1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ملفوظات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 5

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ملفوظات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 5

    تقریر حضرت اقدس علیہ السلام
    ۱۸؍جنوری ۱۸۹۸؁ء
    تقدیر
    تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک کا نام معلّق ہے اور دُوسری کومُبْرم کہتے ہیں۔ اگر کوئی تقدیر معلق ہوتو دُعا اورصدقات اُس کو ٹلادیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُس تقدیر کو بدل دیتا ہے۔ مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔ وُہ اس دعا اور صدقات کا اثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرائے میں اُس کو پہنچادیتا ہے۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقّف اور تاخیرڈال ڈال دیتا ہے۔
    قضائے معلق اور مُبرم کا ماخذ اور پتہ قرآن کریم سے ملتا ہے۔ یہ الفاظ گو نہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں فرمایا ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُم۔ (المومن:۶۱) دُعا مانگو۔ مَیں قبول کروں گا۔ اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دُعا قبول ہوسکتی ہے۔ اور دُعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزار ہا کیا کل کام دعا سے نکلتے ہیں۔ یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کل چیزوں پر قادر انہ تصرف ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ اس کے پوشیدہ تصرفات کی لوگوں کو خواہ خبرہو یا نہ ہو، مگر صدہاتجربہ کاروں کے وسیع تجربے اور ہزار ہا دردمندوں کی دُعا کے صریح نتیجے بتلارہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اور مخفی تصرف ہے۔ وہ جو چاہتا ہے،محوکرتا ہے اور جو چاہتا ہے اثبات کرتا ہے۔ ہمارے لئے یہ امر جرور نہیں کہ ہم اس کہ تہہ تک پہنچنے اور اس کی کنہ اور کیفیت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شے ہونے والی ہے۔ اس لئے ہم کوجھگڑے اور مباحثے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ خداتعالیٰ نے انسان کی قضاوقدرکومشروع کررکھا ہے جو توبہ، خشوع ،خضوع سے ٹل سکتی ہے۔ جب کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت انسان کو پہنچتی ہے، تو وہ فطرتاً اور طبعاً اعمالِ حسنہ کی طرف رُجوع کرتا ہے۔ اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتا ہے جو اسے بیدار کرتا ہے اور نیکیوں کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے اور گناہ سے ہٹاتا ہے۔ جس طرح پرہم ادویات کے اثر کو تجربے کے ذریعہ سے پالیتے ہیں، اسی طرح پر ایک مُضطربُ الحال انسان جب خداتعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور رَبِّی رَبِّی کہہ کر اس کو پکارتا ہے اور دعامیں مانگتا ہے ، تو وہ رویائے صالحہ یا الہام صالحہ کے ذریعے سے ایک بشارت سے تسلّی پالیتا ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق سے دُعا انتہا کو پہنچے ، تو وہ قبول ہوجاتی ہے۔ دُعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کاٹلنا ایسی ثابت شدہ صداقت ہے، جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑہا صُلحا اور اَتقیا اور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس امر پرگواہ ہیں۔
    عبادات میں لذّت اور سُروررکھاگیا ہے
    نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے، مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلاخدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے، اس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دُعاتسبیح اور تہلیل میں مصروف رہے، بلکہ اس میں انسان کا پنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آج کل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک عام ذہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعلایٰ کی محبت سرد ہورہی ہے اور عبادت میں جس قسم کامزاآنا چاہیے ، وُہ مزا نہیں آتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ، جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو۔ جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیزکا مزہ نہیں اُٹھاسکتا اور وہ اُسے تلخ یا پھیکا سمجھتا ہے، اسی طرح وہ لوگ جو عبادات الہٰی میں حفظ اور لذات نہیں پاتے اُن کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے، کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خداتعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا، توپھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اُس کے لئے لذت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا، تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اُس کے لئے لذت اور سُرورنہ ہو۔ لذت اور سُرورتو ہے، مگر اُس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ والْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:۵۷) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سُرور بی درجۂ غایت کا رکھا ہو۔ اس بات کو ہم اپنے روز مرّہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھواناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوتی ہیں، تو کیااُن سے وُہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا؟ کیا اس ذائقہ ، مزے اور احساس کے لئے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔ کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات ۔ حیوانات ہو یا انسان حظ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش کُن اور سُریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد جو جوڑا پیدا کی اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبردستی نہی کی ، بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔ اگر محض توالد وتناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہوسکتا۔ عورت اور مرد کی برہنگی کی حالت میں ان کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دُوسرے کے ساتھ تعلق پیداکریں۔مگر اس میں اُن کے لئے ایک حظ ہے اور ایک لذت ہے۔ یہ حظ اور لذت اس درجہ تک پہنچتی ہے کہ بعض کو تاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پروا اور خیال نہیں کرتے، بلکہ ان کو صرف حظ ہی سے کام اور غرض ہے۔ خداتعالیٰ کی علت غائی بندوں کو پیدا کرنا تھا اور اس سبب کیلئے ایک تعلق عورت مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ رکھ دیا جو اکثرنادانوں کے لئے مقصود بالذات ہوگیا ہے۔ اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذت اور سُرور ہے اور یہ لذت اور سُرور دُنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالاتراور بلندہے۔ جیسے عورت اور مرد کے باہمی تعلقات میں ایک لذات ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہوسکتا ہے جو مرد اپنے قویٰ صحیحہ رکھتا ہے۔ ایک نامرداور مخنث وہ حظ نہیں پاسکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادتِ الہٰی سے لذت نہیں پاسکتا۔
    عبودیّت اور بوبیّت کے رشتہ کی حقیقت
    عورت اور مرد کا جورا تو باطل اور عارضی جورا ہے۔ مَیں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذت مجسم جوجوڑ ہے وہ انسان اور خداتعالیٰ کا ہے۔ مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزانہ آئے، تو طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامدیںکرتا ہے۔ روپیہ خرچ کرتا ۔ دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وُہ مزا حاصل ہو۔ وہ نامرد جو اپنی بیوی سے لذت حاصل نہیں کرسکتا۔ بعض اوقات گھبراگھبراکرخودکشی کے ارادے تک پہنچ جاتا اور اکثر موتیں اس قسم کی ہوجاتی ہیں۔ مگر آہ! وہ مریض دل ۔ وہ نامرادکیوں کوشش نہیں کرتا جس کی عبادت میں لذت نہیں آتی؟ اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہوجاتی؟دُنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے کیا کچھ کرتا ہے۔ مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وُہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔ کس قدر بے نصیب ہے ! کیسا ہی محروم ہے! عارضی اورفانی لذتوں کے علاج تلاش رتا ہے اور پالیتا ہے۔ کیاہوسکتا ہے کہ مُستقل اور ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں ۔ مگر تلاشِ حق میں مستقل اور پویہ قدم درکار ہیں۔ قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔ اس میں بھی سِرّاوربھید ہے۔ ایمان لانے والوں کو مریم اورآسیہ سے مثال دی ہے یعنی خداتعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیداکرتا ہے۔ بہرحال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اورمرد کا باہم تعلق ہوتا ہے، اسی طرح عبودیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔ اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہوتو وہ جورا ایک مبارک اور مفید جوڑا ہوتا ہے، ورنہ نظام خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مرد اور جگہ خراب ہوتا ہے صدہا قسم کی بیماریاں لے آتا ہے۔آتشک سے مجذوم ہوکر دنیا میں ہی محروم ہوجاتا ہے۔ اوراگر اولاد ہو بھی جائے تو کئی پُشت تک یہ سلسلہ برابرچلا جاتا ہے اورادھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی اور عزت وآبُرو وک ڈبوکر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتی۔ غرض اس جوڑے سے الگ ہوکر کس قدر بدنتائج اور فتنے پیداہوتے ہیں۔اسی طرح انسان روحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوم اور مخذول ہوجاتاہے۔ دُنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کانشانہ بنتا ہے۔ جیساکہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لئے حظ ہے۔ اسی طرح عبودیت اور بوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقاء کے لئے حظ موجود ہے۔ صوفی کہتے ہیں جس کو یہ حظ نصیب ہوجاوے وہ دُنیا ومافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمرہ میں ایک بار بھی اس کو معلوم ہوجائے، تو اس میں ہی فنا ہوجاوے ، لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دُنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور اُن کی تمازیں صرف ٹکریں ہیں اور اوپر ے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخساست کے طور پر ہوتی ہیں۔ مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے، جب مَیں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دُنیا میں معتبر اور قابلِ عزت سمجھے جاویں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل ہوجاتی ہے، یعنی وہ نمازی اور پرہیزگار کہلاتے ہیں۔ پھر اُن کو کیوں یہ کھاجانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بیدل کی نماز کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی۔
    نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ اور اُس کا علاج
    غرض میں دیکھتاہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اس لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گائوں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سوپچاسواں حصہ بھی تو پوری مُستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سرنہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اُن کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذّن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے، گویا اُن کے دل دکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دُکانیں دیکھوتو مسجدوں کے نیچے ہیں۔ مگرکبھی جاکر کھڑے بھی تو ہیں ہوتے۔ پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کہ خداتعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔ نماز اور عبادت کا بھی ایکبار مزہ چکھادے۔ کھایا ہوا یادرہتاہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے، تو وہ اُسے خوب یادرہتا ہے اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیت کودیکھتا ہے، تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہوتو، کچھ یادنہیںرہتا۔ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نمازایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کرکئی قسم کی آسائشوںکوکھوکرپڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے، وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا، تو وہ پَے درپے پیالے پیتا جاتا ہے، یہانتک کہ اُس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔ دانشمند اوربزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے۔یہانتک کہ اُس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے، جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہن میں ساری طاقتوں کا رُجحان نماز میںاُسی سُرور کا حاصل کرنا ہو اور پھرایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق وکرب کی مانند ہی ایک دُعا پیدا ہوکہ وہ لذت حاصل ہوتومَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقینا یقینا وہ لذت حاصل ہوجاوے گی۔ پھرنماز پڑھتے وقت اُن مفادکاحاصل کرنا بھی ملحوظ ہوجو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے۔ اِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ھود:۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو زائل کردیت ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے ، وہ نصیب کرے۔ یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ(ھود:۱۱۵) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں، مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔ وُہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ اُن کی رُوح مُردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا۔ باوجودیکہ معنے وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن وجمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نمازبدیوں کو دُورکرتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔ نماز کا مغز اوررُوح وہ دُعا ہے جو ایک لذت اور سُرور اپنے اندررکھتی ہے۔
    ارکان نماز کی حقیقت
    ارکانِ نماز دراصل روحانی نشست وبرخاست ہیں۔ انسان کو خداتعالیٰ کے رُوبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمت گاران میں سے ہے۔ رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمالِ آداب اور کمالِ تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔ یہ آداب اور طُرق ہیں جو خداتعالیٰ نے طور یادداشت کے مقرر کردیئے ہیں اورجسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقررکیا ہے۔ علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں(جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بارِگراں سمجھ کراُتارپھینکنے کی کوشش کی جاوے۔ تو تم ہی بتائو۔ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے؟ اور جبتک لذت اور سُرور نہ آئے۔ اُس کی حقیقت کیونکرمتحقق ہوگی اور یہ اُس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذللل تام ہوکر آستانہ الوُہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے ، رُوح بھی بولے۔ اُس وقت ایک سُرور اور نور اور تسکین حاصل ہوجاتی ہے۔ مَیں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدرمراتب طے کرکے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ۔ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ۔ پھر نُطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ ۔ پھر جوان ، بُوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اُس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معرف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے۔ تو بھی وُہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مدِمقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔ غرض مدعایہ ہے کہ نماز میں لذت اور سُرور بھی عبادیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیداہوتا ہے۔ جب تک اپنے آپ کو عدمِ محض یا مشابہ بالعدم قراردے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضہ ہے نہ ڈال دے۔ اُس کافیضان اور پَر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہوتو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔
    سچی نماز
    اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہوجاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسویٰ اللہ سے اُسے انقطاعِ تام ہوجاتا ہے۔ اُس وقت خداتعالیٰ کی محبت اُس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دوجوشوں سے، جو اُوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اورنیچے کی طرف عبودیت کا جوش ہوتا ہے۔ ایک خاص کیفیت پیداہوتی ہے۔ اس کا نام صلوٰۃ ہے۔ پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو سیئات کو بھسم کرجاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے۔ جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہرقسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خاروخس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں، آگاہ کرکے بچاتی ہے اور یہی وُہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصّٰلٰوۃَ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَر(العنکبوت:۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے۔ کیونکر اس کے ہاتھ میں نہیں اُس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہواہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر گناہ کاخیال اُسے کیونکر آسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی۔ غرض ایک ایسی لذت ، ایسا سُرور حاصل ہوتا ہے کہ مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اُسے کیونکر بیان کروں۔
