1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

ملفوظات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 3

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ملفوظات ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 3



    ملفوظات
    حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
    مسیح موعود و مہدی معہود
    بانی جماعت احمدیہ
    جلد سوم



    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی کتاب افتح اسلام میں اپنی کتاب فتح السلام میں دُنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچے کے لیے تائید ِ حق اوراشاعتِ اسلام کے کی جن پانچ شاخوں کا ذکرفرمایا ہے ان میں سے تیسری شاخ کے ضمن میں فرماتے ہیں :۔
    ’’ اُس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریریں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئی ہیں یاکی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقعہ کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے یہ طریق بعض صورتوں میں تالیف کی نسبت نہایت مفید اور مؤثر اور جلد تردلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام نبی اس طریق کو ملحوظ رکھتے ہیں اور بُجز خداتعالیٰ کے کلام کے جو خاص طور پر بلکہ قلم بند ہوکر شائع کیاگیا باقی جس قدر مقالات انبیاء ہیں وہ اپنے اپنے محل پر تقریروں کی طرح پھیلتے رہے رہیں ۔عام قاعدہ نبیوں کا یہی تھا کہ ایک محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقتوں میں مختلف مجالس اور محافل میں اُ ن کے حال کے مطابق رُوح سے قوت پا کر تقریریں کرتے تھے ۔مگر نہ اس زمانہ کے متکلموںکی طرح کہ جن کو اپنی تقریر سے فقط اپنا علمی سرمایہ دکھلانا منظور ہوتا ہے یا یہ غرض ہوتی ہے کہ اپنی جُھوٹی منطق اور سوفطائی حجتوں سے کسی سادہ لوح کو اپنے بیچ میں لاویں اور پھر اپنے سے زیادہ جہنم کے لائق کریں ۔ بلکہ انبیا ء بڑی سادگی سے کلام کرتے ہیں اور جو اپنے دل سے ابلتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔اُن کے کملاتِ قدسیہ عین محل اور حاجت کے وقت پر ہوتے تھے اور مخاطبین کو شغل یا افسانہ کی طرح کچھ نہیںسناتے تھے بلکہ اُ ن کو بیمار دیکھ کر اور طرح طرح کے آفاتِ روحانی میں مبتلا پاکر علاج کے طورپر اُن کو نصیحتیں کرتے تھے یا حججِ قاطعہ سے اُن کے اوہام رفع فرماتے تھے اور اُ ن کی گفتگومیں الفاظ تھوڑے اور معانی بہت ہوتے تھے سو یہی قاعدہ یہ عاجز ملحوظ رکھتا ہے اور واردین اور صادرین کی استعداد کے موافق اور اُن کی ضرورتوں کے لحاظ سے اُن کے امراض لاحقہ کے خیال سے ہمیشہ بابِ تقریر کھلا رہتا ہے کیونکہ برائی کو نشانہ کے دیکھ کر اس کے روکنے کے لیے نصائح ضروریہ کی تیر اندازی کرنا اور بگڑے ہوئے اخلاق کو ایسے عضو کی طرح پا کرجو اپنے محل سے ٹل گیا ہو اپنی حقیقی صورت اور محل پر لانا ۔جیسے یہ علاج بیمار کے ر و برو ہو نے کی حالت میں متصّور ہے اورکسی حالت میں کما حقّہ‘ ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خداتعالیٰ نے چندیںہزارنبی اور رسول بھیجے اوران کی شرفِ صحُبت میں مشرف ہونے کا حکم دیاتا ہر ایک زمانہ کے لوگ چشمدید نمونوں کوپا کر اوران کے وجود کومجسم کلامِ الہٰی مشاہدہ کرکے انُ کی اقتداء کے لیے کوشش کریںـ‘‘۔


    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحمدُہٗ وَنُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہِ الکَرِیم
    وَعَلٰی عَبْدِہ الْمَسیحِ الْمَوْعُوْدِ
    ملفوظات
    حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسلام
    ۱۷ جنوری ۱۹۰۳
    ایک الہام کی تشریح
    ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ کو کچہری جانے سے پیشتر اعلیٰحضرت نے ہمارے مخدوم جناب خان محمد عجب خان صا حب آف زیدہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ نے رخصت لی ہے ہمارے پاس بھی رہنا چاہیے خانصاحب نے دارالامان آنے کا وعدہ کیا اورتھوڑی دیر کے بعد پو چھاکہ
    انْتَ مِنِّیْ وَانَا مِنْک
    َپر لوگ اعتراضات کرتے ہیں ۔اس کا کیا جواب دیا جائے ؟
    فرمایا:۔
    اَنْتَ مِّنیْ تو بالکل صاف ہے اس پر کسی قسم کا اعتراض اور نکتہ چینی نہیں ہوسکتی میرا ظہو امحظ اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے ہے اور اسی سے ہے۔
    دوسرا حصّہ اس الہام کا کسی قدر شرح طلب ہے سو یاد رکھنا چاہیئے کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا قرآن شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے وحدٗ لاشریک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں نہ افعال الٰہیہ میں ۔ سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمانِ کامل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان ہر قسم کے شرک سے پاک نہ ہو ۔توحید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کو کیا بااعتبار ذات اور کیا بااعتبار صفات کے اور افعال کے بے مثل مانے نادان میرے اس الہام پر تو اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے لیکن اپنی زبا ن سے ایک خدا کا اقرار کرنے باجودبھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسرے کے لیے تجویز کرتے ہیں جیسے حضرت مسیح علیہ ا لسلا م کو محی اور ممیت مانتے ہیں عالم الغیب مانتے ہیں ۔الحیّ القیوم مانتے ہیں ۔کیا یہ شرک ہے یا نہیں ؟ یہ خطرناک شرک ہے جس نے عیسائی قوم کو تباہ کیا ہے اوراب مسلمانو ں نے اپنی بد قسمتی سے اُن کے اس قسم کے اعتقادوں کو اپنے اعتقادات میں داخل کر لیا ہے پس اس قسم کے صفات جو اللہ تعالیٰ کے ہیں کسی دوسرے انسا ن میں خواہ وہ نبی ہو یا ولی تجویزنہ کرے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کے افعال میں بھی کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔ دُنیا میں جو اسباب کا سلسلہ جاری ہے بعض لوگ اس حد تک اسباب پر ست ہوجاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں ۔ تو حید کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ شرک فی الاسباب کا شائبہ باقی نہ رہے ۔ خواص کا الاشیاء کی نسبت کبھی یہ یقین نہ کیا جاوے کہ وہ خواص ان کے ذاتی ہی بلکہ یہ ماننا چاہیئے کہ وہ خواص بھی اللہ تعالیٰ نے اُن میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔جیسے تُر بد اسہال لاتی ہے یا سم االفار ہلاک کرتا ہے ۔اب یہ قوتیں اور خواص ان چیزوں کے خود بخود نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں رکھے ہوئے ہیں ۔اگر وہ نکال لے تو پھرنہ تُر بد دست آور ہوسکتی ہے اور نہ سنکھیا ہلاک کرنے کی خاصیت رکھ سکتا ہے نہ اُسے کھا کر کوئی مَر سکتا ہے۔ غرض اسباب کے سلسلہ کو حدِّ اعتدال سے نہ بڑھادے اور صفات وافعال الٰہیہ میں کسی کوشریک نہ کرے تو توحید کی حقیقت متحقق ہوگی اوراُ سے موحدّ کہیں گے لیکن اگر وہ صفات و افعال الٰہیہ میں کسی دوسرے کے لیے تجویز کرتا ہے تو وہ زبان سے گو کتنا ہی توحید کو ماننے کا اقرارکرے وہ موحدّ نہیں کہلا سکتا ۔ ایسے موحدّ تو آریہ بھی ہیں جو اپنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں لیکن باوجود اس اقرار کے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روح اور مادہ کو خدا نے نہیں پیدا کیا ۔ وہ اپنے وجود اور قیام میں اللہ تعالیٰ کے محتاج نہیں گویا اپنی ذات میں ایک مستقل وجود رکھتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا۔اسی طرح پر بہت سے لوگ ہیںجو شرک اور توحیدمیں فرق نہیں کرسکتے۔ ایسے افعال اور اعمال اُن سے سر زد ہوتے ہیں یا وہ اس قسم کے اعتقاد ات رکھتے ہیں جن میں صاف طور پرشرک پایا جاتا ہے مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہوجاتے یا فلاں کام درست نہ ہوتا ۔ پس انسان کو چاہیئے کہ اسباب کے سلسلہ کو حدِّ اعتدال سے نہ بڑھاوے اور صفات و افعال الٰہیہ میں کسی کو شریک نہ کرے۔
    ا نسان میں جو قوتیں اور ملکات اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ان میں وہ حد سے نہیں بڑھ سکتے مثلاً آنکھ اس نے دیکھنے کے لیے بنائی ہے اور کان سننے کے لیے ،زبان بولنے اور ذائقہ کے لیے ۔ اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کانوں سے بجائے سننے کہ دیکھنے کا کام لے۔ان اعضاء اور قویٰ کے افعال اور خواص محدود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے افعال اور صفات محدود نہیں ہیں اور وہ لیس کمثلہ شیی ہے ۔غرض یہ توحید تب ہی پوری ہوگی جب اللہ تعالیٰ کو ہر طرح سے واحد لا شریک یقین کیا جاوے اور انسان اپنی حقیقت کو ہا لکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت سمجھ لے ۔ کہ نہ میں اورنہ میری تدابیر اور اسباب کچھ چیز ہیں ۔
    رعایتِ اسباب بھی ضروری ہے
    اس سے ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہم استعمالِ اسباب سے منع کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے ہم اسباب کے استعمال سے منع نہیں کرتے بلکہ رعایتِ اسباب بھی ضروری ہے کیونکہ انسانی بناوٹ بجائے خود اس رعایت کو چاہتی ہے لیکن اسباب کا استعمال اس حد تک نہ کرے کہ اُ ن کو خداکا شریک بنا دے بلکہ اُن کو بطورخادم سمجھے جیسے کسی کو بٹالہ جانا ہو تو وہ یکّہ یا ٹٹو کرایہ کرتا ہے تو اصل مقصد اس کا بٹالہ پہنچنا ہے نہ وہ ٹٹو یا یکّہ ۔پس اسباب پر کُلی بھروسہ نہ کرے یہ سمجھے کہ ان اسباب میں اللہ تعالیٰ نے کچھ تاثیریں رکھی ہیں اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو وہ تاثیریں بیکار ہوجائیں اور کوئی نفع نہ دیں ۔ اسی کے موافق ہے جو مجھے الہام ہوا ہے۔
    رَبِّ کُلُّ شیْئٍ خَادِمُکَ
    اسباب پرستی شرک ہے
    بُت پرستوں کا شرک تو موٹا ہو تا ہے کہ پتھر بنا کر پو جا کر تے ہیں یا کسی درخت یا کسی اور شئے کی پرستش کر تے ہیں اس کو تو ہر ایک عقلمندسمجھ سکتا ہے کہ یہ باطل ہے یہ زما نہ اس قسم کی بُت پرستی کا نہیں ہے بلکہ اسباب پرستی کا زمانہ ہے اگر کوئی بالکل ہا تھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہے اور سُست ہو جاوے تو اس پر خداکی *** ہوتی ہے لیکن جو اسباب کو خدا بنا لیتا ہے وہ بھی ہلاک ہو جا تا ہے۔میں سچ کہتا ہو ں کہ اس وقت یو رپ دو شرکو ں میںمبتلا ہے ایک تو مردہ کی پرستش کرر ہا ہے اور جو اس سے بچے ہیں اورمذہب سے آزاد ہو گئے ہیں وہ اسباب کی پرستش کر رہیں اور اس طرح یہ اسباب پرستی مرض دِق کی طرح لگی ہوئی ہے اور یورپ کی تقلید نے اس ملک کے نو جوانوں اورنو تعلیم یا فتہ لو گو ں کو بھی ایسی مرض میں مبتلا کر دیا ہے وہ اب سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسلام سے باہر جا رہے ہیں اور خدا پرستی کو چھوڑ کر اسباب پرستی کے دِق میں مبتلا ہو رہے ہیں۔یہ دِق دور نہیں ہو سکتی اور اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا جب تک انسان کے دل میں خدا کی ایک نالی نہ ہو جو خدا تعالیٰ کے فیض اور اس کے اثر کو اس تک پہنچاتی ہے اور یہ نا لی اس وقت پیدا ہو تی ہے جب انسان ایک منکسرالنفس ہو جا ئے اوراپنی ہستی کو بالکل خالی سمجھ لے۔ جس کو فنا نظری کہتے ہیں۔
    فنا کی حقیقت
    فنا کی دو قسمیں ہیں ۔ایک فنا حقیقی ہوتی ہے جیسے وجودی مانتے ہیں کہ سب خدا ہی ہیں یہ تو بالکل باطل اور غلط ہے اور یہ شرک ہے لیکن دوسری قسم کی فنا کی فنا نظری ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا شدید اور گہرا تعلق ہوکہ اس کے بغیر ہم کچھ چیز ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی میں ہستی ہو باقی سب ہیچ اور فانی ۔ یہ فنا اتمّ کا درجہ توحید کے اعلیٰ مرتبہ پر حاصل ہوتا ہے اور توحید کامل ہی اس درجہ پر ہوتی ہے ۔ جو انسان اس درجہ پر پہنچتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں کچھ ایسا کھو یاجاتا ہے کہ اس کا اپنا وجود بالکل نیست و نابود ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے جیسے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں ڈالا جاوے اور وہ اس قدر گرم کیا جاوے کہ سُرخ آگ کے انگارے کی طرح ہو جاوے ۔ ۱ ؎ اُس وقت وہ لوہا آگ ہی کے ہم شکل ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح پر جب ایک راستباز بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور وفاداری کے اعلیٰ در جہ پر پہنچ کر فنا فی اللہ ہوجاتا ہے اور کمال درجہ کی نیستی ظہور پاتی ہے اس وقت وہ ایک نمونہ خدا کا ہوتا ہے اور حقیقی طور پر وہ اس وقت کہلاتا ہے ۔ اَنْتَ مِنِّیْ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو دُعا سے ملتا ہے ۔ یاد رکھو دُ عا جیسی کوئی چیز نہیں ہے اِس لیے مومن کاکام ہے کہ ہمیشہ دُعا میں لگا رہے اور اس استقلال اور صبر کے ساتھ دُعا کرے کہ اس کو کمال کے درجہ تک پہنچا دے ۔اپنی طرف سے کوئی کمی اور دقیقہ فروگذاشت نہ کرے اور اس بات کی بھی پراہ نہ کرے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا بلکہ ؎
    گر نبا شد بدوست راہ بُردن شرطِ عشق است درطلب مُردن
    جب انسان اس حد تک دُعا کو پہنچاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس دُعا کا جواب دیتا ہے جیسا کہ اُس نے وعدہ فرمایا ہے
    اد عونی استجب لکم (المومن:۶۱)
    یعنی تم مجھے پکارو مَیں تمہیں جواب دو گا اور تمہاری دُعا قبول کروں گا ۔حقیقت میں دُعا کرنا بڑا ہی مشکل ہے ۔جب تک انسان پورے صدق و وفا کے ساتھ اور صبر اور استقلال سے دُعا میں لگا نہ رہے تو کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں جو دُعا کرتے ہیں مگر بڑی بے دِلی اور عجلت سے چاہتے ہیں کہ ایک ہی دن میںاُن کی دُعامثمر بہ ثمرات ہو جاوے حلانکہ یہ امر سنت اللہ کے خلاف ہے اس نے ہر کام کے لئے اوقات مقرر فر مائے ہیں اور جس قدر کام دنیا میں ہو رہے ہیں وہ تدریجی ہیں ۔ اگرچہ وہ قادر ہے کہ ایک طرفۃ العین میں جو چاہے کر دے اور ایک کُنْ سے سب کچھ ہوجا تا ہے ۔مگر دُنیا میں اُس نے اپنا یہی قانون رکھا ہے ۔ اس لیے دُعا کرتے وقت آدمی کو اس کے نتیجہ کے ظاہر ہونے کے لیے گھبرانا نہیں چاہیئے ۔
    اپنی زبان میں دُعا کرنے کی حکمت
    یہ بھی یاد رکھو دُعا اپنی زبان میں بھی کر سکتے ہو بلکہ چاہیئے کہ مسنون اَدعیہ کے بعد اپنی زبان میں آدمی دُعا کرے کیونکہ اس زبان میں وہ پُورے طور پر اپنے خیلات اور حالات کا اظہار کر سکتا ہے اِس زبان میں وہ قادر ہوتاہے ۔
    دُعا نماز کا مغز اور رُوح ہے اور رسمی نماز جب تک اس میں رُوح نہ ہو کچھ نہیں اور رُوح کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گریہ و بکا اور خشوع و خضوع ہواور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حالت کو بخوبی بیان کرے اور ایک اضطراب اور قلق اس کے دل ہو اور یہ بات اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک اپنی زبان میں انسان اپنے مطالب کو پیش نہ کرے ۔غرض دعا کے ساتھ صدق اور وفا کو طلب کرے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت میں وفاداری کے ساتھ فنا ہو کر کامل نیستی کی صورت اختیار کرے اس نیستی سے ایک ہستی پیدا ہوتی ہے جس میں وہ اِس بات کا حقدار ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اُسے کہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ۔ اصل حقیقت اَنْتَ مِنِّی کی تو یہ ہے اور عام طور پر ظاہر ی ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم سے ہے
    اب اس کے بعد ایک اور حصّہ اس الہام کا ہے جو وَ اَنَا مِنْکَ ہے پس اس کی حقیقت سمجھنے کے واسطے یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسا انسان جو نیستی کے کامل درجہ پر پہنچ کر ایک نئی زندگی اور حیات ِ طیبہ حاصل کر چکا ہے اور جس کو خدا تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا ہے اَنْتَ مِنِّی۔ جو اس کے قرب اور معرفتِ الہٰی کی حقیقت سے آشنا ہونے کی دلیل ہے اور یہ انسان خدا تعالیٰ کی توحید اور اُسکی عزت او ر عظمت اورجلال کے ظہور کاموجب ہو اکرتاہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک عینی اور زندہ ثبوت ہوتا ہے اس رنگ سے اور اس لحاظ سے گویا اللہ تعالیٰ کا ظہور اس میں ہوکر ہوتا ہے ۔ اور خدا تعالیٰ کے ظہور کا ایک آئینہ ہو تا ہے۔ اس حالت میں جب اس کا ذکر خدا نما آئینہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ اُن کے لیے یہ کہتا ہے وَ اَنَا مِنْکَ ایسا انسان جس کواَنَا مِنْکَ کی آواز آتی ہے اُس وقت دُنیا میں آتا ہے جب خدا پرستی کا نام و نشان مِٹ گیا ہوتا ہے اس وقت بھی چونکہ دُنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے اور خدا شناسی اور خدا رسی کی راہیں نظر نہیں آتی اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور محض اپنے فضل و کرم سے اُس نے مجھ کو مبعوث کیا ہے تا میں اُن لوگو ں کوجواللہ تعالیٰ سے غافل اور بیخبر ہیں اس کی اطلاع دوں اور نہ صرف اطلاع بلکہ جو صدق اور صبر اور وفاداری کے ساتھ اس طرف آئیں انہیں خدا تعالیٰ کو دکھلا دوں ۔ اس بناء پر اللہ تعا لیٰ نے مجھے مخاطب کیا اور فرمایا
    ۔انت منی وانا منک
    اعتراض پیدا ہونے کی وجہ
    اعتراض کرنے کا کیا ہے جب طبیعت میں فساد اور ناپاکی ہو تو وہ نیکی کی طرف آنا کب پسند کرتی ہے بلکہ خلافِ طبع سمجھ کر اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے ۔میرے اس الہام کی سچّائی کا ثبوت اس پر اعتراض ہی ہیں ۔اگر خداتعالیٰ کا انکار اور دہریت بڑھی ہوئی نہ ہوتی تو کیوں اعتراض کیا جاتا ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ا س وقت خدا تعالیٰ کا پاک اور خوشنما چہرہ دُنیا کو نظر نہ آتا تھااور وہ اب مجھ میں ہو کر نظر آئے گا اور آرہا ہے ۔ کیونکہ اُس کی قدرتوں کے نمونے اور عجائبات ِ قدرت میرے ہاتھ پر ظاہر ہورہے ہیں ۔ جن کی آنکھیں کھلی ہیں وہ دیکھتے ہیں مگر جو اندھے ہیں وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ اس امر کو محبوب رکھتا ہے کہ وہ شناخت کیا جاوے اور اُس کی شناخت کی یہی راہ ہے کہ مجھے شناخت کرو ۱ ؎ یہی وجہ ہے کہ میرا نام اس نے خلیفۃ اللہ رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے
    کنت کنزا مخفیافا حببت ان اعرف فخلقت ادم
    اس میں آدم میرا نام رکھاہے ۔ یہ حقیقت اس الہام کی ہے ۔ اب اس پر بھی کوئی اعتراض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دکھادے گا کہ وہ کہاں تک حق پر ہے۔ (الحکم جلد ۷نمبر۷ ۳صفحہ ۱،۲مورخہ ۱۰ کتوبر ۱۹۰۳؁ء )
    حضرت اقدس ؑ جہلم میں
    حضرت حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعو د الصلوٰۃوالسلام جب مقدمہ کریم الدین میں جہلم تشریف لائے تھے اور ضلع جہلم اوراس کے گردو نواح کی مخلوق آپ کی زیارت کے لیے کثیر التعداد جمع تھی اور جہلم کی کچہری کے احاط میں آدمزاد ہی نظر آتے تھے جس کی تصدیق جہلم کے اخبار نے بھی کی تھی اور جہلم کی کل مخلوق اور احکام بھی اس امرکو جانتے ہیں۔اس روز ۱۷ جنوری ۱۹۰۳؁ ء کو احاطہ عدالت میں آپ کرسی پر تشریف فرما تھے اور ارد گرد مریدان باصفا نہایت ادب کے ساتھ حلقہ زن تھے اور ہزاروں انسانوں کا مجمع موجود تھا ہمارے محترم مخدوم جناب خان محمد عجب خانصاحب آف زیدہ بھی آپ کی کرسی کے پا س ایڈیٹر الحکم کے پہلو بہ پہلو بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ذیل میں ہم وہ تقریر لکھنا چاہتے ہیں جو اُس وقت احا طہ عدالت میں آپ نے فرمائی تھی ۔اس وقت جناب خان محمد عجب خانصاحب آف زیدہ نے جو اس قدرہجوم اور رجوع مخلوق کا د یکھا اور حضرت اقدس کے چہرہ پر نگا ہ کی تو خوشی اور اخلاص کے ساتھ اُن کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنی سعادت اور خوش قسمتی کو یا د کر کے (کہ اِسوقت اُس عظیم الشان انسان کے قدمو ں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہے جس کو رسول ﷺنے سلام کہا اورجس کا آنا اپنا آنا فرمایا ہے )عرض کیا کہ حضور میرا دل چاہتا ہے کہ میں کے دستِ مبارک کو بوسہ دوں ۔اس پر حضرت ِاقدس نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ اپنا ہا پھیلایا دیا اور خاں صاحب موصوف نے بہت ہی متاثر ہو کر اوررِقت ِقلب کے ساتھ آپ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا اس پرحضرت حجۃ اللہ نے مؤثر تقررفرما ئی ۔فر ما یا :۔
    بلند ہمتی
    ہمت نہیں ہار نی چاہیے ۔ہمت اخلاقِ فاضلہ میں سے ہے اور مومن بڑا بلند ہمت ہو تا ہے ہر وقت خداتعالیٰ کی نصرت اور تائید کے لیے تیار رہناچاہیے اور کبھی بزدلی ظاہر نہ کرے بزدلی منافق کا نشان ہے ۔مومن دلیر اور شجاع ہو تا ہے مگر شجاعت سے یہ مراد نہیں کہ اس میں مو قع شناسی نہ ہو مو قع شناسی کے بغیر جو فعل کیا جا تا ہے وہ تہوّر ہو تا ہے مو من میں شتابکاری نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت ہو شیاری اور تحمل کے ساتھ نصرتِ دین کے لیے تیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہو تا ۔
    انسان سے کبھی ایسا کام ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے مثلاََ کسی سائل کو اگر دھکادیا تو سختی کا موجب ہو جا تا ہے اور خداتعالیٰ کو ناراض کر نے والا فعل ہو تا ہے اور اسے توفیق نہیں ملے گی کہ اسے کچھ دے سکے،لیکن اگر نرمی یا اخلاق سے پیش آویگا اور خواہ اُسے پیالہ پانی کا ہی دیدے تو ازالۂ قبض کا موجب ہو جا وے گا۔
    قبض وبسط
    انسان پر قبض وبسط کی حالت آتی ہے ۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑ ھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیداہو تا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔نمازوں میں لذّت اور سرور پیداہو تا ہے لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذوق اور شوق جا تا رہتا ہے اور نمازوں میں ایک تنگی کی سی حالت پیدا ہو جا تی ہے ۔جب یہ صورت ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کیساتھ استغفار کرے اور پھر درُود شریف بہت پڑھے ۔نماز بھی بار بار پڑھے۔قبض کے دوُر ہو نے کا یہی علاج ہے۔
    حقیقی علم
    حقیقی علمِ علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہو تاہے اور خشیت الہیٰ پیدا ہو تی ہے ۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
    اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمٰٓئُوا (سورۃ فاطر:۲۹)
    اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہو تی تو یاد رکھو وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔ ۱؎
    ایمان کیلئے مناسبت شرط ہے
    قرآن شریف سے صاف طور پر معلوم ہو تا ہے کہ جب تک انسا ن کی فطرت میں سعادت اورایک مناسبت نہ ہو ایمان پیدا نہیں ہو تا ۔خدا تعالیٰ کے مامور اور مُر سل اگر چہ کھلے کھلے نشان لے کر آتے ہیں مگر اس میں بھی شُبہ نہیں کہ ان نشانوں میں ابتلاء اور اخفا کے پہلو بھی ضرور ہو تے ہیںسعید جو باریک بین اور دوُر بین نگاہ رکھتے ہیں اپنی سعادت اور مناسبتِ فطرت سے اُن اُمور کو جو دوسروں کی نگاہ میں مخفی ہو تے ہیں دیکھ لیتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں لیکن جو سطحی خیال کے لوگ ہو تے ہیں اور جن کی فطرت کو سعادت اور رُشد سے کوئی مناسبت اورحصّہ نہیں ہو تا وہ انکار کرتے ہیں اور تکذیب پر آمادہ ہو جا تے ہیں جس کا نتیجہ اُن کو برداشت کر نا پڑتا ہے ۔
    دیکھو مکہ معظمہ میں جب آنحضرتﷺ کا ظہور ہوا تو ابو جہل بھی مکّہ ہی میں تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مکّہ ہی کے تھے لیکن ابو بکر ؓ کی فطرت کو سچائی کے قبول کرنے کے ساتھ کچھ ایسی مناسبت تھی کہ ابھی آپؐشہر میں بھی داخل نہیں ہو ئے تھے۔ راستہ ہی میں جب ایک شخص سے پو چھا کہ کوئی نئی خبر سنائو اور اُس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اسی جگہ ایمان لے آئے اور کوئی معجزہ اور نشان نہیں مانگا اگرچہ بعد میں بے انتہا معجزات آپ نے دیکھے اور خود ایک آیت ٹھہرے۔ لیکن ابو جہل باوجود یکہ ہزاروں ہزار نشان دیکھے لیکن وہ مخالف اور انکار سے باز نہ آیا اور تکذیب ہی کرتا رہا۔اِس میں کیا سِرّ تھا پیدائش دونو ں کی ایک ہی جگہ کی تھی ۔ایک صدیق ٹھہرتا ہے اور دوسرا جو ابو الحکم کہلاتا تھا وہ ابو جہل بنتا ہے ۔ اس میں یہی راز تھا کہ اس کی فطرت کو سچائی کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہ تھی غرض ایمانی امور مناسبت ہی پر منحصرہیں ۔ جب مناسبت ہوتی ہے تو وہ خود معلّم بن جاتی ہے اور امورِحقہ کی تعلیم دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ مناسبت کا وجود بھی ایک نشان ہوتا ہے ۔
    میں بصیرت اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں اور مَیں وہ قوت اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور مشاہدہ کرتا ہوں مگر افسوس مَیں اس دُنیا کے فرزندوں کو کیونکر دکھا سکوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سُنتے ہوئے نہیں سُنتے کہ وہ وقت ضرور آئیگا کہ خدا تعالیٰ سب کی آنکھ کھول دے گا اور میری سچائی روزروشن کی طرح دُنیا پر کُھل جائے گی لیکن وہ وقت وہ ہوگا کہ توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور پھر کوئی ایمان سود مند نہ ہوسکے گا ۔
    میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت سلیم ہَے
    میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت میں حق سے محبت اور اہلِ حق کی عظمت ہو تی ہے ۔جسکی فطرت سلیم ہے وہ دُور سے اُس خو شبوکو جوسچائی کی میرے ساتھ ہے سُو نگھتا ہے اور اُسی کشش کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو عطا کرتا ہے میری طرف اس طرح کھنچے چلے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف جاتا ہے لیکن جس کی فطرت میں سلامت روی نہیں ہے اور جو مُردہ طبیعت کے ہیں اُن کو میری باتیں سود مند نہیں معلوم ہوتی ہیں وہ ابتلاء میں پڑتے ہیں اور انکا ر پر انکاراورتکذیب پر تکذیب کر کے اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ اُن کا انجام کیا ہونے والا ہے۔
    میری مخالفت کرنے والے کیا نفع اُٹھائیں گے کیا مجھ سے پہلے آنے والے صادقوں کی مخالفت کرنے والوں نے کوئی فائدہ کبھی اُٹھایا ہے اگر وہ نامراد اور خاسر رہ کر اس دُنیا سے اُٹھتے ہیں تو میرا مخالف اپنے ایسے انجام سے ڈر جاوے کیونکہ مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں صادق ہوں ۔ میرا انکاراچھے ثمرات نہیں پیدا کرے گا ۔ مبارک وہی ہیں جو انکار کی *** سے بچتے ہیں اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہیں ۔ جو حُسن ظنّی سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی صُحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ان کا ایمان اُن کو ضائع نہیں کرتا بلکہ برومند کرتا ہے ۔ مَیں کہتا ہوں کہ صادق کی شناخت کے لیے بہت مشکلات نہیں ہیں ۔ ہر ایک آدمی اگر انصاف اورعقل کوہاتھ سے نہ دے اور خدا کا خوف مدِّ نظر رکھ کر صادق کو پرکھے تو وہ غلطی سے بچا لیا جاتا ہے ،لیکن جو تکبّر کرتا ہے اور آیات اللہ کی تکذیب کرتا ہے اس کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی ۔
    سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض
    یہ زمانہ کیسا مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اُن پُر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لیے یہ مبارک ارادہ فرمایا کہ غیب سے اسلام کی نصرت کا انتظام فرمایا اور ایک سلسلہ کو قائم کیا ۔ مَیں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوںجو اپنے دل میں اسلام کے لیے ایک درد رکھتے ہیں اور اس کی عزت اور وقعت اُن کے دلوں میں ہے وہ بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ اس زمانہ سے بڑھ کر اسلام پر گذرا ہے جس میں اس قدر سبّ وشتم اور توہین آنحضرتﷺ کی گئی ہو قرآن شریف کی ہتک ہو ئی ہوپھر مجھے مسلما نو ں حالت پر سخت افسوس اور دلی رنج ہو تا ہے اور بعض وقت میں اس درد سے بے قرار ہو جا تا ہوں کہ ان میں اتنی حسِ بھی با قی نہ رہی کہ اس بے عزّتی کو محسوس کر لیں۔کیا آنحضرت ﷺ کی کچھ بھی عزت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی جو اس قدر سبّ وشتم پر بھی وہ آسمانی سلسلہ قائم نہ کر تا اور ان مخالفینِ اسلام کے منہّ بند کر کے آپؐ کی عظمت اور پاکیزگی کو دنیا میں پھیلاتا جب کہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آنحضرتﷺ پر درُود بھجتے ہیں تو اس توہین کے وقت اس صلوٰۃ کا اظہار کس قدر ضروری ہے اور اس کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی صورت میں کیا ہے۔
    مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت ﷺ کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآنِ شریف کی سچائیوں کو دکھائوںاور یہ سب کا م ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسِلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیا ت و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر اُن کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو اُن کی تعداد اس قدر ہو کہ روُئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔
    اِس قدر صورتیں اس سلسلہ کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کر نابھی آسان نہیں ۔چونکہ اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی تو ہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔
    میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کر تا ہوں
    کم فہم لوگ اعتراض کر تے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حدسے بڑھاتا ہو ں۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہو ں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے آپ کوکسی تعریف کا خواہشمند پائوں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کر تا ہوں لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خداتعالیٰ نے مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے کیا یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرتﷺ ہی کی ہے احمق اس بات کو نہیں سمجھ سکتا مگر سلیم الفطرت اور باریک نگاہ سے دیکھنے والا دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس وقت واقع ضروری تھا کہ جب کہ آنحضرتﷺ کی اس قدرہتک کی گئی ہے اور عیسائی مذہب کے واعظوں اور منادوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ اُس سید الکو نین کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اور ایک عاجز مریم کے بچے کو خداکی کُرسی پر جا بٹھایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے آپؐ کا جلال ظاہر کرنے کے لیے یہ مقدر کیا تھاکہ آپؐکے ایک ادنیٰ غلام کو مسیح ابن مریم بنا کے دکھا دیا۔ جب آپؐ کی اُمّت کا ایک فرد اتنے بڑے مدارج حاصل کر سکتا ہے تو اس سے آپؐ کی شان کا پتہ لگ سکتا ہے۔ پس یہاں خداتعالیٰ نے جس قدر عظمت اس سلسلہ کی دکھائی ہے اور جو کچھ تعریف کی ہے یہ درحقیقت آنحضرت ﷺ ہی کی عظمت اور جلال کے لیے ہے مگر احمق ان باتوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔
    ظہو ر علاماتِ مسیح موعود ؑ
    اس صدی میں سے بیس سال گذرنے کوہیں اور آخری زمانہ ہے چودھویں صدی ہے کہ جس کی بابت تمام اہلِ کشف نے کہا کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا وہ تمام علامات اور نشانات جو مسیح موعود کی آمد کے متعلق پہلے سے بتائے گئے تھے ظاہر ہوگئے۔ آسمان نے کسوف وخسوف سے اورزمین نے طاعون سے شہادت دی ہے اور بہت سے سعادتمندوں نے ان نشانوں کو دیکھ کر مجھے قبول کیا اور پھر اَوربھی بہت سے نشانات اُن کی ایمانی قوت کو بڑھانے کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر کیے اور اس طرح پر یہ جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے ا؎
    کوئی ایک بات ہوتی تو شک کرنے کا مقام ہوسکتا تھا مگر یہاں تو خدا تعالیٰ نے اُن کو نشان پر نشان دکھائے اور ہر طرح سے اطمینان اور تسلی کی راہیں دکھائیں ، لیکن بہت ہی کم سمجھنے والے نکلے ہیں ۔ حیران ہوتا ہوں کہ کیوں یہ لوگ جو میرا انکار کرتے ہیں ان ضرورتوں پر نظر نہیں کرتے جو اس وقت ایک مصلح کے وجود کی داعی ہیں ۔
    مسلمانوں کی حالت
    وہ دیکھیں کہ روئے زمین پر مسلمانوں کی کیا حالت ہے ۔ کیا کسی پہلو سے بھی کوئی قابلِ اطمینان صورت دکھائی دیتی ہے شان وشوکت کی حالت تو سلطنت کی صورت میں نظر آسکتی ہے ۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت اس وقت روم کی سلطنت ہے لیکن اس کی حالت کو دیکھ لو وہ بتیس دانتوں میں زبان ہورہی ہے اور آئے دن کسی نہ کسی خر خشہ اور مخمصہ میں مبتلا رہتی ہے ۔علمی حالت کے لحاظ سے سب رو رہے ہیں کہ مسلمان پیچھے رہے ہوئے ہیں اور نِت نئی مجلسیں اور کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں کہ مسلمانوںکی علمی حالت کی اصلاح کی جاوے ۔ دُنیوی لحاظ سے تو یہ حالت اور دینی پہلو کے لحاظ سے تو بہت ہی گری ہوئی حالت ہے کوئی بدعت اور فعل شنیع نہیں ہے جس کے مرتکب مسلمان نہ پائے جاتے ہوں ۔اعمالِ صالحہ کی بجائے چند رسوم رہ گئی ہیں ۔ جیلخانوں میں جاکر دیکھو تو زیادہ مجرم مسلماندکھائی دیں گے کس کس بات کا ذکر کیا جاوے مسلمانوں کی حالت اس وقت بہت ہی گری ہوئی ہے اور اُن پر آفات نازل ہورہی ہیں ۔ مگر کیا مسلمان ابھی چاہتے ہیں کہ وہ اَور پِیسے جاویں ۔ اس سے بڑھ کر اُن کی ذلیل حالت کیا ہوگی کہ وہ پاک دین جو بے نظیر دولت اُن کے پاس تھی اور ایمان جیسی نعمت وہ کھو بیٹھے ہیں ۔ اورمسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے عیسائی ہوکر آنحضرتﷺ کی توہین کرتے اور اسلام کا مضحکہ اُڑاتے ہیں اور یا اگرکُھلے طورپر عیسائی نہیں ہوئے تو عیسائیوں کے علوم فلسفہ وطبیات سے متاثر ہوکر مذہب کو ایک بیضرورت اور بیفائدہ شئے سمجھنے لگ گئے ہیں ۔
    یہ آفتیں ہیں جو اسلام پر آرہی ہیں اور مَیں نہایت درداور افسوس سے سُنتا ہوں کہ اس پر بھی کہا جاتا ہے کہ کسی مصلح کی ضرورت نہیں حالانکہ زمانہ پکار پُکار کر کہہ رہا ہے کہ اس وقت ضرورت ہے کہ کوئی شخص آئے آوے اور وہ اصلاح کرے مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت کیوں خاموش جبکہ اُس نے
    انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون (سورۃ الحجر : ۱۰)
    خود فرمایا ہے ۔اسلا م پر ایساخطرناک صدمہ پہنچا ہے کہ ایک ہزار سال قبل تک اس کا نمونہ اور نظیر موجود نہیں ہے ۔ یہ شیطان کا آخری حملہ ہے اور وہ اس وقت سا ری طاقت اور زور کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے اور مجھے بھیجا ہے تامَیںہمیشہ کے لیے اُس کا سر کُچل دوں ۔
    سلسلہ میں داخل ہونے کی ضرورت
    جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ حاجت نہیں ہے ہم نماز روزہ کرتے ہیں ۔وہ جاہل ہیں انہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ سب اعمال اُن کے ُمردہ ہیں اس میں روح اور جان نہیں اور وہ آنہیں سکتی جب تک وہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ پیوند نہ کریں اور اس سے وہ سیراب کرنے والا پانی حاصل نہ کریں ۔تقویٰ اس وقت کہاں ہے ؟ رسم وعادت کے طور پر مومن کہلانا کچھ فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ خدا کو دیکھانہ جائے اور خدا کو دیکھنے کے لیے اور کوئی راہ نہیں ہے ۔(اس سفر میں حضرت حجۃاللہ علیہ الصلوٰۃوالسلام کو کھانسی کی شکایت تھی ۔ یہاں پہنچ کر پھر کھانسی کی شکایت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ’’ مَیں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو کچھ سنائوں مگر کھانسی روک ہوتی ہے)
    غرض اس قدر ضرورتیں داعی ہیں کہ اُن کے بیان کرنے کے لیے بہت بڑا وقت چاہیئے اور پھر اس قدر نشانات ظاہر ہوئے ہیں کہ اُن کی بھی ایک بہت بڑی ضخیم کتاب تیار ہوتی ہے مَیں نے ایک شعر میں ان دونوں باتوں کو جمع کرکے کہا ہے۔ ؎
    آسماں بار دنشاں الوقت مے گوید زمیں :: ایں دوشاہد از پئے تصدیقِ ایستادہ اند ا ؎
    سلسلہ کی مخالفت
    خان عجب خاں صاحب ۔ایک بار مَیں پادریوں کے اعتراض سے بہت ہی تنگ ہوگیا وہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا ۔اس وقت مَیں نے دُعا کی کہ اے اللہ ! اسلام کو غالب کر ۔ خدا کا شکر ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ اس نصرت کے وقت لوگ مخالفت کرتے ہیں ۔حضرت اقدس ؑ ۔یہ با لکل سچ ہے عیسائیوں نے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ جس جس طرح سے اُن کا قابو چلا انہوں نے اسلام کے شجر پر تیر چلایا ہے ،لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ آپ اس کا محافظ اور ناصر تھا ۔اس لیے وہ اپنے ارادوں میں مایوس اور نامراد ہوئے ۔ یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت (جب ایسی حالت ہورہی تھی اور اسلام کی اس قدر مخالفت کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ سلسلہ عظمتِ اسلام کو قائم کرنے کے واسطے کھڑے کیا اور اس کی تائید اور نصرت ہر ایک پہلو سے کی ) وہ بجائے اس کے کہ اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس پیاسے کی طرح جس کو ٹھنڈے اور برفاف پانی کا پیالہ مل جاوے شکر کرتے ، انہوں نے مخالفت شروع کی اور اسی طرح پر جو ہمیشہ سنّت اللہ چلی آتی ہے ہنسی اور استہزاء سے کام لیا ،۔خدا تعالیٰ کے نشانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور اُن سے منہ پھیر لیا ۔ مجھے ان لوگوں کی حالت پر رحم اور افسوس آتاہے کہ کیوں غور نہیں کرتے اور منہاج ِ نبوت پر اس سلسلہ کی سچائی کو نہیں سمجھتے ۔
    صداقت کے دلائل
    وہ دیکھتے کہ اس قدر نصرتیں اور تائیدیں جو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے کیا یہ کسی مفتری اور کذّاب کوبھی ملی سکتی ہیں ؟ ہر گز نہیں ۔ کوئی شخص نصرتِ الٰہی کے بغیر اس قدر دعویٰ کب کر سکتا ہے ۔ کیا وہ تھکتا نہیں ؟ اور پھر اللہ تعا لیٰ مفتری کے لیے اس قدر غیرت نہیں دکھاتا کہ اُسے ہلاک کرے ؟بلکہ اس کو مہلت دیتا جاتا ہے اور نہ صرف مہلت بلکہ اُس کی پیشگوئیوں کو بھی سچّا کر دیتا ہے اور دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اسی کی تائید کرتا ہے اور اسی کوفتح دیتا ہے ۔انسانی حکومت کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص افتراء کرتا ہے اور جھوٹی حالت بنا کر کہے مَیں عہدیدار ہوں تو وہ پکڑا جاتا ہے اور اس کو سخت سزا دی جاتی ہے لیکن کیا تعجب کی بات نہیں کہ ایک مفتری اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا جاوے تو پھر نشان بھی دکھاتا جاوے اور اسے کوئی نہ پکڑے ۔ براہینِ احمدیہ کی اشاعت کو بیس برس کے قریب ہوئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ گائوں میں بھی ہم کوکوئی شناخت نہیں کرتا تھا ۔ گائوں والے موجود ہیں ۔خود مولوی محمّد حسین جس نے اس کتاب پر ریویو لکھا زندہ موجود ہے اُس سے پوچھو کہ اس وقت کیا حال تھا۔ایسے وقت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ فوج درفوج لوگ تیرے پاس آئیں گے ۔ یا تون من کل فج عمیق دور دراز سے تیرے پاس لوگ آئیں گے ا ور تحائف آئیں گے ۔ پھر یہ بھی کہا کہ لوگوں سے تھکنا مت ۔ اب کوئی سوچے اور دیکھے کہ خدا تعالیٰ کے ی وعدے کس طرح پورے ہوئے ۔ ان فہرستوں کو گورنمنٹ کے پاس دیکھ لے جو آ نے والے مہمانوں کی مرتب ہوکر ہفتہ وار جاتی ہیں اور ڈاک خانہ اور ریل کے رجسٹروں کی پڑتال کرے جس سے پتہ لگے گا کہ کہاں کہاں سے تحائف اور روپیہ آرہا ہے اور قادیان میں بیٹھ کر دیکھیں کہ کس قدر ہجوم اور انبوہ مخلوق کا ہوتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے بشارت اور قوت نہ ملے تو انسان تھک جاوے اور ملاقاتوں سے گھبرا اُٹھے ۔ اُس نے یہ الہام کیا کہ گھبرانا نہ ویسے ہی قوت بھی عطا کی کہ گھبراہٹ ہوتی ہی نہیں اور ایسا ہی انگریزی ،اردو،عربی ،عبرانی میں بہت سے الہامات ہوئے جو اُس وقت سے چھپے ہوئے موجود ہیں اور پورے ہورہے ہیں ۔اب خدا ترس دل لے کر میرے معاملہ پر غور کرتے تو ایک نور اُن کی رہبری کرتا اور خدا کی رُوح اُن پر سکینت اور اطمینان کی راہیں کھول دیتی ۔ وہ دیکھتے کے کیا یہ انسانی طاقت کے اندر ہے جو اس قسم کی پیشگوئی کرے ؟ انسان کو اپنی زندگی کے ایک دم کا بھروسہ نہیں ہوسکتا تو یہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ تیرے پاس دُور دراز سے مخلوق آئے گی اور ایسے زمانے میں خبر دیتا ہے جبکہ وہ محجوب ہے اور اس کو کوئی اپنے گائوں میں بھی شناخت نہیں کرتا ۔ پھر وہ پیشگوئی پُوری ہوتی ہے اس کی مخالفت میں ناخنوں تک زور لگایا جاتا ہے اور اس کے تباہ کرنے اور معدوم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی مگراللہ تعالیٰ اس کو برومند کرتا اور ہر نئی مخالفت پر اس کو عظیم الشان ترقی بخشتا ہے ۔ کیایہ خدا کے کام ہیں یا انسانی منصوبوں کے نتیجے ؟ اصل یہی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور لوگوں کی نظروں میں عجیب ۔مولویوں نے مخالفت کے لیے جُہلاء کو بھڑ کایا اور عوام کو جوش دلایا ، قتل کے فتوے دیئے ،کُفر کے فتوے شائع کئے اور ہر طراح سے عام لوگوں کو مخالفت کیلئے آمادہ کیا مگر کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور تائیدیں اَور بھی زور کے ساتھ ہوئیں ۔اُسی کے موافق جو اُس نے کہا تھا ’’دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا مگر اللہ تعالیٰ اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا ۔‘‘
    مہدی منتظر
    جو مولوی مخالفت کے لیے شورمچاتے اور لوگوں کو بھڑکاتے ہیں یہی پہلے منبروں پر چڑھ کر رو رو کر دُعائیں کیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اب مہدی کا وقت آگیا ، لیکن جب آنے والا مہدی آیا توشور مچانے والے ٹھہرے اور اسی مہدی کو مضل اور ضال اور دجّال کہا اور یہاں تک مخالفت کی کہ اپنے خیال میں عدالتوں تک پہنچا کر اس سلسلہ کو بند کرنا چاہا ، مگر کیا وہ جو خدا کی طرف سے آیا ہے وہ ان لوگوں کی امخالفت سے رُک سکتا ہے اور بند ہوسکتا ہے ؟ کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں ؟ اگر یہ اب بھی نہیں مانتے توآدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر دو کہ اس طرح پر بیس برس پہلے ایک آنے والے زمانہ کی خبر دی اور پھر ایسی حالت میں کہ لوگوں نے اس پیشگوئی ک وروکنے کی بہت کوشش کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی اور لوگوں کا کثرت کے ساتھ رجوع ہوا ۔ کیایہ نشان کم ہے اس کی نظیر دکھائو۔
    پھر حدیث میں پڑھتے تھے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں کسوف و خسوف ہوگا اور جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا اس وقت تک شورمچاتے تھے کہ یہ نشان پورا نہیں ہوا ، لیکن اب ساری دُنیا قریباً گواہ ہے کہ یہ نشان پورا ہوا ۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بھی ہوا ۔ اوور دوسرے ممالک میں بھی پورا ہوا ۔ا ور اب وہی جو اس نشان کا آیاتِ مہدی میں سے ٹھہراتے تھے اس کے پورے ہونے پر اپنے ہی مُنّہ سے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہی قابلِ اعتبار نہیں ۔اللہ تعالیٰ انکی حالت پر رحم کرے ۔ میری مخالفت کی یہ *** پڑتی ہے کہ آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کی بھی تکذیب کر بیٹھتے ہیں ۔
    پھر مسیح موعود کے وقت کا ایک نشان طاعون کا تھا ۔ انجیل و توریت میں بھی یہ نشان موجود تھا اور قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان مسیح موعود ؑ کا خدا تعالیٰ نے ٹھہرایا تھا چناچہ فرمایا
    وان من قریۃ الا نحن مھلکوھا (سورۃ بنی اسرائیل:۵۹)
    یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ غور سے سمجھنے کے لائق ہیں اور اب دیکھ لو کہ کیا طاعون ملک میں ہوئی ہے یا نہیں ؟ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ مَیں نے جب طاعون کے پھیلنے کی پیشگوئی کی تو ملک میں اس کی ہنسی کی گئی اور اس اس پر ٹھٹھا کیا گیا ۔ لیکن اب ملک کی حالت اور طاعونی اموات کے نقشوں کو پڑھ کر بتائیں کیا یہ پیشگوئی پُوری ہوئی ہے یا نہیں ؟ یہ وہ باتیں ہیں جو سمجھنے کے لائق ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ایسا اعتراض تو کفار ہمیشہ سے نبیوں پر کرتے آئیں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں کوایسی باتیں مخالفوں سے سُننی پڑی تھیں ۔اصل بات یہ ہے کہ اگر اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر قیامت کا نمونہ ہوجاوے اور اس دنیا کو وہ قیامت بنانا نہیں چاہتا ۔ ایمان بالغیب بھی کوئی چیز ہے اگر ایسا ہو تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا مثلاً اگر کوئی شخص سورج پر ایمان لاوے تو بتائو یہ ایمان اس کوکیا نفع دے گا ؟ ایمان ہمیشہ اسی صورت اور حالت میں مفید اور نتیجہ خیز ہوتا ہے جب اس میں کوئی پہلو اخفاء کا بھی ہو لیکن جب کُھلی بات ہوتو پھر وہ مفید نہیں رہتا ۔
    اولین کا مقام
    دیکھو اگر کوئی شخص پہلی رات کے چاند کو دیکھ کربتا دے تو اُس کی تیز بینی کی تو تعریف ہو گی لیکن اگر چودھوں رات کے چاند کو جو بدر ہو تا ہے دیکھ کر شور مچاوے کہ میں نے چاند کو دیکھ لیا ہے تو اس کو سوائے مجنوں کے اور کوئی خطاب نہیں ملیگا۔ اسی طرح پر ایمان میں فراست اور تقویٰ سے کا م لینا چاہئے ۔اور قرائن قویہ کو دیکھ کر تسلیم کر لینا مو من کا کام ہے ورنہ جب بالکل پردہ برانداز معاملہ ہو گیا اور سارے گو شے کھُل گئے اس وقت ایک خبیث سے خبیث انسان کو بھی اعتراف کرناپڑے گا ۔ میں اس سوال پربار بار اس لئے زور دیتا ہوںکہ لوگو ں کو معلوم نہیں کہ نشانوں کی فلاسفی کیاہے۔یہ یادرکھنا چاہئے جیسامیں نے ابھی کہا ہے خداتعالیٰ کبھی قیامت کا نظارہ یہاں قائم نہیں کرتا اور وہ غلطی کرتے ہیں جو ایسے نشان دیکھنے چاہتے ہیں یہ محرومی کے لچھن ہو تے ہیں ۔آنحضرت ﷺپر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے آئیں تو آپ نے یہی جواب دیا
    ھَلْ کُنْتُ اِلاَّ بَشَرََا رَّ سُوْ لاَََ (بنی اسرائیل ۹۴)
    پو رے انکشاف کے بعد ایمان لا کر کسی ثواب کی اُمید رکھنا غلطی ہے ۔اگر کوئی مٹھی کھول دی جاوے اور پھر کوئی بتاوے کہ اس میں فلاں چیز ہے تو اس کی کوئی قدر نہ ہو گی۔
    پس پہلے تقویٰ سے تو کام لو اور قرآن شریف کو دیکھو کہ ثواب اسی میں ہے جب ساری باتیں کھل گئیں تو پھر کیا جو اس انتظار میں رہے کہ یہ دیکھوں اور وہ دیکھوں وہ ہمیشہ ایمان اور ثواب کے دائرہ سے خارج رہے ہیں۔
    دیکھو اللہ تعالیٰ نے بعض کا نام سابق مہاجر اور انصار رکھا ہے اور اُن کو
    رَضِیَ اللہ ُعَنْھُم ْوَرَضُوْاعَنْہُ
    میں داخل کیا ہے یہ وہ لوگ تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جو بعد میں ایمان لائے ان کا نام صرف ناس رکھا ہے جیسے فرما یا۔
    اَذَا جَآ ئَ نَصْر ا للہ ِ والْفَتْحُ۔وَرَاَیْتَ انَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فَیْ دِیْنِاللہ ِ اَفْوَاجاََ (سورۃالنصر:۲‘۳)
    یہ لوگ جو اسلام میں داخل ہوئے اگر چہ وہ مسلمان تھے مگر ان کووہ مراتب نہیں ملے جو پہلے لو گو ں کو دئیے گئے۔پھر مہاجرین کی عزت سب سے زیا دہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس وقت ایمان لائے جب ان کو معلوم نہ تھا کہ کامیابی ہو گی یا نہیں بلکہ ہر طرف سے مصائب اور مشکلات کا ایک طوفان آیا ہوا تھا اور کفر کا دریا بہتا تھا۔خاص مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک رہی تھی اور مسلمان ہو نے والوں کو سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی جاتی تھیں ،مگر انہوں نے ایسے وقت میں قبول کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اُنکی بڑی بڑی تعریفیں کیں اور بڑے بڑے انعامات اور فضلوں کا وارث اُن کو بنایا۔ پس ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ فلاں وقت آئے گا اور انکشاف ہو گا تو آفتاب کی طرح کھول کر دکھا دیگا مگر اس وقت ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔پیغمبروں کو ماننے والوں میں ثواب اَوَّ لُوْن کو سب سے بڑھ کر ملا ہے اور انکشاف کا زمانہ تو ضرور آتا ہے لیکن آخر اُن کا نام ناس ہی ہو تا ہے
    (اس مقام پر مولانا مولوی سیّد محمد احسن صاحب امروہی نے عرض کیا کہ
    متیٰ ھٰذَا الْفَتْحُ
    کے جواب میں یہی کہاکہ تمہارا ایمان اُس دن فائدہ نہ دیگا )فرمایا :۔
    بیشک اس بات کوسمجھنا سعادت ہے جس نے اوّل زمانہ میں یہ نہیں پائی اُس کی کوئی قابلیت اور خوبی نہیں ۔جب خدانے کھول دیا اس وقت تو پتھر اور درخت بھی بولتے ہیں ۔زیا دہ قابلِقدر وہ شخص ہے جو اوّل قبول کرتا ہے جیسے حضرت ابو بکر ؓ نے قبول کیا آپنے کوئی معجزہ نہیں مانگا اور آپکے مُنہ سے ابھی سنا تھا کہ ایمان لے آئے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنی تجارت پر گئے ہوئے تھے اور جب سفر سے واپس آئے تو ابھی مکہ میں نہیں پہنچے تھے کہ راستہ میں کوئی ایک شخص آپ ملا اور اس سے مکہ کے حالات پوچھے ۔اُس نے کہا کہ اور تو کوئی تا زہ خبر نہیں ۔سب سے بڑھ کر تازہ خبر یہی ہے کہ تمہارے دوست نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ سنکر کہا کہ اگر اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچاہے۔
    اب غور سے دیکھو کہ حضرت ابو بکرؓ نے اس وقت کوئی نشان یا معجزہ نہیں مانگا بلکہ سنتے ہی ایمان لے آئے اور دعویٰ خود آنحضرت ﷺکے مُنہ سے بھی نہیں سنا بلکہ ایک شخص کی زبانی سنا ار فوراََتسلیم کر لیا ۔ یہ کیسا زبردست ایمان ہے روایت بھی آنحضرت ﷺ کے نام سے سنکر اُس میں جھوٹ کا احتمال نہیں سمجھا ۔ ۱؎
    دیکھو حضرت ابو بکرنے کوئی نشان نہیں مانگا ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کا نا م صدیق ہوا ۔ سچائی سے بھرا ہوا ۔صرف مُنہ دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔ پس صادقوں کی شناخت اور اُن کا تسلیم کرنا کچھ مشکل امر تو نہیں ہو تا ۔ اُنکے نشانات ظاہر ہو تے ہیں لیکن کو رباطن اپنے آپکو شبہات اور خطرات میں مبتلا کر لیتے ہیں ۔وہ لوگ بڑے ہی بد قسمت ہو تے ہیں جو انتظار ہی میں اپنی عمر گزار دیتے ہیں اور پردہ برانداز ثبوت چاہتے ہیں۔ اُن کو معلوم نہیں کہ جیسا خود اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے ۔انکشاف کے بعد ایمان نفع نہیں دیتا۔ نفع میں وہی لوگ ہو تے ہیں اور سعادت مند وہی ہیں جو مخفی ہو نے کی حالت میں شناخت کر تے ہیں ۔
    دیکھو جب تک لڑائی جاری ہوتی ہے اس وقت تک فوجوں کو تمغے ملتے ہیں اور خطاب ملتے ہیں لیکن جب امن ہوجا وے اس وقت اگر کوئی فوج چڑھائی کرے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ لُوٹنے کو آئے ہیں ۔
    شیطان کی آخری جنگ
    یہ زمانہ بھی رُوحانی لڑائی کا ہے ۔شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔ شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خداتعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اُس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے ۔مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے اب تھوڑا زمانہ ہے ابھی ثواب ملے گا لیکن عنقریب وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا۔وہ وقت ہو گا کہ ایمان ثواب کا موجب نہ ہوگا اور نہ توبہ کا دروازہ ہو نے کے مصداق ہو گا۔ اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے ۔وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہو نا پڑیگا ۔ اُس کے دُنیاوی کا روبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جائے گی اُس کو گالیاں سننی پڑیں گی۔ لعنتیں سُنے گا مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہا ں سے ملے گا ۔
    لیکن جب دوسرا وقت آیا اور اس زور کے ساتھ دُنیا کا رجوع ہو اجیسے بلند ٹیلہ سے پانی نیچے گرتا ہے اور کوئی انکارکرنے والا ہی نظر نہ آیا اُس وقت اقرار کس پایۂ کا ہو گا اس وقت ماننا شجاعت کا کام نہیں۔ ثواب ہمیشہ دُکھ ہی کے زمانہ میں ہو تا ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضر ت ﷺکو قبول کر کے ا گر مکہ کی نمبرداری چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک دُنیا کی بادشاہی دی ۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کمبل پہن لیاا ور ہر چہ باداباد‘ ماکشتی درآب انداختنیم کا مصداق ہو کر آپکو قبو ل کیاتو کیا خداتعالیٰ نے اُنکے اجر کا کوئی حصہ باقی رکھ لیا ہرگز نہیں ۔جو خداتعالیٰ کے لئے ذرا بھی حرکت کر تا ہے وہ نہیں مرتا جب تک اس کا اجر نہ پا لے ۔ حرکت شرط ہے ۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف معمولی رفتار سے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڈ کر آتا ہے۔ایمان یہ ہے کہ کچھ مخفی ہو تو مان لے۔جو ہلال کو دیکھ لیتا ہے تیز نظر کہلاتا ہے لیکن چودھویں کے چاند کو دیکھ کر شور مچانے والا دیوانہ کہلائے گا۔
    حضرت شہزادہ عبدالطیف کابلی کا مقام
    اس موقع پر مولانا مولوی عبدالطیف صاحب نے عرض کی کہ حضور مَیں نے ہمیشہ آپ کو سورج ہی کی طرح دیکھا ہے کوئی امر مخفی یا مشکوک مجھے نظر نہیں آیا پھر مجھے کوئی ثواب ہوگا یانہیں ۔ فرمایا :۔آپ نے اس وقت دیکھا جب کوئی نہ دیکھ سکتا تھا ۔ آ پ نے اپنے آپ کو نشانہ ابتلاء بنا دیا اور ایک طرح سے جنگ کے لیے تیار کر دیا ۔اب بچ جانا یہ خدا کا فضل ہے ۔ ایک شحص جو جنگ میں جاتا ہے اس کی شجاعت میں تو کوئی شبہ نہیں اگر وہ بچ جاتا ہے اور سے کوئی گزند نہیں پہنچتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ۔ اسی طرح آپ نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا ہر دکھ اور ہر مصیبت کو اس راہ میں اُٹھانے کے لیے تیار ہوگئے اس لیے اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا ۔
    مخالفوں کا ساحر کہنا
    خان عجب خانصاحب :۔حضور پشاور میں میرے مخالف لوگ جمع ہوئے اور اُنہوں نے میرے والد سے کہا کہ اس کو منع کرو ۔مَیں نے اُن کو یہی جواب دیا کہ مَیں نے جس صداقت کو دیکھ لیا ہے اور خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اب اُسے سچائی سمجھ کر مَیں کیونکر چھوڑ سکتا ہوں ۔اگر اب چھوڑوں تو مجھ سے بڑھ کر خطا کار اور زیاں کار کون ہوگا کیونکہ مجھ پر حجت پوری ہوچکی ہے ۔اس پر اُنہوں نے اَور تو کچھ نہ کہا صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ جادو گر ہے فرمایا:۔جادوں گرکہلانا قدیم سے انبیاء علیہم السّلام کی سنّت چلی آتی ہے ۔ہم کو اگر کسی نے جادو گر کہا تو اُسی سنّت کو پورا کیا ۔
    قرآن شریف اور حدیث کا مرتبہ
    مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ہم تو قرآن شریف پیش کرتے ہیں جس سے جادوبھاگتا ہے اس کے بالمقابل کوئی باطل اور سحر نہیں ٹھہر سکتا ہمارے مخالفوں کے ہاتھ میں کیا ہے جس کو وہ لیے پھرتے ہیں ۔ یقینا یاد رکھو کہ قرآن شریف وہ عظیم الشان حربہ ہے کہ اُس کے سامنے کسی باطل کو قائم رہنے کی ہمت ہی نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی باطل پرست ہمارے سامنے اور ہماری جماعت کے سامنے نہیں ٹھہرتا اور گفتگو سے انکار کر دیتا ہے ۔ یہ آسمانی ہتھیار ہے جو کھبی کُند نہیں ہوسکتا ۔ ہمارے اندرونی مخالف اُس کو چھوڑ کر الگ ہوگئے ہیں ورنہ اگر قرآن شریف کی رُو سے یہ فیصلہ کرنا چاہتے تو اُن کو اس قدر مصبتیں پیش نہ آتیں ۔ ہم خدا تعالیٰ کا پیار اور یقینی کلام قرآن شریف پیش کرتے ہیں اور وہ اس کے جواب میں قرآن شریف سے استدلال نہیں کرتے ۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو مقدم کرو جو آنحضرتﷺ پر نازل ہوا ۔ جو قرآن شریف کے خلاف ہو ہم نہیں مان سکتے خواہ وہ کسی کا کلام ہو ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پر ہم کسی کی بات کوتر جیح کس طرح دیں ۔ ہم احادیث کی عزت کرتے ہیں اور اپنے مخالفوں سے بھی بڑھ کر احادیث کو واجب العمل سمجھتے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ وہ حدیث قرآن شریف کے کسی بیان کے متعارض یا متخالف نہ ہو ۔ اور محدثین کے اپنے وضع کردہ اُصولوں کی بناء پر اگر کوئی حدیث موضوع بھی ٹھہرتی ہو لیکن قرآن شریف کے مخالف نہ ہو بلکہ اس سے قرآن شریف کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ۔ تب بھی ہم اس کو واجب العمل سمجھتے ہی اور اس امر کا پاس کریں گے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہے ۔ لیکن اگر کوئی حدیث ایسی پیش کی جاوے جو قرآن شریف کے مخالف ہو تو ہم کوشش کریں گے اُس کی تاویل کرکے اس مخالفت کو دور کردیں لیکن اگر وہ مخالفت دُور نہیں ہوسکتی تو پھر ہم کو وہ حدیث بہر حال چھوڑنی پڑے گی کیونکہ ہم اس پر قرآن شریف شریف کو چھوڑ نہیں سکتے ۔اس پر بھی ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ تمام احادیث جو اس میعار پر صحیح ہیں وہ ہمارساتھ نہیں وہ ہمارے ساتھ ۔بخاری اور مُسلم میرے د عو ے کی تائید وتصدیق کرتے ہیں جیسے قرآن شریف نے فرمایا کہ مسیح مر گئے اسی طرح بخاری اور مسلم نے تصدیق کی اور انی متو فیک (اٰل عمران:۵۶) کے معنے ممیتک کئے ۔جیسے قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بنی اسماعیل کو اسی طرح شرف عطاہوا جیسے بنی اسرائیل کوبزرگی دی تھی ویسے ہی احادیث سے یہ پایاں جاتا ہے ۔ ان لوگوں پر جو انکار کرتے ہیں افسوس ہے ۔ اُن کو رسم اور عادت نے خراب کردیا ہے ورنہ یہ میرا معاملہ ایسا مشکل اور پیچیدہ نہ تھا جو سمجھ میں نہ آتا ۔ قرآن شریف سے ثابت ،احادیث سے ثابت ،دلائلِ عقلیہ سے ثابت اور پھر تائیداتِ سماویہ اسکی مصدق ،اور ضرورتِ زمانہ اسکی مٔویّد ۔باوجود اسکے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ حق پر نہیں ۔
    قرآن شریف وسُنّت کی خلاف ورزی
    غور کر کے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلافِ قرآن شریف وسُنّت کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں تو پادریوں کو نکتہ چینی کا موقعہ ملتا ہے اور وہ جھٹ پٹ کہہ اُٹھتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مرگیا اور معاذ اللہ وہ زمینی ہے ۔حضرت عیسیٰ زندہ اور آسمانی ہے اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی تو ہین کر کے کہتے ہیں کہ وہ مُردہ ہے ۔ سوچ کر بتائو کہ وہ پیغمبر جو افضل الرسل اور خاتم النبیاء ہے ایسا اعتقاد کر کے اس کی فضلیت اور خا تمیّت کویہ لوگ بٹہ نہیں لگا تے ؟ ضرور لگاتے ہیں اور خود آنحضرے ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ پادریوں سے جس قدر تو ہین اس لوگوں نے اسلام کی کرائی ہے اور آنحضرت ﷺ کومُردہ کہلایا ہے۔ اسی کی سزا میں یہ نکبت اور بد بختی اُن کے شاملِ حال ہورہی ہے ۔ایک طرف تو منہ سے کہتے ہیں کہ وہ افضل الانبیاء ہیں اور دوسری طرف اقرار کر لیتے ہیں کہ ۳۶ سال کے بعد مَرگئے اور مسیح اب تک زندہ ہے اور نہیں مرا حالانکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت کو فرماتا ہے وَ کَانِ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْماً (سورۃ النساء:۱۱۴) پھر کیا یہ ارشادِ الہٰی غلط ہے ؟ نہیں یہ بالکل درست اور صحیح ہے وہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ مُردہ ہیں ۔ اس بڑھ کر کوئی کلمہ توہین کانہیں ہوسکتا ۔حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ میں ایسی فضیلت ہے جوکسی نبی میں نہیں ہے ۔ مَیں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے ۔
    کس قدر افسو کی بات ہے کہ جس نبی کی اُمّت کہلاتے ہیں اسی کو معاذ اللہ مُردہ کہتے ہیں اور اسی نبی کو جس کی اُمّت کا خاتمہ ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَ الْمَسْکَنَۃُ پر ہوا ہے اُسے زندہ کہا جاتا ہے ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم یہودی تھی اور اس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ضربت علیھم الذلۃ و المسکنۃ (سورۃ البقرہ :۶۲)
    اب قیامت تک اُن کو عزّت نہ ملے گی ۔ اب اگر حضرت عیسیٰ پھر آگئے تو پھر گویا اُن کی کھوئی ہوئی عزّت بحال ہوگئی ۔اور قرآن شریف کا حُکم باطل ہوگیا جس پہلو اور حیثیت سے دیکھو جو کچھ وہ مانتے ہیں اس پہلو سے قرآن شریف کا ابطال اور آنحضرت ﷺ کی توہین لازم آتی ہے ۔ پھر تعجب ہے کہ لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتقادات رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو یہود کے لیے فتویٰ دیتا ہے کہ اُن میں نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور وہ ذلیل ہوگئے پھر اُن میں ذندہ نبی کیسے آسکتا ہے؟ ایک مسلمان کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ جب اس کے سامنے قرآن شریف پیش کیا جاوے تو وہ انکار کے لیے لب کشائی نہ کرے مگر یہ قرآن شریف سُنتے ہیں اور پڑھتے ہیں وہ اُن کے حلق سے نیچے نہیں جاتا ورنہ کیا یہ کافی نہ تھا کہ قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے
    یَا عِیْسٰٓی اِنّیْ مُتَوَ فِّیْکَ وَرَا فِعُکَ اِلَیَّ
    اور اس سے بڑھ کر خود حضرت مسیح کااپنا اقرار موجود ہے
    فَلَمَّاتَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ (سورۃ المائدہ:۱۱۸)
    اور یہ قیامت کا واقعہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوگا کہ کیا تُونے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنائو ؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیںکہ جب تک مَیں اُن میں زندہ تھا مَیں نے تو نہیں کہا اور مَیںوہ وہی تعلیم دیتا رہا جو تو نے مجھے دی تھی لیکن جب تو نے مجھے وفات دیدی اس وقت تو ہی اُن کا نگہبان تھااب یہ کیسی صاف بات ہے۔اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا کہ حضرت مسیح ؑ کو دُنیا میں قیامت سے پہلے آنا تھاتو پھر یہ جواب اُنکا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟اُن کو تو کہنا چاہیئے تھا کہ مَیں دُنیا میں جب دوبارہ گیا تو اس وقت صلیب پرستی کا زور تھا اور میری الوہیت اور انبیت پر بھی شور مچا ہوا تھا مگر میں نے جاکر صلیبوں کو توڑا اورخنزیروں کو قتل کیا اور تیری توحید کو پھیلایا ۔نہ یہ جواب دیتے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی اس وقت تو خود نگران تھا ۔ کیا قیامت کے دن حضرت مسیح ؑ جُھوٹ بولیں گے؟
    ان عقائد کی شناخت کہاں تک بیان کی جاوے جس پہلو اور جس مقام سے دیکھو قرآن شریف کی مخالفت نظر آئے گی ۔
    پھر یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دیکھا جاوے حضرت مسیح ؑ آسمان پر جاکر کہاں بیٹھے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وہاں جوکر حضرت یحیٰ علیہ السلام کے پاس بیٹھے ہیں اور یحیٰ علیہ السلام بالاتفاق وفات یافتہ ہیں ۔ پھر مُردوں میں زندہ کا کیا کام ہے؟
    غرض کہا ںتک بیان کروں ایک غلطی ہو تو آدمی بیان کرے یہاں تو غلطیاں ہی غلطیاںبھری پڑی ہیں ۔باوجود ان غلطیوں کے تعصّب اور ضِدّ بڑھی ہوئی ہے اور اس ضد کے سبب سچ کے قبول کرنے میں عذر کر رہے ہیں ۔ہاں جس کے لیے خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہے اور اس کے حصّہ میں سعادت ہے وہ سمجھ رہاہے اور اس طرف آجاتا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے نیکی چاہتا ہے اس کے دل میں واعظ پیدا کر دیتا ہے جب تک دل میں واعظ نہ ہو کچھ نہیں ہوتا ۔اگر خدا کے قول کے خلاف کوئی قول ہوتو خداکو اس خلافِ قول کے ماننے میں کیا جواب دے گا ۔
    احادیث کی تصحیح و تغلیط بذریعہ کشف
    احادیث کے متعلق خود یہ تسلیم کر چکے ہیں ۔خصوصاً مولوی محمدحسین اپنے رسالہ میں شائع کر چکا ہے کہ اہلِ کشف احادیث کی صحت بذریعہ کشف کرلیتے ہیں اور اگر کوئی حدیث محدثین کے اُصولوں کے موافق صحیح بھی ہوتو اہلِ کشف اُسے موضوع قرار دے سکتے ہیں اور موضوع کو صحیح ٹھہرا سکتے ہیں ا؎
    جس حال میں اہلِ کشف احادیث کی صحت کے اس معیار کے پابند نہیں جو محدثین نے مقرر کیا ہے بلکہ وہ بذریعہ کشف اُن کی صحیح قراردادہ احادیث کو موضوع ٹھہرانے کا حق رکھتے ہیں تو پھر جس کو حَکم بنایا گیا ہے اس کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا ؟ خدا تعالیٰ جو اُس کا نام حَکم رکھتا ہے یہ نام ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سارا طب ویابس جو اُس کے سامنے پیش کیا جاوے گا تسلیم نہیں کریگا بلکہ بہت سی باتوں کو ردّ کر د ے گا اور جو صحیح ہونگی اُن کے صحیح ہونے کا وہ فیصلہ دے گا ورنہ حَکم کے معنے ہی کیا ہوئے ؟ جب اس کی کوئی بات ماننی ہی نہیں تو اُس کے حَکم ہونے سے فائدہ کیا؟
    مسیح موعود بطور حَکم و عدل
    حَکَمْ کا لفظ صاف ظاہر کر تاہے کہ اس وقت اختلاف ہوگا اور ۷۳ فرقے موجود ہوں گے اورہر فرقہ اپنے مسلّمات کو جو اُس نے بنا رکھے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ جُھوٹے ہیں یا خیالی ،چھوڑنا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک اپنی جگہ یہ چاہے گا کہ اس کی بات ہی مانی جاوے اور جو کچھ وہ پیش کرتا ہے وہ سب کچھ تسلیم کرلیا جاوے ایسی صورت میں اس حَکم کو کیا کرنا ہوگا ۔ کیا وہ سب کی بات مان لے گا یا یہ کہ بعض ردّکریگا اور بعض کو تسلیم کرے گا
    غیر مقلّد تو راضی نہیں ہوگا جب تک اس کی پیش کردہ احادیث کا سارا مجموعہ وہ مان نہ لے اور ایسا ہی حنفی ،معتزلہ، شیعہ وغیرہ کُل فرقے تو تب ہی اُس سے راہوں گے کہ وہ ایک کی بات تسلیم کرے اور کوئی بھی ردّ نہ کرے اور یہ ناممکن ہے ۔ اگر یہ ہو کہ کوٹھڑی میں بیٹھا رہے گا اور اگر شیعہ اس کے پاس جائے گا تو اندر ہی اندر مخفی طور پر اُسے کہہ دیگا کہ تُو سچا ہے اور پھر سُنی اُس کے پاس جائے گا تو اُس کو کہہ دیگا کہ تُو سچا ہے ۔ تو پھر تو بجائے حَکم ہونے کہ وہ پکا منافق ہوا اور بجائے وحدت کی رُوح پھونکنے کے اور سچا اخلاص پیدا کرنے کے وہ نفاق پھیلانے والا ٹھہرا ۔مگر یہ بالکل غلط ہے ۔ آنے والا موعود حَکَمْ واقعی حَکَمْ ہو گا ۔ اُسکا فیصلہ قطعی اور یقینی ہے
    ایک نقل مشہور ہے کہ کسی عورت کی دو لڑکیاں تھیں ایک بیٹ میں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری بانگر میں اور وہ ہمیشہ سوچتی رہتی کہ دو میں سے ایک ہے نہیں اگر بارش زیادہ ہوگئی تو بیٹ والی نہیں ہے اور اگر نہ ہوئی تو بانگر والی نہیں ہے ۔یہی حال حَکَمْ کے آنے پر ہانا چاہیئے۔
    وہ خود ساختہ اور موضوع باتوں کو ردّ کردیگا اور سچ کو لے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانام حَکَمْ رکھا گیا ہے ۔اسی لیے آثار میں آیا ہے کہ اُس پر کُفر کا فتویٰ دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو ردّ کریگا وہی اُس پر کُفر کا فتویٰ دیگا ۔یہاں تک کہاہے کہ مسیح موعود ؑ کے نزول کے وقت ہر ایک شخص اُٹھ کر کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا
    اِنَّ ھٰذَاالرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا۔
    اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے ۔اس سے بڑھ کر اَور کیا ثبوت اس امر کا ہوگا کہ وہ بہت سی باتوں کو ردّ کردیگا جیسا کہ اُس کا منصب اُس کو اجازت دیگا ۔
    غرض اس بات کو سرسری نظر سے ہر گز نہیں دیکھنا چاہیئے بلکہ غور کرنا چاہیئے کہ حَکَمْ عدل کا آنا اور اس کا نام دلالت کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت آئے گا اور اس اختلاف کو مٹائے گا ۔ ایک کو ردّ کریگا اور اندرونی غلطیوںکی اصلاح کریگا ۔
    وہ اپنے نُورِ فراست اور خد اتعالیٰ کے اعلام والہام سے بعض ڈھیروں کے ڈھیر جلادیگا اور پکی اور محکم باتیں رکھ لے گا ۔جب یہ مسلّم امر ہے تو پھر مجھ سے یہ اُمید کیوں کی جاتی ہے کہ مَیں اُن کی ہربات مان لو قطع نظر اس کے کہ وہ بات غلط اور بیہودہ ہے ۔اگر مَیں اُن کا سارا طب ویابس مان لُوں تو پھر مَیں حَکَمْ کیسے ٹھہر سکتا ہوں ؟
    کشفِ حقیقت کیلئے اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہیں
    یہ ممکن ہی نہیں ۔افسوس یہ لوگ دل رکھتے ہیں مگردیکھتے نہیں ،کان رکتے ہیں پر سُنتے نہیں ۔ اُن کے لئے بہترین راہ اب یہی ہے کہ وہ رو رو کر دُعائیں کریںاور میرے متعلق کشفِ حقیقت کیلئے اللہ تعالیٰ ہی سے توفیق چاہیںاور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص محض احقاقِ حق کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے گا تو وہ میرے معاملہ کی سچائی پر خدا تعالیٰ سے اطلاع پائے گا اور اُس کا زنگ دور ہو جائے گا ۔بُجزاللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جو دلوں کو کھولے اور کشفِ حقائق کی قوت عطا کرے۔اسلام اس وقت مصیبت کی حالت میں ہے اور وہ ایک فناشدہ قوم کی حالت اختیار کر چکا ہے ۔ایسی حالت اور صورت میں ان لو گوں پر مجھے رونا آتاہے جو کہتے ہیں کہ الم کی اس تباہ شدہ حالت کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی ضروت نہیں ۔یہ لگ بیمار ہیں اور چایتے ہیں کہ ہلاک ہو جائیں ایسے بیماروں سے بڑھ کرکون واجب الرحم ہو سکتا ہے جو اپنی بیماری کوشفا سمجھے ۔یہی وہ مرض ہے جس کو لاعلاج کہنا چاہیے ۔اور ان کوگو ں پر اور بھی افسوس ہے جو خو د حدیثیں پڑھتے اور پڑ ھاتے ہیں کہ ہرصدی کے سر پر مجدد آیا کر تا ہے لیکن اس چودیں صدی کے مجدّد کا انکار کردیا ۔اور نہیں بتاتے کہ اس صدی پر جس میں سے بیس سال گزرگئے کوئی مجدّد آیا ہے کہ نہیں ؟خود پتہ نہیں دیتے اور آنے والے کا نام دجاّل رکھتے ہیں ۔ کیا اسلام کی اس خستہ حالی کامداوا اللہ تعالیٰ نے یہی کیا کہ بجائے ایک مصلح اور مردِ خدا کے بھیجنے کے ایک اور دجاّل کو بھیج دیا ؟یہ لوگ ایسے اعتقادرکھ کر خدا تعالیٰ کی اس پا ک کتاب قرآن مجید کی اور آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اِن پر رحم کرے۔
    اس وقت تقویٰ بالکل اُٹھ گیاہے ۔اگر مُلاّ نوں کے پاس جائیں تو وہ اپنے ذاتی اور نفسانی اغراض کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔مسجدوں کو دوکانوں کا قائمقام سمجھتے ہیں ۔اگر چار روز روٹیا ں بند ہوجائیں تو کچھ تعجب نہیں کہ نماز پڑھنا پڑھانا ہی چھوڑدیں ۔اس دین کے دو ہی بڑے حصّے تھے ایک تقویٰ دوسرے تائیدات سماویہ۔ مگر اب دیکھا جا تا ہے کہ یہ باتیں نہیں رہیں ۔عام طورپرتقویٰ نہیں رہااور تائیدات سماویہ کا یہ حال ہے کہ خود تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ مدّت ہو ئی ان میں نہ کوئی نشانات ہیں نہ معجزات اور نہ تائیدات سماویہ کا کو ئی سلسلہ ہے ۔جلسئہ مذاہب میں مولوی محمد حسین نے صاف طورپر اقرار کیا تھا کہ اب معجزات اور نشانات دیکھانے والا کوئی نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ تقویٰ نہیں رہا کیونکہ نشانات تومتقی کو ملتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ دین کی تائید اور نصرت کرتا ہے مگر وہ نصرت تقویٰ کے بعد آتی ہے ۔آنحضرتﷺ کے نشانات اور معجزات اس لئے عظیم الشان قوت اور زندگی کے نشانات ہیں کہ آپ سیّدالمتقین تھے ۔آپ کی عظمت اورجلال کا خیال کرکے بھی انسان حیران رہ جا تا ہے ۔اب پھر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایاہے کہ آپکاجلال دوبارہ ظاہرہو اورآپ کے اسمِ اعظم کی تجلّی دُنیا میں پھیلے اور اسی لئے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے ۔یہ سلسلہ خداتعالیٰ نے اپنے ہا تھ سے قائم کیا ہے اور اس کی غرض اللہ تعالیٰ کی توحیداور آنحضرت ﷺ کا جلال ظاہر کرنا ہے اس سے کوئی مخالف اس کو گزند نہیں پہنچا سکتا۔
    حیا ت مسیح کا عقیدہ
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ماننے سے شرک پیدا ہو تا ہے اور خداتعالیٰ اُس کو پسند نہیں کر تا اور آنحضرت ﷺ کی عظمت تو حید ہی سے ظاہر ہو تی ہے اس لئے خد تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ مسیحؑ کی موت کے پر دہ کو اُ ٹھا دے اور عالم کودکھا دے کہ در حقیقت حضرت مسیحؑ ایک عام انسانوں کی طرح تھے اُن میں کوئی خصوصیت اورالُوہیت نہ تھی و ہ و فات پا گئے۔
    اور جیسے جسمانی طور پرَمر گئے روُحانی طو ر پر بھی عیسائی مذہب مَرگیا اور اُسمیں کو ئی قبولیت اور شرف کا نشان باقی نہیں ۔ایک بھی عیسائی نہیں جو کھڑا ہو کر دعویٰ سے کہ سکے کہ میں ان زندہ آثار اورنشانات سے جو زندہ مذہب کے ہیں اسلام کا مقابلہ کر سکتا ہوں۔
    چالیس کروڑ انسان جو مختلف اغراضِ انسانی کی بنا پر یا اور وجو ہات سے اس کو خدا بنا رہے ہیں۔وہ وقت آتا ہے کہ اس کی خدائی سے توبہ کریں گے اوراس کو عام انسانو ں میں جگہ دیں گے۔
    مسلمانو ں پر افسوس ہے جنہوں نے عیسائیوں کی ہا ں میں ہاں ملائی ہے اور اس کوخدا بنانے میں مدد دی ۔ عیسائی کھُلے طور پرخدا مانتے ہیں اور یہ لوگ خدائی کی صفات دیتے ہیں ان کی ویسی ہی مثال ہے جیسے کو ئی شخص کہے کہ فلاںآدمی مَرگیا ہے لیکن دوسرآدمی کہے کہ ا بھی مَرا تو نہیں مگر بدن سرد ہے اور نبض بھی نہیں چلتی اور حرکت بھی نہیں تو کیا وہ مردہ نہ ہو گا ؟یہی حال حضرت عیسیٰ کی خدائی کے متعلق ہے ۔خدائی کی صفات اُن میں تسلیم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم خدا نہیں مانتے ۔اب غیرت مند مسلمان سوچ کر جواب دیں کہ جب حضر ت عیسیٰ ؑ کوخالق مانا جا تاہے ۔محُیی ما ناجاتاہے۔غیب دان مانا جاتا ہے ۔حیّ مانا جاتا ہے تو اور کیا باقی رہا ؟غرض مسلمانو ں کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے اور وہ سو چتے نہیں ۔اس وقت اگر اورنشاناتاور تائیدات ہمارے دعویٰ کی مصداق اور مؤیّدنہ ہو تیں تب بھی وقت ایسا تھا کہ وہ زبر دست ضرور ت بتا تا ہے۔ خدا تعالیٰ ہی ان کی آنکھیں کھوکے تو بات بنے گی۔
    ۱۸ جنوری ۱۹۰۳؁ء
    تقدیرِمعلّق وتقدیرمُبرم
    تقدیر دو قسم کی ہو تی ہے۔ایک کانام معلّق ہے اور دوسری کو مُبرم کہتے ہیں اگر کوئی تقدیرمعلّق ہو تو دُعا اور صد قات اس کو ٹلا دیتی ہیںاور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیرکو بدل دیتا ہے اور مُبرم ہو نیکی صورت میں وہ صدقات اور دُعااس تقدیرکے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتی ۔ہا ں وہ عبثاور فضول بھی نہیں رہتی۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے ۔وہ اس دعا اور صدقات کااثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرایہ میں اس کو پہنچادیتا ہے۔بعضصورتوں میں ایسابھی ہو تا ہے کہ خداتعالیٰ تقدیر میں ایکوقت تک توقف اور تاخیر ڈالدیتا ہے۔
    ِ قضا ء معلّق ا ورمُبرم کا ماخذ اور پتہ قرآنِ کریم ہی سے ملتاہے ۔گو یہ الفاظ نہیں ۔مثلاً قرآن میں فرما یا ہے
    اُدْعُوْ نِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن:۶۱)
    دُعا مانگو میں قبول کروں گا ۔اب یہاں سے معلوم ہو تاہے کہ دُعا قبول ہو سکتی ہے اور دُعا سے عذاب ٹل جاتا ہیاور ہزار ہا کیا کُل کام دُعا سے نکلتے ہیں۔ یہ بات یا د رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کُل چیزوںپر قادرانہ تصرف ہے وہ جوچاہتا ہے کر تاہے ا سکے پو شیدہ تصرفات کی لوگوں کو خواہ خبرہو نہ ہو مگر صد ہاتجربہ کا روں کے وسیع تجربے اور ہزار ہا دردمندوں کی دُعاؤں کے صریح نتیجے بتلارہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اورمخفی تصرف ہے۔وہ جوچاہتاہے محوکر تا ہے اور جو چاہتاہے اثبات کرتا ہے ۔ہمارے لئے یہ ضروری امرنہیں کہ اس کی تہہ تک پہنچے اوراسکی کُہنہ اور کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کریںجبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شے ہونے والی ہے ۔اس لیے ہم کو اس جھگڑے اور بحث میں پڑنے کی کچھ حجت نہیں۔خداتعالیٰ نیانسان کی قضاء وقدر کو مشروط بھیرکھا ہیجوتوبہ خشوع وخضوع سے ٹل سکتی ہیں ۔جب کسی قسم کی تکلیف اورمصیبت انسان کو پہنچتی ہے تووہ فطرتاً اور طبعاًاعمالِحسنہ کی طرف رجوع کرتا ہے ۔اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسو س کر تاہے جو اُسے بیدار کرتا اور نیکیوںکی طرف کھنچے لیے جاتاہے اور گناہ سے ہٹا تاہے ۔جس طرح پر ہم ادویات کے اثرکو تجربہ کے ذریعہ سے پا لیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطربالحال انسان جب خدا ئے تعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلّل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اورربی ربی کہہ ک اس کو پکارتا ہے اوردعائیں مانگتا ہے تو وہ رویائے صا لحہ یاالہامِ صحیح کے ذریعہ سے ایک بشارت اورتسلّی پالیتا ہے ۔مَیں نے اپنے ساتھ بارہا اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھا ہے کہ جب مَیں نے کرب وقلق سے کوئی دُعا مانگی ۔اللہ تعالیٰ نے مجھے رئویا کے ذریعہ سے اگاہی بخشی ۔ہاں قلق اور اضطرار اپنے بس میں نہیں ہوتا ۔اس کا انشاء بھی فعلِ الٰہی ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق کیساتھ دُعا انتہا کو پہنچے تو وہ قبول ہوجاتی ہے ۔دُعا ،صدقہ اور خیرات سے عذاب کاٹلناایک ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کااتفاق ہے اور کروڑ ہا صلحا ء اتقیا ء اور اولیااللہ کے ذاتی تجربے اس امر پر گواہ ہیں ۔
    نماز کی لذّت و سرور
    نماز کیا ہے ؟ یہ ایک خاص دُعا ہے ۔مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کا بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں ۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدائے تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دُعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو ۔بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ ا س طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے ۔
    مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادت اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہورہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیئے وہ مزا نہیں آتا ۔دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو ۔ جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیزکا مزہ نہیں اُٹھا سکتا اور وہ اسے بالکل تلخ یا پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح سے وہ لوگ جو عبادتِ الٰہی میں حظّ اور لذّ ت نہیں پاتے انکو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہیئے ۔کیونکہ جیسا مَیں نے ابھی کہا ہے دُنیا میںکوئی چیز ایسی نہیںہے جس میں خدائے تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذّت نہ رکھی ہو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کیلئے پیدا کیا تو پھر کیاوجہ ہے کہ اس کی عبادت میں اس کے لیے ایک لذّاور سُرور نہ ہو ؟ لذّت اورسُرور نہ ہو ؟ لذّت اور سُرور تو ہے مگر اس سے حظّ اُٹھانے والا بھی تو ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انسان جب عبادت ہی کے لیے پیدا ہوا ہے ، ضروری ہے کہ عبادت میں لذّت اور سُرور بھی درجہ غایت کا رکھتا ہو ۔اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربہ سے خوب سمجھ سکتے ہیں مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نو شیدنی اشیاء انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں تو کیا اُن سے وہ ایک لذّت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اُس ذائقہ اور مزے کے احساس کے لیے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں ؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء کودیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات ، حیوانات ہوں یا انسان حظ نہی پاتا ؟ کیا دلِ خوش کُن اورسُریلی آوازوں سے اس کے کان محفوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اَوربھی اس امر کے اثبات کے لیے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذّ ت نہ ہو ۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو رغبت دی ہے ۔اب اس میں زبر دستی نہیں کی بلکہ ایک لذّ ت بھی رکھ دی ہے ۔اگر محض توالد وتناسل ہی مقصود ہوتا تو مطلب پُورا نہ ہوسکتا ۔عورت اور مرد کی بر ہنگی کی حالت میں اُن کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق پیدا کریں ۔مگر اس میںاُن کے لیے ایک حظ ہے اور ایک لذّت ہے ۔ یہ حظّ اور لذّت اس درجہ تک پہنچی ہے کہ بعض کوتاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پراوہ اور خیال نہیں کرتے بلکہ اُن کو صرف حظّ سے ہی کام اور غرض ہے ۔ خدائے تعالیٰ کی علّتِ غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لیے ایک تعلق عورت اور مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظّ رکھدیا جو اکثر نادانوں کے لیے مقصود با لذات ہوگیا ہے ۔
    اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں ۔اس میں بھی ایک لذّت اور سُرورہے اور یہ لذّت اور سُرور دُنیا کی تمام لذّتوں اور تمام حظوظِ نفس سے بالاتر اور بالاتر ہے ۔ جیسے عورت اور مرد کے باہم تعلقات میں ایک لذّت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہوسکتا ہے جو مرد ہے اور اپنے قویٰ صحیحہ رکھتا ہے ۔ ایک نا مرد اور مخنث وہ حظّ نہیں پا سکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذّت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادتِ الٰہی سے لذّ ت نہیں پا سکتا اورجیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذاکی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہا ںایساہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادتِ الٰہی سے لذّ ت نہیں پا سکتا۔
    عورت اورمرد کا جوڑا تو باطل اور عاضی جوڑا ہے۔ میں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذّت مجسم کا جوڑا ہے وہ انسان اور خدا ئے تعالیٰ کا ہے ۔مجھے سخت اضطراب ہو تا ہے اور کبھی کبھی یہ رنج میر ی جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزا نہ آئے ، طبیب کے پاس جا تا اورکیسی کیسی منتیںاور خوشامدیںکرتا اور روپیہ خرچ کرتا اور دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وہ مزاحا صل ہو۔وہ نا مر د جو اپنی بیوی سے لذّت حاصل نہیں کر سکتا بعض اوقات گھبرا گھبراکر خود خوشی کے ارادے تک پہنچ جا تا ہے اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جا تی ہیں ۔مگر آہ! وہ مریضِ دل وہ نا مردکیوں کو شش نہیںکر تاجس کو عبادت میں لذت نہیں آتی اسکی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی؟دُنیا اور اس کی خو شیوں کے لئے تو کیا کچھ کر تا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پا تا۔کس قدر بے نصیب ہے۔ کیسا ہی محروم ہے! عاضی اور فانی لذتو ں کے علا ج تلاش کر تا ہے اور پا لیتا ہے ۔کیا ہو سکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذّت کے علاج نہ ہوں ؟ہیں اور ضرورہیں۔مگر تلاشِ حق میں مستقل اور پویاقدم در کا ہیں قرآنِ کریم میں ایک مو قع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوںسے دی ہے ۔اس میں بھی سِرّاور بھید ہے۔ ایمان لانے والے کو آسیہ اور مریم سے مثال دی ہے ۔یعنی خدا ئے تعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو دا کر تا ہے۔ بہر حال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طر ح عورتوں کا باہم تعلّق ہو تا ہے اسی طرح پر عبو دیّت اور ربوبیّت کا رشتہ ہے۔اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فر یفتہ ہو تووہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہو تا ہے ور نہ نظامِ خانگی بگڑ جا تا ہے اور مقصود با لذّت حاصل نہیں ہو تا ہے۔ مرد اور جگہ خراب ہوکر صدہا قسم کی بیماریاں لے کر آتے ہیں ۔آتشک سے مجذوب ہوکر دُنیا میں ہی محروم ہوجاتے ہیں ۔اور اگر اولاد ہوبھی جائے تو کئی پشت تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے اور اُدھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی ہے اور عزّت وآبرو کو ڈبوکر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتی ۔غرض اس جوڑے سے الگ ہوکر کسِ قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں ۔اسی طرح پر انسان رُحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوب اور مخدول ہوجاتا ہے دُنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج ومصائب کا نشانہ بنتا ہے جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقاء کے لیے حظّ ہے اسی طرح پر عبودیّت اور ربوبّیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا کے لیے حظّ موجود ہے ۔صوفی کہتے ہیں کہ یہ حظ جس کو نصیب ہو جائے وہ دُنیا اور مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑ ھ کر تر جیح رکھتا ہے ۔اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اُس کو معلوم ہوجائے تو وہ اس میں ہی فنا ہوجائے ۔لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دُنا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور ان کی نمازیں نری ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشت وبرخاست کے طور پر ہوتی ہے ۔
    مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے کہ جب مَیں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وُہ دُنیا میں معتبر اور قابلِ عزّت سمجھے جائیں اور پھر اس نماز سے یہ بات اُن کو حاصل بھی ہوجاتی ہے یعنی وہ نمازی پرہیز گا ر کہلاتے ہیں پھر کیوں ان کو یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بے دلی کی نماز سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے اُن کو عزّت نہ ملے گی اور کیسی عزّ ت ملے گی
    غرض مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اسی لیے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذّت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ کسل کی یہی ہے ۔ پھر شہروں اور گائوں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے ۔ سو پچاسواں حصّہ بھی تو پوری مستعدی اور سطی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتے ،پھر سوال یہی ہوتا ہے کیوں اُن کو اس لذّ کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی اس مزے کو انہوں نے چکھا ۔اَور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں ۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مئوذن اذان دے دیتا ہے ۔پھر وہ سُننا بھی نہیں چاپہتے ۔گویا اُن کے دل دُکھتے ہیں ۔یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں ۔بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دوکانیں دیکھو تومسجد کے نیچے ہیں مگر کبھی جاکر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے ۔
    پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دُعا مانگنی چاہیئے کہ جس طرح اَور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذّتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے کھا یا ہوا یاد رہتا ہے ۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اُسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت اس کے بالمقابل مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے ۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہوتو کچھ یاد نہیں رہتا ۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشو ں کو چھوڑ کر پڑھنی پڑتی ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا ۔اس لذّت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے ۔پھر نماز میں لذّت کیونکر حاصل ہو۔
    میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا تو وہ پَے در پَے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور زیرک انسان اس سے فائد ہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دَوَام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سُرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذّت ہوتی ہے جس کاحا صل کرنا اس کا مقصود بالذّات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسی سُرورکو حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دُعا پید اہوکر وہ لذّت حاصل ہوتو مَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقینا یقینا وہ لذّت حاصل ہوجائے گی ۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اُس سے ہوتے ہیں اور احسان کے پیشِ نظر رہے۔
    اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰ تِ (ہود:۱۱۵)
    نیکیا ں بدیوں کو زائل کردیتی ہیں ۔پس اس حسنات کو اور لذّات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے ۔یہ جو فرمایا ہے کہ
    اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰ تِ ۔
    یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کودُور کر تی ہیں یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں ۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ رُوح اور راستی کے ساتھ ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔اُن کی رُوح مُردہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاںجو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجود یکہ معنی وہی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حُسن وجمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی رُوح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقینایقینا بُرائیوںکو دُور کردیتی ہے ۔نماز نشت و برخاست کا نام نہیں ۔نماز کا مغز اور رُوح وہ دُعا ہے جو ایک لذّت اور سُرور اپنے اندر رکھتی ہے۔ ارکانِ نماز دراصل روُ حانی نشست وبر خا ست کے اظلا ل ہیں ۔
    انسان کو خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو نا پڑ تا ہے اور قیام بھی آ دابِ خد متگا ر ان میں سے ہے ۔رکو ع جو دوسرا حصّہ ہے بتلاتا ہے کہ گو یا طیا ری ہے کہ وہ تعمیل حکم کے لیے کس قدر گر دن جھکا تا ہے ۔اور سجدہ کمال ادب اور کمال تذللّ اور نیستی کو جو عبادت کا مقصو د ہے ظاہر کر تا ہے ۔یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یا داشت کے مقرر کر دیئے ہیں ۔اور جسم کو باطنی طر یق سے حصّہ دینے کی خا طر اُن کو مقرر کیا ہے ۔علاوہ ازیں باطنی طر یق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھد یا ہے ۔اب اگرظاہری طر یق میں (جو اندونی اورباطنی طر یق کا ایک عکس ہے )صرف نقال کی طرح نقلیں اُتا ری جائیں اور اُسے ایک بار گر اں سمجھ کر کر اُ تا ر پھینکنے کی کو شش کی جا وے تو تم ہی بتلائو اس میں کیا لذّت اور حظ آ سکتا ہے۔اور جب تک لذّت اور سرور نہ آئے اُ س کی حقیقت کیو نکر متحقق ہو گی اور یہ اوقت ہو گا جبکہ روُح بھی ہمہ نیستی اور تذلّل تام ہو کر آستانہ الوہیّت پر گر ے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بو لے۔ اس وقت ایک سرور اور نُور اور تسکین حاصل ہو تی ہے۔
    میں اس کو اور کھو ل کر کہنا چاہتا ہو ں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہو تا ہے ۔یعنی کہاں نُطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نُطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ اور پر نُطفہ کے بعد مختلف مداعج کے بعد بچہ پھر جوان ،بوڑھا۔غرض ان تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھچا رہے تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربو بیت کے مقابل میں اپنی عبودیّت کو ڈال دے ۔غرض مد عا یہ ہے کہ نمازمیں لذّت اور سرور بھی عبودیّت اور ربو بیت کے ایک تعلق سے پیدا ہو تا ہے جب تک اپنے آپ کو عدمِ محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جو ربو بیت کا ذاتی تقاضا ہ نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تَو اس پر نہیں پڑتا ۔اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ در جہ کی لذت حا صل ہو تی ہے جس سے بڑ ھ کر کوئی حظّ نہیں ہے اس مقام پر انسان کی رُوح جب ہمہ نیستی ہو جا تی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اورما سوی اللہ سے اُسے انقطاع ہو جا تا ہے اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے ۔اس اتصال کے وقت ان دوجو شوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیّت کا جوش ہو تا ہے ۔ایک خاص کیفیت پیداہو تی ہے اس کا نام صلوٰۃ ہے جوسیّئا ت کو بھسم کر جا تی اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستے کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے ۔اور ہر قسم کے خس وخاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خارخس سے جو اس کی راہ میں ہو تے ہیںآگا ہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جبکہ اُس کا اطلاق اس پر ہو تا ہے کیو نکہ اُس کے ہا تھ میں نہیں نہیں اُس کے شمعدانِ دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہو ا ہے تا ہے اور یہ درجہ کا مل تذلّل اور کا مل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حا صل ہو تا ہے پھر گنا ہ کا خیال اُسے کیو نکر آسکتا ہے اور انکا ر اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا فحشاء طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی غرض اسے ایسی لذت اور سرور حاصل ہو تا ہے کہ میں سمجھ نہیں سکتا کہ سے کیو نکربیان کروں ۔
    پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دُعا سے حاصل ہو تی ہے غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے ۔کیو نکر یہ مر تبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے ۔سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مومن اور سچا مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہو ں یا بیرونی سب کی سب للہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہو ئی ہوں۔جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے۔پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حر کت و سکون تک کو اسی انجن کی طاقت عظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیو نکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہو سکتا ہے؟ اور اپنے آپ کو
    اِنّیِْ وَجَّھْتُ وَجھِیَ لِلَّذِیْ فطر السموات ولارض(الانعام:۸۰)
    کہتے وقت حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے مُنہ سے کہتا ہے دل سے بھی اُدھر کی طرف متوجہ ہو تو لا ریب وہ مسلم ہے ۔وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یا د رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کیو نکر اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے ۔ترکِ نماز کی عادت اور روُح اور دل کی طاقتیں بھی (اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ابتداًء ایک طرف کر دی جائیں اور پر ورش پا لیں)ادھر ہی جھُک جا تی ہیں اور خداتعالیٰ کی طرف ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیداہو کر اُسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے ۔جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں۔اسی طرح پر وہ دل اور رُوح دن بدن خداتعالیٰ سے دُور ہو تے جاتے ہیں ۔پس یہ بڑی خطر نا ک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ اسی لیے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اوّلاً وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الیٰ اللہ کا خیال ہو ۔پھر رفتہ رفتہ وہ وقت آجاتا ہے کہ انقطاعِ کلّی کی حالت میں انسان ایک نُور اور ایک لذّت کا وارث ہو جا تا ہے۔
    میں ا س امرکو پھر تا کید سے کہتا ہو ں ۔افسوس ہے مجھے وہ لفظ نہیں ملتے جس میں مَیں غیر اللہ کی طرف رجوع کر نے کی بُرا ئیاں بیان کر سکوں ۔لوگوں کے پاس جا کر منّت و خوشامد کر تے ہیں ۔یہ بات خدائے تعالیٰ کی غیرت کو ہوش میں لاتی ہے (کیونکر یہ تو لوگوں کی نماز ہے)پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دُور پھینک دیتاہے۔
    میں مو ٹے الفاظ میں اس کو بیان کر تا ہوں گو یہ امر اس طر ح پر نہیں ہے مگر فوراً سمجھ میں آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مردِ غیّورکی غیرت تقا ضا نہیں کر تی کہ وہ آپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیداکر تے ہو ئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مر د ایسی حالت میںاس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بعض اوقات ایسی وارداتیں ہو جا تی ہیں ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کی ہے ۔جب عبو دیت اور دُعا خاص اسی ذات کے مّد مقابل ہیں۔ وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جائے یا پکارا جائے۔
    پس خوب یاد رکھو اور پھریاد رکھو !کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کا نٹا ہے ۔نماز اور تو حید کچھ ہی ہو (کیو نکہ تو حید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے)اسی وقت بے بر کت اور بے سود ہو تی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی رُوح اورحنیف دل نہ ہو!!سنو وہ دُعا جس کے لئے
    اسعونی استجب لکم (المومن :۶۱)
    فر مایا ہے اس کے لئے یہی سچی رُوح مطلوب ہے اگر اس تضّرع اور خشوع میں حقیقت کی رُوح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔
    پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیںہے؟ یہ ایک غلط فہمی ہے ۔ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے۔ اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں ہے ؟یااسباب دعا نہیں ؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے او ردعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ!!!
