1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

مکتوبات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 1 تا 5

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    مکتوبات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 1

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پرانی تحریروں کا سلسلہ نمبر
    اَلْمَکَتُوْبُ نَصْفُ الْمُلاقَاتُ
    مکتوبات احمدیہ
    (جلداوّل)
    حضرت حجۃ اللہ امام ربانی میرزا غلام احمد قادیانی (مغفور) مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکتوبات بنام میر عباس علی شاہ لودہانوی
    جنکو
    خاکسار یعقوب علی تراب احمدی ایڈیٹر الحکم نے مرتب کر کے اپنے کارخانہ انوار احمدیہ مشین پریس قادیان میں چھاپ کر شائع کیا
    ۲۹ ؍ دسمبر ۱۹۰۸ء
    (حقوق محفوظ ہیں)
    تعداد جلد ۱۰۰۰ قیمت فی جلد ۸؍
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
    مکتوب نمبر۱
    مکرمی مخدومی میر عباس علی صاحب زاد عنائۃ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر باعث خوشی ہوا۔جَزَاکُمُ اللّٰہ خَیْرَا۔ آپ اللہ اور رسول کی محبت میں جس قدر کوشش کریں وہ جوش خود آپ کی ذات میں پایا جاتا ہے۔ حاجت تاکید نہیں چونکہ یہ کام خالصاً خدا کیلئے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لئے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید فروخت پر نظر ہو۔ بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں اُنہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے کیونکہ درحقیقت یہ کوئی خرید فروخت کا کام نہیں بلکہ سرمایۂ جمع کرنے کیلئے یہ ایک تجویز ہے۔ مگر جن کا اصول محض خریداری ہے۔ اُن سے تکلیف پہنچتی ہے اور اپنے روپیہ کو یاد دلا کر تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ سو ایسے صاحب اگر خریداری کے سلسلہ میں داخل نہ ہو اور نہ وہ روپیہ بھیجیں اور نہ کچھ مدد کریں تو یہ اُن کے لئے اس حالت سے بہتر ہے کہ کسی وقت بدگمانی اور شتابکاری سے پیش آویں۔ اس کام میں جیسے جیسے عرصہ میں خداوندکریم سرمایۂ کافی کسی حصہ کے چھپنے کیلئے حسب حکمت کاملہ خود میسر کرتا ہے اُسی عرصہ میں یہ کتاب چھتی ہے۔ پس کسی وقت کچھ دیر ہوتی ہے تو بعض صاحب جن کی خریداری پر نظر ہے۔ طرح طرح کی باتیں لکھتے ہیں جن سے رنج پہنچتا ہے۔ غرض آن مخدوم اسی سعی اور کوشش میں خداوند کریم پر توکّل کر کے صادق الاردات لوگوں سے مدد لیں۔ اور اگر ایسے نہ ملیں تو آپ کی طرف سے دعا ہی مدد ہے۔ ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حیثیت اور کیا قدر رکھتے ہیں۔ وہ جو قادر مطلق ہے۔ وہ جب چاہے گا تو اسباب کاملہ خود بخود میسر کر دے گا۔ کونسی بات ہے جو اُس کے آگے آسان نہ ہوئی ہو۔
    (۲۸؍ اکتوبر ۱۹۸۲ء؍ ۱۵؍ ذالحجہ ۱۲۹۹ ہجری)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
    مکتوب نمبر۲
    مشفقی مکرمی حضرت میر عباس علی شاہ صاحب زاد عنائۃ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بعد ہذا دوقطعہ ہنڈوی… پہنچ گئے۔ جَزَاکُمُ اللّٰہ خَیْرَا۔ امور خمسہ کی بابت جو آپ نے حسب الارشادمنشی احمد جان صاحب تاکید لکھی ہے۔ مناسب ہے۔ جو آپ بعد سلام مسنون منشی صاحب مخدوم کی خدمت میںاس عاجز کی طرف سے عرض کر دیں کہ حتی الوسع آپ کے فرمودہ پر تعمیل ہوگی۔ اور آپ کو خدا جزاخیر بخشے۔ یہ بھی گزارش کی جاتی ہے کہ حصہ سوم کتاب براہین احمدیہ میں جو دس وسوسوں کا بیان ہے وہ آریہ سماج والوں کے متعلق نہیں۔ آریا سماج ایک اور فرقہ ہے جو وید کو خدا کا کلام جانتے ہیںاور دوسری کتابوں کو نَعُوْذُبِاللّٰہٖ انسان کا اختراع سمجھتے ہیں۔ اس فرقہ کے ردّ کے لئے کتاب براہین احمدیہ میں دوسرا مقام ہے۔ لیکن دس وساوس جو حصہ سوم میں لکھے گئے ہیں۔ وہ برہموسماج والوں کا ردّ ہے۔ یہ ایک اور فرقہ ہے جو کلکتہ اور ہندوستان کے اکثر مقامات میں پھیلا ہوا ہے اور لاہور میں بھی موجود ہے۔ یہ لوگ کتب الہامیہ کا انکار کرتے ہیں اور اگرچہ ہندو ہیں مگر وید کو نہیں مانتے۔ نہ اُس کی تعلیم کو عمدہ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ آریہ سماج والوں کی نسبت بہت ذی علم اور دانا ہوتے ہیں۔ اور کئی اصول اُن کے اسلام سے ملتے ہیں۔ مثلاً یہ تناسخ کے قائل نہیں۔ بُت پرستی کو بُرا سمجھتے ہیں۔ خدا کو صاحب اولاد اور متولد ہونے سے پاک سمجھتے ہیں۔ مگر کتب الہامیہ کے مُنکر ہیں اور الہام صرف ایسی باتوں کا نام رکھتے ہیں جن کو انسان خود عقل یا فکر کے ذریعہ سے پیدا کرے۔ یا معمولی طور پر اُس کے دل میں گزر جائیں اور انبیاء کی متابعت کو ضروری نہیں سمجھتے اور صرف عقل کو کامل قرار دیتے ہیں۔ الہام ربانی سے انکار کرنا اُن کا ایک مشہور اصول ہے جیسا رسالہ برادر ہند میں جو پنڈت شیونارائن کی طرف سے شائع ہوتا تھا۔ چھپتا رہا ہے چونکہ ہندوستان میں اُن کی جماعت بہت پھیل گئی ہے اور اُن کے وساوس کے ضرر کا نو تعلیم یافتہ لوگوں کو بہت اثر پہنچتا ہے اور پہنچ رہا ہے۔ اس لئے ضرور تھا کہ ان کا ردّ لکھا جاوے۔ اور اُن کا کتب الہامیہ سے انکار کرنا ایسا جزو مذہب ہے جیسا ہمارا لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ غرض آریہ سماج ایک الگ فرقہ ہے۔ جو بہت ذلیل اور ناکارہ خیال رکھتا ہے اور وہ عقل کے پابند نہیں۔ بلکہ صرف وید پر چلتے ہیں اور بہت سے واہیات اور مزخرفات کے قائل ہیں۔ مگر برہمو سماج کا فرقہ دلائل عقلیہ پر چلتا ہے اور اپنی عقل ناتمام کی وجہ سے کتب الہامیہ سے منکر ہے۔ چونکہ انسان کا خاصہ ہے جو معقولات سے زیادہ اور جلد تر متاثر ہوتا ہے۔ اس لئے اطفال مدارس اور بہت سے نو تعلیم یافتہ ان کی سوفسطائی تقریروں سے متاثر ہوگئے اور سید احمد خاں بھی اُنہیں کی ایک شاخ ہے اور ان کی سوفسطائی تقریروں سے متاثر ہے۔ پس اُن کے زہرناک وساوس کی بیخ کنی کرنا از حد ضرورتھا۔ لاہور کے برہموسماج نے پرچہ رفاہ میں بہ نیت ردّ حصہ سیوم کچھ لکھنا بھی شروع کیا ہے۔ مگر حق محض کے آگے اُن کی کوششیں ضائع ہیں۔ عنقریب خدا اُن کو ذلیل اور رسوا کرے گا اور اپنے دین کی عظمت اور صداقت ظاہر کردے گا۔ جو منشی احمد جان صاحب نے یہ نصیحت فرمائی کہ تعریف میں مبالغہ نہ ہو۔ اس کا مطلب اس عاجز کو معلوم نہیں ہوا۔ اس کتاب میں تعریف قرآن شریف اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ سو وہ دونوں وہ دریائے بے انتہا ہیں کہ اگر تمام دنیا کے عاقل اور فاضل اُن کی تعریف کرتے رہیں۔ تب بھی حق تعریف کا ادا نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ مبالغہ تک نوبت پہنچے۔ ہاں الہامی عبارت میں کہ جو اس عاجز پر خداوند کریم کی طرف سے القا ہوئی کچھ کچھ تعریفیں ایسی لکھی ہیں کہ جو بظاہر اس عاجز کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تعریفیں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اور اسی وقت تک کوئی دوسرا اُن کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب تلک اس نبی کریم کی منابعت کرے اور متابعت سے ایک ذرّہ منہ پھیرے۔ تو بھر تحت الثری میں گر جاتا ہے۔ اُن الہامی عبارتوں میں خداوند کریم کا یہی منشاء ہے کہ تا اپنے نبی اور اپنی کتاب کی عظمت ظاہر کرے۔
    (۸؍ نومبر ۱۸۸۲ء مطابق ۲۶ ذالحجہ ۱۲۹۹ ہجری)
    مکتوب نمبر۳
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
    مشفقی مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ آپ کا عنایت نامہ معہ ایک ہنڈوی مبلغ… بابت خریداری دو جلد کتاب پہنچا۔ جَزَاکُمُ اللّٰہ خیرا وھویسمع ویرا۔ میں آپ کی مساعی پر نظر کر کے آپ کی قبولیت کا بہت امیدوار ہوں۔ خصوص ایک عجیب کشف سے مجھ کو ۳۰؍ دسمبر ۱۸۸۲ء بروز شنبہ کو یکدفعہ ہوا۔ آپ کے شہر کی طرف نظر لگی ہوئی تھی اور ایک شخص نام الاسم کی ارادت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی۔ جو باشندہ لودہیانہ ہے۔ اس عالم کشف میں اُس تمام پتہ و نشان، سکونت بتلا دیا جو اب مجھ کو یاد نہیں رہا۔ صرف اتنا یاد رہا کہ سکونت خاص لودہیانہ اُس کے بعد اُس کی صفت میں یہ لکھا ہوا پیش کیا گیا۔ سچا ارادت مند اصلہا ثابت و فرعہافی السماء۔ یہ اُس کی ارادت ایسی قومی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ نزلزل ہے نہ نقصان۔ کئی پادریوں اور ہندؤں اور برہمو لوگوں کو کتابیں دی گئی ہیں اور وہ کچھ جان کنی کر رہے ہیں۔
    مکتوب نمبر۴
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مشفقی مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔
    بعد ہذا خداوند کریم آپ بہت جزا خیر دیوے۔ آپ سرگرمی سے تائید دین کیلئے مصروف ہیں۔ آپ کی تحریر سے معلوم ہوا کہ قاضی باجی خان صاحب نے محض بطور امداد دس روپیہ بھیجے ہیں۔ خداوند اُن کو اجر بخشے۔ اس پُرآشوب وقت میں ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں کہ اللہ اور رسول کی تائید کیلئے اور غیرت دینی کے جوش سے اپنے مالوں میں سے کچھ خرچ کریں اور ایک وہ بھی وقت تھا کہ جان کا خرچ کرنا بھی بھاری نہ تھا۔ لیکن جیسا کہ ہر ایک چیز پُرانی ہو کر اُس پر گردوغبار بیٹھ جاتا ہے۔ اب اسی طرح اکثر دلوں پر جب دنیا کا گردہ بیٹھاہوا ہے۔ خدا اس گرد کو اُٹھاوے۔ خدا اس ظلمت کو دور کرے۔ دنیا بہت ہی بے وفا اور انسان بہت ہی بے بنیاد ہے۔ مگر غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم رکھا ہے اور چونکہ ہر یک عسر کے بعد یسر اور ہر یک جذر کے بعد مد اور ہر ایک رات کے بعد دن بھی ہے۔ اس لئے تفضلات الٰہیہ آخر فرو ماندہ بندوں کی خبر لے لیتے ہیں۔ سو خداوند کریم سے یہی تمنا ہے کہ اپنے عاجز بندوں کی کامل طور پر دستگیری کرے اور جیسے اُنہوں نے اپنے گزشتہ زمانہ میں طرح طرح کے زخم اُٹھائے ہیں۔ ویسا ہی اُن کو مرہم عطا فرماوے اور اُن کو ذلیل اور رسوا کرے جنہوں نے نور کو تاریکی اور تاریکی کو نور سمجھ لیا ہے اور جن کی شوخی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور نیز اُن لوگوں کو بھی نادم اور منفعل کرے جنہوں نے حضرت احدیّت کی توجہ کو جو عین اپنے وقت پر ہوئی۔ غنیمت نہیں سمجھا اور اُس کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ جاہلوں کی طرح شک میں پڑے۔ سو اگراس عاجز کی فریادیں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں۔ جو نور محمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الٰہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلا دیں۔ اس عاجز کے صادق دوستوں کی تعداد بھی تین چار سے زیادہ نہیں جن میں سے ایک آپ ہیں اور باقی لوگ لاپروا اور غافل ہیں بلکہ اکثر کے حالات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تیرہ باطنی کے باعث سے اس کارخانہ کو کسی مکر اور فریب پر مبنی سمجھتے ہیں اور اس کا مقصود اصلی دنیا ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ خود جیفہ دنیا میں گرفتار ہیں۔ اس لئے اپنے حال پر قیاس کر لیتے ہیں۔ سو اُن کی روگردانی بھی خداوند کریم کی حکمت سے باہر نہیں۔ اس میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں جو پیچھے سے ظاہر ہوں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ مگر اپنے دوستوں کی نسبت اس عاجز کی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے صدق کا اجر بخشے اور اُن کو اپنی استقامت میں بہت مضبوط کرے چونکہ ہر طرف ایک زہرناک ہوا چل رہی ہے اس لئے صادقوں کو کسی قدر غم اُٹھانا پڑے گا اور اُس غم میں اُن کے لئے بہت اجر ہیں۔
    (۹؍ فروری ۱۸۸۳ء مطابق ۳۰؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۵
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ و نظر اللہ سرحمایۃٗ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
    بعد ہذا آنمخدوم کی سعی و کوششوں سے اس عاجز کو بہت مدد ملی ہے۔ یہ خداوند کریم کی عنایات میں سے ہے کہ اُس نے اپنے مخلص بندوں کو اس طرف ایمانی جوش بخشا ہے۔ سو چونکہ عمل وہی معتبر ہے جس کا خاتمہ بالخیر ہو اور صدق اور وفاداری سے انجام پذیر ہو اور اس پُر فتنہ زمانہ میں اخیر تک صدق اور وفا کو پہنچانا اور بدباطن لوگوں کے وساوس سے متاثر نہ ہونا سخت مشکل ہے۔ اس لئے خداوند کریم سے التجا ہے کہ وہ اس عاجز کے دوستوں کو جو ابھی تین چار سے زیادہ نہیں۔ آپ سکینت اور تسلی بخشے۔ زمانہ نہائت پُرآشوب ہے اور فریبوں اور مکاریوں کی افراط نے بدظنیوں اور بدگمانیوں کو افراط تک پہنچا دیا ہے۔ ایسے زمانہ میں صداقت کی روشنی ایک نئی بات ہے اور اُس پر وہ ہی قائم رہ سکتے ہیں جن کے دلوں کو خداوند کریم آپ مضبوط کرے اور چونکہ خداوند کریم کی بشارتوں میں تبدیلی نہیں اس لئے امید ہے کہ وہ اس ظلمت میں سے بہت سے نورانی دل پیدا کر کے دکھلا دے گا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آنمخدوم کی تحریرات کے پڑھنے سے بہت کچھ حال صداقت و نجابت آنمخدوم ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرتبہ بنظر کشفی بھی کچھ ظاہر ہوا تھا۔ شاید کسی زمانہ میں خداوند کریم اس سے زیادہ اور کچھ ظاہر کرے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر وَرْحَمْہُ اللّٰہ وَاِیَّاکُمْ وھُوَ مَوْلٰنٰا نِعْمُ المُوْلٰی وَیغْمُ النَصِیر۔
    ۱۷؍ فروری ۱۸۸۳ء مطابق ۸؍ ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ


    مکتوب نمبر ۶
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرم اخویم میر علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
    بعد ہذا آپ کا خط جو آپ نے لودہیانہ سے لکھا تھا، پہنچ گیا۔ جس کے مطالعہ سے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ جس روز آپ کا خط آیا اُسی روز بعض عبارتیں آپ کے خط کی کسی قدر کمی بیشی سے بصورت کشفی ظاہر کی گئیں اور وہ فقرات زیادہ آپ کے دل میں ہوں گے۔ یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک رابطہ بخشی ہے۔ خداوند کریم اس رابطہ کو زیادہ کرے۔ آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا تھاکہ ایک برہمو صاحب ملے جن کا یہ بیان تھا کہ گویا اس عاجز نے اُن کی اصلیت کو سمجھا نہیں۔ یہ بیان سراسر بناوٹ ہے۔ برہمو سماج والوں کے عقائد کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ الہام اور وحی سے مُنکر ہیں اور خدا کے پیغمبروں کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مفتری اور کذاب سمجھتے ہیں اور خدا کی کتابوں کو اختراع انسان کا خیال کرتے ہیں۔ وہ الہام اور وحی کے ہرگز قائل نہیں ہیں اور اپنی اصطلاح میں الہام اور وحی اُن خیالات کا نام رکھتے ہیں کہ جو عادتی طور پر انسان کے دل میں گزرا کرتے ہیں۔ جیسے کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر رحم آنا یا کوئی بُرا کام کر کے پچھتانا کہ ایسا کیوں کیا۔ یہ اُن کے نزدیک الہام ہے۔ مگر وہ الہام اور وحی جو خداوند کریم کے فرشتے کسی انسان سے کلام کریں اور حضرت احدیّت کسی سے مخاطبت کریں۔ اس پاک الہام سے وہ قطعاً منکر ہیں اور اپنے رسائل اور تصانیف میں ہمیشہ انکار کرتے رہتے ہیں۔ مگر اب وقت آ پہنچا ہے کہ خدا اُن کو اور اُن کے دوسرے بھائیوں کو ذلیل اور رُسوا کرے۔ مجھ یاد ہے کہ پنڈت شیونارائن٭ نے جو برہموسماج کا ایک منتخب معلم ہے لاہور سے میری طرف ایک خط لکھا کہ میں حصہ سیوم کا ردّ لکھنا چاہتا ہوں۔ ابھی وہ خط اس جگہ نہیں پہنچا تھا کہ خدا نے بطور مکاشفات مضمون اس خط کا ظاہر کر دیا۔ چنانچہ کئی ہندوؤں کو بتلایا گیا اور شام کو ایک ہندو کو ہی جو آریا ہے ڈاکخانہ میں بھیجا گیا تا گواہ رہے۔ وہی ہندو اُس خط کو ڈاکخانہ سے لایا۔ پھر میں نے پنڈت شیونارائن کو لکھا کہ جس الہام کا تم ردّ لکھنا چاہتے ہو خدا نے اُسی کے ذریعہ سے تمہارے خط کی اطلاع دی اور اُس کے مضمون سے مطلع کیا۔ اگر تم کو شک ہے تو خود قادیان میں آ کر اُس کی تصدیق کر لو کیونکہ تمہارے ہندو بھائی اس کے گواہ ہیں۔ ردّ لکھنے میں بہت سی تکلیف ہوگی اور اس طرح جلدی فیصلہ ہو جائے گا۔ مَیں نے یہ بھی لکھا کہ اگر تم صدق دل سے بحث کرتے ہو تو تمہیں اس جگہ ضرور آنا چاہئے کہ اس جگہ خود اپنے بھائیوںکی شہادت سے حق الامر تم پر کھل جائے گا لیکن باوجود ان سب تاکیدوں کے پنڈت صاحب نے کچھ جواب نہ لکھا اور اس بارے میں دَم بھی نہ مارا اور وہ الہام پورا ہوا جو حصہ سیوم میں چھپ چکا ہے سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِھِمُّ الرُّعْبِ اب دیکھئے۔ اس سے زیادہ اور کیا صفائی ہوگی کہ خداوندکریم مخالفین کو نہ صرف شنیدہ پر رکھنا چاہتا ہے بلکہ دیدہ کے مرتبہ پر پہنچانا چاہتا ہے۔ کل صوابی ضلع پشاور سے اس جگہ کے آریہ سماج کے نام صوابی آریہ سماج نے ایک خط بھیجا ہے کہ حصہ سیوم براہین احمدیہ میں تمہاری شہادتیں درج ہیں۔ اس کی اصلیت کیا ہے۔ سو اگرچہ یہ ہندو لوگ اسلام کے سخت مخالف ہیں مگر ممکن نہیں کہ سچ کو چھپا سکیں۔ اس لئے فکر میں ہوئے ہیںکہ اپنے بھائیوں کو کیا لکھیں۔ اگر شرارت سے جھوٹ لکھیں گے تو اس میں روسیاہی ہے اور آخر پردہ فاش ہوگا اور سچ لکھنے میں مصلحت اپنے مذہب کی نہیں دیکھتے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ کیونکر پیچھا چھڑاتے ہیں۔ شاید جواب سے خاموش رہیں۔ یہ اسرار جو خداوند کریم اس عاجز کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر اُس کی عادت نہیں تھی جو ان کے اظہار کی اجازت دے بلکہ اسرار ربانی کے ظاہر کرنے میں اندیشہ سلب ولایت ہے لیکن اس زمانہ میں ان باتوں کا ظاہر کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ گو دوسرے لوگ اپنی نافہمی سے اس اظہار کو ریاکاری میں داخل کریں یا کچھ اور سمجھیں مگر یہ عاجز اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کیا کہیںگے اور خداوند کریم نے اس عاجز کو عام فقرا کے برخلاف طریقہ بخشا ہے جس میں ظاہر کرنا بعض اسرار ربّانی کا عین فرض ہے۔ والسلام علیکم وعلٰی اخوانکم عن المؤمنین۔
    (۳؍ مارچ ۱۸۸۳ء مطابق ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ)


    مکتوب نمبر۷
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مشفقی مکرمی میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔
    آپ کی خواب کے آثار یوں ہی نظر آتے ہیں کہ انشاء اللہ رؤیا صالحہ و واقع صحیحہ ہوگا۔ مگر اس بات کے لئے کہ مضمون خواب حیز قوت سے حدفعل میں آوے۔ بہت سی محنتیں درکار ہیں۔ خواب کے واقعات اُس پانی سے مشابہ ہیں جو ہزاروں من مٹی کے نیچے زمین کے رنگ میں واقعہ ہے۔ جس کے وجود میں تو کچھ شک نہیں لیکن بہت سی جان کنی اور محنت چاہئے تا وہ مٹی پانی کے اوپر سے بکُلّی دور ہو جائے اور نیچے سے پانی شیریں اور مصفا نکل آوے۔ ہمت مردان مدد خدا۔ صدق اور وفا سے خدا کو طلب کرنا موجب فتحیابی ہے۔ والذین جاھدوافینا لنھدینھم سبلنا
    گونید سنگ لعل شود در مقام صبر
    آری شود ولیک بخون جگر شود
    گرچہ و صالش نہ بکوشش وہند
    ہر قدر ایدل کہ توانی بکوش
    آپ کی ملاقات کے لئے میں بھی چاہتا ہوں مگر وقت مناسب کا منتظر ہوں۔ بیوقت حج بھی فائدہ نہیں کرتا۔ اکثر حاجی جو بڑی خوشی سے حج کرنے کے لئے جاتے ہیں اور پھر دل سخت ہو کر آتے ہیں۔ اُس کا یہی باعث ہے کہ انہوں نے بیوقت بیت اللہ کی زیادت کی اور بجز ایک کوٹھ کے اور کچھ نہ دیکھا اور اکثر مجاورین کو صدق اور صلاح پر نہ پایا۔ دل سخت ہو گیا۔ علیٰ ھذا القیاس ملاقات جسمانی میں بھی ایک قسم کی ابتلاء پیش آ جاتے ہیں۔ الاّ ماشاء اللّٰہ۔ آپ کے سوالات کا جواب جو اس وقت میرے خیال میں آیا ہے مختصر طور پر عرض کیا جاتا ہے۔ آپ نے پہلے یہ سوال کیا کہ پورا پورا علم جیسا بیداری میں ہوتا ہے۔ خواب میں کیوں نہیں ہوتا اور خواب کا دیکھنے والا اپنی خواب کو خواب کیوں نہیں سمجھتا۔ سو آپ پر واضح ہو کہ خواب اُس حالت کا نام ہے کہ جب بباعث غلبہ رطوبت مزاجی کہ جو دماغ پر طاری ہوتی ہے۔ حواس ظاہری و باطنی اپنے کاروبار معمولی سے معطل ہو جاتے ہیں۔ پس جب خواب کو تعطل حواس لازم ہے تو ناچار جو علم اور امتیازاور تیفظ بذریعہ حواس انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ حالتِ خواب میں بباعث تعطل حواس نہیں کیونکہ جب حواس بوجہ غلبہ رطوبت مزاحی معطل ہو جاتے ہیں تو بالضرورت اُس فعل میں بھی فتور آ جاتا ہے۔ پھربعلت اس فتور کے انسان نہیں سمجھ سکتا کہ مَیں خواب میں ہوں یا بیداری میں۔ لیکن ایک اور حالت ہوتی ہے کہ جس سے ارباب طلب اور اصحاب سلوک کبھی متمتع اور محظوظ ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ بباعث دوام مراقبہ و حضور و ام و حضور و استیلاء شوق و غلبہ محبت ایک حالت غیبت حواس اُس پر وارد ہو جاتی ہے۔ جس کا یہ باعث نہیں ہوتا کہ دماغ پر رطوبت مستولیٰ ہو بلکہ اس کا باعث صرف ذکر اور شہود کا استیلاء ہوتا ہے۔ اُس حالت میں چونکہ تعطل حواس بہت کم ہوتا ہے۔ اس جہت سے انسان اس بات پر متنبہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بیدار ہے۔ خواب میں نہیں اور نیز اپنے مکان اور اُس کی تمام وضع پر بھی اطلاع رکھتا ہے۔ یعنی جس مکان میں ہے اُس مکان کو برابر شناخت کرتا ہے حتیّٰ کہ لوگوں کی آواز بھی سنتا ہے اور کُل مکان کو بچشم خود دیکھتا ہے۔ صرف کسی قدر بجذیہ غیبی، غیبت حس ہوتی ہے اور جو انسان خواب کی حالت میں اپنے رؤیا میں اپنے تئیں بیدار معلوم کرتا ہے۔ یہ علم بذریعہ حواس نہیں بلکہ اس علم کا منشاء فقط روح ہے۔ دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ فناء اتم اعنی غایت المعراج و نہایت الوصال میں علم حق رہتا ہے یا نہیں۔ اوّل سمجھنا چاہئے کہ فناء اتم عین وصال کا نام نہیں بلکہ امارت اور آثار وصال میں سے ہے کیونکہ فناء اتم مراد اُس حالت سے ہے کہ طالبِ حق خلق ارادت اور نفس سے بکلی باہر ہو جاوے اور فعل اور ارادت اپنی میں بکلی کھویا جاوے۔ یہاں تک کہ اُسی کے ساتھ دیکھتا ہو اور اُسی کے ساتھ سنتا ہو۔ اور اُسی کے ساتھ پکڑتا ہو اور اسی کے ساتھ چھوڑتا ہو۔ پس یہ تمام آثار وصال کے ہیں نہ عین وصال اور عین وصال ایک بیچون اور بیچگون نور ہے کہ جس کو اہل وصول شناخت کرتے ہیں مگر بیان نہیں کر سکتے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جب طالبِ کمال وصول کا خدا کے لئے اپنے تمام وجود سے الگ ہو جاتا ہے اور کوئی حرکت اور سکون اس کا اپنے لئے نہیں رہتا بلکہ سب کچھ دا کے لئے ہو جاتا ہے تو اس حالت میں اس کو ایک روحانی موت پیش آتی ہے جو بقاء کو مستلزم ہے۔ پس اس حالت میں گویا وہ بعد موت کے زندہ کیا جاتا ہے اور غیر اللہ کا وجود اُس کی آنکھ میں باقی نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ غلبہ شہود ہستی الٰہی سے وہ اپنے وجود کو بھی نابود ہی خیال کرتا ہے۔ پس یہ مقام عبودیت و فناء اتم ہے جو غایت سیر اولیاء ہے اور اسی مقام میں غیب باذن اللہ ایک نور سالک کے قلب پر نازل ہوتا ہے جو تقریر اور تحریر سے باہر ہے۔ غلبہ شہود کی ایک ایسی حالت ہے کہ جو علم الیقین اور عین الیقین کے مرتبہ سے برتر ہے۔ صاحب شہود تام کو ایک علم تو ہے مگر ایسا علم جو اپنے ہی نفس پر وارد ہو گیا ہے جیسے کوئی آگ میں جل رہا ہے۔ سو اگرچہ وہ بھی جلنے کا ایک علم لکھتا ہے مگر وہ علم الیقین اور عین الیقین سے برتر ہے۔ کبھی شہود تام بیخبری تک بھی نوبت پہنچا دیتا ہے اور حالت سکر اور بیہوشی کی غلبہ کرتی ہے۔ اُس حالت سے یہ آیت مشابہ ہے۔ فلما تجلی ربہ للجیل جعلہ وکاد خرموسیٰ صعقا۔ لیکن حالت تام وہ ہے جس کی طرف اشارہ ہے وما زاغ البصرو ماطغی۔ یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی۔ پس غایت یہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرمایا ہے وجوہ یومئذٍ فاضرہ الی ربھا ناظرۃ واللّٰہ اعلم بالصواب۔
    (۱۸؍ مارچ ۱۸۸۳ء مطابق ۸ جمادی الاوّل ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۸
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا والا نامہ پہنچا۔ خداوند کریم آپ کو خوش و خورم رکھے۔ آپ دقائق متصوفین میں سوالات پیش کرتے ہیں اور یہ عاجز مفلس ہے۔ محض حضرت ارحم الراحمین کی ستاری نے اس ہیچ اور ناچیز کو مجالس صالحین میں فروغ دیا ہے۔ ورنہ منہ آنم کہ من دانم۔ کاروبار قادر مطلق سے سخت حیرانی ہے کہ نہ عابد، نہ عالم، نہ زاہد کیونکر اخوان مومنین کی نظر میں بزرگی بخشتا ہے۔ اس کی عنایات کی کیا ہی بلند شان ہے۔ اور اُس کے کام کیسے عجیب ہیں۔
    پسندید گانے بجائے رسند
    زما کہترا نش چہ آمد پسند
    میں آپ کے سوال کا جواب لکھتا ہوں۔ آپ نے حالت فنا فی الفناء کے یہ تعریف لکھ کر کہ وہ ایک ایسی حالت ہے کہ جس میں شعول سے بھی بے شعوری ہوتی ہے۔ یہ سوال پیش کیا ہے کہ اس مرتبہ فناء میں کہ جو چہارم مرتبہ منجملہ مراتب فنا ہے اور حالت سکریت میں کیا فرق ہے اور سکریت سے مراد آپ نے خواب غرقی لی ہے۔ یعنی ایسا سونا جس میں کچھ خبر نہ رہے۔ سو جو کچھ خدا نے میرے دل میں اس کا جواب ڈالا ہے وہ یہ ہے کہ سکریت اور فنا فی الفنا میں موجب اور علت کا فرق یعنی سکریت کی حالت میں موجب اور علت ایک ظلمت ہے۔ جو سکریت کے پیدا ہونے کا باعث ہے۔ وجہ یہ کہ سکریت اسی سے پیدا ہوتی ہے کہ رطوبت مزاجی دماغ پر سخت غلبہ کر لیتی ہے یہاں تک کہ دماغی قوتوں کو ایسا دبا لیتی ہے کہ انسان بے ہوش ہو کر سو جاتا ہے اور کچھ ہوش نہیں رہتی۔ پس وہ چیز جس سے سکریت وجود پکڑتی ہے۔ ایک ظلمت ہے جو اپنی اصل حقیقت میں مغائر اور منافی حواس انسانی کے ہے۔ جس کا غلبہ ایک ظلماتی حالت نفس پر طاری کر دیتا ہے اور آلات احساس کو اس قدر تعطل اور بیکاری میں ڈالتا ہے کہ اُن کو عجائبات روحانی کا ماجرا کچھ یاد بھی نہیں رہتا لیکن فنا فی الفنا کی حالت کا موجب اور علت یعنی سبب ایک نور ہے۔ یعنی تجلیات صفات الٰہیہ جو بعض اوقات بعض نفوس خاصہ میں یکلخت ایک ربودگی پیدا کرتے ہیں جس کے باعث سے شعور سے بے شعوری پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے ایک نہایت لطیف اور تیز عطر بکثرت ایک مکان میں رکھا ہوا ہو تو ضعیف الدماغ آدمی کی بعض اوقات قوت شامہ کثرت خوشبو سے مغلوب ہو کر ایسی بے حس ہو جاتی ہے کہ کچھ شعور اُس خوشبو کا باقی نہیں رہتا۔ غرض سکریت کی حالت پیدا ہونے کے مؤثر اور موجب ایک ظلمت ہے اور فنا فی الفناء کی حالت کے پیدا ہونے کے لئے مؤثر اور موجب ایک نور ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ چشم بینا کیلئے دو طور کے مانع رؤیت ہوتے ہیں۔ یعنی دو سبب سے ایک سوجاکھے انسان کی آنکھ دیکھنے سے رہ جاتی ہے۔ ایک تو سخت اندھیرا جس کی وجہ سے نور بینائی محجوب ہو جاتا ہے اور دیکھنے سے رک جاتا ہے اور کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ یہ حالت تو سکریت کی حالت سے مشابہ ہے۔ دوسر ی مانع بصارت سخت روشنی ہے کہ جو بوجہ اپنی شدت اور تیزی شاع کے آنکھوں کو رؤیت کے فعل سے روکتی ہے اور دیکھنے سے بند کر دیتی ہے جیسے یہ صورت اس حالت میں پیش آتی ہے کہ جب عضو بصارت کو ٹھیک ٹھیک سورج کے مقابلہ پر رکھا جائے یعنی جب آنکھوں کو آفتاب کے سامنے کیا جائے کیونکہ یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ جب آنکھ آفتاب کے محاذات میں ٹکٹکی باندھے یعنی آفتاب کی آنکھ اور انسان کی آنکھ آمنے سامنے ہو جائیں تو اُس صورت میں بھی انسان کی آنکھ فعل بصارت سے بکلی معطل ہو جاتی ہے اور روشنی کی شوکت اور ہیبت اُس کو ایسا دباتی ہے کہ اُس کی تمام قوت بینائی اندر کی طرف بھاگتی ہے۔ پس یہ حالت فنا فی الفناء کی حالت سے مشابہ ہے اور اس فقدان رؤیت میں جو دونوں طور ظلمت اور نور کی وجہ سے ظہور میں آتا ہے۔ سکریت اور فنا فی الفناء کا فرق سمجھنے کیلئے بڑا نمونہ ہے۔ مگر بایں ہمہ باطنی کیفیت جس کا موجب تجلیات الٰہیہ اور جذبات غیبیہ ہوتے ہیں۔ بیچون اور بیچگون ہی۔ جس میں اجتماع ضدین بھی ممکن ہے۔ باوجود بے شعوری کے شعور بھی ہو سکتا ہے اور باوجود شعور کے بے شعوری بھی ہو سکتی ہے۔ مگر ظلماتی حالات میں اجتماع ضدین ممکن نہیں اور باوجود شعور کے بے شعوری بھی ہو سکتی ہے۔ مگر ظلماتی حالات میں اجتماع ضدین ممکن نہیں۔ وہ عالم اس عالم سے بکلی امتیاز رکھتا ہے۔ ولاتضربوا للّٰہ الامثال۔ اسی جہت سے پہلے بھی لکھا گیا تھا۔ فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکاوخر موسیٰ صعقا۔ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ کا بیہوش ہو کر گرنا ایک واقعہ نورانی تھا۔ جس کا موجب کوئی جسمانی ظلمت نہ تھی بلکہ تجلیات صفات الٰہیہ جو بغایت اشراق نور ظہور میں آئی تھیں۔ وہ اُس کا موجب اور باعث تھیں۔ جن کی اشراق تام کی وجہ سے ایک عاجز بندہ عمران کا بیٹا بیہوش ہو کر گر پڑا اور اگر عنایت الٰہیہ اُس کا تدارک نہ کرتیں تو اُسی حالت میں گداز ہو کر نابود ہو جاتا۔ مگر یہ مرتبہ ترقیات کاملہ کا انتہائی درجہ نہیں ہے۔ انتہائی درجہ وہ ہے جس کی نسبت لکھا ہے کہ مازاغ البصرو ماطغی۔ انسان زمانہ سیر سلوک میں اپنے واقعات کشفیہ میں بہت سے عجائبات دیکھتا ہے اور انواع و اقسام کی واردات اُس پر وارد ہوتی ہیں۔ مگر اعلیٰ مقام اُس کا عبودیت ہے جس کا لازمہ صحو اور ہوشیاری سے اور سکر اور شطح سے بکلی بیزاری ہے۔ ھذانا اللّٰہ ایانا وایاکم صراط المستقیم الذی انعم علی النبین والصدیقین والشھداء والصلحین واخردعونا ان الحمدللّٰہ رب العٰلمین۔ والسلام علیکم وعلی اخوانکم المومنین۔
    (۲۵؍ مارچ ۱۸۸۳ء مطابق ۱۵؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۰ھ)


    مکتوب نمبر۹
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ باعث اطمینان ہوا۔ آپ نے جو کچھ لکھا ہے بہت درست اور بجا لکھا ہے جو کچھ بطور رسم اور عادت کیا جاوے۔ وہ کچھ چیز نہیں ہے اور نہ اُس سے کچھ مرحلہ طے ہو سکتا ہے۔ سچا طریق اختیار کرنے سے گو طالب صادق آگ میں ڈالاجاوے۔ مگر جب اپنے مطلب کو پائے گا، سچائی سے پائے گا۔راست باز آدمی نہ کچھ عزت سے کام رکھتا ہے، نہ ننگ سے، نہ خلقت سے، نہ اُن کے لعن سے نہ اُن کے طعن سے، نہ اُن کی مدح سے، نہ اُن کی ذم سے۔جب سچی طلب دامنگیر ہو جاتی ہے تواُس کی یہی علامت ہے کہ غیر کا بیم اور امید بکلی دل سے اُٹھ جاتاہے اور توحید کی کامل نشانی یہ ہے کہ محب صادق کی نظر میں غیر کا وجود اور نمود کچھ باقی نہ رہے۔ وذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء۔ آپ اتباع طریقہ مسنونہ میں یہ لحاظ بدرجہ غایت رکھیں کہ ہر ایک عمل رسم اور عادت کی آلودگی سے بکُلی پاک ہو جائے اور دلی محبت کے پاک فوارہ سے جوش مارے۔ مثلاًدرود شریف اس طور پر نہ پڑھیں کہ جیسا عام لوگ طوطی کی طرح پڑھتے ہیں۔ نہ اُن کو جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کامل خلوص ہوتا ہے اور نہ وہ حضور تام سے اپنے رسول مقبول کیلئے برکات الٰہی مانگتے ہیں بلکہ درود شریف سے پہلے اپنا یہ مذہب قائم کر لینا چاہئے کہ رابطہ محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ہر گز اپنا دل یہ تجویز نہ کر سکے کہ ابتداء زمانہ سے انتہاء تک کوئی ایسا فردِ بشر گزرا ہے جو اس مرتبہ محبت سے زیادہ محبت رکھتا تھا یا کوئی ایسا ذکر آنے والا ہے جو اس سے ترقی کرے گا اور قیام اس مذہب کا اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ جو کچھ محبان صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مصائب اور شدائد اُٹھاتے رہے ہیں یا آئندہ اُٹھا سکیں یا جن جن مصائب کا نازل ہونا عقل تجویز کر سکتی ہے۔ وہ سب کچھ اُٹھانے سے دل رک جائے اور کوئی ایسا مخلوق دل میں جگہ نہ رکھتا ہو جو اُس جنس کی محبت میں حصہ دار ہو اور جب یہ مذہب قائم ہو گیا تو درود شریف جیسا کہ میں نے ربانی بھی سمجھایا تھا۔ اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ برکتوں کابناوے اور اُس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے۔ یہ دعا حضور تام سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے بلکہ اُس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھ کو ثواب ہوگا یا درجہ ملے گا بلکہ خاص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کاملہ الٰہیہ حضرت رسول مقبول پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنی دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔ پس جب اس طور پر درود شریف پڑھا گیا تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے اور بلاشبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے اور حضور تام کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو۔ اور یہاں تک یہ توجہ رگ اور ریشہ میںتاثیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جاوے۔ علی ہذا القیاس۔ نماز جس کے لئے خداوند کریم نے صدہا مرتبہ قرآن شریف میںتاکید فرمائی ہے اور اپنے تقرب کے لئے فرمایا ہے۔ وَاسْتَعِیْنُوْ بِالصّبْرِ وَالصّٰلٰوۃُ۔ یہ بھی رسم اور عادت کے پیرایہ میں کچھ چیز نہیں ہے۔ اس میں بھی ایسی صورت پیدا ہونی چاہئے کہ مُصلّی اپنی صلوٰۃ کی حالت میں ایک سچا دعا کنندہ ہو۔ سو نماز میں بالخصوص دعائے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمِ میں دلی آہوں سے، دلی تضرعات سے، دلی خضوع سے، دلی جوش سے حضرت احدیّت کا فیض طلب کرنا چاہئے اور اپنے تئیں ایک مصیبت زدہ … اور عاجز اور لاچار سمجھ کر حضرت احدیّت کو قادر مطلق اور رحیم کریم یقین کر کے رابطۂ محبت اور قرب کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ اُس جناب میں خشک ہونٹوں کی دعا قابل پزیرائی نہیں۔ فیضان سماوی کے لئے سخت بیقراری اور جوش و گریہ و زاری شرط ہے۔ اور استعداد قریبہ پیدا کرنے کیلئے اپنے دل کو ماسوا اللہ کے شغل اور فکر سے بکلی خالی اور پاک کر لینا چاہئے۔ کسی کا حسد اور تفاؤل دل میں نہ رہے۔ بیداری بھی پاک باطنی کے ساتھ ہو اور خواب بھی۔ بے مغز باتیں سب فضول ہیں اور جو عمل روح کی روشنی سے نہیں وہ تاریکی اور ظلمت ہے۔ خذوالتوحید والتفرید والتمجید وموتوا فبل ان تموتوا۔ آج حسب تحریر آپ کی ہر سہ حصہ روانہ کئے گئے۔
    مکتوب نمبر۹
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آپ کا خط ثالث بھی پہنچا۔ آپ کی دلی توجہات پر بہت ہی شکر گزار ہوں۔ خدا آپ کو آپ کے دلی مطالب تک پہنچاوے۔ آمین۔ یارب العٰلمین۔ غرباء سے چندہ لینا ایک مکروہ امر ہے۔ جب خدا اس کا وقت لائے گا تو پردۂ غیب سے کوئی شخص پیدا ہو جاوے گا۔ جو دینی محبت اور دلی ارادت سے اس کام کو انجام دے۔ تجویز چندہ کو موقوف رکھیں۔ اب بالفعل لودہیانہ میں اس عاجز کا آنا ملتوی رہنے دیں۔ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد چند ہندؤں کی طرف سے سوالات آئے ہیں اور ایک ہندو صوابی ضلع پشاور … میں کچھ ردّ لکھ رہا ہے۔ پنڈت شیونرائن بھی شاید عنقریب اپنا رسالہ بھیجے گا۔ سو اب چاروں طرف سے مخالف جنبش میں آ رہے ہیں۔ غفلت کرنا اچھا نہیں۔ ابھی دل ٹھہرنے نہیں دیتا کہ میں اس ضروری اور واجب کام کو چھوڑ کر کسی اور طرف خیال کروں۔ اِلاماشاء اللہ ربی۔ اگر خدا نے چاہا تو آپ کا شہر کسی دوسرے وقت میں دیکھیں گے۔ آپ کے تعلق محبت سے دل کو نہایت خوشی ہے۔ خدا اس تعلق کو مستحکم کرے۔ انسان ایسا عاجز اور بیچارہ ہے کہ اُس کا کوئی کام طرح طرح کے پردوں اور حجابوں سے خالی نہیں اور اس کے کسی کام کی تکمیل بجز حضرت احدیّت کے ممکن نہیں۔ ایک بات واجب الاظہار ہے اور وہ یہ ہے کہ وقت ملاقات ایک گفتگو کی اثناء میں بنظر کشفی آپ کی حالت ایسی معلوم ہوئی کہ کچھ دل میں انقباض ہے اور نیز آپ کے بعض خیالات جو آپ بعض اشخاص کی نسبت رکھتے تھے۔ حضرت احدیّت کی نظر میں درست نہیں تو اُس پر یہ الہام ہوا قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔ سو الحمدللہ! آپ جوہر صافی رکھتے ہیں۔ غبار ظلمت آثار کو آپ کے دل میں قیام نہیں۔ اس وقت یہ بیان کرنا مناسب نہیں سمجھاگیا۔ مگر بہت ہی سعی کی گئی کہ خداوند کریم اُس کو دور کرے۔ مگر تعجب نہیں کہ آئندہ بھی کوئی ایسا انقباض پیش آوے۔ جب انسان ایک نئے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لئے ضرور ہے کہ اُس گھر کی وضع قطع میں بعض امور اُس کو حسب مرضی اور بعض خلاف مرضی معلوم ہوں۔ اس لئے مناسب ہے کہ آپ اس محبت کو خدا سے بھی چاہیں اور کسی نئے امر کے پیش آنے میں مضطرب ہوں تا یہ محبت کمال کے درجہ تک پہنچ جائے یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک حالت رکھتا ہے۔ جو زمانہ کی رسمیات سے بہت ہی دور پڑی ہوئی ہے اور ابھی تک ہر ایک رقیق کو یہی جواب روح کی طرف سے ہے۔ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیُعَ مَعِیَ صَبَرَا وَکَیْفَ تَصْبِرَ عَلٰی مَالَمْ تُحِطْ بِہٖ خَیْرا۔ لیکن خداوند کریم سے نہایت قوی امید رکھتا ہے کہ وہ اس غربت اور تنہائی کے زمانہ کو دور کر دے گا۔ آپ کی حالت قویہ پر بھی امید کی جاتی ہے کہ آپ ہر ایک انقباض پر غالب آویں گے۔ وَالْاَمْرُ بِیَدِاللّٰہِ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ اِلٰی صِراطٍ مُّسْتَقِیْمْ۔ والسلام علیکم اخوانکم من المومنین
    مکتوب نمبر۱۰
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مشفقی مکرم میر عباس علی شاہ صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آج ہرسہ حصہ کتاب آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں۔ چند ہندو اور بعض پادری عناد قدیم کی وجہ سے ردّ کتاب کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ مگر آپ تسلی رکھیں اور مسلمانوں کو بھی تسلی دیں کہ یہ حرکت اُن کی خالی از حکمت نہیں۔ میں اُمید رکھتا ہوں کہ اُن کی اس حرکت اور شوخی کی وجہ سے خداوندکریم حصہ چہارم میں کوئی ایسا سامان میسر کر دے گا کہ مخالفین کی بدرجہ غایت رسوائی کا موجب ہوگا۔ آسمانی سامان شیطانی حرکات سے رُک نہیں سکتے بلکہ اور بھی زیادہ چمکتے ہیں اور مخالفین کے اُٹھنے کی یہی حکمت سمجھتا ہوں کہ تا آسمانی باتیں زیادہ چمکیں اور جو کچھ خدا نے ابتدا سے مقدر کر رکھتا ہے وہ ظہور میں آ جائے۔ آپ مومنین کو جو آپ سے متنفر ہیں سمجھا دیں کہ آپ کچھ عرصہ توقف کریں۔ زیادہ تر دیر اسی سے ہے کہ تا خیالات معاندانہ مخالفین کے چھپ کر شائع ہو جاویں۔ سو آپ براہ مہربانی کبھی کبھی حالات خیریت آیات سے یاد و شاد فرماتے رہیں۔
    والسلام
    مکتوب نمبر۱۱
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مشفقی و مکرمی میرعباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    دس روپیہ کا منی آرڈر پہنچ گیا۔ خداوند کریم آپ کی سعی کا اجر بخشے جو کچھ فساد زمانہ کا حال لکھا ہے سب واقعی امر ہے۔ اس عاجز کی دانست میں اُمت محمدیہ پر ایسا فاسد زمانہ کوئی نہیں آیا۔ تمام زمانوں سے زیادہ تر ظلماتی وہ زمانہ تھا جس کی تنویر کے لئے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ضرورت پڑی۔ وہ ایسا ظلماتی زمانہ تھا جس کی نظیر دنیا میں کوئی نہیں گزری اور اس زمانہ کی حالت موجودہ ایک بڑے نبی کے مبعوث ہونے کو چاہتی تھی جس کا ثانی کوئی نہیں گزرا اور جس پر تمام کمالات نبوت ختم ہوگئے اور جس کی بعثت کے زمانہ نے اُن تمام تاریکیوں کو دور کر دیا اور وحدانیت کو زمین پر پھیلا دیا اور جو کچھ کفر اور شرک میں باقی رہا وہ ذلّت اور مغلوبیت کی حالت کے ساتھ باقی رہا۔ لیکن چونکہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ ہیں۔ نبوت کے زمانہ سے بہت دور جا پڑا ہے۔اس لئے دو طور کر خرابی یعنی اندرونی اور بیرونی اس پر محیط ہو رہی ہے۔ اندرونی یہ کہ بہت سے لوگوں نے مختلف فرقہ بنائے ہیں جو حقیقت میں خدا اور رسول کے دشمن ہیں۔ بہتوں پر اباحت اور الحاد کا غلبہ ہے کہ خدا کے وجود کو اور اُس مدبر عالم کی ہستی کو کوئی مستقل شَے نہیں سمجھتے بلکہ اپنے ہی وجود کو خدا سمجھے بیٹھے ہیں اور اسی خیال کے غلبہ سے احکام الٰہی کی تعمیل سے بکلّی فارغ ہیں اور شریعت حقانی کو بتر استحفاف دیکھتے ہیں اور صوم اور صلوٰۃ پر ٹھٹھا کرتے ہیں۔ ایک دوسرا فرقہ ہے جو بہت، دوزخ، ملائک، شیطان وغیرہ سب کے منکر ہیں اور وحی الٰہیہ سے انکاری ہیں باایں ہمہ مسلمان کہلاتے ہیں۔غرض اندرونی فساد بھی نہایت درجہ تک پہنچ گئے ہیں اور بیرونی فسادوں کا یہ حال ہے کہ چاروں طرف سے دشمن اپنے اپنے تیر چھوڑ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بالکل اسلام کو نیست و نابود کر دیں۔ حقیقت میں یہ ایسا پُر آشوب زمانہ ہے کہ اسلامی زمانوں میں کہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پہلے لوگ صرف غفلت اور کم توجہی سے اسلام کے مخالف تھے۔ مگر اب دو فرقہ اسلام سے مخالف ہیں۔ ایک تو وہی غافل اور کم توجہ لوگ۔ دوسرے وہ لوگ پیدا ہوگئے کہ جو شرارت اور خبث سے، عقل کی بداستعمالی سے اسلام پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو علوم کے لئے روشنی کا دعویٰ کرتے ہیں اور متبعین شریعت اسلام کو کہتے ہیں کہ یہ پُرانے … کے آدمی ہیں اور یہ سادہ لوح اور ہم دانا ہیں۔ پس ایسے دنوں میں خداوند کریم کا یہ نہایت فضل ہے کہ اپنے عاجز بندہ کو اس طرف توجہ دی ہے اور دن رات اُس کی مدد کر رہا ہے تا باطل پرستوں کو ذلیل اور رسوا کرے چونکہ ہر حملہ کی مدافعت کے لئے اس سے زبردست حملہ چاہئے اور قوی تاریکی کے اُٹھانے کیلئے قوی روشنی چاہئے۔ اس لئے یہ امید کی جاتی ہے اور آسمانی بشارات بھی ملتے ہیں کہ خداوند کریم اپنے زبردست ہاتھ سے اپنے عاجز بندہ کی مدد کرے گا اور اپنے دین کو روشن کر دے گا۔ اب انشاء اللہ تعالیٰ حصہ چہارم کچھ تھوڑے توقف کے بعد شروع کیا جاوے گا۔ چونکہ یہ تمام کام قوت الٰہی کر رہی ہے اور اُسی کی مصلحت سے اس میں توقف ہے۔ اس لئے مومنین مخلصین نہایت مطمئن رہیں کہ جیسے خداوند کریم کے کامل اور قوی کام ہیں اسی طرح وہ وقتاً فوقتاً کتاب کی حصص کو نکالے گا۔ وھواحسن الخالقین والسلام علیکم وعلی اخوانکم من المومنین۔
    (۲۲؍ جنوری ۸۳ء۔ ۱۲؍ربیع الاوّل ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۱۲
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کے عنایت نامجات کو پڑھ کر نہایت خوشی ہوئی۔خداوند تعالیٰ حقیقی استقامت سے حظِ وافر آپ کو بخشے۔ میں آپ کی ذات میں بہت ہی نیک طنیتی اور سلامت روشنی پاتا ہوں اور میں خداوند کریم کی نعمتوں میں سے اس نعمت کا بھی شکرگزار ہوں کہ آپ جیسے خالص دوست سے رابطہ پیدا ہوا ہے۔ خداوندکریم اس رابطہ کو اُس مرتبہ پر پہنچا دے جس مرتبہ پر وہ راضی ہے۔ نماز تہجد اور اوراد معمولی میں آپ مشغول رہیں۔ تہجد میں بہت سے برکات ہیں۔ بیکاری کچھ چیز نہیں۔ بیکار اور آرام پسند کچھ وزن نہیں رکھتا۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنّٰھُمْ سُبُلَنَا۔ درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَوَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ ابْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ جو الفاظ ایک پرہیز گار کے منہ سے نکلے ہیں۔ اُن میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے۔ پس خیال کر لینا چاہئے کہ جو پرہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے اُس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں وہ کس قدر متبرک ہوں گے۔ غرض سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے۔ یہی اس عاجز کا وِرَدْ ہے اور کسی تعداد کی پابندی ضروری نہیں۔ اخلاص اور غبّت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اُس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت رقت اور بیخودی اور تاثر کی پیدا ہوجائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جائے۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و دیگر اخوان مومنین سلام مسنون برسد۔
    (۲۶؍ اپریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۸؍ جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۱۳
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آن مخدوم مکتوب چہارم بھی پہنچا۔ جزاکم اللہ علی سعیکم و اعظم اجرکم علی بذل جہدکم۔ آج اگر ٹکٹ میسر آئے تو یقین ہے کہ ہرسہ حصہ بنام ہرسہ خریداران کے نام روانہ کئے جائیں گے۔ انشاء اللہ۔ آپ اور ادواشغال معمولہ بدستور کئے جائیں کہ کثرت ذکر مدار فلاح و نجات ہے۔ درود شریف خط سابق میں لکھ دیا گیا ہے۔ ہر باب میں حضور اور توجہ اور خضوع اور خشوع اور اخلاص شرط ہے۔ من جاء بالا خلاص جعل من الخواص۔ اگر کوئی ہندو فی الحقیقت طالبِ حق ہے تو اُس سے رعایت کرنا واجب ہے بلکہ اگر ایسا شخص بے استطاعت ہو تو اس کو مفت بلا قیمت کتاب دے سکتے ہیں۔ غرض اصلی اشاعت دین ہے۔ نہ خرید و فروخت۔ جیسی صورت ہو اس سے اطلاع بخشیں تا کتاب بھیجی جاوے۔ والسلام بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و قاضی خواجہ علی صاحب و دیگر اخوان مومنین سلام پہنچا دیں۔
    مکتوب نمبر۱۴
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہرسہ بخدمت چوہدری گامے خان و جیوے خان صاحب روانہ کئے جائیں گے۔ اب حصہ چہارم کے طبع کرانے میں کچھ تھوڑی توقف باقی ہے اور موجب توقف یہی ہے کہ جو تین جگہ سے بعض سوالات لکھے ہوئے آئے ہیں۔ اُن سب کا جواب لکھا جائے۔ یہ عاجز صعیف الدماغ آدمی ہے۔ بہت محنت نہیں ہوتی آہستہ آہستہ کام کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی خواب انشاء اللہ تعالیٰ نہایت مطابق واقعہ اور درست معلوم ہوتی ہے اور تعبیر صحیح ہے۔ جن لوگوں کو تاویل رؤیا کا علم نہیں اُن کو ان تعبیرات میں کچھ تکلف معلوم ہوگا۔ مگر صاحب تجربہ خوب جانتے ہیں کہ رؤیا کے بارے میں اکثر عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ حقیقت کو ایسے ایسے پردوں اور تمثیلات میں بیان فرماتا ہے۔ مسلم نے انس سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب دیکھی کہ عقبہ بن رافع کے گھر کہ جو ایک صحابی تھا آپ تشریف رکھتے ہیں۔ اُسی جگہ ایک شخص ایک طبق رطب ابن طاب کا لایا اور صحابہ کو دیا اور رطب ابن طاب ایک خرما قسم کا ہے کہ جن کو ابن طاب نام ایک شخص نے پہلے پہل کہیں سے لا کر اپنے باغ میں لگایا تھا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی یہ تعبیر کی کہ دنیا و آخرت میں صحابہ کی عاقبت بخیرو عافیت ہے اور حلاوت ایمان سے وہ خوشحال اور متمتع ہیں سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کے لفظ سے عاقبت نکالا اور رافع خدا کا نام ہے۔ اُس سے رفعت کی بشارت سمجھ لی اور خرما کی حلاوت سے حلاوت ایمانی لی اور ابن طاب میں طاب کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خوشحال ہوا۔ پس اس سے خوشحال ہونے کی بشارت سمجھ لی۔ غرض تعبیر رؤیا میں ایسی تاویلات واقعی اور صحیح ہیں اور آپ کی خواب بہت ہی عمدہ بشارت ہے۔ محافظ دفتر کے لفظ سے یاد آتا ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالیشان حاکم یا بادشاہ کا ایک جگہ خیمہ لگا ہوا ہے اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہو رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ دفتر کا عہدہ رکھتا ہے اور جیسے دفتروں میں مثلیں ہوتی ہیں بہت سی مثلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ دفتر کی طرح ہے۔ اتنے میں ایک اردلی دوڑتا آیا کہ مسلمانوں کی مثل پیش ہونے کا حکم ہے وہ جلد نکالو۔ پس یہ رؤیا بھی دلالت کر رہی ہے کہ عنایت الٰہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں اور یقین کامل ہے کہ اُس قوت ایمان اور اخلاص اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئے ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنے خاص برکات سے متمتع کرے گا کہ ہر یک برکت ظاہری اور باطنی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس عاجز نے پہلے لکھ دیا تھا کہ آپ اپنے تمام اوراد معمولہ کو بدستور لازم اوقات رکھیں۔ صرف ایسے طریقوں سے پرہیز چاہئے جن میں کسی نوع کا شرک یا بدعت ہو۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اشراق پر مداومت ثابت نہیں۔ تہجد کے فوت ہونے پر یا سفر سے واپس آ کر پڑھنا ثابت ہے لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا عین سنت ہے واذکر واللّٰہ کثیرا لعلکم تفلحون۔ مکرمی مخدومی مولوی عبدالقادر صاحب کی خدمت میں اس عاجز کا سلام مسنون پہنچا دیں۔خداوندکریم کا ہر یک شخص سے الگ الگ معاملہ ہوتا ہے اور ہر ایک بندہ سے جس طور کا معاملہ ہوتا ہے اسی طور سے اُس کی فطرت بھی واقع ہوتی ہے۔ اس عاجز کی فطرت پر توحید اور تقویض الی اللہ غالب ہے اور معاملہ حضرت احدیّت بھی یہی ہے کہ خود روی کے کاموں سے سخت منع کیا جاتا ہے۔ یہ مخاطبت حضرت احدیّتسے بارہا ہو چکی ہے لاققف مالیس لک بہ علم ولاتقل لشیئٍ انی فاعل ذالک غدا۔ سوچونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوندکریم کی طرف کچھ علم نہیں۔ اس لئے تکلیف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں لعل اللّٰہ یحدث بعد ذالک امرا۔ مولوی صاحب اخوت دینی کے بڑھانے میں کوشش کریں اور اخلاص اور محبت کے چشمہ صافی سے اس پودہ کی پرورش میں مشغول رہیں۔ تو یہی طریق انشاء اللہ تعالیٰ بہت مفید ہوگا۔ خلقتم من نفس واحدۃ جزاء البدن مستفیض لما استفاض البدن کلہ وکونوامع الصادقین ھم قوم لایشقی اجلیسم والسلام۔ بخدمت خواجہ علی صاحب سلام علیک۔ ابھی مولوی صاحب کا اس جگہ تشریف لانا بیوقت ہے۔ یہ عاجز حصہ چہارم کے کام سے کسی قدر فراغت کر کے اگر خدا نے چاہا اور نیت صحیح میسر آ گئی تو غالباً امید کی جاتی ہے کہ آپ بھی حاضر ہوگا والامر کلہ فی یداللّٰہ وما اعلم ما ارید فی الغیب
    مکتوب نمبر۱۵
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آن مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ خداوندکریم کا کیسا شکر کیا چاہئے کہ اُس نے اپنے تفضلات قدیم سے آپ جیسے ولی دوست بہم پہنچائے۔ اگرچہ آپ کا اخلاص کامل اس درجہ پر ہے کہ اس عاجز کا دل بلااختیار آپ کی دعا کیلئے کھینچا چلا جاتا ہے پر جس ذات قدیم نے آپ کو یہ اخلاص بخشا ہے اُس نے خود آپ کو چُن لیا ہے۔ تب ہی یہ اخلاص بخشا ہے۔ وذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء بخدمت مخدومی مولوی عبدالقادر صاحب بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سمجھا ہے نہایت بہتر ہے۔ دنیا میں دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔ الدعاء فخ العبادۃ۔ یہ عاجز اپنی زندگی کامقصد اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کیلئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو ربّ العرش تک پہنچ جائیں اور دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آ جایا کرے۔ مگر یہ بات اپنے اختیار میں نہیں۔ سو اگر خداوند کریم چاہے گا تو یہ عاجز آپ کے لئے دعا کرتا رہے گا۔ یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ سچا تعلق وہی ہے جس میں سرگرمی سے دعا ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی بزرگ کا مرید ہے مگر اُس بزرگ کے دل میں اس شخص کی مشکل کشائی کیلئے جوش نہیںاور ایک دوسرا شخص ہے جس کے دل میں بہت جوش ہے اور وہ اُسی کام کے لئے ہو رہا ہے کہ حضرت احدیّت سے اُس کی رستگاری حاصل کرے۔ سو خدا کے نزدیک سچا رابطہ یہ شخص رکھتا ہے۔ غرض پیری مریدی کی حقیقت یہی دعا ہی ہے۔ اگر مرشد عاشق کی طرح ہو اور مرید معشوق کی طرح تب کام نکلتا ہے۔ یعنی مرشد کو اپنے مرید کی سلامتی کے لئے ایک ذاتی جوش ہو تا وہ کام کر دکھاؤے۔ سرسری تعلقات سے کچھ ہو نہیں سکتا۔ کوئی نبی اور ولی قوت عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا۔ یعنی اُن کی فطرت میں حضرت احدیّت نے بندگان خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہوا ہوتا ہے۔ پس وہی عشق کی آگ اُن سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر اُن کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے کہ اگر تم دعا اور غمخواری خلق اللہ نہ کرو تو تمہارے اجر میں کچھ قصور نہیں۔ تب بھی وہ اپنے فطرتی جوش سے رہ نہیں سکتا اور اُن کو اس بات کی طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کو جان کنی سے کیا اجر ملے گا۔ کیونکہ اُس کے جوشوں کی بِنا کسی غرض پر نہیں بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے۔ اُس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لعلک باخعٌ نفصکِ ان الا یکونوا مومنین۔ خدا اپنے نبی کو سمجھاتا ہے کہ اس قدر غم اور درد کہ تو لوگوں کے مومن بن جانے کے لئے اپنے دل پر اُٹھاتا ہے۔ اسی میں تیری جان جاتی رہے گی۔ سو وہ عشق ہی تھا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان جانے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ پس حقیقی پیری مریدی کا یہی اصول ہے اور صادق اسی سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ خدا کا قدیمی اصول ہے کہ قوت عشقیہ صادقوں کے دلوں میں ضرور ہوتی ہے تا وہ سچے غمخوار بننے کے لائق ٹھہریں۔ جیسے والدین اپنے بچہ کے لئے ایک قوت عشقیہ رکھتی ہیں۔ تو اُن کی دعا بھی اپنے بچوں کی نسبت قبولیت کی استعداد زیادہ رکھتی ہے۔ اسی طرح جو شخص صاحب قوت عشقیہ ہے وہ خلق اللہ کے لئے حکم والدین رکھتا ہے اور خواہ نخواہ دوسروں کا غم اپنے گلے ڈال لیتا ہے کیونکہ قوت عشقیہ اُس کو نہیں چھوڑتی اور یہ خداوندکریم کی طرف سے ایک انتظامی بات ہے کہ اُس نے بنی آدم کو مختلف فطرتوں پر پیدا کیا ہے۔ مثلاً دنیا میں بہادروں اور جنگجو لوگوں کی ضرورت ہے کہ جن کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوا کرے۔ سو بعض فطرتیں یہی استعداد لے کر آتی ہیں اور قوت عشقیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ فالحمدللّٰہ علیٰ الاء ظاہرھا و باطنھا۔ مولوی صاحب اگر رسالہ بھیج دیں تو بہتر ہے شاہدین صاحب رئیس لودہیانہ کی طرف اُنہیں دنوں میں کتاب بھیجی گئی ۔ جب آپ نے لکھا تھا مگر اُنہوں نے پیکٹ واپس کیا اور بغیر کھولنے کے اوپر بھی لکھ دیا کہ ہم کو لینا منظور نہیں۔ چونکہ ایک خفیف بات تھی اس لئے آپ کو اطلاع دینے سے غفلت ہوگئی۔ آپ کوشش میں توکل رعایت رکھیں اور اپنے حفظ مرتبت کے لحاظ سے کارروائی فرماویں اور جو شخص اس کام کا قدر نہ سمجھتا ہو یا اہلیت نہ رکھتا ہو اُس کو کچھ کہنا نامناسب نہیں۔
    (۲۱؍مئی ۱۸۸۳ء مطابق رجب ۱۳۰۰ھ)

    مکتوب نمبر۱۶
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب زاد اللہ فی برکاتہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آن مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ سبحان اللہ کیا جوش ہے کہ خداوندکریم نے آپ کے دل میں ڈال دیا اور ایسا ہی آپ کے دوست مولوی عبدالقادر صاحب کے دل میں۔ خداوند کریم بندوں کے فعل اور اُن کی نیات کو خوب جانتا ہے جو شخص اُس کے لئے کوئی درد اُٹھاتا ہے۔ اُس کا عمل کبھی ضائع نہیں ہوگا۔ اُس کی نظر عنایت اگرچہ دیر سے ظاہر ہو مگر جب ظاہر ہوتی ہے تو وہ کام کر دکھاتی ہے جس کی عاجز بندہ کو کچھ امید نہیں ہوتی۔ خداوند کریم آپ کو اس دلی جوش میں مدد کرے اور اپنی عنایت خاص سے ثابت قدمی بخشے اور ابتلا سے محفوظ رکھے اور آپ بھی ثابت قدمی کیلئے دعا کرتے رہیں کیونکہ بڑے کاموں میں ابتلا بھی بڑے بڑے پیش آتے ہیں اور انسان ضعیف البنیان کی کیا طاقت ہے کہ خود بخود بغیر عنایت و حمایت حضرت احدیّت کے کسی ابتلا کا مقابلہ کر سکے۔ پس ثبت اقدام اُسی سے مانگنا چاہئے اور اُسی کے حول اور قوت پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ ہم سب لوگ بغیر اُس کے لطف اور احسان کے کچھ بھی نہیں۔
    آپ نے لکھا تھا کہ بعض لوگ یاوہ گوئی کرتے ہیں۔ سو آپ جانتے ہیں کہ ہر یک امر خداوندکریم کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کی فضول گوئی سے کچھ بگڑتا نہیں۔ اسی طرح پر عادت اللہ جاری ہے کہ ہر یک مہم عظیم کے مقابلہ پر کچھ معاند ہوتے چلے آئے ہیں۔ خدا کے نبی اور اُن کے تابعین قدیم سے ستائے گئے ہیں۔ سو ہم لوگ کیونکر سنت اللہ سے الگ رہ سکتے ہیں۔ وہ ایذا کی باتیں جو مجھ پر ظاہر کی جاتی ہیں۔ ہنوز اُن میں سے کچھ بھی نہیں۔ کئی مکروحات درپیش ہیں جس میں خدا کی حفاظت درکار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اُس کا فعل قابل اعتراض نہیں جو کچھ کرتا ہے بہت اچھا کرتا ہے۔ کسی کی کیا طاقت ہے کہ کچھ بول سکتے۔ جب تک اُس بولنے میں اُس کی کچھ حکمت نہ ہو اور کم سے کم یہی حکمت ہے۔ جن مردوں نے سچائی کی راہ پر قدم مارا ہے۔ اُن کے لئے یہ ابتلا پیش آیا ہے اور اس ابتلا پر ثابت قدم رہنے سے وہ اجر پاتے ہیں۔ احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون۔ آج قبل تحریر اس خط کے یہ الہام ہوا۔ کذب علیکم الخبیث کذب علیکم الخنریر عنایت اللّٰہ حافظک انی معک اسمع واری۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ فبراء اللّٰہ مما قالوا وکان عنداللّٰہ وجیھا۔ ان الہامات میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی ناپاک طبع آدمی اس عاجز پر کچھ جھوٹ بولے گا یا جھوٹ بولا ہو مگر عنایت الٰہی حافظ ہے۔ اب سوچنا چاہئے کہ جب ہر یک موذی اور معاند اور دروغ گو اور بہتان طراز کے شر سے خود خداوندکریم بچانے کا وعدہ کرتا ہے تو پھر کس سے بجز اُس کے خوف کریں۔ چند روز ہوئے کہ خداوندکریم کی طرف سے ایک اور الہام ہوا تھا۔ کچھ حصہ اُس میں سے پہلے بھی الہام ہوچکا ہے۔ مگر یہ الہام مفصل ہوا اور اُس سے خداوند کریم کی جو کچھ عنایت اس عاجز اور اس عاجز کے دوستوں پر ہے وہ ظاہر ہے اور وہ یہ ہے۔ قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ۔ وقالو انی لک ھذا۔ قل ھو اللّٰہ عجیب یجتبی من یشاء من عبادہ۔ وتلک الایام ندا ولھا بین الناس۔ اور یہ آیت کہ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ بار بار الہام ہوئی اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے اور اس قدر زور سے ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہوگئی۔ اس سے یقینا معلوم ہوا کہ خداوندکریم اُن سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اور اُن کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے اور جو مخالف قدم مارے گا اُس کو خدا تباہ کرے گا اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی۔ یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلف نہیں کرے گا اور کفر کے لفظ سے اس جگہ شرعی کفر مراد نہیں بلکہ صرف انکار سے مراد ہے۔ غرض یہ وہ سچا طریقہ ہے جس میں ٹھیک ٹھیک حضرت نبی کریم کے قدم پر قدم ہے۔ اللھم صلی علیہ وآلہ وسلم۔ آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں اور جیسا کوئی اپنے پیارے کے لئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے حضرت نبی کریم کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں اور اُس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریم سے سچی دوستی اور محبت ہو اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگی جائیں کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں۔ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔ جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ بباعث علاقہ ذاتی محبت کے اُس شخص کے وجود کے ایک جز ہو جاتا ہے۔ پس جو فیضان شخص مدعو پر ہوتا ہے۔ وہی فیضان اُس پر ہوتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضان حضرت احدیّت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔ مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی طول ہو اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔ دوسرے اوراد بھی بدستور محفوظ رکھیں۔ بیکاری کچھ چیز نہیں ہے ہر وقت سرگرمی کی توفیق خداوندکریم سے مانگنی چاہئے۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و قاضی خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچا دیں۔
    (۱۲؍ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۶ شعبان ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۱۷
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آن مخدوم کا سعی اور کوشش کے لئے جالندھر میں تشریف لے جانا خط آمدہ آں مخدوم سے معلوا ہوا۔ خداوند تعالیٰ ان کوششوں کو قبول فرماوے۔ جس آیت کو ایک مرتبہ بنظر کشفی دیکھا گیا تھا۔ اصلحھا ثابت و فرعھا فی السماء۔ اس شجرہ طیبہ کے آثار ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ وذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء نیچریوں کا جو آپ نے حال لکھا ہے یہ لوگ حقیقت میں دشمن دین ہیں یریدون ان یفرقوا بین اللّٰہ ورسلہ۔ لیکن خداوند قادر مطلق کے کام عقل اور قیاس سے باہر ہیں۔ وہ ہمیشہ عاجزوں اور ضعیفوں اور کمزوروں کو متکبروں اور مغروروں پر غالب کرتا رہا ہے اور آخر کار اُنہیں کی فتح ہوتی رہی ہے جو خدا کے لئے متکبروں کے ہاتھ سے ستائے گئے اور اگر خدا چاہتا تو ستائے نہ جاتے لیکن یہ اس لئے ضروری ہوا کہ تا خداوند کریم اپنے الطاف خفیہ کو بصورت جلال اُن پر متجلی کرے اور نفس کے پوشیدہ عیبوں سے اُن کو خلاصی بخشے اور اُن پر اُس کا تنہا ہونا، بیکس ہونا، غریب ہونا، ذلیل ہونا، بے اقتدار ہونا ثابت کر کے عبودیت حقیقی کی اعلیٰ مرابت تک پہنچاوے۔ کسی بشر کی طاقت نہیں کہ جو اپنے منہ کی واہیات باتوں سے خدا تعالیٰ کے ارادہ کو نافذ ہونے سے روک رکھے۔ اگر اُس کی حکمت کا تقاضا نہ ہوتا تو مزاحمین اور مخالفین کا وجود نابود ہو جاتا۔ پر ان لوگوں کے وجود میں گروہ ثانی کے لئے بڑے بڑے مصالحہ ہیں اور بعض کمالات اُن کے اس پر موقوف ہیں کہ ایسے لوگ بھی موجود ہوں۔ درود شریف پڑھنے کی مفصل کیفیت پہلے لکھ چکا ہوں۔ وہی کیفیت آپ لکھ دیں۔ کسی تعداد کی شرط نہیں۔ اس قدر پڑھا جائے کہ کیفیت صلوٰۃ سے دل مملو ہو جائے اور ایک انشراح اور لذت اور حیواۃ قلب پیدا ہو جائے اور اگر کسی وقت کم پیدا ہو تب بھی بیدل نہیں ہونا چاہئے اور کسی دوسرے وقت کا منتظر رہنا چاہئے اور انسان کو وقت صفا ہمیشہ میسر نہیں آ سکتا۔ سو جس قدر میسر آوے اُس کو کبریت احمد سمجھے اور اُس میں دل و جان سے مصروفیت اختیار کرے۔ پہلے اس سے آپ کی طرف ایک خط لکھا گیا تھا سو جیسا کچھ اُس میں لکھا گیا تھا آپ مبلغ… روپیہ بھیج دیں۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب سلام مسنون۔
    (۲؍ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۲۵؍ رجب ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۱۹
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آں مخدوم کے دو عنایت نامہ دوسرے بھی پہنچ گئے۔ الحمدللہ کہ کام طبع کا شروع ہے۔ یہ سب اُسی کریم کی عنایات اور تفضلات ہیں کہ اس نابکار اور عاجز کے کاموں کا آپ متولی ہو رہا ہے۔ ع
    اگر ہر موے من گردو ربانے
    از و رانم بہرک داستانے
    پنڈت دیانند نے کتاب طلب نہیں کی اور نہ راستی اور صدق کے راہ سے جواب لکھا بلکہ اُن لوگوں کی طرح جو شرارت اور تمسخر سے گفتگو کرنا اپنا ہنر سمجھتے ہیں۔ ایک خط بھیجا اور خط رجسٹری کرا کر بھیجا گیا۔ جس کا خلاصہ صرف اس قدر تھا مجھ کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلام پر یقین کامل بخشا ہے اور ظاہری اور باطنی دلائل سے مجھ پر کھول دیا ہے کہ دنیا میں سچا دین دین محمدی ہے اور اسی جہت سے مَیں نے محض خیر خواہی خلق اللہ کی رو سے کتاب کو تالیف کیا ہے اور اُس میں بہت سے دلائل سے ثابت کر کے دکھلایا ہے کہ تعلیم حقانی محض قرآنی تعلیم ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوں بلکہ اس بات کا بوجھ آپ کر گردن پر ہے کہ جن قوی دلیلوں سے آپ کے مذہب کی بیخ کنی کی گئی ہے اُن کو توڑ کر دکھلاویں یا اُن کو قبول کریں اور ایمان لاویں اور میں ہر وقت کتاب کو مفت دینے کو حاضر ہوں۔ اس خط کا جواب نہیں آیا۔ انشاء اللہ تعالیٰ اسی حصہ چہارم میں اُن کے مذہب اور اصول کے متعلق بہت کچھ لکھا جائے گا اور آپ اگر خط کو چھپوا دیں تو آپ کو اختیار ہے۔ مولوی عبدالقادر صاحب کی خدمت میں اور نیز قاضی خواجہ علی صاحب کی خدمت میں سلام مسنون پہنچے۔
    (۱۵؍ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۹؍ شعبان ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۲۰
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ ربہٗ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آن مخدوم کے دو عنایت نامہ پے در پے پہنچے۔ باعث مسرت اور خوشی ہوا۔ آپ کی کوششوں سے بار بار دل خوش ہوتا ہے او ربار بار دعا کے لئے اور آپ کی معاونوں کے لئے دل سے نکلتی ہے۔ خداوند کریم نہایت مہربان ہے۔ اُس کے تفضلات سے بہت سی امیدیں ہیں۔ اس کی راہ میں کوئی محنت ضائع نہیں ہوتی۔ آپ نے لکھا تھا کہ ایک عالم نے فیروز پور میں اعتراض کیا ہے کہ رسول مقبول نے سیر ہو کر بھی کھایا ہے۔ لیکن اس بزرگ عالم نے اس عاجز کی تقریر کامنشاء نہیں سمجھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سیر ہونے کے معنی سمجھے ہیں۔ طیبین اور طاہرین کا سیر ہو کر کھانا اُس قسم کا سیر ہونا نہیں ہے جو اُن لوگوں کا ہوا کرتا ہے جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے کھاتے ہیں جیسے چار پائے کھایا کرتے ہیں اور آگ اُن کا کھانا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت سیر ہو کر کھانا اور ہی نور ہے اور اگر اُس سیری کو اُن لوگوں کی طرف نسبت دی جائے جن کا اصل مقصد احتظاظ اور تمتع ہے اور جن کی نگاہیں نفسانی شہوات کے استیفا تک محدود ہیں تو اُس سیری کو ہم ہرگز سیری نہیں کہہ سکتے۔ سیری کی تعریف میں پاکوں اور مقدسوں کی اصطلاح اور ناپاکوں اور شکم پرستوں کی اصطلاح الگ الگ ہے اور پاک لوگ اُسی قدر غذا کھانے کا نام سیری رکھ لیتے ہیں کہ جب فی الجملہ حرقت جوع دور ہو جائے اور حرکات و سکنات پر قوت حاصل ہو جائے۔ غرض مومن کی سیری یہی ہے کہ اس قدر غذا کھاوے جو اُس کی پشت کو قائم رکھے اور حقوق واجبہ ادا کر سکے۔ پس جو سید المومنین ہے۔ اُس کی سیری کا قیاس عام لوگوں کی سیری پر قیاس مع الفارق ہے۔ اسی طرح بہت لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عظیم کو نہیں سمجھا اور الفاظ کے مورد استعمال کو ملحوظ نہیں رکھا اور اپنے تئیں غلطی میں ڈال لیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت یہ فرمانا کہ میں سیر ہو گیا ہوں ہرگز اُس قول کا مترادف نہیں کہ جو دنیا کے منہ سے نکلتا ہے جنہوں نے اصل مقصد اپنی زندگی کا کھانا ہی سمجھا ہوا ہوتا ہے۔ غرض پاکوں کا کام اور کلام پاکوں کے مراتبہ عالیہ کے موافق سمجھنا چاہئے۔ اور اُن کے امور کادوسروں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ وہ درحقیقت اس عالم سے باہر ہوتے ہیں۔ گو بصورت اسی عالم کے اندر ہوں اور بہرام خان صاحب کی کوشش سے طبیعت بہت خوش ہوئی۔ خدا اُن کو اجر بخشے۔ کتاب سات سو جلد چھپی ہے لیکن اب میں نے تجویز کی ہے کہ ہزار جلد چھپے تو بہتر۔ منشی فضل رسول کا خط مَیں نے پڑھا۔ منشی صاحب کے پاس جس نے یہ بیان کیا ہے کہ وید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے اُس نے بہت دھوکہ کھایا ہے۔ وید میں تو خدا کا بھی اُس کی شان کے لائق ذکر نہیںچہ جائیکہ اُس کے رسول کا بھی ذکر ہو۔ جن باتوں سے وید بھرا ہوا ہے وہ آتش پرستی اور شمس پرستی اور اِندر پرستی وغیرہ ہے اور مدار المہام تمام دنیا کا انہیں چیزوں کو وید نے سمجھا ہے اور انہیں کی پرستش کے لئے وید نے ترغیب کی ہے اور کی دفعہ اس عاجز کو نہایت صراحت سے الہام ہوا ہے کہ وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے اور وید کاایک حصہ ترجمہ شدہ اس عاجز کے پاس موجود بھی ہے اور پنڈت دیانند کے وید بھاس میں سے بھی سنتا رہا ہوں اور جو کچھ اُردو میں وید بھاش لکھا گیا وہ بھی دیکھتا رہا ہوں۔ اس صورت میں وید کوئی ایسی عجیب چیز نہیں ہے جس کی حقیقت پوشیدہ ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اظہر من الشمس ہے۔ ویدوں کے پُر ظلمت بیان کی محتاج نہیں اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ویدوں میں کسی قسم کی پیشین گوئی نہیں اور نہ کسی معجزہ کا ذکر ہے۔ جہاں تک دریافت ہوتا ہے وید کی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ کسی پُرانے زمانہ کے شاعروں کے شعر ہیں کہ جو مخلوق چیزوں کی تعریف میں بنائے ہوئے ہیں۔ ابتدا میں جب یہ کتاب چھپنی شروع ہوئی تو اسلامی ریاستوں میں توجہ اور مدد کے لئے لکھا گیا تھا بلکہ کتابیں بھی ساتھ بھیجی گئی تھیں۔ سو اس میں سے صرف ابراہیم علی خان صاحب نواب مالیر کوٹلہ اور محمود علی خ ان صاحب رئیس چھتاری اور مدارالمہام جونہ گڑھ نے کچھ مدد کی تھی۔ دوسروں نے اوّل توجہ ہی نہیں کی اور اگر کسی نے کچھ وعدہ بھی کیا تو اُس کا ایفا نہیں کیا بلکہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھوپال سے ایک نہایت مخالفانہ خط لکھا۔ آپ ان ریاستوں سے نااُمید رہیں اور اس کام کی امداد کے لئے مولیٰ کریم کو کافی سمجھیں۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ
    اور میں آپ کو یہ بھی تحریر کرتا ہوں کہ جو شخص اپنی رائے کے موافق کتاب کو واپس کرے یا لینا منظور نہ کرے یا کتاب اور کتاب کے مؤلف کی نسبت کچھ مخالفانہ رائے ظاہر کرے۔ اس کو ایک دفعہ اپنے وسیع خلق سے محروم نہ کریں۔
    (۲۱؍ جون ۱۸۸۳ء مطابق ۱۵؍ شعبان ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۲۰
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا عنایت نامہ آن مخدوم پہنچا۔ جس قدر نیچریوں کا جوش و خروش ہے اُس کو دیکھ کر اور نیز دوسرے مخالفین و معاندین کی معاندانہ کوششوں کو ملاحظہ کر کے جو کچھ مومنوں کے دلوں پر صدمہ پہنچتا ہے بِلاشُبہ وہ بیان سے باہر ہے۔ ہماری قوتیں کیا چیز ہیں؟ اور ہماری طاقتیں کیا حقیقت رکھتی ہیں؟ اور ہم کیا ہیں؟ کہ کچھ دَم مار سکیں۔ خداوند کریم خود اس طوفان کو فرو کرے اور اس کے فضل و کرم پر ہی امیدیں ہیں۔ کچھ معلوم نہ ہوا کہ سردار بکرما سنگھ نے کیا اعتراض پیش کئے۔ اگر آپ کو معلوم ہو تو ضرور مطلع فرماویں۔ بدقسمت لوگوں کو تعصب اور حب دنیا نے حق کے قبول سے روک رکھا ہے ورنہ عقائد حقہ اسلام کے اس قدر روشن اور بدیہی الصدق ہیں کہ کسی منصف اور طالب حق کو اُن میں کلام نہیں۔ سبحان اللہ کیا ہی مبارک دین ہے کہ اس کے سچے تابعین کی طرف رحمت الٰہی یوں دوڑتی ہے کہ جیسے پانی اوپر سے نیچے کو آتا ہے اور مخالفین کا وجود بھی عبث نہیں۔ یہ اس لئے دنیا میں زندہ رکھے گئے ہیں کہ تا مومنین کو ستاویں اور طرح طرح کے اُن کو دکھ دیں اور اپنے قول فعل سے درپے آزار رہیں اور اس طرح پر مومنوں کی ترقی اور مراتب کمال تک پہنچنے کا ذریعہ ٹھہر جائیں۔ فالحمدللّٰہ علی الطافھا التجلیۃ والخفیۃ آپ کو کُلی اختیار ہے کہ جو کچھ قیمت کتاب میں جمع ہو اُس کو حسب ضرورت خرچ کرتے رہیں۔ خداوند کریم نے آپ کی سعی میں برکت ڈالی ہے اور آپ وہ کام کر رہے ہیں کہ جس میں ہر یک کو آپ کی طرح توفیق نہیں دی گئی۔
    خداوندکریم آپ کو دنیا و دین میں اس کا اجر بخش کر اس عاجز کو دکھاوے اور وہ تو بغایت درجہ کریم و رحیم ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ ایک انسان اخلاص سے، صدق سے، استقامت سے، خالصاً اُس کے لئے کوئی محنت اختیار کرے اور وہ اُس کی محنت کو ضائع کرے اور اُس کا کچھ اجر نہ دے۔ اس جناب میں راستبازوں کی محنتیں ہرگز ضائع نہیں ہوتیں اور مخلصانہ کوشش ہرگز برباد نہیں جاتی۔ جب ایک انسان تمام تر اخلاص سے خالصاً للہ سعی بجا لاوے اور ایک مدت تک اُس کی سعی اور کوشش اور محنت اور مشقت کا سلسلہ جاری رہے اور ثابت قدمی اور استقامت اور وفا اور حسن ظن میں کچھ فرق نہ آوے بلکہ اپنے سینہ میں انشراح اور اپنی طبیعت میں انبساط پاوے اور اپنے کاموں سے خداوندکریم پر کچھ احسان نہ سمجھے تو جاننا چاہئے کہ اُس کے اجر کا وقت نزدیک ہے۔ وَاللّٰہُ لَاْ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحَسْنِیْنِ۔ مبارک وہ لوگ جو خدمت سے سیر نہ ہوں اور جلدی نہ کریں۔ پھر دیکھیں کہ مولیٰ کریم کیسا خادم نواز ہے۔ عیالداری کے ترددات آپ کو ہوں گے۔ مگر اُن ترددات سے خداوند کریم بے خبر نہیں۔ جن فکر کی باتوں کو ایک عاجز بندہ رات کو اپنی چارپائی پر لیٹا ہوا سوچا کرتا ہے یا دن کو اپنے گھر میں جا کر بعض وقت یہ تنگیاں اس پر آ پڑتی ہیں ان سب تنگیوں اور تکلیفوں کو خداوندکریم اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے اور کچھ دنوں تک اپنے بند ہ کو ابتلا میں رکھتا ہے۔ پھر یک مرتبہ نظر عنایت سے دیکھتا ہے اور اُس پر وہ دروازے کھولے جاتے ہیں جن کی اُس کو کچھ خبر نہیں تھی وھویتولی الصالحین۔ کیا جس کا خدا حي، قیوم، قادر، مہربان موجود ہے وہ کچھ غم کر سکتا ہے۔ غم اور ایمان کامل ایک جگہ کبھی جمع نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔
    والسلام
    ۲۵؍ جولائی ۱۸۸۳ء مطابق ۲۰؍ رمضان ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۲۱
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    منشی فضل رسول صاحب کے خط کی نقل معہ کارڈ پہنچ گئے اور میں نے اُس دل آزار تقریر کو تمام و کمال پڑھا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ جب میں نے منشی صاحب کے اس فقرہ کو پڑھا کہ اس میں تو بیان توحید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں بھی نہیں ہے تو یہ یاد کر کے کہ منشی صاحب نے وید کو توحید میں بے مثال و مانند قرار دے کر قرآن شریف کی عظمت کا ایک ذرّہ پاس نہیں کیا اور دلیری سے کہہ دیا کہ جو وید میں توحید ہے وہ کسی دوسری کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ اس فقرہ کے پڑھنے سے عجیب حالت ہوئی کہ گویا زمین و آسمان آنکھوں کے آگے سیاہ نظر آتا تھا۔ اللھم اصلح امت محمد۔ پھر بعد اس کے منشی صاحب اس عاجز ذلیل، غریب تنہا سے پوچھتے ہیں کہ وید پڑھے ہیں یا نہیں اور اگر وید کو نہیں پڑھا تو اب تحقیق سے کسی وید دان سے دریافت کرنا چاہئے تو اس بات کا جواب منشی صاحب کو کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا معرض بیان میں لاویں۔ جس حالت میں پہلے خط میں لکھا گیا تھا کہ جو کچھ یہ بیان کیا گیا ہے بِلا تحقیق نہیں تو اگر منشی صاحب ایک ذرّہ اس عاجز سے حسن ظن رکھتے تو بلا فائدہ تقریر کو طول نہ دیتے۔ لیکن اس پُر آشوب زمانہ میں ہم غریبوں پر کسی کا حسن ظن کہاں۔ جب خداوندکریم دلوں کو اس طرف پھیرے گا تب نیک دل لوگ اس طرف پھریں گے۔ اس وقت رگوید جو چاروں ویدوں میں پہلا وید ہے اور سب سے زیادہ متبرک اور معتبر اور مستند الیہ سمجھا گیا ہے میرے سامنے رکھا ہوا ہے جس کے ساتھ پروفیسر ولسن صاحب کی ایک مختصر شرح بھی ہے۔ اس میں صاحب موصوف نے بعد بہت سی تحقیق کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ آپ نشدین جو وید کے ساتھ شامل ہیں۔ وید میں سے نہیں ہیں بلکہ وید کے تصنیف کے بہت مدت کے بعد تالیف پائے ہیں اور یہ رائے محقق پنڈتوں کی ہے کہ آپ نشدین وید میں سے نہیں ہیں۔ یہ برہمن پشتک ہیں جو انسانوں نے یعنی برہمنوں نے اور اور وقتوں میں اپنے خیال سے لکھے ہیں۔ یہاں تک کہ پنڈت دیانند نے بھی اپنے وید بھاش میں جو ان دنوں میں چھپ رہا ہے اور ایک پرچہ اُس کا قادیان میں بھی ایک آریہ کے نام آتا ہے یہی رائے لکھی ہے اور پنڈت دیانند علانیہ لکھتا ہے کہ آپ نشدین ہر گز وید میں داخل نہیں اور نہ وید کی جز ہے۔ وہ تو لوگوں نے پیچھے سے باتیں بنائی ہیں۔ چونکہ پنڈت دیانند اب تک مقام شاہ پور ضلع ارل میں زندہ موجود ہے اور آج پنڈتوں میں وہ دعویدار ہے کہ میرا ثانی اور کوئی پنڈت نہیں۔ اُسی سے منشی صاحب دریافت کر سکتے ہیں کہ آپ نشدین جن کا بطور مختصر ترجمہ دارالشکوہ نے کیا یہ حقیقت میں وید ہی ہیں۔ یہ کیا چیز ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دارالشکوہ کے وقت میں وید ایک مدفون اور مخفی چیز کی طرح تھا اور مسلمانوںکو اُس کی حقیقت کی خبر نہیں تھی۔ سو جب دارالشکوہ نے ہندو پنڈتوں سے کچھ وید کا ترجمہ چاہا تو انہوں نے اندیشہ کیا کہ اگر ہم مسلمانوں پر اصل وید کی حقیقت ظاہر کریں گے تو ہمارا پردہ اوڑ جائے گا بہتر ہے کہ اکبر بادشاہ کی طرح اُس کو بھی دام میں لاویں اور جہاں تک ہو سکے اس کے مزاج میں بھی کچھ الحاد ڈالیں تو اُنہوں نے اُس کو ناواقف سمجھ کر بعض اُپ نشدوں کا ترجمہ کروایا اور اب کھل گیا کہ وہ ترجمہ بھی صحیح نہیں۔بہرحال دارالشکوہ نے کمال غلطی کھائی کہ اُپ نشدون کو وید سمجھ بیٹھا اور اُس کے بہت سے خیالات پریشان تھے جن کی منشی صاحب کو خبر نہیں۔ چغتائی سلطنت پر پہلے آفت یہی نازل ہوئی تھی کہ اکبر اور اُس کے بعض بدنصیب نسل نے کلام الٰہی کو جیسا کہ چاہے قدر نہیں کی تھی اور ہندؤں کے شرک آمیز اور غلط گیان کی تلاش میں پڑ گئے۔
    اب ہم اس بات کو چھوڑ کر پروفیسر مذکور کی وید کی نسبت رائے لکھتے ہیں۔ وہ اپنی تمہیدی تقریر میں جو وید کی تفسیر کے پہلے لکھی ہے تحریر کرتے ہیں کہ
    حقیقت میں وید کے کسی فقرہ سے جو ہم کے اب تک دیکھے ہیں یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ وید کے مصنّف پیدا کنندہ عالم کے معتقد تھے اور ہندؤں کے پرستش کے دیوتاؤں کی جو وید میں لکھے ہیں۔ جیسے آگ، پانی، چاند، سورج اُن کی تعریفوں کی عبارت ایسی ہے جس میں صریح مخلوق کی صفتیں پائی جاتی ہیں اور پھر وہ لکھتے ہیں کہ لفظ آدم کہ جو پہلے زمانہ کے مذہب ہنوذ کی نشانی ہے اُس کا وید میں بالکل ذکر نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ان تینوں دیوتاؤں کے نام کا خلاصہ ہے۔ یعنی برہما کے اخیر کا الف لیا گیا اور وشن کی واؤ ڈالی گئی اور مہادیو کا میم لیا گیا۔ ان تینوں کے جوڑ سے آدم بن گیا اور تمام پنڈتوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ اوم کا لفظ ترہمورتی مذہب کا ایجاد ہے۔ مگر ترہمورتی مذہب یعنی جس میں تین مورتوں کی پرستش کا ذکر ہے وید میں نہیں ہے کیونکہ یوں تو وید میں بیسیوں دیوتاؤں کی پرستش کا ذکر ہے لیکن برہما، وشن، مہادیو کا کہیں نشان نہیں۔ ہاں وشن کی پرستش کے لئے ایک شُرتی آئی ہے مگر وہاں وشن کے معنی سورج ہیں۔ سورج وید کے دیوتاؤں میں سے ایک اوسط درجہ کا دیوتا ہے جس کا مرتبہ اگنی دیوتا سے کچھ نیچا اور بعض دوسرے دیوتاؤںسے کچھ اونچا ہے۔ اب دیکھئے منشی صاحب اپنے خط میں فرماتے ہیں کہ ہندؤں میں باوجود حق کے لئے اوم کا لفظ جو اسم ذات ہی قرار دیا گیا ہے کیاافسوس کا مقام ہے کہ منشی صاحب نے ایک ناواقف آدمی کی تحریر فضول پر اعتماد کلی کر کے اوم کے لفظ کو اسم ذات مقرر کر دیا۔ حالانکہ ابھی ہم ظاہر کر چکے ہیں کہ اوم کا لفظ ان متاخر مشرکین ہنوذ کا ایجاد ہے جنہوں نے برہما، وشن، مہادیو کی صورتوں کے پرستش اختیار کی تھی اور اب کرتے ہیں۔ان کی دانشمند پنڈتوں میں سے کوئی بھی اس بات سے ناواقف نہیں کہ اوم کا لفظ اسی ترہمورتی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختراع کیا گیا ہے۔ خدا سے اور خدا کی ذات سے اس کو کچھ علاقہ نہیں۔ بھلا اگر منشی صاحب کے نزدیک یہ اسم ذات ہی ہے تو پھر کئی پنڈت جیسے دیانند، کھڑک سنگھ، پنڈت شاستری صاحب وغیرہ جو اب تک جیتے جاگتے موجود ہیں۔ اُن کی شہادت اپنے بیان پر پیش کریں۔ واضح رہے کہ ہندوؤں میں دو قسم کے مخلوق پرست ہیں۔ ایک تو وہ جو صرف وید کے دیوتاؤں کو مانتے ہیں اور یہ فرقہ بہت کم پایا جاتا ہے اور دوسرے وہ گروہ جنہوں نے ترہمورتی کا مذہب ہزاروں برس کے بعد وید کے نکالا ہے۔ وہ برہما، وشن، مہادیو کو مانتے ہیں اور ادم کے لفظ کو بڑا مقدس سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ان دیوتاؤں کے ناموں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بہرحال ہماری بحث صرف وید سے متعلق ہے اور ہر چند ہم جانتے ہیں کہ اُپ نشدوں میں بہت سی غلطیاں ہیں اور ہم نے اوّل سے آخر تک اُپ نشدین غور سے پڑھے ہیں اور اُن کے ذلیل اور غلط خیالات پر بفضل خداوند ہادی مطلق اطلاع پائی ہے لیکن ہم کو ان کتابوں کی تفتیش سے کچھ بھی غرض نہیں۔ جس حالت میں خود ہندوؤں کے محققین اُن اُپ نشدوں کو برہمن پشتک جانتے ہیں تو پھر ہم کوکیا ضرور ہے کہ ان میں کچھ زیادہ طول کلام کریں۔ رہا وید سو ان میں جس قدر مخلوق پرستی ہے اُس کو تمام جاننے والے جانتے ہیں۔ پہلا وید اگنی کی ہی تعریف سے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ ۳۷ منتر تو اُس کی تعریف میں لکھے گئے ہیں اور پینتالیس منتر اندر کے مہابرنن میں ہیں۔ ایسا ہی ہوا اور پانی اور چاند اور سورج وغیرہ کی تعریف میں کئی منتر وید میں مندرج ہیں اور اگر منشی صاحب بطور نمونہ چاہیں تو ہم رگوید سنگتہا اشٹک اوّل پہلا ادہیائے اشلوک ایک میں سے چند شرتیاں لکھ دیتے ہیں تا منشی صاحب اپنے اُس کلمہ کو پھر یاد کریں کہ جو اُنہوں نے قرآن شریف کی عظمتوں اور بزرگیوں اور ہمارے ربّ کریم کے پاک اور کامل کلام کی شوکتوں اور شانوں کو یکبارگی نظر انداز کرکے جلد تر منہ سے نکال دیا اور کہا کہ وید میں بیان توحید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں نہیں ہے اور میں قبل از بیان یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ سخت ابتلا منشی صاحب کو ایسی عادت کی وجہ سے پیش آ گیا ہے کہ جو اپنے خط میں آپ لکھتے ہیں کہ میں مذہبی جھگڑوں سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ گویا منشی صاحب اس کام کو بنظر تحقیر دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ سارا قرآن شریف مذہبی جھگڑوں کے ہی ذکر میں ہے اور جو لوگ خدا کے بڑے پیارے ٹھہرے اُنہوں نے اُنہیں جھگڑوں میں جانیں دی تھیں۔ جب تک طالب حق ان جھگڑوں میں نہ پڑے دل کا صاف ہونا ہرگز ممکن نہیں۔ علم عقاید اور علم فقہ اور علم تفسیر اور علم حدیث مذہبی جھگڑے ہیں جو شخص مذہبی جھگڑوں میں سے نفرت کر کے علم قرآن حاصل نہیں کرتا اور حق اور باطل میں تمیز کرنے کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا وہ بڑی خطرناک حالت میں ہے اور اُس کی سوخاتمہ کا سخت اندیشہ ہے۔ اب وہ شرتیاں جن کاو عدہ کیا گیا تھا یہ ہیں۔
    (۱) میں اگنی دیوتا کے جو ہوم کا بڑا گروکارکن اور دیوتاؤں کو نظریں پہنچانے والا بڑا ثروت والا ہے مہا کرتا ہوں۔
    اب اس جگہ اگنی کو ایک ایسا دیوتا مقرر کیا کہ جو بطور وکیل کے دوسرے دیوتاؤں کو نذریں پہنچاتا ہے۔
    (۲) ایسا ہو کہ اگنی جس کا مہا زمانہ قدیم اور زمانہ حال کے رشی کرتے چلے آئے ہیں۔ دیوتاؤں کو اس طرف متوجہ کرے۔
    اس میں بھی آگ کو وکیل ٹھہرا کر اُس سے یہ چاہا ہے کہ وہ دیوتاؤں کو بھی ہندوؤں پر مہربان کرے۔
    (۳) اے اگنی دیوتاؤں کو یہاں لا۔ اُن کو تین جگہ بٹھا آراستہ کر۔
    اب دیکھئے! ان شرتیوں میں کچھ خدا تعالیٰ کا بھی پتہ لگتا ہے اور پھر اُن کے بعد اِندر کی بھی مہا لکھی ہے اور ایک شرتی میں اِندر کو کوشیکا کا بیٹا ٹھہرایا ہے اور کوشیکا گزشتہ زمانہ میں ایک رشی تھا۔ شارح اس کے یہ معنی لکھتا ہے کہ کوشیکا رشی کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی تھی۔ تب اُس نے اِندر دیوتا کی اشنٹ شروع کی اور بہت تپ جپ کیا اور چونکہ کوشیکا کے گھر میں بیٹا ہونا مقدر نہیں تھا مگر اِندر کو اُس پر رحم آیا۔ تب اِندر آپ ہی اُس کی عورت کے رحم میں جا پڑا اور تولد پا کر اُس کا بیٹا بن گیا۔ تب سے اِندر کا کوشیکا کا بیٹا نام رکھا گیا۔ اب مناسب ہے کہ منشی صاحب عبدالمعبود صاحب سے جو اُن کے زعم میں وید کے … ہیں۔ ان شرتیوں کے معنی پوچھیںکہ کیونکر ایک خدا کئی دیوتاؤں پر منقسم ہو گیا اور آگ و ہوا، پانی، سورج، چاند کا جسم پکڑا اور کیونکر وہ کوشیکا کے گھر میں پیدا ہوا۔ کیا یہ ایسا امر ہے جو چھپ سکتا ہے۔ پنڈت دیانند نے ناخنوں تک زور لگایا کہ وید میں توحید ثابت کرے۔ مگر آخر ناکام رہا۔ شاید ۱۸۷۶ء کا ذکر ہے کہ پنڈت دیانند نے کچھ اجزا وید بھاش کے تیار کر کے گورنمنٹ میں مع اپنے عریضہ کے بھیجے اور یہ درخواست کی کہ اُس کا یہ بھاش جس میں جا بجا سودائیوں کی طرح دیوتاپرستی کی دو راز کار تاویلیں لکھی ہیں اور خواہ نخواہ وید کو معلم التوحید قرار دینا چاہا ہے۔ یونیورسٹی میں پڑھایا جائے۔ گورنمنٹ نے بعض نامی گرامی پنڈتوں سے کیفیت طلب کی کہ آیا وید میں مخلوق پرستی ہے یا نہیں تو اُن سب نے بالاتفاق یہ کیفیت لکھی کہ وید میں دیوتا پرستی کی تعلیم ضرور ہے اور دیانند جو کچھ تاویلیں کرتا ہے یہ صحیح نہیں ہیں۔ اُن دنوں میں یہ تذکرہ اخبار وکیل شہر امرتسر میں بھی چھپ گیا تھا اور پھر اس عاجز نے بھی پنڈت دیانند کو لکھا کہ وید کی مخلوق پرستی کی تعلیم میں اگر کچھ عذر ہے تو کسی جگہ یہ ثابت کر کے دکھلاویں کہ وید میں آگ اور پانی اور سورج اور چاند وغیرہ مخلوق چیزوں کی پرستش سے کسی جگہ ممانعت بھی لکھی ہے اور کسی جگہ یہ بھی بیان کیا ہے کہ اے بندگان خدا جو کچھ رگووید وغیرہ میں مخلوق چیزوںکی پرستش کا حکم پایا جاتا ہے اور اُن سے مرادیں مانگی گئی ہیں اور پانی اور آگ اور سورج اور چاند وغیرہ سے خدا ہی مراد ہے تم نے دھوکہ نہ کھانا اورخدا کو واحد لاشریک سمجھنا اور ویدوں میں جو مخلوق پرستی کی تعلیم ہے اُس پر کچھ اعتبار نہ کرنا۔ لیکن پنڈت صاحب نے ہرگز ثابت نہ کیا اور کیونکر ثابت کر سکتے۔ ویدوں میں تو اس قدر مخلوق پرستی کھلی کھلی بیان ہے کہ کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتی۔ ابتدا میں برہمو سماج والوں نے ویدوں کے پڑھنے میں بڑی کوشش کی اور اُن کے بعض نامی گرامی آدمیوں نے بڑی محنت سے ویدوں کو پڑھا۔ سو آخر کار انہوں نے بھی یہ رائے ظاہر کی کہ وید مخلوق پرستی سے بھرا ہوا ہے۔ ابھی پنڈت شیونرائن نے تنقیح سے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں مفصل طور پر بیان کیا ہے کہ وید میں مخلوق پرستی کی تعلیم بکثرت ہے اور نیز کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ گورنر بمبئی نے ہندؤوں کی تاریخ میں ایک کتاب لکھی ہے اور یہ گورنر اپنی قوم میں فضیلت علمی سے نہایت مشہور ہے اور آنریبل کے لقب سے ملقب ہے۔ اُس نے اپنی کتاب کے صفحہ ۶۹ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ
    اکثر مقامات میں بید میں خداکا ذکر بھی ہے۔ لیکن بید کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے بعض کو انسان سے برتر پیدا کیا ہے۔ سُو اُن دیوتاؤں کی پرستش کرنی چاہئے اور وہ دیوتا جن کی پرستش کا وید میں حکم ہے۔ پانی اور آگ اور خاک اور ستاری وغیرہ ہیں۔
    اب دیکھئے! کہ اس آنریبل نے بھی ہماری رائے سے اتفاق کیا۔ پھر پنڈت سردہا رام پھلوری نے ایک رسالہ بنایا ہے اس میں تو علاوہ مخلوق پرستی کے مورتی پوجا یعنی بت پرستی کا ثبوت بھی دیا ہے لیکن برہمو سماج والوں نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا اُن کا بیان ہے کہ ویدوں میں دیوتا پرستی تو ضرور ہے اور بِلاشُبہ آگ و پانی وغیرہ چیزوں کی پرستش کے لئے اس میں صریح حکم ہے اور اُن چیزوں کی حمدو ثنا ہے لیکن مورتی پوجا کا صریح طور پر اس میں حُکم نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ بابو نوین چند رائے نے جو اَب لاہور میں موجود ہیں اور ویدوں کو سنسکرت میں پڑھا ہوا ہے اپنی کتاب اکشاستک میں اُس کو بہ تفصیل لکھا ہے اُن کی یہ اپنی عبارت ہے کہ برتمالو جن کا بدہان بیدوں میں نہیں پایا جاتا۔ مخلوق پرستی کی تعلیم بھی اور کسی جگہ نہیں۔ اس کا یہ باعث ہے کہ وید ایک شخص کی تالیف نہیں ہے۔ وید متفرق لوگوں کے خیالات ہیں۔ پس جن پر مخلوق پرستی غالب ہے اُنہوں نے اپنے کلام میں مخلوق پرستی کی تعلیم کے اور جو لوگ کچھ توحید پسند کرتے تھے اُنہوں نے توحید میں گفتگو کی لیکن جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں پروفیسر ولسن صاحب کی یہ رائے ہے کہ جہاں تک ہم نے ویدوں کو دیکھا ہے ان تمام مواضع میں مخلوق پرستی بھری ہوئی ہے اور خالق الکائنات کا نام و نشان۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ جن ویدوں کا یہ حال ہے کہ باتفاق تمام محققین کے مخلوق پرستی کی تعلیم کرتے ہیں۔ اُن کی تعریف کرتے وقت خدا سے ڈرنا چاہئے اور جو منشی صاحب لکھتے ہیں کہ ویدوں میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی بشارت ہے ان باتوں کو منشی صاحب پوشیدہ رکھیں تو بہتر ہے تا مخالف خواہ نخواہ ہنسی نہ کریں۔ ان دنوں میں وید کوئی ایسی چیز نہیں کہ کسی جگہ دستیاب نہ ہو۔ جا بجا کتب فروشوں کی دوکان میں پائے جاتے ہیں۔ صدہا آدمی وید خوان ہیں۔ یہاں تک کہ اس عاجز کے گاؤں کے قریب ایک دہقان چاروں وید پڑھ کر آ گیا ہے اور وید اُس کے پاس مجوود ہیں۔ کئی دفعہ اُس کا مجھ سے مباحثہ بھی ہوا ہے۔ رگوید اس عاجز کے پاس بھی موجود ہے اور پنڈت دیانند اور بعض اور پنڈتوں کے کچھ کچھ اجزا وید بھاش کے بھی موجود ہیں اور انگریزوں نے بھی بڑی محنت سے ویدوں کو ترجمہ کیا ہے۔ منشی صاحب کا خیال مجھ کو اس قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ جو ابوالفضل نے آئین اکبری میں ایک قصہ لکھا کہ
    اکبر بادشاہ کے وقت دکھن کی طرف سے ایک پنڈت آیا اور اُس کا دعویٰ تھا کہ ویدوں میں کلمہ شریف لکھا ہوا ہے۔ بادشاہ نے بڑے بڑے پنڈت اکٹھے کئے، تاویلیں دیکھیں کہ اگر فی الحقیقت کلمہ طیبہ وید میں لکھا ہوا ہے تو ہندوؤں کی ہدایت کے لئے یہ بڑی حجت ہوگی۔ جب پنڈت جمع ہوئے اور اُن کو وہ متوقع دکھایا گیا تو اُس کے کچھ اور ہی معنی نکلے۔ جس کو کلمہ طیبہ سے کچھ علاقہ نہیں۔ تب بڑی ہنسی ہوئی اور وہ پنڈت جو ایسا دعویٰ کرتا تھا بڑا شرمندہ ہوا۔ آپ کی تاکید کی وجہ سے یہ لکھا گیا۔ نواب محمد علی خان صاحب کو کسی اور موقعہ پر اس عاجز کی طرف سے تعزیت کریں۔ دنیا مصیبت خانہ ہے۔ خداوند کریم اس مصیبت عظمیٰ کا اُن کو اجر بخشے اور صبر جمیل عطا فرماوے۔
    (۱۱؍ جولائی ۱۸۸۳ء مطابق ۶؍ رمضان ۱۳۰۰ھ)

    مکتوب نمبر۲۳
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    منشی صاحب کے خیالات اگرچہ بہت ہی حیرت انگیز ہیں پر اُس پُر فتنہ زمانہ میں جائے تعجب نہیں۔ خداوندکریم رحم کرے۔ منشی صاحب جو ہندؤوں کی کئی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ اُن کو یہ بھی خبر نہیں کہ اکثر ان کتابوں میں سے اُردو میں بھی ترجمہ ہوچکی ہیں اور منوکادہرم شاستر تو سرکاری طور پر ترجمہ ہو کر وکلا کی امتحانی کتابوں میں داخل ہے اور گیتا اُردو میں ترجمہ کی ہوئی جا بجا موجود ہے اور ایک ہندو نے اُس کو نظم میں بھی کر دیا ہے اور شام وید اور تھرین وید بھی کچھ پوشیدہ کتابیں نہیں ہیں۔ آج کل آریہ سماج والوں کی ستاویز بھی یہی کتابیںہیں اور یہ شام اور اتھرین اور رگ اور یجر دیانند کے پاس موجود ہیں اور اس کے وید بھاش ماہ بماہ چھپتے ہیں۔ ایک طرف انگریزوں نے بھی ویدوں کو انگریزی میں ترجمہ کر دیا ہے برہمو سماج والے بھی ویدوں کی حقیقت پر بکلی ماہر ہیں۔ کچھ حصہ وید کا اُردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ تمام لوگ اتفاق کر کے ایک پیشگوئی جو وید میں صریح وارد ہوچکی تھی چھپاتے۔ ہرگز ممکن نہیں۔ وید کے محققوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وید میں کسی قسم کی پیشگوئی نہیں یہاں تک کہ پنڈت دیانند کا مقولہ ہے کہ وید میں رام چندر و کرشن وغیرہ کے پیدا ہونے کی بابت بھی کوئی تذکر نہیں اور یہ بات اور بھی عجیب ہے کہ پہلے منشی صاحب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور و بعثت کی خبر ویدوں میں لکھی ہے۔ پھر اب یہ دعویٰ ہے کہ وہ خبر پورانوں اور پوتھیوں میں بھی لکھی ہے یہ اچھا ہوا کہ منشی صاحب کو بحث مباحثہ کا شوق نہیں ورنہ پنڈتوں اور انگریزوں اور برہمو سماج والوں کے روبرو بڑی ندامتیں اُٹھاتے۔ اب آپ اس تذکرہ کو طول نہ دیں اور ان کے حق میں دعائے خیر کریں اور جو کچھ منشی صاحب نے کلمات الحاد آمیر لکھے ہیں اور اُن کی تائید میں شعروں کا حوالہ دیا ہے۔ اُن کے جواب میں بجز اس کے کیا لکھا جائے کہ اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ اُمَّتِ مَحَمَدَّ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ان الذین عند اللّٰہ الاسلام ومن یتبغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھوفی الاخرۃ من الخسرین
    سچا رہنما قرآن شریف ہے اور اُس کی پیروی اسی جہان میں نجات کے انوار دکھلاتی ہے اور سعادت عظمی تک پہنچاتی ہے مَن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا۔ جومعارف حصہ کے حصول کے لئے پوری پوری کوشش کرے اور صرف قیل و قال میں بہت پھنسا نہ رہے۔ اُس پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ باطنی نعمتوں کے حاصل کرنے کیلئے ایک ہی راہ ہے۔ یعنی یہ کہ متابعت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کی جائے اور تعلیم قرآنی کو اپنا مُرشد اور رہبر بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ہندؤوں اور عیسائیوں میں کئی لوگ ریاضت اور جوگ میں محنت کرتے ہیںکہ جس سے اُن کا جسم خشک ہو جاتا ہے اور برسوں جنگلوں میںکاٹتے ہیںاور ریاضاتِ شدیدہ بجا لاتے ہیں۔ لذات سے بکلّی کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ انوارِ خاصہ اُن نصیب نہیں ہوتے کہجو مسلمانوں کو باوجود قلت ریاضت اور ترک رہبانیت کے نصیب ہوتے ہیں۔
    پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ صراطِ مستقیم وہی ہے جس کی تعلیم قرآن شریف کرتا ہے۔ بلاشُبہ یہ سچ بات ہے کہ اگر کوئی توبہ نصوح اختیار کر کے دس روز بھی قرآنی منشاء کے بموجب مشغولی اختیار کرے تو اپنے قلب پر نور نازل ہوتا دیکھے گا یہ خصوصیت دین اسلام کی بلا استعمال نہیں۔ صدہا پاک باطنوں نے اسی راہ سے فیض پایا ہے۔ جو لوگ سچے دل سے یہ راہ اختیار کرتے ہیں خدا اُن کو ہرگز ضائع نہیںکرتا اور اُن میں وہ انوار پیدا کر دیتا ہے جس سے ایک عالم حیران رہ جاتا ہے۔ بجز اس کے سب حجاب ہیں جو اُن لوگوں کو پیش آئے جن کا سلوک کمال تک نہیں پہنچا تھا۔ کاش! اگر وہ زندہ ہوتے تو انکی حقیقت ان کے تابعین پر کھل جاتی۔ کئی ایسے مُردے ہیں جن کی بیہودہ تعریفیں کی گئی ہیں لیکن کاملوں کا نشان یہی ہے کہ وہ اپنے نبی معصوم کی پوری پوری متابعت اختیار کرتے ہیں اور اُس کی محبت میں محو ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم میں صریح فرق ہے اور کوئی ایسا طالب نہیں جس پر یہ فرق ظاہر نہ ہو سکے۔ پھر مشکل تو یہ ہے کہ بعض لوگ طالب ہی نہیں ہیں۔ دُنیا کے لئے کچھ محنت نہیںکرتے۔ ایک پیسہ کا برتن بھی دیکھ بھال اور ٹھوک بجا کر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی ٹوٹا ہوا نکلے لیکن دین کا کام صرف زبان کے حوالہ کر رکھا ہے اور فعل کے سچے امتحان سے اس کو نہیں آزماتے اور آنکھ کھول کر نہیں دیکھتے اور دلی اخلاص سے طالب بن کر جستجو نہیں کرتے۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ وسلام علیکم وعلی کل من اتبع الھدی۔
    (یکم اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷؍ رمضان ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۲۴
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آن مخدوم کا عنایت نامہ عین انتظاری کی حالت میں پہنچا۔ خداوند کریم کے تفضلات اور احسانات کا کہاں تک شکر کروں اور کیونکر اُس کی نعمتوں کا حق بجا لاؤں کہ اس پر ظلمتِ زمانہ میں مجھ جیسے غریب، تنہا، نالائق، بے ہُنر کے لئے آپ جیسے مخلص دوست اُس نے میسر کئے۔ سو اُسی سے میں یہ بھی دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو اپنے الطاف جلیہ اور خفیہ سے متمتع کرے اور اپنے توجہات خاصہ سے دستگیری فرماوے اور اپنی طرف انقطاع کامل اور تبتل تام بخشے۔ آمین ثم آمین۔ اور یہ تبتل تام جس کی آپ تشریح دریافت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا مقام اعلیٰ ہے جو بغیر فنائے اَتم کے کامل طور پر حاصل نہیںہوتا بلکہ فی الحقیقت اسی کا نام فنائے اَتم ہے جو تبتل تام حاصل ہو جائے اور تبتل تام تب حاصل ہوتا ہے کہ جب ہر یک حجاب کا خرق ہو کر رابطہ انسان کا محبت ذاتی تک پہنچ جائے۔ حجاب دو قسم کے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو بدیہی طور پر معلوم ہوتے ہیں اور کچھ نظر اور فکر کی حاجت نہیں۔ جیسے خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف توجہ کرنا۔ مخلوق سے مرادیں اور حاجات مانگنا اور مخلوق کا اپنا تکیہ گاہ اور پناہ سمجھنا۔ اپنے ننگ اور ناموس اور عزت اور نام کی حفاظت میں مبتلا رہنا اور بجز ایک متصرف حقیقی کے کسی سے خوف یا کسی پر کچھ امید رکھنا اور زید عمرو کے وجود کو وجود سمجھنا کسی کو کارخانہ الوہیت کا شریک سمجھ کر حق الوہیت میں شریک ٹھہرا دینا۔ عبادات یا اعتقادات میں کسی کو خدا تعالیٰ کی طرح خیال کرنا۔ حضرت باری کے امر اور نہی کو توڑ کر اپنے نفس کی خواہشوں کا تابع ہونا اور نفس امّارہ کی پیروی کرنا اور بندی اور فرمانبرداری کی حد پر نہ ٹھہرنا۔ یہ تو وہ سب حجب ہیں جو بدیہی ہیں جو عام طور پر ہر یک کو سمجھ آ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ فطرت صحیحہ میں کچھ خلل نہ ہو۔ دوسری قسم کے حجاب وہ ہیں جو نظری ہیں۔ جن کے سمجھنے کے لئے کامل درجہ پر عقل سلیم اور فہم مستقیم چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اسماء اور صفات الٰہیہ تک رابطہ محدود رہے اور ذات بحت سے حقیقی طور پر تعلق حاصل نہ ہو۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی عبادت بغرض حصول اُس کے انعام و اکرام کے کرتا رہے وہ ہنوز اسماء و صفات الٰہیہ پر نظر رکھتا ہے اور محبت ذاتی کے شربت عذب سے ابھی کچھ اُسے نصیب نہیں اور اس کا رابطہ معرض خطر میں ہے کیونکہ اسماء و صفات الٰہیہ ہمیشہ ایک ہی رنگ میں تجلی نہیں فرماتیں اور کبھی جلال کبھی جمال اور کبھی قد اور کبھی لطف ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں قسموں کے حجابوں سے جو شخص باہر آ جائے اور اپنے مولیٰ حقیقی سے ذاتی طور پر محبت پیدا ہو جس کو کوئی چیز روک نہ سکے اور منجملہ ظاہری اور باطنی اور افاقی اور انفسی حجابوں کے کوئی حجاب باقی نہ رہے تو یہ وہ مرتبہ ہے جس کو تبتل تام کہناچاہئے۔ اس مرتبہ کا خاصہ ہے کہ انعام اور ایلام محبوب کا ایک ہی رنگ میں دکھائے دیتا ہے بلکہ بسا اوقات ایلام سے اور بھی زیادہ محبت بڑھتی ہے اور پہلی حالت سے آگے قدم بڑھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جب محبت ذاتی کی موجیں جوش میںآتی ہیںتو اسماء اور صفات پر نظر نہیں رہتی اور انسان کا سارا آرام محبوب حقیقی کی یاد میں ہو جاتا ہے اور وجہ اللہ کا تعلق ذات باری کی بیچون اور بیچگون ہوتا ہے اور محب صادق کسی کو اس بات کی وجہ نہیں بتلا سکتا کہ کیوں وہ اس محبوب سے محبت رکھتا ہے اور کیوں اس کے لئے بدل و جان فدا ہو رہا ہے اور اس محبت اور اطاعت اور جاں فشانی سے اُس کے غرض کیا ہے کیونکہ وہ ایک جذبہ الٰہی ہے جو بطور موہیت خاصہ محب صادق پر پڑتا ہے ۔ کوئی مصنوعی بات نہیں جس کی وجہ بیان ہو سکے۔ یہی انقطاع حقیقی اور تبتل تام کی حالت ہے اور یہی وہ موت روحانی ہے جس کی اہل اللہ کے نزدیک فناء سے تعبیر کی جاتی ہے کیونکہ اس مرتبہ پر نفس امّارہ کا بکلّی تزکیہ ہو جاتا ہے اور بباعث محبت ذاتی کے اپنے مولیٰ کریم کی ہر یک تقدیر سے موافقت تامہ پیدا ہو جاتی ہے اور جو کچھ اس دوست کے ہاتھ سے پہنچتا ہے پیار ا معلومہوتا ہے اور اس کا قہر اور لطف سب لطف ہی دکھائی دیتا ہے اور حقیقت میں وہ سب لطف ہی ہوتا ہے۔ ہر محب صادق نہ قہر سے غرض رکھتا ہے نہ لطف سے۔
    غریق ورطۂ بحر محبت
    نہ بر مہرش نظر باشد نہ برکیں
    چناں رویش خوش افتد ارسر عشق
    کہ قرباں میکند بردے دل و دین
    شب و روزش بدیں سرکار باشد
    دل و جانش شودآں یار شیریں
    بسوز دہر چہ غیر یار باشد
    ہمیں ایں عشق را رسم است و آئین
    اور اس عاجز کا یہ مصرع کہ
    قربان میکند بروے دل و دین
    یہ معنی رکھتا ہے کہ قبل از جذبہ عشق جو کچھ انسان کے دل میں رسوم اور عادات بھری ہوئی ہوتی ہیں اور کچھ جو جہل مرکب کی باتیں اوپر تعصب خیالات اس کے سینہ میں جمع ہوئے ہیں۔ اصل میں وہی اس کا دین ہوتا ہے جس کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا اور جب جذبۂ عشق اس پر غالب آتا ہے تو وہ خیالات کو جو تپ دِق کی طرح رگ و ریشہ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں بآسانی چھوٹ جاتے ہیں اور بعد اس کے عشق الٰہی ایک پاک دین تعلیم کرتا ہے کہ جو عادت اور رسم کی آلودگی سے منزہ ہے اور تعصبات کے لوث سے پاک ہے۔ بس نافع اور مبارک دین یہی ہوتا ہے جو عشق کے بعد آتا ہے اور جو عشق کے اوّل خیالات ہیں۔ وہ بہت ہی زہروں سے بھری ہوئے ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی لائق ہیں کہ عشق پر فدا کئے جائیں اور اُن کے عوض میں وہ پاک خیال کہ جو عشق کے صافی چشمہ سے نکلے ہیں اور جو ہر یک تعصب اور رسم اور عادت سے منزہ ہیں حاصل کئے جائیں اور خیالات ایسی سختی سے نفس پر قابض ہوتے ہیں کہ بغیر جذبۂ عشق کے ہرگز ممکن ہی نہیں کہ اُٹھ سکیں۔ مدار کار جذبہ عشق پر ہے جو قلب پر مستولی ہوتا ہے اور جب وہ مستولی ہوتا ہے تو نفس اپنی اندرونی آلائش سے پاک ہو جاتا ہے اور نفس کے چھپے ہوئے جو عیب تھے اُس سے دور ہوتے ہیں کہ جب عشق الٰہی کے بھڑکتے ہوئے آگ دل پر وارد ہوتی ہے۔ نقد اعمال صالحہ جن پر کشود کار موقوف ہے تب ہی صادر ہوتے ہیں کہ جب اُن کو حرکت دینے والا عشق ہوتا ہے کوئی اور غرض فاسد نہیں ہوتی اور مجرد اعمال صوری اور عبادات رسمی سے کوئی عقدہ نہیں کھلتا بلکہ جب تک سالک رسم اور عادت کی بدبودار مزبلہ سے باہر نہیں آتا مورد غضب الٰہی رہتا ہے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے منہ پھیر رہا ہے اور اُس کے غیر کی طرف متوجہ ہے۔ وجہ یہ کہ رسم اور عادت بھی ماسوا اللہ ہے اور ہر یک ماسوا اللہ خدا سے دور ڈالتا ہے اور سلامتی قلب میں خلل انداز ہے۔ سو سالک کے لئے جو بات سب سے پہلے لازم ہے وہ یہی ہے کہ رسم اور عادت سے باہر ہو اور پھر خلوص نیت سے مااتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھو پر عمل کرے تا شفا پاوے اور ایمان حقیقی سے حصہ حاصل کرے مگر افسوس کہ بہت سے علماء ظاہری اسی سے تباہ ہو رہے ہیں کہ رسوم اور عادات کے رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے مرتے ہیں اور اس حقیقت اور حق بینی سے انسان کا دل منور ہوتا ہے اور جس دولت اور سعادت سے باطنی افلاس دور ہوتا ہے اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے کیا بدقسمتی ہے۔ ہائے! ہائے!
    خلق و عالم جملہ در شور و شراند
    عشق بازاں در مقام دیگر اند
    گرد لازیں کوچہ بیرون نگذریم
    ہم سگان کوچہ از ما بہتراند
    خداایسا نہیں کہ دھوکا کھا سکے۔ اس کی دلوں پر نظر ہے اور حقیقتوں پر نگاہ ہے۔ وہ رسموں اور عادتوں سے ہرگز خوش نہیں ہوتا اور جب تک بندہ مقام اخلاص کا حاصل نہ کرے۔ یعنی مرنے سے پہلے ہی نہ مرے اور افاقی اور انفسی شرکوں سے بکلّی باہر نہ آوے تب تک الطاف اللہ اس کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہوتیں۔ تب ہی کمال ایمان میسر آتا ہے کہ جب وہ موت کو جس کو ابھی میں نے اخلاق سے تعبیر کیا ہے اور حقیقت اسلام بھی تبھی اپنا چہرہ مصفا دکھاتی ہے کہ جب یہ موت حاصل ہو جائے۔ حق تعالیٰ ہم کو اور آپ کو اور ہر یک کو جو طالب ہے اس اخلاص سے بہرہ مند کرے۔ زمانہ سخت زہرناک ہوائیں چلا رہا ہے جس سے تمام کاروبار منقلب ہوا جاتا ہے۔ ہر یک بات مالک حقیقی کے اختیار میں ہے۔ ہم عاجز بندوں کا کام عبودیت ہے۔ فتح اور شکست سے مطلب نہیں۔ عبدویت سے مطلب ہے۔ اس راہ میں جنہوں نے بہت سی خدمتیں کیں پھر بھی وہ سیر نہ ہوئے پھر ہمیں کیونکر آرام ہو جنہوں نے اب تک کچھ بھی نہیں کیا۔ سو ہمارا سب غم اور حزن خدا کے سامنے ہے۔ ابھی وہ حال ہے کہ جو صرف بیرونی حملوں پر کفایت نہیں بلکہ بعض ناشناس بھائی اندرونی حملے بھی کر رہے ہیں لیکن ہم عاجز بندوں کی کیا حقیقت اور بضاعت ہے۔ وہی ایک ہے جس نے اپنے عاجز اور ناتوان بندہ کو ایک خدمت کے لئے مامور کیا ہے۔ اب دیکھئے کہ کب تک اس ربّ العرش تک اس عاجز کی آہیں پہنچتی ہیں۔ آپ نے لکھا تھا کہ بعض احباب علماء کی طرف سے یہ فتویٰ لائے ہیں کہ اتباع قال اللہ وقال الرسول اور ترجیح اُس کی دوسرے لوگوں پر کفر ہے مگر یہ بندہ عاجز کہتا ہے کہ زہے سعادت کہ کسی کو یہ کفر حاصل ہو۔
    گر ایں کفرم بدست آید برو قربان کنم صد دین
    خداوندا بمیرانم بریں کفرو بریں آئین
    حضرت افضل الرسل خیر الرسل فخر الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اور اس کے پاک اور کامل حدیث اور خدا کا سچا نور اور بلاریب کلام ترک کر کے پھر اور کونسی پناہ ہے جس کی طرف رُخ کریں اور اُس سے زیادہ کون سا چہرہ پیارا ہے جو ہماری دلبری کرے۔
    گر مہر خویش برکنم از روئے دلبرم
    آن مہر برکہ افگنم آن دل کُجا برم
    من آں نیم کہ چشم بہ بندم زردے دوست
    دربینم ایں کہ تیر بیاید برابرم
    آپ کسی کی بات کی طرف متوجہ نہ ہوں اور عاشق صادق کی طرح قول اور فعل سے، مدح سے، ثنا سے، متابعت سے فنا فی الرسول ہو جائیں کہ سب برکات اس میں ہیں۔ اکثر لوگوں پر عادت اور رسم غالب ہو رہی ہے اور بڑی بڑی زنجریں پانوں میں پڑی ہوئی ہیں اور کوئی اس طرح آ نہیں سکتا۔ مگر جس کو خدا کھینچ کر لاوے۔ سو صبر سے استقامت سے اُن کے جوروجفا کا تحمل کرنا چاہئے دنیا اُنہیں سے دوستی رکھتی ہے جو دنیا سے مشابہ ہوتے ہیں مگر جو خدا کے بندہ ہیں گو وہ کیسے ہی تنہا اور غریب ہوں تب بھی خدا اُن کے ساتھ ہے اِنَّ اللّٰہَ لَاْیَھْدِیْ مِنْ ھُوْ مُسْرِفُ کَذَّابُ۔ آپ کے سب دوستوں کو سلام مسنون پہنچے۔
    (۱۹؍ اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹؍ شوال ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۲۵
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ عاجز دعا سے غافل نہیں مگر ہر ایک امر وقت پر موقوف ہے اور آپ میں آثار سعادت اور رُشد کے ظاہر ہیں کہ آپ کی حقیقت بینی پر نظر ہے اور صدق اور وفا اور حسن ظن کا خلق موجود ہے۔ پس یہ وہ چیزیں ہیں جس کو مولیٰ کریم کی طرف سے عطا کی جاتی ہیں۔ اس کے لئے استقامت کا عطا ہونا ساتھ ہی مقدر ہوتا ہے۔ خداوند تعالیٰ بغایت درجہ کریم و رحیم ہے۔ وہ جس دل میں ایک ذرّہ بھی اخلاص اور صدق پاتا ہے اُس کو ضائع نہیں کرتا۔ آپ بعض اپنے دوستوں کے تغیر حالت سے دل شکستہ نہ ہوں۔ مولوی صاحب کی وہ حالت ہے کہ نہ اُنہوں نے ارادت کے وقت اس عاجز کو شناخت کیا اور نہ فتح ارادت کے وقت پہچانا۔ سو اُن کی نہ ارادت قابل اعتبار تھی نہ اب فتح ارادت معتبر ہے۔ ارادت اور فتح ارادت وہی معتبر ہے جو علیٰ وجہ البصیرت ہو اور اگر علی وجہ البصیرت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ مسجد کا زینہ تیار ہو گیا ہے۔ عجب فضل الٰہی ہے کہ شاید پرسوں کے دن یعنی بروز شنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی ہے تو اُسی وقت خداوند کریم کی طرف سے ایک اور فقرہ الہام ہوا اور وہ یہ ہے فِیْہِ بَرَکات للناس۔ یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذالِکَ ہرسہ حصہ کی کتابیں اگرچہ اس وقت زبانی یاد نہیں مگر شاید قریب دو سَو کے کتاب باقی ہوگی۔ وَاللّٰہ اَعْلَمُ صفحہ۳۱ فتوح الغیب کی شرح یہ ہے کہ سالک کا چار حالتوں پر گذر ہوتا ہے اور حالت چہارم سب سے اعلیٰ ہے اور وہی ترقیات قُرب کا انتہائی درجہ ہے جس پر سلسلہ کمالات ولایت کا ختم ہو جاتا ہے۔
    تفصیل اس کی یہ ہے کہ پہلی حالت وہ حالت ہے کہ جب انسان ناسوتی آلائشوں میں مبتلا ہوتا ہے اور شتر بے مہار کی طرح جو چاہتا ہے کھاتا ہے اور جو چاہتا ہے پیتا ہے اور جس طرف چاہتا ہے چلتا ہے۔ سو وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ ناگاہ حضرت خداوندکریم اُس پر نظر کرتا ہے اور باطنی اور ظاہری طور پر توبہ کا سامان اس کے لئے میسر کر دیتا ہے۔ باطنی طور پر یہ کہ ایک جذبہ قویہ خداوندکریم کی طرف سے اس کے شامل حال ہو جاتا ہے اور وہی جذبہ درحقیقت واعظ باطنی ہے اور اُسی سے فسق و فجور کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور انسان اپنے نفس میں قوت پاتا ہے کہ تا نفس امّارہ کی پیروی سے دستکش ہو جائے اور اگرچہ پہلے اس سے ایک اور کمزور جیسا واعظ بھی انسان کے نفس میں موجود ہے جو کو لمۃ الملک سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ بھی نیکی کیلئے سمجھاتا رہتا ہے اور نیک کام کرنے پر فی الفور گواہی دیتا ہے کہ تو نے یہ اچھا کام کیا ہے اور بَد کام کرنے پر فی الفور گواہی دیتا ہے کہ تو نے یہ بَد کام کیا ہے۔ یہاں تک کہ چور چوری کرنے کے بعد اور زانی زنا کرنے کے بعد اور خونی خون کرنے کے بعد کبھی کبھی باوجود اُن سخت پردوں کے اُس لمۃ الملک کی آواز سن لیتا ہے۔ یعنی اُس کا دل فی الفور اُسے کہتا ہے کہ یہ تو نے اچھا کام نہیں کیا۔ بُرا کیا ہے لیکن چونکہ یہ ضعیف واعظ ہے اس لئے اُس کا وعظ اکثر بے فائدہ جاتا ہے اور اگرچہ اس کے ساتھ کوئی واعظ ظاہری بھی مل جائے یعنی کوئی صالح انسان نصیحت بھی کرے تب بھی کچھ کار براری کی امید نہیں کیونکہ نفس سخت اژدھا ہے کمزوروں سے وہ قابو میں نہیں آتا اور اگر کچھ مغلوب بھی ہو جاتا ہے تو صرف اس قدر کہ عارضی اور بے بنیاد توبہ توبہ کرتا ہے اور حقیقی سعادت کی تبھی نسیم چلتی ہے کہ جب جذبہ الٰہی شامل حال ہو۔ سو کامل واعظ جو باطنی طور پر بھیجا جاتا ہے جذبہ ہے اور ظاہری طور پر توبہ کا یہ سامان میسر ہو جاتا ہے کہ کسی صالح کی صحبت میسر آ جاتی ہے اور فسق و فجور کی مہلک زہر سے اطلاع ہو جاتی ہے۔ سو یہ دونوں مل کر چکی کے دو پاٹ کی طرح نفس امّارہ کو پیس ڈالتے ہیں اور باجبرواکراہ معاصی اور فسق فجور سے جدا کرتے ہیں۔ سو یہ دوسری حالت ہے کہ جو ترقیات قرب کے راہ میں سالک کو پیش آتی ہیں اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا نام جبروتی حالت ہے کیونکہ وہ جبر اور اِکراہ کے ساتھ نفسانی خواہشوں سے باہر آتا ہے اور جذبہ باطنی اپنے طور پر اور واعظ ظاہری اپنے طور پر اُس پر جبر کرتا ہے اور مالوفات نفسانیہ سے سختی اور درشتی کے طور پر الگ کر دیتے ہیں۔ پھر جب اُس پر صفایت الٰہیاس کو قائم کر دیتی ہے تو اس کے لئے خدا کے حکموں پر چلنا اور اس کی نہی سے پرہیز کرنا آسان کیا جاتا ہے اور شوق اور ذوق اور اُنس سے اُس کو حصہ دیا جاتا ہے۔ پس وہ اس جنت سے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری بلاتکلف اس سے صادر ہوتی ہے اور جو حالتِ دوم میں بوجھ اور ثقل تھا وہ دور ہو جاتا ہے اس لئے وہ ملائک سے تشبہ پیدا کر لیتا ہے اور یہ حالت ملکوتی حالت ہے اور اس حالت میں سامل کا اکل و شرب اور ہر یک مابہ مابہ الاحتظاظ امر سے وابستہ ہوتا ہے۔ یعنی ہوا و ہوس کے اتباع سے بکلّی رستگار ہو جاتا ہے اور وہی بجا لاتا ہے جس کے بجا لانے کے لئے شرعا یا الہاماً مامور ہو اور پھر بعد اس کے حالت چہارم ہے جس کو لاہوتی حالت سے تعبیر کرنا چاہئے اور جب سالک اس حالت تک پہنچ جاتا ہے تو صرف یہی بات نہیں کہ اپنے ہوا ہوس سے خلاصی پاتا ہے بلکہ بکلّی اپنے ہوا و ہوس سے اور نیز اپنے ارادہ سے محو ہو جاتا ہے۔ تب انسان خدا کے ہاتھ میں ایساہوتا ہے جیسا مردہ بدست زندہ ہوتا ہے اور الوہیت اس فانی پر اپنے تجلیات تامہ ڈالتی ہے اور ارادت ربّانی علی وجہ البصیرت اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ خدا کی طرف سے صاحب علم صحیح ہوتا ہے اور ہر یک ابتلا اور آزمائش سے باہر آ جاتا ہے اور یہ مرتبہ ملائک سے برتر ہے۔ ملائک کو یہ حالت چہارم جو غلبہ مشق سے پیداہوتی ہے عطا نہیں ہوتی یہ خاص انسان کے حصہ میں آئی ہے۔ وَذٰالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ اور جیسی بصیرت کاملہ ایسی حالت سے مخصوص ہے۔ ایساہی صلاحیت کاملہ بھی اسی حالت سے وابستہ ہے کیونکہ پہلی حالت میں نقصان علمی و عملی سے خالی نہیں ہیں بلکہ نقصان علمی و عملی ان کے لازم حال پڑا ہوا ہے کیونکہ خدا میں اور اُن میں اپنا وجود حائل ہے۔ بس وہی وجود ایک حجاب بن کر علم اور اخلاص کے ناقص رہنے کاموجب ہے لیکن حالت چہارم میں وجود بشری بکلّی اُٹھ جاتا ہے اور کوئی حجاب درمیان میں نہیں رہتا اور اس حالت میں عارف کااَکل و شرب اور ہر یک مابہ الاحتطاظ اور اُس کے شعور اور ارادہ سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پودے کی طرح بے حس و حرکت ہے اور مالک جب مناسب مناسب دیکھتا ہے تو اُس کی آبپاشی کرتا ہے۔ اُس کو اس طرف خیال بھی نہیں آتا کہ کیا کاؤں گا اور کیا پیوں گا اور جیسے ایک بے ہوش کو خواہ کوئی لات مار جائے۔ خواہ پیار دے جائے۔ یکساں ہوتا ہے ایسا ہی جامِ عشق سے مست وہ ہوش ہے اور اپنے نفس کے انتظاموں سے فارغ ہے۔ سو جیسے مادر مہربان اپنے نادان بچے کو وقت پر آپ دودھ پلاتی ہے اور اس کی بالشت نابالشت کی آپ خبر رکھتی ہے ایسا ہی خداوندکریم اس ضعیف اور عاجز بشر کا کہ جو اس کی محبت کے سخت جذبہ سے یکبارگی اپنے وجود سے اور اُس کے نفع و نقصان کے فکر سے کھویا گیا ہے آپ متولی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے دوستوں کا آپ دوست اور اُس کے دشمنوں کا آپ دشمن بن جاتا ہے اور جو کچھ اُس کو اپنے دوستوں اور دشمنوں سے معاملہ کرنا چاہئے تھا وہ اُس کی جگہ آپ کرتا ہے۔ غرض اُس کے سب کاموں کو آپ سنبھالتا ہے اور اُس کی سب شکست ریخت کی آپ مرمت کرتا ہے اور وہ درمیان نہیں ہوتا اور نہ کسی بات کا خواستگار ہوتا ہے اور یہ جو صفحہ۲۳۰ کے سر پر عبارت ہے۔ فیسا کل بالامر یعنی تیسری حالت کا سالک امر حق کے ساتھ کھاتا ہے اور پھر صفحہ۲۳۱ میں حالت چہارم کے مقرب کی نسبت بھی لکھا ہے۔ فیقال لہ تلبس بانعم والفضل یعنی اس کو بھی کھانے پینے کے لئے امر ہوتا ہے تو ان دونوں امروں میں فرق یہ ہے کہ حالت سیوم میں تو سالک کے نفس میں ارادہ مخفی ہوتا ہے اور اس کا یہ مشرب ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ فلاں حظ کے اُٹھانے کے لئے مجھ کو اجازت فرما دے تو میں اس کو اُٹھاؤں گا اور گو وہ اتباع نفس سے پاک کیا جاتا ہے لیکن متابعت امر کے پیرایہ میں وہ حظ حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ بقایا نفس کے ابھی موجود ہوتے ہیں۔ مگر حالت چہارم میں مقرب کامل کی طرف سے بالکل ارادہ نہیں ہوتا۔ خود خدا تعالیٰ بطور تلطف و احسان کے کسی مابہ الاحتظاظ کو اُس کے لئے میسر کر یتا ہے اور جیسے مادر مہربان اپنے بچے کو جگا کر دودھ پینے کیلئے ہدایت کرتی ہے ویسا ہی وہ اس کوجگا کر کسی حظ کے اُٹھانے کے لئے تحریک کرتا ہے۔ سو وہ تحریک سراسر اُسی کی شفقت سے اور فضل اور عنایت سے ہوتی ہے۔
    (۳۰؍ اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۲۶؍ شوال ۱۳۲۶ھ)
    مکتوب نمبر۲۶
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذامحبت نامہ آنمخدوم پہنچا۔ موجب شکر و سپاس ہوا۔ خداوند کریم مقدرات مکروہہ سے آپ کو امن میں رکھے اور آپ کی سعیوں اور کوششوں میں کہ جو آپ خالصاً للہ کر رہے ہیں بہت سی برکتیں بخشے اور بہت سے اجر اُس پر مترتب کرے۔ آمین۔ صفحہ۲۴ فتوح الغیب کی نسبت جو آنمخدوم نے دریافت فرمایا ہے یہ مقام بَین المعنی ہے۔ کوئی عمیق حقیقت نہیں جو کچھ شارح نے لکھا ہے وہ صحیح اور درست ہے۔ حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اس مقام میں یہ تعلیم فرماتے ہیں کہ سالک میں حقیقت فنا کی تب محقق ہوتی ہے اور تب ہی وہ اس لائق ہوتا ہے کہ مورد معارف الٰہیہ ہو۔ جب تین طور کا انقطاع حاصل ہو جائے۔
    اوّل انقطاع خلق اللہ ہے اور وہ اس طرح پر حاصل ہوتا ہے کہ حکم الٰہی کو جو قضا و قدر ہے۔ تمام مخلوقات پر نافذ سمجھے اور ہر یک بندہ کو پنجہ تقدیر کے نیچے مقہور اور مغلوب یقین کرے لیکن اس جگہ یہ عاجز صرف اس قدر کہنا چاہتا ہے کہ ایسا یقین کہ فی الحقیقت تمام مخلوقات کو کالعدم خیال کرے اور ہر یک حکم خدا کے ہاتھ میں دیکھے اور ہر یک نفع اور ضرر اُسی کی طرف سے سمجھے صرف اپنی ہی تکلیف اور نفع سے حاصل نہیں ہوسکتا اور اگر تکلیف سے اس قدر خیال قائم بھی ہو تو وہ بے بقا ہے اور ادنیٰ ابتلا سے لغزش پیش آ جاتی ہے بلکہ یہ مقام عالی شان اس بصیرت کاملہ سے حاصل ہوتا ہے کہ جو خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جب عنایات الٰہیہ کسی کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کے لمبے قضیہ کو آپ ہی کوتاہ کر دیتے ہیں اور وہ بوجھ جو اس سے اُٹھائے نہیں جاتے دست غیبی ان کو آپ اُٹھا لیتا ہے۔
    پس اسی طرح سے جب بذریعہ علوم لدنیہ و کشوف صادق و الہامات صحیحہ و تائیدات صریحہ انسان پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ تمام نفع و ضرر خدا کے اختیار میں ہے اور مخلوق کچھ چیز ہی نہیں تو ایک نہایت کامل یقین سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ جو کچھ نفع یا نقصان اور عزت یا ذلت ہے سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور مخلوق کو مردہ کی طرح دیکھتا ہے لیکن اس جگہ اعتراض یہ ہے کہ حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر قدس سرہ نے علوم و معارف الٰہیہ کے حاصل ہونے کا ذریعہ فنا عن الخق وغیرہ اقسام فنا کو ٹھہرایا ہے۔ پس جب کہ فنا کا حاصل ہونا ان علوم کے حاصل ہونے پر موقوف ہے تو اس سے دور لازم آتا ہے۔ سو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ علوم لدنیہ و کشوف صادقہ و تائیدات خاصہ الٰہیہ وتوجہات جلیلہ صمدیہ غیر فانی کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتے ہیں۔ لیکن بتوسط صحبت شیخ فانی بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ یعنی اگرچہ براہ راست نہیں لیکن سالک اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیدات سماوہ کو معائنہ و مشاہدہ کرتا ہے۔ پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کی کمالیت کا موجب ہو جاتا ہے۔ اگر جلدی نہیں تو ایک زمانۂ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک و شبہات کے تاریکی دل پر سے اُٹھ جاتی ہے۔ اسی جہت سے فانیوں کی معیت کے لئے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ اے کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقُوْنَ ھُمْ اَلْفَانُوْنَ لَاْغَیْرِھِمْ اور جو شخص نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اُس کا کچھ تعلق اور محبت ہے۔ وہ معرض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے اور اس کے ایمان کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ الا ان یتدارکہ اللّٰہ برحمۃ۔ دوسری شرط مورد معارف الٰہیہ ہونے کیلئے یہ ہے کہ ہوائے نفس سے انقطاع ہو جائے۔ یعنی سالک پر لازم ہے کہ اپنے تمام حرکت و سکون و قول و فعل میں اوامر اور نواہی میں اللہ کی متابعت اختیار کرے اور کسی حالت میں قَالَ اللّٰہُ وَقَالَ الرَّسُوْلَسے باہر نہ جائے اور کچھ دوسرے لوگ اپنے نفس کی متابعت سے کرتے ہیں۔ وہ اپنے رسول کی متابع سے بجالاوے اور اپنے اعمال اور اقوال میں کوئی ایسی جگہ خالی نہ چھوڑے جس میں نفس کو کچھ دخل دینے کی گنجائش ہو۔ پس جب کہ کامل طور پر اتباع سنت میسر آ جائے گا اور ایک ذرّہ ہوائے نفس کی پیروی نہیں رہے گی بلکہ ظاہر و باطن متابعت رسول کریم سے منور ہو جائے گا تو یہ وہ حالت ہے جس کا نام فنا بامر اللہ ہے۔ مگر ہائے افسوس کہ اس پر ظلمت زمانہ میں بجائے اس کے کبریت احمر کا قدر کریں۔ اکثروں کو اس طریق سے بغض ہے اور اتباع سنت سے ایک چِڑ ہے۔ حالانکہ دوسری قسم فنا کی بجز اس کے ہرز میسر نہیں ہو سکتی۔ اللھم اصلح امۃ محمد اللھم ارحم امۃ محمد اللھم انزل علینابرکات محمد و صل علی محمد و بارک وسلم۔
    تیسری شرط مورد معارفِ الٰہیہ ہونے کے لئے یہ ہے کہ رضا بقضاء ہو اور ایسا انشراح صدر میسر آ جائے کہ جو کچھ ارادت ِ الٰہیہ سالک پر نافذ ہوں۔ عاشق صادق کی طرح ان سے متلذذ ہو اور انقباض پیدا نہ ہو بلکہ یہاں تک موافقت تامہ پیدا ہو جائے کہ اُس محبوب حقیقی کی مراد اپنی ہی مراد معلوم ہو اور اس کی خواہش اپنی خواہش دکھلائی دے۔ اس جگہ بھی وہی سوال لزوم دور کا لازم آتا ہے جو پہلی قسم میں لازم آیا تھا اور جو اَب بھی وہی ہے جو پہلے دیا گیا ہے۔انسان کا کام بجز صحبت صادقین کے سراسر خام ہے اور بجز طریق فنا یا صحبت فانیوں کے ایمان کا سلامت لے جانا نہایت مشکل ہے۔ پس سعید وہی ہے کہ جو سب سے پہلے ایمان کی سلامتی کا فکر کرے اور ناحق کے ظاہری جھگڑوں اور بے فائدہ خرخشوں سے دست کش ہو کر اس جماعت کی رفاقت اختیار کرے۔ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنا درد عطاکیا ہے اور یقینا سمجھے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو عمدہ نعمت دنیا کیلئے لائے وہ یہی درد اور محبت الٰہی ہے جس کو خدا اور رسول کی محبت دی گئی۔ اس نے اپنی اصل مراد کو پا لیاہے اور بِلاشبہ وہ سعید ہے اور نارجہنم کو اس سے مس کرنا حرام ہے لیکن جس کو وہ محبت عطا نہ ہوئی اور اُس نے اپنے خدا اور اپنی نبی کا قدر شناخت نہیں کیا۔ اُس کا زبانی طور پر مسلمان کہلانا کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ نماز وروزہ بھی بجز ذاتی محبت کے اپنی اصل حقیقت سے خالی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے۔یاتی علی امتی زمانہ یصلون و یصومون ویجمعون فی المساجد ولیس ففیھم مسلم۔ یعنی ایک زمانہ وہ آئے گا کہ لوگ نمازیں بھی پڑہیں گے اور روزے بھی رکھیں گے اور مسجدوں میں اکٹھے ہوں گے پر اُن میں سے ایک بھی مسلم نہ ہوگا۔ یعنی مومن حقیقی نہ ہوگا۔ اپنی دنیا اور اپنی رسوم میں گرفتار ہوں گے اور دین بھی رسم کے طور پر بجا لائیں گے۔ سو اَب ایسے وقت کا اندیشہ ہے خداوند کریم رحم کرے۔ بخدمت مولوی صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچادیں اگر ملاقات میسر ہو۔
    (تاریخ ۶؍ ستمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۳؍ ذیعقد ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۲۸
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ حدیث نبوی یعرفھم غیری کے معنی جو اس عاجز کے دل میں ڈالے گئے ہیں یہ ہیں کہ غیر کے لفظ سے نفی ماسوا اللہ مراد نہیں بلکہ نفی نااہل و ناآشنا مراد ہے۔ مگر جو لوگ مومن حقیقی ہیں وہ بباعث استعداد فنا اور زوال حجب کے کبریائی دامن کے اندر ہیں اور غیر نہیں ہیں خود خدا تعالیٰ نے بعض صالح اہل کتاب کے حق میں اپنی کتاب مجید میں یہ فرمایا ہے یفرفونہ کما یعرفون ابناء ھم یعنی وہ لوگ پیغمبر آخر الزمان کو جو امام الانبیاء اور سید الاولیا ہے اس طرح پر شناخت کرتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو شناخت کر رہے ہیں اور اسی طرح روحانی روشنی کی برکت سے اولیا اولیا کو شناخت کر لیتے ہیں۔ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اویس کے وجود کو یمن میں شناخت کر لیا اور بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یمن کی طرف سے رحمان کی خوشبو آ رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے مراتب معلوم تھے اور ہریک کی نورانیت باطنی کا اندازہ اس قلب منور پر مکشوف تھا۔ ہاں جو لوگ بیگانہ ہیں وہ یگانہ حضرت احدیّت کو شناخت نہیں کر سکتے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ینظرون الیک وھم لا یبصرون یعنی وہ تیری طرف (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں پر تو اُنہیں نظر نہیں آتا اور وہ تیری صورت کو دیکھ نہیں سکتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انوار روحانی کا سخت چمکارابیگانہ محض پر بھی جا پڑتا ہے۔ جیسے ایک عیسائی نے جب کہ مبالہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حسین و حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنھم عیسائیوں کے سامنے آئے دیکھ کر اپنے بھائیوں کو کہا کہ مباہلہ مت کرو۔ مجھ کو پروردگار کی قسم ہے کہ میں ایسے منہ دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ جا تو فی الفور اُٹھ جائے گا۔ سو خدا جانے کہ اس وقت نور نبوت وہ ولایت کیسا جلال میں تھا کہ اس کافر، بدباطن، سیہ دل کو بھی نظر آ گیا اور عام طور پر باستثناء خواص اہل اللہ و اکابر اولیا کی حقیقت ولایت کو جو قرب الٰہی کا نام ہے بجز حضرت احدیّت کے کسی کو اس پر اطلاع نہیں ہو سکتی۔ ہاں اس حقیقت کے انوار و آثار جیسے استقامت صبر، رضا، جودوسخا، صدق، وفا، شجاعت حیا اور نیز خوارق و دیگر علامات قبولیت لوگوں پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ سب آثار ولایت ہیں اور حقیقت ولایت ایک مخفی امر ہے۔ جس پر غیر اللہ کو ہرگز اطلاع نہیں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب اور جو آپ نے دریافت کیا ہے کہ خوارق و کرامات ریاضات شاقہ کا نتیجہ ہے یا کیا حال ہے اس میں تحقیق یہ ہے کہ بِلاشُبہ ریاضات شاقہ کو کشوف وغیرہ خوارق میں دخل عظیم ہے بلکہ اس میں کسی خاص مذہب بلکہ توحید کی بھی شرط نہیں اور اسی جہت سے فلاسفہ یونان اور اس ملکِ ہند کے جوگی اپنے تپوں جپوں کے ذریعہ سے صفائی نفس حاصل کرتے رہے ہیں اور اُن کا قلب اپنے معبودات باطلہ پر جاری ہوتا رہا ہے اور مکاشفات بھی اُن سے ظہور میں آتے رہے ہیں۔ چنانچہ کسی تاریخ دان اور صاحب تجبرہ پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اب بے خبر کو بڑی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جب کشوف و خوارق باطل پرستوں اور استدارج دانوں سے بھی ہو سکتے ہیں تو پھر اُن میں اور اہل حق لوگوں میں کیا فرق باقی رہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت احدیّت کے برگزیدہ بندے تین علامات خاصہ سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ علامتیں ایسی ہیں کہ گویا باطل پرست لوگ اپنی کجروی کی محنتوں سے گداز بھی ہو جائیں تب بھی وہ علامات ان میں متحقق نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ اوّل ان میں ایک یہ ہے کہ اہل حق کو صرف کشفی صفائی نہیں اخلاقی صفائی بھی عطا ہوتی ہے اور وہ اخلاق فاضلہ میں اس قدر پایہ عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ جیسے خدا کو اپنے اخلاق پیارے ہیں۔ ویسا ہی وہ ربّانی اخلاق اُن کو پیارے ہو جاتے ہیں اور اُن کی سرشت میں ربوبیت کے تجلیات گھر کر جاتے ہیں اور بشریت کی آلودگیاں اور تنگیاں اُٹھ جاتی ہیں۔ پس اُن سے نیک اور پاک خلق ایسے عجیب اور خارق العادت و طور پر صادر ہوتے ہیں کہ بشریٰ طاقتوں سے بجز خاص تائید الٰہی کے اُن کا صادر ہونا ممکن نہیں۔ انسان بشریت کے تعلقات اور نفس امّارہ کی زنجیروں میں اور ننگ و ناموس کی قیدوں میں اور خانہ داری کے جانگداز فکروں میں اور شداید اور آلام کے حملوں میں اور وساوس اور اوہام کی نیش زنیوں میں سخت عاجز ہو رہا ہے اور اگر دعویٰ کرے کہ میں اپنی ہی قوت سے ان بھاڑی بوجھوں سے نکل سکتا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔ پس اہل اللہ میں یہ بزرگی ہے کہ وہ توفیق یافتہ ہوتے ہیں اور دست غیبی اپنی خاص حمائت اور قوت سے اُن کواِن تمام بوجھوں کے نیچے سے باہر نکال لیتا ہے سو اُن سے ایسا توکّل اور ایسا صبر اور ایسا سخا اور ایسا ایثار اور ایسا صدق اور ایسا رضا بقضاء صادر ہوتا ہے کہ دوسروں سے ہرگز ممکن نہیں کیونکہ درپردہ الٰہی ستاری ان کی مددگار ہوتی ہے اور وہ لغزشوں سے بچائے جاتے ہیں اور جس کی محبت میں وہ دنیا کو کھو بیٹھتے ہیں اور دنیوی عزتوں اور ناموں سے بیزار ہوگئے ہیں۔ وہی محبوب حقیقی اُن کا متولی ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اہل حق مکالمات ومخاطبات حضرت احدیّت پاتے ہیں جو تائیدات خاصہ کی بشارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور نیز اُن میں وہ مراتب عالیہ اُن پر ظاہر کئے جاتے ہیں کہ جو اُن کو حضرت احدیّت میں حاصل ہوئے ہیں اور یہ نعمت غیروں کو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس جگہ بتوجہ یاد رکھنا چاہئے کہ الہامات و مکالمات الٰہیہ کو جو ایسی پیشگوئی پر مشتمل ہوں جن میں شخص ملہم کی تائیدات عظیمہ کا وعدہ ہے۔ وہ اہل اللہ کی شناخت کے لئے نہایت روشن علامت ہیں اور کوئی خارق عادت ان سے برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندہ سے کلام کرنا اور پھر اُس کے کلام کا ایسی پیشگوئیوں پر مشتمل ہونا کہ جو تائیدات عظیمہ کے مواعید ہیں اور پھر اُن مواعید کا اپنے وقتوں پر پورا ہونا معیت اللہ کا ایک روشن نشان ہے۔ تیسری علامت یہ ہے کہ خواص اولیاء یاضات شاقہ کے محتاج بھی نہیں ہوتے۔ ایک قسم ولائت کی ہے جو وہ ثبوت سے بہت مشابہ ہے۔ اس قسم کے لوگ جب دنیا میں آتے ہیں تو ہوش پکڑتے ہی عنایات الٰہیہ اُن کی متولی ہو جاتی ہے۔ اُن کو سالکوں کی پُر تکلف حالت سے کچھ مناسبت نہیں ہوتی۔ اُن کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کب فنا آئی اور کب بقا حاصل ہوئی کیونکہ دست غیبی نے اُن کو فطرت میں ہی درست کر لیا ہوتا ہے اور بیفہ بشریت میں داخل بھی نہیں ہوتے۔ تعلقات شیدہ عشق الٰہی کے ان کی فطرت سے لگے ہوئے ہوتے ہیں اور ابتدائی فطرت سے کسی ریاضت کے محتاج نہیں ہوتے وَذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائِ اور ایسے لوگوں سے بغیر حاجت ریاضات شاقہ کے خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ شان نبوت اُن پر غالب ہے۔
    سو اگر اکابر نقشبندیہ نے ظہور خوارق کے لئے ریاضات شاقہ کو شرط ٹھہرایا ہے تو ایسے مکمل لوگوں کو مستثنیٰ رکھ لیا ہوگا اور ایسے لوگ نہایت قلیل الوجود اور نادر الظہور ہیں۔ کبھی کبھی شدت حاجت کے وقت خلق اللہ کی بھلائی کے لئے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور اُن کا آنا لوگوں کیلئے ایک رحیمت عظیم ہوتا ہے اور اُمت مرحومہ محمدیہ پر حضرت احدیّت کی یہ رحمت ہے۔ کبھی کبھی آخر صدی پر اصلاح اور تجدید دین کیلئے اس شان کے لوگ مبعوث ہوتے ہیں اور دنیا اُن کے وجود سے نفع اُٹھاتی ہے اور دین زندہ ہوتا ہے اور یہ بات کہ ظہور خوارق ولایت شرط ہے یا نہیں۔ اکثر صوفیا کا اتفاق اسی پر ہے کہ شرط نہیں۔ پر اس عاجز کے نزدیک ولایت تامہ کاملہ کے لئے ظہور خوارق شرط ہے۔ ولایت کی حقیقت قرب اور معرفت الٰہی ہے سو جو شخص صرف منقولی یا معقولی طور پر خدا پر ایمان لاتا ہے اور وہ کشوف عالیہ اور زوالِ حجب اس کو نصیب نہیں ہوا۔ جس سے ایمان اُس کا تقلید سے تحقیق کے ساتھ مبدل ہو جاتا تو کیونکر کہا جائے کہ اُس کو ولایت تامہ نصیب ہوگئی ہے۔ بعض بزرگوں نے جیسے حضرت مجدد الف ثانی صاحب نے اپنی مکتوبات میں لکھا ہے کہ یقین کے لئے معجزات نبویہ کافی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ کافی نہیں کیونکہ وہ معجزات اب اس شخص کے حق میں کہ جو صدہا سال بعد میں پیدا ہوا ہے منقولات کا حکم رکھتے ہیں اور دید اور شنید میں جس قدر فرق ہے۔ ظاہر ہے علماء محدثین سے زیادہ اور کون معجزات سے واقف ہوگا۔ مگر وہ معجزات کہ جن کی رویت سے ہزار ہا صحابہ یقین کامل تک پہنچ گئے تھے۔ اب ان کے ذریعہ سے علماء ظاہر کو اس قدر اثر بھی نصیب نہیں ہوا کہ اور نہیں تو اُن معجزات کی ہیبت سے اخراج نفسانیت ہی ہو۔ مگر یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ سماوی نشانوں کو ازدیادِ ایمان میں دخل عظیم ہے اور خود ولایت تامہ کی حقیقت جب کہ قرب تام ہے تو پھر ظاہر ہے کہ قرب اور مشاہدہ عجائبات لازم و ملزوم ہے جو شخص ہمارے مکان پر آتا ہے اُسے ضرور ہے کہ مکان کی وضع اور اس کی کیفیت کمیت سے اطلاع پیدا کرے۔ لیکن اگر بعد از وصول بھی ایسا ہے جو قبل از وصول تھا تو گویا اُس نے مکان کو دیکھا ہی نہیں۔ انبیاء کے یقین کو بھی خدا نے نشانوں سے ہی بڑھایا ہے اور قرآن شریف میں رب ارنی کیف تحی الموتی حضرت ابراہیم کا سوال موجود ہے۔ پھر کیونکر کہاجائے کہ ولایت بغیر خوارق کے حاصل ہو سکتی ہے۔بِلاشُبہ جس قدر مشاہدہ خوارق کا زیادہ ہے۔ اُسی قدر قوت یقین زیادہ ہے۔ اسی قدر قوبت زیادہ ہے۔ اُسی قدر علم زیادہ ہے۔ خدا تعالیٰ خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو مسجد اقصیٰ اور آسمان کا سیرا کرایا تا اُس کو اپنی آیات خاصہ سے مطلع کریں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جس ولی کو منصب ارشاد اور ہدایت کا عطا نہیں کیا گیا۔ اُس کے خوارق اور لوگوں پر ظاہر ہونا ضرور نہیں ہے کیونکہ اُس کو لوگوں سے کچھ واسطہ اور تعلق نہیں ہے لیکن خود اُس پر تو ظاہر ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ حقیقت ولایت تک اس کا قدم پہنچنا اسی سے وابستہ ہے۔
    مسجد کے بارہ میں جو فقرہ خداوندکریم کی طرف سے الہام ہوا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ مادہ تاریخ موجود ہے یہ فقرہ ہے مبارک و مبارک وکل امرٍ مبارک یجعل فیہ۔ خداوند تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اس مسجد مبارک کے بارے میں پانچ مرتبہ الہام ہوا۔ منجملہ ان کے ایک نہایت عظیم الشان الہام ہے جس کے ایک فقرہ سے آپ کو پہلے اطلاع دے چکا ہوں مگر بعد اس کے ایک دوسرا فقرہ بھی الہام ہوا اور وہ دونوں فقرہ یہ ہیں۔ فیہ برکات للنا و من دخلہ کان امنا۔ یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آ گیا۔ علماء ظاہر شاید اس پر اعتراض کریں کہ یہ تو بیت اللہ خانہ کعبہ کی شان میں وارد ہے۔ مگر وہ لوگ برکات و سعیہ حضرت احدیّت سے بے خبر ہیں اور معذور ہیں اور نیز ایک الہام یعنی مکالمہ حضرت احدیّت اس ذلیل ناچیز عاجز سے واقع ہوا۔ بباعث رابطہ اتحاد آپ کو لکھتا ہوں اور چونکہ یہ عاجز اعلان کا اِذن بھی پاتا ہے اس لئے کتاب میں یعنی حصہ چہارم میں درج بھی کیا جائے گا۔ خداوندتعالیٰ کی الوہیت کی موجیں ہیں کہ اس ناکارہ بندہ کو کہ جو فی الواقعہ بے ہنر اور تہی دست ہے۔ ایسے مکالمات سے یاد کرتا ہے روحی فداء سبیلہ مایشان من جلیلہ اور وہ الہام یہ ہے بشریٰ لک یا احمدی انت مرادی و معی غرمت کرامتک بیدی۔
    بشارت باد ترایا احمد من۔ تو مراد منی و بامنی۔ نشاندم درخت بزرگی ترابدست خود۔ بخدمت خواجہ علی صاحب و مولوی عبدالقادر صاحب و منشی بہرام خان صاحب وغیرہ احباب آں صاحب سلام مسنون پہنچے۔ (تاریخ ۱۳؍ ستمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۰؍ ذیقعد ۱۳۰۰ھ)



    مکتوب نمبر۲۸
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذاآنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ آپ نے جو سوالات کئے ہیں ان کی حقوقت خداوندکریم ہی کو معلوم ہے۔ اس حقر کے خیال میں جو گزرتا ہے وہ یہ ہے (۱) صوفی باعتبار اس حالت کے سالک کا نام ہے کہ جب وہ اپنے زور اور تمام توجہ اور تمام عقل اور تمام اطاعت اور تمام مشغولی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قدم اُٹھاتا ہے اور اپنی جانفشانیوں اور محنتوں اور صدقوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ تک پہنچنا چاہتا ہے تو اس حالت میں تمام کاروبار اُس کا وابستہ اوقات ہوتا ہے۔ اگر اپنے وقتوں کو ہریک لہو و لعب سے بچا کر یاد الٰہی سے معمور کرتا ہے تو اگر خدا نے چاہا ہے تو کسی منزل تک پہنچ جاتا ہے لیکن اگر حفظ اوقات میں خلل ہوتا ہے تو اس کا سارا کام درہم برہم ہو جاتا ہے جیسے اگر مسافر چلتا بھی رہے تو جائے مقصود تک پہنچتا ہے۔ پر اگر چلنا چھوڑ دے بلکہ جنگل میں آرام کرنے کی نیت سے سو جائے تو قطع نظر عدم وصول سے جان کا بھی خطرہ ہے۔ سو جیسے مسافر ابن السبیل ہے۔ سبیل کوقطع نہ کرے تو کیسے ٹھکانہ تک پہنچے۔ ایسا ہی صوفی ابن الوقت ہے۔ اپنے وقت کو خدا کی راہ میں لگاوے تو مقصود کو پاوے۔ پس جب کہ حفظ وقت صوفی کے لازم حال ہی پڑا ہے تو اپنے کام کو فردا یا پس فردا پر ڈالنا اس کے حق میں مہلک ہے اور نیز صوفی کیلئے یہ بھی لازم ہے کہ اسی جہان میں اپنی نجات کے آثار نمایاں کا طالب ہو اور اپنے کام کے دن میں بھی اپنی اُجرت کا خواستگار ہو۔ فردا یعنی قیامت پر صوفی اپنا حساب نہیں ڈالتا اور نسیہ اور ادھار کا روا وار نہیں ہوتا بلکہ دست بدست مزدوری مانگتا ہے۔ اور اس آیت شریفہ پر اُس کا عمل ہوتا ہے۔ من کان فی ھذہٖ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی۔ پس صوفی ان علماء ظاہری کی طرح نہیں ہوتا کہ جو صرف ظاہری اعمال بطور عادت اور رسم کے بجا لا کر اور تزکیہ نفس اور تنویر قلب سے بکلّی محروم رہ کر پھر بہشت کی امیدیں باندھ رہے ہیں بلکہ صوفی اسی جہان میں اپنے بہشت کو دیکھنا چاہتا ہے اور صرف وعدوں پر قناعت نہیں کرتا۔ سو صوفی عمل کی رو سے بھی ابن الوقت ہے جو حفظ اوقات ہی سے اس کے سارے کام نکلتے ہیں اور حاضر الویت نعمتوں کو پاتا ہے لیکن چونکہ ہنوز اپنی ہی قوتوں اور طاقتوں اور اخلاصوں اور صوقوں اور محنتوں اور مجاہدات پر اُس کا مدار ہے اور مسافر کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا اس کا کام ہے۔ اس لئے وہ صاحب حال ہے صاحب مقام نہیں کیونکہ حال وہ ہے جو تغیر پذیر ہو اور مقام وہ ہے جس کو ثبات اور قرار ہو۔ سو صوفی ابھی مسافر کی طرح ہے۔ ایک جگہ چھوڑتا ہے دوسری جگہ جاتا ہے۔ دوسری چھوڑتا ہے تیسری جگہ جاتا ہے لیکن صافی وہ ہے جس کو بعد حصول فنا اَتم کے عنایات الٰہیہ نے اپنی گود میں لے لیا ہے۔ اب اس کو ان محنتوں اور مشقتوں سے کچھ غرض نہیں کہ جو صوفی کو پیش آتی ہیں کیونکہ وہ کاسات وصال سے بہرہ یاب ہو گیا ہے اور دست غیبی نے اُن کو ہر ایک بشریت کے لوث سے مصفٰی اورمطہر کر دیا ہے اور جو اعمال دوسروں کے لئے بوجھ ہیں وہ اس کے حق میں سرور اور لذت ہوگئے ہیں۔ اور وہ تکلفات حفظ اوقات اور دوام مراقبہ و مشغولی سے برتر و اعلیٰ ہے بلکہ رجال لاتلیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللّٰہ میں داخل ہے اور اس کا سونا اور اس کا کھانا اور اُس کا ہنسنا اور کھیلنا اور دنیا کے کاموں کو بجا لانا سب عبادت ہے کیونکہ وہ منقطع اور مفرد ہے اور عنایت الٰہیہ نے اُس کو اُس کے نفس کے پنجہ سے چھین لیا ہے اور اس کی سرشت کو بدلا دیا ہے۔ اب اُس کا غیر پر قیاس کرنا اور غیر کا اُس پر قیاس کرنا ناجائز ہے۔ صوفی بھی اُس کو نہیں پہنچان سکتا کیونکہ وہ بہت ہی دور نکل گیا ہے اور وہ صاحب مقام ہے اور خدا نے اُس کو اپنی ذات سے تعلق شدید بخشا ہے اور وہ ہر ایک وقت اور حال سے فارغ ہے کیونکہ بجائے اُس کے عنایت الٰہیہ کام کر رہے ہیں اور وہ مست اور مدہوش کی طرح پڑا ہے اور تمام آلام اُس کے حق میں بصورت انعام ہوگئے ہیں۔ صوفی میں اجر کی خواہش ہے۔ اُس میں اجر کی خواہش نہیں۔ صوفی معمور الاوقات ہے اور وہ فانی الذات ہے۔ پھر معموری کیا اور وقت کیا۔ صیقل زدم آہ قدر کہ آئینہ نماند۔ اس تحقیق میں دوسرے سوال کا جواب بھی آ گیا۔
    (۳) موسیٰ اور فرعون سے روح اور نفس امّارہ کا جنگ و جدال مراد ہے جو نور روح ہے جس کو نور قلب بھی کہتے ہیں۔ وہ ہر وقت قالوبیٰ کا نعرہ مار رہا ہے اور بارگاہ خدا میں اپنی لذت اور سرور چاہتا ہے اور موسیٰ کی طرح شر کا دشمن ہے اور نفس امّارہ سرور کا خواہاں ہے اور شہوات کا طالب ہے ان دونوں میں موسیٰ اور فرعون کی طرح جنگ ہو رہا ہے۔ یہ جنگ اسی وقت تک رہتا ہے جب انسان اپنی ہستی کو مقصود ٹھہرا کر فنا فی اللہ کی حالت سے گرا ہوا ہوتا ہے لیکن جب انسان اپنی ہستی سے بالکل کھویا جاتا ہے تو وہ پہلی بیرنگی جو عالم ہستی میں اُس کو حاصل تھی پھر حاصل ہو جاتی ہے اور کوئی شائبہ وجود کا باقی نہیں رہتا۔ اس مرتبہ پر نفس امّارہ اور نور قلب کا جنگ ختم ہو جاتا ہے اور شہوات نفسانی حظوظ کا حکم پیدا کر لیتی ہیں اور فانی کا کھانا پینا، ازدواج متعددہ کرنا وغیرہ امور جائے اعتراض نہیں ٹھہرتا اور نہ کچھ اُس کو ضرر کرتا ہے کیونکہ وہ فانی ہے اور اب یہ کام خدا کے ہیں جو اُس پر جاری ہوتے ہیں۔ سو اِس مقام پر آ کر موسیٰ اور فرعون کی صلح ہو جاتی ہے۔
    (۴) حرص و ہوا سے اوّل چیز جو انسان کو روکتی ہے جذبہ الٰہی ہے۔ وہی جذبہ انسان کو صالحین کی صحبت کی طرف کھینچتا ہے۔ وہی اُس کو کسی صالح کا مرید کراتا ہے۔ صحیح حدیث میں وار دہے کہ انسان گناہ کرتا ہے۔ پھر حضرت خداوندی میں روتا ہے کہ مجھ سے گناہ ہو گیا۔ خدا تعالیٰ اُس کو بخش دیتا ہے اور اپنے فرشتوں کے روبرو اُس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر چند روز پا کر اُس بندہ عاجز سے گناہ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ جناب الٰہی میں روتا اور چلاتا ہے اور ہر بار خدا تعالیٰ اُس کو بخشتا جاتا ہے اور فرشتوں کر روبرو اُس کی تعریف کرتا ہے آخر اُس کو کہتا ہے اعمل ماشئت فانی غفرت لک۔ یعنی اب جو تیری مرضی ہے کہ مَیں نے تجھ کو بخش دیا ہے سو اُسی روز سے وہ محفوظ ہو جاتا ہے اور پھر ہوا و ہوس اس پر غالب نہیں ہو سکتے غرض جیسے جسمانی پیدائش کی ابتدا خدا ہی کی طرف سے ہے۔ روحانی پیدائش کی ابتدا بھی خدا کی ہی طرف سے ہے۔ یھدی من یشاء و یضل من یشاء۔ جس کو وہ بُلاتا ہے وہ دوسرے کی بھی سن لیتا ہے مگر جس کو وہ نہیں بُلاتا وہ کسی کی نہیں سنتا۔ جیسا کہ خود اُس نے فرمایا ہے۔ من یھدی اللّٰہ فھوا المھتدی ومن یضلل لن تجدالہ ولیاً مرشداً (سورہ کہف الجزو:۱۵) یعنی ہدایت وہ پاتا ہے جس کو خدا گمراہ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کو مرشد ہدایت نہیں دے سکتا چند انگریزی فقرات جو الہام ہوئے تھے وہ مطبع میں بھیجے گئے ہیں۔ اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں۔ ایک ہندو لڑکا قادیان کا لاہور پڑھتا ہے اُس نے دیکھے تھے۔


    مکتوب نمبر۲۹
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعض کتب میں من عرف نفسہ فقد عرف ربہ حدیث نبوی کر کے بیان کیا گیا ہے۔ احیاء العلوم میں اس قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن میں محدثین کو اپنے قواعد مقررہ کے رو سے کلام ہے۔ مگر اس قول میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو قال اللّٰہ و قال الرسول سے منافی ہو۔ وقال اللّٰہ تعالٰی۔ وفی النفسکم افلاتبصرون (الجزو:۲۷) حضرت ربّ العالمین نے تمام عالم کو اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ تا وہ شناخت کیا جاوے۔ نفس انسانی ایک نسخہ جامع جمیع اسرار عالم ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس کو کماحقہٗ علم نفس حاصل ہو۔ اُس کو وہ معرفت حاصل ہوگی کہ جو جمیع عالم کی حقیقت دریافت کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے پس یہ طریق نہایت قریب اور آسان ہے کہ انسان اپنے نفس کی شناخت کے لئے کوشش کریں۔ اُسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام میں اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ والشمس والضحا ھا والقمر اذا تلاھا والنھارا جلاھا والیل اذا یغشہاھا والسماء مابناھا والارض وما طحاھا و نفس وما سواھا قد افلح من زکھا وقدخاب من دسھا۔ سو خدا نے شمس اور قمراور دن اور رات اور آسمان اور زمین کی خو بیان فرما کر پھر بعد اس کے ونفس وما سواھا فرمایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نفس انسانی میں وہ سب استعدادات موجود ہیں کہ جو متفرق طور پر عالم کے جمیع اجزا میں پائے جاتے ہیں۔ اگر خواہی کہ دربینی تمامی وضع عالم رائیکے درنفس خودینگر ہمہ و شعش تماشا کُن۔ پھر بعد اُس کے فرمایا قدافلح من زکھا یعنی وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کا کیا نجات پا گیا۔ سو نجات سے حصول معرفت تامہ مراد ہے کیونکہ تمام عذاب اور ہریک قسم کے عقوبات جہل اور ضلالت پر ہی مرتب ہونگے۔ من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الامرہ اعمی (الجزو:۱۵) اور تزکیہ نفس دو قسم پر ہے تزکیہ من حیث العلم اور وہ یہ ہے کہ نفس کو حضرت باری عزو جل اور دارآخرت کی نسبت علم یقینی قطعی حاصل ہو اور شکوک اور شبہات اور عقائد غلط اور فاسد سے نجات پا جائے۔ تزکیہ من حیث العمل وہ یہ ہے کہ جیسے فی الحقیقت حضرت باری غراسمہٗ اس بات کامستحق ہے کہ اُسی سے محبت ذاتی ہو اور جیسے فی الحقیقت اُس کے وجود کے مقابل اور سب وجود ہیچ اور کالعدم ہیں۔ ایسے ہی سالک کے لئے حالت حاصل ہو جائے اور جب انسان کو حالت فنا حاصل ہوگئی تو وہ تمام اسرار قدرت اور دقائق حکمت جو زمین اور آسمان میں مخفی ہیںاُس کے نفس پر باذن اللہ تعالیٰ کھلنے شروع ہو جائیں گے اور کشفی طور پر اُن کی کیفیت اُس پر ظاہر ہوتی جائے گی کیونکہ اسرار جمیع عالم بعینہٖ اسرار نفس ہیں۔ پس جب نفس ببرکت فناء اَتم اپنے حجاب سے خلاصی پائے گا تو جو کچھ خدا نے اُس میں انوار مہیا رکھیں ہیں اُن سب کو ظاہر کرے گا۔ سو یہ معرفت تامہ ہے جو انسان کو بقا کے درجہ پر حاصل ہوتی ہے لیکن یہ معرفت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ تمام انسانی کوششیں فنا کے درجہ تک ختم ہو جاتی ہیں اور پھر آگے موہیت الٰہی ہے اور جس پر موہیت کی نسیم چلتی ہے اسی پر وہ سب انوار ظاہر کئے جاتے ہیں جو اس کی روح میں مودع ہیں۔ انسان کی روح میں ایک بڑا سلیقہ یہ ہے کہ وہ اس قدر خدا کے سہارے کی محتاج ہے کہ اُس کے بغیر جی ہی نہیں سکتی۔ الوہیت اُس پر ایک ایسے طور سے محیط ہو رہی ہے کہ جو نہ تقریراً نہ تحریراً نہ صراحۃً نہ کنایۃً نہ تو ضیحاً نہ تمثیلاً بیان میں آ سکتی ہے بلکہ سالک جب بقا کا مرتبہ موہیت حضرت الٰہی سے پاتا ہے تو وہ کیفیت کہ جو بیچون اور بیچگون ہیں۔ اُس پر متجلی ہوتی ہے اور باوجود تحقق تجلی کے پھر بھی اُس کو بیان نہیں کر سکتا۔ من عرف کل لسانہٖ۔ آہ راکہ خبر شد خبرش باز نیامد۔ غرض الٰہی تجلی کا نام معرفت تامہ ہے اور من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا مقصود حقیقی بھی ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ آنمخدوم نے جو سوالات لکھنے کا طریق نکالا ہے بہت اچھا ہے۔ مگر چاہئے کہ تکلف درمیان نہ ہو یعنی خواہ نخواہ سوال نہ تراشا جاوے بلکہ جب خدا کی طرف سے کوئی موقعہ پیش آوے تب سوال کیا جاوے۔ سلف صالح کا مکتوبات اکابر کے لکھنے میں بھی طریق رہا ہے اور جس کی معرفت کو خدا تعالیٰ ترقی دینا چاہتا ہے اس کی زندگی میں خود ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسے موقعہ نکلتے آتے ہیں جن سے اُس کو سوال کرنے کا استحقاق پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن شریف جو جامع تمام معارف اور حقائق ہے عبث طور پر نہیں ہوا بلکہ جب حاجت پیش آئی نازل ہوا ہے اور ہر ایک آیت محکم اس کی ایک ضروری شان نزول رکھتی ہے۔ والسلام بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب و دیگر صاحبان سلام برسد۔
    (بتاریخ ۴؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۳۰
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا جن امور میں خلق کی بھلائی ہے۔ اُن کا دریافت کرنا مضائقہ نہیں۔ صرف مجھے خوف تھا کہ تکلف نہ ہو کہ وہ اس راہ میں مذموم ہے اور مولوی گل حسن صاحب کا سوال کریم مطلق کی جناب میں کچھ سؤادب کی رائحہ رکھتا ہے۔ اس لئے اُس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ بندہ وفادار کو رشد یا عدم رشد سے کیا مطلب ہے۔ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی رحمۃ اللہ نے کیا اچھا کیا ہے۔
    من ایستادہ ام اینک بخدمت مشغول
    مرا ازیں چہ کہ خدمت قبول یا نہ قبول
    گر بنا شد بددست رہ بردن
    شرط عشق است در طلب مردن
    اس راہ کے لائق وہ شخص ہوتا ہے کہ وصال اور بقا سے کچھ مطلب نہ رکھے اور اُن تمام واقعات اور مکاشفات سے کچھ سروکار نہ ہو کہ جو سالکوں پر کھلتے ہیں۔ کرامات اور خوارق عادات کا خواہاں نہ ہو اور مقامات واصلین کا جو یاں نہ ہو اور باایں ہمہ سعی اور مجاہدہ میں ہمت نہ ہارے اور خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے فی الواقعہ ایک ذلیل بندہ اپنے تئیں خیال کرتا ہے اور اپنی زندگی کا اصل مقصد اسی راہ میں جان دینا ٹھہراوے گو کچھ راہ پاوے یا نہ پاوے راستبازوں کا یہی راستہ ہے۔ ان کو اس سے کیا کام کہ حضرت احدیّت سے اس بات کا پہلے تصفیہ کرالیں کہ ہم کو آخر راہ ملے گا یا محض محروم رکھنا ہے۔ صادقوں کو ملنے نہ ملنے سے کچھ کام نہیں۔ اگر بالفرض پردہ غیب سے ہزار *** سنیں تو وہ اُس سے دل برداشتہ نہیں۔ محبوب کی *** بھی محبوب ہے۔ کل یوم ھو فی شان۔ مسجد میں ابھی کام سفیدی کا شروع نہیں ہوا۔ خدا تعالیٰ چاہے گا تو انجام کو پہنچ جائے گا۔ آج رات کیا عجیب خواب آئی کہ بعض اشخاص ہیں جن کو اس عاجز نے شناخت نہیں کیا وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد کے دروازہ کی پیشانی پر کچھ آیات رکھتے ہیں۔ ایسا سمجھا گیا ہے کہ فرشتے ہیں اور سبز رنگ اُن کے پاس ہے جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں اور خط ریحانی میں جو پہچان اور مسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں۔ تب اس عاجز نے اُن آیات کو پڑھنا شروع کیا جن میں سے ایک آیت یاد رہی اور وہ یہ ہے لارادلفضلہ اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے۔ جس عمارت کو وہ بنانا چاہے اُس کو کون مسمار کرے اور جس کو وہ عزت دینا چاہے اُس کو کون ذلیل کرے۔
    (۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۷؍ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۳۱
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا خط پہنچا۔ جس قدر آنمخدوم نے کوشش اور سعی اُٹھائی ہے اور اپنے نفس پر مشقت اور تحمل مکروہات روا رکھا ہے یہ سب خداوند کریم کی ہی عنایت ہے تا آپ کو اُس کے عوض میں وہ اجر عطا فرماوے جس کا عطا ہونا اُنہیں کوششوں پر موقوف تھا۔ جس کریم رحیم نے اس عاجز نالائق کو اپنے غیر متناہی احسانوں سے بغیر عوض کسی عمل اور محنت کے ممنون و پرورش فرمایا ہے۔ وہ محنت کرنے والوں کی محنت کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔ خدا کی راہ میں انسان ایک ذرّہ بات منہ سے نہیں نکالتا اور ایک قدم زمین پر نہیں رکھتا جس کا اس کو ثواب نہیں دیا جاتا لیکن میں اس جگہ یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کو اپنے جوش دلی کے باعث جو ایسے لوگوں کے پاس بھی جاتے ہیں جو ظنون فاسدہ اپنے دل پر رکھتے ہیں اور غرور اور استکبار نفس سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں چاہئے اس کام کی خداوند کریم نے اپنے ہاتھ سے بِنا ڈالی ہے اور ارادہ الٰہی اس بات کے متعلق ہو رہا ہے کہ شوکت اور شان دین کی ظاہر کرے اور اس بارہ میں اس کی طرف سے کھلی کھلی بشارتیں عطا ہو چکی ہیں سو جس بات کو خدا انجام دینے والا ہے اُس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ دنیا مردار ہے اور جس قدر کوئی اُس سے نزدیک ہے اسی قدر ناپاکی میں گرفتار ہے اور بدباطن اور بدبودار ہے اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ مومن کے لئے لازم ہے کہ دنیا دار کے سامنے تذلل اختیار نہ کرے اور اُس کی شان باطل کو تحقیر کی نظر سے دیکھے۔ انسان دنیا دار کے سامنے نرمی اور تواضع اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ حضرت خداوند عزوجل کے نزدیک مشرک ٹھہرتا ہے۔ سمجھناچاہئے کہ بجز حضرت قادر و توانا کے کوئی کام کسی کے اختیار میں نہیں اور تمام آسمان و زمین اور تمام دل اُس کے قبضہ میں ہیں اور قدرتِ الٰہیہ سخت درجہ پر متصرف ہے اور اگر وہ کسی کام میں توقف کرتا ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ اُس کے کرنے سے عاجز ہے بلکہ اس توقف میں اُس کی حکمتیں ہوتی ہیں۔ مخلوق سب ہیچ اور لاشَے اور مُردہ ہیں نہ اُن سے کچھ نقصان متصور ہے اور نہ نفع۔ دنیا داروں سے مطلب براری کے لئے نرمی کرنا دنیا داروں کا کام ہے اور یہ کام خالق السموات والارض کا ہے مجھ کو یا آپ کو لازم نہیں کہ ایک بدنصیب دنیا دار سے ایسی لجاجت کریں کہ جس سے اپنے مولیٰ کی کسر شان لازم آوے جو لوگ ذات کبریا کا دامن پکڑتے ہیں وہ منکروں کے دروازہ پر ہرگز نہیں جاتے اور لجاجت سے بات نہیں کرتے۔ سو آپ اس طریق کو ترک کر دیں اگر کسی دنیا دار مالدار کو کچھ کہنا ہو تو کلمہ مختصر کہیں اور آزادی سے کہیں اور صرف ایک بار پر کفایت رکھیں اور یار محمد کو روپے بھیجنے سے منع کر دیں اور مناسب ہے کہ آپ یہ سلسلہ غریب مسلمانوں میں جاری رکھیں۔ دوسرے لوگوں کا خیال چھوڑ دیں۔ اس میں ذرّہ تردّد نہ کیا کریں۔ تعجب ہے کہ آپ جیسے آدمی متردّد ہو جائیں۔ اگر ایک کافر بے دین جو دولتمند ہو کسی کو وعدہ دے جو میں تیری مشکلات پر تیری مدد کروں گا تو وہ اُس کے وعدے سے تسلی پکڑ جاتا ہے۔ پر خداوند تعالیٰ کا وعدہ جو اصدق الصادقین ہے کیونکر موجب تسلی نہ ہو۔
    لکھا ہے کہ اوّل حال میں جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کیلئے ہمراہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی واللّٰہ یعصمک من الناس۔ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی حاجت نہیں۔ سو اسی طرح سمجھیں کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ ’’اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو میں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اوپر سے مدد کر سکتا ہوں‘‘۔ پھر جب وہ قادر رحمن رحیم ساتھ ہے اور اُس کی طرف سے مواعید ہیں تو کیا غم ہے دنیا دار کیا چیز ہیں اور کیا حقیقت تا ان کے سامنے لجاجت کی جائے اور اگر خدا چاہتا تو اُن کو ایسا سخت دل نہ کرتا۔ پر اُس نے بھی چاہا تا اُس کے نشان ظاہر ہو۔
    (تاریخ ۲۴؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۰؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۳۲
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا خط عنایت نامہ پہنچ کر باعث مسرت خاطر ہوا۔ آپ نے بہت کچھ کوشش کی ہے اور مجھ کو یقین ہے کہ خدا تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرے گا سو گو آپ نے کیسی ہی تکلیف اُٹھائی ہوں پھر جب کہ مولیٰ کریم کی راہ میں ہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ اُس کریم مطلق نے اس تکلیف کشی کے لائق سمجھا۔ اس عاجز کو خداوند کریم نے ایک خبر دی تھی جس کو حصہ ثالث میں چھاپ دیا تھا یعنی یہ کہ بنصرک رجالٌ نوحی الیھم من السماء یعنی تیری مدد وہ مردان دین کریں گے جن کے دل میں ہم آسمان سے آپ ڈالیں گے۔ سو الحمدللہ والمنتہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو سب سے زیادہ اس عاجز کے انصار میں سے بنایا اور اس ناچیز کو آپ کے وجود سے فخر ہے اور اپنے خداوندکریم کی طرف سے آپ کو ایک رحمت مجسم خیال کرتا ہے اگر لوگ روگردان ہیں اور متوجہ نہیں ہوتے تو آپ اس سے ذرا متکفر نہ ہوں۔ خدا تعالیٰ ہر یک دل پر متصرف ہے اور اُس کا قوی ہاتھ ذرّہ ذرّہ پر قابض ہو رہا ہے اگر وہ چاہتا تو دلوں میں ارادت پیدا کر دیتا۔ مخلوق کیا چیز ہے اور اُس کی ہستی کیا حقیقت ہے لیکن اُس نے یہ نہیں چاہا بلکہ توقف اور آہستگی سے کام کرنا چاہا ہے۔ سب کچھ وہی کرتا ہے وہ دوسرا کون ہے جو اُس کا حارج ہو رہا ہے۔ بارہا اس عاجز کو حضرت احدیّت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے گئے ہیں جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجۂ قدرت احدیّت سے مقہور اور مغلوب ہے اور تصرفات الٰہیہ زمین و آسمان میں کام کر رہے ہیں۔ چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا۔ ان تمسمسک بضرٍ فلا کاشف لہٗ الاَّ ھووان یردک بخیرٍ فلا رادلفضلہ الم تعلم ان اللّٰہ علی کل شی قدیر ان وعد اللّٰہ لات۔ سو خدا تعالیٰ اپنے کلمات مقدسہ سے اس قدر اس عاجز کو تقویت دیتا ہے کہ پھر اُس کے غیر سے نہ کچھ خوف باقی رہتا ہے اور نہ اس کو امید گاہ بنایا جاتا ہے۔ جب یہ عاجز اپنے معروضات میں لطف اور لذیذ کلمات میں جواب پاتا ہے اور بسا اوقات ہر سوال کے بعد جواب سنتا ہے اور کلمات احدیّت میں بہت سے تلطفات پاتا ہے تو تمام ہموم و غموم بکلّی دل سے دور ہو جاتے ہیں اور جیسے کوئی نہایت تیز شراب سے مست اور دنیا و مافہیا سے بے خبر ہوتا ہے ایسی ہی حالت سرور کی طاری ہوتی ہے۔ جس میں دوسرے ہموم و غموم تو کیا چیز ہیں موت بھی کچھ حقیقت نظر نہیں آتی خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھول دیا ہے کہ زید و عمر کچھ چیز نہیں۔ ہر ایک کام اُس کے اختیار میں ہے۔ پھر جب کہ ایسا ہے تو دوسروں کی شکایت عبث ہے۔ اس عاجز پر جو کچھ تفضلات و احسانات حضرت خداوندکریم ہیں وہ حدوشمار سے خارج ہیں کیونکہ یہ اذّل عباد اپنی ذاتی حیثیت میں کچھ بھی چیز نہیں اور بغیر اُس کے کہ تکلف سے کوئی کسر نفسی کی جائے فی الحقیقت سخت درجہ کاناکارہ اور ہیچ ہے۔ نہ زاہدوں میں سے ہے نہ عابدوں میں سے، نہ پارساؤں میں سے نہ مولویوں میں سے سخت حیران ہے کہ کس چیز پر نظر عنایت ہے۔ یفعل اللّٰہ مایشاء
    (۲۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ)
    مکتوب نمبر۳۳
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا یہ عاجز چند روز سے ملاحظہ کام طبع کتاب کیلئے امرتسر چلا گیا تھا آج واپس آ کر آنمخدوم کا خط ملا۔ یہاں سے ارادہ کیا گیا تھا کہ امرتسر جا کر بعد اطلاع دہی ایک دو دن کے لئے آپ کی طرف آؤں مگر چونکہ کوئی ارادہ بغیر تائید الٰہی انجام پذیر نہیں ہو سکتا اس لئے یہ خاکسار امرتسر جا کر کسی قدر علیل ہو گیا۔ ناچار وہ ارادہ ملتوی کیا گیا۔ سو اِس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روک واقع ہوگئی۔ اُس کے کام حکمت سے خالی نہیں۔ مولوی عبدالقادر صاحب کی حالت سے دل خوش ہے۔ طلب عرفان بھی ایک عرفان ہے۔ حضرت خداوندکریم کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں۔ سو اگر خداوندکریم نے چاہا تو یہ عاجز بھی دعا کرے گا غنیمت ہے کہ بفضلہ مولوی صاحب صاحبِ علم ہیں۔ طالب نادان شیطان کا بازی گاہ ہوتا ہے لیکن اس فقیر کی راہ میں مولویت بھی ایک حجاب عظیم ہے۔ انسان خاک ہے اور جب تک اپنی اصل کی طرف عود کر کے خاک ہی نہ ہو جائے تب تک مولیٰ کریم کی اس پر نظر نہیں پڑتی۔ سو اِس خاکساری اور نیستی کو اُسی قادر مطلق سے طلب کرنا چاہئے۔ اھدنا الصراط المستقیم میں جو مانگا گیا ہے وہ بھی خاکسار اور نیستی ہے۔ انسان کے نفس میں بہت سی رعونتیں اور نخوتیں اور عجب اور ریا اور خود بینی اور بزرگی چھی ہوئی ہے۔ جب تک خدا ہی اُس کو دور نہ کرے دور نہیں ہوتی۔ پس یہ بلا ہے جو نیستی اور خاکساری کے منافی ہے۔ سو تضرع اور زاری سے جناب الٰہی میں التجا چاہئے تا جس نے یہ بلا پیدا کی ہے وہی اُس کو دور کرے اور ظاہری جھگڑوں میں بہت ہی نرم ہو جانا چاہئے۔ قلت اعتراض سالکیں شعار میں سے ہے انسان جب تک پاک نفس نہ ہو جائے اُس کے جھگڑے نفسانیت سے خالی نہیں۔ قال اللّٰہ عزو جل یاایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یفرکم من ضل اذا ھتدیتھم
    (۸؍محرم ۱۳۰۱ء مطابق ۹؍ نومبر ۱۸۸۳ء)
    مکتوب نمبر۳۴
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا مکتوب محبت اسلوب پہنچ کر باعث مسرت ہوا۔ خداوندکریم آپ کی تائید میں رہے اور مکروہات زمانہ سے بچاوے اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر ابتلا کو چاہتا ہے۔ سو اِس ابتلا سے آپ بچ نہیں سکتے۔
    گربمجنوں صبحتے خواہی بہ بینی زود تر
    خار ہائے دشت و تنہائی و طعن عالمے
    عرفت ربی بربی صحیح المضمون ہے۔ اس بارے میں بہت سی احادیث آ چکی ہیں۔ خداوندکریم نے پہلے ہی سورۃ فاتحہ میں یہ تعلیم دی ہے اِیَّاک نَعْبُدُ وَاِیَّکَ نَسْتَعِیْنَ اس جگہ عبادت سے مراد پُرسش اور معرفت دونوں ہیں اور دونوں میں بندہ کا عجز ظاہر کیا گیاہے۔ اسی طرح دوسری جگہ بھی حضرت خداوندکریم نے فرمایا ہے۔ اللّٰہ نورالسموات والارض لایدرکہ الا بصار وھو یدرک الابصار جب تک خدا کی معرفت کا خدا ہی وسیلہ نہ ہو تب تک وہ معرفت شرک کے رگ و ریشہ سے خالی نہیں اور نہ کامل ہے بلکہ بجز تجلیات خاصہ حضرت احدیّت کے معرفت خالصہ کاملہ کا حاصل ہونا ممکن ہی نہیں۔ خدا کے شناخت کرنے کے لئے خدا ہی کا نور چاہئے۔ پس حقیقت میں وہی عارف اور وہی معروف ہے اور نیز یہ بھی جاننا چاہئے کہ تجلیت ربوبیت یکساں نہیں۔ ہر یک شخص کے لئے تجلی ربی الگ الگ ہے اور جس قدر ربانی تجلی ہے اسی قدر معرفت ہے۔ کوئی ظرف وسیع اور کوئی منقبض اور کوئی نہایت صافی اور کوئی اُس سے کم ہے۔ پس تجلی بہ حسب حیثیت ظروف ہے۔ ایک کی معرفت دوسرے کی نسبت حکم عدم معرفت کا پیدا کر سکتی ہے اور معارف غیر متناہی ہیں کوئی کنارہ نہیں۔ اُس ناپید اکنار دریا سے ہر یک شخص بقدر اپنے ظرف کے حصہ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے انزل من السماء ماء فضالت ادویتہ بقدر ھا یعنی خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام) اُتارا سو ہر یک نالی حسب قدر اپنے بہہ نکلی جس قدر پیاس ہے اسی قدر پانی ملتا ہے اور آپ نے دعا کے بارے میں جو دریافت فرمایا ہے کہ جو اوّل سے ہی مقدر ہے دعا کیوں کی جاتی ہے۔ سو اس میں تحقیق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر یک مقدر میں قانون قدیم یہی ہے کہ اگرچہ اس نے ہر امر کے بارے میں جو انسان کے مقسوم میں ہے اُس کا حاصل ہونا مقدر کر دیا ہے۔ لیکن اُس کے حاصل کرنے کے طریق بھی ساتھ ہی رکھے ہیں اور یہ قانون الٰہی تمام اشیاء میں جاری اور ساری ہے جو شخص مثلاً پیاس بجھانا چاہتا ہے اس کو لازم پڑا ہوا ہے کہ پانی پیوے اور جو شخص روشنی کو ڈھونڈھتا ہے اُس کو مناسب حال یہ ہے کہ آفتاب کے سامنے آوے اور اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھا نہ رہے۔ اسی طرح دعا اور صدقات و خیرات و دیگر تمام اعمال صالح کو شرط حصول مرادات ٹھہرا رکھا ہے اور جیسے ایبتدا سے کسی چیز کا حصول مقدر ہوتا ہے ساتھ ہی اُس کے یہ بھی مقدر ہوتا ہے کہ وہ دعا یا صدقہ وغیرہ بجا لاوے گا تو وہ چیز اُس کو حاصل ہوگی۔ پس جس شخص کا مطلب روز ازل میں دعا پر موقوف کر رکھا ہے سو اگر تقدیر مبرم اُس کے حق میں یہ ہے کہ اُس کا مطلب حاصل ہو جائے گا تو ساتھ ہی اُس کے حق میں یہ بھی تقدیر مبرم ہے کہ وہ دعا بھی ضرور کرے گا اور ممکن نہیں کہ وہ دعا سے رک جائے۔ تقدیر ضرور ہی پوری ہو رہے گی اور بہرحال اُس کو دعا کرنی پڑے گی اور دعا میں ضرور نہیں کہ صرف زبان سے ہی کرے بلکہ دعا دل کی اُس عاجزانہ التجا کانام ہے کہ جب دل نہایت بے قرار اور مضطرب ہو کر رہ بخدا ہو جاتا ہے اور جس بلا کو آپ دور نہیں کر سکتا۔ اُس کا دور ہونا طاقت الوہیت سے چاہتا ہے۔ پس حقیقت میں دعا انسان کے لئے ایک طبعی امر ہے کہ جو اُس کی سرشت میں مخمر ہے۔ یہاں تک کہ شیر خوار بچہ بھی اپنی گرسنگی کی حالت میں گریہ و زاری سے اپنا ایسا انداز بنا لیتا ہے کہ جس کو عین دعا کی حالت کہنا چاہئے غرض بذریعہ دعا کے خدا سے مدد ڈھونڈنا کوئی بناوٹ کی بات نہیں بلکہ یہ فطرتی امر ہے اور قوانین معینہ مقررہ میں سے ہے۔ جو شخص دعا کی توفیق دیا جاتا ہے اُس کے حق میں قبولیت اور استجابت بھی مقدر ہوتی ہے مگر یہ ضرور نہیں کہ اُسی صورت میں استجابت ہو کیونکہ ممکنہے کہ انسان کسی مطلوب کے مانگنے میں غلطی کرے جیسے بچہ کبھی سانپ کو پکڑنا چاہتا ہے اور والدہ مہربان جانتی ہے کہ سانپ کے پکڑنے میں اُس کی ہلاکت ہے۔ پس وہ بجائے سانپ کے کوئی خوبصورت کھلونا اُس کو دے دیتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دعا کا مانگنا مقدرات ازلیہ کے نقیض نہیں ہے بلکہ خود مقدرات ازلیہ میں سے ہے اور اسی جہت سے انسان بالطبع نزول حوادث کے وقت دعا کی طرف جھک جاتا ہے اور عارفین کا ذاتی تجربہ ہے کہ جو مانگتا ہے اُس کو ملتا ہے۔ ہر یک زمانہ میں خدا کی مقبولین کی دعا کے ذریعہ سے عجیب طوروں پر مشکل کشائیاں کیں ہیں اور اپنے فضلوں کو منکشف کیا ہے۔ بعض لوگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں اور اُس کی اصلیت یہ ہے کہ حکیم مطلق نے مقدر کیا ہوتا ہے کہ بہت سے اہل حاجات اُن کی دعاؤں سے اپنے مطلب کو پہنچ گئے۔ سو وہی اہل حاجات اُس شخص مستجاب الدعوات کو آ ملتے ہیں اور امر مقدر پورا ہو جاتا ہے۔ سو مستجاب الدعوات کی طرف جھکنا ایک نیک فال ہے۔ کیونکہ غالباً جو شخص مستجاب الدعوات کی طرف آیا ہے اور اس کی طرف میل کرنا اُس کو توفیق دیا گیا ہے وہ اُنہیں لوگوں میں سے ہوگا کہ جن کے حق میں قلم ازلی نے کامیاب ہونا اس کی دعا سے لکھا ہے۔ مگر یہ بات نہیں کہ جو مستجاب الدعوات مانگتا ہے وہ بعینہٖ پورا ہو جاوے۔ اُس کی وجہ پہلے لکھ چکا ہوں۔ پانچ کتابیں راونہ کی گئی ہیں۔ بخدمت خواجہ علی صاحب و مولوی عبدالقادر صاحب سلام مسنون پہنچے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اگرخدا نے چاہا تو لودہیانہ میں مولوی صاحب کی ملاقت ہوگی۔ والامرکلہ فی ید اللّٰہ ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ۔ والسلام
    ۲۲؍ ستمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۰؍ ذیقعدہ ۱۳۰۰ھ)

    مکتوب نمبر۳۵
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ عین انتظاری کے وقت میں پہنچا۔ خداوندکریم آنمخدوم کو مکروہات زمانہ سے اپنے ظل رحمت میں رکھے۔ جس قدر آپ اس عاجز سے محبت رکھتے ہیں وہی محبت اور تعلق اس عاجز کو آپ سے ہے۔ یہ سچ ہے کہ مقام تعلقات محبت میں انسان یہی چاہتا ہے کہ دیر تک اس دارفانی میں اتفاق ملاقات رہے لیکن اس مسافر خانہ کی بنیاد نہایت ہی خام اور متزلزل ہے۔اب تک اس عاجز پر جو مکشوف ہوا ہے اُن میں سے کوئی ایسا کشف نہیں جس میں طول عمر مفہوم ہوتا ہے بلکہ اکثر الہام ذومعنین ہوتے ہیں جن کے ایک معنی کی رو سے تو قرب وفات سمجھا جاتا ہے اور دوسری معنی اتمام نعمت ہیں۔ اس بات کو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سے معنی مراد ہیں۔ یہ الہام انی متوفیک ورافعک الی اس قدر ہوا ہے جس کاخدا ہی شمار جانتا ہے۔ بعض اوقات نصف شب کے بعد فجر تک ہوتا رہا ہے اس کی بھی دو ہی معنی ہیں۔ رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا اور وہ یہ ہے قل لضیفک انی متوفیک قل لا خیک انی متوفیک۔ یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا اس کے معنی بھی دو ہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے اس کو کہہ دے کہ میں تیرے پر اِتمام نعمت کروں گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ میں وفات دوں گا۔ معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے۔ اس قسم کے تعلقات کے کم و بیش کوئی لوگ ہیں۔ اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتے ہیں جن میں اپنی نسبت اور بعض احباب کی نسبت۔ اُن کی عسر یسر کی نسبت اُن کے حوادث کی نسبت۔ ان کی عمر کی نسبت ظاہر ہوتا رہتا ہے اور میرا اصول یہ ہے کہ انسانوںکو بالکل اپنے مولیٰ کی مرضی کے موافق رہنا چاہئے اور جو کچھ وہ اختیار کرے وہ بہتر ہے کیونہ تمام خیر اُسی بات میں ہے جو وہ اختیار کرے۔ دل میں ارادہ تو ہے کہ ایک دو روز کے لئے آپ کے شہر میں آؤں مگر بجز مرضی باری تعالیٰ کیونکر پوراہو۔ مولوی عبدالقادر صاحب موتکو بہت یاد رکھیں اور دلی اخلاص کے حصول میں کوشش کریں اور یہ عاجز بھی کوشش کرے گا۔ والسلام
    ۲۰؍ نومبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹؍ محرم ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۳۶
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا چونکہ اس ہفتہ میںبعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے تا بعد تنقیح جیسا کہ مناسب ہو آخیر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کئے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں اور وہ کلمات یہ ہیں۔
    پریشن، عمر ہراطوس، با پلاطوس یعنی پڑطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں۔ ھوشعنا نعسا معلوم نہیں کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں۔
    اوّل عربی فقرہ ہے یا داؤد عامل بالناس رنقا و احساناً۔ ’’یو مسٹ ڈڈ وَہاٹ آئی ٹولڈ یو‘‘۔ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اُس کا الہامی نہیں۔ بلکہ اُس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے اُس کو غور سے دیکھ لینا چاہئے اور وہ الہام یہ ہیں۔
    ’’دَو آل من شُڈ بی انگری بٹ گاڈ اِز وِد یو‘‘۔’’ ہی شل ہلپ یو‘‘۔ ’’واڑڈس آف گاؤ ناٹ کین ایکسچینج‘‘۔ ترجمہ اگر تمام آدمی ناراض ہونگے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہیں۔
    ’’آئی شل ہلپ یو‘‘۔ مگر بعد اس کے یہ ہے۔ ’’یوہیو ٹو گو امرتسر‘‘۔ پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے۔ ’’ہی ہل ٹس اِن دی ضلع پشاور‘‘۔ یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تا اگر ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بموضع مناسب درج ہو سکیں۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچے۔
    (۱۲؍ دسمبر ۱۸۸۳ء بمطابق ۱۱؍ صفر ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۳۷
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ موجب ممنونی ہوا آج میراارادہ تھا کہ صرف ایک دن کے لئے آنمخدوم کی ملاقات کے لئے لودہیانہ کا قصد کرو لیکن خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ حال طبع کتاب کا ابتر ہو رہا ہے اگر اُس کا جلدی سے تدارک نہ کیا جائے تو کاپیاں کہ جو ایک عرصہ کی لکھی ہوئی ہیں خراب ہو جائیں گی۔ بات یہ ہے کہ کاپیوں کی چھ سات جزیں مطبع ریاض ہند سے بباعث کم استطاعتی مطبع کے مطبع چشمہ نور میں دی گئی تھیں اور مہتمم چشمہ نور نے وعدہ کیا تھا کہ اِن کاپیوں کو جلد تر چھاپ دیں گے اور قبل اس کے جو پُرانی اور خراب ہوں چھپ جائیں گی۔ سو خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ وہ کاپیاں اب تک نہیں چھپیں اور خراب ہوگئیں ہیں کیونکہ اُن کے لکھے جانے پر عرصہ دراز گزر گیا ہے ناچار اس بندوبست کے لئے کچھ دن امرتسر ٹھہرنا پڑے گا اور دوسری طرف یہ ضرورت درپیش ہے کہ ۲۶؍ دسمبر ۱۸۸۳ء تک بعض احباب بطور مہمان قادیان میں آئیں گے اور اُن کے لئے خاکسار کا یہاں ہونا ضروری ہے سو یہ عاجز بنا چاری امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہے اور معلوم نہیں کہ کیاپیش آوے۔ اگر زندگی اور فرصت اور توفیق ایزدی یاور ہوئی اور کچھ وقت میسر آ گیا تو انشاء اللہ القدیر ایک دن کے لئے امرتسر میں فراغت پا کر آنمخدوم کی طرف روانہ ہوں گا۔ مگر وعدہ نہیں اور کچھ خبر نہیں کہ کیاہوگا اور خداوند کے فضل و کرم ربوبیت سے اس عاجز کو فرصت مل گئی تو اس بات کو آنمخدوم اس بات کو پہلے سے یادرکھیں کہ صرف ایک رات رہنے کی گنجائش ہوگی کیونکہ بشرط زندگی و خیریت کہ جو حضرت خداوندکریم کے ہاتھ میں ہے۔ ۲۶؍ دسمبر ۱۸۸۳ء تک قادیان واپس آجانا ہے۔ اُن سے وعدہ ہو چکا ہے۔ والامرکلہ فی ید اللّٰہ اور ایک دن کے لئے آنا بھی ہنوز ایک خیال ہے واللّٰہ اعلم بخفیقتہ المال۔ اگر خداوندکریم نے فرصت دی اور زندگی اور امن عطا کیا اور امرتسر کے مخمصہ سے صفائی اور راحت حاصل ہوئی اور تاریخ مقررہ پر واپس آنے کی گنجائش بھی ہوئی تو یہ عاجز آنے سے کچھ فرق نہیں کرے گا مگر آپ ریل پر ہرگز تشریف نہ لاویں کہ یہ تکلف ہے۔ یہ احقر عباد سخت ناکارہ اور بے ہنر ہے اور اس لائق ہرگز نہیں کہ اس کے لئے کچھ تکلف کیا جائے۔ مولیٰ کریم کی ستاریوں اور پردہ پوشیوں نے کچھ کا کچھ ظاہر کر رکھا ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم (۱۹؍ دسمبر ۸۸۳ء مطابق ۱۸؍ صفر ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۳۸
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ مجھ کو آپ کا اخلاص بہت شرمندہ کر رہا ہے۔ خداوندکرم آپ کو بہت ہی اجر بخشے اور ہی عاجز تفضلات الٰہیہ پر بہت بھروسہ رکھتا ہے اور یقینا سمجھتا ہے کہ اُس کی رحمتیں اس اخلاص اور سعی کے صلہ میں آثار نمایاں دکھلائیں گی۔ یہ عالم فانی تو کچھ چیز نہیں اور اس کی آرزو کرنے والے سخت غلطی پر ہیں۔ مومن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہیں کہ اس کا مولیٰ کریم اُس پر راضی ہو۔ آپ کے نفس میں قبولیت دعا کی شرائط پیدا ہیں اور اس عاجز نے دوسروں میں اس قسم کی استقامت کم پائی ہے۔ نیک ظن بننا آسان ہے مگر اُس کا نبھانا بہت مشکل۔ سو خدا نے استقامت اور حسن ظن کی سالیت آپ کے نفس میں رکھی ہے۔ یہ بڑی خوبی ہے کہ جس سے انسان اپنی مراد کو پہنچتا ہے اور نہایت بدنصیب وہ انسان ہے جس کاانجام آغاز کا جوش نہیں رکھتا اور بدظنی اُس کو ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے اور سعید وہ انسان ہے جس پر نیک ظن غالب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ٹھوکر کھانے سے بچتے ہیں اور اُس کا فطرتی نور اُن کو شیطانی تاریکی سے بچا لیتا ہے اور تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں اور الحمدللہ کہ میں آپ کو اُن تھوڑوں کے اوّل درجہ میں دیکھتا ہوں۔ بخدمت تمام احباب سلام مسنون پہنچے۔ (یکم جنوری ۱۸۸۴ء مطابق یکم ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۳۹
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا مبلغ پچاس روپیہ مرسلہ آپ کے پہنچ گئے۔ جَزَاکُمُ اللّٰہ خَیْرَا۔ اب یہ عاجز یوم شنبہ امرسترجانے کو تیار ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہیں سے آپ کی خدمت میں خط لکھے گا۔ آپ نے جو خواب دیکھی۔ انشاء اللہ القدیر بہت بہتر ہے۔ انسان کو بغیر راست گوئی چارہ نہیں اور انسان سے خدا تعالیٰ ایسی کوئی بات پسند نہیں کرتا جیسے اُس کی راست گوئی کو اور راست یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس عاجز سے ایک عجیب معاملہ ہے کہ اِس جیسے شخص پر اُس کا تفضل اور احسان ہے کہ اپنی ذاتی حالت میں احقر اور ارزل عباد ہے۔ زہد سے خالی اور عبادت سے عاری اور معاصی سے پُر ہے۔ سو اُس کے تفضلات تحیر انگیز ہیں۔ خدا تعالیٰ کا معاملہ اپنے بندوں سے طرزِ واحد پر نہیں اور توجہات اور اقبال اور فتوح حضرت احدیّت کی کوئی ایک راہ خاص نہیں۔ اگرچہ طرق مشہورہ ریاضات اور عبادات اور زُہد اور تقویٰ ہے مگر ماسوا اس کے ایک اور طریق ہے جس کے خدا تعالیٰ کبھی کبھی آپ بنیاد ڈالتا ہے۔ کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور مشہود وغیرہ آتا ہے جیسے یہ مصرع
    تمام شب گزرا نیم در قیام و سجود
    چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھتے ہیں … اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اُس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا وہ بطور الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ ہے
    طریق زہد و تعید ندانم اے زاہد
    خدائے من قدمم را… براہِ داؤد
    سو سچ ہے کہ یہ ناچیز زہد اور تعبد سے خالی ہے اور بجز عجز و نیستی اور کچھ اپنے دامن میں نہیں اور وہ بھی خدا کے فضل سے نہ اپنے زور سے جو لوگ تلاش کرتے ہیں وہ اکثر زاہدین اورعابدین کو تلاش کرتے ہیں اور یہ بات اس جگہ نہیں۔ آپ کے مبلغ پچاس روپیہ عین ضرورت کے وقت پہنچے۔ بعض آدمیوں کے بے وقت تقاضا سے بالفعل پچاس روپیہ کی سخت ضرورت تھی دعا کے لئے یہ الہام ہوا۔ بحسن قبولی دعاء بنگر کہ چہ زود دعا قبول میکنم۔ ۳؍ جنوری ۱۸۸۴ء کو یہ الہام ہوا۔ ۶؍ تاریخ کو آپ کا روپیہ آ گیا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذالک۔ (۷؍ جنوری ۱۸۸۴ء ۔ ۷؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۴۰
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔
    بعد سلام مسنون آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ یہ عاجز اگرچہ بہت چاہتا ہے کہ آنمخدوم کے بار بار لکھنے کی تعمیل کی جائے مگر کچھ خداوندکریم ہی کی طرف سے ایسے اسباب آ پڑتے ہیں کہ رک جاتا ہوں۔ نہیں معلوم کہ حضرت احدیّت کی کیا مرضی ہے۔ عاجز بندہ بغیر اُس کی مشیت کے قدم اُٹھا نہیں سکتا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ کسی مکان پر جو یاد نہیں رہا یہ عاجز موجود ہے اور بہت سے نئے نئے آدمی جن سے سابق تعارف نہیں، ملنے کو آئے ہوئے ہیں اور آپ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور مکان ہے۔ اُن لوگوں نے اس عاجز میں کوئی بات دیکھی ہے جو اُن کو ناگوار گزری ہے سو اُن سب کے دل منقطع ہوگئے۔ آپ نے اُس وقت مجھ کو کہا کہ وضع بدل لو۔ مَیں نے کہا کہ نہیں بدعت ہے۔ سو وہ لوگ بیزار ہوگئے اور ایک دوسرے مکان میں جو ساتھ ہے جا کر بیٹھ گئے۔ تب شاید آپ بھی ساتھ ہیں۔ مَیں اُن کے پاس گیا تا اپنی امامت سے ان کو نماز پڑھاؤں پھر بھی اُنہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے ہیں۔ تب اس عاجز نے اُن سے علیحدہ ہونا اور کنارہ کرنا چاہا اور باہر نکلنے کے لئے قدم اُٹھایا معلوم ہوا کہ اُن سب میں سے ایک شخص پیچھے چلا آتا ہے تو تقدیرات معلقہ کو مبدّل بھی کر دیتا ہے لیکن اندیشہ گزرتا ہے کہ خدانخواستہ وہ آپ ہی کا شہر نہ ہو۔ لوگوں کے شوق اور ارادت پر آپ خوش نہ ہوں۔ حقیقی شوق اور ارادت کو جو لغزش اور ابتلا کے مقابلہ پر کچھ ٹھہر سکے لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے ورنہ اکثر لوگوں کے دل تھوڑی تھوڑی بات میں بدظنی کی طرف جھک جاتے ہیں اور پھر پہلے حال سے پچھلا حال اُن کا بدتر ہو جاتا ہے۔ صدق الارادت وہ شخص ہے کہ جو رابطہ توڑنے کیلئے جلد تر تیار نہ ہو جائے اور اگر ایسا شخص جس پر ارادت کبھی کسی فسق اور معصیت میں مبتلا نظر آوے یا کسی اور قسم کا ظلم اور تعدی اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا دیکھے یا کچھ اسباب اور اشیاء منہیات کے اُس کے مکان پر موجود پاوے تو جلد تر اپنے جامہ سے باہر نہ آوے اور اپنی دیرینہ خدمت اور ارادت کو ایک ساعت میں برباد نہ کرے بلکہ یقینا دل میں سمجھے کہ یہ ایک ابتلاہے کہ جو میرے لئے پیش آیا اور اپنی ارادت اور عقیدت میں ایک ذرّہ فتور پیدا نہ کرے اور کوئی اعتراض پیش نہ کرے اور خدا سے چاہے کہ اس کو اُس ابتلا سے نجات بخشے اور اگر ایسا نہیں تو پھر کسی نہ کسی وقت اُس کے لئے ٹھوکر درپیش ہے۔ جن پر خدا کی نظر لطف ہے اُن کو خدا نے ایک مشرب پر نہیں رکھا۔ بعض کو کوئی مشرب بخشا اور بعض کو کوئی اور اُن لوگوں میں ایسے بھی مشرب ہیں کہ جو ظاہری علماء کی سمجھ سے بہت دور ہیں۔ حضرت موسیٰ جیسے اولوالعزم مرسل خضر کے کاموں کو دیکھ کر سراسیمہ اور حیران ہوئے اور ہر چند وعدہ بھی کیا کہ میں اعتراض نہیں کروں گا پر جوش شریعت سے اعتراض کر بیٹھے اور وہ اپنے حال میں معذور تھے اور خضر اپنے حال میں معذور تھا۔ غرض اس مشرب کے لوگوں کی خدمت میں ارادت کے ساتھ آنا آسان ہے مگر ارادت کو سلامت لے جانا مشکل ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا کو ہر ایک زائر کا ابتلا منظور ہے تا وہ اُن پر اُن کی چھپی ہوئی بیماریاں ظاہر کرے۔ سو نہایت بدقسمت وہ شخص ہے کہ جو اُس ابتلا کے وقت تباہ ہو جائے۔ کاش! اگر وہ دور کا دور ہی رہتا تو اُس کے لئے اچھا ہوتا۔ ابوجہل کچھ سب سے زیادہ شریر نہ تھا۔ پر رسالتہ کے زمانہ نے اُس کا پردہ فاش کیا۔ اگر کسی بعد کی صدی میں کسی مسلمان کے گھر پیدا ہو جاتا تو شاید وہ خبث اُس کی چھپی رہتی۔ سو خبث امتحان ہی سے ظاہر ہوتی ہیں۔ بہتر ہے کہ آنمخدوم ابھی اس عاجز کی تکلیف کشی کے لئے بہت زور نہ دیں کہ کئی اندیشوں کا محل ہے۔ یہ عاجز معمولی زاہدوں اورعابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ اُن کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ اُن کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ اور دور ہے۔ سیفعل اللّٰہ مایشاء اگر خدانے چاہا تو وہ قادر ہے کہ اپنے خاص ایماء سے اجازت فرماوے ہر یک کو اس جگہ کے آنے سے روک دیں اور جو پردہ غیب میں مخفی ہے اُس کے ظہور کے منتظر رہیں۔ باقی سب خیریت ہے۔ (۱۸؍جنوری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۸؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۴۲
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر صاحب سلمہ ۔ بعد سلام مسنون
    آنمخدوم کا خط آج امرتسر میں مجھ کو ملا۔ پانچ جلدیں حصہ اوّل و دوئم و سوئم روانہ ہو چکی ہیں۔ ایک خط دہلی کے علماء کی طرف اس اس خاکسار کو آیا تھا کہ مولوی محمد نے تکفیر کا فتویٰ بہ نسبت اس خاکسار کے طلب کیا ہے۔ نہایت رفق اور ملائمیت سے رہنا چاہئے۔ آج حضرت خداوندکریم کی طرف سے الہام ہوا۔ یا عبدالرافع انی رافعک الی۔ انی معزک لامانع لما اعطی۔ شاید پرسوں مکرر الہام ہوا تھا۔ یایحی خذالکتاب بقوۃ۔ خذھا ولا تخف سنعیدھا سیرتھا الاولٰی۔ یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہو چکا ہے۔
    (۱۵؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ)
    مکتوب نمبر۴۳
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    بعد ہذا آپ نے جو قول وحدت وجود کی نسبت استفسار فرمایا ہے اُس میں یہ بہتر تھا کہ اوّل آپ اُن وساوس اور اوہام کو لکھتے جن کو قائلین اس قول سقیم کے بطور دلیل آپ کے روبرو پیش کرتے ہیں کیونکہ اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی اور کتاب اللہ اور احادیث نبوی کو بتدبر و تفکر تمام دیکھا اور محی الدین عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھرے ہوئے ہیں اور خود عقل خداداد کی رُو سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا لیکن آج تک اس دعویٰ کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حجت ہاتھ نہیں آئی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حجج قطعیہ قائم ہوتے ہیں کہ جو کسی طرح اُٹھ نہیں سکتیں۔ اوّل بڑی بھاری دلیل مسلمانوں کے لئے بلکہ ہر یک کے لئے کہ جو حق پر قدم مارنا چاہتا ہے۔ قرآن شریف ہے کیونکہ قرآن شریف کی آیات محکمات میں بار بار اور تاکیدی طور پر کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ مافی السموات والارض ہے۔ وہ سب مخلوق ہے اور خدا اور انسان میں ابدی امتیاز ہے کہ جو نہ اس عالم میں اور نہ دوسرے عالم میں مرتفع ہوگی۔ اس جگہ بھی بندگی بیچارگی ہے اور وہاں بھی بندگی بیچارگی ہے۔ بلکہ اُس پاک کلام میں نہایت تصریح سے بیان فرمایا گیا ہے کہ انسان کی روح کے لئے عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اُس کی پیدائش کی عبودیت ہی علت غائی ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون یعنی میں نے جن اور انس کو پرستش دائمی کے لئے پیدا کیا اور پھر انسان کامل کی روح کو اُس کے آخری وقت پر مخاطب کر کے فرمایا یاایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃً مرضیۃ فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی۔ یعنی اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے ربّ کی طرف واپس چلا آ تو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ سو میرے بندوں میں داخل ہو اور میرے بہشت میں اندر آ جا۔ ان دونوں آیات جامع البرکات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انسان کی روح کے لئے بندگی اور عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اسی عبودیت کی غرض سے وہ پیدا کیا گیا ہے بلکہ آیت مؤخر الذکر میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو انسان اپنی سعادت کاملہ کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام کمالات فطرتی کو پا لیتا ہے اور اپنی جمیع استعدادات کو انتہائی درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ اُس کو اپنی آخری حالت پر عبودیت کا ہی خطاب ملتا ہے اور فادخلی فی عبادی کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔ سو اب دیکھئے اس آیت سے کسی قدر بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا کمال مطلوب عبودیت ہی ہے اور سالک کا انتہائی مرتبہ عبودیت تک ہی ختم ہوتا ہے۔ اگر عبودیت انسان کے لئے ایک عارضی جامعہ ہوتا اور اصل حقیقت اس کی الوہیت ہوتی تو چاہئے تھا کہ بعد طے کرنے تمام مراتب سلوک کے الوہیت کے نام سے پکارا جاتا۔ لیکن فادخلی فی عبادی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ عبودیت اُس جہان میں بھی دائمی ہے۔ جو ابدالاباد رہے گی اور یہ آیت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ انسان گو کیسے ہی کمالات حاصل کرے مگر وہ کسی حالت میں عبودیت سے باہر ہو ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ جس کیفیت سے کوئی شَے کسی حالت میں باہر نہ ہو سکے وہ کیفیت اُس کی حقیقت اور ماہیت ہوتی ہے۔ پس چونکہ از روئے بیان واضح قرآن شریف کے انسان کے نفس کے لئے عبودیت ایسی لازمی چیز ہے کہ نہ نبی بن کر اور نہ رسول بن کر اور نہ صدیق بن کر اور نہ شہید بن کر اور نہ اس جہان اور نہ اُس جہان میں الگ ہو سکے۔ جو مہتر اور بہتر انبیا تھے۔ انہوں نے عبدہ و رسولہ ہونا اپنا فخر سمجھا تو اس سے ثابت ہے کہ انسان کی اصل حقیقت و ماہیت عبودیت ہی ہے الوہیت نہیں اور اگر کوئی الوہیت کا مدعی ہے تو بمقابلہ اس محکم اور بین آیت کے جو فادخلی فی عبادیہے۔ کوئی دوسری آیت ایسی پیش کرے کہ جس کا مفہوم فادخلی فی ذاتی ہو اور خود قرآن شریف اور جا بجا اپنے نزول کی حلت غائی بھی یہی ٹھہراتا ہے کہ تا عبودیت پر لوگوں کو قائم کرے اور خدا نے اپنی کتاب عزیز میں اُن لوگوں پر *** کی ہے جنہوں نے مسیح اور بعض دوسرے نبیوں کو خدا سمجھا تھا۔ پس کیونکر وہ لوگ رحمت کے مستحق ہو سکتے ہیں جنہوں نے تمام جہان کو یہاں تک کہ ناپاک اور پلید روحوں کو بھی کہ جو شرارت اور فسق اور فجور سے بھری ہیں خدا سمجھ لیا ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے توحید تین مرتبہ پر منقسم ہے۔ ایک ادنیٰ اور ایک اوسط اور ایک اعلیٰ۔ تفصیل اُس کی یہ ہے کہ ادنیٰ مرتبہ توحید کا کہ جس کے بغیر ایمان متحقق ہو ہی نہیں سکتا۔ نفی شرک رکھا ہے یعنی اس شرک سے بیزار ہونا کہ جو مشرکین محض ظلم اور زیادتی کی راہ سے مخلوق چیزوں کو خدا کے کاموں میں شریک سمجھتے ہیں یعنی کسی قوم نے سورج اور چاند یا آگ اور پانی کو دیو تے قرار دے لیا ہے اور اُن سے مرادیں مانگتے ہیں اور کسی قوم نے بعض انسانوں کو خدائی کا مرتبہ دے رکھا ہے اور خداوندکریم کی طرح اُن کو قادر مطلق اور قاضی الحاجات خیال کر رکھا ہے۔ سو یہ شرک صریح اور ظلم بدیہی ہے کہ جو ہر یک عاقل کو یہ ہدایت نظر آتا ہے لیکن دوسری قسم شرک کی جو قرآن شریف میں بیان کی ہے جس کو چھوڑنے پر توحید کی دوسری قسم موقوف ہے وہ اس کی نسبت کچھ باریک ہے کہ عوام کالانعام اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ یعنی اسباب کو کارخانہ قدرت حضرت احدیّت میں شریک سمجھنا اور فاعل اور مؤثر حقیقی خدا ہی کو نجاننا۔ مثلاً ایک دوکاندار مسلمان جب عین ہجوم خریداروں کے وقت میں بانگ نماز جمعہ سنتا ہے تو دل میں خیال کرتا ہے کہ اگر میں اس وقت جمعہ کی نماز کے لئے اپنی دکان بند کر کے گیا تو مرا بڑا ہی ہرج ہوگا۔ جمعہ کی نماز میں خطبہ سننے اور نماز پڑھنے اور پھر شاید وعظ سننے میں ضرور دیر لگے گی اور اس عرصہ میں سب خریدار چلے جائیں گے اور جو آمدنی اب یہاں ٹھہرے رہنے سے متصور ہے اُس سے محروم رہوں گا۔ سو یہ شرک فی الاسباب ہے کیونکہ اگر وہ دوکاندار جانتا کہ مرا ایک رازق قادر و متصرف مطلق ہے جس کے ہاتھ میں تمام قبض و بسط رزق ہے اور اُس کی اطاعت کرنے میں کوئی نقصان عائد حال نہیں ہو سکتا اور اُس کے ارادہ کے برخلاف کوئی تدبیر و حیلہ رزق کو فراخ نہیں کر سکتا تو وہ اس شرک میں ہرگز مبتلا نہ ہوتا اور یہ قسم دوئم شرک کی چونکہ باریک ہے اس وجہ سے ایک عالم اس میں مبتلا ہو رہا ہے اور اکثر لوگ اسباب پرستی پر اس قدر جھک رہے ہیں کہ گویا وہ اپنے اسباب کو اپنا خدا سمجھ رہے ہیں اور یہ شرک دِق کی بیماری کی طرح ہے کہ جو اکثر نظروں سے مخفی اور محتجب رہتا ہے اور تیسری قسم شرک کی جو قرآن شریف میں بیان کی گئی ہے جس کے چھوڑنے پر تیسری قسم توحید کی موقوف ہے وہ نہایت ہی باریک ہے کہ بجز خاص بالغ نظروں کے کسی کو معلوم نہیں ہوتی اور بغیر افراد کامل کے کوئی اس سے خلاصی نہیں پاتا اور وہ یہ ہے کہ ماسوا اللہ کے یادداشت دل پر غالب رہنا اور اُن کی محبت اور اُن کی محبت یا عداوت میں اپنی اوقات ضائع کرنا اور اُن کی ناچیز ہستی کو کچھ چیز سمجھنا اور اس شرک کا چھوڑنا جس پر توحید کامل موقوف ہے۔ تب محقق ہوتا ہے کہ جب محب صادق پر اس قدر محبت اور محبت الٰہی کا استیلاء ہو جائے کہ اُس کی نظر شہود میں ہر یک موجود ماسوا اللہ موجود ہونے کے معدوم دکھائی دے۔ یہاں تک کہ اپنا وجود بھی فراموش ہو جائے اور محبوب حقیقی کا نور ایسا کامل طور پر چمکے سو اُس کے آگے کسی چیز کی ہستی اور حقیقت باقی نہ رہے اور اس توحید کا کمال اس بات پر موقوف ہے کہ ماسوا اللہ واقعی طور پر موجود تو ہو مگر سالک کی نظر عاشقانہ میں کہ جو محبت الٰہیہ سے کامل طور پر بھڑک گئی ہے وہ وجود غیر کا کالعدم دکھائی دے اور غلبہ محبت احدیتّ کی وجہ سے اس کے ماسوا کو منفی اور معدوم خیال کرے کیونکہ اگر وجود ماسوا کافی الحقیقت منفی اور معدوم ہی ہو تو پھر اس توحید درجہ سوئم کی تمام خوبی برباد ہو جائے گی وجہ یہ کہ ساری خوبی اس توحید درجہ سوئم میں یہ ہے کہ محبوب حقیقی کی محبت اور عظمت اس قدر دل پر استیلاء کرے کہ بوجہ غلبہ اس شہود تام کے دوسری چیزیں معدوم دکھائی دیں۔ اب اگر دوسری چیزیں فی الحقیقت معدوم ہی ہیں تو پھر اس استیلاء محبت اور غلبہ شہود عظمت کی تاثیر کیا ہوئی اور کون کمال اس توحید میں ثابت ہوا کیونکہ جو چیز فی الواقعہ معدوم ہے اس کو معدوم ہی خیال کرنا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو استیلاء محبت پر موقوف ہو بلکہ محبت اور شہود عظمت تامہ کی کمالیت اسی حالت میں ثابت ہوگی کہ جب عاشق دلدادہ محض استیلاء عشق کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے اپنے معدوم کے ماسوا کو معدوم سمجھے اور اپنے معشوق کے غیر کو کالعدم خیال کرے گو عقل شرع اُس کو سمجھاتی ہوں کہ وہ چیزیں حقیقت میں معدوم نہیں ہیں۔ جیسے ظاہر ہے کہ جب دن چڑھتا ہے اور لوگوں کی آنکھوں پر نور آفتاب کا استیلاء کرتا ہے تو باوجود اس کے کہ لوگ جانتے ہیں کہ ستارے اس وقت معدوم نہیں مگر پھر بھی بوجہ استیلاء اُس نور کے کہ ستاروں کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا ہی استیلاء محبت اورعظمت اللہ کا محب صادق کی نظر میں ایسا ظاہر کرتا ہے کہ گویا تمام عالم بجز اس کے محبوب کے معدوم ہے اور اگرچہ عشق حقیقی میں یہ تمام انوار کامل اور اَتم طور پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی عشق مجازی کا مبتلا بھی اس غایت درجہ عشق پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے معشوق کے غیر کو یہاں تک کہ خود اپنے نفس کو کالعدم سمجھنے لگتا ہے۔ چنانچہ منقول ہے کہ مجنون جس کا نام قیس ہے اپنے عشق کی آخری حالت میں ایسا دیوانہ ہو گیا کہ یہ کہنے لگا کہ میں آپ ہی لیلیٰ ہوں۔ سو یہ بات تو نہیں کہ فی الحقیقت وہ لیلیٰ ہی ہو گیا تھا بلکہ اس کا یہ باعث تھا کہ چونکہ وہ مدت تک تصور لیلیٰ میں غرض رہا۔ اس لئے آہستہ آہستہ اس میں خود فراموشی کا اثر ہونے لگا۔ ہوتے ہوتے اس کا استغراق بہت ہی کمال کو پہنچ گیا اور محویت کی اس حد تک جا پہنچا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنون عشق سے انا الیلیٰ کا دعویٰ کرنے لگا اور یہ خیال دل میں بندہ گیا کہ فی الحقیقت میں ہی لیلیٰ ہوں۔ غرض غیر کو معدوم سمجھنا لوازم کمال عشق میں سے ہے اور اگر غیر فی الحقیقت معدوم ہی ہے تو پھر وہ ایسا امر نہیں ہے کہ جس کو استیلاء محبت اور جنون عشق سے کچھ بھی تعلق ہو اور غلبہ عشق کی حالت میں محویّت کے آثار پیدا ہو جانا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو انسان مشکل سے سمجھ سکے۔ شیخ مصلح الدین شیرازی نے خوب کہا ہے۔
    نہ از چینم حکایت کن نہ از روم
    کہ دارم دلستانے اندریں بوم
    چو روئے خوب او آید ببادم
    فراموشتم شود موجود و معدوم
    اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
    باتو مشغول و باتو ہم اہم
    دانہ تو بخشایش تو میخواہم
    تا مرا از تو آگہی دادند
    بوجودت گرانہ خود اگاہم
    اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں کمال توحید کا یہی درجہ بیان کیا گیا ہے کہ محب صادق بوجہ استیلاء محبت اور شہود عظمت محبوب حقیقی کی غیر کے وجود کو کالعدم خیال کرے نہ کہ فی الواقعہ غیر معدوم ہی ہو کیونکہ معدوم کو معدوم خیال کرنا ترقیات عشق اور محبت سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ سوعاشق صادق کے لئے توحید ضروری اور لابدی ہے کہ جو اُس کے کمال عشق کی علامت ہے۔ یہی توحید ہے کہ جو اُس کا شہود بجز ایک کے نہ ہو نہ یہ کہ عقلی طور پر بھی فی الواقعہ ہی موجود سمجھتا ہو کیونکہ وہ اپنے عقل میں ہو کر ایسی باتیں ہرگز منہ پر نہیں لاتا اور حق الیقین کے مرتبہ کے لحاظ سے جب دیکھتا ہے تو حقائق اشیاء سے انکار نہیں کر سکتا بلکہ جیسا کہ اشیاء فی الواقعہ موجود ہیں ایسا ہی اُن کی موجودیت کا اقرار رکھتا ہے اور چونکہ یہ توحید شہودی فنا کے لئے لازمی اور ضروری ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا ذکر اپنے پاک کلام میں بسط سے فرمایا ہے اور نادان جب اُن بعض آیات کو دیکھتا ہے تو اس دھوکہ میں پڑ جاتا ہے کہ گویا وہ آیات توحید وجودی کی طرف اشارہ ہے اور اس بات کونہیں سمجھتا کہ خداوند کے کلام میں تناقص نہیں ہو سکتا۔ جس حالت میں اُس نے صدہا آیات بینّات اور نصوص صریحہ میں اپنے وجود اور مخلوق کے وجود میں امتیاز کلی طور پر ظاہر کر دیا ہے اور اپنے مصنوعات کو موجود واقعی قرار دے کر اپنی صانعیت اُس سے ثابت کی ہے اور اپنے غیر کو شقی اور سعید کی قسموں میں تقسیم کیا ہے اور بعض کے لئے خلود جنت اور بعض کے لئے خلود جہنم قرار دیا ہے اور اپنے تمام نبیوں اور مرسلوں اور صدیقوں کو بندہ کے لفظ سے یاد کیا ہے اور آخرت میں اُن کی عبودیت دائمی غیر منقطع کا ذکر فرمایا ہے تو پھر ایسے صاف صاف اور کھلے کھلے بیان کے مقابلہ پر کہ جو بالکل عقلی طریق سے بھی مطابق ہے بعض آیات کی کسی اور طرح پر معنی کرنا صرف اُن لوگوں کا کام ہے کہ جو راہ راست کے طالب نہیں۔ بلکہ آرام پسند اور آزاد طبع ہو کر صرف الحاد اور زندقہ میں اپنی عمر بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر انسان صرف عقل کی رُو سے بھی نظر کرے تو وہ فی الفور معلوم کرے گا کہ مشت خاک کو حضرت پاک سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ انسان دنیا میں آ کر بہت سے مکروہات اپنی مرضی کے برخلاف دیکھتا ہے اور بہت سے مطالب باوجود دعا اور تضرع کے بھی حاصل نہیں ہوتی۔ پس اگر انسان فی الحقیقت خدا ہی ہے تو کیوں صرف کن فیکون کے اشارہ سے اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتا اور کیوں صفات الوہیت اس میں محقق نہیں ہوتیں کیا کوئی حقیقت اپنے لوازم ذاتی سے معرا ہو سکتی ہے۔ پس اگر انسان کی حقیقت الوہیت ہے تو کیوں آثار الوہیت اس سے ظاہر نہیں ہوتے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس بر تک روتے رہے مگر اپنے فرزند عزیز کا کچھ پتہ نہ ملا۔ مگر اسی وقت کہ جب خدا نے چاہا۔ پس جب کہ صفات الوہیت نبیوں میں ظاہر نہیں ہوئے تو اور کون ہے جس میں ظاہر ہوں گے اور جب کہ اب تک کوئی ایسا مرد پیدا نہیں ہوا کہ جس نے میدان میں آ کر تمام مخالفوں اور موافقوں کے سامنے الوہیت کی طاقتیں دکھلائی ہوں تو پھر آئندہ کیونکر امید رکھیں۔ ماسوا اس کے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ انسان سے کیسے کیسے بُرے اور ناپاک کام صادر ہوتے ہیں۔ پس کیا عقل کسی عاقل کی تجویز کر سکتی ہے کہ یہ سب ناپاکیاں خدا کی روح کر سکتی ہے۔ پھر علاوہ اس کے مخلوق کے وجود سے انکار کرنا دوسرے لفظوں میں اس بات کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ قادر مطلق نہیں کیونکہ اگر اس کو قادر مطلق مان لیا ہے تو پھر اُس کی قدرت تامہ کا اسی بات پر ثبوت موقوف ہے کہ جو چاہے پیدا کرے نہ کہ ہندؤوں کے اوتاروں کی طرح ہر جگہ بُرے بھلے کام کرنے کے لئے آپ ہی جنم لیتا رہے۔ سو خدا کی ذات سے سلب قدرت کرنا اور اُس کو طرح طرح کے گناہوں اور پاپوں اور بے ایمانیوں کا مورد ٹھہرانا اور انواع اقسام کی جہالتوں کو اُس پر روا رکھنا اسی توحید وجودی کا نتیجہ ہے جس کو وجودی لوگ نہیں سمجھتے۔ عقلمند انسان کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایسا دعویٰ ہرگزنہیں کرتا جس دعویٰ کا ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ پس اگر یہ لوگ عاقل ہوتے تو ایسا دعویٰ کرنے سے متہاشی ہوتے۔ زیادہ تر خرابی ان میں یہ ہے کہ اُن کی زبان اُن کے فعل اور عمل پر غالب ہو رہی ہے۔ ذرا خیال کرتے اور انسانی ترقیات کو حال کے ذریعہ سے دیکھتے۔ نہ صرف قال کے ذریعہ سے تو یہ تمام اوہام اُن کے خود بخود اُٹھ جاتے مثلاً ایک عاقل سیاح کے پاس یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی سیاح فلاں جزیرہ میں پہنچتا ہے تو بجائے دو آنکھ کے اُس کی چار آنکھیں ہو جاتی ہیں اور منہ سے سنتا ہے اور کانوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے تو ایسی خلاف قیاس خبر پر صرف اسی حالت میں عقلمند یقین کرے گا کہ جب بیان کنندہ اس خبر کا خود اس جزیرہ میں ہو کر آیا ہو اور یہ چار آنکھیں اور ایسا منہ اور ایسے کام اس نے دکھلائے ہوں یا کوئی اور انسان پیش کر دیا ہو جس میں یہ صفتیں موجود ہوں اور اگر ایسا نہیں کیا تو ہرگز وہ عاقل اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا اور غایت کار اُس احمق کو یہ جواب دے گا کہ بھائی میں بھی تو اُسی جزیرہ کی طرف چلا جاتا ہوں۔ سو اگر ایسی ہی اس جزیرہ میں خاصیت ہے تو میری بھی وہاں جا کر چار آنکھیں ہو جائیںگی اور میں بھی منہ سے سنوں گا اور کانوں سے دیکھوں گا۔ تب خود میں تیرے اس بیان کو قبول کر لوں گا۔ اب میں بلا ثبوت کیوں کر قبول کر سکتا ہوں۔ سو سمجھنا چاہئے کہ جو انسان اپنے نفس کو دھوکہ نہیں دیتا اور اپنے خیال کو گمراہی میں ڈالنا نہیں چاہتا وہ باتیں چھوڑ دیتا ہے اور کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور سرگرمی سے منزل مقصود کی طرف قدم رکھتا ہے۔ پھر اُس راہ کے تمام عجائبات بالضرورت اُس کو دیکھنے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے حق الامر اُس پر کھل جاتا ہے مگر جو کوئی صرف باتوں میں مقید رہتا ہے اور محض سنے سنائے قصوں پر کہ جو عقل اور شرع سے بکلی منافی ہیں جم جاتا ہے وہ اپنے نفس کو آپ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ حقیقت میں ایسے لوگ خدا تعالیٰ سے بالکل بے غرض ہیں اور وسیع مشربی کے پردہ میں اپنے نفس امّارہ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں اگر اُن کی سرشت میں کچھ بو صدق کی ہے تو پہلے انسان بن کر ہی دکھلا دیں۔ پیچھے سے الوہیت کا دعویٰ کریں کیونکہ انسان بننے کے ہی ایسے لوازم ہیں جن کی ابھی تک بو اُن میں نہیں آئی نہ اُس کے حصول کی کچھ پرواہ رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُمّتِ محمدیہ کی آپ اصلاح کرے۔ عجب خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ عاجز بباعث اپنی علالت طبع کے اس مضمون کو تفصیل اور بسط سے نہیں لکھ سکا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ طالب حق کے لئے اسی قدر کافی ہے مگر جس شخص کا مقصد خدا نہیں اس کو کوئی دقیقہ معرفت اور کوئی نشان مفید نہیں۔ ولا تبغنی الایات والنذر عن قوم لایومنون اور یہ عاجز دو دن کے رفع انتظار کی غرض سے یہ خط لکھا گیا اور اب میں توکلاً علی اللّٰہ امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہوں۔ والسلام
    (۱۳؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۴؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ بعد سلام مسنون
    آنمخدوم کا خط بعد واپسی از امرتسر مجھ کو ملا ۔ آنمخدوم کچھ تفکر اور تردّد نہ کریں اور یقینا سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں۔ بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے۔ اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔ کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہیں ہوتے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا اگر لوگ خدا کے بندوں کو کہ جو اُس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یوں ہی اُن کی شکل ہی دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ اُن کا ہرگز دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔
    (تاریخ ۲۶؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۷؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ بذریعہ محمد شریف صاحب مجھ کو ملا۔ سو آپ کو میں اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے حصہ سوئم و چہارم بخدمت علماء دہلی بھیج دیئے ہیں۔ آپ نے جو لکھا ہے کہ چوتھے حصہ کے صفحہ ۴۹۶ پر مخالف اعتراض کرتے ہیں آپ نے مفصل نہیں لکھا کہ کیا اعتراض کرتے ہیں۔ صرف آپ نے یہ لکھا ہے کہ یامریم اسکن میں نحوی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ اسکن کی جگہ اسکنی چاہئے تھا۔ سو آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ جس شخص نے ایسا اعتراض کیا ہے اس نے خود غلطی کھائی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ نحو اور صرف سے آپ ہی بے خبر ہے کیونکہ عبارات کا سیاق دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ مریم سے مریم اُم عیسیٰ مراد نہیں ہے اور نہ آدم سے آدم ابولبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں اُن ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر یک جگہ یہی عاجز مراد ہے اب جب کہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد نہیں ہے بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یامریم اسکن کہا جائے نہ یہ کہ یا مریم اسکنی۔ ہاں اگر مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد ہوتی تو پھر اس جگہ اسکنی آتا لیکن اس جگہ تو صریح مریم مذکر کا نام رکھا گیا ہے اس لئے برعایت مذکر مذکر کا صیغہ آیا اور یہی قاعدہ ہے کہ جو نحویوں اور صرفیوں میں مسلم ہے اور کسی کو اس میں اختلاف نہیں ہے اور زوج کے لفظ سے رفقاء اور قرباء مراد ہیں۔ زوج مراد نہیں ہے اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاع پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُسی جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے اور یہ عاجز اس الہام میں کوئی جائے گرفت نہیں دیکھتا۔
    (۲۱؍فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۲۲؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا یہ عاجز یہ دعا کرتا ہے کہ خواوندکریم اپنے فضل و کرم سے آنمخدوم کی عمر میں برکت بخشے۔ زیادہ تر اس بات میں کوشش کرنی چاہئے کہ کسی طرح مولیٰ کریم راضی ہو جائے۔ ہر یک سعادت اس کی رضا سے حاصل ہوتی ہے۔ دنیا میں جو کچھ انسان رسوم کے طور پر کرتا ہے وہ کچھ چیز نہیں ہے۔ مگر جو کچھ خالصاً مرضات اللہ کے حاصل کرنے کے لئے صدق قدم سے کیا جاتا ہے وہ عمل صالح ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ عمل صالح بڑی ہی نعمت ہے خداوندکریم عمل صالح سے راضی ہو جاتاہے اور قرب حضرت احدیّت حاصل ہوتا ہے مگر جس طرح شراب کے آخری گھونٹ میں نشہ ہوتا ہے اسی طرح عمل صالح کے برکات اُس کی آخری خیر میں مخفی ہوتے ہیں جو شخص آخر تک پہنچتا ہے اور عمل صالح کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے وہ اُس برکات سے متمتع ہو جاتا ہے لیکن جو شخص درمیان سے ہر عمل صالح کو چھوڑ دیتا ہے اور اُس کو اپنے کمال مطلوب تک نہیں پہنچاتا وہ اُن برکات سے محروم رہ جات ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باوجود اس کے کہ کچھ کچھ عمل صالح بجا لاتے ہیں مگر برکات ان اعمال کے ان میں نمایاں نہیں ہوتے کیونکہ جب تک کوئی میوہ خام ہے وہ پختہ اور رسیدہ میوہ کی لذت نہیں بخش سکتا۔ سب برکتیں کمال میں ہیں اور عمل ناتمام میں کوئی برکت نہیں بلکہ بسا اوقات ناقص العمل انسان کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جات ہے اور اُن لوگوں میں جا ملتا ہے کہ خسرۃ الدنیا والاخرۃ ہیں۔ سو حقیقی طور پر عمل صالح اس عمل کو کہا جاتا ہے کہ جو ہر یک قسم کے فساد سے محفوظ رہ کر اپنے کمال کو پہنچ جائے اور اپنے کمال تک کسی عمل صالح کا پہنچنا اس بات پر موقوف ہے کہ عامل کی ایسی نیت صالح ہو کہ جس میں بجز حق ربوبیت بجا لانے کی کوئی اور غرض مخفی نہ ہو یعنی صرف اُس کے دل میں یہ ہو کہ وہ اپنے ربّ کی اطاعت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور گو اطاعت بجا لانے پر ثواب مترتب یا عذاب مترتب ہو اور گو اُس کا نتیجہ آرام اور راحت ہو یا نکبت اور عقوبت ہو لیکن بہرحال وہ اپنے مالک کی اطاعت میں رہے گا کیونکہ وہ بندہ ہے۔ پس جو شخص اس اصول پر خدا کی عبادت کرتا ہے وہ اس راہ کی آفات سے امن میں ہے اور امید ہے کہ اس پر فضل ہو لیکن اسے لازم ہے کہ کسی امید پر بنیاد نہ رکھے اور اطاعت اور عبودیت کو ایک حق ربوبیت کا سمجھے کہ جو بہرحال ادا کرنا ہے اور سرگرمی سے خدمت میں لگا رہے اور اپنی کارگزاری اور خدمت کو کچھ چیز نہ سمجھے اور مولیٰ کریم پر احسان خیال نہ کرے دنیا مزرعہ آخرت ہے اور فارغ باشی کچھ چیز نہیں۔ وہی لوگ مبارک ہیں کہ جو دن رات اپنے زور سے اپنے تمام اخلاص سے، اپنے تمام رجوع سے رضائے مولیٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ (۲۸؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۲۹؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا آپ نے جو اپنے عنایت نامہ مرقومہ ۲۹؍ فروری ۱۸۸۴ء میں ایک سوال تحریر فرمایا تھا۔ آج تک میں نے بباعث علالت طبع اُس کی طرف توجہ نہیں کی اور اب بھی بباعث ضعف دماغ و درد سر طبیعت حاضر نہیں ہے لیکن جو آنمخدوم کا وہ خط دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سوال صرف ایک نزاع لفظی ہے کیونکہ جس مرتبہ توحید کو آنمخدوم ابتدائی مرتبہ تصور فرماتے ہیں وہ مرتبہ اس عاجز کے نزدیک ان معنوں کر کے انتہائی مرتبہ توحید کا ہے کہ وہ سیر اولیاء کا منتہا اور آخری حد ہے۔ جس سے فنائے اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے۔ اگرچہ درگاہ احدیّت بے نہایت ہے لیکن جس کمال توحید کو انسان اپنے مجاہدہ سے، اپنی کوشش سے اپنے تزکیہ نفس سے، اپنے سیر و سلوک سے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہیں تک ہے پھر بعد اس کے مخفی تفضلات الٰہیہ اور مواہب لدنیہ ہیں جن تک کوششوں کو راہ نہیں۔ ساری کوششیں اور محنتیں صرف اس حد تک ہیں کہ انسان اپنے نفس اور تمام خلق کو ہیچ اور لاشَے سمجھ کر اور اپنے ہوا اور ارادہ سے باہر ہو کر بکلی خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائے اور اپنی ناچیز ہستی، شہود ہستی حقیقی حضرت باری تعالیٰ کے نابود اور معدوم دکھائی دے اور جیسا فی الواقعہ انسان محبت وجود حضرت قادر مطلق کے ہیچ اور ناچیز ہے ایسی ہی حالت پیدا ہو جائے گویا اب بھی وہ نیست ہی ہے۔ جیسا پہلے نیست تھا۔ سو یہ مرتبہ عبودیت کی آخری حد ہے اور یہی اس توحید کا انتہائی مقام ہے کہ جو سعی اور کوشش اور سیرو سلوک سے حاصل کرنا چاہئے۔ یہ سچ ہے کہ بعد اس کے مرتبہ سیر فی اللہ ہے لیکن اس مرتبہ کے حصول کے لئے کوشش کو دخل نہیں بلکہ یہ محض بطریق فضل اور موہیت کے حاصل ہوتا ہے اور کوششیں صرف اُسی مرتبہ فنا تک ختم ہو جاتی ہیں کہ جو اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک شخص کئی منزلیں طَے کر کے بادشاہ کے ملنے کیلئے آیا ہے اور جس قدر ا راہ میں مانع تھے سب سے خلاصی پاکر بادشاہ کے خیمہ تک پہنچ گیا ہے اب خیمہ کے اندر جانا اُس کا کام نہیں ہے بلکہ وہ اپنا کام سب کر چکا ہے اور خیمہ میں داخل کرنا اور بارگاہ میں دخل دینا یہ خاص بادشاہ کا کام ہے کہ جو ایک خاص اجازت بادشاہی پر موقوف ہے۔ ناچیز بندہ کیا حقیقت رکھتا ہے کہ جو اپنی بشری طاقتوں کے ذریعہ سے اور اپنے اختیار سے خود بخود بلا اجازت بارگاہ میں داخل ہو جائے اور اب بباعث ضعف زیادہ لکھ نہیں سکتا۔ آپ نے جو کئی شعروں کے معنی دریافت فرمائے ہیں وہ کسی اور وقت اگر خدا نے چاہا تحریرکروں گا اور امرتسر سے واپس آ گیا ہوں اور واپس آ کر میر مردان علی صاحب کا خط ملا سو اُن کی نسبت اور آنمخدوم کے لخت جگر کی نسبت دعاء خیر کر کے حوالہ بخدا کرتا ہوں جب طبیعت رو بصحت ہوئی انشاء اللہ تعالیٰ بشرط یاد آنمخدوم کے سوال معنی اشعار کے معنوں کی بابت لکھا جائے گا۔
    (۱۱؍ مارچ ۱۸۸۴ء مطابق ۱۲؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۱ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ
    مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عنایت نامہ مع مبلغ … روپیہ پہنچا۔ یہ عاجز آپ کا بغایت درجہ شکر گزار ہے اور اپنے مولیٰ کریم جل شانہ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ کو جزائے عظیم بخشے۔ آج اسی وقت میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلا میں پڑا ہوں اور میں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مواخذہ کرتا ہے۔ میں نے اُس کو کہا کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے۔ اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جلہ شانہٗ کے تصرف میں ہوں۔ جہاں مجھ کوبیٹھائے گا، بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہو جاؤں گا اور یہ الہام ہوا۔ یدعون لک ابدال الشام و عباد اللّٰہِ من العرب یعنی تیرے لئے ابدال شامل کے دعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دعا کرتے ہیں۔ خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیونکر اس کا ظہور ہو۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ مناسب سمجھا تھا آپ کو اطلاع دوں۔
    (۶؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق ۱۹؍ جمادی الثانی ۱۳۰۲ھ)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدوم مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا اخلاص اور جوش محبت اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ ذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء۔ خداوندکریم سے چاہتا ہوں کہ آپ کا نشست خاطر بہ جمعیت مبدل ہو۔ آمین
    (۱۹؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق ۳؍ رجب ۱۳۰۲ھ)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدومی ام میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا چونکہ آنمخدوم کی روح کو اس عاجز کی روح سے بشدت مناسبت ہے اسی وجہ سے تعلقات روحانی کا غلبہ ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی حالت کاملہ ابتلاء کے خطرات سے امن میں ہے۔ یہ عاجز بوجہ قلت فرصت تحریر جواب سے قاصر رہا اور مستعد تحریر تھا کہ اسی میں خط پہنچ گیا۔ دہلی کی طرف جانے کے لئے ابھی کچھ معلوم نہیں۔ ہندوستان میں اکثر اطراف بیماری بہت پھیل رہی ہے اگر کسی وقت بطریق عجلت سفر اُس طرف کا پیش آیا۔ تب تو مجبوری ہے ورنہ بہر طرح خواہ ایک ساعت کے لئے ہو۔ انشا ء اللہ ملاقات آنمخدوم کی ہوگی۔ آگے ہر ایک امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پردہ غیب میں جو کچھ مخفی ہے کسی کو اس پر اطلاع نہیں۔ آنمخدوم اپنی اصلی صحت پر آگئے ہوں تو اطلاع بخشیں۔ (۴؍ جون ۱۸۸۵ء مطابق دہم رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    از خاکسار غلاماحمد باخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    خط آنمخدوم پہنچا۔ یہ عاجز بباعث درد سر و درد پہلو اس قدر بیمار رہا کہ بعض اوقات یہ عارضہ مقدمہ موت جو ہریک بشر کیلئے ضروری ہے معلوم ہوتا تھا۔ اب افاقہ ہے مگر کچھ درد باقی ہے۔ اسی وجہ سے تحریر جواب سے معذور رہا۔ آپ کا خط جو استفسار اختلافات نماز میں ہے وہ بھی اس عاجز کے پاس رکھا ہے مگر کیا کِیا جائے صحت پر موقوف ہے۔ بمبئی والے سوداگر کی بدمعاملگی ایک ابتلاء ہے اس میں صبر بہتر ہے۔ مقدمہ سازی و مقدمہ بازی دنیا داروں کا کام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے بصیرت بخشی ہے وہ سب امور خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھتا ہے۔ سو اس میں حضرت خداوند کریم کی کچھ حکمت ہے۔ آپ صبر کریں اور خدا تعالیٰ پر توکّل رکھیں اور جو کچھ حالت عسر و تنگدستی درپیش ہے۔ یہ بھی ابتلا ہے۔ ایسے وقتوں میں مردان خدا اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دعا اور استغفار اور تضرع سے استقامت و مشکل کشائی چاہتے ہیں اور حضرت ارحم الراحمین غراسمہٗ و قادر کریم و رحیم ہے۔ جب بندہ عاجز اپنے کرب اور قلق کے وقت میں ہر یک طرف سے قطع امید کر کے اُس کے دروازہ پر گرتا ہے اور پورے پورے رجوع سے دعا کرتا ہے اور دعا کرنے سے تھکتا نہیں۔ سو خدا تعالیٰ اُس پر رحم فرماتا ہے اور اس کی مخلصی بخشتا ہے۔ تب اُس کو دو لذتیںملتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اپنے کرب و قلق سے نجات پاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ دعا کے قبول ہونے میں جو ایک لذت ہے۔ اس سے بھی وہ متمتع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت کریم و رحیم ہے جب بندہ یقین کامل اپنے دردوں اور تکلیفوں کے وقت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو ضرور وہ اُس کی سنتا ہے۔ اس عاجز کو اس بات سے افسوس ہے کہ آپ کے چند خطوط جو علوم دین کے استفسار میں تھے۔ اُس کا جواب مجھ سے نہیں لکھا گیا اور اب ضعف دماغ و درد سر کا یہ حال ہے کہ جو کچھ کھایا جاتا ہے۔ اُس کی تبخیر ہو کر درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس بات کی ابھی تسلی نہیں کہ عمر کا کیا حال ہے۔ بعض عوارض لاحقہ میں اندیشہ موت کا پیدا ہو جاتا ہے۔ کام کتاب کا ہنوز شروع نہیں کیا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ کتاب پوری ہو جائے گی۔
    (۲۴؍جون۱۸۸۵ء مطابق ۱۰ رمضان ۱۳۰۲ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدوم ومکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ عاجز چند روز سے امرتسر گیا ہوا تھا۔ آج بروز چار شنبہ بعد روانہ ہو جانے ڈاک کے یعنی تیسرے پہر قادیان پہنچا اور مجھ کو ایک کارڈ میر امداد علی صاحب کا ملا۔ جس کے دیکھنے سے بمقتضائے بشریت بہت تفکر اور تردّد لاحق ہوا۔ اگرچہ میں بھی بیمار تھا مگر اس بات کے معلوم کرنے سے کہ آپ کی بیماری غایت درجہ کی سختی پر پہنچ گئی ہے مجھ کو اپنی بیماری بھول گئی اور بہت سی تشویش پیدا ہوگئی۔ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے عمر بخشے اور آپ کو جلد تر صحت عطا فرماوے۔ اسی تشویش کی جہت سے آج بذریعہ تار آپ کی صحت دریافت کی اور میں بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ بشرط صحت و عافیت ۱۴؍اکتوبر تک وہیں آ کر آپ کو دیکھوں اور میں خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو صحت عطا فرماوے۔ آپ کے لئے بہت دعا کروں گا اور اب توکلاً علی اللّٰہ آپ کی خدمت میں یہ خط لکھا گیا۔ آپ اگر ممکن ہو تو اپنے دستخط خاص سے مجھ کو مسرور الوقت فرماویں۔
    (۸؍ اکتوبر ۱۸۸۴ء مطابق ۱۷؍ ذوالحجہ ۱۳۰۲ھ)
    ٭٭٭
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مخدوم ومکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ خطوط کے چھپنے کے لئے اس عاجز نے ایک خاص معتبر لاہور میں بھیجا ہوا ہے۔ اگرچہ ارادہ تھا کہ دو ہزار خط چھاپا جائے مگر دو ہزار نوٹس کے بھیجنے میں پانچ سَو روپیہ خرچ آتا ہے کیونکہ ہر ایک خط رجسٹری ہو کر بصرف چار آنا جائے گا۔ اس لئے بعض دوستوں کے مشورہ سے قریب مصلحت معلوم ہوا کہ بالفعل صرف پانچ سَو خط چھپوایا جائے۔ جس میں کچھ انگریزی اور کچھ اُردو ہوں گے۔ ان خطوط کے چھپوانے اور روانہ کرنے میں بھی ایک سَو پچاس یا کچھ زیادہ روپیہ خرچ آ جائے گا۔ مگر یہ کام اتمام حجت کے لئے کیا گیا ہے تا ہر یک ضلع میں بڑے بڑے پادریوں اور پنڈتوں کی طرف اور بعض راجوں اور رئیسوں کی طرف بھی اور بعض علماء اور گدی نشینوں کی طرف بھی روانہ کئے جائیں اور پھر جب اُن سب کی اطلاع یابی ہوکر آجائے تو اُن سبکے نام بغرض اظہار اِتمام حجت حصہ پنجم میں درج کئے جائیں۔ سو اگر خدا تعالیٰ نے چاہا اور اُس کے ارادہ میں ہوا تو یہ کام انجام پذیر ہو جائے گا ورنہ ہرچہ مرضی مولیٰ ہمان اولیٰ۔ مکتوب حضرت یحیٰ منیری کا مضمون جو آپ نے لکھا ہے بہت ہی عمدہ ہے اور منصف کے لئے کافی۔ والسلام
    (دوم مارچ ۱۸۸۵ء ۔ ۱۲؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۲ھ)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    از عاجزعایذبااللہ الصمد غلام احمدبخدمت اخویم مخدوم و مکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا عنایت نامہ آنمخدوم پہنچا۔ حال معلوم ہوا۔ جس قدر آنمخدوم نے اشاعت دین اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے رنج اُٹھایا ہے خدا تعالیٰ اُس کے عوض میں آپ پر اس طور سے راضی ہو کہ جیسا اپنے سچے خادموں اور مقبولوں پر راضی ہوا کرتا ہے۔ آمین ثم آمین۔ فی الحقیقت مسلمانوں کی عجیب نازک حالت ہو رہی ہے جس عظمت اور بزرگی کو خدا اور رسول میں ماننا تھا۔ وہ اور اور چیزوں کو دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے اور اپنے سچے دین کی حمایت میں وہ تائید دکھلاوے جن سے ان کور باطنوں کی آنکھوں کھلیں۔ ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حقیقت اور کیا کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاتھوں میں توفیق ایزدی کچھ ہے تو صرف تضرعات ہیں اگر ربّ العرش تک پہنچ جائیں لیکن دل پُر درد کا یہ حال ہے کہ نہ بہشت کے نعماء کے لئے طبیعت کو جوش ہے اور نہ دوزخ کے آلام کی فرک ہے بلکہ دل اور جان اسی تمنا میں غرق ہو رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان بدعات کے داغوں کو اسلام کی خوبصورت شکل سے دور کرے اور اپنی خاص حمایت اور نصرت سے عظمت اور بزرگی اپنے کلام کی لوگوں پر ظاہر فرما دے۔ آمین!
    مرزا جان جانان صاحب کے خط کا ردّ کچھ مشکل نہیں۔ مرزا صاحب مرحوم ہندوؤں کے اصولوں سے بکلّی ناواقف معلوم ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ کسی فرصت کے وقت ان کی نسبت کچھ تحریر کیا جائے گا۔ اس عاجز کا یہ حال ہے کہ بعض گذشتہ اور تازہ الہامات سے قرب اجل کے آثار پائے جاتے ہیں گو صفائی سے نہیں بلکہ مشتبہ اور ذومعنیں الہام ہیں تا ہم فکر سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ اسی وجہ سے میں نے اپنی تمام ہمت کو اس طرح مصروف کیا ہے۔ حصہ پنجم کی عبارت کو جلد مرتب اور بامحاورہ کر کے اور جو کچھ اس میں زائد داخل کرنا ہے وہ داخل کر کے توکلاً عَلٰی اللّٰہ چھپوانا شروع کر دوں کہ اس ناپائیدار اور ہیچ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔ آپ بھی دعا کریں اور اخومی منشی احمد جان صاحب کو بھی لکھیں کیونکہ بعض تقدیرات بعض دعاؤں سے ٹل جاتی ہیں۔
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عنایت نامہ پہنچا۔ عاجز بدل و جان حضرت خداوندکریم سے آپ کے لئے دعا مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں آپ کو خوش رکھے۔ جس قدر انسان عالی ہمت اور صابر ہوتا ہے۔ اُسی قدر تکالیف سے آزمایا جاتا ہے۔ بیگانہ جس میں زہر کا تخم ہے۔ اس لائق ہرگز نہیں ہونا کہ خدا تعالیٰ اُس کو ایسے ابتلا میں ڈالے جس میں صادقوں کو ڈالتا ہے۔ سو مبارک وہی ہیں جن کوخدا درجات عطا کرنے کیلئے دنیا کی تلخیوں کا کچھ مزہ چکھاتا ہے۔ دنیا کی حالت یکساں نہیں رہتی جس طرح دن گزر جاتا ہے۔ آخر رات بھی اسی طرح گزر جاتی ہے۔ سو جو شخص خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے وہ مصیبت کی رات کو ایسی کاٹتا ہے جیسے کوئی سونے کی حالت میں رات کو کاٹتا ہے اگر پروردگار ایمان کو بچائے رکھے تو مصیبت کچھ چیز نہیں لیکن اگر مصیبت کچھ بھی ہو اور مدد ایمانی منقطع ہو جائے تو نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔ یہ عاجز تو حضرت خداوندکریم سے امید بھی رکھتا ہے کہ آپ کے ہموم و غموم بفضلہ تعالیٰ دور ہوں اور اجر حاصل اور غم زائل ہو۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ چند اشتہارات ارسال خدمت میں۔ والسلام
    (۹؍جون ۱۸۸۵ء۔ ۲۴ ؍ شعبان ۱۳۰۲ھ)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بعد ہذا ان دنوںمیں ایک شخص اندر من نام جو ایک سخت مخالف اسلام ہے اور کئی کتابیں ردّ اسلام میں اُس نے لکھی ہیں۔ مراد آباد سے اوّل نابھہ میں آیا اور راجہ صاحب نابھہ کی تحریک سے میرے مقابلہ کیلئے لاہور میں آیا اور لاہور میں آ کر اس عاجز کے نام خط لکھا کہ اگر چوبیس سَو روپیہ نقد میرے لئے سرکار میں جمع کرا دو تو میں ایک سال تک قادیان میں ٹھہروں گا سو یہ خط اُس کا بعض دوستوں کی خدمت میں لاہور میں بھیجا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دولتمند مسلمان نے ایک سال تک ادا ہو جانے کی شرط سے چوبیس سَو روپیہ نقد اس عاجز کے کارپردازوں کو بطور قرضہ کے دے دیا اور قریب دو سَو مسلمان کے جن میں بعض رئیس بھی تھے جمع ہو گئے اور وہ روپیہ مع ایک خط کے جس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں بھیجی جاتی ہے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا اندرمن کے مکان پر جہاں وہ فروکش تھا لے گیا مگر اندرمن غالباً اس انتظام کی خبر پا کر فرید کوٹ کی طرف بھاگ گیا۔ آخر وہ خط بطور اشتہار کے چھپوایا گیا اور شہر میں تقسیم کیا گیا اور دو رجسٹری شدہ خط راجہ صاحب نابھہ اور راجہ صاحب فرید کوٹ کے پاس بھیجے گئے اور بعض آریہ سماجوں میں بھی وہ خطوط بھیجے گئے۔ شاید اگر یہ کسی راجہ کے کہنے کہانے سے اندر من نے اس طرف رُخ کیا تو پھر اطلاع دی جائے گی۔ بالفعل اللہ تعالیٰ نے میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں رکھا۔ فالحمدللہ علی ذالک
    نقل اشتہار
    منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوع خط (جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے رؤساء و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھاکہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو اور نہ موعود اشتہار پیشگی بنک میں داخل کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں خاکسار نے رقمیہ ذیل معہ دو ہزار چار سَو روپیہ نقد ایک جمعیت اہل اسلام کے ذریعہ سے ان کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔ جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود میں پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔ وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام خط روانہ کیا تھا۔ اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں باوجودیکہ اُس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریر کیا تھا۔ یہ امر نہایت تعجب اور تردّد کا موجب ہوا لہٰذا یہ قرار پای کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے اور اس کی ایک کاپی مشفقی اِندر من صاحب۔ آپ نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ایک نئی بات لکھی ہے۔ جس کی اجابت مجھ کو اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے۔ میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرادے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔ اب اُس کے جواب میں اوّل تو مجھے اپنا (نابھہ میں پھر لاہور میں) بُلاتے ہیں اور خود آنے کا ارادہ ظاہر فرماتے ہیں تو مباحثہ کے لئے نہ آسمانی نشان دیکھنے کیلئے۔ اس پر طفہ یہ کہ روپیہ اشتہار پیشگی طلب فرماتے ہیں جس کا میں نے پہلے وعدہ نہیں دیا۔ اب آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ میری تحریر سے آپ کا جواب کہاں تک متفاوت و متجاوز ہے۔ بہ بین تفاوت راہ از کجاست تابکجا۔ لہٰذا میں اپنے اسی پہلے اقرار کی رُو سے پھر آپ کو لکھتا ہوں کہ آپ ایک سال رہ کر آسمانی نشانوں کا مشاہدہ فرماویں اگر بالفرض کسی آسمانی نشان کو آپ کو مشاہدہ ہو تو میں آپ کو چوبیس سَو روپیہ دے دونگا اور اگر آپ کو پیشگی لینے پر بھی اصرار ہو تو مجھے اس سے بھی دریغ وعذر نہیں بلکہ آپ کے اطمینان کیلئے سردست چوبیس سَو روپیہ نقد ہمراہ رقیمہ ہذا ارسال خدمت ہے مگر چونکہ آپ نے یہ ایک امر زائد چاہا ہے اس لئے مجھے بھی حق پیدا ہو گیا ہے کہ میں امر زائد کے مقابلہ میں کچھ شروط آپ سے لوں جن کا ماننا آپ پر واجبات سے ہے۔
    (۱) جب تک آپ کا سال گذر نہ جائے کوئی دوسرا شخص آپ کے گروہ سے زرموعود پیشگی لینے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ ہر شخص کو زر پیشگی دینا سہل و آسان نہیں ہے۔
    (۲) اگر آپ مشاہدہ نشان آسمانی کے بعد اظہار اسلام میں توقف کریں اور اپنے عہد کو پورا نہ کریں تو پھر حرجانہ یا جرمانہ دو امر سے ایک امر ضرور ہو۔
    (الف) سب لوگ آپ کے گروہ کے جو آپ کو مقتدا جانتے ہیں یا آپ کے حامی اور مربی ہیں اپنا عجز اور اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا بے دلیل ہونا تسلیم کر لیں۔ وہ لوگ ابھی سے آپ کو اپنا وکیل مقرر کر کے اس تحریر کا آپ کو اختیار دیں۔ پھر اس پر اپنے دستخط کریں۔
    (ب) درصورت تخلف وعدہ جانب سامی سے اس کا مالی جرمانہ یا معاوضہ جو آپ کی اور آپ کے مربیوں اور حامیوں اور مقتدیوں کی حیثیت کے مطابق ہو ادا کریں تا کہوہ اس مال سے اس وعدہ خلافی کی کوئی یادگار قائم کی جائے (ایک اخبار تائید اسلام میں جاری ہو یا کوئی مدرسہ تعلیم نو مسلم اہل اسلام کے لئے قائم ہو) آپ ان شرائط کو تسلیم نہ کریں تو آپ مجھ سے پیشگی روپیہ نہیں لے سکتے اور اگر آپ آسمانی نشان کے مشاہدہ کے لئے نہیں آنا چاہتے صرف مباحثہ کیلئے آنا چاہتے ہیں تو اس امر سے میری خصوصیت نہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس اُمّتِ محمدیہ میں علماء اور فضلا اور بہت ہیں جو آپ سے مباحثہ کرنے کو تیار ہیں میں جس امر سے مامور ہوچکا ہوں اُس سے زیادہ نہیں کر سکتا اور اگر مباحثہ بھی مجھ سے ہی منظور ہے تو آپ میری کتاب کا جواب دیں۔ یہ صورت مباحثہ کی عمدہ ہے اور اس میں معاوضہ بھی زیادہ ہے۔ بجائے چوبیس سَو روپیہ کے دس ہزار روپیہ۔
    (۳۰؍ مئی ۱۸۸۵ء)
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ
    از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عنایت نامہ پہنچا ایک خط وید کی حقیقت میں معہ چند اشعار مولوی عبدالمجید صاحب بذریعہ پمفلٹ آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ ویدوں کی نسبت ہندوؤں کی طرف سے کبھی یہ دعویٰ نہیں ہوا کہ اُن کی تعلیم شرک اور مخلوق پرستی سے خالی ہے بلکہ سب ہندو جو تقریباً چودہ یا پندرہ کروڑ پنجاب اور ہندوستان میں رہتے ہیں۔ بڑے پیار سے اُن دیوتاؤں کو مانتے ہیں جو وید میں لکھے گئے ہیں اور جس ہندو سے اُس کی بُت پرستی یا آتش پرستی یا دوسری ہزاروں دیوتاؤں کی پوجا کی نسبت سوال کیا جائے کہ کسی کتاب کے حکم سے یہ کام اختیار کیا گیا ہے تو وہ جھٹ یہی جواب دیتا ہے کہ یہ سب طریق پرستش کا وید میں درج ہے اور اس کی ہدایت کی موافق ہم اُن چیزوںکی پرستش کر رہے ہیں اور درحقیقت یہ جواب اُس کا سچ ہے کیونکہ جس قدر ہندوؤں کی آتش پرستی و آب پرستی و آفتاب پرستی وغیرہ پرستشیں جاری ہیں۔ اُن سب پرستشوں کا حکم وید ہی میں مندرج ہے اور نہ ایک اور نہ دو جگہ بلکہ صدہا جگہ اُن چیزوں کی پوجا کے لئے تاکید ہے اور وید کا کوئی ایسا صفحہ نہیں جو مخلوق پرستی کی تعلیم سے خالی ہو۔ جیسا کہ یہ بات اُس شخص پر کھل سکتی ہے کہ جو وید کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی جگہ سے اُس کو پڑھتے۔ غرض کہ وید کا یہ مقصود ہرگز نہیں ہے کہ وہ خلق اللہ کو توحید پر قائم کرے بلکہ اوّل سے آخر تک وید میں یہی تاکید پائی جاتی ہے کہ آگ اور ہوا اور سورج اور چاند اور ستاروں اور پانی وغیرہ کی پرستش کرنی چاہئے اور ان ہی چیزوں سے اپنی مرادیں مانگنی چاہئے۔ یہی باعث ہے کہ جو کچھ آج تک وید کی تعلیم کاہندؤوں کے دلوں پر اثر پڑا ہے۔ وہ یہی مخلوق پرستی ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کسی حصہ پنجاب یا ہندوستان میں ایسے ہندو بھی پائے جاتے ہیں جو مخلوق پرستی سے بیزار اور اپنے تمام عقاید اور عبادات میں موحد ہیں۔ حاشا وکلا ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ جہاں جاؤ اور جس ملک میں دیکھو جا بجا ہندو لوگ سخت درجہ کے شرک اور مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں یہاں تک کہ انسان سے لے کر حیوانات اور نباتات تک ان نادانوں نے اپنے معبود ٹھہرائے ہیں۔ نہ پانی چھوڑا، نہ آگ، نہ ہوا، نہ پتھر بلکہ دنیا میں جو چیز از قسم اجرام علوی میں یا اجسام سفلی میں نظر آتی ہے وہ سب کے سب ہندوؤں کے معبود اور دیوتے ہیں اور جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اس قدر مخلوق پرستی میں ہندوؤں کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ تمام قصور وید اور اُس کے شائع کرنے والوں کا ہے۔ غرض وید جس جنس سے بھرا ہوا ہے وہ سب شرک ہے اور جو کچھ وید نے دنیا کو فائدہ پہنچایا وہ مشرکانہ تعلیم ہے جس میں آج تک سب ہندو مبتلا اور گرفتار ہیں اور کوئی ہندو اس مشرکانہ حالت میں اپنی غلطی اور قصور کا اقرار نہیں کرتا بلکہ سارے کے سارے یہی کہتے ہیں کہ یہ تحفہ ہمارے وید مقدس سے ہم کو ملا ہے اور اُس نے اس راہ پر ہم کو چلایا ہے اور جب ہم بذات خود وید کو کھول کر دیکھتے ہیں تو ہندوؤں کو اُن کے اس بیان میں راست گو پاتے ہیں اور ہندوؤں کی مشرکانہ حالت جو ہزاروں برس سے چلی آتی ہے وہ اُن کی خود تراشیدہ معلوم نہیں ہوتی بلکہ وید کی پیروی کے نتائج ہیں جو بطور داغ ملامت یا کلنک کے ٹیکے کے وید کی اندرونی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تھوڑے دنوں سے پنڈت دیانند سورستی نے (جو اَب اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں) اس خیال سے کہ اَب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ مشرکانہ تعلیم ہر یک سلیم القلب کو بُری معلوم ہوتی ہے۔ اس بے بنیاد خیال کے ثابت کرنے کیلئے بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کسی طرح داغ مخلوق پرستی کی تعلیم کا وید کی پیشانی سے دھویا جائے اور بر خلاف اپنی تمام قوم کے یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ اگرچہ وید میں بظاہر مشرکانہ تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ مگر درپردہ اُس کی اندر کی تہہ میں توحید چھپی ہوئی ہے لیکن وہ اس اپنے مطلب کے پورا کرنے کیلئے کامیاب نہ ہو سکے۔ ہندوستان و پنجاب کے تمام محقق پنڈتوں نے آپ کے خیالی وید بھاش کو ردّ اور نامنظور کیا اور اُس پر یہ ریویو لکھے کہ پنڈت صاحب کا یہ وید بھاش اصل میں ویدوں کی تفسیر نہیں ہے بلکہ اُس کو ایک نیا وید سمجھنا چاہئے جس کو پنڈت صاحب اپنے من گھڑت سے بنا رہے ہیں۔ ہندوؤں کے وید سے اُس کو کچھ تعلق نہیں بلکہ اُس سے سراسر مخالف اور منافی ہے اور جب پنڈت صاحب نے دیکھا کہ ہندوستان اور پنجاب کے پنڈتوںمیں ہماری دال نہیں گلتی اور کوئی ہمارے دھوکہ میں نہیں آتا تو پھر انہوں نے ایک اور تدبیر سوچی کہ وہ مصنوعی وید بھاش یونیورسٹی میں درسی کتاب بنانے کے لئے سرکار انگریزی میں پیش کیا جائے تو پنڈت صاحب نے ایسا ہی کیا اور صاحب لفٹنٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں ایک درخواست معہ چند جز اپنے وید بھاش کے بدیں التماس مرسل کئے کہ یہ وید بھاش میرا یونیورسٹی لڑکوں کو پڑھایا جائے کیونکہ میں نے بڑی ہمت اور بہادری کر کے وید میں توحید ثابت کر دکھائی ہے اور وہ لاکھوں پنڈت جھوٹے ہیں جو وید کو توحید سے خالی سمجھتے ہیں۔ اس پر صاحب لفٹنٹ بہادر کو درخواست کے سننے سے بہت تعجب ہوا کہ کیونکر اور کیسے ممکن ہے کہ وید جو اپنی مشرکانہ تعلیم میں سارے جہان میں اعتراضوں کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ضرب المثل ہے وہ شرک اور دیوتا پرستی سے خالی ہو۔ سو اُنہوں نے وہ درخواست یونیورسٹی کے چیدہ اور منتخب پنڈتوں کے پاس بھیج دی کہ وہ پنڈت دیانند کے وید بھاش کو دیکھ کر اپنی اپنی رائے لکھیں۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ سب کے سب پنڈتوں نے بالاتفاق یہ رائے لکھی کہ یہ وید بھاش دیانند کا سرا سر غلط اور پوچ اور لغو ہے وید کی مخلوق پرستی کی تعلیم اور جابجا دیوتاؤں کی پوجا کے لئے ترغیب اور تحریک ایسا امر نہیں ہے کہ اُس کو چھپا سکیں یا پوشیدہ رکھ سکیں۔ سو دیانند کا وید بھاش ویدوں سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ ہاں اُس کو ایک نیا وید کہیں جس کے پنڈت صاحب بھی مصنف ہیں تو یہ کہنا بجا اور درست ہے اس رائے کے پہنچنے سے صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر نے پنڈت دیانند کی درخواست کو نامنظور کر کے اُن کو اطلاع دے دی کہ یہ وید بھاش تمہارا عام رائے پنڈتوں سے برخلاف ہے۔ اس لئے قابل منظوری نہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اگر وید میں ایک ذرّہ بھی توحید کی بُو پائی جاتی تو کیونکر تمام ہندوستان کے پنڈت اُس سے انکاری یا غافل رہتے اور اگر بفرض محال یہ بھی تسلیم کر لیں کہ وید میں بطور معما یا چیستان اور پھیلی کے ایک چھپی ہوئی توحید ہے جس پر صرف پنڈت دیانند کو اطلاع ہوئی اور دوسری تمام دنیا اس سے بے خبر رہی تو پھر یہ سوال عاید ہو گا کہ ایسی پیچیدہ اور سربمہر توحید سے دنیا کو کیا فائدہ ہوا اور بجز اس کے کہ لاکھوں بندگانِ خدا وید کے اُلٹے معنی سمجھ کر دیوتا پرستی میںمبتلا ہوئے اور کیا نتیجہ ایسے پیچیدہ بیان سے نکلا۔ کیا ہندوؤں کے پرمیشر کو بات کرنے کا سلیقہ بھی یاد نہیں کہ بجائے اس کے جو توحید کو کہ جو اُس کا اصل مطلب تھا واضح تقریر سے بیان کرتا ایسے بے سروپا اور غیر فصیح لفظوں میں بیان کیا کہ جس سے لوگ کچھ کا کچھ سمجھنے لگے اور ہزاروں دیوتاؤں کی ہندوؤں میں پوجا شروع ہوگئی اور مخلوق پرستی اُس حد تک پہنچ گئی جس کی نظر دنیا میں نہیں پائی جاتی اور یہ تو ہم نے بطور مثال لکھا ہے اور ایک فرضی طور پر بیان کیا ہے ورنہ اگر کوئی ذرا آنکھ کھول کر ایک صفحہ وید کا بھی پڑھے تو بہ یقین تمام اُس کو معلوم ہو جائے گا کہ وید کی عبارت کا اصلی مقصد اور مطلب یہی ہے کہ دیوتاؤں کی پوجا کرائی جاوے۔ مگر پنڈت دیانند نے اس بدیہی بات کو چھپانے کے لئے کوشش کرنا چاہا۔ آخر ناکام رہے اور بجائے اس کے کہ وید میں توحید ثابت کرتے اور اس عیب سے مبرا ہونا اُس کا بہ پایا ثبوت پہنچاتے کئی ایک اور عیب بھی جو وید میں پائے جاتے ہیں اُنہوں نے ظاہر کر دکھائے اور یک نہ شُد دو شُد کا معاملہ ہو گیا۔ جس کو ہم اپنی کتاب براہین احمدیہ کے حصہ پنجم میں انشاء اللہ بہ تفصیل بیان کریں گے۔ اب صرف اجمالی طور پر لکھا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے وید نعمت توحید سے بالکل بے نصیب اور تہی دست اور محروم ہیں۔ اس جگہ یہ ذکر کرنا بھی فائدہ سے خالی نہیں کہ وہ کتابیں جو وید سے موسوم کی گئی ہیں۔ ایک شخص کی تالیف نہیں ہیں بلکہ مختلف لوگوں نے مختلف وقتوں میں اُن کو تالیف کیا ہے اور مؤلفین کے نام اب تک منتروں کے سر پر جدا جدا لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں اور وہ منتر بطور شعر کے ہیں جو دیوتاؤں کی تعریف میں خوش اعتقاد لوگوں نے بنائے تھے ان کتابوں کے پڑھنے سے ہرگز یہ پایا نہیں جاتا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو کسی ایک یا چند پیغمبروں پر نازل کیا تھا بلکہ منجانب اللہ ہونے کا ذکر بھی نہیں۔ جابجا منتروں کے سر پر یہی لکھاہوا نظر آتا ہے کہ یہ منتر فلاںشخص نے تالیف کیا ہے اور یہ فلاں شخص نے اور یہی وجہ ہے کہ زمانہ حال کے مصنفوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ وید ایسی کتاب نہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہو کہ میں آسمانی کتا ہوں اور فلاں فلاں پیغمبر پر اُتری تھی بلکہ ایک مجموعہ اشعار ہے جس کو کئی ایک شاعروں نے اوقات مختلفہ میں جوڑا ہے۔ ماسوائے اس کے وید میں یہ بات بھی نہیں کہ جیسے ربّانی کتاب ربّانی قدرتوں اور صفتوں کا ایک آئینہ ہونی چاہئے اور خدا تعالیٰ کے وجود اور اُس کی قدرت تامہ اور اُس کی غیبت بینی اور اُس کی خالقیت اور عزاقیت وغیرہ صفات کو صرف عقلی طورپر ثابت نہ کرے بلکہ آسمانی نشان کے طور پر طالبِ حق کو مشاہدہ کروائے کہ خدا فی الحقیقت موجود اور اُس میں یہ صفات موجود ہیں کیونکہ درحقیقت ربّانی کتابوں کے نازل ہونے سے عمدہ فائدہ یہی ہے کہ خدا اور اُس کی صفات کو نہ صرف عقلی اور قیاسی طور پر شناخت کیا جائے بلکہ آسمانی کتاب خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کو ایسا ثابت کر کے دکھلاوے کہ اُس کے پیروان تمام امور میں گویا رویت کے گواہ ہو جائیں اور اس طرح پر وہ اپنے ایمان کو اس کمال کے درجہ تک پہنچا دیں جس پر مجرد عقل کی پیروی سے انسان پہنچ نہیں سکتا۔ مثلاً خدا تعالیٰ میں جو صفت غیب دانی ہے اگرچہ عقلی طور پر انسان یہ خیال کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ غیب دان ہونا چاہئے لیکن ربّانی کتاب میں شہودی طور پر اس بات کا ثبوت دینا از بس ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ حقیقت میں غیب دان ہے اور وہ ثبوت اس طرح پر میسر آ سکتا ہے کہ ربّانی کتاب میں بہت سی پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ درج ہوں جو لوگوں کے سامنے پوری ہو چکی ہوں۔ علیٰ ہذا القیاس خدا تعالیٰ کا قادر ہونا اور اپنے نبیوں اور مرسلوں کا حامی اور ناصر اور مؤید ہونا اگرچہ عقلی طورپر بھی ضروری اور محمود سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام مشہودی طور پر اپنی قدرت کاملہ اور حمایت اور نصرت خاصہ کا ایسا عمدہ اور کامل نمونہ دکھلاوے جس کو لوگ دیکھ کر اپنے ایمان اور اعتقاد پر قوی ہو جائیں۔
    اسی طرح خدا تعالیٰ کی دوسری صفات بھی اسی طورپر خداتعالیٰ کے کلام میں ثابت ہو جانی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی ذات اور صفات کے پہچاننے کے لئے ایک نہایت صاف اور شفاف آئینہ ہے جو ہم عاجز اور بے خبر بندوں کو اس غرض سے عنایت ہوتا ہے تا کہ ہماری معرفت صرف عقلی اور قیاسی خیالات تک محدود نہ رہے۔ بلکہ ہم اُن تمام پاک صداقتوں کو بچشم خود دیکھ بھی لیں کیونکہ اگر خدا تعالیٰ نے صرف اسی قدر ہم کو بذریعہ اپنی کتاب کے معفرت اور بصیرت عنایت کری جس قدر بذریعہ عقل بھی ہم کو حاصل ہو سکتی ہے تو پھر ربّانی تعلیم اور عقلی تفہیم میں کیا فرق رہا اور اس بات میں خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لانے والوںکو برہمو سماج والوں پر (جو صرف عقلی اٹکلوں پر چلتے ہیں) کونسی ترجیح ہوئی۔ سو اِس تحقیق سے یہ ہدایت عقل ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں یہی عمدہ خوبی ہے کہ جن صداقتوں کو ہماری عقل ناقص صرف قیاسی طور پر پیش کرتی ہے اُن صداقتوں کو خدا کا کلام ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر دکھلا بھی دیتا ہے۔ مثلاً جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے کہ عقل یہ تجویز کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ غیب دان ہونا چاہئے۔ سو خدا تعالیٰ کا کلام صدہا پیشگوئیوں سے جو صحیح طور پر پوری ہوگئیں ہم پر اس صداقت کو یقینی اور قطـعی طور پر کھول دیتا ہے لیکن وید اس مرتبہ اعلیٰ سے جو خدا کی ذات اور صفات کا آئینہ ہو سکے۔ ہزاروں کوس دور اور مہجور ہے بلکہ مجرد عقلی طور سے بھی خدا اور اُس کی صفات کا ثبوت دینے سے ویدعاجز ہے کیونکہ وید کا پہلا اصول یہ ہے کہ عالم بجمیع اجزائیہ انادی یعنی قدیم اور غیر مخلوق اور پرمیشر کی طرح واجب الوجود ہے اور پرمیشر نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کی اُس کو طاقت و لیاقت ہے بلکہ اُس کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ بعض چیزوں کو بعض سے جوڑتا ہے مثلاً جسم کا قالب بنا کر روح کو اس میں داخل کر دیتا ہے یا کبھی قالب سے روح کو نکال دیتا ہے۔ سو یہی تالیف اور تفریق پرمیشر سے ہو سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی اگر پرمیشر کچھ کام کر سکتا ہے تو بس یہی ہے کہ بعض اجزائے عالم کو بعض سے جوڑتا ہے اور کبھی بعض سے بعض کو الگ کر دیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس اعتقاد میں صرف اتنی ہی خرابی نہیں کہ پرمیشر کو قادر مطلق ہونا چاہئے۔ عاجز اور ناتواں سمجھا گیا ہے اور قدیم اور غیر مخلوق ہونے میں کل اجزاء عالم کے اس کے شریک اور حصہ دار اور بھائی بند ٹھہرائے گئے ہیں اور ہر یک موجود اپنے اپنے نفس کا آپ مالک قرار دیا گیا ہے گویا پٹی داری گانوں کی طرح قدامت اور وجوب و جود کی جنس پر سب ارواح اور پُر خیر کا برابر اور یکساں دخل اور قبضہ چلا آیا ہے بلکہ ایک بڑی بھاری خرابی وید کے اصول سے یہ بھی پیش آئی کہ عقلی طور پر پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل باقی نہ رہی کیونکہ جس حالت میں تمام عالم بجمیع اجزائیہ خود بخود قدیم سے موجود ہے اور پرمیشر کا کام صرف تالیف اور تفریق ہے تو پھر اس سے وجود پرمیشر کا کیونکر ثابت ہو سکے۔ بھلا تم آپ ہی غور سے دیکھو اور انصاف کرو کہ دنیا کی تمام چیزوں میں سے کوئی چیز بھی اپنے وجود کی پیدائش میں پرمیشر کی محتاج نہیں تو پھر اُس پر کیا دلیل ہے کہ اپنی تفریق یا اتصال میں پرمیشر کی محتاج ہے۔ ظاہر ہے کہ ماسوا اللہ کے وجود سے صانع عالم کے وجود پر اسی وجہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ماسوا اللہ کا وجود خود بخود ہونا بہ بداہت عقل محال ہے اور جس حالت میں یہ تسلیم کیا جائے اور قبول کیا جائے کہ ماسوا اللہ بھی خود بخود ہو سکتا ہے تو عقل کو خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین کرنے کیلئے کون سی راہ باقی رہے گی۔ کیا ایسے ایسے ناپاک اعتقادوں سے دہریہ مذہب والوں کو مدد نہیں پہنچے گی۔ غرض یہ وید کی ایک ایسی فاش غلطی ہے کہ اس کے تابعین کو اُس کے جواب میں کوئی بات نہیں آتی اور وہ لوگ کسی طور سے پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل بیان نہیں کر سکتے اور کیوں کر بیان کر سکیں جب آپ ہی پرمیشر کی طرح قدیم اور واجب الوجود ٹھہرے تو پرمیشر سے اُن کو کیا تعلق اور غرض رہا اور اُس کے وجود کی کونسی ضرورت اور حاجت رہی۔
    اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف تو وید خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے ثابت کرنے کے لئے آئینہ ہونے کی لیاقت نہیں رکھتا یعنی طالبان حق کو شہودی طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر یقین نہیں دلا سکتا بلکہ طرح طرح کی بدگمانیوں میں ڈالتا ہے اور پھر دوسری طرف اُس میں یہ خرابی پیدا ہوگئی کہ عقلی طور پر بھی وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دینے سے بے نصیب اور بے بہرہ ہے تو اب منصف سوچ سکتا ہے کہ معرفت الٰہی کے دونوں طریقوں عقلی اور شہودی سے ہندوؤں کا وید کس قدر دور اور مہجور ہے اور جس قدر ہم نے اب تک بیان کیا کچھ یہی ایک اصول وید کا ایسا نہیں ہے کہ جو عقل کے برخلاف ہو بلکہ وید کے سارے اصول جو بنیاد دھرم کی سمجھے جاتے ہیں ایسے ہی ہیں۔ہاں وید کی رو سے پہلی ہدایت تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کسی چیز کا خالق نہیں۔ مگر اس کے سوا وید کی دوسری ہدایتیں بھی ایسی ہی ہیں۔ جن کے پڑھنے سے عاقل کو ضرور یہ شک پڑے گا کہ شاید وید کا زمانہ کوئی ایسا زمانہ تھا جس میںہنوز ایک دو اصول وید کے اور بھی لکھتے ہیں تا جو جو لوگ وید کی اندرونی حقیقت سے بے خبر ہیں اُن کو اس عجیب کتاب کے حالات کسی قدر معلوم ہو جائیں۔ سو منجملہ اُن کے ایک یہہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں ایک ذرا رحم اور عفو نہیں اور کسی گناہ گار کے گناہ کو اُس کے توبہ و استغفار سے ہرگز نہیں بخشتا اور جب تک ایک گناہ کی سزا میں چوراسی لاکھ جون میں ڈال کر شخص مجرم کو دنیا کی عمر سے ہزار ہا درجہ زیادہ عذاب نہ پہنچاوے اُس کا غصہ فرو نہیں ہوتا اور گو انسان اپنے گناہ سے باز آ کر پرمیشر کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جائے تب بھی جب تک پرمیشر اُس کو لاکھوں جونوں میں ڈالنے سے سزا نہ دے۔ تب تک ہرگز اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اب دیکھنا چاہئے کہ اس اصول میں صرف اتنی ہی قباحت نہیں کہ پرمیشر کو ایک ایسا شخص ماننا پڑتا ہے کہ جو نہایت درجہ کا سنگدل اور بے رحم ہے کہ جوجھکنے والوں کی طرف ہرگز نہیں جھکتا اور محبت کرنے والوں سے ہرگز محبت نہیں کرتا اور ایک ادنیٰ خطا یا قصور سے ایسا چِڑ جاتاہے کہ پھر کوئی بھی طریق اُس کے راضی ہونے کا نہیں بلکہ ایک بڑی قباحت یہ بھی ہے کہ اس اصول کے رُو سے نجات پانے کا راستہ بکُلی مسدود ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں محنت اور مجاہدہ کرنا اور اس کی اطاعت اور عبادت میں دل لگانا سرا سر لغو اور بے فائدہ ٹھہرتا ہے کیونکہ جس حالت میں پرمیشر ایسا کینہ ور اور پُر غضب ہے کہ کسی خطا کے سرزد ہونے سے بجز لاکھوں برسوں تک جونوں میںڈالنے کے ہرگز کسی بندہ پر رحم نہیں کر سکتا تو پھر اس حالت میں وہ نومید بندہ کہ گویا ایک گناہ کر کے جیتے جی ہی مر گیا ہے کیونکر اس کی زندگی میں دل لگائے گا اور کس امید پر عبادت اور زُہد اور رجوع الی اللہ اختیار کرے گا اور پھر زیادہ تر مشکل بات (جس کو عاجز بندہ اپنے ضعف اور کمزور حالت پر نظر کرنے سے بخوبی جانتا ہے) یہ ہے کہ بعد چوراسی لاکھ جون بھگتنے کے پھر بھی ایسی پاک اور مصفا حالت کہ جس میں ایک ذرا حظ یا غفلت سرزد نہ ہو اس کو نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے قصور اور حظ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور ادنیٰ سے ادنیٰ بات جو بشر کے لئے لازم غیر منفک کی طرح ہے ، غفلت ہے جو انسانی شرشت کا پہلا گناہ اور سب گناہوں کی جڑ ہے مگر دنیا میں کوئی ایسا آدمی کہاں اور کدھر ہے جو ایک طرفۃ العین کے لئے بھی اپنے مولیٰ کے ذکر سے غافل نہیں رہ سکتا اور ایک لحظہ کے لئے قبض کی حالت اُس پر طاری نہیں ہوتی۔ ماسوا اس کے جہاں تک ہم انسانوں کی عام حالتوں پر نظر ڈالتے ہیں اور اُن کے سلسلہ زندگی کو اوّل سے آخر تکر دیکھتے ہیں تو ہم پر صاف کھل جاتا ہے کہ کوئی انسان خاص کر اپنے بلوغ کے ابتدائی زمانہ میں کس قدر خاص یا ذلت یا لغزش یا غفلت یا لہوو لعب سے خالی نہیں رہ سکتا اور نہ جب کہ نعماء الٰہی اس پر وارد ہوئے ہیں اُن کا پورا پورا شکر کر سکتاہے اور یہ ایسی صاف اور واشگاف صداقت ہے جو خود ہمارے کوائف زندگی اور واقعات عمری اس پر شہادت دے رہے ہیں اور موجودات کا ہر یک ذرّہ اور قدرت کا ہر یک قانون اس کی تصدیق کر رہا ہے اور ہماری روحیں پکار پکار کر ہمیں بھی کہتی ہیں کہ ہم بوجہ مخلوق اور ضعیف اور کمزور اور ممنون منت ہونے کے ایسی فتح عظیم اپنے خالق اور محسن حقیقی اور مربی بے علت پر ہرگز حاصل نہیں کر سکتے کہ جو اُس کو یہ کہہ سکیں کہ جو کچھ تیرے حقوق ہمارے گردن پر تھے وہ سب ہم نے جیسا کہ چاہئے ادا کر دیئے ہیں اور اب ہم تیرے حساب سے فارغ اور تیرے مطالبہ سے امن میں ہیں اور جب ہم لوگ ایسی فارغ خطی حاصل نہیں کر سکتے تو پھر صاف ظاہر ہے کہ اگر خداوندکریم ہمارے گناہوں پر ہمیشہ ہم کو سزا دیتا رہے اور درگذر اور عفو کسی حالت پر نہ کرے تو پھر ہرگز ممکن نہیں کہ ہم کسی زمانہ میں نجات کا منہ دیکھ سکیں کیونکہ جب گناہ غیر محدود ٹھہرے تو پھر سزا بھی درصورت لازمی اور ضروری ہونے کے غیر محدود اور دائمی چاہئے۔ سو یہ اصول نہایت منحوس اور نامبارک ہے اور اگر یہی بات سچ ہے تو انسان غایت درجہ کا بدبخت اور بے نصیب ہوگا جس کے لئے سخت دل پرمیشر کا ہمیشہ ارادہ ہے کہ جب تک وہ بکلّی گناہوں کے صادر ہونے سے (کہ جو انسان کی سرشت سے لازم ہوئے ہیں) محفوظ نہ رہے تب تک مختلف جونوں کا تختہ مشق رہے گا اب دیکھنا چاہئے کہ اس کے مقابل پر یہ اصول قرآن شریف کا کیسا بابرکت اور پیارا اور تسلی بخش اور انسانی فطرت کے لئے ضروری اور مناسب حال ہے کہ گناہ کا تدارک توبہ اور استغفار سے ہو سکتا ہے اور بدیوں کی تلافی نیکیوں سے ممکن ہے۔ یہ ایسا ضروری اور لابدی اصول ہے کہ انسان کی مغفرت اور نجات یابی بجز اس کے ممکن ہی نہیں۔ خیال کرنا چاہئے کہ اکثر تمام انسانوں کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی عمروں میں کسی قدر غفلت اور لہو و لعب یا نالائق باتوں اور بدچلنیوں میں رہ کر پھر کسی نیک صحبت کی برکت سے یا کسی واعظ اور ناصح کے سمجھانے سے یا اپنے ہی انصاف دلی کے جوش سے اس بات کے مشتاق ہو جایا کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور بُرے کاموں اور خراب راہوں کو چھوڑ دیں۔
    اب سوچنا چاہئے کہ اگر ایسے طالب حق کے لئے جناب الٰہی میں باریابی کا کوئی سبیل نہیں اور تو یہ منظور ہی اور استغفار قبول ہی نہیں تو پھر وہ بیچارہ اپنی آخری بہبودی کیلئے اگر کچھ کوشش بھی کرے تو کیا کرے اور کیونکر کرے اور کدھر جائے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسے پرمیشر سے سخت نومید اور شکستہ دل ہو کر اور اُس کی رحمت سے بکلّی ہاتھ دھو کر پھر اپنے گناہوں کی طرف رجعت … کرے اور خوب دل کھول کر ہر قسم کے گناہ اور بدمعاشی سے تمتع اور حظ اُٹھاوے۔ غرض یہ ایسا اصول ہے کہ نہ بندہ اُس سے اپنی نجات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس سے قائم رہتی ہے کیا یہ بات اللہ تعالیٰ کی عادت کریمانہ کے موافق ہے کہ وہ انسان کی کامیابی میں اس قدر مشکلات ڈالے اور اس کی نجات کو معلق یا محال کر کے اس کے گناہ کو ہمیشہ یاد رکھے۔ مگر اس کے رجوع محبت اور توبہ اور استغفار کا ایک ذرا قدر نہ کرے اور چوراسی لاکھ جون میں سے ایک جون کی تخفیف کرنے سے بھی دریغ کرتا رہے کیا ایسے پر کوئی امید ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔
    پھر تیسرا اصول وید کا جو عقل کے برخلاف ہے یہ ہے کہ نجات ابدی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ لوگ کچھ مدت محدود تک نجات پا کر پھر مکی خانہ سے ناکردہ گناہ باہر نکالے جاتے ہیں اور پرمیشر ہرگز قادر نہیں کہ اُن کو ہمیشہ کے لئے نجات دے سکے۔ اب جو لوگ عشق الٰہی کی ایک چنگاری بھی اپنے اندر رھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ ایسی بے مروّتی اُس محبوب حقیقی سے ہرگز نہیں ہو سکتی کہ عزت دے کر پھر بے عزت کرے اور ایک چیز بخش کر پھر اُس کو چھین لے اور ایک دفعہ اپنا پیارا اور مقرب بنا کر پھر ناکردہ گناہ کیڑوں مکوڑوں اور کتوں بلوں کی جونوں میں ڈالتا رہے۔ جس شخص کو محبت الٰہی کے جام سے ایک گھونٹ بھی میسر ہے اُس نی عارف اللہ روح جو اس جواد مطلق پر بڑی بڑی امیدیں رکھتی ہے اور سب کچھ کھوہ کر اُسی کی ہو رہی ہے ہرگز اس کو یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ اس کا پیارا اور محبوب جانی آخر اُس سے ایسا معاملہ کرے گا کہ اس کی سب امیدیں خاک میں ملا کر اور اُس کی خوشحالی دائمی کی خواہش جو اُس کے دل میں ڈالی گئی ہے نظر انداز کر کے اُس مصروع کی طرح جو بار بار دورہ صرع سے دُکھ اُٹھاتا ہے مختلف جونوں کے عذاب سے معذب کرتا رہے گا۔ اُس کے صدق اور وفا پر اُس کو کچھ بھی خیال نہیں آئے گا اور اس کی خالص محبتوں پر اُس کو کچھ بھی نظر نہیں ہوگی۔ افسوس کہ ہندو لوگ ایسا اعتقاد رکھنے سے خود اپنے اوتاروں اور رشیوں کی عزت کو خاک میں ملاتے ہیں کہ اوّل ان کو بڑے مقبول الٰہی بلکہ خدا کا اوتار سمجھ کر پھر اُن کے لئے یہ تجویز کرتے ہیں کہ اُن بیچاروں کو بھی نجات ابدی نہیں اور وہ کیڑے مکوڑے اور کتے بلے بننے سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتے جن لوگوں کو ان مقدس ویدوں کی خبر نہیں وہ تعجب کریں گے کہ یہ کیسے اصول ہیں جو ویدوں کی طرف نسبت دیئے گئے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ وہ بدگمانی سے یہ خیال کریں کہ یہ ویدوں پر تہمت ہے۔ سو واضح ہو کہ ہم نے ان اصولوںکو کمال تحقیق اور تدقیق سے لکھا ہے اور اس وقت وید ہمارے سامنے پڑا ہے اور اُس کے بھاش ہمارے پاس موجود ہیں اگر کسی کو شک ہو تو ہر طرح ہم سے تسلی کر سکتا ہے اور خود ویدوں کے ماننے والے اس سے بے خبر اور انکاری نہیں ہیں اور اگر کوئی ہم تک نہ پہنچ سکے اور نہ پنڈتوں سے دریافت کر سکے تو ہم اس کو صلاح دیتے ہیں کہ وہ رِگ وید کو جو دہلی سوسائٹی میں بکمال تصحیح و تحقیق چھپا ہے ذرا نظر غور اور تدبر سے مطالعہ کرے اور پھر یہ بھی مناسب ہے کہ پنڈت دیانند کی ستیاارتھ پرکاش اور وید بھاش کا بھی درشن کر لے تا اُسے معلوم ہو کہ وید کیا شَے ہے اور اُس کی تعلیم کیسی ہے۔
    بعض جاہل ہندو اور مسلمان اپنشدوں کو جو براہم پشتک ہیں اور صدہا سال ویدوں کے بعد لکھے گئے ہیں وید ہی سمجھتے ہیں جیسے داراشکوہ نے بعض اپنشدوں کا ترجمہ بھی کسی پنڈت سے لکھوا کر ایک رسالہ تالیف کیا ہے لیکن جاننا چاہئے کہ یہ لوگ صریح غلطی پر ہیں۔ ویدوں اور اپنشدوں کے مضامین میں کچھ تعلق بھی نہیں بلکہ وہ خیالات جو اُپنشدوں میں درج ہیں صرف برہمنوں کے دلوں کی تراش خراش ہیں اور ان خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان وغیرہ مخلوق پرمیشر کے وجود کا ایک ٹکڑہ ہے اور اسی سے نکلتا ہے اور اُسی میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ صورت دخول اور خروج کی ہمیشہ بنی رہتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیالات برہمنوں نے ایک مدت کے بعد بدھ مذہب والوں سے لئے ہیں اور یہ اس زمانہ کے خیالات ہیں کہ جب برہمن لوگ وید کی تعلیم سے بیزار ہو چکے تھے اور ان کا منشاء تھا کہ بجائے تعلیم وید کے ان خیالات کو جو اُپنشدوں میں درج ہیں شائع کیا جائے مگر باوجود اس کے پھر بھی برہمن وید کے دیوتاؤں سے الگ نہیں ہوئے اور اُن کی پرستش سے کنارہ نہیں کیا بلکہ صدہا طرح کی اور اور مشرکانہ باتیں حاشیہ کے طور پر چڑہا دیں اور کئی طرح کے جھوٹے قصے اور کتھا کہانیاں برمہا اور بشن اور مہادیو اور اِندر وغیرہ کے بارہ میں لکھ ڈالیں اور کئی پُستک اپنی طرف سے تالیف کر کے یہ مشہور کرنا چاہا کہ یہ بھی وید اٹک یعنی وید کی خبریں ہیں۔ چنانچہ انہیں میں سے وہ اُپنشدین بھی ہیں جن کا بعض ناواقف مسلمانوں نے ترجمہ بھی کیا تھا اور اپنی اوپری واقفیت سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہی وید ہیں۔ مگر اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ کوئی امر مشتبہ نہیں رہ سکتا۔ وہی وید کہ برہمنوں کے تہہ خانوں میں چھپے ہوئے تھے اب کتب فروشوں کی دوکانوں پرچھپے ہوئے رکھے ہیں۔ اس مقام پر ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ مرزا جان جاناں صاحب نے کہ جو نقشبندی فقیروں سے ایک نامی اور مشہور بزرگوں میں خواہ نخواہ دخل درمعقولات کر کے ویدوں کے بارہ میں ایک مکتوب کسی اپنے مرید کے نام لکھا ہے اور اس میں ویدوں کی تعریف کی ہے کہ وہ شرک اور مخلوق پرستی سے پاک ہیں اور توحید کی تعلیم ان میں بھری ہوئی ہے۔ اب جب ہم ایک طرف ویدوں کی مشرکانہ تعلیم اور ملحدانہ عقائد کو بخشم سر دیکھتے ہیں اور پندرہ کروڑ ہندو کو اُس میںمبتلا پاتے ہیں اور دوسری طرف مرزا صاحب کا یہ مکتوب پڑھتے ہیں جس کو انہوں نے نہایت سادہ دلی اور لاعلمی سے لکھاہے تو ہم بجز اس کے کہ حضرت مرزا صاحب کے حق میں دعا مغفرت کریں اور خدا تعالیٰ سے اُن کی خطا کی معافی چاہیں اور کسی طرح سے اُن کے کلام پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ مرزا صاحب نے نہایت بے جا اور نامناسب کام کیا کہ بے خبر محض ہونے کی حالت میں وید دانی کا دعویٰ کر بیٹھے۔ اُن کے لئے یہی بہت فخر کی بات تھی کہ وہ اپنے فقیرانہ اشغال اور اذکار میں مشغول رہتے اور جس کوچہ میں ایک ذرّہ بھی اُن کی رسائی نہیں تھی اس کی نامعلوم خبریں لوگوں کو نہ بتلاتے۔ پھر مرزا صاحب اپنے مکتوبات میں یہ لکھتے ہیں کہ ہندوؤں کا وید چار دفتر ہیں جو احکام امرونہی و اخبار ماضیۂ مستقلبلہ پر مشتمل ہے اور یہ وید بذریعہ ایک فرشتہ کے جس کا نام برہما تھا بحوالہ ایجاد عام ہندوؤں کو پہنچا ہے اُسی وید میں سے اُن کے پُران اور شاستر نکالے گئے ہیں اس وید میں بلحاظ عمر طولانی عالم کی چار طور کی مختلف ہدایت رکھی گئی ہیں جن میں سے بعض ہدایتیں ست جگ کے مناسب حال اور بعض ہدایتیں کل جگ کے مناسب حال ہیں اور ہندو اگرچہ مختلف فرقے ہیں مگر وہ سب کے سب توحید باری پر اتفاق رکھتے ہیں اور عالم کو مخلوق سمجھتے ہیں اور روز حشر کے قائل ہیں اور معارف اور مکاشفات میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اور اُن کی بُت پرستی حقیقت میں بُت پرستی نہیں ہے بلکہ وہ بعض ملائکہ کو جو بامرالٰہی عالم کون و فساد میں تصرف رکھتے ہیں یا بعض کاملین کی ارواح کو جن کا تصرف بعد گذر جانے کے اس نشہ دنیا سے باقی ہے یا بعض زندوں کو جو اُن کے زعم میں خضر کی طرح ہمیشہ زندہ رہتے ہیں قبلہ توجہ کر لیتے ہیں۔ یعنی صوفیہ اسلامیہ کی طرح اُن کی خیالی صورتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جیسے صوفیہ اسلامیہ اپنے پیر کی صورت کا تصور کرتے ہیں اور اُس سے فیض اُٹھاتے ہیں مگر صرف اتنا فرق ہے کہ اسلامی صوقی طاہر میں کوئی تصویر شیخ کی اپنے آگے نہیں رکھتے اور یہ لوگ رکھ لیتے ہیں۔ سو اُن کی یہ صورت عبادت کفّار عرب کی بُت پرتسی سے مشابہ نہیں ہے کیونکہ کفّار عرب اپنے بتوں کو متصرف و مؤثر بالذات مانتے تھے اور اُن کو خدائے زمین سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو خدائے آسمان سمجھتے تھے۔ اسی طرح ہندو لوگ جو اُن تصویروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ سجدہ بھی سجدہ عبادت نہیں بلکہ سجدہ تحیت ہے۔ اُن کی شرح میں باپ اور پیر اور اُستاد کے لئے بجائے سلام کے بھی سجدہ مرسوم اور معمول ہے۔ انتی۔
    اب مرزا صاحب نے اپنے اس بیان میں جس قدر غلطیاں کی ہیں اور دھوکے کھائے ہیں اور خلاف واقعہ لکھا ہے ہم کس کس کی اطلاح کریں۔ مرزا صاحب نے صرف کسی نادان ہندو کی زبان سن کر بغیر اپنی ذاتی تحقیق کے یہ خس و خاشاک غلطیوں کا اس حظ میں بھر دیا ہے نہ معلوم کہ اُنہوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ہندوؤں کے یہی خیالات اور عقاید ہیں یا جو اُن کے محققوں نے اپنی معتبر کتابوں میں لکھے ہیں۔ کیونکہ اوّل مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ وید کے چار دفتر ہیں۔ سو مرزا صاحب کی پہلی غلطی یہی ہے کہ وید کو ایک کتاب قرار دے کر اُس کے چار دفتر خیال کرتے ہیں بلکہ حق بات جس کا ثبوت امر بدیہی کی طرح حال کے زمانہ میں کھل گیا ہے کہ وید کی مجموعہ چار کتابیں ہیں جو چار مختلف زمانوں میں کئی لوگوں نے اُن کو بنایا ہے۔ چنانچہ چوتھا وید جو اتھرون سے موسوم ہے اُس کی نسبت اکثر پنڈتوں کی یہی رائے ہے کہ وہ پیچھے سے ویدوں کے ساتھ ملایا گیا ہے اور کسی برہمن نے اُس کو لکھا ہے اور اُس کے سوائے جو تین وید ہیں وہ الگ الگ کتابیں ہیں جن کو الگ الگ رشیوں نے جمع کیا ہے اور ہندوؤں کے محققوں کے نزدیک برہما کچھ چیز نہیں ہے بلکہ وید اگنی اور وایو اور سورج پر اُترے ہیں اور محقق ہندو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو اَٹھارہ پُران اور شاستر وغیرہ اور اُپنشدین ہندوؤں کے ہاتھ میں ہیں وہ وید کے مضمون سے بہت سی مخالفت رکھتے ہیں اور بہت سے زواید اُن کتابوں میں پائے جاتے ہیں جو وید میں نہیں ہیں۔ مثلاً یہی خیال چاروں وید برہما کے چاروں مُکھ سے نکلے ہیں۔ اس کا کوئی اصل صحیح وید میں نہیں پایا جاتا۔ ایسا ہی یہ کہنا کہ دنیا کا کوئی خالق ہے وید کی رُو سے بڑا گناہ اور پاپ کی بات ہے بلکہ وید کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ دنیا خود بخود قدیم سے ایسی ہی چلی آتی ہے۔ جیسا پرمیشر چلا آتا ہے اور پرمیشر کے وجود سے دنیا کے وجود کو کسی قسم کا فیض نہیں پہنچتا۔ یہاں تک کہ اگر پرمیشر کا مرنا بھی فرض کر لیا جائے تو دنیا کا اس میں کچھ بھی حرج نہیں اور ایسا ہی ہندوؤں کے محقق یہ بھی کہتے ہیں کہ حشر اجساد کچھ چیز نہھیں اور وید پر عمل کرنے سے ہرگز کسی کا گناہ عفو نہیں ہو سکتا اور نہ توبہ و استغفار کچھ کام آتی ہے بلکہ ایک گناہ کے عیوض میں ہر ایک شخص کو چوراسی جون سزا میں بھگتنی پڑے گی اُن کا یہ بھی قول ہے کہ وید اخبار راضیہ اور مستقبل سے بالکل خالی ہے اور کوئی امر خوارق عادت جو نبیوں سے ظہور میں آتا ہے اس میں درج نہیں اور مکاشفات کا تو ذکر تک نہیں اور اُن کے نزدیک مکاشفات اور خوارق اور پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ از قبیل محالات ہیں جن کا وجود ہرگز ممکن نہیں اور جن لوگوں پر وید نازل ہوا وہ لوگ بکلی ان باتوں سے محروم تھے اور وید کی رُو سے ان باتوں کا ظہور میں آنا قطعی طور پر ناجائز اور غیر ممکن ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ ہندوؤں کے محقق تو اپنے وید کو اخبار ماضیہ اور مستقبلہ سے بکلی عاری اور مکاشفات سے بکلی بے نصیب اور خداتعالیٰ کی خالقیت اور حشر اجساد سے بکلی انکاری قرار دیتے ہیں اور مرزا صاحب ایک قدم آگے بڑھ کر ہندوؤں کے ویدوںکی نسبت اُن سب چیزوں کو مانتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ بقول شخص کہ مدعی سست اور گواہ چشت کیا نالائق غلو مرزا صاحب کے بیان میں پایا جاتا ہے جس پر اگر آج کل کے محقق اطلاع پاویں تو مرزا صاحب کو ایک غایت درجہ کا سادہ لوح قرار دیں اور اُن کی باتوں پر قہقہہ مار کر ہنسیں۔ پھر دیکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب اپنے اسی مکتوب میںہندوؤں بُت پرستی سے بھی بری قرار دینا چاہتے ہیں یہ کس قدر بے خبری اور لاعلمی مرزا صاحب کی ہے کہ ہندوستان میں پرورش پا کر پھر ہندوؤں کے عقائد سے کس قدر بے خبر اور غافل ہیں۔ اُنہیں معلوم نہیں کہ ہندو لوگ تو عرب کے بُت پرستوں سے اپنے شرک میں کئی درجہ بڑھ کر ہیں کیونکہ عرب کے بُت پرست اگرچہ اپنی مرادیں بتوں سے مانگتے تھے مگراُن کا یہ قول ہر گز نہ تھا کہ دنیا کے خالق و مالک وہ وہی دیوتا ہیں جن کی تصویریں اور مورتیں پتھر یا دہانت وغیرہ سے متشکل کر کے پوجے جاتے ہیں لیکن ہندوؤں کا اصول جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ پرمیشر دنیا کا خالق نہیں ہے بلکہ اُن کے دیوتا دنیا کے خالق ہیں اور اُنہیں سے مرادیں مانگنی چاہئے اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ہندو لوگ اپنے بتوں سے مرادیں مانگنے میں بڑے سرگرم ہیں۔ مرزا صاحب نے شاید کسی تہہ خانہ میں پرورش پائی ہوگی کہ اُن کو اپنی مدت العمر تک یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ ہندو لوگ اپنے پُرانے بُت خانوں کے درشن کے لئے کس جوش و خروش میں جایا کرتے ہیں یہاں تک کہ جگناتھ وغیرہ بُت خانوں کے بڑے بڑے بتوں کے راضی اور خوش کرنے کیلئے بعض بعض ہندو اپنی زبانیں بھی کاٹ کر چڑہا دیتے ہیں اور گنگا مائی کے درشن کرنے والے جو ہر سال ہزار ہا جاتے ہیں اور پکار پکار کر مرادیں مانگتے ہیں۔ یہ بات بھی مرزا صاحب سے چھپی رہی اور اسی طرح وہ صدہا کتابیں ہندوؤں کی جنہوں نے خود اپنی بُت پرستی کا اقرار کیا ہے اور اپنے دیوتاؤں اور بتوں وغیرہ سے مرادیں مانگنے کے طریق لکھے ہیں اگر اُن میں سے کوئی کتاب مرزا صاحب کی نظر میں سے گزر جاتی تو میں خیال کرتا ہوں کہ مرزا صاحب موصوف بہت ہی شرمندہ ہوتے۔ مگر بالآخر مجھکو یہ بھی خیال آتا ہے کہ غالباً یہ مکتوب کسی اور شخص نے لکھ کر مرزا صاحب کی طرف نسبت کر دیا ہے کیونکہ یہ بات عام طور پر چلی آتی ہے کہ اکثر اہل غرض اپنی تحریروں کو بعض اکابر کی طرف منسوب کرتے رہے ہیں تا اُن کی مقبولیت کی وجہ سے وہ تحریریں بِلا عذر قبول کی جائیں۔ بہرحال اب ہم اس حظ کو دعا پر ختم کرتے ہیں اور مرزا صاحب کے معتقدین کو برادرانہ نصیحت دیتے ہیں کہ وہ ایسے خیالات دور از صداقت و دیانت مرزا صاحب کی طرف منسوب نہ کریں۔
    ربنا اغفرلنا ذنوبنا ولا اخواننا الذین سبقونا بالایمان وصل علی نبیک وحییک محمدٍ وآلہٖ وسلم وتوفنا فی امتواتبعنا فی امۃٍ واٰتنا ما وعدت لا امۃٍ بنا أتنا امنا فاکتبنافی عبادک المومنین ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فمن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ لمن الخاسرین۔ خاکسار
    غلام احمد ۔ از قادیان ضلع گورداسپور
    (بتاریخ ہشتم ماہ رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۲؍ جون ۱۸۸۵ء)
    خاتمہ از مرتب
    یہ مجموعہ مکتوبات احمدیہ کی پہلی جلد ہے اور یہاں ختم کی جاتی ہے لیکن میں اس کو ناتمام سمجھوں گا اگر میر عباس علی شاہ صاحب کے بعد کے واقعات اور حالات کا یہاں ذکر نہ کروں۔ میر عباس علی شاہ صاحب لودہانہ کے رہنے والے تھے اور حضرت اقدس مسیح علیہ السلام کی تالیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں ایک مخلص مددگار تھے۔ مسیح موعود کے دعویٰ کے وقت اُنہیں ابتلاء آیا اور اسی ابتلاء میں اُن کا خاتمہ ہوا۔ اُنہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار بذریعہ اشتہار بھی کیا اور حضرت حجۃ اللہ نے نہایت رُفق و ملائمیت سے اُن کو جواب بھی دیا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ارادہ کر لیا تھا اُن کا خاتمہ انکار پر ہوا اس معاملہ میں مَیں زیادہ کچھ بھی لکھنا نہیں چاہتا ہاں ناظرین کو اسی مجموعہ مکتوبات کے مکتوب نمبر۳۴ اور ۴۰ پر خصوصیت سے توجہ کرنے سے صلاح دیتا ہوں۔ وہ ان مکتوبات کو پڑھیں گے تو اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت حجۃ اللہ نے پہلے سے پیشگوئی کی تھی۔ بہرحال میں حضرت اقدس علیہ السلام کی اس کے بعد کی تحریریں عباس علی شاہ صاحب کے متعلق درج کر دیتا ہوں اور اس کے بعد اور کوئی تحریر ملی یا مکتوبات ملے جو میر عباس علی ہی کے نام ہیں وہ بطور تتمہ اس جلد کے چھاپ دیئے جاویں گے (بہرحال وہ تحریریں یہ ہیں)
    ’’(۹) حبی فی اللہ میر عباس علی لودہانوی۔ یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں جن کے دل میں خداتعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرار اختیار کی سنت پر بقدم تجرید محض للہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے۔ وہی یہی بزرگ ہیں میں اس بات کو کبھی بھول نہیں سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کے ساتھ اُنہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اُٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور اُن کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کیلئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھا۔ اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء وہ اس مسافر خانہ میں محض متوکلانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنے اوائل ایام میں وہ بیش برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر بباعث غربت و درویشی کے اُن کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خوان بھی ہیں لیکن دراصل وہ بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں۔ مگر بایں ہمہ سادہ بہت ہیں۔ اسی وجہ سے بعض موسوسین کے وساوس اُن کے دل کو غم میں ڈال دیتے ہیں لیکن اُن کی قوت ایمانی جلد اُن کو دفع کر دیتی ہے‘‘۔
    اس کے بعد مخالفت کے اظہار پر حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل مضمون لکھا:۔
    میر عباس علی صاحب لدہانوی
    چوں بشنوی سخنِ اہل دل مگو کہ خطا است
    سخن شناس نہٖ دلبرا خطا اینجا است
    یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر مَیں نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے۔ افسوس کہ وہ بعض مسوسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آگئے بلکہ جماعت اعدا میں داخل ہو گئے۔ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اُن کی نسبت تو الہام ہوا تھا کہ اصلحا ثابت و فرعھا فی السماء۔ اس کا یہ جواب ہے کہ الہام کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ اصل اُس کا ثابت ہے اور آسمان میں اُس کی شاخ ہے اس میں تصریح نہیں ہے کہ وہ باعتبار اپنی اصل فطرت کے کس بات پر ثابت ہیں۔ بِلا شُبہ یہ بات ماننے کے لائق ہے کہ انسان میں کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی ہوتی ہے جس پر وہ ہمیشہ ثابت اور مستقل رہتا ہے اور اگر ایک کافر کفر سے اسلام کی طرف انتقال کرے تو وہ فطرتی خوبی ساتھ ہی لاتا ہے اور اگر پھر اسلام سے پھر کفر کی طرف انتقال کرے تو اُس خوبی کو ساتھ ہی لے جاتا ہے کیونکہ فطرت اللہ اور خلق اللہ میں تبدل اور تغیر نہیں۔ افراد نوع انسان مختلف طورکی کانوں کی طرح ہیں کوئی سونے کی کان، کوئی چاندی کی کان، کوئی پیتل کی کان۔ پس اگر اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کا ذکر ہو جو غیر متبدل ہو تو کچھ عجب نہیں اور نہ کچھ اعتراض کی بات ہے۔ بِلاشبہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہیں کفار میں بھی بعض فطرتی خوبیاں ہوتی ہیں اور بعض اخلاق اُن کو فطرتاً حاصل ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے مجسم ظلمت اور سرا سر تاریکی میں کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کیا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کوئی فطرتی خوبی بجز حصول صراط مستقیم کے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ موجب نجات اُخروی نہیں ہو سکتی کیونکہ اعلیٰ درجہ کی خوبی ایمان اور خدا شناسی اور راست روی اور خدا ترسی ہے… اگر وہی نہ ہوئی تو دوسری خوبیاں ہیچ ہیں۔ علاوہ اس کے یہ الہام اُس زمانہ کاہے کہ جب میر صاحب میں ثابت قدمی موجود تھی۔ زبردست طاقت اخلاص کی پائی جاتی تھی اور اپنے دل میں بھی وہ یہی خیال رکھتے تھے کہ میں ایسا ہی ثابت رہوں گا۔ سو خدا تعالیٰ نے اُن کی اُس وقت کی حالت موجودہ سے خبر دے دی۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی وحی میں شائع متعارف ہے کہ وہ موجودہ حالت کے مطابق خبر دیتا ہے۔ کسی کے کافر ہونے کی حالت میں اُس کا نام کافر ہی رکھتا ہے اور اُس کے مومن اور ثابت قدم ہونے کی حالت میں اُس کا نام مومن اور مخلص اور ثابت قدم ہی رکھتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس کے نمونے بہت ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ میری صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجزکے مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کے وقت نہ صرف آپ اُنہوں نے بیعت کی بلکہ اپنے دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اس سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں جس قدر اُنہوں نے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے۔ اُن کا اس وقت میں اندازہ بیان نہیں کر سکتا۔ لیکن دو سَو کے قریب اب بھی اُن کے ایسے خطوط موجود ہوں گے جن میں اُنہوں نے انتہائے درجہ کے عجز اور انکسار سے اپنے اخلاص اور ارادت کا بیان کیا ہے بلکہ بعض خطوط میں اپنی وہ خوابیں لکھی ہیں جن میں گویا روحانی طور پر اُن کو تصدیق ہوئی ہے کہ یہ عاجز من جانب اللہ ہے اور اس عاجز کے مخالف باطل پر ہیں اور نیز وہ اپنی خوابوں کی بنا پر اپنی معیت دائمی ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اس جہان اور اُن جہان میں ہمارے ساتھ ہیں۔ ایسا ہی لوگوں میں بکثرت اُنہوں نے یہ خوابیں مشہور کی ہیں اور اپنے مریدوں اور مخلصوں کی بتلائیں۔ اب ظاہر ہے کہ جس شخص نے اس قدر جوش سے اپنا اخلاص ظاہر کیا ایسے شخص کی حالت موجودہ کی نسبت اگرخدا تعالیٰ کا الہام ہو کہ یہ شخص اس وقت ثابت قدم ہے متزلزل نہیں توکیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا۔ بہت سے الہامات صرف موجودہ الہامات جو حالات کے آئینہ ہوتے ہیں۔ عواقب امور سے اُن کو کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب ک انسان زندہ ہے اُس کے سوء خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جل شانہٗ کے قبضہ میں ہے۔ میر صاحب تو میر صاحب ہیں اگر وہ چاہے تو دنیا کے ایک بڑے سنگدل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے۔ غرض یہ الہام حال پر دلالت کرتا ہے۔ مآل پر ضروری طور پر اُس کی دلالت نہیں ہے اور مآل ابھی ظاہر بھی نہیں ہے۔ بہتوں نے راستبازوں کو چھوڑ دیا اور پکے دشمن بن گئے مگر بعد میں پھر کوئی کرشمہ قدرت دیکھ کر پشیمان ہوئے اور زار زار روئے اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور رجوع لائے۔ انسان کا دل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اُس حکیم مطلق کی آزمائشیں ہمیشہ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ سو میر صاحب کسی پوشیدہ خامی اور نقص کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے اور پھر اس ابتلا کے اثر سے جوش ارادت کے عوض میں قبض پیدا ہوئی اور پھر قبض سے خشکی اور اجنبیت اور اجنبیت سے ترکِ ادب اور ترک ادب سے ختم علی القلب اور ختم علی القلب سے جہری عداوت اور ارادہ تحقیر و استحقاق و توہین پیدا ہو گیا۔ عبرت کی جگہ ہے کہ کہاں سے کہاں پہنچے کیا کسی کے وہم یا خیال میں تھا کہ میر عباس علی کا یہ حال ہوگا۔ مالک الملک جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ میرے دوستوں کو چاہئے کہ اُن کے حق میں دعا کریں اور اپنے بھائی فرد ماندہ اور درگذشتہ کو اپنی ہمدردی سے محروم نہ رکھیں اور میں بھی انشاء اللہ لکریم دعا کروں گا۔ میں چاہتا تھا کہ اُن کے چند خطوط بطور نمونہ اس رسالہ میں نقل کر کے لوگوں پر ظاہر کروں کہ میری عباس علی کا اخلاص کس درجہ پر پہنچا تھا اور کس طور کی خوابیں وہ ہمیشہ ظاہر کیا کرتے تھے اور کن انکساری الفاظ اور تعظیم کے الفاظ سے وہ خط لکھتے تھے لیکن افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں۔ انشاء اللہ القدیر کسی دوسرے وقت میں حسبِ ضرورت ظاہر کیا جائے گا۔ یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہبیت سچی ارادت کی طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خلیفۃ اللہ فی الارض لکھا کرتا تھا آج اس کی کیا حالت ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے ڈرو اور ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے۔ اپنی استقامتوں پر بھروسہ مت کرو۔ استقامت میں کوئی فاروق رضی اللہ عنہ سے کوئی بڑھ کر ہوگا جن کو ایک ساعت کے لئے ابتلا پیش آ گیا تھا اور اگر خدا تعالیٰ کاہاتھ اُن کو نہ تھامتا تو خدا جانے کیا حالت ہو جاتی۔ مجھے اگرچہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج بہت ہوا لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جب کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض رعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہوتا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو اُن کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے جن کی تعریف میں وحی الٰہی بھی ہوگئی تھی۔ آخر حضرت مسیح علیہ السلام سے منحرف ہوگئے تھے۔ یہودا اسکریوطی کیسا گہرا دوست حضرت مسیح کاتھا جو اکثر ایک ہی پیالہ میں حضرت مسیح کے ساتھ کھاتا اور بڑے پیار کا دَم مارتا تھا جس کو بہشت کے بارہویں تخت کی خوشخبری بھی دی گئی تھی اور میاں پطرس کیسے بزرگ حواری تھے جن کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھاکہ آسمان کی گنجیاں اُن کے ہاتھ میں ہیں جن کو چاہیں بہشت میں داخل کریں اور جن کو چاہیں نہ کریں۔ لیکن آخرمیاں صاحب موصوف نے جو کرتوت دکھائی وہ انجیل پڑھنے والوں پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر اور اُن کی طرف اشارہ کر کے نعوذ باللہ بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پر *** بھیجتا ہوں۔ میر صاحب ابھی اس حد تک کہاں پہنچے ہیں کل کی کس کو خبر ہے کہ کیا ہو۔ میر صاحب کی قسمت میں اگرچہ یہ لغزش مقدر تھی اور اصلہا ثابت کی ضمیر ثابت بھی اُس کی طرف ایک اشارہ کر رہی تھی۔ لیکن بٹالوی صاحب کی وسوسہ اندازی نے اور بھی میر صاحب کی حالت کو لغزش میں ڈالا۔ میر صاحب ایک سادہ آدمی ہیں جن کو مسائل دقیقہ دین کی کچھ بھی خبر نہیں۔ حضرت بٹالوی وغیرہ نے مفسدانہ تحریکوں سے ان کو بھڑکا دیا کہ دیکھو فلاں کلمہ عقیدہ اسلام کے برخلاف اور فلاں لفظ بے ادبی کا لفظ ہے۔ مَیں نے سنا ہے کہ شیخ بٹالوی اس عاجز کے مخلصوں کی نسبت قسم کھا چکے ہیں کہ لاغوینھم اجمعین۔ اور اس قدر غلوہے کہ شیخ نجدی کا استثنا بھی اُن کے کلام میں نہیں پایا جاتا۔ تاصالحین کو باہر رکھ لیتے اگرچہ وہ بعض روگردان ارادت مندوں کی وجہ سے بہت خوش ہیں مگر اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ٹہنی کے خشک ہو جانے سے سارا باغ برباد نہیں ہو سکتا۔ جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خشک کر دیتا ہے اورکاٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کر دیتا ہے۔ بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدا تعالیٰ اُس کی جگہ بیس لائے گا۔ اور اس آیت پر غور کریں۔ فسوف یاتی اللّٰہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکفرین۔
    بالآخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میری عباس علی صاحب نے ۱۲؍ دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ سو اُن الفاظ سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے لیکن اُس اشتہار کی تین باتوں کا جواب دینا ضروری ہے۔
    اوّل: یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلاف واقعہ جم گیا ہے سو اُس وسوسہ کے دور کرنے کیلئے میرا یہی اشتہار کافی ہے بشرطیکہ میر صاحب اس کو غور سے پڑھیں۔
    دوم: یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا مَیں ایک نیچری آدمی ہوں۔ معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیا علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقاید اسلام سے منہ پھیرنے والا۔ سو ان اوہام کے دور کرنے کے لئے میں وعدہ کرچکا ہوں کہ عنقریب میری طرف سے اس بارہ میں رسالہ مستقلہ شائع ہوگا اگر میر صاحب توجہ سے اس رسالہ کو دیکھیں گے تو بشرط توفیق ازلی اپنی بے بنیاداور بے اصل بدظنیوں سے سخت ندامت اُٹھائیں گے۔
    سوم: یہ کہ میر صاحب نے اپنے اس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر فرما کر تحریر فرمایا ہے کہ گویا اُن کو رسول نمائی کی طاقت ہے۔ چنانچہ وہ اس اشتہار میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا۔ مَیں نے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی ایک مسجد میں بیٹھ جائیں اور پھر یا تو مجھ کو رسول کریم کی زیارت کرا کر اپنے دعاوی کی تصدیق کرادی جائے اور یا میں زیارت کرا کر اس بارہ میں فیلہ کرادونگا۔ میر صاحب کی اس تحریر نے نہ صرف مجھے ہی تعجب میں ڈالا بلکہ ہر ایک واقفِ حال سخت متعجب ہو رہا ہے کہ اگر میر صاحب میں یہ قدرت اور کمال حاصل تھا کہ جب چاہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں اور باتیں پوچھ لیں بلکہ دوسروں کو بھی دکھلا دیں تو پھر انہوں نے اس عاجز سے بدوں تصدیق نبوی کے کیوں بیعت کر لی اور کیوں دس سال تک برابر خلوص نماؤں کے گروہ میں رہے۔ تعجب کہ ایک دفعہ بھی رسول کریم اُن کی خواب میں نہ آئے اور ان پر ظاہر نہ کیا کہ اس کذاب اور مکار اور بے دین سے کیوں بیعت کرتا ہے اور کیوں اپنے تئیں گمراہی میں پھنساتا ہے۔ کیا کوئی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کو یہ اقتدار حاصل ہے کہ بات بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری میں چلا جاوے اور اُن کے فرمودہ کے مطابق کاربند ہو اور اُن سے صلاح مشورہ لے لے وہ دس برس تک برابر ایک کذاب اور فریبی کے پنجہ میں پھنسا رہے اور ایسے شخص کا مرید ہو جاوے جو اللہ اور رسول کا دشمن اور آنحضرت کی تحقیر کرنے والا اور تحت الثری میں گرنے والا ہو۔ زیادہ تر تعجب کا مقام یہ ہے کہ میر صاحب کے بعض دوست بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے بعض خوابیں ہمارے پاس بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ میں رسول اللہ صلعم کو خواب میں دیکھا اور آنحضرت نے اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ وہ شخص واقعی طور پر خلیفۃ اللہ اور مجدد دین ہے اور اسی قسم کے بعض خط جن میں خوابوں کا بیان اور تصدیق اس عاجز کے دعویٰ کی تھی میر صاحب نے اس عاجز کو بھی لکھے۔ اب ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اگر میر صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں تو جو کچھ اُنہوں نے پہلے دیکھا وہ بہرحال اعتبار کے لائق ہوگا اور اگر وہ خوابیں اُن کے اعتبار کے لائق نہیں اور اضغاث احلام میں داخل ہوں تو ایسی خوابیں آئندہ بھی قابلِ اعتبار نہیں ٹھہر سکیں۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرانہ دعویٰ کس قدر فضول بات ہے۔ حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثل شیطان سے وہی خواب رسول بینی سے مبرا ہو سکتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے حلیہ پر دیکھا گیا ہو۔ ورنہ شیطان کا تمثل انبیاء کے پیرایہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے اور شیطان لعین تو خدا تعالیٰ کا تمثل اور اُس کے عرض کے تجلی دکھلا دیتا ہے۔ پھر انبیاء کا تمثل اُس پر کیا مشکل ہے۔ اب جب کہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو اس بات پر کیونکر مطمئن ہوں کہ وہ زیارت درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک حلیہ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے۔ پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقّہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بع ایسے خوارق اور علامات خاصہ ہوں جن کی وجہ سے اُس رؤیا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلا دیں یا بعض قضاء قدر کی نزول کی باتوں سے پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلاویں جو پہلے قلمبند اور شائع نہیں ہو چکے تو بِلاشُبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی۔ ورنہ اگر ایک شخص دعویٰ کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بیشک کافر اور دجال ہے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اُس خواب بین نے چالاکی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنا لی ہے۔ سو اگر میر صاحب میں درحقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو خواب میں آ جاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھاویں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ اس بات کو بپایہ ثبوت پہنچاویں کہ درحقیقت اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے اور اگر اُنہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اُس سیدھے طور سے مقابلہ کرلیں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے۔ ہمیں بالفعل اُن کی رسول بینی ہی میں کلام ہے۔ چہ جائیکہ اُن کی رسول نمائی کے دعویٰ کو قبول کیا جائے۔ پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعویٰ میں صادق ہیں یا کاذب۔ اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا۔ پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا اعجوبہ بھی دکھلادیں۔ قادیان میں آ جائیں مسجد موجود ہے۔ اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اس عاجز کے ذمہ ہوگا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف گزاف ہے اور کچھ نہیں دکھلا سکتے۔ اگر آئیں گے تو اپنی پردہ دری کرائیں گے۔ عقلمند سوچ سکتے ہیں کہ جس شخص نے بیعت کی۔ مریدوں کے حلقہ میں داخل ہوا اور مدت دس سال سے اس عاجز کو خلیفۃ اللہ اور امام او رمجدد کہتارہا اور اپنی خوابیں بتلاتا رہا کیا وہ اس دعویٰ میں صادق ہے۔ میر صاحب کی حالت نہایت قابل افسوس ہے خدا اُن پر رحم کرے۔ پیشگوئیوں کے … رہیں جو ظاہر ہوں گی۔ ازالہ اوہام کے صفحہ۸۵۵ کو دیکھیں۔ ازالہ اوہام کے صفہ۶۳۵ اور ۳۹۶ کو بغور … کریں۔ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۷ء کی پیشگوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے۔
    ویسئلونک احق ھو قل ای ورلبی انہ لحق و ما انتم بمعجزین۔ زوجنا اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ ہاں مجھے اپنے ربّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ کھالا مبدل اکلماتی وان یرایۃٍ بعرضواو ہم نے خود اُس سے تیرا عقد نکاح باندھ یا ہے میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ کرمنہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور یقولوا سحر مستمر کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے‘‘۔
    عرض حال
    جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے محض فضل سے اس چشمہ ہدایت کی طرف رہنمائی فرمائی ہے اور میرے ہاتھ میں قلم اور سلسلہ کی قلمی خدمت کیلئے ایک جوش دیا ہے اسی وقت سے مجھے یہ دھن اور آرزو رہی ہے کہ میں اپنے سید و مولیٰ امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ان تحریروں اور نوشتوں کو جمع کر کے شائع کروں جو ایسے وقت اور حال کی ہیں جب دنیا میں ایک گمنام انسان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور میری غرض ایسی تحریروں کے جمع کرنے سے یہ تھی اور ہے کہ اس طرح پر آپ کی سوانح کے لئے ایک مواد جمع ہو جاوے چنانچہ اس جوش اور شوق کا نتیجہ تھا کہ میں نے ۱۸۹۹ء میں ’’پرانی تحریریں‘‘ کے نام سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں ۱۸۸۷ء کے وہ مضامین تھے جو آپ نے برادر ہند، آفتاب پنجاب وغیرہ اخبارات میں شائع فرمائے تھے اس کے بعد میں اس سلسلہ میں ایک مبسوط مجوعہ آپ کے مکتوبات کا شائع کرتا ہوں اور یہ پہلی جلد ہے مکتوبات کی ترتیب میں مجھے بہت عرصہ تک غور کرنا پڑا کبھی بلحاظ سنین کے ترتیب کرتا اور کبھی بلحاظ مضامین۔ آخر بڑے غور و فکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ رسم وار ہو جاوے تو اچھا ہے اورجہاں تک مکتوبات ایک شخص کے نام بہت ہی کم ہونگی وہاں ایک جلد متفرق مکتوبات کی مرتب کی جاوے بہرحال اس سلسلہ میں سب سے پہلی جلد میر عباس علی شاہ کے نام شائع کرتا ہوں ان مکتوبات میں حضرت حجۃ اللہ نے عجیب و غریب مسائل تصوف کی فلاسفی اور اسرار ناظرین پائیں گے اور معرفت حقیقی کا ایک مصفا چشمہ انہیں ملے گا اور … پیشگوئیاں انہیں نظر آئیں گی میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے توفیق دی کہ اپنے محبوب … اس کے محبوب دوستوں تک پہنچانے کا فخر حاصل کروں اس کے بعد دوسری جگہ …… خلیفۃ المسیح کے نام کی مکتوبات کی ہوگی خدا ہی کے فضل سے امید ہے کہ وہ … ہے مکتوبات حضرت حکیم الامۃ کے نام کی میرے پاس موجود ہیں… حبیب سمجھ کر اس کی قدر کریں گے۔ واللّٰہ الحمد
    احقر الناس یعقوب علی تراب احمدی
    ایڈیٹر الحکم قادیان


    حاشیہ جلد 1

    ٭ اب یہ شخص منکر خدا ہے۔ (مرتب)
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ھوالذی ارسل رسولہ … ودین الحق لیظھر علی دین کلہ
    حضرت اقدس حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ السلام کی پُرانی تحریروں کا سلسلہ نمبر۳
    اَلْمَکَتُوْبُ نَصْفُ الْمُلاقَاتُ
    مکتوبات احمدیہ
    (جلددوم)
    حضرت حجۃ اللہ علی الارض امام ربانی میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکتوبات جو آپ نے وقتاً فوقتاً ہندو، آریہ، براہمو مذہب کے لیڈروں کے نام لکھے ہیں
    جنکو
    خاکسار یعقوب علی تراب احمدی ایڈیٹر الحکم و مرتب تفسیر القرآن وغیرہ نے مرتب کیا اور محمد وزیر خان احمدی نے چھپوا کر معرفت بدر ایجنسی قادیان شائع کیا
    اسلامیہ سٹیم پریس لاہور میں حافظ مظفرالدین صاحب مینیجر کے اہتمام سے چھپا
    تعداد جلد ۱۰۰۰ قیمت فی جلد ۸؍
    نظم
    بکو شید اے جواناں تابدیں قوت شود پیدا
    بہار و رونق اندر روضہ ملت شود پیدا
    اگر یاراں کنوں بر غربت اسلام رحم آرید
    باصحاب نبی نزد خدا نسبت شود پیدا
    نفاق و اختلاف ناشناساں از میاں خیزد
    کمال اتفاق دخلت و الفت شود پیدا
    بجنبید از پے کوشش کہ ازور گاہ ربّانی
    زبہر ناصران دیں حق نصرت شود پیدا
    اگر امروز فکر غربت دیں درشما جو شد
    شمار اینز واللہ رتبت و غرت شود پیدا
    اگر دست عطا اور نصرت اسلام بکشائید
    ہم از بہر شما ناگہ ید قدرت شود پیدا
    زبذل مال در راہش کے مفلس نمے گردد
    خدا خود میشود ناصر اگر ہمت شود پیدا
    دور و زعمر خود درکار دیں کو شیداے یاران
    کہ آخر ساعت رحلت بصد حسرت شود پیدا
    در انصار بنی بنگر کہ چوں شکار تادانی
    کہ از تائید دیں سرچشمہ دولت شود پیدا
    بجو از جان و دل تا خدمتے از دست توآید
    بقائے جاوداں یابی گر ایں شربت شود پیدا
    بمفت ایں اجر نصرت راد ہندت اے اخی ورنہ
    قضاء آسمانست ایں بہرحالت شود پیدا
    ہمی بینم کہ داوار قدیر و پاک مے خواہد
    کہ باز آں قوت اسلام و آہ شوکت شود پیدا
    کریما صد کرم کن برکسے ناصر دیں است
    بلائے اوبگرداں گر گہے آفت شود پیدا
    چناں خوش داراد را اے خدائے قادر مطلق
    کہ درہر کاروبار حال او جنت شود پیدا
    دریغ و درد قوم من ندائے من نمے شنود
    زہر درمیدہم پندش مگر عبرت شود پیدا
    مرا با درنمی آید کہ چشم خویش بکشایند
    مگر وقتیکہ خوف و عفت و خشیت شود پیدا
    مرا دجال و کذاب و بتراز کافراں فہمند
    نمیدانم چرا از نور حق نفرت شود پیدا
    عجب دار ید اے نا آشنایاں غافلاں از دیں
    کہ از حق چشمہ حیواں دریں ظلمت شود پیدا
    چرا انسان تعجب ہا کند در فکر ایں معنی
    کہ خواب آلود گانرا رافع غفلت شود پیدا
    فراموشت شد اے قومم احادیث نبی اللہ
    کہ نزد ہر صدی یک مصلح اُمت شود پیدا
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلی عَلٰی رَسُولِہٖ الکَرِیْم
    مکتوبات احمدیہ جلد دوم
    آریوں، ہندوؤں، برہموؤں کے نام خطوط
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    بجانب پنڈت دیانند سرستی (بانی آریہ سماج)
    من انچہ شرط بلاع است باتو میگویم
    تو خواہ از سخنم پند گیرو خواہ ملال
    واضح ہو کہ اندنوں میں اس عاجز نے حق کی تائید کے لئے اور دین اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کی غرض سے ایک نہایت بڑی کتاب تالیف کی ہے جس کا نام ’’براہین احمدیہ‘‘ ہے۔ چنانچہ اُس میں سے تین حصے چھپ کر مشتہر ہو چکے ہیں اور حصہ چہارم عنقریت چھپنے والا ہے۔ حصہ سوم میںاس بات کا کافی ثبوت موجود ہے کہ سچا دین جس کے قبول کرنے پر نجات موقوف ہے دین اسلام ہے کیونکہ سچائی کے معلوم کرنے کے لئے دو ہی طریق ہیں۔
    ایک یہ کہ عقلی دلائل سے کسی دین کے عقائد صاف اور پاک ثابت ہوں۔ دوسری یہ کہ جو دنی اختیارکرنے کی علت غائی ہے یعنی نجات اس کے علامات اور انوار اس دین کی متابعت سے ظاہر ہو جائیں کیونکہ جو کتاب دعویٰ کرتی ہے کہ میں اندرونی بیماریوں اور تاریکیوں سے لوگوں کو شفا دیتی ہوں بجز میرے دوسری کتاب نہیں دیتی تو ایسی کتاب کے ضرور ہے کہ اپنا ثبوت دے۔ پس انہیں دونوں طریقوں کی نسبت ثابت کر کے دکھلایا گیا ہے کہ یہ صرف اسلام میں پائے جاتے ہیں۔ اسلام وہ پاک مذہب ہے کہ جس کی بنیاد عقائد صحیحہ پر ہے کہ جس میں سراسر جلال الٰہی ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن شریف ہر ایک جزو کمال خدا کیلئے ثابت کرتا ہے اور ہر ایک نقص و زوال سے اس کو پاک ٹھہراتا ہے۔ اس کی نسبت قرآن شریف کی یہ تعلیم ہے کہ وہ بیچون و بیچگون ہے اور ہرایک شبہ و مانند سے منزہ ہے اور ہر ایک شکل اور مثال سے مبرا ہے۔ وہ مبداء ہے عام فیضوں کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور مرجع ہے تمام امور کا اور خالق ہے تمام کائنات کا اور پاک ہے ہر ایک کمزوری اور ناقدرتی اور نقصان سے اور واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور الوہیت میں اور معبودیت میں۔ نہیں مشابہ اس سے کوئی چیز اور نہیں جائز کسی سے اس کا اتحاد اور حلول۔ مگر افسوس آپ کا اعتقاد سراسر اس کے برخلاف ہے اور ایسی روشنی چھوڑ کر تاریکی ظلمت میں خوش ہو رہے ہیں۔ اب چونکہ میں نے اس روشنی کو آپ جیسے لوگوں کی سمجھ کے موافق نہایت صاف اور سلیس اُردو میں کھول کر دکھلایا ہے اور اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ لوگ ایک سخت ظلمت میں پڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ جس کے سہارے پر تمام دنیا جیتی ہے اس کی نسبت آپ کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ تمام فیضوں کا مبدأ نہیں اور تمام ارواح یعنی جیو اور اُن کی روحانی قوتیں اور استعدادیں اور ایسا ہی تمام اجسام صغائر یعنی پر کرتی خود بخود انادی طور پر قدیم سے چلے آتے ہیں اور تمام ہُنر گُن جو ان میں سے ہیں وہ خود بخود ہیں اور اس فیصلہ کو صرف عقلی طور پر نہیں چھوڑا بلکہ اسلام کے پاک گروہ میں وہ آسمانی نشان بھی ثابت کئے ہیں کہ جو خدا کے بُرگزیدہ قوم میں ہونے چاہئیں اور ان نشانوں کے گواہ صرف مسلمان لوگ ہی نہیں بلکہ کئی آریہ سماج والے بھی گواہ ہیں اور بفضل خداوندکریم دن بدن لوگوں پر کھلتا جاتا ہے کہ برکت اور روشنی اور صداقت صرف قرآن شریف میں ہے اور دوسری کتابیں ظلمت اور تاریکی سے بھری ہوئی ہیں۔ لہٰذا یہ خط آپ کے پاس رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں اگر آپ کتاب براہین احمدیہ کے مطالعہ کے لئے مستعد ہوں تو میں وہ کتاب آپ کو مفت بلا قیمت آپ کو بھیج دوں گا۔ آپ اس کوغور سے پڑھیں اگر اس کے دلائل کو لاجواب پاویں تو حق کے حقول کرنے میں توقف نہ کریں کہ دنیا روزے چند ۔آخر کار باخداوند۔ میں ابھی اس کتاب کو بھیج سکتا تھا مگر میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے خیالات میں محو ہو رہے ہیں اور دوسرے شخص کی تحقیقاتوں سے فائدہ اُٹھانا ایک عار سمجھتے ہیں۔ سو میں آپ کو دوستی اور خیر خواہی کی راہ سے لکھتاہوں کہ آپ کے خیالات صحیح نہیں ہیں۔ آپ ضرور ہی میری کتاب کو منگا کر دیکھیں اُمید کہ اگر حق جوئی کی راہ سے دیکھیں گے تو اس کتاب کے پڑھنے سے بہت سے حجاب اور پردے آپ کے دور ہو جائیں گے اور اگر آپ اُردو عبارت نہ پڑھ سکیں تا ہم کسی لکھے پڑھے آدمی کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ آپ اپنے جواب سے مجھ کو اطلاع دیں اور جس طور سے آپ تسلی چاہیں خداوند قادر ہے۔ صرف سچی طلب اور انصاف اور حق جوئی درکار ہے جواب سے جلد تر اطلاع بخشیں کہ میں منتظر ہوں اور اگر آپ خاموش رہیں تو پھر اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کو صداقت اور روشنی اور راستی سے کچھ غرض نہیں ہے۔
    (۲۰؍ اپریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۲؍ جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ)
    خط جو مختلف مذاہب کے لیڈروں کے نام بھیجا گیا
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    بعد ما وجب گزارش ضروری یہ ہے کہ یہ عاجز (مؤلف براہین احمدیہ) حضرت قادر مطلق جلشانہٗ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح) کے طرز پر کمال مسکینی و فروتنی و غربت و تذلل و تواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راہ راست سے بیخبر ہیں صراطِ مستقیم (جس پر چلنے سے حقیقی نجات حاصل ہوتی ہے اور اسی عالم میں بہشتی زندگی کے آثار اور قبولیت اور محبوبیت کے انوار دکھائی دیتے ہیں) دکھاوے اسی غرض سے کتاب براہین احمدیہ تالیف پائی ہے جس کے ۳۷ جز چھپ کر شائع ہو چکی ہیں اور اس کا خلاصہ مطلب اشتہار ہمراہی خط ہذا میں مندرج ہے………………… لیکن چونکہ پوری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل بغرض اتمام حجت یہ خط (جس کی دو سَو چالیس کاپی چھپوائی گئی ہیں، معہ اشتہار انگریزی جس کی آٹھ ہزار کاپی چھپوائی گئی ہیں) شائع کیا جاوے اور اُس کی ایک ایک کاپی بخدمت معزز برہمو صاحبان و آریہ صاحبان و نیچری صاحبان و حضرت مولوی صاحبان جو وجود خوارق و کرامت سے منکر ہیں اور اس وجہ سے اس عاجز پر بدظن ہیں ارسال کی جاویں یہ ان حضرات نیچریہ یا مولوی صاحبان کو کہا جاتا ہے جو اسلام کو مانتی ہیں اور پھر وجود خوارق اور کرامات سے منکر اور اس عاجز پر بدظن ہیں۔ یہ تجویز اپنی فکر اور اجتہاد سے نہیں قرار پائی ہے بلکہ حضرت مولیٰ کریم کی طرف سے اس کی اجازت ہوئی ہے اور بطور پیشگوئی یہ بشارت ملی ہے کہ اس خط کے مخاطب (جو خط پہنچنے پر رجوع کریں گے) ملزم و لاجواب و مغلوب وال جواب و مغارب ہو جاویں گے بناء علیہ پر یہ خط چھپوا کر آپ کی خدمت میں (اس نظر سے کہ آپ اپنی قوم میں معزز اور مشہور اور مقتدر ہیں) ارسال کیا جاتا ہے اور آپ کی کمال علم اور بزرگی کی نظر سے امید ہے کہ آپ حبۃ اللہ اس خط کے مضمون کی طرف سے توجہ فرما کر طلب حق میں کوشش کریں گی اگر اپنی اس کی طرف توجہ نہ کی تو آپ پر حجت تمام ہوگی اور اس کارروائی کے (کہ آپ کو خط رجسٹری شدہ ملا اور پھر آپ نے اُس کی طرف توجہ کو مبذول نہ فرمایا) حصہ پنجم کتاب براہین احمدیہ میں پوری تفصیل سے بحث کی جاوے گی اور اصل مدعا خط جس کی ابلاغ کیلئے میں مامور ہوا ہوں یہ ہے کہ دین حق جو خدا کی مرضی کے موافق ہے صرف اسلام ہے اور کتاب حقانی جو منجاب اللہ محفوظ اور واجب العمل ہے صرف قرآن ہے اس دین کی حقانیت اور قرآن شریف کی سچائی پر عقلی دلائل کے سوا آسمانی نشانوں کی (خوارق و پیشگوئیوں) شہادت بھی پائی جاتی ہے جس کو طالب صادق اس خاکسار (مؤلف براہین احمدیہ) کے صحبت اور صبر اختیار کرنے سے بمعائنہ چشم تصدیق کر سکتا ہے آپ کو اس دین کی حقانیت یا ان آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لاویں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر آسمانی نشانوں کو بچشم خود مشاہدہ کر لیں ولیکن اس شرط و نیت سے (جو طالب صادق کی نشانی ہے) کہ بمجرد معائنہ آسمانی نشانوں کے اِسی جگہ قادیان میں مشرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جاویں گے۔ اس شرط و نیت سے آپ آویں گے تو ضرور انشاء اللہ ، اللہ تعالیٰ آسمانی نشان مشاہدہ کرے گی۔ اس امر کا خدا کی طرف سے وعدہ ہو چکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں۔ اب آپ تشریف نہ لاویں تو آپ پر خدا کا مواخذہ رہا اور بعد انتظار تین ماہ کے آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب ہوگا اور اگر آپ آویں اور ایک سال تک رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دو سَو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو حرجانہ یا جرمانہ دیا جاوے گا۔ اس دو سَو روپیہ ماہوارہ کو آپ اپنی شایان شان نہ سمجھیں یا تو اپنی حرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے ہم اُس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔ طالبان حرجانہ یا جرمانہ کے لئے ضروری ہے کہ تشریف آوری سے پہلے بذریعہ رجسٹری ہم سے اجازت طلب کریں اور جو لوگ حرجانہ یا جرمانہ کے طالب نہیں ان کو اجازت طلب کرنے کی نہیں۔ اگر آپ بذات خود تشریف نہ لا سکیں تو آپ اپنا وکیل جس کے مشاہدہ کو آپ معتبر اور اپنا مشاہدہ سمجھیں روانہ فرما دیں مگر اس شرط سے کہ بعد مشاہدہ اس شخص کے آپ اظہار اسلام یا (تصدیق خوارق) میں توقف نہ فرماویں آپ اپنی شرط اظہار اسلام (تصدیق خوارق) ایک سادہ کاغذ پر جس پر چند ثقات مختلف مذاہب کی شہادتیں ہوں تحریر کر دیں جس کومتعدد انگریزی اُردو اخباروں میں شائع کیا جاوے گا ہم سے اپنی شرط دو سَو روپیہ ماہور حرجانہ یا جو آپ پسند کریں اور ہم اُس کی ادائی کی طاقت بھی رکھیں۔عدالت میں رجسٹری کرائیں بالآخر یہ عاجز حضرت خداوندکریم جلشانہ کا شکریہ ادا کرتا ہے جس نے اپنے سچے دین کے براہین ہم پر ظاہر کئے اور پھر اُن کی اشاعت کیلئے ایک آزاد سلطنت کی حمایت میں جو گورنمنٹ انگلشیہ ہے ہم کو جگہ دی۔ اس گورنمنٹ کا بھی حق شناسی کی رو سے یہ عاجز شکریہ ادا کرتا ہے۔ والسلام علی من اتبع الہدی فقط
    راقم خاکسار غلام احمدی قادیانی
    ۸؍ مارچ ۱۸۸۵ء مطابق ۲۹؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۲ھ)
    خط بنا اِندر من مراد آبادی
    اندر من مراد آبادی نے دعوت یکسالہ کیلئے چوبیس سَو روپیہ مانگا تھا جو مسلمانوں کے ایک معزز ڈیپوٹیشن کے ہاتھ بھیجا گیا اور یہ خط ساتھ لکھا گیا مگر اندرمن کہیں بھاگ گیا آخر یہ خط شائع کیا گیا۔
    نقل اشتہار
    منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوع خط (جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے رؤساء و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھاکہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو اور نہ موعود اشتہار پیشگی بنک میں داخل کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں خاکسار نے رقمیہ ذیل معہ دو ہزار چار سَو روپیہ نقد ایک جمعیت اہل اسلام کے ذریعہ سے ان کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔ جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود میں پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔ وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام خط روانہ کیا تھا۔ اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں باوجودیکہ اُس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریر کیا تھا۔ یہ امر نہایت تعجب اور تردّد کا موجب ہوا لہٰذا یہ قرار پای کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے اور اُس کی ایک کامنشی صاحبکے نام حسب نشان مکان موجود بذریعہ رجسٹری روانہ کی جاوے۔ وہ یہ ہے۔
    مشفقی اِندر من صاحب آپ نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ایک نئی بات لکھی ہے۔ جس کی اجابت مجھ کو اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے۔ میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرادے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔ اب اُس کے جواب میں اوّل تو مجھے اپنا (نابھہ میں پھر لاہور میں) بُلاتے ہیں اور خود آنے کا ارادہ ظاہر فرماتے ہیں تو مباحثہ کے لئے نہ آسمانی نشان دیکھنے کیلئے۔ اس پر طفہ یہ کہ روپیہ اشتہار پیشگی طلب فرماتے ہیں جس کا میں نے پہلے وعدہ نہیں دیا۔ اب آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ میری تحریر سے آپ کا جواب کہاں تک متفاوت و متجاوز ہے۔ بہ بین تفاوت راہ از کجاست تابکجا۔ لہٰذا میں اپنے اسی پہلے اقرار کی رُو سے پھر آپ کو لکھتا ہوں کہ آپ ایک سال رہ کر آسمانی نشانوں کا مشاہدہ فرماویں اگر بالفرض کسی آسمانی نشان کو آپ کو مشاہدہ ہو تو میں آپ کو چوبیس سَو روپیہ دے دونگا اور اگر آپ کو پیشگی لینے پر بھی اصرار ہو تو مجھے اس سے بھی دریغ وعذر نہیں بلکہ آپ کے اطمینان کیلئے سردست چوبیس سَو روپیہ نقد ہمراہ رقیمہ ہذا ارسال خدمت ہے مگر چونکہ آپ نے یہ ایک امر زائد چاہا ہے اس لئے مجھے بھی حق پیدا ہو گیا ہے کہ میں امر زائد کے مقابلہ میں کچھ شروط آپ سے لوں جن کا ماننا آپ پر واجبات سے ہے۔
    (۱) جب تک آپ کا سال گذر نہ جائے کوئی دوسرا شخص آپ کے گروہ سے زرموعود پیشگی لینے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ ہر شخص کو زر پیشگی دینا سہل و آسان نہیں ہے۔
    (۲) اگر آپ مشاہدہ نشان آسمانی کے بعد اظہار اسلام میں توقف کریں اور اپنے عہد کو پورا نہ کریں تو پھر حرجانہ یا جرمانہ دو امر سے ایک امر ضرور ہو۔
    (الف) سب لوگ آپ کے گروہ کے جو آپ کو مقتدا جانتے ہیں یا آپ کے حامی اور مربی ہیں اپنا عجز اور اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا بے دلیل ہونا تسلیم کر لیں۔ وہ لوگ ابھی سے آپ کو اپنا وکیل مقرر کر کے اس تحریر کا آپ کو اختیار دیں۔ پھر اس پر اپنے دستخط کریں۔
    (ب) درصورت تخلف وعدہ جانب سامی سے اس کا مالی جرمانہ یا معاوضہ جو آپ کی اور آپ کے مربیوں اور حامیوں اور مقتدیوں کی حیثیت کے مطابق ہو ادا کریں تا کہوہ اس مال سے اس وعدہ خلافی کی کوئی یادگار قائم کی جائے (ایک اخبار تائید اسلام میں جاری ہو یا کوئی مدرسہ تعلیم نو مسلم اہل اسلام کے لئے قائم ہو) آپ ان شرائط کو تسلیم نہ کریں تو آپ مجھ سے پیشگی روپیہ نہیں لے سکتے اور اگر آپ آسمانی نشان کے مشاہدہ کے لئے نہیں آنا چاہتے صرف مباحثہ کیلئے آنا چاہتے ہیں تو اس امر سے میری خصوصیت نہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس اُمّتِ محمدیہ میں علماء اور فضلا اور بہت ہیں جو آپ سے مباحثہ کرنے کو تیار ہیں میں جس امر سے مامور ہوچکا ہوں اُس سے زیادہ نہیں کر سکتا اور اگر مباحثہ بھی مجھ سے ہی منظور ہے تو آپ میری کتاب کا جواب دیں۔ یہ صورت مباحثہ کی عمدہ ہے اور اس میں معاوضہ بھی زیادہ ہے۔ بجائے چوبیس سَو روپیہ کے دس ہزار روپیہ۔
    (۳۰ ؍ مئی ۱۸۸۵ء)
    اکبر آباد آریہ سماج کے ایک ممبر رام چرن نامی کے نام
    (ایک سوال کا جواب جو بذریعہ اخبار عام مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۸۸۵ء میں دیا گیا۔ ایڈیٹر)
    آج ایک سوال از طرف رام چرن نامی جو آریہ سماج اکبر آباد کے ممبروں میں سے ہے میری نظر سے گزرا سو اگر چہ لغو اور بے حقیقت سوالات کی طرف متوجہ ہونا ناحق اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے لیکن ایک دوست کے الحاح اور اصرار سے لکھتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے شیطان کو پیدا کر کے کیوں آپ ہی لوگوں کو گناہ اور گمراہی میں ڈالا گیا اُس کا یہ ارادہ تھا کہ لوگ ہمیشہ بدی میں مبتلا رہ کر کبھی نجات نہ پاویں۔ ایسا سوال اُن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جنہوں نے کبھی غور اور فکر سے دینی معارف میں نظر نہیں کی یا جن کی نگاہیں خود ایسی پست ہیں کہ بجز نکتہ چینیوں کی اور کوئی حقیقت شناسی کی بات اور محققانہ صداقت ان کو نہیں سوجھتی۔ اب واضح ہو کہ سائل کے اس سوال سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصول اسلام سے بکلی بیگانہ اور معارف ربانی سے سراسر اجنبی ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ شریعت اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا شیطان صرف لوگوں کو بہانے اور ورغلانے کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اسی اپنے وسوسہ کو پختہ سمجھ کر تعلیم قرآنی پر اعتراض کرتا ہے حالانکہ تعلیم قرآنی کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے اور نہ یہ بات کسی آیت کلام الٰہی سے نکلتی ہے بلکہ عقیدہ حقہ اہل اسلام جس کو حضرت خداوند کریم جلشانہٗ نے خود اپنے کلام پاک میں بیان کیا ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے دونوں اسباب نیکی اور بدی کی مہیا کر کے اور ایک وجہ کا اُس کو اختیار دے کر قدرتی طور پر ہر دو قسم کے محرک اس کے لئے مقرر کئے ہیں ایک داعی خیر یعنی ملائکہ جو نیکی کی رغبت دل میں ڈالتی ہیں۔ دوسری داعی شر یعنی شیطان جو بدی کی رغبت دل میں ڈالتا ہے لیکن خدا نے داعی خیر کو غلبہ دیا ہے کہ اُس کی تائید میں عقل عطا کی اور اپنا کلام نازل کیا اور خوارق اور نشان ظاہر کئے اور ارتکاب جرائم پر سخت سخت سزائیں مقرر کیں۔ سو خدا تعالیٰ نے انسان کو ہدایت پانے کے لئے کئی قسم کی روشنی عنایت کی اور خود اس کے دلی انصاف کو ہدایت قبول کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا اور داعی شر بدی کی طرف رغبت دینے والا ہے تا انسان اُس کی رغبت دہی سے احتراز کر کے اُس ثواب کو حاصل کرے جو بجز اس قسم کے امتحان کے حاصل نہیں کر سکتا تھا اور ثبوت اس بات کا کہ ایسے دو داعی یعنی داعی خیر و داعی شر انسان کے لئے پائے جاتے ہیں۔ بہت صاف اور روشن ہے کیونکہ خود انسان بدیہی طور پر اپنے نفس میں احساس کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ دو قسم کے جذبات سے متاثر ہوتا رہتا ہے کبھی اُس کے لئے ایسی حالت صاف اور نورانی میسر آ جاتی ہے کہ نیک خیالات اور نیک ارادے اس کے دل میں اُٹھتے ہیں اور کبھی اُس کی حالت ایسی پُرظلمت اور مکدر ہوتی ہے کہ طبیعت اس کی بدخیالات کی طرف رجوع کرتی ہے اور بدی کی طرف اپنے دل میں رغبت پاتا ہے۔ سو یہی دونو داعی ہیں جن کو ملائک اور شیاطین سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حکمائے فلسفہ نے انہیں دونوں داعی خیر اور داعی شر کو دوسری طور پر بیان کیا ہے۔ یعنی اُس کے گمان میں خود انسان ہی کے وجود میں دو قسم کی قوتیں ہیں۔ ایک قوت ملکی جو داعی خیر ہے۔
    دوسری قوت شیطانی جو داعی شر ہے۔ قوت ملکی نیکی کی طرف رغبت دیتی ہے اور چپکے سے انسان کے دل میں خود بخود یہ پڑ جاتا ہے کہ میں نیک کام کروں۔ جس سے میرا خدا راضی ہو اور قوت شیطانی بدی کی طرف محرک ہوتی ہے۔ غرض اسلامی عقائد اور دنیا کے کل فلاسفہ کے اعتقاد میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ اہل اسلام دونوں محرکوں کو خارجی طور پر دو وجود قرار دیتے ہیں اور فلسفی لوگ انہیں دونوں وجودوں کو دو قسم کی قوتیں سمجھتے ہیں جو خود انسان ہی کے نفس میں موجود ہیں لیکن اس اصل بات میں کہ فی الحقیقت انسان کے لئے دو محرک پائے جاتے ہیں خواہ وہ محرک خارجی طور پر کوئی وجود رکھتے ہوں یا قوتوں کے نام سے اُن کو موسوم کیا جاوے یہ ایسا اجماعی اعتقاد ہے جو تمام گروہ فلاسفہ اس پراتفاق رکھتے ہیں اور آج تک کسی عقلمند نے اس اجماعی اعتقاد سے انحراف اور انکار نہیں کیا وجہ یہ کہ یہ بدیہی صداقتوں میں سے ایک اعلیٰ درجہ کی بدیہی صداقت ہے جو اس شخص پر بہ کمال کھل سکتی ہے کہ جو اپنے نفس پر ایک منٹ کے لئے توجہ اور غور کرے اور دیکھے کہ کیونکر نفس اس کا مختلف جذبات میں مبتلا ہوتا رہتا ہے اور کیونکر ایک دم میں کبھی زاہدانہ خیالات اس کے دل میں بھر جاتے ہیں اور کبھی رندانہ وساوس اس کو پکڑ لیتے ہیں سو یہ ایک ایسی روشنی اور کھلی کھلی صداقت ہے جو ذوالعقول اس سے منکر نہیں ہو سکتی ہاں جو لوگ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور کبھی انہوں نے اپنے نفس کے حالات کی طرف توجہ نہیں کی ان کے دلوں میں اگر ایسے ایسے پوچ وساوس اُٹھیں تو کچھ بعید نہیں ہے کیونکہ وہ لوگ بباعث نہایت درجہ کی غفلت اور کور باطنی کے قانون قدرت الٰہی سے بکلی بے خبر اور انسانی خواص اور کیفیات سے سراسر ناواقف ہیں اور اُن کے اس جہل مرکب کا بھی یہی علاج ہے کہ وہ ہمارے اس بیان کو غور سے پڑھیں تا کہ اُن کو کچھ ندامت حاصل ہو کہ کس قدر تعصب نے اُن کو مجبور کر رکھا ہے کہ باوجود انسان کہلانے کے جو انسانیت کی عقل ہے اس سے بالکل خالی اور تہی دست ہیں اور ایسی اعلیٰ درجہ کی صداقتوں سے انکار کر رہے ہیں جن کو ایک دس برس کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے پھر بھی سائل اپنے سوال کے اخیر میں یہ شُبہ پیش کرتا ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو تسلی دی تھی کہ شیطان تجھ کو بہکا نہیں سکے گا لیکن اُسی قرآن میں لکھا ہے کہ شیطان نے آدم کو بہکایا یہ وسوسہ قلبی بھی سراسر قلت فہم اور کور باطنی کی وجہ سے سائل کے دل میں پیدا ہوا کیونکہ قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت نہیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ شیطان آدم کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا قصد نہیں گرے گا یا آدم اس کے بہکانے میں کبھی نہیں آئے گا۔ ہاں قرآن شریف میں ایسی آیتیں بکثرت پائی جاتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے شیطان کے بہکانے سے ایسے وبال میں نہیں پڑتے جس سے اِن کا انجام بدہو بلکہ حضرت خداوندکریم جلشانہٗ جلد تر اُن کا تدارک فرماتا ہے اور اپنے ظل حفاظت میں لے لیتا ہے سو ایسا ہی آدم کے حق میں اُس نے کہا کہ آدم صفی اللہ خلیفۃ اللہ ہے اس کاانجام ہرگز بد نہیں ہوگا اور خدا کے محبوب بندوں میں رہے گا۔ چنانچہ یہ امر ایسا ہی ظہور میں آیا اور خدا نے آخر میں بھی آدم کوایسا ہی چن لیا جیسا کہ پہلے برگزیدہ تھا۔ غرض یہ اعتراض معترض بھی سراسر تعصب اور جہالت پر مبنی ہے نہ عقلمندی اور انصاف پر۔ والسلام علی من اتبع الہدی۔ فقط
    دیوسماج کے بانی مبانی پنڈت شونرائن صاحب سیتانند اَگنی ہوتری سے خط و کتاب
    الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تردد اور تفکر اور تدبر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس سے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ہو محسوس ہوتا ہے اور اس سے نفس کو مثل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہنچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلاتکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے ویسا ہی روح کو الہام سے ایک ازلی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے روح لذت اُٹھاتی ہے۔ غرض یہ ایک منجاب اللہ اعلام لذیر ہے کہ جس کو نفس فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔
    دلیل لمی نمبر اوّل الہام کی ضرورت
    کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزوماً غلطی سے بچ سکیں یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے اور صدہا طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمی باتیں اپنی نادانی کی یادگاریں چھوڑ گئے۔ پس اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اپنی ہی تحقیقات سے جمیع امور حقّہ اور عقائد صحیحہ پر پہنچ جانا اور کہیں غلطی نہ کرنا ایک محال عادی ہے کیونکہ آج تک ہم نے کوئی فرد بشر ایسا نہیں دیکھا اور نہ سنا اور نہ کسی تاریخی کتاب میں لکھا ہوا پایا یا جو اپنی تمام نظر اور فکر میں سہو اور خطا سے معصوم ہو۔ پس بذریعہ قیاس استقرائی کے یہ صحیح اور سچا نتیجہ نکلتا ہے کہ وجود ایسے اشخاس کا جنہوں نے صرف قانون قدرت میں غور اور فکر کر کے اور اپنے ذخیرہ کانشنس کو واقعات عالم سے مطابقت دے کر اپنی تحقیقات کو ایسے اعلیٰ پایہ صداقت پر پہنچا دیا ہو کہ جس میں غلطی کا نکلنا غیر ممکن ہو خود عادتاً غیر ممکن ہو۔
    اب بعد اس کے جس امر میں آپ بحث کر سکتے ہیں اور جس بحث کا آپ کو حق پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے برخلاف ہمارے اس استقرا کے کوئی نظیر دے کر ہمارے اس استقرا کو توڑ دیں یعنی ازردے وضع مستقیم مناظرہ کے جواب آپ کا صرف اس امر میں محصور ہے کہ اگر آپ کی نظر میں ہمارا اِستقرا غیر صحیح ہے تو آپ بفرض بطال ہمارے اس استقرا کے کوئی ایسا فرد کامل ارباب نظر اور فکر اور حدس میں سے پیش کریں کہ جس کی تمام راؤں اور فیصلوں اور جج منٹوں میں کوئی نقص نکالنا ہرگز ممکن نہ ہو اور زبان اور قلم اُس کی سہود خطا سے بالکل معصوم ہوتا ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ درحقیقت ایسا ہی معصوم ہے یا کیا حال ہے۔ اگر معصوم نکلے گا تو بیشک آپ سچے اور ہم جھوٹے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی سے بچ سکے اور نہ خدا (جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہود خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت سے واقف ہے) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں اور کیونکہ آفات شک و شُبہ سے نجات پائیں لہٰذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضائے حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اُس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاق صحیحہ کے معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پائیں اور تفہیم تعلیم کا ملکہ وہبی رکھیں تا کہ نفوس بشریہ کی سچی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہیں۔
    راقم آپ کا نیاز مند
    غلام احمد عفی عنہ
    ۲۱؍ مئی ۱۸۷۹ء)
    مکرمی جناب مرزا صاحب! عنایت نامہ پہنچا۔ آپ نے الہام کی تعریف اور اس کی ضرورت کے بارے میں جو کچھ لکھاہے افسوس ہے کہ میں اس سے اتفاق نہیں کر سکتا ہوں میرے اتفاق نہ کرنے کی جو جو وجوہات ہیں اُنہیں ذیل میں رقم کرتا ہوں۔
    اوّل: آپ کی اس دلیل میں (جس کو آپ لمی قرار دیتے ہیں) علاوہ اس خیال کے کہ وہ الہام کے لئے جس کو آپ معلول تصور کرتے ہیں علت ہوسکتی ہے یا نہیں ایک صریحاً غلطی ایسی پائی جاتی ہے کہ وہ واقعات کے خلاف ہے۔ مثلاً آپ ارقام فرماتے ہیں کہ ’’کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزوماً غلطی سے بچ سکیں اور یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرے کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے اور صد ہا طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمی باتیں اپنی نادانی کی یادگار چھوڑ گئے‘‘۔ اس سے کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ انسان نے اپنی تحقیقات میں ہزاروں برس سے آج تک جو کچھ مغز زنی کی ہے اور اس میں ہاتھ پیر مارے ہیں اُس میں بجز باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمی باتوں کے کوئی صحیح خیال اور کوئی راست اور حق امر باقی نہیں چھوڑا گیا ہے؟ یا اب جو محقق نیچر کی تحقیقات میں مصروف ہیں وہ صرف ’’نادانی کے ذخیرہ کو زیادہ کرتے ہیں اور حق امر پر پہنچنے سے قطعی مجبور ہیں؟ اگر آپ ان سوالوں کا جواب نفی میں نہ دیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپ سینکڑوں علوم اور اُن کے متعلق ہزاروں باتوں کی راست اور صحیح معلومات سے دنیا کی ہر ایک قوم کم و بیش مستفید ہو رہی ہے صریحاً انکار کرتے ہیں۔ مگر میں یقین کرتا ہوں کہ شاید آپ کا یہ مطلب نہ ہوگا اور اس بیان سے غالباً آپ کی یہ مراد ہوگی کہ انسان سے اپنی تحقیقات اور معلومات میں سہو اور خطا کا ہونا ممکن ہے۔ مگر یہ نہیں کہ نیچر نے انسان کو فی ذاتہٖ ایسا بنایا ہے کہ جس سے وہ کوئی معلومات صحت کے ساتھ حاصل ہی نہیں کر سکتا؟ کیونکہ ایسے اشخاص آپ نے خود یکھے اور سنے ہونگے اور نیز تاریخ میں ایسے لوگوں کا ذکر پڑھا ہوگا کہ جو اپنی ’’تمام نظر اور فکر میں‘‘ اگرچہ آپ کے نزدیک سہو اور خطا سے معصوم نہ ہوں مگر بہت سی باتوں میں اُن کی معلومات قطعی راست اور درست ثابت ہوئی ہے اور صدہا امور کی تحقیقات جو پچھلے اور حال کے زمانہ میں وقوع میں آئی ہے اس میں غلطی کا نکلنا قطعی غیر ممکن ہے اور اس بیان کی تصدیق آپ علوم طبعی ریاضی اور اخلاقی وغیرہ کے متعلق صدہا معلومات میں بخوبی کر سکتے ہیں۔ کُل معلومات جو انسان آج تک حاصل کر چکا ہے اور نیز آئندہ حاصل کرے گا اس کے حصول کا کُل سامان ہر فرد بشر میں نیچر نے مہیا کر دیا ہے۔ اس اس سامان کو انسان فرداً فرداً اور نیز بہ ہئیت مجموعی جس قدر اپنی محنت اور جانفشانی سے روز بروز زیادہ سے زیادہ نفیس اور طاقتور بنانے کے ساتھ ترقی کی صورت میں لاتا جاتا ہے اور جس قدر اس کے مناسب استعمال کی تمیز پیدا کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ نیچرکی تحقیقات میں زیادہ سے زیادہ تر صحت کے ساتھ اپنی معلومات کے حصول میں کامیاب ہوتا جاتا ہے۔
    اس مختصر بیان سے میں یقین کرتا ہوں کہ آپ اس بات کے تسلیم کرنے سے انکار نہ کریں گے کہ انسان سے اپنی تحقیقات میں اگرچہ غلطی کرنا ناممکنات سے ہے مگر یہ نہیں کہ ہر ایک معلومات میں اس کے غلطی موجود ہے بلکہ بہت کچھ معلومات اس کی صحیح ہیں اور ظاہر ہے کہ جن معلومات میں اس کی غلطی موجود نہیں ہے وہ جس قاعدہ یا طریق کے برتاؤ کے ساتھ ظہور میں آئی ہے وہ بھی غلطی سے مبرا تھا کیونکہ غلط قاعدہ کے عملدرآمد سے کبھی کوئی صحیح نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ہے پس جو معلومات اس کی صحیح ہے اس میں اسے حقیقت کے حصول کے لئے جو سامان نیچر نے اُسے عطا کیا تھا اس کا صحیح اور مناسب استعمال ظہور میں آیا مگر جہاں اس نے اپنی معلومات میں غلطی کھائی ہے وہاں اس کی مناسب نگہداشت نہیں ہوئی گویا ایک شخص جس کے پاس دور بین موجود ہے اور اُس کی نلی بھی وہ کھولنا جانتا ہے مگر ٹھیک فوکس نہ پیدا کرنے کے باعث جس طرح مقابل کی شَے کو یا تو دیکھنے سے محروم رہتا ہے یا بشرط دیکھنے کے صاف اور اصل حالت میں نہیں دیکھ سکتا ہے۔ ایک شخص اسی طرح اپنی تحقیقات میں حسبِ مذکورہ بالا نیچری سامان کی دوربین کھولتے وقت مناسب درجہ کے فوکس میں قائم کرنے سے رہ جاتا ہے تو وہ یا تو حقیقت کی تصویر کے دیکھنے سے اسی محروم ہو جاتا ہے یا وہ تصویر جیسی ہے ویسی نہیں دیکھ٭ سکتا مگر جو شخص برخلاف اس شخص کے صحیح فوکس کے پیدا کرنے کے قابل ہوتا ہے وہ پہلے شخص کی غلطی کو دریافت کر لیتا ہے اور حق الامر کو پہنچ جاتا ہے۔
    اب اس بیان سے (کہ جو نہایت سیدھا اور صاف ہے) یہ بخوبی ثابت ہے کہ اوّل تو انسان بعض صورتوں میں اپنے نیچری سامان کے مناسب استعمال کے ساتھ پہلے ہی حق امر کو دریافت کر
    ٭ دنیا میں جیسے ہاتھ پیر اور صحت بدنی رکھتے ہوئے بھی ہزاروں اور لاکھوں اشخاص بلامشقت سستی اور کاہلی کے ساتھ ہی شکم پوری کرنے کو مستعد رہتے ہیں ویسے ہی معلومات کے متعلق بھی لاکھوں اور کروڑوں اشخاص باوجود تحقیقات کیلئے نیچری سامان سے مشرف ہونے کے پھر اپنے دماغ کو پریشان کرنا نہیں چاہتے ہیں اور جن باتوں کی اصلیت کو اپنے تھوڑے سے فکر سے بھی معلوم کر سکتے ہیں ان کے لئے بھی خود تکلیف اُٹھانا نہیں چاہتے ہیں اور محض اندھوں کی طرح ایک ہی تقلید کے ساتھ مطلب براری کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج تک ایک کی غلطی لاکھوں کروڑوں روحوں پر مؤثر دیکھی جاتی ہے۔
    لیتا ہے۔ دوم بشرط مناسب استعمال میں نہ لانے یا نہ لا سکنے کی اگر غلطی کھاتاہے تو کوئی دوسرا جسے اس کے ٹھیک استعمال کا موقع مل جاتا ہے وہ اس غلطی کو رفع کر دیتا ہے چنانچہ انسانی معلومات کی کل تاریخ اس قسم کے دلچسپ سلسلہ سے پُر ہے اور اس سلسلہ میں جو ہزاروں برس کاتجربہ ظاہر کرتا ہے کسی محقق کے لئے اس نتیجہ پر پہنچنا بہت دشوار نہیں رہتا ہے کہ انسان فی ذاتہٖ تمام ضروری اعضاء جسمانی اور قواعد دماغی و اختلافی سے مشرف ہو کر اس دنیا میں (جو اس کے تمام نیچر کے حسب حال اور باہمی ربط و علاقہ کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے) آپ اپنا راستہ ڈھونڈھے اور خو داپنی جسمانی روحانی بھلائی اور بہتری کے وسائل کا علم حاصل کرے اور فائدہ اُٹھائے۔
    پس اس قانون قدرت کو پس انداز کر کے یا حکیم حقیقی کی دانائی کے خلاف اگر ہم ایک فرضی دلیل قائم کریں کہ چونکہ انسان کو اپنے چاروں طرف دیکھنا ضروریات سے ہے اور دیکھنے کیلئے جو دو آنکھیں اس کے چہرے پر قائم کی گئی ہیں وہ جس وقت سامنے کی اشیاء کے دیکھنے میں مصروف ہوتی ہیں اُس وقت پیچھے سے اپس کے اگر اُس کی ہلاکت کا سامان کیا گیا ہوتو وہ بشرط آگے کی دو ہی آنکھوں کے ہونے کے ضرور ہے کہ پیچھے کے حال کے دیکھنے سے محروم رہے۔ پس ممکن نہ تھا کہ خدا جو رحیم اور کریم اور حکیم ہے وہ اسے سر کے پیچھے کی طرف بھی دو آنکھیں ایسی عطا نہ کرتا کہ جس سے وہ مذکورہ بالا خطرہ سے نجات پانے کی تدبیر کر سکتا۔ پس جب کہ سر کے پیچھے کی طرف دو آنکھیں ہونے کی ضرورت ہے لہٰذا لازم ہوا کہ خدا اپنے بندوں کی مزید حفاظت کی غرض سے ایسی آنکھیں عطا کرے یا اسی قسم کی ایک اور دلیل ہم یہ قائم کریں کہ چونکہ انسان کی عقل خطا کرتی ہے اور اسے یہ علم بھی آج تک حاصل نہیں ہے کہ بمبئی سے جس جہاز پر وہ ولایت کو روانہ ہوتا ہے اس کی روانگی کی تاریخ سے ہفتہ یا ڈیڑھ ہفتہ بعد جو خطرناک طوفان سمندر میں آنے والا ہے اور جس میں اس کا جہاز غرق ہونے کو ہے اسے پہلے سے جان سکے۔ پس جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے اپنے تئیں طوفان کے مہلک اور خوفناک اثر سے محفوظ کر سکتا ہے اور وہ خدا (جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرا اور ہر امر کی حقیقت پر واقف ہے) بذریعہ اپنے نج کے پیغام کے فوراً اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر اپنی جان کو ہلاکت کے طوفان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پس مقتضائے حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اُس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً وہ ہم کو طوفان کے آنے کی اس قدر عرصہ سے پہلے خبر دیتا رہے کہ جس سے ہمیں اپنے اور اپنے جہاز کے بچانے کا موقع مل سکے۔
    اب ظاہر ہے کہ جو لوگ حقیقت کے سمجھنے کا کافی ملکہ رکھتے ہیں اور منطق کے اصول کا بخوبی علم رکھتے ہیں وہ ہماری ان دونوں دلیلوں کو قطعی لنگڑی اور بے بنیاد خیال کریں گے کیوں؟ اس لئے کہ اوّل دونوں دلیلوں میں ’’ضرورت‘‘ کا جو کچھ قیاس قائم کیا گیا ہے جسے ہم نے اپنے نتیجہ کی علت قرار دیا ہے وہ محض ہمارا ایک وہمی اور فرضی قیاس ہے قوانین نیچر سے اُس کی تائید نہیں ہوتی بلکہ ہم اُلٹا قوانین نیچر کو پس انداز کر کے خدا کی خود دانائی پر حاشیہ چڑھاتے ہیں۔ دوم چونکہ ہماری علت فرضی ہوتی ہے پس اس سے جو نتیجہ ہم قائم کرتے ہیں وہ بھی فرض ہوتا ہے اور واقعات نیچر خود اُس کی تردید کرتے ہیں۔ چنانچہ جیسی پہلی مثال کے متعلق ہمارا نتیجہ واقعات کے خلاف ہے اور درحقیقت انسان کے سر کے پیچھے دو آنکھیں اور زائد قائم نہیں کی گئیں میں دوسری مثال میں بھی ویسے ہی باوجود اس کے کہ سینکڑوں جہاز آج تک سمندر میں غرق ہو چکے ہیں اور ہزاروں اور لاکھوں جانیں اُن کے ساتھ ضائع ہو چکی ہیں مگر آج تک خدا نے کسی جہاز والے کے پاس کوئی نج کا پیغام اس قسم کا نہیں بھیجا جس کا دوسری مثال میں ذکر ہوا ہے پس دونوں صورتوں میں ہماری ’’ضرورت‘‘ کا قیاس خدا کی دانائی یا قوانین قدرت کے موافق نہ تھا اس لئے اس کا نتیجہ بھی خدا کی حکمت کے خلاف ہونے کے باعث نیچر کے واقعات سے تصدیق نہ پا سکا اور محض فرضی ثابت ہوا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے الہام کی ضرورت پر جو دلیل پیش کی ہے وہ بجسنہ ہماری دونوں دلیوں کے متشابہ ہے۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی٭ سے بچ سکتے اور نہ خدا (جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو اور خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت پر واقف ہے) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں اور کسی طرح آفات شک و شبہ سے نجات پائیں لہٰذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ متقضائے حکمت اور رحمت بندہ پروری اس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاق صحیحہ کے معلوم کرنے
    ٭ کل حالتوں میں انسان اپنے علم اور واقفیت‘‘ میں غلطی نہیں کرتا۔ ایڈیٹر برادر ہند
    میں خدا کی طرف سے الہام پاویں‘‘۔
    پس جس صورت میں آپ کی اس دلیل میں بھی ’’ضرورت‘‘ کا قیاس مثل ہماری دونوں دلیلوں کے ہے اور قوانین نیچر اس کی تصدیق کرنے سے انکاری ہیں تو پھر ایسا قیاس بجز فرضی اور وہمی ہونے کے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ہم خود تو بات بات میں ایسے سینکڑوں ضرورتیں قائم کر سکتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خدا کی حکمت بھی ہماری فرضی ضرورتوں کو تسلیم کرتی ہے۔ یا نہیں؟ محققوں کے نزدیک وہی ’’ضرورت‘‘ ’’ضرورت‘‘ ہو سکتی ہے جس کو نیچر یا خدا کی حکمت نے قائم کیا ہو جیسے ہماری بھوک کے دفعیہ کیلئے غذا اور سانس لینے کے لئے ہوا کی ضرورت ہماری فرضی نہیں بلکہ نیچری ہے اور اسی لئے اُس کا ذخیرہ بھی انسان کی زندگی کے لئے اُس نے فراہم کر دیا ہے۔ مگر جو ضرورت کہ نیچر کے نزدیک قابل تسلم نہیں ہے اور اُسے خود ہم اپنے وہم سے قائم کرتے ہیں وہ ایک طرف جس طور پر محض فرضی ہوتی ہے دوسری طرف اُسی طور پر اُسے علت ٹھہرا کر جو نتیجہ قائم کرتے ہیں وہ بھی فرضی ہونے کے باعث واقعات کے ساتھ مطابق نہیں ہوتا ہے اور یہ صورت ہم نے اپنے مثالوں میں بخوبی ظاہر کر دی ہے۔
    دوم اس بات کی نسبت کہ آپ نے الہام کی تعریف میں جوکچھ عبارت رقم کی ہے اُس کا آپ کی دلیل سے کہاں تک ربط ہے۔ اسی قدر لکھنا کافی ہے کہ جس حالت میں آپ نے اپنے الہام کی کل بنیاد ’’ضرورت‘‘ پر قائم کی ہے درحقیقت وہ ضرورت جب کہ خود بے بنیاد ہے یعنی نیچر کے نزدیک وہ ضرورت قابل تسلیم نہیں ہے تو پھر اگر یہ بھی مانا جاوے کہ جو عمارت آپ نے کسی اپنی بنیاد پر کھڑی کی ہے وہ اچھے مصالحہ کے ساتھ بھی تعمیر کی ہے تا ہم وہ بے بنیاد ہونے کے باعث بجزوہم کے اور کہیں نہیں ٹھہر سکتی اور جیسے اس کی بنیاد فرضی ہے ویسے ہی وہ بھی آخر کار فرضی رہتی ہے۔
    الہام کے اس غلط عقیدہ کے باعث دنیا میں لوگوں کو جس قدر نقصان پہنچا ہے اور جس قدر خرابیاں برپا ہوئی ہیں اور انسانی ترقی کو جس قدر روک پہنچی ہے اس کے ذکر کرنے کو اگرچہ میرا دل چاہتا ہے مگر چونکہ امر متناقصہ سے اُس کا اس وقت کچھ علاقہ نہیں ہے اس لئے اس کابیان یہاں پر ملتوی رکھتا ہوں۔
    لاہور۔ ۳؍ جون ۱۸۷۹ء
    آپ کا نیاز مند
    شیونرائن۔ اگنی ہوتری
    مکرمی جناب پنڈت صاحب
    آپ کا عنایت نامہ عین انتظار کے وقت پہنچا۔ کمال افسوس سے لکھتا ہوں جو آپ کوتکلیف بھی ہوئی اور مجھ کوجواب بھی صحیح صحیح نہ ملا۔ میرے سوال کا تو یہ ماحصل تھا کہ جب کہ ہماری نجات (کہ جس کے وسائل کا تلاش کرنا آپ کے نزدیک بھی ضروری ہے) عقائد حقہ اور اخلاق صحیحہ اورعمال حسنہ کے دریافت کرنے پر موقوف ہے کہ جن میں وہ امور باطلہ کی ہرگز آمیزش نہ ہو تو اس صورت میں ہم بجز اس کے کہ ہمارے علوم دینیہ اور معارف شرعیہ ایسے طریق محفوظ سے لئے گئے ہوں جو دخل مفاسد اور منکرات سے بکلی معصوم ہو اور کسی طریق سے نجات نہیں پا سکتے۔ اس کے جواب میں اگر آپ وضع استقامت پر چلتے اور داب مناظرہ کو مرعی رکھتے تو از روئے حصر عقلی کے جواب آپ کا (اور حالت انکار) صرف تین باتوں میں سے کسی ایک بات میں محصور ہوتا ہے۔
    اوّل یہ کہ آپ سرے سے نجات کا ہی انکار کرتے اور اس کے وسائل کو مفقود الوجود اور ممتنع الحصول ٹھہراتے اور اس کی ضرورت کو چار آنکھوں کی ضرورت کی طرح صرف ایک طبع خام سمجھتے۔
    دوم یہ کہ نجات کے قائم ہوتے لیکن اُس کے حصول کے لئے عقائد اور اعمال کا ہر ایک کذب اور فساد سے پاک ہونا ضروری جانتے ہیں بلکہ محض باطل یاامور مخلوطہ حق اور باطل کو بھی موجب نجات کا قرار دیتے۔
    سوم یہ کہ حصول نجات کو صرف حق محض سے ہی (جو امتزاج باطل سے بکلی منزہ ہو) مشروط رکھتے اور یہ دعویٰ کرتے کہ طریقہ مجوزہ عقل کا حق محض ہی ہے اور اس صورت میں لازم تھا کہ بغرض اثبات اپنے اس دعویٰ کے ہمارے قیاس استقرائی کو (جو حجت کی اقسام ثلثہ میں سے تیسری قسم ہے جس کو مضمون سابق میں پیش کر چکے ہیں) کوئی نظیر معصوم عن الخطاء ہونے کسی عاقل کے پیش کر کے اور اس کے علوم نظریہ عقلیہ میں سے کوئی تصنیف دکھلا کر توڑ دیتے پھر اگر حقیقت میں ہمارا قیاس استقرائی ٹوٹ جاتا اور ہم اُس تصنیف کی کوئی غلطی نکالنے سے عاجز رہ جاتے تو آپ کی ہم پر خاصی ڈگری ہو جاتی مگر افسوس کہ آپ نے ایسا نہ کیا ہزاروں مصنفوں کا ذکر تو کیا مگر نام ایک کابھی نہ لیا اور نہ اس کی کسی عقلی نظیری تصنیف کا کچھ حوالہ دیا۔ اب اس تکلیف دہی سے میری غرض یہ ہے کہ اگر الہام کی حقیقت میں جناب کو ہنوز کچھ تامل ہے تو بغرض قائم کرنے ایک مسلک بحث کے شقوق ثلثہ متذکرہ بالا میں سے کسی ایک شق کو اختیار کیجئے اور پھر اس کا ثبوت دیجئے کیونکہ جب میں ضرورت الہام پر حجت قائم کر چکا تو از روئے قانون مناظرہ کے آپ کا یہی منصب ہے جو آپ کسی حیلہ قانونی سے اس حجت کوتوڑیں اور جیسا میں عرض کر چکا ہوں اس حیلہ انگیزی کے لئے آپ کے پاس صرف تین ہی طریق ہیں جن میں سے کسی ایک کو اختیارکرنے میں آپ قانونًا مجاز ہیں اور یہ بات خاطر مبارک پر واضح رہے کہ ہم کو اس بحث سے صرف اظہار حق منظور ہے۔ تعصب اور نفسانیت جو سفہا کا طریقہ ہے کہ ہرگز مرکوز خاطر نہیں میں دلی محبت سے دوستانہ یہ بحث آپ سے کرتا ہوں اور دوستانہ راست طبعی کے جواب کا منتظر ہوں۔
    راقم آپ کا نیاز مند
    غلام احمد عفی عنہ
    ۵؍جون ۱۸۷۹ء





    مکرمی جناب مرزا صاحب
    آپ کا عنایت نامہ مرقومہ پانچویں ماہ حال مجھے ملا۔ نہایت افسوس ہے کہ میں نے آپ کے الہام کے بارے میں جو کچھ بطور جواب لکھا تھا اس سے آپ تشفی حاصل نہ کر سکے۔ میرا افسوس اور بھی زیادہ بڑھتا جاتا ہے کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے میرے جواب کے عدم تسلیم کی نسبت کوئی صاف اور معقول وجہ بھی تحریر نہیں فرمائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اُس کے پڑھنے اور سمجھنے میں غور اور فکر کر دخل نہیں دیا۔
    پھر آپ کے اس عنایت نامہ میں ایک اور لطف یہ موجود ہے کہ آپ ایک جگہ پر قائم رہتے معلوم نہیں ہوتے۔ پہلے آپ نے الہام کی ضرورت اس دلیل کے ساتھ قائم کی کہ چونکہ انسان کی عقل حقیقت کے معلوم کرنے میں عاجز ہے اور وہ اپنی تحقیقات میں خطا کرتی ہے پس ضرور ہے کہ انسان خدا کی طرف سے الہام پاوے۔ میں نے جب آپ کی اس ضرورت کو فرض ثابت کر دیا اور دکھلا دیا کہ خدا کی حکمت اس ضرورت کو تسلیم نہیں کرتی ہے تو آپ نے پہلے مقام کو چھوڑ کر اب دوسری طرف کا راستہ لیا اور بجائے ہماری تحریر کے تسلیم کرنے یا بشرط اعتراض کسی معقول حجت کے پیش کرنے کے اب اُس سلسلہ کو نجات کے مسئلہ کو لے بیٹھے اور اب اس نئے قضیہ کے ساتھ ایک نئی بحث کے اصولوں کو قائم کرنے لگے۔ پھر اس پر ایک طرفہ یہ کہ آپ اخیر خط میں لکھتے ہیں کہ
    ’’اگر الہام کی حقیت میں جناب کو ہنوز کچھ تامل ہے تو بغرض قائم کرنے ایک مسلک بحث شقوق ثلثہ متذکرہ بالا میں سے کسی ایک شق کو اختیار کیجئے اور پھر اس کا ثبوت دیجئے کیونکہ جب میں ضرورت الہام پر حجت قائم کر چکا تو اب از روئے قانون مناظرہ کے آپ کا بھی منصب ہے جو آپ کسی حیلہ قانونی سے اس حجت کو توڑدیں‘‘۔
    گویا یک نہ شُد دو شُد آپ نے ضرورت الہام پر جو حجت قائم کی تھی وہ تو جناب من میں ایک دفعہ توڑ چکا اور اُس فرضی ضرورت پر جو عمارت الہام کی آپ نے قائم کی تھی اسے بے بنیاد ٹھہرا چکا مگر افسوس ہے ایک عرصہ دراز کی عادت کے باعث اُس کی تصویر ہنوز آپ کی نظروں میں سمائی ہوئی ہے اور وہ عادت باوجود اس کے کہ آپ کو ’’اس بحث میں صرف اظہار حق منظور ہے‘‘ مگر پھر آپ کو حقیتق کے پاس پہنچنے میں سَد راہ ہے۔ تحقیق حق اُس وقت تک اپنا قدم نہیں جما سکتی ہے جب تک کہ ایک خیال جو عادت میں داخل ہو گیا ہے اُس کو ایک دوسر ی عادت کے ساتھ جدا کرنے کی مشق حاصل نہ کی جائے کسی عیسائی کا ایک چھوٹا سا لڑکا بھی گنگا کے پانی کو صرف دریا کا پانی سمجھتا ہے اور اس سے زیادہ گنگا سے نجات وغیرہ کا خیال اس سے متعلق نہیں کرتا۔ مگرایک پُرانے خیال کے معتقد بڈھے ہندو کے نزدیک اس پانی میںایک غوطہ مارنے سے انسان کے کُل گناہ دفع ہو جاتے ہیں۔
    ایک عیسائی کے نزدیک خدا کی تثلیث برحق ہے مگر ایک مسلمان یا براہمو کے نزدیک وہ بالکل لغو ہے۔ اگر کسی ایسے ہندو یا عیسائی سے بحث کر کے اس کے خیال کی لغویت کو ظاہر بھی کر دو( کہ جس کا ظاہر کرنا کچھ مشکل بات نہیں) مگر وہ اس کی لغویت کو تسلیم نہیں کرتا ہے حتی کہ جب جواب سے عاجز آتا ہے تو یہ کہہ کر کہ ’’گو میں ٹھیک جواب نہیں دے سکتا ہوں مگر میں اُس کا قائل ہوں اور دل سے اُسے ٹھیک جانتا ہوں‘‘۔ یہ دل کی گواہی اس کی وہی عادت ہے کہ جوحکماء کے نزدیک طبیعت ثانی کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ پس جس الہام کے آپ قائل ہیں اُس کی بھی وہی کیفیت ہے۔ آپ کے نزدیک ایک عرصہ دراز کی عادت کے باعث وہ خیال ایسا پختہ اور صحیح ہو گیا ہے کہ آپ اس کے مخالف ہماری مضبوط سے مضبوط دلیل بھی قابل اطمینان نہیں پاتے ہیں اور جب ایک طرف سے اپنی دلیل کو کمزور دیکھتے ہیں تو دوسری طر ف بدل کر چل دیتے ہیں۔ اس طور پر فیصلہ ہونا محال ہے۔ آج تک کسی سے ہوا بھی نہیںاور نہ آئندہ ہونے کی اُمید ہے۔ آپ مجھ سے اُن مصنفوں کے نام طلب کرتے ہیں جن کی تصنیف یا تحقیقات میں غلطی نہیں ہے حالانکہ جن علوم کا میں نے ذکر کیاتھا اُس کے جاننے والوں کے نزدیک اِن کی تصنیف کی کیفیت پوشیدہ نہیں ہے کیا آپ نے علم ریاضی کی تصنیفات خود ملاحظہ نہیں کی ہیں؟ کیا علم طبیعات کی کتب آپ کی نظر سے نہیں گزری ہیں؟ بیشک جدید تصنیفات جو انگریزی سے فارسی یا عربی میں ترجمہ نہیں ہوئیں شاید اُن کی کیفیت آپ سے پوشیدہ ہو مگر بعض یونانیوں کی تصنیف مثل اقلیدس کے علم ہندسہ وغیرہ سے غالباً آپ واقفیت رکھتے ہونگے اور ظاہر ہے کہ علم ہندسہ کے راست اور صحیح ہونے میں آج تک دنیا میں کسی عالم کو خواہ (وہ الہام کا مقر ہو یا منکر خدا پرست ہو یا دہریہ) کلام نہیں ہے۔ اگر آپ کی رائے میں وہ درست نہ ہو تو آپ براہ مہربانی مجھ کو اس کی غلطیوں سے مطلع فرمائیں۔
    پھر آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے آپ کے مضمون کے جواب دینے میں داب مناظرہ کو مرعی نہیں رکھا۔ اس کے جواب میں میں صرف اس قدر عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس وقت میری اور آپ کی کل تحریریں رسالہ برادر ہند میں مشتہر ہو جاویں گی اُس وقت انصاف پسند ناظرین خود ہی تصیفہ کر لیں گے۔ آپ کا یہ فرمانا صحیح ہے یا غیر صحیح۔
    اگر آپ لکھیں تو اگلے مہینہ کے رسالہ سی اس بحث کو مشتہر کرنا شروع کر دوں۔
    لاہور ۱۲؍ جون ۱۸۷۹ء
    آپ کا نیاز مند
    شیونارائن۔ اگنی ہو تری








    مکرمی جناب پنڈت صاحب
    آپ کا مہربانی نامہ عین اُس وقت میں پہنچا کہ جب میںبعض ضروری مقدمات کے لئے امرتسر کی طرف جانے کو تھا چونکہ اس وقت مجھے دو گھنٹہ کی بھی فرصت نہیں اس لئے آپ کا جواب واپس آ کر لکھوں گا اور انشاء اللہ تعالیٰ تین روز بغایت درجہ چار روز کے بعد واپس آ جاؤں گا اور پھر آتے ہی جواب لکھ کر خدمت گرامی میں ارسال کروں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ مضامین برادر ہند میں درج ہونگے۔ مگر میری صلاح یہ ہے کہ ان مضامین کے ساتھ دو ثالثوں کی رائے بھی ہو تب اندراج پاویں مگر اب مشکل یہ کہ ثالث کہاں سے لاویں ناچار یہی تجویز خوب ہے کہ آپ ایک فاضل گرامی صاحب تالیف و تصنیف کا براہم سماج کے فضلاء میں سے منتخب کر کے اطلاع دیں جو ایک خدا ترس اور فروتن اور محقق اور بے نفس اور بے تعصب ہو اور ایک انگریز کہ جس کی قوم کی زیرکی بلکہ بے نظیری کے آپ قائل ہیں انتخاب فرما کر اس سے بھی اطلاع بخشیں تو اغلب ہے کہ میں ان دونوں کو منظور کروں گا اور میں نے بطور سرسری سنا ہے کہ آپ کے برہمو سماج میں ایک صاحب کیشب چندر نام لئیق اور دانا آدمی ہیں اگر یہی سچ ہے تو وہی منظور ہیں اُن کے ساتھ ایک انگریز دیجئے۔ مگر مصنفوں کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ صرف اتناہی لکھیں کہ ہماری رائے میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ ہر ایک فریق کی دلیل کو اپنے بیان سے توڑنا یا بحال رکھنا ہوگا۔ دوسرے یہ مناسب ہے کہ اس مضمون کو رسالہ میں متفرق طور پر درج نہ کیا جائے کہ اس میں منصف کو دوسرے نمبروں کا مدت دراز تک انتظار کرنا پڑتا ہے بلکہ مناسب ہے کہ یہ سارا مضمون ایک ہی دفعہ برادر ہند میں درج ہو یعنی تین تحریریں ہماری طرف سے اور تین ہی آپ کی طرف سے ہوں اور اُن پر دونوں منصفوں کی مفصل رائے درج ہو اور اگر آپ کی نظر میں اب کی دفعہ منصفوں کی رائے درج کرنا کچھ دقت ہو تو پھر اس صورت میں یہ بہتر ہے کہ جب میں بفضلہ تعالیٰ امرتسر سے واپس آ کر تحریر ثالث آپ کے پاس بھیج دوں تو آپ بھی اُس پر کچھ مختصر تحریر کر کے تینوں تحریریں یکدفعہ چھاپ دیں اور ان تحریروںکے اخیر میں یہ بھی لکھا جائے کہ فلاں فلاں منصف صاحب اس پر اپنا اپنا موجہ رائے تحریر فرمائیں اور پھر دو جلدیں اس رسالہ کی منصفوں کی خدمت میں بھیجی جائیں آئندہ جیسے آپ کی مرضی ہو اس سے اطلاع بخشیں اور جلد اطلاع بخشیں اور میں نے چلتے چلتے جلدی سے یہ خط لکھ ڈالا ہے کمی بیشی الفاظ سے معاف فرمائیں۔ راقم
    آپ کا نیاز مند
    غلام احمد عفی عنہ
    ۱۷؍ جون ۱۸۷۹ء
    نوٹ: ابھی تک مجھے پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری کے متعلق اسی قدر خطوط ملے ہیں۔ اس آخری خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی مفصل خط لکھا ہے اگر اس کتاب کے طبع ہوجانے تک مجھے وہ خط بھی میسر آ گیا تو انشاء اللہ العزیز اسی کتاب میں درج ہو جائے گا۔ وباللہ التوفیق۔ خاکسار۔ یعقوب علی تراب۔ احمدی







    پنڈت لیکھرام صاحب آریہ مسافر کشتہ اعجاز مسیحائی کے نام
    پنڈت لیکھرام صاحب آریہ مسافر کا نام مشہور ہے یہ وہ شخص ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی قضا و قدر کے متعلق نشان مانگا تھا اور آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندہ کو اطلاع دی اور ایک پیشگوئی اس کے متعلق شائع کی گئی کہ سال کے اندر وہ ایک خارق عادت عذاب سے ہلاک ہوگا۔ عذاب کی نوعیت بھی اشتہار مذکور میں ظاہر کی گئی تھی جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہے۔
    الا اے دشمن نادان و بے راہ
    بترس از تیغ براّن محمد
    فرمودہ الٰہی موافق ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اس پیشگوئی کی تفصیل اور تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں میں درج ہے یہاں مجھے اس کی مزید تصریح کی ضرورت نہیں۔ صرف اس مقصد کے لئے یہ نوٹ لکھ دیا ہے کہ تا کہ پڑھنے والوں کو ایک سرسری علم پنڈت لیکھرام صاحب کشتہ اعجاز مسیحائی کے متعلق ہو جاوے وہ اشتہار جو حضرت مسیح موعود نے مختلف لیڈران مذاہب کے نام بغرض مقابلہ روحانی دیا تھا جس کے لئے پنڈت اندرمن مراد آبادی نے آمادگی ظاہر کی تھی اور بالآخر جب روپیہ اس کے پاس بھیجا گیا تو وہ لاہور سے بھاگ گئے اسی اشتہار کے سلسلہ میں پنڈت لیکھرام صاحب نے بھی نشان بینی کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور خط و کتابت شروع کی چنانچہ اس سلسلہ میں جو خطوط مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام صاحب کو لکھے وہ انشاء اللہ العزیز ذیل میں درج ہونگے۔ یہ ظاہر کر دینا بھی ضروری ہے کہ ان خطوط کے اندراج میں کسی خاص ترتیب کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ بلکہ صرف جمع کر دینا زیر نظر ہے۔
    (یعقوب علی عفی اللہ عنہ)


    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    از عاید باللہ الصمد مرزا غلام احمد بطرف پنڈت صاحب۔ بعد ماوجب۔ آپ کا خط ملا آپ لکھتے ہیں کہ خط مطبوعہ مطبع مرتضائی لاہوری مطالعہ سے گزرا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تک یہ خط آپ نے مطالعہ نہیں کیا کیونکہ تحریر آپ کی شرائط مندرجہ خط مذکورہ بالا سے بکلی برعکس ہے۔ اوّل اس عاجز نے اپنے خط مطبوعہ کے مخاطب وہ لوگ ٹھہرائے ہیں کہ جو اپنی قوم میں معزز علماء اور مشہور اور مقتدا ہیں جن کاہدایت پاناایک گروہ کثیر پر مؤثر ہو سکتا ہے۔ مگر آپ اس حیثیت اور مرتبہ کے آدمی نہیں ہیں اگر میں نے اس رائے میں غلطی کی ہے اور آپ فی الحقیقت مقتدا و پیشوائے قوم ہیں تو بہت خوب ، میں زیادہ تر آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتا صرف اتنا کریں کہ پانچ آریہ سماج میں یعنی آریہ سماج قادیان، آریہ سماج لاہور، آریہ سماج پشاور، آریہ سماج امرتسر، آریہ سماج لودہیانہ میں جس قدر ممبر ہیں سب کی طرف سے ایک اقرار نامہ حلفاً اس مضمون کا پیش کریں کہ جو پنڈت لیکھرام صاحب ہم سب لوگوں کے مقتدا اور پیشوا ہیں۔ اگر اس مقابلہ میں مغلوب ہو جائیں گے اور کوئی نشان آسمانی دیکھ لیں تو ہم سب لوگ بلاتوقف شرف اسلام سے مشرف ہو جائیں گے۔ پس اگر آپ مقتصدائے قوم ہیں تو ایسا اقرار نامہ پیش کرنا آپ پر مشکل نہیں ہوگا بلکہ تمام لوگ آپ کا نام سنتے ہی اقرار نامہ پر دستخط کر دیں گے کیونکہ آپ پیشوائے قوم ہو ہوئے۔ لیکن اگر آپ اپنا مقتدائے قوم ہونا ثابت نہ کر سکیں اور آپ اقرار نامہ مرتب کر کے دو ہفتہ تک میرے پاس نہ بھیج دیںتو آپ ایک شخص عوام الناس سے سمجھے جائیں گے جو قابل خطاب نہیں۔ یہبات آپ پر واضح رہے کہ اس معاملہ میں خط مطبوعہ میں شرط بھی درج ہے کہ مقتدائے قوم ہو (دیکھ سرط دہم خط مطبوعہ) اب مقتدا ہونا بجز مقتدیوں کے اقرار کے کیونکر ثابت ہو اور یہ بات کہ ہم نے اپنے خط مطبوعہ میں یہ شرائط لازمی کیوں رکھی کہ شخص ممتحن متقدائے قوم ہو عوام الناس نہ ہو اس شرط کی وجہ یہ ہے کہ عوام الناس میں سے کسی کو مغلوب اور قائل کرنا دوسروں پر مؤثر نہیں ہو سکتا بلکہ ایسے شخص کے تجربہ کو خواص لوگ سادہ لوحی اور عدم بصیرتی پر حمل کرتی ہیں اور بجائے اس کے کہ کوئی گروہ اس کا اتباع کر کے راہ راست پر آوے حق کی ہدایت یابی کو کسی غرض نفسانی پر مبنی سمجھ لیتے ہیں ماسوا اُس کے ان خطوط مطبوعہ کے بھیجنے سے میری غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک قوم پرحجت پوری ہوکر حصہ پنجم میں اس اتمام حجت کا حال درج کیا جاوے لیکن ایک عامی آدمی قائل اور مسلمان ہو جانے سے قوم پر کیونکر حجت پوری ہو جائے گی۔ عامی کا عدم وجود قوم کے نزدیک برابر ہے کیا اس جگہ کے بعض آریہ سماج کے ممبروں کی شہادت سے جنہوں نے بچشم خود بعض نشانوں کو دیکھا ہے آپ لوگ مسلمان ہو سکتے ہیں تو پھر کیونکر امید رکھیں کہ آپ کی شہادت قوم پر مؤثر ہوگی۔ حالانکہ آپ قادیان کے بعض آریوں سے جنہوں نے بعض نشانوں کو مشاہدہ کیا ہے حیثیت اور عزت اور لیاقت میں زیادہ نہیں ہیں۔ بہرحال ہم کو اس خط مطبوعہ پر عمل کرنا لازم ہے جس کو آپ بنظر سرسری دیکھ چکے ہیں۔ اگر قوم کے مقتدا مخاطب ہونے کے لئے مخصوص نہ ہوں تو یہ سلسلہ قیامت تک ختم نہ ہوگا۔ مناسب ہے کہ آپ بہت جلد اس کا جواب لکھیں کیونکہ اگر آپ مقتدا قوم کے قرار پا گئے تو دوسرے مراتب اس کے بعد طے ہونگے اور وج مبلغ دو سَو روپیہ ماہواری کے حساب سے دو ہزار چار سَو روپیہ سال بصورت مغلوبیت دینا تجویز کیا ہے یہ بھی اسی لحاظ سے یعنی مقتدائے قوم کی وجہ سے قرار پایا ہے۔ پھر خواہ وہ مقتدا تمام روپیہ آپ رکھے یا قوم جو اقرار نامہ پر دستخط کرے گی اپنے اپنے حصہ ٹھہرا لیں۔ اب خلاصہ کلام آپ یہ یاد رکھیں کہ ہم نے تین ماہ تک حصہ پنجم کا چھپنا ملتوی کر کے ہر ایک قوم کے سرکردہ کو خطوط مطبوعہ رجسٹری بھیجے ہیں کیونکہ قوم کے سرکردہ کل قوم کا حکم رکھتے ہیں عوام الناس سے ہم کو کچھ سروکار نہیں اور نہ اس طور سے بحث کا سلسلہ کبھی ختم ہو سکتا ہے۔ جو شخص ہمارے مقابل پر آناچاہے ( آپ ہوں یا کوئی اور ہوں) اوّل اُس کو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ وہ درحقیقت مقتدائے قوم ہے اور اس کی قوم کے لوگ اس بات پر مستعد ہیں کہ اس کے قائل اور اقرار ہو جانے سے بلا حجت و حیلہ دین اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ سو مناسب ہے کہ آپ سعی و کوشش کر کے پانچویں آریہ سماج کے جس قدر ممبر ہوں اُن سے حلفاً اقرار نامہ لے لیں اور نام بنام دستخط کرائیں اور اس اقرار نامہ پر دس یا بیس ثقہ مسلمانوں اور بعض پادریوں کے بھی دستخط ہوں تا کہ وہ اقرار نامہ معہ آپ کے اقرار نامہ اور ہمارے اقرار کے چند اخباروں میں چھپوایا جاوے لیکن جب تک آپ اس طور سے اپنا سرکردہ ہونا ثابت نہ کریں تب تک آپ عوام الناس میں سے محسوب ہونگے۔ ہمارے خط کو غور سے دیکھو اور اس کے منشاء کے موافق قدم رکھو ان خطوط سے اصل مطلب تو ہمارا یہی تھا کہ قوموں کے سرکردہوں کو قائل یا لاجواب کر کے کل قوموںپر (ہندو ہوں یا عیسائی) اتمام حجت کیا جاوے۔ پس جو لوگ سرکردہ ہی نہیں ان کے لاجواب یا قائل کرنے سے ہمارا مطلب کیونکر پورا ہوگا اور حصہ پنجم کے چھپنے کی نوبت کب آئے گی اور اگر خدا توفیق دیوے تو اپنے آریہ بھائیوں کی شہادت کو ہی کافی سمجھو۔ کیونکہ وہ بھی تمہارے بھائی ہیں۔ والدعاء
    (مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق یکم رجب ۱۳۰۲ھ)
    ٭٭٭
    بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم
    مشفق پنڈت لکھیرام صاحب۔ بعد ماوجب آپ کا خط مرقومہ ۹؍ اپریل ۱۸۸۵ء مجھ کو ملا آپ نے بجائے اس کے کہ میرے جواب پر انصاف اور صدق دلی سے غور کرتے ایسے الفاظ دُور از تہذیب و ادب اپنے خط میں لکھے ہیں جو میں خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی مہذب آدمی کسی سے خط و کتابت کر کے ایسے الفاظ لکھنا روا رکھے۔ پھر آپ نے اسی اپنے خط میں تمسخر اور ہنسی کی راہ سے دین اسلام کی نسبت توہین اور ہتک کے کلمات تحریر کئے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے کے ہجو ملیح کے طرح مکروہ اور نفرتی باتوں کو پیش کیا ہے اگرچہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کس قدر طالب حق ہیں لیکن پھر بھی میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کے سخت اور بدبودار باتوں پر صبر کرکے دوبارہ آپ کو اپنے منشاء سے مطلع کروں کیونکہ یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ شاید آپ نے میرے پہلے خط کو غور سے نہیں پڑھا اور اشتعال طبع مانع تفکر و تدبر ہو گیا سو اب میں پھر اپنے اُسی جواب کو دوہرا کر تحریر کرتا ہوں صاحب من میں نے جو پہلے خط میں لکھا تھا اس کا خلاصہ مطلب یہی ہے کہ جو اَب میں گزارش کرتا ہوں یعنی ان دنوں میں اتمام حجت کی غرض سے میںنے یہ مناسب سمجھا کہ سات سَو خط چھپوا کر اُن مخالفین مذہب کی طرف روانہ کروں جو اپنی اپنی قوم کے سرکردہ اور میر مجلس ہیں اور یہ قرار پایا کہ چونکہ ہر ایک قوم میں اوسط اور ادنیٰ درجہ کے آدمی ہزار ہا بلکہ لکھوکھا ہوا کرتے ہیں اس لئے یہی مناسب ہے کہ یہ خطوط مطبوعہ ان چیدہ چیدہ اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کی طرف روانہ کئے جائیں کہ جو خواص اور قلیل الوجود آدمی ہیں۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی سوچا گیا کہ ایسے لوگ اگر قادیان میں ایک برس تک ٹھہرنے کے لئے بلائے جائیں تو ان کی دنیوی عزت اور آمدنی کے لحاظ سے دو سَو روپیہ ماہواری ان کے لئے شرط مقرر کرنا مناسب ہوگا کیونکہ یہ خیال کیا گیا کہ وہ لوگ جس قدر اپنے اپنے مکانات میں بذریعہ نوکری یا تجارت وغیرہ وجوہ معاش حاصل کرتے ہیں وہ غالباً اس اندازہ کے قریب قریب ہوگا۔ غرض جو دو سَو روپیہ کی رقم مقرر کی گئی وہ محض بنظر اندازہ وجود معاش اُن اعلیٰ درجہ کے سرگروہوں کے مقرر ہوئی تا وہ لوگ یہ عذر پیش نہ کریں کہ قادیان میں ٹھہرنے سے ہمارا دو سَو روپیہ ماہواری کا ہرج متصور ہے اور اسی غرض سے خطوط مطبوعہ میں یہ بھی اندراج پایا کہ اگر دو سَو روپیہ ماہوار سے کچھ زیادہ دیا جائے گا اب آپ جو تحریر فرماتے ہیں کہ وہ دو سَو روپیہ کہ جو اعلیٰ درجہ کے لوگوں کیلئے بہ لحاظ حیثیت دنیوی اُن کے خطوط مطبوعہ میں اندراج پایا ہے اُسی قدر روپیہ ملنے کی شرط ہے۔ میں قادیان میں آتا ہوں سو آپ خود انصاف فرما لیویں کہ آپ کیونکر اس قدر روپیہ پانے کی شرط کر سکتے ہیں۔ ہاں اگر آپ کسی جگہ دو سَو روپیہ ماہواری پاتے ہیں تو پھر اس صورت میں مجھے کسی طور سے عذر نہیںہے۔ آپ مجھ پر ثابت کر دیں کہ میں اسی حیثیت کا آدمی ہوں اگر ایسا ثابت نہ کر سکیں تو پھر آپ کے لئے یہ منظور کرتا ہوں کہ جس قدر آپ نوکری کی حالت میں تنخواہ پاتے رہے ہیں وہی تنخواہ حسبِ شرائط متذکرہ خطوط مطبوعہ آپ کو دوں گا لیکن آپ خود انصاف کر لیوں کہ جو تنخواہ اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے اُن کی ماہواری آمدنی کے لحاظ سے اور اُن کے ہرجہ کثیرہ کے خیال سے خطوط مطبوعہ میں لکھی گئی ہے وہ کیونکر اُن لوگوں کو دی جاوے جو اس درجہ کے آدمی نہیں ہیں اور اگر ہر ایک ادنیٰ اعلیٰ کے لئے دو سَو روپیہ ماہواری دینا تجویز کروں تو اس قدر روپیہ کہاں سے لاؤوں۔ آپ تحکم کی راہ سے کام نہ کریں اور جو میں نے خطوط کے چھاپنے کے وقت انتظام کیا ہے اُس کو خوب سوچ لیں اور میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ آپ دو تین روز کے لئے قادیان میں آجائیں اور بالمواجہہ گفتگو کر کے اس بات کا تصفیہ کریں مجھے یہ بھی منظور ہے کہ دو تین شریف اور معزز آریہ جیسے منشی جیونداس لاہور میں ہیں وہ مجھ سے ملاقات کر کے جو اس بارہ میں تصفیہ کریں وہی قرار پاجائے۔ میں ناحق کی ضد کرنا نہیں چاہتا نہ کوئی حیلہ بہانہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ غور سے میرے خط کو پڑھیں اور یہ جو آپ نے اپنے خط کے اخیر پر لکھ دیاہے کہ قادیان کے آریہ لوگوں سے آپ کی کراماتی مایہ کی قلعی کھل چکی ہے یہ الفاظ بھی منصفین کے سامنے پیش کرنے کے لائق ہیں جس حالت میں قادیان کے بعض آریہ جو میرے پاس آمدو رفت رکھتے ہیں اب تک زندہ موجود ہیں اور اس عاجز کے نشانوں اور خوارق کے قائل اور مقر ہیں تو پھر نہ معلوم کہ آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ وہ لوگ منکر ہیں اگر آپ راستی کے طالب تھے تو مناسب تھا کہ آپ قادیان میں آ کر میرے روبرو اور میرے مواجہ میں اُن لوگوں سے دریافت کرتے تا جو امر حق ہے آپ پر واضح ہو جاتا۔ مگر یہ بات کس قدر دیانت اور انصاف سے بعید ہے کہ آپ دور بیٹھے قادیان کے آریوں پر ایسی تہمت لگارہے ہیں ذرا آپ سوچیں کہ جس حالت میں میں نے اُنہیں آریوں کا نام حصہ سوم و چہارم میں لکھ کر اُن کا شاہد خوارق ہونا حصص مذکورہ میں درج کر کے لاکھوں آدمیوں میں اس واقعہ کی اشاعت کی ہے تو پھر اگر یہ باتیں دروغ بے فروغ ہوں تو کیونکر وہ لوگ اب تک خاموش رہتے بلکہ ضرور تھا کہ اس صریح کے جھوٹ کے ردّ کرنے کے لئے کئی اخباروں میں اصل کیفیت چھپواتے اور مجھ کو ایک دنیا میں رسوا اور شرمندہ کرتے۔ سو منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ لوگ باوجود شدت مخالفت اور عناد کے اسی وجہ سے خاموش اور لاجواب رہے کہ جو جو میں نے شہادتیں اُن کی نسبت لکھیں وہ حق محض تھا اور آپ پر لازم ہے کہ آپ اس ظن فاسد سے مخلصی حاصل کرنے کے لئے قادیان آ کر اس بات کی تصدیق کر جائیں ۔
    تا سیہ رد شود کہ دروغن باشد
    جواب سے جلد تر مطلع کریں۔ والدعاء
    (راقم مرزا غلام احمد از قادیان۔ ۱۲؍ اپریل ۱۸۸۵ء)
    ٭٭٭
    مشفقی پنڈت لیکھرام صاحب بعد ماوجب۔ اگرچہ اس خاکسار نے آپ کو اُن خطوط کے جواب میں جن میں آپ نے قادیان میں ایک سال تک ٹھہرنے کی درخواست کی تھی یہ لکھا تھا کہ چوبیس سَو روپیہ لینے کی شرط پر آپ کا ایسی درخواست کرنا آپ کی عزت اور حیثیت عرفی کے برخلاف ہے لیکن چونکہ آپ اب تک اسی بات پر اصرار کئے جاتے ہیں کہ میں آریہ سماج کے گروہ میں ایک بڑا عزت دار آدمی ہوں اور بزرگوار اور عالی مرتبت ہونے کی وجہ سے تمام آریہ سماجوں میں مشہور و معروف ہوں بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ نے اپنے اسی دعویٰ کو بعض اخباروں میں چھپوا کر جا بجا مجھے بدنام کرنا چاہا ہے اور یہ لکھا ہے کہ جس حالت میں میں ایسا عزت دار آدمی ہوں اور پھر طالب حق تو پھر کیوں مجھے آسمانی نشان کے دکھلانے اور اسلام کی حقیت مشاہدہ کرانے سے محروم رکھا جاتا ہے اور کیوں چوبیس سَو روپیہ دینے کی شرط پر مجھ کو قادیان میں ایک سال تک ٹھہرا کر آسمانی نشانوں کے آزمانے کیلئے اجازت نہیں دی جاتی۔ سو آپ پر واضح ہو کہ ہم نے آج تک آپ کی درخواست منظور کرنے میں توقف کیا تو اس کی یہی وجہ تھی کہ ہم اپنے خط مطبوع میں یہ شرـط درج کر چکے ہیں کہ ہمارا مقابلہ عوام الناس سے نہیں ہے بلکہ ہر قوم کے چیدہ اور منتخب اور صاحب عزت لوگوں سے ہے اور ہر چند ہم نے کوشش کی مگر ہم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ آپ اُن معزز اور ذی مرتبت لوگوں میں سے ہیں جو بوجہ حیثیت عرفی اپنی کے دو سَو روپیہ ماہواری خرچہ پانے کے مستحق ہیں مگر چونکہ آپ کا اصرار اپنے اس دعویٰ پر غایت درجہ تک پہنچا گیا ہے کہ فی الحقیقت میں ایسا ہی عزت دار ہوں اور پشاور سے بمبئی تک جس قدر آریہ سماج ہیں وہ سب مجھ کو معزز اور قوم میں سے ایک بزرگ اور سرگردہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے آپ کی طرف لکھا جاتا ہے کہ اگر آپ سچ مچ ایسے ہی عزت دار ہیں تو ہم آپ کی درخواست منظور کرلیتے ہیں اور جہاں چاہو چوبیس سَو روپیہ جمع کرانے کو تیار و مستعد ہیں لیکن جیسا کہ آپ شرائط مندرجہ خطوط مطبوعہ سے تجاوز کر کے اپنی پوری پوری تسلی کرنے کے لئے مجھ سے چوبیس سَو روپیہ نقد کسی دوکان یا بنک سرکار میں جمع کرانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں مجھے بھی حق پہنچتا ہے کہ میں بھی آپ کے اس اقرار کو … دیکھنے کسی آسمان نشان کے بلاتوقف قادیان میں ہی مسلمان ہو جاؤں گا۔ آپ ہی کے اعتبار پر چھوڑدوں بلکہ جیسے آپ روپیہ روصول کرنے کے باب میں اپنی پوری پوری تسلی کریں گے ایسا ہی میں بھی آپ کے مسلمان ہونے کے لئے کوئی ایسی تدبیر کر لوں جس سے مجھے بھی پورا یقین اور کامل تسلی ہو جائے کہ آپ بھی درحالت انکار اسلام اپنی عہد شکنی کے ضرر سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ سو عدات کی بات جس میں میں اور آپ برابر ہیں یہ ہے کہ ایک طرف خاکسار چوبیس سَو روپیہ حسب نشاندہی آپ کے کسی جگہ جمع کرا دے اور ایک طرف آپ بھی اسی قدر روپیہ حسب نشاہدہی اس عاجز کے بوجہہ تاوان انکار اسلام کسی مہاجن کی دوکان پر رکھوا دیں تا جس کو خدا تعالیٰ فتح بخشے اُس کیلئے یہ روپیہ فتح کی یادگار رہے۔ یہ تجویز کسی فریق پر ظلم نہیں بلکہ فریقین کیلئے موجب تسلی اور سراسر انصاف ہے کیونکہ جیسے آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ آپ بصورت مغلوب ہونے اس عاجز کے چوبیس سَو روپیہ جبراً وصول نہیں کر سکتے۔
    علی ہذا لقیاس مجھے بھی یہ فکر ہے کہ میں بھی بعد مغلوب ہونے آپ کے آپ کو جبراً مسلمان نہیں کر سکتا۔ سو یہ انتظام حقیقت میں نہایت عمدہ اور مستحن ہے کہ ایک طرف آپ وصول روپیہ کے لئے اپنی تسلی کر لیں اور ایک طرف میں بھی ایسا بندوبست کر لوں کہ درحالت عدم قبول اسلام آپ بھی شکست کے اثر سے خالی نہ جانے پاویں اور اگر آپ اسلام کے قبول کرنے میں صادق النیت ہیں تو آپ کو روپیہ جمع کرنے میں کچھ نقصان اور اندیشہ نہیں کیونکہ جب آپ بصورت مغلوب ہونے کے مسلمان ہو جائیں گے تو ہم کو آپ کے روپیہ سے کچھ سروکار نہیں ہوگا بلکہ یہ روپیہ تو صرف اُس حالت میں بطور تاوان آپ سے لیا جائے گا کہ جب آپ عہد شکنی کر کے اسلام کے قبول کرنے سے گریز یا روپوشی اختیار کریں گے سو یہ روپیہ بطور ضمانت آپ کی طرف سے جمع ہوگا اور صرف عہد شکنی کی صورت میں ضبط ہوگا نہ اور کسی حالت میں۔ رہا یہ امر کہ آپ اس قدر روپیہ کہاں سے لائیں گے تو اس کا فیصلہ تو آپ ہی کے اقرار سے ہو گیا جب کہ آپ نے اقرار کر لیا کہ میں بڑا عزت دار آدمی اور قوم میں مشہور و معروف ہوں کیونکہ جس حالت میں آپ اتنے بڑے عزت دار ہیں تو اوّل یہ روپیہ آپ کے آگے کچھ چیز نہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ آپ کے دولت خانہ میں جمع ہوگا اور اگر کسی اتفاق سے آپ پر افلاس طاری ہے تو قوم کے لوگ ایسے معزز اور سرگردہ سے امداد وغیرہ کے بارے میں کب دریغ کریں گے بلکہ وہ تو سنتے ہی ہزار ہا روپیہ آپ کے قدموں پر رکھ دیں گے اور صرف آپ کی ایک زبان کے اشارہ سے روپیوں کا ڈھیر جمع ہو جائے گا۔ خدانخواسہ ایسا کیوں ہونے لگا کہ آریہ سماج کے دولتمند اور ذی مقتدرت لوگ آپ کو چند روز کے لئے بطور امانت روپیہ دینے سے انکار کریں اور آپ کی دیانتداری اور امانت گزاری میں اُن کو کلام ہو کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ادنیٰ ادنیٰ آدمی جیسے چوہڑے چمار یا سانسی اپنی قوم میں کچھ ذرا سا اعتبار رکھتے ہیں وہ بھی اپنی برادری میں اس قدر مسلم العزت ہوتے ہیں کہ قوم کے ذی مقدرت لوگ کسی مشکل کے وقت صدہا روپیہ سے بطور قرضہ وغیرہ اُن کی مدد کرتے ہیں اور آپ تو بقول آپ کے بڑے ذی عزت آدمی ہیں جن کی عزت سارے آریہ سماجوں میں تسلیم و قبول کی گئی ہے۔ ماسوا اس کے جو روپیہ صرف کچھ مدت کے لئے امانت کے طور پر آپ کے ہاتھ میں دیں گے یہ نہیں کہ وہ روپیہ آپ کی ملک کر دیں گے۔ قصہ کوتاہ کہ آج ہم یہ خط رجسٹری کرا کر آپ کی خدمت میں بھیجتے ہیں اور اگر بیس دن تک آپ نے ہمارا جواب نہ بھیجا اور قادیان میں آ کر ایک سال تک ٹھہرنے کیلئے بات نہ ٹھہرائی اور ان شرائط کو جو عین انصاف اور حق پرستی پر مبنی ہیں قبول نہ کیا تو پھر بعد گزرنے بیس روز کے یہ حال کنارہ کشی آپ کا چند اخباروں میں شائع کرا کر لوگوں پر ثابت کیا جاوے گا کہ آپ کا ایک سال تک قادیان میں ٹھہرنے کے لئے مجھ سے دریافت کرنا سراسر لاف و گذاف پر مبنی تھا نہ آپ کی نیت صاف و درست تھی نہ آپ کی ایسی حیثیت و عزت تھی جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔
    اب ہم اس خط کو ختم کرتے ہیں اور مدت مقررہ تک ہر روز آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔
    والسلام علی من اتبع الہدیٰ
    از قادیان ضلع گورداسپور
    مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۸۸۵ء
    خاکسار
    مرزا غلام احمد






    لالہ بھیم سین صاحب کے نام
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ہم مکتب ایک لالہ بھیم سین صاحب تھے اور زمانہ قیام سیالکوٹ میں حضرت اقدس کی ان کے ساتھ بڑی راہ و رسم تھی۔ لالہ بھیم سین صاحب کی بابت اس خط کے شائع کرتے وقت مجھے معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا فوت ہوچکے ہیں مگر اس میں کوئی کلام نہیں کہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑی محبت تھی اور خط وکتابت بھی رہتی تھی۔ جن ایام میں گورداسپور میں مقدمات کا سلسلہ شروع تھا تو لالہ بھیم سین صاحب نے اپنے بیٹے کی خدمات بھی پیش کی تھیں جو بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے آ چکے تھے۔ حضرت مسیح موعود نے شکریہ کے ساتھ ان کی خدمات کو کسی دوسرے وقت پر عندالضرورت ملتوی کر دیا تھا۔ غرض حضرت صاحب کو لالہ بھیم سین صاحب سے محبت اور لالہ بھیم سین کو حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام سے اخلاص تھا۔
    ۱۴؍ جون ۱۹۰۳ء کو حضرت مسیح موعود نے لالہ بھیم سین کو ایک خط لکھا تھا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ میں لالہ بھیم سین صاحب کے فرزند ارجمند سے خط و کتابت کر کے حضرت اقدس کی بعض اور تحریریں بھی جو میسر آ سکیں حاصل کرنی چاہتا ہوں مگر سردست یہ ایک خط یہاں درج کر دیا جاتا ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔
    (خاکسار یعقوب علی عفی اللہ عنہ)
    ٭٭٭
    آپ نے اپنے خط میں کچھ مذہبی رنگ میں بھی نصائح تحریر فرمائی تھیں مجھ کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو اس عظیم الشان پہلو سے بھی دلچسپی ہے۔ درحقیقت چونکہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے اور تھوڑی دیر کے بعد ہم سب لوگ اصلی گھر کی طرف واپس کئے جائیںگے۔ اس لئے ہر ایک کا فرض ہونا چاہئے کہ دین اور مذہب کے عقائد کے معاملہ میں پورے غور سے سوچے پھر جس طریق کو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے موافق پاوے اُسی کے اختیار کرنے میں کسی ذلت اور بدنامی سے نہ ڈرے اور نہ اہل و عیال اور خوشیوں اور فرزندوں کی پروا رکھے۔ ہمیشہ صادقوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ سچائی کے اختیار کرنے میں اُنہوں نے بڑے بڑے دُکھ اُٹھائے۔
    یہ تو ظاہر ہے کہ خواہ عقائد ہوںیا اعمال دو حال سے خالی نہیں یا سچے ہوتے ہیں یاجھوٹے۔ پھر جھوٹے کو اختیار کرنا دھرم نہیں ہے مثلاً وید کی طرف یہ ہدایت منسوب کی جاتی ہے کہ اگر کسی عورت کے چند سال تک بیٹا نہ ہو بیٹیاں ہی ہوں تو اس کا خاوند اپنی عورت کو دوسرے سے ہمبستر کرا سکتاہے اور ایسا سلسلہ اُس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک ایک بیگانہ مرد کے نطفہ سے گیارہ فرزند نریہ پیدا ہو جائیں اور شاکت مت میں جو وید کی طرف ہی اپنے تئیں منسوب کرتے ہیں یہ ہدایت ہے کہ اُن کے خاص مذہبی میلوں میں ماں اور بہن سے بھی جماع درست ہے اور ایک شخص دوسرے کی عورت سے زنا کر سکتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں ہزار ہا ایسے مذہب ہیں کہ اگر ان کا انکار کیا جاوے تو آپ انگشت بدنداں رہیں گے پھر کیونکر ممکن ہے کہ انسان صلح کاری اختیار کرکے اُن لوگوں کی ہاں سے ہاں ملاوے ایسا ہی عقائد کا حال ہے بعض لوگ دریاؤں کی پوجا کرتے ہیں، بعض لوگ آگ کی، بعض سورج کی، بعض چاند کی، بعض درختوں کی، بعض سانپوں اور بلیوں اور بعض انسانوں کو درحقیقت خدا سمجھتے ہیں تو کیا ممکن ہے کہ ان سب کو راستباز سمجھا جاوے۔
    جو لوگ دنیا کی اصلاح کے لئے آتے ہیں اُن کا فرض ہوتا ہے کہ سچائی کو زمین پر پھیلا دیں اور جھوٹ کی بیخ کنی کریں۔ وہ سچائی کے دوست اور جھوٹ کے دشمن ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی راستباز کو چند ڈاکو یا چور یہ ترغیب دیں کہ بذریعہ ڈاکو یا کیسہ بُری یا نقب زنی کے کوئی مال حاصل کرنا چاہئے تو کیا جائز ہوگا کہ وہ راستباز اُن کیساتھ ہو کر ایسے جرائم کا ارتکاب کرے۔ پس مذہب کسی چیز کا نام ہے اسی بات کا نام تو مذہب ہے کہ جو عقائد یا اعمال بُرے اور گندے اور ناپاک ہوں اُن سے پرہیز کیا جاوے اور ایسی کتابیں جو ناپاک عقائد یا اعمال سکھلاتی ہیں اُن کو اپنا پیشوا اور رہبر نہ بنایا جاوے۔ میں اس بات کو کسی طرح سمجھ نہیں سکتا کہ ہر ایک مذہب سے صلح رکھی جاوے اور اُن کی ہاں میں ہاں ملائی جاوے۔ کیونکہ اگر ایسا کیا جاوے تو دنیا میں کوئی بدی بدی نہیں رہے گی اور ہر قسم کے بدعقائد اور بداعمال نیکیوں میں داخل ہو جائیں گے حالانکہ جو شخص ایک نظر دنیا کے مذاہب پر ڈالے تو اُس کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا شناسی ہی کے بارے میں کئی عقائد ہیں بعض ناستک مست یعنی دہریہ ہیں وہ خدا کے قائل نہیں ہیں اور بعض انسانوں یا حیوانوں یا اجرام سماوی یا عناصر کو خدا بناتے ہیں۔ خاص آریہ سماجی جو اپنے تئیں ویدوں کے وارث ٹھہراتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ایک ذرّہ بھی پیدا نہ کیا اور نہ ارواح پیدا کئے بلکہ یہ تمام چیزیں اور ان کی تمام قوتیں خود بخود ہیں۔ پرمیشور کا ان میں کچھ بھی دخل نہیں مگر مجھے ان باتوں کے بیان کرنے سے صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ایک راستباز کے لئے ممکن نہیں کہ ان تمام متناقص امور کو مان لے اور اُن پر ایمان لے آوے۔ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت اور توحید اور قدرت کاملہ پر داغ لگایا ہے یا بدکاری کو جائز رکھا ہے میں اس جگہ اُن کی نسبت اور اپن کی کتاب کی نسبت کچھ نہیں کہتا صرف آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ انسان کے لئے ممکن نہیں کہ ناپاک کو بھی ایسا ہی تسلیم کرے جیسا کہ پاک کو کرتا ہے یہ سچ ہے کہ پاک ہونے سے خدا ملتا ہے۔ لیکن ایسے طریقوں سے جو ناپاک عقائد اور ناپاک اعمال پر مشتمل ہیں کیونکر خدا مل سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بہشتی زندگی تک پہنچاتا ہے لیکن جو شخص راجہ رام چندر یا راجہ کرشن یا حضرت عیسیٰ کو خدا سمجھتا ہے یا خدائے قیوم کو ایسا عاجز اور ناقص خیال کرتا ہے کہ ایک ذرّہ یا ایک روح کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں وہ کیونکر اس پاک ذوالجلال کی حقیقی محبت سے حصہ لے سکتا ہے۔ حقیقی اور سچے خدا کو اُس کی پاک اور کامل صفات کے ساتھ جاننا اور اُس کی پاک راہوں کے مطابق چلنا ہی حقیقی نجات ہے اور اُس حقیقی نجات کے مخالف جو طریق ہیں وہ سب گمراہی کے طریق ہیں پھر کیونکر ان طریقوں میں پھنسے رہنے سے انسان حقیقی نجات پا سکتا ہے۔
    دنیا میں اکثر یہ واقعہ مشہور ہے کہ ہر ایک شخص اُن خیالات پر بہت بھروسہ رکھتا ہے جن خیالات میں اُن نے پرورش پائی ہے یا جن کو سننے کا اُس کو بہت موقعہ ملا ہے چنانچہ ایک عیسائی بے تکلف کہہ دیتا ہے کہ عیسیٰ ہی خدا ہے اور ایک ہندو اس بات کے بیان کرنے سے کچھ شرم نہیں کرتا کہ رام چندر کرشن درحقیقت خدا ہیں یا دریائے گنگ اپنے پرستاروں کو مرادیں دیتا ہے یا اُن کا ایک ایسا خدا ہے جس نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا صرف موجودہ اجسام یا اراوح کو جو کسی اتفاق سے خودبخود قدیم سے چلے آتے ہیں جوڑنا اس کا کام ہے لیکن یہ تمام بھروسے بے اصل ہیں ان کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ زندہ خدا کو خوش کرنا نجات کے طالب کا اصول ہونا چاہئے۔دنیا رسوم و عادات کی قید میں ہے ہر ایک شخص جو کسی مذہب میں پیدا ہوتا ہے اکثر بہرحال اُسی کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ طریق صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح یہ بات ہے کہ جس مذہب کی رو سے زندہ خدا کا پتہ مل سکے اور بڑے بڑے نشانوں اور معزات سے ثابت ہو کہ وہی خدا ہے اس مذہب کو اختیار کرنا چاہئے کیونکہ اگر درحقیقت خدا موجود ہے اور اُس کی ذات کی قسم کہ درحقیقت وہ موجود ہے تو یہ اس کا کام ہے کہ وہ بندوں پر اپنے تئیں ظاہر کرے اورانسان جو محض اپنی اٹکلوں سے خیال کرتا ہے کہ اس جہان کا ایک خدا ہے اور وہ اٹکلیں سچی تسلی دینے کیلئے کافی نہیں اور جیسا کہ ایک محجوب اُن روپوں پر بھروسہ کرتا ہے جو اُس کے صندوق میں بند ہیں اور اُس زمین پر جو اُس کے قبضہ میں ہے اور اُن باغات پر جو ہمیشہ صدہا روپیہ کی آمدنی نکالتے ہیں اور اُن لائق بیٹوں پر جو بڑے بڑے عہدوں پر سرفراز ہیں اور ماہ بماہ اپنے باپ کو ہزار ہا روپیہ سے مدد کرتے ہیں وہ محجوب ایسا بھروسہ خدا تعالیٰ پر ہرگز نہیں کر سکتا اس کا کیا سبب ہے یہی سبب ہے کہ اُس پر حقیقی ایمان نہیں۔ ایسا ہی ایک غافل جیسا کہ طاعون سے ڈرتا ہے اور اُس گاؤں میں داخل نہیں ہوتا جو طاعون سے ہلاک ہو رہا ہے اور جیسا کہ وہ سانپ سے ڈرتا ہے اور اُس سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا جس میں سانپ ہو یا سانپ ہونے کا گمان ہو اور جیسا کہ وہ شیر سے ڈرتا ہے اور اُس بن میں داخل نہیں ہوتا جس میں شیر ہو۔ ایسا ہی وہ خدا سے نہیں ڈرتا اور دلیری سے گناہ کرتا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ اگرچہ وہ زبان سے کہتا ہے مگر دراصل خدا تعالیٰ سے غافل اور بہت دور ہے۔ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا کوئی امر سہل نہیں ہے۔ بلکہ جب تک خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشان ظاہر نہ ہوں اُس وقت تک انسان سمجھ بھی نہیں سکتا کہ خدا بھی ہے۔ گو تمام دنیا اپنی زبان سے کہتی ہے کہ ہم خداپر ایمان لائے مگر اُن کے اعمال گواہی دے رہے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائے۔ سچا ایمان تجربہ کے بعد حاصل ہوتا ہے مثلاً جب انسان باربار کے تجربہ سے معلوم کر لیتا ہے کہ سم الفار ایک زہر ہے جو نہایت قلیل مقدار اُس کی قاتل ہے تو وہ سم الفار کھانے سے پرہیز کرتا ہے۔ تب اُس وقت کہہ سکتے ہیں کہ وہ سم الفار کے قاتل ہونے پر ایمان لایا۔ سو جو شخص کسی پہلو سے گناہ میں گرفتار ہے وہ ہنوز خدا پر ایمان ہرگز نہیں لایا اور نہ اس کو شناخت کیا۔
    دنیا بہت سی فضولیوں سے بھری ہوئی ہے اور لوگ ایک جھوٹی منطق پر راضی ہو رہے ہیں۔ مذہب وہی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھلاتا ہے اور خدا سے ایسا قریب کر دیتا ہے کہ گویا انسان خدا کو دیکھتا ہے اور جب انسان یقین سے بھر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ سے اس کا خاص تعلق ہو جاتا ہے۔ وہ گناہ سے اور ہر ایک ناپاکی سے خلاصی پاتا ہے اور اس کا سہارا صرف خدا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے خاص نشانوں سے اور اپنی خاص تجلی سے اور اپنے خاص کلام سے اس پر ظاہر کر دیتا ہے کہ میں موجود ہوں تب اس روز سے وہ جانتا ہے کہ خدا ہے اور اسی روز سے وہ پاک کیا جاتا ہے اور اندرونی آلائشیں دور کی جاتی ہیں۔ یہی معرفت ہے جو بہشت کی کنجی ہے مگر یہ بغیر اسلام کے اور کسی کو بھی میسر نہیں آتی۔ یہی خدا تعالیٰ کا ابتداء سے وعدہ ہے جو وہ اُنہی پر ظاہر ہوتا ہے جو اُس کے پاک کلام کی پیروی کرتے ہیں۔ تجربہ سے زیادہ کوئی گواہی نہیں۔ پس جب کہ تجربہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا اپنے تئیں بجز اسلام کے کسی پر ظاہر نہیں کرتا اور کسی سے ہمکلام نہیں ہوتا اور کسی کی اپنے زبردست معجزات سے مدد نہیں کرتا تو ہم کیونکر مان لیں کہ دوسرے مذہب میں ایسا ہو سکتاہے۔
    ابھی تھوڑے دن کی بات ہے کہ لیکھرام نامی ایک برہمن جو آریہ تھا قادیان میں میرے پاس آیا اور کہا کہ وید خدا کا کلام ہے۔ قرآن شریف خدا کا کلام نہیں ہے۔ میں نے اُس کو کہا کہ چونکہ تمہارا دعویٰ ہے کہ وید خدا کا کلام ہے مگر میں اُس کو اُس کی موجودہ حیثیت کے لحاظ سے خدا کا کلام نہیں جانتا کیونکہ اس میں شرک کی تعلیم ہے اور کئی ناپاک تعلیمیں ہیں۔ مگر میں قرآن شریف کو خدا کا کلام جانتا ہوں کیونکہ نہ اس میں شرک کی تعلیم ہے اور نہ کوئی اور ناپاک تعلیم ہے اور اُس کی پیروی سے زندہ خدا کا چہرہ نظر آ جاتا ہے اور معجزات ظاہر ہوتے ہیں۔ پس بہت سہل طریق یہ ہے کہ تم وید والے خدا سے میری نسبت کوئی پیشگوئی کرو اور میں قرآن شریف والے خدا سے وحی پا کر پیشگوئی کروں گا۔ پس اُس نے میری نسبت یہ پیشگوئی کہ یہ شخص تین برس تک ہیضہ کی بیماری سے مر جائے گا اور میرے خدانے یہ ظاہر کیا کہ چھ برس تک لیکھرام بذریعہ قتل نابود ہو جائے گا کیونکہ وہ خدا کے پاک نبی کی بے ادبی میں حد سے گزر گیا اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اس کے مرنے کے تھوڑی مدت کے بعد پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی۔ تمام پیشگوئی میں نے اپنی کتابوں میں بار بار شائع کر دی اور یہ بھی شائع کر دیا کہ وید درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اَب آریہ سماج والوں کو چاہئے کہ لیکھرام کی نسبت اپنے پرمیشور سے بہت دعا کریں تا وہ اُس کو بچا لے کیونکہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کا پرمیشور اِن کو بچا نہیں سکے گا اور ایسا ہی لیکھرام نے بھی میری نسبت اپنی کتاب میں شائع کر دیا کہ یہ شخص تین برس میں ہیضہ کی بیماری سے فوت ہو جائے گا۔ آخر لیکھرام اپنے قتل ہونے پر گواہی دے گیا کہ وید خدا کی طرف سے نہیں ہے۔
    اسی طرح نہ ایک نشان بلکہ ہزار ہا نشان ظاہر ہوئے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہیں جن سے روز روشن کی طرح کھل گیا کہ دین اسلام ہی دنیا میں سچا مذہب ہے اور سب انسانوںکے اختراع ہیں اور یا کسی وقت سچے تھے اور بعد میں وہ کتابیں بگڑ گئیں۔ اے عزیز ہم آپ کی باتوں کو کہ جو کوئی روشن دلیل ساتھ نہیں رکھتیں کیونکر مان لیں آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف دعویٰ ہے جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں دنیا میں ایک ادنیٰ مقدمہ بھی جب کسی عدالت میں پیش ہوتا ہے تو ثبوت کے سوائے کسی حاکم کے نزدیک قابل سماعت نہیں ہوتا اور ایسا مدعی ڈگری حاصل نہیں کر سکتا تو پھر نہ معلوم آپ ان خیالات پر کیونکر بھروسہ رکھتے ہیں جو بے ثبوت ہیں اور کیونکر ہم ان سب باتوں کو سچی مان سکتے ہیں کہ عیسیٰ خدا ہے اور رام چندر خدا ہے اور کرشن خدا ہے اور یا کہ خدا ایسا عاجز ہے کہ ایک ذرّہ بھی اُس نے پیدا نہیں کیا۔ وہ مذہب قبولیت کے لائق ہے جو ثبوت کا روشن چراغ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ اسلام ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ جو زبردست نشان اور معجزات اسلام میں ظاہر ہوتے ہیں وہ کسی دوسرے مذہب میں بھی ہوتے ہیں تو ہم آپ کی اس بات کو بشوق سنیں گے بشرطیکہ آپ اس بات کا ثبوت دیں مگر یاد رکھیں کہ یہ آپ کے لئے ہرگز ممکن نہیں ہوگا کہ اس زمانہ میں کوئی ایسا زندہ شخص بھی دکھلا سکیں کہ وہ برکات اور آسمانی نشان جو مجھے ملے ہیں ان میں وہ مقابلہ کر کے دکھلاوے اب میں آپ کے بعض خیالات کی غلطی کو رفع کرتا ہوں۔
    قول آں عزیز: خدا نے کافر اور مومن کو اس دنیا میں یکساں حصہ بخشا ہے۔
    اقوال چونکہ خدا نے ہر ایک کو اپنی طرف بلایا ہے اس لئے سب کو ایسی قوتیں بخشی ہیں کہ اگر وہ ان قوتوں کو ٹھیک طور پر استعمال کریں تو منزل مقصود تک پہنچ جائیں مگر تجربہ سے ثابت ہے کہ بجز اس کے کوئی اسلام پر قدم مارے ہر ایک شخص ان قوتوں کو بے اعتدالی سے استعمال میں لاتا ہے اور منزل مقصود تک نہیں پہنچتا۔
    قول آں عزیز: بہت مشکل ہے کہ تمام لوگ ایک ہی مذہب پر چلیں۔
    اقول سچے طالب کے لئے ہر ایک مشکل سہل کی جاتی ہے۔
    قول آں عزیز: اگرچہ ریل پر چلنے والے بہت آرام پاتے ہیں لیکن اگر کوئی پیادہ پا سفر اختیار کرے تو ریل والے اس کو کافر نہیں کہتے۔
    اقول یہ قول دینی معاملہ پر چسپاں نہیں ہے اور قیاس مع الفارق ہے۔ خدا کے ملنے کی ایک خاص راہ ہے یعنی معجزات اور نشانوں سے یقین حاصل ہونا۔ اسی پر تزکیہ نفس موقوف ہے اور یقین کے اسباب بجز اسلام کے کسی مذہب میں نہیں۔
    قول آں عزیز: خدا بے انت ہے۔ سو ہم بے انت کو اُسی وقت محسوس کر سکتے ہیں جب پابندی شرع سے باہر ہو جائیں۔
    اقول شرع عربی لفظ ہے جس کے معنی ہی راہ۔ یعنی خدا کے پانے کی راہ۔ پس آپ کے کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب ہم خدا کے پانے کی راہ چھوڑ دیں تب ہمیں ملے گا۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ یہ کیسا مقولہ ہے۔
    قول آں عزیز: ذات پات نہ پوچھے کو ۔ہر کو بھجے سو ہرکا ہو۔
    اقول یہ سچ بات ہے اس سے اسلام بحث نہیں کرتا کہ کس قوم اور کس ذات کا آدمی ہے جو شخص راہِ راست طلب کرے گا خواہ وہ کسی قوم کا ہو خدا سے ملے گا۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ خواہ کسی مذہب کا پابند ہو خدا کو مل سکتا ہے۔ کیونکہ جب تک پاک مذہب اختیار نہیں کرے گا تب تک خدا ہرگز نہیں پائے گا۔ مذہب اور چیز ہے اور قوم اور چیز۔
    قول آں عزیز: یہی وجہ ہے کہ پیروان وید نے کسی شخص کی پیروی نجات کے لئے محصور نہیں رکھی۔
    اقول جس شخص کے نزدیک وید کے مؤلف کی پیروی نجات کے لئے محصور نہیں وہ وید کا مکذب ہے۔ آپ خود بتلائیں کہ اگر مثلاً ایک شخص وید کے اصولوں اور تعلیموں کو نہیں مانتا نہ نیوگ کو مانتا ہے نہ اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ اولاد کی خواہش کے لئے اپنی زندگی میں اپنی جورو کو ہمبستر کرا دے اور یا وہ اس بات کو نہیں مانتا کہ پرمیشور نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور تمام روحیں اپنے اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہے اور یا وہ اگنی،ٔ دایو، سورج وغیرہ کی پرستش کو نہیں مانتا غرض وہ بہرطرح وید کو ردی کی طرح خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جس پرمیشور کو وید نے پیش کیا ہے اُس کو پرمیشور ہی نہیں جانتا تو کیاایسے آدمی کے لئے نجات ہے یا نہیں۔ اگر نجات ہے تو آپ وید سے ایسی شرتی پیش کریں جو ان معنوں پر مشتمل ہو اور اگر نجات نہیں تو پھر آپ کا یہ قول صحیح نہ ہوا کیونکہ ہم لوگ بھی تو صرف اس قدر کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن شریف کی تعلیموں کو نہیں مانتا اُس کو ہرگز نجات نہیں اور اس جہان میں وہ اندھے کی طرح بسر کرے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ومن یتبغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھوفی الاخرت من الخسرین۔ یعنی قرآن نے جو دین اسلام پیش کیا ہے جو شخص قرآنی تعلیم کو قبول نہیں کرے گا وہ مقبول خدا ہرگز نہ ہوگا اور مرنے کے بعد وہ زیاں کاروں میں ہوگا۔ یہ کہنا کہ کسی شخص کی پیروی وید کی رو سے درست نہیں یہ غلط ہے جب اُس کی کتاب کی پیروی کی تو خود اُس کی پیروی ہوگئی۔ اگر ہندوصاحبان وید کی پیروی نہیں کرتے تو پھر وید کو پیش کیوں کرتے ہیں۔
    قول آں عزیز: ہر ملت اور ہر مذہب میں صاحب کمال گزرے ہیں۔
    اقول: زمانہ موجودہ میں بطور ثبوت کے کسی صاحب کمال کو پیش کرنا چاہئے۔کیا آپ کے نزدیک پنڈت لیکھرام صاحب کمال تھا یا نہیں جس کو آج تک آریہ سماجی لوگ روتے ہیں۔
    میںنے آں محب کی دلجوئی کے لئے باوجود کم فرصتی کے یہ چند سطریں لکھی ہیں امید کہ اس پر غور فرمائیں گے۔
    خاکسار
    غلام احمد۔ قادیان
    ۱۴؍ جون ۱۹۰۳ء





    پنڈت کھڑک سنگھ کے نام
    پنڈت کھڑک سنگھ ایک آریہ تھا۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آج سے ۳۴ برس پیشتر قادیان میںگفتگو کرنے آیا اور بعض مذہبی مسائل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گفتگو بھی کی اور لاجواب ہو گیا۔ پھر جب وہ قادیان سے گیا تو آریہ مذہب سے بیزار ہو چکا تھا چنانچہ بالآخر وہ آریہ تو نہ رہا اور عیسائی ہو گیا اور آریہ مذہب کی تردید کا جو طریق حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام سے سیکھا تھا اسی طریق پر عیسائی ہو کر آریوں کے خلاف کئی رسالے رکھ ڈالے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السام نے اس پر اتمام حجت کی غرض سے قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں مندرجہ ذیل سوال لکھ کر بھیجا تھا۔ مگر آخری وقت تک پنڈت کھڑک سنگھ اس کا جواب نہ دے سکا اور اس سوال کو ہی ہضم کر گیا۔ یہ مضمون تقریباًآج سے ۳۴برس پیشتر کا لکھا ہوا ہے۔ (یعقوب علی عفی اللہ عنہ)
    ٭٭٭
    قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی بھاری نشانی یہ ہے کہ اُس کی ہدایت سب ہدایتوں سے کامل تر ہے اور اس دنیا کی حالت موجودہ میں جو خرابیاں پڑی ہوئی ہیں قرآن مجید سب کی اصلاح کرنے والا ہے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ قرآن مجید اور کتابوں کی طرح مثل کتھا کی نہیں ہے بلکہ مدلل طور پر ایک ہر ایک امر پر دلیل قائم کرتا ہے۔ اس دوسری نشانی پر… بنام کھڑک سنگھ وغیرہ ہم نے پانچ سَو روپیہ کا اشتہار بھی دیا تا کوئی پنڈت وید میں یہ صفت ثابت کر کے دکھلا دے کہ وید نے کن دلائل سے اپنے عقائد کو ثابت کیا ہے۔ مگر آج تک کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ دم بھی مار سکے۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ وید میں نہ انجیل میں نہ توریت میں ہرگز طاقت نہیں کہ کسی فرقہ مخالف کا رد مثلاً دہریہ کا ردّ یا طبیعہ کا رد یا ملحدوں کا رد یا منکر الہام کا رد یا منکر نبوت کا رد یا بت پرست کا رد یا منکر نجات کا رد یا منکر عذاب کا رد یا منکر واحدانیت باری کا رد یا کسی اور منکر کا رد لائل قطعیہ سے کر کے دکھا دے۔ یہ سب کتابیں تو مثل مردہ کے پڑی ہیں کہ جس میں جان نہ ہو۔ کھڑک سنگھ جو لڑکوں کو بہکاتا ہے کہ وید میں سب کچھ لکھا ہے جو وہ سچا ہے تو ہم اُس کو پانچ سَو روپیہ دینا کرتے ہیں ہم سے ٹوبنو لکھا لے کسی فرقہ کی رد میں جو وید میں درج ہوں دو تین جز بمقابلہ فرقان مجید لکھ کر دکھا دے۔ یا خدا کی خالقیت سے عاجز ہونے پر یا نجات ابدی دینے سے عاجز ہونے پر بمقابلہ ہمارے دلائل کی وید سے دلائل نکال کر لکھے اور پانچ سَو روپیہ فی الفور ہم سے لے لے اور وہ جو کہتا ہے کہ فرقان مجید توریت و انجیل سے نکالا گیا ہے تو اُس کو چاہئے کہ اگر وید سے کام نہیں بنتا تو توریت و انجیل سے مدد لے اور اگر توریت یا انجیل وہ دلائل جو فرقان مجید پیش کرتا ہے پیش کر دیں گے تو ہم تب بھی کھڑک سنگھ کو پانچ سَو روپیہ نقد دیں گے ایک تو … تعداد پانچ سَو روپیہ بھی لکھ کر ہم بھیج دیتے ہیں لیکن اگر اس کے جواب میں خاموش رہے اور کچھ غیرت اور شرم اُس کو نہ آوے تو معلوم کرنا چاہئے کہ بڑا بے حیا اور بے شرم ہے کہ ایسی پاک اور مقدس کتاب کی ہتک کرتا ہے کہ جس کی ثانی حکمت اور فلسفہ میں اور کوئی کتاب نہیں تین ماہ سے بنام اُس کے بوعدہ انعام پانچ سَو روپیہ ہمارا مضمون چھپ رہا ہے اُس نے آج تک کون سے دلائل وید کے پیش کرے۔ شرم چہ کتی است کہ پیش مرداں بیاید اور پہلی نشانی جو ہم نے عنوان اس مضمون میں لکھی ہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ فرقان مجید اپنے احکام میں سب کتابوں سے کامل تر ہے اور ہماری موجودہ حالت کے عین مطابق ہے اور جس قدر فرقان مجید میں احکام ہدایت حسب حالت موجودہ دنیا کے مندرج ہیں کسی اور کتاب میں ہرگز نہیں۔ اگر کھڑک سنگھ وید، توریت، انجیل میں یہ سب احکام نکال دیں تو اس پر بھی ہم پانچ سَو روپیہ دینے کی شرط کرتے ہیں اگر کچھ شرم ہوگی تو ضرور بمقابلہ اُس کے وید سے بحوالہ پتہ و نشان لکھے گا ورنہ خود یہ لڑکے جن کو یہ بہکا رہا ہے سمجھ جائیں گے یہ جھوٹا ہے۔ کون منصف اس عذر کو سن سکتا ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ تمہارا وید محض ناقص ہے۔ تم یہ احکام وید سے نکال دو اگر ناقص نہیں تم یہ جواب دیتے ہو۔ ہمیں فرصت نہیں۔ وید یہاں موجود نہیں۔ بھلا یہ کیاجواب ہے۔ اس جواب سے تو تم جھوٹے ٹھہرتے ہو۔ جس حالت میں ہم پانچ سَو روپیہ نقد دینا کرتے ہیں ٹوبنو لکھ دیتے ہیں رجسٹری کرا دیتے ہیں تو پھر تمہارا وید بھی اگر کچھ چیز ہے تو کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے دن بیس دن کی مہلت لے لو دیانند کو اپنا مددگار بنا لو ہم کو وہ احکام نکال دو جو ہم نیچے فرقان مجید سے نکال کر لکھیں گے یا یہ اقرار کرو کہ یہ احکام ہمارے نزدیک ناجائز ہیں تب پھر اُن کے ناجائز ہونے کا نمبر وار وید سے حوالہ ضرور دو۔ غرض تم ہمارے ہاتھ سے کہاں بھاگ سکتے ہو اور یہ جو تم محض شرارت سے بارادہ توہین حضرت خاتم الانبیاء کی نسبت بدزبانی کرتے ہو یہ محض تمہاری بداصلی ہے اپنے پرچہ میں بھی تم نے ایسی ایسی اہانت سب پیغمبروں کی نسبت لکھی ہے ہم کو خدا نے یہ شرف بخشا ہے کہ ہم سب پیغمبروں کی تعظیم کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے ہم کو فرمایا ہے نجات سب مخلوقات کی اسلام میں سمجھتے ہیں تم کو اگر حضرت خاتم الانبیاء پر کچھ اعتراض ہے تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جو سب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو ہم تمسک لکھ دیتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا تو ہزار روپیہ ہم تم کو دے دیں گے اور تم ایک تو نموں لکھ دو کہ اگر وہ اعتراض جھوٹا نکلا تو سَو روپیہ بطور حرجانہ تم ہم کو دو گے اور اب اگرہماری یہ تحریر سن کر چپ ہو جاؤ اور اس شرط پر بحث شروع نہ کرو تو ہر ایک منصف سمجھ جائے گا کہ وہ سب توہین تم نے بے ایمانی سے کی ہے۔ اکثر لوگوں کا اکثر قاعدہ ہے کہ آفتاب پر تھوکتے ہو اور بجھا ہوا چراغ لے بیٹھے ہو دنیا کو بڑی چیز سمجھ رکھا ہے کہ موت سے ڈرتے نہیں۔ ورنہ ایسے آفتاب کی توہین کرنا جو نور دنیا کا ہے نری بے ایمانی ہے۔ جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت تو دے کر جاؤ حیران ہو جاتے ہیں… اب ہم نیچے وہ احکام فرقان مجید لکھتے ہیں کہ جن میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ وید میں یہ تمام احکام ضروریہ ہر گز موجود نہیں اس لئے وید ناقص تعلیم ہے اور تم کہتے ہو کہ ہیں اور ہم کہتے ہیں ہرگز نہیں اور لغت اُس شخص پر کہ جھوٹا ہے۔
    اوّل خدا کی نسبت جو احکام فرقان مجید کے ہیں۔ خلاصہ آیات کا نیچے لکھتا ہوں۔
    (۱) تم خدا کو اپنے جسموں اور روحوں کا ربّ سمجھو۔ جس نے تمہارے جسموں کو بنایا اور جس نے تمہاری روحوں کو بنایا۔ وہی تم سب کا خالق ہے اُس میں کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔
    (۲) آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور جتنی نعمتیں زمین آسمان میں نظر آتی ہیں یہ کسی عمل کنندہ کے عمل کی پاداش نہیں۔ محض خدا کی رحمت ہے کسی کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ میری نیکیوں کی عوض میں خدا نے سورج بنایا یا زمین بچھائی یا پانی پیدا کیا۔
    (۳) تو سورج کی پرستش نہ کر تو چاند کی پرستش نہ کر تو آگ کی پرستش مت کر تو پتھر کی پرستش مت کر تو مشتری ستارہ کی مت پوجا کر تو کسی آدم زاد یا کسی اور جسمانی چیز کو خدا مت سمجھ کہ یہ سب چیزیں تیری ہی نفع کے واسطے ہم نے پیدا کی ہیں۔
    (۴) بجز خدا کے کسی چیز کی بطور حقیقی تعریف مت کر کہ سب تعریفیں اُسی کی طرف راجع ہیں بجز اس کے کسی کو اُس کا وسلیہ مت سمجھ کہ وہ تجھ سے تیری رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔
    (۵) تو اس کو ایک سمجھ کہ جس کا کوئی ثانی نہیں تو اس کو قادر سمجھ جو کسی فعل قابل تعریف سے عاجز نہیں تو اُس کو رحیم اور فیاض سمجھ کہ جس کی رحم اور فیض پر کسی عالم کے عمل کو سبقت نہیں۔ دوئم حالت موجودہ دنیا کی مطابق گناہوں کے نسبت۔
    (۱) تو سچ بول اور سچی گواہی دے اگرچہ اپنے حقیقی بھائی پر ہو یا باپ پر ہو یا ماں پر یا کسی اور پیارے پر ہو اور حقانی طرف سے الگ مت ہو۔
    (۲) تو خون مت کر کیونکہ جس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا وہ ایسا ہے کہ جس نے سارے جہان کو قتل کر دیا۔
    (۳) تو اولاد کشی اور دختر کشی مت کر تو اپنے نفس کو آپ قتل مت کر تو کسی کافر و ظالم کا مددگار مت ہو تو زنا مت کر۔
    (۴) تو کوئی ایسا فعل مت کر جو دوسرے کا ناحق باعث آزار ہو۔
    (۵) تو قمار بازی نہ کر تو شراب مت پی تو سود مت لے اور جو اپنے لئے اچھا سمجھتا ہے وہی دوسرے کے لئے کر۔
    (۶) تو نامحرم پر ہرگز آنکھ مت ڈال نہ شہوت سے نہ خالی نظر سے کہ یہ تیرے لئے ٹھوکر کھانے کی جگہ ہے۔
    (۷) تم اپنی عورتوں کو میلوں اور محفلوں میں مت بھیجو اور اُن کو ایسے کاموں سے بچاؤ کہ جہاں وہ ننگی نظر آویں۔ تم اپنی عورتوں کو زیور چھنکاتی ہوئی خوش اور پسند لباس کوچوں اور بازاروں اور میلوں کی سیر سے منع کرو اور اُن کو نامحرموں کی نظر بازی سے بچاتے رہو۔
    تم اپنی عورتوںکو تعلیم دو اور دین اور عقل اور خدا ترسی میں اُن کو پختہ کرو اور اپنے لڑکوں کو علم پڑھاؤ۔
    (۸) تو جب حاکم ہو کر کوئی مقدمہ کرے تو عدالت سے کر اور رشوت مت لے اور جب تو گواہ ہو کر پیش ہو تو سچی سچی گواہی دے دے اور جب تیرے نام حاکم کی طرف سے بغرض ادا کسی گواہی کے حکم طلبی کا صادر ہو تو خبردار حاضر ہونے سے انکار مت کیجیو اور عدولی حکمی مت کریو۔
    (۹) تو خیانت مت کر تو کم وزنی مت کر اور پورا پورا تول تو جنس ناقص کو عمدہ کی جگہ مت بیچ تو جعلی دستاویز مت بنا اور اپنی تحریر میں جعلسازی نہ کر تو کسی پر تہمت مت لگا اور کسی کو الزام مت دے کہ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔
    (۱۰) تو چغلی نہ کر تو گلہ نہ کر تو نمامی مت کر اور جو تیرے دل میں نہیں وہ زبان پر مت لا۔
    (۱۱) تیرے پر تیرے ماں باپ کا حق ہے جنہوں نے تجھے پرورش کیا۔ بھائی کا حق ، محسن کا حق ہے، سچے دوست کا حق ہے، ہمسایہ کا حق ہے، ہم وطنوں کا حق ہے، تمام دنیا کا حق ہے۔ سب سے رتبہ برتبہ ہمدردی سے پیش آ۔
    (۱۲) شرکاء کے ساتھ بدمعاملگی مت کر، یتیموں اور ناقابلوں کے مال کو خوردبرد مت کر۔
    (۱۳) اسقاط حمل مت کر، تمام قسموں زنا سے پرہیز کر کسی عورت کی عزت میں خلل ڈالنے کیلئے اُس پر کوئی بہتان مت لگا۔
    (۱۴) روبخدا ہو اور روبدنیا نہ ہو کہ دنیا ایک گذر جانے والی چیز ہے اور وہ جہاں ابدی جہان ہے بغیر ثبوت کامل کے کسی پر نالائق تہمت مت لگا کہ دلوں اور کانوں اور آنکھوں سے قیامت کے دن مواخذہ ہوگا۔
    (۱۵) کسی سے جبراً کوئی چیز مت چھین اور فرض کو عین وقت پر ادا کر اور اگر تیرا قرضدار نادار ہے تو اُس کو قرض بخش دے اور اگر اتنی طاقت نہیں تو قسطوں سے وصول کر لیکن تب بھی اُس کی وسعت وقت دیکھ لے۔
    (۱۶) کسی کے مال میں لاپروائی سے نقصان مت پہنچا اور نیک کاموں میں مدد دے۔
    (۱۷) اپنے ہمسفر کی خدمت کر اور اپنے مہمان سے تواضع سے پیش آ۔ سوال کرنے والے کو خالی مت پھیر اور ہر ایک جاندار بھوکے پیاسے پر رحم کر۔
    (۱۸) لوگوں کے راز جوئی مت کر اور کسی کے گھر میں بغیر اُس کی اجازت کے اندر مت جا اور کسی شخص کو دھوکہ دینے کی نیت سے کوئی کام مت کر دغا اور فریب اور نفاق سے دور رہ اور ہر ایک شخص سے صفا دلی سے معاملہ کر اور یتیموں اور ہمسایوں اور غریبوں خواہ رشتہ دار ہوں خواہ غیر رشتہ دار ہوں خواہ غیر تعلق والے ہوں اور ساتھ والے مسافروں اور راہ گیروں اور غلاموں پر مہربانی کرو۔ (خاکسار غلام احمد عفی اللہ عنہ)
    ٭٭٭
    ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں کے نام
    ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں سے آسمانی نشان دکھلانے کے متعلق جو خط و کتابت بتوسل حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ہوئی تھی اُس کے متعلق کسی انٹروڈکٹری نوٹ کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اس خط سے پہلے جس کا یہاں درج کرنا مقصود ہے ایک تمہیدی نوٹ لکھ دیا ہے میں اسے ہی درج کر دیتا ہوں۔
    (یعقوب علی)
    ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں کو آسمانی نشانوں کی طرف دعوت میرے مخلص دوست اور للہی رفیق اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب فانی فی ابتغاء مرضات ربانی ملازم و معالج ریاست جموں نے ایک عنایت نامہ مورخہ ۷؍ جنوری ۱۸۹۲ء اس عاجز کی طرف بھیجا ہے٭ اوروہ یہ ہے ۔ خاکسار بابکار نورالدین بحضور خدام والا مقام حضرت مسیح الزمان سلمہ الرحمن السلام علیکم
    ٭ حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرے لکھتا ہوں۔ غور سے پڑھنا چاہئے نہ معلوم کہ کہاں تک رحمانی فضل سے ان کو انشراح صدرو صدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں۔ ’’عالی جناب مرزا جی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو۔ اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے تیار ہوں اگر آپ کے مشن کوانسان خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ نابکار (مگر محب انسان) چاہتا ہے کہ اس کام میں ک ام آوے‘‘۔ تمام کلامہ جزاد اللہ
    حضرت مولوی جو انکسار اور ادب اور ایثار مال و عزت اور جان فشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ اُن کی روح بول رہی ہے۔ درحقیقت ہم اُس وقت سچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اُس کو واپس دیں یا واپس دینے کیلئے تیار ہو جائیں ہماری جان اُس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے کہ الا دوا لا مانات الیح اھلھا
    سر کہ نہ در پائے عزیزش رود
    بار گراں است کشیدن بدوش
    منہ
    ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد بہ کمال ادب عرض پرداز ہے۔ غریب نواز، پریروز ایک عرضی خدمت میں روانہ کی اس کے بعد یہاں جموں میں ایک عجیب طوفان بے تمیزی کی خبر پہنچی جس کو بضرورت تفصیل کے ساتھ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں ازالہ اوہام میں حضور والا نے ڈاکٹر جگن ناتھ کی نسبت ارقام فرمایا ہے کہ وہ گریز کر گئے اب ڈاکٹر صاحب نے بہت سے ایسے لوگوں کو جو اس معاملہ سے آگاہ تھے کہاہے۔ سیاہی سے یہ بات لکھی گئی ہے۔ سرخی سے اس پر قلم پھیر دو۔ میں نے ہرگز گریز نہیں کیا اور نہ کسی نشان کی تخصیص چاہی۔ مردہ کا زندہ کرنا میں نہیں چاہتا اور نہ خشک درخت کا ہرا ہونا۔ یعنی بلا تخصیص کوئی نشان چاہتا ہوں جو انسانی طاقت سے بالا تر ہو۔
    اب ناظرین پر واضح ہو کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے ایک خط میں نشانوں کوتخصیص کے ساتھ طلب کیا تھا جیسے مردہ زندہ کرنا وغیرہ اس پر ان کی خدمت میں خط لکھا گیا کہ تخصیص ناجائز ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے ارادہ اور اپنے مصالح کے موافق نشان ظاہر کرتا ہے اور جب کہ نشان کہتے ہی اس کو ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو تو پھر تخصیص کی کیا حاجت ہے۔ کسی نشان کے آزمانے کے لئے یہی طریق کافی ہے کہ انسانی طاقتیں اُس کی نظیر نہ پیدا کر سکیں۔ اس خط کا جواب ڈاکٹر صاحب نے کوئی نہیں دیا تھا اب پھر ڈاکٹر صاحب نے نشان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور مہربانی فرما کر اپنی اُس پہلی قید کو اُٹھا لیا ہے اور صرف نشان چاہتے ہیں۔ کوئی نشان ہو مگر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو لہٰذا آج ہی کی تاریخ یعنی ۱۱؍ جنوری ۱۸۹۲ء کو بروز دوشنبہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں مکرراً دعوت حق کے طور پر ایک رجسٹری شدہ بھیجا گیا ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ آپ بلاتخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کے لئے تیار ہیں تو اخبارات ۱؎ مندرجہ حاشیہ میں حلفاً یہ اقرار اپنی طرف سے شائع کر دیں کہ میں جو فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں ریاست جموں میں برعہدہ ڈاکٹری متعین ہوں اس وقت حلفاً یہ اقرار صحیح سراسر نیک نیتی اور حق طلبی اور خلوص دل سے کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی تائی دمیں کوئی نشان دیکھوں جس کی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آ جاؤں اور انسانی طاقتوں میں اُس کا کوئی نمونہ اُنہیں تمام لوازم کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا۔ اس اشاعت اور اس اقرار کی اس لئے ضرورت ہے کہ خدائے قیوم و قدوس بازی اور کھیل کی طرح
    ۱؎ پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور اور ناظم الہند لاہور اور اخبار عام لاہور۔ اور نور افساں لودیانہ۱۲
    کوئی نشان دکھلانا نہیں چاہتا جب تک کوئی انسان پوری انکسار و ہدایت یابی کی غرض سے اُس کی طرف رجوع نہ کرے تب تک وہ بنظر رحمت رجوع نہیں کرتا اور اشاعت سے خلوص اور پختہ ارادہ ثابت ہوتا ہے اور چونکہ عاجز نے خدا تعالیٰ کے اعلام سے ایسے نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کے وعدہ پر اشتہار دیا ہے سو وہی میعاد ڈاکٹر صاحب کے لئے قائم رہے گی۔ طالب حق کے لئے یہ کوئی بڑی میعاد نہیں۔ اگر میں ناکام رہا تو ڈاکٹر صاحب جو سزا اور تاوان میری مقدرت کے موافق میرے لئے تجویز کریں وہ مجھے منظور ہے اور بخدا مجھے مغلوب ہونے کی حالت میں سزائے موت سے بھی کچھ عذر نہیں۔
    ہماں بہ کہ جاں در رہ او فشانم
    جہاں را چہ نقاں اگر من نہ مانم
    والسلام علی من اتبع الھدی
    ٭٭٭
    بنام پنڈت لیکھرام آریہ مسافر
    اصل خط نہیں ملا صرف اس خط کے اقتباس لیکھرام کی تکذیب سے لئے ہیں۔ اس لئے ان کو ہی مفصل درج کر دیا جاتا ہے بہرحال اس اقتباس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا لکھا ہوگا۔ (ایڈیٹر)
    پہلے اشتہار میں … (۲۴۰۰) دینے کا وعدہ ضرور ہوا ہے مگر پیشگی جمع کر دینے کی شرط نہیں کی تھی چونکہ آپ نے میرے وعدہ کو معتبر نہ سمجھا اور یہ زائد شرط لگائی کہ زرِ معہودہ کسی بنک سرکاری میں جمع کر دیا جائے اس صورت میں میرے لئے بر خلاف اس اشتہار کے استحقاق پیدا ہو گیا کہ چوبیس سَو روپیہ بالمقابل پیشگی امانت رکھاؤں۔
    اخیر پر آپ اس قسم کے نشانوں کو قبول کرتے ہیں کہ ستاروں، آفتاب و ماہتاب کے تغیر و تبدل وغیرہ پر مشتمل ہوں۔
    پنڈت صاحب! ہمارا یہ کام ہرگز نہیں کہ ہم جس طور سے کوئی شخص زمین و آسمان میں انقلاب پیدا کرنا چاہے اس طور سے انقلاب کر کے دکھا دیں۔ ہم صرف بندہ مامور ہیں ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور پر کا نشان ظاہر کرے گا۔ ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ نشان اس شے کا نام ہے کہ انسانی طاقت سے بالاتر ہو ہمارا دعویٰ صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ صرف ایسا نشان دکھائے گا جس کے مقابلہ سے انسانی طاقتیں عاجز ہوں۔
    لفظ نشان کو اپنی اصطلاح میں معجزہ قرار دے کر یہ تعریف لکھتے ہو کہ اس کے مقابلہ سے انسانی طاقتیں عاجز ہوں تو واقعی یہ معنی معجزہ کے درست ہیں کہ مشاہدیں فوراً عاجز ہو کر مشاہدہ کرانے والے پر ایمان لاویں اور دور تک مؤثر ہووے۔ غرضیکہ اظہر من الشمس ہونا چاہئے۔
    خاکسار
    مرزا غلام احمد
    از قادیان
    (۳۱؍ جولائی ۱۸۸۵ء)
    ٭٭٭
    مینیجر گروکل گوجرانوالہ کے نام
    فروری ۱۹۰۷ء کو گوجرانوالہ گروکل کے مینیجر کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں متواتر خطوط وہاں کی مذہبی کانفرنس میں شمولیت کیلئے آئے یہ کانفرنس آریوں کی طرف سے قرار پائی تھی۔ اس کانفرنس میں مختلف مذہب کے لیڈروں کو مدعو کیا گیا تھا اور ہر ایک کے لئے نصف گھنٹہ مقرر کیا تھا کہ وہ تقریر کریں نصف گھنٹہ میں مذہب جیسی چیز کا فیصلہ آریوں کے نزدیک آسان ہو تو یہ امر دیگر ہے لیکن جو شخص مذہب کی حقیقت اور صداقت کو کھول کر بیان کرنا چاہتا ہو اس کے لئے یہ ہنسی کی بات ہے۔بہرحال وہاں کے مینیجر صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں متواتر خطوط لکھے اور وقت کی توسیع کے لئے جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے یہی کہا کہ آپ جلسہ مذاہب میں ضرور تشریف لاویں سب کے واسطے نصف گھنٹہ مقرر کیا ہے اور ایک عالم کے واسطے یہ وقت کافی ہے اس خط کا جواب حضرت اقدس نے مفتی صاحب (برادرم محمد صادق) کو زبانی فرما دیا کہ یہ لکھ دو۔ چنانچہ مفتی صاحب نے وہ خط لکھ دیا۔ چونکہ یہ حضرت اقدس ہی کی طرف سے ہے اور حضرت ہی کے کلمات ہیں اس لئے اس کو درج کیا جاتا ہے۔ (ایڈیٹر)
    ٭٭٭
    جناب مینیجر صاحب گروکل گوجرانوالہ تسلیم
    آپ کا دوسرا خط حضرت کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ظاہر کیا ہے کہ آپ نصف گھنٹہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے اور کہ ایک عالم کے واسطے بہ سبب اس کے علم کے اتنا وقت کافی ہے۔ بجواب گزارش ہے کہ حضرت فرماتے ہیں:
    کہ اہم مذہبی امور پر گفتگو کرنے کے واسطے اتنا تھوڑا وقت کسی صورت میں کافی نہیں ہو سکتا۔ اس واسطے ہم ایسی مجلس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کم از کم تین گھنٹہ وقت ہمارے مضمون کے واسطے رکھتے تو ممکن تھا کہ ہم خود جاتے یا اپنا کوئی فاضل دوست اپنا مضمون دے کر بھیج دیتے ہم کسی طرح سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایسے مضامین عالیہ میں صرف آدھ گھنٹے کی تقریر کافی ہے ہم رسوم کے پابند نہیں بلکہ ہم پابند احقاق حق ہیں۔ باقی آپ کا یہ فرمانا کہ بڑے عالم کے واسطے نصف گھنٹہ ہی کافی ہے مجھے تعجب ہے کہ یہ بات آپ کیونکر درست قرار دیتے ہیں جب کہ آپ کے وید مقدس لکھنے والوں نے اپنی باتوں کو ختم نہ کیا جب تک کہ وہ ایک گدھے کے بوجھ کے برابر ہوگئے تو پھر آپ ہم سے یہ امید کیونکر رکھتے ہیں۔ ایک نکتہ معرفت کاقبل از تکمیل گلا گھونٹا درحقیقت سچائی کا خون کرنا ہے جس کو کوئی راستباز پسند نہ کرے گا۔ اگر علم و فضل کا معیار حد درجہ کے اختصار اور تھوڑے وقت میں ہوتا تو چاہئے کہ وید صرف چند سطروں میں ختم ہو جاتا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس تھوڑے وقت نے مجھے اس اشتراک سے محروم رکھا کیا خدا تعالیٰ کی ذات صفات کی نسبت کچھ بیان کرنا اور پھر روح اور مادہ میں جو کچھ فلاسفی مخفی ہے اس کو کھولنا آدھ گھنٹہ کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ لفظ ہی سوء ادب میں داخل ہے۔
    جن لوگوں کو محض شراکت کا فخر حاصل کرنا مقصود ہے وہ جو چاہیں کریں مگر ایک محقق ناتمام تقریر پر خوش نہیں ہو سکتا۔ سچائی کو ناتمام چھوڑنا ایسا ہے جیسا کہ بچہ اپنے پورے دنوں سے پہلے پیٹ سے ساقط ہو جائے۔ آئندہ آپ کا جو اختیار ہے۔
    خادم مسیح موعود علیہ السلام
    محمد صادق عفی اللہ عنہ
    (۱۷؍ فروری ۱۹۰۷ء)
    ٭٭٭
    سوامی دیانند سرستی کے نام اعلان
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مضمون ابطال تناسخ پر بوعدہ انعام پانچ سَو روپیہ لکھ کر رسالہ ہندو باندھو لاہور میں چھپوایا تھا۔ سوامی دیانند صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مباحثہ کی دعوت دی اور تین آریوں کی معرفت پیام بھی بھیجا۔ حضرت مسیح موعود نے پسند نہ کیا کہ یہ کارروائی مخفی رہے۔ اس لئے سوامی جی کی دعوت مباحثہ کا جواب بذریعہ ایک چھپے ہوئے اعلان کے جو بمنزلہ کھلی چٹھی تھا دے دیا۔ اس کو میں یہاں درج کرتا ہوں اور اس لحاظ سے کہ ناظرین پورا لطف اُٹھا سکیں اس سے پہلے وہ مضمون درج کر دیا جاتا ہے تا کہ جہاں ایک طرف ریکارڈ مکمل ہو جاوے وہاں ناظرین کو اصل کیفیت کے سمجھنے میں سہولت ہو اس اعلان کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کو اعلائے کلمۃ الاسلام کے لئے ایک خاص جوش بخشا گیا تھا اور آپ کسی ایسے موقعہ کو ہاتھ سے نہیں دیتے تھے یہ اعلان ۱۸۷۸ء کا ہے گویا آج سے قریباً ۳۵ سال پہلے کی بات ہے جب کہ نہ کوئی دعویٰ تھا نہ جماعت تھی ہاں خدا تعالیٰ کی تائید آپ کے ساتھ تھی اور وہ ابتدائی وقت تھا جب کہ خدا تعالیٰ کا کلام آپ پر نازل ہو رہا تھا۔ بہرحال وہ مضمون اعلان حسبِ ذیل ہے۔ (ایڈیٹر)

    ابطال تناسخ ومقابلہ وید و فرقان
    اعلان متعلقہ مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ وید و فرقان مع اشتہار پانچ سَو روپیہ جو پہلے بھی بہ مباحثہ باوا صاحب مشتہر کیا گیا تھا۔
    ناظرین انصاف آئین کی خدمت بابرکت میں واضح ہو کہ باعث مشتہر کرنے اس اعلان کا یہ ہے کہ عرصہ چند روز کا ہوا ہے کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب ممبر آریہ سماج امرتسر قادیان میں تشریف لائے اور مستدعی بحث کے ہوئے۔ چنانچہ حسب خواہش ان کے دربارہ تناسخ اور مقابلہ وید و قرآن کے گفتگو کرنا قرار پایا۔ برطبق اس کے ہم نے ایک مضمون جو اس اعلان کے بعد میں تحریر ہوگا ابطال تناسخ میں اس التزام سے مرتب کیا کہ تمام دلائے اس کے قرآن مجید سے لئے گئے اور کوئی بھی ایسی دلیل نہ لکھی جس کا ماخذ اور منشاء قرآن مجید نہ ہو اور پھر مضمون جلسہ عام میں پنڈت صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا تا کہ پنڈت صاحب بھی حسب قاعدہ ملتزمہ ہمارے کے اثبات تناسخ میں وید کی شرتیاں پیش کریں اور اس طور سے مسئلہ تناسخ کا فیصلہ پا جائے اور وید اور قرآن کی حقیقت بھی ظاہر ہو جائے کہ ان میں سے کون غالب اور کون مغلوب ہے اس پر پنڈت صاحب نے بعد سماعت تمام مضمون کے دلائل وید کے پیش کرنے سے عجز مطلق ظاہر کیا اور صرف دو شرتیاں رگوید سے پیش کیں کہ جن میں اُن کے زعم میں تناسخ کا ذکر تھا اور اپنی طاقت سے بھی کوئی دلیل پیش کردہ ہماری کو ردّ نہ کر سکے حالانکہ اُن پر واجب تھا کہ بمقابلہ دلائل فرقانی کے اپنے وید کا بھی کچھ فلسفہ ہم کو دکھلانے اور اس دعویٰ کو جو پنڈت دیانند صاحب مدت دراز سے کر رہے ہیں کہ وید سرچشمہ تمام علوم فنون کا ہے ثابت کرتے لیکن افسوس کہ کچھ بھی نہ بول سکے اور دم بخود رہ گئے او رعاجز لاچار ہو کر اپنے گاؤں کی طرف سدھار گئے۔ گانوں میں جا کر پھر ایک مضمون بھیجا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ابھی بحث کرنے کا شوق باقی ہے اور مسئلہ تناسخ میں مقابلہ وید اور قرآن کا بذریعہ کسی اخبار چاہتے ہیں سو بہت خوب ہم پہلے ہی تیار ہیں۔ مضمون ابطال تناسخ جس کو ہم جلسہ عام میں گوش گزار پنڈت صاحب موصوف کر چکے ہیں وہ تمام مضمون دلائل و براہین قرآن مجید سے لکھا گیا ہے اور جا بجا آیات فرقانی کا حوالہ ہے۔ پنڈت صاحب پر لازم ہے کہ مضمون اپنا دلائل بید سے بمقابلہ مضمون ہمارے کے مرتب کیا ہو۔ پرچہ سفیر ہند یا برادر ہند یا آریا درپن میں طبع کراویں۔ پھر آپ ہی دانا لوگ دیکھ لیں گے اور بہتر ہے کہ ثالث اور منصف اس مباحثہ تنقیح فضیلت وید اور قرآن میں دو شریف اور فاضل آدمی مسیحی مذہب اور برہمو سماج سے جو فریقین کے مذہب سے بے تعلق ہیں مقرر کئے جاویں سو میری دانست میں ایک جناب پادری رجب علی صاحب جو خوب محقق مدقق ہیں اور دوسرے جناب پنڈت شیونرائن صاحب جو برہمو سماج میں اہل علم اور صاحب نظر دقیق ہیں۔ فیصلہ اس امر متنازعہ فیہ میں حَکَم بننے کے لئے بہت اولیٰ اور انسب ہیں اس طور سے بحث کرنے میں حقیقت میں چار فائدے ہیں اوّل یہ کہ بحث تناسخ کی یہ تحقیق تمام فیصلہ پا جائے گی دوم اس موازنہ اور مقابلہ سے امتحان وید اور قرآن کا بخوبی ہو جائے گا اور بعد مقابلہ کے جو فرق اہل انصاف کی نظر میں ظاہر ہوگا وہی فرق قول فیصل متصور ہوگا۔ سوم یہ فائدہ کہ اس التزام سے ناواقف لوگوں کو عقائد مندرجہ وید اور قرآن سے بکلی اطلاع ہو جائے گی۔ چہارم یہ فائدہ کہ بحث تناسخ کی کسی ایک شخص کی رائے خیال نہیں کی جائے گی بلکہ محول بہ کتاب ہو کر اور معتاد طریق سے انجام پکڑ کر قابل تشکیک اور تزئیف نہیں رہے گی اور اس بحث میں یہ کچھ ضرور نہیں کہ صرف پنڈت کھڑک سنگھ صاحب تحریر جواب کے تن تنہا محنت اُٹھائیں بلکہ میں عام اعلان دیتا ہوں کہ صاحبان مندرجہ عنوان مضمون ابطال تناسخ جو ذیل میں تحریر ہوگا کوئی صاحب ارباب فضل و کمال میں سے متصدی جواب ہوں اور اگر کوئی صاحب بھی باوجود اس قدر تاکید مزید کے اس طرح متوجہ نہیں ہونگے اور دلائل ثبوت تناسخ کے فلسفہ متدعویہ وید سے پیش کریں گے یا در صورت عاری ہونے وید کے ان دلائل سے اپنی عقل سے جواب نہیں دیں گے تو ابطال تناسخ کی ہمیشہ کے لئے ان پر ڈگری ہو جائے گی اور نیز دعویٰ وید کا کہ گویا ہو تمام علوم فنون پر متضمن ہے محض بیدلیل اور باطل ٹھہرے گا اور بالآخر بغرض توجہ دہانی یہ بھی گزارش ہے کہ میں نے جو قبل اس سے فروری ۱۸۷۸ء میں ایک اشتہار تعدادی پانچ سَو روپیہ بابطال مسئلہ تناسخ دیا تھا وہ اشتہار اب اس مضمون سے بھی بعینہٖ متعلق ہے۔ اگر پنڈت کھڑک سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب ہمارے تمام دلائل کو نمبروار جواب دلائل مندرجہ وید سے دے کر اپنی عقل سے توڑیں گے تو بلاشبہ رقم اشتہار کے مستحق ٹھہریں گے اور بالخصوص بخدمت پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کہ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم پانچ منٹ میں جواب دے سکتے ہیں یہ گزارش ہے کہ اب اپنی اُس استعداد علمی کو روبروئے فضلاء نامدار ملت مسیحی و برہمو سماج کے دکھلاویں اور جو جو کمالات اُن کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں منصہ ظہور میں لاویں اور نہ عوام کالانعام کے سامنے دم زنی کرنا صرف لاف گزاف ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اب میں ذیل میں مضمون موعودہ لکھتا ہوں۔
    مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ فلسفہ وید و قرآن جس کے طلب جواب میں صاحبان فضلاء آریہ سماج یعنی پنڈت کھڑک سنگھ صاحب، سوامی پنڈت دیانند صاحب، جناب باوا نرائن سنگھ صاحب، جناب منشی کنہیا لال صاحب، جناب منشی بختاورسنگھ صاحب۔ ایڈیٹر آریہ درپن، جناب بابو ساروا پرشاد صاحب، جناب منشی شرم پت صاحب سیکرٹری آریہ سماج قادیان، جناب منشی اندر من صاحب مخاطب ہیں بوعدہ انعام پانچ سَو روپیہ۔
    آریا صاحبان کا پہلا اصول جو مدار تناسخ ہے یہ ہے کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور سب ارواح مثل پرمیشور کے قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشور ہیں میں کہتا ہوں کہ یہ اصول غلط ہے اور اس پر تناسخ کی ٹپڑی جمانا بنیاد فاسد پر فاسد ہے۔ قرآن مجید کہ جس پر تمام تحقیق اسلام کی مبنی ہے اور جس کے دلائل کو پیش کرنا بغرض مطالعہ دلائل وید اور مقابلہ باہمی فلسفہ مندرجہ وید اور قرآن ہم وعدہ کر چکے ہیں ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ وہ دلائل بہ تفصیل ذیل ہیں۔
    دلیل اوّل جو برہان لمی ہے یعنی علت سے معلول کی طرف دلیل گئی ہے دیکھو سورہ رعد الجزو۱۳۔ اللّٰہ خالق کل شئی وھو الواحد القہار یعنی خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے یعنی سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے یہ دلیل بذریعہ شکل اوّل کے جو بدیہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغریٰ اس کا یہ ہے جو خداواحد اور قہار ہے اور کبریٰ یہ کہ ہر ایک جو واحد اور قہار ہو وہ تمام موجودات ماسوائے اپنے کا، خالق ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو خدا تمام مخلوقات کا خالق ہے اثبات قضیہ اولیٰ یعنی صغریٰ کا اس طور سے ہے کہ واحد اور قہار ہونا خدا تعالیٰ کا اصول مسئلہ فریق ثانی بلکہ دنیا کا اصول ہے اور اثبات قضیہ ثانیہ یعنی مفہوم کبریٰ کا اس طرح پر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ باوصف واحد اور قہار ہونے کے وجود ماسوائے اپنے کا خالق نہ ہو بلکہ وجود تمام موجودات کا مثل اس کے قدیم سے چلا آتا ہو تو اس صورت میں وہ واحد اور قہار بھی نہیں ہو سکتا۔ واحد اس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ واحدانیت کے معنی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ شرکت غیر سے بکلی پاک ہو اور جب خدا تعالیٰ خالق ارواح نہ ہو تو اس سے دو طور کا شرک لازم آیا۔ اوّل یہ کہ سب ارواح غیر مخلوق ہوکر مثل اس کے قدیم الوجود ہوگئے۔ دوم یہ کہ ان کے لئے بھی مثل پروردگار کے ہستی حقیقی ماننی پڑے۔ جو مستفاض عن الغیر نہیں پس اسی کا نام شرکت بالغیر ہے اور شرک بالغیر ذات باری کا بہ بداہت عقل باطل ہے کیونکہ اس سے شریک الباری پیدا ہوتا ہے اور شریک الباری ممتنع اور محال ہے۔ پس جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہے اور قہار اِس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ صفت قہاری کے یہ معنی ہیں کہ دوسروں کو اپنے ماتحت میں کر لینا اور اُن پر قابض اور متصرف ہو جانا سو غیر مخلوق اور روحوں کو خدا اپنے ماتحت نہیں کر سکتا کیونکہ جو چیزیں اپنی ذات میں قدیم اور غیر مصنوع ہیں وہ بالضرورت اپنی ذات میں واجب الوجود ہیں اس لئے کہ اپنی تحقیق وجود میں دوسرے کسی علت کے محتاج نہیں اور اسی کا نام واجب ہے جس کو فارسی میں خدا یعنی خود آئندہ کہتے ہیں۔ پس جب ارواح مثل ذات باری تعالیٰ کے خدا اور واجب الوجود ٹھہرے تو اُن کا باری تعالیٰ کے ماتحت رہنا عندالعقل محال اور ممتنع ہوا کیونکہ ایک واجب الوجود دوسرے واجب الوجود کے ماتحت نہیں ہو سکتا۔ اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے۔ لیکن حال واقعہ جو مسلم فریقین ہے یہ ہے کہ سب ارواح خدا تعالیٰ کے ماتحت ہیں کوئی اُس کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب حادث اور مخلوق ہیں کوئی ان میں سے خدا اور واجب الوجود نہیں اور یہی مطلب تھا۔
    دلیل دوم جو اِنّی ہے یعنی معلول سے علت کی طرف دلیل لی گئی ہے دیکھو سورۃ الفرقان جزو۱۸ لم یکن لہ شریک فی الملک و خلق کل شئی فقدرہ تقدیرا یعنی اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ سب کا خالق ہے اور اُس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جن سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی۔ بلکہ اُسی اندازہ میں محصور اور محدود ہے اس کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر اور محدود ضرور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاضر اور محددہے۔ اب اثبات قضیہ اولیٰ کا یعنی محدود القدرہونے اشیاء کا اس طرح پر ہے کہ جمیع اجسام اور ارواح میں جو جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اُن خواص سے زیادہ خواص اُن میں پائے جاتے ہیں مثلاً انسان کی دو آنکھیں ہیں اور عندالعقل ممکن تھا کہ اُس کی چار آنکھیں ہوتیں دو منہ کی طرف اور دو پیچھے کی طرف تا کہ جیسا آگے کی چیزوں کو دیکھتا ہے ویسا ہی پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتا اور کچھ شک نہیں کہ چار آنکھ کا ہونا بہ نسبت دو آنکھ کے کمال میں زیادہ اور فائدہ میں دو چند ہے اور انسان کے پَر نہیں اور ممکن تھا کہ مثل اور پرندوں کے اُس کے پَر بھی ہوتے اور علی ہذا القیاس نفس ناطقہ انسانی بھی ایک خاص درجہ میں محدود ہے جیسا کہ وہ بغیر تعلیم کسی معلم کے خود بخود مجہولات کو دریافت نہیں کر سکتا۔ قاسر خارجی سے کہ جیسے جنون یا مخموری ہے سالم الحال نہیں رہ سکتا بلکہ فی الفور اس کی قوتوں اور طاقتوں میںتنزل واقع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بذاتہ ادراک جزئیات نہیں کرسکتا کہ اس کو شیخ محقق بوعلی سینا نے نمط سابع اشارات میں بتصریح لکھا ہے حالانکہ عندالعقل ممکن تھا کہ ان سب آفات اور عیوب سے بچا ہوا ہوتا۔ پس جن جن مراتب اور فضائل کو انسان اور اُس کی روح کے لئے عقل تجویز کر سکتی ہے وہ کس بات سے ان مراتب سے محروم ہے۔ آیا تجویز کسی اور مجوز سے یا خود اپنی رضامندی سے اگر کہو کہ اپنی رضا مندی سے تو یہ صریح خلاف ہے۔ کیونکہ کوئی شخص اپنے حق میں نقص روا نہیں رکھتا اور اگر کہو کہ تجویز کسی اور مجوز سے تو مبارک ہو کہ وجود خالق ارواح اور اجسام کا ثابت ہو گیا اور یہی مدعا تھا۔
    دلیل سوم قیاس الخلف ہے اور قیاس الخلف اُس قیاس کانام ہے جس میں اثبات مطلوب کا بذریعہ ابطال نقیض اُس کے کیا جاتا ہے اور اس قیاس کا علم منطق میں خلف اس جہت سے کہتے ہیں کہ خلف لغت میں بمعنی باطل کے ہیں اور اسی طرح اس قیاس میں اگر مطلوب کو کہ جس کی حقیقت کا دعویٰ ہے سچا نہ مان لیا جاوے تو نتیجہ ایسا نکلے گا جو باطل کو مستلزم ہوگا اور قیاس مذکورہ یہ ہے دیکھو سورہ الطور الجزو ۲۷۔ ام خلقوا من غیر شی ام ھم الخلقون۔ ام خلقوا السموات والارض لایقنون۔ ام عندھم خزائن ربک ام ھم المصیطرون۔ یعنی کیا یہ لوگ جو خالقیت خدا تعالیٰ سے منکر ہیں بغیر پیدا کرنے کسی خالق کے یوں ہی پیدا ہوگئے یا اپنے وجود کو آپ ہی پیدا کر لیا یا خود علت العلل ہیں جنہوں نے زمین و آسمان پیدا کیا یا ان کے پاس غیر متناہی خزانے علم اور عقل کے ہیں جن سے اُنہوں نے ان سے معلوم کیا کہ ہم قدیم الوجود ہیں یا وہ آزاد ہیں اور کسی کے قبضہ قدرت میں مقہور نہیں ہیں یہ گمان ہو کہ جب کہ ان پر کوئی غالب اور قہار ہی نہیں تو وہ اُن کا خالق کیسے ہو۔ اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہر پنج شقوں قدامت ارواح کہ اس طرز مدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اُس شق کا فی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اوّل یعنی ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خود بخود پیدا ہو جانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجح لازم آتی ہے کیونکہ عدم سے وجود کا لباس پہننا ایک مؤثر مرجح کو چاہتا ہے جو جانب وجود کو جانب عد م پر ترجیح دی لیکن اس جگہ کوئی مؤثر مرجح موجود نہیں اور بغیر وجود مرجح کے خود بخود ترجیح پیدا ہو جانا محال ہے۔
    اور شق دوم یعنی اپنے وجود کا آپ ہی خالق ہونا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے تقدم شے کا اپنے نفس پر لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر ایک شے کے وجود کی علت موجبہ اُس شے کا نفس ہے تو بالضرورت یہ اقرار اس اقرار کو مستلزم ہوگا کہ وہ سب اشیاء اپنے وجود سے پہلے موجود تھیں اور وجود سے پہلے موجود ہونا محال ہے۔
    اور شق سوم یعنی ہر ایک شے کا مثل ذات باری کے علت العلل اور صانع عالم ہونا تعدد خداؤں کو مستلزم ہے اور تعدد خداؤں کا بالاتفاق محال ہے اور نیر اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی محال ے۔ اور شق چہارم یعنی محیط ہونا نفس انسان کا علوم غیر متناہی پر اس دلیل سے محال ہے کہ نفس انسانی باعتبار تعین تشخیص خارجی کے متناہی ہے اور متناہی میں غیر متناہی سما نہیں سکتا۔ اس سے تحدید غیر محدود کی لازم آتی ہے۔
    اور شق پنجم یعنی خود مختار ہونا اور کسی کے حکم کے ماتحت ہونا ممتنع الوجود ہے کیونکہ نفس انسان کا بضرورت استکمال ذات اپنی کے ایک مکمل کا محتاج ہے اور محتاج کا خود مختار ہونا محال ہے۔ اس سے اجتماع نقیضین لازم آتا ہے۔پس جب کہ بغیر ذریعہ خالق کے موجود ہونا موجودات کا بہرصورت ممتنع اور محال ہوا تو بالضرور یہی ماننا پڑا کہ تمام اشیاء موجودہ محدودہ کاایک خالق ہے جو ذات باری تعالیٰ ہے اور شکل اس قیاس کی جو ترتیب مقدمات صغریٰ کبریٰ سے باقاعدہ منطقیہ مرتب ہوتی ہے اس طرح ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ قضیہ فی نفسہِ صادق ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر صادق نہیں ہے تو پھر اس کی نقیض صادق ہوگی کہ ہر ایک شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے وجود پکڑ سکتی ہے اور یہ دوسرا قضیہ ہماری تحقیقات مندرجہ بالا میں ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ وجود تمام اشیاء ممکنہ کا بغیر ذریعہ واجب الوجود کے محالات خمسہ کو مستلزم ہے۔ پس اگر یہ قضیہ حیح نہیں ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہو سکتی تو یہ قضیہ صحیح ہوگا کہ وجود تمام اشیاء کو محالات خمسہ لازم ہیں لیکن وجود اشیاء کا باوصف لزوم محالات خمسہ کے ایک امر محال ہے۔ پس نتیجہ نکلا کہ کسی شے کا بغیر واجب الوجود کے موجود ہونا امر محال ہے۔ اور یہی مطلوب تھا۔
    دلیل چہارم قرآن مجید میں بذریعہ مادۂ قیاس اقترانی قائم کی گئی ہے۔ جاننا چاہئے کہ قیاس حجت کی تین قسموں میں سے پہلی قسم ہے اور قیاس اقترانی وہ قیاس ہے کہ جس میں عین نتیجہ کا یا نقیض اس کی بالفعل مذکور نہ ہو بلکہ بالقوہ پائی جائے اور اقترانی اس جہت سے کہتے ہیں کہ حدود اس کے یعنی اصغر اور اوسط اور اکبر مقترن ہوتی ہیں اور بالعموم قیاس حجت کے تمام اقسام سے اعلیٰ اور افضل ہے کیونکہ اس میں کلی کے حال سے جزئیات کے حال پر دلیل پکڑی جاتی ہے کہ جو بباعت استیفاتام کے مفید یقین کامل کے ہے پس وہ قیاس کہ جس کی اتنی تعریف ہے اس آیت شریفہ میں درج ہے اور ثبوت خالقیت باری تعالیٰ میں گواہی دے رہا ہے دیکھو سورہ الحشر جزو ۲۸۔ ھواللّٰہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی۔ وہ اللہ خالق ہے یعنی پیدا کنندہ ہے وہ باری ہے یعنی روحوں اور اجسام کو عدم سے وجود بخشنے والا ہے۔ وہ مصور ہے یعنی صورت جسمیہ اور صورت نوعیہ عطا کرنے والا ہے کیونکہ اس کے لئے تمام اسماء حسنہ ثابت ہیں۔ یعنی جمیع صفات کاملہ جو باعتبار کمال قدرت کے عقل تجویز کر سکتی ہے اُس کی ذات میں جمع ہیں لہٰذا نیست سے ہست کرنے پر بھی وہ قادر ہے کیونکہ نیست سے ہست کرنا قدرتی کمالات سے ایک اعلیٰ کمال ہے اور ترتیب مقدمات اس قیاس کی بصورت شکل اوّل کے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشنا ایک کمال ہے اور سب کمالات ذات کامل واجب الوجود کو حاصل ہیں۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ نیست سے ہست کرنے کاکمال بھی ذات باری کو حاصل ہے۔ ثبوت مفہوم صغری کا یعنی اس بات کا کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنا ایک کمال ہے اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنی یہ امر کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنے میں عاجز ہونا جب تک باہر سے کوئی مادہ آ کر معاون و مددگار نہ ہو ایک بھاری نقصان ہے۔ کیونکہ اگر ہم یہ فرض کریں کہ مادہ موجودہ سب جا بجا خرچ ہوگیا تو ساتھ ہی یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اب خدا پیدا کرنے سے قطعاً عاجز ہے حالانکہ ایسا نقص اُس ذات غیر محدود اور قادر مطلق پر عائد کرنا گویا اس کی الوہیت سے انکار کرنا ہے۔
    سوائے اس کے علم الہٰیات میں یہ مسئلہ بدلائل ثابت ہوچکا ہے کہ مستجمع الکمالات ہونا واجب الوجود کا تحقیق الوہیت کے لئے شرط ہے یعنی یہ لازم ہے کہ کوئی مرتبہ کمال کا مراتب ممکن التصور سے جو ذہن اور خیال میں گذر سکتا ہے اس ذات کامل سے فوت نہ ہو پس بلاشبہ عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ کمال الوہیت باری تعالیٰ کا یہی ہے کہ سب موجودات کا سلسلہ اسی کی قدرت تک منتہی ہو نہ یہ کہ صفت قدامت اور ہستی حقیقی کے بہت سے شریکوں میں بٹی ہوئی ہو اور قطع نظر ان سب دلائل اور براہین کے ہر ایک سلیم الطبع سمجھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کام بہ نسبت ادنیٰ کام کے زیادہ تر کمال پر دلالت کرتا ہے۔ پس جس صورت میں تالیف اجزاء عالم کمال الٰہی میں داخل ہے تو پھر پیدا کرناعالم کا بغیر احتیاج اسباب کے جو کروڑ ہا درجہ زیادہ تر قدرت پر دلالت کرتا ہے کس قدر اعلیٰ کمال ہوگا۔ پس صغری اس شکل کا بوجہ کامل ثابت ہوا اور ثبوت کبری کا یعنی اس قضیہ کا کہ ہر ایک کمال ذات باری کو حاصل ہے اس طرح پر ہے کہ اگر بعض کمالات ذات باری کو حاصل نہیں تو اس صورت میں یہ سوال ہوگا کہ محرومی ان کمالات سے بخوشی خاطر ہے یا بہ مجبوری ہے۔ اگر کہو کہ بخوشی خاطر ہے تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ کوئی شخص اپنی خوشی سے اپنے کمال میں نقص روا نہیں رکھتا اور نیز جب کہ یہ صفت قدیم سے خدا کی ذات سے قطعاً مفقود ہے تو خوشی خاطر کہاں رہی اور اگر کہو کہ مجبوری سے تو وجود کسی اور قاسر کا ماننا پڑا کہ جس نے خدا کو مجبور کیا اور نفاذ اختیارات خدائی سے اس کو روکا یا یہ فرض کرنا پڑا کہ وہ قاسر اس کا اپناہی ضعف اور ناتوانی ہے کوئی خارجی قاسر نہیں بہرحال وہ مجبور ٹھہرا تو اس صورت میں وہ خدائی کے لائق نہ رہا۔ پس بالضرورت اس سے ثابت ہوا کہ خداوند تعالیٰ داغ مجبوری سے کہ بطلان الوہیت کو مستلزم ہے پاک اور منزہ ہے اور صفت کاملہ خالقیت اور عدم سے پیدا کرنے کی اس کو حاصل ہے اور یہی مطلب تھا۔
    دلیل پنجم فرقان مجید میں خالقیت باری تعالیٰ پر بمادہ قیاس استثنائی قائم کی گئی ہے اور قیاس استثنائی اس قیاس کو کہتے ہیں کہ جس میں عین نتیجہ یا نقیض اس کی بالفعل موجود ہو اور دو مقدموں سے مرکب ہو یعنی ایک شرطیہ اور دوسرے وضیعہ سے۔ چنانچہ آیت شریف جو اس قیاس پر متصمن ہے یہ ہے دیکھو سورہ الزم جزو ۲۳۔ یخلقکم فی بطون امھتکم خلقاً من بعد خلق فی ظلمات ثلاث ذالکم اللّٰہ ربکم یعنی وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین اندھیرے پردوں میں پیدا کرتا ہے اس حکمت کاملہ سے کہ ایک پیدائش اور قسم کی اور ایک … اور قسم کی بناتا ہے یعنی ہر عضو کو صورت مختلف اور خاصیتیں اور طاقتیں الگ الگ بخشتا ہے یہاں تک کہ قالب بیجان میں جان ڈال دیتا ہے نہ اس کو اندھیرا کام کرنے سے روکتا ہے اور نہ مختلف قسموں اور خاصیتوں کے اعضا بنانا اُس پر مشکل ہوتا ہے اور نہ سلسلہ پیدائش کے ہمیشہ جاری رکھنے میں اس کو کچھ دقت اور حرج واقعہ ہوتا ہے۔ ذالکم اللّٰہ ربکم وہی جو ہمیشہ اس سلسلہ قدرت کو برپا اور قائم رکھتا ہے وہی تمہارا ربّ ہے۔ یعنی اسی قدرت تامہ سے اس کی ربوبیت تامہ جو عدم سے وجود اور وجود سے کمال وجود بخشنے کو کہتے ہیں ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ربّ الاشیاء نہ ہوتا اور اپنی ذات میں ربوبیت تامہ نہ رکھتا اور صرف مثل ایک بڑھئی یا کاریگر کے اِدھر اُدھر سے لے کر گزارہ کرتا تو اس کو قدرت تام ہرگز حاصل نہ ہوتی اور ہمیشہ اور ہر وقت کامیاب نہ ہو سکتا بلکہ کبھی نہ کبھی ضرور ٹوٹ آ جاتی اور پیدا کرنے سے عاجز رہ جاتا۔ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ جس شخص کا فعل ربوبیت تامہ سے نہ ہو یعنی از خود پیدا کنندہ نہ ہو اس کو قدرت تامہ مخفی حاصل نہیں ہو سکتی لیکن خدا کو قدرت تامہ حاصل ہے کیونکہ قسم قسم کی پیدائش بنانا اور ایک بعد دوسرے کے بلاتخالف ظہور میں لانا اور کام کو ہمیشہ برابر چلانا قدرت تامہ کی کامل نشانی ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کو ربوبیت تامہ حاصل ہے اور درحقیقت وہ ربّ الاشیاء ہے نہ صرف دنیا اور اس کے کارخانہ کا کبھی کا خاتمہ ہو جاتا کیونکہ جس کا فعل اختیار تام سے نہیں وہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر تعداد پر ہرگز قادر نہیں ہو سکتا۔
    اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں درج ہے باقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے کہ جس شخص کا فعل کسی وجود کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہو اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ یعنی عدم سے ہست کرنا بھی ضروری ہے لیکن خدا کا فعل مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہے۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے۔
    ثبوت صغریٰ کا یعنی اس بات کا جس صانع کے لئے قدرت تامہ ضروری ہے اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے اس طرح پر کہ عقل اس بات کی ضرورت کو واجب ٹھہراتی ہے کہ جب کوئی ایسا صانع کہ جس کی نسبت ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ اس کو اپنی کسی صنعت کے بنانے میں حرج واقعہ نہیں ہوتا کسی چیز کا بنانا شروع کرے تو سب اسباب تکمیل صنعت کے اُس کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور ہر وقت اور ہر تعداد تک میسر کرنا ان چیزوں کا جو وجود مصنوع کے لئے ضروری ہیں اس کے اختیار میں ہونا چاہئے اور ایسا اختیار نام بجز اس صورت کے اور کسی صورت میں مکمل نہیں کہ صانع اس مصنوع کا اس کے اجزا پیدا کرنے پر قادر ہو کیونکہ ہر وقت اور ہر تعداد تک اُن چیزوں کا میسر ہو جانا کہ جن کا موجود کرنا صانع کے اختیار تام میں نہیں عندالعقل ممکن التخلف ہے اور عدم تخلف پر کوئی برہان فلسفی قائم نہیں ہوتی اور اگر ہوتی ہے تو کوئی صاحب پیش کرے وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مفہوم اس عبارت کا کہ فلاں امر کا کرنا زید کے اختیار تام میں نہیں اس عبارت کے مفہوم سے مساوی ہے کہ ممکن ہے کہ کسی وقت وہ کام زید سے نہ ہو سکے۔ پس ثابت ہوا کہ صانع تام کا بجز اس کے ہرگز کام نہیں چل سکتا کہ جب تک اس کی قدرت بھی تام نہ ہو اسی واسطے کوئی مخلوق اہل حرفہ میں سے اپنے حرفہ میں صانع تام ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا بلکہ کل اہل صنائع کا دستور ہے کہ جب کوئی بار بار اُن کی دوکان پر جا کر ان کو دق کرے کہ فلاں چیز ابھی مجھے بنا دو تو آخر اُس کے تقاضے سے تنگ آ کر اکثر بول اُٹھتے ہیں کہ میاں میں کچھ خدا نہیں ہوں کہ صرف حکم سے کام کر دوں فلاں فلاں چیز ملے گی تو پھر بنا دوں گا۔ غرض سب جانتے ہیں کہ صانع تمام کے لئے قدرت تام اور ربوبیت شرط ہے۔ یہ بات نہیں کہ جب تک زید نہ مرے بکر کے گھر لڑکا پیدا نہ ہو۔ یا جب تک خالد فوت نہ ہو ولید کے قالب میں جو ابھی پیٹ میں ہے جان نہ پڑ سکے۔ پس بالضرورت صغری ثابت ہوا۔
    اور کبریٰ شکل کا یعنی یہ کہ مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے۔ خود ثبوت صغریٰ سے ثابت ہوتا ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ میں قدرت ضروریہ تامہ نہ ہو تو پھر قدرت اس کی بعض الفاقی امور کے حصول پر موقوف ہوگی اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اتفاقی امور وقت پر خدا تعالیٰ کو میسر نہ ہو سکیں کیونکہ وہ اتفاقی ہیں ضروری نہیں۔ حالانکہ تعلق پکڑنا روح کا جنین کے جسم سے بر وقت تیاری جسم اس کے لازم ملزوم ہے۔ پس ثابت ہوا کہ فعل خداتعالیٰ کا بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے اور نیز اس دلیل سے ضرورت قدرت تامہ کی خدا تعالیٰ کے لئے واجب ٹھہرتی ہے کہ بموجب اصول متقررہ فلسفہ کے ہم کو اختیار ہے کہ یہ فرض کریں کہ مثلاً ایک مدت تک تمام ارواح موجودہ ابدان متناسبہ اپنے سے متعلق ہیں۔ پس جب ہم نے یہ امر فرض کیا تو یہ فرض ہمارا اس دوسرے فرض کو بھی مستلزم ہوگا کہ اب تا انقضائے اس مدت کے ان جنینوں میں جو رحموں میں تیار ہوئے ہیں کوئی روح داخل نہیں ہوگا حالانکہ جنینوں کا بغیر تعلق روح کے معطل پڑے رہنا بہ بداہت عقل باطل ہے پس جو امر مستلزم باطل ہے وہ بھی باطل۔ پس ثبوت متقدمین سے یہ نتیجہ ثابت ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔
    دلیل ششم قرآن مجید میں بماوہ قیاس مرکب قائم کی گئی اور قیاس مرکب کی یہ تعریف ہے کہ ایسے مقدمات سے مؤلف ہو کر اُن سے ایسا نتیجہ نکلے کہ اگرچہ وہ نتیجہ خود بذاتہٖ مطلب کو ثابت نہ کرتا ہو لیکن مطلب بذریعہ اس کے اس طور سے ثابت ہو کہ اُسی نتیجہ کو کسی اور مقدمہ کے ساتھ ملا کر ایک دوسرا قیاس بنایا جائے۔ پھر خواہ نتیجہ مطلوب اسی قیاس دوم کے ذریعہ سے نکل آوے یا اور کسی قدر اسی طور سے قیاسات بنا کر مطلوب حاصل ہو دونوں صورتوں میں اس قیاس کو قیاس مرکب کہتے ہیں اور آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے یہ ہے دیکھو سورہ بقر الجزو۳۔ اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لاتاخذہ سنۃ ولانوم لہ مافی السموات وما فی الارض۔ یعنی خدا اپنی ذات میں سب مخلوقات کے معبود ہونے کا ہمیشہ حق رکھتا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس دلیل روشن سے کہ وہ زندہ ازلی ابدی ہے اور سب چیزوں کا وہی قیوم ہے یعنی قیام اور بقا ہر چیز کا اسی کے بقا اور قیام سے ہے اور وہی ہر چیز کو ہر دم تھامے ہوئے ہے نہ اس پر اونگ طاری ہوتی ہے نہ نیند اُسے پکڑتی ہے۔ یعنی حفاظت مخلوق سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ پس جب کہ ہر ایک چیز کی قائمی اسی سے ہے پس ثابت ہے کہ ہر ایک مخلوقات آسمانوں کا اور مخلوقات زمین کا وہی خالق ہے اور وہی مالک اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں وارد ہے باقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے (جز اوّل قیاس مرکب کی) (صغریٰ) خدا کو بلا شرکتہ الغیر تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے (کبری) اور جس کو تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہوتا ہے (نتیجہ) خدا زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہے۔ (جز ثانی قیاس مرکب کی کہ جس میں نتیجہ قیاس اوّل کا صغریٰ قیاس کا بنایا گیا ہے (صغری) (خداوند ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہے۔ (کبریٰ) اور جو زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہو وہ تمام اشیاء کا خالق ہوتا ہے) (نتیجہ)(خدا تمام چیزوں کا خالق ہے) صغریٰ جزو اوّل قیاس مرکب کا یعنی یہ قضیہ کہ خدا کا بلاشرکتہ الغیرے تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے باقرار فریق ثانی ثابت ہے۔ پس حاجت اقامت دلیل کی نہیں اور کبریٰ جز اوّل قیاس مرکب کا یعنی یہ قضیہ کہ جس کو تمام اشیاء کے معبود ہونے کا حق ازلی، ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی اور تمام اشیاء کا قیوم ہوتا ہے اس طرح پر ثابت ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ازلی ابدی زندہ نہیں ہے تو یہ فرض کرنا پڑا کہ کسی وقت پیدا ہو یا آئندہ کسی وقت باقی نہیں رہے گا۔ دونوں صورتوں میں ازلی ابدی معبود ہونا اس کا باطل ہوتا ہے کیونکہ جب اس کا وجود ہی نہ رہا تو پھر عبادت اس کی نہیں ہو سکتی کیونکہ عبادت معدوم کی صحیح نہیں ہے اور جب وہ بوجہ معدوم ہونے کے معبود ازلی ابدی نہ رہا تو اس سے یہ قضیہ کاذب ہوا کہ خدا کو معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے۔ حالانکہ ابھی ذکر ہوچکا ہے کہ یہ قضیہ صادق ہے۔ پس ماننا پڑا کہ جس کو تمام اشیاء کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی ہوتا ہے۔
    اسی طرح اگر خدا تمام چیزوں کا قیوم نہیں ہے یعنی حیات اور بقا دوسروں کی اس کی حیات اور بقا پر موقوف نہیں تو اس صورت میں وجود اس کا بقاء مخلوقات کے واسطے کچھ شرط نہ ہوگا بلکہ تاثیر اس کی بطور مؤثر بالقسر ہوگی۔ نہ بطور علت حقیقۃ حافظ الاشیاء کے کیونکہ مؤثر بالقسر اسے کہتے ہیں کہ جس کا وجود اور بقاء اس کے متاثر کے بقاء کے واسطے شرط نہ ہو جیسے زید نے مثلاً ایک پتھر چلایا اور اُسی وقت پتھر چلاتے ہی مر گیا تو بیشک اسی پتھر کو جو ابھی اس کے ہاتھ سے چھٹا ہے بعد موت زید کے بھی حرکت رہے گی۔ پس اسی طرح اگر بقول آریہ سماج والوں کے خدا تعالیٰ کومحض مؤثر بالقسر قرار دیا جائے تو اس سے نعوذ باللہ یہ لازم آتا ہے کہ اگر پرمیشور کی موت بھی فرض کریں تو بھی ارواح اور ذرات کا کچھ بھی حرج نہ ہو کیونکہ بقول پنڈت دیانند صاحب کے کہ جس کو اُنہوں نے سیتارتھ پرکاش میں درج فرما کر توحید کا ستیاناس کیا ہے اور نیز بقول پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کے جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے تقلید پنڈت دیانند صاحب کی اختیار کی ہے۔ وید میں یہ لکھا ہے کہ سب ارواح اپنی بقا اور حیات میں بالکل پرمیشور سے بے غرض ہیں اور جیسے بڑھئی کو چوکی سے اور کمہار کو گھڑے سے نسبت ہوتی ہے وہی پرمیشور کو مخلوقات سے نسبت ہے۔ یعنی صرف جوڑنے جاڑنے سے ٹنڈا پرمیشر گری کا چلاتا ہے اور قیوم چیزوں کا نہیں ہے۔ لیکن ہر ایک دانا جانتا ہے کہ ایسا ماننے سے یہ لازم آتا ہے کہ پرمیشور کا وجود بھی مثل کمہاروں اور نجاروں کے وجود کے بقا اشیاء کے لئے کچھ شرط نہ ہو بلکہ جیسے بعد موت کمہاروں اور بڑھیوں کے گھڑے اور چوکیاں اسی طرح سے بنے رہتے ہیں اسی طرح بصورت فوت ہونے پر پرمیشور کے بھی اشیاء موجودہ میں کچھ بھی خلل واقع نہ ہو سکے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ خیال پنڈت صاحب کا جو پرمیشور کو صانع ہونے میں کمہار اور بڑھئی سے مشابہت ہے قیاس مع الفارق ہے۔ کاش اگر وہ خدا کو قیوم اشیاء کا مانتے اور نجاروں سا نہ جانتے تو ان کو یہ تو کہنا نہ پڑتا کہ پرمیشور کی موت فرض کرنے سے روحوں کا کچھ بھی نقصان نہیں۔ لیکن شاید وید میں بھی لکھا ہوگا ورنہ میں کیونکر کہوں کہ پنڈت صاحب کو قیومت پروردگار جو اجلیٰ بدیہیاتت ہے کچھ شک نہیں ہے اور اگر پنڈت صاحب پرمیشور کو قیوم سب چیزوں کا مانتے ہیں تو پھر اس کو کمہاروں اور معماروں سے نسبت دینا کس قسم کی بدیا ہے اور وید میں اس پر دلیل کیا لکھی ہے۔ دیکھو فرقان مجید میں صفت قیومی پروردگار کی کئی مقام میں ثابت کی ہے جیسا کہ مکرر اس دوسری آیت میں بھی فرمایا ہے۔ سورۃ النور اللّٰہ نور السموات والارض یعنی خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ اسی سے طبقہ سفلی اور علوی میں حیات اور بقا کی روشنی ہے۔ پس اس ہماری تحقیق سے جز اوّل قیاس مرکب کی ثابتہوئی اور صغریٰ جز ثانی قیاس مرکب کا وہی ہے جو جز اوّل قیاس کا نتیجہ ہے اور جز اوّل قیاس مرکب کی ابھی ثابت ہوچکی ہے پس نتیجہ بھی ثابت ہو گیا اور کبریٰ جزو ثانی کا جو زندہ ازلی ابدی اور قیوم سب چیزوں کا ہو وہ خالق ہوتا ہے اس طرح پر ثابت ہے کہ قیوم اُسے کہتے ہیں کہ جس کا بقا اور حیات دوسری چیزوں کے بقا اور حیات اور اُن کے کل مایحتاج کے حصول کا شرط ہو… اور شرط کے یہ معنی ہیں کہ اگر اُس کا عدم فرض کیا جائے تو ساتھ ہی مشروط کا عدم فرض کرنا پڑے۔ جیسے کہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو پس یہ قول کہ اگر خدا تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو بعینہٖ اس قول کے مساوی ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود نہ ہوتا تو کسی چیز کا وجود نہ ہوتا۔
    پس اس سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کا وجود دوسری چیزوں کے وجود کا علت ہے اور خالقیت کے بجز اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ وجود خالق کا وجود مخلوق کے لئے علت ہو۔ پس ثابت ہو گیا کہ خدا خالق ہے اور یہی مطلب تھا۔ الراقم
    مرزا غلام احمد۔رئیس قادیان
    سوامی دیانند صاحب کے نام کھلا خط بصورت اعلان
    سوامی دیانند صاحب نے بجواب ہماری اس بحث کے جو ہم نے روحوں کا بے انت ہونا باطل کر کے غلط ہونا مسئلہ تناسخ اور قدامت سلسلہ دنیا کا ثابت کیا ہے معرفت تین کس آریہ سماج والوں کے یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگر ارواح حقیقت میں بے انت نہیں لیکن تناسخ اس طرح پر ہمیشہ رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پا جاتے ہیں تو پھر بوقت ضرورت مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں اب سوامی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہئے چنانچہ اس بارے میں سوامی صاحب کا خط بھی آیا۔ اس خط میں بحث کا شوق ظاہرکرتے ہیں اس واسطے بذریعہ اس اعلان کے ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بحث بالمواجہ ہم کو بسرو چشم منظور ہے۔ کاش سوامی صاحب کسی طرح ہمارے سوالوں کا جواب دیں۔ مناسب ہے کہ سوامی صاحب کوئی مقام اور ثالث بالخیر اور انعقاد جلسہ کی تجویز کر کے بذریعہ کسی مشہور اخبار کے مشتہر کر دیں لیکن اس جلسہ میں شرط یہ ہے کہ یہ جلسہ بحاضری چند منصفان صاحب لیاقت اعلیٰ کہ تین صاحب ان میں سے ممبران برہم سماج اور تین صاحب مسیحی مذہب ہونگے قرار پاوے گا۔ اوّل تقریر کرنے کا ہمارا حق ہوگا کیونکہ ہم معترض ہیں۔ پھر پنڈت صاحب برعایت شرائط جو چاہیں گے جواب دیں گے۔ پھر ان کاجواب الجواب ہماری طرف سے گزارش ہوگا اور بحث ختم ہو جائے گی۔ ہم سوامی صاحب کی اس درخواست سے بہت خوش ہوئے ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ کیوں سوامی صاحب اور اور دھندوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایسی بحث اور اعتراضوں کا جواب نہیں دیتے جس نے سب آریہ سماج والوں کا دم بند کر رکھا ہے۔ اب اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو پس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب صرف باتیں کر کے اپنے موافقین کے آنسو پونچھتے ہیں اور مکت پایوں کی واپسی میں جو مفاسد ہیں مضمون مشتملہ متعلقہ اِس اعلان میں درج ہیں۔ ناظرین پڑھیں اور انصاف فرمائیں۔
    مرزا غلام احمد رئیس قادیان
    (۱۰؍ جون ۱۸۷۸ء)
    باوا صاحب کی شرائط مطلوبہ پرچہ سفیر ہند ۲۳؍ فروری کا ایفاء اور نیز چند امور واجب العرض بتفصیل ذیل
    (۱) اوّل ذکر کرنا اس بات کا قرین مصلحت ہے کہ اشتہار مندرجہ ذیل میں جو حسب درخواست ہماری معزز دوست باوا نرائن سنگھ صاحب وکیل کے لکھا جاتا ہے لفظ فرمانہ کا جو بجائے لفظ انعام کے ثبت ہوا ہے محض بغرض رضا جوئی باوا صاحب موصوف کے درج کیا گیا ہے ورنہ ظاہر رہے کہ ایسا اندراج مطابق منشاء اصول قوانین مجریہ سرکار کے ہرگز نہیں ہے کیونکہ یہ زر موعودہ کسی مجرمانہ فعل کا تاوان نہیں تا اس کا نام جرمانہ رکھا جائے بلکہ یہ وہ حق ہے جو خود مشتہر نے بطیب نفس و رضائے خاطر بلااکراہ غیرے کسی مجیب مصیبت کو بپاداش اُس کے جواب باصواب کے دینا مقرر کیا ہے۔ اس صورت میں کچھ پوشیدہ نہیں کہ یہ رقم درحقیقت بصلہ اثبات ایک امر غیر مثبت کے ہے جس کو ہم انعام سے تعبیر کر سکتے ہیں جرمانہ نہیں ہے اور نہ از روئے حکم کسی قانون گورنمنٹ برطانیہ کے کوئی سوال نیک نیتی سے کرنا یا کسی امر میں بصدق نیت کچھ رائے دینا داخل جرم ہے تا اس نکتہ چینی کی کچھ بنیاد ہو سکے غرض اس موقعہ پر ثبت لفظ جرمانہ کا بالکل غیر معقول اور مہمل اور بے محل ہے لیکن چونکہ باوا صاحب ممدوح پرچہ مقدم الذکر میں بزمرہ دیگر شرائط کے یہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ بجائے لفظ انعام کے لفظ جرمانہ کا لکھا جاوے تب ہم جواب دیں گے سو خیر میں وہی لکھ دیتا ہوں کاش باوا صاحب کسی طرح جواب اُس سوال اشتہاری کا دیں۔ ہر چند میں جانتا ہوں جو باوا صاحب اس جرح قانونی میں بھی غلطی پر ہیں اور کوئی ایسا ایکٹ میری نظر سے نہیں گزرا جو نیک نیتی کے سوال کو جرم میں داخل کرے۔
    (۲) شرط دوئم باوا صاحب کی اس طرح پوری کر دی گئی ہے جو ایک خط بقلم خود تحریر کر کے باقرار مضمون مشتہرہ کے خدمت مبارک باوا صاحب میں ارسال کیا گیا ہے باوا صاحب خوب جانتے ہیں جو اوّل تو خود اشتہار کسی مشتہر کا جو باضابطہ کسی اخبار میں شائع کیا جاوے قانوناً تاثیر ایک اقرار نامہ کی رکھتا ہے بلکہ وہ بلحاظ تعدد نقول کے گویا صد ہا تمسک ہیں علاوہ ازاں چٹھیات خانگی بھی جو کسی معاملہ متنازعہ فیہ میں عدالت میں پیش کئے جاویں ایک قومی دستاویز ہیں اور قوت اقرار نامہ قانونی کے رکھتے ہیں۔ سو چٹھی خاص بھی بھیجی گئی ماسوائے اس کے جب کہ اس معاملہ میں اشتہارات زبانی ثالثوں کے بھی موجود ہوگی تو پھر باوجود اس قدر انواع و اقسام کے ثبوتوں کے حاجت کسی عہد نامہ خاص کی کیا رہی۔ لیکن چونکہ مجھ کو اتمام حجت مطلوب ہے اس لئے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر اس ثبوت پر کفایت نہ کر کے پھر باوا صاحب اقرار نامہ اشٹام کا مطالبہ کریں گے تو فوراً اقرار نامہ مطلوبہ اُن کا معرفت مطبع سفیر ہند کے یا جیسا مناسب ہو خدمت میں اُن کی بھیجا جاوے گا۔ لیکن باوا صاحب پر لازم ہوگا کہ درصورت مغلوب رہنے کے قیمت اشٹام کی واپس کریں۔
    (۳) شرط سوم میںباوا صاحب روپیہ وصول ہونے کا اطمینان چاہتے ہیں سو واضح ہو اگر باوا صاحب کا اس فکر سے دل دھڑکتا ہے کہ اگر روپیہ وقت پر ادا نہ ہو تو کس جائداد سے وصول ہوگا تو اس میں یہ عرض ہے کہ اگر باوا صاحب کو ہماری املاک موجودہ کا حال معلوم نہیں تو صاحب موصوف کو ایسے قلیل معاملہ میں زیادہ آگاہ کرنا ضروری نہیں صرف اس قدر نشاندہی کافی ہے کہ درصورت تردد کے ایک معتبر اپنا صرف بٹالہ میں بھیج دیں اور ہمارے مکانات اور اراضی جو قصبہ مذکور میں قیمتی چھ سات ہزار روپیہ کے موجود اور واقعہ ہیں اُن کی قیمت تخمینی دریافت کر کے اپنے مضطرب دل کی تسلی کر لیں اور نیز یہ بھی واضح ہو جو بمجرد جواب دینے کے مطالبہ پر روپیہ کا نہیں ہو سکتا جیسا کہ باوا صاحب کی تحریر سے مفہوم ہوتا ہے بلکہ مطالبہ کا وہ وقت ہوگا کہ جب کل آرائے تحریری ثالثان اہل انصاف کے جن کے اسماء مبارکہ تنقیح شرط چہارم میں ابھی درج کروں گا سفیرہند میں بشرائط مشروطہ پرچہ ہذا کے طبع ہو کر شائع ہو جائیں گی۔
    (۴) شرط چہارم میں باوا صاحب نے صاحبان مندرجہ ذیل کو منصفان تنقید جواب قرار دیا ہے مولوی سید احمد خان صاحب، منشی کنہیا لال صاحب، منشی اندر من صاحب مجھ کو منصفان مجوزہ باوا صاحب میں کسی نہج کا عذر نہیں بلکہ میں اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو انہوں نے تجویز تقرر ثالثان میں مولوی سید احمد خان صاحب کا نام بھی جو ہم سے اخوت اسلام رکھتے ہیں درج کر دیا۔ اس لئے میں بھی اپنے منصفان مقبولہ میں ایک فاضل آریہ صاحب کو جن کی فضیلت میں باوا صاحب کو بھی کلام نہیں باعتماد طبیعت صالحانہ اور رائے منصفانہ اُن کی کے داخل کرتا ہوں جن کے نام نامی یہ ہیں سوامی پنڈت دیانند سرستی، حکیم محمد شریف صاحب امرتسری، مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب لاہوری لیکن اتنی عرض اور ہے کہ علاوہ ان صاحبوں کے کہ فریقین کے ہم مذہب ہیں دو صاحب مسیحی مذہب بھی ممبر تنقید جواب کے قرار پانے چاہئیں۔ سو میری دانست میں پادری رجب علی صاحب اور بابو رلارام صاحب جو علما وہ فضیلت علمی اور طبیعت منصفانہ کے اس بحث جاری شدہ سے بخوبی واقف ہیں بشرطیکہ صاحبین موصوفین براہ مہربانی اس شوریٰ میں داخل ہونا منظور کر لیں۔ اور آپ کو بھی اس میں کچھ کلام نہ ہو بہتر اور انسب ہیں۔ ورنہ بالآخر اس طرح تجویز ہوگی کہ ایک صاحب مسیحی مذہب آپ کو قبول کر کے اطلاع دے دیں اور ایک کے اسم مبارک سے میں مطلع کروں گا اور تصفیہ اس طرح پر ہوگا کہ بعد طبع ہونے کے جواب آپ کے اُن سب صاحبوں کو جو حسب مرضی فریقین ثالث قرار پائے ہیں بذریعہ خانگی خطوط کے اطلاع دی جائے گی لیکن ہر ایک فریق ہم دونوں میں سے ذمہ دار ہوگا کہ اپنے منفصین مجوزہ کو آپ اطلاع دے۔ تب صاحبان منصفین اوّل ہمارے سوال نمبر۱ کو دیکھیں گے اور بعد اُس کے تبصرہ مشمولہ شرائط ہذا کو جس میں آپ کے جواب الجواب کا جو ۱۸؍ فروری آفتاب پنجاب میں طبع ہوا تھا ازالہ ہے بغور ملاحظہ فرمائیں گے۔ پھر آپ کا جواب بتدبر تمام پڑھ کر جانچیں گے کہ آیا اس جواب سے وجوہات ہمارے ردّ ہوگئے یا نہیں اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آپ نے باثبات دونو امر مندرجہ اشتہار کے کیا کیا وجوہات پیش کئے ہیں لیکن یہ امر کسی منصف کے اختیار میں نہ ہوگا کہ صرف اس قدر رائے ظاہر کرے کہ ہماری دانست میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ اگر کوئی ایسی رائے ظاہر کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ گویا اُس نے کوئی رائے ظاہر نہیں کیا۔ غرض کوئی رائے شہادت میں نہیں لیا جائے گا جب تک اس صورت سے تحریر نہ ہو کہ اصل وجوہات متخاصمین کو پورا پورا بیان کر کے بتقریر مدلل ظاہر کرے کہ کس طور سے یہ وجوہات ٹوٹ گئیں یا بحال رہیں اور علاوہ اس کے یہ سب منصفانہ آرا سے سفیر ہند میں درج ہونگے۔ نہ کسی اور پرچہ میں بلکہ صاحبان منصفین اپنی اپنی تحریر کو براہ راست مطبع ممدوح الذکر میں ارسال فرمائیں گے باستثناء بابورلارام صاحب کے کہ اگر وہ اس شوریٰ تنقید جواب میں داخل ہوئے تو اُن کو اپنا رائے اپنے پرچہ میں طبع کرنا اختیار ہوگا اور جب کہ یہ سب آرائے بقید شرائط متذکرہ بالا کے طبع ہو جائیں گی تو اُس وقت کثرت رائے پر فیصلہ ہوگا اور اگر ایک نمبر بھی زیادہ ہوا تو باوا صاحب کوڈگری ملے گی ورنہ آنحضرت مغلوب رہیں گے۔
    اشتہار مبلغ پانچ سَو روپیہ
    میں راقم اُس سوال کا جو آریہ سماج کی نسبت پرچہ ۹؍ فروری اور بعد اُس کے سفیر ہند میں بدفعات درج کر چکا ہے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کر کے لکھ دیتا ہوں کہ اگر باوا نرائن سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب منجملہ آریہ سماج کے جو اُن سے متفق الرائے ہوں ہماری اُن وجوہات کا جواب جو سوال مذکورہ میں درج ہے اور نیز اُن دلائل کے تردید جو بتصرہ مشمولہ اشتہار ہذا میں مبیں ہے پورا پورا ادا کر کے بدلائل حقہ یقیننیہ یہ ثابت کر دے کہ ارواح بے انت ہیں اور پرمیشور کو اُن کی تعداد معلوم نہیں تو میں پانچ سَو نقد اُس کو بطور جرمانہ کے دوں گا اور درصورت نہ ادا ہونے روپیہ کے مجیب مثبت کو اختیار ہوگا کہ امداد عدالت سے وصول کرے تنقید جواب کی اُس طرح عمل میں آوے گی جیسے تنقیح شرائط میں اوپر لکھا گیا ہے اور نیز جواب باوا صاحب کا بعد طبع اور شائع ہونے تبصرہ ہماری کے مطبوع ہوگا۔
    المشتہر
    مرزا غلام احمد رئیس قادیان
    جواب الجواب
    باوا نرائن سنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج امرتسر مطبوعہ پرچہ آفتاب ۱۸؍ فروری
    اوّل باوا صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خداروحوں کا خالق ہے اوران کو پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے جواب الجواب میں قبل شروع کرنے مطلب کے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ از روئے قاعدہ فن مناظرہ کے آپ کا ہرگز یہ منصب نہیں ہو سکتا کہ آپ روحوں کے مخلوق ہونے کا ہم سے ثبوت مانگیں بلکہ یہ حق ہم کو پہنچتا ہے کہ ہم آپ سے روحوں کے بِلا پیدائش ہونے کی سند طلب کریں کیونکہ آپ اسی پرچہ مذکور العنوان میں خود اپنی زبان مبارک سے اقرار کر چکے ہیں کہ پرمیشور قادر ہے اور تمام سلسلہ عالم کا وہی منتظم ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ثبوت دینا اس امر جدید کا آپ کے ذمہ ہے کہ پرمیشور اوّل قادر ہو کر پھر غیر قادر کس طرح بن گیا ہمارے ذمہ ہرگز نہیں کہ ہم ثبوت کرتے پھریں کہ پرمیشور جو قدیم سے قادر ہے وہ اب بھی قادر ہے۔ سو حضرت یہ آپ کو چاہئے تھا کہ ہم کو اس بات کا ثبوت کامل دیتے کہ پرمیشور باوصف قادر ہونے کے پھر روحوں کے پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہے گا ہم پر یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ پرمیشور (جو قادر تسلیم ہو چکا ہے) روحوں کے پیدا کرنے کی کس قدر قدرت رکھتا ہے۔ کیونکہ خدا کے قادر ہونے کو تو ہم اور آپ دونوں مانتے ہیں پس اس وقت تک تم ہم میں اور آپ میں کچھ تنازعہ نہ تھا۔ پھر تنازعہ تو آپ نے پیدا کیا جو روحوں کے پیدا کرنے سے اس قادر پرمیشور کو عاجز سمجھا۔ اس صورت میں آپ خود منصف ہوں اور بتلائیں کہ بار ثبوت کس کے ذمہ ہے؟ اور اگر ہم بطریق تنزل یہ بھی تسلیم کر لیں کہ اگرچہ دعویٰ آپ نے کیا مگر ثبوت اس کا ہمارے ذمہ ہے پس آپ کو مژدہ ہو کہ ہم نے سفیر ہند ۲۱؍ فروری میں خدا کے خالق ہونے کا ثبوت کامل دے دیا ہے۔ جب آپ بنظر انصاف پرچہ مذکور کو ملاحظہ فرمائیں گے تو آپ کی تسلی کامل ہو جائے گی اور خود ظاہر ہے کہ خدا تو وہی ہونا چاہئے جو موجد مخلوقات ہو نہ یہ کہ زور آور سلاطین کی طرح صرف غیروں پر قابض ہو کر خدائی کرے۔
    اور اگر آپ کے دل میں یہ شک گزرتا ہے کہ پرمیشور جو اپنی نظیر نہیں پیدا کر سکتا شاید اُسی طرح ارواح کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہ ہوگا۔ پس اس کا جواب بھی پرچہ مذکور ۹؍ فروری میں پختہ دیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا ایسے افعال ہرگز نہیں کرتا جن سے اُس کی صفات قدیم کا زوال لازم آوے جیسے وہ اپنا شریک نہیں پیدا کر سکتا۔ اپنے آپ کو ہلاک نہیں کر سکتا کیونکہ اگر ایسا کرے تو اُس کی صفات قدیمہ جو وحدت ذاتی اور حیات ابدی ہے زائل ہو جائیں گی۔ پس وہ قدوس خدا کوئی کام برخلاف اپنی صفات ازلیہ کے ہرگز نہیں کرتا۔ باقی سب افعال پر قادر ہے۔ پس آپ نے جو روحوں کی پیدائش کو شریک الباری کی پیدائش پر قیاس کیا تو خطا کی۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ آپ کا قیاس مع الفارق ہے۔ ہاں اگر یہ ثابت کر دیتے کہ پیدا کرنا ارواح کا بھی مثل پیدا کرنے نظیر اپنی کے خدا کی کسی صفت عظمت اور جلال کے برخلاف ہے تو دعویٰ آپ کا بلاشبہ ثابت ہو جاتا۔
    پس آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ یہ ظاہر کرنا چاہئے کہ خدا نے روح کہاں سے پیدا کئے اس تقریر سے صاف پایا جاتا ہے آپ کو خدا کے قدرتی کاموں سے مطلق انکار ہے اور اس کو مثل آدم زاد کے محتاج باسباب سمجھتے ہیں۔ اور اگر آپ کا اس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح پرمیشور روحوں کو پیدا کر لیتا ہے تو اس وہم کے دفع میں پہلے ہی لکھا گیا تھا کہ پرمیشور کی قدرت کاملہ میں ہرگز یہ بہ شرط نہیں کہ ضرور انسان کی سمجھ میں آ جایا کرے۔ دنیا میں اس قسم کے ہزار ہا نمونہ موجود ہیں کہ قدرت مدرکہ انسان کی ان کی کنہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی اور علاوہ اس کے ایک امر عقل میں نہ آنا اور چیز ہے اور اس کا محال ثابت نہیں کر سکتا کہ خدا سے روح نہیں بن سکتے تھے کیونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا کیا ممکن نہیں جو ایک کام خدا کی قدرت کے تحت داخل تو ہو لیکن عقل ناقص ہماری اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے؟ بلکہ قدرت تو حقیقت میں اسی بات کا نام ہے جو داغ احتیاج اسباب سے منزہ اور پاک اور ادراک انسانی سے برتر ہو۔ اوّل خدا کو قادر کہنا اور پھر یہ زبان پر لانا کہ اس کی قدرت اسباب مادی سے تجاوز نہیں کرتی حقیقت میں اپنی بات کو آپ ردّ کرنا ہے کیونکہ اگر وہ فی حد ذاتہِ قادر ہے تو پھر کسی سہارے اور آسرے کا محتاج ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ کیا آپ کی پستکوں میں قادر اور سرب شکتی مان اسی کو کہتے ہیں جو بغیر توسل اسباب کے کارخانہ قدرت اس کی کا بندر ہے۔ اور نراہ اس کے حکم سے کچھ بھی نہ ہو سکے۔ شاید آپ کے ہاں لکھا ہوگا مگر ہم لوگ تو ایسے کمزور کو خدا نہیں جانتے ہمارا تو وہ قادر خدا ہے کہ جس کی یہ صفت ہے کہ جو چاہا سو ہو گیا اور جو چاہے گا سو ہوگا۔
    پھر باوا صاحب اپنے جواب میں مجھ کو فرماتے ہیں کہ جس طرح تم نے یہ مان لیا کہ خدا دوسرا خدا نہیں بنا سکتا اسی طرح یہ بھی ماننا چاہئے کہ خدا روح نہیں پیدا کر سکتا۔ اس فہم اور ایسے سوال سے اگر میں تعجب نہ کروں تو کیا کروں صاحب من تو میں تو اس وہم کا کئی دفعہ آپ کو جواب دے چکا اب میں بار بار یہاں تک لکھوں میں حیران ہوں کہ آپ کو یہ بین فرق کیوں سمجھ میں نہیں آتا اور کیوں دل پر سے یہ حجاب نہیں اُٹھتا کہ جو روحوں کے پیدا کرنے کو دوسرے خدا کی پیدائش پر قیاس کرنا خیال فاسد ہے کیونکہ دوسرا خدا بنانے میں وہ صفت ازلی پرمیشور کی جو واحد لاشریک ہونا ہے نابود ہو جائے گی۔ لیکن پیدائش ارواح میں کسی صفت واجب الوجود کا ازالہ نہیں بلکہ ناپید کرنے میں ازالہ ہے کیونکہ اس سے صفت قدرت کی جو پرمیشور میں بالاتفاق تسلیم ہو چکی ہے زاویہ اختفا میں رہے گی اور بپایہ ثبوت نہیں پہنچے گی اس لئے کہ جب پرمیشور نے خود ایجاد اپنے سے بلاتوسل اسباب کے کوئی چیز محض قدرت کاملہ اپنی سے پیدا ہی نہیں کی تو ہم کو کہاں سے معلوم ہو کہ اس میں ذاتی قدرت بھی ہے اگر یہ کہو کہ اس میں کچھ ذاتی قدرت نہیں تو اس اعتقاد سے وہ پرادھین یعنی محتاج بالغیر ٹھہرے گا اور یہ بہ بداہت عقل باطل ہے۔ غرض پرمیشور کا خالق ارواح ہونا تو ایسا ضروری امر ہے جو بغیر تجویز مخلوقیت ارواح کے سب کارخانہ خدائی کا بگڑ جاتا ہے لیکن دوسرا خدا پیدا کرنا صفت وحدت ذاتی کے برخلاف ہے پھر کس طرح پرمیشور ایسے امر کی طرف متوجہ ہو کہ جس سے اس کی صفت قدیمہ کا بطلان لازم آوے اور نیز اس صورت میں جو روح غیر مخلوق اور بے انت مانے جائیں کل ارواح صفت انادی اور غیر محدود ہونے میں خدا سے شریک ہو جائیں گی اور علاوہ اس کے پرمیشور بھی اپنی صفت قدیم سے جو پیدا کرنا بلا اسباب ہے محروم رہے گا اور یہ ماننا پڑے گا کہ پرمیشور کو صرف روحوں پر جمعداری ہی جمعداری ہے اور ان کا خالق اور واجب الوجود نہیں۔
    پھر بعد اس کے باوا صاحب اسی اپنے جواب میں روحوں کے انتہا ہونے کا جھگڑا لے بیٹھے ہیں جس کو ہم پہلے اس سے ۹ اور ۱۶؍ فروری سفیر ہند میں ۱۴ دلائل پختہ سے ردّ کر چکے ہیں لیکن باوا صاحب اب تک انکار کئے جاتے ہیں۔ پس ان پر واضح رہے کہ یوں تو انکار کرنا اور نہ ماننا سہل بات ہے اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ جس بات پر چاہے رہے پر ہم تو تب جانتے کہ آپ کسی دلیل ہماری کو ردّ کر کے دکھلاتے۔ اور بے انت ہونے کی وجوہات پیش کرتے آپ کو سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں ارواح بعض جگہ نہیں پائے جاتے تے بے انت کس طرح ہوگئے کیا بے انت کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ جب ایک جگہ تشریف لے گئے تو دوسری جگہ خالی رہ گئی اگر پرمیشوربھی اسی طرح کا بے انت ہے تو کارخانہ خدائی کا معرض خطر میں ہے۔ افسوس کہ آپ نے ہمارے اُن پختہ دلائل کو کچھ نہ سوچا اور کچھ غور نہ کیا اور یونہی جواب لکھنے کو بیٹھ گئے حالانکہ آپ کی منصفانہ طبیعت پر یہ فرض تھا کہ اپنے جواب میں اس امر کا التزام کرتے کہ ہر ایک دلیل ہماری تحریر کر کے اس کے محاذات میں اپنی دلیل لکھتے پر کہاں سے لکھتے اور تعجب تو یہ ہے کہ اسی جواب میں آپ کا یہ اقرار بھی درج ہے کہ ضرور سب ارواح ابتدا سر شٹی میں زمین پرجنم لیتے ہیں اور مدت سوا چار ارب سلسلہ دنیا کابنا رہتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ اب اے میرے پیارو اور دوستو اپنے دل میں آپ ہی سوچو۔ اپنے قول میں خود ہی غور کرو کہ جو پیدائش ایک مقرری وقت سے شروع ہوئی اور ایک محدود مقام میں اُن سب نے جنم لیا اور ایک محدود مدت تک اُن کے توالد و تناسل کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو ایسی پیدائش کس طرح بے انت ہوسکتی ہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ بموجب اصول موضوعہ فلسفہ کے یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جو چند محدود چیزوں میں ایک محدود عرصہ تک کچھ زیادتی ہوتی رہی تو بعد زیادتی کے بھی وہ چیزیں محدود رہیں گی اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر متعدد جانور ایک متعدد عرصہ تک بچہ دیتے رہیں تو اُن کی اولاد بموجب اصول مذکور کے ایک مقدار متعدد سے زیادہ نہ ہوگی اور خود ازروئے حساب کے ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ جس قدر پیدائش سوا چار ارب میں ہوتی ہے اگر بجائے اُس مدت کے ساڑھے آٹھ ارب فرض کریں تو شک نہیں کہ اس صورت مؤخر الذکر میں پہلی صورت سے پیدائش دوچند ہوگی۔ حالانکہ یہ بات اجلی بدیہات ہے کہ بے انت کبھی قابل تضغیف نہیں ہو سکتا اگر ارواح بے انت ثابت ہوتے تو ایسی مدت معدود میں کیوں محصور ہو جاتے کہ جن کے اضعاف کو عقل تجویز کر سکتی ہے اور نہ کوئی دانا محدود زمانی اور مکانی کو بے انت کہے گا۔ باوا صاحب برائے مہربانی ہم کو بتلا دیں کہ اگر سوا چار ارب کی پیدائش کا نام بے انت ہے تو ساڑھے آٹھ ارب کی پیدائش کا نام کیا رکھنا چاہئے۔ غرض یہ قول صریح باطل ہے کہ ارواح موجودہ محدود زمانی اور امکان ہو کر پھر بھی بے انت ہیں کیونکہ مدت معین کا توالد و تناسل تعداد معینہ سے کبھی زیادہ نہیں اور اگر یہ قول ہے کہ سب ارواح بدفعہ واحد زمین پر جنم لیتے ہیں سو بطلان اس کا ظاہر ہے کیونکہ زمین محدود ہے اور ارواح بقول آپ کے غیر محدود پھر غیر محدود کس طرح محدود میں سما سکے۔
    اور اگر یہ کہو کہ بعض حیوانات باوصف مکتی نہ پانے کے نئی دنیا میں نہیں آتے سو یہ آپ کے اصول کے برخلاف ہے کیونکہ جب کہ پیشتر عرض کیا گیا ہے آپ کا یہ اصول ہے کہ ہر نئی دنیا میں تمام وہ ارواح جو سرشٹی گزشتہ میں مکتی پانے سے رہ گئے تھے اپنے کرموں کا پھل بھوگنے کے واسطے جنم لیتے ہیں کوئی جیو جنم لینے سے باہر نہیں رہ جاتا۔اب قطع نظر ان دلائل سے اگر اسی ایک دلیل پر جو محدود فی الزماں ووالمکان ہونے کے ہے غور کیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ آپ کو ارواح کے متعدد ماننے سے کوئی گریز گاہ نہیں اور بجز تسلیم کے کچھ بن نہیںپڑتا بالخصوص اگر اُن سب دلائل کو جو سوال نمبر۱ میں درج ہوچکے ہیں ان دلائل کے ساتھ جو اس تبصرہ میں اندراج پائیں ملا کر پڑھا جائے تو کون منصف ہے جو اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا کہ ایسے روشن ثبوت سے انکار کرنا آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔ پھر افسوس کہ باوا صاحب اب تک یہی تصور کئے بیٹھے ہیں کہ ارواح بے انت ہیں اور مکتی پانے سے کبھی ختم نہیں ہونگے۔ اور حقیقت حال جو تھا سو معلوم ہوا کہ کُل ارواح پانچ ارب کے اندر اندر ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں اور نیز ہر پرلے کے وقت پر اُن سب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اگر بے انت ہوتے تو اُن دونوں حالتوں مقدم الذکر میں کیوں ختم ہونا اُن کا رکن اصول آریہ سماج کا ٹھہرتا۔ عجب حیرانی کا مقام ہے کہ باوا صاحب خود اپنے ہی اصول سے انحراف کر رہے ہیں۔ اتنا خیال نہیں فرماتے کہ جو اشیاء ایک حالت میں قابل اختتام ہیں وہ دوسری حالت میں بھی یہی قابلیت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مظروف اپنے ظرف سے کبھی زیادہ نہیں ہوتا پس جب کہ کُل ارواح ظروف مکانی اور زمانی میں داخل ہو کر اندازہ اپنا ہر نئی دنیا میں معلوم کرا جاتے ہیں اور پیمانہ زمان مکان سے ہمیشہ ماپے جاتے ہیں تو پھر تعجب کہ باوا صاحب کو ہنوز ارواح کے محدود ہونے میں کیوں شک باقی ہے۔ میں باوا صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے بقول آپ کے یہ سب ارواح جو آپ کے تصور میں بے انت ہیں سب کے سب دنیا کی طرف حرکت کرتے ہیں اگر اسی طرح اپنے بھائیوں مکتی یافتوں کی طرف حرکت کریں تو اس میں استبعاد عقلی ہے اور کونسی حجب منطقی اس حرکت سے ان کو روکتی ہے اور کسی برہان لمی یا اِنّیسے لازم آتا ہے کہ دنیا کی طرف انتقال اُن سب کا ہر سرشٹی کے دورہ میں جائز بلکہ واجب ہے۔ لیکن کوچ اُن سب کا مکتی یافتوں کے کوچہ کی طرف ممتنع اور محال ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس عالم دنیا کی طرف کونسی پختہ سڑک ہے کہ سب ارواح اس پر بآسانی آتے جاتے ہیں ایک بھی باہر نہیں رہ جاتی۔ اور اُن مکتی یافتوں کے راستہ میں کونسا پتھر پڑا ہوا ہے کہ اس طرف اُن سب کا جانا ہی محال ہے کیا وہ خدا جو سب ارواح کو موت اور جنم دے سکتا ہے سب کو مکتی نہیں دے سکتا۔ جب ایک طور پر سب ارواح کی حالت متغیر ہو سکتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ دوسرے طور سے وہ حالت قابل تغیر نہیں اور نیز کیا یہ بات ممکن نہیں جو خدا اُس سب ارواح کا یہ نام رکھ دے کہ مکتی یاب ہیں۔ جیسا اب تک یہ نام رکھا ہوا ہے کہ مکتی یاب نہیں کیونکہ جن چیزوں کی طرف نسبت سلبی جائز ہو سکتی ہے بیشک اُن چیزوں کی طرف نسبت ایجابی بھی جائز ہے اور نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ قضیہ کہ سب ارواح موجودہ نجات پا سکتے ہیں اس حیثیت سے زیر بحث نہیں کہ محمول اس قضیہ کا جو نجات عام ہے مثل کسی جزئی حقیقی کے قابل تنقیع ہے بلکہ اس جگہ مجوث عنہ امر کلی ہے یعنی ہم کلی طور پر بحث کرتے ہیں کہ ارواح موجودہ نے جو ابھی مکتی نہیں پائی آیا بموجب اصول آریہ سماج کے اس امر کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں کہ کسی طور کا عارضہ عام خواہ مکتی ہو یا کچھ اور ہو اُن سب پر طاری ہو جائے سو آریہ صاحبوں کے ہم ممنون بمنت ہیں جو اُنہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ یہ عارضہ عام بعض صورتوں میں سب ارواح پر واقع ہے جیسے موت اور جنم کی حالت سب ارواح پر عارض ہو جاتی ہے۔ اب باوا صاحب خود ہی انصاف فرماویں کہ جس حالت میں دو مادوں میں اس عارضہ عام کے خود ہی قائل ہوگئے تو پھر اس تیسرے مادے میں جو سب کا مکتی پانا ہے انکار کرنا کیا وجہ ہے۔
    پھر باوا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ علاوہ زمین کے سورج اور چاند اور سب ستاروں میں بھی بکثرت جانور آباد ہیں اور اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ثابت ہو گیا کہ بس بے انت ہیں۔ پس باوا صاحب پر واضح رہے کہ اوّل تو یہ خیال بعض حکماء کا ہے جس کو یورپ کے حکیموں نے اخذ کیا ہے اور ہماری گفتگو آریہ سماج کے اصول پر ہے۔ سوا اس کے اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ آریہ سماج کا بھی یہی اصول ہے تو پھر بھی کیا فائدہ کہ اس سے بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہوتا۔ اس سے تو صرف اتنا نکلتا ہے کہ مخلوقات خدا تعالیٰ کی بکثرت ہے۔ ارواح کے بے انت ہونے سے اس دلیل کو کیا علاقہ ہے پر شاید باوا صاحب کے ذہن میں مثل محاورہ عام لوگوں کے یہ سمایا ہوا ہوگا کہ بے انت اُسی چیز کو کہتے ہیں جو بکثرت ہو۔ باوا صاحب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں یہ سب اجسام ارضی اور اجرام سماوی بموجب تحقیق فن ہئیت اور علم جغرافیہ کے معدود اور محدود ہیں تو پھر جو چیزیں ان میں داخل ہیں کس طرح غیر محدود ہو سکتی ہیں اور جس صورت میں تمام اجرام و اجسام زمین و آسمان کے خدانے گنے ہوئے ہیں تو پھر جو کچھ ان میں آباد ہے وہ اس کی گنتی سے کب باہر رہ سکتا ہے۔ سو ایسے دلائل سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ کام تو تب بنے کہ آپ یہ ثابت کریں کہ ارواح موجودہ تمام حدود و قیود ظروف مکانی اور فضائے عالم سے بالاتر ہیں کیونکہ خدا بھی انہیںمعنوں پر بے انت کہلاتا ہے اگر ارواح بے انت ہیں تو وہی علامات ارواح میں ثابت کرنی چاہئیں۔ اس لئے کہ بے انت ایک لفظ ہے کہ جس میں بقول آپ کے ارواح اور باری تعالیٰ مشارکت رکھتے ہیں اور اس کا حدتام بھی ایک ہے۔ یہ باتنہیں کہ جب لفظۃ بے انت کا خدا کی طرف نسبت کیا جائے تو اس کے معنی اور ہیں اور جب ارواح کی طرف منسوب کریں تو اور معنی۔
    پھر بعد اس کے باوا صاحب فرماتے ہیں کہ کسی نے آج تک روحوں کی تعداد نہیں کی۔ اس لئے لاتعداد ہیں۔ اس پر ایک قاعدہ حساب کا بھی جو مانحن فیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا پیش کرتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ لاتعداد کی کمی نہیں ہو سکتی۔ پس باوا صاحب پر واضح رہے کہ ہم تخمینی اندازہ ارواح کا بموجب اصول آپ کے بیان کر چکے ہیں اور اُن کا ظروف مکانی اور زمانی میں محدود ہونا بھی بموجب انہی کے اصول کے ذکر ہوچکا ہے اور آپ اب تک وہ حساب ہمارے روبرو پیش کرتے ہیں جو غیر معلوم اور نامفہوم چیزوں سے متعلق ہے۔ اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خزانچی کو اپنی جمع تحویل شدہ کا کل میزان روپیہ آنہ پائی کا معلوم ہوتا ہے اسی طرح اگر انسان کل کُل تعداد ارواح کا معلوم ہو تو تب قابل کمی ہونگے ورنہ نہیں۔ سو یہ بھی آپ کی غلطی ہے کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ جس چیز کا اندازہ تخمینی کسی پیمانہ کے ذزیعہ سے ہوچکا تو پھر ضرور عقل یہی تجویز کرے گی کہ جب اُس اندازہ معلومہ سے نکالا جاوے تو بقدر تعداد خارج شدہ کے اصلی اندازہ میں کمی ہو جائے گی۔ بھلا یہ کیا بات ہے کہ جب مکتی شدہ سے ایک فوج کثیر مکتی شدہ ارواح میں داخل ہو جائے تو نہ وہ کچھ کم ہوں اور نہ یہ کچھ زیادہ ہوں۔ حالانکہ وہ دونوں محدود ہیں اور ظروف مکانی اور زمانی میں محصور اور جو یہ باوا صاحب فرماتے ہیں کہ تعداد روحوں کی ہم کو بھی معلوم ہونی چاہئے تب قاعدہ جمع تفریق کا اُن پر صادق آوے گا۔ یہ قول باوا صاحب کابھی قابل ملاحظہ ناظرین ہے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جمع بھی خدا نے کی اور تفریق بھی وہی کرتا ہے اور اُس کو ارواح موجودہ کے تمام افراد معلوم ہیں اور فرد فرد اس کے زیر نظر ہے اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک روح نکل کر مکتی یابوں میں ہو جاوے گی تو پرمیشور کو معلوم ہے کہ یہ فرد اس جماعت میں سے کم ہو گیا اور اُس جماعت میں سے بباعث داخل ہونے اس کے ایک فرد کی زیادتی ہوئی یہ کیا بات ہے کہ اس داخل خارج سے وہی پہلی صورت بنی رہی۔ نہ مکتی یاب کچھ زیادہ ہوں اور نہ وہ ارواح کہ جن سے کچھ روح نکل گئی بقدر نکلنے کے کم ہو جائیں او رنیز ہم کو بھی کوئی برہان منطقی مانع اس بات کے نہیں کہ ہم اس امر متیقن متحقق طور پر رائے نہ لگا سکیں کہ جن چیزوں کا اندازہ بذریعہ ظرف مکانی اور زمانی کے ہم کو معلوم ہو چکا ہے وہ دخول و خروج سے قابل زیادت اور کمی ہیں مثلاً ایک ذخیرہ کسی قدر غلہ کا کسی کوٹھے میں بھرا ہوا ہے اور لوگ اس سے نکال کر لے جاتے ہیں سو گو ہم کو اُس ذخیرہ کا وزن معلوم نہیں لیکن ہم بہ نظر محدود ہونے اس کے رائے دے سکتے ہیں کہ جیسا نکالا جائے گا کم ہوتا جائے گا۔
    اور یہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ خدا کا علم غیر محدود ہے اور روح بھی غیر محدود ہیں اس واسطے خدا کو روحوں کی تعددا معلوم نہیں یہ آپ کی تقریر بے موقع ہے۔ جناب من یہ کون کہتا ہے کہ جو خدا کا علم غیر محدود نہیں۔ کلام و نزاع تو اس میں ہے کہ معلومات خارجیہ اس کے جو تعینات وجود یہ سے مقید ہیں اور زمانہ واحد میں پائے جاتے ہیں اور ظروف زمانی و مکانی میں محصور اور محدود ہیں آیا تعداد اُن اشیاء موجودہ محدودہ معینہ کا اس کو معلوم ہے یا نہیں آپ اُس اشیاء موجودہ محدودہ کو غیر موجود اور غیر محدود ثابت کریں تو بت کام بنتا ہے۔ ورنہ علم الٰہی کہ موجود اور غیر موجود دونوں پر محیط ہے اس کے غیر متناہی ہونے سے کوئی چیز جو تعینات خارجیہ میں مفید ہو غیر متناہی نہیں بن سکتی اور آپ نے خدا کے علم کو خوب غیر محدود بنایا کہ جس سے روحوں کا احاطہ بھی نہ ہو سکا اور شمار بھی نہ معلوم ہوا باوصف یہ کہ سب موجود تھے کوئی معدوم نہ تھا۔ کیا خوب بات ہے کہ آسمان اور زمین نے تو روحوں کو اپنے پیٹ میں ڈال کر بزبان حال اُن کی تعداد بتلائی پھر خدا کو کچھ بھی تعداد معلوم نہ ہوئی یہ عجیب خدا ہے اور اس کا علم عجیب تر۔ بھلا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا کو جو ارواح موجودہ کا علم ہے یہ اُس کے علوم غیر متناہیہ کا جز ہے یا کل ہے۔ اگر کل ہے اس سے لازم آتا ہے کہ خدا کوسِوا روحوں کے اور کسی چیز کی خبر نہ ہو اور اس سے بڑھ کر اس کا کوئی عالم نہ ہو اور اگر جز ہے تو محدود ہو گیا۔ کیونکہ جز کل سے ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے۔ پس اسے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ارواح محدود ہیں اور خود یہی حق الامر تھا۔ جس شخص کو خدا نے معرفت کی روشنی بخشی ہو وہ خوب جانتا ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم کے دریا زمین سے علم ارواح موجودہ کا اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتا کہ جیسے سوئی کو سمندر میں ڈبو کر اس میں کچھ ترقی باقی رہ جاتی ہے۔
    پھر باوا صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’یہ اعتراض کرنا بیجا ہے کہ بے انت اور انادی ہونا خدا کی صفت ہے اور اگر روح بھی بے انت اور انادی ہوں تو خدا کے برابر ہو جائیں گے کیونکہ کسی جزوی مشارکت سے مساوات لازم نہیں آتی۔ جیسے آدمی بھی آنکھ سے نہیں دیکھتا ہے اور حیوان بھی۔ پر دونوں مساوی نہیں ہو سکتے‘‘۔
    یہ دلیل باوا صاحب کی تغلیط اور نسقیط ہے۔ ورنہ کون عاقل اس بات کو نہیں جانتا کہ جو صفات ذات الٰہی میں پائی جاتی ہیں وہ سب اس ذات بے مثل کے خصائص میں کوئی چیز ان میں شریک سہیم ذات باری کے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر ہو سکتی ہے تو پھر سب صفات اس کی میں شراکت غیر کی جائز ہوگی اور جب سب صفات میں شراکت جائز ہوئی تو ایک اور خدا پیدا ہو گیا بھلا اس بات کا آپ کے پاس کیا جواب ہے کہ جو خدا کی صفات قدیمہ میں سے جو انادی اور بے انت ہونے کی صفت ہے وہ تو اس کے غیر میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن دوسری صفات اس کی اس سے مخصوص ہیں ذرا آپ خیال کر کے سوچیں کہ کیا خدا کی تمام صفات یکساں ہیں یا متقارب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ایک صفت میں صفات مخصوصہ اس کی سے اشتراک بالغیر جائز نہ ہوگا اور اگر نہیں تو سب نہیں اور یہ جو آپ نے نظیر دی جو حیوانات مثل انسان کے آنکھ سے دیکھتے ہیں لیکن اس رویت سے انسان نہیں ہو سکتانہ اس کے مساوی یہ نظیر آپ کی بے محل ہے۔ اگر آپ ذرا بھی غور کرتے تو ایسی نظیر کبھی نہ دیتے۔ حضرت سلامت یہ کون کہتا ہے کہ ممکنات کو عوارض خارجیہ میں باہم مشارکت اور مجانست نہیں۔ امر متنازعہ فیہ تو یہ ہے کہ خصائص الٰہیہ میں کسی غیر اللہ کو بھی اشتراک ہے۔ یا صفات اُس کے اس کی ذات سے مخصوص ہیں۔ آپ مدعی اس امر متنازعہ کے ہیں اور نظیر ممکنات کی پیش کرتے ہیں جو خارج از بحث ہے آپ امر متنازعہ کی کوئی نظیر دیں تب حجت تمام ہو ورنہ ممکنات کے تشارک تجابس سے یہ حجت تمام نہیں ہوتی نہ ذات باری کے خصائص کو ممکنات کے عوارض پر قیاس کرنا طریق دانشوری ہے۔ علاوہ اس کے جو ممکنات میں بھی خصائص ہیں وہ بھی اُن کے ذوات سے مخصوص ہیں جیسا کہ انسان کی حدتام یہ ہے جو حیوان ناطق ہے اور ناطق ہونا انسان کے خصائص ذاتی میں سے اور اس کا فصل اور ممیز عن الغیر ہے یہ فصل اس کا نہیں کہ ضرور بینا بھی ہو اور آنکھ سے بھی دیکھتا ہو کیونکہ اگر انسان اندھا بھی ہو جائے تب بھی انسان ہے۔بلکہ انسان کے خصائص ذاتیہ سے وہ امر ہے جو بعد مفارقت روح کے بدن سے اس کے نفس میں بنا رہتا ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے جو ممکنات میں اس وجہ سے جو وہ سب ترکیب عنصری میں متحد ہیں بعض حالات خارج از حقیقت تامہ ہیں ایک دوسرے کی مشارکت بھی ہوتے ہیں جیسے انسان اور گھوڑا اور درخت کہ جوہر اور صاحب العباد ثلاثہ اور قوت نامیہ ہونے میں یہ تینوں شریک ہیں اور حساس اور متحرک بالارادہ ہونے میں انسان اور گھوڑا مشارکت رکھتے ہیں لیکن ماہیت تامہ ہر ایک کی جدا جدا ہے۔ غرض یہ صفت عارضی ممکنات کی حقیقت تامہ پر زائد ہے جس میں کبھی کبھی تشارک اور کبھی تغائر ان کا ہو جاتا ہے اور باوصف مختلف الحقائق اور متغائر الماہیت ہونے کے کبھی کبھی بعض مشارکات میں ایک جنس کے تحت میں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ کسی ایک حقیقت کے لئے ایک اجناس ہوتے ہیں اور یہ بھی کچھ سمجھا کہ کیوں ایسا ہوتا ہے یہ اس واسطے ہوتا ہے کہ ترکیب مادی ان کی اصل حقیقت اُن کے پر زائد ہے اور سب کی ترکیب مادی کا ایک ہی استقس یعنی اصل ہے۔ اب آپ پر ظاہر ہوگا کہ یہ تشارک ممکنات کا خصائص ذاتیہ میں تشارک نہیں بلکہ عوارض خارجیہ میں اشتراک ہے باطنی آنکھ انسان کی جس کو بصیرت قلبی (این لائن منٹ) کہتے ہیں دوسرے حیوانات میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔
    اخیر میں باوا صاحب اپنے خاتمہ جواب میں یہ بات کہہ کر خاموش ہوگئے ہیں کہ سب دلائل معترض کے توہمات ہیں۔ قابل تردید نہیں اس کملہ سے زیرک اور ظریف آدمیوں نے فی الفور معلوم کر لیا ہوگا کہ باوا صاحب کو یہ لفظ کیوں کہنا پڑا۔ بات یہ ہوئی اوّل اوّل تو ہمارے معزز دوست جناب باوا صاحب جواب دینے کی طرف دوڑے اور جہاں تک ہو سکا ہاتھ پاؤں مارے اور کودے اُچھلے لیکن جب اخیر کچھ پیش نہ گئی اور عقدہ لاینحل معلوم ہوا تو آخر ہانپ کر بیٹھ گئے اور یہ کہہ دیا کہ کیا تردید کرنا ہے یہ تو توہمات ہیں۔ لیکن ہر عاقل جانتا ہے کہ جن دلائل کی مقدمات یقینیہ پر بنیاد ہے وہ کیوں توہمات ہوگئے۔ اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور آئندہ بلا ضرورت نہیں لکھیں گے۔
    راقم
    مرزا غلام احمد۔ رئیس قادیان



    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    عرض حال
    الحمدللّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ محمد الامین و خاتم النبیین واعلیٰ آلہٖ اصحابہ الطیبین وعلی خلفائہِ راشدین۔
    اما بعد خاکسار ایڈیٹر الحکم نہایت خوشی اور مسرت قلبی سے اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کو اس چشمہ ہدایت کی طرف رہنمائی فرمائی اور اپنے فل ہی سے اس کے ہاتھ میں قلم اور دل و دماغ میںقوت بخشی اور اسے سلسلہ کی قلمی خدمت کے لئے جوش عطا فرمایا تب ہی سے اس کو یہ آرزو رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات اور مکتوبات کو جمع کروں محض فضل ربانی ہی نے اس کی دستگیری کی اور اس کو اس خدمت کے ایک حد تک قابل کر دیا۔ الحکم کے ذریعہ اس سلسلہ میں بہت بڑا کام ہوچکا ہے اور پُرانی تحریروں کے جمع کرنے میںبھی اس حد تک کامیابی ہوئی کہ آج میں اس سلسلہ میں یہ تیسرا مجموعہ شائع کرنے کی توفیق پاتا ہوں۔ والحمدللّٰہ علی ذالک
    مکتوبات کے سلسلہ میں اس وجہ سے پہلی جلد کی اشاعت کے وقت خیال کیا گیا تھا کہ دوسری جلد حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہا العالی کے مکتوبات کی ہوگی مگر بعد میں میری رائے ترتیب کے متعلق یوں ہوئی کہ پہلے ان جلدوں کو شائع کرنا چاہئے جو مختلف مذاہب کے ہادیوں اور لیڈروں کے نام کے مکتوبات ہیں۔ چنانچہ اس جلد میں ان مکتوبات کو جمع کیا گیا ہے جو ہندو، آریہ اور براہمو لوگوں کے نام ہیں۔ تیسری جلد میں وہ مکتوبات انشاء اللہ ہونگے جو عیسائی مذہب کے لیڈروں کے نام آپ نے لکھے ہیں۔ غالباً اس امر کا اظہار بھی ضروری ہے کہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۸ء میں پہلی جلد شائع ہوئی تھی اور قریباً چار سال بعد دوسری جلد شائع ہوتی ہے اس توقف اور تعویق کا موجب ظاہری وہ مالی مشکلات تھیں جو کارخانہ الحکم کو بوجہ خسارہ مشین پیش آئیں لیکن اب چونکہ میرے مکرم بھائی منشی محمد وزیر خاں صاحب اورسیئر نے جو سلسلہ کے ایک مخلص اور جوشیلے ممبر ہیں اور میرے ساتھ اُنہیں دیرینہ محبت ہے اس سلسلہتالیفات مکتوبات میں مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو باقی جلدیں جلد شائع ہوسکیں گی۔ والامربیہ اللّٰہ
    احباب اگر اس سلسلہ تالیفات کی خریداری میں میری حوصلہ افزائی کریں تو خدا کے فضل سے وہ وقت قریب آ سکتاہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور توفیق سے اُس عظیم الشان کام کو شروع کر دوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سوانح عمری کا کام ہے۔ یہ سوانح عمری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح عمری ہی نہ ہوگی بلکہ یہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ایک تاریخ ہوگی۔
    یہ معمولی محنت کا کام نہیں اس کے لئے ایک خاص سٹاف کی ضرورت ہوگی اور ہزاروں ہزار صفحات کی ورق گردان اور واقعات کا جمع کرنا اور تالیف و ترتیب کا کام ہوگا۔ میں اپنے مخلص احباب کا شکر گزار ہوں کہ وہ مجھے اس کا اہل سمجھتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے اس فضل کا شکر گزار ہوں میں اس امر کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح کا میٹریل میں نے قریباً جمع کر لیا ہے اس کی ترتیب اور طبع ہی کا کام اب باقی ہے اور یہ اس وقت شروع ہو سکے گا جب اللہ تعالیٰ ایسے مخلص قلوب کو تحریک کرے گا جو اس راہ میں اپنا مال نثار کر سکیں ساری توفیقیں اللہ کو ہی ہیں۔ یہ کتاب صرف ایک ہزار چھاپی گئی ہے جس قدر جلد احباب اس کی اشاعت میں حصہ لیں گے اسی قدر جلد وہ مجھے دوسری جلد کی اشاعت کا موقع دیں گے۔
    والسلام
    احقر یعقوب علی تراب احمد
    ایڈیٹر الحکم قادیان
    (دفتر الحکم قادیان دارالامان ۲۴؍ دسمبر ۱۹۱۲ء)
     
  3. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    مکتوبات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 3

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پرانی تحریروں کا سلسلہ نمبر
    اَلْمَکَتُوْبُ نَصْفُ الْمُلاقَاتُ
    مکتوبات احمدیہ
    (جلدسوم)


    مرتبہ
    حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ

    ملنے کا پتہ
    عبدالعظیم مالک احمدیہ بک ڈپو قادیان دارالامان
    ہدیہ ایک روپیہ پچیس نئے پیسے
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
    مکتوبات احمدیہ جلد سوم
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے
    پادریوں کے نام خطوط
    چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی دادہ اند
    مصلحت را ابن مریم نام من بنہادہ اند
    مکتوب نمبر۱
    پادری سوفٹ صاحب کے نام
    یہ ایک پُرانہ خط ہے جو پادری سوفٹ صاحب کے نام لکھا گیا تھا۔ یہ پادری صاحب گوجرانوالہ میں رہتے تھے۔ انہیں عام پادریوں کی نسبت عیسوی تہیالوجی کا بڑا دعویٰ تھا۔ افسوس اس خط کے نقل کرنے والے نے بھی تاریخ و سنہ کے لکھنے سے جو سخت ضروری بات تھی تامل کیا۔ بہرحال یہ ۱۸۸۴ء سے کم عرصہ کا یہ خط نہیں۔ اس سے بڑا بھاری فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت امام الزمان اپنے دعاوی کے صادقانہ لہجے میں برابر مستقیم اور غیر مبتدل چلے آتے ہیں اور یہ افتراء اختلاق کے ردّ کی بڑی بھاری دلیل ہے۔ والحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔ (ایڈیٹر)

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
    بعد ماوجب۔ آپ کا عنایت نامہ جس پر کوئی تاریخ درج نہیں بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا آپ نے پہلے تو بے تعلق اپنے خط میں یہ قصہ چھیڑ دیا ہے کہ حقیقت میں خدائے قادر مطلق خالق و مالک ارض و سما مسیح ہے اور وہی نجات دہندہ ہے لیکن میں سوچ میں ہوں کہ آپ صاحبوں کی طبیعت کیونکر گوارا کر لیتی ہے کہ ایک آدم زاد خاکی نہاد عاجز بندہ کی نسبت آپ لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہی ہمارا پیدا کنندہ اور ربّ العلمین ہے یہ خیال آپ کا حضرت مسیح کی نسبت ایسا ہی ہے جیسے ہندو لوگ راجہ رامچند کی نسبت رکھتے ہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ ہندو لوگ کشلیا کے بیٹھے کو اپنا پرمیشر بنا رہے ہیں اور آپ حضرت مریم صدیقہ کے صاحبزادہ کو۔ نہ ہندؤوں نے کبھی ثابت کر دکھایا کہ زمین و آسمان میں کوئی ٹکڑا کسی مخلوق کا رامچندر یا کرشن نے پیدا کیا ہے اور نہ آج تک آپ لوگوں نے حضرت مسیح کی نسبت کچھ ایسا ثبوت دیا۔ افسوس کہ جو قومیں عقل اور ادراک اور فہم و قیاس کے آپ صاحبوں کی فطرت کو عطا کی گئی تھیں آپ لوگوں نے ایک ذرا ان کا قدر نہیں کیا اور علوم طبعی اور فلسفی کو پڑھ پڑھا کر ڈبودیا اور عقلی علوم کی روشنی آپ لوگوں کے دلوں پر ایک ذرا نہ پڑی سادی اور ناسمجھی کے زمانہ میں جو کچھ گھڑا گیا انہیں باتوں کو آپ لوگوں نے اب تک اپنا دستور العمل بنا رکھا۔ کاش اس زمانہ میں دو چار دن کیلئے حضرت مسیح اور راجہ رامچندر اور کرشن وبدھ وغیرہ کہ جن کو مخلوق پرستوں نے خدا بنایا ہوا ہے پھر دنیا میں اپنا درش کرا جاتے۔ تا خود ان لوگوں کا انصاف دلی ان ان کو ملزم کرتا کہ کیا ان آدمزادوں کو خدا خدا کر کے پکارنا چاہئے اور تعجب تو یہ ہے کہ باوجود ان تمام رسوائیوں کے جو آپ لوگوں کے عقاید میں پائی جاتی ہیں پھر آپ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے عقائد اور غیر متغیر جلال چھوڑ کر ایک عورت کے پیٹ میں حلول اور ناپاک راہ سے تولد پایا اور دکھ اور تکلیف اُٹھاتا رہا اور مصلوب ہو کر مر گیا اور پھر یہ کہ وہ تین بھی ہے اور ایک بھی اور انسان کامل بھی ہے اور خدائے کامل بھی۔ وہ ایسے عقائد کو کیونکہ عقل کے مطابق کر سکتے ہیں اور ایسی نئی فلسفی کونسی ہے۔ جس کے ذزیعے سے یہ لغویات معقول ٹھہر سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آپ لوگ معقول طور پر اپنے خوش عقیدہ کی سچائی ثابت نہیں کر سکتے تو پھر لاچار ہو کر نقل کی طرف بھاگتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں ہم نے پہلی کتابوں میں یعنی بائبل میں دیکھی ہیں۔ اسی وجہ سے ہم ان کو مانتے ہیں لیکن یہ جواب بھی سراسر پوچ اور بے معنی ہے کیونکہ ان کتابوں میں ہرگز یہ بات درج نہیں ہے کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے یا خود ربّ العلمین ہیں اور دوسرے لوگ خدا کے بندے ہیں بلکہ بائبل پر غور کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا کر کے کسی کو پکارنا یہ ان کتابوں کا عام محاورہ ہے۔ بلکہ بعض جگہ خدا کی بیٹیاں بھی لکھی ہیں اور ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ تم سب خدا ہو۔ تو پھر اس حالت میں حضرت مسیح کی کیا خصوصیت رہی ماسوا اس کے ہر ایک عاقل جانتا ہے کہ منقولات اور اخبار میں صدق اور کذب اور تغیر اور تبدل کا احتمال ہے۔ خصوصاً جو جو صدمات عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کو پہنچے ہیں اور جن جن خیانتوں اور تحریفوں کاانہوں نے آپ اقرار کر لیاہے ان وجوہ سے یہ احتمال زیادہ تر قوی ہو جاتا ہے اور یہ بھی آپ کو سوچنا چاہئے کہ اگر ہر یک تحریر بغیر ثبوت باضابطہ کے قابل اعتبار ٹھہر سکتی ہے تو پھر آپ لوگ ان قصوں کو کیوں معتبر نہیں سمجھتے کہ جو ہندؤوں کے پستکوں میں رام چندر اور کرشن اور برہما اور بشن وغیرہ کے معجزات کی نسبت اور ان کے بُرے بُرے کاموں کے بارہ میں اب تک لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جیسے مہادیو کے لٹوں سے گنگا کا نکلنا اور مہادیو کا پہاڑ کو اُٹھالینا اور ایسا ہی ارجن کے بھائی راجہ پلیہم کے مقابل پر مہادیو کا کشتی کیلئے آنا جس کی پرانوں میںیہ کتھا لکھی ہے کہ مہادیو جی ملہنسی کا روپ دھار کر راجہ پلیہم کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ پلیہم نے چاہا کہ ان سے لڑے۔ مہادیو جی بھاگ نکلے۔ بیہم نے ان کا پیچھا کیا تب وہ زمین میں گھس گئی۔ بیہم نے دیکھ کربڑی زور سے ان کی پونچھ پکڑ لی اور کہا کہ اب میں نہ جانے دوں گا۔ سو پونچھ اور پچھلا دھڑ تو بیہم کے ہاتھ میں رہ گیا اور منہ نیپال کے پہاڑ میں جا نکلا۔ اسی وجہ سے منہ کی پوجا نیپال میں ہوتی ہے اور پونچھ اور پچھلے دھڑ کی کدار ناتھ میں۔
    اب دیکھئے کہ جو کچھ عقیدہ آپ نے بنا رکھا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کی روح حضرت مریم کے رحم میں گھس گئی اور گھسنے کے بعد اُس نے ایک نیا روپ دھار لیا جس سے وہ کامل خدا بھی بنے رہے اور کامل انسان بھی ہوگئے۔ کیا یہ قصہ بیہم اور مہادیو کے قصہ سے کچھ کم ہے۔
    پھر آپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کو مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے نجات حاصل ہوگئی ہے۔ مگر میں آپ لوگوں میں نجات کی کوئی علامت نہیں دیکھتا اور اگر میں غلطی پر ہوں تو آپ مجھ کو بتلا دیں کہ وہ کون سے انوار اور برکات اور قبولیت الٰہی کے نشان آپ لوگوں میں پائے جاتے ہیں جس نے دوسرے لوگ محروم رہے ہوئے ہیں۔ میں اس بات کو نہیں مانتا ہوں کہ ایمانداروں اور بے ایمانوں اور ناجیوں اور غیر ناجیوں میں ضرور مابہ الامتیاز ہونا چاہئے۔ مگر پادری صاحب آپ ناراض نہ ہوںوہ علامات جو ایمانداروں میںہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں جن کو حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دو تین جگہ انجیل میں لکھا ہے۔ وہ آپ لوگوں میں مجھ کو نظر نہیں آتے۔ بلکہ وہ نشان سچے مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں اور انہیں میں ہمیشہ پائے گئے ہیں اور انہیں نشانوں کے ظاہر کرنے کیلئے اس عاجز نے آپ صاحبان کی خدمت میں رجسٹری کرا کر خط لکھے اور بیس ہزار اشتہار تقسیم کیا اور کوئی دقیہ ابلاغ اور اتمام حجت کا باقی نہ رکھا تا خدا کرے کہ آپ لوگوں کو حق کے دیکھنے کیلئے شوق پیدا ہو اور جو مقبول اور مردود میں فرق ہونا چاہئے۔ وہ آپ بچشم خود دیکھ لیں اور اچھے درختوں کے اچھے پھل اور اچھے پھول بذات خود ملاحظہ کر لیں۔ مگر افسوس کہ میری اس قدر سعی اور کوشش سے آپ لوگوں میں سے کوئی صاحب میدان میں نہیں آئے۔ اب آپ نے یہ خط لکھا ہے مگر دیکھئے کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے خط میںتین شرطیں لکھی ہیں۔ پہلے آپ یہ لکھتے ہیں کہ چھ سَو روپیہ یعنی تین ماہ کے تنخواہ بطور پیشگی ہمارے پاس گوجرانوالہ میں پہنچائی جاوے اور نیز مکان وغیرہ کا انتظام اس عاجز کے ذمہ رہے اور اگر کسی نوع کی دقت پیش آوے تو فوراً آپ گوجرانوالہ میں واپس آ جاویں گے اور جو روپیہ آپ کو مل چکا ہو اس کو واپس لینے کا استحقاق اس عاجز کو نہیں رہے گا۔ یہ پہلی شرط ہے جو آپ نے تحریر فرمائی ہے لیکن گزارش خدمت کیا جاتا ہے کہ روپیہ کسی حالت میں قبل از انفصال اس امر کے جس کے لئے بحالت مغلوب ہونے کے روپیہ دینے کا اقرار ہے آپ کو نہیں مل سکتا۔ ہاں البتہ یہ روپیہ آپ کی تسلی اور اطمینان قلبی کیلئے کسی بنک سرکاری میں جمع ہو سکتا ہے یا کسی مہاجن کے پاس رکھا جا سکتا ہے۔ غرض جس طرح چاہیں روپیہ کی بابت ہم آپ کی تسلی کرا سکتے ہیں لیکن آپ کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے اور یہ بات سچ اور قریب انصاف بھی ہے کہ جب تک فریقین میں جو امر متنازعہ فیہ ہے وہ تصفیہ نہ پا جاوے تب تک روپیہ کسی ثالث کے ہاتھ میں رہنا چاہئے۔ امید ہے کہ آپ جو طالب حق ہیں اس بات کو سمجھ جائیںگے اور اس کے برخلاف اصرار نہیں کریں گے اور جو اسی شرط کے دوسرے حصہ میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ اگر مکان وغیرہ کے بارے میں کسی نوع کی ہم کو دقت پہنچی تو ہم فوراً گوجرانوالہ میں آویں گے اور جو روپیہ جمع کرایا گیا ہے ہمارا ہو جائے گا۔ یہ شرط آپ کی بھی ایسی وسیع التاویل ہے کہ ایک بہانہ جُو آدمی کو اس سے بہت گنجائش مل سکتی ہے کیونکہ مکان بلکہ ہر یک چیز میں نکتہ چینی کرنا بہت آسان ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس جگہ کا آب وہوا ہم کو مخالف ہے، ہم بیمار ہوگئے، مکان میں بہت گرمی ہے، فلاں چیز ہم کو وقت پر نہیں ملتی، فلاں فلاں ضروری چیزوں سے مکان خالی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب ایسی ایسی نکتہ چینیوں کا کہاں تک تدارک کیا جائے گا۔ سو اس بات کا انتظام اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ ایک دو دن کیلئے خود قادیان میں آ کر مکان کو دیکھ بھال لیں اور اپنے ضروریات کا بالمواجہہ تذکرہ اور تصفیہ کر لیں تا جہاں تک مجھ سے بن پڑے آپ کو خواہشوں کے پورا کرنے کیلئے کوشش کروں اور پھر بعد میں نکتہ چینی کی گنجائش نہ رہے ماسوا اس کے یہ عاجز تو اس بات کا ہرگز دعویٰ نہیں کرتا کہ کسی کو اپنے مکان میں فروکش کر کے جو کچھ نفس امّارہ اُس کا اسباب عیش و تنعم مانگتا جاوے وہ سب اس کے لئے مہیا کرتا جاؤں گا بلکہ اس خاکسار کا یہ عہد و اقرار ہے کہ جو صاحب اس عاجز کے پاس آئیں ان کو اپنے مکان میں سے اچھا مکان اور اپنی خوراک کے موافق خوراک دی جائے گی اور جس طرح ایک عزیز اور پیارے مہمان کی حتی الوسع دلجوئی و خدمت و تواضع کرنی چاہئے اسی طرح ان کی بھی کی جائے گی۔ اپنی طاقت اور استطاعت کے موافق برتاؤ اور اپنے نفس سے زیادہ اَکل و شرب میں ان کی رعایت رکھتی جاوے گی۔ ہاں اگر کوئی اس قسم کی تکلیف ہو جس کو اس گاؤں میں ہم لوگ اُٹھاتے ہیں اور اس کا دفع اور ازالہ ہماری طاقت اور استطاعت سے باہر ہے۔ اس میں ہمارے مہمان ہماری حالت کے شریک رہیں گے اور اس بات کو آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر ہر یک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں ہم نے دو سَو روپیہ ماہواری دینا قبول کیا اور اس کے ادا کے لئے ہر طرح تسلی بھی کر دی تو ہم نے اپنے اس فرض کو ادا کر دیا یا جو کسی کا پورا پورا ہرجہ دینے کیلئے ہمارے سر پر تھا۔ رہا تجویز مکان و دیگر لوازم مہمانداری سو یہ زواید ہیں جن کو ہم نے محض حسن اخلاق کیطور پر اپنے ذمہ آپ لے لیا ہے۔ ورنہ ہر یک باانصاف آدمی جانتا ہے کہ جس شخص کو پورا پورا ہرجہ اس کی حیثیت کے موافق بلکہ اس سے بڑھ کر دیا جائے تو پھر اور کوئی مطالبہ اس کا بیجا ہے۔ اس کو تو خود مناسب ہے کہ اگر زیادہ تر آرام پسند اور آسائش دوست ہے تو اپنی آسائش کے لئے آپ بندوبست کرے۔ جیسا اس حالت میں بندوبست کرتا کہ جب وہ دو سَو روپیہ نقد کسی اور جگہ سے بطور نوکری پاتا۔ غرض جس قدر علاوہ ادائے ہرجہ کے ہم سے کسی کی خدمت ہو جاوے اس میں تو ہمارا ممنون ہونا چاہئے کہ ہم نے علاوہ اصل شرط کے بطور مہمانوں کے اس کو رکھا نہ کہ الٹی نکتہ چینی کی جائے کیونکہ یہ تو تہذیب اور اخلاق اور انصاف سے بہت بعید ہے اور اس مقام میں مجھ کو ایک سخت تعجب یہ ہے کہ اگر ایسے شرائط جو آپ نے پیش کئے کوئی اور شخص کسی فرقہ مخالف کا پیش کرتا تو کچھ بعید نہ تھا۔ مگر آپ لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کے خادم اور تابع کہلاتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا دم مارتے ہیں۔ سو یہ کیسی بھول کی بات ہے کہ آپ حضرت مسیح کی سیرت کو چھوڑے جاتے ہیں کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح ایک مسکین اور درویش طبع آدمی تھے جنہوں نے اپنی تمام زندگی میں کوئی اپنا گھر نہ بنایا اور کسی نوع کا اسباب عیش و عشرت اپنے لئے مہیا نہ کیا تو پھر آپ فرماویں کہ آپ کو ان کی پیروی کرنا لازم ہے یا نہیں؟ جب تک آپ کی زندگی مسیح کی زندگی کا نمونہ نہ بنیں تب تک آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح کے سچے پیرو ہیں۔ سو اب آپ غور کر لیں کہ یہ کس قدر نازیبا بات ہے کہ جو آپ پہلے ہی اپنے عیش و عشرت کے لئے مجھ سے شرطیں کر رہے ہیں آپ پر واضح ہو کہ یہ عاجز مسیح کی زندگی کے نمونہ پر چلتا ہے کسی باغ میں امیرانہ کوٹھی نہیں رکھتا اور اس عاجز کا گھر اس قسم کی عیش و نشاط کا گھر نہیں ہو سکتا جس کی طرف دنیا پرستوں کی طبیعتیں راغب اور مائل ہیں۔ ہاں اپنی حیثیت اور طاقت کے موافق مہمانوں کیلئے خالصًا لِلّٰہ مکاناب بنا رکھے ہیں اور جہاں تک بس چل سکتا ہے ان کی خدمت کے لئے آمادہ حاضر ہوں سو اگر ایسے مکانات میں گزارہ کرنا چاہیں تو بہتر ہے کہ اوّل آ کر اُن کو دیکھ لیں۔ لیکن اگر آپ تنعم پسند لوگوں کی طرح مجھ سے یہ درخواست کریں کہ میرے لءآ ایک ایسا شیش محل چاہئے جو ہر ایک طرح کے فرش فروش سے آراستہ ہو۔ جا بجا تصویریں لگی ہوئی اور مکان سجا ہوا اور بوتلوں میں مست اور متوالا کرنے والی چیز بھری ہوئی رکھی اور اِردگرد مکان کے ایک خوشنما باغ اور چاروں طرف اس کے نہریں جاری ہوں اور دس بیش خدمتگار غلاموں کی طرح حاضر ہوں تو ایسا مکان پیش کرنے سے مجبور اور معذور ہوں بلکہ ایک سادہ مکان جو ان تکلیفات سے خالی لیکن معمولی طور پر گزارہ کرنے کا مکان ہو موجود اور حاضر ہے اور مکرر کہتا ہوں کہ آپ کو پُرتکلف مکانات اور دوسرے لوازم سے گریز کرنا چاہئے تا آپ میں مسیح کی زندگی کے علامات ظاہر ہو جائیں اور میں ہرگز خیال نہیں کرتا کہ یہ مکان آپ کو کچھ تکلیف دہ ہوگا۔ بلکہ مجھے کامل تسلی ہے کہ ایک شکرگزار آدمی ایسے مکان میں رہ کر کوئی کلمہ شکوہ شکایت کا منہ پر نہیں لائے گا کیونکہ مکان وسیع موجود ہے اور گزارہ کرنے کے لئے سب کچھ مل سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ بعدملاحظہ مکان چند معمولی اور جایز باتوں میں جو ہماری طاقت میں ہوں فرمائش کریں تو وہ بھی بفضلہ تعالیٰ میسر آ سکتے ہیں۔ مگر بہرحال پہلے آپ کا تشریف لانا ازبس ضروری ہے۔ پھر آپ دوسری شرط میں یہ لکھتے ہیں کہ الہام اور معجزہ کا ثبوت ایسا چاہئے جیسے کتاب اقلیدس میں ثبوت درج ہیں۔ جن سے ہمارے دل قائل ہو جائیں۔ اس میں اوّل عاجز کی اس بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزہ کا لفظ صرف اُسی محل میں بولا کرتے ہیں جب کوئی خارق عادت کسی بنی اور رسول کی طرف منسوب ہو لیکن یہ عاجز نہ نبی۱؎ نہ رسول ہے صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت و متابعت سے یہ انوار برکات ظاہر ہو رہے ہیں۔ سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ معجزہ کا اور ایسا ہی ہم لوگوں کے بول و چال میں آتا ہے اور جو اقلیدس کی طرح ثبوت مانگتے ہیں۔ اس میں یہ عرض ہے کہ جس قدر بفضلہ تعالیٰ روشن نشان آپ کو دکھلائے جائیں گے بمقابلہ اُن کے ثبوت اقلیدس کا جو اکثر دوائرہ موہومہ پر مبنی ہے ناکارہ اور ہیچ ہے۔ اقلیدس کے ثبوتوں میں کئی محل گرفت کی جگہ ہیں اور ان ثبوتوں کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوی کہے کہ اگر اوّل آپ بلادلیل کسی ایک چارپایہ کی نسبت یہ مان لیجئے کہ یہ چارپایہ نجاست کھا لیتا ہے اور میں میں کرتا ہے اور بدن پر اس کے اون ہے تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ بھیڈ کا بچہ ہے۔ ایسا ہی اقلیدس کے بیانات میں اکثر جگہ تناقص ہے۔ جیسے اوّل وہ آپ ہی لکھتا ہے۔ نقطہ وہ شئے ہے جس کی کوئی جز نہ ہو یعنی بالکل قابل انقسام نہ ہو۔ پھر وہ دوسری جگہ آپ ہی تجویز کرتا ہے کہ ہر یک خط کے دو ٹکڑے ایسے ہو سکتے ہیں کہ وہ دونوں اپنے اپنے مقدار میں برابر ہوں۔ اب فرض کرو کہ ایک خط مستقیم ایسا ہے جو نو لفظوں سے مرکب ہے اور بموجب دعویٰ اقلیدس کے ہم چاہتے ہیں جو اس کے دو مساوی ٹکڑے کریں تو اس صورت میں یا تو یہ امر خلاف قرار داد پیش آئے گا کہ ایک نقطہ کے دو ٹکڑے ہو جائیں اور یا یہ دعویٰ اقلیدس کا کہ ہر یک خط مستقیم دو ٹکڑے مساوی ہو سکتا ہے غلط ٹھہرے گا۔ غرض
    ۱؎ یہ آپ کی سچائی کی دلیل ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس روز نبوت کو نہیں کھولا آپ نی بھی دعویٰ نہ کیا۔ (ایڈیٹر)
    اقلیدس بہت سی وہمی اور بے ثبوت باتیں بھری ہوئی ہیں جن کو جاننے والے خوب جانتے ہیں۔ مگر آسمانی نشان تو وہ چیز ہے کہ وہ خود منکر کی ذات پر ہی وارد ہو کر حق الیقین تک اس کو پہنچا سکتا ہے اور انسان کو بجز اس کے ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ سو آپ تسلی رکھیں کہ اقلیدس کے ناچیز خیالات کو اُن عالی مرتبہ نشانوں سے کچھ نسبت نہیں۔
    ’’چہ نسبت خاک را با عالم پاک‘‘
    اور یہ نہیں کہ صرف اس عاجز کے بیان پر ہی ہررہے گا بلکہ یہ فیصلہ بذریعہ ثالثوں کے ہو جائے گا اور جب تک ثالث لوگ جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں گے یہ شہادت نہ دیں کہ ہاں فی الحقیقت یہ خوارق اور پیشگوئیاں انسانی طاقت سے باہر ہیں تب تک آپ غالب اور یہ عاجز مغلوب سمجھا جائے گا لیکن درصورت مل جانے ایسی گواہیوں کے جو ان خوارق اور پیشگوئیوں کو انسان طاقت سے بالا تر قرار دیتی ہوں تو آپ مغلوب اور میں بفضلہ تعالیٰ غالب ہوں گا اور اسی وقت آپ پر لازم ہوگا کہ اسی جگہ قادیان میں بشرف اسلام مشرف ہو جائیں۔ پھر آپ اپنے خط کے اخیر پر یہ لکھتے ہیں کہ اگر شرائط مذکورہ بالا کو قبول نہیں فرماؤ گے تو آپ کا حال اور یہ شرائط چند اخبار ہند میں شائع کئے جائیں گے۔ سو مشفق من جو کچھ حق حق تھا آپ کی خدمت میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ عاجز آپ کے حالات شائع کرنے کرانے سے ہرگز نہیں ڈرتا۔ بلکہ خدا جانے آپ کب اور کس وقت اپنی طرف سے اخباروں میں یہ مضمون درج کرائیں گے مگر یہ خاکسار تو آج ہی کی تاریخ میں ایک نقل اس خط کی بعض اخباروں میں درج کرنے کیلئے روانہ کرتا ہے اور آپ کو یہ خوشخبری پہلے سے سنا دیتا ہے تا آپ کی تکلیف کشی کی حاجت نہ رہے اور من بعد جو کچھ آپ کی طرف سے ظہور میں آئے گا وہ بھی بیس روز تک انتظار کر کے چند اخباروں میں چھپوا دیا جاوے گا اور اگر آپ کچھ غیرت کو کام میں لاکر قادیان میں آگئے تو پھر آپ دیکھیں کہ خداوند کریم کس کے ساتھ ہے اور کس کی حمایت اور نصرت کرتا ہے اور پھر اس وقت آپ پر یہ بھی کھل جائے گا کہ کیا سچا اور حقیقی خدا جو خالق اور مالک ارض و سما ہے وہ وہ حقیقت میں ابن مریم ہے یا وہ خدا ازلی و ابدی غیر متغیر و قدوس جس پر ہم لوگ ایمان لائے ہیں سو میںاُسی خدائے کامل اور صادق کی آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تشریف لاویں ضرور آئیں اگر وہ قسم آپ کے دل پر مؤثر نہیں تو پھر تمام الزام کی نیت سے آپ کو حضرت مسیح کی قسم ہے کہ آپ آنے میں ذرا توقف نہ کریں تا حق اور باطل میں جو فرق ہے وہ آپ پر کھل جائے اور جو صادقوں اور کاذبوں میں مابہ الامتیاز ہے وہ آپ پر روشن ہو جائے۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ
    بوقت صبح شود ہمچو روز معلومت
    کہ باکہ باختہ عشق در شب دلجور
    من ایستادہ ام اینک توہم بباشتاب
    کہ تا سیاہ شود روئے کاذب مغروب
    خاکسار
    آپ کا خیرخواہ
    مرزا غلام احمد
    قادیان ضلع گورداسپور







    مکتوب نمبر۲
    پادری جوالا سنگھ کے نام
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    مشفقی پادری جوالا سنگھ صاحب
    بعد ما وجب چند روز ہوئے کہ آپ کا ایک طول طویل خط پہنچا مگر میں اپنے ضروری کاموں کے باعث جواب نہ لکھ سکا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے کس قدر جلدی اپنے پہلے خط کے مضمون کے مخالف یہ خط لکھ دیا۔ آپ کا خط موجود ہے جس میں آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جو نشان چاہویں میں دکھلا سکتا ہوں اور خداوند مسیح میری آواز سنتا ہے۔ اسی بنا پر میں نے جواب لکھا تھاکہ مجھے ضرور نہیں کہ میں اپنی طرف سے درخواست کروں کہ ایسا نشان دکھلاؤ بلکہ واجب ہے کہ ان نشانوں کے موافق دکھلاؤ جو خود آپ کے خداوند نے آپ کی ایمان داری کی نشانیاں قرار دی ہیں اور اگر ایسا نشان دکھلا نہ سکو تو دو باتوں میں سے ایک بات ماننے پڑے گی یا تو یہ کہ آپ ایمان دار نہیں اور یا یہ کہ جس نے ایسی نشانیاں قرار دی ہیں وہ کذاب اور دروغ گو ہے جو جھوٹے وعدوں کی بنا پر اپنے مذہب کو چلانا چاہتا ہے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے میرے اس سوال کا کیا جواب دیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آپ نے اپنے خط میں ایسا ہی لکھا ہے کہ میں جو نشان چاہو دکھلا سکتا ہوں اور خداوند مسیح میری آواز سنتا ہے۔ اور اگر یہ سچ ہے تو اب آپ کو اس خداوند مسیح کی نسبت اتنی جلدی کیوں شک پڑ گیا اور آپ کا اپنے دوسرے خط میں یہ جواب لکھنا کہ پہلے آپ نشان دکھلاؤ۔ پھر اس قسم کا نشان میں دکھلاؤں گا۔ یہ صریح وعدہ شکنی ہے۔ دعویٰ کر کے پھر اس دعویٰ سے منہ پھیر لینا کیا یہ حق کے طالبوں کی نشانی ہے۔ جو شخص کسی نشان دکھلانے کیلئے توفیق دیا گیا ہے وہ پہلے بھی دکھا سکتا ہے اور بعد بھی۔ اچھا ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ نشان دیکھنے کے بعد ہی نشان دکھلا دیں لیکن آپ صاف طور پر اپنا اقرار تحریری لکھ بھیجیں کہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد یا تو میں اس کے مقابل یہ نشان دکھلاؤں گا اور یا بلاتوقف مسلمان ہو جاؤں گا اور اگر ایسا نہ کروں تو خدا تعالیٰ کی *** میرے پر ہو۔ پھر اس تحریر کے بعد ہم آپ کی پہلی تحریر کا آپ سے مؤاخذہ کریں گے اور یہ آپ کا کہا کہ ہم کسی کوٹھڑی میں بیٹھ جائیں اور اس میں نشان دکھلاویں گے یہ قرآن کریم کی تعلیم نہیں اور انجیل میں بھی پائی نہیں جاتی۔ شاید کوٹھڑیوں کا پُرانہ خیال ہندؤوں کی تعلیم سے آپ کے دل میں باقی رہا ہو۔ ہم لوگ اپنے ربّ کریم کی تعلیم سے قدم باہر نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں یہ حکم ہے کہ میدانوں میں آؤ اور میدانوںمیں اپنے دشمنوں کو ملزم کرو۔ سو ہم اپنے روشن چراغ کو کسی کوٹھڑی کے اندر چھپا نہیں سکتے بلکہ میدان کی اس اونچی جگہ پر رکھیں گے جس سے دور دور تک روشنی جائے ۔ اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ ان خطوط کی دوسرے کو خبر نہ ہو میں نہیں سمجھتا کہ یہ قول کس تعلیم کی بنا پر ہے۔ ہم کسی کام میں مخلوق سے نہیں ڈرتے۔ اگر یہ ثابت ہو کہ درحقیقت ابن مریم خدا ہے تو سب سے پہلے ہم اس پر ایمان لاویں اور کسی بے غیرتی اور مرنے سے نہ ڈریں لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ عاجز انسان ہے اور ہم میں سے ایک کی بھی آواز نہیں سن سکتا اور پھر اگر آپ طألب حق ہیں تو اس بحث کو کیوں چھپاتے ہیں کیا یہ اندیشہ ہے کہ اگر پادریوں کو خبر ہوگئی تو آپ نوکری سے برخاست کئے جائیں گے یا کوئی وظیفہ بند کیا جائے گا۔ چھپ چھپ کر بحث کرنا ایمان داروں کا کام نہیں۔ اور پھر آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن مسیح کے معجزات کا مصدق ہے کس قدر آپ کی بے خبری ثابت کرتا ہے۔ قرآن تو کہتا ہے کہ مسیح تو ایک عاجز بندہ تھا کبھی اُس نے خدائی کا دعویٰ نہ کیا اور اگر خدائی کا دعویٰ کرتا تو میں اُسے جہنم میں ڈالتا اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ملی کیونکہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی۔ پس قرآن کے رو سے مسیح کے منجی پاک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر قرآن مجید نے ایسے مسیح کی تصدیق کہاں کی جو اپنے تئیں خدا ٹھہراتا ہے بلکہ اس مسیح کی تصدیق کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایک عاجز بندہ کہلوایا۔ یہ سچ ہے کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم سے جو خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا ہے بعض معجزات بھی صادر ہوئے ہیں مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ مسیح کی وہی تعلیم تھی جس پر آپ لوگ اصرار کر رہے ہیں اور کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ جس ایمان کی طرف مسیح نے آپ کو بلایا تھا وہ ایمان آپ کو حاصل ہے۔
    اے عزیز! ہر گز نہیں ہوگا۔ ہرگز ثابت نہیں ہوگا۔ جب تک مسیح کے قول کے موافق آپ میں ایمانداروںکی نشانیاں پائی نہ جائیں اور اگر آپ قرآن کریم کی اس تصدیق سے کچھ فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں کہ اس نے مسیح کو صاحب معجزہ قرار دیا ہے اور اس کی تصدیق سے مسلمانوں پر اپنی حجت قائم کرنا چاہتے ہیں تو اوّل لازم ہے کہ مسیح کی شرط کے موافق اپنے تئیں ایمان دار ثابت کریں مسیح تو ایک طور پر آپ لوگوں کو بے ایمان کہہ چکا۔ گویا کہ چکا کہ ان لوگوں سے دور رہو۔ یہ مجھ میں سے نہیں ہیں تو اس صورت میں آپ کو مسیح سے تعلق کیا اور مسیح کو آپ سے کیا اور آپ کو مسلمانوں سے بحث کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ جب تک کہ انجیل کے رو سے اپنے تئیں سچا مسیحی ثابت نہ کریں۔ مجھے یاد ہے تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ پادری ڈاکٹر وائٹ برنحیٹ صاحب جو مشن بٹالہ میں متعین ہیں ملاقات کیلئے معہ ایک دیسی عیسائی کے میرے مکان پر آئے تو میں نے کہا کہ پادری صاحب سچ کہیں کہ اس وقت کے عیسائی انجیل کے علامات کے رو سے سچے عیسائی کہلا سکتے ہیں تو پادری صاحب کے منہ سے صاف یہی نکل گیا کہ نہیں! پادری صاحب بٹالہ میں زندہ موجود ہیں دریافت کر لیں کہ آیا یہ میرا بیان صحیح ہے یا نہیں؟ پھر اگر قرآن نے مسیح کی تصدیق کی تو آپ لوگوں کو اس تصدیق سے کیا فائدہ جب تک انجیل کے علامات کے رو سے اپنے تئیں ایمان دار ثابت نہ کریں اور یاد رکھیں کہ یہ ہرگز ممکن نہیں تمام باتیں آپ کی دروغ اور لاف ہے۔ انسان کا پرستار آسمان سے مدد نہیں پا سکتا۔ جواب سے جلدی مسرور فرماویں اور بعض الفاظ اگر تلخ ہوں تو معاف فرماویں کیونکہ راست گوئی کو تلخی لازم پڑی ہوئی ہے۔
    خاکسار
    غلام احمد
    از قادیان
    ۳۱؍ جون ۱۸۹۳ء
    مکتوب نمبر۳
    پادری فتح مسیح کے نام
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰے۔ اما بعد واضح ہو کہ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سیّد و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی اور سوائے اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔ لہٰذا جواب شائع کیا گیا۔ امید کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہرحال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض میں ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے اور اب ہم اس کے خط کا جواب ذیل میں لکھتے ہیں۔ وھوہذا
    مشفقی پادری صاحب۔ بعد ماوجب اس وقت مجھے بہت کم فرصت مگر میں نے جب آپ کا وہ خط دیکھا جو آپ نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے نام بھیجا تھا۔ مناسب سمجھا کہ اپنے اس رسالہ کی جو زیر تالیف ہے خود ہی آپ کو بشارت دوں تا آپ کو زیادہ تکلیف اُٹھانے کی ضرورت نہ رہے۔ یاد رکھیں یہ رسالہ ایسا ہوگا کہ آپ بہت ہی خوش ہو جائیںگے۔ آپ کی اُن مہربانیوں کی وجہ سے جو اَب کے دفعہ آپ کے خط میں بہت ہی پائی جاتی ہیں میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ اس رسالہ کی وجہ اشاعت صرف آپ ہی کی درخواست قرار دی جاوے کیونکہ جس مضمون کے لکھنے کیلئے اب ہم تیار ہیں اگر آپ کا یہ خط نہ آیا ہوتا جس میں جناب مقدس نبوی اور حضرت عائشہ صدیقہ اور سودہ کی نسبت آپ نے بدزبانی کی ہے تو شاید وہ مضمون دیر کے بعد نکلتا۔ یہ آپ کی بڑی مہربانی ہوئی کہ آپ ہی محرک ہوگئے۔ امید ہے کہ دوسرے پادری صاحبان آپ پر بہت ہی خوش ہونگے اور کچھ تعجب نہیں کہ ہمارا رسالہ نکلنے کے بعد آپ کی کچھ ترقی بھی ہو جاوے۔ پادری صاحب ہمیں آپ کی حالت پر رونا آتا ہے کہ آپ زبان عربی سے تو بے نصیب تھے ہی مگر وہ علوم جو دینیات سے کچھ تعلق رکھتے ہیں جیسے طبعی اور طبابت ان سے بھی آپ بے بہرہ ہی ثابت ہوئے۔ آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اوّل تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواتر سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمّی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔ جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر ناخواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نو برس ہی تھے لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا۔ مگر احمق کا کوئی علاج نہیں۔ ہم آپ کو اپنے رسالہ میں ثابت کر کے دکھاویں گے کہ حال کے محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ نو برس تک بھی لڑکیاں بالغ ہو سکتی ہیں بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہو سکتی ہے اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صدہا لوگوں کی یہ بات چشمدید ہے کہ اسی ملک میں آٹھ آٹھ نو نو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولاد موجود ہے۔ مگر آپ پر تو کچھ بھی افسوس نہیں اور نہ کرنا چاہئے کیونکہ آپ صرف متعصب ہی نہیں بلکہ اوّل درجہ کے احمق بھی ہیں۔ آپ کو اب تک اتنی خبر بھی نہیں کہ گورنمنٹ کے قانون عوام کی درخواست کے موافق انکی رسم اور سوسائٹی کی عام وضح کی بنا پر تیار ہوتے ہیں۔ اُن میں فلاسفروں کی طرز پر تحقیقات نہیں ہوتی اور جو بار بار آپ گورنمنٹ انگریزی کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے شکر گزار ہیں اور اس کے خیرخواہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں رہیں گے مگر تا ہم ہم اس کو خطا سے معصوم نہیں سمجھتے اور نہ اس کے قوانین کو حکیمانہ تحقیقاتوں پر مبنی سمجھتے ہیں بلکہ قوانین بنانے کا اصول رعایا کی کثرت رائے ہے۔ گورنمنٹ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تا وہ اپنے قوانین میں غلطی نہ کرے۔ اگر ایسے ہی قوانین محفوظ ہوتے تو ہمیشہ نئے نئے قانون کیوں بنتے رہتے۔ انگلستان میں لڑکیوں کی بلوغ کا زمانہ ۱۸ برس قرار دیا گیا ہے اور گرم ملکوں میں تو لڑکیاں بہت جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔ آپ اگر گورنمنٹ کے قوانین کو کالوحی من السماء سمجھتے ہیں کہ اُن میں امکان غلطی نہیں تو ہمیں بواپسی ڈاک اطلاع دیں تا انجیل اور قانون کاتھوڑا سا مقابلہ کر کے آپ کی کچھ خدمت کی جائے غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی توریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج دیں پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو اُن کا ذکر کرنا یا توحمق کی وجہ سے ہے یا تعصب کے سبب سے مگر آپ معذور ہیں۔ اگر گورنمنٹ کے اپنے قانون پر اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور ۹ برس کے متعلق آپ اعتراض کر کے پھر توریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے۔ صرف گورنمنٹ کے قانون کاذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا توریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ ورنہ نو برس کی حرمت یا تو توریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہئے تھی ۔ پادری صاحب یہی تو دجل ہے کہ الہامی کتب کے مسائل میں آپ نے گورنمنٹ کے قانون کو پیش کر دیا۔ اگر آپ کے نزدیک گورنمنٹ کے قانون کی تمام باتیں خطا سے خالی ہیں اور الہامی کتابوں کی طرح بلکہ ان سے افضل ہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوںکہ جن نبیوں نے خلاف قانون انگریزی کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کئے اگر وہ اس وقت ہوتے تو گورنمنٹ اُن سے کیا معاملہ کرتی۔ اگر وہ لوگ گورنمنٹ کے سامنے چالان ہو کر آتے جنہوں نے بیگانی کھیتیوں کے خوشے توڑ کر کھا لئے تھے تو گورنمنٹ ان کو اور ان کے اجازت دینے والے کو کیا کیا سزا دیتی۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ وہ شخص جو انجیر کا پھل کھانے دوڑا تھا اور انجیل سے ثابت ہے کہ وہ انجیر کا درخت اس کی ملکیت نہ تھا بلکہ غیر کی مِلک تھا اگر وہ شخص گورنمنٹ کے سامنے یہ حرکت کرتا تو گورنمنٹ اس کو کیا سزا دیتی انجیل سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے سور جو بیگانہ مال تھے اور جن کی تعداد بقول پادری کلارک دو ہزار تھی مسیح نے تلف کئے۔ اب آپ ہی بتلائیں کہ تعزیرات کی رو سے اس کی سزا کیا ہے۔ بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے جواب ضرورت لکھیں تا اور بہت سے سوال کئے جائیں۔
    پادری صاحب آپ کا یہ خیال کہ نو برس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے، سراسر غلط ہے۔ آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے۔ انجیل نے آپ کو دھکے دیئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں میں آ پڑے یا درکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا یہ افتراء شیطانوں کا کام ہے۔ ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات اور خبیث لوگوں نے سخت افترا کئے ہیں۔ چنانچہ ان پلیدوں نے لعنۃ اللّٰہ علیھم پہلے نبی کو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور دوسرے کو ولد زنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے۔ آپ کو چاہئے کہ ایسے اعتراضوں سے پرہیز کریں۔
    اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کیلئے مستعد ہوگئے تھے، سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتے کہ کس شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا۔ پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابل رغبت نہیں رہی ایسا نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بباعث طبعی کراہت کے جو نشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میرا حشر ہو چنانچہ نیل الاوطار کے صفحہ ۱۴۰ میں یہ حدیث ہے۔
    قال السودۃ بنت زمعۃ حین سنت وخافت ان یفار قھار رسول اللّٰہ یا رسول اللّٰہ وھبت یومی لعائشہ فقبل ذلک منھا ورواہ ایضاً سعد و سعید ابن منصور والترمذی وعبدالرزاق قال الحافظہ فی الفتح فتو اردت ھٰذہ الروایات علی انھا خشیت الطلاق
    یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شاید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جاؤں گی تو اُس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی آپ نے اس کی یہ درخواست قبول فرمائی ابن سعد اور سعید ابن منصور اور ترمذی اور عبدالرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔ اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ارداہ ظاہر نہیں ہوا بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کر کے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کے توارد اور تظاہر کو نظر انداز کر کے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں بھی کوئی بُرائی نہیں اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔ اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرد اس تعلق کے حقوق کی بجا آواری پر قادر نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں اگر اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کارروائی کرے تو عندالعقل کچھ جائے اعتراض نہیں۔
    پادری صاحب! آپ کا یہ سوال کہ اگر آج ایسا شخص جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتے تو گورنمنٹ اس سے کیا کرتی؟
    آپ کو واضح ہو کہ اگر وہ سید الکونین اس گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوتے تو یہ سعادت مند گورنمنٹ اُن کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتی جیسا کہ قیصر روم صرف تصویر دیکھ کر اُٹھ کھڑاہوا تھا۔ آپ کی یہ نالائقی اور ناسعادتی ہے کہ اس گورنمنٹ پر ایسی بدظنی رکھتے ہیں کہ گویا وہ خدا کے مقدسوں کی دشمن ہے یہ گورنمنٹ اس زمانہ میں ادنیٰ ادنیٰ امیر مسلمانوں کی عزت کرتی ہے۔ دیکھو نصراللہ خان جو اُس جناب کے غلاموں جیسا بھی درجہ نہیں رکھتا۔ ہماری قیصر ہند دام اقبالہا نے کیسی اُس کی عزت کی ہے۔ پھر وہ عالی جناب مقدس ذات جو اس دنیا میں بھی وہ مرتبہ رکھتا تھا کہ بادشاہ اس کے قدموں پر گرتے تھے۔ اگر وہ اس وقت میں ہوتا تو بے شک یہ گورنمنٹ اس کی جناب سے خادمانہ اور متواضعانہ طور پر پیش آتی۔ الٰہی گورنمنٹ کے آگے انسانی گورنمنٹوں کو بجز عجز و نیاز کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ قیصر روم جو آنجناب کے وقت میں عیسائی بادشاہ اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھا وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہوسکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا۔ سوجو قیصر روم نے کہا یقینا یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی۔ اگر حضرت مسیح کی نسبت اس وقت کے کسی چھوٹے سے جاگیر دار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو جو قیصر روم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا جو آج تک نہایت صحیح تاریخ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہوا موجود ہے تو ہم آپ کو ابھی ہزار روپیہ نقد بطور انعام دیں گے۔ اگر آپ ثابت کر سکیں اور اگر اس کا ثبوت نہ دے سکیں تو اس ذلیل زندگی سے آپ کے لئے مرنا بہتر ہے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قیصر روم اس گورنمنٹ عالیہ کا ہمرتبہ تھا بلکہ تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی طاقت کے برابر اور کوئی طاقت دنیا میں موجود نہ تھی۔ ہماری گورنمنٹ تو اس درجہ تک نہیں پہنچی پھر جب کہ قیصر باوجود اس شہنشاہی کے آہ کھینچ کر یہ بات کہتا ہے کہ اگر میں اس عالی جناب کی خدمت میں پہنچ سکتا تو آنجناب مقدس کے پاؤں دھویا کرتا تو کیا یہ گورنمنٹ اُس سے کم حصہ لیتی؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ضرور یہ گورنمنٹ اس آسمانی بادشاہ سے منکر نہیں جس کی طاقتوں کے آگے انسان ایک مرے ہوئے کیڑے کی برابر نہیں اور ہم نے ایک معتبر ذریعے سے سنا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند ادام اللہ اقبالہا درحقیقت اسلام سے محبت رکھتی ہے اور اس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم ہے۔ چنانچہ ایک ذی علم مسلمان سے وہ اُردو بھی پڑھتی ہے۔ اُن کی ایسی تعریفوں کو سن کر میں نے اسلام کی طرف ایک خاص دعوت سے حضرت ملکہ معظمہ کو مخاطب کیا تھا۔ پس یہ نہایت غلطی ہے کہ آپ لوگ اس مراتب شناس گورنمنٹ کو بھی ایک سفلہ اور کمینہ پادری کی طرح خیال کرتے ہیں جن کو خدا ملک اور دولت دیتا ہے اُن کوزیر کی اور عقل بھی دیتا ہے۔ ہاں اگر یہ سوال پیش ہو کہ اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مہربان گورنمنٹ اُس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی تا اس کے دماغ کی اصلاح ہو اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت لوگ جمع ہیں۔
    جب ہم حضرت مسیح اور جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر اُن کے ربانی رعب یا الٰہی تائید نے اثر دکھایا یا تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔ جناب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے جب بادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ میں تو عیسائیوں کے پنجے میں مبتلا ہوں۔ کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجائش ہوتی تو میں اپنا فخر سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل بادشاہ کسریٰ ایران کے فرمانروا نے غصہ میں آ کر آپ کے پکڑنے کیلئے سپاہی بھیج دیئے وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کاحکم ہے۔ آپ نے اس بیہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا تم اسلام قبول کرو۔ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربّانی رعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے۔ آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے تو ہم جواب ہی لے جائیں۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند کہتے ہو وہ خداوند نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا۔ میرے سچے خداوند نے اسی کے بیٹے شیردیہ کو اس پر مسلط کر دیا۔ سو وہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے۔ یہ بڑا معجزہ تھا۔ اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزار ہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اُسی رات درحقیقت خسروپرویز یعنی کسریٰ مارا گیا تھا اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے چنانچہ ڈیلونپورٹ صاحب نے بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھا ہے لیکن اس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں وہ اوراق شاید اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرودیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پلاطوس کی طرف چالان کیا اور وہ ایک مدت تک شاہی حوالات میں رہے کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی اورکسی بادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا فخر ہوگا اگر میں اس کی خدمت رہوں اور اس کے پاؤں دھویا کروں بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے حوالے کر دیا کہ یہی خدائی تھی عجیب مقابلہ ہے۔ دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجے میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں ایک شخص کے گرفتار کرنے کو ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برانگیختہ ہونا اور خود آخر *** الٰہی میں گرفتار ہو کر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلت کے ساتھ قتل کیا جانا اور ایک دوسرا انسان ہے جسے قطع نظر اپنے اصلی دعوؤں کے خلو کرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رھا ہے۔ سچ مچ گرفتار ہو جاناچالان کیا جانا اور عجیب ہئیت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا جانا۔ افسوس یہ عقل کی ترقی کا زمانہ اور ایسے بیہودہ عقائد۔ شرم! شرم! شرم!!!
    اگر یہ کہو کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میںجناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں ایک ادنیٰ خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔ اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعدہ کتاب اللہ صحیح بخاری کی عبارت رکھتا ہوں۔ ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے:۔
    وقد کنت اعلمانہ خارج ولم اکن اظن انہ منکم فلوا انی اعلم انی اخلص الیہ لتجشمت لقایۃ ولو کنت عندہ لغسلت عن قدمہٖ (صفحہ۴)
    یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے مگر مجھ کر یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہے (اے اہل عرب) پیدا ہوگا۔ پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا۔ اب اگر کچھ غیرت اور شرم ہے تو مسیح کیلئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل ہی سے بلکہ پیش کرو ۔ اگرچہ کوئی نجاست میں پڑا ہوا ورق ہی پیش کر دو اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹا سا نواب ہی پیش کر دو۔اور یاد رکھو کہ ہرگز ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ پس یہ عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہ آپ ہی بات کو اُٹھا کر پھر آپ ہی ملزم ہوگئے۔ شاباش! شاباش! شاباش!!!
    مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ مگر اس سے پہلے اور بھی کئی خدائی کا دعویٰ کرنے والے گزر چکے ہیں۔ ایک مصر میں ہی موجود تھا۔ دعوؤں کو الگ کر کے کوئی اخلاقی حالت جو فی الحقیقت ثابت ہو ذرا پیش تو کرو تا حقیقت معلوم ہو کسی کی محض باتیں اس کے اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مرتد جو خود خونی اور اپنے کام سے سزا کے لائق ٹھہر چکے تھے بے رحمی سے قتل کئے گئے مگر آپ کو یاد نہ رہا کہ اسرائیلی نبیوں نے تو شیرخوار بچے بھی قتل کئے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں تک نوبت پہنچی یا ان کی نبوت سے منکر ہو یا وہ خدا کا حکم نہیں تھا یا موسیٰ کے وقت خدا اور تھا اور جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کوئی اور خدا تھا۔
    اے ظالم پادری! کچھ شرم کر آخر مرنا ہے مسیح بیچارا تمہاری جگہ جوابدہ نہیں ہو سکتا۔ اپنے کاموں سے تمہیں پکڑے جاؤ گے اس سے کوئی پُرسش نہ ہوگی۔ اے نادان! تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر کیوں تجھے نظر نہیں آتا۔تیری آنکھیں کیا ہوئیں جو تو اپنی آنکھوں کو دیکھ نہیں سکتا۔
    زینب کے ننکاح کا قصہ جوآپ نے زنا کے الزام سے ناحق پیش کردیا۔ بجز اس کے کیا کہیں۔
    بد گھر از خطا خطا نکند
    اے نالائق! متبنٰی کی مطلقہ سے نکاح کرنا زنا نہیں۔ صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن سکتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی عیسائی اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی بلکہ وہ بدستور اسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا پس جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے واقع ہو سکتی۔ اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہہ دیتا کہ ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے۔ مگر شاید کہ مسیح کو وہ عقل نہ تھی جو فتح مسیح کو ہے۔ اب تم پر فرض ہے کہ اس بات کا ثبوت انجیل میں سے دو کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے یا یہ کہ اپنے مسیح کو ناقص مان لو یا یہ ثبوت دو کہ بائبل کے رو سے متبنّٰی فی الحقیقت بیٹا ہو جاتا اور بیٹے کی طرح وارث ہو جاتا ہے اور اگر کچھ ثبوت نہ دے سکو تو بجز اس کے اور کیا کہیں لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ مسیح بھی تم پر *** کرتا ہے۔ کیونکہ مسیح نے انجیل میں کسی جگہ نہیں کہا کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ تینوں امرہمشکل ہیں اگر صرف منہ کے کہنے سے ماں نہیں بن سکتی تو پھر بیٹا بھی نہیں بن سکتا اور نہ باپ بن سکتا ہے۔ اب اگر کچھ حیا ہو تو مسیح کی گواہی قبول کر لو یا اس کا کچھ جواب دو اور یاد رکھو کہ ہرگز نہیں دے سکو گے۔ اگرچہ فکر کرتے کرتے مر ۱؎ہی جاؤ۔ کیونکہ تم کاذب ہو اور
    ۱؎ اس کا جواب نہ ہو سکا اور فتح مسیح مر گیا (ایڈیٹر)
    مسیح تم سے بیزار ہے اور آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق کھودنے کے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں۔ اوّل آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اے نادان! قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ ترک نماز کا نام قضا ہرگز نہیں ہوتا۔ اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بیوقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی قضا کے معنی بھی معلوم نہیں۔ جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا۔ وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔ باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں۔ اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے۔ یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔ اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے۔مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔ اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم ذراآپ کو بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہوگئی تھیں چار نمازیں تو خود شرع کے رو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء۔ ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو اکٹھی کر کے پڑھی گئیں تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو ردّ کرتی ہیں اورصرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔ آپ عربی علم سے محض بے نصیب اور سخت جاہل ہیں ذرا قادیان کی طرف آؤ اور ہمیں ملو تو پھر آپ کے آگے کتابیں رکھی جائیں گی تا جھوٹے مفتری کو کچھ سزا تو ہو۔ ندامت کی سزا ہی سہی اگرچہ ایسے لوگ شرمندہ بھی نہیں ہوا کرتے۔
    مال مسروقہ کو آپ کے مسیح کے رو برو بزرگ حواریوں کاکھانا یعنی بیگانے کھیتوں کی بالیاں توڑنا کیایہ درست تھا؟ اگر کسی جنگ میں کفّارکے بلوے اور خطرناک حالت کے وقت نماز عصر تنگ وقت پر پڑھی گئی تو اس میں صرف یہ بات تھی کہ دو عبادتوں کے جمع ہونے کے وقت اس عبادت کو مقدم سمجھا گیا۔ جس میں کفّار کے خطرناک حملہ کی روک اور اپنے حقوق نفس اور قوم اور ملک کی جائز اور بجا محافظت تھی اور یہ تمام کارروائی اس شخص کی تھی جو شریعت لایا اور یہ بالکل قرآن کریم کے منشاء کے مطابق تھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا ینطق عن الھٰویٰ اِنْ ھُوَ الاَّوَحْیٌ یُوْحٰی (یعنی نبی کی ہر ایک بات خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے۔ نبی کا زمانہ نزول شریعت کا زمانہ ہوتا ہے اور شریعت وہی ٹھہر جاتی ہے جو نبی عمل کرتا ہے۔ ورنہ جو جو کارروائیاں مسیح نے توریت کے برخلاف کی ہیں یہاں تک کہ سبت کی بھی پرواہ نہ رکھی اور کھانے پر ہاتھ نہ دھوئے وہ سب مسیح کو مجرم ٹھہراتے ہیں۔ ذرا توریت سے ان سب کا ثبوت تو دو مسیح پطرس کو شیطان کہہ چکا تھا۔ پھر اپنی بات کیوں بھول گیا اور شیطان کو حواریوں میں کیوں داخل رکھا۔
    اور پھر آپ کا اعتراض ہے کہ بہت سی عورتوں اور لونڈیوں کو رکھنا یہ فسق و فجور ہے۔ اے نادان! حضرت داؤد علیہ السلام نبی کی بیبیاں تجھ کو یاد نہیں جس کی تعریف کتاب مقدس میں ہے کیا وہ اخیر عمر تک حرام کاری کرتا رہا۔ کیا اسی حرامکاری کی یہ پاک ذرّیت ہے جس پر تمہیں بھروسہ ہے جس خدا نے اوریا کی بیوی کے بارہ میں داؤد پر عتاب کیا کیا؟ وہ داؤد کے اس جرم سے غافل رہا؟ جو مرتے دم تک اس سے سرزد ہوتا رہا بلکہ خدا نے اس کی چھاتی گرم کرنے کو ایک اور لڑکی بھی اُسے دی اور آپ کے خدا کی شہادت موجود ہے کہ داؤد اورا کے قصہ کے سوا اپنے کاموں میں راستباز ہے کیا کوئی عقلمند قبول کر سکتا ہے کہ اگر کثرت ازدواج خدا کی نظر میں بُری تھی تو خدا اسرائیلی نبیوں کو جو کثرت ازدواج میں سب سے بڑھ کر نمونہ ہیں ایک مرتبہ بھی اس فعل پر سرزنش نہ کرتا پس یہ سخت بے ایمانی ہے کہ جو بات خدا کے پہلے نبیوں میں موجود ہے اور خدا نے اُسے قابل اعتراض نہیں ٹھہرایا۔ اب شرارت اور خباثت سے جناب مقدس نبوی کی نسبت قابل اعتراض ٹھہرائی جاوے۔ افسوس یہ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک سے اوپر بیوی کرنا زنا کاری ہے تو حضرت مسیح جو داؤد کی اولاد کہلاتے ہیں ان کی پاک ولادت کی نسبت سخت شُبہ پیدا ہوگا اور کون ثابت کر سکے گا کہ ان کی بڑی نانی حضرت داؤد کی پہلی ہی بیوی تھی۔
    پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کانام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبوی صلعم کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اس ناپاک تعصب پر کہاں تک روویں۔ اے نادان! جو حلال اور جائز نکاح ہیں ان میں یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں یہ اعتراض کیسا ہے۔ کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے جیسے بہرہ اور گونگاہونا کسی خوبی میں داخل نہیں ہاں! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے … نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اُٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخر ناگفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔
    اے نادان! فطرت انسانی اوراس کے سچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اُسے برتا اور اپنی جماعت کو نمونہ دیا۔ مسیح نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی۔ مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آ کر آہ و فغاں کرنا اور برسوں دیویثوں اور سیاہ رویئوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا یہ کس بات کا نتیجہ ہے؟ کیا اس مقدس مطہر، مزکی، نبی اُمّی صلعم کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں یہ نتیجہ ہے اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے؟
    اب دو زانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزاء کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔
    ہاں! مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا؟ ہم تو سوچ کر تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادایاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ ہم بقول آپ کے مرد میدان بن کر ہی رسالہ لکھیں گے! اور آپ کو دکھائیں گے کہ وساوس کی بیخ کنی اسے کہتے ہیں۔ اس جاہل گمراہ کا شکست دینا کونسی بڑی بات ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے۔ مگر آپ براہ مہربانی ان چند باتوں کا جو میں نے دریافت کی ہیں ضرور جواب لکھیں اور ان الفاظ سے ناراض نہ ہوں جو لکھے گئے ہیں کیونکہ الفاظ محل پر چسپاں ہیں اور آپ کی شان کے شایان ہیں جس حالت میں آپ نے باوجود بے علمی اور جہالت کے آنحضرت صلعم پر جو سیّد المطہرین ہیں زنا کی تہمت لگائی جو اس پلید اور جھوٹ افتراء کا یہی جواب تھا جو آپ کو دیا گیا ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ بھلے مانس بن جاویں اور گالیاں نہ دیا کریں مگر آپ لوگ نہیں مانتے۔ آپ ناحق اہل اسلام کا دل دکھاتے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زنا کار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ اگر آپ لوگ مسیح کے خیر خواہ ہوتے تو ہم سے جناب مقدس نبوی کے ذکر میں بادب پیش آتے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ تم اپنے باپ کو گالی مت دو۔ لوگوں نے عرض کی کہ کوئی باپ کو بھی گالی دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں! جب تو کسی کے باپ کو بھی گالی دے گا تو وہ ضرور تیرے باپ کو بھی گالی دے گا۔ تب وہ گالی اس نے نہیں دی بلکہ تو نے دی ہے۔ اسی طرح آپ لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے بودے جھوٹے خدا کی بھی اچھی طرح بھگت سنواری جائے ۔ اب ہم یہ خط بطور نوٹس کے آپ کو بھیجتے ہیں کہ اگر پھر ایسے ناپاک لفظ آپ نے استعمال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں ناپاک تہمت لگائی تو ہم بھی آپ کے فرضی اورجعلی خدا کی وہ خبر لیں گے جس سے اس کی تمام خدائی ذلّت کی نجاست میں گرے گی۔
    اے نالائق! کیا تو اپنے خط میں سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زنا کی تہمت لگاتا ہے اور فاسق فاجر قرار دیتا ہے اور ہمارا دل دکھاتا ہے ہم کسی عدالت کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ کریں گے مگر آئندہ کیلئے سمجھاتے ہیں کہ ایسی ناپاک باتوں سے باز آ جاؤ اور خدا سے ڈرو جس کی طرف پھرنا ہے اور حضرت مسیح کو بھی گالیاں مت دو یقینا جو کچھ تم جناب مقدس نبوی کی نسبت بُرا کہو گے وہی تمہارے فرضی مسیح کو کہا جائے گا مگر ہم اس سچے مسیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس سے نہ خدائی کا دعویٰ کیا نہ بیٹا ہونے کا اور جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اور ان پر ایمان لایا۔
    ٭٭٭
    اشتہار نہیں تو نور افشاں میں چھپوا دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے کوئی قلمی تحریر آپ کی طرف نہیں بھیجی بلکہ ہزار روپیہ کا اشتہار چھپوا کر بھیجا ہے۔ تو اس صورت میں طریق مقابلہ یہی ہے کہ جیسا کہ میں نے ایک دعویٰ کو چھاپ کر پبلک کے سامنے رکھ دیا ہے اور ہر ایک کو نظر اور غور کرنے کا موقعہ دیا ہے۔ آپ بھی ویساہی کریں اور وہ عمدہ کتابیں جو آپ کی دانست میں اعتماد کے لائق ہیں اور اہل الرائے نے ان پر کوئی جرح نہیں کیا اور نہ ان مفتریات میں سے ٹھہرایا ہے۔ ان کا وہ مقام شائع کر دیں آپ کی اس سے بڑی نیک نامی ہوگی کیونکہ جب کہ میں اس وسوسہ کے استیصال کیلئے جواب الجواب چھپوا دوں گا اور پبلک کی نظر میں وہ نکما ثابت ہوگا تو گویا پبلک آپ کو ہزار روپیہ پانے کی ڈگری دے دے گی۔ اس صورت میں ہر ایک کی نظر میں آپ ہزار روپیہ پانے کے مستحق ٹھہر جاویں گے اور مجھ کو دینا پڑے گا اورنیز اس صورت میں یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کی اس معرکہ کی فتح کے بعد کچھ ترقی بھی ضرور ہوگی کیونکہ جب کہ آپ یسوع صاحب کی عزت ثابت کریں گے تو ضرور لوگ آپ کی عزت کریں گے۔ میری نظر میں تو سوائے حوالات میں رہنے اور چوتڑوں پر کوڑے کھانے کے انجیل سے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ اگر اسی کا نام عزت ہے تو بے شک اُس وقت کے مخالف مذہب والیان ملک نے یسوع کی بڑی عزت کی۔ خیر اوّل اس خط کو جو میری طرف بھیجا ہے چھپوا دیں اور جلد چھپوا دیں اور ایک کاپی میرے نام بھیج دیں پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیسی ان اسناد کی وقعت اور یسوع صاحب کی عزت ثابت کرتا ہوں اور آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ نور القرآن میں مجھ کو گالیاں دیں ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ گالیاں دینا اور توہین کرنا اور افتراء کرنا وہ سب اس زمانہ کے پادری صاحبوں کے حصہ میں آ گیا ہے۔ کون سی گالی ہے جو آپ لوگوں نے ہمارے سیّدو مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دی۔ کونسی توہین ہے جو اس جناب کی آپ لوگوں نے نہیں کی۔ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزاروں کتابیں آپ لوگوں کے ہاتھ سے ایسی نکلی ہیں جو گالیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اگر وہی الفاظ آپ صاحبوں کے باپ یا ماں یا یسوع کی نسبت استعمال کئے جائیں تو کیا آپ برداشت کر سکتے ہیں؟ ہمارے دلوں کو آپ لوگوں نے ایسا دکھایا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ مردہ پرستی کی شامت ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں سے راستبازی کا نور بالکل جاتا رہا۔ ہر ایک سوال شرارت کے ساتھ ملا کر بیان کیا جاتا ہے ہر ایک اعتراض میں افتراء کی ملونی سے رنگ دیا جاتا ہے۔ ہر ایک بات ٹھٹھے اور ہنسی سے مخلوط ہوتی ہے کیا یہ نیک انسانوں کا کام ہے۔ پھر جس حالت میں آپ اُس عالی جناب کی عزت نہیں کرتے جس کو زمین و آسمان کے خالق نے عزت دے رکھی ہے اور جس کے آستانہ پر پچانوے کروڑ آدمی سر جھکاتے ہیں (نئی تحقیقات سے مسلمانوں کی تعداد ۹۵ کروڑ تمام روئے زمین پر ثابت ہوئی ہے) پھر آپ ہم سے کس عزت کو چاہتے ہیں۔ ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ تہذیب سے پیش آویں تا ہم بھی تہدیب سے پیش آویں مگر آپ لوگ ایسا کرنا نہیں چاہتے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جن اعتراضات کو آپ تہذیب اور نرمی سے پیش کر سکتے ہیں ان کو آپ توہین اور تحقیر سے پیش کرتے ہیں مثلاً زینب کے قصہ میں جو متبنٰی کی بیوی کو نکاح میں لانا آپ لوگوں کی نظر میں محل اعتراض ہے اور اسی اعتراض کو دل دکھانے کیلئے توہین اور تحقیر کے پیرایہ میں پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کے دل میں طلب حق اور زبان پر تہذیب ہو تو اس طور سے اعتراض پیش کریں کہ ہماری توریت اور انجیل کی رو سے متبنٰی کی بیوی سے نکاح کرنا حرام ہے اور توریت انجیل کے رو سے جس مرد کو بیٹا کہا جاوے یا عورت کو بیٹی کہا جائے تو اس مرد کی بیوی حرام ہو جاتی ہے اور اس عورت کو نکاح میں لانا حرام ہو جاتا ہے یا اگر نکاح میں ہوتو اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور نیز فلاں فلاں عقلی دلیل سے ثابت ہے کہ متبنٰی اصل بیٹے کی مانند ہو جاتا ہے مگر اسلام نے متبنٰی کی بیوی سے بعد طلاق نکاح جائز رکھا ہے تو ایسے اعتراض سے کوئی مسلمان ناراض نہ ہو یا مثلاً کثرت ازدواج پر آپ اعتراض کریں اور نرمی سے توریت اور انجیل کی آیات ثبوت میں لکھیں کہ صریح ان کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا حرام ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ زنا کرتا ہے اور معقول طور سے بھی دوسری بیوی کی کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوئی تو اس اعتراض پر کون ناراض ہو سکتاہے۔ اگر خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو یہ اخلاق نصیب کرے تو ہم بچوں کی طرح آپ لوگوں کو شفقت اور رحمت سے تعلیم دے سکتے ہیں اور محبت اور خلق سے ہر ایک بات میں آپ کی تسلی کر سکتے ہیں مگر آپ تو درندوں کی طرح ہم پر گرتے ہیں۔ پھر آخر ہم نے جوش غصہ سے بلکہ تادیب کیلئے سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ہاں اگر آپ حقیقی خلق برتنے اور درندگی کے چھوڑنے کیلئے تیار ہیں تو ہم بھی محبت اور خلق اور عزت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ورنہ آپ کی مرضی۔ یقینا ایک وہ زمانہ تھا جو بقول آپ کے یسوع مصلوب ہوا اور اب وہ گھڑی بہت نزدیک ہے جو تثلیت مصلوب ہو جاوے گی اور توریت کے مفہوم کے موافق لکڑی پر لٹکائی جاوے گی۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ
    (از قادیان ضلع گورداسپور۔یکم فروری ۱۸۹۶ء)
    نور القرآن کا جواب جلد شائع کر دیں انہیں اعتراض کیلئے رجسٹری شدہ خط بھیجتا ہوں۔ (غلام احمد)
    ایک عیسائی کے چند سوالوں کا جواب
    انجمن حمایت اسلام لاہور کے ذریعہ ایک عیسائی نے کچھ سوال اسلام پر کئے تھے انجمن نے ان سوالات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہ العالی کے پاس بھیج دیا اور آقا و غلام نے ان سوالات کے جواب لکھ کر انجمن کو بھیج دیئے تھے۔ چونکہ وہ ایک عیسائی کے خط کا جواب بذریعہ ایک کھلے خط کے تھا اس لئے انہیں درج کر دیا جاتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق (ایڈیٹر)
    سوال: اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبرہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم یعنی مجھ کو معلوم نہیں اور اصحابِ کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا عرض ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نوکروڑ گنا بڑاہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے؟
    جواب: پوشیدہ نہ رہے کہ ان دونوں آیتوں سے معترض کا مدعا جو استدلال پر نفی معجزات ہے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ برخلاف اس کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ایسے معجزات ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں کہ جو ایک صادق و کامل نبی سے ہونی چاہئیں۔ چنانچہ تصریح اس کی نیچے کے بیانات سے بخوبی ہو جائے گی۔
    پہلی آیت جس کا ترجمہ معترض نے اپنے دعویٰ کی تائید کیلئے عبارات متعلقہ سے کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کہتا ہے یہ ہے۔
    قالوا لولا انزل علیہ ایت من ربّہٖ قل انما اِلاَّیت عند اللّٰہِ و انما انا نذیر مبینo اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتٰب یتلی علیھم ان فی ذٰلِک لرحمۃ و ذکری لقوم یومنونo ویستعجلونک بالعذاب ولولا اجل مسمی لجاء ھم لعذاب ولیاتینھم بغتۃً وَّھُمْ لایشعرونo
    یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں وہ تو خدا تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانیوالا ہوں یعنی میرا کام فقط ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں کیلئے (جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں۔ یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اُمّی) وہ کتاب (جو جامع کمالات ہے) نازل کی جو ان پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے جس سے درحقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفّار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفّار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچ جاوے۔ صرف دیکھنے کی چیزنہ رہے کیونکہ مجرد رویّت کے نشانوں میں ان کو دھوکے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سو اس وہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جاوے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں۔ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنے پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنی فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ و معارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے٭ اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ
    ٭ یہ تمام خارق عادت خاصیتیں قرآن شریف کی جن کی رو سے وہ معجزہ کہلاتا ہے انمفصلہ ذیل سورتوں میں بہ تفصیل ذیل کہتے ہیں۔ سورۃ البقر، سورۃ اٰل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدہ، سورۃ الانعام) سورۃ الاعراف، سورۃ الانفال، سورۃ التوبہ، سورۃ یونس، سورۃ ھود، سورۃ رعد، سورۃ ابراہیم، سورۃ الحجر، سورۃ واقعہ، سورۃ النمل، سورۃ الحج، سورۃ النبیہ، سورۃ المجادلہ چنانچہ بطور نمونہ چند آیات ی ہیں قال عزو جل۔
    یھدی بہ اللہ من التبع رضوانہ سبل السلام ویحزجھم من الظلمت الی النور شفائٌ لما فی الصدور انزل من السماء ماء فاحیابہ الارض بعد موتہا انزل من السماء مائً فسالت اودیۃ بقدرھا۔ انزل من السماء مائً افتصبح الارض مخضریۃ تقشعرمنہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الٰی ذکر اللّٰہ الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدیھم بروح منہ۔ قل نزلہ روح القدس من ربک لیثبت الذین امنوا وھدًی وبشر للمسلمین۔ انا نحن نزلنا لحفظون۔فیھا کتب قیئمہ قل لئن اجتمعت الامن والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القران لایاتون بمثلہ ولوکان بعضھم لبعضٍ ظھیرًاo یعنی قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی راہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ نور کی طرف نکالے جاتے ہیں وہ ہر ایک اندرونی بیماری کو اچھا کرتا ہے۔ خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے ہر ایک وادی میں بقدر اپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ ایسا پانی اُتارا جس سے گلی سڑی ہوئی
    ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے۔ آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور المحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جزامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دور ہوتی ہے اور وصل الٰہی میسر آتا ہے اور اس کے علامات پیدا ہوتے ہیں۔ سو تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نسان مانگتے ہو۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔ رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی۔ اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب نازل ہوگئی ہوتیں اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے یہ آیتیں تو بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ کفّار نے ہلاکت اور عذاب کا نشان مانگا تھا۔ سو اوّل انہیں کہا گیا کہ دیکھو تم میں زندگی بخش نشان موجود ہے یعنی قرآن جو تم پر وارد ہو کر تمہیں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ کی حیات بخشتا ہے مگر جب عذاب کا نشان تم پر وارد ہوا تو وہ تمہیں ہلاک کرے گا پس کیوں ناحق اپنا مرنا ہی چاہتے ہو اور اگر تم عذاب ہی مانگتے ہو تو یاد رکھو کہ وہ بھی جلد آئے گا۔ پس اللہ جل شانہ نے ان آیات میں عذاب کے نشان کا وعدہ دیا ہے اور قرآن شریف میں جو رحمت کے نشان ہیں اور دلوں پر وارد ہو کر اپنا خارق عادت اثر ان پر ظاہر کرتے ہیں ان کی طرف توجہ دلائی۔ پر معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں لا نافیہ جنس معجزات کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ جس سے کل معجزات کی نفی لازم آتی ہے۔ محض صَرف ونحو سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ نفی کا اثر اُسی حد تک محدود ہوتا ہے۔ جو متکلّم کے
    (بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) ہوئی زمین سرسبز ہوگئی۔ اس سے خدا کے خوف سے بندوں کی جلدیں کانپتی ہیں۔ پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل ذکر الٰہی کیلءآ نرم ہو جاتے ہیں یاد رکھو کہ قرآن سے دل اطمینان پکڑتے ہیں جو لوگ قرآن کے تابع ہو جائیں اُن کے دلوں میں ایمان لکھا جاتا ہے اور روح القدس انہیں ملتا ہے۔ روح القدس نے ہی قرآن کو اُتارا تا قرآن ایمانداروں کے دلوں کو مضبوط کرے اور مسلمین کیلئے ہدایت اور بشارت کا نشان ہو۔ ہم نے قرآن کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے والے ہیں یعنی کیا صورت کے لحاظ سے اور کیا خاصیت کے لحاظ سے ہمیشہ قرآن اپنی اصلی حالت پر رہے گا اور الٰہی حفاظت کا ان پر سایہ ہوگا۔ پھر فرمایا کہ قرآن میں تمام معارف و حقائق و صداقتیں ہیں جو حقانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں اور اس کی مثل بنانے پر کوئی انسان و جن قادر نہیں اگرچہ اس کام کیلئے باہم ممدومعاون ہو جائیں۔ منہ۱۲
    ارادہ میں متعین ہوتی ہے۔ خواہ وہ ارادۃً تصریحاً بیان کیا گیا ہو یا اشارۃً۔ مثلاً کوئی کہے کہ اب سردی کا نام و نشان باقی نہیں رہا تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے بلدہ کی حالت موجودہ کے موافق کہا ہے اور گو اس نے بظاہر اپنے شہر کا نام بھی نہیں لیا مگر اس کے کلام سے یہ سمجھنا کہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ کل کوہستانی ملکوں سے بھی سردی جاتی رہی اور سب جگہ سخت اور تیز دھوپ پڑنے لگی اور اس کی دلیل یہ پیش کرنا کہ جس لا کو اس نے استعمال کیا ہے وہ نفی جنس کا لا ہے۔ جس کا تمام جہان پر اثر پڑنا چاہئے درست نہیں۔ مکہ کے مغلوب بت پرست جنہوں نے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آطجناب کے معجزات کو معجزہ کر کے مان لیا اور جو کفر کے زمانہ میں بھی صرف خشک منکر نہیں تھے بلکہ روم اور ایران میں بھی جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متعجبانہ خیال سے ساحر مشہور کرتے تھے اور گو بیجا پیرائیوں میں ہی سہی مگر نشانوں کا اقرار کر لیا کرتے تھے۔ جن کے اقرار قرآن شریف میں موجود ہیں وہ اپنے ضعیف اور کمزور کلام میں جو انوار ساطحہ نبوت محمدیہ کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ کیوں لا نافیہ استعمال کرنے لگا۔ اگر ان کو ایسا ہی لمبا چوڑا انکار ہوتا تو وہ بالآخر نہایت درجہ کے یقین سے جو انہوں نے اپنے خونوں کے بہانے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے سے ثابت کر دیا تھا۔ مشرف باسلام کیوں ہو جاتے اور کفر کے ایام میں جو اُن کے بار بار کلمات قرآن شریف میں درج ہیں وہ یہی ہیں کہ وہ اپنی کوتہ بینی کے دھوکہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ساحر رکھتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر یعنی جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پکا جادو ہے۔ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے وعجبوا ان جاء ھُمْ منذرمنھم وقال الکفرون ھذا ساحرٌ کذاب یعنی انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک شخص اُن کی طرف بھیجاگیا اور بے ایمانوں نے کہا کہ یہ تو جادو گر کذّاب ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب کہ وہ نشانوں کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو گر کہتے تھے اور پھر اس کے بعد انہیں نشانوں کو معجزہ کر کے مان بھی لیا اور جزیرہ کا جزیرہ مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک معجزات کا ہمیشہ کیلئے سچے دل سے گواہ بن گیا تو پھر ایسے لوگوں سے کیونکر ممکن ہے کہ وہ عام طور پر نشانوں سے صاف منکر ہو جاتے اور ان کا معجزات میں ایسا لا نافیہ استعمال کرتے جو اُن کی حد حوصلہ سے باہر اور ان کی حد حوصلہ سے باہر اور ان کی مستمرائے سے بعید تھا بلکہ قرائن سے آفتاب کی طرح ظاہر ہے کہ جس جگہ پر قرآن شریف میں کفّار کی طرف سے یہ اعتراض لکھا گیا ہے کہ کیوں اس پیغمبر پر کوئی نشانی نہیں اُترتی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں۔ اُن میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُترتی۔
    اب٭ قصہ کوتاہ یہ کہ آپ نے آیت متذکرہ بالا کے لا نافیہ کو قرائن کی حد سے زیادہ کھیتی ہے یا ایسا لا نافیہ عربوں کے کبھی خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ ان کے دل تو اسلام کی حقیقت سے بھرے ہوئے تھے۔ تبھی تو سب کے سب بجز معدودے چند کہ جو اس عذاب کو پہنچ گئے تھے اور اس لا نافیہ
    ٭ واضح ہو کہ قرآن شریف میں نشان مانگنے کے سوالات کفّار کی طرف سے ایک دو جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات میں یہی سوال کیا گیا ہے اور اب سب مقامات کو بنظر یکجائی دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفّار مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کے نشانات مانگا کرتے تھے۔
    (۱) وہ نشان جو عذاب کی صورت میں فقط اپنے افتراح سے کفّار مکہ نے طلب کئے تھے۔
    (۲) دوسرے وہ نشان جو عذاب کی صورت میں یا مقدمہ عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر وارد کئے گئے تھے۔
    (۳) تیسرے وہ نشان جس سے پردہ غیبی بُکلّی اُٹھ جائے جس کا اُٹھ جانا ایمان بالغیب کے بُکلّی برخلاف ہے۔ سو عذاب کے نشان ظاہر ہونے کے لئے جو سوال کئے گئے ہیں ان کا جواب تو قرآن شریف میں بھی دیا گیا ہے کہ تم منتظر رہو عذاب نازل ہوگا۔ ہاں ایسی صورت کا عذاب نازل کرنے سے انکار کیا گیا ہے جس کی پہلے تکذیب ہوچکی ہے تا ہم عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے جو آخر غزوات کے ذریعہ سے پورا ہو گیا لیکن تیسری قسم کا نشان دکھلانے سے بُکلّی انکار کیا گیا ہے اور خود ظاہر ہے کہ ایسے سوال کا جواب انکار ہی نہ تھا نہ اور کچھ۔ کیونکہ کفّار کہتے تھے کہ تب ہم ایمان لاویں گے کہ جب ہم ایسا نشان دیکھیں کہ زمین سے آسمان تک نرد بان رکھی جائے اور تو ہمارے دیکھتے دیکھتے اس نرد بان کے ذریعہ سے زمین سے آسمان پر چڑھ جائے اور فقط تیرا آسمان پر چڑھنا ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے جب تک آسمان سے ایک کتاب نہ لادے جس کو ہم پڑھ لیں اور پڑھیں بھی اپنے ہاتھ میں لے کر۔ یا تو ایسا کر کہ مکہ کی زمین میں جو ہمیشہ پانی کی تکلیف رہتی ہے۔ شام اور عراق کے ملک کی طرح نہریں جاری ہو جاویں اور جس قدر ابتداء دنیا سے آج تک ہمارے بزرگ مر چکے ہیں سب زندہ ہو کر آ جائیں اور اس میں قصی بن کلاب بھی ہو کیونکہ وہ بڈھا ہمیشہ سچ بولتا تھا۔ اس سے ہم پوچھیں گے کہ تیرا دعویٰ حق ہے یا باطل۔ یہ سخت سخت خود تراشیدہ نشان تھے جو وہ مانگتے تھے اور پھر بھی نہ صاف طور پر بلکہ شرط پر شرط لگانے سے جس کا ذکر جا بجا قرآن شریف میں آیا ہے۔ پس سوچنے والے کے لئے عرب کے شریروں کی ایسی درخواستیں ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ظاہرہ و آیات بینہ و رسولانہ ہئیت پر صاف صاف اور کھلی کھلی دلیل ہے خدا جانے ان دل کے اندھوں کو ہمارے مولیٰ و آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار صداقت نے کس درجہ تک عاجز و تنگ کر رکھا تھا اور کیا کچھ آسمانی تائیدات و برکات کی بارشیں ہو رہی تھیں کہ جن سے خیرہ ہو کر اور جن کی ہیبت سے منہ پھیر کر سراسرٹالنے
    سے بڑھ کر اور کونسا لانافیہ ہوگا۔
    پھر دوسری آیت کا ترجمہ پیش کیا گیاہے اس میں بھی سیاق و سباق کی آیتوں سے بالکل الگ کر کے اس اعتراض را ردّ کر دیا ہے مگر اصل آیت اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالنے سے ہر ایک منصف بصیر سمجھ سکتا ہے کہ آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں ہے کہ جو انکار معجزات پر دلالت کرتا ہے بلکہ تمام الفاظ صاف بتلا رہے ہیں کہ ضرور معجزات ظہور میں آئے چنانچہ وہ آیت سعہ اس کے دیگر آیات متعلقہ کے یہ ہے۔
    وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ نَحْنُ مُھْلِلُوْھَا قَبْلَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ او مُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا کَانَ ذٰلِکَ فِیْ الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًاo وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِا لْاٰیٰتِ اِلاَّ اَنْ کَذَّبَبِھَا الْاَوَّلُوْنَo وَایَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃ فَظَلمُوْابِھَا وَمَا نُرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلاَّ تَخْوِیْفًاo فرماتا ہے عزوجل کہ یوں قیامت سے پہلے ہر ایک بستی کو ہم نے ابھی ہلاک کرنا ہے یا عذاب شدید نازل کرنا ہے یہی کتاب میں مندرج ہوچکا ہے۔ مگر اس وقت ہم بعض ان گذشتہ قہری نشانوں کے (جو عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر نازل ہو چکے ہیں) اس سے نہیں بھیجتے جو پہلے اُمت کے لوگ اس کی تکذیب کر چکے ہیں۔ چنانچہ ہم نے ثمود کو بطور نشان کے جو مقدمہ عذاب کا تھا ناقہ دیا جو حق نما نشان تھا۔ جس پر انہوں نے ظلم کیا۔ یعنی وہی ناقہ جس کی بسیار خوری اور بسیار نوشی کی وجہ سے شہر حجر کے باشندوں کے لئے جو قوم ثمود میں تھے۔ پانی تالاب کے لئے کوئی چراگاہ رہتی تھی اور ایک سخت تکلیف اور رنج اور بلا میں گرفتار ہوگئی تھی اور قہری نشانوں کے نازل کرنے
    (بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) اور بھاگنے کی غرض سے ایسی دور از صواب درخواستیں پیش کرتے تھے ظاہر ہے کہ اس قسم کے معجزات کا دکھلانا ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہے یوں تو اللہ جلشانہٗ قادر ہے کہ زمین سے آسمان تک زیۃ رکھ دیوے۔ جس کو سب لوگ دیکھ لیویں اور وہ چار ہزار کیا دو کروڑ آدمیوں کو زندہ کر کے ان کے منہ سے اُن کی اولاد کے سامنے صدق نبوت کی گواہی دلا دیوے۔ یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھو کہ اس انکشاف تام سے ایمان بالغیب جو مدار ثواب اور اجر ہے دور ہو جاتا ہے اور دنیا نمونہ محشر ہو جاتی ہے۔ پس جس طرح قیامت کے میدان میں جو انکشاف تام کا وقت ہوگا۔ ایمان کام نہیں آتا اِسی طرح ان انکشاف تام سے بھی ایمان لانا کچھ مفید نہیں بلکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ جب کچھ خفا بھی باقی ہے جب سارے پردے کھل گئے تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے سارے نبی ایمان بالغیب کی رعایت سے معجزے دکھلاتے رہے ہیں کبھی کسی نبی نے ایسا نہیں کیا کہ ایک شہر کا شہر زندہ کر کے ان سے اپنی نبوت کی گواہی دلاوے یا آسمان تک نرد بان رکھ کر اور سب کے روبرو چڑھ کر تمام دنیا کو تماشا دکھلاوے۔
    سے ہماری غرض یہی ہوتی ہے کہ لوگ اُن سے ڈریں۔ یعنی قہری نشان تو صرف تخویف کیلئے دکھلائے جاتے ہیں۔ پس ایسے قہری نشانوں کے طلب کرنے سے کیا فائدہ جو پہلی اُمتوں نے دیکھ کر انہیں جھٹلا دیا اور اُن کے دیکھنے سے کچھ بھی تخویف و ہراساں نہ ہوئے۔
    اس جگہ واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔
    (۱) نشان تخویف تعذیب جن کو قہری نشان بھی کہہ سکتے ہیں۔
    (۲) نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کرسکتے ہیں۔ تخویف کے نشان سخت کافروں اور کج دلوں اورنافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کیلئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا وہ ڈریں اور خدا تعالیٰ کی قہری اور جلالی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہو اور تبشیر کے نشان اُن حق کے طالبوں اور مخلص مومنوں اور سچائی کے متلاشیوں کیلئے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو دل کی غربت اور فروتنی سے کامل یقین اور زیادت ایمان کے طلبگار اور تبشیر کے نشانوں سے ڈرانا اور دھمکانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اپنے اُن مطیع بندوں کو مطمئن کرنا اور ایمانی اور یقینی حالات میں ترقی دینا اور ان کے مضطرب سینہ پر دست شفقت و تسلی رکھنا مقصود ہوتا ہے۔ سو مومن قرآن شریف کے وسیلہ سے ہمیشہ تبشیر کے نشان پاتا رہتا ہے اور ایمان اور یقین میں ترقی کرتا جاتا ہے۔ تبشیر کے نشانوں سے مومن کو تسلی ملتی ہے اور وہ اضطراب جو فطرتًا انسان میں ہے جاتا رہتا ہے اور سکینت دل پر نازل ہوتی ہے۔ مومن ببرکت اتباع کتاب اللہ اپنی عمر کے آخری دن تک تبشیر کے نشانوں کو پاتا رہتا ہے اور تسکین اور آرام بخشنے والے نشان اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں تا وہ یقین اور معرفت میں بے نہایت ترقیاں کرتا جائے اور حق الیقین تک پہنچ جائے اور تبشیر کے نشانوں میں ایک لطف یہ ہوتا ہے کہ جیسے مومن کے ان نزول سے یقین اور معرفت اور قوت ایمان میں ترقی کرتا ہے ایسا ہی وہ بوجہ مشاہدہ الاء و نعماء الٰہی و احسانات ظاہرہ و باطنہ و جلیہ و خفیہ حضرت باری عزاسمہٗ جو تبشیر کے نشانوں میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ محبت وعشق میں بھی دن بدن بڑھتا جاتا ہے سو حقیقت میں عظیم الشان اور قوی الاثر اور مبارک اور موصل الی المقصود تبشیر کے نشان ہی ہوتے ہیں جو سالک کو معرفت کاملہ اور محبت ذاتیہ کی اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیاء اللہ کے لئے منتہیٰ المقامات ہے اور قرآن شریف میں تبشیر کے نشانوں کا بہت کچھ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اُن نشانوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک دائمی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے سچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ لاتبدیل لکمت اللہ ذٰلک ھو الفوز العظیم۔ یعنی ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے پاتے رہیں گے۔ جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں ناپیداکنار ترقیاں کرتے جائیں گے یہ خدا کی باتیں ہیں جو کبھی نہیں ٹلیں گی اور تبشیر کے نشانوں کو پا لینا یہی فوز عظیم ہے (یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منتہیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے)۔
    اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں جو معترض نے بصورت اعتراض پیش کی ہے صرف تخویف کے نشانوں کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ آیت وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلاَّ تَخْوِیْفًاسے ظاہر ہو رہا ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف ہی کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی۔ تو یہ معنی بہ بداہت باطل ہیں جیسا کہ ابھی بیان ہوچکا ہے کہ نشان دو غرضوں سے بھیجے جاتے ہیں یا تخویف کی غرض سے یا تبشیر کی غرض سے انہیں دو قسموں کو قرآن شریف اور بائبل بھی جا بجا ظاہر کر رہی ہے۔ پس جب کہ نشان دو قسم کے ہوئے تو آیت ممدوح بالا میں جو لفظ آیات ہے (جس کے معنی وہ نشانات) بہرحال اسی تاویل پر بصحت منطبق ہوگا کہ نشانوں سے قہری نشان مراد ہیں کیونکہ اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام نشانات جو تحت قدرت الٰہی داخل ہیں۔ تخویف کے قسم میں ہی محصور ہیں حالانکہ فقط تخویف کی قسم میں ہی سارے نشانوں کا حصر سمجھنا سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جو نہ کتاب اللہ کی رو سے اور نہ عقل کی رو سے اور نہ کسی پاک دل کے کانشنس کی رو سے درست ہو سکتا ہے۔
    اب چونکہ اس بات کا صاف فیصلہ ہو گیا کہ نشانوں کے دو قسموں میں سے صرف تخویف کے نشانوں کا آیات موصوفہ بالا میں ذکر ہے تو یہ دوسرا مرتنقیح طلب باقی رہا کہ کیا اس آیت کے (جو مامنعنا الخ ہے) یہ معنی سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کا کوئی نشان خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں کیا یا یہ سمجھنے چاہئیں کہ تخویف کے نشانوں میں سے وہ نشان ظاہر نہیں کئے گئے جو پہلی اُمتوں کو دکھلائے گئے تھے اور یا یہ تیسرے معنی قابل اعتبار ہیں کہ دونوں قسم کے تخویف کے نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے رہیں۔ بجز ان خاص قسم کے بعض نشانوں کے جن کو پہلی اُمتوں نے دیکھ کر جھٹلا دیا تھا اور ان کو معجزہ نہیں سمجھا تھا۔
    سو واضح ہو کہ آیات متنازعہ فیہا پر نظر ڈالنے سے بتمام تر صفائی کھل جاتا ہے کہ پہلے اور دوسرے معنی کسی طرح درست نہیں کیونکہ آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنی لینا کہ تمام انواع و اقسان کے وہ تخویفی نشان جو ہم بھیج سکتے ہیں اور تمام وہ وراء الوراء تعذیبی نشان جن کے بھیجنے پر غیر محدود طور پر ہم قادر ہیں اس لئے ہم نے نہیں بھیجے کہ پہلی اُمتیں اس کی تکذیب کر چکی ہیں یہ معنی سراسر باطل ہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ پہلی اُمتوں نے انہیں نشانوں کی تکذیب کی جو انہوں نے دیکھے تھے وجہ یہ کہ تکذیب کیلئے یہ ضرور ہے کہ جس چیز کی تکذیب کی جائے۔ اوّل اس کا مشاہدہ بھی ہو جائے جس نشان کو ابھی دیکھا ہی نہیں اس کی تکذیب کیسی۔ حالانکہ نادیدہ نشانوں میں سے ایسے اعلیٰ درجہ کے نشان بھی تخت قدرت باری تعالیٰ ہیں جن کی کوئی انسان تکذیب نہ کر سکے اور سب گردنیں ان کی طرف جھک جائیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر ایک رنگ کا نشان دکھلانے پر قادر ہے اور پھر چونکہ نشان ہائے قدرت باری تعالیٰ غیر محدود اور غیر متناہی ہیں تو پھر یہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ محدود زمانہ میں وہ سب دیکھے بھی گئے اور ان کی تکذیب بھی ہوگئی۔ وقت محدود میں تو وہی چیز دیکھی جائے گی جو محدود ہوگی۔ بہرحال اس آیت کے یہی معنی صحیح ہوں گے کہ جو بعض نشانات پہلے کفّار دیکھ چکے تھے اور ان کی تکذیب کر چکے تھے۔ ان کا دوبارہ بھیجنا عیب سمجھا گیا جیسا کہ قرینہ بھی انہیں معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی اس موقعہ پر جو ناقہ ثمود کا خدا تعالیٰ نے ذکر کیا ہے وہ ذکر ایک بھاری قرینہ اس بات پر ہے کہ اس جگہ گذشتہ اور ردّ کردہ نشانات کا ذکر ہے جو تخویف کے نشانوں میں سے تھے اور یہی تیسرے معنی ہیں جو صحیح اور درست ہیں۔
    پھر اس جگہ ایک اور بات منصفین کے سوچنے کے لائق ہے جس سے اُن پر ظاہر ہوگا کہ آیت وما منعنا ان ترسل بالایت الخ سے ثبوت معجزات ہی پایا جاتا ہے نہ نفی معجزات کیونکہ الایت کے لفظ پر جو الف لام واقعہ ہے وہ بموجب قواعد نحو کے دو صورتوں سے خالی نہیں یا کل کے معنی دے گا یا خاص کے۔ اگر کل کے معنی دے گا تو یہ معنی کئے جائیں گے کہ ہمیں کل معجزات کے بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر اگلوں کا ان کو جھٹلانا اور اگر خاص نشانیوں کے بھیجنے سے (جنہیں منکر طلب کرتے ہیں) کوئی امر مانع نہیں ہوا مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا بہرحال ان دونوں صورتوں میں نشانوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ معنی ہوں کہ ہم نے ساری نشانیاں بوجہ تکذیب امم گذشتہ نہیں بھیجیں تو اس سے بعض نشانوں کا بھیجنا ثابت ہوتا ہے جیسے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے اپنا سارا مال زید کو نہیں دیا تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کچھ حصہ اپنے مال کا زید کو ضرور دیا ہے اور اگر یہ معنی لیں کہ بعض خاص نشان ہم نے نہیں بھیجے تو بھی بعض دیگر کا بھیجنا ثابت ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ بعض خاص چیزیں میں نے زید کو نہیں دیں تو اس سے صاف پایا جائے گا کہ بعض دیگر ضروری ہیں بہرحال جو شخص اوّل اس آیت کے سیاق و سباق کی آیتوں کو دیکھے کہ کیسی وہ دونوں طرف کے عذاب کے نشانوں کا قصہ بتلا رہی ہیں اور پھر ایک دوسری نظر اُٹھاوے اور خیال کرے کہ کیا یہ معنی صحیح اور قرین قیاس ہیں کہ خدا تعالیٰ کے تمام نشانوں اور عجائب کاموں کی جو اس کی بے انتہا قدرت سے وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے اور غیر محدود ہیں پہلے لوگ اپنے محدود زمانہ میں تکذیب کرچکے ہوں اور پھر ایک تیسری نظر منصفانہ سے کام لے کر سوچے کہ کیا اس جگہ تخویف کے نشانوں کا ایک خاص بیان ہے یا تبشیر اور رحمت کے نشانوں کا بھی کچھ ذکر ہے اور پھر ذرا چوتھی نگاہ الایات کے الف لام پر بھی ڈال دیوے کہ وہ کن معنوں کا افادہ کر رہا ہے تو اس چار طور کی نظر کے بعد بجز اس کے کہ کوئی تعصب کے باعث حق پسندی سے بہت دور جا پڑا ہو ہر ایک شخص اپنے اندر سے نہ ایک شہادت بلکہ ہزاروں شہادتیں پائے گا کہ اس جگہ نفی کا حرف صرف نشانوں کے ایک قسم خاص کی نفی کیلئے آیا ہے جس کا دوسرے اقسام پر کچھ اثر نہیں بلکہ اس سے ان کا متحقق الوجود ہونا ثابت ہو رہا ہے اور ان آیات میں نہایت صفائی سے اللہ جلشانہ بتلا رہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کی یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اس وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی آیتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں۔ سو جو نشان پہلے ردّ کئے گئے اب بار بار انہیں کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محدود قدرتوں والے کی شان سے بعید۔ پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرورنازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یا وہی نشان حضرت نوع علیہ السلام اور قوم لوط علیہ السلام اور عاد علیہ السلام اور ثمود علیہ السلام کے ظاہر کئے جائیں۔ چنانچہ ان آیات کی تفصیل دوسری آیات میں زیادہ تر کئی گی ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔
    وان یروا کل اٰیۃ لا یؤمنوا بھا حتی اذا جاؤک یجادو لونک واذا جاء تھم اٰیۃ قالوا لن نؤمن حتی نؤتی مثل ما اوتی رسلہ اللّٰہ اللّہٗ اعل حیث یجعل رسالتہٗ قل انی علی بینۃ من ربی وکذبتم بہ ماعندی ماتستعجلون بہ ان الحکم الا اللّٰہ یقص الحق وھو خیر الفاصلینo قد جاء کم بصائر منربکم فمن ابصر فلنفسہ و من عمی فعلیھا وما انا علیکم بحفیظo ویستعجلونک بالعذابo قل ھوالقادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقھما ومن تحت ارجلکم اویلبسکم شیعا یذیق بعضکم باس بعضo قل الحمدللّٰہ سبریکم ایایتہ فتعرفونھا قل لکم میعاد یوم لا تستاخرون ساعۃ ولا تستقدمون ویسئلونک احق ھو قل ای دربی انہ الحق وما انتم بمعجزینo سندیھم ایاتنا فی الافاق رفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق خلق الانسان من عجل ساریکم ایتی فلا تستعجلونo یعنی یہ تمام لوگ نشانوں کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے۔ پھر جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے لڑتے ہیں اور جب کوئی نشان پاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کبھی نہیں مانیں گے۔ جب تک ہمیں خود ہی وہ باتیں حاصل نہ ہوں جو رسولوںکو ملتی ہیں کہ میں کامل ثبوت لے کر اپنے ربّ کی طرف سے آیا ہوں اور تم اس ثبوت کو دیکھتے ہو اور پھر تکذیب کر رہے ہو جس چیز کو تم جلدی سے مانگتے ہو (یعنی عذاب) وہ تو میرے اختیار میں نہیں۔ حکم اخیر صادر کرنا تو خدا ہی کا منصب ہے وہی حق کو کھول دے گا اور وہی خیر الفاصلین ہے جو ایک دن میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا خدا نے میری رسالت پر روشن نشان تمہیں دیئے ہیں۔ سو جو ان کو شناخت کرے اس نے اپنے نفس کو فائدہ پہنچایا اور جو اندھا ہو جائے اس کا وبال بھی اسی پر ہے میں تم پر نگہبان نہیں اور تجھ سے عذاب کیلئے جلدی کرتے ہیں کہ وہی پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر بھیجے اور چاہے تو تمہیں دو فریق بنا کرایک فریق کی لڑائی کا دوسرے کو مزا چکھا دے اور کہ سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں۔ وہ تمہیں ایسے نشان دکھلائے گا جنہیں تم شناخت کر لو گے اور کہ تمہارے لئے ٹھیک ٹھیک ایک برس کی میعاد ہے٭ نہ اس سے تم تاخیر کر سکو گے نہ تقدیم اور تجھ سے
    ٭ یوم سے مراد اس جگہ برس ہے۔ چنانچہ بائبل میں بھی یہ محاورہ پایا جاتا ہے سو پورے برس کے بعد بدر کی لڑائی کا عذاب مکہ والوں پر نازل ہوا۔ جو پہلی لڑائی تھی۔
    پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ بات کہ ہاں مجھے قسم ہے اپنے ربّ کی کہ یہ سچ ہے اور تم خدا تعالیٰ کو اس کے وعدوں سے روک نہیں سکتے ہم عنقریب ان کواپنے نشان دکھلائیں گے۔ ان کے ملک کے اردگرد میں اور خود اُن میں بھی یہاں تک کہ اُن کپر کھل جائے گا کہ یہ نبی سچا ہے۔ انسان کی فطرت میں جلدی ہے میں عنقریب تمہیں اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ سو تم مجھ سے تو جلدی مت کرو۔
    اب دیکھو کہ ان آیات میں نشان مطلوبہ کے دکھلانے کے بارے میں کیسے صاف اور پختہ وعدے دیئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ ایسے کھلے کھلے نشانات دکھلائے جائیں گے کہ تم ان کو شناخت کر لو گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ تو ہم نے مانا کہ عذاب کے نشانوں کے بارے میں جابجا قرآن شریف میں وعدے دیئے گئے ہیں کہ وہ ضرور کسی دن دکھلائے جائیں گے اور یہ بھی ہم نے تسلیم کیا کہ وہ سب وعدے اس زمانہ میںپورے بھی ہوگئے کہ جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنی خداوندی قدرت دکھلا کر مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کو دور کر دیا اور معدودے چند سے ہزار ہا تک ان کی نوبت پہنچا دی اور ان کے ذریعہ سے ان تمام کفّار کو تہ تیغ کیا جو مکہ میں اپنی سرکشی اور جو رو جفا کے زمانہ میں نہایت تکبر سے عذاب کا نشان مانگا کرتے تھے لیکن اس بات کا ثبوت قرآن شریف سے کہاں ملتا ہے کہ بجز اُن نشانوں کے اور بھی نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے تھے سو واضح ہو کہ نشانوں کے دکھلانے کا ذکر قرآن شریف میں جا بجا آیا ہے۔ بعض جگہ اپنے پہلے نشانوں کا حوالہ بھی دیا ہے دیکھو آیت کمالم یومنوا بہ اوّل مرۃ الجزو نمبر۷ سورۃ انعام۔ بعض جگہ کفّار کی ناانصافی کا ذکر کر کے ان کا اس طور کا اقرار درج کیا ہے کہ وہ نشانوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ جادو ہے۔ دیکھو آیت وان یروا ایۃً یعرضوا ویقولو سحر مستمرہ (الجزو نمبر۲۷ سورۃ القمر) بعض جگہ جو نشان کے دیکھنے کا صاف اقرار منکرین نے کر دیا ہے وہ شہادتیں ان کی پیش کی ہیں۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔
    وشھدوا ان الرسول حق وجاء ھم البینٰت یعنی انہوں نے رسول کے حق ہونے پر گواہی دی اور کھلے کھلے نشان ان کو پہنچ گئے اور بعض جگہ بعض معجزات کو بتصریح بیان کر دیا ہے جیسے معجزہ شق القمر جو ایک عظیم الشان معجزہ اور خدائی قدرت کا ایک کامل نمونہ ہے جس کی تصریح ہم نے کتاب سرمہ چشم آریہ میں بخوبی کر دی ہے جو شخص مفصل دیکھنا چاہے اس میں دیکھ سکتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خود تراشیدہ نشان مانگا کرتے تھے اکثر وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانوں کے آخر کار گواہ بھی بن گئے تھے کیونکہ آخر وہی لوگ تو تھے جنہوں نے مشرف باسلام ہو کر دین اسلام کو مشارق و مغارب میں پھیلایا اور نیز معجزات اور پیشگوئیوں کے بارے میں کتب حدیث میں اپنی رویت کی شہادتیں قلمبند کرائیں۔ پس اس زمانہ میں ایک عجیب طرز ہے کہ ان بزرگان دین کے اس زمانہ جاہلیت کے انکاروں کو بار بار پیش کرتے ہیں جن سے بالآخر خود وہ دست کش اور تائب ہوگئے تھے لیکن اُن کی اُن شہادتوں کو نہیں مانتے جو راہ راست پر آنے کے بعد انہوں نے پیش کی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تو چاروں طرف سے چمک رہے ہیں وہ کیونکر چھپ سکتے ہیں صرف معجزات جو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزہ ہے اور پیش گوئیاں تو شاید دس ہزار سے بھی زیادہ ہوں گی جو اپنے وقتوں پر پوری ہوگئیں اور ہوتی جاتی ہیں۔ ماسوائے اس کے بعض معجزات و پیشگوئیاں قرآن شریف کی ایسی ہیں کہ وہ ہمارے لئے جو اس زمانہ میں ہیں مشہود و محسوس کا حکم رکھتی ہیں اور کوئی ان سے انکار نہیں کر سکتا چنانچہ وہ یہ ہیں۔
    (۱) عذابی نشان کا معجزہ جو اس وقت کے کفّار کو دکھلایا گیا تھا یہ ہمارے لئے بھی فی الحقیقت ایسا ہی نشان ہے جس کو چشمدید کہنا چاہئے وجہ کہ یہ نہایت یقینی مقدمات کا ایک ضروری نتیجہ ہے جس سے کوئی موافق اور مخالف کسی صورت سے انکار نہیں کر سکتا اور یہ مقدمہ جو بطور بنیاد معجزہ کے ہے نہایت بدیہی اور مسلم الثبوۃ ہے کہ یہ عذابی نشان اس وقت مانگا گیا تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور چند رفیق آنجناب کہ مکہ میں دعوت حق کی سے خود صدہا تکالیف اور دوروں اور دکھوں میں مبتلا تھے اور وہ ایام دین اسلام کے لئے ایسے ضعف اور کمزوری کے دن تھے کہ خود کفار مکہ ہنسی اور ٹھٹھہ کی راہ سے مسلمانوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو اس قدر عذاب اور مصیبت اور دکھ اور درد ہمارے ہاتھ سے کیوں تمہیں پہنچ رہا ہے اور وہ خدا جس پر تم بھروسہ کرتے ہو وہ کیوں تمہاری مدد نہیں کرتا اور کیوں تم کوایک قدر قلیل جماعت جو عنقریب نابود ہونے والی ہے اور اگر تم سچے ہو تو کیوں ہم پر عذاب نازل نہیں ہوتا ان سوالات کے جواب میں جو کچھ کفّار کو قرآن شریف کے متفرق مقامات میں ایسے زنانہ تنگی و تکالیف میں کہا گیا وہ دوسرا مقدمہ اس پیشگوئی کی عظمت شان سمجھنے کیلئے ہے کیونکہ وہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ پر ایسا نازک زمانہ تھا کہ ہر وقت اپنی جان کا اندیشہ تھا اور چاروں طرف ناکامی منہ دکھلا رہی تھی سو ایسے زمانہ میں کفّار کو اُن سے عذابی نشان مانگنے کے وقت صاف صاف طور پر یہ کہا گیا تھا کہ عنقریب تمہیں اسلام کی فتح مندی اور تمہارے سزایاب ہونے کا نشان دکھلایا جائے گا اور اسلام جو اَبْ ایک تخم کی طرح نظر آتا ہے کسی دن ایک بزرگ درخت کی مانند اپنے تئیں ظاہر کرے گا اور وہ جو عذاب کا نشان مانگتے ہیں وہ تلوار کی دھار سے قتل کئے جائیں گے اور تمام جزیرہ عرب کفر اور کافروں سے صاف کیا جائے گا اور تمام کی حکومت مومنوں کے ہاتھ میں آ جائے گی اور خدا تعالیٰ دین اسلام کو عرب کے ملک میں ایسے طور سے جمادے گا کہ پھر بت پرستی کبھی پیدا نہیں ہوگی اور حالت موجودہ جو خوف کی حالت ہے بکلی امن کے ساتھ بدل جائے گی اور اسلام قوت پکڑے گا اور غالب ہوتا چلا جائے گا۔ یہاں تک کہ دوسرے ملکوں پر اپنی نصرت اور فتح کا سایہ ڈالے گا اور دور دور تک اس کی فتوحات پھیل جائے گی اور ایک بڑی بادشاہت قائم ہو جاوے گی جس کا اخیر دنیا تک زوال نہیں ہوگا۔
    اب جو شخص پہلے ان دونوں مقدمات پر نظر ڈال کر معلوم کر لیوے کہ وہ زمانہ جس میں یہ پیشگوئی کی گئی اسلام کے لئے کیسی تنگی اور ناکامی اور مصیبت کا زمانہ تھا اور جو پیشگوئی کی گئی وہ کسی قدر حالت موجودہ سے مخالف اور خیال اور قیاس سے نہایت بعید بلکہ صریح محالات عادیہ سے نظر آتی تھی۔ پھر بعد اس کے اسلام کی تاریخ جو دشمنوں اور دوستوں کے ہاتھ میں موجود ہے۔ ایک منصفانہ نظر ڈالے کہ کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی اور کس قدر دلوں پر ہیبت ناک اثر اس کا پڑا اور کیسے مشارق اور مغارب میں تمام تر قوت اور طاقت کے ساتھ اس کا ظہور ہوا تو اس پیشگوئی کو یقینی اور قطعی طور پر چشمدیدہ معجزہ قرار دے گا جس میں اس کو کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔
    پھر دوسرا معجزہ قرآن شریف کاجو ہمارے لئے حکم مشہود و محسوس کا رکھتا ہے وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ببرکت پیروی قرآن شریف و اثر صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہور میں آئیں۔ جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف باسلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اتباع قرآن شریف کس رنگ میں آ گئے اور کیسے اخلاق میں عقاید میں چلن میں گفتار میں رفتار میں کردار میں اور اپنی جمیع عادات میں خبیث حالت سے منتقل ہو کر نہایت طیب اور پاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے ان کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی اور دشمنی اور چمک بخش دی تھی۔ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک خارق عادت تصرف تھا جو خاص خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے کیا۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ان کو مردہ پایا اور زندہ کیا اور جہنم کے گڑھے میں گرتے دیکھا تو حولناک حالت سے چھڑایا۔ بیمار پایا اور اُسے اچھا کیا۔اندھیرے میں پایا انہیں روشنی بخشی اور خدا تعالیٰ نے اس اعجاز کے دکھلانے کے لئے قرآن شریف میں ایک طرف عرب کے لوگوں کی وہ خراب حالتیں لکھیں ہیں جو اسلام سے پہلے وہ رکھتے تھے اور دوسری طرف ان لوگوں کے وہ پاک حالات بیان فرمائے ہیں جو اسلام لانے کے بعد ان میں پیدا ہوگئے تھے کہ تا جو شخص ان پہلے حالات کو دیکھے جو کفر کے زمانہ میں تھے اور مقابل اس کے وہ حالت پڑھے جو اسلام لانے کے بعد ظہور پذیر ہوگئی تو ان دونوں طور کے سوانح پر مطلع ہونے سے بہ یقین کامل سمجھ لیوے گا کہ یہ تبدیلی ایک خارق عادت تبدیلی ہے جسے معجزہ کہنا چاہئے۔
    پھر تیسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہماری نظروںکے سامنے موجود ہے اس کے حقائق و معارف و نکات لطائف ہیں جو اس کی بلیغ و فصیح عبارات میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس معجزہ کو قرآن شریف میں بڑی شدومد سے بیان کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ تمام جن و انس اکٹھے ہو کر اس کی نظیر بنانا چاہیں تو اُن کے لئے ممکن نہیں یہ معجزہ اس دلیل سے ثابت اور متحقق الوجود ہے کہ اس زمانہ تک کہ تیرہ سَو برس سے زیادہ گزر رہا ہے باوجود یہ کہ قرآن شریف کی ندا دنیا کے ہر ایک نواح میں ہو رہی ہے کہ بڑے زور سے ھل من معارض کا نقارہ بجایا جاتا ہے۔ مگر کبھی کسی طرف سے آواز نہیں آئی۔ پس اس سے اس بات کا صریح ثبوت ملتا ہے کہ تمام انسانی قوتیں قرآن شریف کے مقابلہ و معارضہ سے عاجز ہیں بلکہ اگر قرآن شریف کی صدہا خوبیوں میں سے صرف ایک خوبی کو پیش کر کے اس کی نظیر مانگی جائے تو انسان ضعیف البیان سے یہ بھی ناممکن ہے کہ اس کے ایک جزو کی نظیر پیش کر سکے۔ مثلاً قرآن شریف کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ تمام معارف دینیہ پر مشتمل ہے اور کوئی دینی سچائی جو حق اور حکمت سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو۔ مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام حقائق دینیہ ہے تو ایسا متشکک خواہ عیسائی ہو خواہ آریہ اور خواہ برہمو ہو خواہ دہریہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلی کرا سکتا ہے درہم تسلی کر دینے کے ذمہ دار ہیں۔ بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔ بائبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قدر حق و حکمت کی باتیںہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا ہندوؤں کے وید وغیرہ ہیں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہوگئی ہیں یا باقی رہ گئی ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صدہاکتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں۔ جن پر ہمیں اطلاع ہوئی ہے اُن سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں اور اس کامل استقراء سے جو چونتیس برس کے عرصہ میں نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قویٰ کی تربیت کے کئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجربہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعویٰ بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میںنے کی بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔
    پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کے روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلے آتے ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الٰہی کے مراتب کو پہنچ ہیں اور مکالمات الٰہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسرے مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے۔ یہ بھی ایسا نشان ہے کہ جو قیامت تک اُمت محمدیہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود اور محقق الوجود ہے مسلمانوں میں سے اب بھی ایسے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جلشانہٗ اپنی تائیدات خاصہ سے موید فرما کر الہامات صحیحہ و صادقہ و مبشرات و مکاشفات یبہ سے سرفراز فرماتا ہے۔
    اب اے حق کے طالبو اور سچے نشانوں کے بھوک اور پیاس انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانہ کیلئے مشہود محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔ پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی نہیں صرف قصی ہیں۔ خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔ بالخصوص حضرت مسیح کے معجزات و انجیلوں میں لکھے ہیں باجود قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہونے کے اور باوجود بہت سے مبالغات کے جو ان میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے شکوک و شبہات ان پر وارد ہوتے ہیں کہ جن سے انہیں بُکلّی صاف و پاک کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے اور اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ جو کچھ اناجیل مروجہ میں حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ لولے اور لنگڑے اور مفلوج اور اندھے وغیرہ بیمار ان کے چھونے سے اچھے ہو جاتے تھے۔ یہ تمام بیان بلامبالغہ ہے اور ظاہر پر ہی محمول ہے کوئی اور معنی اس کے نہیں۔ تب بھی حضرت مسیح کی ان باتوں سے کوئی بڑی خوبی ثابت نہیں ہوتی۔ اوّل تو انہیں دنوں میں ایک تالاب بھی ایسا تھا کہ اس میں ایک وقت خاص میں غوطہ مارنے سے ایسی سب مرضیں فی الفوردور ہو جاتی تھیں۔ جیسا کہ خود انجیل مذکور ہے۔ پھر ماسوائے اس کے زنانہ دراز کی تحقیقاتوں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ بلکہ صلب امراض منجملہ علوم کے ایک علم ہے جس کے اب بھی بہت لوگ مشاق پائے جاتے ہیں جس میں شدت توجہ اور دماغی طاقتوں کے خرچ کرنے اور جذب خیال کا اثر ڈالنے کی مشق درکار ہے۔ سو اس علم کو نبوت سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ مرد صالح ہو نا بھی اس کے لئے ضروری نہیں اور قدیم سے یہ علم رائج ہوتا چلا آیا ہے۔ مسلمانوں میں بعض اکابر جیسے محی الدین عربی صاحب فصوص اور بعض نقشبندیوں کے اکابر اس کام میں مشاق گزرے ہیں۔ ایسے کہ ان کے وقت میں ان کی نظیر پائی نہیں گئی بلکہ بعض کی نسبت ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی کامل توجہ سے باذنہٖ تعالیٰ تازہ مردوں سے باتیں کر کے دکھلا دیتے تھے٭ اور دو دو تین تین سَو بیماروں کو اپنے دائیں بائیں بٹھلا کر ایک ہی نظر سے تندرست کر دیتے تھے اور بعض جو مشق میں کمزو رتھے وہ ہاتھ لگا کر یا کپڑے کو چھو کر شفا بخشتے تھے۔ اس مشق میں عامل کچھ ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا اس کے اندر سے بیمار پر اثر ڈالنے کے وقت ایک قرت نکلتی ہے اور بسا اوقات بیمار کو بھی یہ مشہود ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک زہر یا مادہ حرکت کر کے سفلی اعضاء کی طرف اُترتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بُکلّی … ہو جاتا ہے۔ اس علم میں اسلام میں بہت سی تالیفیں موجود ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ
    ٭ تازہ مردوں کا عمل توجہ سے چند منٹ یا چند گھنٹوں کیلئے زندہ ہو جانا قانون قدرت کے منافی نہیں جس حالت میں ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ بعض جاندار کے مرنے کے بعد کسی دوا سے زندہ ہو جاتے ہیں تو پھر انسان کا زندہ ہونا کیا مشکل اور کیوں دور از قیاس ہے۔
    ہندوؤں میں بھی اس کی کتابیں ہونگی۔ حال میں جو انگریزوں نے فن مسمریزم نکالا ہے حقیقت میں وہ بھی اسی علم کی ایک شاخ ہے۔ انجیل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو بھی کسی قدر اس علم میں مشق تھی۔ مگر کامل نہیں تھی۔ اس وقت کے لوگ بہت سادہ اور اس علم سے بے خبر تھے۔ اسی وجہ سے اس زمانہ میں یہ عمل اپنی حد سے زیادہ قابل تعریف سمجھا گیا تھا۔ مگر پیچھے سے جوں جوں اس علم کی حقیقت کھلتی گئی لوگ اپنے علو اعتقاد سے تنزل کرتے گئے۔ یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی مشقوں سے بیماروں کو چنگا کرنایامجنونوں کو شفا بخشنا کچھ بھی کمال کی بات نہیں۔ بلکہ اس میں ایماندار ہونا بھی ضرور نہیں۔ چہ جائیکہ نبوت یا ولایت پر یہ دلیل ہو سکے ان کا یہ بھی قول ہے کہ عمل سلب امراض بدنیہ کی کامل مشق اور اُسی شغل میں دن رات اپنے تئیں ڈالے رکھنا روحانی ترقی کیلئے سخت مضر ہے اور ایسے شخص کے ہاتھ سے روحانی تربیت کا کام بہت ہی کم ہوتا ہے اور قوت منورہ اس کے قلب کی بغایت درجہ گھٹ جاتی ہے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی روحانی تربیت میں بہت کمزور نکلے جیسا کہ پادری ٹیلر صاحب جو باعتبار عہدہ و نیز بوجہ لیاقت ذاتی کے ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ وہ نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ مسیح کی روحانی تربیت بہت ضعیف اور کمزور ثابت ہوتی ہے اور اُن کے صحبت یافتہ لوگ جو حواریوں کے نام سے موسوم تھے اپنے روحانی تربیت یافتہ ہونے میں اور انسانی قوتوں کی پوری تکمیل سے کوئی اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھلا نہ سکے (کاش حضرت مسیح نے اپنے ظاہری شغل سلب امراض کی طرف کم توجہ کی ہوتی اور وہی توجہ اپنے حواریوں کی باطنی کمزوریوں اور بیماریوں پر ڈالتے خاص کر یہودا اسکریوطی پر) اس جگہ صاحب موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہؓ کے مقابلہ پر حواریوں کی روحانی تربیت یابی اور دینی استقامت کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری روحانی طور پر تربیت پذیر ہونے میں نہایت ہی کچے اور پیچھے رہے ہوئے تھے اور ان کے دماغی اور دلی قویٰ کو حضرت مسیح کی صحبت نے کوئی ایسے توسیع نہیں بخشی تھی جو صحابہ نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقابل پر کچھ قابل تعریف ہو سکے بلکہ حواریوں کے قدم قدم میں بزدلی سست اعتقادی تنگدلی و دنیا طلبی بیوفائی ثابت ہوتی تھی۔ مگر صحابہؓ نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے وہ صدق وفا ظہور میں آیا جس کی تغیر کسی دوسرے نبی کے پیروؤں میں ملنا مشکل ہے سو یہ اس روحانی تربیت کا جو کامل طور پر ہوئی تھی اثر تھا جس نے اس کو بُکلّی مبدل کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح سے بہت سے دانشمند انگریزوں نے حال میں ایسی کتابیں تالیف کی ہیں کہ جن میں اُنہوں نے اقرار کر لیا ہے کہ اگر ہم نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حالت رجوع الی اللہ و توکل استقامت ذاتی و تعلیم کامل و مطہر و القائے تاثیر و اصلاح خلق کثیر از مفسدین و تائیدات ظاہری و باطنی قادر مطلق کو ان معجزات سے الگ کر کے بھی دیکھیں جو بمد منقول ان کی نسبت بیان کی جاتی ہیں۔ تب یہی ہمارا انصاف اس اقرار کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ یہ تمام امور جو ان سے ظہور میں آئے۔ یہ بھی بلاشبہ فوق العادت اور بشریٰ طاقتوں سے بالاتر ہیں اور نبوت صحیحہ صادقہ کے شناخت کرنے کیلئے قوی اور کافی نشان ہیں کوئی انسان جب تک اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نہ ہو کبھی ان سب باتوں میں کامل اور کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ایسی غیبی تائیدیں اُس کے شامل ہوتی ہیں۔
    سوال: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کبھی کوئی معجزہ نہ ملا۔ جیسا کہ سورۃ عنکبوت میں درج ہے (ترجمہ عربی کام اور کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں یعنی کوئی بھی کیونکہ لا مافیہ اس آیت میں جو کہ جنسی ہے کل جنس کی نفی کرتا ہے اس کے ربّ سے اور سورہ بنی اسرائیل میں بھی اور ہم نے موقوف کیں نشانیاں بھیجی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔ اس سے صاف صاف ظاہر ہے کہ خدا نے کوئی معجزہ نہیں دیا حقیقت میں اگر کوئی معجزہ ملتا تو وہ نبوت اور قرآن پر متشکی نہ ہوتے؟
    فاما الجواب: جن خیالات کو عیسائی صاحب نے اپنی عبارت میں بصورت اعتراض پیش کیا ہے وہ درحقیقت اعتراض نہیں ہیں بلکہ وہ تین غلط فہمیاں ہیں جو لوجہ قلت تدبر اُن کے دل میں پیدا ہوگئی ہیں۔ ذیل میں ہم ان غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں۔
    پہلی غلط فہمی کی نسبت جواب یہ ہے کہ نبی برحق کی یہ نشانی ہرگز نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرح ہر ایک مخفی بات کا بالاستقلال اس کو علم بھی ہو بلکہ اپنے دناتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدا تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔ قدیم سے اہل حق حضرت واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت دجوب ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناع ذاتی اور امکان بالواجب غراسمہ کا عقیدہ ہے یعنی یہ عقیدہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کے ہویت حقہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو مگر ممکنات کے جو ہالکۃ الذات اور باطلہ الحقیقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرۃ باری غراسمہ جائز نہیں اور جیسا ذات کے رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کے رو سے بھی ممتنع ہے۔ پس ممکنات کیلئے نظر اعلیٰ ذاتہم عالم الغیب ہونا ممقات میں سے ہے۔ خواہ نبی ہوں یا ولی ہوں ہاں الہام الٰہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے جس کو ہم تابعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں نہ کسی اور میں عادۃ اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے مخصوص بندوں کو اپنے بعض اسرار خاصہ پر مطلع کر دیتا ہے اور اوقات مقررہ اور مقدرہ میں رشح فیض غیب ان پر ہوتا ہے بلکہ کامل مقرب اللہ اُسی آزمائے جاتے ہیں اور شناخت کئے جاتے ہیں کہ بعض اوقات آئندہ کی پوشیدہ باتیں یا کچھ چھپے اسرار نہیں بتلائے جاتے ہیں۔ مگر یہ نہیں کہ ان کے اختیار اور ارادہ اقتدار سے بلکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ اور اختیار اور اقتدار سے یہ سب نعمتیں انہیں ملتی ہیں۔
    وہ جو اس کی مرضی پر چلتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے ہیں اور اسی میں کھوئے جاتے ہیں۔ اس خیر محض کی ان سے کچھ ایسی ہی عادت ہے کہ اکثر ان کی سنتا اور اپنا گزشتہ فعل یا آئندہ کا منشاء بسا اوقات ان پر ظاہر کر دیتا ہے۔ مگر بغیر اعلام الٰہی انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا وہ اگرچہ خدا تعالیٰ کے مقرب تو ہوتے ہیں مگر خدا تو نہیں ہوتے سمجھائے سمجھتے ہیں بتلائے جانتے ہیں۔ دکھلائے دیکھتے ہیں بولائے بولتے ہیں اور اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہوتے جب طاقت عظمیٰ انہیں اپنے الہام کی تحریک سے بلاتی ہے تو وہ بولتے ہیں اورجب دکھاتی ہے تو دیکھتے ہیں اور جب سناتی ہے تو سنتے ہیں اور جب تک خدا تعالیٰ ان پر کوئی پوشیدہ بات ظاہر نہیں کرتا تب تک انہیں اس بات کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔ تمام نبیوں کے حالات زندگی (لایف) میں اس کی شہادت پائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف ہی دیکھو کہ وہ کیونکر اپنی لاعلمی کا اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں نہ بیٹا کوئی نہیں جانتا۔ باب ۱۳۔ آیت ۳۲۔ مرقس
    اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ نہیں کرتا (یعنی کچھ نہیں کر سکتا) مگر جو میرے باپ نے سکھلایا وہ باتیں کہتا ہوں کسی کو راستبازوں کے مرتبہ تک پہنچانا میرے اختیار میں نہیں مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ مرقس
    غرض کسی نبی نے بااقتدار یا عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا دیکھو اس عاجز بندہ کی طرف جس کو مسیح کر کے پکارا جاتا ہے اور جسے نادان مخلوق پرستوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کہ کیسے اس نے ہر مقام میں اپنے قول اور فعل سے ظاہر کر دیا کہ میں ایک ضعیف اور کمزور اور ناتواں بندہ ہوں اور مجھ میں ذاتی طور پر کوئی بھی خوبی نہیں اور آخری اقرار جس پر ان کا خاتمہ ہوا کیسا پیارے لفظوں میں ہے۔ چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ
    یعنی مسیح اپنی گرفتاری کی خبر پا کر گھبرانے اور بہت دلگیر ہونے لگا اور ان سے (یعنی حواریوں سے) کہا کہ میر ی جان کا غم موت کا صا ہے اور وہ تھوڑا آگے جا کر زمین پر گر پڑا (یعنی سجدہ کیا) اور دعا مانگی کہ اگر ہوسکے تو یہ گھڑی مجھ سے ٹل جائے اور کہا کہ اے ابّا اے باپ سب کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے اس پیالہ کو مجھ سے ٹال دے یعنی تو قادر مطلق ہے اور میں ضعیف ہوں اور عاجز بندہ ہوں تیرے ٹالنے سے یہ بلا ٹل سکتی ہے اور آخر ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر جان دی۔ جس کاترجمہ یہ ہے کہ ’’اے میرے خدا ! اے میرے خدا!! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا‘‘
    اب دیکھئے کہ اگرچہ دعا قبول نہ ہوئی کیونکہ تقدیر مبرم تھی۔ ایک مسکین مخلوق کی خالق کے قطعی ارادہ کے آگے کیا پیش جاتی تھی۔ مگر حضرت مسیح نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار کو نہایت تک پہنچا دیا۔ اس امید سے کہ شاید قبول ہو جاوے۔ اگر انہیں پہلے سے علم ہوتا کہ دعا رد کی جائے گی ہرگز قبول نہیں ہوگی تو وہ ساری رات برابر فجر تک اپنے بچاؤ کے لئے کیوں دعا کرتے رہتے اور کیوں اپنے تئیں اور اپنے حواریوں کو بھی تقید سے اس لا حاصل مشقت میں ڈالتے۔
    سو بقول معترض صاحب ان کے دل میں یہی تھا کہ انجام خدا کو معلوم ہے۔ مجھے معلوم نہیں پھر ایسا ہی حضرت مسیح کی پیشگوئی کا صحیح نہ نکلنا دراصل اسی وجہ سے تھا کہ بباعث عدم علم براسرار مخفیہ اجتہادی طور پر تشریح کرنے میں اُن سے غلطی ہو جاتی تھی۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب نئی خلقت میں ابن آدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تو بھی (اے میرے بارہ حواریو) بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔ دیکھو باب ۲۰۔ آیت ۲۸۔ متی‘‘۔
    لیکن اسی انجیل سے ظاہر ہے کہ یہودہ اسکریوطی اس تخت سے بے نصیب رہ گیا۔ اس کے کانوں نے تخت نشینی کی خبر سن لی مگر تخت پر بیٹھنا اُسے نصیب نہ ہوا۔ اب راستی اور سچائی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اس شخص کے مرتد اور بد عاقبت ہونے کا پہلے سے علم ہوتا تو کیوں اس کو تخت نشینی کی جھوٹی خبر سناتے۔ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ ایک انجیر کا درخت دور سے دیکھ کر انجیر کھانے کی نیت سے اس کی طرف گئے مگر جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک بھی انجیر نہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں اس انجیر کو بدعا دی جس کا کوئی بد اثر انجیر پر ظاہر نہ ہوا۔ اگر آپ کو کچھ غیب کا علم ہوتا تو بے ثمر درخت کی طرف اس کا پھل کھانے کے ارادہ سے کیوں جاتے۔
    ایسا ہی ایک مرتبہ آپ کے دامن کو ایک عورت نے چھوا تھا تو آپ چاروں طرف پوچھنے لگے کہ کس نے میرا دامن چھوا ہے۔ اگر کچھ علم غیب سے حصہ ہوتا تو دامن چھونے والے کا پتہ معلوم کرنا تو کچھ بڑی بات نہ تھی اور ایک مرتبہ آ پ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ اس زمانہ کے لوگ گزر نہ جائیں گے جب تک یہ سب کچھ (یعنی مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اور ستاروں کا گرنا وغیرہ) ظاہر نہ ہولے۔ لیکن ظاہر ہے کہ نہ اس زمانہ میں کوئی ستارہ آسمان کا زمین پر گرا اور نہ حضرت مسیح عدالت کیلئے دنیا میں آئے اور وہ صدی تو کیااس پر اٹھارہ صدیاں اور بھی گزر گئیں اور انیسویں گزرنے کو عنقریب ہے۔ سو حضرت مسیح کے علم غیب سے بے بہرہ ہونے کے لئے یہی چند شہادتیں کافی ہیں جو کسی اور کتاب سے نہیں بلکہ چاروں انجیل سے دیکھ کر ہم نے لکھی ہیں۔ دوسرے اسرائیلی نبیوں کا بھی یہی حال ہے حضرت یعقوب ہی تھے مگر انہیں کچھ خبر نہ ہوئی کہ اُسی گاؤں کے بیابان میں میرے بیٹے پر کیا گزر رہا ہے۔ حضرت دانیال اس مدت تک کہ خدائے نے بخت النصر کے رؤیا کی ان پر تعبیر کھول دی کچھ بھی علم نہیں رکھتے تھے کہ خواب کیا ہے اور اس کی تعبیر کیا ہے؟
    پس اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ نبی کا یہ کہنا کہ یہ بات خدا کو معلوم ہے مجھے معلوم نہیں بالکل سچ اور اپنے محل پر چسپاں اور سراسر اس نبی کا شرف اور اس کی عبودیت کا فخر ہے بلکہ ان باتوں سے اپنے آقائے کریم کے آگے اس کی شان بڑھتی ہے نہ یہ کہ اس کے منصب بنوۃ میں کچھ فتور لازم آتا ہے ہاں اگر یہ تحقیق منظور ہو کہ خدا تعالیٰ کے اعلام سے جو اسرار غیب حاصل ہوتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ہوئے ہیں تو میں ایک بڑا ثبوت اس بات کا پیش کرنے کیلئے تیار ہوں کہ جس قدر توریت و انجیل اور تمام بائبل میں نبیوں کی پیشگوئیاں لکھی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں کماً و کیقاً ہزار حدیث سے بھی ان سے زیادہ ہیں جن کی تفصیل احادیث نبویہ کے رو سے جو بڑی تحقیق سے قلم بند کی گئی ہیں معلوم ہوتی ہے اور اجمالی طور پر مگر کافی اور اطمینان بخش اور نہایت مؤثر بیان قرآن شریف میں موجود ہے پھر دیگر اہل مذاہب کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف قصہ ہی نہیں بلکہ وہ تر ہر صدی میں غیر قوموں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سب برکات اسلام میں ہمیشہ کے لئے موجود ہیں۔ بھائیو! آؤ اوّل آزماؤ پھر قبول کرو۔ مگر اُن آواروں کو کوئی نہیں سنتا۔ حجت الٰہی ان پر پوری ہے کہ ہم بلاتے ہیں وہ نہیں آتے اور ہم دکھاتے ہیں وہ نہیں دیکھتے انہوں نے آنکھوں اور کانوں کا بُکلّی ہم سے پھیر لیا تا نہ ہو کہ وہ سنیں اور دیکھیں اور ہدایت پائیں۔
    دوسری غلط فہمی جو معترض نے پیش کی ہے یعنی یہ کہ اصحاب کہف کی تعداد کی بابت قرآن شریف میں غلط بیان ہے۔ یہ نرا دعویٰ ہے معترض نے اس بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ وہ بیان کیوں غلط ہے اور اس کے مقابل پر صحیح کونسا بیان ہے اور اس کی صحت پر کون سے دلائل ہیں تا اس کے دلائل پر غور کی جاتی اور جواب شافی دیا جائے۔ اگر معترض کو فرقانی بیان پر کچھ کلام تھا تو اس کے وجوہات پیش کرنے چاہئیں تھے۔ بغیر پیش کرنے وجوہات کے یونہی غلط ٹھہرانا متلاشی حق کا کام نہیں ہے۔
    تیسری غلط فہمی معترض کے دل میں یہ پیدا ہوئی ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ (جس کی سیر و سیاست کا ذکر قرآن شریف میں ہے) سیر کرتا کرتا کسی ایسے مقام تک پہنچا جہاں اُسے سورج دلدل میں چھپتا نظر آیا۔ اب عیسائی صاحب مجازی سے حقیقت کی طرف رُخ کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سورج اتنا بڑا ہو کر ایک چھوٹے سے میں کیونکر چھپ گیا۔ یہ ایسی بات ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ انجیل میں مسیح کو خدا کا برّہ لکھا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ بّرہ تو وہ ہو سکتا ہے جس کے سر پر سینگ اور بدن پر پشم وغیرہ بھی ہو اور چاریوں کی طرح سرنگون چلتا اور وہ چیزیں کھاتا ہو جو برّے کھایا کرتے ہیں؟
    اے صاحب آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ قرآن شریف تو فقط بمنصب نقل خیال اس قدر فرماتا ہے کہ اس شخص کو اس کی نگاہ میں سورج دلدل میں چھتا ہوا نظر آیا سو یہ تو ایک شخص کی رویت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسی جگہ پہنچا جس جگہ سورج کسی پہاڑ یا آبادی یا درختوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا نظر آتا تھا۔ جیسا کہ عام دستور ہے بلکہ دلدل میں چھپتا ہوا معلوم دیتا تھا۔ مطلب یہ کہ اُس جگہ کوئی آبادی یا درخت یا پہاڑ نزدیک نہ تھے بلکہ جہاں تک نظر وفا کرے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا نشان نظر نہیں آتا تھا۔ فقط ایک دلدل تھا جس میں سورج چھپتا دکھائی دیتا تھا۔
    ان آیات کا سیاق سباق دیکھو کہ اس جگہ حکیمانہ تحقیق کا کچھ ذکر بھی ہے۔ فقط ایک شخص کی دور دراز سیاحت کا ذکر ہے اور ان باتوں کے بیان کرنے سے اسی مطلب کا اثبات منظور ہے کہ وہ ایسے غیر آباد مقام پر پہنچا۔ سو اس جگہ ہیئت کے مسائل لے بیٹھنا بالکل بے محل نہیں تو اور کیا ہے؟ مثلاً اگر کوئی کہے کہ آج رات بادل وغیرہ سے آسمان خوب صاف ہو گیا تھا اور ستارے آسمان کے نقطوں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے تھے اور اس سے یہ جھگڑا لے بیٹھیں کہ کیا ستارے لفظوں کی مقدار پر ہیں اور ہیئت کی کتابیں کھول کر پیش کریں تو بلاشبہ یہ حرکت بے خبروں کی سی حرکت ہوگی کیونکہ اس وقت متکّلم کی نیت میں واقعی امر کا بیان کرنا مقصود نہیں وہ تو صرف مجازی طور پر جس طرح ساری دنیا جہان بولتا ہے بات کر رہا ہے۔ اے وہ لوگ جو عشائے ربّانی میں مسیح کا لہو پیتے اور گوشت کھاتے ہو کیا ابھی تک تمہیں مجازات اور استعارات کے استعمال کانہایت وسیع دروازہ کھلا ہے اور وحی الٰہی انہیں محاورات و استعارات کے استعمال کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے اور وحی الٰہی انہیں محاورات و استعارات کو اختیار کرتی ہے جو سادگی سے روز مرہ عوام الناس نے اپنے روز مرہ کی بات چیت اور بول چال میں اختیار کر رکھی ہے فلسفہ کی دقیق اصطلاحات کی ہر جگہ اور ہر محل میں پیروی کرنا وحی کی طرز نہیں کیونکہ روئے سخن عوام الناس کی طرف ہے پس ضرور ہے کہ ان کی سمجھ کے موافق اور ان کے محاورات کے لحاظ سے بات کی جائے۔ حقائق و دقائق کا بیان کرنا بجائے خود ہے مگر محاورات کا چھوڑنا اور مجازات اور استعارات عادیہ سے یک لخت کنارہ کش ہونا ایسے شخص کے لئے ہرگز روا نہیں جو عوام الناس کے مذاق پر بات کرنا اس کا فرض منصب ہے تا وہ اس کی بات کو سمجھیں اور ان کے دلوں پر اس کا اثر ہو لہٰذا یہ مسلم ہے کہ کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں۔ جس میں مجازات اور استعارات سے کنارہ کیا گیا ہو یا کنارہ کرنا جائز ہو کیا کوئی کلام الٰہی دنیا میں ایسا بھی آیا ہے؟ اگر ہم غور کریں تو ہم خود ہر روزہ بول و چال میں صدہا مجازات و استعارات بولے جاتے ہیں اور کوئی بھی ان پر اعتراض نہیں کرتا۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ہلال بال سا باریک ہے اور ستارے نقطہ سے ہیں یا چاند بادل کے اندر چھپ گیا اور سورج ابھی جوجو پھر دن چڑھا ہے نیز پھر اوپر آیا ہے یا ہم نے ایک رکابی پلاؤ کی کھا لی یا ایک پیالہ شربت کا پی لیا تو ان سب باتوں سے کسی کے دل میں یہ دھڑکا شروع نہیںہو تا کہ ہلال کیونکر بال سا باریک ہو سکتا ہے اور ستارے کس وجہ سے بقدر نقطوں کے ہو سکتے ہیں یا چاند بادل کے اندر کیونکر سما سکتا ہے اور کیا سورج نے باوجود اپنی اس تیز حرکت کے جس سے وہ ہزار ہا کوس ایک دن میں طے کر لیتا ہے۔ ایک پہر میں فقط بقدر نیز کے اتنی مسافت طے کری ہے اور نہ رکابی پلاؤ کی کھانے یا پیالہ شربت کا پینے سے کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ رکابی اور پیالہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا لیا ہوگا بلکہ یہ سمجھیں گے کہ جو ان کے اندر چاول اور پانی ہے وہی کھایا پیا ہوگا۔ نہایت صاف بات پر اعتراض کرنا کوئی مخالف بھی پسند نہیں کرتا۔ انصاف پسند عیسائیوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ایسے ایسے اعتراض ہم میں سے وہ لوگ کرتے ہیں جو بے خبر یا سخت درجہ کے متعصب ہیں۔ بھلا یہ کیا حق روی ہے؟ کہ اگر کلام الٰہی میں مجاز بااستعارہ کی صورت پر کچھ وارد ہو تو اس بیان کو حقیقت پر حمل کر کے … اعتراض بنایا جاوے اس صورت میں کوئی الہامی کتاب بھی اعتراض سے نہیں بچ سکتی۔ جہاز میں بیٹھنے والے اور اگنبوٹ پر سوار ہونے والے ہر روز یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ سورج پانی میں سے ہی نکلتا ہے اور پانی میں ہی غروب ہوتا ہے اور صدہا مرتبہ آپس میں جیسا دیکھتے ہیں بولتے بھی ہیں کہ وہ نکلا اور غروب ہوا۔ اب ظاہر ہے کہ اس بول چال کے وقت میں علم ہیئت کے دفتر اُن کے آگے کھولنا اور نظام شمسی کا مسئلہ لے بیٹھنا گویا یہ جواب سننا ہے کہ اے پاگل کیا یہ علم تجھے ہی معلوم ہے۔ ہمیں معلوم نہیں۔
    عیسائی صاحب نے قرآن شریف پر تو اعتراض کیا۔ مگر انجیل کے وہ مقامات جن پر حقًّا و حقیقتاً اعتراض ہوتا ہے بھولے رہے۔ مثلاً بطور نمونہ دیکھو کہ انجیل متی و مرقس میں لکھا ہے کہ مسیح کو اس وقت آسمان سے خلق اللہ کی عدالت کے لئے اُترتا دیکھو گے جب سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہیں دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے۔ اب ہیئت کاعلم ہی نہ اشکال پیش کرتا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ تمام ستارے زمین پر گر پڑیں اور سب ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین کے کسی گوشہ میں جا پڑیں اور بتی آدم کو ان کے گرنے سے کچھ بھی حرج اور تکلیف نہ پہنچے اور سب زندہ اور سلامت رہ جائیں حالانکہ ایک ستارہ کا گرنا بھی مکان الارض کی تباہی کیلئے کافی ہے پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب ستارے زمین پر گر کر زمین والوں کو صفحہ ہستی سے بے نشان و نابود کر دیں گے تو مسیح کا قول کہ تم مجھے بادلوں میں آسمان سے اُترتا دیکھو گے کیونکر درست ہوگا جب لوگ ہزاروں ستاروں کے نیچے دبے ہوئے مرے پڑے ہوں گے تو مسیح کا اُترنا کون دیکھے گا اور زمین جو ستاروں کی کشش سے ثابت و برقرار ہے کیونکر اپنی حالت صحیحہ پر قائم اور ثابت رہے گی اور مسیح برگزیدوں کو دور دور سے (جیسا کہ انجیل میں ہے) بلائے گا اوکن کو سرزنش اور تنبیہ کرے گا کیونکہ ستاروں کاگرنا تو ببداہت مستلزم عام فنا اور عام موت بلکہ تختۂ زمین کے انقلاب کا موجب ہوگا اب دیکھئے کہ یہ سب بیانات علم ہیئت کے برخلاف ہیں یا نہیں؟ ایسا ہی ایک اور اعتراض علم ہیئت کے رو سے انجیل پر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انجیل متی میں دیکھو وہ ستارہ جو انہوں نے (یعنی مجوسیوں نے) یورپ میں دیکھاتھا ان کے آگے چل رہا اور اس جگہ کے اوپر جہاں وہ لڑکا تھا جا کر ٹھہرا۔ (باب ۲۔ آیت ۹ متی)
    اب عیسائی صاحبان براہ مہربانی بتلا دیں کہ علم ہیئت کے رو سے اس عجیب ستارہ کا نام کیاہے جو مجوسیوں کے ہم قدم اور ان کے ساتھ ساتھ چلا تھا اور یہ کس قسم کی حرکت اور کن قواعد کے رو سے مسلم الثبوت ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ انجیل متی ایسے ستارہ کے بارے میں ہیئت والوں سے کیونکر پیچھا چھڑا سکتی ہے۔ بعض صاحب تنگ آ کر یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ مسیح کا قول نہیں متی کا قول ہے۔ متی کے قول کے ہم الہامی نہیں جانتے یہ خواب خواب ہے جس سے انجیل کے الہامی ہونے کی بخوبی قلعی کھل گئی اور میں بطور تنزل کہتا ہوں کہ گو یہ مسیح کا قول نہیں متی یا کسی اور کا قول ہے مگر مسیح کا قول بھی تو (جس کو الہامی مانا گیا ہے اور جس پر ابھی ہمارے طرف سے اعتراض ہوچکا ہے) اُسی کا ہم رنگ اور ہم شکل ہے ذرا اُسی کو اصولی ہیئت سے مطابق کر کے دکھلائیے اور نیز یہ بھی یاد رہے کہ یہ قول الہامی نہیں بلکہ انسان کی طرف سے انجیل میں ملایا گیا ہے تو پھر آپ لوگ ان انجیلوں کو جو آپ کے ہاتھ میں ہیں تمام بیانات کے اعتبار سے الہامی کیوں کہتے ہو؟ صاف طور پر کیوں مشتہر نہیں کر دیتے کہ بجز ان چند باتوں کے جو حضرت مسیح کے منہ سے نکلی ہیں۔ باقی جو کچھ اناجیل میں لکھا ہے وہ مؤلفین نے صرف اپنے خیال اور اپنی عقل اور فہم کے مطابق لکھا ہے جو غلطیوں سے مبرا متصور نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ پادری صاحبوں کی عام تحریروں سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ رائے عام طور پر مشتہر بھی کی گئی ہے۔ یعنی بالاتفاق انجیلوں کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جو کچھ تاریخی طور پر معجزات وغیرہ کا ذکر ان میں پایا جاتا ہے وہ کوئی الہامی امر نہیں بلکہ انجیل نویسوں نے اپنے قیاس یا سماعت وغیرہ وسائل خارجیہ سے لکھ دیا ہے غرض پادری صاحبوں نے اس اقرار سے ان بہت سے حملوں سے جو انجیلوں پر ہوتے ہیں اپنا پیچھا چھوڑانا چاہا ہے اور ہر ایک انجیل میں تقریباً دس حصے انسان کا کلام اور ایک حصہ خدا کا کلام مان لیا ہے اور ان اقرارات کی وجہ سے جو نقصان انہیں اُٹھانے پڑے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عیسوی معجزات ان کے ہاتھ سے گئے اور ان کا کوئی شافی کافی ثبوت ان کے پاس نہ رہا کیونکہ ہر چند انجیل نویسوں نے تاریخی طور پر فقط اپنی طرف سے مسیح کے معجزات انجیلوں میں لکھی ہیں مگر مسیح کا اپنا خالص بیان جو الہامی کہلاتا ہے حواریوں کے بیان سے صریح مبائن و مخالف معلوم ہوتا ہے بلکہ اُسی کی ضد و نقیض ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مسیح نے اپنے بیان میں جس کو الہامی کہا جاتا ہے جا بجا معجزات کے دکھلانے سے انکار ہی کیا ہے اور معجزات کے مانگنے والوں کو صاف جواب دے دیا ہے کہ تمہیں کوئی معجزہ دکھلایا نہیں جائے گا۔ چنانچہ ہیرو دیس نے بھی مسیح سے معجزہ مانگا تو اُس نے نہ دکھلایا اور بہت سے لوگوں نے اس کے نشان دیکھنے چاہے اور نشانوں کے بارے میں اس سے سوال بھی کیا مگر وہ صاف منکر ہو گیا اور کوئی نشان دکھلا نہ سکا بلکہ اس نے تمام رات جاگ کر خدا تعالیٰ سے یہ نشان مانگا کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو یہ نشان بھی اس کو نہ ملا اور دعا ردّ کی گئی۔
    پھر مصلوب ہونے کے بعد یہودیوں نے سچے دل سے کہا کہ اگر وہ اب صلیب پر سے زندہ ہو کر اُتر آوے تو ہم سب کے سب اس پر ایمان لائیں گے مگر وہ اُتر بھی نہ سکا پس ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ جہاں تک انجیلوں میں الہامی فقرات ہیں وہ مسیح کو صاحب معجزات ہونے کے بارے میں کچھ خیال کر سکیں تو حقیقت میں وہ فقرہ ذوالوجوہ ہے جس جس کے اور اور معنی بھی ہو سکتے ہیں اور کچھ ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ اس کو ظاہر پر بھی محمول کیا جائے یا خواہ نخواہ کھینچ تان کر ان معجزات کا ہی مصداق ٹھہرایا جاوے جن کا انجیل نویسوں نے اپنی طرف سے ذکر کیا ہے اورکوئی فقرہ خاص حضرت مسیح کی زبان سے نکلا ہوا ایسا نہیں کو جو وقوع اور ثبوت معجزات پر صاف طور پر دلالت کرتا ہو بلکہ مسیح کے خاص اور پُرزور کلمات کی اسی امر پر دلالت پائی جاتی ہے کہ اُن سے ایک بھی معجزہ ظہور میں نہیں آیا (قرآن شریف میں صرف اس مسیح کے معجزات کی تصدیق ہے جس نے کبھی خدائی کا دعویٰ نہیں کیا کیونکہ مسیح کئی ہوئے ہیں اور ہوں گے اور پھر قرآنی تصدیق ذوالوجوہ ہے جو انجیل نویسوں کے بیان کی ہرگز مصداق نہیں) تعجب ہے کہ عیسائی لوگ کیوں ان باتوں پر اعتماد و اعتبار نہیں کرتے جو مسیح کا خاص بیان اور الہامی کہلاتی ہیں اور خاص مسیح کے منہ سے نکلی ہیں اور ایسی باتوں پر کیوں اعتماد کیا جاتا ہے اور کیوں ان کے قدر سے زیادہ ان پر زور دیا جاتا ہے جو عیسائیوں کے اپنے اقرار کے موافق الہامی نہیں ہیں بلکہ تاریخی طور پر انجیلوں میں داخل ہیں اور الہام کے سلسلہ سے بُکلّی خارج ہیں اور الہامی عبارات سے ان کا تناقض پایا جاتا ہے پس جب الہامی اور غیر الہامی عبارات میں تناقض ہو تو اس کے دور کرنے کیلئے بجز اس کے اور کیا تدبیر ہے کہ جو عبارتیں الہامی نہیں ہے وہ ناقابل اعتبار سمجھی جائیں اور صرف انجیل نویسوں کے مبالغات یقین نہ کئے جائیں۔ چنانچہ جا بجا ان کا مبالغہ کرنا ظاہر بھی ہے جیسا کہ یوحنا کی انجیل کی آخری آیت جس پر وہ مقدس انجیل ختم کی گئی ہے یہ ہے پر اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے اور اگر وہ جدا جدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جائیں دنیا میں سما نہیں سکتیں۔ دیکھو کس قدر مبالغہ ہے زمین و آسمان کے عجائبات تو دنیا میں سما گئے مگر مسیح کی تین یا اڑھائی برس کی سوانح دنیا میں سما نہیں سکتی۔ ایسے مبالغے کرنے والے لوگوں کی روایت پر کیونکر اعتبار کر لیا جاوے۔
    ہندوؤں نے بھی اپنے اوتاروں کی نسبت ایسی ہی کتابیں تالیف کی تھیں اور اسی طرح خوب جوڑ جوڑ سے ملا کر جھوٹ کا پل باندھا تھا۔ سو اس قوم پر بھی اس افترا کا نہایت قوی اثر پڑا اور اس سرے سے ملک کے اس سرے تک رام رام اور کرشن کرشن دلوں میں رچ گیا۔ بات یہ ہے کہ مرتب کردہ کتابیں جن میں بہت سا افتراء بھرا ہوا ہو اُن قبروں کی طرح ہوتے ہیں جو باہر سے خوب سفید کی جائیں اور چمکائی جائیں پر اندر کچھ ہو اندر کا حال ان بے خبر لوگوں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے جو صدہا برسوں کے بعد پیدا ہوئے اور بنی بنائی کتابیں اور بے لوث ظاہر کر کے ان کو دی گئیں کہ گویا وہ اسی صورت اور وضح کے ساتھ آسمان سے اُتری ہیں۔ سو وہ کیا جانتے ہیں کہ دراصل یہ مجموعہ کس طرح تیار کیا گیا۔ دنیا میں ایسی تیز نگاہیں جو پردوں کو چیرتی ہوئی اندر گھسی جائیں اور اصل حقیقت پراطلاع پا لیں اور چور کو پکڑ لیں بہت کم ہیں اور افتراء کے جادو سے متاثر ہونے والی روحیں اس قدر ہیں جن کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی وجہ سے ایک عالم تباہ ہو گیا اور ہوتا جاتا ہے نادانوں نے ثبوت یا عدم ثبوت کے ضروری مسئلہ پر کچھ بھی غور نہیں کی اور انسانی منصوبوں اور بندشوں کا جو ایک مستمرہ طریقہ اور نیچرلی امر ہے جو نوع انسان میں قدیم سے چلا آتا ہے اس سے چوکس رہنا نہیں چاہا اور یونہی شیطانی دام کو اپنے پر لے لیا۔ مکاروں نے اس شریر کیمیا گر کی طرح جو ایک سادہ لوح سے ہزار روپے نقد لے کر دس بیس لاکھ روپیہ کا سونا بنا دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ سچا اور پاک ایمان نادانوں کا کھویا اور ایک جھوٹی راستبازی اور جھوٹی برکتوں کا وعدہ دیا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہیں اور نہ کچھ ثبوت آخر شرارتوں میں مکروں میں دنیا پرستوں میں نفس امارہ کی پیروی میں اپنے سے بدتر ان کو کر دیا۔ بالآخر یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور اعجازات اور پیشگوئیوں کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وقوع میں آئیں قرآن شریف کے ایک ذرہ شہادت انجیلوں کے ایک تودہ عظیم سے جو مسیح کے اعجاز وغیرہ کے بارے میں ہو ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے؟ اسی وجہ سے کہ خود باقرار تمام محقق پادریوں کے انجیلوں کا بیان خود حواریوں کا اپنا ہی کلام ہے اور پھر اپنا چشم دید بھی نہیں اور نہ کوئی سلسلہ راویوں کا پیش کیا ہے اور نہ کہیں ذاتی مشاہدہ کا دعویٰ کیا۔ لیکن قرآن شریف میں اعجازات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ خاص خدائے صادق و قدوس کی پاک شہادت ہے۔ اگر وہ صرف ایک ہی آیت ہوتی تب بھی کافی ہوتی۔ مگر الحمدللہ کہ ان شہادتوں سے سارا قرآن شریف بھرا ہوا ہے اب موازنہ کرنا چاہئے کہ کجا خدا تعالیٰ کی پاک شہادت جس میں کذب ممکن نہیں اور کجا دیدہ جھوٹ اور مبالغہ آمیر شہادتیں۔
    بہ نزدیک دانائے بیدار دل
    جوئے سیم بہتر ز صد تودہ گل
    افترائی باتوں پر کیوں تعجب کرنا چاہئے ایسا بہت کچھ ہوا ہے اور ہوتا ہے عیسائیوں کو آپ اقرار ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ ابتدائی زمانوں میں اپنی طرف سے کتابیں لکھ کر بہت کچھ کمالات اپنے بزرگوں کے ان میں لکھ کر پھر خدا تعالیٰ کی طرف اُن کو منسوب کرتے رہے ہیں اور دعویٰ کر دیا جاتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کتابیں ہیں۔ پس جب کہ قدیم عادت عیسائیوں اور یہودیوں کی یہی جعلسازی چلی آئی ہے تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ متی وغیرہ انجیلوں کو اس عادت سے کیوں باہر رکھا جاوے حالانکہ اس ساہوکار کی طرح اس کا روزنامچہ اور بہی کھاتہ بوجہ صریح تناقض اور مشکوکیت سے پوشیدہ حال کو ظاہر کر رہا ہو ہر چہار انجیلوں سے وہ کارستانی ظاہر ہو رہی ہے جس کو انہوں نے چھپانا چاہتا تھا۔ اسی وجہ سے یورپ اور امریکہ میں غور کرنے والوں کی طبیعتوں میں ایک طوفان شکوک پیدا ہو گیا اور جس ناقص اور متغیر اور مجسم خدا کی طرف انجیل رہنمائی کر رہی ہے اس کے قبول کرنے سے وہ دہریہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ میرے ایک دوست فاضل انگریز نے امریکہ سے بذریعہ اپنی کئی چٹھیوں کے مجھے خبر دی ہے کہ ان ملکوں میں دانشمندوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ عیسائی مذہب کو نقص سے خالی سمجھتا ہو اور اسلام کے قبول کرنے کے لئے مستعد نہ ہو اور گو عیسائیوں نے قرآن شریف کے ترجمے محرف اور بدنما کر کے یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں شائع کئے ہیں مگر ان کے اندر جو نور چھپا ہوا ہے وہ پاکیزہ دلوں پر اپنا کام کر رہا ہے غرض امریکہ اور یورپ آج کل ایک جوش کی حالت میں ہے اور انجیل کے عقیدوں نے جو برخلاف حقیقت میں بُری گھبراہٹ میں انہیں ڈال دیا ہے جہاں تک کہ بعضوں نے رائے ظاہر کی کہ مسیح یا عیسیٰ نام خارج میں کوئی شخص کبھی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے آفتاب مراد ہے اور ۱۲ حواریوں سے بارہ برج مراد ہیں اور پھر اس مذہب عیسائی کی حقیقت زیادہ تر اس بات سے کھلتی ہے کہ جن نشانیوں کو حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ اگر تم میری پیروی کرو گے تو ہر ایک طرح کی برکت اور قبولیت میں میرا ہی روپ بن جاؤ گے اور معجزات اور قبولیت کے نشان تم کو دیئے جائیں گے اور تمہارے مومن ہونے کی یہی علامت ہوگی کہ تم طرح طرح کے نشان دکھلا سکو گے اور جو چاہو گے تمہارے لئے وہی ہوگا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہیں ہوگی۔ لیکن عیسائیوں کے ہاتھ میں ان برکتوں میں سے کچھ بھی فائدہ نہیں وہ اس خدا سے ناآشنا محض ہیں جو اپنے مخصوص بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں آمنے سامنے شفقت اور رحمت کا جواب دیتا ہے اور عجیب عجیب کام ان کے لئے کر دکھاتا ہے لیکن سچے مسلمان جو اُن راستبازوں کے قائم مقام اور وارث ہیں جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں وہ اس خدا کو پہنچانتے اور اس کی رحمت کے نشانوں کو دیکھتے ہیں اور اپنے مخالفوں کے سامنے آفتاب کی طرح جو ظلمت کے مقابل ہو مابہ الامتیاز رکھتے ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اس دعویٰ کو بلا دلیل نہیں سمجھناچاہئے سچے اور جھوٹے مذہب میں ایک آسمان پر فرق ہے اور ایک زمین پر۔ زمین کے فرق سے مراد وہ فرق ہے جو انسان کی عقل اور انسان کا کانشنس اور قانون قدرت اس عالم کا اس کی تشریح کرتا ہے۔ سو عیسائی مذہب اور اسلام کو جب اس محک کی رو سے جانچا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام وہ فطرتی مذہب ہے جس کے اصولوں میں کوئی تصنع اور تکلف نہیں اور جس کے احکام میں کوئی مستحدث اور بناوٹی امر نہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جو زبردستی منوانی پڑے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے جا بجا آپ فرمایا ہے۔ قرآن شریف صحیفۂ فطرت کے تمام علوم اور اس کی صداقتوں کا یاد دلاتا ہے اور اس کے اسرارِ غامضہ کو کھولتا ہے اور کوئی نئے امور برخلاف اس کے پیش نہیں کرتا بلکہ درحقیقت اسی کے معارف دقیقہ ظاہر کرتا ہے برخلاف اس کے عیسائیوں کی تعلیم جس کا انجیل پر حوالہ دیا جاتا ہے ایک نیا خدا پیش کر رہی ہے جس کی خود کشی پر دنیا کی گناہ اور عذاب سے نجات موقوف اور اس کے دکھ اُٹھانے پر خلقت کا آرام موقوف اور اس کے بے عزت اور ذلیل ہونے پر خلقت کی عزت موقوف خیال کی گئی ہے۔ پھر بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسا عجیب خدا ہے کہ ایک حصہ اس کی عمر کا تو منزہ عن الجسم و عن عیوب الجسم میں گزرا ہے اور دوسرا حصہ عمر کا (کسی نامعلوم بدبختی کی وجہ سے) ہمیشہ کے تجسم اور تخیر کی قید میں اسیر ہو گیا اور گوشت پوست استخوان وغیرہ سب کے سب اس کی روح کے لئے لازمی ہوگئے اور اس تجسم کی وجہ سے کہ اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا انواع و اقسام کے اس کو دکھ اُٹھانے پڑے آخر دکھوں کے غلبہ سے مر گیا اور پھر زندہ ہوا اور اُسی جسم نے پھر آ کر اس کو پکڑ لیا اور ابدی طور پر اُسے پکڑے رہے گا۔ کبھی مخلصی نہیں ہوگی اب دیکھو کہ کیا کوئی فطرت صحیحہ اس اعتقاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کوئی پاک کانشس اس کی شہادت دے سکتا ہے؟ کیا قانون قدرت کا ایک جزو بھی خدا بے عیب و بے نقص وغیرہ متغیر کے لئے یہ حوادث و آفات روا رکھ سکتا ہے کہ اس کو ہمیشہ ہر ایک عالم کے پیدا کرنے اور پھر اس کو نجات دینے کیلئے ایک مرتبہ مرنا درکار ہے اور بجز خود کشی اپنے کسی افاضۂ غیر کے صفت کو ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ کسی قسم کا اپنی مخلوقات کو دنیا یا آخرت میں آرام پہنچا سکتا ہے ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو اپنی رحمت بندوں پر نازل کرنے کیلئے خود کشی کی ضرورت ہے تو اُس سے لازم آتا ہے کہ ہمیشہ اس کو حادثہ موت کا پیش آتا رہے اور پہلے بھی بے شمار موتوں کا مزہ چکھ چکا ہو اور نیز لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشور کی طرح معطل الصافت ہو۔ اب خود ہی سوچو کہ کیا ایسا عاجز اور درماندہ خدا ہو سکتا ہے کہ جو بغیر خودکشی کے اپنی مخلوقات کو کبھی اور کسی زمانہ میں کوئی نفع پہنچا نہیں سکتا کیا ہی حالت ضعف اور ناتوانی کی خدائے قادر مطلق کے لائق ہے پھر عیسائیوں کے خدا کی موت کا نتیجہ دیکھے تو کچھ بھی نہیں ان کے خدا کی جان گئی۔ مگر شیطان کے وجود اور اس کے کارخانے کا ایک بال بھی بینگا نہ ہوا۔ وہی شیطان اور وہی اس کے چیلے جو پہلے تھے اب بھی ہیں۔ چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، دروغ گوئی، شراب خواری، قماربازی، دنیا پرستی، بے ایمانی، کفر شرک، دہریہ پن اور دوسرے صدہا طرح کے جرائم جو قبل از مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اُسی زور و شور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ، بڑھ کر مشلاً دیکھئے کہ اس زمانہ میں کہ جب ابھی مسیحیوں کا خدا زندہ تھا عیسائیوں کی حالت اچھی تھی جبھی کہ اس خدا پر موت آئی جس کو کفّارہ کہا جاتا ہے۔ تبھی سے عجیب طور پر شیطان اس قوم پر سوار ہو گیا اور گناہ اور نافرمانی اور نفس پرستی کے ہزار ہا دروازے کھل گئے۔ چنانچہ عیسائی لوگ خود اس بات کے قائل ہیں اور پادری فنڈر صاحب مصنف میزان الحق فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کی کثرت نگاہ اور اُن کی اندرونی بدچلنی اور فسق و فجور کے پھیلنے کی وجہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بغرض سزا دہی اور تنبیہ عیسائیوں کے بھیجے گئے تھے۔ پس ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ زیادہ تر گناہ اور معصیت کا طوفان مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد ہی عیسائیوں میں اُٹھا ہے اس سے ثابت ہے کہ مسیح کا مرنا اس غرض سے نہیں تھا کہ گنناہ کی … اس کی موت سے کچھ روبکمی ہو جائے گی۔ مثلاً اس کے مرنے سے پہلے اگر لوگ بہت شراب پیتے تھے یا اگر بکثرت زنا کرتے تھے یا اگر پکے دیندار تھے تو مسیح کے مرنے کے بعد یہ ہر یک قسم کے گناہ دور ہو جائیں گے کیونکہ یہ بات مستغنی عن الثبوت ہے کہ جس قدر اب شراب خوری و دنیا پرستی و زنا کاری خاص کر یورپ کے ملکوں میں ترقی پر ہے کوئی دانا ہرگز خیال نہیں کر سکتا کہ مسیح کی موت سے پہلے ہی طوفان فسق و فجور کا برپا ہو رہا تھا بلکہ اس کا ہزارم حصہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا اور انجیلوں پر غور کر کے بکمال صفائی کھل جاتا ہے کہ مسیح کو ہرگز منظور نہ تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ میں پکڑا جائے اور مارا جائے اور صلیب پر کھینچا جائے کیونکہ اگر یہی منظور ہوتا تو ساری رات اس بلا کے دفعہ کرنے کیلئے کیوں روتا رہتا اور رو رو کر کیوں یہ دعا کرتا کہ اے ابّا! اے باپ!! تجھ سے سب کچھ ہو سکتا ہے یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے بلکہ سچ یہی ہے کہ مسیح بغیر اپنی مرضی کے ناگہانی طور پر پکڑا گیا اور اس نے مرتے وقت بھی رو رو کر یہی دعا کی کہ ایلی ایلی کما سبقتنی کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔
    اس سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ مسیح زندہ رہنا اور کچھ اَوْر دن دنیا میں قیام کرنا چاہتا تھا اور اس کی روح نہایت بے قراری سے تڑپ رہی تھی کہ کسی طرح اس کی جان بچ جائے لیکن بلا مرضی اس کے یہ سفر اس کو پیش آ گیا تھا اور نیز یہ بھی غور کرنے کی جگہ ہے کہ قوم کے لئے اس طریقہ پر مرنے سے جیسا کہ عیسائیوں نے تجویز کیا ہے۔ مسیح کو کیا حاصل تھا اور قوم کو اُس سے کیا فائدہ اگر وہ زندہ رہتا تو اپنی قوم میں بڑی بڑی اصلاحیں کرتا بڑے بڑے عیب اوّل سے دور کر کے دکھاتا۔ مگر اس کی موت نے کیا کر کے دکھایا بجز اس کے کہ اس کے بے وقت مرنے سے صدہا فتنے پیدا ہوئے اور ایسی خرابیاں ظہور میں آئیں جن کی وجہ سے ایک عالم ہلاک ہو گیا۔ یہ سچ ہے کہ جوانمرد لوگ قوم کی بھلائی کیلئے اپنی جان بھی فدا کر دیتے ہیں یا قوم کے بچاؤ کے لئے جان کو معرض ہلاکت میں ڈالتے ہیں مگر نہ ایسے لغو اور بیہودہ طور پر جو مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے بلکہ جو شخص دانشمند طور سے قوم کے لئے جان دیتا ہے یا جان کو معرض برکت میں ڈالتا ہے وہ تو معقول اور پسندیدہ اور کارآمد اور صریح مفید طریقوں میں سے کوئی ایسا اعلیٰ اور بدیحی النفع طریقہ فدا ہونے کا اختیار کرتا ہے جس طریقے کے استعمال سے گو اس کو تکلیف پہنچ جائے یا جان ہی جائے۔ یہ تو نہیں کہ پھانسی لے کر یا زہر کھا کر یا کسی کوئیں میں گرنے سے خود کشی کا مرتکب ہو اور پھر یہ خیال کرے کہ میری خود کشی قوم کے لئے بہبودی کا موجب ہوگی۔ ایسی حرکت تو دیوانی کا کام ہے نہ عقلمندوں دینداروں کا بلکہ یہ موت موتِ احترام ہے اور بجز سخت جاہل اور سادہ لوح کے کئی اس کا ارادہ نہیں کرتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ کامل اور اوالوالعزم آدمی کا مرنا بجز اُس حالت کے کہ بہتوں کے بچاؤ کے لئے کسی معقول اور معروف طریق پر مرنا ہی پڑے قوم کے لئے اچھا نہیں بلکہ بڑی مصیبت اور ماتم کی جگہ ہے اور ایسا شخص جس کی ذات خلق اللہ کو طرح طرح کا فائدہ پہنچ رہا ہے اگر خودکشی کا ارادہ کرے تو وہ خدا تعالیٰ کا سخت گنہگار ہے اور اس کا گناہ دوسرے ایسے مجرموں کی نسبت بہت زیادہ ہے پس ہر ایک ایسے کامل کے لئے لازم ہے کہ اپنے لئے جناب باری تعالیٰ سے درازی عمر مانگے تا وہ خلق اللہ کے لئے ان سارے کاموں کو بخوبی انجام دے سکے۔ جن کے لئے اس کے دل میں جوش ڈالا گیا ہے ہاں شریر آدمی کا مرنا اس کے لئے بہتر ہے تا شرارتوں کا ذخیرہ زیادہ نہ ہوتا جائے اور خلق اللہ اس کے ہر روز کے فتنہ سے تباہ نہ ہو جائے اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ تمام پیغمبروں میں سے قوم کے بچاؤ کے لئے اور الٰہی جلال کے اظہار کی غرض سے معقول طریقوں کے ساتھ اور ضروری حالتوں کے وقت میں کس پیغمبر نے زیادہ تر معرض ہلاکت میں ڈالا اور قوم اپنے تئیں فدا کرنا چاہا آیا مسیح یا کسی اور نبی یا ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کا جواب جس جوش اور روشن دلائل اور آیات بینات اور تاریخی ثبوت سے میرے سینہ میں بھرا ہوا ہے میں افسوس کے ساتھ اس جگہ اس کا لکھنا چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ بہت طویل ہے یہ تھوڑا سا مضمون اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ انشاء اللہ القدیر اگر عمر نے وفا کی تو آئندہ ایک رسالہ مستقلہ اس بارہ میں لکھوں گا لیکن بطور مختصر اس جگہ بشارت دیتا ہوں کہ وہ فرد کامل جو قوم پر اور تمام بنی نوع پر اپنے نفس کو فدا کرنے والا ہے وہ ہمارے نبی کریم ہیں یعنی سیّدنا و مولانا وحیدنا و فرید نا احمد مجتبیٰ محمد مصطفی الرسول النبی الامی العربی القریشی صلی اللہ علیہ وسلم۔
    حاشیہ: تازہ اخبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیرہ کروڑ ساٹھ ہزار پونڈ کا ہر سال سلطنت برطانیہ میں شراب نوشی میں خرچ ہوتا ہے (اور ایک نامہ نگار ایم اے کی تحریر ہے) کہ شراب کی بدولت لنڈن میں صدہا خودکشی کی وارداتیں ہو جاتی ہیں اور خاص لنڈن میں شاید منجملہ تیس لاکھ آبادی کے دس ہزار آدمی مے نوش نہ ہوں گے ورنہ سب مرد عورت خوشی اور آزادی سے شراب پیتے اور پلاتے ہیں۔ اہل لنڈن کا کوئی ایسا جلسہ اور سوسائٹی اور محفل نہیں ہے کہ جس میں سب سے پہلے برانڈی اور سری اور لال شراب کا انتظام نہ کیا جاتا ہو ہر ایک جلسہ کا جزو اعظم شراب کو قرار دیا جاتا ہے اور طرفہ براں یہ کہ لنڈن کے بڑے بڑے کشیش اور پادری صاحبان بھی باوجود دیندار کہلانے کے مئے نوشی میں اوّل درجہ ہوتے ہیں۔ جتنے جلسوں میں مجھ کو بطفیل مسٹر نکلیٹ صاحب شامل ہونے کا اتفاق ہوا ہے ان سب میں ضرور دو چار نوجوانوں پادری اور ریورنڈ بھی شامل ہوتے دیکھے۔ لنڈن میں شراب نوشی کو کسی بڑی مد میں شامل نہیں سمجھا گیا اور یہاں تک شراب نوشی کی علانیہ گرم بازاری ہے کہ میں نے بچشم خود ہنگام سیر لنڈن اکثر انگریزوں کو بازار میں پھرتے دیکھا کہ متوالے ہو رہے ہیں اور ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔ علی ہذا القیاس لنڈن میں عورتیں دیکھی جاتی تھیں کہ ہاتھ میں بوتل پکڑی لڑکھڑاتی چلی جاتی ہیں۔ بیسیوں لوگ شراب سے مدہوش اور متوالے اچھے بھلے مانس مہذب بازاروں کی نالیوں میں گرے ہوئے دیکھے۔ شراب نوشی کی طفیل اور برکت سے لنڈن میں اس قدر خود کشی کی وارداتیں واقعہ ہوتی رہتی ہیں کہ ہر ایک سال اُن کا ایک مہلک وبا پڑتا ہے (یکم فروری ۱۸۸۳ء رہبر ہند لاہور)
    اسی طرح ایک صاحب نے لنڈن کی عام زناکاری اور فریب ستر ستر ہزار کے ہر سال ولدالزنا کا پیدا ہونا ذکر کر کے وہ باتیں ان لوگوں کی بے حیائی کی لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل سے قلم رُکتا ہے بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ یورپ کو اوّل درجہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کے اگر دس حصے کئے جائیں تو بلاشبہ نوحصے ان میں سے دہریہ ہوں گے جو مذہب کی پابندی اور خدا تعالیٰ کے اقرار اور جزاوسزا کے اعتقاد سے فارغ ہو بیٹھے ہیں اور یہ مرض دہریت کا دن بدن یورپ میں بڑھتا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دولت برطانیہ کی کشادہ دلی نے اس کی ترقی سے کچھ بھی کراہت نہیں کی۔ یہاں تک کہ بعض پکے دہریہ پارلیمنٹ کی کرسی پر بھی بیٹھ گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی گئی۔ نامحرم لوگوں کا نوجوان عورتوں کا بوسہ لینا صرف جائز ہی نہیں بلکہ یورپ کی نئی تہذیب میں ایک مستحن امر قرار دیا گیا ہے کہ کوئی دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا ہے کہ انگلستان میں کوئی ایسی عورت بھی ہے کہ جس کا عین جوانی کے دنوں میں کسی نامحرم جوان نے بوسہ نہ لیا ہو۔ دنیا پرستی اس قدر ہے کہ آروپ الگزنڈر صاحب اپنی ایک چٹھی میں (جو میرے نام بھیجی ہے) لکھتے کہ تمام مہذب اور تعلیم یافتہ جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی میری نظر میں ایسا نہیں جس کی نگاہ آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو بلکہ تمام لوگ سر سے پیر تک دنیا پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اب ان تمام بیانات سے ظاہر ہے کہ مسیح کے قربان ہونے کی وہ تاثیریں جو پادری لوگ ہندوستان میں آ کر سادہ لوحوں کو سناتے ہیں سراسر پادری صاحبوں کا افتراء ہے اور دراصل حقیقت یہی ہے کہ کفّارہ کے مسئلہ کو قبول کر کے جس طرح عیسائیوں کی طبیعتوں نے پلٹا کھایا ہے وہ وہی ہے کہ شراب خوری بکثرت پھیل گئی۔
    اس جگہ میں نے سچے اور جھوٹے مذہب کی تفریق کیلئے وہ فرق جو زمین پر موجود ہے یعنی جو باتیں عقل اور کانشنس کے ذریعہ سے فیصلہ ہو سکتی ہیں کسی قدر لکھ دیا ہے لیکن جو فرق آسمان کے ذریعہ سے کھلتا ہے وہ بھی ضروری ہے کہ بجز اس کے حق اور باطل میں امتیاز بین نہیں ہو سکتا اور وہ یہ ہے کہ سچے مذہب کے پیرو کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ایک خاص تعلقات ہو جاتے ہیں اور وہ کامل پیرو اپنے نبی متبوع کا مظہر اور اس کے حالات روحانیہ اور برکات باطنیہ کا ایک نمونہ ہو جاتا ہے اور جس طرح بیٹے کے وجود درمیانی کی وجہ سے پوتا بھی بیٹا ہی کہلاتا ہے اسی طرح جو شخص زیر سایہ متابعت نبی پرورش یافتہ ہے اس کے ساتھ بھی وہی لطف اور احسان ہوتا ہے جو نبی کے ساتھ ہوتا ہے اور جیسے نبی کو نشان دکھائے جاتے ہیں ایسا ہی اس کی خاص طور پر معرفت بڑھانے کیلئے اس کو بھی نشان ملتے ہیں۔ سو ایسے لوگ اس دین کی سچائی کے لئے جس کی تائید کے لئے وہ ظہور فرماتے ہیں زندہ نشان ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ آسمان سے ان کی تائید کرتا ہے اور بکثرت ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور قبولیت کی اطلاع بخشتا ہے ان پر مصیبتیں بھی نازل ہوتی ہیں نہ اس لئے کہ اُنہیں ہلاک کریں بلکہ اس لئے کہ تا آخر ان کی خاص تائید سے قدرت کے نشان ظاہر کئے جائیں وہ بے عزتی کے بعد بھی عزت پا لیتے ہیں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں تا خدا تعالیٰ کے خاص کام ان میں ظاہر ہوں۔
    اس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دعا کا قبول ہونا دو طور سے ہوتا ہے ایک بطور ابتلا اور ایک بطور اصطفاء بطور ابتلا تو کبھی کبھی گنہگاروں اور نافرمانوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ مگر ایسا قبول ہونا حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ از قبیل استدراج و امتحان ہوتا ہے۔ لیکن جو بطور اصطفا دعا قبول ہوتی ہے اس میں یہ شرط ہے کہ دعا کرنے والا خدائے تعالیٰ کے برگزیدے بندوں میں سے ہو اور چاروں طرف کے برگزیدگی کے انوار و آثار اس میں ظاہر ہوں کیونکہ خداتعالیٰ حقیقی قبولیت کے طور پر نافرمانوں کی دعا ہرگز نہیں سنتا بلکہ انہیں کی سنتا ہے کہ جو اس کی نظر
    بقیہ حاشیہ: خدا تعالیٰ کی عبادت سچی ایسے کرنا اور کلی روبحق ہونا یہ سب باتیں موقوف ہوگئیں ہاں انتظامی تہذیب یورپ میں بے شک پائی جاتی ہے۔ یعنی باہم رضامندی کے برخلاف جو گناہ ہیں جیسے سرقہ اور قتل اور زنا بالجبر وغیرہ جن کے ارتکاب سے شاہی خوانین نے بوجہ مصالح ملکی روک دیا ہے ان کا انسداد بے شک ہے مگر ایسے گناہوں کے انسداد کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح کے کفّارہ کا اثر ہوا ہے بلکہ رعب قوانین اور سوسائٹی کے دباؤ نے یہ اثر ڈالا ہوا ہے کہ اگر یہ موانع درمیان نہ ہوں تو حضرات مسیحیاں سب کچھ کر گزریں اور پھر یہ جرائم بھی تو اور ملکوں کی طرح یورپ میں بھی ہوتے رہتے ہیں انسداد کلی تو نہیں۔
    میں راستباز اور اس کے حکم پر چلنے والے ہوں۔ سو ابتلا اور اصطفاء کی قبولیت ادعیہ میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ جو ابتلا کے طور پر دعا قبول ہوتی ہے اس میں متقی اور خدا دوست ہونا شرط نہیں اور نہ اس میں یہ ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ دعا کو قبول کر کے بذریعہ اپنے مکالمہ خاص کے اس کی قبولیت سے اطلاع بھی دیوے اور نہ وہ دعائیں ایسی اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا ایک امر عجیب اور خارق عادت متصور ہو سکے لیکن جو دعائیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں ان میں یہ نشانیاں نمایاں ہوتی ہیں۔
    (۱) اوّل یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راست باز اور کامل فرد ہوتا ہے۔
    (۲) دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالمات الٰہیہ اس دعا کی قبولیت سے اس کو اطلاع دی جاتی ہے۔
    (۳) تیسری یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
    (۴) چوتھی یہ کہ ابتلائی دعائیں تو کبھی کبھی شاذو نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔ بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے کہ اگر اور شخص ان میں مبتلاہو جاتا تو بجز خودکشی کے اور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے ہرگز اُسے نظر نہ آتا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدا تعالیٰ سے مہجور و دور ہیں بعض بڑے بڑے ہموم و غموم و امراض و اسقام و بلیات لاینحل میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ بباعث ضعف ایمان خدا تعالیٰ سے ناامید ہو کر کسی قسم کا زہر کھا لیتے ہیں یا کنوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خود کشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفاء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلق خاص کے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الٰہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم راز کا دل بے اختیار بول اُٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤید الٰہی ہے۔
    (۵) پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مورد عنایات الٰہیہ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے تمام کاموں میں اس کا متولی ہو جاتا ہے اور عشق الٰہی کا نور اور مقبولانہ کبریائی کی مستی اور روحانی لذت یابی اور متغم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جلشانہٗ فرماتا ہے۔
    تُعِرْفُ وُجُوْھِھِمْ نَصْرَاۃً النِعَّیْمِ اَلَا اِنَّ اَوْلِیآء اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَo الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَo لَھُمُ الْبُشْریٰ فِی الْحیوٰۃ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ لَاتَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِیْمo اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْ تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمٰلئِکَۃُ اِلاَّتَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوعَدُوْنَo نَحْنُ اَوْلِیَآئُ کُمْ فِی الْحیرۃَ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَلَھُمُ فِیْھَا مَا تَشْتَھِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَاتَدَّعُوْنَo وَاِذَ اسَئَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی فَاَنِّی قَرِیْبٌ اُجِیْبُ الدَّعْوَۃَ الدَّاعِ اِذْا دَعَانِ فَلْیَسْتَجْیِبُوْلِیْ وَالْمومُنْوبیِ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَo ۱؎
    ترجمہ: خبردار ہو یعنی یقینا سمجھے کہ جو لوگ اللہ جلشانہٗ کے دوست ہیں یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ وہ کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیونکر نجات ہوگی۔ کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گزشتہ کے متعلق کوئی حزن و اندوہ نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔ دوسری یہ نشانی ہے کہ انہیں (بذریعہ مکالمہ الٰہیہ و رویائے صالحہ) بشارتیں ملتی رہتی ہیں اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کاان کی نسبت یہ عہد ہے جو ٹل نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے۔ یعنی مکالمہ الٰہیہ و رویائے صالحہ سے خدا تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطبات الٰہیہ سے مشرف ہوں (یہی قانون قدرت اللہ جلشانہ کا ہے) کہ جو لوگ ارباب متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جلشانہٗ کو اپنا ربّ سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی ربّ ہے (یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں (کیسے ہی زلزلے آویں آندھیاں چلیں تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو پوری پوری استقامت پر رہیں) تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں یعنی الہام اور رؤیائے صالحہ کے ذریعہ سے انہیں بشارتیں ملتی رہتی ہیںکہ دنیا و آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متولی اور متکفل ہیں اور آخرت میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔ یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ آخرت
    ۱؎ یاد رہے یہ قرآن مجید کی مختلف مقامات کی آیتیں ہیں۔ (ایڈیٹر)
    میں تمام غم دور ہو جائیں گے اور سب مرادیں حاصل ہوں گی اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جو کچھ انسان کا۔
    اب جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حقہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طو رپر نشان بیان کر چکا ہوں۔ یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ نفس چاہے اس کو ملے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ہونا نہایت ضروری ہے اور اسی بات کا نام نجات ہے ورنہ اگر انسان نجات پا کر بعض چیزوں کو چاہتا رہا اور ان کے غم میں کباب ہوتا اور جلتا رہا مگر وہ چیزیں اس کو نہ ملیں تو پھر نجات کاہے کی ہوئی۔ ایک قسم کا عذاب تو ساتھ ہی رہا۔ لہٰذا ضرور ہے کہ جنت یا بہشت یا مکتی خانہ یا سرگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہائے سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہئے کہ انسان کو من کل الوجوہ اس میں مصفا خوشی حاصل ہو اور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی ناکامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔ ہاں یہ سچ بات ہے کہ بہشت میں نالائق و نامناسب باتیں نہیں ہوں گی۔ مگر مقدس دلوں میں ان کی خواہش بھی پیدا نہ ہوگی بلکہ ان مقدس اور مطہر دلوں میں جو شیطانی خیالات سے پاک کئے گئے ہیں انسان کی پاک فطرت اور خالق کی پاک مرضی کے موافق پاکیزہ خواہشیں پیدا ہوں گی تا انسان اپنی ظاہری اور باطنی اور بدنی اور روحانی سعادت کو پورے طور پر پا لیوے اور اپنے جمیع قویٰ کے کامل ظہور سے کامل انسان کہلاوے کیونکہ بہشت میں داخل کرنا انسان نفس کے مٹا دینے کی غرض سے نہیں جیسا کہ ہمارے مخالف عیسائی اور آریہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس غرض سے ہے کہ تا انسانی فطرت کے نقوش ظاہراً و باطناً بطور کامل چمکیں اور سب بے اعتدالیاں دور ہو کر ٹھیک ٹھیک وہ امور جلوہ نما ہو جائیں جو انسان کامل کے لئے بلحاظ ظاہری و باطنی خلقت اس کے ضروری ہیں۔
    اور پھر فرمایا کہ جب میرے مخصوص ندے (جو برگزیدہ ہیں) میرے بارے میں سوال کریں اور پوچھیں کہ کہاں ہیں تو انہیں معلوم ہو کہ میں بہت ہی قریب ہوں اپنے مخلص بندوں کی دعا سنتا ہوں جبھی کہ کوئی مخلص بندہ دعا کرتا ہے (خواہ دل سے یا زبان سے) سن لیتا ہوں (پس اسی سے قرب ظاہر ہے) مگر چاہئے کہ وہ اپنی ایسی حالت بنائے رکھیں جس سے میں ان کی دعائیں سن لیا کروں۔ یعنی انسان اپنا حجاب آپ ہو جاتا ہے اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار و انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا ایک نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صانع کے مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہو کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا یا جس قدر اسرارِ غیبیہ تجھ پر کھلیں گے یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی یا جس طور سے تیری عزت اور شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیش گوئی تجھے وعدہ دیا جائے گا یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو اُن سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آ جائے گا اور جو کچھ تود کہا جائے گا وہ میں بھی دکھلاؤں گا تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہرگز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ اُن کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذاب ہیں انہیں اس سچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کا مددگار اور صدیقوں کا دوستدار ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کسی قدر بیان کر چکے ہیں۔ وھذا اخر کلا منا والحمدللّٰہ اولاد اخر و ظاہرا و باطنا ھومولینا نعم المولی ونعم الوکیل۔





    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
    بشپ صاحب لاہور سے ایک سچے فیصلہ کی درخواست
    میں نے سنا ہے کہ بشپ صاحب لاہور نے مسلمانوں کو اس بات کی دعوت کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معصوم ہونا ثابت کر کے دکھلا دیں میرے نزدیک بشپ صاحب موصوف کا یہ بہت عمدہ ارادہ ہے کہ وہ اس بات کا تصفیہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں بزرگ نبیوں میں سے ایسا نبی کون ہے جس کی زندگی پاک اور مقدس ہو لیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ اس سے ان کی کیا غرض ہے کہ کسی نبی کا معصوم ہونا ثابت کیا جائے یعنی پبلک کو یہ دکھلایا جائے کہ اس نبی سے اپنی عمر میں کوئی گناہ صادر نہیں ہوا۔ میرے نزدیک یہ ایسا طریق بحث ہے جس سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہوگا کیونکہ تمام قوموں کا اس پر اتفاق نہیں ہے کہ فلاں قول اور فعل گناہ میں داخل ہے اور فلاں گفتار اور کردار گناہ میں داخل نہیں ہے مثلاً بعض فرقے شراب پینا سخت گناہ سمجھتے ہیں اور بعض کے عقیدہ کے موافق جب تک روٹی توڑ کر شراب میں نہ ڈالی جائے اور ایک نو مرید مع بزرگان دین کے اس روٹی کو نہ کھاوے اور اس شراب کو نہ پیوے تب تک دیندار ہونے کی پوری سند حاصل نہیں ہو سکتی۔ ایسا ہی بعض کے نزدیک اجنبی عورت کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا بھی زنا ہے مگر بعض کا یہ مذہب ہے کہ ایک خاوند والی عورت بیگانہ مرد سے بیشک اس صورت میں ہمبستر ہو جائے جب کہ کسی وجہ سے اولاد ہونے سے نومیدی ہو اور یہ کام نہ صرف جائز بلکہ بڑے ثواب کا موجب ہے اور اختیار ہے کہ دس یا گیارہ بچوں کے پیدا ہونے تک ایسی عورت بیگانہ مرد سے بدکاری میں مشغول رہے۔ ایسا ہی ایک کے نزدیک جوں یا پسو مارنا بھی حرام ہے اور دوسرا تمام جانوروں کو سبز ترکاریوں کی طرح سمجھتا ہے اور ایک کے مذہب میں سُؤر کا چھونا بھی انسان کو ناپاک کر دیتا ہے اور دوسرے کے مذہب میں سفید و سیاہ سُؤربہت عمدہ غذا ہیں۔ اب اس سے ظاہر ہے کہ گناہ کے مسئلہ میں دنیا کو کلی اتفاق نہیں ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح خدائی کا دعویٰ کر کے پھر بھی اوّل درجہ کے معصوم ہیں مگر مسلمانوں کے نزدیک اس سے بڑھکر کوئی بھی گناہ نہیں کہ انسان اپنے تئیں یا کسی اور کو خدا کے برابر ٹھہرا دے غرض یہ طریق مختلف فرقوں کے لئے ہر گز حق شناسی کا معیار نہیں ہو سکتا جو بشپ صاحب نے اختیار کیا ہے ہاں یہ طریق نہایت عمدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور تقدسی اور برکاتی اور تاثیراتی اور ایمانی اورعرفانی اور افاضۂ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل ہیں باہم موازنہ اور مقابلہ کیا جائے یعنی یہ دکھلایا جاوے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں کیونکہ جب ہم کلام کلی کے طور پر تمام طریق فضیلت کو مدنظر رکھ کر ایک نبی کے وجودہ فضائل بیان کریں گے تو ہم پر یہ طریق بھی کھلا ہوگا کہ اُسی تقریب پر ہم اُس نبی کی پاک باطنی اور تقدس اور طہارت اور معصومیت کے وجوہ بھی جس قدر ہمارے پاس ہوں بیان کر دیں اور چونکہ اس قسم کا بیان صرف ایک جزوی بیان نہیں ہے بلکہ بہت سی اور شاخوں پر مشتمل ہے اس لئے پبلک کے لئے آسانی ہوگی کہ اس تمام مجموعہ کو زیر نظر رکھ کر اس حقیقت تک پہنچ جاویں کہ ان دونوں نبیوں میں سے درحقیقت افضل اور اعلیٰ شان کس نبی کو حاصل ہے اور گو ہر ایک شخص فضائل کو بھی اپنے مذاق پرہی قرار دیتا ہے مگر چونکہ یہ انسانی فضائل کا ایک کافی مجموعہ ہوگا اس لئے اس طریق سے افضل اور اعلیٰ کے جانچنے میں وہ مشکلات نہیں پڑیں گے جو صرف معصومیت کی بحث میں پڑتی ہیں۔ بلکہ ہر ایک مذاق انسان کے لئے اس مقابلہ اور موازنہ کے وقت رور ایک ایسا قدر مشترک حاصل ہو جائے گا جس سے بہت صاف اور سہل طریقہ پر نتیجہ نکل آئے گا کہ ان تمام فضائل میں سے فضائل کثیرہ کا مالک اور جامع کون ہے۔ پس اگر ہماری بحثیں محض خدا کے لئے ہیں تو ہمیں وہی راہ اختیار کرنی چاہئے جس میں کوئی اشتباہ اور کدورت نہ ہو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ معصومیت کی بحث میں پہلے قدم میں ہی یہ سوال پیش آئے گا کہ مسلمانوںاور یہودیوں کے عقیدہ کے رو سے جو شخص عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر خدا یا خدا کا بیٹا ہونا اپنے تئیں بیان کرتا ہے وہ سخت گناہگار بلکہ کافر ہے تو پھر اس صورت میں معصومیت کیا باقی رہی اور اگر کہو کہ ہمارے نزدیک ایسا دعویٰ نہ گناہ نہ کفر کی بات ہے تو پھر اُسی الجھن میں آپ پڑ گئے جس سے بچنا چاہئے تھا کیونکہ جیسا آپ کے نزدیک حضرت مسیح کے لئے خدائی کادعویٰ کرنا گناہ کی بات نہیں ہے ایسا ہی ایک شاکت مت والے کے نزدیک ماں بہن سے بھی زنا کرنا گناہ کی بات نہیں ہے اور آریہ صاحبوں کے نزدیک ہر ایک ذرّہ کو اپنے وجود کا آپ ہی خدا جاننا اور اپنی پیاری بیوی کو باوجود اپنی موجودگی کے کسی دوسرے سے ہمبستر کا دینا کچھ بھی گناہ کی بات نہیں اور سناتن دھرم والوں کے نزدیک راجہ رامچندر اور کرشن کو اوتار جاننا اور پرمیشور ماننا اور پتھروں کے آگے سجدہ کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں اور ایک گبر کے نزدیک آگ کی پوجا کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں اور ایک فرقہ یہودیوں کے مذہب کے موافق غیر قوموں کے مال کی چوری کر لینا اور ان کو نقصان پہنچانا کچھ گناہ کی بات نہیں اور بجز مسلمانوں کے سب کے مذہب کے نزدیک سود لینا کچھ گناہ کی بات نہیں تو اب ایسا کون فارغ ہے کہ ان جھگڑوں کا فیصلہ کرے اس لئے حق کے طالب کے لئے افضل اور اعلیٰ نبی کی شناخت کے لئے یہی طریق کھلا ہے جو میں نے بیان کیا ہے اور اگر ہم فرض بھی کر لیں تو تمام قومیں معصومیت کی وجوہ ایک ہی طور سے بیان کرتی ہیں یعنی اس بیان میں اگر تمام مذہبوں والے متفق بھی ہوں کہ فلاں فلاں امر گناہ میں داخل ہے جس سے باز رہنے کی حالت میں انسان معصوم کہلا سکتا ہے تو گو ایسا فرض کرنا غیر ممکن ہے تا ہم محض اس امر کی تحقیق ہونے سے کہ ایک شخص شراب نہیں پیتا، رہزنی نہیں کرتا، ڈاکہ نہیں مارتا، خون نہیں کرتا، جھوٹی گواہی نہیں دیتا ایسا شخص صرف اس قسم کی معصومیت کی وجہ سے انسان کامل ہونے کا ہرگز مستحق نہیں ہو سکتا اور نہ کسی حقیقی اور اعلیٰ نیکی کا مالک ٹھہر سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی کسی کو اپنا یہ احسان جتلائے کہ باوجودیکہ میں نے کئی دفعہ یہ موقعہ پایا کہ تیرے گھر کو آگ لگا دوں اور تیرے شیرخوار بچے کا گلا گھونٹ دوں مگر پھر بھی میں نے آگ نہیں لگائی اور نہ تیرے بچے کا گلا گھونٹا۔ تو ظاہر ہے کہ عقلمندوں کے نزدیک یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں سمجھی جائے گی اور نہ ایسے حقوق اور فضائل کو پیش کرنے والا بھلا مانس انسان خیال کیا جائے گا۔ ورنہ ایک حجام اگر یہ احسان جتلا کر ہمیں ممنون بنانا چاہے کہ بالوںکے کاٹنے یا درست کرنے کے وقت مجھے یہ موقع ملا تھا کہ میںتمہارے سر یا گردن یا ناک پر استرہ مار دیتا مگر میں نے یہ نیکی کی کہ نہیں مارا؟ تو کیا اس سے وہ ہمارا اعلیٰ درجہ کا محسن ٹھہر جائے گا اور والدین کے حقوق کی طرح اس کے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں گے؟ نہیں بلکہ وہ ایک طور کے جرم کا مرتکب ہے جو اپنی ایسی صفات ظاہر کرتا ہے اور ایک دانشمند حاکم کے نزدیک ضمانت لینے کے لائق ہے۔ غرض یہ کوئی اعلیٰ درجہ کا احسان نہیں ہے کہ کسی نے بدی کرنے سے اپنے تئیں بچائے رکھا کیونکہ قانون سزا بھی تو اُسے روکتا تھا۔ مثلاً اگر کوئی شیریر نقب لگائے یا اپنے ہمسایہ کا مال چرانے سے رک گیا ہے تو کیا اس کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ اس شرارت سے باز رہ کر اس سے نیکی کرنا چاہتا تھا بلکہ قانون سزا بھی تو اُسے ڈرا رہا تھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر میں نقب زنی کے وقت یا کسی کے گھر میں آگ لگانے کے وقت یا کسی بے گناہ پر پستول چھوڑنے کے وقت یا کسی بچے کا گلا گھوٹنے کے وقت پکڑ گیا تو پھر گورنمنٹ پوری سزا دے کر جہنم تک پہنچائے گی۔ غرض اگر یہی حقیقی نیکی اور انسان کا اعلیٰ جوہر ہے تو پھر ہم تمام جرائم پیشہ ایسے لوگوں کے محسن ٹھہر جائیں گے جن کو انہوں نے کوئی ضرر نہیں پہنچایا۔ لیکن جن بزرگواروں کو ہم انسان کامل کا خطاب دینا چاہتے ہیں کیا ان کی بزرگی کے اثبات کیلئے ہمیں بھی وجوہ پیش کرنے چاہئیں کہ کبھی انہوں نے کسی شخص کے گھر کو آگ نہیں لگائی، چوری نہیں کی، کسی بیگانہ عورت پر حملہ نہیں کیا، ڈاکہ نہیں مارا، کسی بچے کا گلا نہیں گھونٹا حاشاوکلا یہ کمینہ باتیں ہرگز کمال کی وجوہ نہیں ہو سکتیں بلکہ ایسے ذکر سے تو ایک طور سے ہجو نکلتی ہے۔مثلاً اگر یہ کہوں کہ میری دانست میں زید جو ایک شہر کا معزز اور نیک نام رئیس ہے فلاں ڈاکہ میں شریک نہیں ہے یا فلاں عورت کو جو چند آدمی زنا کے لئے بہلا کرلے گئے تھے۔ اس سازش سے زید کا کچھ تعلق نہ تھا تو ایسے بیان میں مَیں زید کی ایک طریق سے ازالہ حیثیت عرفی کر رہا ہوں کیونکہ پوشیدہ طور پر پبلک کو احتمال کا موقع دیتا ہوں کہ وہ اس مادہ کا آدمی ہے گو اس وقت شریک نہیں ہے پس خدا کے نبیوں کی تعریف اسی حد تک ختم کر دینا بلاشبہ ان کی ایک سخت مذمت ہے اور ابھی بات کو ان کا بڑا کمال سمجھنا کہ جرائم پیشہ لوگوں کی طرح ناجائز تکالیف عامہ سے انہوں نے اپنے تئیں بچایا ان کے مرتبہ عالیہ کی بڑی ہتک ہے۔ اوّل تو بدی سے باز رہنا جس کومعصومیت کہا جاتا ہے کوئی اعلیٰ صفت نہیں ہے دنیا میں ہزاروں اس قسم کے لوگ موجود ہیں کہ ان کو موقع نہیں ملا کہ وہ نقب لگائیں یادھاڑا ماریں یا خون کریں یا شیر خوار بچوں کا گلا گھونٹیں یا بیچاری کمزور عورتوں کا زیور کانوں سے توڑ کر لے جائیں۔ پس ہم کہاں تک اس ترک شر کی وجہ سے لوگوں کو اپنے محسن ٹھہراتے جائیں اور ان کو محض اسی وجہ سے انسان کامل مان لیں؟ ماسوائے اس کے ترک شر کے لئے جس کو دوسرے لفظوں میں معصومیت کہتے ہیں بہت سے وجوہ ہیں ہر ایک کو یہ لیاقت کب حاصل ہے کہ رات کو اکیلا اُٹھے اور حربہ نقب ہاتھ میں لے کر اور لنگوٹی باندھ کر کسی کوچے میں گھس جائے اور عین موقعہ پر نقب لگا دے اور مال قابو میں کرے اور پھر جان بچا کربھاگ جائے۔ اس قسم کی مشقیں نبیوں کو کہاں ہیں اور بغیر لیاقت اور قوت کے جرأت پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔ ایسا ہی زناکاری بھی قوت مردمی کی محتاج ہے اور اگر مرد ہو بھی تب بھی محض خالی ہاتھ سے غیر ممکن ہے بازاری عورتوں نے اپنے نفس کو وقف تو نہیں کر رکھا وہ بھی آخر کچھ مانگتی ہیں۔ تلوار چلانے کیلئے بھی بازو چاہئے اور کچھ اٹکل بھی اور کچھ بہادری اور دل کی قوت بھی بعض ایک چڑیا کو بھی نہیں مار سکتے اور ڈاکہ مارنا بھی ہر ایک بزدل کا کام نہیں اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ مثلاً ایک شخص جو ایک پُر ثمر باغ کے پاس پاس جا رہا ھا اس نے اس باغ کا اس لئے بے اجازت پھل نہیں توڑا کہ وہ ایک بڑا مقدس انسان تھا کیا وجہ کہ ہم یہ نہ کہیں کہ اس لئے نہیں توڑا کہ دن کا وقت تھا پچاس محافظ باغ میںموجود تھے۔ اگر توڑتا تو پکڑا جاتا مار کھاتا بے عزت ہوتا۔ اس قسم کی نبیوں کی تعریف کرنا اور بار بار معصومیت پیش کرنا اور دکھلانا کہ انہوں نے ارتکاب جرائم نہیں کیا سخت مکروہ اور ترک ادب ہے۔ ہاں ہزاروں صفات فاضلہ کی ضمن میں اگر یہ بھی بیان ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر صرف اتنی ہی بات کہ اس نبی نے کبھی کسی بچے کا دوچار آنہ کے طمع کے لئے گلا نہیں گھونٹا یا کسی اور کمینہ بدی کا مرتکب نہیں ہوا یہ بلاشبہ ہجو ہے یہ ان لوگوں کے خیال ہیں جنہوں نے انسان کی حقیقی نیکی اور حقیقی کمال میں کبھی غور نہیں کیا۔ جس شخص کا نام ہم انسان کامل رکھتے ہیں ہمیں نہیں چاہئے کہ محض ترک شر کے پہلو سے اس کی بزرگی کا وزن کریں کیونکہ اس وزن سے اگر کچھ ثابت ہو تو صرف یہ ہوگا کہ ایسا انسان بدمعاشوں کے گروہ میں سے نہیں ہے معمولی بھلے مانسوں میں سے ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے محض شرارت سے باز رہنا کوئی اعلیٰ خوبیوں کی بات نہیں ایسا تو کبھی سانپ بھی کرتا ہے کہ آگے سے خاموش گزر جاتا ہے اور حملہ نہیں کرتا اور کبھی بھیڑیا بھی سامنے سے سرنگوں گزر جاتا ہے۔ ہزاروں بچے ایسی حالت میں مر جاتے ہیں اور کوئی ضرر بھی کسی انسان کو انہوں نے نہیں پہنچایا تھا بلکہ انسان کامل کی شناخت کے لئے کسب خیر کا پہلو دیکھنا چاہئے یعنی یہ کہ کیاکیا حقیقی نیکیاں اس سے ظہور میں آئیں اور کیا کیا حقیقی کمالات اس کے دل اور دماغ اور کانشنس میں موجود ہیں اور کیا کیا صفات فاضلہ اس کے اندر موجود ہیں۔ سو یہی وہ امر ہے جس کو پیش نظر رکھ کر حضرت مسیح کے ذاتی کمالات اور انواع خیرات اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور خیرات کو ہر ایک پہلو سے جانچنا چاہئے۔ مثلاً سخاوت، فتوت مواسات، حقیقی حلم جس کے لئے قدرت سخت گوئی شرط ہے۔ حقیقی عفو جس کے لئے قدرت انتظام شرط ہے۔ حقیقی شجاعت جس کے لئے خوفناک دشمنوں کا مقابلہ شرط ہے حقیقی عدل جس کے لئے قدرت ظلم شرط ہے۔ حقیقی رحم جس کے لئے قدرت سزا شرط ہے اور اعلیٰ درجہ کی زیرکی اور اعلیٰ درجہ کا حافظہ اور اعلیٰ درجہ کی فیض رسانی اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور اعلیٰ درجہ کا احسان جن کے لئے نمونے اور نظیریں شرط ہیں۔ پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ اور موازنہ ہونا چاہئے نہ صرف ترک شر میں جس کا بشپ صاحب معصومیت نام رکھتے ہیں کیونکہ نبیوں کی نسبت یہ خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ انہوں نے چوری ڈاکہ وغیرہ کا موقع پرا کر اپنے تئیں بچایا یا یہ جرائم ان پر ثابت نہ ہو سکے بلکہ حضرت مسیح کا یہ فرمانا کہ ’’مجھے نیک مت کہو‘‘ یہ ایک ایسی وصیت تھی جس پر پادری صاحبوں کو عمل کرنا چاہئے تھا۔
    اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے درحقیقت شائق ہیں تواس مضمون کا اشتہار دے دیں کہ ہم مسلمانوں سے اس طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے کمالات ایرانی واخلاقی و برکاتی و تاثیراتی و قولی و فعلی و ایمانی و عرفانی و علمی و تقدسی اور طریق معاشرت کے رو سے کون نبی افضل و اعلیٰ ہے اگر وہ ایسا کریں اور کوئی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقرر پر ضرور جلسہ قرار دادہ پر حاضر ہو جائے گا ورنہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے جس کا یہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کر لیں تو یہ شرط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے۔
    راقم خاکسار
    مرزا غلام احمد (مسیح موعود)
    از قادیان
    ۲۵؍ مئی ۱۹۰۰ء


    خط
    یہ خط حضرت مسیح موعود نے لکھا تھا اور ایک مجلس کی طرف سے بھیجا گیا تھا آخر میں جو اسماء کی فہرست ہے وہ میں نے چھوڑ دی ہے۔ (ایڈیٹر)
    جناب فضیلت مآب مکرم رائٹ ریورنڈ جارج لیفرائے
    ڈی ڈی بشپ صاحب لاہور
    بعد آداب نیاز مندانہ بکمال ادب خدمت عالی میں یہ گزارش ہے کہ چونکہ یہ مختصر زندگی دنیا کی بہت جلد اپنے دورہ کو پورا کر رہی ہے اور عنقریب وہ زمانہ آتا ہے کہ ہمارے وجود کا نام و نشان بھی …ہوگا۔ اس لئے ہم لوگوں کے دلوں میں یہ غم دامنگیر ہے کہ کسی طرح راست روی اور سچی خوشحالی کے ساتھ یہ سفر انجام پذیر ہو اور اس مذہب پر خاتمہ ہو جو درحقیقت خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور اگر ہم حق پر نہیں ہیںتو ہمارے دل اس سچائی کے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں جو روشن دلیلوں کے ساتھ پیش کی جائے اور اگر کوئی بزرگ میدان بن کر عیسائی مذہب کی حقانیت ہم پر ثابت کرے تو اس احسان سے بڑھ کر ہمارے نزدیک کوئی احسان نہیں ہوگا۔ اس تحقیق کے لئے ہمارا دل درد مند ہے اور ہم دلی شوق سے چاہتے ہیں کہ اسلام اور عیسائی مذہب کا ایک مقابلہ ہو کر ہم اس رسول صادق کے آستانہ پر اپنا سر رکھیں جو پاکیزگی اور خوبی اور الٰہی طاقت اور اخلاقی کمالات میں تمام نوع انسان سے سبقت لے جانے والا ثابت ہو جائے اور اس دن سے جو آپ نے بمقام لاہور اس مضمون پر تقریر کی کہ نبی معصوم اور زندہ رسول کون ہے۔ ہمارے دل بول اُٹھے کہ اس ملک میں آپ ہی ایک ہیں جو عیسائی مذہب میں جلیل القدر فاضل ہیں۔ تب سے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اس کام کے لئے عیسائی صاحبوں میں سے بہتر اور کوئی نہیں ملے گا کیونکہ آپ کے معلومات بہت وسیع معلوم ہوتے ہیں اور آپ عربی اور فارسی اور اُردو میں عمدہ دخل رکھتے ہیں آپ کے اخلاق بھی بہت پسندیدہ اور بزرگانہ ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے اہل علم کی طرف سے جو ہم نے نظر کی تو ہماری رائے میں اس کام کے لئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے برابر اور کوئی نہیں جو مسیح موعود ہونے کا نہ صرف دعویٰ کرتے ہیں بلکہ بہت سے قطعی دلائل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ وہی ہیں جن کے دنیا میں آنے کا انجیل اور قرآن میں وعدہ ہے جس کو دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً تیس ہزار لوگوںنے تسلیم کر لیا ہے۔ غرض اس وقت پنجاب اور ہندوستان کے تمام فاضل اور اہل علم عیسائیوں میں سے آپ کا وجود از بس غنیمت ہے اور مسلمانوں میں سے مرزا صاحب موصوف ہیں جو خدا کے انتخاب کردہ اور ممسوح ہیں ہماری خوش قسمتی ہے کہ ایسا عمدہ موقع ہمیں پیش آ گیا ہے کہ ایک طرف تو آپ موجود ہیں اور دوسری طرف وہ جو خدا کا مسیح کہلاتا ہے۔
    اسی بنا پر ہم لوگوں کی طرف سے جن کے نام نیچے لکھے ہیں یہ درخواست ہے کہ چند مختلف فیہ مسائل میں آپ اور جناب مسیح موعود موصوف باہم مباحثہ کریں اور حضرت مسیح موعود اس بات کو قبول فرماتے ہیں کہ پانچ مسائل میں باہم تحریری بحث ہو جائے۔ اور وہ یہ ہے:۔
    (۱) ان دونوں نبیوں یعنی حضرت مسیح علیہ السلام اور جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں سی کسی نبی کی نسبت اس کی کتاب کی رو سے نیز دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ وہ کامل طور پر معصوم ہے۔
    (۲) دونوں بزرگوار نبیوں علیہم السلام میں سے کون سا وہ نبی ہے جس کو اس کی کتاب وغیرہ دلائل کے رو سے زندہ رسول کہہ سکتے ہیں جو الٰہی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔
    (۳) ان دونوں بزرگوار علیہما السلام سے کونسا وہ نبی ہے جس کو اس کی آسمانی کتاب وغیرہ دلائل کے رو سے شفیع کہہ سکتے ہیں۔
    (۴) ان دونوں مذہبوں عیسائیت اور اسلام میں سے کونسا وہ مذہب ہے جس کو ہم زندہ مذہب کہہ سکتے ہیں۔
    (۵) ان دونوں تعلیموں انجیلی تعلیم اور قرآنی تعلیم میں سے کونسی وہ تعلیم ہے جس کو ہم اعلیٰ اور تعلیم کہہ سکتے ہیں اور تعلیم میں توحید اور تثلیث کی بحث بھی داخل ہے۔
    یہ پانچ سوال ہیں جن میں بحث ہوگی۔ اس بحث کے لئے شرائط مندرجہ ذیل کی پابندی ضروری ہوگی۔
    ۱۔ شرط اوّل یہ کہ ہر ایک امر کی بحث کے متعلق جو مندرجہ بالا پانچ نمبروں میں لکھے گئے ہیں۔ ایک ایک دن خرچ ہوگا یعنی یہ کہ کل بحث پانچ دن میں ختم ہوگی۔
    ۲۔ شرط دوم یہ ہے کہ ہر ایک فریق کو اپنے اپنے بیان کے لئے پورے تین تین گھنٹے موقع دیا جائے گا اور اس طرح پر ہر ایک دن کا جلسہ چھ بجے صبح سے ۱۲ بجے تک پورا ہو جائے گا۔
    ۳۔ شرط سوم یہ ہے کہ ہر ایک فریق محض اپنے نبی یا کتاب کی نسبت ثبوت دے گا۔ دوسرے فریق کے نبی یا کتاب کی نسبت حملہ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا کیونکہ ایسا حملہ محض فضول اور بسا اوقات دلشکنی کا موجب ہوتا ہے اور مقابلہ کرنے کے وقت پبلک کو خود معلوم ہو جائے گا کہ کس کا ثبوت قوی اور کس کا ثبوت ضعیف اور کمزور ہے۔ ہاں ہر ایک فریق کو اختیار ہوگا کہ جس جس موقع پر حملہ کا احتمال ہے ان احتمالی سوالات کا اپنے بیان میں آپ جواب دے دے۔
    ۴۔ بحث تحریری ہوگی۔ مگر تحریر کا یہ طریق ہوگا کہ ہر ایک فریق کے ساتھ ایک کاتب ہوگا وہ بولتا جائے گا اور کاتب لکھتا جائے گا اور ہر ایک کے پاس ایک ایسا شخص بھی ہوگا کہ مضمون ختم ہونے کے بعد حاضرین کو سنا دیا کرے گا اور سنانے کے بعد ایک نقل اس کی بعد دستخط فریق مخالف کو دی جائے گی۔
    ۵۔ یہ بحث بمقام لاہور ہوگی اور آپ کے اختیار میں رہے گا کہ جہاں چاہیں اس بحث کے لئے مجلس منعقد فرما لیں اور جیسا چاہیں مناسب انتظام کر لیں۔
    ۶۔ جب اس بحث کے دن ختم ہو جائیں گے تو دونوں فریق میں سے ایک فریق یا دونوں اس مضمون کو بصورت رسالہ چھاپ کر شائع کر دیں اور کسی کو اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی طرف سے بعد میں کچھ ملاوے۔
    یہ شرائط ہیں جو ہم نے حضرت مرزا صاحب مسیح موعود سے منظور کرا لئے ہیں اور چونکہ یہ شرائط بہت صاف اور سراسر انصاف پر مبنی ہیں لہٰذا امید ہے کہ جناب بھی ان کو منظور فرما کر مطلع فرمائیں گے کہ ایسی بحث کیلئے کب اور کس مہینے میں آپ تیار ہیں۔ ہم درخواست کنندوں کی طرف سے نہایت التجا اور ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ جناب ضرور اس طریق بحث کو منظور فرمائیں اور ہم حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی عزت کا واسطہ جناب کی خدمت میں ڈال کر یہ عاجزانہ سوال کرتے ہیں اور جناب اس پیارے مقبول نبی کے نام پر ہماری یہ درخواست منظور فرما کر بذریعہ اشتہار مطبوعہ منظوری سے مطلع فرمائیں۔ اس درخواست میں کوئی فوق الطاقت یا بیہودہ امر نہیں اور طریق بحث سراسر مہذبانہ اور سراپا نیک نیتی اور طلب حق پر مبنی ہے اور باایں ہمہ جب کہ جناب جیسے ایک بزرگ صاحب مرتبہ کو حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کی قسم دی گئی ہے تو اس لئے ہم سائلوں کو بکلّی یقین ہے کہ جناب اس عاجزانہ درخواست کو گو کیسی ہی کم فرصتی ہو بہرحال بغیر کسی تنسیخ ترمیم کے حضرت کے نام کی عزت کے لئے ضرور منظور فرمائیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ایسی منصفانہ درخواست ہم لوگوں سے حضرت مسیح کی عزت کا واسطہ درمیان لا کر کی جائے تو ہم سخت گناہ اور سؤ ادب سمجھیں گے کہ اس درخواست کو منظور نہ کریں تو پھر آپ کو تو حضرت مسیح علیہ السلام کی محبت کا بہت دعویٰ ہے جس کے امتحان کا ہم غریبوں کو یہ پہلا موقع ہے۔ زیادہ کیا تکلیف دیں۔ صرف جواب کے منتظر ہیں اور جواب بنام مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی وکیل بمقام قادیان ضلع گورداسپور آنا چاہئے کیونکہ وہی اس مجلس کے سیکرٹری ہیں اور درخواست کرنے والوں کے نام یہ ہیں۔ (نام چھوڑ دیئے گئے ہیں)۔





    نقل خط جو حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب کی طرف سے مسیحان جنڈیالہ کی طرف ۳؍ مئی ۱۸۹۳ء کو رجسٹری کر کے بھیجا گیا!
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
    بخدمت مسیحان جنڈیالہ بعد ہاوجب۔ آج میں نے آپ صاحبوں کی وہ تحریر جو آپ نے میاں محمد بخش صاحب۱؎ کو بھیجی تھی اوّل سے آخر تک پڑھی جو کچھ آپ صاحبوں نے سوچا ہے مجھے اتفاق رائے ہے بلکہ درحقیقت میں اس مضمون کے پڑھنے سے ایسا خوش ہوا کہ میں مختصر خط میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔ یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ یہ روز کے جھگڑے اچھے نہیں اور ان سے دن بدن عداوتیں بڑھتی ہیں اور فریقین کی عافیت اور آسودگی میں خلل پڑتا ہے اور یہ بات تو ایک معمولی سی ہے۔ اس سے بڑھ کر نہایت ضروری اور قابل ذکر یہ بات ہے کہ جس حالت میں دونوں فریق مرنے والے اور دنیا کو چھوڑنے والے ہیں تو پھر اگر بحث کر کے اظہار حق نہ کریں تو اپنے
    ۱؎ وہ خط جو ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب نے محمد بخش پاندھا کو لکھا۔
    بخدمت شریف میاں محمد بخش و جملہ شرکاء اہل اسلام جنڈیالہ۔
    جناب من۔ بعد سلام کے واضح رائے شریف ہو کہ چونکہ ان دنوں قصبہ جنڈیالہ میں مسیحوں اور اہل اسلام کے درمیان دینی چرچے بہت ہوتے ہیں اور چند صاحبان آپ کے ہم مذہب دین عیسوی پر حرف لاتے ہیں اور کئی ایک سوال وجواب کرتے اور کرنا چاہتے ہیں اور نیز اسی طرح سے مسیحوں نے بھی دین محمدی کے حق میں کئی ایک تحقیقاتیں کر لی ہیں اور مبالغہ از حد ہو چلا ہے لہٰذا راقم رقیمہ ہذا کی دانست میں طریقہ بہتر اور مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک جلسہ عام کیا جائے جس میں صاحبان اہل اسلام مع علماء و دیگر بزرگان دین کے جن پر کہ ان کی تسلی ہو موجود ہوں اور اسی طرح سے مسیحوں کی طرف بھی کوئی صاحب اعتبار پیش کئے جاویں تا کہ جو باہمی تنازعہ ان دنوں میں ہو رہے ہیں خوب فیصل کئے جاویں اور نیکی اور بدی اور حق اور خلاف ثابت ہوویں لہٰذا چونکہ اہل اسلام جنڈیالہ کے درمیان آپ صاحبِ ہمت گنے جاتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں از طرف مسیحان جنڈیالہ التماس کرتے ہیں کہ آپ خواہ خواہ یا اپنے ہم مذہبوں سے مصلحت کر کے ایک وقت مقرر کریں اور
    نفسوں اور دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ جنڈیالہ کے مسلمانوں کا ہم سے کچھ زیادہ حق نہیں بلکہ جس حالت میں خداوندکریم اور رحیم نے اس عاجز کو انہیں کاموں کیلئے بھیجا ہے تو ایک سخت گناہ ہوگا کہ ایسے موقع پر خاموش رہوں۔ اس لئے میں آپ لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اس کام کے لئے میں ہی حاضر ہوں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ فریقین کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کو اپنا اپنا مذہب بہت سے نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ سے ملا ہے اور یہ بھی فریقین کو اقرار ہے کہ زندہ مذہب وہی ہو سکتا ہے کہ جن دلائل پر ان کی صحبت کی بنیاد ہے وہ دلائل بطور قصہ کے نہ ہوں بلکہ دلائل ہی کے رنگ میں اب بھی موجود اور نمایاں ہوں۔ مثلاً اگر کسی کتاب میں بیان کیا گیا ہو کہ فلاں نبی نے بطور معجزہ ایسے ایسے بیماروں کو اچھا کیا تھا تو یہ اور اس قسم کے اَوْر امور اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک قطعی اور یقینی دلیل نہیں ٹھہر سکتی بلکہ ایک خبر ہے جو منکر کی نظر میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتی ہے بلکہ منکر ایسی خبروں کو صرف ایک قصہ سمجھے گا۔ اسی وجہ سے یورپ کے فلاسفر مسیح کے معجزات سے جو انجیل میں مندرج ہیں کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے بلکہ اس پر قہقہ مار کر ہنستے ہیں۔ پس جب کہ یہ بات ہے تو یہ نہایت آسان مناظرہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل اسلام کا کوئی فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو کامل مسلمان ہونے کے لئے قرآن میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کرے اور اگر نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ مسلمان؟ اور ایسا ہی عیسائی صاحبوں میں سے ایک فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو انجیل شریف میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کر کے دکھلائے اور اگر وہ ثابت نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ عیسائی۔ جس حالت میں دونوں فریق کا یہ دعویٰ ہے کہ جس نور کو ان کے انبیاء
    بقیہ حاشیہ: جس کسی بزرگ پر آپ کی تسلی ہو اُسے طلب کریں اور ہم بھی وقت معین پر محفل شریف میں کسی اپنے بزرگ کو پیش کریں گے کہ جلسہ اور فیصلہ امورات مذکورہ بالا کا بخوبی ہو جاوے اور خداوند صراط مستقیم سب کو حاصل کرے۔ ہم کسی ضد اور فساد یا مخالفت کے رو سے اس جلسہ کے درپے نہیں ہیں۔ مگر فقط اس بنا سے کہ جو باتیں راست برحق اور پسندیدہ ہیں سب صاحبان پر خوب ظاہر ہوں۔ دیگر التماس یہ ہے کہ اگر صاحبان اہل اسلام ایسے مباحثہ میں شریک نہ ہونا چاہیں تو آئندہ کو اپنے اسپ کلام کو میدان گوفتگو میں جولانی نہ دیں اور وقت منادی یا دیگر موقعوں پر حجت بے بنیاد و لاحاصل سے باز آ کر خاموشی اختیار کریں۔ از راہ مہربانی اس خط کا جواب جلدی عنایت فرماویں تا کہ اگر آپ ہماری دعوت کو قبول کریں تو جلسہ کا اور ان مضامین کا جن کی بابت مباحثہ ہونا معقول انتظام کیا جائے۔ فقط۔ زیادہ سلام
    (الراقم مسیحان جنڈیالہ مارٹن کلارک امرتسر (دستخط انگریزی میں ہیں)
    لائے تھے وہ نور فقط لازمی نہ تھا بلکہ متعدی تھا تو پھر جس مذہب میں یہ نور متعدی ثابت ہوگا اسی کی نسبت عقل تجویز کرے گی کہ یہی مذہب زندہ اور سچا ہے کیونکہ اگر ہم ایک مذہب کے ذریعہ سے وہ زندگی اور پاک نور معہ اس کی تمام علامتوں کے حاصل نہیں کر سکتے جو اس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے تو ایسا مذہب بجز لاف و گزاف کے زیادہ نہیں اگر ہم فرض کر لیں کہ کوئی نبی پاک تھا مگر ہم میں سے کسی کو بھی پاک نہیں کر سکتا اور صاحب خوارق تھا مگر کسی کو صاحب خوارق نہیں بنا سکتا اور الہام یافتہ تھا مگر ہم میں سے کسی کو مہلم نہیں بنا سکتا تو ایسے نبی سے ہمیں کیا فائدہ۔ الحمدللہ والمنتہ کہ ہمارا سید و رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں تھا اس نے ایک جہان کو وہ نور حسب مراتب استعداد بخشا کہ جو اس کو ملا تھا اور اپنے نورانی نشانوں سے وہ شناخت کیا گیا وہ ہمیشہ کے لئے نور تھا جو بھیجا گیا اور اس سے پہلے کوئی ہمیشہ کے لئے نور نہیں آیا اگر وہ نہ آتا اور نہ اس نے بتلایا ہوتا تو مسیح کے نبی ہونے پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں تھی کیونکہ اس کا مذہب مر گیا اور اس کا نور بے نشان ہو گیا اور کوئی وارث نہ رہا جو اس کو کچھ نور دیا گیا ہو۔ اب دنیا میں زندہ مذہب اسلام ہے اور اس عاجز نے ذاتی تجارب سے دیکھ لیا اور پرکھ لیا کہ دونوں قسم کے نور اسلام اور قرآن میں اب بھی ایسے ہی تازہ بتازہ موجود ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت موجود تھے اور ہم ان کے دکھلانے کے لئے ذمہ وار ہیں اگر کسی کو مقابلہ کی طاقت ہے تو ہم سے خط و کتابت کرے۔ والسلام علی من اتبع الہدی۔
    بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اس عاجز کے مقابلہ پر جو صاحب کھڑے ہوں وہ کوئی بزرگ نامی اور معزز انگریز پادری صاحبوں میں سے ہونے چاہئیں کیونکہ جو بات اس مقابلہ اور مباحثہ سے مقصود ہے اور جس کا اثر عوام پر ڈالنا مدنظر ہے وہ اسی امر پر موقوف ہے کہ فریقین اپنی اپنی قوم کے خواص میں سے ہوں۔ ہاں بطور تنزل اور اتمام حجت مجھے یہ بھی منظور ہے کہ اس مقابلہ کے لئے پادری عمادالدین صاحب یا پادری ٹھاکر داس صاحب یا مسٹر عبداللہ آتھم صاحب عیسائیوں کی طرف سے منتخب ہوں اور پھر اُن کے اسماء کسی اخبار کے ذریعہ شائع کر کے ایک پرچہ اس عاجز کی طرف بھی بھیجا جاوے اور اس کے بھیجنے کے بعد یہ عاجز بھی اپنے مقابلہ کا اشتہار دے دے گا اور ایک پرچہ صاحب مقابلہ کی طرف بھیج دے گا مگر واضح رہے کہ یوں تو ایک مدت دراز سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا جھگڑا چلا آتا ہے اور تب سے مباحثات ہوئے اور فریقین کی طرف سے بکثرت کتابیں لکھی گئیں اور درحقیقت علمائے اسلام نے بہ تمام تر صفائی سے ثابت کر دیا کہ جو کچھ قرآن کریم پر اعتراض کئے گئے ہیں وہ دوسرے رنگ میں توریت پر اعتراض ہیں اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نکتہ چینی ہوئی وہ دوسرے پیرایہ میں تمام انبیاء کی شان میں نکتہ چینی ہے۔ جس سے حضرت مسیح بھی باہر نہیں بلکہ ایسی نکتہ چینوں کی بنا پر خدا تعالیٰ بھی مورد اعتراض ٹھہرتا ہے۔ سو یہ بحث زندہ مذہب یا مردہ مذہب کی تنقیح کے بارہ میں ہوگی اور دیکھا جائے گا کہ جن روحانی علامات کا مذہب اور کتاب نے دعویٰ کیا ہے وہ اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ نہیں اور مناسب ہوگا کہ مقام بحث لاہور یا امرتسر ہو اور فریقین کے علماء کے مجمع میں یہ بحث ہے۔
    خاکسار
    مرزا غلام احمد
    از قادیان ضلع گورداسپور






    ڈاکٹر مارٹن کلارک کے نام
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    مشفق مہربان پادری صاحب
    بعد ما وجب یہ وقت کیا مبارک ہے کہ میں آپ کی اس مقدس جنگ کیلئے تیار ہو کر جس کا آپ نے اپنے خط۱؎ میں ذکر فرمایاہے۔ اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کیلئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے۔ جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اسی وقت بول اُٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔ وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنانہیں چاہتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرح کھینچ لائے گا لیکن اس کے نکلنے کیلئے کوئی تقریب چاہئے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوںکو مقابلہ کیلئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے نہ کسی اَوْر سے۔ آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بعید ہوگا کہ آپ عوام سے اُلجھتے پھریں اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوںکے مقابلہ کیلئے دس برس کا پیاسا ہے اور کئی ہزار خط اُردو و انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اور پھر جب کچھ جواب نہ آیا تو آخر ناامید ہو کر بیٹھ گیا۔ چنانچہ بطور نمونہ اُن خطوں میں سے کچھ روانہ بھی کرتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی اس توجہ کا اوّل مستحق میں ہی ہوں اور سوائے اس کے اگر میں کاذب ہوں تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں میں پورے دس سال سے میدان میں کھڑا ہوں جنڈیالہ میں میری ذات میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصور کیا جاوے اس لئے بادب مُکلّف ہوں کہ اگر یہ مرا مطلوب ہے کہ روز کے قصے طے ہو جائیں اور جس مذہب کے ساتھ خدا ہے اور جو لوگ سچے خدا پر ایمان لائے ہیں ان کی کچھ امتیازی انوار ظاہر ہوں تو اس عاجز سے مقابلہ کیا جائے آپ لوگوں کا یہ ایک بڑا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام درحقیقت خدا تھے اور وہی خالق ارض و سما تھے اور ہمارا یہ بیان ہے کہ وہ سچے نبی ضرور تھے۔ رسول تھے۔ خدا تعالیٰ کے پیارے تھے مگر خدا نہیں تھے سو انہیں امور کے حقیقی فیصلہ کیلئے یہ مقابلہ ہوگا مجھ کو خدا تعالیٰ نے براہ راست اطلاع دی ہے کہ جس تعلیم کو قرآن لایا ہے وہی سچائی کی راہ سے اس پاک توحید کو ہر یک نبی نے اپنی اُمت تک پہنچایا ہے مگر رفتہ رفتہ لوگ بگڑ گئے اور خدا خداتعالیٰ کی جگہ انسانوں کو دے دی۔ غرض یہی امر ہے جس پر بحث ہوگی اور میںیقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت اپنا کام دکھلائے گی اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس مقابلہ سے ایک دنیا کیلئے مفید اور اثر انداز نتیجے نکلیں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ اب کل دنیا یا ایک بڑا بھاری حصہ اُس کا ایک ہی مذہب قبول کرلے جو سچا اور زندہ مذہب ہو اور جس کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی مہربانی کا بادل ہو چاہئے کہ یہ بحث صرف زمین تک محدود نہ رہے بلکہ آسمان بھی اس کے ساتھ شامل ہو اور مقابلہ صرف اس بات میں ہو کہ روحانی زندگی اور آسمانی قبولیت اور روشن ضمیری کس مذہب میں ہے اور میں اور میرا مقابل اپنی اپنی کتاب کی تاثیریں اپنے اپنے نفس میں ثابت کریں ہاں اگر یہ چاہیں کہ معقولی طور پر بھی ان دونوں عقیدوں کا بعد اس کے تصفیہ ہو جائے تو یہ بھی بہتر ہے مگر اس سے پہلے روحانی اور آسمانی آزمائش ضرور چاہئے۔
    والسلام علی من اتبع الہدی
    خاکسار
    غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور
    ۲۳؍ اپریل ۱۸۹۳ء


    رجسٹرڈ خط جو ۲۵؍ اپریل کو پادری صاحب کے ۲۴؍ اپریل کے خط کے جواب میں بھیجا گیا
    مشفق مہربان پادری صاحب سلامت۔ بعد ماوجب میں نے آپ کی چٹھی ۱؎کو اوّل سے آخر تک سنا۔ میں اُن تمام شرائط کو منظور کرتا ہوں جن پر آپ کے اور میرے دوستوں کے دستخط ہو چکے ہیں لیکن سب سے پہلے یہ بات تصفیہ پا جانی چاہئے کہ اس مباحثہ اور مقابلہ سے علت غائی کیا ہے کیا یہ انہیں معمولی مباحثات کی طرح ایک مباحثہ ہوگا جو سالہائے دراز سے عیسائیوں اور مسلمانوں میں پنجاب اور ہندوستان میں ہو رہے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ مسلمان تو اپنے خیال میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے عیسائیوں کو ہر ایک بات میں شکست دی ہے اور عیسائی اپنے گھر میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ مسلمان لاجواب ہوگئے ہیں اگر اسی قدر ہے تو یہ بالکل بے فائدہ اور تحصیل حاصل ہے اور بجز اس بات کے اس کا آخری نتیجہ کچھ نظر نہیں آتا کہ چند روز بحث مباحثہ کا شور و غوغا ہو کر پھر ہر یک فضول گو کو اپنی ہی طرف کا غلبہ ثابت کرنے کیلئے باتیں بنانے کا موقعہ ملتا رہے مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ حق کھل جائے اور ایک دنیا کو سچائی نظر آ جائے۔ اگر فی الحقیقت حضرت مسیح علیہ السلام خدا ہی ہیں اور وہی ربّ العالمین اور خالق السموات والارض ہے تو بیشک ہم لوگ کافر کیا اَکفر ہیں اور بیشک اس صورت میں دین اسلام حق پر نہیں ہے لیکن اگر حضرت مسیح علیہ السلام صرف ایک بندہ خدا تعالیٰ کا نبی اور مخلوقیت کی تمام کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر یہ عیسائی صاحبوں کا ظلم عظیم اور کفر کبیر ہے کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس حالت میں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں اِس سے بڑھ کر
    ۱؎ خلاصہ چٹھی: امرتسر ۲۴؍ اپریل ۱۹۹۳ء ۔ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان۔ جناب من مولوی عبدالکریم صاحب معہ معزز سفارت یہاں پہنچے اور مجھے آپ کا دستی خط دیا۔ جناب نے جو مسلمانوں کی طرف سے مجھے مقابلہ کیلئے دعوت کی ہے اس کو میں بخوشی قبول کرتا ہوں آپ کی سفارت نے آپ کی طرف سے مباحثہ اور شرائط ضروریہ کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ جناب کو بھی وہ انتظام اور شرائط منظور ہوں گے اس لئے مہربانی کر کے اپنی فرصت میں اطلاع بخشیں کہ آپ ان شرائط کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
    آپ کا تابعدار۔ ایچ مارٹن کلارک۔ ایم۔ ڈی۔ سی۔ ایم۔ راڈنبرا ۔ ایم۔ آر۔ اے۔ ایس۔ سی
    اور کوئی عمدہ دلیل نہیں کہ اُس نے نابود شدہ توحید کو پھر قائم کیا اور جو اصلاح ایک سچی کتاب کو کرنی چاہئے تھی وہ کر دکھائی اور ایسے وقت میں آیا جس وقت میں اس کے آنے کی ضرورت تھی یوں تو یہ مسئلہ بہت ہی صاف تھا کہ خدا کیا ہے اور اس کی صفات کیسی ہونی چاہئے مگر چونکہ اب عیسائی صاحبوں کو یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا اور معقولی اور منقولی بحثوں نے اس ملک ہندوستان میں کچھ ایسا ان کو فائدہ نہیں بخشا اس لئے ضرور ہوا کہ اب طرز بحث بدل لی جائے سو میری دانست میں اس کے انسب طریق اور کوئی نہیں کہ ایک روحانی مقابلہ مباہلہ کے طور پر کیا جائے اور یہ کہ اوّل اسی طرح ہر چھ دن تک مباحثہ ہو جس مباحثہ کو میرے دوست قبول کر چکے ہیں اور پھر ساتویں دن مباہلہ ہو اور فریقین مباہلہ میں یہ دعا کریں مثلاً فریق عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسیٰ مسیح ناصری جس پر میں ایمان لاتا ہوں وہی خدا ہے اور قرآن انسان کا … ہے خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہو جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے
    بقیہ شرائط انتظام مباحثہ قرار یافتہ مابین عیسائیاں و مسلمانان
    (۱) یہ مباحثہ امرتسر میں ہوگا (۲) ہر ایک جانب میں صرف پچاس اشخاص ہونگے۔ پچاس ٹکٹ مرزا غلام احمد صاحب عیسائیوں کو دیں گے اور پچاس ٹکٹ ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب مرزا صاحب کو مسلمانوں کیلئے دیں گے۔ عیسائیوں کے ٹکٹ مسلمان جمع کریں گے اور مسلمانوں کے عیسائی۔ (۳) مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسلمانوں کی طرف سے اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خاں صاحب عیسائیوں کی طرف سے مقابلہ میں آئیں گے۔ (۴) سوائے ان صاحبوں کے اور صاحب کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی۔ ہاں یہ صاحب تین شخصوں کو بطور معاون منتخب کر سکتے ہیں مگر ان کو بولنے کا اختیار نہ ہوگا (۵)مخالف جانب صحیح صحیح نوٹ بغرض اشاعت لیتے رہیں گے (۶) کوئی صاحب کسی جانب سے ایک گھنٹہ سے زیادہ نہ بول سکیں گے (۷) انتظامی معاملات میں صدر انجمن کا فیصلہ ناطق مانا جائے گا (۸) دو صدر انجمن ہوں گے یعنی ایک ایک ہر طرف سے جو اس وقت مقرر کئے جائیں گے (۹) جائے مباحثہ کا تقرر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کے اختیار میں ہوگا (۱۰) وقت مباحثہ ۶ بجے صح سے ۱۱ بجے صبح تک ہوگا (۱۱) کل وقت مباحثہ دو زمانوں پر تقسیم ہوگا۔ (۱۲) ۶ دن یعنی روز پیر مئی ۲۲ سے ۲۷ مئی تک ہوگا اس وقت میں مرزا صاحب کو اختیار ہوگا کہ اپنا یہ دعویٰ پیش کریں کہ ہر ایک مذہب کی صداقت زندہ نشان سے ثابت کرنی چاہئے جیسے کہ انہوں نے اپنی چٹھی ۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء موسومہ ڈاکٹر کلارک صاحب میں ظاہر کیا ہے (۱۳) پھر دوسرا سوال اُٹھایا جائے گا پہلے مسئلہ الوصیت مسیح پر اور مرزا صاحب کو اختیار ہوگا کہ کوئی اور سوال جو چاہیں پیش کریں مگر ۶ دن کے اندر اندر (۱۴) دوسرا زمانہ بھی ۶ دن ہوگا یعنی مئی ۲۹ سے جون ۳ تک (اگر اس قدر ضرورت ہوئی) اس زمانہ میں مسٹر عبداللہ آتھم خان صاحب کو اختیار ہوگا کہ اپنے سوالات بہ تفصیل ذیل پیش کریں۔
    اور ایسا ہی یہ عاجز دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ درحقیقت عیسی مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے خدا ہرگز نہیں اور قرآن کریم تیری پاک کتاب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میرا پیار اور برگزیدہ رسول ہے اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل کر جس سے میری رسوائی ظاہرہو جائے اور اسے خدا میری رسوائی کیلئے یہ بات کافی ہوگی کہ ایک برس کے اندر تیری طرف سے میری تائید میں کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو جس کے مقابلہ سے تمام مخالف عاجز رہیں اور واجب ہوگا کہ فریقین کے دستخط سے یہ تحریر چند اخبارات میں شائع ہو جائے کہ جو شخص ایک سال کے اندر مورد غضب الٰہی ثابت ہو جائے اور یا یہ کہ ایک فریق کی تائید میں کچھ ایسے نشان آسمانی ظاہر ہوں کہ دوسرے فریق کی تائید میں ظاہر و ثابت نہ ہو سکیں تو ایسی صورت میں فریق مغلوب یا فریق غالب کا مذہب اختیار کرے اور یا اپنی کل جائیداد کا نصف حصہ اس مذہب کی تائید کیلئے فریق غالب کو دے دے جس کی سچائی ثابت ہو۔
    (خاکسار مررا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور)
    بقیہ حاشیہ: (الف) رحم بلا مبادلہ (ب) جبر اور قدر (ج) ایمان بالجبر (د) قرآن کے خدائی کلام ہونے کا … (س) اس بات کا ثبوت کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) رسول اللہ ہیں وہ اور سوال بھی کر سکتے ہیں بشرطیکہ ۶ دن سے زیادہ نہ ہو جائے۔
    (۱۵) ٹکٹ ۱۰ مئی تک جاری ہو جانے چاہئیں وہ ٹکٹ مفصلہ ذیل نمونہ ہوں گے۔ (۱۶) عیسائیوں اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خان صاحب کی طرف سے یہ قواعد واجب الاطاعت اور یہ صحیح تحریر فرمائی گئی۔
    بطور شہادت میں (جن کے دستخط نیچے درج ہیں) مسٹر عبداللہ آتھم خان صاحب کی طرف سے دستخط کرتا ہوں اور مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی شرط کا توڑنا فریق توڑنے والے کی طرف سے ایک اقرار گریز خیال کیا جائے گا۔ (۱۷)تقریروں پر صاحباں صدر اور تقرر کنندگان اپنے اپنے دستخط اُن کی صحت کی ثبوت میں ثبت کریں گے۔
    دستخط ہنری کلارک ایم۔ ڈی وغیرہ امرتسر۔۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء
    مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خاں صاحب امرتسری اور مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خان صاحب امرتسری اور
    مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ٹکٹ داخلہ عیسائیوں کیلئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ٹکٹ داخلہ فریق مسلمان کیلئے
    داخل کرہ … کو نمبر (دستخط مرزا صاحب داخل کرو… کو نمبر (دستخط ڈاکٹر کلارک صاحب)
    (امرتسر ۲۴… ۱۸۹۳ء)
    مسٹر عبداللہ آتھم کے خط کا جواب
    آج اس اشتہار کے لکھنے سے ابھی میں فارغ ہوا تھا کہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کا خط بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا یہ خط اس خط کا جواب ہے جو میں نے مباحثہ مذکورہ بالا کے متعلق صاحب موصوف اور نیز ڈاکٹر کلارک صاحب کی طرف لکھا تھا سو اب اس کا بھی جواب ذیل میں بطور قولہ اور اقوال کے لکھتا ہوں۔
    قولہ: ہم اس امر کے قائل نہیں ہیں کہ تعلیمات قدیم کے لئے معجزہ جدید کی کچھ بھی ضرورت ہے اس لئے ہم معجزہ کیلئے نہ کچھ حاجت اور نہ استطاعت اپنے اندر رکھتے ہیں۔
    اقول: صاحب من میں نے معجزہ کا لفظ اپنے خط میں استعمال نہیں کیا بیشک معجزہ دکھلانا نبی اور مرسل من اللہ کا کام ہے نہ ہر یک انسان کا لیکن اس بات کو تو آپ مانتے اور جانتے ہیں کہ ہر ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور ایمانداری کے پہلوں کا ذکر جیسا کہ قرآن کریم میں ہے انجیل شریف میں بھی ہے مجھے امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے اس لئے طول کلام کی ضرورت نہیں مگر میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمانداری کے پھل دکھلانے کی بھی آپ کو استطاعت نہیں۔
    قولہ: بہرکیف اگر جناب کسی معجزہ کے دکھلانے پر آمادہ ہیں تو ہم اس کے دیکھنے سے آنکھیں بند نہ کریں گے اور جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے۔
    اقول: بیشک یہ آپ کا مقولہ انصاف پر مبنی ہے اور کسی کے منہ سے یہ کامل طور پر نکل نہیں سکتا جب تک اس کو انصاف کا خیال نہ ہو لیکن اس جگہ یہ آپ کا فقرہ کہ جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی ہم آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اُس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے تشریح طلب ہے یہ عاجز تو محض اس غرض کیلئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دارالنجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے وبس اب کیا آپ اس بات پر تیار اور مستعد ہیں کہ نشان دیکھنے کے بعد اس مذہب کو قبول کر لیں گے آپ کا فقرہ مذکورہ بلا مجھے امید دلاتا ہے کہ آپ اس سے انکار کریں گے پس اگر آپ مستعد ہیں تو چند سطریںتین اخباروں یعنی نور افشان اور منشور محمدی اور کسی آریہ کے اخبار میں چھپوا دیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو حاضر و ناصر جان کر یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس مباحثہ کے بعد جس کی تاریخ ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء قرار پائی ہے مرزا غلام احمد کی خدا تعالیٰ مدد کرے اور کوئی ایسا نشان اس کی تائید میں خدا تعالیٰ ظاہر فرماوے کہ جو اس نے قبل ازوقت بتلا دیا ہو اور جیسا کہ اُس نے بتلایا ہو وہ پورا بھی ہو جاوے تو ہم اس نشان کے دیکھنے کے بعدبلاتوقف مسلمان ہو جائیں گے اور ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس نشان کو بغیر کسی قسم کے بیہودہ نکتہ چینی کے قبول کر لیں گے اور کسی حالت میں وہ نشان نامعتبر اور قابل اعتراض نہیں سمجھا جائے گا بغیر اس صورت کے کہ ایسا ہی نشان اسی برس کے اندر ہم بھی دکھلا دیں مثلاًاگر نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ہو کہ فلاں وقت کسی خاص فرد پیر یا ایک گروہ پر فلاں حادثہ وارد ہوگا اور وہ پیشگوئی اس میعاد میں پوری ہو جائے تو بغیر اس کے کہ اس کی نظیر اپنی طرف سے پیش کریں بہرحال قبول کرنے پڑے گی اور اگر ہم نشان دیکھنے کے بعد دین اسلام اختیار نہ کریں اور نہ اس کے مقابل پر اسی برس کے اندر اس کی مانند کوئی خارق عادت نشان دکھلا سکیں تو عہد شکنی کے تاوان میں نصف جائداد اپنی امداد اسلام کیلئے اس کے حوالہ کریں گے اور اگر ہم اس دوسری شق پر بھی عمل نہ کریں اور عہد کو توڑ دیں اور اس عہد شکنی کے بعد کوئی قہری نشان ہماری نسبت مرزا غلام احمد شائع کرنا چاہئے تو ہماری طرف سے مجاز ہوگا کہ عام طور پر اخباروں کے ذریعہ سے یا اپنے رسائل مطبوعہ میں اس کو شائع کرے فقط یہ تحریر آپ کی طرف سے بقید نام مذہب و ولدیت و سکونت ہو اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت اُس پرثبت ہو تب متن اخباروں میں اس کو آپ شائع کرا دیں جب کہ آپ کا منشاء اظہار حق ہے اور یہ معیار آپ کے اور ہمارے مذہب کے موافق ہے تو اب برائے خدا اِس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں اب بہرحال وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا تعالیٰ سچے مذہب کے انوار اور برکات ظاہر کرے اور دنیا کو ایک ہی مذہب پر کر دیوے سو اگر آپ دل کے قوی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریںگے اور آپ کی راستبازی کا یہ ہمیشہ کیلئے ایک نشان رہے گا۔
    اور اگر آپ یہ فرماویں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گزریں گے اور کسی نشان کے بعد دین اسلام قبول کر لیں گے یا دوسری شرائط متذکرہ بالا بجا لائیں گے اور یہ عہد پہلے ہی سے تین اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر تم ہی جھوٹے نکلے اور کوئی نشان دکھا نہ سکے تو تمہیں کیا سزاہوگی تو میں اس کے جواب میں حسب منشاء توریت سزائے موت اپنے لئے قبول کرتا ہوں اور اگر یہ خلاف قانون ہو تو کل جائداد اپنی آپ کو دوں گا جس طرح چاہیں پہلے مجھ سے تسلی کر لیں۔
    قولہ: لیکن یہ جناب کو یاد رہے کہ معجزہ ہم اسی کو جانیں گے جو ساتھ تحدی مدعی معجزہ کے بہ ظہور آوے اور کہ مصدق کسی امر ممکن کا ہو۔
    اقول: اس سے مجھے اتفاق ہے اور تحدی اسی بات کا نام ہے کہ مثلاً ایک شخص منجاب اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے دعویٰ کی تصدیق کیلئے کوئی ایسی پیشگوئی کرے جو انسان کی طاقت سے بالاتر ہو اور پیشگوئی سچی نکلے تو وہ حسب منشاء توریت استثنا ۱۸۔۱۸۹ سچا ٹھہرے گا ہاں یہ سچ ہے کہ ایسا نشان کسی امر ممکن کا مصدق ہونا چاہئے ورنہ یہ تو جائز نہیں کہ کوئی انسان مثلاً یہ کہے کہ میں خدا ہوں اور اپنے خدائی کے ثبوت میں کوئی پیشگوئی کرے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو پھر وہ خدا مانا جاوے۔
    لیکن میں اس جگہ آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب اس عاجز نے ملہم اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو ۱۸۸۸ء میں مرزا امام الدین نے جس کو آپ خوب جانتے ہیں چشمہ نور امرتسر میں میرے مقابل پر اشتہار چھپوا کر مجھ سے نشان طلب کیا تھا تب بطور نشان نمائی ایک پیشگوئی کی گئی تھی جو نور افشاں ۱۰؍ مئی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوگئی تھی جس کا مفصل ذکر اس اخبار میں اور نیز میری کتاب آئینہ کمالات کے صفحہ ۲۷۹،۲۸۰ میں موجود ہے اور وہ پیشگوئی ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو اپنی میعاد کے اندر پوری ہوگئی سو اب بطور آزمائش آپ کے انصاف کے آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ نشان ہے یا نہیں اور اگر نشان نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے اور اگر نشان ہے اور آپ نے اس کو دیکھ بھی لیا اور نہ صرف نور افشاں ۱۰؍ مئی ۱۸۸۸ء میں بلکہ میرے اشتہار مجریہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں بقیہ میعاد یہ شائع بھی ہو چکا ہے تو آپ کا اس وقت فرض عین ہے یا نہیں کہ اس نشان سے بھی فائدہ اُٹھاویں اور اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور براہ مہربانی مجھ کو اطلاع دیں کہ کیا اصلاح کی اور کس قدر عیسائی اصول سے آپ دستبردار ہوگئے کیونکہ یہ نشان تو کچھ پرانا نہیں ابھی کل کی بات ہے کہ نور افشاں اور میرے اشتہار ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا تھا اور آپ کے یہ تمام شرائط کے موافق ہے میرے نزدیک آپ کے انصاف کا یہ ایک معیار ہے اگر آپ نے اس نشان کو مان لیا اور حسب اقرار اپنے اپنی غلطی کی بھی اصلاح کی تو مجھے پختہ یقین ہوگا کہ اب آئندہ بھی آپ اپنی بڑی اصلاح کیلئے مستعد ہیں اس نشان کا اس قدر تو آپ پر اثر ضرور ہونا چاہئے کہ کم سے کم آپ یہ اقرار اپنا شائع کر دیں کہ اگرچہ ابھی قطعی طور پر نہیں مگر ظن غالب کے طور پر دین اسلام ہی مجھے سچا معلوم ہوتا ہے کیونکہ تحدی کے طور پر اُس کی تائید کے بارہ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ پوری ہوگئی آپ جانتے ہیں کہ امام الدین دین اسلام سے منکر اور ایک دہریہ آدمی ہے اور اس نے اشتہار کے ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور اس عاجز کے ملہم ہونے کے بارے میں ایک نشان طلب کیا تھا جس کو خداتعالیٰ نے نزدیک کی راہ سے اُسی کے عزیزوں پر ڈال کر اس پر اتمام حجت کی۔ آپ اِس نشان کے رؤیا قبول کے بارے میں ضرور جواب دیں ورنہ ہمارا یہ ایک پہلا قرضہ ہے جو آپ کے ذمے رہے گا۔
    قولہ: مباہلات بھی از قسم معجزات ہی ہیں مگر ہم بروئے تعلیم انجیل کسی کے لئے *** نہیں مانگ سکتے جناب صاحب اختیار ہیں جو چاہیں مانگیں اور انتظار جواب ایک سال تک کریں۔
    اقول: صاحب من مباہلہ میں دوسرے پر *** ڈالنا ضروری نہیں بلکہ اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ مثلاً ایک عیسائی کہے کہ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ درحقیقت حضرت مسیح خدا ہیں اور قرآن خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اگر میں اس بیان میں کاذب ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر *** کرے سو یہ صورت مباہلہ انجیل کے مخالف نہیں بلکہ عین موافق ہے آپ غور سے انجیل کو پڑھیں۔
    ماسوائے اس کے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اگر آپ نشان نمائی کے مقابلہ سے عاجز ہیں تو پھر یکطرفہ اس عاجز کی طرف سے سہی مجھ کو بسروچشم منظور ہے آپ اقرار نامہ حسب نمونہ مرقومہ بالا شائع کریں اور جس وقت آپ فرماویں میں بلاتوقف امرتسر حاضر ہو جاؤں گا یہ تو مجھ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ عیسائی مذہب اسی دن سے تاریکی میں پڑا ہوا ہے جب سے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کی جگہ دی گئی اور جب کہ حضرات عیسائیوں نے ایک سچے اور کامل اور مقدس نبی افضل الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اس لئے میں یقینا جانتا ہوں کہ حضرت عیسائی صاحبوں میں سے یہ طاقت کسی میں بھی نہیں کہ اسلام کے زندہ نوروں کا مقابلہ کر سکیں میں دیکھتا ہوں کہ وہ نجات اور حیات ابدی جس کا ذکر عیسائی صاحبوں کی زبان پر ہے وہ اہل اسلام کے کامل افراد میں سورج کی طرح چمک رہی ہے اسلام میں یہ ایک زبردست خاصیت ہے کہ وہ ظلمت سے نکال کر اپنے نور میں داخل کرتا ہے جس نور کی برکت سے مومن میں کھلے کھلے آثار قبولیت پیدا ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ میسر آ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی محبت کی نشانیاں اس میں ظاہر کر دیتا ہے میں زور سے اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایمانی زندگی صرف کامل مسلمان کو ہی ملتی ہے اور یہی اسلام کی سچائی کی نشانی ہے۔
    اب آپ کے خط کا ضروری جواب ہو چکا اور یہ اشتہار ایک رسالہ کی صورت پر مرتب کر کے آپ کی خدمت میں اور نیز ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب کی خدمت میں بذریعہ رجسٹری روانہ کرتا ہوں اب میری طرف سے حجت پوری ہوچکی آئندہ آپ کو اختیار ہے۔
    راقم خاکسار
    میرزا غلام احمد
    از قادیان ضلع گورداسپور





    قبل اس کے کہ اس خط کا ترجمہ درج کیا جاوے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امریکہ کے اس مفتری الیاس کو بطور چیلنج لکھا تھا یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ناظرین کو مختصر طور پر اس شخص سے تعارف کرا دی جاوے پس یاد رہے کہ جان الگزینڈر ڈوئی سکاٹ لینڈ کا اصل باشندہ تھااور امریکہ میں پہلے پہل ۱۸۸۸ء میں پہنچا۔ سان فرانسسکو میں اُترا اس سے پہلے کچھ مدت وہ ٹسمانیہ کے جیل خانہ میں بھی رہ چکا تھا۔ ۱۸۹۲ء میں اس نے وعظ کرنا شروع کیا اور اس کے ایک الگ فرقہ کی بنیاد رکھنی شروع کی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مَیں لوگوں کو بیماریوں سے شفا دے سکتا ہوں اور اسی دعویٰ کی وجہ سے کئی زود اعتقاد اور توہم پرست لوگ اس کے ساتھ شامل ہوگئے ان لوگوں کے روپے سے وہ ایک امیر آدمی بن گیا اور ۱۹۰۰ء میں موجودہ شہر سہیون کی زمین خریدی جس کے ٹکڑے پھر اپنے ہی مریدوں کے ہاتھ ایک بڑے گراں نرخ پر بیچے اور یہ ظاہر کیا کہ عنقریب مسیح موعود اسی شہر میں نازل ہوگا۔ ۲؍ جون ۱۹۰۱ء کو اس نے یہ دعویٰ اپنا شائع کیا کہ میں الیاس ہوں جو مسیح کی آمد کیلئے لوگوں کو تیار کرنے آیا ہوں۔ اس دعویٰ سے اس کے روپے اور مریدوں میں اور بھی ترقی ہوئی روپے کی کثرت یہاں تک ہوئی کہ سال کے شروع میں وہ دس لاکھ ڈالر یعنی تیس لاکھ روپے سے بھی زیادہ روپیہ اپنے مریدوں سے نئے سال کے تحفے کے طور پر مانگا کرتا تھا اور جب سفر کرتا تو اعلیٰ درجے کے عیش و عشرت کے سامان اس کے ساتھ ہوتے۔ ۱۹۰۴ء میں اس نے یہ پیشگوئی شائع کی کہ اگر مسلمان صلیبی مذہب کو قبول نہ کریں گے تو وہ سب کے سب ہلاک کر دیئے جائیں گے اور بھی وہ ہر طرح سے اسلام کی ہتک اور توہین نہایت بیباکی سے کرتا۔ جب اس نے اسلام پر ایسے ایسے حملے کئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ مسیح موعود کے دل میں غیرت کا جوش ڈالا اور آپ نے ستمبر ۱۹۰۲ء میں اسے انگریزی میں ایک چٹھی لکھی جو اسی رسالہ ریویو آف ریلینجز کے ستمبر ۱۹۰۴ء کے پرچہ میں شائع ہوچکی ہے جس میں حضرت مسیح موعود نے اُسے مباہلہ کے لئے دعوت کی۔ خلاصہ اس ساری چٹھی کا یہ تھا کہ دونوں فریق دعا کریں کہ جو شخص ہم سے جھوٹا ہے خدا تعالیٰ اُسے سچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔ یہ ڈوئی کی اس پیشگوئی کا جواب تھا جو اس نے تمام اہل اسلام کی ہلاکت کیلئے کی تھی یہ چٹھی بڑی کثرت سے امریکہ کے اخباروں میں شائع ہوئی اور انگلستان کے بعض نے بھی شائع کیا۔ یہاں تک کثرت سے اس کی اشاعت ہوئی کہ ہمارے پاس بھی ایسی بہت سی اخباریں پہنچ گئیں جن میں اس مباہلہ کاذکر تھا۔
    یہاں چونکہ مفصل واقعات لکھنا مقصود نہیں اس لئے اسی قدر پر اکتفا کیا جتا ہے یہ شخص پیشگوئی کے موافق مر گیا۔ (ایڈیٹر)
    اصل خط کا ترجمہ
    ہر ایک کو جو حق کا طالب ہے معلوم ہو کہ یہ قدیم سے سنت اللہ ہے کہ جب زمین پر بدعقیدگی اور بداعمالی پھیل جاتی ہے اور لوگ اس سچے خدا کو چھوڑ دیتے ہیں جو آدم پر ظاہر ہوا اور پھر شیث پر اور پھر نوح پر اور ایسا ہی ابراہیم پر اور اسماعیل اور پر اسحاق پر اور یعقوب پر اور یوسف پر اور موسیٰ پر اور آخر میں جناب سیّد الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر تو ایسے زمانہ میں جب کہ شرک ناپاکی اور بدکاری اور دنیا پرستی اور غافلانہ زندگی سے زمین ناپاک ہو جاتی ہے خدا تعالیٰ کسی بندہ کو مامور کر کے اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونک کر دنیا کی اصلاح کیلئے بھیج دیتا ہے اور اس کو اپنی عقل میں سے عقل بخشتا ہے اور اپنی طاقت میں سے طاقت اور اپنے علم میں سے علم عطا کرتا ہے اورخدا کی طرف سے ہونے کا اس میں یہ نشان ہوتا ہے کہ دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر معارف حقائق کی رو سے کوئی شخص اس کے مقابل پر آوے تو وہی حقائق اور معارف میں غالب آتا ہے اور اگر اعجازی نشانوں کو مقابلہ ہو تو غلبہ اُسی کو ہوتا ہے اور اگر کوئی اس طور سے اس کے ساتھ بالمقابل یا بطور خود مباہلہ کرے کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹاہے وہ پہلے مر جائے تو ضرور اس کا دشمن پہلے مرتا ہے۔ اب اس زمانہ میں جب خدا نے دیکھا کہ زمین بگڑ گئی اور کروڑ ہا مخلوقات نے شرک کی راہ اختیار کر لی اور چالیس کروڑ سے بھی زیادہ لوگ دنیا میںپیدا ہوگئے کہ ایک عاجز انسان مریم کے بیٹے کو خدا بنا رہے ہیں اور ساتھ ہی شراب خواری اور بیقدری اور دنیا پرستی اور غافلانہ زندگی انتہا کو پہنچ گئی تو خداتعالیٰ نے مجھے اس کام کیلئے مامور کیا کہ تا میں ان خرابیوں کی اصلاح کروں سو اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے اور بدعقیدگی اور بداعمالی سے توبہ کر چکا ہے اور ڈیڑھ سَو سے زیادہ نشان ظاہر ہوچکا ہے جس کے اس مُلک میں کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور میں بھیجا گیا ہوں تا کہ زمین پر دوبارہ توحید کو قائم کروں اور انسان پرستی یا سنگ پرستی سے لوگوں کو نجات دے کر خدائے واحد لاشرک کی طرف ان کو رجوع دلاؤں اور اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف ان کو توجہ دوں چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں میں ایک تحریک پیدا ہو گئی ہے اور ہزار ہالوگ میرے ہاتھ پر توبہ کرتے جاتے ہیں اور آسمان سے ہوا بھی ایسی چل رہی ہے کہ اب توحید کے موافق طبیعتیں ہوتی جاتی ہیں اور صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ انسان پرستی کو دنیا سے معدوم کر دے اس ارادہ کے پورا کرنے کیلئے صد ہا اسبات پیدا کئے گئے ہیں۔ افسوس کہ مخلوق پرست لوگ جن سے مراد میری اس جگہ وہ عیسائی ہیں جو مریم کے صاحبزادہ کو خدا جانتے ہیں ابھی اپنے مشرکانہ مذہب کی اس ترقی پر خوش نہیں ہوئے جو اَب تک ہوگئی ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام دنیا حقیقی خدا کو چھوڑ کر اس ضعیف اور عاجز انسان کو خدا کر کے مانے جس کو ذلیل یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر کھینچا تھا اس خواہش کا بجز اس کے اور کوئی سبب نہیں کہ مخلوق پرستی کی عادت نہایت بدعادت ہے جس میں گرفتار ہو کر پھر انسان دیکھتا ہوا اندھا ہو جاتاہے مگر پادریوں کی اس قدر دلیری بہت ہی قابل تعجب ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ زمین پر ایک ایسا شخص رہے کہ وہ اس اصلی خدا کو ماننے والا ہو جو ابن مریم اور اس کی ماں کے پیدا ہونے سے بھی پہلے ہی موجود تھا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کل دنیا اور کل نوع انسان جو آسمان کے نیچے ہے ابن مریم کو ہی خدا سمجھ لے اور اسی کو اپنا معبود اور خالق اور خداوند اور منجی مان لے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے ارادوں کے مقابل پر خدائے ذوالجلال… بہت صبر کیا ہے اس کی عزت عاجز بندہ کو دے دی گئی ہے اس کے جلال کو خاک میں ملایا گیا مگر اُس نے اَب تک صبر کیا کیونکہ جیسا کہ وہ غیور ہے ویسا ہی وہ صابر بھی ہے ان ظالم مخلوق پرستوں نے تمام خدائی صفات یسوع ابن مریم کو دیئے۔ اب ان کی نظر میں جو کچھ ہے یسوع ہے اس کے سوا کوئی نہیں اب سچے خدا کی مثال یہ ہے کہ ایک امیر نے اپنے عزیزوں کیلئے ایک نہایت عمدہ گھر بنایا اور اس کے ایک حصہ میں ایک بستان سرائے تیار کیا جس میں طرح طرح کے پھول اور پھل اور سایہ دار درخت تھے اور اس گھر کے ایک حصہ میں اپنے ان عزیزوں کو رکھا اور ایک حصہ میں اپنا مال و حشمت اور قیمتی اسباب مقفل کیا اور ایک حصہ بطور سرائے کے مسافروں کیلئے چھوڑا لیکن جب مالک چند روز کیلئے سیر کو گیا تو ایک شوخ دیدہ اجنبی نے اس کے اس گھر پر جو بطور سرائے کے تھا دخل اور تصرف کر لیااور تمام گھر بجز چند حجروں کے جس میں اس مالک کے عزیز تھے یا جن میں اس مالک کا قیمتی اسباب مقفل تھا خود بخود استعمال میں لانے لگا اور اس سرائے کو اپنا گھر بنا لیا اور پھر پر کفایت نہ کی بلکہ اس گھر سے اس مالک کے عزیزوں کو نکال دیا اور مقفل مکانوں کے قفل توڑ دیئے اور تمام اسباب پر اپنا قبضہ کر لیا اب مالک جو صرف اس گھر کا مالک نہیں ہے بلکہ اس مُلک کا بادشاہ بھی ہے جب اس شہرمیں آئے گا اور اس ظلم اور شوخی کو دیکھے گا تو کیا کرے گا۔ اس کا یہی حواب ہے کہ جو کچھ مقتضا اس کی سلطنت اور غیرت اور جبروت کا ہے سب کچھ عمل میں لائے گا اور اس گھر کو اس ظالم سے خالی کرا کر پھر اپنے مظلوم عزیزوں کو اس میں داخل کرے گا اور وہ تمام مال جو غصب کیا گیا ان کو دے گا اور وہ مسافر خانہ بھی انہیں عطا کردے گا تا آئندہ ان کے مرضی کے برخلاف کوئی اس میں زیادہ ٹھہر نہ سکے اسی طرح اب وہ زمانہ گیا کہ تمام مذہبی جھگڑوں کا فیصلہ کر دیوے۔ انسانوں میں بہت سی لڑائیاں ہوئیں بہت سے جنگ ہوئے لیکن ان کے جنگوں یا جہادوں سے یہ فیصلہ نہ ہو سکا آخر ان کی تلواریں ٹوٹ کر رہ گئیں اس سے انسانوں کو یہ سبق ملا کہ مذہبی جھگڑوں کا تلوار سے فیصلہ نہیں کر سکتی لیکن ہم جانتے ہیں کہ اب آسمانی فیصلہ نزدیک ہے کیونکہ خدائے غیور کی زمین پر نہایت تحقیر ہو رہی ہے ہر ایک عیسائی مشنری یہ جوش اپنے دل میں رکھتا ہے کہ وہ خدا جس کی نسبت توریت میں اب تک صحیح تعلیم موجود ہے اس کو بالکل معطل کر کے ایک ابن مریم کو اس کا تخت دیا جائے اور دنیا میں ایک بھی اس خدا کانام لیوا نہ ہو اور ہر ایک قوم کے منہ سے اور ہر ایک ملک سے یہی آواز نکلے کہ یسوع مسیح خدا اور ربّ العالمین اور خداوندوں کا خداوند ہے اور یہ صرف آرزو نہیں بلکہ یسوع کو خدا بنانے کیلئے جس قدر روپیہ صرف کیا گیا ہے جس قدر کتابیں لکھی گئیں جس قدر ہر ایک تدبیر کی گئی دنیا کی ابتدا سے آج تک اس کی نظیر موجود نہیں اور افسوس کہ ایک مدت سے مسلمانوں کی یہ عادت ہے کہ معقول اور سیدھے طور پر اس مذہب کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اگر خاص مجمعوں میں کبھی یہ ذکر آتا ہے تو بڑا ذریعہ اپنی ترقی کا جہاد کو ٹھہراتے ہیں اور ایسے زمانہ کے منتظر ہیں کہ گویا اس وقت ان کا کوئی مہدی اور مسیح تلوار سے تمام قوموں کو نابود کر دے گا گویا وہ اعتراض جو نادانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر کیا تھا اس کا جواب بھی آخر کار تلوار ہی ہوگا۔ میری دانست میں یہی سبب مسلمانوں کے تنزل کا ہے کہ انسانی رحم کی قوت ان کے دلوں سے بہت گھٹ گئی ہے میں ہر ایک مسلمان کو ایسا نہیں سمجھتا لیکن میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کروڑہا انسان ابھی ان میں ایسے موجود ہیں کہ بنی نوع کے خون کے پیاسے ہیں مجھے تعجب ہے کہ کیا وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو کوئی قتل کر دے اور ان کے یتیم بچے اور ان کی بیوہ عورتیں بیکسی کی حالت میں رہ جائیں پھر وہ دوسروں کی نسبت ایسا کرنا کیوں روا رکھتے ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ مرض مسلمانوں کے لاحق حال نہ ہوتی تو وہ تمام یورپ کے دلوں کو فتح کر لیتے ہر ایک پاک کانشنس گواہی دے سکتا ہے کہ عیسائی مذہب کچھ بھی چیز نہیں انسان کو خدا بنا دینا کسی عقلمند کا کام نہیں یسوع مسیح میں اور انسانوں کی نسبت ایک ذرّہ خصوصیت نہیں بلکہ بعض انسان اس سے بہت بڑھ کر گزرے ہیں اور اب بھی یہ عاجز اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ تا خدائے قادر لوگوں کو دکھلاوے اور اس کا فضل اس عاجز پر اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور پھر یہ غلطیاں کہ گویا یسوع مسیح اب تک زندہ ہے اور گویا وہ آسمان پر ہے اور گویا وہ سچ مُچ مردے زندہ کیا کرتا تھا اور اس کے مرنے پر یروشلم کے تمام مردے جو آدم کے وقت سے لے کر مسیح کے وقت تک مر چکے تھے زندہ ہو کر شہر میں آ گئے تھے۔ یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں جیسا کہ ہندوؤں کے پورانوں میں ہیں اور سچ صرف اس قدر ہے کہ اس نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے اور جیسا کہ اب خدا تعالیٰ اب اس عاجز کے ہاتھ سے دکھلا رہا ہے مگر سچ کے کام تھوڑے تھے اور جھوٹ ان میں بہت ملایا گیا۔ کس قدر قابل شرم جھوٹ ہے کہ وہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گیا مگر اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وہ صلیب پر مرا نہیں واقعات صاف گواہی دیتے ہیں کہ مرنے کی کوئی بھی صورت نہیں تھی تین گھنٹہ کے اندر صلیب پر سے اُتارا گیا شدت درد سے بیہوش ہو گیا خدا کو منظور تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے۔ اس سلئے اس وقت بباعث کسوف خسوف سخت اندھیرا ہو گیا یہودی ڈر کر اس کو چھوڑ گئے اور یوسف نام ایک پوشیدہ مرید کے وہ حوالہ کیا گیا اور وہ تین روز ایک کوٹھ میں جو قبر کے نام سے مشہور کیا گیا رکھ کر آخر افاقہ ہونے پر ملک سے نکل گیا اور نہایت مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ پھر وہ سیر کرتا ہوا کشمیر میں آیا باقی حصہ عمر کا کشمیر میں بسر کیا۔ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے افسوس خواہ نخواہ افترا کے طور پر آسمان پر چڑھایا گیا اور آخر قبر کشمیر میں ثابت ہوئی اس بات کے ایک دو گواہ نہیں بلکہ بیس ہزار سے زیادہ گواہ ہیں۔
    اس قبر کے بارے میں ہم نے بڑی تحقیق سے ایک کتاب لکھی ہے جو عنقریب شائع کی جائے گی مجھے اس قوم کے مشنریوں پر بڑا ہی افسوس آتا ہے جنہوں نے فلسفہ طبعی ہیئت سب پڑھ کر ڈبو دیا ہے اور خواہ نخواہ ایک عاجز انسان کو پیش کرتے ہیں کہ اس کو خدا مان لو۔ نانچہ حال میں ملک امریکہ میں یسوع مسیح کا ایک رسول پیدا ہوا ہے جس کا نام ڈوئی ہے اس کا دعویٰ ہے کہ یسوع مسیح نے بحیثیت خدائی دنیا میں اس کو بھیجا ہے تا سب کو اس بات کی طرف کھینچے کہ بجز مسیح کے اور کوئی خدا نہیں مگر یہ کیسا خدا ہے کہ یہودیوں کے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا ایک دعا باز شاگرد نے اس کو پکڑوا دیا اس کا کچھ بندوبست نہ کر سکا انجیر کے درخت کی طرف دوڑا گیا اور یہ خبر نہ ہوئی کہ اس پر پھل نہیں اور جب قیامت کے بارے میں اس سے پوچھا گیا کہ کب آئے گی تو بے خبری ظاہر کی اور لنعت جس کے یہ معنی ہیں کہ دل ناپاک ہو جائے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا سے اس کی رحمت سے دور جاپڑے وہ اس پر پڑی اور پھر وہ آسمان کی طرف اس لئے چڑھا کہ باپ اس سے بہت دور تھا کروڑ ہا کوس سے بھی زیادہ دور تھا اور یہ دوری کسی طرح دور نہیں ہو سکتی تھی جب تک وہ مع جسم آسمان پر نہ چڑھتا۔ دیکھو کس قدر کلام کا تناقض ہے ایک طرف تو یہ کہتا ہے کہ میں اور باپ ایک ہیں اور ایک طرف کروڑ ہا کوس کا سفر کر کے اس کے ملنے کو جاتا ہے جب کہ باپ اور بیٹا ایک تھے تو اس قدر مشقت سفر کی کیوں اُٹھائی جہاں ہوتا وہیں باپ بھی تھا دونو ایک جو ہوئے اور پھر وہ کس کے دہنے ہاتھ بیٹھا۔
    اب ہم ڈوئی کو مخاطب کرتے ہیں جو یسوع مسیح کو خدا بناتا اور اپنے تئیں اس کا رسول قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ توریت استثنا ۱۸ باب آیت پندرہ کی پیشگوئی میرے حق میں ہے اور میں ہی ایلیا اور میں ہی عہد نامہ کا رسول ہیں، نہیں جانتا کہ یہ مصنوعی خدا اس کا موسیٰ کے کبھی خواب خیال میں بھی نہیں تھا۔ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو یہی بار بار کہا کہ … کسی مجسم چیز انسان یا حیوان کو خدا قرار نہ دینا آسمان پر سے نہ زمین سے۔ خدا نے تم سے باتیں کیں مگر تم نے اس کی کوئی صورت نہیں دیکھی تمہارا خدا صورت اور مجسم سے پاک ہے مگر اب ڈوئی موسیٰ کے خدا سے برگشتہ ہو کر وہ خدا پیش کرتا ہے جس کے چار بھائی اور ایک ماں ہے اور بار بار اپنے اخبار میں لکھتا ہے کہ اس کے خدا یسوع مسیح نے اس کو خبر دی ہے کہ تما مسلمان تباہ اور ہلاک ہو جائیں گے اور دنیا میں کوئی زندہ نہیں رہے گا بجز ان لوگوں کے جو مریم کے بیٹے کو خدا سمجھ لیں اور ڈوئی کو اس مصنوعی خدا کا رسول قرار دیں۔ ہم ڈوئی کو ایک پیغام دیتے ہیں کہ اس کو تمام مسلمانوں کے مارنے کی کیا ضرورت ہے غریب مریم کے عاجز بیٹے کو خدا کیونکر مان لیں بالخصوص اس زمانہ میں جب کہ ڈوئی کے خدا کی قبر بھی اس مُلک میں موجود ہے اور ان میں وہ مسیح موعود بھی موجود ہے جو چھٹے ہزار کے اخیر اور ساتویں ہزار کے سر پر ظاہر ہوا جس کے ساتھ بہت سے نشان ظہور میں آئے اور ڈوئی کا یہ الہام کہ تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور وہی لوگ باقی رہیں گے جو یسوع مسیح کو خدا مانیںگے اور ساتھ ہی ڈوئی کو بھی خدا کا رسول مان لیں گے اس الہام کے رو سے تو باقی عیسائیوں کو بھی خبر نہیں کیونکہ گو وہ مریم کے صاحبزادہ کو خدا مانتے ہیں مگر یہ جھوٹا رسول جو ڈوئی ہے اب تک انہوں نے تسلیم نہیں کیا اور ڈوئی نے صاف طور پر یہ الہام شائع کر دیا ہے کہ صرف یسوع مسیح کو خدا ماننا کافی نہیں جب تک ڈوئی کو بھی ساتھ ہی نہ مان لیں اور چاہئے کہ صاف اقرار کرے کہ ڈوئی ایلیا اور ڈوئی کا عہد نامہ رسول اور ڈوئی کے حق میں ہی وہ پیشگوئی ہے جو توریت استثنا باب ۱۸ آیت پندرہ میں ہے تب بچیں گے ورنہ ہلاک ہو جائیں گے۔ غرض ڈوئی بار بار لکھتا ہے کہ عنقریب یہ سب لوگ ہلاک ہو جائیں گے بجز اس گروہ کے جو یسوع کی خدائی مانتا ہے اور ڈوئی کی رسالت اس صورت میں یورپ اور امریکہ کے تمام عیسائیوں کو چاہئے کہ بہت جلد ڈوئی کو مان لیں تاہلاک نہ ہو جائیں اور جب کہ انہوں نے ایک نامعقول امر کو مان لیا ہے یعنی یسوع مسیح کی خدائی کو چلو یہ دوسرا نامعقول امر بھی مان لو کہ اس خدا کا ڈوئی رسول ہے۔
    رہے مسلمان سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑہا مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کاخدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سناویں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی جانتا ہوں اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے چاہئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعا کروں گا کہ انشاء اللہ ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں کیلئے حق کی شناخت کیلئے ایک راہ نکل آئے گی میں نے ایسی دعا کے لئے سبقت نہیں کی بلکہ ڈوئی نے اس کی سبقت دیکھ کر غیور خدا نے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا اور یاد رہے کہ میں اس مُلک میں معمولی انسان نہیں ہوں میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا ڈوئی انتظار کر رہا ہے صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے مسیح موعود پچیس برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا اور میں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیداہو گیا اور وہ میں ہی ہوں صدہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لئے ظاہر ہوچکے ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے ڈوئی بیہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھتا ہے کہ میں ہے نے ہزار ہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا جو بچہ ہی … کر مر گئی اور ڈاکٹر اس کی بیماری پر بلایا گیا مگر وہ گزر گئی یا درہے کہ اس مُلک کے صدہا عام لوگ اس قسم کے عمل کرتے ہیں اور سلب امراض میں بہتوں کو مشق ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا پھر امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے کیا ان کے لئے مسیح کو ناحق خدا بنانے کا بوجھ کافی نہ تھا کہ یہ دوسرا بوجھ بھی انہوں نے اپنے گلے ڈال لیا گر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا کیا حاجت ہے کہ تمام مُلکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے لیکن اگر اس نے اس نوٹس کا جواب نہ دیا اور یا پنے لاف و گزاف کے مطابق دعا کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اُٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہوگا مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندہ کے پھاڑنے سے ہو اور ہم اس جواب کیلئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔ آمین
    یاد رہے کہ صادق اور کاذب میں فیصلہ کرنے کیلئے ایسے امور ہرگز … نہیں ٹھہر سکتے جو دنیا کی قوموں میں مشترک ہیں کیونکہ کم و بیش ہر ایک قوم میں وہ پائے جاتے ہیں انہیںامور میں سے طریق سلب امراض بھی ہے یہ طریق نامعلوم وقت سے ہر ایک قوم میں رائج ہے ہندو بھی ایسے کرتب کیا کرتے ہیں اور یہودیوں میں بھی یہ طریق چلے آتے ہیں اور مسلمانوں میں بھی بہت سے لوگ سلب امراض کے مدعی ہیں اور بیج بات یہ ہے کہ اس طریق کو حق اور باطل کے فیصلہ کرنے کیلئے کوئی دخل نہیں کیونکہ اہل حق اور اہل باطل دونوں اس میں دخل پیدا کر سکتے ہیں چنانچہ انجیلوں سے بھی ثابت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ اس طریق توجہ سے بعض امراض کو اچھا کرتے تھے تو ان کی زندگی میں ہی ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ ان کے مرید اور حواری نہ تھے مگر اسی طرح امراض کو اچھا کر لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کر لیتے تھے اور اس وقت ایک تالاب بھی ایسا تھا جس میں غوطہ لگا کر اکثر امراض اچھی ہو جاتی تھیں تو یہ مشق توجہ اور سلب امراض کی جو عام طور پر قوموں کے اندر پائی جاتی ہے یہ سچے مذہب کیلئے کامل شہادت نہیں ٹھہر سکتی ہاں اس صورت میں کامل شہادت ٹھہر سکتی ہے کہ وہ فریق جو اپنے اپنے مذہب کی سچائی کے مدعی ہیں وہ چند بیمار مثلاً بیس بیمار قرعہ اندازی سے باہم تقسیم کر لیں اور پھر ان دونوں میں سے جس کے بیمار فریق مقابل سے بہت زیادہ اچھے ہو جائیں اس کو حق پر سمجھا جائے گا چنانچہ گزشتہ دنوں میں ایسا ہی میں نے اس ملک میں اشتہار دیا تھا مگر کسی نے اس کا مقابلہ نہ کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ڈوئی یا اور کوئی ڈوئی کا ہم جنس اس مقابلہ کیلئے میرے مقابل آئے تو میرا خدا اس کو سخت ذلیل کرے گا کیونکہ وہ جھوٹا ہے اور اس کا خدا بھی محض باطل کا پتلا ہے لیکن افسوس کہ اس قدر دوری میں یہ مقابلہ میسر نہیں آ سکتا مگر خوشی کی بات ہے کہ ڈوئی نے خود یہ طریق فیصلہ پیش کیا ہے کہ مسلمان جھوٹے ہیں اور ہلاک ہو جائیں گے اس طریق فیصلہ میں ہم اس قدر ترمیم کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں اس طرح پر تو ڈوئی کے ہاتھ میںمکار لوگوں کی طرح یہ عذر باقی رہ جائے گا کہ مسلمان ہلاک نہ ہوںگے مگر پچاس یا ساٹھ یا سَو برس کے بعد اتنے میں ڈوئی خود مر جائے گا تو کوئی اس کی قبر پر جا کر اس کو ملزم کرے گا کہ تیری پیشگوئی جھوٹی نکلی پس اگر ڈوئی کی سیدھی نیت ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ سبق درحقیقت مریم کے صاحبزادہ ہی نے اس کو دیا ہے جو اس کے نزدیک خدا ہے تو یہ ٹھگوں والا طریق اس کو اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ طریق یہ ہے کہ وہ اپنے مصنوعی خدا سے اجازت لے کر میرے ساتھ اس معاملہ میں مقابلہ کرے میں ایک آدمی ہوں جو پیرانہ سالی تک پہنچ چکا ہوں میری عمر غالباً چھیاسٹھ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے اور ذیابیطس اور اسہال کی بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں اور دوران سر اور کمی دوران خون کی بیماری بدن کے اوپر کے حصہ میں ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری زندگی میری صحت سے نہیں بلکہ میرے خدا کے حکم سے ہے پس اگر ڈوئی کا مصنوعی خدا کچھ طاقت رکھتا ہے تو ضرور میرے مقابل اس کو اجازت دے گا اگر تمام مسلمانوں کے ہلاک کرنے کے عوض میں صرف میرے ہلاک کرنے سے ہی کام ہو جائے تو ڈوئی کے ہاتھ میں ایک بڑا نشان آ جائے گا پھر لاکھوں انسان مریم کے بیٹے کو خدا مان لیں گے اور نیز ڈوئی کی رسالت کو بھی اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں کے خدا کی نسبت ترازو کے ایک پلہ میں رکھی جائے اور دوسرے پلہ میں میری نفرت رکھی جائے تو میری نفرت اور بیزاری عیسائیوں کے بناوٹی خدا کی نسبت تمام مسلمانوں کی نفرت سے وزن میں زیادہ نکلے گی۔
    میں سب پرندوں سے زیادہ کبوتر کا کھانا پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ عیسائیوں کا خدا ہے معلوم نہیں ڈوئی کی اس میں کیا رائے ہے کیا وہ بھی اس کی نرم نرم ہڈیا دانتوں کے نیچے چباتے ہیں یا خدائی کی مشابہت کی وجہ سے اس پر کچھ رحم کرتے اور اس کی حرمت کے قائل ہیں اس ملک کے ہندوؤں نے جب سے گائے کو پرمیشر کا اوتار مانا ہے تب سے وہ گائے کو ہرگز نہیں کھاتے ہیں پس وہ ان عیسائیوں سے اچھے رہے جنہوں نے اس کبوتر کی کچھ عظمت نہ کی جس کی شبیہہ میں ان کا وہ خدا ظاہر ہو جس نے مسیح کو آسمان سے آواز دی کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے پس اس رشتہ کے لحاظ سے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کبوتر مسیح کا باپ ہوا گویا خداک ا باپ ٹھہرا مگرتب بھی عیسائیوں نے اس کے کھانے سے پرہیز نہیں کیا حالانکہ وہ اس لائق تھا کہ اس کو خداوند خدا کہا جائے۔ خدا نے جب کہ توریت میںیہ کہا کہ آدم کو میں نے اپنی صورت میں پیدا کیا تبھی سے انسان کا گوشت انسانوں پر حرام کیا گیا پھر کیا وجہ اور کیا سبب کہ کبوتر جو عیسائیوں کے خدا کا باپ ہے جس نے مسیح کو بیٹے کا خطاب دیا وہ کھایا جاتا ہے اور نہ صرف کھایا جاتا بلکہ اس کے گوشت کی تعریف بھی کی جاتی ہے جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا صفحہ۸۵ جلد ۱۹ میں لکھاہے کہ کبوتر کا گوشت تمام پرندوں سے زیادہ لذیز ہوتا ہے جن لوگوں کو کبوتر کی قسم فروٹ پجن کھانے کا اتفاق خوش قسمتی سے ہوا ہے انہوں نے یہ شہادت دی ہے کہ اور یہود کی شریعت کے مطابق جس کو بکرا ذبح کرنے کی توفیق نہ ہو وہ کبوتر ذبج کرے (لوقا ۲۴: ۲) اور مریم نے بھی وہ کبوتر ذبح کئے تھے کیونکہ وہ غریب تھی۔ (لوقا۲۴:۲) اب دیکھو ایک طرف تو کبوتر کو خدا بنایا اور ایک طرف کبوتر پر ہمیشہ چھری پھیر دی جاتی ہے۔ مسیح تو صرف ایک دفعہ صلیب پر چڑھ کر تمام عیسائیوں کا شفیع بن گیا مگر بیچارہ کبوتر کو اس شفاعت سے کچھ حصہ نہ ملا جس کی بوٹی بوٹی ہمیشہ دانتوں کے نیچے پیسی جاتی ہے چنانچہ ہم نے بھی کل ایک سفید کبوتر کھایا تھا لہٰذا روح القدس کی تائید سے یہ تحریک پیدا ہوئی اور انسائیکلوپیڈیا میں جو پانسو قسم کبوتر کی لکھی ہے یہ بھی میری رائے میں ناقص ہے کیونکہ اس میں اس کبوتر شامل نہیں کیا گیا جس کی شبیہہ میں عیسائیوں کاخدا ظاہر ہوا تھا اس لئے اس بیان کی یوں صحیح کرنی چاہئے کہ کبوتر کی اقسام ۵۰۱ ہیں اور اس کی تصریح کر دینی چاہئے کہ یہ ایک نئی قسم وہ داخل کی گئی ہے جس میں خدا مسیح پر نازل ہوا تھا۔
    میں ایسے شخص کا سخت دشمن ہوں کہ جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پھر خیال کرے کہ میں خدا ہوں گو میں مسیح ابن مریم کو اس تہمت سے پاک قرار دیتا ہوں کہ اُس نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا تا ہم میں دعویٰ کرنے والے کو تمام گنہگاروں سے بدتر سمجھتا ہوں میں جانتا ہوں اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم اس تہمت سے بری اور راستباز ہے اور اس نے کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی لیکن ہر ایک دفعہ اپنی عاجزی اور عبودیت ظاہر کی ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم کشف میں جو گویا بیداری کا عالم تھا ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا اور اس نے اپنی فروتنی اور محبت سے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میں نے بھی محسوس کیا کہ وہ میرا بھائی ہے تب سے میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں سو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کے موافق میرا یہی عقیدہ ہے کہ وہ میرا بھائی ہے گو مجھے حکمت اور مصلحت الٰہی نے اس کی نسبت زیادہ کام سپرد کیا ہے اور اس کی نسبت زیادہ فضل و کرم کے وعدے دئے ہیں مگر پھربھی میں اور وہ روحانیت کے رو سے ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں اسی بنا پر میرا آنا اسی کا آنا ہے جو مجھ سے انکار کرتا ہے وہ اس سے بھی انکار کرتا ہے اس نے مجھے دیکھا اور خوش ہوا پس وہ جو مجھے دیکھتا اور ناخوش ہوتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے نہ مجھ میں سے اور نہ مسیح ابن مریم میں سے۔ اور مسیح ابن مریم مجھ میں سے ہے اور میں خدا سے ہوں مبارک وہ جو مجھے پہچانتا ہے اور بدقسمت وہ جس کی آنکھوں سے میں پوشیدہ ہوں۔
    خاکسار
    مرزا غلام احمد قادیانی

    ڈوئی کے نام دوسرا کھلا خط
    ڈوئی نے اس خط کا جب کچھ جواب نہ دیا تو حضرت مسیح موعود نے ایک اَور خط عام اعلان کے طور پر شائع کیا۔ جو یہ ہے ( ایڈیٹر)
    زمین جب گناہ اور شرک سے آلودہ ہو جاتی ہے اور اس حقیقت سے بے خبر ہو جاتی ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل غرض ہے تب خدائی رحمت تقاضا کرتی ہے کہ ایک کامل الفطرت انسان کو اپنی ذات سے پاک تعلق بخش کر اور اپنے مکالمہ سے اُس کو مشرف کر کے اور اپنی محبت میں اُس کو انتہا تک پہنچا کر اُس کے ذریعہ سے دوبارہ زمین کو پاک و صاف کرے۔ انسان خدا تو نہیں ہو سکتا مگر بڑے بڑے تعلقات اس سے پیدا کر لیتا ہے جب وہ بالکل خدا کیلئے ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں صاف کرتا ایک مصفّہ آئینہ کی طرح بن جاتا ہے تب اس آئینہ میں عکسی طور پر خدا کاچہرہ نمودار ہوتا ہے اُس صورت میں وہ بشریٰ اور خدائی صفات میں ایک مشترک چیز بن جاتا ہے اور کبھی اس سے صفات الٰہیہ صادر ہوتی ہیں کیونکہ اس کے آئینہ وجود میں خدا کا چہرہ منعکس ہے اور کبھی اُس سے بشریٰ صفات صادر ہوتی ہیں کیونکہ وہ بشر ہے اور ایسے انسانوں کو دیکھنے والے کبھی دھوکا کھا کر اور صرف ایک پہلو کا کرشمہ دیکھ کر ان کو خدا سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا میں مخلوق پرستی اسی وجہ سے آتی ہے اور صدہا انسان اسی دھوکا سے خدا بنائے گئے ہیں مگرہمارے اس زمانہ میں جس قدر عیسائیوں کا وہ فرقہ جو حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے اس دھوکا میں مبتلا ہے اس قدر کوئی اور قوم مبتلا نہیں مسیح سے صدہا برس پہلے جو لوگ خدا بنائے گئے تھے جیسے راجہ رامچندر، راجہ کرشن، گوتم بدھ ہمارے اس زمانہ میں ان کے پیرو متنبہ ہو جاتے ہیں کہ یہ ان کی غلطیاں تھیں مگر افسوس حضرت مسیح کے پیرو اب تک اس زمانہ میں بھی خواہ نخواہ خدائی کا خطاب ان کو دے رہے ہیں اگر اس خیال کا بطلان ایسا بدیہی تھا کہ کسی دلیل کی ضرورت نہ تھی مگر افسوس کہ عیسائی ابھی تک اُس زمانہ کی ہوا سے بھی دور بیٹھے ہیں بلکہ بعض لوگوں نے جب دیکھا کہ ایسے لغو خیالات کا زمانہ ہی دن بدن مخالف ہوتا جاتا ہے تو انہوں نے اپنی معمولی طریقوں سے مایوس ہو کر یہ ایک نیا طریق اختیار کیا کہ کوئی ان میں سے الیاس بن گیا اور کسی نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں اور میں ہی خدا ہوں۔ اس مجمل فقرہ سے مراد میری یہ ہے کہ لنڈن میں تو مسٹر پگٹ نے خدائی اور مسیحیت کا دعویٰ کیا اور امریکہ میں مسٹر ڈوئی الیاس بن بیٹھے اور پیشگوئی کر دی کہ مسیح ابن مریم پچیس برس تک دنیا میں آجائے گا۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ڈوئی نے تو بزدلی دکھلائی اور الیاس بننے میں بھی اپنی پردہ دری سے ڈرتا رہا اور مسیح نہ بنا بلکہ مسیح کا خادم بنا اور پگٹ نے بڑی ہمت دکھلائی کہ خود مسیح بن گیا نہ صرف مسیح بلکہ خداہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اب لنڈن والوں کو کسی بیماری، آفت، مصیبت کا کیا اندیشہ ہے جن کے شہر میں خدا اُترا ہوا ہے مگر میں نے سنا ہے کہ لنڈن میں کچھ یہودی بھی رہتے ہیں اس لئے بے شک یہ اندیشہ ہے کہ ان کو طبعاً یہ خیال پیدا ہو کہ یہ تو وہی مسیح ہے جو صلیب سے بوجہ غشی کے غلطی کے ساتھ زندہ اُتارا گیا اور پھر موقع پا کر مشرقی بلاد کی طرف بھاگ گیا۔ آخر اب ایسے طور سے اس کو صلیب دیں کہ کام تمام ہو جائے اور پھر کسی طرف بھاگ نہ سکے اور ساتھ ہی یہ فکر بھی ہے کہ مبادا عیسائیوں کو بھی خیال آ جاوے کہ پہلا کفّارہ پُرانا اور بودہ ہو چکا ہے اور شراب خوری اور فسق و فجور کی کثرت سے ثابت بھی کر دیا ہے کہ اس کفّارہ کی تاثیر جاتی رہی ہے اس لئے اب ایک نئے خون کی ضرورت ہے۔ سو میں ہمدردی سے کہت