    غیراللہ کی طرف رجوع
    پھریہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جواپنے اصلی معنوں میں نماز ہے، دُعا سے حاصل ہوتی ہے۔ غیراللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے، کیونکہ یہ مرتبہ دُعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہوکر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اُسی سے نہ مانگے۔ سچ سمجھو کہ وہ حقیقی طور پر سچامسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پرایک بڑاانجن بہت سے کلوں کو چلاتا ہے۔ پاس اسی طورپر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت وسکون کو اُس انجن کی طاقتِ عظمیٰ کے ماتحت نہ کرلیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو اِنِّیْ وَجَھْتُ وَجْھِیَ لَلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الانعام:۸۰) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے مُنہ سے کہتا ہے ، ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہوتو لاریب وہ مسلم ہے۔ وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہتعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھربھی جھکتا ہے ، وہ یادرکھے کہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم ہے کہ اُس پر وُہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طورپراللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھُک سکے۔
    ترکِ نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جُھکتا ہے ، تو رُوح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ً ایک طرف کردی جاویں اور اُس طرف جھک کر پرورش پالیں) ادھر ہی جھکتا ہے اور خداتعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہوکراُسے منجمد اور پتھر بنادیتا ہے۔ جیسے وہ شاخیں۔پھردوسری طرف مڑنہیں سکتا۔ اسی طرح پر وہ دل اور روح دن بدن خداتعالیٰ سے دُورہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک لوردل کو کپکپادینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دُوسرے سے سوال کرے۔اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے، تاکہ اولاً وہ ایک عادتِ راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خودآجاتا ہے جب کہ انقطاعِ کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہوجاتا ہے۔ مَیں اس امر کو پھرتاکید سے کہتا ہوں افسوس ہے کہ مجھے وُہ لفظ نہیں ملے، جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کرسکوں۔ لوگوں کے پاس جاکر منّت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خداتعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے۔ کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دُورپھینک دیتاہے ۔ میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے۔ مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے کہ جیسے ایک مرد ِ غیورّ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وُہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیداکرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکارعورت کو واجب القتل سمجھتابلکہ بسااوقات ایسی وارداتیں ہوجاتی ہیں۔ ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔ عبودیت اور دُعا خاص اسی ذات کے مدِ مقابل ہیں۔ وہ پسند نہیں کرسکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکاراجاوے۔ پس خوب یادرکھو! اور پھر یادرکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھُکنا خداسے کاٹنا ہے۔ نماز اورتوحید کچھ ہی کہو، کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔ اس وقت بے برکت اور بیسود ہوتی ہے جب اُس میں نیستی اورتذلل کی رُوح اور حنیف دل نہ ہو۔
    رعایتِ اسباب دُعا کا شعبہ ہے
    سُنو! وہ دُعاجس کے لئے اُدْعُوْنِٓیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن:۶۱) فرمایا ہے۔ اس کے لئے یہی سچی رُوح مطلوب ہے۔ اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی رُوح نہیں، تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اورسچ پوچھوتو کیا دُعااسباب نہیں؟ یااسباب دُعا نہیں؟ تلاشِ اسباب بجائے خود ایک دُعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ ہے۔ انسان کی ظاہری بناوٹ ، اس کے دو ہاتھ دوپائوں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا ایک قدرتی راہنماہے۔ جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے۔ پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوْ اعَلَی الْبِرِّوَ التَّقْویٰ(المائدہ:۳) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے۔
    ہاں! مَیں کہتا ہوں کہ تلاشِ اسباب بھی بذریعہ دُعا کرو۔ میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہیں تہمارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ امدادِ باہمی اور کامل رہنماسلسلہ دکھاتا ہوں۔ تم اس سے نکارکرو۔ اللہ تعالیٰ نے اسباب کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دُنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادرہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے۔ مگر پھر بھی ایک وقت اُن پرآتا ہے کہ وہ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ (الصف:۱۵) کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایک ٹکڑ گدافقیر کی طرح صدادیتے ہیں مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہکہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں۔ جودعا کا ایک شعبہ ہے؛ ورنہ اللہ تعالیٰ پر اُن کو کامل ایمان اور اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ اِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلُنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْافِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (المومن:۵۲) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔ مَیںکہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مددکا خیال نہ ڈالے، تو کوئی کیونکرمددکرسکتا ہے۔
    مامورمن اللہ کی طلب امدادکاسر
    اصل بات یہی ہے کہ حقیقی مُعاون و ناصر وہی پاک ذات ہے، جس کی شان نعیم المولیٰ و نعم النصیر ونعم الوکیل ہے۔ دُنیا اور دُنیا کی مددیں اُن لوگوں کے سامنے کَالْمَیّت ہوتی ہیں۔ وہ مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں، لیکن دُنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لئے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ اپنے کاروبار کا متولی خدا تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے۔ وَھُوَیَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ (اعراف:۱۹۷) اللہ تعالیٰ ان کو مامورکردیتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دُوسروں کے ذریعہ سے ظاہرکریں۔ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے، اس لئے کہ وقت نُصرتِ الہٰی کا تھا، اُس کوتلاش کرتے تھے کہ وُہ کس کے شامل حال ہوتی ہے۔ یہ ایک بڑی غورطلب بات ہے۔ دراصل مامور من اللہ لوگوں سے مدد نہیں مانگتا، بلکہ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ(الصف:۱۵) کہہ کر وہ اُس نصرت کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرطِ شوق سے بیقرار دل کی طرح اس کی تلاش میں رہتا ہے۔ نادان اور کوتہ اندیش لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وُہ لوگوں سے مدد مانگتا ہے، بلکہ اسی طرح پر اس شان میں وہ کسی دل کے لئے جو اس نصرت کا موجب ہوتا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہوتا ہے۔ پس مامورمن اللہ کی طلب مداد کا اصل سر اور راز یہ ہی ہے جو قیامت تک اسی طرح پر رہے گا۔ اشاعتِ دین میں مامورمن اللہ دوسروں سے مددچاہتے ہیں۔ مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لئے، تاکہ دلوں میں خداتعالیٰ کی عظمت پیداکریں؛ ورنہ یہ ایک ایسی بات ہے کہ قریب یہ کفر پہنچ جاتی ہے۔ اگر غیر اللہ کو متولی قراردیں اور ان نفوس قدسیہ سے ایسا اِمکان محال مطلق ہے۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ توحیدتب ہی پوری ہوتی ہے کہ کل مُرادوں کا مُعطی اور تمام امراض کا چارہ اور مدار وہی ذاتِ واحد ہو۔لَاِاِلٰہَ اَلَّا اللّٰہُ کے معنی یہی ہیں۔صوفیوں نے اس میں الہ کے لفظ سے محبوط، مقصود، معبود مرادلی ہے۔
    بے شک اصل اور سچ یونہی ہے جب تک انسان کامل توحیدپرکاربند نہیں ہوتا، اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی اور پھرمیں اصل ذکرکی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ نمازکی لذت اور سروراسے حاصل نہیں ہوسکتا مداراسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں۔ انانیت اور شیخی دور ہوکر نیستی اور فروتنی نہ آئے، خدا کاسچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔
    مَیںپھرتمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خداتعالیٰ سے سچاتعلق۔حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو، تو نماز پرکاربندہوجائو اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری رُوح کے ارادے اورجذبے سب کے سب ہمہ تن نمازہوجائیں۔
    ٭٭٭





    ۱۹؍جنوری ۱۸۹۸؁ء
    چودھویں صدی کے مجددکا کام
    بعدنماز مغرب فرمایا:’’عیسائیوں کا فتنہ اُمّ الفتن ہے، اس لیے چودہویں صدی کے مجدد کا کام یکسرُالصلیب ہے۔ پھر چونکہ یہ علامت اُس پر صادق آئی، اس لئے چودہویں صدی کامجدد مسیح موعود قرار پایا۔ کیونکہ احادیث سے مسیح موعود کا کام یکسرُالصلیب ثابت ہے۔ اب جب کہ ہمارے مخالفوںکوماننا پڑتا ہے کہ چودہویں صدی کے مجدد کا کام یکسرالصلیب ہی ہونا چاہئے، کیونکہ اس کے سامنے یہی مصیبت ہے۔ پھر انکار کے لئے کون سی گنجائش ہے کہ مسیح موعود چودہویں صدی کا مجدد ہی ہوگا۔ ہماری توجہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو حق کی پیاس ہے، لیکن جو حق کی تلاش نہیں چاہتے ، جن کی طبیعتیں معکوس ہیں وُہ ہم سے کیا فائدہ اُٹھاسکتے ہیں؟ یادرکھوہدایت تواُن کو ہوتی ہے جو تعصب سے کام نہیں لیتے۔ وُہ لوگ فائدہ نہیں اُٹھاتے جو تدبر نہیں کرتے۔ پس طالب ہدایت سمجھ لے کہ موجودہ حالتوں میں چودھویں صدی کے مجدد کا یہ کام ہے کہ کسرِ صلیب کرے۔کیونکہ صلیبی فتنہ خطرناک پھیلاہوا ہے۔ اسلام ایسادین تھا کہ اگر ایک بھی اس سے مرتدہوجاتا،توقیامت برپا ہوجاتی تھی، لیکن اب کس قدر افسوس ہے کہ مرتد ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے اور وُہ لوگ جو مسلمانوں کے گھر میں پیداہوئے تھے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کی نسبت جس کی پاک باطنی کی کوئی نظیردنیا میں موجود نہیں۔ قسم قسم کے دل آزاد بہتان لگارہے ہیں کہ کروڑوں کتابیں اس سیدالمعصُومین کی تکذ یب میں اُس گرہ کی طرف سے شائع ہوچکی ہیں۔ بہت سے مستقل ہفتہ وار اور ماہواراخباراور رسالے اس غرض کے لئے جاری کررکھے ہیں۔
    پھر کیا ایسی حالت میں خداتعالیٰ کوئی مجدد نہ بھیجتا؟ اور پھر اگر کوئی مجدد آتا، تو تم ہی خداکے واسطے سوچ کر بتائو کہ کیا اس کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وُہ رفع یدین کے جھگڑے کرے یا آمین بالجہرپرمرتاپھرے۔
    غورتوکروجو مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے طبیب اس کا علاج کرے گا، نہ کسی اور مرض کا۔رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی حدہوچکی ہے۔ لکھتا ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اپنی ماں سے سُن کر اس کوماردیا تھا۔ یہ غیرت اور حمیّت تھی مسلمانوں کی، مگر آج یہ حال ہوگیا ہے کہ توہین کی کتابیں پڑھتے اور سنتے ہیں۔ غیرت نہیں آتی اور اتنا نہیں ہوسکتا کہ اُن سے نفرت ہی کریں ، بلکہ اُلٹا جس شخص کو خدانے خاص اس فتنہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور جلال کے لئے خاص قسم کی غیرت لے کر آیا ہے۔ اُس کی مخالفت کرتے ہیں اور اُس پر ہنسی اورٹھٹھاکرتے ہیں۔ خداتعالیٰ ہی ان لوگوں کو بصیرت کی آنکھ دے۔آمین‘‘
    آنحضرت ؐ کی تائید ونصرت کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی
    فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک سورۃ بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاعلواورمرتبہ ظاہرکیا ہے اور وہ سورۃ ہے اَلَمْ تَرَاکَیْفَ فَعَالَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ(الفیل:۲)یہ سورۃ اس حالت کی ہے کہ جب سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم مصائب اوردُکھ اُٹھارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپؐ کو تسلی دیتا ہے کہ مَیں تیرا مویدوناصر ہوں۔ اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا؟ یعنی اُن کا مکراُلٹا کر اُن پر ہی مارا اور چھوٹے چھوٹے جانوراُن کے مارنے کے لئے بھیج دیئے۔ ان جانوروں کے ہاتھوں میں کوئی بندوقیں نہ تھیں، بلکہ مٹی تھی سجیل بھیگی ہوئی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے اور اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کرکے آپؐ کی کامیابی اور تائیداور نصرت کی پیشگوئی کی ہے۔
    یعنی آپ کی ساری کاروائی کو بربادکرنے کے لئے جو سامان کرتے ہیں اور تدابیر عمل میں لاتے ہیں۔ ان کے تباہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپن کی ہی تدبیروں کو اور کوششوں کا اُلٹا کردیتا ہے۔ کسی بڑے سامان کی ضرورت نہیںہوتی۔ جیسے ہاتھ والوں کو چڑیوں نے تباہ کردیا۔ ایسا ہی یہ پیشگوئی قیامت تک جائے گی۔ جب کبھی کوئی اصحاب الفیل پیدا ہو۔ تب ہی اللہ تعالیٰ اُن کے تباہ کرنے لئے ان کی کوششوں کو خاک میں ملادینے کے سامان کردیتا ہے۔
    پادریوں کا اُصول یہی ہے۔اُن کی چھاتی پر اسلام ہی پتھر ہے؛ ورنہ باقی تمام مذاہب اُن کے نزدیک نامَردہیں۔ ہندو بھی عیسائی ہوکر اسلام کے ہی رَدّ میں کتابیں لکھتے ہیں۔رامچندرا اور ٹھاکرداس نے اسلام کی تردید میں اپنا سارا زور لگا کر کتابیں لکھی ہیں۔ بات یہ ہے کہ اُن کا کانشنس کہتا ہے کہ اُن کی ہلاکت اسلام ہی سے ہے۔ طبعی طور پر خوف اُنہی کا پڑتا ہے، جن کے ذریعہ ہلاکت ہوتی ہے۔ ایک مُرغی کا بچہ بلی کودیکھتے ہی چلانے لگتا ہے۔ اسی طرح مختلف مذاہب کے پیروعموماً اور پادری خصوصاً جو اسلام کی تردید میں زورلگارہے ہیں، یہ اسی لئے کہ اُن کو یقین ہے ، بلکہ اندر ہی اندر اُن کا دل اُن کو بتاتا ہے کہ اسلام ہی ایک مذہب ہے، جولل باطلہ کو پیس ڈالے گا۔
    احمدیت کے ذریعہ اسلام کا دفاع
    اس وقت اصحاب الفیل کی شکل میں اسلام پر حملہ کیا گیا ہے۔ مُسلمانوں میں بہت کمزرویاں ہیں۔ اسلام غریب ہے اور اصحاب فیل زور میں ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ وہی نمونہ پھر دکھانا چاہتا ہے۔ چڑیوں سے وہی کام لے گا۔ ہماری جماعت اُن کے مقابلہ میں کیاہے۔اُن کے مقابلہ میں ہیچ ہے۔ اُن کے اتفاق اور طاقت اور دولت کے سامنے نام بھی نہیں رکھتے، لیکن ہم اصحاب الفیل کا واقعہ سامنے دیکھتے ہیں کہ کیسی تسلی کی آیات نازل فرمائی ہیں۔ مجھے یہی الہام ہوا ہے جس سے صاف صاف پایا جاتا ہے کہ خداتعالیی کی نصرت اور تائید اپنا کام کرکے رہے گی۔ ہاں پر وُہی یقین رکھتے ہیں، جن کو قرآن سے محبت ہے۔ جسے قرآن سے محبت نہیں، اسلام سے الفت نہیں وہ ان باتوں کی کب پرواکرسکتا ہے۔ اسلام اور ایمان یہی ہے کہ خدا کی رائے سے رائے ملائے۔ جو اسلام کی عزت اور اس کے لئے غیرت نہیں رکھتا، خواہ وہ کوئی ہو، خدا کو اُس کی عزت اور اُس کی غیرت کی پروا نہیں ہوتی اور وہ دیندار مسلمان نہیں۔ خداکی باتوں کو حقیر مت سمجھو اور ان لوگوں کو قابلِ رحم سمجھوجنھوں نے تعصب کی وجہ سے حق کا انکار کردیا اور کہدیا کہ امن کے زمانہ میں کسی کے آنے کی ضرورت ہے۔ افسوس اُن پر۔ وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کس طرح دشمنوں کے نرغہ میں پھنساہوا ہے۔ چاروں طرف سے اُس پر حملہ پرحملہ ہورہا ہے۔ رسول کریم ؐ کی توہین کی جاتی ہے۔پھر بھی کہتے ہیں کہ کسی کی ضرورت نہیں۔
    قانون سڈیشن سے اسلام ہی فائدہ اُٹھاسکتا ہے۔
    قانون سڈیشن ہمارے لئے بہت مفیدہے۔صرف ہم ہی فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔دوسرے مذہبوں کو ہلاک کرنے لئے یہ بھی ایک ذریعہ ہوگا۔کوینکہ ہمارے پاس تو حقائق اور معارف کے خزانے ہیں۔ ہم ان کا ایک ایساسلسلہ جاری رکھیں گے جو کبھی ختم نہ ہوگا، مگرآریہ یا پادری کون سے معارف پیش کریں گے۔ پادریوں نے گذشتہ پچاس سال کے اندر کیا دکھایا ہے۔ کیا گالیوں کے سوا وہ اور کچھ پیش کرسکتے ہیں کہ اگر کسی آریہ یا پادری کو اپنے مذہب کے کمالات اور خوبیاں بیان کرنے کو بلایاجائے، تو وہ ہمارے مقابلہ میں ایک ساعت بھی نہ ٹھہرسکے۔
    ۱۹؍جنوری۱۸۹۸؁ء
    کَفّارَہ
    مذہب کی اوّل اینٹ خداشناسی ہے۔ جب تک وُہ دُرست نہ ہو، دُوسرے اعمال کیونکر پاک ہوسکتے ہیں؟ عیسائی دوسروں کی پاک باطنی پر بڑے اعتراض کیا کرتے ہیں۔ اورکفارہ کا اخلاق سوزمسئلہ مان کراعتراض کرتے ہیں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب کفارہ کا عقیدہ ہوتواللہ تعالیٰ کے مواخذہ کاخوفرہ کیونکر سکتاہے؟ کیا سچ نہیں ہے کہ ہمارے گناہوں کے بدلے مسیح پر سب کچھ وارد ہوگیا۔ یہانتک کہ اُسے ملعُون قراردیا اور تین دن ھاویہ میں رکھا۔ ایسی حالت میں اگر گناہوں کے بدلے سزاہوتو پھر کفارہ کاکیا فائدہ ہوا؟ اُصول، کفارہ ہی چاہتا ہے کہ گناہ کیا جائے۔ یہ قاعدہ کی بت ہے کہ اُصول کا اثر بہت پڑتا ہے۔ دیکھو! ہندوئوں کے نزدیک گائے بہت پوتراور قابلِ تعظیم ہے اور اُس کا اثران میں اس حدتک ہے کہ اُس کا پیشاب اورگوبر بھی پوترکرنے والا اُن میں قراردیاگیا ہے اور گائے کے متعلق اس قدر جوش ان میں ہے ، جس کی کچھ بھی حد نہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ امر اُن میں بطور اُصول داخل کیاگیا ہے۔ یادرکھو۔اصول بطور ماں کے ہوتے ہیں او راعمال بطور اولاد کے۔ جب مسیح کفارہ ہوگیا ہے اور اس نے تمام گناہ ایمان لانے والے کے اُٹھالئے۔پھر کیا وجہ ہے کہ گناہ نہ کیے جاویں؟ تعجب کی بات ہے کہ عیسائی جب کفارہ کا اُصول بیان کرتے ہیں۔ تو اپنی تقریر کو خداتعالیٰ کے رحم اورعدل سے شروع کیا کرتے ہیں، مگر مَیں پوچھتاہوں کہ جب زیدؔ کے بدلے پھانسی بکر ؔ کو ملی تو یہ کونسا انصاف اور رحم ہے۔ جب یہ اصول قراردیدیا کہ سب گناہ اُس نے اُٹھالئے، پھر گناہ نہ کرنے کے لئے کونسا امر مانع ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ہدایت ہوتی کہ اُس وقت کے گناہ گار عیسائیوں کے لئے کفارہ ہوئے ہیں، تو یہ اور بات تھی، مگر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والوں کے گناہوں کے گٹھڑی یسوع اُٹھا کرلے گیا اور اس نے سزا بھی اُٹھالی۔ پھر گنہگارکو پکڑناکس قدرظلم ہے۔ اول تو بیگناہ کو گنہگارکے بدلے سزادینا ہی ظلم ہے اور پھر دُوسرا ظلم یہ ہے کہ اول گنہگاروں کے گناہوں کی گٹھڑی یسوع کے سر پر رکھ دی اور گنہگار کو مُژدہ سنادیاکہ تمہارے گناہ اُس نے اُٹھالیے اور پھر وہ گناہ کریں، توپکڑے جاویں۔یہ عجیب دھوکا ہے جس کا جواب عیسائی کبھی نہیں دے سکیں گے۔
    کفّارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ پر دلیر ہوجاتا ہے۔
    اگرکوئی یہ کہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ کی زندگی سے نجات پاسکتا ہے اور گناہ کی قوت اس میں نہیں رہتی، تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لئے کہ یہ اُصول ہی اپنی جڑھ میں گناہ رکھتا ہے۔گناہ سے بچنے کی قوت پیداہوتی ہے۔ مؤاخذۂ الہٰی کے خوف سے لیکن وہ مواخذہ کا خوف کیونکر ہوسکتاہے جب کہ یہ مان لیا جاوے کہ ہمارے گناہ یسوع نے اُٹھالئے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایسے اُصول کا انسان کبھی متقی نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ ہر ایک کام کو جس کی بِنا تقویٰ کے اُصولوں پرہو، ضروری نہ سمجھے گا۔یہ خوب یارکھوکہ پاک باطنی ہمیشہ اُصولوں ہی سے شروع ہوتی ہے؛ ورنہ
    خُبثِ نفس نہ گردوبسالہامعلوم
    پھرہم یہ دیکھتے ہیں کہ کفّارہ کا مسئلہ ماننے والوں نے پاک باطنی کی عملی نظیریں کیا قائم کی ہیں؟ یورپ کی بداعمالیاں سب کو معلوم ہیں۔ شراب جواُم الخبائث ہے۔ اس کی یورپ میں اس قدر کثرت ہے کہ اُس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔مَیں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ اگر لندن کی شراب کی دوکانوں کو ایک لائن میں رکھا جائے تو پچھتر میل تک چلی جاویں۔ جس حالت میں اُن کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر ایک گناہ کی معافی کاسرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اور جس قدرگناہ کوئی کرے معاف ہیں تو اب سوچ کر عیسائی ہم کو جواب دیں کہ اس کا اثر کیاپڑے گا۔
    اگرنعوذباللہ ہمارا یہ اصول ہوتا، توہم پر اس کا کتنا بُرا اثرپڑتا۔ نفسِ امأرہ توبہانہ ہی تلاش کرتا ہے جیسے شیعوں نے امام حسین رضی اللہ عنھاکا سہارالیلیا اور تقیہ کی آڑ میں جو کچھ کرلیں، سو تھوڑا ہے۔ مَیں اسی تقیہ اور امام حسینؓ کے فدیہ کے اصول کی بناپردلیری سے کہتاہوں کہ شیعوں میں مُتقی کم نکلیں گے۔ خلیفہ محمدحسین صاحب نے لکھاہے کہ فَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(الصافات:۱۰۸) سے جوقرآن میں آیا ہے۔ امام حسینؓ کا شہیدہونا نکلتاہے اور اس نکتہ پر بہت خوش ہوئے ہیں کہ گویا قرآن شریف کے مغز کو پہنچ گئے ہیں۔
    اُن کی اس نکتہ دانی پر مجھے ایک پوستی کی حکایت یادآئی۔وُہ یہ ہے کہ ایک پوستی کے پاس ایک لوٹا تھا اور اُس میں ایک سوراخ تھا۔ جب رفع حاجت کو جاتا۔ اس سے پیشتر کہ وہ فارغ ہوکر طہارت کرے۔ سارا پانی لوٹے سے نکل جاتا تھا۔آخرکئی دن کی سوچ اورفکرکے بعداس نے یہ تجویز نکالی کہ پہلے طہارت ہی کرلیا کریں اور اپنی اس تجویز پر بہت ہی کوش ہوا۔ اسی قسم کا نکتہ اور نسخہ ان کو ملاہے۔ جو فَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ (الصافات:۱۰۸)سے امام حسین ؓ کی شہادت نکالتے ہیں۔ شیعہ لوگوں کو مسجدیں تک تو صاف نہیں رہ سکتی ہیں۔ ہم ایک شیعہ اُستاد سے پڑھاکرتے تھے اور وہاں کتے پیشاب وپاخانہ پھرجاتے تھے اور مجھے یادنہیں کہ کسی نے کبھی وہاں نماز پڑھی ہو۔ شیعہ یہی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے امام حسینؓ اور اہل بیت شہید ہوچکے ہیں۔ اُن کے غم میں رولینا اور ماتم کرلینا بس یہی کافی ہے۔ جنت کے لئے اور کسی عمل کی بجز اس کے ضرورت نہیں اور ایسا ہی عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح کاخون ہمارے لئے مُنجی ہوا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر تمہارے گناہوں پر بھی بازپُرس ہونی ے اور تمہیں ان کی سزابھگتنی ہے، تو پھر یہ نجات کیسی ہے؟
    اس اُصول کا اثر درحقیقت بہت بُراپڑا۔اگر یہ اصول نہ ہوتا ، تو یورپ کے ملکوں میں اس کثرت سے فسق وفجورنہ ہوتااور اس طرح بدکاری کا سیلاب نہ آتا جیسے اب آیاہوا ہے۔ لندن او رپیرس کے ہوٹلوں اور پارکوں میں جاکردیکھوکیا ہورہاہے اور ان لوگوں سے پوچھوجووہاں سے آتے ہیں آئے دن اخبارات میں ان بچوں کی فہرستیں جن کی ولادت ناجائزولادت ہوتی ہے، شائع ہوتی ہیں۔
    کفّارہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے
    اب ہم تو اُصول ہی کو دیکھیں گے۔ ہمارے اصول میں تو یہ لکھا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَرَہُ (الزلزال:۸)اب اس کا اثر تم خودسوچ لوگے، کیا پڑے گا۔یہی کہ انسان اعمال کی ضرورت محسوس کرے گا اور نیک عمل کرنے کی سعی کرے گا۔ برخلافِ اس کے جب یہ کہا جاوے گا کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا۔ تویہ اُصول انسان کی ہمت اور سعی کو پست کردیگا اور اس کو بالکل مایوس اور بے دست و پابنادے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کا اُصول انسانی قویٰ کی بھی بیحرمتی کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی قویٰ میں ایک ترقی کا مادہ رکھا ہے ، لیکن کفارہ اس کوترقی سے روکتا ہے، ابھی مَیں نے کہا ہے کہ کفارہ کا اعتقاد رکھنے والوں کے حالاتِ آزادی اور بے قیدی کو جو دیکھتے ہیں تو یہ اسی اصول کی وجہ سے ہے کہ کتے اور کتیوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں۔ لنڈن کے ہائیڈ پارک میں علانیہ بدکاریاں ہوتی ہیں اور ّ*** بچے پیداہوتے ہیں۔ پس ہم کو صرف قیل وقال تک ہی محدودنہ رکھناچاہئے۔بلکہ اعمال ساتھ ہو نے چاہیں۔ جو اعمال کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ سخت ناعاقبت اندیش اور نادان ہے۔ قانونِ قدرت میں اعمال او ران کے نتائج کی نظریں تو موجود ہیں۔کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں۔ مثلاً بھوک لگتی ہے، تو کھانا کھالینے کے بعد وہ فرد ہوجاتی ہے یا پیاس لگتی ہے، پانی سے جاتی رہتی ہے تو معلوم ہوا کہ کھاناکھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنا یا پیاس کا بُجھ جانا ہوا۔ مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بُھوک لگے زیدؔ کو اور بکر ؔ روٹی کھائے اور زیدؔ کی بُھوک جاتی رہے۔ اگر قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیرموجود ہوتی، تو شایدکفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش نکل آتی، لیکن جب قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں تو انسان جو نظیردیکھ کر ماننے کا عادی ہے۔ اسے کیونکر تسلیم کرسکتا ہے ۔ عام قانونِ انسانی میں بھی تو اس کی نظیر ہیں ملتی ہے ۔ کبھی نہیں دیکھاگیا کہ زید ؔ نے خون کیاہو اور خالدؔ کو پھانسی ملی ہو۔غرض یہ ایک ایسا اُصول ہے جس کی کوئی نظیرہرگز موجود نہیں۔
    اعمال صالحہ اورتقویٰ
    مَیں اپنی جماعت کو مخاطب کرکے کہتاہوں کہ ضرورت ہے اعمالِ صالحہ کی۔ خداتعالیٰ کے حضوراگرکوئی چیزجاسکتی ہے، تو وہ یہی اعمالِ صالحہ ہیں۔ اِلَیْہِ یَصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ(سورہ فاطر:۱۱) خودخداتعالیٰ فرماتا ہے۔ اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں، لیکن فتح اور نُصرت اسی کو ملتی ہے جو متقی ہو خداتعالیٰ نے یہ وعدہ فرمادیا ہے۔کَانَ حَقًّاعَلَیْنَا نَصْرُالْمُؤْمِنِیْنَ (الروم:۴۸) مومنوں کی نصرت ہمارے ذمہ ہے۔ اور لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لَلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً (النساء:۱۴۲) اللہ مومنوں پرکافروں کوراہ نہیں دیتا، اس لئے یادرکھوکہ تمہاری فتح تقویٰ سے ہے؛ ورنہ عرب تو نرے لکچراراور خطیب اور شاعرہی تھے۔انہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ خداتعالیٰ نے اپنے فرشتے ان کی امداد کے لے نازل کیے۔ تاریخ کو اگر انسان پڑھے تو اُسے نظر آجائے گا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین نے جس قدرفتوحات کیں وہ انسان طاقت اور سعی کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک بیس سال کے اندر ہی اندر اسلامی سلطنت عالمگیرہوگئی۔ اب ہم کو کوئی بتاوے کہ انسان ایسا کرسکتا ہے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ باربارفرماتا ہے اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقُوْ اوَالَّذِیْنَ ھُمْ مُحْسِنُوْنَ۔(النحل:۱۲۹)
    متقی اور مُحسن
    مُتقی کے معنی ہیں ڈرنے والا۔ ایک ترکِ شرہوتا ہے اور ایک اِفاضۂ خیرمتقی ترک شر کا مفہوم اپنے اندررکھتا ہے اور محسن افاضۂ خیرکو چاہتا ہے۔مَیں نے اس کے متعلق ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک بزرگ نے کسی کی دعوت کی اور اپنی طرف سے مہمان نوازی کا پورا اہتمام کیا اورحق ادا کیا۔ جب وہ کھانا کھاچکے، تو بزرگ نے بڑے انکسار سے کہا کہ مَیں آپ کے لائق خدمت نہیں کرسکا۔ مہمان نے کہا کہ آپ نے مجھے پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ مَیں نے احسان کیا ہے ، کیونکہ جس وقت تم مصروف تھے، میں تمہاری املاک کو آگ لگادیتا تو کیا ہوتا۔ غرض متقی کاکام یہ ہے کہ برائیوں سے بازآوے۔ اسے آگے دوسرا درجہ افاضۂ خیر کا ہے۔ جس کو یہاں محسنون کے لفظ سے ادا کیاگیا ہے کہ نیکیاں بھی کرے۔ پورا راستباز انسان تب ہوتاہے جب بدیوں سے پرہیز کرکے یہ مطالعہ کرے کہ نیکی کون سے کی ہے؟
    کہتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکرچاء کی پیالی لایا۔ جب قریب آیاتو غفلت سے وہ پیالی آپؓ کے سرپرگرپڑی۔ آپؓ نے تکلیف محسوس کرکے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔ غلام نے آہستہ سے پڑھا۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ(آل عمران:۱۳۵) یہ سُن کر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کظلمت غلام نے پھر کہا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ۔ کظم میں انسان غصہ دبالیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے، مگر اندر سے پوری رضامندی نہیں ہوتی، اس لئے عفو کی شرط لگادی ہے۔ آپؓ نے کہا کہ مَیں نے عفوکای۔ پھر پڑھا واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔ محبوب الہٰی وہی ہوتے ہیں جوکظم اور عفوکے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔آپؓ نے فرمایا: جاآزادبھی کیا۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گراکرآزاد ہوا۔ اب بتائو کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیداہوا۔
    آنحضرت صلی اللہ وسلم کی قوتِ قُدسی
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَقِمْ کَمَآاُمِرْتَ(ھود:۱۱۳) یعنی سیدھا ہوجا۔ کسی قسم کی بداعمالی کی کجی نہ رہے۔ پھر راضی ہوں گا۔ آپ بھی سیدھا ہوجا اور دُوسروں کو بھی سیدھا کر۔ عرب کے لئے سیدھا کرنا کس قدر مشکل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورۃ ھود نے بوڑھا کردیا۔ کیونکہ اس کے حکم کی رُو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سُپردہوئی ہے۔ اپنے آپ کو سیدھاکرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرمانبرداری کرنا، جہانتک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے، ممکن ہے کہ وُہ اس کو پورا کرے۔ لیکن دوسروں کو ویس اہی بنانا آسان نہیں ہے۔ اس سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اورقوت قدسی کا پتہ لگتا ہے؛ چنانچہ آپؐ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی۔ صحابہ کرام ؓ کی وہ پاک جماعت تیار کی کہ اُن کو کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(آل عمران:۱۱۱) کہا گیا اور رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ (البینۃ:۹) کی آوازاُن کو آگئی۔ آپؐ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔ غرض ایسی کامیابی آپؐ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعاتِ زندگی میں نہیں ملتی۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل و قار ہی تک بات نہ رکھنی چاہئے، کیونکہ اگر نِرے قیل و قال اور رَیا کاری تک ہی بات ہو تو دُوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف! تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھائو اور اس میں ایک ایسی چمک ہوکر دُوسرے اس کو قبول کرلیں، کیونکہ جب تک اس مین چمک نہ ہوکوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔ کای کوئی انسان میلی چیز پسند کرسکتا ہے؟ جبتک کپڑے میں ایک داغ بھی ہو، وہ اچھا نہیں لگتا۔ اسی طرح جبتک تمہاری اندرونی حالت میں صفائی اور چمک نہ ہوگی، کوئی خریدار نہیں ہوسکتا۔ ہر شخص عمدہ چیز کو پسند کرتا ہے اسی طرح جب تک تمہارے اخلاق اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں، کسی مقام تک نہیں پہنچ سکوگے۔
    انسانی پیدائش کی اصل غرض
    سورۃ عصر میں اللہ تعالیٰ نے کفارہ اور مومنوں کی زندگی کے نمونے بتائے ہیں کفار کی زندگی بالکل چوپائوں کی سی زندگی ہوتی ہے۔ جن کو کھانے اور پینے اور شہوانی جذبات کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا۔یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (محمد:۱۳) مگر دیکھو اگر ایک بیل چارہ تو کھالے ، لیکن ہل چلانے کے وقت بیٹھ جائے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی ہوگا کہ زمیندار اسے بوچڑ خانے میں جاکر بیچ دے گا۔ اسی طرح ان لوگوں کی نسبت (جو خداتعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پروا نہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق وفجور میں گذارتے ہیں) فرماتا ہے۔ قُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآ ؤُ کُمْ۔(الفرقان:۷۸) یعنی میرا رب تمہاری کیا پروا کرتا ہے اگرتم اُس کی عبادت نہ کرو۔ یہ امر بحضور دل یادرکھنا چاہئے کہ خداتعالیٰ کی عبادت کے لئے محبت کی ضرورت ہے اور محبت دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک محبت تو ذاتی ہوتی ہے اور ایک اغراض سے وابستہ ہوتی ہے۔ یعنی اس کا باعثِ صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں۔جن کے دُور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہوکر رنج وغم کا باعث ہوجاتی ہے، مگر ذاتی محبت سچی راحت پیداکرتی ہے، چونکہ انسان فطرتاً خداہی کے لئے پیداہوا۔جیسا کہ فرمایا:مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ (الذاریات:۵۷) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہواہے اور مخفی درمخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصل غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سورہنا سمجھتے ہیں۔ وہ خداتعالیٰ کے فضل سے دُورجاپڑتے ہیں اور خداتعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی۔ وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے۔ یہی ہے کہ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ پرایمان لاکرزندگی کا پہلوبدل لے۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔ سعدیؒ کاشعر سچا ہے۔
    مکُن تکیہ برعمرِ ناپائیدار مباش ایمن ازبازیٔ روزگار
    عُمرِناپائیدارربھروسہ کرنادانشمندکاکام نہیں ہے۔ موت یونہی آکرلتاڑجاتی ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں لگتا جب کہ انسان اس طرح پر موت کے پنجہ میں گرفتا ر ہے۔ پھر اُس کی زندگی کا خداتعالیٰ کے سوا کون ذمہ دارہوسکتا ہے۔
    خداکے لیے زندگی
    اگر زندگی خداکے لئے ہوتو اس کی حفاظت کرے گا۔ بخاری میں ایک حدیث ہے کہ جو شخص خداتعالیٰ سے محبت کارابطہ پیداکرلیتا ہے، خداتعالیٰ آپس کے اعضاء ہوجاتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اُس کی دوستی یہانتک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پائوں وغیرہ حتی کہ کہ اُس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات ِ نفس سے پاک ہوجاتا ہے اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے۔ اس کا کوئی فعل ناجائزنہیں ہوتابلکہ ہر ایک فعل خدا کے منشاء کے موافق ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خداتعالیٰ اُسے اپنا فعل ہی قرار دیتا ہے۔ یہ ایک مقام ہے قربِ الہٰی کا جہاں پہنچ کر سلوک کی منزلوں کو پورے طورپرطے نہ کرنے والوں نے یا توٹھوکرکھائی ہے یا الہیات سے ناواقف اورقربِ الہٰی کے مفہوم کو نہ سمجھنے والوں نے غلط فہمی سے کام لیا ہے اور وِ وجود کا مسئلہ گھڑلیا ہے۔ اس بات کو بھی ہرگز بھولنا نہ چاہئے کہ جہاں انسان ابتلامیں پڑتا ہے وہ فعل خداکے ارادہ سے موافق نہیں ہوتا۔ خداتعالیٰ کی رضاء اُس کے خلاف ہوتی ہے۔ ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے ہوتا ہے نہ کہ منشائے الہٰی کے ماتحت ، لیکن وُہ انسان جو اللہ تعالیٰ کا ولی کہلاتا ہے اور خدا جس کی زندگی کا ذمہ دارہوتاہے۔ وہ ہوتا ہے جس کی کوئی حرکت و سکون بلااستصواب کتابِ الہٰی نہیںہوتی۔ وُہ اپنی ہر بات اور ارادہ پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور سے مشورہ لیتا ہے۔
    پھر آگے کہا ہے کہ اُس کی جان نکالنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑا تردد ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ تردّدسے پاک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مصلحت کے لیے اُس کو موت دی جاتی ہے اور ایک عظیم مصلحت کے لئے اس کودوسرے جہان میں لے جایاجاتا ہے۔ نہیں تواُس کی بقاخداکو بڑی پیاری لگتی ہے۔ پس اگر انسنا کی ایسی زندگی نہیں کہ خداتعالیٰ کو اُس کی جان لینے میں تردّد ہوتو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے۔ ایک بکری سے بتہ سے آدمی گزارہ کر سکتے ہیں اور اس کا چمڑہ بھی کام آسکتا ہے۔ اور انسان کسی حالت میں کیا مَرکر بھی کام نہیں آتا، مگر صالح آدمی کا اثر اس کی ذرّیت پر بھی پڑتاہے اور وہ بھی اس سے فائدہ اُٹھاتی ہ۔ اصل یہ ہے کہ درحقیقت وہ مرتا ہی نہیں مرنے پر بھی اس کو ایک نئی زندگی دی جاتی ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا، بوڑھا ہوا۔ مَیں نے کسی خداپرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں، گویا متقی کی اولاد کا بھی خداتعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے،لیکن حدیث میں آیاہے۔ظالم اپنے اہل وعیال پر بھی ظلم کرتا ہے، کیونکہ ان پر اس کا بدَاثرپڑتا ہے۔
    انسانی پیدائش کی غرض عبادت ہے
    پس کس قدر ضرورت ہے کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیداکرنے سے خداتعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اُس کی عبادت کروا ور اس کے لئے بن جائو۔ دُنیا تمہاری مقصودبالذات نہ ہو۔ مَیں اس لئے باربار اس ایک امرکو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اوریہی بات ہے جس سے وہ دُور پڑاہواہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ تم دُنیا کے کاروبار چھوڑدو۔ بیوی بچوں سے الگ ہوکر کسی جنگل یا پہاڑ میں جابیٹھو۔ اسلام میں اس کو جائز نہیں رکھتااوررہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔ اسلام تو انسان کو چُست او رہوشیار اور مُستعد بنانا چاہتا ہے ، اس لئے مَیں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جدوجہد سے کرو۔ حدیث میں آیا ہے۔ کہ جس کے پاس زمین ہو او روہ اس کا تردد نہ کرے، تو اس سے مواخذہ ہوگا۔ پس اگر کوئی اس سے یہ مُراد لے کہ دُنیا کے کاروبار سے الگ ہوجائے وُہ غلطی کرتا ہے۔ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کاروبار جو تم کرتے ہو۔ اس میں دیکھ لو کہ خداتعالیٰ کی رضاء مقصود ہو اور اُس کے ارادہ سے باہرنکل کر اپنی اغراض و جذبات کو مقدّم نہ کرو۔
    پس اگر انسان کی زندگی کا یہ مدّعا ہوجائے کہ وہ صرف تنعم کی زندگی بسرکرے اور اس کی ساری کامیابیوں کی انتہاخوردونوش اور لباس وخواب ہی ہو اور خداتعالیٰ کے لئے کوئی خانہ اُس کے دل میں باقی نہ رہے ، تو یادرکھو کہ ایساشخص فطرۃ اللہ کا مُقلب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ رفتہ رفتہ اپنے قویٰ کو بیکار کرلے گا۔ یہ صاف بات ہے کہ جس مطلب کے لئے کوئی چیز ہم لیتے ہیں اگر وہ وہی کام نہ دے، تو اُسے بیکار قراردیتے ہیں۔مثلاً ایک لکڑی کُرسی یا میز بنانے کے واسطے لیں اوراس کام کے ناقابل ثابت ہوتو ہم اُسے ایندھن ہی بنالیں گے۔ اسی طرح پر انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادتِ الہٰی ہے، لیکن اگر وہ اپنی فطرت کوخارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کرکے بیکار کرلیتا ہے، تو خداتعالیٰ اُس کی پرواہ نہیں کرتا۔ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔قُلْ مَایَعْبَوئُ ابِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآ وء ُکُمْ(الفرقان:۷۸) مَیں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ مَیں نے ایک رؤیاء میں دیکھا کہ ایک جنگل میں کھڑاہوں۔شرقاً غرباً اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے اس نالی پر بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب کے جوہر ایک بھیڑ پر مسلط ہے، ہاتھ میں چھُری ہے۔ جوانہوں نے اُن کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف مُنہ کیا ہو اہے۔مَیں اُن کے پاس ٹہل رہا ہوں۔مَیں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھاکہ یہ آسمانی حکم کے منتظر ہیں، تو مَیں نے یہی آیت پڑھی قُلْ مَایَعْبَوئُ ابِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآ وء ُکُم۔ یہ سنتے ہی اُن قصابوں نے فی الفورچھُریاں چلادیں اوریہ کہا کہ تم ہوکیا؟آخرگوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔
    غرض خداتعالیٰ متقی کی زندگی کی پرواہ کرتا ہے اور اس کی بقاء کو عزیز رکھتاہے اورجواُس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پروا نہیں کرتا او راُس کو جہنم میں ڈالتا ہے، اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہرکرے۔ جیسے کلوروفارم نیند لاتاہے، اسی طرح پرشیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سُلاتا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کردیتاہے۔
    سورۃ العَصْرِ میں دوسلسلوں کاذکر
    مَیں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتاہوں کہ سورۂ العصرمیں دوسلسلوں کا ذکرفرمایا ہے۔ ایک ابرارواخیارکا سلسلہ ہے اور دُوسرا فجار کا۔ کفاراور فجارکے سلسلہ کاذکر یوں فرمایا۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(العصر:۳) اوردوسرے سلسلہ کو اس طرح پرالگ کیا۔اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اوَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ (العصر) یعنی ایک وہ ہیں جو خُسران میں ہیں، مگر خسران میں مومن اور عملِ صالح کرنے والے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہو اکہ خسران میں وہ ہیں جو مومن اور عملِ صالح کرنے والے نہیں ہیں۔ یادرکھو کہ صلاح کا لفظ وہاں آتا ہے، جہاں فساد کابالکل نام ونشان نہ رہے۔ انسان کبھی صالح نہیں کہلاسکتا جب تک وہ عقاید رویہ اور فاسدہ سے خالی نہ ہو اور پھر اعمال بھی فساد سے خالی ہوجائیں۔ متقی کا لفظ بابِ افتعال سے آتا ہے اوریہ باب تصنّع کے لئے آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متقی کو بڑا مجاہدہ اور کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس حالت میں وہ نفسِ لوامہ کے نیچے ہوت اہے اور جب حیوانی زندگی بسرکرتاہے، اس وقت امارہ کے نیچے ہوت اہے اور مجاہدہ کی حالت سے نکل کر جب غالب آجاتا ہے، تومطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ متقی نفسِ امارہ کی حالت سے نکل کر آتا ہے اور لوامہ کے نیچے ہوتا ہے۔ اسی لئے متقی کی شان میں آیا ہے کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔ گویا اس میں بھی ایک قسم کی لڑائی ہی کی حالت ہوتی ہے۔ وساوس اور اوہام آآکر حیران کرتے ہیں، مگر وہ گھبراتا نہیں اور یہ وساوس اُس کو درماندہ نہیں کرسکتے۔ وہ باربار خداتعالیٰ کی استعانت چاہتا ہے اور خداکے حضور چلاتا اورروتا ہے، یہانتک کہ غالب آجاتا ہے۔ ایساہی مال کے خرچ کرنے میں بھی شیطان اس کو روکتا ہے اوراسراف اور انفاق فی سبیل اللہ کو یکساں دکھاتا ہے؛ حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسراف کرنے والا اپنے مال کو ضائع کرتا ہے، مگر فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اس کو پھر پاتا ہے اور خرچ سے زیادہ پاتا ہے۔ اس لئے ہی مِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (البقرہ:۴)فرمایاہے۔
    صراطِ مستقیم
    بات یہ ہے کہ صلاح کی حالت میں انسان کو ضروری ہے کہ ہر ایک قسم کے فساد سے خواہ وہ عقائد کے متعلق ہو یا اعمال کے متعلق ، پاک ہو ، جیسے انسان کا بدن صلاحیت کی حالت اس وقت رکھتا ہے، جبکہ سب اخلاط اعتدال کی حالت پرہوں اور کوئی کم زیادہ نہ ہو۔لیکن اگرکوئی خلط بھی بڑھ جائے، تو جسم بیمارہوجاتاہے۔ اسی طرح رُوح کی صلاحیت کا مدار بھی اعتدال پر ہے۔ اسی کانام قرآن شریف کی اصطلاح میں الصراط المستقیم ہے۔ صلاح کی حالت میں انسان محض خداکاہوجاتاہے۔ جیسے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی حالت تھی۔ اور رفتہ رفتہ صالح انسان ترقی کرتاہوا مطئمنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدرہوتا ہے۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا:اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ (الم نشرح:۲) ہم انشراح صدر کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔
    انسان کا سینہ بیت اللہ ہے اور دل حجراَسود
    یہ بات بحضورِ دل یادرکھو کہ جیسے بیت اللہ میں حجرِاسود پڑا ہو اہے۔ اسی طرح قلب سینہ میں پڑاہوا ہے بیت اللہ پر بھی ایک زمانہ آیاہواتھا کہ کفار نے وہاں بُت رکھ دیئے تھے۔ممکن تھا کہ بیت اللہ پر یہ زمانہ نہ آتا۔ مگر نہیں اللہ نے اس کو ایک نظیر کے طورپررکھاقلبِ انسانی بھی حجرِ اسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ ماسویٰ اللہ کے خیالات وُہ بُت ہیں جو اس کعبہ میں رکھے گئے ہیں۔ مکہ معظمہ کے بتوں کا قلع قمع اس وقت ہواتھا جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزارقدوسیوں کی جماعت کے ساتھ وہاں جاپڑے تھے اور مکہ فتح ہوگیا تھا۔ ان دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھاہے اور حقیقت میں ان کی شان ملائکہ ہی کی سی تھی۔ انسانی قویٰ بھی ایک طرح ملائکہ ہی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ جیسے ملائکہ کی یہ شان ہے کہ یَفْعَلُوْنَ مَایُوْمِرُوْنَ(النحل:۵۱) اسی طرح پرانسانی قویٰ کا خاصہ ہے کہ جو حکم ان کو دیا جائے، اُس کی تعمیل کرتے ہیں۔ ایسا ہی تمام قویٰ اور جوارح حکمِ انسانی کے نیچے ہیں۔ پس ماسوِیٰ اللہ کے بتوں کی شکست اور راستیصاں کے لئے ضروری ہے کہ اُن پر اسی طرح سے چڑھائی کی جائے۔ یہ لشکرتزکیہ ٔ نفس سے تیارہوتا ہے اور اسی کو فتح دی جاتی ہے جو تزکیہ کرتا ہے ؛ چنانچہ قراان شریف میں فرمایا گیا ہے۔ قَدْاَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا(الشمس:۱۰) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر قلب کی اصلاح ہوجائے، تو کل جسم کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اور یہ کیسی سچی بات ہے آنکھ،کان ،ہاتھ،پائوں،زبان وغیرہ جس قدر اعضاء ہیں، وہ دراصل قلب کے ہی فتوے پر عمل کرتے ہیں۔ ایک خیال آتا ہے، پھر وُہ جس عضو کے متعلق ہو وُہ فوراً اس کی تعمیل کے لئے تیارہوجاتاہے۔
    میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آئو۔
    غرض اس خانہ کو بتوں سے پاک وصاف کرنے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے اور اس جہاد کی راہ میں تمہیں بتاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں۔ اگر تم اس پر عمل کروگے، توان بتوں کو توڑڈالوگے ور یہ راہ مَیں اپنی خورد تراشیدہ نہیں بتاتا۔ بلکہ خدانے مجھے مامورکیا ہے کہ مَیں بتائوں۔ اور وُہ راہ کیا ہے؟ میری پیروی کرو۔ اور میرے پیچھے چلے آئو۔ یہ آواز نئی آواز نہیں ہے۔ مکہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہا تھا۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنَیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:۳۲) اسی طرح پر اگر تم میری پیروی کروگے، تو اپنے اندر کے بتوں کو توڑ ڈالنے کے قابل ہوجائوگے۔ تزکیۂ نفس کے لئے چلہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں۔ ارہ اور نفی واثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کئے تھے، بلکہ اُن کے پاس ایک اور ہی چیز تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میںمحو تھے، جو نور آپؐ میں تھا۔ وُہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہوکرصحابہؓ کے قلب پر گرتا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔ تاریکی کے باجئے اُن سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔ اس وقت بھی خوب یادرکھو۔ وہی حالت ہے جب تک کہ وہ نور جو خدا کی نالی میں سے آتا ہے تمہارے قلب پر نہیں گرتا۔ تزکیہ نفس نہیں ہوسکتا۔ انسان کا سینہ مہبط الانوار ہے اور اسی وجہ سے وہ بیت اللہ کہلاتا ہے۔ بڑا کام یہی ہے کہ اس میں جو بت ہیں۔ وہ توڑے جائیں اور اللہ ہی اللہ رہ جائے۔برکریماں کا رہادُشوارنیست حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَللّٰہُ اَللّٰہُ فِیْ اَصْحَابِیْ۔ میرے صحابہؓ کے دلوں میں اللہ ہی اللہ ہے۔ دل میں اللہ ہی اللہ ہونے سے یہ مُراد نہیں کہ انسان وحدتِ وجود کے مسئلہ پر عمل کرے اور ہرکتے اور گدھے کو معاذ اللہ خداقراردے بیٹھے۔ نہیں نہیں۔ اس سے اصل غرض یہ ہے کہ انسان کا جو کام ہو اس میں مقصود فی الذات اللہ تعالیٰ ہی کی رضاہو نہ کچھ اور۔ اور یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ جب تک خداتعالیٰ کا فضل شاملِ حال نہ ہو۔
    قرآن کریم میں عِلمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے
    پھر یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں عملی اور علمی تکمیل کی ہدایت ہے ؛ چنانچہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ (الفاتحہ :۶) میں تکمیل علمی کی طرف اشارہ ہے اور تکمیل عملی کا بیان صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ (الفاتحہ:۷) میں فرمایا کہ جو نتائج اکمل اور اَتَم ہیں، وہ حاصل ہوجائیں ۔ جیسے ایک پودا جو لگایا گیا ہے۔ جب تک پورا نشوونما حاصل نہ کرے ، اس کو پھل پھول نہیں لگ سکتے۔ اسی طرح اگر کسی ہدایت کے اعلیٰ اور اکمل نتائج موجود نہیں ہیں۔ وہ ہدایت مُردہ ہدایت ہے۔ جس کے اندر کوئی نشوونما کی قوت اور طاقت نہیں ہے۔جیسے اگر کسی کو دید کی ہدایت پر پورا عمل کرنے سے کبھی یہ اُمید ہیں ہوسکتی کہ وہ ہمیشہ کی مکتی یا نجات حاصل کرلے گا اور کیڑے مکوڑے بننے کی حالت سے نکل کر دائمی سرور پالے گا، تو اس ہدایت سے کیا حاصل، مگر قرآن شریف ایک ایسی ہدایت ہے کہ اُس پر عمل کرنے والا اعلیٰ درجہ کے کمالات حاصل کرلیتا ہے اور خداتعالیٰ سے اس کا ایک سچا تعلق پیداہونے لگتا ہے۔یہاں تک کہ اُس کے اعمالِ صالحہ جو قرآنی ہدایتوں کے موافق کیے جاتے ہیں ۔وہ ایک شجرِ طیب کی مثال۔ جوقرآن شریف میں دی گئی ہے۔ بڑھتے ہیں اور پھل پھول لاتے ہیں۔ ایک خاص قسم کی حلاوت اور ذائقہ اُن میں پیدا ہوتا ہے۔پاس اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں نشوونما کا مادہ نہیںرکھتا، بلکہ اس کا ایمان مُردہ ہے، تو اس پر اعمالِ صالحہ کے طیب اشجار کے بارورہونے کی کیا اُمید ہوسکتی ہے؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میںصِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم (الفاتحہ:۷) کہ کر ایک قیدلگادی ہے۔یعنی یہ راہ کوئی بے ثمراور حیران اور سرگردان کرنے والی نہیں ہے، بلکہ اس پر چل کر انسان بامراد اور کامیاب ہوتا ہے اور عبادت کیلئے تکمیل عملی ضروری شے ہے؛ ورنہ وہ محض ایک کھیل ہوگا ، کیونکہ درخت اگر پھل نہ دے، خواہ وہ کتنا ہی اُونچا کیوں نہ ہو۔ مفید نہیں ہوسکتا۔
    مامُورمن اللہ کے مخالفوں کا ایمان سَلب ہوجاتاہے
    ہمارے مخالفوں کی حالت ایسی ہے۔ جس سے سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ وہ نیک کو بُرااور مامُورمن اللہ کوکذاب سمجھتے ہیں۔ جس سے خداتعالیٰ کے ساتھ ایک جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ اور اب یہ صاف امر ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعُود کے نام سے دُنیا میں بھیجا ہے جو لوگ میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں خداتعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ جب تک مَیں نے دعویٰ نہ کیاتھا۔ بہت سے اُن میں سے مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لوٹالے کر وضوکرانے کو ثواب اور فخرجانتے تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو میری بیعت میں آنے کے لئے زور دیتے تھے، لیکن جب خدا تعالیٰ کے نام اور اعلام سے یہ سلسلہ شروع ہوا ، تو وہی مخالفت کے لئے اُٹھے۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اُن کی ذاتی عداوت میرے ساتھ نہ تھی، بلکہ عداوت اُن کو خداتعالیٰ سے ہی تھی۔ اگر خداتعالیٰ کے ساتھ اُن کو سچا تعلق تھا، تو اُن کی دینداری اور اتقاء اور خداترسی کا تقاضا یہ ہوناچاہئے تھا کہ سب سے اول وہ میرے اس اعلان پر لبیک کہتے اور سجداتِ شکر کرتے ہوئے میرے ساتھ مصافحہ کرتے، مگر نہیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو لے کر نِکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مخالفت کو یہاں تک پہنچایا کہ مجھے کافر کہا اور بے دین کہا۔ دجال کہا۔ افسوس ! ان احمقوں کو یہ معلوم نہ ہوا کہ جو شخص خداتعالیٰ سے قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ کی آوازیں سنتا ہو۔وہ اُن کی بدگوئی اور گالیوں کی کیا پروا کرسکتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان نادانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کفر اور ایمان کا تعلق دُنیا سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہے۔ خداتعالیٰ میرے مومن اور ماموُر ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر ان بیہودگیوں کی مجھے پروا کیا ہوسکتی ہے؟ غرض ان باتوں سے صاف پایاجاتا ہے کہ لوگ میرے مخالف نہ تھے بلکہ خداتعالیٰ کی باتوں کی انہوں نے مخالفت کی اور یہی وجہ ہے جس سے مامور من اللہ کے مخالفوں کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔ اب یہ صاف بات ہے کہ میرے مخالف خداتعالیٰ سے مخالفت کررہے ہیں۔ میں اگر روشنی کی طرف آرہا ہوں اور یہ یقینی امر ہے کہ مَیں روشنی کی طرف آتا ہوں ۔ کیونکہ خداتعالیٰ کے بے شمار نشان میری تائید میں ظاہر ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔بارش کی طرح یہ نشان آسمان سے اُتر رہے ہیں۔ تو پھر یہ بھی یقینی امر ہے کہ میرے مخالف تاریکی کی طرف جاتے ہیں۔ روشنی اور نورُ رُوح القدس کو لات اہے اور تاریکی شیطان کی قربت پیداکرتی ہے او راس طرح پرولی کی مخالفت سلب ایمان کردیت ہے۔ اور بئس القرین سے جاملاتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اصلاح تب ہوتی ہے کہ تکمیل عملی کے مراتب حاصل ہوجائیں۔ پس سورۃ العصر میں جواِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اوَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ فرمایا ہے۔ اس میں اٰمَنُوْا سے تکمیل علمی کی طرف ارشاد فرمایا۔ اور عَمِلُو االصّٰلِحٰتِ سے تکمیل عملی کی طرف رہبری کی حکمت کے بھی دوہی حصے ہیں۔ ایک علم اکمل اور اتم ہو۔ دُوسرے عمل اتم اور اکمل ہو۔
    وتواصوابالحق
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ خسر سے محفوظ رہتے ہیں۔ اول وہ تکمیل علمی کرتے ہیں اور پھر عمل بھی گندے نہیں کرتے بلکہ علمی تکمیل کو عملی تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پھر یہ کہ جب انہیں کامل بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور ان کے کمال علم کا ثبو ت کمال ِ عمل سے ملتا ہے تو پھر وہ بخل نہیں کرتے، بلکہ وتو اصوا بالحق پر عمل کرتے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس حق کی دعوت کرتے ہیں، جو انہوں نے پایا ہے۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اعمال کی روشنی بھی دکھاتے ہیں۔ وعظ اگر خود عمل نہیں کرتا ،تو اس کی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں پڑسکتا۔ یہ بھی قاعدہ کی بات ہے کہ اگر خود آدمی کہے اور کرے نہیں، تو اس کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ اگر زنا کارزنا سے منع کرے ، تو اُس کی اس حالت کے ثابت ہوجانے پر سننے والوں کے دہر یہ ہوجانے کا اندیشہ ہے، کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ اگر زنا کاری واقعی خطرناک چیز ہوتی اور خداتعالیٰ کے حضور اس ناپاکی پر سز املتی اور خداواقعی ہوتا، تو پھر یہ جع منع کرتاتھا، خود کیوں اس سے پرہیزنہ کرتا۔
    مجھے معلوم ہے کہ ایک شخص ایک مولوی کی صحبت کے باعث مسلمان ہونے لگا۔ ایک روز اُس نے دیکھا کہ وہی مولوی شراب پی رہا ہے تھا، تو اس کا دل سخت ہوگیا اور وُہ رُک گیا۔غرض تَوَاصَوْ ابِالْحَقِّ میں یہ فرمایا کہ وہ اپنے اعمال کی روشنی سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔
    وَتَوَاصَوْابِالْصَبْرِ
    اور پھر ان کا یہ شیوہ ہوتا ہے۔ تَوَاصَوْابِالْصَبْرِ یعنی صبر کے ساتھ وعظ ونصیحت کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔ جلدی جھاگ مُنہ پر نہیں لاتے۔ اگر کوئی مولوی اور پیش رو ہوکر، امام اور رہنما بن کر جلدی بھڑک اُٹھتا ہے اور اس میں برداشت اور صبر کی طاقت نہیں تو وہ لوگوں کو کیوں نقصان پہنچاتا ہے؟ دُوسرے یہ بھی مطلب ہے کہ جو باتیں سننے والا صبرسے نہ سُنے، وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ ہمارے مخالف بُردباری کا دل لے کر نہیں آتے اور صبر سے اپنی مشکلات پیش نہیں کرتے، بلکہ اُن کا تو یہ حال ہے کہ وہ کتاب تک تو دیکھنا نہیں چاہتے اور شورمچاکر حق کو ملبس کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر وُہ فائدہ اُٹھائیں توکیونکراُٹھائیں۔ابوجہل اور ابولہب میں کیا تھا؟یہی بے صبری اور بے قراری تو تھی۔ کہتے تھے کہ تو خدا کی طرف سے آیا ہے تو کوئی نہر لے آ۔ ان کم بختوں سے صبر نہ کیا اور ہلاک ہوگئے؛ ورنہ زبیدہ والی نہر تو آہی گئی۔ اسی طرح پر ہمارے مخالف بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دُعا کرو اور وہ معاً قبول ہوجائے اور پھر اس کو حق وباطل کا معیار ٹھہراتے ہیں اور اپنی طرف سے بعض اُمور پیش کرکے کہتے ہیں کہ یہ ہوجائے اور وُہ ہوجائے ، تو مان لیں گے لیکن آپ کسی شرط کے نیچے ہیں آئے۔ افسوس یہی لوگ ہیں جو لَایُخَافُ عُقْبَہٰھَا (الشمس:۱۴) کے مصداق ہیں۔ یادرکھوصابر ہی شرح صدر کا رتبہ پاتا ہے۔ جو صبر نہیں کرتا، وُہ گویا خدا پر حکومت کرتا ہے۔ خود اس کی حکومت میں رہنا نہیں چاہتا۔ ایسا گُستاخ اور دلیرجو خداتعالیٰ کے جلال اور عظمت سے نہیں ڈرتا وہ محروم کردیاجاتا ہے اور اُسے کاٹ دیا جاتا ہے۔
    صحبت صادقین
    پھر یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ صبر کی حقیقت میں سے یہ بھی ضروری بات ہے کُوْنُوْ امَعَ الصَّادِقِیْنَ(توبہ:۱۱۹) صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دُور بیٹھ رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے، اس وقت فرصت نہیں ہے۔ بھلا تیرہ سو سال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پالیں اور اُس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رُسولؐ کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں، وہ فلاح پاسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ؎
    ہم خدا خواہی وہم دُنیائے دوں ایں خیال است و محال است وجنوں
    دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت سے گریز ہوتو دینداری کے حُصول کی اُمید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اُٹھائیں۔ مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دُنیا پرمقدم کرلیتے ہیں، مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے۔ یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکرکرنا مومن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔ وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم ہی نہیں ان کو جانے دو۔ مگر ان سب سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والاتو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اُس میں شامل ہونے کی فکر کی۔ لیکن اُس نے کچھ قدر نہ کی۔ وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور اُن باتوں سے جو خداتعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سُنتے اور دیکھتے۔ وہ اپنی جگہ کیسے ہی نیک اور متقی اور پرہیز گار ہوں۔ مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہیے۔ انہوں نے قدر نہیں کی۔ مَیں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیلِ عملی کی ضرورت ہے۔ پس تکمیل عملی بدُوں تکمیل علمی کے مُحال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے۔ تکمیل علمی مشکل ہے۔ بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا او رہم ہم جواب نہ دے سکے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور اُن باتون کو نہیں سنتے جو خداتعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائیدمیں علمی طورپرظاہرکررہا ہے۔
    پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خداپرایمان لاتے ہو اور دین کو دُنیا پر مقدم کرنے کا سچا وعدہ کرتے ہو، تو مَیں پوچھتا ہوں کہ اس پرعمل کیا ہوتا ہے کیا کُوْنُوْ امَعَ الصَّادِقِیْنَ (التوبہ:۱۱۹) کا حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر تم واقعی ایمان لاتے ہو اور سچی خوش قسمتی یہی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کو مقدم کرلو۔ اگر ان باتوں کوردی اور فضول سمجھو گے تویادرکھو خداتعالیٰ سے ہنسی کرنے والے ٹھہرو گے۔
    سورۃ فاتحہ میں قرآنِ کریم کے تمام معارف درج ہیں
    سورۃ فاتحہ پر جو قرآن شریف کا باریک نقشہ ہے اور ام الکتاب بھی جس کا نام ہے، خوب غورکرو کہ اس میں اجمال کے ساتھ قرآن کریم کے تمام معارف درج ہیں؛ چنانچہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ سے اس کو شروع کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام محامداللہ ہی کے لئے ہیں۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ تمام منافع اور تمدنی زندگی کی ساری بہبودگیاں اللہ ہی کی طرف سے آتی ہیں، کیونکہ ہر قسم کی ستائش کا مستحق بھی وہ نہیں ہے، جوکفر کی بات ہے۔ پس الحمدللہ میں کیسی توحید کی جامع تعلیم پائی جاتی ہے، جو انسان کودنیا کی تمام چیزوں کی عبودیت اور بالذات نفع ر سان نہ ہونے کی طرف لے جاتی ہے اور واضح اور بین طور پر یہ ذہن نشین کرتی ہے کہ ہر نفع اور سود حقیقی اور ذاتی طور پر خداتعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے۔کیونکہ تمام محامد اسی کے لئے سزا وار ہیں۔ پس ہر نفع اور سود میں خداتعالیٰ ہی کو مقدم کرو۔ اس کے سوا کوئی کام آنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے اگر خلاف ہوتو اولا دبھی دشمن ہوسکتی ہے۔ اور ہوجاتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی اُمہاتُ الصفات
    پھر اسی سورۃ فاتحہ میں خداکا نقشہ دکھایاگیا ہے، جوقرآن کریم منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دُنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے جو اُمہات الصفات کہلاتی ہیں۔جیسے سورۂ فاتحہ اُمّ الکتاب ہے، ویسے ہی جو صفات اللہ تعالیٰ کی اس میں بیان کی گئی ہیں۔ وہ بھی اُم الصفات ہی ہیں اور وہ یہ ہیں۔۔۔۔رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَلرَّحْمٰنِ ،الرَّحِیْمِ، مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ ان صفات اربعہ پرغورکرنے سے خداتعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آجاتا ہے۔ ربوبیت کا فیضان بہت ہی وسیع اور عام ہے اوراس میں کل مخلوق کی کل حالتوں تربیت اور اس کی تکمیل کے تکلف کی طرف اشارہ ہے۔ غورتوکرو۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر سوچتا ہے، تو اس کی امید کس قدروسیع ہوجاتی ہے اور پھر رحمانیت یہ ہے کہ بُدوں کسی عملِ عامل کے اُن اسباب کو مہیاکرتا ہے۔جوبقائے وجود کے لئے ضروری ہیں۔ دیکھو چاند، سورج، ہوا،پانی وغیرہ بدوں ہماری دُعا ور التجاکے اور بغیرہمارے کسی عمل اور فعل کے اس نے ہمارے وجود کے بقاکے لئے کام میں لگا رکھے ہیں اور پھر رحیمیت یہ ہے کہ اعمال کو جائع نہ کرے اور مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِکا تقاضا یہ ہے کہ بامراء کردے۔ جیسے ایک شخص امتحان کے لئے بہت محنت سے تیاری کرتا ہے، مگر امتحان میں دوچار نمبروں کی کمی رہ جاتی ہے، تو دنیوی نظام اور سلسلہ میں تو اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اس کو گرادیتے ہیں، مگر خداتعالیٰ کی رحیمیت اس کی پردہ پوشی فرماتی ہے اور اس کو پاس کرادیتی ہے۔ رحیمیت میں ایک قسم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے۔ عیسائیوں کو خداذرہ بھی پردہ پوش نہیں ہے؛ ورنہ کفارہ کی کیا ضرورت رہتی؟ ایسا ہی آریوں کا خدانہ رب ہے نہ رحمان کیونکہ وہ تو بلا مُزد اور بلا عمل کچھ بھی کسی کو عطانہیں کرسکتا۔ یہانتک کہ دیدوں کے اصول کے موافق گناہ کرنا بھی ضروری معلوم دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کو اگرکسی اُس کے عمل کے معاوضہ میں گائے کا دودھ دینا مطلوب ہے، تو بالمقابل یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی برہمنی(اگر یہ روایت صحیح ہو)زِنا کرے تاکہ اس فسقِ وفحش کے بدلہ میں وہ گائے کی جون میں جائے اور اس عامل کو دودھ پالئے، خواہ وہ اس کا خاوند ہی کیوں نہ ہو۔ غرض جب تک ایسا سلسلہ نہ ہوگا ، کوئی عامل اپنے عمل کی جزاویدک ایشر کے خزانہ سے پانہیں سکتا، کیونکہ اس کا سارا سلسلہ جوڑتوڑ ہی سے چلتا ہے۔
    مگراسلام نے وُہ خداپیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزا وار ہے اس لئے معطی حقیقی ہے وُہ رحمن ہے بدُوں عملِ عامل کے اپنا فضل کرنا ہے۔ پھر مالکیت یوم الدین جیسا کہ مَیں نے ابھی کہا ہے، بامراد کرتی ہے۔ دُنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی، مگر خداتعالیٰ کی گورنمنٹ، کامل گورنمنٹ اور الانتہاخزائن کی مالک ہے۔ اس کے حضور کوئی کمی نہیں۔ کوئی عمل کرنے والا ہو۔ وہ سب کو فائزالمرام کرتا ہے اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلہ میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔وہ تواب بھی ہے۔ مستحی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہزار ہا عیب اپنے بندوں کو معلوم ہوتے ہیں، مگر ظاہر نہیں کرتا۔ ہاں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بیباک ہوکر انسان اپنے عیبوں میں ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور خداتعالیٰ کی حیا اور پردہ پوشی سے نفع نہیں اُٹھاتا، بلکہ دہریت کی رگ اس میں زور پکڑتی جاتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس بیباک کو چھوڑا جائے، اس لئے وہ ذلیل کیا جاتا ہے، مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو محمدحسین کی نسبت الہام ہواکہ اس میں کوئی عیب ہے۔ اس نے چاہا کہ وہ ظاہرکردیں، مگر انہوں نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی حیامانع ہے۔ پھر انہوں نے اس کی نسبت ایک رؤیامیں دیکھا کہ اس کے کپڑے پھٹ گئے ہیں؛ چنانچہ اب وہ رؤیا پوری ہوگئی۔
    غرض میرا مطلب تو صرف یہ تھا کہ رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے، مگر اس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہو اور اس عمل کے متعلق اگر کوئی کمی یا نقص رہ جائے، تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ رحمانیت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحمانیت میں فعل ور عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا، مگر رحیمیت میں فعل وعمل کو دخل ہے۔ لیکن کمزوری بھی ساتھ ہی ہے۔ خدا کا رحم چاہتا ہے کہ پردہ پوشی کرے۔ اسی طرح مالک یوم الدین وہ ہے کہ اصل مقصد کوپورا کرے۔ خوب یادرکھو کہ یہ اُمہات الصفات رُوحانی طور پر خدانما تصویر ہیں۔ ان پر گور کرتے ہی معاً خدا سامنے ہوجاتا ہے اور رُوح ایک لذت کے ساتھ اُچھل کر اپس کے سامنے سربسجود ہوجاتی ہے؛ چنانچہ اَلْحَمْدُلِلّٰہسے جو شروع کیاگیا تھا ، تو غائب کی صورت میں ذکر کیا ہے، لیکن ان صفات اربعہ کے بیان کے بعد معاً صورت بیان تبدیل ہوگئی ہے،کیونکہ ان صفات نے خدا کو سامنے حاضرکردیا ہے۔ اس لئے حق تھا اور فصاحت کا تقاضہ تھا کہ اب غائب نہ رہے بلکہ حاضر کی صورت اختیار کی جائے۔ پس اس دائرہ کی تکمیل کے تقاضہ نے مخاطب کی طرف منہ پھیرا اور اِیَّاکَ نَعْبُدُوْ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ (الفاتحہ:۵) کہا یادرکھنا چاہئے کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُوْ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ ہاں اِیَّاکَ نَعْبُدُو میں ایک قسم کاتقدمِ زمانی ہے کیونکہ جس حال میں محض اپنی رحمانیت سے بغیرہماری دُعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع و اقسام کی قوتیں اور نعمتیں عطافرمائیں۔ اس وقت ہماری دُعا نہ تھی بلکہ محض اس کا فضل ہمارے شاملِ حال تھا اور یہ تقدم ہے۔
    رحمانیت اور رحیمیت
    مَیں پھر بیان کرتا ہوں اور یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ رحم دو قسم کا ہوتا ہے۔ اول رحمانیت اور دپوسرا رحیمیت کے نام سے مُوسوم ہے۔ رحمانیت تو ایس افیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے شروع ہوا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمارے وجود سے پیشتر ہی زمین و آسمان ، چاند وسورج اور دیگر اشیاء ارضی وسماوی پیداکی ہیں، جو سب کی سب ہمارے کام آنے والی ہیں اور کام آتی ہیں۔ دُوسرے حیوانات بھی اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ مگر وہ جب کہ بجائے خود انسان ہی کے لئے مفید ہیں اور انسان ہی کے کام آتے ہیں۔ تو گویا مجموعی طور پر انسان ہی اُن سب سے فائدہ اُٹھانے والا ٹھہرا۔ دیکھو جسمانی اُمور مٰں کیسی اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھاتا ہے۔ اعلیی درجہ کاگوشت انسان کے لئے ہے۔ ٹکڑے اور ہڈیاں کتوں کے واسطے جسمانی طور پر تو کسی حد تک حیوان بھی شریک ہیں، مگر رُوحانی لذات میں جانور شریک نہیں ہیں۔ پس یہ دو قسم کی رحمتیں ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے ہی عطا ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو رحیمیت کی شان کے نمونے ہیں اور وہ دُعا کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور اُن میں ایک فعل کی ضرورت ہوتی ہے۔
    دُعا اور قانونِ قدرت کا باہمی تعلق
    یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس امر کو بیان کردیا جائے کہ قانونِ قُدرت میں ہمیشہ دُعا کا تعلق ہے۔ آج کل کے نیچری طبع لوگ جو علوم حقہ سے محض بے خبراور ناواقف ہیں اور اُن کی ساری تگ ودو کا نتیجہ یورپ کے طرزِ معاشرت کی نقل اُتارنا ہے، دُع اکو ایک بدعت سمجھتے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دُعا کے تعلق پر کچھ مختصر سی بحث کی جائے۔
    دیکھو ایک بچہ بھوک سے بیتاب اور بے قرار ہوکر دودھ کے لیے چالتا ہے اور چیختا ہے، تو ماں کی پستان میں دُودھ جوش مارکر آجاتا ہے؛ حالانکہ بچہ تو دُعا کا نام بھی نہیں جانتا، لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اُس کی چیخیں دُودھ کو جذب کرلیتی ہیں ۔ یہ ایک ایسا امرہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کو اس کا تجربہ ہے۔ بعض اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دُودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسااوقات ہوتا بھی نہیں، لیکن جونہیں بچہ کی درد ناک چیخ کان میں پہنچتی ، فوراً دُودھ اُتر آیا ہے۔ جیسے بچہ کی ان چیخوں کو دُودھ کے جذب اور کشش کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔ مَیں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلاہٹ ایسی ہی اضطراری ہوتو وہ اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور مَیں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خداکے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور مَیں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتاہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دُعا کی صورت میں آتا ہے، میں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس نہ کرسکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دُنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ مَیں قبولیت دُعا کا نمونہ دکھانے لئے ہر وقت تیار ہوں۔
    توعرض یہ ہے کہ قانوں قدرت میں قبولیت دعا کی نظریں موجود ہیں اور ہرزمانہ میں خداتعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔ اسی لئے اس نے اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ (الفاتحہ:۶،۷) کی دُعا تعلیم فرمائی ہے۔ یہ خداتعالیٰ کا منشاء اور قانون ہے اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے اھدنا الصراط المستقیم کی دُعا سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اَتم کر۔ ان الفاظ پرغورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہرتواشارۃ النص کے طور پر اس سے دُعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ صراط مستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے ، لیکن اس کے سر پر اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ (الفاتحہ:۵) بتارہا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ یعنی صراطِ مستقیم کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانتِ الہٰی کو مانگنا چاہیے۔ پس ظاہری اسباب کی رعایت ضروری ہے۔ جو اس کو چھوڑتا ہے، وہ کافرِ نعمت ہے۔ دیکھو! یہ زبان جو خداتعالیٰ نے پیدا کی ہے اور عروق و اعصاب سے اس کو بنایا ہے۔ اگر ایسی ہ ہوتی ، تو ہم بول نہ سکتے۔ ایسی زبان دُعا کے لیے عطاکی جو قلب کے خیالات اور ارادوں کوظاہر کرسکے(اگر ہم دُعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں، تو ہماری شوربختی ہے۔ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وُہ زبان کو لگ جائیں تو وہ یکدفعہ ہی کام چھوڑ بیٹھتی ہے) یہ رحیمیّت ہے۔ ایسا ہی قلب میں خشوع وخضوع کی حالت رکھی اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں ودیعت کی ہیں۔ پس یادرکھو۔ اگر ہم ان قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کردعا کرتے ہیں، تو یہ دُعا کچھ بھی مفید اور کارگر نہ ہوگی۔ کیونکہ جب پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا، تو دوسرے سے کیا نفع اُٹھائیں گے، اس لئے اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ سے پہلے ایاک نعبد بتارہا ہے کہ ہم نے تیرے پہلے عطیوں اور قوتوں کو بیکار اور بربادنہیں کیا۔ یادرکھو! رحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحیمیت سے فیض اُٹھانے کے قابل بنادے، اس لئے خداتعالیٰ نے جو اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن:۶۱) فرمایا یہ نری لفاظی نہیں ہے، بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے۔ مانگنا انسانی خاصہ ہے اور جو استجابت جو اللہ تعالیٰ کا نہیں وُہ ظالم ہے۔ دُعا ایک ایسی سُرور بخش کیفیت ہے کہ مجھے افسوس ہوت اہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذت اور سُرور کو دُینا کو سمجھائوں۔ یہ تو محسوس کرنے سے ہی پتہ لگے گا۔مختصر یہ کہ دُعا کے لوازمات سے اول ضرور ی یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ اور اعتقاد پیداکریں۔ کیونکہ جو شخص اپنے اعتقادات کو دُرست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا او ردُعا کرت اہے، وہ گویا خداتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دُعا میں یہ مقصود ہے کہ ہامرے اعمال کو اکمل اور اتم کر اور پھر یہ کہہ کر کہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اور بھی صراحت کردی کہ ہم اس صراط کی ہدایت چاہتے ہیں جو منعم علیہ گروہ کی راہ ہے اور مغضوب گروہ کی راہ سے بچا۔ جن پر بداعمالیوں کی وجہ سے عذابِ الہٰی آگیا او رالضالین کہہ کر یہ دعا تعلیم کی کہ اس سے بھی محفوظ رکھ کر تیری حمایت کے بُدوں بھٹکتے پھریں۔
    ایک اور بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس جگہ لف و نشر مرتب ہے۔ اول اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہ اللہ مستجمع جمیع صفات کاملہ۔ ہر ایک خوبی کو اپنے اندر رکھنے والا اور ہر ایک عیب اورنقص سے منزّہ ہے۔ دوم رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ سوم اَلرَّحْمٰن۔چہارم اِلرَّحِیْم۔ پنجم مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اب اس کے بعد جو درکواستیں ہیں وہ ان پانچوں کے ماتحت ہیں۔ اب سلسلہ یوُں شروع ہوتا ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ یہ فقرہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے مقابل ہے۔ یعنی اے اللہ تو جو ساری صفاتِ حمیدہ کا جامع ہے اور تمام بدیوں سے منزہ ہے۔ تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ مسلمان اس خدا کو جانتا ہے، جس میں وہ تمام خوبیاں جو انسانی ذہن میں آسکتی ہیں موجود ہیں اور اس سے بالا تر اور ارفع ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسانی عقل اور فکر اور ذہن خداتعالیٰ کی ذات کا احاطہ ہرگز ہرگز نہیں کرسکتے۔ ہاں تو مُسلمان ایسے کامل ا لصفات خداکو مانتا ہے کہ تمام قومیں مجلسوں میں اپنے خدا کا ذکرکرتے ہوئے شرمندہ ہوجاتی ہیں اور اُنہیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔
    ہندوئوں کے نزدیک خدا کا تصور
    مثلاً ہندوئوں کا خدا جو اُنہوں نے مانا ہے او رکہا ہے کہ ویدوں سے ایسے خدا ہی کا پتہ لگتاہے۔ جب اُس کی نسبت وہ یہ ذکر کریں گے کہ اُس نے دُیا کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا اور نہ اس سے روحوں کو پیدا کیا ہے، تو کیا ایسے کدا کے ماننے والے کے لئے کوئی مضررہ سکتا ہے۔ جب اُسے کہا جائے کہ ایسا خدا اگر مرجائے، تو کیا حرج ہے، کیونکہ جب یہ اشیاء اپنا وجود مستقل رکھتی ہیں اور قائم بالذات ہیں۔ پھر خداکی زندگی اور بقاکے لئے کیا ضرورت ہے۔ جیسے ایک شخص اگر تیرچلائے اوروُہ تیرا بھی جاہی رہا ہوکہ اُس شخص کا دم نکل جائے، تو بتائو اس تیر کی حالت میں کیا فرق آئے گا۔ ہاتھ سے نکلنے کے بعد دوہ چلانے والے کے وجود کا محتاج نہیں ہے۔ اسی طرح پر ہندوئوں کے خدا کے لئے اگر یہ تجویز کی جائے کہ وُہ ایک وقت مرجاوے، تو کوئی ہندو اُس کی موت کا نقصان نہیں بتاسکتا۔ مگر ہم خد اکے لئے ایساتجویز نہیں کرسکتے، کیونکہ اللہ کے لفظ ہی سے پایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی نقص اور بدی نہ ہو۔ ایسا ہی جب کہ آریہ مانت اہے کہ اجسام اور رُوحیں انادی ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جب تمہارا یہ اعتقاد ہے پھر خدا کی ہستی کا ثبوت ہی کیا دے سکتے ہو؟ اگر کہو کہ اس نے جوڑا جاڑا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ جب تم پر مانو اور پر کوئی کو قدیم سے مانتے ہو اور اس کے وجود کو قائم بالذات کہتے ہو، تو پھر جوڑنا جاڑنا ، تو ادنیٰ فعل ہے۔ وہ جڑ بھی سکتے ہیں اور ایس اہی جب وہ یہ تعلیم بتاتے ہیں کہ خدا نے وید میں مثلاً یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں اپنے خاوند سے بچہ پیدا نہ ہوسکتا ہو، تو وہ کسی دوسرے سے ہمبستر ہوکر اولاد پیدا کرلے، تو بتائو ایسے خدا کی نسبت کیا کہا جائے گا؟ یا مثلاً یہ تعلیم پیش کی جائے کہ خدا کسی اپنے پریمی اور بھگت کو ہمیشہ کے لئے مکتی یعنی نجات نہیں دے سکتا بلکہ مہاپرلے کے وقت اس کو ضرور ہوتا ہے کہ مکتی یا فتہ انسانوں کو پھر اُسی تناسخ کے چکر میں ڈالے یا مثلاً خدا کی نسبت یہ کہنا کہ وہ کسی کو اپنے فضل وکرم سے کچھ بھی عطا نہیں کرسکتا، بلکہ ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اُس کے اعمال کے نتائج ہیں پھر ایسے خدا کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے ۔ غرض ایسا خدا ماننے والے کو سخت شرمندہ ہوناپڑے گا۔
    عیسائیوں کے نزدیک خدا کا تصور
    ایس اہی عیسائی بھی جب یہ پیش کریں گے کہ ہمارا خدا یُسوع ہے اور پھر اُس کی نسبت وہ یہ باین کریں گے کہ یہودیوں کے ہاتھوں سے اُس نے ماریں کھائیں۔ شیطان اُسے آزماتا رہا ۔ بھوک اور پیاس کا اثر اس پر ہوتارہا۔ آخر ناکامی کی حالت میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ تو کون دانشمند ہوگا جو ایسے خدا کے ماننے کے لئے تیار ہوگا۔ غرض اسی طرح پر تمام قومیں اپنے مانے ہوئے خدا کا ذکرکرتی ہوئی شرمندہ ہوجاتی ہیں، مگر مُسلمان کبھی اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوتا، کیونکہ جو خوبی اور عمدہ صِفت ہے، وہ اُن کے مانے ہوئے خد امیں موجود اور جو نقص اور بدی ہے اُس سے وہ منزہ ہے۔ جیسا کہ سُورۃ الفاتحہ میں اللہ کو تمام صفات حمیدہ کا موصوف قراردیا ہے۔ تو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے مقابل میں اِیَّا کَ نَعْبُدُ ہے۔ اس کے بعد ہے رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ربوبیت کا کام ہے۔ تربیت اور تکمیل ۔ جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے، اس کو صاف کرتی ہے۔ ہر قسم کے گنداور آلائش سے دُوررکھتی ہے اور دُودھ پلاتی ہے۔ دُوسرے الفاظ میں یوُں کہو کہ وہ اُس کی مدد کرتی ہے۔ اب اس کے مقابل میں یہاں اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ ہے پھر اَلرَّحْمٰن ہے جو بغیر خواہش ، بُدوں درخواست اور بغیر اعمال کے اپنے فضل سے دیتا ہے ۔ اگر ہمارے وجود کی ساخت ایسی نہ ہوتی، تو ہم سجدہ نہ کرسکتے اور رکوع نہ کرسکتے۔ اس لئے ربوبیت کے مقابلہ میںاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَفرمایا۔ جیسے باغ کا نشوونما پانی کے بغیر نہیں ہوتا۔ اسی طرح پر اگر خد اکے فیض کا پانی نہ پہنچے تو ہم نشوونما نہیں پاسکتے۔ درخت پانی کو چُوستا ہے۔ اس کی جڑوں میں دبانے اور سُوراخ ہوتے ہیں۔ علم طبعی میں یہ مسئلہ ہے کہ درخت کی شاخیں پانی کو جذب کرتی ہیں۔ اُن میں قوتِ جاذبہ ہے۔ اسی طر ح پر عبودیت میں ایک قوت جاذبہ ہوتی ہے جو خدا کے فیضان کو جذب کرتی ہے اور چوستی ہے۔ پس اَلرَّحْمٰن کے بالمقابل اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ہے یعنی اگر اس کے رحمانیت ہمارے شاملِ حال نہ ہوتی۔ اگر یہ قویٰ اور طاقتیں اس نے عطا نہ کی ہوتیں ، تو ہم اس فیض سے کیونکر بہرہ ور ہوسکتے۔
    ہدایت رحمانیت الہٰی سے ملتی ہے۔
    پس اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم۔ اَلرَّحْمٰن کے بالمقابل ہے، کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق تو نہیں ہے ، بلکہ محض رحمانیت الہٰی سے یہ فیض حاصل ہوسکتا ہے اور صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ اَلرَّحِیْمِ کے بالمقابل ہے ، کیونکہ اس کا ورد کرنے والا رحیمیت کے چشمہ سے فیض حاصل کرتا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اے رحمِ خاص سے دُعائوں کے قبول کرنے والے اُن رُسولوں اور صدیقوں اور شھیدوں اور صالحوں کی راہ ہم کو دکھا ، جنھوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہوکر تجھ سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفتِ تامہ کو پہنچے۔
    رحیمیت کے مفہوم میں نقصان کا تدارک کرنالگا ہوا ہے۔ حدیث میں آیا ہے۔ اگر فضل نہ ہوتا، تو نجات نہ ہوتی۔ ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے آپؐ سے سوال کیا کہ یا حضرت! کیا آپؐ کا بھی یہی حال ہے۔ آپؐ نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ۔ ہاں۔ نادان اور احمق عیسائیوں نے اپنی نافہمی اور ناواقفی کی وجہ سے اعتراض کیے ہیں، لیکن وُہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپؐ کی کمال عبودیت کا اظہار تھا جو خداتعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کررہا تھا۔ ہم نے خود تجربہ کرکے دیکھا ہے اورمتعدد مرتبہ آزمایا ہے، بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلل کی حالت انتہا کو پہنچتی ہے اور ہماری رُوح اس عُبودیت اور فروتنی میں بہہ نکلتی ہے اور آستانہِ حضرت واہب العطایا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور نور اوپر سے اترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتاہے جیسے ایک نالی کے ذریعے سے مصفا پانی دُوسری نالی میں پہنچتاہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار وبرکات
    پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدرآپؐ رُوح القدس کی تائیداور روشنی سے مؤیدّ اور منورہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہانتک کہ آپؐ کے انواروبرکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابدالآباد تک اس کا نمونہ اور ظل نظرآتا ہے؛ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خداتعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہورہا ہے، وہ آپؐ ہی کی اطاعت اور آپؐ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔ مَیں سچ کہتاہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خداتعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیںہوسکتا، جو اعلیٰ درجہ کے تزکیۂ نفس پر ملتے ہیں۔ جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کاثبوت خود خداتعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَا تَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (اٰل عمران:۳۲)اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندگی دلیل مَیں ہوں۔ ان نشانات کے ساتھ جو خداتعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔ غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہانتک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپؐ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپؐ کھڑے ہوجاتے اور اسکی باتوں کو نہایت توجہ سے سُنتے اور جب تک وہ خود آپؐ کونہ چھوڑتی۔آپؐ نہ چھوڑتے تھے۔
    مغضوب اور ضالین کی راہوں سے بچنے کی ہدایت
    اور پھرغَیْرَالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَالَا الضَّآلِیْنَ۔ مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے مقابل ہے۔ اس کا ورد کرنے والا چشمہ مالک یوم الدین سے فیض پاتا ہے جس کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ اے جزا و سزا کے د کے مالک ہمی اس سے بچا کہ یہودیوں کی طرح جو دُنیا میں طاعون وغیرہ بلائوں کا نشانہ ہوئے اور اس کے غضب سے ہلاک ہوگئے یا نصاریٰ کی طرح نجات کی راہ کھوبیٹھیں۔ اس میں یہود کا نام مغضوب اس لئے رکھاگیا ہے کہ ان کی شامتِ اعمال سے بھی اُن پر عذاب آیا، کیونکہ اُنہوں نے خداتعالیٰ کے پاک نبیوں اور راستبازوں کی تکذیب کی اور بہت سی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ خداتعالیٰ نے جو یہاں سورۂ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی ور اس سورہ کو الضالین پر ختم کیا یعنی اُن کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی۔ تو اس میں کیا سرتھا ۔ اس میں یہی راز تھا کہ اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اسی قسم کا زمانہ آنے والا ہے، جب کہ یہود کی تتبع کرنے والے ظاہر پرستی کریں گے اور استعارات کو حقیقت پر حمل کرکے خدا کے راستباز کی تکذیب کے لئے اُٹھیں گے، جیسا کہ یہود نے مسیح ابن مریم کی تکذیب کی تھی اور انہیں یہی مصیبت پیش آئی کہ اُنہوں نے اس کی تاویل پرٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر خدا کا یہی مطلب تا کہ ایلیاؔ کا مثیل آئے گا، تو کیوں خدا نے اپنی پیشگوئی میں اس کی صراحت نہ کی ۔ غرض اسی روش اور طریق پر اس وقت ہمارے مخالفوں نے بھی قدم مارا ہے اور میری تکذیب اورا یذادہی میں انہوں نے کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ میرے قتل کے فتوے دیتے اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے مجھے ذلیل اور نابود کرنا چاہا ۔ اگر خداتعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کا اس ملک میں راج نہ ہوتا، تو یہ مدت سے میرے قتل سے دل خوش کرلیتے، مگر خداتعالیٰ نے ان کو ہر مُراد میں نامراد کیا اور وہ جو اس کا وعدہ تھا کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النِّاسِ (المائدہ:۶۸) وُہ پورا ہوا۔
    غرض اس دُعا میں غَیْرَ الْمَغْضُوْبِ کا فقرہ مُسلمانوں کے ایک گروہ کی اس حالت کا پتہ دیت اہے، جو وہ مسیح موعود کے مقابل مخالفت اختیار کرے گا اور ایسا ہی اَلضَّآلِیْنَ سے مسیح موعودکے زمانہ کا پتہ لگتا ہے کہ اس وقت صلیبی فتنہ کا زور اپنے انتہائی نقطہ پرپہنچ جائے گا۔ اس وقت خداتعالیٰ کی طرف سے جو سلسلہ قائم کیا جائے گا وہ مسیح موعود ہی کا سلسلہ ہوگا اور اس لئے احادیث میں مسیح موعودکا نام خداتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کاسرالصلیب رکھا ہے ۔ کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ ہر ایک مجددفتن موجودہ کی اصلاح کے لئے آتا ہے۔ اب اس وقت خدا کے لئے سوچو، تو کیا معلوم نہ ہوگ اکہ صلیبی نجات کی تائید میں قلم اور زبان سے وُہ کام لیاگ یا ہے کہ صفحات عالم کو ٹٹولا جائے تو باطل پرستی کی تائید میں یہ سرگرمی اور زمانہ میں ثابت نہ ہوگی اور جب کہ صلیبی فنہ کے حامیوں کی تحریریں اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ چکی ہیں اور توحید حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت عزت او ر حقانیت اور کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر ظلم اور زُورکی راہ سے حملے کئے گئے ہیں، توکیا اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضہ نہیں ہونا چاہیے کہ اُ س کاسرالصلیب کو نازل کرے؟ کیا خداتعالیٰ کی غیرت کا تقاضہ نہیں ہوناچاہیے کہ اُس کاسرالصلیب کو نازل کر ے؟ کیا خداتعالیٰ اپنے وعدہ اِنَا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ۔(الحجر:۱۰) کو بھول گیا؟ یقینا یادرکھو کہ خداتعالیٰ کے وعدے سچے ہیں۔ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔ دُنیا نے اس کوقبول نہ کیا، مگرخدا تعالیٰ اُس کو ضرورقبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مَیں خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہوکر آیا ہوں۔ چاہوتو قبول کرو چاہو تو رَدّ کرو۔
    مگر تمہارے رَدّ کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔ خداتعالیٰ نے جوارادہ فرمایا ہے ، وُہ ہوکر رہے گا، کیونکہ خداتعالیٰ نے پہلے سے براہینؔ میں فرمادیا ہے۔
    صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلِہٖٖٖ وَکَانَ وَعْدًامَّفْعُوْلًا
    ۲۱؍جنوری ۱۸۹۸؁ء
    استغفار عذابِ الہٰی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کاکام دیتا ہے
    بجائے خود مرضِ طاعون عذاب شدید ہے۔ دُوسرا قانون اس پر سخت ہے۔جو دوسرا عذاب ہے اور مرض بھی بڑھ کرہے۔ عورت ہو یا بچہ ہو الگ کیا جاتا ہے اورگھر کو خالی کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس مرض اور اس کے قانون پرغور کرکے میرے دل میں ایک درد پیدا ہوااور مَیں نے تہجد میں اس کے متعلق دُعا کی تو الہام ہو ااِنَّ اللّٰہُ لَا یُغَیِّرُمَابِقَوْمِ حَتّٰی یُغَیِّرُوْامَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد:۱۲)اب خیال ہوت اہے کہ وہ الہام جو ہواتھا کہ :’’کون کہہ سکتا ہے اے بجلی آسمان سے مت گر۔‘‘
    شاید اسی سے متعلق ہو۔
    مَیں تمہیں یہ سمجھانا چاہت اہوں کہ جو لوگ قبل از نزول بلا دُعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرتا ہے اور عذابِ الہٰی سے اُن کو بچالیتاہے۔ میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو۔ میں نصحاً اللہ کہتا ہوں اپنے حالات پرغورکرو۔ اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دُعا میں لگ جانے کے لئے کہو۔ استغفار، عذابِ الہٰی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کاکام دیتاہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(الانفال:۳۴) اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الہٰی سے تم محفوظ رہو، تو استغفار کثرت سے پڑھو۔
    گورنمنٹ کو اختیار ہوگا کہ مبتلا اشخاص کو علیٰحدہ رکھا جائے۔ گویا وہ لوگ جو علیٰحدہ کیے جائیں گے قبروں میں ہی ہوں گے۔ امیر وغریب ، مرد وعورت ، بوڑھے جوان کا کوئی لحاظ نہ کیا جاوے گا۔ اس لیے خدانخواستہ اگر کسی ایسی جگہ طاعون پھیلے ، جہاں تم میں سے کوئی ہو، تومَیں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی سب سے پہلے اطاعت کرنے والے تم ہو۔
    اکثرمقامات میں سُناگیا ہے کہ پولیس والوں سے مقابلہ ہوا۔ میرے نزدیک گورنمنٹ کے قوانین کے خلاف کرنا بغاوت ہے، جو خطرناک جُرم ہے۔ہاں گورنمنٹ کا بیشک یہ فرض ہے کہ وہ ایسے افسر مقرر کرے جو خوش اخلاق، متدین اور ملک کے رسم ورواج اور مذہبی پابندیوں سے آگاہ ہوں۔ غرض تم خود ان قوانین پر عمل کرو اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو ان قوانین کے فوائد سے آگاہ کرو۔مَیں باربارکہتاہوں کہ دُعائوں کا وقت یہ معلوم ہوتا ہے۔ اس وبا نے پنجاب کا رُخ کرلیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایک متنبہ اور بیدار ہوکر دُعا کرے اور توبہ کرے۔ قرآن شریف کا منشایہ ہے کہ جب عذاب سر پر آپڑے پھر توبہ عذاب سے نہیں چھڑاسکتی۔
    عذاب الہٰی سے بچنے کے طریقے
    اس لیے اس پیشتر کے عذاب الہٰی آکر توبہ کا دروازہ بندکردے، توبہ کرو۔ جب کہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے ، تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانوں سے نہ ڈریں۔جب بلا سر پر آپرے تو اس کا مزا چکھنا ہی پڑتا ہے۔چاہیے کہ ہر شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملا دیں۔ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کرے۔توبہ سے مراد یہ ہے کہ ان تمام بد کاریوں اور خدا کی ن ارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی پیدا کریںاور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کرین۔اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔عادات انسانی کو شائستہ کریں۔غضب نہ ہو۔توضع اور انکساری اس کی جگہ لے لیں۔اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا(الدھر:۹)یعنی خدا کی رض اکے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے دیتے ہیں اور اس دن سے ہم ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔
    قصہ مختصر دعا سے ،توبہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو۔تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔
    جماعت کے لئے اخلاقی نصاب
    اخلاقی ھالت ایسی درست ہو کہ کسی کو نیک نیتی سے سمجھانا اور غلطی آگاہ کرنا ایسے وقت پر ہو کہ اسے برامعلوم نہ ہو ۔کسی کو استخفاف کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔دل شکستی نہ کی جاوے۔جماعت میں باہم جھگڑے فساد نہ ہوں۔دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔مال ودولت یا نسبی بزرگی پر بے جا فخر کر کے دوسروں کو حقیر اور ذلیل نہ سمجھو۔خدا رتعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو متقی ہے؛چنانچہ فرمایا ہے اِنْ اَکْرَمَکُمُ عِنْدَا للّٰہِ اَتْقٰکُمْ (احجرات:۱۴)دوسروں کے ساتھ بھی پورے اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔جو بد اخلاقی کا نمونہ ہوتا ہے،وہ بھی اچھا نہیں۔ہماری جماعت کے ساتھ لوگ صرف مقدمہ بازی کا صرف بہانہ ہی ڈھونڈتے ہیں۔لوگوں کے لئے ایک طاعون ہے۔ہماری جماعت کے لئے دو طا عون ہیں۔اگر جماعت میں سے کوئی ایک بھی برائی کرے گا ،تو اس ایک سے ساری جماعت پر حرف آئے گا۔دانش مندی۔حلم اور در گزر کے ملکہ کو بڑھاؤ۔نادان سے نادان کی باتوں کا جواب بھی متانت اور سلامت روی سے دو۔یا وہ گوئی کا جواب یا وہ گوئی نہ ہو۔میں جانتا ہوں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں بھی کچھ ایسی ہی حکمت عملی تھی کہ اگر ایسا نہ کرتے،تو روز ماریں کھاتے پھرتے۔رومیوں کی سلطنت تھی۔یہود کے فقیہہ اور فریسی اس کے مقرب تھے۔اس وقت اگر وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا گال نہ پھیرتے تو روز ماریں کھایا کرتے اور روز مقدمے ہوتے۔باوجود یکہ وہ ایسی نرم تعلیم دیتے تھے۔پھر بھی یہود ان کو دم نہیں لینے دیتے تھے۔اس وقت کی موجودہ حالت انجیل ہی کی تعلیم کو چاہتی ہو گی۔اس وقت ہماری جماعت کی حالت بھی قریباً ویسی ہی ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مارٹن کلارک عیسائی کے مقدمے میں محمد حسین نے بھی اس کی گواہی دی۔اب سمجھ لو کہ قوم سے بھی کوئی امید نہیں ہے۔رہی گورنمنٹ اس کو بھی بد ظن کیا جاتا ہے اور گورنمنٹ کسی حد تک معذور بھی ہے۔اگر خدا نخواستہ وہ بد ظن ہو،کیونکہ عالم الغیب نہیں ہے۔اس لئے ہم کو اکثر مرتبہ گورنمنٹ کے حضور خاص طور پر میموریل بھیجنے پڑے اور اپنے حالات سے خود اس کو مطلع کرنا پڑا ،تا کہ اس کو صحیح اور سچے واقعات کو علم ہو۔مناسب ہے کہ ان ابتلاؤں کے دنوں میں اپنے نفس کو مار کر تقویٰ اختیار کریں۔میری غرض ان باتوں سے یہی ہے کہ تم نصیحت اور عبرت پکڑو۔
    دنیا فنا کا مقام ہے۔آخر مرنا ہے،خوشی دین کی باتوں میں ہے۔اصلی مقصد تو دین ہی ہے۔
    رمضان کی حقیقت
    رَمَض سورج کی تپش کو کہتے ہیں ۔رمضان میں چونکہ انسان ا کل وشرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا ۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا،اس لئے رمضان کہلایا۔میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ عرب کے لئے یہ خصو صیت نہیں ہو سکتی۔روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق وشوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں،جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں۔؎۱
    ۲۹ جنوری۱۸۹۸؁ء
    روحانی طاقتوں پر معبود کا اثر
    انسان کی روحانی طاقتوں پر اس کے معبود کا اثر پڑتا ہے۔دیکھو!اگر کوئی ہندو آجائے،تو دور ہی سے اس سے غفلت کی بو آتی ہے۔کیوں؟اس لئے کہ ان کا خود ساختہ معبود بھی تو ایسا ہی غافل ہے جب تک ایک انگریز کے کھانے کی گھنٹی کی طرح گھنٹی نہ بجے،تو وہ بیدار ہی نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ روحانی زندگی سے جو معرفت اور شفا حاصل ہوتی ہے،اس سے یہ لوگ محروم رہتے ہیں؛ورنہ جسمانی طور پر تو بڑے متمول اور آسودہ حال ہوتے ہیں۔
    رزق ابتلا اور رزق اصطفاء
    اصل بات یہ ہے کہ رزق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ابتلا کے طور پر،دوسرے اصطفاء کے طور پر۔رزق ابتلا کے طور پر تو رزق ہے،جس کو اللہ سے واسطہ نہیں رہتا ۔بلکہ یہ رزق انسان کو خدا سے دور ڈالتاجاتا ہے۔یہاں تک کہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اسی طرف اللہ نے اشارہ کر کے فرمایا ہے۔لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالِکُمْ(المنافقون:۱۰)تمہارے مال تم کو ہلاک نہ کر دیں اور رزق اصطفاء کے طور پر وہ ہوتا ہے،جو خدا کے لئے ہو۔ایسے لوگوں کا متولی خدا ہو جا تا ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے،وہ اس کو خدا کا ہی سمجھتے ہیں اور اپنے عمل سے چابت کر کے دکھاتے ہیں۔صحابہؓ کی حالت دیکھو!جب امتحان کا وقت آیا ،تو جو کچھ کسی کے پاس تھا،اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی کہ سب سے اول خلیفہ وہی ہوئے۔غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی،خیر اور روحانی لذت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آسکتا ہے،جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے۔؎۱
    ۳۰ جنوری ۱۸۹۸؁ء
    دنیا اور دنیوی خوشیوں کی حقیقت
    دنیا اور دنیا کی خوشیوں کی حقیقت لہو ولعب سے زیادہ نہیں۔عارضی اور چند روزہ ہیں اور ان خوشیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا سے دور جا پڑتا ہے۔مگر خدا کی معرفت میں جو لذت ہے وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ اور کسی حس نے اس کو محسوس کیا ہے۔وہ ایک چیر کر نکل جانے والی چیز ہے۔ہر آن ایک نئی راحت اس سے پیدا ہوتی ہے جو پہلے نہیں دیکھی ہوتی۔
    خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کاایک خاص تعلق ہے۔ اہل عرفان لوگوں نے بشریت اور بوبیّت کے جوڑہ پر بہت لطیف بحثیں کی ہیں۔اگر بچّے کا منہ پتھر سے لگائیں تو کیا کوئی دانشمند خیال کر سکتا ہے کہ اس پتھر میں سے دودھ نکل آئے گا اور بچہ سیر ہو جائیگا۔ہرگز نہیں۔اسی طرح پر جب تک انسان خداتعالی کے آستانہ نہیںگرتا،اس کی روح ہمہ نیستی ہو کر ربوبیت سے تعلق پیدا نہیں کر سکتی اور نہیںکرتی جبتک کہ وہ عدم یا مشابہ بالعدم نہ ہو،کیونکہ ربوبیت اسی کو چاہتی ہے۔اس وقت تک وہ روحانی دودھ سے پروش نہیںپاسکتا۔
    لَہْو میںکھانے پینے کی تمام لذتیں شامل ہے۔ان کاانجام دیکھو کہ بجز کثافت کے اور کیا ہے۔زینت،سواری، عمدہ مکانات پر فخر کرنا یا حکومت وخاندان پر فخر کرنا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ بالآخر اس سے ایک قسم کی حقارت پیداہو جاتی ہے۔جورنج دیتی اور طبیعت کو افسردہ اور بے چین کر دیتی ہے۔
    لَعْب میں عورتوں کی محبت بھی شامل ہے۔انسان عورت کے پاس جاتا ہے مگر تھوڑی دیرکے بعد وہ محبت اور لذت کثافت سے بدل جاتی ہے ،لیکن اگر یہ سب کچھ محض اللہ تعالی کے ساتھ ایک حقیقی عشق ہونے کے بعد ہو،تو پھر راحت پر راحت اور لذت پر لذت ملتی ہے۔یہاںتک کہ معرفت حقہ کے دروازے کھل جانے ہیں اوروہ ایک ابدی اور غیر فانی راحت میںداخل ہو جاتا ہے جہاں پاکیزگی اور طہارت کے سوا کچھ نہیں۔وہ خدا میںلذت ہے۔ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرو اوراسے ہی پائو کہ حقیقی لذت وہی ہے ۔ ؎۲




    حضرت اقدس کی ایک تقریر
    فرمودہ ۳۱جنوری۱۸۹۸؁ء
    انسان بالطبع کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے
    یاد رکھو کہ فضائل بھی امراض متعدیہ کی طرح متعدی ہونے ضروری ہیں۔مومن کے لئے حکم ہے کہ وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ تک پہنچائے کہ وہ متعدی ہوجائیں۔کیونکہ کوئی عمدہ سے عمدہ بات قابل پزیرائی اور واجب التعمیل نہیں ہو سکتی،جب تک اس کے اندر ایک چمک اور جاذب نہ ہو۔اس کی درخشانی دوسروںکو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے۔اور پھر اس فعل کی اعلیٰ درجے کی خوبیاںخود بخود دوسرے کو اپنی طرف متوجہ کرتیں ہیں۔دیکھو!حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خلوص سے تھی۔ایسا ہی رستم وافسند یار کی بہادری کے افسانے عام زبان ذدہ ہیں؛اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خلوص سے تھے۔میرا ایمان اور مذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ،اس کے نیکی کے کام خوا کیسے ہی عظیم الشان نہ ہوں…وہ ریا کاری کے ملمع سے خالی نہیںہوتے۔لیکن چونکہ ان میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وہ قابل جوہر ہیں،جو ہر جگہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس لئے بایں ہمہ ملمع سازیوریا کاری وہ عزت سے دیکھے جاتے ہیں۔
    خواجہ صاحب نے ایک نقل میرے پاس بیان کی تھی اور خود میں نے بھی اس قصہ کو پڑھا ہے کہ سر فلپ سڈنی ملکہ الزبتھ کے زمانے میں قلعہ زلفن ملک ہالینڈ کے محاصرے میں جب زخمی ہوا ،تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدر پیاس کے وقت جب اس کے لئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں بہت کمیاب تھا،مہیا کیا گیا تو اس کے پاس ایک اور زمی سپاہی تھا جو نہایت پیاسا تھا ۔وہ سر فلپ سڈنی کی طرف حسرت اور طمع کے ساتھ دیکھنے لگا۔سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر پانی کا وہ پیالہ خود نہ پیا بلکہ بطور ایثار یہ کہہ کر اس سپاہی کو دے دیا کہ ’’ تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے‘‘مرنے کے وقت بھی لوگ ریا کاری سے نہیں رکتے۔ایسے کام اکثر ریا کاروں سے ہو جاتے ہیں،جو اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ والے انسان ثابت کرنا یا دکھا نا چاہتے ہیں۔غرض کوئی انسان ایسا نہیں ہے کہ اس کی ساری باتیں بری حالت کی اچھی ہوں،لیکن سوال یہ ہے کہ انسان اچھی باتوں کی کیوں پیروی نہیں کرتے؟اس کے جوب میں یہی کہوں گا کہ اصل بات یہ ہے کہ انسان فطرتاً کسی بات کی پیروی نہیں کرتا جب تک کہ اس میں کمال کی مہک نہ ہو اور یہی ایک سر ہے جو اللہ تعالیٰ ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا ہے اور خاتما لنبین کے بعد مجددین کے سلسلے کو جاری رکھا ہے،کیونکہ یہ لوگ اپنے عملی نمونے کے ساتھ ایک جذب اور اثر کی قوت رکھتے ہیں اور نیکیوں کا کمال ان کے وجود میں نظر آتا ہے اس لئے کہ انسان بالچبع کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔اگر انسان کی فطرت میں یہ قوت نہ ہوتی،تو انبیاء علیہم السلام کی بھی ضرورت نہ رہتی۔
    مامورین کی مخالفت کا سبب
    لیکن یہ بات کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے اور ان کی تعلیم کی طرف عدم توجہی کیوں کی جاتی ہے؟اس کا باعث زمانہ کی وہ حالت وہتی ہے جو ان پاک وجودوں کی بعثت کا موجب ہو تی ہے۔زمانہ میں فسق فجور کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور ہر قسم کی بد کاریاں اور برائیاں خدا تعا لیٰ سے بعد اور حرمان اس نیک عمدہ مادے کو اپنے نیچے دبا لیتا ہے۔چونکہ بد کاریوں کے کمال کا ظہور ہو ا ہوتا ہے،اس لئے طبیعت کا یہ مادہ کہ وہ ہر کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔اس طرف رجوع کر گیا ہوتا ہے اور یہی وہ سر ہوتا ہے کہ ابتداً انبیاء علیہم السلام اور ماموروں کی مخالفت اور ان کی تعلیم سے بے پروائی ظاہر کی جاتی ہے،آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ اس نیکی کے بروز اور کمال کی طرف توجہ ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ والاخرۃ عند ربک للمتقین(الزخرف:۳۶)
    ظاہری نفاست کا اثر
    غرض انسانی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ ہر کمال کی پیروی کرنا چاہتی ہے۔دیکھ لو!انگریزوں کی نئی ایجادات سوئی ،چاقو وغیرہ تک کی کس قدر عزت کی جاتی ہے اور دیسی اشیاء کے مقابل میں ان کو کس قدر پسند کیا جاتا ہے؛حالانکہ ان میں بعض اشیاء اصلی نہیں ہوتیں بلکہ اکثر ملمع کی ہوتی ہیں،مگر ظاہری چمک دمک اس قدر ہوتی ہے کہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں اور اس کی روشنی ایک کشش کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔تم نہیں دیکھتے یہ جھوٹے زیور جو ملمع کیے ہوئے بکتے ہیں،ان کی تجارت کیسی سرعت کے ساتھ بڑ ھ رہی ہے۔اصلی اشیاء کے مقابل میںان کو رکھ کر دیکھو گے،تو معلوم ہو گا کہ اصلی،نقلی معلوم ہوتا ہے اور نقلی اصلی۔ان اشیاء کی طاہری چمک دمک میں ایک روشنی ہے جو ہمارے دیسی صناع اس کو دکھا نہیں سکتے،اس لئے باوجود یکہ لوگ صاف جانتے ہیں کہ یہ اشیاء ملمع شدہ ہیں۔لیکن اس دجل کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔ہر ایک چیز ان کی دیکھو۔دیسی کپڑے،دیسی جوتے،جنٹلمین تعلیم یافتہ ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں۔کیوں؟صرف اس لئے کہ انگریزی اشیاء میں ایک خاص قسم کی نفاست اور عمدگی ہوتی ہے۔یہ لوگ چمڑے کو ایسا کماتے ہیں کہ اس میں نرمی اور چمک پیدا کر لیتے ہیں۔یہ کیا ہر ایک ادنی سی چیز کو دیکھو ایک تاگے کو ہی دیکھو ،کیسا خوبصورت ہوتا ہے۔غرض ہر ایک دیسی چیز کو بالمقابل نکما کر دیا ہے،بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ بعض رئیس دیسی چیزوں سے یہاں تک متنفر ہیں کہ ان کے کپڑے بھی پیرس سے دھل کر آتے ہیںاور پینے کا پانی بھی ولایت سے منگواتے ہیں۔
    اس خریداری کا سر کیا ہے ۔انہوں نے ظاہری خوبصورتی اور چمک اور خوش نمائی رکھ دی ہے۔اس لئے لوگ ادھر جھک گئے ہیں۔جب یہ حالت ہے کہ دیانت دار اور بھی ہیں اور کفار کا بھی گروہ ہے۔لیکن کفار کی طرف رجوع ان کی نفاست اور چمک کی وجہ سے ہے۔یہی حال اخلاق اور کمال کا ہے۔پس جب تک ان کی دمک چمک یہاں تک نہ پہنچائی جائے۔نوع انسان پر اثر نہیں پڑ سکتا۔ جو لوگ خود کمزور ہوتے ہیں۔وہ دوسرے کمزوریوں کو جذب نہیں کر سکتے۔
    قرآن کریم میں مخلوق کی قسم کھانے کی حقیقت
    خدا تعالیٰ فرماتا ہے والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین اٰمنو و عملو الصلحٰت وتواصوا با لصبر(سورۃ العصر)قسم ہے اس زمانہ کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ کی ۔آجکل ہمارے زمانہ کے کوتاہ اندیش مخالف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مخلوق کی قسم کیوں کھائی گئی ہے؛حالانکہ دوسروں کو منع کیا گیا ہے۔اور کہیں انجیر کی قسم ہے،کہیں دن اور رات کی اور کہیں زمین کی اور کہیں نفس کی؟اس قسم کے اعتراضوں کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام سنت اور عادت الہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے کسی ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بین اور کھلا کھلا اور بد یہی ثبوت رکھتے ہیں۔پس ان کی قسم کھانا ان کو بطور دلیل اور نثیر کے پیش کرنا ہوتا ہے۔
    کیا ہندوستان دارالحرب ہے؟
    ہم اس اعراض کاواضح جواب دینے سے پشیترایک ضروری امراور بیان کرنا چاہتے ہیں۔ہر ایک مسلمان کو یاد رہے کہ ہم بلحاظ گورنمنٹ کے ہندوستان کو دارالحرب نہیںکہتے اور یہی ہمارا مذہب ہیـ؛اگرچہ اس مسئلہ میں علماء مخالفین نے ہم سخت اختلاف کیاہے اور اپنی طرف سے کوئی دقیقہ ہم کو تکلیف دہی کا انھوںنے باقی نہیںرکھا،مگر ہم ان عارضی تکالیف اور آنی ضرور سانیوںکے خوف سے حق کو کیونکہ چھوڑ سکتے ہیں۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حکومت کے لحاظ سے ہندوستان ہرگز دارالحرب نہیں ہے۔ہمارا مقدمہ ہی دیکھ لو۔ اگر یہی مقدمہ سکھوں کے عہد حکومت میں ہوتا اور دوسری طرف ان کا کوئی گرویابرہمن ہوتا،تو بدوںکسی قسم کی تحقیقوتفیتش کے ہم کے پھانسی دے دینا کوئی بڑی بات نہ تھی،مگر انگریزوںکی سلطنت اور عہدحکومت ہی کی یہ خوبی ہے کہ مقابل میںایک ڈاکٹراورپھر مشہورپادری،لیکن تحقیقات اور عدالت کی کاروائی میں کوئی سختی کا برتائونہیں کیا جاتا۔کیپٹن ڈگلس نیاس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کی کہ پادری صاحب کی ذاتی وجاہت یا ان کے اپنے عہدہ اوردرجہ کا لحاظ کیا جاوے ؛چنانچہ انہوں نے لیماؔرچنڈصاحب سے جو پولیس گوردا سپوؔرکے اعلی افسر ہیں،یہی کہا کہ ہمارادل تسلّی نہیں پکڑتا۔ پھر عبدالحمید سے دریافت کیا گیا۔آخرکار انصاف کی رو سے ہم کو اس نے بری ٹھرایا۔پھریہ لوگ ہم کوار کان مذہبکی بجا آوری سے روکتے،بلکہ بہت سے برکات اپنے ساتھ لے کر آئے،جس کی وجہ سے ہم کو اپنے مذہب کی اشاعت کا خاطرخواہ موقع ملااور اس قسم کا امناور آرام نصیب ہواکہ پہلی حکومتوں میں اس کی نظر نہیں ملتی۔پھر یہ صریح ظلم اوراسلامی تعلیم اور اخلاق سے بعید ہے کہ ہم ان کے شکر گذارنہ ہوں۔یادرکھو!انسان جو اپنے جیسے انسان کی نیکیوںکا شکر گذارنہیں ہوتا،وہ خداتعالی کا شکر گذار نہیں ہوسکتا؛حالانکہ وہاسے دیکھتا ہے۔تو غیب الغیب ہستی کے انعامات کا شکر گذارکیونکرہوگا،جس کو دیکھتا بھی نہیں،اس لیے محض حکومت کے لحاظ سے ہم اس کو دارالحرب نہیں کہتے۔
    ہاں!ہمارے نزدیک ہندوستان دارالحرب ہے بلحاظ قلم کے۔پادری لوگوں نے اسلاؔم کے خلاف ایک خطرناک جنگ شروع کی ہوئی ہے۔اس میدان جنگ میںوہ نیزہ ہائے قلم لے کر نکلے ہیںنہ سنان وتفنگ لے کر۔اس لیے اس میدان میں ہم کو جو ہتھیارلے کر نکلنا چاہیے،وہ قلم اور صرف قلم ہے۔ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس جنگ میں شریک ہو جاوے۔اللہ اوراس کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دل آزاد حملے کیے جاتے ہیں کہ ہمارا تو جگر پھٹ جاتا اور دل کانپ اٹھتا ہے ۔کیا امہاتؔالمومنین یادربارؔمصطفائی کے اسرار جیسی گندی کتاب دیکھ کر ہم آرام کر سکتے ہیں،جس کا نام ہی اس طرز پررکھا ہے۔جیسے ناپاک نادلوں کے نام ہوتے ہیں ۔تعجبّ کی بات ہے کہ دربارلندن ؔکے اسرار جیسی کتابیں تو گورنمنٹ کے اپنے علم میں بھی اس قابل ہوں کہ ان کی اشاعت بندکی جائے،مگر آٹھ کروڑ مسلمانوں کی دلآزادی کرنے والی کتاب کو نہ روکا جائے ۔ہم خود گورنمنٹ سے اس قسم کی درخوست کرنا ہرگز نہیں چاہتے بلکہ اس کو بہت ہی نامناسب خیال کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنے ممیوریل کے ذریعہ سے واضح کر دیا،لیکن یہ بات ہم نے محض اس بنا پر کہی ہے کہ بجائے خود گورنمنٹ کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسی تحریروں کا خیال رکھے۔بہر حال گورنمنٹ نے عام آزادی دے رکھی ہے کہ اگر عیسائی ایک کتاب اسلاؔم پر اعتراض کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں،تو مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اس کاجواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردیدمیں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔
    اسلا می غیرت کا تقاضا
    میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو دنیا اور مافیہا ایک مکھی کے کے برابر نظر آتی۔میں پوچھتا ہوں جس کو وقت پر جوش نہیں آتا ،کیا وہ مسلمان ٹھہر سکتا ہے۔کسی کے باپ کو برا بھلا کہا جائے،تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے،لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو گالیاں دی جائیں،تو ان کی رگ رحمت میں جنبش بھی نہ آوے اور پروا بھی نہ کریں۔یہ کیا ایمان ہے؟پھر کس منہ سے مر کر خدا کے پاس جائیں گے۔اگر مسلمانوں کا نمونہ دیکھنا چاہو،تو صحابہ کرام کی جماعت کو دیکھو۔جنھوں نے اپنے جان ومال کے کسی قسم کے نقصان کی ہروانہیں کی۔اللہ اور اس کے رسول ؐکی رضا کو مقدّم کر لیا۔خداتعالی کی رضا پر راضی ہو جانا ہی ایک فعل تھا جو سارا قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اور رضی اللہ عنہم کا تمغہ ان کو مل گیا۔پس جب تک تم اپنے اندروہ امتیاز۔وہ جوش حمیت اسلام کے لیے محسوس نہ کرو۔ہرگز اپنے آپ کو مل نہ سمجھو۔
    ہماری جماعت یادرکھیکہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگزدارالحرب قرار نہیں دیتے۔بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجا آوری اور اس کی اشاعت کے لیے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھیّ ہے۔ہمارادل عطر کے شیشہ کی طرح وفاداری اور شکر گذاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے،لیکن پادریوں کی وجہ سے ہم اس کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔پادریوں نے چھ کروڑ کے قریب کتابیں اسلاؔم کے خلاف شائع کی ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ نہیں ہیں جو ان حملوں کودیکھیں اور سنیں اور اپنے ہی ہم وغم میں مبتلارہیں۔اس وقت جو کچھ کسی ممکن ہو،وہ اسلام کی تائید کے لیے کرے اور اس قلمی جنگ میں اپنی وفاداری دکھائے،جبکہ خود عادل گورنمنٹ نے ہم کو منع نہیں کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تائید اور غیر قوموں کے اعتراضوں کی تردید میں کتابیں شائع کریں،بلکہ پریس،ڈاک خانے اور اشاعت کے دوسرے ذریعوں سے مدودی ہے،تو ایسے وقت میںخاموش رہنا سخت گناہ ہے۔ہاں ضرورت ہے اس امرکی کہ جو بات پیش کی جاوے،وہ معقول ہو۔اس کی غرض دل آزادی نہ ہو۔جو اسلام کے لیے سینہ بریاں اور چشم گریاں نہیں رکھتا،وہ یادرکھے کہ خداتعالی ایسے انسان کا ذمّہ دار نہیں ہوتا۔اس کو سوچنا چاہیے کہ جس قدر خیالات اپنی کامیابی کے آتے ہیںاور جتنی تدابیر اپنی دنیوی اغراض کے لیے کرتا ہے۔اسی سوزش اور جلن اور درددل کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی پاک ذات پر حملے ہو رہے ہیں،میں ان کے دفاع کی بھی سعی کروں؟اور اگر کچھ اور نہیں ہوسکتا تو کم از کم پر سوزدل کے ساتھ خداتعالی کے حضور دعا کروں؟اگر اس قسم کی جلن اور درددل میں ہو تو ممکن نہیں کہ سچّی محبت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔اگر ٹوٹی ہانڈی بھی خریدی جائے،تواس پر بھی رنج ہوتا ہے۔یہاںتک کہ ایک سو ئی کے گم ہو جانے پر بھی افسوس ہوتا ہے ۔پھر یہ کیسا ایمانؔاور اسلاؔم ہے کہ اس خوفناک زمانہ میں کہ اسلام پرحملوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔امن اور آرام کے ساتھ خواب راحت میں سو رہے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہفتہ وار اور ماہواری اخباروں اور رسالوں کے علاوہ ہر روزوہ کس قدر دوورقہ اشتہاراور چھوٹے چھوٹے رسالے تقسیم کرتے ہیں جن کی تعدادپچاّس پچاس ہزار اور بعض وقت لاکھوں تک ہوتی ہے؟اور کئی کئی مرتبہ ان کو شائع کرنے میں کروڑ ہاروپیہ پانی کی طرح بہادیا جاتاہے
    مسیحیت اسلام کے خلاف کیوں ہے؟
    یہ خواب یاد رکھو کہ پادریوں کے ذہن اور تصورمیں ہندؔوکچھ چیز نہیں ہیں اور نہ دوسرے مذاہب وغیرہ کی ان کو چنداںپرواہے؛چنانچہ کبھی نہیں سنا ہو گا کہ جس قدر کتابیں اسلاؔم کی تردید میںیہ لوگ شائع کرتے ہیں،اسکے مقابلہ میںآدھی بھی ہندو مذہب کے خلاف لکھتے ہوں۔یہ لوگ دوسرے مذاہب سے چنداں غرض نہیں رکھتے ہیں،اس لیے کہ ان میں بجائے خودکوئی حقانیّت اور صداقت کی روح نہیں ہے۔وہ عیسویّت کی طرح خود مردہ مذاہب ہیں،لیکن اسلاؔم جو بھی مردہ ملّت بناناچاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کے اعراضوں کو ایک وقت شمار کیا تھا،ان کی تعداد تین ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اب تو اس میں اور بھی اضافہ ہوا ہوگا۔
    یادرکھو مفتری انسان وسوسہ میںڈالتا ہے۔چونکہ ان میںصدؔق،عفتؔ،راستبازی نہیں ہوتی ،اس لیے جوچاہتے ہیں کرتے ہیں۔امر تسری افغانوں کا پکا یقین ہے کہ یہ لوگ تارک الصلوۃ ہیںاور شراب پیتے ہیں۔جب دوسروںکے سامنے وہ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں،تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ زادہ ہیں،کیا جھوٹ بولیں گے؟اس سے وہ وسوسہ میں پڑتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ ہاںسچ یہی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ریشہ دوانیاںکرتے ہیں۔غرض ایک تو پادری ہیں جو کھلے طور پر اسلامؔ کے خلاف کتابیں لکھتے اور شائع کرتے ہیں۔دوسرے انگریزی طرز تعلیم اور کتابوں میں بھی پوشیدہ طور پر زہریلا مادہ رکھا ہوا ہے۔فلسفی اپنے طرز پر اور مورخ اپنے رنگ میں واقعات کو بری صورت میں پیش کر کے اسلاؔم پر حملہ کرتے ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ اس وقت دو ہی قسم کے حملے ہوتے ہیںایک پادریوں کے اور دوسرے فلسفیوں کے۔پس اس وقت اپنے اسلام کو ٹٹولنا چاہیے۔
    قرآن کریم میں مخلوق کی قسم کھانے کی فلاسفی
    میں پھر اصل کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی قسموں پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ بھی اسی قسم کا ہے۔بڑے غور وفکر کے بعد یہ راز ہم پر کھلا ہے کہ قرآن شریف کے جس جس مقام پر کو تہ اندیشوںنے اعراض کیے ہیں۔اسی مقام پر اعلی درجہ کی صداقتوںاور معارف کا ایک ذخیرہ موجودہ
    ہے۔جس پر ان کو اس وجہ سے اطلاع نہیں ملی کہ وہ حق کے ساتھ عداوت رکھتے ہیںاور قرآن شریف کو محض اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس پر نکتہ چینی اور اعتراض کریں۔یادرکھو قرآن شریف کے دو حصّے ہیںبلکہ تین۔ایک تو وہ حصہ ہے جس کو ادنی درجہ کے لوگ بھی جو امّی ہوتے ہیںاور دوسراوہ حصہ ہے جو اوسط درجہ کے لوگوں پر کھلتا ہے۔اگرچہ وہ پورے طور پر امّی نہیںہوتے،لیکن بہت بڑی استعداد
    علو م کی بھی نہیں رکھتے اور تیسراحصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اعلی درجہ کے علوم سے بہرہورہیں اور فلاسفر کہلاتے ہیں۔یہ قرآن ہی کا خاصّہ ہے کہ وہ تینوںقسم کے آدمیوں کو یکساں تعلیم دیتا ہے۔ایک ہی بات ہے جو امّی اور اوسط درجہ کے آدمی اور اعلی درجہ کے فلاسفر کو تعلیم دے جاتی ہے۔
    یہ قرآن شریف ہی کا فخر ہے کہ ہر طبقہ اپنی استعداداوردرجہ کے موافق فیض پاتا ہے۔الغرض یہ جو قرآن شریف کی قسم پر اعتراض کیا جاتا ہے،اس کا جواب یہ ہے کہ قسم ایک ایسی شے ہے جس کو ایک شاہد کے منقود ہونے کی بجائے دوسرا شاہد قراردیا جاتا ہے۔قانوناً،شرعاً،عرفاًیہ عام مسلم بات ہے کہ جب فواہ مفقود ہو اور موجودہ نہ ہو،تو صرف قسم پر اکتفاکی جاتی ہے اور وہ قسم گواہی کے قائم مقام ہوتی ہے۔اسی طرح پر اللہ تعالی کی سنت قرآن کریم میں اس طرح پر جاری ہے کہ نظریات کو ثابت کرنے کے واسطے بدیہات کوبطورشاہد پیش کرتا ہے تاکہ نظری امورثابت ہوں۔
    یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں یہ طرز اللہ تعالی نے رکھا ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لیے اموربد یہی کو بطور شاہد پیش کرتا ہے اور یہ پیش کرنا قسموں کے رنگ میں ہے۔اس بات کو بھی ہرگزبھولنا نہ چاہیے کہ اللہ جلّ شانہ کی قسموں کو انسانی قسموںپر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔اللہ تعالی نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے،تو اس کا مدّعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کہ قسم کھاتی ہے اس کو ایک ایسا گواہ رئویت کا قائم مقام ٹھہراوے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے، کیونکہ اگر سوچ کر دیکھا جاوے،تو قسم کا اصل مفہوم جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا تھا۔شہادت ہی ہوتا ہے۔جب انسان مومولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آجاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتاہے،تااس سے وہ فائدہ اٹھاوے،جو ایک شاہد رویٔت کی شہادت سے اٹھانا چاہتا ہے،لیکن ایسا تجویز کرنا یا اعتقادرکھنا کہ بجز خدا تعالی کے کوئی اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزادہی یا کسی اور امر پر قادر ہے۔صریح کلمہ کفر ہے۔اس لیے اللہ تعالی نے اپنی تمام کتابوںمیں انسانوں کو یہی ہدایت فرمائی ہے کہ غیر اللہ کہ ہرگز قسم نہ کھاوے۔
    اب اس بیان سے صاف معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالی کا قسم کھانا کوئی اور رنگ اور شان رکھتا ہے اور غرض اس سے یہی ہے کہ تاصحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسراردقیقہ کے حلوانکشاف کے لیے بطو
    رشاہد پیش کرے اور چونکہ اس مدّعا کو قسم سے ایک مناسب تھی اور وہ یہ کہ جیسا کہ ایک قسم کھانے والا
    مثلاً خداتعالی کی قسم کھاتا ہے،تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی میرے اس واقعہ پر گواہ ہے۔اسی طرح اور ٹھیک اسی رنگ میںاللہ تعالی کے بعض ظاہر درظاہر افعال،نہاںدر نہاںاسراراور افعال پر بطور گواہ ہیں اس لیے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہہ کو اپنے افعال نظریہّ کے ثبوت میں جابجا قرآن شریف میں پیش کیا اور یہ کہنا سراسرنادانی اور جہالت ہے کہ اللہ تعالی نے غیر اللہ کی قسم کھائی،کیونکہ اللہ تعالی درحقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی ۔اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں۔ مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس کی منشاء یہ ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجودہے،اس کی شہادت بعض اپنے افعال محقیہّ کے سمجھانے کے لیے پیش کرے۔
    خداتعالی کی قسموں میں اسرارِمعرفت
    غرض اللہ تعالیٰ کی قسمیں اپنے اندر لا محدود اسرار معرفت کے رکھتی ہیں۔جن کو اہل بصیرت ہی دیکھ سکتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانون قدرت کے بد یہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائقحل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب(قانون قدرت) اس کی قولی کتاب(قرآن شریف)پر شاہد ہو جاوے اور اس کے قول وفعل میں باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہو اور یہ طریق قرآن شریف میں عام ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ بر ہموں اور الہام کے منکروں پر یوں اتمام حجت کرتا ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں