1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

واقعات صحیحہ ۔ مفتی محمد صادق ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    واقعات صحیحہ ۔ مفتی محمد صادق ۔ یونی کوڈ

    نام کتاب واقعا ت صحیحہ
    مصنِّف حضرت مفتی محمد صادق صاحب
    طبع اول 1900ء
    طبع دوم 2011ء
    تعداد ایک ہزار کمپوزنگ طارق محمود منگلا
    پبلشر عبدالمنان کوثر
    پرنٹر طاہر مہدی امتیاز احمد وڑائچ
    مطبع ضیاء الاسلام پریس چناب نگر ربوہ

    س
    پیش لفظ
    اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے :۔
    لَقَدْ کاَنَ فِی قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ(یوسف:112)کہ انبیاء کے واقعات میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سچی تاریخ اہل قلب و نظر کیلئے سبق اور نصیحت ہوتی ہے۔ مگر برا ہو اہل باطل کا جو اسے مسخ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ خدا کے ہر فرستادے کے ساتھ الٰہی تائید ونصرت کی یہ تاریخ اس زمانہ کے مامور مسیح و مہدی کے عہد میں بھی دہرائی گئی۔ ایسے بے شمار واقعات میں سے ایک مثال پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مقابل پر تفسیر نویسی کا عظیم الشان اور زندہ جاوید نشان ہے،جسے مٹانے کی مذموم سعی کرنے والے آج بھی یہ دروغ بے فروغ پھیلانے سے باز نہیں آتے کہ پیر صاحب تومقابلہ کیلئے لاہور پہنچ گئے مگر مرزا صاحب نہ پہنچے اور یوں گویا انہیں شکست ہوئی۔جبکہ پیر صاحب کے قلم نے از خود چل کر لکھنا شروع کر دیا۔
    سبحان اﷲ!وہ قلم تو اپنے پیر صاحب سے بھی زیادہ مستعد نکلا کہ جو کام پیر صاحب نہ کر سکے ان کے قلم نے کر دکھایا، وہ قلم تو ضرور کسی عجائب گھر کی زینت ہوگا۔کم از کم گولڑہ شریف ریلوے سٹیشن کے تاریخی عجائب گھر میں۔مگر حقائق تلخ ہوتے ہیںفی الواقع ایسا نہیں بلکہ معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے۔
    امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے علماء سے طویل مباحثات و مناظرات کے بعد1896ء میں اپنی کتاب انجام آتھم میںآئندہ کے لئے مباحثات کے نتائج بدامنی و فتنہ انگیزی وغیرہ کے پیش نظر ان میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیالیکن صوفیاء او ر اہل اللہ کہلانے والوں کیلئے روحانی مقابلہ کا میدان کھلا رکھا، جیسا کہ اسی کتاب میں پیر مہر علی شاہ صاحب کو مباہلہ کے روحانی مقابلہ کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے قبول نہ کیا۔
    1900ء میں جب پیر مہر علی شاہ صاحب نے ایک کتاب ’’شمس الھدایہ‘‘ حیات مسیح کے موضوع پر شائع کی اورحضرت مولانا نورالدین صاحب نے ان سے محوّلہ کتب کے بارہ میں بعض استفسار کئے تو پتہ چلا کہ دراصل کتاب مذکوران کے مرید مولوی محمد غازی کی تالیف ہے جسے پیر صاحب سے منسوب کردیا گیا ہے۔اس کتاب کا جو اب حضرت مسیح موعود ؑ کے ایک مخلص رفیق اور سلسلہ کے بزرگ عالم حضرت سید محمد احسن امروہی صاحب نے ’’شمس بازغہ ‘‘کے نام سے لکھااور مؤلف کتاب کے چیلنج کے جواب میں اپنی طرف سے مباحثہ کی بھی دعوت قبول کرلی مگر پیر صاحب نے اسکا کوئی جواب نہ دیا ۔
    اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے کتاب شمس الہدایہ میں پیر صاحب کے اس دعویٰ کہ ’’انہیں قرآن کریم کی سمجھ عطا کی گئی ہے‘‘کے فیصلہ کیلئے ایک آسان طریق تجویز کرتے ہوئے 20جولائی1900ء کو انہیں مقابلہ تفسیر نویسی کا چیلنج دیاکہ قرآن کریم کی کوئی سورۃ قرعہ اندازی کے ذریعہ نکال کر فریقین اس کی (چالیس آیات تک ) تفسیرعربی زبان میں تحریر کریں اور تین علماء اہل سنت فریقین کی تفاسیر دیکھ کر یہ فیصلہ کریں کہ کون سی کوئی تفسیر زیادہ فصیح اورایسے اعلیٰ نکات پر مشتمل ہے جس کا نمونہ پہلی تفاسیر میں موجود نہیں ۔یہ ثابت ہوجانے پر اس فریق کو حق پر اور من جانب اﷲ تسلیم کیا جائے گا۔
    کاش!پیر صاحب اس روحانی مقابلہ کی دعوت کو قبول کرتے تو دنیا حق و باطل کا ایک اور روحانی و علمی معرکہ کا ایک شاندار نظارہ دیکھتی۔کیونکہ یہ مقابلہ دراصل قرآنی آیت لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ کی روشنی میںمطہرو مقرب الٰہی وجود کے لئے نشان بنتا۔مگر انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت مرزاصاحب نے آئندہ مناظرے نہ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے نہایت نامعقول حیلے اور عذر لنگ اس مقابلہ تفسیر نویسی سے بچنے کے لئے پیش کئے۔مثلاً یہ کہ پہلے مباحثہ و مناظرہ ہو اس کے بعد حضرت مرزا صاحب علماء کے فیصلہ کے بعد پیر صاحب کے ہاتھ پر توبہ کر یں پھر تفسیر نویسی کا مقابلہ ہو ۔
    ان شرائط سے پیر صاحب کے مقابلہ پر آنے یا نہ آنے کی حقیقت صاف ظاہر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو یہ نشان کسی اور رنگ میں دکھانا مقصود تھا جیسا کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ پیر صاحب آپ کے مقابلہ میں نہیں آئیںگے اورہر گز کچھ لکھ نہ سکیں گے۔
    پیر صاحب کے عاجز آنے کا یہ نشان اس شان کے ساتھ ظاہر ہوا کہ خود انہیں بھی اس کا اقرار کرنا پڑا۔ چنانچہ ان کی سوانح ’’مہر منیر ‘‘میں لکھاہے کہ ایک دفعہ پیر صاحب نے ’’قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا ارادہ فرمایا پھر یہ کہہ کر… معذرت خواہ ہوئے کے میرے خیال تفسیر پر میرے قلب پر اس قدر بارش شروع ہو گئی ہے جسے ضبط تحریرمیں لانے کے لئے ایک عمر درکار ہو گی۔
    (مہر منیر تالیف مولوی فیض احمدصفحہ:245)
    دوسری طرف خود ’’مہر منیر‘‘کے مطابق حضرت مرزا صاحب نے انہیں اتمام حجت کی خاطر 15؍دسمبر1900ء سے ستر دن کی میعاد مقرر کرکے سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کا دوسرا چیلنج دے دیا۔اور باوجود خود ایک ماہ بیمار رہنے کے اس میعاد کے اندر سورہ فاتحہ کی تفسیر ’’ اعجاز المسیح‘‘ عربی میں تصنیف فرما کر دنیا کے سامنے پیش فرما دی جوآج بھی ایک زندہ معجزہ ہے۔جبکہ پیر صاحب تا دم واپسیں اس کا کوئی جواب پیش نہ کر سکے اور حضرت مرزا صاحب کی یہ بات پوری ہوئی کہ کوئی بھی اس کاجواب نہ لکھ سکے گا۔عقل محوِ حیرت ہے کہ پیر صاحب کے حواری ان کے قلم کے از خود چلنے کے قصے کیسے بیان کرتے ہیں۔کوئی ایسا طلسماتی قلم تھا بھی تو وہ کہاں اورکس عجائب خانے میں محفوظ ہے؟ اور اگر قلم نہیں توجو تفسیر اس نے لکھی اس کا ہی کوئی نمونہ دکھا دیا جائے۔مگرجواب میں سوائے لاف و گزاف کے سوا کچھ نہیں۔
    .8اگر پیر صاحب واقعی مرد میدان ہوتے تو جس طرح تین بار باصرار اس دعوت ِ مقابلہ تفسیر نویسی جماعت احمدیہ کی طرف سے ان پر اتمام حجت کیا گیا وہ انہیںمیدان میں نکالنے کے لئے کافی ہوناتھا۔مگر انہوں نے تو ایک ہی رٹ لگائے رکھی کہ پہلے میرے ساتھ مباحثہ کریں۔ اس کے بعد بیعت توبہ کریں اور پھر مقابلہ تفسیر نویسی ہو ۔دوسرے لفظوں میں انہوںنے اس مقابلہ میں اپنی شکست تسلیم کر لی۔
    اس سارے روحانی و علمی مقابلہ کی دلچسپ روداد جماعت کے نامور قلمکار
    حضرت مولانا مفتی محمد صادق صاحب نے واقعات صحیحہ کے نام سے اس زمانہ میں شائع کر دی تھی تاکہ سند رہے اور ان تاریخی حقائق کو آج تک کوئی چیلنج نہیں کر سکااوربلاشبہ یہ واقعات لائق عبرت ہیں۔ اس کتاب میں ا س زمانہ کے دیگرنامور علماء حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب ، حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور مولانا محمداحسن امروہی صاحب کے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس تاریخی علمی دنگل میں شرکت کا حال بھی مرقوم ہے جو احباب کے لئے باعث دلچسپی ہو گا۔
    ان تاریخی عبرت آموزواقعات کا اگر کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے تو وہ پیر صاحب کے ہی پنجابی شعر کے ایک مصرع کا یہ حصہ موزوںہے۔ کِتّھے مہر علی ؟
    بلا شبہ یہ حقائق و واقعات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ کہاںہے مہر علی کہ وہ تفسیر نویسی کے مقابلہ میں خدا کے فرستادے کے مقابل پر آکراپنے مطہر ہونے کا ثبوت دے مگر آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ جواب میں ایک خاموشی بلکہ سناٹا ہے ۔ فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پروانے؟
    اس کا فیصلہ واقعات صحیحہ پڑھنے والے قارئین خود کریں گے اﷲ تعالیٰ جزا دے اور درجات بلند فرمائے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے جنہوں نے اُس زمانہ میں یہ قیمتی تاریخی مواد محفوظ کر کے تاریخ احمدیت کی ایک شاندار خدمت انجام دی۔احباب جماعت کے از دیاد علم اور از دیاد ایمان کی خاطر یہ کتاب اب مجلس انصار اﷲ پاکستان کی طرف سے شائع کی جا رہی ہے۔اﷲ تعالیٰ اس کے مفید نتائج نکالے۔آمین۔
    والسلام
    خاکسار
    حافظ مظفراحمد
    صدر مجلس انصار اﷲ پاکستان

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
    تمہید
    اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی بندہ کو اپنی توحید کے قائم کرنے کے واسطے مبعوث فرماتا ہے اور اس بندہ کو زمین کے کروڑوں انسانوں میں سے برگزیدہ کر لیتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ آسمان بھی اُس مرسل من اللہ کے حق میں گواہی دیتا ہے او ر زمین بھی گواہی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جواس کو حقیر خیال کرتے ہیں اور اسے گالیاں دیتے ہیں اور اس کی تکذیب کرتے ہیں وہ بھی اپنے ان افعال اور کردار سے اس کی صداقت میں ایک گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔ پر وہ اس بات کو نہیں سمجھتے۔
    آج سے تیرہ سو سال پہلے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح و مہدی موعود کے متعلق یہ فرمایا کہ اس کے زمانہ میں مسلمان کہلانے والے یہود سیرت ہو جائیں گے اور پہلے سے بزرگوں کے کشوف اور الہامات نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسیح چودھویں صدی کے ابتدا میں آنے والا ہے اور تیرھویں صدی کے ملانوں کو پہلے بزرگوں نے اپنے کشف سے ایسا ناپاک اور خبیث دیکھا کہ قصۂ یوسف میں اس امر سے فائدہ اٹھا کر کسی نے یہ درج کر دیا کہ یوسف کے بھائی جب بھیڑئیے کو پکڑ کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس نے آپ کے بیٹے کو کھایا ہے اور حضرت یعقوبؑ نے اس بھیڑئیے سے پوچھا کہ اے نابکار تو نے یہ کیا کیا۔ تو بھیڑئیے نے سوچا کہ اب میں بغیر کسی سخت غلیظ قسم کھانے کے رہائی نہیں پا سکتا تو اُس نے یہ قسم کھائی کہ اے نبی اللہ اگر میں نے تیرے یوسف کو کھایا ہے تو خدا تعالیٰ مجھے تیرھویں صدی کے ملّاں کی موت دے۔ یہ قصہ سچ ہو یا غلط ہو بہرحال اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے سے ہی لوگوں کے خیال اس زمانہ کے علماء کی نسبت یہ تھے کہ یہ لوگ ایسے بھیڑئیے ہیں۔ کہ اگر ان کو قابو ملے تو انبیاء کے کھا جانے سے بھی نہیں ٹلیں گے۔
    یہ متقدمین کی رائے ہے اور اس پر ہم اپنی طرف سے کچھ زیادہ نہیں کرتے۔ ہاں ایک تازہ واقعہ کی مثال دے کر لوگوں کو سمجھاناچاہتے ہیں کہ اس وقت کے امام اور مسیح اور مہدی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے۔ مگر ان لوگوں کے ایسا کر دکھانے پر ہمیں چنداں افسوس نہیں کیونکہ ان کے یہ افعال بھی مرسل من اللہ کی تصدیق اور تائید کر رہے ہیں بلکہ اگر یہ لوگ ایسا نہ کریں تو اوّل تو یہ شبہ پڑتا ہے کہ جب علمائے زمانہ خود اصلاح پر تھے تو پھر مجدد کی کیا ضرورت تھی اور دوسرا یہ کہ جب اس زمانہ کے علماء کے متعلق پہلے سے یہ نشان مقرر کیا گیا تھا کہ وہ امام مہدی کی مخالفت کریں گے تو پھر ان کا مخالفت نہ کرنا امام کی صداقت کو شبہ میں ڈال دیتا۔ پس کوئی تو خوشی سے امام کی خدمت میں مصروف ہوتا ہے اور جو یوں نہیں مانتا تو اس سے جبراً خدا تعالیٰ اپنے صادق بندے کی تائید میں کام نکلواتا ہے۔ کیونکہ وہ سلسلہ خدا کا اپنا قائم کیا ہوا ہوتا ہے۔ اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعاً وَ کَرْھاً وَاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ۔ (آلِ عمران:84)
    کیا یہ الٰہی سلسلہ کو چھوڑ کر اوروں کو پسند کرتے ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ کیا آسمان اور کیا زمین سب الٰہی سلسلہ کی تائید میں سر نگوں ہیں کوئی خوشی سے اس کام میں مصروف ہے اور کسی کی گردن پکڑ کر جبراً اس کام میں لگایا گیا ہے۔ اور انجام کار سب خدا کی طرف جائیں گے اور اپنے عملوں کا پھل پائیں گے۔
    میرے سامنے کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ حضرت امامِ زمان کی خدمت با برکت میں اس بات کا ذکر آیا کہ علماء نے کیوں مخالفت کی تو حضور نے فرمایا کہ ہمارے متعلق نشانات تین طور سے پورے ہو رہے ہیں۔ بعض نشان تو خدا تعالیٰ بغیر کسی انسانی ہاتھ کے درمیان میں لانے کے دکھاتا ہے مثلاً کسوف خسوف کا ماہ رمضان میں نشان اور بعض نشان خدا ہمارے ہاتھوں سے کراتا ہے۔ مثلاً آتھم اور لیکھرام کا نشان کہ بعد مباحثہ اور مطالبہ اور دعا اور اشتہارات کے واقع ہوئے اور بعض نشانوں کے پورا کرنے میں خدا نے ہمارے مخالفوں سے کام لیا ہے اور اگر اُن کو معلوم ہوتا کہ ہماری مخالفت میں بھی وہ ہماری تائید کر رہے ہیں تو شائد ویسا نہ کرتے پر وہ نہیں سمجھتے۔ سو ضرور تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی مخالفت ہوتی اور علمائے زمانہ کی طرف سے ہوتی تا کہ خدا کی وہ سنت جو تمام انبیاء اور نبیوں کے سردار علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آنحضرت ﷺکے تمام غلاموں اور اس اُمّت کے تمام ولیوں پر وارد ہوئی وہ امام مہدی کے حالات پر بھی وارد ہو وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً-
    (الاحزاب:63)
    ابتدائے معاملہ
    مخالفین اور مکذبین کی کارروائیوں کی مثال میں اس وقت ہم لاہور کا تازہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں کیا سجادہ نشینوں اور کیا مولویوں نے مل کر اپنے افعال اور اپنے اقوال سے یہ ثابت کرا دیا ہے اور ایک گواہی دلا دی ہے کہ در حقیقت اس وقت امام کی ضرورت ہے۔ اس واقعہ کی ابتدا اس طرح ہوئی ہے کہ چونکہ دوسرے پیروں اور ملانوں کی حرکات سے نفرت کھا کر اور اُن کے اس قسم کے مسائل کو بے ہودہ اور لغو سمجھ کر کہ خونی مہدی آئے گا اور تمام عیسائی وغیرہ بادشاہوں کو قتل کر ڈالے گا۔ اکثر فہیم اور دانا لوگ حضرت مسیح موعود امامِ زمان کے پاک سلسلے میں داخل ہوتے جاتے ہیں تو پرانے علمائوں اور گدی نشینوں کو اپنی آمدنیوں میں گھاٹا پڑنے کا خطرہ پڑ گیا اور ان لوگوں نے حماقت سے امام کی مخالفت شروع کی۔ اس زمرے میں ایک مہر علیشاہ صاحب گولڑوی بھی ہیں جن کو بسبب اپنے پرانے ارادت مندوں کے اُن سے نفرت کرنے اور حضرت مرزا صاحب کے ساتھ اخلاص پیدا کر لینے کے یہ جوش آیا کہ ایک کتاب مرزا صاحب کے برخلاف لکھیں۔ یہ کتاب پیر صاحب نے حیات مسیح کے ثابت کرنے میں لکھی اور اُس میںیہ ظاہر کرنے کی کوشش کی حضرت مرزا صاحب کا عقیدہ وفات مسیح کے متعلق غلط ہے۔
    اوّل تواس کتاب کی عبارت ایسی غیر سلیس اور موٹے لفظوں سے بھری ہوئی ہے اور ترکیب فقرات ایسی بے ہودہ اور طرز بیان ایسا لغو ہے کہ سمجھدار لوگوں کو اس کا ایک صفحہ بھی پڑھنا ایسا مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ سیدھی سڑک کو چھوڑ کر نا ہموار زمین پر کسی کو گاڑی چلانی پڑے۔ علاوہ ازیں دلائل ایسے لچر دئیے ہیں کہ میں امید کرتا ہوں کہ خود پیر صاحب کے مریدوں میں سے دانا لوگ اپنے پیر کی لیاقت کو پا گئے ہوں گے۔ اور دراصل تو پیر صاحب کا یہ کام سراسر بے فائدہ تھا۔ کیوں کہ اصحاب رسول رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین اور تبع تابعین کسی کا قول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بمع جسد عنصری آسمان پر ہونے کے متعلق ثابت نہیں۔ بلکہ امام بخاری اور امام مالک اور امام ابن قیم اور امام ابن حزم اور شیخ محی الدین ابن العربی اور دیگر بزرگان دین نے صاف طور پر اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔
    حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت چونکہ اس مسئلہ کے متعلق بہت کچھ تحریر کر چکی ہے اور پیر صاحب گولڑوی نے کوئی نئی بات تحریر نہ کی بلکہ پرانی باتوں کو دہرایا جن کا جواب کئی دفعہ دیا جا چکا ہے۔ اور علاوہ ازیں کتاب بسبب اپنے غیر سلیس املا اور بے ہودہ ترکیب فقرات کے خود اس قابل تھی کہ تعلیم یافتہ لوگ اس کو دیکھ کر نفرت کا اظہار کرتے۔ اس واسطے حضرت اقدس مرزا صاحب نے جب اُس کتاب کو دیکھا تو آپ نے اس میں چند ایک ایسی کتابوں کے حوالے دیکھے جن کا پنجاب میں بلکہ ہندوستان میں ملنا قریباً محال ہے اور نیز دیگر بہت سی منطق اور علم الٰہی کی غلطیاں اُس میں دیکھیں اور ان کے متعلق دس سوال لکھ کر پیر صاحب کو روانہ کئے۔ جب پیر صاحب کے پاس وہ خط پہنچا تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ گھبرائے کہ اب ہم سے اپنی کتاب کے متعلق بہت سی باتوں پر مطالبہ ہو گا اور خصوصاً وہ کتابیں جن کا ہم نے حوالہ دیا ہے وہ تو ہمارے پاس موجود نہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی دیکھی ہیں۔ یونہی ان کے نام لکھ دئیے تھے۔ اب کوئی ایسی چال چلو کہ کتاب کے ذمہ داریوں سے بری ہو کر الگ بیٹھ جائیں اور مولوی نور الدین صاحب کو ایسا خط لکھ دو کہ بات اسی جگہ بند ہو جائے اور آگے نہ بڑھے اور ہماری عزت بھی قائم رہے۔ یہ سوچ کر انہوں نے مولوی صاحب کو ایسے الفاظ میں ایک مختصر سا خط لکھا جس سے یہ سمجھا جائے کہ گویا پیر صاحب نے کوئی کتاب لکھی ہی نہیں۔ مگر جب پیر صاحب کے مریدوں نے سنا کہ ہمارے پیر صاحب نے تو کتاب لکھنے سے ہی انکار کر دیا ہے تو وہ بے چارے بہت گھبرائے اور انہوں نے پیر صاحب کو چٹھیاں لکھنی شروع کیں کہ قبلہ آپ نے یہ کیا کیا۔ آپ ہی کتاب لکھ کے ہمارے درمیان شائع کی اور آپ ہی مولوی نور الدین صاحب کو خط لکھا کہ میں نے تو کوئی کتاب مرزا صاحب کے بر خلاف نہیں لکھی۔ جب پیر صاحب کو مریدوں کے خطوط پہنچے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اور بھی گھبرائے اور دل میں کہنے لگے کہ لویک نشد دو شد ہم نے تو سوچا تھا کہ مرزا صاحب اور مولوی صاحب ہمارے اس انکار کو دیکھ کر چپ ہو جائیں گے اور ہم مزے سے اپنا کام کئے جا ئیں گے مگر انہوں نے تو ہمارا خط لوگوں کو دکھا دیا اور ہمارے مریدوں پر ابتلا واقع آنے لگا۔ پس اب پیر صاحب نے مریدوں کو تسلی کے خط لکھنے شروع کئے کہ تم نہ گھبرائو۔ ہماری کتاب کی خوب اشاعت ہو گئی ہے اور اصل مطلب حاصل ہو گیا ہے۔ مولوی نور الدین صاحب کو میں نے صرف اتنا لکھا تھا کہ میں کتاب کا مؤلف نہیں ہوں (ہاں جناب ہم بھی جانتے ہیں کہ آپ نے صرف مؤلّف ہونے سے انکار کیا تھا۔ مگر کیا مصنف ہونے کا بھی کہیں اقرار کیا تھا۔ اور حضرت مولوی صاحب کے سوالات کا جواب تو بہرحال دینا آپ کو ضرور تھا خواہ آپ مؤلف تھے یا خالی مصنف تھے)
    ہم اس جگہ حضرت مولوی صاحب کا خط اور پیرصاحب کے خطوط (جن میں انہوں نے مولوی صاحب کو کچھ لکھا اور اپنے مریدوں کو کچھ) درج کر دیتے ہیں تا کہ پبلک خود اندازہ کر لے کہ پیر صاحب نے کیا چال اختیار کی۔
    حضرت مولوی نور الدین صاحب کا خط
    مولانا السّید المکرم المعظم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اوّل فتح محمد نام آپ کے مرید سے پھر مولوی غلام محی الدین ساکن وہن۔ مولوی محمد علی ساکن روال۔ حکیم الہ دین شیخو پور۔ حکیم شاہ نواز کے باعث مجھے جناب سے بہت ہی بڑا حسن ظن حاصل ہوا۔ اور میں بدیں خیال کہ جناب کو اشغال و ارشاد میں فرصت کہاں کہ میرے جیسے آدمیوں کے خطوط کا جواب ملے گا۔ ارسال عرائض سے متاّمل رہا۔ جناب کے دو کارڈ مجھے ملے۔ اور ان میں مرزا جی کے حسن ظن کا تذکرہ تھا اور بھی فرحت و سرور ملا۔ قریب تھا کہ میں حاضر حضور ہوتااسی اثنا میں ایک کتاب شمس الہدایہ نام مجھے آج رات دیکھنے کا اتفاق ہوا صفحہ نمبر ۴۰ تک رات کو پڑھی جناب نے اس میں بڑا تنزل اختیار کیا کہ بالکل مولویوں اور منطقیوں کے رنگ میں جلوہ افروز ہوئے۔ اور صوفیوں کے مشرب سے ذرہ جھلک نہ دی۔ سبحان اللہ۔ میں نے بارہا سنا کہ جناب فتوحات مکیہ کے غواص ہیں اور کتاب صفحہ نمبر ۴۰ تک صرف ایک جگہ شیخ اکبر کا ذکر وہ بھی لا الہ الا اللہ کی توجیہ ناپسندیدہ پر ایما۔ کتاب کو دیکھ کر مجھے اس تحریر کی جرأت ہوئی کہ جب جناب تصنیف کا وقت نکال سکتے ہیں تو جواب خط کوئی بڑی بات نہیں فاحسن کما احسن اللہ الیک میری مختصر گزارشوں کا بالکل مختصر سا جواب کافی ہو گا۔
    اوّل۔ جناب نے صفحہ ۸ میں فرمایا ہے
    (۱) تفاسیر معتبرہ سے مثل ابن جریر و ابن کثیر آہ اس پر
    (۱) عرض ہے۔ جناب نے تفسیر ابن جریر کودیکھا ہے یا نہیں۔ جناب کے پاس ہے یا نہیں۔ کہاں سے یہ تفسیر صرف دیکھنے کے لئے مل سکتی ہے۔
    (۲) مثل ابن جریر سے کم سے کم پانچ چھ تفسیروں کے نام ارشاد ہوں۔
    (۳) کلی طبعی جناب کے نزدیک موجود فی الخارج ہے یا نہیں اور تشخص متشخص کا عین ہے یا غیر۔
    (۴) تجدد امثال کا مسئلہ جناب کے نزدیک صحیح ہے یا غلط۔
    (۵) زید و عمرو یا نور الدین راقم خاکسار غرض سے جزئیات انسانیہ صرف اسی محسوس مبصر جسم عنصری خاکی مائی کا محدود نام ہے یا وہ کوئی اور چیز ہے جس کے لئے یہ موجودۃ الاٰن جسم بطور لباس کے ہے یا اسی معنی پر۔
    (۶) انبیاء و رسل صلوات اللہ علیہم وسلامہ۔ آئمہ وعترۃ۔ اولیائے کرام۔ صحابہ عظام۔ انواع و اقسام ذنوب و خطایا سے محفوظ و معصوم نہیں یا ہیں۔
    بصورۃ اولیٰ ان پر اعتماد کا معیار کیا ہو گا۔ اور بصورۃ ثانیہ کوئی قوی دلیل مطلوب ہے مگر ہو مختصر۔ کتاب اللہ یا سنۃ رسول اللہ سے۔
    (۷) الہام و کشف رویاء صالحہ کیا چیز ہیں۔ اور ان سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں۔
    (۸) ایک جگہ جناب نے تاریخ کبیر بخاری کا حوالہ دیا ہے کیا وہ جناب کے کتب خانہ میں ہے یا نہیں۔
    (۹) بعض احادیث کی تخریج نہیں فرمائی۔ اس کو کس جگہ دیکھا جاوے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جناب نے ان احادیث کو کہاں کہاں سے لیا ہے۔ جس کا ذکر کتاب میں فرمایا ہے۔
    (۱۰) عقلِ قانون قدرۃ۔ فطرۃ۔ کس حد تک مفید ہیں یا یہ چیزیں شریعت کے سامنے اس قابل نہیں کہ ان کا نام لیا جاوے۔
    تعارض اقوال شریعت و سنۃ اللہ مقابلہ فطرۃ و شرع کے وقت کون سی راہ اختیار کی جاوے۔ مختصر جواب بدون دلائل کافی ہو گا۔
    (۱۱) تفسیر بالرائے۔ اور متشابہات کے کیا معنے ہیں۔ کوئی ایسی تفسیر جناب کے خیال میں ہے کہ وہ تفسیر بالرائے سے پاک ہو اور متشابہات کو ہم کس طرح پہچان سکتے ہیں۔
    مورخہ ۱۸ فروری ۱۹۰۰؁ ء از قادیاں
    پیر صاحب کا جواب اور مریدین کے نام خطوط
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    مولانا المعظم المکرم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    امّا بعد
    مولوی محمد غازی صاحب کتب حدیث و تفسیر اپنی معرفت سے پیدا کر کے ملاحظہ فرماتے رہے ہیں مولوی صاحب موصوف آج کل دولت خانہ کو تشریف لے گئے ہیں۔ مولوی غلام محی الدین اور حکیم شاہ نواز وغیرہ احباب نے میری نسبت اپنے حسن ظن کے مطابق آپ کے سامنے بیان کیا ہو گا ورنہ من آنم کہ من دانم۔
    مولوی صاحب نے اپنی سعی اور اہتما م سے کتاب شمس الہدایۃ کو مطبوع اور تالیف فرمایا۔ ہاں احیاناً اس بے ہیچ سے بھی اتفاق استفسار بعض مضامین ہوا۔ جس وقت مولوی صاحب واپس آئیں گے کیفیت کتب مسئولہ اور جواب سرافرازنامہ اگر اجازت ہوئی تو لکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ جانبین کو صراط مستقیم پر ثابت رکھے۔
    زیادہ والسلام
    نیاز مند علماء و فقراء مہر شاہ ۲۶ شوال ۱۳۱۷؁ھ
    مہر شاہ صاحب کا خط اُن کے ایک مرید عبدالہادی نام کی طرف
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ فتوحات کی اگر ضرورت ہو بھیجی جاوے میں نے مکہ معظمہ زاداللہ شرفاً سے زائد چالیس روپے سے خریدی تھی۔ ہند کی مجھے خبر نہیں دوسرا معاملہ جو ہے آپ بے فکر رہیں کوئی فقرہ حکمت اور صداقت سے انشاء اللہ تعالیٰ خالی نہ ہو گا۔ لفظ تالیف اور طبع کا معنی نہ سمجھنے سے اُنہوں نے کہا جو کچھ کہا و ہو لنا علیہم۔ سیظہراب اُن سے پوچھنا کہ ایجاد مضامین اور تالیف میں عموم خصوص من وجہ ہوا کرتا ہے بھلا مجھ کو یہ بتائو کہ دوسرا کاغذ جو مولوی نور الدین صاحب کو پہنچا ہے ذرا اُس کی نقل بھی منگوا کر ملاحظہ کرو۔ والسلام
    مہر شاہ بقلم خود
    ایک مرید غلام محمد کلرک دفتر اکائونٹنٹ جنرل پنجاب کے نام کی طرف
    (جو کہ خود میاں غلام محمد صاحب سے ہم کو ملا)
    مخلصی ام غلام محمد سلامت۔
    بعد سلام و دعا آنکہ۔ مولوی نور الدین صاحب کی درخواست کتاب کے بارے میں اور نیز وصف میرے علم کے جو کہ اُن کو بذریعہ احباب پہنچی تھی اس کے بارے میں میں نے لکھا تھا۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ میں تو اتنا علم نہیں رکھتا ہوں احباب نے اپنے حسن ظن کے مطابق تعریف کی ہو گی۔ اور کتاب کے بارے میں مولوی محمد غازی صاحب جب واپس آئے تو لکھیں گے کیونکہ کتابوں کی تجسس اور دیکھنا ان کے متعلق تھا میں مضامین غیر مترتبہ بسا اوقات اُن کو دیتا رہا اور تالیف یعنی جمع ترتیب و و طبع کرانا یہ سب ان کے متعلق تھی۔ جناب مولوی نور الدین صاحب نے تالیف سے جو منسوب مولوی محمد غازی صاحب کی طرف کی گئی تھی اور فی الواقع یوں ہی تھا یہ سمجھ لیا کہ موجد مضامین اور مصنف مولوی صاحب ہیں۔ فلاں نے یعنی میں نے اس کی تصنیف اور ایجاد سے انکار کیا محبا کبھی مؤلف اور موجد ایک ہی ہوتا ہے اور کبھی مختلف۔ میں نے بباعث کم فرصتی کے جمع اور ترتیب بمعہ مطالع کتب ان کے ذمہ
    ناظرین غور کریں کہ پیر صاحب مولوی صاحب کو تو یہ لکھتے ہیں کہ کتاب مولوی غازی نے تالیف کی ہے ہاں احیاناً اس بے ہیچ سے بھی اتفاق استفسار بعض مضامین ہوا اور میاں غلام محمد کو لکھتے ہیں کہ میں مضامین غیر مرتبہ بسا اوقات اُن کو دیتا رہا۔ پیرصاحب کی اس دو رخی چال کے اختیار کرنے پر نہایت مناسب ریمارکس کر کے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک زبر دست مضمون اخبار الحکم میں شائع کیا اور
    پر رکھا تھا۔ الغرض جو مطلب تھا یعنی لوگوں کا دھوکا نہ کھانا وہ تو بفضل خدا بخوبی حاصل ہو گیا بذریعہ خطوط روزمرہ مقبولیت کتاب معلوم ہوتی رہتی ہے۔ باقی زید و عمر سے کچھ غرض نہیں۔
    زیادہ سلام
    مہر شاہ
    حضرت مولوی نور الدین صاحب کے خط مؤرخہ 18؍ فروری 1900ء کا جواب
    ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ کتاب شمس الہدایۃ فی اثبات حیات المسیح مصنفہ مولانا حضرت پیر مہر علیشاہ صاحب ساکن گولڑا شریف عرصہ 4 ماہ کامل سے طبع ہو کر شائع ہو چکی ہے اور بعض مرزا صاحب کے حواریوں سے سنا تھا کہ اس کتاب کا جواب مرزا صاحب ایک گھنٹے میں تحریر کر کے شائع کرا دیویں گے ہم منتظر تھے کہ اس اثنا میں مولوی نور الدین صاحب کا ایک خط جس میں باراں (12) سوالات مندرج تھے حضرت پیر صاحب کی خدمت میں پہنچا۔
    جناب موصوف نے جواب مفصل تحریر فرمایا مگر بعض احباب نے بوجوہات چند اُس کا ارسال کرنا مناسب نہ سمجھا۔ منجملہ جن کے ایک تو یہ تھی کہ کہیں ایسی تحریرات کے سلسلہ جاری
    پبلک کو دکھایا کہ پیر صاحب نے کیا کارروائی کی ہے اور ساتھ ہی حضرت مولوی نور الدین صاحب کے خط کے جواب کا پھر مطالبہ کیا۔ اس مضمون کو پڑھ کر پیر صاحب کے مریدوں میں پھر شوروغل ہوا اور آخر انہوں نے حضرت مولوی صاحب کے خط کا جواب پیر صاحب سے شائع کرا ہی دیا۔ اور اگرچہ ہم اتنی گنجائش نہیں دیکھتے کہ ان سب رطب ویا بس اشتہارات کو اپنی کتاب میں درج کریں مگر چونکہ یہ اشتہار پیر صاحب کی اپنی تصنیف اور تالیف ہے۔ اور پیر صاحب کی کتاب(جس کے وہ مصنف کا اقراری اور مؤلف ہونے کے انکاری ہیں) یعنی کتاب شمس الہدایہ کی طرز تحریر ا وربے ہودہ ترکیب و ترتیب فقرات اور طریق استدلال کا یہ نمونہ ہے اس واسطے ہم وہ اشتہار بعینہ درج کر دیتے ہیں تا کہ کسی کو یہ حسرت نہ رہے کہ میں نے پیر صاحب کی تصنیف کا نمونہ نہ دیکھا۔
    ہونے سے جواب کتاب سے جواب نہ ہو دوسری وجہ پیر صاحب نے جو بیان فرمائی ہے وہ اُن کے خط میں درج ہے اب چونکہ پرچہ اخبار الحکم مؤرخہ 24؍ اپریل 1900ء میں مطالبہ جواب کا کیا گیا جو 24؍ مئی 1900ء کو مولاناصاحب کی نظر سے گزرا تو مولانا صاحب نے وہی جواب مفصل جو پہلے دن سے لکھا رکھا تھا مولوی نور الدین صاحب کے نام پر بذریعہ رجسٹری ارسال فرمایا اُمید ہے کہ اُن کے ملاحظہ سے گزرا ہو گا میں ان ہر دو خطوط کو فقط اس خیال سے کہ مبادا حواریان ان کو مشتہر نہ کریں بذریعہ اشتہار ہذا ہدیہ ناظرین کرتا ہوں تا کہ ملاحظہ کے بعد انصاف پسند خود اس کا نتیجہ نکال لیں گے۔
    المشتہر۔ خاکسار حافظ غازی
    حضرت مولانا پیر مہر علیشاہ صاحب کے جواب
    بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علے من لا نبی بعدہ وآلہ وصحبہ
    معظمی و مکرمی جناب مولوی نور الدین صاحب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ اما بعد میں ہرگز نہیں چاہتا تھا اور نہ چاہتا ہوں کہ بجواب سوالات جناب کے کچھ لکھوں کیونکہ اشاعت جواب میں کسر شان حضرت سائل کا نہایت ہی خیال تھا اور ہے۔ یہاں تو پہلے ہی سے کچھ نہ ہونے کے سوا اور کچھ نہیں۔ لہٰذا میں نے بجواب مکاتبہ شریفہ اثنا عشر یہ آپ کے اپنے مایہ قصور اور لا علمی کو پیش کیا مگر پرچہ الحکم مطبوعہ 23؍ ذی الحجہ نے جو آج 26 ماہ محرم الحرام کو میری نظر سے گزرا ہے اُس کی نامنظوری بیان فرمائی اب اگر فُضلائے عصر و علمائے دہر بعد ملاحظہ کلام جانبین کے داد و انصاف عطا فرماویں تو یہ نیاز مند علماء و فقراء معذور سمجھا جاوے گا۔
    جواب نمبر (1) صفحہ8 میں آپ نے غور نہیں فرمائی۔ کیا صفحہ مذکورہ کی عبارت ہذا )اگر کوئی صاحب بر خلاف الخ) کا یہ مطلب ہے کہ یہ نیاز مند شمس الہدایت کا جواب ابن جریر سے لکھے گا۔ لہٰذا آپ مجھ سے یہ دریافت فرماتے ہیں کہ ابن جریر کو دیکھا ہے یا نہیں الخ۔ مولانا بلکہ عبارت مذکورہ سے مقصود یہ ہے کہ مجیب کے ذمہ پر نقل از ثقات مثل ابن جریر و ابن کثیر اور استبناط صحیح ہو گا۔ دو بارہ معروض ہے کہ آپ نے ابن جریرہی کی تعیین کہاں سے سمجھ لی۔ عبارت ہذا (تفاسیر معتبرہ سے مثل ابن جریر و ابن کثیر کی الخ) میں تو عموم ہے۔
    سہ بارہ مکلف ہوں کہ اگر آپ ابن جریر ہی سے جواب دینا چاہتے ہیںتو آسان طریق عرض کیا جاتا ہے کہ آپ قول ابن جریر کا بہ تحویل ثقات مثل حافظ عماد الدین و علامہ سیوطی وغیرہ کی نقل فرماویں۔ جیسا کہ شمس الہدایت میں کہا گیا ہے ہم کو بسرو چشم منظور و مقبول ہو گا۔ ہاں اگر آپ کو محض ابن جریر کے دیکھنے کا اشتیاق ہے تو مولوی محمد غازی صاحب فرماتے ہیں کہ بالمشافہ دکھا سکتا ہوں۔ مولانا مجھے تو پہلے ہی سوال سے حسن ظن مسموعی جاتا رہا ذرہ غرض متکلم کو غور فرما کر معترض ہونا چاہئے۔
    جواب نمبر (2) لیجئے تفسیر سفیان بن عینیہ۔ روکیع بن الجراح و شعبۃ بن الحجاج و یزید بن ہارون و عبدالرزاق و آدم بن ابی ایلس و اسحٰق بن راہویہ وروح بن عبادہ و عبد بن حمید و مسند ابی بکر بن ابی شیبہ وابن ابی حاتم و ابن ابی ماجہ و الحاکم و ابن مردویہ و ابو الشیخ ابن حبان و ابن المنذر) جن کی شان میں علامہ سیوطی و کلہا مسندۃ الے الصحابۃ الخ فرماتے ہیں۔
    جواب نمبر (3) میرے نزدیک کلی طبعی کا منشا موجود فے الخارج ہے اور تشخص عین شخص ہے مگر عوارض بھی لزوم فے المتحقق سے بہرہ یاب ہیں۔
    جواب نمبر (4) تحدد امثال کا مسئلہ میرے نزدیک صحیح ہے مگر تجدد شہودی و حدت سیالہ کو منافی نہیں جو مدار ہے ترتب احکام عرفیہ کے لئے۔
    جواب نمبر (5) جزئیات انسانیہ ماہیت معروضہ کا نام ہے وجودات خاصہ ہوں یا عدمات خاصہ یا دونوں سے مغایر اجسام ثلثہ کو عینی ہوں یا برزخی یا حشری زید کے مسمی میں نہایت ہی دخل ہے فقط روح مجرد کے لئے بمنزلہ لباس ہیں ہاں بطریق مجاز مرسل کبھی جزء ماہیت پر بھی بولے جاتے ہیں۔ یہاں پر لحاظ قرائن مثل قتل و صلب نہایت ضروری ہے۔
    جواب نمبر (6) انبیاء و رسل علیہم السلام انواع ذنوب و خطایا سے جو منافی ہوں شان نبوت کو معصوم و مامون ہیں ورنہ امر بالاتباع کیسے متصور ہو سکتا ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ اور لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانْ۔(الحجر: 43)۔ اور ایسا ہی فینسخ اللہ مایلقی الشیطان حامی وقت ہے۔ اولیائے کرام جو بعد فناء اتم کا نہ ہو کی رنگت سے رنگین ہوں داخل ہیںبشارت مذکورہ میں۔ اصالت و تبعیّت کا فرق ہے۔
    جواب (7) الہام و کشف و رویاء صالحہ منجملہ شعب ایمانیہ سے ہیں اور معیار صحت و فساد کا مطابقت ہے کتاب و سنت ہے۔
    جواب نمبر (8) تاریخ کبیر بخاری کا ذکر در منشور کی عبارت میں آیا ہے جو شمس الہدایۃ میں منقول ہے۔ مولانا یہ سوال علامہ سیوطی سے دریافت کرنا تھا میرے سے آپ دُر منثورر کا ہونا نہ ہونا استفسار فرماتے۔
    جواب نمبر (9) آیت (بَلْ رَفِعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط(النسائ: 159) کے متعلق چونکہ ابن کثیر اور دُر منثور سے تفسیر لکھی گئی ہے آپ سب احادیث مذکورہ کی تخریجات وہاں سے معلوم فرما سکتے ہیں ایک دو جگہ تفسیر ابن کثیر اور در منثور کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ ناظرین تفاسیر مذکورہ کو چونکہ سب تخریجات ایک ہی جگہ سے مل سکتی ہیں لہٰذا ہر ایک حدیث کے بعد بوجہ اختصار نہیں لکھی گئیں۔ مولانا سب اسانید کی صحت کشفیہ یا عرفیہ سے خالی نہیں ہاں صرف ایک دو جگہ جیسے روایت ضحاک یا ابی صالح کی صنعاف میں سے مذکور ہیں مگر بعد تقویت مدعی کے ساتھ صحاح کے وہ بھی اُس مقام میں جہاں خصم سے مطلق روایت کا مطالبہ کیا گیا ہے گو کہ ضعاف میں سے ہو۔
    جواب نمبر (10) عقل اور قانون قدرت جو عبارت ہے استقراء ناقص سے اعتبار ان کا محدود ہے تا وقتیکہ نص مخالف قطعی الدلالہ شارع سے وارد نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ اسی تحیر نے آپ کو مرزا صاحب کے قدموں میں جھکایا ہے مگر پھر بھی عقدہ کشائی نہ ہوئی۔
    جواب نمبر (11) تفسیر بالرّائے جس کے جواز میں اختلاف ہے تاویل متشابہات غیر مختصہبعلم الباری اور بعلم الرسول کا نام ہے۔ تفسیر بالرّائے جس کا جواز اتفاقی ہے عبارت ہے استنباط احکام سے اصلیہ ہوں یا فرعیہ اعرابیہ ہوں یا بلاغیہ وغیرہ وغیرہ بشرط قابلیت۔
    تفسیر بالرائے جو بالا تفاق ناجائز اور منہی عنہ ہے۔ تفسیر متشابہہ کا نام ہے جو مختص ہو بعلم الباری او بعلم الرسول صلعم۔ اور تفسیر بغیر حصول علوم مشروط للتفسیر اور تفسیر مقرر للمذہب جس میں مذہب کو اصل اور تفسیر کو تابع قرار دیا ہے۔ اور تفسیر علے القطع یعنی مراد حق سبحانہ کی قطعی طور پر یہی ہے بغیر ذلیل کے۔ اور تفسیر بالہویٰ یہ سب منہی عنہ کے اقسام ہیں۔تفاسیر ثقات متداولہ بین اہل السنۃ تفسیر بالرائے باقسامہ الخمسہ ہے پاک ہیں۔ متشابہہ مختص بعلم الباری اور بعلم الرسول صلعم ہیں تو ہم بغیر انہ من عنداللہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ اور وہ متشابہ جس میں خوض کرنے کے ہم مجاز ہیں آپ اُس کو قدر مشترک بین المجمل والمئول سے پہچان سکتے ہیں یعنی جس میں دلالت علے احد المعنیین راجح نہ ہو۔ مگر یہ بھی خیال رہے کہ بعد اقامت دلیل منفرد کے مرجوح سے راجح بلکہ قطعی الدلالہ ہو جاتا ہے۔
    جواب نمبر (12) تصحیح احادیث روات کو دیکھ کر آج کل آپ اور ہم بغیر نقل جرح و تعدیل عن السلف نہیں کر سکتے آپ (لامہدی الا عیسیٰ) کے معنے کو بھی غور فرمانا مبادا کہ بعد تصحیح کچھ اور ہی نکلے۔
    بعد اس کے معروض خدمت عالیہ یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں (صوفیوں کے مشرب سے ذرہ جھلک بھی نہ دی سبحان اللہ میں نے بار ہا سنا کہ جناب فتوحات مکیہ کے غواص ہیں الخ) غریب نواز فیوضات مدینہ علے صاحبہا الصلوٰۃ والسلام نے جو منشا ہیں فتوحات مکیہ کے لئے آپ کے سامنے کیا وقعت اور قدر پائی کہ میں قول شیخ اکبر قدس سرہ کو پیش کرتا۔ کیا سینکڑوں احادیث صحیحہ کاٹی نہیں گئیں اگر اس نیاز مند کا قول تعصبی طور پر سمجھا جاوے تو کیا مرزا صاحب کا الہام ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۶ پر بقلم باریک شہادت اس قطع و برید پر نہیں دے رہا۔
    مرزا صاحب کے عبادت خانہ میں آمد و رفت والے علماء بغیر آپ کے یا اتباع آپ کے کون ہیں دوسرے علماء بیچارے تو اپنے اپنے وطن اور جگہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر افسوس کہ مرزا صاحب نے تعبیر اس الہام میں بھی علماء مخالفین ہی کو الزام لگایا باوجود اس کے کہ صریح طور پر لفظ (میری عبادت گاہ) کا الہامی کلام میں موجود ہے۔ آپ اُس صفحہ میں ذرا ملاحظہ فرماویں کہ (اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں) موجود ہے یا نہیں۔ اب فرمائیے کہ تصدیق الہام ہذا کی تکذیب آپ کی تکذیب الہام کے موجب تخریب سب عملہ کی ہے یا نہیں۔ ایک اور گزارش بھی معروض کرتا ہوں کہ جواب میں نقل بالا ستیعاب اور لحاظ محل کلام اور مرزا صاحب کا خاص دستخط ہونا ضروری سمجھے جاویں گے۔ یہ نہ ہو کہ تحقق تضاد ما قبل اور ما بعد کلمۂ بل میں استشہاد و تئیسویں آیت کتاب استثناء سے پکڑ کر بائیسویں آیت کو بالکل متروک کر دیا جاوے۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ محل ذکر قول حضرت شیخ کو توجیہ کلمہ طیبہ میں خیال نہ فرما کر الزام مخالفت حضرت شیخ کا لگایا جاوے۔ یا نکات بعد الوقوع کو مثل تشبہ مسیح کے بالملائکہ جو (عزیزاً حکیما) کے متعلق خلاصہ قول شیخ اکبر و شیخ علی قدس سر ہما لکھا گیا ہے علل موجبہ سے ٹھیرا کر ماد ۂ نقض پیدا کریں۔ اور نیز معلوم ہو کہ ضعاف کو بھی ہم بعد تشییدمبانی دعویٰ کے بکتاب و سنت صحیحہ متواترہ قبول فرماویں گے۔ مثلاً قول ضحاک اور حوالۂ عباسی جن میں اصحاب جرح و التعدیل کو کلام ہے بعد تقویت مذکور کے بغیر عذر سند ہو گا۔ علماء وقت کے تو امید تھی کہ آپ مرزا صاحب کو بھی سمجھا دیں گے۔
    خود غلط بود آں چہ ماپند اشیتم
    مجھے بخیال شان آپ کے بڑا افسوس ہے کہ جناب سے ایسے سوالات سرزد ہوں عصمت انبیاء اور عدم وقوع خطافے الا مرا لتبلیغی میں تو تردد ہو مگر مرزا صاحب کی عصمت اور عدم امکان خطائے فی التعبیر تک بھی متیقن بہ سبحان اللہ مولانا آپ کے اخلاق کریمانہ سے امید کرتا ہوں کہ تشریح حقیقت معجزہ سے ذرہ آپ ہی ممنون فرماویں گے۔ والسلام خیرختام
    المکلف
    العبد الملتجی الی اللہ المدعوبہ مہر شاہ عفی عنہ
    اس جگہ ایک لطیفہ قابل ذکر ہے کہ جس کو ہمارے ایک دوست نے اپنے اشتہار میں شائع کیا تھا اور وہ یہ ہے۔ کہ اول تو پیر صاحب نے اپنے خط میں سوالات کا جواب نہ دینے کی یہ وجہ بیان کی کہ میں کتاب کا مؤلف نہیں ہوں اور مولوی غازی جو مؤلف ہے وہ اس وقت یہاں نہیں۔ پھر اپنے اشتہار میں پیر صاحب نے سوالات کا جواب نہ دینے کی یہ وجہ بیان کی کہ جوابات کے لکھنے میں سائل کا کسر شان تھا اس واسطے میں نے جوابات نہیں لکھے تھے اب ان دو مخالف وجوہات میں سے ضرور ہے کہ ایک جھوٹا ہو مگر پیر صاحب کے مرید مولوی غازی صاحب نے ایک ایسی بات اپنے اشتہار میں شائع کی جس سے پیر صاحب کے دونوں اقوال جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ وہ شائع کرتے ہیں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ پیر صاحب نے سوالات کے جوابات کے لکھنے میں دیر لگائی۔ انہوں نے تو پہلے ہی دن سوالات کے جوابات لکھ رکھے تھے۔
    اب یہ دیکھنا چاہئے کہ تین مختلف باتیں پیر صاحب اور اُس کے مرید کی طرف سے شائع ہوئیں اور ان میں سے کوئی سی ایک بات سچی مان لو دوسری دو جھوٹی ہیں اور صریح جھوٹ ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔
    پیر صاحب پہلے کچھ فرماتے ہیں اور پھر کچھ اور۔ ان کے مرید ایک اور ہی نرالی بات نکالتے ہیں اور ان کو کچھ یاد نہیں رہتا کہ پیر صاحب کیا فرما چکے ہیں۔
    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کے ثبوت میں کہ قرآن شریف اُس کا اپنا کلام ہے۔ ایک یہ دلیل بھی دی ہے کہ اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو لوجد و افیہ اختلافاً کثیرا۔ اس میں بہت سی باتیں ایک دوسرے کے مخالف ہوتیں۔ خدا کے نبیوں اور ولیوں کے مکذب چونکہ الٰہی سلسلہ کے مخالف ہوتے ہیں اس واسطے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے ان کے کلام میں اختلاف سے جھوٹ ظاہر ہو جاتا ہے۔ اور صرف یہی نہیں کہ مکذبین کے فلاسفروں اور علماء سے ایسی حرکت سرزد ہوتی ہے بلکہ ان میں سے اگر کوئی خدا کی طرف سے الہام پانے کا دعویٰ کرے اور امام وقت کی مخالفت کرے تو چونکہ اس مخالفت میں اُس کے الہام خدا کی طرف سے نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس واسطے ضرور ہے کہ فیہ اختلافاً کثیرا کی مُہر اُن پر لگی ہوئی ہو۔
    بابو الٰہی بخش صاحب ملہم
    اس جگہ اس بات کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ اسی شہر لاہو رمیں ایک شخص بابو الٰہی بخش اکونٹنٹ ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوتا ہے اور بہت عرصے سے ہوتا ہے۔ مدت تک ان کو حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کی تصدیق میں الہام اور رویاء ہوتے رہے۔ چنانچہ وہ ہمیں بھی سناتے رہے اور ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے مجھے اپنے الہامات کا رجسٹر دکھلایا اور اُس میں ایک جگہ کچھ اس طرح سے لکھا ہوا تھا کہ میں نے دل میں خیال کیا کہ مرزا صاحب کو تو خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے درجات عطا کئے مگر میرے واسطے کچھ نہیں تو الہام ہوا ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشائ۔ غرض یہ بابو صاحب اور اُن کے ساتھی منشی عبدالحق صاحب پنشنر ہمیشہ حضرت مرزا صاحب کی تائید اور تصدیق میں مصروف رہے۔ لیکن ایک دفعہ جب یہ دونوں صاحبان قادیان حضرت اقدس کے پاس گئے اور آپ کی خدمت میں اپنے الہامات کی کتاب کھولی جس میں بہت سا رطب و یا بس بھرا ہوا تھا تو حضرت اقدس نے بابو صاحب کو اپنی اس بے بضاعتی پر اتنا اتراتے ہوئے دیکھ کر از روئے شفقت سمجھایا کہ حقیقت الہام کیا ہے اور کس طرح سے اُس میں بعض دفعہ اپنی خواہشوں اور شیطان کے دھوکوں کی ملونی ہوتی ہے۔ اور عوام کے الہامات اور مامورین من اللہ کے الہامات میں فرق بتلایا ( جیسا کہ حضرت مرزا صاحب نے مفصل طور پر اپنی کتاب ضرورت امام میں لکھا ہے) تو یہ بات بابو صاحب کو بری لگی اور اُن پر قبض وارد ہوئی۔ اور بد قسمتی سے اسی قبض کی حالت میں وہ قادیان سے چلے آئے۔ اور طرفہ یہ کہ یا تو اُن کو حضرت مرزا صاحب کی تائید میں الہام ہوا کرتے تھے اور یا اب یہ سب اُن کی اپنی تمنا کے دخل کے اُن کی مخالفت میں الہامات ہونے شروع ہو گئے۔ اور بابو صاحب کو یہ بھی عقل نہ آیا کہ ان کے پیر صاحب (مولوی عبداللہ صاحب غزنوی) حضرت مرزا صاحب کی تائید میں اپنا کشف عوام میں مدت ہوئی شائع کر چکے ہیں اور اُس کشف کا ذکر کئی دفعہ بابو صاحب اور منشی عبدالحق صاحب کے سامنے ہوا اور یہ دونوں صاحب ہمیشہ مرزا صاحب کی تائید میں رہے۔ اب اس واقعہ کو اہل الرّائے کے سامنے پیش کیا جاوے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ یا تو بابو الٰہی بخش کے پچھلے الہام شیطانی اور جھوٹے ہیں یا اس کے اپنے پچھلے الہام اور اُس کے پیر کا کشف جھوٹا ہے۔ بہر حال بابو الٰہی بخش صاحب تو دونوں صورتوں میں جھوٹے ہوتے ہیں مگر ہم اُن کو نیک صلاح دیتے ہیں کہ وہ دوسری صورت کو پسند کریں تا کہ کم از کم انہیں اپنے پیر مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے کشف کو شیطانی کشف نہ کہنا پڑے اور ایسے متقی شخص پر ان کو الزام نہ لگانا پڑے اور اب امرتسر کے غزنوی گروہ کی طرف محض مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے رجوع کرنا ان کو مناسب نہیں کیونکہ بابو صاحب کو یاد ہو گا کہ جب ان بزرگوں نے یہ سن کر کہ آپ کو الہامات ہوتے ہیں آپ پر تمسخر کیا اور کہا کہ اب بابوؤں کو بھی الہام ہونے لگ پڑے اور آپ کو سخت الفاظ میں مخالفانہ خط لکھا تو آپ کو الہام ہوا کہ چہ داند بوز نہ لذات ادرک۔ سوا گر بابو الٰہی بخش صاحب اپنے الہام الٰہی کے استعارات میں بوزنہ اس کو کہتے ہیں جو احکام الٰہی کی صریح نافرمانی کر کے یہود کی طرح خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے پر وارد نہ کر لے جیسا کہ آیت شریفہ قلنا لہم کونو اقردۃً خاسئین (سے ظاہر ہے۔ بابو صاحب کے غور کرنے کے واسطے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے الہامات میں کس قدر اختلاف ہے اور فیہ اختلافاً کثیرا )کے نیچے وہ کہاں تک آتے ہیں اور اب میں پھر اصل قصہ کی طرف آتا ہوں۔
    دعا میں مقابلہ سے انکار
    مولوی غازی نے اپنے ان اشتہارات کے لکھنے میں ہمیشہ نہایت بد تہذیبی سے کام لیا اور ان کے جواب ہماری جماعت کے آدمیوں نے متفرق مقامات سے نہایت تہذیب کے ساتھ دئیے اور پیر مہر شاہ صاحب کے شوق و شغل کیمیا سازی اور کشتہ گری کا بھید بھی لوگوں پر ظاہر فرمایا۔ اسی اثنا میں حضرت اقدس کی جماعت کی طرف سے ایک اشتہار نکلا کہ اگر کوئی مرزا صاحب کا مخالف ملاں، مولوی، سجادہ نشین اپنے تئیں حق پر خیال کرتاہے اور مومن جانتا ہے تو مومن کا نشان یہ ہے کہ اُس کی دعا قبول ہو۔ اس واسطے چاہئے کہ وہ سب مولوی وغیرہ ایک جگہ اکٹھے ہو جاویں اور چند ایک لا علاج مریضوں اور مصیبت زدوں کو لے کر قرعہ اندازی سے تقسیم کیا جاوے۔ آدھے حضرت مرزا صاحب کے حصہ میں آویں اور آدھے مخالفین کے حصہ میں۔ فریقین اپنے اپنے حصہ کے آدمیوں کے حق میں دعا کریں اور ۴۰ دن کے اندر خدا سے خبر پا کر یہ بات شائع کر دیں کہ ہمارے حصہ کے مریضوں میں سے فلاں تندرست ہو جائیں گے جس کی دعا سے مریض اور مصیبت زدہ تندرست اور خوشحال ہو جائیں وہ حق کی طرف سے سمجھا جائے۔
    اس اشتہار کے جواب میں جو کہ ۲۷ ۔جون ۱۹۰۰ئ؁ کوشائع ہوا تھا پیر صاحب کے مریدوں کی طرف سے ایک اشتہار بے تاریخ ۲۵۔ اگست ۱۹۰۰ئ؁ کو لاہور میں پہنچا جس میں مولوی غازی وغیرہ پیر صاحب کے مریدوں نے صاف لفظوں میں یہ اقرار کیا کہ نہ خدا ہمارا طرف دار ہے اور نہ بیماروں کو ہماری دعا سے شفا ہو سکتی ہے۔ مرزا صاحب ایک طرفہ نشان دکھائیں اور مریضوں کو شفا دلائیں۔ اس اشتہار میں پیر مہر شاہ صاحب کے مریدوں نے بہت سی لغو اور بے ہودہ باتیں تحریر کی ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ مہدی سنوسی افریقہ والے کی بہت تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ پورا پورا عالم اور عامل بالحدیث و القرآن ہے اور اس میں تمام آثار مہدی موجود ہیں۔‘‘ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ بات ہے تو پیر مہر علیشاہ اور اُن کے مریدوں پر کھانا حرام ہے جب تک کہ اُس مہدی کے ساتھ بیعت نہ کر لیں جس میں تمام آثار مہدی کا ہونا وہ مانتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ وہ پورا پورا عالم اور عامل بالحدیث والقرآن ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص پورا پورا علم رکھنے والا اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے والا ہو اور پھر وہ جھوٹا ہو۔ پس آپ کے نزدیک تو وہ سچا ہوا سو یاد رکھو کہ ہزار *** ہے اُس پر جو ایک شخص کو سچا پا کر پھر فوراً مطابق حکم قرآن شریف کُوْ نُوْ ا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (التوبہ:120)اُس کے ساتھ نہ ہو جاوے۔ مگر یاد رکھو کہ یہ سب آپ کا افترا ہے۔ سنوسی کو ہرگز مہدی موعود اور ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں۔ پیر صاحب گولڑوی کے مرید باوجود اپنے پیر کی اس قدر کمزوری کے اقرار کے کہ ان کی دعا بیماروں اور مصیبت زدوں کے حق میں بھی قبول نہیں ہو سکتی اور باوجود ان کی اس دو رخی چال کے دیکھنے کے جو کہ انہوں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کے جواب میں اختیار کی تھی پھر بھی یہی راگ گاتے چلے گئے کہ مرزا صاحب کی کتاب کا جواب نہیں نکلا۔
    اما منا مرزا صاحب کا اشتہار دعوت
    تب حضرت مرزا صاحب نے یہ فرمایا کہ ایسی کتابوں کے ہم کہاں تک جواب دیتے جائیں گے۔ وہی باتیں جن کا ہم کئی دفعہ جواب دے چکے ہیں مخالف پھر پھر دہرا دیتے ہیں اور کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ ہماری طرف سے مبسوط کتابیں ان مسائل کی تحقیق میں نکل چکی ہیں اب زیادہ ان پر توجہ کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔ لیکن اگر یہ لوگ نیک نیتی کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیں تو ایک آسان راہ فیصلہ کا یہ ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تمہارے درمیان کوئی جھگڑا پڑ جاوے تو فیصلہ کے واسطے اللہ اور رسول کے آگے پیش کرو جس کے حق میں وہ فیصلہ دے وہی حق پر ہے۔ اچھا اب ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان یہ جھگڑا ہے کہ یہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور ہم ان کو اس فعل میں خدا کو ناراض کرنے والا کہتے ہیں۔ یہ جھگڑا قرآن شریف کے جج کے سامنے پیش کرو اور دیکھو کہ فیصلہ کس کے حق میں ہے۔ قرآن شریف نے جو نشان مومن اور متقی کے بیان کئے ہیں وہ تلاش کرنے چاہئیں کہ کس میں پائے جاتے ہیں۔ ہم میں یا ہمارے مخالفین اور مکذبین میں۔ اس جگہ ہم حضرت مرزا صاحب کے اشتہار مؤرخہ ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ئ؁ میں سے اصل عبارت نقل کر دیتے ہیں۔
    حضرت اقدس کا اشتہار
    میں فیصلہ کے لئے ایک سہل طریق پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جو لوگ در حقیقت خدا تعالیٰ کے راست باز بندے ہیں ان کے ساتھ تین طور سے خدا کی تائید ہوتی ہے (۱) ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرق یعنی ما بہ الامتیاز رکھا جاتا ہے اس لئے مقابلہ کے وقت بعض امور خارق عادت اُن سے صادر ہوتے ہیں جو حریف مقابل سے صادر نہیں ہو سکتے جیسا کہ آیت وَ یَجْعَلَّ لَّکُمْ فُرْقَاناًطاس کی شاہد ہے (۲) اُن کو علم معارف قرآن دیا جاتا ہے اور غیر کو نہیں دیا جاتا جیسا کہ آیت اِلاَّ الْمُطَہَّرُوْن اس کی شاہد ہے۔ (۳) اُن کی دعائیں اکثر قبول ہو جاتی ہیں اور غیر کی اس قدر نہیں ہوتیں جیسا کہ آیت اُدْعُوْنِٓیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن:61) اس کی گواہ ہے۔ سو مناسب ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح پر مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکالیں اور اس میں سے چالیس آیت یا ساری سورۃ اگر چالیس آیت سے زیادہ ہو لے کر فریقین یعنی یہ عاجز اور مہر علیشاہ صاحب اوّل یہ دعا کریں کہ یا الٰہی ہم دونوں میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اُس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور معارف فصیح اور بلیغ عربی میں عین اسی جلسہ میں لکھنے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما اور روح القدس سے اُس کی مدد کر ۲؎ اور جو شخص ہم دونوں فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اس سے یہ توفیق چھین لے اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تا لوگ معلوم کر لیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری روح القدس کی تائید سے محروم ہے ۲؎۔ پھر اس دعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا شروع کریں اور یہ ضروری شرط ہو گی کہ کسی فریق کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگار ضروری ہو گا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیرآواز سنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے۔ تا اس کی فصیح عبارت اور معارف کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے۔ اور اس کی تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مہلت دی جائے گی۔ اور زانو بہ زانو لکھنا ہو گا نہ کسی پردے میں۔ ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹے کی مہلت ملے گی مگر ایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کو گواہوں کے روبرو ختم کرنا ہو گا۔ اور جب فریقین لکھ چکیں تو دونوں تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علیشاہ صاحب کے ذمہ ہو گا سنائی جائیں گی اور اُن ہر سہ مولوی صاحبان کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیروں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کونسی تفسیر اور عبارت تائید روح القدس سے لکھی گئی ہے۔ اور ضروری ہو گا کہ اُن تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلے میں داخل ہو۔ اور نہ مہر علیشاہ کا مرید ہو۔ اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علیشاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور مولوی عبداللہ پروفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی منتخب کریں جو ان کے مرید اور پیرونہ ہوں۔ مگر ضروری ہو گا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفاً اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلیٰ درجہ پر اور تائید الٰہی سے ہے۔ لیکن یہ حلف اس حلف سے مشابہ ہونی چاہئے جس کا ذکر قرآن میں قذف محسنات کے باب میں ہے جس میں تین دفعہ قسم کھانا ضروری ہے اور دونوں فریق پر یہ واجب اور لازم ہو گا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا ہے کہ کسی حالت میں بیس ورق سے کم نہ ہو اور ورق سے مراد اس واسطہ درجہ کی تقطیع اور قلم کا ورق ہو گا جس پر پنجاب اور ہندوستان کے صدہا قرآن شریف کے نسخے چھپے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ در حقیقت پیر مہر علیشاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے یہ کام نہ ہو سکا یا مجھ سے بھی ہو سکا مگر انہوں نے میرے مقابلہ پر ایسا ہی کر دکھایا تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں اقرار کروں گا کہ حق پیر مہر شاہ کے ساتھ ہے اور اس صورت میں میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اپنی تمام کتابیں جو اس دعویٰ کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا۔ میری طرف سے یہی تحریر کافی ہے جس کو میں آج بہ ثبت شہادت بیس گواہان کے اس وقت لکھتا ہوں۔ لیکن اگر میرے خدا نے اس مباحثہ میں مجھے غالب کر دیا اور مہر علیشاہ صاحب کی زبان بند ہو گئی نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقائق و معارف سورہ قرآنی میں سے کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو ان تمام صورتوں میں ان پر واجب ہو گا کہ وہ توبہ کر کے مجھ سے بیعت کریں ۳ ؎اور لازم ہو گا کہ یہ اقرار صاف صاف لفظوں میں بذریعہ اشتہار دس دن کے عرصے میں شائع کر دیں۔
    میں مکرر لکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا اس صورت میں متصور ہو گا کہ جب کہ مہر علی شاہ صاحب بجز ایک دلیل اور قابل شرم اور رکیک عبارت اور لغو تحریر کے کچھ بھی لکھ سکیں اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھوکیں اور نفرین کریں کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا اور اگر مہر علیشاہ صاحب بھی اپنے تئیں جانتے ہیں کہ وہ مومن اور مستجاب الدعوات ہیںتو وہ بھی ایسا ہی دعا کریں۔ اور یاد رہے کہ خدا تعالیٰ اُن کی دعا ہرگز قبول نہیں کرے گا کیونکہ وہ خدا کے مامور اور مرسل کے دشمن ہیں اس لئے آسمان پر ان کی عزت نہیں۔
    پیر صاحب کا جواب
    اب پیر مہر علیشاہ صاحب میں اتنی لیاقت تو ہے نہیں کہ عربی میں تفسیر لکھیں یا معارف بیان
    ۱؎ پیر مہر علیشاہ صاحب اپنی کتاب شمس الہدایہ کے صفحہ ۸۱ میں لاف زنی کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی سمجھ ان کو عطا کی گئی ہے۔ اگر وہ اپنی کتاب میں اپنی جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مارتے تو اس دعوت کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔ لیکن اب تو وہ ان دونوں کمالات کے مدعی ہو چکے ہیں۔ (حاشیہ متعلق صفحہ:۱۹،۲۰،۲۱)
    کریں اور نہ اتنا بھروسہ خدا پر ہے کہ خدا ان کی دعا قبول کرے جیسا کہ ان کے مرید اشتہار دے چکے ہیں اس واسطے انہوں نے سوچا کہ اگر ہم تفسیر میں مقابلہ منظور کر لیں گے تو خواہ مخواہ بے عزتی ہو گی اور اگر نہ مانیں گے تو مرید بھاگنے شروع ہو جائیں گے اس واسطے چار و ناچار انہوں نے یہ سوچا کہ کوئی ایسی بات نکالو جس سے معاملہ بھی ٹل جاوے اور مقابلہ بھی نہ ہو۔
    پس انہوں نے کہا کہ ہم کو سب شرطیں منظور ہیں مگر ایک شرط ہماری بھی ہے اور یہ وہ ہے کہ تفسیر سے پہلے ایک تقریری مباحثہ ہو جس کے حکم مولوی محمد حسین صاحب ہوں اور مولوی صاحب اگر ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں تو مرزا صاحب ہمارے ساتھ بیعت کر لیں۔ یہ تجویز پیر صاحب نے اس واسطے سوچی کہ حضرت مرزا صاحب آج سے چار سال پہلے شائع کر چکے ہیں کہ ہم ان مسائل میں اب کسی سے بحث نہیں کریں گے اور وہ کتاب جس میں یہ بات شائع کی گئی تھی وہ پیر صاحب کی خدمت میں بھی روانہ کی گئی تھی اور پیر صاحب جانتے تھے کہ کہ مرزا صاحب نے اپنے معاہدہ کے بر خلاف تو کرنا ہی نہیں پس ہم کہہ دیں گے کہ انہوں نے مقابلہ سے انکار کیا ہے۔ اور ساتھ ہی مولوی محمد حسین کو حَکَمْبنایا کیونکہ اُس کا اپنا مذہب اور عقیدہ حضرت مرزا صاحب کے بر خلاف ہے اور اُس کا فیصلہ بہر حال مرزا صاحب کے بر خلاف اور پیر صاحب کے حق میں ہے۔ ہم پیر صاحب کا جواب اصل نقل کر دیتے ہیں۔ وَ ہُو ہَذَا
    مجھ کو دعوت حاضری جلسہ منعقدہ لاہور مع شرائط مجوزہ مرزا صاحب بسر و چشم منظور ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مرزا صاحب بھی میری ایک ہی گزارش کو بسلک شرائط مجوزہ کے منسلک فرماویں گے۔ وہ یہ ہے کہ پہلے مدعی مسیحیت و مہدویت و رسالت لسانی تقریر سے بمشافہ حضار جلسہ اپنے دعویٰ کو بپایۂ ثبوت پہنچاوے گا۔
    ندار دکسے باتو ناگفتہ کار۔ ولیکن چوگفتی دللیلش بیار۔ ۲ ؎ یہ اس شرط سے کہ مولوی محمد حسین وغیرہ اُس دعوت سے گریز کر جائیں جو ضمیمہ اشتہار ہذا میں درج ہیں۔ ۳؎ یاد رہے کہ ہر ایک نبی یا رسول یا محدث جو نشا ن اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہے وہی نشان خدا تعالیٰ کے نزدیک معیار صدق و کذب ہوتا ہے اور منکرین کی اپنی درخواست کے نشان معیار نہیں ٹھیر سکتے اگر یہ ممکن ہے کہ کبھی شاذ و نادر کے طور پر اُن میں سے بھی کوئی بات قبول کی جائے کیونکہ خدا تعالیٰ اُنہی نشانوں کے ساتھ حجت پوری کرتا ہے جو آپ بغرض تحدی پیش کرتا ہے یہی سنت اللہ ہے۔
    بجواب اُس کے نیاز مند کی معروضات عدیدہ کو حضرات حاضرین خیال فرما کر اپنی رائے ظاہر فرماویں گے۔ مجھ کو شہادت و رائے تینوں علمائے کرام مجوزہ مرزا صاحب (یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی و مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی و مولوی عبداللہ صاحب ٹونکی پروفیسر لاہوری) کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہ ہو گا۔ بعد ظہور اس کے کہ مرزا صاحب اپنے دعویٰ کو بپایۂ ثبوت نہیں پہنچا سکے۔ مرزا صاحب کو بیعت توبہ کرنی ہو گی۔ بعد اس کے عقاید معدودہ مرزا صاحب ہیں جن میں جناب ساری امت مرحومہ سے منفرد ہیں۔ بحث تقریری و اظہار رائے ہو کر مرزا صاحب کو اجازت مقابلہ تحریری کی دی جاوے گی۔ یہ وہ شرط ہے کہ دعویٰ جناب اور تحقیق حق کے لئے عندالعقلا مقتضیٰ بالطبع ہے۔ ظاہر ہے کہ تیز نویسی اور قافیہ سنجی کو بعد بطلان مضامین کے کچھ بھی وقعت اور عظمت نہیں۔ حقیقت مضامین کا محفوظ رہنا عیاران صداقت کے لئے نہایت مہتم بالشان ہے۔ اظہار حقیقت بغیر اس طریق کے متصور ہی نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کے حقائق و معارف قرآنیہ سے تو اُن کی تصانیف بھری ہوئی ہیں اور وہی جناب کو دعویٰ کے عدم حقیقت کی وجہ سے دھبہ لگا رہے ہیں۔ علماء کرام کی تحریرات اور اہل دیانت و فہم کامل کی تقریرات اس پر شاہد ہیں۔ تیز نویسی چونکہ بروز عیسوی و بروز محمدی سے بالکل اجنبی و بر طرف ہے لہٰذا اس کو موخر رکھا جاوے گا۔ اس شرط کی منظوری سے مع تاریخ مقررہ کے مشرف فرماویں۔ نہایت ممنون ہو کر حاضر ہو جائوں گا۔ قانون فطرت اور کرّات مرّات کا تجربہ مع شہادت وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔(الاحزاب:63) کے پیشنگوئی کر رہا ہے کہ آپ کو عین وقت بحث میں الہام سکوتی ہو جاوے گا آپ فرماویں۔ اس کا کیا علاج ہو گا۔ اپنے اشتہار میں اس الہام ضروری الوقوع کا مستثنیٰ نہ فرمانا صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایسے الہامات عندیہ اور اپنے اختیاری ہیں۔ ورنہ در صورت منجانب اللہ ہونے اُن کے کیونکر زیر لحاظ نہ ہوں ا ور مستثنیٰ نہ کئے جاویں۔ یہ بھی مانا کہ منجانب اللہ ہیں تو پھر اُن پر تعمیل واجب ہو گی۔ مشائخ عظام و علمائے کرام کو تشریف آوری سے بغیر از تضیع اوقات و تکلیف عبث کیا حاصل ہو گا۔ لہٰذا عرض کرتا ہوں کہ شرق سے غرب تک ان بزرگواروں کو آپ کیوں تکلیف محض دیتے ہیں۔ فقط یہ ایک ہی نیاز مند اُن کا حاضر ہو جائے گا۔ بشرط معروض الصدر نا منظوری شرط مذکوریا غیر حاضری جناب کی دلیل ہو گی آپ کے کاذب ہونے پر آپ فرماتے ہیں کہ شمس الہدایت کے صفحہ ۸۱ میں نیاز مند نے علم اور فقر میں لاف زنی کی ہے۔ ناظرین صفحہ مذکور کے ملاحظہ فرمانے کے بعد انصاف کر سکتے ہیں کہ آیا لاف زنی ہے اپنے بارے میں یا تہدید ہے بمقابلہ اُس کے جو اجماع کو را نہ ’’ حربِ نادان‘‘ ’’بے شرم‘‘ ’’بے حیا‘‘ ۔ ’’علمائے یہود‘‘ ازالہ۔ ایام الصلح۔ میں دربارہ علمائے سلف و خلف شکراللہ سعیہم کے مرزا صاحب نے دیانت اور تہذیب سے لکھا ہے اور تفروقی فہم القرآن کا دعویٰ کیا ہے۔
    آپ اس اشتہا کے صفحہ ۳ کے اخیر پر باریک قلم سے لکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنی کتاب میں جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مارتے تو اس دعوت کی کچھ ضرورت نہیں تھی الخ لاف زنی کی کیفیت تو ناظرین کو ملاحظہ صفحہ مذکورہ سے معلوم ہو جائے گی۔ بھلا آپ یہ تو فرمائیے کہ جب آپ اپنی دعوت میں مامور من اللہ ہیں تو پھر لاف زنی پر اس دعوت کی بنا ٹھیرانی قول بالمتناقضین نہیں تو کیا ہے۔
    مرزا صاحب نیاز مند کو مع علمائے کرام کے کسی قسم کا عنا دیا حسد جناب کے ساتھ نہیں مگر کتاب اللہ و سنت رسول صلعم باعث انکار ہے۔ انصاف فرماویں مثل مشہور کا مصداق نہ بنیں (نالے چور تے نالے چترا) ظاہر تو عشق محمدی صلعم) اور قرآن کریم سے دم مارنا اور در پردہ کیا بلکہ علانیہ تحریف کتاب و سنت کرنی۔ اور پھراس کمال پر مکتفی نہ رہنا بلکہ اوروں کو بھی اس کمال کے ساتھ ایمان لانے کی تکلیف دینی بھلا پھر علمائے کرام کیسے خاموش بیٹھے رہیں۔
    آپ اپنے اشتہار میں جو کچھ بڑے زور و شور سے ارشاد فرما چکے ہیں۔ اگر بلحاظ اس کے کچھ بھی لکھا جاوے تو داخل گستاخی اور مورد عتاب اہل تہذیب نہیں ہو سکتا۔ مگر تاہم لوگوں کی ہنسی سے شرم آتا ہے۔ اس سے زیادہ آپ کے اوقات گرامی کی تضیع نہیں کرتا ہوں فقط۔
    پیر صاحب کا جواب تو ہم نے نقل کر دیا ہے مگر پیر صاحب کے جواب کا ضمیمہ جو اُس کے ساتھ ہی ایک اشتہارمیں مولوی غازی صاحب کی طرف سے شائع ہوا اُس کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پیر صاحب ہرگز تفسیر القرآن میں مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ کرنا نہیں چاہتے اور یہ صرف اُنہوں نے ٹالنے کا ایک طریق اختیار کیا ہے ہم اُس اشتہار کی چند ایک عبارتیں نقل کر دیتے ہیں پبلک خود اندازہ کر لے کہ ایسے اشتہار دینے میں پیر صاحب اور اُن کے مریدوں کی کیا نیت تھی۔
    ۱۔ صفحہ ۶۔ بھلا یہ تو فرما دیجئے گا کہ اس قدر کثیر جماعت علماء کی جمع ہو کر کیا کرے گی۔ صبح سے شام تک بے آب و دانہ بیٹھ کر دیکھتی رہے گی کہ کس کا قلم زور سے چلتا ہے اور وہ کون کون سی دلچسپی ہے جس کے واسطے اور کون سا اور اہم علم ہے جس کی شہادت کے لئے آپ اس قدر علماء کو بصورت حاضری پیر صاحب طلب کرتے ہیں۔ ۲۔صفحہ ۱۲؍۳ء
    مگر شرط یہ ہے کہ قبل از بحث تحریری مذکورہ مجوزہ مرزاصاحب ایک بحث تقریری دعویٰ مسیحیت و مہدویت وغیرہ عقائد مرزا صاحب پر جو تعداد میں تخمیناً ۱۳۶ کے قریب ہیں اور ان کے الہامی کتب میں درج ہیں بپابندی امور ذیل ہو جائے۔
    (الف) تعیین و تقرر سوالات حضرت پیر صاحب کا منصب ہو گا۔
    (ب) بحث تقریری بحث تحریری سے اول ہو گی اگر ایک روز میں ختم نہ ہو گی تو دوسرے اور تیسرے روز تک جاری رہے گی۔
    (ج) جو شخص بحث میں مغلوب ہو گا اس کو بیعت توبہ کرنا لازمی ہو گا۔
    (د) چونکہ احتمال ہے کہ ایک شخص مغلوب بھی ہو جاوے اور پھر بھی توبہ نہ کرے اس لئے فریقین ایک ایک معتبر ضمانت صد ؍؍؍ صد ؍؍؍ ہزار روپے کی دے دیویں۔
    (ہ) مرزا صاحب یہ بھی لکھ دیں کہ اس بحث کے وقت یا دوران زمانہ بحث میں اگر کوئی الہام اس قسم کا ان کو ہو جاوے جو مبدل یا ناسخ شرائط بحث و مباحثہ ہو یا مرزا صاحب کو کوئی تار اس مضمون کا آجاوے کہ گھر میں کوئی بیمار ہے یا اور کوئی ہمچو قسم خط پیام وغیرہ آ جاوے تومرزا صاحب بحث و مباحثہ کو حسب شرائط مقررہ حال پورا کر دیں گے اور اُس الہام تار خط پیام وغیرہ پر کاربند نہ ہوں گے اگر مرزا صاحب اب میدان میں تشریف نہ لائے اور اس مباحثہ سے منہ پھیر کر اس میں کوئی حیلہ وحجت کریں گے یا اب شرائط میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی پیدا کر دیں گے جس سے اس معاملہ کا وقوع غیر اغلب ہو جاوے تو پھر سمجھا جاوے گا اور اُس کا نتیجہ فطری طور پر یہ ہو گا کہ مرزا صاحب کی الٰہی طاقت (وہی خدائے عاجی والی) مغلوب ہو گئی۔ (تم کلامہ)
    پیر صاحب اور ان کے مولوی غازی صاحب کے اس اشتہار مطبوعہ ۲۵؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ کے جواب میں حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے ایک اشتہار قادیاں سے ۱۴؍اگست ۱۹۰۰ئ؁ کو نکالا جس میں سید صاحب موصوف نے پیر صاحب اور غازی صاحب ہر دو کی تمام باتوں کے مفصل جوابات نہایت عمدگی سے دئیے اور پھر اتمام حجت کے واسطے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر پیر صاحب سیدھی طرح حضرت امامنا کے مقابلہ میں تفسیر القرآن لکھنا نہیں چاہتے اور تفسیر القرآن میں مقابلہ کو ٹالنے کے واسطے ضرور مباحثہ ہی کرنا چاہتے ہیں تو مباحثہ کے واسطے میں حاضر ہوں اور ساتھ ہی سید محمد احسن صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ اگر وہی تین مولوی جو ہمارے مخالف اور پیر صاحب کے موافق ہیں اس وقت مجوزہ قسم کھا کر یہ شائع کر دیں کہ پیر صاحب گولڑوی نے رعب میں آ کر مقابلہ تفسیر کو ٹالنے کے واسطے یہ تجویز نہیں کی بلکہ انہوں نے نیک نیتی سے یہ کارروائی کی ہے تب بھی ہم مان لیں۔
    اس پر نہ تو مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ مباحثہ منظور کیا گیا اور نہ اُن تین مولویوں سے یہ قسم دلائی گئی کہ پیر صاحب گولڑوی کا یہ طریق مقابلہ تفسیر کو ٹالنے کے واسطے نہیں ہے۔ اور پیر صاحب تو بالکل خاموش رہے لیکن راولپنڈی سے ان کے ایک مرید حکیم سلطان محمود خان نے گند کا بھرا ہوا ایک اشتہار شائع کر دیا کہ مولوی محمد احسن کے ساتھ مباحثہ ہم نہیں کرتے خود مرزا صاحب آویں۔ اور لوگوںکو دھوکا دینے کے واسطے اپنی طرف سے اخیر میں مضحکہ کے طور پر حکیم سلطان محمود نے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر مرزا صاحب نہیں مانتے تو پیر صاحب کو مرزا صاحب کی ہی ساری شرائط منظور ہیں مرزا صاحب آ جاویں۔ اس پر کئی ایک اشتہار اور خطوط (جو کہ اسی کتاب میں اپنے موقع پر آگے درج ہوں گے) بخدمت پیر صاحب ہماری جماعت کی طرف سے ارسال کئے گئے اور درخواست کی گئی کہ جو کچھ آپ کا مرید کہہ بیٹھا ہے آپ اپنی زبان مبارک سے فرماویں کہ ہم کو سب شرائط مرزا صاحب کے بلا کم و بیش منظور ہیں مگر کیا مجال تھی کہ پیر صاحب ایسا کہتے بلکہ وہ دل ہی دل میں حکیم سلطان محمود پر خفا ہوتے ہوں گے کہ وہ بے مراد کیوںبغیر ہماری اجازت کے ایسا کہہ بیٹھا۔ اور اس کے بعد جب پیر صاحب لاہور میں آئے تو پیر صاحب کے مریدوں نے پھر وہی اشتہار مباحثہ کا دیا کہ پیر صاحب مباحثہ تقریری کے واسطے آتے ہیں۔
    جب پیر صاحب کے مریدوں نے عوام کو دھوکا دینے کے واسطے یہ مشہور کیا کہ پیر صاحب نے تمام شرائط مرزا صاحب کے مان لئے ہیں اور اب وہ مباحثہ تقریری کے واسطے لاہور آنے والے ہیں تو ہمیں نہایت ہی تعجب ہوا کہ ایک طرف تو لکھتے ہیں کہ تمام شرائط مان لئے ہیں اور دوسری طرف ساتھ ہی یہ لکھ دیتے ہیں کہ مباحثہ تقریری کے لئے پیر صاحب یہاں آئیں گے۔ یہ عجیب ایمان داری کی بات ہے۔ کیا مباحثہ تقریری کے واسطے مرزا صاحب نے دعوت کی تھی جو تم کہتے ہو کہ مرزا صاحب کی دعوت قبول کی گئی ہے۔ اس وقت پبلک کو اصل کیفیت سے آگاہ کرنے کے واسطے لاہوری خادمانِ حضرت مسیح موعود کی طرف سے دو اشتہار مؤرخہ ۱۹، ۲۰ ؍ اگست ۱۹۰۰ئ؁ شائع ہوئے جو کہ ذیل میں درج ہیں۔
    فرار و انکار پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
    از جلسہ تحریر تفسیر قرآنی بمقابل حضرت مسیح موعود
    مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
    اللہ تعالیٰ نے جب اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تو آنحضرتﷺکی نبوت کی تائید میں ہر طرح کے ثبوت، کھلے کھلے دلائل موجود تھے۔ زمانہ کی تنگ و تاریک حالت چاہتی تھی کہ خاتم النبیینؐ پیدا ہو۔ توریت اور انجیل کے نوشتے گواہی دیتے تھے کہ آنحضرتؐ نبی برحق ہیں۔ ہزاروں معجزے اور کرامات بھی دکھلائے گئے۔ یہاں تک کہ آپ کی رسالت کی صداقت میں آسمان سے شق القمر نے بھی شہادت دی۔ مگر کیا ہی پتھر دل تھے کفار کہ باوجود ان سب باتوں کو کوئی تو کہتا کہ یہ جادوگر ہے۔ کوئی ادھر سے دوڑا آتا کہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ سنو۔ کوئی ادھر سے بھاگا آتا اور کہتا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے آسمان سے کتاب اتارو۔ ہم بھی ہاتھ لگا کر دیکھ لیں۔ کوئی کہتا کہ تمہارے ساتھ فرشتے اور خزانے کیوں نہیں ہیں۔ کوئی کچھ اعتراض کرتا کوئی کچھ۔ غرض ایک طوفان بے تمیزی منکرین کے درمیان پھیلا ہوا تھا اور کہتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں اور نہ خدا کا کلام اس پر اُترتا ہے۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر حضرت رسالت مآبؐ نے یہ مشتہر کیا کہ اگر یہ کلام خدا کی طرف سے نہیں تو چلو فیصلہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم بھی ایسا ہی کلام اگرچہ تھوڑا سا ہی بنا کر دکھلائو۔ اور یاد رکھو کہ تم نہیں بنا سکو گے۔ یہ ایک معجزہ تھا حضرت رسول اکرمؐ کا جو قیامت تک کفار کا سر نیچے دبائے رکھے گا۔
    قاعدہ کی بات ہے کہ نائب اپنے منیب کے قدم پر چلتا ہے۔ اور خادم اپنے مخدوم کے رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ؑکو اللہ تعالیٰ نے دین محمدیؐ کی خدمت کے واسطے اور خدا کی توحید اور جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے واسطے مبعوث کیا اور ان کو اس وقت کا امام مقرر کیا اور اپنے کلام سے مشرف کیا اور اُن کو مسیح موعود و مہدی موعود بنایا۔ تو باوجودیکہ ایک صدی کے سرے پر امام کا پیدا ہونا حدیث شریف میں درج ہے۔ اور یہ صدی کا سرا ہے اور اس صدی کا امام بسبب فتنۂ عیسوی کے ضرور ہے کہ مسیح ہو۔ اور حضرت اقدس مرزا صاحب کی تائید میں قرآن شریف اور احادیث سب موجود ہیں۔ اور آسمان سے بھی سورج اور چاند نے رمضان میں گواہی دے دی ہے۔ مگر پھر بھی منکرین ہیں کہ اعتراض سے باز نہیں آتے اور آئے دن کوئی ادھر سے بول اٹھتا ہے کہ یہ قادیان جانے والے کو جادو کر دیتا ہے کوئی اُدھر سے کہتا ہے کہ یہ کاذب ہے اور وہی اعتراض جن کے جواب سینکڑوں دفعہ کتابوں اور رسالوں میں دئیے جا چکے ہیں۔ پھر پھر دُہرائے جاتے ہیں۔ اس واسطے مرشدنا حضرت مرزا صاحب مسیح موعود و مہدی موعود نے بھی اپنے پیشوا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رنگ میں مکذبین کو للکارا کہ بحث و مباحثہ تو بہت ہوئے اور ہر طرح سے قرآن و احادیث کے دلائل دئیے گئے۔ پر تم باز نہیں آتے۔ اچھا اب فیصلہ کا طریق یہ ہے کہ جیسا قرآن شریف کا یہ معجزہ ہے کہ ویسا کوئی کلام نہیں بنا سکتا۔ ایسا ہی ہماری طرف سے یہ نشان ہے کہ ہمارے مخالفین میں سے کسی پر بھی اس کلام کے معارف اور دقائق نہیں کھلتے خواہ وہ مخالف دنیا کے کسی حصہ میں ہو۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے درمیان کوئی جھگڑا پڑ جاوے۔ تو اللہ اور رسول پر اس کا فیصلہ چھوڑو۔ اب یہاں جھگڑا یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے دعویٰ مسیحیت و مہدویت میں صادق ہیں یا اُن کے مخالف و مکذب ان کی تکذیب میں صادق ہیں۔ اچھا اس جھگڑے کو فرقانِ حمید کے پیش کرو۔ وہ کیا فیصلہ دیتا ہے۔ فرقانِ حمید کہتا ہے کہ خدا کے برگزیدہ کا یہ نشان ہے کہ اس سے ایسی کرامات ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے مخالفوں سے نہ ہو سکیں اور اُس پر قرآن شریف کے معارف کھلتے ہیں۔ اور تیسرا یہ کہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
    سو حضرت مرزا صاحب نے ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ کو ایک اشتہار مہر علی شاہ صاحب گولڑوی (جن کو بیٹھے بٹھائے یہ شوق چر ایا ہے کہ ہم بھی مرزا صاحب کی مخالفت میں طبع آزمائی کریں اور یہ نہ سوچا کہ دوسروں نے اپنی پردہ دری کے سوا اور کیا لے لیا ہے جو آپ نے لینا ہے)اور دیگر تمام مخالفین کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ آئو تم سب لاہور میں جمع ہو جائو۔ قرآن شریف کی چند آیات قرعہ اندازی سے لے کر اس کی تفسیر زبان عربی میں لکھیں کیونکہ عربی بہشت کی بولی ہے۔ اور قرآن مجید اس میں نازل ہوا۔ اور اس کے ذریعہ سے بھی انسان کی مناسبت رسول عربیؐ اور قرآن عربی کے ساتھ معلوم ہو سکتی ہے۔ اور دعا کریں کہ جو خدا کے نزدیک صادق ہے اُس کے کلام میں فصاحت اور معارف ہوں۔ اس طرح سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دعا کس کی قبول ہوتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن کریم کے معارف کس پر کھلتے ہیں اور مومن اور صادق کون ہے۔
    یہ ایک طریق ہے جس سے ثابت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف کس کے حق میں مومن ہونے کا فیصلہ دیتا ہے۔ مگر جب یہ اشتہار پیر گولڑوی کو ملا تو معلوم ہوتا ہے کہ پیر گولڑوی دل ہی دل میں گھبرائے اور حیران و ترساں ہوئے۔ کیونکہ اتنی لیاقت کہاں کہ عربی میں تفسیر لکھیں، اور ایسا ایمان کہاں کہ قرآن شریف کے معارف کھلیں اور دعا قبول ہو پس آپ نے سوچا کہ کوئی ایسی تجویز نکالو جس سے یہ مقابلہ بھی نہ ہو اور مریدوں میں بھی کچھ رہ آوے۔ اور بنی بنائی عزت پر بھی مٹی نہ پڑ جاوے۔ کیونکہ حضرت امامنا مرزا صاحب نے صاف طور پر زور سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’ میرا غالب رہنا اسی صورت میں متصور ہو گا کہ جب مہر علیشاہ صاحب بجز ایک دلیل اور قابل شرم اور رکیکعبارت لغو تحریر کے کچھ بھی نہ لکھ سکیں۔ اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھوکیں اور نفرین کریں۔ کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ اور اگر مہر علیشاہ صاحب بھی اپنے تئیں جانتے ہیں کہ وہ مومن اور مستجاب الدعوات ہیں تو وہ بھی ایسی ہی دعا کریں اور یاد رہے کہ خدائے تعالیٰ اُن کی دعا ہرگز قبول نہیں کرے گا کیونکہ وہ خدا کے مامور اور مرسل کے دشمن ہیں۔ اس لئے آسمان پر ان کی عزت نہیں۔
    پس اُسی مقابلہ سے بچنے کے واسطے پیر گولڑوی نے یہ منصوبہ بنایا کہ ’’مرزا صاحب پہلے اُس جلسہ میں اپنے دعویٰ مسیحیت ومہدویت کا تقریری ثبوت دیں اور پھر تحریر کی اجازت ہو گی‘‘ مگر افسوس پیر گولڑوی کو اتنی عقل نہیں آئی کہ اپنے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کے ثبوت کے واسطے ہی تو مرزا صاحب نے یہ بات پیش کی ہے کہ تفسیر قرآن لکھی جاوے۔ تفسیر قرآن میں غالب رہنا ہی تو مرزا صاحب نے اپنے دعویٰ کی صداقت کا نشان مقرر کیا ہے اور اسی کے واسطے جلسہ ہوتا ہے۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ جلسے سے پہلے دعویٰ کا ثبوت دو۔ ہم سنا کرتے تھے کہ پیر گولڑوی منطق پڑھے ہوئے ہیں۔ مگر اب منطق کا حال بھی معلوم ہو گیا ہے۔ چاہئے کہ محمد الدین کتب فروش جس نے بڑے شوق سے اپنے پیر کا اشتہار چھاپا ہے اور ساتھ ہی مرزا صاحب پر بہت سے بہتان اور بے جا اعتراض کئے ہیں۔ پہلے اپنے پیر صاحب کو منطق کی چند کتابیں روانہ کر دیتا۔ اور پھر ان کے اشتہار کے چھپوانے کا ارادہ کرتا۔ پیر صاحب گولڑوی نے یہ تجویز اس واسطے سوچی ہے کہ مرزا صاحب نے زبانی تقریروں کو پسند نہیں کرنا۔ کیونکہ اول تو اس میں فساد کا خطرہ ہوتا ہے اور دوسرے ایسے لوگوں کی زبان کا اعتبار نہیں ۔ اس واسطے مرزا صاحب ہمیشہ تحریری گفتگو کیا کرتے ہیں۔ تقریری نہیں کیا کرتے۔ اور تیسرا مرزا صاحب متنازعہ فیہ باتوں پر نہایت بسط سے اپنی کتابوں میں تحریر کر چکے ہیں اور چوتھا مرزاصاحب کی طرف سے مباحثہ کے واسطے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ بلکہ بالمقابل تفسیر کا اشتہار دیا ہے۔ ان باتوں کو مد نظر رکھ کر پیر گولڑوی نے یہ چال اختیار کی کہ ہم پہلے مباحثہ کرتے ہیں پیچھے تفسیر لکھی جاوے گی۔ اور سوچا کہ نہ مباحثہ ہو گا نہ تفسیر کی باری آوے گی اور ہم اس طرح ذلت سے بچ جائیں گے۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ اس پر بھی ان کا چھٹکارا نہیں ہو سکتا۔ مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے اشتہار مؤرخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۰۰ئ؁ میں آپ کی اور آپ کے شاگرد مولوی غازی کی تمام باتوں کا مفصل جواب دے کر آپ پر آخری حجت اس طرح سے قائم کر دی ہے کہ یہ طریق پیر گولڑوی کے فرار اور انکار کا ثبوت ہے۔ اور اگر یہ اس کا بھاگ جانا نہیں تو وہی تین علماء جو تفسیر قرآن کے واسطے حکم مقرر کئے گئے تھے اُن کے پاس جائیں اور اُن سے اسی طرح کی قسم کے ساتھ جس کا ذکر مرزا صاحب نے کیا ہے یہ شائع کرا دیں کہ پیر صاحب گولڑوی تفسیر لکھنے سے ہراساں و ترساں نہیں ہیں۔ اور انکار کا یہ طریق اُن کی طرف سے بہ سبب اُس خوف کے نہیں ہے کہ وہ مرزا صاحب کے مقابل تفسیر لکھنے سے عاجز ہیں۔ تو ایسی قسم کے بعد اگر ایک سال کے اندر مرزا صاحب کی تائید میں کوئی نشان ظاہر نہ ہوا تو پھر بھی ہم ہی مغلوب سمجھے جائیں گے۔ چلو اب تو فیصلہ بہت آسان ہو گیا۔ ۲۵؍ اگست کے اندر ایسا حلف نامہ شائع کرا دیں۔ اور اگر آپ کو ضرور مباحثہ کا ہی شوق ہے تو مولوی محمد احسن صاحب ۲۵؍اگست کو مباحثہ کے واسطے یہاں پہنچ جائیں گے یہ بھی لیجئے۔ مرزا صاحب کے مقابل تفسیر لکھنے سے تو آپ رہے۔ اُن تین علماء سے مذکورہ بالا گواہی ہی دلا دیں کہ آپ بھاگ نہیں گئے۔یہ بھی نہیں ہو سکتا تو مولوی محمد احسن صاحب مباحثہ ہی کر لیں۔ اور اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو ہزار *** ہے اُس پر جو کوئی طریق بھی فیصلہ کا اختیار نہ کرے اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش کرتا پھرے۔ پیر صاحب گولڑوی کی اس مکارانہ کارروائی کے رد میں مفصل اشتہار مولوی محمد احسن صاحب کا مؤرخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۰ئ؁ دیکھنا چاہئے۔ اور عنقریب قادیاںسے ایک اور اشتہار حضرت اقدس کی طرف سے بھی پیر گولڑوی کی قلعی کھولنے کے واسطے آتا ہے۔ والسلام علے من اتبع الہدیٰ۔
    اتمام حجت
    ہم لاہور جماعت مریدان حضرت اقدس مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد صاحب (موسومہ بہ انجمن فرقانیہ لاہور) اللہ جل شا نہ کی قسم کھا کر صحیح اقرار کرتے ہیں کہ اگر پیر مہر علیشاہ صاحب گولڑوی حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے مقابل ایک جگہ بیٹھ کر بغیر مدد دیگرے بعد دعا سات گھنٹہ کے اندرحضرت مرزا صاحب کے مجوزہ اشتہار کے موافق تفسیر عربی لکھ کر اپنا غلبہ دکھائیں تو ہم ایک ہزار روپیہ نقد بلا عذر اُن کی خدمت میںپیش کر دیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پیر مہر علیشاہ صاحب کے مرید خصوصاً حافظ محمد الدین صاحب تاجر کتب ضرور پیر صاحب کو آمادہ کریں گے۔ کیونکہ دعا کی قبولیت کے دیکھنے کا یہ بے نظیر موقع انہیں دیا گیا ہے۔ اب اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا ان کا اختیار ہے۔ بر رسولاں بلاغ باشد وبس۔
    جماعت مریدان حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہودؑ از لاہور ۱۹؍اگست ۱۹۰۰ئ؁
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    والصلوٰۃ والسلام علے رسولہ الکریم
    (ان یرواسبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا)
    کوئی سیدھی اور بھلائی کی بات ہوتو اُس کو اختیار نہیں کرتے
    پیر گولڑوی کا مرزا صاحب کے مقابلہ سے انکار
    حضرت امامنا مرزا صاحب نے پیر مہر علیشاہ صاحب گولڑوی کو جو دعوت کی تھی کہ بالمقابل تفسیر القرآن بعد دعا کے لکھیں۔ اس سے پیر گولڑوی نے انکار کر دیا ہے اور مرزا صاحب کی کسی شرط کو بھی منظور نہیں کیا۔ بلکہ رو باہ بازی اور ابلہ فریبی کے ساتھ اپنی طرف سے یہ لکھ دیا ہے کہ زبانی مباحثہ کرتا ہوں حالانکہ حضرت مرزا صاحب نے قبولیت دعا اور تفسیر قرآن میں مقابلہ کا اشتہار دیا ہے۔ اگر پیر گولڑوی کے مریدوں کو اپنے پیر کی ایمانداری یا اس کی دعا کی قبولیت کا کچھ یقین ہے تو چاہئے کہ مرزا صاحب کی شرائط ان سے منظور کرائیں۔ اور دعا اور معارف قرآنی میں مقابلہ کرائیں جو کہ انبیاء کی سنت ہے۔ ورنہ پیر گولڑوی کا تفسیر لکھنے کی ناقابلیت اور دعا کے نہ قبول ہو سکنے کے یقین کے سبب بھاگ جانا اور بے جا حیلہ و عذر تراشنا ثابت ہو گیا۔ اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ پیر گولڑوی ہرگز ہرگز مرزا صاحب کے مقابل میں تفسیر عربی نہیں لکھ سکتا اور نہ پیر گولڑوی کی دعا مرزا صاحب کے مقابل میں قبول ہو سکتی ہے اور اگر وہ مرزا صاحب کے مقابل میں تفسیر لکھ کر غالب آ جاوے تو ہم ایک ہزار روپیہ نقد اُس کی نذر کریں گے۔ اور اُس کے فریب پر روشنی ڈالنے کے واسطے عنقریب حضرت مرزا صاحب کی طرف سے بھی ایک اشتہار آتا ہے اور ہمارے اشتہار مؤرخہ ۱۹؍ اگست اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے اشتہار مؤرخہ ۱۴؍اگست میں بھی مہر علیشاہ زیر بحث کا مفصل حال درج ہے شائقین ان کو پڑھ لیں۔
    المشتہر
    لاہور خادمان حضرت مسیح موعودؑ
    ۲۰؍اگست ۱۹۰۰ئ؁
    مذکورہ بالا دو اشتہارات کے پڑھنے سے ناظرین پر واضح ہو گیا ہو گا کہ پیر صاحب نے اور ان کے مریدوں نے اُس وقت ایمان داری کی کہاں تک قدر دانی کی اور پبلک کو دھوکادینے کے واسطے کیا کچھ کوشش کی۔ اس وقت اپنے فریب میں اپنے تئیں کامیاب سمجھ کر پیر صاحب کے مریدوں نے متفرق مقامات سے بہت سے گندے اور ناپاک اشتہار جاری کئے اور اس مخالفت میں جھوٹ بولنا بھی ہر طرح سے جائز سمجھ کر جو کچھ جوش مخالفت میں مُنہ پر آیا کہہ دیا چنانچہ ہم پیر صاحب گولڑوی کے اشتہار کے ضمیمہ اور پیر صاحب کے مرید خاص محمد دین کے اشتہار میں سے نمونہ کے طور پر چند ایک باتیں دکھلاتے ہیں تا پبلک کو معلوم ہو جائے کہ ان لوگوں نے پیر مہر شاہ صاحب کے ساتھ تعلق پیدا کر کے کیا فیض حاصل کیا ہے اور کس قسم کے سلوک کے منازل میں مشق کی ہے کیونکہ مثل مشہور ہے کہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اور اس جگہ ہم دو کالم بناتے ہیں۔ ایک کالم میں مولوی غازی اور محمد دین کا اعتراض جو کہ انہوں نے اپنے اشتہارات مؤرخہ ۲۵؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ اور مؤرخہ ۱۵؍اگست ۱۹۰۰ئ؁ میں کئے) لفظ بہ لفظ نقل کر دیتے ہیں اور دوسرے کالم میں اپنا جواب لکھ دیتے ہیں۔
    ضمیمہ اشتہار پیر گولڑوی یا پیر صاحب کے مرید خاص محمد دین کی عبارت
    اعتراض
    آنحضرت رسول خدا صلعم سورہ زلزال کے معنے غلط سمجھے۔ ازالہ اوہام صفحہ ۱۲۸۔۱۲۹
    جواب
    1۔ مرزا صاحب کی تصنیف ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۲۸, ۱۲۹ میں اوّل سے آخر تک مطلقاً حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یا آپ کا کچھ ذکر آپ کی طرف کوئی اشارہ ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ ناظرین خود ازالہ اوہام کو دیکھ لیں اور پھر انصاف دیں کہ پیر صاحب کے مریدین مولوی غازی اور محمد دین کو کہاں تک سچ بولنے کی عادت ہے۔
    اعتراض
    2۔ حضرت رسول اکرم خاتم النبیین والمرسلین نہیں ہیں۔ ازالہ اوہام صفحہ ۴۲۱،۴۲۲
    جواب
    ازالہ اوہام کے ان صفحوں میں حضرت مرزا صاحب نے تو یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب کی اصل عبارت ان صفحوں میں ا س طرح ہے۔
    ’’ نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیّت کا دعویٰ ہے الخ ‘‘
    اور ان دونوں صفحوں کے اندر جن کا حوالہ مکذب صاحب نے دیا ہے ہرگز کوئی ایسے الفاظ صریحاً یا اشارتاً نہیں ہیں جن میں یہ لکھا ہو کہ حضرت رسول اکرم خاتم النبیینؐ نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت مرزا صاحب نے تو حضرت رسول اکرم ﷺکی تعریف میں ایک جگہ یوں فرمایا ہے کہ ہر نبوت را بروشد اختتام
    اعتراض
    3۔ قرآن شریف میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔ ازالہ اوہام صفحہ ۲۵۔۲۶
    جواب
    ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۵۔۲۶ میں حضرت مرزا صاحب نے مخالفین کو یہ سمجھایا ہے کہ تم مجھ پر سخت کلامی کا کیوں الزام لگاتے ہو حق کے واسطے تلخی اور حرارت کا ہونا ضروری ہے۔ اور واقعات کا اظہار گالی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر اس کو تم گالی سمجھو تو پھر تمہارا اعتراض قرآن شریف پر وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں کفار کے حق میں سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
    نوٹ:۔ اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ قرآن شریف تو خدا کا کلام ہے خدا کو اختیار ہے وہ جسے چاہے برا کہے مرزا صاحب کون ہوتے ہیں جو کسی کے حق میں سخت لفظ لکھیں تو بجواب عرض ہے کہ قرآن شریف کو خدا کا کلام ماننے والے تو آنحضرتﷺ کے ابتدائی وقت میں صرف تھوڑے سے مسلمان ہی تھے۔ کفار تو اس وقت بھی یہی اعتراض کرتے تھے کہ محمد (صلے اللہ علیہ وسلم) لوگوں کو گالیاں دیتا پھرتا ہے۔ سو آپ بھی اعتراض کرنے والے تو مکذبین اور منکرین ہی ہیں ورنہ ہم تو مانتے ہیں کہ مرزا صاحب جو کچھ کہتے اور لکھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضا مندی کے نیچے ہے۔ اور علاوہ ازیں اگر خدا تعالیٰ نے کسی کلمہ کو مکذبین کے حق میں بولنا اپنے کلام میں جائز کر دیا ہے تو وہ کافی سند ہے اس بات کے واسطے کہ ان کلمات کا اپنے محل اور موقع پر بولنا جائز اور ضروری ہے۔
    اعتراض
    4۔ قیامت نہیں ہو گی۔ تقدیر کوئی نہیں ہے۔ صفحہ دوم ٹائٹل پیج ازالہ اوہام
    جواب
    اس صفحہ میں مطلقاً یہ الفاظ نہیں ہیں اورایسے اتہام کے جواب میں ہم سوائے اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہ عَلَی آلْکَاذِبِیْن۔ آخر انسان کہلاتے ہو۔ کچھ تو سچ بولو۔ حضرت مرزا صاحب نے اپنی کئی ایک کتب مثلاً کتاب البریہ، برکات الدّعا وغیرہ میں مسئلہ تقدیر اور قیامت کے ثبوت میں مفصل بیان کیا ہے۔
    غرض اور بھی بہت سے اسی طرح کے اتہام اور افترا ہیں جو کہ ہم پر باندھے گئے ہیں اور پیر صاحب کے اشتہار کے ساتھ شائع کئے گئے ہیں اور اس جگہ ہم نے نمونے کے طور پر چار باتیں ایسی لکھ دی ہیں جن سے پبلک اندازہ کر لے کہ ہمارے مخالف ہم پر جو اتہام لگاتے ہیں ان کی اصلیت کیا ہے۔ وقس علیٰ ہذا۔ اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ یہ عبارتیں ان صفحوں میں سے پیر صاحب یا ان کے مرید مولوی غازی یا محمد دین ہرگز نہیں دکھا سکتے۔ اور جب یہ حال ہے تو پبلک خود اندازہ کر لے کہ ہمارے مخالف کس راہ کے منازل میں مشق کر رہے ہیں صداقت کے راہ میں یا کذب کے راہ میں
    پیر صاحب لاہور میں
    جب قادیان اور لاہور سے اس قسم کے اشتہارات نکلے اور پیر صاحب کو یقین ہو گیا کہ حضرت مرزا صاحب اپنے اُس معاہدہ پر پختہ ہیں جو وہ انجام آتھم میں کر چکے ہیں کہ ہم اب مباحثات ان لوگوں سے نہیں کیا کریں گے اور پیر صاحب نے دیکھا کہ اب تو مرزا صاحب تشریف لائیں گے نہیں اور پبلک کو دھوکا دینے کا عمدہ موقعہ ہے تو آپ جھٹ اپنے سرحدی اور سرحدی مزاج مریدوں کو ساتھ لے کر ۲۴۔تاریخ اگست ۱۹۰۰ئ؁ کو لاہور میں آ پہنچے۔ آتے ہی ملا جعفرز ٹلی کے بیٹے نے آپ کو ایڈریس دیا۔ اور پیر صاحب کے مریدوں نے اشتہار دے دیا کہ پیر صاحب بغرض مباحثہ آ گئے ہیں اور تمام شرائط مرزا صاحب کے انہوں نے منظور کر لیے ہیں۔
    اس پر لاہوری خادمان حضرت مسیح کی طرف سے تیسرا اشتہار نکلا کہ اگر پیر صاحب ہمیں اطلاع دیں کہ انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے تمام شرائط منظور کر لئے ہیں ۔ تو مرزا صاحب اب بھی یہاں آ جاویں گے۔ مگر اُس کے جواب میں بھی صدائے برنخواست۔ وہ اشتہار بعینہٖ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلّے علی رسولہ الکریم
    حضرت مرزا صاحب کے بالمقابل تفسیر القرآن کے لکھنے سے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کا انکار و فرار
    وَ لَا تَلْبِسُو ا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُو ا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْتَعْلَمُوْنَ(البقرہ:43)
    ترجمہ:۔ اس طرح کی جھوٹی باتیں نہ بنائو کہ حق کا پہچاننا لوگوں کو مشکل ہو جائے۔ اور اس طرح حق کو نہ چھپائو۔ کیونکہ اصل میں تم سب کچھ جانتے ہو۔
    اللہ تعالیٰ نے جب رحمۃ للعالمین سرور انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کو نبی آخر الزمان بنایا تو علمائے یہود آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر تم خدا کی طرف سے ہو تو ایسا ہو کہ توریت کی طرح تم پر لکھا لکھایا قرآن شریف یک دفعہ نازل ہو جائے۔ ایسا سوال کرنے میں اُن کافروں نے یہ شرارت سوچی تھی کہ اگر ایسا نہ کریں گے تو ہم لوگوں میں شور مچائیں گے کہ دیکھو ایک معجزہ مانگا تھا۔ وہ بھی نہیں دکھا سکتے۔ اور اگر انہوں نے ایسا کر دکھایا تو ہم کہیں گے کہ (نعوذ باللہ) یہ کاذب ہیں۔ کیونکہ توریت میں نبی آخر الزمان کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ آنحضرتﷺ پر قرآن شریف رفتہ رفتہ نازل ہو گا۔ اس قسم کے فریب خدا کے برگزیدہ لوگوں کے مقابلہ میں لکھے پڑھے مکذّبین ہمیشہ کیا کرتے ہیں۔ امامنا و مرشدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود مرزا غلام احمد صاحب نے مطابق الہام الٰہی اپنی کتاب انجام آتھم میں بھی یہ بات شائع کر دی تھی کہ اب آئندہ ہم کسی مولوی سے مباحثہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ مباحثات بہت ہو چکے اور متنازعہ فیہ مسائل میں کتابیں بہت لکھی جا چکی ہیں۔ اور کتاب مذکور پیر مہر علیشاہ صاحب کی خدمت میں بھی روانہ کی گئی تھی۔
    کیونکہ اُس میں پیر صاحب موصوف کو بھی مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا۔ جس کے جواب میں پیر صاحب نے خاموشی اختیار کر کے مباہلہ سے اپنا انکار و فرار ثابت کیا تھا۔ خیر یہ چار سال کا واقعہ ہے۔ اب جیسا کہ حضرت مرزا صاحب نے پیر صاحب گولڑوی کو بسبب اُن کی بے جا مخالفت اور اپنی کتاب میں علم و فضل کی لاف زنی کے اس بات کی دعوت کی کہ وہ اُن کے مقابلہ میں بعد دعا کے قرآن شریف کی چند آیات کی تفسیر عربی زبان میں لکھیں اور پبلک کو دکھائیں کہ قبولیت دعا و معارف قرآنی کا کھلنا کس کے حق میں مومن ہونے کا فیصلہ دیتا ہے۔ تو پیر صاحب گولڑوی نے وہی بات پیش کر دی کہ ہمارے ساتھ پہلے زبانی مباحثہ کرو حالانکہ مرزا صاحب آج سے چار سال پہلے شائع کر چکے ہیں کہ اب ہم ان امور میں مباحثہ نہیں کریں گے۔ اصل میں پیر صاحب گولڑوی کا نہ اتنا ایمان ہے کہ اُن کی دعا حضرت امامنا کے مقابلہ میں قبول ہو اور نہ اتنی لیاقت ہے کہ بالمقابل تفسیر عربی لکھ سکیں اس واسطے انہوں نے یہ حجت بازی کی۔
    اور ضرور تھا کہ مرزا صاحب کے دیگر مخالف ملانوں کی طرح وہ بھی ایسا کرتے تا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی بات پوری ہو کہ اخیر زمانہ میں لوگ یہود کی خصائل کو اختیار کریں گے۔ طرفہ یہ کہ پیر گولڑوی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب اگر تقریری بحث میں اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکے تو اُن کو بیعت توبہ کرنی ہو گی۔ مگر ایمانداری تو یہ تھی کہ ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیتے کہ اگر مرزا صاحب غالب آ گئے تو ہم بھی بیعت توبہ کریں گے۔ اس کے آگے آپ تحریر فرماتے ہیں کہ بحث کے بعد مرزا صاحب کو اجازت مقابلہ تحریری کی دی جاوے گی۔ ہمیں تعجب آتا ہے پیر صاحب کے ان الفاظ پر۔ جناب کو اتنی عقل نہیں آئی کہ مباحثہ کا نتیجہ تو آپ نے رکھا ہے بیعت توبہ۔ تو جب بیعت توبہ ہو جاوے گی تو کیا پیرو مرید کے درمیان بھی مقابلہ ہوا کرتا ہے، بریں عقل و دانش بباید گریست۔ شاید کہ پیر صاحب کے مرید ان سے ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔ سچ ہے جو شخص اتنی بھی سوجھ نہیں رکھتا وہ بے چارہ معارف قرآنی میں کیونکر مقابلہ کرے۔ اس پر پیر صاحب کے مرید نہایت گندے اور ناپاک الفاظ میں کوئی پنڈی سے اور کوئی لاہور سے اشتہاروں میں حضرت اقدس ؑمرزا صاحب کو گالیاں دیتے ہیں اور افترا باندھتے ہیں اور اُس فیض روحانی کا اثر دکھاتے ہیں جو اُن کو حاصل ہو رہا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ پیر صاحب نے سب شرطیں منظور کر لیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو حکیم سلطان محمود راولپنڈی والا اور محمد دین کتب فروش لاہور والا اور دوسرے مرید کیوں اپنے پیر صاحب سے صاف الفاظ میں یہ اشتہار نہیں دلواتے کہ ہمیں حضرت مرزا صاحب کے اشتہار کے مطابق بلا کمی و بیشی تفسیر القرآن میں مقابلہ منظور ہے۔ اور اگرچہ بموجب دعوت حضرت مرزا صاحب وہ تاریخ گزر چکی ہے۔ جس تک کہ پیر گولڑوی کی طرف سے قبولیت کا خط آنا چاہئے تھا مگر ہم تیار ہیں کہ اب بھی اگر وہ مان جاویں تو دوبارہ مناسب تاریخ مقرر کی جاوے اور جلد فیصلہ بھی ہو جاوے۔ حضرت اقدس مرزا صاحب تشریف لاویں۔ ورنہ حضرت مرزا صاحب کا یہ طریق نہیں ہے کہ سلسلۂ پیری مریدی کے صیغہ کلکٹری میں منزل بہ منزل دورہ پر چڑھیں۔ اور ہمارا کچھ ہرج نہیں۔ اگر پیر صاحب اپنے پرانے طریق کے موافق دورہ کرتے ہوئے لاہور بھی تشریف لاویں۔ لیکن ہم تو یہ عرض کرتے ہیں کہ روپیہ سوا روپے کی نذروں سے کیا بنتا ہے۔ پیر صاحب ایسی تجویز کرتے کہ ہمارے ہزار روپے کی نذر جس کا مفصل ذکر ہم نے اپنے اشتہارات مؤرخہ ۱۹، ۲۰۔ اگست میں کیا ہے قبول کر سکتے اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکیں گے۔ اس لئے افسوس ہے کہ اُن کا لاہور آنا کسی نیک کام کے لئے نہ ہو گا۔ کاش کہ وہ حضرت مرزا صاحب کی دعوت مقابلہ کو منظور کر لیتے اور فیصلہ ہو جاتا۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ ۲۴۔ اگست ۱۹۰۰ئ؁
    المشتہر
    حکیم فضل الٰہی (پریزیڈنٹ) و معراج الدین (جائنٹ سیکرٹری) انجمن فرقانیہ لاہور
    جب اس اشتہار کا جواب ہمیں پیر صاحب کی طرف سے سوائے خاموشی کے کچھ نہ ملا تو پھر ہم نے چوتھی تجویز یہ کی کہ چند آدمی دستی خط دے کر پیر صاحب کی خدمت میں بھیج دیں۔ شاید پیر صاحب یہ اقرار کرلیں کہ ہم کو مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ تفسیر میں منظور ہے تو فیصلہ ہو جاوے۔
    ہمارے اس خط کو لے کر میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ (جو کہ مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں) بمع دو اور آدمیوں کے پیر صاحب کی خدمت میں نماز ظہر کے وقت پہنچے۔ جس کے جواب میں پیر صاحب نے فرمایا کہ ہم اس کا جواب عصر کے بعد دیں گے۔ مگر جب پانچ بجے داروغہ صاحب گئے تو وہاں پہلے سے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ داروغہ صاحب کو باہر سے ہی واپس کر دو تا کہ نہ وہ پیر صاحب کے سامنے ہوں اور نہ آپ کو جواب دینا پڑے۔
    پس داروغہ صاحب کو پیر صاحب کے مریدوں نے باہر سے ہی جواب دے دیا کہ پیر صاحب اُس خط کا جواب نہیں دیتے۔ اس جگہ ہم اپنا خط جو پیر صاحب کے نام لکھا گیا تھا نقل کر دیتے ہیں۔
    خط بنام پیر مہرشاہ صاحب
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہٗ ونصلے علے رسولہ الکریم
    درخواست بخدمت جناب خواجہ پیر مہر شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ حال وارد لاہور
    عالیجناب پیر صاحب!
    بعد ما وجب۔ التماس آنکہ آپ کی تشریف آوری سے پہلے حافظ محمد الدین صاحب تاجر کتب لاہورنے تمام پہلے اشتہاروں کے بر خلاف ایک اشتہار بدیں مضمون شائع کیا تھا کہ آپ ہمارے امام مقدس مجدد وقت مسیح معہود مہدی مسعود خاتم الاولیاء حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ساتھ اُن کی تمام شرائط کو منظور کر کے اُن سے مباحثہ کرنے کے لئے لاہور تشریف لائیں گے۔ جناب کل شام سے لاہور میں تشریف فرما ہیں اور ہم اس وقت تک اس انتظار میں تھے کہ جناب کے دستخط خاص سے کوئی تحریر مطبوعہ یا قلمی ہمارے پاس پہنچے جس میں جناب نے صریح لفظوں میں حضرت اقدس جناب مخد ومنا مرزا صاحب کے اشتہار مرقومہ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ کے مطابق مباحثہ تفسیر نویسی کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کی ہو۔ کیونکہ بغیر اظہار ارادہ مطلق آپ کا یہاں تشریف لانا مفید نہیں۔ اور ہمارے پاس کوئی سند اس بات کے باور کرنے کے لئے موجود نہیں کہ حافظ صاحب مذکور کا ساختہ پر داختہ جناب کو مثل کردہ ذات خود منظور و قبول ہے اور نہ ہی اُس میں صراحت سے لکھا ہے کہ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ والے اشتہار کی پیش کردہ طرز مباحثہ کے لئے آپ تیار ہیں اس لئے اُن کی تحریر قابلِ التفات نہیں سمجھی گئی۔ اور اس لئے اُس وقت تک انتظار کرنے کے بعد آخر ہم خاکساروں نے اس بات کو مناسب سمجھا ہے کہ جناب کی خدمت میں ادب سے گزارش کریں کہ اگر در حقیقت جناب دین اسلام پر رحم کر کے اس بڑے فتنے کو مٹانے کے لئے ہی لاہور میں تشریف لائے ہیں تو فے الفور اپنے دستخط خاص سے اس مضمون کی ایک تحریر شائع کر دیں کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ساتھ اُن کے ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ والے اشتہار کے مطابق بلا کم و کاست شرائط سے مباحثہ تفسیر نویسی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ایسی تحریر پر کم از کم لاہور کے چار مشہور رئیسوں اور مولویوں کے شہادتاً دستخط کرا دیں اور اس میں کوئی پیچیدہ عبارت یا ذو معنییینالفاظ تحریر نہ فرمائیں۔ صاف اور کھلے لفظوں میں لکھیں کہ اُس طرز کے مطابق جس کو ۲۰؍ جولائی ۱۹۰۰ئ؁ کے اشتہار میں مرزا صاحب نے شائع کر دیا ہے۔ اُن کے ساتھ مباحثہ تفسیر کرنے کو تیار ہیں۔
    ہم یہ عرض بادب کرتے ہیں کہ للہ آپ اس فیصلے کے لئے آمادہ ہوں اور کسی طرح گریز کا خیال نہ فرمائیں۔ اور ہم آپ کو ہزار بار خدا کی قسم دے کر عہد کرتے ہیں کہ اس بڑے تنازعہ کے مٹانے کے لئے اس پیش کردہ مباحثہ تفسیر نویسی کو نبا ہیں۔ تا کہ حق و باطل میں فیصلہ ہو کر اصلاح و امن پیدا ہو۔ کیونکہ اگر آپ نے اس سے پیش و پس کیا یا پیچیدہ طور پر جواب دیا یا سکوت اختیار کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ آپ کی نیت میں منشائے احقاق حق نہیں آپ صرف مخلوق کو دھوکا دینا اور اسلام میں فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔
    ہم یقین کرتے ہیں کہ فی الواقع آپ کو حق سے انس اور محبت ہے تو ضرور اُس پر غور کریں گے۔
    اس عریضے کا جواب موصول ہونے پر مع جواب ہم اس کو شائع کر دیں گے والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ مؤرخہ ۲۵؍ اگست ۱۹۰۰ئ؁
    الملمتس۔ خاکسار معراج الدین عمر جائنٹ سکرٹری انجمن فرقانیہ لاہور۔ حکیم فضل الٰہی پریزیڈنٹ انجمن فرقانیہ
    گواہ شد گواہ شد گواہ شد گواہ شد
    دستخط معراج الدین عفی عنہ دستخط عبدالعزیز عفی عنہ دستخط فروی عبدالقادرساکن لاہور بقلم خود مہر بخش دکاندار لاہور
    الراجی عفی عنہ عما سلف عبداللہ الغرادی العرب
    جب اس میں بھی ہم کو پیر صاحب کے سکوت کے توڑنے میں کامیابی نہ ہوئی تو پھر ہم نے پانچویں دفعہ آپ کو بذریعہ ڈاک ایک رجسٹری شدہ خط روانہ کیا۔ کہ شاید اس کا جواب دیں مگر افسوس کہ پیر صاحب ایسے ڈر گئے کہ انہوں نے رجسٹری لینے سے بھی انکار کیا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہٗ ونصلی علے رسولہ الکریم
    وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَا صَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِo
    رجسٹری شدہ چٹھی
    بخدمت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
    کل ایک خط قلمی نہایت ادب سے معرفت چند معززین جن کا نام نامی درج ذیل ہے۔ آپ کی خدمت میں اس لئے بھیجا تھا کہ آپ صفائی سے اپنی خاص دستخطی تحریر سے ایک اشتہار چھپوا کر شائع کر دیں۔ کہ آیا وہ شرائط جو حضرت اقدس امامنا مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ؑنے آپ کی دعوت میں ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ والے اشتہار میں مقرر کی ہیں سب کی سب بلا کم وکاست آپ کو منظور ہیں؟ آپ نے اُس خط کو پڑھ کر قاصدوں سے وعدہ کیا تھا کہ عصر کے بعد جواب دیا جائے گا۔ آپ کا وعدہ بھی گزر چکا ہے۔ اور ابھی تک آپ کی قلم و زبان سے کوئی آواز نہیں سنی۔ اس قدر انتظار کے بعد ہم پھر اس تحریر کے ذریعے سے آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ آپ ایفائے وعدہ کریں۔ کیونکہ آپ کی کوئی تحریر اس وقت تک پوری شرائط مندرجہ اشتہار مرزا صاحب کے مطابق سیدھے طور پر قبولیت مباحثہ تفسیر القرآن کے باب میں شائع نہیں ہوئی۔
    اسمأ معزز قاصدان جو کل خط لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے
    میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ۔ حکیم سید محمد عبداللہ صاحب عرب بغدادی منشی عبدالقادر صاحب مدرس۔ میاں مہر بخش صاحب دکاندار
    از لاہور
    مؤرخہ ۲۶؍ اگست ۱۹۰۰ئ؁
    خاکساران۔ حکیم فضل الٰہی و معراج الدین عمر
    نوٹ:۔ چونکہ کل جواب دینے میں آپ نے ایفائے وعدہ نہیں کیا اس لئے اس تحریر کو طبع کرا کے ارسال کیا گیا۔
    جب اس کے جواب میں بھی پیر صاحب خاموش ہی رہے اور آپ کے مریدوں اور خوش اعتقاد لوگوں نے یہ جھوٹ مشہور کیا کہ پیر صاحب نے مرزا صاحب کو تمام شرائط منظور کر کے کئی ایک تاریں دی ہیں اور مرزا صاحب کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ تب ہم نے ایک اشتہار اس مضمون کا دیا کہ یہ بالکل غلط ہے کوئی تار نہیں دی گئی اور کوئی منظوری شرائط کی پیر صاحب نے نہیں کی۔ وہ اشتہار درج ذیل ہے۔ پیر صاحب کے منہ سے اقرار کرانے کے لئے ہماری ساتویں تجویز تھی مگر کیا مجال تھی کہ پیر صاحب ایک لفظ منہ سے نکالتے بلکہ عصر تک جواب دینے کا جو وعدہ کیا تھا اُس کو بھی پورا نہ کیا اور یہ تجویز دی کہ کوئی جواب لینے والا اُن تک پہنچنے ہی نہ پاوے باہر سے ہی ان لوگوں کو رخصت کرو۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہٗ و نصلے علیٰ رسولہ الکریم
    وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَط وَمَنْ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗٓاٰثِمٌ قَلْبُہٗ ط وَا للّٰہُ بِمَا
    تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ (البقرہ:284)
    اور نہ چھپائو گواہی جو کوئی اُسے چھپاوے اُس کا دل گنہگار ہے
    پیر مہر علی شاہ صاحب سے للہ ایک شہادت کا واسطہ
    پیر مہر علی شاہ صاحب کے مریدوں نے شور مچا رکھا ہے کہ ۲۵۔ تاریخ اگست کو پیر صاحب نے حضرت اقدس جناب محذومنا مرزا غلام احمد صاحب کی خدمت میں تاریں دی تھیں کہ اب صرف تفسیر قرآن کا اُسی طرز سے آپ کے ساتھ مباحثہ کرنا منظور کرتا ہوں جو آپ کے ۲۰؍ جولائی ۱۹۰۰ئ؁ والے اشتہار میں درج ہے۔ بلکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے خاص پیر صاحب کی زبان سے بھی یہ بات سنی ہے۔ نیز ان لوگوں نے عوام الناس کو دھوکا میں ڈالنے کے لئے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ پیر صاحب نے حضرت اقدس مرزا صاحب کی شرط کے مطابق اشتہار شائع کر کے اُن کو پہنچا دیا تھا۔
    اس لئے ہم پیر صاحب سے شہادت حقّہ لینے کے لئے عرض کرتے ہیں
    اگر پیر مہر علی شاہ صاحب چار معزز سمجھدار ہندو رئیسوں کے جلسے میں تین دن کے اندر حلف اٹھا کر اس بات کو ثابت کر دیں کہ پیر صاحب نے ۲۵؍تاریخ کو بمضمون مذکورہ بالا حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں تاریں روانہ کی تھیں اور اسی طرح سے اس بات کو خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر ثابت کر دیں اور اپنا اصل مشتہرہ دکھا دیں کہ جس میں انہوں نے خود حضرت اقدس مسیح موعود مرزا صاحب کو لکھا ہو کہ آپ کے ساتھ مباحثہ تفسیر القرآن تمام شرائط مندرجہ اشتہار ۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ئ؁ کے مطابق کرنے کو منظور کرتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بصورت مغلوبیّت میں آپ کی بیعت کر لوں گا (کیونکہ یہی سب سے بڑی اور ضروری شرط مرزا صاحب کی تھی) تو ہم پیر صاحب کو اکاون روپے بطور نذر پیش کریں گے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو خلقت اُن کی راست بازی سمجھ لے۔
    نوٹ:۔ اس کام کے لئے ہم جناب لالہ سندرداس صاحب سوری ایم اے اسسٹنٹ رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی۔ بابو ابناش چندر صاحب ہیڈ کلرک دفتر ایگزیمینر ریلوے۔ ڈاکٹر لالہ پر مانند صاحب ڈینٹل سرجن و رئیس لاہور۔ لالہ دھنپت رائے صاحب بی اے۔ ایل ایل بی ۔ وکیل چیف کورٹ پنجاب کو منتخب کرتے ہیں فقط ۲۷؍اگست ۱۹۰۰ئ؁
    الملمتس خاکساران۔ حکیم فضل الٰہی و معراج الدین عمر جائنٹ سیکرٹری انجمن فرقانیہ لاہور
    جب ہم نے دیکھا کہ پیر صاحب سوائے پبلک کو دھوکا دینے کے ہرگز نیت بخیر نہیں رکھتے تب آٹھویں تجویز یہ کی گئی۔ کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کا اشتہار مورخہ ۲۵؍ اگست ۱۹۰۰ئ؁ شائع کیا گیا جس میں حضرت مرزا صاحب نے وضاحت کے ساتھ اس امر کا بیان کیا کہ ہمارا لاہور آنا کس صورت میں ممکن تھا جب کہ پیر صاحب نے ہمارے مقابلہ کو منظور ہی نہیں کیا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
    عام لوگوں کو اس بات کی اطلاع کہ
    پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے
    میری دعوت کے جواب میں کیا کارروائی کی
    ناظرین آپ لوگ میرے اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لیں کہ میں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو یہ لکھا تھا کہ مجھ سے اس طرح پر فیصلہ کر لیں کہ بطور قرعہ اندازی کے قرآن شریف میں سے ایک سورۃ لی جائے اور اگر وہ سورۃ چالیس آیت سے زیادہ ہو تو اس میں سے صرف چالیس آیت سورۃ کے ابتدا سے لی جائیں اور پھر میں اور پیر مہر علی شاہ صاحب بغیر مدد کسی دوسرے کے اُس سورۃ کی عربی میں تفسیر لکھیں اور جو شخص اس طرح پر غالب قرارپائے کہ تین گواہ جو وہ بھی پیر مہر علی شاہ صاحب کے فریق میں سے ہوں جیسے مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی تو اُسی کو فتح یاب قرار دیا جاوے۔ تب فریق مغلوب اپنے تئیں کاذب سمجھ لے اور اپنے کذب کا اقرار شائع کر دے اور اس طرح یہ روز کا جھگڑا جو دن بدن موجب تفرقہ ہے فیصلہ پا جائے گا کیونکہ اس سخت مشکل کام میں کہ فصیح عربی میں قرآن شریف کی تفسیر چند گھنٹہ میں بغیر مدد کسی دوسرے شخص اور کتاب کے لکھیں ۔
    درحقیقت یہ ایسا کام ہے جو بجز تائید روح القدس ہرگز انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ اگر پیر صاحب اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیتے تو اُن کے لئے بہت بہتر تھا کیونکہ وہ اہل علم بھی کہلاتے ہیں اور اُن کے مرید اُن کو قطب اور صاحب ولایت بھی سمجھتے ہیں مگر افسوس کہ انہوں نے منظور نہ کیا اور چونکہ کھلے کھلے انکار میں اُن کی علمیّت اور قطبیّت پر داغ لگتا تھا اس لئے ایک چال بازی کی راہ اختیار کر کے یہ حجت پیش کر دی کہ آپ کے شرائط منظورہیں مگر اول قرآن و حدیث کے رُو سے تمہارے عقائد کی نسبت بحث ہونی چاہئے۔ پھر اگر مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے ساتھ کے دو اور آدمیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ تم اس بحث میں حق پر نہیں ہو تو تمہیں میری بیعت کرنی پڑے گی پھر اس کے بعد تفسیر لکھنے کا بھی مقابلہ کر لینا اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا انہوں نے اس طرز کے جواب میں میری دعوت کو قبول کیا یا رد کیا میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کا ٹھٹھا اور ہنسی ہے کہ ایسے عقائد کے بحثوں میں جن میں اُن کو خود معلوم ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی سب سے اول مخالف شخص ہے اُس کی رائے پر فیصلہ چھوڑتے ہیں حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا مجھے سچا قرار دینا گویا اپنی قدیم مخالفت کو چھوڑنا ہے ہاں اعجازی مقابلہ پر اگر اُس کی قسم پر مدار رکھا جاتا تو یہ صورت اور تھی کیونکہ ایسے وقت میں جب کہ خدا تعالیٰ ایک معجزہ کے طور پر ایک فریق کی تائید کرتا تو محمد حسین کیا بلکہ صدہا انسان بے اختیار بول اٹھتے کہ خدا نے اپنے روح القدس سے اس شخص کی مدد کی کیونکہ اس قدر انکشاف حق کے وقت کسی کی مجال نہیں جو جھوٹی قسم کھا سکے ورنہ منقولی مباحثات میں تو عادتاً ایک کَو دَن طبع اپنے تئیں سچ پر سمجھتا ہے اور قسم بھی کھا لیتا ہے۔
    ما سوا اِس کے پیر صاحب کو یہ بھی معلوم ہے کہ میں رسالہ انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ آئندہ میں ایسی منقولی بحثیں ان علماء سے نہیں کروں گا اور پھر کیونکر ممکن ہے کہ میں اس عہد کو توڑ دوں اور پیر صاحب کی جماعت کی تہذیب کا یہ حال ہے کہ گندی گالیوں کے کھلے کارڈ میرے نام ڈاک کے ذریعے سے بھیجتے ہیں۔ ایسی گالیاں کہ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ چوہڑہ یا چمار بھی زبان پر نہیں لا سکتا۔ پہلے میرا ارادہ تھا کہ پیر صاحب کا یہ گمان باطل بھی توڑنے کے لئے کہ گویا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے کچھ بحث کر سکتے ہیں اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج دوں اور اگر حبّی فی اللہ فاضل جلیل القدر مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی پیر صاحب کے ساتھ بحث کرنا قبول فرماتے تو اُن کا فخر تھا کہ ایسے سید بزرگوار محدث اور فقیہ نے اپنے مقابلہ کے لئے اُن کو قبول کیا مگر افسوس کہ سید صاحب موصوف نے جب یہ دیکھا کہ اُس جماعت میں ایسے گندے لوگ موجود ہیں کہ گندی گالیاں اُن کا طریق ہے تو اس کو مشتے نمونہ از خروارے پر قیاس کر کے ایسی مجلسوں میں حاضر ہونے سے اعراض بہتر سمجھا ہاں میں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے لئے بطور تحفہ ایک رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام میں نے تحفہ گولڑویہ رکھا ہے۔ جب پیر صاحب موصوف اس کا جواب لکھیں گے تو خود لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ ہمارے دلائل کیا ہیں اور ان کا جواب کیا۔ اب ہم اپنے اس اشتہار کے مقابل پر جو بِنا اس دعوت کی ہے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب کا اشتہار لکھ دیتے ہیں ناظرین خود فیصلہ کر لیں کہ آیا اُن کا جواب نیک نیتی اور حق پژ دہی کی راہ سے ہے یا شطرنج کے کھیلنے والے کی طرح صرف ایک چال ہے۔ والسلام علے من اتبع الہدے ٰ۔
    المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد قادیان۔ ۲۵؍ اگست ۱۹۰۰ئ؁
    نوٹ:۔ چونکہ دونوں اشتہار ہم اس کتاب میں اوپر درج کر آئے ہیں اس واسطے اُن کے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
    جب اس پر بھی گولڑوی کی مہر سکوت نہ ٹوٹی اور آتھم کی طرح باوجود لوگوں کے اُکسانے اور بہت کچھ زور لگانے کے اُس کو ہرگز جرأت نہ ہوئی کہ یہ الفاظ منہ سے نکال سکے کہ مجھے مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ بالتّفسیر منظور ہے تب حضرت اقدس کی طرف سے ایک اشتہار مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۰۰ئ؁ جس میں گولڑوی کے منشاء کے مطابق حضرت نے منظور فرمایا کہ ہم ایک مجلس میں کھڑے ہو کر اپنے دعاوی کے متعلق ایک تقریر کرتے ہیں۔ پھر پیر گولڑوی اُس کا جواب دیں۔ قادیان سے چھپ کر یہاں آیا۔ مگر چونکہ اس وقت پیر گولڑوی اس خوف سے مبادا کہ ہم کو لوگ جمعہ کے دن کچھ تقریر کرنے کے واسطے مجبور کریں اور اس مکروفریب سے جو عزت و شہرت بن گئی ہے وہ خاک میں مل جاوے جمعہ سے پہلے ہی یہاں سے فرار ہو گئے تھے اس واسطے وہ اشتہار بذریعہ رجسٹری ان کو روانہ کیا گیا۔ مگر اُن پر ایسا رعب پڑا ہوا تھا کہ اُس رجسٹری کے لینے سے بھی اُنہوں نے انکار کیا۔ اس جگہ ہم اپنا خط بنام پیر گولڑوی جو اُس وقت شائع کیا گیا تھا اور حضرت اقدس مرزا صاحب کا اشتہار نقل کر دیتے ہیں۔

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلّے علیٰ رسولہ الکریم
    پیر مہر علی شاہ صاحب کے توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ
    ناظرین کو خوب یاد ہو گا میں نے موجودہ تفرقہ کے دور کرنے کے لئے پیر مہر علی شاہ صاحب کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہم دونوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے ایک قرآنی سورہ لے کر عربی فصیح بلیغ میں اس کی ایسی تفسیر لکھیں جو قرآنی علوم اور حقائق اور معارف پر مشتمل ہو اور پھر تین کس مولوی صاحبان جن کا ذکر پہلے اشتہار میں درج ہے۔ قسم کھا کر ان دونوں تفسیروں میں سے ایک تفسیر کو ترجیح دیں کہ اس کی عربی نہایت عمدہ اور اس کے معارف نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ پس اگر پیر صاحب کی عربی کو ترجیح دی گئی تو میں سمجھ لوں گا کہ خدا میرے ساتھ نہیں ہے تب ان کے غلبہ کا اقرار کروں گا اور اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اور اس طرح پر فتنہ جو ترقی پر ہے فرو ہو جائے گا اور اگر میں غالب رہا تو پھر میرا دعویٰ مان لینا چاہئے۔ اب ناظرین خود سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح سے بڑی صفائی سے فیصلہ ہو سکتا تھا اور پیر صاحب کے لئے مفید تھا کیونکہ قسم کھانے والا جس کے فیصلہ پر حصر رکھا گیا تھا وہ مولوی محمد حسین بٹالوی ہے اور دو ان کے اور رفیق تھے مگر پیر صاحب نے اس دعوت کو قبول نہ کیا اور اس کے جواب میں یہ اشتہار بھیجا کہ پہلے نصوص قرآنیہ حدیثیہ کی رو سے مباحثہ ہونا چاہئے اور اس مباحثہ کے حکم وہی مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے دو رفیق تھے۔ اگر وہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس مباحثہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب جیت گئے تو اسی وقت لازم ہو گا کہ میں ان کی بیعت کر لوں پھر بالمقابل تفسیر بھی لکھوں۔ اب ظاہر ہے کہ اس طرح کے جواب میں کیسی چال بازی سے کام لیا گیا ہے۔ منہ سے تو وہ میری تمام شرطیں منظور کرتے ہیں مگر تفسیر لکھنے کے امر کو ایک مکر سے ٹال کر زبانی مباحثہ پر حصر کر دیا ہے اور ساتھ ہی بیعت کی شرط لگا دی ہے۔ بہت زور دیا گیا مگر ان کے منہ سے اب تک نہیں نکلا کہ ہاں مجھے بغیر زیادہ کرنے کسی اور شرط کے فقط بالمقابل عربی میںتفسیر لکھنا منظور ہے اور با ایں ہمہ ان کے مرید لاہور کے کوچہ و بازار میں مشہور کر رہے ہیں کہ پیر صاحب نے شرطیں منظور کر لی تھیں اور مرزا اُن سے خوف کھا کر بھاگ گیا۔ یہ عجیب زمانہ ہے کہ اس قدر منہ پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ پیر صاحب کا وہ کون سا اشتہار ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں کوئی زیادہ شرط نہیں کرتا مجھے بالمقابل عربی فصیح میں تفسیر لکھنا منظور ہے اور اسی پر فریقین کے صدق و کذب کا فیصلہ ہو گا اور ا س کے ساتھ کوئی شرط زائد نہیں لگائی جائے گی ہاں منہ سے تو کہتے ہیں کہ شرطیں منظور ہیں مگر پھر ساتھ ہی یہ حجت پیش کر دیتے ہیں کہ پہلے قرآن اور حدیث کے رو سے مباحثہ ہو گا اور مغلوب ہو گئے تو اسی وقت بیعت کرنی ہو گی۔ افسوس کہ کوئی صاحب پیر صاحب کی اس چال کو نہیں سوچتے کہ جب کہ مغلوب ہونے کی حالت میں کہ جو صرف مولوی محمد حسین کی قسم سے سمجھی جائے گی میرے لئے بیعت کرنے کا قطعی حکم ہے جس کے بعد میرا عذر نہیں سنا جائے گا تو پھر تفسیر لکھنے کے لئے کونسا موقع میرے لئے باقی رہا۔ گویا مجھے تو صرف مولوی محمد حسین صاحب کے ان چند کلمات پر بیعت کرنی پڑے گی کہ جو پیر صاحب کے عقائد ہیں وہی صحیح ہیں گویا پیر صاحب آپ ہی فریق مقدمہ اور آپ ہی منصف بن گئے کیونکہ جب کہ مولوی محمد حسین صاحب کے عقائد حضرت مسیح اور مہدی کے بارے میں بالکل پیر صاحب کے مطابق ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب اور پیر صاحب گویا ایک ہی شخص ہیں دو نہیں ہیں تو پھر فیصلہ کیا ہوا۔ انہی مشکلات اور ان ہی وجوہ پر تو میں نے بحث سے کنارہ کر کے یہی طریق فیصلہ نکالا تھا جو اس طرح پر ٹال دیا گیا۔ بہر حال اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے گلی کوچے میں پیر صاحب کے مرید اور ہم مشرب شہرت دے رہے ہیں کہ پیر صاحب تو بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے لاہور میں پہنچ گئے تھے مگر مرزا بھاگ گیا اور نہیں آیا۔ اس لئے پھر عام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ تمام باتیں خلاف واقعہ ہیں بلکہ خود پیر صاحب بھاگ گئے ہیں اور بالمقابل تفسیر لکھنا منظور نہیں کیا اور نہ ان میں یہ مادہ اور نہ خدا کی طرف سے تائید ہے اور میں بہر حال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر کے ساتھ ہیں اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے تواس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔ ان لوگوں کا جوش اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بعض کارڈ گندی گالیوں کے ان لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچے ہیں جو چوہڑوں چماروں کی گالیوں سے بھی فحش گوئی میں زیادہ ہیں جو میرے پاس محفوظ ہیں بعض تحریروں میں قتل کی دھمکی دی ہے۔ یہ سب کاغذات حفاظت سے رکھے گئے ہیں مگر باوجود اس کے کہ اس درجہ کی گندہ زبانی کو ان لوگوں نے استعمال کیا ہے کہ مجھے امید نہیں کہ اس قدر گندہ زبانی ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر یا فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ پر دکھلائی ہو پھر بھی اگر پیر صاحب نے اپنی نیت کو درست کر لیا ہے اور سیدھے طور پر بغیر زیادہ کرنے کسی شرط کے وہ میرے مقابل پر عربی میں تفسیر لکھنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بہرحال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تفسیر لکھنے میں ہو گا لاہور میں اپنے تئیں پہنچائوں گا صرف دو امر کا خواہش مند ہوں جن پر لاہور میں میرا پہنچنا موقوف ہے۔ (1)اول یہ کہ پیر صاحب سیدھی اور صاف عبارت میں بغیر کسی پیچ ڈالنے یا زیادہ شرط لکھنے کے اس مضمون کا اشتہار اپنے نام پر شائع کر دیں جس پر پانچ لاہور کے معزز اور مشہور ارکان کے دستخط بھی ہوں کہ میں نے قبول کرلیا ہے کہ میں بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کے عربی فصیح بلیغ میں تفسیر قرآن شریف لکھوں گا۔ اور (۱) پہلے اس طرح پر قرعہ اندازی کی جائے گی کہ تمام قرآنی سورتوں کے متفرق پرچوں پر نام لکھ کر فریقین میں سے ایک فریق کی جھولی میں ڈال دئیے جائیں گے اور وہ فریق ان پرچوں کو پوشیدہ رکھے گا اور دوسرا فریق اس جھولی میں ہاتھ ڈال کر ایک پرچہ نکال لے گا اور اُس پرچہ کی سورۃ اگر بہت لمبی ہو گی تو اس میں سے چالیس آیت تک یا پوری سورۃ اگر چالیس آیت سے زیادہ نہ ہو تفسیر لکھنے کے لئے اختیار کی جائے گی۔ (۲) فریقین کا اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے ایک دوسرے کی بخوبی تلاشی لے لیں تا کہ کوئی پوشیدہ کتاب ساتھ نہ ہو اور یہ امر موجب رنج نہ سمجھا جائے گا۔ (۳) اگر کوئی فریق کسی ضروری حاجت کے لئے باہر جانا چاہے تو دوسرے فریق کا کوئی نگرانی کرنے والا اُس کے ساتھ ہو گا اور وہ تین آدمی سے زیادہ نہ ہوں گے۔ (۴) ہرگز جائز نہ ہو گا کہ تفسیر لکھنے کے وقت کسی فریق کو کوئی دوسرا مولوی مل سکے بجز کسی ایسے نوکر کے جو مثلاً پانی پلانا چاہتا ہے اور فی الفور خدمت کے بعد واپس جانا ہو گا۔ (۵) فریقین ایک دوسرے کے مقابل صرف دو تین ہاتھ کے فاصلہ پر بیٹھیں گے اس سے زیادہ دوری نہیں ہو گی تا وہ دونوں ایک دوسرے کے حالات کے نگران رہ سکیں۔ اگر کسی فریق کی کوئی خیانت ثابت ہو تو مقابلہ اُسی جگہ ختم ہو جائے گا اور اس فریق کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس حالت میں کیا جاتا جو وہ مغلوب رہتا۔ (۶) ہر ایک فریق اپنی تفسیر کے دو دو ورق لکھ کر ان کی نقل فریق ثانی کو بعد دستخط دیتا رہے گا اور اسی طرح اخیر تک دو دو ورق دیتا جائے گا تا یک دفعہ نقل لکھنے میں کسی خیانت کا کسی فریق کو موقع نہ ملے۔ (۷) تفسیر کے بہر حال بیس ورق ہوں گے اُس قلم اور تقطیع کے موافق جو مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی کا قرآن شریف شائع ہوا ہے۔ (۸) صبح کے چھ بجے سے ایک بجے تک یا اگرکوئی ہر جہ پیش آ جائے تو دو بجے تک دونوں فریق لکھتے رہیں گے۔ (۹) ہرگز اختیار نہ ہو گا کہ کوئی فریق اپنے پاس کوئی کتاب رکھے یا کسی مددگار کو اپنے پاس بٹھاوے یا کسی اشارہ کنایہ سے مدد لے۔ (۱۰) تفسیر میں کوئی غیر متعلق بات نہیں لکھی جائے گی صرف قرآن شریف کی اُن آیات کی تفسیر ہو گی جو قرعہ اندازی سے نکلی ہیں۔ اگر کوئی اس شرط کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ بھی مغلوب سمجھا جائے گا۔ (۱۱) اس بات پر کوئی بات زیادہ نہیں کی جائے گی کہ فریقین بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں اور نہ یہ کہا جائے گا کہ اوّل کوئی بحث کر لو یا کوئی اور شرائط قائم کر لو فقط عربی میں تفسیر لکھنا ہو گا و بس (۱۲) جب دونوں فریق قرعہ اندازی سے معلوم کر لیں کہ فلاں سورۃ کی تفسیر لکھنی ہے تو اختیار ہو گا کہ قبل لکھنے کے گھنٹہ یا دو گھنٹہ تک سوچ لیں مگر کسی سے مشورہ نہیں لیا جائے گا اور نہ مشورہ کا موقع دیا جائے گا بلکہ گھنٹہ دو گھنٹہ کے بعد لکھنا شروع کر دیا جائے گا۔
    یہ نمونہ اشتہار ہے جس کی ساری عبارت بلا کم و بیش پیر صاحب کو اپنے اشتہاروں میں لکھنی چاہئے اور اس پر پنج کس معززین لاہور کی گواہیاں ثبت ہونی چاہئیں اور چونکہ موسم برسات ہے اس لئے ایسی تاریخ اس مقابلہ کی لکھنی چاہئے کہ کم سے کم تین دن پہلے مجھے اطلاع ہو جائے۔ (۲) دوسرا امر جو میرے لاہور پہنچنے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے شہر لاہور کے تین رئیس یعنی نواب شیخ غلام محبوب سبحانی صاحب اور نواب فتح علی شاہ صاحب اور سید برکت علی خاں صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ ایک تحریر بالاتفاق شائع کر دیں کہ ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مریدوں اور ہم عقیدوں اور ان کے ہم جنس مولویوں کی طرف سے کوئی گالی یا کوئی وحشیانہ حرکت ظہور میں نہیں آئے گی۔ اور یاد رہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بیس آدمی سے زیادہ نہیں ہیں ان کی نسبت یہ انتظام کر سکتا ہوں کہ مبلغ دو ہزار روپیہ ان تین رئیسوں کے پاس جمع کروا دوں گا
    اگر میرے ان لوگوں میں سے کسی نے گالی دی یا زدو کوب کیا تو وہ تمام روپیہ میرا ضبط کر دیا جائے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ اس طرح پر خاموش رہیں گے کہ جیسے کسی میں جان نہیں مگر پیر مہر علی شاہ صاحب جن کو لاہور کے بعض رئیسوں سے بہت تعلقات ہیں اور شاید پیری مریدی بھی ہے ان کو روپیہ جمع کرانے کی کچھ ضرورت نہیں کافی ہو گا کہ حضرات معزز رئیسان موصوفین بالا اُن تمام سرحدی پُر جوش لوگوں کے قول اور فعل کے ذمہ دار ہو جائیں جو پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور نیز ان کے دوسرے لاہوری مریدوں خوش عقیدوں اور مولویوں کی گفتار کردار کی ذمہ داری اپنے سپرد لے لیں جو کھلے کھلے طور پر میری نسبت کہہ رہے ہیں اور لاہور میں فتوے دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ ان چند سطروں کے بعد جو ہر ۳ ؎ معزز رئیسان مذکورین بالا اپنی ذمہ داری سے اپنے دستخطوں کے ساتھ شائع کر دیں گے اور پیر صاحب کے مذکورہ بالا اشتہار کے بعد پھر میں اگر بلا توقف لاہور میں نہ پہنچ جائوں تو کاذب ٹھہروں گا۔
    ہر ایک شخص جو نیک مزاج اور انصاف پسند ہے اگر اس نے لاہور میں پیر مہر علی شاہ صاحب کی جماعت کا شورو غوغا سنا ہو گا اور ان کی گالیوں اور بد زبانیوں اور سخت اشتعال کے حالات کو دیکھا ہو گا تو وہ اس بات میں مجھ سے اتفاق کر ے گا کہ اس فتنہ اور اشتعال کے وقت میں بجز شہر کے رئیسوں کی پوری طور کی ذمہ داری کے لاہور میں قدم رکھنا گویا آگ میں قدم رکھنا ہے۔ جو لوگ گورنمنٹ کے قانون کی بھی کچھ پرواہ نہ رکھ کر اعلانیہ فتویٰ پہ فتویٰ میری نسبت دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے کیا ان کا وجود خطرناک نہیں ہے اور کیا شرع اور عقل فتویٰ دے سکتے ہیں کہ یہ پر جوش اور مشتعل لوگوں کے مجموعوں میں بغیر کسی پورے قانونی بندوبست کے جانا مضائقہ نہیں ہے؟ بے شک لاہور کے معزز رئیسوں
    ۱؎ پیر صاحب کو اس فیصلہ کے لئے پانچ دن کی مہلت دی جاتی ہے اگر پانچ دن تک جواب نہ آیا تو ان کی گریز قطعی طور پر سمجھی جائے گی۔
    کا یہ فرض ہے کہ آئے دن کے فتووں کے مٹانے کے لئے یہ ذمہ داری اپنے سر پر لے لیں اور اپنی خاص تحریروں کے ذریعہ سے مجھے لاہور میں بلا لیںا ور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب بالمقابل عربی تفسیر لکھنے سے عاجز ہوں جیسا کہ در حقیقت یہی سچا امر ہے تو ایک اور سہل طریق ہے جو وہ طرز مباحثہ کی نہیں جس کے ترک کے لئے میرا وعدہ ہے اور وہ طریق یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری مذکورہ بالا کے بعد میں لاہور میں آئوں اور مجھے اجازت دی جائے کہ مجمع عام میں جس میں ہر ۳ ؎ رئیس موصوفین بھی ہوں تین گھنٹہ تک اپنے دعویٰ اور اس کے دلائل کو پبلک کے سامنے بیان کروں۔ پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف کوئی خطاب نہ ہو گا۔ اور جب میں تقریر ختم کر چکوں تو پھر پیر مہر علی شاہ صاحب اٹھیں اور وہ بھی تین گھنٹے تک پبلک کو مخاطب کر کے یہ ثبوت دیں کہ حقیقت میں قرآن اور حدیث سے یہی ثابت ہے کہ آسمان سے مسیح آئے گا۔ پھر بعد اس کے لوگ ان دونوں تقریروں کا خود موازنہ اور مقابلہ کرلیں گے ان دونوں باتوں میں سے اگر کوئی بات پیر صاحب منظور فرمائیںتو بشرط تحریری ذمہ داری رئوساء مذکورین میں لاہور میں آ جائوں گا۔ واللہ علے ما نقول شہید۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔
    گواہ شد مولوی حکیم نور الدین صاحب گواہ شد مولوی عبدالکریم صاحب
    گواہ شد مولوی سید محمد سعید صاحب حیدر آبادی گواہ شد صاحبزادہ سراج الحق صاحب جمالی نعمانی گواہ شد شیخ غلام حیدر صاحب ڈپٹی انسپکٹر ضلع سیالکوٹ
    گواہ شد کاتب اشتہار منظور محمد لدھیانوی
    المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی ۲۸۔اگست ۱۹۰۰ئ؁
    یاد رہے کہ جس اشتہار کے شائع کرنے کا نمونہ پیر صاحب کے لئے اس اشتہار میں لکھا گیا ہے یا جو دوسری شرط تین رئیسوں کی ذمہ داری کی بابت لکھی گئی ہے۔ اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو گی۔ منہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
    پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی خدمت میں ایک رجسٹرڈ خط
    حضرت اقدس امامنا و مرشدنا مسیح موعود و مہدی معہود کی طرف سے یہ اشتہار ۲۸؍اگست کو شائع ہوا ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر القرآن اور قبولیت دعا میں مقابلہ کرنے سے تو رہے۔ اگر وہ ضرور تقریر ہی کو پسند کرتے ہیں تو بشرطیکہ لاہور کے تین مسلمان رئیس جن کے اسماء گرامی درج اشتہار ہیں اس بات کا ذمہ اٹھائیں کہ پیر صاحب گولڑوی کے پر جوش سرحدیوں اور سرحدی مزاج لوگوں کی طرف سے فساد کا خطرہ نہ ہو گا۔ تو حضرت مرزا صاحب لاہور میں تشریف لا کر اپنے دعویٰ اور دلائل کے متعلق ایک تقریر تین گھنٹے میں کریں گے اور پیر صاحب کو مخاطب نہیں کیا جائے گا۔ بعد اس کے پیر صاحب تین گھنٹے تک اس کے رد میں تقریر کریں چونکہ مشہور تھا کہ پیر صاحب کا رادہ جمعہ تک یہاں قیام فرمانے کا ہے۔ اس لئے یہ اشتہار لاہور میں دستی آیا۔ مگر چونکہ تعلیم یافتہ لوگوں نے (جن کے ساتھ پیر صاحب کے بعض مرید اور مخلص بھی شامل ہو گئے تھے) پیر صاحب سے بار بار اصرار کیا کہ کوئی تقریر ایک عام جلسہ میں کریں۔ اور پیر صاحب کو یہ لیاقت نہ تھی کہ پبلک جلسہ میں چند گھنٹہ سلسلہ وار تقریر کریں۔ اس واسطے انہوں نے یہاں سے روانگی بہت جلد ٹھہرائی۔ لہٰذا حضرت اقدس کا اشتہار ایک خط کے ساتھ بذریعہ رجسٹری روانہ کیا گیا اور وہ خط ذیل میں درج ہے۔
    ’’ جناب پیر مہر علی شاہ صاحب۔ گزارش ہے کہ حضرت اقدس امامنا و مرشدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود کی طرف سے ایک اشتہار مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۰۰ئ؁ ہمارے پاس اس غرض سے آیا ہے کہ آپ کی خدمت میں پہنچایا جاوے۔ چونکہ عام طور پر یہ خبر لاہور میں مشہور تھی کہ آپ کا یہاں قیام فرمانا یوم جمعہ تک ہو گا۔ اس واسطے یہ اشتہار لاہور میں دستی آیا اور اس کے جواب کے واسطے ۵ دن کی میعاد مقرر کی گئی ہے۔ اب چونکہ آپ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں اس واسطے تین اشتہار بذریعہ رجسٹری آپ کی خدمت میں ارسال کئے جاتے ہیں اور نیز زیادہ تشفی کے واسطے دو اشتہار آپ کے مشہور مریدوں کو دئیے جاتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں ارسال کر دیں۔ اور بجائے پانچ دن کے حضرت مرزا صاحب کی طرف سے پندرہ دن کی مہلت آپ کو دی جاتی ہے کہ اس عرصہ میں آپ تینوں مذکورہ رئوسا کے دستخط کرا کر بھیج دیں۔ کہ وہ آپ کے مریدین و معتقدین کی طرف سے امن کے ذمہ دار ہیں اور اپنا اشتہار قبولیت شرائط کا بھی شائع کر دیں۔ تو پھر حضرت مرزا صاحب تشریف لے آویں گے۔ علاوہ ازیں یہ بھی گزارش ہے کہ اگر آپ اس مقابلہ میں تشریف لاویں گے تو آپ کو کرایہ ریل سیکنڈ کلاس اور آپ کے دو خادمین کا کرایہ ریل انٹرمیڈیٹ کلاس آمد و رفت کا ہم نذر کریں گے اُمید ہے کہ آپ حق کے فیصلہ کے واسطے بہت جلد اس کا حسن انتظام کر کے لاہور میں تشریف لاویں گے۔
    لاہور ۲۱؍اگست ۱۹۰۰ئ؁
    ٭ مفتی محمد صادق عثمانی کلرک دفتر اکائونٹنٹ جنرل پنجاب لاہور
    ٭ منشی تاج الدین سیکرٹری انجمن فرقانیہ لاہور
    ٭ دیگر غلامان حضرت مسیح موعود و مہدی معہود
    جب پیر صاحب نے دیکھا کہ لوگ اس طرح تو مجھے نہیں چھوڑتے اور آگے جمعہ کا دن آتا ہے شائد اس دن پھر مجبور کر کے لوگ مجھے ممبر پر کھڑا کر دیں اور خفّت اور سبکی حاصل ہو۔ اس واسطے بہتر ہے کہ آپ یہاں سے جلد بھاگو تو پھر وہ جمعہ سے پہلے ہی یہاں سے چل دئیے۔ اور جاتے ہوئے اپنے مریدوں کو وصیت کر گئے کہ مرزا صاحب اور اُن کی جماعت کی کتابیں اور اشتہارات نہ پڑھیں۔
    فیضانِ گولڑوی
    اب جب کہ ہم یہ دکھا چکے ہیں کہ باوجود ہمارے اصرار کے اور اشتہار پر اشتہار دینے اور خط پر خط روانہ کرنے کے پیر گولڑوی نے ہرگز یہ جرأت نہ کی کہ حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں آنے کا اقرار کرے اور اپنے مریدوں کے اندر ایک محصور آدمی کی طرح گھرا رہا اور باوجود لوگوں کے اصرار کے کوئی تقریر بھی نہ کر سکا اور بیرنگ لفافے کی طرح جیسا کہ آیا تھا ویسا ہی واپس چلا گیا تو ساتھ ہی ہم یہ بھی دکھا دینا چاہتے ہیں کہ اُس کی ہم نشینی اور صحبت اور طرف داری جن لوگوں نے اختیار کی انہوں نے پبلک کو اس فیضان کا کیا نمونہ دکھایا۔
    جس شام کو پیر گولڑوی لاہور میں آیا اُسی وقت سے شہر کے اندر مخالفین کے درمیان ایک جوشِ مخالفت برپا ہوا اور چاروں طرف سے پیر صاحب کے اکثر ہم عقیدہ لوگ ایک دفعہ مانند درندہ کے وحشی ہو گئے اور ایک مرید حضرت مرزا صاحب کے واسطے محال تھا کہ وہ بغیر گالیاں اور وہ بھی فحش گالیاں سننے سے بازار سے گزر سکے۔
    خصوصاً وہ مقام جس میں اس کے خاص مرید رہتے ہیں وہاں سے گزرنے کا مجھے خود اتفاق ہوا۔ پیر گولڑوی کے طرف داروں نے نہایت سفلہ پن کے ساتھ اُچھل اُچھل کرگندی گالیوں کے ساتھ اپنی زبانوں کو ناپاک کیا اور اگر گورنمنٹ انگریزی کا خوف نہ ہوتا تو قریب تھا کہ وہ مجھ پر حملہ کرتے۔ خیر یہ بازاریوں کی بات ہے۔
    مسجدوں میں کھڑے ہو کر ممبروںپر چڑھ چڑھ کر گندی گالیوں کے اشعار پڑھے گئے۔ اور پیر گولڑوی وہاں صدر بن کر بیٹھے رہے۔ اور کسی کو خیال نہ آیا کہ خانہ خدا کس کام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جہاں ہم اشتہار لگاتے۔ ہر طرح سے اُس کے مٹانے اور اتارنے اور پھاڑنے کی کوشش کرتے۔ کیونکہ جانتے تھے کہ صداقت کا اثر لوگوں پر ہو گا۔ جابجا گلیوں اور کوچوں میں جھوٹے اتہام ہم پر باندھ کر وعظ کیے گئے۔ جعفرز ٹلی نے اپنے جھوٹے الہام شائع کئے اور جب پیر گولڑوی کو بتایا گیا کہ یہ زٹلی نے مرزا صاحب کو مخول کرنے کے واسطے اپنے جھوٹے الہام شائع کئے ہیں تو پیر گولڑوی نے بڑے شوق سے اُن اشتہارات کو سنا۔ حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں گندی گالیوں کے بھرے ہوئے خط لکھے گئے۔ ایسی فحش گالیاں جن سے چوہڑے اور چمار بھی شرم کرتے ہیں۔ جھوٹ موٹ مشہور کر دیا گیا کہ مرزا صاحب کو تاریں دی گئی ہیں۔ جن باتوں کا مرزا صاحب کی کتابوں میں کہیں نشان بھی نہیں وہ باتیں ہم پر تھوپ کر لوگوں کو وعظوں میں سنائی گئیں۔ ہمارے بر خلاف وعظ کر کے لوگوں کو اشتعال دلایا گیا اور سمجھایا گیا کہ مرزا صاحب واجب القتل ہیں اور مسجد میں تبرا بازی کا طریق اختیار کر کے ہم پر لعن طعن کیا گیا اور ہر ایک جس نے گندی گالیوں کے اشعار یا تقریر یا تحریر کرنے یا سنانے میں سب سے سبقت لی وہ سب سے قابل فخر ہوا۔ اور جعفرز ٹلی کے اشتہارات کو ہاتھ میں لے کر اور یہ کہہ کر کہ یہ شخص جھوٹے الہام مرزا صاحب پر ہنسی کرنے کے لئے شائع کرتا ہے اُن کو پڑھا گیا اور ہنسی اڑائی گئی اور اُس کی تعریف کی گئی کہ اس شخص نے مخالفت کے لئے خوب بات ایجاد کی ہے۔ جس مسجد میں ہم کئی سالوں سے متواتر بغیر روک ٹوک اور بغیر شرکت غیربا مامت مولوی غلام حسین صاحب جو کہ اُس مسجد کے جدی متولی اور امام ہیں نماز پڑھا کرتے ہیں اُس میں زبردستی سے گھس کر شورو غوغا ۱؎ مچایا اور ہم کو وہاں آنے سے روکنا چاہا اور اُس مسجد کے ارد گرد کے رہنے والوں کو اشتعال مخالفت دلایا پر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے کسی کو اس مخالفت میں کامیابی نہ ہوئی اور گورنمنٹ انگلشیہ کی مہربانی سے جو پولیس حاکم ہم پر مقرر ہے یعنی جناب محمد حسین خان صاحب کوتوال شہر اُن کے حسن انتظام کے سبب مفسدین کو کسی زبردستی کی مجال نہ ہوئی اور دیگر ہر وجہ سے ہمارے مخالف عوام کالانعام کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔
    غرض میں ان باتوں کو کہاں تک بیان کرتا جائوں۔ ان لوگوں کی سخت دلی اور صداقت سے دوری کے قصے سن کر اور اُن کے حالات دیکھ کر روح پر لرزہ پڑتا ہے کہ ان کو خدا کا کچھ خوف نہیں۔ مانا کہ کوئی تمہارا سخت مخالف ہے تمہارے نزدیک مشرک اور کافر ہے۔ پر اپنے اکابر انبیاء اور اولیاء کی سنت دیکھو اور غور کرو کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے اور سوچو کہ آیا وہ طریق مخالفت جو تم نے اختیار کیا ہے جس میں ایک شخص کی مخالفت کی خاطر نہ راستی کی پرواہ ہے نہ دین و ایمان کا کچھ خیال ہے آیا وہ طریق درست ہے یا وہ طریق جو ہم نے اختیار کیا ہے کہ نبیوں اور ولیوں کی سنت کے مطابق تمہاری گالیاں سنتے ہیں اور ہر طرح سے ایذا دئیے جاتے ہیں پر سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرتے ہیں اور تمہاری ہدایت کے واسطے دن رات سعی میں ہیں۔
    دنیا میں جب سے انسان پیدا ہوا تب سے آدم اور شیطان کا جھگڑا چلا آتا ہے اور ہمیشہ ملکی صفات اور شیطانی صفات لوگ دنیا میں موجود رہتے ہیں پر ہر ایک اپنے عملوں سے
    نوٹ:۔ جب کہ اس مسجد کے متعلق ہمارے برخلاف فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی۔ تو عین سخت مخالفت کے دنوں میں مجھے الہام ہوا اِنَّا لَنَنْصُرَنَّکُمْ عَلَی الْکَفِرِیْن اور ایسا ہی برادرم صوفی محمد علی صاحب کو بذریعہ الہام کامیابی کی خوش خبری ہوئی اور یہ الہامات اُسی وقت احباب کو سنائے گئے۔ سو خدا کے وعدے سچے ہیں۔ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیم
    پہچانا جاتا ہے۔ اے زمانہ کے تاریخ دانوں اور اے بزرگوں کے قصوں سے واقف کارو اُٹھو اور سنو ہم نے تمہیں ایک قوم کا قصہ سنایا ہے اور اُس کی حرکات تمہارے سامنے پیش کی ہیں تم اپنے علم کے مطابق فیصلہ کرو کہ اس قسم کے حرکات کی نظیر اگلی تاریخوں اور گزشتہ نبیوں کے قصوں میں تم کن لوگوں میں پاتے ہو۔ کیا اُن میں جنہوں نے موسیٰ کا ساتھ دیا یا اُن میں جنہوں نے موسیٰ کے ساتھ تمسخر کیا۔ کیا اُن میں جنہوں نے حضرت موسیٰ کی تابعداری کی یا اُن میں جنہوں نے شورو غوغا مچا کر اور لمبے لمبے ہاتھ پھیلا کر پلاطوس کو کہا کہ اسے صلیب دے اس کا گناہ ہم پر اور ہماری اولاد پر۔ اے اہل دانش لوگو سوچو کہ جو کام ہمارے مخالف کر رہے ہیں کیا یہ اُن لوگوں کے کام ہیں جو آمنا و صدقنا کہہ کر صدیق کہلائے یا اُن کے جو بارہ کوس تک پتھر مارتے ہوئے اُس فخر دو عالم حبیب خدا محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ اے اہل دل غور کرو کہ یہ چال چلن کیا منصور اور شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ اور اُن کے ساتھیوں کا تھا یا اُن کا جنہوں نے اُن پر کفر کا فتویٰ لگایا اور کسی کو صلیب دیا اور کسی کو سخت عذاب۔ دنیا میں ہر ایک شے اپنے پھل سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر تیرے خوشے میں جَو کے دانے نکل آئے ہیں تو کوئی تجھے گندم نہیں کہہ سکتا۔ پس چاہئے کہ ہر ایک سوچے اور غور کرے کہ وہ کس راہ پر چلا جا رہا ہے۔ اور جان لے کہ اُس کا انجام وہی ہو گا جو اُس سے پہلے ایسی حرکات کرنے والوں کا ہوا۔
    فیوض المرسلین
    ایسے وقت میں ہم کو ہمارے امام مسیح موعود و مہدی معہود کی طرف سے کیا ارشاد تھا جس پر ہم نے عمل کیا۔ وہی جو نبیوں اور ولیوں کی سنت ہے کہ اَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْن۔ جاہلوں شرارت کرنے والوں کی بات سن کر خاموش رہو اور اُن سے اعراض کرو۔ اور صبر سے کام لو۔ کسی کو گالی کے بدلے میں گالی نہ دو اور جو تمہارے حق میں بد بولے اس کے حق میں تم بد نہ بولو تا ایسا نہ ہو کہ خلقت کی لعن طعن سننے کے علاوہ تم خدا کو بھی ناراض کر بیٹھو۔ تحمل اور بردباری اور صبر کے ساتھ ان دنوں کو گزار دو اور جو آرام اور آہستگی کے ساتھ سمجھنا چاہے اُسے سمجھائو۔ اور اُس وقت کو یاد کرو جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار نے مکہ سے نکال دیا اور آپ غار میں جا چھپے اور اُس وقت کفار مسلمانوں کو کس طرح سے طعن دیتے تھے کہ کیوں کہاں گیا تمہارا نبی جو دعوی ٰ کیا کرتا تھا کہ میری فتح ہو گی۔ اور میرے دشمن مغلوب ہوں گے۔ آج اُس کی شکل تو دکھائو۔ اُسے ہمارے سامنے لائو۔ غرض اس طرح برگزیدگان خدا کے مخالفین کو ایک آنی خوشی پھولنے کے واسطے مل جاتی ہے۔ پر بہت جلد اُن کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔ اور خدا کے نزدیک انجام صادق کا ہے۔ اور آخر صادق کامیاب ہو گا۔ غرض حضرت مرزاصاحب کے منشاء کے موافق ہمارے احباب نے نہایت صبر اور استقامت اور بزرگانہ وقار کے ساتھ یہ سب کچھ دیکھا اور سنا اور مخالفین کی طرح کوئی سفلگی اور شرارت اور مفسدہ پردازی اور تمسخر سے کام نہ لیا۔ بڑے حوصلہ اور امن کے ساتھ اپنے اشتہارات شائع کیے اور گولڑوی کو بار بار مقابلہ میں سیدھی طرح آنے کے واسطے دعوت کی۔ میں اس جگہ لاہور کے احباب کے نام جنہوں نے ان واقعات کوجو میں نے لکھے ہیں بچشم خود دیکھا یا موقع پر سنا اور اس وقت یہاں پر موجود تھے لکھ دیتا ہوں کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حالات پر شاہد بنایا ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہمت، استقامت، یگانگت میں برکت عطا فرمائے۔ اور خدمات دینی کی ادائیگی میں ان کو توفیق زیادہ سے زیادہ عطا فرماوے۔ آمین ثم آمین۔۔ اور اُن احباب میں سے اکثر کے نام یہ ہیں۔
    منشی تاج دین صاحب کلرک۔ منشی مولا بخش صاحب کلرک۔ حکیم محمد حسین صاحب قریشی مالک کارخانہ رفیق الصحت۔ میاں احمد دین صاحب ڈوری باف۔ میاں معراج الدین عمر صاحب ٹھیکیدار۔ میاں سراج الدین صاحب ٹھیکہ دار۔ میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور۔ میاں محمد شریف صاحب متعلم مشن کالج۔ میاں مہر بخش صاحب دوکاندار۔ حکیم فضل الٰہی صاحب۔ میاں عبدالعزیز صاحب رئیس۔ حکیم محمد حسین صاحب مالک کارخانہ مرہم عیسیٰ۔ حکیم سید عبداللہ صاحب عرب۔ خلیفہ رجب دین صاحب تاجر۔ صوفی محمد علی صاحب کلرک ریلوے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر بمبئی ہائوس۔ ڈاکٹر قاضی غلام حسن صاحب ہائوس سرجن۔ حافظ فضل احمد صاحب کلرک۔ حافظ علی احمد صاحب کلرک۔ صوفی محمد عظیم صاحب کلرک۔ مولوی غلام حسین صاحب متولی و امام مسجد گٹی۔ بابو غلام محمد صاحب کلرک۔ شیخ کرم الٰہی صاحب گھڑی ساز۔ منشی جمال الدین صاحب کاتب۔ ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب مالک کارخانہ ہمدم صحت۔ بابو سیف الملوک صاحب کلرک۔ مستری دین محمد صاحب۔ میاں غلام حسین صاحب کلرک۔ میاں گل حسن صاحب کلرک۔ مولوی عبدالعزیز صاحب مدرس۔ میاں قمر الدین و امام دین صاحبان زرگر۔ خواجہ عزیز الدین صاحب سوداگر۔ منشی چراغ دین صاحب ایجنٹ۔ منشی امام بخش صاحب مہتمم کارخانہ دریاں۔ مولوی سردار خاں صاحب (برادر مولوی محمد علی بھوبڑی ضلع گوجرانوالہ واعظ) خلیفہ ہدایت اللہ صاحب مشہور شاعر لاہور۔ ماسٹر ولی اللہ صاحب۔ ماسٹر شیر محمد صاحب۔ میاں مولا بخش صاحب سوداگر ریشم خلف میاں محمد چٹو صاحب۔ شیخ کرم الٰہی صاحب سوداگر۔ میاں سلطان بخش صاحب ٹیلر ماسٹر و کلاتھ مرچنٹ۔ میاں کریم بخش صاحب رفوگر۔ مولوی عبیداللہ صاحب۔ منشی فروزالدین صاحب سیکرٹری انجمن معین المسلمین۔ منشی کرم الٰہی صاحب (راقم محمد صادق کلرک دفتر اکونٹنٹ جنرل پنجاب لاہور)
    پیر کمال شاہ صاحب ساکن کاٹھیاوار علاقہ گجرات۔ میاںمحمد حسین صاحب کمپونڈر۔ ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب۔ بابو رحمت خاں صاحب کلرک سٹیشنری۔ منشی عبداللہ صاحب کمپازیٹر۔ میاں امام الدین صاحب قصاب۔
    خلاصۂ کلام
    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مہر شاہ نے پہلے خود حضرت مرشدنا و مہدینا مسیح موعود و مہدی معہود کے عقیدۂ وفات مسیح کے برخلاف دو کتابیں لکھیں۔ پھر جب ایک کتاب کے متعلق کچھ سوال کئے گئے تو کتاب کے لکھنے سے ہی انکار کر دیاپھر جب وہ خط شائع ہوا تو مریدوں کو یوں تسلی دی کہ میں نے تو صرف مؤلف ہونے سے انکار کیا ہے۔ پھر جب حضرت مرزا صاحب کے خادموں نے بیماروں کے حق میں قبولیت دعا کے ساتھ فیصلہ کرنے کے لئے مخالفین کو اپنے امام کے مقابلہ میں بلایا تو مہر شاہ کے خاص مریدوں نے مل کر ایک اشتہار دے دیا کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی مرزا صاحب یک طرفہ نشان دکھائیں اور اس طرح اس بات کا اقرار کیا کہ ہمارا پیر ایک مومن ہونے کی حیثیت بھی نہیں رکھتا کیونکہ خدا خصوصاً کافر کے مقابلہ میں مومن کی دعا کو خود قبول کرتا ہے پھر جب مرزا صاحب نے مہر شاہ کو تفسیر القرآن میں مقابلہ کے لئے بلایا تو اُس نے اپنی نالائقی اور خدا پر ایمان اور توکل نہ ہونے کا کھلا کھلا اقرار کرنے میں بے عزتی دیکھ کر زبانی مباحثہ کی حجت پیش کر کے مقابلہ تفسیر القرآن کو ٹال دیا۔ اور جب دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب اپنے اس اقرار پر جو وہ کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکے ہیں کہ ہم اب کسی سے مباحثہ نہیں کریں گے قائم ہیں اور یقین ہو گیا کہ مرز اصاحب لاہور نہیں آئیں گے چند مریدوں کے اکسانے پر لاہور آ گیا تا کہ اپنی فرضی فتح منا لے۔ یہاں جب ہماری طرف سے اشتہار پر اشتہار نکلا کہ اگر تم کو مقابلہ بالتّفسیر منظور ہے تو مرزا صاحب اب بھی آ جاتے ہیں تو خاموش ہو کر دم دبائے اندر بیٹھا رہا اور ہمارے کسی اشتہار کا جواب نہ دیا۔ پھر ہم نے رجسٹرڈ خط بھیجے پر ایسا رعب اس پر وارد تھا کہ اُن کے لینے سے بھی اُس نے انکار کیا۔ پھر ہم نے آدمی بھیجے۔ دستی خط بھیجا۔ بعض آدمیوں کو جواب دینے کا بھی وعدہ کیا پر وعدہ کے وقت لوگوں کو باہر سے ہی ٹال دیا اور اپنے تک نہ آنے دیا۔ لاہور کے تعلیم یافتہ لوگ جو لائق آدمیوں کی لیاقت کا اندازہ اُن کی تقریروں سے کرتے ہیں۔ انہوں نے بادب تحریری درخواست دی کہ پیر صاحب جلسہ میں ایک تقریر کریں پر مہر شاہ صاحب کو ہرگز جرأت نہ ہوئی کہ ایک مجمع میں کھڑے ہو کر قرآن شریف کی کسی ایک آیت کی تفسیر کر دیتا اور اپنی ان حرکات سے اُس نے ثابت کر دیا کہ در حقیقت اُس کو خدا کی کلام سے کچھ مس نہیں اور آسمانی بولی سے اُس کو کچھ مناسبت نہیں اور بغیر اس کے کہ مرزا صاحب کے مقابلہ میں وہ کھڑا ہوتا اُس نے اس بات کا ثبوت دے دیا کہ خدا نے اُس کو قرآن شریف کے معارف کا فہم عطا نہیں کیا اس امتحان کے اندر اُس کے ہاتھ میں بجز سفید کاغذ کے اور کچھ نہ تھا۔ اور اُس نے جب دیکھا کہ لوگ مجھ کو تقریر کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو جن مریدوں کی بر انگیخت اور جبرو اکراہ سے وہ لاہور آیا تھا اُن کی رضا مندی کے برخلاف یہاں سے بھاگا۔ اور مرزا صاحب کے نہ آنے کا یقین ہی تھا جو اُس کو لاہور میں لے آیا اور پھر تقریر نہ کر سکنے کا شرم ہی تھا جو اُسے جلد یہاں سے بھگا کر لے گیا سو یہ اُس فتنہ کی مختصر رپورٹ ہے جو ہم نے اس کتاب میں درج کر دی ہے۔ اور اپنے سب اشتہارات کو لفظ بہ لفظ نقل کر دیا ہے۔ اسی عرصے میں حضرت اقدس مرزا صاحب نے ایک رسالہ بنام تحفۂ گولڑویہ لکھا ہے جو کہ عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ اُس میں معارف حقہ کا اس قدر خزانہ بھرا گیا ہے کہ اگر کوئی انصاف کی نظر سے غور کے ساتھ اُس کو کم از کم تین دفعہ پڑھے گا اور اُس کے مضامین پر ایک اہل الرائے کی طرح تدبر کے ساتھ غور کرے گا تو میں یقین کرتا ہوں کہ اُس پر یہ بات کھل جائے گی کہ مرزا صاحب بے شک امام صادق ہیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ لوگ بغیر کتابوں کے پڑھنے کے اور بغیر اُن پر غور کرنے کے مخالفوں کا ایک آوازہ اپنے کان میں ڈلوا کر اُسی پر پکے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک شخص حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر سے ہماری ملاقات ہوئی انہوں نے بھی یہی کہہ دیا کہ مہر شاہ نے مقابلہ منظور کر لیا تھا لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ نے فریقین کے اشتہارات پڑھے ہیں تو کہنے لگے نہیں پڑھے۔ سنا ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ یہ تو لوگوں کا حال ہے۔ اشتہارات دیکھے نہیں اور رائے قائم کر دی ہے۔ اور اس جگہ اس بات کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ یہ حافظ محمد یوسف صاحب الٰہی بخش ملہم کی پارٹی کا آدمی ہے۔ اور ان حافظ صاحب کے علاوہ دو اور آدمی یعنی بابو عبدالحق اور میاں فتح علی شاہ بھی اس پارٹی میں داخل ہیں۔ اور شائد کوئی ایک دو آدمی اور بھی ان کے الہامات کے مطابق اُن کے ہم عقیدہ ہوں مگر بظاہر یہی چار آدمی ہیں۔ اور ان کے متعلق ہمارے مخالفوں نے مشہور کیا ہے کہ یہ لوگ پہلے مرزا صاحب کے مرید تھے اور اب علیحدہ ہو گئے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اُن میں سے کسی کو بھی کبھی اس نیکی کی توفیق نہیں ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر کے اس پاک جماعت میں شامل ہو جائیں۔ ہاں کسی قدر حضرت مرزا صاحب کے ساتھ آمدو رفت اور خط و کتابت کا تعلق رکھنے کی وجہ سے ان لوگوں کے سامنے اکثر آسمانی نشانات ظہور میں آتے رہے اور حضرت مرزا صاحب سے خوارق اور کرامات دیکھ کر یہ لوگ ہمیشہ حضرت مرزا صاحب کے مداح تھے لیکن جب انہوں نے اُن نشانات کو دیکھ کر اس پاک سلسلے میں داخل ہونے سے تساہل کیا تو رفتہ رفتہ سنت اللہ کے موافق ان کے دل سخت ہوتے گئے اور ان سے نیکی کی توفیق چھینی گئی یہاں تک کہ یہ لوگ بد ترین دشمنوں میں داخل ہو گئے۔ اور سلب ایمان اور سلب عقل کی وجہ سے ان لوگوں کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ حافظ محمد یوسف نے مسجد میں بیٹھ کر ۷؍نومبر ۱۹۰۰ئ؁ کی رات کو بہت آدمیوں کے سامنے جن کی تعداد غالباً تیس کے قریب ہو گی ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ جو کوئی ترقی پاتا ہے سب جھوٹ سے پاتا ہے چنانچہ دس روپے ماہوار مشاہرہ سے لے کر ڈیڑھ سو تک جو میری نوبت پہنچی یہ سب ترقی بھی میں (حافظ محمد یوسف) نے جھوٹ سے پائی اور دنیا میں بہت سے مفتری گزرے ہیں جنہوں نے تیس سال سے بھی زیادہ خدا پر افترا باندھ کر اور لوگوںکو تبلیغ کر کے اور جھوٹے الہامات سنا کر اور خدا کا مامور اور مرسل بن کر اپنا مشن پھیلایا ہو اور اُن پر عذاب الٰہی نازل نہ ہوا ہو۔ اور وہ زندہ رہے ہوں۔ افسوس کہ حافظ صاحب نے اس وقت حضرت رسول اکرم ﷺ کی عزت کی بھی کچھ پرواہ نہ کی اور اُس نبی آخر زمان کا جو یہ ایک عظیم الشان معجزہ تھا اُس کی بھی تردید کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجیدمیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اگر تو مجھ پر کچھ افترا کرے تو میں تیری شاہ رگ کاٹ ڈالوں گا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ جب تم خاتم النبیینؐ کے واسطے یہ الفاظ ہیں تو دوسرا مفتری کب تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ قرآن شریف کا ایک پکا اور محکم فیصلہ ہے اور اس کے برخلاف کوئی ایسی نظیر پیش ہو نہیں سکتی جو کہ اس قاعدے کو توڑ دے۔
    اور حضرت اقدس کے رسالۂ تحفۂ گولڑویہ کے علاوہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی اور حضرت سید مولوی محمد احسن صاحب اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے مضامین بھی اخبار الحکم اور اخبار عام لاہور اور رسالوں کی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں نہایت وضاحت اور خوبی کے ساتھ پیر گولڑوی اور اُس کے ساتھیوں کی چال بازی پر روشنی ڈال کر طالبانِ حق کے واسطے صداقت اور معرفت کے حصول کے لئے نہایت لطیف اور اچھوتے مضامین درج ہیں بشرط ضرورت ان کو بھی ایک رسالے کی صورت میں شائع کر دیں گے۔ تا کہ ہمارے مخالفین کے حق و دیانت کا پتہ لوگوں کو لگ جائے۔
    اب میں اس رسالہ کو دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے حی و قیوم اللہ۔ آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰ، محمدؐ، احمد کے بھیجنے والے خدا۔ خلقت کی آنکھوں کو کھول کہ وہ تیرے فرستادہ کو پہچانیں اور تیرے نشانات کی بے قدری کر کے تیری نا رضا مندی میں گرفتار ہونے سے بچ جائیں۔ ہاں اے خدا ایسا کر کہ ساری دنیا کے مسلمان اور غیر مسلمان اس پاک فرقۂ احمدیہ میں شامل ہو جائیں تا کہ شرارت اور بغاوت اور فساد کا شیطان ہلاک ہو جائے۔ اے خدا اپنی رحمتیں اور برکتیں زیادہ سے زیادہ اپنے اس بندہ مرزا غلام احمد قادیانیؑ پر کر کہ اُس نے ہمیں ایمان اور اسلام کی نعمت جو دنیا سے گم ہو چلی تھی پھر عطا کی۔ اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم سب تیرے دین کی خدمت میں ہر وقت مصروف رہیں اور ہمارے حرکات اور سکنات اور ہمارا مرنا اور جینا سب تیرے ہی لئے ہو آمین ثم آمین۔ واخر دعونا ان الحمدللّٰہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین وعلیٰ الٰہ واصحابہٖ وعلیٰ خاتم الولیین وآلہٖ واصحابہٖ ونور دینہٖ وعبد کریم واحبابہٖ اجمعین برحمتک یا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن
    عاجز محمد صادق عفی عنہ لاہور ۱۱؍نومبر ۱۹۰۰ئ؁
    کتب ذیل اور دیگر ہر ایک علم و فن کی کتب جان محمد الہ بخش تاجران کتب بنگلہ ایوب شاہ لاہور سے طلب کریں
    براہین احمدیہ
    ملقب بہ البراھین احمدیہ علی حقیت کتاب اللّٰہ القرآن والنبوہ المحمدیہ
    جس کو جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب نے کمال تحقیق و تدقیق سے تالیف کر کے منکرین اسلام پر حجت اسلام پوری کرنے کے لئے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا تھا۔ اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جانے کے باعث چالیس روپیہ کو بھی ہاتھ نہیں آئی تھی بالکل اسی طرح سطر بہ سطر صفحہ بہ صفحہ چاروں جلدیں اعلیٰ قسم کے ڈمی کاغذ پر چھپ کر تیار ہو گئی ہے۔ شائقین جلدخریدیں۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے کی طرح ہاتھ ملتے رہ جاویں۔ قیمت صرف تین روپے …………… (ہے)
    آریہ دھرم یانیوگ کا ناول
    جس میں آریوں کے مسئلہ نیوگ کی من وعن کیفیت بیان کی گئی ہے اور ناول کے پیرایہ میں اس کا عملی نمونہ اور نتیجہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مصنفہ عالیجناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیانی سلمہ الصمد قیمت (۸/)
    فاروق اعظم
    یعنی سوانح عمری حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ مصر۔ روم۔ ایران کے فاتح۔ اسلام کے ہیرو جناب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری اسلامی عظمت اور شان و شوکت کے اظہار کے لئے دنیا بھر میں کوئی کتاب اس سے بڑھ کر نہیں ہے۔ قیمت صرف آٹھ آنے (۸؍)
    صدیق اکبرؓ
    یعنی سوانح عمری حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ:۔ اس کتاب میں وہ تمام حالات کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں جو خلیفۂ اول کے وقت میں ظہور پذیر ہوئے۔ ناظرین یہ کتاب دلچسپی سے خالی نہیں۔ اُس زمانہ کی شریف اور عفت پناہ عورتوں کو دیکھئے کہ اس دین کی خاطر کس شجاعت اور مردانگی سے کام لیا ہے۔ قیمت صرف (۸؍)
    سوانح عمری حضرت علیؓ
    کون شخص ہے جو حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے نام سے واقف نہیں۔ مجمع سلاطین میں آپ عظیم الشان سلطان۔ معرکۂ کارزار میں یکہ ناز شہسوار۔ منبر پر ایک شیوا زبان سپیکر۔ علم و فضل کے درس گاہ میں ایک طلیق اللسان پروفیسر۔ مسند فقر پر ایک منکسر المزاج فقیر۔ غرض کہ جس جلیل الشان اسلامی ہیرو کا یہ فوٹو لیا گیا ہے۔ دُنیا کے تاریخی آسمان کا آفتاب ہے جس کی لائف کو کسی مؤلف نے آج تک اس شرح اور بسط سے نہیں لکھا۔ قیمت (ہے؍)
    ذوالنّورین :۔ یعنی سوانح عمری جامع القرآن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ۔ قیمت ……(۶/)
    سر چشمۂ رحمت :۔ اس کتاب میں مضامین علم تصوف ایسے آسان اردو سلیس الفاظ میں لکھے گئے ہیں کہ بچہ بھی جو صرف حرف شناس ہو عمدگی سے سمجھ لے۔ اصطلاحات کی تشریح اس خوبی سے کی کی گئی ہے کہ طالب صادق کو برسوں کی محنت سے رہائی دے کر دنوں میں منزل مقصود تک پہنچانا اس کتاب کا ایک ادنیٰ اثر ہے۔ (۱۲/)
    عیسائیوں کی دینداری کا نمونہ:۔ جس میں عیسائیوں کی چالاکیاں پکڑی گئی ہیں اور ان کی دینداری کی قلعی کھولی گئی ہے قیمت صرف چار آنے …………(۴/)
    الوہیت مسیح اور تثلیث کا ردّ:۔ ہر دو حصہ قیمت فی حصہ چار آنے …… (۴/)
    عیسائی مذہب کا فوٹو:۔ قیمت فی جلد چار آنے ………… (۴/)
    دفع طعن نکاح زینب:۔ قیمت فی جلد (۴/)
    مُناجات فیروزی:۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ دعا ہی عبادت کا مغز ہے۔ اس کتاب میں تمام مشہور اور متبرک مناجاتیں بزرگوں کی بنائی ہوئی جمع کی گئی ہیں۔ یہ کتاب نہایت مقبول اور مطبوع ہوئی ہے۔ عرصۂ قلیل میں سات دفعہ چھپ کر فروخت ہونا اس بات کا کافی ثبوت ہے۔ قیمت تین آنہ …… (۳/)
    نعت فیروزی:۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں بزرگوں کی بنائی ہوئی عربی۔ فارسی اردو وغیرہ زبانوں کی مشہور اور چیدہ نعتیں۔ قیمت تین آنے …… (۳/)
    نماز اور اُس کی حقیقت:۔ نماز کی فلاسفی اور مخالفین کے کل اعتراضوں کا جواب جو نماز پر کرتے ہیں۔ قیمت چار آنے ……… (۴/)
    روزہ اور اُس کی حقیقت
    ہمہ صفت موصوف ہے۔ قیمت چار آنے ……… (۴/)
    اسلام اور اُس کی حقیقت:۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا بے نظیر لیکچر۔ جو انہوںنے جلسہ مذاہب لاہور میں دیا تھا۔ قیمت آٹھ آنے ……… (۸/)
    کیمیا دولت :۔ دولت کمانے اور محفوظ رکھنے کے لئے اکسیر ہے کوئی لائبریری اور میز اس کتاب سے خالی نہیں رہنی چاہئے۔ قیمت آٹھ آنے ……… (۸/)
    ضمیمہ واقعات صحیحہ
    مامورین من اللہ کے موافق یا مخالف کسی واقعہ یا شورش کا پیدا ہونا خالی از حکمت نہیں ہوتا۔ ہر نیا سورج اپنے ساتھ ایسے سامان لے کر آتا ہے جو اُس مقدس انسان کی قائم کردہ عمارت پر ایک نیا ردہ لگا دیتی ہے۔ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعاً (البقرۃ: 30)(وہ خدا جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہاری ہی خاطر پیدا کیا ہے) اس آیت میں مخاطب در اصل یہی مقدس جماعت ہوتی ہے۔ کوئی ہوا زمین میں ایسی چل نہیں سکتی جو ان کے مشن کے مخالف پڑے اور زمین کے اندر تمام انقلابات کا مرکز یہی پاک لوگ ہوتے ہیں۔ نادان کوتاہ اندیش ایک شورش کو دیکھ کر خیال کرتا ہے کہ اب اس کا خاتمہ ہوا۔ پر معرفت کی دوربین لگانے والے تاڑ جاتے ہیں کہ یہی فتنہ اس کی چمکار کو نمایاں کر دے گا۔ گولڑوی اور اس کی جماعت نے جو کچھ کیا اور کرنا چاہا وہ تو اس کا پھل آپ پائیں گے پر ہمارے لئے یہ واقعہ نہایت مفید نتیجے اور خوشی دینے والے ثمرات پیدا کرنے کا موجب ہوا ہے۔ اکثر بے خبروں کو اس مقدس مہدی کی آمد کی خبر ہو گئی۔ کئی سو آدمی اس چار پانچ ماہ کے تھوڑے سے عرصے میں جو گولڑوی کے لاہور آنے سے لے کر آج تک گزرا ہے امام پاک کے ہاتھ پر توبہ کر کے اس مقدس جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اس تحریک کی وجہ سے ایک بیش بہا مضامین معارف سے بھرے ہوئے سچا نور عطا کرنے والے خود حضرت امام اور آپ کے خادموں کے قلموں سے نکلے۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْد اس رپورٹ کے ساتھ اس جگہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کا ایک روشنی بخش مضمون ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جو کہ ان دنوں کے ایک بے نظیر اور لاثانی ہفتہ وار اخبار الحکم مؤرخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۰ئ؁ میں شائع ہوا ہے۔
    ‎محمد صادق
    حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی
    سائیں مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے متعلق
    ایک پیشگوئی کا پورا ہونا
    از حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ایدہ اللہ۔
    ؎ بنگراے قوم نشانہائے خداوند قدیر چشم بکشا کہ بر چشم نشانیست کبیر
    ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۰ئ؁ کے اخبار عام میں ایک امرتسری نے میری چٹھی پر جو ۱۶؍ستمبر ۱۹۰۰ئ؁ کے الحکم میں شائع ہوئی تھی چند اعتراض کئے ہیں۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ میں نے توقع کے خلاف صاف اور واضح امور کو بھی اعتراض اور نکتہ چینی کا تختہ مشق دیکھا۔ مجھے کامل وثوق تھا کہ اب یہ راہ خس و خاشاک اور ہر قسم کی رکاوٹوں سے پاک ہو گئی ہے اور راہ چلنے والوں کو غرض و غایت تک پہنچنے کے لئے کافی روشنی اور بدرقہ مل گیا ہے۔ مگر اس معترض نے ثابت کر دیا ہے کہ بیدادگر خر وہ گیری کے لئے اس وقت تک جو لانگاہ باقی ہے۔ کاش ایک اطمینان طلب جویائے حق کی نکتہ چینی ہوتی! جس کی کارروائی صاف راہنمائی کرتی کہ اس کے زعم میں ایک معرض بحث اور متنازع فیہ امر کی نسبت مزید توضیح کے لئے کوشش کی گئی ہے اور ایک پاک مگر ناواقف حقیقت دل آمادہ ہے کہ کسی طرح یہ الجھن سلجھنے میں آ جائے۔ مگر ہمارے امرتسری دوست معترض کے کمزور اور غیر موزوں اعتراضوں سے صاف بو آرہی ہے کہ بے جا تعصب کی موٹی دیواریں اُن کے آگے حائل کھڑی ہیں جو اُنہیں محاذ کی خوبصورت روشنی کو دیکھنے نہیں دیتیں۔
    اصل واقعہ جو کئی دفعہ اس قابل قدر پرچہ میں شائع ہو چکا ہے نہایت صاف ہے اور وہ یوں ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت کی تھی کہ میں اور آپ عربی زبان میں نہایت درجہ کی فصیح بلیغ عبارت میں قرآن کریم کی تفسیر لکھیں اور اس تفسیر میں ’’ حقائق و معارف اور نکات و دقائق ہوں جو اگلی تفسیروں میں مذکور نہ ہوں اور اُن سے کتاب اللہ کی فوق العادۃ تمجید اور جلال ظاہر ہو۔ یہی مجھ میں اور آپ میں فیصلہ کن معیار ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے دربار معلیٰ میں مجھے باریابی کا فخر حاصل ہے؟ یا آپ کو؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی کتاب جلیل نے یہ بلند دعویٰ کیا ہے کہ لَا یَمَسُّہٗ اَلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ یعنی قرآن کریم کے حقائق و معارف کے بیان کرنے پر وہی قادر ہو سکتے ہیں اور اس کے پاک حریم میں باریاب ہونے کا وہی شرف حاصل کر سکتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ کے دست خاص نے پاک صاف فرمایا ہوتا ہے اور آسمان کے پانی کی طرح پاک ہوتے اور آسمان سے انہیں خاص نسبت ہوتی ہے۔ یہ قرآن کریم کا دعویٰ اور پر زور تحدی ہے جو خدائے علیم کی طرف سے آئندہ پیدا ہونے والی نزاعوں میں جو اُمّت محمدیہ کے درمیان واقع ہوں بیّن حکم اور ممیز ٹھہرائی ہے۔ اور ضروری تھا کہ اس قسم کا فیصلہ اور معیار بھی قرآن کریم میں ہوتا اس لئے کہ قرآن کریم جیسا دوسرے مذاہب کے اختلافات میں حکم بننے کا دعویٰ کرتا ہے اور فیصلہ کے اصول اور قواعد بھی منضبط فرمائے ہیں اور اس حکومت میں کامیابی کا زریں تاج اس کتاب مجید کے سر پر رکھا گیا ہے اسی طرح از بس ضروری تھا کہ اندرونی اختلافوں اور نزاعوں کے فیصلہ کے لئے بھی اصول اور قواعد مستحکم کرتا۔ چونکہ قانون قدرت کے مقتضا ضروری تھا کہ اندرونی اختلافات اور تنازعات بھی برپا ہوں اور نزاعوں کے سبب سے حق و باطل متشابہ اور ملتبس ہو جائیں اور بہت سے مدعیوں میں سے جن میں سے ہر ایک اپنے دعویٰ کو سچا سمجھتا ہو ایک ہی حق پر ہو اور دوسرے صریح بطلان پر ہوں اس لئے واجب تھا کہ کامل کتاب میں جو تمام حقہ صداقتوں اور ضروریات دینیہ پر حاوی و مہین ہونے اور قیامت تک کافی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ایسا قاعدہ اور محکم اصل بھی ہو جو ایسے تاریک وقتوں میں حق کا روشن اور چمکتا ہوا چہرہ دکھاوے۔ سو اس آیت لَا یَمَسُّہٗ اَلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ نے اس قسم کی نزاعوں کا قیامت تک فیصلہ کر دیا ہے اس وقت ایک نزاع تھی۔ اسلام کے میدان میں دو عہدیداروں نے علم دعویٰ بلند کیا۔ حضرت مرزا غلام احمدقادیانی نے دعویٰ کیا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس زمانہ کے لئے میں مہدی اور منجی ہو کر آیا ہوں۔ پیر مہر علی شاہ صاحب نے اس کا سخت انکار کیا اور اپنی مسند مشیخت و ارشاد پر جلوس فرما ہونے اور پیروؤں کے وجود سے ظاہر کیا کہ میں خدا سے تعلق رکھتا ہوں اور اس کے خدام (اجتماع) نے بھی اعلان فرمایا کہ قطب وقت وکہف زمان اور ملجا و ما وائے انس و جان آپ ہی ہیں حضرت مرزا صاحب کے فرقہ سے وابستہ ہزاروںآدمی ہیں جو اپنا سب کچھ آپ کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔ پیر صاحب سے منسوب بھی بہت سے لوگ ہیں جو اُن کی مریدی پر ناز کرتے ہیں۔ میں خدا ترس اور اہل دل مسلمانوں سے مشرق کے ہوں یا مغرب کے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے مشتبہ وقت میں موزوں تھا کہ ہم لوگ بھی نصاریٰ کی طرح ناقص اور سخت نا کافی انجیل کے سبب سے سرا سیمہ اور سرگردان ہوتے اور کتاب اللہ میں کوئی نور جو اس پیش آمدہ ظلمت کو پاش پاش کرتانہ پاتے اور خود اپنی ہی تجویزوں اور اندیشوںسے کوئی جعلی اور مصنوعی نا کافی راہ پیدا کرتے۔ مگر نہیں نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے کہ ہم امت مرحومہ تھے ایسی زحمتوں اور کشاکشوں سے محفوظ رکھا اور خود ہی اپنے علم سابق سے ان سب باتوں کا پورا انتظام کر دیا۔
    پیر۔ صوفی۔ قطب۔ غوث۔ ولی اللہ۔ درویش اور سند الوقت مہر علی شاہ صاحب کی خدمت میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اس نزاع کے وقت وہی طریق فیصلہ پیش کیا جو خداوند علیم حکیم نے ایسے اوقات میں ایسے اشخاص کے نزاعوں اور اختلافوں کی حکومت کی غرض سے مقرر کر رکھاتھا۔
    اے قرآن کریم کو کامل اور مہیمن کتاب ماننے والو! اور ظلمات کے اوقات میں اسے یگانہ نور تسلیم کرنے والو! اپنی جانوں پر ترس کھا کر خدا تعالیٰ کے لئے بتائو کہ کوئی اور راہ بھی تھی جو اس سے بہتر تھی۔ اس راہ کے پیش کرنے سے معاً دو باتیں حاصل ہوتیں۔ ایک تو قرآن کریم کی پیش گوئی پوری اور اُس کا خدا کا کلام ہونا اور علوم غیب اور غیب کے دعووں پر مشتمل ہونا ثابت ہو جاتا اور دوسری بات ایک شخص کا منجانب اللہ ہونا اور مقرب اور مطہر ہونا ثابت ہو جاتا۔ اب خدا را فرمائیے کہ کیا حضرت مرزا صاحب پیر، صوفی، اہل اللہ مہر شاہ صاحب کو مولویانہ دعوت کی طرف بلاتے اور یہ کہتے کہ آئو ہم تم مولویانہ لفظی بحث کر لیں اور ہار جیت پر فیصلہ ہو جائے گا کہ راستی کس کی طرف ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اس لئے کہ زمانہ کی ضروریات کے جامع اور رسمی اور روحانی علوم سب کے مستجمع ہو کر آئے ہیں اور خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ علمائے خشک اُن کے مقابل اپنی سونڈیں لمبی کریں گے اور علوم رسمی کے مباحثہ کی طرف بھی بلائیں گے اور انہی سطحی اور خشک مباحثات کو حق و باطل کا معیار ٹھہرائیں گے۔ اس بنا پر حضرت مرزا صاحب نے علمائے ظاہری سے علوم ظاہر اور رسمی کی بنا پر بھی مباحثات کئے اور خدا تعالیٰ کے اذن و حول سے اُن کی لمبی خرطوموں کو گرم ہتھیاروں سے خوب داغ لگائے۔ اور آخر دیکھ کر کہ مباحثات نظری امور ہوتے ہیں اور فیصلہ کی کھلی اور روشن راہ ان سے پیدا نہیں ہوتی۔ ایک عرصہ تک اپنی قدرت اور طاقت کی جلوہ نمائی کے بعد ان سے پہلو تہی کی اور آسمان کی طرف توجہ کی تب خداوند علیم نے ایک بیّن اور بدیہی راہ دکھائی جس کی وضاحت کے بعد کسی شخص کو شک و تردد کا موقع مل ہی نہیں سکتا۔
    اب اگر قوم انصاف نہیں کرتی تو دوسری قوموں کے منصف، نیک دل لوگ انصاف کریں کہ حضرت مرزا صاحب نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو جو یہ دعوت کی تھی تو کیا نا روا حرکت کی ہے۔ کیا یہی دعوت اُن کی شان کے شایان نہ تھی۔ کیا وہ ولی اللہ نہیں! کیا وہ مطہر نہیں! کیا انہیں خدا کی حریم قدس میں باریابی کا شرف حاصل نہیں! کیا وہ زبان عربی سے واقف نہیں! یا وہ قرآن کریم کے معارف سے مس نہیں رکھتے! ہاں تو کیا اُن کے شان کے لائق تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی گدی پر انہیں بٹھایا جاتا اور ان سے استنجا اور قلتین اور بیع و شرا کے مسائل پر بحث کی جاتی یا رفع یدین آمین بالجہر کے نزاعوں کا فیصلہ کیا جاتا۔ ان کو لفظی بحثوں اور ظاہری علوم کی بحثوں کی طرف بلانا یقیناً اُن کی کسر شان تھی۔ حضرت مرزا صاحب نے اُن کا وہ پاس کیا اور ان کے حق کی وہ رعایت کی جس کے وہ درحقیقت مستحق تھے لیکن افسوس صد افسوس پیر صاحب نے اس دعوت کو ردّ کیا اوربری طرح ردّ کیا۔ اور سخت ناقابل عفو حیلوں سے رد کیا۔ پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے جواب میں یہ لکھا کہ اوّل مرزا صاحب اپنے دلائل پر کھڑے ہو کر تقریر کریں اور اُنہی نظری اور علمی باتوں کو پھر دہرائیں اور عوام و خواص کے مخلوط مجمع میں دہرائیں جو وہ سالہا سال سے اپنی کتابوں اور رسالوں اور اشتہاروں میں لکھ رہے ہیں اور وہ وہی باتیں ہیں جن پر علمائے رسوم اعتراض اور رد لکھ چکے ہیں اور خود پیر صاحب یا اُن کے مرید غازی صاحب بھی اُن کی نسبت خامہ فرسائی کر چکے ہیں اور وہ باتیں ہیں جو فطری ہونے کے باعث ہنو زیربحث ہیں۔ غرض مرزا صاحب اُن دلائل کو بیان کریں۔ اس کے بعد پیر مہر علی شاہ صاحب اٹھ کر ان کا رد کریں۔ اور ان کی باتیں بھی اُسی رنگ کی نظری اور اخفا اپنے اندر رکھنے والی ہوں۔ اور پھر مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی عبداللہ ٹونکی صاحب کھڑے ہو کر شہادت دیں کہ پیر صاحب کا رد درست اور مرزا صاحب کا دعویٰ اور دلائل صحیح نہیں تب مرزا صاحب اُسی وقت اُسی مجمع میں پیر صاحب سے بیعت کر لیں۔ یہ ہے جواب پیر صاحب کا اُس دعوت کے مقابلے میں جو حضرت مرزا صاحب نے اُن کی خدمت میں پیش کی۔ اب ناظرین انصاف کریں کہ کیا پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی شرطوں کو منظور فرمایا اور کیا پیر صاحب نے قوم کے نزاعوں کے فیصلہ کے لئے جائز طریق ایجاد کیا؟ اور کیا قوم کی ڈوبتی کشتی کو ورطۂ ضلال اور اوہام سے نکالنے کے لئے بجانا خدائی کی؟ سوچو اور خدا کے لئے سوچو!! غضب اور تعصب سے بھرے ہوئے حاضرین ہوں۔ اور ہر ایک نے ایک طرف کو سخت مضبوطی سے پکڑا ہو۔ یہاں تک کہ شدت غضب اور تعصب سے اپنے حریف کے الفاظ کو بھی یوں سنتے ہوں جیسے کانوں میں پگھلی ہوئی رانگ ڈالی جاتی ہے۔ پھر مباحثات علمی اور لفظی ہوں۔ بیسیوں پہلو اور دلائل مخفی در مخفی اور کنایات و استعارات اور علوم کے حجب میں مخفی ہوں غرض سب امور نظری پر نظری ہوں۔ اور اس پر طرفہ یہ کہ ایک شخص کو قبل از وقت دجال کذاب اور محرف دین اللہ اور مفتری اور کیا کیا مان چکے اور اس پر سخت جم چکے ہوں اور اُس کی اہانت کے لئے موقع تلاش کرنے میں جانیں کھپا رہے ہوں۔ اُس پر یہ توقع کہ اس تدبیر سے کوئی فیصلہ ہو جاتا اور قوم کے دل صلحکاری کا سبق سیکھ لیتے اور صاف اور منور سطح پر سب کے سب بیٹھ جاتے قطعاً محال تھا۔ کیا لوگ اب تک اس راز کو سمجھ نہیں گئے اور کیا ہمیں قوم کی سلامت فکرت اور جودۃ طبیعت سے سخت مایوس ہو کر بیٹھ رہنا چاہئے کہ پیر صاحب نے ان بالکل جدید شرطوں سے کیا مد نظر رکھ لیا۔ کیا یہ بالکل صاف بات نہیں کہ انہوں نے اپنے دعویٰ ولایت اور فقر کے بر خلاف دنیا داروں کی طرح پُر مکر صاف فاش ہوجانے والی چال اختیار کی۔ اگر راستی مطلوب ہوتی اور خدا کے دین کی حفاظت مقصود ہوتی تو کوئی امر اپنی طرف سے ایزادنہ کرتے اور امر بھی وہ جو اُن کی شان اُن کی سند اور اُن کی ولایت کو داغ لگانے والا تھا۔ جس صورت میں حضرت مرزا صاحب کی دعوت اور معیار فیصلہ وہی تھا جو خود کتاب اللہ نے مقرر کر رکھا ہے اور حضرت مرزا صاحب کی من عندالنفس کوئی تجویز نہ تھی پھر اس کے ٹال دینے اور بالکل خاک میں ملا دینے کی کیوں کوشش کی گئی۔ امرتسری صاحب فرماتے ہیں کہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ پیر صاحب نے ایک شرط بڑھائی ہے۔‘‘ افسوس روشنی سے کس قدر دشمنی رکھتا اور کبھی اُس کے جوار میں بھی رہنا پسند نہیں کرتا۔ پیر صاحب نے شرط بڑھائی نہیں بلکہ ایک ایسی تجویز پیش کی جس کے لئے حضرت مرزا صاحب کی ساری شرطوں کو رد اور منسوخ کر دیا خدا کے لئے سوچو تو تفسیر القرآن سے قبل مرزا صاحب اپنے دلائل پیش کریں پھر پیر صاحب کھڑے ہو کر ان کا رد کریں۔ بعد ازاں مولوی بٹالوی صاحب اور ٹونکی صاحب مرز اصاحب کے خلاف اور پیر صاحب کے موافق شہادت دیں اور پھر مرزا صاحب پیر صاحب کی بیعت کر لیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ سوچو کہ وہ اصل بات تفسیر نویسی کی کہاں رہی۔ کیا اس میں کوئی شک باقی رہ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے عجیب علمی اور نظری دلائل بیان فرماتے اور پیر صاحب اُن کا وہی مولویانہ رد کرتے تو عوام کا لانعام اور اُن کے بے شمار موٹی طبیعت والے متعلقین سبھی جذبات سے لبریز خدام پیر کی کافی سمجھ کر اُس کی تائید نہ کرتے اور بعد ازاں مسلم و مقبول معائد مولوی بٹالوی صاحب اور دوسرے لا بحبّ علے بل ببغضِ معاویہ پیر صاحب کے حق میں ڈگری نہ کرتے۔ سوچو اور خدا کے لئے سوچو کہ حضرت اقدس کے دلائل شمس نصف النہار سے بھی زیادہ روشن اور مشہور ہیں۔ پردہ نشین عورتوں تک وہ پاک اور آسمانی باتیں پہنچ چکی ہیں۔ ان لوگوں نے اس سے پہلے کیا فائدہ ان سے اٹھایا ہے جو اس وقت انہی کے تکرار سے پھر اٹھاتے۔ کیا اُن کی قوت غضبی کا اشتعال کچھ بھی اب تک فرو ہو چکا تھا۔ اس وقت تک ان کے بے شمار خط نا گفتنی اور نا شنیدی گالیوں سے بھرے ہوئے حضرت مرزا صاحب کی طرف آ رہے تھے۔ خدا کے لئے کوئی تو بتائو اور خدا لگتی کہو کہ کیا پیر صاحب نے یہ راہ مخلوق خدا کی بہتری کی سوچی اور کیا یہ اُنہیں حق کی سوجھی اور کیا اُنہوں نے سادگی اور حق پسندی اور حق طلبی سے ایک اور شرط بڑھائی۔ یا حق و باطل میں شبہ ڈالنے کی ایک راہ نکالی۔ جب مرزا صاحب کے دلائل کا پیر صاحب کی طرف سے رد ہو چکتا اور بے لوث مقدس گواہوں کی گواہی فیصلہ پیر صاحب کے حق میں دے چکتے اور مرزا صاحب وہیں بیعت کر لیتے تو پھر کیا تفسیر قرآن بیعت ہو کر اور مرید بن کر لکھتے۔ اس میں دو ایک باتیں ہی تنقیحطلب ہیں پھر رائے لگانے کے لئے راہ صاف نکل آتی تھی۔ کیا پیر صاحب نے اسے صاف منظور کیا یا کسی پیچ کے ساتھ بھی منظور کر لیا اور کیا درحقیقت ایسے نزاعوں میں جو امت محمدیہ میں واقع ہوتی ہیں اور جو نظری امور یعنی مباحثوں اور مکابروں سے فیصل ہونے میں نہیں آتیں وہ طریق فیصلہ کا حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا اعلیٰ درجہ کا طریق اور کتاب اللہ کے منطوق کے موافق طریق ہے یا نہیں۔ اور کیا اس طریق سے جو بسبب خرق عادت اور کرامت نمایاں ہونے کے بدیہی طریق اور واضح اَنَام ہو جاتا اور کوئی بہتر طریق ہو سکتا ہے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب کی حجت بازی کیا راست بازوں اور راست کیشوں کے اطمینانِ قلب کا موجب ہو سکتی ہے؟
    میں سمجھ نہیں سکتا کہ کوئی سلیم الفطرت اس بیان سے صاف نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے خدا تعالیٰ کی قوت و قدرت پر اعتماد نہ کر کے اور اپنے حریف کی قوت و شوکت سے مرعوب ہو کر اُس دعوت کے قبول کرنے سے گریز کیا مگر افسوس ایسی باریک چادر میں اپنا شرمسار اور کھسیانہ منہ چھپایا جس کے اندر سے اُن کے انفعالات نفسانیہ ہر ایک ناظر کو صاف صاف نظر آ گئے۔ کون دانشمند سمجھ نہیں سکتا کہ کتاب اللہ کی پر معارف تفسیر عربی زبان میں لکھنا ان کو موت احمر نظر آئی جس سے بھاگ کر انہوںنے پھونس کی ٹٹیوں میں پناہ لی۔ افسوس پیر صاحب نے اس دنیا کی شرمساری اور پردہ داری سے بہت خوف کیا اور حطام دنیا کی تلاش اور ابنائے دنیا کی دل جوئی نے انہیں پردہ کی اوٹ سے منہ باہر نکالنے نہ دیا مگر اُس ہولناک یوم کا دھڑکا دل کو نہ لگا جس دن باطن کا باطن بھی طشت ازبام کیاجاوے گا اور یوں ہو گا کہ ۔ زر اندودگاں رابہ آتش برند۔چرید آید آنگہ کہ مس یا زراند۔ جب اُن کا دل احساس کرتا تھا اور ضمیر پورے شعور اور متنبہ سے اُنہیں چلا چلا کر کہتا تھا کہ قرآن کریم کے حریم قدس میں تمہیں شرف باریابی حاصل نہیں اور یہ کام در حقیقت مطہروں۔ آسمانیوں انبیاء علیہم السلام کے ظلوں کا ہے۔ اور پیر صاحب ایک شخص کو ایسا دعویٰ کرتے اور ہر روز تحدی کرتے دیکھ چکے تھے اور یہ ایک تحدی ہی ان کے لئے اگر وہ صاحب قلب ہوتے تو کافی آگاہ کرنے والی دلیل تھی تحدی کرنے والی فوق العادۃ دعویٰ اور قدرت نمائی پر۔ اس لئے کہ وہ اپنے اندر جھانک کر اپنی جیب کو اس گرامی قدر نقد سے خالی پاتے تھے اور اسی افلاس نے انہیں تفسیر کو ٹال دینے کے لئے حیلہ جوئی پر آمادہ کیا۔ غرض جب پیر صاحب خوب جانتے تھے کہ وہ اس میدان کے مرد نہیں تو کیوں گزشتہ راستبازوں کی طرح صاف صاف اپنے عجز کا اقرار نہ کر لیا۔ کہ اعتراف بجز اُن کی شان کو بڑھاتا مگر افسوس انہوں نے روباہ بازی اختیار کی اور اپنے نکلنے کے لئے ایک اور چور سوراخ نکالی لی۔ کاش وہ چور سوراخ ہوتی۔ اب میں پھر امرتسری صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیاپیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی شرط تفسیر نویسی کو منظور کر لیا تھا اور بقول آپ کے صرف ایک شرط اور بڑھائی تھی۔ سوچو اور خدا کے لئے سوچو۔
    ان سب باتوں کے بعد جو میں بیان کر چکا ہوں ایک دانشمند بڑی آسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی منجانب اللہ ثابت ہو گئے۔ اور اُن کی تحدی نے جس کا مقابلہ کر کے اُسے توڑا نہیں گیا صاف ثابت کر دیا کہ وہ مطہر ہیں وہ آسمانی ہیں اور قرآن کریم کے معارف کے بیان کرنے میں جو خدا تعالیٰ کا حریم قدس ہے وہ لانظیر اور یگانہ ہیں ایک بات ثابت ہوئی۔ دوسری بات اور اس سے بھی زیادہ زبردست بات جو علم غیب کی شوکت اپنے اندر رکھتی تھی اس کیساتھ وہ بھی روز روشن کی طرح پوری ہو گئی۔ اور وہ یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے تفسیر نویسی کی دعوت میں معاً یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پیر صاحب میرے مقابل ہرگز قادر نہ ہوں گے آپ کے الفاظ یہ ہیں ’’ میں مکرر لکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا اُسی صورت میں متصور ہو گا جب کہ مہر علی شاہ صاحب بجز ایک ذلیل اور قابل شرم اور رکیک عبارت اور لغو تحریر کے کچھ بھی لکھ سکیں اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھوکیں اور نفرین کریں کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ اور اگر مہر علی شاہ صاحب بھی اپنے تئیں جانتے ہیں کہ وہ مومن اور مستجاب الدعوات ہیں تو وہ بھی ایسی ہی دعا کریں‘‘ ایسی صاف اور پکی بات کی نسبت قوّی اُمید کی جا سکتی تھی کہ بہت سی گردنیں اس کے مقابل خدا کے خوف سے جھک جائیں گی اور اس روشنی سے ایک مرد خدا کا پتہ لوگوں کو لگ جائے گا مگر امرتسری صاحب ظاہر کرتے ہیں کہ ہنوز بدقسمتی لوگوں کا پیچھا چھوڑنے میں نہیں آتی۔ امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ پیشگوئی غلط نہیں۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ تفسیر لکھنے کا اور قبول دعا کا تو موقعہ ملا ہی نہیں اور استہزا سے فرماتے ہیں کہ کیوں عالم الغیب خدا نے انہیںصاف بتا نہ دیا کہ تفسیر نویسی کی نوبت ہی نہیں آوے گی اور کیساخدا ہے کہ وعدہ تو یہ کیا کہ مرزا صاحب تفسیر لکھ لیں گے اور پیر صاحب کا کاغذ سادہ کا سادہ رہ جاوے گا اور خلاف وعدہ مرزا صاحب کو وقت پر قادیاں میں روک رکھا۔ افسوس یہ کہ لوگ خدا تعالیٰ کی سنتوں اور انبیاء علیہ السلام کے منہاجوں سے کس قدر دور جا پڑے ہیں۔ کوئی تیر اپنے ترکش سے نکال کر حضرت مرزا صاحب کی طرف نہیں چلاتے جو سیدھا خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سینے میں جا کر پیوست نہ ہو جائے کہ ظل اور اصل میں پوری مناسبت اور اتحاد ہے۔ امرتسری صاحب کیا اسے ضروری قرار دیتے ہیں کہ پیشگوئی اسی صورت میں پوری ہوتی کہ پیر مہر شاہ صاحب مقابلہ کرتے اور مقابلہ میں خزی او خذلان اُن کو چاروں طرف سے گھیر لیتا اور دیگر کوئی صورت پیشگوئی کے پورا ہونے کی نہ تھی۔ بہت خوب تو بتائو فَاْ تُوْ بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ص (البقرۃ: 24)
    فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا…… الآیہ (البقرۃ:125)
    اور قُلْ لَّئِنِ اجتمعت الجنّ وَالْاِنْس عَلٰی اَنْ یٰاتوابمثل ھٰذا القرانَ لا یَاتون بمثلہٖ ولو کان بعضھمِ لبَعْضِِ ظَھِیْراًo
    یہ زبردست تحدیاں پیشگوئی کے رنگ میں ہیں یا نہیں اور یہ پورے معنوں میں پوری ہوئیںیا نہیں۔ کیا کسی تاریخ اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی کتاب عرب کے فصحاء قرآن کے مقابل بنا کر لائے۔ کیا کبھی جن و انس کی کمیٹی کہیں بیٹھی اور وہ اجتماعی مشورہ اور طاقت سے قرآن کے مقابل کوئی سورت تیار کر کے لائے اور بالآخر مقابلہ اور موازنہ سے واضح ہوا کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ یاد رکھو مقابلہ کر کے ذلیل رسوا ہونا یا خود مقابلہ ہی میں نہ آ کر داغ عارجبین مردمی پر لگانا ایک ہی بات ہے۔ مردمی اور حمیت اور ناک بہر صورت اسی کی مقتضی ہوتی ہے کہ حریف مدعی سے جو ہر طرح کی ہتک کر رہا ہے مقابلہ کیا جائے۔ با ایں ہمہ صرف الوجوہ اگر شکست اور خذلان کی دلیل نہیں تو اور کس کی ہے۔
    مباہلہ کا واقعہ بڑا عظیم الشان واقعہ ہے اور اس بات کی قوی سے قوی دلیل ہے کہ حضور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی حقیقت اور منجانب اللہ ہونے کا کس قدر واثق اور کامل شعور تھا اور آخر کار نصرانیت کے مقابل یہ فیصلہ بھی کامل دلیل ٹھہر گیا اس بات کی کہ اسلام منصور اور مویّد مذہب اور نصرانیت مخذول طریق تھا اور اُس کے حامیوں کو آسمان سے کوئی لگائو نہ تھا۔ مگر کیا مباہلہ واقع ہوا۔ کیا اُن نصرانیوں کا حق کی پر شوکت اور زہرہ گداز آواز سے مرعوب ہونا اور جی چھوڑ دینا ہی آخری فیصلہ اسلام کے حق میں ٹھہر نہیں گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ امرتسری صاحب اور آپ کے مثیل و ہم مشرب پیش گوئی کے سائنس سے واقف نہیں۔ پیش گوئی جو ایک صادق علیٰ بصیرۃ مدعی کی طرف سے ہوتی ہے اُس کے منہ سے نکلتے ہی اپنے ساتھ ساتھ ایک لشکر جرار ملائکہ اور سماوی طاقتوں کا لاتی ہے اور ادھر اُدھر اور آگے پیچھے سے ہر قسم کی رکاوٹوں اور دراندازوں کو ہٹاتی ہوئی اور پامال کرتی ہوئی سیدھی اپنی غرضوں اور ہدفوں پر جا لگتی ہے۔ جس طرح بجلیاں ہوا کو صاف کرتیں اور زہریلے مواد کو جلا دیتی ہیں پیش گوئی کے الفاظ جس میں رعد و برق کی خبر مرکب ہوتی ہے حریف کے مصنوعی زور اور قوۃ قلبی کو کچل ڈالتے ہیں۔ وہ جو پہلے اپنی قوم میں مرد کہلاتا اور لاف و طامات میں گردن بلند کرتا تھا اُس ہیبت ناک گرج کے بعد بزدل اور پورا نا مرد بن جاتا ہے۔ اور وہ جو اپنے حلقہ میں بڑا لسّان منطیق اور المعی لوذعی کہلاتا تھا اُس آتشیں تلوار کی ایک ہی چمک سے اُس کی زبان میں سینکڑوں پیچ پڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان قرآنی تحدیوں کا اگرچہ معارضہ نہیں کیا گیا اور ممکن ہے کہ اندر ہی اندر بہتوں نے منصوبے کئے ہوں اور صادق مدعی کے توڑنے کی ان تھک کوشش کی ہو اور ممکن ہے کہ ہار کھائے ہوئے دشمنوں کی اولادیں گزشتہ ذلتوں اور نا مرادیوں کا انتقام لینے کے لئے اب بھی اندر ہی اندر تڑپتی ہوں مگر با ایں ہمہ یہ تحدیاں اسلام کی صداقت پر براہین قاطعہ اور جحج ساطعہ ٹھہر گئیں۔
    اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے تفسیر نویسی کی دعوت کے ساتھ معاً بلا فصل یہ تحدی بھی کر دی کہ پیر مہر شاہ صاحب مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور سخت ذلت کی مار اُن پر پڑے گی۔ حضرت مرزا صاحب بشریت محض کے لحاظ سے ضعیف القویٰ اور محدود العلم انسان اور نیچر کے پُر زور انقلابات کے احاطہ میں اور لوگوں کی طرح محصور و محاط ہیں۔ یہ شوکت اور صولت جو اُن کے الفاظ میں ہے اور یہ غیب کی پُر سطوت آواز جو اُن کے منہ سے نکلی ہے اگر کسی واسع علیم اور قادر مطلق اور مدبر متصرف ہستی کی آواز اور الفاظ نہیں تو کیوں عادتاً ان سے اُسی جنس کے رعب اور زلزلہ کی بارش برس رہی ہے جیسے اس قسم کی تحدی کرنے والوں کی زبان و الفاظ سے واقع ہوتی رہی ہے اور کیوں اس آواز نے آتشیں گولے کی طرح حریف کا کام تمام کر دیا اور حرکت مذبوحی تک بھی تو اس سے ظاہر نہ ہوئی۔ اس موقعہ پر تو ایک میٹریلسٹاور فری تھنکر بھی ٹھہر جاتا اور تذبذب میں پڑ جاتا ہے کہ اس جنس کی ایک قوم جو لا معلوم قدامت سے چلی آتی اور اس قسم کی یکساں الفاظ بولتے اور ان تحدیوں میں ہر زمانہ میں یکساں اپنے حریف پر منصور و مظفر ہوتی رہی ہے اور اپنی اس فوق العادۃ قدرت اور جلال کو ہمیشہ فاطر السما وا رض کی ہمہ طاقت ذات سے منسوب کرتی رہی ہے اور کبھی کبھی اُن کے مخاطب اُن کی تحدیوں کے مقابلہ سے عہدہ برآ نہیں ہوئے اور ہر عصر میں علیٰ اختلاف ملل و مشارب یکساں مخذول و مطرود ہوتے رہے ہیں۔ غرض اس قسم کی پر ہیبت قوم لا ریب عام انسانی سطح سے بہت اونچی ہے اور ان کا بیّن وجود کسی غیب الغیب وجود کی آشکار دلیل ہے۔ حاصل یہ کہ ایک دہریہ بھی کم سے کم ایسے عظیم الشان دعووں کے سننے پر حیرت میں ضرور پڑ جاتا ہے مگر مسلمانوں کی ذریت کہلانے والے جن کے پاس نمونے موجود ہیں اور ایسے امور کو کتاب اللہ کے وجود میں تسلیم کر چکے ہیں۔ اس برکت وخیر اور اس وقت کے فضل و رحم حضرت مرزا صاحب کی اس تحدی اور پیش گوئی سے انکار کرتے ہیں اور ساتھ ہی دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہی نہیں۔
    میں پوچھتا ہوں کہ کیا اُن لات و عزّیٰ کے حامیوں کا فرض نہ تھا جن کے معبودوں اور ہمہ قدرت معبودوں کو ذلیل اور حصب جہنم کہا گیا تھا۔ اور اُن کے بطلان و خذلان کی یہ دلیل پیش کی گئی تھی وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَا تَّقُوْالنَّارَالَّتِیْ وَقُوْدُھَاَ النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ۔ پھر میں پوچھتا ہوں کیا اُن متکبر پجاریوں کا فرض نہ تھا جن کو دل دکھا دینے والی تعریض سے اور کیسے جگر سے پار ہو جانے والے نشترزا الفاظ میں کہا گیا۔ اِنْ ھِیَ اِلَّا اَسْمَائٌ سَمَّیْتُمُوْھَا اَنْتُمْ وَاٰبَائَ کُمْ مَّا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ۔
    ہاں کیا اُن کا بڑ ا بھاری فرض اور اُن پر قرض نہ تھا کہ ہر راہ سے آ کر اس تحدی کا مقابلہ کرتے اور عابد و معبود دونوں ابدی عارد شنار سے بچ جاتے۔ اُسی طرح اور ٹھیک اُسی نمونہ پر حضرت مرزا صاحب نے پیر مہر علی شاہ صاحب صوفی ولی اللہ کے مقابل تحدی کی یعنی جس طرح فرقان حمید نے مشرکانِ عرب کو وَلَنْ تَفْعَلُوْ کہا اُسی طرح حضرت مرزا صاحب نے پیر مہر علی شاہ کو وَلَنْ تَفْعَلُوْ کہا کوئی مرد خدا ان دونوں میں کوئی ذرا سا تفاوت بھی تو بتا دے۔ اور حضرت مرزاصاحب کی پیشگوئی بھی اُسی طرح حرفاً حرفاً پوری ہوئی جس طرح قرآن کریم کی پیش گوئی پوری ہوئی۔ اور دونوں پیشگوئیوں کے ہدفوں پر یکساں بلاتفاوت موئے سکوت اور صرف الوجوہ کی صوت طاری ہوئی۔ باایں ہمہ کس قدر جرأت اور خدا نا ترسی سے کہا جاتا ہے کہ حضرت مرز اصاحب کی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔
    اے امرتسری اور اس کے ہم مشربو تمہارے ضمیر تمہیں اور تمہارے ساتھ ہی مہر شاہ کو ملزم نہیں کرتے اور تم سے اندر ہی اندر دست و گریباں ہو کر یہ سوال نہیں کرتے کہ کیوں پیر مہر علی شاہ صاحب نے دعوت کو قبول نہ کیا جس سے دو باتیں فوراً ثابت ہو جاتیں مستجاب الدعوات ہونا اور (۲) کلام اللہ کے معارف و حقائق کا یگانہ عارف اور اس لئے خدا تعالیٰ کا مقرب خاص ہونا۔
    کیوں پہلے کٹ حجت اور بات ٹلا دینے والے مولویوں کی طرح پیر صاحب نے ایک صاف پاک بات کوبگاڑنے کے لئے ایک نئی راہ نکالی۔ مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے امثال مباحثوں میں یا اُن روحانی کشتیوں میں حضرت مرزا صاحب کے مقابل ایسی ایچاپیچی کرنے اور حیلہ و حوالہ میں کسی قدر معذور بھی تھے اس لئے کہ وہ آسمان کے فرزند نہ تھے۔ وہ تو زمین پر جھکے ہوئے اور آسمان سے کٹے ہوئے اور خالص زمین کے فرزند تھے مگر ولی اللہ پیر مہر شاہ صاحب نے کیوں ایسی باتوں کو ٹال دیا جسے خدا کی کتاب مجید نے عبادالرحمن اور عبادالشیطان میں فرق کا معیار ٹھہرایا ہے حق تو یہ تھا کہ اگر حضرت مرزا صاحب کے کلام میں ایچ پیچ اور تہ در تہ شرطیں بھی ہوتیں مگر کسی قرینے سے سمجھ میں آ سکتا کہ آپ کلام اللہ کی تفسیر نویسی کو معیار حق و باطل ٹھہراتے ہیں جب بھی پیر صاحب آگے بڑھ کر اسے پکڑتے اور پیچھا ہی نہ چھوڑتے جب تک صاف صاف منوا نہ لیتے۔ اس لئے کہ خود اُن کیلئے خدا تعالیٰ کا یہ ٹھہرایا ہوا معیار تھا جس کے مقرب بن کر ارشاد کی مسند پر وہ بیٹھے ہیں اور رات دن مخلوق کو زمین کے تاریک گڑھوں سے نکال کر آسمان پر اُس کی طرف پہنچا رہے ہیں۔ مگر یہاں تو صرف اور واضح دعوت تھی اور مستعمد کذاب بہ آسانی گرفتار ہو سکتا تھا پھر کس بات نے پیر صاحب کو مجبور کیا کہ اُنہوں نے ایک غیر مناسب اور قطعاً بے محل بات پیدا کر کے اُس میدان میں آنے سے اپنے تئیں بچا لیا۔ اب بتائو کیا پیشگوئی بڑی وضاحت کے ساتھ پوری نہیں ہو گئی اور بتائو کہ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی کا استخفاف قرآن کی ایسی ہی پیشگوئیوں سے استہزا نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب کی غیر حاضری لاہور میں پیر صاحب کے لئے از بس مفید تھی اور در حقیقت اگر راستی ان کی مساعد ہوتی تو مرزا صاحب کا حضور و عدم حضور لاہور میں دونوں ہی ان کے لئے کار آمد تھے۔ پیر صاحب کو مباحثہ یا رد دلائل کے بعد تفسیر قرآن کریم لکھنی ہی تھی۔ لفظی مباحثہ ہی تو مرزا صاحب کے نہ آنے سے ضائع گیا۔ ضائع ہوا سہی۔ ایک رنگ میں اس قسم کی کارروائی تو پیر صاحب کر چکے ہوئے ہیں جب کہ آپ نے شمس الہدایت حضرت مرز اصاحب کی تردید میں شائع کیا۔ قیام لاہور کے اثنا میں پیر صاحب کو کیسا وسیع اور بے روک موقعہ ملا تھا کہ آپ قرآن کریم کے کسی حصہ کی تفسیر کر کے اپنی رطب اللسانی اور عرفان مآبی کا یقین ایک عالم کو دلا دیتے۔ تفسیر نویسی کو معیار ٹھہرانے پر استہزا کرنا اور امرتسری صاحب کا توجہ یا جلوہ زلف عنبرین اور چشم سر مگیں کو کافی دلیل پیر صاحب کے منجانب اللہ ہونیکی ٹھہرانا خدا کے کلام کے مقرر کئے ہوئے معیار کی بے عزتی کرنا ہے یہ کس قدر غلط بات ہے کہ اولیاء اللہ تقریریں نہیں کیا کرتے وہ صرف توجہ سے کام لیا کرتے ہیں۔ امرتسری صاحب کو معلوم نہیں کہ بسا اوقات حضرت امام الاولیا خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم دن دن بھر کھڑے ہو کر تقریر کرتے اور ہر پیش آمدہ واقعہ پر معاً کھڑے ہو کر لوگوں کو مخاطب کرتے۔ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین ان سب کا یہی طریق تھا کہ ہر قسم کے مشکلات کے حل کرنے کے لئے بڑی بڑی تقریریں کیا کرتے تھے۔ تقریر تو اہل اسلام اور اولیاء اللہ کا خاصہ ہے جس میں اُن کا غیر شریک نہیں۔ چنانچہ خدا کی کتاب فرماتی ہے۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ۔ (الرّحمن: 4-3) یعنی انسان کامل محمدرسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو پیدا کر کے حسن تقریر کا آپ کو معجزہ عطا فرمایا اور اس صفت میں آپ کو سب عالم پر ممتاز کیا۔ اور اس لئے کہ یہ معجزہ باہرہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ابدی اور زندہ معجزہ ہو اور زمانہ کے صفحوں پر قائم اور درخشاں رہے۔ خدا تعالیٰ نے آخری زمانہ میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے حقیقی بروز اور بعثت ثانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ظلی طور پر وہی معجزہ عنایت کیا۔ آپ نے زمانہ کے فصحا و بلغا کو نثر اور نظم اور بیان حقائق و معارف قرآن میں دعوت کی۔ اور یہ دعوت اپنی ہی قوم تک مقصود نہیں رکھی بلکہ اُن نصرانیوں کو بھی بلایا جو قرآن کریم پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور آخر سب کو اُسی طرح ساکت اور ملزم کیا جس طرح ولن تفعلوا کی پہلی آواز نے سب کے منہ بند کر دئیے تھے۔
    اب سوال یہ ہے کہ کیا پیر صاحب پہلی دفعہ بے جا شرط لگا کر اور دوسری دفعہ لاہور میں اتنے دن گنگ محض رہ کر حق بجانب ہیں اور اُن کی حمایت و دفاع میں کوئی حجت جو دیانت و امانت پر مبنی ہو کسی صورت میں بھی پیدا ہو سکتی ہے؟ اس کا سچا اور صاف جواب یہی ہے کہ وہ اس ساری کارروائی میں سر تا پا ملزم ہیں۔ اس حیلہ اور سکوت سے اُنہوں نے حق اللہ اور حق العباد دونوں کا خون کیا۔ اللہ تعالیٰ کا حق یہ تھا کہ وہ اپنے طریق سے خدا تعالیٰ کے کلام کے اُس پرشوکت اور علم غیب پر مشتمل معیار لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ ط(الواقعہ: 80)کی عزت اور تعظیم کرتے اور ایمانداری اور فراخ حوصلگی سے لوگوں کو موقعہ دیتے کہ وہ اس معیار کی ابدی صداقت کو دیکھ لیتے خواہ آخر کار نتیجہ متخاصمین سے کسی کے حق میں ہوتا۔ حق العباد پر انہوں نے یہ ظلم کیا کہ اُن کی امیدوں اور لمبی انتظاروں پر پانی پھیر دیا اب جس قدر لوگ اُن کی جنبہ داری کرتے ہیں کو را نہ تقلید یا حضرت اقدسؑ سے بغض رکھنے کے سبب سے کرتے ہیں۔ کوئی بیّن شہادت اُن کے ہاتھ میں نہیں جو مشعل کی طرح پیر صاحب کی روشنی صدق اُنہیں دکھا سکے۔ ایک عالم دشمن و دوست دیکھ چکا، تجربہ کر چکا اور سُن چکا کہ حضرت اقدسؑ مرزا صاحب اُن تمام امور میں چمکتے ہوئے الماس ثابت ہو چکے ہیں اور بار ہا ہو چکے ہیں جو اُن کیبلند اور مقدس دعویٰ کے شان کے شایاں ہیں۔ لاہور میں منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی میں آپ ایک دفعہ کئی گھنٹہ تک پُر معارف تقریر کر چکے ہیں اور حضار کو یقین دلا چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کو قلم اور لسان دونوں یکساں ملے ہیں۔ جلسہ مذاہب میں آپ کی تحریر تمام مضامین پر بالا رہ کر اور حسب آپ کی پیشگوئی کے جو ایک عرصہ قبل از انعقاد جلسہ کی گئی تھی بالا رہ کر سب لوگوں کو منوا کر رہی کہ آپ کا کلام لا ریب آسمانی قدرت اور الٰہی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔
    آپ کی فصاحت و بلاغت سے لبالب کتابیں جو متواتر عربی زبان میں لکھی گئی ہیں عارفان مذاق کو عرب کا عہد سعادت مہد یاد دلا چکے ہیں۔ چنانچہ جن دنوں میں تبلیغ نکلی ہے جس کا ترجمہ میں نے کیا تھا اُس کی نسبت حیدر آباد دکن سے ایک نکتہ دان فاضل عرب نے لکھا کہ تبلیغ کو پڑھ کر مجھے ایسا تو وجد ہوا کہ میرے جی میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیاں تک آئوں۔ غرض حضرت مرزا صاحب کی تحریر و تقریر دونوں قلوب پر لازوال سکہ بٹھا چکی ہیں اور تلخ سے تلخ دشمن بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ آپ واقعی سلطان القلم ہیں۔ اب میں پوچھتا ہوں کیا یہ ملاحظات تقاضا نہیں کرتے تھے کہ پیر صاحب پے در پے دھڑلے کی تقریریں کرتے اور لوگوں کو یقین دلا دیتے کہ وہ واقعی اپنے کام اور کلام سے زمانہ کی ضروریات کو پورا کر سکنے والے ایک مشہور مدعی سے افضل یا اقلاً ہم پلہ ہیں اور وہ یگانہ خصوصیتیں جو اُس مدعی کی مایہ ہیں اور جنہیں ہاتھوں پر اُٹھا کر وہ ایک عالم پر سر مباہات بلند کر رہا ہے پیر صاحب کی اس کارروائی سے مشترک اور آخر کار معمولی اور لغو ٹھہر جاتیں۔ سکوت پیر صاحب کا اُس وقت قابل عذر تھا کہ نہ تقریر کے لئے کوئی اُسوہ قرن اوّل اور سلف صالحین میں ہوتا اور نہ طبائع میں پر زور فطری میلان اُس کی طرف ہوتا۔ بڑے بڑے خدا ترس درویشوں نے جنہوں نے دنیا میں اسلام کی تبلیغ کی خدا کی معارف کی تقریروں سے غیر قوموں کو شیدا و والہ بنایا اور اُس مقدس وادی میں اب تک اُن کے زندہ آثار موجود ہیں۔ امرتسری صاحب کس قدر نا انصافی اور حق پوشی کی راہ سے کہتے ہیں کہ پیر صاحب نے توجہ سے کام لیا اُن کو تقریر کی حاجت ہی کیا تھی۔ در اصل ہر ایک ذی فہم زیرک سمجھ سکتا ہے کہ وہ اُس کچی دیوار کو بہا لے جانے والی رو کے مقابل اس عذر خام سے پشتہ لگاتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ سب طبائع انہی کے خمیر سے مخمر نہیں کی گئیں بہت جلد زمانہ کے پُر طلاطم موجوں کے تھپیڑوں سے یہ پشتہ ٹوٹ جائے گا اور دیوار اور صاحب دیوار نسیان کے خون آشام موجوں کا طعمہ بن جائیں گے۔
    اب میں امرتسری صاحب کی خدمت میں ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ اگر وہ واقعی حق طلب ہیں اور تعصب کا جن اُن کے سر پر سوار نہیں تو ایمان داری سے اس کا جواب دیں گے اور کوئی مضائقہ نہیں کریں گے خواہ اُنہیں ضد و تعصب سے مانی ہوئی طرف چھوڑنی ہی پڑے۔ سنئیے لاہور میں عام لوگوں نے بلکہ پیر صاحب کے مخلص مریدوں نے بار بار اصرار اور الحاح سے اُن کی خدمت میں گزارش کی کہ آپ تقریر کریں اور اس عجیب خدا داد موقعہ کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مگر پیر صاحب نے نہ مانا۔ منشی نظام الدین صاحب فنانشل سیکرٹری انجمن حمایت اسلام۔ منشی الہ بخش صاحب۔ غلام محمد صاحب مرید خاص پیر صاحب۔ حکیم محمد یٰسین صاحب وغیرہ ان سب لوگوں نے جو معزز عہدوں پر ممتاز اور صاحب فہم ہیں منشی نظام دین صاحب کی معرفت تحریری عرضی پیر صاحب کی خدمت میں بھیجی۔ ملک محمد دین کتب فروش نے پیر صاحب کی طرف سے جواب لکھا کہ ان سب لوگوں کو لے کر حاضر ہو جائو پیر صاحب سب کی تسلی کر دیں گے۔ سائلین اس نا مردانہ اور قطعاً بے محل جواب سے مایوس ہو گئے مگر منشی نظام الدین صاحب پیر صاحب کے پاس گئے۔ اور بڑے شد و مد سے ظاہر کیا کہ آپ کو پبلک جلسہ کر کے ضرور تقریر کرنی چاہئے اور مصلحت اور امیدیں اس امر کی مقتضی ہیں کہ آپ ضرور کچھ فرمائیں اور اس جلسہ کے اخراجات کے متکفل ہم ہوں گے مگر باوجود اس کے پیر صاحب نے ایک ہی لا زبان میمنت نشان پر جاری رکھا اور فرمایا میری آواز دھیمی ہے میں ممبر پر کھڑا ہو کر تقریر کرنے کے قابل نہیں۔ اس پر بھی لوگ اصرار کرتے رہے اور آپ کے حاضرین مرید اصرار کرنے والوں سے دل و زبان سے متفق تھے۔ پھر بادشاہی مسجد میں پیر صاحب کے آگے لوگوں نے ہاتھ جوڑے مگر آپ نے نقاب سے منہ باہر کرنا گوارا نہ کیا اس لئے کہ دلی شعور اُن کو یقین دلاتا تھا کہ سخن گفت و دشمن بد الست و دوست۔ کہ در مصر ناداں ترازؤے ہم اوست۔ اب میں امرتسری صاحب سے اگر کچھ بھی دیانت اُن میں ہے پوچھتا ہوں کہ کیا لوگوں نے توجہ پر اکتفا کی اور اُن کی رُوحوں میں وہ سچا میلان تقریر سُننے کا پیدا نہ ہوا جو بمقتضائے قانون قدرت انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسی نا مرادی اور خذلان اور صاف فرار دیکھ کر اور الٰہی نسبتوں سے قطعاً مہجور پا کر بھی کیوں لوگ پیر صاحب کے پیچھے چلتے رہے اور بعض لوگ اب تک اُن کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ بات خدا تعالیٰ کے سنن اور ابتلائوں اور امتحانوں کے اسرار سے ہے اس لئے کہ ایک عرصہ تک ناراستی کا حامی اور راستی کا مؤیّد دونو آزمائے جائیں اور آخر راستی سے طبعاً بغض رکھنے والے نہ کسی دلیل و بیّنہ سے بلکہ اپنی کجی فطرت کے سبب سے ممیز ہو جاویں۔ یاد رکھو تھوڑے عرصہ تک بغض و تعصب کی کالی گھٹا محیط رہ کر لوگوں کو قمر اسلام کے دیکھنے سے روک رکھے گی مگر آخر مقدر ہے کہ یہ مکدر جو صاف ہو جاوے گی اور راستی اپنی سچی آب و تاب کے ساتھ نظر آ جاوے گی۔ امرتسری صاحب غور کریں اور ایک جہان بفضل خدا عنقریب سمجھ لے گا کہ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی کہ وہ میرے مقابل کچھ بھی نہ لکھ سکے گا۔ بڑی صفائی سے پوری ہو گئی۔ اور لاہور میں رہ کر اُن کا آخِرش ابکم ہو جانا اُس ذوالجلال خدا کے اُن کے منہ پر مہر لگانے کی وجہ سے تھا جس نے ان پر برگزیدہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی سے اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے یہ پیشگوئی کروائی تھی کہ پیر مہر شاہ اُن کے مقابل کچھ بھی نہ لکھ سکے گا۔ خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اپنی مستمرہ سنت اُسی طرح دکھائی ہے کہ اپنے مامورین کی تحدیوں کے مقابل معاندین کے منہ پھیر دئیے ہیں اور باوجود طرح طرح کی تحریکات کے اُن کے مفاصل کے پیچوں کو کس لیا کہ برگزیدوں کے سامنے آنے کی اُن میں حرکت ہی نہ رکھی اس لئے کہ رو برو ہو کر بھی ضروری تھا کہ وہ بیداد گر دشمن ذلیل اور رسوا ہوتے مگر دارالامتحان اور دارایمان بالغیب علانیہ دارالمشہور بن جاتا اور یوں پاک طبع دانشمند شناخت کرنے والوں اور بہائم فطرت عوام میں بلحاظ تسلیم و اعتراف مامور حق کا کوئی ما بہ الامتیاز نہ رہ جاتا قرآن کریم سے اور گزشتہ انبیاء کی سنن سے ایسا ہی پایا جاتا ہے اب بتائو کیا اس منہاج پر ضروری نہ تھا کہ حضرت اقدس امام الزمان ؑمرزا صاحب کی پیشگوئی اسی طرح پوری ہوتی سو وہ خدا کے فضل سے پوری ہوئی اور ہر طرح پوری ہوئی۔
    میں اس مقام تک پہنچا تھا جو چودھویں صدی کا پرچہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۰ئ؁ مجھے ملا۔ اُس مضمون ’’مرزا قادیانی اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب‘‘ پڑھ کر مجھے وہی تعجب اور معاً رنج ہوا جو اُن ستمگر معتدی مخالفوں کے تحریروں سے ہوا کرتا ہے جو اسلام اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی پاک ذات اور ذاتیات پر حملہ کرنے کی غرض سے شائع ہوتی رہتی ہیں مجھے دلی تاسف اور جاں گزا اندوہ سے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ میں گجرات کے مدرس کی فطرت میں اور اپیپھنی کلکتہ کے ایڈیٹر کی فطرت میں کچھ بھی تفریق نہ کر سکا۔ مجھے جب سے خدا تعالیٰ کی کتاب مجید کو سمجھنے اور جناب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے وجود با جود کی ضرورت اور آپ کی کارگزاریوں کے فہم کا ملکہ بخشا گیا ہے سخت افسوس اور دلی رنج ہے کہ میں نے علے الاتصال ظالم اور معتدی پایا ہے۔ اُن معترضوں کو جو قرآن کریم کی تعلیم اور ہمارے نبی کریم ﷺکی لائف پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ میں اُن نکتہ چینوں میں ہمیشہ دو صاف ظلم پاتا ہوں (۱) عمداً خلاف حق کرنا اور (۲) جہالت سے کارروائی کرنا۔ پہلی شق کی توضیح یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نبی کریم ﷺکی لائف کے اُس حصہ پر اور فرقان حمید کی اس تعلیم پر اعتراض کئے ہیں اورشدو مد سے کئے ہیں جو اُن کی مسلمہ مقبولہ کتابوں میں موجود اور اُن صحیفوں کے لانے والوں کی پاک زندگیوں کا طریق عمل رہی۔ اور وہ طرز زندگی اُن کی زریں زندگی اور قابل فخر زندگی تھی جس پر قدم مار کر آسمانی نصرتیں اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں اُن کے شامل حال ہوئیں اور اُن کے دعووں کے نہ ماننے والے اور اُن سے مقابلہ کرنے والے کاٹ ڈالے گئے اور وہ تعلیم اور وہ طریق عمل ہے جس کی تائید میں قانون قدرت میں صاف صاف شہادتیں پائی جاتی ہیں۔ دوسرا ظلم یہ ہے کہ وہ اُن حقیقی راہوں سے واقفیت پیدا کرنا چاہتے ہی نہیں یا سادگی سے ناواقف ہیں جو قرآن کریم کے حقائق معارف اور مہبط قرآن کی ذات کی شناخت کے لئے از بس ضروری ہیں۔ یہی حال اس گجراتی مدرس معترض کا ہے جو انقلاب قسمت یا شقاوت ازل کے دبائو سے گجرات کا تار جگ کی شکل میں مقلوب کر کے اپنے بہروپ کا پردہ فاش کرنا نہیں چاہتا۔ میں بہت خوش ہوتا اگر اس کے اعتراضوں سے کچھ بھی بو انصاف اور خدا ترسی کی آتی۔ میں ایک شخص ہوں جو خدا کے لئے اور خدا میں ہو کر اقرار کرتا ہوں کہ میں محض راستی کی محبت اور ابتغا ء وجہ اللہ کی غرض سے حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں بیٹھا ہوا ہوں اور میری روح مجھے یقین دلاتی ہے کہ میں کہ میں اس دعویٰ میں علی وجہ البصیرت صادق ہوں کہ اگر مجھے بیت اللہ میں ایک عظیم الشان مجمع کے رو برو کھڑا کر کے رب عرش عظیم کی پر ہیبت قسم دلائی جائے تو بھی میں بلند آواز سے کہوں گا کہ میں نے دس برس کے رات دن کے تجربہ اور مشاہدہ اور گہری اندرونی اور بیرونی واقفیت سے حضرت مرزا صاحب کو ویسا ہی اور اُسی طرح صادق منجانب اللہ پایا ہے۔ جس طرح اور جس تجربہ سے اور رات دن کی گفتار و کردار کے مشاہدہ سے حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے جناب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو صادق اور رسول اللہ پایا اور سمجھا اور پھر اس استقامت میں ذرا بھی تزلزل نہ آیا۔ شروع دعویٰ میں کوئی نشان نہ تھا۔ کوئی حیرت میں ڈالنے والی تعلیم نہ تھی۔ جب راہ ہی میں سُن کر امام الصّادقین والصّدیقین مرسل اللہ (صلے اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق کر اُٹھا۔ اس راز کی کلید بجز اس کے اور کیا ہے کہ ابو بکر صدیقؓ کو رات دن کی صحبت کے سبب سے حضرت نبی کریم (صلے اللہ علیہ وسلم) کی ایک ادا صدق و حق کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ اس طرح میں کہوں گا کہ میں نے خلا میں ملا میں گفتار میں کردار میں تحریر میں تقریر میں غرض ہر حال میں دس برس کے دراز اور گہرے تجربہ سے حضرت مرزا صاحب کو صادق اور مستحق اُن دعووں کا پایا جو وہ کرتے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے اُن کی خدمت میں بیٹھا ہوں۔ پھر میں کہتا ہوں کہ میں ہر بات کو خدا کے لئے سنتا ہوں اور کوئی تعصب مجھے مجبور نہیں کرتا کہ میں باہر کی آوازوں کی طرف بہرے کان کر دوں۔ مگر افسوس ہر ایک مستعجل معترض میں عادۃً دو صریح ظلم پا کر یقین اور بصیرت میں کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَانْ نمایاں ترقی کرتا ہوں کہ لا ریب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی وہی مسیح اور مہدی ہیں جو خدا تعالیٰ کے کل راست بازوں کی زبان پر اور آخری زمانہ میںخاتم النبین صلے اللہ علیہ وسلم کی زبان پر موعود ہوئے ہیں۔
    افسوس ظلم اور اعتساف میں اس معترض کو اُس کے گزشتہ بزرگوں سے جو اس نادر فن میں زندہ نشان چھوڑ گئے ہیں بہت بڑھ کر میں نے پایا ہے۔ خدا ترسی اور تقویٰ اس امرکو چاہتا تھا کہ اعتراض کرنے سے پہلے معترض صاحب دھیان کرتے کہ اُن کے یہی چھوڑے ہوئے تیر کہیں قرآن کے نازک ورقوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کو تو نہ چھید ڈالیں گے۔ اور حق تھا کہ کچھ عرصہ تو ایسے شخص کی صحبت میں رہ کر حسن ظن اور صبر سے اُس کے حالات کو دیکھتے اور اُس کے مختلف متعلقات سے اندازے لگاتے اتنا بڑا دعویٰ یعنی زمانہ کا منّجی و مصلح ہونا خدا تعالیٰ کا مرسل و مامور ہونا۔ حضرت سید عالم صلے اللہ علیہ وسلم کے دونوں بروزوں محمد و احمد کا جامع اور محل ہونا۔ آدمؑ کہلانا۔ نوحؑ کہلانا۔ ابراہیمؑ کہلانا۔ موسیٰؑ کہلانا۔ یوسف ؑکہلانا۔ عیسیٰ ؑکہلانا اور بالآخر محمدؐ و احمدؐ کہلانا۔ غرض اتنا بڑا دعویٰ کیا ایک اہل دل خدا ترس کے کانوں میں پڑ کر کم سے کم اُسے توقف کر جانے اور ماننا نہ سہی مگر غور کرنے پر بھی آمادہ نہیں کرتا؟
    پھر دس سال سے پوری استقامت کیساتھ جس میں زمانہ کے اقسام اقسام کے انقلابات اور طرح طرح کے ترہیب و ترغیب سے ذرا بھی جنبش نہیں آئی۔ رسول کریم ﷺکی طرح آفتاب و ماہتاب کا اُس کے کا دائیں بائیں ہاتھ میں رکھ جانا اس پر زور آواز کو ایک لحظہ کے لئے بھی پست نہیں کر سکا۔ بیشمار کتابیں عربی میں فارسی میں اردو میں انگریزی میں اور ہزار ہا اشتہار اُن دعووں اور دلائل پر لکھے گئے۔ دنیا کے سلاطین کو۔ قیصرہ ہند کو۔ نواب و رؤسا کو۔ ہر مذہب و ملت کو ہر طبقہ کے لوگوں کوبڑی قوت سے یہ دعوت پہنچائی گئی۔ پھر تیس ہزار آدمیوں سے زیادہ کا اس دعوت کو قبول کرنا اور جان سے مال سے عزت سے آبرو سے اس کی وہی عزت اور حمایت و تائید کرنا جو صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ظاہر کی اور بعض خدا شناس اور زندہ دل رئیسوں کا سو سو روپیہ ماہوار بالتعین دنیا اور بعض کایک مشت ہزاروں تک نثار کر دینا اور سینکڑوں کا دائماً سربستہ رقمیں معین طور پر ارسال کرتے رہنا۔ اور پھر فضلاء اور علماء اور زہاد اور اتقیاء کا اس سلسلہ میں داخل ہونا بڑے بڑے اکابر اور مشائخ کا تسلیم کرنا الغرض سارے نشان جو پہلے راست بازوں کی مانند نشان ہیں اور اتنا بڑا دعویٰ کیا حق نہیں رکھتا اور ایک طالب حق کے دل میں بھی میلان پیدا نہیں کر سکتا کہ وہ ایک عرصہ ایسے شخص کی صحبت میںرہنا اختیار کرے۔ خود دیکھے۔ خود چکھے اور شنید پر انحصار نہ رکھے۔
    معترض نے (جس ظلم سے اپنا نام مبصر رکھا ہے) تمہید میں ایمان اور ضمیر کے خلاف یہ ظاہر کیا ہے ’’کہ ہم دونوں بزرگوں میں سے نہ کسی کے مرید ہیں نہ کسی کے طرفدار کہ ہم اس بارہ میں کچھ لکھنے کی کوشش کرتے اب دوستوں کے مجبور کرنے پر چند کلمات جو ہمارے نزدیک راست ہیں بطور رائے پبلک کے سامنے پیش کرتے ہیں (یہ اوپر کے خط میرے کھینچے ہوئے ہیں اس لئے کہ خدا ترس دانشمند غور کریں کہ ذووجہین معترض نے ان بالوں کا اپنے مضمون میں کہاں تک پاس کیاہے) مگر ان دو چار سطروں کے بعد فوراً قلبی عناد اور بغض اور حسد کی وہ زہر اگلی ہے جو صاف صاف بتاتی ہے کہ ایک دیرینہ حاسد کی تحریر ہے جو مدتوں سے کڑھتا اور دکھتا اور سر دھنتا اور اس پاک سلسلے کی ترقی اور عظمت کو دیکھ دیکھ کر ڈاہ کے مہلک روگ میں گرفتار ہے اور بار ہا اس سے پہلے اس پرچہ میں اپنی اندرونی زہروں کو اگل چکا ہے اور اب بھی مقتضائے طبیعت کی وجہ سے مہر علی شاہ صاحب کے واقعہ کو ایک تقریب بنا کر دل کی بھڑاس نکالنے کا موقعہ پایا ہے۔ لا رجک صاحب سنئے اور متوجہ ہو کر سنئے۔ صفائی بیان اور توضیح مطلب کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قو لہ اقول میں اس مضمون کو تقسیم کیا جائے۔
    قولہ:۔ مرزا صاحب کی مالی حالت جو ابتدا میں سنی جاتی تھی اور جس افلاس میں وہ جکڑے ہوئے تھے وہ اکثر احباب و اہل اسلام سے پوشیدہ نہیں۔
    ۱قول مرزا صاحب ابتدا میں اُسی طرح مال و زر کے لحاظ سے ناتوان اور مسکین تھے۔ جس طرح عبداللہ کا بیٹا اور آمنہ کا جگر تھا (صلے اللہ علیہ وسلم) جس کی نسبت کتاب اللہ نے بڑے فخر سے شہادت دی ہے وَوَجَدَکَ عَائلاً فاغْنیٰ (سورۃ الضحیٰ) اب بتائیے اس سے مرزا صاحب کی کون سی کسر شان یا اُن کے آئندہ دعووں کی ہتک لازم آئی۔ کیا ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہر ایک برگزیدہ ابتدا میں پورے معنوں میں ناتواں ہو اور اُس ناتوانی کی حالت میں آئندہ آنے والی عظیم الشان حالت کی نسبت پیشگوئیاں اُس کے منہ سے نکلیں اور رفتہ رفتہ پوری ہو کر خدا تعالیٰ کی ہستی کی علامت اور اُس کے منجانب اللہ ہونے کا نشان ٹھہر جائیں اسی سنت کے موافق خدا کے برگزیدہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک زمانہ میں اپنے پہلے نمونوں کے طرز پر مالی حالت میں سخت کمزور اور کس مپر س تھے اسی عرصے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یہ الہام آج سے تیس سال کی مدت کا ہے یہ پاک اور علوم غیب بلکہ حضرت مرزا صاحب کی آئندہ کی ساری زندگی پر مشتمل الہام اُس دن سے آپ کی انگشتری میں کندہ ہے۔ اس الہام کو اُنہی دنوں سے قادیان کے متعصب آریہ ملا وا مل اور شرمپت اور، اور بہت سے جانتے ہیں۔ اگر کوئی اور دلیل حضرت مرزا صاحب کے صدق پر نہ بھی ہوتی جب بھی یہ پر زور الہام کافی گواہی تھی۔ اس پیشگوئی نے اپنا کام کس حیرت انگیز طریق سے کیا اور اس لمبی رفتار میں کیا کیا کرشمے دکھائے۔ مہجور و متروک مرزا غلام احمد قوموں کے مرجع و مآب بن گئے۔ ہزاروں لاکھوں نے اُنہیں شناخت کیا۔ اور بے شمار راست بازوں نے آپ کو قبول کیا۔ تاجروں ،ملازموں، حرفے والوں اور زمانہ کے تعلیم یافتوں کے عدد کثیر نے اپنے اندوختے آپ کے پائوں میں لا کر اُسی طرح رکھ دئیے جس طرح جیش العسرت کے وقت حضرت ذی النورین نے اپنا سب کچھ اپنے آقاکی خدمت میں حاضر کر دیا تھا۔ برا ہین احمدیہ میں یہ جس میں سال کا یہ الہام موجود ہے۔ کُنْتُ کَنْزاً مخفیّاً فَاَحَبَبْْتُ اَنْ اُعْرَفَ اور فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتَعْرَفُ بَیْنَ النَّاسِ۔ یعنی وقت آتا ہے کہ تیری مدد کی جاوے گی اور تو لوگوں میں معروف ہو گا یعنی قومیں تجھے شناخت کریں گی۔ یہ الہامات اور اس قسم کے بہت سے الہامات جو براہین احمدیہ میں ہیں ایک دراز عرصہ کے بعد خدا تعالیٰ کی قوتوں اور قوت نمائیوں سے اس زمانہ میں آ کر پورے ہوئے اُسی طرح جس طرح مکی آیات کی پیشگوئیاں ایک دراز عرصہ کے بعد پوری ہوئیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کریم کی مکی اور مدنی آیات یا رسول کریم ﷺکی مکی اور مدنی زندگی کی تقسیم کی اسرار کو جاننے والے کیوں براہین احمدیہ کے لگاتار الہاموں میں اُسی طرح غور تدبر نہ کریں۔ جس طرح کی آیتیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی آئندہ کی بلکہ قیامت تک کی زندگی کی پیشگوئیاں ہیں۔ اور مدینے میں جا کر ایک مدت کے بعد اُن کے ظہور کا سلسلہ شروع ہوا اسی طرح براہین احمدیہ کے الہامات ہیں جو پوری مطابقت اور متشابہت سے آج خدا تعالیٰ کے فضل سے پورے ہو رہے ہیں۔ میں خدا ترس تقویٰ شعار لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ براہین احمدیہ کو ضرور غور سے پڑھیں اور اُسے تدبر اور روشنی میں پڑھیں جس طرح فرقانِ حمید کی مکی سورتوں کو پڑھتے ہیں اور دیکھتے جائیں کہ کس طرح وہ ساری باتیں کچھ تو پوری ہو چکی ہیں اور بعض کے پورا ہونے کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ اگر چند جلد باز نا عاقبت اندیش ابا او استکبار کی پرانی راہ پر چل کر قبول حق سے اعراض کر چکے ہیں تو اب وہ اس منہاج پر چلنے کے لئے خدا سے توفیق مانگیں اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ میں غور کرو اگر اس الہام نے ملہم کو وہی تسلی نہیں دی جو اِنّنِیْ مَعَکُمَا اَسْمَعَ وَاَرٰے نے جناب موسیٰ اور ہارون کو دی تھی اِقْرَأ وَرَبُّکَ الْاَکْرمُ نے پر فتن دور کے آغاز ہی میں جناب رسول کریم ﷺکو دی تھی تو پھر کس جرأت اور شعور نے حضرت مرز اصاحب ؑکو ترغیب دی کہ آپ نے معاً اس بشارت کو نگینے میں کندہ کرا لیا اور ان زریں دنوں کے انتظار میں رہے یہاں تک کہ خدا کا وعدہ حرفاً حرفاً پورا ہو گیا اس میں اللہ تعالیٰ نے ’’کَافٍ‘‘ کے لفظ سے جس طرح حضرت مرزا صاحب کو یہ تسلی دی کہ میں تیری مہمات کا جو وقتاً فوقتاً تجھے پیش آئیں گی متکفل ہوں گا اس کے ضمن میں یہ بھی بتایا کہ تیری جان اور آبرو اور مال پربہت سے خطرناک حملے ہوں گے۔ اور میں تجھے اپنی الوہیت کے اقتدار سے بچائوں گا۔ اُسی طرح جس طرح وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِٔ (المائدہ: 68)نے حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو قتل کی دھمکی کی خبر دے کر جو لوگوں کی طرف سے مقدر تھیں معاً حفظ و صحت کی بشارت دی اب اس پاک بشارت کے بعد کیا ضروری نہ تھا کہ حضرت مرز ا صاحب غنی ہو جاتے اور اس زمانہ کی غنیمت اور فے آپ کے پائوں میں جمع ہوتیں۔ راستی چاہتی تھی کہ آپ پہلے بے زر اور نادار ہوتے اور پھر ایک مدت کے بعد خدا تعالیٰ کے تکفل سے غنی ہو جاتے سو ایسا ہی ہوا۔ افسوس اس پر ایک مسلمانوں کی ذریت کہلانے والا اعتراض کرتا ہے کہ کیوں حضرت مرزا صاحب پہلے مالی حالت میں کمزور تھے۔ لیکن وہ یہ بتائے کہ کیا وہ ایمان لے آتا یا اقلاً اعتراض نہ کرتا اگر حضرت مرزا صاحب متمول با ثروت ہوتے۔ مگر قریب تھا کہ اُس وقت وہ چلا کر بول اٹھتا کہ مرزا صاحب اپنی دولت اور جاہ و تموّل اور دنیوی شوکت کی پشت و پناہ سے زمانہ میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ جیسے وہ اس وقت تنگ ظرفی یا سنن انبیاؑ کی ناواقفیت سے خدام کی امداد سے مالدار ہو جانے کو آپ کے مورد طعن ٹھہرا رہا ہے اُس وقت آپ کا ذاتی تموّل اس کے اعتراض کا ہدف بنتا۔ افسوس یہ ساری باتیں اس سے پیدا ہوئی ہیں کہ قوم نے کتاب مجید کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور منہاج نبوت سے سخت روگردانی کی ہے۔ کچھ تو یہود کی طرح آپس کے حسد اور بغض اور لفظی الجھیڑوں میں رات دن گرفتار ہیں۔ چنانچہ کل ہی حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں مولوی تلطف حسین دہلوی شاگرد خاص اور منظور نظر شیخ الکل فے الکل علیٰ الکل نذیر حسین دہلوی کی طرف سے ایک خط آیا کہ دہلی میں فتنہ کی ایک آگ لگ رہی ہے اور نزاع دور تک پہنچ گئی ہے اور نزاع یہ ہے کہ آیا مردہ عورت کے سر پر جو چپھٹیوں کا قبہ بنایا جاتا ہے اور اس صورت میں قبرستان کی طرف لے جائی جاتی ہے یہ جائز ہے یا ناجائز۔ اور ہمارے مولوی صاحب سے اس مسئلہ میں استمداد کی ہے اس طرح بعض شہروں میں آمین بالجہر اور ضاد اور قرأۃ خلف الامام کے جھگڑوں میں مبتلا اور عدالتوں تک مقدمات لے جا رہے ہیں۔ اور کچھ صدوقیوں کی طرح ایک غلط کار مضل مقلد یورپ مصنوعی ریفارمر کی پیروی کے سبب سے خدا تعالیٰ کی شرائع۔ وحی۔الہام۔ مکاشفہ۔ رویائ۔ دعا۔ اور ان تمام امور حقہ سے منکر ہو گئے ہیں جو اسلام کا یگانہ خاصہ اور مایہ ناز ہیں ایسی حالت میں کس طرح توقع نہ ہوتی کہ اُس طریق کا انکار نہ کیا جاوے گا جو اس آخری زمانہ میں اُسی منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ط (البقرہ:157)
    قولہٗ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے فریب میں آ کر جو غضب ڈھایا چار متواتر آرٹیکل اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں لکھے جو نہایت طول طویل تھے اور جن میں اُنہوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ یہ شخص اولیاء اللہ ہے۔ قطب ہے۔ وغیرہ وغیرہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب جو فرش زمین پر جوتیاں رگڑتے تھے عرش بریں کی سیر کرنے لگے۔
    اقول ۔ اے دانشمنددیکھ تیری منطق تجھے کہاں لے جاتی اور تیرا ڈاہ تجھے کس کنوئیں میں جھکا رہا ہے مولوی محمد حسین کیا اور براہین احمدیہ پر اُس کا ریویو کیا اُس ریویو کو تو چند شخصوں کے سوا کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیںدیکھا۔ براہین احمدیہ اپنی جلالی خوبیوں اور ذاتی کمالات کے سبب سے زمانہ میںپھیلی اور اُس پرانے زمانہ سے اب تک ہندوستان کے دور دست کناروں سے اس کی طلب میں متواتر خطوط آتے ہیں۔ مولوی بٹالوی کی خوش قسمتی تھی کہ اُسے اس مبارک کتاب کا ایک ادنیٰ خادم بننے کا شرف حاصل ہوا تھا اور اُس کی بڑی خوش قسمتی ہوتی جو اپنے ہی منہ کی باتوں پر استقامت اختیار کرتا اور دنیا کی غرضیں عادتاً اُسے ٹیڑھی راہ پر نہ لے جاتیں۔ اگر مولوی محمد حسین نے پہلے مذہب میں آ کر ریویو لکھا اور اس ریویو کی وجہ سے حضرت مرزا صاحب کی شہرت ہوئی تو کیا ہوش میں آ کر اسی مولوی محمد حسین نے حضرت مرزا صاحب کی تکفیر اور تفسیق اور تذلیل میں کوئی کمی کی۔ اس نے تکفیر کا فتویٰ شیخ الکل کے نام سے تیار کیا اور شیخ الکل کی بزرگی اور مانی ہوئی شہرت نے اُسے یقین دلایا کہ اب زمانہ کے صفحوں سے اس پاک سلسلہ کا نام و نشان مٹا دے گا۔ اس تکبر اور تصور کے جوش میں اُس نے تکفیر کے فتوے میں یہ فقرہ لکھا کہ ’’میں نے ہی اس شخص کو اونچا کیا تھا اور میں ہی اب اسے گرائوں گا۔‘‘ اس نامہ اعمال کو بیداد گر ہاتھوں میں لے کر وہ شہر بشہر پھرا۔ قوم کے مشہور علماء نے اس پر اپنی طرف سے قوم کو بیزار کرنے والے الفاظ بھی لکھے اور مہریں بھی کیں۔ حضرت مرزا صاحب کے اصول اور تعلیمات کو ایسے برے برے اور محرف پیرایوں میں قوم کے آگے پیش کیا کہ یہود کے کان بھی کتر ڈالے۔ اس فتویٰ تکفیر کی شہرت اس قدر ہوئی کہ ہندوستان اور پنجاب کا کوئی قطعہ ایسا نہ رہا جس میں یہ بھیانک آواز نہ پہنچی ہو۔ اگر وہ گمنام اور بے سود ریویو حضرت مرزا صاحب کی عظمت اور شہرت کا باعث تھا تو ضروری تھا کہ اُسی مستقل آدمی کا فتویٰ تکفیر مرزا صاحب کے دعووں کا استیصال کر دیتا۔ جس قدر زورو شور سے حضرت مرزا صاحب کی تکفیر ہوئی ہے اور جس قدر قوت کے ساتھ آپ کے تباہ کرنے کے منصوبے باندھے گئے ہیں مقدس تاریخ میں اُس کی کوئی نظیر پائی نہیں جاتی۔ یہی مولوی بٹالوی چلّا چلّاکر گورنمنٹ کو ہدایت کرتا رہا کہ یہ شخص (حضرت مرزا صاحب) گورنمنٹ کے حق میں بڑا خطرناک ہے اور اس کے دعوے پولیٹیکلی سخت اندیشہ ناک ہیں۔ اور یہ سلطنت کا دعویٰ کرتا ہے اور مرزا صاحب کی نسبت بد سگالیوں اور چالبازیوں میں سینکڑوں راتوں کو دن کر دیا۔ مگر خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے پیڑ کی ایک شاخ بھی نہ توڑ سکا۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ خدا تعالیٰ کے منہ کی باتیں پوری ہوں جو براہین احمدیہ میں ان فتنوں سے سالہا سال پہلے لکھی گئی تھیں تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَ۔ مَاکَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْھَا اِلَّاخَائِفاً۔ یعنی پُر غضب اور مشتعل آدمی کے ہاتھ کٹ جائیں اور وہ ناکام ہو جائے۔ اُس کے ہاتھوں نے کیسی بری کارروائی کی کہ خدا کے مرسل اور جری پر تکفیر کا فتویٰ لگایا اُسے مناسب یہ تھا کہ ڈرتا ڈرتا اس کام میں ہاتھ ڈالتا۔
    اصل بات یہ ہے کہ بد قسمت نیچری یا میٹریلسٹ خدا تعالیٰ کو مدبر بالا ارادہ اور ہر آن میں ذرات کا ئنات پر مقتدر متصرف اور اپنی مشینوںاور ارادوں کے موافق ہر آن میں قانون قدرت کی کل چلانے والا نہیں مانتے۔ ہندوستان کے جاہل تھیالوجسٹوں کی طرح خدا تعالیٰ کو اتفاق سے ایک مادہ پا کر اور اُسے جوڑ جاڑ کر عالم کو بنانیوالا اور پھر ہاتھ دھر کر معطل بیٹھ رہنے والا اور قانون قدرت کے تغیّر سے کچھ بھی سروکار نہ رکھنے والا یا رکھ نہ سکنے والا یقین کرتے ہیں۔ یہ خبیث مرض ایک عالم میں سرایت کر گیا ہے اور زمانہ ٔ دراز سے اس کے آثار قوموں کے عقائد میں ملتے ہیں۔ یہ موذی مرض اُن لوگوں میں پھیلا جنہوں نے اپنا نام شیعۂ علی رکھا۔ وہ اسی جہل بصفات اللہ کے سبب سے اُس وقت سے بھی چِلّاتے تھے اور اب تک چِلّا رہے ہیں کہ خلیفہ بلا فصل علیؓ تھے۔ خدا تعالیٰ عرش پر پہلے ارادہ کر چکا تھا لوح محفوظ پر لکھ چکا تھا۔ اور فرشتے پڑھ چکے تھے۔ اور جبرائیل بارہا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو وصیت کر چکا تھا۔ اور سر بمہر صحیفہ بھی آپ کے سپرد کر چکا تھا۔ اور آپ بھی منہ پھاڑ پھاڑ کر امت کو وصیت کر چکے تھے۔ اور مختلف موقعوں پر کھول کھول کر یہ تبلیغ کر دی تھی کہ حضرت علی بعد آپؐ کے خلیفہ بلا فصل ہوں گے مگر یہ سارا تا روپود ٹوٹ گیا اور اتفاق سے حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ بلا فصل ہو گئے۔ اس لئے کہ مہاجرین کی کثرت اور انصار کی عظیم جماعت اُن کی طرف ہو گئی۔ اور حضرت علی ایک کس مپرس کی طرح متروک ہو گئے۔ اس بد عقیدہ سے کس قدر خرابیاں نکلتی ہیں گویا خدا تعالیٰ کچھ بھی نہیں اور اُس کی مرضی کوئی شے نہیں اور نیچر اور نیچر کے فرزند اپنی ہی قوت اور میلان سے جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو یہ قدرت نہیں کہ متحدد حکم اور مصالح کی بنا پر ہر زمانہ میں اور ہر آن میں اُن حکمتوں اور مصلحتوں کے موافق نئے نئے تغیرات پیدا کرتا اور قانون قدرت کو کٹھ پتلی کی طرح اپنی قاہر انگلیوں پر نچاتا رہے۔ ایک مرسل برگزیدہ کی خاطر اچھی ہوا کو بری اور ردی کو صالح بنا دے۔ ایک مامور کی حجت پوری کرنے کے بعد پیشگوئیوں اور وعیدوں کے موافق اُس کے دشمنوں کے استیصال کے لئے پہاڑوں کو گرا دے خونخوار سمندروں کو ان کی قبریں بنا دے۔ اُن کے نام و نشان تیز آندھیوں سے مٹادے۔ اُنہیں آتشیں تلواروں اور بانوں کی آگ میں بھسم کر دے۔ اور اُن برگزیدوں کی جماعتوں کو وعدہ کے موافق اس عالم میں جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارَ کے وارث بنائے بعد اس کے کہ وہ گمنام ننگے بھوکے اور ریگستان کی آتشیں لوؤں سے دُکھ اٹھاتے ہوں۔ علی گڑھ کالج کے بانی نے اس بد عقیدہ سے متاثر ہو کر اور پرانے اور حال کے میٹریلسٹوں دہریوں کی چال پکڑ کر اپنی تفسیر میں صاف لکھ دیا کہ قوموں کی تباہی قدرت اسباب سے گناہوں کی سزا اور اُن کا نتیجہ نہ تھی۔ پہاڑ کو زلزلہ آیا اور وہ قوم اس کے نیچے اتفاقاً دب گئی۔ فرعون اور اس کا لشکر اتفاقات سے سمندر میں ڈوب گیا اور اُن سب عذابوں کو جو خدا تعالیٰ کے وعدوں اور پیشگوئیوں کے موافق اُس کے ارادوں سے ناپاک اور سرکش قوموں پر واقع ہوئے قانون قدرت کی اپنی ذاتی تحریک سے مانا ہے۔نوح علیہ السلام کا طوفان بھی اتفاقی تھا اور سب ایسے واقعات اتفاقی تھے۔ آنحضرت ﷺکے دشمن اتفاق سے بدر اور احزاب اور دیگر غزوات میں واصل جہنم ہوئے۔ ان تباہیوں کے وقت اگر راستباز بھی ہوتے تو وہ بھی اُسی لذت اور *** کا مزہ چکھتے ۔ افسوس خدا تعالیٰ کی ہستی کے یگانہ ثبوتوں اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کو خدا تعالیٰ کی سُنن سے جاہل انسان نے کس قدر استخفاف سے دیکھا۔ اور یہ سب بلااُسے اس سبب سے پیش آئی کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے عظیم الشان صفات کے مسئلہ کو یورپ کے میٹریلسٹوں او رمعتزلہ کے طرز پر دیکھا اور پھر قرآن کریم کی اُن تعلیمات پر یورپ کے فلاسفروں کے اعتراضوں اور جواب کے عدم قدرت نے اُسے اور بھی اس بد عقیدہ پر مجبور کیا۔ وہ نہ سمجھ سکا کہ گناہ میں اور طوفان میں مثلاً اور موسیٰؑ کی نافرمانی میں اور غرق فرعون میں دریا کے اندر اور ثمود اور عاد اور قوم لوط کے گناہوں میں اور اُن بستیوں کی تباہی میں ریح اور رجز السماء کے ساتھ کون سا مربوط رشتہ ہے جو علت و معلول کے اندر ہوا کرتا ہے۔ اسی جہالت نے اسے دعا کی قادرانہ تاثیر اور خدا تعالیٰ کی یقینی وسائط یعنی ملائکہ کے انکار پر آمادہ کیا۔ اتنی بات تو خدا تعالیٰ کی کتاب میں عیاں تھی کہ راستبازوں نے منکروں اور معاندوں کے مقابل پر تحدی پیشگوئیاں کیں۔ وہ اس انکار و استکبار کے سبب سے خدا تعالیٰ کے آسمانی اور زمینی عذابوں سے ہلاک کئے گئے۔ اور ان الفاظ میں وہ شوکت اور سطوت تھی جو کسی معمولی انسانی آواز میں کبھی نہیں ہوئی۔ یہ پیشگوئیاں تمام راستبازوں کی اپنے اپنے وقتوںمیں حرفاً حرفاً پوری ہوئیں۔ اُس سنت الٰہیہ کے موافق اس آخری زمانہ میں بھی وہ دیکھ چکا تھا کہ خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل حضرت مسیح موعود میرزا غلام احمد قادیانیؑ نے خدا کے دشمن۔ رسولؐ کے دشمن۔ قرآن کے دشمن۔ قوم، اسلام کے دشمن لیکھرام کے متعلق ایک قہری پیشگوئی کی جس کے پُر صولت الفاظ سے خون ٹپکتا تھا اور جن کی شوکت دکھاتی تھی کہ وہ خدائے قادر مقتدر قاہر کا کلام تھا۔ ضعیف انسان ایسے ترکیب پر کبھی قادر نہیں ہو سکتا۔ اور اُس کے مضمون دعا کے جواب میں قبولِ دعا کے نمونہ کے طور پر وہ پیشگوئی اُس کے آگے رکھی گئی تھی اور اُس کا پورا ہونا بھی اُس نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا تھا۔ غرض قرآن کریم میں یہ باتیں موجود تھیں۔ پھر اس زمانہ میں مجددین قرآن کریم نے اُنہیں زندہ اور تازہ کر دکھایا تا کہ منکروں پر حجت قائم ہو اور اعتزال اور شیعیت اور یورپ کے میٹریلیزم اور دہریت اور نصرانیت کے اصولوں کا استیصال ہو اور خدا کی عزت اور قرآن کی عزت اور قرآن کریم کی پیشگوئیوں کی عزت دنیا پر ظاہر ہو۔ اور گناہ اور اس کی سزا کی حقیقت دنیا پر آشکار ہو اور ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اب بھی قانون قدرت پر ویسا ہی حکمران اور متصرف ہے اور ہمیشہ رہے گا جیسا کہ وہ اُس کی خلق کے وقت تھا۔ اور اُس کے مقدس اور مقتدر ہاتھ کبھی بھی تصریف اور تصرف سے مغلول نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے۔ یہ احسان اسلام پر ایسے زمانہ میں عالیجناب حضرت امام مہدی مرزا غلام احمد قادیانی ؑنے کیا جبکہ اسلام کے نادان دوست اُس کی یگانہ خوبیوں اور خصوصیّتوں پر پانی پھیر چکے تھے۔ اور یوں مسلمانوں میں دہریت اور مادہ پرستی کا خوفناک طاعون پیدا کر چکے تھے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ۔
    الحاصل گزشتہ نمونے اور موجودہ نمونہ دیکھ کر اگر علیگڑھ کالج کے بنانے والے کو پھر بھی الوہیت کا یہ راز سمجھ میں نہیں آیا تھا اور تکبر نے اُسے اجازت نہ دی کہ مرسل اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور خدا تعالیٰ کے راز کو خدا تعالیٰ کے حریم قدس کے باریاب سے ہی حل کرواتا تو کم سے کم تفویض اِلَی اللہ ہی کرتا اُس نے ناروا جُرأت سے خدا کے کلام کی تحریف اور تسویل کی اور اپنے نزدیک اسلام کی طرف سے جواب دیا۔ مگر در حقیقت اسلام کو جواب دیا۔
    اُسی بد عقیدہ اور بد تعلیم کا اثر ہے کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مرزاصاحب کو اونچا کیا۔ اس کے یہ معنے ہوئے کہ ایک شخص کی عظمت اگرچہ مصالحہ الٰہیہ کے خلاف تھی اور خدا تعالیٰ آسمان سے دیکھ چکا تھا کہ اُس کی ترقی در حقیقت اسلام اور مسلمانوں کے حق میں خانہ بر انداز ہو گی مگر پھر بھی اُس نے ایسا ہونے دیا یا قانون قدرت میں جکڑ بند ہو جانے کی وجہ سے اُس کی مرضی کے خلاف ایسا ہو گیا۔
    سوچو اور خوب سوچو کہ ایسا اعتقاد خدا تعالیٰ کی ذات مستجمع جمیع صفات کاملہ کے کس قدر خلاف ہے اور کیا در حقیقت ایسے عقیدہ سے دہریت کی بدبو نہیں آتی اور کیا یہ اُن لوگوں کا عقیدہ نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک فوق سے فوق قوت کا نام ہے مگر عالم کے تغیر و تصریف سے اُس کا کوئی سروکار نہیں۔
    آج سے پینتیس سال پہلے حضرت مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ کی ہمکلامی اور مورد الہامات الٰہیہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور اُس طرح اپنے الہامات کو تدوین اور مشتہر کیا جس طرح قرآن کریم مدوّن و مرتّب اور مشتہر ہوا۔ پھر خدا تعالیٰ کی وہ باتیں جو اُس نے اپنے بندہ غلام احمد کے منہ میں ڈالیں اسی طرح پوری ہوئیں جس طرح اس کی وہ باتیں آخر کار پوری ہوئیںجو اُس نے اپنے بندہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ڈالی تھیں۔ جس طرح قرآن کریم کی مکی آیتوں کے وعدے اپنے منطوق و مفہوم کے موافق پورے ہو کر اس امر کا قطعی یقینی ثبوت ٹھہر گئے کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ اسی نمونہ پر براہین احمدیہ کے مندرجہ الہامات اپنے منطوق و مفہوم کے مطابق بتدریج صادق نکل کر اس بات کا یقینی قطعی ثبوت ٹھہر گئے کہ لاریب وہ بھی اُسی طرح خدا تعالیٰ کا کلام ہیں۔ یہی ایک بات تھی یعنی قرآن کریم کی زندگی کے نمونے جو مسلمانوں کے لئے جائے فخر تھے اور اس بات کی کمی نے دوسرے مذاہب کو مردہ ہونے کا داغ لگایا مگر افسوس اسی سے نادانوں نے انکار کیا اور اس زندہ ایمان کو اور اُس کے مُحیٖ ہونے کو کفر سمجھا۔ خدا اور خدا کا کلام ۔ اور وحی۔ اور مکاشفہ غرض تمام لوازم نبوت اس زمانہ میں زمانہ کے عقلا کے نزدیک مُضحکہ اور سُخرہ ٹھہر چکے تھے۔ اور ان باتوں کو انہوں نے وسواس اور توہم اور جنون کے مد میں داخل کر رکھا تھا۔ اس لئے اُن کے پاس ان کا زندہ اور قاہر نمونہ نہ تھا۔ اور قانون قدرت کا استقرا اس پر مجبور کرتا تھا کہ کسی شے کو نظیر کے بغیر تسلیم نہ کریں اور جس مذہب کو انہوں نے اس کے وکلاء اور شفعا کی پر زور وکالت کے زور سے مروج دیکھا تھا اُس میں اور اُس کے وکیلوں میں بھی کوئی زندہ نمونہ موجود نہ تھا۔ دانشمند سنتے تھے اور بڑے زور شور سے سنتے تھے کہ آغاز مذہب میں اس کے بانی اور اُس کے ساتھیوں نے یہ اقتداری نشان دکھائے مگر یہ شُنید اور دعویٰ آخر کار دانشمندوں کے دل میں ایک حقارت آمیز اور نفرت انگیز تصور بن جاتا جبکہ وہ اس سوال کا جواب حامیان مذہب سے نہ پاتے کہ کیوں اس وقت ان باتوں کا کوئی زندہ نمونہ نہیں۔ در حقیقت یورپ کی خوفناک آزادی۔ دہریت۔ فلسفیت اور میٹریلیزم کی جڑ نصرانیت کے مردہ مذہب ہی سے قائم ہوئی کہ اُس نے خدا وہ پیش کیا جو عجز و ناتوانی اور سبکسری اور ناعاقبت اندیشی کا پورا نمونہ تھا۔ اور معجزات وہ پیش کئے جو اس زمانہ میں مر گئے اور اُس وقت کی قبروں میں سونے والوں کے ساتھ ابدی تاریک گڑھوں میں گم ہو گئے۔ اور آئندہ کو کوئی نمونہ ان کا دکھا نہ سکے اور کوئی نہ ہوا جو خدا تعالیٰ کے اقتداری نشانوں سے اُن پہلی باتوں کو از سر نو بحال اور زندہ کر دیتا۔ قرآن کریم نے ایک ہی مقتدر معجزہ پر اپنے صدق کا سارا مدار رکھا یعنی پیشگوئیوں پر۔ اس لئے کہ توریت میں بڑے زور سے یہی لکھا تھا کہ سچے نبی کی نشانی یہی ہو گی کہ جو کچھ وہ کہے گا پورا ہو جائے گا۔ قرآن کریم میں اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَ قَاوِیْلِo لَاَ خَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنo ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔(الحاقہ:45 تا 47) اور اس آیت میں اِنْ یَّکُ کَاذِباً فَعَلَیْہ کَذِبٌ وَ اِنْ یَّکُ صَادِقاً یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ طاِنَّ لِلّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ھُو مُسْرِفٌ کَذَّابٌ۔(المؤمِن:29) اس بنا پر قرآن کریم کا لفظ لفظ پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے اور ایک جلال اور قہاریت کی روح اپنے اندر رکھتا اور تاریکی کی روح پر رُعب اور لذت معاً ایک ہی وقت میں نازل کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو از بسکہ علم تھا کہ محور زمانہ کے بعد انسانی طبیعتوں پر غفلت مستولی ہو جاتی اور اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ پھر اُسی رنگ کے زندہ نمونے اُن کی تذکیر کے باعث ہوں اور پاک باتوں کواس الزام سے بچا لیں کہ وہ اساطیر الاولین ہیں اُس نے بموجب وعدہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُونَ (الحجر: 10)۔ قرآن کریم میں یہ برکت اور تاثیر رکھ دی کہ اُس کی اتباع سے ہمیشہ اور ہر زمانے میں قرآن کریم کے دعاوی اور دلائل اور برکات کو زندہ کرتے ہیں اور اُن ساری باتوں کے نمونے ہمیشہ دنیا میں موجود رہیں جو قرآن کریم میں از قبیل وحی مکاشفہ اور رویا بیان کی گئی ہیں۔ اس ہمارے زمانہ میں جس کے اندر خدا تعالیٰ کی کتابوں اور باتوں پر سب زمانوں سے زیادہ ہنسی کی گئی اور رسولوں اور وحی اور مکاشفات اور رؤیا کی سخت توہین اور تذلیل اور تضحیک کی گئی اور جب کہ بعض نادان دوستوں نے اسلام کی حمایت میں کھڑے ہو کر اعتراف کیا کہ در حقیقت اسلام بھی ایک مردہ مذہب ہے اور اُس میں اقتداری نشان دکھانے اور وحی اور مکاشفہ کے کوئی زندہ نمونے موجود نہیں اور جبکہ مایۂ ناز باتوں کے انکار کو فخر اور ناز کا ذریعہ سمجھا گیا اور جب کہ استجابت دعا کے انکار سے صاف دکھایا گیا کہ اسلام میں بھی کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کے دربار میںشرف باریابی رکھتا ہو۔ غرض اس زمانہ میں جب کہ مسلمانوں کے خیر خواہوں نے یورپ کے آزاد مشربوں سے نیچے اُتر کر اور پگڑی اتار کر صلح کر لی اور اسلام اور قرآن کی عزت خاک میں ملا دی اور ایک بولنے والا مولوی بٹالوی کی شکل میں جلسہ مذاہب کے اندر بول اُٹھا کہ اس وقت مسلمانوں میں کوئی نہیں جو نشان الٰہی دکھا سکے۔ اور یوں اُس نے اسلام کا جنازہ اُسی قطار میں رکھ دیا جہاں دوسرے مذاہب باطلہ کی نعشیں دھری تھیں۔ تب خدا تعالیٰ کی غیرت نے اپنے وعدہ کے موافق مرزا غلام احمد قادیانی میں اُتار دھارا اور آپ کے ہاتھ پر اور آپ کے منہ میں وہ باتیں ڈال کر اور اقتداری نشان ظاہر کر کر اپنی ہستی۔ کل انبیاء کے وجود کو۔ پاک کتابوں کواور جملہ لوازم نبوت کو از سرِ نو زندہ کر دکھایا ہے۔ عظیم الشان کام جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی سے ظہور میں آیا اور اس کام کے پورا کرنے کے لئے ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کو وجاہت اور عزت دیتا۔ آپ کو یتیم پا کر اپنے ہاں ٹھکانا دیتا۔ اور آپ کو تنگدست اور کس مپرس پا کر خود غنی کرتا اور قوم کے عشق میں سرگردان و شیفتہ پا کر کامیابی کی ساری راہیں آپ کو دکھاتا۔ حق یہ تھا کہ مسلمان آپ کی خاک آستان کو آنکھوں کا سرمہ بناتے اور سب سے زیادہ زمانے کے ادا فہموں یا ادا فہمی کے مدعیوں کے ذمہ تھا کہ وہ آپ کی قدر و منزلت کرتے جو ایک مہجور عاشق مدت دراز کے ہجر کے بعد معشوق کی کرتا ہے۔ مگر افسوس بعض میں فریسیت کی روح جوش زن تھی اور بعض میں صدوقیت کا خمیر ملایا گیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ آنے والے مقدس مسیح کا انکار کیا جاتا تا کہ وہ باتیں پوری ہوں جو مخبر صادق صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں کہ تم یہود کی راہوں پر چلنے لگ جائو گے یہاں تک کہ اگر کوئی یہود سوسمار کی سوراخ میں گھسے گا تو تم بھی وہیں گھس جائو گے۔
    سو آج مسلمانی کے رعبوں نے وہ تمام اعتراض مسیح موعودؑ پر کر کے جو حضرت مسیحؑ اسرائیلی پرکئے گئے تھے اور اُسی طرح اُس کی تذلیل اور تضحیک اور تکفیر کر کے جو اُس پہلے برگزیدہ کی گئی اور حکام وقت کی عدالتوں میں اُسی طرح پہنچا کر جس طرح وہ خدا کا عاجز بندہ پیلاطوس کی عدالت میں کھینچا گیا تھا اپنے ہاتھوں سے ثابت کر دیا کہ وہ اُس خوفناک پیش گوئی کے مصداق بن گئے ہیںجو مخبر صادق صلے اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی تھی۔ کاش یہ لوگ سورۂ فاتحہ کی آخری آیت غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَالَالْضَّالِیْن میں غور کرتے جو ان پر ہر نماز میں پڑھنی فرض کی گئی ہے امام ہوں یا ماموم ہوں۔ یہود و نصاریٰ کی راہوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک مقدر نہ تھا کہ آئندہ ایک وقت نصاریٰ کا فتنہ برپا ہو گا اور ان کی جہت سے اسلام پر خطرناک حملے ہوں گے پھر ایسے وقت میں مسیح موعود اندرونی اور بیرونی اصلاح کے لئے آئے گا اور قوم اُس سے ویسا ہی سلوک کرے گی جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے کر کے مورد غضب الٰہی ہوئی۔ غرض اگر خدا تعالیٰ کو منظور نہ تھا کہ مسلمانوں کو ایسے وقتوں میں یہود کی چال اور نصاریٰ کے فتنوں سے ڈرائے تو پاک کتاب اور مقدس دُعا میں یہ آیتیں کس حکمت سے رکھ دیں۔ سوچو اور غور کرو اور اپنے ہاتھ سے اپنے مخالف شہادت پر مہر نہ لگائو۔
    قولہٗ۔ ان ہی ایام میں چند اک پر دار مچھلیاں اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں بھی ان کے دام کے بس میں آ چکی تھیں۔
    اقول۔ یہ وہی مچھلیاں اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ہیں جو ایک زمانہ میں حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شکل میں پہلے داعی صلی اللہ علیہ وسلم کے دام میں آئی تھیں۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جا بجا اعتراف کہ حضرت خدیجہؓ کے مال نے انہیں مدد دی۔ اور جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مکہ معظمہ میں چالیس ہزار روپیہ آپ پر خرچ کیا اور یوں اس مرد اور عورت نے آپ کے کارخانہ کو رونق دی۔ کیا ضروری نہ تھا کہ اُن ناعاقبت اندیش مخالفوں کے نمونے تمہاری شکل میں ہوتے جنہوں نے کہا تھا لَشَیٌٔ یُرَادْ اور اِنَّ ھٰذَا الْاِ خْتِلَاقْ۔ اے ناعاقبت اندیش جلد بازو تمہیں اتنی مدت کے بعد کس نے یاد دلایا کہ تم اُن ہی گزرے ہوئے راستی کے دشمنوں کے جائز فرزند ہو اور یہ کہ تمہاری رگوں میں وہی خون حمیت جوش زن ہے کہ تم اندیشیدہ اور نا اندیشیدہ وہی باتیں زبان پر لاتے ہو جو انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کہی تھیں۔ تمہیں کس چیز نے یقین دلایا کہ آنے والے غضب سے ان باتوں کے ساتھ بچ جائو گے جبکہ تمہاری آنکھیں دیکھ چکی ہیں کہ تمہارے باپ دادے ان باتوں کے ساتھ خدا کے قہر کی بجلی سے بھسم کئے گئے۔ اور مغضوب علیھم کہلائے۔
    غضب کی راہ کو چھوڑو اور مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ کی راہ اختیار کرو کہ تمہارا بھلا ہو۔ کیا خدا تعالیٰ کے ماموروں کے ساتھ معاونوں اور مخلصوں کا ہونا ضروری نہیں۔ کیا اس عالم اسباب میں آسمانی امدادیں اور تائیدیں ان ہی متعارف اور معہود راہوں سے نہیں آیا کرتیں۔ کیا کوئی تمہاری بولی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیش العسرت میں وہ قابل قدر مدد نہ کرتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کارخانہ سخت صدمہ اٹھاتا۔ نادانو خدا تعالیٰ کے منصور اور اس کے مخذول و مطرود میں یہی تو فرق ہے کہ آخر معہود اسباب میں ہو کر نصرت الٰہی اُس کی دستگیری کرتی ہے۔ اور مخذول کے سارے اسباب جل جاتے ہیں۔ اگرچہ منصور کی پہلی حالت کیسی ہی ضعیف اور کس مپرس ہو اور مخذول کی ابتدا کیسی ہی پُر شوکت ہو۔ رسول خدا صلے اللہ علیہ وسلم کو خدام و انصار سے جو مدد اور تائید ملی وہ اُسی وعدہ کا اثر تھا جو پہلے سے خداوند عالم کہہ چکا تھا اِقْرَا وَرَبُّکَ الْاکْرَم یعنی تو رب اکرم کا مربوب ہے اور ضرور ہے کہ دُنیا و آخرت میں مکرم و محترم ہو۔ اُسی طرح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو انصار و اعوان ملے وہ خدا تعالیٰ کے اُس پاک وعدہ کا نتیجہ اور اثر ہیں جو وہ آج سے سالہا سال پہلے فرما چکا تھا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ تم ان باتوں سے اُن واجب التعظیم ناصروں کی جو علم میں ۔ زُہد میں۔ تقویٰ میں اور خدا ترسی اور خدا شناسی کے جمیع لوازم میں نمونہ ہیں۔ اسی طرح ہتک کرتے ہو جس طرح حجاز کے شیاطین اُن کے پہلے نمونوں کو سفہاء کہتے تھے اور دلوں میں یقین کرتے تھے کہ محمد بن عبداللہ (صلے اللہ علیہ وسلم) کی دُکانداری کے دام میں پھنس گئے ہیں۔
    (باقی آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ)








    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
    پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
    ناظرین کو معلوم ہوگا کہ میں نے مخالف مولویوں اور سجادہ نشینوں کی ہر روز کی تکذیب اور زباں درازیاں دیکھ کر اور بہت سی گالیاں سُن کر اُن کی اس درخواست کے بعد کہ ’’ہمیں کوئی نشان دکھلایا جائے۔‘‘ ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں اُن لوگوں میں سے مخاطب خاص پیر مہر علی شاہ صاحب تھے۔ اُس اشتہار کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ اب تک مباحثات مذہبی بہت ہو چکے ہیں جن سے مخالف مولویوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ اور چونکہ وہ ہمیشہ آسمانی نشانوں کی درخواست کرتے رہتے ہیں کچھ تعجب نہیں کہ کسی وقت ان سے فائدہ اٹھا لیں۔ اس بنا پر یہ امر پیش کیا گیا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جو علاوہ کمالات پیری کے علمی تَوَغُّلْکا بھی دم مارتے ہیں۔ اور اپنے علم کے بھروسہ پر جوش میں آ کر انہوں نے میری نسبت فتویٰ تکفیر کو تازہ کیا اور عوام کو بھڑکانے کے لئے میری تکذیب کے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنے مایہ علمی پر فخر کر کے میری نسبت یہ زور لگایا کہ یہ شخص علم حدیث اور قرآن سے بے خبرہے اور اس طرح سرحدی لوگوں کو میری نسبت مخالفانہ جوش دلایا اور علم قرآن کا دعویٰ کیا۔ اگر یہ دعویٰ اُن کا سچ ہے کہ اُن کو علم کتاب اللہ میں بصیرت تام عنایت کی گئی ہے تو پھر کسی اُن کی پیروی سے انکار نہیں چاہئے اور علم قرآن سے بلا شبہ با خدا اور راستباز ہونا بھی ثابت ہے۔ کیونکہ بموجب لا یمسّہ الّا المطھّرون صرف پاکباطن لوگوں کو ہی کتاب عزیز کا علم دیا جاتا ہے۔ لیکن صرف دعویٰ قابل تسلیم نہیں بلکہ ہر ایک چیز کا قدر امتحان سے ہو سکتا ہے اور امتحان کا ذریعہ مقابلہ ہے کیونکہ روشنی ظلمت سے ہی شناخت کی جاتی ہے اور چونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس الہام سے مشرف فرمایا ہے کہ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ط (الرحمن :32) کہ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اس لئے میرے لئے صدق یا کذب کے پرکھنے کے لئے یہ نشان کافی ہو گا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب میرے مقابل پر کسی سورۃ قرآن شریف کی عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھیں۔ اگر وہ فائق اور غالب ہے تو پھر ان کی بزرگی ماننے میں مجھ کو کچھ کلام نہیں ہو گا۔ پس میں نے اس لئے اس امر کو قرار دے کر اُن کی دعوت میں اشتہار شائع کیا جس میں سراسر نیک نیتی سے کام لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے جواب میں جس چال کو اُنہوں نے اختیار کیا ہے اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ اُن کو قرآن شریف سے کچھ بھی مناسبت نہیں اور نہ علم میں کچھ دخل ہے یعنی اُنہوں نے صاف گریز کی راہ اختیار کی اور جیسا کہ عام چالبازوں کا دستور ہوتا ہے یہ اشتہار شائع کیا کہ اول مجھ سے حدیث اور قرآن سے اپنے عقائد میں فیصلہ کر لیں۔ پھر اگر مولوی محمد حسین اور اُن کے دوسرے دو رفیق کہہ دیں کہ مہر علی شاہ کے عقائد صحیح ہیں تو بلا توقف اُسی وقت میری بیعت کر لیں پھر بیعت کے بعد عربی تفسیر لکھنے کی بھی اجازت دی جائے گی۔ مجھے اس جواب کو پڑھ کر بلا اختیار اُن کی حالت پر رونا آیا اور اُن کی حق طلبی کی نسبت جو اُمیدیں تھیں سب خاک میں مل گئیں
    اب اس اشتہار لکھنے کا یہ موجب نہیں ہے کہ ہمیں اُن کی ذات پر کچھ امید باقی ہے بلکہ یہ موجب ہے کہ باوصف اس کے اس معاملہ کو دو مہینے سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر اب تک اُن کے متعلقین سب وشتم سے باز نہیں آتے۔ اور ہفتہ میں کوئی نہ کوئی ایسا اشتہار پہنچ جاتا ہے جن میں پیر مہر علیشاہ کو آسمان پر چڑھایا ہوا ہوتا ہے۔ اور میری نسبت گالیوں سے کاغذ بھرا ہوا آتا ہے۔ اور عوام کو دھوکہ پر دھوکہ دے رہے ہیں۔ اور میری نسبت کہتے ہیں کہ دیکھو اس شخص نے کس قدر ظلم کیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے مقدس انسان بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے صعوبت سفر اُٹھا کر لاہور میں پہنچے۔ مگر یہ شخص اس بات پر اطلاع پا کر کہ در حقیقت وہ بزرگ نابغہ زمان اور سبحان دوران اور علم معارف قرآن میں لاثانی روزگار ہیں۔ اپنے گھر کے کسی کوٹھ میں چھپ گیا ورنہ حضرت پیر صاحب کی طرف سے معارف قرآنی کے بیان کرنے اور زبان عربی کی بلاغت فصاحت دکھلانے میں بڑا نشان ظاہر ہوتا۔ لہٰذا آج میرے
    الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کی جھوٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے بات تو تب ہے کہ کوئی انسان حیا اور انصاف کی پابندی کر کے کوئی امر ثابت بھی کرے۔ ظاہر ہے کہ اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں تو اب چارجز عربی تفسیر سورۃ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت ستر دن میں اپنے گھر میں
    دل میں ایک تجویز خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو میں اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہوں۔ اور یقین ہے کہ پیر مہر علی صاحب کی حقیقت اس سے کھل جائے گی۔ کیونکہ تمام دنیا اندھی نہیں ہے انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے ہیں۔ اور وہ تدبیر یہ ہے کہ آج میں اُن متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں۔ یہ جواب دیتاہوں کہ اگر در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم مَعَارف قرآن اور زبان عربی کی ادب اور فصاحت اور بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہوں گی کیونکہ لاہور آنے پر ابھی کچھ بہت زمانہ نہیں گزرا اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعویٰ کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورہ ممدوحہ کے بھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مقابل عربی فصیح بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرماویں۔ یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ئ؁ کی پندرہ تاریخ سے ستر۷۰ دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہئے تب اہل علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے۔ اور اگر اہل علم میں سے تین کس جو ادیب اور اہل زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ
    بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنا ان کے لئے کیا مشکل بات ہے۔ اُن کی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب تو اُن پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہوا ثبوت ہماری طرف سے ہو گا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کے لئے کوشش کی کہ پانسو ۵۰۰ روپیہ انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور اُن کے حامیوں نے اس طرف رُخ نہ کیا ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی کشتی دو پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے تو دوسری مرتبہ کشتی کروائی جاتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق تو اُس دوبارہ کشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوں کا شبہ دور ہو جائے اور دوسرا شخص جیتتا ہے اور میدان میں اُس کے مقابل پر کھڑا نہیں ہوتا اور بے ہودہ عذر پیش کرتا ہے۔ ناظرین برائے خدا ذرا سوچو کہ کیا یہ عذر بد نیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو کہ پھر اپنے تین دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لو۔ اور اس بات کی پروا نہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں میں کبھی نہیں کروں گا پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ یہ پیر صاحب کا جواب ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے شرط دعوت منظور کر لی تھی۔
    رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کی رو سے اور کیا معارف قرآنی کے رو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ نقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا۔ اور اس صورت میں اس کوفت کا بھی تدارک ہو جائے گا جو پیر صاحب سے تعلق رکھنے والے ہر روز بیان کر کے روتے ہیں۔ جو ناحق پیر صاحب کو لاہور آنے کی تکلیف دی گئی۔ اور یہ تجویز پیر صاحب کے لئے بھی سراسر بہتر ہے کیونکہ پیر صاحب کو شاید معلوم ہو یا نہ ہو کہ عقل مند لوگ ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ پیر صاحب کے علم قرآن میں کچھ فصل ہے یا وہ عربی فصیح بلیغ کی ایک سطر بھی لکھ سکتے ہیں۔ بلکہ ہمیں ان کے خاص دوستوں سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بہت خیر ہوئی کہ پیر صاحب کو بالمقابل تفسیر عربی لکھنے کا اتفاق پیش نہیں آیا۔ ورنہ اُن کے تمام دوست ان کے طفیل سے شاھت الوجوہ سے ضرور حصہ لیتے۔ سو اس میں کچھ شک نہیں کہ اُن کے بعض دوست جن کے دلوں میں یہ خیالات ہیں۔ جب پیر صاحب کی عربی تفسیر مزیّن بہ بلاغت و فصاحت دیکھ لیں گے تو اُن کے پوشیدہ شبہات جو پیر صاحب کی نسبت رکھتے ہیں جاتے رہیں گے۔ اور یہ امر موجب رجوع خلائق ہو گا۔ جو اُس زمانے کے ایسے پیر صاحبوں کا عین مُدعا ہو ا کرتا ہے اور اگر پیر صاحب مغلوب ہوئے تو تسلی رکھیں کہ ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے۔ اور نہ اُن کو بیعت کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ صرف ہمیں یہ منظور ہے کہ پیر صاحب کے پوشیدہ جوہر اور قرآن دانی کے کمالات جس کے بھروسہ پر انہوں نے میرے ردّ میں کتاب تالیف کی لوگوں پر ظاہر ہو جائیں۔ اور شاید زلیخا کی طرح اُن کے منہ سے بھی اَلْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ (یوسف:52) نکل آئے اور ان کے نادان دوست اخبار نویسوں کو بھی پتہ لگے کہ پیر صاحب کس سرمایہ کے آدمی ہیں۔ مگر پیر صاحب دل گیر نہ ہوں ہم اُن کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیر کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔ فریقین کی تفسیر چار جُزو سے کم نہیں ہونی چاہئے ……… اور اگر میعاد مجوزہ تک
    ۱۵ ؍ دسمبر ۱۹۰۰ئ؁ سے ۲۵؍ فروری ۱۹۰۱ئ؁ تک میعاد تفسیر لکھنے کی ہے اور چھپائی کے دن بھی اسی میں ہیں۔ ستر ۷۰ دن میں دونوں فریق کی کتابیں شائع ہونی چاہئیں۔
    یعنی ۱۵؍دسمبر ۱۹۰۰ئ؁ سے ۲۵؍فروری ۱۹۰۱ئ؁ تک جو ستر دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔ اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ
    المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان۔ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ئ؁
    اعجاز المسیح اور حضرت مسیح موعود
    اور
    پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ و نصلی
    اخوانی۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ کئی دفعہ میری روح میں زور آور تحریک ہوئی کہ ان اثروں اور نقشوں پر کچھ لکھوں اور بھائیوں کو مستفید و مسرور کروں جو اس جلسہ میں حضرت موعود علیہ السلام کی زندگی کے خاص اور بالکل نئے حصہ کے مشاہدہ سے میرے حق جو حق بین حق گو قلب پر وارد اور منتقش ہوئے ہیں۔
    پیر گولڑوی کے مقابل تفسیر لکھنے کی میعاد (۷۰) دن ٹھہری تھی اس بڑی ہی تھوڑی میعاد میں سے بھی جو اصلاً اور حقیقتہً سورہ فاتحہ کی عربی فصیح میں غیر مسبوقہ حقائق کے ساتھ تفسیر لکھنے کے لئے نہائت غیر مکتفی تھی پورے تیس دن حضرتحجتہ اللہ علیہ السلام نے یوں منہا کردئیے کہ اس اثنا میں آپ کے دست وقلم میں خالص منافرت رہی ایک نقطہ تک نہ تو لکھا اور نہ اس غیر مامور کو جگہ سے ہلا دینے والے کام کی نازک ذمہ داری کی طرف کچھ توجہ کی۔۔ پورے ایک مہینہ کے بعد جب لکھنے کا ارادہ کیا معاً برد اطراف اور ضعف کے اس قدر متواتر دورے پڑنے شروع ہوئے۔کہ بسا اوقات پر دل امید زندگی کے چراغ کو شمع سحری کی طرح ٹمٹماتا دیکھ کر یاس کے تاریک کونے میں سرنگوں بیٹھ جاتی تھی۔ میں نے دس سال میں اس قدر اتصال اور ہجوم ان ہولناک امراض کا نہیں دیکھا تھا۔صحت کا یہ حال اور وعدہ اس قدر مضبوط۔ منجانب اللہ ہونے۔ مؤیّد من اللہ ہونے کا ایک نشان اور معیار ۔ اور ایک چلہ باقی۔ کوئی معمولی آدمی ہو اور عزت اور ذلت کا معاملہ ہو تو ایک سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ اس کے دل اور جان پر کیا گزر سکتی ہے۔ یہاں سارے جہاں سے ٹکر لگی ہوئی ہے۔ ایک مامور اور مرسل اللہ کی برسوں کی کامیاب عزت معرض امتحان میں اور ضعیف محدود بشری نگاہ کے نزدیک معرض خطر میں تھی مسودہ لکھنا ۔ پروف دیکھنا ۔ اور پوری صفائی سے چھپنا یہسب کام ضروری تھا کہ اس تھوڑی مدت میں پورے ہوں ۔ میرا دل بصیرۃ اور دلائل سے اسپر شاہد اور قائم ہے کہ اس وقت سے کہ آپؑ کی مبارک انگلیوں کو چھونے کا شرف قلم کو ملا ایسی تقییداور تقیّد کا کام کبھی آپ کے پیش نہیں آیا۔ ایک بات اور ایک تکلیف آپ کو پیش نہیں آئی۔ مختلف قسم کی زحمتوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا۔ آپ کی کریم رحیم فطرت کا نبوت محمدیہ(علی صاحبہا الصلوۃوالتحیہ) اور قرآن کریم کے اتباع سے ایک ہی رنگ پر اور مختصر پیرایہ پر قانع نہ ہونامعانی اور نکات کے شجر ذخار کی مضطرب امواج کا آپ کی معنی آفرین جودت زاطبیعت میں موجیں مارنا ۔ محدود وقت کی سخت قید کا لگ جانا اور ان سب پر اور سب سے زیادہ زحمت خوفنا ک امراض کا پے در پے حملہ آور ہونا۔ غرض یہ ایسی تحریکیں اور دبائو تھے کہ ایک غیر مامور کو پیس کر سرمہ کردیتے۔ بسااوقات قوی دل لوگ بھی ایسے موقعوں پر جی چھوڑ کررہ جاتے ہیں اور جدید اور لذیذ مضامین کا پیدا کرنا تو برکنار موجودہ علم و دانش بھی ان کے دماغ سے پرواز کر جاتی ہے۔ مگر حضرت موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور اذن سے ۲۰تاریخ کو تفسیر کی تسوید سے فراغت کرلی اور کاتب اور مطبع کا کام رہا جو انشاء اللہ تعالیٰ دو روز میں انجام کو پہنچ جائے گا۔ میرا موضوع اس وقت یہ نہیں کہ تفسیر کی نسبت گفتگو کروں اور اس کے اعجاز کے پہلوئوں پر بحث کروں۔ وہ انشاء اللہ ۲۵تک حسب وعدہ شائع ہو جائے گی۔سنت اللہ کے موافق سعید اسے معجزہ اور آیتُ اللہ سمجھ کر خداکے نور کو پہچان لیں گے اور شقی اسی کنوئیں میں گریں گے جو ان کے اشباہ و امثال کے لئے مو عودوںکے ہر زمانہ میں تیار ہوتا رہا ہے۔ میرا مقصد اس وقت یہ ہے کہ میں اپنے ان دوستوں کو حضرت مامور کی استقامت اور اخلاص کی کیفیت کا نقشہ دکھائوں جو قدرت کی تقدیروں سے اس نظارہ کے معائنہ سے دور پڑے ہیں۔ میرا دل مجھے یقین دلا تا ہے کہ محبوب و مولیٰ اور رئوف رحیم آقا کی یہ زحمت اور تکلیف جو اس راہ میں ان پر پڑی ہے ان کے عاشق خدام کی محبت اور عشق کے لئے مہمیز کا کام دیگی اور یہ اطلاع اور شعور اور احساس ایک آگ ہوگی جو غیر کو غیر کی تعظیم و تکریم کو غیر کے کسی قسم کے جہد و ریا ضت کے خیال اور یقین کو ان کے دل سے راکھ کرکے نکال ڈالیگی۔ میرا یگانہ لا شریک خدا جس کی عظمت اور جبروت کا تصور ایک صادق کی پیٹھ کی ہڈیاں توڑ دیتا ہے گواہ اور آگاہ ہے کہ میں آپ کی اس محنت اور جانفشانی اور بیماریوں کی شدت کو دیکھ کر بسا اوقات جوش محبت میں سخت رنج اور دکھ سے بھر جاتا اور بار صدمہ اپنی جان میںمحسوس کرتا اور میرا دل چیخ کر یہ کہتا کہ حقیقی کفارہ اور واقعی قربانی یہ ہے جو ہمارا برگزیدہ شفیع اپنے وجود سے امت محمدیہ کیلئے پیش کر رہا ہے۔ ناشکر گزار قوم کیا مکافات دے رہی ہے۔ اور اب بھی اس لا نظیر نشان پر کیا کیا نکتہ چینیاںنا عاقبت اندیش بد گمانوں کی طرف سے ہونگی۔ مگر ایک جمیل حسین اور محسن چہرہ ہے جو اس برگزیدہ کے سامنے بیٹھا اور اپنی جان بخش تجلیات سے ساری مصیبتیں اسپر آسان کررہا ہے۔ اور اس دل افروز حسن سے ایسے عالم محویت میں یہ عاشق صادق ہے کہ غیر کی نہ تو تحسین کی پرواہے اور نہ تقبیح اور توہین کا کچھ خوف ہے۔ میں نے بارہا دل میں ایک رنج محسوس کیا جو جبروت اور عظمت کے دبائو سے سینہ سے سر نکالتے نکالتے رہ گیا ور کبھی جو کلیجہ منہ تک آیا تو ناز آمیز شکوہ سے اپنے رحیم کریم رب کو ہی کہہ گزرا کہ اے رحیم کریم مولیٰ تیری حکمتوں اور تقدیروں کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگا کر کون کسی راز کو مٹھی میں لا سکتا ہے ایک طرف تو تونے اپنے بندہ پر ایسے ذمہ داریوں کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور ایک جہاں کی آنکھوں کا مطمح نظر اسے بنا رکھا ہے۔ اور ایک طرف یہ بیماریاں اور رنج ہیں کہ یقینا ایک پہاڑ پر پڑیں تو اسے چور چور کردیں۔آخر اس حقیقت کی تجلی اور انکشاف نے ڈھارس باندھی کہ یہ بھی اور یہی درحقیقت عظیم الشان معجزہ ہے۔ اگرچہ کوئی خارجی آدمی بد گمانی اور تیرہ فطرتی سے یقین نہ کرے پر آستانہ قدس کا شرف ملازمت رکھنے والے اس رنگ کو اپنے ایمانوں کے لئے نئی اور عجیب یا قوتی سمجھتے ہیں اس لئے کہ وہ یقین سے بھر گئے ہیںکہ یہ خدائے قدوس قادر کا ہاتھ ہے جس نے چالیس روز میں اس عظیم الشان کام کو پورا کیا ہے ورنہ مجرد اور مخذول اور مفتری بشریت کے سامنے آخری اور ابدی تباہی کا دن آچکا تھا۔ ان متواتر بیماریوں اور ناقابل بیان ناتوانی اور بے کسی اور خدا تعالیٰ کی اس نصرت اور تائید نے اور بھی زیادہ حضرت موعود کے صدق اور حقیت پر مہر کردی۔
    کل جمعہ کے دن ۲۲۔فروری کو یہاں قابل دید نظارہ تھا جبکہ قدس کے میدانوں میں جو لان کرنے والا اشہب قلم آپ کا منزل مقصود پر عاٖفیت و خیریت سے پہنچ کر آرام سے کھڑا ہو گیا۔رات کو حضرت موعود علیہ السلام آدھی رات سے زیادہ تک اور پھر اسی افراتفری میں جمے ہوئے اور نکالے ہوئے پروف دیکھتے رہے۔ مطبع کے کارکن رات بھر کام کرتے رہے۔اور آج ۲۳ کی صبح کو اعجاز المسیح پورے دو سو صفحوں میں مکمل ہو کر ڈاک کے ذریعہ مختلف مقامات میں بھیجا گیا۔ ظہر کی نماز کے وقت جب آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کا درخشاں چہر ہ جس پر کامیابی اور نصرت حق اور محبوبیت ڈھیروں پھول برسارہی تھی۔ عشاق کیلئے ایک نورانی مشعل تھا جس کی روشنی میں وہ براہ راست وجہ اللہ کو دیکھتے تھے۔ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی وحی کس شان اور قوت سے پوری ہوئی جو اس سے ڈیرھ ماہ پہلے تمام بلاد میں شائع کی گئی تھی کہ دشمنوں کی فتح ہوگئی۔ خدا کی فتح بعد میں آوے گی۔‘‘ وہ فتح جو عوام نے مہر شاہ کی طرف منسوب کی وہ بازاری شور سے
    زیادہ نہ تھی۔ مگر خدا کی نصرت جو اعجاز المسیح کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ علمی معجزہ اور دائمی فتح ہے
    جس کے حروف زمانہ کے صفحوں پر سدا چمکتے رہیں گے۔ سب سے زیادہ خوشی انہیں اس جلالی وحی کے پورا ہونے سے ہوئی کہ منعہٗ مانع من السماء ۔ اس سے نئے طور پر سمجھ میں آیا کہ کیسا قادر متصرف علی القلوب خدا ہے اپنی مرضی کے پورا کرنے کے لئے جس طرف چاہے دلوںکو پھیرے اور دوستوں کے ساتھ اس کا معاملہ اور ہے۔ اور دشمنوں کے ساتھ اور۔
    خدا تعالیٰ کی برکتیں اور صلوات شامل حال ہوں ۔ حضرت موعود کے حرم محترم کے کہ پرسوں انہوں نے ایک فقرہ کہہ کر اپنی فراست حقہ اور خدابین اور رسا لت فہیم طبیعت کا کیسا ثبوت دیا ۔از بس کہ وہ رات دن مشاہدہ کرتی تھیں اور اُن سے زیادہ اور کون مخلوقات میں سے شاہد حال ہو سکتا تھا کہ حضرت موعود علیہ السلام دن رات میں کئی کئی مرتبہ موت تک پہنچ جاتے اور بیسیوں دفعہ لکھتے لکھتے تین تین چار چار لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے اور ہاتھ پیر مردۂ بے جان کی طرح ٹھنڈے ہو جاتے پھر اس نادر کام کو کامل مکمل دیکھ کر وہ حضرت سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں کہ میری روح شرح صدر سے گواہی دیتی ہے کہ آج وہ الہام ’’ایک عزت کا خطاب ‘‘ پورا ہوگیا اس سے زیادہ کیا عزت ہے۔ اور انبیاء و مرسلین اور اہل اللہ کی ایسی ہی خدائی رنگ کی عزت ہوا کرتی ہے۔کہ اس قدر تحدی اور دعوے کے ساتھ علماء اور ان کے شہداء کو پکارا گیا اور غیرت اور جوانمردی کا مقتضا تھا کہ وہ اس مرد آزمامید ان میں بڑھ بڑھ کر قدم مارتے مگر متصرف علی القلوب خدا نے ان کی غیرتیں سلب کرلیں اور ان کی ہمتوں اور قصدوں کے ہاتھ شل کر دئیے اور وہ اس نامردی اور رو سیاہی پر تہ دل سے راضی ہوگئے اور جس شخص کی تردید اور انکار ان کی دلی مراد تھی اس بزدلی سے انہوں نے اپنے ہاتھوں پائوں پڑ کر مٹی پر ناک رگڑ کر اس کے صدق پر مہر کردی ۔ خدا ترس اہلِ دل اور سنن انبیاء علیہم السلام سے واقف اس کلام سے جو اس صدف عصمت و عفت کے قیمتی موتی کے منہ سے نکلا ہے۔ نور اور فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ میرے قلب کی بناوٹ خدا وند حکیم نے ایسی بنائی ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات خصوصاً عائشہ صدیقہ کی شہادت کو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے صدق پر لا نظیر شہادت مانتا ہوں۔ ایک محرم تمام گرد و پیش کے حالات سے واقف جس پر بے تکلفی اور سادگی اور اضطراری تحریکات اور جذبات وقتاً فوقتاًبرہنہ تجلی کرتی اور اپنا سارا اندرونہ کبھی بتدریج اور کبھی یکبار گی اگل کر سامنے رکھ دیتی ہیں اپنے ایسے رفیق کی نسبت گواہی دے اور رفتار زندگی میں اپنے چال چلن اور خارق عادت صدق سے اس شہادت پر راستی اور حقیقت کا نشان لگا دے۔یہ صدق کا ایسا نشان ہے کہ کسی بڑے نشان سے نیچے نہیں۔ اسی بنا پر میں نے اس شہادت اور پاک اور سادہ الفاظ میں ادا کی ہوئی شہادت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔جو حضرت صدیقہ ثانیہ نے حضرت موعود علیہ السلام کی نسبت دی ہے۔آہ! بد بخت اور کج دل جو ان باتوں کو استخفاف اور حقارت سے دیکھتے۔کاش کوئی اور پیرایہ ہوتا کوئی اور الفاظ ہوتے جو ان صداقتوں اور میرے صدق دل اور ایمان اور بصیرت اور خشیتہ اللہ کو مد نظر رکھے ہوئے دل کے سچے اظہارات کے ایصال اور اظہار کا ذریعہ بن سکتے اور شکوک اور اوہام اور بد گمانیوں کے پتھروں کو لوگوں کی راہ سے صاف کرسکتے۔مگر سنت اللہ اور سنت الانبیاء اور اطراف اور نئی تلاشوں سے مایوس کر دیتی ہے جب کہ وہ یقین دلاتی ہے کہ ایک ہی ذریعہ ہے جس سے سارے خدا کے برگزیدہ شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ یہی ہے جو ہمارے برگزیدہ امام علیہ السلام کی پاک زندگی پوری صفائی سے پیش کر رہی ہے۔ خدا تعالی کی لگاتار نصرتیںآسمان سے اور محرم راز انیسوں اور واقف حال جلیسوں کی خدا کے لئے گواہیاںزمین سے۔ اگر یہ معیار صدق نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں۔ ایک اُمّی نے تحدی کی اسی طرح جیسے اس سے پہلے فَاْتُوْابِسُوْرَۃٍ مِّن مِّثْلِہٖ(البقرۃ:24) کی صدا میں کی گئی تھی۔ ایک ناتوان اور بے سامان اور قوم اور زمینوں کے مہجور و متروک نے باسامان زمانہ کو مقابلہ کے لئے بلایا۔ وہ کامیاب ہوا۔ وہ اکیلا بلا مزاحمت مالی لیکر عزت کے ساتھ میدان سے نکلا اور اس کے تمام حریفوں نے جو اس کی بے عزتی کے لئے تڑپتے تھے خجالت اور ندامت کے نقابوں میںمسخ شدہ چہروں کو چھپا لیا۔ کیا فرق ہے کونسا مابہ الامتیاز ہے اس تحدی میں اس دعوے کے الفاظ میںجو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے شائع ہوئے اور اس میںجو فَاْتُوْابِسُوْرَۃٍ مِّن مِّثْلِہٖکے رنگ میں کیا گیا تھا۔ جیسے قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْجِنُّ وَالْاِنْسُ عَلٰٓی اَنْ یَّاْ تُوابِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ (بنی اسرائیل:89)کہا گیا تھا۔ اسی طرح آج بھی تحدی کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ مہر علی شاہ کے ساتھ تمام علما مل جائیں بلکہ ممکن ہو تو عربوں کو بھی ساتھ ظہیر بنالے۔ خدا کے لئے کچھ تو منہ سے پھوٹو اور کبھی تو خدا لگتی گواہی دو کہ پچھلی تحدی پہلی کی طرح پوری ہوئی کہ نہ ہوئی۔
    اے خدا نا ترس مخالف! نا حق کے غضب سے پوستین کو مت پھلا اور غیظ کی جھاگ منہ پر مت لا۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر اور خوب سوچ کر کوئی لطیف فرق اور نازک امتیاز دکھا۔ سن اور سمجھ لے کہ ان دونوں تحدیوں میں سر موبھی فرق نہیں اور ضرور تھا کہ اس زمانہ میں بھی ایسی تحدی ہوتی اس لئے کہ وہ پہلا سربستہ راز سمجھ میں آجاتا کہ کیوںکر آسمانوں اور زمینوں کا مالک خدا صرف الوجوہ کیا کرتا ہے۔
    میں نے حضر ت امام علیہ السلام کو اُمّی کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ گواہ اور آگاہ ہے کہ میں نے مبالغہ اور اطراء سے کام نہیں لیا۔ و لعنۃ اللّٰہ علی الماد حین المطرین الذین یقولون ما لیس فی قلوبھم ولا فی ممد و حہم۔ میں خوب جانتا ہوں کہ آج زمانہ میں علم اور فن اور فضل کا کیا چرچا اور کیسا سامان اور کسی فن میں کمالات حاصل کرنے کے لئے کیا کیا تحریکات اور مواد ہیں۔اور میں خوب جانتا ہوں کہ کس طرح ادباء ادب کی تحصیل میں ار دوسرے علوم کے شیدا ان علوم میں دستگاہ پیدا کرنے کی لئے جان توڑ کر سعی کررہے ہیں اور بہت سے ان میں اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہیں۔حضرت حجتہ اللہ آیۃ اللہ کو دیکھتا ہوں اور برسوں سے دیکھتا ہوں کہ ہر رنگ میں ہر فن میں اور ہر حال میںاُمیّت آپ پر غالب ہے۔ آپ کے قلب کی بناوٹ ایسی بنائی گئی ہے اور آپ کے پیش نہاد مقاصد اور مطامح ایسے رکھے گئے ہیں کہ اس لازوال ذوالجلال قبلہ کے سوااور طرف رخ توجہ پھیر ہی نہیں سکتے۔ کبھی ایک ادیب کی طرح کسی ادب کی کتاب کا مطالعہ ہو۔ کسی فن کی کتاب میںانہماک و استغراق ہو۔یہ موقع کبھی آپ کے پیش آیا ہی نہیں۔عربی میں تصانیف کے اختیار کرنے کا محرک خود میں ہی ہوا۔ میری ہی روح میں خدا تعالیٰ نے پہلے یہ جوش ڈالا کہ یہ آسمانی نعمت عربی کے ظروف میںعربوں کے آگے بھی پیش کی جاوے۔ اس تحریک پر سب سے پہلے آپ نے تبلیغ لکھی جو آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے۔ اس کیفیت کو میرا ہی دل خوب جانتا ہے۔ جو اس پس و پیش اور تحیر کے نقشہ سے میں نے سمجھی جو میری اس درخواست پر آپ پر طاری ہوا۔ کس معصوم اور بے بناوٹ سادگی اور صفائی سے آپ نے فرمایا کہ بات تو بہت اچھی ہے مگر یہ کام بڑا نازک ہے۔ میری بساط اور استعداد سے باہر ہے۔ پھر کچھ سوچ کر فرمایا اچھا میں پہلے اردو میں مسودہ طیار کرونگا پھر میں اور آپ (یہ عاجز راقم) اور مولوی صاحب (مولوی نور الدین صاحب) مل ملا کر اس کا ترجمہ عربی میںکرلیں گے۔ تحریک تو ہو ہی چکی تھی رات کو قادرِ حکیم عزا سمہ کی طرف سے اس بارہ میں وحی ہوئی کہ عربی میںلکھیں اور معاًیہ بھی آپ کو تسلی دی گئی کہ عربی زبان کے بہت سے حصے پر آپ کو قبضہ مرحمت کیا گیا اور لکھنے کے وقت خود روح پاک آپکی زبان اور قلم پر لغات عربی کو جاری کردے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ سب سے پہلے کتاب تبلیغ جس کی تالیف کے سارے زمانہ میں میں ساتھ رہااورمجھے اس کے فارسی میں ترجمہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ایسی فصیح بلیغ نکلی کہ ایک فاضل ادیب عرب نے اسے پڑھ کر حضرت موعود کو لکھا کہ تبلیغ کو پڑ ھ کر میرے دل میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیاں تک آئوں۔
    مولوی محمد حسین بٹالوی اور اس کے مثیلوں نے اس سے پہلے بہت شور مچا رکھا تھاکہ وہ (حضرت موعود علیہ السلام) عربی کا ایک صیغہ نہیں جانتے اور صرف و نحو اور فلاں فلاں علم سے قطعاًواقف نہیں۔ اور فتویٰ تکفیر سے تھوڑی دیر قبل سیالکوٹ میں ہماری مسجد کے اندر جناب حکیم حسام الدین صاحب کے مقابل تکرار کرتے ہوئے غیظ و غضب میں بھر کر یہ کہا کہ مرزا ایک اردو خوان منشی ہے وہ عربی کیا جانتا ہے۔ اس کی تعریف اور مدح میں اتنا مبالغہ کیا جاتا ہے میں اب جاتا ہوں اور اس کا بندوبست کرتا ہوں اور ایک دم میں اس کے سارے سلسلہ کو الٹاتا ہوں۔ اسی دھمکی اور بخار کا سر جوش وہ تکفیر کا فتویٰ تھا جو اس کے تھوڑے دنوںبعد آپ کے قلم سے نکلا۔
    کاش یہ لوگ کبھی اس انانیت سے بھرے ہوئے بول کی نامرادی اور ذلت پر غور کرتے کہ اس کا بولنے والا کہاں سے کہاں پہنچا۔ اس کا قلم ٹوٹ گیا۔ اس کے تمام جوش ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس کا اشاعہ دفتر گائو خرد ہو گیا۔ وہ جو آسمانی علوم کی اشاعت اور تقلب الی السماء کا مدعی تھا وہ زمین اور زمینی حطام پر سرنگوں ہو گیا۔ خدا ترسو غور کرو کیا اس امام المکفرین کی حد اور غایت یہی تھی کہ اب خاموش ہو جاتا جبکہ اس زمانہ کامجدد و جماعت کا مالک مسیح موعود اب اپنے دعووں میںپہلے سے بھی زیادہ تیز اور ہزاروں جان نثار خدام کے گلہ کا چوپان ہے۔
    در حقیقت ان مولویوں کی بات سچ تھی اور ان کا یہ اعتراض اور انکار کہ آپ لسان عرب سے ماہر نہیں، ان کی واقفیت اور علم پر مبنی تھا اور حقیقت میں مولویوں بڑے واقفیت حال کے مدعی مولوی محمد حسین کی گواہی کے بعد ضرورت نہیں کہ حضرت موعود ؑکی اُمیّت کی نسبت زیادہ ثبوت دئے جائیں۔ ان مولویوں کے چھوٹے بڑے اس وقت پکار کر یہی شکایت کرتے تھے کہ آپ مجدّدِ دین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ااور اسی دین کی لسان میں مہارت نہیں رکھتے اور فی الحقیقت اگر آپ کو لسان عربی کا علم نہ بخشا جاتا تو آپ کے لئے اور آپ کے تمام سلسلہ کیلئے شرم اور ماتم کی جگہ تھی۔اس لئے کہ عربی زبان کی واقفیت و مہارت ہی ایک ٹکٹ ہے جس کے وسیلہ سے خدا تعالیٰ کے حریم قدس میں جو قرآن کریم ہے باریابی کا شرف حاصل ہوسکتا ہے۔اور ایک مجدد، مامور، محدث، مکلم، مہدی ہو یا مسیح موعود ہو لازم ہے کہ قرآن کریم کا علم اسے سب لوگوں سے زیادہ ہو مگر افسوس اور صد ہزار افسوس کہ جب غیور اور حکیم خدا نے انکی شکایت رفع کردی اور احسن طور پر رفع کر دی اور حضرت مامور کو اس پاک زبان کے تبحر میں جن و انس پر سبقت اور فوق دید یا اسپر بھی انہوں نے اعراض اور استکبار کیا اور خدا تعالیٰ کے اس نشان سے کچھ بھی فائدہ نہ اُٹھایا۔ ان کے نالہ ہائے زار سے سمجھ میں آتا تھا کہ ایک ہی اور بہت بڑی شکایت انھیں ہے اور یہ بالکل آمادہ ہیں کہ اس کے رفع ہونے پر اپنی غلط کاریوں اور نادانیوںکی اصلاح کر لیں گے مگر نہیں انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس قدر توفیق بَیَّن اور نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کی طرف سے حق رکھتی تھی کہ یہی ایک بڑا نشان ان کیلئے ہوجاتی اور اس کے بعد کسی اور نشان کی تلاش اور مانگ ان میں باقی نہ رہتی۔ خدا کا کتنا فضل ہے اور اسکی رحمت کا کھلا نشان ہے کہ سارے مولوی اور خود میں بھی انکے ساتھ اس مرکز پر متفق تھا کہ در حقیقت آپ امی محض ہیں۔ ان سب نے اور میں نے یکساں یہ نشان دیکھا کہ فصاحت و بلاغت عربی کا وہ معجزہ آپ کو دیا گیا کہ ہندوستان بھر کے ادبا و فضلا اس کے مقابلہ اور اس کی مثل لانے سے عاجز آگئے۔ مجھے اور میرے احباب کو خدائے کریم نے اس راہ سے ایمان اور عرفان میں روز افزوں قوت اور سکینت بخشی اور ان مولویوں کو طغیان اور حسد میں ترقی دی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَا نَا لَھٰذَا وَ مَا کُنَّا لَنَھْتَدِیْ لَوْلَاْ اِنَ ھَدَا نَااللّٰہَ لَقَدْ جَائَ ت رُسُلْ رَبَّنَا بِالْحَقْ۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَ یْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابْ۔ رَبَّنَا اَفْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُالْفَاتِحِیْن۔
    غرض جیسا میں نے بیان کیا ہے ایک اُمی بے سامان نے تحدی کی کہ ہندوستان و پنجاب کے تمام علماء ان کے چھوٹے اور ان کے بڑے اکیلے اکیلے اور مل مل کر میرے مقابلہ میں آئیں اور ممکن ہو تو عربوں کو بھی اپنی مدد میں بلائیں۔ میرے قادر مرسل نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ سارے میرے سامنے خجل اور نادم ہوں گے۔ عربی تحریر اور تقریر کی قوتیں ان سے سلب کر لی جائیں گی۔ اور وہ محض لا یعلم لایعقل ہو جائیں گے۔ اس تفسیر فاتحہ کے لئے غیرت دلانے والے الفاظ میں اشتہار دئیے اور محض اللہ تعالیٰ کا معجزہ دکھانے کو تیز مغضب الفاظ لکھے کہ گولڑوی مہر علی شاہ اور اس کے انصار و اعوان اٹھیں اور سورہ فاتحہ کی سات آیتوں کی تفسیر عربی زبان میں لکھیں۔ کس قدر موقعہ اور خدا داد وقت ان لوگوں کے لئے تھا کہ بالمقابل معجزہ نمائی کرتے اور ایک لشکر کثیر جرار کے ساتھ ایک بے کس اور ناتوان اور اُمی آدمی پر حملہ کرتے اور آئے دن کے خرخشوں کے مٹانے کی فکر کرتے۔
    یہی ایک بات تھی اور صرف یہی ایک بات تھی جس کے لئے سب سے پہلا اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نکلا اور جس کا مضمون صاف لفظوں میں یہی تھا کہ پیر صاحب قرآن کریم کی کسی سورت یا آیت کی تفسیر میں مجھ سے مقابلہ کر لیں۔ اس لئے کہ زبانی جھگڑے بہت ہو چکے ہیں اور حضرت مامور خدا کی طرف سے مباحثات کے کرنے سے روک دئیے گئے ہیں مگر ظالم محرفوں نے کہاں سے کہاں تک نوبت پہنچائی اور اصل بات کو چھوڑ کر ایک فضول بات اور مکر اور زُور اور ظلم کی حمایت کی اور سیاہ دلی اور ستمگری سے غل مچا دیا کہ مہر شاہ جیت گیا۔ میں اور میرے دوست جو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے یہاں بیٹھے ہیں حیران ہو ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں چلا چلا کر فریاد کرتے کہ الٰہی اے حکیم خدا تیری حکمتوں کے گہرائو تک ہم کہاں پہنچ سکتے ہیں۔بات کیسی صاف ہے اور ان مولویوں اور صوفیوں اور سجادہ نشینوں کے دل کیسے پلٹ گئے ہیں یا مسخ ہو گئے ہیں۔اور ایک دفعہ ہی سب کے سب پکار اٹھے ہیں کہ مہر علی شاہ جیت گیا۔کس بات میں جیت گیا؟ کیا کام کیا؟ کونسا معجزہ اور کرامت لوگوں کو دکھائی؟بس یہی کہ نالائقی اور بے بضاعتی اور تہید ستی کی ندامت کو چھپانے کیلئے سیاہ ظلم اور فریب کی چال اختیار کرکے لاہور میں آگیا۔
    اگر حضرت اقدس ؑکے کام اور کلام میں کوئی چھل اور فند ہوتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے لئے سب سے اول اسکی مخالفت کرنے والے ہوتے اور اس چال سے واقف ہوجاتے۔ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرْگواہ اور آگاہ ہے کہ کوئی چیز نہیں جس نے ہمیں زنجیروں سے جکڑ کر یہاں بٹھا رکھا ہے۔ بجز صدق اور حق کی پیاس اور محبت کے جو ہمارے محبوب امام کے ہر قول اور ہر فعل سے عیاں ہے۔ حضرت اقدس ؑنے ہم سے جو اس وقت سو سے کم قادیان میں نہ تھے۔ مسجد مبارک میں مشورہ کیا کہ آیا اس صورت میں جواب پیش آئی ہے مہر علی شاہ کے لئے لاہور جانا چاہئے۔ ہم سب نے بالا تفاق اور شرح صدر سے عرض کیا کہ شرط تو عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھنے کے لئے تھی وہ مہر علی شاہ نے توڑ دی۔ اب اگر وہ اس شرط کو توڑ کر اور فریب کی چال اختیار کرکے لاہور آگیا ہے تو آئے ہمیں خدا کے مقدس اور محترم انسان کی ہتک معلوم ہوتی ہے کہ اب اس کے مقابل لاہور جائے۔ رہا یہ اندیشہ کہ عوام کا لا نعام شور مچائیں گے اور وہ جو حقیقت کو نہیں سمجھتے اتنے ظاہری نظارہ پر قناعت کر جائیں گے کہ لو دیکھو مہر شاہ آگئے اور مرزا صاحب نہیں آئے۔ اس کی پرپشہ جتنی بھی پرواہ نہیں اس لئے کہ یہ معمولی باتیںہیں جوراستبازوں کی راہ میں آیا ہی کرتی ہیں لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الْطَّیِّبِ کہ خدا تعالیٰ نا عاقبت اندیش سخن نا فہموںبد گمانوں شتاب کاروں میں اور بات کی تہہ میں پہنچ جانے والوں تقویٰ شعاروں میں فرق کر دے۔ اگر ہم نے امام کو کمزور اور ناتوان اور مقابلہ میں ڈرپوک اور مہر شاہ کو پورا پہلوان سمجھ کر دانستہ یہ کارروائی کی اور ایک سیاہ پردہ حق اور حقیقت پر ڈالدیا تو ہم سے زیادہ آسمان کے نیچے زمین کے اوپر کوئی ملعون نہیں ہم نے پہلے خلقت کو تو اپنے اوپر ناراض کیا ہی تھا۔اب خدائے غیور کے غضب اور مقت کی آگ کو بھی بھڑ کا دیا ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم راستی پر ہیں اور ہر وقت اس کے غضب سے ایسا ہی ڈرتے ہیں جیسے اس کے ملائکہ مقربین اور عباد صالحین ڈرتے ہیں۔ اور ہم صدق دل سے *** بھیجتے ہیں۔اس دل پر جو ایک کاذب کو صادق سمجھے اور اس زبان پر بھی جو ایک صادق کو کاذب کہے۔
    غرض غیور خدا تعالیٰ نے کچھ دیر صبر کیا تاکہ بندوں کی دانش اور ایمان کو آزمائے۔ اور جب دیکھ لیا کہ سیاہ دل بیداد گر باز نہیں آتے اور ہنوز مہر شاہ کو آسمان پر چڑہا رہے ہیں تب اس کی غیرت نے جوش مارا اور اپنے بندہ کے دل میں سورت فاتحہ کی تفسیر کی تحریر القا کی اور یہ بڑی صاف اور فیصلہ کی راہ اور حق و صدق اور کذب کا معیار تھی اور یہ کام پہلے کام سے آسان تر تھا۔اس لئے کہ گھر میں بیٹھ کر لکھنا اور کتابوں سے مدد لے سکنا اور دیگر شہدا کو اپنی تائید میں جمع کرنا اس میں ممکن اور میسر تھا لیکن اس میں وہی سر خرو ہوا جس کے لیے سرخروئی مقدر تھی اور اعجاز المسیح نے صاف کر دیا کہ مہر علی شاہ اس میدان کے مرد نہ تھے اور اس کی بانگ طبل تہی کی بانگ سے زیادہ نہ تھی۔ وہ اس وقت جلسۂ عامہ میں بھی شرمسار ہی ہوتے جیسے اب اتنا وسیع اور حسب مراد موقع ملنے پر خائب خاسر ہوئے ہیں۔ وہاں اس وقت اکیلے شرمندہ ہوتے اب اپنے نا عاقبت اندیش حامیوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے ڈوبے ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ ہوا کیا اتنی تھوڑی یا کافی میعاد میں اعجاز المسیح تو نمودار ہو گیا اور مہر علی شاہ اور اس کی امثال ساکت اور مبہوت رہ گئے۔ خود انہوں نے توجہ نہیں کی ۔ دانستہ انھوں نے ایک شخص کو حقیر سمجھ کر مقابلہ کی پرواہ نہیں کی غلط اور بیہودہ بات ہے۔ کیا نصاریٰ اور کفار اب تک یہی نہیں کہتے کہ عرب کے فصحا بلغاء نے فَاتُوْا بِسُوْ رَۃٍ کی صدا کو بے التفاتی سے دیکھا اور مدعی کو حقیر دیکھ کر معارضہ کرنے سے پہلو تہی کی۔ آجکل کے مسلمانی کے مدعیوں کے عذر میں اور نصاریٰ کی اس وکالت کفار میں کیا فرق ہے۔ خدا کے لئے کوئی تو بتائے کیا یہ شخص حقیر ہے جس نے ایک جہان میں غلغلہ ڈال رکھا ہے اور دوست اور دشمن میں ایک حرکت پیدا کر رکھی ہے اور جس کی تردید و انکار میں تمھارے پیشوائوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں اور جس کی راہ سے لوگوں کو روکنے کے لئے تم ہر وقت جانیں کھپاتے اور کڑھتے ہو اور یہ حقیر آدمی ہے جس کے لئے تم نے تکفیر کا فتویٰ تیار کیا اور تمہاری جانیں اس کے سلسلہ کی ترقی سے تب و تاب میں ہیں ؟ کبھی ممکن ہوا ہے کہ کسی نے مجنون کی حرکات اور حقیر آدمی کی بات کی طرف توجہ کی ہو۔ تم بے شک آپ اپنے اوپر گواہ ہو اور تمہاری زبانیں اور قلمیں مخالفت کرتی ہیں اس سے جو تمہارے دل میں ہے اور جو تمہارے اعمال سے ظاہر ہو رہا ہے۔
    تمھیں اُسی طرح اس تحدی کے مقابلہ اور معارضہ سے خدا تعالیٰ نے عاجز کردیا جس طرح کفار عرب کو فَاتُوْا بِسُوْ رَۃٍ کے مقابلہ میں بے دست و پا کیا تھا۔ تمہارے سجادہ نشینوں پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہوگئی اور ۲۲؍ فروری جمعہ کے دن آسمان سے آواز آگئی کہ تم سب کے سب مخذول و مقہور ہوا ور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی خدا کے منصور اور موید ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکْ۔
    مولوی محمد حسین بٹالوی کے دوست میاں جعفرز ٹلی اور انکے بعض مثیل امرتسری لاہوری اور گجراتی مہر شاہ کی تائید کرنے اور اسے چشمار و بنانے میں ایک عذر رکھتے تھے۔ عصاء موسیٰ کے مصنف اور اس کے رفیق نے بھی بڑی شدّومدّ سے مہر شاہ کی تائید کی اور ان سب خیالات اور ہفوات کو اپنی کتاب میں بھر لیا جو سخت فضول گومحرروں کی خسیس اور کثیف طبع کا نتیجہ تھے۔ اگر یہ منشا تھا کہ کتاب کا حجم اور ضخامت بڑھ جائے تو خیر اس لئے کہ وہ فضول اور محض نکمی کتاب ایسے ہی کوڑے کرکٹ کا انبار ہے اور اگر کسی کمینہ انتقام کشی کی فطرت نے لابحبّ علی بل ببغض معاویہ میں الٰہی بخش اکونٹنٹ کو مہر علی شاہ کی تائید پر مجبور کیا تھا تو اب ان کے لئے سب سے زیادہ مارے شرم کے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ بدقسمتوں کو بغض کے ابخرات نے کچھ دیکھنے سوچنے نہ دیا۔ہر ایک کس مپرس ہیچ مپرزکو جو حضرت موعودؑ کے خلاف کمربستہ ہوا مضتمات سے سمجھا۔نا اندیشیدہ اس کے ساتھ ہوگئے۔ اگر خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید میاں الٰہی بخش اینڈ کو کے ساتھ ہوتی ۔ اگر اس کی ہمکلامی کا شرف انہیں ہوتا یا اقلاً نورفراست سے کوئی قبس ہی ملا ہوتا تو ایسے لاشے بدنام کنندہ مردان کا ساتھ نہ دیتے جس کے لئے مقدر تھا کہ اتنی جلدی اس کے حقیقت کے چہرہ سے نقاب کھل جائے اور اسکی ساری ملمع کاریاں اور جعل سازیاں طشت ازبام ہوجائیں۔
    عصاء موسیٰ کے بہت سے ورق مہر شاہ کے بطلان اور ظلم کی تائید میں سیاہ ہوئے۔ اس کا مصنف اور اس کا رفیق از بسکہ قرآن کریم کے علم اور سنت انبیاء اور ہر قسم کے علوم سے بے بہرہ محض ہیںاس ردّی کتاب پر ناز کرتے ہیں اور ابلہی اور سادگی سے سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے کوئی کام ہوا ہے۔ اس نادیدہ زمانہ بدوی کی طرح جس نے صحرا کے اک جوہڑ سے ایک مشکیزہ بھر لیا اور اسے نادر تحفہ سمجھ کر خلیفہ بغداد کے دربار میں لے گیا۔ ادھر اُدھر سے لغویات اور زٹل اکٹھے کر کے ایک تودہ لگا دیا ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ اس تو دہ سر گین کی طرح جو کھیتوں کے کنارہ اکٹھا کیا جاتا ہے عنقریب سچائی کے کھیت کی نشو ونما میں کھاد کا کام دے گا۔اس مجموعہ مُزَخْرَفَات کو بڑے فخر اور ناز سے ہمارے بعض دوستوں کے پاس بھیجا اور اس وسوسہ اندازی کی راہ سے ان کے ایمانوں پر دندان طمع تیز کئے۔کاش یہ لوگ خدا تعالیٰ کا کچھ بھی خوف رکھتے اور اس کے مرسلین کا پاس کرتے کہ کچھ تو نور فراست سے حصہ انھیں مل جاتا اور اپنی جگہ آپ سمجھ سکتے کہ کیا چیز کس قوم کے آگے پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں عنقریب اس کتاب پر ریو یو شائع کرونگا اور اسی کی توفیق اور اِذن سے دکھائونگا کہ اس کتاب میں بیداد گر نصرانیوں کو پیشوا بنا کر نکتہ چینیوں اور اعتراضوں اور ذاتی حملوں پر قناعت کی گئی ہے اور مشہورحاسدوں اور دشمنوں کی طرح ڈسٹرکشن (ڈھانا) کے اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہے اور اپنی طرف سے کوئی دلربا بات پیش نہیں کی اور ایک جگہ پر بھی اصول کونسٹرکشن (Construction)کا دھیان نہیں رکھا ۔ یہ بڑی آسان بات ہے یو ں کہہ دینا کہ فلاں شخص میں یہ عیب ہے اور فلاں نقص ہے اور کوئی خوبی نہیں۔ تمام خدا سے دور اور محجوب دنیا کے بیٹوں کا یہی شیوہ رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس میدان کو صاف کر کے تم نے اپنی کس خوبصورتی اور محاسن کا جلوہ دکھایا؟ اتنی بڑی کتاب میں جس کی وسعت میں الف لیلہ بڑی عمدگی سے سما سکتی ہے کہیں تم نے قرآن کریم کے لطائف حقائق لکھے۔ معرفت الٰہی کے علوم کے کچھ نکتے بیان کئے؟علوم الٰہیہ ہی میں دستگاہ کا کوئی ثبوت دیا؟ آجا کے چند گول مول الہام لکھ دئیے۔ اور یہ کہہ کر ان کی نیومیں بھی پانی پھیر دیا کہ ’’انکی تفہیم اور معانی پر مجھے وثوق نہیں"بجز ذاتی نکتہ چینیوں کے جو حضرت مرسل اللہ کی نسبت ہیں تم نے اپنا حسن کیا دکھایا۔ اُس سے اپنے تئیں کامیاب سمجھ لیا کہ تم نے چند اعتراض کر دئیے ہیں یہ تو بَیَّن دلیل ہے تمہاری نامرادی پر اور تم بآسانی دیکھ سکتے تھے کہ ایسا نمونہ چھوڑنے والے پہلے کون ہوئے ہیں اور کیا کامیابی انہیںہوئی۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر میرے قلب میں بڑی بصیرت اور شرح صدر سے یہ ڈالا گیا کہ اگر یہ کتاب اپنی اس طرز ادا اور مضامین میں جو حضرت موعود علیہ السلام کی پاک اور مطہرذات کی نکتہ چینی پر لکھے گئے ہیں قابل وقعت ہے تو اس سے بہت زیادہ قابل وقعت ولیم میور ۔ سپر نگر سل۔ ٹھاکر داس اور فورمین کی کتابیں ہیں جس میں جناب سید المعصومین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر نکتہ چینیاں کی گئی ہیں۔اور بڑی ہی قابل عزت وہ ناپاک کتاب ہے جس میں کسی آریہ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ذات پر حملے کئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے لئے منشی مہتاب دین صاحب سوپروائزر جو عصائے موسیٰ کے شیدائیوں اور ہوا خواہوں سے ہیںاورحافظ علوم قرآنی اخی مکرم نورالدین(سلمہ اللہ ایدہٗ و بارک علیہ ولہٗ) کو ۳۰؍جنوری کے خط میں اس کتاب کی خوبیاں یاد دلاتے ہیں اٹھیں اور بڑا احسان قوم پر کریں جو مابہ الامتیاز بتادیں الٰہی بخش اینڈکو کی کتاب میں اور ان نصرانیوں اور آریوں کی کتابوں میں۔ اور اس پر بھی توجہ فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کیلئے نظر کریں کہ کیا یہ ساری ایک ہی سی ذاتی نکتہ چینیاں نہیں؟اور اس قسم کے نکتہ چین ہر زمانہ میں یکساں خدا کے قدوسیوں پر حملہ آور نہیں ہوئے اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرت کی شعلہ زن آگ میں بھسم نہیں ہوگئے۔ منشی مہتاب دین صاحب جو سید احمد خان مرحوم کی تصانیف کو سمجھنے والے ہیں امید واثق ہے کہ کمال مہربانی سے یہ نکتہ حل کر دیں گے کہ اس کتاب نے قوم اور اسلام کی کیا خدمت کی ہے اور غیر قوموں کے آگے اتنے سو صفحوں میں کیا اور کوئی ایک بھی سبق پیش کیا ہے۔ نصرانیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈاکو دکاندار مال حرام خور کاذب مفتری کہا۔ یہودیوں نے حضرت مسیح کو ایسا کہا۔ آریوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ڈاکو قاتل مصریوں کا مال و زیور ہضم کرنے والا کہا الٰہی بخش اینڈ کو نے حضرت مرسل اللہ، جری اللہ مسیح موعود علیہ السلام کو کہا۔ للہ منشی صاحب فرق بتائیں ان معترضوں میں اور اس پر غضب سبک سرنکتہ چین میں۔میاں الٰہی بخش صاحب برادر ہدایت اللہ پشاوری کے نام خط میں افسوس کرتے ہیں کہ حضرت اقدس نے ان کی کتاب کو گندی نالی کہا ہے حالانکہ اس میں آیتیں اور حدیثیں ہیں۔کیا الٰہی بخش نہیں جانتے کہ لیکھرام کی کتابوں اور ٹھاکر داس کی کتابوں اور صدر علی پادری کے نیاز نامہ میں آیتیں اور حدیثیں ہیں؟ پھر کیا وہ کتابیں گندی نالیاں نہیں؟
    الحاصل بات اپنی منشاء سے نکلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو ریو یو میں اس پر مفصل بحث کی جائے گی۔ اس وقت جس بات کی دل میں آرزو اور خواہش ہے یہ ہے کہ اب الٰہی بخش اینڈکو اور اس کمپنی کے حامی کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ اب بھی نہیں سوچتے کہ خدا نے انہیں سخت شرمندہ کیا۔ اعجاز مسیح نے نئے سرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر مہر نہیں لگا دی؟ اب کیا وہ قوم وہ احمدی قوم وہ مبارک قوم جو اپنے امام ہمام کے روز روز ایسے معجزات اور خدا تعالیٰ کی تائیدات دیکھتی ہے خس و خاشاک پر راضی ہو سکتی اور وسواس خناس ان کے دلوں کے حصن حصین میں راہ پاسکتاہے وہ ایسے خارق عادت معجزات دیکھ کر اور اعجاز مسیح جیسی کتاب سورہ فاتحہ کی تفسیر کو پڑھکر کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں ایسی لغو اور ردی کتابوںکو جو صحرا کے نادان جنگلیوں نے پیش کی ہیں۔
    اے منشی الٰہی بخش اور منشی عبد الحق اللہ تعالیٰ کا خوف کرو اور مقام الرب کے ہول و ہراس کو یاد کرو تم پر حجت پوری ہوگئی اور سب مخالفوں سے زیادہ حق دار تم ہو کہ اس خدا کے نشان کی قدر کرو۔
    سنو اور خدا کے لئے سنو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں
    آئو ہم میں اور تم میں ایک فیصلہ کی راہ آسانی سے نکل آتی ہے تم کوئی ایک بڑا بھاری اور مایہ ناز ذاتی اعتراض کرو حضرت جری اللہ مسیح موعود پر۔ اگر وہ حرفاً کسی اولوالعزم نبی کی ذات پر وارد نہ ہوتا تو ہم کاذب اور کوئی نبی بعینہٖ اس کا مورد ٹھہر جائے تو پھر تم خدا کے غضب کی شعلہ زن آنکھ سے ڈرو اوراس کمینہ عادت سے توبہ کرو ۔
    جس کا عنوان ہے ’’پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ‘‘کیا لکھا تھا جسے حکیم قادر خدا تعالیٰ نے ۲۰؍فروری ۱۹۰۱کو اپنی قدرتوں اور زور آوریوں سے پورا کرکے دکھایا۔ اس سے زیادہ آپ لوگوں کے لئے کوئی نشان نہیں ہو سکتا۔ سوچو اور غور کرو کہ کس طرح خدائے غیور نے اپنے فرستادہ کی مدد کی اور اس کے منہ کی باتوں کی لاج رکھ لی۔ کیا کبھی تم نے پڑھا اور سنا ہے کہ کسی کاذب کو آسمان و زمین کے خدا نے ایسی نصرتیں دی ہیں۔ اگر یہ استدراج ہے تو وہ نصرتیں کہاں اور کیسی ہیں جو عباد الرحمن کو ملا کرتی ہیں؟ سنو اشتہار مذکورہ میں خدا کا نذیر کیا لکھتا ہے ـ"منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کی جھو ٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے بات تو تب ہے کہ کوئی انسانی حیا اور انصاف کی پابندی کرکے کوئی امر ثابت بھی کرے اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں تو اب چار جزو عربی تفسیر سورہ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت ستر دن میں اپنے گھر میں ہی بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنے کے لئے کیا مشکل بات ہے۔ انکی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب ان پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کیلئے بھی ایک چمکتا ہوا ثبوت ہماری طرف سے ہو گا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کیلئے کو شش کی اور پانچ سو روپیہ انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور ان کے حامیوں نے اس طرف رخ نہ کیا ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی کشتی دو پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے تو دوسری مرتبہ کشتی کروائی جاتی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق اس دوبا رہ کشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوںکا شبہ دور ہو جائے اور دوسرا شخص جیتتا ہے اور میدان میں اس کے مقابل کھڑا نہیں ہوتا۔اور بیہودہ عذر پیش کرتا ہے۔ ناظرین برائے خدا ذرا سوچو کہ کیا یہ عذر بدنیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو پھر اپنے تئیں دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لواور اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں میں کبھی نہیں کروں گا۔ پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ یہ پیر صاحب کا جواب ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرط دعوت قبول کر لی تھی۔
    اب بتائیے منشی صاحب ۔عبد الحق صاحب کیا آپ کا فرض نہ تھا۔ اس لئے کہ آپ نے مہر علی شاہ کی مدح سرائی اپنی کتاب میں کی تھی اور ظلم کی راہ سے اس کو غالب اور فاتح قرار دیا تھا کہ اسے تفسیر لکھنے کی طرف توجہ دلاتے اور خود بھی اپنی الہامی تفسیر سے اس کی مدد کرتے۔
    سوچو اور غور کرو یہ ہوا کیا ہے کہ اس مقابلہ میں تمام قلم ٹوٹ گئے اور بے شمار عالموں سے ایک ہی کو اور اسی کو جس کا خدا کی طرف سے منصور و مؤیّد ہونے کا دعویٰ تھا اس کے لکھنے اور پورا کرنے اور میعاد کے اندر شائع کرنے کی توفیق ملی۔ اللہ تعالیٰ جلَّ شانہٗ ایسا ظالم نہیں اور اسکی سنت کبھی ایسی ثابت نہیں ہوئی کہ اس طرح ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنی صداقت کا کوئی ثبوت اور معیار پیش کرے اور ہو وہ کاذب اور مفتری علی اللہ اور اس کے مقابل ہوں صادقین کاملین ملہمین علمائے کرام اورسجادہ نشینان عظام پھر وہ کامیاب ہو جائے اور اس کے منہ کی بات حرفاً حرفاً پوری ہو جائے اور وہ بزرگ اور پاک جماعت مبہوت اور مخذول رہ جائے۔ اے دانشمند و سوچو۔ اے خدا کوماننے والو فکر کرو۔ یہ بات کیا ہے۔ کیا غیور خدا نے ناحق اس شخص کی مدد کی جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور امت محمدیہ کا چیدہ اور کثیر گروہ اس پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے اور دن بدن اطراف الارض سمٹ کر اس کے حضور میں ناصیہ فرسا ئی کا شرف حاصل کررہے ہیں۔ کیا یہ اس لئے کیا کہ قہر کی بجلی سے امت محمدیہ کو نابود کر ڈالے ۔ ظلم مت کرو ۔ خدائے پاک کی طرف ایسے گستاخانہ خیالات کو منسوب نہ کرو۔ اس نے جو کیا درست کیا۔ اسی طرح وہ اپنے بندوں کی صداقت ظاہر کیا کرتا ہے۔ یوں اس نے مؤیّد کو مؤیّد اور مخذول گروہ کو مخذول کر دکھایا اس لئے کہ جہان پر کھلی حجت ثابت ہو جائے۔ جس طرح چالیس روز ۷۰ میں سے باقی رہ گئے تھے اور بیماریوں کی جھپٹ دن بدن زیادہ ہوتی جاتی تھی اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو میعاد یونہی ٹل جاتی اور حضرت موعودؑ کو قلم پکڑنے کی مہلت ہی نہ ملتی۔ فاطر السموات و الارض عالم السرو العلن گواہ اور آگاہ ہے کہ ہم کو بشریّت کے ضعف کی وجہ سے بار بار ایسا دھڑکا لگتا تھا کہ کیوں کر اتنا عظیم الشان کام باوجود ان حالتوں کے جو ہم دیکھتے تھے پورا ہوگا۔اپنے حق میں ظلم سے جو چاہو کہو مگر یہ تو بتائو کہ کیا ہمارے لئے بھی یہ نشان نہیں جن کے سامنے یہ سب حالات وقوع میں آئے اور کیا اب بھی ہم حضرت موعودؑ کو اپنے تمام دعووں میں صادق اور مؤیّد اور منصور ماننے پر معذور و مجبور نہیں ہیں۔مجھے رہ رہ کر جوش آتا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ اور آگاہ ہے کہ دل کی تہہ سے یہ فوارہ جوش مارتا ہے کہ یہ بڑا عظیم الشان معجزہ اس سلسلہ عالیہ کی تائید میں خدائے بزرگ و برتر نے دکھایا ہے۔ عوارض اور حالات کو مد نظر رکھا جائے تو اس کی کوئی نظیر نہیں۔ ہر ایک چیز کی عظمت وقت اور حالات موجودہ کی نسبت اور قیاس سے ہوتی ہے۔
    ایک تحدی ہوئی اس کی ایک میعاد مقرر ہوئی۔ اس میں سے بھی پورا ایک مہینہ گزر گیا اور دعویٰ کرنے والے پر موت تک پہنچا دینے والی بیماریاں حملہ پر حملہ کر رہی ہیں اور تحدی ایسی خطر ناک کہ اگر اس میں خطا ہو جائے تو پچھلا برسوں کا ساختہ پر داختہ سب غارت۔سارے دعوے جھوٹے ۔ سارا تانا بانا درہم برہم ۔ اس پر خدا وند کریم کی ایسی نصرت اور تائید کہ چالیس روز میں سے بھی ۲۰؍فروری کو یہ کام پورا کردیا۔ اتنی نصرتیں اور تائیدیں یک جا جمع ہو جائیں ۔ کاتب موجود ۔ پریس موجود ۔ سامان اور مواد مطلوبہ موجود اور ان سب لوگوں کی صحت و عافیت اس حد تک برقرار۔ یہ نشان ہیں پر ان لوگوں کیلئے جو خدا کو خدا میں دیکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کوچہ سے بے خبر ہنسیں اور راقم کو ان امور میں استخفاف کی نگاہ سے دیکھیںمگر خدا کی نصرتوں کے مواطن کو جاننے والے اور ایام اللہ سے عارف سمجھتے ہیں کہ یہی باتیں ہیں جو مؤمنین کے ایمان و عرفان کو بڑھاتی ہیں۔
    شام کو یعنی ۲۳فروری کی شام کو مغرب کی نماز کے بعد حضرت موعود علیہ السلام تحدیث بالنعمت کے طور پر ذکر کرنے لگے کہ اس کتا ب کے پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے کس قدر تائید کی ہے۔ دن اور راتیں کئی مرتبہ ضعف بشریت کی وجہ سے امراض کے غلبہ کے وقت خیال آ جاتا تھا کہ اب آخری دم ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ دو زرد چادریں جو مسیح موعود کا نشان پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے وہ تو ہمارے ساتھ زندگی بھر میں چلی جائیں گی یعنی ایک بیماری اوپر کے حصے میں اور ایک بیماری نیچے کے حصے میں اور یہ اس لئے ہے کہ تا خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے کہ کیونکر سارا کام وہ اپنی ہی قدرت اور قوت سے کرتا ہے اور تا وہ دکھائے کہ اگر وہ چاہے تو ایک تنکے کے مقابل تمام متکبرزور آوروںاور کوہ وفاروں کو عاجز کردے۔ پھر فرمایا رات ایک پُھنسی نے جو کئی دن سے نکلی ہوئی ہے اور ساتھ ہی خارش نے تنگ کیا۔ بشریت کی وجہ سے دھیان آیا کہ کہیں یہ ذیابیطس کا اثر اور نتیجہ نہ ہو۔ اتنے میں خدا ئے رحیم و قدوس نے وحی کی کہ اِنِّیْ اَنَا اَلرَّحْمٰنَ دَافِعُ الْاَذیٰ اور پھر وحی ہوئی اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔
    اب میں اس چٹھی کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے بھائیوں کو ایمان اور محبت میں اپنے برگزیدہ موعود کے ساتھ روز افزوں ترقی مرحمت کرے۔ اور وَسْوَاسِ خَنَّاس کی تمام باریک راہوں پر انہیں آگاہ کردے جن سے وہ علی الغفلہ حملہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزموں کو قوی اور ہمتوں کو چست کردے اور انکی بصیرت اور فراست میں نورر کھدے کہ وہ پست فطرت اور کمینہ طبع نکتہ چینیوں کو جو خدا کے برگزیدوں اور ماموروں پر بغض اور حقداور حسد اور بغی کی راہ سے حملہ کرتے ہیں بالبداہت تاڑلیں اور ایسی تمام کتابوں اور تحریروں کو جو ان تعفنات سے بھری ہیں پہلی ہی نظر میں پہچان جائیں اور مشام جان کو ان کی زہریلی بدبو سے بچالیں۔ ان کو معالی طلب فطرت ملے اور مقاصد عالیہ اور عظیمہ ان کے پیش نہا دہوں اور خوب سمجھ لیں کہ راستی کے بھوکوں اور علوم حقہ کے پیاسوں کو سیرو سیراب کرنے والا ایک ہی برگزیدہ ہے جس کا نام پاک مرزا غلام احمد ہے اور جان لیں کہ اس کے سوا اور سب ظلم و ظلمت کے فرزند اور ہلاکت اور تاریکی کی طرف بلانے والے ہیں۔ اے خدائے کریم تو ہم سے اسی طرح راضی ہو جا جس طرح تو ان منعم علیہم سے راضی ہو ا جن کا مذکور تیرے پاک کلام قرآن کریم میں ہے۔ تو اس صر صر کے تند جھونکوں کے مقابل جو آجکل چاروں طرف سے چل رہی ہے۔ ہمیں ثبات و استقامت عطا فرما کہ ساری توفیقوں کا مخزن تو ہی ہے آمین۔
    تکملہ
    برادران! یہ مضمون نا تمام رہ جاتا ہے اگر یہ چند سطریں اس کے ساتھ پیوست نہ کی جائیں۔ آجکل لوگوں کے دل میں یہ خلجان ہو رہا ہے کہ حضرت موعود علیہ السلام قرآن کے موعود ہیں یا حدیث کے موعود ہیں۔ اس مضمون پر حضرت موعود نے تحفہ گولڑوی میں بڑی بسط
    اس مبارک مضمون پر حضرت موعود علیہ السلام نے خطبہ الہامیہ کے ضمیمہ میں نرالے ڈھنگ سے پھر بحث کی ہے۔ منہ
    سے بحث کی ہے اور اعجاز المسیح میں اس کی طرف لطیف اشارات کئے ہیںایسا خیال کرنا فرض کرنا کہ قرآن کریم مسیح موعود کے ذکر سے ساکت ہے قرآن کریم کی اسی طرح ہتک اور بے عزتی کرنا ہے۔ جیسے ان لوگوں نے کی ہے جو اسے کسی قسم کے علوم غیبیہ پر مشمل نہیں مانتے۔تمام سلف کا یہ عقیدہ ہے کہ قیا مت تک کے سارے واقعات کی قرآن کریم نے خبر دی ہے اور کوئی واقعہ نہیں جو عظمت و شان کے لحاظ سے مشہور ہو اور گزر چکا ہو یا آئندہ ہونے والا ہواور اس کی طرف قرآن کریم نے ایماء نہ کیا ہو۔ ہم سلف صالحین کے اس عقیدہ کی تصدیق کرتے ہیںاور الحمد اللہ شرح صدر سے فرقان حمید پر ایسا ہی ایمان رکھتے ہیں۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ جس طرح خداتعالیٰ نے تمام نبیوں کی زبان سے اس عظیم الشان موعود کی خبر دی جو تمام نبوتوں کی تکمیل و تصدیق کرنے والا اور شیطان کا سر کچلنے والا تھا اور جس نے اُمُّ الْقُریٰ میں ظہور فرمایا (صلوات اللہ علیہ و سلامہ)اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہر ایک نبوت کا مقصد عظیم اس دجالی فتنہ سے خبر دینا رکھا ہے جس کا ہنگامہ اور کارروائی تمام انبیاء کے پیارے مقصود کی بیخکنی کرنے والی ہے ایک اہل دل مومن جب اس آیت کو پڑھتا ہے۔ تکادااسلموایتفطرن منہ و تنشق الارض و تخر الجبال ھدا ان دعواللرحمٰن ولدا۔ یعنی نزدیک ہے کہ آسمان پارہ پارہ ہوجائیں اور زمین پھٹ جائے اور پہاڑ چور چور ہو کر گر پڑیں اس آواز کے سننے سے کہ رحمن کے لئے بیٹا تجویز کرتے اور پکارتے اور لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی طرف بلاتے ہیں۔ اس کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس غضب کے تصور سے جو خدا کے اس کلام سے ٹپک رہا ہے۔ یہ آیتیں صاف بتارہی ہیں کہ آخری زمانہ میں کوئی خوفناک فتنہ اس قوم سے ہونے والاہے جو کسی مخلوق کو خدا کا بیٹا کہنے والی ہوگی۔ اور یہ فتنہ اپنی خراب تاثیر اور استیصالی مادہ کے سبب سے نظام عالم کو درہم برہم کرنے کا موجب ہو گا۔ اس مقام پر اس حدیث کو بھی غور سے پڑھنا چاہئیے جس میں لکھا ہے کہ حضرت مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں فتنہ دجال سے بچنے کے لئے اس خوفناک وقت میں ہر ایک مومن کو پڑھنی ضروری ہونگی اور سورہ کہف کا آخری رکوع قل ھل انبئکم بالا خسرین اعمالاالذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا صاف بتاتا ہے کہ وہ نصاریٰ ہی ہیں جو دنیوی صناع میں تمام گزشتہ زمانوں پر سبقت لے گئے ہیں اور یہی ہیں وہ جنکی دینی آنکھ کا ٹینٹ انگور کے دانے کی طرح باہر نکلا ہوا ہے پھر خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کو جوام القران ہے ضالین پر ختم کیا اس میں صاف اشارہ ہے کہ یہ کوئی بڑا ہی خوفناک گروہ ہے جس کی راہ سے بچنے کے لئے اس زور کی دعا کی تعلیم مسلمانوںکو دی گئی ہے۔اور سلف و خلف نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔پھر ساتویں آیت کا خاتمہ اس کو قرار دینا صاف اشارہ ہے کہ آدم علیہ السلام سے ساتویں ہزار میںاس گروہ کی طرف سے فتنہ ہوگا جس کو ضالین کہا گیا ہے اور پھر خدائے حکیم علیم نے قرآن عظیم کو ختم بھی کیا تو ان ہی تین سورتوں پر جن میں اس قوم کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو خداکا ولد کہتے ہیں اور یہاں سے شروع کیا قل ھوا للہ احد الخ۔ اس میں صاف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی احدیت پر حملہ کیا جائیگا اور اس وقت اسلام کا چاند تاریکی میں ڈوبا ہوا ہو گا۔ (یہی مراد ہے و من شر غاسق اذا وقب سے)ٍٍاور ایسی عورتیں بکثرت گلی کوچوں میں پھریں گی جو طرح طرح کی تباہیاں اور مفسدے اسلامی خاندانوں میں برپا کریں گی اور وہ نصرانی عورتیں ہونگی (یہی مراد ہے ومن شرالنفثت فی العقد سے) اور شیطان خناس بھی یہی قوم ہے جن کے پاس وسوسہ اندازی اور مکروں کے سوا اور کوئی سامان نہیں۔
    غرض قرآن کے وسط میں شروع میں آخر میں اسی قوم کا ذکر ہے جس کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ خدا کے عاجز بندے عیسیٰ ابن مریم کو خدا کا بیٹا کہتی ہے۔ اس سے ہر ایک سلیم الفطرت سمجھ سکتا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ یہی ہے اور اس قوم نصاریٰ کا ہے جس کا ذکر اہمیت اور شدّ ومدّ سے کتاب حکیم نے کیا ہے۔ قریب ہے کہ ضرور ت قرآن کے دلائل سے یہ ایک بڑی دلچسپ اور زبردست دلیل ہو۔ اس لئے کہ یہ قوم وہ دعوت لائی ہے جو آدم سے لے کر خاتم الانبیاء تک (علیہ الصلوۃ والسلام) تمام نبوتوں اور ان کے مقاصد کا تار و پود ادھیڑ کر رکھ دیتی ہے اور اس دعوت میں اس قوم کو اتنا غلو ہے کہ آجتک کسی قوم کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوا۔قرآن کریم نے اس کے وقتوں کی ۔ اس کے ہاتھوں کی، کاری گریوں کی اس کے غلبہ کی ( وھم من کل حدب ینسلون) اور اس کے فتنوں کی بالتفصیل خبر دی اور صاف بتایا کہ کس قدر غلبہ فسق و فجور کا اس وقت ہوگا اور دیانت امانت تقویٰ اور صدق اور خدا شناسی کا نشان مٹ چکا ہوگا۔ قرآن نے بتایا کہ آخری زمانہ کی یہ نشانیاں ہونگی کہ نہریں نکال کر دریا خشک کئے جائیں گے۔پہاڑ اڑائے جائیں گے۔مطابع اور ڈاک خانے اور ریل گاڑی اور تار برقی پھیل جائے گی اور دنیا کے آپس میں تعلقات بڑھ جائیں گے۔ غرض قرآن کریم نے صاف صاف اس وقت اور اس کی زہروں کے پتے دئے اور ساتھ ہی اس طاعون کے علاج کے مجرب نسخے بتائے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کی خبر دی جس کے لئے مقدر تھا کہ ایسے فتنوں کے استیلا ء کے وقت آئے اور فتنوں کی جڑ کو کاٹ دے۔
    اب کوئی مومن ہے جو ایسا اعتقاد کرے کہ خدا کی کتاب نے اپنے سارے نظام اور سیاق میں فتنہ نصاریٰ کی خبر تو دی ہے مگر کسی ایسے وجود کی خبر نہیں دی جو ان فتنوں کی آگ پر پانی ڈالنے والا ہو۔ پھر تو یوں کہنا ہوگا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ اور تمام مومنین کو یہ زہرہ گداز خبر تو سنا دی کہ ان سب کارروائیوں کو ملیا میٹ کرنے والا ایک گرو ایک زمانہ میں پیدا ہوگا جن کے لئے تم جانیں دے رہے ہو اور جن کے لئے قرآن کریم نازل ہوا ہے مگر افسوس اس وقت کوئی چارہ گر اور غم گسار اسلام و مسلماناں کا نہ ہوگا۔اس وقت سخت آندھیاں چلیں گی اور فتنوں کی آگ برسے گی اور اسلام کے لئے کوئی حصن حصین اور ماویٰ و ملجا نہ ہوگا۔ ایسا اعتقاد کرنا خدا تعالیٰ اور اس کے کلام کی سخت آبرو ریزی اور فی الحقیقت دہریت کی جڑ ہے۔ سخت افسوس کے قابل وہ لوگ ہیں جنہوں نے نصاریٰ کے اعتقاد (ولد رحمن اور کفارہ) کو اور اس اعتقاد کے استیصال کے لئے مباحثات کو غیر ضروری اور فضول سمجھا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے قلوب نے اس خدا کے برگزیدہ کی عظمت شان کو قبول نہیں کیا جس کی فطرت میں اس زہریلے اعتقاد اور اس کے مواد کے ازالہ کا فوق العادت جوش ڈالا گیا ہے۔ ایک بات یاد آگئی ایک روز حضرت کا سر الصلیب فرماتے تھے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس قدر جوش مجھے نصرانی مذہب کے استیصال کے لئے ہے بس اس کو ان لفظوںمیں ہی ادا کرسکتا ہوںکہ مجھے اس اعتقاد کی تباہی کے لئے اتنا ہی جوش ہے جتنا خود خدا کو ہے۔ میں نے یہ سن کر بڑے جوش سے کہا کہ تیرے صدق کی یہی ایک نشانی بس ہے کہ خدا کے لئے خدا کے دین کے لئے۔اس کے رسول پاکﷺ کے لئے، اس کی توحید کے لئے تجھ اکیلے میں یہ جوش ہے اور دنیا میں کوئی نہیں جسے یہ جوش بخشا گیا ہے اگر خدا تجھے ضائع کر دے تو اس نے اپنے دین کو ضائع کر دیا۔بیکار ہیں سب کی کوششیں جو تیری ہلاکت چاہتی ہیں۔ بھولے ہوئے ہیں وہ دل جو تجھ سے لڑتے ہیں کہ تو خدائے وند عالم کا یگانہ مرسل اور آسمانی حربہ ہے جسے اس نے اسلام کی حفاظت کے لئے صدیوں کے بعد تیار کرکے بھیجا ہے۔
    سیّد مرحوم کے وجود کی ضرورت اور آپ کے کمالات کے اثبات میں زور دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کی سعی کو بہتر جانتا ہے جس کی بنا اخلاص پر ہو اور ثواب و عقاب کی میزان اس یگانہ کے ہاتھ میں ہے وہ جو کچھ تھے اسلام اور مسلمانان کے لئے برکت تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور قرآن کریم کی چال چال نہ تھی انہوں نے کفر اور *** کے ساتھ کبھی مقابلہ نہیں کیا اور قرآن کریم اور حامل قرآن علیہ صلوات الرحمن کا پاک اسوہ لوگوں میں پیدا کرنے کی انہوںنے کبھی کوشش نہیں کی۔ نصرانیت سے جان توڑ کراڑ کرد ھت باندھکر کبھی انہوں نے جنگ نہیں کی۔ ولیم میور کی کتاب کا جواب خطبات درحقیقت ایسا رکیک عذر ہے جسکی نسبت یہ کہنا اس کی داد دینا ہے کہ کفر کے پائوں پڑ کر مصالحت کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے تقویٰ طہارت کے پھیلانے کے لئے سر توڑ سعی کبھی نہیں کی ۔ اگر یہ کہو کہ ان کے مقاصد میں یہ باتیں داخل نہیں تھیں اور یوں اہل مذہب یا حامیان کفر سے ان کی وہ صلح نہیں رہ سکتی تھی جس کی بنا پر وہ اپنے ذہن میں قرار دئیے ہوئے کام ان سے لینا چاہتے تھے تو میں اسے تسلیم کرتا ہوںاور میں تجربہ اور بصیرت سے اعتقاد کرتا ہوں کہ وہ محض جسمانی آدمی تھے ان کی روح تو ایشیا کی تھی مگر یورپ کے قالب میں جا کر ڈھلی تھی اور انکے پیش نظر وہی مقاصد تھے جو اہل یورپ کے پیش نظر ہیں۔ پھر یہ کس قدر سوء ادب اور شوخی اور کفران ہے کہ ان کے وجود کو خدا تعالیٰ کے موعود اور نور اور مامور کے مقابل رکھا جائے جس کی فطرت اور استعداد انبیاء علیہ السلام کی فطرت اور استعداد سے مشابہ واقع ہوئی ہے۔ اللہ اللہ قرآن کریم تو نصاریٰ کے فتنہ سے خبردار کرنے کے لئے اول میں، وسط میں اور آخر میں منہ پھاڑ پھاڑ کر دہائی دے اور اس فتنہ کے مقا بلہ کی تاکید کرے اور سید صاحب اور ان کے چیلے نادانی سے یہ کہیں کہ ان مباحثات میں پڑنا ضروری نہیں۔ غرض یہ اعتقاد رکھنا از بس ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جہاں یہ زلزلہ فگن خبر دی اس کے ساتھ ایک خوشخبری بھی سنائی ۔ یہی سبب ہے کہ تم پڑھتے ہو ان نوشتوںمیں جو آجکل کی توریت و انجیل کی کل تاریخوں سے بدر جہازیادہ معتبر ہیں یعنی حدیث کی بزرگ کتابوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موعود مسیح پر اپنا سلام بھیجا اور اپنی امت کو تاکید فرمادی کہ جو اسے پائے آپ کی طرف سے اس پر سلام پڑھ دے ۔ بڑا افسوس اور نادانی ہے کہ ایسے باترتیب مجموعہ اور تواتر اور مسلمات قومی سے انکار کیا جائے اگرچہ اس امر کے ثبوت کہ کہاں اور کس طرح خدا نے مسیح موعود کا ذکر قرآن کریم میں کیا ہے بہت سے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ تحفہ گولڑوی میں ان کا اکثر حصہ عنقریب طالبان حق کی نظر سے گزر ے گا مگر میں دو ایک باتوں پر اکتفا کرنا چاہتا ہوں۔ سنو! ایک طرف خدا تعالیٰ نے فرمایا اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلاً شَاھِدً ا عَلَیْکُمْ کَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً ط۔ اس میں خدا تعالیٰ نے صاف بتلایا کہ محمدی سلسلہ بالکل موسوی سلسلہ کے مطابق اور مشابہ ہوگا۔پھر سورہ نور میں فرمایا۔ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوْ االصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۔اس میں بتایا کہ مومنوں کا استخلاف اس طرح ہوگا جیسے پہلے لوگوں کا ہوا۔ یہاں بھی مشابہت کے اظہار کے لئے وہی کما کا لفظ وار د کیا ہے تاکہ دونوں سلسلوں کی مثیلیت پر مہر لگ جائے ۔ اب یہ مسلّم اور سورج سے زیادہ روشن بات ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی خلافت کا سلسلہ چودہ سو برس کے بعد جناب حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام پر ختم ہوا ۔ اس بنا پر کس قدر ضروری تھا کہ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ خلافت بھی چودھویں صدی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ختم ہوتا۔چنانچہ وہ عملًا ہوا اور خدائے عالم الغیب کے کلام کے صدق پر مہر لگ گئی۔ اب بتائو کیا ضروری نہ تھا کہ خداتعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا اور خدا تعالیٰ کے کلام کی سچائی اسی راہ سے تمام قوموں پر واضح ہوتی۔ خواہ کوئی اور ہزاروں آدمی آویں مجدد ہوں یا مامور ہوں کچھ ہو مگر یہ تو سب ضروری تھاکہ یہ وعدہ استخلاف ضرورہی پورا ہوتا یعنی ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا آخر بھی اسی طرح مسیح موعود ہوتا جس طرح موسوی سلسلہ خلافت کا آخری سرا مسیح ابن مریم ہوا۔ پھر خدا تعالیٰ
    خطبہ الہامیہ کے ضمیمہ میں بھی اس نازک مضمون پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے جو عنقریب شائع ہو گا۔ منہ
    نے ہمیں سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی کہ یو ں کہا کرو صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ اس میں بھی یہی تاکید فرمائی ہے کہ خدا تعالیٰ سے مانگو کہ ان پہلے منعم علیہم کے انعامات تم پر بھی نازل فرمائے اور سب سے بڑا انعام سلسلہ خلافت ہے اس لئے کہ اگر یہ نہ ہوتا تو دین حق کبھی نہ چل سکتا اور بد قسمت مہجور و مخذول دنیا میں رہتا۔ یہود کو اس فضل کے نہ ہونے نے تو ابدی *** اور ذلت کے اتھاہ گڑھے میں ڈالدیا ہے اور آخر میں سورۂ فاتحہ کے ضالین یعنی نصاریٰ کا ذکر صاف اشارہ کرتا ہے۔ کہ نصاریٰ کے فتنہ کے وقت جو چودھویں صدی پر ہوگا اس سلسلہ خلافت کی آخری شاخ یعنی مسیح موعودؑ کا ہونا خدا تعالیٰ سے مانگو۔
    بھائیوفضل کا نشان ظاہر ہو گیا اور ضروری تھا کہ ظاہر ہوتا پر دنیا کی تاریک آنکھوں نے ہنوز اسے نہیں پہچانا۔ اٹھو اور اس فضل کی قدر کرو۔ اللہ تعا لیٰ تم سب کے ساتھ ہو اور وَسْوَاسِ خَنَّاسْ سے بچائے۔
    آمین
    عبد الکریم از قادیان ۱۰ مئی ۱۹۰۱

    قیمت ۱/ تاریخ اشاعت سابقہ مضمون ہذا
    تعداد جلد ۳۵۰ یکم مارچ ۱۹۰۱ ء
    مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان-
    فہرست
    نمبر شمار
    مضامین
    صفحہ نمبر
    1
    2
    3
    4
    5
    6
    7
    8
    9
    10
    11
    12
    13
    14
    15
    16
    17
    18
    19
    تمہید
    ابتدائے معاملہ
    حضرت مولوی نور الدین صاحب کا خط
    پیر صاحب کا جواب اور مریدین کے نام خطوط
    مہر شاہ صاحب کا خط اُن کے ایک مرید عبدالہادی کے نام کی طرف سے
    ایک مرید غلام محمد کلرک دفتر اکائونٹنٹ جنرل پنجاب کے نام کی طرف
    حضرت مولوی نور الدین صاحب کے خط مؤرخہ 18؍ فروری 1900ء کا جواب
    پیر مہر علی شاہ صاحب کے جواب
    بابو الٰہی بخش ملہم
    دُعا میں مقابلہ سے انکار
    امامنا حضرت مرزا صاحب کا اشتہار دعوت
    حضرت اقدس کا اشتہار
    پیر صاحب کا جواب
    فرار و انکار پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
    اتمام حجّت
    جماعت مریدان حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود ؑ
    پیر صاحب لاہور میں
    حضرت مرزا صاحب کے بالمقابل تفسیر القرآن کے لکھنے سے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کا انکار و فرار۔
    خط بنام پیر مہر علی شاہ صاحب
    نمبر شمار
    فہرست مضامین
    صفحہ نمبر
    رجسٹری شدہ چٹھی
    پیر مہر علی شاہ صاحب سے للہ ایک شہادت کا واسطہ
    پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی بعد دعوت کارروائی
    پیر مہر علی شاہ صاحب کو توجہ دلانے کیلئے آخری حیلہ
    پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی خدمت میں ایک رجسٹرڈ خط
    فیضان گولڑوی
    فیوض المرسلین
    خلاصہ کلام
    کتب تاجران کتب بنگلہ ایوب شاہ لاہور سے طلب کریں۔
    روزہ اور اس کی حقیقت
    ضمیمہ واقعات صحیحہ
    حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی سائیں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے متعلق ایک پیشگوئی کا پورا ہونا۔
    پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی
    اعجاز المسیح اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پیر مہرعلی شاہ صاحب گولڑوی
    تکملہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں