوجھ کر عوام الناس کو دھوکہ دیتے رہے۔ کیا کہنے اس منطق کے!
    یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بانیان مذاہب قوانین خود بناتے ہیں اور نام خداتعالیٰ کا لیتے ہیں تاکہ بقول ان کے سادہ لوح عوام کو نام نہاد شرعی قوانین کی زنجیروں میں جکڑا جا سکے اور اس طرح یہ دھوکہ باز گروہ (نقل کفر کفر نہ باشد) خداتعالیٰ کے نام پر اپنے مفاد ات کیلئے حکومت کرتا رہے۔ مذہبی معاشرہ کے بارہ میں یہ تصور توماہرین عمرانیات کا ہوا۔ کارل مارکس بھی مذہب کے اس تصور سے پوری طرح متفق دکھائی دیتاہے۔ اس کے نزدیک مذہب محنت کش طبقہ کو ہمیشہ حال مست رکھنے کا ایک نشہ ہے تا کہ متوسّط طبقہ کے ہاتھوں اسے اپنے بے رحم استحصال کا شعور ہی پیدا نہ ہو سکے۔ اس کے نزدیک یہ طاقتور نشہ جو محنت کش طبقہ کو مدہوش رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اُس اخلاق پر مشتمل ہے جسے جملہ مذاہب عالم کی تائید حاصل ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے اخلاقیات کا اللہ تعالیٰ کے تصور کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ اس حوالہ سے اخلاقیات انسانی کردار کی تہذیب و تشکیل کا باعث بنتی ہے۔
    اسلا می مکا تبِ فکر
    اسلامی نقطئہ نظر دو مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اول تو یہ کہ اسے مختلف مسلم مفکّرین کی علمی کاوشوں کے تجزیہ کی روشنی میں بیان کیا جائے اور دوم یہ کہ اسے قرآنی تعلیمات، سنّت رسول ﷺ اور احادیث کی روشنی میں براہ راست پیش کیا جائے۔ اسلامی تعلیمات کے بارہ میں اوّل الذکر طریق کی تفہیم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک اور غیر مستند ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مفکرین اپنے استنباط میں، جو ضروری نہیں کہ جائز اور معقول بھی ہو، روز بروز کٹرّ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ جسے وہ اسلام قرار دیتے ہیں ابتدائی طور پر تو وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بارہ میں ان کے اپنے فہم پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو قرآن وسنت سے استنباط کرتے ہیں اگر اقلیت کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں تو ایسی صورت میں انہیں دوسروں سے الگ حیثیت دی جا سکتی ہے۔ آگے چل کر ہم بنیادی مسائل کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کریں گے۔ سردست ہم قرون اولیٰ کے مسلمان علمائ، دانشوروں اور فلسفیوں کے اوّل الذکر گروہ کے ان افکار کی وضاحت کریں گے جن کے پس منظر میں اس دور کے مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کی تشکیل ہوئی۔ تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں دو قسم کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں:
    اوّل: سب سے زیادہ غالب اور طاقتور اثر قرآن اورسنت کا تھا جس کی وجہ سے تصورِعلم میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہوئی اور مطالعہ اور تحقیق مختلف جہتوں میں بے پایاں وسعت سے ہمکنار ہوئے۔
    دوم: یونانی فلسفہ اور سائنس میں روزافزوں دلچسپی نیز ہندوستان، ایران اور چین کے کلاسیکی فلسفہ کے مطالعہ نے بھی مسلمانوں کے فکری ارتقا میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجہ میں بہت سے بیرونی فلسفے آزادانہ طور پر یا اسلامی تعلیمات کے اختلاط سے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
    ان مختلف فلسفوں میں دلچسپی اور ان کی قرآنی آیات سے مطابقت کی خواہش نے نئے مکاتبِ فکر کو جنم دیا جو اس لئے اسلامی کہلائے کہ ابتدائی طور پر یہ مکتبہ ہائے فکر اسلامی سوچ، تعلیم اور عقائد کی گود میں پروان چڑھے تھے۔ بدیشی فلسفہ کا قرآنی مطالعہ پر مبنی خیالات سے اختلاط شروع ہوا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ چند تنگ نظر علماء نے ان کے وسیع النظر اور لچکدار رویہ کے باعث ان پر غیر اسلامی ہونے کی مہر لگا دی تھی اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ عظیم علماء بنیادی طور پر مسلمان ہی تھے۔ مختلف دنیوی علوم سے ان کا تعلق شاذ ہی ان کے ایمان کی راہ میں حائل ہوا ہو گا۔ اس لحاظ سے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن وسنت کے مطالعہ کے بعد خو د فیصلہ کرے کہ ایسے مفکرین کا پیش کردہ فلسفیانہ نقطۂ نظر اسلامی ہے یا نہیں۔ تاہم ان کے اخذ کردہ نتائج ہمیشہ بحث طلب رہے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ نتائج اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں اور بعض کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ تاہم کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کی نیتوں پر شک کرے۔ سچائی کے ہر متلاشی کا یہ حق ہے کہ قرآن اورسنت کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کے بعد اپنے نتائج اخذ کرے۔ اسی طرح دوسروں کو بھی اس سے اختلاف کا حق حاصل ہے۔ لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے کو اس بنیادی حق سے محروم کر دے کہ وہ جس چیز پر چاہے ایمان لائے اور خود کو حق پر سمجھے۔
    اب ہم بعض اسلامی مکاتبِ فکر کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں جو ایک ہی ماخذ سے مختلف نتائج اخذ کرنے کی وجہ سے معرض وجود میں آئے۔ تاہم یاد رہے کہ قرآن وسنت پر مبنی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہر مکتبۂ فکر کو براہ راست ان شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہئے جو وہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے۔ اسلامی حکومت کے دور میں پنپنے والے تمام نظریات اور نقطہ ہائے نظر کو فی ذاتہٖ اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان میں سے کچھ جزوی طور پر متضاد بلکہ ایک دوسرے کے بالکل برعکس تھے۔ تاہم یہ بات ان کو اس حق سے محروم نہیں کرتی کہ ان کے ماننے والے ان کا حوالہ دیتے وقت ان کو اسلامی قرار دیں۔
    الاشعریہ
    الاشعریہ مکتبۂ فکر امام ابوالحسن علی بن اسمٰعیل الاشعری (260 تا 330ھ) کا مرہون منت ہے کہ انہوں نے اسے مروّجہ مکاتبِ فکر میں ایک منفرد اور نمایاں
    اسلوب بخشا۔ یہ وہ دور تھا جب بعض مسلمان علماء تیزی سے عقلیت پسندی کی طرف مائل ہو رہے تھے اس لئے اس رجحان کے ردّکی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس جوابی تحریک کے سربراہ مشہور امام اسمٰعیل الاشعری تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ الاشعری کے اپنے استاد الجبائی (وفات 303ھ) اس وقت کے سرکردہ عقلیت پسند تھے۔ امام اشعری نے نہ صرف عقلیت پسندوں سے اختلاف کیا بلکہ ہر اس نظام کی خامیوں کو پر زور طریق پر بیان کیا جو سچائی کی شناخت کے لئے عقل پر انحصار کرتا ہے۔
    اشعریہ کے نزدیک عقلیت پسندی نہ تو کسی یقینی علم کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نہ ہی اس سے ابدی صداقت تک رسائی ممکن ہے بلکہ شکوک و شبہات کی طرف لے جاتی ہے۔ اشعریہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ حقیقی علم صرف عرفان حق سے وابستہ ہے کیونکہ حق کا ابدی سرچشمہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے حصول کا واحد راستہ وحی ٔالٰہی ہے۔
    عقلیت پسندی کے خلاف ردعمل میں بعض اشعری اس انتہا تک چلے گئے کہ انہوں نے قرآنی آیات کی ہر منطقی تفسیر کو بھی مسترد کر دیا یہاںتک کہ انہوں نے قرآنی آیات کے مجازی معنوں کا بھی مطلق انکار کر دیا۔ امام اشعری خود ماہر منطقی تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عقلیت پسندی کے خلاف ان کے پیش کردہ دلائل کی بنیاد خود عقل پر رکھی گئی ہے۔
    اس امر کی وضاحت ان کے اپنے استاد الجبائی کے ساتھ ایک مناظرہ سے بخوبی ہو جاتی ہے جس میں اشعری نے الجبائی سے سوال کیا کہ آپ کی ان تین بھائیوں کی نجات کے بارہ میں کیا رائے ہے جن میں سے ایک مومن ہو، ایک کافر اور ایک ابھی بچہ ہو؟ الجبائی نے جواب دیا کہ مومن جنت میں جائے گا اور کافر جہنم میں، جبکہ بچہ نہ تو جنت میں جائے گا اور نہ ہی جہنم میں کیونکہ بچہ اپنے اعمال کی بنیاد پر کسی جزا سزا کا مستحق نہیں۔ اس پر اشعری نے کہا کہ بچہ خدا سے سوال کرسکتا ہے کہ تو نے مجھے کچھ وقت دیا ہوتا تو میں بھی کچھ اچھے اعمال کر لیتا۔ پس مجھے جنت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے؟ الجبائی نے جواباً کہا۔ خدا کہہ سکتا ہے کہ میں جانتا تھا کہ تم بڑے ہو کر برے عمل کرو گے اس لئے کم سنی میں تمہاری موت درحقیقت تم پر شفقت ہے کیونکہ اس طرح تم جہنم سے بچ گئے ہو۔ اشعری نے برجستہ کہا اس صورت میں کافر بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اے خدا! تو نے مجھے بھی کیوں نہ بچپن میں وفات دے دی تا کہ میں بھی برے اعمال سے بچ جاتا؟
    یہ امر قابل ذکر ہے کہ عقلیت پسندی کے خلاف دلائل دیتے ہوئے اشعری خود انہی کے ہتھیار استعمال کر رہے تھے۔ پس یہ کہنا درست نہیں کہ وہ سراسر عقلیت پسندی کے خلاف تھے۔ اس مکتبۂ فکر کے امام غزالی اور امام رازی وغیرہ جیسے پیروکار اپنے مسائل کے حل اور عقائد کی مضبوطی کیلئے عقلی دلائل پر بے حد انحصار کرتے تھے کہ اسلامی دنیا میں متعارف ہونے والے نئے فلسفوں سے کہیں اسلامی تعلیم کو ہی نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں مجرد عقل کا استعمال ایسی تحریکات کا پیش خیمہ نہ بن جائے جو بالآخر حقیقی اسلام سے دور لے جانے والی ہوں۔ اس لئے عقلیت پسندی کا میلان رکھنے والی تمام ایسی تحریکات کو الحادی یا بدعتی قرار دے دیا گیا جو ایک ہتک آمیز اصطلاح ہے کیونکہ اس سے مراد صراط مستقیم سے انحراف ہے۔ عقلیت پسند تحریکات کے بانیوں کو کٹر علماء جن القابات سے نوازتے تھے ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علماء کا یہ کٹر طبقہ کتنا پریشان تھا۔ مثلاً وہ ان کو معتزلہ یا الحادی کہتے تھے یعنی راہ راست سے ہٹ جانے والے۔
    ایک اور گروہ جو متردّیہ کے نام سے موسوم ہے اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ وحی کو پہلے بعینہٖ قبول کر کے اس کی تائید میں منطقی توجیہات تلاش کرنی چاہئیں۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ وحی ایمان کو مضبوط کرتی ہے جبکہ منطقی تشریحات اس ایمان کو مزید تقویت بخشتی ہیں۔ اشعریہ نے منطقی تشریحات کا رد نہیں کیا بلکہ وہ انہیں زوائد میں سے سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اگر منطقی تشریح ممکن ہو تو فبہا وگرنہ مطلق وحی منطقی اور عقلی دلائل کے بغیر ہی کافی ہے۔ اشعریہ ہی کا ایک انتہا پسند گروہ جنہوں نے قدیم علماء کی اندھادھند پیروی کی سلفیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ ان کے نزدیک وحی کو بغیر کسی فلسفیانہ یا منطقی توجیہہ کے بلا حیل و حجت قبول کر لینا چاہئے۔ کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ یہ تشریحات بالآخر صراط مستقیم سے انحراف پر منتج ہوں گی۔
    معتزلہ
    جہاںتک معتزلہ کا تعلق ہے انہوں نے اس امر سے انکار نہیں کیا کہ وحی صداقت تک پہنچنے کا معتبر ترین ذریعہ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وحی کا حقیقی
    پیغام عقلی استدلال کے بغیر صحیح معنوں میں سمجھا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ انہوں نے عقل کو وحی پر ان معنوں میں ترجیح دی کہ جب کبھی یہ دو نوں بظاہر ایک دوسرے سے متصادم نظر آئیں تو وحی کی صحیح تفہیم کیلئے عقل کو فوقیت دی جائے گی یعنی عقل کو یہ فوقیت الہام کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ الہام کی صحیح توجیہہ و تشریح کے مددگار کے طور پر حاصل ہو گی۔ ان کا موقف یہ تھا کہ قرآن وسنت کی معروف تشبیہات، استعارات اور علامات کو سمجھے بغیر سچائی تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ اور اس کے چہرے سے مراد اس کی طاقت اور شان و شوکت ہے علیٰ ھٰذا القیاس۔
    الاشعری کا اپنا موقف تھا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں صفاتِ الٰہیہ کا تذکرہ ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفات مراد ہیں اگرچہ ان کی پوری حقیقت کا ہمیں علم نہیں۔ لیکن انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان اصطلاحات سے ظاہری خدّو خال مراد نہیں۔ اگرچہ تحریک معتزلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے نویں صدی سے سترھویں صدی عیسوی تک یورپی مکاتبِ فکر سے مماثل دکھائی دیتی ہے لیکن اس نے کوئی ایسا الحاد یا بدعت کا رنگ اختیار نہیں کیا جیسا کہ یورپ میں عقلیت پسندی نے اپنے مسلسل انحطاط کے زمانہ میں اختیار کیا۔ معتزلہ نے اپنے دلائل کے حق میں ہمیشہ قرآن وسنت کے حقیقی سرچشموں سے ہی استنباط کیا اور خود کو کبھی ان سے الگ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان سے منسلک رہے۔
    آج معتزلہ اور اشعریہ کے نقطئہ نظر میں کوئی واضح فرق نہیں رہا۔ اگرچہ مذکورہ بالا تاریخی پس منظر نے عصر حاضر کے علماء کی علمی کاوشوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں لیکن ماضی کی واضح تفریق کے نقوش اب دھندلا چکے ہیں۔ عصرِ حاضر کے علماء گزشتہ فرقہ وارانہ مکاتبِ فکر کے مقابل پر اپنے ذاتی نقطۂ نظر کو ترجیح دیتے ہیں تاہم دورِ گزشتہ کی باقیات کے کچھ آثار اب بھی کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ یہ باقیات وہ ہیں جو ایک لمبے عرصہ پر محیط مختلف مکاتبِ فکر کی باہمی افہام وتفہیم کا ثمر ہیں۔ ان میں سے بعض تو قطعی طور پر قرون وسطیٰ کی سوچ کے حامل ہیں۔ لیکن وہ اپنے موقف کی تائید میں اگرچہ کسی واحد پرانے مکتبۂ فکر پر انحصار نہیں کرتے لیکن اپنی تائید میں کسی نہ کسی مکتبۂ فکر کے عالم کی تلاش میں سرگرداں ضرور رہا کرتے ہیں۔ ان کیلئے قرون وسطیٰ کے مختلف فرقوں کے مابین پائی جانے والی حدود تو اب مفقود ہو چکی ہیں مگر ان کے نزدیک ازمنۂ وسطیٰ کے دقیانوسی خیالات سے آج بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی بات کسی حد تک نام نہاد جدّت پسندوں کے بارہ میں بھی کہی جاسکتی ہے جو ایک طرف تو بڑی بے باکی سے ذاتی نقطئہ نظر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف گزشتہ دانشوروں کا کوئی حوالہ مل جائے جو ان کے مفید مطلب ہو تو وہ اسے بھی اپنے موقف کی تائید میں پیش کرنے سے نہیں جھجکتے۔
    صوفی ازم
    تصوف ترکی، ایران اور دریائے آمو سے مشرق کے علاقہ میں، جو تاریخی طور پرماورائالنہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، خاصا مقبول تھا۔ سابقہ
    سوویت یونین میں رہنے والے بہت سے مسلمان باشندے تصوف کے بہت دلدادہ تھے۔ تصوف نے پہلے روس کے زاروں اور پھر اشتراکیت کے دور میں ان علاقوں میں اسلام کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تصوف جس بات پر شدت سے زور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب کی ظاہری یا صوری ہیئت کے پس پردہ ایک مصنوعی حقیقت بھی ہوا کرتی ہے جو الہام اور اس کی روح سے عبارت ہے۔ صوفیاء کے نزدیک اس روح کو ظاہر پر ہر صورت میں فوقیت حاصل ہونی چاہئے۔ اس روح سے مراد صوفیاء کی آخری منزل ہے جس تک پہنچنے کیلئے تمام مذاہب کوشاں ہیں۔ یہ آخری منزل عشق الٰہی اور تعلق باللہ کی ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک مذہب کی ظاہری شکل و صورت پر کاربند رہتے ہوئے یا اس کے بغیر اگر انسان کسی نہ کسی طرح اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور یہی اس کا منتہیٰ اور مقصود ہے۔ تاہم سب صوفیاء نے ظاہر کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق شریعت کے تحت زندگیاں بسر کرتے چلے گئے۔ لیکن وہ اپنی تمام تر کوششیں ظاہری عبادات میں صرف کرنے کی بجائے شب و روز اللہ تعالیٰ کی بعض خاص صفات کے ورد میں مشغول رہتے تا کہ ان کی تمام تر توجہ ذکر الٰہی پر مرکوز رہے۔
    کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ ریاضتیںآہستہ آہستہ یوگا کی ان کسرتوںکی ہمشکل ہو گئی ہوں جن کا ذکر ہندومت کے باب میں کیا گیا ہے۔ بعض اوقات صوفیاء کرام نے ذکر کے نئے سے نئے طریقے اور انداز ایجاد کر لئے جو ہوتے ہوتے آنحضرتﷺ کی سنّت سے بہت دور چلے گئے۔ تاہم ان صوفی فرقوں کے پیروکار قرآنی تعلیمات سے بھی شدت کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس طرح مسلم دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اوقات میں تصوف کے نئے مکاتب جنم لیتے رہے۔ اس بحث سے مراد یہ نہیں ہے کہ تصوف کے ارتقا اور تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے یا مختلف صوفی فرقوں کے ان باہمی اختلافات پر بحث کی جائے جو بعد میں پیدا ہوئے۔ لیکن ایک فرق جو اسلامی تصوف کو اس سے ملتے جلتے دیگر مذاہب کے صوفیانہ مسالک سے ممتاز کرتا ہے وہ صوفیائے اسلام کا وحی کے جاری رہنے اور تعلق باللہ پر غیر متزلزل ایمان ہے۔ درحقیقت تمام معروف صوفیاء کرام کا دعویٰ ہے کہ ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک مستقل تعلق قائم ہے۔ چنانچہ ان کے بہت سے الہامات و کشوف مختلف مستند کتب میں درج ہیں۔ البتہ صوفیاء کرام میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسلام کے بنیادی اصولوں سےاپنا تعلق توڑ دیا۔ ان کے نزدیک مذہب کا مقصد صرف اتنا ہے کہ انسان کی خدا کی طرف رہنمائی کرے۔ اس لئے ان کے نزدیک وہ لوگ جو یہ مقصد حاصل کر چکے ہیں ان کیلئے رسمی عبادات بیکار محض ہیں۔ انہوں نے کچھ ایسی ذہنی اور روحانی ریاضتیں متعارف کروائیں جن کے بارہ میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا اور بندہ کے درمیان ایک قسم کا رابطہ قائم کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس رابطہ کو بعض اوقات انسان کے فنا فی اللہ ہونے کے احساس کا نام دیا جاتا ہے۔ تصوف کے اس مکتبۂ فکر میں موسیقی اور نشہ کی لت نے جلد ہی راہ پالی اور ان لوگوں کو حقیقت سے دور سراب اور خود فریبی کی دنیا میں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دیا۔ تاہم تمام صوفیانہ تحریکات نے اپنے سفر کا آغاز بدعات سے نہیں کیا اگرچہ بالآخر وہ اپنے انحطاط کے دور میں اس راہ پر چل نکلیں۔
    تصوّف کے چار مستقل مشہور و معروف سلسلے ہیں جومرورِ زمانہ کے ساتھ شریعت کی راہ سے دور ہوتے چلے گئے۔ لیکن جہاں تک ان کے بزرگ بانیوں کا تعلق ہے قرآن وسنت کے ساتھ ان کی وفاداری ہمیشہ مسلّم اور شک و شبہ سے بالا رہی ہے۔ یہ بڑے سلسلے چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ اور نقشبندیہ ہیں جو آگے کئی ذیلی فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ یہ سب کے سب حصول حق میں آسانی کیلئے زہد و ورع اور نفس کشی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ آغاز میں صوفیاء کی یہ ریاضتیں روایتی اسلامی عبادات کا متبادل نہیں سمجھی جاتی تھیں بلکہ نوافل کے طور پر ادا کی جاتی تھیں۔ رفتہ رفتہ خالق و مخلوق کے باہمی تعلق کا صوفیانہ تصور ایسے فلسفیوں سے متاثر ہونے لگا جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ مثال کے طور پر بعض صوفی سلسلوں میں کلاسیکی یونانی فلسفہ کے اثرات صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ بعض صوفی فرقوں نے وحدت الوجود کا یونانی نظریہ ایک ترمیم شدہ صورت میں اختیار کر لیا اگرچہ بعض نے اس کی شدید مخالفت بھی کی۔ وحدت الوجود کے مخالفین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خداتعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان ایک واضح اور بیّن حدِّفاصل موجود ہے۔ اگرچہ مخلوق خالق کی مظہر ہے اور اس پر اس کے خالق کی چھاپ کے نقوش ثبت ہیں تاہم مخلوق کو خالق کی ذات میں شامل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے بالمقابل بعض دوسرے مسالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی مظہر ہے اس لئے خالق اور مخلوق کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں کی جا سکتی۔ ان کے خیال میں مخلوق کو خالق سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خداتعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی اس فطرت سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس پر اس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا دونوں کے درمیان کوئی حدِّفاصل نہیں کھینچی جا سکتی۔ چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کائنات ہے اور کائنات خدا۔ اس کے باوجود مادہ کے قدرتی خواص میں اللہ تعالیٰ کی آزادانہ مرضی کارفرما ہے۔
    بادی النظر میں کائنات کا یہ تصور مکمل طور پر وحدت الوجود کا آئینہ دار دکھائی دیتا ہے یعنی خدا سب کچھ ہے اور سب کچھ خدا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ وحدت الوجود کا نظریہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وجود کے خارج میں بھی ایک مقتدر اور بااختیار ہستی موجود ہے جو بنی نوع انسان سے بذریعہ الہام مخاطب ہوتی ہے، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی اور اس کی رہنمائی فرماتی ہے۔
    مسلمان صوفیاء وحدت الوجود کے اس روایتی نظریہ کے برعکس خدا کی الگ ذات پر یقین رکھتے رہے ہیں جو خالق ہے اگرچہ اس کا عکس مخلوق میں نظر آتا ہے۔ جہاں تک صوفیاء کرام کے مزاج کا تعلق ہے وہ تندو تیز مباحثوں کی طرف بہت کم راغب ہوئے۔ وہ اپنے عقائد کے اظہار میں معتدل رہے اور مخالفانہ رائے کو صبر و تحمل سے برداشت کرتے رہے۔ لیکن یہ بات کٹّرملاّئوں کے بارہ میں نہیں کہی جا سکتی جو رفتہ رفتہ حسد میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ اس لئے اکثر صوفی فرقوں کو انتہا پسند ملائیت کے ہاتھوں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ملائوں کی طرف سے اکثر جوابی تحریکیں اٹھتی رہیں اور وقتاً فوقتاً ہر صوفی فرقہ کو شدید جارحیت کے مراحل میں سے گزرنا پڑا۔ اور وہ صوفی حضرات جو وحدت الوجود کے عقیدہ سے وابستہ رہے خاص طور پرانتہا پسند علماء کے غیظ وغضب کا نشانہ بنے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات تو وہ موت کے سزاوار بھی ٹھہرے اور بڑی سفّاکی سے قتل کئے گئے۔ ان کا یہ احتجاج کہ ان کا وحدت الوجود کا فلسفہ کبھی بھی خالقِ مطلق کی الگ ذات کے موجود ہونے کے خلاف نہیں رہا، کسی کام نہ آیا اور ان کی اس بنا پر شدید مذمت کی گئی کہ وہ خدا کی خدائی میں شرکت کے مدعی ہیں۔ الغرض نام نہاد کٹر علماء کی طرف سے ان لوگوں پر طرح طرح کا ظلم وستم روا رکھا گیا۔
    خدائی کے دعویٰ کا الزام لگا کر ان صوفیاء سے جو سلوک کیا گیا اس کی ایک موزوں مثال مشہور صوفی منصور الحلّاج کے واقعہ میں ملتی ہے۔ ان صوفیاء پر اس قسم کے الزام لگائے گئے کہ گویا وہ بذات خود خدائی کے دعویدار ہیں۔ منصور الحلّاج کو اس جرم میں سولی پر لٹکایا گیا کہ وہ وجد کی کیفیت میں ’اناالحق انا الحق‘ کا نعرہ بلند کرتے تھے۔ کٹر ملائوں نے اس سے یہ مراد لی کہ وہ خود خدائی کے دعویدار ہیں۔ حالانکہ انہوں نے روحانی سرور کی کیفیت میں اپنی ذات کی مکمل نفی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے مراد صرف یہ تھی کہ وہ لاشیء محض ہیں۔ اور جو کچھ بھی ہے فقط خدا کی ذات ہے۔ منصور الحلّاج موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سر بلند کئے بے خوف وخطر سولی پر چڑھ گئے۔ اور سبّ وشتم کے اس طوفان میں ’اناالحق انا الحق‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے۔ متوقع موت کا خوف ان کے عزم کو ذرہ بھر بھی متزلزل نہ کر سکا اور نہ ہی گالی گلوچ کا شور ان کے نعرہ کو دبا سکا۔
    خارجی کائنات ایک حقیقت ہے یا محض ایک تخیّل؟ اس نظریہ پر مبنی ایک نئے صوفی فرقہ نے جنم لیا۔ درحقیقت یہ ایک صدیوں پرانا مسئلہ تھا جسے افلاطون اور ارسطو نے بھی حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن نہ اس وقت اس کا کوئی حل نکل سکا اور نہ ہی بعد کے صوفیاء کسی منطقی نتیجہ پر پہنچ سکے۔ فلسفیوں میں اب بھی یہ بحث اسی شدت سے جاری ہے اور کوئی ہمعصر فلسفی اس سے صرفِنظر نہیں کر سکتا۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسانی ذہن کی شمولیت کے بغیر زمان و مکان کا ادراک ممکن نہیں۔ دیوانہ کو اپنا تخیّلاتنا ہی معروضی اور حقیقی نظر آتا ہے جتنا کسی سائنس دان کو قوانین قدرت کا مشاہدہ۔ ان زاویوں سے دیکھا جائے تو یہ مسائل لاینحل معلوم ہوتے ہیں۔
    مزید برآں خارجی کائنات کے متعلق ہر شخص کا تاثر دوسرے سے مختلف ہے۔ تاہم ہمارے اردگرد موجود اشیاء اور ان کی خصوصیات کا ادراک بالعموم ایک سا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر لوگ کسی عام شے مثلاً کرسی یا میز کی ماہیت کے بارہ میں تو اتفاق کریں گے لیکن اور بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جن کے بارہ میں ضروری نہیں کہ وہ متفق ہوں۔ مثلاً مختلف حسِّ بصارت رکھنے والوں کو ایک ہی چیز کا رنگ مختلف نظر آئے گا۔ اسی طرح ضروری نہیں کہ تمام انسانی استعدادیں ہر ایک میں یکساں ہوں۔ قوتِ شامّہ ایک سی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ہر شخص کا گرمی سردی کا احساس بھی مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں مختلف مزاجوں اور مختلف جسمانی حالتوں کے حوالہ سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کوئی معروضی حقیقت انسانی ذہن میں موجود کسی بھی موضوعی حقیقت سے مکمل طور پر متفق دکھائی نہیں دیا کرتی۔ المختصر، ضروری نہیں کہ موضوعی تاثرات زمینی حقائق کی ہو بہو عکاسی کرتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض طبقوں کے نزدیک دیکھنے والا کبھی بھی کامل یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے۔
    اس لحاظ سے انسانی تجربہ جس تشّکک اور اشتباہ سے دو چار ہے اور جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، صوفیاء کے ایک ایسے فرقہ کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنا جس نے اشیاء کے خارجی وجود کو یکسر مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ ابدی حقیقت محض ایک باطنی کیفیت کا نام ہے جس کی کوئی معروضی حیثیت نہیں۔ کچھ صوفی جو ان سے بھی زیادہ انتہا پسند تھے، انتہا پسندی میں اس سے بھی آگے نکل گئے۔ انہوں نے مادی اشیاء کے وجود کا سرے سے ہی انکار کر دیا یہاں تک کہ وہ اپنے مادی وجود سے بھی انکار کر بیٹھے۔ چنانچہ ایک علمی تحریک جو شروع تو اس لئے ہوئی تھی کہ حقائق الاشیاء کا لطیف در لطیف ادراک کر سکے بالآخر ایک گونہ دیوانگی کا شکار ہو گئی۔ تاہم اس دیوانگی میں ایک عجیب سحر تھا جس نے اپنے وقت کے علماء اور منطقیوں کو بھی مسحور کر دیا۔
    اس فرقہ کے ایک مشہور صوفی رہنما کے بارہ میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ بعض سرکردہ علماء سے مناظرہ کیلئے اسے بادشاہ کے دربار میں طلب کیا گیالیکن حاضرین کی حیرت اور جھنجھلاہٹ کی انتہا نہ رہی جب بحث کا نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ سوال و جواب کے آغاز ہی میں یہ دبستانی علماء حواس باختہ ہو گئے اور دلائل کیلئے ہاتھ پائوں مارنے لگے مگر بن نہ آئی اور کوئی بھی اس صوفی کی ماورائی اور باریک منطق کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اس موقع پر بادشاہ کو ایک عجیب خیال سوجھا۔ اس نے فیل خانہ کے مہاوت کو حکم دیا کہ سب سے خونخوار ہاتھی کو محل کے احاطہ میں لایا جائے۔ یہ ہاتھی دیوانگی کا شکار تھا جو شاید صوفی کی دیوانگی سے کسی طور کم نہ تھی۔ اگر فرق تھا تو صرف اتنا کہ صوفی صاحب تو فقط خارجی اشیاء کے وجود کے منکر تھے جبکہ ہاتھی خارج کی موجودات کو تباہ کرنے کے درپے تھا۔ چنانچہ ایک طرف تو صوفی صاحب کو کھلے میدان میں لاکھڑا کیا گیا اور دوسری جانب ہاتھی کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ صوفی صاحب حواس باختہ ہو کر اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ بادشاہ اپنے محل کے جھروکہ سے یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔ صوفی کو یوں بھاگتا دیکھ کر بولا: صوفی صاحب! آپ کو اس موہوم ہاتھی کو دیکھ کر بھاگنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو محض آپ کے تصور کا واہمہ ہے۔ صوفی بولا، بھاگ کون کم بخت رہا ہے۔ یہ بھی آپ کے تصور کا واہمہ ہے۔ اس طرح صوفی کو خطرناک صورت حال سے چھٹکارا تو مل گیا لیکن یہ بحث آج بھی بڑے زور شور سے جاری ہے۔
    مسلم سپین کا مکتبۂ فکر
    اس بحث کا ذکر گزر چکا ہے کہ تجربہ و مشاہدہ اور الہام دونوں میں سے کس کو فوقیت حاصل ہے۔ بعض مفکرین وحی کو منطق پر ترجیح
    دیتے ہیں اور بعض اس کے برعکس خیال کرتے ہیں۔ ابن رشد نے جو مغرب میں Averroes کے نام سے معروف ہیں اور عظیم ترین مسلمان مفکرین میں سے ایک ہیں، یہ خیال پیش کیا کہ مندرجہ بالا نظریات متوازی سچائیوں پر مبنی ہیں۔ لہٰذا ان پر الگ الگ غور کرنا چاہئے۔ الہامی سچائی کو من وعن قبول کرنا چاہئے جبکہ مشاہدہ اور تجربہ کو مشاہدہ اور تجربہ کی حد تک رکھنا چاہئے۔ ان کے نزدیک الہام اور تجربہ کے مابین ربط تلاش کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی اس امر کی ضرورت ہے کہ دونوں میں متناقضات تلاش کئے جائیں اور ان کے حل کیلئے سرگردان ہوا جائے۔
    یہ وہ دور تھا جب ہسپانیہ میں مسلمان سائنسدان سائنس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہے تھے اور انہیں اس امر کی پروا نہیں تھی کہ پرانے مکاتبِ فکر کے بعض مذہبی علماء ان کے خلاف بدعتی یا ملحد ہونے کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔ ابن رشد نے غالباً بہتر یہی سمجھا کہ وہ ان تنازعات میں نہ الجھیں مبادا یہ امر سائنسی ترقی کی راہ میں حائل ہو جائے۔ انہوں نے مذہب اور سائنس میں تضادات ابھرنے کے خدشہ کے پیش نظر اس بحث میں الجھنے سے عملاً گریز کیا۔ ایک سچے مسلمان اور صداقت کے غیر جانبدار متلاشی سائنسدانوں کی حکمت عملی ہسپانیہ میں ایک لمبے عرصہ تک مذہب اور سائنس کی ترویج میں ممد رہی۔ الہامی اور مشاہداتی سچائی کے مابین موجود اس مزعومہ تضاد کے خطرہ سے کبھی بھی کھل کر مقابلہ کی نوبت نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی فوقیت کا معاملہ سنجیدگی سے زیر غور نہیں آیا۔ عدم تصادم کی یہ حکمت عملی جو ہسپانیہ میں صدیوں تک غالب رہی ابن رشد ہی کی مرہون منت ہے۔
    بعد کے واقعات کی روشنی میں اس مسئلہ کے ممکنہ پہلوئوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ابھی اس قسم کے مسائل کو سلجھانے کاوقت نہیں آیا تھا۔ اس امر کا امکان بہرحال موجود تھا کہ حقائق کا ادراک ناقص ہو یا محض جزوی بلکہ عین ممکن تھا کہ یہ ادراک سرے سے ہی غلط ہو۔ مثال کے طور پر ازمنۂ وسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کا تصور کائنات قرآن کریم اور احادیث پر مبنی نہیں تھا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ تصور زیادہ تر اپنے دور کی مروّجہ جہالت کا آئینہ دار تھا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے، مذہبی علماء اپنے نظریات کو عین اسلام سمجھتے تھے اور انہیں حتمی قرار دیتے تھے۔ حالانکہ امرِواقعہ یہ تھا کہ علومِ متداولہ کے حوالہ سے حقیقی قرآنی نظریات کی تفہیم ان کی بساط سے باہر تھی۔ ہسپانیہ میں سائنسدانوں اور مذہبی علماء کے مابین اس قسم کے موضوعات پر کسی مکالمہ یا گفتگو کا سراغ نہیں ملتا۔
    ان دونوں گروہوں میں علمی تبادلہ خیال کیلئے کوئی ادارہ یا مرکز نہیں تھا اور نہ ہی اپنے اپنے نظریات کی تقابلی خوبیوں کے بارہ میں کوئی مناظرہ یا مباحثہ ممکن تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہسپانیہ میں گیلیلیو کا کوئی پیش رو پیدا نہ ہو سکا جسے صداقت اور زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا۔ سائنسدانوں کو جب بھی اپنے ہمعصر علماء کے سامنے حق کو حق کہنے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے مذہبی علماء کے سامنے کسی قسم کی وضاحت پیش کرنے کی کوشش تک نہیں کی اور نہ ہی یہ بات ثابت کرنا ضروری سمجھی کہ ان علماء کی پیش کردہ قرآنی تشریح غلط اور معروف سائنسی حقیقتوں سے متصادم ہے۔
    دو متوازی تحریکوں کا ارتقا ہوا جن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی گئی۔ بالآخر اسلامی سوچ نے فلسفیانہ اور سائنسی طرز فکر سے بالکل علیحدہ راستہ اختیار کر لیا۔ وہ دو ایسی ندیوں کی طرح تھے جو ایک دوسرے میں مدغم ہو ئے بغیر متو ازی بہ رہی ہوں۔
    چنانچہ اندلس کے مسلمان سائنسی تحقیق کے اکثر میدانوں میں دوسرے اسلامی ممالک سے سبقت لے گئے۔ ایک خوش کن بات یہ بھی تھی کہ ہسپانیہ نے نسبتاً ایک طویل پر امن زمانہ پایا جس میں وہ چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے بیرونی حملہ آوروں کی دست برد سے محفوظ رہا۔ اسلامی تاریخ کا یہ اندلسی دور صحیح معنوں میں عقلیت پسندی کا زرّیں دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ اندلس سے مسلمانوں کے خروج کے ساتھ ہی ان کی علمی برتری کا عظیم الشان عہد ختم ہو گیا اور اہل ہسپانیہ کے اسلام کے ساتھ ہر قسم کے روابط منقطع ہو گئے۔ اگر دنیا میں کہیں علم ودانش اور سائنسی ترقی کازوال ہوا تو یہ المیہ اندلس کی سرزمین پر ہوا۔ یہ کیا ہی دردناک واقعہ تھا۔ اندلس کے جنوبی کنارے سے مسلمانوں کے خروج کے ساتھ ہی وہاں سے دانائی، علم ودانش، انصاف پسندی، سچائی اور روشنی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ غالباً صدیوں تک کیلئے رخصت ہو گئی لیکن روشنی کے اس سیلابِ تُند نے ان مسلمان جلاوطنوں کا ساتھ نہ دیا اور ہسپانیہ ایک بار پھر قبل از اسلام کی سی جہالت کی تاریکی میں ڈوب گیا۔ ان دنوں دیگر اسلامی ممالک کی حالت بھی کچھ اس سے بہتر نہیں تھی۔ وہاں تاریکی اندر ہی اندر سے پھوٹ رہی تھی۔ مذہبی تعصبات، ہٹ دھرمی، تنگ نظری، نخوت، خود پسندی اور باہمی حسد کی آگ کے شعلے جہنم کی آگ کی طرح بھڑک رہے تھے۔ ایک گونہ دھوئیں کا بادل تھا جو پھیلتے پھیلتے آسمانی نور کے رستے میں حائل ہو گیا۔ اِس بڑھتی ہوئی گھٹا ٹوپ تاریکی میں زمین چھپ سی گئی اور مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کے سائے اور بھی گہرے ہوتے چلے گئے۔
    جہاں تک شمالی یورپ کے باشندوں کا تعلق ہے یہ ایک بالکل مختلف داستان ہے۔ ہسپانیہ کے لوگوں نے جو کھویا تھا وہ ان لوگوں نے پالیا اور کیا ہی خو ب پایا! وہی ملکہ ازابیلہ اور بادشاہ فرڈیننڈ جنہوں نے مسلمانوں کو ملک سے نکال باہر کیا تھا، متعصّب اور متشدّد پادریوں کے روز افزوں رسوخ کے زیر اثر، اپنے غیظ و غضب کا رخ یہودیوں کی طرف موڑ دیا اور جس طرح اندلس کے جنوبی دروازوں سے مسلمانوں کو باہر دھکیل دیا گیا اسی طرح شمالی سپین سے یہودیوں کی بھاری اکثریت کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ان میں بڑے بڑے علمائ، فضلائ، سائنسدان اور عظیم دانشور بھی تھے جو کئی ایک شعبوں میں صاحب کمال تھے۔ انہوں نے سات صدیوں پر محیط مسلم حکومت کے سنہری دور میں متعدد فنون پر عبور حاصل کر لیا تھا۔ انہیں صنعت و حر فت، تجا رت، سائنسی تحقیق، فنِ تعمیر، سنگ تراشی اور جر ّاحی جیسے شعبہ ہائے زندگی میں کمال حاصل تھا۔ ان سب کو ایک منظم اور مستقل اذیت ناک منصوبہ کے تحت تمام املاک سے بے دخل کر کے جلاوطن کر دیا گیا۔ یہی وہ لوگ تھے جو اندلس سے علم کی روشنی جنوبی فرانس بلکہ اس سے بھی آگے تک لے کر گئے۔ ارسطو اور افلاطون کا فلسفہ ہسپانیہ کے مسلمان فلسفیوں کے ذریعہ یورپ تک پہنچنا شروع ہوا۔ اس وقت حاذق طبیب ابن سینا کے کمالِ طب اور دنیوی اور مذہبی فلسفہ اور سائنس کواپنی ذات میں یکجا کرنے والے ابنِ رُشد کی دانشمندی نے یورپ کے تاریک افق کو روشن کرنا شروع کر دیا۔ یہودیوں کے اس اخراج کے باعث یہ علوم عام ہو گئے اور ان کے مختلف یورپین زبانوں میں ترجمے کئے جانے لگے۔ درحقیقت انہی لوگوں نے یورپ میں علم و حکمت اور آگہی کے نئے دور کی داغ بیل ڈالی جو یورپ کی نشأۃِ ثانیہ کے نام سے موسوم ہے۔
    عالم اسلام کی حالت زار
    ہسپانوی دور کے بعد کے زمانہ پر نظر ڈالی جائے تو تمام عالم اسلام ہمیں علمی پژمردگی کے المناک اندھیروں میں
    ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد دیگر مسلم ممالک نے بھی سائنسی علوم میں دلچسپی لینا چھوڑ دی اور تحقیق و جستجو کا وہ شوق جاتا رہا جسے خود مسلمانوں نے فروغ دے کر کمال تک پہنچایا تھا۔
    یہ افسوسناک رجحان نہ صرف سائنس بلکہ مذہب کیلئے بھی بیحد نقصان دہ ثابت ہوا اور امت مسلمہ تفرقہ کا شکار ہو کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئی یہاں تک کہ توحیدِ خالص کا عظیم عقیدہ بھی خودکشی کے اس رجحان کی زد میں آ گیا۔ توحید باری کے تصور میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ ایک خدا کی بجائے مختلف خدائوں کی باتیں کر رہے ہوں۔ ان کی علمی پیاس تو کم نہ ہوئی لیکن ترجیحات بدل گئیں۔ اگرچہ موضوعِ بحث تبدیل ہو گیا مگر خیر و شر سے متعلق بحث کا سلسلہ پورے جوش و خروش سے جاری رہا۔ بایں ہمہ یہ سوالات بھی وہی تھے جنہوں نے انہیں صدیوں سے مضطرب کر رکھا تھا۔ سنجیدہ اور بنیادی نوعیت کے عملی مسائل کی بجائے وہ فروعی فقہی مسائل میں الجھ کر رہ گئے۔ مثلاً یہ کہ کوّے کا گوشت حلال ہے یا حرام۔ اس سوال پر مخالف آراء رکھنے والوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان مسائل پر جو تندوتیز مباحثے ہوئے وہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے گئے۔ ان کی ذہانت کو اس اعتبار سے داد دینا پڑتی ہے کہ وہ رائی کا پہاڑ بنا سکتے تھے۔ لیکن یہ خراج تحسین اس امر کا غماز ہے کہ ان میں عقلِ سلیم نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ ان کی اس قسم کی موشگافیوں کو زیادہ سے زیادہ لایعنی اور بے مقصد دانشوری کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔
    چند ایک بے کار قسم کے سوالات بھی تھے جو ان لوگوں کے نزدیک بے حد اہم تھے۔ ذہنوں کے اضطراب اورمشتعل جذبات کے ہاتھوں خاک و خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔ مثال کے طور پر ایک بیہودہ امر اور بے مصرف سوال یہ بھی تھا کہ اگر ایک کتا کنوئیں میں گر جائے تو اس میں سے پانی کی کتنی بالٹیاں نکالی جائیں کہ باقی ماندہ پانی وضو کے قابل ہو جائے۔ یہ وہ ’اہم ترین‘ سوال تھا جو اس دور کے علماء کرام کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ یہ محض کتے پرہی موقوف نہ تھا بلکہ اگر کوئی مخالف علماء کے فتویٔ کفر کی زد میں آیا ہوا مولوی کنوئیں میں جا گرے تو ذرا سوچئے کہ مسئلہ کتنی سنگین صورتِحال اختیار کر جاتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علم ریاضی کے کسی پیچیدہ کلیہ کے مطابق پانی کو پاک کرنے کیلئے کتنی بالٹیاں نکالی جائیں۔ بہت سے اس کنوئیں کو مٹی سے پاٹنے کو ترجیح دیتے اور یہ کنؤاں مولوی صاحب کا مقبرہ بن کر رہ جاتا۔ یہ وہ دور تھا اور یہ وہ نا قابل یقین کہانیاں ہیں جن کی دیواریں تشدد اور عدم برداشت کے جنون پر استوار تھیں۔ بظاہر یہ کہانیاں عجیب و غریب دکھائی دیتی ہیں تاہم انہیں سراسر جھوٹ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اس دور کا علمِ فقہ دیوانگی کاشکار ہو کر رہ گیا تھا۔ فقہاء ایسی بے معنی اور لغو بحثوں میں پڑے ہوئے تھے جن کی وجہ سے نماز جیسا مقدس مذہبی فریضہ بھی گویا ایک مذاق بن چکا تھا۔
    نماز کی دوسری رکعت میں قعدہ کی حالت میں مسلمان ہمیشہ تشہّد پڑھتے ہیں۔ بعض لوگ تشہّد پڑھتے ہوئے شہادت کی انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ بعض ایسا نہیں کرتے۔ اس دور کے فقہاء میں اس مسئلہ پر بھی شدید اختلاف پایا جاتا تھا اور وہ اس مظلوم انگلی کو سزا دینے پر تلے ہوئے تھے جو ان کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنی تھی۔ ان کا متفقہ فتویٰ تھا کہ ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے والی اس غریب انگلی کو خواہ وہ اٹھے یا نہ اٹھے، بہرحال کاٹ دیا جائے۔ ماسوا اس کے ان میں ہر بات میں اختلاف تھا۔ ان حالات میںدوسرے مسلک کی مساجد میں جانا خطرہ سے خالی نہ تھا جہاں داخل ہونا تو یقینا کوئی مسئلہ نہیں تھا، اصل مسئلہ تو باہر نکلنے کا تھا۔ کیونکہ عین ممکن تھا کہ باہر آتے ہوئے خداتعالیٰ کی عطا کردہ پانچ انگلیوں میں سے ایک کم ہو چکی ہو۔
    تیسرا فروعی نوعیت کا مسئلہ "آمین"کہنے سے متعلق تھا جو امام کے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد کہی جاتی ہے۔ بنیادی بحث یہ تھی کہ آمین بالجہر کہنی چاہئے یا زیرِلب۔ عین ممکن تھا کہ ایک ایسی مسجد میں جہاں آمین بالجہر کہنا سنگین جرم سمجھا جاتا تھا بلند آواز میں آمین کہنے والوں کو زد و کوب کیا جائے۔ اسی طرح آمین بالجہر کہنے والوں کے درمیان آمین زیر لب کہنا بھی کچھ کم اشتعال انگیز نہ تھا۔
    ان مذہبی اختلافات میں سے جس مسئلہ نے خطرناک صورت اختیار کی وہ قرآن کریم کے مخلوق ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ تھا۔ مخالفانہ نظریات رکھنے والے بلا شک و شبہ گردن زدنی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ اتفاق یعنی چانس پر منحصر تھا۔ اگر بادشاہِ وقت قرآن کریم کو مخلوق نہ ماننے والوں کا حامی ہوتا تو مخالف عقیدہ رکھنے والے نہ صرف قتل کر دئیے جاتے بلکہ گھروں میں زندہ جلا دئیے جاتے۔ اگر دوسروں کی قسمت یاوری کرتی تو تشدد کرنے والے خود تشدد کا شکار ہو جاتے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ لوگ جنہیں فوت اور دفن ہوئے عرصہ گزر چکا تھا ان کی قبریں اکھیڑ کر نعشیں باہر نکالی گئیں اور انہیں سر عام پھانسی دی گئی تا کہ وہ لوگ جو زندہ ہیں اس سے عبرت پکڑیں۔ لیکن اس صورت حال سے کیا نتیجہ نکل سکتا تھا؟ ہنڈولے کے اس کھیل میں کون محفوظ تھا اور کون غیر محفوظ۔ یہ ایک لاینحل سوال تھا۔ البتہ جو بھی ان فضول جھگڑوں میں اتنی سنجیدگی سے حصہ لیتے ان کی زندگی بہرحال اس دنیا میں جہنم بن کر رہ جاتی۔ یعنی جس جہنم سے ان کے مخالفین انہیں ڈرایا کرتے تھے اس کامزہ وہ اسی دنیا میں چکھ لیتے تھے اور انہیں مو ت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔
    ازمنۂ وسطیٰ کی صدیوں پر محیط تاریکی کے مہیب سائے دور دور تک پھیلنا شروع ہوئے یہاں تک کہ دنیائے اسلام جو عرب کے ریگزاروں سے طلوع ہونے والے آفتاب عالمتاب کی بدولت تاریکی سے نکل کر روشنی میں آن کھڑی ہوئی تھی ایک بار پھر جہالت کے عمیق گڑھے میں جا گری۔ اسلام کا تصور تناظر اور زوایۂ نگاہ کے بدلنے سے تاریک اور اداس راتوں میں دور کائنات میں نظر آنے والے جھلملاتے اور رنگ بدلتے ستاروں کی مانند بدلنا شروع ہو گیا۔ اسلام کی پہلی سی شان و شوکت اورقوت باقی نہ رہی۔
    علم و آگہی کے دو بڑے راستے جو جہالت کی تاریکی کو روشنی میں بدل سکتے تھے بظاہر ہمیشہ کیلئے مسدود ہو گئے۔ نہ تو بصیرت کی پہلی سی سچائی اور صفائی رہی اور نہ ہی آسمان سے کسی وحی کے اترنے کی امید! ان پر یہ دونوں دریچے بند ہو گئے۔ کتنا ہی المناک انجام تھا!
    تاہم کچھ صدیوں کے بعد دنیوی علوم کا سورج ایک بار پھر طلوع ہونا شروع ہوا لیکن اس مرتبہ یہ سورج مغرب سے نکلا۔ مشرق سے تعلق رکھنے والے روشنی کے میناروں نے اس امید پر مغرب کی طرف دیکھنا شروع کر دیا کہ شاید انہیں اس روشنی کی ایک جھلک نظرآجائے جو انہوں نے صدیوں پہلے خود مغرب کو عطا کی تھی۔
    فلسفۂ یورپ
    علم و آگہی کا سورج بالآخر اندلس پر غروب ہوا اور اس کا روشن چہرہ فرانس کے افق سے نمودار ہوا تا کہ باقی یورپ کو بھی اپنی روشنی سے منور کر سکے۔ جنوب سے شمال اور مشرق سے مغرب تک تما م یورپ علم کی روشنی سے جگمگا اٹھا۔ علوم کا ایسا شاندار دور شروع ہوا جس کا آئندہ کئی صدیوں تک یورپ پر غلبہ مقدّر تھا۔ یوں تحریک احیائے علوم یا نشأۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔
    لیکن آج یورپ میں بہت کم لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ علم و حکمت کی اس صبح کیلئے جسے نشأۃ ثانیہ کہا جاتا ہے، مسلم ہسپانیہ کے کتنے مرہون منّت ہیں۔ اندلس کے بہت سے ممتاز فلسفی، ریاضی دان، سائنسدان، ہیئت دان اورماہرین طب ایسے ہیں جن کا نام و نشان تک یورپ کے حافظہ سے مٹ چکا ہے اور جن کی یادیں گمنامی کے ویران قبرستان میں دفن ہیں۔
    نشأۃ ثانیہ کی صبح طلوع ہوتے ہی ظلمت کافور ہو گئی اور عقل و استدلال نے اندھے اعتقادات کو ان مقامات سے بھی نکال باہر کرنا شروع کر دیاجو صدیوں سے اس کی مکمل گرفت میں تھے۔ ان حالات میں مادی فلسفوں اور ایمان و اعتقاد کے مابین توازن قائم رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ پادریوں کے زیر تسلط اس دور کے معاشرہ کیلئے عقلی اور استدلالی فلسفوں کے نئے حملوں سے اپنے عقائد کا دفاع کوئی معمولی بات نہ تھی۔ مغرب کو عیسائیت کا جو تصور ورثہ میں ملا وہ زیادہ تر پولوسی اثر کے تحت بگڑ کر اساطیری عقائد میں بدل گیا۔ اس میں اب وہ آسمانی نور باقی نہیں رہا تھا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سینہ کو منور کیا تھا۔
    تحریک احیائے علوم سے پہلے بھی بعض یورپی دانشوروں نے عقل اور ایمان کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ نویں صدی عیسوی میں ای۔جے۔سکاٹس (E.J. Scotus) نے عقل اور ایمان میں ایک گونہ مصالحت کی عمدہ مثال قائم کی۔ اس کا خیال تھا کہ مجرد عقل سے صداقت تک رسائی ممکن نہیں بلکہ عقل اور ایمان دونوں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے نزدیک آغاز میں مذہبی عقائدعقلی بنیادوں پر ہی قائم تھے کیونکہ ایمان اور یقین ظن محض سے پیدا نہیں ہو سکتے۔ یقین کی تشکیل کیلئے کوئی نہ کوئی منطقی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ خواہ آپ سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں، ہر عقیدہ کے پس منظر میں بالارادہ یا بلا ارادہ کوئی نہ کوئی عقلی بنیاد ضرور موجود ہوتی ہے۔ المختصر سکاٹس (Scotus) کے نزدیک حقیقی ایمان اور اساطیر کو یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقی ایمان کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ عقل کی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔ اس کے نزدیک جب ایمان انسانی ذہن میں راسخ ہوا تو لازماً کسی برہان و منطق کی بنا پر ہی ایسا ممکن ہوا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق بظاہر نظروں سے غائب ہو گیا اورپھر یوں لگا جیسے ایمان کسی عقلی سہارے کے بغیر ہوا میں معلّق ہو کر رہ گیا ہو۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جس استقلال اور ثبات کے ساتھ ایمان نے مرورِزمانہ کا مقابلہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عقل و دانش کے بغیر اسے یہ بلندیاں کبھی نصیب نہ ہوسکتیں۔ حاصل کلام یہ کہ سکاٹس کی رائے میں انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ گاہے بگاہے اپنے ایمان کی صحت کا عقل کی روشنی میں جائزہ لیتا رہے۔ اگر دونوں میں تضاد نظر آئے تو لازماً عقل کی پیروی کی جائے گی۔ اس طرح عقل کو ایمان پر ہمیشہ برتری حاصل رہے گی۔
    تثلیث کے بارہ میں نیوٹن (1642ئ۔ 1727ئ)کا طرز فکر اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ جب تک اس نے ورثہ میں ملنے والے مذہبی عقائد کا شعوری طور پر سائنسی جائزہ نہیں لیا تھا وہ اس عقیدہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہا۔ لیکن بعد میں جب اس نے اپنے ایمان کو عقل و استدلال کی کسوٹی پر پرکھا تو عقیدئہ تثلیث کو ردّ کرنے کے سوا اس کے لئے کوئی چارہ نہ رہا کیونکہ اس کے نزدیک تثلیث کا عقیدہ عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔ یوں وہ ہمیشہ کیلئے چرچ کے تعصّبات کا سب سے بڑا نشانہ بن گیا۔ حالانکہ یہ نیوٹن ہی تھا جس کی ذہانت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، اسے کیمبرج یونیورسٹی کے College of the Holy and Undivided Trinity کا فیلو منتخب کیا گیا۔ وہ کئی سال تک اس عہدہ پر فائز رہا۔ تاہم 1675ء میں اسے مطالبہ کیا گیا کہ یا تو وہ اپنے عہدہ سے دستبردار ہو جائے یا پھر اپنے نظریات کو ترک کر کے اپنے راسخ العقیدہ عیسائی ہونے کا حلفیہ اعلان کرے۔ لیکن College of the Holy and Undivided Trinity اس کے رستہ میں حائل ہو گیا جس سے دو ٹوک اور صاف انکار کے باعث اسے نہ صرف فیلو شپ سے محروم ہونا پڑابلکہ اس کا60پونڈ سالانہ کا معقول وظیفہ بھی بند کر دیا گیا جو اس زمانہ کے لحاظ سے کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ چنانچہ نیوٹن پر کفر والحاد کا الزام لگا کر اسے یونیورسٹی کی فیلو شپ اور عہدہ سے فارغ کر دیا گیا۔ اس پر فتویٰ صرف اس لئے لگایا گیا کہ اس کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرستش بت پرستی میں داخل تھی جو کہ ایک گناہِ کبیرہ ہے۔ نیوٹن کے متعلق آر۔ ایس۔ویسٹ فال(R.S.Westfall) لکھتا ہے:
    ’’وہ حضرت عیسیٰ ؑ کو بندہ اور خدا کے درمیان ایک الٰہی وسیلہ سمجھتا تھا جو خود اپنے پیدا کرنے والے آسمانی باپ کے ماتحت تھا۔‘‘1
    ’’اس کا یہ یقین پختہ سے پختہ ترہوتا چلا گیا کہ چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں وسیع پیمانے پر دئیے جانے والے فریب کی وجہ سے ابتدائی کلیسا کے اصل عقائد میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا۔ اس فریب کا مرکزی نقطہ تثلیث کی تائید میں اناجیل میں کی جانے والی تحریف تھی۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ نیوٹن نے یہ عقیدہ کب اختیار کیا۔ اس کا معین طور پر جواب دینا تو ممکن نہیں لیکن اس کی بعض تحریریں اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ شکوک و شبہات تو شروع ہی سے اس کے دماغ میں پیدا ہوچکے تھے جن کا وہ ازالہ تو کیا کرتا الٹا وہ خود ہی ان کے زیر اثر آ گیا۔‘‘ 2
    پس توحید باری تعالیٰ پر نیوٹن کے ایمان اور تثلیث سے انکار کا بنیادی سبب یہ تھا کہ اس نے عیسائی عقائد کی کسی جانبداری اور تعصب کے بغیر تحقیق کی تھی۔ اس کی ذاتی بائیبل کے حاشیہ پر جگہ جگہ اس کے ہاتھ کے لکھے ہوئے متعدد نوٹ موجود ہیں۔ مثلاً:
    ’’لہٰذا باپ اپنے بیٹے کا خدا ہے بشرطیکہ بیٹے کو خدا متصوّر کیا جائے۔‘‘ 3
    اس سے ویسٹ فال یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ:
    ’’نیوٹن کے دینی مطالعہ کا پہلا نتیجہ تو یہ نکلا کہ اس کے ذہن میں تثلیث اور مسیح کے مقام کے بارہ میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔‘‘ 3
    جب یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے دوران ایمان اور عقلیت کے قدیم مسئلہ پر از سر نو دلچسپی پیدا ہوئی تو اس وقت رینے ڈیکارٹ (1650-1596) Rene Descartesکو ایمان کا پرچم بلند رکھنے کی توفیق ملی۔ اس کے نزدیک اصل بحث عیسائیت اور عقل کے باہمی تقابل کی نہیں بلکہ فلسفیانہ موشگافیوںکے دور میں جبکہ انسانی ذہن انتشار کا شکار تھا، اصل سوال ایمان باللہ کا تھا۔
    رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) غیر معمولی طور پر روشن دماغ منطقی تھا جو نہ صرف ہستی ٔباری تعالیٰ پر یقین رکھتا تھا بلکہ یہی وہ پہلا فلسفی ہے جس نے بڑی جرأت کے ساتھ عقل کو خدا کی طرف رہنمائی کا وسیلہ قرار دیا۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس نے تثلیث کے متعلق عقلی مباحث میں الجھنے سے انکار کر دیا۔ اس نے صرف یہ ثابت کیا کہ ایک ارفع و اعلیٰ ہستی موجود ہے۔ غالباً ڈیکارٹ کو اپنے ہم عصر مفکرین میں اس کے بلند اور قابل عزت مقام سے اس لئے محروم کر دیا گیا کہ اس نے مروجہ عیسائی عقیدہ سے انحراف کیا تھا۔ جے۔گٹ مین (J. Gutman)نے اس صورتِ حال کی وضاحت اپنی کتاب 'Philosophy'4 میں کی ہے جس میں وہ ڈیکارٹ کو (Revelational Thiest) یعنی ایسے مفکر کے طور پر پیش نہیں کرتا جو ہستی ٔباری تعالیٰ اور الہامِالٰہی کا قائل تھاجو کہ واقعتہً درست بات تھی۔ لیکن گٹ مین کے نزدیک وہ ایسا تھا نہیں، ایسا سمجھا جاتا تھا۔ ڈیکارٹ کے ساتھ یہ سلوک محض اس لئے روا رکھا گیا کہ اس نے عقلی دلائل کی بنا پر عیسائیت کے مخصوص عقائد کو قابل اعتنانہ سمجھا۔
    حق بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت سے عیسائی پادریوں کے جذبات اتنے مجروح نہیں ہوئے جتنے عیسائیت کی اعلانیہ مذمت سے۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ڈیکارٹ جیسے عظیم فلسفی اور ریاضی دان کووہ خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ صرف ایک نظریاتی فلاسفر ہی نہیں تھا بلکہ جیومیٹری کا بھی ایک بہت بڑا ماہر تھا جس نے فیثا غورث (580تا500ق۔ م) کے جیومیٹری کے کام کو نسبتاًاس بلند مقام تک پہنچا دیا جس کی نظیرپہلے کہیں نہیں ملتی۔ علم جیومیٹری کے سلسلہ میں اس نے جو ٹھوس کام سر انجام دیا وہ بہت سے ایسے جدید مسائل پر مشتمل ہے جن کی بنا پر ڈیکارٹ کو اوّلیت کا درجہ حاصل رہے گا اور اس کی عظمت کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کیا جاتا رہے گا۔
    اس کی عظمت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے ریاضی کے طرزِاستدلال کو فلسفہ میں متعارف کرایا۔ اس کے نزدیک مطلق سچائی کا تصور نفس کے مشاہدہ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے سچائی کے معیار کا تعلق اس پہلے نقش سے ہے جو کسی چیز کے بارہ میں سننے یا اسے دیکھنے کے بعد ذہن میں ابھرتا ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ایسی بات جو سچائی کے اس معیار پر فوراً پوری نہیں اترتی یقینا مشکوک ٹھہرے گی۔ بالفاظ دیگر ہر وہ امر جسے بغیر دلیل کے حقیقت تسلیم کیا جا سکے ایک بدیہی حقیقت کہلائے گا۔ وہ اس منطق کا اطلاق اپنے شعور ذات پر کس طرح کرتا ہے اسے آسان لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
    چونکہ میں سوچ رہا ہوں اس لئے میں ہوں۔ میں اس سادہ حقیقت کو بغیر کسی منطقی دلیل کے قبول کرتا ہوںپس یقینا میں ہوں۔
    چنانچہ یہ نتیجہ اوّلین اور خالصۃً بدیہی صداقت کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس دلیل کو بیان کرنے کے لئے اس نے ایک سادہ اور دلکش فقرہ استعمال کیا "cogito ergo sum" یعنی ’’میں سوچ رہا ہوں اس لئے میں ہوں‘‘۔ 5
    اس پہلی سچائی کے بعد دوسری سچائی جس تک وہ پہنچا ہستی ٔباری تعالیٰ کی سچائی تھی۔ اس نے ریاضی کے ذریعہ ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور ہی اس بات کی کافی دلیل ہے کہ وہ موجود ہے۔ جیسے مثلث کے تین زاویے یقینی طور پر دو قائمہ زاویوں کے مجموعہ کے برابر ہوتے ہیں۔
    قطع نظر اس کے کہ خداتعالیٰ کی ہستی کے بارہ میں اس کا فلسفیانہ ثبوت بعد میں آنے والے فلسفیوں کیلئے قابل قبول تھا یا نہیں، ایک بات بہرحال یقینی ہے کہ وہ اس سے غیرمعمولی طور پر متاثر ضرور ہوئے۔ یوں بعد میں آنے والے دانشوروں نے خداتعالیٰ کی ہستی پر ایمان کی تائید یا مخالفت میں منطق کو خوب استعمال کیا۔ اسی رجحان کے نتیجہ میں جدلی مادیت کے فلسفہ نے جنم لیا۔
    اس قسم کی سوچ سترھویں صدی میں بھی جاری رہی جب جان لاک (John Locke)، برکلے(Berckley) اور ہیوم(Hume) نے دعویٰ کیا کہ Phenomenaیعنی واقعات محسوسہ اور عقل کی حدود کا ایمان اور یقین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے لاک نے ایمان اور یقین کو رد نہیں کیا بلکہ اسے صرف ایمان لانے والوں پر چھوڑ دیا کہ وہ جو راستہ چاہیں اختیار کریں۔ یہ بات بعد میں آنے والے یورپی فلسفیوں کے حصہ میں آئی کہ وہ عقلی بنیاد پر خداتعالیٰ کے وجود کا انکار کر دیں جن میں روسو (Rousseau)اور نیٹشے (Nietzsche)قابل ذکر ہیں۔
    نیٹشے(Nietzsche)نے تو اپنے ڈرامائی انداز میں گویا خداتعالیٰ کو مردہ ہی قرار دے دیا۔ روسو نے الہامی مذاہب کی جگہ ایک نئے مذہب کی تشکیل ضروری سمجھی اور ایک ایسے مذہب کا خیال ظاہر کیا جو انسانی فطرت اور تجربات پر مبنی ہو۔ اس کے نزدیک انسانی ذہن کو بذات خود ایک حیات ترتیب دینا چاہئے۔ روسو شاید پہلا یورپی فلسفی تھا جس نے ہر اس فلسفہ کی مخالفت کی جس کا خدا پر ایمان کے ساتھ کوئی تعلق ہو۔ یہ وہ دور تھا جب مذہب عقلیت پسندی کی تحریک سے شعوری طور پر شدید متاثر ہو رہا تھا۔
    ان فلسفیوں کے بعد مل (Mill)اور سِج وِک(Sidgwick)جیسے افادیت پسند آئے۔ وہ بنیادی طور پر افادیت کے قائل تھے۔ یعنی جس چیز میں کسی کا مفاد ہو اسے اس چیز تک آزادانہ رسائی ہونی چاہئے۔ لیکن خود غرضی اور ایثار میں ٹکراؤ کی صورت میں انہوں نے ثالثی کے لئے عقل کی طرف رجوع کرنے کی نصیحت کی۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ لذّت کے حصول میں جب انتہائی خود غرضی اور بے لوث قربانی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو ان کے درمیان فیصلہ عقل کو کرنا چاہئے۔ بلا شبہ یہ فلسفہ لفظوں کا ایک طلسم ہے۔ لذّات کے پیچھے بھاگنے والوں کو خود غرضی چھوڑ کر اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کیلئے بنیتھم (Bentham)،مِل(Mill)اور سج وک(Sidgwick)کے مشورہ کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ ایسے لوگوں کے نزدیک egoism اور altruism یعنی خود غرضی اور ایثار کے درمیان انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نفسانی خواہشات کے حصول کے لئے کون عقل کو ثالث بنائے گا؟ شہوانی اور نفسانی خواہشات سے مغلوب شخص کسی مشورہ کی ضرورت محسوس نہیں کیا کرتا۔ وہ اپنے نفعنقصان سے آگاہ ہونے کے باوجود اس راستہ پر چل نکلتا ہے۔
    ‏Utilitariansیعنی افادیت پسندوں کے بعد فلسفیوں کی ایک ایسی نسل ابھری جنہوں نے یورپی فلسفہ کی تاریخ پر ایک گہرا نقش چھوڑا۔ لاک(Locke) ، برکلے(Berkelay)اور ہیوم (Hume) جیسے Empiricists یعنی مشاہدہ پسند اس تحریک کے سرخیل قرار پائے۔ فلسفیوں کی بہت سی نسلیں ان سے متاثر ہوئیں جن کے فلسفہ کو سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’صرف ان نتائج کو معتبر سمجھنا چاہئے جو تجرباتی مشاہدات سے حاصل ہوں اور جنہیں باربار دہرا کر ثابت کیا جا سکے۔‘‘ ان کو یقین تھا کہ خالص عقل اور مشاہدہ نے قابل قبول نظریات کو جنم دیا ہے یعنی ایسے نظریات جنہیں سائنسی تجربات کے ذریعہ دہرایا جا سکے اور جن میں کوئی تضاد موجود نہ ہو۔ سائنس کی اس سے بہتر تعریف متصور نہیں ہو سکتی۔
    ہیوم کے بعد عمانویل کانٹ (1804-1724) Immanuel Kantآیا جس کا فلسفہ کافی حد تک ہیوم کے Empiricalیعنی مظہری یا تجربی فلسفہ کا مرہون منّت ہے۔ وہ agnostic یعنی لااَدری تو تھا ہی مگر اتنا دانشمند ضرور تھا کہ اس نے اخلاقیات کی لابدّیت کو محسوس کر لیا تھا۔ وہ شاید پہلا شخص تھا جس نے اصول اخلاق کو صرف عقل سے اخذ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے نزدیک حقیقت کے دو عالم ہیں۔ عالم مظاہر یا عالم صفات اور عالم ذات۔ اسے یقین تھا کہ سائنسی تحقیق عالم صفات سے باہر نہیں جا سکتی۔ لہٰذا اس نے اس امر کو خارج از امکان قرار دیا کہ خداتعالیٰ کا وجود سائنسی تحقیق کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ عموماً اس کے فلسفہ کو Transcendental Idealismیا ماورائی تصوریت کا نام دیا جاتا ہے۔
    اسی فلسفہ نے آگے چل کر ہیگل کی Absolute Idealismیعنی مطلق تصوریت کے فلسفہ کو جنم دیا۔ اس فلسفہ کے اس زرخیز دور میں بہت سی نئی اصطلاحات وضع ہوئیں۔ مثلاً منطقی ایجابیت (Logical Positivism)، وجودیت (Existentialism) اورمعروضیت (Objectivism) وغیرہ۔ لیکن افلاطون اور ارسطو کے جو (دونوں کے دونوں) بلا شرکت غیرے رہتی دنیا تک اپنی عظمت کا لوہا منواتے رہیں گے، نظام ہائے فکر میں کسی نئے ڈرامائی باب کا اضافہ نہ ہو سکا حتٰی کہ جدلی مادیت اور سائنسی سوشلزم کی معروف اور چست لفظیات میں بھی کوئی نئی یا اچھوتی بات نہیں تھی۔ دراصل یہ وہی مضمون تھے جو پہلے بھی ارسطو کی تصانیف میں کھل کر زیربحث آ چکے تھے۔ لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یورپ کے فلسفی اپنے یونانی اساتذہ کے ساتھ ساتھ اندلس اوربغداد کے مسلمان پیش روؤں کے کچھ کم مرہون منت نہ تھے۔ اس دور میں ہیگل کا Absolute Idealismیعنی مطلق تصوریت کا نظریہ ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ لیکن اکثر یورپین اس بات کو نہ سمجھ سکے کہ یہ فلسفہ دراصل افلاطون کے نظریہ تصوریت ہی کا تسلسل تھا۔ اگر ہم ہیگل کو صحیح طور پر سمجھ سکے ہیں تو واقعہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک subjectivism یعنی موضوعیت، معروضی حقائق کا جزولا ینفک ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ ہیگل نے معروضی حقائق کا یکسر انکار نہیں کیا البتہ زور اس نے تصور کی فوقیت پر دیا۔
    اسلامی مکاتبِ فکر میں موضوعیت پسند صوفیا کا اپنا ایک جدا رنگ ہے۔ وہ موضوعیت کو ان بلندیوں تک لے گئے جو یورپین فلسفیوں کے خواب و خیال میں بھی نہ آ سکیں اگرچہ ان صوفیاء پر مجذوبیت کا الزام بھی لگایا جا سکتا ہے۔
    رہا یہ سوال کہ کیا الہام الٰہی انسانی علم کا مبدء و ماخذقرار پا سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی بھی دور کے مغربی فلسفی کے ہاں اس بحث کا سراغ نہیں ملتا۔ ہستی ٔباری تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں میں سے ڈیکارٹ اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہا کہ عقل کو ایمان پر مقدم رکھنا چاہئے۔ وہ اللہ تعالیٰ پر اس لئے یقین رکھتا تھا کہ اس کی عقل اس کے ایمان کی مؤید تھی۔ لہٰذا اس کے فلسفہ میںکوئی تضاد نہیں تھا۔ والٹئیر(Voltaire) اور تھامس پین (Thomas Paine)کا یہ دعویٰ ہے کہ انسانی تہذیب کے ارتقامیں عقل نے ایمان کی نسبت زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ مابعد الطبیعیاتی فلسفہ میں مادی دنیا سے ماورا کسی خیالی وجود کی اہمیت تو موضوع بحث بنی رہی لیکن الہام الٰہی کے مسئلہ کا کبھی بھی سنجیدگی سے مطالعہ نہیں کیا گیا۔
    اس دور کے لوگوں کی فلسفہ میں دلچسپی کے باوجود ایمان اور عقل کی خصوصیات کا موازنہ کرتے ہوئے ان لوگوں نے بوجوہ اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے رکھی کہ الہام الٰہی نے بنی نوع انسان کو علم و معرفت کی طرف رہنمائی میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ ان کی دلچسپی محض نظری رنگ میں اس امر تک ہی محدود ہو کر رہ گئی کہ آیا خداتعالیٰ ہے یا نہیں؟ لیکن کائنات میں خداتعالیٰ کی ہستی کی طرف رہنمائی کرنے والے شواہد کیلئے کبھی کوئی جستجو نہیں کی گئی۔ الہام الٰہی کی صداقت کو کما حقہ‘ کبھی سنجیدگی سے نہیں پرکھا گیا۔ حالانکہ اس کے بالمقابل آجکل تویہ حال ہے کہ غیر ارضی مخلوق کے مزعومہ پیغامات کے سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں تک کو بھی نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ان کوششوں کو باقاعدہ اداروں کی سرپرستی حاصل ہے اور بڑی بڑی عالمی طاقتیں ان کی مالی امداد کرتی ہیں۔
    جوں جوں ہم جدید دور کے قریب آتے چلے جاتے ہیں خصوصاً بینتھم (Bentham)، مِل (Mill) اور سج وک (Sidgdwick) کے وقت سے عقل پر انحصار بڑھتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کے مقابل پر ایمان کی اہمیت بتدریج کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ عقلیت پر روز افزوں اصرار بالآخر ایمان باللہ کے انکار کا باعث بنا۔ اس طرح عقلیت قطب شمالی کی طویل سحر کی طرح غالب ہوتی چلی گئی جو کبھی کبھار auroraکی رنگین کرنوں سے جگمگا اٹھتی ہے۔
    عقلیت پسندوں نے حصول علم و صداقت کے دوسرے ذرائع پر عقل کو ترجیح دی۔ تا ہم عقلیت پسندوں میںبھی عیسائیت کے ماننے والے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ البتہ مؤخر الذکر گروہ ہی ہمیشہ غالب رہا۔ معقولیت کے اس دور میں کلیساکو چاروناچارمنطق کا سہارا لے کر عیسائیت کا دفاع کر نا پڑا لیکن اپنی غلط حکمت عملی کے نتیجہ میں وہ عقل سے ٹکر لے بیٹھا۔
    عیسائیت پر ایمان لانے والوں میں اس دور میں سب سے نمایاں کرکیگارڈ (Kierkegaard)، ژاسپر (Jaspers) اور مارسل (Marcel) تھے۔ سب سے پہلے کرکیگارڈ نے کلیسا کو متنبہ کیا کہ وہ ایمان اور عقل کی منطقی بحث میں الجھ کر خود کشی کا ارتکاب نہ کرے۔ ایمان پر عقل کے کاری حملوں کے خلاف دفاع کیلئے کی جانے والی اس کی کوششوں کے بارہ میں کوپل سٹن (Coppleston)اپنی کتاب "Contemporary Philosophy" میں لکھتا ہے:
    ’’کرکیگارڈ کے نزدیک یہ طریق کار عیسائیت سے بددیانتی اور غداری تھی۔ ہیگل کا فلسفہ عیسائیت کا اندرونی دشمن ہے اور کسی عیسائی مصنّف یا مبلّغ کا حق نہیں کہ وہ عیسائیت میں تعلیمیافتہ عوام کے حسب منشاء ردّوبدل کر دے۔ تجسیم یسوع کا عقیدہ یہود کے لئے ایک ابتلا تھا اور یونانیوں کے نزدیک ایک حماقت۔ اور یہی صورت حال ہمیشہ رہے گی۔ کیونکہ یہ عقیدہ نہ صرف ماوراء العقل ہے بلکہ عقل کے لئے ناگوار بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عظیم تر معمہ بھی۔ جہاں تک اس کی تصدیق کا تعلق ہے تو اس کے لئے ایمان اور دلی جوش و جذبہ کی ضرورت ہے اور عقل کو ایمان کا متبادل قرار دینا عیسائیت کی موت ہے۔‘‘ 6
    اگر کرکیگارڈ اس مسئلہ پر تفصیلی غور کرتا تو اسے پتہ چلتا کہ وہ جس نتیجہ پر پہنچا تھا اس کا الٹ بھی درست ہے۔ بالفاظ دیگر مطلب یہ بنتا ہے کہ عیسائیت دلیل اور عقل سے یکسر عاری ہے اور ردّ کرنے والا ہی اس سے وابستہ رہ سکتا ہے۔ جونہی یہ کچھوا اپنے خول سے گردن باہر نکالنے کی جسارت کرتا ہے، عقل، جو موقع کی تلاش میں ہے، وہیں اس کاسر قلم کر دیتی ہے۔ بایں ہمہ کرکیگارڈ عیسائیت اور عقل دونوں کا بیک وقت قائل ہے۔ شاید اسے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی مہارت حاصل تھی۔
    برکلے (Berkeley)اور ہیگل (Hegel)ہمیشہ اس بات پر مصر رہے کہ عقل کو حواس خمسہ پر مبنی تجربہ پر فوقیت دی جانی چاہئے۔ ان کے نزدیک خدا محض ایک تصور تھا جو منطقی خلا کو پر کرنے کیلئے ایجاد کیا گیا تھا۔ چنانچہ یہ بحث عیسائیت کو ماننے والے اور نہ ماننے والے یورپی فلسفیوں کے مابین پورے زور شور سے اس وقت تک جاری رہی جب تک یہ آگ خود بخود ٹھنڈی نہ پڑ گئی۔ صرف الحاد اور لاادریت (agnosticism) کے تابوتوں میںبند ایمان کی راکھ ہی تھی جو باقی بچی۔ جہاںتک یہودی فلسفیوں کا تعلق ہے ان کی حکمت عملی نسبتاً محفوظ تھی۔ وہ اپنے دین کی تاریخی حیثیت پر یقین رکھتے تھے۔ یہودیت نے ماضی میں اپنے حریفوں پر جوشاندار فتوحات حاصل کیں وہ ایمان کی چنگاری کو سلگائے رکھنے کیلئے کافی تھیں۔ لہٰذا اس مسئلہ پر ایمان اور عقل کے مابین بحث ان کیلئے غیر متعلق تھی۔
    ملحدین میں نیٹشے (Nietzsche)، سارترا (Sartre)، مارلیو پانٹی (Merleau-Ponty)، کامیو(Camus)اور مارکس (Marx) کا ایک اپنا ہی گروہ تھا۔ ان میں سے کسی کا بھی تعمیم (Generalization) پر ایمان نہ تھا۔ ان کے نزدیک موضوعیت کو عالمگیر بنانا مناسب نہ تھا۔ کیونکہ ہر شخص کا ذاتی تجربہ منفردنوعیت کا حامل ہوتا ہے جس میں دوسرے اسی طرح شریک نہیں ہو سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ایک ذیلی باب مارکسزم (Marxism)کیلئے مخصوص ہونا چاہئے۔ ہم اس فلسفہ سے جتنا چاہیں اختلاف رکھیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے عالمی طور پر اپنے لئے ایک مستقل مقام حاصل کر لیا ہے۔ دنیا بھر میں اس کے ماننے والوں کی ایک کثیر تعداد اسے ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھے گی۔
    انیسویں صدی کے فلاسفۂ الحاد میں مارکس (1818ئ۔ 1883ئ)کی اہمیت ایک الگ تفصیلی بحث کی متقاضی ہے۔ وجودباری تعالیٰ سے اس کا انکار محض اتفاقی نہیں بلکہ یہ انکار اس کے فلسفہ کا جزو لاینفک ہے۔ یہ فلسفہ بنیادی طور پر مذہب سے متصادم ہے۔ مارکس کے نزدیک انسان بھی عناصر طبعی کی مانند عمرانی و معاشیاتی قوانین کے تابع ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ انسانوںکو مذہبی مداخلت سے آزاد ہونا چاہئے کیونکہ یہ انہیں فطرت سے دور لے جاتی ہے۔ مارکس کا خیال ہے کہ وحی اور القا قسم کے مذہبی تصورات کا فلسفہ سے کوئی تعلق نہیں۔
    مارکس کے بعد نیٹشے کی قد آور شخصیت ہمارے سامنے آتی ہے۔ نیٹشے اپنے تلوار جیسے تیز قلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات کو نشانہ پر رکھ کر حملہ آور ہوتا ہے اور بالآخر فاتحانہ اعلان کرتا ہے کہ خدا مر چکا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عیسائیت کے خدا کے سوا اسے کسی اور خدا کا علم تک نہ تھا۔ اس نے عیسائیت کے پیش کردہ اس خدا کو اپنی عقل سے تہِ تیغ کر دیا۔ اس طرح کرکیگارڈ کاانتباہ جو اس نے پادریوں کو کیا تھا درست ثابت ہوا کہ تثلیث کے متعلق چاروناچار چپ رہنا ہی عقلمندی ہے اور خاموشی دفاع کی ناکام کوشش سے کہیں بہتر ہے۔
    واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں یورپ کے اکثر دہریہ خیالات رکھنے والے مفکرین کو کلیسا کے رویہ نے اس بات پر مجبور کر دیا تھا کہ وہ ہستی ٔباری تعالیٰ کا سرے سے انکار کر دیں کیونکہ اس نے خداتعالیٰ کے تصور کو نامعقول حد تک مبہم بنا دیا تھا۔ دہریہ فلسفیوں میں سے شاید ژاں پال سارترا (1980-1905) Jean Paul Sartreسب سے زیادہ دلچسپ اور زندہ دل ہے۔ وہ سادہ لفظوں میں گہری بات کہنے کا فن خوب جانتا ہے۔ خداتعالیٰ کے تصور کے بغیر کائنات میں انسان کس طرح آزاد ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بے بس اور تنہا محسوس کرتا ہے، اس کے متعلق سارترا یوں رقمطراز ہے:
    ’’انسان کی سزا یہ ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے‘‘۔ 7
    یعنی جب ایک انسان پوری آزادی کے ساتھ خود ایک فیصلہ کرتا ہے تو یہ عمل اس کے لئے ایک ناقابل قبول چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔ کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں جو کارگاہ حیات کے لق و دق صحرا میں اس فیصلے میں اس کی رہنمائی کر سکے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ فرشتوں کی موجودگی کو ایک نفسیاتی کیفیت قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی الٰہی آپ کے شدید روحانی کرب ہی کی ایک گونہ تجسیم تھی۔ ہم ساتخ یا سارترا کی اس وضاحت کو خواہ کتنا ہی غلط کیوں نہ سمجھیں پھر بھی ہم اس کی بے بسی اور مایوسی کے اس شعلہ بیان اظہار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ تر سارترا کی اپنی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جس نے اپنے ملحدانہ فلسفہ کی ویرانیوں میں شدید ذہنی کرب محسوس کیا ہوگا۔ ’’وحی ٔالٰہی کو روح کی اذیت قرار دینا‘‘ درحقیقت ایک ایسا بیان ہے جس سے ایک دہریہ کے نقطۂ نظر کے متعلق خوب وضاحت ہوتی ہے بشرطیکہ اس نے کبھی ارواح کے وجود کو تسلیم کیا ہو۔ برنارڈ شا جب وحی کو اندرونی آواز قرار دیتا ہے تو مکمل طور پر تو نہیں لیکن کافی حد تک سارترا کے قریب آجاتا ہے۔ تاہم برنارڈ شا کا یہ بیان ایک ایسے ڈرامہ نگار کی ذہانت کا آئینہدار ہے جس میں سارترا کی فکری گہرائی اور قوت عنقا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سارترا وحی اور وجدان میں فرق نہ کر سکا بلکہ ان اصطلاحات کا اس کے فلسفہ میں ذکر تک نہیں ملتا۔ اس کا فلسفہ محض روح کی اذیت کا اظہار ہے۔ ایک ایسا آتش فشاں جس سے وقتاً فوقتاً مایوسی اور ناامیدی کے شعلے اٹھتے رہتے ہیں۔ اس کے نزدیک کوئی وحی آسمان سے نہیں اترتی۔ یہ سب انسان کی اپنی ہی مایوسیوں کی صدائے باز گشت کے سوا کچھ نہیں۔
    ہیگل (1831-1770)بھی ایک ’لاادری‘ فلسفی ہے جسے ہستی ٔباری تعالیٰ کے انکار میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ اس کا فلسفہ براہ راست مذہبی امور سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کا ایک نمایاں کام یہ ہے کہ اس نے موضوعیت اور معروضیت کے درمیان پل تعمیر کرنے کی کوشش کی۔
    ہیگل ہی وہ شخص ہے جس نے پہلی اور دوسری نسل کے تصورات میں جدلیاتی کشمکش کا نظریہ پیش کیا۔ یہ ہیگل کا وہ مشہور نظریہ ہے جس کے مطابق اضداد کے مابین جدلیاتی کشمکش جاری رہتی ہے۔ وہ محض تصورات میں اختلافات کا قائل تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان خیالات کے مابین جو ایک دوسرے کے مخالف ہوں لیکن متضاد نہ ہوں برتری کے حصول کیلئے ایک جدلیاتی کشمکش جاری رہتی ہے۔
    ہیگل کے نظریہ کے مطابق اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ برتر نظریات گزشتہ جدلیاتی عمل کی پیداوار ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق ایک نظریہ (Thesis)سے ایک مخالف نظریہ (Antithesis) ابھرتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس کے نزدیک بالآخر ایک مطلق نظریہ تک رسائی ہو جائے گی جو معروضی حقیقت کے ادراک کی آئینہ دارہے۔
    اس نے یہ طریق کار حصول علم کے لئے منطق کے کردار کو واضح کرنے کیلئے اختیار کیا تاہم اس کے نزدیک حقیقت تک رسائی کا یہ جدلیاتی طریق صرف ایسے نظام حیات میں ممکن ہے جو معروضی ہوں نہ کہ تجریدی۔ اس کشمکش کے آخری نتیجہ کو وہ مطلق تصور کا نام دیتا ہے۔ حقیقت تامہ یا آفاقی صداقت کے بارہ میں یہ ہیگل کا تصور ہے۔ اس کے نزدیک تاریخ تصورات کی تحریک کا نام ہے۔ دعویٰ (Thesis)اور ضد دعویٰ (Antithesis)کا تسلسل ترکیب یعنی Synthesis کی شکل میں تکمیل پاتا ہے۔ لینن کے الفاظ میں ہیگل کا نظریہ یہ ہے :
    ’’زندگی ذہن کو جنم دیتی ہے۔ انسانی دماغ فطرت کا آئینہ دار ہے۔ اس میں منعکس ہونے والے حقائق کی صحت کو اپنے عمل اور طریق کار سے جانچنے کے نتیجہ میں انسان معروضی صداقت تک پہنچ سکتا ہے۔‘‘ 8
    اس کے نزدیک کوئی بھی ایسا نظام فکر جو مادی تجربات سے تعلق نہ رکھتا ہو سنجیدہ توجہ کا مستحق نہیں۔ اس لئے اس کی اہمیت کو زیر بحث لانا ایک علمی مشغلہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔
    یہ مارکس ہی تھا جس نے ہیگل کے فلسفہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے انسان کو ایک ایسا ضابطۂ حیات دینے کا تجربہ کیا جو اس کے نزدیک مجرّد عقل پر مبنی تھا۔ آغاز میں یہ ایک خالصۃً سیکولر تصور تھا جو معاشرہ میں جلد ہی توجہ کا مرکز بن گیااور اس طرح انسان کا ایک خودساختہ قسم کا سیاسی اور اقتصادی مذہب معرض و جود میں آیا جس کی عمارت وجود ِباری تعالیٰ کے انکار پر اٹھائی گئی تھی۔ مارکسی ذہن رکھنے والے دانشور بنیادی طور پر ہیگل کے نقطۂ نظر سے متفق تھے اور ابدی صداقت کے تصور کے منکر۔ ان کے نزدیک حقیقت صرف مادی اور معروضی ہوا کرتی ہے، مطلق نہیں۔ کیونکہ مادی حقائق وقت اور حالات کے تابع ہوا کرتے ہیں۔ گو سوشلسٹ فلسفیوں میں سے اینگلز (Engels)نے مطلق صداقت کے تصور کو قبول کر لیا لیکن باگونوف (Bogdanov)کی ناراضگی مول لے لی۔ بالعموم کمیونسٹ مفکرین کے نزدیک حقیقت اس علم کو کہتے ہیں جو وقتی حالات و واقعات کے معروضی مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ ان مخصوص شرائط کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کے نزدیک ایسا علم صداقت اور ایسی صداقت علم ہے۔ اس لحاظ سے علم کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ ایک مسلسل تغیر پذیر معروضی حقیقت ہے جو ہمیشہ بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت رکھتی ہے۔
    جلد ہی اس مادہ پرست فلسفہ نے ایک متشدد قسم کے نظام حیات کی شکل اختیار کر لی اور مارکس کو اس خدا کے تصور سے عاری مذہب کا امام تصور کیا جانے لگا۔ آئیے اب ہم کارل مارکس کے نظریہ کا بغور مطالعہ کریں کیونکہ جدلیاتی مادیت کی میکانیت نہیں بلکہ یہ اس کے نظریہ کی زبردست قوت ہی تھی جس نے بالآخر کرہ ٔارض کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
    انسانی نظریات اور عقائدکی باہمی کش مکش کی اس قوس قزح کی ایک انتہا پر تو مذہب ہے جو وحی ٔالٰہی ہی کو ہدایت کا اصل سرچشمہ قرار دیتا ہے اور دوسری انتہا پر مارکسزم ہے جو الہامی صداقت کا سرے سے ہی انکار کرتا ہے۔ ان ہر دو انتہاؤں کے مابین متعدد فلسفے موجود ہیں جن میں سے بعض مذہب اور بعض مارکسزم کے قریب تر ہیں۔ لیکن جہاںتک ’مذہب‘اور اس کی تعلیم سے کلّی انکار اور روگردانی کا تعلق ہے تو یہ مارکس کی جدلیاتی مادیت اور سائنٹفک سوشلزم کا فلسفہ ہی ہے جو الہامی مذہب اور اس کی تعلیمات کا یکسر منکر ہے۔
    تمام یورپی فلسفیوں میں مارکس سب سے زیادہ صاف گو اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے والا، ٹھیٹھ اور سیدھا سادا لیکن بایں ہمہ مانیں یا نہ مانیں، وہ ایک اچھا بھلا مثالیت پسند (Idealistic)فلسفی ہے۔ اپنے فلسفہ میں اس نے خدا اور مذہب کے خلاف مکارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ اس کے نزدیک نہ خدا کی کوئی حقیقت ہے اور نہ وحی کی۔ اسی طرح وجدان کیلئے بھی اس کے فلسفہ میں کوئی جگہ نہیں۔ مارکس، ہیگل کے اس نظریۂ تصوریت سے متفق نہیں جس کے مطابق حقائق کے تحرّک کا باعث بننے والے تصورات (Ideas)کو معروضی حقائق پر فوقیت حاصل ہے۔
    ہیگل کے فلسفہ کے مطابق تصورات کی تخلیق پہلے ہوتی ہے اور مادی تبدیلیاں بعد میں اس کے زیر اثر وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ جب یہ تبدیلیاں پختہ ہو کر نئے تصورات کی حامل بن جاتی ہیں تو پھر ان کی تصدیق کیلئے نئے سرے سے آزمائش کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے جس کے نتیجہ میں موضوعی حقائق ایسے معروضی حقائق اور تجربہ پر مبنی صداقتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور جو تجرباتی طور پر ثابت بھی کئے جا سکتے ہیں۔
    مارکس انتہائی ہوشیاری سے اس پوشیدہ خطرے کو بھانپ لیتا ہے کہ اگر ہیگل کے فلسفہ کے مطابق موضوعی تصورات ہی معروضی حقائق کا باعث بنتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ موضوعی تصورات کو معروضی حقائق پر تقدم حاصل ہے۔ علت و معلول کا ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور تصورات سے قبل ابتداء ً ایک شعور کا ماننا ضروری ہو جاتا ہے جس کا ادراک زندگی کے تصور کے بغیر ممکن نہیں۔ اس طرح یہ سلسلہ انجام کار ہستی ٔباری تعالیٰ بحیثیت علت العلل ہونے پر منتج ہوتا نظر آتا ہے جو تصورات کے ذریعہ معروضی تبدیلیاں لانے پر قادر ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مارکس نے کھل کر ہیگل کے مثالیت پسند فلسفہ کو قبول نہیں کیا۔ تاہم اس نے علت و معلول کے سلسلہ کو نہایت باریک بینی سے توڑ مروڑ کر ہیگل کے فلسفہ کی قلب ماہیت کردی ہے اور اسے اپنے فلسفہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مادہ پہلے اور خیال بعد میں۔ اس کے نزدیک یہ جدلیاتی عمل خیال سے نہیں بلکہ مادہ سے پیدا ہوتا ہے اور مادہ بجائے خود ان قوانین قدرت کے ماتحت ہے جو خود کار ہیں۔ جدلیاتی مادیت کا یہ عمل آخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے خواہ اس میں تصورکا عمل دخل ہو یا نہ ہو۔ خالص مادہ زندگی پر اثرانداز ہوتے ہوئے اس کا راستہ متعین کرتا چلا جاتا ہے اور اس طرح اپنا راستہ خود دریافت کر لیتا ہے۔ یہ فلسفہ اس بنیادی مفروضے پر قائم ہے کہ خداتعالیٰ موجود نہیںتاکہ ایک قادر خدا کو انسانی معاملات سے بے دخل کر دیا جائے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ صرف انسان ہی ہے جو اپنے معاملات کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔
    جس طرح مارکس عقل اور منطق پر انحصار کرتا ہے اسی طرح وہ خدا اور وحی کا مطلقاً منکر بھی ہے۔ اس کے نزدیک مطلق مثالیت اور جدلیاتی مادیت میں صرف ترتیب کا فرق ہے۔ فیصلہ طلب امر یہ ہے کہ ان دونوں میں سے اوّلیت کس کو حاصل ہے۔ اس پہلو سے ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے جس کے حل ہوجانے پر ہم مارکس کے درپردہ مقاصد کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اس نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ کوئی نظام اخلاقی قدروں کے بغیر بھی بلاروک ٹوک آسانی سے چل سکتا ہے۔ اس جیسے ذہین آدمی سے یہ توقع تو کی نہیں جا سکتی کہ اُسے اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو کیونکہ اس نے اپنی ذہانت کے باعث یہ بخوبی اندازہ کر لیا تھا کہ ہستیٔباریتعالیٰ اور اخلاقی قدروں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو پیدائشی طور پر اخلاقی قدروں کا شعور حاصل نہیں بلکہ بعض اوقات تو وہ آسمان تلے بدترین مخلوق بن کر سامنے آتا ہے اور ایسی کوئی کوشش انسان کو اچھے اور برے کی تمیز نہیں سکھا سکتی جس کا منبع و ماخذ ایمان باللہ نہ ہو۔ لیکن مارکس کو بخوبی اندازہ تھا کہ اس کے فلسفہ اور ایمان باللہ میں بُعدالمشرقین ہے۔ چنانچہ اس کے نظام فکر میں کسی بھی ایسے امر کیلئے کوئی گنجائش نہیں جو ہستی ٔباری تعالیٰ سے متعلق ہو۔ چنانچہ اسے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ یا تو اشتراکی نظام کے مفاد کے تحفّظ کی اشاعت اور ترویج کے حق میں فیصلہ کرتا۔ گویا یوں اس نظام کو واپس اللہ تعالیٰ کی طرف لانے کا خطرہ مول لیتا یا پھر اس خطرہ سے دامن بچاتے ہوئے ایک ایسے خطرہ کو دعوت دیتا جس سے بالآخر اشتراکی نظام کی نفی ہو جاتی۔ غالباً وہ سمجھتا تھا کہ فوری سزا کا خوف اشتراکیت کے ارباب حل و عقد میں اخلاقی قدروں کے خلا کو ایک حد تک پر کر دے گا۔
    اس کا یہ مفروضہ قطعی طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے کیونکہ انسان جب گرتا ہے تو جابر سے جابر شخصی حکومت کی بے رحم لاٹھی بھی اس کی اصلاح نہیں کر سکتی۔
    مارکس کی جدلیاتی مادیت میں خدا کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی جن لوگوں نے اخلاقی قدروں کے حق میں بات کرنے کی جرأت کی وہ لینن کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہو گئے۔
    چنانچہ مارکسزم میں نہ تو آسمانی وحی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی ایسےاخلاق کی جس کی بنیاد وحی پر ہو۔ معلوم ہوتا ہے مارکس نے انسانی معاملات سے اخلاق کو اس خطرہ کے پیشِنظر خارج کیا کیونکہ اخلاقیات کو تسلیم کرنے سے بالآخر ہستی ٔباری تعالیٰ کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
    اخلاقیات کو مسترد کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مارکس کو یہ خطرہ تھا کہ مبادا اخلاقیات تندوتیز پرولتاری انقلاب کے راستے کی دیوار بن کر رہ جائیں۔ پرولتاری یعنی محنت کش طبقہ اخلاقی قدروں کے نام پر اپنے بورژوا آقاؤں کے غلام بن کر رہ گئے تھے۔ اس کے نزدیک ضروری تھا کہ آقا اور غلام کے اس رشتے کو ختم کر دیا جائے اور عوام کو کھلا چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ اپنے غاصب اور جابر آقاؤں کے خلاف پوری قوت سے جدوجہد کر سکیں۔ ہرگز یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ کسی قسم کی اخلاقی حِیل و حجت انقلاب کے راستہ میں حائل ہو۔ لہٰذا محنت کش عوام کو چاہئے کہ وہ پوری آزادی سے قتل و غارت، لوٹ مار اور تباہی وبربادی کے ذریعہ بورژوا طبقہ کے اقتصادی اور سیاسی غلبہ کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دیں۔ اس طرح مارکس کے نزدیک اخلاقی قدریں ہی اس ملحدانہ نظام کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ مارکس کا فلسفہ اس کی متوازن سوچ کے باوجود تضادات سے پر ہے۔ وہ اپنے بیان کردہ تصورات کی بنیاد اتنی وضاحت اور صحت کے ساتھ عقل اور تجزیہ پر رکھتا ہے کہ ان تصورات میں پائے جانے والے تضادات کے جرم کا اس پر شک بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجو د مارکسزم میں گہرے تضادات موجود ہیں۔ تضاد کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو گی کہ ایک طرف تو وہ اخلاقیات کو مکمل طور پر مستر د کر دیتا ہے اور دوسری طرف اپنے انقلاب کی بنیاد ہمدردی پر رکھتا ہے جو کہ ایک اخلاقی قدر ہے۔
    اسی پر بس نہیں بلکہ مظلوموں کے ساتھ ایسی ہمدردی جو عدل و انصاف کی تمام حدوں کو پار کرتی ہوئی دوسروں پر ظلم کی حد تک جاپہنچے، تو اس صورت میں یہ تضاد اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ انسانی معاملات میںانصاف کی عدم موجودگی میں اگر قیام انصاف کے نام پر کوئی تحریک شروع کی جائے تو اس تحریک کے بنیادی اصول یعنی انصاف سے کسی صورت بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی مثال تو ایسے ہی ہے جیسے انسان اسی شاخ کو کاٹنے لگے جس پر وہ خود بیٹھا ہو۔
    علاوہ ازیں ایک ایسے نظام حیات کا علمبردار جس کے ہاں جذبات اور اخلاقی ضوابط کے لئے سرے سے کوئی جگہ ہی نہ ہو لیکن اخلاقیات سے عاری اس نظام کو چلانے کیلئے دوسروں سے مکمل وفاداری کی توقع بھی رکھے تو وہ ایک عجیب مخمصہ کا شکار ہو جائے گا۔ بورژوا طبقہ کے استبداد کا جوا اتار پھینکنے کیلئے پرولتاریوں کی مدد کے لئے مارکس کی سوچی سمجھی سکیم میں ایک اور تضاد بھی ہے۔ اگریہ فلسفہ درست ہے تو اسے خواہ آپ سائینٹفک سوشلزم کہیں یا جدلیاتی مادیت پسندی کا نام دیں، اس کے نفاذ اور اسے صحیح خطوط پر چلانے کیلئے کسی خارجی انسانی مدد کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہئے جو اسے قدم قدم پر سہارا دے اور اس کے ر خ کو متعیّن کر ے۔
    ایک اور اہم پہلو بھی مدّ نظر رکھنا چاہئے کہ مارکس کا جدلیاتی مادیت پسندی کا نظریہ بدیہی طور پر ڈارون کی عظیم کتاب The Origin of Species سے واضح طور پر متاثر ہوا ہے۔ گہرائی میں جا کر دیکھیں تو درحقیقت جدلیاتی مادیت پسندی انسانی عمرانیات کے پس منظر میںڈارون کے نظریہ ’تنازع للبقائ‘ ہی کا دوسرا نام ہے۔
    خوراک کی رسد اور بقا کے ذرائع آج بھی انسانی زندگی کیلئے اسی طرح ضروری ہیں جس طرح انسان سے قبل عالم حیوانات کے لئے ہمیشہ سے ضروری رہے ہیں۔ "بقائے اصلح" کا اصول ہمیشہ کی طرح آج بھی سرگرمی سے کارفرماہے۔ اس قانون کو اپنانے کے سوا زندگی کے پاس اب نہ تو کوئی متبادل راستہ ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ اگر مارکسی فلسفہ میں صحت اور حتمیت کا مذکورہ قانون موجود نہیں تو اسے سائینٹفک نہیں کہا جا سکتا۔ یوں جدلی مادیت ایک طبعی اور لازمی اصول کے طور پر اپنی حیثیت کھو بیٹھے گی۔
    اب دیکھتے ہیں کہ جدلی مادیّت کا نظام ڈارون کے نظریہ ارتقاسے کس قدر مختلف ہے۔ ڈارون کا نظریۂ ارتقاراہ حیات کی تعیین و تشکیل میں ہر دوسرے نظریہ پر تفوق رکھتا ہے۔ اسے اپنی مدد کے لئے نہ تو کسی نظریاتی تحریک کی حاجت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی خارجی تائید کی ضرورت۔ اس کے برعکس اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنا راستہ روکنے والی ہر خارجی قوت کو ناکام بنا دے۔ اگر ڈارون پیدا نہ ہوا ہوتا اور اگر کوئی بھی شخص ارتقا کے راز سے پردہ نہ اٹھاتا تو بھی ارتقا کا قانون غیرمبدّل رہتا اور ڈارون کی موجودگی یا عدم موجودگی کا اس لابدّی حقیقت پر سرِمو فرق نہ پڑتا۔
    قوانینِ فطرت کی تنفیذ انسانی ادراک کی محتاج نہیں ہوا کرتی۔ ان قوانین کا وجودفہمِ انسانی کا دست نگر نہیں ہے۔ کوئی ان قوانین کا شعور رکھے یا نہ رکھے، نظامِ فطرت کا دیوہیکل پہیہ چلتا چلا جاتا ہے۔ جدلی مادیت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اگر مارکس اور لینن پیدا نہ ہوتے تو روس یا دنیا میں کہیںاور کمیونسٹ انقلاب برپا نہ ہو سکتا؟ روس اپنی تاریخ کے اس دور میں لینن کی موجودگی یا عدم موجودگی سے بے نیاز انقلاب کیلئے تیار تھا۔ لینن نے صرف اتنا کیا کہ اس طوفان کے برپا ہونے پر اس نے اسے سائینٹفک سوشلزم کے مفاد کیلئے استعمال کیا۔ لیکن ڈارون کے نظریہ ارتقا کیلئے کسی مؤیّد کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ فطرت کا رخ متعین کرنے کے لئے کسی ڈیزائنر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    ہیگل اور مارکس کے فلسفہ کے تقابلی جائزہ کے دوران ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تصورات مادی دنیا میں معروضی تبدیلیوں کا باعث ہوتے ہیں یا معروضی تبدیلیاں تصورات کو جنم دیتی ہیں؟ اگر مارکس درست ہے تو پھر اسے کمیونسٹ انقلاب کیلئے کسی نظریاتی اور عقلی تحریک کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ سائنسی طور پر بھی لازماً یہی نتائج ظاہر ہونے تھے۔
    اگر کمیونزم، نظریۂ ارتقا کی طرح فی ذاتہٖ ایک قانون ہوتا تو پھر مختلف قوتیں باہم مل کر بھی کمیونزم کے راستہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی تھیں۔ یہاں مارکس کے نظریات میں ایک اور تضاد ہے۔ بظاہر وہ دعویٰ تو یہ کرتا ہے کہ جدلی مادیت کو تصور اور فکر پر تقدم حاصل ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے لئے وہ تصور کی قوت پرہی انحصار کرتا ہے۔
    اگر مارکس کی سوچ ٹھوس سائنسی اصولوں پر مبنی ہوتی تو پھر سیاسی اور اقتصادی قوت چند ہاتھوں سے نکل کر لازماً کئی ہاتھوں میں منتقل ہو جاتی کیونکہ یہی اس کی فکر کا منطقی نتیجہ تھا۔ لیکن وہ حالات جنہوں نے مارکس اور لینن کو جنم دیاقطعًا ناگزیر نہیں تھے کیونکہ مارکس کا اعلیٰ ذہنی فکری صلاحیتوں کے ساتھ اس عالم میں جنم لینا اور پھر اینگلز (Engels) جیسے دانشور، بارسوخ اور دولتمند کی تائید حاصل کر لینا ہرگز جدلیاتی مادیت کا فکری نتیجہ نہ تھا۔
    مزید برآں جرمنی میں جو مارکس کے فلسفہ کی رو سے پرولتاری انقلاب برپا کرنے والے تمام عوامل کا مثالی اکھاڑہ تھا ایسا انقلاب لانے میں اس کی ناکامی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ جدلی مادیت فی ذاتہٖ اس صلاحیت کی حامل نہ تھی کہ وہ بجائے خود تمام روئے زمین پر کوئی سیاسی یا معاشی انقلاب برپا کر سکتی۔
    اس کے برعکس جرمنی سے مقابلۃً کم ترقی یافتہ صنعتی ملک میں لینن کی کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ روسی انقلاب مارکسزم کا بلا واسطہ نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ محض ایک اتفاقی امر تھا۔ یہ روسی تاریخ کی بدقسمتی تھی کہ لینن اس وقت موجود تھا جب زار کی استبدادی، خودغرضانہ اور قابل نفرت حکومت اور جنگ عظیم اوّل میں شکست کی بددلی نے مل کر ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس کا لینن نے خوب فائدہ اٹھایا۔
    روس پکے ہوئے پھل کی طرح کسی بھی انقلاب کی جھولی میں گرنے کیلئے تیار تھا۔ اگر وہاں کمیونزم نہ بھی آتا تو پھر کوئی اور انقلاب آیا ہوتا۔ صرف لینن جیسا ایک رہنما درکار تھا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ روس کو لینن کی شکل میں وہ عظیم انقلابی قائد مل گیا جو مارکس کا سائنسی اشتراکیت پسند شاگرد بھی تھا۔ استحصال کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرنے والا خود ہی روسی تاریخ کا بدترین استحصالی ثابت ہوا۔ حقیقت میںروسی تاریخ کا رخ موڑنے کا سہرا جدلی مادیت کے سر نہیں بلکہ لینن کے سر ہے۔
    دیگر تضادات کے علاوہ مارکس کو ایک انتہائی سنگین کوتاہی کا ملزم بھی گردانا جاتاہے۔ اس کے سوشلزم کے سائنسی اندازوں میں ذہنی صلاحیتوں کی اہمیت کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
    ذہن، خیالات اور افکار کا سر چشمہ ہے۔ اس کا دماغ سے الگ ایک اپنا وجود ہے۔ اگرچہ دماغ خیالات و افکار کا مادی مسکن ہے لیکن اس مسکن میں مقیم ذہن کی کوئی مادی حیثیت نہیں ہے۔ اگر دماغ کو کمپیوٹر سے تشبیہ دی جائے تو ذہن کواس کا آپریٹر قراردیا جا سکتا ہے۔ ایک عمدہ تصور اس وقت جنم لیتا ہے جب ذہن دماغ کے کمپیوٹر کو چلاتا ہے۔ اگر دو دماغ سوفیصد ایک جیسے ہوںلیکن ان کو چلانے والے ذہن مختلف ہوں تو ان میں جنم لینے والے افکار ہرگز یکساں نہیں ہوں گے۔
    انسان کی تمام تر سائنسی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی اس کے ذہن ہی کی مرہون منّت ہے۔ دنیا کی طاقتور اقوام، کمزور اقوام پر مجموعی طور پر اپنی برتر ذہنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہی حکومت کیا کرتی ہیں۔ یہ ذہنی صلاحیتیں بورژوائی طبقہ کو خوفناک حد تک مطلق اقتدار کا مالک بنا دیتی ہیں۔ لیکن جدلی مادیت کا نظریہ اس طاقتور اور مؤثر عنصر کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا۔
    مارکس کی ایک غلطی یہ بھی تھی کہ اس کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام میں جس جمع شدہ سرمایہ کا سرمایہ دار استحصال کرتے ہیں وہ دراصل کارکنوں ہی کی محنت کا پھل ہوا کرتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ سرمایہ دراصل محنت کشوں کو ان کی محنت کے معاوضہ کی عدم ادائیگی اور بینکوں میں جمع سرمایہ کے سود کا نتیجہ ہے۔ اس طرح پرولتاری اکثریت بورژوائی اقلیت کے ہاتھوں لوٹی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف محنت دولت کے انبار نہیں لگا سکتی جب تک اس کے ساتھ ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن مصروف کار نہ ہو۔ لیکن مارکس اس حقیقت کو آسانی سے نظرانداز کر دیتا ہے۔ ترقی یافتہ سائنسی ایجادات نے محنت اور پیداوار کی باہمی نسبت میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔ یہ سب کچھ بنیادی طور پر ذہنی قوت کا ہی کرشمہ ہے۔
    تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں مزدوراپنا خون پسینہ ایک کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی مجموعی پیداوار صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے محنت کشوں کی پیداوار کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ فرق اعلیٰ قسم کے آلات، جدید ٹیکنالوجی اور بہترین مشینوں اور محنت کے اشتراک ہی کا مرہون منت ہے۔ اعلیٰ ذہنی صلاحیت ہی دراصل پیداوار میں اضافہ کا موجب ہواکرتی ہے۔ ورنہ محنت تو محنت ہی ہے خواہ برطانیہ میں ہو یا بنگلہ دیش میں، بحرالکاہل میں پائے جانے والے جزائر میں ہو یا افریقہ کے جنگلوں میں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کسی جگہ تو محنت کا معاوضہ زیادہ دیا جائے اور کسی جگہ کم؟ لازماً یہ ذہن ہی ہے جو اس غیر مساوی معاوضہ کے سلسلہ میں فیصلہ کن کردار ادا کر تا ہے۔ یہاں یہ امر یاد رہے کہ ذہنی قوت ایک طبعی صلاحیت ہے جو اچھے برے ہر قسم کے مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتی ہے لیکن اس امر کا انحصار اپنی صلاحیت کو استعمال کرنے والے پر ہوا کرتا ہے۔
    جس طرح محنت ذہن کی مدد سے بے حد بار آور ہو جاتی ہے اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی اعلیٰ صلاحیتوںکی مدد سے ناقابل شکست طاقت بن جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی یہ طاقت دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز سے خود بخود پیدا نہیںہوتی بلکہ دولت کے چند ہاتھوں تک محدود ہونے کا عمل تب ممکن ہے جب اس کے پس منظر میں ایک اعلیٰ ذہنی قوت کارفرما ہو۔ اس ذہنی قوت کے منفی ہونے کی صورت میںمافیا جنم لیتے ہیں۔ اس قسم کے مافیا گروہوں کے مقابلہ میں پرولتاریوں کی تمام قوتیں مل کر بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتیں۔
    جب اس قسم کے مافیا ایک دفعہ پیدا ہو جائیں تو پھر ان کی تعداد مسلسل بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور ہر شعبۂ زندگی میں ان کا عمل دخل ہو جاتاہے۔ رفتہ رفتہ یہ بہت طاقتور ہو جاتے ہیں اورہرکس و ناکس سے اپنی شرائط منوا لیتے ہیں۔ مالیات، تجارت،سیاست، تفریح، صحت، بیماری، سیروسیاحت کی بہترین سہولیات، کمپیوٹر، برقی آلات الغرض ہر شعبۂ زندگی میں مافیا کے ان گروہوں کے منحوس سائے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔
    اصل بات یہ ہے کہ اچھی ہو یا بری، یہ ذہنی قوت ہی ہے جو بالآخر دنیا کی حکمران ہے۔ جدلی مادیت کا نظام انسانی تقدیر کی تشکیل میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتا۔ افسوس تو اس امر کا ہے کہ وہ ذہن جو عالمی معاملات پر کنٹرول اور تسلط کے لئے پیدا ہو اہے بذات خود بھی بُرا ہے۔ اور یہ صورت حال ہستی ٔباری تعالیٰ کے انکار کے لابدی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتی ہے۔
    انسانی معاملات میں سے اخلاقیات کا اخراج صرف مارکسزم ہی کی امتیازی خصوصیت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹ جس کام کو علی الاعلان کرتے ہیں سرمایہ دار اسی کام کو انتہائی منافقت اور مکاری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ سیاست، تجارت اور اقتصادیات، اخلاقیات سے اتنی ہی عاری ہے جتنی کمیونسٹوں کی۔ دونوں کے دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ٹھہرتے ہیں۔ اشتراکی ریاستوں میں بھی محنت کش طبقہ کیلئے اپنا استحصال کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا امکان اتنا ہی کم ہے جتنا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں۔
    اگرکمزور اور تہی دست عوام اپنے حکمرانوں کا راستہ کاٹنے کی کوشش کریں تو سرمایہ دارانہ نظام میں بھی شرپسند قوتوں سے جنم لینے والے مافیا گروپ اسی قدر ہیبت ناک ثابت ہوتے ہیں جس قدر اشتراکی نظام کے مافیا گروپ۔ ہماری توجہ کا مرکز بھی اب یہی امر ہونا چاہئے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کل کے پسے ہوئے تہی دست عوام کو جب حکومت مل جاتی ہے تو اقتدار ملتے ہی انہیں اپنے ماضی کے مصائب و آلام کیوں اچانک بھول جاتے ہیں اور وہ انتہائی سنگدلی سے اپنے آہنی ہاتھوں کے ساتھ عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ نہ تو کوئی اخلاقی قدریں ہیں جو ان کا راستہ روکیں اور نہ ہی ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے۔ جب اخلاقی قدریں ہی موجود نہ ہوں تو ضمیر کی ملامت کہاں سے آئے گی؟ پس یہی وہ بے حس مشینی صورت حال ہے جو بالآخر اشتراکی نظام کی ناکامی کا باعث بنتی ہے۔
    گہرے تجزیہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ تمام آمرانہ نظام ہائے حکومت میں ایک عجیب و غریب قسم کا اندرونی تضاد پایا جاتا ہے۔ اشتراکیت یا فسطائیت کے یک جماعتی فلسفۂ اقتدار پر قائم حکومتیں ہوں یا سرمایہ داروں کی آمرانہ حکومتیں، ان سب میں ایک قدر مشترک موجود ہوا کرتی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اخلاقی اقدار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ بے لگام ظلم و ستم کے بغیر ان کی بقا ممکن نہیں ہوا کرتی۔ اخلاقیات اور ظلم اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذایہ لوگ اخلاق کی عدم موجودگی میں خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ تا ہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اخلاقیات کا یہ فقدان ہی آخرکار ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
    استبدادی حکومتوں کی بقا کے لئے صرف سنگدلی ہی کافی نہیں بلکہ سنگ دلی کے ساتھ ساتھ چالاکی، مکاری، منصوبہ سازی اور سازشی ذہنوں کی قوت بھی اتنی ہی ضروری ہوا کرتی ہے۔ تمام آمرانہ حکومتیں دراصل شیطانی ذہن اور بے رحم دل کے ناپاک گٹھ جوڑ سے ہی معرضِ وجود میں آتی ہیں۔ کچھ عرصہ تک تو یہ گٹھ جوڑ ان کو سہارا دیتا ہے لیکن بالآخر وہ انہیں بیچ منجدھار چھوڑ جاتا ہے۔ انجام کار اخلاقی گراوٹ اور سازشیں ان کی تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حیات انسانی میں خیر اور شر کا ظہور کسی ناگزیر باطنی نظام کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ ذہن اور اخلاقی اقدار ہی وہ دو اہم ترین عناصر ہیں جن سے انسانی تقدیرتشکیل پاتی ہے۔ ہرانسانی منصوبہ کے نتائج کا فیصلہ انہی عناصر کی خوبی یا خامی اور ان کی مضبوطی یا کمزوری پر منحصر ہوتا ہے۔ چنانچہ مارکس دونوں لحاظ سے غلطی خوردہ ہے۔ ذہن اور اخلاقی اقدار کو سائنٹفک سوشلزم سے نکا ل دیں تو یہ نظام نہ تو سائنٹفک رہتا ہے اور نہ ہی سوشل۔ پرولتاری خواہ کتنی ہی کثرت میں کیوںنہ ہوجائیں وہ شر کی قوتوں کے حامل اذہان کی متحدہ قوت کا مقابلہ کرنے کی قطعاًطاقت نہیں رکھتے۔ وہ دور بہت ہی افسوسناک ہوا کرتا ہے جب کوئی خود پسند اور شریر ذہن کا مالک اقتدار پر قبضہ کر لے۔ چنانچہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا پر اخلاقیات سے عاری کسی بے شعور مشینی مادیت پسند کی حکمرانی ہو یا کسی شیطانی دماغ والے بدکردارسرمایہ دار مافیا کی۔ تا ہم ایک فرق بلکہ بہت بڑا فرق جو مارکسزم کی بنیادی خامیوں اور موجودہ نقائص کو بے نقاب کرتا ہے، یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں معاشرہ کا ہر فرد ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک آزادی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور فرد کی یہ آزادی معاشرہ کی مجموعی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ لیکن اشتراکیت میں کسی قسم کی آزادی نہیں ہوتی۔ اشتراکی معاشرہ کے ہر فرد میں مایوسی اور گھٹن کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے جو معاشرہ کے افراد کی ہر صلاحیت کو دبادیتا ہے سوائے اس صلاحیت کے جس کی ترقی ریاست کی مجبوری ہو۔
    مارکسزم کو ایک یہ مشکل بھی درپیش ہے کہ اخلاقیات کی تعریف پارٹی یا گروپ کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ وہ معاشرہ جس کے افراد کی تعلیم و تربیت ہی دوسروں کے حقوق کی مکمل نفی پر کی گئی ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ خود اپنے حقوق کی ادائیگی کر سکے۔ وہ اپنے اوپر عائد شدہ فرائض کی ادائیگی کو پسند نہیں کرتا۔ انسانی کردار کا یہ خاصہ ہے کہ اگر ایک بار گمراہ ہو جائے تو پھر وہ ہمیشہ اسی راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہی اصول اشتراکی نظام حکومت میں ہر سطح پر کارفرما نظر آتا ہے۔ اس نظام پر جس کو چلانے کے وہ ذمہ دار ہیں بد عنوان لوگوں کی گرفت اخلاقی قدروں کے فقدان کی وجہ سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ جوں جوں وہ بدعنوانی میں بڑھتے جاتے ہیں انہیں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے اتنی ہی زیادہ سنگدلی اور ظلم و ستم سے کام لینا پڑتا ہے۔
    اخلاقیات اور بدعنوانی ایک ہی وقت میں ایک ہی راستہ پر نہیں چل سکتے۔ اشتراکی نظام کے کرتا دھرتا لوگوں کی یہ مجبوری ہے کہ وہ چاہیں بھی تو اشتراکی دنیا میں اخلاقی اقدار کو قائم نہیں کر سکتے۔ کیونکہ انہیں ابتدا ہی سے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ غیر اشتراکی دنیا اور ان کے جملہ مفادات کے حوالہ سے اخلاقی پابندیوں کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔ چنانچہ یہی امر آخرکار اشتراکی آمریت کے زوال کا ایک قوی سبب ثابت ہوا۔
    ’’آمریت انسان کو بدعنوان بناتی اور مکمل آمریت انسان کو مکمل طور پر بد عنوان بنا دیتی ہے۔‘‘ یہ مشہور مقولہ اشتراکی قیادت پر مکمل طور پر چسپاں ہوتا ہے۔ اخلاق سے عاری کوئی بھی نظام ظلم و تشدد، جبرواستبداد اور انصاف سے رو گردانی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ جیسے نفرت سے نفرت ہی پیدا ہوتی ہے اسی طرح بدعنوانی، بدعنوانی ہی کو جنم دیتی ہے۔ اشتراکی نظام میں حکومتی سطح پر اخلاقی اقدار سے دوری کا نتیجہ ہمیشہ ایک مطلق اور بدعنوان آمریت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بدعنوان اور مطلق آمریت زیادہ عرصہ تک ایک مخصوص حاکم طبقہ تک محدود نہیں رہ سکتی۔ آمریت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ بدعنوانی ہر سطح پر موجود ہو۔ یوںبدعنوانی کے بنجر دائرے وسیع سے وسیع تر ہو کر تمام اطراف پر محیط ہو جاتے ہیں۔
    ا س کے برعکس ایک مرسل من اللہ کا منصب دنیوی حکمرانوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ نبی مکمل طور پر ایک کامل مذہبی اور اخلاقی ضابطہ کا پابند ہوتا ہے جس کی وہ خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ایسی صورت میں اس کے اپنے منصب کی عمارت زمین بوس ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وحی ٔالٰہی پر مبنی اخلاقی اقدار میں ہمیشہ ایک طرح کی ہم آہنگی اور موافقت پائی جاتی ہے اور اس میں یہ اہلیت بھی موجود ہوتی ہے کہ اپنے معتقدین کے کردار میں بھی ویسی ہی باہمی موافقت اور ہم آہنگی پیدا کر دے۔ اس طرح الہامی سچائی یہ صلاحیت بھی رکھتی ہے کہ وہ انسان کے باطنی امراض کو شفا دے سکے۔ انسان کا خالصۃً اپنی عقل پر مبنی کوئی ایک بھی ایسا ضابطۂِ اخلاق نہیں ہے جو یہ معجزہ دکھا سکے خواہ اسے بے انتہا ظلم و ستم ہی کی حمایت کیوں نہ حاصل ہو۔ ایک آمر اور ایک نبی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آمر ہرقسم کے قانونی ضابطہ کی پابندیوں سے آزاد ہوا کرتا ہے جبکہ انبیاء اور ان کے پیروکار سب کے سب کلام الٰہی کے ذریعہ دی جانے والی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔یہی بات ان دونوںکو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔
    اگر ایک مرتبہ کمیونسٹوں کا اقتدار پر قبضہ ہو جائے تو محنت کش طبقے کی بغاوت بھی اسے اقتدار سے الگ نہیں کر سکتی۔ اقتدار پر قابض یہ گروہ مطلق العنان اور بے رحم ہوتا ہے۔ مارکسی لغت میں عفوودرگزر اور اخلاقیات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ سٹالن اخلاق سے عاری اشتراکی کردار کی ایک بد ترین مثال ہے۔ اس کے مطلق العنان آمرانہ عہدِ حکومت میں جس طرح محنت کش طبقہ کا اشتراکیت کے نام پر قتل عام کیا گیا اسے صرف کمیونسٹ فلسفہ ہی قابلتحسین ٹھہرا سکتا ہے۔
    افسوس کہ مارکس اپنی انتہائی ذہانت کے باوجود جدلی مادیت میں مضمر نقائص سے آگاہ نہ ہو سکا۔ اشتراکیت کی طاقت اگر صحرائی طوفانوں سے بھی بڑھ کر غضبناک ہوتی تب بھی وہ انسانی معاشرہ میں اعلیٰ و ادنیٰ کے تفاوت کو کبھی ختم نہ کرسکتی۔
    ہر طوفانی سمندر قدرتی ہیجان کے بعد پُر سکون ہو جاتا ہے یہاںتک کہ سطح سمندر پر ہلکی سی لہر بھی نظر نہیں آتی۔ اسی طرح ریت کا ایک وسیع اور لق و دق صحرا بظاہر مکمل امن وسکون کا منظر پیش کرتا ہے۔ انسانی معاشرہ کے متعلق مارکسزم کا تصور بھی اس منظر سے ملتا جلتا ہے لیکن اشتراکیوں کو یہ معلوم نہیں کہ ایسے پر سکون مناظر دراصل موت کے عکاس ہوا کرتے ہیں۔ جہاں ہر قسم کی اونچ نیچ ختم ہو جائے وہاں طبعی قوتوں کا باہمی ردعمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اشتراکی یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ پُر سکون سمندر اور پُرسکوت صحرا انسانوں کی طرح آزاد نہیں ہیں کہ اگر چاہیں تو مکروفریب سے طبعی تفاوت کی عدم موجودگی میں بھی مصنوعی تفاوت پیدا کر سکیں۔ مزید برآں انسان کے لئے یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ ایک ایسا ضابطہ ٔحیات تجویز کر سکے جو معاشرہ میں پائی جانے والی ہر قسم کی اونچ نیچ کو ختم کر دے۔ پانی کے قطرات آپس میں متماثل ہو سکتے ہیں۔ ریت کے ذرّے بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہو سکتے ہیں لیکن انسانوں کے بارہ میں ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہیں اس طرح پر تخلیق ہی نہیں کیا گیا۔
    مارکس کے فلسفہ میں کمیونزم کی جس خیالی جنت کا تصور ہے اس کی تشکیل انسان ہی کرتے ہیں۔ اگر ایک اشتراکی ریاست کے ہر شہری کو یکساں اقتصادی مواقع مہیا ہوں اور سب کو ایک سی عمدہ غذاملے اور انسانی خواہشات عین اس کی ضرورت کے مطابق ہو جائیں تو پھر اصولاً ایسی کوئی برائی پیدا ہی نہیں ہونی چاہئے جولالچ کا نتیجہ ہو۔ جس معاشرہ میں ایسی اقتصادی مساوات موجود ہو اس میں چوری، ڈاکہ یا دھوکہ دہی کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں رہنی چاہئے یہاںتک کہ کسی کو دولت اکٹھی کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے۔ جہاں کوئی شہری حکومت کی فراہم کردہ اشیاء کے علاوہ کچھ اور خرید ہی نہ سکے وہاں بظاہر ایسے معاشرہ کو بالآخر تمام جرائم سے پاک ہو جانا چاہئے کیونکہ جرم کے سب سے بڑے محرّک یعنی لالچ کا قلع قمع ہو چکا ہو گا۔
    جب یکساں اقتصادی مواقع، یکساں ضروریات اور ان ضروریات کو یکساں طور پر پورا کرنے کی ضمانت میسرہو، بشرطیکہ معاشرہ کا ہر فرد کماحقہ محنت کرے، تو صرف اسی صورت میں ہی مکمل ریاستی استحکام کا اشتراکی خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ ایسے معاشرہ کو اپنے معاملات چلانے کیلئے کسی حکومت کی ضرورت نہیں رہنی چاہئے۔ الغرض یہ ہے مارکسی مادیت کا یوٹوپیا یا مثالی معاشرہ۔
    تا ہم دنیا کے تازہ ترین سیاسی اور اقتصادی رجحانات مادیت کے اس ڈھول کا پول پہلے ہی کھول چکے ہیں۔ اس لئے مارکس کی اس جنت کو تباہ کرنے کے لئے کسی خارجی عنصر کی ضرورت ہی نہیں۔ اخلاقیات سے روگردانی ہی اس کی مکمل تباہی کیلئے کافی ہے۔
    مارکس کے آمرانہ فلسفہ میں اور بھی کئی اندرونی نقائص موجود ہیں۔ اس حقیقت سے قطعنظر کہ یہ نظام اپنے ممبران کیلئے کوئی ایسا اخلاقی ضابطہ وضع نہیں کرتا جو فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی کے سلسلہ میں ان کی رہنمائی کرے، اس نظام میں خداتعالیٰ کے وجود کا قطعی انکار نیز یہ دعویٰ کہ چونکہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہ ہو گی لہٰذا حساب کتاب کا بھی کوئی سلسلہ نہیں ہوگا، یہ امر پارٹی کے کارکنان کو مکمل بے راہ روی اور خودغرضی میں دلیربنا دیتا ہے۔ اگر بے لگام ذاتی خواہشات کو حدود و قیود کا پابند نہ کیا جائے تو خود غرضی اور مفادپرستی کو عروج حاصل ہو جاتا ہے اور ہر فرد واحد اپنی طمع و حرص کی تسکین کیلئے ہر قسم کے کام کو جائز سمجھنے لگتا ہے۔ بدعنوان لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کے تحفّظ کیلئے جتھے بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے جیسے لوگوں کے تعاون سے اپنے جرائم پر پردہ ڈال کر بالآخر عموماً سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ غالباًانسان کے اندر اسی خود غرضی کے میلان کو دیکھ کر مارکس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انسان اخلاق عالیہ سے عاری ایک حیوان ہے۔ لیکن اس وقت اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ انسان کا یہی میلان بالآخر اشتراکی نظام کو تہ و بالا کر دے گا۔
    مارکس کے غیر ریاستی معاشرہ کے قیام میں اور اس حسین خواب کی تعبیر کے راستہ میں صرف اخلاقِ عالیہ کا انکار ہی واحد رکاوٹ نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ایک غیر ریاستی معاشرہ کو منزل تک پہنچنے کیلئے یہی کافی نہیں کہ سب کوترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں اور نہ ہی انسانی ہوس اقتصادی ضرورتوں تک محدود ہوا کرتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کسی بھی آمرانہ نظام میں اقتدار کے اصل ماخذ پر قبضہ کرنے کی ہوس کو کیسے روکا جائے؟ نیز اس امر کی کیا سائنسی ضمانت ہے کہ اس قسم کے نظام میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے باہمی رقابتوں، نفرتوں اور انتقامی جذبات سے کام نہیں لیا جائے گا؟ مارکس کا سائنسی فلسفہ اس مسئلہ کا ذکر تک نہیں کرتا۔
    یوٹوپیا (جنّت ارضی) تک پہنچنے کے لئے معاشرہ کو ایسے خطرناک رستوں سے گزرنا پڑتا ہے جہاں اخلاقیات اور رحمدلی نام کو نہیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ معاشرہ میں سیاسی اور اقتصادی مساوات کے قیام سے کہیں پہلے انسان کی اخلاقی قدروں سے بیگانگی اشتراکی نظریہئحیات کے خوشنما محل کو مسمارکر چکی ہوگی۔ اس حوالہ سے جب ہم اشتراکی نظام کے زوال کا باعث بننے والے امور کا جائزہ لیتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اس کے کرتا دھرتا لوگوں کی اخلاقی ناکامی ہی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سوویٹ یونین کی اشتراکی سلطنت کے زوال کی بڑی وجہ اشتراکی دنیا کی بدعنوانی ہے۔ ناکامی تو اس وقت ہی اس کے مقّدر میں لکھ دی گئی تھی جب اس کے منشور سے اخلاقی قدروں کو حذف کر دیا گیا تھا۔
    ایک طرف تو الہامی سچائی ہے اور دوسری طرف وہ نام نہاد سچائی جس کی دریافت کا سہرا خالصۃً انسانی عقل کے سر ہے۔ دونوں فلسفوں کی خوبیوں کا موازنہ کچھ اتنا مشکل بھی نہیں۔ بغیر کسی قسم کے استثناء کے وحی ٔالٰہی کا اعلان یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے معاملات میں عدل و انصاف کا قیام کامل اور مطلق عدل و انصاف کے بغیر ناممکن ہے۔ مطلق انصاف پر مبنی ضابطہ ٔ اخلاق اور بدعنوانی دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ صداقت اخلاقیات کا بنیادی جوہر ہے اور مطلق اخلاقیات اور مطلق صداقت باہم لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ بنی نوع انسان میں اعلیٰ اخلاقی قدروں کے قیام کے بغیر جنت ارضی کا کوئی خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہر زمانہ کی یہی عالمگیر آواز رہی ہے۔
    الہام پر مبنی صدیوں پرانے اس فلسفہ کی مخالفت کیلئے مارکس میدان میں اترا جسے اس نے یکسر ردّ کر دیا اور اس کے بالمقابل یہ دعویٰ کیا کہ انسان کو کسی آسمانی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک خدا تو سرے سے موجود ہی نہیں۔ پس انسان کو اپنی جنت ارضی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے خود ہی راستہ بنانا ہو گا۔ چنانچہ اس نے آسمانی ہدایت سے عاری خالصۃً اپنی عقل و دانش کی مدد سے ایک راستہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
    مارکس کے غیر طبقاتی معاشرہ کے اس تصور میں ایک اور بنیادی نقص موجود ہے جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے۔ کسی ٹھوس بنیاد کے بغیر یہ فرض کر لیا گیا کہ اگر معاشرہ میں معاشی مساوات قائم ہو جائے تو جرم کی خود بخود بیخ کنی ہو جائے گی اور جرائم کے خاتمہ کیلئے کسی ریاستی قوت کی ضرورت نہ رہے گی۔ تا ہم انسان کی حرص و ہوا کا دائرہ صرف معاشی مسائل تک محدود نہیں۔ اگر مارکسزم کے تمام مقاصد حاصل بھی ہو جائیں تب بھی انسانی حرص و ہوا کی اشتہاء کے لئے بہت کچھ باقی رہ جائے گا جسے مارکسی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔
    انسانی نفس اتنی خواہشات اور تمناؤں کو جنم دیتا ہے کہ اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو کوئی بھی منصوبہ کیوں نہ ہو وہ انسانی مسائل کے حل میں ناکافی ثابت ہو گا۔ انسانوں میں عدم مساوات صرف اقتصادی سطح پر ہی نہیں ہوتی بلکہ ان میں یہ فرق جسمانی یا ذہنی میلان اور رجحانات اور دل ودماغ کی صلاحیتوں میں عدم مساوات کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ حکمرانی، فتوحات، فرمانروائی، غلبہ، محبت کرنے یا محبوب بننے کی اس کی جبلّی خواہشات وہ چند ایک میدان ہیں جن کی زرخیز زمین میں انسانی حرص و ہوا کے بیج خوب جڑ پکڑتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔
    حسن و جمال ہی کو لے لیجئے۔ نہ تو تمام انسان اس میں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی جسمانی صحت ایک سی ممکن ہے۔ سماعت و بصارت کی صلاحیتیں، لمس اور ذائقہ کی قوتیں، پسند ناپسند، کسی چیز کی خواہش یا اس سے بیزاری کے علاوہ فنون لطیفہ کے رجحانات مثلاً موسیقی کا ذوق یا فن سے لگاؤ یا ادبی ذوق اور اس کے بالمقابل ادب سے بیگانگی کا یہ عالم کہ مطالعہ کے شوقین جس ادب پارہ کے دیوانگی کی حد تک مشتاق ہوں اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا تک گوارا نہ ہو۔ یہ چند مختصر مثالیں ہیں جن سے انسانی فطرت کے ان مختلف پہلوؤں کا پتہ چلتا ہے جو ارتقا کے ایک لمبے سفر کے بعد تخلیق ہوتے ہیں اور جن سے سائنٹفک سوشلزم کا کوئی بھی حامی چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ بس ان کوایک حقیقت ثابتہ سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہی تنوّع انسانی معاشرہ کی بدعنوانی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ ہر قسم کی معاشرتی برائیاں اس سے جنم لیتی ہیں۔ ان رجحانات کی تہذیب وتعدیل کا واحد طریق وہ اخلاقی ضابطہ ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر رکھی گئی ہو اور جس پر عمل کیلئے ہستی ٔباری تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے وجود اور الہام کے ذریعہ نازل ہونے والی صداقت کو انسانی معاملات سے نکال دیں تومعاشرہ میں امن و سلامتی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔
    مارکسزم کی ملحدانہ فلاسفی اور الہامی سچائی پر ایمان کا یہ گہرا تقابلی جائزہ اس امر کو مزید واضح کر دیتا ہے۔ ایک طرف آسمانی ہدایت سے عاری مجرّدانسانی عقل ہے جو صرف اپنے بل بوتے پر تمام انسانی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔ دوسری طرف اس کے بالمقابل الہامی صداقت ہے جو انسان کی بے راہ روی کے مقابلہ کیلئے ارفع اخلاقی قدروں کے کردار کو اہمیت دیتی ہے۔
    اوّل الذکر کا بغور جائزہ لینے سے صرف یہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ عقل فی ذاتہٖ انسان کو امن وسکون کی منزل تک لے جانے کیلئے قطعًا ناکافی ہے۔ تاریخ مذاہب کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ امن و سکون کا حصول صرف اسی وقت ممکن ہوا جب انبیاء ؑ نے انسان کی اخلاقی بے راہ روی کے خلاف جہاد کیا اور سخت جدوجہد اور جانفشانی کے نتیجہ میں معصیت سے بھری ہوئی دنیا میں کہیں کہیں پُرامن معاشرہ تشکیل پانے لگا۔ اگر چہ انسان دوبارہ ہواوہوس کے طوفان میں گھر گیا، بایں ہمہ انسان کی اخلاقی اقدار کا معیار کچھ نہ کچھ ضرور بلند ہوا۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور الہامی تحریکات کے ذریعہ بنی نوع انسان کی اخلاقی اصلاح نہ کی جاتی تو معاشرہ اس سے کہیں بدتر حالت میں ہوتا جتنا آج نظر آتا ہے۔ اس صداقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ انسان کے لئے وحی و الہام کی رہنمائی کتنی ضروری ہے۔
    حوالہ جات
    1. WESTFALL, R.C. (1993) The Life of Issac Newton. Cambridge University Press, Cambridge, p. 124
    2. WESTFALL, R.C. (1993) The Life of Issac Newton. Cambridge University Press, Cambridge, p. 122
    3. WESTFALL, R.C. (1993) The Life of Issac Newton. Cambridge University Press, Cambridge, p. 121
    4. GUTMAN, J. (1963) Philosophy A to Z. Grosset & Dunlap Inc, New York.
    5. IERNAN, T. (1966) Who's Who In The History of Philosophy Vision Press, New York, p. 54
    6. COPLESTON, F. (1956) Contemporary Philosophy. Studies Logical Positivism and Existentialism. Burns, Oates Washbourne Ltd., London, pp.154-155
    7. SARTRE, J. (1975) Existentialism and Humanism. Eyre Methuen Ltd., London, p.34
    8. LENIN, V, I. (1963) Collected Works. Vol.38, Philosophical Notebooks. Foreign Languages Publishing House, Moscow, p.201
    یونانی فلسفہ
    یونانی فلسفیوں میں سقراط کے علاوہ ایسے فلسفیوں کی تلاش جن پر نبی کی حقیقی تعریف اطلاق پا سکے اور جن کی ذات میں وحی ٔالٰہی اور عقل انسانی دونوں پورے توازن کے ساتھ جلوہ فرما ہوں، ایک مشکل کام ہے۔
    سقراط (470تا 399ق م) تو اپنی ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یونانی فلسفہ کی تاریخ میں اسے جو مقام حاصل ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ سقراط سے پہلے اور بعد میںبھی انبیاء ضرور آتے رہے ہوں گے لیکن ان کے متعلق ہم کوئی رائے سقراط کے بالواسطہ اشاروں کنائیوں ہی سے قائم کر سکتے ہیں۔ مثلاً سقراط کہتا ہے صرف وہی الہام الٰہی سے سرفراز نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے عظیم انسان گزرے ہیں جنہیں الہام الٰہی سے نوازا گیا تا کہ وہ نیکی اور بھلائی کے کام سرانجام دے سکیں۔ اسی طرح وہ ایتھنز کے باشندوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے قتل نہ کرو ورنہ مجھ جیسا انسان تم پھر کبھی نہ دیکھ سکو گے سوائے اس کے کہ خدا تمہاری ہدایت اور رہنمائی کیلئے کسی اور کو مبعوث فرمائے۔
    سقراط کی ذات میں ہمیں الہام اور عقل کے مابین ایک کامل توازن نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ باب زیادہ تر سقراط اور اس کے فلسفہ کیلئے وقف ہے۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ یونانی فلسفہ کی بات کرتے ہوئے افلاطون اورارسطو کا ذکر نہ آئے۔ درحقیقت افلاطون اور ارسطو نے ایک لازوال طرزِفکر کی بنیاد رکھی لیکن ان دونوں کی عظمت اپنے قابل احترام استاد سقراط کی مرہون منت ہے۔
    یہ سقراط ہی تھا جس نے اس دور کے فلسفیانہ مباحث میں علم، سچائی اور عقل کو اتنے پُرزور طریق پر متعارف کرایا کہ بعض سوانح نگار وں نے لکھا ہے کہ وہ بہت ارفع واعلیٰ اور لطیف فلسفوں کو گویا آسمان سے اتار کر زمین پر لانے والا انسان ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سقراط سے پہلے سو فسطائیوں کی لفظی موشگافیاں زمینی لوگوں کی اختراع تھیں۔ علم، سچائی اور عقل ہی درحقیقت وہ عناصر ہیں جو انسانی افکار کو آسمانی رفعتوں سے ہمکنار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ افلاطون اور ارسطو نے ہمارے لئے تمام فلسفیانہ موضوعات پر ایک وسیع اور گہرا علمی ورثہ چھوڑا ہے لیکن جو شاندار اور دائمی نقوش سقراط کے بلند کردار اور دیانتداری نے ثبت کئے ان کی مثال نہیں ملتی۔ افلاطون اور ارسطو دراصل اسی کی تربیت کا پھل ہیں۔ چنانچہ ان دونوں کے افکار کا اس باب میں مختصر تعارف دیا جا رہا ہے۔
    افلاطون اور ارسطو دونوں نظام کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے عقل کو فوقیت دیتے ہیں۔ عقل اور خارجی دنیا کا باہمی تعلق کیا ہے؟ علم کیسے حاصل ہوتا ہے؟ اور ابدی صداقت کیا ہے؟ ان موضوعات پر دونوں عظیم فلسفیوں کے نظریات بہت مختلف ہیں۔ افلاطون کے نزدیک خارجی دنیا کے ادراک کو آخری اور کامل صداقت سمجھنا غلط ہے۔ کیونکہ کسی چیز کی حقیقت کا صحیح علم حاصل کرنے کیلئے اس کا سطحی مطالعہ ناکافی ہے۔ اس کے خیال میں ہر خارجی مظہر (Phenomenon)کے اندر گہرے معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے جس تک رسائی محض سطحی تجزیہ کے ذریعہ نہیں ہو سکتی۔
    افلاطون نظر نہ آنے والی ایسی بادشاہت کو تسلیم کرتا ہے جسے ایک عظیم الشان باشعور ہستی تمام نظام کائنات کو قائم رکھنے کیلئے بہت سے ماتحت کارندوں کے ذریعہ چلا رہی ہے۔ تاہم وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ نامعلوم حقائق کا علم حاصل کرنے میں الہام کوئی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے نزدیک سچا علم صرف عقل اور وجدان کے باہمی اشتراک سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ عقل اور وجدان کے اس باہمی تعامل سے بعض اوقات بہت شاندار اور حیرت انگیز نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں انسانی علم قدم بقدم آگے بڑھنے کی بجائے چھلانگیں لگاتا ہوا ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ نئے تصورات جنم لے سکتے ہیں مگر یہ ہمیشہ انسان کے فکری عمل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کی حیثیت مفکرین کی عقل کی گہرائی پر منحصر ہوتی ہے۔
    افلاطون کے نزدیک عقل ایک ایسی جستجو اور تلاش کی متقاضی ہے جو تمام اقسام کے طبعی مظاہر کی کنہ تک پہنچنے کیلئے کی جاتی ہے۔ اس طرح جو حقائق حاصل ہوتے ہیں انہیں دماغ میں صحیح طور پر ترتیب دینے سے انسان سچائی تک پہنچ سکتا ہے۔ افلاطون کہتا ہے:
    ’’چونکہ انسانی فطرت میں آسمانی ہدایت کی کسی قدر چنگاری موجود ہے اس لئے اگر انسان چاہے تو عقل کے ذریعہ مناسب جستجو کے بعد عالَم غیب کے حقائق کا مشاہدہ کر سکتا ہے اور پھر ان کی روشنی میں معلوم کر سکتا ہے کہ سچ کیا ہے اور انسان کا کردار کیاہونا چاہئے۔ اس منزل تک رسائی کوئی آسان کام نہیں۔ اس کیلئے بہت زیادہ غوروفکر کی ضرورت ہے۔ ایسا غورو فکر جس میں بہت سے مفروضے غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر اس چیز کو چھوڑنا ہو گا جو محض حیوانی اور جسمانی خواہشات سے متعلق ہو۔ اس کے باوجود ضروری نہیں کہ ہر شخص اس منزل کو حاصل کر لے بلکہ یہی کہا جائے گا کہ اصولاً اس منزل کا حصول ممکن ہے اور اس منزل تک وہی پہنچتا ہے جو اپنے وجود کا بہترین حصہ اس راہ میں خرچ کرتا ہے جو اس کے لئے کھلی ہے۔‘‘ 1
    پس افلاطون کے نزدیک علم محض مشاہدہ اور عقل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہاں، کبھی کبھی وجدان اور تخلیقی تحریک بھی حصول علم میں مدد کرتی ہے۔ اس طرح جو علم حاصل ہوتا ہے اس کا نام صداقت ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ افلاطون کا یہ نظریہ تھا کہ ظاہری عالَم محض ایک سراب ہے۔ پس پردہ جو صداقت پوشیدہ ہے وہ ہمارے ظاہری مشاہدہ سے بہت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خواہ کتنی ہی کوشش کر لیں کسی خارجی حقیقت کی کنہہ کو مکمل طور پر نہیں پاسکتے کیونکہ تمام خارجی حقائق اور اشیاء مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس لئے ایک وقت کا مشاہدہ دوسرے وقت کے مشاہدہ سے مختلف ہو سکتا ہے۔
    ’’افلاطون کے نزدیک تصور عالم امثال (Ideal) کی ایک حقیقت ہے۔ جسمانی حواس پر مبنی ہمارا ادراک مثال کے صرف قریب قریب پہنچتا ہے۔ تصور جیومیٹری کی ایک مثالی تکون کی طرح ہے جو خشکی و تری میں کہیں موجود نہیں ہے، اگرچہ تمام حقیقی تکونیں کم و بیش اس مثالی تکون کو ظاہر کرتی ہیں۔ افلاطون کے خیال میں تصورمادی اشیاء سے زیادہ حقیقی ہے۔ مادی اشیاء تو اس کا پرتوہیں۔ اس کے نزدیک ایک فلسفی کو چاہئے کہ وہ اِن اَن دیکھے حقائق میں ڈوب کر اپنے تصور کی آنکھ سے ان کے باہمی ربط کا مشاہدہ کرے۔ اس کے خیال میں یہ ایک باقاعدہ نظام ہے جو بیک وقت ابدی، قابل فہم اور مبنی بر خیر ہے۔‘‘ 2
    افلاطون کے برعکس ارسطو دکھائی دینے والی خارجی حقیقت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کسی خاص وقت جو ادراک حاصل کرتا ہے وہی سچائی ہوتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ارسطو کے نزدیک خارجی دنیا بذات خود ایک ابدی صداقت ہے۔ ارسطو بھی ایسے تصورات کی موجودگی کا قائل تھا جن کی جانب تمام مادی اجسام حرکت پذیر ہیں۔ افلاطون کے برعکس وہ مادہ کو ایک قائم بالذات ابدی حقیقت سمجھتا ہے اور ایک ایسے ارتقا کا نظریہ پیش کرتا ہے جس میں کوئی بیرونی باشعور ہستی کسی قسم کا کردار ادا نہیں کر رہی۔ اس کے خیال میں یہ ارتقا مادہ کے اندر پوشیدہ طبعی خواص کے باعث ہے۔
    لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ارسطو ایک خالق خدا کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس وہ ایک ایسی بالا ہستی پر ایمان لاتا ہے جس کے باعث دراصل علت و معلول کا یہ تمام سلسلہ جاری ہے اور جسے علت اولیٰ یا علت العلل کہہ سکتے ہیں۔ تا ہم جب ہم سقراط، افلاطون اور ارسطو کے بیان کردہ خدا کے تصور کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے تصورات میں ہمیں بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے۔
    سقراط کے یہاں خداتعالیٰ کی ہستی کے ساتھ ایک بہت گہرا اور ذاتی تعلق نظر آتا ہے۔ اس کی شخصیت کی تعمیر ہی انبیاء کی طرز پر ہوئی ہے۔ سقراط کے شاگردوں کی پہلی نسل میں بڑی حد تک سقراط کی روح موجود ہے اور افلاطون اس پہلی نسل کا نمائندہ ہے جس کے فلسفیانہ اور سائنسی مباحث پر روحانیت کی چھاپ نمایاں ہے۔ لیکن افلاطون سے ارسطو تک کے عبوری دور میں ہمیں اس خدا کا تصور روبہ زوال نظر آتا ہے جو مظاہر قدرت میں ایک زندہ اور فعّال کردار ادا کرتا ہے۔ اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ ارسطو خدا اور بندہ کے درمیان کسی قسم کے رابطے کا قائل تھا۔
    اگرچہ ارسطو کے فکری نظام میں نہ تو کسی ازلی ابدی سچائی کا کھل کر ذکر پایا جاتا ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کسی قسم کی تحقیق و جستجو کے آثار ملتے ہیں۔ تاہم اگر اس کی تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاں بھی ایک ازلی ابدی سچائی کا تصور موجود ضرور ہے۔ اور اس تصور کا تعلق مادہ کی اس مسلسل حرکت اور اس کی طبعی خصوصیت سے ہے جس کی وجہ سے مادہ ہمیشہ ایک مثالی حالت کی طرف ارتقاپذیر رہتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ارسطو کے نزدیک کسی خاص لمحہ میں کیا گیا مشاہدہ اس لمحہ کی حقیقت کہلائے گا۔ لہٰذا ان حقائق سے عقل جس نتیجہ کو اخذ کرتی ہے اسے علم کہا جائے گا۔ اور جب مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے مشاہدہ اس علم کی تصدیق کر دے تو اسے صداقت کے طور پر تسلیم کر لینا مناسب ہو گا۔
    پرانے دور سے تعلق رکھنے والے فلسفیوں میں ارسطو کو ایک نمایاں اور امتیازی مقام حاصل ہے۔ فلسفیانہ فکر کے بہت سے ادوار پر اس کا ایک دائمی اور مستقل اثر رہا ہے یہاں تک کہ آج بھی فلسفہ کی کوئی شاخ ایسی نہیں جسے ارسطو کے فکر اور زبردست فہم و فراست سے آزاد کہا جا سکے۔
    یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یونان کے اکثر فلسفی خواہ وہ ہستی ٔباری تعالیٰ پر ایمان بھی کیوں نہ رکھتے ہوں الہام کو خداتعالیٰ سے علم پانے کا ضروری ذریعہ قرار نہیں دیتے تھے۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ عقل انسانی کو مشاہدہ اور تجربہ کی روشنی میں علم اور صداقت کے حصول کا معتبر ترین ذریعہ تسلیم کرتے تھے۔ یونانی فلسفہ کا یہ مختصر تذکرہ یونان کے ان تمام عظیم فلسفیوں کا احاطہ نہیں کرتا جنہوں نے فکر انسانی کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ موجودہ جائزہ کا بنیادی مقصد صرف اتنا ہے کہ ان یونانی فلسفیوں کے ہاں موجود عقل، الہام اور صداقت کے تصور کا مختصرطورپر جائزہ لیا جائے جن کے اقوال باقی رہنے والے اور جن کی شہرت لازوال ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ سقراط اور اس کی شخصیت کا تفصیلی خاکہ پیش کیا جائے۔
    سقراط یونان کے فلسفیوں میں سے اعلیٰ ترین کردار کا حامل تھا۔ اس کے افکار اور کردار میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ لیکن بعض جدید مصنفین نے اس کی تصویر کشی کچھ اس رنگ میں کی ہے کہ اس کے خدوخال دھندلا کر رہ گئے ہیں اور تضاد کا شکار ہو گئے ہیں۔ سقراط جیسے عظیم معلّم اخلاق کو آج ہم بڑی حد تک افلاطون، زینوفون اور اس کے بعض دیگر ہمعصروں کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک اس کے صحیح مقام کی شناخت نہیں کی جا سکی۔ زینوفون کے متعلق یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ ایتھنز کے باشندوں کی طرح دیومالائی قسم کے مشرکانہ عقائد رکھتا تھا اور وہی اپنے مشرکانہ عقائد کو سقراط کی طرف منسوب کرنے کا زیادہ تر ذمہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سقراط کے متعلق جو کچھ آج لکھا جارہا ہے اس میں باربار اسے مشرکانہ عقائد کا حامل بتایا جاتا ہے۔ بایں ہمہ اسے ایک ایسا موحّد بھی تسلیم کیا جاتا ہے جو خالق کائنات پر ایمان رکھتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس کے وجود کا ذرہ ذرہ خدائے واحد کی محبت اور عقیدت کے نشہ میں سرشار تھا اور خداتعالیٰ کی توحید پر اس کا ایمان غیر متزلزل تھا۔ وہ یونانی دیومالا ئی خداؤں کو کسی قیمت پر ماننے کیلئے تیار نہیں تھا اور نہ ہی اس معاملہ میں اسے کسی قسم کی مفاہمت کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا تھا۔ اس کی ساری زندگی نیکی، علم، سچائی کی اشاعت اور نفس کے تمام تضادات کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے وقف تھی۔ وہ کامل انصاف اور احتساب پر یقین رکھتا تھا۔ اسی طرح حیات بعد الموت اور جزا سزا پر بھی اسے کامل یقین تھا۔ وہ تمام عمر برائی، جہالت، تکبر اور منافقت کے خلاف جہاد کرتا رہا۔ اس نے توحید کی خاطر ایسے سکون اور اطمینان قلب کے ساتھ جان دی جو کسی بھی عظیم پیغمبر کے شایان شان ہے۔
    اس کی عظیم الشان قربانی کا صرف یہی ایک پہلو نہیں تھا۔ دراصل ادنیٰ سے جھوٹ کے ساتھ بھی مصالحت کرنا سقراط کی فطرت میں ہی نہیں تھا اور معاشرہ کے دباؤ کے نتیجہ میں اپنے عقیدہ میں معمولی سی تبدیلی قبول کرنے کی بجائے وہ بخوشی جان دینے کے لئے تیار تھا۔ یہ وہی یونانی فلسفی نبی ہے جس کے متعلق بظاہر یہ متناقض دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ مغربی فلسفہ کا بانی مبانی تھا۔
    سقراط اور مغربی فلسفیوں کی سوچ میں کچھ بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ سقراط کا فلسفہ نیکی، عاجزی، کامل انصاف، توحید پر پختہ ایمان اور دنیا و آخرت میں انسانی اعمال کے محاسبہ پر مبنی ہے۔ کیا اس کے باوجود بھی سقراط کو ڈیکارٹ (Descartes)، ہیگل (Hegel)، اینگلز (Engels)اور مارکس کا جد امجد قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگرایسا ہے تو پھر ضرور سقراط کے جسمانی نقوش امتداد زمانہ کے ہاتھوں مٹ چکے ہوں گے۔ ان فلسفیوں نے جس طرح اخلاقیات کو مسترد کیا ہے کیا بنظرِانصاف ہم اس کے آثار سقراط میں تلاش کر سکتے ہیں؟ یقینًا نہیں۔
    سقراط کی تو دنیا ہی اور تھی۔ وہ تو انبیاء کی دنیا تھی۔ سقراط رؤیائے صادقہ اور الہام پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ اس بات کا قائل تھا کہ علم صداقت ہے اور صداقت علم۔ اس کے نزدیک انسان کیلئے خداتعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علم کے علاوہ کوئی علم قابل اعتبار نہیں ہے۔
    سقراط، اہل یونان کو خداتعالیٰ کا پیغام پہچانے کیلئے مامور کیا گیا تھا۔ اس کے نزدیک یہ زندگی آئندہ زندگی کیلئے بطور تیاری کے ہے۔ وہ انسانی روح کو اہمیت دیتا تھا کیونکہ روح ہی ہے جس کا اگلے جہان میں جانا مقدر ہے۔ سقراط کے اس فلسفہ کو آسمانی صداقت تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے کسی طور بھی سیکولر فلسفہ قرار نہیں دیا جا سکتا جیسا کہ جدید دانشوروں کا خیال ہے۔
    سقراط کو انبیاء کے زمرہ سے نکال کر محض فلسفیوں میں شامل کرنے کی بارہا کوشش کی گئی ہے۔ بہت سے جدید مصنفین بلند علمی مقام رکھنے کے باوجود سقراط کے حقیقی مقام کی شناخت سے یکسر لاعلم رہے ہیں۔ انہوں نے سقراط کو ایک ایسا مقام دینے کی کوشش میں جو اس کا اصل مقام نہیں ہے، کتابوں کی کتابیں لکھ ماری ہیں۔
    بعض مشہور محققین نے سقراط کے متعلق بعض فرضی تضادات کو جو درحقیقت موجود ہی نہیں، دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک الہام الٰہی پر سقراط کے اعتقاد اور اس کی عقلیت پسندی میں باہمی تضاد ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر عقل اور الہام میں کوئی تضاد ہے تو پھر یہ تضاد تمام انبیاء میں موجود ہونا چاہئے۔ اور سقراط بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ انبیاء اور بانیانِمذاہب نے بیک وقت الہام اور عقل پر ایمان رکھتے ہوئے دونوں کے پرچم کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ان کے نزدیک الہام اور عقل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ اگر ان میں انہیں کوئی تضاددکھائی دیتا تو وہ اپنی راستبازی کی وجہ سے خدا اور عقل میں سے کسی ایک یا پھر دونوں کو ہی ردّ کردیتے۔ ان کے نزدیک خدا پر ایمان اور عقل دونوں متضاد ہو ہی نہیں سکتے۔ پس وہ لوگ جنہیں سقراط کے اعتقادات اور اس کی عقلیت پسندی میں تضاد نظر آتا ہے خود نظر کے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔ انہیں دوبارہ سقراط کے نظریات اور اس کے بارہ میں مستند ماخذ کا بنظر غائر مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس صورت میں ان پر ایک نیا سقراط آشکار ہو گا جو بیک وقت موحّد بھی ہے اور عقلیت پسندی کا علمبردار بھی۔ سقراط سے متعلق مستند مواد کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی ان پر کھل جائے گی کہ وہ سب سے زیادہ اس امر کے متعلق فکرمند رہتا تھا کہ لوگ نیکی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی وہ اس کے حقیقی معانی سے آشنا ہیں۔
    دیکھا جائے تو سقراط دو ہیں۔ ایک تایخی اور دوسرا فرضی۔ دونوں میں تضاد کی حد تک زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سقراط سے متعلقہ ماخذ میں جو لفظیات اور اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں ان کے مفہوم و معانی کی تعیین و تفہیم خاصی مشکل اور مشتبہ ہو کر رہ گئی ہے۔ مثلاً ایک ایسی ہی اصطلاح ARETE کو لے لیجئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے معنی نیکی کے ہیں یا اس کا کوئی اور مفہوم ہے۔ ڈبلیو۔ کے۔ سی۔ گوتھرائی (W.K.C. Guthrie)کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ :
    ’’یہ بات اب ہمارے علم میں ہے کہ نیکی (Virtue)کے لفظ کو غلط طور پر یونانی لفظ ARETEکے ساتھ ملا دیا گیا ہے جس کے بنیادی معنی کسی کام میں مہارت کے ہیں۔‘‘ 3
    گوتھرائی کے خیال میں گویا یہ وہ بات تھی جو عمل پسند اہلِ ایتھنز کے جذبات پر گراں گزری۔ لیکن اس نے اپنی سمجھ کے مطابق ARETEکے جو معنی لئے ہیں ان میں واضح تضاد ہے۔ کیونکہ اگر یہ تعریف درست ہے تو پھر ایتھنز کے باشندوں میں سے سب سے زیادہ عملیت پسندسقراط ثابت ہوتا ہے نہ کہ اس کے ناقدین جو صرف سیاسی داؤ پیچ اور اخلاقیات میں نفع نقصان کی حد تک دلچسپی رکھتے تھے۔
    ’’سمجھ بوجھ رکھنے والے عمل پسند اہل ایتھنز کو سقراط کی ایک یہ بات بھی نا گوار گزرتی تھی کہ وہ بحث کا رخ غریب، مسکین اور بظاہر غیر متعلق افراد مثلاً موچی بڑھئی وغیرہ کی طرف موڑنے پر اصرار کرتا ہے۔ جبکہ اہل ایتھنز سیاسی داؤ پیچ کے اصول سیکھنا چاہتے تھے۔ نیز وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ آیا اخلاقی ذمہ داری قسم کی بھی کوئی چیز ہے؟‘‘ 3
    اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ گوتھرائی کے نزدیک سقراط کو’خیر‘میں بطور اخلاقی قدر کے قطعاً کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بلکہ بقول گوتھرائی اس کے پیش نظر محض اپنی پیشہ وارانہ علمی اور تکنیکی مہارت اور اس مقصد کی توضیح و تشریح تھی جس کی خاطر وہ کام کر رہا تھا۔ مثلاً اس کے نزدیک سیڑھی کی بناوٹ اور غرض و غایت کا علم رکھنا ضروری ہے۔ گوتھرائی کے نزدیک سقراط کا فلسفہ دراصل سیکولر ہے۔ بالفاظ دیگر سقراط کی دلچسپی فقط ایک کاریگر کے فن اور اس کے مقصد تک ہی محدود تھی۔ گوتھرائی نے جو نقشہ کھینچا ہے اس کے مطابق توسقراط، گلی گلی پھر کر اہل ایتھنز کو تلقین کیا کرتا تھا کہ دستکاری اور صناعی میں مہارت حاصل کریں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ گوتھرائی سقراط کے فلسفہ کے بنیادی مقصد کو سمجھا ہی نہیں۔ وہ تو یہ ماننے کیلئے بھی تیار نہیں کہ سقراط کو خیر اور پرہیزگاری میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی تھی۔
    سقراط کے متعلق ایک بات تو طے ہے کہ اس کا ہر قول و فعل areteہی تھا۔ بایں ہمہ معاشرہ نے اگر اسے اس بنا پر ٹھکرا دیا تھا کہ اس کا نقطۂ نظر اخلاقیات سے عاری تھا تو اس سے صرف ایک ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک arete کا اخلاق سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ گوتھرائی کی اس الزام تراشی پر جو سراسر بے بنیاد ہے ہم پر زور احتجاج کرتے ہیں۔ اہل ایتھنز نے کبھی بھی سقراط پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ اخلاقیات کو زیر بحث نہیں لاتا۔ اس کے برعکس اہل ایتھنز اس کو محض اس وجہ سے جھٹلاتے تھے کہ اس نے اپنی مخصوص قسم کی اخلاقیات پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر ایتھنز کے نوجوانوں کے اخلاق تباہ کر دیئے ہیں۔ پس ہوا یہ ہے کہ گوتھرائی نے یہ کہہ کر کہ ’areteکا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں‘ سقراط کو اس کے معلّم اخلاق کے مقام سے گرانے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ اس نے نہایت چابک دستی سے تاریخی حقائق کو مسخ کیا ہے۔ عملاً ہوا یہ ہے کہ مصنف نے سقراط کی حقیقی شخصیت اور اپنی خود ساختہ فرضی شخصیت کے درمیان اختلاف تناظر کی وجہ سے التباس پیدا کر دیا ہے۔ جو شخص بھی اس سقراط سے واقف ہے جس کی عکاسی افلاطون اور اس کے بعض دیگر ہمعصروں نے اپنی تحریروں میں کی ہے وہ مصنف کی ان بے بنیاد قیاس آرائیوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ اہل ایتھنز کو اشتعال دلانے والی بات وہ نہیں تھی جس کا مصنف دعویٰ کرتا ہے۔ سقراط نے تو توحید کا پرچار کیا اور بد اخلاقی کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ یہی سقراط کا مشن تھا اور یہی اس کے نزدیک areteکے معنی تھے۔ چنانچہ arete کے معانی کو سمجھنے کیلئے ان حقائق کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
    گوتھرائی کے برعکس بہت سے دیگر علماء نے areteکا ایک ترجمہ اپنے تمام تر مفاہیم کے ساتھ نیکی یا خیر کیا ہے جو بالکل درست ہے۔ جب سقراط چھوٹی موٹی اشیاء مثلاً صنعت و حرفت کے آلات اور ان کے طریق کار کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا ایک معین مقصد ہے جس کی تکمیل از حد ضروری ہے تو درحقیقت وہ تشبیہات اور استعارات میں انسانوں کی بات کر رہا ہے۔ ورنہ وہ ہنرمندوں اور کاریگروں کے ہنر اور فن سے متعلق علم کی نفی نہ کرتااور نہ ہی ان کو ان کی جہالت پر برا بھلا کہتا۔ سقراط دراصل کہہ یہ رہا ہے کہ لوگ آسمانی علوم کی حقیقت سے ناآشنا ہیں حالانکہ یہ تمام انسانی مشاغل کی گہرائیوں میںموجود ہیں۔ اس کے باوجود لوگ اس سے غافل رہتے ہیں۔ اس کے نزدیک یہ ایک ایسی جہالت ہے جس کی موجودگی میں کوئی انسان درحقیقت انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک کاریگر اس وقت تک کاریگر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے کام کی سوجھ بوجھ نہ رکھتا ہو یا وہ اپنی بنائی ہوئی چیز کا مقصد ہی نہ جانتا ہو۔ بنی نوع انسان کی یہی وہ جہالت ہے جس کی طرف توجہ مبذول کرانے کیلئے سقراط عمر بھر کوشاں رہا۔
    اسے یقین تھا کہ تخلیق انسانی کے الٰہی مقصد کو انسان محض اپنی کوششوں سے حاصل نہیں کر سکتا۔ انسان نہیں جانتا کہ اپنی تخلیق کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کو کن خطوط پر استوار کرے۔ اگرچہ سب کچھ جاننے کے دعویٰ کے باوجود وہ کچھ بھی علم نہیں رکھتا۔ اور یہی اس کے نزدیک سب سے بڑی جہالت ہے۔ areteکے معنی دراصل اپنی ہستی کے مقصد کی تلاش ہے مگر کامل عجز اور اپنی لاعلمی کا اعتراف کئے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ صرف اسی صورت میں انسان اس قابل ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ اسے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر درجہ بدرجہ علم کی روشنی کی طرف اس کی رہنمائی فرمائے۔ سقراط کے نزدیک حقیقی علم صرف خداتعالیٰ کا عطا کردہ علم ہے۔ اس کے سوا باقی سب جہالت ہے۔
    قرآن کریم بھی بعینہٖ یہی پیغام دیتا ہے۔ وہ تمام علم خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے یہاں تک کہ فرشتے بھی اس کے حضور اپنی لاعلمی کا اقرار کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں:

    )البقرۃ 33:2 (
    ترجمہ : پاک ہے تو۔ ہمیں کسی بات کا کچھ علم نہیں سواrئے اس کے جس کا تو ہمیں علم دے۔ یقینا تو ہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور ) بہت حکمت والا ہے۔
    قرآن کریم بار بار یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اس وقت تک سیدھے راستے کاکوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خدا کے در کا فقیر بن کر اپنے لئے اس سے رہنمائی طلب نہ کرے:

    (الفاتحۃ 6-5:1)
    ترجمہ: تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔
    عجز کا یہی درس ہے جس پر سقراط نے بھر پور زور دیا ہے کہ انسان اس وقت تک حقیقی علم حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی لاعلمی کا اقرار نہ کرلے اور یہ عرفان نہ پا لے کہ صراط مستقیم کا حصول آسمانی ہدایت کے بغیر ناممکن ہے۔
    سقراط جب ایک فرضی کاریگر کے حوالہ سے بات کرتا ہے تو دراصل وہ علامتی زبان میں بالواسطہ انسان ہی کا ذکر کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان اپنے علم کے بارہ میں دھوکہ کا شکار ہے حالانکہ جب تک وہ خود کو عالم سمجھتا ہے تب تک اسے علم حاصل کرنے کی ضرورت کا احساس نہیں ہو سکتا۔ پس سقراط نے اپنے پیغمبرانہ فرائض کی ادائیگی میں اشاروں کی زبان کا طریق اختیار کیا ہے۔ اس کا مشن تو یہ ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو تخلیق انسانی کے اس اخلاقی، روحانی اور الٰہی مقصد سے آگاہ کرے جسے وہ خداتعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
    اکثر انسان تو شطرنج کے مہروں کی طرح ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیوں حرکت کر رہے ہیں۔ انہیں اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کون استعمال کر رہا ہے۔ ایسے غافل انسان نہ تو حقوق اللہ سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی حقوق العباد سے۔ اس صورت حال کی اہمیت کو سمجھانے کیلئے سقراط انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے جہاں وہ دنیوی زندگی میں کئے گئے اعمال کا جواب دہ ہو گا۔ لیکن سیکولر فلسفی حیات بعد الموت کی بات کبھی نہیں کرتے۔ یہ کام اور یہ فرض تو انبیاء کے سپرد ہوتا ہے۔ ہماری خواہش تو صرف اتنی ہے کہ کاش گوتھرائی کو وہ الفاظ بھی یاد ہوتے جو اس نے اپنی اسی کتاب میں سقراط کے بارہ میں استعمال کئے ہیں۔ خصوصاً مندرجہ ذیل الفاظ توبے حد اہم ہیں جن کے بارہ میں خود مصنف کا دعویٰ ہے کہ سقراط نے اپنی موت سے ذرا پہلے کہے تھے:
    ’’اگر اکثر نہیں تو بہت سے لوگ ایسے ضرور تھے جوسقراط سے اختلاف رائے تو رکھتے تھے لیکن اس کی موت کے ہرگز خواہاں نہ تھے۔ وہ یقینا بہت خوش ہوتے اگر سقراط کو ایتھنز سے ہجرت کرنے پر آمادہ کر لیا جاتا۔‘‘ 4
    سقراط نے اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ:
    ’’اس نے عمر بھر ایتھنز کے باشندوں کیلئے وضع کردہ قوانین سے استفادہ کیا ہے۔ اب اگر وہی قوانین اسے زہر کا پیالہ پلانا چاہتے ہیں تو ان کے اس فیصلے سے گریز نا انصافی ہی نہیں ناشکری بھی ہو گی۔ علاوہ ازیں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس دنیا سے کہیں بہتر دنیا کی طرف نہیں جا رہا ہے۔‘‘ 4
    بہت سے دیگر بلند پایہ علماء نے بھی areteکا درست ترجمہ کرنے کے سلسلہ میں تحقیق کی ہے۔ ان میں سے ایک بہت نمایاں نام گریگری ولاسٹوز (Gregory Vlastos)کاہے جو اس خیال کی پرزور تردید کرتا ہے کہ areteکو محض کاریگر کی ایک اصطلاح سمجھا جائے۔ وہ اصل یونانی لفظ کے مختلف ممکنہ معانی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب سقراط اس لفظ کو استعمال کرتا ہے تو اس کے نزدیک اس کے معنی لازماً تقویٰ، نیکی اور ہر قسم کی خیر کے ہوتے ہیں۔
    ’’اس بارہ میں اگر قارئین کے دل میں اب بھی کوئی شبہ باقی ہے تو وہ اس حقیقت پر غور کرنے سے دور ہو سکتا ہے کہ سقراط جب بھی عمومی نظریہ کو زیر بحث لاتا ہے مثلاً جب وہ پروٹے گرس(Protagoras)اور مینو(Meno)کے ذکر میں areteکے سکھائے جانے کے بارہ میں بات کرتا ہے تو وہ دلیل دیئے بغیر یہ تسلیم کرتا ہے کہ areteکے پانچ اجزاء یا مسلّمہ خوبیاں ہیں جو بالاتفاق اعلیٰ اخلاقی اقدار کے بیان کیلئے یونانی اصطلاحات کا حکم رکھتی ہیں۔ یعنی Andreia (مردانگی۔ جرأت)، Sophrosyne (اعتدال)، Dikaiosyne (انصاف۔ تقویٰ)، Hosiotes (نیکی۔ پاکیزگی) اور Sophia (عقل و دانش)۔‘‘ 5
    پس ولاسٹوزکا یہ موقف بہت معقول ہے کہ خود سقراط کے نزدیک لفظ areteکے جو بنیادی معانی ہیں پہلے ان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
    ‏Areteکے ان معنوں کا ذکر ایک اور بڑے عالم کرسٹوفرجے ناوے(Christopher Janaway)نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے:
    ’’…سقراط کے پیش نظر تو اخلاقیات کے مسائل تھے۔ بالخصوص اسے انصاف، حکمت، جرأت، تقویٰ اور اعتدال جیسی نیکیوں کے قیام کا شدّت سے احساس تھا۔ افلاطون نے ’ابتدائی مکالمات‘ (Dialogues) میں سقراط کی تصویر کشی بھی اسی رنگ میں کی ہے۔ اور اعتذار (Apology) میں بھی سقراط کو اپنے آپ کو اسی طرح پیش کرتے ہوئے دکھایا ہے۔‘‘ 6
    ’’اخلاقیات سے متعلق سقراط کے بنیادی نظریات یہ ہیں کہ نیکی علم ہے۔ تمام نیکیوں میں وحدت پائی جاتی ہے۔ نیکی مسرت ہے .....‘‘
    ’’سقراط کا یہ نظریہ بھی ہے کہ جو شخص اچھے اور برے کا علم رکھتا ہے وہ کسی بھی نیکی سے محروم نہیں رہ سکتا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شخص جرأتمند، پاکباز، معتدل مزاج اور انصاف پسند ہو۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایک کامل طور پر نیک انسان یقینا زیادہ خوش رہتا اور اس شخص کی نسبت زیادہ پر سکون اور مطمئن ہوا کرتا ہے جو نیکی سے محروم ہو۔‘‘ 7
    ہم سقراط کے علم الاخلاق کے بارہ میں جے ناوے (Janaway) کے خیالات سے پوری طرح متفق ہیں۔
    دراصل سقراط ایک ایسے قانون کا ذکر کر رہا ہے جس کا انسانی نفسیات سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اور جسے کلّیہ کے طور پر تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔ مثلاً یہ علم ہی ہے جو ایک خاردار جھاڑی کو ایک وحشی درندے سے بچاؤ کی واحد پناہ گاہ سمجھنے کی صورت میں ایک معقول آدمی کو کانٹوں کی چبھن جو نسبتاً کم تکلیف دہ ہوتی ہے برداشت کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے اور جب تک وہ شخص محفوظ ہے اسے کانٹوں کی اذیت بھی ایک راحت محسوس ہوتی ہے۔ سقراط کو اس بات سے انکار نہیں کہ صحیح علم رکھنے والے انسان کو جسمانی تکلیف نہیں ہوتی۔ وہ زور اس بات پر دے رہا ہے کہ صحیح علم رکھنے والا شخص اسی کام کو مناسب حال سمجھے گا جس میں اسے اطمینانِ قلبِ نصیب ہو گا۔ یہ بات آج بھی ویسے ہی سچ ہے جیسے کل تھی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے نیک بندے اپنی مرضی سے تکالیف برداشت کرتے ہیں اور اس میں انہیں مسرت ملتی ہے۔ خدا کے فضل سے محرومی ان کے لئے ناقابل برداشت ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ عظیم لوگ جو اصولوں کو قربان کرنے کے بعد آرام کی زندگی بسر کرنے کی بجائے تکلیف کے ساتھ مرنے کو ترجیح دیتے ہیں ان کی موت تو خوشی کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی اخلاقی فتح کے احساس کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ وہ روحانی اذیت کو قبول کرنے کی بجائے جو ان کیلئے بہت زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے جسمانی اذیت کو خوشی سے برداشت کرلیا کرتے ہیں۔
    ولاسٹوزنے سقراط کی نیکی اور تقویٰ پر ایک طویل باب باندھا ہے جس میں اس کے نظریات اور اس کے اپنے عمل اور تجربہ کے مابین ایک فرضی تضاد کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک اچھی کاوش ہے لیکن اس نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ درحقیقت کوئی تضاد موجود ہی نہیں ہے بڑا معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا ہے۔ ولاسٹوز کی نظر میں سقراط کا فلسفہ سراسر عقلیت پسندی پر مبنی ہے۔ لیکن اس کا الہام کا تجربہ اور رہنمائی کرنے والی ایک برتر ہستی پر اس کا اعتقاد ایسا تضاد ہے جو بہرحال دور ہونا چاہئے۔ اس حل کیلئے اس نے خود سقراط کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ اپنی عقلیت پسندی کے بارہ میں سقراط کہتا ہے:
    ’’یہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ میں ہمیشہ سے ہی اس قسم کا انسان ہوں کہ میں کسی بات سے قائل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ گہرے غور و فکر کے بعد کوئی نظریہ بہترین نظر آئے۔‘‘ 8
    سقراط کے عقلی استدلال کی اہمیت پر اتنا زور دینے کے باوجود جب وہ اپنے ذاتی تجربات کی بات کرتا ہے تو ولاسٹوز اسے ایک توہم پرست انسان قرار دیتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:
    ’’اس کے باوجود وہ مافوق الفطرت ذرائع سے ملنے والے احکامات کی اطاعت پر کمر بستہ ہے‘‘۔ 8
    اپنے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کیلئے ولاسٹوز سقراط کے اس بیان کا حوالہ دیتا ہے جو اس نے مقدمہ کی کارروائی کے دوران دیا:
    ’’میں یہی کہوں گا کہ مجھے خدا نے نہ صرف الہامات اور رؤیا کے ذریعہ اس کام کو سرانجام دینے کا حکم دیا ہے بلکہ دیگر تمام ذرائع سے بھی یہ حکم دیا گیا ہے جن سے آج تک کسی کو بھی کچھ کرنے کا حکم دیا جاتا رہا ہے۔‘‘ 8
    یہ مفروضہ قائم کرنے کے بعد ولاسٹوز نے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ سقراط پر روحانی تجربہ کا الزام غلط ہے بہت طویل بحث کی ہے۔ حالانکہ سقراط خود اپنے اس روحانی تجربہ کا معترف ہے۔ نہایت پیچیدہ دلائل کے بعد بالآخر وہ یہ مفروضہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ درحقیقت سقراط اس روحانی تجربہ پر یقین نہیں رکھتا اگرچہ بقول اس کے وہ خود صاحب تجربہ ہے۔ بہرحال ولاسٹوز اپنی تمامتر علمی کاوش کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ مثال کے طور پر مذکورہ بالا حوالہ کو پھر پڑھیں جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:
    ’’مجھے یہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے.........‘‘ 8
    اس میں سقراط نے انگریزی لفظ 'God' کو واحد کے صیغہ میں استعمال کیا ہے لیکن اس کے باوجود ولاسٹوز نے اسے ’G‘ کی بجائے ’g‘ سے لکھا ہے۔
    سچے خوابوں، الہامات اور دوسری قسم سے تعلق رکھنے والے معین احکام کے متعلق اپنے صاحب تجربہ ہونے کے بارہ میں سقراط کا بیان اتنا قوی اور انبیاء علیہم السلام کے آفاقی تجربہ کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ اس سلسلہ میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ سقراط جو کچھ کہہ رہا ہے بعینہٖ حقیقتِ حال کے مطابق ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات سقراط کے اس بیان کی تائید کرتی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ سے قبل کے تمام انبیاء کے بارہ میں یہ ذکر ملتا ہے کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسی طریق پر کلام کیا جس طرح آنحضرتﷺ سے کلام فرمایا۔
    ولاسٹوز اپنے ’’متضاد نظریہ‘‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے کہ :
    ’’اس کی وجہ سے کیا ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ دیوتاؤں کے بارہ میں علم حاصل کرنے کیلئے سقراط دو مختلف ذرائع کا سہارا لیتا ہے۔ ایک عقل اور ایک ماورائے عقل۔ صحیح عقائد تک پہنچنے کیلئے دو مختلف نظام جنم لیتے ہیں۔ ایک وہ جس تک عقلی دلائل کی رسائی ہوتی ہے اوردوسرا وہ جس تک الہام کے ذریعہ پہنچا جاتاہے جو کہ کسی ہاتف غیبی (oracles)، سچے خوابوں اور دیگر ایسے ذرائع سے عبارت ہے۔‘‘ 9
    یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سقراط کے نظریہ اور اس کے ذاتی تجربہ کے درمیان کیسے کیسے فرضی تضاد پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ بہرحال سقراط کے متعلق یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ نام نہاد یونانی دیوتاؤں پر تنقید کیا کرتا تھا اور oraclesیعنی پراسرار قسم کے علم غیب کے جاننے کے انکشافات اور پیشگوئیوں کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا تھا۔ البتہ جب وہ اپنے ذاتی تجربہ یعنی الہام الٰہی یا رؤیائے صادقہ کا ذکر کرتا ہے تو کبھی بھولے سے بھی اس کا مذاق نہیں اڑاتا۔ مصنف یعنی ولاسٹوزنے الہامِالٰہی کے بعد oraclesکے لفظ کا اضافہ کر کے سقراط کے ساتھ سخت ناانصافی کی ہے کیونکہ اس نے اپنے کسی الہام کے حوالہ سے کہیں بھی کسی oracle کا ذکر نہیں کیا۔ وہ جب بھی اپنے ذاتی تجربہ کی بات کرتا ہے تو ہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ (God)کا لفظ واحد کے صیغے میں اور احترام کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ وہ کسی مرحلہ پر بھی خدائے واحد کو دیوتا نہیں کہتا۔ البتہ جب وہ شعراء کے تخیلات کو God-givenیعنی خداداد قرار دیتا ہے تو یہ محض ایک طرز بیان ہے ورنہ یہ مراد نہیں کہ وہ واقعی خدا کی باتیں ہیں۔
    ’’یہ درست ہے کہ ایک شاعر آمد اور روانی ٔ طبع کی حالت میں ایک حیران کن نظم کہہ جاتا ہے تو اسے تحفۂ خدا وندی تو کہا جا سکتا ہے مگر نہ تو یہ علم ہے اور نہ ہی اسے علم کہا جاسکتا ہے۔ شاعری باقاعدہ فکر کا نتیجہ نہیں ہوا کرتی۔‘‘ 10
    سقراط کی یہ تنقید کہ شاعری علم نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے علم قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ فکر سے خالی ہوتی ہے، درست بات ہے کیونکہ عام شاعرانہ پیرایۂ اظہار یقینا ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اشعار میں ایک قسم کا جادو ہوتا ہے اور یوںلگتا ہے جیسے شاعر کی زبان سے خدا کلام کر رہا ہو۔ مگر ایک معتدل صاحب فہم آدمی اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ سقراط جب ایک شاعر کے متعلق کہتا ہے کہ اس پر دیوتاؤں کا تصرّف ہے تو وہ دراصل اہل ایتھنز کے ان توہم پرستانہ نظریات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جن کے مطابق بعض لوگوں پر دیوتا قبضہ کر لیتے تھے۔ اس قسم کے فقرات اور اس زبان میں جو سقراط نے اپنے لئے استعمال کی ہے، بُعدالمشرقین پایا جاتا ہے۔ سقراط نے خداتعالیٰ کی شان میں کبھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ تو سقراط سے اپنے ایک عاجز بندہ کی حیثیت سے ہمکلام ہوا۔
    سقراط نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ بعض اوقات شعری تجربہ کے متعلق یوں لگتا ہے جیسے یہ ایک روحانی تجربہ ہو لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ شعری تجربہ خواہ کتنا بھی اہم کیوں نہ ہو، زیادہ سے زیادہ اسے ایک وجدانی کیفیت تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اسے کسی صورت میں الہام الٰہی نہیں کہا جا سکتا۔
    ’’مجھے جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ شعراء کا کلام علم پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک قسم کا فطری ملکہ ہے جس کے ذریعہ وہ ایک وجدانی حالت میں شعر کہتے ہیں۔‘‘ 11
    تاہم ولاسٹوز نے اسی اقتباس سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ شاعر کو عقل سے بیگانہ قرار دینے کی بجائے قاری ہی کو احمق بنا دیتا ہے:
    ’’جب دیوتا شاعر کے وجود میں داخل ہو جائے تو شاعر عقل سے عاری ہو جاتا ہے۔‘‘ 11
    پھر ولاسٹوز سقراط پر لگائے گئے الزام کو کہ ’’وہ عقلیت پسندنہیں ہے‘‘ یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ:
    ’’سقراط نے اس غیر منطقی اعتقاد کو توڑ کے رکھ دیا کہ مافوق الفطرت دیوتا انسان کے ساتھ مافوق الفطرت ذرائع سے رابطہ رکھتے ہیں۔‘‘ 12
    جب ولاسٹوز اس امر کا اطلاق سقراط کے اپنے ’روحانی‘ تجارب پرکرتا ہے تو ہم بڑے ادب سے پر زور طریق پر اختلاف کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ لوگوں کو مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والے احکامات کی حقیقت کے متعلق مصنف نے جو نتیجہ نکالا ہے اس سے صرف دو صفحات آگے چل کر وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ خداتعالیٰ کے بارہ میں سقراط کا تصور مختلف تھا۔ وہ کہتا ہے:
    ’’جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سقراط کا خدا ان کے دیوتاؤں سے قطعاً مختلف ہے۔ سقراط کا خدا دائمی خیر ہے۔ وہ کسی کے ساتھ، کسی بھی وقت کسی قسم کی بھی برائی نہیں کرتا۔ اور چونکہ کسی کو دھوکہ دینا اس کے ساتھ برائی کرنے کے مترادف ہے اس لئے سقراط کا خدا جھوٹ نہیں بول رہا۔‘‘ 13
    اسی باب میں آگے چل کر سقراط کی طرف وہ عبادت کا ایک ایسا تصور منسوب کرتا ہے جو اہل ایتھنز کے عبادت کے تصور سے قطعاً مختلف ہے۔ مصنف کے نزدیک ایتھنز کے رہنے والوں کی عبادت:
    ’’دیوتاؤں اور انسانوں کے مابین تجارتی لین دین تک ہی محدود تھی۔‘‘ 14
    ایتھنز کے باشندوں کی عبادت بہرحال مسترد کئے جانے کے قابل تھی۔ کیونکہ ان کے نزدیک دیوتا ان چڑھاووں کے محتاج تھے جو یہ لوگ قربان گاہوں پر چڑھایا کرتے تھے۔ مگر سقراط اپنے خدا کے بارہ میں جسے مصنف نے غلط طور پر ’دیوتاؤں‘ سے تعبیر کیا ہے، کہتا ہے:
    ’’ہمارے تحائف کی اسے ضرورت نہیں،بلکہ ہم اس کی عطا کے محتاج ہیں۔‘‘ 14
    یہ امر ظاہر ہے کہ سقراط اہل ایتھنز کی عبادت کا ذکر ان کے خداؤں یا دیوتاؤں کے حوالہ سے کرتا ہے جن کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سقراط جب خدا (god) کا لفظ جمع کے صیغہ میں استعمال کرتا ہے تو اس سے ہمیشہ یونانی دیوتا جو محض اہلِایتھنز کے تخیّل کی پیداوار تھے، مراد نہیں ہوتے۔ بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ godsکی اصطلاح سے بعض اوقات اس کی مراد فرشتے یا خداتعالیٰ کے ماتحت مافوق البشر دیگر روحانی وجود بھی ہوتے ہیں۔ تا ہم جب وہ اپنے روحانی تجربہ کا ذکر کرتا ہے تو جمع کے صیغہ کو ترک کر کے ایک خدا کا حوالہ دینے لگتا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ:
    ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے خداتعالیٰ کے حضورجو خدمت بجا لانے کی توفیق ملی ہے اس سے بڑھ کر کوئی خیر کبھی تم پر نازل نہیں ہوئی۔‘‘ 15
    (سقراط کو سونپے گئے مشن کے حوالہ سے یہاں خداتعالیٰ کا واحدکے صیغہ میں استعمال قابلِغور ہے)۔
    سقراط کا مذہبی اور سیاسی فلسفہ آسمانی تعلیمات کے عالمی انداز سے ہمیشہ ہم آہنگ رہا۔ تاریخ کسی بھی ایسے نبی کا ذکر نہیں کرتی جس نے ملکی قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہو۔ لیکن جب بھی ریاست خداتعالیٰ کی اطاعت کے راستہ میں حائل ہوئی تو انبیاء نے اسے بلاخوف و تردد رد کر دیا اور خداتعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوئے۔
    سقراط کا بھی بالکل یہی فلسفہ تھا۔ وہ ریاست کا کامل فرمانبردار تھا لیکن جب یہ وفاداری اطاعتِ خداوندی سے متصادم ہوئی تو پھر اس کا دو ٹوک فیصلہ تھا کہ وہ اس وفاداری کو جو خالق کا حق ہے ریاست کی وفاداری پرترجیح دے گا۔ اس نے سزائے موت سنانے والے ایوان کے سامنے پورے سکون اور وقار کے ساتھ کہا:
    ’’ایتھنز کے لوگو! مجھے تم سے بہت پیار ہے اور میں تمہاری عزت کرتا ہوں لیکن اطاعت میں خدا ہی کی کروں گا، تمہاری نہیں۔ اور جب تک میں زندہ ہوں حکمت و دانائی کی تعلیم دینے اور اس پر عمل کرنے سے نہیں رکوں گا۔‘‘ 16
    یہ بات قابل غور ہے کہ جووٹ Jowett سقراط کے تعلق میں خداتعالیٰ کا نام ہمیشہ بڑے 'G'کے ساتھ یعنیGodلکھتا ہے۔
    جب اہل ایتھنز نے اس شرط پر سقراط کی سزائے موت ختم کرنے کی پیشکش کی کہ وہ ایتھنز کے دیوتاؤں کی نافرمانی اور اپنے خدا کی اطاعت کی تعلیم دے کر نوجوانوں کو بگاڑنا چھوڑ دے تو اس نے فی الفور اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس بارہ میں سقراط اوراس کے بڑے مخالف وکیل میلٹس (Meletus)کے مابین ایک طویل مکالمہ موجود ہے۔ میلٹس اس بات پر مصر ہے کہ خدائے واحد پر ایمان کے دعویٰ کے باوجود سقراط کا ایتھنز کے دیوتاؤں کا کھلم کھلا انکار سراسر دہریت کے خلاف ہے جس کی وجہ سے اسے ضرور سزائے موت ملنی چاہئے۔ اس مقام پر سقراط کا خداتعالیٰ سے اطاعت کا مرتبہ ایتھنز کے مروّجہ قوانین کی اطاعت کے مقابلہ پر بہت بلند اور ارفع تھا۔ وہ اسی کی خاطر جیا اور اسی پر اپنی جان قربان کر دی۔ لیکن اپنی موت سے پہلے اس نے ایتھنز کے لوگوں کو پیغمبرانہ شان کے ساتھ یوں انذار کیا :
    ’’ممکن ہے تمہارا یہ خیال ہو کہ مجھے سزا دے کر تم خدا کے حضور کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کر رہے یا اس کی کسی نعمت کو جھٹلا نہیں رہے۔ لیکن یادرکھو اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تمہیں میرے جیسا انسان آسانی سے نصیب نہیں ہو گا۔‘‘ 17
    یہ کہنے کے بعدسقراط ناقابل تردید دلائل کے ساتھ اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بالآخر ایک ایسی دلیل دیتا ہے جو ہمیشہ سقراط کی عظمت کو سلام کرتی رہے گی۔ جووٹ نے سقراط کے ان الفاظ کو یوں درج کیا ہے:
    ’’......مجھ پر الزام لگانے والے اپنی تمام تر گستاخیوں کے باوجود یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکے کہ میں نے کبھی کسی سے کوئی اجر طلب کیا ہے۔ ان کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی شہادت نہیں ہے لیکن میرے قول کی صداقت پر میرا ایک گواہ ہے، یعنی میری غربت۔ اور یہ ایک کافی گواہ ہے۔‘‘ 17
    سقراط اپنے ماضی کے کردار کو اپنے موجودہ کردار کی سچائی پر بطور شہادت پیش کرتا ہے۔ پھر وہ ایک گزشتہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سقراط ہی وہ واحد آدمی تھا جس نے سارے ایوان اقتدار کی مخالفت کی جرأت کی، یہ اعلان کرتا ہے:
    ’’میں نے کبھی موت کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کی۔ مجھے صرف ایک ہی خوف تھا کہ میں کسی گناہ یا غلطی کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں۔ مگر ظلم و استبداد کی طاقتیں مجھ سے ایسا کروانے میں ناکام رہی ہیں۔‘‘ 18
    ایسے مواقع پر نام نہاد معززین ذلت کا راستہ اختیار کر لیا کرتے ہیں۔ لیکن سقراط ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید کہا :
    ’’میں نے بڑے مشہور و معروف لوگوں کو اس وقت عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے جب انہیں سزا سنائی گئی۔ ایسے لگتا تھا کہ ان کے خیال میں اگر وہ مارے گئے تو انہیں بڑی خوفناک مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا اور جان بخشی کی صورت میں انہیں بقائے دوام حاصل ہو جائے گی.......‘‘ 19
    ’’پس جس کام کو میں ذلت آمیز، برا اور غلط سمجھتا ہوں اس کے کرنے کی مجھ سے توقع نہ رکھو۔ بالخصوص اب جبکہ مجھ پر میلٹس کی طرف سے غیر متقی ہونے کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔‘‘ 19
    اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ خدا کی وحدانیت پر پختہ ایمان رکھنے کے باوجود سقراط دیوتاؤں کی طرح کے بعض وجودوں پر بھی ایمان رکھتا تھا۔ لیکن جو مختلف اور اعلیٰ درجہ کی صفات وہ ان کی طرف منسوب کرتا ہے وہ اہل ایتھنز کے نام نہاد دیوتاؤں پر ہرگز اطلاق نہیں پاتیں۔ وہ ان وجودوں کا ذکر بالکل اسی رنگ میں کرتا ہے جیسے دیگر الہامی مذاہب میں فرشتوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے فرشتوں کے مفہوم میں دیوتاؤں پر ایمان خدائے واحد پر ایمان سے یقینامتناقض نہیں ہے۔ اور جب آخر میں وہ اپنے عہد وفا کا اظہار کرتا ہے تو ایتھنز کے لوگوں اور خدا کے ساتھ یہ عہد باندھتا ہے:
    ’’اور میں تمہارے اور اپنے رب کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتا ہوں۔‘‘ 20
    سقراط چھوٹے سے چھوٹے پہلو کے لحاظ سے بھی قرآن کریم اور دیگر صحفِ مقدسہ میں مذکور انبیاء جیسا ہی ہے۔ وہ خود کشی کو خداتعالیٰ کے قانون کے خلاف ایک جرم قرار دے کر اس کی مذمت کرتاہے کیونکہ اس کے نزدیک زندگی خداتعالیٰ کی عطا ہے اور وہی اس کا واحد مالک بھی ہے۔ فیڈو(Phaedo) میں وہ قوی دلائل کے ساتھ خود کشی کے قانونی جواز کے خلاف مفصّل بحث کرتا ہے۔ اس کے نزدیک خودکشی قطعی طور پر ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ چنانچہ اس مسئلہ پر وہ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہتا ہے:
    ’’عقل کا تقاضا ہے کہ انسان کو خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ انتظار کرنا چاہئے یہاں تک کہ خداتعالیٰ اس کو بلا لے جیسا کہ وہ مجھے بلا رہا ہے۔‘‘ 21
    اس کی گفتگو کے دوران کرائٹو (Crito)نے دخل اندازی کر کے زہرپلانے پر متعین ملازم کی طرف سے کہا کہ زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے زہر کا اثر کم ہو جائے گا اور دو تین بار زہر دینا پڑے گا۔ سقراط نے اس تنبیہ اور اپنی اس تکلیف کی جو اسے پہنچ سکتی تھی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی اور ملازم سے کہا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور دو تین بار زہر پلانے کے لئے تیار رہے۔
    سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے سقراط نے کہا :
    ’’میرے منصفو! اب میں تمہاری بات کا جواب دیتا ہوں۔‘‘ ’منصفو‘ کہہ کر وہ اپنے ان مداحوں کو مخاطب کرتا ہے جو اس کے آخری لمحات میں اس کے گرد جمع تھے۔ ’’اور تمہیں دکھاتا ہوں کہ وہ شخص جو ایک سچے حکیم اور فلسفی کے طور پر زندہ رہا جب مرنے لگا ہے تو اسے سکینت و اطمینان حاصل ہے اور موت کے بعد دوسری دنیا میں بھی بہترین خیر و برکت کے حصول کی امید کر سکتا ہے۔‘‘ 22
    یو ں سقراط ایتھنز کے لوگوں کو علم و معرفت کا درس دیتا رہا یہاںتک کہ اس نے زہر کا پیالہ اپنے لبوں سے لگا لیا۔ آہستہ آہستہ اس کے جسم سے جان نکل رہی تھی۔ لیکن جب تک اس میں بولنے کی سکت رہی وہ اپنا مقدس فریضہ برابر ادا کرتا رہا یہاںتک کہ موت نے اسے خاموش کر دیا۔
    یوں خدا کے ایک عظیم الشان نبی کی زندگی اختتام کو پہنچی۔ سقراط کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس لحاظ سے وہ حضرت بدھ علیہ السلام کا ہمعصر تھا اور حضرت بدھؑ ہی کی طرح اس نے بھی اپنی تعلیمات کے بارہ میں خود کچھ نہیں لکھا بلکہ اس کے ساتھیوں اور ہمعصروں مثلاً افلاطون نے اس کی تعلیم اور زندگی کا ریکارڈ رکھا جو بعد ازاں مکالموں کی شکل میں ضبط تحریر میں لایا گیا۔ حضرت بدھ ؑ پر بھی برہمنوں کے دیوتاؤں کے انکار کی وجہ سے دہریت کا الزام لگایا گیا تھا۔
    سقراط نے فلسفہ کی جو عظیم ترین خدمت سرانجام دی اس کا خلاصہ چیمبرزانسائیکلوپیڈیا میں درج ذیل الفاظ میں دیا گیا ہے:
    ’’فلسفہ کو آسمان کی بلندیوں سے اتار کر ایک عام انسان کی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلہ میں سقراط کی مخلص اور عظیم کوششیں (جیسا کہ سسرو Cicero نے کہا ہے) اس کے عہد میں ایک نیا علمی رخ اختیار کر گئی تھیں۔‘‘ 23
    ’’اسے دنیوی آسائشوں سے کوئی رغبت نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ تارک الدنیا بھی نہ تھا۔‘‘ 23
    سقراط پر نازل ہونے والے الہام کی حیثیت کے بارہ میں مندرجہ بالا مضمون کا مصنف رقمطراز ہے کہ:
    ’’وہ آسمانی نشان جس کو سقراط ما فوق الفطرت آواز کہا کرتا تھا اور جو اکثر اس کی رہنمائی کرتی تھی اس کے متعلق بہت بحث کی گئی ہے۔ زینوفون کے نزدیک یہ آواز سقراط کو کچھ کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتی تھی۔ افلاطون کے خیال میں اسے کچھ کرنے سے تو باز رکھتی تھی لیکن کسی عمل کا محرک نہیں تھی۔ البتہ بعد میں آنے والے مصنفین بالخصوص عیسائیت کے دور میں بعض لوگوں نے اسے ایک نہایت ذہین اور ساتھ رہنے والی شیطانی روح کا وجود قرار دے دیا۔ مگر اس کی کوئی بھی سند افلاطون یا زینوفون کے پاس نہیں۔‘‘ 23
    ’’........یوں معلوم ہوتاہے جیسے سقراط کو مستقبل میں ہونے والے واقعات کا یقینی علم ہو جاتا تھا جو اس کے خیال میں الٰہی انذار کے مترادف تھا اور ایسا ممکن ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ بقول ان کے سقراط کو کبھی کبھار یہ وہم ہوتا تھا کہ اسے کچھ آوازیں سنائی دے رہی ہیں جیسا کہ بعض اوقات ایک صحیح الدماغ انسان بھی اس قسم کے تجربہ سے گزر سکتا ہے۔‘‘23
    یوں سقراط کے الہامات کو ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے وہم قرار دے کر ردّ کر دیا گیاہے۔ درحقیقت سقراط کی شخصیت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اگر کسی قسم کا کوئی تضاد ہے تو وہ بہرحال مصنف کے ذہن میں ہے جو یہ کہہ کر بظاہر سقراط کا دفاع کرتا ہے کہ اس کے وہم اتنے برے نہیں تھے جیسا کہ ایسے ذہنی معذوروں کے ہوا کرتے ہیں جو دماغی خلل کا شکار ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ صحیح الدماغ لوگ بھی سقراط کی طرح بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    سقراط کے ساتھ یہ بھی کیا خوب ہمدردی ہے کہ ایک جدید مصنف نے سقراط کی شخصیت کو تسلیم تو کیا ہے لیکن سقراط کے خدا پر ایمان کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ تبصرہ اپنی جگہ خواہ کتنا ہی ہمدردانہ کیوں نہ ہو، سقراط کے لئے اسے خراج تحسین نہیں کہا جا سکتااور نہ ہی سقراط کو اس سلسلہ میں کسی معذرت کی ضرورت ہے۔ کیا سقراط سے پہلے اور بعد میں آنے والے سب انبیاء کے ساتھ یہی سلوک روا نہیں رکھا گیا؟ کیا ان میں سے ہر ایک پر اس کی قوم نے یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ اوہام کا شکار ہے؟ اگرچہ اتنی تہذیب اور شرافت سے ان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا جیسا کہ مذکورہ بالا تحریر کے مصنف نے سقراط پر لگایا ہے۔ ایسے تمام الزام تراش خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ جن انبیاء پر وہ یہ تہمت لگا رہے ہیں وہ نہ تو کسی دماغی کمزوری کا شکار ہیں اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے کم تر ہیں۔ یہ اپنے زمانہ کے سب سے زیادہ دانا لوگ تھے۔ صحت مند دل ودماغ کے مالک تھے اور اس معاشرہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے جس میں وہ اپنا بچپن گزار کر بلوغت کی عمر کو پہنچے تھے۔ دعویٔ نبوت سے پہلے کبھی بھی ان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ ان کا طرز عمل نجومیوں جیسا تھا اور نہ ہی دعویٰ کے بعد کسی نبی کے متعلق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ وہ فریب نظر کا شکار ہوا ہو۔ اوہام تو غیریقینی، بے ربط اور بے جوڑ ہوا کرتے ہیں۔ وہم میں مبتلا بعض لوگوں کو شاید کچھ آوازیں یہ پیغام دیتی ہیں گویا وہ خدا کی طرف سے ہیں۔ لیکن ان آوازوں میں کبھی بھی کوئی علم و حکمت اور دانائی کی بات نہیں پائی جاتی اور نہ ہی ان سے کبھی کسی نے کوئی ایسا طرز حیات سیکھا جس کو دوسرے بھی اپنا سکیں۔ اور جو کچھ وہ سنتے ہیں اس میں کوئی منطق نہیں پائی جاتی اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ معقولیت سے خالی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہم کبھی معقولیت کو جنم نہیں دے سکتا۔
    وہم کو پیشگوئی کہنا دراصل وحی ٔ الٰہی کے مقام اور مرتبہ کو گرانے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔ انبیاء کا تجربہ تو بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سچائی، دانائی اور معقولیت ان کی امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں جبکہ ان کا مخالف معاشرہ بے بنیاد عقائد، جھوٹ اور توہم پرستی سے عبارت ہوتا ہے۔ انبیاء کا پیغام ہمیشہ ایک اعلیٰ ضابطۂ اخلاق پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کے لبوں سے حکمت کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔ وہ مجسّم نیکی اور تقویٰ ہوتے ہیں اور ہمیشہ معقول بات کرتے ہیں۔ وہ اخلاق فاضلہ، انصاف، اعتدال، صلح، شفقت علیٰ خلق اللہ، صبر، خدمت اور قربانی کی تعلیم دیتے ہیں۔ کیا ایسی مقدس تعلیم انہیں اپنی وہمی کیفیت میں سوجھتی ہے؟ کیا خوب اوہام ہیں! کاش انبیاء پر ایسا الزام لگانے والوں کو اپنی کسی بیماری مثلاًشدید بخار یا ٹائیفائیڈ وغیرہ کے دوران محسوس ہونے والے اوہام یاد ہوتے۔ کیا کبھی انہیں کسی وقت ہذیان کے دوران کوئی ایسا اعلیٰ ضابطۂ حیات ملا ہے جس کی صداقت شک وشبہ سے بالاہو اور جس میں بنی نوع انسان کیلئے کوئی ایسا پیغام ہو جسے سنجیدگی سے قبول کیا جائے؟
    ایک صحتمند دماغ میں معقولیت اور وہم کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ کاش سقراط پر وہم میں مبتلا ہونے کا الزام لگانے والے خود اپنے تجربات کی روشنی میں مزید وضاحت کر دیتے۔ کیا کسی صحیح الدماغ شخص نے کبھی ہذیان کے دوران کوئی فلسفۂ حیات سیکھا ہے؟ کا ش مصنف کو یاد ہوتا کہ سقراط نے حکمت و دانائی، نیکی اور تقویٰ، معقولیت اور ایمان کا جو پاک نمونہ دکھایا تھا وہ اس نے انہی آوازوں سے سیکھا تھاجنہیں وہم قرار دیا جاتا ہے ! اگر وحی و الہام پر اس کے ایمان کو وہم قرار دے کر ردّ کر دیا جائے تو پھر اس کے تمام فلسفۂ حیات اور اس کی ساری حکمت و دانائی کو اسی بنیاد پر مسترد کرنا پڑے گا۔ سقراط کو کبھی بھی اس کے معقولیت کے مقام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
    ہم سقراط کی شخصیت کے ہر پہلو کے معترف ہیں۔ اس کا کردار نہایت اعلیٰ تھا اور مطمحِ نظر عظیمالشان۔ اس نے ایسی پاکیزہ زندگی گزاری جو اوہام پر مبنی نہیں ہوتی۔ اس نے سلامتی کے ساتھ جنم لیا، سلامتی کے ساتھ زندہ رہا اور سلامتی کے ساتھ ہی مسکراتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی جبکہ اس سے محبت کرنے والے اس کے گرد کھڑے سسکیوں، آہوں اور چیخوں میں اسے الوداع کہہ رہے تھے۔ ایتھنز نے کبھی اس جیسی پاک روح کو رخصت ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ خدا اس سے راضی ہو اور اس پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔ مگر اس کے قاتلوں پر افسوس کہ ایتھنز کو سقراط جیسا عظیم انسان کبھی دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔
    حوالہ جات
    1. The New Encyclopaedia Britannica. Vol 24, 15th ed.
    2. The New Encyclopaedia Britannica. Vol 25, 15th ed.
    3. GUTHRIE, W.K.C. (1950) The Greek Philosophers. Methuen & Co, p.72
    4. GUTHRIE. W.K.C. (1950) The Greek Philosophers. Methuen & Co, p.79
    5. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p.200
    6. GRAYLING, A.C. (1995) Philosophy - A Guide Through The Subject. Oxford University Press, Oxford, p.360
    7. GRAYLING, A.C. (1995) Philosophy - A Guide Through The Subject. Oxford University Press, Oxford, p.364
    8. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p.157
    9. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p. 167
    10. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p.168
    11. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p.169
    12. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, pp. 170-171
    13. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p. 173
    14. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p.174
    15. VLASTOS, G. (1991) Socrates, Ironist and Moral Philosopher. Cambridge University Press, Cambridge, p.175
    16. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, p. 459
    17. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, pp.460-461
    18. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, p.462
    19. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, p.464
    20. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, pp.464-465
    21. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, pp.493-494
    22. JOWETT, B. (1989) Plato, The Republic And Other Works. Anchor Press, New York, p.495
    23. Chambers Encyclopaedia (1970) New Revised Edition Volume XII Roskilde-Spahi. International Learning Systems Corporation Limited, London, p.673


    باب دوم

    ہندومت
    بدھ مت
    کنفیوشن ازم
    تائوازم
    زرتشت ازم
    دکھ اور الم کا مسئلہ

    ہندو مت
    مذاہب کی برادری میں ہندومت اپنی ذات میں منفرد ہے۔ ہندو لٹریچر میں الہام کا مفہوم تلاش کرناجو روایتی الہامی مذاہب میںملتا ہے ایک مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ہندومت میں الہام کا ایک جدا گانہ تصور ہے جو صرف ویدوں تک ہی محدود ہے اور دوسری طرف ان کے ہاں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے خدا کو انسانی شکل میں متمثل دکھایا گیا ہے۔
    ہر چند کہ عیسائیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تصور بھی کسی حد تک ہندومت میں حضرت کرشن علیہ السلام کے تصور سے مشابہت رکھتا ہے لیکن یہ مشابہت سطحی نوعیت کی ہے۔ یسوع مسیح کی شکل میں ابنیت کے ظہور کے باوجود عیسائیوں کے نزدیک کائنات کا اختیار باپ کے پاس ہی ہے اور یسوع کی انسانی شکل میں تجلی دراصل باپ کی صفات کا ظہور ہی ہے۔ عیسائیت میں روح القدس کے نام سے ایک تیسرا وجود بھی ہے جو ان دونوں سے الگ فی ذاتہٖ تثلیث کا جزوِلاینفک ہے۔
    تا ہم ہندومت میں کرشن کی صورت میں ’برہما‘ کے ظہور کا عقیدہ اتنا واضح نہیں ہے۔ جب اس کا اوتار کرشن زمین پر موجود ہوتا ہے تو کیا وہ اس وقت بھی اپنے عرش سے زمین ا ور آسمان پر حکمرانی کر رہا ہوتا ہے۔ یا پھر یہ کہ کرشن ہی انسانی روپ میں بحیثیت خدا زمین سے کائنات کی حکمرانی کرتا ہے۔ یا یہ کہ کرشن محض ایک بت تھا یا ایک ظل، اور خدا خود ہمیشہ کی طرح کائنات کا حاکم تھا۔ اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو حل طلب ہیں۔
    پھر جہاں تک الہام الٰہی کا تعلق ہے عیسائیت اس سلسلہ میں باقی مذاہب سے متفق ہے کہ الہام آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ تا ہم ہندو مت میں الہام کا تصور باقی مذاہب سے مختلف ہے۔ اس کے نزدیک خدا انسانوں کے لئے بطور نمونہ خود انسانی شکل میں متمثل ہوتا ہے۔ اس کام کیلئے اسے کسی پیغمبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    قدیمی رشیوں کا معاملہ، جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ ان پر وید نازل ہوئے، مختلف ہے۔ ’رشی‘ ایک ہندو اصطلاح ہے اس سے ایسے مذہبی بزرگ مراد ہوتے ہیں جو دنیا سے قطع تعلق کر لیں اور خدائی منشا کے تابع ہو جائیں۔ اگرچہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ وید الٰہی تعلیم پر مشتمل ہیں لیکن رشیوں کے بارہ میں کوئی ایسی واضح تفاصیل دستیاب نہیں ہیں جن سے پتہ چل سکے کہ ان پر یہ پیغام وحی کی صورت میں نازل ہوا تھا۔ یہ سوال کہ کیا رشیوں کے وجدان کو حقیقت میں الہام کہا جاسکتا ہے شاید ہمیشہ کیلئے ایک معمہ ہی بنا رہے۔ جو کچھ ہمیں ہندو علم کلام سے پتہ چلتا ہے اس کی بنیاد ان کے عقیدہ پر ہے۔ اگرچہ مختلف علماء رشیوں کے مختلف زمانے بتاتے ہیں لیکن اس دعویٰ پر سب متفق ہیں کہ رشی ہی قدیم ترین انسان تھے۔
    غالب امر یہ ہے کہ ہندومت کی یہ تشریح محض انسانی تخیّل کی پیداوار ہے۔ انبیاء کے بعد آنے والے لوگ انبیاء کی تعلیمات میں ہمیشہ تحریف و تلبیس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہندو انبیاء کے بعد ان کے پیروکار وں کی آنے والی نسلوں نے بھی ان کی تعلیم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہو۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ویدوں میں تحریف ہوئی ہے تو ہماری ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ ویدوں کی تمام تر تعلیمات بد ل دی گئی ہیں۔ مذہبی صحیفوں کے ساتھ خداتعالیٰ نے کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دیا۔ اصل صداقت کسی نہ کسی حد تک انسانی تحریف و دستبرد سے ہمیشہ محفوظ رہی ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ہر مذہب کے اصل ماخذ کا بغور مطالعہ ہمیشہ سود مند ثابت ہوتا ہے۔ ہندومت کی گہری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک خالص بنیادی عقائد کا تعلق ہے یہ مذہب باقی الہامی مذاہب سے چنداں مختلف نہیں ہے۔
    سیربین (Kaleidoscope)میں معمولی سی حرکت سے منظر ڈرامائی طور پر بدل جاتا ہے۔ ’مہا بھارت‘ اور ’بھگوت گیتا‘ سے اس بات کی کافی شہادت پیش کی جا سکتی ہے کہ حضرت کرشن علیہ السلام نے نہ تو کبھی خدا ئی کا دعویٰ کیا اور نہ ہی خود کولافانی کہا۔ مذہب کی معلوم تاریخ میں سلسلۂ انبیاء میں سے حضرت کرشن علیہ السلام کی بحیثیت ایک نبی کے شناخت چنداں مشکل نہیں ہے۔
    حضرت کرشن علیہ السلام کی مستند سوانح سے پتہ چلتا ہے کہ وہ 1458قبل مسیح میں عام بچوں کی طرح بسوڈیبا (Basudeba) اور اس کی بیوی دیبوکی (Deboki)کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں (والدین) نے بچے کا نام ’کنہیا‘ رکھا۔ ’کرشنا‘ کا نام جس کے معنی ’روشن کیا گیا‘4 کے ہیں انہیں بعد میں دیا گیا۔ ان کے بارہ میں مشہور ہے کہ ان کا بچپن عام بچوں جیسا تھا سوائے اس کے کہ ان کے اندر ایک خارق عادت رنگ پایا جاتا تھا جیسا کہ انبیاء کے بارہ میںبھی ان کے پیروکار ایسے ہی عقائد رکھتے ہیں۔ وہ عام انسانوں کی طرح معاملت کرتے تھے۔ عام انسانوں کی طرح ہی انہوں نے زندگی گزاری اور عام انسانوں کی طرح وہ بھی حوائج ضروریہ کے محتاج تھے۔ بعض ہندو تجزیہنگاروں کے مطابق بچپن میں ان سے کبھی کبھار بچپنے کی حرکات بھی صادر ہو جایا کرتی تھیں۔ جیسا کہ تجزیہنگاروں کے بقول وہ گھر سے سیر دو سیر مکھن بھی چرا لیا کرتے تھے۔ تا ہم اسے ہم حضرت کرشن کا کوئی جرم نہیں سمجھتے۔ کیونکہ رحمدل بچے اپنے غریب ساتھیوں کی خاطر جائز سمجھتے ہوئے ایسا کر ہی لیتے ہیں۔ ایسے بچہ پر تو پیار آتا ہے نہ یہ کہ اس سے نفرت کی جائے۔ یہ سب کچھ بشریت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور کسی طرح بھی خدا کے دوسرے انبیاء سے مختلف نہیں۔ بڑے ہو کر وہ ایک مضبوط اور مثالی رہنما کے طور پر ابھرے اور میدان جنگ میں تاریخ ساز فتوحات کی حامل فوجوں کے سپہ سالار بنے۔ وہ اپنی زندگی میں ایک عالی مرتبت روحانی نمونہ بن کر سامنے آئے اور پھر عمر بھر ایک عظیم مصلح کا کردار ادا کیاجس کی مثال ہندوستان میں خال خال ہی ملے گی۔ انہوں نے لوگوں کونیکی کی تلقین کی اور بدی سے روکا۔ ان کے نزدیک ضروری تھا کہ شریر لوگوں کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ ایسے لوگ مذہب کو ختم کر کے الحاد کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
    جہاںتک حضرت کرشن ؑکے جسمانی خدوخال کا تعلق ہے وہ کچھ انوکھے سے نظر آتے ہیں۔ ہندوفنکاروں نے ان کی جو تصویر بنائی ہے اس میں ان کے دو کی بجائے چار ہاتھ ہیں۔ اسی طرح ان کے پر بھی دکھائے گئے ہیں۔ اکثر تصاویر میں انہیں بانسری بجاتے دکھایا گیا ہے۔ نیز خوش رنگ کپڑوں میں ملبوس کچھ خوبرودوشیزائیں ان کے ارد گرد بیٹھی دکھائی گئی ہیںجو ’’گوپیاں‘‘ کہلاتی ہیں۔ گوپی ایک اصطلاح ہے جو گائیں پالنے والی عورت کیلئے مستعمل ہے۔ اسے چرواہن بھی کہتے ہیں۔یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود کرشن کا لقب بھی ’’گوپال‘‘ تھا جس کا مطلب ہے ’’گائیں پالنے والا‘‘۔ اس کو اگر اسرائیلی انبیاء کیلئے بائیبل کی اصطلاح یعنی ’’بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے چرواہے‘‘ کے پس منظر میں پڑھا جائے تو مشابہت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ چونکہ ہندوستان میں بھیڑوں کی بجائے گائے عام ہے اس لئے اگر عوام الناس کو گائے سے تشبیہ دی جائے اور کرشن کو گائیوں کا رکھوالا کہا جائے تو یہ بات بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اسی طرح ان کے حواریوں کو گوپیاں کہا جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
    حضرت کرشن ؑ کے بارہ میں دیومالائی قصوں کو ظاہر پر محمول کرنے کی بجائے محاورات اور استعاروں کے رنگ میں سمجھنا چاہئے۔ ان کی تصویر میں ان کے چار ہاتھوں اور پروں سے علامتی طور پر وہ غیر معمولی صلاحیتیں اور قویٰ مراد ہو سکتے ہیں جو خداتعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ودیعت فرماتا ہے۔ قرآن کریم بھی پیغمبر ِاسلام کے تعلق میں پروں کا ذکر فرماتا ہے۔ چنانچہ آپﷺ کو خدا کی طرف سے مومنوں پر رحمت کے پروں سے سایہ فگن ہونے کا ارشاد ہے۔ اسی طرح جہاں فرشتوں کے پروں کی مختلف تعداد کا ذکر ملتا ہے تو مراد ان کی خصوصیات ہوتی ہیں نہ کہ ظاہری پر۔
    لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دینی محاوروں اور تمثیلات کو ان کے پیروکار اس حدتک لفظی مفہوم پر محمول کر لیتے ہیں کہ اصل حقیقت نظرانداز ہو جاتی ہے۔ حضرت کرشن ؑ اور ان سے منسوب تصورات بھی اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں۔
    حضرت کرشن ؑ کو ’’مرلی دھر‘‘ یعنی بانسری بجانے والا بھی کہا جاتا ہے۔ اس جگہ ’بانسری‘ واضح طور پر الہام کی علامت ہے۔ کیونکہ وہ دھن جو بانسری سے نکلتی ہے دراصل بانسری کی اپنی دھن نہیں بلکہ اسے بانسری میں پھونکا جا تا ہے۔ بانسری سے خود بخود کوئی دھن نہیں نکلتی۔ پس بانسری خود کرشن ؑ تھے جنہیں خدا کی بانسری کے طور پر دکھایا گیا ہے اور خدا نے جو سُر بھی اس میں پھونکا، انہوں نے بعینہٖ اسے آگے دنیا کو پہنچایا۔ اس لئے حضرت کرشنؑ کو دیگر انبیاء سے کسی طرح بھی منفرد اور الگ قرار نہیں دیا جا سکتا جنہوں نے خدا کے پیغام کو دیانتداری کے ساتھ من وعن دنیا تک پہنچایا۔ اس طرح دنیا کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ انبیاء اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ جو انہیں خدا کی طرف سے الہام کیا جاتا ہے وہی دنیا کو پہنچاتے ہیں‘ بانسری ان کی دیانتداری کی بلیغ ترین علامت ٹھہرتی ہے۔
    آئیے ہندومت کے ایک اور بنیادی عقیدہ یعنی تناسخ کا جائزہ لیں۔ یہ عقیدہ چند ایک دیگر مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے جن میں سے نمایاں ترین بدھ مت ہے۔ تناسخ کے علاوہ ہندو فلسفہ میں دو اور عقائد بھی شامل ہیں جن میں سے ایک تو روح اور مادہ کا اور دوسرے پرمیشر اور اس کے ماتحت دیوتاؤں کا ابدی ہونا ہے اس فلسفہ کی رو سے زمین پر زندگی نئی تخلیق نہیں ہے۔ اگرچہ تمام جاندار اپنی ذات میں انادی نہیں ہیں مگر انادی اجزا سے بنے ہیں۔ دھرتی ماتا ان کے نزدیک محض ایک ایسی لیبارٹری کی حیثیت رکھتی ہے جہاں روح اور مادہ کو باہم ملانے سے مختلف شکلیں ظہور میں آتی رہتی ہیں۔ پس وہ خدا کی تخلیقی قدرتوں کو کسی پنساری یا عطار کی مہارت سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ خداتعالیٰ اپنی ذات میں ایسا خالق ہے جو عدم محض سے کوئی چیز تخلیق نہیں کر سکتا۔
    ان کے نزدیک کائنات میں زندگی کے تین مدارج ہیں۔ سب سے بلند درجہ دیوتائے اعلیٰ ’’برہما‘‘ کا ہے جس کے ساتھ بہت سے دیوتا اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کائنات کے مختلف نظام چلاتے ہیں۔ ان میں بعض بادلوں کے لانے اور آسمانی بجلی کی گرج چمک کے ذمہ دار ہیں۔ کچھ دوسرے دیوتا نظام فطرت کو چلانے کے ذمہ دارہیں۔ وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میںکسی حد تک بااختیار ہیں اور شاذ ہی ایک دوسرے سے الجھتے ہوں۔ تا ہم کبھی ان کا متصادم ہونا کائنات کیلئے انتہائی خطرناک ہوتاہے۔ آسمانوں میں طوفان برپا کئے جاتے ہیں اور زمین پر غضب نازل ہوتا ہے۔ ان دیوی دیوتاؤں کی خوشنودی ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ان کی ناراضگی بنی نوع انسان کو مہنگی پڑتی ہے۔ اس طرح دولت کے دیوتا ہیں، بارآوری کے اور صحت و طول عمری کے دیوی دیوتا ہیں۔ نہ جانے کس کس چیز کے دیوی دیوتا ہیں۔ ہندوؤں کے نزدیک اس درجہ کے افسانوی دیوتا ابدیّت کے حامل ہوتے ہیں۔
    جاندار اشیاء کا دوسر ا یا درمیانی درجہ مادہ اور روح پر مشتمل ہے۔ ان کے باہمی ملاپ سے حیات کا ادنیٰ درجہ معرض وجود میں آتا ہے جس کا تعلق زمین پر موجود زندگی سے ہے۔ اس ہندو فلسفہ کے مطابق دیوتاؤں میں سے صرف اعلیٰ ترین دیوتا ’’برہما‘‘ کو ہی یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ روح اور مادہ کو جوڑ کر زمین پر زندگی پیدا کر سکے۔
    ہندو فلسفہ کے لٹریچر میں ویدوں کی تعلیمات کے حوالہ سے یہ بحث بہت تفصیل سے ملتی ہے کہ یہ سلسلہ کب اور کیوں شروع ہوا۔ ویدوں کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز اس طرح نہیں ہوا جس طرح جدید سائنس بیان کرتی ہے۔ یعنی زندگی کئی ارب سال پہلے چٹانوں کی سطح اور سمندروں میں موجود قدیم ترین پانیوں میں بہت ابتدائی نامیاتی مرکبات اور خلیات سے پیدا نہیں ہوئی۔ چنانچہ پروفیسر جے ورمن (J.Verman)اپنی کتاب " The Vedas"میں لکھتے ہیں :
    ’’ایسے دانشور جن کے ذہنوں میں ڈارون کا غیر مستند نظریۂ ارتقا مسلط ہو چکا ہو ا ن کیلئے الہام کے اس راز کو سمجھنا مشکل ہے۔ تا ہم ہمارے پاس ایسی ٹھوس شہادتیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی حالت ابتدائے زمانہ میں بہتر تھی اور ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جس سے سمجھا جائے کہ قبل از تاریخ کا انسان یقینا وحشی ہو گا۔ ویدوں کے رشی سادہ لوح لوگ نہیں تھے وہ تو شاعر، اہل وجدان اور روحانیت سے مرصع تھے۔ ان کے شاگرد جو خود بھی رشی تھے، منتروں کو سنتے ہی ان کا حقیقی مفہوم سمجھ لیتے تھے۔ ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پھر جوں جوں لوگوں کی ذہنی اور نفسیاتی قوتیں انحطاط پذیر ہونے لگیں رشیوں کی نسلیں بھی معدوم ہونے لگیں۔‘‘ 1
    پروفیسر جے۔ ورمن کا خیال ہے کہ موجودات کے الٰہی منصوبہ کی رو سے یہ زمین اور اس پر زندگی ازل سے بار بار پیدا ہوتی چلی آ رہی ہے۔ زمین کی ہر نئی پیدائش پر ہر بار ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اور زندگی کے ہر نئے آغاز پر ’برہما‘ رشیوں پر آفاقی آئین کے طور پر ویدوں کو نازل کرتا ہے جن کی روشنی میں رشی زمین پر بسنے والے دوسرے انسانوں کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔ اس طرح زندگی کا آغاز انسانوں سے ہوا نہ کہ حیات کی دوسری انواع سے۔
    اسی کتاب کے ایک اور اقتباس سے دنیا کی چھت پہ بیٹھے ہوئے چار رشیوں کا مقام مزید واضح ہو جاتا ہے کہ وہ مستقبل کی انسانی نسلوں کیلئے کیا چھوڑ کر جا رہے تھے:
    ’’چاروں بزرگ اہل نظر یعنی اگنی‘ وایو‘ سوریا‘ اور انگیرا جو درحقیقت اعلیٰ ترین دانش اور ممتاز روحانی شان کے حامل انسان تھے ان کے دل تخلیق کے خوشکن مناظر کو دیکھ کر وجد میں آگئے اور ان کی نظریں بام دنیا سے تبت کی منوسمرتی جھیل کا نظارہ کرنے لگیں جو علاقہ میں مقدس شعائرکی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سر زمین دیوتاؤں کی سرزمین ہے اور ہمالیہ کے اس پار عظیم دریاؤں گنگا، سندھو، برہما پترا اور شاتا درو کا عظیم الشان سرچشمہ ہے جو فطرت کے پرکشش مناظر اور پروقار برف پوش چوٹیوں سے گھری ہوئی ہے۔ ان (رشیوں) کے دل ایک سرور اور کیف کے عالم میں ڈوب گئے۔ ان کے حواس مصفّا اور تیز ہو گئے۔ ان کے ذہن مزید حصول علم کے لئے مجسم پیاس بن گئے۔ تب عرفان کی یہ مقدس حالت گہرے گیان اور ریاضت میں منتقل ہو گئی۔ پھر انہوںنے مادّی دنیا سے بالکل مختلف حقائق کا مشاہدہ کیاا ور اپنے اندر سے ایک آواز سنی جس کے ساتھ ہی حقیقی سچائی ان پر منکشف ہوگئی۔‘‘ 2
    پس ویدوں کی تعلیمات سے پنڈت جو کچھ سمجھے ہیں اس کی رو سے وہ ہمیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ زندگی ارتقا کی بجائے انحطاط پذیرہے۔ چار عظیم ابتدائی رشیوں کے بعد سے پیدا ہونے والی نسلوں کا مقدر یہی ٹھہرے گا کہ وہ ابتدائی انسانوں کے بالمقابل اپنی تمام تر صلاحیتوں میں زوال پذیر ہوں۔ انسانی صلاحیتوں کا گرتا ہوا یہ گراف ان کے اخلاقی رویہ پر بھی حاوی ہو گا۔ کرموں اور جونوں کا یہ ہندوفلسفہ بنی نوع انسان کے مستقبل کیلئے یقینا ایک برا شگون ہے۔ پروفیسر ورمن کے بقول:
    ’’آنے والی زندگی کے انحطاط سے یہ مراد ہے کہ نوع انسان کی بجائے کسی ادنیٰ نوع میں پیدا ہونے کیلئے تیار رہا جائے۔ یہ کرموں کا پھل ہے اور بداعمالیوں کی سزا۔ اور یہ سزا مختلف انسانی صلاحیتوں، احساسات اور قویٰ سے محرومی کی شکل میں ملتی ہے۔ یہ کرموں کا فلسفہ ہے اسی کے تحت الٰہی قوانین کام کرتے ہیںاور اسی کو قوانین قدرت کی حکمرانی کہتے ہیں۔‘‘ 3
    ہم سمجھتے ہیں کہ اس فلسفہ کو ویدوں کی تعلیمات کی طرف منسوب کر کے ہندوؤں نے ویدوں کی حرمت سے کوئی انصاف نہیں کیا۔ اگر ایسے بیانات کو سنجیدگی سے لیا جائے توزندگی کے آغاز کی کہانی کو از سر نو لکھنا پڑے گا۔ اس نئے خیال کے مطابق زندگی کی ابتداء کے بارہ میں کرموں کا کردار یقینا بہت ہی مرکزی حیثیت اختیار کر لیتاہے۔ زندہ رہنے کیلئے جدوجہد ’بقائے اصلح‘ اور جینیاتی تغیرات جن کے بارہ میں نظریہ ٔ ارتقا کے حامی رطب اللسان رہتے ہیں کو یکسر مسترد کرنا پڑے گا۔ یہ اصطلاحیں محض سائنس فکشن کی من گھڑت اختراعات ٹھہریں گی جن کے حق میں کوئی ٹھوس شہادت نہیں ملتی۔ زندگی کے معمہ کا واحد حل صرف کرموںتک محدود ہو کر رہ جائے گا۔
    چنانچہ اس اشارے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم بآسانی یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ زندگی کا سفر اعلیٰ درجہ کے مقدس انسانوں کی پیدائش سے شروع ہوا مگر اگلی نسلیں ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر انحطاط پذیر ہونا شرع ہو گئیں اور زمین کو گناہوں سے بھرنے میں انہیں زیادہ دیر نہیں لگی۔ گناہ کے ساتھ ہی عذاب اترا اور وہ لوگ تیزی سے انسانیت کے مقام سے گرنا شروع ہو گئے۔ انسانوں کو جانوروں میں تبدیل ہوتے دیکھ کروہ شدید غم اور سکتے میں آ گئے ہوں گے۔ مگر تنزل کا الزام ان کے اپنے کئے ہوئے گناہوں کے سر ہی تھا۔ کرموں کے قانون کا نفاذ تو ہو کر رہنا تھا اور گناہوں نے بھی بہرحال اپنا خراج وصول کرنا تھا۔ چنانچہ افزائش نسل کے پس منظر میں انسانی بچوں کی بجائے جانوروں کی مختلف انواع کا جنم لینا ان کے مشاہدے میں کوئی انوکھی بات نہیں ہو گی۔
    لیکن شاید ہندومت کے علماء بھی اصل انواع اور کرموں کے قانون کو اس طرح پیش نہیں کرتے۔ اس پر کسی واضح بیان کی عدم موجودگی میں ان کے پاس اپنے عمومی اعتقاد کے اندر رہتے ہوئے کچھ ممکنہ تاویلات کا راستہ ہی رہ جاتا ہے۔ شاید وہ زمین پر زندگی کے دقیق رازوں کو مختلف انداز میں آشکار ہوتے ہوئے دیکھتے ہوں گے۔ چاروں رشیوں کے زمانہ کے بعد انسان جونہی زوال کا شکار ہوا تو اس کے تولیدی قویٰ کمزور ہونا شروع ہو گئے ہوں گے اور بانجھپن کی وبا پھوٹ پڑی ہو گی۔ انسانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہو گی اور حیران کن طور پر جانوروں کی مختلف انواع سطح زمین پر نمودار ہونے لگی ہوں گی۔
    ہاتھیوں اور شیروں کے نمودار ہونے پر زمین مختلف جگہوں سے شق ہونے لگی۔ اسی طرح کتے بلیاں،لگڑ بگڑ اور بھیڑیے ظاہر ہونے لگے۔ پانی میں ہر رنگ، شکل اور جسامت کی مچھلیاں نمودار ہونے لگیںاور کچھوے بھی پیچھے نہیں رہے ہوں گے۔ پھر حشرات الارض ٹڈی دل کی طرح دنیا میں آن موجود ہوئے ہوں گے۔
    زندگی کی ان ظاہری شکلوں کے علاوہ نظر نہ آنے ولے وائرس اور بیکٹیریا کی بادشاہت تیزی سے پھیلی ہو گی۔ مگر افسوس ! کہ چاروں رشیوں کی تمامتر کوششوں اور انذار کے باوجود انسان نے اطاعت سے انکار کر دیا اور ویدوں کی تعلیمات سے بغاوت جاری رکھی۔ ان کے گناہوں کے طبعی نتیجہ کے طور پر انسانوں کا جانوروں کی جونوں میں ظاہر ہونے کا سلسلہ ایک وحشیانہ انتقامی کارروائی کا رنگ اختیار کرتا چلا گیا۔
    جب سطح زمین اور سمندروں کی گہرائیاں ناکافی ثابت ہوئیں تو انسان نے انسان کے اندر بھی جنم لینا شروع کر دیا۔ Flatworms, Tapeworms, Roundworms اور Threadworms کے بارہ میں کیا کہیں گے جو شیر خوار بچوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ پھر وائرس اور بیکٹیریا کی بیشمار اقسام ہیں جن کے روپ میں معتوب انسان نے خون کی نالیوں، خلیائی بافتوں اور اعضائے رئیسہ میں جنم لیا ہو گا۔ حتیٰ کہ ہڈیوں کے گودے میں بھی انسان کو اس کے اپنے ہی ہاتھوں سزادینے کا کتنا نرالا طریق ہے لیکن افسوس کہ انسان بقول ان کے پھر بھی اسے سمجھ نہ سکا۔
    بے شک بہت دلچسپ نظام ہے جس کی تائید میں پروفیسر ورمن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ٹھوس شہادتیں موجود ہیں۔ اس میں صرف واحد ننھا سا سقم یہ نظر آتا ہے کہ انسان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جا تا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ الٹا اس کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہو رہی بلکہ اس کی بجائے اس میں دھماکہ خیز قسم کا اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
    یہی بات ایک بارپھر ہمیں ماضی کی طرف لے جاتی ہے جب بقول ان کے زندگی کا آغاز چار رشیوں اور عامۃ الناس کی تخلیق سے ہوا۔ اگر اس وقت کا انسان سماجی اور روحانی لحاظ سے بہترین تھا تو اس نیک نسل کے ختم ہونے کے بعد تو اس کے ادنیٰ درجہ کی نوع میں تبدیل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ کرموں کا نظام اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جب تک انسان نیکی پر قائم ہے، کوئی انسان کسی نوع کے جانور کی شکل میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بقول ان کے تناسخ کے اصول کے مطابق حیوانات تو صرف انسانوں کی کسی گنہگار نسل کے گناہوں کی سزا کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔
    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروفیسرورمن کے پاس اس مشکل کا حل یہ ہے کہ جوں جوں انسانی نسلیں مقدس رشیوں سے دور ہوتی چلی گئیں ان کا کردار شکست وریخت کا شکار ہونے لگا۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کے بعد تو یوں ہوا کہ انسان کے گناہوں کی وجہ سے انواع و اقسام کے حیوانات کی تخلیق کی راہیں کھل گئیں۔ لیکن اگلے جنم میں حیوانات کے درجہ پر پیدا ہونے والی ایسی گنہگار روحوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جنہیں عمل تناسخ کے نتیجہ میں انسانی رتبہ سے گرا کر سزا کے طور پر کمتر اقسام میں دوبارہ پیدا کیا گیا ہو۔
    لیکن یہ منصوبہ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا تھا جب اس وقت کے انسانوں کی مجموعی آبادی آج کی نسبت کروڑوں اربوں گنا زیادہ ہوتی۔ تمام انواع کے جانداروں کی مجموعی تعداد کھرب ہاکھرب سے بھی زیادہ ہے۔ لہٰذا بلا تردد یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بیکٹیریا سمیت تمام جاندار کسی زمانہ میں ضرور انسان رہے ہوں گے۔ ایسی صورت میں تو مقدس رشیوں کے وقت میں انسانی آبادی اتنی تو ہونی چاہئے تھی جسے شمار کرنے کیلئے تمام تخمینے ناکافی ٹھہریں۔ نیز کرۂارض کو آج کی نسبت اربوں گنا زیادہ وسیع ہونا چاہئے تھا جس میں ویدک دھرم کے خوف خدا رکھنے والے پیروکاروں کی ساری کی ساری آبادی سما سکتی۔
    ضمناً یاد رکھنا چاہئے کہ سائنسدان ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ابتدائے زمانہ میں تبت کی سرزمین جس میں یہ چار عظیم روایتی رشی رونق افروز تھے اس کی تو ابھی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی۔ کرئہ ارض کا یہ حصہ تو بہت بعد میں آج سے تقریباً ایک ارب سال قبل براعظموں کے سرکنے اور باہمی ٹکراؤ کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا تھا۔ ماہرین ارضیات اور ویدوں کے علماء کے مابین اس نزاع کی وجہ سے چار رشیوں والا منظر نامہ شکوک و شبہات کے دھندلکوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے جہاں ان رشیوں کو تبت کی سطح مرتفع پر موجود اپنے بلند مقامات سے رواں دواں دنیا کو بڑے اطمینان سے مشاہدہ کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ البتہ پروفیسر ورمن جیسے ہندو علماء کو یقینا یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماہرین ارضیات کی اس گپ شپ کو بھی اسی طرح ہوش و حواس سے عاری سمجھیں اور اسی طرح کھوکھلی قرار دیں جیسے انہوں نے نظریۂ ارتقا کو رد کردیا۔ اب اس سائنسی تحقیق کو بھی سائنسی توہمات قرار دے کر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دنیا چاہئے جس میں نظریۂ ارتقا کو پہلے ہی پھینکا جا چکا ہے۔
    آیئے اب انسانی آبادی کے سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ آبادی بقول ان کے عظیم رشیوں کے مقدس صلب سے پھیلی، سوچیں تو لازماً یہ آبادی نا قابل یقین حد تک وسیع ہو گئی ہو گی۔ کیونکہ آنے والے جانوروں کی انواع کے آباؤ اجداد وہی تو تھے۔ یہ انہی کی گنہگار ارواح تھیں جو ادنیٰ درجہ کے جانوروں کے مقام تک گرا دی گئی تھیں۔ اس وقت کی انسانی آبادی کی تعداد میں بھی آنے والی تمام انواع کے جانوروں کی کل تعداد بھی شامل سمجھی جانی چاہئے۔ ڈھیروں ڈھیر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے، بل کھاتے انسانوں کی زمین جیسے ایک چھوٹے سے سیارہ پر اتنی کثیر تعداد کے تصور سے ہی انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ کسی بھی بلندی سے دیکھا جائے خواہ وہ تبت ہو یا کوہ ہمالیہ، ہر جگہ انسان ہی انسان نظر آئیں گے جن کے پاس کھانے کیلئے ایک ذرہ بھی نہیں ہو گا۔
    کرموں کے مسئلہ پر دوبارہ غور کرتے ہوئے اب ہم اس کا خالصۃً علمی لحاظ سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق زندگی کی ہر نسل کا مقدر مکمل طور پر اپنے سے پہلی نسل کے کرموں سے وابستہ ہے۔ روح اپنی ذات میں ایک غیر جانبدار اکائی ہے، اسی طرح اس کے ساتھ جڑنے والا مادہ بھی۔ اس طرح اصل سوال، جس کا حل ہندو علماء پیش کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں، یہ ہے کہ اس سارے تخلیقی عمل کے پیچھے کونسی خدائی حکمت کارفرما ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خداتعالیٰ ایک منصف خدا ہے تو وہ انسانوں میں ایک دوسرے کے بالمقابل جانبداری کا سلوک کیوں کرتا ہے؟ یہ وہ بظاہر ناقابل حل عقدہ ہے جس کے جواب میں وہ لامتناہی کرموں اور ان کے نتیجہ میں دی جانے والی جوابی سزاؤں کے چکر کا فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ روح کے جون بدلنے کا یہ وہ اصول ہے جو اسے علت و معلول، جرم و سزا اور نیکی و جزا کے مستقل چکر میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا کے دیگر بڑے مذاہب میں خدا کا تصور ایک ایسی قادر مطلق اور برتر ہستی کا ہے جو محض اپنے ارادہ سے جو چاہے پیدا کر سکتا ہے۔ وہ مالکیت تامہ رکھتا ہے، اپنی مخلوق سے جیسا چاہے سلوک کر سکتا ہے۔ وہ بااختیار ہے اور جو چاہے بنا سکتا ہے۔ وہ تخلیقی عمل میں عدل کے اصولوں کا محتاج نہیں ہے تا ہم کمالِ تام، حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کی صفات سے متّصف ہونے کی بنا پر وہ کسی بھی نوع سے متعلق جاندار کو اس کے مناسب حال تمام اندرونی و خارجی ضروریات بکمال تام مہیا فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ننھی اور محدود عملداری میں ایک ’امیبا‘ (amoeba)بھی اتنا ہی خوش وخرم اور سر شار رہتا ہے جتنا ایک پر شکوہ تخت پر بیٹھا ہواکوئی بادشاہ۔
    ہندوؤں کی لوک داستانوں میں مذکور خداتعالیٰ کا مختارِ کُل ہونا اس طور پر ثابت نہیں ہے۔ یعنی جب وہ کسی چیز کا خالق ہی نہیں ہے تو اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مادہ اور روح کی آزادی میں دخل اندازی کرے اور انہیں اپنا غلام بنا لے۔ نیز تخلیق کے ہر فعل پر اختیار کا سوال بھی پیدا ہوگا کہ کسی کو اوروں سے بہتر کیوں بنایا جائے یا اسے تخلیق کے مدارج میں بلندتر مقام پر فائز کیا جائے؟ اس کا کیا جواز ہے کہ ایک شخص تو شاہی محلات میں پیدا ہو جبکہ دوسرا کسی قلاّش کی کٹیا کے گھپ اندھیروں میں۔
    یہ وہ اشکال ہے جس کی وجہ سے خداتعالیٰ کیلئے ایسی متنوع اور گوناگوں تخلیق کے وقت کسی نہ کسی طرح کا جواز ضروری ہو جاتاہے۔ ہندو فلسفہ اس سوال کا یہ جواب دیتا ہے کہ خدا بحیثیت خالق کوئی صوابدیدی فیصلہ نہیں کرتا۔ دنیا کے دیگر مذاہب کے برعکس وہ زمین ہی کو جزا سزا کا مقام سمجھتے ہیں۔ اس فلسفہ کے مطابق زمین پر گزاری گئی زندگی کے اعمال کا اثر براہ راست اگلی جونوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ سب سے بڑا دیوتا ’برہما‘ زمین پر زندگی کے ہر عمل پر گہری تنقیدی نگاہ رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کے مستقبل کا دارومدار اس کے اپنے ہی کرموں پر ہے۔
    زندگی اور موت ایک ابدی سکیم کے ماتحت نیکی اور جزا اور جرم و سزا کے طور پر باہم منسلک ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ خدا جب ایک آزاد روح کو اس کے مسکن سے اٹھا کر زمین پر کسی بھی نوعِحیات کے جسم میں قید کرتا ہے تو اسی لمحہ وہ روح بغیر کسی سابقہ کرم کے پہلی دفعہ قید کر دی جاتی ہے۔ عدل و انصاف کے اصولوں کی یہ پہلی خلاف ورزی ہے جس کا بقول ان کے خدا مرتکب ہوتا ہے جس کے بعد انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھی کسی گھٹیا ترین جانور کی جون میں ڈال دیا جائے۔ نعوذباللہ۔
    آئیے ایک بار پھر ویدوں کی تعلیم کے پس منظر میں کرموں کے کردار کا جائزہ لیں۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ سکیم ہے جس کے مطابق اس دنیا میں کیا گیا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی، خواہ اچھا ہو یا برا، ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اعمال کا یہ فرق جزا اور سزا میںکمی بیشی کرنے میں خدا کا مددگار ہو سکتا ہے۔
    ضروری نہیں کہ ہر جرم پر انسان جانور میں بدل دیا جائے۔ مثلاً ایک شخص جو اپنے سابقہ جنم میں بادشاہ تھا ممکن ہے اگلے جنم میں ایک گدائے مفلس کے طور پر پیدا کر دیا جائے۔ اسی طرح ایک فقیر کو اگلے جنم میں ایک پر شکوہ بادشاہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کا انحصار خدا کی نظر میں کئے گئے پچھلے جنم کے اچھے یا برے اعمال پر ہے۔ جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے اس ویدک فلسفہ کے مطابق ایک نوع کی دوسری نوع میں تبدیلی کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ کسی جنم میں انسان کے طور پر پیدا ہونے والا اگلے جنم میں کیڑا بھی بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بڑی ناخوشگوار بات ہو گی لیکن اس کا سہرا اپنے ہی گناہوں کے سر ہے۔
    اصل سوال یہ ہے کہ آواگون کا یہ سلسلہ شروع کہاں سے ہوتا ہے؟ یہ ایک مستقلاً لاینحل معمہ ہے کہ اگر ہر نئی جون کسی سابقہ جنم کی متقاضی ہے تو پھر یہ سلسلہ شروع کیسے ہوا؟ یقینا علت و معلول کے اس سلسلہ کو عہد ماضی میں اور پیچھے دھکیلنے سے تو کام نہیں چلے گا۔ اس سے زندگی کی تمام شکلوں اور ان سے متعلق کرموں پر ابدیّت لازم آتی ہے۔ لیکن یہ ایسا خیال ہے کہ جس سے بہت پر جوش ہندو پنڈت بھی متفق نہیں ہوسکتے کیونکہ جانوروں کے ابدی ہونے سے تخلیقی عمل فضول اور بے معنی ٹھہرتا ہے۔ کرموں اور ان کی پاداش کو سمجھنے کا ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ انہیں ایک مدوّر زنجیر کے طور پر سمجھا جائے۔ لیکن یہ بھی کسی طور سے ممکن نہیں کیونکہ کرموں اور پاداش کا ایسا بے انت دائرہ کسی ابتداء اور انتہاء کے بغیر ممکن نہیں۔ علت و معلول کا ایسا ابدی چکر منطقی طور پر صرف اس صورت میں قابل قبول ہو سکتا ہے جب اس سلسلہ کی ہر کڑی ایک جیسی ہو۔ جہاں ان کڑیوں کی بناوٹ میں فرق نظر آئے گا وہیں آغاز اور انجام بھی دکھائی دینے لگے گا۔ مثلاً جو کڑیاں زوال کا نزولی اور ارتقا کا صعودی رجحان رکھتی ہوں انہیں کسی ابدی چکر میں نہیں جوڑا جا سکتا۔
    آئیے ویدوں کے بیان کردہ موقف کے پس منظر میں ایک بار پھر اس امر کا جائزہ لیں کہ زندگی اور انواع و اقسام کی حیات کی ابتدا کیسے ہوئی۔ اگر یہ ایک مسلسل چکر ہے جیسا کہ ہندوؤں کے مذہبی دانشوروں کا اصرار ہے کہ جب تنزل اپنی انتہاء کو پہنچتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے نقطۂ آغاز سے بالکل مختلف ہو۔ جب روئے زمین سے نوع انسانی کی صف لپیٹ دی جائے تو صرف گناہ کے عادی جانوروں کا مسلسل نیچے گرتا ہوا گراف ہی باقی رہ جاتا ہے۔ یا دائرہ مکمل کرنے کے لئے ان جانوروں کو زمین پر زندگی کی ابتداء سے منسلک کرنے کا کام۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ویدوں کی تعلیمات کے مطابق زندگی کی ابتداء ہمیشہ تبت یعنی دنیا کی چھت پر براجمان چار رشیوں سے ہوا کرتی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ محض چکر کو مکمل کرنے کی خاطر کیڑے مکوڑے، حشرات الارض، ہزار پایوں، چوہوں اور نیولوں کو جو گنہگار انسانوں کی باقیات ہیں زندگی کی ابتداء کے ارفع ترین مقام پر فائز چار رشیوں کی مقدس ہستیوں سے جوڑ دیا جائے۔ آواگون کے دائرہ کو، جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے، نہ تو اس کے آغاز سے منسلک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ابدی کہا جا سکتاہے کیونکہ ابدیّت ایک اٹوٹ تسلسل کو چاہتی ہے۔
    اگر زنجیر کے آخری سرے کو حیات کے آغاز سے منسلک کر دیا جائے تواس کے ایسے گھناؤنے نتائج نکلیں گے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً اگر کوئی اژدھا اپنی دم کو منہ میں دبائے بیٹھا ہو تو کوئی ہوشمند انسان اسے ایسا ابدی دائرہ نہیں کہہ سکتا جس کی نہ کوئی ابتداء ہے، نہ کوئی انتہائ۔ دم، دانتوں میں اچھی طرح دبا لینے کے باوجود، دم ہی کہلائے گی۔ اس دائرہ کا ایک سرا ہو گا اور ایک دم ہو گی۔ یعنی اس کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی۔ چاروں رشیوں کیلئے دل میںمعمولی سا احترام رکھنے والا شخص بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ ایسی دم سے پیدا ہو جو ادنیٰ درجہ کے جانوروں سے معرض وجود میں آئی ہو۔
    ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہندو خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، ابدی دائرہ کے ایسے جاہلانہ خیال سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ ایسے خیال کو فطرت مسترد کرتی ہے اور نہ ہی اس کی تائید میں کوئی ادنیٰ سی شہادت سامنے آئی ہے۔
    کرموں کے مسئلہ کا ایک اور زاویہ سے بھی جائزہ لینا چاہئے۔ ’کرموں‘ کی اصطلاح ایسے تمام افعال پر اطلاق پاتی ہے جن کا فاعل ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ یعنی اگر عمل نیک ہے تو جزاء اور بد ہے تو سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ نیک اور بد اعمال کے بارہ میں الٰہی مشیت اور پسندناپسند کا واضح اظہار ہو ورنہ کسی کو کیسے پتہ چلے گا کہ خداتعالیٰ کو کونسا عمل پسند ہے اور کون سا ناپسند۔ اس خاص حکمت کی بنا پر بنی نوع انسان کی ابتداء عظیم رشیوں سے کی گئی۔ اگر ان پروید نازل نہ ہوتے تو انسان کو کبھی یہ علم نہ ہوتا کہ ان کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا اور نہ ہی وہ اپنے کرموں کی پاداش میں جوابدہ ہوتے۔ پس کرموں کے اس اصول کا اطلاق صرف انسان پر ہی ہو سکتا تھا جسے ابتدائی چاررشیوں کے ذریعہ اوامرونواہی کا ایک واضح لائحہ عمل دیا جا چکا ہو۔
    اگر اس اصول کا اطلاق انسانوں کی بجائے جانوروں پر کیا جائے تو مسئلہ خاصا الجھ جاتا ہے۔ کیا حیات کی ہر نوع کے پاس الٰہی قانون پر مبنی واضح صحیفے موجود ہیں؟ اگر نہیں تو انہیں زندگی کیسے بسر کرنی چاہئے اور ان کا حساب کیونکر ہو گا؟ کیا ان کے جبلّی رویّے ہی خدائی احکام کے قائم مقام ہوں گے۔ اگر جانوروںکا فطری نظام ہی ان کے لئے خدائی احکام کا قائم مقام ہے تو دیکھنا ہو گا کہ وہ اپنے اس مزعومہ اختیار کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟
    علاوہ ازیں انسانوں میںالٰہی تعلیمات انسانی واسطہ ہی سے پہنچتی ہیں (بلا شبہ چاروں رشی انسان ہی تھے)۔ لیکن عقل سلیم اس امر کو قبول نہیں کرتی کہ نبوت کا سلسلہ جانوروں میں بھی موجود ہو۔ ہر نوع کے فہم کے دائرہ کی ایک حد ہوا کرتی ہے جو اس کے مخصوص طرز زندگی سے مترتب ہوتی ہے۔ اگر جانوروں میں بھی نبی مبعوث کئے جانے مقصود ہوں تو حیات کی ہر نوع کیلئے علیحدہ علیحدہ نبی چاہئے۔ اگر جانوروں میں ان کے رشی پیدا ہونے ہیں تو پھر شیروں، بھورے ریچھوں، برفانی ریچھوں، لگڑ بگڑ، رینگنے والے جانوروں، تمام قسم کی مچھلیوں اور ہر قسم کے پرندوں میں ایسا ہونا چاہئے۔ مثلاً کیا کوئی کوّے نبی یا بھیڑیئے رشی کا تصور کر سکتا ہے؟
    مگر اسی پہ بس نہیں۔ اگر جبلّت، الٰہی تعلیم کی قائم مقام ہو اور جانوروں کیلئے اسے ضابطۂ حیات قرار دیا جائے تو پھر اختیار والا وہی سوال ان کے جبلّی رویوں کے تعلق میںبھی اٹھتا ہے جس کا جواب دینا ہو گا۔ کیا جانور اپنے جبلّی رجحانات کو رد یا قبول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں؟ اگر گھوڑے کیلئے گھاس یا دانہ کھانا جبلّی طور پر طے ہے تو کیا اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس الٰہی حکم کو ٹال سکے۔ اگر وہ نافرمانی کا فیصلہ کر ہی لے تو کیا وہ جبلّت کے الٰہی قانون کی بے باکی سے مخالفت کرتے ہوے چارہ چھوڑ کر گوشت کھانا شروع کر دے گا؟ کیا ایسی صورت میں خدا بجا طور پر گھوڑے کو نافرمانی کی سزا دے سکتاہے؟ شاید اگلے جنم میں اس کے لئے ممکن سزا یہ ہو کہ اسے گدھا بنا دیا جائے۔ اگر وہ گدھا بھی بد اعمالی پر اصرار کرے جو اس کی اسفل پیدائش کا موجب بنی اور گوشت خور ہی رہے اور چارے کی بجائے کتّے کا گوشت کھانے پر ہی اصرار کرے تو پھر کیا ہو گا۔ ذرا سوچئے کہ اس صورت میں اس کا اگلا جنم کیا ہو گا۔ ممکن ہے کتا بنا کر اسے باغی گدھوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔ کیا ہو گا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ فرضی نقشہ ہم نے صرف ان بین السطور تضادات کو نمایاں کرنے کیلئے پیش کیا ہے جو ویدوں کی تعلیمات کی موجودہ ہندوتفہیم پر مبنی جونوں کے فلسفہ میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے دل میں دور دور تک کسی کے احساسات کو صدمہ پہچانا مقصود نہیں ہے۔
    اس فرضی تشریح کا اطلاق تمام عالم حیوانات پر ہوتا ہے مثلاً شیر کے بارہ میں یہ تاثر کہ وہ نیک اور پارسا ہے صرف اپنی جبلّت کے ساتھ مخلص رہنے کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں زندگی کی قدر نہ کرنا شرافت کی یقینی علامت ٹھہرے گی۔ بصورت دیگر اگر وہ گوشت خوری ترک کر دے جو کہ اس کی شریفانہ جبلّت کی کھلی نافرمانی ہے تو ایسے درندہ صفت گھاس خور شیر کیلئے اگلے جنم میں ایک مردار خور گدھ کے د رجہ پر تنزل کا خاصا امکان ہے۔ پس جنگلی درندے خداکے نزدیک صرف اسی صورت میں شرفا قرار پائیں گے جب وہ اپنی غیر شریفانہ جبلّت کی پیروی جاری رکھیں۔
    مذکورہ بالا بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ جب تک جانوروں کو اختیار سے محروم نہ سمجھا جائے، ان کی جبلّت کو الٰہی ضابطۂ حیات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تا ہم اگر ویدوں کے حامی یہ اصرار کریں کہ جانوروں کا جبلّی رویہّ ہی الٰہی احکام کا متبادل ہے تو پھر تمام جانوروں کی ان کے اگلے جنم میں انسانوں کے درجہ پر ترقی ہو جانی چاہئے کیونکہ وہ اپنی جبلّت کی من و عن پیروی کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک تجویز ہے جو انسان کے علاوہ تمام دوسرے حیوانات کے مکمل خاتمہ پر منتج ہو گی۔ اس سے انسانی آبادی کا بند ٹوٹ جائے گا اور انسان ابتدائی زمانہ میں لوٹ جائے گا۔ کیا ان کے زندہ رہنے کیلئے خوراک میسر ہو گی یا بالآخر وہ بھی آدم خوری پر اتر آئیں گے؟ کیا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
    تاہم نسل انسانی کی خوش قسمتی ہے کہ جانوروں میں کرموں کا کوئی نظام دکھائی نہیں دیتا۔ جو روحیں ایک دفعہ جانوروں کی جون میں ڈال دی جائیں انہیں کبھی بھی اپنا کھویا ہوا انسانی مقام دوبارہ نہیں مل سکتا۔ پس کرموں کا نظام انسانی مقدر کو ایک انتہا سے دوسری انتہا تک جھولا جھلاتا رہے گا۔ اگر اسے کبھی ارادہ کی آزادی اور اختیار کا حق دیا گیا تو وہ ان انتہاؤں میں سے کونسی انتہا منتخب کرے گا؟ اگر اس میں ذرہ برابر بھی عقل ہوئی تو یقینا کوئی انتخاب بھی نہ کرنا ہی اس کا واحد دانشمندانہ فیصلہ ہو گا۔
    یہاں ہم یہ بھی بتا نا مناسب سمجھتے ہیں کہ آواگون کا ہندوفلسفہ معدودے چند افراد کے لئے ایک تیسری صورت بھی پیش کرتا ہے۔ ایسے انسان مثلاً چاروں رشی جو کامل زندگی گزارتے ہیں، انہیں جونوں کے چکر میں فوراً نہیں ڈال دیا جاتا بلکہ ان کی ارواح کیلئے سکون اور چین کے ایک لمبے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ ہندو مذہب کے ’’نروان‘‘ یا جنت کا تصور ہے۔ لیکن سکون کا یہ دورانیہ خواہ لاکھوں سال پر محیط کیوں نہ ہو، لازم ہے کہ بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے۔ "نروان" سے ایک عرصہ تک لطف اندوز ہونے کے بعد ضروری ہے کہ ایسی تمام روحوںکو جون کے چکر میں شمولیت کے لئے واپس زمین پر بھیجا جائے۔
    ہندومت کا یہ تنقیدی جائزہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی علماء چاہیں تو اپنے عقیدہ میں سے عقل کو بالکل بے دخل کر سکتے ہیں جیسا کہ بعض دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے اکثر و پیشتر ایسا کیا بھی گیا ہے۔ اس صورت میں خواہ برعکس حقیقت ہی ثابت کیوں نہ ہو جائے وہ پھر بھی مصر ہوں گے کہ معجزانہ طور پر خدا، جانداروں کی مختلف اقسام میں کسی حد تک ایک توازن قائم رکھتا ہے اور ان سب کا محاسبہ کرموں کے کسی غیر مرئی نظام سے کیا جاتا ہے۔
    زندگی کی ہر نوع کا محاسبہ اس سے متعلقہ جانداروں کے کرموں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بدی کے مرتکب شخص کو اگلے جنم میں کسی ادنیٰ درجہ کے جانور کے طور پر پیدا کر دیا جائے گا۔ اسی طرح نیک چلن جانورکو اگلے جنم میں انسان کے درجہ پر ترقی دی جا سکتی ہے۔ مثلاً ایک نیک چلن کتا اپنے مالک کے گھر خود مالک کے طور پر پیدا کیا جا سکتا ہے جبکہ بد چلن مالک کو خود اس کے اپنے گھر میں ہی کتا بنا کر ایک نئے انسانی مالک (سابقہ کتے ) کے ہاں پیدا کیا جا سکتا ہے۔
    یہ تو طے شدہ بات ہے کہ یہ فلسفہ اپنی ایک اندرونی منطق رکھتا ہے۔ اگرچہ خدا ایک ایسے مطلق العنان آمر کے طو پر ظاہر ہوتا ہے جو بلااستحقاق ملکیت، آزاد روحوں اور جسموں کو اپنی غلامی کے ابدی سلسلہ میں باندھ دیتا ہے لیکن بقول ان کے یہ سب کچھ وہ نظامِ عدل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اجسام اور ارواح کو زمین پر سابقہ جنم کے کرموں کی جزا یا سزا کے طور پر جوڑتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے ارواح کیلئے مادے کی قید سے عارضی رہائی کی صورت میں، جو بہت موہوم ہی سہی، پھر بھی نروان کا ایک امکان ضرور باقی رہتا ہے۔ لہٰذا موت جسے ہم نا پسند کرتے ہیں یعنی روح کی اپنے لازمی رفیق بدن سے علیحدگی، دراصل ایک درپردہ انعام کا رنگ رکھتی ہے۔ اس بات کا فیصلہ کہ جدا کیا گیاجوڑا اس آزادی کے مزے کب تک لوٹے گا، اس کی زمین پر گزشتہ مشترکہ زندگی کے طرزعمل کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر تو ان کا باہمی سلوک مثالی تھا یعنی جسم نے روح کا اچھی طرح خیال رکھا اورروح نے جسم کے معاملہ میں خود پر عائد ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھایا تو جزا کے طور پر ان میں جدائی اتنی ہی طویل ہو گی۔ شادی شدہ جوڑوں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا۔ ایسے میاں بیوی جن کا تعلق مثالی رہا ہوگا اور جو ایک دوسرے کی خوشگوار اور پیاری صحبت سے حد درجہ مطمئن رہے ہوں گے بلا شبہ انہیں اعلیٰ درجہ کا نروان عطا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان میں صرف جسمانی جدائی ہی نہیں ہو گی بلکہ ان کی روحیں بھی ابد تک جدا رکھی جائیں گی۔ تا ہم گنہگار جوڑوں کو مرنے کے بعد جلد ہی واپس زمین پر بھیج دیا جائے گاتا کہ وہ اپنی گناہ آلود نفسانی لذّات کا ایک اور دورانیہ گزار سکیں۔ خدا کی پناہ ! زمین پر کیسی جہنم ہے اور آسمان پر کیسی جنت!
    ممکن ہے کسی سائنسدان کو موت و حیات اور ابدیّت کا یہ ہندو فلسفہ معقولیت سے عاری نظر آئے مگر اس امر سے بھی انکار نہیں کہ اس فلسفہ میں ایک خاص قسم کی لذت ضرور موجود ہے جس کی وجہ سے عقلی دلائل کے بکھیڑوں میں پڑے بغیر جدید دور کے بہت سے افراد اس کے سحر میں گرفتار ہیں۔ اس کی بڑی کشش تو یہ ہے کہ اس کے مطابق پر صعوبت ارضی زندگی میں واپسی کی امید قائم رہتی ہے۔
    تمام جاندار مخلوق میں سے انسان تضادات کا عجیب و غریب مجموعہ ہے۔ وہ زندگی کے مصائب کا رونا روتا رہتا ہے اور ان کے حل کے لئے موت کے انتظار میں رہتاہے لیکن اس کے باوجود وہ اس ارضی قید خانہ میں دوبارہ آنے کی شدید خواہش بھی رکھتا ہے ؎
    قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
    موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
    صاف ظاہر ہے کہ اس فلسفہ کا سحر تمام جانداروں میں زندہ رہنے کی ہمہ گیر خواہش میں پوشیدہ ہے۔
    تا ہم اس وعدۂ فردا کے اسیروں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انسانی معاشرہ بحیثیت مجموعی اخلاقی اور دینی اعتبار سے خاصے انحطاط کا شکار ہے۔ یہ لوگ جو ایک دفعہ پھر انسانی شکل میں پیداہونے کی آس لگائے بیٹھے ہیں یاد رکھیں کہ اس خواب کا شرمندۂ تعبیر ہونا قرین قیاس نہیں ہے۔ اگر کرموں کا ویدک فلسفہ درست ہے تو غالب امکان ہے کہ آج کے انسانوں کی اکثریت کل کو بندروں، جنگلی سؤروں، مگر مچھوں یا صرف کیڑوں مکوڑوں کی شکل میں دوبارہ پیدا ہو۔ دوبارہ زندگی پانا اچھی بات سہی مگر کس قیمت پر!
    آئیے ایک بار پھر ان چار رشیوں کی بات کریں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان پر وید نازل ہوئے۔ اگر ہندو فلسفہ کو مان بھی لیا جائے تو ان رشیوں کا زمانہ زمین پر زندگی کے آغاز سے بہت پہلے کا زمانہ بنتا ہے جب فضا میں آکسیجن بھی موجود نہیں تھی۔ سوال تو یہ ہے کہ وہ کون سے کرم تھے جن کے نتیجہ میں انہیں رشیوں کا مقام عطا ہوا۔ نیز یہ بھی کوئی اتنا غیر اہم سوال نہیں ہے کہ آکسیجن کے بغیر نسلاً بعد نسلٍ زندہ کیسے رہے اور ان کی غذا کیا تھی۔ سمندر اور فضا تو وائرس اور بیکٹیریا کی ابتدائی شکل میں آلودگی سے بھرے ہوئے تھے۔ ان مقدس لوگوں کی پہلی نسل یا تو بیکٹیریا پر مشتمل اس خاص خوراک پر پلی ہو گی یا پھر ہو سکتا ہے کہ حیات انسانی کی ابتدا ہی مقدس رشیوں کی بجائے مقدس وائرس اور پاکباز بیکٹیریا سے ہوئی ہو۔ اگر رشیوں کی بعثت کے وقت کا اندازہ غلط ہے اور اگر وہ اس زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے جس پر بعض تعلیم یافتہ پنڈت اصرار کرتے ہیں تو پھر زمین پر زندگی کا ظہور اور ویدوں کا نزول بہت بعد میں ہوا ہے جو کرۂ ارض پر تبت کی سطح مرتفع اور اس کے گردو نواح کے وجود میں آنے سے پہلے ممکن نہیں۔ درحقیقت پورے برصغیر کی موجودہ شکل کوئی دو سے چارکروڑ سال قبل ہی معرض وجود میں آئی ہے۔ اگرچہ 16کروڑ سال قبل ہندوستان کے خدوخال کسی حد تک برصغیر کے طور پر متشکل ہو چکے تھے لیکن اس کا ایشیا کے ساتھ ادغام نہیں ہوا تھاجس کے نتیجہ میںہمالیہ، دیگر سلسلہ ہائے کوہ، سطح مرتفع تبت اور اس کے گردونواح کے علاقے وجود میں آئے۔ اس سارے دورانیہ میں تبت کا کسی معین وقت میں معرضِوجود میں آنا اتنا اہم نہیں ہے۔ متحجرات(fossils)کے مطالعہ سے ملنے والی شہادت کے مطابق بلاشک و شبہ کرہ ٔارض پر زندگی کا ظہور برصغیر کا خطّہ وجود میں آنے سے تقریباً آٹھ کروڑ سال پہلے ہو چکا تھا۔ سطح مرتفع تبت کی بلندی پر بیٹھنے والے کچھ بھی ہوں، انسان بہرحال نہیں تھے۔ کیونکہ انسان زمین پر بہت بعد میں پیدا ہوا۔ اس وقت ڈائناسار تھے جو زندگی کی سب سے ترقی یافتہ شکل تھی۔ ظاہر ہے کہ قوتکی بڑی سے بڑی جہت سے بھی کسی ڈائناسار رشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اگر موجودہ تحریف شدہ ویدوں کی تعلیمات کو ظاہر ی معنوں میں لیا جائے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گاکہ رشی اور ان کے حواری کسی دوسرے سیارہ سے زمین پر اترے ہوں گے۔ مگر یہ حل جسے بفرض محال حل کہنے کی جسارت کی بھی جا سکے تو ایک اور انتہائی پیچیدہ اور ٹیڑھے مسئلہ کو جنم دے گا جسے پھر حل کرنا پڑے گا اور کرموں کی کہانی چار رشیوں سے نہیں بلکہ اربوں سال قبل پیدا ہونے والے جراثیم کی ہر دم بدلتی اور مسلسل ترقی پذیر شکلوں سے شروع کرناپڑے گی۔
    غیر جانبدارانہ جائزہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ جونوں اورکرموں کا یہ عقیدہ ہندو فلسفہ کے بگڑے ہوئے دور کی پیداوار ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب ہندو مذہب کے علماء نے جزا سزا اور حیات وممات کے عقدہ کا جواب، آسمانی روشنی کے بغیر، محض فلسفیانہ طریق سے ازخود ڈھونڈ نا چاہا۔ بایںہمہ اگر کوشش کی جائے تو آج بھی ویدوں میں الہام الٰہی کے آثار مل سکتے ہیں۔ ویدوں میں آج جہالت کے جو نمونے نظر آتے ہیں یقینا انسانی دست برد کا نتیجہ ہیں۔
    اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے ہم یوگا کی حقیقت پر غور کریں گے اور ہندوفلسفہ کے وسیع اور پیچیدہ نظام میں اس کی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ یہ مسئلہ اصل موضوع بحث سے خاص تعلق رکھتا ہے کیونکہ عام طور پر یہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ گہری ریاضت سے ایک یوگی علم اور سچائی کے سرچشمہ کو اپنی ذات ہی میں دریافت کر لیتا ہے۔ تا ہم یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یوگا کا تعلق بنیادی طور پر ہندومت سے ہے یا بدھ مت سے۔ یہ گیان کا ایک ایسا طریق ہے جس کے متعلق یہ شواہد نہیں ملتے کہ اسے حضرت کرشن علیہ السلام نے کبھی اختیار کیا ہو۔
    لیکن یوگا کی بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ مراقبہ کے ساتھ ساتھ یوگا بدنی سائنس کی بھی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے جس کے ذریعہ انسان کی خوابیدہ جسمانی صلاحیتوں کو نقطۂ عروج تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یوگا کے ذریعہ بڑے بڑے معجزانہ کام سرانجام پاسکتے ہیں۔ بلکہ یہاںتک بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ انسان سرماخوابی کی ایسی ساکت حالت تک پہنچ جاتا ہے جس میں جسمانی شکست و ریخت کا عمل تقریباً رک جاتا ہے اور زندگی ایک باریکترین دھاگے سے معلق نظر آتی ہے۔
    اس فن میں کمال رکھنے والے بعض یوگیوں کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ کئی دن تک زیرآب زندہ رہے۔ ان کی ایک مافوق الفطرت صلاحیت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وہ ایک جگہ سے غائب ہو کر دوسری جگہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے یہ مبالغہ کی انتہا ہو مگر یوگا کی مشقوں کے ذریعہ حاصل کی گئی بعض مخصوص صلاحیتوں کو صرف مبالغہ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً بعض یوگیوں کے بارہ میںکہا جاتا ہے کہ وہ لمبے عرصہ تک اپنا سانس روک سکتے ہیں جس کے دوران ایک عام آدمی سانس لئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ علاوہ ازیں یوگا ایک جسمانی ورزش بھی ہے جس سے انسان کے قویٰ اور افعال کی ہمہ جہتی نشوو نما بھی ہو سکتی ہے۔ نیز یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یوگا انسان کی بدنی اور ذہنی تکان کا بھی بہترین علاج ہے۔ ہم نے یوگا کے ان فوائد کا مختصراً ذکر کر دیا ہے جو ایسی جسمانی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہیں جو یوگا کے بغیر خوابیدہ ہی رہتیں۔ اور اگر ان صلاحیتوں کی منظم طریق سے تہذیب و تعدیل کی جائے تو انسان کی روحانی صلاحیتیں بھی جلا پا سکتی ہیں۔
    اب ہم یوگا کے حوالہ سے بعض امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ یوگی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف یوگا کی مشقوں اور مراقبہ سے باطنی سچائی کے سرچشمہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس دعویٰ میں وہ کس حد تک صحیح ہیں یا غلط، اس بارہ میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک یوگا سے حاصل ہونے والی مزعومہ باطنی سچائی کو دنیا کے مسائل حل کرنے کے لئے عملاً پیش نہ کیا جائے اس دعویٰ کے غلط یا صحیح ہونے کے بارہ میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ زیادہ سے زیادہ اگر کچھ کہا جاسکتا ہے تو صرف اتنا کہ یوگا فی ذاتہٖ ایک بہت عمدہ ورزش ہے۔
    حوالہ جات
    1. VERMAN, J. (1992) The Vedas. Oxford & IBH Publishing Co. PVT. LTD, New Delhi, p. 6
    2. VERMAN, J. (1992) The Vedas. Oxford & IBH Publishing Co. PVT. LTD, New Delhi, p. 4
    3. VERMAN, J. (1992) The Vedas. Oxford & IBH Publishing Co. PVT. LTD, New Delhi, p.24
    4. Krishna is referred to as `black' which must have been a metaphorical expression. The colour black absorbs light completely. Hence when referred to a Godly person it can only mean extremely enlightened by Divine light. (WARD, NASIR (October, 1995) Hinduism and Christ. Review of Religions, p.6)


    بدھ مت
    بدھ مت کے متعلق دنیا میں عام تاثر یہ ہے کہ اسے مذاہب میں سے تو شمار کیا جاتا ہے لیکن بایں ہمہ اس کے فلسفۂ حیات میں خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ تاثر درست تو ہے لیکن ایک حد تک اور وہ بھی جزواً۔ آج بھی بدھ مت کے ماننے والوں کے بارہ میں یہ کہنا غلط ہو گا کہ ان میں سے کوئی بھی خداتعالیٰ پر یا دیوتاؤں پر یقین نہیں رکھتا۔ مہایان (Mahayans)اور تھیراویڈن (Theravadins) جیسے نمایاں فرقے باطنی حکمتِ اعلیٰ پر یقین رکھتے ہیں جو مہاتما بدھ کو کامل طور پر حاصل تھی۔ مگر اس کے باوجود وہ بہت سے توہمات اور بھوت پریت کے قائل بھی ہیں جو ان کے نزدیک خدا کے قائممقام ہیں۔ بدھ مت کے بارہ میں خدا کے وجود کی نفی کا یہ تاثر ایک اور پہلو سے بھی غلط ہے۔ بدھ مت کی ابتدائی تاریخ کے مطالعہ سے اس امر کی کافی شہادت ملتی ہے اور ہم آگے چل کر اس بات کو ثابت کریں گے کہ بدھ مذہب کا آغاز بھی دوسرے الہامی مذاہب کی طرح ہوا اور خدا کی وحدانیت پر زور دیا گیا۔
    مہاتما بدھ 563قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور 483قبل مسیح میں وفات پائی۔ ان کے ماننے والے ان کو خداتعالیٰ کا مقام تو نہیں دیتے لیکن جس رنگ میںان کااحترام کیا جاتا ہے وہ تقریباً ایسا ہی ہے جیسا دوسرے مذاہب کے ماننے والے خداتعالیٰ کا احترام اوراس کی پرستش کرتے ہیں۔ مہاتما بدھ کے پیروکار ان کا احترام اور تعظیم اسی طرح کرتے ہیں جیسے بت پرست بتوں کی اور بدھ کی مورتی اور مجسمہ کے سامنے اسی طرح جھکتے اور سجدہ ریز ہوتے ہیں جیسے بت پرست۔
    اگرچہ بدھ مت کے اکثر پیروکار بظاہر ہستی ٔباری تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں لیکن ان کے دل کی گہرائیوںمیں کسی بالا ہستی کی عبادت کی خواہش ضرور موجودنظر آتی ہے۔ مہاتما بدھ کی اس قسم کی تعظیم یہ ثابت کرتی ہے کہ ایسی خواہش واقعی موجود ہے۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی عبادت کیلئے جو فطری خواہش انسانی روح پر نقش ہے وہ اسے خدا یا کسی اور کی پرستش پر آمادہ کرتی ہے۔ چنانچہ بدھ مت کے ماننے والے اس خلا کو پر کرنے کیلئے بدھ کو خدا تسلیم کئے بغیر اس کی رسمی طور پر عبادت کرتے نظر آتے ہیں۔
    یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تبت میں بدھ مت کی جو شکل پائی جاتی ہے اس میں مافوق البشر دیوتاؤں یا بھوت پریت وغیرہ کا تصورنہ صرف ایمان کا جزوِ لا ینفک ہے بلکہ اُن کا پختہ عقیدہ ہے کہ یہ دیوتا اُن سے باتیں بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نئے پنچن لامہ کے انتخاب کیلئے بہت سی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں تا کہ دیوتاؤں سے اس بارہ میں رہنمائی حاصل ہو سکے کہ نوزائیدہ بچوں میں سے مستقبل کا پنچن لامہ کون ہو گا۔
    نام نہاد بدھ فرقوں میں سے بعض کا دعویٰ ہے کہ مہاتما بدھ خود بھی خدا کے وجود کے منکر تھے۔ اپنے اس دعویٰ کو تقویت دینے کیلئے وہ ہمعصر ہندو پنڈتوں کی مہاتما بدھ سے دشمنی کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دشمنی بہت حد تک ہندوؤں کے خداؤں کے بارہ میں بدھ کے ہتک آمیز رویہ کا نتیجہ تھی۔ بدھ مت کے پیروکار عموماً ان اسباب کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے جن کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جو بدھ پر کئے گئے ظلم وستم کا باعث بنیں۔ ان کیلئے یہی کافی ہے کہ بدھ نے خدا کے وجود کا سرے سے ہی انکارکردیا تھا۔
    تا ہم تاریخی حقائق کے جائزہ اور بدھ مت کے مذہبی لٹریچر کے گہرے مطالعہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ بدھ ایسے تمام الزامات سے بری الذمہ تھے۔ مگریہ واضح رہے کہ تاریخی حقائق جن کا دونوں مکاتبِ فکر ذکر کرتے ہیں کافی نہیں۔ البتہ اس اشکال کو حالات و واقعات کی روشنی میں بہت حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔
    بدھ مت کا فلسفہ، تعلیمات اور رسومات قریباً پانچ سو سال تک تو سینہ بہ سینہ ہی منتقل ہوتی رہیں سوائے ان کے جو چٹانوں، پتھروں اور مزاروںپر اشوکا کے عہد(273تا232قبل مسیح ) میں کندہ کی گئیں جو اپنے روحانی پیشوا بدھ کے تین سو سال بعد حکمران ہوا۔ اور یہ حقیقت نہایت اہم ہے کیونکہ اشوکا کے دور حکومت کی تحریرات کی رو سے بدھ کے فلسفہ اور طرز زندگی پر خوب روشنی پڑتی ہے۔ مزید برآں اشوکا نے ہی بدھ کی تعلیمات کو اس وقت تحریری شکل دی جبکہ بدھ مت پر ابھی کچھ بھی نہیںلکھا گیا تھا۔ نیز اشوکا کی بدھ مذہب کی نمائندہ حیثیت کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اب جھگڑا صرف مختلف تشریحات کا ہے۔
    مہاتما بدھ کے حالات زندگی اگرچہ ان کی وفات کے کئی سو سال بعد قلمبند کئے گئے تا ہم تمام محققین کسی قابل ذکر اختلاف کے بغیر متفقہ طور پر ان واقعات کو مستند تسلیم کرتے ہیں۔ یہ واقعات ایک نسل سے دوسری نسل تک سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کی شخصیت اور ان کے طرز زندگی کے آغاز سے آخر تک ایک تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
    اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قرین قیاس ہو گا کہ بدھ اور بدھ مت کے جو حالات دو ذرائع یعنی بدھ کی زندگی کے واقعات اور مزاروں (stupas) پر کندہ تحریرات سے حاصل ہوئے ہیں وہ نسبتاً زیادہ قابل قبول ہیںاور جو نظریات اس کے برعکس پیش کئے جاتے ہیں انہیں رد کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اگر ابتدائی ماخذ ہی باہم متضاد دکھائی دیں تو ایک کو اپنانے اور دوسرے کو رد کرنے میں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔
    بدھ کی زندگی کے بغور مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا طرز زندگی مختلف علاقوںاور زمانوں میں مبعوث ہونے والے دیگر انبیاء سے مختلف نہیں تھا۔ تمام انبیاء کے کردار میں ایک ہمہ گیر مشابہت پائی جاتی ہے جو ہمیں بدھ کی زندگی میںبھی نظر آتی ہے۔
    تا ہم بدھ مت کے بنیادی عقائد سے متعلق بدھ کے اقوال و افعال کی مختلف تشریحات سے مشکلات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً ہمیں اس عام خیال سے اختلاف ہے کہ مہاتما بدھ دہریہ تھے۔ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بدھ مت خداکا بھیجا ہوا مذہب ہے اور ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس کے بانی ہرگز دہریہ نہیں تھے۔ بلکہ وہ ایسی شخصیت تھے جنہیں خود خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے منتخب کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے انبیاء مبعوث کئے گئے تھے۔
    بدھ مت پر تحقیق کرنے والے اکثر علماء اس مشکل سے دو چار ہوتے ہیں کہ بدھ مت کودنیا کے عظیم مذاہب میں کس طرح شمار کیا جائے؟ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں مذہب کی مسلّمہ تعریف سے انحراف کرنا پڑتا ہے تا کہ اس میں دہریہ فکرومذہب کی گنجائش نکل سکے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ضابطۂ اخلاق کو مذاہب کی صف میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد خدا کے انکار پر ہو؟ ہمارے نزدیک یہ اعتراض ہی درست نہیں ہے۔ ہم اس بات کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں کہ بدھ مت منجانب اللہ نہیں ہے۔ اپنے نقطۂنگاہ کے حق میں ہم ان ماخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں جن پر بدھ مت کے پیروکار بھی انحصار کرتے ہیں۔ ہم ثابت کریں گے کہ ہمارا نقطۂنگاہ بنیادی طور پر زیادہ قابل قبول ہے۔ ہم پھر یہی کہتے ہیں کہ بدھ مت مذاہب عالم میں کوئی عجوبہ نہیںہے۔ اس کے برعکس بدھ مت کے بنیادی خدوخال بھی وہی ہیں جو دیگر الہامی مذاہب کے ہیں۔
    اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے مغربی محققین بدھ مت کے بارہ میں یہ عام غلط فہمی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں کہ یہ ایک ملحدانہ مذہب ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی معلومات کی بنیاد زیادہ تر بدھ علماء کے پالی زبان سے کئے گئے تراجم پر تھی جن کے متعصبانہ اور ملحدانہ خیالات نے ان تراجم کو متاثر کیا۔ ان مغربی محققین میں سے کم ہی پالی زبان کو سمجھ سکتے تھے جو بدھ کی بنیادی تعلیم کا ماخذ تھی۔ علاوہ ازیں بجائے اس کے کہ یہ علماء بدھ مت کے معتبر ذرائع سے خود نتائج اخذ کرتے ان کا میلان مکمل طورپر ان عقائد کی طرف رہا جو بدھ مت کے اکثر فرقوں میں رائج تھے۔
    مغربی مفکرین کے اس عمومی رجحان کے خلاف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام (1908-1835)نے تنہا آواز بلند کی اور ایک بالکل مختلف نظریہ پیش کیا۔ آپؑ نے دعویٰ کیا کہ مہاتما بدھ ؑ وجود باری پر ایمان رکھتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کیلئے مبعوث فرمایا تھا۔ آپ ؑ نے ثابت کیا کہ باقی انبیاء کی طرح حضرت بدھؑ بھی فرشتوں، جنت دوزخ، قیامت کے دن اور شیطان کے وجود پر ایمان رکھتے تھے۔ لہٰذا یہ الزام کہ حضرت بدھؑ خداتعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے، سراسر اختراع ہے۔ حضرت بدھؑ نے دراصل ویدانتا (وہ مذہبی عقائد اور اصول جو ہندوؤں کی مقدس کتب ویدوں میں موجود ہیں) کی نفی کی تھی اور ہندومت کے خدا کے جسمانی شکل میں ظہور کے عقیدہ کو ردّ کیا تھا۔ حضرت بدھ ؑنے برہمنوں پر سخت تنقید کی جنہوں نے اپنی غلط تشریحات سے ہندومت کی الہامی تعلیمات کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔
    حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی آواز زیادہ دیر تک تنہا نہ رہی اور بہت جلد مغربی محققین کی دوسری نسل کی اکثریت اس سلسلہ میں آپؑ کے نقش قد م پر چلنے لگی۔ ان میں سب سے ممتاز فرانسیسی سکالر ڈاکٹر گستاولے بون Dr.Gustavr Le Bon (1931-1841) لکھتے ہیں:
    ’’بد قسمتی سے یورپین محققین نے ہندوستان کی مذہبی یادگاروں کے مطالعہ کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ ہندوستانی ثقافت کے ماہرین، جن کے ذریعہ ہمیں بدھ مت کا علم حاصل ہوا ہے، کبھی ہندوستان گئے ہی نہیں۔ اس مذہب کے بارہ میں ان کا علم صرف کتابی تھا۔ سوئِاتفاق سے وہ فلسفیانہ کتب ان کے ہاتھ لگ گئیں جو بدھ کی وفات کے پانچ چھ سو سال بعد لکھی گئی تھیں اور جو عملی تعلیم سے یکسرمختلف تھیں۔ مابعد الطبیعیاتی نظریات جنہوں نے اپنے علم کی گہرائی سے یورپین محققین کو متحیرّ کر دیا کوئی نئی چیز نہ تھے۔ جب لوگ ہندوستانی کتب سے متعارف ہوئے تو پتہ چلا کہ اس فلسفہ ٔحیات کے ماننے والے برہمن فرقے اس دور میں بھی موجود تھے۔‘‘ 1
    یہاںتک تو ڈاکٹر لے بون (Dr. Le Bon)کی تنقید درست ہے لیکن درج ذیل اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ خود بدھ مت کے حقیقی تصور کو نہیں سمجھ سکے۔ کیونکہ مزاروں (stupas) پرکندہ تحریرات ثابت کرتی ہیں کہ مہاتما بدھ ہرگز مشرک نہیں تھے۔ ڈاکٹر لے بون کا بیان ہے کہ-:
    ’’بدھ مت کے بارہ میں معلومات ہمیں کتابوں سے نہیں بلکہ یادگار عمارتوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ عمارتیں جو معلومات ہمیں مہیا کرتی ہیں وہ کتب سے حاصل کردہ معلومات سے حیران کن حد تک مختلف ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ بدھ مت جسے دور جدید کے محققین ملحدانہ خیال کرتے ہیں دراصل انتہائی مشرکانہ رسوم کا حامل ہے۔‘‘ 2 ٭
    لیکن جیسا کہ ابھی ثابت کیا جائے گا اس تحریر کا آخری حصہ درست نہیں۔
    ڈاکٹر لے بون کے بعد آنے والے مشہور سکالر آرتھر للی (Arthur Lillie) نے اشوکا کے مزاروں پر کندہ تحریرات کے بغور مطالعہ کے بعد بالکل مختلف نتیجہ نکالا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنی کتاب India in Primitive Christianity میں بہت سے حوالے دیئے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ نقوش خاص مقصد کیلئے صرف تعمیر شدہ مزاروں پر ہی نہیں بلکہ ان چٹانوں پر بھی ملتے ہیں جو شاہراہوںاور تجارت کیلئے بنائے گئے راستوں پر بھی موجود تھیں۔ ذیل میں ہم اس قسم کی تحریرات کے دو نمونے پیش کرتے ہیں۔
    دریائے کٹک کے مشرقی ساحل پر جگن ناتھ سے 20میل کے فاصلے پر موجود ایک چٹان Pardohli پر یہ تحریر کندہ ہے:-
    ’’میں دوبارہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس زندگی کی چیزوں کی شدید خواہش نافرمانی ہے۔ اور یہ بھی نافرمانی میں داخل ہے کہ ایک شہزادہ دنیوی اقتدار کے حصول کی شدید خواہش رکھے جبکہ وہ جنت کا وارث بن سکتا ہو۔ توبہ کرو اور خدا (Is'ana) پرایمان رکھو جو فرمانبرداری کا مستحق ہے۔ میں تم پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس جنت کے حصول کیلئے اطاعت جیسا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ تم ہمت کر کے یہ بیش بہا خزانہ حاصل کر لو۔‘‘ 3
    اس عبارت میں اسانا (Is'ana)کا لفظ شِو دیوتا (Shiv Devta) یعنی خدا کیلئے استعمال ہوا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنسکرت--انگریزی ڈکشنری از Shivram Apte)۔
    ساتویں مزار (Stupa) سے متعلق یہی مصنف ذیل کا ایک اور حوالہ دیتا ہے:
    ‏’’Devanampiya Piyadasi یوں مخاطب ہوا:’اسی لمحہ سے میں نے مذہبی تبلیغ کا حکم دیا ہے اور ایسے مناسک کا نفاذ کیا ہے جن کی اتباع میں انسان سیدھا راستہ اختیار کر لے گا اور خدا کی عظمت کے گیت گا ئے گا۔‘‘ 4 ٭
    ان اقتباسات سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ابتدائی ماخذ کے مطابق حضرت بدھؑ کا خدا پر پختہ ایمان تھا۔
    مستند اور ثقہ ہونے کے لحاظ سے دوسرا اہم ماخذ بدھ مت کا وہ مذہبی لٹریچر ہے جو مہاتما بدھ علیہ السلام کے پانچ سو سال بعد منظر عام پر آیا۔ اس لٹریچر میں بھی کافی شہادت موجود ہے کہ حضرت بدھؑ نہ تو ملحد تھے اور نہ ہی لاادری، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھنے والے تھے۔ ہم یہاں خاص طور پر Theravada کے متن کا حوالہ دیں گے جو Tripitaka یعنی تین ٹوکریوں کے نام سے موسوم ہے۔ یہ نام ظاہر کرتا ہے کہ کتاب کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ Vinaya-Pitaka یعنی ضابطہ ٔ اخلاق پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہSutta-Pitaka یعنی مکالمۂ صداقت اور تیسرا حصہ Abhidhamma Pitakaہے جسے تجزیۂ مذہب کہا جاتا ہے۔
    ‏Sutta Niptaکے 'The Chapter on going to the far shore' 5 بالفاظ دیگر ’دورساحل کا سفر‘ میں موت کی تسخیر کا مقصد بیان کیا گیا ہے جس میںحضرت بدھؑ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اپنی ’انا‘ مٹا ڈالتے ہیں اور خدا کے ہو جاتے ہیں‘ موت ان کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ البتہ یہ درست نہیں کہ یہ تحریریں غلط فہمیوں کا شکار ہو گئی ہیں اور مکتی کے بارہ میں برہمن سوچ سے خلط ملط ہو گئی ہیں۔ حضرت بدھؑ نے بڑے واضح الفاظ میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اسی دنیا میں جسمانی موت سے پہلے ہی دوسرے عالم کا مشاہدہ کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک کوئی شخص اسی زندگی میں موت سے گزرے بغیر اخروی زندگی کو نہیں پا سکتا۔ یہ تصور قرآنی تعلیم کے بہت قریب ہے۔ حضرت بدھؑ نے تعلیم دی کہ جب انسان کامل طور پر خدا کا ہو جاتا ہے تو وہ زندگی اور موت سے بالا تر ہو کر دائمی زندگی پا لیتا ہے۔
    اس باب کے آخر پر حضرت بدھؑ کا ایک پیروکار‘ پنجیا (Pingiya)اپنے استاد کے کمالات کا ذکر کرتا ہے جن کے نتیجہ میں اس نے بدھ مت کو اختیار کیا۔ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ ضعیف العمر اور قریب المرگ ہے پنجیا اپنی گفتگو کو یوں سمیٹتا ہے:-
    ’’میں یقینا اس کے پاس جاؤں گا جو غیر متغیر اور غیر متزلزل ہے جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس میں ذرہ بھی شک نہیں۔ اس لئے مجھے انہی لوگوں میں شمار کرو جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ 6
    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت بدھؑ کا ایک مرید یہ خواہش اور تمنارکھتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اپنے آقا کے حضور حاضر ہو گاجو ایک غیر متغیر، غیر متزلزل اور بے مثل و مانند ہستی ہے۔ خدا کی یہی تعریف بعینہٖ دوسرے مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے۔
    ‏Tripitakaکے حصہ دوم Sutta-Pitakaمیں، جو مزید پانچ کتابوں میں منقسم ہے اور بدھ کے بہت سے مکالمات پر مشتمل ہے، نہایت دلچسپ پیرائے میں حضرت بدھؑ کے عقائد کا ذکر کیا گیا ہے۔ پالی ٹیکسٹ سوسائٹی لنڈن کی پریذیڈنٹ Mrs. T.W. Rhys Davidsنے ان میں سے بعض مکالمات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ Sacred Books of the Buddhists کے عنوان سے شائع شدہ کتاب میں درج ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی دوسری جلد کا مکالمہ نمبر 13(Tevigga Sutta) خصوصیت کے ساتھ اس سوال سے متعلق ہے کہ انسان کس طرح خدا تک پہنچ سکتا ہے؟
    حضرت بدھؑ اوّل تو اس بات ہی کو رد فرماتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں کوئی ہندو پنڈت کسی انسان کی خداکی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اس سوال کا مختلف جواب وہ اپنے طور پر دیتے ہیں۔ اس مکالمہ کا پس منظر بھی بہت دلچسپ ہے۔
    کہتے ہیں کہ بہت پہلے برہمنوں کا ایک مشہور گاؤں مناساکٹا (Manasakata) تھا جو ملک کے ایک بہت ہی خوبصورت علاقے میں دریا کے کنارے واقع تھا اور برہمنوں کے مذہبی نزاع کا مرکز ہونے کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ان میں سے پانچ برہمن جو اپنے اپنے مذہبی مکتبۂ فکر کے سربراہ تھے، بہت ممتاز تھے۔ اتفاق سے حضرت بدھؑ نے بھی اپنے بعض مریدوں کے ساتھ اسی دریا کے کنارے پڑاؤکیا۔ ان کی آمد کا سن کر لوگ ان سے ملنے کیلئے آنے لگے تاکہ وہ ان کی تعلیمات خود ان کی زبانی سن کر بصیرت حاصل کر سکیں۔ ایک مرتبہ اس گاؤں کے واسیتا (Vasettha)اور بھردواگا (Bharadvaga) نامی دو نوجوانوں کے مابین اشنان کے بعد چہل قدمی کے دوران مذہبی عقائد پر بحث چھڑ گئی۔ لیکن کوئی ایک بھی دوسرے کو اپنے گورو کی سچائی کا قائل نہ کر سکا۔ واسیتا (Vasettha)نے یہ معاملہ حضرت بدھؑ کے حضور پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ اس بارہ میں وہ حضرت بدھؑ سے رہنمائی حاصل کرنے کیلئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دوران گفتگو بھردواگا تو خاموش رہا اور واسیتا نے مسئلہ بیان کیا۔ مگر حضرت بدھؑ نے جواب دینے سے قبل بعض مزید سوال پوچھے۔
    ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا ویدوں کے کسی عالم نے برہما (یعنی خدا ) کو ظاہری شکل میں دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ’’نہیں‘‘۔ پھر حضرت بدھؑ نے واسیتا سے پوچھا کیا پچھلی سات پشتوں سے کسی برہمن یا اس کے شاگردوں میں سے کسی نے برہما کو دیکھا ہے؟ جواب پھر نفی میں تھا۔ پھر حضرت بدھؑ نے سوال کیا کہ کیا آپ دونوںنے کبھی برہما کو دیکھا ہے؟ جواب پھر نفی میں تھا۔ پھر انہوں نے واسیتاسے پوچھا کہ ایک شخص جو مناساکٹا میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا ہو، اس سے مناساکٹا کا راستہ پوچھا جائے تو کیا وہ راستہ بتانے میں کوئی دقت محسوس کرے گا؟ واسیتا نے جواب دیا ہرگز نہیں، اور ایسا ممکن بھی نہیں۔ اے مقدس گوتما! ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جو شخص مناساکٹا میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا ہو وہ تو مناساکٹا کی طرف جانے والے ہر راستہ سے پوری طرح واقف ہو گا۔ اس موقع پر حضرت بدھؑ نے وضاحت فرمائی کہ:
    ’’پس اے واسیتا! ایسا شخص جو مناساکٹا میں ہی پیدا ہوا اوروہیں پروان چڑھا ہو، مناساکٹا کا راستہ بتانے میں شاید دقت محسوس کرے لیکن تتھاگتا Tathagata (روحانی نور سے آشنایعنی خود بدھ ) سے اس راستہ کے بارہ میں پوچھا جائے جو برہما یا خدا تک پہنچاتا ہے تو وہ راستہ بتانے میں کسی مشکل یا شک میں مبتلا نہیں ہو گا۔ کیونکہ اے واسیتا! میںبرہما یعنی خدا اور اس تک پہنچنے کے راستوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اور ہاں، میں انہیں یوں پہچانتا ہوں جیسے میں اس عالم کا حصہ ہوں اور وہیں پیدا ہوا ہوں۔‘‘ 7
    حضرت بدھؑ کا موقف تھا کہ مناساکٹاکے رہنے والوں کو وہاں جانے والے راستوں کا بخوبی علم ہونا چاہئے۔ اسی طرح تعلق باللہ کے دعویدار کو خدا کی طرف جانے والے راستوں کا علم ہونا چاہئے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب وہ واقعۃً خدا کی طرف سے آیا ہو اور اس کا عرفان رکھتا ہو۔ حضرت بدھؑ کے سوال و جواب سے صاف ظاہر تھا کہ ان دونوں کے کسی بھی گورو (استاد) نے نہ تو کبھی خدا کو دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں خدا کی معرفت حاصل تھی۔ اس لئے خدا کی ہستی کی شناخت ان کی سمجھ سے بالا تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مکالمہ میں بدھ کے دلائل سے یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی ہو کہ وہ اس لئے خدا کے وجود کا انکار کر رہے ہیں کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ درحقیقت مترجم نے اپنی کتاب کے دیباچہ میں اِس مکالمہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ:
    ’’اگر تم برہما سے ملنا چاہتے ہو (تم جیسوں کیلئے بہتر ہے کہ تم اس کی خواہش نہ ہی کرو) تو اسے حاصل کرنے کا یہی رستہ ہے۔‘‘ 8
    اس مکالمہ کے تجزیہ سے ظاہر ہے کہ حضرت بدھؑ نے جو بات پورے وثوق سے بیان کی ہے مصنف اسے سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح بعض محققین ان بدھ بھکشوؤں کے عقائد سے متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت بدھؑ کی اپنے زمانہ کے پنڈتوں کے خلاف عظیم جدوجہد کو غلط سمجھا ہے۔ حضرت بدھؑ نے قطعی طور پر ان توہم پرست عقائد اور بتوں کا انکار کیا تھا جن کے ماننے والوں نے کبھی خداتعالیٰ کو دیکھا، نہ سنا۔ لیکن حضرت بدھؑ کا جواب یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ تتھاگتا (Tathagata)کیلئے خدا کی طرف رہنمائی کوئی مشکل بات نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ خود بھی انسان کی خدا کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ خدا کی طرف سے مامور کئے گئے ہیں اور ان کا خدا کے ساتھ زندہ تعلق ہے۔
    اب یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ حضرت بدھؑ کا خدائے بزرگ و برتر پر پورا ایمان تھا جس نے انہیں مبعوث کیا تھا۔ جس طرح مناساکٹا (Manasakata) کے لوگ اپنے گائوں کی طرف جانے والے راستوں سے واقف تھے اس سے کہیں بڑھ کر حضرت بدھؑ کو خدا کا عرفان حاصل تھا۔ چنانچہ انہوں نے بڑی تحدی سے دعویٰ کیا کہ ان کا خدا کے ساتھ مسلسل زندہ تعلق ہے۔ یہ مقام خدا کے قرب کے حوالہ سے محض الہام پانے کی نسبت کہیں زیادہ بلند تر ہے۔ بہت سے بزرگ انبیاء کا یہی دعویٰ ہے کہ موت سے پہلے اس دنیا میں ہی ان کا خدا کے ساتھ ایک زندہ اور دائمی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ یعنی تمام انبیاء کو خدا کی طرف سے اس تعلق کا تجربہ حاصل ہوتا ہے اور حضرت بدھؑ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ حضرت بدھؑ خدا کو برہما اس لئے کہتے تھے کہ ہندو اپنے دیوتاؤں کے ذکر میں اس اصطلاح کو خدائے عظیم کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔ لہٰذا جوں جوں گفتگو آگے بڑھتی رہی بات اور بھی واضح ہوتی چلی گئی۔
    حضرت بدھؑ کی بات مکمل ہونے پر نوجوان برہمن واسیتا نے اس مقدس ہستی کی خدمت میں عرض کی:
    ’’گوتما! مجھے معلوم ہوا ہے کہ سامانا(Samana)گوتما خدا کے پانے کا طریق جانتے ہیں۔ یہ درست ہے! ہم قابل احترام گوتما کی خدمت میں درخواست کرتے ہیں کہ ہماری رہنمائی اُس رستے کی طرف فرمائیں جو برہما کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اے عظیم گوتما! ہماری نسل کو تباہی سے بچا لیں۔‘‘ 9
    اس حوالہ سے حضرت بدھؑ واسیتا کی دعا اور خواہش کو رد نہیں کرتے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جو کچھ حضرت بدھؑ نے خدا اور اس کے پیاروں سے تعلق کے بارہ میں فرمایا تھا وہ سچ تھا۔ وہ لوگ جو ذات پات کی تمیز کے بغیر خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں، ان پر خدا تک پہنچنے کی راہ آسان کر دی جاتی ہے۔ جس شخص کے دل میں خوفِ خدا ہو وہ غصہ‘ حسد‘ بغض اور دیگر نفسانی خواہشات سے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ہی انسان خدائی صفات کو اپنا سکتا ہے۔ خدا کے بارہ میںحضرت بدھؑ کا عقیدہ جاننے کیلئے یہ گفتگو نہایت اہم ہے۔
    پھر حضرت بدھؑ کو ان کے ماننے والوں نے غلط کیوں سمجھا؟ اس سوال کا جواب غالباً بدھمت کی ابتدائی تاریخ سے مل سکتا ہے جب نئے ابھرتے ہوئے بدھ مت کا ٹکراؤ برہمن مذہب کی قدیم روایات سے ہوا۔ ممکن ہے کہ اس وقت حضرت بدھؑ کے ماننے والوں نے اپنے پرانے خیالات جان بوجھ کر ان کی طرف منسوب کر دیئے ہوں یا وہ ان کی تعلیم کے بارہ میں دیانتدارانہ طور پر غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہوں۔ جب حضرت بدھؑ نے برہمنوں کی مروجہ بت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی تو ان پر الحاد کا الزام لگایا گیا۔ با اثر برہمنوں نے یہ تحریک اس زور سے چلائی کہ اس شوروغوغا میں حضرت بدھؑ کی آواز دب کر رہ گئی۔
    رسل و رسائل کی مشکلات اور لکھنے کی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ اس تحریک کا اثر ہندوؤں کے ساتھ ساتھ خود حضرت بدھؑ کے پیروکاروں پر بھی ہوا ہو اور انجام کار وہ اس بات پر یقین کرنے لگے ہوں کہ حضرت بدھؑ نے ہندو دیوتاؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ چنانچہ یہ تاثر عام ہو گیا کہ حضرت گوتم بدھؑ نے ہندودیوتاؤں کا انکار کیا ہے اور اکثر لوگ انہیں ملحد سمجھنے لگے۔
    البتہ ان کے ماننے والوں کی اطاعت میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ حضرت بدھؑ کو ایک شفیق، محبت کرنے والا، نرم دل، کامل اور انتہائی دانشمند استاد مانتے تھے۔ ہم اس زمانہ کی بات کر رہے ہیں جب خواندگی بہت ہی کم تھی۔ لوگ اکثر سنی سنائی باتوں پر فیصلے کیا کرتے تھے۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ حضرت بدھؑ کے ماننے والے بھی اس تحریک کی رو میںبہہ گئے ہوں۔ لیکن اس سے ان کی وفاداری میں کوئی فرق نہ آیا۔ ان کیلئے حضرت بدھؑ کا عقل کل ہونا ہی کافی تھا۔ وہ ان کا احترام دل کی گہرائیوں سے کرتے اور رفتہ رفتہ غیر محسوس طریق پر ملحد قرار دئیے جانے والے اس محبوب اور دانشمند استاد کا احترام خدا کی مانند کیا جانے لگا۔
    مذہب کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ نہیںہوا کہ پروہتوں اور بعض دیگر انسانوں کو دیوتاؤں کا مقام دے دیاجائے۔ لہٰذا حضرت بدھؑ کے تعلق میں ان کے پیروکاروں کی تمام تر محبت اور توجہ ان پر ہی مرکوز رہی جنہیں وہ انسانی حسن کا ایک کامل نمونہ سمجھتے تھے۔ اسا طیری داستانوں کی طرح حضرت بدھؑ کو روایتی دیوتا تو نہیں بنایا گیا مگر ان کیلئے یہی کافی تھا کہ وہ اپنے عقائد کی ایک انتہا پر برہمن کو اور دوسری پر حضرت بدھؑ کو جگہ دیں۔ ان کے نزدیک برہمن کسی دیومالائی وجود کے نمائندہ اور حضرت بدھؑ سچائی، دانشمندی اور عقلمندی کا مجسم نمونہ تھے۔ چنانچہ بدھ مت نے تدریجاً ایسی شکل اختیار کر لی جس میں کسی فرضی خدا کے تصور کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ فطرت انسانی میں موجود ایمان باللہ کی خواہش نے رفتہ رفتہ حضرت بدھؑ کو اس مقام پر فائز کر دیا۔ چنانچہ چوتھی صدی میں حضرت بدھ ؑ نے دانشوری کے سرچشمہ کی حیثیت سے جس سفر کا آغاز کیا اس کی وجہ سے وہ اپنے ماننے والوں کی نظر میں عام لادینی فلسفیوں کی نسبت بہت بلند مقام پر فائز ہو گئے اور جلد ہی عام دانشمندی کی علامت سے بالاتر عزت و احترام کے اس مقام کو پا لیا جو مذاہب عالم میں خدا یا دیوتاؤں کیلئے خاص ہے۔
    یہاں ہم صرف چند سالوں کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ بدھ مت پر الحاد کا منحوس سایہ پڑنے میں صدیاں لگ گئیں۔ اسی طرح حضرت بدھؑ کو خدا کا نام دیئے بغیر خدا کا مقام دینے میں بھی اُن کے پیروکاروں کو صدیاں لگی ہوں گی۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے حضرت بدھؑ کے ماننے والوں میں رفتہ رفتہ ایسی تبدیلی آتی گئی جس کے نتیجہ میں وہ ایمان باللہ سے آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے گئے اور بالآخر خدا کے وجود کا ہی انکار کر بیٹھے۔ اور یہ محض ایک اندازہ نہیں بلکہ بدھ مت کے بغور مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ حضرت بدھؑ موحّد تھے اور انہوں نے شرک کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ تاثر مخالفین کی انتہائی کوشش کے باوجود پہلی تین صدیوں تک بڑی شان و شوکت کے ساتھ قائم رہا۔
    اب ہم قاری کی توجہ اس دور کی طرف مبذول کراتے ہیں جب عظیم بادشاہ اشوکا نے سلطنت کے وسیع و عریض خطہ پر، جو ہندوستان سے افغانستان تک پھیلا ہوا تھا، حکومت کی۔ اشوکا کو حضرت بدھؑ کی تعلیم اورطرز ِ زندگی کے بارہ میں مستند حیثیت حاصل ہے اور اس نے حضرت بدھؑ کو خدا کے ایک ایسے نبی کے طور پر پیش کیا جن کی تعلیم وحی ٔالٰہی پر مبنی تھی۔ چنانچہ انہوں نے دنیا کو وہی تعلیم دی جس کی ذمہ داری خداتعالیٰ کی طرف سے ان کو سونپی گئی تھی۔ اشوکا کے اس مسلک کے نقوش تاریخ کی الواح پر آج بھی کندہ ہیں۔
    ترکِ دنیا یا فرار
    ترک دنیا اور دنیوی علائق سے کنارہ کشی کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بدھ مت کے ماننے والوں کے نزدیک یہی وہ آخری
    ذرائع ہیں جو دکھ درد سے آزادی اور مکمل نجات دلاتے ہیں۔ روز مرہ کی خواہشات کے معاملہ میں روح اور زندگی کی باہمی کشمکش کو ایک زاہد و عابد ہی سمجھ سکتا ہے۔ غیر معمولی صبر اور مصمّم ارادہ کے بغیر یہ مہم ناقابل تسخیر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بدھ مت کے ماننے والوں کے نزدیک اسی میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ مادی دنیا سے مکمل کنارہ کشی اور دنیوی لذّات سےاجتناب ہی نِروان اور ابدی نجات کا واحد راستہ ہے۔ اسی لئے حضرت بدھ ؑ کے پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ درحقیقت اپنے جذبات کی نفی ہی کامل سچائی ہے۔ کیونکہ طاقت اور دولت کی ہوس حتیٰ کہ دوسروں سے بے لوث محبت میں ناکامی، روحانی اذیت اور احساسِ محرومی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی طرح نفرت کا احساس ذہنی سکون کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ بدھ مت کے نزدیک ایسے تمام جذبات انسان کی روحانی قوتوں کو کمزور کردیتے ہیں۔ اس بات کی اہمیت اس سے بھی ظاہر ہے کہ چونکہ انسان کی فطرت تبدیل نہیںکی جاسکتی اور نہ ہی اس کی ھل من مزید کی خواہش ختم ہو سکتی ہے لہٰذا کامل اطمینان مادی دنیا سے تعلق توڑے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔
    اس طرح حضرت بدھ ؑ کے ماننے والوں کیلئے ترک دنیا کے لمبے سفر کا آغاز ہوتا ہے جو بالآخر نجات پر منتج ہوتا ہے۔ انہیں آرام دہ زندگی کیلئے درکار تمام لذّات کو چھوڑنا پڑتا ہے اور حواسِخمسہ کے خلاف ایک مستقل جدوجہد کرنا ہوتی ہے۔ یعنی قوت بصارت، سماعت، ذائقہ، شامّہ اور لامسہ غرضیکہ ان تمام احساسات کی نفی ضروری ہے جو انسان کو کسی نہ کسی طرح بے چینی میں مبتلا کر دیا کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان حالات ہی سے بچا جائے جن کی وجہ سے انسان مصیبت میں مبتلا ہوتا اور مادی خواہشات کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ الغرض مادی خواہشات کی نفی سے امن اور سکون کے حصول کیلئے بدھ مت کا یہ تصور دراصل فرار ہی کا دوسرا نام ہے۔ بالفاظ دیگر اگر زندگی دو بھر ہے تو موت ہی اس کا واحد حل ہے۔
    وہ اپنے گھٹیا جذبات کو روح کے تابع کرنے کی جدوجہد کی بجائے روح کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زندگی کی اس کشمکش سے فرار کا راستہ اختیار کرلے۔ ان کے نزدیک چونکہ انانیت کو تسکین دینے والا ہر احساس گھٹیا، سفلی، محض مادی اور رذیل ہوا کرتا ہے اس لئے انجام کار ـ’انا‘ کے اعلیٰ ترین مفاد کی خاطر اسے قربان کردینا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرار کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا سکون زندگی کی نفی کے مترادف ہوگا۔
    سکون دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ موت کو بھی سکون کا نام دیا جا سکتا ہے۔ موت اور سکون میں فرق کرنا کوئی آسان نہیں۔ مثلاً شکست سے سمجھوتہ اور بے عزتی پر راضی رہنا ہمارے اس نقطۂنگاہ کی وضاحت کرتا ہے۔ فتح کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا اطمینان اور شکست کے بعد امن بظاہر ایک سے لگتے ہیں لیکن دراصل ان میں بُعدالمشرقین ہے۔ اگر ایک زندگی ہے تو دوسرا موت۔ باہمی اختلافات اور تضادات کی وجہ سے مذاہب کی پہچان اور ان میں امتیاز بعض اوقات مشکل ہو جاتاہے۔ بظاہر ہر مذہب ایک اطمینان بخش انجام کی طرف رغبت دلاتا ہے تا ہم بعض ایسے ہیں جو آرام سے موت کے آگے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جبکہ بعض کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی عظیم الشان مقصد کیلئے اپنی جان کی قربانی بھی پیش کر سکیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو بدی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں اوراخلاقیات سے نبردآزما تمام چیلنجوں کا نہایت دلیری سے مقابلہ کر کے انہیں ہر قیمت پر شکست دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس طرح حاصل ہونے والا روحانی سکون ہی حقیقی نروان کہلا سکتا ہے۔
    بدھ مت جیسے زوال پذیر مذاہب اپنے ماننے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ فرار کے ذریعہ سکون کی پناہ گاہ تلاش کریں۔ وہ انہیں تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے فطری احساسات کو انگیخت کرنے والے ہر قسم کے لالچ اور تحریص سے بچنے کی کوشش کریں۔ بدھ مت کا پیروکار اپنے من کے حصار میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس حالت کو مبہم سے الفاظ میں خلا سے تعبیر کیا ہے جبکہ بعض اس کیفیت کو دائمی اور روحانی قرار دیتے ہیں۔ کیا اس سے ہم یہ سمجھیں کہ دونوں قسم کے خیالات کے حامل لوگ ایک ہی خدا کی بات کر رہے ہیں؟ اگرچہ اس بارہ میںبھی اختلاف ہے۔ اکثر کے نزدیک اس کیفیت کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس میں سے گزر چکے ہوں اور صاحب تجربہ ہوں۔ اگریہ کیفیت بالآخرخدا کی طرف نہیںلے جاتی،جب کہ بہت سے بدھ علماء خداتعالیٰ کے وجود کے ہی منکر ہیں تو پھر اس کیفیت کی صرف یہی معقول تعریف ٹھہرتی ہے کہ ایسا خلا مکمل تباہی اور کامل موت کے مترادف ہے۔
    الغرض تمام فطری خواہشات کو، جن کاتعلق حواس خمسہ سے ہے اور جو زندگی کا حصہ ہیں، مکمل طور پر رد کر دیا جائے تا کہ کامل اطمینان یا نروان حاصل ہو۔ یقینا سب پیروکار اس مقصد کو بیک وقت حاصل نہیں کر سکتے لیکن تمام سچے پیروکاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کوشش کرتے چلے جائیں حتیٰ کہ رفتہ رفتہ قدم بہ قدم وہ اپنی ذات کی کامل نفی کے مقام تک پہنچ جائیں۔
    اس مضمون کی مزید تفہیم کے لئے مناسب ہو گا کہ ہم اس موقع پر ایک نہایت موزوں واقعہ کا ذکر کریں۔ کشمیر میں ایک بھکاری تھا جو کسی حد تک صوفی بھی تھا۔ وہ اپنی محدود ضروریات کے سوا اور کچھ نہیں مانگتا تھا اور اکثر گہری سوچ میں گم رہتا جیسے وہ اپنے اندر کسی چیز کی تلاش میں ہو۔ ایک دفعہ ایک عارف نے وہاں سے گزرتے ہوئے اسے خوشی سے ناچتے اور وجد میں رقص کرتے دیکھا۔ اس عارف نے پوچھا: ’’بابا! بڑے خوش نظر آ رہے ہو، تم پہلے والے بھکاری تو نہیں لگتے۔ کوئی خزانہ وغیرہ تو نہیں مل گیا تمہیں؟‘‘
    ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ مجھے ایک بیش بہا خزانہ ملا ہے۔ جب کسی کی ساری خواہشات پوری ہو جائیں تو وہ خوش کیوں نہ ہو؟‘‘ بھکاری نے جواب دیا۔
    یہ سن کر عارف نے کہا ’’خود کو دیکھا بھی ہے تم نے؟ چیتھڑوں میں پھر رہے ہو اور تمہارا سارا جسم مٹی سے اٹا پڑا ہے۔ پھر بھی تم کہہ رہے ہو کہ تمہاری ساری تمنائیں پوری ہو گئی ہیں؟‘‘
    بھکاری نے کمال بے اعتنائی سے جواب دیا: ’’بات یہ ہے برخوردار، کہ انسان کی ساری خواہشیں پوری ہونے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ اس کی کوئی خواہش ہی نہ رہے۔ میری خوشی اور وجد کا بھی یہی راز ہے۔ اب تم یہاں سے چلے جاؤ اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔‘‘
    یہ جواب سن کرعارف دم بخود ہو کر رہ گیا۔ لیکن اگر اس پر دوبارہ غور کیا جائے تو لامحالہ محسوس ہو گا کہ بھکاری کا جواب جتنا عمدہ تھا اتنا ہی مہمل بھی تھا۔ اس کی محدود ذات سے ہٹ کر دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ارد گرد کا ماحول اسی طرح خرابیوں اور دکھ درد سے بھرا پڑا تھا۔ وہی ظلم وستم، وہی استبداد اور مطلقالعنانی تھی اور پھر بھکاری کو بھی زندہ رہنے کیلئے کچھ نہ کچھ تو بہرحال درکار تھا۔ حسبِ معمول غذا پانی اورہوا اس کے لئے ناگزیر تھے۔ بالفاظ دیگر انسان خواہشات سے نجات حاصل کر بھی لے تو اس کے لئے ضروریات سے نجات بہرحال ممکن نہیں۔
    جو تبدیلی بھی ہوئی وہ بھکاری کی ذات سے متعلق تھی۔ لیکن کسے معلوم کہ تبدیلی مستقل تھی یا محض عارضی؟ ہو سکتا ہے کہ سخت سرد رات میں اپنے ماحول کو گرم رکھنے کیلئے اس نے بھی ایک انگیٹھی، کچھ کپڑوں اور سر چھپانے کیلئے جگہ کی ضرورت محسوس کی ہو، بیماری کی حالت میں کسی معالج کی خواہش کی ہو اور اس کے جلد پہنچنے کا منتظر بھی رہا ہو۔ محض ارادہ سے، خواہ کتنا ہی مصمم کیوں نہ ہو، وہ کس طرح زندگی کے تلخ حقائق پر قابو پا سکے گا؟ شاید ایک بدھ بھکشو ہی اس کا جواب جانتا ہو۔ اس سارے عمل میں خالی قناعت پسندی کے ذہنی احساس کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ ترک دنیا کی کیفیت درحقیقت کامل بے بسی کا نتیجہ تھی جسے چاہے سکون کا نام دیں یا موت کا، اسے حقیقی نِروان بہرحال نہیں کہا جا سکتا۔
    ہندوستان کے دو بڑے مذاہب یعنی ہندومت اور بدھ مت اس نظریہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو گئے کہ سکون قلب کا حصول ضروریات زندگی کو مسترد کر کے ہی ممکن ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نظریہ زندہ رہنے کی جدوجہد اور بقائے اصلح سے متصادم ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب ہارمان کر ناکامی کو قبول کرنا ہے۔
    یہاں ہندومت اور بدھ مت کے بانیوں کی تعلیم زیر بحث نہیں ہے۔ فقط ان کے ہزاروں سال سے زوال پذیر فلسفوں کے نتائج کو پرکھنا مقصود ہے۔ یہ دونوں مذاہب اپنے الہامی منبع سے بہت دور جا چکے ہیں۔ درحقیقت انہوں نے وہی راستہ اختیار کر لیا ہے جو دنیا کے دیگر بڑے بڑے مذاہب کے صوفیوں اور عارفوں نے کیا۔ جہاں تک مؤخر الذکر طبقہ کا تعلق ہے تو وہ توحید سے اپنا تعلق توڑے بغیر الہامی مذہب کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے روحانی تجربات سے گزرتے ہیں جن کا تعلق الہام کی بجائے وجدان سے ہوتا ہے۔
    جہاںتک ہندومت اور بدھ مت میں یوگا فلسفہ کا تعلق ہے دونوں مذاہب اپنی اپنی روایتی تعلیم سے دور چلے گئے ہیں یہاں تک کہ ان میں بنیادی تعلیم کا نشان تک نہیں ملتا۔ حضرت بدھؑ کی روشن خیالی کا ذریعہ تو الہام تھا لیکن بعد کے زمانہ میں وجدان، غور و فکر اور مراقبہ نے الہام کی جگہ لے لی۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اوائل میںبدھ مت کی تعلیمات ہندومت کی تعلیمات سے بالکل مختلف تھیں لیکن بعد میں یو گا کی فلاسفی اور عملی طریق میں دونوں مذاہب ایک ہو گئے۔ حیرت کی بات ہے کہ یوگا کی تعلیمات کا ذکر پہلی دفعہ مزعومہ مذہبی دستاویز تنتراس (Tantras) میں ملتا ہے جو حضرت بدھؑ کے پانچ سو سال بعد مرتّب ہوئی۔ یہ دستاویزات صرف اونچے درجہ کے مذہبی رہنماؤں کیلئے مخصوص تھیں اور عام لوگوں سے سخت قسم کی رازداری میں رکھی جاتی تھیں۔ اس راز کو مزیدچھپانے کیلئے ان دستاویزات میں ایسی پیچیدہ زبان اور اصطلاحات استعمال کی گئی تھیں جو عام لوگوں کی سمجھ سے بالا تھیں۔ کافی عرصہ بعد جب تنتراس تک محققین کی رسائی ہوئی تو وہ اس کا متن دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ یہ مزعومہ مقدس دستاویزات نہایت گندی اور غیر اخلاقی داستانوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ان میںبھوت پریت اور شیطانی وجودوں کا ذکر ملتا ہے۔ علاوہ ازیں ان میں نہایت فحش زبان میں شہوات اور جنسی تعلقات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے جس سے ایک شریف انسان کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ اس لحاظ سے تنتراس میں پائی جانے والی یوگا کی تعلیم کا بدھ کے پاک کلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
    عین ممکن ہے کہ عفریتوں اور شہوات کا ذکر محض علامت کے طور پر ہو۔ موجودہ زمانہ کے پنڈتوں میں سے شاید کوئی بھی اس پیچیدہ اور خفیہ زبان کو سمجھ نہ سکے۔ غالباً دوہزار سال پہلے بدھ مت کے ان مذہبی پیشواؤں نے ان پیچیدہ اصطلاحات کو ایجاد کیا اور وہی ان کے معانی سے واقف تھے۔ لیکن ان کو گزرے ہوئے مدت ہو چکی اور تنتراس کازمانہ بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ تاہم تنتراس کی پیچیدہ زبان کے باوجود ’’یوگا‘‘آج بھی زندہ ہے اور ایسے بہت سے ماہرین اب بھی موجود ہیں جو تنتراس میں مذکور ’’یوگا‘‘ کی اس پوشیدہ سائنس کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
    ہندومت اور بدھ مت میں پائے جانے والے یوگا کے تصور اور اس پر عملدرآمد کے طریق میں واضح تفریق کرنا مشکل کام ہے۔ ان میں چھوٹے چھوٹے اختلافات محض اصطلاحات کی حد تک ہیں۔ خواہ ہم انہیں ہندو سادھو کہیں یا بدھ بھکشو، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں خدا کی خاطر رہبانیت یا ترکِ دنیا کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس مفہوم اور تصور کو کسی بھی نام سے پکاریں ان کے روحانی تشخص پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جو کچھ بھی انہیں حاصل ہوا اور جو بھی روشن خیالی ان کے حصہ میں آئی ان میں سے کوئی بھی اپنے موضوعی تجربات کی بنا پر دنیا کا نقشہ تبدیل نہ کر سکا۔ حضرت بدھؑ اور حضرت کرشن ؑ کو اس طبقہ میں شمار کرنا ان کی توہین ہے۔ وہ تو دراصل خدا کے دیگر انبیاء کی طرح انقلاب برپا کرنے والے تھے جن کے روحانی اور اخلاقی انقلاب کے سوتے الہام کے سرچشمہ سے پھوٹے۔ انہوں نے جھوٹ اور برائی کے خلاف جہاد کیا اور اپنی زندگی میں انتھک جدوجہد کا وہ علم بلند رکھا جس کی بنیاد محض موضوعی نہیں تھی۔ ظلمت کے خلاف ان کی یہ جدوجہد اعلانیہ، معروضی اور مسلسل جنگ تھی۔ بقائے اصلح کی خاطر ایک عظیم جدوجہد کا آغاز ہوا۔ حضرت بدھ ؑ اور حضرت کرشن ؑ کے حالاتِ زندگی سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ سینہسپر ہو جانے والے لوگ تھے نہ کہ موت سے بھاگنے والے۔ ان کا ایمان وحی ٔالٰہی کا نتیجہ تھا۔ ان کی تعلیمات نے ان کے وجدان کو جنم دیا لیکن وجدان ان کی تعلیمات کا سرچشمہ نہیں تھا۔
    حضرت بدھ ؑ کے عصرِ حاضرکے بیشتر پیرو سمجھتے ہیں کہ ان کا مذہب محض حکمت یا بدھی ہے جو حضرت بدھؑ نے مراقبہ کے نتیجہ میں حاصل کی۔ ان کا فلسفہ اس بات کا دعویدار ہے کہ یہ سب کچھ حضرت بدھؑ کے وجدان کا نتیجہ تھا۔
    وہ لوگ جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں ان کے نزدیک عرفان ایک نفسیاتی تجربہ ہے جس میں انسان اکثر روحانی سرور محسوس کرتا ہے۔ اس روحانی کیفیت کے دوران صاحب تجربہ انتہائی سکون محسوس کرتا ہے۔ جب یہ وجدانی کیفیت جاتی رہتی ہے تو یو ں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اس نے زندگی کا وہ مقصد پا لیا ہو جس کے حصول کے لئے بنی نوع انسان اتنی جدوجہد میں مصروف ہے۔
    وہ اس نفسیاتی تجربہ کو روحانی نور کے طور پر باعث فخر محسوس کرتے اور مادیت کی غلامی سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جس طرح یہ تجربہ اپنی بہترین شکل میں بھی نہ تو معروضی حقائق کو بدل سکتا ہے اور نہ ہی برے لوگوں کی اصلاح کر سکتا ہے، اسی طرح یہ نہ تو غیرمعلوم حقائق کو معلوم حقائق میں بدل سکتا ہے اور نہ ہی اندھیرے کو روشنی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ وجدان میں کبھی بھی یہ صلاحیت نہیں رہی کہ وہ ماضی میں مدفون واقعات سے پردہ اٹھا سکے یا مستقبل میں جھانک کر کوئی پیشگوئی کر سکے۔
    اگر ذات کی مکمل نفی کا فلسفہ اپنے منطقی انجام کو پہنچتاہے تو یقینا نسلِ انسانی کے خاتمہ پر منتج ہو گا۔ الہامی نور سے منور حضرت بدھؑ کی حکمت اور دانش کو ایک مبہم وجدان سے تعبیر کرنا، حضرت بدھؑ کی عزت افزائی نہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ وجدان وہ روحانی آبِ حیات نہیں تھا جسے پی کر انہوں نے حیاتِ جاوداں پائی۔
    حوالہ جات
    I . LE BON, G., GUIMET. E. (1992) Mirages Indiens: de Ceylan au Nepal, 1876-1886. Chantal Edel et R. Sctrick, Paris, p.241
    2. LE BON, G., GUIMET, E. (1992) Mirages Indiens:de Ceylan au Nepal, 1876-1886. Chantal Edel et R. Sctrick, Paris, p.240
    3. LILLIE, A. (1909) India in Primitive Christianity. Kegan Paul, Trench, Trubner & Co, London, p.85
    4. LILLIE, A. (1909) India in Primitive Christianity. Kegan Paul, Trench, Trubner & Co, London, p.86
    5. NORMAN, K.R., (1992) The Group of Discourses (Sutta-Nipata). Vol II. The Pali Text-Society, Oxford, pp.112-129
    6. NORMAN, K.R., (1992) The Group of Discourses (Sutta-Nipata). Vol II. The Pali Text Society, Oxford, p.129
    7. MAX MULLER, F. (1881) The Sacred Books of the East. Vol. XI, Clarendon Press, Oxford, p.186
    8. MAX MULLER, F. (1992) Dialogues of The Buddha I. The Pali Text Society, Oxford, p.299
    9. MAX MULLER, F. (1881) The Sacred Books of the East. Vol. XI, Clarendon Press, Oxford, p. 186

    کنفیوشن ازم
    کنفیوشن ازم گہری حکمت و دانائی کاخزانہ ہے۔ اس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عقل، الہام اور علم انسان کی حق کی طرف رہنمائی کرتے وقت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے چینی خداتعالیٰ کی طرف سے آنے والے دنیا کے دیگر مذاہب کی طرح کنفیوشن ازم کو بھی ایک مذہب مانتے ہیں تا ہم ان میں سے بعض اسے محض ایک فلسفہ خیال کرتے ہیں۔ مثلاً جاپان میں کنفیوشن ازم کی کوئی ایک حیثیت نہیں ہے۔ تا ؤ ازم، شنٹو ازم اور بدھ ازم کے پیروکار کنفیوشن ازم پر بھی ایک ایسے فلسفہ کے طور پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کے اپنے مذاہب سے ہم آہنگ ہے۔ یہ سب اِزم آپس میں یوں خلط ملط نظر آتے ہیں جس کی مثال دنیا کے دیگر مذاہب میں نہیں ملتی۔
    جب ہم کنفیوشن ازم کا محض ایک فلسفہ کے طور پر ذکرکرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ہستی ٔ باری تعالیٰ کا سوال خاص طور پر ابھرتا ہے۔ حضرت کنفیوشس ؑ (478-550ق۔ م)کے کچھ پیروکار آج بھی خداتعالیٰ کے وجود پر واضح ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ارواح کے وجود اور ان کی طاقتوں کے بھی قائل ہیں اور بعض تو اپنے آباؤ اجداد کی پرستش بھی کرتے ہیں۔ تا ہم ہمارے نزدیک کنفیوشن ازم کے مروجہ تصور کا ازسر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔
    جب اس ابتدائی تحریری مواد کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس پر کنفیوشن ازم کی بنیاد ہے تو اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہ مذہب بھی ہستی ٔ باری تعالیٰ کے مسلّمہ عقیدہ پر قائم تھا اور یہ کہ اس کے فلسفہ اور دانائی کا بڑا حصہ دانش مند لوگوں کی سوچ کی بجائے الہام الٰہی کا مرہون منت ہے۔
    اس بات کا اندازہ کہ یہ مذہب اپنے آغاز سے کس قدر دور جا چکا ہے، ارواح پرستی کے اس رواج سے لگایا جا سکتا ہے جو موجودہ دور کے کنفیوشس کے پیروکاروں میں عام ہے حالانکہ حضرت کنفیوشس ؑکی ابتدائی تعلیمات میں اس قسم کے توہماتی اعتقادات اور رسوم کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ چنانچہ دیگر مذاہب کی طرح کنفیوشن ازم بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اصل ماخذ سے دور ہوتا چلا گیا اور توحید پر ایمان کی آڑ میں اس کے پیروکاروں میں بہت سے توہمات اور غلط رسم و رواج راہ پا گئے۔ افسوس ! یہ ایک ایسا المیہ ہے جو بار بار رونما ہوتا رہتا ہے۔
    جہاں تک آباء پرستی کاتعلق ہے اگر چہ اس مذہب کے پیروکار اپنے بزرگوں کو دیوتا یا اولیاء کا مقام تو نہیں دیتے تا ہم بہت سے لوگ ان سے حاجت براری کیلئے دعائیں ضرور مانگا کرتے ہیں۔ لیکن جاپان میں اس قسم کی پرستش سے وہ مطلب نہیں لیا جاتا جو دیگر مقامات پر لیا جاتا ہے۔ یہ مرنے والے کی یاد اور اس کا احترام اور اس سے وفاداری کا ایک قسم کا اظہار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی مردوں کی ارواح سے نہیں مانگا کرتا اور نہ ہی وہ ارواح کو بااختیار دیوتاؤں کا درجہ دیتا ہے۔ قوانین قدرت میں کامل توازن اور ہم آہنگی اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کو لازماً ایک واحد اور برتر ہستی نے تخلیق کیا ہے اور اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملتاکہ اس کی تخلیق میں دو یا تین تخلیقی قوتیں کارفرما ہوں۔ اس سے یہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی ایسی ہستی پر ایمان لانے کی گہری اور فطری خواہش لازماً خالق اور مخلوق کے درمیان ایک واسطہ قائم کرنے کی غرض سے رکھی گئی ہو گی۔ اور اگر یہ واسطہ اور ربط موجود نہ ہو اور قائم نہ ہو سکے تو الہام الٰہی کی عدم موجودگی سے ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے جسے اس بنیادی خواہش کے زیر اثر کسی نہ کسی طرح پُر کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ خواہش اپنے لئے خود ہی کوئی خدا تراش لیتی ہے خواہ وہ ارواح ہوں یا مافوق الفطرت غیر مادی وجود، بھوت پریت ہوں یا دوسرے سماوی وجود۔ چنانچہ توہم پرستی کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔ توہم پرستوں کے ہاں پائے جانے و الے دیوتاؤں کے خیالی پیکر بھوتوں کے ان ہیولوں کی مانند ہیں جو روشنی کی عدم موجودگی میں جنم لیا کرتے ہیں۔
    اس انحطاط پذیر رجحان کے نتیجہ میں مذہبی عقائد سے آہستہ آہستہ خدا کا تصور ہی غائب ہو جاتا ہے۔ دراصل خداتعالیٰ پر ایمان انسان کی اصلاح نفس اور ایک محاسبہ کا متقاضی ہے۔ جب کہ ارواح،بھوت پریت اور دیگر خیالی مخلوق کسی قسم کے مذہبی ضابطۂ اخلاق کی پابندی کرنے کا تقاضانہیں کرتے۔
    کنفیوشن ازم کی مسلّمہ تحریرات کے گہرے مطالعہ سے یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ بنیادی طور پر دراصل یہ کوئی محض انسانی فلسفہ نہیں تھا بلکہ کائنات کو چلانے والے زندہ جاوید خدا کا تصور ہی اس کی تعلیمات کا سرچشمہ تھا۔ آسمان اسی خدا کی ایک تجلّی ہے اور بعض اوقات اسی خدا کو آسمان قرار دے دیا جاتا ہے۔ کنفیوشن ازم میں حقیقی علم سے مراد خداتعالیٰ کی صفات کا عرفان اور ان صفات کا اپنی ذات میں اجرا اور قیام ہے۔ یہ امر انسان کو ابدی سچائی کے قریب تر کر دیتا ہے اور علم اس کے فائدہ کیلئے وسیلہ کا کام دیتا ہے۔
    کنفیوشن ازم اور تاؤازم کی تاریخ کا آغاز فُوشیFu Hsi 3322)ق۔م( کے زمانہ سے ہوتا ہے جو ایک بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم عالم بھی تھا۔ ایک مرتبہ اس نے رؤیا میں ایک گھوڑا نما جانور Yellow River سے نمودار ہوتے دیکھا جس کی پیٹھ پر ایک خاکہ بنا ہوا تھا۔ چینی تاریخ میں کسی نبی کا رؤیا کے ذریعہ علم حاصل کرنے کا یہ منفرد واقعہ نہیں ہے۔
    یُو Yu ( 2140ق۔ م) نامی نبی کا بھی الہام الٰہی سے مستفیض ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ فُوشی نے رؤیا ہی میں اس خاکہ کا مطالعہ کیا جو تین نر اور تین مادہ خطوط کے آٹھ سیٹ پر مشتمل تھا۔ ان سہ پہلو اشکال کے اوپر اور نیچے کے جوڑوں کی صورت میں ملاپ سے چھ کونوں والی چونسٹھ شکلیں وجود میں آئیں۔ ہر شکل کی اہمیت اس کے نام سے ظاہر کی گئی اور اس کا تعلق نر اور مادہ خطوط کی ایک خاص ترتیب سے تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ایک دانشمند کنگ وان King Wan ) 1143ق۔ م( نے وضاحت کی۔ اس کے بیٹے چن کنگChen King 1120)ق۔م( نے ان تشریحات میں اضافے کئے اور بعد میں کنفیوشس نے ضمیموں کی صورت میں اس کی مزید تشریح کی۔ یوںفُوشی کی رؤیا Book of Changes میں I Ching یا Yi King کے نام سے متعارف ہوئی۔
    آٹھ مثلثوں کے اس نظریہ کے قواعد چین میں ایسے علوم و فنون کی نشو و نما پر اثرانداز ہوئے جن کا تعلق انسانی زندگی کے جملہ شعبوں سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین میں اس فلسفہ نے زراعت، صنعت، طب، معیشت، سیاست اور کئی دوسرے شعبہ ہائے علم کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک چینی دانشور Chuo Chih Huaاپنی کتاب Acupuncture & Science1 میں لکھتا ہے کہ آٹھ مثلثوں کے نظریہ کا چینی طریق علاج کے ساتھ وہی رشتہ ہے جو ریاضی کا یورپی سائنس کے ساتھ۔ History of Medicine of China2 کے مطابق فُوشی نبی، جس کا آٹھ مثلثوں کا نظریہ الہام پر مبنی تھا،نے علم الادویہ اور آکوپنکچر بھی دریافت کیا تا ہم بعض کے نزدیک اس علم کا ارتقا بعد ازاں ایک عالم King Huang Tiکے ذریعہ ہوا جس نے I Ching سے استفادہ کیا تھا۔
    ماسٹر سن (Master Sun)کی کتاب Art of Warجو I Chingکو بھی استعمال میں لاتی ہے فوجیوں میں بہت مقبول ہے۔ فوجی لوگ ہر دور میں اسے اہمیت دیتے رہے ہیں اور چھ مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ چینی منطقیوں اور مختلف قدیم روایتی مکاتبِ فکر نے بھی اپنے نظریات کی بنیاد Book of Changes میں پیش کر دہ قوانین پر ہی رکھی ہے۔ Book of Changesکسی حد تک مغربی دنیا پر بھی اثرانداز ہوئی ہے جہاں اسے مستقبل کا حال بتانے کیلئے ایک طرح کے جوتشی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
    کنفیوشن ازم کے مطابق حق کی شناخت کیلئے باقاعدہ درسی تعلیم ضروری نہیں۔ خدا خود حق ہے اس لئے وہ جس چیز کو بھی پیدا کرتا ہے اسے اس صفت سے نوازتا ہے جو اس کی اپنی پہچان کا مرکزی نقطہ ہے۔ چنانچہ کنفیوشن ازم میں انسانی فطرت اور ابدی سچائی ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔
    من شی عس Mencius 289-372) ق۔م( ایک چینی فلسفی، مفکر اور ماہر تعلیم تھا۔ و ہ ایک مذہبی آدمی بھی تھا اور کنفیوشس کے پیروکاروں میں ایک نمایاں شخصیت کا حامل تھا۔ اس نے چینی فلسفہ پر بھی بہت گہرا اثر چھوڑا یہاں تک کہ بعض اسے نبی خیال کرتے ہیں۔ ابدی سچائی تک پہنچنے کے رستہ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک موقع پر اس نے کہا:
    احسان، نیکی، حسن معاشرت اور علم انسان میں باہر سے داخل نہیں ہوتے۔ لازماً یہ خصوصیات ہمارے اندر پہلے سے موجود ہیں اور اس سے اختلاف محض عدم فکر کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: ’’ڈھونڈو تو پا لو گے۔ غفلت سے کام لو گے تو کھو دو گے‘‘۔ 3
    یہاں من شی عس،جس خارجی ذریعہ کا انکار کر رہا ہے اس سے مراد الہام الٰہی نہیں ہے بلکہ وہ ذکر اس بات کا کر رہا ہے کہ ہماری اخلاقی خوبیاں جو ہماری ہستی کا ایک لازمی عنصر ہیں، ہمارے اندر باہر سے نہیں آتیں۔ اس کا خیال ہے کہ ہمارا حسّی تجربہ بذاتہٖ ہمیں کوئی نیا پیغام نہیں دیتا بلکہ انسان اپنے حسّی تجربہ کے آئینہ میں اپنی فطرت کے خارجی نقوش کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ درحقیقت وہ معروضیت کی افادیت سے انکاری نہیں۔ وہ محض اس کی اس صلاحیت سے انکار کرتا ہے کہ صرف وہی انسان کی حق کی طرف رہنمائی کر نے کیلئے کافی ہے۔ مزید برآں وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ معروضی تجربہ فطری سرچشمہ کی طرف ہماری رہنمائی میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ بایں ہمہ من شی عس اس بات کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ فطرت یعنی کل کائنات اپنی ذات میں ابدی نہیں بلکہ ہمارے لئے آسمان نے تخلیق کی ہے جو باشعور ہستی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے من شی عس نے کہا :
    ‏’’Book of Poetry میں مذکورہے کہ ’آسمان‘ نے بنی نوع انسان کو پیدائش کے ساتھ ہی مختلف خواص عطا کئے اور مخصوص قوانین کے ساتھ ان کا تعلق جوڑا۔ فطرت کے ان غیر متبدل قوانین پر سب کو عمل پیرا ہونا چاہئے اور اس قابل ستائش نیکی یا خیر کے ساتھ محبت کا تعلق پیدا کرنا چاہئے۔‘‘ 4
    من شی عس کے نزدیک آسمان سے مراد ایک ایسی باشعور ہستی ہے جسے ہم ’’خداتعالیٰ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس طرح لفظ ’’آسمان‘‘ کو خداتعالیٰ کے فعّال اور شعوری تخلیقی قوانین کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے۔
    ‏’’"Book of Poetry" میںاس کی وضاحت یوں درج ہے: ہمیشہ کوشش کرو کہ تمہیں خدائی احکام سے ہم آہنگ ہونے کی توفیق ملتی رہے۔ تمہیں بہت خوشی حاصل ہو گی۔‘‘ 5
    روایتی کنفیوشن ازم انسان کو ایک بے شعور کائنات کے ہاتھوں اتفاقی پیدائش کی بجائے خداتعالیٰ کی مخلوق قرار دیتا ہے۔ حضرت کنفیوشسؑ کے نزدیک اپنی ذات کے عرفان کا مقصد خدا سے تعلق قائم کرنا ہے اور جنت سے متعلق انسانی تصور کا انتہائی مقصد بھی یہی ہے۔ یہ عقیدہ کہ انسان کو خدائی صفات پر پیدا کیا گیا ہے، بڑی حد تک قرآنی تعلیم کے مطابق ہے۔ چنانچہ فرمایا:

    (الروم 31 : 30 )
    ترجمہ۔ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔
    کنفیوشس اس بات کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ اوّل تو انسان کو خدا کے اس عکس کے ادراک کی پوری کوشش کرنی چاہئے جو اس کی ذات میں پنہاں ہے اور پھر ان صفات کو اپنی ذات میں جاری کرنا چاہئے۔ اگر وہ یہ کوشش مخلصانہ طور پر نہیں کرتا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے کردار پر خداتعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھ سکے۔
    کنفیوشن ازم کے مطابق انسانی اعمال اور کردار اس کی نیکی، عظمت اور حسن معاشرت سے الگ آزادانہ حیثیت نہیں رکھتے۔ دونوںباہم گہرے طور پر مربوط ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے پتہ چلتا ہے۔
    ’’عظیم استاد(کنفیوشس ) نے کہا۔ جب انسان کافی علم تو حاصل کر لے لیکن اس کی نیکی اس علم کی متحمل نہ ہو تو جو کچھ وہ حاصل کر چکا ہے اسے ضائع کر دے گا۔ اسی طرح اگر اس کا علم تو وافر ہو اور وہ نیک بھی بہت ہو اور نیکی پر مضبوطی سے قائم بھی ہو لیکن وہ وقار کے ساتھ حکومت کے معاملات طے نہ کر سکے تو لوگوں کے دلوں سے اس کا احترام اٹھ جائے گا۔ اسی طرح اس کا علم بھی کافی ہوــ، وہ نیکی پر بھی مضبوطی سے قائم ہو اور امور حکومت کو بھی باوقار طریق سے بجالاتا ہو لیکن اگر عوام الناس کو قاعدے قانون سے ہٹ کر متحرک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کمال تام حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘ 6
    یہ امر بھی واضح ہے کہ کنفیوشس کا اس بات پر پختہ ایمان تھا کہ انسان پر خالق کا بہت گہرا اثر ہوا کرتا ہے اور یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ یہ بات مندرجہ ذیل روایت سے واضح ہوجاتی ہے۔
    ’’وانگ سن چیا (Wang Sun Chia) نے عظیم استاد کنفیوشس سے دریافت کیا کہ’’اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جنوب مغربی کونے کی بجائے بہتر ہے کہ بھٹی کی تعظیم کی جائے۔‘‘ استاد نے جو اب دیا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ وہ جو آسمان (خدا ) کی ناراضگی مول لے لیتاہے اس کا کوئی نہیں رہتا جس سے وہ مانگ سکے۔‘‘ 7
    خدا کے تخلیقی قوانین کی خلاف ورزی سے مراد انسان کا اپنی فطرت کے خلاف عمل ہے۔ انسانی فطرت کو خدا نے ایک ایسے آئینہ کے طور پر بنایا ہے جس میں اس کی اپنی ہی صفات منعکس ہوتی ہیں۔ جب انسان خدا سے منہ موڑ لیتا ہے تو اس کے بعد کوئی بھی باقی نہیں رہتا جس کی طرف وہ رجوع کر سکے۔
    مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کنفیوشن ازم کوئی انسانی فلسفہ نہیں ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک ایسی خالق اور قائم بالذات ہستی کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس کی تعظیم اور اطاعت فرض ہے۔ مزید برآں اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ اس ہستی کی تلاش اور اس کے احکام کی بجا آوری کے بغیر محض علم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
    علاوہ ازیں درج ذیل حوالوں سے ظاہر ہوتاہے کہ کنفیوشن ازم خدا (یا آسمان) کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے جو بنی نوع انسان کی بھلائی اور ترقی میں بھرپور دلچسپی رکھتی ہے۔ بنینوع انسان کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے انتخاب کے ذریعہ صداقت کو دنیا میں قائم کرتا ہے جو اس منصب کے اہل ہوں۔
    چینی بزرگوں کو قرآن یا بائیبل میں مذکور انبیاء کے برابر سمجھا جا سکتا ہے یعنی وہ لوگ جو خدا کے نمائندے یا پیامبر ہیں۔ اس مشابہت کا ذکر کنفیوشس سے منسوب درج ذیل بیان میں ملتا ہے:
    ‏K'wangمیں عظیم استاد کو خوف دامنگیرہوا تو انہوں نے فرمایا ’’کیا King Wan کی موت کے بعد حق کو پھیلانے کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپی گئی تھی؟ اگر آسمان سچائی کے اس مشن کی تباہی چاہتا تو میرے جیسے فانی کا اس مشن کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوتا۔ اب جبکہ آسمان کو اس مشن کی تباہی مقصود نہیں ہے تو K'wangاور اس کے باسی میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں‘‘۔8
    یہاںکنفیوشس کامل یقین سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غیر مبدّل فیصلے کے باعث یہ امر یقینی ہے کہ سچ بالآخر کامیاب ہو گا اور وہ خود تو اس الٰہی فیصلے کے محفوظ ہاتھوں میں محض ایک آلۂکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس سے براہ راست ہدایت یافتہ لوگ اپنے مشن یعنی حق کے قیام کی تکمیل کے بغیر تباہ کر دیئے جائیں خواہ وہ انتہائی طاقتور مخالفت کے مقابل پر تنہا ہی کیوں نہ کھڑے ہوں۔ بعینہٖ یہی تصویر بائیبل اور قرآن نے انبیاء کی پیش کی ہے۔ ایسے کاموں کے اہل وہی لوگ ہوا کرتے ہیں جو خدا کی صفات کو اپنانے میں سب پر سبقت لے جاتے ہیں۔
    کنفیوشس نے کہا: ’’Yaouایک فرمانروا کے طور پریقینا عظیم تھا۔ لیکن اصل عظمت آسمان یعنی خداتعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور صرف Yaouہی تھا جس نے اس سے اپنا تعلق استوار کیا۔ اس کی نیکی وسیع اور ہمہ گیر تھی جسے بیان کرنے کے لئے لوگوں کے پاس اس کے شایان شان الفاظ نہیں تھے۔‘‘ 9
    بالفاظ دیگر اس کی صفات نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ کچھ اس عمدگی سے اختیار کر لیا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
    ‏Changنے کہا: ـ’’کیا میں پوچھ سکتا ہوںکہ یہ ہوا کیسے کہ پہلے Yasuنے Shun کو آسمان یعنی خدا کی خدمت میں پیش کیا اور آسمان نے اسے قبول کیا اور پھر اس نے اسے لوگوں پر ظاہر کیا اور لوگوں نے اسے قبول کیا۔‘‘ 10
    یہ آیات اس بات کی خوب وضاحت کر دیتی ہیں کہ آسمان سے مراد یہ کائنات نہیں اور نہ ہی انسان کے اندر کا عالم صغیر مراد ہے بلکہ اس سے مراد وہ مدبر بالارادہ اور باشعور ہستی ہے جس کا دوسرا نام ’خدا‘ہے۔ جس طرح اللہ تعالی ابدال کو اس وقت منتخب فرماتاہے جب وہ ایک خاص معیار پر پورا اترتے ہیں انبیاء کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ بالکل اسی طریق پر کرتا ہے۔ اوپر پیش کئے گئے حوالہجات سے ہمارا یہ نقطۂ نظر بڑی عمدگی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ چینی بزرگوں کو انہی صفات کا حامل خیال کیا جاتا ہے جو بائیبل اور قرآن کریم میں مذکور انبیاء میں پائی جاتی تھیں۔
    کنفیوشس کی تحریرات کا تفصیلی مطالعہ اس بات کو مزید واضح کردیتا ہے کہ الہام نہ صرف زندگی کے حقیقی فلسفہ کے اظہار کاذریعہ تھا بلکہ روزمرہ کی زندگی میں انسانی اعمال کی صحیح سمت میں رہنمائی بھی اسی کی مرہون منت تھی۔ قبل ازیں فُوشی (Fu Hsi )کے کشف اور عملی صورت میں چینی تہذیب کے کئی شعبوں میں اس کے اثر کا ذکر کر چکے ہیں جو کئی ہزار سال تک قائم رہا۔ ذیل میں ہم کچھ اور مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ الہام نے ایک قوم کی مادی خوشحالی اور ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے:
    ’’.........جب بادشاہ کلام کرتا ہے تو اس کے کلمات احکام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں لیکن اگر وہ خاموش رہے تو وزراء کیلئے احکام حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں رہتی‘‘۔ بادشاہ نے اس موقع پر ایک تحریر لکھوائی اور ا نہیں مطلع کیا کہ چونکہ میرا فرض ہے کہ سلطنت کے اندر جو کچھ ہے اس کی حفاظت کروں اور مجھے اندیشہ تھا کہ میری نیکی میرے پیشروؤں کے برابر نہیں ہے اس لئے میںنے کلام نہیں کیا۔ جب میں عاجزانہ طور پر خاموشی سے صراط مستقیم پر غورکر رہا تھاتو میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا نے مجھے ایک اچھا مدد گار یا سلطانِ نصیر دیا ہے جو میری طرف سے کلام کرتا ہے۔ پھر اس نے تفصیلاً اس شخص کا حلیہ بیان کیا اور اس کا خاکہ تیار کروا کر ساری سلطنت میں اس کی تلاش شروع کروا دی۔ چنانچہ Foo-Yen میںYueنامی ایک معمار اس خاکے کے مشابہ پایا گیا۔ لہٰذا بادشاہ نے اس کار تبہ بڑھا کر اسے اپنا وزیر اعظم بنا لیا اور اپنے قرب سے نوازا اور یہ کہتے ہوئے اسے ذمہ داری سونپی: ’’بھلائی کے کاموں میں معاونت کیلئے صبح و شام اپنی تجاویز پیش کیا کرو....‘‘ 11
    ـاس اقتباس میں بتایا گیا ہے کہ بادشاہ کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ حکومت کو درپیش مشکلات پر کیسے یا کس کی مدد سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ کی طرف سے رویاء میں اس سوال کا جواب عطا کیا گیا۔
    پھر بادشاہ Wan جو ایک عظیم عالم بھی تھا،کے متعلق روایت ہے :
    خداتعالیٰ نے بادشاہ Wan سے فرمایا۔ ’’ان کی طرح مت بنو جو کچھ باتوں کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ نیز ان کی طرح بھی نہ بنو جو اپنی خواہشات کے غلام ہوں۔ چنانچہ وہ بڑی شان سے دوسروں کے بالمقابل نیکی کے معراج کو پہنچا۔MEIHکے لوگ نافرمان تھے....‘‘
    خداتعالیٰ نے بادشاہ Wan سے فرمایا: ’’میں تمہاری ذہانت سے بہت خوش ہوں۔ جس میں نیکی ہی نیکی ہے۔ جس کا نہ تو تم ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہو۔ جس میں نہ مبالغہ آمیزی ہے اور نہ ہی متلوّن مزاجی۔ جو ریا کاری اور تکلّفات سے پاک ہے اور خداتعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگین ہے۔‘‘
    خدا نے بادشاہ Wanسے کہا: ’’اپنے دشمنوں کے خلاف کمر کس لو اور Ts'ungکی فصیلوں پر حملہ کرنے کیلئے اپنے بھائیوں کی مدد سے اونچی سیڑھیاں اور حملہ کرنے والے انجن تیار کرو۔‘‘12
    مندرجہ بالا اقتباس سے اس طریق کار کا پتہ چلتا ہے جس کے ذریعہ خداتعالیٰ اپنے ان غلاموں کا انتخاب کرتا ہے جنہوں نے اس کے مشن کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے۔ چنانچہ جب خداتعالیٰ نے بادشاہ Wan کی ہدایت اور رہنمائی فرمائی تو اس نے ان ہدایات پر عمل کرنا شروع کردیا۔ اس طرح خداتعالیٰ کی بارگاہ میں اسے بلند مقام حاصل ہو گیا۔
    مذکورہ بالا اقتباس کی آخری آیات بائیبل میں مذکور حضرت داؤد ؑ کی یاد دلاتی ہیں جو نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ جس طرح حضرت داؤد ؑکو اپنے ان دشمنوں پر حملہ کی اجازت دی گئی تھی جو سچائی کو نیست و نابود کرنے کے خواہاں تھے اسی طرح بادشاہ Wanکو بھی اجازت دی گئی۔ تاریخِمذاہب کے مطالعہ سے Wan اور حضرت داؤد ؑ کے حالات میں پائی جانے والی اور بھی بہت سے مشابہتوں کا علم ہوتا ہے لیکن ہم یہاں اس طویل بحث میں نہیں پڑیں گے۔
    مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ چینی مذاہب اور فلسفوں میں الہام کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور اسے حصول حق کا ایک خاص ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ چینی روایات میں موجود بہت سی دوسری مثالوں سے یہ بات عیاں ہے کہ کنفیوشن ازم کو ایک ایسا فلسفہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو محض انسانی سوچ کا نتیجہ ہو اور خداتعالیٰ کے علیحدہ وجود کے تصور کے منافی ہو۔ اس کے برعکس خداتعالیٰ کا تصور اس مذہب کا لازمی جزو ہے اور جو علم بھی رؤیا اور کشوف کے ذریعہ حاصل ہوا اسے یقینی طور پر الہامِ الٰہی سمجھ کر قبول کیا گیا۔

    حوالہ جات
    1. CHOU, C.H. [year unknown] Acupuncture and Science. 1st ed. Shi-Wei Typographic Co., Ltd., Taiwan
    2. ZHENG, M.Q. , LIN, P.S. [year unknown] History of Medicine of China. Shang Wu Printing and Publishing House, Taiwan, pp.2-3
    3. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, p.862
    4. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, p. 863
    5. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, p. 544
    6. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, pp. 354-355
    7. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, pp. 152-153
    8. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, pp. 231,232
    9. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, p. 632
    10. LEGGE, J. (1985) The Four Books. The Great Learning, The Doctrine of the Mean, Confucian Analects and the Works of Mencius. 2nd ed, Culture Book Co., Taiwan, p. 793
    11. LEGGE, J. (1865) The Chinese Classics. Vol. III, Part I, The Shoo King. Trubner Co., London. pp. 248-252
    12. LEGGE, J. (1871) The Chinese Classics. The She King, Part III. Decade of King Wan Book I, Vol. IV, Part II, Trubner and Co., London. pp. 452-454

    تاؤ ازم
    عظیم درویش نبی فُوشی (Fu Hsi) کے مذہبی اور روحانی تجربات ہی تمام چینی مذاہب کا سرچشمہ ہیں۔ بعد میں آنے والے بڑے بڑے بزرگوں اور مفکروں نے ’فُوشی‘ کی ان تحریرات کا گہرا مطالعہ کیا اور چینی قوم کے سامنے نئے فلسفوں‘ علوم، مذہبی افکار اور اخلاقی تعلیمات کو پیش کیا۔ ان رہنماؤں میں بالخصوص کنگ وان (King Wan)، ان کے بیٹے Cheu Kungاور Lao-tzu کو چینی قوم ہر دور میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتی چلی آئی ہے۔ Lao tzu(600ق۔ م) جو کنفیوشس کے ہمعصر تھے، کے پیش کردہ طرز زندگی کو تائوازم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
    تاؤازم کے مطابق ابدی صداقت تاؤ نامی ایک ایسے وجود میں موجود ہے جو غیر مادیـ، مقدس اور روحانی صفات سے متّصف ہے۔ تاؤ کو ابدی اور دائمی نیکیوں کا پیکر کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ بعینہٖ یہی صفات اسلام اور دوسرے الہامی مذاہب میں خداتعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ تاؤ ازم انسان کو اس ابدی صداقت کی کامل اطاعت اور اس کا نمونہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ تاؤ دراصل ایک نمونہ ہے اور تاؤ ازم اس تک رسائی کا ذریعہ ہے۔
    خداتعالیٰ اور انسان کے تعلق کو قرآن کریم میں بھی اسی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    )البقرۃ 2 (139 :
    ترجمہ۔ اللہ کا رنگ پکڑو۔ اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
    اسلام میں خداتعالیٰ اپنی صفات کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اور مسلمانوں کیلئے ان صفات سے متّصف زندگی کو ہی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ Lao-tzuکا پیش کردہ ’تاؤ‘ کا تصور قرآن کریم میں مذکور صفاتِ الٰہیہ سے کافی مشابہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    ’’تاؤ اتنا عظیم ہے کہ وہ مشرق میں بھی ہے اور مغرب میں بھی۔ جملہ مخلوقات اس کی محتاج ہیں۔ وہ ان کی فلاح و بہبود کو کمال تک پہنچاتا ہے اور جملہ مخلوقات کا پالنے والا ہے مگر وہ خود غنی ہے۔ تمام مخلوقات اپنی ضروریات کے لئے اس سے رجوع کرتی ہیں جبکہ وہ خود ان سے بے نیاز ہے۔ اس طرح اسے عظیم ترین کہا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی عظمت کا مدعی نہیں۔ بایں وجوہ وہ یقینا عظیم ہے۔‘‘ 1
    پھر ایک اور جگہ یوں بیان ہوا ہے:
    ’’سب کی توجہ کا مرکز مگر غیر مرئی جس کا وجود گویا بے رنگ ہے۔ خاموش وجود جسے سننے کے بہت خواہش مند ہوں اور ایسا مخفی جس کے بہت متلاشی ہوں۔ کسی کے لئے ان تینوں صفات کے منبع کا ادراک ممکن نہیں گو وہ ایک ہی وجود میں پائی جاتی ہوں۔ بظاہر وہ روشن نہیں مگر اس کے نیچے کوئی اندھیرا بھی نہیں۔ اس کی لا محدودیت کے باعث اس کا احاطہ ممکن نہیں۔ اس کا وجود کسی شکل و صورت کا محتاج نہیں۔ وہ ہمارے ادراک سے بالا ہے۔ وہ ازلی ابدی ہے۔ پس بہتر یہی ہے کہ ماضی کی روشنی میں اپنا حال سنوارو۔‘‘ 2
    اسی طرح ایک اور جگہ تاؤ کے بارہ میں یوں بیان کیا گیا ہے:
    ’’وہ ایک غیر منقسم وجود ہے جس کی کُنہ معلوم نہیں کی جا سکتی۔ وہ تمام مخلوقات کا خالق اور زمین اور آسمان کی تخلیق سے بھی پہلے موجود تھا۔ وہ واحد لا شریک اور کسی شکل اور آواز کی احتیاج سے مستغنی ہے۔ اس کا وجود کسی سہارے کا محتاج نہیں۔ وہ غیر متبدل ہے۔ وہ مسلسل مصروفِ عمل ہے مگرتھکتا نہیں۔ اسے خالق کائنات کہا جا سکتا ہے۔‘‘ 3
    قرآن کریم کی مختلف آیات میں مذکور صفات الٰہیہ کی تصویر مجموعی طورپر تائو کے مندرجہ بالا تصور کے مطابق ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بانی ٔ جماعت احمدیہ نے خدا کے بارہ میں قرآنی تصور کو خلاصۃً یوںبیان فرمایا ہے:
    ’’وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے۔ اور دور ہے باوجود نزدیک ہونے کے …وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔ اور وہ عرش پر ہے مگرنہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام محامدِ حقہ کا۔‘‘ (الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 310)
    یہ کہنا بجا ہو گا کہ چینی فلسفہ کی بنیاد مذہب پر تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پس منظر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اس کے متبعین نے اس فلسفہ کا دامن تو ہاتھ سے نہ چھوڑا مگر اس منبع سے تعلق کاٹ لیا جس نے اس فلسفہ کو ماضی میں پروان چڑھایا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ خداتعالیٰ کی ذات کا تصور ذہنوں سے اٹھ گیا اور تاؤ کے پیروکاروں نے اس برتر، قادرمطلق اور زندہ خدا سے ذاتی تعلق توڑ لیا۔
    الغرض اس میں کوئی شک نہیں کہ کنفیوشن ازم کی طرح تاؤ ازم میں بھی ابتدا میں ایک زندہ اور قائم بالذات خدا پر ایمان ہی ایک ابدی صداقت تھی۔ تاؤ ازم اور کنفیوشن ازم کی ابتدائی تعلیمات کے مطابق تاؤ کا عقلی ادراک ہی کافی نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ تاؤ کے احکامات کے سانچہ میں اپنے اعمال اور کردار کو ڈھالنا ہی اصل مقصد حیات تھا۔
    تاؤ ازم کے بنیادی ماخذ پر، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، ایک طویل عرصہ گزرنے کے باعث اگرچہ تائو پر ایمان بطور ایک حکیم و علیم اور حقیقی خالق کے بڑی حد تک دھندلا ہو چکا ہے تا ہم وجدان کی صورت میںسہی الہام الٰہی کا تصور بہرحال اب بھی قائم ہے۔ وحی ٔالٰہی سے وجدان کی طرف یہ سفر بعد میں آنے والے مذہبی مفکرین کے رجحان کا آئینہ دار ہے۔ یہاں تک کہ ان کی تحریروں سے روحانیت بالکل ہی مفقود ہو کر رہ گئی اور ان کے نزدیک وجدان محض ایک باطنی عمل بن گیا جو گہرے غور و خوض اور مراقبہ کی مدد سے انسان میں موجود سچائی کے سرچشمہ کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔
    بے شک انسان اپنی ذات میں ڈوب کر باطنی سچائی کو پا سکتا ہے مگر تاؤ کے مستند لٹریچر کے مطابق تاؤ کے تعلق میں وجدان کا یہ تخلیقی عمل مکمل طور پر باطنی نہیں کیونکہ ان کے نزدیک وجدان کی اپنی حدود ہیں جن کی وجہ سے اس تجربہ سے گزرنے والا شخص محض وجدان کی بنا پر معروضی سچائی کو نہیں پا سکتا۔
    در اصل فُوشی (Fu Hsi)کے عظیم کشف پر ہی تاؤ ازم کی بنا ہے۔ وجدان کی تعریف کو جس قدر بھی وسیع کر لیا جائے اسے اس کشف پر کسی صورت بھی چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ تشریح سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کشف علم کے ایسے سرچشموں پر مشتمل ہے جن کو مستقبل بعید میں ترقی یافتہ اور دقیق چینی فلسفوں اور علوم کی تخلیق کا سبب بننا تھا۔
    زیر بحث موضوع کی وضاحت کیلئے یہی دلیل کا فی ہے کہ وجدانی قوتیں پیشگوئیوں کو جنم نہیں دیتیں اور نہ ہی مستقبل میں رونما ہونے والے ان واقعات کی طرف رہنمائی کر سکتی ہیں جو علیموخبیر اور خدائے بزرگ و برتر کے وجود پر گواہ ہوں۔





    حوالہ جات
    1. DAN, L (1969) The Works of Lao Tzyy. Truth and Nature. The World Book Company, Ltd. Taipei, Taiwan, China. Ch.34, p.17
    2. DAN, L (1969) The Works of Lao Tzyy. Truth and Nature. The World Book Company, Ltd. Taipei, Taiwan, China. Ch.14, p.6
    3. DAN, L (1969) The Works of Lao Tzyy. Truth and Nature. The World Book Company, Ltd. Taipei, Taiwan, China. Ch.25, p.12
    زرتشت ازم
    فارس کی تاریخ کے مطابق زرتشت ازم نے مذہبی فلسفہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس فلسفہ کی رو سے نہ صرف صداقت اور نیکی دائمی ہیں بلکہ جھوٹ اور بدی بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں کے الگ الگ دیوتا ہیں جو اپنے انتظامی معاملات میں خودمختار ہیں۔ نیکی کا دیوتا اہورامزدا ہے جسے نور کا دیوتا بھی کہا جاتا ہے جبکہ بدی کا دیوتا اہرمن ہے جو ظلمت کا دیوتا بھی کہلاتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا الگ اور معین کردار ہے۔ اس کائنات کی تمام تر سرگرمیاں ان دونوں متحارب دیوتاؤں کی باہمی کشمکش اور تصادم ہی کا نتیجہ ہیں۔ یہ دونوں ازل سے بقا اور برتری کی خوفناک جنگ میں مصروف ہیں۔
    نیکی کے دیوتا کی قوتیں ہمیشہ بدی کے دیوتا کی قوتوں کو زیر کرنے میں کوشاں رہتی ہیں۔ ہنڈولے کے کھیل کی طرح اس کشمکش کا نتیجہ کبھی نیکی کے حق میں اور کبھی بدی کے حق میں ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا زرتشتی فلسفہ برائی اور اچھائی، دکھ اور خوشی دونوں کے ہمیشہ سے ایک ساتھ موجود رہنے کا فلسفہ ہے اور ایک سیدھی سادی وضاحت ہے جو ان دونوں کے نقطۂ آغاز کو دو مختلف ماخذوں کی طرف منسوب کرتی ہے۔ دنیا میں جس قدر بھی آفات ہیں مثلاً مختلف قسم کے رنج و الم، جسمانی و ذہنی تکالیف، صدمات، جہالت اور دکھ، ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بدی کا دیوتا غالب آ جاتا ہے۔
    یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت زرتشت علیہ السلام٭ (چھٹی صدی قبل مسیح) نے اپنے پیرو کاروں کو حقیقتاً یہ تعلیم دی تھی کہ نیکی اور بدی کی قوتوں کی بیک وقت موجودگی انسان کو اپنے ارادہ کو آزادانہ استعمال کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ لہٰذا انجام کار انسان اپنے اچھے اور برے اعمال اور ارادوں کے حوالہ سے پرکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ تعلیم بھی دی کہ کائنات روشنی کے دیوتا کی تخلیق ہے اور بالآخر نیکی کی قوتیں ہی غالب آئیں گی۔
    زرتشتی مذہب کے گہرے مطالعہ سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جسے ظلمت کا آزاد اور خودمختار دیوتا قرار دیا گیا ہے وہ بعینہٖ اس شیطان کے تصور کے مطابق ہے جو دیگر مذاہب مثلاً یہودیت، عیسائیت، اور اسلام میں پایا جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی نہ کسی مرحلہ پر حضرت زرتشت علیہ السلام کے پیرو کاروں نے ان کے فلسفہ خیرو شر کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہو اور نیکی اور بدی کو دو خودمختار اور برتر وجودوں کے طور پر قیاس کرنا شروع کر دیا ہو کیونکہ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ زرتشتی مذہب کے تصور ثنویت کی یہی روح ہے۔ اس پر دوبارہ ایک نظر ڈالنے سے کسی دانشمند کے لئے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں رہتا کہ محض اصطلاحات کے فرق نے دونوں تصورات میں غلط فہمی پیدا کر دی ہے۔
    زرتشتی مذہب میں اہرمن کا کردار وہی ہے جو دوسرے مذاہب میں شیطان کا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زرتشتی مذہب کے ماننے والوں نے شیطان کے تصور کو ایک آزاداور خودمختار دیوتا کی شکل دے کر اسے ظلمت کی قوتوں کا آقا قرار دے دیا اور اس پر طرہ یہ کہ غلطی پر غلطی کرتے ہوئے اہرمن یعنی بدی کے دیوتا کو خدائے واحد و اعلیٰ اور خالق کل کا ازلی و ابدی شریک قرار دے دیا۔
    اس بات کا اندازہ لگانا ایک مشکل امر ہے کہ کب یہ غلط عقیدہ آہستہ آہستہ زرتشتی مذہب کی بنیاد بن گیا۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ حضرت زرتشت علیہ السلام کے ایک مثالی ہیرو خورس (590تا 529ق۔ م) دو خداؤں کے قائل نہیں تھے۔ زرتشتی مذہب میں ان کا مقام بدھ مت کی تاریخ میں مذکور اشوکا کے مقام سے بھی بلند تر ہے۔
    زرتشتی مذہب کا ـ’خورسـ‘ کی ذات کے حوالہ سے تجزیہ بدھ مت کے اشوکا کی ذات کے آئینہ میں تجزیہ سے کچھ کم نہیں۔ خورس کے موحّد ہونے کا ثبوت وہ خراج تحسین ہے جو ’’عہدنامہقدیم‘‘ میں پیش کیا گیا ہے۔ اگر وہ دو خداؤں کے قائل ہوتے تو اسرائیل کا خدا ایسے عظیم الشان الفاظ میں انہیں ہرگز نہ سراہتا۔ چنانچہ یسعیاہ نبی نے فرمایا:
    ’’خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس کا داہنا ہاتھ پکڑا کہ امتوں کو اس کے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اور دروازوں کو اس کیلئے کھول دوں اور پھاٹک بند نہ کئے جائیں گے۔ میں تیرے آگے آگے چلوں گا اور ناہموار جگہوں کو ہموار بنا دوں گا۔ میں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر وں گا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالوں گا اور ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دوں گا تا کہ تو جانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لے کر بلایا ہے۔ میں نے اپنے خادم یعقوب اور اپنے برگزیدہ اسرائیل کی خاطر تجھے نام لے کر بلایا میں نے تجھے ایک لقب بخشا اگرچہ تو مجھ کو نہیں جانتا۔ میں ہی خدا وند ہوں اور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خدا نہیں....‘‘ (یسعیاہ 5-1:45)
    قدیم ایرانیوں سے ’بابائے قوم‘ کا خطاب پانے والا عظیم خورس‘ فارس کے روایتی ادب کی داستان میں ایک بردبار اور مثالی حکمران کی حیثیت سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بائیبل نے اسے بابل میں اسیریہودیوں کو رہائی دلانے والے رہنما کے طور پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
    مختصر یہ کہ ساری تاریخ میں خورس کا تاثر ایک غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت کے طور پر ابھرتا ہے۔ اس نے ایک ایسی وسیع و عریض سلطنت کی بنیاد رکھی جو شاید ہی کسی دوسرے عظیم فاتح نے قائم کی ہو۔ شہنشا ہوں میں وہ واحدشہنشاہ ہے جو تمام مؤرخین کی ملامت و تنقید سے بالا نظر آتا ہے۔ بحیثیت انسان یا بطور حکمران دونوں صورتوں میں اس کے اخلاق اور کردار آلودہ نظر نہیں آتے۔ وہ ایک حاکم میں پائی جانے والی تمام خوبیوں کا مرقّع تھا۔ جنگوں کے دوران وہ نڈر اور بے خوف اور فتح یابی کی صورت میںوسیع القلب نظر آتا ہے۔ خدا کی وحدانیت پر اس کا غیر متزلزل ایمان یقینا حضرت زرتشت علیہ السلام کو ماننے ہی کا نتیجہ تھا۔ زرشتی مذہب اپنے تمامتر خدوخال میں یہودیت اور اسلام سے قریب تر ہے۔ چنانچہ خیروشر یا نور اور ظلمت کے بارہ میں اس کا تصور یہودیت اور اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔ لہٰذا امکان غالب ہے کہ ’اہرمن‘ محض شیطان ہی کا دوسرا نام ہے۔
    سوال یہ ہے کہ آخر حضرت زرتشت ؑ کے ماننے والوں کو تصور ’ثنویت‘ کیوں اس قدر پسند آیا کہ نہ صرف ان کے عقائد و تعلیمات میں جڑ پکڑ گیا بلکہ پھلنا پھولنا بھی شروع ہو گیا۔ اس کی غالب وجہ وہ فلسفیانہ دور ہے جس میں مفکرین نے کھل کر گناہ اور دکھ کے مسئلہ کی بات کی جو عرصۂ دراز سے انسان کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ مختلف زمانوں میں مذہبی دانشور ایک ’اچھے خدا‘ پر ایمان کے عقیدہ کو درست ثابت کرنے کیلئے کئی قسم کی توجیہات کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ اس عمومی دور میں ایتھنزمیں بھی اسی مسئلہ نے مختلف اخلاقی، مذہبی اور سیکولر مفکرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کئے رکھی۔ مسئلہ کا حل ان لوگوں کیلئے کچھ ایسا مشکل بھی نہ تھا کیونکہ ایتھنز کے لوگوں کی اکثریت ان دیومالائی دیوتاؤں کے وجود پر یقین رکھتی تھی جن کیلئے نہ صرف انسانوں کو بلکہ دیوتائوں تک کو بھی دھوکا دینا ایک معمولی بات تھی۔
    ہومر(Homer) کی ایلیڈ(Illiad) اس قسم کے مکار اور دھوکہ باز دیوتاؤں کی خوب قلعی کھولتی ہے۔
    انہی لوگوں میں سقراط نامی ایک توحید پرست فلسفی نے 470قبل مسیح میں جنم لیا۔ وہ فلسفیوں کے درمیان ایک پیغمبر اور پیغمبروں کے درمیان ایک فلسفی نظر آتا ہے۔ وہ خدا کی وحدانیت پر غیرمتزلزل یقین رکھتا تھا اور اس ذات ِ کامل کے حسن و خوبی پر اسے ذرہ برابر بھی شک نہ تھا۔
    ایتھنز کے ایوان کے سامنے کی گئی اپنی آخری تقریر میں اس نے اسی بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ اس خدائے واحد پر یقین رکھتا ہے جو کامل خوبیوں کا مالک ہے اور یہ یقین اسے محض اپنی عقلی و نقلی کاوشوںسے حاصل نہ ہواتھا بلکہ اس لئے کہ وہ اسے خود ذاتی طور پر بچپن سے جانتا تھا۔ بالفاظ دیگر وہ خدا کی گود میں اس کی ذاتی شفقت اور حفاظت میں ہی پلا بڑھا تھا۔ یہ سقراط ہی تھا جس نے اس مسئلہ کا منطقیانہ حل پیش کیا کہ خدا کی ذات کسی شر کا مبدأ نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک دنیوی زندگی میں گناہ اور دکھ کا تعلق ہے اس نے منطقی اعتبار سے ثابت کیا کہ یہ سراسر انسانی غلطیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہونہیں سکتا کہ ان کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہو۔ خداتعالیٰ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مجسم خیر ہو بلکہ وہ مجسم خیر ہے۔ وہ بدوں خیر کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا برائی ہمیشہ سفلی سطح پر سے ہی پھوٹتی ہے اور خداتعالیٰ کو ان کی بداعمالیوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سقراط کا یہ جواب بالکل سیدھا سادہ تھا لیکن اس پر فلسفیانہ رنگ میں ایسے اعتراضات اٹھائے جا سکتے تھے جن کے نتیجہ میں وہ عدم تحفّظ کا شکار ہو جاتا۔ ایران کے زرتشتی مفکرین چونکہ اس جواب سے مطمئن نہیں تھے اس لئے انہوں نے اس مسئلہ کی بنظرِ غائر مزید تحقیق کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر شریر کون تھے اور کس نے انہیں پیدا کیا۔ اگر خداتعالیٰ ہی نے انہیں پیدا کیا ہے تو وہی ان کی بداعمالیوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرتا ہے۔ یوں زرتشتی دانشوروں نے اس کے بالمقابل ایک اور خالق کا وجود تراش لیا۔ ایک کو نیکی کا اور دوسرے کو بدی کا دیوتا قرار دے دیا گیا۔ دونوں کو اپنے اپنے دائرہ کار یعنی نور اور ظلمت میں بلاشرکت غیرے خودمختار سمجھ لیا گیا۔
    ضمناً یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اگرچہ حضرت زرتشت ؑ کے تما م پیروکار اس نام نہاد زرتشتی عقیدئہ ثنویّت کی اندھی تقلید نہیں کرتے، کچھ زرتشتی خواہ وہ ایک قلیل تعداد ہی میں کیوں نہ ہوں بڑے شدومد سے توحید کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ یقینی امر ہے کہ اسلام نے فارس میں داخل ہونے پر بیشتر موحدین کو پورے زور سے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یاد رہے کہ ’ثنویت‘ اور آگ کی پرستش کے عقیدہ سے قطع نظر زرتشتی مذہب دیگر تمام مذاہب کی نسبت اسلام سے قریب ترین ہے۔ زرتشتی مذہب میں خدا یعنی اہورامزدا (Ahura Mazda) انہی صفات اور اصطلاحات کا حامل ہے جن کا تصور دیگربڑے بڑے مذاہب میںپایا جاتا ہے۔ چنانچہ اہرمن کو قربانی کا بکرا بنا کر تمام برائیوں اور تکالیف کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اور یو ں بزعمِ خود زرتشتی مفکرین نے اس مصیبت سے تو چھٹکارا پا لیا لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہو سکا۔ عین ممکن ہے کہ ان کے ہمعصر سقراط نے بھی اس عقیدہ کے بارہ میں سنا ہو یا خود اس پر غور کیا ہو۔ بہرحال اس نے اسے یکسر رد کر دیا اور پوری وفاداری کے ساتھ عقیدۂ توحید کا قائل رہا۔ اگرچہ زرتشتیوں کے اس عذر نے بظاہر ایک گتھی کو تو سلجھا دیا لیکن ایک اور مشکل مسئلہ کھڑا کر دیا۔ اس مسئلہ کی طرف تو ہم بعد میں آئیں گے لیکن سردست یہ کہنا کافی ہو گا کہ برائی یا بدی فی ذاتہٖ ایسا وجود نہیںرکھتی جس کا پیدا کیا جانا ناگزیر ہو۔
    درحقیقت نیکی کی عدم موجودگی ہی بدی کا دوسرا نام ہے۔ یہ حقیقت روشنی اور سایہ کی آنکھمچولی سے بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ سایہ کوئی مادی چیز نہیں، اصل اہمیت روشنی کی ہے۔ اور بظاہر روشنی سایہ کو پیدا کرتی ہے لیکن دراصل روشنی سایہ پیدا نہیں کرتی بلکہ سایہ تو روشنی کی عدم موجودگی کا نام ہے۔ جب روشنی کی راہ میں رکاوٹ آتی ہے تو سایہ وجود میں آتا ہے۔ لہٰذا بعد میں آنے والے زرتشتیوں کو اہرمن یا شیطان گھڑ لینے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ دراصل صرف نیکی ہی ہے جس کی ضرورت ہے اور گناہ تو نیکی کو ترک کرنے کے نتیجہ میں خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر اہرمن ظلمت کا دیوتا ہے بھی تو وہ نور اور خیر کی عدم موجودگی کا ایک نتیجہ ہے نہ کہ ان کا خالق۔
    مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں ہم بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ حضرت زرتشت ؑ خدائے واحد یعنی نیکی کے خدا پر ایمان رکھتے تھے اور اسی کی طرف سے آپؑ کو وحی سے نوازا گیا تھا۔ ان کا علم اور راستبازی کسی منطق اور وجدان کا نتیجہ نہ تھی بلکہ وحی الٰہی کی مرہونِ منت تھی۔
    آئیے ایک بار پھر دنیا میں دکھ اور برائی کی موجودگی سے متعلق زرتشتیوں کے پیش کردہ فلسفیانہ حل کا بغور جائزہ لیتے ہیں کہ اگر بدی کی منصوبہ بندی کرنے والے دو الگ الگ دیوتا ہوتے تو ان کی باہمی کشمکش کے نتیجہ میں فتح کس کی ہوتی اور کیونکر؟ اگرچہ زرتشتی مذہب کے پیروکار بظاہر یہی امید دلاتے ہیں کہ فتح بالآخر نیکی کی ہو گی لیکن ان کا فلسفہ اس بات کی قطعاً وضاحت نہیں کر پاتا کہ نیکی کی قوت ہی کیوں لازماً جیتے گی۔ اگر باوجود ایک دیوتا کے دوسرے سے کمزورہونے کے، دونوں آزاد ہیں تو طاقتور کمزور کو کبھی کا نیست و نابود کر چکا ہوتا۔ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نیکی کو بدی کی قوتوں پر کامل غلبہ حاصل کر لینا چاہئے تھا۔ چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لئے دونوں دیوتا اپنی مخصوص قوتوں میں مساویانہ توازن قائم رکھتے ہوئے گویا ہنڈولے کے کبھی نہ ختم ہونے والے کھیل میں مشغول ہیں۔ اندریں صورت یہ کیسے ممکن ہے کہ نیکی بدی پر کامل غلبہ حاصل کر لے؟
    ایک اور اہم مسئلہ دنیا میں دکھ کی موجودگی کا ہے جسے دوبارہ زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ یہ امر ثابت کیا جا چکا ہے کہ زرتشتی نظریۂ ثنویّت اپنی سطحی سادگی کے باوجود اصل مسئلہ کے حل میں نا کام رہا ہے۔ نظریۂ ثنویّت کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شفیق و مہربان خالق کی تخلیقی منصوبہ بندی کی موجودگی میں یہ نظریہ دُکھ اور درد کے معمہ کو حل کرنے کیلئے قطعاً ناکافی ہے۔ اس مسئلہ پر ہم اگلے باب میں الگ بحث اٹھائیں گے۔
    دکھ اور الم کا مسئلہ
    حواس اور متعلقہ اعضاء کے ارتقائی مطالعہ سے بآسانی یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ان میں نفع نقصان کا احساس شروع ہی سے موجود تھا۔ یہ ارتقائی سفر فائدہ اور نقصان کی شناخت پر مبنی ایک طویل سفر ہے جس کے نتیجہ میں اعضائے حس بتدریج ترقی پا کر خوشی اور تکلیف،آرام اور دکھ کی موجودگی کو محسوس کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اگرہم پیچھے مڑ کر حیات کی سب سے ادنیٰ حالت کا جائزہ لیں اور اس زینہ کے نچلے درجوں کا چوٹی کے اعلیٰ مراحل کے ساتھ مقابلہ کریں تو یہ جان لینا مشکل نہیں رہتا کہ دراصل ارتقا سے احساس اور شعور کا ارتقا ہی مراد ہے۔ زندگی تسلسل کے ساتھ شعور کے دائرے میں نیچے سے اوپر کی طرف ترقی کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں احساس کی قوتیں مسلسل بیدار سے بیدار تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔
    آغاز حیات میں سودو زیاں کا احساس خاصا دھندلا اور مبہم ہوا کرتا ہے اور ابتدائی حیات کی جسمانی ساخت میں اس احساس کو کنٹرول کرنے والا کوئی مرکز دریافت نہیں ہوا لیکن اپنے ماحول اور بعض عناصر کی موجودگی میں ان کے ردعمل سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مبہم سا شعور موجود ضرور ہے۔ یہی وہ بظاہر مبہم اور ناقابل بیان حس ہے جسے خالق نے کسی نہ کسی طرح قوت ادراک کی شروعات میں استعمال کیا ہے۔ اسی قوت مدرکہ نے بتدریج ترقی پا کر جانداروں کے جسم میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہی مقامات بالآخر موجودہ اعضائے حِس کی شکل اختیار کر گئے۔ دماغ کی تخلیق ایک الگ اور غیر متعلق واقعہ نہیں۔ اعضائے حِس کی ترقی کسی بھی متوازی مرکزی اعصابی نظام کے بغیر با مقصد نہیں ہو سکتی جو مختلف اعضائے حِس کے ذریعہ پہنچائے جانے والے پیغامات کی تشریح کر سکے۔ چنانچہ صاف ظاہر ہے کہ دماغ نے بھی اعضائے حِس کے لازمی جزو کے طور پر ساتھ ساتھ ترقی کی ہے۔ شعور جتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو گا سود و زیاں کا احساس بھی اتنا ہی شدید ہو گا جسے مخصوص اعصابی مراکز محسوس کر کے نقصان کے احساس کو بطور رنج اور فائدہ کے احساس کو بطور راحت اعصاب کے ذریعہ ذہن تک منتقل کرتے ہیں۔
    شعور جتنا کم ترقی یافتہ ہو گا اتنا ہی تکلیف کا احساس بھی کم ہو گا۔ یہی حال خوشی کا ہے۔ اس طرح خوشی اور غم کے احساس کیلئے اعضائے حِس کی موجودگی ناگزیر ہے۔ امکان غالب ہے کہ اگر تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیا جائے تو اس کے ساتھ ساتھ خوشی اور لذت محسوس کرنے کی صلاحیت بھی اسی حد تک کم ہو جائے گی۔ یہ دونوں برابر اہمیت کے حامل ہیں اور یکساں طور پر ارتقا کے پہیہ کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک کو دوسری سے الگ نہیں کیا جا سکتا ورنہ ارتقا کا تمام تخلیقی منصوبہ کالعدم ہو جائے گا۔
    قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکلیف کو اپنی حیثیت میں ایک علیحدہ وجود کے طور پر نہیں بلکہ لذت اور آرام کے ایک ناگزیر جزو کے طور پر پیدا کیا ہے۔ خوشی کی عدم موجودگی تکلیف ہے جو کہ اس کے سائے کی طرح ہے بالکل اسی طرح جیسے تاریکی ایک سایہ ہے جو روشنی کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔ زندگی کیلئے موت نا گزیر ہے۔ دونوں مختلف درجات پر مشتمل ایک ہی سطح کی دو انتہائیں ہیں۔ جوں جوں ہم موت سے دور ہٹتے ہیں بتدریج زندگی کی ایک حالت یعنی خوشی کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب ہم زندگی سے دور ہٹتے ہیں تو احساس زیاں اور دکھ کے ساتھ موت کی طرف سفر کرتے ہیں۔ بقا کی جدوجہد کو سمجھنے کی یہی کلید ہے جو زندگی کے معیار کو بہتر بناتی اور ارتقا کی آخری منزل کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ ’’بقائے اصلح‘‘ کا اصول ارتقا کے اس عظیم الشان منصوبہ میں بھر پور کردار ادا کرتا ہے۔
    یہ امر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات میں بیان کیا گیاہے:

    (الملک 3-2 : 67)
    ترجمہ : بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضۂ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔ اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔
    دنیا میں دکھ کیوں ہے؟ مندرجہ بالا آیت میں اس سوال کا جواب بڑی وسعت اور وضاحت سے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں موت و حیات کا گہرا فلسفہ، ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے ان گنت مراتب نیز زندگی کی تشکیل اور اس کا معیار بہتر بنانے میں ان کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی وہ ترتیب ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہاں واضح فرمائی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ زندگی ایک مثبت قدر ہے اور موت سے محض اس کی عدم موجودگی مراد ہے اور ان کے درمیان کوئی حدِّفاصل نہیں ہے۔ حیات کا موت کی طرف سفر اور زوال پذیری یا دوسرے پہلو سے موت کی حیات کی طرف حرکت اور طاقت، توانائی اور شعور کا حصول ایک تدریجی عمل ہے۔ یہ تخلیق کا عظیم منصوبہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا ہے: ’’کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔‘‘
    یہ موت اور حیات کے مابین پیہم جدوجہد ہے جو جانداروں کو ایک مستقل آزمائش میں مبتلا رکھتی ہے۔ چنانچہ باقی وہی رہتے ہیں جو اپنے طرز عمل سے اپنے آپ کو بہترین ثابت کریں اور اپنی بقا کیلئے بہتر مقام حاصل کر پائیں۔ مذکورہ بالا آیات میں ارتقا کا فلسفہ اور طریق بیان کیا گیا ہے۔ یہ موت اور حیات کی قوتوں کی مسلسل جدوجہد ہی ہے جو جاندار انواع کو مستقلاً موت سے دور لے جانے یا اس کی طرف جانے کی قوت عطا کرتی ہے۔ ارتقائی تبدیلیوں کے وسیع تناظر میں اس کا نتیجہ کسی وجو د کی زندگی کے معیار کی بہتری یا ابتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی ارتقا کی اصل روح ہے۔
    دکھ کو صرف اس صورت میں قابل اعتراض قرار دیا جا سکتا ہے اگر اسے نظام کائنات میں کوئی بامقصد کردار ادا کئے بغیر ایک علیحدہ وجود کے طور پر پیش کیا جائے۔ لیکن دکھ کے احساس کے اس تجربہ سے گزرے بغیر تو سکون اور آرام کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ رنج اور تکلیف کے بغیر خوشی اور مسرت کا بھی کوئی لطف نہیں رہتا۔ بلا شبہ اس کے بغیر زندگی کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا اور ارتقا کی منازل راستے ہی میں دم توڑ دیں گی۔
    چنانچہ حواس خمسہ کے ارتقا میں تکلیف اور سکون کے احساس نے یکساں کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ گاڑی کے دو پہیے کہ اگر ایک کو الگ کر دیںتو دوسرا بھی بیکار ہو کر رہ جائے گا اور یوں گاڑی کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔ موت و حیات کے مابین یہی کشمکش جو تکلیف کو جنم دیتی ہے، خوشی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی بنیادی محرک ارتقا کی گاڑی کو ہمیشہ آگے بڑھنے کی قوت مہیا کرتا ہے۔
    ارتقا کی طویل تاریخ میں پائی جانے والی بیماریوں کی مختلف وجوہات بالواسطہ یا بلا واسطہ ارتقائی تبدیلیوں سے ہی متعلق تھیں۔ ماحولیاتی تبدیلیاں، بقا کی جدوجہد، تغیر اور حادثات، سب نے اکٹھے یا الگ الگ اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یعنی بیماریاں، نقائص اور کمزوریاں بھی ترقی پر اثرانداز ہونے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ یوں جانوروں کی مختلف انواع بظاہر لاشعوری طور پر، مگر دراصل ایک رہنما اصول کے تحت شعور کے اعلیٰ مدارج کی طرف ارتقا پذیر ہوتی رہی ہیں۔
    اب ہم ایک اور منصوبہ کا جائزہ لیتے ہیں جس میں ایک مفروضہ کے تحت تکلیف کے عنصر کو یکسر ہٹا دینا مقصود ہے۔ بالفاظ دیگر زندگی کی تمام حالتوں کو لازمی طور پر کسی تکلیف کے بغیر خوشی میں برابر کا حصہ ملنا چاہئے۔ مقصد یہ ہے کہ شاید اس طرح ہم تکلیف کو ختم کر کے زندگی کو ایذا سے بچا سکیں۔ تب مطلق مساوات قائم ہو جائے گی اور سب برابر کی سطح پر کھڑے ہو جائیں گے۔ لیکن اس منصوبہ کو کیسے اور کہاں متعارف کروایا جائے۔ مشکل یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ہم ارتقاکے طویل سلسلہ میں اس منصوبہ کو متعارف کروانے کی کوشش کریں گے ہمیں لازماً بعض لاینحل مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ افسوس کہ یا تو اس نئے منصوبہ کے اصولوں کو ابتدائے آفرینش سے متعارف کروانا ہو گا یا اسے سرے سے ترک کرنا پڑے گا۔ اس قسم کی مطلق مساوات کا اطلاق خواہ کسی بھی سطح پر کیوں نہ کیاجائے، لاینحل تضادات کو جنم دے گا۔ اس کے لئے ہمیں زندگی کے نقطۂ آغاز کی طرف لوٹنا ہو گا۔ ہمیں حیات کی تاریخ میں بالکل وہاں لوٹ جانا ہو گا جہاں سے زندگی کی ابتداء ہوئی اور ارتقا کی سیڑھی کو از سر نو زینہ بہ زینہ تعمیر کرنا ہوگا۔ مگر انتہائی کوشش کے باوجود ہم پہلے مرحلہ پر ہی رک جائیں گے اور ایک قدم بھی آگے بڑھنے کے قابل نہ ہوں گے کیونکہ خوشی کی مساوی تقسیم اور تکلیف کی عدم موجودگی ارتقا کی قوت رفتار کو بالکل ختم کر دے گی۔ چنانچہ نہ تو بقا کیلئے کوئی جدوجہد ہو گی اور نہ ہی کوئی انتخاب طبعی اور بقائے اصلح کے اصولوں کا نفاذ۔ اور زندگی کی خام حالت سے ترقی کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
    زندگی کے اس مرحلہ کا تصور کیجئے جو انسانی علم کے مطابق تین بنیادی اکائیوں پر مشتمل ہے۔ یعنی مرکزہ والے بیکٹیریا۔ بغیر مرکزہ کے بیکٹیریا اور آگ کی توانائی سے جنم لینے والے پائروبیکٹیریا۔ اس فرضی نظام میں سب کو برابر میسر آنے کی وجہ سے خوراک یا بالفاظ دیگر بقا کیلئے کوئی مقابلہ نہیں ہو گا اور نہ ہی تکلیف کا وجود ہو گا۔ اس فرضی نظام میں زندگی ہمیشہ اپنی ابتدائی خام حالت میں ساکت اور جامد رہے گی۔ انسانی تخلیق تو اس نقطۂ آغاز سے دور کی بات ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کو منتخب کیا جائے جس کا اہم جزو دکھ ہے اور جو زندگی کے ارتقا کے عمل کو مسلسل جاری رکھتا ہے یا تکلیف کے خوف سے اس نظام کو بکلی ترک کر دیا جائے۔ چنانچہ حتمی تجزیہ میں ’’زندگی یا موت‘‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اگر حیات کی ابتدائی حالتوں میں کچھ شعور ہوتا تو حیات اس بے معنی مشقت میں زندہ رہنے کی بجائے موت کو ترجیح دیتی۔
    دکھ کا تعلق سزا اور مکافات کے تصور سے بھی ہے۔ حیوانات میں ایک محدود پیمانے پرانتقام لینے کی جبلت مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔ یہ جبلت بہت سے زمینی، بحری اور فضائی جانوروں کے رویوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ہاتھی اور بھینس انتقامی جذبہ کی وجہ سے خاصے بدنام ہیں۔ حیات کی اس بتدریج ترقی پذیر خصوصیت کا تعلق لازماً قوت فیصلہ کے بتدریج ارتقا سے ہے۔ کچھ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ یا تو جبلت کے تحت ہو سکتا ہے یا سوچ سمجھ کر۔ تا ہم یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جانوروں کے طرز عمل میں فیصلہ کی صلاحیت کیا کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن یہ یقینی بات ہے کہ انسان کے طرز عمل میں اس صلاحیت کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ فیصلہ عموماً انسان کا اپنا ہوتا ہے کہ آیا وہ نور اور حیات کی طرف حرکت کرے یا ظلمت اور موت کی طرف۔ اس لئے اگر انسان کو اپنے اعمال کے نتیجہ میں کوئی انعام ملے یا سزا بھگتنا پڑے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔
    بعض اوقات لوگ تکلیف تو اٹھاتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ مگر قدرت میں جزا سزا کا ایک عمومی قانون کارفرما ہے جسے مکافاتِعمل کہتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انہیں اپنے کسی دانستہ یا نادانستہ عمل کے نتیجہ میںوجہ معلوم ہوئے بغیر یہ تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر غلطی کی سزا فوری طور پر نہیں ملا کرتی۔ بسا اوقات قانون شکنی پر قدرت غیر محسوس طریق پر سزا دیتی ہے۔
    تاہم یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے بلکہ بہت زیادہ الجھا ہوا، وسیع اور پیچیدہ ہے اور اسے بعض فرضی یا حقیقی سائنسی مثالوں کی مدد سے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض صورتوں میں وضاحت مشکل ہو جاتی ہے۔ مثلاً بعض پیدائشی نقائص والے بچوں کے متعلق یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ انہیں کیوں تکلیف میں ڈالا گیا؟ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوا۔ اگر کہیں کوئی غلطی ہے توخواہ یہ نادانستہ طور پر ہی ہو، والدین کی ہو سکتی ہے۔ اس سیاق و سباق میں لفظ ’’نقص‘‘ کو اس کے وسیع معانی میں سمجھنا چاہئے جس میں حادثاتی واقعات کے نتیجہ میں جنم لینے والی پیدائشی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ ایسی غلطیوں کا دانستہ جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی نقص کی وجہ کچھ بھی ہو،یہ بات یقینی ہے کہ اس نقص کے ساتھ پیدا ہونے والا معصوم بچہ کسی بھی صورت میں اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔
    اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ہر تکلیف سزا نہیں اور نہ ہی ہر خوشی جزا ہے۔ کچھ لوگ بغیر کسی وجہ کے تکلیف میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ تا ہم ایسے معاملات کو بغور دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہاں بالارادہ ناانصافی کا سوال نہیں بلکہ ایسی تکا لیف تخلیق کے وسیع تر منصوبہ کا ناگزیر نتیجہ ہیں اور یہ انسانی معاشرہ کے عمومی ارتقا میں ایک با مقصد کردار ادا کرتی ہیں۔
    یادرکھیں کہ علت اور معلول اور اسی طرح جرم اور سزا، خواہ کتنے ہی مشابہ کیوں نہ دکھائی دیں، دو مختلف امور ہیں۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ جرم ہی ایک سبب ہے جس کے نتیجہ میں سزا ملتی ہے لیکن یہ دعویٰ درست نہیں کہ ہر تکلیف ماضی میں سرزد ہونے والے کسی جرم کی سزا ہے۔ یہ کہناغلط ہے کہ تمام صحت مند بچے اپنے والدین کے کسی نیک عمل کے صلہ میں صحتمند ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں کہ ہر بیمار بچہ اپنے آباؤ اجداد یا اپنے والدین کے کسی نا معلوم جرم کے باعث بیمار ہے۔ صحت اور بیماری، اہلیت اور نا اہلی، خوش قسمتی اور بد قسمتی، پیدائشی صحت یا معذوری، اپنی ذات میں اثرانداز ہونے کے علاوہ ایک وسیع نظام میں بھی ایک فعّال کردار ادا کرنے کیلئے ضروری ہیں اور جرم اور سزا، اچھائی اور صلہ کے تصور سے نمایاں طور پر الگ ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے راحت کی طرح تکلیف بھی زندگی کے ارتقا کی لازمی اور بنیادی شرط ہے جس کا ارتقا کے اس سفر میں جرم و سزا کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔
    تکلیف اپنے فعّال کردار کی وجہ سے ایسے مفید اثرات پیدا کرتی ہے جو اس کی موجودگی کی یاد دلاتے ہیں۔ ہمارے کردار کو سنوارنے کیلئے تکلیف ایک بہترین استاد کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ قوتِادراک کو ترقی دے کر اسے جلا بخشتی، فروتنی سکھاتی اور کئی طریق سے انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہے۔ یہ تحقیق اور جستجو کو بیدار کر کے اس خواہش کو جنم دیتی ہے جو تمام ایجادات کی ماں ہے۔ اگر تکلیف کو جو انسان کی پوشیدہ قوت کا باعث ہے، دور کر دیا جائے تو ارتقا کا پہیہ لاکھوں گنا پیچھے چلا جائے گا۔ انسان اس قدرتی منصوبہ کو تبدیل کرنے کی کوشش تو کر سکتا ہے مگر سوائے مایوسی کے اسے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ چنانچہ تکلیف اور دکھ کی موجودگی کی وجہ سے خالق کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بلکہ ان حالات میں دکھ اور تکلیف کا تو ایک تخلیقی کردار ہے اور یہ زحمت تو دراصل ہمارے لئے رحمت کا باعث ہے۔
    ان تمام سائنسی تحقیقات اور دریافتوں کے پس منظر میں تکلیف اور بے آرامی سے چھٹکارا پانے کی ایک مستقل جدوجہد ہے جو کارفرما ہے۔ سائنسی تحقیق اور دریافتوں کے محرکات آرام کے حصول کی خواہش پر اس قدر مبنی نہیں جس قدر تکلیف سے نجات حاصل کرنے پر۔ تعیّش دراصل ہے کیا؟ یہ بے آرامی کی حالت سے نسبتاً آرام کی حالت کی طرف جانے کے رجحان میں وسعت کا نام ہے۔
    آئیے ایک بار پھر ان معصوم اور دکھی لوگوں کے معاملہ پر مزید غور کریں۔ مثلاً پیدائشی نقائص کے حامل نو مولود بچے یا وہ بچے جو بعد میںٹائیفائیڈ یا کسی اور معذور کر دینے والی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اندھے، بہرے یا گونگے ہو جاتے ہیں اور جزوی یا مکمل طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ جن بچوں کے مرکزی اعصابی نظام کو دوران پیدائش نقصان پہنچ جاتا ہے ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے اور اس کا نتیجہ دماغی امراض کی صورت میں نکلا کرتا ہے۔ اب کیا یہ سوال درست ہو گا کہ کیوں ایک بچہ مثلاً زید یا بکر تو اس تکلیف میں مبتلا ہے اور عمر یا خالد نہیں؟ علیٰ ہذا القیاس ’’الف‘‘یا ’’ب‘‘ کیوں بیمار ہے اور’’ج‘‘ اور’’د‘‘ کیوں نہیں؟ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔ درست سوال صرف یہ ہو سکتا ہے کہ آخر کوئی بھی بچہ اس طرح کیوں بیمار ہوتا ہے؟ اس صورت میں خالق کے پاس ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے کہ یا تو تمام بچوں کو یکساں صحت مند پیدا کرے یا غیرصحتمند۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بچے کی صحت بذات خود ایک نسبتی قدر ہے۔ شاید ہی دو بچے ایسے ملیں جن کی ذہنی و جسمانی صحت اور تمام اعضاء یکساں ہوں۔ دکھ اور تکلیف کے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے خالق کے متعلق بھی ایک موزوں سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بچہ جو چھوٹی چھوٹی آنکھیں، ایک بڑی بھدی سی ناک اور دوسرے غیر متناسب نقوش لے کر پیدا ہوا ہو تو کیا وہ اپنے دوسرے خوشنصیب ساتھیوں کی خوبیاں دیکھ کر عمر بھر دکھی نہیں رہے گا؟
    صحت اور شکل و صورت کا یہ اختلاف بہت سے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کر دے گا۔ کیا مطلق انصاف اور ایمانداری کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو صحت اور ظاہری خدوخال میں یکساں پیدا کرتا۔ فکری اور قلبی استعدادوں اور رجحانات کے موازنہ کو بھی شامل کر لیں تو اعلیٰ اور ادنیٰ کا باہمی تضاد بھی زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ دونوں انتہاؤں کو چھوڑ کر عام انسانوں سے معمولی فرق بھی انصاف کے خلاف دکھائی دینے لگے گا۔ یکسانیت کو ختم کر کے تنوع پیدا کرنے کیلئے آخر کہیں سے تو ابتداء کرنا ہوگی۔ تنوع اور تفاوت کی نسبت سے تکلیف اور راحت بھی لازماً پیدا ہو گی۔ معذور بچوں کیلئے رحم کے نام پر ترتیب کائنات کے خلاف اعتراض اور چیز ہے لیکن اس سکیم کو بظاہر زیادہ ہمدردانہ اور انصاف پر مبنی سکیم سے بدل دینا ایک اور چیز۔ انسان ابتدائے آفرنیش سے موجود کائنات کی اس سکیم کو بدلنے کی کوشش تو کر سکتا ہے لیکن اس کا نعم البدل پیش کرنے کے قابل ہرگز نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر ہم اسی سوال کی طرف واپس لوٹتے ہیں کہ کوئی بیماری اور تکلیف آخر ہے کیوں؟ اور یہ کیوں ناگزیر ہے؟ اس سوال کا ایک جواب ہم پہلے ہی اوپر دے چکے ہیں۔
    آیئے ایک دہریہ اور ایک مومن کے نقطۂ نگاہ سے اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہیں۔ منطقی لحاظ سے دہریوں کے لئے نہ تو کوئی حل طلب مسئلہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا سوال جس کا جواب مطلوب ہو۔ کیونکہ بقول ان کے وہ اپنی ہستی کے لئے کسی خالق کے محتاج نہیں۔ نیز اگر انہیں اِس اتفاقی تخلیق میں کوئی نقص نظر آتا ہے تو اصولاً کوئی خالق اُن کے سامنے جوابدہ نہیں۔ ہر تکلیف، ہر شامت اعمال اور ہر خوشی کی غیرمساویانہ تقسیم کیلئے صرف چانس یا اتفاق کو ہی ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے اور اس سے صدیوں پرانی بحث کا خاتمہ ممکن ہے۔ دہریوں کے نزدیک چونکہ اصل خالق چانس یا اتفاق ہے، خواہ اس کا نام نیچر ہی کیوں نہ رکھ لیں جس میں نہ تو شعور ہے نیز یہ بہرا،گونگا،اندھا اور بے ترتیب ہے، اس لئے اگر اس بے ترتیبی میں کوئی نقص رہ جائے تو اسے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کسی خالق کے بغیر اتفاقیہ پیدائش بغیر کسی ترتیب، دلیل یا سمت کے لازماً اندھی ہو گی۔
    جو لوگ خداتعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں جو خالق ہے ان کیلئے اس جامع منصوبہ کی حکمت اور دانائی کو تسلیم کرنے میں بھی کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے کیونکہ انہیں اس تخلیق میں ایک واضح سمت، توازن اور مقصد نظر آتا ہے۔ اتنی مہارت سے ترتیب دیئے گئے اس رنگا رنگ اور معطر گلدستے میں کہیں کوئی ایک آدھ کانٹا بھی موجود ہو تو کیا اسے بد صورت کہا جا سکتا ہے؟
    اگر دہریہ کا وہم درست ہو تو معصوم اور دکھی لوگوں کیلئے نجات کا واحد راستہ صرف موت ہے۔ لیکن تخلیق کے بارہ میں اگر مومن کا نظریہ درست ہو تو اس صورت میں موت ایک بالکل مختلف انداز میں نجات دہندہ بن جاتی ہے۔ ان کیلئے موت ایک نئی زندگی کی ابتداء ہے جو ان مبتلائے آزار معصوم لوگوں پر لامحدود جزا کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اگر وہ اس جزا کا تصور کر سکتے ہوں جو اس دنیوی زندگی میں پہنچنے والی عارضی اذیت کی تلافی کے طور پر ان کی منتظر ہے تو وہ اذیت کے باوجود مسکراتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ گویا یہ تکلیف ایک کانٹے کی ہلکی سی چبھن کی مانند ہے جو راحت اور خوشی کی ابدی زندگی کے رستے میں انہیں اٹھانا پڑی ہے۔
    ممکن ہے کہ کچھ لوگ پھر بھی مطمئن نہ ہوں اور مصر ہوں کہ چونکہ نہ کوئی خد ا ہے اور نہ ہی موت کے بعد کوئی جزا سزا، اس لئے ان کے نزدیک اس جواب کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس سوال پر بحث فضول ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سوال صرف اس صورت میں ہی زیر بحث لایا جا سکتا ہے جب پہلے خداتعالیٰ کو خالق تسلیم کر لیا جائے۔ اخلاقیات اور کسی امر کے اچھا یا برا ہونے کا سوال صرف اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ہستیٔ باری تعالیٰ پر ایمان بھی ہو۔ اگر خدا ہے تب ہی مذکورہ بالا طریق سے تلافی ممکن ہے اور اسے ہنس کر ٹالا نہیں جا سکتا۔ اور اگر خدا نہیں ہے تو اتفاقی طور پر پہنچنے والی اذیت پر کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہر ا سکتے۔ اس صورت میں ہمیں زندگی اور متعلقہ امور کو محض ایک بے معنی، بے سمت اور بے مقصد اتفاقی سانحہ کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔ اور دکھ یا اذیت کو قدرت کے ایک ایسے جزولاینفک کے طور پر قبول کرنا ہو گا جس سے مفر نہیں اور انسان کو ہر صورت میں اذیت کے ساتھ زندگی گزارنے کا فن سیکھنا ہو گا۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اذیت ارتقا کی قوت متحرکہ کا نہایت اہم جزو ہے۔ تا ہم اس امر کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہستی کے شعور سے حاصل ہونے والی لذت اور اذیت کا توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟ لذت اور اذیت کی اس سادہ مساوات میں اگر رنج و الم کا پلہ بھاری رہے تو اکثریت ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دے گی۔ اگر رنج و الم میں مبتلا لوگوں کی اکثریت دکھ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے شعوری سطح پر اپنی شناخت کو ضائع کرنا ہی پسند کرے گی تو اس صورت میں کائنات کے اس منصوبہ کی حکمت ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ حالانکہ حقیقی زندگی میں ہمارا مشاہدہ مندرجہ بالا مفروضہ کے بالکل برعکس ہے۔ زندگی بسا اوقات اپنے وجود کے شعور کے ساتھ ہر قیمت پر چمٹی رہتی ہے خواہ کتنی ہی تکلیف اور دکھ کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ غالب اصول تو یہی ہے تا ہم بعض استثنائی صورتیں ہیں جو شاذ کالمعدوم کا حکم رکھتی ہیں۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ رنج و الم کا تناظر بدلتا رہتا ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو زاویہ ہائے نگاہ کے بدلنے سے بدل جاتا ہے۔ صحت مند لوگ کسی معذور بچے کی حالت کو انتہائی تکلیف دہ خیال کرتے ہیں لیکن وہ جو اس بچے سے بھی زیادہ تکلیف دہ حالت میں ہیں ان کے لئے اس کی یہ حالت قابل رشک ہوتی ہے۔
    وسیع تر تناظر میں زندگی کی ہر صورت اپنے سے نیچے یا اوپر کی حالتوں سے بالترتیب بہتر یا کمتر نظر آتی ہے۔ ارتقا کے سفر میں ہمارا اقدار کا شعور بھی ادنیٰ سے اعلیٰ حالتوںکی طرف تبدیل ہوتا چلا گیا ہے۔ اگر ارتقا کے اس ہمہ وقت ترقی پذیر رستے میں بلندی پر واقع مراحل کو کسی بلند تر مقام سے دیکھا جائے تو وہ بھی نسبتاً پست دکھائی دیتے ہیں۔ حیات کی اعلیٰ حالتوں کا ان قدروں سے چولی دامن کا ساتھ ہے جن کا شعور ارتقا کے طویل عمل کے دوران حاصل ہوا۔ اقدار کی اس آگہی اور استعدادوں میں کسی قسم کی کمی یقینا ایسی اذیت پر منتج ہو گی جو بذات خود ان کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ اگر کیڑے کی زندگی کا حیات کی بعض اعلیٰ حالتوں سے موازنہ کریں اور پھر ان کا موازنہ جانوروں کی بعض مزید ترقی یافتہ انواع سے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب کی استعدادیں یکساں نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر گلے سڑے نامیاتی مادہ اور گندگی پر پلنے والے کیڑے کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو گھاس کے وسیع میدانوں میں آزادی سے گھومتے پھرتے اور نرم گھاس چرتے ہوئے جنگلی گھوڑوں سے بہتر قرار نہیں دے سکتے۔ نہ ہی وہ یہ سمجھ سکتے ہیںکہ وہ ان سے گھٹیا اور کم تر درجہ رکھتے ہیں۔ ہر دو انواع کے مختلف جہان ہیں مختلف صلاحتیں، مختلف ضروریات اور مختلف خواہشات ہیں بشرطیکہ کیڑے بھی خواہشات رکھتے ہوں۔
    تاہم یہ عدم توازن کسی نا انصافی پر دلالت نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر چند ایسے ہٹے کٹے کیڑوں کا تصور کیجئے جو بظاہر اپنے ماحول سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں اور اپنی موجودہ صلاحیتوں پر قانع ہوں اور نہ ہی اپنے محسوسات سے ہٹ کر کوئی خواہش کر سکتے ہوں۔ اس کے باوجود اگر اذیت میں مبتلا بچے کو کسی کیڑے کی خوشحال زندگی سے بدلنے کی پیشکش کی جائے تو کیا وہ اس پر موت کو ترجیح نہیں دے گا؟
    محض انسانی زندگی اور اس زندگی کی ان اعلیٰ حالتوں کا شعور جن سے اسے نوازا گیا ہے،ہی بالعموم اذیت کے احساس کو کم کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذیت بہرحال ایک نسبتی حالت ہے۔ اذیت کی بنیادی وجہ احساس محرومی ہے۔ جب معروف اور پسندیدہ اقدار کو نقصان پہنچتا ہے تو اذیت کا شعور جنم لیتا ہے۔
    یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان ان اقدار کی لذت کا مزہ چکھ چکا ہو یا دوسروں کو ان سے لطف اندوز ہوتے دیکھ چکا ہو۔ چنانچہ ان اقدار میں کمی جن سے کبھی وہ خود لطف اندوز ہو چکا ہو یا اوروں کو ان قدروں سے لطف اندوز ہو تا دیکھے لیکن خود اس لذت سے محروم ہو، یہ دونوں ایسے مضبوط عوامل ہیں جو اذیت کا باعث ہوا کرتے ہیں۔ البتہ ان اقدار کی عدم موجودگی اذیت کا باعث نہیں بن سکتی جن کا انسان کو علم ہی نہ ہو۔ لہٰذا اگر اذیت محض کسی محرومی کی علامت نہیں تو اور کیا ہے؟ اس حقیقت کے باوجود کہ اذیت کا ذمہ دار خاص صدمات کو ہی قرار نہیں دیا جا سکتا، گہرے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اذیت کا ہر احساس دراصل کسی محرومی کے احساس ہی سے پید اہوتا ہے۔
    حواس کی تخلیق اور ارتقا، سو دوزیاں، لذت اور اذیت کی اس لمبی اور نہ ختم ہونے والی کشمکش ہی کا نتیجہ ہے۔ یہ دونوں وہ موثر ترین مخفی تخلیقی عوامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ہمارے حواس خمسہ انہی عوامل کی باہمی کشمکش کا نتیجہ ہیں جو لاکھوں سالوں پر محیط ارتقا کے عمل کے دوران بتدریج معرض وجود میں آ گئے۔ راحت اور اذیت بذات خود نظامِشعور کی تخلیق کا باعث نہیں ہیں۔ تکلیف اور خوشی ازخود اعصابی نظام تخلیق نہیں کر سکتے۔ اور اس شعوری نظام کی عدم موجودگی میں کسی راحت و اذیت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ عدم سے وجود کیونکر ممکن ہے؟ عدم شعور اربوں کھربوں سالوں میں بھی شعور کی نہ تو تخلیق کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تشکیل۔
    اس کے لئے ایک باشعور خالق کی ضرورت ہے جو موت کو شعور عطا کرے اور اس سے زندگی پیدا کرے۔ یوں لگتاہے جیسے خالق کل نے ایک ایسے طریق پر جو اب تک ایک سربستہ راز ہے لذت اور اذیت کو ان اعضاء کی تخلیق کے لئے استعمال کیا ہے جو لذت و اذیت کو محسوس کرتے ہیں۔ اس حیرت انگیز شاہکار کی تخلیق میں اذیت کے کردار کو ختم کر دینے سے زندگی اپنے آپ سے محض ایک بیگانہ اور بے حس نباتاتی مواد کی صورت میں رہ جائے گی۔ شعور کی اس حیرت انگیز صلاحیت کے مقابل پر اذیت اور محرومی کی محدود اور استثنائی مثالیں کیا کوئی مہنگا سودا ہے؟
    یاد رکھیں کہ اسلام کے نزدیک بدی ایک ایسا سایہ ہے جو روشنی کی عدم موجودگی سے پیدا ہوتا ہے۔ بذات خود اس کا کوئی مثبت وجود نہیں۔ روشنی کے ماخذ کا تصور تو کیا جا سکتا ہے مثلاً لیمپ یا سورج مگر تاریکی کے ماخذ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی چیز اندھیرے کا ماخذ اس وقت بنتی ہے جب اس میں روشنی کو روکنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ اسی طرح یہ نیکی کی عدم موجودگی ہی ہے جو بدی کہلاتی ہے اور بدی کے مختلف مدارج کا انحصار نیکی روکنے والے واسطے کی کثافت پر ہے۔
    کسی چیز کو حاصل کر لینے کا شعور ہی لذت کہلاتا ہے اور اس چیز کا نقصان یا کھو دینے کا اندیشہ درد یا اذیت کہلائے گا۔
    لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ دونوں دو انتہاؤں کے طور پر بیک وقت موجود رہیں۔ یعنی ایک کو ختم کرنے سے دوسرا خود بخود ختم ہو جائے گا۔کوئی شخص بھی اذیت اور لذت، نیکی اوربدی کے اس تخلیقی نظام میں نہ تو دخل اندازی کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنے پر قادر ہے۔ یہ انسانی ہمدردی کے بس سے باہر ہے کہ وہ زندگی کو ختم کئے بغیر اذیت کو ختم کر سکے۔



    باب سوم
    سیکولر نقطہ ہائے نظر کا تجزیہ
    آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا خدا کے بارہ میں تصور



    سیکولر نقطہ ہائے نظر کا تجزیہ
    ماہرینِ عمرانیات کے نزدیک مذہب کا ارتقااور ہستی ٔباری تعالیٰ پر ایمان کا نظریہ بنیادی طور پر معاشرتی نفسیات پر مبنی ہے۔ انسان کے معاشرتی رویہ میں اس عمومی رجحان کے مشاہدہ کے بعد انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان ہر اس چیز کا احترام کرتا ہے جس سے وہ خوفزدہ ہو اور ہر اس چیز کے بارہ میں جسے وہ پسند کرتا ہو یا جس کی اسے احتیاج ہو محتاط اور مؤدّب رویہ اختیار کرتا ہے۔ ان ماہرین کی سوچ معاشرتی نظام میں کارفرما ’’کچھ لو کچھ دو‘‘ کے محرکات کے حوالہ سے مذہبی عقائد تک ممتد ہو جاتی ہے اور اس میں خوف اور طمع کے عناصر بھی شامل کر لیتے ہیں۔
    ان کا خیال ہے کہ عہد قدیم کا انسان جبکہ وہ ابھی حیوان نما انسان سے انسانیت کی طرف صرف ایک قدم ہی آگے بڑھا تھا اس کے سادہ ذہن کو گردو پیش کے مناظر نے پریشان اور مبہوت کر رکھا تھا اور جب بھی اس نے مختلف پیچیدہ سوالات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہ ان اشیا کی صحیح ماہیت کا احاطہ کرنے میں نا کام رہا۔ انسان کے ابھرتے ہوئے شعور کی جھلملاتی روشنی میں عجائبات فطرت نے اس کے ترقی پذیر شعور کو اس قدر متاثر کیا کہ اس نے مظاہر قدرت کو کسی مافوق الفطرت ہستی کے ایسے کرشمے تصور کر لیا جو اس کے فہم و ادراک سے بالا ہونے کے باوجود اس کی زندگی پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    انسان نے انہی مظاہر قدرت کو دیوتا قرار دے دیا۔ سیلابوں اور طوفانوں کی تباہ کاریاں دیکھ کر وہ اس خوف سے ان کے آگے سجدہ ریز ہو گیا کہ کہیں وہ اسے بھی تباہ و برباد نہ کر دیں۔ اسی طرح اس نے دن کی روشنی اور سورج کی تخلیقی قوتوں کا مشاہدہ کر کے اپنے تخیلاتی دیوتاؤں کے بارہ میں بھی نفع رساں ہونے کا تصور قائم کر لیا۔ ان مظاہر کو قدرت کے آئینہ میں منعکس ہوتے دیکھ کر انسان نے ان میں سے کسی کے بارہ میں خوفناک ہونے اور کسی کے بارہ میں مشفق ہونے کا تصور قائم کر لیا۔ اس طرح اس نے قدرت کے خوفناک مظاہر مثلاً مدو جزر کے ان سمندری طوفانوں اور بادوباراں کو اپنا دشمن سمجھ لیا جو اپنے بعد بجلی کی چمک اور کڑک اور سیلاب کے ریلے چھوڑ جاتے ہیں۔
    خطرناک جانور بھی اس دائرہ سے باہر نہ رہ سکے۔ شیر، چیتے، سانپ، بچھو اور دیگر خطرناک جنگلی جانور بھی حصہ رسدی ان تصوراتی خداؤں اور طاغوتی طاقتوں کے زمرہ میں آ شامل ہوئے۔ اس کے بر عکس فطرت کے جمالی مظاہر مثلاً زندگی بخش بارش لانے والی مرطوب ٹھنڈی ہوائیں اور باد شمیم میں اسے مہربان دیویوں کا فیض نظر آیا۔ دور اوّل کے انسان نے اپنی دقیانوسی سوچ کی بنا پر ان مظاہر فطرت کو دیوتا یا دیوتاؤں کے ایسے کارندے شمار کر لیا جو مختلف مزاج، انداز اور خصوصیات کے مالک تھے۔ اس کے یہ تصوراتی دیوتا اس کی عقیدت کے حقدار تھے ورنہ اسے ڈر تھا کہ وہ ان کے غیظ و غضب کا نشانہ نہ بن جائے یا ان کی عنایات سے محروم نہ ہو جائے۔ فلکیاتی عجائبات مثلاً سورج، چاند اور ستارے اپنے طلسمی جھرمٹوں سمیت رفتہ رفتہ اس کے انتہائی احترام کے مستحق ٹھہرے۔ اس طرح دیوتاؤں کے بارہ میں اس کے تصورات ارتقائی منزلیں طے کرنے لگے اور درجہ بندی شروع ہو گئی۔ ان میں سے کچھ اعلیٰ اور کچھ ادنیٰ قرار پائے۔
    آج ہم قدیم انسان کی ضعیف الاعتقادی پرگو لاکھ تنقید کریں لیکن ماہرین عمرانیات کی رائے ہے کہ ابتدائی انسان کی یہ سادہ لوحی اس کے مبہم اور غیر ترقی یافتہ ذہنی صلاحیتوں کا فطری نتیجہ تھی۔ مختصراً، اکثر ماہرین عمرانیات کا مذہب کی ابتدا اور ارتقا کے بارہ میں یہی خیال ہے۔
    پھر وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ اسی قدیم طرز فکر کا ارتقا بالآخر خدائے واحد کے نظریہ پر منتج ہوا اور اس بات پر مصر ہیں کہ خدائے واحد کا تصور دراصل بہت سے خداؤں پر اعتقاد کے نتیجہ میں ہی تدریجاً ظہور پذیر ہوا ہے۔ لیکن توحید کے اس نظریہ نے مشرکانہ خیالات کو بالکل ختم نہیں کیا۔ دونوں تصورات بیک وقت موجود رہے اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی سخت اور مشکل کشمکش سے دوچار رہے۔ مرورزمانہ کے ساتھ ساتھ کئی مذاہب منصّہ شہود پر ابھرے اور مختلف نظریات فروغ پاتے گئے۔ ایک خدا کی عبادت بھی ہوتی رہی اور بہت سے دیوتا بھی پوجے جاتے رہے۔ جہالت کی بنا پر انہیں یہ احساس تک نہ ہوا کہ وہ محض اپنے ہی تصورات کی پوجا کر رہے ہیں۔ نیز یہ کہ لوگوں ہی نے دیوتا گھڑ لئے ہیں، خداتعالیٰ نے انہیں پیدا نہیں کیا۔ اس طرح ایک سیدھا سادا فرسودہ طرزِفکر ترقی پا کر جڑ پکڑتا اور پھیلتا چلا گیا اور پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی ذہنی پراگندگی اور غلط فہمیوں کا باعث بنا جن کا محور بے شمار فوق البشر تصورات تھے جنہیں آقاؤں کا درجہ دے دیا گیا۔
    دہریت پر مبنی نقطہ نظر والوں نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر بانیانِ مذاہب پر ارادۃً دروغگوئی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مذہب کے فروغ کے بعد کے دور میں مذہب محض عامۃ الناس کے توہمات کا ملغوبہ نہ رہا بلکہ ایک منظم اور پیشہ ور صورت اختیار کر گیا اور اس مرحلہ پر پیشہ ور مذہبی طبقہ کی فریب کاری کو مزید تقویت دینے کیلئے الہام کا نظریہ متعارف کرایا گیا۔ مذہبی خانوادہ کے یہ پیشہ ورپادری اور ملاّں خدا سے شرف مکالمہ کے مزعومہ تعلق کے باعث خصوصی مرتبہ کے دعویدار بن گئے اور خود کو خدا اور بندے کے مابین رابطے کا ذریعہ قرار دینے لگے۔ اس قسم کے کئی دعویدار مختلف اوقات میں اٹھے جن میں سے ہر ایک نے ان مافوق الفطرت طاقتوں سے تعلق کا دعویٰ کیا جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتی ہیں۔
    ماہرین عمرانیات کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو یونانی دیومالا اور قدیم مذاہب کے عقائد اور رسم و رواج سے یہی مترشح ہوتا ہے۔ دور اوّل کے انسان کی اپنے گردوپیش میں فطرت کے پیچیدہ اسرار کے حل کے لئے حقیقی جستجو کو بالآخر مذہب کے اکابرین نے دیوی دیوتاؤں کے نام پر عمداً دھوکہ اور فریب دہی کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
    اس کے ساتھ ساتھ انسان کے ترقی پذیر شعور نے ایک اور متوازی راستہ بھی اختیار کیا۔ ماہرین عمرانیات کے نزدیک جوں جوں ماحول میں واقع مادی دنیا کے بارہ میں انسانی سوچ ترقی کرتی گئی خدا کی ہستی کے متعلق اس کے تصور میں بھی تبدیلی آتی چلی گئی۔ بتوں اور مجسموں جیسی غیر ذی روح اشیا کو جنہیں پہلے فی ذاتہٖ خدا سمجھا جاتا تھا اب آسمانوں میں بسنے والے دیوتاؤں تک رسائی کا ایک وسیلہ سمجھا جانے لگا۔ اس طرح بتدریج وہ ان دیوتاؤں کے غضب یا رحم کی مختلف حالتوں کے اظہار کا ذریعہ قرار دیئے جانے لگے۔ دیوتاؤں کے تصور میں یوں آہستہ آہستہ تبدیلی آنی شروع ہوئی اور بقول ان کے ان خداؤں کو ایک عام محسوس اور مشہود ہستی کی بجائے ایک نادرویگانہ و غیر مرئی تخیلاتی وجود سمجھا جانے لگا۔ اس طرز فکر نے مزید ترقی کر کے خدائی کے ایک ایسے گنجلک نظام کو جنم دیا جس میں دیوتاؤں کے مختلف مقام متعین کئے گئے اور ہر دیوتا کیلئے کائنات میں ایک الگ دائرہ کار تجویز ہوا۔ دیوی دیوتاؤں کی یہی درجہ بندی تھی اور ان کے باہمی مراتب میں فرق تھا جو بالآخر ایک اعلیٰ و برتر خدا کی تخلیق پر منتج ہوا۔ الغرض ماہرین عمرانیات اس انداز فکر کی بنا پر اندازہ لگاتے ہیں کہ انسانی دماغ نے خدا کی تخلیق اس طرح پر کی ہو گی۔ بالفاظ دیگر اگر خداسازی کا کام ان ماہرین کے سپرد کیا جاتا اور اس کام کیلئے درکار طویل وقت بھی دے دیا جاتا تو غالباً وہ اسی طریق پر خداتعالیٰ کو تخلیق کرتے۔ ان کے اس کلیہ کی اساس اس مفروضہ پر ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں۔ مگر چونکہ اس مفروضہ کی بنیاد کسی حقیقی تحقیق پر نہیں ہے بلکہ ان کی سوچ محض ایک دہریہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے اس لئے وہ اپنے پہلے سے طے شدہ نتیجہ کے بارہ میں بزعم خود عقل ودانش پر مبنی غیرجانبدارانہ تحقیق کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ نہ تو انہیں اپنی سوچ کی خامیاں اورتضادات نظرآتے ہیں اور نہ ہی وہ اس فرضی تاریخ کے واقعات میں کوئی باہمی ربط پیدا کر سکتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ فکرِانسانی کے ارتقا کی تاریخ کا سرے سے کوئی ریکارڈ ہی نہیںملتا۔ وہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ درحقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم اسی کو تاریخ کا نام دے سکتے ہیں جو تھوڑا بہت بطور ثبوت کے ہمیں پُرانے آثار سے ملتا ہے اور جن سے اس زمانہ کے طرزِ زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ تاریخ کم و بیش دو لاکھ سال پرانی ہے۔ جہاں تک مذہب کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس پر بمشکل چند ہزار سال ہی گزرے ہیں۔ پس مفروضے ہی ہیں جن پر انہیں اپنے نظریات کی بنیاد رکھنا پڑتی ہے۔
    زمانۂ قدیم کے لوگوں کی سوچ کے بارہ میں ان کے نظریات محض ایک افسانوی اڑان کی حیثیت رکھتے ہیں جس کا رخ دہریت کی جانب پہلے سے طے شدہ ہے۔ انسانی فطرت جو کہ انسان کے اندازِ فکر کو پرکھنے کا واحد ذریعہ ہے، ان کے اخذکردہ نتائج کی تصدیق نہیں کرتی۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہم اُسی کی عبادت کرتے ہیں جس سے خوف کھاتے ہیں یا حرص ہمیں اشیاء کی عبادت کرنے پر ہمیشہ مجبور کرتی ہے؟ یہ دونوں عوامل کسی ادنیٰ درجہ کے مذہب کی بنیاد بھی فراہم نہیں کر سکتے۔ انسان خوفناک اشیاء سے تو دور بھاگتا ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ اذیت کا نشانہ بننے والے بے بس مظلوم جو بھاگنے کی سکت نہیں رکھتے وہ ظالموں سے رحم کی بھیک مانگیں لیکن یہ نہیں کہ ان کی عبادت شروع کر دیں۔ رہائی کے بعد یہی مظلوم سابقہ ظالموں کو بے نقط سناتے ہیںاور گندی گالیاں دیتے ہیں۔ پوجا کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ایسی کوئی جاسوسی کہانی آج تک ہماری نظر سے نہیں گزری کہ MI5کے کسی جاسوس نے KGB کے تشدد کرنے والے کارندے کو خوف کی وجہ سے پوجنا شروع کر دیا ہو۔ جس خوفِ خدا کا ذکر آسمانی مذاہب کرتے ہیں اس کا درندوں یا دیگر دہشت ناک چیزوں کے خوف سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ بے شک عذاب الٰہی کی تہدید جرم سے باز رکھنے کی غرض سے ہے تا کہ لوگ اپنے ساتھ زیادتی کے مرتکب نہ ہوں تاہم قدیم انسانی معاشروں میں محض جنگلی درندوں یا طوفانِ بادوباراں کے خوف کی بنا پر اس قسم کی تہدید کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی ایسا واقعہ ملتا ہے کہ جنگلی درندوں یا طوفان بر پا کرنے والے عناصر کے خوف یا دھمکی کی بنا پر اس معاشرہ نے جارحیت سے ہاتھ روک لیا ہو۔ پولیس، ٹریفک پولیس اور مجسٹریٹ وغیرہ سے لوگ خوف تو کھاتے ہیں اور شاید نفرت بھی کرتے ہیں لیکن کبھی کوئی ان کی پوجا نہیں کرتا۔ نہایت قدیم دور کا وحشی انسان بھی کسی خونخوارشیر سے خوف کھا کر اپنی جان بچانے کیلئے اس سے دور بھاگے گا نہ یہ کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو کر رحم کی بھیک مانگے اور نہ ہی اس کی عظمت اور جاہ وحشمت کے گن گائے گا۔ بجلی کا کوندا، بارش کا طوفان اور گرمیوں کے سورج کی جھلسا دینے والی تپش قدیم انسان کو پناہ گاہ تلاش کرنے اور حفاظتی اقدام کرنے پر ہی مائل کر سکتی ہے۔ کیا کوئی ماہرعمرانیات، درحقیقت یہ تسلیم کرتا ہے کہ سخت طوفانِ بادوباراں کے دوران زمانہ قدیم کا انسان حفاظتی اقدام کی بجائے اپنے غار سے باہر آ کر قدرت کے غضبناک اور بپھرے ہوئے عناصر کے سامنے سربسجود ہو جائے گا۔ سورج اور ستاروں کی پوجا کا، خوف اور لالچ کی بنا پر پوجا کرنے کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس امر کی قطعاً کوئی شہادت موجود نہیں کہ انسان نے چھوٹے ارضی معبودوں کی عبادت سے رفتہ رفتہ زیادہ طاقتور اور ارفع تصوراتی وجود کی عبادت شروع کر دی ہو۔
    ماہرین عمرانیات ارتقا کے بارہ میں گفتگو توکرتے ہیں لیکن وہ اپنے مفروضہ کو سائنسی طریق پر ثابت نہیں کرتے۔ اس کے برعکس سائنسدان ارتقا کی بات کرتے وقت زندگی کے جملہ ادوار کی منزل بہ منزل ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں جس کی بنا پر زندگی کے اربوں سالوں پر محیط ماضی کے سفر کی بخوبی پہچان ہو سکتی ہے۔ کیا اس بارہ میں کوئی شمّہ بھر ثبوت موجود ہے کہ ہستی ٔباری تعالیٰ کے تصور کی تکمیل کا سفر بھی اس قسم کے ارتقائی مراحل سے گزرا ہو۔ کیا بتوں کی پوجا کرنے والا کوئی ایسا توہم پرست معاشرہ بھی کہیں ہو گزرا ہے جس نے بالآخر اپنی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد توحید اختیار کر لی ہو؟ واقعہ یہ ہے کہ ایک بھی نہیں۔
    بایں ہمہ ماہرینِ عمرانیات پھر بھی مصرّ ہیں کہ انسان کی بنیادی قوتِ ادراک ہی بالآخر خدا کے تصور پر منتج ہوئی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے وہ بڑی تحدی سے اس امر پر قائم ہیں کہ دیوتاؤں کے وجود گھڑ لینے میں ان دیکھی ہستی کا خوف کارفرما ہے۔ جاہلانہ شعبدہ بازیوں اور جہالت کے پردوں میں پنہاں خطرات نے دل و دماغ پر تسلط جما لیا۔ ان کے نزدیک دور قدیم کے انسانوں نے سانپوں، بچھوؤں، تندوؤں، چیتوں اور شیروں کی پوجا شروع کر دی۔ زلزلوں کے زمین کو زیرو زبر کرنے، آسمانی بجلی کے درختوں کی دھجیاں بکھیرنے اور طوفانوں کی شوریدہ سری اور بے رحمی کے نتیجہ میں ہستی ٔباری تعالیٰ کے تصور کا آغاز ہوا جس نے مظاہرقدرت کی پرستش کے بعد دل ہلا دینے والی مادی اشیاء کی پوجا کی شکل اختیار کر لی۔ اسی طرح بے جان اشیاء کی پرستش کے بعد جانوروں کی پوجا یعنی بچھوؤں اور سانپوں کی پوجا سے لے کر بلّیوں اور دیگر جنگلی جانوروں تک کی پوجا ہونے لگی حتیٰ کہ بندر بھی دیوتا تصور کئے جانے لگے۔ قدیم انسان نہ تو آسمانی بجلی کا راز پا سکے اور نہ ہی اسے تخلیق کرنے والی قوتوں کو جان سکے۔ اس کے باوجود وہ ان سے خوفزدہ ضرور تھے۔
    انہوں نے سمجھا کہ ہر پر جلال مظہر قدرت بادلوں کی اوٹ میں موجود ہیبت ناک دیوتا کے غیظ و غضب کا اظہار ہے۔ اس طرح ان کے ناپختہ ذہنوں نے اپنی سادہ لوحی سے توہمات پر مبنی قصے گھڑنے شروع کر دیئے اور ان جابر اور مطلق العنان دیوتاؤں کو خوش کرنے اور ان کے غضب سے بچنے کیلئے رسومات اور قواعد و ضوابط وضع کر لئے۔ عبادت گاہیں تعمیرہوئیں۔ قربانیاں دی گئیں۔ صحیح اور غلط کا شعور پیدا ہونا شروع ہوا۔ طرح طرح کی مذہبی رسوم ایجاد کی گئیں اور بالآخر الہامی کتب مرتّب کر لی گئیں۔ واہ! کیا کہنا۔ ان بے چاروں کے ابتدائی اور قدیم ترین طرز فکر کو کیسا مبالغہآمیز خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے ! یا ان ماہرین عمرانیات کی فراست کو داد دیجئے جنہوں نے ان سادہ ذہن والے قدیم انسانوں کی طرف سے بلندو بالا آسمانی اور ہوائی قلعے تعمیر کر دئیے۔
    وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکے کہ فطرت پرست مذاہب اور الہام پر مبنی مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہے اور نہ ہی وہ یہ جان پائے کہ ان دینی پیشواؤں اور پرانے دیو مالائی مسالک کا درس دینے والوں نے کبھی الہام الٰہی پر مبنی کسی نظام کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح ان کے درمیانی واسطہ ہونے کے نام نہاد دعویٰ کو بھی کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ انہیں یہ منصب نسلاً بعد نسلِِ ان کے پیشروؤں کی طرف سے وراثتاً ملتا رہا۔ معاشرہ بھی اسے بلا چون و چرا تسلیم کرتا رہا۔ ان کے دعاوی کی تائید میں کبھی بھی ان سے آسمانی نشانات پیش کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ لہٰذا وہ اپنی تائید میں طرح طرح کے شعبدے اور ہتھکنڈے ایجاد کرتے رہے۔ یوں ضعیف الاعتقاد لوگ ان لوگوں کے دیوتاؤں کے فرضی قرب سے اور بھی مرعوب ہوتے رہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ فریب تھا۔ اس طرح جھوٹے دیوتاؤں کو جھوٹے دعویداروں کی تائید حاصل ہوتی رہی۔
    ان پیشہ ور غیب دانوں اور خداتعالیٰ کے فرستادہ بانیان مذاہب عالم کے مابین فرق کرنے میں جن امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے انہیں خلاصتہً یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
    .1 بت پرست کاہنوں کی حیثیت پہلے سے قائم شدہ عبادت گاہوں میں مسلم ہوتی ہے۔
    .2 یہ لوگ کوئی ایسا نیا مذہبی نظریہ متعارف نہیں کراتے جو پہلے سے رائج مسلک سے اختلاف رکھتا ہو یا سرے سے ہی اس کا منکر ہواور نہ ہی وہ معاشرہ کی قدروں اور کردار کو تبدیل کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف پرانے اعتقادات او ر رسوم کی تائید کیا کرتے ہیں بلکہ عوام الناس میں مقبول دیو مالائی کہانیوں اور توہمات کی بھی کبھی مخالفت نہیں کرتے۔
    .3 وہ اکثر و بیشتر مروجہ سیاسی نظام میں مقبول ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے مذہبی اعتقادات کی مخالفت کبھی مول نہیں لیتے۔ بے شک کبھی کبھار شاذ کے طور پر مذہبی رہنماؤں نے اپنے ہم عصر حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا لیکن ایسا ہمیشہ حاکمِ وقت کی بیجا مداخلت کے نتیجہ میں بھڑکنے والے جذبہ انتقام کی وجہ سے ہوتاہے اور بعض اوقات ایسی بغاوتوں کے پیچھے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے۔ تا ہم یہ استثنائی مثالیں ہیںلیکن عموماً ہوتا یہ ہے کہ بد عنوان اور بت پرست قیادت ایسے مقبولِ عام فرضی قصّوں کو زندہ رکھتی ہے جو دراصل اس کے اقتدار کو ایک گہری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ سب کے سب توحید کے علمبردار تھے۔ عظیم مذاہب ِ عالم مثلاً یہودیت، عیسائیت، اسلام اور زرتشت ازم کے بانی انبیاء اسی زمرہ میں شامل ہیں۔ اگر ہم حضرت موسٰی ؑ، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد مصطفی ﷺ جیسے انبیاء کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ یہ نظر آئے گا کہ ان میں سے کوئی بھی کسی مشہور و معروف اور مقبول مذہبی گروہ کا نمائندہ نہیں تھا۔ انقلاب کی آواز بلند کرنے والے تنہا یہی لوگ تھے۔ اُن کے دعاوی کی بنیاد ہمیشہ الہام الٰہی تھا۔ وہ ایک ایسے نئے طرز فکر کے علمبردار تھے جو ایک بالکل مختلف طرزِ زندگی کا متقاضی تھا۔ انہوں نے جن اقدار کو دنیا میں قائم کیا وہ اس وقت کے رسوم و رواج سے بالکل مختلف تھیں۔ وہ ہمیشہ ایک نئے نظام کے پیش رو بن کر اُبھرے۔ انہوں نے اپنے ہمعصر مذہبی رہنماؤں کو چیلنج کرنے کی جرأت کی۔ وہ ایک ایسے وقت میں ظاہر ہوئے جب بڑے بڑے مذاہب مختلف فرقوں میںبٹ چکے تھے اور جاہل عوام پر اپنا زیادہ سے زیادہ تسلط قائم کرنے کے لئے باہم برسر پیکار تھے۔
    ایسے وقت میں جب کسی الٰہی فرستادہ کا ظہور ہوا تو مخالفین نے وقتی طور پر اپنے اختلافات کو بھلا کر نئے خدائی نظام کا مقابلہ کر نے کے لئے اپنی تمام تر قوتوں کو مجتمع کر کے تشدد پر مبنی متحدہ مخالفت کا عظیم محاذ قائم کر لیا۔ اس کے بالمقابل خداتعالیٰ کے کسی فرستادہ کو کسی قسم کی کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں تھی۔ نہ تو عوام الناس کی اکثریت نے اس کی تائید کی اور نہ ہی اسے کسی برسراقتدار طبقہ کی آشیر باد حاصل ہوئی اور نہ کسی سیاسی قوت نے حمایت کی۔ اسے تنہا اور بے یارومدد گار چھوڑ دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایسے بد کردار معاشروں کے مقابلہ کیلئے اٹھے جو ہمیشہ توہمات پر مبنی رجحانات کی وجہ سے فروغ پا یاکرتے ہیں۔ نئے نظام کے یہ داعی ہمیشہ توحید کا پرچار کرتے رہے اور ہر قسم اور ہر شکل کی بت پرستی کی بیخ کنی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ان کے مخالفین اگر کسی ایک بات پر متحد ہوئے تو وہ محض انبیاء کی مخالفت ہی تھی اگرچہ ہمیشہ کی طرح وہ باہمی طور پر افتراق کا شکار رہے۔ توحید کے علمبردار اگر مفتری تھے تو ان کا ہدف ناممکن الحصول تھا۔ کیونکہ کوئی مفتری ایسے ناممکن الحصول اہداف کیلئے کبھی ایسی استقامت نہیں دکھایا کرتا جو اس کی پہنچ سے باہر ہوں۔ یہ لوگ بلا شبہ ہستی ٔباری تعالیٰ پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے ورنہ وہ تباہ و برباد ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے۔ اور اگر خداتعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے تو معاشرہ ایسے دعویداروں کو بڑی آسانی سے پاگل قرار دے کر ردّ کر دیتا۔ اس کے علاوہ اور کوئی رستہ ہی نہیں تھا۔ اگر یہ لوگ پاگل نہیں تھے تو پھر کس طرح اتنی مستقل مزاجی اور یقین کے ساتھ اپنے عقیدہ پر ڈٹے رہے اور ایک بے مصرف اور حقیقت سے دور مقصد کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیا؟ لیکن انہیں پاگل قرار دے کر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاگل ہمیشہ الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔ نبیوں کے بالمقابل تو معاشرہ ایسا شدید ردعمل دکھاتا ہے جیسے اس کے پاؤں تلے سے زمین پھٹ گئی ہو۔ ان متشدد مخالفین کے اجتماعی غیظ و غضب کے مقابل پر انبیاء کو کسی امیر یا غریب، طاقتور یا کمزور انسان کی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ ان کے پیغام کی عظمت، ان کے کردار کی شوکت اور انتہائی نا امیدی کے لمحات میں بھی ان کا اپنی فتح پر غیر متزلزل یقین ہمیشہ ان کی صداقت پر گواہ رہا ہے۔
    وہ عظیم قربانیاں پیش کرنے والے لوگ تھے نہ کہ ہواوہوس کے بندے۔ انہوں نے اپنا سب کچھ اپنے عظیم نصب العین کی راہ میں لٹا دیا۔ وہ صرف خود ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ مسلسل شامل ہوتے چلے جانے والے بھی کسی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر عظیم قربانیوں کی اسی راہ پر گامزن رہے اور کسی کی انگشت نمائی کبھی ایسے لوگوں کے حوصلے پست نہیں کر سکی۔
    یہ نظریہ کہ جس کے مطابق خیالی خداؤں کا تصور انسانی جہالت کے باعث ہے، انسانی تاریخ کے بعض ادوار کے حوالہ سے جزوی طور پر درست بھی ہو سکتا ہے جبکہ انسان جاہل اور ذہنی طور پر نا پختہ تھا۔ ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ ملاؤں کے ہاتھوں جاہل عوام کا استحصال ہوا ہے۔ لیکن یہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے کہ اس سے نظریاتی ارتقا کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر خدائے واحد کے عقیدہ پر منتج ہوا۔ تاریخی حقائق اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ توحید کا عقیدہ بت پرستی پر مبنی توہمات کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔ یہ محض ماہرین عمرانیات کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے۔ اس نظریہ کی تائید میں تاریخ سے کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی کہ شرک تدریجاً ترقی کر کے بالآخر توحید میں تبدیل ہو گیا ہو اور نہ ہی ایسی کوئی درمیانی کڑیاں ملتی ہیں کہ لوگوں نے دیوتاؤں کی پرستش کرتے کرتے خدائے واحد کی عبادت شروع کر دی۔ اس کے برعکس یہ ہوتا آیا ہے کہ ایک عظیم انسان اچانک اور یکلخت دنیا کے پردہ پر ابھرتا ہے جس کی و جہ سے مسلسل ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو بڑی بڑی انقلابی تبدیلیوں اور آزمائشوں کا باعث بنتے ہیں اور اس کے پیروکاروں کو عظیم الشان قربانیاں پیش کرنا پڑتی ہیں۔
    قرآن کریم اس نظریہ کو ردّ کرتا ہے اور اس کے بالکل برعکس نظریہ کو درست قرار دیتا ہے یعنی دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب کا آغاز بلا استثناء توحید کے عقیدہ سے ہوا۔ ارتقا کا مذکورہ بالا نظریہ نہ تو تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی ذہن کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
    انبیاء کا کردار ایسی کھلی کتاب ہے جو مخفی عزائم اور خفیہ منصوبوں کے الزامات کو یکسر رد کرتی ہے۔ دعویٰ نبوت سے پہلے کی زندگی کا کوئی بھی دور اس الزام کو ثابت نہیں کر سکتا کہ انہوں نے نبوت کے جھوٹے دعویٰ کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ توحید کے عظیم علمبرداروں مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت اقدس محمدمصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زندگیوں میں اس امکان کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ظہور کے وقت تک حضرت نوح علیہ السلام کا عقیدۂ توحید بعد کی نسلوں میں زوال پذیر ہو کر متعدد خداؤں کی سفلی حکایات کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کے قیام کیلئے دوبارہ ایک عظیم جدوجہد کا آغاز کیا جو بالآخر کامیاب ہوئی اور توحید کی مشعل آپ ؑ کی اولاد اور آپ ؑ کے پیروکاروں نے کئی نسلوں تک روشن کئے رکھی۔
    بالآخر انحطاط کا وہی پرانا عمل اپنے سابقہ تباہ کن نتائج کے ساتھ پھر سے شروع ہو گیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کے چند سو سال بعد ہی بنی اسرائیل بت پرستی کی بدعادت کی طرف لوٹ گئے۔ یہ سلسلہ حضرت موسٰی ؑ کے زمانہ تک جاری رہا۔ اگر چہ انبیاء علیہم السلام میں سے حضرت موسٰی ؑکو بطور توحید کے علمبردار کے بہت بلند مقام حاصل ہے تا ہم بعد میں آنے والی صدیوں میں بت پرستی ان کے متبعین کے ایمان میں سرایت کرتی رہی اور اسے آلودہ کرتی رہی۔ اس سے ایک بار پھر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ توحید سے برگشتگی کا لازمی نتیجہ تنزل ہے۔ اگر انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ ہمیشہ پھسل کر بت پرستی کے قعرِ مذلت میں جا گرے گا۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاںشرک کے جراثیم پروان چڑھتے ہیں۔
    قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک اور مثال مکہ میں موجود بیت الحرام کی دی ہے یعنی اللہ کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم ؑ نے خالصتہً توحید کے قیام کیلئے تعمیر کیا تھا لیکن بتوں کو خدا کے اس عظیم گھر میں دوبارہ داخل ہونے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ نام کے علاوہ اس کی ہر شے تبدیل کر دی گئی۔ بالآخر360بت اس پر قابض ہو گئے جن میں سے ہر ایک بت قمری سال کے ایک دن کی نمائندگی کرتا تھا۔ خانۂ خدا کے درودیوار بتوں سے بھر گئے یہاں تک کہ ان بتوں کیلئے تو اس میں جگہ تھی لیکن جگہ نہیں تھی تو صرف خدا کے لئے۔
    کیا ماہرین عمرانیات اسی ارتقائی عمل کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ کیا بقول ان کے اسی طریق پر بت پرستی ترقی کرتے کرتے خدائے واحد کے تصور میں ڈھل گئی؟ کیا واقعی انسان نے ادنیٰ ذہنی حالت سے ترقی کرتے کرتے اعلیٰ ذہنی حالت کو پا کر ہستی ٔ باری تعالیٰ کا تصور تخلیق کیا؟ ہرگز نہیں۔ تاریخ مذاہب بیک زبان ماہرین عمرانیات کے اس یک طرفہ نتیجہ کو مسترد کرتی اور واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ عقیدہ ٔ توحید کا اصل ماخذ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے اور یہ اسی کی عطا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ بت پرستی کرتے کرتے تدریجاً خدائے واحد کے تصور تک پہنچ جائیں۔ اگر عقیدہ توحید شرک کے ارتقا کا نتیجہ ہوتا تو تاریخ ِمذاہب لازماً اس کی تصدیق کرتی۔ لیکن مذاہب عالم کی مسلّمہ تاریخ میں اس کا نشان تک نہیں ملتا۔ ہوتا یہ ہے کہ موحّد تو دھیرے دھیرے تنزل کا شکار ہو کر مشرک معاشروں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس صورت کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
    نیک لوگوں کیلئے یہ امر انتہائی مشکل ہے کہ وہ لمبے عرصہ تک کے لئے آنے والی نسلوں میں اپنی نیکی بطور ورثہ منتقل کر جائیں۔ چنانچہ ان میں ایک لمبے عرصہ تک اپنے آباؤ اجداد کی پرہیز گاری قائم رکھنے کا عمل شاذ کا حکم رکھتا ہے۔ پہلی نسل جو روشنی کو براہ راست دیکھ چکی ہو اس کی بھاری اکثریت کبھی بھی جہالت کی طرف نہیں لوٹتی تا ہم بعد کی نسلوں میں ایمان بتدریج کمزور پڑتا چلا جاتا ہے۔ ایسا اچانک نہیں ہوتا بلکہ یہ تنزل کا ایک ایسا طویل اور سست رفتار عمل ہے جس کا آغاز انبیاء کے وصال کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اوربالآخر اتنی محنت سے پایا ہوا عقیدہ ٔ توحید کمزور پڑنے لگتا ہے۔ جب ایمان کمزور پڑتا ہے تو توہم پرستی غالب آنے لگتی ہے۔ ایک واحد اور قادر مطلق خدا پر ایمان متزلزل ہو جاتا ہے اور توحید کا تصور پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے۔ عبادت گاہیں جھوٹے کاہنوں کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ بد دیانت ملاّں اور مذہبی اجارہ دار عوام الناس کو دھوکہ و فریب دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
    جملہ مذاہب بلا استثناء انسانی معاملات میں اخلاقیات کے کردار پر بڑا زور دیتے ہیں۔ ان کا دیگر امور میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اخلاقیات کی اہمیت کے بارہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ ایک ایسا عالمگیر رجحان ہے جو ہر زمانہ میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ مذہب پر امراء اور صاحبِ اقتدار لوگوں کی طرف داری کا الزام صرف اور صرف انحطاط پذیر دور کے حوالہ سے تو کسی حد تک درست ہو سکتا ہے لیکن مذہب کی ابتدائی تاریخ کی روشنی میں نبی کی بعثت کے وقت یہ الزام کسی طور بھی ہرگز قابل قبول نہیں۔ نبی جن اقدار کا درس دیتا ہے وہ ہمیشہ حق و انصاف کی حمایت اور بد اخلاقی اور کمزور اور بے سہارا لوگوں کے استحصال کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا کرتی ہیںاور ہمیشہ مظلوم کے ہاتھ ظالم کے خلاف اور شکار کے ہاتھ شکاری کے خلاف مضبوط کرتی ہیں۔
    کیا دنیا میں کبھی مذہبی اخلاقیات نے مظلوم کی بجائے ظالم کی حمایت کی ہے؟ مذاہب کی تاریخ کا جتنا بھی مطالعہ کر لیں آپ کو اس کی ایک بھی مثال نہیں ملے گی۔ ہر مذہب نے کمزور اور غریب کے حقوق کی حفاظت کیلئے قوانین ترتیب دئیے جن کے حقیقی نفاذ کی ضمانت خدائے علیم وخبیر پر ایمان میں مضمر ہے۔ مومن جو کچھ کرتا ہے یا جو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ خدا کے علم سے باہر نہیں ہوتا۔ لیکن انسان کے وضعکردہ قوانین کے نفاذ کے بارہ میں ایسی کوئی ضمانت موجود نہیں۔ اس کا وضعکردہ نظام ہمیشہ اس لئے نا کام رہتا ہے کہ مجرم کو اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ قانون ساز اسے دیکھ نہیں رہا۔ قانون کی حفاظت کیلئے مقرر کی گئی شدید ترین سزاؤں کا خوف بھی مجرم کے ہاتھ نہیں روک سکتا کیونکہ یہ خوف جرائم کی پرورش گاہوںیعنی مخفی نیّتوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ مجرم کو اپنا بچاؤ ہمیشہ اس امید میں نظر آتا ہے کہ اس کی نیت کی طرح اس کا جرم بھی قانون کی نظر سے مخفی رہے گا۔ جھوٹ کی آڑ میں تحفّظ تلاش کرنا بھی جرائم کا ایک بڑا محرک ہے۔ انسان کا جرم کی طرف رجحان اور ارتکابِ جرم کی خواہش اس کے بچ نکلنے کی امید اور امکان سے وابستہ ہے۔ چونکہ ایسی قانون سازی جرائم کی تاریک و تار پرورش گاہوں کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس لئے وہ معاشرتی برائیوں کے خاتمہ میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بہت سی برائیوں کا ارتکاب نظروں سے اوجھل رہ کر گرفت سے بچ نکلنے کی مزعومہ آس کے پس پردہ کیا جاتا ہے۔ بایں ہمہ سراغ رسانی کے جدید ترین ذرائع بھی مجرم کو اس کے ان عزائم سے باز نہیں رکھ سکتے جو اس نے اپنے دل کے نہاں خانوں میں پوری سوچ بچار اور منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کئے ہوتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کی ہستی پر پختہ ایمان اور احتساب کا خوف ہی دراصل جرائم کی روک تھام کر سکتا ہے۔ انہی مقاصد کے تحت مذہب نے اخلاقی ضابطۂ حیات پیش کیا۔ فی الحقیقت یہ اخلاقی حیات ہی خود مذہب کی بقا کیلئے ازبس ضروری ہے۔ اخلاقی قدروں کے پامال ہونے کے نتیجہ میں سب سے پہلے مذہب کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔ بد دیانتی اور بد عملی انسان کے بنائے ہوئے قانون اور آئین کے بلند و بالا ایوانوں کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ اسی طرح مذہب کے عظیم روحانی درودیوار بھی فسق و فجور کے نتیجہ میں شکست و ریخت کی نذر ہو جاتے ہیں اور دیمک کی طرح عظیم مذاہب کی فلک بوس اخلاقی عمارات کو پیوند خاک کر دیتے ہیں۔
    ہر سطح پر مذہبی عقائد اور اعمال کے انحطاط کو سمجھنے کی یہی کلید ہے۔ اخلاقیات کا معیار پست ہونے کی بنا پر توحید کا عقیدہ ہی پارہ پارہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بت پرستی توحید کی جگہ لینے لگتی ہے اور بت خدا کے گھر پر قابض ہو جاتے ہیں جنہیں مندروں میں تبدیل کر دیا جاتاہے۔ انحطاط کے اس پس منظر میں غور سے دیکھنے والے کو ہمیشہ بددیانتی کے جراثیم نظر آئیں گے۔ قیادت کی کسی بھی سطح پر ہونے والی بددیانتی ایک مہلک زہر ہے۔ لیکن اگر یہ مذہبی قیادت پر قبضہ جما لے تو اس سے بڑھ کر مہلک زہر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے مذہبی رہنما خدا کے نام پر اس کی مخلوق کے امن کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ تب انسانی معاملات سے خداتعالیٰ کا کردار ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور اس کے خالی تخت پر مذہبی اکابرین کے جعلی خدا قبضہ جما لیتے ہیں۔
    زیادہ دانشمندانہ طریق یہ ہے کہ مذاہب کی سچائی کا محاکمہ ان کے دور اوّل کو سامنے رکھ کر کیا جائے نہ کہ اس وقت جب وہ انسانی دست برد کا شکار ہوچکے ہوں۔ مذاہب کا آغاز جتنا ارفع واعلیٰ ہوتا ہے اتنا ہی عاجزانہ بھی لیکن اس کے اوائل میں جب مذہب اپنی اصل اور بے داغ حالت میں ہوتا ہے تو معاشرہ شدید مخالفت کے ساتھ اسے رد کر دیتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام مذہبی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہوتے ہیں لیکن انہی کو لوگ نہ صرف مسترد کر دیتے ہیں بلکہ ان سے استہزاء کرتے اور انہیں ظالمانہ مخالفت کا نشانہ بناتے ہیں۔
    یہی حال ابتدائی ایمان لانے والوں کا ہوتا ہے جن کی دیانت، مقصد سے لگن اور حق کے لئے رضاکارانہ قربانیوں کی مثال بعد کے دور میں ملنی محال ہوا کرتی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ان جیسے نیک لوگ اپنی زندگی میں تو معاشرہ کیلئے قابل قبول نہیں ہوتے لیکن اس سرائے فانی سے کوچ کرنے کے بعد بعض دفعہ ان کی تکریم ان کے اصل مرتبہ سے بھی بڑھ کر کی جاتی ہے یہاں تک کہ انہیںخدائی کے مرتبہ تک پہنچا دیا جاتا ہے اور ان کی قبروں کی پوجا شروع ہو جاتی ہے۔ معاشرہ کا یہ عجیب اور متضاد رویہ ان لوگوں میں بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے جو کوئی قربانی دیئے بغیر اس عقیدہ کو وراثتاً اپنا لیا کرتے ہیں۔ یہ لوگ اعلیٰ مذہبی اقدار کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں اور انہیں گھن کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ خداتعالیٰ کی توحید ہمیشہ دو طریق پر کام کرتی ہے۔ اوّل یہ کہ توحید کے علمبردار اللہ تعالیٰ سے ایک اٹوٹ رشتہ میں منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی اسی طرح جڑے ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ خالق اور مخلوق کے درمیان بھی یکجہتی کا رشتہ پایا جاتا ہے۔
    مستند تاریخ کی رو سے کبھی کسی نبی نے اپنے سے پہلے آنے والے نبیوں پر نہ تو کوئی الزام لگایا اور نہ ہی ان کی تردید کی۔ ’’وحدانیت‘‘ کا یہ رویہ مستقبل پر بھی محیط ہے۔ جھوٹے نبیوں کے بارہ میں، جو اپنی فتنہ پردازیوں سے شناخت کئے جا سکتے ہیں،بلاشبہ انتباہ بھی کیا جاتا ہے لیکن سچے مرسلین کے ظہور کا ہمیشہ محبت اور احترام سے ذکرکیا جاتاہے۔ اس کا اطلاق توحید کے علمبرداروں پر یکساں ہوتا ہے۔ وہ توحید کی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ لیکن بد عنوان مذہبی پیشوا اس خوبی سے عاری ہوتے ہیں۔ وہ توحید کی آڑ میں تفرقہ کا پرچار کرتے ہیں۔ توحید کی محبت خدا کے نبیوںکو باہم اس طرح متحد کر دیتی ہے کہ ایک کی ناراضگی سب کی ناراضگی متصوّر ہو تی ہے۔ توحید ایک طرف تو اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین یگانگت کی علامت ہوتی ہے اور دوسری طرف ان برگزیدہ بندوں میں باہمی اتحاد کی۔
    اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان توحید ایک آفاقی رشتہ ہے جو خالق کو اس کی مخلوق سے ملاتا ہے۔ یہ تعلق ظاہری بھی ہو سکتا ہے اور باطنی بھی۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق منقطع ہونے لگتا ہے اور ایسی زمین تیار ہو جاتی ہے جس میں بدی کا درخت خوب پھلتا پھولتاہے۔
    تفرقہ کے پہلے آثار اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب بعد کے ادوار کے متکبر مذہبی پیشوا انبیاء کے درجہ کو بڑھا کر توحید کے عظیم الشان مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں اور ان کی طرف کچھ ایسی الوہی صفات منسوب کر دیتے ہیں جو انہوں نے خود اپنی طرف کبھی بھی منسوب نہیں کی ہوتیں۔ گزرے ہوئے رسولوں کی محبت میں غلو اس انحطاط پذیر مذہبی معاشرہ کا نیا دین بن جاتا ہے۔ ان کی مدح سرائی میں حد درجہ مبالغہ سے کام لیا جاتا ہے۔ نئے خدا تراشے جاتے اور فانی ہستیوں کو غیر فانی قرار دے دیا جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ انہیں اور ان کے پیروکاروں کو اس بیہودہ تضادکی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ گزشتہ انبیاء کی اندھی محبت ان کے دین کی جان اور پہچان بن جاتی ہے۔ لیکن اس رسول کے جعلی متبعین کا یہ نیا طبقہ یہ سب کچھ اصل پیغام کی روح اور جذبہ کو مکمل طور پر برباد کرنے کے نتیجہ میں حاصل کرتا ہے۔ انبیاء تو ہمیشہ گناہ کے خاتمہ کیلئے آیاکرتے ہیں لیکن ان سے محبت کے جذبات کو بہانہ بنا کر الٹا گناہ کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ گویا ان کی محبت انہیں ان کے سارے گناہوں سے نجات دلا دے گی۔ ایک فوت شدہ نبی کی اس قسم کی محبت ان کی زندگی کو موت سے بھی بد تر بنا دیتی ہے۔ وہ توحید کے عقیدہ کو پارہ پارہ کرنے کے باوجود خود کو خدا کے حضور اس وقت تک بری الذمہ خیال کرتے ہیں جب تک وہ اس کی خدائی میں مزعومہ شریک کے آگے سر جھکاتے رہیں گے۔ یہ عقیدہ اخلاقی بے راہ روی کے بند کو اس طرح توڑدیتا ہے کہ پھر اس کا روکنا انسان کے بس کی بات نہیں رہتی۔ یوں معصوم رسولوں کی محبت میں غلوکے نتیجہ میں گنا ہ ہمیشہ پروان چڑھتا ہے۔
    یہی انحطاط پذیر مذہبی لیڈر خدا کی محبت کے نام پر نہایت ڈھٹائی سے خونریزی، دہشتگردی اور بنیادی انسانی حقوق کے استحصال کا درس دیتے ہیں۔ یہ نہ صرف خدا اور مخلوق کے درمیان ایک حدّ فاصل کھڑی کر دیتے ہیں بلکہ خود کو خدائی کے مرتبہ پر فائز کر کے احکام جاری کرنے لگتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار کئے بغیر خود خدا بن بیٹھتے ہیں۔ ان کیلئے خداکی ذات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بلکہ اصل اہمیت ان کی اپنی ذات کو حاصل ہو جاتی ہے۔ ان کے نزدیک اب معاشرہ کو ان کے غضب سے بہر صورت ڈرتے رہنا چاہئے اور ہمیشہ کے لئے ان کی خوشنودی کا طلبگار رہنا چاہئے۔ یہ سارا عمل جزا سزا کے ایک نئے معیار کو قائم کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ جو ان کے خودساختہ خداؤں سے ٹکر لینے کی جرأت کرتا ہے، اسے واصلِ جہنم کر دیا جاتا ہے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے کوابدی جنت کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ خدا ہی ان کی ریشہ دوانیوں سے بچائے۔ انہیں عوام الناس کے اخلاق کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ انہیں تو صرف اپنی اور اپنے اقتدار کی ہوس ہے۔ اسی کی بنا پر تو وہ عوام الناس پر حکومت کرتے ہیں۔ اس طرح مروت، تہذیب اور عدل وانصاف کو ان کے انتہاپسند اور متشدد عقائد کی بھینٹ چڑھادیا جاتا ہے۔ جب بھی توحیدِ الٰہی سے کسی نہ کسی رنگ میں انحراف کیا جائے تو معاشرہ کو ہمیشہ یہی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
    جب خدا کی تقدیر جاری ہوتی ہے تو جوشِ انتقام میں وہ زخمی سانپ کی طرح پھنکارنے لگتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کی یہ نام نہاد پرستش محض ایک چال ہے ورنہ ان کا اصل رویہ ہمیشہ ہی سے اپنی انا کی پرستش رہا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ملحد معاشرہ ان جیسے بہت سے جعلی خداؤں سے بھرا پڑا ہے۔ درحقیقت توحید باری تعالیٰ کے بغیر اتحاد ممکن ہی نہیں۔ ملاؤں کی باہمی رقابتیں بالآخر اپنا رنگ دکھاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظریاتی اختلافات کے نام پر معاشرہ نئے فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
    عوام الناس پر تسلط حاصل کرنے کیلئے ان کے مابین اقتدار کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ ان کو صرف اپنے دھڑے کی کثرت تعداد مطلوب ہوتی ہے۔ لیکن اپنے پیروکاروں کے اخلاق کی ان کو ذرہ بھر پرواہ نہیں ہوتی۔ یہ رہنما ان کی روز مرہ کی زندگی اور معاشرہ سے متعلق ان کے اخلاقی فرائض کی بجا آوری پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈالتے۔ وہ تو صرف عوام کے جذبات کو مشتعل کر کے دوسرے فرقوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کبھی بھی ان کے دلوں کی زمین کو نرم اور ہموار کر کے اس میں محبت اور قربانی کے بیج نہیں بویا کرتے۔ ایسا معاشرہ بت پرستی کے پنپنے کیلئے بڑی موزوںزمین فراہم کرتا ہے۔ ان کا تو فقط ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ جہاں تک مذہبی امور اور عقائد کا تعلق ہے ان کے فیصلوں کے سامنے غیر مشروط طورپر سرتسلیم خم کیا جائے۔ ان کے نزدیک اس امر کی کوئی اہمیت نہیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق بسر کی جائے۔ لوگ ڈاکے ڈالیں، چوری کریں، کسی کو اپاہج بنا دیں، قتل کردیں، دولت سمیٹیں، جھوٹ، مکرو فریب اور دھوکہ سے قلعے تعمیر کر لیں۔ الغرض لوگ جو چاہیں کریں، شرط یہ ہے کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں کی وفاداریاں تبدیل نہ کریں اور ان کے مدمقابل کے سامنے سر نہ جھکائیں۔ ان کے نزدیک اس کے علاوہ ہر دوسری بات جائز ہے۔ ان کا قبلہ خدا کی بجائے انبیاء اور پھر انبیاء کی بجائے ان کی اپنی ذات اور انابن جاتا ہے۔ یوں اخلاق سے عاری اور فانی لوگ چھوٹے چھوٹے خداؤں کا روپ دھار لیتے ہیں۔
    ان کی پیروی کرنے والے جاہل عوام کی حالت بھی قابلِ رحم ہے۔ ان کے نزدیک خدا ہی مذہبی پیشوا ہے اور مذہبی پیشوا ہی خدا۔ مذہبی معاملات میں وہ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔ ان کی اطاعت کا مرکز تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے یہاں تک کہ ان کے لئے خدا اور مذہبی پیشوا میں فرق کا شعور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ان کیلئے مذہبی پیشوا کی مرضی خدا کی مرضی بن جاتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ مذہبی پیشوا ان کے ذاتی مفادات کی راہ میں حائل نہ ہو جائے۔ جب کبھی ایسا ہوتا ہے تو اسی وقت اس کا سارا اختیار ختم ہو جاتا ہے اور وہ ان کیلئے قابل اطاعت نہیں رہتا۔ اس جیسے اخلاقی گراوٹ کے شکار معاشرہ کا ہر فرد اپنے سوا کسی اور خدا کو نہیں جانتا۔ ان مذہبی پیشواؤں کے مصنوعی خداؤں کی تکریم اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک کہ ان کا اپنے پیروکاروں کی انا سے تصادم نہیں ہوتا۔ اس طرح توحید سے شرک تک کا سفر مکمل ہو جاتا ہے۔ انا کی پوجا ہی ایک انحطاط پذیر مذہبی معاشرہ کا منطقی انجام ہے۔
    اس قسم کے ملے جلے رجحانات کے حامل معاشروں میں خداتعالیٰ کی طرف سے ایک نذیر کی اچانک بعثت ہمیشہ ایک نا پسندیدہ مداخلت تصور کی جاتی ہے۔ اسی قسم کا سلوک حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ روا رکھا گیا جو اسرئیل کی بھیڑوں کی طرف مبعوث ہوئے لیکن ان کے رویہ کی بنا پر انہیں بھیڑوں کی بجائے بھیڑیئے کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ تا ہم حضرت عیسیٰ ؑ کا رویہ ایک مہربان گڈریے کا تھا جو اپنے ریوڑ کی ہر بھیڑ کا خیال رکھتا ہے۔
    دیکھنے والی آنکھ بآ سانی دیکھ سکتی ہے کہ کس طرح مکرو فریب کے ذریعہ انبیاء کی راہیں مسدود کر دی جاتی ہیں۔ انبیاء کو فرضی معبود بنا لینا بعد میں آنے والے نبیوں کے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے کیونکہ ان کا ظہور بہرحال انسانی شکل میں ہوتا ہے۔ انہیں معبود نہ بھی سمجھا جائے تب بھی ان کی مبالغہ آ میز مدح سرائی اور ان کی طرف مافوق الفطرت طاقتوں کا منسوب کیا جانا ہی سچے نبیوں کی تکذیب کیلئے کافی وجہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہ کبھی اس شان وشوکت کے ساتھ نہیں آتے جس کی لوگ توقع کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کا خیالی تصور ان کی شناخت کے راستے مسدود کر دیتا ہے۔
    انبیاء پر ایمان لائے بغیر خدا پر ایمان کا دعویٰ دراصل الحاد ہی کا دوسرا نام ہے کیونکہ ایمان کا ایسا دعویٰ کرنے والوں کی زندگی میں خدا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ گویا خدا نے ان کو ایسے چھوڑ دیا ہے جیسے کوئی پرندہ کبھی واپس نہ آنے کیلئے اپنے آشیانہ کو چھوڑ دیتا ہے۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اسی قسم کے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ آپ کے زمانہ میں یہودی معاشرہ بھی ایک ایسے ہی روحانی اور اخلاقی بحران سے گزر رہا تھا۔ یہودی علماء کیا فریسی اور کیا صدوقی سب مصنوعی خدا بنے بیٹھے تھے اور حقیقی خدا کیلئے کوئی جگہ باقی نظر نہیں آرہی تھی۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ کی خدا کے نام پر تنہا اور فقیرانہ آواز کا مخالفوں کے شور و شغب میں ڈوب جانا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔
    مذہب کے آغاز اور عروج و زوال کی یہی مختصر سی داستان ہے۔ لیکن ہر زوال کے بعد توحید کے از سر نو قیام کیلئے ہمیشہ وحی ٔ الٰہی کے ذریعہ ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔ یہ آغاز زمین سے نہیں ہواکرتا۔ انسانی خیالات تو زمین سے اٹھنے والے دھوئیں کی مانند ہیں جو کبھی بھی حقیقی توحید کے عقیدہ میں نہیںڈھل سکتے۔ توحید حقیقی ہمیشہ آسمان سے ہی آیاکرتی ہے اور گرے ہوئے انسان کو قربِ الٰہی کی رفعتوں سے ہمکنار کر دیتی ہے۔
    آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میںخداتعالیٰ کا تصور
    اب تک ہم نے مغربی ماہرین عمرانیات کے ان نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو آجکل مقبول عام ہیں۔ انہوں نے اپنی عجیب و غریب منطق سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نہ صرف انسان خداتعالیٰ کی تخلیق نہیںبلکہ ایک خدا کا تصور بھی انسانی ذہن کی ہی پیداوار ہے۔ اس نظریہ کے حق میں ان کے نام نہاد ثبوت محض قیاس آرائیوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ امر کہ ایک ارب سال پر محیط انسانی جسم اور ذہن کا ارتقائی مطالعہ کہاں تک ان کے اس عجیب و غریب مفروضہ کی تائید کرتا ہے، بذات خود تحقیق طلب ہے اور گہرے مطالعہ کا متقاضی ہے۔ دوسری طرف تاریخ مذاہب کے غیر جانبدارانہ مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ پر ایمان انسانی توہمات کی پیداوار نہیں۔ کیا انسان خدا کی تخلیق ہے یا خدا انسان کی؟ اس نہایت اہم سوال پر ہم پہلے ہی دنیا کے بعض بڑے بڑے توحید پر ست مذاہب کی تاریخ کے حوالہ سے بحث کر چکے ہیں۔
    اب ہم آسٹریلیا کے قدیم مذاہب کے حوالہ سے ماہرین عمرانیات کے اس نقطۂ نظر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعۃً خدا کا تصور بتدریج پروان چڑھا ہے؟ یہ جائزہ ان ماہرین کے طرز تحقیق میں موجود غلطیوں کو اور بھی واضح کر دے گا۔ یہ لوگ تحقیق شروع کرنے سے پہلے ہی یہ مفروضہ قائم کر لیتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ کیا کوئی انصاف پسند شخص ایسی تحقیق کو سائنسی تحقیق کہہ سکتا ہے جس کے نتائج کا فیصلہ تحقیق کے شروع ہونے سے پہلے ہی کر لیا جائے؟ یہ اندرونی تضاد اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب ان ماہرین عمرانیات کو آسٹریلیا سے ملنے والے ناقابل تردید شواہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی تحقیق کو شروع کرنے سے پہلے اس کے اصول وضع کر لئے جائیں۔ لیکن ماہرین عمرانیات نے ایسے اصول وضع کرنے یاتحقیق کا مقصد متعین کرنے کی سرے سے کوشش ہی نہیںکی۔ ان کا تو صرف ایک ہی اصول ہے اور ایک ہی مفروضہ اور وہ یہ کہ کوئی خدا موجود نہیں۔ ان کی تحقیق کا مقصد تو صرف یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ لوگ خدا یا دیوتاؤں کی پرستش کرتے کیوں ہیں؟ حالانکہ بقول ان کے ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ چنانچہ ان کی تحقیقات کا واحد مقصد ایسے توہمات کی نشوونما کا جائزہ لینا ہوتا ہے جو دیوتائوں کی تخلیق پر منتج ہوتے ہیں۔
    اب ہم قاری کو آسٹریلیا کی مذہبی تاریخ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ وہ براعظم ہے جس کی ثقافت، معاشرت اور مذہبی تاریخ کم از کم پچیس ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ بہت سے محققین کے نزدیک اس کا عرصہ چالیس ہزار سال بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور بعض تاریخ دانوں کے نزدیک یہ عرصہ ایک لاکھ تیس ہزار سال تک ممتدہے۔ اس عرصہ میں بغیر کسی وقفہ، ملاوٹ اور خلل کے مذہب کی نشو ونما مسلسل جاری رہی۔
    براعظم آسٹریلیا صرف اسی لئے منفرد نہیں کہ یہ باقی دنیا سے کٹا ہوا تھا بلکہ اس لئے بھی منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں سینکڑوں قبائل پر مشتمل ایسے معاشرتی جزیرے تھے جو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہاں پانچ سو سے چھ سو تک ایسے قبائل تھے جن کے مذہبی اور معاشرتی ارتقاکی اپنی اپنی آزادانہ تاریخ تھی جو پچیس سے چالیس ہزار سال پرمحیط ہے۔ اس دوران سوائے چند سرسری سرحدی رابطوں کے وہ ایک دوسرے سے بالکل الگ رہے۔
    یہ رابطے نہ صرف مختصر تھے بلکہ ایک د وسرے کے نظریات، عقائد، روایات اور توہمات کی منتقلی کے لحاظ سے بھی غیر مؤثر تھے۔ صرف زبانوں کا اختلاف ہی اس راہ میں حائل نہیں تھا بلکہ یہ لوگ روایتاً دوسروں سے میل جول اور روابط کو سخت نا پسند کرتے تھے۔ اور یوں ایک دوسرے کو معلومات بہم پہنچانے کے رستہ میں ناقابل عبور رکاوٹیں حائل ہوگئی تھیں۔
    اگر ماہرین عمرانیات کا نقطۂ نظر جو ہستی ٔباری تعالیٰ کے انکار سے شروع ہوتا ہے اپنے اندر کوئی وزن رکھتا تو مظاہر قدرت کی پرستش سے خدائے واحد پر ایمان میں تبدیل ہونے والا آفاقی رجحان تما م قدیم آسٹریلوی قبائل میں بھی نظر آتا۔ لیکن وہاں حقائق کو اس کے برعکس دیکھ کر ماہرینعمرانیات جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    آسٹریلیا کے تمام قبائل بلا استثنا تمام کائنات کی تخلیق کرنے والی ایک بالا ہستی پر ایمان رکھتے ہیں۔ تفصیلی مطالعہ سے کہیں کہیں ان کے عقائد میں معمولی فرق ضرور نظر آتا ہے اور کچھ اصطلاحات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ لیکن عمرانیات اور انسانی ارتقاکے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ سب قبائل ایک بالا ہستی پر ایمان رکھتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اللہ، خدا، پرماتمااور برہما اسی ہستی کے دوسرے نام ہیں۔
    ایک ازلی ابدی خالق کائنات کا یہ مرکزی تصور تمام توہمات کی آمیزش سے پاک نظر آتا ہے۔ اگرچہ ہر قبیلہ میں مختلف قسم کے توہمات پائے جاتے ہیں لیکن ایک خدا پر ایمان کے بارہ میں ان میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ ماہرین عمرانیات کو آسٹریلیا میں کہیں بھی خدا کے تصور کے تدریجی ارتقا کے شواہد نہیں ملے۔ البتہ مختلف قبائل کے مروجہ عقائد میں صرف انداز بیان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً ومبایو (Wimbaio) قبیلے کا عقیدہ ہے کہ زمین کی تخلیق کے وقت خدا زمین کے قریب تھا لیکن اس کام کی تکمیل کے بعد وہ آسمان کی بلندیوں کی طرف واپس چلا گیا۔ اسی طرح ووجو بالک (Wotjobaluk) قبیلے کا عقیدہ ہے کہ بنجل (Bunjil) نامی ایک بالا ہستی پہلے زمین پر عظیم انسان کی شکل میں موجود تھی لیکن بالآخر آسمان کی طرف پرواز کر گئی۔ 1
    ماہرین عمرانیات ان عقائد کا ذکر کرتے ہوئے قاری کو اکثر یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ مذکورہ بالا پانچ سو یا اس سے بھی زائد قبائل ایک خالق کے ازلی ابدی ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔ رہا یہ سوال کہ کیا کبھی وہ ہستی انسانی شکل میں ظاہر ہوئی؟ تو یہ ایک ضمنی بات ہے اس کا اس بحث کے مرکزی نقطہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے عقائد کی بنیاد اس ایمان پر تھی کہ زمین اور اس میں موجود تمام اشیاء اپنے خالق کی طرح ازلی ابدی نہیں ہیں۔
    بہت سے ماہرین بشریات (Anthropologists) کے نزدیک قدیم آسٹریلوی باشندوں میں خدا کے تصور کے آغاز اور مقصد کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ انہیں اس بارہ میں شک ہے کہ آیا ان قدیم باشندوں کا بیان کردہ دیوتا٭ (High Gods) وہی برتر ہستی ہے جس کا تصور دیگر روایتی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ ان ماہرین کو یقین ہی نہیں آتا کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں جیسی پس ماندہ قوم بھی اتنے ترقییافتہ نظریات کی کیونکر حامل ہو سکتی ہے۔
    اس نقطۂ نظر کی نامعقولیت بالکل واضح ہے۔ چونکہ یہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اس لئے ان کے نزدیک ایسا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ یہی ان کے دلائل کی بنیاد ہے۔ اس سے ان کا متعصبانہ رویہ بھی کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ اگر قدیم آسٹریلوی معاشرہ میں بھی اپنی تاریخ کے آغاز سے ہی ایک خدا پر ایمان پایا جاتا ہے تو ماہرین عمرانیات کو یہ ماننا پڑے گا کہ خدائے واحد سے متعلق نظریات قدیم توہماتی داستانوں سے ارتقا پذیر نہیں ہوئے۔ لیکن ہمیں ان کی طرف سے یہی بچگانہ اور گھساپٹا جواب ملتا ہے کہ چونکہ ہمارے نزدیک ایسا ممکن ہی نہیں اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔
    ای۔ بی۔ ٹائلر (E.B.Tylor) نے اپنی خفت مٹانے کیلئے آسٹریلیا سے ملنے والے شواہد کو رد کرنے کی کوشش کی ہے اور حقائق سے پہلوتہی کرتے ہوئے یہ عذر تراشا ہے۔ اس نے جرنل آف انتھروپالوجیکل انسٹی ٹیوٹ (Journal of Anthropological Institute - 1891) میں اپنے ایک مضمونLimits of Savage Religion (وحشی مذہب کی حدود) میں یہ انوکھا نظریہ پیش کیا ہے کہ آسٹریلیا میں ایک برتر خدا کا تصور عیسائی مشنریوں کے اثرات سے پیدا ہوا تھا۔ مصنف کے اس بے سروپا خیال کو تاریخی حقائق رد کر دیتے ہیں۔
    ٹائلر (Tylor)کے دعویٰ کو مکمل طور پر غلط ثابت کرتے ہوئے ارتقائیات کے ایک اور ماہر اے ڈبلیو ہووٹ (A.W.Howitt) نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ جنوب مشرقی آسٹریلیا میں ایک ازلی ابدی خدا پر ایمان بہرحال عیسائی مشنریوں بلکہ مغربی آباد کاروں کی آمد سے قبل بھی موجود تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ یہ بھی معلوم نہیں کر سکا کہ عیسائی مشنریوں کے آسٹریلیا میں توحید کا بیج بونے کا انوکھا تصور تو ویسے ہی رد کے قابل ہے۔ کیونکہ آسٹریلیا کے پورے براعظم میں یہ قدیم باشندے خدا کے جس تصور سے محبت کرتے ہیں اس میں تثلیث کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔
    اسی طرح مشاہدات کے وسیع دائرہ کے باوجود ہووٹ اپنی تحقیق کو اس کے منطقی نتیجہ تک پہنچانے میں متذبذب ہے۔ جبکہ اس نے اپنی کتاب مطبوعہ 1904میں تسلیم کیا ہے کہ آسٹریلیا کے باشندے ایک ایسی کامل ہستی پر ایمان رکھتے تھے جو باپ کا درجہ رکھتی ہے:
    ’’اور جو بدیہی طور پر دائمی ہے۔ کیونکہ وہ تمام اشیاء کے آغاز کے وقت بھی موجود تھی اور اب بھی موجود ہے۔ لیکن قدیم باشندوں کے عقیدہ کے مطابق اپنے اس وجود کے ساتھ بھی وہ صرف اسی حالت میں ہے جس میں کہ ہر وہ انسان ہو گا جس کو جادو کے ذریعہ قبل از وقت مار نہ ڈالا گیا ہو۔‘‘ 2
    چنانچہ یوں ہووٹ (Howitt) اس مسئلہ کو الجھا کر اس ناگزیر نتیجہ سے بچنا چاہتا ہے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے خداتعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ:
    ’’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا شعوری طور پر کسی نہ کسی شکل میں کوئی مذہب بھی ہے۔‘‘ 3
    اس نا گزیر نتیجہ سے بچ نکلنے کیلئے ماہرین ارتقا کی مایوسانہ کوششوں کی یہ ایک اور مثال ہے۔ ہووٹ نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ نہ صرف بے نتیجہ ہیںبلکہ موضوع بحث سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ماہرین عمرانیات اس سادہ سوال کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے کہ سینکڑوں قبائل میں منقسم آسٹریلیا کے قدیم معاشرہ میں جہاں باہمی رابطوں کی کوئی بھی صورت نہیں تھی ایک بزرگ و برتر اور ازلی ابدی ہستی کا ہر جگہ ایک جیساتصور کیسے پیدا ہو ا۔
    علاوہ ازیں چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے کہ ان حقائق کی موجودگی میں ان کے ان نظریات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ ہستیٔ باری تعالیٰ کا تصور بہت سی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد پیدا ہوا۔
    اگر ہم ہووٹ کے اس بلند بانگ دعویٰ کو تسلیم کر بھی لیں کہ ان لوگوں کا واقعی یہ عقیدہ تھا کہ اگر انہیں جادو کے زور سے نہ مارا جاتا تو ارتقائی منازل طے کرتے وہ اپنے خالق کی طرح ہو جاتے تو بھی ہووٹ کیلئے فرار کی کوئی راہ نہیں رہ جاتی۔ اس سے ماہرین عمرانیات کی اس فرضی داستان کی کسی صورت میں بھی تائید نہیں ہوتی کہ خدا کا تصور کسی ارتقاکا نتیجہ ہے۔
    حیرت کی بات یہ ہے کہ ہووٹ جیسے شہرت رکھنے والے عالم نے بھی دو بالکل مختلف امور کو آپس میں گڈ مڈ کر دیا ہے یہ نظریہ کہ پہلے انسان نے توہمات کا شکار ہو کر بہت سے دیوتاؤں کو مانا اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے ایک خدا پر ایمان لے آیا، اس فرضی بحث سے کوئی تعلق نہیں رکھتا کہ اگر موت انسان کو فنا نہ کر دے تو وہ ترقی کرتے ہوئے دیوتا بھی بن سکتا ہے۔ قدیم آسٹریلوی باشندوں کے اس خیال کا موازنہ زیادہ سے زیادہ عہد نامہ قدیم میں مذکور حضرت آدم ؑ، حوا اور سانپ کے اس قصہ سے کیا جا سکتا ہے جس میں سانپ کے بقول خداتعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور حوا کو شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانے سے محض اس لئے روکا تھا کہ مبادا وہ حیات ابدی میں خالق کے شریک بن جائیں۔ قدیم آسٹریلوی باشندوں کے اس نظریہ کی یہودو نصاریٰ کے عقائد سے مماثلت انہیں روایتی مذاہب کے اور بھی قریب لے آتی ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ ہووٹ کو اس مماثلت کی کیوں سمجھ نہیں آئی۔
    ظاہر ہے کہ یہ انداز آسٹریلیا کے قدیم باشندوں نے خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کو واضح کرنے کیلئے اختیار کیا جس میں پیغام یہ ہے کہ خالق نہ صرف ازل سے ہے بلکہ تا ابد رہے گا۔ صرف وہی ہے جو ان صفات سے متّصف ہے۔ چونکہ ہر انسان فانی ہے اس لئے کوئی بھی ہمیشہ کی زندگی نہیں پا سکتا۔ یہ نظریہ انہیں دنیا کے ان توحید پرست مذاہب کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
    آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کو بے دین قرار دینے کے جوش میں ہووٹ ایک اور دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ ان کے ہاں عبادت یا قربانی کے کوئی آثار نہیں ملتے۔ اس کا یہ تبصرہ زیرِبحث مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ وہ ان کے عقائد کو مذہب کا نام دے یا نہ دے لیکن ان کے ہاں ایک ازلی ابدی خالق پر ایمان کو تسلیم کرنے سے تو وہ ماہرین عمرانیات کے اس نظریہ کو بھی باطل ثابت کر دیتا ہے جس کے مطابق خدا کا تصور کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔
    اس کے اس دعویٰ کو بعینہٖ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے کسی نہ کسی شکل میں خدا کی عبادت کرتے تھے یا اس کے نام پر قربانی دیا کرتے تھے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اکثر مغربی محققین نے ان لوگوں کی بعض مذہبی رسومات کو بالکل غلط سمجھا ہے۔ یہ محققین جس امر کو قدیم باشندوں کے خواب دیکھنے کی عادت گردانتے ہیں، یہ قدیم باشندے خود اس کے متعلق یہ نظریہ نہیں رکھتے۔
    مجھے آسٹریلیا کے ایک صاحب علم لیڈر سے مل کر آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے خوابوں کی حقیقت معلوم کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ امر اس لئے بھی اہم ہے کہ آسٹریلیا کے پرانے قبائل کے متعلق قریباً سارے مغربی لڑیچر میں خوابوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ صاحب جن سے میری بات ہوئی ایک غیر قوم کے شخص سے اپنے عقائد پر گفتگو کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ اس لئے ان کو اس گفتگوپر آمادہ کرنے کیلئے مجھے خاصی کوشش کرنا پڑی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بہت سے غیر ملکیوں نے جو ان قبائل کی زندگی اور تاریخ پر تحقیق کر رہے تھے ان کے عقائد کو غلط سمجھا اور پھر ان عقائد کو غلط طریق پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ بہرحال ہم دونوں میں باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو گئی تو میں نے ان کی باتوں سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے۔
    ان کے نزدیک خداتعالیٰ خوابوں کے ذریعہ اپنے بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔ خوابوں کے ذریعہ انہیں اپنی زندگی کے بہت سے اہم واقعات پر قبل از وقت اطلاع دی جاتی ہے۔ ان کے ہاں مذہبی رہنماؤں کا باقاعدہ ایک درجہ بدرجہ نظام موجود ہے جو تعبیر الرؤیا کا علم رکھنے والوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ رہنما نہ تو بیرونی لوگوں سے کوئی رابطہ رکھتے ہیں اور نہ ہی غیر قوم کے کسی شخص کو ان تک رسائی ہوتی ہے۔ جب خواب تعبیر کیلئے ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو خواب دیکھنے والے کو اکثر یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کے خواب میں کیا پیغام مضمرہے لیکن تعبیر کرنے والا اس پیغام کو سمجھ لیتا ہے اور بالعموم اس کی تعبیر درست نکلتی ہے۔ بعد میں رونما ہونے والے واقعات تعبیر کرنے والے کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خوابوں کے نظام کی سچائی بھی ثابت ہوجاتی ہے۔
    چنانچہ ایک طرف تو ان کے مذہبی عقائد اور عبادات ہیں اور دوسری طرف ان کی غیر اہم رسمیں اور توہمات ہیں۔ ان دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ہر قبیلہ کے توہمات اور رسومات الگ الگ ہوتی ہیں اور ان میں کوئی قدر مشترک نہیں پائی جاتی۔ خوابوں کا معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے۔ خدائے واحد پر ایمان کی طرح وہ سب کے سب خوابوں کو آسمانی رہنمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں اکثر خواب بیحد اہم معاملات پر غور و خوض کے بعد آتے ہیں۔ چنانچہ بعید نہیں کہ یہ غور و خوض دعا ہی کا دوسرا نام ہو۔ ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ ان کو بدھ مت والوں کے برخلاف مراقبہ کے نتیجہ میں جواب کے طور پر خواب دکھائے جاتے ہیں۔ خوابوں کے بارہ میں یہ قدیم باشندے بڑے کٹر اور نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیںاور ان قواعد کی خلاف ورزی مستوجب ِ سزا تصور کی جاتی ہے۔
    پس ان کو بے دین قرار دینا نا انصافی ہے۔ جہاں تک ـ’’جادو کے ذریعہ موت‘‘ کے عقیدہ کا تعلق ہے اس سے وہ مراد نہیں جو عموماً دوسرے لوگ سمجھتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ان قدیم قبائل میں باقی دنیا کی طرح تماشا دکھانے والے جادوگر نہیں پائے جاتے۔ ان کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ان کے ہاں ہر موت کسی برُے شخص کے جادو ٹونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہاں جادو سے مراد غالباً وہ شیطانی وساوس ہیں جو روحانی اصطلاح میں روشنی کے مقابل پر تاریکی کی علامت ہیں۔ ان قبائل کی اصطلاح میں جادو کا مطلب صریحاً گناہ ہے۔ حیرت ہے کہ ماہرین بشریات (Anthropologists) اور ماہرین عمرانیات اتنی واضح بات کو سمجھنے سے کیوں قاصر رہے ہیں۔ یہ لوگ موت کو جادو کا نتیجہ سمجھتے ہیں جو بلا استثنا ہر فانی وجود پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ صرف خدا کی ذات ہی اس سے مستثنیٰ ہے۔ کوئی اور اس کی ابدیّت میں شریک نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر شخص کی موت صرف کسی جادوگر کے ٹونے ٹوٹکے سے ہوتی ہے۔ موت ایک ایسی عالمگیر حقیقت ہے جس کا اطلاق دنیا کے تمام جانداروں پر یکساں ہوتا ہے۔ آسٹریلیا بھی اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں۔ آسٹریلیا کے قدیم باشندے اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں کتنا ہی سادہ لوح کیوں نہ سمجھا جائے یہ احمقانہ خیال ان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ ہر موت جادو ٹونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
    اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جادو کے دو ہی معانی سمجھے جا سکتے ہیں۔ اوّل اس سے مراد گناہ ہے جو روحانی موت کا بنیادی سبب ہے۔ جیسا کہ دیگر الہامی مذاہب میں بھی یہی خیال پایا جاتا ہے۔ اس صورت میں انہوں نے لازماً یہ نظریہ اسی سرچشمہ سے لیا ہے جس نے ایک ازلی ابدی خدا کے وجود کے بارہ میں اہل کتاب کی رہنمائی کی۔ جادو کا دوسرا معنی جو عقلاً ان کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ ہر وہ بات جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہو، جادو ہے۔ اس سے ان کی مراد صرف کوئی پر اسرار چیز ہوتی تھی۔ چنانچہ موت کی عالمگیر اور اٹل حقیقت جو محدود اور غیر محدود اور خالق و مخلوق کے درمیان حد بندی کرتی ہے ان کیلئے ایک ایسا راز تھاجسے وہ جادو کا نام دیتے تھے۔ تا ہم جادو کی اصطلاح صرف اسی مفہوم میں استعمال نہیں ہوتی تھی۔ ویسے بھی روز مرّہ کے تجربہ میں آنے والی ہر وہ چیز جس کی وجہ معلوم نہ ہو جادو ہی کہلاتی ہے۔
    اسی طرح زرتشتی مذہب میں روشنی اور اندھیرے کے مابین دائمی کشمکش کا جو ظاہری نقشہ کھینچا گیا ہے عین ممکن ہے کہ یہی فلسفہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کی ان رسومات کے پس منظر میں بھی کارفرما ہو جنہیں توہمات کہا جاتا ہے۔ جس طرح ظلمت، گناہ اور شیطان کی علامت ہے اسی طرح ہو سکتا ہے ان کا متحرک اشیا کے سائے سے گریز کا بھی یہی مفہوم ہو۔
    مگر ان کے خواب اور ان کی تعبیر کا توہمات سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ان کے خواب خدا پر ایمان کا مرکزی نقطہ ہیں اور خدا سے رابطے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے نزدیک وہ ہمیشہ سے اس علیم و خبیر اور برتر ہستی کے نشانات دیکھتے رہے ہیں جو اپنی مخلوق کے ساتھ زندہ تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا ان قبائل کا مغربی محققین سے شکوہ بجا ہے جو ان کے روحانی تجربات کو مذہب کا نام تک دینے کیلئے تیار نہیں کیونکہ وہ انہیں نہایت قدیم اور جاہل خیال کرتے ہیں۔ وہ اس خوف کے پیش نظر قدیم آسٹریلوی باشندوں کے مذہب کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں کہ اگر ان کی اصلیت ظاہر ہو گئی تو ان محققین کے نظریات غلط ثابت ہو جائیں گے۔
    ان آسٹریلوی قبائل کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد سے مل کر میں بہت متاثر ہوا۔ وہ عیسائیت قبول کر چکے تھے یا کم از کم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے قبل ان کے متعلق یہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عیسائی ہو گئے ہیں۔ پیشہ کے اعتبار سے وہ انجینئر تھے۔ گفتگو کے آغاز میں وہ قدیم باشندوں کے عقائد اور رسومات کے بارہ میں تبادلۂ خیال سے ہچکچا رہے تھے۔ حیرت کی بات تھی کہ عیسائی ہو جانے کے باوجود وہ دل کی گہرائیوں سے آسٹریلیا کے قدیم باشندے ہی تھے۔ ان کو گفتگو پر آمادہ کرنے کے لئے مجھے بڑی کوشش کرنا پڑی۔ تب کہیں جا کر انہیں میرے اس احساس اور اخلاص کا یقین آیا جو میں قدیم آسڑیلوی باشندوں کیلئے رکھتا تھا۔ چنانچہ ان کی سرد مہری ختم ہوئی۔ ان کی آنکھوں سے جھلکنے والا دکھ آسٹریلوی تہذیب کی قدیم تاریخ کی طرح گہرا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی غیر کی ان کے کسی معزز مذہبی رہنما تک رسائی ہوئی ہو۔ اس لئے وہ سطحی معلومات ہی حاصل کر پائے ہیں۔ مغربی محققین نے جس انداز سے آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے خوابوںکا نقشہ کھینچا ہے اس پر ان صاحب نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
    یہاں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا ذکر مناسب ہو گا جس میں سچے خوابوں کو نبوت کا چالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ 4 اگرچہ گہرا مشاہدہ بتاتا ہے کہ سچے خواب ہی ہیں جن سے نبوت کی شروعات ہوتی ہیں جو بالآخر الہام الٰہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں تا ہم اگر خداتعالیٰ چاہے تو ملہم کو نبوت کے منصب پر سرفراز فرما دے۔
    مغربی محققین کے اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ سب کے سب قدیم آسٹریلوی باشندوں کے روحانی تجربات کے متعلق منفی رویہ نہیں رکھتے۔ ان میں بعض اہل بصیرت اور یہ تسلیم کرنے کی جرأت رکھنے والے بھی موجود ہیں کہ قدیم آسٹریلوی قبائل کا ایک واحد اور مقتدر بالارادہ خدا پر ایمان تھا۔ اینڈریولینگ (Andrew Lang) نے اپنی کتابThe Making of Religion5 میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قدیم آسٹریلوی باشندے واقعی خداتعالیٰ پر یقین رکھتے تھے۔ اور چونکہ All Fathersکے بارہ میں بہت کم اساطیر ی قصے ملتے ہیں اس لئے لینگ (Lang)یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہے کہ ایک برتر خدا کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور یہ فرضی کہانیاں بعد میں گھڑی گئیں۔
    جرمنی کے ایک رومن کیتھولک پادری پیٹر ولیم شمٹ (Peter William Schmidt) نے 1912 اور 1925 کے درمیان بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب Usprung der Gottesidee لکھی جس میں اس نے لینگ کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اساطیری قصہ خدائے برتر کے تصور کے بعد پیدا ہوا ہے۔ شمٹ کا تحقیقی کام سب سے پہلے 1908 اور 1910 کے درمیان ایک فرانسیسی رسالہ Anthroposمیں شائع ہوا جس کا بانی خود شمٹ تھا۔ اس کتاب کا ایک ایڈیشن "L'origine de Dieu. Etude Historico - Critique et Positive. Premiere Partie. Historico Critique" کے نام سے 1910ء میں وی آنا سے شائع کیا گیا۔ 1926 میں جرمن زبان میں اس کی دوسری مفصّل اشاعت ہوئی۔ اس میں شمٹ اساطیر اور مذہب میں بیک وقت خدا کے تصور کی موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے یہ دلیل دیتا ہے کہ دراصل خدائے برتر کا تصور بعد کے لایعنی توہمات کے ساتھ خلط ملط ہو گیا تھا۔
    تا ہم بعض ماہرینِ بشریات اس بات پر مصر ہیں کہ خدا کا تصور دیومالائی کہانیوں کی پیداوار ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام Dio کے رہنے والے Raffael Pettazzoni (1922)کا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ قدیم آسٹریلیا کے بڑے بڑے قبائل سے مسلسل ملنے والے شواہد اس کے دلائل کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔ اس کا ایک مخصوص قبیلہ کی دیو مالائی کہانیوں سے نتائج اخذ کر کے اسے عام دیگر قبائل پر چسپاں کر دینا نہ تو دیانتداری ہے اور نہ ہی اس میں کوئی معقولیت پائی جاتی ہے۔ 6
    جن کہانیوں کا وہ ذکر کر رہا ہے اکثر قدیم آسٹریلوی قبائل میں وہ نہیںملتیں۔ جہاں تک ان قبائل کے خدا پر ایمان کا تعلق ہے وہ سب کے سب ایک اعلیٰ، علیم اور ازلی ابدی خالق کے قائل ہیں۔ گو Pettazzoniایک نامور ماہر بشریات (Anthropologist)ہے لیکن اس کا یہ اصرار کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کہ اساطیر اور خدائے واحد کے تصور کی بیک وقت موجودگی اس امر کی دلیل ہے کہ اساطیر پہلے تھیں اور خداتعالیٰ کا نسبتاً کامل تصور بعد میں پیدا ہوا۔ اس نے تو یہ ثابت کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کی کہ یہ اساطیر کس ارتقائی عمل کے ذریعہ بالآخر خداتعالیٰ کے تصور تک پہنچیں۔
    آسٹریلیا سے ملنے والے شواہد اس نظریہ کی ہرگز تائید نہیں کرتے جس کے مطابق یہ توہمات اور اساطیر ایک ارتقائی عمل کے ذریعہ خدا کے تصور تک پہنچیں اور نہ ہی اس بات کاکوئی ثبوت ملا ہے کہ خوف اور حیرت کے باعث مظاہر قدرت کی پرستش کی گئی ہو۔ ان میں مروجہ عبادات کا ایسا نظام موجود نہیں تھا جو بالآخر ترقی پا کر خدا پر ایمان میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اس لئے لامحالہ ہمیں اینڈریولینگ (Andrew Lang) سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ یہ اساطیر ایک خدا کے تصور سے پہلے نہیں تھیں بلکہ بعد کی پیداوار ہیں۔ قدیم آسٹریلوی باشندوں کی اساطیر کیا ہیں، پراگندہ اور بے سروپا توہمات کے ٹکڑے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے قدیم ان پڑھ لوگ اپنے ذہن میں ان متفرق ٹکڑوں کو باہم ملا کر کسی قسم کے مفہوم یا معنی کو دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ ان کی یہ کوشش عام انسانی ذہن کی اس قسم کی دیگر کوششوں سے چنداں مختلف نہیں۔
    انسان ہمیشہ سے آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کی حقیقت کے متعلق تحیر میں مبتلا رہا ہے جس کے نتیجہ میں بسا اوقات فرضی کہانیوں نے جنم لیا۔ بالآخر بت پرستوں کے خیالی دیوتاؤں کو انہی فرضی کہانیوں کا لباس پہنا دیا گیا۔ تا ہم آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کی فرضی کہانیاں باقی دنیا کی طرح نہ تو عبادت کے تصور سے وابستہ ہیں اور نہ ہی دیوتاؤں کے گرد گھومتی ہیں۔ ان کے نزدیک خدا کا تصور ایک الگ اور آزادانہ حیثیت رکھتا ہے۔ اجرامِ فلکی میں بسنے والی دیگر مخلوقات کو وہ خدا قرار نہیں دیتے۔ لہٰذا Pettazzoni کے اس نظریہ سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ برتر خدا کا تصور ان فرضی داستانوں کی پیداوار ہے۔
    عقلیت پسند ماہرینِ بشریات اور ماہرینِ عمرانیات کا مسئلہ بنیادی طور پر وہی ہے جس کا دیگر سیکولر محققین کو سامنا ہے۔ اگر وہ آسٹریلوی شواہد کو قبول کرتے ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایک برتر اور ازلی ابدی خالق کا تصور تدریجاً پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ اپنی مکمل شکل میں ضرور خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہو گا۔ بصورتِ دیگر یہ ممکن نہیں تھا کہ خدائے واحد کا تصور تمام قدیم اور سیدھے سادے آسٹریلوی باشندوں میں بلا استثناء یکساں طور پر پایا جائے جبکہ ان میں باہمی رابطہ کی کوئی صورت بھی نہ ہو۔ چنانچہ بعض ماہرین بشریات اور ماہرین عمرانیات کا اس ثبوت کو صرف اس لئے رد کر دینا کہ یہ ان کے اپنے خیالات سے مطابقت نہیں رکھتا، خود ان کی علمی حیثیت اور دیانتداری کے تقاضوں کے منافی ہے۔ تاہم یہ معلوم کر کے اطمینان ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی خوش کن مستثنیات بھی ہیں۔ یقینا بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جو ان شواہد کو حقیقت تسلیم کرنے میں بالغ نظری اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بایں ہمہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ مبہم اور مجہول توجیہات کی دھند میں پناہ لے سکیں۔
    ایک ایسی ہی مثال ایف۔ گریبنر (F. Graebner) کی بھی ہے۔ وہ یہ تو مانتا ہے کہ جہاں تک قدیم آسٹریلوی باشندوں کا تعلق ہے Great God یعنی عظیم خدا ہر اس چیز کا اصل خالق ہے جو انسان کے لئے اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے:
    ’’لیکن پریئس (Preuss) یہ شک کرنے میں شاید حق بجانب تھا کہ سبب اوّل جیسا تجریدی خیال، ان قدیم لوگوں میں زندگی سے بھر پور ہستی کا اس قسم کا تصور پیدا کیسے کر سکتا ہے؟‘‘ 7
    ہووٹ (Howitt) کی طرح گریبنر (Graebner) بھی اس نظریہ کی کھل کر حمایت کرنے سے ہچکچا رہا ہے کہ قدیم آسٹریلیوی باشندوں کو ایک اعلیٰ ترین ہستی کی صفات کا ازخود ہی کیونکر علم ہوگیا۔ دراصل اس طرح اس کا اپنا الحاد کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
    آسٹریلیا کے بعض قبائل میں ایک ’’برتر خدا‘‘ کے تصور کے ساتھ ساتھ اس کے بیوی بچوں کے فرضی قصے کہانیاں بھی ملتے ہیں۔ اس سے ہمارے اس دعویٰ کے متعلق کوئی شک پیدا نہیں ہوتا کہ ان لوگوں میں پایا جانے والا خدا کا تصور دیگر توحید پرست مذاہب میں پائے جانے والے تصور سے مختلف نہیں ہے۔ ان روایات کو بیان کرنے والے جن محققین نے یہ دریافت کیا ہے کہ اس قسم کی اساطیر بہت عمومیت کے ساتھ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں، انہوں نے ان اساطیر کے بعض پہلوؤں کو خاص طور پر اجاگر بھی کیا ہے جن کی وجہ سے قاری ان میں اور خداتعالیٰ کے تصور میں جس سے وہ متعلق ہیں بآسانی فرق اور تمیز کر سکتا ہے۔ قدیم آسٹریلیا کے دیومالائی قصوں اور باقی دنیا میں پائے جانے والے دیومالائی قصوں کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ باقی دنیا میں ہر جگہ بت پرست مذاہب کے یہ قصے دیوتاؤں کے تصور کے ارد گرد بنے جاتے ہیں جبکہ قدیم آسٹریلوی باشندوں میں نہ تو ان دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے اور نہ ہی تعظیم و تقدیس۔ ماہرینِ عمرانیات کے بیان کردہ قصے کہانیاں لازماً آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے خداتعالیٰ کے تصور پر مبنی نہیں ہیں۔ اور صرف چند قبائل میں ان اساطیر کی موجودگی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تمام قدیم آسٹریلوی قبائل کے عقائد کی ترجمانی نہیں کرتیں۔ ان قصے کہانیوں کی طرف نہ تو کوئی تخلیقی قوت منسوب کی جاتی ہے اور نہ ہی وہ ازلی ابدی ہونے میں خدا کے شریک ہیں۔ چونکہ وہ ازل سے نہیں ہیں اس لئے وہ سب کے سب مخلوق ہیں اور نہ ہی انہوں نے خود کبھی کوئی چیز پیدا کی۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ بے سروپا روایات بعد میں ان کے بعض مذہبی رہنماؤں نے گھڑ لی تھیں۔
    اس ضمن میں ایلیاد (Eliade) مغربی آرانڈا (Aranda) کے ایک قبیلہ کی مثال دیتے ہوئے ٹی۔ جی۔ ایچ سٹریلو (T.G.H.Strehlow) کا موقف یوں بیان کرتا ہے کہ اس قبیلہ کے نزدیک:
    ’’زمین او رآسمان ہمیشہ سے موجود ہیں اور مافوق الفطرت ہستیوں کا مسکن چلے آ رہے ہیں۔ مغربی آرانڈا کے قبیلے کا عقیدہ ہے کہ آسمان میں رہنے والا ایمو پرندے کے پنجوں جیسے پاؤں رکھنے والا عظیم باپ (Kinaritja)ہے جو (Altjira nditja) یعنی ازلی طور پر جوان ہے۔ اس کی کتوں کے سے پنجوں والی بہت سے بیویاں،بیٹے اور بیٹیا ں ہیں۔ وہ پھلوں اور سبزیوں پر گزارہ کرتے اور ایک سدا بہار سر زمین پر رہتے تھے جس میں قحط نہیں آتے تھے اور جس میں کہکشاں ایک وسیع و عریض دریا کی طرح رواں دواں تھی۔‘‘ 8
    ان کا مسکن باغ عدن کی مانند ہے جو لہلہاتے ہوئے درختوں، پھلوں اور پھولوں سے لدا ہوا ہے۔ آسمان کے یہ تمام باسی ان کے خیال کے مطابق سدا جوان رہتے ہیں اور موت کی دسترس سے باہرہیں۔ باوجود اس کے کہ آسمان کے یہ باسی جو ٹوٹمی (Totemic) زمانہ کے ہیرو یا عظیم لوگوں سے بھی پہلے موجود تھے اپنے لافانی ہونے اور دوسروں کے پیشرو ہونے کے لحاظ سے برتری کے حامل ہیں مگر سٹریلو (Strehlow) بجا طور پر آسٹریلوی مذہب کی تشکیل میں ان کی اہمیت تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ آسمان پر بسنے والے یہ وجود سب سے برتر ہیںکیونکہ زندگی کی تخلیق اور تشکیل میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ 9
    سٹریلو (Strehlow) کے دلائل رد نہیں کئے جا سکتے کیونکہ جن فرضی وجودوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ ابدی تو خیال کئے جاتے ہیں لیکن ازل سے موجود نہیں۔ جبکہ خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ نہ ہی ان وجودوں کی طرف صفت خالقیت منسوب کی جاتی ہے۔ چنانچہ انہیں ایک خالق کی خدائی میں شریک بھی قرار نہیں دیا جاتا۔ عین ممکن ہے کہ اس عقیدہ کو غلط طور پر اس تصور سے جو دیگر تمام آسمانی مذاہب میں یکساں ہے خلط ملط کر کے دیو مالائی کہانیوں کی شکل دے دی گئی ہو۔ البتہ یہ تفاصیل کہ جنت کے اس سب سے عظیم باسی کے پاؤں ایمو (Emu) پرندے جیسے ہیں اور اس کی بیوی اور بچوں کے پاؤں کتے کی طرح کے ہیں، اسے باقی مذاہب سے مختلف بنا دیتی ہیں۔ ورنہ عدن کے سے سدا بہار باغات، پھلوں اور سبزیوں کی افراط، قحط کے خوف سے نجات وغیرہ یہ سب علامات ان تمثیلات سے ملتی جلتی ہیں جو قرآن کریم میں جنت کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔
    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خداتعالیٰ کی اولاد کے علاوہ کسی اور جاندار مخلوق کا ذکر تک نہیں۔ دنیا کے دیگر بڑے مذاہب میں بھی جنت کے تصور میںجانوروں کا ذکر نہیں ملتا۔ اہالیان جنت صرف وہ نیک لوگ تصور کئے جاتے ہیں جنہیں تمثیلی طور پر ’’خدا کی اولاد‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ اگر یہ محض آسٹریلیا کے سادہ لوح باشندوں کی گھڑی ہوئی کہانیا ں ہوتیں تو یہ امکان بہت کم تھا کہ یہ خیالی جنت جانوروں کے ذکر سے اس طرح بالکل خالی ہوتی۔ دنیا کے باقی حصوں میں پائی جانے والی دیومالائی کہانیوں میں عموماً جانوروں کا کچھ نہ کچھ ذکر ضرور ملتا ہے۔ لیکن تمام بڑے بڑے مذاہب میں جنت کا تصور جانوروں کے ذکر سے یکسر خالی ہے۔
    تہذیب اور مذہبی خیالات کے ارتقا کی محض ایک ہی وجہ نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ ایک ایسا ملا جلا عمل ہوتا ہے جس میں نظریات ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اس طرح منتقل ہوتے رہتے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا یا اس انتقال کی سمت کا تعین کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ ویسے کسی بھی سوچ کے ارتقا کا آغاز سے انجام تک سراغ لگانا اتنا آسان نہیں ہواکرتا۔
    یہ بحث کہ کس نے کس پر اثر ڈالا، ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ مثلاً یہ کہ کیا بدھ مت نے عیسائی نظریات کو جنم دیا یا عیسائیت بدھ مت پر اثرانداز ہوئی؟ ایک ایسا سوال ہے جو اب تک حل نہیں ہو سکا۔ مگر آسٹریلیا میں ہمیں بالکل مختلف اور منفرد صورت حال نظر آتی ہے۔ اگر قدیم آسٹریلوی مذہبی شواہد ان ماہرین عمرانیات کے نظریات کی تائید کرتے تو نہ جانے ان کا ردعمل کیا ہوتا؟ کیا وہ ایک طوفان نہ اٹھا دیتے اور جوش اور فخر سے ’’میں نے پا لیا،میں نے پالیا‘‘ کے نعرے نہ بلند کرنے لگتے۔ مگر جب وہ وہاں کی مذہبی تاریخ کے ٹھوس حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی حالت قابلِرحم ہوتی ہے اور وہ ایک منطقی نتیجہ سے جان چھڑانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگتے ہیں۔
    ہم خصوصیت سے صرف ان نیچریوں کی بات کر رہے ہیں جو ایک خالق خدا کو نہیں مانتے ان پر یہ حقائق بے حد شاق گزرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں کامل یقین تھا کہ آسٹریلیا کی قدیم تاریخ ان کے خیالات کی تائید کرے گی اور ان کے اس نظریہ کی تصدیق ہو جائے گی کہ خدا کا تصور ہزاروں سال کے ارتقا کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ لیکن جو حقائق سامنے آئے وہ بالکل برعکس تھے جس کی وجہ سے یہ لوگ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ صرف صداقت کے متلاشی ہیں تو آخر اس جھنجھلاہٹ کی وجہ کیا ہے؟ اگر صداقت ان کے نظریات کے برعکس ہے تو اس میں مایوسی کی کیا بات ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی طرف رہنمائی کرنے والی ہر دلیل کو رد کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ ہر اس دریافت کو جو ان کے مزعومہ تصور کے برعکس ہو یا تو رد کردیں گے یا پھر اس کی غلط تاویلیں کرنا شروع کر دیں گے۔ سیکولرازم ان کے نزدیک دراصل خداتعالیٰ کا انکار ہے۔ اپنے سیکولر نظریات کا بھرم رکھنے کیلئے وہ جو عذر بھی پیش کرتے ہیں اس سے ان کی غیرسائنسی سوچ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ یہ خیال درست نہیں ہے کہ تعصب صرف مذہبی علماء ہی کا خاصہ ہے بلکہ غیر مذہبی مفکرین اور فلاسفر بھی اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اس زہر کو غٹا غٹ پی جاتے ہیں اور ان کی منطق، عقل اور انصاف پسندی، غر ضیکہ سب کچھ زہر کے اس ایک گھونٹ کی نذر ہو جاتا ہے۔ بے شک وہ خود کو سیکولر مفکر ظاہر کریں لیکن اس زہر کے زیرِ اثر ان کا طرز عمل مذہبی جنونیوں جیسا ہی ہوا کرتا ہے۔
    اپنے نظریہ کے حق میں وہ جو دلائل بھی پیش کریں، ان کا یہ مردہ نظریہ تو اب زندہ ہونے سے رہا۔ ان کا یہ بلند بانگ دعویٰ کہ خدا پر ایمان انسانی تصورات کے ارتقا کا نتیجہ ہے براعظم آسٹریلیا سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکا ہے۔ وہ بوکھلا گئے ہیں اور اب ان کیلئے کوئی جائے فرار باقی نہیں رہی۔ ان کا دوبارہ اتحاد نہ تو کسی بادشاہ کے بس کی بات ہے اور نہ کسی مسخرے کے۔ ان کی حالت دیکھ کر تو مشہور شاعر ملٹن کی نظم ’’فردوس ِ گم گشتہ‘‘ کی یاد آ جاتی ہے۔ البتہ ایک فرق کے ساتھ کہ کوئی منطق یا دلیل ان کے اس مسمار شدہ محل کو از سر نو تعمیر نہیں کر سکتی۔ ملٹن تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کا ڈرامہ کبھی حقیقی زندگی میں بھی کھیلا جائے گا جس میں کچھ انسان اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور ان کی ’’فردوس ِ گم گشتہ‘‘ قرب الٰہی میں نہیں بلکہ ایک مصنوعی اور خود ساختہ خدا میں ہو گی ۔ اور ہمیں اس کی کچھ بھی پروا نہیں کہ وہ اس مصنوعی خدا سے ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھو بیٹھیں اور نہ ہی انہیں یہ احساس ہے کہ خداتعالیٰ کو بھی ان کی کچھ پروا نہیں۔
    حوالہ جات
    1. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach, p.4
    2. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach, p.13
    3. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach.
    4. Musnad Al-Imam Ahmad Bin Hanbal (1983) Vol.4. Al-Maktab-Al-Islami. Beirut, p.10
    5. LANG, A. (1898) The Making of Religion. Longmans, Green & Co., London.
    6. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach.
    7. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach, p.24
    8. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach, p.30
    9. ELIADE, M. (1973) Australian Religions. An Introduction. Cornell Uni Press, Ithach, pp.32-33


    باب چہارم
    الہام کی حقیقت
    الہام اور عقل
    ایمان بالغیب
    البیّنہ: ایک بیّن اصول، القیّمہ: دائمی تعلیم
    قرآنِ کریم اور کائنات
    عنطراپی اور محدود کائنات
    قرآن کریم اور غیر ارضی حیات کا وجود
    الہام کی حقیقت
    الہام کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک اصطلاح ہے جو انسانی ذہن کی شعوری اور تحت الشعوری کائنات کی تحقیق اور دریافت کے عمل کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے یا اس کا منبع کوئی خارجی وجود ہے جس کا علم انسانی علم پر غالب ہے۔
    الہام پر ایمان رکھنے والوں میں بھی اس کی حقیقت کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً بد ھ ازم، کنفیوشن ازم اور تاؤ ازم کے عصر حاضر کے پیرو کاروں کا خیال ہے کہ ان کے مذہبی پیشواؤں کے علم کا منبع ان کا شعور (conscious)یا تحت الشعور (subconscious) ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ سچائی ہر روح کے اندر فطرتاً موجود ہے۔ ان کے نزدیک القاء اس ابدی صداقت کے سر چشمہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا ذریعہ ہے جبکہ دیگر مذاہب کے مطابق الہام ایک خارجی وجود یعنی ازلی ابدی اور کامل حکمت والے خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔
    اگر ہم اپنی تحقیق کے دائرہ کو اور وسیع کر دیں تو معلوم ہو گا کہ مذاہب کی شہادت کے علاوہ بھی الہام کے بہت سے مستند شواہد ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض سائنسدانوں کے ہاں الہام کے ذریعہ پیچیدہ مسائل کا حل معلوم کرنے کے بہت سے دلچسپ واقعات ملتے ہیں۔
    1865ء میں ایک جرمن دوا ساز (کیمسٹ)فریڈرک آگوسٹ کیکولے(Fredrich August Kakule)علم کیمیا سے متعلق ایک ایسے مسئلہ کے حل میں کوشاں تھا جس نے تمام محققین کو پریشان کر رکھا تھا۔ ایک رات اس نے خواب میں ایک سانپ کو اپنی دم اپنے منہ میں پکڑے دیکھا۔ اس خواب نے اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کر دی اور بالآخر اس نے اس الجھے ہوئے مسئلہ کا حل معلوم کر لیا۔ اس طرح اس راز کا انکشاف ہوا کہ بعض نامیاتی مرکبات میں مالیکیولز کا کیا کردار ہے۔ یہ ایک ایسی تحقیق تھی جس نے نامیاتی کیمیا کے سمجھنے میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ فریڈرک کیکولے نے ا س خواب کی یہ تعبیر کی کہ بینزین (Benzene) کے سالمے میں کاربن کے ایٹم دائرے کی شکل میں موجود ہیں۔ اس علم کے نتیجہ میں بہت ترقی یافتہ ترکیبی نامیاتی کیمیا (Synthetic Organic Chemistry)نے جنم لیا جس کی وجہ سے ترکیبی مرکبات (Synthetic materials) بنانے کا راستہ کھل گیا۔ عصرِ حاضر کی دواسازی کی صنعت کا زیادہ تر دارومدار ترکیبی ادویہ پر ہے اور ساری انسانیت فریڈرک کیکولے کے اس خواب کی مرہونِمنت ہے جس کے ذریعہ اس نے ایک پیچیدہ مسئلہ کا حل معلوم کیا۔
    الیاس ہوو (Elias Howe)پہلا انسان ہے جس نے سلائی مشین ایجاد کی۔ اسے بھی خواب کے ذریعہ ایک ایسے مسئلہ کا حل معلوم ہوا جس نے ایک مدت تک اسے الجھا رکھا تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ بعض وحشی لوگ گھیر کر اسے دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر اس نے سلائی مشین نہ بنائی تو وہ اسے جان سے مار ڈالیں گے۔ یہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر انہوں نے اسے ایک درخت سے باندھ کر تیروں اور نیزوں سے اس پرحملہ کر دیا۔ ان کے نیزوں کے سروں پر سوراخ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا۔ بیدار ہونے پر اس کا مسئلہ حل ہو چکا تھا۔ اس خواب نے سلائی مشین کی ابتدائی شکل تیار کرنے میں اس کی رہنمائی کی جس نے آگے چل کرسلائی کی صنعت میں حیرت انگیز انقلاب برپا کر نا تھا۔ الیاس ہوو نے اس خواب کی یہ تعبیر کی کہ اسے سوئی کے سرے میں سوراخ رکھنے پر غور کرنا چاہئے۔ بالآخر یہی بات بظاہر ایک ناممکن مسئلہ کے حل میں اس کی مدد گار بن گئی۔ اگر وہ یہ خواب نہ دیکھتا تو اس افسوس ناک حالت کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جس سے آج انسان دو چار ہو سکتا تھا۔ پس اس انکشاف کی وجہ سے ایک عظیم الشان انقلاب رونما ہوا۔
    اس قسم کے تجربات کی ایک ممکنہ توجیہہ یہ ہے کہ الہام انسان کے تحت الشعور (subconscious)کی پیداوار ہے۔ جب انسان سونے سے پہلے پیچیدہ امور پر غور کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو اس کا شعور ان خیالات کو تحت الشعور کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور نیند کی حالت میں تحت الشعور ان معلومات پر غور کرتا رہتا ہے اور بالآخر مطلوبہ حل تلاش کر لیتا ہے۔ یہ حل بعض اوقات خواب کے ذریعہ معلوم ہوسکتے ہیں یا کبھی زبانی پیغام کی صورت میں بھی منکشف ہوتے ہیں۔ کیا اس صورت میں اس کا یہ مطلب ہو گا کہ الہام خواہ کسی بھی شکل میں ہو، بلا استثنا تحت الشعور کی پیداوار ہے؟
    مذکورہ بالا واقعات کے بارہ میں کہا جا سکتا ہے کہ تمام ضروری معلومات جو ان مسائل کے حل کیلئے درکار تھیں شعور میںپہلے سے موجود تھیں اور تحت الشعور نے ان کو نامعلوم طریق پر اکٹھا کر دیا۔ کیا انسان کے وجدانی تجربات کا یہی ماحصل ہے یا الہام کی ایسی اقسام بھی ہیں جو انسانی ذہن کی دسترس سے باہر ہیں؟
    دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کا عقیدہ ہے کہ انبیاء اور دوسرے بہت سے پاک لوگوں کو بھی الہام ہوتا تھا جس کا منبع ایک خارجی وجود یعنی خدا ہے۔ لیکن دوسرے لوگ اس عقیدہ کو غلط فہمی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک چونکہ اوّل الذکر اپنے اندرونی تجربات کو واقعۃً کسی خارجی وجود کی طرف سے موصول شدہ پیغام قرار دیتے ہیں اس لئے وہ ان پر یہ الزام نہیں لگاتے کہ وہ دیدہ دانستہ دھوکہ دہی سے کام لے رہے ہیں۔ اس خیال کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا کی طرف منسوب ہونے والے تمام مذاہب کمزور بنیادوں پر قائم ہیں۔ لیکن اس قسم کے دعاوی کو صرف اسی صورت میں سچا ثابت کیا جا سکتا ہے جب ان کی تائید میں کافی خارجی شواہد موجود ہوں۔
    چونکہ ایسے ہر مدعی کی صداقت کا پرکھنا بہت مشکل اور محنت طلب کام ہے اس لئے ہم اسے قرآن کریم کے پیش کردہ معیار پر پرکھنے کی کوشش کریں گے۔ بیشتر بڑے بڑے مذاہب کی بنیاد اس عقیدہ پر قائم ہے کہ اس کائنات کی خالق ایک اعلیٰ ہستی ہے جس نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے تنہا اور بے تعلق نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کے معاملات میں اس کا نگران ہے۔ اور جب بھی بنی نوع انسان کو رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے ذریعہ جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرما دیتا ہے۔ وہ اپنے وجود کا خود پتہ دے کر بنی نوع انسان کو اپنی مشیت سے آگاہ کرتا ہے تا کہ وہ اپنی زندگی کواس کی ہدایات کے مطابق ڈھالیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر الہام کو وجدان سے بالا علم کا ایک ایسا ذریعہ قرار دینا پڑے گا جس کے مقابل پر عقلیت کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گی۔
    انسانی ذہن کے نقطۂ نظر سے الہام ایک اندرونی نفسیاتی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الہام کو تحت الشعور کے دیگر ملتے جلتے تجربات کے ساتھ خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ بالعموم ہر شخص کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر نفسیاتی دباؤ سے واسطہ پڑتا ہے۔ نفس انسانی میں نت نئے تصورات باندھنے کا اندرونی نظام موجود ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات صاحب تجربہ کو یہ تصورات حقیقت پر مبنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔
    یہ تجربات اس وسیع دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی درجہ بندی بالعموم خوابوں، زبانی پیغامات، سریلی آوازوں،ہیولوں اور تصورات کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ پراگندہ یا انتہائی ہیجان آمیز ذہنوں کیلئے ایسے تجربات خطرناک حد تک شدید ہو سکتے ہیں حتیٰ کہ یہ کیفیت انہیں دیوانہ کر سکتی ہے۔ تیز بخار بھی اس قسم کا ذہنی ہیجان پیدا کر سکتا ہے۔ مزیدبرآں بالکل مختلف تجربات بھی مشاہدے میں آئے ہیں جو نہایت منظم، تسلی آمیز اور سکون بخش خوابوں اور مکاشفات پر مشتمل ہوتے ہیں اور ذہن کو کئی قسم کے بے نام خوف اور ڈر سے چھٹکارا دلا کر اطمینان بخشتے ہیں، ایسا خوف جس میں بعض اوقات لوگ بغیرکسی شعوری وجہ کے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کچھ پیغامات واضح اور صاف طور پر سنائی دینے والی آوازوں کی صورت میں یا بعض اوقات انسان یا فرشتہ کی شکل میں یا غیر مرئی وجودوں کی آواز وں کے ذریعہ سے موصول ہوتے ہیں۔ اگر ان کی وضاحت یوں کی جائے کہ یہ انسانی ذہن اور نفس کے پیدا کردہ خیالات ہیں تو تما م روحانی تجربات اپنے مقام سے گر جائیں گے اور ایک عام انسانی سوچ بن کر رہ جائیں گے۔
    اس صورت میں وحی اور مکاشفات کی کیا امکانی حیثیت ہو گی؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس کا ادراک بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کا جواب اور حل۔ دراصل حسب ضرورت یہ صلاحیت انسانی ذہن کو قدرتاً عطا کی گئی ہے کہ وہ ایسے تاثرات کو قبول بھی کر سکے اور ان کی تخلیق بھی۔ اللہ تعالیٰ بھی جب چاہتا ہے اس ذہنی نظام کی براہ راست رہنمائی فرماتاہے۔ اس اہم سوال کے حل کیلئے اس کی جزئیات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس مشکل مضمون کو ذیلی عناوین کے تحت تقسیم کر کے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
    وجدان
    تحت الشعور جس طرح وہم اور ہذیان کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے اسی طرح یہ منظم اور بامقصد مکاشفات و پیغامات تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ممکن ہے دماغ
    کے اندرونی حصے لا شعوری طور پر کسی موضوع پر غور کر کے ایک ایسا قطعی جواب تیار کر لیں جو شعور کیلئے بالکل نیا ہو۔ درحقیقت کسی بھی مسئلہ کا حل تلاش کرنے تک ذہن یہ کام کرتا رہتا ہے۔ پھر اس حل کو خواب یا کشف کی صورت میں دماغ کے اعلیٰ شعور کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ اس عمل کے ذریعہ حاصل کردہ نتائج ہمیشہ دماغ کو پہلے سے میسر معلومات کی وسعت اور گنجائش کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔ اس عمل کو متحرک کرنے کیلئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایک مجرم بھی ارتکاب جرم کیلئے اپنے تحت الشعور کی وجدانی قوت کی مدد سے ایک انوکھا طریقۂ واردات سوچ سکتا ہے۔ لیکن اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ وجدان کے نتائج ہمیشہ انسانی ذہن کو میسر معلومات کے عین مطابق ہوتے ہیں اور اس کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے۔
    واہموں کے علاوہ دیگر نفسیاتی تجربات
    دیوانگی یا منشیات کے استعمال کے نتیجہ میں واہمے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ
    منشیات کا استعمال انسانی ذہن کو غیر معمولی طور پر انگیخت کر دیتا ہے۔ تحت الشعور کا نظام جو پہلے سے موجود ہوتا ہے متحرک ہو جاتا ہے۔ اس صورت میںپیدا ہونے والے نتائج میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔ اکثروبیشتر بیرونی تجزیہ نگار بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ ایسے تصورات محض تخیلاتی پراگندگی کی وجہ سے بے ہنگم سوچ یا دہشتناک خوابوںکے ٹکڑے ہوا کرتے ہیں۔ اور ایسا تجزیہ نگار اس ذہنی انتشار کے ساتھ ساتھ مایوسی، گھبراہٹ اور پراگندگی کی کیفیت کو بھی بآسانی مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود عین ممکن ہے کہ تحت الشعور بامعنیٰ اور مربوط تصورات کا ایسا تانا بانا بن لے جس میں کوئی پیغام بھی شامل ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تحت الشعور، شعوری ذہن کو کوئی بامقصد پیغام پہنچا دے۔ البتہ یہ بات طے ہونے والی ہے کہ آیا کوئی بیرونی واسطہ بھی انسانی دماغ کے اندرونی نظام پر اثرانداز ہو رہا ہے یا نہیں۔
    وسیع پیمانے پر تحقیق و تجربات کے بعد پیراسائیکالوجی کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ ایسا ہونا عین ممکن ہے۔ ایک آدمی کا ذہن کسی دوسرے آدمی کے ذہن کو متحرک کر کے اپنی ہدایات کے تابع رہنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ بہت سی یونیورسٹیوں میں اس اچھوتے موضوع پر تحقیق ہو رہی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ایسا ہونا نہ صرف ممکنات میں سے ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں بعض اوقات ازخود اور کبھی کبھار شعوری کوشش کے نتیجہ میں کسی بھی مادی واسطہ کے بغیر ایک آدمی کے خیالات کسی دوسرے کے ذہن میں منتقل کئے جا سکتے ہیں۔
    عمل تنویم یا ہپناٹزم
    عمل تنویم کا ماہر ارتکازِ توجہ سے دوسروں کے ذہنوں پر اپنے تصورات مسلط کر سکتا ہے۔ جیسا کہ نفسیاتی علاج کے بارہ میں
    بالعموم سمجھا جاتا ہے، عمل تنویم کا مقصد دماغ میں پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانا یا اس کی صحت یابی کیلئے دماغی قوت کو متحرک کرنا ہے۔
    بسا اوقات ایک پراگندہ حال مریض اپنے منتشر خیالات کا سامنا کرنے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے۔ وہ ان خیالات کو اپنے ذہن کی گہرائی میں دفن کر چکا ہوتا ہے لیکن اتنی گہرائی میں بھی نہیں۔ بلکہ ایسے خیالات کہیں شعور اور تحت الشعور کے درمیان بے چینی کی کیفیت میں معلّق رہتے ہیں۔ اور مریض بالآخر معمولی سی بیرونی مدد سے اس حد تک قوت مجتمع کر لیتا ہے کہ ان خیالات کو ذہن کی شعوری سطح تک لا کر ان سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے جیسے جلد میں کوئی نہایت تکلیف دہ چیز داخل ہو جائے اور باہر نکالنے تک نا قابل برداشت اذیت اور بے چینی کا باعث بنی رہے۔ ایسی حالت میں ایک سرجن کا نشتر جو کردار ادا کرتا ہے ہپنا ٹزم کے ماہر کا مشورہ بھی ایک نفسیاتی مریض کے معاملہ میں بعینہٖ یہی کردار ادا کرتا ہے۔
    ٹیلی پیتھی یا اشراق
    کسی معلوم سائنسی واسطہ کے بغیر پیغامات ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل کرنا اشراق یا ٹیلی پیتھی کہلاتا ہے۔ اس میں کوئی
    صوتی یا بصری واسطہ استعمال نہیں ہوتا۔ اس دو شاخہ سُر (Tuning forks) کی طرح جس میں ایک کی تھرتھراہٹ سے ہم آہنگ ہو کر دوسرا بھی تھر تھرانا شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہپناسس اور ٹیلی پیتھی حقیقت ہے جیسا کہ شواہد سے ثابت ہے تو اللہ تعالیٰ یہ نظام انسانوں کی رہنمائی کیلئے کیوں استعمال میں نہیں لا سکتا۔
    تحت الشعور سے متعلق دیگر تجربات
    خوابوں کی حیثیت عالمگیر ہے اور ہر زمانہ اور علاقہ کے لوگوں کو ان کا تجربہ ہے۔
    تاہم خواب ایک ہی قسم سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اکثر خواب انسانی نفسیات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ تحت الشعور کو حاصل ہونے والی معلومات کسی شخص کے روزمرہ کے مسائل کی آئینہ دار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں علم رؤیا کا مطالعہ فرائڈ کے نظریہ سے بہت آگے جا چکا ہے۔ چنانچہ جدید الیکڑونک آلات کی مدد سے اس موضوع پر تحقیق جاری ہے۔
    مذہبی نقطۂ نگاہ سے خواب کی دو اقسام ہیں:
    .1 ایسے خواب جو انسانی نفسیات کی پیداوار ہیں۔
    .2 ایسے خواب جو خدا کی طرف سے دکھائے جاتے ہیں اور اپنے اندر گہرے مطالب رکھتے ہیں۔ ایسے خواب پیشگوئیوں یا خوشخبریوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں اور ایسے واقعات پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں جن کا علم خواب دیکھنے سے پہلے، خواب دیکھنے والے کو بھی قطعاً نہیں ہوتا۔ ایسے خواب ایک ایسی غیر مرئی، ماورائی اور باشعور ہستی کے وجود پر دلالت کرتے ہیں جو چاہے تو اپنے کسی پسندیدہ موضوع پر انسانوں کے ساتھ ہمکلام بھی ہو سکے۔
    اس سلسلہ میں مذہبی تجربات کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن مذہب پر یقین نہ رکھنے والوں کیلئے ان مثالوں کا قبول کر لینا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ کوئی بالا اور باشعور ہستی انسانی ذہن پر اثرانداز ہو سکتی ہے تو لازماً اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرنا پڑے گا جو ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار بہت سے سیکولر مفکرین اور سائنسدانوں کیلئے مشکل ہے۔
    دوسری بڑی دقت یہ ہے کہ اکثر مذاہب میں اس نظریہ کو جس انوکھے انداز میں پیش کیا جاتا ہے اس کو ماننا سائنسدانوں کیلئے مشکل ہے۔ کیونکہ گزشتہ زمانہ کے بزرگوں اور انبیاء کے روحانی تجربات کو ان کے ماننے والے جس ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں وہ نہ تو ان کے پیغام کیلئے مفید ہے اور نہ ہی اس سے ان کی سچائی کوکوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ چنانچہ الٰہی مکالمہ مخاطبہ جیسے اہم اور سنجیدہ معاملہ کی صداقت کو اس حد تک الجھا دیا جاتا ہے کہ خود ساختہ انسانی تصورات اور روحانی تجربات کے مابین امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
    الہامی کتب میں سے صرف قرآن کریم ہی تحریف سے محفوظ ہے جو خارق عادت باتوں پر یقین نہ رکھنے والوں کا ردکرتے ہوئے روحانی امور اور تجربات کو فطری اور معقولی رنگ میں پیش فرماتاہے۔ قرآنی بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو معجزات اور نشانات کہیں بھی قوانین قدرت سے متصادم دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشہورومعروف معجزہ کو ہی لے لیں۔ اگرچہ اہل کتاب اس معجزہ کو مافوق الفطرت خیال کرتے ہیں لیکن قرآن کریم نے اسے نہایت سادہ، معقول اور منطقی انداز میں بیان فرمایا ہے۔ تا ہم اس میں مخفی معانی سرسری نظر سے سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ اگرچہ یہ ایسے پیچیدہ بھی نہیں تا ہم پہلے سے قائم کردہ رائے کے زیر اثر اس کا مطالعہ کرنے والوں کو مغالطہ بھی لگ سکتا ہے۔ یہاں ہم قرآن کریم کی روشنی میں اس معجزہ کی وضاحت کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:

    (الاعراف 7 : 119-117)
    ترجمہ: اس نے کہا تم پھینکو۔ پس جب انہوں نے پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انہیں سخت ڈرا دیا اور وہ ایک بہت بڑا شعبدہ لائے۔ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تو اپنا سونٹا پھینک۔ پس اچانک وہ اس جھوٹ کو نگلنے لگا جو وہ گھڑرہے تھے۔ پس حق واقع ہو گیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے جھوٹا نکلا۔
    یہاں قرآن کریم ایک ایسے واقعہ کا ذکر فرماتا ہے جس میں فرعون کے جادوگروں کو ان رسیوں پر نہیں بلکہ تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کرتے بیان کیا گیا ہے۔ یہ دراصل ہپناسس کے عمل کی وضاحت ہے جو قانون قدرت کے مخالف نہیں۔ مسمریزم کی اس شعبدہ بازی اور جادوگروں کے سحر کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی ؑ کے ذریعہ اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا۔ یاد رہے کہ قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عصائے موسیٰ نے رسیوں کو سچ مچ نگلا نہیں تھا بلکہ ساحروں کے اس اثر کو توڑا تھا جس کے نتیجہ میں رسیاں سانپ دکھائی دے رہی تھیں۔ یہی واقعہ ایک اور سورۃ میں مندرجہ ذیل طریق پر بیان ہوا ہے جس سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے:

    (طٰہٰ 20 :69-67)
    ترجمہ : اس نے کہا بلکہ تم ہی ڈالو۔ پس اچانک ان کے جادو کی وجہ سے اسے خیال دلایا گیا کہ ان کی رسیاں اور ان کی سونٹیاں دوڑ رہی ہیں تو موسیٰ نے اپنے جی میں خوف محسوس کیا۔ ہم نے کہا مت ڈر۔ یقیناً تو ہی غالب آنے والا ہے۔
    قرآن کریم کے اس بیان کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی جادو گروں کی نفسیاتی قوتوں سے متاثر ہو گئے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ محض اپنی ذہنی قوت کے بل بوتے پر ساحروں کا سحر نہ توڑ سکتے تھے۔ نفسیاتی اعتبار سے بھی ذہن پر غالب آنے والے ہپناٹزم کے حملہ کو توڑ دینا ناممکن ہے۔ گویا ساحروں کے حملہ کا توڑ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بالارادہ نہیں کیا۔
    اس تناظر میں یہ واقعہ ایک معجزہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ورنہ مضبوط ترین قوت ارادی کا مالک بھی ساحروں کی ان کوششوں سے شکست کھا سکتا تھا۔ ساحروں سے بڑھ کر کس کو علم تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق میں تائید الٰہی کام کر رہی ہے کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دیگر حاضرین کی طرح اپنے سحر سے متاثر ہوتا دیکھ چکے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دیگر تماشائیوں کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا متاثر ذہن ان کی سحر انگیزی سے خود بخود چھٹکارا پا لیتا۔ ضمناً یہ آیت نام نہاد جادوگری کی حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتی ہے کہ ساحروں نے رسیوں اور سونٹیوں کو سچ مچ سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ اپنی نفسیاتی قوت سے ایک فریب کی صورت پیدا کر دی تھی۔
    الہام بھی دراصل انسان کی نفسیاتی کیفیت کا ایک عمل ہے۔ فرق یہ ہے کہ یہ عمل صرف اورصرف خداتعالیٰ کے اپنے حکم اور ارادہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یقینا پیغام وصول کرنے کے لئے انسانی ذہن کو ایک جدید ترین اور پیچیدہ مواصلاتی نظام و دیعت کر رکھاہے۔ اس لئے وحی و الہام کا یہ نظام انوکھا اور غیر فطری نہیں ہے۔
    ہر انسانی ذہن کو دیگر انسانوں سے رابطہ کے لئے حواس خمسہ سے بالا صلاحیتیں بھی بخشی گئی ہیں۔ یہاں قاری کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ہمارے زیر بحث یہ شاندار نظام بڑی عمدگی، خوبی اور ذمہ داری کے ساتھ ہر شخص کے صداقت کے معیار کی نسبت سے کام کرتا ہے۔ کسی جھوٹے کے دماغ میں غیر حقیقی اور بے بنیاد خیالات شتر بے مہار کی طرح گزرتے رہتے ہیں اور اس کی نفسانی خواہشات اس کے لئے جھوٹے خواب تراشتی رہتی ہیں۔ لیکن غالب امکان ہے کہ ایک کھرا، دیانتدار اور راستباز شخص اپنے تخیّل کو اتنا بے لگام نہیں چھوڑتا کہ وہ بے معنی آوازوں اور پراگندہ تصورات کا شکار ہو کر رہ جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے ایسے کامل راستباز، دیانتدار اور امین رسول چنتا ہے جن کا کردار اس پیغام کو ہر قسم کے کھوٹ سے پاک رکھنے کا ضامن ہوتا ہے۔ لہٰذا ملہم کی صداقت اور امانت ہی وحی و الہام کی حفاظت اور سچائی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ پس یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ سب کی سب الہامی کتب میں مذکور تمام کے تمام انبیاء کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ مجسّم امین اور راستباز تھے۔ دراصل ان کی راستبازی ہی ہے جو ان کے دعویٰ کی مصدق اور اس پیغام کی حقانیت کی سب سے بڑی شاہد ہوا کرتی ہے جسے وہ دنیا تک پہنچاتے ہیں۔
    بعض اوقات بغیر آواز یا نظارہ کے ایک وجدانی تجربہ ایسا بھی ہوتا ہے جو درحقیقت بیرونی وحی کی ایک قسم کہلا سکتا ہے۔ بہت سے بزرگ ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جن کے دوران وہ دنیا وما فیہا سے بیخبر ہو کر اپنی باطنی کیفیات میں ڈوب جاتے ہیں اور موتی تلاش کرنے والے غوطہزن کی طرح عرفان کے موتی لے کر خارجی دنیامیں واپس آتے ہیں۔ چنانچہ انسانی ذہن کا یہ ایک ایسا اندرونی تجربہ ہے جو بظاہر فی ذاتہٖ کسی آواز یا منظر کے بغیر ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایسا پر شوکت تجربہ ہے جو فوراً ہی لفظوں میں ڈھل جاتا ہے اور اس تجربہ سے گزرنے والے پر اس کا اثر اتنا شدید ہوتا ہے گویا کسی نے عین بیداری کے عالم میں اس سے براہ راست اور واضح طور پر کلا م کیا ہو۔ تاہم اس کلام کی صداقت کو پرکھنے کیلئے ملہم کی راستبازی کے علاوہ اس کے مندرجات پر غور کرنا ضروری ہے۔ پس ملہم کے راستباز ہونے کے ساتھ ساتھ الہام کی تصدیق کیلئے اس کے مضامین کی اندرونی شہادت بھی ضروری ہے۔
    ایک ناواقف کے لئے آسان نہیں کہ وہ وحی ٔالٰہی اور نفسیاتی تجربات کے مابین فرق کو واضح طور پر سمجھ سکے۔ تاہم اس کیفیت سے گزرنے والا شخص بالعموم پہچان سکتا ہے کہ یہ پیغام وحیٔ الٰہی پر مشتمل ہے۔ اگرچہ اس کی روح ملہم کے ذاتی علم اور نفسیاتی تجربات سے یکسر مختلف ہوتی ہے پھر بھی اس وحی ٔالٰہی کی صداقت ایک غیر ملہم بھی خارجی شہادت کی مدد سے پرکھ سکتا ہے۔ اس خارجی شہادت کا مشاہدہ ہمعصر لوگ بھی کر سکتے ہیں اور بعض اوقات کوئی پیشگوئی بعد کے زمانہ میں پوری ہو کر وحی کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دیتی ہے۔ مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کے بارہ میں کوئی بھی قبل از وقت سوچ نہیں سکتا۔ ایسے الہامات کی صداقت کا دراصل مقصد یہ ہے کہ بعد میں آنے والے لو گ بھی اس کی سچائی کی تصدیق کر سکیں جن کی ترقی یافتہ سوچ ان کی صداقت کو پرکھ سکتی ہے۔ تا ہم کسی تجزیہ نگار کے لئے نفسیاتی تجربات اور وحی ٔالٰہی کے مابین فرق کرنا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں۔
    اب ہم وحی ٔالٰہی پر مبنی ایک ایسی پیشگوئی کاذکر کرتے ہیں جو اگرچہ اپنے ہم عصروں کے بارہ میں ہے لیکن مستقبل کے لوگوں کو چونکا دینے کا عنصر بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔
    اس کی وضاحت مصر کے بادشاہ کے اس معروف خواب کے حوالہ سے کی جا سکتی ہے جس کی تعبیر بعد میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اس وقت بیان فرمائی تھی جب وہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ایک جھوٹے الزام کی پاداش میں جیل میں سزا کاٹ رہے تھے اور یہ خواب ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا۔ یہ ایک عجیب خواب تھا جس نے شاہی دربار کے دانشوروں کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو اس خواب میں مخفی پیغام کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ چنانچہ مستقبل میں رونماہونے والے واقعات نے اس دانشمندانہ تعبیر کی تصدیق کر دی۔
    بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ غلّہ کی سات سبزوشاداب بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں۔ نیز یہ بھی دیکھا کہ سات دبلی پتلی گائیں سات موٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں۔ جب بادشاہ نے یہ خواب تعبیر کے لئے درباریوں کو سنایا تو انہوں نے اسے ایک مہمل، بے معنی اور پراگندہ خواب قرار دیا۔
    بادشاہ کا ایسا خادم بھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ قید کاٹ چکا تھا اس موقع پرموجود تھا۔ اس نے جیل میں ایک عجیب خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے یوں کی تھی کہ وہ جلد رہائی پا کر ایک بار پھر اپنے آقا یعنی بادشاہ کی خدمت کا موقع پائے گا۔ اس امید پر کہ حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ کے خواب کی بھی صحیح تعبیر کریں گے اس نے درخواست کی کہ اسے حضرت یوسف علیہ السلام سے ملنے کی اجاز ت دی جائے۔
    اجازت ملنے پر اس نے جیل جا کر بادشاہ کا خواب حضرت یوسف علیہ السلام کو سنایا جنہوں نے فوراً ہی خواب کا مفہوم سمجھ لیا اور اس کی واضح اور منطقی تعبیر فرمائی۔
    واپس آ کر خادم نے بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ السلام کی بیان کردہ تعبیر یوں سنائی:
    آئندہ سات سالوں میں اللہ تعالیٰ کی برکات اچھی بارشوں کی صورت میں نازل ہوں گی جس کے نتیجہ میں فصلیں اور پھل بہترین پیداوار دیں گے۔ بہترین پیداوار کے ان سات سالوں کے بعدخشک سالی کے سات سال آئیں گے جن میں شدید قحط پڑے گا۔ اگر ان پہلے سات سالوں کی وافر فصل میں سے ان سخت سالوںکی ضرورت پورا کرنے کے لئے کچھ بچایا نہ گیا تو شدیدقحط کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    اس تعبیر سے بادشاہ بہت متاثر ہوا۔ چنانچہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی فوری رہائی کے احکام جاری کر دیئے۔ لیکن آپ ؑ نے مطالبہ کیا کہ جب تک منصفانہ تحقیقات کے ذریعہ جھوٹے الزامات سے ان کی بریت نہ ہو جائے وہ جیل میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔ آپؑ صرف اس وقت جیل سے باہر آنے پر رضا مند ہوئے جب اصل مجرم نے اقبال جرم کر لیا اور آپ ؑ کو تمام الزامات سے باعزت طور پر بری قرار دیدیا گیا۔ بادشاہ کی طرف سے آپؑ کی غیر معمولی طور پر عزت افزائی کی گئی اور آپ ؑ کو اس کی حکومت میں وزیر خزانہ و اقتصادیات بنا دیا گیا۔
    خواب میں پہلے سے بتائے گئے تمام واقعات حیرت انگیز طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کی بیان کردہ تعبیر کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئے جس کی وجہ سے نہ صرف مصریوں کو ہلاکت سے بچایا گیا بلکہ ہمسایہ ممالک کے رہنے والے اور اسی طرح خانہ بدوش قبائل بھی قحط سالی کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ نیز انہی واقعات کے نتیجہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے دوباہ ملاقات کی صورت بھی پیدا ہو گئی۔
    ایسے خواب کو جو بعد میں سچا ثابت ہوا یہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کسی بسیار خور کے ذہنی انتشار کا نتیجہ ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اس خواب کی تعبیر ایک یوسف ؑ ہی کر سکتا ہے۔ اس مثال سے یہ امر بخوبی واضح ہو جانا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک با مقصد اندرونی نفسیاتی نظام جاری فرما رکھا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معین اور بامقصد پیغام کی ترسیل سے عالم غیب کا ایک حصہ عالم شہود میں منتقل ہو جاتا ہے۔ تا ہم یہاں یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ زیر بحث نفسیاتی نظام صرف الہام الٰہی کے ذریعہ ہی استعمال نہیں ہوتا، اور نہ اس پر تحت الشعور کی اجارہ داری ہے۔ بلکہ قرآن کریم ایک تیسرے امکان کا بھی ذکر کرتا ہے۔

    (الشعرائ224-222:26)
    ترجمہ: کیامیں تمہیں اس کی خبر دوں جس پر شیاطین بکثرت اترتے ہیں؟ وہ ہر پکّے جھوٹے (اور) سخت گنہگار پر بکثرت اترتے ہیں۔ وہ (ان کی باتوں پر )کان دھرتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔
    ان آیات کی رو سے جھوٹے اور جھوٹ کے عادی لوگ بھی اپنی شیطانی فطرت کے باعث اس نظام کو متحرک کر سکتے ہیں۔ اس طرح ان کا جھوٹ وحی کا روپ دھار کر انہیں اور ان کے چیلوں کو گمراہ کر دیتا ہے۔ یہ اس نفسیاتی نظام کے استعمال کی تیسری قسم ہے۔ اس سلسلہ میں فیصلہ کن کردار ہمیشہ صاحب تجربہ کا اپنا صدق یا کذب ادا کرتاہے۔ جھوٹے لوگوں کے الہامات بھی جھوٹے ہوتے ہیں۔ پس آ جا کر بات یہاں ختم ہوتی ہے کہ جھوٹوں کے الہامات کی ہمیشہ یہی پہچان ہوتی ہے کہ ان کے نام نہاد الہامات میں ہمیشہ شیطانی عنصر موجود ہوتا ہے اور اس طرح ان کے ذریعہ جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں۔
    الہام اور عقل
    اس کتاب کے ایک اور باب میں مختصراً ذکر ہو چکا ہے کہ مسلمان مفکرین کی ذہنی کاوش انسانی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں کس طرح عہد بعہد ترقی کی منازل سے گزری۔ اگرچہ اس زمانہ میں ان کی تحقیق زیادہ تر قرآنی تعلیمات اور احادیث سے متاثر تھی لیکن اسے اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تا ہم ہر جہت میں علمی ترقی نہایت تیز رفتاری سے ہوئی۔ کئی نئے سائنسی اور فلسفیانہ نظریات کے سلسلہ میں ماضی کے سیکولر علمی اور سائنسی نظریات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں نامور مسلم مفکرین نے کئی نئے دینی اور دنیوی علوم کی بنیاد ڈالی۔ اس طرح مذہب اور عقل دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ چنانچہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں علم کے حصول پر جو زوردیا گیا ہے اس سے انہوں نے خوب کھل کر اکتسابِ فیض کیا۔ عقل کے کردار پر اس شدت سے زور دیا گیا کہ ایمان اور عقل دونوں ہم معنی ہو گئے۔ قرآن کریم کا یہ اعلان کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کیلئے نبی ہیں اور آپﷺ کا پیغام کل عالم کے لئے ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی بنیاد عقل پر ہے۔ ایسا مذہب جس کی بنیاد عقل پر نہ ہو انسانی ضمیر کیلئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

    (سبا34:29)
    ترجمہ: اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کیلئے بشیر اور نذیر بنا کر۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
    قرآن کریم اپنی تعلیم کے عالمی ہونے کے ثبوت میں جملہ معاشرتی یعنی اخلاقی، سماجی اور مذہبی مسائل کے حل کے لئے رنگ و نسل اور ملت کے فرق اور امتیاز کو تسلیم نہیں کرتا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات میں یہ صلاحیت موجود ہو کہ وہ تمام دنیا کے لئے قابل قبو ل اور فطرت انسانی کے مطابق ہوں۔ اس دعویٰ کے ثبوت میں یہی ایک دلیل نہیں ہے۔
    چنانچہ صداقت تک پہنچنے کیلئے قرآن کریم عقل کی اہمیت کو واشگاف الفاظ میں تسلیم کرتا ہے اور دینی اور دنیوی صداقت میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ صداقت تو اسلام کی جان ہے اور درحقیقت اسلام صداقت کا ہی دوسرا نام ہے۔ سچائی کو اپنے ابلاغ کیلئے کسی جبر کی ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت ہے تو صرف عقل کی۔ چنانچہ اسلام فطرت انسانی، تاریخ اور معقولیت کے سیاق و سباق میں عقل سے ہی رجوع کرتا ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کی سچائی کو پرکھے۔ وہ نہ صرف دینی بلکہ دنیوی امور میں بھی تحقیق کیلئے عقل اور منطق کو بنیاد بناتا ہے۔ حصول علم کے لئے قرآن کریم میں مذکور تاکید سے متاثر ہو کر مشہور نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام صاحب٭نے اس بات کا بغور مطالعہ کیا کہ کس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس روشن خیالی سے استفادہ کیا۔ وہ اس موضوع پر اپنے ایک مقالہ میں لکھتے ہیں:
    ’’دمشق یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد اعجاز الخطیب کے مطابق سائنس کی اہمیت ثابت کرنے کیلئے اور کس چیز کی ضرورت ہے جبکہ قرآن کریم کی 250آیات قانون کے بارہ میں ہیں اور 750آیات میں جو کہ قرآن کریم کا قریباً آٹھواں حصہ بنتا ہے مومنین کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ وہ قدرت کا مطالعہ کرنے کیلئے عقل کا بھرپور استعمال کریں اور سائنسی تحقیق کو اپنی اجتماعی زندگی کا ایک اہم جزو بنائیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ ـ‘‘ 1
    لیکن قرآن کریم اس کے علاوہ ایک انتباہ بھی کرتا ہے کہ صحیح نتائج اخذ کرنے کیلئے صرف تحقیق ہی کافی نہیں ہوا کرتی بلکہ انسان کی راستبازی شرط اوّل ہے۔ یہ نہایت اہم بنیادی اصول سورۃ البقرہ کے آغاز میں مذکور ہے۔ اگر چہ سورۃ البقرہ سورۃ الفاتحہ کے بعد آتی ہے جو قرآن کریم کا خلاصہ ہے، مگر عملاً اسے قرآن کریم کی تعارفی سورۃ کے طور پر لینا چاہئے۔ کیونکہ اسی سے قرآن کریم کا تفصیلی متن شروع ہوتا ہے۔ اس سورۃ کا آغاز کچھ اس طرح ہے۔

    (البقرہ 2: 3-1)
    ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بن مانگے دینے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔ اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ۔ میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ یہ ’’وہ‘‘ کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔
    اس سادہ مگر گہرے اعلان کا تقاضا ہے کہ اس کے بنیادی پیغام کو سمجھنے کیلئے خصوصی توجہ دی جائے۔ الٰہی تعلیمات کا اصل مقصود گمراہوںکی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اعلان سے کیا مراد ہے کہ یہ کتاب صرف ان لوگوں کی رہنمائی کر سکتی ہے جو پہلے ہی نیک ہوں؟ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ سچائی کے طالب کیلئے اس کا خود راستباز ہونا ضروری ہے ورنہ اس کی جستجو اور تحقیق رائیگاں جائے گی۔ اس بیان کے مطابق سچائی کا حصول محقق کی صحت نیت پر ہے۔ یہ گہری حکمت اس مختصر مگر سادہ بیان سے واضح ہے کہ: ھدًی للمتقین۔ ( ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو)۔
    یہی اصول دنیوی امور کی تحقیق پر بھی صادق آتا ہے۔ متعصب ذہن سے کی جانے والی تحقیق اکثر و بیشتر قابل اعتبار نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی سچی اور بامعنی تحقیق کیلئے صاف اور صحتمند ذہن اوّلین شرط ہے۔ کوئی بھی جانبدارانہ ذہن کبھی غیر جانبدارانہ نتائج اخذ نہیں کر سکتا۔ جس طرح بھینگا کبھی سیدھا نہیں دیکھ سکتا اسی طرح کوئی ہدایت بھی از خودہر کسی کو صداقت تک نہیں پہنچا سکتی۔ اس سے فقط غیر متعصب،راستباز، صحت مند اور دیانتدار ذہن ہی استفادہ کر سکتا ہے۔ اس مقام پر ایک مسئلہ کے حل کے بعد ایک اور حل طلب مسئلہ سامنے آتا ہے۔
    امید تو یہی کی جاتی ہے کہ مذہبی تنازعات میں فریقین سچائی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ میں حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بالعموم توقع تو یہی کی جاتی ہے کہ دنیوی معاملات کی نسبت مذہبی معاملات میں سچ کا عنصر غالب ہو گا مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مذاہب کا معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ آغاز میں کسی بھی مذہب کے ماننے والے اوروں کی نسبت مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، زیادہ خلوصِ نیت سے سچائی پر کاربند ہوتے ہیں۔ بانیانِ مذاہب کی زندگی میں ان پر ایمان لانے والوں کی عقل و حکمت اور راستبازی کا گراف انتہائی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔
    مندرجہ بالا قرآنی آیات ایک ایسے خدا کا تصور پیش کرتی ہیں جو ہر چیز کے بارہ میں انتہائی صحت و صفائی کے ساتھ پورا علم رکھتا ہے۔ لہٰذا ایسی ہستی کی طرف سے عطا کیا جانے والا علم یقینا انتہائی کامل اور قابل اعتماد ہو گا۔ لیکن اس علم کوحاصل کرنے والا اگر باطنی سچائی کی صفت سے محروم ہے تو ایسے علم سے استفادہ نہیں کر سکتا۔
    اگر ہم ملحدین کی سہولت کیلئے عقل کو خدا کا مقام دے دیں تو صورت حال کچھ یوں بنتی ہے:- مجرد عقل کسی کو سچائی کی طرف نہیں لے جا سکتی سوائے ان لوگوں کے جن کے اندر تقویٰ یا باطنی سچائی موجود ہو۔ قابل اعتماد علم کے حصول کے لئے خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی، سب سے ضروری شرط یہی ہے۔ علم کے سرچشمہ اور اس سے فیض پانے و الے دونوں کے لئے سچا ہونا ضروری ہے۔
    یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن یہ آخری منزل نہیں ہے بلکہ یہاں سے تو اس سفر کا مشکل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی اور کی باطنی سچائی کے بارہ میں فیصلہ کون کرے گا؟ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے باطن کی سچائی کے متعلق دعویٰ کرے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم اس مسئلہ کو کس طرح حل کرتا ہے؟ محض یہ کہنے سے کہ ’’خداتعالیٰ خوب جانتا ہے‘‘انسانی سوچ کی سطح پر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم اس مسئلہ کا یہ حل تجویز نہیں کرتا۔ قرآن کریم کے مطابق ہر انسان کی اندرونی حالت کا صحیح اندازہ اس کے روزمرہ کے نظر آنے والے کردار اور رویہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں سچ کا عادی ہے تو اسے راستباز کہنا بجا ہو گا۔ انبیاء کی صداقت پرکھنے کا بھی یہی پیمانہ ہے۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جھوٹ کا عادی کبھی کبھار اپنی گفتگو یا رویہ سے سچائی کا اظہار بھی کر دے۔ لیکن ایسے شخص کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ ہمیشہ سچ بولے۔ اس لئے انبیاء کرام کی یہ دلیل عین عقل کے مطابق ہے کہ دعویٰ نبوت سے پہلے جو معاشرہ ادنیٰ سا جھوٹ بھی ان کی طرف منسوب نہیں کر سکتا تھا اب کیسے الزام لگا سکتا ہے کہ وہ اچانک خداتعالیٰ کے متعلق جھوٹ گھڑ لیں اور اسے الہام قرار دے دیں۔
    اس کسوٹی پر انبیاء کی راستبازی کو بخوبی پرکھا جا سکتا ہے کیونکہ وہ زندگی بھر اپنے عمل سے ثبوت مہیا کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ معیار سوائے انبیاء کرام کے دیگر انسانوں پر اطلاق نہیں پاتا کیونکہ ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور نقطۂ نگاہ میں بھی فرق ہوتا ہے۔ نیز کسی معاملہ کو سمجھنے اور اس سے نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سب میں یکساں نہیں ہوتی۔ پھر ہر شخص میں تصنع یا ملمعسازی کو شناخت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی۔ مشاہدہ کرنے والے اور مشہود کے باہمی ردعمل سے کئی نئے امکانات ابھرتے ہیں۔ بعض اپنی نیتوں کو نہایت کامیابی سے چھپا سکتے ہیں جبکہ بعض میں اس صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔ ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مشاہدہ کرنے والا انسان کس حد تک کسی دوسرے انسان کے اندرونی سچ اور جھوٹ کے بارہ میں حتمی رائے قائم کرنے کا اہل ہے۔ ایمان اور اعتقاد کے معاملہ میں یہ مسئلہ اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے۔ ایک انسان انتہائی احمقانہ نظریات اور عقائد تو اپنا سکتا ہے اور ایسے لوگوں کی آج کل کوئی کمی بھی نہیں ہے مگر ایسے لوگوں کے متعلق حتمی طور پر یہ فتویٰ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ ایسے انسان سادہ لوح اور کم فہم ہی ہو سکتے ہیں جو اپنی ایسی غلطی کو بھی محسوس نہ کر سکیں جو اوروں کو نظر آ رہی ہو۔ اس کے باوجود انہیں پورا حق حاصل ہے کہ جس بات کو وہ صحیح سمجھتے ہیں اسے مانیں اور یہ دعویٰ بھی کریں کہ وہ حق پر ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں یہ پورا حق بھی حاصل ہے کہ وہ اوروں کے نظریات یا عقائد کو یہ کہہ کر رد کر دیں کہ یہ باطل ہیں۔ خواہ ان کے ماننے والوں کو وہ کتنے ہی صحیح اور عقل کے عین مطابق نظر کیوں نہ آئیں۔
    اس مشکل مسئلہ کا واحد اور ٹھوس حل قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ قرآن کریم ہر انسان کو یہ بنیادی حق دیتا ہے کہ وہ جس عقیدہ کو بھی صحیح سمجھے اسے اختیار کرے اور اس کی سچائی کا اعلان کرے۔ لیکن کسی صورت میں بھی کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے عقائد کو اوروں پر مسلط کرے یا اوروں کو ان کے عقائد کی وجہ سے جو اس کی اپنی دانست میں غلط ہیں سزا دیتا پھرے۔ انسان صرف خداتعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے اور صرف وہی واحد ذات ہے جو دلوں کے بھید خوب جانتی ہے۔ یاد رہے کہ صداقت کو شناخت نہ کر سکنے کی وجہ سے کوئی انسان مستوجبِ سزا نہیں ٹھہرتا۔ قابلِمواخذہ امر یہ ہے کہ کوئی شخص کسی بات کو دل کی گہرائی سے برحق سمجھتے ہوئے بھی اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ ظاہر ہے کہ اس قبیل کے پوشیدہ جرائم کا کھوج لگانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ حق کو شناخت نہ کر سکنا جرم نہیں ہے بلکہ شناخت کے بعد اسے تسلیم نہ کرنا جرم ہے۔ اور یہ فیصلہ تو صرف خداتعالیٰ کی علیم و خبیر، حاضر ناظر، غیر مبدّل اور حکیم ذات ہی کر سکتی ہے۔ یہ وہ اہم بات ہے جس کی قرآن کریم متعدد مقامات پر اپنے قاری کو بار بار یاددہانی کراتا ہے اور اس بات کی خاص طور پر تنبیہ کرتا ہے کہ کسی شخص کو اجازت نہیں کہ وہ ایمانیات اور عبادات کے حوالہ سے خود کو حَکَم قرار دے کر شریعت نافذ کرتا پھرے بلکہ بانی اسلامﷺ کو بھی قرآن کریم میں اس کی تاکید کی گئی ہے:

    (الغاشیہ23-22:88)
    ترجمہ : تُو محض ایک بار بار نصیحت کرنے والا ہے۔ تُو ان پر داروغہ نہیں۔
    حتیٰ کہ مشرکوں کے خود ساختہ معبودوں کو جو محض ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہیں برا بھلا کہنے کی بھی ممانعت ہے:

    (الانعام 6:109)
    ترجمہ: اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر قوم کو ان کے کام خوبصورت بنا کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کے رب کی طرف ان کو لوٹ کر جانا ہے۔ تب وہ انہیں اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
    اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان کو آخری دم تک سچائی کی تلاش اور اسے شناخت کرنے اور اس پر ایمان لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عقیدہ کی آزادی ایک الگ بات ہے لیکن ان عقائد کے نتائج سے فرار دوسری بات۔ عقیدہ کی آزادی کا حق اور دیگر بنیادی حقوق ہرگز یہ اجازت نہیں دیتے کہ سچائی کو پامال کر دیا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آزادیٔ ضمیر اور اس کے مطابق عمل کرنے کے حق کا تحفّظ کیا جائے۔ عقیدہ کی آزادی کا حق نہ ہو تو ہر کوئی سچائی کے نام پر دوسروں کے نظریات کو طاقت کے زور پر بدلنے اور اپنا ہم خیال بنانے کیلئے جبر کر سکتا ہے۔ اس کی غلط منطق اسے اس بات پر آمادہ کرے گی کہ چونکہ کسی کو کوئی غلط عقیدہ اپنانے کا حق نہیں ہے اس لئے ہر ایک کو اپنے عقیدہ کے مطابق دوسروں کا عقیدہ زبردستی بدلنے کا حق حاصل ہے۔ عقیدہ کی آزادی کے حق کا یہ مطلب نہیں کہ انسان جوابدہی سے بالا قرار دے دیا جائے۔ جوابدہی کے اس اصول کو سامنے رکھ کر ہی آزادی کے حق کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر کوہپیماؤں کی کسی جماعت کو یہ کہا جائے کہ وہ بیشک جس طرف بھی چاہیں جا سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ انتباہ بھی کر دیا جائے کہ بعض راستے ان کو یقینی موت کے منہ میں لے جائیں گے تو اس صورت میں وہ اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیں گے۔ اس کے باوجود اگر بعض سرپھرے اس انتباہ کی پرواہ نہ کریں اور اپنے مفاد کی طرف سے آنکھیں بند کر کے آزادی کے حق کا راگ الاپتے ہوئے جدھر چاہیں چل پڑیں تو ان کا یہ رویہ انہیں یقینی تباہی کی طرف لے جائے گا۔ چنانچہ آزادیٔعقیدہ اور آزادیٔ ضمیر کا یہی نظریہ قرآن کریم میں یوں بیان ہوا ہے:

    (البقرہ 257:2)
    ترجمہ: دین میں کوئی جبر نہیں۔ یقینا ہدایت گمراہی سے کھل کر نمایا ں ہوچکی۔ پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹناممکن نہیں۔ اور اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والاہے۔
    کسی کے عقیدہ کو جبراً تبدیل کرنے کی واضح ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو بغیر کسی قسم کے جبر کے، دلیل کے ذریعہ اپنا عقیدہ تبدیل کرنے کی دعوت اور ترغیب بھی نہیں دی جا سکتی۔ اسلام میں نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ مومنوں پر فرض ہے کہ وہ دوسروں کو دلائل اور حکمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ چنانچہ فرمایا:

    (النحل16:126)
    ترجمہ: اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔
    یہ وہ عالمگیر الٰہی منصوبہ ہے جس کے ذریعہ نظریات اور دلائل کی سطح پر اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔ کیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو رتی بھر بھی عقل کے خلاف ہو۔ موجودہ زمانہ کے انتہا پسند علماء مسلمان عوام کو ان کے جذبات بھڑکانے کے بعد غیر مسلموں کے خلاف جس خونی جنگ کی ترغیب دیا کرتے ہیں اس کی کوئی مثال انبیاء اور ان کے ماننے والوں کی زندگی میں نہیں ملتی۔ ان کا یہ رویہ اسلامی تعلیم سے اتنا ہی متناقض ہے جتنا مرض شفا سے اور زہر تریاق سے۔ ان قرآنی آیات کی تعداد جن میں مسلمانوں کو دلیل، عقل اور سائنسی تحقیق کی پرزور تلقین کی گئی ہے، ڈاکٹر محمد اعجاز الخطیب کے نزدیک سات سو پچاس ہے۔ اس کے بالمقابل قرآن کریم میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ملتی جس میں کسی قسم کی بھی اندھا دھند پیروی کی تعلیم دی گئی ہو۔ ذیل میں قرآن کریم کی چند ایک آیات درج کی جاتی ہیں جن سے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عقائد اور نظریات کے سلسلہ میں قرآن کریم عقل و خرد، استدلال اور ٹھوس شہادت پر کس قدر زور دیتا ہے۔

    (البقرۃ 2:45)
    ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو جبکہ تم کتاب بھی پڑھتے ہو۔ آخر تم عقل کیوں نہیں کرتے؟

    (البقرۃ 77:2)
    ترجمہ: اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے۔ اور جب ان میں سے بعض بعض دوسروں کی طرف الگ ہو جاتے ہیں تو وہ (ان سے) کہتے ہیں کہ کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تا کہ انہی باتوں کے ذریعہ وہ تمہارے رب کے حضور تم سے جھگڑا کریں۔ پس کیا تم عقل نہیں کرتے۔

    (البقرۃ 112:2)
    ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ ہرگز جنت میں کوئی داخل نہیں ہو گا سوائے ان کے جو یہودی یا عیسائی ہوں۔ یہ محض ان کی خواہشات ہیں۔ تو کہہ کہ اپنی کوئی مضبوط دلیل تو لاؤ اگر تم سچے ہو۔

    (النساء 175:4)
    ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی حجت آ چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک روشن کر دینے والا نور اتارا ہے۔

    (الانعام 33:6)
    ترجمہ: اور دنیاکی زندگی محض کھیل کود اور نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کا ایسا ذریعہ ہے جو اعلیٰ مقصد سے غافل کر دے۔ اور یقینا آخرت کا گھر ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ پس کیا تم عقل نہیں کرتے؟

    (الانعام 51:6)
    ترجمہ: تو کہہ دے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں اس کے سوا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے کسی چیز کی پیروی نہیںکرتا۔ کہہ دے کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں؟ پس کیا تم سوچتے نہیں۔

    (الانعام66:6)
    ترجمہ: کہہ دے کہ وہ قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے یا تمہیں شکوک میں مبتلا کر کے گروہوں میں بانٹ دے اور تم میں سے بعض کو بعض دوسروں کی طرف سے عذاب کا مزہ چکھائے۔ دیکھ کس طرح ہم نشانات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تا کہ وہ کسی طرح سمجھ جائیں۔

    (یونس 17:10)
    ترجمہ: تو کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں تم پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ (اللہ) تمہیں اس پر مطلع کرتا۔ پس میں اس (رسالت) سے پہلے بھی تمہارے درمیان ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں، تو کیا تم عقل نہیں کرتے؟

    (ھود52:11 )
    ترجمہ: اے میری قوم ! میں تم سے اس (خدمت ) پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا۔ پس کیا تم عقل نہیں کرتے؟

    (الانبیاء 25:21)
    ترجمہ: کیا انہوں نے اس کے سوا کوئی معبود بنا رکھے ہیں؟ تو کہہ دے کہ اپنی قطعی دلیل لاؤ۔ یہ ذکر ان کا ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ حق کا علم نہیں رکھتے اوروہ اعراض کرنیو الے ہیں۔

    (المومنون81:23)
    ترجمہ : اوروہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور رات اور دن کا اختلاف بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ پس کیا تم عقل نہیں کرتے؟

    (المومنون118:23)
    ترجمہ: اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو یقینا اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ یقینا کافر کامیاب نہیں ہوتے۔

    (النمل65:27)
    ترجمہ: کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ تو کہہ دے کہ اپنی قطعی دلیل لاؤاگر تم سچے ہو۔

    (القصص 61:28)
    ترجمہ: اور جو کچھ بھی تم دیئے جاتے ہو یہ دنیوی زندگی کا عارضی فائدہ اور اس (دنیا) کی زینت ہے۔ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ پس کیا تم عقل نہیںکروگے؟

    (القصص 76:28)
    ترجمہ: اور ہم ہر امت سے ایک گواہ نکال لائیں گے اور کہیں گے کہ اپنی برہان لاؤ۔ پس وہ جان لیں گے کہ حق اللہ کے اختیار میں ہے اور جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا۔

    (یٰس 63:36)
    ترجمہ: مگر اس نے یقینا تم میں سے ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کر دیا۔ پس کیا تم عقل نہیں کرتے تھے؟

    (الحشر22:59)
    ترجمہ: اگر ہم نے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو توُ ضرور دیکھتا کہ وہ اللہ کے خوف سے عجز اختیار کرتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ اور یہ تمثیلات ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تا کہ وہ تفکّر کریں۔


    حوالہ جات
    1. LAI, C.H., KIDWAI, A (1989) Ideals and Realities. Selected Essays of Abdus Salam. 3rd ed. World Scientific Publishing Co. London, pp.343-344
    ایمان بالغیب

    (البقرۃ 4-3:2)
    ترجمہ: ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
    جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں مذکور ہے ’’ایمان بالغیب‘‘ اسلامی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے۔ لیکن جیسا کہ گزشتہ باب میں بڑی وضاحت سے بیان کیاجا چکا ہے قرآن کریم عقل و دلائل پر مبنی کتاب ہے جو انسانی فکر کو جبرواکراہ سے بدلنے کی ہر کوشش کی مذمت کرتی ہے۔ لہٰذا مندرجہبالا آیت کی کوئی بھی ایسی تشریح اسلامی تعلیمات سے متصادم ہو گی جس کا مفہوم یہ ہو کہ ’ایمان بالغیب‘ کی تعلیم کے ذریعہ قرآن کریم اندھے اعتقاد کو فروغ دیتا ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ قرآن کریم تو بلا جواز اور بلا ثبوت اندھی تقلید کو کافروں کا خاصہ قرار دیتا ہے اور مومنوں کے خیالات کو بدلنے کیلئے کافروں کی طرف سے جبر کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔ ’’ایمان بالغیب‘‘ کی اصطلاح سے آخرکیا مراد ہے؟ اس سوال کا پوری طرح جائزہ لینا ضروری ہے۔
    ’’ایمان بالغیب‘‘ کا اس پہلو سے بھی بغور مطالعہ ضروری ہے کہ یہ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا حقیقی مفہوم نہ سمجھنے کے نتیجہ میں سنگین نتائج مرتّب ہو سکتے ہیں جیسا کہ قرونِوسطیٰ کے مسلمان علماء کے درمیان مختلف متنازع مسائل پر بحثوں کے دوران ہو چکا ہے۔ بعض کٹّر علماء عقیدہ کے معاملہ میں عقل کے استعمال کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک الہامی سچائی اپنی ذات میں کافی ہے اور اسے بلا تحقیق قبول کر لینا چاہئے۔ اس نظریہ سے اختلاف رکھنے والے قرآن کریم کی وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں تاکید کی گئی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ہر مرحلہ پر عقل کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہئے اور اندھے اعتقاد پر عقل کو ترجیح دینی چاہئے۔
    لیکن آخر ایمان ہے کیا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص پوری تسلی کئے بغیر ہی کسی بات پر ایمان لے آئے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مذاہب کے بہت سے پیروکار اپنے عقائد کو صحیح طور پر سمجھے بغیر ہی ایمان لے آتے ہیں۔ وہ فقط اعتقاد رکھتے ہیں اور بس۔
    یہ وہ اشکال ہے جو ایمان اور عقل کے تقابلی جائزہ اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کے تعین کا متقاضی ہے۔ اسی کتاب میں ’’یورپی فلسفہ‘‘ کے باب میںچونکہ اس موضوع پر سیر حاصل بحث موجود ہے لہٰذا ہم کوشش کریں گے کہ کسی غیر ضروری تکرار سے اجتناب کریں۔ یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ لفظ ’’غیب‘‘ کا وسیع تر مفہوم معلوم کیا جائے۔
    اوّلاً واضح رہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ ممکن ہے کچھ اشیاء پردہ ٔ غیب میں موجود ہوں اور بعد میں کسی وقت انسانی تحقیق یا الہام الٰہی کے سبب سے عالم غیب سے عالم شہود میں آجائیں۔
    ’’غیب‘‘ کا لفظ اپنے وسیع تر معنوں میں ان تمام اشیاء کیلئے استعمال ہوتا ہے جو بصارت یا سماعت کی رسائی سے باہر ہیں۔ اسی طرح اس میں وہ سب اشیاء بھی شامل ہیں جو حواس خمسہ کی حدود سے باہر ہوں۔ اس پہلو سے ہم ’’غیب‘‘ سے مراد وہ عالم بھی لے سکتے ہیں جو انسان کے حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہیں۔ اس زمرہ سے تعلق رکھنے والی چیزیں ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہوں بلکہ ان کا انسانی پہنچ سے باہر رہنا ایک محدود مدت کیلئے ہوتا ہے۔
    محسوس اشیاء کی تمام مخفی خصوصیات خواہ وہ ماضی سے متعلق ہوں یا حال یا مستقبل سے، علمِغیب ہی کے زمرہ میں آتی ہیں۔ بالفاظ دیگر ہم سے ان باتوں پر ایمان رکھنے کا تقاضا کیا جاتاہے جن کا اگر چہ ایک معینہ مدت تک علم تو حاصل نہیں کیا جا سکتا لیکن وجود ضرور رکھتی ہیں اور کسی اور وقت پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ایسے ایمان کو اندھا اعتقاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قرآن کریم مومنوں سے ہرگز کسی ایسی بات پر ایمان لانے کا تقاضا نہیں کرتا جو قطعی دلائل پر مبنی نہ ہو۔ پس ’’غیب‘‘ کے لفظ کا اطلاق انہی اشیاء پر ہوتا ہے جن تک عقل و دانش، دلائل اور استخراجی منطق کے توسط سے رسائی ممکن ہو۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس تعریف کی رو سے اگرچہ ’’غیب‘‘ حواسخمسہ کی براہ راست پہنچ سے باہر ہے تا ہم اس کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے۔ اس مدلل قرآنی موقف کی انسانی تجربہ بھی پورے طور پر تائید کرتا ہے۔
    کائنات کی بہت سی مادی صورتوں کا براہ راست معائنہ ممکن نہیں۔ ان کے وجود اور مادی خواص کا علم منطقی استدلال سے ممکن ہے یا پھر ایسے جدید ترین حساس برقی آلات کے ذریعہ سے جو انہیں بالواسطہ انسانی حواس کے دائرہ میں لاسکتے ہیں۔ آخر نیوٹرینوز (Neutrinos) اور اینٹی نیوٹرینوز (Anti-Neutrinos)کیا ہیں؟ مادہ (matter) اور ضدّ مادہ (Antimatter) میں فرق کیا ہے؟ باسنز (Bosons) اور اینٹی باسنز (Anti-Bosons) کسے کہتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات کسی بھی قسم کے براہ راست مشاہدہ سے ممکن نہیں۔ اس کے باوجود یہ ان دیکھی دنیا ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ زندگی کی اصل حقیقت ذہن ہے جو دماغ کے کمپیوٹر کے ذریعہ حواس خمسہ سے موصول شدہ تمام پیغامات کی تشریح کرتا ہے۔ ذہن سے مراد دماغ نہیں بلکہ یہ دماغ سے بالا اور وسیع تر حقیقت ہے جو عمل پر اثرانداز ہوتی ہے۔
    ذہن شعور کابنیای مرکز ہے۔ اس میں منطقی استخراج کی حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے۔ حقائق اور شواہد کی عدم موجودگی میں ذہن محض مفروضہ کی بنا پر بھی کام کر سکتا ہے۔ اسی طرح ذہن دماغ میں محفوظ معلومات پر غور و فکر کے ذریعہ بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ فیصلے ذہن کی سطح پر ہی ہوتے ہیں جبکہ دماغ محض معلومات محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ مزیدبرآں ذہن ’’لا انتہا‘‘ اور ’’ابدیّت‘‘جیسے غیر مادی تصورات پر غور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ نیز علت و معلول کے بظاہر ناقابل حل معمہ کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ کسی بھی چیز کا آغاز کیسے ہوا۔ آغاز سے پہلے کیا تھا۔ کیا تمام اسباب کا محرک کوئی پہلا سبب تھا؟ اگر تھا تو کیا وہ زندہ اور ذی شعور تھا یا مردہ اور بیشعور؟ اس قسم کے سوالات کا منطقی جواب جو ذہن میں آسکتا ہے یہی ہے کہ وہ سبب ہرگز مردہ اور بے شعور نہیں ہو سکتا۔
    پھر یہ سوال کہ آیا موت زندگی کو تخلیق کر سکتی ہے اور بے شعوری سے شعور جنم لے سکتا ہے؟ یہ ایسے مضامین ہیں جن کا کھوج دماغ نہیں صرف ذہن لگا سکتا ہے۔ لہٰذا بعض اوقات تو ذہن مفروضوں کے ذریعہ غیب کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے اور بعض اوقات دستیاب معلومات کی جانچ پڑتال کے ذریعہ منطقی نتائج اخذ کر تا ہے۔ ذہن ہمارے ارد گرد موجود شعاعوں اور لہروں کا تصور تو کر سکتا ہے لیکن انسان ان شعاعوں کو حواس خمسہ یعنی بصارت یا سماعت یا ذائقہ یا شامّہ یا لامسہ سے براہ راست محسوس نہیں کر سکتا۔ البتہ انہیں ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ سن اور دیکھ سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ لہروں کو قابل سماعت اور قابل بصارت بنا دیا جائے۔ ان لہروں کو بالآخر آوازوں اور جیتی جاگتی تصویروں میں ڈھالنے کی طاقت بھی ذہن ہی کو حاصل ہے۔ ذہن میں ابھرنے والے نقوش فقط ٹیلیویژن کی سکرین تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ اس سے کہیں وسیع تر ہوا کرتے ہیں۔ ایک ظاہری نظارہ کو بامعنی بنانے کیلئے انسانی ذہن اپنی طرف سے اس میں کئی اَن دیکھے مطالب شامل کر لیتا ہے۔
    مذکورہ بالا ذرائع کے علاوہ وحی بھی ’’غیب‘‘ کے پوشیدہ حقائق تک رسائی کا ایک ذریعہ ہے۔ اس طرح انسانی ذہن جو تمام تاثرات کی آخری قیام گاہ ہے نظام محسوسات اور وحی دونوں ہی کے ذریعہ اثرات قبول کر تا ہے۔ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ یا مل جل کر کام کرتے ہیں۔ مثلاً حواس کے ذریعہ محسوس ہونے والی اشیاء کا عرفان وحی کی مدد سے بہتر طور پر ہو سکتا ہے کیونکہ وحی انسانی قویٰ کو جلا بخشتی ہے اور ذہن کو اس قابل بناتی ہے کہ اعضائے حس کے ذریعہ موصول ہونے والے پیغامات کی زیادہ صحیح اور واضح تاویل کر سکے۔ اسی طرح دوسری طرف ملہم اپنے حواس اور یادداشت کی مدد سے وحی کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ گو وحی کے بغیر بھی انسان کیلئے اپنی حدود سے باہر جانا ناممکن نہیں لیکن ذہن کی بھی اپنی حدود ہیں۔ خدا کا علم زمان و مکان کی حدود سے بالا ہے لیکن انسان کا نہیں۔ لہٰذا وہ تمام علوم جو انسانی استعدادوں کی رسائی سے باہر ہیں خدا کے اذن سے وحی کے ذریعہ حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:

    (الجن28-27:72)
    ترجمہ: پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتا بجز اپنے برگزیدہ رسول کے۔
    واضح رہے کہ مؤخر الذکر آیت اس امکان کو رد نہیں کرتی کہ کوئی غیر نبی بھی رویائے صادقہ، کشوف یا الہامات کے ذریعہ ’’غیب‘‘ کا علم حاصل کر سکے۔ البتہ اس امکان کا رد ضرور کیا گیا ہے کہ پیغمبروں کے علاوہ کوئی اورشخص اللہ تعالیٰ کے علمِ غیب کے کسی بھی شعبہ پر عبور حاصل کر لے۔ یہاں جس اصول پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ جن لوگوں کو یہ علم عطا کیا جاتا ہے خواہ بذریعہ الہام ہی کیوں نہ ہو صراحت، قطعیت اور کمال کے اعتبار سے بہرحال اس علم کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو انبیاء کو دیا جاتا ہے۔
    یہ علمِ لدنیّ جو دراصل انبیاء کو عطا ہوتا ہے عموماً عالم روحانی اور عالم عقبیٰ سے متعلق ہوتا ہے۔ ہر چند کہ وحی ٔالٰہی دنیوی علوم کے متعدد شعبوں کا بھی احاطہ کرتی ہے لیکن محض اس غرض سے کہ اس کے ذریعہ خدائے علیم کے وجود اور انبیاء کی صداقت پر مومنوں کا ایمان مضبوط ہو۔ دنیوی علوم کی تحقیق میں انسان کو بالعموم یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ وحی کی مدد کے بغیر ہی ’’غیب‘‘ کا علم حاصل کر لے۔ تا ہم قرآن کریم اس تصور کو رد فرماتا ہے کہ انسان خدا کے اذن اور تائید کے بغیر اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ کر سکے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    (البقرۃ256 :2 )
    ترجمہ: اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔
    پیغام واضح ہے کہ انسان کی ’’غیب‘‘ تک رسائی اسی حد تک ممکن ہے جس حد تک خدا اجازت دے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ وہ علمی تحقیق اور تفتیش جسے عرف عام میں سیکولر یا دنیوی قرار دیا جاتا ہے وہ سیکولر نہیں ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہر نئے دور میں علم کا نیا باب الٰہی منصوبہ اور ارادہ کے ماتحت ہی کھلتا ہے۔ اس کی مزید تائید مندرجہ ذیل آیت سے ہوتی ہے:

    (الحجر 22:15)
    ترجمہ: اور کوئی چیز نہیںمگر ہمارے پاس اُس کے خزانے ہیں اور ہم اُسے نازل نہیں کرتے مگر ایک معلوم اندازے کے مطابق۔
    اس آیت کے ذریعہ جو نہایت حسین پیغام ارشاد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ غیب کی کوئی حدّونہایت نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو ہمیشہ ہی اس تک رسائی کی اجازت بھی دی جاتی ہے لیکن یہ رسائی اس معین حد تک عطا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں زمانہ کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ہو۔ یوں ’’غیب‘‘ کی قرآنی اصطلاح کسی صورت میں بھی اندھے اعتقاد کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس مسلسل تحقیق کو فروغ دیتی ہے اور انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ جو کچھ بھی اسے معلوم ہے وہ دراصل غیر معلوم کا نہایت ہی قلیل حصہ ہے۔ اور چونکہ اسرارِ فطرت کا سمندر بے کنار ہے لہٰذا تلا ش علم کا سفر بھی مسلسل جاری رہنا چاہئے۔
    معقول فیصلہ کرنے کیلئے انسانی عقل کو دو ہی قسم کے ذرائع یا وسائل میسر ہیں۔ اوّل subjectiveیعنی موضوعی یا ذہنی تصورات، دومobjective یعنی معروضی حقائق۔ لہٰذا اگر فیصلہ کرنے والے کی دیانت شک و شبہ سے بالا بھی ہو تب بھی بعض دیگر عوامل کی موجودگی میں جو اس کے اختیار میں نہیں اس سے غلط فیصلے بھی صادر ہو سکتے ہیں۔ غلط معلومات، غلط فہمی، دھوکہ دہی یا اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے انسان کے فیصلوں پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ علاوہ ازیں عام طور پر پائے جانے والے نقطۂ نظر میں اختلاف کے باعث بھی مشاہدات مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان تمام اندیشوں کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر زمانہ میں عقل نے انسان کی رہنمائی ہمیشہ تاریکی کے ادوار سے نسبتاً روشنی کے ادوار کی طرف ہی کی ہے۔
    کیا قرآن کریم کے اس دعویٰ کو یقینی طور پر سچا ثابت کیا جا سکتا ہے کہ خداجس پر چاہے غیب کے بعض پہلو ظاہر فرما دے؟ کیا ایک منکر کو یہ یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ’’ایمان بالغیب‘‘ محض ایک فریب اور خوش فہمی نہیں بلکہ اس کی بنیاد ایک حقیقت پر قائم ہے اور اسے معقولی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب مسلّمہ حقائق اور سائنسی شواہد کے ذریعہ پیش کرنا ضروری ہوں گے۔ دراصل اس کتاب کے لکھنے کی اصل غرض بھی یہی ہے۔ چنانچہ آئندہ ابواب میں قاری کو بکثرت اس بات کے ثبوت ملیں گے کہ الہام الٰہی واقعۃً انتقال علم کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے۔
    سورۃ الحجر کی آیت 22کے مضمون کے مطابق انسانی علم کا افق مسلسل وسعت پذیر ہے اور اس علم میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ علم کی ایک نہ بجھنے والی پیاس بھڑک اٹھتی ہے۔ اس میں بیک وقت امیداور افتخار کا ایک پیغام بھی ہے اور کم مائیگی اور عجز کا درس بھی۔
    کم مائیگی ان معنوں میں کہ انسان کا یہ احساس مسلسل بڑھتا چلا جاتا ہے کہ اس کا علم اس کی لاعلمی کی نسبت کس قدر قلیل ہے۔ جیسے ایک لا محدود افق پر ایک نقطہ بلکہ اس سے بھی کم۔ ممکن ہے کہ ہمارا آج کا علم ایک ہزار سال قبل کے مقابلہ میں کروڑوں گنا زیادہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ آج سے ایک ہزار سال بعد کے انسان کا علم موجودہ علم سے اربوں گنا زیادہ ہو۔ اس کے باوجود وہ علم خدا کے لا محدود علم کی نسبت بے حقیقت ہی ہو گا۔
    جوں جوں دریافت کے اس سفر کی رفتار بڑھتی ہے یہ احساس بھی بڑھتا چلا جاتا ہے کہ ہمارے حواس خمسہ کی پہنچ تو انتہائی محدود ہے۔ حیات او رصوت و صدا کی ایک وسیع کائنات ہمارے محسوسات کی پہنچ سے باہر ہے۔ اگر اسے محسوس کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکتا تو ہم بہت سے نئے رنگ دیکھتے اور نئی آوازیں سننے کے قابل ہو سکتے۔ اسی طرح جو رنگ اور روپ ہمیں دکھائی دیتے ہیں وہی رنگ بعض دوسرے جانوروں کو مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ مادی دنیا کے مناظر، رنگوں کا احساس، خوشبو، بدبو اور ذائقہ یہ سب مختلف جانوروں کو مختلف طور پر محسوس ہوتے ہیں۔ گویا ہر محسوس حقیقت ایک نسبتی حقیقت بن جاتی ہے۔ لیکن اس تنوّع کے باوجود حیوانات کی وسیع دنیا کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کے برعکس احساسات میں تنوع سے زندگی ارتقاپذیر رہتی ہے۔ مثلاً گدھ یا شہد کی مکھی یا Squidمچھلی کی بصارت ان سب کی مخصوص ضروریات کے عین مطابق ہے۔ انسان کے مقابلہ میں Squidمچھلی یا کیڑے مکوڑے اپنے ماحول کی اشیاء کو مختلف شکلوں میں ہی دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ یہ اشیاء ا ن کو اپنی اصل حالت سے بڑی یا چھوٹی دکھائی دیں۔ لہٰذا ہر جانور کی بصری صلاحیت مختلف ہے۔ لیکن انسانی آنکھ کی محدود صلاحیتیں اب محدود نہیں رہیں بلکہ جدید الیکٹرانک آلات کی مدد سے انسان کی دیکھنے کی صلاحیت انتہائی حیرت انگیز حد تک ترقی کر چکی ہے۔
    جب گیلیلیو (1600ئ) نے اپنی ابتدائی دور بین سے کائنات کا مشاہدہ کیا تو وہ اپنی ایجاد پر بہت خوش ہوا اور بڑے فخر سے یہ اعلان کیا کہ اس نے انسان کے مشاہدہ کی طاقت کو سو گنا بڑھا دیا ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ مستقبل قریب میں انسان کو اس کے مقابلہ میں کروڑوں گنا وسیع کائنات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ و ہ اپنی دریافتوں اور ایجادات کو صرف ماضی کے حوالہ سے دیکھ رہا تھا۔ بیشک انسان کا اپنی کامیابیوں پر فخر کتنا عارضی ہوتا ہے!
    اس بات کا ثبوت گیلیلیو کی زندگی کے آخری ایام سے ملتا ہے جب وہ بینائی کی نعمت سے محروم ہو چکا تھا۔ وہ اپنے غم و اندوہ کا اظہار ایک عزیز دوست کے نام خط میں یوں کرتا ہے کہ کائنات کے افق کو اپنے زعم میں سو گنا وسیع کر کے دکھانے والا، دور بین کا موجد خود اپنی ذات میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
    اس محرومی کا اس کے دل پر بہت بوجھ تھا جس کی وجہ سے اس کی زندگی ناقابل برداشت حد تک تلخ ہو کر رہ گئی تھی۔ اس کی بے بسی کا یہ تلخ اظہار ہمیں ’’غیب‘‘ کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اگر گیلیلیو نابینا ہونے سے قبل ہی پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہوتا تو وہ تصور ہی نہ کر سکتا کہ زمین کے علاوہ بھی کائنات کا وجود ہے اور نہ ہی وہ روشنی اور تاریکی میں فرق کر سکتا۔ اسے زیادہ سے زیادہ شنید کے مطابق روشنی کے وجود کا کچھ علم ہوتا بھی تو صرف مبہم سا۔ ا گر چہ وہ رنگوں اور روشنی کے وجود کی براہ راست اور ذاتی طور پر تصدیق تو نہ کر سکتا لیکن محض ایک سنی سنائی بات قرار دے کر اسے رد بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ مثال صرف ایک مخصوص تناظر میں اطلاق پاتی ہے۔ یہاں ہم ایک ایسے نابینا کی مشکل کا تصور کر رہے ہیں جوبیناؤں کے درمیان گھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے اسے کچھ نہ کچھ سہولت تو حاصل ہے جس پر وہ اپنے یقین کی عمارت استوار کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک ایسے معاشرہ کا تصور کریں جس کے تمام افراد ہی اندھے ہوں۔ کیا انہیں کبھی روشنی اور قوتِ بصارت پر یقین ہو سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اندھوں کو آنکھوں والوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ ان اشیاء کے وجود کا ادراک کر سکیں جو ان کے اپنے حیطۂ ادراک سے باہر ہیں۔ اس مقام پر خوب ثابت کیا جا سکتا ہے کہ حصول علم کے جسمانی ذرائع پر وحی کو کس قدر فوقیت حاصل ہے۔
    انسان خواہ کتنا ہی دانا کیوں نہ ہو اپنے حواس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتا۔ البتہ بعض اور حواس کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو ان حقائق سے آگاہ کر سکتا ہے جو اس کی طاقت سے ماوراء ہوں۔
    آخرت کی جو تصویر کشی قرآن کریم نے کی ہے اس کا تعلق ہوبہو ’’غیب‘‘ کی ان وسعتوں سے ہے جن کا ذکر مندرجہ بالا سطور میں کیا گیا ہے۔ اس صورت حال کے ضمن میں انسان کی بیبسی کے حوالہ سے قرآن کریم نے ایک نہایت خوبصورت محاورہ متعارف کرایا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم اس بے بسی کا ذکر یوں کرتا ہے۔ ’’اے انسان ! تجھے کیونکر سمجھایا جائے کہ آخرت کیا ہے۔‘‘
    اس کی چند مزید مثالیں درج ذیل ہیں۔

    (الانفطار82:19-18)
    ترجمہ: اور تجھے کیا بتائے کہ جزا سزا کا دن کیا ہے۔ پھر تجھے کیا بتائے کہ جزا سزا کا دن کیا ہے۔

    (الحاقہ69:4-2)
    ترجمہ : لازماً واقع ہونے والی۔ لازماً واقع ہونے والی کیا ہے؟ اور تجھے کیا سمجھائے کہ لازماً واقع ہونے والی کیا ہے؟

    (المدثر28-27:74)
    ترجمہ: میں یقینا اسے سَقَر میں ڈالوں گا۔ اور تجھے کیا سمجھائے کہ سَقَر کیا ہے؟
    واقعہ یہ ہے کہ یہ دشواری خداتعالیٰ کو نہیں، انسان کو لاحق ہے جس کے حواس کی رسائی بہت محدود ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی انسان پانچ میں سے دو حواس سے محروم ہو تو وہ کسی بھی شے کی صفات کو محسوس نہیں کر سکے گا۔ مثلاً بہرا آواز کی حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتا اور نابینا بینائی کے تصور سے قاصر ہے۔ لیکن سن سکنے اور دیکھ سکنے والے ان لوگوں کو اپنے تجربات کی روشنی میں ایک حد تک کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں جو ان صلاحیتوں سے محروم ہیں۔ اسی طرح جب قرآن کریم انسان کو آخرت کے بارہ میں متنبہ کرتا ہے کہ اس کی حقیقت انسانی فہم سے بالا ہے تو انسان کی قلتِ فہم کی نشاندہی مقصود ہے نہ کہ خدائی بیان کی کمزوری۔ اس میں یہ اشارہ مضمر ہے کہ آخرت میں ہمارے حواس میں بعض نئے حواس کا اضافہ بھی ہو گا۔ آخرت کے بارہ میں ہمارا موجودہ علم زیادہ سے زیادہ ویسا ہی ہے جیسا کہ کسی نابینا کا روشنی کے بارہ میں۔ پس اے انسان! تجھے کیسے سمجھایا جائے کہ آخرت کیا ہے؟
    ہمارے حواس میں اضافہ کی صورت میں دنیوی زندگی کے تجربات کے حوالہ سے ہماری سوچ یکسر بدل جائے گی۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم محبت کی کیفیت کو جانتے ہیں نیز یہ کہ ہم رنج کی حقیقت سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔ لیکن انسان یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہے کہ جب آخرت میں محبت کی ماہیت اور رنج کی اصلیت اس پر کھلے گی تو وہ کیسی ہو گی؟ چنانچہ قرآن کریم جنت کی واضح تصویر کشی کے باوجود ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اسے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے کبھی ویسا سنا۔ اسی طرح جہنم کے بارہ میں واضح بیان کے باوجود قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ ’’اے انسان! تجھے کیسے سمجھایا جائے کہ جہنم کی آگ کیا ہے؟‘‘ انسان جس قدر ’’غیب‘‘کے مضمون پر غور کرتا ہے اسی قدر نئے امکانات ابھرنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مخفی حقائق کے انکشاف کیلئے انسان ہمیشہ وحی کا محتاج رہے گا۔ ہمارے حواس کا محدود ہونا ہماری جستجو کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ حواس کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی جو کچھ ہم محسوس کر سکتے ہیںاس سے کہیں زیادہ ہم سے مخفی ہے۔ ’’ایمان بالغیب‘‘ سے جو بھی مراد لیں اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ سرے سے کچھ موجود ہی نہیں۔ یہ کہنا کہ کچھ بھی موجود نہیں گویا ’’ایمان بالغیب‘‘ کی نفی ہے۔
    تحقیق کے لا متناہی سفر میں یہ آیت مومنین کیلئے ایک رہنما بن جاتی ہے۔ ان کیلئے نہ تو کوئی خلا ہے نہ عدم۔ فقط پردے ہیں جو علم کے خزائن پر سے اٹھنے کو تیار ہیں۔ ہم اپنے علم پر کتنے ہی نازاں کیوںنہ ہوں علمِ کُل سے اسے اتنی نسبت بھی نہیں جتنی رائی کو پہاڑ سے ہے۔ زمین پر موجود پہاڑی سلسلے تو لا محدود نہیں۔ لیکن علم کے جن پہاڑی سلسلوں کا ذکر یہا ں چل رہا ہے وہ ازلی ابدی وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی نہ تو ابتدا ہے نہ ہی انتہا۔
    اس اعلان سے کسی تحقیق کرنے والے کی حوصلہ شکنی مقصود نہیں۔ ہاں اس میں یہ پیغام ضرور مضمر ہے کہ انسان جو علم بظاہر اپنی کاوش سے حاصل کرتا ہے دراصل اس کے پس پردہ خداتعالیٰ کا اذن اور فضل کارفرما ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے اذن اور مرضی کے بغیر کوئی بھی انسانی جستجو اور کوشش بار آور نہیں ہو سکتی۔ حصولِ علم کی انسانی کوشش مناسب حد تک اور مناسب وقت پر اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب یہ کوشش تخلیق کے الٰہی منصوبہ کے حسبِ حال ہو۔ اگرچہ مادی تحقیق کے میدان میں ترقی کیلئے وحی کی براہ راست ضرورت نہیں ہوتی تا ہم اللہ تعالیٰ کے اذن اور منظوری کی مہر اس پر ثبت ضرور ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ حواس خمسہ کی جو استعدادیں انسان کو عطا ہوئی ہیں اور انہیں اپنے فائدہ کیلئے استعمال کرنے کی جو توفیق اسے حاصل ہے، وہ دراصل خدا کے فضل ہی سے ہے تا کہ وہ علم حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔
    خالقِ کُل نے ہی کائنات کے ظاہری اور مخفی خواص کو انسان کیلئے مسخر کیا ہے اور خداتعالیٰ کو انسان کی تخلیق سے بھی پہلے اس کی آئندہ روحانی، مادی، علمی، اقتصادی اور تمدنی ترقی کیلئے درکار ضروریات کا علم تھا:

    (الجاثیہ14:45)
    ترجمہ: اور جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے اس میں سے سب اس نے تمہارے لئے مسخر کر دیا۔ اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے یقینا کھلے کھلے نشانات ہیں۔
    بے حد و نہایت تحقیق کی اتنی حیرت انگیز حوصلہ افزائی کا اس سے بہتر اظہار تصور میں بھی نہیں آ سکتا۔ اس میں یہی پیغام مضمر ہے کہ جو کچھ انسان دریافت کرے گا وہ اسی کی خدمت کیلئے ہو گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ مندرجہ ذیل آیت صرف نظر آنے والے زمین ا ور آسمان کی بات ہی نہیں کرتی بلکہ اس چیز کا ذکر بھی کرتی ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے والی ہے اور اسے بھی انسان کیلئے مفیدقرار دیتی ہے۔ قرآن کریم نے یہ حیرت انگیز انکشاف چودہ سو سال قبل ہی کر دیا تھا۔ اس میں واضح پیغام یہ ہے کہ ستاروں کے درمیان بظاہر نظر آنے والا خلا فی الحقیقت خلا نہیں بلکہ مادہ کی ایک ایسی قسم سے پُر ہے جس کا انسان کو علم نہیں:

    (الحجر86:15)
    ترجمہ : اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔
    زمین اور آسمان کے درمیان کیا چیز موجود ہے اور وہ کس طرح انسان کے کام آ سکتی ہے؟ ان سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا۔ یہاں قرآن کریم ایسی وسعتوں کا ذکر کر رہا ہے جو انسانی تصور کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ممکن ہے یہاں تاریک مادہ کی طرف اشارہ ہو یا کوئی ایسی شے مراد ہو جس کا فی الحال ہمیں کوئی اندازہ نہیں۔ قرآن کریم کا یہ حیرت انگیز انکشاف اس طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ ایک دن انسان اس آیت میں مذکور مخفی حقائق سے بھی فائدہ اٹھا سکے گا۔
    کرۂ ارض کا محیط فقط پچیس ہزار میل ہے۔ لیکن قرآن کریم جس کائنات کا ذکر کر رہا ہے اس کا ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا فاصلہ 18سے 20ارب نوری سال ہے اور اس میں حیرت انگیز رفتار کے ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک خلانورد آج سے کائنات کے ایک سرے سے اپنے سفر کا آغاز روشنی کی رفتار یعنی186,000میل فی سیکنڈ سے کرے تو وہ آج سے اندازاً 18سے 20ارب سال کے بعد کائنات کے دوسرے سرے تک اس صورت میں پہنچ سکے گا کہ کائنات جوں کی توں رہے، جو واقعۃً نہیں ہے۔ اس موقع پر قرآن کریم کے اس اعلان پر غور کرنا چاہئے کہ کائنات کی اس عظیم وسعت میں ذرہ برابر بھی خلا نہیں۔ ایک انچ تو کیا، ایک ملی میٹر یا نینو میٹر کے برابر بھی خلا نہیں۔
    زیر نظر آیت کا ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے کہ خدائے علیم بغیر کسی تحقیقی وسیلہ کے امورِغیب ظاہر فرما سکتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے ذریعہ دریافت ہونے والے فطرت کے رازوں کا مقدس کتابوں میں ذکر اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ کائنات کا ایک علیم اور بزرگ و برتر خالق موجود ہے۔ اور وہی ہے جسے حاضر اور غائب دونوں دنیاؤں کا کامل علم حاصل ہے۔ (عالم الغیب والشھادۃ)۔
    وحی کی مدد سے حاصل ہونے والا علم تحقیق کے ذریعہ حاصل شدہ علم سے بہت مختلف ہو تا ہے۔ آسمانی صحائف سائنس کی نصابی کتب نہیں ہوتے۔ لہٰذا ان میں کسی سائنسی مضمون کا بیان اتفاقاً نہیں ہوتا۔ ان کا اصل مقصد ایک مشترک منبع کی طرف رہنمائی کر کے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مادی اور روحانی کائنات ایک ہی خالق کی تخلیق ہیں۔ یاد رہے کہ بانی ٔ اسلامﷺ جن پر قرآن کریم نازل ہوا خود اُمّی تھے اور اُمّی معاشرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپﷺ کی پیدائش اور پرورش ایک ایسے خطہ میں ہوئی جس کی مشرقی سرحد پر کسریٰ اور مغربی سرحد پر روم کی سلطنت واقع تھی۔
    صحرائے عرب جس میں ہر طرف تاریکی اور جہالت کا دور دورہ تھا ان دو عظیم سلطنتوںکے درمیان واقع تھا۔ کیا یہ امر غیر معمولی نہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں اس خطہ میں ایک ایسا شخص پیدا ہو جو کائنات کی ان وسعتوں اور رازوں کا اتنی وضاحت سے ذکر کرے جن کی اہمیت اور معانی اب کہیں جا کر کھلنے لگے ہیں۔ یہ کس قد ر ناقابل یقین بات ہے کہ کوئی شخص ان امور کا ذکر کرے جو اس وقت کے دنیا بھر کے بڑے سے بڑے اہل علم کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں یہاں تک کہ بیسویں صدی کی سائنسی تحقیق بالآخر اسی امّی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا ٹھہرائے۔ آپﷺ کا یہ دعویٰ کتنا سچا ہے کہ آپﷺ کو جو علم بھی حاصل ہوا وہ آپﷺ کی اپنی کوشش سے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ، علیم، ازلی ابدی اور حکمتِ کاملہ کے سرچشمہ سے حاصل ہوا۔
    اسی سے متاثر ہو کر مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر موریس بوکالے (Dr. Maurice Bucaille) اپنی کتاب The Bible, the Quran and Science1 میں تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ اس نے بائیبل اور قرآن سے علمی مواد اکٹھا کر کے غیرجانبداری کے ساتھ سائنسی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا۔ اسے یہ توقع نہ تھی کہ تحقیق کے ہر مرحلہ پر قرآن کریم کا ہر بیان ہی سچا ثابت ہوگا۔ اس کی پہلی تحقیقی رپورٹ 1976ء میں فرانسیسی زبان میں شائع ہوئی لیکن قرآن کریم کا کوئی ایک بیان بھی اسے بیسویں صدی کی سائنسی معلومات سے متناقض دکھائی نہ دیا۔
    اس جگہ ٹورانٹو یونیورسٹی کے شعبۂ طِب کے سربراہ اور معروف کینیڈین ماہر علم الاعضاء کیتھ ایل مور (Keith L. Moore)کا ذکر بھی مناسب ہو گا جنہوں نے قرآن اور Embryology کے موضوع پر تفصیلی تحقیق کی ہے۔ 2,3 قرآن کریم کے ساتھ ساتھ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور اپنی اس تحقیق کے نتائج کی بنا پر وہ وحیء قرآن کی جرأت کے ساتھ کھل کر تصدیق کرتے ہیں۔
    یہاں اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ ہم کس حد تک مقدس کتب اور سائنسی علوم کے موازنہ سے حاصل شدہ نتائج پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی فکری صلاحیتوں کو جلا ملتی رہتی ہے اور یوں اس کی آگہی کا افق وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ انسان کا ادراک مستقلاً بدلتا رہتا ہے۔ پھر کیونکر کسی بھی دور کے سائنسی نظریات پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً قوانین فطرت کے بارہ میںبھی جنہیں متفقہ طور پر آفاقی اور اٹل سمجھا جاتا ہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر دور کے فلسفی اور سائنسدان انہیں ایسا ہی خیال کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس پس منظر میں کیا آج کی سائنسی تحقیق قرآن کریم کے مقابل پر اپنی ساکھ نہیں کھو بیٹھتی؟ کیا کوئی شخص ان قوانین کی حتمیت پر مکمل انحصار کر سکتا ہے؟ کیا یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ کل کی سائنسی تحقیق آج کے مسلّمہ سائنسی اصولوں کو محل نظر نہیں ٹھہرائے گی؟
    اس طرح کے سوالات کا پیدا ہونا کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ ماضی کے سب کے سب تصورات یکسر تبدیل ہو جائیں۔ حقائق الاشیاء کے بارہ میں بیشمار نظریات ایسے ہیں جن سے متعلق انسانی سوچ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتے بدلتے بالآخر ایک مقام پر آکر ٹہر جاتی ہے۔ فطرت کے متعدد قوانین ایک بار کلیہ کے طور پر تسلیم کئے جانے کے بعد پھر کبھی اعتراض کا نشانہ نہیں بنے۔ معمولی ترامیم تو ہوتی رہیںلیکن عمومی طور پر ان کی تفہیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یہاںتک کہ اب ان کی صحت ثابت کرنے کیلئے مزید کسی پیچیدہ فلسفیانہ یا سائنسی بحث وتمحیص کی ضرورت نہیں رہی۔ بے شک وقت کے ساتھ ساتھ پانی، آگ، ہوا اور مٹی کے بعض خواص بہتر طور پر سمجھ میں آتے رہے ہیں لیکن ان کے بنیادی خواص میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ آگ اب بھی پہلے کی طرح جلاتی اور پانی اب بھی اسے بجھاتا ہے۔ یہ ایسے حقائق ہیں جو ہر زمانہ میں مسلّم رہے ہیں۔ کوئی صاحب فراست کبھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ ایک دن پانی آگ کے شعلوں کو بھڑکانے کا سبب بنے گا لیکن الہامی پیشگوئیاں انسانی علم کے مقابل پر فیِالواقعہ بہت مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً ماضی میں سوائے نبی کے کوئی بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن آئے گا جب پانی میں آگ لگے گی۔ اس کو کہتے ہیں پیشگوئی۔ لیکن سوڈیم کے خواص دریافت ہونے کے بعد تو کسی کو اس پیشگوئی کو ردّ کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ سوڈیم کے ان خواص کی دریافت کے بعد اب یہ خواص بھی فطرت کے غیرمبدّل قوانین کے زمرہ میں شامل ہو گئے ہیں۔ اب کوئی یہ شبہ نہیں کر سکتا کہ شاید آئندہ کسی وقت پانی کے اندر سوڈیم کو آگ نہ پکڑ سکے۔ اگر انسان اپنے ماحول کا بغور جائزہ لے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا کہ اس کے علم کا کتنا حصہ غیرمبدّل حقائق کے طور پر قبول کیا جا چکا ہے۔
    یہی اصول انسانی حواس پر صادق آتا ہے۔ اگر حواس کا دائرہ وسیع ہو بھی جائے تب بھی شیریں اور تلخ، لذیذ اور بد مزہ، سرد اور گرم، شور اور خاموشی، سکون اور بے سکونی، اذیّت اور لذّت اور اسی طرح کے دیگر احساسات جو غیر مبدّل ہوا کرتے ہیں۔ ان میں ایک ٹھہراؤ ہے، استقرار ہے جسے یقین کی پہلی منزل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یقین کی اگلی منزل سائنسی تحقیق سے متعلق ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں بھی سائنسدانوں میں کئی ایسے امور پر کامل اتفاق ہے جنہیں وہ حقیقتِ ثابتہ قرار دیتے ہیں۔ مثلاً پانی کی کیمیائی ترکیب پر کوئی دو آراء نہیں۔ یہ کوئی نہیں کہے گا کہ مرورِزمانہ کے ساتھ پانی کا فارمولا H2O کی بجائے H3O5 ہو جائے گا۔
    ظاہر ہے کہ اشیاء سے متعلق انسانی ادراک میں توسیع اور تبدیلی کے امکانات کی بھی حدود ہوا کرتی ہیں۔ مستحکم ہو جانے کے بعد دور افتادہ ذیلی امور میں معمولی ردّوبدل کی گنجائش کے باوصف سائنسی علوم کا ڈھانچہ مستقل ہو جاتا ہے۔ ایٹم کا ایٹم سے اور مالیکیول کا مالیکیول سے ملاپ اور یہ علم کہ ان کے باہمی اتصال میںکونسے کمزور اور کون سے مضبوط ہیں اور پھر اس علم کی بنا پر نئے کیمیائی مادے کیسے بنائے جا سکتے ہیں؟ یہ تمام امور اب بخوبی سمجھے جا چکے ہیں۔ نت نئی معلومات کی وجہ سے مادہ کے مسلّمہ خواص میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ سائنس کے مسلّمہ اور بنیادی اصولوں سے ٹکرائے بغیر تحقیق کے میدان میں انسانی علم ترقی کرتا رہتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اگر کسی آسمانی صحیفہ کے بیان کا ان مسلّمہ سائنسی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے جن کی صداقت عرصہ ٔ دراز سے مسلّم چلی آرہی ہو تو یقینا ایسے بیان کی سچائی ثابت ہو جائے گی۔
    بعض امور محض اس لئے یقینی طور پر صحیح تسلیم نہیں کئے جاتے کہ مرورِ زمانہ نے انہیں سچا ثابت کر دیا ہے بلکہ اس لئے کہ ان کو ہر جگہ اور ہر وقت عملاً سچّا ثابت کیا جا سکتا ہے۔ وہ تمام طبعی قوانین جنہیں تجربہ گاہوں میں ٹیسٹ کرنے کے بعد درست ثابت کیا جا سکے، اسی زمرہ میں داخل ہیں۔ جب ہم روحانی دعاوی کی صداقت کا سائنسی تحقیق کے حوالہ سے ذکر کرتے ہیں تو ہماری مراد دراصل اسی نوعیت کے مسلّمہ حقائق ہی ہوا کرتے ہیں۔
    اس وضاحت کی روشنی میں قرآنی وحی ہمیشہ ہی سچی ثابت ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ سچائی ایک مرتبہ سچی ثابت ہو جائے تو اسے کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ عالمِ غیب سے عالم شہود کی طرف رہنمائی کرنے میںقرآن کریم کا کردار حیرت انگیز ہے جس کا تفصیلی ذکر آئندہ ابواب میں کیا جائے گا۔
    فی الحال ہم اس عمومی بحث کی طرف لوٹتے ہیں جس کا تعلق انسان کی عملی وسعت اور ان مراحل سے ہے جن سے گزر کر کوئی بھی نیا خیال ایک مسلّمہ حقیقت کا روپ دھار لیتاہے۔ غیب سے ابھرنے والا کوئی بھی تصور ہمیشہ عقل کے پیمانہ اور تجربہ کے معیارپر جانچا جاتا ہے۔ لمبے عرصہ تک اس امتحان سے گزرنے کے بعد ہی اسے مسلّمہ سچائی کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔
    انسانی تجربہ کے ہر دائرہ میں بلااستثناء یہی آفاقی اصول کارفرما ہے۔ ہم یہاں ہیگل (Hegel)کی Theses اور Anti-thesesجیسی فلسفیانہ اصطلاحوں کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ روزمرہ کے عام فہم انسانی تجربات، تاثرات اور احساسات کا ذکرکر رہے ہیں۔ ارتقا کی طرح یہ بھی ایک مسلسل عمل ہے۔ حقائق کا یہ ذخیرہ انسانی علم کو بتدریج بڑھاتا اور مادہ کے بارہ میں اس کے فہم کو ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔ اسی طریق پر شبہات معقولیت کا رنگ اختیار کرتے ہیں، معقولیت امکان میں بدل جاتی ہے اور امکانات حقائق میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس طرح اگر انسانی علم کے حاصل کردہ نتائج وحی الٰہی کے مطابق ہو جائیں تو اس کی سچائی پر مزید شبہات کی گنجائش نہیں رہتی۔
    ’’غیب‘‘ کا تعلق ماضی، حال، مستقبل ہر زمانہ سے یکساں ہے۔ قرآن کریم ان اسرار کو بیان کرنے میں خود کو کسی ایک زمانہ تک محدود نہیں رکھتا۔ وہ کمال صراحت کے ساتھ تمام زمانوں پر اس طرح حاوی ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل میں کوئی تمیز باقی نہیںرہتی۔ کائنات کی پیدائش جیسے قدیم ترین واقعات انسانی تصور میں یوں ابھرتے ہیں گویا وہ حال کا قصہ ہوں۔ اسی طرح مستقبل بعید میں کائنات کا صفحۂ ہستی سے کسی نئے بلیک ہول (Black Hole) میں گم ہوجانا بھی قرآن کریم میں اس انداز سے مذکور ہے گویا نزولِ قرآن کے وقت یہ واقعہ ہو رہا ہو۔
    اسی طرح نہایت صراحت کے ساتھ زندگی کی ابتداء اور انجام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ قرآن کریم انسانی ترقی کی منزل بہ منزل تاریخ کو جس وضاحت سے بیان کرتا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم اس بصیر ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی نظر بیک وقت ازل اور ابد کی دونوں انتہاؤں پر ہے۔ اور یہی ہماری اس کتاب کا مقصد ہے۔
    اس مضمون پر مزید غور کرنے سے قبل ہم قاری کی توجہ اِس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وحیٔ الٰہی کی صداقت کا مدار محض سیکولر اور موضوعی شہادت پر نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی تصدیق تو بعد میں ہونے والی سائنسی، معاشرتی اور سیاسی ترقی سے بھی ہوئی ہے۔ تمام الہامی حقائق میں سے سب سے بدیہی اور اعلیٰ قسم کو ’البیّنہ‘کہتے ہیں۔ اس موضوع کا جائزہ ہم اگلے باب میں لیں گے۔
    حوالہ جات
    1. BUCAILLE, M. (1979) The Bible, The Qur'an and Science. BB Books & Books, Lahore.
    2. MOORE, K. L., PERSAUD T.V.N. (1993) The Developing Human: Clinically Oriented Embryology. 5th ed., W.B. Saunders Company, Philadelphia.
    3. MOORE, K.L. (1986) A Scientists Interpretation of References to Embryology in the Holy Quran. Journal Islamic Medical Association of the United States and Canada. 19:15-16
    البیّنہ: ایک بیّن اصول
    القیّمہ : دائمی تعلیم
    البیّنۃ ایک قرآنی اصطلاح ہے جو ایسی بیّن سچائی پردلالت کرتی ہے جس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردے گویا سورج طلوع ہو گیا ہو اور رات کے اندھیرے چھٹ گئے ہوں۔ تمام انبیاء کو جن کے ساتھ روشنی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے البیّنۃ عطا کی جاتی ہے۔ اس کا تعلق صرف اسلام کے آغاز ہی سے نہیں ہے بلکہ تمام آسمانی مذاہب کے آغاز سے ہے۔ ہر پیغمبر جو معاشرہ میں انقلاب برپا کر دیا کرتا ہے البیّنۃ کا مجسم ظہور ہوتا ہے اور اس کا پیش رو بھی۔
    (البیّنہ 4:98)
    ترجمہ: ان میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں۔
    القیّمۃ: یہ ایک اور اصطلاح ہے جس سے مراد کسی نبی کی وہ تعلیمات ہیں جو تمام مذاہب میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں ایک ایسی سرمدی کیفیت ہے جو ہر تبدیلی سے منّزہ ہے۔ سورۃ البیّنۃ کے مطابق تمام نبی بنیادی طور پر ایک ہی پیغام لے کر آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے اوّلین مرسل حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء مقام نبوت کے لحاظ سے برابر ہیں۔ القیّمۃ تمام مذاہب کو ایک لڑی میں پروئے رکھنے والے دھاگے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس اعلان کے مطابق خداتعالیٰ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری صاحب شریعت نبی حضرت اقدس محمد مصطفیﷺ، ہر دو کی بنیادی تعلیمات ایک ہی ہونی چاہئیں۔ اس مشابہت کے باوجود ابتدائی مذاہب اور بعد کے ترقی یافتہ مذاہب کے مابین نمایاں فرق بھی ہو سکتا ہے۔ بنیادی طور پر قریب تر ہونے کے باوجود تفاصیل میں نمایاں فرق ارتقائی عمل کی ایک پیچیدہ خصوصیت ہے۔ مثلاً ممالیہ کی اصطلاح گرم خون والے تمام جانوروں کیلئے جو ریڑھ کی ہڈی جیسے اعضاء رکھتے ہوں، استعمال ہوتی ہے۔ بھیڑیں انسانوں سے اور بلیاں بندروں سے بہت مختلف ہونے کے باوجود ممالیہ جانوروں کے ایک ہی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ پس اسی طرح سے جوں جوں مذاہب ارتقا کی منازل طے کرتے جاتے ہیں وہ نئے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔ مگر بنیادی طور پر ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ القیّمۃ انہیں آپس میں باندھے رکھتی ہے۔
    جیسا کہ بیان ہو چکا ہے البیّنۃ سے مراد محض نبی کی لائی ہوئی صداقت ہی نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار بھی ہے۔ نبی کی صداقت اتنی ظاہروباہر ہوتی ہے کہ جس معاشرہ میں وہ پلا بڑھا ہو وہ متفقہ طور پر اس کی سچائی کی گواہی دیتا ہے۔ لیکن البیّنۃ یہیں تک محدود نہیں بلکہ جب نبی کی صداقت کی آسمانی نشانات مزید تائید کر دیتے ہیں تو معاشرہ کے پاس انکار کا کوئی جائز عذر باقی نہیں رہتا۔ یہ امر کسی مرسل کے منجانب اللہ ہونے کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہوتا ہے۔ لیکن ستمظریفی یہ ہے کہ یہی ثبوت بالآخر الٹا شدید مخالفت اور ایذادہی کا باعث بن جاتا ہے۔ مخالفت کی اس آگ کو بھڑکانے میں رجعت پسند اور متشدد مذہبی حلقے بطور خاص پیش پیش ہوتے ہیں۔ وہ اس الٰہی فرستادہ کو اس لئے رد کر دیتے ہیں کہ انہیں ایک صبح نو کے آثار دکھائی دے رہے ہوتے ہیں جس کے غلبہ کی صورت میں بیخبر عوام پر ان کی بالا دستی ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کا پرانا اور فرسودہ مذہبی نظام ملیامیٹ ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ وہ ممکنہ خطرہ ہے جس سے انہیں بحیثیت مجموعی اپنی بقا خطرہ میں دکھائی دیتی ہے اور وہ اپنے تمام باہمی اختلافات کو بھول کر ایک متفقہ محاذ کھول لیتے ہیں۔ نہ کسی قاعدہ کا احترام باقی رہتا ہے نہ ہی قانون کا۔ جب ان کا بندروں کا سا شور و غوغا اور دھمکیاں کسی نبی کو مرعوب کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو بالآخر یہ لوگ مایوس ہو کر تشدّد پر اتر آتے ہیں۔ لیکن البیّنۃ کو شکست دینا ان کی مجموعی طاقت کے بس میں بھی نہیں ہوتا جس کی کامیابی کا انحصار اس کی اپنی باطنی سچائی پر ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر خداتعالیٰ کی تائید و نصرت پر ہوا کرتا ہے۔ اس طرح تقدیر کی مدد سے البیّنۃ زمان و مکان کی حدود کو پار کرتی ہوئی ہمیشہ ایک ارفع سچائی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ البیّنۃ کے دائیں طرف زندگی ہے اور بائیں طرف تباہی۔
    البیّنۃ نہ تو مطلق سچائی کے بارہ میں اٹھائے جانے والے فلسفیانہ مباحث کی ذیل میں آتی ہے اور نہ ہی بعد کے ادوار میں بتدریج ارتقا پانے والے پختہ خیالات سے اسے کوئی مماثلت ہے۔ آغاز کار ہی سے الہام الٰہی کے طفیل اسے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ایک چمک عطا کی جاتی ہے۔
    البیّنۃ کی اصطلاح اپنے اندر کچھ اور مفاہیم بھی رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا محرک ہے جو ایمان اور روحانی ارتقا کو مسلسل آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ اس میں جمود بھی نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تریہ ارتقا کے غالب اصولوں سے ملتا جلتا ہے۔ تمام پیغمبرانہ تحریکیں البیّنۃ ہی سے نکلتی ہیں۔
    اس لفظ کے مصدر کے بنیادی معنی ہیں فرق کرنا اور امتیاز کرنا۔ البیّنۃ معنوی اعتبار سے ایک اور قرآنی اصطلاح ’’البیان‘‘ کے ساتھ بھی مشترک ہے۔
    ’’البیان‘‘ ایسی گفتگو کو کہتے ہیں جو دو مفاہیم میں فرق کرنے اور انسانی خیالات کے معین اظہار کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یادرکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے مطابق البیّنۃ کی طرح ’’البیان‘‘ کا ماخذ بھی الہام ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل آیات میں مذکور ہے:

    (الرحمٰن55:5-4)
    ترجمہ : )اس نے( انسان کو پیدا کیا۔ اسے بیان سکھایا۔
    کلام کرنے کی صلاحیت انسان کو خداتعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ جس سے لامحالہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کو جو زبان سب سے پہلے سکھائی گئی تھی وہ خداتعالیٰ نے خود سکھائی تھی۔ اس لئے اس وضاحت کی روشنی میں انسان کی قوتِ گویائی کا معمہ بآسانی حل ہو جاتا ہے۔ قوتِ گویائی انسان کو عالم حیوانات سے اتنا ممتاز کر دیتی ہے کہ محض نظریۂ ارتقا سے اس کی تشریح نہیں ہو سکتی خواہ اس کی کتنی بھی کھینچا تانی کیوں نہ کی جائے۔
    اس طرح سے ’’البیان‘‘ یعنی کلام کرنے کی صلاحیت خداتعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ٹھہرتی ہے۔
    پس ’’البیان‘‘ اور البیّنۃ کا ماخذ ایک ہی ہے اور دونوں قریباً ہم معنی اصطلاحات ہیں تا ہم اس مماثلت کے باوجود دونوں میں ایک خاص فرق بھی ہے۔ ’البیان‘ کا تعلق لفظی اظہار سے ہے۔ جبکہ البیّنۃ کو صرف لفظی اظہار تک ہی محدود نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات اس کا اظہار الفاظ میں ہوتاہے اور کبھی بغیر الفاظ کے۔ البیّنۃ کا یہ خاموش اظہار نصف النہار کے سورج کی طرح ہوتا ہے جس میں تمام دائمی الٰہی تعلیمات چمک رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایک طرف تو یہ اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرتی ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کو جو اس پر انحصار کرتے ہیں تقویت بہم پہنچاتی ہے۔
    القیّمۃکی اصطلاح کا اطلاق ایسی تمام بنیادی تعلیمات پر ہوتاہے جو حتمی اور پائیدار ہونے کی صفت سے متّصف ہوں۔ اس مقام پر یہ دونوں اصطلاحیں ایک ہی دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اقدار کی آفاقیت اور مطلقیت ایسی فلسفیانہ اصطلاحیں ہیں جن کو مذہبی اصطلاح میں القیّمۃ کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا نظریات یا اقدار حقیقت میں مطلق یا آفاقی کہلا سکتی ہیں؟ اس سوال کا ہمیں سیکولر نقطۂ نظر سے جائزہ لینا ہوگا۔ سائینٹفک سوشلزم کے تقریباً تمام بڑے بڑے مفکرین نے خیال اور اقدار کے مطلق ہونے کو رد کیا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک مطلقیت مارکس کے نظریہ جدلی مادیت کے ساتھ لگاّ نہیں کھاتی۔ لیکن جب ان کا سامنا مادی دنیا کے روزمرہ کے حقائق سے ہوتا ہے تو ان کے پاس مطلقیت کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔
    دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ آگ جلاتی اور پانی آگ بجھاتا ہے۔ گرمی سردی اور دکھ سکھ کا احساس، بھوک اور سیری، پیاس اور سیرابی کا تصور اور اسی قسم کے دیگر احساسات اس امر کے محتاج نہیں کہ کوئی سائنسدان ان کی سچائی ثابت کرتا پھرے۔ پس وہ بغیر کسی تغیر اور شک وشبہ کے موجود ہیں اور اس امر کیلئے کسی کی وکالت کی ضرورت نہیں۔ بالکل اسی طرح سے ان کی قطعیت بھی انسانی تفہیم کا جزولاینفک ہے۔ رات اور دن کا تصور بصارت سے تعلق رکھتا ہے لیکن ان کے بارہ میںکیا کہیں گے جو اس صلاحیت سے یکسر محروم ہیں؟ اشیاء کے بارہ میں ایسے لوگوں کا تصور مقابلۃً ان سے مختلف ہو گا جنہیں دیکھنے کی بہتر صلاحیت عطا ہوئی ہو۔ اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جسے ہم مطلق تصور سمجھ رہے ہیں، کہیں وہ اپنی ذات میں نسبتی تو نہیں۔ شک اور یقین کے درمیان کئی مدارج ہیں۔ اس دائرہ میں کسی بھی طرف سفر کیا جا سکتا ہے جس کی سمت کا انحصار مشاہدہ کرنے والے کی قوتِ بصارت اور روشنی کی موجودگی پر ہے۔ لیکن اس قسم کے شبہات مخصوص اور غیر معمولی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسانی تجربات کے وسیع تناظر میں ان کی حیثیت اتنی معمولی اور ناقابل ذکر ہوا کرتی ہے کہ وہ انسان کے عالمگیر اور مسلّمہ تجربہ کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
    علاوہ ازیں محض ان ابتدائی تصورات کی بدولت ہی انسان یقین کے مرتبہ تک نہیں جا پہنچابلکہ کئی اورامور کو بھی حتمی قرار دیا جا سکتا ہے باوجود اس کے کہ وہ اِن سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور الجھے ہوئے ہیں۔ طبیعیات اور کیمیا کی آج کی ترقی یافتہ معلومات اسی قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علوم ترقی پذیر ہیں مگر بالعموم ان کی ترقی انسان کے سابقہ تجربات سے ٹکرائے بغیر جاری ہے۔ تبدیلی اگر کہیں ہے تو وہ فروعی نوعیت کی ہے۔ بے یقینی کا عنصر ثابت شدہ حقائق پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ اس کا اثر تحقیق کے مخصوص دائروں تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اس لئے بلاتردد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کم از کم سیکولر نقطۂ نظر سے انسانی تجربہ میں قطعیت کا تصور نہ صرف موجود ہے بلکہ یقینا یہ ایک ترقی پذیر عمل ہے۔ لیکن اعتقاد اور ایمان کے معاملہ میں اس قسم کے دعویٰ کا کوئی جواز نہیں۔ عام اہل ایمان کیلئے حقیقت اور وہم کے درمیان امتیاز اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ کیونکہ وہ بچپن ہی سے اپنے عقیدہ کے گہوارہ میں پرورش پاتے ہیں اور خود اس نظام کا ایک جزولاینفک بن چکے ہوتے ہیں۔ ان میں سے معدودے چند جن کی اس ذہنی سستی اور بے ہوشی کی نیند سے آنکھ کھل جاتی ہے انہیں اپنے اپنے عقیدہ سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جس کا اظہار وہ عوام الناس کے سامنے کم ہی کیا کرتے ہیں۔ وہ ا س نام نہاد ظاہری چولہ کو بدستور پہنے رکھتے ہیں تا کہ کم از کم ان کی مذہبی شناخت قائم رہ سکے۔ بد قسمتی سے ہر اس مذہب کا یہی انجام ہوا کرتا ہے جو اعتقادات کی صحت کو پرکھنے کے لئے عقل کے کردار کی نفی کرتا ہے۔ بے یقینی سے یقین اور یقین سے قطعیت کے سفر میں بد قسمتی سے بعض فلاسفر قطعیت کے تصور سے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں۔ ان کے خیال میں کوئی بھی تفہیم ہمہ وقت بدلتے ہوئے حالات اور ذہنی کیفیات کے زیر اثر قطعی طور پر مطلق نہیں ٹھہر سکتی۔ اگر اس منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتاکہ ہر چیز کو امکانی طور پر غلط سمجھ کر اس کے وجود سے انکار کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے فلسفہ کے نتیجہ میں روز مرہ کی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔ مثلاً اگر کسی شخص کو ایک عمودی اور بلند و بالا چٹان نظر آ رہی ہو تو یہ فیصلہ کیسے کیا جائے گا کہ وہ چٹان حقیقتاً وہاں موجود ہے بھی یا نہیں؟ اسی طرح وہ کونسا معیار ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ ایک مہلک سانپ جو کسی کا راستہ روکے کھڑا ہے وہاں ہے بھی یا نہیں؟ زندگی میں درپیش ایسے تمام خطرات کے وقت بڑے سے بڑا شکّی مزاج بھی عام انسانی تجربہ کا فیصلہ ہی تسلیم کر لے گا۔ یہی وہ عام مشترک انسانی تجربات ہیں جو قطعیت کی جانب مسلسل گامزن ہیں۔ کسی بھی مخصوص زمانہ کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ یہ انسانی تجربات ہر دور میں تسلیم کئے گئے ہیں۔ اس کو اگر قطعیت کی بجائے امکان کہہ لیں تو یاد رہے کہ یہ امکان ہی ہے جس کے ہاتھ میں انسانی تقدیر کی باگ ڈور ہے۔ کسی بھی بظاہر نظر آنے والی حقیقت کا انکار محض اس بنا پر نہیں کیا جا سکتا کہ کہیں یہ مستقبل میں غلط ثابت نہ ہو جائے۔
    اس کے باوجود انسانی علم کے ارتقائی سفر میں اکثر تصورات یقینا اس حد تک پختگی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان میں نہ تو تغیر و تبدل کا امکان باقی رہ جاتا ہے نہ کسی شک و شبہ کا۔ اسی طرح بہت سے طبیعی اور کیمیاوی قوانین بعینہٖ اسی طرح سے کام کرتے رہتے ہیں جس طرح سے انہیں آغاز کار میں سمجھا گیا تھا۔ ان کی کارکردگی کے کسی حصہ سے ہماری لاعلمی ان کے بارہ میں ہمارے دریافت شدہ علم کو غلط ثابت نہیں کردیا کرتی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اجرام فلکی اور کشش ثقل میں نت نئی اور باریک دریافتوں سے ہمارے علم میں بہت گہری تبدیلیاں آچکی ہیں نیوٹن کے قوانین بنیادی طور پر جوں کے توں ہیں۔ پس اجرام فلکی سے متعلق قوانین حرکت اپنے مخصوص دائرہ کار میں پہلے کی طرح آج بھی قطعی ہیں۔ اسی طرح ایٹم کے ذیلی ذرات کے قوانین حرکت بھی اپنے عالم صغیر میں قطعی ہیں۔ پس اجرام فلکی کے عالمِ کبیر کے قوانین حرکت اور ایٹم کے عالم صغیر کے قوانینِحرکت کے مابین نہ کوئی تضاد ہے اور نہ ہی اختلاف۔ اگرچہ ان کا میدان اور دائرہ کار الگ الگ ہے۔ انسان اب تک اتنا ہی جان سکا ہے کہ نیوٹن کے قوانین حرکت کا اطلاق صرف کائنات کے عالم کبیر پر ہوتا ہے۔ انسان خواہ سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے ان قوانین کی ہر دو اقسام قطعی ہیں اور آزادانہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ پس مطلق حقیقت محض انسانی ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ یہ فی ذاتہٖ موجود ہے۔
    اب ہم قرآن کریم کے اس موقف کی طرف لوٹتے ہیںجو عقلیت اور عقلیت کے مذہبی حقائق سے تعلق پر روشنی ڈالتا ہے۔ ہم قاری کی توجہ مندرجہ ذیل آیات قرآنی کی طرف مبذول کراتے ہیں جو خداتعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات میں کسی بھی تضاد کے امکان کو رد کرتی ہیں:

    (الملک67 : 5-4)
    ترجمہ: تو رحمن کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا۔ تیری طرف نظر ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہو گی۔
    اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ الہامی کتب میں کوئی تضاد نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ خدا کا قول ہے۔ (23:21,83:4)
    خدا کا قول جو ایک الہامی سچائی ہے اور خدا کا فعل جو مادی کائنات ہے، دونوں میں کامل ہم آہنگی لازمی ہے۔ پس الہام الٰہی کبھی بھی قوانین قدرت سے متصادم نہیں ہو سکتا کیونکہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہی حکیم ازلی کی ذات ہے۔ تضاد کی یہ مطلق نفی عقلیت کے عالمگیر اصول کا مزید اثبات ہے۔ چنانچہ سائنس کی درست تشریح اور قول خدا وندی باہم متصادم نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی ان دونوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے وہاں ان کی سچائی کی قطعیت شک و شبہ سے بالا ہو جاتی ہے۔
    اب ہم مذکورہ بحث کی روشنی میں منطق اور معقولیت کے حوالہ سے وحیٔ قرآنی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیں گے۔
    قرآن کریم اور کائنات
    نزول قرآن کے وقت کائنات کی ساخت اور اجرام فلکی کے متحرک یا جامد ہونے کے متعلق انسانی تصور بہت مبہم اور قدیم تھا۔ مگر اب یہ حالت نہیں۔ اب کائنات کے متعلق ہمارا علم کافی ترقی کر چکا ہے اور وسیع ہو چکا ہے۔ تخلیق کائنات کے متعلق بعض نظریات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اب وہ مسلّمہ حقائق کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ کچھ اور نظریات پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ یہ نظریہ کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اب سائنسی حلقوں میں ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے۔ سب سے پہلے ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے 1920کی دہائی میں یہ انکشاف کیا تھا۔ مگر اس سے بھی تیرہ سو سال قبل قرآن کریم درج ذیل آیت میں اس کا ذکر واضح طور پر فرما چکا تھا۔

    (الذٰ ریٰت48 : 51)
    ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا اور یقینا ہم وسعت دینے والے ہیں۔
    یاد رہے کہ ایسی کائنات کا تصور جو مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہو صرف قرآن کریم میں ہی مذکور ہے۔ کسی اور آسمانی صحیفہ میں اس کا دُور کا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ سائنسدانوں کے نزدیک یہ دریافت کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے انہیں کائنات کی تخلیق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ نیز یہ دریافت تخلیق کائنات کی مرحلہ وار اس طرح وضاحت کرتی ہے جو بگ بینگ (Big Bang) کے نظریہ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ قرآن کریم اس سے بھی آگے بڑھ کر کائنات کے آغاز، انجام اور پھر ایک اور آغاز کے مکمل دور کو بیان کرتا ہے۔ قرآن کریم کائنات کی پیدائش کے پہلے کا جو نقشہ پیش کرتا ہے، وہ ہو بہو بگ بینگ کے نظریہ کے مطابق ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں:

    (الانبیائ31 : 21)
    ترجمہ: کیا انہوں نے دیکھا نہیں جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں مضبوطی سے بند تھے۔ پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر الگ کر دیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ تو کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟
    یہاں معنی خیز بات یہ ہے کہ اس آیت میں بالخصوص غیر مسلموں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ مذکورہ بالا راز سے پردہ غیر مسلموں نے اٹھانا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اس طرح یہ امر قرآن کریم کی صداقت کا ایک زندہ نشان بن کر ان کے سامنے آ جائے۔
    اس آیت کے دو الفاظ یعنی ’’رتقًا‘‘ (بند کیا گیا ہیولہ) اور ’’فتقنا‘‘ (ہم نے اسے پھاڑ کر الگ کر دیا)میں بنیادی پیغام پوشیدہ ہے۔ مستند عربی لغات میں ’’رتقاً‘‘ کے دو مطالب بیان کئے گئے ہیں اور دونوں ہی اس موضوع سے متعلق ہیں۔1 ایک معنی یکجان ہو جانے کے ہیں اور دوسرے معنی کامل تاریکی کے ہیں۔ یہاں یہ دو نوں ہی مراد ہو سکتے ہیں اور دونوں کو ملا کر بعینہٖ ایک بلیک ہول کا نقشہ ابھرتا ہے۔
    بلیک ہول اس وسیع و عریض مادہ کی منفی شکل ہے جو اپنی ہی کشش ثقل کے دباؤ کے زیر اثر سکڑ کر اپنا مادی وجود کھو بیٹھتا ہے۔ سورج سے تقریباً پندرہ گنا بڑے ستارے جب اپنا دورِ حیات ختم کر چکتے ہیں تو ان سے بلیک ہول کے بننے کا آغاز ہوتا ہے۔ ان ستاروں کی کشش ثقل ان کے وجود کو سکیڑ کر چھوٹی سی جگہ پر سمیٹ لیتی ہے۔ اس کشش ثقل کی شدت کی وجہ سے مادہ مزید سکڑ کر سپرنووا (Supernova) کی شکل اختیار کر لیتاہے۔ اس مرحلہ پر مادہ کے بنیادی ذرات مثلاً مالیکیول، ایٹم وغیرہ پس کر ایک عجیب قسم کی توانائی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ زمان و مکان کے اس لمحہ کو ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) یا واقعاتی افق کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی اندرونی کشش ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ حتیٰ کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں جا سکتی اور واپس جذب ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں مکمل تاریکی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے بلیک ہول کہا جاتا ہے۔ ان حقائق سے ذہن خود بخود قرآن کریم میں مذکور لفظ ’’رتقاً‘‘کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جس کا مطلب مکمل تاریکی ہے اور اس کو اصطلاحاً Singularity کہا جاتا ہے جو Event Horizon یا واقعاتی افق سے بھی آگے کہیں دور واقع ہوتی ہے۔
    بلیک ہول ایک بار معرض وجود میں آ جائے تو یہ بڑی تیزی سے پھیلنے لگتا ہے۔ کیونکہ دوردراز کے ستارے اس کی بڑھتی ہوئی کشش ثقل کی وجہ سے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ایک بلیک ہول میں موجود مادہ کی مقدار سورج میں موجود مادہ کی مقدار سے دس کروڑ گنا ہو جاتی ہے۔ اس کی کشش ثقل کا میدان وسیع ہوتے ہی خلا سے مزید مادہ اس کی طرف اتنی تیزرفتاری سے کھنچتا چلا جاتا ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ 1997ء میںیہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہماری کہکشاں میں ایک بلیک ہول میں موجود مادہ کی مقدار سورج میں موجود مادہ کی مقدار سے دو لاکھ گنا زیادہ ہے۔ بعض اعداد وشمار کے مطابق بہت سے بلیک ہول ایسے بھی ہیں جن میں سورج سے تین ارب گنا زیادہ مقدار میں مادہ موجود ہے۔2 ان کی کشش ثقل اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ بڑے بڑے ستارے بھی اپنا راستہ چھوڑ کر ان کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ اور بلیک ہول میں غائب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ’رتقاً‘ کا عمل مکمل ہو کر Singularityیا اس واحد ہیولہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جو مکمل طور پر بند بھی ہے اور تاریک بھی۔ رہا اس سوال کا جواب کہ یہ کائنات کس طرح پیدا ہوئی تھی۔ تو اس کے متعلق دو تازہ ترین نظریات بگ بینگ کے نظریہ کی ہی تائید کرتے ہیں۔ ان نظریات کے مطابق یہ کائنات ایک ایسی Singularity یا وحدت سے جاری ہوئی جس میں مقیّد مادہ اچانک ایک زبردست دھماکہ سے پھٹ کر بکھرنا شروع ہو گیا اور اس طریق پر Event Horizon یا واقعاتی افق کے ذریعہ ایک نئی کائنات کا آغاز ہوا۔ جس مرحلہ پر بلیک ہول کی حد سے روشنی پھوٹنا شروع ہوئی اسے وائٹ ہول (White Hole)کہا جاتا ہے۔ 3,4 ان دونوں میں سے ایک نظریہ کے مطابق یہ کائنات ہمیشہ پھیلتی چلی جائے گی جبکہ دوسرے نظریہ کے مطابق ایک مرحلہ پر پہنچ کر کائنات کا پھیلاؤ رک جائے گا اور کشش ثقل اسے اندر کی طرف کھینچنا شروع کر دے گی۔ آخرکار تمام مادہ واپس کھینچ لیا جائے گا اور غالباً ایک اور عظیم الشان ’بلیک ہول‘ جنم لے گا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم مؤخرالذکر نظریہ کی تائید کرتا ہے۔
    کائنات کی تخلیق اوّل کے ضمن میں قرآن کریم بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ اس کائنات کا خاتمہ ایک اور بلیک ہول کی صورت میں ہو گا۔ اس طرح کائنات کی ابتدا اور اس کا اختتام ایک ہی طرز پر ہو گااور یوں کائنات کا دائرہ مکمل ہو جائے گا۔ چنانچہ قرآن کریم اعلان کرتاہے۔

    (الانبیائ105:21)
    ترجمہ: جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جیسے دفتر تحریروں کو لپیٹتے ہیں۔
    اس آیت کریمہ سے واضح ہو تا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے۔ نیز ایک وقت یہ عالم بہیکھاتوں کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ سائنسدان بلیک ہول کا جو نقشہ کھینچتے ہیں وہ اسی آیت کے بیان کردہ نقشہ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ (ملاحظہ ہو تصویر نمبر 1)
    جوں جوں خلا سے مادہ بلیک ہول میں گرتا ہے توں توں کشش ثقل اور الیکٹرومگنیٹک (Electromagnetic)قوت کی شدت کی وجہ سے دباؤ کے تحت ایک چادر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ چونکہ بلیک ہول کا مرکز اپنے محور کے گرد گھومتا رہتا ہے اس لئے یہ تمام مادہ کوئی نامعلوم صورت اختیار کرنے سے پہلے اس کے گرد لپیٹا جاتا ہے۔
    اسی آیت کریمہ میں آگے چل کر بیان کیا گیا ہے:

    (الانبیائ105:21)
    ترجمہ: جس طرح ہم نے پہلی تخلیق کا آغاز کیاتھا اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ وعدہ ہم پر فرض ہے۔ یقینا ہم یہ کر گزرنے والے ہیں۔
    اس آیت میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ جب کائنات ایک بلیک ہول میں گم ہو جائے گی تو اس کے بعد ایک نیا آغاز ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کائنات کی از سرنو تخلیق کرے گا جیسا کہ اس نے پہلے کیا تھا۔ بلیک ہول میں گم کائنات ایک بار پھر اندھیرے سے باہر آ جائے گی۔ اور تخلیق کا یہ عمل ایک بار پھر شروع ہو جائے گا۔ قرآن کریم کے مطابق کائنات کے سکڑنے اور پھیلنے کا عمل ایک جاری عمل ہے۔
    تخلیق کے آغاز اور اس کے انجام سے متعلق قرآنی نظریہ بلا شبہ غیر معمولی شان کا حامل ہے۔ اگر عصر حاضر کے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان کو یہ باتیں الہاماً بتائی جاتیں تو یہ بھی کچھ کم تعجب کی بات نہ ہوتی۔ لیکن یہ دیکھ کر انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ تخلیق کے ہمیشہ دہرائے جانے سے متعلق یہ اتنے ترقی یافتہ نظریات آج سے چودہ سو سال قبل صحرائے عرب کے امّی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بذریعہ وحی منکشف فرمائے گئے تھے۔
    قرآن کریم اور اجرام فلکی
    اب ہم اجرام فلکی کے ایک اور پہلو کا جائزہ لیتے ہیں جو ان کی حرکت کے بارہ میںہے۔ اس کی نمایاں
    خصوصیت یہ ہے کہ زمین کی حرکت کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ اس زمانہ کے مروجہ نظریات سے کوئی بھی تضاد دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ اس زمانہ میں تمام اہل علم اور دانشور اس بات پر متفق تھے کہ زمین ساکن ہے اور سورج، چاند اور دیگر اجرام فلکی اس کے گرد مسلسل گھوم رہے ہیں۔ اس تناظر میں عام قاری کو قرآن کریم میں زمین کی گردش کا ذکر شاید ہی دکھائی دیتا لیکن غور سے پڑھنے والے کیلئے پیغام بہت واضح اور صاف تھا۔ اگر قرآن کریم میں زمین کو ساکن اور اجرام فلکی کو اس کے گرد گردش کرتے ہوئے بیان کیا جاتا تو اگرچہ اس دور کے لوگ اس سے مطمئن ہو جاتے لیکن بعد میں آنے والوں کے نزدیک یہ نظریہ قرآن کریم کو نازل کرنے والے کی لاعلمی کا ثبوت قرار پاتا اور سارا زور اس بات پر ہوتا کہ یہ کلام کسی اعلیٰ اور علیم وخبیر ہستی کی طرف سے نہیں ہے۔
    زمین کی حرکت کو دیگر اجرام فلکی کی حرکت کی نسبت سے من و عن بیان کرنے کی بجائے قرآن کریم اسے یوں بیان کرتا ہے:

    (النمل27 :89)
    ترجمہ : اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اس حال میں کہ انہیں ساکن و جامد گمان کرتا ہے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں۔ (یہ) اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔
    اس اعلان سے کہ ’’پہاڑ مسلسل حرکت میں ہیں‘‘ لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زمین بھی ان کے ساتھ گھوم رہی ہے۔ لیکن قرآن کریم کی فصاحت کا یہ کمال ہے کہ اس وقت کے لوگوں کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی۔ باقی دنیا کی طرح وہ بھی یہی خیال کرتے رہے کہ زمین ساکن ہے اور اسی وجہ سے اس غلط نظریہ کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ اگر اس آیت کے آخری حصہ کو غور سے پڑھا جاتا تو کسی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہتی کیونکہ اس میں خدا کی صفت خالقیت کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے کہ خالق کائنات نے سب چیزوں کو اس خوبی سے پیدا کیا ہے کہ انہیں اپنے مقام سے ہٹایا نہیں جا سکتا اور جو چیز اپنے مقام سے ہٹائی نہ جا سکے وہ زمین کو چھوڑ کر اس کے مدار سے باہر نہیں جا سکتی۔
    علاوہ ازیں قرآن کریم کی بہت سی آیات میں پہاڑوں کے متعلق ’’رواسی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے ’’زمین میں گاڑے ہوئے۔‘‘

    (لقمٰن11:31)
    ترجمہ: اس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے بنایا جنہیں تم دیکھ سکو اور زمین میں پہاڑ بنائے تا کہ تمہیں خورا ک مہیا کریں اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جاندار پیدا کئے اور آسمان سے ہم نے پانی اتارا اور اس (زمین) میں ہر قسم کے عمدہ جوڑے اگائے۔

    (الانبیائ32 : 21)
    ترجمہ: اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تا کہ وہ ان کے لئے غذا فراہم کریں اور ہم نے اس میں کھلے رستے بنائے تا کہ وہ ہدایت پاویں۔

    (النحل16:16 )
    ترجمہ : اور اس نے زمین میںپہاڑ رکھ دیئے تا کہ تمہارے لئے کھانے کا سامان مہیا کریں اور دریا اور راستے بھی تا کہ تم ہدایت پاؤ۔
    چنانچہ قرآن کریم ایسے عمدہ انداز میں ان حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے کہ اس زمانہ کے مروجہ علوم سے کھلم کھلا ٹکراؤ بھی نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ سورۃ نمل کی آیت 89کو قیامت پر چسپاں کریں لیکن جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے یہ غلط استدلال مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر قبول نہیں کیا جا سکتا:
    .1 اس آیت میں حال کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ نہ کہ مستقبل کا۔ یہاں استعمال ہونے والا حرف ’و‘’اور‘کے علاوہ ’جبکہ‘ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ’تم پہاڑوں کو ساکن خیال کرتے ہو جبکہ وہ مسلسل حرکت میں ہیں‘، اس لئے آیت کے اس حصہ کو صرف مستقبل پر چسپاں کرنا درست نہیں۔
    .2 اگر مستقبل میں کبھی پہاڑوں کی پرواز مراد ہوتی اور انسان کسی دوسرے سیارہ سے ان کا نظارہ کرتا تو انہیں ساکن خیال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اس کو نظروں کے سامنے اڑتے نظر آتے۔ اس لئے اس قسم کے ترجمہ کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس آیت کا یہ ترجمہ بھی غلط ہو گا کہ اگرچہ آج کا انسان ان پہاڑوں کو ساکن خیال کرتا ہے لیکن آئندہ کبھی وہ پرواز کرنے لگیں گے۔ اگر آج پہاڑ ساکن ہیں تو انسان ہمیشہ انہیں ساکن ہی دیکھے گا۔ یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق انہیں ساکن خیال کرتا ہے اس صورت میں تو قرآن کریم کویوں ذکر کرنا چاہئے تھا ’’تم انہیں ساکن سمجھتے ہو جیسا کہ وہ ہیں لیکن مستقبل میں وہ ساکن نہیں رہیں گے‘‘ حالانکہ قرآن کریم ہرگز یہ بیان نہیںکر رہا۔
    .3 اس آیت کے آخر پر خداتعالیٰ کی تخلیق کی پائیداری کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ پہاڑ متحرک ہونے کے باوجود مضبوطی سے گڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابتدائی تفاسیر اس آیت کے حقیقی معانی کے متعلق خاموش ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفسرین کے لئے اس کی تشریح بہت مشکل تھی۔
    قرآن کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ تمام اجرام فلکی مسلسل حرکت میں ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی ساکن نہیں ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے:

    (الانبیاء 34 : 21)
    ترجمہ: سب (اپنے اپنے) مدار میں رواںدواں ہیں۔
    یہ ہمہ جہت اعلان تمام کائنات کا احاطہ کرتا ہے اور ہمارا نظام شمسی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ مزیدبرآں قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ تمام اجرام فلکی بیضوی مداروں میں گردش کر رہے ہیں۔ نیز یہ کہ یہ تمام اجرام اپنی فنا کے مقررہ وقت کی طرف رواں دواں ہیں۔ مندرجہ ذیل آیات ان موضوعات پر روشنی ڈال رہی ہیں۔

    (الرعد3:13 )
    ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے بلند کیا جنہیں تم دیکھ سکو۔ پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا اور سورج اور چاند کو خدمت پر مامور کیا۔ ہر چیز ایک معین مدت تک کیلئے حرکت میں ہے۔ وہ ہر معاملہ کو تدبیر سے کرتا ہے (اور) اپنے نشانات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم اپنے رب سے ملاقات کا یقین کرو۔

    (لقمان30:31 )
    ترجمہ: کیا تو نے غور نہیں کیا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے۔ ہر ایک اپنی مقررہ مدت کی طرف رواںدواں ہے اور (یاد رکھو کہ) اللہ اس سے جو کچھ تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

    (فاطر14:35 )
    ترجمہ: وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر تا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے۔ ہر ایک اپنے مقررہ وقت کی طرف چل رہا ہے۔ یہ ہے اللہ، تمہارا رب۔ اسی کی بادشاہت ہے اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کی جھلی کے بھی مالک نہیں۔

    (الزمر6:39 )
    ترجمہ: اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ وہ دن پر رات کا خول چڑھا دیتا ہے اور رات پر دن کا خول چڑھا دیتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک اپنی مقررہ میعاد کی طرف متحرک ہے۔ خبردار ! وہی کامل غلبہ والا(اور) بہت بخشنے والا ہے۔
    اب ہم سورج کی حرکت کے بارہ میں قرآن کریم کے ایک اور حیرت انگیز انکشاف کا ذکر کرتے ہیںجس کا ذکر کسی اورالہامی کتاب میں نہیں ملتا۔ چنانچہ قرآن کریم یہ اعلان کرتا ہے:

    (یٰس39:36 )
    ترجمہ: اور سورج (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ کامل غلبہ والے (اور) صاحب علم کی (جاری کردہ) تقدیر ہے۔
    اس آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ خلا میں ایک ایسا مقام ہے جو بالآ خر سورج کی آخری قرار گاہ بنے گا۔ اگر چہ اس آیت میں صرف سورج کا ذکر ہے لیکن بعد کی آیات میں تمام کائنات کو سورج کی اس حرکت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے:

    (یٰس41-39:36 )
    ترجمہ: اور سورج (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ کامل غلبہ والے (اور) صاحب علم کی (جاری کردہ) تقدیر ہے اور چاند کے لئے بھی ہم نے منازل مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔ سورج کی دسترس میں نہیں کہ چاند کو پکڑ سکے اور نہ ہی رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
    اگر صر ف سورج ہی ایک معین سمت میں سفر کررہا ہے تو اگلی آیت میں یہ بیان نہ ہوتا کہ سورج اور چاند کا باہمی فاصلہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے اور وہ کبھی بھی نہ تو ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور نہ ہی دور جائیں گے۔ یہ ایک ایسی تقدیر ہے جس میں ان کے مقررہ وقت تک کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ سورج اور چاند ایک ہی سمت میں سفر کر رہے ہیں۔
    یہ حرکت صرف، سورج اور چاند تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق تمام اجرام فلکی نہایت خاموشی سے محو سفر ہیں۔ نیز بہت سی آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ تمام آپس میں دکھائی نہ دینے والے رشتوں میں وابستہ ہیں۔ چنانچہ اگر ان میں سے کوئی اپنا بیضوی مدار چھوڑتا ہے تو باقی بھی باہمی توازن برقرار رکھنے کے لئے اسی کے مطابق حرکت کرتے ہیں:

    (الانبیائ34:21 )
    ترجمہ: اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب (اپنے اپنے) مدار میں رواں دواں ہیں۔

    (یٰس41 : 36)
    ترجمہ : سورج کی دسترس میں نہیں کہ چاند کو پکڑ سکے اور نہ ہی رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور سب کے سب (اپنے اپنے) مدار پر رواں دواں ہیں۔
    قرآن کریم کا یہ منفرد اسلوب زمین کی اپنے محور کے گرد گردش کے بارہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
    اُس زمانہ کے عامۃ الناس ان آیات میں مضمر پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے تھے اور یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے تھے کہ پہاڑوں کی حرکت زمین کی حرکت سے وابستہ ہے نیز یہ کہ اگر سورج خلا میں ایک مخصوص مقام کی طرف سفر کر رہا ہے تو تمام کائنات بھی اسی طرح حرکت پذیر ہے۔ یہ نظریہ کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اس دور کے سائنسدانوں کے تصور میں بھی نہیں آیا تھا لیکن قرآن کریم کے گہرے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ساری کائنات خلا میں ایک خاص سمت میں سفر کر رہی ہے۔ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو تمام کی تمام 180ارب یا اس سے بھی زیادہ کہکشائیں جن میں ہمارے نظام شمسی کی حیثیت ایک چھوٹے سے نقطہ کی ہے سورج کی طرح ایک معین سمت میں سفر کر رہی ہیں۔
    اس باب میں ہم ایک ایسے عظیم بلیک ہول کا ذکر کر چکے ہیں جو ایک دن تمام کائنات کو سمیٹ کر ایک جگہ جمع کر لے گا۔
    اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کے مطابق یہ کائنات پھیلتی اور سکٹرتی رہتی ہے بگ بینگ کے آغاز پر یہ کائنات تقریباً روشنی کی رفتار سے پھیل رہی تھی جو بالآخر دوبارہ ایک بلیک ہول میں واپس کھینچ لی جائے گی۔
    بگ بینگ کا نظریہ ایک واحد آفاقی بلیک ہول کے تصور کی تائید کرتا ہے جو قرآنی آیات کے عین مطابق ہے۔ بعض سائنسدان ایک مسلسل وسعت پذیر کائنات کا تصور پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں کائنات پھیلتی چلی جائے گی یہاںتک کہ مادہ منتشر ہوتے ہوتے اتنا لطیف ہو جائے گا کہ کائنات کے مرکز کی کشش سے باہر نکل جائے گا۔ اس صورت حال میں کائنات کے یکجا ہو کر دوبارہ شروع ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ قرآن کریم اس نظریہ کو رد کرتا اور واضح اعلان کرتا ہے کہ کائنات Singularity یا اکائی سے شروع ہوئی تھی اور اسی پر اس کا اختتام ہو گا۔ خداتعالیٰ کی وحدانیت، تمام کائنات کی تخلیق اور تخلیق کا پھرخداتعالیٰ کی طرف رجوع کا بیان اس آیت سے بہتر نہیں ہو سکتا:

    (البقرۃ 157 : 2 )
    ترجمہ: ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔



    حوالہ جات
    1. LANE, E.W. (1984) Arabic - English Lexicon. Islamic Text Society, William & Norgate, Cambridge.
    2. Space Telescope Science Institute. (1997) Press release no. STScI-PR97-01, Baltimore, Maryland, USA.
    3. RONAN, C. A. (1991) The Natural History of the Universe. Transworld Publishers Ltd., London.
    4. Reader's Digest Universal Dictionary. (1987) The Reader's Digest Association Limited. London.
    عنطراپی (Entropy) اور محدود کائنات
    قبل ازیںہم وضاحت سے بیان کر چکے ہیں کہ ساری کائنات بالآخر ایک بلیک ہول میں سمٹ جائے گی اور ایک بار پھر بگ بینگ کے نتیجہ میں بلیک ہول میں سمٹا ہوا یہ مادہ نئی کائنات کی صورت میں جنم لے گا۔ اس سے قاری کو یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ کائنات ابدی ہے کیونکہ ہر دفعہ بلیک ہول میں سمٹنے کے بعد اور بگ بینگ کے نتیجہ میں ایک اور کائنات دوبارہ جنم لیتی ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہتا ہے۔
    لیکن علم ریاضی کی رو سے یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ کائنات ازلی ابدی نہیں ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کو ابدی کہنا درست نہیں اس امر کی مزید وضاحت کیلئے عنطراپی (Entropy) کی اصطلاح کی سائنسی تعریف کا سمجھنا ضروری ہے۔ عنطراپی کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات میں موجود مادہ کا بہت معمولی سا حصہ توانائی کی صورت میں ضائع ہو تا رہتا ہے اور اسے کبھی بھی دوبارہ کسی بھی شکل میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
    تمام اشیاء مخصوص حالات میں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس عمل کی سادہ ترین مثال ہائیڈروجن اور آکسیجن سے پانی کا بننا ہے جس کا ایک مالیکیول بننے کے نتیجہ میں کچھ توانائی خارج ہوتی ہے۔ اگر آکسیجن سے بھرے ہوئے ایک مرتبان میں ہائیڈروجن کو اس طرح جلایا جائے کہ جلتی ہوئی ہائیڈروجن دباؤ کے ساتھ اس میں داخل کی جائے تو اس کا یہ شعلہ صرف اسی وقت تک جلے گا جب تک کہ مرتبان میں موجود آکسیجن ختم نہیں ہو جاتی۔ مرتبان میں پانی حاصل ہو گا۔ پانی بننے کے اس عمل کے دوران کچھ توانائی خارج ہوتی ہے۔ پانی کو دوبارہ ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل کرنے کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے یعنی جتنی توانائی اس مرکب یعنی پانی کی تشکیل کے عمل کے دوران خارج ہوئی تھی اتنی ہی توانائی اس پانی کی ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تحلیل کیلئے درکار ہو گی۔
    ایسی تمام صورتوں میں توانائی کا ایسا ضیاع نہیں ہوتا جو مستقل ہو۔ نیز یہ ایسا ضیاع نہیں ہے جسے عنطراپی کہا جا سکے۔ ہر کیمیائی عمل کے دوران توانائی یا تو خارج ہوتی ہے یا جذب ہوتی ہے مگر ان تمام صورتوں میں توانائی مستقل طور پر ضائع نہیں ہوتی لیکن عنطراپی کے ذریعہ ہونے والا ضیاع مستقل ہوتا ہے۔ کیمیائی عوامل کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سائنسی پیچیدگیوں میں الجھنے کی بجائے اگر آپ ایک ایسے گرم جسم کا تصور کریں جو رفتہ رفتہ ٹھنڈا ہو کر ماحول کے درجۂ حرارت پر آجائے تو یوں ایک توازن پیدا ہو جائے گا۔ جس جسم کی گرمی ٹھنڈے ماحول کی وجہ سے زائل ہو چکی ہو دوبارہ ازخود گرم نہیں ہو سکتا کیونکہ گرمی کا بہاؤ ہمیشہ ٹھنڈ ک کی طرف ہوتا ہے۔ انجام کار جب کائنات کی ساری حرارت آخرکاراز خود ختم ہو جائے گی اور درجۂ حرارت برابر ہو جانے سے ایک توازن پیدا ہو جائے گا تو کوئی کیمیائی عمل بھی جاری نہیں رہ سکے گا۔ اسی کو سائنسدان heat death یا انزاعِ حرارت کہتے ہیں۔
    کائنات میں استعمال شدہ توانائی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ قابل استعمال توانائی کی مقدار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ گو بہت دیر کے بعد ہی سہی لیکن ایسا وقت آسکتا ہے جب کائنات میں کسی قسم کا کوئی کیمیائی عمل ممکن نہ رہے گا اور کائنات کبھی اپنی پہلی حالت کو لوٹ نہ سکے گی۔ نہ تو کوئی عمل ہو رہا ہو گا اور نہ ہی کوئی ردعمل۔ اس کو فنا یا عدم کہتے ہیں۔
    اس طرح سے ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار اتنی معمولی ہے کہ اس کا اندازہ کرنے کیلئے سائنسدان بڑے پیچیدہ حسابی طریق اختیار کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں کائنات اپنی کمیت اور وزن دونوں کے اعتبار سے اب بھی عملاً اتنی ہی ہے جتنی کہ بیس ارب سال پہلے تھی۔ اس وقت تک ضائع ہو جانے والی توانائی کو کائنات کے ambient temperature سے ماپا جاتا ہے جو اب تک صرف چار ڈگری کیلون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معلوم کائنات میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس کا درجۂ حرارت چار ڈگری کیلون سے کم ہو۔ پس جو توانائی اس کم سے کم درجۂ حرارت کی طرف سفر کرے وہ وہیں رہتی ہے اور اسے دوبارہ کبھی بھی بلند درجۂ حرارت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ریاضی کا یہ مسئلہ کسی کو سمجھ آئے یا نہ مگر یہ بات یقینی ہے کہ کائنات میں توانائی کا کچھ ضیاع ایسا ضرور ہو رہا ہے جس کو ازسرنو واپس نہیں لایا جا سکتا۔ ضائع ہوجانے والا یہ مادہ دوبارہ کبھی بھی کائنات کا حصہ نہیں بن سکے گا۔
    اس کتاب کے مقصد کے لئے ’عنطراپی‘ کی اتنی ہی وضاحت کافی ہو گی۔ اب ہم قاری کی توجہ اس عمل کے ناگزیر نتیجہ کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ عنطراپی کی پوری تفہیم سے قبل اکثر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کائنات کیلئے کسی خالق کا ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ کائنات ازل سے ہے۔ مگر عنطراپی کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بعض سائنسدانوں کے نظریات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں اور بعض اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کائنات کے ازلی ابدی ہونے کا جائزہ ماضی اور مستقبل دونوں کے حوالہ سے لیا جا سکتا ہے۔ مادہ کو ابدی تسلیم کرنے والے سائنسدانوں کے نزدیک مادہ ماضی اور مستقبل ہردو حوالوں سے ازلی ابدی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے کسی بھی لمحہ کو کائنات کا نقطۂ آغازقرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ ازل اور ابد کی نہ تو ابتدا ہوا کرتی ہے اور نہ ہی انتہا۔
    پس عنطراپی کے اصول کی دریافت سے مادہ کے ازلی ابدی ہونے کا نظریہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ کائنات کو کسی بھی شکل میں ابدی کیوں نہ سمجھا جائے تو بھی حقیقت یہ ہے کہ عنطراپی کی وجہ سے کائنات میں موجود مادہ متواتر ضائع ہو رہا ہے۔ پس اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد کائنات کا وجود ختم ہو جائے گا وقت کے کسی ایک مقام سے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو زمانہ ہمیشہ ازلی اور لا محدود دکھائی دیتا ہے۔ بالفاظ دیگر وقت کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہے جہاں سے ہم ماضی کا تعین کر کے یہ کہہ سکیں کہ اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ کوئی بھی اگر چاہے تو اپنے تصور میں ماضی میں سفر کر سکتا ہے۔ فرض کریں کہ وہ روشنی کی رفتار سے کھر ب ہا کھرب سال بھی ماضی میں سفر کرتارہے تب بھی وہ زمانہ اور وقت کے نقطۂ آغاز تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور اگر وہ کسی مقام کو نقطۂ آغاز سمجھ بھی لیتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے بلکہ اس صورت میں وہ دراصل ازل کی بجائے کسی اور چیز کی تلاش میں تھا۔
    ایک بار پھر فرض کریں کہ وہی مسافر کسی کائنات کی تلاش میں ماضی کی طرف سفر کرتا ہے اور اگر اسے کوئی کائنات ملتی بھی ہے تو ازلیت اس کائنات کو اس کے ہاتھ سے چھین کر دوبارہ ایک لامتناہی راستہ پر ڈال دے گی۔ بظاہر یہ بات سمجھنا بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن درحقیقت بہت آسان ہے۔ ماضی کی طرف ایسے فرضی سفر کرنے والے انسان کو اگر کائنات کا کوئی نشان ملتا بھی ہے تو اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا چاہئے کہ یہ کائنات آخر اب تک معدوم کیوں نہیں ہوئی۔ حالانکہ اس لمحہ جب اسے یہ کائنات ملی تھی عنطراپی کو اتنا لمبا وقت میسر آ چکا تھا جس میں ایسی بے شمار کائناتیں معدوم ہو سکتی تھیں۔
    بڑے سے بڑے کسی ایسے عدد کا تصور کریں جس میں وقت کے تما م بے شمار اور عظیم ادوار سماسکیں۔ اب اگر ہم اس عدد سے ازل کا خلا پر کرنے کی کوشش کریں تو بھی ہمارا فرض کیا ہوا عدد یقینی طور پر ازل تک پہنچنے سے قبل ہی ختم ہو جائے گا۔ لیکن ازل کی کوئی حد دور دور تک نظر نہیں آئے گی۔ عنطراپی کو کائنات کے خاتمہ کیلئے خواہ ٹریلین ضرب ٹریلین سال درکار ہوں تب بھی خاتمہ ناگزیر تھا۔ ماضی کے اس فرضی سفر سے زمانۂ حال میں پہنچ کر سوچیں کہ آج ہمارے ارد گرد یہ کائنات آخر کیوں موجود ہے؟ کیا عنطراپی کے نتیجہ میں اسے اب تک فنا نہیں ہو جانا چاہئے تھا یہاں تک کہ ماضی کے اس فرضی لامتناہی سفر میں اس کا کوئی سراغ نہ مل سکتا؟
    عنطراپی ہو یا نہ ہو، لیکن ایک اور امکان کو ضرور مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ جدید تحقیقات کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پروٹان کی ایک محدود عمر ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جبکہ قبل ازیں نظری طبیعیات کے ماہرین پروٹان کی عمر کو لامحدود خیال کرتے تھے۔ یہ عمر خواہ 1032 سال ہو یا 1034 سال اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خواہ یہ عمر کھربوں سال ہی کیوں نہ ہو پھر بھی یہ ایک محدود عمر ہے۔ اگر پروٹان کبھی تخلیق کئے گئے ہیں تو ایک دن ضرور ختم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر وہ ہمیشہ سے موجود ہیں اور کبھی تخلیق نہیں کئے گئے تو اصولاً آج سے بہت عرصہ پہلے انہیں عنطراپی کے ہاتھوں معدوم ہو جانا چاہئے تھا۔
    ضیاع اور ازل اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ناممکن ہے کہ ایک چیز مسلسل ضائع ہونے کے باوجود بچی بھی رہے۔ ہر ضائع ہونے والی چیز لازماً ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن کیا وجہ ہے کہ میں اور آپ اور دیگر اشیاء اس کائنات میں اس لمحہ موجود ہیں جبکہ ہماری اس کائنات کے اس لمحہ موجود رہنے کا کوئی جواز نہیں اور اسے اپنی تمام جاندار اور بے جان اشیاء کے ساتھ کہیں بہت پہلے ختم ہو جانا چاہئے تھا۔
    ہو سکتا ہے کچھ لوگ اسے بے حد پیچیدہ اور حیران کن خیال کریں مگر دراصل یہ حساب کا ایک سیدھا سادہ سوال ہے۔ ضائع ہو جانے والی چیز ازلی ابدی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اگر وہ ہمیشہ سے موجود ہے تو وہ ضائع نہیں ہو سکتی۔ اب ہمارے سامنے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ کہ ہم ایک ایسے ازلی ابدی خالق پر ایمان لائیں جو عنطراپی اور فنا کی دسترس سے بالا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج سے دو ہزار چار سو سال پہلے ارسطو بھی اسی نتیجہ پر پہنچا تھا۔ اور وہ نتیجہ آج بھی ویسا ہی درست ہے۔
    اس امر کی مزید وضاحت کیلئے ہم پھر بگ بینگ کا مطالعہ کرتے ہیں جو ایک کائنات کو نگلنے کے بعد دوسری کو جنم دیتا چلا جاتا ہے۔ یہاں اس بات پر زور دینا مقصود ہے کہ ہر بار جب بلیک ہول کائنات کو اپنی اتھاہ گہرائیوں میںسمیٹ لیتاہے تو عنطراپی کے نتیجہ میں ضائع ہونے والی توانائی کو واپس نہیں کھینچ سکتا اور نہ ہی بگ بینگ کے وقت بلیک ہول مادہ کی اتنی مقدار واپس لوٹا سکتا ہے جتنی اس نے نگلی تھی۔ بلیک ہول میں ایونٹ ہورائزن(Event Horizon) یاواقعاتی افق سے پرے غیر معمولی اور بڑی بڑی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں جو اسی نسبت سے عنطراپی کے باعث ہونے والے ضیاع کی شرح کو بڑھا دیتی ہیں۔ پس بلیک ہول سے جنم لینے والی نئی کائنات میں مادہ کی مقدار یقیناً اس مقدار سے کم ہو گی جو بلیک ہول کے اندر غائب ہو گیا تھا۔ عنطراپی کا شکار ہونے والا مادہ ہمیشہ کیلئے ضائع ہو جانا چاہئے پس بلیک ہول سے جنم لینے والی ہر نئی کائنات پہلی کی نسبت چھوٹی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ یہ عمل ابدالآباد تک بار بار نہیں دہرایا جا سکتا۔ بالآخر ایک وقت ایسا آئے گا جب کائنات کا حجم اتنا چھوٹا ہو جائے گا کہ اس میں شاید اتنا مادہ بھی باقی نہ بچے جس سے ایک نیا بلیک ہول بن سکے۔
    کیا یہ بچا ہوا تھوڑا سا مادہ ہمیشہ باقی رہے گا؟ یقینا نہیں۔ بچا کھچامادہ بھی بالآخر عنطراپی کی نذر ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر اس کائنات کا کوئی خالق نہیں تو اس کا نقطۂ آغاز بھی متصوّر نہیں ہو سکتا۔ اور اگر کوئی آغاز نہیں تو لازماً یہ کائنات ازلی ابدی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو مذکورہ بالا محرکات کے نتیجہ میں یہ کائنات کب کی نیست و نابود ہو چکی ہوتی۔ ہر چیز کو فنا ہے اور لازماً ختم ہونے والی ہے۔ ایسی صورت میں آج کسی بھی چیز کی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا تو پھر ہم ہر ایک چیز کو فنا کردینے والی عنطراپی کے ہاتھوں اب تک کیسے بچے ہوئے ہیں؟ اور ایک بار معدوم ہو جانے کے بعد ہم عدم سے وجود میں کیسے آ گئے؟ یہ صرف خالق کائنات کی ذات ہی ہے جس تک عنطراپی کی رسائی نہیں۔ اس کی ہستی ہر اس چیز سے مختلف ہے جسے وہ پیدا کر چکا ہے یا آئندہ کرے گا۔ جونہی یہ فرض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جیسی کوئی ہستی پیدا کی ہے تو اسی وقت اس کا ازلی ابدی ہونے کا دعویٰ رد ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہم بلیک ہول یا عنطراپی کا ذکر مخلوق کے حوالہ سے کرتے ہیں نہ کہ خالق کے۔ مخلوق اپنے لئے کوئی خالق تجویز نہیں کر سکتی۔ اس لئے لازماً خالق کو ہی ہر تخلیق کی علت العلل قرار دینا پڑے گا۔
    بلیک ہول سے ہر بار جنم لینے والی نئی کائنات کی تخلیق کا یہ نظریہ ’بند کائنات‘ (Shut Universe)کا نظریہ کہلاتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات پھیل تو رہی ہے لیکن یہ ہمیشہ اسی طرح نہیں پھیلتی رہے گی بلکہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اس پھیلاؤ کی ذمہ دار مرکز گریز قوت (Centrifugal Force)اپنے سے زیادہ طاقتور مرکز مائل (Centripetal) کشش ثقل کے برابر ہو جائے گی۔ کائنات پھیلنے کی بجائے سکڑنے لگے گی۔ جو سائنسدان ’بند کائنات‘ کے نظریہ کی بجائے وسعت پذیر کائنات (Open Universe)پر یقین رکھتے ہیں ان کے خیال میں کائنات کا مادہ ہمیشہ پھیلتا ہی چلا جائے گا۔ یہاںتک کہ کسی مرکزی قوت کشش کے تابع واپس اکٹھا نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ خلا کے ہر حصہ میں توانائی کی مقدار اتنی کم ہو جائے گی کہ کسی نئے بلیک ہول کی تشکیل ناممکن ہو جائے گی۔ کائنات کے متعلق اس نظریہ کو قبول کرنے کے باوجود بھی عنطراپی سے جان نہیں چھوٹتی۔ کائنات خواہ کتنی ہی پھیل جائے اور اس پر کتنا ہی طویل وقت کیوں نہ گزر جائے بالآخر عنطراپی کے ہاتھوں سے بچ نہیں سکتی۔ کیونکہ مادہ جہاں بھی موجود ہے عنطراپی اس پر ضرور اثرانداز ہوتی ہے۔ پس کائنات کے متعلق آپ کا جو بھی نظریہ ہو ایک بات تو بہرحال طے ہے کہ یہ ابدی نہیں۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:
    (البقرۃ118:2 )
    ترجمہ: وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا آغاز کرنے والا ہے۔
    اللہ کی ذات کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔

    (الرحمٰن28-27:55)
    ترجمہ: ہر چیز جو اس پر ہے فانی ہے مگر تیرے رب کا جاہ و حشم باقی رہے گا جو صاحبِ جلال و اکرام ہے۔
    عنطراپی کے عمل اور وجود کائنات کے معمہ کے حل کی صرف ایک ہی صورت ہے اور یہ وہ حل ہے جسے قرآن کریم نے چودہ سو سال قبل پیش فرما دیا تھا۔ یہ ایک ایسی کائنات نہیں جس کے تخلیقی عمل میں گزشتہ بچا ہوا مادہ استعمال کرنا پڑے۔ بلکہ خالق کائنات اس کائنات کو ہر بار ازسر نو تخلیق کرتا ہے اور جب ایک کائنات اپنی تخلیق کا مقصد پورا کر لیتی ہے تو خداتعالیٰ اسے ختم کر دیتاہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ اعلان اس وقت فرمایا جب دنیا میں جہالت کا دور دورہ تھا۔ ایسے اعلانات ہی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح امور غیب کے اسرار ایک تسلسل کے ساتھ شہود میں بدلتے چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ اسرار ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ تک پوشیدہ رہے اور ان کی کنہ تک نہیں پہنچا جا سکا۔ لیکن تحقیق و جستجو کے اس جدید دور میں یوں کھل کر سامنے آگئے جیسے ان کا ہمیشہ سے اس دور سے ہی تعلق رہا ہو۔
    ایک اور امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند صدیوں میں سائنس کی عظیم الشان ترقیات کے باوجود اس صدی کے آغاز تک سائنسدان اس بات کے قائل تھے کہ ایٹم کو توڑا نہیں جا سکتا۔ کچھ عرصہ تک تو وہ اسی نظریہ پر قائم رہے لیکن بالآخر وہ ایٹم کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایٹم بم سے دنیا میں ہونے والی تباہی کے ساتھ ہی ایٹم کے غیر فانی ہونے کا نظریہ بھی دم توڑ گیا۔ بعدازاں پروٹان کے متعلق بھی یہی نظریہ پیش کیا گیا کہ اسے توڑنا محض حسابی امکان ہے، عملًاا یسا نہیں ہو سکتا۔ بہت زیادہ اخراجات سے تیار کی گئی گہری، زمین دوز تجرباتی سرنگوں کے ذریعہ اب تھوڑے تھوڑے کمزور سے شواہد ملنا شروع ہوئے ہیں کہ پروٹان کو توڑنا بھی ممکن ہے اور اس کی ممکنہ توڑ پھوڑ کے مشاہدہ کیلئے بہت وسیع اور مہنگے تجربات کئے جا رہے ہیں تا کہ ثابت کیا جا سکے کہ پروٹان کو توڑا جا سکتا ہے۔ اور اس کی عمر کا اندازہ لگانے کیلئے سائنسدانوں کو اب محض تھوڑا سا وقت درکار ہے۔
    پروٹان کی توڑ پھوڑ کیسے اور کس شکل میں ہوتی ہے اور کیا اس کے بعد اسی مادہ سے دوبارہ پروٹان بن سکتا ہے یا نہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سائنسدانوں کی آئندہ آنے والی نسلیں دے سکیں گی۔ بہرحال گزشتہ نظریات کے برعکس اب یہ طے ہے کہ پروٹان ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔
    قرآن کریم اس کے متعلق چودہ سو سال پہلے ہی واضح فیصلہ دے چکا ہے۔ ہر اس چیز کیلئے جو پیدا کی گئی ہے ایک مدت مقرر ہے اور ایک دن وہ لازماً ختم ہو جائے گی صرف خداتعالیٰ ہی عدم سے وجود میں لاتا ہے اور جب چاہتا ہے معدوم کر دیتا ہے۔
    قرآن کریم کا ایک دلکش انداز یہ ہے کہ وہ ایسی ایسی اصطلاحیں اور محاورے استعمال کرتا ہے جو بہت بعد میں کہیں جا کر انسانوں نے اختیار کیں۔ اس جدید دور میں ہر شخص اس سائنسی طریق سے واقف ہے جس کے مطابق اکثر اشیاء پر درج ہوتا ہے کہ یہ چیز کب تیار کی گئی اور کب تک قابل استعمال رہے گی۔ مثلاً جب پل بنائے جاتے ہیں تو ان کے افتتاح سے بھی پہلے انجینئر ان کی عمر کی تعیین کر کے ان کے ستونوں پر اسے کندہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح موٹر گاڑیوں، ریلوے انجنوں، ریل کی پٹریوں، سڑکوں اور متعلقہ سازو سامان کیلئے بھی یہی طریق اختیار کیا جاتا ہے درحقیقت انسان کے استعمال میں آنے والی ہر چیز کیلئے ایک عمر مقرر ہے۔ جس کی تعیین سائنسی بنیادوں پر کی جا سکتی ہے۔ آج کل تو ڈبوں اور بوتلوں میں بکنے والی خوردنی اشیا پر بھی لکھا ہوتا ہے کہ فلاں چیز فلاں تاریخ تک قابل استعمال ہے۔
    پس خالق کائنات کی اپنی مخلوق کے بارہ میں باریک تفاصیل سے آگاہی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ قرآن کریم کا اسلوب اور اصطلاحات بالکل جدید معلوم ہوتی ہیں۔ مختصراً کائنات کے محدود ہونے کے متعلق یہ قرآنی اصول کہ، ہر چیز کو فنا ہے اور بالآخر وہ ختم ہو جائے گی، کبھی بھی باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تخلیق کے عظیم الشان منصوبے کی کتاب میں ہر چیز کا آغاز اور انجام پہلے سے درج کیا جا چکا ہے۔

    (الانبیاء 105 : 21)
    ترجمہ: جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیںگے جیسے دفتر تحریروں کو لپیٹتے ہیں جس طرح ہم نے پہلی تخلیق کا آغاز کیا تھا اُس کا اعادہ کریںگے۔ یہ وعدہ ہم پر فرض ہے۔ یقینا ہم یہ کر گزرنے والے ہیں۔
    اب ہم ذیل میں اپنے مذکورہ بالا موقف کی تائید میں بعض ممتاز سائنسدانوں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔
    پال ڈیویز(Paul Davies)جو ایڈلیڈ(Adelaide)یونیورسٹی میں نیچرل فلاسفی کے پروفیسر ہیں اور ٹمپلٹن(Templeton)جیسا اعلیٰ اعزاز حاصل کر چکے ہیںیوں رقم طراز ہیں:
    ’’انیسویں صدی کے وسط میں سائنسدانوں کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت تک ماہرین طبیعیات کا مطالعہ ایسے قوانین تک محدود تھا جو حاضر وقت سے مطابقت رکھتے تھے۔ اور جو وقت کے اعتبار سے ماضی اور مستقبل میں چنداں فرق کے روادار نہیں تھے۔ پھر حرارت اور انتقال حرارت کی دریافت سے صورت حال ہمیشہ کیلئے تبدیل ہو گئی۔ حرارت کی سائنس میں سب سے اہم اور مرکزی نقطہ دوسرا قانون حرارت ہے۔ جس کے مطابق حرارت ٹھنڈک سے گرمی کی بجائے گرمی سے ٹھنڈک کی طرف سفر کرتی ہے۔ اس قانون کو الٹایا نہیں جاسکتا۔ یہ قانون کائنات میں وقت کی سمت معین کرنے والے ایک ایسے اشارے کا کام دتیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلیاں ایک ہی سمت میں ہورہی ہیں۔ چنانچہ سائنسدانوں نے بہت جلد یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ کائنات مسلسل ایک ایسے مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں پہنچ کر درجہ حرارت برابر ہو جائے گا۔ اور کائنات ایک ایسی حالت پر آکر ٹھہر جائے گی جہاں حرارت سرے سے مفقود ہو گی۔ اس انتہائی حالت کو، جس میں مالیکیول بے ترتیب ہو جائیں گے، عنطراپی کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے کہ کائنات ابھی تک فنا نہیں ہوئی یعنی عنطراپی کی آخری حد نہیں آئی، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کائنات ازلی نہیں ہے۔‘‘1
    اسی طرح وہ اپنی کتاب God and the New Physics میں لکھتے ہیں:
    ’’ماہرین طبیعیات نے بے ترتیبی کا اندازہ لگانے کیلئے ایک حسابی پیمانہ متعارف کرایا ہے جسے عنطراپی کہتے ہیں بہت سے تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کسی نظام کی مجموعی عنطراپی کبھی بھی کم نہیں ہوتی۔‘‘2
    ’’اگر اس کائنات کی ترتیب محدود ہے اور یہ اس طرح درہم برہم ہو رہی ہے کہ یہ بے ترتیبی واپس دوبارہ ترتیب میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی تو بالآخر ایک وقت ایسا آئے گا جب حرارت ہر جگہ یکساں ہو جائے گی۔ چنانچہ اس سے دو گہرے نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ یہ کائنات بالآخر ایک دن اسی عنطراپی کے ہاتھوںفنا کے گھاٹ اتر جائے گی۔ سائنسدان اس کو کائنات کی انزاعِ حرارت (Heat Death) کہتے ہیں۔ دوم یہ کہ یہ کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے ورنہ ماضی بعید میں، جس کی کوئی حد و نہایت نہیں۔ وہ توازن (Equilibrium) کی حالت کوپہنچ چکی ہوتی۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہے۔‘‘3
    سان فرانسسکو یونیورسٹی کے چیئرمین پروفیسر ایڈورڈ کیسل (Edward Kessel)لکھتے ہیں:
    ’’زندگی جاری و ساری ہے۔ طبعی اور کیمیائی عوامل واقع ہو رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہماری کائنات ازل سے موجود نہیں ہو سکتی ورنہ بہت پہلے ہی اس کی قابل استعمال توانائی ختم ہو چکی ہوتی۔ اور اس کا سفر رک گیا ہوتا۔ پس بالواسطہ سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ایک نقطۂ آغاز ہے اور یہ کہ خداتعالیٰ ایک حقیقت ہے کیونکہ کوئی بھی چیز ازخود پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کی تخلیق ایک علت العلل اور محرک اور خالق یعنی خداتعالیٰ کے وجود کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘4
    اس اقتباس سے واضح ہے کہ ہستی ٔباری تعالیٰ پر ایمان کیلئے بڑی ٹھوس سائنسی شہادت موجود ہے۔
    ہمارا یہ موقف ان سائنسی معلومات پر مبنی ہے جن کے رخ پر سے ان بظاہر غیر جانبدار سائنسدانوں نے پوری تحقیق کے بعد پردہ اٹھایا ہے۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ چاہیں تو اس واحد اور ناگزیر نتیجہ کو تسلیم کرنے سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیں جو یہ ہے کہ:
    اس کائنات کا لازماً ایک خالق ہونا چاہئے ورنہ ہم کیا کسی بھی چیز کے وجود کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ خواہ یہ وجود لمحہ بھر ہی کے لئے کیوں نہ ہو۔
    حوالہ جات
    1. DAVIES, P. (1992) The Mind of God: Science and The Search for the Ultimate Meaning. Penguin Books Ltd., England, p.47
    2. DAVIES, P. (1990) God and the New Physics. Penguin Books Ltd., England, p.10
    3. DAVIES, P. (1990) God and the New Physics. Penguin Books Ltd., England, p.11
    4. KESSEL, E.L. (1968) Lets Look at Facts, without Bent or Bias. In: The Evidence of God in an Expanding Universe by Monsma, J.C. Thomas Samuel Publishers, India, p.51







    قرآن کریم اور غیر ارضی حیات
    کائنات کے بارہ میں قرآن کریم کا پیش کردہ تصور گزشتہ فلاسفروں اور دانشوروں کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت یونانی علم فلکیات کا دنیا بھر میں دور دورہ تھا اور تمام تہذیبیں اس سے متاثر تھیں۔ یہ صورت حال کوپرنیکس (Copernicus) کے زمانہ تک مسلسل جاری رہی۔ سب کا یہی خیال تھا کہ آسمان کسی پلاسٹک نما شفاف مادہ کی تہوں سے بنا ہوا ہے جس میں چمکدار اجسام جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا مبلغ علم لے دے کردرج ذیل نکات تک محدود تھا:
    .1 زمین مٹی، چٹانوں، پانی، ہوا اور دھاتوں پر مشتمل ہموار سطح والا ایک ایسا ساکن مادہ تھا جو نہ تو اپنے محور کے گرد اور نہ ہی کسی ستارہ کے گرد گھوم رہا تھا۔
    .2 کائنات میں زمین کی حیثیت بالکل منفرد تھی جس کی کوئی اورمثال موجود نہیں تھی۔ زمین کو اپنی جگہ پر گڑا ہوا خیال کیا جاتا تھا جس کے گرد ستارے چکر لگا رہے تھے۔
    ظاہر ہے کہ کائنات کے متعلق اس تصور کی موجودگی میں زمین کے علاوہ کہیں اور زندگی کا امکان نہیں تھا۔ ان کے ذہنوں میں زمین کے علاوہ کسی اور مسکن کا تصور بھی نہیں آ سکتا تھا کیونکہ زمین ان کے نزدیک کائنات کے کہیں وسط میں واقع تھی۔ اس کے برعکس قرآن کریم نہ تو زمین کی کوئی منفرد حیثیت تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ساکن قرار دیتا ہے۔ زمینوں کی تعداد کے بارہ میں قرآن کریم کا بیان ہے:

    (الطلاق 13:65)
    ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور زمینوں میں سے بھی ان کی طرح ہی۔
    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس آیت اور دیگر بہت سی آیات میں ’سات‘ کا ہندسہ ایک معین قرآنی اصطلاح ہے۔ چنانچہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات بہت سی اکائیوں پر مشتمل ہے اور ہر اکائی سات (جو کہ ایک کامل عدد ہے) گروہوں میں منقسم ہے اور ہرگروہ میں کم ازکم ایک زمین موجود ہے جو اپنے اپنے کہکشانی نظام کے سہارے قائم ہے۔ اس نظام کا عمومی ذکر کرتے ہوئے ایک اور آیت کریمہ میں زمین کے علاوہ زندگی کی موجودگی کے تصور کو یوں بیان کیا گیا ہے۔:

    (الشورٰی30:42)
    ترجمہ: اور اس کے نشانات میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور جو اس نے ان دونوں میں چلنے پھرنے والے جاندار پھیلا دیئے۔
    ’دابۃ‘ سے مراد وہ تمام جاندار ہیں جو سطح زمین پر رینگتے یا حرکت کرتے ہیں۔ اس لفظ کا اطلاق پرواز کرنے والے یا تیرنے والے جانداروں پر نہیں ہوتا اور روحانی زندگی سے تو اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ عربی میں یہ لفظ ارواح یا فرشتوں کے متعلق کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ مذکورہ بالا آیت کے دوسرے حصہ میں نہ صرف غیر زمینی مخلوق کے امکان کا ذکر ہے بلکہ معین طور پر ایسی مخلوق کے پائے جانے کا ذکر بھی ہے۔ یہ دعویٰ جدید ترین دور کے سائنسدان بھی وثوق سے نہیں کر پائے۔ مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہتی جب ہم اس آیت کو آخر تک پڑھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا دیگر کروّں پر موجود زندگی کو زمین پر موجود زندگی سے ملا دے گا:

    (الشورٰی30:42)
    ترجمہ: اور وہ انہیں اکٹھا کرنے پر خوب قادر ہے جب وہ چاہے گا۔
    اس آیت میں ’جمعھم‘ کا لفظ زمین اور دوسرے مقامات پر موجود زندگی کو باہم ملا دینے کیلئے استعمال ہوا ہے۔ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان سے یہ رابطہ کب ہو گا اور نہ ہی یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ رابطہ زمین پر ہوگا یا کہیں اور؟ مگر یہ ذکر قطعی طور پر موجود ہے کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا انہیں ملا دے گا۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ’جمع‘ کے لفظ کا اطلاق بالواسطہ جسمانی رابطہ پر بھی ہو سکتا ہے اور بلا واسطہ رابطہ پر بھی۔ صرف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ کب اور کیسے ہو گا؟ لیکن چودہ سو سال قبل کی گئی یہ پیشگوئی اپنی ذات میں ایک جیتا جاگتا اعجاز ہے۔
    قرآن کریم میں درج یہ پیشگوئی اس دور میں کی گئی جب علم فلکیات کی سائنس نے ابھی جنم نہیں لیا تھا۔ اس دور میں کائنات کی ہیئت کے متعلق محض تک بندیوں سے کام لیا جاتا تھا۔ اور زمین کے علاوہ زندگی کی موجودگی کا خیال بھی بعیدازقیاس تھا حتیٰ کہ یہ دعاوی آج بھی صرف سائنسی ناولوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔
    کائنات میں کسی اور جگہ حیات کی موجودگی کے متعلق سائنسدان اب تک اپنے پرانے شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں اور حیات کی موجودگی کی تائید میں کوئی معین شہادت نہ ملنے کی وجہ سے گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔
    گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر آرچبالڈ رائے (Archibald Roy)ان معروف سائنسدانوں میں سے ہیں جو اس خیال کے پرجوش حامی ہیں کہ دوسرے کرّوں پر آباد ذی عقل مخلوق کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ وہ رقمطراز ہیں:
    ’’مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں میں غیر ارضی زندگی کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نہ صرف اس بات کا امکان ہے کہ ہم ان کا بھیجا ہوا سگنل وصول کر سکیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم کسی باشعور زندگی کے ساتھ رابطہ اور معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔‘‘ 1
    اس مسئلہ پر ہر شخص پروفیسر رائے (Roy)سے متفق نہیں۔ ٹیولین (Tulane) یونیورسٹی، نیواورلینز (New Orleans)کے پروفیسر ڈاکٹر فرینک ٹپلر(Frank Tipler)کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اس سلسلہ میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ ان کی مایوسی کی بنیاد اعداد و شمار پر ہے جن کے مطابق ان کے نزدیک محض ارتقا کے اندھے عمل کے نتیجہ میں انسان جیسی ذہین مخلوق کی کہیں اور موجودگی کا امکان اتنا کم ہے کہ وہ اعداد و شمار کے کسی قانون کے دائرے میں نہیں آ سکتا۔ ابھی تک تو زمین پر زندگی کا ارتقا خود ایک حل طلب معمہ ہے۔ اس عمل کے دہرائے جانے کیلئے اتنے اتفاقات کا جمع ہو جانا حساب کی روسے ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر ٹپلر لکھتے ہیں:
    ’’زمین کے علاوہ کسی اور کرّہ پر ذوی العقول موجود نہیں ہیں۔ باوجود اس کے کہ شواہد اس امکان کے خلاف ہیں اکثر ماہرین فلکیات اس خیال سے محض ایک فلسفیانہ اصول کی بنا پر چمٹے ہوئے ہیں کہ کوپرنیکس (Copernicus) کے نظریہ کے مطابق کائنات میںہماری حیثیت بہت معمولی ہے۔ مگر ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ خیال درست نہیں کائنات ارتقا پذیر ہے اور ہر طرف سے آنے والی شعاعوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کائنات میں زندگی کا کوئی وجود نہیں تھا کیونکہ یہ بہت زیادہ گرم تھی۔ چنانچہ کائنات میں ہماری حیثیت غیر معمولی ہے۔ کسی نہ کسی کو تو پہلی تہذیب بننا تھاسو وہ ہم ہیں۔‘‘ 2
    برٹش انٹرپلینیٹری سوسائٹی (British Interplanetary Society)کے سابق نائب صدر ڈاکٹر ٹونی مارٹن بھی انہی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ اس تمام مخالفت کے باوجود ڈاکٹر رائے (Roy) کے سائنسی خواب کے کم از کم جزوی طور پر پورا ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ کا ادارہ ناسا (NASA)غیر ارضی باشعور مخلوق کی وسیع پیمانے پر تلا ش کیلئے پہلے ہی حکومت سے منظوری لے چکا ہے۔ پروفیسر ساگاں (Sagan)جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل سائنسدان بھی اس خیال کے پر جوش حامی ہیں۔ 3
    کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ جس حقیقت کو قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے بیان کیا تھا وہ عصر حاضر کے سائنسدانوں پر آج منکشف ہو رہی ہے۔ قرآن کریم ایک قدم اور آگے جا کر پیشگوئی فرماتا ہے کہ ایک دن انسان اس مخلوق سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
    اگرچہ اس پیشگوئی کے کامل ظہور کا وقت ابھی نہیں آیا مگر اس کے آثار افق پر نمودار ہونے لگے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی پیشگوئیوں کو سائنسی ترقی پر سبقت حاصل ہے۔ ہر نیا دور کچھ ایسی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھتا ہے جن کی تصدیق ماضی میں ممکن نہیں تھی۔ لہٰذا اچھی طرح واضح ہو جانا چاہئے کہ بنیادی طور پر قرآنی پیشگوئیاں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سائنسی اندازوں سے بالکل مختلف ہیں۔
    انسانی تصور کا فطرت کے معلوم حقائق سے بڑھ کر آئندہ رونما ہونے والے واقعات تک پہنچنے کی کوشش کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر مستقبل ان قیاس آرائیوں کی تصدیق شاذ ہی کرتا ہے۔ نیز ایسے تمام قصے انہی باتوں تک محدود ہوتے ہیں جن کے ہونے کا امکان اس زمانہ کے علم سے ثابت ہو۔ سائنسی افسانہ نگار مروجہ علم کی بنیاد پر مستقبل کے امکانات کے بارہ میں اندازے لگایا کرتے ہیں۔ بسا اوقات حقیقت ان کے بے ہنگم اندازوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے اور مستقبل کی شکل و صورت ان کے تصورات کے مطابق نہیں ڈھلتی۔ چنانچہ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ غیب کے متعلق انسانی تصور کی پہنچ بہت ہی محدود ہے۔
    کسی بھی دور میں انسانی تصورات کے محدود ہونے کے حوالہ سے لیونا رڈو ڈا ونچی (Leonardo da vinci)جیسے ذہین شخص کی مثال بہت موزوں ہو گی۔ اس نے انسان کے پرواز کرنے کی صلاحیت پر غور کیا مگر اپنے زمانہ کے محدود علم کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکا۔ اس وقت تک سائنس اور ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی جس کی بنا پر انسانی ذہن آگ کی مدد سے اڑنے والی مشین کے ذریعہ پرواز کرنے کا تصور کر سکے۔ چنانچہ ہوائی جہاز کی ابتدائی شکل کا کوئی تصور بھی لیونارڈو کی پہنچ سے باہر تھا۔
    لیکن آسمانی صحیفوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے بیان کردہ علوم زمانی قیود سے آزاد ہوا کرتے ہیں اور ان کا درست ثابت ہونا کوئی اتفاقی امر نہیں ہوا کرتا۔ جدید علوم کی کسی بھی دریافت سے کوئی قرآنی پیشگوئی کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہوئی۔
    چنانچہ ہمیں امیدواثق ہے کہ مستقبل سے تعلق رکھنے والی تمام پیشگوئیاں اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔ زمین پر آباد زندگی اوراس سے باہر بسنے والی مخلوق کے باہمی رابطہ کی پیشگوئی کا تعلق بھی اس قسم کی پیشگوئیوں سے ہے جن کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔ خدا کرے کہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں جب انسان خلا میں بسنے والی مخلوق سے کسی نہ کسی طرح رابطہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
    حوالہ جات
    1. ROY, A. E., CLARKE, D. (1989) Astronomy: Structure of the Universe. Adam Hilger Ltd., Bristol, p.270
    2. TIPLER, F. (November, 1991) Alien Life. Nature: 354:334-335
    3. Mc KIE, R. (September, 1985) Calling Outer Space: Is Anybody There? Readers Digest:31-35

    باب پنجم
    ٭حیات: وحی ٔ قرآن کی روشنی میں
    ٭زندگی کے آغاز سے متعلق مختلف نظریات
    ٭جنّات کا وجود
    ٭ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار
    ٭بقا: حادثہ یا منصوبہ بندی؟
    ٭قدرت میں سمت یا کائریلیٹی
    ٭نظریۂ انتخابِ طبعی اور بقائے اصلح
    ٭شطرنج کی بازی یا اتفاقات کا کھیل؟
    ٭کرئہ ارض پر زندگی کا مستقبل
    ٭ عضویاتی نظام اور ارتقا
    ٭وقت کا اندھا، بہرہ اور گونگا خالق
    حیات:وحیٔ قرآن کی روشنی میں اجمالی تعارف
    قرآن کریم نے تخلیقی عمل کے بہت سے پہلوؤں کو بڑی وسعت سے بیان کیا ہے جن میں ارتقا کے جملہ عوامل بھی شامل ہیں اور وہ حالات بھی جو اس کا باعث بنے۔ قرآن کریم کے بعض بیانات اس قدر منفرد اور اچھوتے ہیں کہ وہ تخلیق سے متعلق تحقیق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں ہم قارئین کو انہی اصولوں سے متعارف کروا رہے ہیں۔
    یاد رہے کہ تعارف کے طور پر جو کچھ یہاں بیان کیا جا رہا ہے اس کی مزید وضاحت آگے چل کر متعلقہ ابواب میں کی جائے گی۔
    مندرجہ ذیل آیات میں اہم رہنما اصول بیان کئے گئے ہیں جو قابل توجہ ہیں:

    (الملک 4-2:67)
    ترجمہ: بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضۂ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔ اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔ وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔ تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟
    یہ وہ خاص آیات ہیں جو تمام کائنات کی تخلیق کے منصوبہ پر روشنی ڈالتی ہیں۔ یہاں مندرجہ ذیل دو بنیادی اصولوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ دوم یہ کہ زندگی کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کا ارتقا درجہ بدرجہ ہوا ہے۔ یہ دوسرا اصول اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رب‘‘ سے متعلق ہے جس کا استعمال قرآن کریم میں عموماً تخلیقی عمل کے سلسلہ میں ہوا ہے اور اس سیاق و سباق میں اس کا اشارہ ایسی ہستی کی طرف ہے جو کسی چیز کو اس کی ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچائے۔ مثلاً جب گھوڑے کے کمزور اور ناتواں بچہ کی دیکھ بھال کر کے اسے خوبصورت اور مضبوط گھوڑا بنا دیا جائے تو اس کے لئے عرب رَبَّ الْفُلُوَّ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے گھوڑے کی نہایت عمدگی سے دیکھ بھال اور پرورش کی۔ اسی طرح الرّبکا ایک اور معنی ’پیش بینی کرنے والا‘ہے۔ اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ خدا جو خالق ہے اپنی تخلیق کے درجہ بدرجہ ارتقا کی مناسبت سے ان کی ضروریات بھی پوری فرماتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم مرحلہ وار تخلیق کا ذکر فرماتا ہے اور کسی چیز کے یکدم عالم وجود میں آنے کے تصور کو رد کرتا ہے۔ اس خیال کی تردید اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسا خیال اللہ تعالیٰ کی عظمت کے منافی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم اس بارہ میں انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

    (نوح15-14:71)
    ترجمہ: تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ سے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ حالانکہ اس نے تمہیں مختلف طریقوں پر پیدا کیا۔
    سورۃ الانشقاق کی مندرجہ ذیل آیت بنی نوع انسان پر یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ ان کا سفر مسلسل جاری ہے:
    (الانشقاق20:84)
    ترجمہ: یقینا تم ضرور درجہ بدرجہ ترقی کرو گے۔
    یہ تخلیق کا مکمل اور ہمہ گیر منصوبہ ہے۔ ارتقاکے مختلف مراحل میں زندگی پر اثرانداز ہونے والے عوامل مختلف رہے مگر ان کا منتہیٰ ہمیشہ انسان کی تخلیق ہی رہا۔
    یہ اہم موضوع سائنسدانوں اور علماء دین کے مابین نزاع کا موجب بنتا رہا ہے۔ یہ لوگ اپنی اپنی جگہ تخلیق کے گورکھ دھندے کو سلجھانے کیلئے کوشاں تھے۔ چنانچہ مختلف نظریات تجویز کئے گئے اور اس مقصد کیلئے مختلف تجربات بھی تشکیل دیئے گئے تا کہ کسی طرح تجربہ گاہ میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں جو زندگی کے آغاز میں زمین پر موجود حالات سے ملتے جلتے ہوں جن کی موجودگی میں اربوں سال پہلے حیات سے یکسر عاری بے جان زمین میں نامیاتی جرثوموں کی پیدائش ممکن ہوئی لیکن اس بیان سے پہلے ہم قرآن کریم کی وہ آیات سامنے رکھتے ہیں جن میں زندگی کے آغاز اور ارتقا کا ذکر ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے دو مقاصد ہیں۔ اوّل یہ کہ قرآن کریم کس طرح غیب کے رُخ سے پردہ اُٹھا کر اُسے شہود میں بدل دیتا ہے۔ دوم یہ کہ قرآن کریم اس پہلو سے مخفی حقائق کو اس طور سے کھولتا ہے کہ اس علم کے ماہرین کے لئے رہنمائی کا موجب بنے۔
    سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قرآن کریم عموماً جہاں کہیں بھی تخلیق کا ذکر کرتا ہے انسانی تخلیق کے حوالہ سے ہی کرتا ہے جبکہ اس سے قبل جو کچھ تخلیق ہوا تھا اس سے اس کی کوئی انسانی مشابہت نہیں تھی۔ لیکن چونکہ خداتعالیٰ کا بنیادی مقصد انسان کی تخلیق تھا اس لئے یہ امر اسی حوالہ سے بیان کیا گیا ہے۔
    مثلاً ایک ہوائی جہاز کو لے لیں جس کی تکمیل کا عمل کئی مراحل میں سے گزرتا ہے اور بہت سے پرزے درکار ہوتے ہیں۔ ڈیزائن کرنے والے کی نظر میں ہر مرحلہ اور ہر پرزہ (نٹ بولٹ، سے لیکر سیٹوں تک) اپنی اپنی جگہ خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن اصل مقصد تو بہرحال جہاز اور اس کی تیاری ہے۔ نٹ بولٹ کیل وغیرہ دیگر کاموں میں بھی استعما ل ہو سکتے ہیں لیکن یہاں وہ اصل مقصد یعنی ہوائی جہاز کی تیاری کیلئے ضروری ہو جاتے ہیں۔
    اس زاویۂ نگاہ سے جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں قرآن کریم ماہرین حیاتیات سے اختلاف کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ ارتقائی عمل حادثاتی اور محض اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا آغاز اور ارتقا محض بے مقصد اور لغو ہے ہم یہاں قرآن کریم میں بیان فرمودہ مختلف مراحل کا باری باری مختصرتعارف کرائیں گے لیکن تفصیلی ذکر متعلقہ ابواب میں کیا جائے گا۔
    اوّلین جاندار اجسام کی تخلیق
    یہاں ہم قرآن کریم کے حوالہ سے تخلیق کے اس دور کا ذکر کرتے ہیں جو حیاتیاتی ارتقا سے قبل وجود میں
    آیا۔ قرآن کریم میں اس دور کے ذکر کے ساتھ ایک خاص مخلوق یعنی ’جنّ‘ کا ذکر ملتا ہے لیکن یہ جنّ روز مرہ کی بول چال میں مذکور جنّوں اور بھوتوں سے قطعی طور پر مختلف ہیں۔
    انسانی ذہن میں جنوں اور بھوتوں کا تصور عجیب و غریب قسم کے توہمات پر مبنی ہوا کرتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جنوں میں آدھی انسانی اور آدھی بھوتوں اور چھلاووں والی صفات پائی جاتی ہیں یہ اپنی منشا کے مطابق شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ عموماً عورتوں اور کمزوروں میں دہشت پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ فلاں پر جنّ چڑھ گیا ہے۔ نام نہاد پیر مختلف الہامی کتب کی بعض مخصوص آیات کے ذریعہ انہیں قابو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار قابو میںلانے کے بعد جنوں سے حیرت انگیز کام لئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً اپنی مرضی سے اچانک کسی چیز کو ہوا میں اچھال دینا یا پیاروں کو اپنی طرف مائل کرنا یا دشمن کو زیر کرنا وغیرہ۔ بہرحال قرآن کریم میں ابتدائے آفرنیش کے حوالہ سے بیان کئے گئے جنوں کا ہرگز ہر گز اس قماش کے جنّات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ جنّ تو محض انسانی وہم کی پیداوار ہیں۔ قرآن کریم میں بیان کردہ جنّوں کا تفصیلی ذکر ایک علیحدہ باب میں کیا جائے گا۔
    تخلیق میں مٹی کا کردار
    قرآن کریم زندگی کے ارتقائی سفر کے حوالہ سے خشک اور گیلی مٹی کا ذکر بار بار کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
    (اٰل عمران 60:3)
    ترجمہ: اسے اس نے مٹی سے پیدا کیا۔
    اسی ضمن میں قرآن کریم کا مزید ارشاد ہے:
    (الانعام 3:6)
    ترجمہ: اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا
    گیلی مٹی سے تخلیق کا ذکر سورۃ رحمان میں کچھ اس انداز سے ملتا ہے:

    (الرحمٰن15:55 )
    ترجمہ: اس نے انسان کو مٹی کے پکائے ہوئے برتن کی طرح کی خشک کھنکتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا۔
    یہاں ٹھیکری کی اس حالت کا ذکر مقصود ہے جس میں سے آواز آتی ہو۔ اسی طرح سورۃ الحجر میں بھی مٹی کا ذکر موجود ہے۔ لیکن وہاں مٹی کی حالت سڑے ہوئے گاڑھے گارے کی مانند بیان کی گئی ہے۔
    غرضیکہ قرآن کریم زندگی کے آغاز کا جو نقشہ پیش کرتا ہے اس میں درجہ بدرجہ خشک مٹی، پانی، گیلی مٹی اور پھر ایسے سڑے ہوئے گارے کا ذکر ہے جس نے بعد میں خشک ہو کر کھنکتی ہوئی مٹی کی شکل اختیار کر لی۔ آخری دو مراحل خصوصی توجہ کے محتاج ہیں کیونکہ نزول قرآن کے وقت کسی کے خواب و خیال میںبھی نہیں آ سکتا تھا کہ انسانی پیدائش کا تعلق کیچڑ یا کھنکتی ہوئی مٹی سے ہو سکتا ہے۔
    اس بارہ میں سائنسدانوں کا موقف ہم مختصراً آگے چل کر بیان کریں گے تا کہ قاری سائنسی تحقیق اور قرآن کریم کے پیش کردہ حقائق کا موازنہ کر کے آزادانہ طور پر نتیجہ اخذ کر سکے۔ ایک طرف الہام الٰہی پر مبنی قرآن کریم کا بیان ہے اور دوسری طرف ایسے سائنسدانوں کی سوچ اور کاوش جنہوں نے زندگی کے آغاز کی جستجو میں اپنی زندگیاں سائنسی تحقیقات پر صرف کردیں تو قاری پر یہ واضح ہو جائے گا کہ جب بھی اور جہاں بھی سائنسی تحقیق کسی ٹھوس نتیجہ پر پہنچتی ہے تو وہ نتیجہ قرآن کریم کی پیش کردہ تصویر کے عین مطابق ہوتا ہے۔ حالانکہ نزول قرآن کے وقت سائنس ابھی اس قدر ترقی یافتہ نہیں تھی کہ زندگی کے آغاز اور اسرار کا کھوج لگا سکے۔ ان قرآنی آیات کا مقصد یقینا آج کے ترقی یافتہ انسان کے استفادہ کیلئے ہے تا کہ اس کا ایمان ایک علیم وخبیر خدا کی ہستی پر مستحکم ہو جائے۔
    زندگی کی تخلیق یا بقا بامقصد ہے یا اتفاقی؟
    اس ضمن میں قرآنی تعلیم عام خیال کے بالکل برعکس ہے۔
    قرآن کریم کے مطابق اس زندگی کا ہر قدم با مقصد ہے اور انفرادی یا اجتماعی سطح پر اس کے ارتقا اور بقا میں کسی قسم کا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوا۔ ہر چیز کی حفاظت کا ایسا سامان کیا گیا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ رہ سکے اور زندگی کی بازی نہ ہار جائے۔ چنانچہ مختلف انواع کی بقا کسی بھی صورت میں حادثاتی نہیں ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کی بقا کیلئے ایک جامع اور مکمل منصوبہ زیر تکمیل ہے اور جس پر حیات کی پوری تاریخ کے دوران عمل ہو رہا ہے۔ اس امر کی وضاحت کیلئے ہم نے بہت سی قرآنی آیات میں سے مندرجہ ذیل آیات کا انتخاب کیا ہے:

    (الرّعد12-9:13 )
    ترجمہ : اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ (بطور حمل) اٹھاتی ہے اور (اسے بھی) جو رحم کم کرتے ہیں اور جو وہ بڑھاتے ہیں۔ اور ہر چیز اس کے ہاں ایک خاص انداز ے کے مطابق ہوتی ہے۔ وہ غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے بہت بڑا (اور) بہت رفیع الشان ہے۔ برابر ہے تم میں سے وہ جس نے بات چھپائی اور جس نے بات کو ظاہر کیا اور وہ جو رات کو چھپ جاتا ہے اور دن کو (سر عام) چلتا پھرتا ہے۔ اس کے لئے اس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ (مقرر) ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
    سمتوں کی حقیقت
    الہامی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ کسی اور کتاب میں انسانی زندگی کے حوالہ سے سمتوں کا ذکر
    موجود نہیں۔ جبکہ قرآن کریم میں مذکور دائیں، بائیں سمت کی اہمیت کا مطالعہ کر کے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ اور یہی رنگ آنحضورﷺ کے قول و فعل میں نظر آتا ہے جہاں ایک مسلمان کی زندگی میں دائیں اور بائیں کے مخصوص کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہر صاف ستھرے کام میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مثلاً کھانا کھانا، کوئی چیز دائیں طرف سے پیش کرنا اور دائیں ہاتھ سے کسی گندی چیز کو نہ چھونا جبکہ بائیں ہاتھ کا استعمال اس کے الٹ ہے۔ چنانچہ جب ایک مسلمان دوسرے سے ہاتھ ملاتاہے تو اسے کامل یقین ہوتا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ صاف ستھرا ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ آئندہ جب یہ مضمون مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا تو قاری پر قدرت میں پائی جانے والی ’سمت‘ کے بارہ میں حیران کن انکشافات ہوں گے جو اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا واحد لا شریک خدا ہی کائنات کا خالق ہے۔
    ترجیح (Partiality) کی اصطلاح کا استعمال عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب یہ بتانا مقصود ہو کہ ایک چیز کو بغیر کسی خاص وجہ کے اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن جب یہی بات اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے ہو توانسان اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخر کیوں ایک خاص سمت کو ترجیح دی ہے؟ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں کوئی مخفی حکمت پوشیدہ نہیں ہے۔
    جوں جوں سائنس علت اور معلول کی جستجو میں زیادہ گہرائی میں جاتی ہے قدرت کے ناقابلِ توضیح حقائق منکشف ہونے لگتے ہیں۔
    انتخابِ طبعی اور اصول بقائے اصلح
    قرآن کریم میں بار بار واضح طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ تخلیق کے ہر قدم پر کوئی نہ
    کوئی فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور ہر بار یہ فیصلہ کسی اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہیں ہواکرتا بلکہ ہر فیصلہ کے پیچھے علیم و خبیر خدا کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل آیت میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے:

    (القصص 69:28 )
    ترجمہ: اور تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (اس میں سے) اختیار کرتا ہے۔ اور ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ پاک ہے اللہ اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
    مندرجہ ذیل آیات میں بھی یہی مضمون چلتا ہے:

    (الواقعہ74-58:56 )
    ترجمہ: ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے۔ پھر تم کیوں تصدیق نہیں کرتے؟ بتاؤ تو سہی کہ جو نطفہ تم (رحم میں)گراتے ہو، کیا تم ہو جو اسے پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کو مقدر کیا ہے اور ہم باز نہیں رکھے جا سکتے کہ تمہاری صورتیں تبدیل کر دیں اور تمہیں ایسی صورت میں اٹھائیں کہ تم اسے نہیں جانتے۔ اور یقینا پہلی پیدائش کو تم جان چکے ہو۔ پھر کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ بھلا بتاؤ تو سہی کہ جو کچھ تم کاشت کرتے ہو کیا تم ہی ہو جو اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو ضرور اسے ریزہ ریزہ کر دیتے پھر تم باتیں بناتے رہ جاتے کہ یقینا ہم چٹی تلے دب گئے ہیں۔ نہیں! بلکہ ہم محروم ہو چکے ہیں۔ کیا تم نے اس پانی پر غور کیا ہے جو تم پیتے ہو؟ کیا تم ہی نے اسے بادلوں سے اتارا ہے یا ہم ہیں جو اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو اسے کھارا کردیتے پس تم شکر کیوں نہیں کرتے؟ بتاؤ تو سہی کہ وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو، کیا تم اس کا شجر(نماشعلہ) اٹھاتے ہو یا ہم ہیں جو اسے اٹھانے والے ہیں؟ ہم نے اسے ایک نصیحت کا ذریعہ اور مسافروں کیلئے فائدہ کا موجب بنایا ہے۔
    یہ آیات بہت تواتر سے اور مؤثر رنگ میں ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق حقیقی ہے اور تمام فیصلے اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ فیصلہ کا انحصار چانس یا اتفاق پر نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی کوئی تخلیق حادثاتی ہے۔ ایسے ہر موقع پر خداتعالیٰ کی ذات ہی فیصلہ کرتی اور ایک مدبر بالارادہ ہستی کی حیثیت سے اسے نافذ بھی کرتی ہے۔
    حیات کے ارتقائی عمل کے دوران کسی اندھا دھند اتفاقی اور حادثاتی خصوصیات کا دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ خداتعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی کو پروان چڑھاتا، اس کے خدوخال ابھارتا اور اسے جینے کے ڈھنگ سکھاتا ہے اور اس عظیم الشان منصوبہ میں کوئی رخنہ نہیں کیونکہ اس کا چلانے والا اسے اپنے عرش عظیم سے نہایت قدرت اور تدبیر سے چلا تا ہے۔ اس کی تخلیق بے عیب اور تضادات سے پاک ہے۔ مندرجہ بالاآیات اس مضمون کو نہایت وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔
    ڈارون کے مفروضہ ’’بقائے اصلح‘‘ جس کی وضاحت آئندہ صفحات میں آئے گی، میں اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ طریق غلطی سے مبرا ہے۔ اس کے برعکس بعض جانور زندگی کی تگ ودو میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ محض ان مخصوص حالات سے ہی عہدہ برآ ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جہاں تک زیادہ ترقی یافتہ جانوروں کا تعلق ہے، کسی جانور کی بقا اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ اس کی بقا بخش قوتیں بدستور محفوظ رہیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظریہ میں کسی ایسی با شعور ہستی کی گنجائش نہیں ہے جو ہمیشہ اس زندگی اور موت کی کشمکش کے نتیجہ میں ابھرنے والی خوبیوں کا انتخاب کر سکے تخلیق کائنات کے بارہ میں قرآن کریم ایک ایسے ہمہ گیر نظام کی وضاحت کرتا ہے جو ہر طرح سے بے عیب ہے اور اس میں کسی کمزوری یا رخنہ کا امکان تک نہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے:

    (المک 4-2:67)
    ترجمہ: بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضۂ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔ وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔ تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟
    شطرنج یا چانس کا کھیل !
    مندرجہ بالا آیات میں اسی مضمون کا ذکر ہے کہ ارتقا کے پس پردہ ایک باکمال ہاتھ کارفرما ہے جو اس کے مہروں کو
    ایک خاص مہارت کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ تخلیق کی اس عظیم الشان بساط پر ہر مہرہ ایک مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے اور تخلیق کے اس منظر میں کسی بے ترتیبی یا حادثہ کی گنجائش نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق جاندار اور بے جان تمام اشیا میں ایسا باہمی ربط ہے کہ اس میں کوئی بد نظمی نہیں پائی جاتی۔ اس طرح کسی دوسرے خدا کا تصور بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے وگرنہ تمام ترتیب درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔
    اب تک ہماری بحث محض تعارف کی حد تک تھی۔ اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ انہی مضامین کا کھل کر اور تفصیل سے جائزہ لے سکیں۔
    زندگی کے آغاز سے متعلق مختلف نظریات
    صدیوں سے فلسفی اس گتھی کو سلجھانے میں سرگرداں رہے ہیں کہ کائنات کیسے معرض وجود میں آئی؟ موجودہ دور میں ان کی توجہ خاص طور پر زندگی کی ابتدا کے مطالعہ پر مرکوز رہی ہے۔ لیکن وہ بھی اسی روایتی اوّل و آخر کے معمہ میں الجھ کر رہ گئے کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی تھی یا انڈہ؟ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ نامیاتی مادہ کیسے وجود میں آیا؟ زندگی اور نامیاتی مادہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ زندگی کی تخلیق سے پہلے غیر نامیاتی اجزا نامیاتی کیمیائی مادہ میں کیسے تبدیل ہوئے؟
    محققین کو ایک عجیب متناقض صورت حال در پیش تھی۔ ایک مسئلہ حل ہوتا تو کئی اور زیادہ پیچیدہ اور بظاہر لا ینحل سوال سر اٹھانے لگتے۔ تحقیق کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت سے سائنسدان اس میں شامل ہو گئے۔ اور کبھی کبھی تو یوں لگتا تھا کہ جیسے خزانہ کی کنجی ہاتھ آنے لگی ہو۔ جس سے بعض بلند بانگ دعاوی کرنے والے سائنس دانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی کہ ان کی تحقیق کے نتائج ان کی سوچ کے عین مطابق ہیں۔ لیکن ان میں سے بعض محتاط سائنسدان ایسے بھی تھے جو اپنے ساتھیوں کو بے وجہ ایسے بلند بانگ دعاوی سے روکتے رہے اور انہیں خبردار کرتے رہے کہ وہ کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ غرضیکہ سائنسدانوں نے اس علمی خزانہ کی کنجی کی تلاش میں جو ان کے معیار کے مطابق ہو اپنی تحقیق کے گھوڑے ہر طرف دوڑا دیئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ تا حال کوئی ایسا مجوزہ حل سامنے نہیں آیا جسے سائنسی حلقوں نے بالاتفاق تسلیم کر لیا ہو۔ مختلف نظریات سے متعلق مختلف سائنس دانوں کا ردّ عمل بھی اتنا ہی مختلف رہا ہے۔ دنیا کے سامنے پیش ہونے والے ہر نئے خیال کو سائنسدان یا تو مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں اور اس کی جگہ ایک اپنا نظریہ پیش کر دیتے ہیں یا اس نئے خیال کو جزوی طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر تحقیق کی ایک سمت معین ہو چکی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے اور ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو بعض نظریات کی مزید تائید کرتے ہیں اور سائنسدانوں میں زیادہ مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔
    سائنسی اصطلاحات کے غیر ضروری استعمال سے ہمارا مقصد قارئین کو ہر گز پریشان کرنا نہیں لیکن ایک حد تک ان کا استعمال لابدی ہے ورنہ ہم سائنسی معلومات کو متعلقہ قرآنی آیات سے مربوط نہیں کر سکیں گے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اس مضمون کو ایسے سادہ انداز میں پیش کریںکہ سائنس سے ناواقف قاری بھی تھوڑی سی کوشش سے اس کو سمجھ سکے جو مشکل تو ہو گا لیکن انشاء اللہ ناممکن نہیں۔ ہمارے استدلال سے کم از کم یہ ضرور واضح ہو جائے گا کہ زندگی کے آغاز اور ارتقا سے متعلق قرآنی بیان کبھی غلط ثابت نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس سائنسی تحقیق مسلسل قرآنی بیانات کی تائید کر رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس مضمون کے مطالعہ سے انسان پر ایسے عجائبات کا دروازہ کھل جائے گا جس کے سامنے ایلس ان ونڈرلینڈ (Alice in Wonderland) جیسے عجائبات بھی ماند پڑ جائیں گے۔ ایلس کے عجائبات تو لے دے کر محض افسانوی تھے لیکن ہم الہام الٰہی کے دوش پر سوار ماضی بعید کے جس سفر پر آپ کو لئے جا رہے ہیں اسے سائنسی تحقیقات کی حمایت حاصل ہے۔ یہ قصے کہانی کی بات نہیں بلکہ یکتا و بیمثل خالق کی تخلیق کے عجائبات اور اسرار و رموز ہیں۔
    آغازِ حیات کے متعلق مختلف آراء
    آئیے اس مسئلہ کو سمجھنے کیلئے تصور کریں کہ آج سے ساڑھے تین ارب سال پہلے
    زمین پر حیات کے آغاز سے بھی پہلے کرۂ ارض کے ماحول اور آب و ہوا کی کیا کیفیت تھی۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ فضا میں آکسیجن کا یکسر فقدان تھا ایسے ماحول کو Anoxicکہا جاتا ہے۔ زندگی کی کوئی بھی شکل جسے اپنی بقا کیلئے عمل تکسید (Oxidation) پر انحصار کرنا پڑتا ہے اس ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ غیر نامیاتی مادہ کو نامیاتی مادہ میں تبدیل ہونے کیلئے آکسیجن کے بغیر ایسے ہی ماحول کی ضرورت تھی۔ چنانچہ ہمارے عقیدہ کے مطابق ایک ارادہ اور منصوبہ بندی کے تحت اور سیکولر سائنسدانوں کے خیال میں اتفاقاً کرہ ٔہوائی شروع کے ساڑھے تین ارب سال کے دوران آکسیجن سے خالی رہا۔ حتیٰ کہ Stratosphereیعنی کرۂ قائمہ میں اوزون (Ozone) کی حفاظتی تہ تک موجود نہیں تھی۔ اس سے یہ بات اخذکی جا سکتی ہے کہ وہ کیمیاوی مادے جنہیں انجام کار زندگی کو جنم دینا تھا آکسیجن کے بغیر ہی ارتقا کے عمل میں سے گزر رہے تھے۔
    ’’جے۔ بی۔ ایس ہالڈین (J.B.S. Haldane)،جو کہ ایک انگریز سائنس دان تھے اور بائیوکیمسٹری کے ماہر تھے، غالباً انہوں نے پہلے پہل اس امر کو تسلیم کیا کہ بے جان نامیاتی مادے میں سے زندگی کے ارتقا کیلئے ضروری تھا کہ ایک Reducing Atmosphere یعنی ایسا تخفیفی کرّۂ ہوائی ہو جس میں آزاد آکسیجن کا یکسر فقدان ہو۔‘‘ 1
    اوزون (Ozone) کی تہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت طاقتور تابکار شعاعیں بلاروک ٹوک زمین اور سطح سمندر پر اثرانداز ہوتی ہوں گی اور اس تابکار بمباری کے نتیجہ میں ایسا جاندارمادہ پیدا ہوا جس میں بے جان نامیاتی مادہ کو جاندار نامیاتی مادہ میں تبدیل کرنے کی خاصیت موجود تھی۔ سمندروں میں موجود غیر نامیاتی مادہ کی ابتدائی نامیاتی مادہ مثلاً امینوایسڈ وغیرہ میں تبدیلی ان شعاعوں اور فضا میں آکسیجن کی غیر موجودگی کا نتیجہ تھی۔ یہ کیمیائی عمل سادہ غیر نامیاتی مالیکیولز (molecules) مثلاً پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور امونیا کے ملنے سے پیدا ہوا۔ ہالڈین کے مطابق جوں جوں یہ سلسلہ بڑھتا گیا قدیم سمندروں کا پانی اس گرم پتلے کثافتی شوربہ کی شکل اختیار کر گیا جسے Primordial Soupیعنی قدیمی شوربہ کہا جاتا ہے۔2 ہالڈین کی تحقیق کے نتائج 1929ء میں Rationalist Annual میں شائع ہوئے لیکن انہیں سائنسی حلقوں میںکوئی خاص پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ ایک روسی سائنسدان اے۔ آئی۔ اوپرن (A.I. Oparin) بھی چند سال قبل 1924ء میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکا تھا۔ اس مضمون کا بھی وہی حشر ہوا جو ہالڈین کے مضمون کا ہوا تھا، حالانکہ دونوں الگ الگ کام کر کے اسی نتیجہ پر پہنچے تھے کہ حیاتیاتی ارتقا کے آغاز میں غیر نامیاتی مادہ کس طرح نامیاتی مادہ میں تبدیل ہوا تھا۔
    ایک نیا سنگِ میل
    ہالڈین اور اوپرن کے بعد دیگر سائنسدانوں نے بھی تحقیق کے اس میدان میں شہرت پائی۔ اس میدان میں نظریاتی سطح پر امریکن
    یونیورسٹی شکاگو سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ہیرلڈ۔ سی یوری (Herald. C. Urey) کا نام سرِ فہرست ہے۔ وہ اپنی کتاب The Planets3 میں ہالڈین اور اوپرن کے کام کا ذکر کرتا ہے۔ زندگی کے آغاز سے متعلق ان کی ابتدائی تحقیقات کے نتیجہ میں سائنسدانوں میں اس موضوع پر تحقیق کا شوق مزید بڑھ گیا تاہم یوری (Urey) کے ایک شاگرد سٹینلے ایل۔ ملر۔(Stanly L. Miller) نے 1953ء میں عملی تحقیق کے میدان میں خوب نام کمایا۔ اس نے یوری کے نظریہ میں پیش کردہ حالات کے مطابق اپنی تجربہ گاہ میں ایک برتن میں چند لٹر امونیا۔ میتھین اور ہائیڈروجن گیسوں کو اکٹھا کر کے وہ ماحول پیدا کیا جو سائنسدانوں کے خیال میں زمین کی ابتداء میں موجود تھا۔ اس آمیزہ میں اس نے کچھ پانی ملایا اور ایک گرم تار کی مدد سے اسے ابالا پھر اس آمیزہ میں سے بجلی گزاری۔ چند دنوں میں ہی ایک سرخ رنگ کا مرکب تیار ہو گیا۔ اس کا تجزیہ کیا گیا تو اس میں بہت سے امینوایسڈ موجود تھے۔ 4 چنانچہ اس تجربہ سے ملر کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ پروٹین جو زندگی کے بنیادی اجزائے ترکیبی میں سے ہیں امینوایسڈ کے آپس میں ملنے سے بنتے ہیں۔
    اس تجربہ کے عظیم الشان نتائج سے اس وقت کے سائنسدان یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ سمندر کے پانی اور دیگر قدرتی عناصر کے باہم ملنے سے Primordial Soup تیار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سائنس افسانوی رنگ اختیار کر گئی اور بعض سائنسدان بڑے بڑے خواب دیکھنے لگے کہ جلد ہی ٹیسٹ ٹیوب میں زندگی پیدا کر لی جائے گی۔ کئی سال گزرنے کے بعد خود ملر کو بھی یہ احساس ہوا کہ ایسی امیدیں قبل از وقت تھیں۔ چنانچہ وہ مایوس ہو کر یہ اعتراف کرتا ہے کہ :
    ’’زندگی کی ابتدا ء کا مسئلہ میرے اور میرے ہمعصر سائنسدانوں کے اندازہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ نکلا۔‘‘5
    ملر کا یہ عہد ساز تجربہ 1953ء میں جبکہ وہ شکاگو یونیورسٹی میں ابھی تئیس سالہ طالبعلم تھا کیا گیا۔ اتفاق سے انہی دنوں اسی تحقیق سے متعلق واٹسن(Watson) اور کرک(Crick) نے ایک اور بہت کامیاب تجربہ کیا۔ انہوں نے پہلی بار DNA اور RNA کی ساخت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ ثابت کیاکہ DNA اور RNA مل کر زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس خیال نے سائنسدانوں کے سامنے ایک اور چیلنج رکھ دیا یعنی یہ کہ نامیاتی مادہ کیونکر محض اتفاق سے اتنی پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔
    سائنسدانوں کو کئی مسائل کا سامنا تھا۔ طرح طرح کے سوالات سراٹھانے لگے ان میں سے ایک یہ تھا کہ کیسے اور کونسے اتفاقی کھیل کے نتیجہ میں غیر نامیاتی مادہ نامیاتی مادہ میں تبدیل ہو گیا۔ جوبالآخر زندگی کے اجزائے ترکیبی کی بنیاد بنا۔ چنانچہ یوری کا تجربہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا اور اس پر مزید تحقیق ہونے لگی۔ سائنسدانوں نے ٹیسٹ ٹیوب میں بننے والے مادہ کے نمونوں کا تنقیدی جائزہ لیا تو انہیں ملّر کے تجربہ میں کئی خامیاں نظر آئیں جس کی وجہ سے اس کے تجربہ کی اہمیت کم ہو گئی۔ ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ تجربہ گا ہ میں اصل حالات مکمل طورپر پیدا نہیں کئے جا سکتے۔ اور یہ تجربہ تو صرف ایک بوتل اور ٹیسٹ تک ہی محدود تھا۔ تجربہ گاہ میں سمندری پانی کی جگہ جو پانی استعمال کیا گیا تھا اسے مستقل طور پر ابلتی حالت میں رکھا گیا جبکہ عام حالات میں ایسا ممکنات میں سے نہیں۔ نیز اگر یہ بات درست بھی مان لی جائے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ سمندر اربوں سال کھولتے ہی رہے۔
    مِلر کے مجوزہ نظریہ کے برعکس بعض سائنس دانوں کے نزدیک زندگی کی ابتدا کھولتے ہوئے پانی کی بجائے زیادہ ٹھنڈے ماحول میں ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تحقیق کا رخ کھولتے ہوئے پانی کی بجائے ٹھوس کیمیائی عوامل کی طرف موڑ دیا۔ بعض یہاںتک کہنے لگے کہ کرۂ ارض پر تو زندگی کے آغاز کیلئے ماحول ساز گار ہی نہیں تھا۔ اس نظریہ کی تائید میں انہوں نے شہابی پتھروں کا حوالہ دیا جن میں امینوایسڈ موجود تھے۔ درحقیقت ملر کے تجربہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امینوایسڈ 35تھے۔ جبکہ ان پتھروں میں موجود امینوایسڈکی تعداد 52تھی۔ لیکن جو لوگ زندگی کے آغاز کیلئے پانی کی موجودگی ضروری سمجھتے تھے انہوں نے اس نظریہ پر کئی اعتراض کئے۔ ان کا ایک بہت معقول اعتراض یہ تھا کہ فضائی سفر کے دوران رگڑ سے پیدا ہونے والی حرارت کے نتیجہ میں اگر شہاب ثاقب میں کوئی نامیاتی مادہ موجود تھا بھی تو وہ جل کر خاکستر ہو گیا ہو گا۔ چونکہ اس حرارت کے نتیجہ میں فضا میں داخل ہونے والے پتھر آگ پکڑ لیتے ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ ایسا تمام مادہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں بکھر گیا ہو گا۔ اگر ان پتھروں میں امینوایسڈ پائے بھی گئے ہیں تو وہ زمین پر گرنے کے بعد ان میں داخل ہوئے ہوں گے۔ جن سائنس دانوں کا خیال تھا کہ نامیاتی مادہ شہاب ثاقب کے ذریعہ زمین پر پہنچے انہوں نے اس اعتراض کے جواب میں تجویز کیا کہ یہ باریک ذرّات برف کی حفاظتی تہوں میں موجود تھے،جیسا کہ شہاب ثاقب کی دُم میں پائے جاتے ہیں، عین ممکن ہے کہ یہ ذرّات شبنم کی طرح آہستگی سے سطح زمین پر اتر آئے ہوں۔
    یہاں ملر کے عہد ساز تجربہ کا ذکر کرنا ضروری ہے جس نے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا لیکن جلد ہی اس کی خامیاں نظر آنے لگیں اور بعض سائنسدان ٹھنڈے دل کے ساتھ اس پر غور کرنے لگے۔
    ایک ممتاز سکالر آر۔ ای۔ ڈکرسن (R.E.Dickerson) نے اس سلسلہ میں اپنے ایک مضمون Chemical Evolution and the Origin of Life (کیمیاوی ارتقا اور آغازِحیات) میں نہایت جامع اور غیر جانبدارانہ انداز میں ملر کے تجربہ سے اخذ کردہ نتائج کو تنقیدی نظر سے دیکھا ہے۔ ڈکرسن کے اس مضمون سے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ملر کے تجربہ سے متعلق تمام اعداد و شمار پہلے منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ چنانچہ ڈکرسن کہتا ہے:
    ’’اگرچہ ملر کی تجربہ گاہ میں بہت سے اہم امینوایسڈ مصنوعی طور پر پیدا ہوئے تھے جو جاندار اجسام کی لحمیات میں موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے سالمے بھی پیدا ہوئے جو جاندار اجسام میں نہیں پائے جاتے۔‘‘6
    جب دوسرے سائنس دانوں نے ملر کے ابتدائی تجربہ کو دہرایا تو یہ بات سامنے آئی کہ ان تجربات کے دوران تین Isomeric (ہم ترکیب) امینوایسڈ پیدا ہوئے جن میں سے صرف Valine(غذائی جزو) ہی موجودہ لحمیات میں پائی جاتی ہے۔ بجلی کی رو کے زیر اثر کئے گئے ان تجربات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امینوایسڈز کے سات Isomers (ہم ترکیبی مادے) میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے عالمگیر حیاتیاتی نظام میں پائی جانے والی لحمیات کا جزو قرار دیا جا سکے۔ ڈکرسن مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
    ’’ان بیسamino acids کے سیٹ کا انتخاب ہی کیونکر ہوا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ بعض اور امینوایسڈبھی آزمائے گئے ہوں جو مقابلۃً کمزور ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر نیست و نابود ہو گئے ہوں۔‘‘6
    ملر کے تجربہ سے حاصل شدہ سادہ amino acids سے نہایت پیچیدہ اور مربوط لحمیات کا پیدا کرنا جو DNA/ RNAجیسی زندگی کے اجزائے ترکیبی کیلئے از حد ضروری ہیں ایک سعیٔلاحاصل کے سوا کچھ نہیں۔ اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ باہمی تعامل کی بے شمار صورتوں کے نتیجہ میں DNA / RNAکے سالمے موجود ہ شکل اختیار کر سکتے ہیں تب بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ DNAکے صرف ایک مالیکیول کے اتفاقاً پیدا ہو جانے کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے ڈکرسن ایک انگریز سائنس دان جے۔ ڈی۔ برنل (J.D. Bernal)کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ DNAکے واحد مالیکیول سے تمام سلسلۂ حیات کا پیدا ہو جانا اتنا ہی ناقابل یقین امر ہے جتنا کہ آدم اور حوا کا جنت میں اچانک پیدا ہو جانا۔ 7
    ڈکرسن (Dickerson) اس مسئلہ کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ان مشکلات کا بطور خاص ذکر کرتا ہے جو (مختلف سائنسدانوں کی طرف سے) پیش کردہ نظریات میں پائی جاتی ہیں اور کہتا ہے کہ یہ سائنسدان دراصل اپنے نظریات کی بنیاد ایک تخیلاتی اور بے سروپا اتفاقی کھیل پر رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر ہم آئندہ صفحات میں مزید گفتگو کریں گے۔

    حوالہ جات
    1. DICKERSON, R.E. (September, 1978) Chemical Evolution and The Origin of Life. Scientific American, p.70
    2. DICKERSON, R.E. (September, 1978) Chemical Evolution and The Origin of Life. Scientific American, p.71
    3. UREY, H.C. (1952) The Planets. Yale University Press, New Haven.
    4. MILLER, S.L. (1955) Production of Some Organic Compounds under Possible Primitive Earth Conditions. Journal of The American Chemical Society: 77:2351-2361
    5. HORGAN, J. (February, 1991) In The Beginning. Scientific American, p.117
    6. DICKERSON, R.E. (September, 1978) Chemical Evolution and The Origin of Life. Scientific American, pp.75-76
    7. DICKERSON, R.E. (September, 1978) Chemical Evolution and The Origin of Life. Scientific American, p.73
    جنّات کا وجود
    اب ہم سائنسی تناظر میں از منۂ قدیم کے قصّے کہانیوں میں مذکور جنّ کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔ قرآن کریم نے جنّ کا جو تصور پیش کیا ہے اس پر مختصراً Life in the Perspective of Quranic Revelations (زندگی کے بارہ میں قرآنی نظریہ) میں بحث اٹھائی گئی ہے۔ عربی لغت کے لحاظ سے لفظ جنّ کے درج ذیل معانی ہو سکتے ہیں۔ جنّ کا لفظ کسی پوشیدہ، غیر مرئی، الگ تھلگ اور دور کی چیز پر دلالت کرتا ہے۔ ا س میں گہرے اور گھنے سائے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے جَنَّۃٌ کے لفظ کو (جو اسی مادہ سے نکلا ہے) جنت کیلئے استعمال کیا ہے جو ایسے گھنے باغات پر مشتمل ہے جن کے سائے بہت ہی گہرے ہیں۔ جنّ کے لفظ کا اطلاق سانپوں پر بھی ہوتا ہے جو فطرتاً پوشیدہ اور چھپ کر رہنا پسند کرتے ہیں جس کیلئے وہ الگ تھلگ بلوں اور چٹانوں میں موجود سوراخوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ جنّ کا لفظ با پردہ عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ایسے سرداروں اور بڑے لوگوں کیلئے بھی جو عوام سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح دوردراز اور دشوارگزار پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگوں پر بھی جنّ کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ المختصر عام انسانی نگاہ سے اوجھل اور پوشیدہ ہر چیز پر جنّ کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔
    جنّ کے لفظ کا مذکورہ بالا مفہوم آنحضرتﷺ کی اس حدیث کے عین مطابق ہے جس میں آپﷺ نے لوگوں کو خشک گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ یہ جنّوں کی خوراک ہے۔ جس طرح آج کل صفائی کیلئے ٹائلٹ پیپر استعمال کئے جاتے ہیں اسی طرح پرانے زمانہ میں لوگ صفائی کیلئے مٹی کے خشک ڈھیلے، پتھر یا قریب پڑی کوئی اور خشک چیز استعمال کیا کرتے تھے۔ پس ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں جس جنّ کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد کوئی غیر مرئی مخلوق ہی ہے جس کا گزارہ ہڈیوں اور فضلہ وغیرہ پر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت دنیا میں بیکٹیریا اور وائرس کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور کوئی شخص اس قسم کی غیر مرئی اور خوردبینی مخلوق کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس مخلوق کی طرف آنحضرتﷺ نے اشارہ فرمایا ہے، عربی زبان میں اس کیلئے جنّ سے بہتر اور کوئی لفظ نہیں ہے۔
    ایک اور اہم بات جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے وہ جنّ کی آگ سے تخلیق کے بارہ میں ہے۔ چنانچہ فرمایا:

    (الحجر28:15)
    ترجمہ: اور جنّوں کو ہم نے اس سے پہلے سخت گرم ہوا کی آگ سے بنایا۔
    یہاں آگ کی اس مخصوص قسم کو بیان کرنے کیلئے جس سے جنّ پیدا کئے گئے، سموم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی انتہائی گرم اور اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ کے ہیں۔ جس سے کوئی دھواں نہیں اٹھتا۔ 1 اسی بات کو قرآن کریم نے ایک اور جگہ اس طرح بیان کیا ہے:

    (الرحمٰن 16 : 55)
    ترجمہ: اور (اس نے) جنّ کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا۔
    آئیے اس امر کے ثابت کرنے کے بعد کہ جنّ کا لفظ یہاں بیکٹیریائی قسم کے جانداروں کیلئے مستعمل ہے ہم دوبارہ مذکورہ بالا آیات پر غور کریں جن میں جنّ کی آگ سے تخلیق کا ذکر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ان آیات کا زیادہ تر اطلاق ان جانداروں پر ہوتا ہو جو اپنی بقا کیلئے آگ کے شعلوں یا خلائی تابکاری شعاعوں (Cosmic Radiation)سے توانائی حاصل کرتے ہیں جس کیلئے سموم کا لفظ بولا گیا ہے۔
    ڈکرسن (Dickerson) قدیم ترین جاندار حیات کے بارہ میں اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے غیر ارادی طور پر قرآن کریم کی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ ’’وہ روشنی کی قوت اور بالائے بنفشی (Ultra violate) شعاعوں سے توانائی حاصل کرتے ہوں گے۔‘‘2
    خلائی تابکاری (Cosmic Radiation)کے تناظر میں زندگی کے آغاز کے بارہ میں دیگر سائنسدانوں کی تحقیق میں کوئی خاص ذکر نہیںملتا۔ لیکن وہ اس نظریہ سے بہرحال متفق ہیں کہ جو مادے بھی حیات کے ارتقاسے پہلے موجود تھے وہ حرارت سے توانائی حاصل کرتے تھے۔ سائنسدانوں کی سابقہ نسل نے بیکٹیریا کی انتہائی قدیم اقسام میں سے صرف پروکیرائیوٹس (Prokaryotes) اور یوکیرائیوٹس(Eukaryotes)کا ذکر کیا ہے تاہم کارل۔ آر۔ ووز (Karl R. Woese) اور اس کے رفقاکے نزدیک یہ نتیجہ جلد بازی میں اخذ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
    ’’خوردبینی سطح پر دو قسم کے خلیات پائے جانے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ضرور سالماتی (molecular) سطح پر بھی ان کی دو ہی اقسام پائی جاتی ہوں گی۔‘‘3
    عام قاری کی آسانی کیلئے ان دو بیکٹیریایعنی پروکرائیوٹس اور یوکرائیوٹس کے مابین فرق کو عام فہم زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ان میں مرکزہ یا تو موجود ہوتا ہے یا نہیں۔ پروکیرائیوٹس قسم کے بیکٹیریا میں خلیاتی جھلی تو ہوتی ہے لیکن مرکزہ مفقود ہوتا ہے جبکہ یوکرائیوٹس کے ہر خلیہ میں ایک مرکزہ موجود ہوتا ہے۔
    قبل ازیں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ابتدا میں بیکٹیریا کی یہی دو اقسام تھیں جن سے حیات کی ایسی اقسام نے جنم لیا جنہیںزندگی کا ماخذ کہاجا سکتا ہے۔ اگر چہ ووز (Woese) جون 1981ء کے سائنٹیفک امریکن (Scientific American)میں اپنی اس اہم تحقیق کے نتائج کو بیان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آرک بیکٹیریا (Archaebacteria) یا قدیمی بیکٹیریا کو حقیقی طور پر زندہ مادہ کی ابتدائی شکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس نے اور اس کے رفقائے کار نے سائنسی دنیا کو مطلع کیا کہ آرک بیکٹیریا،بیکٹیریاکی تیسری واضح قسم ہے جو بعد کی تمام اقسام کے وجود میں آنے کا باعث بنی۔ چنانچہ ان آرک بیکٹیریا کو ہی زندگی کا قدیم ترین ماخذ سمجھنا چاہئے۔
    ووز (Woese) اور اس کے رفقائے کار نے اس دریافت کے بارہ میں بہت سے ایسے مزید شواہد پیش کئے ہیں جن کے نتیجہ میں جمود ٹوٹنے لگا۔ اس کے مطابق:
    ’’گو چند ایک ماہرین حیاتیات ابھی تک ہمارے اس موقف سے اختلاف رکھتے ہیں تا ہم یہ نظریہ کہ آرک بیکٹیریا انتہائی اعلیٰ سطح پر ایک علیحدہ گروپ کی نمائندگی کرتا ہے اب تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘‘4
    ووز (Woese) پھر لکھتا ہے کہ:
    ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ میتھانوجنز (Methanogens)کسی بھی بیکٹیریا جتنے یا ان سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔‘‘4
    ‏'The Hutchinson Dictionary of Science' کے مطابق:
    ’’آرک بیکٹیریا کا تعلق بالکل ابتدائی شکل سے ہے جو چار ارب سال قبل معرض وجود میں آئی جب کرہ ٔارض پر آکسیجن نہیں تھی۔‘‘ 5
    لیکن'Genetics, a Molecular Approach' کا مصنف کہتا ہے:
    ’’1977ء سے آرک بیکٹیریا اور دوسرے پروکرائیوٹس (Prokaryotes) کے مطالعہ کے نتیجہ میں اتنے نمایاں فرق دریافت ہوئے کہ اب مائکروبیالوجی (Microbiology) کے ماہرین ان اقسام کو آرک بیکٹیریا سے ممتاز کرنے کے لئے آرکیا (Archaea) کی اصطلاح تجویز کرتے ہیں۔‘‘6
    قرآن کریم نے جس مخلوق کیلئے جنّ کا لفظ استعمال کیا ہے وہ مذکورہ بالا وضاحت کے عین مطابق ہے۔ سائنس دان متفقہ طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بیکٹیریا حرارت سے توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن ڈکرسن (Dickerson) کے علاوہ کوئی بھی اس سے متفق نہیں ہے کہ یہ بیکٹیریا بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں اور کا سمک شعاعوں سے براہ راست پیدا کئے گئے ہیں۔ مگر دیگر سائنس دان جدید تحقیق کے ذریعہ مزید اسرار سے مسلسل پردہ اٹھا رہے ہیں۔
    ’’یہ بیکٹیریا سمند رکی تہوں، گرم چشموں، بحیرہ ٔمردار اور نمک کے میدانوں حتیٰ کہ گندگی کے ڈھیروں پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔‘‘7
    ان سب میں سے آغاز حیات کے مسئلہ پر ووز (Woese) اور اس کے رفقائے کار کو کامل یقین ہے کہ آرک بیکٹیریا ہی سب سے قدیم ہے۔ کچھ سائنسدانوں کے نزدیک ممکن ہے کہ ان کا ارتقا کسی نا معلوم ماخذ سے بیک وقت ہوا ہو۔
    لیکن یہ معاملات نفس مضمون سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ دوسرے بیکٹیریا انہی سے پیدا ہوئے تھے یا نہیں، تو موجودہ بحث سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ متعلقہ بات تو صرف اتنی ہے کہ قدیم ترین بیکٹیریا کی تمام اقسام اپنی توانائی براہ راست حرارت سے حاصل کرتی تھیں اور یہ امر اس قرآنی دعویٰ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے جو آج سے چودہ سو سال قبل ان الفاظ میں کیا گیا تھا:

    (الحجر28:15)
    ترجمہ: اور جنّوں کو ہم نے اس سے پہلے سخت گرم ہوا کی آگ سے بنایا۔
    مسلّمہ سائنسی تحقیقات کے مطابق آگ سے براہ راست حاصل ہونے والی حرارت نے زندگی کے آغاز سے قبل ہی ان جاندار اجسام کی تخلیق اور ان کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں منظم زندگی کیلئے درکار توانائی کے انتقال کا یہی واحد ذریعہ تھا۔ ارب ہاسال تک پھلنے پھولنے اور پھر موت سے ہمکنار ہونے کے بعد گلنے سڑنے اور عمل تخمیر کے نتیجہ میں یقینا سمندر آلودہ ہو گئے ہوں گے یہاںتک کہ سمندر قدیمی شوربہ (Primordial Soup)کی شکل اختیار کر گئے جس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔


    حوالہ جات
    1. LANE, E.W. (1984) Arabia.English Lexicon. Islamic Text Society, William & Norgate. Cambridge.
    2. DICKERSON, R.E. (September 1978) Chemical Evolution and the Origin of Life. Scientific American, p.80
    3. WOESE, C.R. (June, 1981) Archaebacteria. Scientific American, p.104
    4. WOESE, C.R. (June, 1981) Archaebacteria. Scientific American, p.114
    5. The Hutchinson Dictionary of Science (1993) Helicon Publishing Ltd. Oxford. p.37
    6. BROWN, T.A. (1992) Genetics A Molecular Approach. Chapman & Hall. London, p.245
    7. The Hutchinson Dictionary of Science (1993) Helicon Publishing Ltd. Oxford. p.37
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار
    آگ کا ذکر تو کافی ہو چکا اب اس کے بالمقابل زندگی کی تخلیق میں پانی کے کردار کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    جنّوں کا دور ختم ہوا اور ایک بالکل مختلف دور کا آغاز ہوا جو جنّوں کے زمانہ اور ضیائی تالیف (Photosynthesis)کے مابین واقع ہے۔ اس درمیانی عرصہ میں وہ مادہ تیار ہوا جو آئندہ زندگی کی تخلیق کیلئے ضروری تھا۔ اس دور میں گزرنے والے تخلیقی مراحل کا صحیح اندازہ درج ذیل بیان کے بغور مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔
    کیمیا کی دو ہی بڑی شاخیں ہیں۔ غیر نامیاتی کیمیا اور نامیاتی کیمیا۔ غیر نامیاتی کیمیا کا تعلق ان مرکبات سے ہے جو معدنی صفات تو رکھتے ہیں لیکن ان کی پیدائش میں حیات کا عمل دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی کاربن کی موجودگی کی وجہ سے ان کو نامیاتی قرار دیا جا سکتا ہے۔ پانی، خوردنی نمک اور پوٹاشیم غیر نامیاتی اس لئے کہلاتے ہیں کہ یہ زندہ خلیوں کے علاوہ بھی تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈبھی غیر نامیاتی ہے اگرچہ یہ خلیوں کے عمل تنفس کے دوران بنتی ہے۔
    کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ جو ایک غیر نامیاتی مرکب ہے، کاربن تمام نامیاتی مرکبات میں پایا جاتا ہے اور ضروری نہیں کہ یہ مرکبات جاندار اجسام سے وجود میں آئے ہوں۔
    یہ باب ان تمام ابتدائی مراحل سے بحث کرتا ہے جو حیات کی ابتدائی اکائی کی تخلیق کے لئے ضروری تھے۔ اس درمیانی اور نازک مرحلہ کے متعلق قرآن کریم کے بیان کو یہاں ہم اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں یعنی یہ کہ آگ سے پیدا ہونے والے قدیم ترین بیکٹیریا کے دور کے بعد پانی نے ان سالموں کی تشکیل میں بڑا اہم کردار ادا کیا جو زندگی کی مختلف شکلوں کی تیاری کیلئے ضروری تھے۔
    بعض چوٹی کے سائنسدانوں نے اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ زمین پر زندگی سے قبل نامیاتی مرکبات کیسے وجود میں آئے۔ اصل مشکل یہ پیش آئی کہ تمام نامیاتی مرکبات تو خود زندگی کی پیداوار ہیں۔ سمندر یا خشکی پر یہ مرکبات پہلے پہل کیسے وجود میں آئے جبکہ اس زمانہ میں صرف غیر نامیاتی مرکبات ہی موجود تھے۔ اُس وقت جدید تجربہ گاہیں تو تھیں نہیں جو غیرنامیاتی سے نامیاتی مرکبات بنا سکتیں جیسا کہ آجکل کی جدید ادویہ سازی میں ہوتا ہے۔ ابتدائی کام کرنے والے عظیم سائنسدانوں برنل (Bernal)، ہالڈین (Holdane)، ڈکرسن (Dickerson)، ملر (Miller)، یوری (Urey)، کیرنز سمتھ (Cairns-Smith) اور اوپرِن (Oparin) وغیرہ کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے کہ انہوں نے لیبارٹری سے باہر کے حالات میں، جو ان کے قابو میں نہیں تھے، غیر نامیاتی مرکبات کے نامیاتی مرکبات میں تبدیل ہو جانے کی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ان کامیابیوں اور ناکامیوں کی حیرت انگیز داستان درج ہے۔ ناکامیوں کا اعتراف انہوں نے خود کیا ہے جو ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ اس باب میں ان کی کاوشوں کا ذکر ہے کہ کس طرح انہوں نے ان معمّوں کو حل کرنے کی کوشش کی اور دوران تحقیق کیسے کیسے مختلف حل خود بخود ان کے سامنے آتے چلے گئے۔ یہ صرف حیاتیاتی کیمیا کے عظیم کارناموں کی داستان نہیں بلکہ ہم آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ جو سائنسی تحقیق بھی اس موضوع پر کی گئی وہ قرآن کریم کے مذکورہ بالا بیان کی مصدق ہے۔
    یہ تحقیق دراصل ان نامیاتی مرکبات کے گرد گھومتی ہے جن کا تعلق حیات سے ہے اور اس میں صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کی ابتداء پانی سے ہوئی تھی۔ یہ سائنسدان صرف اسی حد تک قرآن کریم سے متفق ہیں۔ مگر قرآن کریم تو اس کے علاوہ ایک علیحدہ آغاز کا بھی ذکر کرتا ہے جو خشکی پر ہوا۔
    بات دراصل یہ ہے کہ اگرچہ نامیاتی مرکبات زمانہ قبل از تاریخ کے قدیم سمندر وںکے آبی محلول میں ہی بنے ہوں گے۔ مگر وہ آب پاشیدگی (Hydrolysis) کے عمل کے باعث اپنی پہلی حالت میں واپس لوٹ جاتے ہوں گے۔ اس اشکال کو حل کرنے کیلئے کوئی نظریہ پیش کرنا کہ ادنیٰ درجہ کے نامیاتی مرکبات پرانی حالت میں لوٹ جانے کی بجائے بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے، ایک چیلنج تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ابتدائی نامیاتی مواد کی پانی میں موجودگی کے باعث ہائیڈروجن ایٹم کے نئے کیمیکلز میں منتقل ہونے سے مادہ ہمیشہ ہی اپنی پہلی اور سادہ حالت میں واپس لوٹ جاتا ہو گا اور نامیاتی مرکبات کے بننے اور ٹوٹنے کا یہ گھن چکر مسلسل جاری رہتا ہو گا۔ سائنسی طرز بیان سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کیلئے ہم اس عمل کو درج ذیل انداز سے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    زندگی کے اجزائے ترکیبی کے لئے درکار تمام کے تمام امینوایسڈ (Amino acids)، ایلڈی ہائڈز (Aldehydes) ایک معروف عمل کے ذریعہ معرض وجود میں آتے ہیں جسے Strecker Synthesisکہا جاتا ہے اور جو دو مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلہ میں ایلڈی ہائیڈ، ایمونیا اور HCN کے آمیزہ سے مل کر Aminonitrile بناتا ہے جس کی آب پاشیدگی سے دوسرے مرحلہ میں Amino acid بنتا ہے۔
    لیکن دقت یہ ہے کہ Strecker Synthesisکے یہ دونوں مراحل اپنی پہلی حالت میں واپس لوٹ سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان غیر متوازن ابتدائی مرکبات کا ارتقا کیسے ممکن ہوا۔ اگرچہ اس معمّہ کے متعدد حل پیش کئے گئے ہیں مگر ان سے یہ گتھی سلجھنے کی بجائے مزید الجھتی چلی گئی۔
    اکثر سائنسدان اس نظریہ کے حامی ہوتے جارہے ہیں کہ اس عمل میں کہیں نہ کہیں خشکی کا کوئی ایسا دور ضرور آیا ہو گا جس میں Primordial Soup یعنی زمانہ قبل از تاریخ والے ’سوپ‘ یا شوربہ کے ابتدائی غیر متوازن نامیاتی مرکبات اعلیٰ درجہ کے متوازن اور غیرمبدّل نامیاتی مرکبات میں تبدیل ہوئے ہوں گے۔ نیز ابتدائی امینوایسڈمیںسے پروٹین اور نیو کلیک ایسڈ (Nucleic Acid)کے بننے کیلئے لازمی ہے کہ پانی کا ایک مالیکیولAmino acid کے مالیکیول اور Nucleotidesکے ہر جوڑے میں سے خارج ہو جائے۔ اس عمل کو کثیرالترکیبہ سازی کہتے ہیں۔ مگر دقت یہ ہے کہ چونکہ یہ تمام عمل سمندر میں ہوا تھا اس لئے ضروری تھا کہ پانی کی موجودگی کی وجہ سے یہ ردعمل واپس عمل کی طرف لوٹ جاتا اور کثیر الترکیبہ سازی کا عمل ختم ہو کر رہ جاتا۔
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس قدیمی محلول میں ہر سالمہ (Molecule) کو پانی میں ہی خشک (Dehydrate) ہو جانا چاہئے تھا۔ یہ عمل اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ اگر آمیزہ کو لیبارٹری میں خشک ہونے دیا جائے تو عمل تکثیف (Condensation Reaction) کے نتائج اکثر و بیشتر بہتر ہوتے ہیں۔ اس مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی محلول ساحل کی ریت، پتھر اور کیچڑ سے ٹکرانے کے بعد ہی خشک ہوا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ ابتدائی محلول کا ساحل سے یوں ٹکرانا اس اہم ضرورت کے تحت ہو تاکہ پانی میں بننے والے ابتدائی ادنیٰ مرکبات کا ارتقا ایسے اعلیٰ مرکبات کی صورت میں ہو سکے جو واپس اپنی ادنیٰ حالت کی طرف نہ لوٹ سکیں۔
    اس بارہ میں پیش کئے جانے والے نظریات میں سے سب سے زیادہ دلچسپ اور قابل قبول وہ نظریات ہیں جو سیلیکا (Silica) اور چکنی مٹی کے ذریعہ سطح پر ہونے والے عمل انگیز (Catalyst) کو پیش کرتے ہیں۔ اس کی نشاندہی سب سے پہلے جان برنل (John Bernal) نے 1951 میں کی۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب 'The Physical Basis of Life'میں لکھتے ہیں:
    ’’چکنی مٹی، کیچڑ اور غیر نامیاتی قلمیں(Crystals) وہ طاقتور ذریعہ ہیں جن کے ارتکاز اور تکثیر (Polymerize) سے نامیاتی مادے تشکیل پاتے ہیں۔‘‘ 1
    اس نظریہ کی مقبولیت میں آج تک کمی نہیں آئی۔
    ’’........سڈنی۔ ڈبلیو۔ فاکس(Sydney, W. Fox)نے تجربات سے ثابت کیا کہ امینوایسڈ کرۂ ارض کے قدیمی حالات میں بھی بآسانی کثیرالترکیبہ سازی یا عمل تکثیر سے پولی پیپٹائڈز (Polypeptides) بن جاتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ عمل برقی اخراج سے حاصل ہونے والی توانائی سے یا حرارت سے یا بعض اقسام کی چکنی مٹی اور پولی فاسفیٹ (Polyphosphates) کے باہم ملنے سے ظہور میں آتا ہو۔‘‘ 2
    کیرنزسمتھ) (Cairns-Smith نے اس نظریہ کو مزید آگے بڑھایا۔ برنل (Bernal) کا خیال تھا کہ چکنی مٹی کے علاوہ نامیاتی سالموں کی تشکیل والے Silicon کی موجودگی بھی ضروری تھی جبکہ کیرنز سمتھ کے نزدیک غالباً چکنی مٹی ہی سے ضروری نامیاتی مرکبات بنے ہوں گے۔ ان کے 1966 کے تحقیقی مقالہ کے آغاز میں ہی اس نظریہ کا ذکر واضح طور پر موجود ہے۔
    تا ہم بعض سائنسدان اس بات پر مصر ہیں کہ نامیاتی مواد کا ارتقا پانی کے بغیر ہوا ہو گا۔ کیونکہ اگرپانی ہوتا تو آب پاشیدگی کے مسلسل عمل کے باعث یہ مواد اپنی پہلی حالت میں لوٹ جانے کے چکر سے نکل نہیں سکتا تھا۔ ان کا اصرار ہے کہ ہمیں اس کا حل Solid State Chemistry میں تلاش کرنا چاہئے۔
    آب پاشیدگی سے متعلقہ دقت کا جو حل بھی پیش کیا گیا ہو اس سلسلہ میں اختلاف رائے کے باوجود یہ بات یقینی ہے کہ کیمیاوی ارتقا کے بارہ میں کسی ایسے نظریہ کا تصور بھی نہیںکیا جا سکتا جس میں خشک ابتدائی اور وسطی مراحل کا ذکر نہ ہو۔
    خشکی کا یہ دور اس وقت ظہور میں آیا ہو گا جب Oceanic Prebiotic Soup یعنی زمانہ قبل از تاریخ کا قبل از حیات سمندری سوپ گاڑھا اور خشک ہو کر چکنی مٹی کی نہایت باریک درباریک تہوں کی صورت اختیار کر گیا ہو گا۔ قرآن کریم اس نظریہ کی تائید کرتا ہے کہ زندگی کی ابتداء پانی سے ہوئی اور درمیان میں خشکی کا ایک ایسا دور آیا جس میں قدیمی شوربہ (Primordial Soup) ٹھیکریوں کی طرح بجنے والی خشک چکنی مٹی کی شکل اختیار کر گیا۔
    نوم لاہو (Noam Lahav)، ڈیوڈ وائٹ (David White)اور شرووڈ چانگ (Sherwood Chang)کی تحقیق نے نامیاتی مواد کی تالیف میں چکنی مٹی کی افادیت اور اس کے بنیادی کردار کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے تجربات سے ثابت کیا ہے کہ چکنی مٹی کو بار بار گیلا اور خشک کرنے سے کس طرح امینوایسڈ کے سالمے گلائیسین (Glycine)کی شکل میں آپس میں جڑتے چلے جاتے ہیں۔ بار بار کے اس عمل سے ماحول کی توانائی نامیاتی سالموں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ 3
    ان کا مجوزہ حل قرآن کریم کے پیش کر دہ بیان سے بہت قریب تھا۔ مگر یہ کیرنز سمتھ (Cairns-Smith) تھا جس نے کھل کر اور بلا جھجک قرآن کریم کے موقف کی تائید کی ہے حالانکہ وہ خود قرآن کریم کے اس بیان سے بالکل بے خبر تھا۔
    متعلقہ آیات قرآنیہ کا ذیل میں دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے۔

    (الانبیاء 31:21)
    ترجمہ : اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔

    (الرحمٰن 15:55)
    ترجمہ: اُس نے انسان کو مٹی کے پکائے ہوئے برتن کی طرح کی خشک کھنکتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا۔

    (الحجر27:15)
    ترجمہ: اور یقینا ہم نے انسان کو گلے سڑے کیچڑ سے بنی ہوئی خشک کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں سے پیدا کیا ہے۔
    جیسا کہ مندرجہ بالا آیات وضاحت سے بتاتی ہیں کہ جس طرح ظروف سازی کیلئے چکنی مٹی کی پلیٹیں استعمال کی جاتی ہیں اسی طرح زندگی کے آغاز میں استعمال ہونے والا مواد سیاہ گارے جیسا گلا سڑانامیاتی مادہ ہی تھا۔
    چونکہ مفسرین اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ انسان مٹی کے برتنوں سے کس طرح بنایا گیا ہو گا اس لئے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ جب ٹھیکریاں آپس میں ٹکراتی ہیں تو آواز پیدا ہوتی ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے سمجھا کہ اس آیت میں انسان کے بولنے کی صلاحیت کا ذکر ہے۔ یہ ایک دور کی کوڑی ہے جس سے الفخّار کے اصل معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔ اب جبکہ ہم نے عمل ارتقاکے درمیانی (intermediary)مراحل کو سمجھنا شروع کر دیا ہے،جب زندگی کے اجزائے ترکیبی تشکیل پا رہے تھے لہٰذاہمارے لئے اس اصطلاح کو بہتر طور پر سمجھناممکن ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں قرآنی اصطلاح الفخّار کا یہی مفہوم ہے۔
    سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب یہ مادہ مزید خشک ہوا تو چکنی مٹی کی غیر متناسب قلمیں بنی ہوں گی جو نہایت باریک اوراق کی صورت میں ایک دوسرے کے اوپر ظروف سازی کی مانند تہ بہ تہ واقع ہوئی ہوں گی۔ ایک اور دلچسپ بات یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ باریک تہ چڑھانے کا یہ عمل ایک اور اہم مقصد کو بھی پورا کرتا ہے یعنی کیمیاوی ردّعمل کے لئے مادہ کے حدود اربعہ کو مزید وسیع کر دیتا ہے۔ ابرق اور چکنی مٹی سیلیکیٹ کی تہوں پر مشتمل ہوا کرتے ہیں جن کے درمیان پانی کے سالمے ہوتے ہیں جو انہیں علیحدہ علیحدہ رکھتے ہیں اور ان کا باہمی فاصلہ صرف 0.71نینو میٹر ہوتا ہے (ایک نینو میٹر ایک سنٹی میٹر کے کروڑویں حصہ کے برابر ہوتا ہے)جس سے اس کی سطح کا رقبہ بڑھ جانے کی وجہ سے سالموں کے اس پر زیادہ تعداد میں چپکنے کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔ پس خشک مٹی کا ایک مکعب جس کی سمت اگر ایک سنٹی میٹر ہو تو اس کی سطح کا کل رقبہ تقریباً 2800مربع میٹر ہو گا جو کہ ایک ایکڑ کے تین چوتھائی کے برابر ہے۔
    آغاز حیات کیلئے درکار مادہ کی تخلیق کے شواہد معلوم کرنے کیلئے سائنسدان جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں اس کا مختصر ذکر تو گزر چکا ہے۔ اس سلسلہ میں بعد ازاں جو کام ہوا اس کا ذکر کائن(Coyne) کی گہری تحقیق کے حوالہ سے ذیل میں کیا جاتا ہے۔
    کائن(Coyne) جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے وابستہ تھے، کیمیاوی ارتقا کے ابتدائی مراحل میں چکنی مٹی کی ایک قسم Kaolinite کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چکنی مٹی کی یہ اقسام تابکاری کے ذریعہ ماحول سے توانائی حاصل کر کے اس کا ذخیرہ کرتی ہیں اور بار بار گیلا یا خشک ہونے کے عمل سے یہ ذخیرہ شدہ توانائی ماحول میں واپس لوٹا دیتی ہیں۔ 4
    تحقیق اور تدقیق کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ دراصل سائنسدانوں کی تمام تحقیق اور حیات کے آغاز کی عقدہ کشائی کے سلسلہ میں تمام کاوشیں اس قدیمی شوربہ سے آگے نہیں بڑھ سکیں جس کی تہ تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔ اس راز سے ہنوز پردہ نہیں اٹھ سکا کہ تخلیق کے عمل کی دھندلی صبح کے وقت سمندروں کے قدیمی شوربہ میں کیا کچھ ہوا اور کیسے ہوا؟ اس سلسلہ میں تحقیق کی ابھی شروعات ہی ہوئی ہیں۔
    حیاتیاتی ارتقا کے ابتدائی مراحل میںکھنکنے والی چکنی مٹی کے حیرت انگیز کردار کا جائزہ لینے کے بعد اب ہم قرآن کریم کے چودہ سو سال پہلے کے خیرہ کر دینے والے دعویٰ پر غور کرتے ہیں۔ یہ خیال کہ آدم کی تخلیق کھنکنے والی چکنی مٹی سے ہوئی نہ صرف انوکھا اور منفرد ہے بلکہ تخلیق آدم کے اس وقت کے ہم عصراور معروف نظریہ کے بھی بالکل برعکس ہے۔ مروجہ کہانیوں سے متاثر ہو کر ایک سیدھا سا دہ ذہن سوچ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اور مٹی کو ملا کر اس قدر خشک کیا ہو گا کہ وہ کسی بھی شکل میں ڈھل جانے کے قابل ہو گئی۔ جس کے بعد اس کو محض انسانی شکل میں ڈھالے جانے کا عمل باقی رہ گیا ہو گا۔ اور یوں آدم اپنے تمام ترنامیاتی اجزا سمیت مٹی سے جی اٹھا اور اسی لمحہ اس کے جسم کو تمام ضروری اجزا مثلاً RNA، DNA،کروموسومز (Chromosomes)، جینز(Genes)اور جسمانی اور تولیدی خلیوں وغیرہ سے آراستہ کر دیا گیا۔ کان، ناک اور آنکھیں وجود میں آئیں، خون کی نالیوں کو پیدا کیا گیا۔ نیز دل اور پھیپھڑوں کو تمام باریک در باریک اجزاء کے ساتھ مکمل کر کے موزوں ترین جگہ پر ر کھ دیا گیا اور ساتھ ہی لمحہ بھر میں مرکزی اعصابی اور دفاعی نظام بھی مکمل ہو گیا۔
    الہامی کتب کے بعض سادہ لو ح قارئین کے نزدیک خالق کی ایک ہی پھونک سے یہ تمام خوبیاں چکنی مٹی کے آدم کے بت میں یکدم داخل ہو گئیں۔ یہ نظریہ بھی اندھے ارتقا کی طرح عقل سے یکسر عاری ہے۔ جن سائنسدانوں کے نزدیک تخلیق میں خدایا کسی اور باشعور اور بالا ہستی کا ہاتھ نہیں وہ عہد نامہ قدیم کے بیان کو ظاہر پر محمول کرنے والوں کا ٹھٹھہ اڑاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا اپنا موقف بھی تو ویساہی مضحکہ خیز ہے۔ اگر عہد نامہ قدیم کے بیان کے لفظی معنی کئے جائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خداتعالیٰ خالق اور قادر مطلق تو ہے لیکن حکیم نہیں۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک حکیم خدا تخلیق کا ایسا احمقانہ منصوبہ سوچے جس میں کوئی ماہر کوزہ گر اسے اپنے ہی میدان میں شکست دے دے۔
    انسان کی تخلیق سے قبل ارتقا کا منصوبہ عجائبات قدرت کا حسین اور لاثانی شاہکار ہے۔ یہ بات تصور سے باہر ہے کہ ایسی تخلیق کے خالق کو خود اپنے بنائے گئے قوانین قدرت بھول گئے ہوں اور زندگی کے جن بنیادی اجزاء کو اس نے خود انتہائی ذہانت سے ڈیزائن کیا ہو اور باریک در باریک عجائبات سے ان چھوٹے چھوٹے خلیوں کو مزین کیا ہو، انہیں نظرانداز کر دے اور ارتقائے حیات کی اربوں سالہ تاریخ کو بھول جائے۔ اور جب وہ ایک اور آدم کو چکنی مٹی سے پورے انہماک سے بنا رہا تھا تو کیا اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ لاکھوں سال پہلے نہایت احسن طریق پر اسے پہلے ہی تخلیق کر چکا ہے۔ کرۂ ارض تو پہلے ہی نسل انسانی سے بھرا ہوا تھا۔ یہ لوگ باغِ عدن میں تخلیق آدم کی اس بے معنی تکرار کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہے ہوں گے۔
    ان مذہبی جنونیوں کے تخلیقِ انسانی کے بارہ میں اس بچگانہ خیال کو خواہ کوئی حقارت سے رد کر دے لیکن سیکولرسائنسدانوں کا نظریہ بھی کچھ کم قابل مذمّت نہیں۔ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ تخلیق کی سکیم کی لاتعداد پیچیدگیوں کے باوجود ارتقاکا منصوبہ نہایت عمدہ طریق سے پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ کچھ بھی ہو یہ لوگ اس حیران کن شاہکار کو محض ایسا اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہیںجو نہ صرف عقل سے عاری ہے بلکہ اندھا، بہرا اور گونگا بھی ہے۔ اس صورت میں مذہبی جوشیلوں کا تمسخر اڑانا انہیں زیب نہیں دیتا۔ ان کا ایسے خدا کے بارہ میں تصور جو تخلیق کے عظیم الشان منصوبہ کی تکمیل کے بعد خواہ کسی بھی قسم کے ضعف کا شکار ہو چکا ہو، ان ماہرینِ ارتقا کے تخلیقی قوت کے نظریہ سے بدرجہا بہتر ہے۔ ان کے نزدیک تخلیق کا یہ نہایت عمدہ اور حیرت انگیز پیچیدہ منصوبہ محض ایک ایسے وجود کے ذہن کی پیداوار اور عمل کا نتیجہ ہے جو بینائی اور عقل سے عاری ہے۔
    بائیبل کی کتاب پیدائش سے خدا کا جو تصور ابھرتا ہے اس کو اگر ظاہر پر محمول کیا جائے تو خدا نعوذباللہ ایک پیرفرتوت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن سائنسدان اس سے بھی زیادہ بیہودہ بات ہم سے منوانا چاہتے ہیں۔ نیچری اس بات پر مصر ہیں کہ اربوں سالہ حیاتیاتی ارتقا کے پیچھے عقل سے عاری محض اتفاقات کا ایک سلسلہ ہے جس نے ارتقاکے عمل کو نہایت پیچیدہ اور دشوار گزار مراحل سے گزار کر موجودہ صورت تک پہنچادیا ہے۔
    جب وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں ہالڈین (Holdane) کی تحقیقات نے ثابت کیا کہ جو ماحول ابتداء میں موجود تھا اس کے مطابق زندگی کا آغاز بغیر آکسیجن کے ہونا چاہئے تو بدقسمتی سے ان کا نظریہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ ہالڈین (Holdane) کے اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہوئے سائنسدان یقین رکھتے ہیں کہ آکسیجن کی غیر موجودگی کے باوجود غیر حیاتیاتی دور، حیاتیاتی دور میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس کے برعکس ہمیں یقین ہے کہ اگرچہ فضا میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود نہ بھی ہو پھر بھی یہ کسی نہ کسی طرح اتنی مقدار میں ضرور موجود ہو گی جو حیات کے لئے ضروری ہو۔ اس عمل کے بارہ میں ہمارے پاس کوئی متبادل حل نہیں، لیکن ہمارے عدم علم سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسا ہوا ہی نہیں ہوگا۔
    کسی خاص دور میں کئی لاینحل اور ناقابل فہم مسائل ایسے تھے جنہیں بعد کی تحقیقات نے قابل فہم بنا دیا۔ ایک معین مثال تو ڈائناسار (Dinosaurs) کی ہے کہ وہ کس طرح روئے زمین سے اچانک مفقود ہو گئے۔ یہ معمّہ ایک لمبے عرصہ تک لاینحل ہی رہا اور سائنسدان سمجھ نہ سکے کہ ڈائناسار کیونکر صفحۂ ہستی سے یکسر غائب ہو گئے حالانکہ ان سے بدرجہا کمزور انواع حیات بلا روک ٹوک ارتقائی عمل سے گزرتی رہیں۔ آخرکار یہ معمّہ اس وقت حل ہوا جب پتہ چلا کہ ساڑھے چھ کروڑ برس قبل ایک بہت بڑے شہاب ثاقب کے سمندر میں گرنے سے زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا تھا جس کے منفی اثرات بالخصوص ڈائناسار پر پڑے اور اس تبدیل شدہ ماحول میں ان کا زندہ رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔ جب تک اس بات کا علم نہ ہواتھا اس وقت تک اس کا تسلی بخش جواب کسی کے پاس نہ تھا کہ ڈائناسار کے دور کا اختتام اس قدر اچانک کیوں ہوا۔
    آزاد آکسیجن سے خالی ماحول کی مقابلۃً زیادہ آکسیجن والے ماحول میں تبدیلی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جیسے ڈائنا سار کا صفحہئہستی سے کالعدم ہو جانا۔ اگر سائنسدان حق پر ہیں تو اس امر کا فیصلہ کہ ہم حقیقت سے کس قدر دور ہیں، مستقبل ہی کرے گا۔ اگر سائنسدانوں کی سوچ درست ہے تو بعض ایسے سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے جن سے شاید ضیائی تالیف کے موجودہ دور کا وجود ہی مشتبہ ہو کر رہ جائے۔
    ہمارے ذہنوں میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ ضیائی تالیف کے دور کے آغاز کے وقت کیا کیا تغیرات رونما ہوئے۔ سائنس دانوں کی عمومی رائے کے مطابق ساری کی ساری آکسیجن مختلف غیر نامیاتی مرکبات مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) پانی (H2O)اور سیلیکان ڈائی آکسائیڈ (SiO2)سے منسلک تھی۔ بالفاظ دیگر نئے سرے سے وجود میں آنے والے حیاتیاتی اجزاء نے اپنی ضرورت کے مطابق آکسیجن خود تیار کی ہو گی۔ اس غیرحقیقی نظریہ کو بیان کرنے کے بعد کہ غالباً اس طرح ہوا ہو گا جبکہ ایسا ہوناممکن نہیں، ہم ضیائی تالیف اور کلوروفل کی حقیقت جیسے اہم موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور کلوروفل سے وابستہ غیر معمولی پیچیدگیوں پر غور کرتے ہیں۔
    چند ایسے ابتدائی سالموں کا تصور کریں جو ارتقا کے سفر میں آکسیجن سے یکسر خالی قدیم ماحول میں اچانک نمودار ہوئے جنہوں نے آئندہ چل کر کہیں مستقبل میں ہر قسم کی زندگی کا پیش رو بننا تھا۔ یہ تصور جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی عجیب و غریب بھی ہے جس سے وابستہ بہت سے مسائل اور سربستہ راز ابھی حل ہونا باقی ہیں۔ حیات کے ان اوّلین سالموں کی بقا کے لئے محض ضیائی تالیف کافی نہیں تھی۔ سورج سے حاصل شدہ توانائی کو کیٹابولِزم یا عملِ تحول کے ذریعہ محفوظ اور قابل استعمال بنایا جانا بھی ضروری تھا جس کیلئے آزاد آکسیجن درکار تھی۔ لیکن ان کے نظریہ کے مطابق اس زمانہ میں یا تو یہ میسر ہی نہیں تھی یا اس کا حصول انتہائی دشوار تھا۔ اس دور میں طوفان کثرت سے آتے تھے اور فضائی نظام اکثر درہم برہم رہتا تھا۔ اس لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ زندگی نے پیدا ہوتے ہی اپنے لئے آکسیجن خود ہی بنانا شروع کر دی ہو اور کیٹا بولزم یا تحول کا عمل جاری رکھنے کیلئے اس آکسیجن کو ماحول سے واپس لے کر اپنے نظام میں جذب کر لیا ہو۔ حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے قدیم اجداد نے زندگی کا سفر شروع کیا بھی ہو گا تو کیسے؟ کیونکہ زندہ رہنے کیلئے انہیں جس آکسیجن کی ضرورت تھی وہ تو انہوں نے ضیائیتالیف کی مدد سے از خودتیار کرنا تھی۔ یہ خیال واقعی انوکھا ہے کہ پیدائش کے وقت وہ آکسیجن کے بغیر اس وقت تک زندہ رہے۔ گویا انہوں نے اپنی سانس روکے رکھی یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضرورت یعنی آکسیجن بنانے اور اسے فضا سے دوبارہ حاصل کرنے کے قابل ہو گئے۔
    اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ خوش قسمتی سے ان کی زندگی کا آغاز کسی روشن صبح کو ہوا ہو گا۔ کیونکہ صرف اسی صورت میں ضیائی تالیف اپنا وہ عمل شرو ع کر سکتی تھی جس کے نتیجہ میں آکسیجن کا بنناممکن تھا۔ لیکن محض اتنا ہی کافی نہ تھا بلکہ یہ بھی ضروری تھا کہ یہ آکسیجن حیاتیاتی اجزاء کے اس قدر قریب رہتی کہ اسے فوری طور پر استعمال کیا جا سکتا۔ طوفانی اور شوریدہ ماحول میں ممکن نہ تھا کہ پیدا ہوتے ہی یہ تھوڑی سی آکسیجن ان کے آس پاس موجود بھی رہتی جسے بوقت ضرورت واپس عمل تنفس کے ذریعہ استعمال کیا جا سکتا۔
    ہر ایٹم عمل تالیف کے ذریعہ جس تیزی سے پیدا ہو رہا تھا اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ طوفانی ہوائیں اسے اڑالے جاتی ہوں گی۔ کیا کوئی حیات کے ان خلیات کی بے کسی کا تصور کر سکتا ہے کہ سانس لینے سے قبل ہی وہ آکسیجن کو اپنی دسترس سے باہر جاتا ہوا دیکھتے ہوں گے؟ لیکن اسی پر بس نہیں۔ آخر دن بھی اپنی دھوپ، روشنی اور سکون کے ساتھ رات میں بدل جاتا ہوگا۔
    زمانہ قبل از تاریخ کے شب وروز کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اب ہم عہد نامہ قدیم کی طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ یہ جان سکیں کہ آسمانی صحائف کے مطابق زمانہ قبل از تاریخ میں کیا کیا واقعات ظہور پذیر ہو رہے تھے۔
    ’’اور زمین ویران اور سنسان تھی۔ اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔ اور خدا نے کہا کہ روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی۔ اور خدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے۔ اور خدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا اور خدا نے روشنی کو تو دن کہا اور تاریکی کو رات۔ اور شام ہوئی اور صبح ہوئی سو پہلا دن ہوا۔‘‘ (پیدائش 5-2:1)
    جیسا کہ مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہے اس روشن دن میں پہلی مرتبہ جو ابتدائی اجزائے حیات ظہور میں آئے زمین میں ان کے بچ نکلنے کا امکان تو تھا لیکن کم۔ لیکن بالآخر وہ دن ختم ہو گیا ہو گا اور دوسرے دن کے شروع ہونے سے قبل ضیائی تالیف کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہو گا۔ حیات کے ان سالموں نے آکسیجن کے بغیر اپنی پہلی رات کن مشکلات میں گزاری ہوگی، کیونکہ اتنا لمبا عرصہ تو ماہر یوگی بھی سانس نہیں روک سکتے۔ چنانچہ اس شام ان بیچاروں پر روشنی کا نہیں بلکہ زندگی کا سورج غروب ہو گیا ہو گا۔
    اس تعلق میں یقیناکئی ایک تناظر پیش کئے جاتے ہیں۔ قانونِ انتخابِ طبعی (Natural Selection) کا ذکر بھی سرسری طور پر کر دیا جاتا ہے مگر کوئی ٹھوس حل پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ تو سائنسدانوں کے لئے ایک گھسا پٹا فرسودہ نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ سائنسدانوں کا سامنا جب اس چیلنج سے ہوتا ہے کہ یہ بڑی بڑی اور پیچیدہ اشیاء حادثاتی طور پر کیسے ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ معرض وجود میں آگئیں تو شک کا فائدہ اٹھانے والے سائنسدان قانون انتخابِ طبعی کے محاورہ کا سہارالیتے ہیں۔ ڈکرسن (Dickerson)نے چند ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کو وہ آج تک حل نہیں کر پائے۔
    ذیل میں ہم ڈکرسن (Dickerson)کے پیش کردہ پانچ مدارج کو اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
    .1کسی سیارہ اور اس کی بیشمار اقسام کی گیسوں سے معمور فضا جن سے زندگی کی تخلیق ہوئی ہے کوئی اتنا سیدھا سادہ عمل نہیں جتنا کہ نظر آتا ہے۔
    متعدد اقسام کی گیسوں کا مطلوبہ تناسب کے ساتھ زمین کی ابتداء ہی سے بنتے چلے جانا بجائے خود اپنے اندر ایسی پیچیدگیاں رکھتا ہے جو خصوصی توجہ کی متقاضی ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ زمین کی فضا میں گیسوں کے تناسب کی ہر تبدیلی پر ’کیسے‘ اور ’کیوں‘ کا سوال ابھرتا ہے۔ زمین کی فضا کا ساڑھے تین ارب سال تک آکسیجن کے بغیر رہنا محض حادثاتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان مشکلات میں اس امر کا اضافہ بھی کر لیا جائے کہ زمین پر آسمان سے مسلسل طاقتور تابکار شعاعوں کی ہونے والی بوچھاڑ بھی ابتدائی حیات کیلئے کتنی تباہ کن تھی تو اس سے درپیش مشکلات کا کچھ ادراک ہو سکتا ہے۔ جب تک ان مضر اثرات سے بچنے کیلئے کوئی دفاعی تدابیر اختیار نہ کی جاتیں تب تک زمین پر کسی قسم کی حیات کی بقا کا کوئی امکان نہ تھا۔
    .2 حیاتیاتی مرکبات مثلاً امینوایسڈ (Amino Acids)، نشاستہ اور نامیاتی بنیادیں (Organic Bases) پچاس کروڑ برس تک وجود میں آتی رہیں اور اس دور میں جو کچھ بھی ہوا وہ یقینا بیشمار مشکلات کاشکار ہوا ہو گا۔
    .3 زندگی کے آغاز ہی میں ان مرکبات کا پانی میں آپس میں یوں جڑ کر ابتدائی لحمیات اور نیوکلیک ایسڈ (Nucleic Acid) کی لڑیوں کی شکل اختیار کرنا ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ صرف اس مرحلہ کو سمجھنے کیلئے ہی کثیر تعداد میں ایسے سائنسدانوں کی ضرورت ہے جو اپنی ساری زندگی صرف اسی کام کیلئے وقف کردیں۔ پچاس سال سے زائد عرصہ کی گہر ی اور مسلسل تحقیق کے باوجود بھی سائنسدان تا حال اس معمولی سی گتھی کو سلجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ پروٹین یعنی لحمیات کا ارتقاکیسے ہوا؟ بالفاظِ دیگر یہ مسئلہ کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈہ، ابھی تک حل طلب ہے۔
    .4 زندگی کی ابتداء میں ہالڈین (Holdane)کے مجوزہ سوپ یا آمیزہ کی Protobiontsمیں تقسیم اور ہر جزو کی اپنی کیمیاوی ساخت اور پہچان کا ہونا بھی ایک بہت بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔
    .5 آخری اہم بات یہ معلوم کرنا ہے کہ ابتدائی اجزائے زندگی میں نظامِ تولید کا اجراء کیسے ہوا۔ کیونکہ نئے خلیوں میں ویسی ہی کیمیائی اورمیٹا بولک(Metabolic) استعدادوں کاہونا نہایت ضروری تھا جو ان کے پیشروؤں میں موجود تھیں۔
    اس باب کے اختتام سے قبل ہم چند اور مثالوں سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سائنسدان زندگی کے ازخود وجود میں آنے کے نظریہ کے بارہ میں کتنی مشکلات کا شکار ہیں۔ کیمیائی ارتقا نے کروڑوں چھوٹے چھوٹے نظرنہ آنے والے مراحل میں سے اپنا راستہ بنایا۔ اس چیلنج کو سمجھنے کیلئے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ یہ اندازہ لگایا جائے کہ ہر کیمیائی قدم ایک خاص سمت میں کیسے اٹھایا گیا اور اس دوران اس پر کیا کیا قدرتی اثرات مرتّب ہوئے۔ بلکہ اس بات کا اندازہ لگانا اور بھی دشوار ہے کہ مذکورہ کیمیائی مراحل یکے بعد دیگرے کس طرح ایک موزوں اور منظم ترتیب سے ایک لڑی کی صورت میں اس طرح پروئے گئے کہ ہر جزو اپنی اپنی مناسب جگہ اور مقام پر موجود ہے۔ کسی سائنس دان کے لئے یہ کہنا کتنا آسان ہے کہ biontsکے عمل تخمیر سے توانائی حاصل کرنے کا دور جب ختم ہوا تو ضیائی تالیف کا دور شروع ہو گیا۔ مگر ایک دور کے خاتمہ اور دوسرے کے آغاز پر درپیش مسائل کا تصور کرنا اور ان کا حل تجویز کرنا بہت مشکل کام ہے۔
    ہر زندہ خلیہ میں فاسفورس کی موجودگی کا جو از پیش کرنا بھی ضروری ہے جو کہ ایک کمیاب عنصر ہے مزید برآں مالیبڈینم (Molybdenum) کو ہی لے لیجئے اور اس قسم کے چند اور عناصر کو بھی جو بہت کمیاب ہیں مگر حیات کی تیاری میںبنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سب کو شامل کر لینے سے معاملہ اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے۔ بعض سائنسدانوں نے تو اس کا یہ حل بھی تجویز کیا ہے کہ حیات کہیں باہر سے زمین پر آئی ہے کیونکہ فاسفورس اور مالیبڈینم وہاں نسبتاً زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا کہ اگر حیات باہر سے زمین پر آئی ہے تو اسے فاسفورس اور مالیبڈینم اب تک کیسے مسلسل میسر آتے رہے؟ حیات ایسے غیرموافق ماحول میں بلاروک ٹوک کیسے نشوونما پاتی رہی جہاں اسے فاسفورس اور مالیبڈینم جیسے ضروری عناصر بآسانی میسر نہ تھے؟
    سائنسدانوں کو ایک اور مشکل یہ در پیش ہے کہ دو ایسے مظاہر قدرت بیک وقت موجود ہیں جن پر زندگی کے قیام اور تسلسل کا دارومدار ہے۔ ہر زندہ خلیہ دو بنیادی صفات کا حامل ہوتا ہے۔ ایک عملِ تحول اور دوسرا عمل تولید۔ مگر مشکل یہ ہے کہ نہ تو نیو کلیک ایسڈکسی خامرہ کے بغیر وجود میں آسکتا ہے اور نہ ہی کوئی خامرہ نیو کلیک ایسڈ کے بغیر پیدا ہو سکتا ہے۔ کرِک (Crick) اور واٹسن(Watson) کے مطابق DNA عمل انگیز لحمیات یا خامرات کے بغیر اپنے جیسا مزید DNA تیار نہیں کر سکتا۔ المختصر، نہ تو لحمیات DNA کے بغیر جنم لے سکتی ہیں اور نہ ہی DNA لحمیات کے بغیر وجود میں آ سکتا ہے۔ زندگی کی ابتداء کے بارہ میں غورو فکر کرنے والوں کو یہاں بھی مرغی اور انڈے جیسا ایک معمّہ درپیش ہے کہ پہلے کیا چیز وجود میں آئی۔ لحمیات یا DNA ؟
    اس مشکل سے جان چھڑانے کیلئے بعض سائنسدان تجویز کرتے ہیں کہ DNA اور لحمیات نے الگ الگ متوازی طور پر ارتقا کے مراحل طے کئے یہاںتک کہ آگے چل کر دونوں کے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کا دور شروع ہوا۔ بظاہر تو یہ ایک حیرت انگیز تجویز ہے لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو نہ تو اس میں ذہانت کا کوئی عنصر دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عقلمندی کا کوئی شائبہ۔ انہوں نے اس حقیقت سے آنکھیں چرالیں کہ دونوں کا الگ الگ ارتقا کیسے ممکن ہوا اور وہ کیسے باہم متوازی سمت میں چلتے رہے۔ جبکہ ہر مرحلہ پر ان کی بقا کا دارومدار باہم ایک دوسرے کے بغیر ناممکن تھا۔
    یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام ممکنات کے محض اتفاقیہ طور پر اکٹھا ہونے کے نتیجہ میں یہ عمل ہوا اور اس طرح بظاہر ایک ناممکن بات ان تجربہ کار سائنسدانوں کی نگرانی کے بغیر ہی ممکن ہو گئی ہو۔ ان سائنسدانوں کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جدید سامان سے آراستہ سائنسی لیبارٹری کی ضرورت تو تھی لیکن مذکورہ معمّہ ماحول کو کنٹرول کئے بغیر خود بخود کیسے معرض وجود میں آگیا؟ جن لوگوں نے یہ تجربات کئے انہوں نے RNAسے لحمیات اور خامروں کی غیر موجودگی میں مزید RNA بنانے کی کوشش کی جبکہ لحمیات اور خامروں کی غیر موجودگی میں RNA خود مزید RNA نہیں بنا سکتا۔ لیکن انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا کہ اس مشکل سوال کے حل کرنے کی کوشش میں ان کی کامیابی دراصل کوئی کامیابی نہیں ہے۔ ہارگن (Horgan) تسلیم کرتا ہے کہ یہ سائنسی تجربات اتنے پیچیدہ ہیں کہ یہ آغازِ حیات کے کسی بھی قابل قبول حل کی نمائندگی نہیں کرتے۔ چنانچہ آرگل (Orgel) نے ان تجربات کے بعد تسلیم کیا کہ:
    ’’ان تجربات میں بے شمار امور کی درست حالت میں موجودگی اور کسی بھی غلطی کے امکان کی عدم موجودگی نہایت ضروری ہے۔‘‘5
    وہ اور ہارگن اس بات پر متفق ہیں کہ لیبارٹری کے انتہائی محتاط حالات میں ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت نہیں کہ ابتدائے آفرینش سے قبل آزاد ماحول میں بھی یہ سب کچھ اسی طرح ظہور میں آیا ہو۔ J. Szostak نے بھی اپنے طور پر اس سے ملتے جلتے کامیاب تجربات کئے مگر یہ تجربات بھی لیبارٹری میں ہی کئے گئے۔
    ‏Santa Clara Universityکے Harold P. Kleinنے اپنے شکوک کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
    ’’.......اس کا تصور کرنا بھی تقریباً ناممکن ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟‘‘6
    ہمیں صرف لفظ ’’تقریباً‘‘ پر اعتراض ہے۔ انہیں واضح طور پر اقرار کرنا چاہئے تھا کہ خداتعالیٰ کے وجود کے بغیر ایسا ہونا قطعاً ناممکن ہے۔
    ڈکرسن لحمیات اور نیوکلیک ایسڈ کے باہمی اشتراک کی وجہ معلوم کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے تسلیم کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔
    دو متوازی نظام آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہو جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے معاون بن جائیں اور ایک نظام دوسرے کو جنم دینے والا ہو، وہ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ تو وہی مرغی اور انڈے کی پیدائش والا معمہ ہے کہ کون پہلے پیدا ہوا۔ بایں ہمہ اس کا پیش کردہ حل نہایت ناقص ہے۔ اس کے نزدیک انڈے اور مرغی کو علیحدہ علیحدہ ترقی کرنی چاہئے تھی اور ان کا ارتقابھی ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ہونا چاہئے تھا۔
    جو لوگ ڈکرسن کو اس لئے عظیم سمجھتے ہیں کہ اس کا زندگی کے آغاز کامعمہ حل کرنے کا ابتدائی کام نہایت عظیم الشان ہے وہ بھی یقینا اس کے اس سادہ لوحی پر مبنی بیان پر دنگ رہ گئے ہوں گے۔ ڈکرسن کو صرف یہ رعایت دی جا سکتی ہے کہ شاید وہ اس طویل اور دشوار تحقیق کے نتیجہ میں بری طرح تھک گئے ہوں گے جو وہ خدا کے وجود کا اقرار کئے بغیر اس معمہ کے حل کیلئے کرتے رہے۔ لیکن اللہتعالیٰ کے وجود کا اقرار کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ کیونکہ سب کچھ اس قادرِ مطلق کے ہاتھ میں ہو تو پھر مظاہر قدرت میں کسی قسم کے paradox یا تناقض کا امکان نہیںرہتا۔ سائنسدانوں کا ایک ایسی اعلیٰ، علیم و خبیر اور مقتدر بالارادہ ہستی کو جو تخلیق کے پیچیدہ عمل کی خالق ہے، تسلیم نہ کرنا ایک ناقابلِفہم امر ہے جو بیّن حقائق سے جان بوجھ کر آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ہستی ٔباری تعالیٰ کے اقرار سے یہ نام نہاد تضادات خودبخود دور ہو جاتے ہیں۔ قرآن کریم اعلان کرتا ہے:

    (الملک5-4:67)
    ترجمہ: وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔ تو رحمان خدا کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ پس نظر دوڑا۔ کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے۔ نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا۔ تیری طرف نظر ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہو گی۔
    ڈکرسن اور ان جیسے دیگر سیکولر سائنسدانوں کی مشکل یہ ہے کہ انہوں نے سوچ رکھا ہے اور اس پر انہیں فخر ہے کہ کائنات کے نظام میں خداتعالیٰ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ کائنات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ لیکن یہ تضاد اسی لمحہ شروع ہو جاتا ہے جس لمحہ خداتعالیٰ کو اس کی اپنی کائنات کی تخلیق کے امر سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں جو تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو تی ہے اس کی مثال کا ڈکرسن کے پیش کردہ مذکورہ بالا حل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ صورت حال ان کے لئے کامل شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
    بطور یاددہانی بتاتے چلیں کہ DNAکی طرف سے جاری ہونے والی معلومات اور ہدایات کو معین مقامات تک پہنچانے کے لئے RNA کے سالمے پیغام رسانی کا کام دیتے ہیں جہاں ان ہدایات کی تعمیل کی جاتی ہے۔ جب سائنسدان قدرت کے اس پیچیدہ عمل کے رخ پر سے پردہ اٹھاتے ہیں تواس عمل کی پیچیدگی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مشکل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ پیغام رساں RNA مالیکیول کے ساتھ ایک مخصوص امینوایسڈ کوجوڑنے کیلئے ایک ایسے توانائی مہیا کرنے والے خامرہ کی ضرورت ہوتی ہے جو دوسری طرف موجود اینٹی کوڈان (anticodon) کو شناخت کر سکے۔ مگر دقت یہ ہے کہ توانائی مہیا کرنے والا یہ خامرہ اسی عمل کے دوران پیدا ہوتا ہے جسے اس نے آگے بڑھانا ہے۔ یعنی پھر وہی انڈے اور مرغی والا مسئلہ!
    مذکورہ بالا مطالعہ سے یہ احساس ہوتا ہے کہDNA، RNA کی ماں ہے۔ اگرچہ RNAکی ہو بہو نقل بنانے کا کوڈ DNA کی جینز (genes) میں موجود ہے مگر سائنسدانوں کو یقین ہے کہ بعض حالات میں RNA، DNA سے بھی پہلے موجود تھے۔ اسے ایک اور مرغی اور انڈے والا معمہ کہہ لیں یا کوئی اور نام دے لیں یہ بات تو پھر بھی حل طلب ہی رہے گی کہ RNA، DNA سے پہلے کیسے معرضِ وجود میں آ گئی۔
    پس سائنسدان اس معمہ کو حل کرنے کیلئے جس راہ پر بھی قدم مارتے ہیں انہیں اسی برسوں پرانی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس تحقیق کی راہ میںپتھر کی دیوار حائل ہے۔ تاہم ڈکرسن نے ان دونوں کے ارتقا کو متوازی قرار دے کر اس مشکل سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔ اگر واقعۃً ایسا ہی ہوا ہے تو اس تناظر میں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ارتقا کے انہی متوازی خطوط پر چلتے ہوئے اربوں سال سے انڈوں سے انڈے اور مرغیوں سے مرغیاں جنم لیتی چلی آرہی ہیں۔ اس صورت میں یہ ایک دوسرے پر انحصار کئے بغیر زندہ رہے۔ چنانچہ ایک سہانی صبح مرغی کو انڈے دینے کا خیال آیا اور انڈوں نے مرغیاں پیدا کرنے کی ٹھان لی۔ یوں یہ کہانی دونوں کے باہمی مفاد کے حوالہ سے اپنے منطقی اختتام کو پہنچی اور وہ ایک دوسرے کو جنم دیتے ہوئے اکٹھے ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔
    ہم دل کی گہرائی سے ڈکرسن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور سائنسی مسائل کے حل کی تلاش میں ان کے متوازن اور غیر متعصبانہ رویہ کو سراہتے ہیں مگر پھر بھی ڈکرسن کی یہ تجویز حیران کن ضرور ہے۔ شاید یہ ایک سائنسدان کا نپاتُلا نتیجہ نہیں بلکہ شدید تکلیف میں مبتلا ڈکرسن کی روح کی پکار ہے جس کا واحد علاج ہستی ٔباری تعالیٰ کا اقرار ہے۔
    ہم نے ابھی عظیم سائنسدانوں کے اس اقرار کا ذکر کیا ہے کہ وہ باوجود انتہائی کوشش کے زندگی کا معمّہ حل نہیں کر سکے۔ ان کی تحقیقات میں قاری کو کہیں بھی کلوروفل کی پیچیدگیوں کا ذکر نہیں ملتا،جسے انہوں نے محض سبز رنگ کا ایک مادہ قرار دے کر چھوڑ دیا ہے۔ نہ ہی دیگر پیچیدہ نامیاتی مرکبات کی طرح اس کے ارتقا کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ کلوروفل کا کبھی ارتقا نہیں ہوا اور نہ ہی خشکی، ہوایا سمندر میں اس کے ارتقا کے کوئی آثار ملتے ہیں۔
    زمین پر زندگی کی ابتداء کے ساتھ ہی کلوروفل کے حامل پودوں نے سورج کی روشنی کو جذب کر کے اسے کیمیاوی توانائی میں تبدیل کرنا شروع کر دیا جس سے غیر نامیاتی مرکبات نامیاتی مرکبات میں بدل گئے۔ اس عمل کے دوران ان مرکبات نے کاربن ڈائی آکسائیڈ اورپانی سے کاربوہائیڈریٹ تیار کیا اور بیک وقت آکسیجن خارج کی جس کا کیمیائی فارمولا یہ ہے:
    شمسی توانائی
    ‏ C6H12O6 + 6O2 --------------> 6CO2 + 6H2O
    کلوروفل کی دو قسمیں ہیں:
    کلوروفِل A (C55H72MgN4O5) اورکلوروفل B (C55H70MgN4O6)
    ان فارمولوں کی ترکیب ہیموگلوبن (Haemoglobin)کی ترکیب کی طرح اپنی پیچیدگی میں کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہے۔ اس میں ہر عنصر ایک خاص ترتیب سے اپنے مقام پر موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ Stenen Rose اپنی تصنیف 'The Chemistry of Life' میں یوں رقمطراز ہیں:
    ’’اگرچہ کلوروفل ضیائی تالیف (Photosynthetic Pigment) کا واحد ذریعہ نہیں مگر اس کا لازمی جزو ضرور ہے ....اس کے سالمہ کے قطبی حصہ کا ڈیزائن درحقیقت سائٹوکرومز (Cytochromes) اور ہمیوگلوبن(Haemoglobin) کے سالموںکے قطبی حصہ کے ڈیزائن سے ملتا جلتا ہے۔ ہیم (Haem) کی طرح اس میں بھی کاربن اور نائٹروجن کی چار کڑیاں ایک دائرے کی صورت میں جڑی ہوتی ہیں جنہیں پائرول رنگز (Pyrrole Rings)کہا جاتاہے۔ یہ میٹھے آٹے کے پیڑے(doughnut )سے مشابہ ہے جس کے درمیان ایک بڑا سا سوراخ ہوتا ہے۔ ہیم کا یہ سوراخ لوہے سے جبکہ کلوروفل میں میگنیشیم سے پُر ہوتا ہے۔ ان کروی ساختوں میں ترتیب واراکہری اوردہری کڑیاں ہوتی ہیں اور جب یہ کڑیاں روشنی کی ایک معین اور قلیل مقدار جذب کر لیتی ہیں جس کی اپنی ایک طول موج (Wavelength) ہوتی ہے تو اس سے ان کڑیوں کے اردگرد ایک قسم کا ارتعاش اور گونج پیدا ہوتی ہے۔ چونکہLamellaeمیں تمام Pigment سالمے باہم منسلک ہوتے ہیں اس لئے مرتعش توانائی ایک رنگدار سالمہ سے دوسرے رنگدار سالمہ میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے اور آخرکار کلوروفل ہی کے ذریعہ سے مختلف سالموں میں پہنچا دی جاتی ہے جہاں سے وہ ضائع نہیں ہو سکتی۔ توانائی کو محفوظ کرنے والا یہ خاص قسم کا سالمہ، کلوروفل کے تین سو عام سالموں سے توانائی حاصل کر کے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس طرح روشنی سے حاصل کردہ توانائی اتنی بڑی مقدار میں ایک ہی جگہ پر مرتکز ہو جاتی ہے کہ دوسرے سالمہ کو یہ صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ کسی الیکٹران کو الیکٹران قبول کرنے والے کسی ایسے حصہ کو منتقل کر دے جو خود کلوروفل سے خالی ہو اور متعدد درمیانی واسطوں کے ذریعہ اس الیکٹران کو آگے NADPتک منتقل کر دے…
    مگر قابل غور امر یہ ہے کہ سوائے کلوروفل والے حصہ کے جس کا کام پانی کے سالمہ کو تقسیم کر کے ابتدائی توانائی حاصل کرنا ہے ضیائی تالیف کے باقی تمام مراحل، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انجماد کا عمل اور نشاستہ (Sugars) کی تالیف جس طریق سے ہوتی ہے اس کا علم ہمیں پہلے ہی حیواناتی خلیہ کے نامیاتی مطالعہ سے ہوچکا ہے۔‘‘ 7
    کلوروفل کے نہایت پیچیدہ اور بڑے سالمے میں ایٹموں کی ایک لمبی زنجیر ہوتی ہے جس میں ہر ایٹم ایک مخصوص جگہ پر خاص ترتیب کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس ترتیب کی کسی کڑی میں معمولی سی تبدیلی بھی کلوروفل کی اہمیت اور کردار کو ضائع کر دیتی ہے۔ ہر قسم کی زندگی کا انحصار توانائی کے اس بنیادی ماخذ پر ہے مگر اس عمل کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے نشاستہ کو جاندار ایسی حالت میں استعمال نہیں کر سکتے۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے تمام کیمیاوی مراحل کا دارومدار ATP اور ADP پر ہوتا ہے جن میں دو یا تین فاسفیٹ گروپ لازماً پائے جاتے ہیں۔ ان دونوں میں فاسفورس گروپ مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ اہم جزو ہے جو پودوں اور جانوروں کے ہر زندہ خلیہ میں موجود ہوتا ہے اور جاندار اشیاء کو درکار بے شمار نامیاتی مرکبات کو تیار کرنے والے کارخانہ کو چلاتا ہے۔
    مذکورہ بالا بحث میں ہم نے دراصل تخلیق کے ان تین پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے جو سربستہ راز ہیں اور جو عموماً سائنسدانوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ مگر زندگی کے آغاز پر تحقیق کرنے والے تمام عظیم سائنسدانوں نے ان رازوں کے رخ سے پردہ اٹھانے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کلوروفل تو ایک استثناء ہے۔ اس معمّہ کو حل کرنے کی بجائے وہ ایسی مشکلات کے حل میں الجھ جاتے ہیں جن کے بارہ میں ان کے پاس کم از کم کوئی جزوی حل موجود ہو۔
    یہ لوگ کلوروفل پر تحقیق کرنے سے اس لئے کتراتے ہیں کہ شاید انہیں مکمل احساس ہے کہ یہ بے انتہا پیچیدہ کیمیاوی مادہ یکدم وجود میں نہیں آیا اور اگر اس کا ارتقا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے پیچھے ارتقا کی ایک لمبی داستان چھوڑی ہو گی۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ عدم سے اچانک وجود میں نہیں آیا۔ بلکہ یہ ایک موجود حقیقت ہے۔ اس کی موجودگی ملحدوں، فلاسفروںاور سائنسدانوں کیلئے چیلنج ہے۔ وہ بتائیں کہ یہ یکدم کیسے وجود میں آ گیا؟ ہیموگلوبن کے ارتقاکا تصور کرنا آسان ہے مگر اس چھوٹے سے مادہ کے وجود کا جواز تقریباً ناممکن ہے۔

    حوالہ جات
    1. BARBIERI, M. (1985) The Semantic Theory of Evolution. Harwood Academic Publishers: p.86
    2. OLOMUCKI, M. (1993) The Chemistry of Life. McGraw-Hill, Inc. France, p.55
    3. CAIRNS-SMITH, A.G. (June, 1985) The First Organisms. Scientific American: p.100
    4. CAIRNS-SMITH, A.G. (June, 1985) The First Organisms. Scientific American: p.100
    5. HORGAN, J. (February, 1991) In The Beginning. Scientific American: p.119
    6. HORGAN, J. (February, 1991) In The Beginning. Scientific American: p.120
    7. ROSE, S. (1991) The Chemistry of Life. Penguin Books Ltd., London, pp.353-355

    بقا: حادثہ یا منصوبہ بندی؟
    تمام جانداروں کی بقا کا معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں جتنا ڈارون کے نظریہ ’’بقائے اصلح‘‘ کے گھسے پٹے فارمولے کی روشنی میں نظر آتا ہے۔ یہ اصطلاح پورے طور پر صرف اس وقت ہی سمجھ میں آ سکتی ہے جب بعض مخصوص اور معین مثالوں کو پیش نظر رکھ کر اس کا جائزہ لیا جائے۔ ورنہ خدشہ ہے کہ یہ معروف اصطلاح لوگوں کی درست سمت میں رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں غلط راستہ پر نہ ڈال دے۔ اصل نزاع لفظ ’بہترین‘ یا’Fittest‘کا ہے جس کے صحیح مفہوم کا تعیّن کئے بغیر اس دعویٰ کو آزمایا نہیں جا سکتا اور جہاں تک ادنیٰ درجہ کی حیات سے اعلیٰ درجہ کی حیات تک کے ارتقا میں’بقائے اصلح‘ کے کردار کا تعلق ہے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ نظریہ غلط ثابت ہو جائے۔
    حیات کی کسی ایک خصوصیت کو دوسری پر ترجیح دینا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر ایک برتر نوع حیات بعض حالات میں مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتی جبکہ ایک کمتر درجہ کی نوع انہی حالات سے بآسانی گزر جاتی ہے۔ چنانچہ بحران کی نازک حالت میں قدرت خود بخود اس کمتر درجہ کی نوع کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کر دیا کرتی ہے۔
    شدید قسم کی خشک سالی کے دوران بہت سی کمتر درجہ کی انواع ِ حیات بچ جاتی ہیں جبکہ انسان اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکنے کے نتیجہ میں فنا ہو سکتا ہے۔ قدرتی آفات مثلاً درجہ حرارت میں اچانک تبدیلیاں، آتش فشاں کا پھٹنا، بگولے اور آندھیاں، جنگل کی آگ، سیلاب اور زلازل وغیرہ حیات کی مختلف انواع کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔
    ان حالات میں یہ بات خارج از امکان نہیں کہ چند گھنٹوں یا سیکنڈوں میں وہ سب کچھ تباہ وبرباد ہو جائے جسے عمل ارتقانے لاکھوں کروڑوں سالوں میں تیار کیا ہے۔ لیکن انہی خطرناک حالات میں کمتر درجہ کی انواع بلا روک ٹوک نشو و نما پاتی رہیں۔ یہ سوال حل طلب ہے کہ ان میںسے کونسی نوع بہترین ہے اور اس کے بہترین ہونے کو کس پیمانہ سے ناپا جا سکتا ہے؟
    یہ تو بقا کے ایک سیدھے سادے معاملہ سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہر بار صرف موزوں ترین یعنی Fittestہی باقی نہیں رہتا اور نہ ہی باقی رہ جانے والا ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ بعض انواع حیات بعض مخصوص حالات میں بقا کے حوالہ سے بہترین قرار دی جا سکتی ہیں اور بعض دیگر انواع کو بعض مختلف حالات میں بہترین کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ محض بقا کو انواع کی نسبتی خصوصیا ت کے موازنہ کا معیار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اب ہم جہد للبقا کے اس عمل کا تجزیہ کرتے ہیں جو ایک ہی نوع کے افراد کے مابین قدرتی آفات کے وقت جاری ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے تو ان نامساعد حالات کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور ختم ہو جاتے ہیں لیکن بعض ان خطرات کا اپنی فطری قوت کی مدد سے سامنا کرتے ہیں جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جن پر ایسے حالات اثرانداز ہی نہیں ہوتے۔ وہ بآسانی ان مصائب میں سے گزر جاتے ہیں جو دوسروں کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔ پیچش کی شدید وبا میں عین ممکن ہے کہ ایک نہایت مشہور و معروف سائنس دان ہلاک ہو جائے جبکہ دل و دماغ کی اعلیٰ استعدادوں سے عاری ایک کسان محض اپنے مضبوط نظامِہضم کی وجہ سے بچ نکلے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک وبائی مرض سے بچ جانے والا کسی اورمتعدی مرض کا شکار ہو جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض ہیضہ سے تو بچ جائیں مگر انفلوئنزا یا کسی اور معمولی موسمی بیماری کی بھینٹ چڑھ جائیں۔
    یہ زندگی کے نشیب و فراز ہیں اور کسی کا خاص حالات میں بچ نکلنا ایک نسبتی امر ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ بچ جانے والے ہر اعتبار سے زندہ رہنے کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ سائنسدان تو اس بات سے بھی آگاہ نہیں ہیں کہ انتخاب طبعی(Natural Selection) کا عمل کیوں بعض ایسے جانداروں سے ترجیحی سلوک کرتا ہے جو بظاہر زندہ رہنے کے قابل نہیںہوتے۔ کوئی ایسا واحد پیمانہ موجود نہیں ہے جس کی مدد سے ہر معاملہ کے بارہ میں حتمی رائے دی جا سکے۔ انتخاب طبعی کا یہ غیر شعوری عمل حق میںیا خلاف فیصلہ دیتے وقت کسی بھی معاملہ سے متعلق تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کو مد نظر نہیں رکھ سکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ زندگی اور موت کے قوانین عام طور پر بقا اور فنا کے سلسلہ میں انتخاب طبعی کے عمل کے براہ راست زیر اثر نہیں ہوا کرتے۔ کسی جانور کی زندگی یا موت کا فیصلہ ان بیشمار عوامل کی بنا پر ہوا کرتا ہے جو ایک عظیم آسمانی اور آفاقی نظام کا حصہ ہوا کرتے ہیں۔ یہ آسمانی نظام ارتقا کے عمل میں کبھی ممد نہ ہوتا اگر اس آسمانی سکیم کا ذرّہ ذرّہ ایک علیم و خبیر۔ خالق و مالک۔ ا رفع و اعلیٰ اور مقتدر بالارادہ ہستی کے کامل تصرف میں نہ ہوتا۔ اس کا انکار کرنے والے دراصل انکار کا فیصلہ پہلے سے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔ یعنی کسی خالق کو مانے بغیرارتقا پریقین رکھنے کا لازمی نتیجہ درحقیقت ارتقا کا انکار ہے۔
    ابتدائے آفر ینش سے کرہ ٔارض پر تخلیقِ انسان کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ زندگی استثنا ہے اور فنا قانون۔ اس کے بیشمار اسباب ہیں جن کا اتفاقات سے چولی دامن کا سا تھ ہے۔ ان عوامل کا شعور ہو جائے تو زندگی اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آنے لگے اور جاندار ایک مسلسل خوف اور دہشت کے عالم میں زندگی گزارنے لگیں۔ خوش قسمتی سے موت خاموشی سے آتی ہے اور انسان اکثر اس کے خطرہ سے بے خبر رہتا ہے۔ اگر انسان میں یقینی موت کی موجودگی کے باوجود بے خبری میں رہنے کی صلاحیت موجود نہ ہوتو زندگی ایک عذاب بن جائے۔
    پینے کے پانی میں پائے جانے والے جراثیم اگر انسان کو نظر آنا شروع ہو جائیں تو پیاس بجھانا بھی لطف کی بجائے سزا بن جائے۔ اگر ہمیں سانس کے ساتھ جسم کے اندر جانے والے جراثیم دکھائی دینے لگیں تو سانس لینا بھی دو بھر ہو جائے۔
    اگر ہم کسی عمدہ، صاف ستھرے ایرانی قالین پر پڑنے والے ہر قدم کے ساتھ اڑنے والی مخلوق دیکھنے لگیں تو بہتوں کے لئے سانس لینے کا معمولی عمل بھی تکلیف دہ ہو جائے۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ تمام گھریلو مائیٹ (Mite)کی قسم کے حشرات اگر نظر آنے لگیں تو وہ زمین پر بسنے والے نہایت بد صورت ڈائنوسار سے بھی زیادہ بھیانک دکھائی دینے لگیں۔
    ہوا، جس میں ہم سانس لیتے ہیں اتنی مختلف اقسام کے جراثیم سے بھری ہوئی ہے کہ اگر وہ ہمارے جسمانی نظام میں جڑ پکڑ جائیں تو ٹی۔ بی، نمونیہ، پھیپھڑوںاور جگر کے کینسر، ہر قسم کی پیچش اور اسہال، سیپٹی سیمیا (Septicaemia)، ایگزیما اور تمام اعضائے رئیسہ کی دیگر کئی مہلک بیماریاں لاحق ہو جائیں۔ یہ جراثیم سانس کے ذریعہ ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود اکثر ہم ان کے مضر اثرات کا شکار نہیں ہوتے۔ یقینا کوئی ایسا دفاعی نظام موجود ہے جو ان جراثیم کو اندرونی اعضاء تک بآسانی پہنچنے نہیں دیتا اور یوں ہمیں ان سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو بقا کو یقینی بنانے کے لئے ضرورت کے عین مطابق وضع کیا گیا ہے۔ بقا اس نظام کا کوئی حادثاتی نتیجہ نہیں۔
    اس مختصر سے تعارف کے علاوہ اس مسئلہ کے بیشمار پہلو ہیں۔ ہمارا ہر فعل یا ذہن میں آنے والا ہر خیال ہمارے اعصابی نظام میں استعمال شدہ توانائی کے ایسے فاضل مادے چھوڑتا ہے جن کا کوئی فوری بندوبست نہ ہو تو وہ اچانک موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ چنانچہ زندگی کے ہر لمحہ میں ہم موت سے برسرپیکار ہیں۔ ’’بقائے اصلح‘‘ کے دراصل یہی معنی ہیں۔ یہ صرف اتفاقات کا نتیجہ نہیں ہے۔ ہر قدم پر پیش آنے والے بے شمار خطرات سے زندگی کی حفاظت کیلئے نہایت گہرا اور پیچیدہ نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے پودوں اور جانداروں کے عمل تحول (metabolism) میںآکسیجن کے کردار کا مطالعہ ایک بہترین مثال ہے۔
    عمل تحول کی اصطلاح کو آگے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ عمل تعمیر(Anabolism) اورعمل تخریب(Catabolism)۔
    اینا بولزم سے مراد موجود خوراک سے نئی بافتوں کی تعمیر ہے۔ اس کے علاوہ زائد توانائی کو چربی کی صورت میں محفوظ کرنا بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس کیٹابولزم ایک ایسا عمل ہے جس کے نتیجہ میںپیچیدہ مالیکیولز،سادہ مالیکیولز میںبدل جاتے اور توانائی خارج کرتے ہیں۔ پیچیدہ مالیکیولز کے اندر زیادہ توانائی ہوتی ہے۔ چنانچہ جب یہ مالیکیولز ٹوٹتے ہیں تو توانائی خارج کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے مجموعی وزن اور کمیت میں جو کمی ہوتی ہے وہ اس توانائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے جاندار اپنی بقا کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر عمل تخریب ٹوٹ پھوٹ کا عمل ہے مگر زندگی کے قیام کیلئے نہایت ضروری ہے کیونکہ توانائی کی روزمرہ کی ضروریات اسی ذریعہ سے پوری ہوتی ہیں۔ تمام جسمانی حرکات، جذباتی ہیجانات اور ذہنی کاموں کیلئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جوعمل تخریب کے ذریعہ ہی مہیا ہوتی ہے۔ زندگی کی تمام ادنیٰ شکلوں کو حتیٰ کہ ایسے جانداروں کو بھی جن میں پھیپھڑے اور خون کی نالیاں موجود نہیں سانس لینے کیلئے ایک متبادل نظام فراہم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان کی آکسیجن کی ضرورت بھی ویسے ہی پوری ہو جاتی ہے جیسے ان جانوروں کی جن کے پھیپھڑے ہوتے ہیں۔
    عمل تخریب کے بغیر محض خوراک کا میسر آ جانا بے فائدہ ہے۔ روز مرہ کے انسانی تجربہ میں بھی اس عمل کی اہمیت بڑی واضح ہے۔ انسان غذاکے بغیر چند ہفتے اور پانی کے بغیر چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر سانس لئے بغیر چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ جونہی آکسیجن کی فراہمی ختم ہوتی ہے عملِ تخریب بھی ختم ہو جاتاہے اور تمام خلیات مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے دماغ متاثر ہوتا ہے۔
    آکسیجن کے نہایت مضر اثرات اور ان کے خلاف نہایت مؤثر حفاظتی اقدامات کا ذکر کرنے سے قبل ہم قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آکسیجن زندگی کے ہر عمل کے لئے نہایت ضروری ہے۔ قدرت نے توازن قائم کرنے کے لئے جو راستے اختیار کئے ہیں یہ اس کی ایک شاندار مثال ہے۔ ہر مفید چیز کے کچھ نقصانات بھی ہوا کرتے ہیں جو اس حد تک ہو سکتے ہیں کہ اگر ان پر قابو نہ پایا جائے تو وہ اس چیز کے فوائد کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ یہ تضاد جو واقعی ایک تضاد ہے زمین پر زندگی کے قیام کیلئے نہایت ضروری ہے۔ تخلیق کی یہ کہانی بار بار بے شمار مرتبہ دہرائی جا رہی ہے مگر آج تک بے رحمی سے تنقید کرنے والا کوئی نقاد اس داستان میںکوئی معمولی سا سقم بھی تلاش نہیں کرسکا۔ آکسیجن کے بارہ میں مفصّل بحث آئندہ صفحات میں آئے گی۔
    فی الحال ہم قارئین کی توجہ آکسیجن کی ایک شکل اوزون یعنی(O3)کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ واحد گیس ہے جس کے مالیکیول میں تین ایٹم ہوتے ہیں۔ یہ وہ منفرد خصوصیت ہے جو کسی اور گیس میں نہیں پائی جاتی۔ یہ عنصر زندگی کیلئے نہایت ضروری ہونے کے باوجود شدید مہلک بھی ہے۔ یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ زمین پر زندگی کی بقا کو اتفاقات کے سہارے پر نہیں چھوڑدیا گیا بلکہ وہ تمام ضروری اور معین اقدامات کئے گئے ہیں جو نہ صرف زندگی کا سہارا ہیں بلکہ ان عوامل کے مضر اثرات سے بھی زندگی کی حفاظت کرتے ہیں جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔
    ایک زمانہ تھا جب زمین کی قریبی فضا میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود نہیں تھی۔ اب تو یہ بات سب کو معلوم ہے مگر جب ہالڈین (Haldane) نے اس حقیقت کا انکشاف کیا تھا تو ان سائنس دانوں میں حیرت واستعجاب کی ایک لہر دوڑ گئی تھی جو ایسے شواہد کی تلاش میں تھے، جن سے آغاز حیات کے راز کھل سکیں۔ حیاتیاتی ارتقا سے قبل دنیا پر ایک بہت طویل عرصہ ایسا گزر چکا ہے جو سائنسدانوں کیلئے ہمیشہ ایک معمہ بنا رہا ہے۔ اگر اس وقت کی فضا میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود ہوتی تو حیاتیاتی ارتقا سے قبل زندگی کی جو شکل موجود تھی اسے آکسیجن کی موجودگی میں مکمل طور پر تباہ ہو جانا چاہئے تھا۔ اگر اسے آکسیجن کے مہلک اثر سے بچانے کیلئے معین اقدامات نہ کئے جاتے تو زندگی کی کوئی شکل باقی نہ رہتی۔
    چنانچہ یہ ایک عظیم الشان انکشاف تھا کہ اس دور میں آزاد شکل میں کوئی آکسیجن موجود نہیں تھی۔ ا س بات کا علم ہو جانا کہ زمین کے نزدیک کا کرہ ٔہوائی آزاد آکسیجن سے خالی تھا ایک سنگِمیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس مرحلہ پر بعض مزید الجھا دینے والے سوالات سر اٹھانے لگے۔
    ہالڈین(Haldane) کے مجوزہ حل کے نتیجہ میں یہ علم تو ہو گیا کہ زمین کا ماحول آزاد آکسیجن سے پاک تھا مگر کا سمک شعاعوں کی مسلسل بوچھاڑ سے حفاظت کیونکر ممکن ہوئی؟ آکسیجن کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ سوال اور زیادہ اہمیت اختیار کر گیاکیونکہ کا سمک شعاعوں سے حفاظت صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ ماحول میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود ہو۔ یہ ایک ایسا معمہ تھا جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔ آکسیجن کا ہونا بھی مہلک تھا اور نہ ہونا بھی مہلک تھا۔ اگر آپ یہ فیصلہ کرتے کہ زندگی کی حفاظت کے لئے فضا آکسیجن سے بالکل خالی ہو تو اس کانتیجہ یہ نکلے گا کہ مہلک کاسمک شعاعیں زندگی کا خاتمہ کر دیں گی۔
    جیسا کہ ابھی بیان کیا جا ئے گا ماحول میں آزاد آکسیجن کی موجودگی کی وجہ سے بالواسطہ یہ مہلک کاسمک شعاعیں زمین تک نہیں پہنچ پاتیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ باقی تمام گیسوں کی طرح آکسیجن کا مالیکیول بھی دو ایٹموں پر ہی مشتمل ہوتاہے جو اپنے ایلوٹراپ (Allotrope) اوزون سے ایک ایٹم کم ہوتا ہے۔ عموماً خیال اس طرف جا سکتا ہے کہ بھاری ہونے کی وجہ سے اوزون سطح زمین کے زیادہ قریب ہو گئی اور اپنی موجودگی کے باوصف آکسیجن کو ہلکی ہونے کی وجہ سے کرہ ہوائی کے بالائی حصہ کی طرف چلا جانا چاہئے تھا۔ ایک معمہ تو یہ ہے لیکن اس سے بھی حیران کن معمہ یہ ہے کہ اگر آکسیجن آزاد حالت میں موجود ہی نہیں تھی تو وہ اپنے بغل بچے اوزون کو پیدا کیسے کر سکتی تھی؟ اور اسے کس طرح آسمان کے اس حصہ میںپھینک سکتی تھی جہاں اس کی شدید ضرورت تھی۔ یہ ہے توایک پہیلی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک لطیفہ بھی ہے۔ پنجابی کہاوت ہے کہ:
    ماں جمی نئیں تے پُت کوٹھے تے
    اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ماں کے پیدا ہونے سے پہلے ہی بیٹا چھت پر بھاگتا پھر رہا ہے۔ پنجابی میں تو یہ محض ایک لطیفہ ہے جس کا مقصد مخالف کی دلیل کو خارج از امکان قرار دینا ہے۔ مگر یہاں ہم ایسے ہی ایک مسئلہ سے دو چار ہیں جو سائنسدانوں کے خیال میں بالکل اسی طرح درپیش ہے۔ یہ مسئلہ کسی با مقصد اور تخلیقی منصوبہ بندی کے بغیر حل ہو ہی نہیں سکتا۔ ہم اس زمانہ کی بات کر رہے ہیں جب آکسیجن جو اوزون کی ماں کے مشابہ ہے سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ لیکن اس کا بچہ اوزون کی شکل میں بالائی کرئہ ہوائی پر چوکڑیاں بھرتا پھر رہا تھا۔
    یہاں ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ اوزون، بالائے بنفشی (Ultraviolet)شعاعوں کو یکسر تباہ نہیں کر سکتی۔ سب سے بڑے طول موج والی شعاعیں اوزون کی تہ کے آر پار بآسانی گزر کر سطح ارض کے قریب آ پہنچتی ہیں اور زمین پر رہنے والے جانداروں کیلئے کسی قسم کے خطرہ کا باعث نہیں بنتیں۔ بلکہ اس کے برعکس اسی طولِ موج پر وہ انسانوں سمیت تمام ممالیہ جانوروںمیں وٹامن ڈی کی تیاری میں ممد ہوتی ہیں۔ انسان یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہے کہ اربوں اندھے اتفاقات کے نتیجہ میں یہ عجوبہ کیسے وقوع پذیر ہوا کہ ہر چیز کی تکمیل نہایت باریک حسابی ترکیب، نہایت عمدہ ڈیزائن اور نہایت خوبصورت طریق پر ہو پائی۔
    باقاعدہ منصوبہ بندی کے برعکس انتخاب طبعی کے طریق میں مختلف قسم کے لاکھوں ماحول درکار ہوں گے تا کہ لاکھوں کروڑوں زمینوں میں اربوں، کھربوں اتفاقات کے نتیجہ میں صرف ایک زمین ہی عین درست تناسب کے ساتھ اچانک تخلیق ہو جائے جو حیات کے لئے مناسب اور ساز گار ہو۔ اوزون کے بارہ میں ایک اور دلچسپ بات اس کی ترکیب و تالیف سے متعلق ہے۔ طاقتوربالائے بنفشی شعاعوں کے آکسیجن سے ٹکرانے کے نتیجہ میں اوزون پیدا ہوتی ہے اور آکسیجن کا مالیکیول پھٹ کر اپنی آیونی (ionic)شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بالفاظ دیگر اٹامک آکسیجن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر آکسیجن کے یہ آزاد ایٹم ایک دوسرے میں جذب ہو کر اوزون یعنی O3بناتے ہیں۔ اوزون ان شعاعوں کے براہ راست اثر سے تیار ہوتی ہے لیکن اس عمل میں یہ اپنی محسن یعنی بالائے بنفشی شعاعوں کو ہی تباہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ زندگی کے دو خطرناک دشمنوں کو اس طرح باہم مصروف کر دینا کہ وہ آپس میں ہی برسرپیکار رہیں اور کوئی بھی جیت نہ سکے، ایک زبردست منصوبہ اور حیرت انگیز توازن ہے۔
    زمین پر حیات کے باقاعدہ آغاز سے قبل کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جب حیات نہایت ابتدائی مراحل میں تھی تو اس وقت اوزون کی تہ کی عدم موجودگی نے یقینا ایک بہت بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہو گا۔ کاسمک شعاعوں کی بلاروک ٹوک بوچھاڑ قبل از حیات، مخلوقات کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی ہو گی۔ چنانچہ زندگی کے آغاز سے قبل ہی کرہ ٔہوائی کے بالائی حصوں میں اوزون کی کچھ مقدار تو موجود ہونی چاہئے تھی۔ لازماً ایسا ہونا بھی چاہئے تھا مگر کیسے؟ یہ وہ سوال ہے جس سے دانستہ طور پر پہلو تہی کی جاتی رہی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ زندگی ایسی متضاد قوتوں میں گھری ہوئی ہے جو بیک وقت موافق بھی ہیں اور مخالف بھی۔ لیکن یہی دو متضاد قوتیں زندگی کے قیام کے لئے ضروری بھی ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح حیات خدائی حفاظت میں ان خطرات سے بچ نکلی ہو گی۔

    (الرعد13 :12-11)
    ترجمہ: برابر ہے تم میں سے وہ جس نے بات چھپائی اور جس نے بات کو ظاہر کیا اور وہ جو رات کو چھپ جاتا ہے اور دن کو (سر عام) چلتا پھرتا ہے۔ اس کے لئے اس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ (مقرر) ہیں جو اﷲ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
    قرآن کریم میں اس قسم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں زندگی کے ہر لمحہ کی حفاظت کا وعدہ خداتعالیٰ کی طرف سے کیا گیا ہے ورنہ زندگی ختم ہو کر رہ جائے۔
    حیات کی اعلیٰ ترین بلندیوں کو پا لینے والا انسان اگر اپنے نیچے بے شمار ادوار پر نظر ڈالے تو اسے اکثر یہ احساس بھی نہیں ہو پاتا کہ اس کا ارتقائی منازل کے دوران پیش آنے والے ان بے شمار خطرات سے بچ نکلنا بجائے خود ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ ہمیں ان ماہرین حیاتیات کا ممنون احسان ہونا چاہئے جنہوں نے نسلاً بعد نسلٍ بڑی کوشش اور عرق ریزی سے ہمیں کسی حد تک زندگی کی نہ ختم ہونے والی بجھارتوں میں سے کچھ بجھارتوں کے سمجھنے میں مدد کی ہے۔ مگر افسوس کہ زندگی کی ان گتھیوں کو سلجھانے والوںمیں سے بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیںکہ وہ خداتعالیٰ کے بے پایاں احسانات اور ا س کی لا محدود تخلیقی حکمت کے کس قدر زیر بار ہیں۔
    اس امر کی مزید وضاحت کیلئے ہم قاری کی توجہ ایک بار پھر انسانی اعضاء کی غیر معمولی پیچیدگیوں کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ درحقیقت ہر انسان اپنی ذات میں ایک عالم صغیر ہے جو ازخود زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ اپنی بقا کیلئے قدم قدم پر لاکھوں منظم حفاظتی اقدامات کا محتاج ہے۔
    فزیالوجی کے ماہرین نے انسان کے جسمانی نظام میں کارفرما بہت سے ایسے عوامل دریافت کئے ہیں جن کے مقابل پر اگر حفاظتی نظام تشکیل نہ دیا جاتا تو وہ اچانک موت کا باعث ہو سکتے تھے۔ ان مشکلات اور چیلنجوں کو دراصل ضرورت سے زیادہ سادہ سمجھ لیا گیا ہے۔ زندگی کو درپیش خطرات کے مقابل پر ایک مکمل اور جامع دفاعی نظام کا منصوبہ تیار کرنا اور اس کا نفاذ دراصل اتنا بڑا چیلنج ہے کہ اس کی تحقیق کیلئے سائنسدانوں کی آئندہ کئی نسلیں درکار ہیں۔
    مثلاً جس محلول میں خلیہ معلّق ہوتا ہے اس کے اندرونی حصوں کو اس محلول سے ہمہ وقت خطرہ لا حق رہتا ہے۔ قدرت نے نیوکلیس (Nucleus) کو ارد گرد موجود پانی کے انجذابی دباؤ سے بچانے کیلئے نہایت مضبوط نظام تیار کر رکھا ہے ورنہ وہ اس دباؤ سے ہی ختم ہو جاتا۔ لیکن شکر کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت انسولین کو خلیہ کے اندر پہنچانے کیلئے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں کیمیائی ردِّ عمل کے دوران بننے والے فاضل مواد کے اخراج کیلئے بھی ایک کامل نظام موجود ہے۔
    یہ بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اگر خون کے آبی محلول میں موجود خلیات میں محلول کو داخل ہونے دیا جائے تو وہ فوراً ختم ہو جائیں۔ پانی کے مالیکیولز کے حادثاتی طور پر ان خلیات میں داخل ہونے سے بچاؤ کیلئے چربی کی دو تہیں بہت عمدگی سے تخلیق کی گئی ہیں۔ یہ غیر ضروری مادہ کو خلیہ میں داخل ہونے سے کمال مہارت سے روکتی ہیں۔ مگر غذا کے راستہ میں روک نہیں بنتیں جو باہر سے ان تہوں سے ہوتی ہوئی مسلسل اندر جاتی رہتی ہے تاہم یہ دفاعی اقدام بجائے خود بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے جن میں سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر چربی کی ان تہوں سے کوئی مائع اندر جا ہی نہیں سکتا تو پھر خلیہ کی زندگی کیلئے نہایت ضروری شکر اور آکسیجن کے مالیکیولز کس طرح اندر جاتے ہیں؟ اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ کے لاکھویں حصہ میں بھی خلیات کو شکر، انسولین، آکسیجن اور دیگر ضروری نمکیات درکار ہوتے ہیں۔ خون کے ان چھوٹے چھوٹے ذرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متضاد قسم کی مشکلات پر غور کریں تو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے قوانین قدرت کا دقیق علم اور نہایت اعلیٰ درجہ کی تکنیکی مہارت درکار ہے۔
    مرکزہNucleus))اورپرو ٹوپلازم(Protoplasm)کو کسی بھی غیر ضروری مادہ کی دخل اندازی سے بچانے کیلئے ایک طرف تو دوہری حفاظتی تہ کے حصار میں رکھا گیا ہے اور دوسری طرف انہیں ان تہوں کے پار توانائی کی مسلسل فراہمی درکار ہے۔ اس مقصد کیلئے قدرت نے جو طریق اختیار کیا ہے وہ اتنا عمدہ اور اتنا پیچیدہ ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
    یہ بات ناقابل فہم ہے کہ یہ منصوبہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ ہو۔ لازم تھا کہ گلوکوز کے مالیکیولز کو خلیہ کے اندر لے جانے والے لحمیات کی اندرونی پیچیدہ بناوٹ اور ترتیب ضرورت کے عین مطابق ہو۔ اسی طرح ضروری تھا کہ وہ سب اقدامات کئے جاتے جن سے گلوکوز حاصل کرنے والے ہر خلیہ کو ان لحمیات کے کردار سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جاتا۔ بعض ایسے قارئین جو سائنسی اصطلاحات سے ناواقف ہیں شاید اس مضمون کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں مگر ہماری کوشش یہی ہے کہ ایسا طریق اختیار کیا جائے جو ایک عام قاری کیلئے بھی قابل فہم ہو۔
    رسد کا یہ نظام اس قدر عمدگی سے وضع کیا گیا ہے کہ اس بارہ میں کچھ بھی بیان نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نظام خاص طور پر اس طرح تخلیق کیا ہے کہ رسدی لحمیا ت کا ایک جال چربی کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے جو کہ 492 امینو ایسڈ کی ایک لڑی پر مشتمل ہے اور جسے 25حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے 13ہائیڈروفلک (Hydrophilic) ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی کی طرف ایک خاص قسم کی کشش رکھتے ہیں اور بارہ ہائیڈروفوبک(Hydrophobic)ہیں جو پانی کے مالیکیولز سے دور ہٹتے ہیں۔ ہائیڈروفلک پانی کو جذب کرتے رہتے ہیں اور باہر موجود پانی کو اندر آنے دیتے ہیں۔ جبکہ ہائیڈرو فوبک پانی کو پرے دھکیلتے ہیں اور خلیہ کے اندرونی ماحول کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ دونوں چربی کی دو تہوں کے درمیان آگے پیچھے بارہ دفعہ1 اس طرح بُنے گئے ہیں کہ اپنی شکل و صورت تبدیل کرتے رہتے ہیں جس کے دوران ان کے پاس جو شکر یا لحمیات وغیرہ ہوتے ہیں انہیں پہلے ایک مسام دار جھلی سے گزار کر پروٹوپلازم تک پہنچاتے ہیں۔ پھر جب پروٹو پلازم سے کوئی چیز خون میں پہنچانا مقصود ہو تو پہلے اس مادہ کو یہ چربی کی دیوار تک پہنچاتے ہیں جو کہ آگے ایک اور خاص مسام دار جھلی میں سے گزر کر خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس طرح ٹرانسپورٹر آسی لیٹر (Transporter Oscillator):ـــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ
    ’’گلو کوز سے جڑنے والے کیمیکلز کو خلیہ کی جھلی کے دونوں اطراف میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔ حرکی(Kinetic )کے مطالعہ سے جس میں سے بہت سا کام ڈارٹ ماؤتھ(Dart mouth)میڈیکل سکول میں ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ یہ آمد و رفت غیر معمولی تیز رفتاری سے ہوتی ہے۔ گلوکوز جب ٹرانسپورٹرز کیمیکلز کے ساتھ جڑ جاتا ہے تب یہ آمدورفت تقریباً 900مرتبہ فی سیکنڈ تک بڑھ جاتی ہے۔‘‘2
    ایک علیم وخبیر اور مدبر بالارادہ ہستی کے بغیر جسے یہ لوگ شناخت نہیں کر سکے اتنا عمدہ نظام نہ تشکیل پا سکتا ہے اور نہ ہی اتنی خوبی سے خود بخود جاری رہ سکتا ہے۔ طیفی (Spectroscopic) شہادت سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ لحمیات کی دو لڑیاں ایک دوسرے سے اس طرح لپٹی ہوئی ہیں کہ ان کے ایک طرف ہائیڈر وفلک لحمیات ہیں اور دوسری طرف ہائیڈروفوبک۔ اس نظام کو دیکھ کر انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ یہ باریک اور پیچیدہ نظام ہرگز کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک با مقصد منصوبہ بندی ہے۔
    خلیہ کی توانائی کی ضروریات کے علاوہ ایک اور مسئلہ خلیہ کے اندر اور باہر نمکیات کے تناسب کو متوازن رکھنا ہے۔ خلیہ میں موجود ضروری نمکیات کا ایک خاص تناسب قائم رہنا چاہئے۔ یہ تناسب خلیہ کے باہر موجود الیکٹرولائٹ (Electrolyte) محلول میں پائے جانے والے نمکیات کے تناسب سے بہت مختلف ہے۔ مثلاً خلیہ کے باہر سوڈیم آئن اندر کی نسبت دس گنا زیادہ تعداد میں ہیں۔ اگر گلوکوز کو خلیہ میں داخل کرنے کیلئے عام سادہ مسام ہوتے تو سوڈیم آئن بھی ساتھ ہی خلیہ میں جا کر اس کے اندر دس گنا زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر اس کی تباہی کا باعث بن جاتے۔ سوڈیم آئن کا صحیح تناسب میں مسلسل انجذاب بھی خلیہ کیلئے ضروری ہے اور یہ ایک تکنیکی معجزہ ہے کہ قدرت نے اس کا بھی خیال رکھا ہے کہ چربی کی تہوں میں خصوصی والو موجود ہیں جن کے کھلنے پر ہر سیکنڈ میں تقریباً ایک کروڑ سوڈیم آئن خلیہ کی جھلی میں سے گزر کر اندر داخل ہوتے ہیں۔ یہ رفتار گلوکوز کے اندر جانے کی ر فتار سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے۔3 کیا ہی تیز رفتار ہے! لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔
    اس مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ زندگی کو اپنی بقا کیلئے بالکل ابتدا سے ہی مسلسل حفاظت کی ضرورت پڑتی ہے۔ مظاہر فطرت کا مطالعہ کریں تو ایک اور جگہ ہمیں مختلف طریق پر یہی مقصد حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے جہاں موت بالکل مختلف انداز میں زندگی کی خدمت پر مامور ہے۔ یہاں شرح اموات زندہ بچ جانے والوں کی نسبت بہت بڑھ جاتی ہے۔ گو یہ بات اب تک اٹھائی جا نے والی بحث کے بظاہر بالکل برعکس ہے لیکن درحقیقت اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہے کہ داستانِ حیات میں کوئی چیز اتفاقی یا حادثاتی قرار نہیں دی جا سکتی۔
    قدرت کا پیدا کیا ہوا ہر قانون اور ہر منصوبہ کسی نہ کسی پہلو سے زندگی کیلئے مفید ہے۔ یہاں ہم ڈارون کے نظریہ ’’بقائے اصلح‘‘ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ اس اصول کے مطابق زندگی کے ارتقا کیلئے قدرت میں انتخاب کا ایک خود کار نظام جاری ہے۔ یہ آہستہ رو اور مسلسل جاری نظام اس وقت بہت نمایاں ہو جاتاہے جب کسی نوع حیات کو اپنی بقا کیلئے کوئی چیلنج در پیش ہو۔ یہ اصول جانوروں کی پوری زندگی میں کارفرما ہوتاہے۔ شکاری جانور جب زمین پر یا فضا میں اپنے شکار کا تعاقب کرتے ہیں تو وہ کمزورو ں کو مسلسل ختم کرتے رہتے ہیں۔ شکاری جانور یقینا شعوری طور پر یہ تمیز نہیں کرتے بلکہ یہ ایک طبعی بات ہے کہ طاقتور، تیز رفتار اور نسبتاً زیادہ ہوشیار جانوروں کے بچ جانے کا زیادہ امکان ہے۔
    اسی طرح عمل تولید کے وقت ایک طاقتور اور مضبوط نر کمزور کی نسبت جنسی اختلاط میں کامیابی کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔ چنانچہ آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ موت دراصل زندگی کی خدمت پر مامور ہے۔ اس سطح پر اس عمل کا مشاہدہ آسان ہے۔ یہ طبعی طور پر جاری ہے اور کسی معین نظام کا متقاضی نہیں ہے۔ تا ہم یہ قانون صرف مختلف انواع کے باہمی مقابلہ میں ہی کارفرما نہیں ہے۔ زندگی کے بعض پوشیدہ افعال میں یہ قانون زیادہ لطافت اور نسبتاً غیر محسوس طریق پر جاری ہے۔
    رحم مادر میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کی خاطر حمل کے ارب ہا ارب امکانات رد کر دئیے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ہر صحتمند مرد کو قدرت نے اتنی تولیدی طاقت بخشی ہے کہ وہ ایک اوسط عمر میں اربوں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر ایک مرد کی ساری زندگی میں صرف چند خوش قسمت جرثومے ہی مادہ کے بیضہ سے ملنے میں کامیاب ہوتے ہیں اوربچہ کی ممکنہ پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ ایک ایسے قدیم معاشرہ میں جہاں تعدد ازدواج پر کوئی پابندی نہیں ایک شخص سینکڑوں بچوں کا باپ ہونے پر نازاں ہو سکتا ہے مگر مادہ کے بیضہ کو بارآور کرنے والے جرثوموں کی ان جرثوموں کی تعداد سے کوئی نسبت ہی نہیں جن سے ممکنہ طور پر بچہ پیدا ہو سکتاتھا۔
    مگر قدرت کے انتخاب میں ناکام رہنے والے یہ اربوں جراثیم بھی دراصل بے مقصد ضائع نہیںجاتے۔ ان کی موت اس بات کی ضمانت ہے کہ ان میں سے بہترین اور باقی رہنے کا سب سے زیادہ اہل جرثومہ ہی اگلی نسل کا آغاز کرے گا۔ اسی طرح یہ بات بھی حیران کن ہے کہ آخر کون سا ایسا اتفاق تھا جس کے نتیجہ میں مادہ میں تو صرف ایک بیضہ جبکہ نر میں اربوں جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔ اگر مادہ میںبھی اسی طرح ہوتا تو ہر شادی شدہ یا غیر شادی شدہ جوڑا اتنے بچے پیداکرتا کہ دنیا کے اقتصادی مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔
    پس زندہ رہنے کی جدوجہد میں بہت بڑی تعداد میں افراد کو ارتقائے حیات کے سفر کی ایک چھوٹی سی منزل سر کرنے کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے۔ مگر ایک دفعہ موت کے آ ہنی پنجہ سے بچ نکلنا ہرگز زندگی کے اس کھیل کا اختتام نہیں ہے۔ بچ رہنے والے اپنی زندگی کے ہر لمحہ موت کے خطرات سے دوچار ہیں۔ یہی وہ منڈلاتے ہوئے خطرات ہیں جن کے بارہ میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ خدا ہر لمحہ فرشتوں کے ذریعہ زندگی کی حفاظت فرماتا ہے۔ چنانچہ نہ تو موت کوئی اتفاق ہے اور نہ ہی زندگی بلکہ یہ دونوں رات اور دن کی طرح پہلو بہ پہلو شعوری طور پر زندگی کا تانا بانا بنتے چلے جاتے ہیں۔
    جس حفاظتی نظام کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں وہ زندگی کے تمام مدارج پر حاوی ہے۔ خواہ وہ سطحی ہوں یا گہرے۔ عمل ارتقا میں ممد حفاظت اور ترقی کا یہ منصوبہ ایک ایسا ابدی قانون ہے جو تمام فلسفۂ حیات پر محیط ہے۔ اگر ہم حیات کے آغاز سے حال تک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر میںبہت سے پر خطر مقام آتے ہیں۔ اس کی مثال دلدل میں مناسب مقامات پر رکھے ہوئے پتھروں پر چلنے سے دی جا سکتی ہے۔ کسی بے سمجھ اور اندھے مسافر کے کتنے امکانات ہیں کہ وہ بغیر غلط قدم اٹھائے ان خطرات سے بچ نکلے گا؟ اور اگر یہ مہلک فاصلہ اربوں قدم طویل ہو جہاں ہر پتھر کے گرد موت دلدل کی صورت میںمنہ کھولے کھڑی ہو تو کون ہے جو اپنی آخری منزل پر حفاظت سے پہنچنے کی ضمانت دے سکتا ہے۔ ہمیشہ صحیح سمت میں قدم اٹھانا اور بقا کی اگلی منزل پر مضبوطی سے قائم ہو جانا ایک ایسے اندھے مسافر کے لئے ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو قدیم سے اتفاقات کے راستہ پر چل رہا ہے۔
    ارتقا تو یقینا ہوا ہے، مگر یہ اندھاارتقا نہیں۔ اس سفر کے ہر دوراہے پر جانوروں نے کبھی بھی اپنا رستہ خود منتخب نہیں کیا۔ اس راستہ میں کسی باشعور خالق کے منصوبہ کے بغیر کسی واضح منزل کا تعین ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ زندگی کا ہر قدم کسی بھی سمت میں اٹھ سکتا تھا۔ صحیح سمت میں ایک قدم بھی اٹھنے کا امکان بہت کم تھا۔ ہر قدم کا ہمیشہ صحیح سمت میں اٹھنا اور اربوں دفعہ اسی طرح ہوتے چلے جانا تا کہ وہ راستہ اختیار کیا جا سکے جو بالآخر انسان کی تخلیق پر منتج ہو، ایک ایسا محیر العقول افسانہ ہے جس پر کہانیوں والے بھوت پریت بھی اعتبارنہیں کریں گے۔ اس کے باوجود بعض سائنسدان اس پر یقین رکھتے ہیں۔
    اگر خداتعالیٰ کے وجود کو اس نہایت پیچیدہ نظام سے باہر نکال دیا جائے تو محض یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق آخر کون ہے؟ حیات سے خالی کائنات بلکہ چھوٹے سے سیارہ زمین پر موجود حیات کے عجائبات بھی ایک ایسے خالق کا تقاضا کرتے ہیں جس نے انہیں وجود بخشا اور بے انت پیچیدگیوں سے بھر دیا۔ ہستی ٔباری تعالیٰ کے بغیر ان کی پکار ایک صدائے بازگشت کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ انسان صرف ایک بات کا یقین کر سکتا ہے کہ حیات خودبخود پیدا نہیں ہوئی اور موت حیات کو جنم نہیں دے سکتی۔
    حوالہ جات
    1. LIENHARD, G.E., SLOT, J.W., JAMES, D.E., MUECKLER, MM. (January, 1992) How Cells Absorb Glucose. Scientific American: p.34
    2. LIENHARD, G.E., SLOT, J.W., JAMES, D.E., MUECKLER, M.M. (January, 1992) How Cells Absorb Glucose. Scientific American: pp.36-37
    3. LIENHARD, G.E., SLOT, J.W., JAMES, D.E., MUECKLER, M.M. (January, 1992) How Cells Absorb Glucose. Scientific American: p.37
    قدرت میں سمت پذیری یا کائریلیٹی
    سمت پذیری (Chirality)کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی اہمیت ہے؟ اور پھر یہ کہ کیا اس پر غور کرنے کی کوئی ضرورت ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کی طرف اب ہم متوجہ ہوتے ہیں۔ ایک دائرہ میں خواہ دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں سمت میں حرکت کی جائے، اس بات سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا کہ اس گردش کا آغاز کس سمت سے ہوا ہے؟ ہم کوئی چیز اپنے دائیں ہاتھ سے اٹھائیں یا بائیں ہاتھ سیــ، جتنی دیر تک ہم نے اسے اٹھا رکھا ہے دائیں یا بائیں کے سوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم دائیں یا بائیں میں پوشیدہ حکمت کو سمجھتے ہیں تو پھر یہ سوال یقینا اہم ہو جائے گا۔ لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اور قانونِ قدرت کے بعض مظاہر سے یوں لگتا ہے کہ سمت کو بلاوجہ ترجیح دی گئی ہے۔ ’’حیات: قرآنی آیات کی روشنی میں‘‘کے باب میں ہم نے بالاختصار قرآن کریم کی متعدد ایسی آیات کا ذکر کیا ہے جن میں مذہبی نقطۂ نظر سے سمت کی اہمیت کا بیان ہے۔ بہت سی احادیث میں اسی قرآنی طرز فکر کی مزید تشریح کی گئی ہے جن میںمومنوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ کس طرح روز مرہ کی سماجی اور مذہبی زندگی بسر کریں اور ان تعلیمات میں معین طور پر دائیں کو بائیں پر ترجیح دی گئی ہے۔
    دائیں بائیں جیسے بظاہر معمولی اور چھوٹے امور کی مذہبی تعلیمات میں اس قدر اہمیت واقعی ایک حیران کن بات ہے لیکن جب ہم نظام قدرت میں ہر جگہ سمت کی اہمیت کو دیکھتے ہیں تویہ معمہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کا سر چشمہ ہمیشہ الہام الٰہی ہوا کرتا ہے یا پھر کوئی باشعور انسانی ذہن۔ سیکولر سائنسدان کسی ایسے مدبر بالارادہ خالق کے قائل نہیںجس نے نظام قدرت کی باضابطہ تشکیل کی ہو تو پھر قدرت اور مذہب میں سمت کے لحاظ سے یہ حیران کن مشابہت کیسی؟ اگر ان کا سرچشمہ مشترک نہیں تو کیا اسے محض ایک اتفاق قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ جتنا ہم قدرت میں سمت کی اہمیت کا مطالعہ کرتے ہیں اتنا ہی حیرت میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ سمت کے تعین کے بارہ میں کوئی معروف سائنسی قاعدہ موجود نہیں ہے۔ قدرت ایک حصہ کو دوسرے پر کیوں ترجیح دے رہی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا اور شاید آئندہ کئی دہائیوں تک مل بھی نہ سکے۔
    یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کے مطابق ہر قدرتی عمل کی معقولی رنگ میں وضاحت ممکن ہے اور قرآن کریم بڑی وضاحت سے کسی ایسی تخلیق کا انکار کرتا ہے جو کسی اتفاق یا حادثہ کا نتیجہ ہو۔ آج نہیں تو کل، وہ وقت دور نہیں جب سائنسدان اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ قدرت میںسمت کے تعین کی وجوہات معلوم کر سکیں۔
    آگے چلنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ سمت کا تعین قدرت میں کس طرح کارفرما ہے۔ یہ بات جسمانی تربیت حاصل کرنے والے بچوں کے ان اجتماعی مظاہروں سے بآسانی سمجھی جا سکتی ہے جن میں ان کی تربیت کی خوبی کو پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ بچوں کو دو گروپوں میں تقسیم کر کے دائرہ کی شکل میں کھڑا کر دیا جائے۔ پھر ان میں سے ایک گروپ کو بائیں سے دائیں اور دوسرے کو دائیں سے بائیں طرف گھمایا جائے۔ اس کو مزید واضح کرنے کیلئے اگر ان گروپوں کو جوڑوں کی شکل میں اس طرح تشکیل دیا جائے کہ جوڑے کا ایک حصہ اگر ایک سمت میں گھومے تو دوسرا مخالف سمت میں گھومے گا۔ اس طرح کے گروپوں کے جوڑے کا تصور کریں تو آپ پر سمت کے تعین کے معنی سائنسی اصطلاح کے اعتبار سے واضح ہو جائیں گے۔ باہمی مطابقت کے باوجود ایک طرف گھومنے والے گروپ کو مخالف سمت میں گھومنے والے گروپ پر منطبق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی حرکت مخالف سمت میں ہے۔ اسی طرح اگر چہ تمام مالیکیولز گھومتے ہیں مگر سب ایک ہی سمت میں نہیں بلکہ بعض دائیں سے بائیں طرف گھومتے ہیں اور بعض مخالف سمت میں۔ بعینہٖ ایک ہی کیمیائی فارمولہ کے حامل بعض مرکبات کے محلول میں دونوں سمتوں میں گھومنے والے مالیکیولز اکٹھے موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض مرکبات میں تمام مالیکیولز ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔ صرف مالیکیولز میں ہی نہیں بلکہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات میں سمت کا تصور پایا جاتا ہے۔
    کائنات میں سمت کی اہمیت کا علم آج سے تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے ہوا۔ عظیم فرانسیسی سائنسدان لوئی پاسچر(Louis Pasteur)نے 1848ء میں اسے اس کی مالیکیولز کی گردش میں دریافت کیا اور یہ اس کی غیر معمولی ذہانت اور گہرے مشاہدے کو خراج تحسین ہے کہ طرطیری ترشہ (Tartaric Acid) کے ایک خاص نمک کے مرکب کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس نے دو ہو بہو لیکن برعکس قلمیں دریافت کیں۔ اس نے بڑی احتیاط سے ان دونوں کو علیحدہ کر کے پانی میں حل کیا اور روشنی کی ایک کرن اس محلول میں سے گزاری۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دونوں نمونوں میں تقطیب شدہ (Polarized) روشنی مختلف سمتوں میں گھومی۔ ایک بائیں سے دائیں اور دوسری دائیں سے بائیں۔ اس سے پتہ چلا کہ طرطیری ترشہ کے مالیکیولز میں سے بعض دائیں طرف گھوم رہے تھے اور بعض بائیں طرف۔ اور انہیں ایک دوسرے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ عناصر میں سمت کے تعین کا مشاہدہ کیا۔ 1
    1857ء میں پاسچر ہی نے اس میدان میں ایک اور انوکھاانکشاف کیا۔ ایک دن اس نے بوتل میں موجودکیمیائی محلول میں پھپھوندی کو نشوونما پاتے دیکھا۔ اس خراب محلول کو پھینکنے کی بجائے اس نے روشنی کی ایک شعاع اس میں سے گزاری تا کہ محلول میں موجود پھپھوندی پر کسی اثر کا مشاہدہ کر سکے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ قبل ازیں درست حالت میں محلول میں روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا لیکن خراب محلول میں روشنی کی تقطیب(Polarize) ہونے لگی۔ قبل ازیں روشنی کے پولرائز نہ ہونے کی ایک سادہ سی وجہ یہ تھی کہ اس محلول میں موجود مخالف سمتوں میں گھومنے والے مالیکیولز کی تعداد برابر تھی۔ اس لئے روشنی کا اثرزائل ہو رہا تھا۔ چنانچہ روشنی کے تقطیب ہونے کی وجہ صرف یہی سامنے آئی کہ پھپھوندی نے ایک طرف گھومنے والے مالیکیولز کو ختم کر دیا جس کے نتیجہ میںمخالف سمت میں گھومنے والے مالیکیولز ہی باقی رہ گئے۔ یوں ایک عقدہ تو وا ہو گیا۔ لیکن اس کے نتیجہ میں کئی ایک پیچیدہ مسائل نے جنم لیا کہ کس طرح ایک معمولی پھپھوندی مالیکیولز کی حرکت کا بالکل درست اندازہ کر سکتی ہے اور اس نے خاص طور پر ایک ہی سمت میں گھومنے والے مالیکیولز کو ہی کیوں ختم کیا؟ ان سوالات نے اس وقت نہ صرف پاسچر کے ذہن کو الجھایا بلکہ آج تک سائنسدانوں کیلئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کب تک اس کا جواب تلاش کرتے رہیں گے۔ یہ ایک بہت بڑا مخمصہ ہے۔ کسی بھی عنصر یا مرکب کے مالیکیولز خواہ دائیں طرف گھوم رہے ہوں یا بائیں طرف، بعینہٖ ایک جیسی کیمیائی اور طبعی صفات رکھتے ہیں؟ کس کے حکم سے وہ ایک معین سمت میںحرکت کر رہے ہیں۔ یہ دماغ کو چکرا دینے والا سوال ہے لیکن جب حیات کی اس غیر معمولی صلاحیت کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس طرح یہ معلوم کر لیتی ہے کہ کون سے مالیکیولز کس سمت میں گھوم رہے ہیں تو یہ سوال عجیب اور اہم دکھائی دینے لگتا ہے۔ حواس خمسہ مالیکیولز کی گردش کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ متحرک مالیکیولز مادہ پر کوئی ایسا نقش نہیں چھوڑتے جسے انسانی حواس شناخت کر سکیں۔ لیکن پھپھوندی تو سوائے موہوم سے احساس کے اور کوئی معلوم حواس نہیں رکھتی۔
    کائنات میں سمت کے تعین کی کہانی یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ یہ تو ابھی آغاز ہے۔ پاسچر کے زمانہ سے اب تک اس بارہ میں وسیع پیمانہ پر تحقیق ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجہ میں کئی الجھا دینے والی اور حیران کن مثالیںسامنے آئی ہیں جو اس بات کابیّن ثبوت ہیں کہ مختلف انواعِ حیات بغیر کسی غلطی کے سمت کا تعین کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔
    اب تک یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ سمت کا تعین مادہ کی ہر سطح پر کارفرما ہے لیکن کیوں اور کیسے؟ یہ سوالات ابھی تک سمجھ سے بالا ہیں۔ 1957ء تک یہی سمجھا جا رہا تھاکہ ابتدائی ذرات کے باہمی تعامل کی ذمہ دار چار بنیادی قوّتیںParity Conservingیعنی مساوات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی ابتدائی سطح پربھی تمام ذرات میں مخصوص سمتوں کا توازن پایا جاتا ہے۔ تا ہم 1957ء میں کولمبیا یونیورسٹی کی چین شونگ وُو (Chein Shuing Wu)اور اس کے ساتھیوں نے یہ دریافت کیا کہ تابکار نیو کلیس میں سے خارج ہونے والے بیٹا(Beta) ذرات مخصوص سمتوں کی اس ترتیب کو ظاہر نہیں کرتے۔ بلکہ بائیں طرف گردش کرنے والے الیکڑانز دائیں طرف گھومنے والے الیکڑانز سے بہت زیادہ ہیں۔ مزید برآں اس امر کا بھی انکشاف ہواکہ ایٹم کے سب سے چھوٹے ذرات یعنی نیوٹرینوز(Neutrinos)اور اینٹی نیوٹرینوز (Anti-neutrinos) جن پر کوئی چارج نہیں ہوتا اور روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں ان میں بھی ایک خاص قسم کی گردش پائی جاتی ہے لیکن بائیں سمت میںگھومنے والے الیکڑانز کے برعکس اینٹی نیوٹرینوز دائیں سمت میں گھومتے ہیں۔ قدرت میںاس کے برعکس کوئی مثال نہیں ملتی اور کوئی نہیں جانتا کہ مادہ کی بنیادی سطح پر س