    انسان کی ظاہری بناوٹ؛اس کے دو ہاتھ دو پاوں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا رہنماء ہے ۔ جب یہ نظارہ خود انسان میں موجد ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ
    تعا ونوا علی البروالتقوی(المائدہ ۳ )؎
    کے معانی سمجھنے میں دیکھے ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ تلاشںاسباب بھی بذریع دعا کرو۔ امدادباہمی میں نہں سمجھتا کہ جب میں تمہارے جسم کے انداراللہ تعالیکا قائم کردہ سلسلہ اور رہنما ء سلسلہ دیکھتا ہوں ۔تم اس سے انکار کرو۔اللہ تعالی نے اس بات کو اعر بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لیے انبیاء علیہم اسلام کا اک سلسلہ دنیا میں قائم کیا ۔اللہ تعالی اس بات پر قادر تھا۔اعر قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر اتا ہے کہ و ہ من انصاری الی اللہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ کیا وہ ایک ٹکٹرگدا فقیر کء طرحبولتے ہیں نہں من انصاری الی اللہ (ال عمران :۵۳) کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ اللہ تعالی پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالے کا وعدہ
    انا لننصر رسلنا والذینامنوا فی الحیوتہ ا لدنیا (المومن:۵۲)
    ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے میں کہتا ہو ں کہ دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیو نکر مدد دے سکتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے
    نعم الولی ونعم الوکیلانعمالنصیر
    دنیا اور دنیا کی مددیںان لوگوں کے سامنے کا لمیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی نہںرکھتی ہیں۔لیکںدنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لیے وہ یہ راہ بھی اختیارکرتے ہیں ۔ وہ حقیقت میں آپنے کاروبار کا متولی خدا تعالی ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے
    وھویتولی الصالیحن (العراف:۱۹۷)
    اللہ تعالی ان کو مامور کر دیتاہے کہ وہ آپنے کاروبار کو دوسروںکے ذریعے سے ظاہر کریں ۔ ہمارے رسو لﷺ مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے ۔اسی لیے کہ وہ وقت نصرت الہی کا تھا ۔اسکو تلاش کرتے تھے کہ وہ کس کے شاملِ حال ہوتی ہے ۔یہ ایک بڑی غور طلب بات ہے ۔ دراصل مامور من اللہ لوگوںسے مدد نہیں مانگتا ۔بلکہ
    من انصاری الی اللہ
    کہہ کر وہ اس نصرت الہیہ کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرطِ شوق سے بے قراروں کی طرح اس کی تلاش میں ہوتا ہے ۔نادان اور کوتا ہ اندیش لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگو ں سے مدد مانگتا ہے بلکہ اس طرح پر اس نشان میں وہ کسی دل کے لیے جو اس نصرت کا مو جب ہو تا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہوتا ہے پس مامور من اللہ کی طلب امداد کا اصل سر اور راز یہی ہے جو قیامت تک اسی طرح پر رہے گا ۔اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے امداد چاہتے ہیں مگر کیوں ؟آپنے ادائے فرض کے لیئے تاکہ دلو ںمیں خدا تعالی کی عظمت کو قائم کریںورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب بہ کفر پہنچ جاتی ہے اگر غیر اللہ کو متولی قرار دیں اور ان نفوس قدسیہ سے ایسا امکان محال ِمطلق ہے ۔میں نے ابھی کہا ہے کہ توحید تبھی پوری ہوتی ہے کہ کل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مداوا وہی ذات واحد ہو لاالہ الااللہ کے معنے یہیں ہیں ۔ صوفیوں نے الہ کے لفظ سے محبوب ، مقصود ، معبود ،مراد لی ہے بے شک اصل سچ یونہی ہے جب تک انسان کامل طور پر کار بند نہیں ہوتا ۔ اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔ اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجو ع کرکے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیںہو سکتا ۔ مداراسی بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے ،ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں ۔ انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ أے خدا کا سچابندہ نہیں کہلا سکتا ۔ عبودیتِ کاملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میںتمہیں پھر بتلاتا ہوں کہ اگر خدائے تعالیٰ سے سچا تعلق ، حقیقی ارتباطِ قائم کر نا چاہتے ہو تو نمازپر کار بند ہو جائو اور ایسے کار بند نہ ہو کہ نہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں ۔
    عصمتِ انبیاء کا ملنا :
    عصمتِ ابنیا ء کا یہی راز ہے یعنی نبی کیوں معصوم ہو تے ہیں ؟ تو اس کا یہی جواب ہے کہ وہ استغراقِ محبت الہیٰ کے باعث معصوم ہو تے ہیں ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب ان قوموں کو دیکھتاہو ں جو شرک میں مبتلا ہیں جیسے ہندوجو قسم قسم کے اسم کی پرستش کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عورت اور مردکے اعضا ء مخصوصہ تک کی پرستیش بھی جائزکر رکھی ہے حصولِ نجات یا مکتی کے قائل ہیں مثلاًاول الذکر یعنی ہندو گنگااِشنان اور تیرتھ یا ترا ور ایسے ایسے کفاروں سے گناہ سے موکش چاہتے ہیں اور عیسیٰ پرست عیسائی مسیح کے خو ن کو اپنے گناہو ں کا فدیہ قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک نفس گناہ مجود ہے وہ بیرونی صفائی اور خارجی معتقدات سے راحت یا اطمینان کا ذریعہ کیونکر پاسکتے ہیں جب تک اندر کی صفائی اور باطنی تطیر نہیں ہوتی ناممکن ہے کہ انسان سچی پاکیزگی طہارت جو انسان کو نجات سے ملتی ہے پا سکے۔ ہاں اس سے ایک سبق لو جس طرح پر دیکھو بدن کی میل اور بد بو بدوں صفائی کے دور نہیں ہو سکی ۔ اور جسم کو انے والے خطرناک امراض سے بچا نہیں سکتی اسی طر ح ر وحانی کدورت اور میل جو دل پر ناپاکیوں اور قسم قسم کی بے باکیوں سے جم جاتی ہے دور نہیں ہو سکتی جب تک توبہ کا مصفا اور پاک پا نی نہ دھو ڈالے ۔ جسمانی سلسلہ میں ایک فلسفہ جس طرح پر مو جود ہے اسطرح پر روحانی سلسلہ میں ایک فلسفہ رکھا ہوا ہے ۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس پر غور کر تے ہیں ۔
    گناہ کی حقیقت اور اس سے بچنے کے ذرائع:
    میں اس مقام پر یہ بھی جتلانا چاہتا ہوں کہ گناہ کیوں پیدا ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب عام فہم الفاظ یہی ہے جب غیر اللہ کی محبت نسانی دل پر مستولی ہوتی ہے تو وہ اس مصفاّآئینہ پر ایک قسم کا ز نک سا پیدا کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ بالکل تا ریک ہو جاتا ہے اور غیریت آپنا گھر کرکے اسے خداسے دور ڈال دیتی ہے اور یہی شرک کی جڑہے لیکن دل پر اللہ تعالیٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت آپنا قبضہ کرتی ہے وہ غیرت کو جلا کر اسے صرف آپنے لیے منتخب کر لیتی ہے پھر اس میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اصل جگہ پر اجاتی ہے عضو کے ٹوٹنے اورپھر چڑھنے میں جس طرح تکلیف ہوتی ہے لیکن ٹوٹاہواعضو کہیں زیادہ تکلیف دیتا ہے جو اسے صرف مکرر رہے تو ایک وقت آجاتا ہے کہ اس کو بالکل کاٹنا پڑتاہے اسی طرح سے استقامت کے حصول کے لیے اولاًابتدائی مدارج اور مراتب پرا سی قدر تکلیف اور مشکلات بھی آتی ہیںلیکن اسکے حاصل ہونے پر ایک دائمی راحت اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے رسول ﷺ کو جب یہ ارشاد ہو
    فاستقم کما امرت( ھود:۱۱۳)
    تو لکھاہے کہ آپ کے کوئی سفید بال نہ تھا پھر سفید بال آنے لگے تو آپ نے فرمایا مجھے سور ئہ ہودنے بوڑھا کر دیا
    غرض یہ ہے کہ جب تک انسان موت کا احساس نہ کرے وہ نیکیوں کی طرف جھک نہیں سکتا۔ میَں نے بتلایا ہے کہ گناہ غیر اللہ کی محبت دل میںپیدا ہونے سے پیداہوتا ہے اور رفتہ رفتہ دل پر غلبہ کر لیتا ہے ـ۔ پسںگناہ سے بچنے ا ور محفوظ رہنے کے لیے یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ انسان موت کو یاد رکھے اورخداے تعالیٰ کے عجائباتِ قدرت میںغور کرتا رہے کیونکہ اس محّبتِ الہٰی اور ایمان بڑھتا ہے اور جب خداہے تعالی کی محبت دل میں پیدا ہو جا ے تووہ گناہ کو جلا کر بھسم کر جاتی ہے ـ۔
    دوسرا ذریعہ گناہ سے بچنے کا احساس ِموت ہے ۔اگر انسان موت کو آپنے سامنے رکھے تو وہ ان بدکاریوںاور کوتاہ اندیشیوں سے بازآجاے اورخداتعالی پر اسے ایک نیاایمان حاصل ہو آپنے سابقہ گناہوںپر توبہ اور نادم ہونے کا موقعہ ملے ۔ انسان عاجزکی ہستی کیا ہے ؟صرف ایک دم پر انحصار ہے ۔ پھر کیوںوہ آخرت کا فکر نہیں کرتا اور موت سے نہیںڈرتا اور نفسانی اور حیوانی جذبات کا میطیع اور غلام ہو کر عمر ضائع کر دیتا ہے ۔میں نے دیکھاہے کہ ہندووںکو بھی احساسِ موت ہوا ہے ۔بٹالہ میںکشن چندنام ایک بھنڈاری ستر یا بہتربرس کی عمر کا تھا ۔ اس وقت اس نے گھربار سب کچھ چھوڑدیا اور کانشی میںجا کر رہنے لگا اور وہا ںہی مرگیا۔یہ صرف اس لیے کہ وہاںمرنے سے اس کی موکش ہو گی مگر یہ خیال اس کا باط تھا۔لیکن اس سے اتنا تو مفید نیتجہ ہم نکال سکتے ہیںکہ اس نے احساسِ موت کیا ار احساس موت انسان کو دنیاکی لذات میں با لکل مہنمک ہونے سے اور خدا سے دور جا پڑنے سے بچا لیتا ہے ۔یہ بات کہ کانشی میں مرنا مکتی کا باعث ہو گا یہ اسی مخلوق پرستی کا پردہ تھا جو اس کے دل پر پڑاہواتھا مگر مجھے تو سنحت افسوس ہوتا ہے جبکہ میں دیکھتاہوںکہ مسلمان ہندووںکی طرح بھی احساسِ موت نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کودیکھوصرف اس ایک حکم نے کہ
    فاستقم کما امرت
    نے ہی بوڑھا کر دیا ۔ کس قدر احساسِ موت ہے ۔آپ کی یہ حالت کیوںہو ئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں۔ ورنہ رسول اللہﷺ کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اَور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو ہاد ی کا مل اور قیامت تک کے لیے اور اس پر کُل دُنیا کے لیے مقرر فرمایا۔ مگر آپ کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے اور قانونِ کتاب قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طر ح پر رسول ﷺ کی ز ندگی بھی فعلی کتاب ہے جو گویا قران کریم کی شرح اور تفسیر ہے ۔میرے تیس سال کی عمر میں ہی سفید بال نکل آئے تھے اور مرزا صاحب مرحوم میرے والد ابھی زندہ ہی تھے ۔ سفید بال بھی گویا ایک قسم کا نشان ِموت ہوتا ہے جب بڑھآپا آتا ہے جس کی نشانی یہ سفید بال ہیں تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ مرنے کے دن اب قریب ہیں ۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس وقت بھی انسان کو فکر نہیں لگتا ۔مومن تو ایک چڑیا اور جانور وںسے بھی اخلاق سیکھ سکتاہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی کھلی ہوئی کتاب اسکے سامنے ہوتی ہے ۔دنیا میں جس چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ انسان کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی راحتوں کے سمان ہیں ۔میں حضرت جنید رحمتہاللہ علیہ کے تذکرے میں پڑھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے ۔میں نے مراقبہ بلّی سے سیکھا ہے ۔اگر انسان پرغور نگا ہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہو گا کہ جانور کھلے طور پر خلق رکھتے ہیں ۔میر ے مذہب میں سب چرندپرند ایک خلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے علم صغیر کہلاتا ہے کہ کل مخلوق کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کل انسانوں کے کمالا ت بہیئت مجموعی ہمارے رسول ا للہ ﷺ میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رحمۃللعالمین کہلائے ۔
    انک لعلیٰ خلق عظیم (القلم: ۵)
    میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اسی صورت میں عظمت ِاخلاق محمدیؐ کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے یہ ایک مسلم بات ہے کسی چیز کا خا تمہ اس کی علتِ غائی کے اختام پر ہوتا ۔جیسے کتاب کے جب کُل مطالب بیان ہوجاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علّت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختمِ نبوت کے معنے ہیں ۔کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلاآیا ہے اور کامل انسان پرآکر اس کاخا تمہ دوسرا ذریعہ گناہ سے بچنے کا احساس ِموت ہے ۔اگر انسان موت کو آپنے سامنے رکھے تو وہ ان بدکاریوںاور کوتاہ اندیشیوں سے بازآجاے اورخداتعالی پر اسے ایک نیاایمان حاصل ہو آپنے سابقہ گناہوںپر توبہ اور نادم ہونے کا موقعہ ملے ۔ انسان عاجزکی ہستی کیا ہے ؟صرف ایک دم پر انحصار ہے ۔ پھر کیوںوہ آخرت کا فکر نہیں کرتا اور موت سے نہیںڈرتا اور نفسانی اور حیوانی جذبات کا میطیع اور غلام ہو کر عمر ضائع کر دیتا ہے ۔میں نے دیکھاہے کہ ہندووںکو بھی احساسِ موت ہوا ہے ۔بٹالہ میںکشن چندنام ایک بھنڈاری ستر یا بہتربرس کی عمر کا تھا ۔ اس وقت اس نے گھربار سب کچھ چھوڑدیا اور کانشی میںجا کر رہنے لگا اور وہا ہی مرگیا۔یہ صرف اس لیے کہ وہاںمرنے سے اس کی موکش ہو گی مگر یہ خیال اس کا باط تھا۔لیکن اس سے اتنا تو مفید نیتجہ ہم نکال سکتے ہیںکہ اس نے احساسِ موت کیا ار احساس موت انسان کو دنیاکی لذات میں با لکل مہنمک ہونے سے اور خدا سے دور جا پڑنے سے بچا لیتا ہے ۔یہ بات کہ کانشی میں مرنا مکتی کا باعث ہو گا یہ اسی مخلوق پرستی کا پردہ تھا جو اس کے دل پر پڑاہواتھا مگر مجھے تو سنحت افسوس ہوتا ہے جبکہ میں دیکھتاہوںکہ مسلمان ہندووںکی طرح بھی احساسِ موت نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کودیکھوصرف اس ایک حکم نے کہ فاستقم کما امرتنے ہی بوڑھا کر دیا ۔ کس قدر احساسِ موت ہے ۔آپ کی یہ حالت کیوںہو ئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں۔ ورنہ رسول اللہﷺ کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اَور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو ہاد ی کا مل اور قیامت تک کے لیے اور اس پر کُل دُنیا کے لیے مقرر فرمایا۔ مگر آپ کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے اور قانونِ کتاب قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طر ح پر رسول ﷺ کی ز ندگی بھی فعلی کتاب ہے جو گویا قران کریم کی شرح اور تفسیر ہے ۔میرے تیس سال کی عمر میں ہی سفید بال نکل آئے تھے اور مرزا صاحب مرحوم میرے والد ابھی زندہ ہی تھے ۔ سفید بال بھی گویا ایک قسم کا نشان ِموت ہوتا ہے جب بڑھآپا آتا ہے جس کی نشانی یہ سفید بال ہیں تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ مرنے کے دن اب قریب ہیں ۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس وقت بھی انسان کو فکر نہیں لگتا ۔مومن تو ایک چڑیا اور جانور وںسے بھی اخلاق سیکھ سکتاہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی کھلی ہوئی کتاب اسکے سامنے ہوتی ہے ۔دنیا میں جس چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ انسان کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی راحتوں کے سمان ہیں ۔میں حضرت جنید رحمتہاللہ علیہ کے تذکرے میں پڑھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے ۔میں نے مراقبہ بلّی سے سیکھا ہے ۔اگر انسان پرغور نگا ہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہو گا کہ جانور کھلے طور پر خلق رکھتے ہیں ۔میر ے مذہب میں سب چرندپرند ایک خلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے علم صغیر کہلاتا ہے کہ کل مخلوق کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کل انسانوں کے کمالا ت بہیئت مجموعی ہمارے رسول ا للہ ﷺ میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رحمۃللعالمین کہلائے ۔ انک لعلیٰ خلق عظیم (القلم: ۵) میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے ۔ اسی صورت میں عظمت ِاخلاق محمدیؐ کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے یہ ایک مسلم بات ہے کسی چیز کا خا تمہ اس کی علتِ غائی کے اختام پر ہوتا ۔جیسے کتاب کے جب کُل مطالب بیان ہوجاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علّت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی۔اور یہی ختمِ نبوت کے معنے ہیں ۔کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلاآیا ہے۔ اور کامل انسان پرآکر اس کاخا تمہ ہوگیا ۔
    استقامت ہی انسان کا اسمِ اعظم ہے
    میں یہ بھی بتلادینا چاہتا ہو ںکہ استقامت جس پر مَیں نے ذکر چھیڑا تھا۔ وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اھد نا الصراط المستقیم کے معنے بھی فنا ہی کی کے کرتے ہیں۔یعنی رُوح کے جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو جائیں اور آپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مرَجا ئیں۔بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو آپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دُنیا ہی کے جوشوںاور ارادوںکی ناکامیوں میں اس دُنیا سے اُٹھ جا تے ہیں۔ہمارے بھائی صاحب مر حوم مرزاغلام قادر کو مقد ما ت میں بڑی مصروفیت رہتی تھی اور ان میں وہ یہانتک منہمک اور محورہتے تھے کہ آخر ان ناکامیوں نے ان کی صحت پر اثر ڈالا اور وہ انتقال کر گئے اور بھی بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو آپنے ارادوںکو خدا پر مقدم کر تے ہیں ۔آخر مار ہوائے نفس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہو تے اور بجائے فائدہ کے نقصان اُٹھا تے ہیں ۔اسلام پر غور کرو گے تو معلام ہو گا کہ نا کامی صرف جھو ٹے ہونے کی وجہ سے پیش آتی ہے۔جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے التفات کم ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہو تا ہے جو اس کو نا مراد اور نا کام بنا دیتا ہے۔خصوصاً ان لو گوں کو جوبصیرت رکھتے ہیں جب وہ دنیا کے مقا صد کی طرف آپنے تمام جوش اور ارادے کے ساتھ جھُک جا تے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کو نا مراد کر دیتا ہے۔لیکن سعیدوں کو وہ پاک اصول پیش ِنظر رہتا ہے جو احساسِ مو ت کا اصول ہے ۔وہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح ماں بآپ کا انتقال ہو گیا ہے یا جس طرح پر اور کوئی بزرگِ خاندان فوت ہو گیا ہے اسی طرح پر مجھ کو ایک دن مرنا ہے اور بعض اوقات آپنی عمر پر خیال کرکے کہ بڑ ھا پا آگیا ہے اور موت کے دن قریب ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ۔بعض خاندان ایسے ہو تے ہیں کہ ان میں عمریں علی العموم ایک خاص مقدار تک مثلاً۵۰ یا ۶۰ تک پہنچتے ہیں۔بٹالہ میں میاں صاحب کا جو خاندان ہے اُس کی عمریں بھی علی العموم اسی تک پہنچتی ہیں۔ اس طرح پر آپنے خاندان کی عمروں کا اندازہ اور لحاظ بھی انسان کو احساسِ موت کی طرف لے جا تا ہے۔
    غرض یہ بات خوب ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ آخر ایک نہ ایک دن دُنیا اور اس کی لذّتوں کو چھوڑنا ہے تو پھر کیوں نہ انسان اس وقت سے پہلے ہی ان لذّات کے ناجائز طریقِ حصول چھوڑ دے ۔موت نے بڑے بڑے راستبازوں اور مقبولوں کو نہیں چھوڑا اور وہ نوجوانوں یا بڑے سے بڑے دولت مند اور بزرگ کی پرواہ نہیں کرتی ۔پھر تم کو کیوں چھوڑنے لگی ۔پس دنیا اور اس کی راحتوں کو زندگی کے منجملہ اسباب سے سمجھو اور خدا تعالیٰ کی عبادت کا ذریعہ۔ سعدی نے اس مضمون کو یُوں ادا کیا ہے ؎
    خوردن برائے زیستن وذکر کردن است تو معتقد کہ زیستن از بہر خوردن است
    یہ نہ سمجھو کہ خدا ہم سے خواہ مخواہ خوش ہوجائے اور ہم احتظاظ میں رہیں مگر ایسے اندھوں کو اگر خدا کی طرف سے ہی پروانہ آجائے تو وہ ان لذّتوں کو جوجسمانی خواہشوں اور ارادوں کی پیروی میں سمجھتے ہیں نہ چھوڑیں گے اور ان کو اس لذّت پر جو ایک مومن کو خدا میں ملتی ہے ترجیح دیں گے ۔خدا تعالیٰ کا پروانہ موجود ہے جس کانام قرآن شریف ہے جو جنت اور ابدی آرام کا وعدہ دیتا ہے مگر اس کی نعمتوں کے وعدہ پر چنداں لحاظ نہیں کیا جاتا ۔اور عارضی اور خیالی خوشیوں اور راحتوں کی جستجو میں کسقدر تکلیفیں غافل انسان اُٹھاتا اور سختیاں برداشت کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ذرا سی مشکل کو دیکھ کر بھی گھبرا اُٹھتا اور بد ظنی شروع کر دیتا ہے۔کاش وہ ان فانی لذّتوں کے مقابلہ میں ان اَبدی اور مستقل خو شیوں کا اندازہ کر سکتا ہے ۔ان مشکلات اور تکا لیف پر فتح پانے کے لیے ایک کامل اور خطا نہ کرنے والا نسخہ موجود ہے جو کڑوڑ ہا راستبازوں کا تجربہ کردہ ہے ۔وہ کیا ہے؟ وہ وہی نسخہ ہے جس کو نماز کہتے ہیں ۔
    نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دُعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعامِ الٰہیہ کا مورد بنا دیتی ہے ،کہا گیا ہے کہ اللہ اسمِ اعظم ہے اللہ تعالیٰ نے تمام صفا ت کو اس کے تابع رکھا ہے ۔اب ذرا غور کرو ۔نماز کی ابتداء اذان سے شروع ہوتی ہے ۔اذان اللہ اکبرسے شروع ہوتی ہے ۔یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لا الہ الا اللہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ یہ فخر اسلامی عبادت کو ہی ہے کہ اس میں اوّل و آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اَور ۔مَیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم ور ملّت میں نہیں ہے ۔پس نماز جو دُعا ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسمِ اعظم ہے مقدم رکھا ہے ۔ایسا ہی انسان کا اسمِ اعظم استقامت ہے ۔
    اسمِ اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کملات حاصل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے
    اھدنا الصراط المستقیم
    میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا
    الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو اتتنزل علیھم الملئکۃ الا تخا فوا ولا تح زنو ا (حٰم السجدہ :۳۱ )
    یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسمِ اعظم کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا ۔پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و حزن ان کو نہیں رہتا میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے ۔ استقامت سے کیا مراد ہے ؟ہرایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے ۔مثلاً دُور بین کے اجزاء کو اگرجُدا جُدا کر کے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی ۔غرض وضع الشئی فی محلہ کا نام استقامت ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے ۔ پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اُسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کملات پیدا نہیں کر سکتی ۔دُعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسمِ اعظم جمع ہوں ۔اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا وہوس ہی کا بُت کیوں نہ ہو جب یہ حالت ہوجائے تو اس وقت
    ادعونی استجب لکم (المومن :۶۱)
    کا مزا آجاتا ہے ۔پس مَیںچاہتا ہوں کہ آپ استقامت کے حصول کے لیے مجاہدہ کریں اور ریاضت سے اُسے پائیں کیونکہ وہ انسان کو ایسی حالت پر پہنچا دیتی ہے جہاں اُس کی قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے ۔اس وقت بہت سے لوگ دُنیا میں موجود ہیں جو عدم قبولیتِ دُعا کے شاکی ہیں ۔لیکن مَیں کہتاہوں کہ افسوس تو یہ ہے کہ جب تک وہ استقامت پیدا نہ کریں دُعا کی قبولیت کی لذّت کو کیونکر پا سکیں گے۔قبولیتِ دُعا کے نشان ہم اسی دُنیا میں پاتے ہیں ۔استقامت کے نعد انسانی دل پر ایک برودت اور سکینت کے آثار پائے جاتے ہیں ۔ کسی قسم کی بظاہر ناکامی اور نامُرادی پر بھی دل نہیں جلتا ۔لیکن دُعا کی حقیقت سے ناواقف رہنے کی صورت میں ذراذرا سی نامرادی بھی آتشِ جہنّم کی ایک لپٹ ہوکر دل پر مستولی ہوجاتی ہے اور گھبرا گھبرا کر بے قرار کئے دیتی ہے ۔اسی کی طرف ہی اشارہ ہے ۔
    نار اللّٰہ المو قد ۃ التی تطلع علی الافئدۃ (الھمزہ ـ:۷،۸)
    بلکہ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ تپ بھی نارِ جہنّم کا ایک نمونہ ہے۔
    اُمّت میں سلسلہء مجددین
    اب یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پاجانا تھا ۔اس لیے ظاہری طور پر ایک نمونہ اور خدا نمائی کا آلہ دُنیا سے اُٹھنا تھا ۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک آسان راہ رکھ دی کہ
    کل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعو نی (آل عمران :۳۲)
    کیونکہ محبوب اللہ مستقیم ہی ہوتا ہے ۔زیغ رکھنے والا کبھی محبوب نہیں بن سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ازدیاد اور تجدید کے لیے ہر نماز میں دُرود شریف کا پڑھنا ضروری ہوگیا تاکہ اس دُعا کی قبولیت کے لیے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے ۔یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نام کا وجود ظلّی طور پر قیامت تک رہتا ہے ۔صوفی کہتے ہیں کہ مجدّ د ین کے اسماء آنحضرت ﷺ کے نام پر ہی ہوتے ہیں ۔یعنی ظلّی طور پر وہی نام انکو کسی ایک رنگ میں دیا جاتا ہے ۔
    شیعہ لوگوں کا یہ خیال کہ ولایت کا سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ختم ہوگیا محض غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں ،مجموعی طور پر وہ ہادئی کامل پر ختم ہوچکے ۔اب ظلّی طور پر ہمیشہ کے لیے مجددین کے ذریعہ سے دُنیا پر اپنا پرتو ہ ڈالتے رہیں گے ۔اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا ۔
    مَیں پھر کہتا ہوں کہ اس وقت بھی خدائے تعالیٰ نے دُنیا کو محروم نہیں چھوڑا ۔اور ایک سلسلہ قائم کیا ہے۔ ہاں اپنے ہاتھ سے اس نے ایک بندہ کو کھڑا کیا اور وہی ہے جو تم میں بیٹھا ہوا بول رہا ہے ۔اب خدا تعالیٰ کے نزولِ رحمت کا وقت ہے ۔دُعا ئیں مانگو ۔استقامت چاہو اور درود شریف جو حصولِ استقامت کا یک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو ۔مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ ﷺ کے حُسن اور احسان کو مدِّ نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لیے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیتِ دُعا کا شیریں اور لذّیذ پھل تُم کو ملے گا ۔
    قبو لیت دُعا کے ذرائع
    قبو لیت دُعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔اوّل
    ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی
    دوم
    یاایھاالذین امنوا صلوعلیہ وسلمو تسلیما
    تیسرا موہبتِ الہٰی ۔اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ وہ نفوسِ انبیاء کی طرح دُنیا میں بہت سے نفاسِ قدسیہ ایسے پیدا کر تا ہے جو فطرتاً استقامت رکھتے ہیں۔
    یہ بات بھی یاد رکھو کہ فطرتاً انسان تین قسم کے ہو تے ہیں ایک فطرتاًظالم لنفسہٖ دوسرے مقتصد کچھ نیکی سے بہرہ ور اور کچھ برائی سے آلودہ ۔سوم بُرے کاموں سے متنفر اور سابق بالخیرات ۔پس یہ آخری سلسلہ ایسا ہو تا ہے کہ اجتباء اوراصطفاء کے مراتب پر پہنچتے ہیں اور انبیاء علیہ السلام کا گروہ اسی پاک سلسلہ میں سے ہو تا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری ہے ۔دُنیا ایسے لوگو ں سے خالی نہیں ۔
    بعض لوگ دُعا کی در خواست کر تے ہیں کہ میرے لئے دُعا کرو۔ مگر افسوس ہے کہ وہ دُعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہو تے ۔عنایت علی نے دُعا کی ضرورت سمجھی اور خواجہ علی کو بھیج دیا کہ آپ جا کر دُعا کرائیں ۔کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا ۔جبتک دُعا کرانے والااپنے اندر ایک صلاحیت اوراتّباع کی عادت نہ ڈال دُعا کارگر نہیں ہو سکتی۔مریض اگر طبیب کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا ممکن نہیں کہ فائدہ اُٹھا سکے۔جیسے مریض کو ضروری ہے کہ استقامت اور استقلال کے ساتھ طبیب کی رائے پرچلے تو فائدہ اُٹھا ئے گا ۔ایسے ہی دُعا کرانے والے کے لئے آداب اور طریق ہیں ۔تذکرہ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دُعا کی خواہیش کی۔بزرگ نے فرمایا کہ دُودھ چاول لائو ۔وہ شخص حیران ہوا۔آخر وہ لایا۔ بزرگ نے دُعا کی اور اس شخص کا کا م ہو گیا ۔آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کر نے کے لئے تھا۔ایسا ہی باوافرید صاحب کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص کا قبالہ گم ہو ا اور وہ دُعا کے لئے آپ کے پا س آیا تو آپ نے فر مایا کہ مجھے حلوہ کھلائو اور وہ قبالہ حلوائی کی دو کان سے مل گیا۔
    ان با توں کے بیان کر نے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دُعا کرنے والے اور کر انے والے میں ایک تعلق نہ ہو ۔متاثر نہیں ہو تی۔غرض جب یک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہو اور دُعا کر نے والے کا قلق دُعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثرنہیں کرتی ۔بعض اوقات یہی مصیبت آتی ہے کہ لوگ دُعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہو تے اور دُعا کا کوئی بیّن فائد ہ محسوس نہ کر کے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جا تے ہیں اور اپنی حالت کو قابلِ رحم بنالیتے ہیں ۔
    بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دُعا کرو یا دُعا کرائو۔ پا کیزگی اور طہارت پیدا کرو۔استقامت چاہو اور تو بہ کے ساتھ گرِجائو کیو نکہ یہی استقامت ہے۔اس وقت دُعا قبو لیت، نماز میںلذت پیدا ہو گی۔
    ذالک فضل اللہ یو تیہ من یشاء ا ؎
    ۲۰ جنوری ۱۹۰۳؁ء بروز سہ شنبہ
    نشانا ت کی کثرت
    بو قتِ عصر ۔فرمایا
    خدا تعالیٰ کیسے تاڑ تاڑ نشان دکھلارہا ہے۔ ہم ابھی عدالت میں پیش بھی نہ ہوئے تھے اور نہ کسی کو معلوم تھا کہ انجام کیا ہو گا لیکن مواہب الر حمٰن میں لکھا ہواتھا کہ کرم دین کا مقدمہ خارج ہو جائے گا اور وہ ۱۵ تا ریخ سے ہی تقسیم ہو رہی تھی نلکہ بعض دوستوں نے کرم دین کو دکھلابھی دیا کہ تمہارے مقد مہ کی نسبت یہ کچھ لکھا ہے۔
    مجلس قبل از عشاء فر ما یا :۔کھانسی کا زور ہو گیا ہے۔
    ایک رئو یا ء
    اس کے بعد ایک رئویا ء دریائے نیل والی سنائی جو کہ البدر جلد ۲ میں شائع ہو چکی ہے (وہاں غلطی سے ۱۹ تاریخ لکھی ہے اصلاح کر لی جاوے ۱؎ )
    سراج الاخبار جہلم کی دروغ بیانی
    اسکے بعد سراج الاخبار کی دروغ بیانی کا ذکر ہو تا ہے کہ اس نے لکھا ہے کہ جہلم میں جسقدر ہجوم لوگوں کا تھا وہ میاں کرم دین کے لئے تھا ۔حضرت اقدسؑ نے فر مایا کہ
    جب وہ جہلم میں نالش کرنے گیا تھا تو کس قدر گروہ تھا؟ پھر وہ چندہ وغیرہ جمع کر تا رہا تو کسقدر گروہ تھا اور جہلم میں جو کئی سو آدمیوں نے بیعت کی وہ کس کی کی ؟وغیرہ وغیرہ۔
    مسٹر پگٹ
    مفتی محمّد صادق صاحب نے ایک انگریزی اخبار سنایا جس میں مسٹر پگٹ کا حال تھا ۔فر ما یا کہ رسولﷺ کے زمانہ میں بھی ایسے کاذب مدعی پیداہو ئے تھے جو کہ بہت جلد نابود ہوئے یہی حال اس کا ہو گا اس کے متعلق الہام ہے کہ (البدر جلد ۲ نمبر ۵ ۳۴؎ مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۱جنوری۱۹۰۳؁ء
    (مجلس قبل ازعشاء)
    حضرت اقدس نے حسب دستورمغرب ادا فرما کر مجلس فرمائی ما سٹر عبدالرحمن صاحب نومسلم نے ایک مضمون ایک اشتہار کا حضرت اقدس کو پڑھ کر سنا یا جو کہ ان تمام کی طرف سے جو کہ حضرت اقدس کے دست مبارک پر مشر ف با اسلام ہوے ہندووآریہ کے سر بر آوردہ ممبروںکی خد مت میںپیش کیا جا تا ہے۔اس میں انہو ںنے استدعاکی ہے کہ اگر ان کے نزدیک یہ نو مسلم جماعت مذہب اسلام کے قبول کرنے میں ظلطی پر ہے تو وہ ان کے پیش کردہ میعا رصداقت (جو کہ حضرت اقدس کے مضامین مباہلہ و مقابلہ سے اخذ شدہ ہیں ) کی رو سے حضرت مرزا صاحب سے فیصلہ کر کے انکا غلطی پر ہونا ثابت کردیویں ۔
    حضرت اقدس نے اس تجویزکو پسند فرمایا اور کہا کہ
    مذہب کی غرض یہی ہے کہ صرف آئندہ جہان میں خداتعالیٰ سے فائدہ حاصل ہو بلکہ اس موجودہ جہان میں بھی خدا تعالیٰ سے فائدہ حاصل کر نا چاہے ۔ ان لوگوں کے صرف دعوے ہی دعوے ہیں کوئی کام توکل اور تقویٰ کا ان سے ثابت نہیں ہوتا ۔مصیبت پڑے تو ہر ایک ناجائز کام کے لیے أمادہ ہو جاتے ہیں ۔
    مصدق کے پیچھے نماز
    خاںعجب خانصاحب ا ؎ تحصیلدار نے حضرت اقدس سے استفسار کیا کہ اگر کسی مقام کے لوگ اجنبی ہو ں اور ہمیں علم نہ ہو کہ وہ احمدی جماعت میں ہیں یا نہیں تو انکے پیچھے جاوئے کہ نہ ؟ فرمایا : ناواقف امام سے پوچھ لو ا گر وہ مصدّق ہو تو نماز اسکے پیچھے پڑھی جاوئے ورنہ نہیں ۔اللہ تعالیٰ ایک الگ جماعت بنانا چاہتا ہے اسلیے اس کے منشاء کی کیوں مخالفت کی جاوے جن لوگوں سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے باربار ان میں گھسنا یہی اسکے منشاء کے مخالف ہے ۔
    ایک احمدی کے فرائض
    پھر تحصیلدار صاحب نے پوچھا کہ اپنے مقام پر جاکر ہمارا بڑا کام کیا ہونا چاہیے ؟فرمایا کہ ہماری دعوت کو لوگوں کو سنایا جاوے ۔ ہماری تعلیم سے ان کو واقف کیا جاوے ۔ تقویٰ اور توحید اور سچا اسلام ان کو سکھایا جاوے ۔
    رئویاء کے ذریعہ ہدایت
    اسکے بعد تین احباب نے بعیت کی ان میں سے ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں شریر ادمی تھا اور مجھ کو جھوٹے دعوے کر نے اور لوگوں کے حقوق چھین لینے اور ضبط کر نے کی خوب مشق تھی اور دوسرے بھی جسقدر معاصی مثل شراب وغیرہ تھے ان تمام میں میںَ مبتلا تھا ۔ چند دن ہوے کہ میں نے ایک ہندو سے اس طرح ظلم کیا اور اس کے حقوق ضبط کئے رات کو جب میں سویا تو خواب میں دیکھتا ہوں وہی ہندو میرے ساتھ کلام کر رہا ہے کہ یا تو خدا تعالیٰ تجھے ہدایت کرے یا تجھے اس دنیا سے اٹھالیوے تاکہ ہم اسکے بعد تین احباب نے بعیت کی ان میں سے ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں شریر آدمی تھا اور مجھ کو جھوٹے دعوے کر نے اور لوگوں کے حقوق چھین لینے اور ضبط کر نے کی خوب مشق تھی اور دوسرے بھی جسقدر معاصی مثل شراب وغیرہ تھے ان تمام میں میںَ مبتلا تھا ۔ چند دن ہوے کہ میں نے ایک ہندو سے اس طرح ظلم کیا اور اس کے حقوق ضبظ کئے رات کو جب میں سویا تو خواب میں دیکھتا ہوں وہی ہندو میرے ساتھ کلام کر رہا ہے کہ یا تو خدا تعالیٰ تجھے ہدایت کرے یا تجھے اس دنیا سے اٹھالیوے تاکہ ہم لوگ تیرے مظالم سے نجات پاویں اسکے بعد وہ نظر سے غائب ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ أسمان سے ایک شعلہ نور کاگرا اور جس مکان میںمیں تھا اس دروازے کی طرف آیا۔میں اٹھ کر اسے دیکھنے لگا تودیکھا کہ حضور ( حضرت مسیح موعود علیہ اسلام ) کی شکل کا ایک ادمی ہے ۔میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا کیا تو نام نہیں جانتا ؟ اس کے بعد کہا کہ اب بس کر بہت ہوئی ہے پھر میں نے نام پوچھا تو بتلایا کہ
    ’’میرزاغلام احمد قادیانی ‘‘
    اسکے بعد میری انکھ کھل گئی اور میں اپنے افعال اور کردار پر نادم ہوں اور اب اسی خواب کے ذریعے آپ کے پاس آیا ہوں ۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم کو خدا تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور سمجھو کہ ایک دن موت آنی ہے ۔خداتعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ گنہگار کو بلا سزا دئے نہیں چھوڑتا ۔توبہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے ۔تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرض سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلواور عادتوں کو ٹھیک کرو پھر اس تائب نے عرض کی کہ میرا ایک مقدمہ چودہ صد روپے کا داخل دفتر ہوگیا ہے مگر اس میرا حق بہت تھوڑاہے اب اسے برامد کرائوں کہ نہ؟ فرمایا مدعا علیہ سے مل کر صلح کر لو۔
    البدر جلد ۲ نمبر ۵ صفحہ۳۴ ۔۳۵مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء ؁

    ۲۲جنوری ۹۰۳ ۱ء بروزپنجشبہ
    فاسد خیالات کا علاج
    (بوقت ِظہر)
    ایک شخص نے حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ پیش کیا جس میں یہ تحریر تھا کہ وہ ہر طرف افلاس سے گھرِا ہوا ہے اور ایسے ایسے خیالات اسکے دماغ میں آتے ہیں کہ اسے موت بہتر معلوم ہوتی ہے اور حضرت اقدس سے اس کا علاج چاہا تھا ۔حضور نے فرمایا کہ
    ایسے خیالات کا علاج یہی ہوا کرتا ہے کہ آہستہ آہستہ خوفِ خد ا پیدا ہوتا جائے اور کچھ آرام کی صورت بنتی جائوے ۱؎ گھبرانے کی بات نہیں ہے رفتہ رفتہ ہی دورہوں گے ۔جو گندے خیالات بے اختیار دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے انسان خداتعالیٰ کی د رگاہ میںمواخذ ہ کے قابل نہیں ہو ا کرتابلکہ ایسے شیطانی خیالوں کی پیروی سے پکڑاجاتاہے ۲؎ وہ خیالات جو اندر ہوتے ہیں وہ انسانی طاقت سے باہر اور مرفوع القلم ہیں ۔بے صبری نہ چاہیے ۔جلدی سے یہ بات طے نہیں ہوا کرتی۔وقت آئیگاتو دور ہونگی۔توبہ اور استغفار میں لگے رہیں اور اعمال میں اصلاح کریں۔ایسے خیالات کا تخم زندگی کے کسی گذشتہ حصہ میں بویا جاتا ہے تو پیدا ہوتے ہیں اور جب دور ہونے لگتے ہیں تو یکدفعہ ہی دور ہو جاتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی جیسے ہچکی کی بیماری کہ جب جانے لگے تو ایک دم ہی چلی جاتی ہے اور پتہ نہیں لگتا۔ گھبرانے سے اور آفت پیداہوتی ہے۔آرام سے خدا سے مدد مانگے۔ خدا کی بارگا ہ کے سب کام آرام ہی سے ہوتے ہیں۔جلدی وہاں منظور نہیں ہوتی اور نہ کوئی ایسی مرض ہے کہ جس کا علاج نہ ہو۔ ہاں صبر سے لگا رہے اور خداکی آزمائش نہ کرے ۔جب خدا کی آزمائش کرتا ہے تو خود آزمائش میں پڑتا ہے اور نوبت ہلاکت تک آجاتی ہے ۔ قابل نہیں ہو ا کرتابلکہ ایسے شیطانی خیالوں کی پیروی سے پکڑاجاتاہے ۲؎ وہ خیالات جو اندر ہوتے ہیں وہ انسانی طاقت سے باہر اور مرفوع القلم ہیں ۔بے صبری نہ چاہیے ۔جلدی سے یہ بات طے نہیں ہوا کرتی۔وقت آئیگاتو دور ہونگی۔توبہ اور استغفار میں لگے رہیں اور اعمال میں اصلاح کریں۔ایسے خیالات کا تخم زندگی کے کسی گذشتہ حصہ میں بویا جاتا ہے تو پیدا ہوتے ہیں اور جب دور ہونے لگتے ہیں تو یکدفعہ ہی دور ہو جاتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی جیسے ہچکی کی بیماری کہ جب جانے لگے تو ایک دم ہی چلی جاتی ہے اور پتہ نہیں لگتا۔ گھبرانے سے اور آفت پیداہوتی ہے۔آرام سے خدا سے مدد مانگے۔ خدا کی بارگا ہ کے سب کام آرام ہی سے ہوتے ہیں۔جلدی وہاں منظور نہیں ہوتی اور نہ کوئی ایسی مرض ہے کہ جس کا علاج نہ ہو۔ ہاں صبر سے لگا رہے اور خداکی آزمائش نہ کرے ۔جب خدا کی آزمائش کرتا ہے تو خود آزمائش میں پڑتا ہے اور نوبت ہلاکت تک آجاتی ہے ۔
    صحابہ کرامؓ کا بے نظیر نمونہ
    جہلم کے مقدمہ کی نسبت فرمایا :خدا کی طرف سے جو معلوم ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ اسباب کیا شئے ہے کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری راہ میں جاوگے تو مراغما کثیرا پائوگے ۔صحتِ نیت سے جو قدم اٹھاتا ہے خدا اس کے ساتھ ہو تا ہے بلکہ اگر انسان بیمار ہو تو اس کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔ صحابہؓ کی نظیر دیکھ لو دراصل صحابہ کرام ؓ کے نمونے ایسے ہیں کہ کل ابنیا کی نظیر نہیں ۔خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں ۔انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جانیں دیں اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم علیہ اسلام سے چلی آتی تھی اور سمجھ نہ آتی تھی مگرصحانہ کرامؓنے چمکاکر دکھلا دی اور بتلا دیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں۔حضرت عیسیٰؑ کا تو حال ہی نہ پوچھو موسٰیؑ کو کس نے فروخت نہ کیا مگر عیسٰؑی ان کے حواریوں نے تیس روپے لے کر فروخت کر دیا قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حواریوں کو عیسٰی ؑکی صداقت پر شک تھا جبھی تو مائدہ مانگااور کہا
    ونعلم ان قد ان قد صدقتنا
    تاکہ تیرا سچا اور جھوٹا ہو نا ثابت ہو جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ مائدہ سے بیشتر ان کی حالت نعلم کی نہ تھی پھر جیسی بے آرامی کی زندگی انہوں نے بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی صحانہ کرامؓکا گروہ عجیب گروہ اور قابل پیروی گروہ تھا۔ ان کے دل یقیں سے بھر گئے ہوئے تھے۔تو آہستہ آہستہ اوّل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحبِ یقین خدا کی خطر جان دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔
    نماز مغرب کے بعد مقدمہ بازی کے اوپر ذکرچلا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایاکہ
    اب اس وقت دیناکا یہ حا ل ہے کہ لوگوںنے خداکا کوئی خانہ خالی نہیں رکھا۔ گذشتہ کاروائی کا یہ لوگ خیال نہیں رکھتے اور نہ تجربہ کرتے ہیں کہ کیا کسی کو خیال تھا کہ مقدمہ جہلم کا یہ نتیجہ ہوگا ۔پھر جس خدا نے قبل ازوقت بتلایا اور ہم نے دو صد سے زائدکتب چھاپ کر فیصلہ سے بیشتر شائع کردیں جس میں ذکر تھا کہ اس مقدمہ میں ہماری فتح ہے وہی خدا اب بھی ہمارے ساتھ ہے ۔
    ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیر آں گنجِ کرم بنہادہ است
    خداکی معرفت ضروری ہے َ
    ایک اخبار کی نسبت ذکر ہوا کہ مقدمہ کا نتیجہ قبل از وقت شائع کرنا دور اندیشی پر دلالت نہیں کرتا ۔فرمایا: جب ہی لوگ خدا کے قائل نہیں تو الہام کے کب قائل ہوں گے؟ ان لوگوں کو بے عقل بھینہیں کہنا چاہے بلکہ ان میں نور ایمان نہیں ہین کیا وہ کسی ایسے مفتری اور کذاب کی نظیرپیش کر سکتے ہیں کہ اس کی مخالفت پر ناخنوں تک زور لگایا گیا اور ہمیشہ قبل از وقت اپنے افترائشائع کرتا رہا ہو پھر وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہوں بتلاویں تو سہی شد ومد سے ہم نے خبریں قبل از وقت پیش کی ہیں کسی اور نے بھی کیں ہیں ان لوگوں کے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں جب تک خدا پر یقیں نہ ہو خدا کی معرفت ضروری ہے کوئی اسمانی امر ان کے نزدیک عظمت کے قابل نہیں ہے تعجب اتا ہے ایک طرف طاعون کا یہ حال ہے اور ایک طرف دلوں کی یہ سختی ۔کعئی اور برتن ہو تو انسان اس میں ہاتھ ڈال کر صاف بھی کرلے مگر ان کے دلوں کے برتن جن کے اندر زنگار بھرا ہوا ہے کیسے صاف ہوں عجیب معاملہ ہے جس قدر ہمیں انپر ضسرت ہوتی ہے اسی قدر ان کی نفرت اور بغضاور جوش بڑھتا ہے جیسے کوئی ادمی جس کا معدہ بلغم یا صفراسے بھرا ہوا ہو تو اسے کھانا کھانے سے تنفر ہوتا ہے کہ وہ کھانے کا نام سننابھی برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا جی بیزار ہوتا ہے یہی خال ان کا ہے سچی بات کا نام تک نہیں سن سکتے کس کس کا نام لیں اور کس کس کی شکایت کریں سب ایک ہی ہیں مجھے خوب یاد ہے جب سے یہ الہام ہوا ہے ؛دنیا میں ا یک نذیر آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدااسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردیگا؛ اب اس کا فہوم کہ زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کرے گا قابلِ غورہے بیوقوف جانتے نہیں کہ یہ کاروبارمصنوعی کیسے چل سکتا ہے؟ ہمارے دیکھتے ہوئے ہزاروں چل بسے لیکن ان لوگوں کے نزدیک اب سب کچھ جائز ہے کل خوبیاں جو کہ صادقوں کے تجویزکرتے تھے اب سب کا ذبوں کو دیدی ہیں اور ایسے تہیدست ہوئے ہیں کہ کوئی خوبی صاد ق کی کر ہی نہیں سکتے ۔
    ایک مبشرہ رئویاء
    بعض متفرق رئویا ۱ ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلا کے دن ہیں۔ رات کو میں نے دیکھا ایک بڑا زلزلہ مگر اس سے کسی عمارت وغیرہ کا نقصان نہیں ہوا۔ (البدر جلد ۵ صفحہ ۳۵۔۳۶مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء)
    ۲۳۔جنوری ۱۹۰۳ء بروز جمعہ
    ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں
    (بووقت عصر )
    ایک عرب کی طرف سے ایک خط حضرت کی خدمت میں آیا جس میں لکھا تھا کہ اگر آپ ایک ہزار روپیہ بھیج کر اپنا وکیل یہاں مقرر کردیویں تو میں آپ کے مشن کی اشاعت کرونگا ۔حضرت اقدس نے فرمایا؛ان کو لکھ دو ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ایک ہی ہمارا وکیل ہے جو عرصہ بائیس سال سے اشاعت کرہا ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی اور کی کیا ضرورت ہے اورط اس نے کہہ رکھا ہے ۔
    الیس اللہ بکاف عبدہ۔
    (مجلس قبل از عشاء)
    مغرب کے بعد مجلس ہوئی تو حضرت اقدس نے عجب خانصاحب تصیلدار سے استفسار فرمایا کہ اپ کی رخصت کس قدر ہے ۔ انہوںنے جواب دیا کہ چار ماہ ۔ فرمایا :۔
    آپ کوتو پھر بہت دیریہاںرہناچاہیے تاکہ پوری واقفیت ہو۔
    عجب حیرت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالی یہاںتازہ بتازہ سامان تقوی کے جماعت کے واسطے تیار کر رہا ہے ۔ اس طرف(یعنی منکرین کی طرف)اس کا کوئی نشان بھی نہیں ہے یہ لوگ الہام اور تقوی سے دور ہو جا تے ہیں اگر اب ان سے پوچھا جا وے کہ اہل حق کی کیا علامت ہے ؟تو ہرگز نہیں بتلا سکتے اور نہ اس بات پر اس بات پر قادر ہو سکتے ہیںکہ صادق اور کاذب کے درمیان کوئی مابہ الامتیاز کریںہمار ی مخالفت میں یہ حالت ہے کہ جو کچھ صادق کے لئے خدا نے مقرر کیا تھا اب ان کے نزدک گو یا کا ذب کو د یدگیا ہے جس قد ر نکتہ چینیاں بیا ن کر تے ہیں وہ تما م پیغمبرو ں پر صا د ق آتی ہے کمتر تقو ی اُن کے لیے یہ تھاکہ خاموش ر ہتے اگر ہم کاذب ہو تے ر فتہ ر فتہ خود تبا ہ ہو جاتے خداتعالیٰ فر ما تا ہے
    ولاتقف مالیس لک بہ علم ۱ ؎
    یہاںعلم سے مراد یقین ہے اب ان کی وہی مثال ہے
    لھم قلوب لا یفقھون بھا ( لا عراف۱۸۰ )
    مقدمہ جہلم پر بعض خلاف واقعہ باتیں اخبارات نے لکھی تھیں ان پر فرمایا کہ اس شور وغوغاکاجواب بجزخاموشی کے اور کیا ہے ۔
    افوض امری الی اللہ ۔
    اس کے بعد ایک شخص نے کھڑے ہو کر عر ض کی میر ے باپ اور قوم کیوا سطے دعا کی جا وے حضرت اقدس نے اسی وقت مبا رک اٹھا کر دعا کی اور کل حا ضر ین مجلس بھی شریک ہوے ۔ حضرت کی خدمت میںا یک شخص کی شکا یت کا کر تا ہے مگر اس کی زبان سے بعض ایسے کلمات نکلتے ہیں جس سے کو ئی خصوصیت حضور کے دعاوی کی تصد یق کی معلوم نہیں ہو تی فر ما یا ۔ایسے مشکوک الحا ل آدمی کا رکھنا اچھا نہیں ۔
    مگر جب اس نے معذرت کی کہ یہ امر غلطی سے ایسا ہے تو فرمایا ۔ ایسی با تو ں سے انسان بیعت سے خارج ہو جا تا ہے ہمیشہ خیا ل ر کھنا چاہیے اور اسے معاف کرد یا ۔
    (البدرجلد ۲ نمبر ۳۶ مو ر خہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۴ ِجنوری ۱۹۰۳ء؁بر وز شنبہ
    مجلس قبل از عشا ء فر ما یا َِ۔انب با ر ش ہو نے کی وجہ سے ِ
    اب باررش ہونے کی وجہ سے گردوغبار کم ہے ۔ ایک دودن ذرا باہر آویں ۔( یعنی سیر کو جا یا کریں)
    کر م دین کے مقد مہ کے حالا ت پر فرمایا ۔
    زمینی سلطنت تو صرف آسمان سلطنت کے اظلال و آثار ہیںبغیر آسمان کی یہ سلطنت کیا کر سکتی ہے ۔ انسان بھی کیا عجیب شے ہے ۔اگر اللہ تعا لی کے ساتھ صدق و و فا میںترقی کے تو نورعلیٰ نور ۔ ورنہ اگر ظلمت میںگرے تو اس درجہ تک گر تا ہے کہ کو ئی حصہ تقو یٰ کا اس کے قو ل و اخلاق میںبا قی نہیں رہتا سب ظلمت ہی ظلمت ہو جا تا ہے ۔ فرما یا ۔ آج ایک کشف میںدکھایا گیا
    تفصیلما اللہ فی ھز االباس بعد ماا شعتہ فی ا لناس ۔
    اسکے بعد الہامی صورت ہو گئی اور زبان پر یہی جاری تھا ۔اس سے معلو م ہو تا ہے۔کہ مقد مہ کے متعلق جو قبل ازوقت پیشگو ئی کے رنگ میںبتایا گیا تھا اب اس کی تفصل ہو گی۔فر ما یا کہ ۔ جہلم سے واپسی پر یہ
    ا لہام ہوا تھا ۔ انا نین ایا ت
    ثنا ء اللہ کے ذکر فر ما یا کہ: ۔
    اگر اس کی نیت نیک ہو تی تو ہمارا پیش کر دہ طر یق ضر ور قبول کر تا ۔ہما ری نیک نیتی تھی کہ ہم نے اس کے لیے ایسی راہ تجو یزکی قا ئم رہے ،حق ظا ہر ہو جا وے ۔ لو گو ں میں اشتعال اور فسا د نہ ہو ۔ عوام الناس کوفا ئدہ بھی پہنچ جاوے ۔ اگر اس کے دل میںتقویٰ ہو تا تو ضرور ما لیتا ۔ اور ہم نے عا م اجا ز ت دی تھی کی ہر گھنٹے کے بعد پھر اپنے شکوک و شہبا ت پیش کر دیوے خواہ اس طر ح ایک ما ہ تک کر تا ر ہتا ۔ اس طرح نیک نیتی سے کو ئی اپنی تشفی چا ہے تو ہم اسے چھ ما ہ تک اپنے پا س ر کھ سکتے ہیں ۔ اس کا سب بو جھ بر داشت کر سکتے ہیں مگر ان لو گو ںکی نیت درست نہیں ہو تی اس لے راضی نہیںہو تے ۔ اللہ تعا لیٰ پر ا یما ن نہیں ۔ دل ٹیٹرھے ہو گئے ہیں ۔
    مر د م شماری میں خلا ف وا قعہ ر پو ر ٹ۔
    مو لو ی عبدالکریم صاحب نے بیا ن کیا کہ سو ل ملٹر ی گز ٹ میں چو نکہ حسب د ستور مردم شما ر ی پر ریما ر ک لکھا جا ر ہا ہے انہو ں نے اس غلطی کو شا ئع کر دیا ہے ۔ کہ احمد یہ فر قہ کا با نی مر زا غلا م ا حمد ہے اس نے ا و ل ا بتد ا چو ڑھو ں سے کی ۔ پھر تر قی کر تے کر تے ا علی طبقہ کے آد می اس کے پیر و ہو گئے ۔ حضر ت اقد س فر ما یا۔ اس کی بہت جلد تدد یدہو نی چا ہیے ہما ر ی عزت پر سخت حملہ کیا گیا ہے ۔ چنا نچہ اسی و قت حکم صادرہوا کہ ایک خط جلد تر ا نگر یزی زبا ن میں چھا پ کر گو ر نمنٹ اور مرد م شما ر ی کے سپر نٹنڈ نٹ کے پا س بھیجا جا و ے تاکہ اس غلطی کا از ا لہ ہو اور لکھا جا و ے کہ گو ر نمنٹ کو معلو م ہو گا چو ڑھے ایک جر ائم پیشہ قو م ہے ان سے ہما را کبھی بھی تعلق نہیں ہو ا ۔ ایک شخص نا می مزر ا اما م د ین قا د یا ن میںہے جس سے ہما ر ی تیس بر س سے عد او ت چلی آتی ہے اور کو ئی میل ملا پ اس کا اور ہما را نہیں ہے ۔ اسکا تعلق چو ڑھو ں سے رہا اور اب بھی ہے ۔ اس کی عادت اور چا ل چلن کو ہم پر تھاپ دینا سخت درجہ کی دلا آزاری ہما ر ی اور ہمار ی جما عت کی ہے ۔اور یہ عزت پر سخت حملہ ہے اور بڑی مکروہ کا ر روائی ہے جو کہ سر ز د ہو ئی ہے ۔ اور چو ڑ ھے تو در کنا رہمیں تو ایسے لو گو ں سے بھی تعلق نہیں ہے جو کہ اد نی در جہ کے مسلما ن اور رذیل صفا ت ر کھتے ہیں ۔ ہما ر ی جما عت میں عمد ہ ا ور اعلیٰ درجہ کے نیک چا ل چلن کے لو گ ہیں ۔ اوروہ سب حسنہ صفا ت سے متصف ہیں ۔ اور ایسے ہی لو گو ں کو ہم سا تھ ر کھتے ہیں۔گو ر نمنٹ کو چا ہیے ۔ کہ صا حب ضلع گو ر د ا سپو ر ا ؎ سے اس امر کی تحقیقا ت کر ے ۔ اور عدل سے کا م لیکر اس آلو د گی کو ہم سے دور کر ے ۔ ہم خو د ا ما م د ین کو ا سی لیے نفر ت سے د یکھتے ہیں۔ کہ اس کا اسی قو م سے تعلق ہے ۔ پنجاب میں یہ مسلم امر ہے کہ جس شخص کے ز یا د ہ تر تعلقا ت چو ڑھو ں سے ہو ں اس کا چا ل چلن اچھا نہیں ہو ا کر تا ۔ اسی گو ر نمنٹ کا فرض ہے کہ اس غلطی کا ازالہ کر ے ۔
    (البد جلد۲نمر ۵ صفحہ ۳۶۔ ۳۷ مو ر خہ ۲۰ فر وری ۳ ۱۹۰ء؁)
    ۲۵ جنوری ۱۹۰۳ ء؁ بروز یک شنبہ
    (مجلس قبل از عشاء)
    آپ نے یہ تجویز کی کہ
    بیعت کا رجسٹر بالکل اطمینان کی صورت میں نہیں معلوم ہوتا ۔اس لیے اب آئندہ اس کے فارم چھپواکر ایسی طرح سے رکھا جاوے کہ جب چاہیں فوراً تعداد مل جاوے اور اپنی جماعت کی تعداد معلوم کرنے کے واسطے مردم شماری کا محتاج نہ ہو نا پڑے ۔اگر سب بیعت کنندگان کے نام محفوظ ہوں تو اُن کو ضروری ضروری باتیں پہنچائی جاسکتی ہیں ۔
    ۲۶ جنوری ۱۹۰۳ء؁ بروز شنبہ
    (بوقت ظُہر)
    جب نماز کے لیے حضور تشریف لائے تو مولوی محمد احسن امروہی کو فرمایا کہ
    مَیں نے رات کو خواب دیکھا کہ آپ میرے سامنے جائفل اور ایک گانٹھ نہیں معلوم سپاری کی یا سونٹھ کی پیش کر کے کہتے ہیں کہ یہ کھانسی کا علاج ہے ۔اس کے دیکھنے کے بعد مجھے دوگھنٹے تک کھانسی سے بالکل آرام رہا حالانکہ اس سے پیشتر مجھے کھانسی دم نہ لینے دیتی تھی ۔
    مولوی عبدالکریم صاحب نے بیان کیا کہ رات کو مَیں نے خواب دیکھا کہ سلطان احمد (حضور کے لڑکے) آئے ہوئے ہیں ۔
    حضرت اقدس نے فرمایا کہ
    میرے گھر میں ایک ایسی ہی خواب آئی تھی اس وہی تعبیر بتلائی جو آپ نے سمجھی یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوگا ۔سُلطان سے مُراد براہین اور نشان ہوا کرتا ہے ۔
    (بوقت عصر)
    حضرت اقدس نے تھوڑی دیر مجلس کی اور ثناء اللہ کے قادیان میں آنے کے متعلق ذکر ہوتا رہا۔
    آپ نے فرمایا کہ
    ہم نے تو اُسے بہت وسعت دی تھی جس قدر چاہتا ہر گھنٹہ کے بعد تین چار سطریں لکھ کر پیش کیا کرتا
    اور اگر اُسے بیان کرنے کی نوبت دی جاتی تھی تو بھی اس شامت تھی کہ اُسے بہرحال جُھوٹ سے کام لینا پڑتا اخبار والوں اور عوام الناس کی شرارتوں اور خلافِ واقعہ بیانات کی نسبت فرمایا کہ:۔
    اب ہماری جماعت کو چُپ ہی رہنا چاہیئے ۔جواب کچھ نہ دیں ۔خدا تعالیٰ ہی ان لوگوں سے سمجھے گا۔تعجب ہے کہ ثناء اللہ نے بالکل لیکھرام والی چال اختیار کی ہے جس کی غرض مباحثہ سے اظہار ِ حق نہ ہو اس سے مباحثہ کرنا لا حاصل ہے یہ کاروبار اب زمین پر نہیں رہا بلکہ آسمان پر ہے ۔
    (مجلس قبل از عشاء)
    حضرت اقدس مولوی عبدالطیف خانصاحب سے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر کرتے رہے اور پھر اپنے چند ایک رئویا بتلائے جس سے ظاہر ہوتا تھ اکہ عدالت کی جو کاروائی جیسے زمیں پر جاری ہے ویسا ہی طریق خدا تعالیٰ نے بھی اختیا رکیاہوا ہے ۔منجملہ اُن کے ایک خواب تو وہ بیان کی جس میں سُرخی کے چھینٹے آپ کے لباس مبارک پر پڑے تھے۔ ا؎
    حالانکہ وہ واقعہ آپ نے خواب میں دیکھا تھا ۔اور ایک خواب آپ نے یہ بیان کیا کہ:۔
    مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں ۔مَیں منتظر ہوں ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے ۔اتنے میں جواب ملا ۔
    اصبر سنفر یا مرزا
    پھر مَیں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ مَیں کچہری میں گیا ہوں ۔دیکھا تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صُورت پر کُرسی پر بیٹھا ہوا ہے ۔اور ایک طرف ایک سر رشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مِسل لیے ہوئے پیش کررہا ہے ۔حاکم نے مِسل اُٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو مَیں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کُرسی اُس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی ۔اُس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور مِسل اس کے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔اتنے میںمَیں بیدار ہوگیا ۔
    پھر فرمایا کہ
    جس طرح میرے کُرتے والی خواب ہے جس پر سُرخ روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے ویسے ہی ایک خواب پیغمبرِ خدا ﷺ کی بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ جنت کے باغوں میں سے ایک سیب آپ نے لے لیا ۔پھر اسی وقت بیدار ہوئے تو دیکھا کہ وہ سیب ہاتھ میں ہی ہے ۔
    ایمان کی حالت
    فرمایا کہ
    کوئی خدا پر ایمان نہیں رکھتا جب تک کہ وہ خود نشان نہ دیکھے یا اس کی صحبت میں نہ رہے جو کہ ان نشانوں کو دیکھنے والا ہے ۔خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ان سب مخالفوں کو ایک دَم میں ہی ہلاک کر دے مگر پھر ہم اور ہمارا سلسلہ بھی ساتھ ہی ختم ہوجاتا ۔ یہ مخالفین کا شور و غوغا دراصل عمر کو بڑھاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ بیشک سب کچھ کریگا اُن کو ذلیل وخوار بھی کرے گا ، لیکن وہ مالک ہے خواہ ایک دم کر دے خواہ رفتہ رفتہ کرے ۔خدا تعالیٰ کی عجیبدر عجیب قدرت ہے کہ جب ایک شخص کو اپنی طرف سے بھیجتا ہے تو خود بخود دو گرہ بن جاتے ہیں ۔ایک شقی اور ایک سعید ۔مگر یہ زمانہ گاہے گاہے وہ زمانہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے ۔دُوسرا زمانہ شکوک و شہبات کا زمانہ ہو تا ہے ۔ ا ؎
    ختم نبّوت
    فرمایا اخرین منھم (سورۃ الجمعہ:۴)
    کے قائم مقام توریت کی ایک آیت تھی جس سے مسیح ؑ اسرائیلی کا گروہ مراد تھا اور یہاں
    اخرین منھم سے ہمارا گروہ ۔
    انجیل کے ذکر پر فرمایا کہ
    عیسائی لوگ جو حضرت عیسیٰ کو خاتم ِ نبوت کہتے ہیں اور الہام کا دروازہ بند کرتے ہیں حالانکہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کے بعد ایک یُو حنّا گذرا ہے جس نے نبوت کی اور اس کے مکاشفات کی ایک الگ کتاب انجیلوں میں ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں ۔ختمِ نبوت پر محی الدین ابن عربی کا یہی مذہب ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی ورنہ اُنکے نزدیک مکالمہ الٰہی اور نبوت میں کوئی فرق نہیں ہے اس میں علماء کو بہت غلطی لگی ہے ۔ خود قرآن میں النبیّین جس پر ال پڑا ہے موجود ہے ۔اس سے مراد یہی ہے کہ جو نبوت نئی شریعت لانے والی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے اگر کوئی نئی شریعت کا دعویٰ کرے تو کافر ہے اور اگر سرے سے مکالمہ الٰہی سے انکار کیا جاوے تو پھر اسلام توایک مرادہ مذہب ہوگا اور اس میں اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہ رہے گا ۔کیونکہ مکالمہ کے بعد اَور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہوتو اُسے نبی کہا جئے ۔نبوت کی علامت مکالمہ ہے لیکن اب اہلِ اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے ۔اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اسی اُمّت پر ہے ا ؎
    اور اھدنا الصراط المستقیم ۔الصراط الذین انعمت علیھم (سورۃ الفاتحہ: ۶ ،۷)
    کی دُعا ایک بڑا دھو کا ہو گی اور اُس کی تعلیم کا کیا فائدہ ہو گو یا یہ عبث تعلیم خدا نے دی ۔
    نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہیَ
    ہاں نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہیَ یہ نہیں کہ ایک دو فقرے گا ہ گاہ الہام ہوئے بلکہ نبوت کے مکالمہ میں ضروری ہے کہ اس کی کیفیت صاف ہو اور کثرت سے ہو ۔
    نماز عشاء پڑھ کر حضرت نے کھڑے ہو کر مکالمہ نبوت پر تقریر کی اور مثال دیکر فرما یا کہ:۔
    جب تک کہ یہ فرق نہ ہو تب تک کیسے پتہ لگ سکتا ہے ۔اب دیکھو جس کے پاس ایک دو روپے ہوں اور اُدھر بادشاہ ہے کہ اس کے پاس خزانے بھرے ہوئے ہیں تو ان دونوں میں فرق ہوگا کہ نہیں ؟ زردار وُہ بھی ہے اور بادشاہ بھی ہے مگر جس کے پاس ایک دو روپے ہوں اُسے بادشاہ کوئی نہ کہیگا ۔اسی طرح فرق تو کثرت کا ہے اور کیفیت اور کمیت کابھی ہے ۔نبوت کا مکالمہ اس قدر اعلیٰ اور اصفٰی ہوتا ہے کہ ایک بشریت اُسے برداشت نہیں کر سکتی مگر وہ جو اصطفاء کے درجہ تک ہو ۔فلا یظھر علی غیبیہ احد ا الا من ارتضی من رسول ۔(سورۃ الجنّ :۲۷:۲۸)
    اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اس طرح سے بار بار ظاہر کرتا ہے کہ ایک امر کو خواب میں دکھاتا ہے پھر اُسے کشف میں ۔پھر اس کے متعلق وحی ہوتی ہے اور پھر وحی کی تکرار ہوتی رہتی ہے حتٰی کہ وہ امر غیب اس کے لیے مشہودہ اور محسوسہ امور میں داخل ہوجاتا ہے اور جس قدر تکرار ایک مہم کے نفس میں ہوتا ہے اسی قدر تکرار اس کے مکالمہ میں ہوا کرتا ہے اور اصفٰی اور اجلیٰ مکالمہ انہی لوگوں کا ہتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا تزکیّہ نفس کرتے ہیں اس لیے تقویٰ اور طہارت کی بہت ضرورت ہے۔ اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا (سورۃ فاطر : ۳۳)
    ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے اُن کو بنایا جن کو ہم نے چُن لیا ۔ یعنی ان لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جیسے ایک مکان کی کُل کھڑکیاں کُھلی ہیں کہ کوئی گوشہ تاریکی کا اُس میں نہیں اور روشنی خوب صاف اور کُھلی آرہی ہے ۔اسی طرح اُنکے مکالمہ کا حال ہوتا ہے کہ اجلی اور بہت کثرت سے ہوتا ہے ۔جیسے ایک تیل ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے کہ دُھواں اور بدبُو بہت دیتا ہے ۔دوسرا اُس سے اچھا ۔یہی فرق مکالمہ کی کیفیت اور کثرت اور صفائی میں ہوتا ہے ۔کیا ایک لوٹے کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے اندر تھوڑا سا پانی رکھ کر کہے کہ مَیں بھی سمندر ہوں کیونکہ اس میں بھی پانی ہی ہوتا ہے ۔حالانکہ کس قدر فرق ہے سمندر میں جو پانی کی کثرت ہوتی ہے اُسکو لوٹے سے کیا نسبت ؟ پھر اس میں موتی ،سیپ اور ہزار ہا قسم کے جانور ہوتے ہیں ۔
    اگر اس پر اعتراض ہوکہ اَور لوگوں کو کیوں خوابیں آتی ہیں جو کہ سچّی بھی نکلتی ہیں حتٰی کہ ہندوئوں میں بھی اور فاسق سے فاسق گروہ کنجروں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض اوقات اُن کی خوابیں سچّی نکلی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کے سلسلہ کی تائید ہو ۔ کیونکہ اگر ایسے حواس دُنیا میں نہ ہوتے تو پھر امرنبوت مشتبہ ہوجاتا ایک نابینا آفتاب کو کیسے شناخت کر سکتا ہے ؟ وہی شناخت کرے گا جسے کچھ بینائی ہو چونکہ خدا کو منظور تھا کہ اتمامِ حجت ہو اس لیے یہ خواب کا سلسلہ سب جگہ رکھ دیا ہے تاکہ قبولیت کا مادہ ہر ایک جگہ موجود رہے اور اُن کو انکار نہ کرنے دیوے لیکن جو مادہ نبی کا ہوتا ہے اس کی شان اَور ہوتی ہے اور اُسے موہبت اور بہت سی مَوتوں کے بعد تیار کیاجاتا ہے۔
    (البدر جلد ۲نمبر ۶ صفحہ ۴۲ مورخہ ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۷ جنوری ۱۹۰۳ء؁
    (بوقت سَیر)
    حضرت اقدس نے مخالفین کی نسبت فرمایا کہ !
    مَیں نے اب ان سے اعراض کر لیا ہے کیونکہ جواب تو اس کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی ذرّہ تقویٰ کا ہو مگر جس حال میں کہ ان کے پاس اب سبّ و شتم ہی ہے تو اب حوالہ بخدا کیا ۔ اچھا طریق امن کا ہم نے پیش کیا ہے کہ شرافت سے آکر اپنے شُہبات دُور کراویں ۔ہمارے مہمان خانہ میں خواہ چھ ماہ رہیں ہم دعوت دیویں گے مگر جو شخص اوّل سے عزم بالجزم کر کے آتا ہے کہ شرارت سے باز نہ آویگا اُسے ہم کیا کریں ۔میرا ہمیشہ ہی خیال ہوتا ہے کہ کوئی گروہ نیک نیتی سے آوے اور مستفید ہو ۔ازالہ شہبات کی نیت ہو ۔ ہار جیت کا خیال نہ ہو ۔نیک نیتی تو عجیب شئی ہے کہ اسکی فوراً بُو آجاتی ہے اور جب جواب کافی ملے تو نیک نیّت تو اسی وقت اُسکی خو شبو پا کر بحث سے دستبردار ہوجاتا ہے ۔
    اور ہم خاص پیشگو ئیوں پر بھی حصر نہیں رکھتے ۔کوئی پہلو اس سلسلہ کا لے لیوے ۔ہم ازالہ شہبات کردیویں گے ۔اگر گذشتہ پیشگوئیوں کے پہلو کو نہ لیویں تو خدا تعالیٰ قادر ہے کہ آئندہ اَور نشانات دکھلادیوے۔
    فرمایا کہ :۔
    کل جو خواب مولوی محمد احسن صاحب کے دوا بتلانے کی نسبت بیان کیا تھا مَیں نے اُسی کے مطابق رات کو جائفل اور سونٹھ مُنّہ میں رکھا ۔اب کھانسی کا اس سے بہت فائدہ معلوم ہوتا ہے ۔
    (البدر جلد ۲ نمبر ۶صفحہ ۴۳ مورخہ ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۸ جنوری ۱۹۰۳ء؁
    مورخہ ۲۷ ،۲۸ جنوری کے درمیان جو رات تھی ۔اس میں رات کو ایک بجے حضرت اقدس علیہ السلام مولانہ محمد مولانا محمد احسن صاحب امروہی کی کوٹھڑی میں تشریف لائے ۔دروازہ بند تھا ۔آپ نے کھٹکھٹایا مولوی صاحب نے لاعلمی سے پُوچھا کہ کون ہے ؟ حضرت اقدس نے جواب دیا کہ ’’ مَیں ہوں غلام احمد ‘‘ ا ؎ آپ کے دستِ مبارک میں لالٹین تھی آپ نے اندر داخل ہوکر فرمایا کہ اس وقت مجھے اوّل ایک کشفی صورت میں خواب کی حالت میں دکھلایا گیا ہے کہ میرے گھر میں (اُمّ المومنین) کہتے ہیں کہ اگر مَیں فوت ہوجائوں تو میری تجہیز و تکفین آپ خود اپنے ہاتھ سے کرنا ۔اس کے بعد مجھے ایک بڑا منذر الہام ہوا ہے غَا سِقُ اللّٰہِ ۔مجھے اس کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ جو بچہ میرے ہاں پیدا ہونیوالا ہے وہ زندہ نہ رہے گا ۔اس لیے آپ بھی دُعا میں مشغول ہوں اور باقی احباب کو بھی اطلاع دے دیویں کہ دُعائوں میں مشغول ہوں ۔
    (البدر جلد ۲ نمبر ۱،۲ صفحہ ۲ مورخہ ۲۳،۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء؁)
    الہام غاسق اللہ کی شرح
    غَاسِقُ اللّٰہِ الہام کی شرح آپ نے فرمائی اور فرمایا کہ :۔
    غاسق عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں جو کہ بعد زوال شفق اوّل رات چاند کو ہوتی ہے اور اسی لیے لفظ قمر پر بھی اس کی آخری راتوں میں بولا جاتا ہے جبکہ اس کا نُور جاتا رہتا ہے اور خسوف حالت میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔قرآن شریف میں
    من شر غاسق اذا وقب (سورۃ الفلق :۴)
    کے یہ معنے ہیں
    من شر ظلمۃ اذا دخل
    یعنی ظلمت کی برائی سے جب وہ داخل ہو ۔مَیں نے اس سے پیشتر یہ خیال کیا تھا کہ چونکہ عنقریب گھر میں وضع حمل ہونیوالا ہے تو شا ید یہ مولود کی وفات پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے مگر بعد میں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ اس سے مراد ابتلاء ہے ۔اجتہادی امور ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ اوّل خیال کسی اَور طرف چلا جاتا ہے ۔غرض یہ کہ اس کے معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی امر بطور ابتلاء کے ہے اور اس سے جماعت کا ابتلاء مراد نہیں ہے بلکہ منکرین کا جو کہ جہالت ،نادانی ،افتراء سے کام لیتے ہیں ۔آدم ؑ سے لے کر آخر تک اللہ تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ دشمنوں کو بھی اُن کے افتراء وغیرہ کے لیے ایک موقعہ دیدیتا ہے ۔چناچہ بعض وقت کوئی شکست بھی ہوجایا کرتی ہے قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے ۔
    ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ و تلک الایام نداو لھا بین الناس (سورۃ ال عمران :۱۴۱)
    خدا تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی جماعت کو فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو تم نے بھی اپنے مخالفین کا ستیا ناس کر دیا ہواہے ۔اگر ہمارا یہ کاروبار قلم کا نہ ہوتا بلکہ تلوار سے کام لیتے تو آخر ہمیں بھی کوئی نہ کوئی شکست ہوئی ہی تھی یہ موقع افتراء کے خدا تعالیٰ دشمنوں کو اس لیے دیتا رہتا ہے کہ مقدمہ جلد ختم نہ ہو۔اور یہ سنت اللہ ہے ۔اب غور سے دیکھا جاوے تو اُحد میں رسول اللہ ﷺ کی اصل میں فتح تھی ۔ مگر دشمن ک وفضیلت سے کیا مطلب اُسے تو موقع ملنا چاہیئے ۔
    ادھر آتھم کا مقدمہ ادر مقابلہ پر لیکھرام کا قتل ۔ان کی مثال ٹھیک ٹھیک اُحد اور بدر کی لڑائی تھی ۔
    کلما اضاء لھم مثو افیہ و اذا اظلم علیھم قاموا (سورۃ البقرہُ۲۱)
    منافقوں کا کام ہے مگر یہ لوگ قامو میں داخل ہیں ۔احتیاط سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔تاریکی جب خدا کی طرف منسوب ہوتو دشمن کی آنکھ میں ابتلاء کا موقع اس سے مراد ہوتا ہے اور اس لیے اس کو غاسق اللہ کہتے ہیں ۔
    اس کے بعد حضرت اقدس نے گھر کے حالات سنائے کہ
    رات کو اُن کو بہت تکلیف تھی ۔آخر خدا تعالیی نے آرام دیدیا مگر میرا ایمان اور یقین ہے کہ یہ تمام کام دُعائوں نے ہی کیا ہے ۔
    عورتوں کے لیے یہ ولادت ایک پہلو سے موت اور ایک پہلو سے زندگی ہوتی ہے گویا ولادت کے وقت اُن کو اپنی بھی ایک ولادت ہوتی ہے ۔
    گھر میں بھی رات کو ایک خواب دیکھا کہ بچہ ہوا ہے تو اُنہوں نے مجھے کہا کہ میری طرف سے بھی نفل پڑھنا اور اپنی طرف سے بھی ۔پھر ڈاکٹرنی کو کہا کہ ذرا اسے لے لو تو اُس نے جواب دیا کہ لُوں کیسے ؟وہ تو مردہ ہے تو انہوں نے کہا کہ اچھا پھر مبارک کا قدر قائم رہے گا ۔ مَیں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ لڑکی اصل میں مُردہ بدست زندہ ہی ہوا کرتی ہے ۔
    ایک الہام اور ایک خواب
    آج صبح کو الہام ہوا ۔
    سَاَ کْرِمُکَ اِکْرَاماً عَجَباً
    اس کے بعد تھوڑی سی غنودگی میں ایک خواب بھی دیکھا کہ ایک چوغہ سنہری بہت ہی خوبصورت ہے ۔مَیں نے کہا کہ عید کے دن پہنو ں گا۔اس الہام میں عجب کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی نہایت ہی مئوثر بات ہے ۔مَیں نے یہی سمجھا کہ چونکہ رات کو بہت منذر الہام ہوا تھا تھا وہ تو پُورا ہو گیا ہے ۔اب اللہ تعالیٰ اس کے بالمقابل بشارت دیتا ہے ۔کیسی رحیم کریم ذات ہے۔
    خواب اور انکی تعبیر یں
    رات میں نے ایک اَور خواب بھی دیکھا کہ مَیں جہلم میں ہوں اور سنسار چند صاحب کے کمرے میں ہوتا ہوا آگے کوٹھی کے ایک اَور کمرہ کی طرف جا رہا ہوں ،رئویا کے معاملات میں انسانی عقل بالکل اندھی ہے ۔ لڑکی دیکھے تو لڑکا ہوتا ہے ۔اسی لیے معّبروں نے باب بالعکس ک ابھی باندھا ہے ۔ہمارے مخالف تمام باتوں کو ظواہر پر حمل کر لیتے ہیں ورنہ وہ عجیب در عجیب باتوں کو دیکھیں ۔ایک دفعہ کاذکر ہے کہ ایک شخص قولنج کی بیماری میں مبتلا تھا اسے خواب میں کسی نے دیکھا کہ وہ مر گیا ہے ۔مَیں نے اس کی تعبیر کی کہ وہ اچھا ہوجاویگا آخر وہ اچھا ہوگیا
    مقدمات کے ذکر پر فرمایا کہ :۔
    حاکم بیچارے کیا کریں وہاں تو خدا پکڑ کر سب کچھ کرواتا ہے اصل میں خدا ہی خدا ہے وہ جب کوئی بات دل میں ڈالتا ہے تو دلوں کو ایسا پکڑتا ہے کہ باز اس طرح چڑیا کو پکڑ نہیں سکتا ۔اصل سلطنت اُسی کی سلطنت ہے ۔کیسے سے کیسا دشمن ہو مگر وہ اس کو بھی پکڑ لیتا ہے ۔
    رب کل شی خادمک
    بالکل ٹھیک ہے لوگ ملائکہ سے تعجب کرتے ہیں ۔میرے نزدیک تو یہ سب ملائک ہیں ۔ورنہ لُقمہ جو اندر ڈالا جارا ہے اگر وہ نہ چاہے تو کب ہضم ہو سکتا ہے ۔بغیر کامل تصّرف کے خدا کی خدائی چل سکتی ہی نہیں ۔
    ان من شی ء الا یسبح بحمدہ (بنی اسرائیل : ۴۵)
    کے یہی معنے ہیں ۔اسلام اور ایمان وہی ہے جو اس حد تک پہنچے اور اسی کو چھوڑ چھاڑ کر اب صرف رسم اور عادات رہ گئی ہیں ۔جن کی یہ حالت ہے اُن کو دُعائوں میں کیا مزا آسکتا ہے ا؎
    عقیدہ وحدت الوجود
    جالندھر سے ایک صاحب تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی کہ وہاں وجود یوں کا بہت زور ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
    اصل میں ان لوگوں کا اباجتی رنگ ہے ۔دہریوں میں اور ان میں بہت کم فرق ہے اُنکی زندگی بے قیدی کی زندگی ہوتی ہے ۔خدا کے حدود اور فرائض کابالکل فرق نہیں کرتے ۔نشہ وغیرہ پیتے ہیں ،ناچ رنگ دیکھتے ہیں ۔زنا کو اُصول سمجھتے ہیں ۔
    ایک دفعہ ایک وجود ی میرے پاس آیا اور کہا کہ مَیں خدا ہوں ۔اُس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا میں نے اُسکے ہاتھ پر زور سے چٹکی کاٹی حتیٰ کہ اس کی چیخ نکل گئی تو مَیں نے کہا کہ خدا کو درد بھی ہوا کرتا ہے ؟
    پھر نووارد صاحب نے بیان کیا کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ انسان کو خدا نے اپنی صورت پر بنایا ہے ۔
    حضرت اقدس نے فرمایا کہ
    توریت میں یہ ذکر ہے اس کامطلب ہے کہ
    تخلقوا با خلاق اللہ
    یعنی خدا نے چاہا کہ انسان خدا کت اخلاق پر چلے ۔جیسے وہ ہر عیب اور بدی سے پاک ہے یہ بھی پاک ہو ۔جیسے اس میں عدل و انصاف اور علم کی صفت ہے وہی اس میں ہو اس لیے اس خلق کو احسن تقویم کہا ہے ۔
    لقد خلقنا الا نسان فی احسن تقویم (سورۃ التین: ۵)
    جو انسان خدائی اخلاق اختیار کرتے ہیں وہ اس آیت سے مُراد ہیں اور اگر کُفر کرے تو پھر اسفل سافلین اس کی جگہ ہے ۔
    وجودیوں سے جب بحث کا اتفاق ہوتو اوّل اُن سے خدا کی تعریف پوچھنی چاہیئے کہ خدا کسے کہتے ہیں ؟ اور اس میں کیا صفات ہیں ۔وہ مقرر کرکے پھر اُن سے کہنا چاہیئے کہ اب ان سب باتوں کا تم اپنے اندر ثبوت دو ۔یہ نہیں کہ جو وہ کہیں سُنتے چلے جائو اور اُن کے پیچ میں آجائو بلکہ سب سے اوّل ایک معیار خدائی قائم کرنا چاہیئے بعض ان میں سے کہا کرتے ہیں کہ ابھی ہمیں خدا بننے میں کچھ کسر ہے تو کہنا چاہیئے تم بات نہ کرو جو کامل ہو گذرا ہے اسے پیش کرو ۔
    یہ ایک ملحد قوم ہے ۔تقویٰ ،طہارت ،صحتِ نیت ،پابندی احکام بالکل نہیں ۔تلاوتِ قرآن نہیں کرتے ہمیشہ کافیاں پڑھتے ہیں ۔اسلام پر یہ بھی ایک مصیبت ہے کہ آج کل جس قدر گدی نشین ہیں وہ تمام قریب قریب اس وجودی مشرب کے ہیں ۔سچی معرفت اور تقویٰ کے ہر گز طالب نہیں ہیں ۔اسی مذہب میں دو شئے خدا کے بہت مخالف پڑی ہیں ایک تو کمزوری دوسرے ناپاکی ۔ یہ دونوخدا میں نہیں ہیں اور سب وجودیوں میں پائی جاتی ہیں ۔لُطف کی بات ہے کہ جب کسی وجودی کو کوئی بیماری سخت مثل قولنج وغیرہ کے ہو تو اس وقت وہ وجودی نہیں ہوا کرتا ۔پھر اچھا ہو جاوے تو یہ خیال آیا کرتا ہے کہ مَیں خدا ہوں ۔
    (البدر جلد ۲نمبر ۷ صفحہ ۴۹ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ ء ؁)
    ۲۹ جنوری ۱۹۰۳ء؁ پنجشنبہ
    (بوقت سیر)
    فرمایا کہ ـ:۔
    جھوٹ جیسا *** کام اَورکوئی نہیں اور پھر خصوصاً وہ جھوٹ جو کہ آبرو و عزّت وغیرہ پر ہوتا ہے جس پیٹ سے ایسی باتیں نِکلا کرتی ہیں اُسے نفس کہتے ہیں ۔
    دشمن کی آبرو داری
    اس کے بعد اسی آبرو کے مضمون پر حضرت اقدس نے ایک واقعہ بیان کیا ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ہر ایک کی آبرو حتٰی کے اپنے قتل کے مقدمہ میں ہمارے ایک مخالف گواہ کی وقعت کو عدالت میں کم کرنے کی نیت سے ہمارے وکیل نے چاہا کہ اس کی ماں کا نام دریافت کرے مگر مَیں نے اسے روکا اور کہا کہ ایسا سوال نہ کرو جس کا جواب وہ مطلق دے ہی نہ سکے اور ایسا داغ ہر گز نہ لگائو جس سے اُسے مفر نہ ہو ۔حالانکہ ان ہی لوگوں نے میرے پر جھوٹے الزام لگائے ۔جھوٹا مقدمہ بنایا ۔افتراء باندھے اور قتل اور قید میں کو ئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا ۔میری عزّت پرکیا کیا حملے کر چکے ہوئے تھے ۔اب بتلائو کہ میرے پر کونسا خوف ایسا طاری تھا کہ مَیں نے اپنے وکیل کو ایسا کرنے سے روک دیا ۔صرف بات یہ تھی کہ مَیں اس بات پر قائم ہوں کہ کسی پر ایسا حملہ نہ ہو کہ واقعی طور پر اس کے دل کو صدمہ دے اور اسے کوئی راہ مفر کی نہ ہو ا ؎
    آپ نے فرمایا کہ ’’میرے دل نے گوارہ نہ کیا ‘‘ اُس نے پھر کہا کہ یہ سوال ضرور ہونا چاہیئے تھا آپ نے فرمایا :۔
    خدا نے دل ہی ایسا بنایا ہے تو بتلائو مَیں کیا کروں ۔
    ایک صاحب آمدہ از جالندھر نے عرض کی کہ حضور وہاں شحنہ ہند نے بہت سے آدمیوں کو روک رکھا ہے اس کا کیا علاج کریں َفرمایا :۔
    صبر کرو ایسا ہی پغمبر خدا ﷺکے وقت میں لوگ تو آپ کی مذمت کیا کرتے تھے مگر آپ ہنس کر فرم ایا کرتے تھے کہ اِن کی مذمت کو کیا کروں میرا نام تو خدا نے اوّل ہی محمد ﷺ رکھ دیا ہوا ہے ۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے بھی الہام کیا جو کہ آج سے بائیس برس پیشتر کا براہین میں چھپا ہوا ہے ۔
    یحمدک اللہ ۲؎
    یعنی خدا تیری تعریف کرتا ہے ۔
    جھوٹ ایسی شئے ہے کہ آخر ایک دن آکر انسان اس سے تھک جاتا ہے ۔پھر اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو تَوبہ کرتا ہے ورنہ اسی طرح نامراد مرجاتا ہے۔
    (بوقتِ ظہر )
    پتھری کے اخراج کا نسخہ
    تھوڑی دیر مجلس کی ۔بعض وقت مثانہ سے جو کنکر وغیرہ تکلیف دیکر نکلتے ہیں اُن کی نسبت فرمایا کہ
    نرلسبی ۳ رتی اور وائنم اپی کاک کا استعمال اس کے واسطے نہایت مفید ہے اور چاول وغیرہ لیسدار اشیاء کا استعمال نہ کرنا چاہیئے ۔یہی لیس منجمد ہو کر کنکر بن جاتی ہے ۔
    پھر فرمایاکہ
    میرے والد صاحب کو بھی یہ مرض رہی ہے وہ مصبر کی گولیاں استعمال کیا کرتے تھے ۔بہت مفید ہیں اس میں مصبر ۔سہاگہ ۔بذرالبنج ۔فلفل وغیرہ ادویہ ہوتی ہیں ۔
    (بوقت عصر)
    ایک خط کے ذریعہ خبر ملی کہ جہلم میں اب پھر کرم دین کا ارادہ مقدمہ کا ہے اور وہ نگرانی کرنا چاہتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایاکہ
    گبھرانا نہ چاہیئے یہ تو خدا کے عجائبات ہیں ؎
    ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیر آں گنج کرم بنہادہ است
    فرمایا:۔
    صبح کو ایک الہام ہوا تھا میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں ۔پھر حا فظ پر بھروسا کرکے نہ لکھا ۔آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یاد کیا مچلق یاد نہ آیا ۔دراصل یہی بات ہے ۔
    ما نسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا (سورۃ البقرہ :۱۰۷)
    (مجلس قبل از عشاء)
    جہلم سے مقدمہ کی نقل منگوائی گئی تھی ۔ حضرت اقدس سُنتے رہے ۔کسی نے کہا کہ اس پر ہم نالش کر سکتے ہیں ۔حضرت نے فرمایا کہ
    ہم نالش نہیں کرتے یہ تواسرار الٰہی ہیں ایک برس سے خدا نے اس مقدمہ کو مختلف پیرائوں میں ظاہر کیا ہے۔ اب کیا معلوم کہ وہ اس کے ذریعہ سے کیا کیا اظہار کریگا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل مقدر خدا کی طرف سے تھا ۔
    قانون کے ذکر پر فرمایا کہ
    واضعانِ قانون نے بڑی دانشمندی سے کام لیا ہے کہ مذہبی امور کو دنیاوی اُمور سے الگ رکھا ہے ۔
    کیونکہ مذہبی عالم کی باتوں کا دارومدار تو آخرت کے متعلق ہوتا ہے نہ کہ دنیا کہ متعلق ۔
    مقدمات کے فیصلوں کی نسبت فرمایاکہ
    میرا اپنا اُصول یہ ہے کہ بد تر انسان بھی اگر مقدمہ کرے تو اس میں تصرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے اس سے فیصلہ لکھوا تا ہے ۔انسان پر بھروسہ شرک ہے بلکہ اگر ایک بھیڑیئے کے پاس بھی مقدمہ جاوے تو اس کو خدا سمجھ عطا کردیگا۔ (البدر جلد ۲ نمبر صفحہ ۴۹۔۵۰ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ء ؁)
    ۳۰جنوری ۱۹۰۳ء؁ بروزجمعہ
    ( بو قت عصر )
    ارشاد فر مایا کہ ۔ جو ا لہا م مجھ کو بھول گیا آ ج یا دکیا ہے اور وہ یہ ہے ۔
    ان اللہ مع عبا د ہ یو اسیک۔
    یعنی اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے اور تیر ی غمخواری کر یگا ۔
    ( البد ر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ما ر چ ۱۹۰۳ء؁)
    ۳۱ جنو ری ۱۹۰۳ء؁
    ( بو قت عصر ۱ ؎ )
    جہلم سے خبر آئی کہ کر م د ین نے حضرت اقد س پرایک اور مقدمہ مواھب الر حمن کے بعض الفاظ پر کیا ہے فرما یا ۔ اب یہ ان لو گو ںکی طر ف سے ابتداء ہے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ انکے مقابلہ میںکیا کیا تدابیر اختیار کر یگا ۔ یہ استغاثہ ہم پر نہیںاللہ تعالیٰ پر ہے ۔ معلوم ہو تا ہے کہ لو گ مقد مات کر کے تھکا نا چاہتے ہیں۔ الہام
    ان اللہ مع عبادہ یو اسیک
    اسی کے متعلق اجتہادی طور پر معلوم ہو تا ہے اور ایسا ہی الہام
    سا کر مکاکراماعجبا
    سے معلوم ہو تا ہے۔
    خُدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دیگا
    فرما یا :۔
    ہما ری جماعت تو ایمان لا تی ہے مگر اصل میں مدار ایمان نشانو ں پر ہو تا ہے ۔اگر چہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریا ں ضرور ہو تی ہیںاور جب تک وہ کمزوریاں دُور نہ ہوں اعلیٰ مراتبِ ایمان نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دُور ہو تی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دُور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں تر قی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ
    ان اللہ علی نصر ھم لقدیر( سورۃالحج :۴۰)
    کا نمونہ دکھائے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب ،خائن اور مظلوم پو شیدہ نہیں ہیں اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خداتعالیٰ نے چاہا ہے۔ مَیں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارے پر ہوں اور بعض چلائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی یاس ہو مگر مَیں یقین رکھتاہوں کہ خدازور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دیگا ۔اس وقت یہ پورا زور لگائیں گے تا کہ قتل کے مقد مہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چھُوٹ گیا۔ یہ لوگ اب باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خداتعالیٰ کی طرف سے مَیں پیش کرتا ہو ں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اکراما عجبا کیسے ہو تا ہے۔
    شوقِ تبلیغ (در بار شام)
    فر مایا :۔
    سردست بیس جلد مواہب الرحمٰن کی مجلّد کروا کر مصِر کے اخبار نویسوں کو بھیجی جاویں اور اگر میری مقدرت میں ہو تا تو مَیںکئی ہزارمجلّد کر وا کر بھیجتا۔
    فر مایا :۔
    یہاں کے لوگوں کا تو یہ حال ہے ۔شاید مصر کے لوگ ہی فوئدہ اُٹھا لیں ۔جس قدر سعید رُوحیں خدا کے علم میں ہیں وہ اُن کو کھینچ رہا ہے۔
    جماعت کو نصائح
    بیعت کے بعد ایک شخص نے اپنے گا و ں میں کثرت طاعون کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ فر ما یا:۔
    میں تو ہمیشہ دعا کر تا ہو ںمگر تم لو گو ں کو بھی چا ہئیے کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو نما ز یںپڑھو اور تو بہ کر تے رہو ۔ جب یہ حا لت ہو گی تو اللہ تعالیٰ حفا ثت کر یگااور اگر سارے گھر میںایک شخص بھی ایسا ہو گا تو اللہ تعالیاس کے با عث سے دوسر و ںکی بھی حفا خت کرے گا۔ کو ئی بلا اور دکھ اللہ تعالیکے ارادہ کے سوا نہیں آتا اور وہ اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیکی نا فر ما نی اور مخالفت کی جا وے ۔ ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کا آتا ہے ۔ جو لو گ عا م ایمان ر کھتے ہیں اللہ تعا لی ان کی طر ف رجوع کر تا ہے اور آپ ان کی حفا ظت فر ما تا ہے ۔من کا ن للہ کا ن اللہ لہ ۔ بہت سے لو گ ہیں جو زبا ن سے لا الہ اللہ کا اقر ار کر تے ہیں اور اپنیاسلام اور ایما ن کا دیٰ کر تے ہیںمگر وہ اللہ تعا لیٰ کے لیے دکھ نہیںا ٹھا تے۔ کو ئی دکھ یا تکلیف یا مقدمہ آجا و ے تو فو را خدا کو چھو ڑ نے کو تیا رہو جا تے ہیںاور اس کی نا فر ما نی کر بیھٹتے ہیں۔ اللہ تعا لیٰ ان کی کو ئی پر وا نہیں کر تا مگر جو خا ص ایمان رکھتا ہو اور ہر حا ل میںخا کے سا تھ ہو اور دکھ اٹھا نے کو تیا ر ہو جاوے تو خا تعالے ٰاس سے دکھ اٹھا لیتا ہے اور دو مصیبتیں اس پر جمع نہیں کر تا دکھ کا اصل علا ج دکھ ہی ہے اور مو من پر دو بلائیں جمع نہیںکی جاتیں۔
    ایک وہ دکھ ہے جو انسان خدا کے لیے اپنے نفس پر قبول کرتا ہے اور ایک وہ بلائے ناگہانی ۔ا س بلا سے خدا بچا لیتا ہے ۔پس یہ دن ایسے ہیں کہ بہت توبہ کرو ۔اگر چہ ہر شخص کو وحی یا الہام نہ ہو مگر دل گواہی دیتا ہے کہ خد تعالیٰ اُسے ہلاک نہ کرے گا ۔دُنیا میں دو دوستوں کے تعلقات ہوتے ہیں ۔ایک دوست دوسرے دوست کا مرتبہ شناخت کرلیتا ہے کیونکہ جیسا وہ اس کے ساتھ ہے ایسا ہی وہ بھی اس کے ساتھ ہوگا ۔دل کودل سے راہ ہوتی ہے ۔محبت کے عوض محبت اور دغا کے عوض دغا ۔خد اتعالیٰ کے ساتھ معاملہ میں اگر کوئی حصّہ کھوٹ کاہوگا تو اسی قدر ادھر سے بھی ہوگا ۔مگر جو اپنا دل خدا سے صاف رکھے اور دیکھے کہ کوئی فرق خدا سے نہیں ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے کوئی فرق نہ رکھے گا ۔انسان کا پنا دل اس کے لیے آئینہ ہے وہ اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہے ۔پس سچّا طریق دُکھ سے بچنے کا یہی ہے کہ سچّے دل سے اپنے گُناہوں کی معافی چاہواور وفاداری ور اخلاص کا تعلق دکھائو اور اس راہِ بیعت کو جو تم نے قبول کی ہے سب پر مقدم کرو کیونکہ اس کی بابت تم پو چھے جائو گے ۔جب اسقدر اخلاص تم کو میست آجاوے تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ضائع کرے ۔ایسا شخص سارے گھر کو بچا لے گا ۔اصل یہی ہے ا س کو مت بھولو ۔نری زبان میں برکت نہیں ہوتی کہ بہت سی باتیں کرلیں ۔اصل برکت دل میں ہوتی ہے اور وہی بر کت کی جڑ ہے ۔زبان سے تو کروڑ ہا مسلمان کہلاتے ہیں جن لوگو ں کے دل خدا کے سا تھ مستحکم ہیںاور ا س کی طر ف سے آتے ہیںخدا بھی ان کی طر ف وفا سے آتا ہے اور مصیبت اور بلا کے وقت ان کو الگ کر لیتا ہے۔ یاد رکھو یہ طاعون خودبخود نہیں آئی اب جو کھوٹ اور بیوفائی کا حصّ ہ رکھتا ہے وہ بلا اور وبا سے بھی حصّہ لیگا مگر جو ایسا نہیں رکھتا خد اُسے محفوظ رکھے گا۔
    مَیں اگر کسی کے لیے دُعا کروں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ صاف نہیں وہ اس سے سچا تعلق نہیں رکھتا تو میری دُعا اُس کو کیا فائدہ دے گی ؟لیکن اگر وہ صاف دل ہے اور کوئی کھوٹ نہیں رکھتا تو مَیری دُعا اس کے لیے نور ’‘ علی نور ہوگی ۔
    زمینداروں کو دیکھا جاتا ہے وہ دو دو پیسے کی خاطر خدا کو چھوڑ دیتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ خدا انصاف اور ہمدردی چاہتا ہے اور وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ فسق وفجور فحشا ء اور بے حیائی سے باز آویں جو ایسی حالت پیدا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں ،مگر جب دل میں تقویٰ نہ ہو اور کچھ شیطان کا بھی ہو تو خدا شراکت پسند نہیں کرتا اور وہ سب چھوڑ کر شیطان کا کر دیتا ہے کیونکہ اس کی غیر ت شرکت پسند نہیں کرتی ۔پس جو بچنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ وہ اکیلا خدا کا ہو ۔
    من کان للّٰہ کان اللّٰہ لہ
    خدا تعالیٰ کبھی کسی صادق سے بے وفائی نہیں کرتا ۔ساری دُنیا بھی اُس کی دشمن ہو اور اس سے عداوت کرے تو اُس کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔خدا تعالیٰ بڑی طاقت اور قدرت والاہے اور انسان ایمان کی قوت کیساتھ اس کی حفاظت کے نیچے آتا ہے اور اس کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات دیکھتا ہے پھر اس پر کوئی ذلّت نہ آوے گی ۔یاد رکھو خداتعالیٰ زبردست پر بھی زبر دست ہے بلکہ اپنے امر پر بھی غالب ہے ۔سچے دل سے نمازیں پڑھو اور دُعائوں میں لگے رہو اوراپنے سب رشتہ داروں اور عزیزوں کو یہی تعلیم وہ ۔پُورے طور پر خدا کی طرف ہو کر کوئی نقصان نہیں اُٹھاتا ۔نقصان کی اصل جڑ گُناہ ہے۔
    سا ری عزتیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔دیکھو بہت سے ابرار اخیار دُنیامیں گذرے ہیں ۔ اگر وہ دُنیا دار ہوتے تو اُن کے گذارے ادنیٰ درجہ کے ہوتے کوئی اُن کو پوچھاتا بھی نہ ۔مگر وہ خدا کے لیے ہوئے اور خدا ساری دُنیا کو اُن کی طرف کھینچ لایا ۔خدا تعالیٰ پر سچا یقین رکھو اور بدظنی نہ کرو ۔جب اِس کی بد بختی سے خد اپر بد ظنی ہوتی ہے تو پھر نہ نماز درست ہوتی ہے نہ روزہ نہ صدقات ۔بدظنی ایمان کے درخت کو نشو نما ہونے نہیں دیتی بلکہ ایمان کا درخت یقین سے بڑھتا ہے ۔
    مَیں اپنی جماعت کو باربار نصیحت کرتا ہوں کہ یہ موت کا زمانہ ہے ۔اگر سچّے دل سے ایمان لانے کی موت کو اختیار کرو گے تو ایسی موت سے زندہ ہو جائو گے اور ذلّت کی موت سے بچائے جائو گے ۔مومن پر دو موتیں نہیں ہوتیں ۔جب وہ سچے دل سے اور صدق اور اخلاص کے ساتھ خدا کی طرف آتا ہے پھر طاعون کیا چیز ہے ؟ کیونکہ صدق و فا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ہونا یہی ایک موت ہے جو ایک قسم کی طاعون ہء اگر اس طاعون سے ہزار ہادرجہ بہتر ہے کیونکہ خدا کا ہونے سے نشانہ طعن تو ہو نا ہی پڑتا ہے پس جب مومن ایک موت اپنے اوپر اختیارکر لو تو پھر دوسری موت اس کے آگے کیا شئی ہے؟ مجھے بھی الہام ہوا تھا کہ آگ سے ہمیں مت ڈرائو آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے ۔اگ وہ اخلاص اور وفاداری سے اس کا ہوجاتا ہے تو خداتعالیٰ اس کا ولی بنتا ہے لیکن اگ ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بیشک خطرہ ہوتا ہے۔ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں۔سینہ کا علم تو خدا کو ہی ہے مگر انسان اپنی خیانت سے پکڑاجاتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف نہیں تو پھر بیعت فائدہ دے گی نہ کچھ اور لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جائوے تو خداتعالیٰ اس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔ اگرچہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے اپ کو خاص کرتے ہیں۔ ان پر تجلی کرتا ہے اور خدا کے لیے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس کو بالکل چکنا چور ہوکر اس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہے اس لیے میں باربار اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو ۔اگر دل پاک نہیںہے ہا تھ رکھناکیا فا ئدہ دیگا جب دل دور ہے جب دل اور زبا ن میںا تفا ق نہیںتو میر ے ہا تھ رکھ کر منا فقا نہ اقرار کر کر تے ہیںتو یادرکھو ایسے شخص کو دو ہر ا عذاب ہو گا مگر جو سچا اقر ار کر تا ہے اس کیبڑے بڑے گنا ہ بخشے جا تے ہیں اور اس کو ایک نئی زند گی ملتی ہے ۔ میں تو زبا ن ہی سے کہتا ہو ں دل میں ڈالنا خدا کا کا م ہے ۔ آحضرت ﷺنے سمجھا نے میں کیا کسر با قی ر کھی تھی ؟ مگر ابو جہل اور اس کے امثا ل نہ سمجھے آپ کو اس قد ر فکر اور غم تھا کہ خدا نے خود فر ما یا
    لعلک با خع بفسک الا یکو نو امو منین (سو رت الشعر آء :۴)
    اس سے معلو م ہوتا ہے کہ آحضر ے ﷺ کو کس قد ر ہمد ردی تھی ۔ آپﷺ چا ہتے تھے کہ وہ ہلا ک ہو نے سے بچ جا و یں مگر وہنہ سکے ۔ حقیقے میں معلم اور داعظ کا تواتنا ہی فر ض ہے کہ وہ نتا دیو ے ۔ دل کی کھر کی تو خداکے فضل سے گھلتی ہے ۔ نجا ت اسی کو ملتی ہے جو دل کا صاف ہو ۔ جو صاف دل نہیں وہ اچکا اور ڈاکو ہے ۔خدا تعالیٰ اسے بر ی طرح ما ر تا ہے ۔اب یہ طا عون کے دن ہیں ابھی تو انتداء ہے ۔
    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ؛ آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا
    آخر کی خبر نہیں مگر جو ابتدائی حالت میں اپنے آپ کو در ست کر یں گے وہ خداکی ر حمت کا بہت بڑا حق ر کھتے ہیںمگر جو لو گ صعقہ کی طر ح دیکھ کر ایمان لا یئں گے ممکن ہے کہ ان کی تو بہ قبول نہ ہو یا تو بہ کا مو قع نہ ملے ۔ ابتداء والے ہی کا حق بڑا ہو تا ہے ۔ قا عدہ کے موافق ۱۵ یا ۲۰ دن اور طا عو ن کے روزہ کے ہیں اور آرام کی شکل نظر آتی ہے مگر وقت آتا ہے کہ پھر روزکھولنے کا زما نہ شروع ہو گا ۔ اب خدا کے سوا کو ئی عا صم نہیں ہے ۔ ایما ندار قبول نہیں کر سکتا کہ خا کے ارادہ کے خلا ف کو ئی بچ سکتا ہے ۔ فا ئدہ اور ا من کی ایک ہی راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طر ف ایسا جھکے کہ خود محسوس کر لے کہ اب میں وہ نہیں رہا ہو ں اور مصفا قطر ہ کی طر ح ہو جا وے ۔
    مخالفت کی شدت
    خدا کی قدرت ہے کہ جو ںجو ں طا عون کا زما نہ قریب آتا جا تا ہے شو ر اور مفسد ہ مخالفت کا بڑھتا جا تا ہے ان کو ذرا بھی خداکا خوف ہے آج مجھے خیا ل آیا کہ شا ید
    یا تی علیک زمن کمثل زمن مو سیٰ
    والا الہام اور محاصرہ والی حدیث اسی طرح پو ری ہو کہ مقد ما ت کثر ت سے کر یں جیسے حضر ت مو سی سامنے نیل سے اور پیچھے لشکرِ فر عو ن سے محصو ر ہو گئے تھے اور ایسی خوفنا ک صورتیں پیداہو ں کہ بعض کمزورطبیعت والے چلائیں کہ ہم پکڑے گئے ۔ اس لئے خدا نے ایسے کمزو روں کو پہلے سے تسلی دے دی کہ مضبو ط اور قو ی دل ہو جاویں۔ بر اہین احمدیہ میں اس کی طر ف اشارہ ہے کہ ایک وقت نا خنو ںتک زور لگا ئیںگے اس وقت خدا تیر ے سا تھ ہو گا ۔
    واللہ یعصمک من النا س ۔
    اب خدا تعا لینے جو دن مقر ر کئے ہو ے ہیں وہ اگر نہ آویں تو ثواب کیسے ہے بر اہین میں اور بعض خوفنا ک صور تیں مزکو ر ہیں اور انجا م کا روہی ہوگا ۔ جس کی خدا نے خبر دی ہے اور ارادہ فر ما یا ہے ۔
    ایک الہام ۔
    فر ما یا:
    ۳۰ جنو ری ۱۹۰۳ ء؁کی صبح کو کو الہا م ہو ا تھا
    لایموت احدمنرجالکماس
    کے معنے ابھی نہیں کھلے ۔ مگر یہا ں حقیقی معنے مو ت کے نہیں ہو سکتے کیونکہ انبیاء پر بھی یہ آئی ہے ۔ غالبااور کو ئی معنے ہو ں گے۔ ۱ ؎ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۶ صفحہ ۵ تا ۷ مو ر خہ ۱۴ فر ور ی ۱۹۰۳ء؁)
    یکم فر ور ی ۱۹۰۳ء؁
    امتحا ن کے وقت جما عت کو استقامت کی بہت دعا کر نی چا ہیئے
    فر ما یا کہ
    یہ وقت جما عت کے امتحا ن کا ہے۔ د یکھیں کو ن سا تھ دیتا ہے۔ اور کو ن پہلوتہی کر تا ہے۔ اس لیے ہما رے بھا ئیوں کو استقامت کی بہت دعاکر نی چا ہیے۔ اور انفاق فی سبیل اللہ کے لئے وسیع حو صلہ ہو کر مال و زر سے ہر طر ح سے امداد کے لئے تیار ہو نا چاہیے۔ایسے ہی وقت تر قی درجات کے ہو تے ہیں ۔اُن کو ہاتھ سے نہ گنوانا چاہیئے۔ ۱؎
    یکم فروری کو ایک دوسال کا الہام آپ نے اس کے متعلق سنایا۔
    بلیۃ ما لیۃ۔
    یعنی مالی ابتلاء۔
    (البدر جلد ۲نمبر۳ مورخہ ۶ فروری ۱۹۰۳ء؁ )
    ۲ فروری ۱۹۰۳ء؁ (بوقتِ ظہر)
    ایک رئویاء
    حضرت احمد مُرسل یزدانی علیہ الصلوٰ ۃ السلام نے ایک رویاء ظہر کے وقت سُنائی کہ :۔
    مَیں نے مرزا خدا بخش صاحب کو دیکھا کہ اُن کے کرتے کے ایک دامن پر لہُو کے داغ ہیں ۔پھر اَور داغ ان کے گریبان کے نزدیک بھی دیکھے ہیں ۔مَیں اس وقت کہتا ہوں یہ ویسے ہی نشان ہیں جیسے کہ عبداللہ سنوری صاحب کو جو کُرتہ دیا گیا ہے اس پر تھے ۔ (البدر جلد ۲نمبر۳ مورخہ ۶ فروری ۱۹۰۳ء؁ )
    ۵ فر وری ۱۹۰۳ء؁
    اپنی جماعت کیلئے ایک بہت ضروری نصیحت
    آج کل زما نہ بہت خر اب ہو ر ہا ہے قسم قسم کا شر ک بد عت اور کئی خر ابیا ںپید ا ہو گئی ہیں ۔ بیعت کے وقت جو اقر ار کیا جا تا ہے کہ د ین کو دنیا پر مقد م ر کھو ں گا ۔ یہ اقرار خدا کے سا منے اقرار ہے چا ہیئے کہ اس پر مو ت تک خو ب قا ئم ر ہے ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قا ئم ہو گے تو اللہ تعالیٰ دین ودینا میں بر کت دیگا ۔ اپنے اللہ کے مطا بق پورا تقویٰ اختیا رکر و ۔ زما نہ نا زک ہے ۔ قہر الٰہی نمودار ہو ر ہا ہے جو اللہ تعا لیٰ کی مر ضی کے موافق اپنے آپ کو بنا لیگا ۔ وہ اپنی جا ن اور اپنی آل واولادپر ر حم کر یگا۔دیکھو انسا ن رو ٹی کھا تا ہے جب تک سیر ی کے موافق پو ری مقدارنہ کھا لے تو اس کی بھو ک نہیں جا تی ۔اگر وہ ایک بھو رہ روٹی کا کھا لیو لے تو کیا وہ بھو ک سے نجا ت پائے گا ؟ہر گزنہیں ۔ اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اُسے ہر گز نہ بچا سکے گا بلکہ باوجود اس قطرہ کے وہ مریگا ۔حفظِ جان کے واسطے وہ قدر ِ محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھا لے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا ۔یہی حال انسان کی دینداری کا ہے جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیری ہو بچ نہیں سکتا ۔دینداری ،تقویٰ ،خدا کے احکام کی اطاعت کواس حد تک کرنا چاہیئے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بُھوک اور پیاس چلی جاتی ہے ۔
    خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑنا ہوتا ہے اگر ایک حصّہ شیطان کا ہے اور ایک اللہ کا تو اللہ تعالیٰ حصّہ داری کو پسند نہیں کرتا ۔یہ سلسلہ اس کا اسی لیے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے ۔اگر چہ خدا کی طرف آنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخر زندگی بھی اسی میں ہے ۔جو اپنے اندر سے شیطانی حصّہ نکال کر پھینک دیتا ہے وہ مبارک انسان ہوتا ہے اور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے ۔لیکن اگر اس کے حصّہ میں ہی تھوڑا آیا ہے تو وہ برکت نہ ہو گی جب تک بیعت کا اقرار عملی طور پر نہ ہو ۔بیعت کچھ چیز نہیں ہے جس طرح سے ایک انسان کے آگے تم بہت سی باتیں زبان سے کرو مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کرو تو وہ خوش نہ ہو گا ۔اسی طرح خدا کا معاملہ ہے وہ سب غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند ہے کیا ہو سکتا ہے کہ ایک تو تم اس کی اطاعت کرو پھر ادھر اس کے دشمنوں کی بھی اطاعت کرو اس کانام تو نفاق ہے ۔انسان کو چاہیئے کہ اس مرحلہ میں زید و بکر کی پروا نہ کرے مرتے دم تک اس پر قائم رہو۔
    بدی کی دو قسمیں ہیں ۔ایک خدا کے ساتھ شریک کرنا ۔اس کی عظمت کو نہ جاننا ۔اُس کی عبادت اوراطاعت میں کسل کرنا ۔دوسری یہ کہ اس کے بندوں پر شفقت نہ کرنا ۔اُن کے حقوق ادانہ کرنے ۔اب چاہیئے کہ دونوں قسم کی خرابی نہ کرو ۔خدا کی اطاعت پر قائم رہو ۔جو عہد تم نے بیعت میں کیا ہے اس پر قائم رہو خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو ۔قرآن کو بہت غور سے پڑھو ۔اس پر عمل کرو ۔ہر ایک قسم کے ٹھٹھے اور بیہودہ باتوں اور مشرکانہ مجلسوں سے بچو ۔پانچوں وقت نماز کو قائم رکھو ۔غرضکہ کوئی ایسا حکم الٰہی نہ ہو جسے تم ٹال دو ۔بدن کو بھی صاف رکھو اور دل کو ہر ایک قسم کے بیجا کینے ،بغض و حسد سے پاک کرو۔یہ باتیں ہیں جو خد اتم سے چاہتا ہے۔دوسری با ت یہ ہے کہ کبھی کبھی آتے رہو ۔جب تک خدا نہ چاہے کوئی آدمی بھی نہیں چاہتا ۔بیکی کی تو فیق وہی دیتا ہے۔دو ضرور یا د رک۔ایک دُعا ۔دوسرے ہم سے ملتے رہنا تا کہ تعلق بڑھے اور ہماری دُعا کا اثر ہو ۔
    ابتلا ء سے کوئی خالی نہیں رہتا ۔جب سے یہ سلسلہ انبیاء اور رُسل کا چلا آرہا ہے جس نے حق کو قبول کیا ہے اس کی ضرور آزمائش ہو تی ہے ۔اسی طرح یہ جماعت بھی خالی نہ رہیگی گردو نواح کے مولوی کو شش کر یں گے کہ ہم تم اس راہ سے ہٹ جا ئو ۔تم پر کفر کے فتوے دینگے ،لیکن یہ سب کچھ پہلے ہی سے اسی طرح ہو تا چلا آیا ہے لیکن اس کی پروانہ کرنی چاہیئے جوانمرد ی سے اس کا مقابلہ کرو۔
    ثابت قدمی دکھائو
    پھر بیعت کنندگان نے منکرین کے ساتھ نماز پڑھنے کو پوچھا۔حضرت نے فر مایا کہ:۔
    ان لو گوں کے ساتھ ہر گز نہ پڑھو اکیلے پڑھ لو ۔جو ایک ہو گاوہ جلد دیکھ لے گا کہ ایک اور اس کے ساتھ ہو گیا ہے۔ثابت قدمی دکھائو ۔ثابت قدمی میں ایک کشش ہو تی ہے ۔اگر کو ئی جماعت کا آدمی نہ ہو تو نماز اکیلے پڑھ لو مگر جو اسلسلہ میں نہیں اس کے ساتھ ہرگز نہ پڑھو۔جو ہمیں زبان سے بُرا نہیں کہتا وہ عملی طور سے کہتا ہے کہ حق کو قبول نہیں کرتا ۔ہا ں ہر ایک کو سمجھاتے رہو ۔خدا کسی نہ کسی کو ضرور کھینچ لے گا ۔جو شخض نیک نظر آوے سلام علیک اس سے رکھو لیکن اگر وہ شرارت کرے تو پھر یہ بھی ترک کر دو۔
    ( البدر جلد ۲ نمبر ۴ صفحہ ۱۳ مورخہ ۱۳ فروری ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۰ فروری ۱۹۰۳؁ء
    یہ وقت دُعا اور تضرّع کا ہے
    حضرت اقدس نے فرما یاکہ وہ اخبارات جو کہ آپ کی مخالفت میں ہمیشہ خلاف واقعہ باتیں درج کر تے ہیں اور گند اور فحش بیانی ان کا کام ہے ان کو ہر گز نہ لیا جاویاور نی اُن کے مقابلہ پر اشتہار وغیرہ دیا جائے ۔یہ اُن کو ایک اور موقعہ گند بکنے کا دیتا ہے ۔یہ وقت دُعا اور تضرّع کا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ کر دے۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۴ صفحہ۲۵ مورخہ ۱۳ فروری ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۱ فر وری ۱۹۰۳؁ء بروز چہار شنبہ
    عر ش
    عرش کے متعلق ایک صاحب نے سوال کیا کہ
    ثم استوی علی العرش
    کے کیا معنے ہیں اور عرش کیا شئے ہے؟
    عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق ہو نے کی بحث عبث ہے
    فر مایا :۔اس کے بارے میں لو گوں کے مختلف خیالات ہیں کوئی تو اُسے مخلوق کہتا ہے اور کوئی غیر مخلوق لیکن اگر ہم غیر مخلو ق نہ کہیں تو پھر استوے با طل ہو تا ہے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ عر ش کے مخلو ق یا غیر مخلو ق ہو نے کی بحث ہی عبث ہے ۔ یہ ایک استعا ر ہ ہے جس میں اللہ تعا لیٰ نے اپنی اعلیٰ در جے کی بلند ی کو بیا ن کیا ہے یعنی ایک ایسا مقام جو کہ ہر ایک جسم اور ہر ایک نقص سے پا ک ہے اور اس کے مقا بلہ پر یہ دینا اور تمام عا لم ہے کہ جس کی انسا ن کو پو ر ی خبر بھی نہیں ہے ۔ ا یسے مقا م کو قد یم کہا جا سکتا ہے۔ لو گ اس میں حیر ان ہیں اور غلطی سے اسے ایک ما د ی شئے خیال کر تے ہیں اور قد ا مت کے لحا ظ سے جو اعتراض لفظ ثم کا آتا ہے ۔ تو با ت یہ ہے کہ قدامت میں ثم آجا تا ہے جیسے قلم ہا تھ میں ہو تا ہے تو جیسے قلم حر کت کر تا ہے ویسے ہاتھ حر کت کر تا ہے مگر ہا تھ کو تقدم ہو تا ہے ۔ آریہ لو گ خدا کی قدا مت کے متعلق اہل اسلا م پر اعتراض کر تے ہیں کہ انکا رخدا چھ سات ہزار بر س سے چلا آتا ہے ۔ آریہ لو گ خدا کی قدامت کے کودیکھ کر خدا کی عمر کا اندازہ کر نا نا دانی ہے ۔ ہمیں اس با ت کا علم نہیں ہے کہ آدم سے اول کیا تھا کس قسم کی مخلو ق تھی ۔ اس وقت کی با ت وہی جا نے
    کل یو م ھو فی شان
    وہ اور اس کی صفا ت قدم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم دید ے اور نہ اس کے کا م اس دینا میں سما سکتے ہیں ۔ خدا کے کلا م میں د قیق نظر کر نے سے لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابد ی ہے اور مخلو قا ت کی تر تیب اس کے از لی ہو نے کی مخالف نہیں ہے اور استعا رات کو ظا ہر پر حمل کر کے مشہودات پر لانا بھی ایک نا دا نی ہے ا سکی صفت ہے
    لا تد ر کہ الا بصا ر و ھو دد دک الا بصا ر ( سو رت الا نعا م :۱۰۴)
    ہم عر ش اور استو ی پر ایما ن لا تے ہیں اور اس کی حقیقت اور کنہہ کو خدا تعا لی کے حو الہ کر تے ہیں۔ جب دنیا وغیر ہ نہ تھی عر ش تب بھی تھا جیسے لکھا ہے
    کا ن عر شہ علی الماء (ھو د :۸)
    عرش ایک مجہول الکُنہ امر اور خُدا تعالیٰ کی تجلیات کی طرف اشارہ ہَے
    اس کے متعلق خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ ایک مجہول الکُنہ امر ہے اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے وہ
    خلق السٰمٰوت و الارض
    چاہتی تھی اس لیے وہ اوّل ہوکر پھر استوٰی علی العرش ہوا ۔اگرچہ توریت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے مگر وہ اچھے الفاظ میں نہیں ہے اور لکھا ہے کہ خدا ماندہ ہوکر تھک گیا ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے انسان کسی کام میں مصروف ہوتا ہے تو اس کے چہرہ اور خدّو خال وغیرہ اور دیگر اعضاء کا پورا پورا پتہ نہیں لگتا مگر جب وہ فارغ ہو کر ایک تخت یا چارپائی پر آرام کی حالت میں ہوتو اس کے ہر ایک عضو کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں ۔اسی طرح استعارہ کے طور پر خدا کی صفات کے ظہور کو
    ثُمَّ اسْتویٰ عَلَی الْعَرْشِ
    سے بیان کیاہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد صفات الٰہیہ کا ظہور ہوا ۔صفات اس کے ازلی ابدی ہیں مگر جب مخلوق ہوتو خالق کو شناخت کرے اور محتاج ہوں تو رازق کو پہچانیں ۔اسی طرح اس کے علم اور قادر ِ مطلق ہونے کا پتہ لگتا ہے
    ثُمَّ اسْتویٰ عَلَی الْعَرْشِ
    خدا کی اس تجلی کی طرف اشارہ ہے جو
    خلق السٰمٰوت و الارض
    کے بعد ہوئی ۔
    اسی طرح اس تجلّی کے بعد ایک اور تجلّی ہوگی جب کہ ہر شئے فنا ہوگی ۔پھر ایک اَور تیسری ہوگی کہ ا حیاء اموات ہوگا ۔غرضیکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس کے اندر داخل ہونا روا نہیں ہے ۔صرف ایک تجلّی سے اُسے تعبیر کر سکتے ہیں ۔قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عرش کو اپنی صفات میں داخل کیا ہے جیسے
    ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیدُ
    گویا خدا تعالیٰ کے کمالِ علو کو دوسرے معنوں میں عرش سے بیان کیا ہے اور وہ کوئی مادی اور جسمانی شئے نہیں ہے ورنہ زمین و آسمان وغیرہ کی طرح عرش کی پیدائش کا بھی ذکر ہوتا ۔اس لیے شُبہ گذرتا ہے کہ ہے تو شئے مگر غیر مخلوق اور یہاں سے دھوکا کھا کر آریوں کی طرف انسان چلا جاتا ہے کہ جیسے وہ خدا کے وجود کے علاوہ اَور اشیاء کو غیر مخلوق مانتے ہیں ویسے ہی عرش کو ایک شئے غیر مخلوق جُزاَز خدا ماننے لگتا ہے ۔یہ گمراہی ہے ۔اصل میں یہ کوئی شئے خدا کے وجود سے باہر نہیں ہے جنہوں نے اُسے ایک شئے غیر مخلوق قرار دیا وہ اسے اتم اور اکمل نہیں مانتے اور جنہوں نے مادی مانا وہ گمراہی پر ہیں کہ خدا کو ایک مجسم شئے کا محتاج مانتے ہیں کہ ایک ڈولے کی طرح فرشتوں نے اُسے اُٹھایا ہوا ہے ۔
    لا یئودہ حفظھما (سورۃ البقرہ:۲۵۶)
    چار ملائک کا عرش کو اُٹھانا یہ بھی ایک استعارہ ہے ۔ربّ۔ رحمٰن۔ رحیم اورمالک یوم الدین یہ صفات ِ الہٰی کے مظہر ہیں اور اصل میں ملائکہ ہیں اور یہی صفات جب ذیادہ جوش سے کام میںہوں گے تو اُن کو آٹھ ملائک سے تعبیر کیا گیا ہے جو شخص اُسے بیان نہ کر سکے وہ یہ کہے کہ یہ ایک مجہول الکُنہ حقیقت ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور حقیقت خدا کے سپرد کرے ۔اطاعت کا طریق ہے کہ خدا کی باتیں خدا کے سپرد کرے اور ان پر ایمان رکھے ۔اور اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کی تجلّیات ثلٰثہ کی طرف اشارہ ہے ۔
    کَانَ عَرْشُہٗ عَلیَ الْمَٓائِ کی کُنَہ خدا ہی کو معلوم ہے
    کَانَ عَرْشُہٗ عَلیَ الْمَٓائِ
    یہ بھی ایک تجلّی تھی اور ماء کے معنے یہاں پانی بھی نہیں کر سکتے خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے یہاں کیا معنے ہیں ۔اس کی کُنہ خدا کو معلوم ہے ۔جنت کے نعماء پر بھی ایسا ہی ایمان ہے ۔وہاں یہ تو نہ ہوگا کہ بہت سی گائیں بھینسیں ہوں گی اور دُودھ دوہ کر حوض میں ڈالا جائے گا ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اشیاء ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سُنیں اور نہ زبان نے چکھیں ،نہ دل میں اُن کے فہم کا مادہ ہے ۔حالانکہ اُ ن کو دُودھ اور شہد وغیرہ ہی لکھا ہے جو کہ آنکھوں سے نظر آتا ہے اور ہم اُسے پیتے ہیں ۔ اسی طرح کئی باتیں ہیںجوکہ ہم خود دیکھتے ہیں مگر نہ تو الفاظ ملتے ہیں کہ اُن کو بیان کر سکیں نہ اُس کے بیان کرنے پر قادرہیں ۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر اُن کو مادی دُنیا پر قیاس کریں تو صدہا اعتراضات پیدا ہوتے ہیں ۔
    من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (سورۃ بنی اسرائیل :۷۳)
    سے ظاہر ہے کہ دیدار کا وعدہ یہاں بھی ہے مگر ہم اُسے جسمانیات پر حمل نہیں کرسکتے۔
    (البدر جلد۲ نمبر ۵ صفحہ ۳۷۔۳۸ مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۳ فر ور ی ۱۹۰۳ء؁
    صدقہ اور دعا سے بَلاٹل جا تی ہے
    بعدادایئگی جمعہ گر دونو اح کے لو گو ں نے بیعت کی اور حضر ت اقد س نے ان کے لیے ایک مختصر تقر یر نما ز روز ہ کی پا بند ی اور ہر ایک ظلم و غیر ہ سے بچنے پر فر ما ئی کہ اپنے گھر وں میں عو رتو ں لڑکو ں سب کو نیکی کی نصیحت کر یں اور جیسے در ختو ں اور کھیتو ں کو اگر پو را پا نی نہ دیا جا ئے تو پھل نہیں لا تے ۔ اسی طر ح جب تک نیکی کا پانی دل کو نہ دیا جا ئے تووہ بھی انسا ن کے لیے کا م نہیں ہو تا ۔ جو نیک بن جا تا ہے اس پر یہ طا عو ن نہیں پڑتی مو ت تو سب کو آتی ہے اور اس کا دروز ہ بند نہیں ہوتا ۔ مگر جن میں ایک قہر کی بو ہو تی ہے ونہیں ہوتی ہنسی اور ٹھٹھے کی مجلسوں سے پر ہیز کی تا کید فر ما ئی ۔ ابنیاء کی وٓیت یا د دلا ئی کہ صد قا اور دعا سے ما ل اور بد ن سے کسی کی خد مت کر دینی یہ بھی صد قہ ہے ۔
    ( البدر جلد ۲ نمبر ۶ صفحہ ۴۴ مو رخہ ۲۷فر وری ۱۹۰۳ء ؁ )
    دربار شام
    ایک نووارداور حضرت اقدس علیہ السّلام
    ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء ؁ کو ایک ڈاکٹر صاحب ا ؎ لکھنو سے تشریف لائے بقول اُنکے وہ بغدادی الاصل ہیں اور اب عرصہ سے لکھنو میں مقیم ہیں ۔اُن کے چند احباب نے اُن کو حضرت حجۃ اللہ علیہ السّلام کی خدمت میں بغرض دریافت حال بھیجا ہے چناچہ وہ بعد مغرب حضرت اقدس علیہ السّلام کے حضور حاضر ہوئے اور شرفِ ملاقات حاصل کیا جو گفتگو آپ سے ہوئی ہم اس کو ذیل میں درج کرتے ہیں ۔ (ایڈیٹر الحکم )
    حضرت اقدس ۔ آپ کہاں سے آئے ہیں ؟
    نووارد ۔ مَیں اصل رہنے والا بغداد کا ہوں مگر اب عرصہ سے لکھنو میں رہتا ہوں ۔وہاں کے چند آدمیوں نے مجھے مستعد کیا کہ قادیان جاکر کچھ حالات دیکھ آئیں ۔
    حضرت اقدس۔ امرت سر میں آپ کتنے دن ٹھہرے؟
    نووارد۔ پانچ چھ روز۔
    حضرت اقدس۔ کیا کام تھا ؟
    نووارد۔ محض یہاں کے حالات معلوم کرنا اور راستہ وغیرہ کی واقفیت حاصل کرنا ۔
    حضرت اقدس ۔ کیا آپ کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں گے؟
    نووارد۔ کل جائوں گا ۔
    حضرت اقدس ۔ آپ دریافت حالات کے لیے آئے اور کل جایئں گے اس سے کیا فائدہ ہوا ؟ یہ تو صرف آپ کو تکلف ہوئی ۔دین کے کام میں آہستگی سے دریافت کرنا چاہیئے تاکہ وقتاً فوقتاً بہت سی معلومات ہوجائیں ۔جب وہاں آپ کے دوستوں نے آپ کو منتخب کی اتھا تو آپ کو یہاں فیصلہ کرنا چاہیئے ۔جب آپ ایک ہی رات کے بعد چلے جائیں گے تو آپ کیا رائے قائم کرسکیں گے؟ اب ہم نماز پڑھ کر چلے جائیں گے ۔ آپ کو کو موقعہ ہی نہ ملا ۔
    اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے
    کونو مع الصادقین (سورۃ التوبہ:۱۱۹)
    کہ صادقوں کیساتھ رہو یہ معیت چاہتی ہے کہ کسی وقت تک صُحبت میں رہے کیو نکہ جب تک ایک حد تک صحبت میں نہ رہے وہ اسرار اور حقائق کُھل نہیں سکتے ۔وہ اجنبی کا اجنبی اور بیگانہ ہی رہتا ہے اور کوئی رائے قائم نہیں کر سکتا ۔
    نووارد۔ مَیں جو کچھ پوچھوں آپ اس کا جوب دیں ۔اس سے ایک رائے قائم ہوسکتی ہے ۔جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے انہوں نے تقیہ ۲؎ تو کیا نہیں کہ جاکر دیکھوں ۔آپ چونکہ ہمارے مذہب میں ہیں اور آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے اس کا دریافت کرنا ہم پر فرض ہے ۔
    حضرت اقدس ۔ بات یہ ہے کہ مذاق ،تمسخر صحتِ نیت میں فرق ڈالتا ہے اور ماموروں کیلیئے تو یہ سُنت چلی آئی ہے کہ لوگ ان پر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں مگر حسرت ہنسی کرنے والوں ہی پر رہ جاتی ہے ۔چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا ہے
    یحسرۃ علی العباد ما یا تیھم من رسول الا کانو بہ یستھزء ون (لیٰس:۳۱)
    ناواقف انسان نہیں جانتا کہ اصل حقیقت کیا ہے ۔ وہ ہنسی اور مذاق میں ایک بات کو اُڑا نا چاہتا ہے مگر تقویٰ ہے جو اسے راہِ حق کی طرف رانمائی کرتا ہے ۔
    میرا دعویٰ ایسا نہیں رہاجو اَب کسی سے مخفی ہو ۔اگر تقویٰ ہو تو اس کے سمجھنے میں بھی اب مشکلات باقی نہیں رہیں ۔اس وقت صلیبی غلبہ حد سے بڑھا ہوا ہے اور مسلمانوں کا ہر امر میں انحطاط ہورہا ہے ۔ایسی حالت میں تقویٰ کا یہ تقاضا ہے اور وہ یہ سبق دیتا ہے کہ تکذیب میں مستعجل نہ ہو ۔ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے وقت یہود نے جلدی کی اور غلطی کھائی اور انکار کر بیٹھے نتیجہ یہی ہوا کہ خدا کی *** اور غضب کے نیچے آئے ۔ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے وقت عیسائیوں اور یہودیوں نے غلطیاں کھائیں اور انکار کر دیا اور اس نعمت سے محروم رہے جو آپ لے کر آئے تھے ۔تقویٰ کا یہ لازمہ ہونا چاہیئے کہ ترازو کی طرح حق و انصاف کے دونوں پلّے برابر رکھے ۔اسی طرح اب ایسا زمانہ آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دُنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا تو اسی طرح مخالفت کا شوراُٹھا جیسے شروع سے ہوتا ٓیا ہے ،یہی مولوی جو اَب منکر ہیں اور کُفر کے فتوے دیتے ہیں میرے معبوث ہونے سے پہلے یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر بیان کیا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی بہت خراب ہے جس سے بھیڑیوں نے بھی پناہ مانگی ہے اور اب چودھویں صدی آئی ہے جس میں مسیح اور مہدی آئیگا اور ہمارے دُکھوں کا علاج ہوگا یہاں تک کہ اکثر اکابرینِ امت نے آنے والے کو سلام کی وصیت کی اورسب نے یہ تسلیم کیا کہ جس قدر کشوف اہل اللہ کے ہیں وہ چودھویں صدی سے آگے نہیں جاتے مگر جب وہ وقت آیا اور آنے والا آگیا تو وہی زبانیں انکار اور سبّ وشتم کے لیے تیز ہوگئیں ۔تقویٰ کم از کم تصدیق اور تکذیب کے دونوپہلو برابر رکھتے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بدوں نصوصِ قرآنیہ وحد یثیہ اور دلائل قویہّ عقلیہ وتائیدات سماویہ کے مان لیں۔مگر ہم یہ افسوس سے ظاہر کر تے ہیں کہ وہ مسلان جن کو قرآن شریف میں سورہ فاتحہ کے بعد ہی
    ھدی للمتقین سکھایا گیاتھا اور جن کو یہ تعلیم دی گئی تھی
    ان اولیا ء ہ الا المتقون(انفال :۳۵)اور جن کو بتایا گیا تھا
    انما یتقبل اللہ من المتقین
    ان کو کیا ہو گیا ہے کہ انہو ں نے اس معاملہ میں اسقدر جلد بازی سے کا م لیا اور تکفیر اور تکذیب کے لئے دلیر ہو گئے ۔ان کا فر ض تھا کہ وہ میرے دعاوی اور دلائل کو سنتے اور پھر خدا سے ڈر کر اُن پر غور کر تے ۔کیا ان کی جلد بازی سے یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ انہوں نے تقویٰ سے کا م لیا ہے جلد بازی اور تقویٰ کبھی دو نو اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔نبیو ں کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہا
    فاصبر کما صبراولو العزم
    پھر عام لو گوں کو کس قدر ضرورت تھی کہ وہ تقویٰ سے کا م لیتے اور خدا سے ڈرتے ۔
    باوجودیکہ علماء کی اگر میرے دعویٰ سے پہلے کی کتا بیں دیکھی جا تی ہیں تو اُن سے کس قدر انتظار اور شوق کا پتہ لگتا ہے گویا وہ تیرھویں صدی کے علامات سے مضطرب اور بے قرار ہو رہے ہیں مگر جب وقت آیا تو اول الکافرین ٹھہرتے ہیں ۔وہ جانتے تھے کہ ہمیشہ کہتے آتے تھے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد اصلاح فساد کے لئے آتا ہے اور ایک رُوحانی طبیب مفاسد موجودہ کی اصلاح کے لئے بھیجا جا تا ہے ۔اب چاہیئے تو یہ تھا کہ صدی کا سرپا کر وہ انتظار کرتے ۔ضرورت کے لحاظ سے ان کو مناسب تھا کہ ایسے مجدد کا انتظار کرتے جو کسر صلیب کے لئے آتا کیو نکہ اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہی ہے۔ایک عام آدمی سے اگر سوال کیا جاوے کہ اس وقت بڑا فتنہ کونسا ہے؟ تو وہ یہی جواب دیگا کہ پادریوں کا۔۳۰ لاکھ کے قریب تو اسی ملک سے مرُ تد ہو گیا ۔اسلام وہ مذہب تھا کہ ا گر ایک بھی مُرتد ہو تا تو قیامت آجا تی اسلام کیا اور ارتداد کیا ؟ایک طرف اس قدر لوگ مُرتد ہو گئے دوسری طرف اسلام کے خلاف جو کتا بیں لکھی گئی ہیں اُن کو جمع کریں تو کئی پہاڑ بنتے ہیں بعض پرچے ایسے ہو تے ہیں کہ کئی کئی لاکھ شائع ہو تے ہیں اور ان میں پیغمبر خدا ﷺ کی ہتک کے سوا اور کچھ نہیں ہو تا بتائو ایسی حالت اور صورت میں
    انا لہ لحا فظون
    کا وعدہ کہاں گیا؟اس نے وہ گالیاں سیّد المعصومین کی نسبت سنیں جن سے دُنیا میں لرزہ پڑگیا مگر اُسے غیرت نہ آئی اور کوئی آسمانی سلسلہ اس نے قائم نہ کیا؟کیا ایسا ہو سکتا تھا ۔جب چنداں بگاڑ نہ تھا تو مجدّد آتے رہے اور جب بگا ر حد سے بڑھ گیا تو کوئی نہ آیا ۔سو چو تو سہی ۔کیا عقل قبول کرتی ہے کہ جس اسلام کے کے لئے یہ وعدے اور غیرت خداتعالیٰ نے دکھائی جس کے نمونے صدرِ اسلام میں موجود ہیں تو اب ایسا ہوا کہ نعوذ بااللہ مر گیا ۔اب اگر پادری یا دوسرے مذاہب کے لوگ پو چھیںکہ کیا نشان ہے اس کی سچائی کا تو بتائو قِصّہ کے سوا کیا جواب ہے جیسے ہندو کوئی پستک پیش کر دیتے ہیں ویسے ہی یہ چند ورق لیکر آگے ڈال سکتے ہیں ۔بڑی بات یہ کہ معجزات کے لئے چند حدیثیں پیش کر دیں مگر کوئی کب مان سکتا ہے کہ ڈیڑھ سو برس بعد کے لکھے ہوئے واقعات صحیح ہیں ۔مخالف پر حجت کیو نکر ہو۔ وہ تو زندہ خدا اور زندہ معجزہ کو مانے گا۔
    اس وقت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اور خرابیوں کے علاوہ اسلام کو بھی مردہ مذہب بتایا جاتا ہے حالانکہ نہ وہ کبھی مُردہ ۱؎ ہو گا ۔خداتعالیٰ نے اس کی زندگی کے ثبوت میں آسمان سے نشان دکھائے ۔کسوف خسوف بھی ہوا طاعون بھی آئی۔حج بھی بند ہو ا ۔
    واذاالعشار عطلت (التکویر:۵)
    کے موافق ریلیں بھی جاری ہوئیں ۔غرض وہ نشان جو اس زمانہ کے لئے رکھے تھے پورے ہوئے مگر یہ کہتے ہیں ابھی وہ وقت نہیں آیا۔
    ما سو ا اس کے وہ نشا ن ظاہر کئے تھے جن کے گواہ صر ف ہما ری جما عت کے لوگ ہیں ۔ بلکہ ہند و ا ور عیسائی بھی گو اہ ہیں اور اگر وہ د یانت ا ما نت کو نہ چھو ڑ یں تو ان کو سچی گو اہی د ینی پڑ ے گی ۔ میں نے با ر ہا کہا ہے کہ صاد ق کی شنا خت کے تین بڑے میعا رہیں۔ اول نصو ص کو د یکھو ۔ پھر عقل کہ کیا حا لا ت مو جو دہ کے مو افق کسی صادق کو آنا چا ہیئے یا نہیں ؟ تیسر ا کیا اس کی تا ئیدمیں کو ئی معجزات اور خو ارق بھی ہیں ؟ مثلاپیغمبر خدا ﷺ کے لئے د یکھتے ہیں کہ تو ر یت ا نجیل میں بشارات مو جو د ہیں ، یہ تو نصو ص کی شہا دت ہے اور عقل اس واسطے موید ہے کہ اس وقت نحر وبر میں فسا د تھا گو یا نبو ت کا ثبوت ایک نص یھا دوسر ا ضر ور ت تیسر ے وہ معجزات جوآپ سے صادر ہو ئے ۔
    اب اگر کو ئی سچے دل سے طا لب حق ہو تو اسکو یہی با تیں یہا ں د یکھنی چا ہئیں اور اس کے مو افق ثبو ت لے ۔ اگر نہ پا ئے تو تکذیب کا حق اسے حا صل ہے اور اگر ثا بت ہو جا ئیں اور ہو پھر بھی تکذیب کرے تو میر ی نہیں کل انبیاء کی تکذیب کرے گا ۔
    نو وارد ۔ اگر ان ضروریات کی بنا ء پرکوئی اور دعویٰ کرے کہ میں عیسیٰ ہوں تو کیا فرق ہو گا ؟
    حضرت اقدس ۔ یہ فرضی بات ہے ایسے شخص کا نام لیں ۔اگر یہی بات ہے کہ ایک کاذب بھی کہہ سکتا ہے تو پھر آپ اس اعترض کا جواب دیں کہ اگر مسیلمہ کذّاب کہتا کہ تورت اور انجیل کی بشارت کا مصداق میَں ہوں تو آپ آنحضرت ﷺ کی سطائی کے لئے کیا جواب دینگے ؟
    نو وارد ۔ میں نہیں سمجھا ۔
    حضرت اقدس ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح ہوسکتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے وقت بھی تا بعض جھوٹے نبی مو جود تھے جیسے مسیلمہ کذّاب ،اسود عنسی ۔اگر انجیل اور توریت میں بشارت آنحضرت ﷺ کی موجود ہیں اسلے موافق یہ کہتے کہ یہ بشارت میرے حق میں ہیں تو کیا جواب ہو سکتا تھا؟
    نو وارد ۔ میں اس کو تسلیم کر تا ہوں
    حضرت اقدس ۔ یہ سوال اس وقت ہو سکتا تھا جب ایک ہی جزوپیش کرتا مگر میَں تو کہتا ہوں کہ میری تصدیق میں دلائل کا ایک مجموعہ میرے ساتھ ہے نصوصِ قرآنیہ حدیثیہ میری تصدیق کرتے ہیں ضرورتِ موجودہ میرے وجود کی داعی اور وہ نشان جو میرے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں وہ الگ میرے مصّدق ہیں ۔ہر ایک نبی ان امور ثلٰثہ کو پیش کر تا رہا ہے اور میں بھی یہی پیش کرتا ہوں ۔پھر کس کو انکار کی گنجائش ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ میرے لئے ہے تو اُسے مقابلہ میں پیش کرو۔
    (ان فقرات کو حضرت اقدس علیہ الصلٰوۃ السلام نے ایسے جوش سے بیان کیا کہ وہ الفاظ میں ادا ہی نہیں کرسکتا نتیجہ یہ ہو ا کہ یہاں نووارد صاحب بالکل خاموش ہو گئے اور پھر چند منٹ کے بعد انہوں نے اپنا سلسلہ کلام یوں شروع کیا۔)
    نو وارد ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے کیا یہ صحیح ہے؟ ۱ ؎
    حضرت اقدس ۔ آنحضرت ﷺ کے لئے جو آیا ہے کہ آپ مثیل موسیٰ تھے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے عصا کا سانپ بنایا ہو ۔کا فر یہی اعتراض کرتے رہے ۔
    فلیا تنا با یۃ کما ارسل الا ولون(الانبیاء:۶)
    معجزہ ہمیشہ حالتِ موجودہکے موافق ہو تا ہے ۔پہلے نشانات کافی نہیں ہو سکتے اور نہ ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے نشان کا فی ہو سکتے ہیں ۔
    نو وارد ۔ اس وقت آپ کے پاس کیا معجزہ ہے؟
    حضرت اقدس ۔ ایک ہو توبیان کروں ۔ڈیڑھ سو کے قریب نشان میں نے اپنی کتاب میں لکھے ہیں جنکے ایک لاکھ کے قریب گواہ ہیں اور ایک نوع سے وہ نشانات ایک لاکھ کے قریب ہیں ۔
    نو وارد ۔ عربی میں آپ کا دعویٰ ہے کہ مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا۔
    حضرت اقدس ۔ ہاں
    نو وارد ۔ بے ادبی معاف ۔آپ کی زبان سے قاف ادا نہیں ہو سکتا ۔
    حضرت اقدس ۔ یہ بہیودہ با تیں ہیں ۔ ۱؎ میَں لکھنئو کا رہنے والا ہوں کہ میرا لہجہ لکھنوی ہو میَں تو پنجابی ہو ں ۔حضرت مو سیٰ پر بھی یہ اعتراض ہو اکہ
    لا یکا دیبین
    اوراحادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہو گی ۔ (اس مقام پر ہمارے ایک مخلص مخدوم کو یہ اعتراض حسنِ ارادت اور غیرت ِ عقیدہ کے سبب سے ناگوار گزرا۔اوت وہ سُوئِ ادبی کو برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے کہا کہ یہ حضرت اقدسؑ کا ہی حوصلہ ہے ۔اس پر نو وارد صاحب کو بھی طیش سا آگیا اور انہوں نے بخیال خویش یہ سمجھا کہ انہوں نے غصّہ سے کہا ہے اور کہا کہ میں اعتقاد نہیں رکھتااور حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر کہا کہ استہزاء اورگالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔ )
    حضرت اقدس ۔ہم ناراض نہیں ہو تے یہاں تو خاکساری ہے
    نو وارد ۔ میَں تو
    و لکن لیطمئن قلبی (بقرہ :۲۶۱)
    کی تفسیر چاہتا ہوں ۔
    حضرت اقدس ۔ میں آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں مگر اللہ جلّشانہ‘ نے اطمنان کا ایک ہی طریق نہیں رکھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور حضرت عیسیی علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور آنحضرت ﷺ کو اور قسم کے نشان بخشے ۔میرے نزدیک وہ شخص کذاب ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میَں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور کوئی معجزہ اور تائیدات اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔مگر یہ بھی ہیرا مذہب نہیں کہ معجزات ایک ہی قسم کے ہو تے ہیں اورمیں اس کا قائل نہیں کیو نکہ قرآن شریف سے یہ امر ثابت نہیں کہ ہر ایک اقتراح کا جواب دیا جاتا ہے ۔مداری ۲؎ کی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا ۔آنحضرت ﷺ سے سوال کئے گئے کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے کتاب لے آئیں یا یہ کہ تمہارا سونے کا گھر ہو یا یہ کہ مکہ میں نہر آجائے مگر ان کا جواب کیا ملا؟ یہی
    ھل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل :۹۴)
    انسان کو مئودب بادب انبیاء ہو ناچاہئیے ۔خداتعالیٰ جو کچھ دکھا تا ہے انسان اس کی مثل نہیں لا سکتا میری تائید میں ایک نوع سے ڈیڑھ سو اور ایک نوع سے ایک لاکھ نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔ ۳؎
    حضرت اقدس ۔ اچھا کیا آپ نے دو تین روز کا مصمّم ارادہ کر لیا ہے؟
    نو وارد ۔ کل عرض کرونگا۔
    حضرت اقدس ۔ میں چاہتا ہو ں کہ آپ دور دراز سے آئے ہیں کچھ واقفیت ضرور ہو نی چاہئیے ۔کم از کم تین دن آپ رہ جائیں ۔میَں یہی نصیحت کر تا ہو ں اور اگر اور نہیں تو آمدن بارادت ورفتن باجازت ہی پر عمل کریں ۔
    نو وارد ۔ میَں نے یہاں آکر اوّل دریا فت کر لیا تھا کہ کوئی امر شرک کا نہیں ۔اس لئے میَں ٹھہر گیا کیو نکہ شرک سے مجھے سخت نفرت ہے۔
    حضرت اقدس ۔ نے پھر جماعت کو خطاب کر کے فر ما یا کہ
    میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سبّ وشتم تک بھی نو بت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کر نا چاہیئے کیو نکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مرید وں سے چاہتے ہیں ۔یہ بھی ہم انکا احسان سمجھتے ہیں کہ نر می سے بات کریں۔ ۱؎
    پیغمبرِ خداﷺ نے فرمایا ہے کہ زیارت کر نیوالے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیّت میں داخل ہے ۔اس لئے میں چاہتا ہو ں کہ آپ ٹھہریں ۔چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔ (الحکم جلد۷ نمبر ۷ صفحہ ۳تا۵ مورخہ ۲۱ فروری۱۹۰۳؁ء)
    ۱۴ فروری ۱۹۰۳؁ء
    ( صبح کی سیر)
    چونکہ نوارد کو پوری طرح تبلیغ کرنا حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کا منشاتھا لہذا سیر میں بھی اس کوخطاب کر کے آپ نے سلسلہ تقریر شروع فرمایا ۱؎ (ایڈیٹر الحکم)
    مامور کے آنے پر دو گروہ ہو جاتے ہیں
    مَیں نے بہت غور کیا ہے کہ جب کوئی مامو ر آتا ہے تو دو گروہ خودبخود ہو جا تے ہیں ایک موافق دوسرا مخالف اور یہ بات بھی ہر ایک عقلِ سلیم رکھنے والا جانتا ہے کہ اس وقت ایک جذب اور ایک نفرت پیدا ہو جا تی ہے یعنی سعید الفطرت کھچے چلے آتے ہیں اور جو لوگ سعادت سے حصّہ نہیں رکھتے ان میں نفرت بڑھنے لگتی ہے۔یہ ایک فطرتی بات ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا ۔
    طبیب اس امر کو بخو بی سمجھ سکتا ہے کہ اس سے وہی شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو اوّل اپنے مرض کو شناخت کرے اور محسوس کریکہ میں بیمار ہو ں اور پھر یہ شناخت کرے کہ طبیب کون ہے ؟جب تک یہ دو با تیں پیدا نہ ہوں وہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا ۔یہ بھی یا د رہے کہ مر ض دو قسم کے ہو تے ہیں ۔ایک مرض مختلف ہو تا ہے جیسے قولنج کا درد یعنی جو محسوس ہو تا ہے اور ایک مستوی جیسے برص کے داغ کہ ان کا کوئی درد اور تکلیف بظاہر محسوس نہیں ہو تی ۔انجام خطر نا ک ہو تا ہے مگر انسان ایسی صورتوں میں ایک قسم کا اطمینان پا تا ہے اور اس کی چنداں فکر نہیں کر تا ۔اس لئے ضروری ہے کہ انسان اوّل اپنے مرض کو شناخت کرے اور اُسے محسوس کرے پھر طبیب کو شناخت کرے بہت سے لوگ ہو تے ہیں جو اپنی معمولی حالت پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ ۱؎
    ّّیہی حال اس وقت ہو رہا ہے ۔اپنی حالت پر خوش ہیں اور کہتے ہیں مہدی کی کیا ضرورت ہے حالانکہ خدادانی اور معرفت سے بالکل خالی ہو رہے ہیں ۔
    خدادانی اور معرفت بہت مشکل امر ہے ۔ہر چیز اپنے لوازمات کے ساتھ آتی ہے پس جہاں خدادانی آتی ہے اس کے ساتھ ہی ایک خاص معرفت اور تبدیلی بھی آجا تی ہے کبائر اور صغائر جو چیونٹیوں کی طرح ساتھ لگے ہوئے ہیں خداکی معرفت کیساتھ ہی وہ دور ہو نے لگتے ہیں یہانتک کہ وہ محسوس کر تا ہے کہ اب میں وہ نہیں بلکہ اور ہوں ۔خدادانی میں جب ترقی کرنے لگتا ہے تو گناہ سے بیزاری اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے یہانتک کہ اطمینان کی حالت میں پہنچ جاتا ہے
    نفس کی تین قسمیں
    نفس تین قسم کے ہو تے ہیں ،ایک نفسِ امّارہ ؔ ایک لوامہ اور تیسرا مطمئنّہ پہلی حالت میں صم ’‘ بکم’‘ ہوتا ہے کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہو تا کہ کدھر جا رہا ہے امّارہ ؔ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے ۔اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تا ہے تو معرفت کی ابتدائی حالت میں لوامہؔکی حالت پیدا ہو جا تی ہے اور گناہ اور نیکی میںفرق کر نے لگتا ہے۔ گناہ سے نفرت کر تا ہے مگر پو ری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔ نیکی اور شیطا ن سے ا یک قسم ہو تا ر ہتا ہے ۔ یہانتک کہ کبھی یہ غا لب ہو تا ہے اور کبھی مضلو ب ہو تا ہے ر فتہ رفتہ وہ حا لت آجا تی ہے ۔کہ یہ مطمئنّہ کے رنگ میںآجا تا ہے اور پھر گنا ہو ں سے نر می نفر ت ہی نہیںہو تی بلکہ گنا ہ کی لڑائی میں یہ فتح پا لیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلف صادر ہو نے لگتی ہیں ۔ پس اس اطمینا ن کی حا لت پر پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے لو امہ کی حا لت پیدا ہو اور گنا ہ کی شنا خت ہو حقیقت میں بہت بڑی با ت ہے جو اُس کو شناخت نہیں کر تا اس کا علا ج نبیو ں کے پا س نہیں ہے ۔ ۱ ؎ نیکی کا پہلا دروزاہ اسی سے کھلتا ہے( کہ) اول اپنی کو رانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بُری مجلس اور بُر ی صحبت کو چھو ڑکر طبیب کے پا س رہے اور جو کچھ وہ اس کو بتا وے اس پر عمل کر نے کے لیے ہمہ تن تیا ر ہو ۔ د یکھو بیما ر جب کسی طبیب کے پا س جا تا ہے تو یہ نہیں ہو تا کہ وہ طبیب کے سا تھ مبا حثہ شروع کر دے بلکہ اس کا فر ض یہی ہے وہ اپنامر ض پیش کرے اور جو کچھ طبیب اس کو بتائے ۲؎اس سے وہ فا ئد ہ اُٹھا ئے گا ۔اگراُس کے علا ج پر جر ح شروع کردے تو فا ئدہ کس طر ح ہو گا ۔
    انسان کی پید ائش کی علّتِ غائی ۔
    انسا ن کا فر ض ہے کہ اس میں نیکی کی طلب صاد ق ہو اور وہ اپنے مقصد زندگی کو سمجھے قر آن شر یف میں انسا ن کی زندگی کا مقصد یہ بتا یا گیا ہے ۔
    ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۔ (الذار یا ت ذ:۵۷ )
    یعنی جن اور انسا ن کو اس لیے پید ا کیا ہے کہ وہ میری عبا د ت کر یں۔ جب انسا ن کی پیدائش کی علت غائی یہی ہے تو پھر چا ہیئے کہ خدا کو شنا خت کر یں ۔ جب کہ انسا ن کی پیدائش کی علت غا ئی یہ ہے کہ وہ خدا تعا لیٰ کی عبا دت کرے اور عبا دت کے واسطے اول معرفت کا ہونا ضروری ہے ۔ جب سچی معرفت ہو جا وے تب وہ اس کی خلا ف مر ضی کو تر ک کرتا اور سچا مسلما ن ہو جا تا ہے ۔ جب تک سچا علم پیدا نہ ہو کو ئی مفید نتیجہ پیدا نہیں ہو تا ۔ دیکھو جن چنروں کے نقصان کو انسا ن یقینی سمجھتا ہے ان سے بجتا ہے مثلاً سم الفارہے جا نتا ہے کہ یہ ز ہر ہے اس لیے اس کو استعمال کر نے کیلے جرات اور دلیر ی نہیں کر تا کیونکہ جا نتا ہے کہ اس کا کھا نا مو ت کے منہ میں جا نا ہے ۔ ایسا ہی کسی زہر یلے سا نپ کے بل میں ہا تھ نہیں ڈالتا۔ یا طا عون والے گھر میں نہیں ٹھہرتا اگر چہ جا نتا ہے کہ جو کچھ ہو تا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اشارے سے ہوتا ہے تاہم وہ ایسے مقامات میں جانے سے ڈرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ پھر گناہ سے کیوں نہیں ڈرتا؟ ۱؎
    انسان کے اندر بہت سے گناہ ایسی قسم کے ہیں کہ وہ معرفت کی خوردبین کے سوا نظر ہی نہیں آتے جُوں جُوں معرفت بڑھتی جاتی ہے انسان گناہوں سے واقف ہوتا جاتا ہے بعض صغائر ایسی قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ اُن کو نہیں دیکھتا لیکن معرفت کی خوردبین اُن کو دکھا دیتی ہے ۔
    غرض اوّل گناہ کا علم ہوتا ہے ۔پھر وہ خدا جس نے
    من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ (الزلزال:۸)
    (فرمایا ہے)اس کو عرفان بخشتا ہے ،تب وہ بندہ خدا کے خوف میں ترقی کرتا اور اس پاکیزگی کو پالیتا ہے جو اس کی پیدائش کا مقصد ہے ۔
    جماعت کے قیام کی غرض
    اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ تقویٰ کم ہوگیا ہے ۔بعض تو کُھلے طور پر بے حیایئوں میں گر فتار ہیں اور فسق وفجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکیکی مُلونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا سا زہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہوجاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے (گناہ)ریاکاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک ۲؎ ہوتی ہیں اُن میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کی اہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے ۔اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے ۔وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اسکامنشاء ہے ۔
    ایک پہلو تو میری بعثت اور ماموریت کا یہ ہے ۔دوسرا پہلو کسرِ صلیب کا ہے ۔کسرِ صلیب کے لیے جسقدر جوش خُدا نے مجھے دیا ہے اس کا کسی دوسرے کو علم نہیں ہوسکتا ۔صلیبی مذہب نے جو کچھ نقصان عورتوں مردوں اور جوانوں کو پہنچایا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ۔ ۳؎ہر پہلو سے اسلام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ طبابت کے رنگ میں یا صدقات وغیرہ کے رنگ میں ،عہدہ دار ہو تب ولیم میور کی طرح اپنے رنگ میں ۔غرض صد ہا شا خیں ہیں جو اسلام کے استیصال کے لیے انہوں نے اختیار رکھی ہیں ،یہ دل سے چاہتے ہیں کہ ایک فرد بھی اسلام کا نام لینے والا باقی نہ رہے اور آنحضرتﷺ کوماننے والا کوئی نہ ہو ۔ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں اُن کے جوش کو بیان کر سکیں ۔
    ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے وہ جوش کسرِ صلیب کے لیے دیا ہے کہ دُنیا میں اس وقت کسی اَور کو نہیں دیا گیا پھر کیا ی جوش بدوں خدا کی طرف سے مامور ہوکر آنے سے پیدا ہو سکتا ہے ؟
    جس قدر توہین اللہ تعالیٰ کی اور اس کے پاک رسول ﷺ کی گئی ہے کیا ضرور نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جو غیور ہے آسمان سے مدد کرتا ۔
    غرض ایک طرف تو یہ صلیبی فتنہ انتہا ء کو پہنچا ہو اہے ۔دوسری طرف صدی ختم ہوگئی ،تیسری طرف اسلام کا ہر ایک پہلو سے ضعیف ہونا، کسی طرف نظر اُٹھا کر دیکھو طبیعت کو بشاشت نہیں ہوتی ۔ایسی صورت میں ہم چاہتے ہیں کہ پھر خدا کا جلال ظاہر ہو ۔مجھے محض ہمدردی سے کلام کرنا پڑتا ہے ورنہ مَیں جانتا ہوں کہ غائبانہ میری کیسی ہنسی کی جاتی ہے اور کیا کیا افتراء ہوتے ہیں۔ مگر جو جوش خدا تعالیٰ نے مجھے ہمدردی مخلوق کا دیا ہوا ہے وہ مجھے ان باتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا ۔مَیں دیکھتاہوں کہ میرا مولا میرے ساتھ ہے ۔ایک وقت تھا کہ ان راہوں میں مَیں اکیلا پھرا کرتا تھا۔اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ تو اکیلا نہ رہے گا بلک تیرے ساتھ فوج درفوج لوگ ہوں گے۔ اور یہ بھی کہا کہ تو ان باتوں کو لکھ لے اور شائع کر دے کہ آج تیری حالت ہے پھر نہ رہے گی ۔مَیں سب مقابلہ کرنیوالوں کو پست کر کے ایک جماعت کو تیرے ساتھ کردُونگا ۔وہ کتا ب موجود ہے مکّہ معظمہ میں بھی اس کا ایک نسخہ بھیجا گیا تھا۔بخارا میں بھی اور گورنمنٹ کو بھی اس میں جو پیشگوئیاں ۲۲ سال پیشتر چھپ کر شائع ہوئی ہیں وہ آج پوری ہورہی ہیں ۔کون ہے جو ان کا انکار کرے ۔ہندو مسلمان اور عیسائی سب گواہی دیں گے کہ یہ اس وقت بتایا گیا تھا جب مَیں اَحَد من الناس تھا ۔اس نے مجھے بتایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مخالفت ہوگی مگر مَیں تجھے بڑھائوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اب ایک آدمی سے پونے دو لاکھ تک تو نوبت پہنچ گئی دوسرے وعدے بھی ضرور پورے ہوں گے
    لیکھرام کے متعلق نشان
    پھر آریوں کے مقابل میں ایک نشان مجھے دیا گیا جو لیکھرام کے متعلق تھا وہ اسلام کا دشمن تھا اور گندی گالیاں دیا کرتا اور پغمبرخدا ﷺ کی توہین کرتا تھا۔ یہاں قادیان آیا اور اس نے مجھ سے نشان مانگا میں نے دعا کی تو اللہ نے مجھے خبر دی چناچہ میں نے اس کو شائع کردیا اور یہ کوئی بات نہیں کل ہندوستان اس کو جانتا ہے کہ جس طرح قبل از وقت اس کی موت کا نقشہ کھنچ کر دکھایا گیا تھا اسی طرح پورا ہو گیا۔ اس کے علاوہ بہت سے نشانات ہیں جو ہم نے اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں اور اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا خدا تھکنے والا خدا نہیں وہ تکذیب کرنے والوں کے لیے ہر وقت تیار ہے مہں نے پنجاب کے مولویوں اور پادریوں کو ایسی دعوت دی ہے کہ وہ میرے مقابل میں آکرنشانات کو جو ہم پیش کرتے ہیں فیصلہ کرلیں اگر ان کو نہ مانیں تو دعا کر سکتا ہوں اور اپنے خدا پر یقین رکھتا ہوں کہ اور نشان ظاہر کرے دیگا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صدق نیت سے اس طرف نہیں آتے بلکہ لیکھرامی حیلے کرتے ہیں ۱ ؎ مگر خدا تعالیٰ کسی کی حکومت کے نیچے نہیں ہے ۔
    میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ پہلے ان خوارق کو جو میں پیش کرتا ہوں دیکھ لو اور منہاج ِنبوت پرسوچو۔ اگر پھر بھی تکذیب کے لیے جرات کرو گے تو خدا کی غیرت کے لیے زیادہ جنبش ہو گی اوروہ قادر ہے کہ کوئی امر انسانی طاقت سے بالاتر ظاہر کرے ۔ لیکھرام کی نسبت جب پیشگوئی کی گی تھی تو اس نے بھی میرے لیے ایک پیشگوئی کی تھی اور یہ شائع کردیا تھا کہ تین سال کے اندر ہیضہ سے ہلاک ہوجاوئے گامگر اب دیکھ لو کہ اس کی ہڈیوں کا بھی یہی نشان پایا جاتا ہے؟ مگر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی طرح زندہ ہوں۔ یہ امور ہیں۔
    اگر حق پسند توقف سے ان میں غور کرے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر نرے بحث کرنے والے جلد باز کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۲؎
    منجملہ میرے نشانوں کے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اس وقت میں نے خبر دی تھی جبکہ ابھی کوئی نام و نشان بھی اس کا نہ پایا تھا اور یہ بھی الہام ہوا تھا یا مسیح الحق عدوانا اب دیکھ کہ یہ وبا خطرناک طور پر پھیلی ہوئی ہے اور گائوں کے گائوں اس طرف رجوع کر رہے ہیں اور توبہکرتے جاتے ہیں کیا یہ باتی انسانی طاقت کے اندر ہیں؟ یہی امور ہیں خارق عادت کہلاتے ہیں۔
    تجدیدِ دین کی ضرورت
    نووارد۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر صدی پر مجدد ہونا چاہیے۔ ۱؎حضرت اقدس۔ہاں یہ تو ضروری ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے۔بعض لوگ اس بات کو سنکر پھر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جبکہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے تو تیرہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتائو۔مَیں اس کا پہلا جواب یہ دیتا ہوں کہ اُن مجددوں کے نام بتانا میرا کام نہیں یہ سوال آنحضرت ﷺسے کرو۔جنہوں نے فرمایا ہے کہ ہر صدی پر مجدد آنا ہے اس حدیث کو تمام اکابرنے تسلیم کر لیا ہے ۔شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس کو مانتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی طرف سے ہے اور حدیث کی کتابیں جوموجود ہیں ان میں یہ حدیث پائی جاتی ہے کسی نے کبھی اس کوپھینک نہ دیا اور نہ یہ حدیث دینی چاہیے جبکہ یہ بات ہے تو پھر مجھ سے فہرست کیوں مانگی جاتی ہے ۔
    میر ا یہ مذہب کہ عد مِ علم سے عد مِ شیئی لا زم نہیں آتا ۔ آنحضرت ﷺ کی طر ف جو منسو ب ہو اگر وہ قر آن شر یف کے بر خلا ف نہ ہو تو میں اس کی ما نتا ہو ں ۔ خو د ہی ان لو گو ں سے پو چھو کہ کیا یہ حد یث جھو ٹی ہے ؟تو پہلے اس کو نکا لو اور اگر شکی ہے تو پھر تقو یٰ کا تقا ضا تو یہ ہے کہ کم ازکم حد یث کی رو سے مجھے بھی شکی ہی ما ن لو عجیب با ت ہے حد یث کو شکی کہو اور مجھے کذاب ۔یہ تو تقو ی کا طر یق نہیں ۔ اگر بفر ض محا ل جھو ٹی ہے تو پھر جا ن بو جھ کر جھو ٹ کو آنحضرت ﷺ کی طر ف منسو ب کر نا تو *** کا کا م ہے ۔ سب سے پہلا کا م تو علما ء کا یہ ہو نا چا ہیئے کہ اس کو نکا ل ڈالیں مگر میں یقین دلا تا ہو ں کہ یہ حد یث جھو ٹی نہیں ہے صحیح ہے۔ یہ عا م طو ر پر مشہور ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے نو اب صد یق حسن خا ں و غیر ہ نے ۱۳ مجذدگن کر بھی د کھا ئے ہیں مگر مَیں ان کی ضر ور ت نہیں سمجھتا ۔ اس حد یث کا یہ معیا ر نہیں بلکہ قر آن اس کی صحت کا گو اہ ہے ۔ یہ حد یث
    انا نحن نذ لنا الذکر و انا لہ لحافظو ن۔( سو رت الحجر:۱۰)
    کی شر ح ہے صد ی ایک عا م آدمی کی عمر کی ہو تی ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے ایک حد یث میں فر ما یا کہ سو سال بعد کو ئی نہ رہے گا جیسے صد ی جسم کو ما رتی ہے اسی طر ح ایک روحا نی مو ت بھی واقع ہو تی ہے اس لیے صدی کے بعد ایک نئی ذُرّیت پیدا ہو جا تی ہے ۔ جیسے ا نا ج کے کھیت اب دیکھتے ہیں کہ ہر ے بھر ے ہیں ۔ اس وقت میں با لکل خشک ہو ں گے پھر نئے سر ے سے پیدا ہو جا ئنگیے اس طر ح پر ایک سلسلہ جا ر ی ر ہتا ہے ۔ پہلے اکا بر سو سال کے اند ر فو ت ہو جاتے ہیں اس لیے خد ا تعالیٰ ہر صدی پر نیا ا نتظام کر دیتا ہے جیسے رزق کا سا مان کر تا ہے پس قر آن کی حما یت کے سا تھ یہ حد یث تو اتر کا حکم ر کھتی ہے
    کپڑا پہنتے ہیں تو اس کی بھی تجد ید کی ضر ورت ہو تی ہے ۔ اسی طر یق پر نئی ذُرّیت کو تا زہ کر نے کیلئے سنت اللہ اسی طر ح جا ر ی ہے کہ ہر صد ی پر مجد د آتا ہے ۔ غر ض مجھ سے ایک حد یث کے مو افق گذشتہ مجددوںکا مواخذہ نہیں ہو سکتا ۔ میں اپنی صد ی کا ذمہ دار ہو ں ۔ ہا ں چو نکہ میں اس حد یث کو صحیح سمجھتا ہو ں اور قر آن شر یف کی حما یت سے صحیح ما نتا ہو ں پس اگر یہ لو گ اس حد یث کو جھو ٹا کہہ دیں اور حد یث کی کتا بو ں سے نکا ل د یں پھر میں خدا سے دعا کر دیگا اور یقینا وہ میر ی دعا کو سنے گا اور میں کشف سے نا بھی نتا دو نگا ۔ لیکن اگر یہ حد یث خو د ان کے مسلما ت کے مو افق ہی جھو ٹی نہیں اور نہیں ہے تو پھر خد ا سے ڈرد اور
    لا تقف ما لیس لک بہ علم ( بنی اسر ایئل :۳۷ )
    پر عمل کر و اور بہیودہ حیلے اور حجتیں نہ تر اشو ۔ یہ حد یث جن کتا بو ں میں درج ہے اور با و جو د جھو ٹی ہو نے کے اس کو ر کھا گیا ہے تو پھر کیو ں نہیں بانا نک کے شبد ان میں دا خل کر لیتے اور مو ضو را ت کے مجمو عہ میں لکھ لیتے ۔ پس کسی صو ر ت میں یہ مو اخذہ مجھ سے نہیں ہو سکتا ۔ ہزارو ں او لیا ء گذر چکے ہیں تو کیا مجھے لا زم ہے کہ میں ان کی بھی فہر ست دو ں ۔ یہ خدا تعا لیٰ کا علم ہے ۔ ہا ںخد ا نے مجھ پر یہ ظا ہر کر دیا ہے کہ یہ حد یث صیحح ہے اور قر آن شر یف اس کی تصد یق کر تا ہے ۔
    عجیب با ت یہ ہے کہ مسیح موعود بقو ل اب صدیق حسن خا ں صا حب کے صد ی کے سر پر ہو گا اور یہ بھی وہ کہتے ہیں کہ چو د ھو یں صد یسے آگے نہ ہو گا ، مگر اب تو اس صد ی سے بیس سا ل گذر گئے ۔ پا نچواں حصہ صد ی کاگذر چکا اگر اب تک بھی نہیں آیا تو پھر سو سال تک ا نتظا ر کر تے ر ہیں ۔ اس صد ی میں اسلا م اہل صلیب سے کچلا جا وے گا ۔ جب پچا س سا ل میں یہ حا ل ہو گیا ہے کہ تیس لا کھ آدمی مر تد ہو چکے ہیں اور جیسی جیسی شو کت بڑھتی ہے ان کی شو خی بڑھتی گئی ہے ۔ یہا ں تک کہ ا مہا ت المو منین جیسی گند ی کتا ب شا ئع کی گئی
    انجمن حما یت اسلا م لا ہو ر نے اسکے خلاف گو ر نمنٹ کے پا س میمو ر یل بھیجا ۔ اس کے میمو ر یل سے پہلے مجھے الہا م ہو چکا تھا کہ یہ میمو ر یل بھیجنا بیفا ئدہ ہے چنا نچہ میر ے دو ستوں کو جو یہاں رہتے ہیں اور انکو بھیجو دوسرے شہروںمیں ہیںمعلوم تھا کہ میں نے یہ الہام قبل از وقت ان کو بتادیا تھا آخر وہی ہوا اور گورنمنٹ نے اس پر کوئی کاروائی انجمن کے حسبِ منشاء نہ کی۔
    مہدی اور جہاد
    بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا مہدی انا چاہیے جو جہاد کا فتویٰ دے اور انگریزوں اور دوسری قوموں سے لڑائی کرے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی ظلط ہے اور حدیث سے بھی پایا جاتا ہے کہ آنے والا موعود
    یضع الحرب
    کرکے دیکھائے گا یعنی لڑائیوں کو موقوف کریگا ۔دیکھو ہر چیزکے عنوان سے پہلے ہی سے نظر آجاتے ہیں ۔ جیسے پھل سے پہلے شگوفہ نکل آتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا کہ مہدی آکر جہاد کرتا اور تلوار کے زور سے اسلام کی حمایت کرتا تو چاہیے تھا کہ مسلمان فنون حربیہ اور سپہ گری میں ۔۔۔۔۔ تمام قوموں سے ممتاز ہوتے اور فوجی طاقت بڑی ہوئی ہوتی مگر اس وقت یہ طاقت تو اسی قوم کی بڑھی ہوئی ہے اور فنونِ حرب کے متعلق جس قدر ایجادا ت ہو رہی ہیں وہ یوپ میں ہو رہی ہیں نہ کسی اسلامی سلطنت میں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے اور یضع الحرب کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے یہی ہونا بھی چاہیے تھا دیکھو مہدی سوڈانی وغیرہ نے جب مخالفت میں ہتھیار اٹھائے تو خدا تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا یہانتک کہ اس کی قبر بھی کھدوائی گئی اور ذلت ہوئی اس لیے کے خدا ے منشاء کے خلاف تھا۔ مہدی موعود کا یہ کام ہی نہیں ہے بلکہ وہ تواسلام کو اس کی اخلاقی اور علمی وعملی اعجازات سے دلوں میں داخل کرے گا اور اس اعتراض کو دور کرے گا جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا وہ ثابت کر دکھاے گا کہ اسلام ہمیشہ اپنی عملی سچائیوں اور برکات کے ذریعہ پھیلاہے۔ ان تمام باتوںسے انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشا تلوار سے کام لینا فنونِ حرب اسلام والوں کے ہاتھ میں ہوتے اسلامی سلطنتوں کی جنگی طاقتیں سب سے بڑھ کر ہوتیں اگرچہ حقیقی خبر تو خدا تعالیٰ سے وحی پانے والوں کو ملتی ہے مگر مومن کو بھی ایک فراست ملتی ہے اور وہ علامات و آثار سے سمجھ لیتا ہے کہ کیا ہونا چاہیے جب عیسائی قوموں کے مقابل آتے ہیں تو زک اُٹھاتے ہیں اور ذلت کا منہ دیکھتے ہیں کیا اس سے پتہ نہیں لگتا کہ خدا تعالیٰ کا منشا تلوار اٹھانے کا نہیں ہے یہ اعتراض صحیح نہیں غلط ہے۔
    مسیح موعود کا یہی کام ہے کہ وہ لڑائیوں کو بند کردے کیونکہ یضع الحرب اس کی شان میں آیا ہے کیا وہ رسول اللہ ﷺکی پیشگوئی کو باطل کر دیگا ؟ معاذاللہ ۔قرآن شریف سے بھی ایسا ہی پایا جاتا ہے کہ اس وقت لڑائی نہیں ہونی چاہیے کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جب دل اعتراضوں سے بھرے ہوے ہوں تو ان کو قتل کردیا جا وے تلوار اُٹھاکر مسلمان کیا جاوے وہ اسلام ہو گا یا کفر جو ان کے دلوں میں اس وقت پیدا ہوگا ؟
    آنحضرتﷺ کی جنگیں محض دفاعی تھیں
    رسول اللہ ﷺنے کبھی مذہب کیلئے تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ اتمامِ حجت کے بعد جس طرح پر خدا نے چاہا منکروں کو عذاب دیا۔وہ جنگیں دفاعی تھیں ۔تیرہ برس تک آ پ ستائے جاتے رہے اور صحابہ ؓنے جانیں دیں انہو ںنے (منکروں نے)نشان پر نشان دیکھے اور انکار کرتے رہے آ خرخداتعالیٰ نے ان کو جنگوں کی صورت میں عذاب سے ہلاک کیا ۔اس زمانہ میں طاعون ہے ۔ جوں جوں تعصب بڑھے گا طاعون بڑھے گی۔ قرآن شریف میں اس کی بابت خبردی گئی ہے
    وان من قریۃ الا نحن مھلکو ھا قبل یوم القیامۃ او معذبوھا۔(نی اسرائیل ، ۵۹)
    پس اگر میں خدا کیطر ف سے ہو ں اور وہ بہتر جا نتا ہے کہ میں اسی کی طر ف سے ہو ں تو اس کے و عد ے پو ر ے ہو کر جو بشا رت کی پیشگو یئو ں کو نہیں ما نتے ۔ تو اس طا عو ن کی پیشگو ئی کو د یکھ لیں ۔ سعا دت سے انہیں کو حصہ ملتا ہے جو دور سے بلا کو د یکھتا ہے ۔
    خدا تعا لیٰ پر تَقَوَّ لکر نیو الا ہلا ک ہو جا تا ہے ۔
    صا دق کے لیے خدا تعا لیٰ نے ایک اور نشا ن بھی قر ار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضر ت ﷺ کو فر ما یا کہ اگر تو مجھ پر تَقَوَّ ل کرے تو میں تیر ا د ہنا ہا تھ پکڑ لو ں ۔ اللہ تعا لیٰ پر تَقَوَّ ل کرنیو الامفتری فلا ح نہیں پا سکتا بلکہ ہلا ک ہو جا تا ہے اور اب پچیس سا ل کے قر یب عر صہ گذرا ہے کہ خدا تعا لی ٰکی وحی کو میں شا ئع کر ر ہا ہو ں ۔ اگر افتر اء تھاتو اس تقو ل کی پا داش میں ضر ور ی نہ تھا کہ خدا اپنے وعدہ کو پو را کر تا ؟ بجا ے اس کے کہ وہ مجھے پکڑتا اس نے صد ہا نشا ن میر ی تا ئید میں ظا ہر کئے اور نصر ت پر نصر ت مجھے دی ۔ کیا مفتر یو ں کے سا تھ یہی سلو ک ہو ا کر تا ہے ۔؟ اور دجا لو ں کو ایسی ہی نصر ت ملا کر تی ہے۔ ؟کچھ تو سو چو ۔ ایسی نظیر کو ئی پیش کر و اور میں دعو ی سے کہتا ہو ں ہر گزنہ ملیگی ۔
    ہا ں میں یہ جا نتا ہو ں کہ طبیب تو مر یض کو کلو رو فا ر م سنگھا کر بھی دوائی اند ر پہنچا سکتا ہے ۔رو حا نی طبا بت میں یہ نہیں ہے بلکہ با تو ں کو مو ثر بنا نا اور دل میں ڈالنا خدا تعا لیٰ کا کا م ہے وہ چا ہتا ہے تو شو خی کو دور کر کے خو د اند را یک وا عظ پیدا کر د یتا ہے ۔
    نو وارد۔
    میں اہل اسلا م کی زیا د تی پر تعجب کر تا ہو ں ۔ آپ کے کلما ت میںمیں کو ئی وجہ کفر کی نہیں دیکھتا ۔
    حضر ت اقد س
    آ پ کتا بیں بھی د یکھ لیں تا کو ئی شک آپ کو با قی نہ رہے کہ کو ن سے ایسے کلما ت ہیں جو قا ل اللہ اور قا ل الر سو ل کے خلا ف ہیں ۔ میں ان کے کفر کی پر و ا نہیں کر تا ۔ ضر ور تھا کہ ایسا ہی ہو تا کیو نکہ ان کے ہی آثا ر میںلکھا ہو ا تھا ۔ کہ مسیح جب آئیگا تو اس پر کفر کے فتو ے د ئیے جائیں گے یہ پیشگو یئا ں کیسے پو ر ی ہو ئیں ؟یہ تو اپنے ہا تھ سے پو ر ی کر رہے ہیں ۔ مجد د صاحب اور نو ا ب صد یق حسن خا نصا حب کہتے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو علما ء مخا لفت کر نیگے اور محی الد ین عر بی نے لکھا ہے کہ جب وہ آئیگا تو ایک شخص ا ٹھ کر کہے گا
    ا ن ھذ االر جل غیر د یننا
    اب جبکہ پہلے سے با تیں ہیں تو ہم خو ش ہو تے ہیں کہ یہ لو گ اپنے ہا تھ سے پو را کر ر ہے ہیں اب جبکہ یہ با تیں پہلے سے ہیں تو یہ بھی صدا قت کا نشا ن ہے اس لیے ہم ان با تو ں کی کچھ پر وا نہیں کر تے یہ جو کہتے ہیں کہ آسما ن سے مسیح آئیگا وہ ا تنا نہیں د یکھتے کہ قر آ ن شر یف میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ اسلا م وفا ت پا گئے ۱ ؎
    آخر میں فر ما یا کہ
    اگر وہ صحا بہ ؓ کا سا مذا ق اورمحبت ہو تی جو صحا بہؓ کے دل میں تھی تو یہ عقید ہ نہ رکھتے کہ وہ زند ہ ہیں۔ حضر ت عیسی کو خا لق بھی نہ ما نتے اور غیب دان بھی۔ (نہ ما نتے ) خد ا تعا لیٰ ان فسا دوں کورو ا نہیں ر کھتا۔ اور اس نے چا ہا ہے کہ اصلا ح کر ے ۔ہما را کا م اللہ کیلئے ہے اور اگر اللہ تعا لیٰ کا یہ کا روبا ر ہے اور اسی کا ہے تو کسی انسا ن کی طاقت میں نہیں کہ اس کو تبا ہ کر سکے اور کو ئی ہتھیار اس پر چل نہیں سکتا ،لیکن اگر انسا ن کا ہے تو پھر خو د ہی تبا ہ ہو سکتا ہے انسا ن کو زور لگا نے کی بھی کیا حا جت ہے ۔
    در با ر شا م
    نو وار صا حب کی وجہ سے تحر یک تو ہو ر ہی تھی ۔ اس لیے بعد ادا ئے نما ز مغرب حجتہ اللہ نے ایک مختصر سی جا مع تقر یر فر ما ئی ۔ جس کا ہم فقط خلا صہ د یتے ہیں ۔ فر ما یا :۔
    حقیقت اسلا م
    لو گ حقیقت اسلا م سے با لکل دو ر جا پڑ ے ہیں ۔ اسلام میں حقیقی زند گی ایک مو ت چا ہتی ہے۔ جو تلخ ہے لیکن جو اس کو قبول کر تا ہے آخر و ہی زند ہ ہو تا ہے۔ حد یث میں آیا ہے کہ انسا ن د ینا کی خو اہشو ں اور لذتو ں کو ہی جنت ہو تی ہے اس میں کو ئی شک نہیں کہ د نیا فا نی ہے اور سب مر نے کے لیے پیدا ہو ئے ہیں آخر ایک وقت آجا تا ہے کہ سب دو ست آشنا عز یز واقار ب جد ا ہو جا تے ہیں ۔ اس وقت جسقد ر نا جا ئز خو شیو ں اور لذتو ں کو را حت سمجھتا ہے ۔وہ تلخیو ں کی صو رت میں نمو دا ر ہو جا تی ہیں۔ سچی خو شحا لی اور راحت تقو یٰ کے بخیر حا صل نہیں ہو تی اور تقو یٰ پر قا ئم ہو نا گو یا ز ہر کا پیا لہ پینا ہے متقی کے لیے خدا تعا لی سا ر ی را حتو ں کے سا ما ن مہیا کر د یتا ہے
    من یتق اللہ یجعل لہ مخر جا و یر ز قہ من حیث لا یحتسب (سو ر ت الطلاق :۳،۴)
    پس خو شحا لی کا اصو ل تقو ی ہے لیکن حصو لِ تقو ی کیلئے نہیں چا ہیئے کہ ہم شر طیں با ند ھتے پھر یں تقو ی ا ختیا ر کر نے سے جو ما نگو گے میلیگا ۔ خد ا تعا لیٰ ر حیم وکر یم ہے ۔ تقو ی ا ختیا ر کر و جو چا ہو گے وہ دیگا ۔ جسقد ر اولیا ء اللہ اور اقطا ب گذرے ہیں۔ انہو ں نے جو کچھ حا صل کیا تقو ی ہی سے حا صل کیا ۔اگر وہ تقو ی ا ختیا ر نہ کر تے تو وہ بھی د نیامیں معمو لی انسانو ں کی حیثیت سے زند گ بسر کر تے ۔ دس بیس کی نو کر ی کر لیتے یا کو ئی اور حر فہ یا پیشہ اختیا ر کر لیتے ہیں اس سے زیا دہ کچھ نہ ہو تا ۔ مگر آج جو عر وج ان کو ملا اور جس قد ر شہر ت اَور عزت انہوں نے پا ئی ۔ یہ سب تقو ی ہی کی بد ولت تھی ۔ انہو ں نے ایک مو ت ا ختیا ر کی اس کے بد لہ میں پا ئی ۔
    عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی سے رنگین ہو کر کرو
    ‏missing
    صفحہ90تا93کے درمیان تک
    ایسا ہی ایک حدیث میں آیاہے کہ ایک صحابی ؓ نے پوچھا کہ مَیں نے زمانہ جاہلیت میں سخاوت کی تھی مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اُسی سخاوت نے تو تجھے مسلمان کیا ۔
    ہزاروں آدمی بغیر دیکھے گالیاں دینے کو تیا ر ہوجاتے ہیں لیکن جب آتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو ایمان لاتے ہیں ۔میرا یہ مذہب نہیں کہ انسان صدق واخلاص سے کام لے اور وہ ضائع ہو جائے ۔
    پھر حضرت حجتہ اللہ نے حضرت عمر ؓ کے ایمان لانے کا قصّہ بیان کیا جوکئی بار ہم نے الحکم میں درج کیا ہے اور اس بات پر آپ نے اپنی تقریر کو ختم کیا ؎
    مردانِ خدا خدا نہ باشند لیکن از خدا جُدا نہ باشند
    (الحکم جلد ۷نمبر ۷ صفحہ ۵ تا ۹ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء ؁)
    ۱۵ فروری ۱۹۰۳ء؁
    نووارد صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام
    صبح کی سَیر
    اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ و السلام کو یہ مقصود تھا کہ جس طرح ممکن ہو اس شحص کو پُورے طور پر تبلیغ ہو اس لیے اس کی ہر بات اور اہر ایک اعتراض کو نہایت توجہ سے سُنکر اس کا مبسوط جواب فرماتے آج جب آپ سَیر کو تشریف لے چلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصّہ سے سلسلہ تقریر شروع ہوا۔
    رب ارنی کیف تحی الموتی (البقرہ:۲۶۱)
    فرمایا کہ
    رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْ تٰی کی لطیف تفسیر
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصّہ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معرفت آپ سے بھی بڑھی ہوئی تھی یہ آنحضرت ﷺ کی فضیلت کو ظابت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ ارشاد ہوا
    اَوَلَمْ تُوُْ مِن
    ْ کیا تو اس پر ایمان نہیں لاتا ؟ اگر چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا یہی جواب دیا بَلٰی ۔ ہاں مَیں ایمان لاتا ہوں مگر اطمینانِ قلب چاہتا ہوں ،لیکن آنحضر تﷺ نے کھبی ایسا سوال نہ کیا اور نہ ایسا جواب دینے کی ضرورت پڑی ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے سے ہی ایمان کے انتہائی مرتبہ اطمینان اور رفان پر پہنچے ہوئے تھے اور یہ وجہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے ۔
    ادبنی ربی فا حسن ادبی
    تو یہ آیت آنحضرت ﷺ کی فضیلت کو ثبت کرتی ہے ۔ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی ایک خوبی اس سے پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا کہ
    اولم تو من (البقرہ:۲۶۱)
    تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مَیں اس پر ایمان نہیں رکھتا بلکہ یہ کہا کہ ایمان تو رکھتا ہوں ، مگر اطمینان چاہتا ہوں ۔
    پس جب ایک شخص ایک شرطی اقتراح پیش کرے اور پھر یہ کہے کہ مَیں اطمینانِ قلب چاہتا ہوں۔ تو وہ اس سے استدلال نہیں کرسکتا ۔کیو نکہ شرطی اقتراح پیش کرنیوالا تو ادنیٰ درجہ بھی ایمان نہیں رکھتا ۔بلکہ وہ تو ایمان اور تکذیب ا ؎ کے مقام پر ہے ااور تسلیم کرنے کو مشوط بہ اقتراح کرتا ہے۔ پھر وہ کیونکر کہہ سکتا ہے کہ مَیں ابراہیم ؑ کی طرح اطمینانِ قلب چاہتا ہوں ابراہیم ؑ نے تو ترقی ٔ ایمان چاہی ہے انکار نہیں کیا اور پھر اقتراح بھی نہیں کیا بلکہ احیای موتیٰ کی کیفیت پوچھی ہے اور اس کوخدا تعالیٰ کے سُپرد کر دیا ہے ۔یہ نہیں کہا کہ اس مُردہ کو زندہ کر کے دکھا یُوں کر اور پھر اسکا جواب جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ بھی عجیب اور لطیف ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو چار جانور لے اُن کو اپنے ساتھ ہلالے یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ ذبح کر لے کیونکہ اس میں ذبح کا لفظ نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہلالے جیسے لوگ بٹیر یا تیتر یا بُلبل کا پالتے ہیں اور اپنے ساتھ ہلالیتے ہیں پھر وہ اپنے مالک کی آواز سُنتے ہیں اور اُ س کے بُلانے پر آجاتے ہیں ۔اس طرح پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو احیاء اموات سے انکار نہ تھا بلکہ وہ چاہتے تھے کہ مُردے خدا کی آواز کس طرح سُنتے ہیں اس سے انہوں نے سمجھ لیا کہ ہر چیز طبعاً اور فطرتاً اللہ تعالیٰ کی مطیع اور تابع فرمان ہے ۔
    نووارد ۔ کیا آنحضرت ﷺ کے لیے قرآن شریف میں ایسا فرمایا ہے جیسے حضرت ابراہیم کو خلیل فرمایا۔
    سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت ؐ کو دیئے گئے
    حضرت اقدس ۔ مَیں قرآن شریف سے یہ استباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت ﷺ کو دیئے گئے کیونکہ آپ تمام انبیاء کے کمالات متفرقہ اور فضائل مختلفہ جامع تھے اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے ۔قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے چناچہ فرمایا
    فیھا کتب قیمۃ (البینہ :۴) اور مافر طنا فی الکتاب (الانعام :۳۹)
    ایسا ہی ایک جگہ آنحضرت ﷺ کو یہ حکم دیا ہے کہ تمام نبیوں کی اقتدا کر ۔
    یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ امر دو قسم کا ہوتا ہے ۔ایک امر تو تشریعی ہوتا ہے جیسے نماز قایم کرو یا زکوٰۃ دو وغیرہ اور بعض امر بطور خلق ہوتے ہیں جیسے
    یا نار کونی بر دا و سلا ما علی ابراہیم (الانبیاء:۷۰)
    یہ امر جو ہے کہ تو سب کی اقتدا کر یہ بھی خلقی اور کونی ہے یعنی تیری فطرت کو حکم دیا کہ وہ کملات کے جمیع انبیاء علیہ السلام میں متفرق طور پر موجود تھے ۔اس میں یکجائی طور موجود ہوں اور گویا اس کے داتھ جہی وہ کمالات اور خوبیوں آپ کی ذات میں جمع ہوگئیں۔
    آیت خاتم النبیین کا حقیقی مفہوم
    چناچہ ان خوبیوں اور کمالات کے جمع ہونے کا ہی نتیجہ تھاکہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اور یہ فرمایا کہ
    ماکان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین (الاحزاب:۴۱)
    ختمِ نبوت کے یہی معنے ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیا اور کمالات تجھ پر ختم ہوگئے اور آئندہ کے لیے کمالاتِ نبوت کا باب بند ہوگیا اور کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا ۔
    نبی عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے جس کے معنے خدا سے خبر پانے والا اور پیشگوئی کرنے والا جولوگ براہ راست خدا سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے اور یہ گویا اسطلاح ہوگئی تھی مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بند کر دیا اور مُہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی آنحضرتﷺ کی مُہر کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔جب تک آپ کی اُمّت میں داخل نہ ہو اور آلے فیض سے مستفیض نہ ہو وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف نہیں پا سکتا ۔جب تک آنحضرت ﷺ کی اُمّت میں داخل نہ ہو ۔اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس میں داخل ہونے اور آ نحضرت ﷺ سے فیض پانے کے بغیر کوئی شفِ مکالمہ الٰہی حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے سامنے پیش کرو۔
    آیت خاتم النبّیین حضرت عیسیٰ ؑکے دوبارہ نہ آنے پر زبردست دلیل ہَے
    یہی ایک آیت زبردست دلیل ہے اس امر پر جو ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ آنیوالا اس اُمّت میں سے ہوگا ۔کیونکہ وہ نبی ہوں اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شحص نبوت کا فیضان حاصل کر سکتا ہی نہیں جب تک وہ آنحضر تﷺ سے استفادہ نہ کرے جو صاف لفظوں میں یہ ہے کہ آپ کی اُمت میں داخل نہ ہو۔اب خاتم النبّیین والی آیت تو صریح روکتی ہے پھر وہ کس طرح آسکتے ہیں ۔یا اُن کو نبوت سے معزول کرو اور ان کی یہ ہتک اور بے عزتی روا رکھو اور یایہ کہ پھر ماننا پڑے گا کہ آنیوالا اسی اُمت میں سے ہو گا ۔نبی اصطلاح مستقل نبی پر بولی جاتی تھی مگر اب خاتم النبّیین کے بعد یہ مستقل نبوت رہی ہی نہیں ۔اسی لیے کہا ہے ۔
    خارقے از ولی مسموع است معجزہ آں نبی متبوع است
    پس اسبات کو خوب غور سے یاد رکھو کہ جب آنحضرت ْﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت عیسٰے علیہ السلام کو نبوت کا شرف پہلے سے حاصل ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ پھر آئیں اور اپنی نبوت کو کھو دیں ۔یہ آیت آنحضرت ﷺ کے بعد مستقل نبی کو روکتی ہے۔البتہ یہ امر آنحضرتﷺ کی شان کو بڑھانے والا ہے کہ ایک شخص آپ ہی کی اُمت سے آپ ہی کے فیض سے وہ درجہ حاصل کرتا ہے جو ایک وقت مستقل نبی کو حاصل ہوسکتا تھا۔ لیکن اگر وہ خود ہی آئیں تو پھر صاف ظاہر ہے کہ پھر اس خاتم الانبیاء والی آیت کی تکذیب لازم آتی ہے ۔اور خاتم الانبیاء حضرت مسیح ٹھہریں گے اور آنحضرتﷺ کا آنا بلکل غیر مستقل ٹھہر جا ویگا کیونکہ آپ بھی آئے اور ایک عرصہ کے بعد رخصت ہوگئے اور حضرت مسیح آپ سے بھی پہلے رہے اور آخر پر بھی وہی رہے غرض اس عقیدہ کے ماننے سے کہ خود ہی حضرت مسیح آنیوالے ہیں بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور ختم نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے جو کُفر ہے ۔
    اس کے علاوہ قرآن شریف کی ایک اَور آیت بھی جو صاف طور پر مسیح کی آمدِ ثانی کو روکتی ہے اور وہی آیت ہے جو کل بھی مَیں نے بیان کی تھی یعنی
    فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (سورۃ المائدۃ:۱۱۸)
    اگر حضرت مسیح قیامت سے پہلے دُنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہ کر انہوں نے کفّار اور مشرکین کو تباہ کی تھا جیساکہ اعتقاد رکھا جاتا ہے ۔پھر کیا خدا تعالیٰ کے سامنے ان کو یہ کہنا چاہیئے تھا کہ
    فلما توفیتنی کنت الرقیب علیھم (سورۃ المائدۃ:۱۱۸)
    یا یہ کہنا چاہیئے تھا کہ مَیں نے تو کافروں اور مشرکوں کو ہلاک کیا اور ان کو جا کر اس شرک سے نجات دی کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو خدا نہ بنائو ۔
    اس آیت پر خوب غور کرو ۔یہ ان کی دوبارہ آمد کو قطی طور پر ردّ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ختمِ نبوت والی آیت بھی ان کو دوبارہ آنے نہیں دیتی ۔اب یا تو قرآن شریف کا انکار کر دیا اگر اس پر ایمان ہے تو پھر اس باطل خیال کو چھوڑنا پڑے گا اور اس سچائی کو قبول کرنا پڑے گا جو مَیں لے کر آیا ہوں ۔
    یہ پکی بات ہے کہ آنے والا اسی اُمّت سے ہوگا اور حدیث
    علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل
    سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص مثیلِ مسیح بھی تو ہو ۔اگرچہ محدثین اس حدیث کی صحت پر کلام کرتے ہیں مگر اہلِ کشف نے اس کی تصدیق کی ہے اور قرآن شریف خود اس کی تائید کرتا ہے ۔محدثین نے اہلِ کشف کی یہ بات مانی ہوئی ہے وہ اپنے کشف سے بعض احادیث کی صحت کرلیتے ہیں جو محدثٰین کے نزدیک صحیح نہ ہوں اور بعض کو غیر صحیح قرار دے سکتے ہیں ۔
    (۱۰۱صفحہ سے)
    نفس مطمئنہ کی حا لت والا ہی بڑ ا سعید اور با مر دا ہے
    اصل مد عا تو یہ ہو نا چا ہیئے کہ انسا ن نفس مطمئنہ حا صل کر ے نفس کی تین قسمیں ہیں ۔ اما رہ ۔لو امہ ۔ مطمئنہ ۔بہت بڑا حصہ د نیا کا نفس اما رہ کے نیچے ہے ۔ اور بعض جن پر خدا کا فضل ہو ا ہے وہ لو امہ کے نیچے ہیں یہ لو گ بھی سعا دت سے رکھتے ہیں ۔ بڑا بد بخت وہ ہے جو بد ی کو محسوس ہی نہیں کر تا یعنی جو اما رہ کے ماتحت ہیں اور بڑاہی سعید اور با مر ادوہ ہے جو نفس مطمئنہ کی حا لت میں ہے ۔
    نفس مطمئنہ ہی خدا تعا لیٰ نے فر ما یا ۔
    یا یتھا النفس المطمئنت ار جعی الیٰ ر بک ر ا ضیت مر ضیت (الفجر :۲۹ ، ۲۷)
    یعنی اے وہ نفس جو اطمینا ن یا فتہ ہے۔ اس حا لت میں شیطا ن کے سا تھ جوجنگ ہو تی ہے اس کا خا تمہ ہو جا تا ہے۔ اور خطا ب کے لا ئق تو مطمئنہ ہی ٹھہر ا یا ہے۔ اور اس آیت سے یہی معلو م ہو تا کہ مطمئنہ کی حا لت میں مکا لمہ الیٰ کے لا ئق ہو جا تا ہے ۔خدا کی طر ف واپس آ کے معنے یہی نہیں کہ مَر جا۔ بلکہ اما رہ اور لو امہ کی حا لت میں جو خد ا تعا لیٰ سے ایک بُعد ہو تا ہے مطمئنہ کی حا لت میں وہ مہجو ی نہیں ر ہتی اور کو ئی غبا ر با قی نہ رہ کر غیب کی آو از اس کو بلا تی ہے تو مجھ سے را ضی اور میں تجھ سے را ضی یہ ر ضا کا ا نتہا ئی مقا م ہو تا ہے ۔ پھرخدا تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ اب میر ے بند و ں میں دا خل ہو جا ۔خد ا تعا لیٰ کے بند ے دنیاہی ہو تے ہیں مگر دنیا ان کو نہی پہچانتی ۔د نیا آسمانی بند وں سے دوستی نہیں کی وہ ان سے ہنسی کر تی ہے ۔ وہ الگ ہی ہو تے ہیں اور خد ا تعا لیٰ کی رِداء کے نیچے ہو تے ہیں۔ غر ض جب ایسی حا لت اطمینا ن میں پہنچتا ہے تو الہٰی اکسیر سے تا نباسونا ہو جا تا ہے ۔
    و اد خلی جنتی
    اور تو میر ے بہشت میں دا خل ہو جا ۔ بہشت ایک ہی چیز نہیں
    و لمن خا ف مقا م ربہ جنتا ن ۔ (الر حما ن :۴۷)
    خد ا سے ڈر نے والے کے لیے دو بہشت ہیں۔( الحکم جلد نمبر ۸ صفحہ ۳ مو ر خہ ۲۸ فر ور ی ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۵ فر ور ی ۱۹۰۳ ء؁۔
    (قبل ازظہر)
    ایک صا حب گو ڑ گا وں سے تشر یف لا ئے ہو ئے تھے ۔ حضر ت اقد س سے شر ف بیعت حا صل کیا بعد از بیعت حضر ت اقد س نے ان کو مخا طب کر کے فر ما یا کہ ۔
    مسنُو ن طو ر سے خدا کا فضل تلا ش کر و۔
    ہما ری طر ف سے تو آپ کو یہی نصیحت ہے کہ مسنو ن طو ر سے خدا تعا لیٰ کا فضل تلا ش کر و۔ اللہ تعا لیٰ نے قر آن شر یف اور رسو ل کر یم ﷺ کو مبعو ث کر کے یہ ا مر صا ف طو ر پر بیان کر دیا ہے۔ کہ انکی پیرو ی کے سو ا کو ئی راہ اس کی ر ضا جو ئی کی با قی نہیں ہے ۔جو خدا تعا لیٰ کے فضلو ں کا جو یاں ہو ا سی دروازہ کو کھٹکھٹا ئے۔ اس کے لیے کھو لا جا ئے گا ۔بجزاس دروازہ کے تما م دروازے بند ہیں ۔ نبو ت ہما رے نبی ﷺ پر ختم ہو چکی۔ شر یعت قر آن شر یف کے بعد ہر گز نہیں آئے گی ۔ انسا ن کو کشو ف اور وحی اور الہا م کا بھی طا لب نہ ہو نا چا ہیئے بلکہ یہ سب تقو ی کا نتیجہ ہیں ۔ جب جڑ ٹھیک ہو گی تو اس کے لو ازم بھی خو د بخدد آجا ئیں گے ۔ دیکھو جب سو ر ج نکلتا ہے تو دھو پ اور گر می جو اس کا خا صہ ہیں ۔ خو د بخود ہی آجا تے ہیں ۔ اسی طر ح جب انسا ن میں تقو ی آجا تا ہے تو اس کے لوازم بھی اس میں ضر ور آجا تے ہیں ۔ دیکھو جب کو ئی دو ست کسی کے ملنے کے واسطے جا و ے تو اس کو یہ امید تو نہ ر کھنی چا ہیئے ۔کہ میں اس کے پا س جا تا ہو ں کہ وہ مجھے پلا و ،زردے اور قو ر مے اور قلیئے کھلا ئے گا اور میری خا طر تو اضع کر یگا نہیں بلکہ صا د ق دوست کی ملا قا ت کی خو ا ہش ہو تی ہے بجز اس کے اور کسی کھا نے یا مکا ن یا خد مت کی پر وا اور خیا ل بھی نہیں ہو تا مگر جب وہ اپنے صا دق دوست کے پا س جو اس سے مہجو ر تھا ۔ جا تا ہے تو کیا وہ اس کی خا طر داری کا کو ئی دقیقہ با قی بھی اٹھا رکھتا ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ اس سے بن پڑ تا ہے وہ اپنی طا قت سے بڑ ھ کر بھی اس کی توا ضع کے واسطے مکلف سا ما ن کر تا ہے
    غر ض یہی حا ل رو حانیت اور اس دوست اعلیٰ کی ملا قا ت کا ہے ۔ الہا ما ت یا کشو ف وغیر ہ خبر و ں کے سہا ر ے وا لا ایما ن ، ایما ن کا مل نہیں ۔ وہ کمزور ا یما ن ہے جو کسی چیز کا سہا را ڈ ھو نڈھتا ہے ۔ انسا ن کی غر ض اور اصل مد را صر ف اضا ء الہیٰ اور وصول الی اللہ چا ہیئے۔ آگے جب یہ اس کی رضا حا صل کر لے گا تو خد ا تعا لی اس کو کیا کچھ نہ دیگا ۔ خودا س امر کی درخو است کر نا سو ء ادب ہے ۔
    دیکھو اللہ تعا لیٰ قر آن شر یف میں فر ما یا ہے
    قل ان کنتم تحبو ن اللہ فا تبعو نی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲)
    خدا کے محبو ب بننے کیو اسطے رسو ل اللہ ﷺ کی پر و ی ہی ایک راہ ہے اور کو ئی دو سر ی راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملا دے ۔ انسا ن کا مد عا صر ف اس ایک وا حد لا شر یک خدا کی تلا ش ہو نا چا ہیئے شر ک اور بد عت سے اجتنا ب کر نا چا ہیئے رسو م کا تا بع اور ہو ا وہو س کا میطع نہ بننا چا ہیئے ۔ دیکھو میں پھر کہتا ہو ں کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سچی راہ کے سوا اور کسی طر ح انسا ن کا میا ب نہیں ہو سکتا ۔
    ہما را صر ف ایک ہی رسو لؐ اور ایک ہی کتا ب ہے۔
    ہما را صر ف ایک ہی رسو ل ہے۔ اور صر ف ایک ہی قر آن شر یف اس رسو ل پر نا زل ہواہے جس کی تا بعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں آج کل فقر اء کے نکا لے ہو ئے طر یقے اور گد ی نشینو ں اور سجا دہ نشینو ں کی سیفیا ں اور دعا یئں اور درود اور وظا ئف یہ سب انسا ن کو مستقیم راہ سے بھٹکا نے کا آلہ ہیں ۔ سو تم ان سے پر ہیز کر و۔ ان لو گو ں نے آنحضر ت ﷺ کے خا تم الا نبیا ء ہو نے کی مہر کو تو ڑنا چا ہا گو یا اپنی الگ ایک شر یعت بنا لی ہے۔ تم یا درکھو کہ قر آن شر یف اور رسو ل ﷺ کے فر مان کی پیر و ی اور نما ز روزہ و غیر ہ جو مسنو ن طر یقے ہیں ان کے سو ا خدا کے فضل اور بر کا ت کے دروازے کھو لنے کی اور کو ئی کنجی ہے ہی نہیں ۔ بھو لا ہو ا ہے وہ جو ان راہو ں کو چھو ڑ کر کو ئی نئی را ہ نکا لتا ہے ۔ ناکام مر یگا وہ جو اللہ اور اس کے رسو ل کے فر مو دہ کا تا بعدار نہیں بلکہ اور اور راہو ں سے اسے تلا ش کر تا ہے ۔
    ہر قسم کے گنا ہو ں سے بچو
    دیکھو گنا ہ کبیر ہ بھی ہیں ان کو تو ہر ایک جا نتا ہے اور اپنی طا قت کے مو افق نیک انسا ن سے بچنے کی کو شش بھی کر تا ہے مگر تما م گنا ہو ں سے کیا کبا ئر اور کیا صغا ئر سب سے بچو ۔ کیو نکہ گنا ہ ایک ز ہر ہے جس کے استعمال سے زند ہ رہنا محا ل ہے گنا ہ ایک آگ ہے ۔جو روحا نی قویٰ کو جلا کر خا ک سیا ہ کر د یتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گنا ہو ں سے بچو ۔آنکھ کے گنا ہو ں سے ،کان نا ک اور زبا ن اور شر مگا ہ کے گنا ہو ں سے بچو ۔ غر ض ہر عضو کے گنا ہ زہر سے بچتے رہو اور پر ہیز کر تے ر ہو ۔
    نما ز گنا ہو ں سے بچنے کا آلہ ہے
    نما ز گنا ہو ں سے بچنے کا آلہ ہے ۔نما ز کی یہ صفت ہے کہ انسا ن کو گنا ہ اور بد کا ری سے ہٹا دیتی ہے سو تم ویسی نما ز کی تلا ش کرو اور اپنی نما ز کو ایسی بنا نے کی کو شش کرو ۔ نما ز نعمتو ں کی جا ن ہے ۔ اللہ تعا لیٰ کے فیض اسی نما ز کے ذر یعہ سے آتے ہیں سواس کو سنو ار کر ادا کر و۔ تا کہ اللہ تعا لیٰ کی نعمت کی وارث بنو۔
    ہما را طر یق نر می ہے
    یہ بھی یا د ر کھو ہما را طر یق نر می ہے ۔ ہما ری جما عت کو چا ہیئے کہ اپنے مخا لفو ں کے مقا بل پر نر می سے کا م لیا کر ے تمہا ری آواز تمہا ر ے مقا بل کی آواز سے بلند نہ ہو ۔ اپنی آواز اور لہجہ کو ایسا بنا وکہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صد مہ نہ ہو وے ۔ہم قتل اور جہاد کے واسطے نہیں آئے بلکہ ہم تو متقو لو ں اور مر د ہ دلو ں کو زندہ کر نے اور ان میں زند گی کی روح پھو نکنے کو آئے ہیں ۔ تلو ار سے ہما را کا روبا رنہیں نہ یہ ہما ری تر قی کا ذریعہ ہے ہما را مقصد نر می سے ہے اور نر می سے اپنے مقا صد کی تبلیغ ہے ۔غلا م کووہی کر نا چا ہیئے جو اس کا آقا اس کو حکم کر ے ۔ جب خدا نے ہمیں نر می کی تعلیم دی ہے تو ہم کیو ں سختی کر یں ۔ ثوا ب تو فر ماں بر داری میں ہو تا ہے ۔اور دین اطا عت کا نا م ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہو اوہوس کی تابعد اری سے جو ش دکھا یں ۔
    مغلو ب الغضب غلبہ ونصر ت سے محروم ہو تا ہے
    یا د رکھو جو شخص سختی کر تا اور غضب میں آجا تا ہے اس کی زبا ن سے معا رف اور حکمت کی با تیں ہر گزنہیں نکل سکتیں ۔ وہ دل حکمت کی با تو ں سے محر وم کیا جا تا ہے جو اپنے مقا بل کے سا منے جلد ی طیش میں آکر آپے سے با ہر ہو جا تا ہے ۔ گند ہ ذہن اور بے لگا م کے ہو نٹ لطا ئف کے چشمہ سے بے نصب اور محر وم کئے جا تے ہیں ۔ غضب او حکمت دونو ں نہیں ہو سکتے جو مغلو ب لغضب ہو تا ہے اس کی عقل مو ٹی اور فہم کند ہو تا ہے ۔ اس کو کبھی کسی مید ان میں غلبہ اور نصر ت نہیں دئے جا تے ۔ غضب نصب جنو ن ہے جب یہ زیا دہ بھڑ کتا ہے تو پو را جنو ن ہو سکتا ہے ۔ہما ری جما عت کو چا ہیئے کل نا کر دنی افعا ل سے دور رہا کر یں ۔وہ شا خ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جا تی ہے سو دیکھو اگر تم لو گ ہما رے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شر ائط پر کا ر بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں
    نصیحت کا پیر ایہ
    جسے نصیحت کر نی ہو اسے زبا ن سے کر و ۔ ایک ہی با ت ہو تی ہے وہ ایک پیر ایہ میںادا کر نے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسر ے سے پیر ایہ میں دوست بنا دیتی ہے پس
    جا دلھم با لتی ھی احسن (البقر ہ:۲۷ )
    کے مو افق اپنا عمل درآمد رکھو۔ اسی طر ز کلا م ہی کا نا م خدا نے رکھا ہے ۔ چنا نچہ فر ما یا ہے
    یو تی الحکمت من یشاء(البقر ہ:۲۷)
    مگر یا درکھو جیسی یہ با تیں حر ام ہیں ویسے ہی نفا ق بھی حرا م ہے ۔ اس بات کا بھی خیا ل رکھنا کہ کہیں پیرا یہ ایسا نہ ہو جاوے کہ اس کا رنگ نفاق سے مشابہ ہو ۔موقعہ کے موافق ایسی کاروائی کرو جس سے اصلاح ہو تی ہو۔ تمہاری نرمی ایسی نہ ہو کہ نفاق بن جاوے اور تمہارا غضب ایسا نہ ہو کہ بارود کی طرح جب آگ لگے تو ختم ہونے میں ہی نہیں اتی ۔بعض لوگ تو سے سودائی ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی سر میں پتھر مار لیتے ہیں۔اگرہمیں کوئی گالی دیتا ہے تب بھی صبر کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی کے پیرو مرشد کو گالیاں دی جاویں یا اس کے رسول کو ہتک آمیزکلمے کہے جاویں تو کیساجوش ہوتا ہے مگر تم صبرکرو اورحلم سے کام لو ۔
    مسلوب الغضب بن جائو
    ایسا نہ ہو کہ تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کردے۔ جس سے سارا سلسلہ بد نام ہو یا کوئی مقدمہ بنے جس سے سب کو تشویش ہو ۔ سب نبیوں کو گالیاں دی گئی ہیں۔ یہ انبیا کا ورہ ہے ۔ ہم اس سے کیونکر محروم رہ سکتے تھے ایسے بن جائو کہ گویا مسلوب الغضب ہو ۔تم کو گویا غضب کے قویٰ ہی نہیںدیئے گئے ۔دیکھو اگر کچھ بھی تاریکی کا حصہ ہے تونور نہیں آے گا۔ نور اور ظلمت جمع نہیں ہو سکتے۔ جب نور آجائے گا تو ظلمت نہیں رہے گی۔تم سارے ہی قویٰ پورے طور سے اللہ تعالیٰ کی فرمابردار ی میں لگادو جوجو کمی کسی قوت میں ہو اسے اس پان والے کی طرح جو گندے پان تلاش کرکے پھینک دیتا ہے اپنی گندی عادت کو پھینکو اور سارے اعضاء کی اصلاح کر لو یہ نہ ہو کہ نیکی کرو اور نیکی میں بدی ملادو ۔توبہ کرتے رہو۔استغفار کرو۔ دعا سے ہر وقت کام لو۔
    ولی اللہ
    ولی کیا ہو تے ہیں یہی صفا ت تو اولیاء کے ہو تے ہیں۔ ان کی آنکھ ،ہا تھ ،پا وں غر ض ہو ئی عضو ہو ۔منشا ء الہی کے خلا ف حر کت نہیں کر تے ۔خدا کی عظمت کا بو جھ ان پر ایسا ہو تا ہے کہ وہ خدا کی زیا رت کے بغیر ایک جگہ سے دسری جگہ نہیں جا سکتے پس تم بھی کو شش کرو ۔ خدا نجیل نہیں۔
    ہر کہ عا رف تر است تر سا ں تر
    دربا رشا م
    قرآن شر یف کی ایک بر کت
    ایک شخص نے عر ض کی کہ حضور میر ے واسطے دعا کی جا وے کہ میر ی زبا ن قرآن شر یف اچھی طر ح ادا کر نے لگے ۔قرآن شر یف ادا کرنے کے قابل نہیں اور چلتی نہیں ۔میری زبان کھل جاوے فرمایا کہ تم صبر سے قرآن شریف پڑھتے جاو۔اللہ تعا لیٰ تمہا ری زبا ن کو کھو ل دیگا ۔ قرآن شر یف میں یہ ایک بر کت ہے کہ اس سے انسا ن کا ذہن صا ف ہو تا ہے اور زبا ن کھل جا تی ہے بکلہ اطبا ء بھی اس بیما ری کااکثر یہ علا ج بتا یا کر تے ہیں ۔ (لحکم جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۷ مو رخہ ۱۰ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۲ فر وری ۱۹۰۳ء؁
    کچھ حصّہ رات کو آرام ضرور کر نا چا ہیئے
    کچھ ایک مخلص کی بد خو ابی کے تذکر ہ پر فر ما یا :۔
    دیکھو قرآن شر یف سورہ مزمل میں صا ف تا کید ہے کہ انسا ن کو کچھ رات کو آرام ضرور کر نا چا ہیئے ۔اس سے دن بھر کی کو فت اور تکا ن دور ہو کر قویٰ کو اپنا حر ج شد ہ ما دہ بہم پہنچا نے کا وقفہ جا تا ہے ۔ رسو ل اکر م ﷺکا فعل یعنی سنت بھی اسی کے مطا بق ثا بت ہے چنا نچہ فر ما تے ہیں اصلی و الو م۔
    اصل میں انسا ن کی مثا ل ایک گھو ڑے کی سی ہے ۔ اگر ہم ایک گھو ڑے سے ایک دن اس کی طا قت سے ز یا دہ کا م لیں اور اسے آرام کر نے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قر یب ایسا وقت ہو گا کہ ہم اس کی وجو د کو ہی ضا ئع کر کے تھو ڑے فا ئدہ سے بھی محر و م ہو جا ئیں گے نفس کو گھو ڑے سے منا سبت بھی ہے ۔
    بہتر ین وظیفہ
    سیا لکو ٹ کے ضلع کا ایک نمبر دار تھا ۔ اس نے بیعت کر نیک کے بعد پو چھا کہ حضو ر اپنی ز با ن مبا رک سے کوئی وظیفہ بتا دیں۔
    فر ما یاکہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذت اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔صدق دل سے روزے رکھو ۔خیرات کرو۔درود اور استغفار پڑھا کرو۔اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو ۔ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آئو۔بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو۔ ان پر بھی ظلم نہیں چاہیے ۔خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ ناپاک اور نامرادہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرتا وہ محروم کیا جاتا ہے ۔دیکھو اگر خدا ہی حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گذارہ نہیں۔زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔اگر اسی کی حفاظت شاملِ حال نہ ہو تو کیا ہو سکتا ہے۔ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ہدایت پر کار بند رکھے۔کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں۔گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے ۔یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔پس جب اس کے ارادے گمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے۔نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے ۔اصل میں نیک انسان تو اپنا پائوں بھی زمین پر پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تاکہ کسی کیڑے کو بھی اس سے تکلیف نہ ہو۔ غرض اپنے ہاتھ سے،پائوں سے،آنکھ وغیرہ اعضاء سے کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچائو اور دعائیں مانگتے رہو ۔
    تعدّدازدواج
    مرزا خدا بخش صا حب ما لیر کو ٹلہ سے تشر یف لا ئے تھے۔ ا ن سے وہا ں کے جلسہ کے حا لا ت دریا فت فر ما تے رہے ۔ انہو ں نے سنا یا کہ ایک شخص نے ہو ں اعتراض کیا کہ اسلا م میں جو چا ر بیو یا ںرکھنے کا حکم ہے یہ بہت خر اب ہے اور سا ری بد اخلا قیو ں کا سر چشمہ ہے
    حضر ت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    چا ر بیو یا ں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجا زت دی ہے کہ چا ر تک رکھ سکتا ہے اس سے یہ تو لا زم نہیں آتا کہ چا ر ہی کو گلے ڈھو ل بنا لے۔ قر آن کا منشا ء تو یہ ہے کہ چو نکہ انسا نی ضرورت مختلف ہو تی ہیں اس واسطے ایک سے لیکر چا ر تک اجا زت دی ہے ایسے لو گ جو ایک اعتر اص کو اپنی طر ف سے پیش کر تے ہیں اور پھر وہ خو د اسلا م کا دعو یٰ بھی کر تے ہیں میں نہیں جا نتا کہ ان کا ایما ن کیسے قا ئم رہ جا تا ہے ۔وہ تو اسلا م کے معتر ض ہیں ۔ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانو ن بنا نے وقت کن کن با تو ں کا لحا ظ ہو تا ہے ۔ بھلا اگر ایک شخص کی بیو ی ہے اسے جذا م ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اند ھی ہو گی ہے یا اس قا بل ہی نہیں کہ اولا د اس سے حا صل ہو سکے وغیر ہ وغیر ہ عوارض میں مبتلا جا وے تو اس حا لت میں اب اس خا وند کو کیا کر نا چا ہیئے کیا اسی بیو ی پر قنا عت کر ے ؟ایسی مشکلا ت کے وقت کیا تد بیر پیش کر تے ہیں ۔ یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بد معا شی زنا وغیر ہ میں مبتلا ہو گئی تو کیا اب اس خا وند کی غیر ت تقا ضا کر ے گی کہ اسی کو اپنی پر عصمت بیو ی کا خطا ب دیرکھے ؟ خدا جا نے یہ اسلا م پر ا عتر اض کر تے وقت اند ھے کیو ں ہو جا تے ہیں ۔ یہ با ت ہما ر ی سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے جو انسا نی ضروریا ت کو ہی پو را نہیں کر سکتا ۔ اب ان مذکو رہ حا لتو ں میںعیسویت کیا تدبیر بتا تی ہے ؟ قر آن کی عظمت ثا بت ہو تی ہے کہ انسا نی کو ئی ایسی ضر ورت نہیں جس کا پہلے ہی اس نے قا نو ن نہ بنا دیا ہو ۔ اب تو انگلستا ن میں بھی ایسی مشکلا ت کی وجہ سے کثر ت از دواج اور طلا ق شروع ہو تی جا تی ہے ۔ ابھی ایک لا رڈ کی با بت لکھا تھا کہ اس نے دوسر ی بیو ی کر لی آخر اسے سزا بھی ہو ئی مگر وہ امریکہ میںجا رہا ۔
    غو ر سے دیکھو کہ انسا ن کے واسطے ایسی ضر ور تیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیا دہ بیو یا ں کر لی جب ایسی ضرور تیں ہو ں اور انکا علا ج نہ ہو تو یہی نقص ہے جس کے پو را کر نے کو قر آن شر یف جیسی اتم اکمل کتا ب بھیجی ہے ۔
    شر اب کی مضّرت
    اسی اثنا میں شر اب کا ذکر شر وع ہو گیا ۔ کسی نے کہا کہ اب تو حضو ر شر اب کے لسبکٹ بھی ایجا د ہو ئے ہیں فر ما یا :۔
    شراب تو انتہا ئی شر م ۔حیا ۔عفت ۔ عصمت کی جا نی دشمن ہے انسا نی شر افت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتے ۔ بلے ۔ گد ھے ہو تے ہیں ۔ اس کا پیکر با لکل انہی کے مثابہ ہو جا تا ہے ۔ اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں نا کر دہ گنا ہ بھی ان میں شا مل ہو جا یا کر یں گے ۔ پہلے تو بعض کو شر م وحیا ہی روک دیتی تھی۔ اب بسکٹ لیے اور جیب میں ڈال لیے ۔ با ت یہ ہے کہ وجا ل نے تو اپنی کو ششو ں میں تو کمی نہیں رکھی کہ دنیا کو دفسق وفجو ر سے بھرد ے مگر آگے خدا کے ہا تھ میں ہے جو چاہے کر ے ۔اسلا م کی کیسی عظمت معلو م ہو تی ہے ایک حد یث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلا م پر کو ئی اعر اض کیا ۔ اس سے شر اب کی بد بو آئی ۔ اس کو حد ما ر نے کا حکم دیا گیا کہ شر اب پی کر اسلا م پر اعر اض کیا ۔ مگر اب تو کچھ حد وحسا ب نہیں ۔ شراب پیتے ہیں۔ زنا کر تے ہیں ۔ غر ض کو ئی بد ی نہیں جو نہ کر تے ہو ں مگر با یں ہمہ پھر اسلا م پر اعر اض کر نے کو تیا ر ہیں۔
    (الحکم جلد ۷ نمبر ۸ صفحہ ۱۴ ۔۱۵ مو ر خہ ۲۸ ـــفر وری ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۳ فر وری ۱۹۰۳ ء؁
    (ظہر سے پہلے)
    بنی اسر ائیل اور انکے مثیل ۔
    فر ما یا :۔
    جس طر ح اللہ تعا لیٰ نے فضائل میں اس قو م اسلا م کو امت مو سیؑ کا مثیل بنا یا ہے ایسے ہی زوا ئل بھی کل وہ اس قو م میں جمع ہیں جو ان میں پا ئے جا تے تھے ۔ یہ قو م تو یہو د کے نقش قد م پر ایسی چلی ہے جیسے کو ئی اپنے آقا ومو لی ٰمطا ع رسو ل کی پیر وی کر تا ہے یہو د کے واسطے قر آن شر یف میں حکم تھا کہ وہ دود فعہ فسا د کر یں گے اور پھر ان کی سزا وہی کے واسطے اللہ تعا لیٰ اپنے ان پر مسلط کر ے گا۔ چنا نچہ بخت نصر اور طیطوس دو نو نے ان لو گو ں کو بر ی طرح ہلا ک کیا اور تبا ہ کیا ۔ اس کی مما ثلث کے لیے اس قو م میں نمو نہ مو جو د ہے کہ جب یہ فسق وفجو ر میں حد سے نکلنے لگے اور خدا کے احکا م کی ہتک اور شعا ئر اللہ سے نفر ت میں ان آگئی اور دنیا اور اس کی زیب وزنیت میں ہی گم ہو گئے تو اللہ تعا لیٰ نے ان کو بھی اسی طر ح ہلا کو چنگنیرخا ں وغیر ہ سے بر با د کر ایا ۔ لکھا ہے کہ اس وقت یہ آسما ن سے آواز آتی تھی
    ا یھاالکفا ر اقتلو االفجار
    غر ض فا سق فا جر انسا ن خدا کی نظر میں کا فر سے ذلیل اور قا بل نفر ین ہے ۔ اگر کو ئی کتا ب قر آن شر یف کے بعد نا زل ہو نے والی ہو تی تو ضر ور ان لو گو ں کے نا م بھی اسی طر ح عبا د النا میں دا خل کئے جا تے ۔ یہ بھی لکھا ہے کہ آخر کا ر بخت نصر یا اسکی اولا دیت پر ستی وغیر ہ سے با ز آکر وا حد پر ایما ن لا ئی ہے اسی طرح ادھر بھی چنگنیرخا ں کی اولاد مسلما ن ہو گئی ۔ غر ض خدا نے مما ثلث میں طا بق النعل والا صاحب معا ملہ کر کے دکھا دیا ہے ۔
    عا دل گو ر نمنٹ
    بعض با د شا ہو ں کی معد لت گستر ی کے متعلق ذکر ہو ا ۔ آپ نے فر ما یا کہ:۔
    ہما ری گو ر نمنٹ ہم نے اسے غو ر دیکھا ہے کہ نا زک معا ملا ت میںبھی بلا تحقیق کے کو ئی کا ر گذار ی نہیں کر تی ۔ بغا وت جیسے خطر نا ک معا ملا ت میں تو بلا تحقیق اور فر وجر م اور ثبو ت کے سوا گر فت نہیںکی جا تی ۔تو دوسر ے معا ملا ت میں بھلا کہا ں ایسا کر نے لگی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اور حکا مِ وقت ہیں کہ انکے نزدیک بہم پہنچایا جا وے یا کو ئی لمبی تحقیقا ت کی جا وے ۔ دیکھئے ہما را مقد مہ پا دری والا بھی تو ایک بغا وت کے پہ رنگ میں تھا۔ کیو نکہ ایک پا دی نے جو ان کے مذ ہب کا لیڈرا ور گروما نا جا تا تھا ۔اس نے ظا ہر کیا تھا کہ گو یا ہم نے اس کے قتل کا منصوبہ کیا ہے اور پھر اس پر بڑ ے بڑے اور پا دریوں کی سفا رشیں بھی مگر بلا تحقیق کے ایک قد م بھی نہ اٹھا یا گیا اور آخر کا ر قو م کی پر واکر کے ہمیں بر ی کیاگیا ۔ غر ض یہ بھی ہم پر خدا کا ایک فضل ہے۔ کہ ایسی عا دل گو ر نمنٹ کے ما تحت ہیں ۔
    (دربا ر شا م)
    مسؑیح کی آمدِ ثانی
    امریکہ کے ایک انگریز کا اشتہار سنایا گیا جس میں اس نے لکھا ہے کہ مسیحؑ کی دوبارہ آمد کایہی وقت ہے ۔وہ کل نشانات پورے ہوگئے جو آمد ِثانی کے پیش خیمہ تھے اور اس نے اس بیان کو بڑے بشپوں اور فلاسفروں کی شہادتوں سے قویٰ کیا ہے
    حضر ت اقد س نے فر ما یا کہ :۔
    اصل میں ان کی یہ با ت کہ مسیحؑ کی آمد ثا نی کا وقت یہی ہے۔ اور اس کے آنے کے تما م نشا نا ت پو رے ہو گئے ہیں ہما رے منشا ء کے مطا بق ہے اور راستی بھی اس میں ہے ان کی وہ با ت جو حق ہو ا جہا نتک وہ راستی کی حما یت میں ہو ا سے ردنہ کر نا چا ہیئے۔ یہ لو گ ایک طر ح سے ہما ر ی خد مت کر ر ہے ہیں ۔ اس ملک میں جہا ں ہما ری تبلیغ بڑی محنت اور صر ف کثیر سے بھی پو ر ی طر ح سے کما حقہ نہیں پہنچ سکتی ۔ وہا ں یہ ہما ری اس خد مت کو مفت اچھی طر ح سے پو را کر رہے ہیں ۔ انہو ں نے و قت کی تشخیص تو با لکل راست کی ہے۔ مگر نتا ئج نکا لنے میں سخت غلطی کر تے ہیں جو آنیو الے کی انتظا ر آسمان سے کر تے ہیں ۔
    ہر سچے نبی کیسا تھ کو ئی نہ کو ئی جھو ٹا نبی آتا ہے ۔
    اب آئے دن سنا جا تا ہے کہ کسی نے دعو یٰ کیا ہے کہ میں ہی مسیحؑ ہو ںہو جو آنیو الا تھا یا میں مہد ی ہو ں جس کا انتظار کیا جا تا تھا۔یہ سب کچھ ہما راے لیے مضر نہیں ہیں یہ تو ہما ری صدا قت کو اور بھی دوبالا کر کے دکھا تا ہے کیو نکہ مقا بلہ کے سو ا کسی کی بھلا ئی یا برائی کا پو را اظہا ر نہیں ہو سکتا ۔ یہ لو گ د عو یٰ کر تے اور چند روز پا نی اور جھا گ والا معا ملہ کرکے دنیا سے ر خصت ہو جا تے یا پا گل خا نہ کی سیر کو عوا نہ کئے جا تے ہیں۔ یہ ہما ری صداقت پر مہر ہیں۔ ہر نبی کے سا تھ کو ئی نہ کو ئی جھو ٹا نبی بھی آتا ہے چنا نچہ ہما رے نبی ﷺ کے وقت میں چا ر شخص ایسے تھے ۔ اسی طر ح اس زما نہ کے لیے بھی تھا بہت سے جھو ٹے نبی آویں گے سو یہ لو گ خو د ہی پیشگو ئی کو پو را کر تے ہیں بھلا کو ئی نتا وے کہ وہ مہد ی سو ڈانی اب کہا ں ہے ؟ یا پیرس کا مسیح کیا ہو ا ؟ انجا م نیک صر ف صا د ق ہی کا ہو تا ہے ۔ سا ر ے جھو ٹے اور مصنو عی آخر تھک کر رہ جا تے یا ہلا ک ہو جا تے ہیں اور جھو ٹ کے انجا م کا پتہ دوسر و ں کے لیے بطور عبرت کے چھو ڑجا تے ہیں۔
    ۶ ما رچ لیکھر ا م کے قتل کا دن
    لا ہور کے آریہ تپر کا نے لکھا ہے کہ ہما را شہید ما رچ کی ۶ کو ایک بزدل مسلما ن کے ہا تھ سے ما را گیا تھا اس دن کی یا د گا ر قا ئم کر نی چا ہیئے کہ وہ دن بڑا متبر ک جا ننا چا ہیئے ۔ اس پر آپ نے فر ما یا کہ ۔
    اصل میں ہما رے یہا ں کے آریہ بھو ل گئے۔ ان کو بھی چا ہیئے تھا کہ ۶ ما ر چ کا دن جلسہ کے واسطے مقر ر کر تے اور ان لو گو ں کو تو خصو صیت سے اس دن کی تعظیم کر نی چا ہیئے کیو نکہ لیکھر ام اصل میں اس جگہ سے یہ تبر کا ت لے گیا تھا ۔
    تمبا کو نو شی مضر ت
    ایک شخص نے امر یکہ سے تمبا کو نو شی کے متعلق اس کے بہت سے محبر ب نقصان ظا ہر کر تے اشتہا ر دیا ۔ اس کو آپ نے سنا ۔ فر ما یا کہ :۔
    اصل میں ہم اس لیے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمر لڑکے ،نو جو ا ن تعلیمیا فتہ بطو ر فیشن ہی کے اس بلا میں گر فتا ر و مبتلا ہو جا تے ہیں تا وہ ان با تو ں کو سنکر اس مضر چیزکے نقصا نا ت سے بچیں ۔
    فر ما یا ۔ اصل میںتمبا کو ایک دھواں ہو تا ہے جو اندرونی اعضاء کے واسطے مضر ہے اسلا م لغو کا مو ں سے منع کر تا ہے اور اس میں نقصان ہی ہو تا ہے لہذااس سے پر ہیزہی اچھا ہے ۔
    پیشگو ئیا ں ہستی با ریتعاا لیٰ کے متعلق معرفت بخشتی ہیں
    اللہ تعالیٰ کی ہستی جس طر ح سے پیشگوئی دلا تی ہے ایسا اور کو ئی سچا علم نہیں معرفت کو زیا دہ کر نے کا صف یہی ایک طر یق ہے ۔ ہما ری نسبت بھی اللہ تعا لیٰ نے بر اہین احمد یہ میں فر ما یا ہے ۔
    کہ تیر ی صداقت کو پیشگوئی کے ذریعہ سے ظا ہر کر و ں گا ۔
    پنڈت دیا نند اور نیو گ
    مجھے ایک دفعہ یہ خیا ل آیا کہ کیا وجہ تھی کہ د یا نند نے نے حیا ئی اور بے غیر تی کا مسئلہ نکالا ۔جسے کو ئی شر یف آریہ بھی بطیب خا طر پسندنہیں کر تا ۔ بلکہ اس کا نا م سنکر گرد ن نیچی کرلیتا ہے او ر چا ہ ندا مت میں غر ق ہو جا تا ہے تو میر ی سمجھ میں آیا کہ چو نکہ وہ شخص بغیر بیو ی کے تھا اس واسطے وہ سا رے اخلا ق جو بیو ی کے ہو نے سے وابستہ ہیں ان سب سے وہ محر م تھا ۔ غیر ت اور حمیت بھی کر سکا اور نہ سمجھا کہ اس طر ح سے میں ہزاروں لو گو ں کے گلے پر چھر ی پھیرتا ہو ں ۔یہی وجہ تھی ورنہ اگر اس کے عیا ل ہو تے وہ ہر گز ایسی بے عزتی کو روانہ رکھتا اب بہت سے شر یف آریہ ہیں جو اسے گلے پڑا ڈھو ل سمجھ کر ہی صر ف زبا ن سے ما ن لیتے ہیں ورنہ عملدرآمد بہت ہے ۔ (الحکم جلد ۷ نبمر صفحہ ۱۵ ۔۱۶ مو ر خہ ۲۸ فر ور ی۱۹۰۳ء؁)
    ۲۷ فر ور ی۱۹۰۳ء؁
    (قبل از عصر)
    مو لو ی عبد الکر یم صا حب نے عر ض کی کہ حضو ر اردو کتا بو ں کا تو کبھی بھی پر وف نہیں آتا ۔ فر ما یا :۔
    اردو میں پنجابی الفاظ کا استعمال
    اردوکیا بھیجنا ہو تا ہے وہ تو صا ف ہو تا ہے ۔ ہا ں بعض نا دا ن اتنا اکثر اعتر اض کر دیا کر تے ہیں۔ کہ اردو میں پنجا بی ملا دیتے ہیں مگر یہ ان کی غلطی ہے ۔ ایک شخص نے میر ی طر ف سے کسی ایسے ہی معتر ض کو جو اب دیا کہ تم انصا ف کر وکہ ا گر وہ اردو میں پنجا بی کے ا لفا ظ ملا د یتے ہیں تو غضب کیا ہو ا ۔؟ ان کی ملکی اور ما دری زبا ن ہے اس کا کیا حق نہیں ؟ جب وہ انگر یزی یاعر بی اور دوسر ے کی زبا ن کا لفظ اردو میں ملا تے ہیں تو تم اعتر ا ض نہیں کر تے مگر جب کو ئی پنجا بی کا لفظ مل جا وے تو اعتر ا ض کر تے ہو ۔ شر م توکر و ۔ اگر تعصب نہیں تو کیا ہے
    (دربا ر شا م )
    اپنا بو جھ خو د اٹھائیں
    ایک شخص نے خط لکھا تھا کہ حضو ر مجھے کر ایہ بھیجا جا وے ۔ میں حا ضر خد مت ہو ں گا ۔ فر ما یا :۔
    من جر ب المجر ب حلت بہ الند امہ ۔
    ہم نے با ر بار ایسے لو گو ں کا تجربہ کر لیا ہے ان میں اخلا ص اور نیک نیتی نہیں ہو تی تو کیا ضر ور ت ہے کہ اس طر ح میر ا روپیہ ضا ئع کیا جا ئے وہی روپیہ دینی کا م میں خر چ ہو گا ۔ ایسا شخص جو معزز ہے وہ ہما رے حا فظ معین الد ین سے بھی گیا گذرا ہے یہ بھی ہمیںقر یبا پند رہ یا بیس روپے دے چکا ہے کبھی دو آنے اورکبھی ایک آنہ ما ہو ار دیتا ہے۔ تو ایسے بیکس شخص جب لنگر اور دیگر اخراج ت کے واسطے کچھ دے سکتے ہیں۔ تو وہ شخص کیو ں اپنا بو جھ نہیں سنبھال سکتا ؟ اور شر لعیت نے تو بو جھ بھی نہیں ڈا لا ۔ حج کی تو فیق نہ ہو تو حج بھی سا قط ہو جا تا ہے اسی طر ح اس جگہ بھی گھربٹھیے بٹھا ئے بیعت ہو سکتی ہے صر ف ایک پیسہ کا کا رڈ صر ف ہو تاہے ۔
    رات کی فضیلت
    فر ما یا :۔
    میںنہیں سمجھتا کہ رات اور دن میں فر ق ہی کیا ہے ۔ صر ف نو را ور ظلمت کا فر ق ہے سو وہ نو ر مضو عی بن سکتا ہے بلکہ رات میں کو تو یہ ایک بر کت ہے۔ خدا نے بھی اپنے فیضا ن عطا کر نے کا وقت را ت ہی رکھا ہے چنا نچہ تہجد کا حکم را ت کو ہے ۔ رات میں دوسر ی طر فو ں سے فر اغت اور کش مکش سے بے فکر ی ہو تی ہے اچھی طر ح دلجمعی سے کا م ہو سکتا ہے رات کو مر دہ کی طر ح پڑے رہنا اور سو نے سے کیا حا صل ؟
    انسا ن کی خو ش قسمتی
    اگر ہو سکے تو د ین کی خد مت کر نی چا ہیئے اس سے زیا دہ خو ش قسمتی اور کیا ہے کہ انسا ن کا وقت ، وجو د ،قو یٰ ،ما ل ، جا ن خدا کے د ین کی خد مت میں خر چ ہو ۔ تو صر ف مر ض کے دورہ کا ا ند یشہ ہو تا ہے۔ ورنہ دل یہی کر تا ہے کہ سا ر ی سا ری رات کئے جا ویں۔ ہما ری تو قریبا تما م کتا بیں ا مر اض وعوا رض میں ہی لکھی گئی ہیں ازالہ وہا م کے وقت میں بھی ہم کو خا ر ش تھی ۔ قریبا ایک بر س تک وہ مر ض رہاتھا ۔
    منشی اشیا کا استعما ل عمر کو گھٹا دیتا ہے
    اللہ اللہ ۔کیا ہی عمدہ قر آنی تعلیم ہے کہ انسا ن کی عمر کو خبیث اور مضر اشیا ء کے ضر ر سے بچا لیا ۔ یہ منشی چیزیں شر اب وغیرہ انسا ن کی عمر کو بہت گھٹا د یتی ہیں ۔اس کی قو ت کو بر با د کر د یتی ہیں ۔ اور بڑھا پے سے پہلے بو ڑھا کرد یتی ہیں ۔ یہ قر آنی تعلیم کا احسا ن ہے کہ کروڑوں مخلوق ان گنا ہ کے ا مر اض سے بچ گئی جو ان نشہ کی چیزیں سے پیدا ہو تی ہیں ۔
    قادیا ن کے آریہ سما ج کے جلسہ پر جو آریہ آئے تو ان کی گندہ دہنیسوں اور گا لی گلو چ کا کسی نے حضر ت ا قد س کی خد مت میں ذکر کیا۔ فر ما یا کہ :۔
    زبا ن کی تہذیب کا ذریعہ
    انسا نی زبا ن کی چھر ی تو رک سکتی ہی نہیں ۔ جب خدا کاخو ف کسی دل میں نہ ہو ۔انسانی زبا ن کی بے با کی اس امر کی دلیل ہے کہ اس کا دل سچے تقویٰ سے محر وم ہے ۔ زبا ن کی تہذیب کا ذریعہ صر ف الہیٰ اور سچا تقو یٰ ہے ۔ ان کی گا لیو ں پر ہمیں کیا افسو س ہو ۔انہوں نے تو نہ خدا کو سمجھا اور نہ حق العبا د کو ۔ ان کو خبر نہیں کہ زبا ن کس چیز سے رُکتی ہے ۔
    تما م قوت اور تو فیق خدا ہی کو ہے۔ اور اس کی عنا یت اور نصر ت سے ہی انسا ن کچھ لکھ پڑھ سکتاہے ۔ شا ید اس کتا ب کے خا تمہ کے لکھے جا نے سے اس قوم کی قو ت وہمت اور دلا ئل کا خا تمہ ہو جا وے ۔
    صاد ق کی مخا لفت کا راز
    میں نے کل سو چا کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ جب کو ئی صاد ق خدا کی طر ف سے آتا ہے تو اس کو لو گ کتو ں کی طر ح کا ٹنے کو دوڑتے ہیں ۔ اس کی جا ن ۔ اس کا ما ل ۔ اس کی عزت وآبر و کے درپے ہو جا تے ہیں ۔مقدمات میں اس کو کھینچتے ہیں ۔گو ر نمنٹ کو اس سے بد ظن ر تے ہیں غر ض ہر طر ح ان سے بن پڑتا ہے اور تکلیف پہنچا سکتے ہیں اپنی طر ف سے کو ئی کسر با قی نہیں رکھتے۔ ہر پہلو سے اس کے استیصا ل کر نے پر آما دہ اور ہر ایک کما ن سے اس پر تیر ما ر نے کو کمر بستہ ہو تے ہیں۔ چا ہتے ہیں کہ ذبح کر دیں اور ٹکڑ ے ٹکڑ ے کر کے قیمہ کر دیں ۔ادھر تویہ جو ش اٹھتا ہے مگر دوسر ی طر ف اس کے پا س ہزار دو ہزار لو گ آتے ہیں ۔ہزاروں کنجراور لنگو ٹی پو ش فقیر بنتے اور خلق اللہ کو گمر اہ کر تے ہیں مگر ان لو گو ں کو قتل اور کفر کا فتو یٰ کو ئی نہیں دیتا ان کی ہر حر کت بد عت اور شر ک سے پر ہو تی ہے ۔ ان کا کو ئی کا م ایسا نہیں ہو تا جو سر اسر اسلا م کے خلا ف نہ ہو۔ مگر ا ن پر کو ئی اعتر اض نہیں کیا جا تا ۔ ان کے لیے کسی دل میں جو ش نہیں اٹھتا غر ض اس میں سو چتا تھا کہ کیا حکمت ہے تو میر ی سمجھ میں آیا کہ اللہ تعا لیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ صادق کا ایک معجزہ ظاہر کرے۔ باوجود اس قسم کی ممانعت کے اور دشمن کے تیر وتبر کے چلانے کے صا د ق بچایا جا تا اور اسکی روزافزوں تر قی کی جا تی ہے خدا کا ہا تھ اسے بچا تا اور اس کو شا دا ب وسر سبز کر تا ہے ۔ خدا کی غیر ت نہیں چا ہتی کہ کا ذب کو بھی اس معجز ہ میں شریک کر ے ۔ اسی واسطے اس طر ف سے دنیا کے دلو ں کو بے پر وا کر دیتا ہے ۔ گو یا اس جھو ٹے کی کسی کو پروا نہیں ہو تی ۔ اس کا وجو ددلو ں کو تحر یک نہیں دے سکتا ۔ مگر بر خلا ف اس کے صا دق کا وجود تبا ہ ہو نے والے دلو ں کو نے قرا ر اور بے چین کر کے ایک رنگ میں ایک طر ح سے خبر دیتا ہے اور ان کے دل نے قرا ر ہو تے ہیں ۔کیو نکہ دل اندرہی ندر جا نتے ہیں کہ یہ شخص ہما را کا روبا ر تبا ہ کر نے آیا ہے ۔ اس واسطے نہا یت اضطر اب کی وجہ سے اس کے ہلا ک کر نے کو اپنے تما م ہتھیا روں سے دوڑتے ہیں مگر اس کا خدا خود محافظ ہو تاہے ۔ خدا اس کے واسطے طا عون کی طر ح وا عظ بھیجتا اور اس کے دشمنو ں کے واعظو ںپر ا سے غلبہ دیتا ہے ۔ وہ خدا کے واعظ کا مقا بلہ نہیں کر سکتے۔ اب دیکھیئے کہ اتنے لوگ جو ہر جمعہ کو جن کی نوبت اکثر پچاس ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے اُن کو کون بیعت کے لیے لا تا ہے ؟یہی طا عو ن کا ڈنڈاہے جو ان کو ڈرا کر ہما ری طرف لے آتا ہے ورنہ کب جا گنے والے تھے اسی فر شتہ نے ان کو جگا یا ہے۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۹،۱۰مو رخہ ۱۰ما رچ ۳ ۱۹۰ ء؁)
    ۲۸ فر وری ۱۹۰۳ ء؁
    (دربا ر شام)
    دربا ر شام میں آر یہ لو گو ں میں سے چند لو گ حضر ت اقد س کی زیا رت کے واسطے آئے ۔حضر ت نے پو چھا آ پ بھی جلسہ کی تقریب پر آئے ہیں ؟ انہو ں نے کہا حضو ر ہم لو گ تو اصل میں یہ با ت سنکر آئے ہیں کہ آپ کا بھی لیکچر ہو گا ورنہ ہما ری اس جگہ آنے کی چند اں خو اہش نہ تھی ۔
    حضر ت اقد س نے فر ما یا کہ
    مذہبی مبا حثا ت کے آداب
    اصل با ت یہ ہے کہ ہم جا نتے ہیں کہ ہر قو م میں کچھ شر یف لو گ بھی ہو تے ہیں جن کا مقصد کسی بے جا حقا رت یا کسی کو بے جا گا لی گلو چ دینا یا کسی بزرگو ں کو بر ا بھلا کہنا ان کا مقصد نہیں ہو تا ۔مگر ہم تو جو کا م کر تے ہیں وہ خد ا تعا لیٰ کے حکم اور اسکی اجا زت اور اس کے اشارہ سے کر تے ہیں۔ اس نے ہمیں اس قسم کے زبا نی مبا حثا ت سے رو ک دیا ہو ا ہے چنا نچہ ہم کئی سا ل ہو ئے کہ کتا ب انجا م آتھم میں اپنا یہ معاہد ہ شا ئع بھی کر چکے ہیں اور ہم نے خدا سے عہد کیا ہے زبا نی مباحثات کی مجا لس میں نہ جا ویں گے ۔آپ جا نتے ہیں کہ ایسے مجمعو ں میں مختلف قسم کے لو گ آتے ہیں۔ کو ئی تو محض جا ہل اور دھڑے بندی کے خیا ل پر آتے ہیں کو ئی اس واسطے کہ تا کسی کے بزرگو ں کو گا لی گلو چ دیکر دل کی ہو س پو ری کرلیں اور بعض سخت تیز طبیعت کے لو گ ہو تے ہیں۔ سو جہا ں اس قسم کا مجمع ہو ا یسی جگہ جا کر مذہبی مباحثات کر نا بڑا نا زک معا ملہ ہے ۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب دو شخص مقابل میں کھڑے ہوتے ہیں جب تک وہ ثابت کرکے نہ دکھادیں کہ دوسرا مذہب بلکل غلطی پر ہے اور اس میں صداقت اور روحانیت کا حصہ نہیں وہ مردہ ہے اور خدا سے اسے تعلق نہیں ہے تب تک اس کو اپنے مذہب کی خوبصورتی دکھانی مشکل ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسرے کے معائب کا ذکر کرناہی پڑے گا۔جو غلطیاںہیں اس میں اگر ان کا ذکر نہ کیا جاوے تو پھر اظہارِ حق ہی نہیں ہوتاتو ایسی باتوں سے بعض لوگ بھڑک اٹھتے ہیں ۔وہ نہیں برداشت کرسکتے۔طیش میںاکر جنگ کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں لہٰذا ایسے موقہ پر جانا مصلحت کے خلاف ہے اور مذہبی تحقیقات کے واسطے ضروری ہے کہ لوگ ٹھنڈے دل اور انصاف پسند طبیعت لے کر ایک مجلس میں جمع ہوں۔ایسا ہو کہ ان میں کسی قسم کے جنگ و جدال کے خیالات جوش زن نہ ہو ں۔تو بہتر ہو پھر ایسی حالت میں ایک طرف سے ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور جہاں تک وہ بول سکتا ہے نولے پھر دوسری طرف سے جانبِ مقابل بھی اسی طرح نرمی اور تہذیب سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اسی طرح بار بار ہو تا ہے کہ افسوس کہ ابھی تک ہمارے ملک میںاس قسم کے متحمل لوگ اور صبر اور نرم دلیِ سے تحقیق والے نہیں ہیں ابھی ایسا وقت نہیں ایا ہاں امید ہے کہ خدا جلدی سے ایسا وقت لے اوے گا ہم نے تو ایسا ارادہ بھی کیا ہے کہ یہاں ایک ایسا مکان تیار کرایاجائے جس میں ہر مذہب کے لوگ ازادی سے اپنی تقریریں کر سکیں۔درحقیقت اگر کسی امر کو ٹھنڈے دل اور انصاف کی نظر بردباری نہ سناجاوے تو اس کی سچی حقیقت اور تہ تک پہنچنے کے واسطے ہزاروں مشکلات ہوتے ہیں۔دیکھئے ایک معمولی چھوٹاسا مقدمہ ہوتا ہے تو اس میں جج کس طرح طرفین کے دلائل ،انکے عذر وغیرہ کس ٹھنڈے دل سے سنتا ہے اور پھر کس طرح سوچ بچارکر پوری تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا ہے بعض اوقات سال ہی گذرجاتے ہیں جب دنیا کے مقدمات کا یہ حالہے تو دین کے مقدمات کا کیونکر دو چار دس بارہ منٹ میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے سائل کو سوال کرنا تو آسان ہے مگر جواب دینے والے کو جو مشکلات ہوتی ہیں انکا اندازہ کرنامشکل ہے ایک شخص اعتراض کردیوے کہ نظام شمس کے متعلق اور ستا رو ں اورزمین کے متعلق حا لا ت مجھے بتا دو اور جتنے وقت میں میںَ نے سوا ل کیا ہے اتنا ہی وقت دیا جا تا ہے کہ اتنے وقت کے اند را اند رجو اب دو ۔ ورنہ تم جھو ٹے ہو ۔ اب صا ف عیا ں ہے کہ جوا ب دنیے والا کیا کر ے ۔ وہ جب تک کئی جز کی کتا ب نہ لکھے تک جوا ب پو را نہ ہو نا ہو ا۔غر ض اس طر ح کی مشکلا ت ہیں جو ہم کو درپیش ہیں ۔یہ وجو ہ ہیں جو ہمیں ان جلسو ں میں جا نے سے روکتے ہیں ۔
    تلا شِ حق کے آدا ب
    اگر سا ئل ایسا کر ے کہ لو صا حب میں سوا ل کیا ہے تم جتبک اس کا جو اب کا مل کر و مَیں خا مو ش ہو ں تو جو اب دینے والے کو بھی مزہ آوے ۔ اصل میں جو با تیں خدا کے لیے ہو ں اور جو دل خدا کی رضا کے واسطے ایسا کر تا ہے اور اس کا دل سچے تقوی سے پر ہے وہ تو کبھی ایسا کر تا نہیں ۔ مگر آج کل زبا ن چھر ی کی طر ح چلتی ہے اور صر ف ایک حجت با زی سے کا م لیا جا تا ہے خدا کے لیے ایسا ہو گا تو وہ با تیں اور وہ طرزہی اور ہو تی ہے جو دل سے نکلتاہے وہ دل ہی پر جا کر بیٹھتا ہے۔حق جُو کے سو ا ل کی بھی ہم کو خوشبو آجا تی ہے ۔حق جو ہو تو اس کی سختی میں بھی ایک لذت ہو تی ہے ۔اس کا حق ہو تا ہے کہ جو امر اس کی سمجھ میں نہیں آیا ۔اس کے متعلق اپنی تسلی کرائے اور جب تک اس کی تسلی نہ ہو اور پو رے دلا ئل نہ مل جا ویںتب تک بیشک وہ پو چھے ہمیں بر ا نہیں لگتا ۔بلکہ ایسا شخص تو قا بل عزت ہو تا ہے جو با تیں خدا کیلیے ہو تی ہیں وہ کیا ں اور نفسا نی ڈھکو نسلے کہا ں؟
    اعتراض کر نے میں جلدی نہ کرو
    میں نے اپنی جما عت کو بھی با ر ہا سمجھایا کہ کسی پر اعتراض کر نے میں جلدی نہ کرو ہر پرانا مذہب اصل میں خدا ہی کی طر ف سے تھا مگر زما نہ دراز گذرنے کی وجہ سے اس میں غلطیا ں پڑگئی ہیں ۔ان کو آہستگی اور نر می سے دور کر نے کی کو شش کر و کسی کی طر ح اعتر اض کا تحفہ نہ دو ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک کپڑا با ز ار سے لے کر سلا یا جا تا اور پہنا جا تا ہے چند روز کے بعد وہ پر انا ہو جا تا اور اس میں تغیر آکر کچھ اور کا اور ہی ہو جا تا ہے
    سچے مذہب کی علا ما ت
    اسی طر ح پر انے مذہب میں بھی صدا قت کی جڑ ضر ور ہو تی ہے۔ خدا راستی کے سا تھ ہو تا ہے اور سچا مذہب اپنے اندرزندہ نشا ن رکھتا ہے۔ کیو نکہ درحت اپنے پھلو ں سے شنا خت ہو تا ہے ۔گو رنمنٹ جو اس ورا ء الو را ء ہتی کا ایک نہا یت کمزور سا ظِلّ ہے خو د کسی جگہ حا کم مقر رفر ما یا ہو تا ہے۔ وہ کس دلیر ی سے کا م کر تا ہے اور ذرا بھی پو شید گی پسندنہیں کر تا ۔ مگر وہ ایک مضو عی ڈپٹی کمشنر یا تھا نہ دار وغیرہ جو جعلی طو ر کسی جگہ خود بخود حا کم بن کر لو گو ں کو دھو کہ دیتے ہیں ۔کیا وہ گو رنمنٹ کے سا منے ہو سکتے ہیں ؟ جب گو رنمنٹ کو یہ پتہ لگے گا اس کو ذلیل کر ے گی اور وہ ہتھکڑی لگ کر جیل خا نہ میں یا اور سزا ملے گی ۔ یہی حا ل ہے مذہبی راستی کا ۔جو خدا کی نظر میں صا دق ہو تا ہے اسمیں خدا کے نشا ن اور جرات اور صدا قت کے آثار ہو تے ہیں وہ ہر وقت زندہ ہو تا ہے اوراس کی عزت ہو تی ہے ۔
    متقی کا مقا م
    اصل میں خدا سے ڈرنیو الے کو تو بڑی بڑی مشکلا ت ہو تی ہیں ۔انسا ن پا ک صا ف تو جب جا کر ہو تا ہے کہ اپنے ارادو ں کو اور اپنی با تو ں کو با لکل تر ک کر کے خدا کے رادو ں کو اسی کی رضا کے حصو ل کے واسطے فنا فی اللہ جا وے ۔خودی اور تکبر اور نخوت سب اس کے اندر سے نلک جا وے ۔ اس کی آنکھ ادھر دیکھے جد ھر خدا کا حکم ہو ۔اس کے کا ن ادھر لگیں جدھر اس کے آقا کا فر ما ن ہو ۔اس کی زبا ن حق وحکمت کے بیا ن کر نے کو کھلے ۔اس کے بغیر نہ لے جب تک اس کے لیے خدا کا ازن نہ ہو اس کا کھا نا ۔پہننا ۔سونا ۔پینا ۔مبا شر ت وغیرہ کر نا سب اس واسطے ہو کہ خدا نے حکم دیا ہے تب تک اس سرجہ تک نہیں پہنچتا کہ متقی ہو ۔پھر جب یہ خدا کے واسطے اپنے اوپر مو ت واردکر تا ہے خدا کبھی اسے دوسری مو ت نہیں دیتا ۔
    مَیںنیک دل انسان کو دور سے پہچا ن لیتا ہو ں
    آج کل د یکھاجا تا ہے کہ جب لَبْ کھو لا جا تا ہے ۔تو ان کی با تو ں میں سے سوا ئے ہنسی ٹھٹھے دکھا نے والے کلما ت کے کچھ نکلتا ہی نہیں جو کچھ بر تن میں ہو تا ہے وہی با ہر نکلتا ہے ۔ انکی زبا نیں ان کے اند رون پر گو اہی دیتی ہیں۔مَیں تو نیک دل انسا ن کو دور سے پہچا ن لیتا ہو ں جو شخص پا ک کر دار اور سلیم دل لے کر آتا ہے مَیںتوا سی کے دیکھنے کا شو ق رکھتا ہو ں ۔اس کی تو گا لی بھی بر ٰ معلو م نہیں ہو تی ۔ مگر افسو س کہ ایسے پا ک دل بہت کم ہیں ۔
    صبر اور حلم کا نمو نہ
    ایک آر یہ صا حب بو لے کہ ا صل میں حضو ر جا ہل دو ہی قو میں ہیں۔ آپ برا نہ ما نیں تو مَیں عر ض کر دو ں ۔اول تو سکھ دوسرے ہما رے یہ مسلما ن بھائی ۔
    اس پر حضر ت اقدس نے فر ما یا کہ
    دیکھئے ایک سمجھنے والے کے لیے جا ہل سے زیا دہ اور کیا گا لی ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کو اس کے منہ پر جا ہل کہنا بہت سخت گا لی ہے مگر سو چو تو کیا حاضر ین میں کو ئی ایک بھی بو لا ہے ؟ کیا اب بھی تمہیں اس مجلس کی نر می اور تہذیب پر کچھ شک ہے ؟ بہت ہیں جو ہما رے منہ پر گا لیا ں دے جا تے مگر ان میں سے ایک کی بھی مجال نہیں ہو تی کہ دم ما ر کر اس کو کچھ بھی کہہ جا وے ۔
    ہم ان کو دن رات صبر کی تعلم دیتے ہیں ۔نر می اور حلم سکھا تے ہیں ۔یہ وہ قو م نہیں کہ آپ کے اس اصو ل کی مصداق بن سکے ۔ہا ں ہم البتہ عوا م النا س لو گو ں کے ذمہ دار نہیں ہیں ہم تب ما نیں اگر کسی آریہ لو گو ں کے مجمع میں اس طر ح کہدیں تم جا ہل ہو اور وہ صبر کر رہیں اور ایک کی بجا ئے ہزارنہ سنا ئیںتو ۔
    مسلما ن کے اخلا ق
    آپ نے مسلما نو ں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ نے ان کے اخلا ق دیکھے ہیں ۔ان کا اور ان آریو ں کا مقا بلہ کیا جا وے تو بکر ی اور بھیڑیئے کا معا ملہ نظر آوے ۔عوا م جو ہما رے زیر اثر نہیں ہیں ان کا ذمہ نہیں لیتے ۔گا لی اور جوش دلا نے والے الفا ظ سنکر صبر کر نا مر دوں کا کا م ہو تا ہے۔ اگر کو ئی ایسا کر کے دکھا وے تو ہم جا نیں ۔نر می ہی مشکل ہے سختی تو ہر ایک شخص کر سکتا ہے ۔
    خدا تعا لیٰ عمر کو کم وبیش کر سکتا ہے
    کسی صا حب نے بیا ن کیا کہ آریو ں نے لیکچر میں کہا کہ عمر کو کم وبیش کر سکتا ہے ۔فر ما یا :۔
    ہما را تو اعتقادہے کہ وہ ہر چیزپر قا درہے ۔وہ عمر کو بھی کر سکتا ہے اور زیا دہ بھی کر سکتا ہے۔
    یمحواللہ مایشا ء ویتبث(سورت الر عد :۴۰ )
    اگر ایسا نہیں ہو تا وہ کیوں مر تے ہو ئے انسان سے صد قا ت کر اتے ہیں ۔اور کیوں علاج معا لجہ کرا تے ہیں ؟ بلکہ عیسا یئو ں کا بھی یہی اعتقا د ہے ان کی کتا بو ں میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی پند رہ دن کی عمر رہ گئی تھی دعا سے پند رہ سا ل ہو گئے ۔ اصل با ت یہ ہے کہ یہ قوم نبو ت کی را ہ سے با لکل محر وم ہو نے کی وجہ سے اس راہ اور علم سے جا ہل مطلق اسی وجہ سے ایسے اعتر اض کر تے ہیں ۔روحا نیت سے بے بہر ہ ہو نے کی وجہ سے ہے ورنہ ایسے اعتر اض ہر گز نہ کر تے ۔ ما دہ زاداند ھے کو آنکھیں کیو نکر دیں ۔
    (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۰ ۔۱۱ با بت ۱۰ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)
    یکم مارچ ۱۹۰۳ء؁
    (صبح کی سیر )
    حضر ت نو اب محمد علی خا نصا حب کے متعلق ایک الہا م
    نو اب صا حب کو مخاطب کر کے فر ما یا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصو یر ہما رے سا منے آئی اور اتنا لفظ الہا م ہو ا حجت اللہ یہ امر کو ئی ذا تی معا ملا ت سے تعلق نہیں رکھتا ۔اس کے متعلق یو ں تفہیم ہو ئی کہ چو نکہ آپ اپنی برادر ی اور قو م میں سے اور سو سا ئٹی میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعا لیٰ نے آپ کا نا م حجت اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہو ں گے ۔قیا مت کے دن ان کو کہا جا وے گا فلا ں شخص نے تم سے نکل کر اس صدا قت کو پر کھا اور ما نا ۔تم نے کیو ں ایسا نہ کیا ؟ یہ بھی تم میں سے ہی تھا اور تمہا ری طر ح کا ہی انساب تھا چونکہ خدا تعا لیٰ نے آپ کا نا م حجت اللہ رکھا آپ کو بھی چا ہیئے کہ آپ ان لو گو ں پر تحریر سے تقریر سے ہر طر ح سے حجت پو ری کر دیں ۔ ۱ ؎ اصل میں اس سا ری قوم کی حا لت قا بل رحم ہے عیش وعشر ت میں گم ہیں دنیا کے کیڑے بنے ہو ئے ہیں اور فنا فی یو رپ ہیں ۔خدا سے اور آسما ن سے تعلق نہیں ۔جب کسی کو ایسی قوم میں سے نکا لتا اور اس کی اصلا ح کر تا ہے تو اس کا نام اس قوم پر حجت رکھتا ہے ۔ہما رے بنی ﷺ کو بھی اسی وجہ سے اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے۔
    وجئنا بک علی ھو لا ئشھیدا(نسا ء :۴۲)
    آنحضرت ﷺکے پاس ایک شخص آیا تھا ۔اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فر ما یا بس کر ۔اب تو مَیںاپنی ہی امت پر گواہی دینے کے قا بل ہو گیا ہو ں۔ مجھے فکر ہے کہ میر ی امت کو میر ی گو اہی کی وجہ سے سزا ملیگی ۔
    کلمتہ اللہ کی حقیقت
    حضر ت عیسؑی کو اللہ تعا لیٰ نے کلمتہ اللہ خصو صیت کے سا تھ کیو ں کہا ۔اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کی ولا دت پر لو گ بڑے گندے اعتراض کر تے تھے اس واسطے اللہ تعا لیٰ نے ان کو ان الزامو ں سے بری کرنے کے لیے فر ما یا کہ وہ توکلمتہ اللہ ہیں۔ ۲ ؎ ان کی ما ں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پا کبا ز اور عفیفہ ہے ور نہ یو ں تو کلمتہ اللہ ہر شخص ہے ان کی خصو صیت کیا تھی چنا نچہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ اللہ تعا لیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے انہی عتراضوں سے ہی بر ی کر نے واسطے اللہ تعا لیٰ نے ان کو کہا کہ وہ شیطا ن کے مَس سے پا ک تھے ورنہ کیا دوسرے انبیا ء شیطا ن کے ہا تھ سے مس شد ہ ہیں ؟ جو نعو ذبا للہ دوسرے الفا ظ میں یو ں ہے کہ ان پر شیطا ن کا تسلط ہو تا ہے ۔اللہ تعا لیٰ تو فر ما تا ہے کہ شیطا ن کو کسی معمولی انسا ن پر بھی تسلط نہیں ہو تا تو انبیا ء پر کس طر ح ہو سکتا ہے ؟ اصل وجہ صر ف یہی تھی کہ ان پر بڑے اعتر اض کئے گئے تھے ۔اسی واسطے ان کی بریت کااظہار فر ما یا جیسے کہ اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے۔
    وما کفر سلیمن (البقرہ: ۱۰۳)
    کو ئی کہے کہ کیا انبیا ء بھی کا فر ہو اکر تے ہیں ؟نہیں ایسا نہیں ۔لو گو ں نے ان پراعتراض کیا تھا کہ وہ بت پر ست ہو گئے تھے ایک عو رت کے لیے ۔اس ا عتراض کا جوا ب دیا یہی حا ل ہے حضر ت عیسیٰؑ کے متعلق۔
    اس دن کی سیر کے دوران ایک اور ذکر بھی ہو ا جوالبد ر میں یو ں درج ہے :۔
    چو نکہ آج کے د ن بھی آ ریہ سما ج کا جلسہ تھا اور کثر ت سے اس جلسہ میں شا مل ہو ئے تھے کہ حضر ت میر زا صا حب کی زیا رت ہو گی۔مگر جب ان کو معلو م ہو اکہ مبا حثہ کی خبر غلط شا ئع کی گیء ہے تو اب وہ لو گ حضر ت کی زیا رت کے لیے تو مسجد میں آتے رہے اور بعض سیر میں آکرملے ان میں سے بعض نے پھر در خوا ست کی کہ آپ جلسہ میں آکر گفتگو کر یں ۔حضر ت اقدس نے فرما یا کہ :۔
    گا لی او ر بر محل با ت میں فر ق
    مذہبی با تو ں کو علمی رنگ میں بیا ن کر نا چا ہیئے اور یہ تب ہو سکتا ہے کہ جب انسان کو گیا ن حا صل ہو ورنہ بلا سو چے سمجھے کہہ دنیے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا کر تا ۔ہر ایک مذہب میں کھلی کھلی با ت اور گیا ن کی با ت بھی ہو تی ہے جبتک انسا ن نفس کو صا ف کر کے با ت نہ کر ے تو ٹھیک پتہ نہیں لگتا ۔آج کل ہا ر جیت کو مد نظر رکھ کر لو گ با ت کر تے ہیں ۔اس سے فسا د کا اندیشہ ہو تا ہے ۔
    با ربار جہا د،طلا ق ،کثر ت ازدوج، کو پیش کیا جا تا ہے ۔حا لا نکہ ان کے بزرگ سب یہ با تیں کر تے آئے ہیں ۔یہا ں کے آریہ ہمیشہ میر ے پا س آتے ہیںاور سوا ل وجواب بھی ہو تا ہے لیکن آپس میں نا راضگی کبھی نہیں ہو تی بعض(دفعہ) با ت اپنے محل پر چسپا ں کہی جا تی ہے لو گ اسے غلط فہمی سے گا لی خیا ل کر لیتے ہیں ان کو یہ علم نہیں ہو تا کہ گا لی اور بر محل با ت میں فر ق کر سکیں ۔بات یہ ہے کہ جب انسا ن پرانے عقیدہ پر جما ہوا ہو تا ہے تو اس کے عقیدے کو جب دوسرا بیا ن کر تا ہے تو اسے گا لی خیا ل کر تا ہے ۔
    اس موقعہ پرایک ہندونے کہا آپ نے بعض جگہ گا لیا ں دی ہو ئی ہیں ۔فر ما یا کہ
    کو ئی ایسی با ت پیش کر و جو اپنے محل پر چسپا ں نہیں ہے۔اس لیے کہتا ہو ں زبا نی تقر یر یں اچھی نہیں ہیں۔ اور تحریر کرتا ہوں کہ ہر ایک پڑھ کراپنی اپنی جگہ پر رائے قا ئم کر لے اور جو اس کا جی چا ہے کہے چنا نچہ اس مو قعہ پر حضر ت نے اس ہند وکو تحفہ آریہ یعنی ’’ نسیم دعو ت‘‘ نئی تصیف دی کہ وتم اسے دیکھو اور بتلاو کو نسی با ت ہے جو اپنے محل پر چسپا ں نہیں ہے۔‘‘ (البدرجلد نمبر ۸صفحہ ۵۷ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)ـّ )ـ
    (قبل ازظہر)
    حضر ت اقدس کی زیا رت کے لیے کا شی رام ویدلا ہو ر سے اور بعض اور لو گ تشر یف لا ئے حضر ت اقدس نے مخاطب کر کے ان کو فر ما یا :۔
    اختلا ف مذہب کی حکمت
    ا ختلا ف مذاہب کا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت علمی سے رکھا ہے یہ بھی ایک عمدہ چیزہے۔ اس سے انسا نو ں کی عقل بڑھتی ہے دنیا میں اگر کسی معا ملہ میں اتفا ق بھی کر تے ہیں تو اس کی بار یک دربا ریک جز ئیوں تک پہنچنامحا ل ہو جا تا ہے اور جزئی درجزئی نکلتی چلی آتی ہے ۔ تبا دلہ خیا لا ت کے لیے مجمعوں میں تقریریں کر نی بھی اچھی چیز ہیں لیکن ابھی تک ہما رے ملک میں ایسے مہذب لو گ بہت ہی کم ہیں بلکہ نہیں ہیں جو آرام اور امن کے سا تھ اپنے مخا لف رائے سن سکیں۔
    میں نے خود یہ چا ہا تھا اور میرا ارادہ ہے کہ قادیا ن میں ایک جگہ ایسی بنا ویں جہاں مختلف لو گ مذاہب کے جمع ہو کر ا پنے اپنے مذہب کی صد اقت اور خوبیو ں کو آزادی سے بیا ن کر سکیں ۔میں دیکھتا ہو ں کہ اگر اظہا ر حق کے لیے مبا حثے اور تقریریں ہو ں تو بہت اچھی با ت ہے مگر تجربہ سے ثا بت ہو گیا ہے کہ ان میں فتنی وفسا د کا مظنہ ہو تا ہے ہے اس لیے میں ان مبا حثو ں کو چھوڑدیا ہے ممکن ہے دو چا ر آدمی ایسے بھی ہو ں جو صبر اور نر می کے سا تھ اپنے مخالف کی بات سن لیے لیکن کثرت ایسے لوگوںکی ہوگی جو عوام الناس میں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کے منہ سے ایک لفظ بھی اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتے خواہ وہ کتنا ہی نر م کیو ں نہ ہو ۔چو نکہ جب مخالف بیا ن کر ے گا تو کو ئی نہ کو ئی لفظ اس کے منہ سے ایسا نکل سکتا جو اس کے فر یق مخالف کی غلطی کے اظہا ر میں ہو گا اور اس سے عو ام میں جو ش پھیل جا تا ہے ایسی جگہ تو تب امن رہ سکتا ہے جب سمجھانے والا سمجھنے والا اس طر ح بیٹھیں کہ جیسے با پ بیٹے میں کو ئی بر ائی دیکھتا ہے اور اس کو سمجھاتا ہے یو وہ نر می اور صبر سے اس کو سن لیتا ہے ایسی محبت کی کشش سے البتہ فائدہ ہو تا ہے غیظ وغضب کی حا لت میں یہ امید رکھنا کہ کو ئی فا ئد ہ ہو خام خیا ل ہے ۔
    ہندواور مسلمانوں کے با ہم تعلقا ت میں ابتری
    اب مشکل آکر یہ پڑی ہے کہ ایک تودین کا اختلا ف ہی ہے پھر اس پر احقاق ِحق لو گو ں کی غرض نہیں رہی بلکہ بعض وعناد میں اس قدر تر قی کی گئی ہے کہ اپنے فریق مخالف کا نا م ادب یا عزت سے لینا گنا ہ سمجھا جا تا ہے میں ـ دیکھتا ہو ں کہ بڑی بے ادبی اور گستا خی سے با ت کر تے ہیں پہلے ہندو مسلما ن میں ایسے تعلقا ت تھے کہ بر ادری کی طر ح رہتے تھے اب تفرقہ پیدا ہو ا ہے کہ وہ اندرونی کشش جو ایک دوسر ے میں تھی با قی نہیں رہی ہے بلکہ تعصب اور دشمنی بڑھ گئی ہے پس جبکہ کو ئی حصہ انس اور کشش کا ہی با قی نہ ہو اور ہا ر جیت مقصو د ہو تو پھر اظہا ر حق کس طر ح ہو سکتا ہے ۔
    اظہا رِ حق کیلئے ضروری امور
    اظہا ر حق کے واسطے یہ ضروری امر ہے کہ تعصب سے اندر خا لی ہو اور بعض اور عنا دنہ ہو ۔ست است کے نر نے کے لیے بحث کا تو نا م بھی درمیا ن میں نہیں آنا چاہیئے بلکہ اس کو چا ہیئے کہ بحث کو چھوڑدے۔
    میں یہ بھی ما نتا ہو ں اور یہی میرا مذہب ہے کہ ایک اور غلطی میں لو گ پڑے ہو ئے ہیںکسی مذہب پر حملہ کر تے وقت وہ اتنا غور نہیں کرتے کہ جو حملہ ہم کرتے ہیں اس مذہب کی کتا ب میں بھی ہے یا نہیں ؟ مسلمہ کتب کو چھوڑدیتے ہیں اور کسی کی ذاتی رائے کو لیکر اس کو مذہب کی خبر بنادیتے ہیں ۔
    ہم بہت سی با تو ں میں آریہ مذہب کے خلا ف ہیں ۔اور ہم ان کو صحیح تسلیم نہیں کر تے لیکن ہم ان کو ویدپر نہیں لگا تے ہم کو کچھ معلو م نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ہا ں پند ٹدیا نند پر ضرور لگا تے ہیں کیو نکہ انہو ںنے تسیلم کر لیا ہے ہم تو اس عقید ہ کے خلا ف کہتے ہین جو شا ئع کر دیا ہے کہ یہ آریہ سما ج کا عقیدہ ہے اسی طر ح پر آریو ں کو اگر کو ئی اعتر اض کر نا ہو تو چا ہیئے کہ وہ قرآن شر یف پر کر یں یا اس عقیدہ پر جو ہم نے مان لیا ہو اور اس کو شائع کر دیا ہو یہ منا سب نہیں کہ جس با ت کو ہم ما نتے ہی نہیں خواہ نخواہ ہما رے عقیدہ کی طر ف اس کو منسو ب کر دیا جا ئے ۔
    مبا حثہ اصو ل پر ہو نا چا ہیئے
    اگر اس اصل کو مد نظر رکھا جا وے تو سا معین فا ئدہ اٹھا سکتے ہیں ۔جب تک کتا ب کو کسی نے سمجھا اور پڑ ھاہی نہیں اس پر وہ اعتراض کر نے کا حق کس طر ح رکھ سکتا ہے ۔مذہب کے معا ملہ میں یہ ضروری با ت ہے کہ ما نی ہو ئی اصل پر بحث کر یں ۔اگر چہ ضروری نہیں کہ کل کتا بیں پڑھی جا ویں اس کے لیے تو عمر بھی وفا نہیں کر سکتی۔
    مبا حثہ اصول پر ہو نا چا ہیئے ۔ ۱ ؎ جو بطوربحث کے ہیں اور چو نکہ عا م مجمعوں میںحق کو مشتبہ رکھا جا تا ہے ۔ انسا ن ضد اور تعصب سے کا م لیتا ہے میں نے خدا سے عہد کر لیا ہے کہ اس طر یق کو چھوڑدیا جاوے۔
    یہ کتا ب (نسیم دعوت ۔مر تب ) میں نے اصول مبا حثہ کے لحا ظ سے لکھی ہے۔ اوراسی طریق سے جو میں نے پیش کیا ہے بحث کی ہے جو ہم کو گا لیا ں دیتے ہیں۔ ان کی گا لیوں کا کو ئی جوا ب نہیں دیتے کیو نکہ خدا تعا لیٰ نے ہم سے توگالیوں کی قوت ہی کھو دی ہے ۔کس کس کی گا لی کا جو اب دیں ۔ ۱ ؎
    (البدرجلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۱۱۔۱۲ مو رخہ ۱۰ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)ـّ
    ۲مارچ ۱۹۰۳ء؁
    (صبح کی سیر)
    مسیح موعوؑد کے ذریعہ خا نہ کعبہ کی حفا ظت
    صا حبزادہ سراج الحق صا حب نے عر ض کیا کہ حضورمیرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم تو حج کر نے کو گئے ہو ئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ہے ۔ ۲ ؎
    فر ما یا :۔اصل میںجو لو گ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہی ہے۔حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اوراس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں ۔
    آنحضرت ﷺ نے جو کشف میں دیکھا تھا کہ دجّال اور مسیح موعود اکٹھے طواف کررہے ہیں ۔اصل میں طواف کے معنے ہیں پھرنا تو طواف دو ہی طرح کا ہو تا ہے۔ ایک تو رات کو چور پھرتے ہیں یعنی گھروں کے گرد طواف کر تے ہیں اور ایک چوکیدار طواف کرتا ہے مگر ان میں فرق یہ ہے کہ چور تو گھروں کو لوٹنے اور گھروں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ۔اور چوکیدار ان گھروں کی حفاظت اور بچائواور چوروں کے پکڑنے کے واسطے طواف کرتے ہیں۔یہی حال مسیح اور دجّال کے طواف کا ہے ۔دجّال تو دنیا میں اس واسطے پھرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تا دنیا کو خداکی طرف سے پھیر دے اور ان کے ایمان کو لُوٹ لیا جاوے مگر مسیح موعود اس کوشش میں ہے کہ تا اُسے پکڑے ا مارے اور اس کے ہاتھ سے لوگوں کے دین وایمان کے متاع کو بچاوے۔غرض یہ ایک جنگ ہے جو ہمارا دجّال سے ہو رہا ہے ۔
    کا مل ایمان والے کو کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی
    ایک صاحب نے عرض کی حضور کیا وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو مبشرات کثرت سے ہوتے ہیں اور بعض کو کم بلکہ بالکل ہی نہیں ۔فرمایا کہ:۔
    اصل میں اللہ تعالیٰ نے طبائع مختلف پیدا کی ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہو تے ہیں کہ اُن کی ایمانی قوت ہی ایسی مضبوط ہوتی ہے کہ اسے کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اس کا یمان کامل ہو تا ہے دیکھو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کونسا نشان دیکھا؟یا کون سا خواب آیا ؟یا کوئی نشارت ہوئی تھی جس سے انہوں نے آپ کوپہچان لیا تھا اگر اُن کا کوئی خواب یا بشارت وغیرہ ہو تی تو اس کا ذکر حدیث شریف میں ضرور ہو تا ۔وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے راستہ میں واپسی پر انہوں نے ایک شخص سے پوچھا۔اپنے شہر کی کوئی نئی بات سنائو ۔اُس نے آنحضرت ﷺ کے دعویٰ نبوت سے آپ کو آگاہ کیا ۔فوراً نے چون وچرامان لیا ۔اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پہلے حالات دیکھے ہوئے تھے۔وہ بخوبی آگاہ تھے کہ یہ شخص کاذب یا مفتری نہیں ۔اُن کو پہلی واقفیت اور عقلِ سلیم نے آپ کو فوراً قبول کر لینے پر مجبور کیا۔زمانہ کی حالت کو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔وقت تھا ضرورت تھی ایک صادق نے خداکی طرف سے الہام پا کر دعویٰ کیا فوراً مان لیا ۔
    اصل میں نشانات کی ضرورت بھی کمزور ایمان کو ہو تی ہے ۔کامل ایمان کو نشان کی ضرورت ہی نہیں۔
    خداکے مقرب عذابِ الہٰی سے محفوظ رکھے جاتے ہیں
    فرمایا کہ
    خداکے عذاب سے اپنے آپکو محفوظ رکھنے کے واسطے خداکا قرب حاصل کر نا ضروری ہے۔ جتنا جتنا خدا سے انسان قر یب ہو تا ہے اتنا ہی وہ مصائب،شدائد اور بلائوںسے دوُر ہو تا ہے۔جو خدا کا مقرب ہو تا ہے اسے کبھی خدا کے قہر کی آگ نہیں کھاتی ۔دیکھو انبیاء کے وقت میں وبائیں اور طاعون سخت ہوتے رہے مگر کوئی بھی نبی ان عذابوں میں ہلاک نہیں ہوا۔ صحا بہؓ کے وقت میں بھی طاعون پڑا ۔اور بہت سے صحابہ ؓ اس سے شہید بھی ہوئے مگر اس وقت وہ صحابہ کے واسطے شہادت تھی کیونکہ صحابہ ؓاپنا کا م پورا کر چکے تھے اور اعلیٰ درجہ کی کامیابی اُن کو ہوچکی تھی اور نیز وہ کوئی تحدّی کا وقت بھی نہ تھا اور مرنا توہر انسان کے ساتھ لازمی لگا ہوا ہے۔اسی ذریعہ سے خداتعالیٰ کو اُن کی موت منظور تھی ۔ان کے واسطے شہادت تھی۔مگر جب کسی عذاب کے واسطے پہلے سے خبر دی جاوے کہ خدا آسمان سے اپنی ناراضگی کی وجہ سے قہر نازل کرے گا تو ایسے وقت میں وہ وبا رحمت نہیں۔ اور شہادت نہیں ہو کرتی بلکہ *** ہو اکرتی ہے پس خدا کی طرف دوڑو اسی کے پاس معالجے ہیں اور بچائو کے سامان ہیں۔ (الحکم جلد ۷نمبر ۹ صفحہ۱۲ ،۱۳ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ماننے کے قابل حدیث اور خواب
    ظہر کے وقت ایک شخص نے ایک پراگندہ سی خواب لکھ کر حضور سے تعبیر پو چھی تھی ۔اس پر آپ نے فر مایا کہ:۔
    جس طرح سے حدیث ماننے کے قابل نہیں ہو تی جب تک قرآن کے موافق نہ ہو ۔اسی طرح کو ئی خواب بھی ماننے کے لائق نہیں جب تک ہمارے موافق نہ ہو ۔
    عصر کے وقت چند سکھ حضرت اقدس کی ملاقات کے واسطے آئے اور اثناء ذکر میں آپ نے فرمایاکہ
    زبان سے تو ایک انسان بھی اپنا بندہ نہیں بن سکتا خدا کیسے بن سکتا ہے۔محبت ہو گی تو سانجھ ہو گی کھوٹ سے کوئی خدا سے کیا لے سکتا ہے۔ (البدر جلد ۲نمبر۸ صفحہ۵۸ مورخہ۱۳ مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    دربا ر شام
    خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی تلاش ضروری تھی
    ایک صاحب نووار د ۱؎ تھے آپ نے اُن سے فر مایا :۔
    دیکھودُنیا چند روزہ ہے کسی کو بقا نہیں اور یہ دُنیا اور اس کا جاہ وجلال ہمیشہ نہیں رہنے والے ۔چاہئے کہ اس وقت جو اللہ تعالیٰ یہ سلسلہ قائم کیا ہے اس کو سمجھا جاوے ۔اگر وہ درحقیقت خدا ہی کی طرف سے ہے تو اس سے دور رہنا کیسا بد قسمتی کا موجب ہو گا ۔وقت نازک ہے ۔دنیا نے جس امر کو سمجھنا چاہیئے تھا اسے نہیں سمجھااور جس کی طرف توجہ کرنی چاہیئے تھی اس کو پسِ پُشت ڈال دیا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی تلاش ضروری تھی۔دیکھو دنیوی ضرورتوں کے واسطے کس طرح دنیا کو شش کر تی اور جانکاہ محنتوں سے ان کے حصول کے ذریعہ کو سوچتی ہے۔ مگر دین کیا ایسا ہی گیا گذرا امر ہے کہ اس کے واسطے اتنی بھی تکلیف نہ بر داشت کی جاوے کہ چند روز کے واسطے ایک جگہ رہ کر اسلام کی تحقیق کی جاوے ۔ایک بیمار انسان جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو مریض کی اگر طبیب تشخیص کر بھی لیوے تو معالجہ میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا دوا دی جاوے۔
    ضرورتِ الہام
    ایک شہر میں پہنچ کر انسان پھر بھی خاص جگہ پر پہنچنے کے واسطے کسی رہبر کا محتا ج ہو تا ہے تو کیا دین کی راہ معلوم کر نے اور خداکی مرضی پانے کے واسطے انسانی ڈھکونسلے کام آسکتے ہیں؟ اور کیا سفلی عقل کافی ہو سکتے ہے؟ ہر گز ہرگز نہیں جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنی راہ کو نہ بتاوے اور اپنی مرضی کے وسائل کے حصول کے ذریعہ سے مطلع نہ کرے تب تک انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔دیکھو جبتک آسمان سے پانی نازل نہ ہو زمین بھی اپنا سبزہ نہیں نکالتی گو بیج اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو ۔بلکہ زمین کا پانی بھی دوُر چلا جاتا ہے تو کیا رُوحانی بارش کے بغیر ہی رُوحانی زمین سر سبز ہو جاتی اور بار آور ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ۔خدا کے الہام کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ۔دیکھو یہ جو اتنے بڑے عاقل کہلاتے ہیں اور بڑے مو جد ہیں آئے دن تار نکلتی ہے ریل بنتی ہے اور انسانی عقل کو حیران کر دینے والے کا م کئے جاتے ہیں کیا ان کی عقل کے برابر بھی کوئی اورعقل ہے؟جب ایسے عاقل لوگوں کا یہ حال ہے کہ ایک عاجز ا نسان کو جو ایک عورت کے پیٹ سے عام لڑکوں کی طرح سے پیدا ہو اتھا اور اسی طرح عوارض وغیرہ کا نشانہ بنا رہا اور کھانا پینا سب کچھ کرتا ہو ایہودیوں کے ہاتھ سے سولی پر چڑھا یا گیا تھا اس کو خداوند بنایا ہو اہے اور اس کے کفارہ سے اپنی نجات جانتے ہیں اور ایسی بودی چال اختیا رکی ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسی کرے۔اس کی کیا وجہ تھی؟صرف یہی کہ انہوں نے سفلی عقل پر ہی بھروسہ کیا اور ایک کوے کی طرح نجاست پر گر پڑے۔
    دیکھو جب انسان خدا سے مدد چاہتا ہے اور اپنے آپ کو عاجز جانتا ہے اور گردن فرازی نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کر تا ہے ایک مکھی ہے کہ گندگی پر گر تی ہے اور دوسری کو خدا نے عزت دی کہ سارا جہان اس کا شہد کھاتا ہے یہ صرف اس کی طرف جھکنے کی وجہ سے ہے ۔پس انسان کو چاہیئے کہ ہر وقت
    ایاک نعبد وایاک نستعین (الفاتحہ :۵ )
    پر کار بند رہے اور اسی سے توفیق طلب کرے۔ ایساکرنے سے انسان خدا کی تجلیات کا کظہر بھی بن سکتا ہے۔چاند جب آفتاب کے مقابل ہوتا ہے تو اُسے نُور ملتا ہے مگر جوں جوں اس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہو تا جاتا ہے۔یہی حال ہے انسان کا جب تک اس کے دروازہ پر گرارہے اور اپنے آپ کو اس کا محتاج خیال کرتا رہے تب اللہ تعالیٰ اُسے اُٹھاتا اور نوازتاہے ورنہ جب وہ اپنی قوتِ بازوپر بھروسہ کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جا تا ہے ۔ ۱؎
    صادق کی معیت
    کونو مع الصادقین (التوبہ : ۱۱۹)
    بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے ۔سادھ سنگت بھی ایک ضربالمثل ہے ۔پس یہ ضروری باتہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوت اور شوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگ آوے ۔سفید کپڑا اچھا رنگا جا تا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کاپہلے سے میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا ۔صادق کی معیت ۱؎ میں انسان کی عقدہ کشائی ہو تی ہے اور اسے نشانات دیئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور رُوح تا زہ ہو تی ہے۔ (الحکم جلد۷نمبر۹صفحہ۱۳ مورخہ۱۰ مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۳ مارچ ۱۹۰۳؁ء
    (بوقت سیر)
    حضرت صاحب تشریف لائے تو کل کے نووارد مہمان بھی ہمراہ سیر کو چلے آپ نے انکو مخاطب کرکے فر مایا :۔
    زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ ایک دن آنے کا ہے اور ایک دن جانے کا معلو م نہیں کب مرنا ہے ۔علم ایکطاقت انسان کے اندر ہے۔ اس کے اُوپر وساوس اور شبہات پڑتے ہیں ۔عادتوں کے کیڑے برتن کی میل کی طرح انسان کے اندر چمٹے ہو ئے ہیں ۔اس کا علاج یہی ہے کہ
    کو نو مع الصادقین۔
    پس اگر آپ چند روز یہاں ٹھہر جاویں تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے؟اس طح ہر ایک بات کا موقعہ آپ کو مل جائیگا دُنیا کے کا م تو یو نہی چلے چلتے ہیں۔
    کارِ دُنیا کسے تمام نہ کرد ہر چہ گیر ید مختصر گیر ید
    بہت لوگ ہمارے پاس آئے اور جلد رُخصت ہو نے لگے۔ ہم نے اُن کو منع کیا مگر ہوہ چلے گئے۔ آخر کار پیچھے سے انہوں نے خط روانہ کئے کہ ہم نے گھر پہنچ کر بنایا تو کچھ نہیں اگر ٹھہر جاتے تو اچھا ہو تا اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمارا جلدی آنا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔
    مسیح ِموعود کی صحبت میں رہنے کی تا کید
    یہ مرحلہ اس لئے قابلِ طے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہے کہ جب دنیا ختم ہو نے پر ہو گی تو اس اُمّت میں مسیح موعود پیدا ہو گا ۔لوگوں کو چاہیئے کہ اس کے پاس پہنچیںخواہ ان کو برف پر چل کر جانا پڑے۔ اس لیے صحبت میں رہنا ضروری ہے کیو نکہ یہ سلسلہ آسمانی ہے ۔پاس رہنے سے باتیں جو ہوں گی ان کو سنیگا جو کوئی نشان ظاہر ہو اُسے سوچے گا ۔آگے ہی زندگی کا کونسا اعتبار تھا مگر اب تو جب سے یہ سلسلہ طاعون کا شروع ہو اہے کو ئی اعتبار مطلق نہیں رہا۔ آپ نفس پر جبر کر کے ٹھہریئے اور جو شبہ وخیال پیداہو وہ سناتے رہیئے ۔اَن پڑھ اور اُمّی لوگ جو آتے ہیں ان کی باتیں اور شبہات کا سننا بھی ہمارا فرض ہے۔ اس سے آپ بھی اپنے شبہات ضرور سنایئے یہ ہم نہیں کہتے کہ ہدایت ہو نہ ہو ۔ہدایت تو امرِربیّ ہے ۔کسی کے اختیار یمیں نہیں ہے۔
    مسلمان کون ہے؟
    یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ہر ایک مسلمان کیوں مسلمان کہلاتا ہے؟ مسلمان وہی ہے جو کہتا ہے کہ اسلام برحق ہے ۔حضرت محمدﷺ نبی ہیں قرآن کتابِآسمانی ہے ۔اس کے معنے ہوتے ہیں کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ان سے باہر نہ جائوں گا ۔نہ عقیدہ میں نہ عبادت میں ۔نہ عملدرآمد میں ۔میری ہر بات اور عمل اس کے اندر ہی ہو گا ۔
    گدی نشین اور بدعات
    اب اس کے مقابل پر آپ انصاف سے د یکھیں کہ آج کل گدی والے اس ہدایت کے موافق کیا کچھ کرتے ہیں ۔اگر وہ خدا کی کتاب پر عمل نہیں کرتے توقیامت کو اس کا جواب کیا ہو گا کہ تم نے میری کتاب پر عمل نہ کیا ۔اس وقت طوافِ قبر ،کنجریوں کے جلسے اور مختلف طریقے ذکر جن میں سے ایک ارّہ کا ذکر بھی ہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہمارا سوال ہے کہ کیا خدا بھُول گیا تھا کہ اس نے یہ تمام باتیں کتاب میں نہ لکھ دیں ۔نہ رسول کو بتائیں۔ جو رسول ﷺ کی عظمت جانتا ہے اسے ماننا پڑیگاکہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کے باہر نہ جانا چاہیئے۔
    کتا ب اللہ کے خلاف جو کچھ ہو رہاہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النّار ہے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجُز اس قانون کے جو مقرر ہے اِدھر اُدھر نہ جاوے ۔کسی کا کیا حق ہے کہ باربار ایک شریعت بناوے ۔
    بعض پیر زادے چوڑیاں پہنتے ہیں ۔ مہندی لگاتے ہیں ۔لال کپڑے ہمیشہ رکھتے ہیں ۔سَدا سہاگن ان کا نام ہو تا ہے ۔اب ان سے کو ئی پوچھے کہ آنحضرت ﷺ تو مرد تھے۔اس کو مرد سے عورت بننے کی کیا ضرورت پڑی؟
    ہمارا اُصول آنحضرت ﷺ کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سُنّت کے سوا نہیں ۔کس شئے نے ان کو جرأت دی ہے کہ اپنی طرف سے وہ ایسی باتیں گھڑ لیں۔بجائے قرآن کے کا فیاں پڑھتے ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کا دل قرآن سے کھٹا ہو ا ہوا ہے ۔خدا تعالیٰ فر ماتا ہے جو میری کتا ب پر چلنے والا ہو وہ ظلمت سے نور کی طرف آویگا اور کتا ب پر اگر نہیں چلتا تو شیطان اس کے ساتھ ہو گا ۔
    بندگانِ خدا کی علامت
    مگر جو خدا کے بندے ہو تے ہیں ان میں خوشبو اور بر کت ہو تی ہے فر یب اور مکر سے اُن کو کوئی غرض نہیں ہو تی ۔جیسے آفتاب اُسے چمکتا ہوا نظر آتا ہے ایسے ہی دور سے اس کی چمک دکھائی دیتی ہے اور دنیا میں اصلا چمک انہیں کی ہے ۔یہ آفتاب اور قمر وغیرہ تو صرف نمونہ ہیں ۔ان کی چمک دائمی نہیں ہے کیو نکہ یہ غروب ہو جاتے ہیں لیکن وہ غروب نہیں ہو تے ۔جس کو خدا اور رسول کی محبت کا شوق ہے اور ان کے خلاف کو پسند نہیں کرتا اور عفونت اور بد بو کو محسوس کرنے کا اس میں مادہ ہو وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ یہ طریق اسلام سے بہت بعید ہے ۔مثلِ یہود کے خدا نے انکو چھوڑ دیاہے۔ بلعم کی طرح اب مکر وفریب کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ صفائی والا انسان جلد دیکھ لیتا ہے کہ یہ جسم اس حقیقی رُوح سے خالی ہے۔
    سجادہ نشینوں کے پَیرو سو چیں
    انسان توجہ کرے تو پتہ لگتا ہے کہ جو لوگ صمّ’‘ بکمّ’‘ ہو کر سجادہ نشینوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور عرسوں وغیرہ میں شریک ہو جاتے ہیں ۔اُن کو یہ خیال نہیں آتا ۔کہ وہ کونسی روشنی ہے جو خانہ کعبہ سے شروع ہوئی تھی اور تمام دنیا میں پھیلی تھی اور انہوں نے اس میں سے کس قدر حصّہ لیا ہے۔ان کو ہرگز وہ نور نہیں ملتا جو آنحضرت ﷺ مکہ سے لائے اواس سے کُل دنیا کو فتح کیا ۔آج اگر رسول اللہ ﷺ پیداہوں تو ان لوگوں کو جو اُمت کا دعویٰ کرتے ہیں کبھی شناخت بھی نہ کر سکیں ۔کونسا طریقہ آپ کا ان لوگوں نے رکھا ہے۔
    شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرتؐ نے دیا ہے اُسے لے لے۔اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہٹے۔ اب اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں اُن کو مسجد بنایا ہو ا ہے ۔عر س وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاجِنبوت ہے نہ طریق سُنّت ہے۔اگر منع کرو تو غیظ وغضب میں آتے ہیں اور دشمن بن جاتے ہیں ۔چونکہ یہ آخری زمانہ ہے ایسا ہی ہو نا چاہیئے تھا لیکن اسی زمانہ کے فسادوں کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ نے فر مایا تھا کہ اس زمانہ میں اکیلا رہنا اور اکیلا مرجانا یا درختوں سے پنجہ مار کو مر جا نا ایسی صحبتوں سے اچھا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ سب چیزیں پوری ہو رہی ہیں انسان دوسروں کے سمجھائے کچھ نہیں سمجھتا ۔دل میں کسی بات کا بٹھا دینا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے ۔حدیث شریف میں ہے کہ خدا جب کسی سے نیکی کرتا ہے تو اسے کچھ عطا کرتا ہے ۔اس کے دل میں فراست پیداہو جاتی ہے اور دل ہی معیار ہو تا ہے مگر محجوب دل کام نہیں آتا۔یہ کام ہمیشہ پاک دل سے نکلتا ہے۔
    من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل:۷۳)
    ان باتوں کے لئے دُعا کر نی چاہیئے۔
    نیک اعمال کیلئے صحبت ِصادقین کی ضرورت ہے
    خد اکے فضل کے سوا تبدیلی نہیں ہو تی اعمالِ نیک کے واسطے صحبت ِصادقین کا نصیب ہو نا ضروری ہے ۔یہ خدا کی سنت ہے ورنہ اگ ر چاہتا تو آسمان سے قرآن یو نہی بھیج دنتا اور کوئی رسول نہ آتا ۔مگر انسان کو عمل درآمد کے لئے نمونہ کی ضرورت ہے ۔پس اگر نمونہ نہ بھیجتا رہتا تو حق مشتبہ ہو جا تا ۔
    مخالفت کی وجہ
    اب اس وقت علماء مخالف ہیں ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟صرف یہی کہ میں بار بار کہتا ہو ں کہ یہ تمہارے عقیدے وغیرہ سب خلافِ اسلام ہیں۔اس میں میرا کیا گناہ ہے ؟مجھے تو خدا نے مامور کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان غلطیوں کو نکال دیا جاوے اور منہاجِ نبوت کو قائم کیا جاوے ۔اب لوگ میرے مقابلہ پر قصّہ کہانیاں پیش کرتے ہیں ۔حالانکہ مجھے خود ہر ایک امر بذریعہ وحی والہام بتلایا جاتا ہے ۔ان کے کہنے سے میَں اسے کیسے چھوڑدوں ؟ان کا عقیدہ ہے کہ جب مسیح آویگا تو جس قدر غلطیاں ہو ں گی ان کو نکال دیگا اگر اس نے سب کچھ انہیں کا قبول کنا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہنا تو بتلائو کہ پھر اس کا کام کیا ہو گا ؟
    آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی یہی طریق ایسے لو گوں کا تھا کہ دور بیٹھے شور مچاتے اور پاس آکر نہ دیکھتے ۔ابو جہل نے مخالفت تو سالہاسالکی مگر پیغمبرخدا کی صحبت میں ایک دن بھی نہ بیٹھا حتٰی کہ مر گیا ۔اس لئے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے
    ولا تقف ما لیس لک بہہ علم
    اب ان سے پوچھا جاوے کہ بلا تحقیق کے کیوں فتوے لگاتے ہو؟
    علامات ظہور مہدی ومسیح کا پورا ہونا
    یہ خود کہتے تھے کہ صدی کے سر پر آنے والا ہے۔پھر انہیں کی کتا بوں میں لکھا ہوا تھا کہ کسوف وخسوف ہو گا ۔طاعون پڑے گی ۔حج بند ہو گا ۔ایک ستارہ جو مسیح کے وقت نکلا تھا نکل چکاہے ۔اونٹوں کی سواری بیکار ہو گئی ہے۔ اسی طرح سب علامتیں پوری ہو گئی ہیں، مگر ان لو گوں کا یہ کہنا کہ ابھی مسیح نہیں آیا یہ معنے رکھتا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی کوئی پیشگوئی پوری نہ ہو ۔یہ سب اندرونی مشان ہیں ۔اب بیرونی دیکھئے کہ صلیب کا غلبہ کس قدر ہے۔نصاریٰ نے تردید اسلام میں کیا کیا کوششیں کی ہیں اور خود اندرونی طور پر تقویٰ ،زہد، ریاضت میں فرق آگیا ہے۔ برائے نام مسلمان ہیں ۔جھوٹی گوہیاں دیتے ہیں ۔خیانتیں کر تے ہیں ۔قرضہ لے کر دبا لیتے ہیں ۔اگر خدا کو یہ منظور ہو تا کہ اسلام ہلاک ہو جاوے اور اندرونی اور بیرونی بلائیں اُسے کھا جائیں تو وہ کسی کو پیدا نہ کرتا ۔اس کا وعدہ
    انا نحن نز لنا الذکر وانالہ لحافظون (الحجر :۱۰)
    کا کہاں گیا ؟اوّل تو تاڑ تاڑ مجدّد آئے مگر جب مسلمانوں کی حالت تنزّل میں ہوئی بد اطواری تر قی کر تی جاتی ہے سعادت کا مادہ ان میں نہ رہا اور اسلام غرق ہو نے لگا تو خدا نے ہاتھ اُٹھا لیا ؟جب کہو تو یہی جواب ہے کہ حدیثو ں میں لکھا ہے کہ تیس دجّال آئیں گے ۔یہ بھی ایک دجّال ہے ۔او کمبختو ! تمہاری قسمت میں دجّال ہی لکھے ہیں ؟غرض یہ باتیں غور کے قابل ہیں مگر دل کے کھول نے کی کُنجی خدا کے ہاتھ میں ہے ۔جبتک وہ نہ کھولے دل میں اثر نہیں ہو تا ۔ ابو جہل بھی چودہ برس تک باتیں سنتاہی رہا۔یہی ہماری جماعت ہے اس کی کون سی عقل زیادہ ہے کہ انہوں نے حقیقت کو سمجھ لیا اور بعضوں نے نہ سمجھا ایسے ہی دماغ اعضاء وغیرہ باقی سب مخالفوں کے ہیں مگر وہ اس حقیقت کو نہیں پہنچے۔انکے دلوں کو قفل لگے ہیں ۔
    دکانداری کا جواب
    مختلف اعتراضات کے جوب پر فرمایا کہ:۔
    اسے دکانداری کہتے ہیں۔ ہے تو دکان مگر خدا کی اگر انسان کی ہو تی تو دیوالہ نکل جاتا ٹوٹ جاتی مگر خدا کی ہے جو محفوظ ہے۔
    ہمارے گروہ کی خدا نے خود مدد کی ہے کہ جلدی ترقیدی کہ یہ مسجدوں کے مُلاں وغیرہ جب دیکھیں گے کہ اب اُن کی تعداد بہت ہے خود ہی ہاں میں ہاں ملا دیں گے۔
    (قبل از عشاء)
    ایک خانساماں کی استقامت
    بٹالہ میں ایک خانساماں جو مشنری لیڈی کے ہاں ملازم تھا۔حضرت صاحب کا خادم تھا ۔مشنری لیڈی نے اُسے اس تعصّب کے باعث بر خواست کر دیا حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔
    اگر مکھن کھاتے دانت جاتے ہیں تو جاویں ۔
    ( مشنری لیڈی نے اُسے کہاتھا کہ تم اتنی دیر ہمارے پاس رہے اور اثر نہ ہوا ۔اس پر حضرت نے فر مایا کہ اثر تو ہوا کہ اس نے مقابلہ کر کے دیکھ لیا کہ حق اِدھر ہے۔ )
    (البدر جلد ۲نمبر۸ صفحہ۵۹،۶۰ مورخہ۱۳ مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۴ مارچ ۱۹۰۳؁ء
    (صبح کی سیر)
    جو خد اکے واسطے کھوتا ہے اُسے ہزار چند دیا جاتا ہے
    فرمایا کہ
    جو شخص خدا کی طرف قدم اُٹھا تا ہے( اس پر) خدا سے نور اترتا ہے۔(وہ)اپنے فرشتوں کو اس کی خدمت کے واسطے مامور فرماتا ہے ۔جو اس ے واسطے کچھ کھوتا ہے اس کو اس سے ہزار چند دیا جاتا ہے۔دیکھو صحابہؓ میں سے سب سے پہلے حضر ت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے اپنا سا را ما ل اللہ تعا لیٰ کی راہ میں خر چ کر دیا تھا اور کمبل پو ش بن پھر ا تھا ۔مگر جب اللہ تعا لیٰ نے اسے دیا تو کیا دیا ۔دیکھ لو کیسی منا سبت ہے کہ اس نے چو نکہ سب صحابہؓ سے اول خر چ کیا تھا اسے سب سے پہلے خلا فت کا تخت عطا کیا گیا ۔غر ض خدا کو ئی بخیل نیئں اور نہ اس کے فیض خا س خا ص ہیں ۔بلکہ ہر ایک جو صدق دل سے طا لب بنتا ہے ۔اسے عزت دی جا تی ہے یہ ہما رے دشمن تو اللہ تعا لیٰ سے جنگ کر تے ہیں بھلا ان سے آسما نی با تیں اور تا ئید ات رو کی سکتی ہیں ۔ہر گز نہیں پر نا لہ کے پا نی کو تو کو ئی رو ک بھی سکتا ہے مگر آسما ن سے مو سلا دھار با رش ہو نے لگ جا وے ۔ اس کو کو ن رو ک سکے گا اور اس کے آگے کو نسا نبد لگا ویں گے ؟ ہما را تو سا را کا روبا ر ہی آسما نی ہے پھر بھلا کسی کی کیا نجا ل کہ اس میں کسی کا حر ج یا خلل واقع کر سکے ۔
    البد میں بعض مزید با تو ں کا ذکر ہے وہا ں لکھا ہے کہ حضور نے فر ما یا۔تجربہ ہے کہ جب ہند ووں میں سے مسلمان ہو تے ہیں تو وہ متقی ہو تے ہیں جیسے مو لو ی عبید اللہ صا حب ۔سنا تن دہر م والے زواید کو چھوڑ کر وہ تما م با تیں ما نتے ہیں جن کے ہم قا ئل ہیں ۔خدا کو ما نتے ہیں ۔ فر شتو ں پر بھی ان کا ایما ن ہے نیو گ کے سخت مخا لف ہیں ۔ جو لو گ اخلا ص سے اسلام میں داخل ہو تے ہیں ۔وہ کو ئی شرط نہیں با ند ھتے جو شر طیں پیش کر کے اسلا م لا نا چا ہتا ہے وہ ضرور کھو ٹ رکھتا ہے ۔ (البد جلد ۲ نمبر ۸ صفحہ ۶۰ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)
    لمبی مو نچھوں کی تعبیر
    ایک خوا ب کی تعبیر میں فر ما یا کہ
    اصل میں زیا دہ لمبی لمبی( مو نچھیں) رکھنا بھی تکبر اور نجو ت کو بڑھا تا ہے اسی واسطے شر لعیت اسلا م نے فر ما یا ہے کہ مو نچھیںکٹواو اور داڑھی کو بڑھا و ۔یہ یہوداور عسیا ئی اور ہندووں کا کام ہے کہ وہ اکثرتکبر سے مو نچھوں کو بڑھا تے ہیں اور تا ودے کر ایک متکبرانہ وضع بنا تے ہیں خصو صا سکھ لو گ ۔مگر ہما ری شر لعیت کیا پا ک ہے کہ جس جگہ سے کاکسی قسم کی بدی کا احتما ل بھی تھا اس سے بھی منع کر دیا ۔بھلا یہ با تیں کسی اور میں کہا ں پا ئی جا تی ہیں ۔ (الحکم جلد ۷نمبر ۱۰صفحہ۲مو رخہ۱۷ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)
    البد ر میں ہے :۔ ایک صا حب نے عرض کی کہ خو ا ب میںمیں نے اپنی مو نچھوں کو کتر ے ہو ئے دیکھا ہے فر ما یا کہ لبوں کے کتر ے سے مر اد انکسا ری اور توا ضع ہے زیا دہ لب رکھنا تکبر کی علا مت ہے جیسے انگزیز اور سکھ وغیر ہ رکھتے ہیں پیغمیبر خدا نے اسی لیے اس سے منع کیا ہے تکبر نہ رہے اسلا م تو توا ضع سکھا تا ہے جو خواب میں دیکھے تو اس میں فر وتنی بڑھ جا وے گی ۔ (البد جلد ۲ نمبر ۸ صفحہ ۶۰ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۵ما رچ ۱۹۰۳ء؁
    (دربا رشا م )
    حضرت اقدس نے فا رسی میںفر ما یا لہذاس کا تر جمہ لکھا جا تا ہے :۔
    دوستو ں کی جدا ئی پر غمگین ہو نا
    خدا ئے تعالیٰ ۱ ؎ نے یہ با ت میر ے دل میں ڈالی ہے اور میر ی فطرت میں رکھ دی ہے کہ جب کو ئی دوست مجھ سے جدا ہو نے لگتا ہے مجھے سخت قلق اور درد محسو س ہو تا ہے میں خیا ل کر تا ہو ں کہ خدا جا نے زندگی کا بھر وسہ نہیں ۔پھر ملا قا ت نصیب ہو گی یا نہیں پھر میرے دل میں خیا ل آجاتا ہے کہ دوسروں کے بھی تو حقوق ہیں ۔بیو ی ہے ،بچے ہین اور شتہ دار ہیں ۔مگر تا ہم جو شند روز بھی ہما رے پا س رہتا ہے اس کے جدا ہو نے سے ہما ری طبیعت کو صدمہ ضرور ہو تا ہے ہم بچے تھے اب بڑھا پے تک پہنچ گئے ہیں ہمنے تجر بہ کر کے دیکھا ہے کہ انسا ن کے ہا تھ میں کچھ بھی نہیں بجنراس کے کہ انسا ن خدا کے سا تھ تعلق پیدا کر لے ۔

    دُعا اَور تو کّل
    سا ری عقد ہ کشا ئیا ں دعا کے سا تھ ہو جا تی ہیں ۔ہما رے ہا تھ میں بھی اگر کسی کی خیر خوا ہی ہے تو کیا ہے ۔صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے ہم سیا ہ کو سفید اور سفید کو سیا ہ نہیں کر سکتے ۔ہما رے بس میں ایک ذرہ بھر بھی نہیں ہے ۔مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔
    انسا ن کو مشکلا ت کے وقت اگر چہ اضطرا ب ہو تا ہے مگر چا ہیئے کہ تو کل کو کبھی بھی ہا تھ سے نہ دے ۔ آنحضر ت ﷺ کو بھی بد ر کے مو قع پر سخت اضطرا ب ہوا تھا ۔ ۱ ؎ چنانچہ عرض کرتے تھے
    یاَرَب ان اھلکت ھذہ العصابۃ فلن تعبد فی الار ض ابدا
    مگر آپ کا اضطراب فقط بشریٰ تقا ضا سے تھا کیو نکہ دوسری طرف توکل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دیا تھا آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ہرگز مجھے ضائع نہیں کرے گا ۔یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا ایسے اضطرابوں کا انا تو انسانی اخلاقاور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاکو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے ۔انسان کو طرح طرکے خیالات اضطراب کا وسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساس کو دور کر دیتا ہے بشریت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے
    ایمان وعرفان کی حقیقت
    دیکھو ایمان جیسی کوئی چیز نہیں ۔ایمان سے عر فا ن کا پھل پیدا ہو تا ہے ۔ایمان تو مجاہدہ اور کو شش کو چاہتا ہے اور عر فا ن خدا تعالیٰ کی موہبت اور انعام ہو تا ہے عرفان سے مراد کشوف اور الہامات جو ہر قسم کی شیطانی آمیزش اورظلمت کی ملونی سے مبّرا ہوں اور نو ر اور خدا کی طرف سے ایک شوکت کے ساتھ ہو ں وہ مراد ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے موہبت اور انعام ہو تا ہے۔یہ چیز کچھ کسی چیز نہیں مگر ایمان کسبی چیز ہو تا ہے اسی واسطے اوامر ہیں کہ یہ کرو ۔غرض ہزاروں احکام ہیں اور ہزاروں نواہی ہیں ۔ان پر پوری طرح سے کار بند ہو نا ایمان ہے۔
    غرض ایمان ایک خدمت ہے جو ہم بجالاتے ہیں اور عر فان اس پر ایک انعام اور موہبت ہے۔ انسان کو چاہیئے کہ خدمت کئے جاوے ۔آگے انعام دینا خدا کا کام ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہو نا چاہیئے کہ وہ اس انعام کے واسطے خد مت کرے۔
    خد اکی محبت میں محو ہو جائو
    مکاشفات اورالہامات کے ابواب کے کھلنے کے واسطے جلدی نہ کر نی چاہیئے اگر تمام عمر بھی کشوف اور الہامات نہ ہوں تو گھبرا نا نہ چاہیئے اگر یہ معلوم کر لو کہ تم ایک عاشقِ صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھو کا مر تا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کی ہوش نہ پانی کی پرواہ ۔نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہوجائو کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہوجاوے پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مَر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے ۔ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے ۔نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پرواہ دیکھو ایک شرابی شراب کے جام کے جام پیتا ہے اور لذّت اُٹھا تاہے ۔اسی طرح تم اس کی ذاتی محبت کے جام بھر بھر کے پیو ۔جس طرح وہ دریا نوش ہوتا ہے اسی طرح تم بھی کبھی سیر نہ ہو نے والے بنو جب تک انسان اس امر کو محسوس نہ کر لے کہ مَیں محبت کے ایسے درجہ کو پہنچ گیا ہوں کہ اب عاشق کہلا سکوں تب تک پیچھے ہر گز نہ ہٹے ۔قدم آگے ہی آگے رکھتا جاوے اور اُس جام کو منہ سے نہ ہٹائے ۔اپنے آپ کو اس کے لیے بیقرار و شیدا و مضطرب بنالو ۔اگر اس درجہ تک نہیں پہنچے تو کوڑی کے کام کے نہیں ۔ایسی محبت ہوکہ خدا کی محبت کے مقابل پر کسی چیز کی پرواہ نہ ہو ۔نہ کسی قسم کی طمع کے مطیع بنو اور نہ کسی قسم کے خوف کا تمہیں خوف ا ؎
    ہوچناچہ کسی کا شعر ہے کہ ؎
    آنکہ تراشناخت جاں راچہ کُند فرزند و عیال خانماں راچہ کُند
    دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانہ ہر دو جہاں راچہ کُند
    مَیں تو اگر اپنے فرزند کاذکر کرتا ہوں تو نہ اپنی طرف سے بلکہ مجھے تو مجبوراً کرنا پڑتا ہے ۔کیا کروں اگر اس کے انعامات کا ذکر نہ کروں تو گنہگار ٹھہروں ۔چناچہ ہر لڑکے کی پہلے اُسی نے خود اپنی طرف سے بشارت دی ۔اب میں کیا کروں ۔غرض انسان کا اصل مدعاتو صرف یہی چاہیئے کہ کسی طرح خدا کی رضا مل جاوے۔
    مدار نجات
    نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیظ خواب گویم ۱؎
    مدار نجات صرف یہی امر ہے کہ سچا تقویٰ اور خدا کی خوشنودی اور خالق کی عبادت کا حق ادا کیا جاوے ۔الہامات و مکاشفات کی خواہش کر نا کمزوری ہے ۔مرنے کے وقت جو چیز انسان کو لذت دِہ ہو گی وہ صرف خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سے صفائی معاملہ اور آگے بھیجے ہوئے اعمال ہونگے جوایمان صادق اور ذاتی محبت سے صادر ہوئے ہوں گے ۔
    من کان للہ کان اللہ لہ
    اصل میں جو عاشق ہو تا ہے ۔آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ معشوق بن جاتا ہے کیونکہ جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو کی توجہ بھی اس کی طرف ہو جاتی ہے اور آخر کار ہو تے ہوتے کشش سے وہ اس سے محبت کر نے لگتا ہے اور عا شق معشو ق کا معشو ق بن جا تا ہے ۔جب جسما نی اور مجا زی عشق ومحبت کا یہ حا ل ہے کہ ایک معشو ق اپنے عا شق کا عا شق بن جا تا ہے تو کیا روحا نی رنگ میں جو اس سے زیا دہ کا مل ہے ایسا ممکن نہیں کہ جو خدا سے محبت کرنے والا ہو آخر کا ر خدا اس سے محبت کر نے لگے۔ اور وہ خدا کا محبوب بن جا وے ؟ مجا زی معشوقوں میں تو ممکن ہے کہ معشوق کو اپنے عا شق کی محبت کا پتہ نہ لگے مگر وہ خدا تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے اس سے انسا ن مظہر کر اما ت الہیٰ اور مو ر د عنا یات ا یزدی ہو جا تا ہے اور خدا تعا لیٰ کی چا رد میں مخفی ہو جا تا ہے ۔ان مکا شفا ت اور رویا ئاور الہا ما ت کی طر ف سے تو جہ پھیر لو اور ان امو رکی طر ف خود جرات کر کے درخوا ست نہ کر و ایسا نہ ہو کہ جلد با زی کر نے والے ٹھہر و۔اکثر لو گ مر ے پا س آتے ہیں کہ ہمیں کو ئی ایسا وردوظیفہ بتا دوکہ جس سے ہمیں الہا ما ت اور مکا شفا ت ہو نے شر وع ہو جا ویں ،مگر میں انکو کہتا ہو ں کہ ایسا کر نے سے انسان مشرک بن جا تا ہے شر ک یہی نہیں کہ بتو ں کی پو جا کی جا وے بلکہ سخت شر ک اور بڑامشکل مرحلہ تو نفس کے بت کو تو ڑنا ہو تا ہے ۔تم ذاتی محبت خر ید واور اپنے اندروہ قلق وہ سو زش وہ گداز وہ رقت پیدا کر و جو ایک عا شق صادق کے اندرہو تی ہے ۔دیکھو کمزورایما ن جو طبع یا خوف کے سہارے پر کھڑاہو وہ کا م نہیں آتا۔بہشت کی طمع یا دوزخ کا خو ف وغیرہ امو ر پر ا پنے ایما ن کا تکیہ نہ لگا و بھلا کبھی کسی نے کو ئی عا شق دیکھا ہے کہ وہ معشوق سے کہتا ہو کہ میں تو تجھ پر اپنے واسطے عا شق ہو ں کہ تو مجھے اتنا روپیہ یا فلا ں شئے دیدے ۔ہر گز نہیں ۔دیکھو ایسی طبعی محبت پیدا کر لو جیسے ایک ما ں کو اپنے بچہ سے ہو تی ہے ۔ما ں کو نہیں معلو م ہو تا کہ وہ کیو ں بچہ سے محبت کر تی ہے ۔اس میں ایک طبعی کشش اور ذاتی محبت ہو تی ہے ۔
    دیکھو اھر کسی ماں کا بچہ گم ہو جا وے اور رات کا وقت ہو تو اس کی کیا حا لت ہو تی ہے ۔جو ں جوں رات زیا دہ ہو گی اور اندھیرابڑھتا جا وے گا اس کی حا لت دگر گو ں ہو تی جا وے گی یا زندہ ہی مر گئی ہے مگر جب اچا نک اس سے اس کا فرزند مل جا وے تو اس کی وہ حا لت کیسی ہو تی ہے ۔ ذرامقا بلہ کر کے تو دیکھو پس صر ف ایسی محبت ذاتی اور کا مل ایمان سے ہی انسا ن دارا لاما ن میں پہنچ سکتا ہے ۔سا رے رسول خدا تعا لیٰ کو اس لیے پیا رے نہ تھے کہ ان کو الہاما ت ہو تے تھے ان کے واسطے مکا شفا ت کے دروازے کھو لے گئے ہیں یا نہیں بلکہ ان کی ذاتی محبت کی وجہ سے وہ تر قی کر تے کر تے خدا کے معشوق اور محبوب بن گئے تھے ۔اسی واسطے کہتے ہیں کہ نبی کی نبو ت سے اس کی ولایت افضل ہے ۔
    اسی لیے ہم نے اپنی جما عت کو با ر با ر تا کید کی ہے کہ تم کسی چیز کی بھی ہو س نہ رکھو ۔ پا ک دل اور بے طمع ہو کر خدا کی محبت ذاتی میں تر قی کر و ۔ب تک ذاتی محبت نہیں تب تک کچھ نہیں ۔مگر جو کہتے ہیں کہ ہم کو خدا سے ذاتی محبت ہے اور اس کے نشا ن ان میں نہیں پا ئے جا تے یہ ان کا دعو یٰ غلط ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ایک مجا زی عا شق میں تو عشق کے آثا اور نشا نا ت کھلے کھلے پا ئے جا ئیں بلکہ کہتے ہیں کہ عشق چھپا ئے سے چھپ نہیں سکتا تو کیا وجہ کہ روحا نی عشق پو شیدہ رہ جا وئے ۔اس کچھ نشان ظاہر نہ ہو ں ۔دھو کا کھا تے ہیں ایسے لو گ ان میں محبت ہی نہیں ہوتی ۔
    صحبت صادقین اختیارکرو
    اسی واسطے اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے
    کو نو امع الصادقین
    یعنی صا دق لوگوں کی معیت اختیارکرو ۔ان کی صحبت میں مد تہائے درازتک رہو۔ کیو نکہ ممکن ہے کہ کو ئی شخص چند روز ان کے پا س رہ جا وے ۔اور ان ایا م میں حکمت الٰہی سے کو ئی ایسا امرواقع نہ ہو ۔کیو نکہ ان لو گو ں کے اختیار میں تو نہیں کہ جب چا ہیں کو ئی نشا ن دکھا دیں ۔اسی واسطے ضروری ہے کہ ان کی صحبت میں لمبا عر صہ اور درازمدت گذرجا وے بلکہ نشا ن دکھا نا تو درکنا ر یہ لو گ تو اپنے خدا کے سا تھ تعلقا ت کا اظہا ر بھی گنا ہ جا نتے ہیں ۔لکھا ہے اگر کو ئی ولی خلو ت میں اپنے خدا کے سا تھ خا ص حا لت اور تعلق کے جو ش میں ہو اور اس پر وہ حا لت طا ری ہو تو ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اس کے اس حا ل سے آگا ہ ہو جائے تو وہ ولی شخص ایسا شرمندہ اور پسینہ پسینہ ہو جا تا ہے ۔جیسے کو ئی زانی عین زنا کی حا لت میں پکڑا جا وے کیو نکہ یہ لو گ اپنے راز کو پو شیدہ رکھنا چا ہتے ہیں ۔ چو نکہ طبعا ایسا معاملہ تھا خدالیٰ نے اسی واسطے کہا
    کونو امع الصادقین
    کفار نے جو یہ کہا
    ھا کہ مالھذا الرسول الطعام ویمشی فی الاسواق (الفرقان :۸)
    تو انہوں نے بھی تو آنحضرتﷺ کی ظاہری حالتدیکھ کر ہی یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ کیا ہے جی ۔یہ تو ہمارے جیسا آدمی ہی ہے ۔کھاتا پیتا بازاروں میں پھرتا ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُن کو آنحضرت ﷺ کی صحبت کا فیض نہ تھا کہ اُن کو کوئی رسالت کا امر نظر آتا وہ معذور تھے انہوں نے جو دیکا تھا اسی کے مطابق رائے زنی کر دی پس اس واسطے ضروری ہے کہ مامور من اللہ کی صحبت میں دیر تک رہا جاوئے ممکن ہے کہ کوئی جس نے نشان کوہی نہ دیکھا ہو کہدے کہ جی ہماری طرح نماز روزہ کرتا ہے اور کیا ہے دیکھو حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے مگر واپ ایسی حالت میں مشکل ۔بہت ہیں جو وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو کر آتے ہیں اس کی بھی یہی ہ ہے کہ وہاں کی حقیقت اُن کو نہیں ملتی ۔قشر کو دیکھو کہ رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں وہاں کی فیوض سے محروم ہو جاتے ہیںاپنی بدکاریوں کی وجہ سے اور پھر الزا م دوسروں پر دھرتے ہیں۔اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ ر ہاجاوئے تاکہ اس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو صدق پُورے طور پر نورانی ہوجاوئے
    (الحکم جلد ۷نمبر۱۰ صفحہ۳و۴مورخہ۱۷مارچ۱۹۰۳؁ء)
    سناتن دھرم
    ہندووں کا ذکر چل پڑا ۔فر ما یا :۔
    یہ جو میں نے ایک اور رسا لہ لکھا ہے اس کا نا م سنا تن دھر م ہی رھا ہے یہ لو گ اسلا م کے بہت ہی قریب ہیں ۔ اگر زوائدکو چھوڑدیں ۔بلکہ میں نے ان سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ جب یہ جو گی ہو کر خدا کے بہت قریب ہو جاتے ہیں ۔تو اس وقت بت پر ستی کو حرا م جا نتے ہیں ۔ابتداء میں صر ف تمثیلی طو ر پر بت پرستی انہو ں نے غلطی سے رکھ لی لیکن اعلیٰ مر اتب پر پہنچ کر اسے اس لیے چھو ڑدیتے ہیں کہ قر یب ہو کر پھر بعید نہ ہو ں اور اس حا لت میں جو مرتا ہے اسے جلا تے بھی نہیں بلکہ دفن کر تے ہیں ۔
    کلمتہ اللہ
    کلمتہ اللہ پر فر ما یا کہ :۔
    وجو دیو ں کی طر ف تو ہم نہیں جا تے مگر جب تک کلمتہ اللہ نہ کہا جا وے توبا ت بھی نہیں بنتی ۔یہ علم بہت گہرا ہے ۔جو شئے خدا سے نکلی ہے اس پر رنگ تو خدا کا ہے مگر یہ لو گ اسے خدا سے الگ خیا ل نہیں کر تے ۔فیض کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت ہو ۔
    (البد ر جلد۲ نمبر۸ صفحہ ۶۱مورخہ۱۳مارچ۱۹۰۳؁ء)
    ۶ مارچ ۱۹۰۳؁ء
    بَلا ئوں سے بچنے کا طریق
    جمعہ کی نما ز مسجد اقصی ٰ میں ادا کر نے کے بعد چند ایک گر دونو اح کے آدمیو ں نے بیعت کی ۔بیعت کے بعد حضر ت اقدس کھڑے ہو گئے اور آپ نے ان سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ :۔
    جب آدمی تو بہ کر تا ہے تو خدا تعا لیٰ اس کے پہلے گنا ہ بخش دیتا ہے ۔ ۱ ؎ قر آن میں اس کا وعدہ ہے ہر طرح کے دکھ انسا ن کو دنیا میں ملتے ہیں۔ مگر جب خدا کا فضل ہو تا ہے تو ان سب سے انسا ن بچتا ہے اس لیے تم لو گ اگر اپنے وعدہ کے مو افق قا ئم رہو گے تو وہ تم کو ہر ایک بلا سے بچا ئے گا ۔نما ز میں پکے رہو ۔جو مسلما ن ہو کر نما زنہیں ادا کر تا ہے وہ بے ایما ن ہے ۔اگر وہ نما ز ادا نہیں کر تا تو بتلا و ایک ہندو میں اور اس میں کیا فر ق ہے ؟ زمنیدا رو ں کا دستو ر ہے کہ ذراذرا سے عذر پر نما ز چھو ڑدیتے ہیں ۔کپڑ ے ۲ ؎ کا بہا نہ کر تے ہیں لیکن اصل با ت یہ ہے اگر کسی کے پا س اور کپڑے نہ ہو ں تو اسی میں نما ز پڑھ لے اور جب دو سر ا کپڑا مل جا وے تو اس کو بد ل دے ۔ اسی طر ح اگر غسل کر نے کی ضر ور ت ہو اور بیما ر ہو تو تمیم کر لے ۔خدا نے ہر ایک قسم کی آسانی کر دی ہے تا کہ قیا مت میں کسی کوعذر نہ ہو ۔
    اب ہم مسلما نوں کو دیکھتے ہیں کہ شطر نج گنجفہ وغیر ہ بیہو دہ با تو ں میں وقت گذارتے ہیں ۔ان کو یہ خیا ل تک نہیں آتا کہ ہم ایک گھنٹہ نما ز میں دیں گے تو کیا حر ج ہو گا ؟سچے آدمی کو خدا مصیبت سے بچا تا ہے اگر پتھر بھی بر سیں تو بھی اسے ضرور بچادے گا ۔اگر وہ ایسا نہ کر ے تو سچے اور چھو ٹے میں کیا فر ق ہو سکتا ہے ؟لیکن
    یاد رکھو کہ صر ف ٹکر یں ما رنے سے خدا را ضی نہیں ہو تا ۔ کیا دنیااور کیا دین میں جب تک پو ری با ت نہ ہو فا ئد ہ نہیں ہو اکر تا۔ جیسے میں نے کئی با ر بیا ن کیا ہے ۔کہ روٹی اور پا نی سیر ہو کر نہ کھا ئے پئے تو وہ کیسے بچ سکتا ہے ؟ یہ مو ت طاعون کی جو اب آئی ہے یہ اس وقت ٹلے گی کہ انسا ن قدم پو را رکھے ۱؎ادھورے قدم کو خدا پسند نہیں کر تا ۔
    بد ی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑدو
    جو با ت طا قت سے با ہر ہے وہ تو خدا معا ف کر دیگا۔ مگر جو طا قت کے اندر ہے اس سے مواخذہ ہو گاجب انسا ن نیک بنتا ہے تو اس کے دائیں با ئیں آگے پیچھے خدا کی رحمت کے فر شتے ہو تے ہیںسچا مو من ولی کہلا تا ہے اور اس کی بر کت اس کے گھر اور اس کے شہر میں ہو تی ہے جو خدا تعا لیٰ کو نا راض کر تا ہے۔ وہ نجا ست کھا تا ہے ۔اگر انسا ن بد ی کو خدا کے خو ف سے چھو ڑ دے تو خدا اس کی جگہ نیک بدلہ اسے دیتا ہے ۔مثلا ایک چو ری کر تا ہے اور وہ چو ری کو چھوڑدے تو پھر خدا اس کی وجہ معا ش حلا ل طور سے کر دیگا ۔اسی طر ح زمیندا روں میں پا نی وغیرہ چر انے کا دستو ر ہو تا ہے اگر وہ چھو ڑدیں تو خدا ان کی کھتی میں دوسری طر ف سے بر کت دے دیگا ۔ایک نیک متقی زمیندا ر کے واسطے خدا تعا لیٰ با دل کا ٹکر ا بھیج دیا کر تا ہے اور اس کے طفیل دوسر ے کھیت بھی سیر اب ہو جا تے ہیں حد یث میں آیا ہے کہ چو ر جب چو ری کر تا ہے تو ایما ن اس میں نہیں ہو تا اور اند رونی جب زنا کر تا ہے تو ایما ن اسمیں نہیں ہو تا ۔
    یا د رکھو کہ وسو سے جو بلا ارادہ دل میں پیدا ہو تے ہیں ان پر مواخذہ نہیں ہو تا جب پکی نیت انسا ن کسی کا م کی کر ے تو اللہ تعا لیٰ مواخذ ہ کر تا ہے اچھا آدمی وہی ہے جو دل کو با تو ں سے ہٹا دے ۔ہر ایک عضو کے گنا ہو ں سے بچے ۔ہا تھ سے کو ئی بد ی کا کا م نہ کرے ۔کا ن سے کو ئی بری با ت چغلی غیبت ۔ گلہ وغیرہ نہ سنے ۔آنکھ سے محر مات پر نظر نہ ڈالے ۔پا ئوں سے کسی گنا ہ کی جگہ چل کر نہ جا وے ۔
    شریروں کیلئے مہلت
    با ر با ر میں کہتا ہو ں کہ تم لو گ طا عو ن سے بے خو ف نہ ہو اور یہ نہ سمجھو کہ اب اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے ۔جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کیو ں نہیں آتی اور وہ بد ی پر مصر ہیں ان کو وہ ضرور پکڑ ے گی ۔اس کا دستو ر ہے کہ اول دور دور رہتی ہے ۔ب دیکھو مکہ میں قحط بھی پڑا ۔وبا بھی آئی لیکن ابو جہل کا با ل بھی بیکا نہ ہو ا حا لا نکہ وہ آنحضر ت ﷺ کا سخت دشمن تھا ۔چو دہ ۱۴ بر س تک خدا تعالیٰ نے اسے ایسا رکھا کہ سر درد تک نہ ہو ا ۔آخر وہا ں ہی قتل ہو ا جہا ں پغمیبرخدا نے اس کا نشا نبتا یا تھا ۔اس دنیا میں اللہ تعا لیٰ سب کا م پر دے سے کر تا ہے اگر وہ قہر ی تجلی ایک دن دکھا دے تو سب ہند و وغیر ہ مسلما ن ہو جا ویں ۔تم میں سے کو ئی تکبر اور غرور سے یہ نہ کہے کہ مجھے طا عو ن نہیں آتی ۔
    خدا تعا لیٰ شریروں کو اس لیے مہلت دیتا ہے کہ شا ید با ز آجا ویں اور ہدا یت ہو ۔ ۱؎
    بیعت کر نیوا لو ں کو نصیحت
    آج تم لو گو ں نے تو بہ کی ہے ۔اگر سچے دل سے کی تو پہلے سا رے گنا ہ معا ف ہو گئے اب اس وقت سے پھر نیا حسا ب شر وع ہو گا ۔فر شتو ں کو حکم ہو ا ہے کہ تمہا رے گذشتہ اعما ل نا مے سب چا ک کر دیوں اور تم نے اب ایک نیا جنم لیا ہے یا درکھو کہ جیسے ایک آقا نے غلا م کے بہت سے گنا ہ معا ف کر دیئے ہو ں اور اسے تا کید ہو کہب اب کر وگے تو سخت سزا ہو گی ۔پھر اگر وہ کو ئی قصو رکر ے تو اسے سخت غصہ آتا ہے ۔ ایسا حا ل خدا کا ہے ۔خدا قہتا رہے اگر اسکے نعد کو ئی با ز نہ آیا تو اس کا غضب بھڑکے گا ۔جیسے وہ ستا ر ہے ویسا ہی منتقم اور غیو ر بھی ہے قر آن کو بہت پڑھو ۔ نما ز کو ادا کر و ۔عورتوں کو سمجھا و ۔بچوں کو نصیحت کر و ۔کو ئی عمل اور بد عت ایسی نہ کر و جس سے خدا تعا لیٰ نا راض ہو ۔
    اگر ایسا کرو گے تو خدا تعا لیٰ تم میں اور دوسرے لو گو ں میں فر ق کر کے دکھلا دے گا ۔
    (مجلس قبل ازعشاء)
    جس صا حب نے کل حضر ت اقد س سے رخصت طکب کی تھی ان سے مخا طب ہو کر حضر ت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    یہی منا سب ہے کہ عید کی نما ز کے بعدروانہ ہو ں کیو نکہ پھر سخت گر می کا مو سم آنے والا ہے سفر میں بہت تکلیف ہو گی میں نے جیسا آپ سے وعدہ کیا ہے دعا کر تا رہو نگا مجھے کسی امیر یا با دشا ہ کا خطرہ نہیں ہے۔میر اکا م دعا کر نا ہے ۔
    تو بہ کی انتہا فنا ہے
    رخصت ہو نے والے احمد ی دوست نے کہا کہ حضر ت جب سے میں آپ پر ایما ن لا یا ہو ں ۔میں آج تک فر ق نہیں کر سکا کہ میری محبت آپ سے زیا دہ ہے یا آنحضر ت ﷺ سے اور ایسے ہی نہیں معلو م کہ میں خدا سے زیا دہ پیا را کر تا ہو ں یا آپ سے۔
    حضر ت ا قدس نے فرما یا کہ
    یہ فطر ت انسا نی ہے
    یعمل علے شا کلتہ
    یہی ہے ۔جب زرکو آگ میں ڈالتے ہیں تو آخر کا ر وہ ایسا ہی ہو جا تا ہے کہ آگ میں اور اس میں کو ئی فر ق نہیں ہوہتا اور آگ سے ہو جا وے تو بھی مفید شئے ضرور رہتا ہے ۔صر ف اتنی با ت ہو تی ہے کہ چر ک اس میں نہیں رہتا ۔آگ اپنے رنگ میں لا کر چر ک اس سے دورکر دیتی ہے ۔
    تو بہ کی انتہا فنا ہے ۔جس کے معنے رجو ع کے ہیں یعنی خدا تعا لیٰ کے نزدیک ہو نا ۔یہی آگ ہے جس سے انسا ن صا ف ہو تا ہے ۔جو شخص اس کے بزدیک قد م رکھنے سیڈر تا ہے کہ کہیں آگ سے جل نہ جا وے وہ نا قص ہے لیکن جو قدم آگے رکھتا ہے اور جیسے پر وانہ آگ میں گر کر اپنے وجو د کو جلا تا ہے ویسے ہی وہ بھی گر تا ہے ۔وہ کا میا ب ہو تا ہے ۔مجا ہدا یت کی انتہا فنا ہی ہے ۔
    مقا م لقا ء
    اس کے آگے جو لقا ء ہے وہ امر کسی نہیں بلکہ وہبی ہے ۔اس کا روبا ر کا انتہا مر نا ہے اور یہ تخمر یزی ہے ۔اس کے بعد روئیدن یعنی پیدا کر نا وہ فعل خداکا ہے ۔ایک دا نہ زمین میں جا کر جب با لکل نیست ہو تا ہے تو پھر خدا تعا لیٰ اسے سبز ہ بنا دیتا ہے مگر یہ مر حلہ بہت خو فنا ک ہے ۔
    با لکل ٹھیک کہا ہے ؎
    عشق اول سر کش وخو نی بو د : تا یز د ہر کہ نیر ونی بود
    جب آدمی سلو ک میں قدم رکھتا ہے تو ہزار ہا بلا اس پر نا زل ہو تی ہیں جیسے جنا ب اور دیو نے حملہ کر دیا ہے مگر جب وہ شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں اب واپس نہ ہو ں گا اور اسی راہ میں جا ن دے دو نگا تو پھر وہ حملہ نہیں ہو تا اور آخر کا ر وہ بلا ایک با غ میں متبد ل ہو جا تی ہے اوت جو اس سے ڈرتا ہے اس کے لیے وہ دوزخ بن جا تی ہے ۔ اس کا انتہا ئی مقا م با لکل دوزخ کا تمثل ہو تا ہے تا کہ خدا تعا لیٰ اسے آزما وے جس نے اس دوزخ کی پر وا نہ کی وہ کا میا ب ہوا ۔یہ کا م بہت نا زک ہے ۔بجز مو ت کے چا رہ نہیں ۔
    (البد ر جلد نمبر ۸ صفحہ ۶۲ مو رخہ ۱۳ ما رچ ۱۹۰۳ ء؁)
    ۹ ما رچ ۱۹۰۳ ء؁
    دوران سیر
    وبا زدہ علا قہ میںما مو ر یا نبی کے جا نے کی تعبیر
    ایک شخص کی خوا ب پر فرما یا کہ :۔
    معبر ین نے لکھا ہے کہ اگر وبا ئی جگہ پر کو ئی ما مو ر نبی گیا ہو ا دیکھا جا وے تو جا ننا چا ہیئے کہ وہا ں آرام ہو گا کیو نکہ وہ لو گ خدا کی رحمت سا تھ لا تے ہیں ۔
    ایک رئویا
    فرمایا کہ
    رات کو میں نے ایک خواب دیکھی کہ ایک شخص نے مجھے ایک پروانہ دیا ہے وہ لمبا سا کاغذ ہے میں نے پڑھا تو لکھاہوا تھا کہ عدالت سے چار جگہ کے لیے طاعون کا حکم جاری کیا گیا ہے اس پروانے سے پایا جاتا تھاکہ اس کا اجراء میںَنے کیا ہے جیسے کاغذات محافظ دفتر کے پاس ہوتے ہیں ویسے ہی میرے پاس ہے میںَ نے کہا کہ یہ حکم ایک عرصہ سے ہے اور اس کی تکمیل آج تک نہ ہوئی ؟اب میں اس کا کیا جواب دو نگا ۔اس سے مجھے ایک خوف طاری ہوا اور تمام رات اسی خدشہ میں رہا اور اس پر روشن خط میں لفظ طاعون لکھا تھا گویا حکم میرے نام آتا ہے اور میں جاری کرتا ہوں پھر میں نے دیکھا ہ اپنی جماعت کے چند آدمی کُشتی کر رہے ہیں میں نے کہا آئو ۔میں تم کو ایک خوان سنائوں مگرر وہ نہ آئے ۔میں نے کہا کیوںنہیں سنتے جو شخص دا کی باتیں نہیں سنتا وہ دوزخی ہوتا ہے ۔
    التحیات میں انگشت سبابہ اُٹھانے کی حکمت
    ایک شخص نے سوال کیا کہ التحیات کے وقت نماز میں انگشت سبابہ کیوں اُٹھاتے ہیں ؟ فرمایا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ اُنگلی اُٹھایا کرتے تھے اس لیے اس کو سبابہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی ۔ خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح اور وہ عادت ہٹاکرفرمایا کہ خدا کوواحد لا شریک کہتے وقت یہ اُنگلی اُٹھایا کرو تا اس سے وہ الزام اُٹھ جاوئے ۔ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے ۔اس کے عوض میں پانچ وقت نماز رکھی ۔
    اس کے بعد اس امر پر ذکر رہا کہ
    ہر ایک فروہ میں نذیر آیا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہے ۔اسی لیے رام چند راور کرشن وغیرہ اپنے زمانے کے نبی وغیرہ ہوں گے ۔
    تبلیغ کیلئے مفت اشاعت
    عرب صاحب نے سوال کیا کہ لو گ آپ کو سا دہ مزاج کہتے ہیں اس لیے کہ کتب مفت تقسیم کی جا تی ہیں ۔گفتہ اند کہ نکو ئی کن وررآپ انداز ۔کتا بیں ہم مفت دیتے ہیں مگر اس میں ہما ری سا دگی نہیں ہے نہ ہم غلطی پر ہیں ۔ہما را منشا ء تبلیغ کا ہو تا ہے ۔اگر ہزا ر کتاب شا ئع ہو اور ایک شخص بھی راہ راست پر آجا وے تو ہما را مطلب پورا ہو گیا ۱ ؎
    ایک جا مع درس
    نو ما رچ کے دربا ر شا م میں حضر ت حجتہ اللہ مسیح مو عو دعلیہ الصلوٰتہ واسلا م نے ایک مامع تقر یرفر ما ئی ۔ ہم کو افسو س ہے کہ اس روز ہم ایک مصر فیت کی وجہ سے مو جو دنہ تھے اس لیے اس تقر یر کو خود قلمبند نہیں کر سکے تا ہم ہما رے ایک عزیز نے اس ک کچھ نو ٹ لیے تھے جن کو مر تب کر کے نا ظر ین کے فا ئد ے کے لیے
    ما لا ید رک کلہ لا یترک کلہ
    پر عمل کر نے کے لیے اسے ہی پیش کر دیتے ہیں ۔ (ایڈیٹرالحکم)
    نو مبا ئعین کو نصیحت
    چند احباب بتقریب نما ز عید الا ضحی دارالا ما ن میں تشر یف لا ئے اور انہو ں نے بیعت کی ۔ حضر ت اقدس اما م پا ک علیہ اسلا م نے کھڑے ہو کر یہ تقر یر فر ما ئی ۔
    فر ما یا :۔
    دیکھو جس قدر آپ لو گو ں نے اس وقت بیعت کی ہے اور جو پہلے کر چکے ہیں ان کو چندکلما ت بطو رنصیحت کے کہتا ہو ں ۔چا ہیئے کہ اسے پو ری تو جہ سے سنیں ۔
    آپ لو گو ں کی یہ بیعت۔بیعت تو بہ ہے ۲ ؎ تو بہ دو طر ح ہو تی ہے ایک تو گذشتہ گنا ہو ں سے یعنی انکی اصلا ح کر نے کے واسطے جو کچھ پہلے غلطیا ں کر چکا ہے ان کی تلا فی کر ے اور حتی الو سع ان بگاڑوں کی اصلا ح کی کو کشش کر نا اور آیند ہ کے گنا ہو ں سے با ز رہنا اور اپنے آپ کو اس آگ سے بچا ئے رکھنا ۔
    تو بہ
    اللہ تعا لیٰ کو وعدہ ہے کہ تو بہ سے تما م گنا ہ جو پہلے ہو چکے ہیں معا ف ہو جاتے ہیں بشر طیکہ وہ تو بہ صدق دل اور خلا ص نیت سے ہو اور کو ئی پو شیدہ وغا با زی دل کے کسی کو نہ میں پو شیدہ نہ ہو ۔ وہ دلو ں کے پو شیدہ اور منفی رازوں کو جا نتا ہے وہ کسی کے دھوکہ میں نہیں آتا پس چا ہیئے کہ اس کو دھو کا دینے کی کو کشش نہ کی جا وے اور صدق سے نہ نفا ق سے اس کے حضو ر تو بہ کی جا وے ۔
    تو بہ انسا ن کے واسطے کو ئی زائدیا بے فا ئدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صر ف قیا مت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسا ن کی دنیا اوع دین دو نو سنو ر جا تے ہیں ۔اوراسے اس جہا ن میں اور آنے والے جہا ن دونومیں آرام اور خو شحا لی نصیب ہو تی ہے ۱ ؎ ۔
    دیکھو قر آن شر یف میں اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ۔
    ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ وفی الا خر تہ حسنتہ وقنا عذاب النا ر (البقرہ :۲۰۲)
    اے ہما رے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرا م اور آسا ئش کے سا ما ن عطا فر ما اور آنے والے جہا ن میں آرا م اور را حت عطا فر ما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔
    دیکھو دراصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک با ر یک اشا رہ ہے کیو نکہ ربنا کا لفظ چا ہتا ہے ۲ ؎ کہ وہ بعض اور ربو ں کو جو اس نے پہلے بنا ئے ہو ئے تھے ان سے بیزاہو کر اس رب کی طر ف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درداور گداذ کے سوا انسا ن کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا ۔رب کہتے ہیں بتد ریج کما ل کو پہنچا نے والے اور پر ورش کر نیوالے کو ۔اصل میں انسا ن نے بہت سے اربا ب بنا ئے ہو تے ہیں اپنے حیلوں اور دغابا زیو ںپر اسے پورا بھر وسہ ہو تا ہے تو وہی اس کے رب ہو تے ہیں ۔اگر اسے اپنے علم کا یا قو ت با زو کا گھمنڈہے تو وہی اس کے رب ہیں ۔اگر اسے اپنے حسن یا ما ل ودولت پر فخر ہے تو وہی اس کے رب ہے غر ض اس طر ح کے ہزا رو ں اسبا ب اس کے سا تھ لگے ہو ئے ہیں ۔جب تک ان سب کو تر ک کر کے ان سے بزار ہو کر اس وا حد لا شر یک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیا ز نہ جھکا ئے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلا نے والی آوازوں سے اس کے آستا نہ پر نہ گر ے ۔تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا ۔پس ایسی دلسو زی اور جا نگدازی سے اس کے حضور اپنے گنا ہو ں کا اقر ار کر کے تو بہ کر تا اورا سے مخا طب کر تا ہے کہ ربنا یعنی اصلی اور ر حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر اپنی غلطی سے دوسر ی جگہ بہکتے پھر تیرہے ۔اب میں ان جھو ٹے بتو ں اور با طل معبو دو ں کو تر ک کر دیا ہے اور صد ق دل سے تیر ی ربو بیت کا اقرارکر تا ہو ں ۔تیر ے آستا نہ پر آتا ہو ں ۔
    غر ض بجزاس کے خدا کو رب بنا نا مشکل ہے جب تک انسا ن کے دل سے دوسر ے رب اور ان کی قدرومنزلت وعظمت ووقا رنکل نہ جا وے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربو بیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھا تا ۔بعض لو گو ں نے جھو ٹ ہی کو رب بنا یا ہو ا ہو تا ہے وہ جا نتے ہیں کہ ہما را جھو ٹ کے بد وں گذارہ مشکل ہے بعض چو ری وراہزنی اور فر یب دہی ہی کو اپنا رب بنا ئے ہو ئے ہیں ۔ان کا اعتقا دہے بکہ اس راہ کے سو اان کے واسطے کو ئی رزق کا راہ ہی نہیں ۔سوان کے اربا ب وہ چیزیں ہیں ۔دیکھو ایک چو ر جس کے پا س سا رے نقب زنی کے ہتھیا ر مو جو دہیں اور را ت کا مو قعہ بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کو ئی چو کیدا ر وغیر ہ بھی نہیں جا گتا ہے تو ایسی حا لت میں وہ چو ری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جا نتا ہے جس سے اس کا رزق آسکتا ہے ؟ وہ اپنے ہتھیارو ں کو ہی اپنا معبو د جا نتا ہے۔غر ض ایسے لو گ جن کو اپنی ہی حیلہ با زیو ں پر اعتماد اور بھروسہہو تا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کر نے کی کیا حاجت ؟ دعا کی حا جت تو اسی کو ہو تی ہے جس کے سا رے راہ بندہو ں اور کو ئی راہ سوائے اس در کے نہ ہو ۔اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے ۔غر ض
    ربنا اتنا فی الدنیا حسنت الخ
    ایسی دعا کر نا صر ف نہیں انہیں لو گو ں کا کا م ہے جو خداہی کو اپنا رب جا ن چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سا منے اور سا رے اربا ب با طلہ ہیچ ہیں ۔
    آگ سے مردا صر ف وہی آگ نہیں جو قیا مت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پا تا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طر ح کی آگ ہے ۔تجربہ کا ر جا نتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں مو جو د ہے طر ح طر ح کے عذاب خو ف ۔حزن ۔فقرہ فا قے ۔امر اض۔نا کا میا ں۔ذلت وادبا ر کے اند یشے ۔ ہزاروں قسم کے دکھ ۔اولا د ۔بیو ی وغیر ہ کے متعلق تکا لیف اور رشتہ داروں کے سا تھ معا ملا ت میں الجھن ۔غر ض یہ سب آگ ہیں ۔تو مو من دعا کر تا ہے کہ سا ری قسم کی آگو ں سے ہمیں بچا ۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوا رض سے جو انسا نی زندگی کو تلخ کر نے والے ہیں اور انسا ن کے لیے بمنزلہ آگ ہیں بچا ئے رکھ ۔
    سچی تو بہ ایک مشکل امر ہے ۔ بجز خد اکی تو فیق اور مددکے تو بہ کر نا اور اس پر قائم ہو جا نا محا ل ہے ۔تو بہ صر ف لفظوں اور با تو ں کا نا م نہیں ۔دیکھو خدا قلیل سی چیز سے خو ش نہیں ہو جا تا ۔کو ئی ذرا سا کا م کر کے خیا ل کر لینا کہ بس اب ہم نے جو کر نا تھا کر لیا اور رضا کے مقا م تک پہنچ گئے یہ صر ف ایک خیا ل اور وہم ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک با دشا ہ کو ایک دانہ کر یا مٹی کی مٹھی دے کر خو ش نہیں کر سکتے ۔بلکہ اس غضب کے مو ردبنتے ہیں تو کیا وہ احکن الحا کمین اور با دشا دہو ں کا با دشا ہ ہما ری ذرا سی نا کا رہحر کت سے یا دو لفظو ں سے خو ش ہو سکتا ہے ۱؎ خدا تعا لیٰ پو ست کو پسند نہیں کر تا وہ مغز چا ہتا ہے ۔
    شرک کی حقیقت
    دیکھو خدا یہ بھی نہیں چا ہتا کہ اس کے سا تھ کسی کو شرک کیا جا وے ۔بعض لو گ اپنے شر کا ء نفسا نی کے واسطے بہت حصہ رکھ لیتے ہیں اور پھر خدا کا بھی حصہ مقرر کر تے ہیں ۔سوایسے حصہ کو خدا قبو ل نہیں کر تا وہ خا لص حصہ چا ہتاہے ۔اس کی ذات کے سا تھ کسی کو شر یک بنا نے سے زیا دہ اس کو غضبنا ک کر نے کا اور کو ئی آلہ نہیں ہے ۔ایسا نہ کر و کہ کچھ تو تم میں تمہا رے نفسا نی شر کا ر کا حصہ ہو اور کچھ خدا کے واسطے ۔خدا تعالیٰ فر ما تا ہے کہ میں گنا ہ معا ف کر وں گا مگر شرک نہیں معا ف کیا جا وے گا ۔
    یا درکھو شر ک یہی نہیں کہ بتو ںاور پتھر وں کی تر اشی ہو ئی مو رتو ں کی پو جا کی جا وے۔ یہ تو ایک مو ٹی با ت ہے یہ بڑ ے بیو قو فوں کا کا م ہے دا نا آدمی کو تو اس سے شر م آتی ہے ۔شر ک بڑا با ر یک ہے وہ شر ک جو اکثر ہلا ک کر تا ہے وہ شر ک فی الا سبا ب ہے یعنی اسبا ب پر اتنا بھر وسہ کر نا کہ گو یا وہی اس کے مطلوب ومقصودہیں جو شخص دنیا کو دین پر مقد م رکھتا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کو دنیا کی چیزوں پر بھر و ہو تا ہے اور وہ امید ہو تی ہے جو دین و ایما ن سے نہیں ۔نقد فا ئد ہ کو پسند کر تے ہیں اور آخر ت سے محروم ۔جب وہ اسبا ب پر ہی اپنی سا ری کا میا بیو ں کا مدار خیا ل کر تا ہے تو خدا تعا لیٰ کے وجو د تو اس وقت وہ لغو محض اور بے فا ئدہ جا نتا ہے اور تم ایسا نہ کر و ۔تم تو کل اختیا ر کرو۔
    تو کل
    تو کل یہی ہے ۲؎کہ اسبا ب جو خدا تعا لیٰ نے کسی امر کے حا صل کر نے کے واسطے مقرر کئے ہو ئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو ۔اور پھر خود دُعائوں میں لگ جائوکہ اے خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر ۔صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کوبھی برباد اور تہ وبالا کر سکتے ہیں ۔انکی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا ۔
    حقیقتِ توبہ
    توبہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف گے قدم بڑھانا ۔توبہ ایک موت کو چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا۔توبہ کے بعد انسان ایسا بن جائوے کہ گویا نئی زندگی پا کر زندگی میں آیا ہے نہ اس کی وہ چال ہو نہ اس کی وہ زبان نہ وہ ہاتھ نہ پائوں۔سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آجاوے۔دیکھنے والے جان لیے کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اَور ہے۔
    خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ توبہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں ۔یہ برات کا سر چشمہ ہے۔در حقیقت اولیائاور صلحاء یہی گ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں ۔وہ گناہ سے دور اور خدا سے قریب ہوجاتے ہیں ۔کامل توبہ کرنے والا شخص ہی ولی ،قطب اور غوث کہلاسکتا ہے ۔اسی حالت میں وہ خدا کا محبوب بنتا ہے اس کے بعد بلائیں جو انسان کے واسطے مقدرہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں ۔
    انبیاء اور مومنو ں پر مصائب آنے کی حکمت
    اس سے یہ خیال نہ آوے کہ پھر انبیاء اورنیک مومنوں کو کیوں تکلیفیں آتی ہیں ؟ان لوگو پر بھی بعض بلائیں آتی ہیں اور ان کے واسطے آثار رحمت ہوتی ہیں ۱ ؎ ۔دیکھو ہمارے نبی ﷺپر کیسی کیسی مصائب آتی تھیں ۔اُن کو گنِنابھی کسی بڑے دِل کا کام ہے ۔اُن کے نام سے ہی انسان کے بدن پر لرزہ آتا ہے ۔پھر جو کچھ سلو ک آنحضر ت ﷺ کے ہمر اہیوں سے ہو ئے ۔ان کی بھی تا ریخ گو اہ ہے کیا کو ئی ایسی بھی تکلیف تھی جو آنحضر ت ﷺ اور آپ کے صحا بہؓ کو پہنچا ئی نہ گئی ہو ؟ جس طر ح ان کی ایذاء وہی میں کفا رنے کو ئی وقیقہ با قی نہ اٹھا رکھا تھا ۔اسی طر ح اللہ تعا لیٰ نے بھی ان کے کما لا ت میں کو ئی کمی با قی نہ رکھی ۔اصل میں ان لو گو ں کے واسطے یہ مصا ئب اور سختیا ں تر یا ق ہو جا یا کر تی ہیں ۔ان لو گو ں کے واسطے خدا کی رحمت کے خزا نے انہیں سختیوں ہی کی وجہ سے کھو لے جا تے ہیں ؎
    ہر بلا کیں قو م را حق دادہ است ؛ زیر آں گنج کر م بنہادہ است
    مگر ایسے وقت میں انسا ن کو چا ہیئے کہ صبر جمیل کر ے اور خدا تعا لیٰ سے بدظن نہ ہو ۔وہ لوگ تو خدا کے اسلام کو انعا م کے رنگ میں دیکھتے ہیں اور ابتلا ء میں لذت پا تے ہیں ۔قرب کے مر اتب جس چر ح جلد ابتلاء کے وقت میں چے ہو تے ہیں وہ یو ں زہد وتعبد یا ریا ضت سے تو سا لہا سا ل میں بھی تما م نہیں کئے جا تے ان کو گو ں میں سے جو خدا کے قر ب کا نمونہ بنے اور خلق کی ہدا یت کا تمغہ ان کو دیا گیا یا وہ خدا تعا لیٰ کے محبوب ہوئے ۔ایک بھی نہیں جس پر کبھی نہ کبھی مصائب اور شدائد کے پہا ڑ نہ گر ے ہو ں ۔ان لو گو ںکی مثا ل مشک کے نا فہ کی سی ہو تی ہے ۔وہ جب تک بندہے اس میں اور ایک پتھر یا مٹی کے ڈھیلے میں کچھ تفا وت نہیں پا یا جا تا مگر جب اس پر سختی سے جر احی کا عمل کیا جا وے اور اسکو چھری یا چا قو سے چیراجا وے تو معاًاس میں سے ایک خوشکن خوشبونکلتی ہے جس سے مکا ن کا مکان معطرہو جا تا ہے۔ اور قریب آنے والا بھی معطر کیا جا تا ہے۔ سویہی حا ل ابنیاء اور صادق مو منوں کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب نہ پہنچیں تب ان کے اندرونی قویٰ چھپے رہتے ہیں اور ان کی ترقیا ت کا دروازہ بندہو تا ہے ان لو گو ں کے قویٰ دو قسم کے موقعوں پر اظہارپذیرہو تے ہیں ۔بعض تو مصائب وشدائد اور دکھوں کے زما نہ میں ۔کیو نکہ یکطرفہ کا روائی قابل اعتماد نہیں ہو تی ۔ممکن ہے کہ ایک شخص جس نے بچپن سے خوشحالی اور آرام اور آسائش کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں ۔اس کے قو یٰ کا پورا اندازہ نہیں ہوسکتا ہے اور دوسرابچپن سے غربت کی ماراوربد حالی میں مبتلا رہا ہے اس کے قویٰ کا بھی پورا اندازہ کرنا مشکل ہے کسی شخص کے اخلا ق فا ضلہ اور اس کے خلق کے متعلق اس کے حالا ت کا اندازہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اس پر انعام وابتلا ء ہر دوطرح کے زما نے آچکے ہو ں ۔سواس امر کے دیکھنے کے لیے بھی ہما رے بنی ﷺ کی سی اور کو ئی مثال نہیں کیو نکہ با قی انبیاء میں سے اکثر ایسے تھے کہ انہوں نے نہا یت کا رایک زمانہ دیکھا دوسرے کی نوبت ہی نہیں آئی ۔مثلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ہمارا اعتقادہے کہ وہ خدا تعا لیٰ کے بر گزیدہ اور پاک بنی تھے ۔خدا کے نزدیک ان کے بڑے مدارج ہیں مگر آنحضر ت ﷺکے مقابل میں رکھ کر اگر ان کو کسی کسوٹی پرپرکھا جا وے تو ان کے اخلا ق بہت گر ہوئے معلوم ہو تے ہیں ۔انہوں نے قتداراور ثروت کا زما نہ نہ پا یا اور نہ اس کے متعلق ان کے اخلا ق کا اظہا ر ہو ا ۔ہمیں تو قر آن شر یف مجبورکر تا ہے ورنہ ہم اگر ان کے حا لات کے لحاظ سے اور ان کی عا م سوانح کی وجہ سے دیکھیں تو وہ تو ایک کا مل انسا ن کے مر تبہ سے بھی گر ے ہو ئے معلوم ہو تے ہیں کجا یہ کہ عسیا ئی ان کو قسوس کا مر تبہ دے بیھٹے ہیں ۔بھلا ان کا صبر، ان کی داودودہش ،ان کی جو دوسخا کا کو نسا نمونہ دنیا میں با قی رہا ہے ۔ان کی شجا عت کے اظہا ر کا کو نسا مو قعہ تھا ۔کس جنگ میں انہو ں نے ا س امر کا ثبو ت دیا ۱؎۔ ان کی بعثت کا زما نہ صرف تین سال تھا اور وہ بھی مصائب کا زما نہ ۔مقابلہ پرصرف ایک ہی قوم تھی جو معدے ودے چندسے زیا دہ ہر گزنہ تھی ۔ان کا پیش کردہ امر بھی ان کے لیے کو ئی نر الانہ تھا جس کی مثال پہلے نہ پا ئی جا تی ہو ۔قوم پہلے ہی تو حیدپسند تھی ان کے خلا ق اور انکے عقائدکا بہت سا حصہ اچھا تھا ۔ان میں خدا تر س اور گو شہ نشین وغیرہ بھی تھے ۔غرض ان کا کا م نہایت سہل اور آسان تھا ادھر ہما رے بنی ﷺ کی طرف دیکھوکہ آپ کی نبوت کے زما نہ میں سے ۱۳ سال مصائب اور شدائدکے تھے اور دس سال قوت وثروت اور حکومت کے ۔مقابل میں کئی قومیں ۔اول تو اپنی ہی قوم تھی ۔یہودی تھے عیسائی تھے۔بت پرست قوموں کا گروہ تھا ۔مجوس تھے وغیرہ ۔جن کا کا م کیا ہے ؟ بت پرستی ۔جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقادسے پختہ ا عتقاد اور مسلک تھاوہ کو ئی کا م کر تے ہی نہ تھے جو ان بتو ں کی عظمت کے خلاف ہو ۔شراب خوری کی ۔یہ نوبت کہ دن میں پا نچ مر تبہ یا سات مرتبہ شراب ۔بلکہ پا بی کی بجا ئے شر اب ہی سے کا م لیا جا تا تھا ۔حرام کو تو شیرمادرجا نتے تھے اور قتل وٖیرہ تو ان کے نزدیک ایک گا جر مولی کی طر ح تھا ۔غر ض کل دنیا کی اقوام کا نچوڑاور گندے عقائدکا عطر ان کے حصہ میں آیا ہو اتھا ۔اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو دوست کر نا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکہ وتنہا بے رومددگا رپھرتے ہیں کبھی کھا نے کو ملا اور کبھی پھوکے ہی سورہے جو چند ایک ہمراہی ان کی بھی ہر روز بری گت بنتی ہے ۔بے کس اور بے بس ۔ادھر کے ادھراور ادھرکے ادھرمارے مارے پھرتے ہیں ۔وطن سے بے وطن کر دئے گئے ہیں ۔
    پھر دوسرازما نہ تھا کہ تما م جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلا م بنا ہو اہے ۔کہ مخا لفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہو اہے کہ اگر چا ہتے تو لک عرب کو قتل کر ڈالتے اگر ایک نفسا نی انسا ن ہو تے تو ان سے ان کی کر رتو توں کا ندلہ لینے کا عمدہ مو قع تھا ۔جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو
    لا تثریب علیکم الیوم
    فرما یا ۔
    غرض اس طر ح سے جو دونوزما نے آنحضر ت ﷺ پر آئے اور دونوکے واسطے ایک کا فی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پرکھے جا تے اور ایک جو ش یا فوری ولولہ کی حا لت نہ تھی ۔آنحضر ت ﷺکے ہر طرح کے اخلا ق فا ضلہ کا پو را پوراامتحان ہو چکا تھا اور آپ کے صبر ۔استقلال ۔عفت ۔حلم ۔بردبا ری ۔شجاعت ۔سخاوت جودوغیرہ وغیرہ کلاخلاق کا اظہارہوچکا تھا اور کوئی ایسا حصہ نہ تھا کہ با قی رہ گیا ہو۔
    حضرت امام حسینؓکی شہادت
    غرض ایسے ایسے مصائب ہیں جو ان کے لیے رحمت ہیں اور ان سے ان لوگوں کے اندرونی گُن ظاہر ہوتے ہیں ۔دیکھو حضرت امام حُسین ؓ جنہوں نے ہمیشہ ناز و نعمت میں پرورش پائی تھی اورسیّد سیّد کر کے پکارے جاتے تھے ۔انہوں نے بھی تو سختی کا زمانہ نہ دیکھا ۔ان کو ایسے ایسے زمانے دیکھنے کا موقعہ ہی نہ ملا تھا کہ وہ اُن صحابہ ؓکے مراتب کو پہنچ سکتے ۔ان کی ساری زندگی ناز ونعمت میںگذری تھی نہ انہوں نے کسی جہاد میں حصہ لیا تھا نہ کسی کفر ہی کوتوڑاتھا تو خدا نے جو اُن کو شہید کیا ۔کیااُن پر ظلم کیا ؟ہرگز نہیں ۔انہوں نے پچاس پچپن برس کی عمر تک وہ زمانہ نہ دیکھا تھاکہ شدائدکیا ہوا کرتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی نہ دیکا کہ جب صحا بہؓ بکریوں کی طرح ذنجہوتے تھے تو پھر ان کا کیا تھا کہ وہ شہداء میں درجہ پا تے یا کسی آخرت میں خدا کے قرب میں عزت پا تے ۔کیاان کو فاطمہ رضی اللہ عنیا کا بیٹا کہلا نے کا فخر بس تھا ؟ اور ان کے واسطے یہی کا فی تھا ؟ نہیں اس سے تو رسول اللہ ﷺ نے بھی منع فر ما یا تھا ۔اس سے کو ئی حق قرب الہیٰ نہیں ہو سکتا یھا ۔غرض انکی اپنی تو ایسی بطاہر کا رنمائی نہ تھی جس سے وہ ان درجات اعلیٰ کے وارث یا حقدار ہو تے ۔مگر چونکہ ان کو آنحضر ت ﷺ سے ایک قسم کا تعلق تھا ۔اللہ تعالیٰ نے نہ چا ہا کہ آنحضر ت ﷺ سے اس قسم کا تعلق رکھنے والے کو ضائع کر ئے ۱؎سو ان کے واسطے ایسے ایسے ساما ن میسر کر دئے کہ وہ خدا کی راہ میں شہادت پا نے کے قابل ہو گئے اور اس طرح وہ سابقین کے ساتھ مل گئے جن کے حالات سے وہ محض نا واقف تھے ۔ایک ذراسی تکلیف اور اجر عظیم مل گیا ۔شیعہ ہیں کہ اس حکمت الہیٰ کی طرف تو غور نہیںکر تے اور الٹا روتے ہیں کہ ان کوشہیدکر دیا ۔
    ابتلا ء پر صبر کا اجر
    پس تم مومن ہو نے کی حا لت میں ابتلاء کوبرانہ جا نو اور براوہی جا نے گا جو مومن کا مل نہیں ہے قرآن شریف فر ما تاہے کہ۔
    النبلونکم بشیی ء من الخوف والجوع ونقصمن الا موال والا نفس والثمرات وبشرالصابرین الذین اذااصابتھم مصیبت قالوااناللہواناالیہ راجعون ْ (البقرہ :۱۵۷)
    خدا تعالیٰ فرما تا ہکہ ہم کبھی تم کو مال سے یا جا ن سے یا اولاد یا دکھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کرنیگے نگر جو ایسے وقتوں میں صبر کر تے اور شاکر رہتے ہیں تو ان لو گوں کو بشارت دوکہ ان کے واسطے اللہ تعا لیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہاور ان پر خدا کی بر کتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون یعنی ہم اور ہمارے متعلق کل اچیاء یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کاران کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا ۔اور وہ لوگ مقام رضا میں بودوباش رکھتے ہیں ۔ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خداتعا لیٰ نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں ۲ ؎ ۔
    مُہتد ی سے مراد
    مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعا لیٰ کے منشاء کو پالیا اور اس کے مطابق عملدرآمد کرنے لگ گئے ۔ایسے ہی لوگ تو ولی ہو تے ہیں ۔انہیں کو تو لوگ قطب کہتے ہیں یہی تو غوث کہلاتے ہیں پس تم کو شش کرو کہ تم بھی ان ندارج عالیہ کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکو۔
    خدا تعا لیٰ نے انسا ن سے نیا یت تنزل کے رنگ میں دوستانہ برتا ؤ کیا ہے ۔دوستانہ تعلق کیا ہو تا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی با ت ما ن لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منواناچاہتا ہے چنانچہ خدا تعا لیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ
    ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱)
    اور اذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیبدعوت الداع اذادعان الایت (البقرہ :۱۸۷)
    سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ انسا ن کی با ت ما ن لیتا ہے اور اس کی دعا کو قبول فر ما تا ہے اور دوسری
    فلیستجیبوالی ولیومنعابی ۔
    الایت اور
    ولنبلونکم
    آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ اپنی با ت منوانا چا ہتا ہے ۔
    بعض لوگ خدا تعا لیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ ہما ری دعا کو قبول نہیں کر تا ۔اولیا ء لو گو ں پر طعن کر تے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قنول نہیں ہوئی ۔ اصل میں وہ نا دان اس قانون الہیٰ سے آشنامحض ہو تے ہیں جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑاہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگا ہ ہوگا ۔خدا تعا لیٰ نے ما ن لینے کے اور منوانے کے دونمونے پیش کئے ہیں ۔انہی کو ما ن لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنوکہ ایک ہی پہلو پر زوردو ۔ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کر نیوالے بنو ۔ ۱ ؎
    مصائب کی لذت
    مومن کے لیے مصائب ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ لمبے ہو تے ہیں ۔بلکہ اس کے واسطے رحمت ،محبت اور لذت کا چشمہ جا ری کیا جا تا ہے ۔عاشق کوگ عشق کے غلبہ وقتوں اور اس کے دردوں میں ہی لذت پا تے ہیں ۔یہ با تیں گوایک خشک محض انسا ن کے لیے سمجھانی مشکل ہیں مگر جنہوں نے اس راہ قدم مارا ہے وہ ان کو خوب جا نتے ہیں بلکہ ان کو تو معمولی آرام اور آسایش میں وہ چین اور لذت نہیں ہو تی جو دکھ کے اوقات میں ہو تی ہے ۔
    مثنوی رومی میں ایک حکایت ہے کہ ایک مرض ایسا ہے کہ اس میں جب تک اس کو مکے مارتے کو ٹتے اور لتاڑتے رہتے ہیں تب تک وہ آرام میں رہتا ہے ورنہ تکلیف میں رہتا ہے سویہی حا ل اہل اللہ کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب وشدائد کے مشکلات آتے ہیں اور ان کو مار پڑتی رہے تب تک وہ خوش ہو تے ہیں اور لذت اٹھا تے ہیںورنہ بے چین اور بے آرام رہتے ہیں ۔
    مومن کے جو ہرمصائب سے کھلتے ہیں
    خدا تعا لیٰ قادرتھا کہ اپنے بندوں کو کسی قسم کی ایذاء نہ پہنچنے دیتا اور ہرطرح سے عیش وآرام میں انکہ زندگی بسر کرواتا ۔ان کی زندگی شاہا نہ زندگی ہو تی ۔ہر وقت ان کے لیے عیش وطرب کے سامان مہیاکئے جا تے مگر اس نے ایسا نہیں کیا ۔اس میں بڑے اسراراور رازنہاں ہوتے ہیں ۔دیکھووالدین کو اپنی لڑکی کیسی پیاری ہو تی ہے بلکہ اکثر لڑکوں کی نسبت زیادہ پیاری ہو تی ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ والدین اس کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں وہ وقت ایسا ہو تا ہے کہ اس وقت کو دیکھنا بڑے جگر والوں کا کا م ہو تا ہے ۔۱؎دونو طرف کی حالت ہی بڑی قابل رحم ہو تی ہے قریبا چودہ پندرہ سال ایک جگہ رہے ہوئے ہو تے ہیں ۔آخر ان کی جدائی کا وقت نہایت ہی رقت کا وقت ہو تا ہے اس جدائی کو بھی نادان بے رحمی کہہ دے تو بجاہے مگراس کی لڑکی میں بعض ایسے قویٰ ہو تے ہیں جس کا اظہاراس علیحد گی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لیے موجب برکت اور رحمت ہو تا ہے ۔
    یہی حال اہل اللہ کا ہے ۔ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہو تے ہیں کہ جب تک ان پر تکالیف اور شدایدنہ آویں ان کا اظہار ناممکن ہو تا ہے ۔
    دیکھو اب ہم لوگ جو آنحضر ت ﷺ کے اخلاق بیان کر تے ہیں بڑے فخر اور جرأ ت سے کا م لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضر ت ﷺ پروہ دونومامانے آچکے ہو ئے ہیں ورنہ ہم یہفضیلت کس طرح بیان کر تے ۔دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو یہ خداسے لذت کو اور اس کے قرب کو اپنی طرف کھنیچتا ہے اسی لذت کو حاصل کر نے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی لذّات کو طلاق دنیی پڑا کرتی ہے ۔خدا کا مقر ب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہے جاویں اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی پڑتی ہے جب انسا ن دنیوی ہواوہوس اور نفس کی طرف سے بکلی موت اپنے اوپر وار دکرلیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کچھ کبھی فنا نہیں ہوتی ۔پھر اس کے بعد مرنا کبھی نہیں ہو تا ۔
    قرآن کا نزول بحالت غم ہو ا ہے
    آنحضر ت ﷺ نے فر مایا ہے کہ قرآن غم کی حالت میں نازل ہو ا ہے ۔تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو ۔اس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ آنحضر ت ﷺ کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے
    توبہ کا درخت اور اس کا پھل
    توبہ کے درخت بو ۱ ؎ لو تا تم اس کے پھل کھا و۔توبہ کا درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی ما نند ہے جو جوحفا ظیتں اور خدمات اس باغ کے لیے جسمانی طورسے ہیں وہی اس توبہ کے درخت کے واسطے روحانی طور پرہیں پس اگر توبہ کے درخت کا پھل کھا نا چاہوتو اس کے متعلق قوانین اور شرایط کو پورا کرو ورنہ بے فائدہ ہو گا ۔
    یہ خیال نہ کرو کہ توبہ کرنا مرنس ہو تا ہے ۔خدا قلیل شئے سے خوش نہیں ہو تا اور نہ وہ دھوکہ کھاتا ہے ۔دیکھواگر تم بھوک کو دورکرنے کے لیے ایک لقمہ کھا نے کا کھا و یا پیاس کے دور کرنے کے لیے ایک قطرہ پانی کا پیوتو ہرگزتمہاری مقصد براری نہ ہو گی ۔ایک مرض کے دفع کرنے کے واسطے ایک طبیب جو نسخہ تجویزکرتا ہے جب تک اس کے مطابق پوراپورا عمل نہ کیا جاوے تب اس کے فائدہ کی امید امر موہوم ہے ۲؎ اور پھر طبیب پر الزام ۔غلطی اپنی ہی ہے اسی طرح توبہ کے واسطے مقدار ہے اور اس کے بھی پر ہیز ہیں ۔بدپر ہیز بیمار تندرست نہیں ہو سکتا ۔
    خدا سے صلح پیدا کرو
    اب طاعون کے متعلق اللہ تعا لیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرما یا کہ
    انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علواباستکبار۔
    دیکھو خدا تو سب کا خداہے مگر اس کے تعلقات خاص خاص کے ساتھ خاص خاص ہیں ۔جتنی ۳؎ جتنی کو ئی اس سے صلح کر تا ہے اتنا ہی وہ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔تم میں سے ہر ایک کو بھی وہ آواز آسکتی ہے ۔جو مجھے آئی ۔اگر تم سچی تبدیل اور اس سے صلح پیدا کرو ۔خدا بخیل نہیں مگر ہا ں اس نے ایک اندازہ رکھا ہو ا ہے جب تک اس تک انسا ن نہ پہنچے تو وہ کا مل نہیں ہو تا اور نہ اس پر و ہ فیض جا ری کیا جا تا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شرابی کو اگر پوری مقدار شراب کی نہ دی جاوے تب تک وہ بہیوش نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح جب اس انتہا ئی درجہ محبت تک ترقی نہ کی جاوے تب تک لا حا صل ہو تا ہے قانوننن قدرت جس طرح جسمانی چیزوں کے واسطے ہے ایسے ہی روحانی امور کے واسطے بھی ہے ۔
    دیکھوابوالحسن خرقانی ۔بایزید بسطامی یا شیخ عبد القادر جیلانی صاحب رحمتہ اللہ علیم اجمعین وغیرہ یہ سب خداتعالیٰ کے مقر ب تھے اورانہوں نے بھی شریعت ہی کی پا بندی سے یہ درجہ پا یا تھا ۔ نہ کہ کو ئی شریعت بنا کر ۔جیسا کہ آج کے گدی نشین کر تے ہیں یہی نما ز تھی اور یہی روزے تھے مگر انہوں نے اس کی حقیقت اور صل غرض کو سمجھا ہو ا تھا بات یہ تھی کہ انہوں نے نیکی کی مگر سنوار کر ۔انہوں نے اعمال کو بیگا ر کے طور پر پورانہ کیا تھا بلکہ صدق اور وفا کے رنگ میں ادا کرتے تھے سوخدا نے ان کے صدق وسداد کو ضائع نہ کیا ۔خدا کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتا وہ ایک پیسی کے بدلے میں جب تک ہزار نہ دے تب تک نہیں چھوڑتا ۔پس جب کسی انسان میں وہ برکات اور نشانات نہیں ہیں ۔ ۱؎ اور وہ خدا کی محبت اور تقویٰ کادعویٰ کرتا ہے ۔خدا پر الزام نہیں لگا تا بلکہ اپنا گندظاہر کر تا ہے ۔خدا کی جناب میں بخل ہرگز نہیں ۔پس کو شش کرو کہ اس کی رضا کے موافق عمل درآمد کر سکو ۔اگر مصائب کے وقت میں تم مومن ہواور خدا تعا لیٰ سے صلح کر نے والے اور اس کی محبت میں آگے قدم بڑھا نیوالے ہو تو وہ رحمت ہے تمہا رے واسطے ۔کیونکہ خدا قادر ہے کہ آگ کو گلزار کردے اور اگر تم فادق ہو تو ڈروکہ آگ ہے جو بھسم کر نے والی ہے اور قہر اور غضب ہے جو نیست ونابود کر نے والا ہے فقط
    (الحکم جلد ۷نمبر ۱۱صفحہ ۹۔۱۳ مورخہ ۲۴ ی؍مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۱ مارچ ۱۹۰۳ء؁
    (قبل ازعشاء)
    عشاء سے قبل ایک شخص نے خواب بیا ن کی کہ کا ن میں اس نے کچھ با ت سنی ہے اس کی تعبیر میں فرما یا کہ :۔
    داہنا کا ن دین ہو تا ہے اور با یا ں دنیا ۔کا ن میں با ت کا ہو نا بشا رت پر محمول کیا جا تا ہے
    پھر ایک ذکر فر ما یا کہ :۔
    جو خداکی طرف رجوع کرتا ہے ایک دن کا میا ب ہو ہی جا تا ہے ہا ں تھکے نہ ۔کیونکہ خدا کے واسطے لہریں ہو تی ہیں جیسے باد نسیم چلتی ہے۔ ویسے رحمت کی نسیم بھی اپنے وقت پر چلا کر تی ہے ۔انسا ن کو ہمیشہ تیا ررہنا چا ہیئے ۔ (البدا جلد ۲ نمبر ۹ صفحہ ۶۸ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء؁
    نظر آئے گی دنیا کو تیرے اسلام کی رفعت
    مسیحا کا بنے گا جب یہاںمنار ۔ یا اللہ !
    منار ۃ ا لمسیح کی بنیادی اینٹ
    بعد نما ز جمعہ حضر ت حجتہ اللہ المسیح الموعود علیہ الصلٰوت واسلام کے حضور ہما رے مکر م دوست حکیم فضل الہیٰ صاحب لا ہو ری ۔مرزا خدا بخش صاحب ۔ شیخ مولا بخش صاحب ۔قاضی ضیا ئالدین صاحب وغیرہ !احباب نے عر ض کی کہ حضورمنار المسیح کی بنیادی اینٹ حضور کے دست مبارک سے رکھی جاوے تو بہت ہی منا سب ہے ۔فر ما یا کہ :۔
    ہمیں تو ابھی تک معلوم بھی نہیں کہ آج اس کی بنیاد رکھی جاوے گی ۔اب آپ اینٹ لے آئیں میں اس پرد عا کروں گا اور پھر جہاںمیں کہوں وہاں آپ جا کر رکھدیں ۔چنا نچہ حکیم فضل الہیٰ صاحب اینٹ لے آ ئے ۔اعلٰحضرت نے اس کو ران مبارک پر رکھ لیا ۔اور بڑی دیر تک آپ نے لمبی دعا کی معلوم نہیں کہ آپ نے کیسی کیسی اور کس کس جوش سے دعائیں اسلام کی عظمت وجلا ل کے اظہار اور اس کی روشنی کے کلاقطاع واقطارعالم میں پھیل جا نے کی ہو ں گی ۔وہ وقت قبولیت دعا کا معلوم ہوتا تھا ۔جمعہ کا مبارک دن اور حضرت مسیح مو عود علیہ اسلام منار المسیح کی بنیادی اینٹ رکھنے سے پہلے اس کے لیے دلی جوش کے ساتھ دعا ئیں مانگ رہے ہیں ۔دعا کے بعد آپ نے اس انیٹ پر دم کیا اور حکیم فضل الہیٰ صاحب کو دی کہ آپ اس کومنار المسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں ۔ غرض اس عظیم الشان مینار کی بنیاد کے برگز ید ہ ماموراور مسیح ومہدی علیہ اسلام کے ہا تھ سے ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء؁ کو رکھدی گئی ۔
    (الحکم جلد۷ نمبر ۱۰صفحہ ۴ مورخہ ۷؍۱مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    حجر ہ دعا
    بعد نمازجمعہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء؁ کو حضر ت اقدس نے تجویز فر ما یا کہ :۔
    چونکہ بیت الفکرمیں اکثر مستورات وغیرہ اور بچے بھی آجا تے ہیں اور دعا کا موقعہ کم ملتا ہے اس لیے ایک حجر ہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جا وے۔ جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجا ئش ہواور چارپائی بھی نہ بچھ سکے تا کہ اس میں کو ئی اور نہ آسکے ۔اس طرح سے مجھے دعا کے لیے عمدہ وقت اور موقعہ مل سکے گا ۔ ۱؎
    ۱۴مارچ ۱۹۰۳ء؁
    حکا م کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیئے
    نماز عشاء قبل مفتی محمد صادق صاحب نے اخبار سول ملڑی میں طاعون کا مضمون پڑھ کر سنایا ۔اس مضمون کو سنکر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    یہ لوگ اللہ تعا لیٰ کا لفظ ہرگز منہ پر نہیں لائے حالا نکہ اگر حاکم منہ سے ایک بات نکلتی ہے تو ہزاروں آدمیوں پر اس کا اثر ہو تا ہے ۔بٹالہ کا ذکر کہ ایک دفعہ ایک اکسڑ ااسسٹنٹ مکشنرجو کہ ایک دیسی آدمی تھا اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ نماز پڑھنی چا ہیئے ۔اس پر بہت سے مسلمانوں نے نماز شروع کردی ۔ اسی طرح کبھی گورنمنٹ کی طرف سے یہ تاکیدہو کہ لوگ خدا کی طرف رجوع کریں تو دیکھئے پھر لوگوں کی کیا تبدیلی ہو تی ہے مگر اس وقت امر اء لوگ ایسے فسق وفجورمیں مبتلا ہیں کہ گویا یہ ان کے نطفہ کا ایک جزوبن گیا ہے ۔
    عورتو ںکے حقوق
    اس کے بعد مفتی صاحب نے ایک مضمون سول ملڑی گزٹ سے سنایا جو کہ اسلامی عورتوں کے حقوق پرتھا ۔اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    ابھی کچھ دن ہو ئے کہ آنحضر ت ﷺ کی شان میں ایک گندہ مضمون سنایا گیا تھا اب خدا تعا لیٰ نے اس کے مقابلہ پر ایک فرحت بخش مضمون بھیج دیا ہے خدا تعا لیٰ کا فضل ہے کہ ہر ہفتہ ایک نہ ایک با ت ایسی نکل آتی ہے جس سے طبیعت کو ایک تر وتا ز گی مل جا تی ہے
    اس مضمون کا خلا صہ یہ تھا کہ اسلام میں عورتوں کو وہی حقوق دئے گئے ہیں کو کہ مردوں کو دئے گئے ہیں حتیٰ کہ اسلامی عورتوں میں پاکیزہ اور مقدس عورتیں بھی ہو تی ہیں اور ولیہ بھی ہو تی ہیں اور ان سے خارق عادت امور سرزدہوتے ہیں اور جو لوگ اسلام پر اس بارہ میں اعتراض کر تے ہیں ۔وہ غلطی پر ہیں ۔اس پر حضرت اقدس نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ :۔
    عورتوں کی اصلاح کا طریق
    مر د اگر پا رسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہو سکتی ہے ۔ہاں اگر مرد خودصالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چا ہیئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اظر ہو تا ہو تا ہے عورت تو درکناراور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی ما نتا ہے ۔
    اگر مرد کو ئی کجی یا خا می اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے اگر وہ ثبوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لا یا ہے تو میں کیوں حرام کہوں ۔غرضکہ مرد کااثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیب بنا تا ہے اسی لیے لکھا ہے۔
    الخبیثا ت لخبیثین والطیبات للطیبن ۔ (نور:۲۷)
    اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنوورنہ ہزارٹکریں ما روکچھ نہ بنے گا ۔جو خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے ؟ نہ ایسے مو لویوں لا وعظ اثر کر تا ہے نہ خاوند کا ۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کر تا ہے بھلا جب خاوند روت کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے روتا ہے تو عورت ایک دودن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیا ل آوے گا اور ضرور متاثر ہو گی ۔عورت میں متا ثر ہو نے کا مادہ بہت ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیر ہ ہو تے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیر ہ جا تی ہیں ان کی درستی کے واسطے کو ئی مدرسہ بھی کفا یت نہیں کر سکتا خاوند کا عملی نمونہ کفا یت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ عورت کے بھائی بہن وغیر ہ کا بھی کچھ اثر اس پر نہیں ہو تا ۔
    خدا نے مردعورت دونوکا ایک ہی وجود فر ما یا ہے ۔
    یہ مردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں۔کہ وہ ان کا نقص پکڑیں ۔ان کو چا ہیئے کہ عورتوں کو ہر گز ایسا موقعہ نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کر تا ہے بلکہ عورت پکڑیں مار مار کر تھک جا وے اور کسی بدی کا پتہ اسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہو تا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے ۱؎
    مر د ۲ ؎ اپنے گھر کا امام ہو تا ہے پس اگر وہی بد اثر قائم کر تا ہے تو کس قدر بد اثرپڑنے کی امید ہے مرد کو چاہیئے کہ اپنے قویٰ کو بر محل اورحلال موقعہ پر استعمال کرے مثلا ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیا دہ ہو تو جنون کا پیش خمیہ ہو تی ہ جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فر ق ہے جو آدمی شدید الغضب ہو تا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جا تا ہے بلکہ اگر کو ئی مخا لت ہو تو اس سے بھی مخلوب الغضب ہو کر گفتگونہ کرے۔
    مرد کی ان تمام با تو ں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے وہ دیکھتی ہے کہ میر ے خاو ند میں فلا ں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت ۔حلم ۔صبر اور جیسے اسے پر کھنے کا موقعہ ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا اسی لیے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ ابدرہی اندراخلاق کی چوری کر تی رہتی ہے حتیٰ کہ آخر کا ر ایک وقت پورا اخلا ق حا صل کر لیتی ہے ۔
    ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہو گئی ۔شراب وغیرہ اول شروع کی پھر پر دہ بھی چھوڑفیا ۔غیر لو گوں سے بھی ملنے لگی ۔خاوند نے پھراسلام کی طرف رجوع کیا تو اس نے بیوی کو کہا تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو اس نے کہا کہ اب ،میرا مسلمان ہونا مشکل ہے ۔یہ عادیتں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑگئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں ۔
    (البدا جلد ۲ نمبر ۱۰صفحہ ۷۳مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۵ مارچ ۱۹۰۳ء؁
    آریوں کے متعلق لٹریچر کی اشاعت
    سیر کے دوران کتابوں کی کی اشاعت کے متعلق خلیفہ صاحب سے فرمایا کہ انکی اشاعت کرو ایسا نہ ہو کہ صندوقوں میں پڑی رہیں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ ان کتابوں کے جواب میں ایک گالیوں کا طومار لکھیں گے کیونکہ جواب دینے کی تو ان میں طاقت نہیں ہوتی۔صرف گند ہی گند بولیں گے۔ہم نے تو نہایت نرم الفاظ میں لکھی ہیمگر یہ بہتان لگائے بغیرنہ رہیں گے شاید ایک اَور کتاب پھر اس کے جواب میں لکھنی پڑے۔دیانندکو اسلام کی خبر نہیں تھی مگر چونکہ اس نے کتابیں ناگری زبان میں لکھیں اس لیے لوگوں کو اس کی ندہ زبانی کی خبت نہیں ہے لیکھرام نے اردو میں لکھیں اس کی خبر سب کو ہوئی۔
    میرا اصول ہے کہ جو شخص حکمت اور معرفت کی باتیں لکھنا چاہیے وہ جوش سے کام نہ لیوے و رنہ اثر نہ ہوگا ۔ہاں بعضامر حقہ بر محل عبارت میں لکھنے پڑتے ہیں مگر الحقُ مُرُ معاملہ ہو کر اس میں مجبور ہو جاتے ہیں میرے خیال میں سناتن دھرم اونسیم دعوت وغیرہ لاہور ،بمبئی ،کشمیر وغیرہ شہروں میں آریوں کے پاس ضرور روانہ کرنی چاہیئں اگر شائع نہ ہو ں تو پھر وہی مثال ہے ۔
    زبہر نہادن چہ سنگ وچہ زر
    امامت مسجد اور ختم وغیرہ
    ایک سوال پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کو ناپاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے مُلّاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شوربا اور روٹی زیادہ ملے۔
    ولا تشتروابا یا تی ثمنا قلیلا (البقرہ : ۴۲)
    یہ کفر ہے ۔جو طریق آج کل پنجا ب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے ملا ں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کرکے جماعت کراتے ہیں ایسا مام شرعا نا جا ئزہے ۔صحا ؓبہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طر ح اجرت پر امامت کرائی پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کو رٹ تک مقدمہ چلتا ہے ۔یہانتک کہ ایک دفعہ ایک ملاں نے نماز جنازہ کی ۶یا ۷ تکبیریں کہیں ۔لوگوں نے پوچھا تو جواب دیاکہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یادرہتا ہے کبھی سال میں ایک آدمی مرتا ہے تو کیسے یادرہے جب مجھے یہ بات بھول جا تی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میت ہو تی ہے ۔
    اسی طرح ایک ملا یہاں آکر رہا ۔ہمارے میرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جومحلہ دیا ہے ۔اس کے آدمیوں کے قدچھوٹے ہیں اس لیے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملیگا اس سے چادر بھی نہ بنے گی ۔
    اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت ردی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہوجاتا ہے ۔
    مولُودخوانی
    ایک ۱ ؎ شخص نے مولودخوانی پر سوال کیا ۔فرمایا :۔
    آنحضرت ﷺ کا تذکر ہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیا ء اور اولیا ء کی یا د سے رحمت نازل ہو تی ہے اور خودخدانے بھی انبیاء کے تذکر ہ کی تر غیب دی ہے ۲؎لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جا ویں جن سے تو حید میں خلل واقع ہو تو وہ جا ئز نہیں ۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان کے ساتھ رکھو۔ آج کل مولویوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہو تے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں ۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے ۔ آنحضرت ﷺکی بعثت ،پیدائش اور وفات کا ذکر ہوتوموجب ثواب ہے ۲؎ ہم مجاز نہیں کہ اپنی شریعت یاکتا ب بنا لیویں ۔
    بعض ملا ں اس میں غلوکر کے کہتے ہیں کہ مولودخوانی حرام ہے ۳؎ اگر حرام ہے تو پھر کس کی پیروی کر وگے ؟ کیونکہ جس کا ذکر زیا دہ ہو اس سے محبت بڑھتی ہے اور پیدا ہو تی ہے ۔
    مولود کے وٍقت کھڑا ہو نا جائز نہیں ۔ان اندھوں کو اس بات کا علم ہی کب ہو تاہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح آگئی ۱؎ ہے بلکہ مجلسوں میں تو طرح طرح کے بدطینت اور بد معاش لوگ ہو تے ہیں وہا ں آپکی روح کیسے آسکتی ہے اور کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے ؟
    ولا تقف ما لیس لک بہ علم (بنی اسرائیل :۳۷)
    دونوں طرف کی رعایت رکھنی چاہیئے ۔جب تک وہابی آنحضرت ﷺ کی عظمت نہیں سمجھتا وہ بھی خدا سے دور ہے ۔انہوں نے بھی دین کو خراب کر دیا ہے ۔جب کسی بنی یا ولی کا ذکر آجا وے تو چلا اٹھتے ہیں کہ دوسرے فرقے نے شرک اختیار کیا حتیٰ کہ قبروں کو سجدہ کیا اور اس طرح اپنا ایمان ضائع کیا ۔ہم نہیں کہتے کہ انبیا ء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو ۔خدا تعا لیٰ بارش بھیجتا ہے ہم تواس پر قادر نہیں ہو تے مگر با رش کے بعد کیسی سرسبزی اور اشادا بی نظر آتی ہے ۔اسی طرح انبیاء کا وجود بھی با رش ہے ۲؎
    پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونو دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرہ بھی ایک پہاڑ سے نکلتا ہے مگر سب کی قیمت الگ الگ ہو تی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں ۔انبیاء کا وجود اعلیٰ ردجہ کا ہو تا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا ۔اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہو گا ۔ بلکہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ جو ایک ایسا مقام عطا ہو گا جس میں صرف میں ہی ہو ں گا ۔ایک صحا بی روپڑا ۔کہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے سچی محبت نہیں رکھتا ۔ ۳ ؎ میں نے جہاں تک دیکھا ہے ۔وہابیوں میں تیزی اور چالا کی ہو تی ہے ۔خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہو رتی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں ۔وہ بھی الہام کے منکر یہ بھی منکر ۔جب تک انسا ن برا ہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تعا لیٰ تک نہیں پہنچ سکتا جو شخص خدا تعا لیٰ پر پرا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آجا وے ۔
    دوسر ے گروہ میں سوائے قبرپر ستی اور پیرپرستی کے کچھ روح با قی نہیں ہے ۔قرآن کو چھوڑدیا ہے ۔خدا مے امت وسطا کہا تھا ۔وسط سے مراد ہے ۔میانہ رو۔اور وہ گروہ نے چھوڑدیا ۔پھر خدا فر ما تا ہے
    ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی (ال عمران : ۳۲)
    کیا ۱؎ آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قر آن پڑھا تھا ؟
    اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہو تا تو ہم ہزار پر پڑھتے ہا ں آنحضرت ﷺ نے خوش الحا نی ۲ ؎ سے قر آن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے ۔جب یہ آیت آئی
    وجئنا بک علی ھولا ئشھیدا (النسا ء :۴۲)
    آپ روئے اور فر ما یا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا ۔آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہو گا ۔ہمیں خودخواہش رہتی ہے کہ کو ئی خوش الحان حافظ ہو تا قرآن سنیں ۔
    آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کا م کا نمونہ دکھلا دیا ہے ہ ہمیں کرنا چاہیئے ۔سچے مو من کے واسطے کا فی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کا م آنحضرت ﷺ نے کیا ہے ک نہیں ۔اگر نہیں کیا تو کر نے کا حکم دیا ہے یا نہیں ؟حضر ت ابر اہیم آپ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولودنہ کروایا ؟
    اشعار اور نظم پڑھنا
    نظم تو ہماری اس مجلس میں بھی سنائی جا تی ہے آنحضرت ﷺ نے بھی ایک دفعہ ایک شخص خوش الحان کی تعریف سنکر اس سے چندایک اشعارسنے پھر فرما یا کہ رحمک اللہ یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہوجا تا چنانچہ وہ بھی میدان میں جا تے ہی شہید ہو گیا ۔ایک صحاؓبی نے آنحضرت ﷺ کے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔حضر ت عمرؓ نے روکا کہ مسجدمیں مت پڑھو ۔وہ غصہ میں آگیا اور کہا کہ تو کو ن ہے کہ مجھے روکتا ہے میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرت ﷺ کے سامنے اشعار پڑھے تھے اور آپ نے مجھے منع نہ کیا ۔حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔
    شعر کہنا
    ایک شخص کا اعتراض پیش ہو ا کہ مرزا صاحب شعرکہتے ہیں ۔فر ما یا :۔
    آنحضرت ﷺ نے بھی خود شعر پڑھے ہیں ۔پڑھنا اور کہنا ایک ہی با ت ہے ۔پھر آنحضرت ﷺ کے صحابی شاعر تھے ۔حضر ت عائشہ ؓ ۔اما حسن ؓاور اما م حسین ؓ کے قصائد مشہور ہیں ۔حسان بن ثابت ؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفا ت پر قصیدہ لکھا ۔
    سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں ۔کسی صحابیؓ کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرت ﷺ نے کسی کو منع نہ فرما یا ۔قر آن کی بہت سی آیا ت شعروں سے ملتی ہیں ۔
    ایک شخص نے عرض کی کہ سورہ شعراء میں اخیر پر شاعروں کی ندمت کی ہے فر ما یا کہ :۔
    وہ مقام پڑھو ۔وہا ں خدا نے فسق وفجور کر نیوالے شاعروں کی مذمت کی ہے اور مو من شاعرکا وہا ں خود استشنا ء کر دیا ہے ۔پھر سا ری زبورنظم ہے ،یر میا ہ ،سلیمان اور موسیٰ کی نظمیں تو رات میں ہیں اس سے ثا بت ہوا کہ نظم گنا ہ نہیں ہا ںفسق وفجو کی نظم نہ ہو ۔ہمیں خود الہام ہو تے ہیں بعض ان میں سے مقفیٰ اور بعض شعروں میں ہو تے ہیں ۔
    (مجلس قبل ازعشاء )
    کتے اور بندر سے مراد
    کتے سے مراد ایک طماع آدمی جو کہ تھوڑی سی بات پر راضی اور تھوڑی سی با ت پر نا راض ہو جا تے ہیں ۔اور بندر سے مراد ایک مسخ شدہ آدمی ہے ۔
    مفسرین سے یہ با ت ثابت نہیں کہ مسخ شدہ یہود پر لشپم پیدا ہو گئی تھی اور ان کی دم بھی نکل آئی تھی بلکہ ان کے عادات مثل بندروں کئے ہو گئے تھے ۔اس وقت بھی امت مثل یہو د کے ہو گئی ہے ۔اس سے مراد یہی ہے کہ ان کی خصلت ان میں آگئی ہے کہ ما مور کا انکار کرتے ہیں ۔
    کسرصلیب
    کسرصلیب پر فر ما یا کہ :۔
    اب ایک ہوا چل پڑی ہے جیسے ہما رے دلوں میں ڈالا ہے کہ مسیح مر گیا ویسے ہی اب ان (اہل یورپ وامریکہ ) کے دلوں میں ڈالا ہے ۔اخبار اور رسا لے نکلتے ہیں اور مسیح کی امید لگ رہی ہے سب پکا ررہے ہیں کہ یہی زما نہ ہے ۔
    تعبیر رویا
    دانت کی داڑھ نکل کر اگر کا نچ کی نظر آوے تو خطر نا ک ہو ا کر تی ہے ۔دانت اگر ٹو ٹ کر ہا تھ میں رہے تو عمدہ ہے ۔
    خواتین کی اصلا ح کا طریق
    اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب پھر سول اخبا ر کا بقیہ مضمون سنا تے رہے جس میں اسلامی عورتوں کا ذکر تھا اس پر حضر ت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    کو ئی زما نہ ایسا نہیں جس میں اسلا می عورتیں صالحات میں نہ ہو ں گو تھوڑی ہو ں مگر ہوں گی ضرور جس نے عورت کو صالحہ بنا نا ہو وہ خود صالح بنے ۔ہما ری جما عت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گا ری کیلئے جس نے عورتوں کو پر ہیز گا ریسکھا ویں ورنہ وہ گہنگا رہوں گے اور جبکہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلا ں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی ۔جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حا لت میں اولا د بھی پلیدپیدا ہو تی ہے ۔اولا د کا طیب ہو نا تو طیبا ت کا سلسلہ چا ہتا ہے ۔اگر یہ نہ ہو تو پھر اولاد خراب ہو تی ہے ۔اس لیے چا ہیئے کہ سب تو بہ کریں۔ اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔عورت خاوند کی جا سوس ہو تی ہے۔ وہ اپنی بد یا ں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا ۔نیز عورتیں چھپی ہو ئی دا نا ہو تی ہیں ۔یہ نہ خیا ل کر نا چا ہیئے کہ وہ احمق ہیں۔ وہ اند رہی اندر تمہا رے سب اثر وں کو حا صل کر تی ہیں ۔جب خاوند سیدھے رستہ پر ہو گا تو وہ اس سے بھی ڈریگی اور خدا سے بھی ۔ایسا نمونہ دکھا نا چا ہیئے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جا وے کہ میر ے خاوند جیسا اور کو ئی نیک بھی دنیا میں نہیں ہے ۔اور وہ یہ اعتقا دکرے کہ یہ با ریک سے با ریک نیکی کی رعایت کر نے والا ہے ۔جب عورت کا یہ اعتقا دہو جا ویگا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے با ہر رہے ۔سب انبیا ء اولیا ء کی عورتیں نیک تھیں اس لیے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے ۔جب مرد بد کا ر اور فا سق ہو تے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہو تی ہیں ۔ایک چورکی بیو ی کو یہ خیا ل کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں ۔خاوند تو چوری کر نے جا تا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے ؟
    الرجال توامون علی النساء (نساء :۳۶)
    اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متا ثر ہو تی ہیں جس حد تک خاوند صلا حیت اور تقویٰ بڑھا وے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی ۔ویسے ہی اگر وہ بد معاش ہو گا تو بد معاشی سے وہ حصہ لیں گی ۔
    (البد رجلد ۲ نمبر ۱۰ صفحہ ۷۳۔۷۴۔۷۵ مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۶مارچ ۱۹۰۳ء؁
    خواب اور اسکی تعبیر
    سیرمیںبعض احبا ب نے اپنے اپنے رویا سنائے آپ نے فر ما یا کہ خواب بھی ایک اجمال ہو تا ہے اور اسکی تعبیر صر ف قیاسی ہو تی ہے ۔
    ایک رویا اور ایک الہام
    رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جما عت میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا پھر آنکھ کھل گئی سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں ۔قیاسی طور پر جو با ت اقرب ہو وے لگا ئی جاسکتی ہے کہ اس اثنا ء میں غنود گی غا لب ہو ئی اور الہام ہو ا
    استقامت میں فرق آگیا ‘‘
    ایک صاحب نے کہا کہ وہ کو ن شخص ہے حضرت نے فر ما یا کہ
    معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلا یا نہیںکر تا میرا کا م دعا کر نا ہے ۔
    سُود کی حرمت
    ایک نے سوال کیا کہ ضرور ت پر سوری روپیہ لے کر تجا رت وغیرہ کر نے کا کیا حکم ہے ۔فر ما یا :۔
    حرام ہے ۔ہا ں اگر کسی دوست اور تعا رف کی جگہ سے روپیہ لیا جا وے اور کو ئی وعداہ اس کو زیا دہ دینے کا نہ ہو نہ اس کے دل زیادہ لینے کا خیا ل ہو ۔مگر اگر مقروض اصل سے کچھ زیا دہ دیدے تو وہ سود نہیں ہو تا بلکہ یہ تو
    ھل جذائالاحسان الا لاحسان (الرحمن :۶۱) ہے ۔
    اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہواور سوائے سود کے کا م نہ چل سکے تو پھر ؟ اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    خدا تعا لیٰ نے اس کی حرمت مو منوں کے واسطے مقررکی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایما ن پر قائم ہو اللہ تعا لیٰ اس کا متو لی اور متکفل ہو تا ہے ۔اسلام میں کروٹ ہا ایسے آدمی گذرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخر ان کے حوائج بھی پورے ہو تے رہے کہ نہیں ؟ ۱؎ خدا تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ نہ لو نہ دوجو ایسا کر تا ہے وہ گویا خدا کے سا تھ لڑائی کی تیا ری کر تا ہے ایما ن ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے ایما ن بڑی با بر کت شئے ہے الم تعلم ان اللہ علی کل شیی ئقدیر ۔(البقرہ : ۱۰۷) اگر اسے خیا ل ہو کہ پھر کیا کرے ؟ تو کیا خدا کا حکم بھی بیکا رہے ؟ اس کی قدرت بہت بڑی ہے سود تو کو ئی شئے ہی نہیں ہے ۔اگر اللہ تعا لیٰ کا حکم ہو تا کہ زمین کا پا نی نہ پیا کروتو وہ ہمیشہ با رش کا پا نی آسما ن سے دیا کرتا اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نا فر ما نی بھی نہ ہو جب تک ایما ن میں میل کچیل ہو تا تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے ۔کو ئی گنا ہ چوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے ورنہ انسا نتو ہر ایک گنا ہ پر یہ عذرپیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑ یں تو گذارہ نہیں چیتا ۔ دکا نداروں عطا روؓ کو دیکھا جا وے کہ پر انا مال سا لہا سا ل تک بیچتے ہیں ۔دھوکا دیتے ہیں ۔ملازم پیشہ لوگ خوری کر تے ہیں اور سب یہ عذرکرتے ہیں ۳ ؎ کہ گذارہ نہیں چلتا۔ان سب کو اگر اکٹھا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتا ب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گذارہ نہیں چلتا ۔حالانکہ مو من کے لیے خدا خود سہولت کر دیتا ہے ۔یہ تما م راستبازوں کا محبرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے
    لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے جیسے بھروسہ اُن کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے خدا پر ایمان یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہیے کہ اَورعجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی ایسے مخفی رکھا جاوے۔میں نے کئی دفعہ بماریوں میں آزمایہ ہے کہ پیشاب باربار آرہا ہے دست بھی لگے ہیں۔آخر خدا سے دُعا کی ۔صبح کو الہام ہوا۔دُعا ء کَ مستجاب اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی اور کمزوری کی جگہ طاقت آگئی ۔یہ خدا کی طاقت ہے خدا ایسا عجیب ہے کہ ان نسخوں سے بھی زیادہ قابلِ ودر ہے جو کیمیا وغیرہ کے ہوتے ہیں مجھے بھی ایک دفعہ خیال آیا کہ یہ تو چھپا نے کے قابل ہے پھر سوچا کہ یہ تو بخل ہے ایسی مفید شئے کا دنیا پر اظہار کرنا چاہیے کہ مخلوق الہٰی کو فائدہ حاصل ہو ۔یہی فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے خدا میں ہے۔انکا خدا بولتا نہیں۔خدا معلوم یہ بھی کیساایمان ہے ۔اسلام کا خدا جیسا پہلے تھا ویسے ہی اب بھی ہے۔نہ طاقت کم ہوئی نہ بوڑھا ہوا۔نہ کچھ اور نقص اس میں واقع ہوا۔ایسے خدا پر جس کا ایمان ہو وہ اگر آگ میں بھی پڑا ہو تو اُسے حوصلہ ہوتا ہے ۔ابراہیم ؑکو آگ میں ڈالا ہی تھا ۔ایسے ہی ہم بھی آگ میں ڈالے گئے۔ ۱ ؎ خون کا مقدمہ بنایا گیا ۔اگر اس میں ۵ یا دس سال کی قید ہو جاتی تو سب سلسلہ تباہ ہو جاتا ۔سب قوموں نے متفق ہو کر یہ آگ سلگائی تھی ۔کیا کم آگ تھی؟اس وقت سوائے خدا کے کون تھا ؟اور وہی الہام ہوئے جو کہ ابراہیم ؑ کو ہوئے تھے آخر میں الہام ہوا اِبراء اور تسلی دی کہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
    پراویڈنٹ فنڈ
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ۔ان کی تنخواہ میں سے ایک اَنہ فی روپیہ کا ٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہیاور اس کے ساتھ کچھ زائد بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟فرمایا کہ
    شروع میں سُود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاویگا ۔ ۲ ؎ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے ۔پیغمبر خدا کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اُسے کچھ نہ کچھ زیادہ (نہ)دیدیا ہو ۔یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو ۔خواہش کے بر خلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سُود میں داخل نہیں ہے ۔
    سُود اور سُودر سُود
    ایک صاحب نے عر ض کیا کہ سیداحمدصاحب نے لکھا ہے
    اضعا نا مضعفتت (ال عمران :۱۳۱)
    کی ممانعت ہے فر ما یا کہ :۔
    یہ با ت غلط ہے کہ سُود اور سُودر سُود کی ممانعت کی گئی ہے اور سودجا ئزرکھا ہے شریعت کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے یہ فقر ہ اسی قسم کا ہے جیسے کہا جا تا ہے کہ گنا ہ درگنا ہ مت کرتے جا و اس سے یہ مطلب نہیں ہو تا کہ گنا ہ ضرور کر و۔
    اس قسم کا روپیہ جو کہ گو رنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حا لت میں سود ہو گا جبکہ لینے والا اس خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گو رنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے ۔
    رشوت کے روپیہ سے بنائی گئی جا یئداد
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تا ئب ہو تو اس کے پا س جواول جا یئداد رشوت وغیرہ سے بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے ۔فر ما یا :۔
    شریعت کا حکم ہے کہ توبہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جا وے ۔ ۱ ؎ رشوت اورہدیہ میں تمیز چا ہیئے ۔رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا یا لیا جا وے ورنہ اگر کسی نے ہما را ایک کا م محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہو ئی تو اس کو جو دیا جاوے گا ۔وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے ۔
    انشورنس یا بیمہ
    انشورنس ۲؎ اور بمیہ پر سوال کیا گیا ۔فر ما یا کہ
    سود اور قما ربا زی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے قماربا زی میں ذمہ داری نہیں ہو تی ۔دنیا کے کا روبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے
    دوسرے ان تمام سوالوں میں اس کا امر کا خیال بھی رکھنا چاہئیے کہ قر آن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں ۔مثلا اب کو ئی دعوت کھا نے جا وے اور اسی خیال میں لگ جا وے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر میں آیا ہو گا ۔پگر اس طرح تو آخر کا ردعوتوں کا کھا نا ہی بند ہو جا وے گا ۔خدا کا نا م ستار بھی ہے ورنہ دنیامیں عام طور پر راستباز کم ہو تے ہیں ۔مستورالحال بہت ہو تے ہیں ۔یہ بھی قرآن میں لکھا ہے
    ولا تجسسوا (سورت الحجرات :۱۳)
    یعنی تجس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑوگے ۔
    مجلس قبل ازعشاء
    پنڈت نند کشورسناتن دھرمی سے گفتگو
    پنڈت نند کشور صاحب جو کہ سناتن دھرم مذہب کے ایک عالم فاضل متجر لیکچرار ہیں حضرت اقدس کی ملا قات کے واسطے تشریف لا ئے ۔تے ہی حضرت صاحب سے سلا م علیکم اور مصافحہ کیا ۔ حضرت صاحب نے نسیم دعوت اورسناتن دھرم وغیرہ کی نسبت ان کی رائے دریا فت کی ۔ پنڈت صاحب نے کہا کہ ان کتب میں آپ نے ویسے ہی لکھا ہے جیسے انبیاء کا دستورہے خدا کے برگزیدہ بندوں سے گندے لفظ نکل ہی نہیں سکتے ۔آریہ لو گوں کی مثال انہوں نے یہ سی کہ جیسے کھاری چشمہ سے میٹھا پا نی نہیں نکل سکتا ۔اسی طرح وہ لوگ لکھ ہی کیس سکتے ہیں ۔
    حضرت اقدس نے آریہ سماج کی نسبت فر ما یا کہ :۔
    آریہ سماج
    یہ لوگ با لکل حقیقت ایمان سے بے نصیب ہیں ۔ایمان تو عقلمندوں کی آزما ئش کے لیے ہے کہ کچھ عقل سے کا م لیوے اور کچھ ایمان سے ۔معجزات میں یہ عادت اللہ ہرگز نہیں ہے کہ ایسے کا م دکھلا ئے جا ویں جو کہ خدا کی عادت کے بر خلا ف دنیا میں ہو ں ۔مثلا سوال کر تے ہیں کہ سویا پچاس سال کے مردے آکر شہادت دیویں گو کہ یہ تو ہو سکتا ہے مگر سوال ہے کہ جو اس کے بعد قبول کر یگا اسے کیا فا ئد ہ ہوگا ؟ جب سب حقیقت کھل گئی اور سودوسوآدمی کی شہادت بھی مل ھئی تو اب کس کی عقل ما ری ہے کہ انکا ر کر ے نہ ہندونہ چمار کسی کو گنجا ئش ہی انکار کی نہیں رہتی ۔ہما رے ہاں لکھا ہے کہ اس قسم کا ایما ن فا ئدہ نہیںدیتا ۔اگر دن چڑھا ہو ا ار کو ئی کہے کہ میں دن پر ایما ن لا یا۔یا چا ند پورا چودہویں کا ہے اور کوئی اس پر ایمان لا وے تو اسے کیا فا ئدہ ہو گا ؟ اور کس تعریف کا مستحق ہے ؟ ہا ں اگر اول شب کے چا ند پر جس کا نا م ہلا ل ہت کو ئی اسے دیکھ کر بتلا وے تو اس کی نظر کی تعریف کی جاوے گی اور جس کی نظر کم وپیش ہے وہ کھل جاویگی تو نشانوں می یہی اصول خدا نے رکھا ہے کہ ایک پہلو میں ایما ن سے فا ئدہ اٹھا ویں اور ایک پہلومیں عقل سے ورنہ ایمان ایمان نہیں رہتا ۔ایک مخفی امر کو عقل سے سوچکرقرائن ملا کر ما ن لینے کا نا م ایما ن ہے ۔ان لو گوں کی عقل موٹی ہے ۔ایسے نشان طلب کر تے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں ہم یہ پیش کر تے ہیں کہ جو سچامذہب ہو تا ہے اس میں امتیا ز ہو تا ہے جس قدر تا ئیدات اور خوارق خدا تعا لیٰ نے اسلا م کی تا ئیدمیں رکھے ہیں ۔وہ کسی دوسر ے مذہب کے لیے ہرگز نہیں ہیں ۔مگر یہ ان امورمیں مقابلہ چا ہتے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں ۔ دوسر ے خدا غلا م نہیں ہے کہ کسی تا بع ہو بلکہ وہخدا کے تا بع ہیں ۔
    فیصلہ کا آسان طریق
    ہم نے ان سے یہ چا ہا ہے کہ اس طرح سے فیصلہ کر لو کہ ہزاروں اعتراض جو تم لو گ کرتے ہو ان میں سے دواعتراض چن لو اگر وہ سچے نکل آویں تو با قی تمہارے سب سچے اور اگر وہ جھوٹے نکل آویں تو با قی سب جھوٹے ۔مگر ان لو گوں کو موت کا خوف نہیں ۔اگر عقل ہو تو لا زم ہے کہ وہ اسلا م کے سوائے کو ئی سچا پاک مذہب دکھلا ویں ۔اور طلا ق کی نسبت اعتراض ہے ہم کہتے ہیں کہ اچھا آج تک جس قدر طلا ق اسلام میں ہو ئی ہیں ان کی فہرست ہم سے لواور جس قدر نیوگ تم میں ہو اس کی فہرست ہمیں دو۔
    مدارات اور مداہنہ میں فرق
    فر ما یا کہ
    مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جاوے تا کہ دوسرے کے ذہن نشین ہو اور حق کا اس طرح اظہار کاکرنا کہ ایک کلمہ بھی با قی نہ رہے اور سب ادا ہو جاوے اور مداہنہ اسے کہتے ہیں کہ ڈرکر حق کو چھپا لینا ۔کھا لینا اکثر دیکھا جا تا ہے کہ لو گ نر می سے گفتگو کر کے پھر گر می پر آجا تے ہیںب ۔یہ منا سب نہیں ہے حق کو پورا پورا ادا کر نے کے واسطے ایک ہنر چا ہئیے ۔وہ شخص بہت بہا در ہے جو کہ ایسی خوبی ستے حق کو بیا ن کر ے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی سن لیویں ۔خدا ایسوں پر راضی ہو تا ہے ہا ں یہ ضرور یہے کہ حق گو سے لو گ را ضی نہ ہوں اگر چہ وہ نر می بھی کر ے مگر تا ہم درمیا ن میں ایسے بھی ہو تے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں ۔
    (البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ صفحہ ۷۵،۷۶ مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء؁
    قبل ازعشاء
    معجزہ شق القمر کی شہادت ہندوستا ن میں
    پنڈت نند کشور صاحب سے معجزا ت پر گفتگو ہو ئی پنڈت صاحب معجزہ شق القمر کی نسبت کہا کہ بھو ج سوانح ایک کتا ب سنسکر ت میں ہے مجھ سے پنڈتو ں نے بیا ن کیا ہے کہ اس میں شق القمر کی شہادت راجہ بھو ج سے ہے کہ وہ اپنے محل پر تھا یکا یک اس نے چا ند کو ٹکڑے ہو تے ہو ئے دیکھا ۔اس نے پنڈتو ں کو بلا کر پو چھا کہ یہ با ت ہے کہ چا ند اس طرح پھٹا ۔راجہ نے خیا ل کیا کہ کو ئی عظیم اچا ن حا دثہ ہو گا ۔پنڈتو ں نے جو ابدیا کہ کو ئی خطرہ نہیں ہے پچھم کے دیس میں ایک مہا تما پیدا ہو اہے ۔ وہ بہت یو گی ہے اس نے اپنے یو گ بھا ش سے چا ند کو ایسا کر دیا ہے تب راجہ نے اسے تحفہ تحائف ارسال کئے ۔
    تفسیر قر آن کا طریق
    قر آن کی تفسیر کے متعلق فر ما یا کہ
    خدا کے کلام کے صحیح معنی تب سمجھ میں آتے ہیں کہ اس کے تما م رشتہ کی سمجھ ہو جیسے قر آن شریف کی نسبت ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کر تا ہے ۔اس کے سوا جو اور کلا م ہو گا وہ تو اپنا کلام ہو گا دیکھاگیاہے کہ بعض وقت ایک آیت کے معنے کر نے کے وقت دوسوآیتیں شا مل ہو تیہیں ۔ایجا دی معنے کر نے والوں کا منہ اس سے بند ہو جا تا ہے ۔
    (البدر جلددوم نمبر ۱۰ صفحہ ۷۷، مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
    ( مجلس قبل ازعشاء )
    بعد مغرب گرمی محسوس کر کے حضرت اقدس نے اپنے احبا ب سے مشورہ کیا کہ اب موسم بدلا ہو ا ہے اس لیے اگر منا سب ہو تو اوپر چل بیٹھیں ،چنا نچہ احبا ب نے اس سے اتفا ق کیا اور اسی وقت تما م احبا ب اور حضر ت اقدس با لا ئی منزل میں تشریف لے گئے ۔
    شہ نشین پر بیٹھ کر ابو سعید صاحب سے فر ما یا کہ
    اگر آپ چلے گئے ہو تے تو اوپر کا جلسہ کیسے دیکھتے اور یہ کہا ں نصیب ہونا تھا ۔
    اسی اثنا ء میں نواب صا حب تشریف لا ئے ۔حضر ت نے فر ما یا :۔ مست کے بعد آج پھر نواب صاحب کا چہرہ نظر آیا ہے ۔آگے تو ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں جا بیٹھا کر تے اور اندھیرے میں چہرہ بھی نظر نہ آتا تھا ۔
    فر اغت
    بیٹھے بیٹھے آپ نے فر ما یا کہ :۔
    جیسے ایک مرض ہو تی ہے کہ اس میں جب تک مکیا ں ما رتے رہیں تو آرام رہتا ہے ۔اسی طرح فراغت میر ے واسطے مرض ہے ایک دن بھی فا رغ رہو ں تو بے چین ہو جا تا ہوں اس لیے ایک کتا ب شروع کر دی ہے جس کا نا م حقیقت دعا رکگا ہے ایک رسالہ کی طرز پر لکھا ہے ۔
    دعا
    دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطا ن سے جنگ ہو اتو اس وقت سوائے دعا کے اور کو ئی حربہ کا م نہ آیا ۔آخر شیطا ن پر آدم نے فتح بذریعہ دعا پا ئی
    ربنا ظلمنا الفسنا وان لم تغفر لنا وتر حمنا لنکر نن من الخاسرین ۔ (سورت الا عراف :۲۴)
    اور آخر میں بھی دجا ل کے ما رنے کے واسطے دعا ہی رکھی ہے ۔گو یا اول بھی دعا اور آخر بھی دعا ہی دعا ہے حا لت موجود بھی یہی چاہتی ہے تما م اسلامی طا قیتں کمزور ہیں ۔اور ان موجود اسلحہ سے وہ کیا کا م کرسکتی ہیں ؟ اب اس کفر وغیرہ پر غالب آنے کے واسطے اسلحہ کی ضرورت بھی نہیں ۔آسما نی حربہ کی ضرورت ہے ۔
    (البدر جلد۲نمبر ۱۰ صفحہ ۷۷، مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۹ مارچ ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل از عشاء
    حضور نے شہ نشین پر جلوہ گر ہو کر فرمایا کہ ـ
    آج طبیعت نہایت علیل تھی کہ اٹھنے کی طاقت نہیں ہوئی ۔اسی لیے ظہر و عصر کے اوقات میں نہ آسکا چند ایک دریدہ دہن آریوں کے بیبا کا نہ اعتراض پر فرمایا کہ
    یہ گندہ ز بانی سے باز نہیں آتے ہم بھی ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ ؎
    گرنبا شدبدست راہ بردن شرط عشق است در طلب مُردن
    جب انسان کے دل میں میل ہوتا ہے تو ایک فرشتے کو بھی میلا سمجھ لیتا ہے ۔
    ایک رئویا
    فرمایا کہ آج میں نے ایک خواب دیکھا جسے آنکھ کے آگے ایک نظارہ گذر جاتا ہے ۔دیکھتا ہوں کہ دو سنڈھوں کے سر جسم سے الگ کٹے ہوئے ہاتھوں میں ہیں ۔ایک ایک ہاتھ میں اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں ۔
    اسلام کی حالت کا علاج دُعا ہیَ
    جس حا لت میں اب اسلام ہے اس کا علاج اب سوائے دعا کے اور کیا ہو سکتا ہے ۔لو گ جہا د جہاد کہتے ہیں مگر اس وقت تو جہاد حرام ہے اس لیے خدا نے مجھے دعاوںمیں جو ش دیا ہے ۔جیسے سمندر میں اہل جو ش ہو تا ہے چونکہ توحید کو لیے دعا کا جو ش دل میں ڈالا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الہیٰ بھی یہی ہے جیسا کہ
    ادعونی استجب لکم (المومن :۶۱)
    اس کا وعدہ ہے ۔ (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۱، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۰ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء
    بیعت کا مدعا سچیّ تو بہ ہے
    بعد نما ز جمعہ چند آدمیوں نے بیعت کی اور بعد بیعت حضرت اقدس نے ان کو خطاب کرکے فر ما یا :۔
    اصل مدعابیعت کا یہی ہے کہ توبہ کرو ۔استغفارکرو ۔نما زوں کو دوست کر کے پڑھو۔نا جائز کا موں سے بچو ۔میں جما عت کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں مگر جما عت کو بھی چا ہئیے کہ وہ بھی اپنے آپ کو پا ک کرے ۔
    یا درکھو غفلت کا گنا ہ پشیمانی کے گنا ہ سے بڑھ کر ہو تا ہے ۔یہ گناہ زہریلا اور قاتل ہو تا ہے ۔توبہ کر نے والا تو ایسا ہی ہو تا ہے کہ اگر گو یا اس نے گنا ہ کیا ہی نہیں ۔جس کو معلوم ہی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ بہت خطرنا ک حالت میں ہے پس ضرورت ہے کہ غفلت کو چھوڑدواور اپنے گناہوں سے تو بہ کرواور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔جو شخص تو بہ کر کے اپنی حا لت کو دوست کر لیگا وہ دوسروں کے مقابلہ میں بچا یا جا ئے گا ۔پس دعا اسی کوفا ئدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلا ح کرتا ہے اور خدا تعا لیٰ کے ساتھ اپنے سچے تعلق کو قائم کرتا ہے ۔پغمیبرکسی کے لیے اگر شفا عت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفا عت کی گئی ہے اپنی اصلا ح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفا عت اس کو فا ئدہ نہیں پہنچا سکتی ۔۱ ؎
    جب تک خود خدا تعا لیٰ کی رحمت کے مقام پر کھڑا ہو تو دعا بھی اس کو فائدہ پہنچا تی ہے۔نر ااسبا ب پر بھروسہ نہ کرلوکہ بیعت کر لی ہے اللہ تعا لیٰ لفظی بیعتوں کر پسند نہیں کر تا ۔بلکہ وہ چا ہتا ہے کہ جیسے بیعت کے وقت توبہ کر تے ہو اس توبہ پر قائم رہو اور ہر روز نئی روجہ پیدا کرو جو اس کے استحکام کاموجب ہو۔ اللہ تعالیٰ پناہ ڈھونڈھنے والوں کوپناہ دیتا ہے جو لوگ خدا کی طرف آتے ہیں وہ ان کو ضائع نہیں کرتا۔
    اس بات کو خوب سمجھ لو کہ نب پورا خوف دامنگیر ہو اور جان کندن کی سی حالت ہوگئی ۔اس وقت توبہ ، توبہ نہیں ۔جب بلا نازل ہوگئی پھر اس کا رد کرنا اللہ تعالٰ کے ہی ہاتھ میں ہے ۔تم بلا کے نزول سے پہلے فکرِ کرو ۔جو بلا کے نزول سے پہلے ڈرتا ہے عاقبت بین اورباریک بین ہوتا ہے اور بلا کے آجانے کے وقت تو کافر بھی ڈرتے ہیں ۔میں نے سُنا ہے بعض گائوں میں جہاں طاعون کی شدت ہوئی ہندوئوں نے مسلمانوں کو بلا کر اپنے گروں میں اذانیں دلوائی ہیں وہی اذان جس پہلے اُن کو پرہیز تھا ۔ ۲؎ جومومن غرض کے لیے خدا سے نہیں ڈرتا خدا اس سے خوف کو دور دیتا ہے مگر جس کے دروازے پربلا نازل ہو جائوے تو وہ خواہ نخواہاس سے ڈریگا۔بہت دُعائیں کرتے رہو تاکہ ان بلائوں سے نضات ہو اور خاتمہ بالخیر ہو ۔عملی نمونہ کے سوا بیہودہ قیل قال فائدہ نہیں دیتی اور جیسے ضروری ہے کہ ڈر کے سامانوں سے پہلے ڈرنا چاہیے ۔یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کے ڈر کے سامان قریب ہوتو ڈر جائو اور جب وہ دور چلے جائویں تو بیباک ہو جائو بلکہ تمہاری زندگی ہر حالت میں ا للہ تعالیٰ کے خوف سے بھری ہوئی ہو خواہ مصیبت کے سامان ہو نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مقتدرہے ۳ ؎ وہ جب چا ہتا ہے مصیبت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جب چا ہتا ہے کشا ئش کرتا ہے جو بھی اس پر بھروسہ کرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے ۔ڈرنے والا اور نہ ڈرنے والا کبھی برا برا نہیں ہوسکتے ۔اللہ تعالیٰ ان دونوں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے ۔ پس ہما ری جما عت کو چا ہئیے کہ وہ سچی توبہ کریں اور گنا ہ سے بچیں ۔جو بیعت کرکے پھر گناہ سے نہیں بچتا وہ گو یا جھو ٹا اقرار کر تا ہے ۔ ۱؎ اور یہ میرا ہا تھ نہیں خدا کا ہا تھ ہے جس پر وہ ایسا جھوٹ بولتا ہے اور پھر خدا کے ہا تھ پر جھوٹ بول کر کہا ں جا وے گا ؟
    کبر مقتا عند اللہ ان تقولواما لا تفعلون ۔(الصف :۴)
    مقت خدا کے غضب کو کہتے ہیں یعنی بڑا غضب ان پر ہو تا ہے جو اقرار کر تے ہیں اور پھر کر تے نہیں ایسے آدمی پر خدا تعا لیٰ کا غضب نا زل ہو تا ہے اس لیے دعائیں کر تے رہو ۔کو ئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے ۔
    (الحکم جلد نمبر ۱۱ صفحہ ۷۔۸ مورخہ ۲۴ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۱مارچ ۱۹۰۳؁ء
    بوقت سیرَ
    کسی خاص شخص کی ہدایت کیلئے دعا
    کسی خاص شخص کی ہدایت پر زوردینے کے با رے میں فر مایا کہ :۔
    ایک فردواحد پر ہدایت کے لیے زور دینا ٹھیک نہیں ہو تا اور نہ اس طرح کبھی انبیاء کو کا میا بی ہو ئی ہے ۔عام دعا چا ہئیے پھر جو لا ئق ہو تا ہے وہ اس سے خودابخود متا ثر ہو تا ہے ۔
    حقیقت توبہ
    توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ گنا ہ سے کلی طور پر بیزارہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور سچے طور سے یہ عہد ہو کہ موت تک پھر گنا ہ نہ کروں گا ۔ایسی توبہ پر خدا کا وعدہ ہے کہ میں بخش دوں گا ۔اگر چہ یہ توبہ دوسرے دن ہی ٹوٹ جا وے مگر با ت یہ ہے کہ کرنے والے کا اس وقت عزم مصمم ہو اور اس کے دل میں ٹوٹی نہ ہو ۔
    ایک توبہ انسا ن کی طرف سے ہو تی ہے اور ایک توبہ خدا کی طرف سے ۔خدا کیتوبہ کے معنے رجوع کے ہیں کیو نکہ اسکا نا م تواب ہے ۔انسا ن توبہ کر تا ہے تو گنا ہ سے نیکی کی طرف آتا ہے اور جب خدا توبہ کرتا ہے تووہ رحمت سے اسکی طرف آتا ہے اور اس انسا ن کو لغزش سے سنبھال لیتا ہے جب اس قسم کی خفا کی توبہ ہو تو پھر لغزش نہی ہو تی ۔حدیث میں ہے کہ انسا ن توبہ کرتا ہے پھر اس سے ٹوٹ جاتی ہے اور قضا ئوقدرغا لب آتی ہے پھر وہ روتاہے گڑاتا ہے پھر توبہ کرتا ہے مگر پھر ٹوٹ جوتی ہے اور وہ با ر با ر تضرع کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے پھر آخر کا ر جب انہتا ء تک اس کی تضرع اور ابہتا ل پہنچ جا تے ہیں ۔ تو پھر خدا توبہ کرتاہے یعنی اس کی طرف رجو ع کرتاہے اور کہتا ہے اعمل ما شیت انی غفر ت لک ۔اس کے یہ معنے ہو تے ہیں کہ اب اس کی فطرت ایسی بدل دی گئی ہے کہ گناہ ہو سکے گاجیسے کسی بدکا رکا آلہ تنا سل کا ٹ دیا جاوے تو پھر وہ کیا بد کا ری کرسکے گا یا آنکھیں نکال دی جا ئیں تو وہ کیا بدنظری کرے گا ۔اسی طرح خدا سرشت بدل دیتا ہے اور با لکل پا کیزہ فطرت بنا دیتا ہے بدرمیں جب صحابہ اکرؓم نے جا ن لٹائی تو ان کی اس ہمت اور اخلاص کو دیکھ کر خدا نے ان کو بخش دیا ۔ان کے دلوں کو صاف کردیا کہ پھر گنا ہ ہو ہی نہ سکے ۔یہ بھی ایک درجہ ہے جب فطرت بدل جا تی ہے تو وہ خدا کی رضا کے خلا ف کچھ کر ہی نہیں سکتا انسا ن سے گنا ہ نہ ہو ں اور وہ روتوبہ نہ کرے تو خدا ان کاکوہلا ک کرکے ایک ایسی قوم پیدا کرے جو گنا ہ کرے اور پھر خدا ان کو بخشے اگر یہ نہ ہو تو پھر خدا کی صفت غفوریت کیسے کا م کرے گی
    گنا ہ توبہ کیسا تھ ملکر تر یا ق بنتا ہے
    گناہ ایک مہلک زہر مثل الفا ردسڑکیناوغیرہ کے ہیں مگر توبہ کے ساتھ مل کر یہ تریاق کا حکم رکھتے ہیں انسا ن کے اندر رعونت پیدا ہو جاتی ہے پھر گنا ہ سے کسر نفس پیدا ہو جا تی ہے جیسے زہر کو زہر ما رتی ہے ایسا ہی رعونت وغیرہ کی زہر کو گنا ہ ما رتا ہے ۔حضرت آدم کے ساتھ جو ذلت آئی اس کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ اس کے انر تکبر پیدا ہو تا ہے کہ میںَ وہ ہو ں جیسے خدا نے اپنے ہاتھ سے بنا یا اور ملا ئکہ نے سجدہکیا مگر اس خطا سے وہ شرمسا رہو ئے اور اس تکبر کی نوبت ہی نہ آئی ۔پھر اس شرمساری سے سارے گنا ہ معاف ہوئے اسی طرح بعض سادات آج کل فخر کرتے ہیں مگر نسبی دعویٰ کیا شیَ ہے ؟اس سے رعونت پیدا ہوتی ہے ۔ہر ایک تکبر زہر قاتل ہو تا ہے اسے کسی نہ کسی طرح ما رنا چا ہئیے ۔
    آدم کی جنت
    سوال ہو اکہ آدم کی جنت کہا ں تھی فر ما یا :۔
    ہما را مذہب یہی ہے کہ زمین میں ہی تھی فر ما تا ہے
    منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم
    آدم کی بودوبا ش آسما ن پر یہ با ت بالکل غلط ہے ۔
    شجر ممنوعہ
    شجرکی نسبت سوال ہواکہ وہ کو نسا درخت تھا جسکی ممانعت کی گیء تھی ۔فر ما یا کہ :۔
    مفسر وں نے کئی با تیں لکھی ہیں مگر معلوم ہو تا ہے کہ انگورہو گا ۔شراب اس سے پیدا ہو تی ہے اور شراب کی نسبت لکھا ہے رجس من عمل الشیطان ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت کا انگورایسا ہی ہوکہ بغیر سڑانے گلا نے کے اس کے تا زہ میں نشہ ہو تا ہے جیسے تاڑی کہ ذراسی دیر کے بعد اس میں نشہ پیدا ہو جا تا ہے ۔
    تمباکو
    تمبا کو کی نسبت فر ما یا کہ :۔
    یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسا ن کو فسق وفجور کی طرف رغیب ہو گا مگرتاہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پر ہیز کرے ۔منہ میں اس سے بدبوآتی ہے اور یہ من منحوس صورت ہے کہ انسا ن دھواں اندر دا خل کرے اور پھر با ہر نکالے اگر آنحضر ت ﷺ کے وقت یہ ہو تا تو آپ اجا زت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوے ۔ا یک لغواور بیودہ حرکت ہے ہا ں مسکرات میں اسے شامل نہیں کرسکتے ۔اگر علا ج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یو نہی ما ل کو بیجا صرف کر نا ہے عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی شئے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا ہے ۔انگریز بھی چا ہتے ہیں کہ اسے دور کر دیں ۔
    (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۲، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    دربا ر شام
    نومبایعین کو نصیحت
    چند نوواردشخصوں نے بیعت کی ۔بعد از بیعت فر ما یا :۔
    دیکھو بیعت تو تمہا ری ہو چکی تمہیں چا ہئیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو خدا کا قہر سخت ہو تا ہے اگر چہ دنیا کا عذاب بھی سخت اور نا قابل برداشت ہو تا ہے مگر تا ہم جس طرح ہو تا ہے ۔اچھے برے دن گذرجا تے ہیں مگر آخرت کا عذاب تو نا پیدا کنا رہے اس لیے منا سب ہے کہ اس کے واسطے کا فی سا ما ن کیا جا وے ۔
    ہمیں ہنا پڑتا ہے کہ جو شخص آتا ہے اور بیعت کرتاہے ہم پر فر ض ہو تا ہے کہ اسے کرنے اور نہ کرنے کے کا موں سے آگا ہ کریں ۔جیسا بے خبر آیا تھا ویسا ہی بے خبر واپس نہ جا وے۔ ایسا ہو نے سے معصیت کا خوف ہے کہ اسے کیوں نہ بتا یا گیا ؟ سوتم سوچ لو کہ مقدم امر دین ہی کا ہے دنیا کے دن تو کسی نہ کسی طرح گذرہی جا تے ہیں ۔
    شب تنورگذشت وشب سمورگذشت
    غربا ئاور مسا کین بھی جن کو کھا نے کو ایک وقت ملتا ہے اور دوسر ے وقت نہیں ملتا اور آرام کے مکا ن بھی نہیں ہو تے ان کی بھی گذرہی جا تی ہے اور امر اء اور پلا وزردے کھا نے والے اور عمدہ مکا نو ں اور بلا خانوں میں رہنے والے ان کی بھی اپنے دن پورے کرہی رہے ہیں کسی کا دکھ دردسے اور کسی کا عیش میںگذر ہ ہو تا ہے مگر عاقبت کا دکھ جھیلنا بہت مشکل ہے اور وہ عذاب اور اس کے دکھ درد نا قابل بر داشت ہوں گے لٰہذادانا وہی ہے کہ جو اس ہمیشہ رہنے والے جہان کی فکر میں لگ جا وے ۔
    حقیقتِ نماز
    سوتم نمازوں کو سنوارواور خدا تعا لیٰ کے احکام کو اس ک فرمودہ کے بموجب کرو ۔اس کی نواہء سے بچے رہو اس کے ذکر اور یا د میں لگے رہو دعا کا سلسلہ ہروقت جا ری رکگواپنی نما ز میں جہاں جہاں رکوع وسجود میں دعا کا موقعہ ہے دعا کرو اور غفلت کی نما ز کو تر ک کردو رسمی نما ز کچھ ثمرات مترتب نہیں لا تی اور نہ وہ قبولیت کے لا ئق ہے ۔نما ز وہی ہے کہ کھڑے ہو نے سے سلام پھیرنے کے وقت تک پورے خشوع اور حضورقلب سے ادا کی جا وے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ وزاری سے اللہ تعا لیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جا وے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو ۔اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم ازکم یہ توبہ ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے ۔اس طرح کما ل ادب اور محنت اور خوف سے بھری ہو ئی نما ز ادا کرو۔
    بے وقت موتوں کا زما نہ
    دیکھویہ زما نہ بے وقت موتوں کا زما نہ آگیا ہے۔بھلا پہلے کبھی تم نے اپنے با پ دادا سے بھی سنا ہے کہ اس طرح اچا نک موت کا سلسلہ کبھی جا ری ہوا ۔رات کو اچھا بھلا کا م کا ج کرتا اور چلتا پھر تا آدمی سوتا ہے اور صبح کو ایسی نیندمیں سویا ہواہوتا ہے کہ جس سے جا گنا ہی نہیں ۔اب جس گھر میں یہ موت آئی گھر کا گھر اور گاوں کے گاوں اس نے خالی کر دئیے ابھی انجام کی خبر نہیں ۔کیا کیا دن آنے ہیں ۔ایک نا دان اپنی نا دانی کی وجہ سے جب طاعون چنددن کے لیے رک جاتی ہے اور خدا تعا لیٰ کسی مصلحت سے اسے بند کر تا ہے وہ کہتا ہے بس اب گئی اب نہیں آئے گی ۔اومیاں !ایسا ہمیشہ ہی ہوا کرتا ہے کہ بیما ریا ں آتی ہیں چا ردن رہ کر چلی جو تی ہیں مگر خدا کی با ریک تد ابیر سے وہ نا واقف ہیں ۔وہ نہیں جا نتے کہ وہ مہلت دیتا ہے کہ بھلا ابھی ان میں کچھ صلا حیت اوت تقویٰ اور خوف بھی پیدا ہواہے یانہیں۔
    اس طاعون کا پچھلاتجربہ بتا تا ہے کہ ایک ایک دورہ سترسترسال کا ہواکرتا ہے اس سے تو جنگل کے جا نوروں نے بھی پنا ہ مانگی ہے جب انسا نوں کو ختم کر چکی ہے تو جنگل کے حیوانوں اور درندوں کو بھی ختم کردیتی ہے ایسے وقتوں میں خدا تعا لیٰ بچا لیتا ہے ان لو گوں کو جو ان مصائب اور عذابوں کے نا زل ہو نے سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرتے اور دوسروں سے عبر ت پکڑتے ہیں ۔خدا تعا لیٰ ان کی حفا ظت خود کرتا ہے ۔عذابوں اور شدائدکے وقتوں میں جو آرام اور عیش کے وقت میں اس سے ڈرتے اور پنا ہ ما نگتے ہیں مگر جب عذاب کسی پر نا زل ہو جا وے تب تو بہ بھی قبول نہیں ہو تی ۔
    اپنے آپکو درست کرلو
    پس اب موقع ہے کہ تم خدا تعا لیٰ کے سامنے اپنے آپ کودرست کرلو اور اس کے فرائض کی بجاآوری میںکمی نہ کرو ۔خلق اللہ سے کبھی بھی خیابت ۔ظلم ۔بدخلقی ۔تر شروئی ایذائوہی سے پیش نہ آو ۔کسی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے بدلے بھی خدا تعا لیٰ مواخذہ کریگا ۔جس طرح خدا تعا لیٰ کے احکا م کی نا فرما نی ۔ اس کی عظمت ۔تو حید اور جلال کے خلاف کرنے اور اس سے شرک کر نا گنا ہ ہیں اسی طرھ اس کی خلق سے ظلم کرنا ۔ ان کی حق تلفیاں نہ کرو ۔زبا ن یا ہاتھ سے دکھ یا کسی قسم کی گا لی گلوچ دینا بھی گنا ہ ہیں پس تم دونوطرح کے گنا ہوں سے پا ک بنو اور نیکی کو بدی سے خلط نہ کرو۔
    تمہارا دین اسلام ہے
    تمہارا دین اسلام ہے َ اسلام کے معنے ہیں خدا کے آگے گردن رکھ دینا ۔جس طرح ایک بکراذبح کر نے کی خاطر منہ کے بل لٹا یا جا تا ہے ۔اسی طرح تم بھی حدا کے احکا م کی بجا آوری میں بے چون وچراگردن رکھ دو ۔جب تک کا مل طور سے تم اپنے ارودوں سے خا لی اور نفسانی ہواوہوس سے پا ک نہ ہو جا وگے تب تک تمہارا اسلام اسلام نہیں ہے بہت ہیں کہ ہماری ان با تو ں کو قصہ کہا نی جا نتے ہوں گے اور ٹھٹھے اور ہنسی سے ان کا ذکر کرتے ہوں گے مگر یادرکھوکہ یہ اب آخری دن ہیں ۔ خدا تعا لیٰ فیصلہ کر نا چا ہتا ہے لوگ بے حیا ئی ۔حیلہ با زی اور نفس پر ستی میں حد سے زیا دہ گذرے جا تے ہیں ۔خدا تعا لیٰ کی عظمت وجلا ل اور تو حید کا ان کے دلوںمیں ذرا بھی خیا ل نہیں گویا نا ستک مت ہو گئے ہیں ۔کو ئی کا م بھی ان کا خدا کے لیے نہیں ہے ۔
    ایک ما مور کی بعثت
    پس ایسے وقت میں اس نے اپنے ایک خاص بندہ کو بھیجا ہے تا اس کے ذریعہ سیدنیا میں ہدایت کا نورپھیلا وے اوت گمشدہ ایما ن اور توحید کو ازسر نودنیا میں قائم کرے ۔مگرجب دنیا نے اس کی پروا نہ کی اور الٹا دکھ دیا اور اس کی تکذیب کیلئے کمر بستہ ہو گئے تو خدا تعا لیٰ نے ان کو قہر کی آگ سے ہلا کر نا شروع کیا ۔کئی طرح کے عذابوں سے اس نے دنیا کو جگا یا ہے کہیں قحط ہو ئے اور کہیں زلزلے آئے ۔آ تش فشانیاں ہو ئیں ۔ہراردہزار لوگ تبا ہ ہو ئے ۔انہیں میں سے ایک طا عون بھی ہے ۔یہ دورنہ ہو گی اور نہ جا ویگی جب تک یہ دنیا کو سیدھا نہ کرلے ۔لوگ تسلی پا جا تے ہیں کہ بس اب گئی اب نہیں آویگی مگروہ دھوکا کھا تے ہیں ان نا دانوں کاتو کا م ہی خدا سے جنگ کرنا ہو گیا ہے مگر وہ کہا نتک ؟وہ دنیا کو بتا نا چا ہتا ہے کہ میں ضروموجود ہوں اور ان کی بیبا کیوں اور شرارتوں کو دور کر نا چا ہتا ہوں مگر آہستہ آہستہ ۔اس کے تما م کا م بتدریج ہوا کر تے ہیں ۔جب وہ دیکھتا ہے کہ دنیا طرح طرح کے ظلم اور فسادوں سے بھرگئی اور خدا کا نا م دنیا سے اٹھ گیا ۔اس کی توحید اور اس کی کتا باور اس کے رسول کی ہتک کی گئی تو وہ ایسے وقت میں اپنے خا ص رحم سے اپنی رحمت کا درواز کھولتا ہے اور اپنی خلقت کو ایک ایسے شخص کے سپردر کرتا ہے جو اس کوخدا کے عذابسے بچا نے کے واسطے کو شش کرتا اور ان کا بڑا خیرخواہ ہو تا ہے مگر جب دنیا اسکی پر وا نہیں کرتی اور بجا ئے اس کے کہ اس سے محبت کریں اس کو بتا یا جا تا دکھ دیا جا تا ہے تو خدا تعا لیٰ بھی اپنے غضب سے دنیا میں اپنا عذاب نا زل کرتا ہے جو نا فر مانوں کو آگ کی طرح بھسم کرتا ہے اور خدا تعا لیٰ کی سلطنت کا رعب قائم کرتا اور صادق کی نصر ت اور اس کے ہمراہیوں کو بطورنمونہ اس سے بچاتا ہے ۔
    تو بہ کرو
    پس اب یہ وقت ہے توبہ کرو ۔اگر عذاب آگیا تو پھر تو بہ کا دروازہ بھی بندہو گیا تو بہ میں بہت کچھ ہے ۔دیکھو جب کو ئی با دشا ہ کسی امر کے متعلق سمجھا کہ تم اس سے رک جا و تمہارابھلا ہو گا تو اگر وہ شخص رک جا وے تو بہتر ورنہ پھر اس کا عذاب کیسا سخت ہو تا ہے اسی طرح پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں سے خدا تعا لیٰ لو گو ں کو سمجگو یتا ں دیتا ہے کہ با زآجا و موقر ہے ورنہ پچھتا وگے مگر جب وہ نہیں سمجھتے اور اس کی نا فر ما نی سے نہیں رکتے تو پھر اس کا عذاب ایسا ہوتا ہے ۔
    ولا یخاف عقبھا (الشمس :۱۶)
    صرف بیعت کا فی نہیں
    تم لو گوں نے میرے ہا تھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسہ نہ کرلینا صرف اتنی ہی با ت کا فی نہیں ۔زبا نی اقرارسے کچھ نہیں بنتا ۔ جب عملی طور سے اس اقرار کیتصدیق نہ کرکے دکھلائی جا وے ۔یو ں زبا نی تو بہت سے خوشامد لوگ بھی اقرار کر لیاکرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے ۔خدا تعا لیٰ کی نظر انسا ن کے دل پر پڑتی ہے پس اب سے اقرار سچا کرلواور دل کو اس اقرار میں زبا ن کے ساتھ شریک کرلوکہ جب تک قبر میں جا ویں ہر قسم کے گنا ہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے ۔
    غرض اللہ اور حق العبا د میں کو ئی کمی یا سستی نہیں کریں گے ۔اسی طرح سے خدا تعا لیٰ تم کو ہرطرح کے عذابوں سے بچا ویگا اور تمہاری نصرت ہرمیدا ن میں کر یگا ۔ظلم کو ترک کرو ۔خیا نت ۔حق تلفی اپنا شیوہ نہ بنا و اور سب سے بڑا گنا ہ غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچا و ۔
    (الحکم جلد نمبر ۱۲ صفحہ ۹۔۱۰مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۲ مارچ ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل ازعشاء
    اسلا م
    مذہب کے مقابلے پر گفتگوفر ما تے ہوئے آپ نے فر ما یا کہ :۔
    اسلام وہ مذہب ہے جس نے اپنے اقبا ل کے سا تھ تما م مذاہب کو اپنے پیروں میں لے لیا ہوا ہے۔ اسلا م ایسے ملک سے شروع ہواجہاں لوگ درندوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور طرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلا تھے ۔ان کو حیوانیت سے انسا نیت میں اسلامی ہی لا یا ۔ہر طرف اس کی مخا لفت ہو ئی لو گوں نے دشمنی میں کو ئی دقیقہ فر وگذاشت نہ کیا ۔پھر بھی وہ تما م کا م پورے ہو کر رہے جو بنی کریم ﷺ نے فر ما ئے تھے اور کو ئی فردبشر بھی اس کا با ل نہ بگاڑسکا ۔حتیٰ کہ نداآگئی ۔
    (الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکمنعمتی ورضیت لکم الا سلا م دنیا (المائدہ: ۴)
    (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۲، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ہندووں سے گفتگوکا طریق
    جیسے کہ بعض لو گو ں کا دستو رہے کہ جب ہندومسلمانوں میں کو ئی گفتگو ہو تو گا وخوری وغیرہ با توں پر بحث ہو ا کرتی ہے اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا ۔کہ با ت یہ ہے کہ اصل اشیا ء میں حلت ہے اب دنیا میں کروڑ ہا اشیا ء ہیں کو ئی کچھ کھا تا ہے اور کو ئی کچھ ۔اس لیے ایسی با توں میں پڑنا مناسب نہیں ہو ا کرتا ۔چا ہئیے کہ ایسے مباحثات میں ہمیشہ اسلام کی خوبیاں اور صداقت بیا ن کی جا وے اور ظاہر کیاجاوے کہکن کن نیک اعما ل کی تعلیم اسلا م نے دی ہے کن کن مہلکا ت سے بچا یا ہے ۔گا وخوری کے مسائل وغیرہ بیان کرنے سے کیا فا ئدہ ؟ جو اسلام کو پسندکر یگا ۔وہ گا وخوری کو بھی پسند کریگا جس با ت کا فساد اس کے نفع سے بڑھکر ہو اس کو بیان کر نے کی ضرورت نہیں ۔ (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۲، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۳ ما رچ ۱۹۰۳ء؁
    ْْْْ ْ دربا رِ شا م
    ختم اور فا تحہ خوانی
    ایک بزرگ نے عر ض کی کہ حضور میںَ نے اپنی ملا زمت سے پہلے یہ منت ما نی تھی کہ جب میں ملا زم ہو جا ویں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حسا ب سے نکال کر اس کا کھا نا پکواکر حضرت پیران پیرکا ختم دلا وں گا ۔ اس کے متعلق حضو ر کیا فر ما تے ہیں ؟فر ما یا کہ :۔
    خیر ات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جا ئز ہے اور جیسے چا ہے انسا ن دے مگر اس فا تحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فا ئدہ ؟ اور یہ کیوں کیا جا تا ہے ؟ میرے خیا ل میں یہ جو ہما رے ملک میں رسم جا ری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھاکرتے ہیں یہ طریق تق شرک ہے ااور اس کا ثبو ت آنحضرت ﷺ کے فعل سے نہیں ۔غرنا ء ومساکین کو بے شک کھا نا کھلاو۔
    نصیحت بعد ازبیعت
    چند احبا ب نے بیعت کی تھی اس پر ان کو چندکلمات بطورنصیحت فر مائے:۔
    پانچوں نما زیں عمدہ طرح سے پڑھا کرو ۔روزہ صدق سے رکھو اور اگر صاحب تو فیق ہو ۔تو زکوۃ ۔حج وغیرہ اعمال میں بھی کمر بستہ رہو۔ اور ہر قسم کے گنا ہ سے اور شرک اور بدعت سے بیزار رہو۔اصل میں گنا ہ کی شنا خت کے اصول صرف دوہی ہیں
    اوّل
    حق اللہ کی بجا آوری میں کمی یا کوتا ہی ۔دوم۔ حق العباد کا خیا ل نہ کر نا ۔
    اصلاصول عبادت بھی یہی ہیں کہ ان دونوں کی محا فظت کما حقہ کی جا وے اور گنا ہ بھی انہیں میں کوتا ہی کرنے کا نا م ہے اپنے عہد پر قائم رہواور جوالفا ظ اس وقت تم نے میرے ہا تھ پر بطور اقرار زبا ن سے نکالے ہیں ۔ان پر مرتے دم تک قائم رہو ۔انسا ن بعض اوقات دھوکہ کھا تا ہے وہ جا نتا ہے کہ میں َ نے اپنے لیے توبہ کا درخت بولیا ہے اب اس کے پھل کی امید رکھتا ہے یا ایما ن میں َ نے حاصل کر لیا ہے ۔اس کے نتا ئج مترتب ہو نے کا منتظر ہو تا ہے مگر اصل میں وہ خدا کے نزدیک نہ تا ئب اور نہ سچا مومن ۔کچھ بھی نہیں ہو تا کیونکہ جو چیز اللہ تعا لے ٰ کی پسند یدگی اور منظوری کی حد تک نہ پہنچی ہو ئی ہو وہ چیزاس کی نظر میں ردی اور حقیر ہو تی ہے ۔اس کی کو ئی قدر وقمیت خداتعالیٰ کے نزدیک نہیں ہو تی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسا ن جب کسی چیز کے خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جب تک کو ئی چیز اس کی پسندیدگی میں نہ آوے تب تک اس کی نظر میں ایک ردی محض اور نے قمیت ہو تی ہے ۔تو جب انسان کا یہ حال ہے ۔ تواقدس اور پا ک اور بے لوث ہستی ہے ۔وہ ایسی ردی چیز کو اپنی جناب میں کب منظور کرنے لگا ؟ ؔؔؔؔؔؔ
    دیکھویہ دن ابتلا ء کے دن ہیں وہا ئیں ہی قحط ہے غر ض اس وقت خدا تعالیٰ کا غضب زمین پر نا زل ہو رہا ہے ۔ایسے وقت میں اپنے آپ کو دھوکا مت دو اور صاف دل سے اپنی کو ئی پناہ بنالو۔
    یہ بیعت اور تو بہ اس وقت فائدہ دیتی ہے جب انسا ن صدق دل اور خلاص نیت سے اس پرقائم اور کار بندبھی ہو جا وے ۔خدا تعالیٰ خشک لفاظی سے جو حلق کے نیچے نہیں جا تی ہرگز خوش نہیں ہو تا ۔ایسے بنوکہ تمہارا صدق اور وفا اور سوزوگدازآسما ن پر پہنچ جا وے ۔خداتعالیٰ ایسے شخص کی حفاظت کرتا اور اس کو برکت دیتا ہے ۔ جس کو دیکھتا ہے کہ اس کا سینہ صدق اور محبت سے بھرا ہوا ہے وہ دلوں پر نظر ڈالتا ہے اور جھا نکتا ہے نہ کہ ظاہری قیل وقا ل پر جس کا دل ہر قسم کے گنداور نا پا کی سے معرااور مبراپا تا ہے اس میں آاتر تا ہے اور گھر بنا تا ہے مگر جس دل میں کو ئی کسی قسم کا بھی رخنہ یا نا پا کی ہے اس کو *** بنا تا ہے ۔
    دیکھو جس طرح تمہا رے عام جسمانی حوائج کے پورا کرنے کے واسطے ایک منا سب اور کا فی مقدار کی ضرورت ہو تی ہے اسی طرح تمہاری روحانی حائج کا حال ہے ۔کیا تم ایک قطرہ پا نی زبا ن پر رکھ کر پیا س بجھا سکتے ہو ؟
    کیا تم ایک ریزہ کھانے کا منہ میں ڈال کر بھوک سے نجا ت حاصل کرسکتے ہو ؟ہر گزنہیں۔پس اسی طرح تمہاری روحانی حالت معمولی سی توبہ یا کبھی کبھی ٹوٹی پھوٹی نما ز یا روزہ سے سنورنہیں سکتی ۔روحانی حالت کے سنوار نے اور اس با غ کے پھل کھا نے کیلئے بھی تم کو چا ہئیے کہ اس با غ کو وقت پر خدا کی جناب میں نمازیں اداکرکے اپنی آنکھوں کاپانی پہنچا و اور اعمال صالحہ کے پا نی نہرسے اس با غ کوسیراب کروتا وہ ہرابھراہواور پھلے پھولے اور اس قابل ہو سکے کہ تم اس سے پھل کھاو ۔
    ایما ن اور اعما ل صالحہ
    یا درکھوایمان بغیر اعما ل صالحہ کے ادگوراایمان ہے ۔کیا وجہ ہے کہ اگر ایما ن کا مل ہو تو اعمال صالحہ سرزدنہ ہوں؟ اپنے ایما ن اور اعتقادکو کا مل کرو ورنہ کسی کا م کا نہ ہو گا ۔کوگ اپنے ایما ن کو پورا ایما ن تو بنا تے نہیں پھر شکا یت کرتے ہیں کہ ہمیں انعامات نہیں ملتے جن کا وعدہ تھا ۔بیشک خداتعا لیٰ نے وعدہ فر ما یا ہوا ہے کہ
    ومب یتق اللہ یجعل لہ مخرجاویرزقہمن حیث لایحتسب (الطلاق :۳،۴)
    یعنی جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے ۔اس کوخدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہو تاکہ کہا ں سے اور کیونکہ آتا ہے ۔خدا تعا لیٰ اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم وکریم ہے ۔جو خدا تعا لیٰ کا بنتا ہے و ہ اسے ہر ذلت سے نجا ت دیتا ۔اور خود اس کا حافظ ونا صر بن جا تا ہے ۔مگر وہ جو ایک طرف دعویٰ اتقاکرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہو تے ہیں کہ ہمیں وہ برکا ت نہیںملے ان دونومیں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹا ؟ خدا تعا لیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے
    اِن اللہ لایخلف المیعاد (العمران :۱۰)
    خدا تعا لیٰ اپنے وعدوں کے خلا ف نہیں کرتا ۔ہم اس مد عی کو جھوٹا کہیں گے ۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حدتک نہیں ہوتی کہ خداتعا لیٰ کی نظر میں قابل وقعت ہو یا وہ خدا کے متقی نہیں ہو تے لوگوں کے متقی اور ریا کار انسا ن ہوتے ہیں سوان پر بجا ئے رحمت اور بر کت کے *** کی ما ر ہو تی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں ۔خدا تعا لیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا ۔وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے ۔
    متقین کیلئے رزق
    رزق بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں یہ بھی تو ایک رزق ہے کہ بعض لوگ صبح سے شا م تک ٹوکری ڈھوتے ہیں اور برے حا ل سے شام کو دوتین آنے ان کے ہا تھ میں آتے ہیںیہ بھی تو رزق ہے مگر *** رزق ہے ۱؎
    رزق من حیث لا یحتسب ۔
    حضر ت داودزبور میںَ فر ماتے ہیں کہ میںَ بچہ تھا جوان ہوا ۔جوانی سے اب بڑھا پا آیا مگر میں َ نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیک ما نگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو دربد ردھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا یہ با لکل سچ اور راست ہے کہ خدا تعا لیٰ اپنے بندوں کوضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسر ے کے آگے ہا تھ پسا رنے سے محفوظ رکھتا بھلا اتنے جو انبیا ء ہوئے ہیں اولیاء گذرے ہیں کیا کو ئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بھیک ما نگا کرتے تھے ؟ ان کی اولا د پر یہ مصیبت پڑی ہو کہ وہ دربدرخا ک بسر ٹکڑے کے واسطے پھرتے ہوں ؟ ہر گزنہیں میرا تو اعتقا د ہے۔ کہ آدمی با خدا اور سچا متقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدا رحمت اور برکت کا ہا تھ رکھتا ۔اور ان کی خود حفا ظت فرما تا ہے ۔
    قرآن شریف میں اللہ تعا لیٰ نے ایک ذکر کیا ہے کہ ایک دیواریتیم لڑکوں کی تھی ۔وہ گرنے والی تھی اس کے نیچے خزانہ تھا ۔لڑکے ابھی نا با لغ تھے ۔اس دیوار کے گر نے سے اندیشہ تھا کہ خزانہ ننگا ہوکر لوگوں کے ہاتھ آجا وے گا۔ وہ لڑکے بیچارے خالی ہا تھ رہ جاویں گے تواللہ تعا لیٰ نے دونبیوں ۱؎ کواس خدمت کے واسطے مقر رفر ما یا وہ گئے اوردیوار کو دوست کردیا کہ جب و ہ بڑے ہو ں تو پھر کسی طرح ان کے ہا تھ وہ خزانہ آجا وے ۔پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہی فر مایا کہ
    وکان ابو ھما صالحا (الکھف:۸۳)
    یعنی ان لڑکوں کا با پ نیک مرد تھا ۔جسکے واسطے ہم نے ان کے خزانہ کی حفا ظت کی ۔اللہ تعا لیٰ کے ایسا فر ما نے سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ لڑکے کچھ اچھے نہ تھے اور نہ اچھے ہو نے والے تھے ۔ورنہ یہ فر ما تا کہ یہ اچھے لڑکے ہیں صالح ہیں اور صالح ہو نے والے ہیں ۔نہیں بلکہ انکے با پ کا ہی حوالہ دیا کہ ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ایساکیا گیا ہے ۔دیکھویہی تو شفاعت ہے۔
    حقیقی متقی بنو
    وہ لوگ جو بڑے بڑے ادعا کرتے ہیں کہ ہم یوں نیکی کرتے ہیں اور متقی ہیں مگر انکے یہ دعوے قرآن شریف کے مطابق نہیں ہو تے اور نہ اس کسوٹی پر صادق ثابت ہو تے ہیں کیونکہ وہ فرما تا ہے
    وھویتولی الصالحین (الا عراف :۱۹۷) اولیا ء ہ لا المتقون (الانفال :۳۵)
    تو اس وقت افسوس سے ہمیں ان لوگوں کی ہی حالت پر رحم آتا ہے کہ و اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں اصل سبب اس کا یہ ہے کہ ان کا صدق وفااور اخلاص خدا کے نزدیک اس ردجہ کا نہیں ہو تا۔ بلکہ وہ دوسروں کے شرک سے قابل نفرت ہو گیا ہوتاہے ۔ایما ن کم ہو تا ہے اور لا فیں زیادہ ہو تی ہیں خداتعالیٰ با ربا ر فر ما تا ہے
    ولن تجد لسنت اللہ تبدیلا (الاحزاب :۶۳) ۱؎
    بھلا یہ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہم خدا کو وعدہ خلاف یا جھوٹا کہیں اور اس کی نسبت الزام کا خیال بھی نہ کریں ۔اصل میں ایسے کوگوں کا ایما ن نا کارہ ہو تا ہے جولعنت کے موردہو تے ہیں نہ رحمت کے ۔وہ اصل میں خداتعالیٰ کو دھوکا دینا چا ہتے ہیں ۔ظاہر کچھ ہو تا ہے اور با طن کچھ ۔بھلا خلق نے تو دھوکا کھا بھی لیا مگر وہ جس کی نظراندرون دراندرون پہنچتی ہے وہ کسی کے دھوکا میں آسکتاہے۔
    انبیا ء کے نقش قدم پر چلو
    انسا ن کو چا ہئیے کہ ساری کمندوں کو جلا دے اور صرف محبت الہیٰ ہی کی کمندکو باقی رہنے دے ۔خدا نے بہت سے نمونے پیش کئے ہیں آدم وابراہیم وموسیٰ اور حضرت محمد مصطفی علیمالصلٰوۃالسلام تک کل انبیا ء اسی نمونہ کی خاطر ہی تو اس نے بھیجے ہیں تا لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں ۔جس طرح وہ خدا تک پہنچے اسی طرح اور بھی کو شش کریں سچ ہے کہ جو خدا کاہوجاتا ہے خدا اس کاہوجاتا ہے۔
    یادرکھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنے اعمال سے ساری جما عت کو بدنا م کرو ۔شیخ سعدی صاحب فر ما تے ہیں :۔
    بد نا م کنندہ نکونا مے چند
    بلکہ ایسے بنوکہ تاتم پرخدا تعا لیٰ کی برکات اور اس کی رحمت کے آثارنازل ہوں ۔وہ عمروں کو بڑھابھی سکتا ہے مگر ایک وہ شخص جس کا عمر پانے سے مقصد صرف ورلی دُنیا ہی کے لذائذاور حظوظ ہیں اس کی عمر کیا فا ئدہ بخش ہو سکتی ہے ؟ اس میںتو خدا کا حصہ کچھ بھی نہیں ۔وہ اپنی عمر کا مقصد صرف عمدہ کھا نے کھا نے اور نیندبھر کے سونے اور بیوی بچوں اور عمدہ مکان کے یا گھوڑے وغیر ہ رکھنے یا عمدہ با غات یا فصل پر ہی ختم کرتا ہے ۔وہ تو صرف اپنے پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد ہے۔ اس نے تو اپنا مقصد ومطلوب اور معبود صرف خواہشات نفسانی اور لذائذ حیونی ہی کو بنا یا ہوا ہے ۔مگر خدا تعالیٰ نے انسا ن کے سلسلہ پیدائش کی علت غائی صرف اپنی
    عبا دت رکھی ہے
    وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ّ(الذاریات :۵۷)
    پس حصر کردیا ہے ۔کہ صرف صرف عبا دت الہی ٰمقصد ہونا چا ہئیے اور صرف اسی کے لیے یہ سارا کارخا نہ بنا یا گیا ہے برخلا ف اس کے اور ہی اور ارادے اور ہی اور خواہشات ہیں ۔
    بھلا سوچوتو سہی کہ ایک شخص کو بھیجتا ہے کہ میرے با غ کی حفا ظت کر۔اس کی آب پا شی اور شاخ تراشی سے اسے عمدہ طور کا بنا اور عمدہ عمدہ پھول بیل بوٹے لگا ۔کہ وہ ہرابھرا ہوجاوے ۔شاداب اور سرسبز ہو جاوے مگر بجا ئے اس کے وہ شخص آتے ہی جتنے عمدہ عمدہ پھل پھول اس میں لگے ہو ئے تھے ان کو کا ٹ کرضائع کردے یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے فروخت کرلے اور نا جا ئزدست اندازی سے با غ کو ویران کردے تو بتا وکہ ما لک جب آوے گا تو اس سے کیسا سلوک کریگا؟
    انسا ن کی پیدائش کا مقصد
    خدا نے تو اسے بھیجا تھا کہ عبا دت کرے اور حق اللہ اور حق العبا د کو بجا لا وے مگر یہ آتے ہی بیویوں میں مشغول ،بچوں میں محواور ا پنے لذائذ کا بندہ بن گیا اور اس اصل مقصد کو بالکل بھول ہی گیا بتا و اس کا خدا کے سا منے کیا جواب ہو گا ؟ دنیا کے یہ سا ما ن اور یہ بیوی بچے اور کھا نے پہنے تو اللہ تعا لیٰ نے صرف بطور بھاڑہ کے بنائے تھے جس طرح ایک یکہ با ن چند کو س تک ٹٹو سے کا م لیکر سمجھتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے اسے کچھ نہا ری اور پا نی وغیرہ دیتا ہے اور کچھ ما لش کرتا ہے تا اس کی تھکا ن کا کچھ علاج ہو جاوے اور آگے چلنے کے قابل ہو اور درما ندہ ہو کر کہیں آدھ میںہی نہ رہ جا ئے اس سہارے کے لیے اسے نہاری دیتا ہے سویہ دنیوی آرام اور عیش اور بیوی بچے اور کھا نے کی خوراکیں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھاڑے مقرر کئے ہیں تاکہ وہ تھک کراور درماندہ ہوکر بھوک سے پیاس سے مر نہ جاوے اور اس کے قویٰ تحلیل ہو نے کی تلافی ما فات ہو تی جاوے ۔پس یہ چیزیں اس حدتک جا ئزہیں کہ انسا ن کو اس کی عباد ت اور حق اللہ اور حق العبا د کے پورا کرنے میں مدددیں ۔ورنہ اس حدسے آگے نکل کر وہ حیوانوں کی طرح صرف پیٹ کا بندہ اور شکم کا عا بدبنا کر مشرک بناتی ہیں اور وہ اسلام کے خلا ف ہیں ۔سچ کہا کسی نے ؎
    خوردن برائے زیستن وذکر کردن است ‘:ــ تومعتقدکہ زیستن ازبہر خوردن است
    مگر اب کڑوڑ وں مسلمان ہیں کہ انہوں نے عمدہ عمدہ کھانے کھا نا ۔عمدہ عمدہ مکا نا ت بنا نا۔ اعلیٰ درجہ کے عہدوں پر ہو نا ہی اسلام سمجھ رکھا ہے مومن شخص کا کا م ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطا بق کا م کرے ۔اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے
    قل ما یعبوابکم ربی لولادعائکم (الفرقان :۷۸)
    خدا کو تمہا ری پرواہی کیا ہے اگرتم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعائیں نہ ما نگو ،یہ آیت بھی اصل میں پہلی آیت
    وما خلفت الجن والا نس الا لیعبدون (الذاریٰت :۵۷)
    کی شرح ہے ۔ جب خدا تعا لیٰ کا ارادہ انسا نی خلقت سے صرف عبا دت ہے تو مومن کی شان نہیں کہ کسی دوسری چیز کو عین مقصود بنالے حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جا ئز نہیں ۔حقوق نفس بھی اس لیے جائز ہیں کہ تاوہ درماندہو کر رہ ہی نہ جائے ۔تم بھی ان چیزوں کواسی واسطے کا م میں لاو ۔ان سے کا م اس واسطے لوکہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں نہ اس لیے کہ وہی تمہارا مقصوداصلی ہوں۔
    قرآن شریف تو موت واردکرنا چاہتا ہے کھانا پینا صرف جسم کے سہارے کے واسطے ہو ں انسانی بدن ہر وقت چونکہ معرض تحلیل میں ہے اس لیے اللہ تعا لیٰ نے جا ئز رکھا کہ اس کے قویٰ کی بحالی اور قیام کے لیے یہ چیزیں استعمال کی جاویں ۔
    آنحضرت ﷺ قرآن شریف کے شارح ہیں آپ ایک موقعہ پربڑے گھبرائے ہوئے تھے حضر ت عائشہؓ کو کہا کہ اے عائشہؓ ہمیںآرام پہنچا و۔ ۱ ؎ ا ور اسی واسطے ا للہ تعا لیٰ نے آدم کے ساتھ حواکو بھی بنادیا تا وہ اس کے واسطے ضرورت کے وقت سہارے کا موجب ہو۔
    غرض یہ باتیں ہیں جو ان پرعمل کرنا اور ان کو خوب یادررکھنا ضروری ہے اور سب پر پوری طرح قائم ہو نا چاہئیے ۔دیکھاایک طبیب جب نسخہ لکھ کردیتا ہے تواس کی پوری تعمیل کرنی چاہئیے ورنہ فائدہ سے ہاتھ دھونے چاہئیں ۔ایک شخص اگر بجا ئے اس نسخہ کے تحریر کردہ امورکے اس کا غذہی کو دھودھوکرپئے تو اسے فائدہ کی امید ہو گی ؟ ہرگز نہیں ۔پس اسی طرح تم بھی ہماری ہر ایک با ت پر قائم رہو ۔جھوٹی اور خشک محبت کا م نہیں آتی بلکہ تعلیم پرپوری طرح سے عمل کرنا ہی کا رآمد ہو گا ۔خدا تعالیٰ اپنے و عدہ کاسچاہے وہ بڑا رحیم وکریم اور ما ں باپ سے بھی زیادہ مہربا ن ہے مگر وہ دغاباز کو بھی خوب جا نتا ہے ۔
    قبو لیت آسمان سے ہی نا زل ہو تی ہے َ
    تذکرۃالاولیاء میں ہے کہ ایک شخص چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کی نظر میں بڑاقابل اعتماد بنے اورلوگ اسے نمازی اور روزہ دار اور بڑاپاکباز کہیں اور اسی نیت سے وہ نما ز لوگوں کے سامنے پڑھتا اور نیکی کے کا م کرتا تھا وہ جس گلی میں جاتا اور جدھراس جا گذرہوتا تھا ۔لوگ اسے کہتے تھے کہ یہ دیکھویہ شخص بڑا ریا کار ہے اور اپنے آپ کو لوگوں میں نیک مشہور کرنا چا ہتا ہے ۔پھر آخر کا راس کے دل میں ایک دن خیال آیا کہ میں کیوں اپنی عاقیت کو بربا د کرتا ہوں خدا جا نے کس دن مرجا وں گا کیوں اس *** کو اپنے لیے تیا ر کررہا ہوں ۲؎ ا س نے صاف دل ہوکر پورے صدق وصفااور سچے دل سے توبہ کی اور اس وقت سے نیت کرلی کہ میں َ سارے نیک اعمال لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کیا کروں گا اور کبھی کسی کے سامنے نہ کروں گا ۔چنانچہ اس نے ایسا کرنا شروع کردیا اور یہ پاک تبدیلی اسکے دل میں بھرگئی ۔نہ صرف زبان تک ہی محدودرہی ۔پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بظاہر ایسا بنا لیا کہ تا رک صوم وصلوت ہے اور گندہ اور خراب آدمی ہے مگر اندرونی طور پر پویشدہ اور نیک اعمال بجا لا تا تھا ۔پھر وہ جدھر جا تا اور جدھر اس کا گزرہوتا تھا لوگ اور لڑکے اسے کہتے تھے کہ دیکھویہ شخص بڑانیک اور پارسا ہے ۔یہ خدا کا پیارا اور اسکا برگزیدہ ہے ۔
    غرض اس سے یہ ہے کہ قبولیت اصل میں آسمان سے نا زل ہو تی ہے اولیاء اور نیک لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو پویشدہ رکھا کرتے ہیں وہ اپنے صدق وصفا کو دوسروں پر ظاہر کر نا عیب جا نتے ہیں ۔ہا ں بعض ضروری ا مور کو جن کی اجا زت شریعت نے دی ہے یا دوسر وں کو تعلیم کے لیے اظہار بھی کیا کرتے ہیں ۔
    ریا ء
    نیکی جو صرف دکھانے کی غرض سے کی جاتی ہے وہ ایک *** ہوتی ہے ۔خدا تعا لیٰ کے وجودکے ساتھ دوسروں کاوجود با لکل ہیچ جا نناچا ہئیے دوسروں کے وجود کو ایک مردہ کیڑا کی طرح خیال کرنا چاہئیے کیونکہ وہ کچھ کسی کا بگا ڑنہیں سکتے اور نہ سنوار سکتے ہیں ۔نیکی کو نیک لوگ اگر ہزارپردوں کے اندر بھی کریں تو خدا تعالیٰ نے قسم کھا ئی ہوئی ہے کہ اسے ظاہر کردیگا اور اسی طرح بدی کا حال ہے بلکہ لکھا ہے کہ اگر کوئی عابد زاہذخداتعالیٰ کی عبادت میں مشغو ل ہو اور اس صدق اور جوش کا جواس کے دل میں ہے انتہا کے نقطہ تک اظہار کر رہا ہو اور اتفاقاََ کنڈی لگا نا بھول گیا ہو تو کوئی اجنبی باہر سے آکراس کا دروازہ کھو ل دے تواس کی حا لت بالکل وہی ہو تی ہے جو ایک زانی کی عین زنا کے وقت پکڑاجانے سے کیونکہ اصل غرض تو دونوںکی ایک ہی ہے یعنی اخفا ئے راز اگرچہ رنگ الگ الگ ہیں ایک نیکی کو اور دوسرابدی کو پویشد ہ رکھنا چاہتا ہے غرض خدا کے بندوں کی حالت تو اس نقطہ تک پہنچی ہو ئی ہوتی ہے ۔نیک بھی چاہیتے ہیں کہ ہماری نیکی پوشید ہ رہے اور بد بھی اپنی بدی کو پوشیدہ رکھنے کی دعا کرتا ہے مگر اس امرمیں دونونیک وبد کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو قانون بنا رکھا ہے کہ
    واللہ مخرج ماکنتم تکتمون ۔(البقرہ :۷۳)
    خدا تعا لیٰ کی رضا میں فانی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو کوئی درجہ اور امامت دی جاوے وہ ان درجات کی نسبت گوشہ نشینی اور تنہاعبادت کے مزے لینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں مگران کوخداتعالیٰ کشاں کشاں خلق کی بہتری کے لیے ظاہر کرتا اور معبوث فر ما تا ہے ۔ہما رے نبی کریم ﷺ بھی تو غارمیں ہی رہا کرتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کسی کو پتہ بھی ہو آخر خداتعالیٰ نے ان کو باہر نکا لا اور دنیا کی ہدایت کا بار ان کے سپردکیا ۔
    آنحضرت ﷺ کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر *** ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضر ت ﷺ ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے وہ ان کو مردہ کیڑے کی طر ح خیال کرتے تھے مدح وہی ہوتی ہے جوخدا آسمان سے کرے ۔یہ لوگ محبت ذاتی میں غرق ہوتے ہیں ان کو دنیا کی مدح و ثنا کی پروانہیں ہو تی۔
    تو یہ مقام ایسا ہو تا ہے کہ خداتعالیٰ آسمان اور عرش سے ان کی تعریف اور مدح کرتا ہے ۔
    توفیق سب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے َ
    سنو ہما ری یہ با تیں اس واسطے نہیں کہ ہم کسی کے ایما ن کو کچھ بڑھا سکتے ہیں یا کسی کے دل میں کچھ ڈال سکتے ہیں نہیں ہم کسی کے ایما ن کو ایک جو بھر بھی زیا دہ نہیں کرسکتے ۔ ۱؎ ہم صرف اس واسطے کہتے ہیں کہ اتنے جمع ہو شاید ہے کہ کسی دل کو کوئی با ت پکڑلے اور اس کی اصلا ح ہو جاوے ۔توفیق سب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے َ خداتعالیٰ قادر ہے کہ کسی کے دل میں ایما ن کی حقیقی جڑلگا دے اور پھر اسے اس کے ثمرات کھلا وے یا کسی کو اس کی بدی کی وجہ سے قہر کی آگ سے ہلا ک کرے پس دعا ہی کرنی چاہئیے تا اس کی توفیق شامل انسا ن ہو ۔
    (الحکم جلد نمبر ۱۲ صفحہ ۴تا ۷ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳؁ء
    سیر میں آریہ مذہب کی نسبت فر ما یا کہ مذہب کی جڑخدا شناسی ہے اور اس سے کمتر روجہ یہ کہ باہمی تعلق پاکیزگی کے ہوں سویہ دونوباتیں گری ہوئی ہیں (البدر جلد۲ نمبر۱۲ صفحہ۸۴، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    دربار شام
    اسبا ب پربھروسہ نہ کریں
    طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ:۔
    اصل میں لوگ اس کے حقیقی علا ج کی طرف سے تو بالکل غافل ہیں اور اور طرف ہا تھ پاوں مارتے پھرتے ہیں مگر جب تک وہ اس کے اصل علاج کی طرف رجوع نہ کریں گے تب تک نجا ت کہا ؟ کو ئی طبیبوں یا ڈاکٹروں کی طرف بھاگتا ہے اور کوئی ٹیکہ کے واسطے با زوپھیلا تا ہے کو ئی نئے تجربہ اور نئی ایجا د کے درپے ہے ۔ ہماری شریعت نے آگرچہ اسباب سے منع نہیں کیا بلکہ
    فیہ شفاء للناس
    سے معلوم ہوتا ہے کہ دوائوں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاء مرض بھی رکھے ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دوائوں میں تاثیر ات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات ہوا کرتے ہیں مگر ان اسباب پر بھروسہ کر لینا اور یہ گمان کرلیناکہ انہیں کے ذریعہ سے نجات اور کامیابی ہو جائوے گی یہ سخت شرک اور کفر ہے۔بھروسہ اسباب پر ہرگزنہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کرکے پھر بھروسہ خداتعالیٰ پر کرنا چاہیے اور اگر وہ چاہے تو اِن اسباب کو مفید بنادے اور اسی سے پھر بھی دُعا کرنی چاہیے کیونکہ اس پر نتائج مرتب کرنا تواُسی کا کام ہے اور یہی توکل ہے ۔
    نماز کی اہمیت اور حقیقت
    ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے ۔فرمایا ؛
    نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے ۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺکے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف کر دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں ۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز تو ہے ہی کیا ؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں ۔نماز کیا ہے؟یہی کہ اپنے عجزو نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا ۔کبھی اس کی عظمت اوراسکے احکام کی بجاآوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں ِگرجانا اس سے اپنی حا جات کا مانگنا ،یہی نماز ہے ۔ ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کرکے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا ،پس جس د ین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے ۔انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہ مانگتا ے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگارہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے ۔اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں۔ اور تیری ر ضاپر کار بند ہو کر تجھے راضی کرلیں ۔خدا تعالیٰ کی محبت اسی کا خوف ،اسی کی یادمیں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے ۔پھر جو شخص نما ز ہی سے فراغت حا صل کر نی چا ہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا ؟وہی کھا نا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا ۔یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفا ر ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے چنا نچہ قرآن شریف میں ہے
    اذکر ونی اذکر کم واشکر االی ولا تکفر ون (سورت البقر :۱۵۳)
    یعنی اے میرے بندوتم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصرف رہا کرو میں َ بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہا را خیا ل رکھوں اور میرا شکر کیا کرو اور میرے انعامات کی قدرکیا کرو اور کفر نہ کیا کرو ۔اس آیت سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ ذکر الہیٰ کے ترک اور اس سے غفلت کا نا م کفر ہے پس جو دم ٖغافل وہ دم کا فر والی با ت صاف ہے یہ پا نچ وقت تو خدا تعا لیٰ نے بطور کے مقر ر فر ما ئے ہیں ۔ورنہ خدا کی یاد میں تو ہروقت دل کو لگا رہنا چاہئیے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہو نا چاہئیے ۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہروقت اسی کی یا د میں غرق ہو نا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسا ن اس سے انسان کہلا نے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعا لیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسہ کا حق رکھ سکتا ہے۔
    نما ز خدا تعا لیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیَ
    اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسا ن نے کسی خاص منزل پرپہنچا ہے تواس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہو گی اتنا ہی زیادہ تیزی کو شش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہو گا ۔ سوخدا تعا لیٰ تک پہنچا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لمبی ۔پس جو شخص خدا تعا لیٰ سے ملنا چا ہتا ہے اور اس کے دربا ر میںپہنچے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نما ز ایک گا ڑی ہے جس پر سوار ہوکر وہ جلدتر پہنچ سکتا ہے جس نے نما ز ترک کردی وہ کیا پہنچے گا ۔
    اصل میں مسلمانوں نے جب سے نما ز کو ترک کیا یا ہے اسے دل کی تسکین آرام اورمحبت سے اس کی حقیقت سے غا فل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔ وہ زما نہ جس میں نما زیں سنوارکرپڑھی جا تی تھیں غورسے دیکھ لوکہ اسلام کے واسطے کیسا تھا ۔ایک دفعہ تواسلام نے تما م دنیا کو زیرپا کردیا تھا جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں ۔درددل سے پڑھی ہو ئی نمازہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کا نکال لیتی ہے ۔ہما را با رہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جا تی ہے ابھی نما ز میں ہی ہو تے ہیں کہ خدانے اس امر کو حل اور آسان کردیا ہواہوتا ہے ۔
    نما ز میں کیا ہو تا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے ۔التجا کے ہا تھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی غرض کو اچھی طرح سنتا ہے پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے کو جواب دیتا ہے نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر بسجودرہتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے ۔پر آخر سچی اور حقیقی نما ز کا یہ نتیجہ ہو تا ہے کہ ایک وقت جلد آجا تا ہے کہ خدا تعا لیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دیکر تسلی دیتا ہے ۔بھلا یہ بجنر حقیقی نما ز کے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں ۔اور پھر جن کا خدا ہی ا یسا نہیں وہ بھی کئے گذرے ہیں ان کا کیا دین اور کیا ایما ن ہے ۔وہ کس امید پراپنے اوقات ضائع کرتے ہیں ۔
    اسلام کے عروج وزوال کے حقیقی اسباب
    ہمارے زمانہ میں جو سوال پیش ہو ا کہ کیا وجوہا ت ہیں جن سے اسلا م کو زوال آیا اور پھر وہ کیا ذریعے ہیں جن سے اس کی ترقی کی راہ نکل سکتی ہے اس کے مختلف قسم کو لوگوں نے اپنے اپنے خیا ل کے مطا بق جو اب دئے ہیں مگر سچا جو ا ب یہی ہے کہ قرآن کو تر ک کرنے سے تنزل آیا اور اسی کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے سے ہی اسی حا لت سنور جا وے گی ۔موجود ہ زما نہ میں جو ان کو اپنے خونی مہدی اور مسیح کی آمد کی امید اور شوق ہے کہ وہ آتے ہی ان کو سلطنت لے دیگا اور کفا رتبا ہ ہو ں گے ۔یہ ان کے خا م خیال اور وسوسے ہیں ۔ہما را اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا ء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زما نہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا نہ تلوار سے ۔ہرایک امر کے لیے کچھ آثا رہو تے ہیں اور اس سے پہلے تمہید یں ہو تی ہیں ہو نہا ربروا کے چکنے چکنے پا ت بھلا اگر ان کے خیا ل کے موافق یہ زما نہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آ کے ان کو سلطنت دلا نی تھی تو چاہئیے تھا کہ ظاہر ی طا قت ان میں جمع ہو نے لگتی ۔ہتھیا ر ان کے پا س زیا دہ رہتے ۔فتوحا ت کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جا تا ۔مگر یہا ں تو بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے ہتھیا ر ان کے ایجا دنہیں ۔ملک ودولت ہے تو اور روں کے ہا تھ ہے ۔ہمت ومردانگی ہے تواورروں میں ۔یہ ہیھیا روں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج ۔دن بدن ذلت اور ادباران کے گرد ہے جہاں دیکھو ۔جس میدان میں سنوانہیں کوشکست ہے ۔بھلا کیا یہی آثا ر ہو اکرتے ہیںاقبال کے ؟ ہرگز نہیں یہ بھولے ہو ئے ہیں زمینی تلواراور ہتھیاروں سے ہرگز کا میاب نہیں ہو سکتے ۔ابھی تو ان کی خود اپنی حالت ایسی ہے اور بیدینی اور لا مذہبی کا رنگ ایسا آیاہے کہ قابل عذاب اور مورد قہر ہیں ۔پھر ایسوں کو کبھی تلوار ملی ہے ؟ ہرگزنہیں ۔انکی ترقی کہ وہی سچی راہ ہے کہ اپنے آپ کو قر آن کی تعلیم کے مطابق بناویں اور دعا میں لگ جاویں ان کو اب اگر مدد آ و ے گی تو آسما نی تلوار سے اور آسمانی حربہ سے نہ اپنی کوششوں سے اور دعا ہی سے ان فتح ہے نہ قوت بازو سے یہ اس لیے ہے کہ جس طرح ابتدا تھی انہتا بھی اسی طرح ہو ۔آدم اول کو فتح دعاہی سے ہو ئی تھی
    ربنا ظلمنا الفسنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ (الاعراف :۲۴)
    اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زما نہ میں شیطان سے آخری جنگ کرنا ہے اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہو گی ۔ ۱؎ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ صفحہ ۷۔۸ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۵ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل ازعشاء
    ہما را سب سے بڑا کا م کسر صلیب ہے
    حضرت اقدس نے جو حجر ہ دعائیہ بنا یا ہے اس کی نسبت فر ما یا کہ :۔
    ہما را سب سے بڑا کا م کسر صلیب ہے ۔اگر یہ کا م ہو جاوے تو ہزاروں شہبات اور اعترا ضات کا جواب خودبخود ہی ہو جا تا ہے اور اسی کے ادھوررہنے سے سنیکڑوں ا عترا ضات ہم پروار ہو سکتے ہیں ۔دیکھاگیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتا بیں لکھی ہیں مگران سے ابھی وہ کا م نہیں نکلا جس کے لیے ہم آئے ہیں اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلا یا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسا نی طاقت سے درہم برہم ہو سکے ۔دانا آدمی جا نتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے ۔یہ کا م بجز خدائی ہا تھ کے انجام پذیر ہو تا نظر نہیں آتا اسی واسطے ہم نے ان ہتھیا روں یعنی قلم کو چھوڑکردعا کے واسطے یہ مکا ن (حجرہ) بنویا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فر ما یا ہے ۔
    اللہ تعا لیٰ کا یہ فر ما نا کہ
    من کل حدب ینسلون ۔(الانبیاء :۹۷)
    اس امر کے اظہار کے واسطے کا فی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیرپا کریں گے ورنہ اس کے سوااور کیا معنے ہیں ؟کیا یہ قومیں ریواروں اور ٹیلوں کو دتی پھا ندتی پھریں گی ؟ نہیں اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریا ستوں اور سلطنتو ں کو زیرپا کرلیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔
    فتح دعا کے ذریعہ ہو گی
    واقعات جس امر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دئے ہیں انکے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضر ورت ہو تی تو اب جیسے بظاہر اسلامی دنیا کی امیدوں کے آخری دن ہیں چاہئیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑ ھی ہو ئی ہو تی اور اسلامی سلتنطیںتمام دنیا پر غلبہ پاتیںاور کوئی ان کے مقابل پر ٹھہر نہ سکتا ۔مگراب تو معاملہ اس کے برخلا ف نظر آتا ہے ۔خدا تعا لیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زما نہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گا ۔ بلکہ ان کے واسطے آسما نی طا قت کا م کری گی جس کا ذریعہ دعا ہے ۔غرضکہ ہم نے اس لیے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے ساٹھ یا پینسٹھ سا ل عمر سے گذرچکے ہیں ۔موت کا وقت مقرر نہیں ۔خدا جا نے کسوقت آجا وے اور کا م ہما را ابھی بہت باقی پڑا ہے ادھر قلم کی طا قت کمزورثابت ہوئی ہے رہی سیف اس کے واسطے خدا تعا لیٰ کا اذن اور منشاء نہیں ہے لہٰذاہم نے آسما ن کیطرف ہا تھ اٹھا ئے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنا یا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پربذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا ۔
    ہم نے دیکھا کہ اب ان مسلما نوں کی حالت تو خود موردعذاب اور شامتِ اعما ل سے قہر الہیٰ کے نزول کی محرک بنی ہو ئی ہے اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل وکرم کی جا ذب مطلق نہیں رہی ۔جب تک یہ خود نہ سنوریں تب تک خوشحا لی کا منہ نہیں دیکھ سکتے ۔اعلاء کلمتہ اللہ کا ان کو فکر نہیں ہے خدا کے دین کے واسطے ذرا بھی سرگرمی نہیں۔اس لیے خدا کے آگے دست دعا پھیلانے کا قصد کرلیا ہے کہ وہ اس قوم کی اصلا ح کرے اور شیطان کو ہلا ک کرے تا کہ خدا کا سچا نور دنیا پردوبارہ چمک جاوے اور راستی کی عظمت پھیلے ۔
    بنی اسرائیل کی کتا بوں سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ جب وہ قوم فسق وفجور میں تبا ہ ہو جاتی اور اس کی توحیدوجلال کو با لکل بھول جاتی تھی تو ان کے انبیا ء اسی طرح جنگلوں اور الگ مکانوں میں دست بدعا ہوتے تھے اور خدا کی رحمت کے تخت کو جنبشں دیا کرتے تھے ۔
    دنیا کو علم نہیں ہے کہ آجکل عیسائی کیا کررہے ہیں مسلمانوں کی کس قدرذریت کو انہوں نے بربا د کیا ہے کسقدرخاندان انکے ہا تھوں نالاں ہیں گویا دنیا کا تختہ بالکل پلٹ گیا ہے اب خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس کی توحیداور جلال کی ہتک ہواور اس کے رسول کی زیا دہ بے عزتی کی جا وے ۔اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نورکو اب روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہو سواس نے مجھے بھیجااور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں َ ایک حجرہ بیت الدعا صرف دعا کے واسطے مقررکروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پرغالب آؤںتا کہ اول آخر سے مطابق ہو جا وے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعہ سے شیطان پر فتح نصیب ہو ئی تھی اب آخری آدم کے مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دعا کے فتح ہو۔
    (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ۸۴، ۸۵ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۶ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء
    بوقت سیر
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    رفع یدَین
    رفع یدَین کے متعلق فر ما یا کہ :۔
    اس میںچنداں حرج نہیں معلوم ہو تا ،خواہ کوئی کرے یا نہ کرے احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوطرح پرہے اور وہا بیوں اور سنیوں کے طریق عمل سے بھی یہی نیتجہ نکلتا ہے کیونکہ ایک تو رفع یدَین کرتے ہیں اور ایک نہیں کرتے ۔معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی وقت رفع یدَین کیا اور بعدازاں ترک کردیا
    وتر
    فر ما یا کہ :۔
    اکیلا ایک وتر کہیں سے ثابت نہیں ہو تا ۔وتر ہمیشہ تین ہی پڑھنے چا ہئیں ۔خواہ تینوں اکٹھے ہی پڑھ لیں خواہ دورکعت پڑھ کرسلام پھیر لیں پھر ایک رکعت الگ پڑھی جاوے ۔
    قبض ولسبط
    با بونبی بخش صاحب احمدی کلرک لا ہو ر نے عرض کی کہ بعض وقت تودل میں خودبخود ایک ایسی تحریک پیداہو تی ہے کہ طبیعت عبادت کی طرف راغب ہو تی ہے اور قلب میں ایک عجیب فرحت اور سرورمحسوس ہو تا ہے اور بعض وقت یہ حالت ہو تی ہے کہ نفس پر جبر اور بوجھ ڈالنے سے بھی حلا وت پیدا نہیں ہو تی اور عبادت ایک بارگراں معلوم ہو تی ہے حضرت اقدس نے فرما یا کہ :۔
    اسے قبض اور لسبط کہتے ہیں قبض اس حالت کا نام ہے جب کہ ایک غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جا تا ہے اور خدا کی طرف محبت کم ہو تی ہے اور طرح طرح کے فکر اور رنج اور غم اور اسبا ب دنیوی میں مشغول ہو جا تا ہے اور بسط اس کا نا م ہے کہ انسا ن دنیا سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور موت کو ہر وقت یاد رکھے ۔جب تک اس کو اپنی موت بخوبی یا دنہیں ہو تی وہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا ۔موت تو ہروقت قریب آتی جا تی ہے کو ئی آدمی ایسا نہیں جس کے قریبی رشتی دار فوت نہیں ہو چکے اور آجکل تو وبا سے گھر کے گھر صاف ہو تے جا تے ہیں اور موت کے لیے طبیعت پر زور دیکر سوچنے کی حاجت ہی نہیں رہی ۔
    یہ حالتیں قبض اورلسبط کی اس شخص کو پیدا ہو تی ہیں جس کو موت یاد نہیں ہو تی ۔کیو نہ تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ انسا ن قبض کی حالت میں ہو تا ہے اور ایک نا گہانی حادثہ پیش آجا نے سے وہ حالت قبض معاََ دور ہو جا تی ہے جیسے کو ئی زلزلہ آجا وے یا موت کا حادثہ ہو جا وے تو ساتھ ہی اس کا انشراح ہو جا تا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ قبض اصل میں ایک عارضی شئے ہے۔ جو کہ موت کو بہت یاد کرنے اور اللہ تعا لیٰ کے سا تھ سچا پیوست ہو جا نے سے دور ہو جا تی ہے اور پھر لسبط کی حالت دائمی ہو جا تی ہے عارفوں کو قبض کی حا لت بہت کم ہو تی ہے نا دان انسا ن سمجھتا ہے کہ دنیا بہت دیر رہنے کی جگہ ہے میں َ پھر نیکی کرلوں گا ۔اس واسطے غلطی کرتا ہے اور عا رف سمجھتا ہے کہ آج کا دن جو ہے یہ غنیمت ہے خدا معلوم کل زندگی ہے کہ نہیں ۔
    ایک رویا
    مَیںاس مکا ن کی طر ف سے مسجد کی طرف چلا جا رہا ہو ں ۔مَیں نے ایک شخص کو آتے ہو ئے دیکھا جو کہ ایک سکھ کی طرح معلوم ہو تا تھا جس طرح سے اکا لئے اور کو کہ سکھ ہو تے ہیں اس کے ہا تھ میں ایک تیز خوفنا ک بڑا اور چوڑا چھراتھا اور اس چھرے کا دستہ چھوٹا سا تھا وہ چھرا بڑاہی تیز معلوم ہو تا ہے اور ایسا معلوم ہو تا تھا گویا وہ لو گوں کو قتل کرتا پھرتا تھا ۔جہاں اس نے چھرا رکھا اور گردن اڑگئی ۔کچھ اس طرح معلوم ہو تا تھاجس طرح میں َ نے لیکھرام کے وقت میں ایک آدمی خواب میں دیکھا تھا اس کی صورت بڑی ڈراونی تھی اور بڑاہی دہشتنا ک آدمی معلوم ہو تا تھا ۔مجھے بھی اس سے خوف معلوم ہوا ۔اور میں َ نے اس کی طرف جا نا نہ چا ہا لیکن میرے پاوں بہت بوجھل ہو گئے اور مَیں بڑا ہی زورلگاکر ادھر سے نکلا ،لیکن اس نے میری مزاحمت نہ کی اور اگر چہ مجھ کواس سے خوف معلوم ہو الیکن اس نے مجھ کو کو ئی تکلیف نہ دی اور پھر وہ خبر نہیں کہ کس طرف کو نکل گیا ۔
    ایک اور رویا
    ایک حنا ئی رنگ کا لکھا ہو ادوورقہ کا غذ کچھ تھوڑے فا صلہ پر گرپڑاہے مَیں نے ایک ہند وکو کہا کہ اس اس کو پکڑو ۔جب وہ پکڑنے لگا تو وہ کچھ دور آگے جا پڑا ۔پھر وہ ہندو اٹھا نے لگا تو وہ وہاں سے اڑکر اور آگے جاپڑالیکن وہ دور ورقہ اس طرح کچھ ترتیب سے کھل کر اڑتا رہا ہے کہ اس طرح معلوم ہو تا ہے کہ گویا وہ کو ئی جا ندار چیز ہے جب وہ کچھ فاصلہ تک چلا گیا تووہ ہند و وہاں جاکر پھر اس کو پکڑنے لگا تب وہ دوورقہ اڑکرمیرے پا س آگیا تو اس وقت میری زبا ن سے یہ کلمہ نکلا جس کا تھا اس کے پا س آگیا ۔پھر میَںنے اس کو مخا طب ہو کر کہا کہ ہم وہ قوم ہیں جو روح القد س کے بلا ئے بولتے ہیں ہم وہ قوم ہیں جن کے حق میں خدا نے فر ما یا ہے ۔
    لننخنا فیھم من صدقنا
    اسلا می خدا ما ت کسی دوسرے سے خدا تعا لیٰ لینا ہی نہیں چاہتا ۔شاید دوسرا اس میں کچھ غلطی بھی کرے ۔واللہ اعلم ۔
    جو شخص اسلا م کے عقائد کا منا فی ہے وہ اسلا م کی تائید کیا کرے گا ۔
    سناتن دھرم میں اس طرح کے بھی آدمی ہو تے ہیں کہ وہ کسی فرقہ کے مکذب نہیں ہو تے اور معمولی چیزوں کے آگے بھی ہا تھ جوڑتے پھرتے ہیں ۔
    خدا نہیں چاہتا کہ جو سلسلہ اس نے اپنے ہا تھ سے لگا یا ہے اس کا کو ئی شریک ہو یہا ں سے تویہی معلوم ہوتا ہے کہ ہما را کا غذ ہما رے پاس آگیا ۔ (البدر جلددونمبر۱۱ صفحہ۸۵ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    آیا ت مبین
    میرے نزدیک ا ٓیا ت مبین وہ ہو تی ہیں مخا لف جن کے مقابلہ سے عاجز ہو جا وے خواہ وہ کچھ ہی ہو جس کا مخالف مقابلہ نہ کرسکے وہ اعجا ز ٹھہر جا ئے گا جب کہ اس کی تحد ی کی گئی ہو ۔
    یا د رکھنا چاہئیے کہ اقراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے نبی کبھی جرات کرکے یہ نہیں کہیگا کہ تم جو نشان مجھ سے مانگو میںَ وہی دکھا نے کو تیا ر ہو ں ۔اس کے منہ سے جو نکلے گا یہی نکلے گا
    انما الایا ت عند اللہ ۔(الانعام :۱۱۰)
    اور یہی اس کی صداقت کا نشان ہو تا ہے کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھیہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہو تی اس لیے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں اور نہ ذات با ری کی عزت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہو تا ہے ہما را خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہی کردے۔یہ سوء ادب ہے ۔ایسا خدا خدا ہی نہیں ہو سکتا ۔ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امیداور حوصلہ دلا یا کہ
    ادعونی استجب لکم (المومن :۶۱)
    یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگوگے وہی دیا جا یئگا ۔آنحضر ت ﷺ سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا ۔
    قل سجان دبی ھل کنت الا بشرارسولا۔(بنی اسرائیل :۹۴)
    خدا کے رسو ل کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الہیٰ کو مدنظر رکھتے ہیں یہ با تیں منحصر ہیں ۔معرفت پر ۔جس قدر معرفت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی ہو تی ہے اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیا ء علیم اسلا م ہی کی ہو تی ہے ۔اس لیے ان کی ہر با ت اور ہرادا میں بشریت کا رنگ جدا نظر آتا ہے اور تا ئیدات الہیہٰ الگ نظرآتی ہیں ۔
    ہما را ایما ن ہے کہ خدا تعا لیٰ نشان دکھا تا ہے ،جب چاہتا ہے وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا ۔اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہوکہ جیسے سورج تو پھر ایما ن کیا رہا ؟ اور اس کا ثواب کیا؟ ایسی صورت میں کون بدبخت ہو گا جو انکار کریگا ؟ نشا ن بین ہو تے ہیں مگر ان کو با ریک بین دیکھ سکتے ہیں اور کو ئی نہیں اور یہ وقت نظر اور معرفت سعادت کہ وجہ سے عطا ہو تی ہے اور تقویٰ سے ملتی ہے شکی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا ۔ایما ن اس وقت تک ایما ن ہیجب تک اس میں کوئی پہلووں اخفا ء کا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ بر انداز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتاد ے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابل تعریف ہو سکتی ہے لیکن جب مٹھی کھول کر دکھا دی اورپھر کسی نے کہا کہ میں َ بتا دیتا ہو ں تو کیا ہو ا ؟ یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کربتا ئے تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے ۔لیکن جب چودھویں کا چاند ہو گیا اس وقت کوئی کہے کہ میں َ نے چا ند دیکھ لیا وہ چڑھا ہو ا ہے تو لو گ اس کو پا گل کہیں گے ۔
    معجزہ
    غر ض معجز ات وہی ہو تے ہیں جس کی نظیر لا نے پر دوسر ے عاجز ہوں ۔انسا ن کا یہ کا م نہیں کہ وہ ان کی حدبندی کرے کہ ایسا ہو نا چاہئیے یا ویسا ہو نا چاہئیے ۔اس میں ضرورہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہو ں ۔کیونکہ نشانا ت کے ظاہر کرنے سے اللہ تعا لیٰ کی غرض یہ ہو تی ہے کہ ایما ن بڑھے اور اس میں ایک عرفا نی رنگ پیدا ہو جس میں ذوق ملا ہو ا ،لیکن جب ایسی کھلی بات ہو گی تو اس میں ایما نی رنگ ہی نہیںآسکتا چہ جا ئیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو ۔پس اقراحی نشا نا ت سے اس لیے منع کیا جا تا ہے اور روکا جا تا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوئادبی کی پیدا ہو جا تی ہے جو ایمان کی جڑکا ٹ ڈالتی ہے ۔ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ صفحہ ۳مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    نشا نا ت کس سے صادرہو تے ہیں
    اس سوال کا جواب حضرت حجتہ اللہ علیہ ا سلام نے ایک با ر اپنی ایک مختصر سی تقر یر میں دیا ہے ۔فر ما یا :۔
    نشا نا ت کس سے صادرہو تے ہیں ؟ جس کے اعمال بجا ئے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جا ئیں مثلاََ ایک شخص خدا تعا لیٰ کے ساتھ وفا داری کرتا ہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اس کی وفا خارق عادت ہو جاوے ۔اس کی محبت اس کی عبا دت خارق عادت ہو ۔ہر شخص ایثا رکرسکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن اس کا ایثار خارق عادت ہو غرض اس کے خلاف ،عبادت اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اپنے اندر ایک خارق عادت نمونہ پیدا کریں تو چونکہ خارق عادت کا جواب خار ق عادت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہا تھ پر نشا نا ت ظاہر کرنے لگتا ہے پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کا صدور ہو تو اس کو چاہئیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میںخا رق عادت نتا ئج کے جذب کی قوت پیدا ہو نے لگے ۔انبیا علیہم ا سلام میں یہی ایک نرالی با ت ہو تی ہے اور ان کا تعلق اندرونی اللہ تعا لیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہو تا ہے کہ کسی دوسرے کا ہرگز نہیں ہو تا ۔ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھا تی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی ۔پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کا کرتی ہے عبودیت کی مثال عورت کی سی ہو تی ہے کہ جیسے وہ حیا شرم کے ساتھ رہتی ہے اور مرد بیا ہنے جا تا ہے تو وہ اعلانیہ جا تا ہے اسی طرح پر عبوریت پردا اخفا میں ہوتی ہے لیکن الُو ہیّت جب اپنی تجلی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بین امر ہو جاتا ہے اور ان تعلقات کا جو ایک سچے مومن اور عبداور اس کے رب میں ہو تے ہیں خارق عادت نشا نا ت کے ذریعہ ظہور ہو تا ہے انبیا ء علیہم ا سلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کے تعلقا ت اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کل انبیاء علیہم ا سلام سے بڑھے ہو ئے تھے اس لیے آپ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں ۔
    ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ صفحہ۴مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۸ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء
    انسا ن اور بہائم میں فرق
    بچپن کی عمر کا ذکر ہو ا فر ما یا کہ :۔
    انسا ن کی فطرت میںیہ با ت ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے ۔بچوں میں عادت ہو تی ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں ۔آپس میں گا لی گلوچ ہو تے ہیں ۔ذرا ذراسی با توں پرلڑتے جھگڑتے ہیں جوں جوں عمر میں وہ ترقی کرتے جا تے ہیں عقل اور فہم میں بھی ترقی ہو تی جا تی ہے ۔رفتہ رفتہ انسا ن تزکئیہ نفس کی طرف آتا ہے ۔
    انسا ن کی بچپن کی حالت اس با ت پر دلا لت کرتی ہے کہ گا ئے بیل وغیرہ جا نوروں ہی کی طرح انسا ن بھی پیدا ہوتا ہے ۔صرف انسا ن کی فطرت میں ایک نیک با ت یہ ہو تی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کرنیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسا ن میں ہی ہو تی ہے ۔کیو نکہ بہایم میں تعلیم کا مادہ نہیں ہو تا ۔سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ایک قصہ ِ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گد ھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب وروز محنت کرتا ۔ایک حکیم نے اسے کہ اے بیوقوف تویہ کیا کرتا ہے ؟ اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے ؟ یعنی گدھا تو انسا ن نہ ہو گا تو بھی کہیں گدھا نہ بن جا وے ۔
    درحقیقت انسا ن میں کو ئی ایسی الگ شئے نہیں ہے جو کہ اور جانوروں میں نہ ہو ۔عموماََ سب صفا ت درجہ وار تما م مخلوق میں پائے جا تے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انسا ن اپنے اخلا ق میں ترقی کرتا ہے اور حیوان نہیں کرتا ۔
    اخلا ق کی حقیقت
    دیکھوازنڈکاتیل اور کھانڈکیسے غلیظ ہو تے ہیں ،لیکن جب خوف صاف کیا جاوے تو مصفیٰ ہو خوشمناہو جا تے ہیں ۔یہی حال اخلا ق اور صفات کا ہے ۔اصل میں صفا ت کل نیک ہو تے ہیں جب ان کو بے موقعہ اور نا جائز طور پر استعمال کیا جا وے تو وہ برے ہو جا تے ہیں اور ان کو گندہ کردیا جا تا ہے لیکن ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کرمحل اور موقعہ پر استعمال کیا جا وے تو ثواب کا موجب ہو جاتے ہیں ۔قرآن مجید میں ایک جگہ فر ما یا ہے
    منشرحاسداذا حسد (الفلق :۶)
    اور دوسری جگہ
    السابقون الاولون
    اب سبقت لے جا نا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اورکوئی آگے بڑھ جاوے یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جا تی ہے اگربچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنیوالے کی استعداد بڑھ جا تی ہے سابقوم گویا حاسد ہی ہو تے لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفیٰ ہو کرسابق ہو جا تا ہے اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جا ویں گے۔
    اسی طرح سے غضب اگر موقعہ اورمحل پر استعمال کیا جا وے تووہ ایک صفت محمودہ ہے وہ انسا ن ہی کیا ہے جیسے مستورات کی عصمت کی محافظت کے لیے بھی غضب نہ پیدا ہوتا ہو ۔حضرت عمر ؓ میں غضب اور غصہ بہت تھا ۔مسلما ن ہو نے کے بعد کسی نے آپ سے پوچھا کہ اب وہ غضب اور غصہ کہا ں گیا ؟فر مایا کہ غضب تو اسی طرح میرے میں ہے لیکن آگے بے محل اور موقعہ اور ظلم کے رنگ میں تھا اور اب محل اور موقعہ پر استعمال ہو تا ہے اب انصاف کے رنگ میں ہے ۔
    صفات بدلتے نہیں ہیں ہا ں ان میں اعتدال آجا تا ہے ا۔سی طرح گلہ کرنا نا جائزہے ۔لیکن استاد یا ما ں با پ اگر گلہ کریں تو وہ قابل مذمت نہیں کیو نکہ مرشد ،استا د یا با پ اگر گلہ کرتے ہیں تو وہ اس کی ترقی کے لیے گلہ کرتے ہیں اور اس کے عیوب کو اس لیے بیا ن کرتے ہیں تاکہ عبرت ہو اور اس کے اعمال میں اصلاح ہو ایسے ہی چوری بھی ایک بری صفت ہے لیکن اگر اپنے دوستوں کی چیز بلا اجا زت استعمال کر لی جا وے تو معیوب نہیں (بشرطیکہ دوست ہوں )۔
    کما ل دوستی کا ایک واقعہ
    دوشخصوں میں باہمی دوستی کما ل درجہ کی تھی اور ایکدوسرے کا محسن تھا ۔اتفاقاََ ایک شخص سفر پر گیا دوسرا اس کیبعد اس کے گھر میں آیا اور اس کی کنیزسے دریا فت کیا کہ میرا دوست کہا ں ہے ؟ اس نے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپیہ والے صندوق کی چابی تیرے پاس ہے ؟ کنیز نے کہاکہ میرے پا س ہے اس نے کنیز سے وہ صندوق منگواکرچا بی لی اور خود کھول کر کچھ روپیہ اس میں سے لے گیا جب صاحب خانہ سفرسے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا ۔ یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پو چھا کہ کیا کہتا تھا ؟کنیز نے کہاکہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگواکرخود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے روپیہ نکال کرلے گیا ۔پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز پر اس قدر خوش ہواکہ بہت ہی پھولا اور صرف اس صلہ میں کہ اس نے اس کے دوست کا کہا ما ن لیا اس کو نا راض نہیں کیا ۔اس کنیز کو اس نے آزاد کر دیا اور کہا کہ اس نیک کا م کے اجر میں جو کہ تجھ سے ہوا ہے میں َ آج ہی تجھ کوآزادکرتا ہوں ۔
    غرض جس قدر یہ جرائم ہیں جن کی نواہی کی شریعت میں تا کید ہے مثلاگلہ نہ کر و ،چوری نہ کرو وغیرہ وغیرہ یہ سب صفا ت بداستعمال کی وجہ سے خرا ب ہو گئے ۔ورنہ حقیقتاََ ان کا موقعہ اور محل پر استعما ل درست اور انسا ن کی فطرت کے مطا بق ہے ۔عفوایک موقعہ پرتوقابل استعمال ہوتا ہے اور بعض موقعہ پرقابل ترک ۔کیو نکہ اگر کسی مجرم کو با ر با ر عفوہی کردیا جا وے تو وہ اور زیا دہ بیباک ہو کر جرم کریگا ۔ایسے موقعہ پر اس سے انتقام لینا ہی عفوہو تا ہے ۔
    انجیل کی غیرمتوازن تعلیم
    انجیل کی تعلیم میں جو کہ بعض جگہ زیا دہ نرمی کی ہدایت ہے اس کا بھی یہی مقصود ہو گا کیونکہ وہ تو صرف یہود کے لیے ہے جوکہ سخت سرکش اور ظالم طبع لو گ تھے۔اس مسلہ کو آج کل لوگوں نے خواب سمجھ لیا ہے برہمولوگوں نے بھی اس پر اعتراض کئے ہیں میںَ نے ایک برہموکی کتا ب میں دیکھا ۔وہ لکھتا ہے کہ تما م عمر مارہی کھاتے جا نا اور ہمیشہ طمانچے کھا نا بلکہ ایک گال زخمی کراکردوسر ی گال بھی پھیر دینایہ کہا ں کا انصاف ہے ؟ دومؔ انسا ن اس پر عمل کب کرسکتا ہے اور نہ کسی سے آج تک اس طرح کے عفوپرعمل ہوسکا ،انجیل کی اس تعلیم کے متبع عیسائی لوگ کبھی بھی اس مسلہ پر عمل نہ کر سکے آج کسی عیسائی کو ایک بات کہو جو کہ اس کی مرضی کے بر خلاف ہو پھر دیکھو وہ کتنی سناتاہے اورعدالت کی طرف دوڈتا کہ نہیں بعض نا دان عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اس تعلیم سے یہ مقصود ہے کہ مار طمانچہ کھا کرعرضی ڈال دواورعدالت سے چارہ جوئی کرو ۔لیکن اتنانہیں سوچتے ۔کہ اگرکسی نے ایک عیسائی کو طمانچہ مارا کراس کے دانت نکال دئیے پھر اس نے حسب حکم شریعت دوسری گال آگے کی اور اس نے ادھر کے بھی دانت نکال دئیے کیونکہ دشمن کا طمانچہ کوئی پیاراکا طمانچہ تو نہ ہوگا وہ توتمام قوت سے طمانچہ مارے گا اور جب دونوطرف کے دانت نکل گئے تو پھر عدالت میں جا نے سے وہ دانت کیا واپس لگ جاویں گے؟ اگر مجرم کوسزا بھی ہو گی تواس کو کیا ملے گا ؟ جوساری عمر کے لیے ایک نعمت سے محروم ہوکرعمدہ کھانے پینے بولنے کی لذات سے جا تا رہا۔
    ایسے ہی اگر ایک بدکا ر کسی عیسائی کی عورت پر نا جا ئزحملہ کرنا چاہے تووہ عیسائی اس وقت تواس کا مزاحم نہ ہو مگر بعد میں عدالت کے ذریعہ چارہ جوئی کرے اور گواہ اور ثبوت دیتا پھرے عجیب تعلیم ہے
    پھرذکر ہوا کہ بلا دیورپ اور امریکہ اور جرمن وغیرہ میں آج کل ایک عجیب تحریک پیداہوتی چلی جاتی ہے ۔لوگ خودبخود ہی ان خیالا ت فا سدہ سے دست کش ہو تے جا تے ہیں اور ان کی تجویز ہے کہ تثلیث اور کفا رہ کے لیے بے دلیل خیالات کو مہذب دُنیا سے اُڑا کر با دلیل اور آزادی پسند خیالا ت نوجوانوں کے آگے پیش کئے جا ویں ۔فر ما یاکہ :۔
    توحید کے قیام کے آثار
    اب خدا چا ہتا ہے کہ اس کی توحید دنیا میں قائم ہواور اسی کا تصرف تما م دنیا پراور لوگوں کے دلوں پر رہے اور کوئی کا م نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ نہ چاہے ۔اس زما نہ میں ان تما م پرانی جہالت کے زما نہ کی غلطیوں کا اس طرح خودبخود ظاہر ہو جا نا یہ بھی ایک مسیح موعود کے زمانہ کی نشا نی ہے تا کہ زما نہ کی حالت بھی ایسی ہو کہ وہ مسیح موعود کی تائیدکرے جب خدا تعالیٰ کسی با ت کو چا ہتا ہے کہ وہ ہوجا وے تو وہ تمام زما نہ کو اس کی طرف پھیر دیتا ہے پھر ہر طرف سے اس کی تائید ہی تائیدظاہر ہوتی ہے کیا زمین کیا آسما ن گویا سب ہی اس کی خدمت میں لگ جا تے ہیں اگر زمین کسی اور طرف رجوع کرے اور آسما ن کسی اور طرف تو پھر حالت ٹھیک نہیں رہتی ۔اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ ہما ری تائیدکرے اور چاہتا ہے کہ ہر قسم کے شرک ،کفر اور بطان کو ذلیل کرے ۔تو حید کی سچائی کو دنیا میں قائم کرے ۔اسی لیے اس نے تما م زما نہ میں ایک عجیب تحریک پیدا کردی ہے اور ہر ایک،طرف سے ہما ری ہی تا ئیدنظر آتی ہے مثلاََ ایک ذراسی آگ تما م جہان کے جلا نے کے لیے کا فی ہے ۔اسی طرح زما نہ میں یہ آگ لگ گئی ہے اور اب تو یہ ہوا چل رہی ہے کہ ان دلوں میں پھونک دیا گیا ہے کہ وہ ان تما م پرانے اور بے معنے بلکہ غیر معقول خیالا ت سے خود بخود بیزار ہو کر حقیقت اور راستی کے جویاں ہو جاویں ۔جیسے کہ اب جرمن کے بادشاہ کے مذہب میں سخت انقلا ب ہوا ہے ۔یہی ایک کا فی مثا ل ہے ۔جب سلا طین کے دل میں اللہ کریم نے ایسے ایسے خیالا ت ڈال دئیے ہیں تو رعیت کا بہت ساحصہ ایسا بھی ہو تا ہے جو کہ با دشاہ کے مذہب کے ہو تے ہیں اور اپنے با دشاہ کے اشاروں پر چلتے ہیں۔
    اللہ تعا لیٰ کی شان ہے کہ ایک زما نہ میں تو حضرت مسیح کی حد سے زیادہ اور مبالغہ سے بڑھ کرتعریف کی گئی تھی اور اب اس کا رددرودیوار سے خود بخود عیاں ہو تا جا تا ہے ۔
    (مجلس قبل ازعشاء)
    حضرت ابوطالب کی نجات
    بعض لوگ جو کہ غیر مذاہب میں برائے نا م ہو تے ہیں مگر خلوص دل سے وہ اسلام کے مداح ہو تے ہیں انکے ذکر پر فر ما یا کہ :۔
    حضرت ابوطالب کی بھی ایسی ہی حالت تھی ۔خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ ایک خبیث اور شر یر کو ایک ادب اور لحاظ کرنے والے کے برا براکردیوے ۔اگر اس نے بظاہر تو مذہب قبول نہیں کیا مگر بزرگ سالی کی رعونت اس میں نہ تھی ۔احادیث میں بھی اس قدر تحقیقات کہیں نہیں ہو ئی ہے ممکن ہے کہ اس نے کبھی کلمہ پڑھ دیا ہو ۔بجز اعتقاد کے محبت نہیں ہوا کرتی ۔اول عظمت دل میں بیٹھتی ہے پھر محبت ہو تی ہے ۔
    ایک ذکر پر فر ما یا کہ :۔
    سادہ خوراک
    ایک سا ل سے زیا دہ عرصہ گذرا ہے ۔کہ میں َ نے گو شت کا منہ نہیں دیکھا اکثر مسی روٹی (بیسنی )یا اچا راور دال کے ساتھ کھا لیتا ہوں آج بھی اچار کے ساتھ روٹی کھائی ہے
    فر ما یا کہ :۔
    نسخ
    ایک سالک کی عمر میں نسخ ہوتا رہتا ہے ۔انبیاء کی زندگی میں بھی نسخ ہو تا اسی لیے اول حالت آخر حالت کے ساتھ مطابق نہیں ہواکرتی جسما نی حالتوں میں بھی نسخ دیکھا جا تا ہے ۔
    (البدر جلد۲نمبر۱۲ صفحہ۸۹ ۔۹۰مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۹؍مارچ۱۹۰۳ء؁
    مجلس قبل ازعشاء
    فر ما یا:۔
    عصمتِ انبیاء
    صلیب چونکہ جرائم پیشہ کے واسطے ہے ۔اس واسطے نبی کی شان سے بعیدہے کہ اسے بھی صلیب دی جا وے ۔اس لیے توریت میں لکھا تھا کہ جوکا ٹھ پر لٹکا یا جاوے وہ ملعون ہے آتشک وغیرہ جوخبیث امراض خبیث لوگوں کو ہو تے ہیں اس سے بھی انبیاء محفوظ رہتے ہیں ۔نفس قتل انبیاء کیلئے معیوب نہی ہے مگر کسی کا قتل ہو نا ثا بت نہیں ہے جس آلہ سے خبیث قتل ہو ۔اس آلہ سے نبی قتل نہیں ہو تا ۔
    خوش خطی
    خوش خطی َ پر فر ما یا کہ
    حسن تنا سب اعضاء کا نا م ہے جبتک یہ نہ ہوملا حت نہیں ہو تی ۔اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنی صفت
    فسولک نعدلک (الانفطار:۸)
    فر ما ئی ہے عدلک کے معنے تنا سب کے ہیں کہ نسبتی اعتدال ہرجگہ ملحو ظ رہے۔
    ( البدرؔ جلد۲نمبر۱۲ صفحہ۹۰ ۔۹۰مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۳۰؍ مارچ۱۹۰۳؁ء
    بعد ادائے نما ز مغرب ایک صاحب نے کسی شخص ٖغیر حاضر کی طرف سے مسلہ دریا فت کیا کہ اس نے غصہ میں اپنی عورت کو طلاق دی ہے اور لکھ بھی دی ہے مگر ایک ہفتہ کے قریب گذرنے پروہ رجوع کرنا چاہتا ہے اس میں کیا ارشاد ہے ؟
    حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    جب تک وہ شخص خودحاضر ہو کر بیا ن نہ کر ے ہم نہیں فقویٰ دے سکتے ۔
    (البدر جلد۲نمبر۱۲ صفحہ ۹۱مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    صدقات اور دعا
    لوگ اس نعمت سے بے خبر ہیں کہ صدقات ،دعا اور خیر ات سے ردبلا ہوتا ہے اگر یہ با ت نہ ہو تی تو انسا ن زندہ ہی مرجا تا ۔مصائب اور مشکلا ت کے وقت کوئی اُمید اس کے لیے تسلی بخش نہ ہو تی مگر نہیں اسی نے
    لا یخلف المیعاد (ال عمران:۱۰)
    فر مایا ہے
    لا یخلف الو عید
    نہیں فر ما یا ۔اللہ تعالیٰ کے وعید معلق ہو تے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جا تے ہیں اس کی بے انتہا نظیر یں موجود ہیں ۔اگرایسا نہ ہوتا توانسا ن کی فطرت میں مصیبت اور بلا کے وقت دعا اور صداقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا۔
    جسقدرراستباز اور نبی دنیا میں آئے ہیں خواہوہ کسی ملک اور قوم میں آئے ہو مگر یہ با ت اس سب کی تعلیم میںیکسا ں ملتی ہے کہ انہوں نے صدقات اور خیرات کی تعلیم دی ۔اگر خدا تعالیٰ تقدیرکے محواور اثبات پر قادرنہیں تو پھر یہ ساری تعلیم فضول ٹھہر جا تی ہے اور پھر ماننا پڑیگا کہ دعا کچھ نہیں اور ایسا کہنا ایک عظیم الشان صداقت کا خون کرنا ہے ۔اسلام کی صداقت اور حقیقت دعاہی کے نکتہ کے نیچے منفی ہے کیونکہ اگر دعا نہیں تو نما ز بے فا ئدہ زکوۃ بے سوداور اسی طرح سب اعمال معاذاللہ لغو ٹھہرتے ہیں ۔
    ہما را بھروسہ خدا پر ہیَ
    ہما رے مخالف ہر طرف سے کو شش کرتے ہیں کہ ہما رے نا بود کرنے میں کو ئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں ۔ہرقسم کی تدبیر یں اور منصوبے کرتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعا لیٰ پہلے ہی ہم کو تسلی دے چکا ہے
    مکرواومکراللہ واللہ خیرالماکرین۔
    خدا کے ساتھ لڑکر کبھی کو ئی کا میاب نہیں ہو سکتا ان کا بھروسہ اپنی تدابیر اور َحیلَ پر ہے اور ہما را خدا پر
    استقامت وصبر
    کو ئی مشکل مشکل اور کوئی مصیبت مصیبت رہ سکتی ہی نہیں اگر کوئی شخص استقامت او رصبر اپنا شیوہ کرلے اور خدا تعالیٰ پرتوکل اور بھروسہ کرے ۔
    خدا داری چہ غم داری
    نشا نا ت کا ظہور
    نشا نا ت جو ظاہر ہو تے ہیں یہ اسی طرح ظاہر ہو تے ہیں جیسے ایک بچہ پیدا ہو تا ہے ۔ایک رات تک تو ما ں خیا ل کرتی ہے کہ میں َ مرجا ونگی اور وہ دردزدہ کی تکلیف سے قریب المرگ ہو جا تی ہے ۔اسی طرح پرنبیوں کے نشا ن بھی مصیبت کے وقت ظاہر ہو تے ہیں ۔نشا ن کی جڑدعا ہی ہے یہ اسم اعظم ہے اور دنیا کاتختہ پلٹ سکتی ہے دعا مومن کا ہتھیا ر ہے اور ضرو ہے اور ضرو ہے کہ پہلے ابتہا ل اور اضطراب کی حالت پیدا ہو ۔
    ( الحکم جلد ۷ نمبر۱۳ صفحہ ۱۳ مورخہ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۲ ؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء
    دربا ر شامِ
    ا یک الہام کے معنی
    فر ما یا :۔
    اللہ تعالیٰ کا ہما رے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے ۔ہما را یہ الہا م کہ
    انت منی بمنذلہ تو حید ی وتفریدی
    ایک نئی طرزکا الہا م ہے۔ ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبا رت میں اس قسم کے الفا ظ نہیں دیکھے اس کے معنے جو ہما رے خیا ل میں آتے ہیں یہ ہیں۔ کہ ایسا شخص بمنزلہ تو حید ہی ہو تا ہے ۔جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں تو حید الہیٰ کی نہا ت ہتک کی گئی ہو۔ اور اسے نہا یت ہی حقارت کی نگا ہ سے دیکھا جا تا ہو ۔ ۱؎ ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم ۲؎ ہو تا ہے ،ہرشخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص کا مقصودو مطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی ہو تی ہے وہ اللہ تعا لیٰ کی تو حید ہی ہو تی ہے وہ اللہ تعا لیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبا ت اور مقا صد سے بھی مقدم کرلیتا ہے ۔اپنی ساری ضرورتوں کو پیچھے ڈال دیتا ہے ۔
    اسی طرح پرہر ایک شخص کا اپنے مقاصد کا ایک بت ہو تا ہے اور وہ اس تک پہنچنا چا ہتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیا ر میںہوتا ہے کہ اس تک پہنچادے یا اس کی عمر کا پہلے ہی خاتمہ کردے ۔وہ اپنے ما ل یا عزت وآبروبا ل بچوں یا دوسری حوائج کے لیے تڑپتا ہے اوربخیود ہو تا ہے اور بسا اقات لو گ انہیں مشکلا ت میں پڑکر خود کشی بھی کرلیتے ہیں مگر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ما مور ہو آتا ہے اس کا یہی جو ش خدا تعالیٰ کی توحید کیلئے ہو جا تا ہے اوراپنی نفسا نی خواہشوں کی بجا ئے خداتعالیٰ کی تو حید کے لیے مضطرب اور بخیود ہو تا ہے ۔ ۳؎ میںَ سمجھتا ہو ں کہ یسے وقت میں یہ ا لفا ظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں کہ
    انت منی بمنذلت توحیدی وتفریدی۔
    کیو نکہ اللہ تعا لیٰ کو اپنی تو حید بہت ہی پیاری ہے یہ تو حید تھی جس واسطے اللہ تعالیٰ نے کبھی وبا کبھی قحط اور کبھی اپنے پیارے انبیاء علیم السا م کے ہا تھ کی تلوار سے اس کے قیا م کے واسطے ہزاروں مشرک جا نوں کو تبا ہ کر دیا ۔مکہ اور مدینہ منورہ کے حا لا ت بھی صرف اسی کی خا طر پیچیدہ ہو ئے تھے ۔موسیٰ علیہ السلا م کا معاملہ بھی اسی تو حید کے لیے تھا۔ ۴ ؎
    عقیدہ کی اہمیت
    عقیدہ ہی سے اعما ل میں قوت آتی ہے جیسا قوی اور کا مل عقیدہ ہو ویسے ہی اس کے مطا بق اعما ل صادر ہو ں کے ۔اگر عقیدہ ہی زنگ آلو دہ اور کمزوراور مردہ ہو گا تو پھر اعما ل کی کیا توقع ہوسکتی ہے ۔
    اگرچہ ظاہر اعما ل نما ز روزہ میں تو مسلما ن با ہم مشترک ہیں ۔اور اکثر بجا لا تے ہیں۔ مگر پھر ان کے نتا ئج میں برکا ت کے اختلا ف کا با عث جو ہے تو صرف یہی عقیدہ ہے جن کے عقائد عمدہ اور کامل ہو تے ہیں ان کے لیے نتا ئج عمدہ اور برکا ت کثرت سے نا زل ہو تے ہیں ۔مگر کمزور ایما ن والے اپنے اعما ل کی قوت پر تو نگا ہ نہیں کرتے برکا ت کے نہ ملنے کی شکا یت کرتے ہیں ۔
    عداوت کا فا ئدہ
    فر ما یا :۔
    محبت اور عقیدت کی توحید تو ایک جدا امر ہے مگر عدوات کی توجہ بھی بے فا ئدہ نہیں ہو تی بلکہ مفیدہو تی ہے ۔دیکھوآنحضرت ﷺ کے مکہ کے زما نہ میں آپ کے مقابل میں محبت اور عقیدت کی تو جہ تو نہایت ہی کم بلکہ کچھ بھی نہ تھی مگرد عوت کی توجہ کا مل طور سے تھی ۔اور آخر یہی دعوت کی تو جہ آپ کی عام لو گوں اور عرب کے کنا روں تک شہرت پہنچا نے کا با عث ہو گی ۔ورنہ آپ کے پا س اس وقت اور َ کیا ذریعہ تھا جو اپنی دعوت کو اس طرح شائع کرتے ۔آپ کے واسطے اس وقت تبلیغ کا پہنچانا نہا یت مشکل تھا مگر خدا تعالیٰ نے یہ کا م کیا کہ دشمنوں ہی کے ہا تھوں سے ایسا کرادیا ۔ ۱ ؎ اب موجودہ زما نے میںہما رے دشمن بھی ایسا ہی کرتے ہیں اگرچہ اس وقت کی فوری حا لت ایسی ہو تی ہے ۔کہ ہما ری جما عت کو ان لو گوں کی کارروائیوں سے رنج اور صدمہ ہو تاہے مگر ان کی کارروائیوں کا انجا م ہما رے مفید مطلب اور بخیر ہو تا ہے ۔اصل میں ان لو گوں کی گا لیا ں تو ایسی ہیں جیسے عورتیں شا دی کے موقعہ پر لڑکے والوں کو دیتے ہیں ۔ان سے اس وقت کون ناراض ہو تا ہے ؟ یہی مآل ان مخا لفوں کی گا لیوں کا ہے۔یہ گا لیاں ہما رے مفید مطلب ہیں۔یہ ہما ری تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہیں اور سعید اور شریف ان کی گا لیوں ہی سے اندازہ کرلیتے ہیں کہ حق کس کے پا س ہے ۔اسی طرح پر ہما ری جما عت ان میں سے ہی نکل کرآئی ہے اور دن بدن نکلتی آتی ہے۔
    طا عون ۱ ؎ کے ذکر پر فر ما یا کہ :۔
    آجکل تو لوگ فر عون کی خصلت رکھتے ہیں کہ چا روں طرف سے خوف آیا تو ایما ن لے آئے اور ما ن لیا ۔جب خوف جا تا رہا تو پھر مخالفت شروع کردی ۔ (الحکم جلد ۷نمبر۱۳ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۳؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    اقرار بیعت کے اثرات
    نما ز جمعہ کے بعد گرونواح کے لو گوں اور چند ایک دیگر احبا ب نے بیعت کی ۔بعد بیعت حضرت احمد مرسل مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام نے ذیل کی تقریر کھڑے ہو کر فر ما ئی۔
    اس وقت تم لو گوں نے ا للہ تعا لیٰ کے سا منے بیعت کا اقرارکیا ہے اور تما م گنا ہوں سے تو بہ کی ہے اور خدا تعا لیٰ سے اقرار کیا ہے کہ کسی قسم کا گنا ہ نہ کریں گے ۔اس اقرار کی دوتاثیر یں ہو تی ہیں ۔اقراربیعت یا تو رحمت ہے یا با عث عذاب ۔یا تو اس کے ذریعہ انسا ن خدا تعا لیٰ کے بڑے فضل کا وارث ہو جا تا ہے کہ اگر اس پر قائم رہے تو اس سے خدا تعا لیٰ راضی ہو جا ئے گا اور وعدہ کے موافق رحمت نازل کرے گا اور یا اس کے ذریعہ سخت مجرم بنے گا کیو نکہ اگر اقرار کو تو ڑے گا توگو یا اس نے خدا تعالیٰ کی توہین کی ۔جس طرح سے ایک انسا ن سے اقرار کیا جا تا ہے اور اسے بجا نہ لا یا جا وے تو توڑنے والا مجرم ہو تا ہے ایسے ہی خدا تعالیٰ کے سا منے گنا ہ نہ کرنے کا اقرار کرکے پھر توڑنا خدا تعالیٰ کے روبروسخت مجرم بنا دیتا ہے ۔آج کے اقرار اور بیعت سے یا تو رحمت کی ترقی کی بنیا د پڑگئی اور یا عذاب کی ترقی کی ۔
    اگر تم نے تما م با توں میں خدا تعالیٰ کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور مدت درازکی تما م عادتوں کو بدل دیا تو یادرکھو کہ بڑے ثواب کے مستحق ہو عا دت کو چھوڑنا آسا ن با ت نہیں دیکھتے ہو کہ ایک افیونی یا جھوٹ بولنے والے کو جو عادت پڑگئی ہو ئی ہو تی ہے اس کا بدلنا کسقدر مشکل ہو تا ہے ۔اس لیے جو اپنی عادت کو خدا تعالیٰ کے واسطے چھوڑتا ہے تو وہ بڑی با ت کرتا ہے یہ نہ سمجھو کہ عادت چھوٹی ہویا بڑی ایک عرصہ تک انسا ن جب گنا ہ کرتا ہے تو اس کے قویٰ کو ایک عادت اس کے کرنے کی ہوجا تی ہے ۔تو کیا تمہا رے نزدیک اسے چھوڑدینا کو ئی چھوٹی با ت ہے ؟ جب تک کہ انسا ن کے اندرہمت استقلا ل نہ ہو تب تک یہ دور نہیں ہو سکتی ۔ما سوااسکے ان عادتوں کے بدلنے میں ایک اور مشکل ہے کہ عادتوں کا پا بندآدمی عیالداری کے حقوق کی بجا آوری میں سست ہوا کرتا ہے مثلاََ ایک افیونی ہے تووہ نشہ میں مبتلا ہو کر عیالداری کے لیے کیا کچھ کریگا ؟ اوراسی طرح بعض عادتیں اس قسم کی ہو تی ہیں کہ کنبہ اور اہل وعیال کے آدمی اس کے حامی ہو تے ہیں اور اس کا چھوڑنا اور بھی دشوار تر ہو تا ہے ۔مثلاََ ایک شخص بذریعہ رشوت روپیہ حا صل کرتا ہے عورتوں کو اکثر علم نہیں ہو تا وہ تواس کو اچھا جا نیں گی کہ میرا خاوند خوب روپیہ کما تا ہے وہ کب کوشش کریگی کہ خاوند سے یہ عادت چھوڑاوے تو ان عادتوں کوچھوڑانے والا بخبر اللہ تعالیٰ کی ذات کے کو ئی نہیں ہو تا ۔باقی سب اس کے حا می ہو تے ہیں بلکہ ایک شخص جونما ز روزہ کو وقت پر ادا کرتا ہے اسے یہ لوگ سست کہتے ہیں کہ کا م میں حرج کرتا ہے اور جونما ز روزہ سے غافل رہ کر زمینداری کے کا موں میں مصروف رہے اسے ہوشیار کہتے ہیں اس لیے میں َکہتا ہوں کہ توبہ کرنی بہت مشکل کا م ہے۔ ان ایا م میں توبہت سے مقابلے آکر پڑے ہیں ۔ایک طرف عادتوں کوچھوڑنا دوسری طرف طاعون ایک بلا کی طرح سرپرہے ۔اس سے بچنا، اب دیکھوکونسی مشکل کو تم قبو ل کر سکتے ہو ۔رزق سے ڈرکر انسا ن کو کسی عادت کا پابندنہ ہو نا چاہئیے ۔اگر اس کا خدا تعالیٰ پر ایما ن ہے تو خدا تعالیٰ رزاق ہے ۔اس کا وعدہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ دار میں َ ہو ں
    من یتقاللہ یجعل لہمخرجاویرزقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق:۳،۴)
    یعنی با ریک سے با ریک گنا ہ جو ہے اسے خدا تعالیٰ سے ڈرکرجوچھوڑے گا خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل سے اسے نجا ت دیگا ۔یہ اسلئیے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم تو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلا ت آپڑتی ہیں کہ پھر کر نا پڑجا تا ہے خداتعالیٰ وعدہ فر ما تا ہے کہ وہ اسے ہرمشکل سے بچا لیگا ۔پھر آگے ہے
    یرزقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق:۳،۴)
    یعنی ایسی راہ سے اسے روزی دیگا کہ اس کے گما ن میں بھی وہ نہ ہو گی ۔ایسے ہی دوسرے مقام پر ہے ۔
    وھو یتولی الصالحین (اعراف:۱۹۷)
    جیسے ماں اپنی اولا د کی والی ہو تی ہے ویسے ہی وہ نیکوں کا والی ہو تا ہے پھرفر ما تا ہے
    ونی السمائرزقکم وماتوعدون
    یعنی جوکچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور تمہارا رزقآسما ن پرہے ۔
    جب انسا ن خدا پرسے بھروسہ چھوڑتا ہے تودہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے ۔خدا تعالیٰ پربھروسہ اور ایما ن اس کا ہو تا ہے جواسے ہربا ت پرقادر جانتاہے ۔
    اب ایسا زما نہ ہے کہ جو توبہ کرنا چاہتے ہیں ۔خدا تعالیٰ ان با توں کیلئے اپنے ہا تھوں سے ان کی مددکررہا ہے اس کی ذات رحمت سے بھری ہو ئی ہے طاعون کے حملے بہت خوفناک ہو تے ہیں مگر اصل میں یہ رحمت ہے سختی نہیں ہے ۔ہزاروں لوگ ہوںگے جوکہ عبا دت سے غافل ہو نگے ۔اگر اتنی حشپم نمائی خدا تعالیٰ نہ کرے توپھرتولوگ بالکل ہی منکرہو جا ویں یہ تواس کا فضل ہے کہ سوئے ہووںکو ایک تازیا نہ سے جگا رہا ہے ورنہ اسے کیاپڑی ہے کہ کسی کوعذاب دیوے جیسا کہ وہ فر ما تا ہے
    ما یفعل اللہ بعذابکمان شکرتموامنتم(النساء:۱۴۸)
    کہ اگر تم میری راہ اختیار کٔروتو تم کو کیوں عذاب ہو۔
    اس کی رحمت بہت وسیع ہے جیسے بچہ جب پڑھتا نہیںہے تو اسے مارپڑتی ہے اس کا سریہی ہے کہ اس کی آنیدہ زندگی خرا ب نہ ہو اور وہ سدھرجاوے ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ عذاب اس لیے دیتا ہے کہ لوگ سدھرجاویں اور یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے ۔
    سچی توبہ کرو۔بھلا دیکھوتوسہی اگربا زار سے کو ئی دوامثل شربت بنفشہ کے تم لاؤاور اصل دواتم کو نہ ملے بلکہ سڑاہواپرانا شیراتم کو دیا جا وے تو کیا وہ بنفشہ کے شربت کا کا م دیگا ؟ہرگزنہیں اسی طرح سڑے ہو ئے الفا ظ جو زبا ن تک ہو ں اور دل قبول نہ کرے وہ خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتے ۔بیعت کرانے والے کو ثواب ہو جا تا ہے مگر کرنیوالے کوکچھ حاصل نہیں ہو تا؟
    بیعت
    بیعت کے معنے ہیں بیچ دینا ۔جیسے ایک چیزبیچ دی جا تی ہے تواس سے کوئی تعلق نہیں رہتا ۔خریدار کا اختیار ہو تا ہے جو چاہے سوکرے ۔تم لوگ جب اپنا بیل دوسرے کے پا س بیچ دیتے ہو توکیا اسے کہہ سکتے ہو کہ اسے اس طرح استعما ل کرنا ؟ہرگزنہیں ۔اس کا اختیا ر ہے جس طرح چاہے استعما ل کرے۔اسی طرح جس سے تم بیعت کرتے ہو ۔اگر اس کے احکا م پرٹھیک ٹھیک نہ چلوتوپھرکوئی فا ئدہ نہیں اٹھاسکتے ۔ہرایک دوایاغذاجب تک بقدرشربت نہ پی جا وے فا ئدہ نہیں ہواکرتا ۔اسی طرح اگر بیعت پورے معنوں میں نہ ہو تووہ بیعت نہ ہو گی ۔خدا تعالیٰ کسی کے دھوکہ میں نہیں آسکتا ۔اس کے ہا ں نمبراور درجے مقررہیں ۔اس نمبر اور درجہ تک توبہ ہو گی تو وہ قبول کرے گا جہانتک طاقت ہے وہاں تک کوشش کرو پورے صالح بنو۔ عورتوں کونصیحت کرو ۔نما زروزہ کی تا کیدکرو ۔سوائے آٹھ سات دن کے جوعورتوں کے ہو تے ہیں اور جس میں نما ز معاف ہے تما م نما زیں پوری پڑھیں اور روزے معاف نہیں ہیں ان کوپھراداکریں ۔انہی کمیوں کی وجہ سے کہا کہ عورتوں کا دین نا قص ہے ۔ اپنے ہمسایہ اور محلہ والوں کوبھی نیکی کی تاکیدکرو ۔غافل نہ ہو ۔اگر علم نہ ہو تو واقف سے پوچھوکہ خداتعالیٰ کیا چاہتا ہے ۔
    مسلما نوں کی دینی حالت
    اس وقت مسلما نوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے جوخداتعالیٰ چاہتا ہے اسے بدل کراَور کااورَبنا دیا ہے ۔اس وقت ایک شوربرپا ہے ۔اگر کہا جا وے کہ آنحضر ت ﷺ فوت ہوئے ہیں اور عیسیٰ زندہ ہے توسب خوش ہو تے ہیں ۔مگر جب کہا جاوے کہ آنحضرت ﷺ زندہ اور خاتم النبین اور آپ کے بعدکوئی غیربنی نہیں آنے والا توسب نا راض ہو جاتے ہیں ۔
    مسیح کو آنحضرت پرفضیلت نہ دو
    ہما رے بنیﷺ کو جیسے خدا تعالیٰ نے سب سے آخرپیداکیا ویسے ہی آخری درجے کے سب کما ل آپ کو دئیے کہ کو ئی بھی خوبی کسی دوسرے بنی میںایسی نہیں جوکہ آپ کو نہ دی گئی ہو ؎
    آنچہ خو با ں ہمہ دارند تو تنہا داری
    کیا تم یہ قبول کرتے ہو کہ ایک کے ہا ں بہت سے مہما ن ہو ں تو ان میں سے ایک کو وہ مکلف کھا نا پلا ووغیرہ دیوے اور دوسرے کو معمولی کھا نا شوربہ یا روٹی وغیرہ تو با قی مہما ن کہیں گے کہ کا ش ہم اس گھرمیں مہما ن نہ ہو تے ۔اسی طرح ایک لا کھ چوبیس ہزارپیغمبر جو گذرے ہیں انہوں نے کیا گنا ہ کیا کہ جو فضیلت اور رتبہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیا جا تا ہے ان میں سے ایک کو بھی وہ نہ ملا ۔ان سب کو فوت مانتے ہو اور ایک عیسیٰ کو زندہ اور و ہ بھی آسما ن پر۔
    قرآن فر ما تا ہے
    رب زدنی علماََ(طہ:۱۱۵)
    اور حضرت تو اس دعا کو برابرمانگتے رہے ۔آنحضرت ﷺ کی عمر۶۳ برس کی ہو ئی ۔دوسرے تما م پیغمبروں کو گھٹانا اور مسیح کو سب سے بڑھ کر فضیلت دینا ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کو نسی فضیلت مسیح کو دوسروں پرہے ؟انہوں نے نہ ساری دنیا کی اصلا ح کا دعویٰ کیا ۔نہ کوئی دکھ آنحضرت ﷺ کی طرح ان کو پہنچا نہ مقابلہ کی نوبت آئی ۔نہ کو ئی شکست اٹھانی پڑی ۔چندآدمی صرف ایما ن لا ئے وہ بھی پکڑے گئے ۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو دیکھو ۔آپ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے ۔ جنگیں بھی آپ نے کیں ۔ایک لا کھ سے زیا دہ صحابہ آپ کی زندگی میں موجود تھے پھر ان با توں کے ہو تے ہوئے جو شخص آنحضرت ﷺ کی شا ن میں کو ئی ایسا کلمہ زبا ن پرلا ئے گا ۔جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرا می نہیں تواور کیا ہے ؟ ان کم بختوں سے کو ئی پوچھے کہ پھر تم محمد رسول اللہ کیوں کہتے ہو عیسیٰ رسول اللہ کہو۔
    اب تم کو چاہئیے کہ جہا نتک ہو سکے آنحضرت ﷺ کو عزت دو۔ اگر تم یہ کہوکہ آنحضرت ﷺ آسما ن پرزندہ ہیں تو ہم آج مانتے ہیں مگر جس سے تم کو فیض اور فائدہ کچھ بھی حاصل نہ ہو ا ۔ اس کو جھوٹی فضیلت دینے سے تم کو کیا حاصل ؟
    تمام فیضوںکا سر چشمہ قران ہے نہ انجیل نہ تورات۔جو قرآن کو چھوڑکر ان کی طر ف جُھکتا ہے وہ مُر تد ہے اور کافر ۔مگرجو قرآن کی طرف جُھکتاہے وہ مسلمان ہے ۔کیا ان کو شرم نہیںآتی کہ آنحضرت ﷺکو جب حفاظت پیش آئی تو خداتعالیٰ نے آپ کو غار میں جگہ دی اور عیؑسیٰ کو جب وہ موقعہ پیش آیا تو آسمان پر جابیٹھایا ۔پھر آنحضرتﷺ کا عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیںاور عیؑسیٰ کو اب تک زندہ مانتے ہیں۔ ان تمام باتوںکا آخری نیتجہ یہ ہے کہ عیسائیوںکا دین غالب ہے ۔ آج مسلمان کم ہیںاور عسائی زیادہ ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہی دلائل بیان کر کے پادریوںنے مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے۔
    خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ عیٰسیؑ مر گیا
    فلما و فیتینی
    کی آیت موجودہے ۔ اگر تمہارا مذہب قرآن ہے تو اس پر ایمان کیوںنہیں لاتے ؟آنحضرت ﷺ کے واسطے خداتعالیٰ نے ہرگز نہ چاہا باہر سے لوگ آویں۔سورہ نور میںبھی وعدہ ہے کہ تمام خلیفے اور امام تیری اُمّت میںسے آویں گے سو خدا تعالیٰ نے وہ پو را کیااور اسی طرح سے اب ہمیںمامور کیا ۔ جیسے چودہ سو برس کے بعدموسؑیٰ کی امّت میںسے مسؑیح آیا تھا ۔ویسے ہی چودہ سَو برس گذرنے کے بعد ہمیں بھیجا وہ مسیح بھی صاحب شریعت نہ تھے تورات پر ان کا عمل تھا ایسے ہی ہم ہیں تا کہ مماثلت پوری ہو اور کو ئی کمی نہ رہ جاوے ۔ جیسی محبت خدا تعالیٰ ہم سے کر تا ہے ویسی کسی اور سے نہیں کرتا ۔اگر یہ خیا ل ہو کہ عیسیٰ کو خدا تعالیٰ آسما ن پر لے گیا ۔اس کو آج تک زندہ رکھا اور اس کو پھر لا وے گا تو ساری محبت خدا کی عیسیٰ کے ساتھ چاہئیے جو ان تما م با توں کو غور سے دیکھے گا تو سمجھے گا کہ جو آپ کی شا ن ہے وہ اور کسی نبی کی نہیں ہے جب تک تم آنحضرت ﷺ کو ہر خوبی میں افضل نہ جا نوگے مسلما ن نہ ہو گے بلکہ کرانی (یعنی عیسائی۔مرتب ) ہو گے یہ تو عقیدہ چاہئیے اور نما زوں میں دعا کرو کہ اے خدا طاعون سے ہمیں بچا جولو گ ہنسی کرتے ہیں اور کہتے ہیں بڑے آدمی کیو ں نہیں مرتے نا دان ہیں ۔خدا تعالیٰ کا کام ہے آہستہ آہستہ پکڑنا ۔اس لیے غافل نہ بنو۔تہجدوںمیںدعاکرو ۔ پانچوںوقت کی نمازوںمیںدُعاکرو ۔ جب تمہارا گھر دعا سے بھر جاوے گا تو پھر ہرگزوَبانہ آوے گی اوراگر کوئی روک رکھو گے تو دعا کا م نہ دیگی۔ خداتعالیٰ کے سا تھ معاملہ صاف رکھو گے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ تم کو ضرور محفو ظ ر کھے گا۔ ۱ ؎
    دربارِ شام
    حضرت عیٰسیؑ کی محّبت میں غلو اور آنحضرت ﷺ کی تو ہین
    بر ہا ہمیں یہ تعجب آتا ہے کہ کیو ں یہ لوگ حضرت عیسٰیؑ سے بیجا محّبت کر تے ہیں انہوںنے ان کا کیا دیکھا تھا جو ان پر ایسے شیداہیں کہ اُن کو خدا ہی بنا دیا ہے ۔ ایسے اُن کی محّبت
    میں اندھے ہوئے ہیںکہ آنحضرتﷺ جن کا کلمہ پڑھتے ہیں انکی توہیں اپنی زبان سے کرتے ہیں۔ توہین کیا ہوتی ہے یہی کہ ایک شخص جس میںاعلیٰ درجہ کے اوصاف ہوں اس کو نظرانداز کرکے ایک ایسے شخص کو اس سے بڑھ چڑھ کر متّصفَ باَ و صاف کیا جا وے جس میںوہ اوصاف نہیںہیں ۔ تعزیرات میں توہین کی مثال کے نیچے یہ مثال لکھی ہے کہ زید اور بکر نے (جو درحقیقت چور تھے )چوری کی ہے مگر عمرو (جو ایک شریف آدمی ہے اور درحقٰقت اس کی کوئی سازش اس چوری میںنہیں ) نے چوری نہیں کی ۔ اور نہ ہی اس کا اس میں کچھ تعّلق ہے تو قانونـاً ایسا کہنے والا شخص عمرو کی توہین کرتا ہے اور وہ مجرم قرار دیا جاوے گا اور مستحقِ سزا کا ہو گا ۔
    ٖغر ض تو ہین کے کئی پہلو ہو تے ہیں ۔حضرت عیسیٰ کی اتنی تعریف کی جا تی ہے کہ گو یا ان پر جب مصیبت آئی تو خدا تعالیٰ کو زمین پران کے بچاوکی کو ئی راہ نظر نہ آئی اور ان کو آسما ن پر اور پھر دوسرے آسما ن پر جا چھپا یا ۔با لمقابل آنحضر ت ﷺ پر جب سخت مصائب اور شدائد آے تو اللہ تعالیٰ نے معوذبا للہ نقول مولویوں کے آپکو با لکل بے مدد اور کس مپرس چھوڑدیا اور آپ کو ایک غار میں جو آسما ن کے مقابل میں جس طرح وہ بلند یہ اسفل میںواقع تھی ،پنا ہ دی ۔غار کی تعریف بھی کیا کہ بچھووں ،سانپوں اور ہرقسم کے موذی حشرات الا رض کا گھر تھا ۔بھلا اب سوچویہ توہین نہیں تو کیا ہے ؟
    پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سرورکا ئنا ت فخر الا ولین والآ ین اسرف الخلق تو امید وارہیں کہ ہم لمبی عمرپا ویں مگر ان کو تو صرف تر لسٹھ برس کی عمر دی جا تی ہے اور ان کے مقابل میں حضر ت عیسیٰ گویا اب تک زندہ ہیں اور دوہزاربرس ان کی عمر ہو چکی ہے اور ان کی حا لت میں کو ئی تغیرّواقع نہیں ہو ا ۔آپ رہتے تو دنیا کی اصلا ح کرتے جیسا کہ پہلا تجربہ بتا چکا ہے۔ کہ ضرورہزاروں کی اصلا ح کرتے اگر اور عمر پا تے ۔مگر بالقابل حضرت عیسیٰ اتنی عمر میں نہ کو ئی نیکی کرتے ہیں نہ نما ز ہے ۔نہ روزہ نہ زکا ت اور نہ کسی کی اصلا ح ہے ۔ان سے نہ کسی کو نفع ہے اور نہ کسی سے کسی قسم کے ضررکودور کرسکتے ہیں ۔نیز پرانا تجربہ بھی اس امر کا کا نی شاہد تھا ۔کہ صرف با رہ آدمی مدت کی کو شش سے تیا رکئے ۔آخر وہ بھی یو ں الگ ہو ئے ۔کہ کسی نے *** کی اور کسی نے تیس روپے کے عوض دشمن کے ہا تھ میں دے دیا ۔
    پھر مرنے کے بعد جب آنحضرت ﷺکی روح آسما ن پر گئی۔ تو پھر وہ حریف موجود تھے۔ کہ وہ تو آسما ن میں مع جسم عنصری تشریف رکھتے ہیں اور جنا بؐ کا جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے پڑا ہے اور پھر اسی پرختم نہیں ۔آخرکا ر آپ کی امت میں وہ پھر آویں گے اور چا لیس سا ل تک ان پر حکومت کریں گے اور ان سے بیعت لیں گے ۔بھلا غور تو کرو کہ یہ توہین نہیں تو اَور کیا ہے ۔
    پھر ایک با ت اورَہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے ساتھ قرآن شریف میں یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں َ تیری اُمتّ میںسے تیری امت کی اصلا ح کے واسطے خلیفے بھیجتارہو ں گا ۔مگر آخر اس وعدہ کا ذرابھی پا س نہ کیا اور ایک قوم میں سے جس کے متعلق اس نے وعدہ کر لیا ہو ا تھا کہ اس قوم پر میرا غضب نازل ہو چکا ہے میں َ ان پر کبھی کو ئی روحانی اور جسماٰ نی فضل ونعمت ہرگزنا زل نہ کروں گا مگر آخر آنحضرت ﷺ سے بھی وعدہ خلا فی فرما کراسے بھیجا اور اپنے قانون کو بھی توڑا ۔کیا یہ کو ئی گو ار اکرسکتا ہے کہ خدا پروعدہ خلافی عائد ہو ۔ہرگز نہیں
    ان اللہ لایخلف المیعاد۔(آل عمران :۱۰)
    ہما ری تو بہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اس عیسٰی کو اتا ر کرکرنیگے کیا؟ آخر ان کے قویٰ تو وہی ہو ں گے جو پہلے تھے ۔پہلے کیا کیا تھا جو اَب کریں گے ۔ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی ان کی اصلا ح بھی نہ ہو ئی ۔
    لکھا ہے ایک دفعہ ان میں سے پانسوآدمی مرتد ہو گئے تھے ۔یہ لوگ اگر حضرت موسیٰؑ کے دوبا ر ہ آنے کی اُمید رکھتے تو کچھ موزون بھی تھا کیو نکہ وہ صاحب عظمت اور جبروت تو تھے ان میں شجا عت بھی تھی ۔اب یہ عیسیٰ کے پیچھے پڑے ہو ئے ہیں ۔
    پھر مشکل یہ ہے کہ عادت کا جا نا محا ل ہے ان کو مارکھا نے اور بزدل کی عادت ہو گئی تھی وہ اگر دجا ل سے جنگ کریں گے تو کس طرح؟ادھر ان مسلما نوں کی بھی یہ عادت ہو گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی آویں گے لکیر کے فقیر ہیں ۔با پ دا دااور مولوی جو اس با ت کی تعلیم دیتے ہو ئے گذرگئے ۔وہ خواہ قرآن شریف کے مخالف ہی ہو وہ اسی ہندووں کی گنگا کی طرح اس اعتقاد کو تر ک نہ کریں گے خواہ کو ئی ذلیل ہو یا نہ ہو۔
    ان لو گوں کو تو اپنے گھر کا بھی حال معلوم نہیں کہ ان کیاس اعتقاد نے اسلا م کو کیسا ضعف پہنچایا ہے عیسائی جب کسی کو مرتد کرنے پر کرتے ہیں تویہی حجت پکڑتے ہیں کہ تمہا ری نبی مردہ اور ہمارا زندہ آسما ن پر موجود ہے ۔اب بتا و کہ ان دونومیں سے کو ن اچھا اور خدا تعالیٰ کا پیا را ہے اور وہ مسلمانوں کی کتا بوں سے ہی نکال کر کھادیتے ہیں ۔اب قریباََ ہرایک فرقہ میں سے الگ الگ ملاِ جلا کر۲۹ لا کھ کے قریب آدمی مرتد ہو چکے ہیں کیا سّید کیا پٹھان کیا قریش اور کیا مغل ۔ہرقوم اس وبا میں ہلا ک ہو ئی ہے ۔ایسے ایسے لوگ جو فخر اسلا م کہنے کے ستحق بن جا نے کے قابل تھے وہ اب بیدین ہو کرآنحضرت ﷺ گا لیا ں دیتے ہیں اور پھر اسی پرابھی تما م نہیں بلکہ وہ جا ن سے مال سے عزت وجاہ سے عورتوں سے لڑکیوں سے اس امر کے لیے کو شاں ہیں کہ کسی طرح دنیا سے اسلام کا نشا ن مٹادیں ۔بھلا اگر یہی وہ فتا ن لوگ نہیں تواور َ کون ہو گا ؟ اس قوم کا فتنہ تومسلمانوں کے بناوٹی دجاّ ل کے فتنہ سے بھی کہیں بڑھ گیا ۔بھلا یہ بتاویں توسہی اس قوم کی جس کا فتنہ دجال سے بھی زیا دہ ہے خبر کہا ں دی گئی ہے ۔قرآن شریف نے تواسی واسطے دجال کا نا م نہیں لیا بلکہ ولاالضالین کہا جس سے مراد یہی قوم نصاریٰ ہے ولاالدجال کیوںنہ کہا۔اصل امر یہی ہے کہ وہ ایک قوم ہے جس سے تما م انبیا ء اپنی اپنی امتّ کو ڈراتے آئے ہیں ۔ان لو گو ں کے خیالا ت کی بناء احادیث موضوعہ پر ہے جو قرآن شریف کی مہُر سے خالی ہے ۔ مگر ہم قرآن شریف کو ان احادیث کی خاطر چھوڑ نہیں سکتے ۔ قرآن شریف بہر حال مقدم ہے ۔بھلا قرآن کو تو آنحضرتﷺ نے خود جمع کیا ۔ لکھوایا اور پھر نمازوں میںبار بار پڑھ کر سُنایا ۔کیا اگر احادیث بھی ویسی ہی ضروری ہیں تو اُن میں سے بھی کسی کو اسی طرح جمع کیا اور بار بار سُنایا اور دَور کیا ؟ہرگز نہیںجب نہیں کیا تو کیا آنحضرت ﷺنے اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کی ؟ہرگز نہیں ۔ بلکہ صحیح امر یہی ہے کہ قرآن شریف ہی آپ لائے تھے اور اسی کے جمع کرنے کاآپ کو حکم تھا سو آپ نے کر دیا ۔ اب احادیث میںسے وہ قابلِ عمل اور اعتقاد ہے ۔ جس پر قرآن شریف کی مہر ہو کہ وہ اس کے خلاف نہیں۔
    پھر اسی پر بس نہیں۔قرآن شریف کہتاہے کہ عیٰسیؑ مر گئے اور پھر دوبارا قیامت تک وہ اس دینا میںنہیںآئیںگے بلکہ آنے والا اُس کا مثیل اس کی خُو بُو لے کر آوے گا ۔ جیسا کہ ایت قرآن شریف فَلَمَّاتَوَفَّتَنِی میںصاف بیان ہے ۔
    تو ہینِ عیٰسیؑ کے اعتراض کا جواب
    پھر کہتے ہیں کہ سید نا لمسیح کی تو ہین کرتے ہیں ۔بھلا سوچو تو کہ ہم اگر اپنے پیغمبر سے ان چھوٹے اعتراضات جو نا فہمی اور کور چشمی سے کر کے مسیح کو آسما ن پر زندہ بٹھاکر آنحضر ت ﷺ پر کئے جا تے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے مسیح کی اصلی حقیقت کا اظہار نہ کریں تو کیا کریں ؟ ہم اگر کہتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں بلکہ مرگئے جیسے دوسرے انبیا ء بھی مرگئے تو ان لوگوں کے نزدیک تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہوئی ۔ہم خدا تعالیٰ کے بلا ئے بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو فرشتے آسما ن پر کہتے ہیں ۔افتراء کر نا تو ہمیں آتا نہیں اور نہ ہی افتراء خدا کو پیارا ہے ۔اب اللہ تعالیٰ جا نتا ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کی کسر شا ن اور ہتک کی گئی ۔ضرور ہے کہ اس کا بدلہ لیا جا وے اور آنحضرت ﷺ کے نوراور جلا ل کو دوبا رہ ازسرنوتازہ وشا داب کرکے دکھا یا جا وے اور یہ مسیح کے بت کے ٹوٹنے اور اس کی مو ت کے ثابت ہو نے میں ہے پس ہم خدا تعالیٰ کے منشا ء اور ارادے کے مطابق کرتے ہیں اب ان کی لڑائی ہم سے نہیں خدا تعالیٰ سے ہے ۔
    ان لو گو ں نے حضر ت مسیحؑ کو خا صہ خدا بنا یا ہو ا ہے اور موحدّ کہلا تے ہیں ان کا اعتقادہے کہ وہ زندہ ہے قائم علی السما ء ہے۔خالق۔رازق ۔غیب دان ۔محی ۔ممیت ہے ۔بھلااب بتلا ؤ کہ اگر یہ صفا ت خدا کی نہیں تو کس کی ہیں ؟ بشر یتّ تو ان صفا ت کی حا مل ہو سکتی نہیں ۔پھر خدائی میں فرق ہی کیا رہا؟یہ تو عیسائیوں کو مدددے رہے ہیں ۔پورے نہیں نیم عیسائی تو ضرور ہیں اگر ہم ان کے عقائد ردیہّ کی تردیدنہ کریں تو کیا کریں ؟پھر ہمیں ما ننا پڑیگا کہ نعودبا للہ اسلا م ۔آنحضرت ﷺ ۔خدا تعالیٰ کی طرف سے پا ک نبی اور قرآن شریف خدا کا کلا م برحق نہیں ۔حضرت مسیحؑ زندہ نہیں بلکہ مرکر کشمیر سرنیگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں ۔یہی سچا عقیدہ ہے
    طلا ق اور حلا لہ
    ایک صاحب نے سوال ۱؎ کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلا ق لکھدیتے ہیںان کی وہ طلا ق
    جا ئزہو تی ہے یا نہیں ؟
    اس کا جو اب میں فرما یا کہ :۔
    قرآن شریف کے فر مو دہ کی رُو سے تین طلاق دی ہوگئی ہوںاور ان میںسے ہر ایک کے درمیان اتناہی وقفہ رکھا گیا جو قرآن شریف میں بتایا گیا ہے تو ان تینوںکی عدّت گذرنے کے بعداس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا ہا ں اگر کوئی شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھراتفاقًا وہ اس کو طلاق دیدے تو اس خاوند اوّل کو جائزہے کہ اس بیوی سے نکاح کرے لیکن اگر دوسرا خاوند خاوندِاوّل کی خاطر سے یا لحاظ سے اس بیوی کو طلاق دے تا وہ پہلا خاوند اس سے نکاح کرلے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے ۔
    لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میںدی گئی ہو ں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت گذرنے کے بعد بھی سواس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائزطلاق تھی دراصل قرآن شریف میںغور کرنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ امر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پُرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑکر الگ الگ ہو جاویں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑی بڑی شرائط لگائی ہیں وقفہ کے بعدتین طلاق کا دینااور ان کا ایک ہی جگہ رہناوغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت اُن کے دلی رنج دورہو کرآپس میں صُلح ہو جاوے ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازہ جوش کے وقت میںحکام کے پاس عرضی پرچے لے کر آتے ہیں تو دانا حکام اس وقت ان کو کہدیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا ۔اصل غر ض ان کی صرف یہی ہو تی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور انکے جو ش فروہو نگے تو پھر انکی مخالفت با قی نہ رہیگی ۔اسی واسطے وہ اس وقت انکی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلا ف جا نتے ہیں۔
    اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرداور عورت کے الگ ہو نے کے واسطے کا فی موقعہ رکھ دیا ہے یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ طرفین کو اپنی بھلا ئی کے سوچنے کا موقعہ مل سکتا ہے ۔خداتعالیٰ فر ما تا ہے ۔
    الطاق مرتا ن (القبرۃ:۲۳۰)
    یعنی دودفعہ کی طلا ق ہو نے کے بعدیا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جا وے ۔یا احسا ن سے جداکردیا جا وے۔ اگر اتنے لمبے عرصہ میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلا ح پذیرہو ں ۔
    وتر کیسے پڑھے جا ئیں
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ وتر کس طرح پڑھنے چاہئیں۔
    اکیلا بھی جا ئزہے یا نہیں ؟فر ما یا :۔
    اکیلا وتر تو ہم نے کہیں نہیں دیکھا ۔وترتین ہیں ۔خواہ دورکعت پڑھ کر سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لو ۔خواہ تینوں ایک ہی سلا م سے آخر میں التحیا ت بیٹھ کرپڑھ لو۔ ایک وترتوٹھیک نہیں ۔
    مخا لفوں کو سلام کہنا
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضو ر مخا لفوں سے جو ہمیں اور حضو ر کو گا لی گلوچ نکا لتے ہیں اور سخت ُسست کہتے ہیں السلام علیکم جا ئزہے یا نہیں ۔فر ما یا :۔
    مومن بڑا غیر ت مند ہو تا ہے کیا غیر ت اس امر کا تقاضا کر تی ہے کہ وہ توگا لیا ں دیں اور تم ان سے السلام علیکم کرو؟ ہا ں البتہ خرید وفروخت جا ئزہے ۔اس میں حرج نہیں ۔کیو نکہ قیمت دینی اور ما ل لینا کسی کا اسمیں احسا ن نہیں ۔
    من کل حدب ینسلون کی تفسیر
    ہمیں کئی با ر اس آیت کی طرف تو جہ ہو ئی ہے اور اس میں سوچتے ہیں کہ
    من کل حدب ینسلون(الانبیاء :۹۷)
    اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ ساری سلطنتیں ،ریاستیں اورحکومتیں اس سب کو اپنے زیرکرلینگے اور کسی کو ان کے مقابلہ کی تا ب نہ ہو گی ۔
    دوسر ے معنے یہ ہیں کہ حدب کے معنے بلندی ۔نسل کے معنے دوڑنا ۔یعنی ہربلندی پرسے دوڑجاویں گے کل عمومیت کے معنے رکھتا ہے یعنی ہر قسم کی بلندی کو کود جا ویں گے ۔بلندی پر چڑھنا قوت اور جرأ ت کو چا ہتا ہے ۔نہا یت بڑی بھا ری اور آخری بلندی مذہب کی بلندی ہو تی ہے ۔ساری زنجیروں کوانسان توڑسکتاہے مگر رسم اور مذہب کی ایک ایسی زنجیر ہو تی ہے کہ اس کو کوئی ہمت والاہی توڑسکتا ہے۔
    سوہمیں اس ربط سے ایک یہ بھی بشارت معلوم ہو تی ہے کہ وہ آخر کا راس مذہب اور رسم کی بلندی کو اپنی آزادی اور جرأت سے پھلانگ جاویں گے اور آخر کا راسلام میں داخل ہو تے جاوینگے اور یہی ضالّ کے لفظ سے بھی ٹپکتا ہے اور اس امر کی بنیادی انیٹ قیصرجرمن نے چنددن ہو ئے ا پنا عقیدہ عیسویت کے متعلق ظاہر کر کے رکھدی ہے ۔
    دجاّ ل کیــ کا نا ،، ہو نے سے مراد
    یہ جوحدیث شریف میں آیا ہے کہ دجاّ ل کا نا ہو گا۔ ایک آنکھ با لکل نہ ہو گی اور دوسر ی میں ُگل ہو گا یہ ایک نہا یت باریک استعارہ ہے ۔یعنی اس کی ایک آنکھ (قرآ ن کی آنکھ) تو با لکل نہ ہو گی ۔اس طرف سے تو وہ با لکل اندھا اور کا لمیت ہو گا اور دوسری توریت والی سووہ بھی کا فی ہو گی اس میںبھی ُگل ہو گا یعنی اسکی تعلیم پر بھی پورے طور سے کا ر بند نہ ہو نگے ۔
    چنا نچہ واقعہ نے کیسا صاف بتا دیا ہے کہ یہ اسی طرح ہے اورآنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کیسی صاف طور سے پوری ہوئی ہے۔
    عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لیے یہی کا فی ہے کہ اسن کے اس عقیدہ پر نظر کرے کہ خدا مرگیا ہے بھلا کو ئی سوچے کہ خدا بھی مراکرتا ہے ۔اگر یہ کہیں کہ خدا کی روح نہیں ۔بلکہ جسم مرا تھا تو ان کا کفا ر ہ با طل ہو جا تا ہے ۔
    (الحکم جلد ۷نمبر ۱۳ صفحہ ۱۳ ۔۱۴ مورخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۴؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    (بوقت سیر)
    طلا ق
    ایک شخص کے سوال پر فر ما یا کہ :۔
    طلا ق ایک وقت میں کا مل نہیں ہو سکتی ۔طلاق میں تین طہرہو نے ضروری ہیں ۔فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائزرکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدّت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کرسکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کرسکتی ہے ۔
    قرآن کریم کی روسے جب تین طلاق دیدی جاویں تو پہلاخاوند اس عورت سے نکا ح نہیں کرسکتا جبتک کہ وہ کسی اور کے نکا ح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلاعمدًاسے طلاق دیدے ۔اگر وہ عمدًا اسی لیے طلاق دیگا کہ اپنے پہلے خاوند سے و ہ پھر نکاح کرلیوے تویہ حرام ہوگا کیونکہ اسی کانا م حلالہ ہے جوکہ حرام ہے ۔فقہاء نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو جائز رکھا ہے اور پھر عدّت کے گذرنے کے بعد اسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّلاسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔
    قرآن شریف سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا تعالیٰ کو طلاق بہت ناگوارہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خا نہ بربادی ہو جا تی ہے اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقررکی ہے کہ اس عرصہ میںدونواپنا نیک وبدسمجھ کراگر صلح چاہیں توکرلیں۔
    نماز جنازہ
    فر مایا :۔
    اگر متوفیٰ بالجہر مکفر اور مکذب نہ ہو تواس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں ۔کیونکہ علّام الغیوب خدا کی ذات ہے ۔فر مایا۔جو لوگ ہمارے مکفّر ہیں اور ہم کو صریحاً گالیاں دیتے ہیں ۔اُن سے السلام علیکم مت لو اور نہ اُن سے مل کرکھانا کھائو۔ہاں خرید وفروخت جائز ہے اس میں کسی کا احسان نہیں ۔جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ اُدھر کا ہوں اور نہ اُدھر کا ہوں اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو ہمارا مصّدِق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہو تے ہیں ۔اُن کا یہ اصول ہو تا ہے کہ
    بامسلماں اللہ اللہ بابر ہمن رام رام
    ان لوگوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہو تا ۔بظاہر کہتے ہیں کہ ہم کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر یاد رکھو کہ جو شخص ایک طرف کا ہو گا اس سے کسی نہ کسی کا دل ضرور دکھے گا۔
    من کل حدب ینسلون
    فر ما یا کہ:۔
    میںَ نے ا س آیت پربڑی غور کی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ ہر ایک بلندی سے دوڑیں گے ۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ دوصورتیں ہیں اوّل یہ کہ ہرایک سلطنت پر غالب آجا ویں گے ۔دوم یہ کہ بلندی ک دوسری کی طرف انسان قوت اور جرأت کے بغیر دوڑا ور چڑھ نہیں سکتا اور مذہب پر غالب آجا نا بھی ایک بلند ی ہی ہے معلوم ہو تا ہے کہ ان پر وہ زما نہ بھی آجاے گا کہ مذہب کے اوپر سے بھی گذر جا ویں گے یعنی اپنے اس تثلیثی مذہب سے بھی عبور کر جا ویں گے اور اس کو پاؤں کے نیچے مسل دیویں گے اور اسی سے ہمیں ان کے اسلام میں داخل ہو جا نے کی بو آتی ہے ۔پہلی با ت تو پوری ہو چکی ہے اب انشائاللہ دوسری بات پوری ہو گی اور یہ با تیں خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ ہو ا کرتی ہیں ۔جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہو تو ملائکہ نا زل ہو تے ہیں اور دلوں کو حسب استعداد صاف کرتے ہیں ۔تب یہ کا م ہو اکرتے ہیں۔
    آنحضرت ؐ کا خلق عظیم
    فر ما یا کہ :۔
    آنحضرت ﷺ کے اخلا ق کا نمونہ ،ایک صوفی لکھتا ہے کہ آپ کے پاس ایک نصرانی ملاقات کو آیا ۔آپ نے اس کو اپنا مہمان کیا ۔ رات کو کھا نا اوربستر دیا مگر وہ کمبخت بہت کھا ھیا ۔رات کو بد ہضمی ہو ئی تو لحاف میں اس کا دست نکل گیا ۔اس لیے شرمندہ ہو کر صبح کو چوری چوری چل دیا ۔جب وہ دور نکل گیا تو آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا کہ مہما ن چلا گیا ہے بستر دیکھا تو پا خانہ سے بھراہو ا ۔آپ نے اسے ہا تھ سے دھونا شروع کیا ۔صحابہؓ نے ہرچنداصرار کیا کہ ہم دھوئیں مگر آپ نے فر ما یا کہ وہ میرامہما ن تھا مجھے دھونے دو ۔ ادھرراستے میں نصرانی کو دیا کہ وہ اپنے سونے کی صلیب بستر پر بھو ل آیا ہے ۔اسے لینے کے اسطے وہ واپس آیا ۔دیکھا تو آپ وہی نجاست بھرالحاف اپنے ہاتھ سے دھورہے ہیں ۔اس نظارہ کو دیکھ کر صلیبی ایما ن پراس نے *** کی اور مسلمان ہو گیا۔
    در بار شام
    رقّت کی لذت
    طاعون کے متعلق باتیں ہو تی رہیں ۔ایک عرب صاحب نووارد تھے ۔انہوں نے قرآن شریف سنایا اس کی لذت اور رقّت کے متعلق باتیں ہو تی رہیں ۔حضرت اقدس نے فر مایا کہ دنیا میں ہزاروں لذتیں ہیں مگر رقّت جیسی کوئی بھی لذت نہیں ۔یہی ہے جس سے نماز اور عبادت کا مزاآتا ہے اور پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا (الحکم جلد ۷نمبر ۱۳ صفحہ۱۴ مورخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ء) ۱؎
    ۵ اپریل۱۹۰۳؁ء
    کثرتِ عوارض کی وجہ
    ان مختلف امراض اور عوارض کے ذکر پر جو انسا ن کو لاحق ہو تے ہیں فر ما یا کہ :۔
    اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ چند ایک بیمار یاں ہی انسان کو لاحق کر دیتا مگر دیکھتے ہیں کہ بہت سے امراض ہیں جن میں وہ مبتلاہو تا ہے اس قدر کثرت میں خدا تعالیٰ کی یہ حکمت معلوم ہو تی ہے تا کہ ہم ہر طرف سے انسان اپنے آپ کو عوارض اور امراض میں گھر اہو ا پا کر اللہ تعالیٰ سے ترساں اور لرزاں رہے اور اسے اپنی بے شباتی کا ہردم یقین رہے مغرور نہ ہو اور غافل ہو کر موت کو نہ بھوُل جاوے اور خدا سے بے پروانہ ہو جاوے ۔
    مرابمرگِ عدجائے شادمانی نسیت
    بعض مخالفین کے طاعون سے ہلا ک ہو نے کی خبر آئی ۔اس پر فر ما یا کہ :۔
    دشمن کی موت سے خوش نہیں ہو نا چاہئیے ۔بلکہ عبرت حاصل کرنی چاہئیے ۔ہر ایک شخص کا خدا تعالیٰ سے الگ الگ حسا ب ہے سوہر ایک کو اپنے اعمال کی اصلا ح اور جانچ پڑتال کر نی چاہئیے ۔دوسروں کی مو ت تمہارے واسطے عبرت اور ٹھوکر سے بچنے کا با عث ہو نی چاہئیے نہ کہ تم ہنسی ٹھٹھے میں بسر کر کے اورَ بھی خدا تعالیٰ سے غافل ہوجائو میںَ نے ایک جگہ تورات میںدیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ اس میں فر ما تا ہے کہ ایک وقت ہو تا ہے کہ جب میںَ ایک قوم کو اپنی قوم بنا ئی چاہتا ہوں تو اس کے د شمنوں کو ہلا ک کرکے اُسے خوش کر تا ہوں ۔مگر اُسی قوم کی بے اعتنائیوں سے ایک وقت پھر ایسا آجاتا ہے کہ اسکو تبا ہ کر کے دشمنوں کو خوش کرتا ہوں۔
    فر ما یا :۔
    کا میاب ہونیوالے
    اعمال دوقسم کے ہو تے ہیں بعض لو گ ایسے ہو تے ہیں کہ وہ دوسروں کی نظر میں نیک اور نمازی وغیرہ ہو تے ہیں مگر ان کا اندربدیوں اور گنا ہو ں سے بھرا ہو اہو تا ہے دوسرے وہ لوگ ہو تے ہیں جن کا ظاہر وباطن یکساں ہو تا ہے وہ عنداللہ تقویٰ پرقدم مارنے والے ہو تے ہیں ۔مگر ان دونومیں سے کا میا ب ہو نے والے وہی ہو تے ہیں جو عند اللہ متقی اور خدا کی نظر میں نیک ہو تے ہیں اور ان پر خدا تعالیٰ راضی ہو تا ہے صرف لاف کا م نہیں آسکتی۔
    اس وقت دو قوموں کا آپس میں مقابلہ ہے ۔ایک توہما رے مخالف ہیں اور دوسر ی ہما ری جما عت ۔اب خدا تعالیٰ دونوں کے دلوں کو دیکھتا اور ان کے اعما ل سے آگا ہ ہے وہی جا نتا ہے کہ ہما ری جما عت اس کی نگاہ میں کیسی ہے اور دشمن کیسے؟ اور وہ ان سے کہا ں تک ناراض ہے پس ہرایک کو چاہئیے کہ اپنا حسا ب خودٹھیک کرلے چاہئیے ۔کہ دوسروں کا ذکر کر تے وقت تقویٰ سے بھرے ہو ئے دل کے ساتھ اپنے اعمال کا خیال ہو کہ کہا ںتک ہم خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کر نیوالے ہیں یا صرف لا فیں ہی لا فیں ہیں ۔ابھی طاعون موقوف نہیں ہو گئی خدا جا نے کب تک اس کا دورہ ہے اور اس نے کیا کچھ دکھا نا ہے ۔ سات سال سے تو ہم برابردیکھتے ہیں کہ یوماََفیوماََبڑھتی ہی جا تی ہے اورپیچھے قدم نہیں ہٹاتی ۔ہرسال پہلے کی نسبت سناُ جا تا ہے کہ ترقی پر ہے ۔
    نا زک زما نہ
    زما نہ ایسا آیا ہو اہے کہ لوگ اپنے نفس کی اصلا ح کی طرف متوجہ ہو ں ۔ہزارہا انعامات اور خدا تعالیٰ کے فضل کے نشا نا ت ہیں اور عیش وعشرت میں زندگی بسر کرنے سے تو نفس کو شرم نہ آئی کہ خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے ۔مگر شاید اس قہری نشا ن کو دیکھ کر اپنی اصلا ح کی طرف متوجہ ہو ں ۔ افسوس انعامات اور احسانا ت الہیہٰ سے توشرمندہ نہ ہوئے اب اس عذاب ہی سے ڈرکرسنور جا ویں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ مسلما ن کہلا کر،مسلما نوں کی اولادہو کر اسلام اور رسول اللہ ﷺ کو اس طرح گالیاں دیتے ہیں جیسے چوڑھے چمارکسی کو نکالا کرتے ہیں ۔اللہ اور رسول سے ان کو بجزگالیوں کے اورَ کو ئی تعلق ہی نہیں ۔بٹے گندہ دہن اور پر لے درجہ کے عیاش ۔بدمعاش ۔بھنگی۔چرسی ۔قمارباز وغیرہ بن گئے ہیں۔
    اب ایسے لوگوں کی زجراورتوبیخ کے واسطے خدا تعالیٰ جوش میں نہ آوے تو کیا کرے؟ خداغیوّر بھی ہے وہ شاید العقاب بھی ہے ۔ایسے لوگوں کی اصلاح بھلابجز عذاب اور قہرالہیٰ کے نا زل ہو نے کے ممکن ہے ؟ ہرگزنہیں ۔چونکہ بعض طبائع عذاب ہی سے اصلاح پذیرہو تی ہیں ۔اس لیے ہرایک شخص کو چاہئیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے
    اذجاء اجلھم لایستاخرون ساعت ولا یستقدمون۔ (الاعراف:۳۵)
    جب عذاب الہیٰ نا زل ہو جا تا ہے توپھر وہ اپنا کا م کر کے ہی جا تا ہے اور اس آیت سے یہ بھی استنباط ہو تا ہے کہ قبل ازنزول عذاب توبہ استغفارسے وہ عذاب ٹل بھی جا تا ہے
    استغفار کی حقیقت
    گنا ہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہو ا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے استغفارکیا ہے ؟یہی کہ جو گناہ صادرہو چکے ہیں ان کے بدثمرات سے خدا تعالیٰ مفوظ رکھے اور جوابھی صادرنہیں ہوئے اور جوبالقوہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا وقت ہی نہ آوے اور اندر ہی اندروہ جل بھنُ کرراکھ ہو جاویں۔
    یہ وقت بڑے خوف کا ہے اس لیے توبہ و استغفار میں مصروف رہواور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو۔ہر مذہب وملّت کے لوگ اور اہل کتا ب مانتے ہیں کہ صدقات وخیرات سے عذاب ٹل جا تا ہے مگر قبل ازنزول عذاب مگر جب نا زل اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفا ظت کرے۔
    (البدر جلد ۲نمبر ۱۴ صفحہ ۱۰۶ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۶؍اپریل ۱۹۰۳ء؁
    مجلس قبل از عشاء
    حقیقتِ دُعا
    فرمایا کہ:۔
    ہمارے دوستوں کو بعض وقت دُعا کے متعلق ابتلا ء پیش آجاتے ہیں اسلیے مناسب معلوم ہوا کہ اُن کو دُعا کی حقیقت سے اطلاع دی جا وئے اور اسی لیے میَں نے حقیقت الدعا کے نام سے ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے مگر چونکہ طیبعت علیل رہی ہے اس لیے ختم نہیں کر سکا ۔
    رسول اللہﷺ کا تمام مدار دُعا پر ہی تھا اور ہر ایک شکل میں آپ دُعا ہی کر تے تھے۔ایک روایت سے ثابت ہے کہ آپ کے گیارہ لڑکے فوت ہوگئے ہیںتو کیا آپ نے اُن کے حق میںدُعا نہ کی ہو گی ؟آگ کل ایک غلط فہمی لوگوں کے دلو ں میں پڑھ گئی ہے اور یہ اس جہالت کے زمانے کی نشانی ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیںکہ فلاں بزرگ فلاں ولی کے پھونک مارنے سے صاحبِ کمال ہو گیا اور فلاںکے ہاتھ سے ُمردے زندہ ہوئے ۔
    بیعت اور توبہ
    چند احباب نے بیعت کی ۔ ان کو حضرت اقدس نے نصیحت فرمائی ۔بیعت میں انسان زبان کے ساتھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا ہے مگر اس طرحسے اس کا اقرار جائزنہیں ہو تا جب تک وہ دل سے اقرار نہ کرے ۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ جب سچے سل سے توبہ کی جاتی ہے تو وہ اُسے قبول کرلیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے
    اجیب دعوۃالداع اذادعاب
    یعنی میں تو توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں ۔خداتعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے کہ جو سچے دل سے توبہ کر نے والا کر تا ہے ۔اگر خداتعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر توبہ کا منظورہو ناایک مشکل امر تھا ۔سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ پھر خداتعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اُس نے توبہ کرنیوالوںکے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلّی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے ۔جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گُناہوں سے بچُوں گا اور دین کو دنیا پر مقّدم رکھوں گا تو اس کہ یہ معنی ہیںکہ اگر چہ مجھے اپنے بھائیوں ،قریبی رشتہ داروں اور سب دوستوں سے قطع تعلّق ہی کرنا پڑے مگر مَیں خدا تعالیٰ کو سب سے مقّدم رکھونگا اور اسی کیلئے اپنے تعلقات چھوڑتا ہوں ۔ایسے لوگوں پر خداتعالیٰ کا فضل ہو تا ہے کیونکہ انہی کی توبہ دلی توبہ ہو تی ہے ۔
    پھر جو لوگ دل سے دُعا کرتے ہیں ۔خداتعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے جیسے خداتعالیٰ آسمان زمین اور سب اشیاء کا خالق ہے ویسے ہی وہ توبہ کا بھی خالق ہے اور اگر اس نے توبہ کو قبول کرنا نہ ہو تا تو وہ اُسے پیداہی نہ کرتا ۔گناہ سے توبہ کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔سچی توبہ کرنیوالا خداتعالیٰ سے بڑیبڑے انعاما پاتا ہے ۔یہ اولیا ،قطب ،غوث کے مراتب اسی واسطے لوگوں کو ملے ہیں کہ وہ توبہ کرنے والے تھے اور خداتعالیٰ سے ان کا پاک تعلق تھا اس واسطے ہرگز نہیں ہے کہ وہ منطق ،فلسفہ اور دیگر علوم طبعیہ وغیر ہ میں ماہر تھے ۔جو لوگ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں وہ ان بندوں میں داخل ہو جاتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ رحم کرتا ہے۔
    اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چاہیئے کہ مَیں مالدار ہو جائوں گا ۔مجھے فلاں عہدہ ملِ جاوے گا ۔یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا تعالیٰ بیزار ہے ۔بعض وقت مصلحت الہی یہی ہو تی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہو تی ۔طرح طرح کے آفات ،بلائیں ،بیماریاں اور نامرادیاں لاحق حال ہو تی ہیں مگر اُن سے گھبرانا نہ چاہیئے ۔موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیا موت سے بچ جاویگا ؟غریبی میں بھی مرنا ہے ۔بادشاہی میں بھی مرنا ہے اس لیے سچی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہیئے۔
    خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہر گزنہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے ۔وہ اُسے خائب وخاسر کرے اور ذلّت کی مو ت دیوے جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہو تا ۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا تعالیٰ سے سچاّ تعلق تھا اور پھر وہ نا مراد رہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چا ہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے اورخالص ہو کر اس کی طرف جھُک جا وے جو اس طرح جھُکتا ہے اسے کو ئی تکلیف نہیں ہو تی اور ہر ایک شخص مشکل سے خودبخود اس کے واسطے ر اہ نکلِ آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فر ما تا ہے
    من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاویر زقہ من حیث لایحتسب(الطلاق :۳،۴)
    اس جگہ رزق سے مراد روٹی وغیرہنہیں بلکہ عزت ۔علم۔وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کوضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرّہ بھربھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائعنہیں ہو تا ۔
    من یعمل متقال ذرّہ خیرایرہ(الزلزال:۸)
    ہما رے ملک ہندوستان میں نظام ا لدین صاحب اور قطب ا لدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزت کی جا تی ہے وہ اسی لیے ہے کہ خدا تعالیٰ سے اُن کا سچاّ تعلقّ تھا اور اگر یہ نہ ہو تا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوںمیں ہل چلاتے ۔معمولی کا م کرتے ۔مگر خدا تعالیٰ کے سچّے تعّلق کی وجہ سے لو گ ا ُن کی مٹی کی بھی عزت کرتے ہیں ۔
    خداتعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جا تا ہے ۔دشمن چاہتے ہیں کہ ان کا نسیت ونا بودکریں مگر وہ روزبروزترقی پا تے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جا تے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے
    کتب اللہ لا غلبن اناورسلی (المجادلہ:۲۲)
    یعنی خدا تعالیٰ نے لکھدیا ہے کہ میںَ اورمیرے ُرسول ضرورغالب رہیں گے اوّل اوّل جب انسا ن خدا تعالیٰ سے تعلق شروع کر تا ہے تو وہ سب کی نظروں میں حقیر اورذلیل ہو تا ہے مگر جوں جوں وہ تعلقات الہیٰ میں ترقی کر تا ہے توںتوں اس کی شہرت زیا دہ ہو تی ہے حتیٰ کہ وہ ایک بڑابزرگ بن جا تا ہے جیسے خدا تعالیٰ بڑا ہے اسی طرح جو کوئی اس کی طرف زیا دہ قدم بڑھا تا ہے وہ بھی بڑا ہو جا تا ہے حتیٰ کہ آخرکا ر خدا تعالیٰ کا خلیفہ ہو جا تا ہے ۔
    اس توبہ کو کھیل نہ خیا ل کرو اور یہ نہ کرو کہ اسے یہیں چھوڑجائو بلکہ اسے ایک اما نت اللہ تعالیٰ کی خیال کرو۔تو بہ کرنے والاخدا تعالیٰ کی اس کشتی میں سوارہو تا ہے جو کہ اس طوفا ن کے وقت اس کے حکم سے بنائی گئی ہے اس نے مجھے فر ما تا ہے
    واضعالفلک
    اور پھریہ بھی فر ما یا ہے
    انالذین یبایعونکانمایبایعوناللہ ۔یداللہ فوق ایدیھم۔
    جس طرح با دشاہ اپنی رعایامیں اپنے نائب کو بھیجتاہے اور پھر جو اس کا مطیع ہو تا ہے اسے بادشاہ کا مطیع سمجھا جا تا ہے ایساہی اللہ تعالیٰ بھی اپنے نائب دنیا میں بھیجتا ہے آجکل توبہ ایک بیج ہے جس کے ثمرات تمہارے تک ہی نہ ٹھہریں گے بلکہ اولا د تک بھی پہنچیں گے ۔سچے دل سے توبہ کرنے کے گھر رحمت سے بھرجا تے ہیں ۔
    دنیوی لوگ اسبا ب پربھروسی کرتے ہیں مگراللہ تعالیٰ اس با ت کے لیے مجبورنہی ہے کہ اسبا ب کا محتا ج ہو۔کبھی چا ہتا ہے تو اپنے پپاروں کے لیے بلااسبا ب بھی کا م کردیتا ہے اور کبھی اسبا ب پیدا کرکے کر تا ہے اور کسی وقت ایسا بھی ہو تا ہے کہ بنے بنائے اسبا ب کو بگاڑدیتا ہے ۔
    غرض اپنے اعما ل کو صاف کرواور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکرکرواورغفلت نہ کرو ۔جس طرح بھاگنے والاشکارجب ذراسُست ہو جا وے تو شکاری کے وقابومیں آجا تاہے ۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کر نے والاشیطان کا شکا ر ہو جا تا ہے ۔ تو بہ کو ہمیشہ زندہ رکھواور کبھی مردہ نہ ہو نے دو۔ کیو نکہ جس عضو سے کا م لیا جا تا ہے وہی کا م دے سکتا ہے اور جس کو بیکا رچھوڑدیا جا وے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے نا کا رہ ہو جا تا ہے ۔اسی
    طرح تو بہ کو بھی متحرک رکھوتاکہ وہ بیکا رنہ ہو جا وے ۔اگر تم نے سچی تو بہ نہیں کی تو بہ کی بیج کی طرح ہے جو پتھرپربویا جا تا ہے اور اگر وہ سچی تو بہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لا تا ہے ۔آج کل اس تو بہ میں بڑی بڑی مشکلا ت ہیں ۔اب یہاںسے جا کر تم کو بہت کچھ سنناپڑیگا اور لا گ کیا کیا با تیں بنائیں گے کہ تم نے ایک مجذوم ۔کا فر ۔دجا ل وغیرہ کی بیعت کی ۔ ایسا کہنے والوں کے سامنے جو ش ہر گزمت دکھا نا ۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کے واسطے ما مور کئے گئے ہیں ۔اس لیے چاہئیے کہ تم ان کے لیے دعا کرو کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے اور جیسے کہ تم کو امیدہے کہ وہ تمہا ری با توں کو ہرگز قبول نہ کریں گے تم بھی ان سے منہ پھیر لو۔ہما رے غالب آنے کے ہتھیار استغفار ۔تو بہ ۔دنیی علوم کی واقفیت ۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدنظررکھنا اور پا نچو ں وقت کی نما ز وںکو ادا کر نا ہیں ۔نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے جب نما ز پڑھوتو اس میں دعا کرو اورغفلت نہ کرو۔اور ہرایک بدی سے خواہ وہ حقوق الہیٰ کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو۔
    (البدر جلد ۲نمبر ۱۴ صفحہ ۱۰۶ ۔۱۰۷مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۷؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    (صبح کی سیر)
    صحابہؓ کی فضیلت
    فر ما یا :۔
    لاتلھیھم تجارت و لابیع عن ذکراللہ(نور:۳۸)
    یہ ایک ہی آیت صحابہؓ کے حق میں کا فی ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور انگر یز بھی اس کے معترف ہیں کہ ان کی کہیں نظیرملنا مشکل ہے ۔با دیہ نشیں لو گ اور اپنی بہادری اور جاأ ت تعجب آتا ہے ۔
    طا عون کا علا ج
    طا عون کا علا ج کے متعلق ذکر آنے پر فر ما یا :۔
    مجھے سمجھ نہیں آتا کہ طاعون کو کوئی قطعی علاج ہو ۔اس کے زدرکیوقت اور اس بیماری میں مبتلاشدیدکو اگر کو ئی دوائی فا ئدہ کرے تب تو ما ن لیں ۔جب زہریلے موادنہایت تیزی سے پیداہو رہے ہوں۔اس وقت کسی دوائی کا عمل دکھلائوسہی ۔اس کا نسخہ تو محض اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔
    نسیم توحید
    اس خدا تعالیٰ کی طرف سے امیدہے کہ وہ دن قریب ہیں کہ ہما را غلبہ ہو جا وے کیونکہ آثارسے معلوم ہو تا ہے کہ رفتہ رفتہ لو گ توحید کی طرف رجوع کرتے جاتے ہیں عیسائیوںنے مسیح کی خدائی پراب اتنا زوردینا چھوڑدیا ہے ۔ہنودمیں آریہ تو حید طرف مائل ہو رہے ہیں پس یہ ایک ہو اچل پڑی ہے جب ان سب لو گوں نے اپنے اصول چھوڑدہئے ہیں تو ان کی تو خود کشی ہو رہی ہے ۔
    جیسے چھ مہینے کے بعد کھیتی کی حالت کچھ اورَ ہی ہو جا تی ہے اسی طرح ان لوگوں کے عقائدمیںبینّ فرق نظر آتا جا تا ہے ۔
    ایک اکیلے آدمی کا کام ہرگز نہیں کہ کسرِ صلیب کرسکے مگر ہا ں جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ساتھ ہو تو پھرملا ئک اس کی امدادمیں کا م کرتے ہیں ۔
    نزوِل مامور
    جب مامور مامور ہو کرآتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نا زل ہو تے ہیں اور دلوںمیں اسی طرح نیک اور پا ک خیالات کو پیداکرتے ہیں جیسے اس سے پہلے شیاطین بُرے خیا لا ت پیدا کیاکرتے ہیں۔جیسے اس سے پہلے شیا طین بُرے خیالات پیدا کیا کر تے ہیں اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے آنے سے یہ تحریکیں پیداہوتی ہیں ۔ اسی طرح فرمایا ۔
    اِنًّااَنذَلٗنٰہُ فِی لَیٗلَۃِ الٗقَدٗرِ ۔ وَمَا اَد’رٰیکَ مَالَیلَتہُ القد ر ۔ (القدر:۲‘۳ )
    خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میںملائک نازل ہو ں ۔ کیا یہ کام بغیر امداد الیٰ کہیں ہو سکتاہے ؟کیا یہ سمجھ میں آسکتاہے کہ ایک شخص خود بخود اُٹھے اور کسرِصلیب کر ڈالے نہیں ۔ہاں اگر خدااُٹھاوے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔
    یہ کسرِ صلیب اعزازاً اور اکراماًمسیح موعود کی طرف منسوب کی جاتی ہے ورنہ کرتا تو سب کچھ خداہے یہ باتیںعین وقت پر واقع یوئی ہیں قرآن سے بہ تصریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ وہی ہے جس کا نام خداتعالیٰ نے رکھا ہے ستہ ایام۔ چھٹے دن کے آخری حصّہ میںآدم کا پیدا ہونا ضروری تھا براہین میںاسی طرف اشارہ ہے
    اردت ان استخلف فخلقت ادم ۔
    پھر فر مایا ان یوماعندربک کالف سنتہ مما تعدون (الحج :۴۸ )
    آج سے پہلے جو ہزاربرس کذرا ہے وہ با عتباربداخلاقیوںاور بداعمالیوں کے تا ریکی کا زما نہ تھا کیو نکہ وہ فیق وبا قی ایک ہزار ہی رہ جا تا ہے ورنہ اس کے بغیر احادیث کی مطابقت ہو ہی نہیں سکتی اور اس طرح پر پہلی کتا بوں سے بھی مطا بوت ہو جا تی ہیں اور وہ با ت بھی پو ری ہو تی ہے کہ ہزار سال تک شیطان کھُلارہے گا یہ با ت بھی کیسی پو ری ہو تی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہ،ا رے مسیح کو دوبا رہ آنا چاہئیے ۔یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہے کہ کو ئی مذہب اس سے انکار کرہی نہیں سکتا ۔یہ ایک علمی نشا ن ہے جس سے گریز نہیں ہو سکتا۔
    رویاء کا اختتام
    ایک بھائی کے خواب بیان کرنے پر فر ما یا:۔
    یہ خواب ایک عجیب با ت پر ختم ہو ا ہے ۔شیطان انسا ن کو طرح طرح کے تمشلات سے دھوکہ دینا چا ہتا ہے مگر معلوم ہو اہے کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیو نکہ اس رئویا کا اختتام اچھی جگہ پرواقع ہو اہے ۔ایسا اکثر ہو اکر تا ہے چنانچہ ایک ولی اللہ کا تذکرہ لکھا ہیَ کہ جب ان کا انتقال ہو اتواُن کا آخری کلمہ یہ لگا کہ یہ کیا کعاملہ ہے ایک دن خواب میں اُن سے ملاقات ہو گئی ۔دریافت کیا کہ یہ آخری لفظ کیا تھا اور آپ نے کیاں کہا تھا ؟آپ نے جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہرایک انسا ن پر حملہ کرتا ہے کہ اس کا نورِ
    ایما ن اخیروقت پرچھین لے ۔اس لیے حسب معمول وہ میرے پا س بھی آیااور مجھے مرتدکرنا چاہا اور میںَنے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہا تھ سے بچ نکلا ۔اس لیے میںَنے کہا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں یعنی جب تک میںَ مرنہ جائوں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں۔
    ایک رئویاء
    پھرفرمایا:۔
    آج رات مجھے خواب آیا ہے نہ معلوم اس کا اصل مہفوم کیا ہے میںَنے اس کے لفظوں سے اجہتادی معنے نکالے ہیں ۔جیسا کہ میںَ کسی راستہ پر چلاجا تا ہوں ۔گھرکے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو میںَ نے گود میں لیا ہو اہے بعض جگہ نشیب وفرازبھی آجا تا ہے جیسے کہ دیوار کے برابرچڑھناپڑتا ہے مگر آسانی سے اُتر چڑھ جا تا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے ۔ارادہ ہیکہ ایک مسجدمیں جا نا ہے ۔جا تے جاتے ایک گھر میں داخل ہو ئے ہیں ۔گویا وہ گھر مسجد موعود ہے جس کی طرف ہم جا رہے ہیں اندرجا کردیکھا ہے کہ ایک عورت بعمر۱۸سال سفیدرنگوہاں بیٹھی ہے ۔اس کے کپڑے بھورے رنگ کے ہیں مگر بہت صاف ہیں ۔جب اندرگئیہیںتوگھروالوں نے کہاہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے اور یہیںخواب ختم ہو گئی۔
    (الحکم جلد۷نمبر۱۵ صفحہ۶مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    استفساراوراُن کے جواب ۱؎
    اہل بیت سے مراد
    سوال:۔ ا
    نمایریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیر(اخراب:۳۴)
    کس کی شان میںہے۔
    جواب:۔اگرقرآن شریف کودیکھاجاوے توجہاںیہ آیت ہے وہاںآنحضرت ﷺ کی بیویوںہی کا ذکر ہے ۔سارے مفسراس پرمقفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُمہات المومنین کی صفت اس جگہ بیانفر ما تا ہے دوسری جگہ فرما یاہے ۔ا
    الطیبت للطیبین(نو۔۲۷)
    یہ آیت چاہتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گھروالے طیبات ہوں ۔وہاں اس میں صرف بیبیاںہی شامل نہیں بلکہ آپ کے گھرکی رہنے والی ساری عورتیںشامل ہیں اور اس لیے اس میںبنت بھی داخل ہو سکتی ہے بلکہ اور جب فاطمہ رضی اللہ عنہاداخل ہوئیںتو حسنینؓ بھی داخل ہو ئے ۔پس اس سے زیا دہ یہ آیت وسیع نہیں ہو سکتی جتنی وسیع ہو سکتی تھی۔ہم نے کردی ۔کیونکہ قرآن شریفازواج کو مخاطب کرتا ہے اور بعض احادیث نے حضرت فاطمہ اور حسنینؓکو مطہرّین میں داخل کیا ہے پس ہم نے شیعہنے ازواج مطہرات کو سب دشتم سے دیا کیا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا کریںگے اس لیے ازوقت اُن کی برأت کردی۔
    بعض مخالفین کا طاعون سے بچنا
    سوال :۔ بعض مخالف کہ ہم پر کیوںطاعون نہیں آتی؟
    جواب:۔ فر ما یا کہ :۔
    ایک تنگ دروازہ سے جب لاکھ آدمی گذرنے والاہے تو کیا وہ سب کے سب ایک ہی دفعہ گذرجائینگے؟یا کسی آدمی نے لاکھ آدمی کی دعوت کی ہے تو کیا سب کو ایک دم کھا نا کھلادیگا؟ نہیں بلکہ نو بت بہ نوبت۔
    طاعون کا دورہ بہت لمبا ہے ابھی سے کیوں گھبراتے ہیں ۔دوچارموٹے مخالفوں کی ہی وجہ سے توانواروبرکا ت اور خوارق کا نزول ہو تا ہے اور ہو گا ۔ابھی کو ہذایتبھی ہو گی اور خدا تعالیٰ کا قانون اسی طرح پرچلاآتا ہے ۔
    کیف تحی الموتی کی تفسیر
    سوال :۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا رب ارنی کیف تحی الموتی (البقرہ:۲۶۱)اس سے کیاغرض ہے ؟
    جواب:۔ اُس میں اللہ تعالیٰ کا مطلب جس کوسّرِالہیٰ سمجھنا چاہئیے یہ ہے کہ ہرایک چیزمیریآوازسنتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوںکے زندہ ہو نے پر کو ئی شک پیدانہیں ہو ا ۔کیونکہ ہم تو ہرروزدیکھتے ہیں کہ متعفن پا نی اور اغذیہ میں سے جا نور پیداہو جاتے ہیں ۔پیٹ میں بچہ پیداہو جا تا ہے کیا وہ پہلے مردہ نہیںہو تا ؟پس واقعات سے انکار کر نے والا تو بڑا احمق ہو تا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اصل ّسرسے واقف ہو نا چاہتے تھے پس خدا تعالیٰ نے فر ما یا کہ ہرایک چیزمیری آوازسنتی ہے جیسے پرندے تمہاری آواز سنکردوڑے چلے آتے ہیں اسی طرح ہر ایک چیزمیری آواز سنتی اورمیرے پاس دوڑی چلی آتی ہے ۔یہانتک کہ ادویہ اوراغذیہ جو انسا ن کے پیٹ میں جا تی ہیںاور ہرذرّہ ذرّہ میری آوازسنتا ہے پس یہاں اللہ تعالیٰ ایمان اورمعرفت کا یقین دلانا چاہتاہے ۔
    اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مخلوق کو خالق سے ایک باریک کشش ہو تی ہے جیسے کسی کا شعرہے ؎
    ہمہراروئیدرخدا دیدم : وآںخدابرہمہ ترایدم
    خدا تعالیٰ نے جو ملائک کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرّہ ذرّہ پرصادق آسکتی ہے جیسے فر ما یا
    ا ن من شییء الایسبح بحمدہ(اسرائیل :۴۵)
    ویسے ملائکہ کی نسبت فر ما یا
    یفعلون مایومرون (الخل:۵۱)
    ــاس کی تشریح نسیم دعوت میں خوب کردی ہے۔ہر ایک زرہ ملا ئکہمیں داخل ہے کہ اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھو ٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کو ددہریہ بنا دیتا ہے
    غر ض اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ دیکھانا مقصود ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تابع ہے اگر اس سے انکار کیا جاوے تو پھرتو خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت نہیں ہو سکتا اخیر میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز اور حکیم بیان کی ہے یعنی اس کا غلبہ قہری ایسا ہے کہ ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر رہی ہے بلکہ جب خداتعالیٰ کا قرب انسان حاصل کر تا ہے تو اس انسان کی طرف بھی ایک کشش پیدا ہو جا تی ہے۔جسکا ثبوت سو رۃالعادیات میں ہے عز یز ،حکیم سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اس کا غلبہ حکمت سے بھر ا ہو ا ہے نا حق کا دکھ نہیں ہے۔
    (الحکم جلد۷نمبر۱۵ صفحہ۹مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۹؍اپریل۱۹۰۳ء؁
    (صبح کی سیرَ)
    حق وباطل
    فر ما یا:۔
    حق اپنے زوراورقوت اور اس کے ساتھ باطل بھی ضرورچلتا ہے لیکن باطل اپنی قوت اور طاقت سے نہیں چلتا بلکہ ہے کیونکہ حق چاہتا ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ باطل بھی چلے تا کہ تمیز ۔کا ذبوں اور منکروں کے وجود سے بہت سی تحریکیں ہو جا تی ہیں ۔مگر آنحضرت ﷺ کی بعثت کے دن ہی سارامکہّ آمنّا وصدقفاکہہ کرساتھ ہو لیتا تو پھر قرآن شیریف کا نزول اسی دن بندہو جا تا اور وہ اتنی بڑی کتا ب نہ ہو تی قدرزورسے با طل حق کی مخالفت کرتا ہے اسی قدرحق کی قوت اور طاقت تیز ہو تی ہے ۔زمینداروں میں بھی یہ با ت مشہور ہے کہ جتنا جیٹھ ہا ڑ تپتاپے اسی قدر ساون میں بارش زیادہ ہو تی ہے یہ ایک قدرتی نظارہ ہے حق کی جس قدرزور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھا تا ہے ۔
    ہم نے خودآزما کردیکھاہے جہاں جہاں پماری نسبت زیادہ شوروغل ہو ا ہے وہاں ایک جما عت تیا ر ہو گئی اور جہاں لوگ اس بات کو سنکرخاموش ہو جاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوتی ۔فتح کیلئے اوّل لڑائی کا ہو نا ضروری ہے اگر لڑائی نہ ہو تو فتح کا وجود کہاں سے آئے ؟پس اسی طرح اگر حق کی مخا لفت نہ ہو تو اس کی صداقت طرح کھُلے؟
    مرکزمیں نمازوںکا قصر
    نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ ؟ فر ما یا :۔
    جو شخص تین دن کے واسطے یہا ں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ دوتین چار کوس کا ہی سفر کیوں نی ہو اس میں قصر جائزہے۔یہ ہماری سیرَ سفر نہیں ہے ۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھیپوری ہی نماز پڑھنی چاہئیے ۔حکام کادورہ سفر نہیں ہو سکتا ۔وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے با غ کی سیرَ کرتا ہے ۔خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کو ئی وجودنہیں ۔اگر دوروں کی وجہ سے انسا ن قصر کر نے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہو گا جس کا کوئی ثبوت ہما رے پا س نہیں ہے حکا م کہاں مسافر کہلاتے ہیں ۔سعدیؒ نے بھی کہاہے ؎
    منعم بکوہودشت وبیاباں غریب نیست
    ہرجاکہ رفت خمیہ ز د و خو ابگاہ سا خت
    نکاح پرباجااورآتش بازی
    نکاح پرباجا بجانے اورآتش بازی چلانے کے متعلق سوال ہوا فر ما یا کہ :۔
    ہما رے دین کی بنایُسر پر ہے عسرپرنہیں اور پھر
    انماالاعمال با لنیات
    ضروری چیزہے باجوں کا وجود آنحضرت ﷺ کے زما نہ میں نہ تھا۔اعلان نکاح جس میں فسق وفجورنہ ہو ۔جائزہے بلکہ بعض صواتوں میں حروی شئے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدما ت تک نوبت پہنچتی ہے پھر وراثت پراثر پڑتا ہے ۔اس لیے اعلان کر نا ضروری ہے مگر ا س میںکو ئی ایسا امرنہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو ۔رنڑی کا تما شا یاآتش با زی فسق وفجوراور اسراف ہے یہ جائزنہیں ۔
    با جے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے کھرسے چلتی ہے کیا اسی وقت سے با جا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد ؟فر ما یا :۔ایسے سوالات اورجزودَر جزونکالنابے فا ئدہ ہے ۔اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان وشوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی با جا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ۔اسلامی جنگوں میں بھی توباجابجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہو تا ہے ۔
    نیک نیتی میں برکت ہے
    ایک زرگرکی طرف سے سوال ہو اکہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملادیتے تھے ۔اب ملاوٹ چھوڑدی ہے اور مزدوری زیا دہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دینگے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملالو۔ایسا کا م ہم ان کے کہنے سے کریں یا نہ کریں ؟فر ما یا :۔
    کھوٹ والا کام ہرگز نہیں کر نا چاہئیے اور لوگوں کو کہہ دیا کروکہ اب ہم نے تو بہ کرلی ہے جو ایسے کہتے ہیں کہ کھوٹ ملادو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں ۔پس ایسا کام اُن کے کہنے پر بھی ہرگز نہ کرو ۔بر کت دینے والا خدا ہے اور جب آسمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خدا ضرور بر کت دیتا ہے۔
    مُردے اور اسقاط
    پھر سوال ہوا کہ ملّا ں لوگ مُردوں کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟ فرمایا :۔اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے ۔مُلّائوں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں ۔یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
    مقد مات میں مصنوعی گواہ بنانا
    ایک مختار کار عدالت نے سوال کیا کہ بعض مقد مات میں اگرچہ وہ سچا اور صداقت پر ہی مبنی ہو مصنوعی گواہ بنانا کیسا ہے ؟فر مایا :۔
    اوّل تو اس مقدمہ کے پیرو کا ر بنو جو بالکل سچاہو ۔یہ تفتیش کولیا کرو کہ مقدمہ سچا ہے کہ جھوٹا۔ پھر سچ آپ ہی فروغ حاصل کر یگا۔دوم گواہوں سے آپ کا کچھ واسطہ ہی نہیں ہو نا چاہیئے۔ یہ موکل کا کام ہے کہ وہ گواہ پیش کرے۔ یہ بہت ہی بُری بات ہے کہ خود تعلیم دی جاوے کہ چند گواہ تلاش کرلائو اور ان کو یہ بات سکھا دو ۔تم خود کچھ بھی نہ کہو۔موکل خود شہادت پیش کرے خواہ وہ کیسی ہی ہو ۔
    ہر صحیح بات کا ا ظہار ضروری نہیں
    پھر سوال ہوا کہ بعض باتیںواقعہ میں صحیح ہوتی ہیں مگر مصلحتِ وقت اور قانون ان کے اظہار کا مانع ہو تا ہے تو کیا ہم
    لاتکتموا الشھادۃ
    کے موافق ظاہر کودیا کریں ؟فر مایا :۔
    یہ بات اس وقت ہو تی ہے جب آدمی آزاد بالطبع ہو ۔دوسری جگہ یہ بھی تو فرمایا ۔
    لاتلقو بایدیکم الی التھلکۃ (البقر:۱۹۶)
    قانون کی پابندی ضروری شے ہے ۔جب قانون روکتا ہے تا رکنا چاہیئے جب کہ بعض جگہ اخفائِ ایمان بھی کرنا پڑتا ہے توجہاں قانون بھی مانع ہو وہاں کیوں اظہار کیا جاوے ؟جس راز کے اظہار سے خانہ بربادی اور تباہی آتی ہے وہ اظہار کرنا منع ہے۔
    نتائج نیت پر مرتب ہو تے ہیں
    مکرر آتش بازی کے متعلق فرمایا کہ
    اس میں جزو گندھک کا بھی ہو تا ہے اور گندھک وبائی ہوا صاف کرتی ہے۔چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاًانار بہت جلد ہو اکو صاف کرتا ہے اور اگر کوئی شخص صحیح نیت اصلاحِ ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلاوے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں۔مگر بہ شرط ۔اصلاح نیّت کے ساتھ ہو ۔کیونکہ تمام نتائج نیّت پر مرتب ہو تے ہیں ۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابی ؓنے گھر بنوایا اور آپؐکو مجبور کیا کہ آپ ؐ اس میں قدم ڈالیں ۔آپؐ نے اس مکان کو دیکھا۔اس کے ایک طرف کھڑکی تھی ۔آپؐ نے دریافت کیا کہ یہ کس لیے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہو ا کے آنے کے واسطے۔آپؐ نے فرمایا اگر تواذان سننے کے واسطے اس کی نیّت رکھتا تو ہوا تو آہی جاتی اور تیری نیّت کا ثواب بھی تجھے مِل جاتا ۔
    (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ صفحہ ۱۰ مورخہ ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    توحید اور اسباب پرستی
    توحید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے
    اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد ارسول اللہ
    کہہ لیا۔بلکہ توحید کہ یہ معنی ہیں کہ عظمتِ الٰہی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے اور اس کے آگے کسی دوسری شئے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے۔ ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک امر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے کسی غیر اللہ پر کسی قسم کی نظر اور توکل ہرگز نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات میںاور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جاوے۔
    اس وقت مخلوق پرستی کے شرک کی حقیقت تو کُھل گئی ہے اور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں اس لئے یورپ وغیرہ تمام بلاد میں عیسائی کوگ ہر روز اپنے مذہب سے متنفّر ہو رہے ہیں ۔چنانچہ روز مرہ کے اخباروںرسالوں اور اشتہاروں سے جو یہاں پڑھے جاتے ہیں اس بات کی تصدیق ہو تی ہے۔
    الغرض مخلوق پرستی کو اب کوئی نہیں مانتا ۔ہاں اسباب پرستی کا شرک اس قسم کا شرک ہے کہ اس کو بہت سے لوگ نہیں سمجھتے ۔مثلاًکسان کہتا ہے کہ میَں جب تک کھتی نہ کرونگا اور وہ پھل نہ لاوے گی تب تک گذارہ نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح ہر ایک پیشہ والے کو اپنے پیشہ پر بھروسہ ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو پھر زندگی محال ہے ۔اس کا نام اسباب پرستی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ خداتعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے پیشہ وغیرہ تو درکنار پانی ،ہوا، غذاوغیرہ جب اشیاء پر مدارِزندگی ہے یہ بھی انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک خداتعالیٰ کا اذن نہ ہو ۔اسی لئے جب انسان پانی پئے تو اسے خیال کرنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی پیدا کیا اور پانی نفع نہیں پہنچاسکتا جب تک خداتعالیٰ کا ارادہ نہ ہو ۔خداتعالیٰ کے ارادے سے پانی نفع دیتا ہے اور جب خداتعالیٰ چاہتا ہے تو وہی پانی ضرر دیتا ہے۔
    ایک شخص نے ایک دفعہ روزہ رکھا جب افطار کیا تو پا نی پیتے ہی لہیٹ گیا اس کے لیء پا نی ہی نے زہر کا کام کیا ۔
    جو کام ہے خواہ معاشرہ کا خواہ کو ئی اور جب تک اس میں آسمان سے برکت نہ پڑے تب تک مبا رک نہیں ہو تا ۔غرضکہ اللہ تعالیٰ کے تصرفا ت پر کامل یقین چا ہیئے جس کا یہ ایمان نہیں ہے اس میں دہریت کی ایک رگ ہے پہلے ایک امر آسمان پر ہو رہتا ہے تب زمین پر ہو تا ہے ۔
    لا ف وگزاف کا نا م تو حید نہیں مو لویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کر تے اور آپ کچھ عمل نہیں کر تے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبا ر نہیں رہا ہے ایک مو لوی کا ذکر ہے کہ وہ وعظ کر رہا تھا سا معین میں اس کی بیوی بھی مو جو د تھی صدقہ ،خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا اس سے متا ثر ہو کر ایک عورت نے پا ؤں سے ایک پا زیب اتا ر کر و اعظ صاحب کو دیدی جس پر واعظ صاحب نے کہا تو چا ہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤ ں دوزخ جلے ؟یہ سنکر اس نے دوسری بھی دیدی جب گھر میں آئے تو بیوی نے بھی اس وعظ پر عملدرآمد چا ہا کہ محتاج کو کچھ دے مو لوی صاحب نے فر ما یا کہ یہ با تیں سنا نے کی ہو تی ہیں کر نے کی نہیں ہو تیں اور کہا کہ اگر ایسا کا م ہم نہ کر یں تو گذارہ نہیں ہو تا انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل ہے ؎
    واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر مے کنذ ؛ چو ں نجلوتمے روندآں کا ردیگر مے کنذ
    تعبیر رؤیا
    بڑ۔ یع نی بو ہڑ کے درخت سے مراد نصاری ٰ کا دین ہے کہ جس کی عظمت اور سر کشی تو بہت ہے مگر پھل ندارد۔ (البدر جلد۲نمبر۱۴صفحہ۱۰۷۔۱۰۸مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۰؍ اپر یل ۱۹۰۳؁ء
    بعد نماز جمعہ چند اشخاص نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فر ما ئی :۔
    بیعت ِتو بہ
    اس وقت جو تم بیعت کر تے ہو بیعت تو بہ ہے اللہ تعالیٰ وعدہ فر ما تا ہے کہ جو کو ئی تو بہ کر یگا اس کے گناہ بخش دو نگا گنا ہ کے معنے ہیں کہ انسان دیدہ دانستہ اللہ تعالیٰ کی نا فر ما نی کر ے اور ان احکام کے بر خلاف کر ے جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور ان با توں کو کر ے جن کے کر نے سے منع فر ما یا ہے گنا ہ ایسی چیز ہے کہ جس کا نیتجہ اس دنیا میں بھی بد ملتا ہے اور آخرت میں بھی ۔
    جب انسان تو بہ کر تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گنا ہوں کو فر اموش کر دیتا ہے اور تا ئب کو بیگنا ہ سمجھتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تا ئب اپنی تو بہ پر قائم رہے بہت لو گ ایسے ہیں کہ تو بہ بھول جا تے ہیں مثلاًحج کر نیوالے حج کر نیوالے کر کے آتے ہیں اور واپس آکر چند دنوں کے بعد پھر سا بقہ بد یوں میں گرفتا ر ہو جا تے ہیں تو ان کے اس حج سے کیا فا ئدہ ؟خدا تعا لیٰ گنا ہوں سے ہمیشہ بیزار ہے اس لیے انسان کو گنا ہ سے ہمیشہ بچنا چا ہیئے جو شخص اس با ت پر قادر رہے ۔کہ گنا ہ چھوڑ دے اور پھر نہ چھوڑے تو خدا تعالیٰ ایسے شخص کو ضرور پکڑے گا اگر تم چا ہتے ہو کہ اس تو بہ کے درخت سے پھل کھا ؤ اور تمہارے گھر وبا ؤں سے بچے رہیں تو چا ہیئے کہ سچی تو بہ کرو۔
    خدا تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بد لا کرتا جیسے قرآن شریف میں ہے ۔
    ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا(فا طر :۴۴)
    اور جو انسان ذراسی بھی نیکی کر تا ہے تو خدا تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرتا اسی طرح جو ذرہ بھر بد ی کر تا ہے اس پر بھی خدا تعالیٰ مواخذ ہ کر تا ہے پس جب یہ حالت ہے تو گنا ہ سے بہت بچنا چا ہیئے ۔
    گنا ہ کی پروا ہ نہ کر نی
    بعض لوگ گنا ہ کر تے ہیں ۔اور پھر اس کی پرواہ نہیں کر تے گو یا گنا ہ کو ایک شیریں شر بت کی مثال خیا ل کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کو ئی نقصان نہ ہو گا یا دریکھیں کہ جیسے خدا تعالیٰ بڑا غفور اور رحیم ہے ویسے ہی وہ بڑا بے نیاز بھی ہے جب وہ غضب میں آتا ہے تو کسی کی پورا نہیں کر تا وہ فر ما تا ہے
    ولا یخاف عقبھا(الشمس :۱۶)
    یعنی کسی کی اولاد کی بھی اسے پروا نہیں ہو تی کہ اگر فلاں شخص ہلا ک ہو گا تو اس کے یتیم بچے کیا کر یں گے آجکل دیکھو یہی حا لت ہو رہی ہے آخر کاس رایسے بچے پاردیوں کے ہاتھ پڑ جا تے ہیںاس لیے گنا ہ کر کے کبھی بے پروا مت رہو اور ہمیشہ تو بہ کرو۔
    نماز اور دعا کا حق
    یہ مت خیا ل کرو کہ جو نماز کا حق تھا ہم نے ادا کر لیایا دعا کا جو غق تھا وہ ہم نے پورا کیا ہر گز نہیں دعا اور نماز کے حق کا ادا کر نا چھوٹی با ت نہیں یہ تو ایک موت اپنے اوپروارد کر نی ہے نمازاس با ت کا نام ہے کہ جب انسان اسے ادا کر تاہو تو یہ محسوس کر ے کہ اس جہان سے دوسرے جہان میں پہنچ گیاہوں بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر الزام لگا تے ہیں اور اپنے آپ کو بَری خیال کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے تو نماز بھی پڑھی اور دعا بھی کی ہے مگر قبول نہیں ہو تی یہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہو تا ہے نماز اور دعا میں جب تک انسا غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیںہوا کر تی ۔ اگر انسان ایک کھا نا کھا ئے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندر زہر ملی ہو ئی ہے تو میٹھا س سے وہ زہر معلوم تو نہ ہو گا مگر پیشتر اس کے میٹھا س اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کر کے کام تمام کر دیگا یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہو ئی دعا ئیں قبول نہیں ہو تیں کیو نکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جا تی ہے یہ بات با لکل نا ممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا با لکل مطیع ہواور پھر اس کی دعا قبول نہ ہوں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کا مل طور پرادا کرے جیسے ایک انسان اگر دور بین سے دور کی شئے نزدیک دیکھنا چا ہے تو جب تک وہ دور بین کے آلہ کو ٹھیک تر تیب پر نہ رکھے فا ئدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال نماز اور دعا کا ہے اسی طرح ہر ایک کام کی شرط ہے جب وہ کا مل طور پر ادا ہو تو اس سے فا ئدہ ہوا کرتا ہے اگر کسی کو پیاس لگی ہواور پا نی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وپ پئے نہ تو فا ئدہ نہیں اٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطر ہ پئے تو کیا ہو گا؟ پوری مقدار پینے سے ہی فا ئدہ ہو گا غرضکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایک حد مقر ر کی ہے جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو یہ با برکت ہو تا ہے اور جو کام اس حد تک نہ پہنچیں تو وہ اچھے نہیں کہلا تے اور نہ ان میں برکت ہو تی ہے ۔
    عاجزی
    عاجز ی اختیار کر نی چا ہیئے عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے ۔
    ما خلقت الجن والالس الا لیعبدون۔(الذاریات :۵۷)
    تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیریں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتا ر دے تو پھراس کی فطرت میں عاجز ی ہی نظر آویگی اگر تم لوگ چا ہتے ہو کہ خیریت سے رہواور تمہارے گھروں میںامن رہے تو مناسب ہے کہ دعا ئیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو جس گھر میں ہمیشہ دعا ہو تی ہے خدا تعالیٰ اسے بر باد نہیں کیا کرتا لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں اگر تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یادرکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہت پکا ہے وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کر یگا جیسا کہ فاسق فا جر سے کرتا ہے خدا تعالیٰ کو کو ئی ضرورت نہیں کہ تم کو عذاب دیوے بشرطیکہ تم ایمان لاؤاور شکر کرو انسان کو عاب ہمیشہ گنا ہ کے با عث ہو تا ہے خدا تعالیٰ فر ما تا ہے
    ان لا یغیرما بقوم حتی یغیرواما بانفسھم۔(الدعد:۱۲)
    اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بد لتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے جب تک انسان اپنے آپ کو صاف نہ کرے تب تک خدا تعالیی عذاب کو دور نہیں کرتا ہے ۔
    یہ دنیا ود بخود نہیں ہے اس کے لیے ایک خالق ہے اور جو کچھ ہورہا ہے اسی کی مرضی سے ہو رہا ہے بغیر اس کی رضا کے ایک ذرہ حرکت نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ سے تر ساں رہے گا وہ خود محسوس کر یگا کہ اس میں ایک فرقان کی طرح نہیں بلکہ ان کے لیے وہ باعث بر کت ہو تی ہیں۔
    دغا باز آدمی کی نماز قبول نہیں ہو تی وہ اس کی منہ پر ماری جا تی ہے کیو نکہ وہ دراصل نماز نہیں پڑ ھتا بلکہ خدا تعالیٰ کو دشوت دینا چا ہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کو اس سے نفرت ہو تی ہے کیو نکہ وہ رشوت کو خود پسند نہیں کرتا۔
    نماز کو ئی ایسی ویسی شئے نہیں ہے بلکہ یہ وہ شئے ہے جس میں
    اھدنا الصراطالمستقیم الخ (الفاتحہ:۶)
    جیسی دعا کی جا تی ہے اس دعا میں بتلا یا گیا ہے کہ جو لوگ بر ے کا م کرتے ہیں ان پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب آتا ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ کوخوش کر نا چا ہیئے جو کام ہو تا ہے اسد کے ارادہ سے ہو تا ہے۔ چنا نچہ طا عون بھی اسی کے حکم سے آئی ہے یہ دنیا سے رخصت نہ ہو گی جب تک ایک تغیر عظیم پیدا نہ کر لے جواس سے نہیں ڈرتا وہ بڑا بدبخت ہے اور اس کے استیصال کے لیے ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ اپنے آپ کو پاک کرو کیو نکہ اگر پاک ہو کر مر بھی جاوے گا تو وہ بہشت کو پہنچے گا مر نا تو سب نے ہے مومن نے بھی اور کافر نے بھی مگر مو من اور کا فر کی موت میں خدا تعالیٰ فر ق کر دیتا ہے ۔
    دیکھو ان باتوں کو منتر جنتر نہ سمجھو اور یہ خیا ل نہ کرو کہ یو نہی فا ئدہ ہو جاوے گا جیسے کہ بھوکے کے سامنے روٹیوں کا انبا ر فا ئدہ نہیں دیتا جب تک کہ وہ نہ کھا وے اسی طرح آج کے اقرار کے مطا بق جب تک کو ئی اپنے آپ کو گنا ہ سے نہ بچا وے گا اسے بر کت نہ ہو گی یا درکھو کہ مَیں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے تم کو سمجھا دیا ہے ۔
    ان تم کو چا ہیئے کہ برائیوں سے بچنے کے واسطے خدا تعالیٰ سے دعا کروتا کہ بچے رہو جو شخص بہت دعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے تو فیق نازل کی جا تی ہے گنا ہ سے بچے اور دعا کا نیتجہ یہ ہو تا ہے کہ گنا ہ سے بچنے کے لیے کو ئی نہ کو ئی راہ اسے نل جا تی ہے جیسا کہ خدا تعالیی فر ما تا ہے
    یجعل لہ مخرجا
    یعنی جو امور اسے کشا ں کشاں گنا ہ کی طرف لے جا تے ہیں اللہ تعالیٰ ان امور سے بچنے کی تو فیق اسے عطا فر ما تا ہے قرآن کو بہت پڑھنا چا ہیئے اور پڑ ھنے کی تو فیق خدا تعالیٰ اسے طلب کر نی چا ہیئے کیو نکہ محنت کے سوانسان کو کچھ نہیں ملتا کشا ن کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلا تا ہے اور قسم قسم کی محنے اٹھا تا ہے تب پھل حاصل کر تا ہے مگر محنے کے لیے زمین کا اچھا ہو نا شرط ہے اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہو سب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فا ئدہ پاوے گا
    لیس الا نسان الا ما سعی (النجم:۴۰)
    دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط با ندھنا چا ہیئے جب یہ ہو گا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا تعالی کو اپنے بندے پر خود رحم آجا تا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچا تا ہے ۔
    گناہ سے بچو ۔نماز ادا کرو ۔دین کو دنیا پر مقدم رکھو ۔خدا تعالیٰ کا سچا غلام وہی ہو تا ہے جو دین کا دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔
    لقاء الہی کا واسطہ قرآن اور آنحضرتؐ ہیں
    ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ ہیں ۔اس واسطے جو آپ ؐ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت ﷺ کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجائو ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    قل یعبادی الذین اسر فوا علی انفسھم (الزم :۵۴)
    اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوقِ رسول کریم ﷺ کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپؐ پر درود پڑھو ۔اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے
    قل ان کنتم تحبون اللہ فاتعبیونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲)
    یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت ﷺ کے پورے فرمان بردار بن جائو اور رسول کریم ﷺ کی راہ میں فنا ہوجائو تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
    جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم ﷺ کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنابے فائدہ ہے ۔
    (البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ صفحہ۱۰۸۔۱۰۹ مورخہ ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۱ ،اپریل ۱۹۰۳ء؁
    (صبح کی سیر )
    دلیل کی صداقت
    فرمایا:۔
    جب ہمیں یہ الہام ہوا تھا
    وا صنع الفلک با عیننا ووحینا
    اس وقت تو ایک شخص بھی ہمارا مرید نہ تھا ۔اگر یہ سلسلہ من عندِغیراللہ ہوتا تو آج تک الٰہی بخش کی طرح بیکار ہی پڑا رہتا ۔کیا یہ ثبوت کافی نہیں؟
    الٰہی بخش تو میرے الہامات کے پیچھے پیچھے چلتا ہے ۔ایسا کیوں کرتا ہے کہ الہام ہمارے سالہا سال سے شائع ہوچکے ہیں اُن کی اب نقل کرتا ہے ۔اصل میں جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح حق اپنے انوار سے شناخت کیا جاتا ہے۔
    اسی طرح
    یا مسیح الخلق عدوانا
    اس وقت سے چھپا ہوا اور شائع شدہ ہے جبکہ طاعون کا کہیں نام و نشان بھی نہ تھا اور اب آج طاعون کی وجہ سے لوگ آتے اور زبانِ حال سے کہتے ہیں
    یا مسیح الخلق عدوانا
    اور کثر اپنے خطوں میں لکھتے ہیں ۔اب یاتو یہ ثابت کروکہ یہ الہام ہمارا من گھڑت ہے اور ہم نے اپنی کوشش سے چند لوگوں کو اس کے مکمل کرنے کے واسطے ملا لیا ہے یا یہ قبول کرو کہ یہ جو دودواور چارچار سو آدمی یکدم بیعت کرتے ہیں یہ خداتعالیٰ کی تائید ہے۔
    جس زور کے ساتھ طاعون کی وجہ سے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں اس طرح کسی کو یقین چھوڑ وہم بھی نہ تھا کیونکہ یہ الہام اس وقت کا ہے جب ا ن لوگوں کا نام ونشان بھی نہ تھا ۔اس لیے ان تمام ناموں کو محفوظ رکھا جاوے اور اگر ان لوگوں کا الگرجسٹر نہ ہو تو رجسٹر بیعت ہی میں سُرخی کیساتھ ان ک درج کیا جاوے ۔
    کنچنی کی مسجد میںنماز
    ایک شخص کے سوال پر فرمایا:۔
    کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز درست نہیں۔
    طریقِ ادب سے بعید سوالات
    پھر ایک شخص نے پوچھا کہ قیامت کے دن بھی ہماری جماعت اسی طرح آپ کے پیچھے ہوگی ؟فرمایا
    یہ تفصیلیں نہیں ہوسکتی ۔ایسے سوال طریقِ ادب سے بعید ہیں ۔یہ بات اللہ تعالیٰ پر چھوڑ و۔
    حق کی چارہ جوئی
    سوال ہوا کہ مخالف ہم کو مسجد میں نمازپڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں ہمارا حق ہے ۔ہم اس سے بذریعہ عدالت فیصلہ کرلیں؟
    فرمایا:۔
    ہاں اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو ۔فساد کرنا منع ہے ۔کوئی دنگہ فساد نہ کرو۔
    مخالف کے گھر کی چیز کھانا
    سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیز کھا لیویں؟ فرمایا:۔
    نصاریٰ کی پاک چیزیں بھی کھا لی جاتی ہیں ۔ہندوئوں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں پھر ان کی چیز کھا لینا کیا منع ہے ۔
    مخالف سے حسنِ معاشرت
    ہاں مَیں نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو ۔ اس کے سوائے دنیاوی معملات میں بے شک شریک ہو ۔احسان کرو،مروت کرو اور ان کو قرض دو اور اُن سے قرض لو اگر ضرورت پڑے تو صبر سے کام لو ۔شائد کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔
    نماز کی اہمیت
    ایک شخص نے عرض کی کہ میرے لیے دُعا کریں کہ نماز کی توفیق اور استقامت ملے ۔فرمایا:۔
    حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آجاتا ہے ۔اس طرف سے فرق آیا تو معاً اُس طرف سے بھی فرق آجاتا ہے ۔
    سر پر ہاتھ رکھنا
    پھر اسی شخص نے عرض کی کہ میرے سر پر ہاتھ رکھیں آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور اس طرح اخلاقِ فاضلہ کا ثبوت دیا۔ (الحکم جلد۷ نمبر ۱۵ صفحہ۱۰۔۱۱ مورخہ ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۱، اپریل ۱۹۰۳ء؁
    (دربارِشام)
    تکمیلِ ایمان کا ذریعہ
    اصل میں ایمان کے کمال تام کا ذریعہ الہاما تِ صحیحہ اور پیشگوئی ہوتے ہیں ایمان کبھی قصوں کہانیوں سے ترقی نہیں پکڑتے۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے۔جس راہ ورسم کا پابند اپنے آباء واجدادکو پاتا ہے اکثر اسی کا پابند ہوا کرتا ہے۔اگر ایک بت پرست کے گھر میں پیدا ہوا ہو تو بت پرستی ہی اس کا شیوہ ہوگا۔اور اگر ایک عیسائی کے ہاں اس نے تربیت پائی ہے تو وہی خُوبُو اس میںپائی جاوے گی۔مگر اس کے مسائل اور اس کے بنیادی عقائد کا بہت سا حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی عقل وفہم میںکچھ بھی نہیں آیا ہوتا۔صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے بچپن اور اِوائل عمر میں تو کیا کوئی ان مذاہب کی حقیقت سے آگاہ ہوگا۔عیسوعیت کے حامی تو اگر ان سے کوئی پوری تعلیم کا پورا ھوان عاقل بالگ بھی ان کی تثلیث کے راز کو پوچھے تو کہدیتے ہیں کہ راز ہے جو ایشیائی دماغ کی بناوٹ کے لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہے اور یہی حال بُت پرست کا ہے۔
    اسلام کی حقانیت
    ہاں البتہ اسلام ایک دنیا میں ایسا مذہب ہے کہ جس کے عقائد ایسے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ سکتا ہے اور وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔اسلام کے مسائل ایسے ہیں کہ کسی خاص دماغ یا عقل کے واسطے خاص نہیں بلکہ وہ تمام دنیا کے واسطے یکساں ہیں اور ہر ایک کی سمجھ میں آسکتے ہیں۔مگر وہ زندہ ایمان کہ جس سے انسان خدا تعالیٰ کو گویا دیکھ لیتا ہے اور وہ نور جس سے انسان کی آنکھ کھل کر اس کو ایقان تام حاصل ہو جاوے وہ صرف الہام ہی پر منحصر ہے۔الہام سے انسان کو ایک نور ملتا ہے جس سے وہ تاریکی سے مبّرا ہوجاتا ہے اور ایک قسم کا اطمینان اورتسلی اسے ملتی ہے اس کا نفس اس دن سے خدا تعالیٰ میں آرام پانے لگتا ہے اور ہر گناہ فسق وفجور سے اس کا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اس دل امید اور بیم سے بھر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حقیقی معرفت کی وجہ سے وہ ہر وقت ترساں و لرزاں رہتا ہے اور زندگی کو ناپائیدار جانتا اور سفلی لذّات کی ہوس اور خواہش کو ترک کرکے خدا تعالیٰ کی رضا کر حصول میں لگ جاتا ہے اور درحقیقت وہ اسی وقت گناہ کی آلودگی سے علیحدہ ہوتا ہے۔
    جب تک تازہ نور انسان کو آسمان پر سے نہ ملے اور خدا تعالیٰ کا مشاہدہ نہ ہو جاوے تب تک پورا ایمان نہیں ہوتا۔جب تک ایمان کمال درجہ تک نہ پہنچا ہو تب تک گناہ کی قید سے رہائی ناممکن ہے۔بجز الہام کے ایمان کی تصویر لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔اس کی ماہیت سے لوگ بے بہرہ اور خالی محض ہوتے ہیں تعجب ہے کہ یورپ تو آجکل بہت سی ٹھوکریں کھا کر ان امور کو تسلیم کرتا جاتا ہے مگر ہمارے مولوی انکار وکفر میں غرق ہیں اگر الہام ہونے کا نام بھی لیا جاوے تو کفر ما فتویٰ تیار ہے۔وحی کے نزول کا دعویٰ کرنے والا تو اکفر اور ضالّ اور دجّال ہے۔افسوس آتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کے کلام سے کیسے دور جاپڑے ہیں اور ان سے فہم قرآن چھین لیا گیا ہے۔بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس شرف سے محروم ہی رکھنا تھا تو یہ دعا ہی کیوں سکھائی
    اھدنا الصراط المستقیم۔صراط الذین انعمت علیھم۔ (الفاتحہ:۶،۷)
    اس دعا سے تو صاف نکلتا ہے کہ یا الہیٰ ہمیں پہلے منعم علیہم لوگوں کی راہ پر چلا اورجو ان کو انعامات ملے ہمیں بھی وہ انعامات عطا فرما۔
    انعمت علیھم
    کون تھے؟خدا تعالیٰ نے خود ہی فرمادیا ہے کہ نبی۔صدیق۔شہید۔صالح لوگ تھے اوران کا برابر انعام یہی الہام اور وحی کا نزول تھا۔بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس دعا کا سچا نتیجہ جو ہے اس سے محروم ہی رکھنا تھا تو پھر کیوں ایسی دعا سکھائی؟ہمیں تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا۔یہی تو ایک چیز تھی۔جو نہایت نازک اور روح کی غذا تھی۔جو انسان اس کے حصول کا پیاسا نہیں۔ممکن نہیں کہ اس کے اندرپاک تبدیلی آسکے اور جب تک انسان اس طرح خدا تعالیٰ کا چہرہ نہ دیکھے اور اس کی سریلی آواز سے بہرہ ور نہ ہو۔تب تک ممکن نہیں کہ گناہ کے زہر سے بچ سکے۔خیر خود تو محروم اور بے نصیب تھے ہی مگر دوسروں کو جو اس قسم کے خیال رکھیں کہ خدا تعالیٰ کسی سے ہمکلام ہو سکتا ہے کافر جانتے ہیں۔وہ تو دوسروں کو کافر کہتے ہیں۔مگر ہمیں خود ان کے ایمان کا خطرہ ہے کہ ان کا ایمان ہی کیا ہے جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کے واسطے ہاتھ ہی کس طرح اُٹھا سکتے ہیں۔
    خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے ذرائع
    دو ہی چیزین ہیں کہ جو خدا تک انسان کو پہنچا سکتی ہیں۔دیدار۔جس کی موسیٰ نے بھی درخواست کی تھی اور وہ بھی الہام ہی کی وجہ سے تھی۔کیونکہ جب انسان اس کی طرف ترقی پاتا ہے تو اَور اَور مدارج کی بھی اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔
    دوسری چیز خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی گفتار ہے اور یہ فضل خدا تعالیٰ کا تو ایسا ہوا کہ عورتوں تک بھی گفتار سے مشرف ہوتی ہیں۔حضرت موسیٰ کی ماں کو بھی ہمکلامی کا شرف حاصل تھا۔حضرت عیسیٰ کے حواریوں کو بھی یہ نعمت ملی ہوئی تھی۔خضر کو بھی الہام ہوت تھا تو کیا اسلام ہی ایسا گیا گذرا تھا؟اور خدا تعالیٰ کی نظر میں گِرا ہوا تھا؟کہ اسے بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی پیچھے پھینک دیا۔ان وہابیوں کا تو یہ اعتواد ہے کہ آنحضرت ﷺکے بعد صحابہ ؓ میں سے کسی کواور نہ بعد میں ائمہ میں سے کسی کو اَور نہ ہی بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے ولیوں مثلاًحضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ وغیرہ ان میں سے کسی کو بھی الہام نہیں ہوا۔یہ سارے کے سارے ہی خشک مُلاّں تھے ان میں سے کسی کو بھی خدا تعالیٰ کے مکالمے مخاطبے کا شرف نہ ملا ہوا تھا۔انکے ہاتھ میں بھی صرف قصّے کہانیاں ہی تھیں۔
    ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (الا حزاب:۴۱)
    کے معنے ہی ان کے نزدیک یہی ہیں کہ الہام کا دروازہ آپ کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا اور آپ کے بعد آپ کے بعد آپ کی اُمّت سے یہ برکت کہ کسی کو مکالمات اور مخاطبات ہوں بالکل اُٹھ گئی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صدی اس امر کی منتظر ہوتی ہے کہ اس اُمّت میں سے چند افراد یا کوئی ایک فرد ضرور خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں گے جو اسلام پر سے گردو غبار کو دُور کرکے پھر اسلام کے روشن چہرے کو چمکا کر دکھایا کریں ان لوگوں سے اگر پوچھا جاوے کہ تمہاریپاس سچائی کی دلیل ہی کونسی ہے؟کوئی معجزات یا خارق عادت تمہارے پاس نہیں تو دوسروں کا حوالہ دیدینگے ۔خود خالی اور محروم ہیں۔صحابہؓ آنحضرت ﷺ کے پاس وہ کر اور آپ کی صحبت کی برکت سے آنحضرت کے ہی رنگ میں رنگین ہوگئے تھے اور ان کے ایمانوں کا تزکیہ اور ترتیب ہوتی گئی اور آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ کمالِ تمام تک پہنچ کر آنحضرت ﷺ کے رنگ میں رنگین ہوگئے مگر ان لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے واسطے اگر اُن سے پوچھا جاوے تو کیا ہے؟تیرہ سوبرس کا حوالہ دیں گے کہ اس وقت یہ معجزات اور خارق عادت ظاہر ہوا کرتے تھے پیشگوئیاں بھی تھیں مگر اَب کچھ بھی نہیں۔
    خیرِ اُمم
    مَیں نہیں سمجھتا کہ اگر خدا تعالیٰ نے اُسے شرّالامم بنانا تھا تو اُس کانام قرآن شریف میں خیر اُمّت لر لے کیوں پکارا؟کیونکہ اس کی موجودہ حالت بقول مولویوں کے بدترین معلوم ہوتی ہے ۔اندرونی و بیرونی حملوں سے پاش پاش ہوا جاتا ۔دجّال نے آکر ہر طرف سے گھیر لیا ہے تو پھر ایسے مصیبت کت وقت میں اگر خبر گیری بھی کی تو ایک اَور دجّال بھیج دیا جو دین کا حامی ہونے کی بجائے بیخ کُن ہے اور ان کے لوگ ہزاروں مجاہدے اور ریاضت زہد و تعبد کریں مگر خدا سے مکالامہ کا شرف کبھی نہیں نصیب ہوتا ہے اور ایسے گئے گذرے ہیں کہ دوسری امتوں کی عورتوں سے بھی درماندہ اور پس پا افتادہ ہیں ۔ان میں تو ایک موسوی شریعت کے خادم ہزاروں نبی آئے اور ایک ایک زمانہ میں چار چار سو نبی بھی ہوتے رہے مگر اس اُمّت میں آنحضرت ﷺ کی شریعت کا خادم بھی ایک صاحب الہام نہ آیا ۔گویا کہ سارے کا سارا باغ ہی بے ثمر رہ گیا ۔پہلے لوگوں کے باغ تو مثمر ہوئے مگر ان کے اعتقاد کے بموجب نعوذ باللہ آپؐ کا باغ بے برگ و بار ہوا۔اگر ان لوگوں کا یہی دین اور ایمان ہے تو خُدادنیا پر رحم کرے ۔اور لوگوں کو ایسے ایمان سے نجات دیوے ۔
    ایمان
    ایمان کی نشانی ہی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں یہی کہ مان لینااور پھر اس پر یقین آجانا ۔جب انسان ایک بات کو سچے دل سے مان لیتا ہے تو اس کا اس پر یقین ہوجاتا ہے اور اسی کے مطابق اس سے اعمال بھی سرزد ہوتے ہیں ۔مثلاً ایک شخص جانتا ہے کہ سنکھیا ایک زہر ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے انسان مَر جاتا ہے یا ایک سانپ جان کا دشمن ہوتا ہے جس کو کاٹتا ہے اس کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں ۔تو اس ایمان کے بعد تو نہ وہ سنکھیا کھاتا اور نہ ہی سانپ کے سوراخ میں اُنگلی ڈالتا ۔
    آجکل طاعون کے متعلق لوگوں کو ایمان ہے کہ اس کی لاگ سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے ۔اسی واسطے جس مکان میں طاعون ہو اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں غرض جس چیز پر ایمان کامل ہوتا ہے اس کے مطابق اس سے عمل بھی صادر ہوا کرتے ہیں ۔مگر کیا وجہ ہے کہ خدا کے موجود ہونے کا ایمان ہو اور جزا سزا کے دن کا ایمان ہو اور حساب کتاب یاد ہوتو پھر گناہ باقی رہ جاویں۔یہ مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔کیا خدا کا ایمان سانپ کے خوف سے بھی گیا گذرا ہے؟مومن ہونے کا دعویٰ ہے اور پھر بایں چوری ،جھوٹ ، زنا ،بد نظری ،شراب خوری ،فسق و فجور میں فرق نہیں نفاق اور ریا کاری کی تصدیق نہیں۔زبانی ایمان کا دعویٰ ہے ورنہ عملی طور پر ایمان اور دین کچھ بھی چیز نہیں۔
    ہم صاف مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کے مفید ہونے کا ایمان ہے اسے ہر گز ہر گز ضائع نہیں کرتا کوئی امیراور کوئی غریب ہم نے نہیں دیکھا جو اپنے گھر سے اپنی جائیداد یا دولت کو جو اس کے پاس ہے باہر نکال پھنیکتا ہو بلکہ ہم نے تو کسی کو ایک پیسہ بھی پھنیکتے نہین دیکھا ۔پیسہ تو کجا ایک سوئی بھی کمائی ہوئی ٹوٹ جاے تو اُسے رنج ہو تا ہے کہ میری کار آمد چیز تھی ۔مگر ایمان باللہ کی قدر ان لوگوں کی نظر میں اُس سوئی کے برابر بھی نہیں اور نہ اس کا فائدہ ایک سوئی کے برابر لوگ جانتے ہیں ۔پس جب ایمان ایسا ہو تا ہے کہ ایک سوئی کے برابر بھی اس کی قدر ان میں نہیں ہو تی ۔تو اسی کے مطابق اُن کو انسان سے نفع بھی نہیں پہنچتا اور نہ ان کو وہ کمال حاصل ہو تا ہے کہ خدا ان پر الہامات کے دروازے کھول دے۔
    (الحکم جلد۷ نمبر۱۴ صفحہ۵۔۶مورخہ۱۷پریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۲اپر یل ۱۹۰۳؁ء
    (صبح کی سیر)
    بیماری کی افادیت
    بیماریوں کے ذکر پر فر مایا کہ :۔
    بیماری کی شدت سے موت اور موت سے خدا یاد آتا ہے ۔اصل یہ ہے کہ
    خلق الا نسان ضعیفا(نساء :۲۹)
    انسان چند روز کے لیے زندہ ہے ۔ذرہ ذرہ کا وہی مالک ہے جو حّی وقیوم ہے ۔جب وقتِ موعود آجاتا ہے تو ہر ایک چیز السلام علیکم کہتی اور سارے قویٰ رخصت کر کے الگ ہو جاتے ہیں اور جہاں سے یہ آیا ہے وہیں چلا جاتا ہے۔
    طاعون کا علاج
    طاعون کے ذکر پر فر مایا کہ :۔
    آسمانی علاج ابھی تک لوگوں نے غیر مفید سمجھا ہو ا ہے ۔سچی توبہ اور تقویٰ کی طرف پورا رجوع نہیں کیا مگر یاد رکھیں کی خد ارجوع کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا ۔
    رکوع وسجود میں قرآنی دُعا کرنا
    مولوی عند القادر صاحب لدھیانوی نے سوال کیا کہ رکوع وسجود میں قرآنی آیت یادُعاکا پڑ ھنا کیسا ہے ؟فر مایا سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام عظمت چاہتا ہے ماسواس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دُعا پڑھی ہو ۔
    رہن
    رہن کے متعلق سوال ہو ا۔ آپ نے فر مایا کہ :۔
    موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں گذشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہو گئی تو حکا م زمینداروں سے معاملہ وصال کر لیا کر تے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جا تا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مچالبہ وصال کر ہی لیتے ہیں پس چونکہ حکامِ وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اس طر ح یہ رہن بھی جائز رہا کیو نکہ کبھی فصل ہو تی اور کبھی نہیں ہو تی تو دونو صورتوں میں مر تہن نفع ونقصان کا ذمہ دار ہے ۔پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے ۔آجکل گور نمنٹ کے معاملے زمینداروں سے ٹھیکہ کی صورت ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہو تا ہے ۔ایسی صورت عدل میں رہن نیشک جائز ہے ۔
    جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑا رہن با قنضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مر تہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا ۔
    پھر زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فر مایا :۔
    زیور ہو کچھ ہو جب انتقا ع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں ۔اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اُٹھا تا ہے تو اس کی زکوٰۃبھی اس کے ذمہ ہے زیور کی زکوٰۃ بھی فر ض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوٰۃ ڈیڑھ سو روپیہ دیا ہے ۔پس اگر زیور استعمال کر نا ہے تو اس کی زکوٰۃ دے اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔
    (الحکم جلد۷ نمبر۱۵ صفحہ۱۱مورخہ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ء)
    ۱۲اپر یل ۱۹۰۳؁ء
    (دربار شام)
    خواب قضائِ معلّق ہوتے ہیں
    ایک خواب کی تعبیر میںفرمایاکہ :۔
    خواب ہر ایک انسان کو عمر بھر میں کبھی مبشر اور کبھی وحشتناک ضرور آتے ہیں ۔مگر وہی قضا مبرم اور فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی ۔خدا تعالیٰ کی معرگت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ قضا کبھی ٹل بھی جایا کرتی ہے خواب کے حالات خواہ مبشر ہوں یا منذر۔دونوں صورتوں میں قضاء معلق کے رنگ میں ہوا کرتے ہیں ۔اُن کے نتائج کے بَر لانے یاروکنے کے واسطے ضروری ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے حضور دُعا کرے کہ اگر یہ امر میرے واسطے مفید اور تیری رضا کے بموجب ہے تو تُو اُسے جیسا مجھے خواب میں مبشت دکھایا ہے ایسا ہی بشارت آمیز صورت میں پوار کر ۔ورنہ منذ رہے تو اس کی خوفناک صورت سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنے کے لیے بھی استغفار اور توبہ کرتا رہے۔
    قضائِ معلّق دُعا سے ٹل سکتی ہَے
    اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ قضا ٹل جایا کرتی ہے اس لیے انسان پوری تضّرع خشوع و خصوع اور حضورِ قلب سے اور سچی عاجزی ،فروتنی اور دردِ دل سے اُس سے دُعا کرے ۔خواب میں دیکھے ہوئے حالات کے متعلق خواہ وہ کسی رنگ میں ہوں ۔دونوں صورتوں میں دُعا کی ضرورت ہے ۔
    ہمیں باربار خیال آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بھی کوئی ایک وحشت ناک ہی معاملہ ہوا ہوگا کہ انہوں نے سا ری رات دُعا میں صرف کی اور نہایت درجہ کے درد انگیز اور بلبلانے والے الفاظ سے خدا تعالیٰ کے حضور دُعا کرتے رہے ۔ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر معلق کو مبرم ہی خیال کر بیٹھے ہوں اور اسی وجہ سے ان کا یہ سارا اضطراب اور گھبراہٹ بڑھ گئی ہو اور اس کا گذاز اور رقت اُن میں اپنا آخری دم جان کر ہی پیدا ہوئی ہو ۔کیونکہ اکثر ایک تقدیر جو معلق ہوا کرتی ہے ایسی باریک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے ۔چناچہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی ؒ بھی اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ میری دُعا سے اکثر وہ قضا جو قضا ئے مبرم کے رنگ میں ہوتی ہے ٹل جاتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں مگر ان کے اس امر کا جواب ایک اَور بزرگ نے دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تقدیرِ معلق ایسے طور پر واقع ہوتی ہے کہ اس کا پہچاننا کہ آیا معلق ہے یا مبرم محال ہوجاتا ہے ۔اُسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مبر م ہے مگر درحقیت ہوتی وہ تقدیر معلق ہے اور وہ ایسی ہی تقدیریں ہوں گی جو شیخ عبدالقادر صاحب ؒ کی دُعا سے ٹل گئی ہو کیونکہ تقدیرِ معلق ٹل جایا کرتی ہے ۔غرض اہل اللہ نے اس امر کو خوب واضح طور سے لکھا ہے کہ قضا معلق ٹل جایا کرتی ہے ۔
    حضر ت عیسیٰ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑی بھاری صعوبت اور مشکل کا وقت تھا کیونکہ ان کی اپنی ہی کتاب کے الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ آخر میں فرمایا
    سمع لتقو لہ
    یعنی تقدیر تو بڑی سخت تھی اور بڑی مصیبت کا وقت تھا مگر اس کے تقویٰ کی وجہ سے آخر کا اس کی دعا ضائع نہ گئی بلکہ سُنی گئی ۔یہ عیسائی بد نصیب اس امر کی طرف تو خیال نہیں کرتے کہ اوّل تو خد ااور اسکا مرنا یہ دونوں فقرے آپس میں کسیے متضاد پڑے معلوم ہوتے ہیں جب ایک کان میں یہ آواز ہی پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایں یہ کیا لفظ ہیں؟اور پھر ماسوا اس کے ایک ایسے شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے نجیال اس کے ساری رات یعنی چار پہر کا وقت لغو اور بہیودہ کا م ہیں جو اس کے آقا اور مولیٰ کی منشا ء اور رضا کے خلاف تھا خواہ نخواہ ضائع کای اور پھر ساری رات رویا اورایسے درد اور گداز کے الفاظ میں دعا کی کہ لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سُنی گئی ۔واہ اچھا خدا تھا۔
    پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی رُوح انسانی تھی نہ رُوح الوہیت ۔ہم پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی رُوح اگر انسانی تھی تو ا سوقت اُن کی الوہیت رُوح کہاں تھی ؟کیا وہ آرام کرتی تھی اور خوابِ غفلت میں غرقِ نوم تھی ۔خود بیچارے نے بڑے درد اور رقت کے ساتھ چِلّا چِلّا کر دُعا کی ۔حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھی ۔وہاں ایک بھی نہ سنی گئی ۔آخر کار خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملکِ عدم کو پہنچے ۔کیسے قابلِ شرم اور افسوس ہیںایسے خیالات ۔ہمارے آنحضرت ﷺ پر بھی ایسا ہی ایک وقت مصیبت اور صعوبت کا آیا تھا ۔اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر ایک ایسا مشکل اور نہایت درجہ کی مصیبت کا ایک وقت ضرور آتا ہے ۔آنحضرت ﷺ پر اُحد کا معاملہ کوئی تھوڑا معاملہ تھا؟ آخر کار وہاں شیطان بھی بول اُٹھا تھ اکہ نعوذ باللہ آنحضرتﷺ مار گئے اور ہوسکتا ہے کہ بعض صحابہ ؓنے بھی اس افراتفری میں ایسا خیال کیا ہو اور بعض صحابہؓ تو تتّربتر بھی ہوگئے تھے ۔آپ ایک گھڑے میں گِر پڑے تھے ۔
    وانمنکم الا وار دھا کان علی ربک حتما مقضیا(مر یم :۷۲)
    سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ ضرور انبیا ء اور صلحاء کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجہ کی مصیبت کا وقت اور سخت جا نکا ہ مشکل ہو تی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اس صعو بت میں وارد ہو تے ہیں مگر خدا تعالیٰ جلد تران کی خبر گیر ی کر تا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے اور چو نکہ وہ ایک تقویر معلق ہو تی ہے اس واسطے ان کی دعا ؤں ابہتال سے ٹل جا یا کر تی ہیں ۔
    شیخ رحمت اللہ صاحب کی دعا
    شیخ رحمت اللہ صاحب کی دکا ن کو آگ لگنے کا اند یشہ ہوا۔ تو انہوں نے ننگے سراور ننگے پا ؤں سجدے میں گر کر دعاکی تو معا ً دعا کر تے کر تے خدا تعالیٰ نے ہوا کا رخ بد ل درا اور امن امن کی آواز اگئی اور ہر طرح اطمینان ہو گیا ۔
    ملا ئکہ کی حقیقت
    اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    ہوا ۔پا نی وغیرہ بھی ایک طرح کے ملائلہ ہی ہیں ہاں بڑے بڑے ملا ئکہ وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نا م لیا مگر اس کے سوا با قی اشیا ء مفید بھی ملا ئلہ ہی ہیں چنا نچہ اللہ تعالیٰ کے کلا م سے اس کی تصدیق ہو تی ہے جہاں فر ما تا ہے کہ
    وان من شی ء الا یسبح بحمدہ(نبی اسرا ئیل:۴۵)
    یعنی کل اشیاء خدا تعالیٰ کی تسبیح کر تی ہیں تسبیح کے معنے یہی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ ان کو حکم کر تا ہے اور جس طرح اس کا منشا ہو تا ہے اسی طرح کر تے ہیں اور ہر ایک امر اس کے ارادے اور منشا سے واقع ہو تا ہے اتفاقی طور سے دنیا میں کو ئی چیز نہیں اگر خدا تعالیٰ کا ذرہ ذرہ پر تصرف تام اور اقتدار نہ ہو تو وہ خدا ہی کیا ہوا اور دعاکی قبولیت کی اس سے کیا امید ہو سکتی ہے؟ اور حقیقت یہی ہے کہ وہ ہو اکو جد ھر چا ہے اور جب چا ہے چلا سکتا ہے اور جب ارادہ کر ے بند کر سکتا ہے اسی کے ہاتھ میں پا نی اور پا نیوں کے سمند ر ہیں جب چا ہے جوش زن کر دے اور جب چا ہے سا کن کر دے وہ ذرہ ذرہ پر قادر اور مقتد ر خدا ہے اس کی تصرف سے کو ئی چیز با ہر نہیں وہ جنہوں نے دعا سے انکا ر ہی کر دیا ہے ان کو بھی یہی مشکلات پیش آئے ہیں کہ انہوں نے خدا کو ہر ذرہ پر قادر مطلق نہ جا نا اور اکثر واقعات کو اتفا قی ما نا اتفا ق کچھ بھی نہیں بلکہ جو ہو ا ہے اور اگر پتہ بھی درخت سے گر تا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے ارادے اور حکمت سے گر تا ہے اور یہ سب ملا ئکہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے اشارے سے کام کرتے ہیں اور ان کی خد مت میں لگا ئے جا تے ہیں جو کدا تعالیٰ کے سچے فر ما بنر دار اور اسی کی رضا کے کواہاں ہو تے ہیں جو خدا کا بن جا تا ہے اسے خدا تعالیٰ سب کچھ عطا کر تا ہے ؎
    جے توں میر ا ہو رہیں سب جگ تیر ا ہو
    من کان للہ کان اللہ لہ
    پھر ایسے مر تبے کے بعد انسان کو وہ رعیت ملتی ہے کہ با غی نہیں ہو تی دنیوی با دشاہوں کی رعیت تو با غی ہو جا تی ہے مگر ملا ئکہ کی رعیت ایک رعیت ہے کہ وہ با غی نہیں ہو تی ۔
    ۱۳؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    (دربارِشام )
    ایک رؤیا
    حضرت اقدس نے مند رجہ ذیل خواب سنا یا کو گذشتہ شب کو آیا تھا فر ما یا کہ
    مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحر ذخار کی طرح ایک دریا ہے جو سانپ کی طرح بل پیچ کھا تا تو مغرب سے مشرق کو جا رہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بد ل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ۔
    فر ما یا کہ :۔
    طا عون کا روز
    اب تو وہ زما نہ طاعون نے دکھا نا شروع کر دیا ہے جس طرح مد نیہ منورہ میں یہودی قتل ہو ئے تھے تو ایک بڑا شخص زند ہ رکھا گیا تھا اس بے پو چھا فلاں شخص کا کیا حال ہوا فلاں کا کیا حال ہوا غرض جس کے متعلق اس نے ردیافت کیا اسی کے متعلق جواب ملا کہ وہ سب قتل کئے گئے تو پھر اس نے کہا کہ لوگوں کے مارے جانے کے بعد مَیں نے زندہ رہ کیا بنا نا ہے مجھے بھی زند گی کی ضرورت نہیں سوآج کل طا عون وہ حال دکھارہی ہے ۔
    اکثر دیکھاجا تا ہے کہ انسان لمبی عمر کی بھی خواہشمند ہو تے ہیں مگر جب دوست اور تعلق دار ہی نہ رہے تواس عمر کا ہو نا بھی ایک وبا ل ہو جا تا ہے ایسی حالت دیکھ کر انسان ایسی لمبی عمر کی بھی آرزو نہیں کر سکتا ۔
    کیو نکہ انسان دوستوں اور رشتہ داروں کے بغیر رہ سکتا ہی نہیں ۔
    انسان اور پر ندہ
    ایک جا نور آج کل کے مو سم میں شام کے بعد مسجد مبا رک کے نشہ نشین احباب پر حملہ کیا کرتا ہے اس کے متعلق فر ما یا کہ :۔
    کو ئی ایسی تد بیر کی جا وے کہ ایک دفعہ اس جگہ پکڑا جا وے پھر ہم اسے چھوڑہی دینگے مگر ایک دفعہ پکڑا جا نے سے اتنا تو ضرور ہو گا کہ پھر وہ کبھی آئندہ اس جگہ اس طرح حملہ کر نے کا ارادہ نہ کر یگا ۔
    ہر جا نور کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کے اندر ایک خاصیت ہے کہ جس جگہ سے اسے ایک دفعہ ٹھو کر لگتی ہے اور مصیبت میں مبتلا ہو تا ہے اس جگہ کا پھر وہ کبھی قصد نہیں کرتا مگر صرف انسان ہی ایک ہے جو با وجود اشرف المخلوقات ہو نے کے ان پر ندوں وغیرہ سے بھی گرا ہوا ہے کہ جہاں سے اسے مصائب پہنچتے ہیں اور ضرر اور نقصان اٹھا تا ہے اس کی طرف بھا گنے کا حریص ہو تا ہے ہو شیا ر نہیں ہو تا اور نہ ہی اس نا فر ما نی کو ترک کر تا ہے بلکہ جذبا ت نفس کا میطع ہو کر پھر اسی کام کو کر نے لگتا ہے جس سے ایکبار ٹھو کر کھا چکا ہو ۔
    ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء
    (صبح کی سیر)
    صادق کیسا تھ ایک کشش نازل ہو تی ہیَ
    فر ما یا :۔
    صادق کی لبعثت کیسا تھ ہی آسمان سے اس واسطے ایک کشش نازل ہوا کر تی ہے جو دلوں کو ان کی استعدادوں کے مطا بق کشش کر تی اور ایک قوم بنا دیتی ہے اس سے تمام سیعد روحیں صادق کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں دیکھو ایک شخص کو دوست بنا کر اس کو اپنے منشا ء کے موافق بنا نا ہزار مشکل رکھتا ہے اور اگر ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی کسی کوصادق وفادار دوست بنا نے کی کوشش کی جاوے تو بھی معرض خطر میں ہی پڑتا ہے اور پھر آخر کار اس خیال کے بر عکس نتیجہ نکلتا ہے مگر ادھر ان لا کھوں ہیں کہ غلا موں کی طرح سچے فر ما نبردار ۔صدق ووفا کے پتلے خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں ۱؎ اور پھر عجب بات یہ ہے کہ اس امر کی اطلا ع آج سے با ئیس برس پیشتر جب اس کی ایک بھی مثال قائم نہ ہو ئی تھی دی گئی چنا نچہ الہام ہے کہ
    والقیت علیک محبۃ منی
    آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش کا نزول ہے سعید تو دوستی کے رنگ میں چلے آتے ہیں مگر شقی بھی اس حصہ سے محروم نہیں ان میں مخالفت کا جوش شعلے مار رہا ہے جب کہیں ہمارا نام بھی ان کے سامنے آجا تا ہے تو سانپ کی طرح بل ہیچ کھا تے اور بیخود ہو کر مجنونوں کی طرح گا ل گلوچ تک آجا تے ہیں ور نہ بھلا دنیا میںہزاروں فقیر ۔لنگوٹی پوش ۔بھنگی ۔چرسی۔کنجر ۔بد معاش ۔بدعتی وغیرہ پھر تے ہیں مگر ان کے لیے کسی کو جوش نہیں آتا اور کسی کے کان پر جوں نہیں چلتی وہ چا ہے بد مذھبیاں اور بے دینیاں کر یں پھر بھی ان سے مست ہی رو رہے ہیں اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ و چو نکہ روحانیت سے خالی ہیں اس واسطے کسی کو کشش نہیں ۔ ۱؎
    آنحضرت ﷺ کے زما نہ بعثت میں ہزاروں ہزار لوگ اپنے کاروبا ر چھوڑ کر بھی آپ کی مخالفت کے لیے کمر بستہ ہو ئے اپنے مالوں کا جا نوں کا نقصان منظورکیا اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کے لیے دن رات تد بیر وں منصوبوں میں کوشا ں ہو ئے مگر دوسری طرف مسیلمہ تھا ادھر کسی کو تو جہ نہ تھی اس کی مخالفت کے واسطے کسی کے کان بھی کھڑے نہ ہو ئے۔ آنحضرتﷺکے واسطے جس طرح گھر گھر میں پُھوٹ اور جدائی ہوتی تھی مسیلمہ کے واسطے ہر گز نہ ہوئی۔غرض صادق کے واسطے ہی ایک کشش ہوتی ہے جو دلوں کے ولولو ں کو اُبھارتی اور جوش میں لاتی ہے سعیدوں کے ولولے سعادت اور اشقیاء کے شقاوت کے رنگ میں پھل لاتے ہیں۔شقی چونکہ اسی فطرت کے ہوتے ہیں۔اس واسطے ان کے واسطے کشش بھی اُلٹے رنگ میں ثمرات لاتی ہے۔
    (دربارِ شام )
    تشبّہ بالکفار
    ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوئوں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔
    تشبیہ بالکفار تو کسی رنگ میں بھی جائز نہیں۔اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکہ سا لگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگالے۔یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں ۱؎ مسلمانوں کو اپنی ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئیے ہمارے آنحضرت ﷺ تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سرا ویل بھی خرید ناآپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہیے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی۔کُرتہ۔چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔جو چاہیے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئیے کہ ان میں سے ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔۱؎جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ مَیں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم اور عادات کی؟اب اُسے ڈر چاہئیے تو خدا کا۔اتباع چاہئیے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی۔کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چائیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں۔اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔۲؎
    ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔سیالکوٹ سے ایک دوبا رانگریزی جوتا آیا۔ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی بائیں کا دائیں۔آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔آخر مَیں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔
    دوراستوں میں سے کس کو اختیار کرے
    اسی صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص جاتا ہو اور ایک جگہ پر دوراہ جمع ہو جائیں۔ایک دائیں اور دوسرا بائیں کو۔تو کس راہ کی طرف جاوے؟فرمایا کہ:۔
    اس سے اگر تمہاری مراد بھی جسمانی راہ ہے تو پھر اس راہ جاوے جس میں اس کی صحت نیت اور کوئی فساد نہیں اور اگر جانتا ہے کہ ادھر بدبو اور عفو نت ہے یا کنجروں اور فاسقوں۔خدا اور رسول کے دشمنوںکے گھرہیں تو اس راہ کو چھوڑ دے۔غرض صحتِ نیت کا خیال کرلے اور فساد کی راہ سے کلی پرہیز کرے۔۳؎
    بے ایمانی کیسے پیدا ہوتی ہَے
    ایک اَور سوال کیا کہ بے ایمانی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ فرمایا کہ:۔
    بی ایمانی خدا کی معرفت نہ ہونے اور ایمان کے کامل درجہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ادھورا ایمان اس کی وجہ ہوتی ہے۔
    ختمِ نبوت سے مُراد
    اویک اَور صاحب نے سوال کیا کہ حضور جب سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدؐی میں مماثلت ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ کے خادم تو نبی کہلائے مگر ادھر اس طرح کوئی بھی نبی نہ کہلایا؟فرمایا کہ:۔
    مشاہبت میں ضروری نہیں کہ مشبّہ اور مشبَّہ بہٖ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے عین ہوں اور ان کا ذراہ بھی آپس میں خلاف نہ ہو۔اب ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔تو اب اس میں کیا بھلا ضروری ہے کہ اس شخص کے جسم پر لمبے لمبے بال بھی ہوں۔چار پائوں بھی ہوں اور وہ جنگلوں میں شکار بھی کرتا پھرے ؟بلکہ جس طرح من وجہ تشابہ ہوتا ہے ویسا ہی من وجہ مخالف بھی ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے
    کنتم خیر امۃ
    تو ہمیں ہی فرمایا ہے۔جو اعلیٰ درجہ کے خیر اور برکات تھے وہ اسی امت میں جمع ہوئے ہیں آنحضرتﷺ کا زمانہ ایسے وقت تک پہنچ گیا ہوا تھا کہ دماغی اور عقلی قوے پہلے کی نسبت بہت کچھ ترقی کر گئے تھے۔اس زمانہ میں تو ایک گونہ جہالت تھی۔اب کوئی کہے کہ اس طرح بھی تشابہ نہ ہوا تو یہ اس کا کہنا درست نہ ہوگا۔نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے گی ہی نہیں اور نہ اس کو شرفِ مکالمات اور مخاطبات ہوگا۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مُہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرت ﷺ جیسے عالی جناب،اولوالعزم صاحب شریعت کامل آنے والے تھے۔اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھاگیا۔مگر آنحضرتﷺ کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرت ﷺ کی اجازت کے بند ہوچکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔
    ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (الاحزاب:۴۱)
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور سے آپکی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور رُوحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہو کر جاری ہوگا۔نہ الگ طور سے۔وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مُہر ہوگی۔ورنہ اگر نبوت کادروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے انقطاعِ فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نجوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے ۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو جو کہا کہ
    کنتم خیر ا متہ
    یہ چھوٹ تھا نعوذ باللہ ۔اگر یہ معنے کیے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیرالامتہ کی بجائے شرالامم ہویء یہ اُمّت ۔جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اورمخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا ۔تو یہ تو
    کا لانعام بل ھم اضل
    ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیئے نہ کہ یہ خیر الامم ۔اور پھر سورۃ فاتحہ کی دُعا بھی لغو ہوجاتی ہے ۔اس میں جو لکھا ہے کہ
    اھدنا الصراط مستقیم صراط الذین انعمت علیھم
    تو سمجھنا چاہیئے کہ ان پہلوں کے پلائو زردے مانگنے کی دُعا سکھائی ہے اور انکی جسمانی لذّات اور انعامات کے وارث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہر گز نہیں ۔اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ بھی کیا گیا ہے ۔جس سے اسلا م کا علو ثابت ہو وے ۔اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرتﷺ کی قوتِ قدسی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسیٰ ؑ سے مرتبے میں گِرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی اُمّت میںسے سینکڑوں بنی آئے مگر آپ کی اُمّت سے خدا تعالیٰ کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے آخر اس سے کلام تو کیاہی جاتا ہے۔
    نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہوکر اور آپ کی مہر سے اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے ۔ہزاروں اس اُمّت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص اُن میں موجود ہوتے رہے ہیں ۔سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گذرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے ۔چناچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو ۔ورنہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ
    من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل :۷۳)
    اگر خدا تعالیٰ نے خود ہی اس اُمّت کو اعمٰی بنایا تھا تو عجب ہے خود ہی اعمٰی کے واسطے زجر اور توبیخ ہے کہ آخر ت میں بھی اعمٰی ہوگی ۔اس اُمّت بیچاری کے کیا اختیار ۔اس کی مثال تو ایسے ہے کہ ایک شخص کسی کو کہے کہ اگر تو اس مکان سے گر جاوے گا تو تجھے قید کر دیا جاوے گا مگر پھر خود ہی دھکا دیدے۔
    گویا نبوت کا سلسلہ بند کر کے فرمایا کہ تجھے مکالمات اورمخاطبات سے بے بہرہ کیا گیا اور تو بہائم کی طرح زندگی بسر کرنے کے واسطے بنائی گئی اور دوسری طرف کہتا ہے کہ
    من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل :۷۳)
    اب بتائو کہ اس تناقض کا کیا جواب ہے ؟ ایک طرف تو کہا خیراُمّت اور دوسری جگہ کہہ دیا کہ تو اعمٰی ہے آخرت میں بھی اعمٰی ہوگی ۔نعوذ باللہ ۔کیسے غلط عقیدے بنائے گئے ہیں۔
    اور اگر کوئی باہر سے اس کی اصلاح کے واسطے آگیاتو بھی مشکل۔اس اُمّت کے نبی کی ہتک شان اورقوم کی بھی ناک کٹی ہوئی ہے کہ اس میں گویا کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اصلاح کرنے کے قابل ہوسکے اور کسی کو یہ شرف مکالمہ عطا نہیں کیا جاسکتا اور اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرتﷺ پر اعتراض آتا ہے کہ ایسے بڑے نبی ہو کر ان کی اُمّت ایسی کمزور اور گئی گذری ہے ۔ایسا نہیں ۔بلکہ بات یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی اُمّت میں نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمت نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض موجود ہیں۔
    خدا کو پانے کی راہ
    ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ کیا راہ ہے جس سے انسا ن خدا کو پاسکے ؟
    فرمایا:۔
    جو لوگ برکت پاتے ہیں ان کی زبان بند اور عمل ان کے وسیع اور صالح ہوتے ہیں ۔پنجابی میں کہاوت ہے کہ کہنا ایک جانور ہوتا ہے اس کی بدبُو سخت ہوتی ہے اور کرنا خوشبو دار درخت ہوتا ہے ۔سو ایسا ہی چاہیئے کہ انسان کہنے کی نسبت کرکے بہت کچھ دکھائے ۔صرف زبان کام نہیں آتی ۔بہت سے ہوتے ہیں جو باتیں بہت بناتے ہیں اور کرنے میں بہت سست اور کمزور ہوتے ہیں۔صرف باتیں جن کے ساتھ روح نہ ہو وہ نجاست ہوتی ہیں ۔بات وہی برکت والی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نور ہو اورعمل کے پانی سے سرسبز کی گئی ہو ۔اس کے واسطے انسان خود بخود ہی نہیں کر سکتا ۔چاہیئے کہ ہر وقت دُعا سے کام کرتا رہے اور در گذر سے اور سوز سے اس کے آستانہ پر گرا رہے اور اس سے توفیق مانگے ورنہ یاد رکھے کہ اندھا مریگا۔
    دیکھو جب ایک شحص کو کوڑھ کا ایک داغ پیدا ہوجاوے تو اس کے واسطے فکر مند ہو تا ہے اور دوسری باتیں اُسے بھول جاتی ہیں ۔اسی طرح جس کو رُحانی کو ڑھ کا پتہ لگ جاوے ۔اُسے بھی ساری باتیں بھو ل جاتی ہیں اور وہ سچے علاج کی طرف دوڑتا ہے مگر افسو کہ اس سے آگاہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔
    یہ سچ ہے کہ انسان کے واسطے یہ مشکل ہے کہ وہ سچی توبہ کرے ایک طرف سے توڑ کر دوسری طرف جوڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے ۔ہاں مگر جسے خدا تعالیٰ توفیق دے ۔ہاں ادب سے حیا سے ،شرم سے اُس سے دُعا اور التجا کرنی چاہیئے کہ وہ توفیق عطا کرے اور جو ایسا کرتے ہیں وہ پابھی لیتے ہیں اور اُن کی سُنی بھی جاتی ہے
    صرف باتونی آدمی مفید نہیں ہوتا ۔کپڑا جتنا سفید ہوتا ہے اور پہلے سے اس پر کوئی رنگ نہیں دیا جاتا اتنا ہی عمدہ رنگ اس پر آتا ہے ۔پس تم اس طرح اپنے آپ کو پاک کر و تاتم پر خدائی رنگ عمدہ چڑھے ۔اہلِ بیت جو ایک پاک گروہ اور بڑا عظیم الشان گھرانا تھا ۔اس کے پاک کرنے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ۔
    انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرحس اھل البیت و یطھیرا (الاحزاب :۳۴)
    یعنی مَیں ہی ناپاکی اور نجاست کو دُور کروں گا اور خود ہی ان کو پاک کیا تو بھلا اور کون ہے جو خود بخود پاک صاف ہونے کی توفیق رکھتا ہو۔پس لازمی ہے کہ اس سے دعا کرتے رہو اور اسی کے آستانہ پر گرے رہو ساری توفیقیں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔
    (البدر جلد ۷نمبر۱۴ صفحہ ۷ تا ۹ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۵ اپریل ۱۹۰۳ء؁
    (صبح کی سیر )
    محمدؐ ی سلسلہ میں موسوی سلسلہ کی طرح نبی کیوں نہیں آئے؟
    فرمایا:۔
    رات کے سوال کا یہ حصّہ کہ جب مماثلت ہے موسوی اورمحمدی سلسلوں میں ۔تو محمدی سلسلے میں موسوی سلسلے کی طرح نبی کیوں نہیں آئے؟ یہ حصّہ ایسا ہے جس سے ایک انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے ۔لہذا ہم اس کے متعلق زیادہ تشریح کر دیتے ہیں ۔اوّل تو وہی بات کہ مماثلت کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے کا وہ عین ہو ۔مشُبّہ و مُشَبّہ بِہٖ میں ضرور فرق ہوتا ہے ۔ایک خوبصورت انسان کو چاند سے مشابہت دے دیتے ہیں ۔مگر چاہیئے کہ ایسے انسان کا ناک نہ ہو ۔کان نہ ہوں ۔صرف ایک گول سفید چمکیلا سا ٹکڑا ہو۔اصل بات یہ ہے کہ مشابہت کے واسطے بعض حصّہ میں مشابہت ضرور ہوتی ہے۔ ۱ ؎
    دیکھیئے حضرت موسیٰ سے آنحضرت ﷺ کو مشابہت ہے اور اس میں صرف اعلیٰ جزو یہی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ایک قوم کو جو فرعون کے ماتحت غلامی میں مبتلا تھی اور اُن کے حالات گندے ہوگئے تھے وہ خدا کو بھول گئے تھے اور ان کے خیالات اور ہمتیں پست ہوگئی تھیں ۔موسیٰ ؑنے اس قوم کو فرعون سے نجات دلائی اور ان کو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے قابل بنادیا ۔اسی طرح آنحضرتﷺ نے بھی ایک قوم کو بتوں کی غلامی اور راہ ورسم کی قید سے نجات دلائی اور اپنے دشمن کو فرعون کی طرح ہلاک و برباد کیا۔ یہ مشابہت تھی ۲ ؎
    ا گر غور سے دیکھا جاوے تو ہمارے نبی کریم ﷺ کو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے اور حضرت موسیٰ ؑ کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے اُن کی کسرِ شان ۔کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ بھی ایک نبی تھے اور ان کے بعد ہزاروں اور بھی نبی آئے تو اُن کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیںثابت ہوتی ۔برعکس اس کے آنحضرتﷺ کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کے لفظ کا پاس اور ادب کیا گیا ہے ۔کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا ۔
    اگرچہ آنحضرت ﷺ کی اُمّت میں بھی ہزاروں بزرگ نبوت کے نور سے منور تھے اورہزاروںکو نبوت کا حصّہ عطا ہوتا رہا ہے اب بھی ہوتا مگر چونکہ آنحضرتﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا تھا ۔اس لیے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ دوسرے کو بھی یہ نام دے کر آپ کی کسرِ شان کی جاوے ۔آنحضرت ﷺ کی اُمت میں سے ہزار ہا انسانوں کو نبوت کا درجہ ملا اور نبوت کے اثار اور برکات ان کے اندر موجزن تھے مگر نبی کا نام ۔صرف شانِ نبوت آنحضرت ﷺ اور سدِبابِ نبوت کی خاطر اُن کو اس نام سے ظاہر اً ملقب نہ کیا گیا ۔ ۱ ؎ مگر دوسری طرف چونکہ آنحضرت ﷺ کے فیوض اور رُحانی برکات کا دروازہ بند بھی نہ کیا گیا تھا اور نبوت کے انوار جا ری بھی تھے جیسا کہ
    ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین
    سے نکلتا ہے کہ آنحضرت ﷺکی مُہر اور اذن سے اور آپ کے نُور سے نُورِنبوت جاری بھی ہے اور یہ سلسلہ بند بھی نہیں ہوا ۱ ؎ یہ بھی ضروری تھا کہ اسے ظاہراً بھی شائع کیا جاوے تاکیہ موسوی سلسلہ کے نبیوں کے ساتھ آپ کی اُمّت کے لوگ بھی مماثلت کے پورا کرنے میں صاف طور سے نبی اللہ کالفظ فرمادیا اور اس طرح سے دونوں امور کا لحاظ نہایت حکمت اور کمال لطافت سے رکھ لیا گیا۔ادھر یہ کہ آنحضرت ﷺ کی کسرِ شان بھی نہ ہو اور اُدھر موسوی سلسلہ سے مماثلت بھی پوری ہوجاوے۔تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گذرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امرپرپختہ ہوگئے تھے کہ آنحضرت ﷺ ہی خاتم الانبیا ء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سے آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا اس واسطے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لیے ظاہراً بھی بول دیا ۔یہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے آپ نے پہلے فرمایا تھا کہ قبروں کی زیارت نہ کیا کرو اور پھر فرمایا کہ اچھا اب کر لیا کرو ۔پہلے منع کرنا بھی حکمت رکھتا تھا کہ لوگوں کے خیالات ابھی تازہ بتازہ بت پرستی سے ہٹے تھے تا وہ پھر اسی عادت کی طرف عود نہ کریں ۔پھر جب دیکھا کہ اب اُن کے ایمانِ کمال کو پہنچ گئے ہیں اور کسی قسم کے شرک اور بدعت کو ان کے ایمان میں راہ نہیں تو اجازت دیدی۔ بالکل اسی طرح یہ امر ہے ۔پہلے تیرہ سو برس اس عظمت کے واسطے نبوت کا لفظ نہ بولااگر چہ صفتی رنگ میں صفتِ نبوت اور انوارِ نبوت موجود تھے اور حق تھا کہ اُن لوگوں کو نبی کہا جاوے مگر خاتم الانبیا ء کی نبوت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے وہ نام نہ دیا گیا ۔مگر اب وہ خوف نہ رہا تو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ کا لفظ فرمایا۔ آپ کے جانشینوں اور آپ کی اُمّت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو اُمور مدِّ نظر رکھنے ضروری تھے ۔اوّل عظمت آنحضرت ﷺ اور دوم عظمتِ اسلام ۔سو آنحضرت ﷺ کی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر ۱۳۰۰ برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تاکہ آپ کی نبوت کا حق ادا ہو جاوے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت ﷺ کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلہ سے اس کی مماثلت پوری ہو ۔آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوادیا ۔اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا اور موسوی سلسلہ کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرتﷺ بھی قا ئم رکھی ۱ ؎
    عو رت نبیّہ نہیں ہوسکتی
    سوال:۔ کیا کوئی عورت نبیّہ ہوسکتی ہے ؟فرمایا:۔
    نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    الرجال قوا مون علی النساء (النساء :۳۵) اور و للرجال علیھن درجۃ (البقرہ ۲۲۹)
    عورتیں اصل میں مردوں کی ہی ذیل ہوا کرتی ہیں ۔جب صاحبِ درجہ اور صاحبِ مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کردیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں ؟
    (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ صفحہ ۹۔۱۰ مورخہ ۱۷ـ اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۶ اپریل ۱۹۰۳ء؁
    ایک نیا نکتہ
    بعد نماز مغرب حضرت اقدس ؑ نے اس تقریر کا اعادہ فرمایا جو کہ مورخہ ۱۵ اپریل کی سَیر میں درج ہوچکی ہے اسکی تکمیل میں ایک نئی بات یہ فرمائی کہ:۔
    اس وقت میں اُمّتِ موسوی کی طرح جو ماامور اور مجدد ین آئے ان کا نام نبی نہ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت ﷺ کی شان ختمِ نبوت میں فرق نہ آوے (جس کا مفصل ذکر قبل ازیں گذر چکا ہے)اور اگر کوئی نبی آتا تو پھر مماثلت میں فرق آتا ۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم ،ابراہیم ،نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتیٰ کی آخر کار
    جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء
    کہا ۔گویا اس سے سب اعتراض رفع ہوگئے اورآپ کی اُمّت میںایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا ۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ صفحہ ۹۹ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء؁
    (دربارِ شام)
    انجیل کی تعلیم ناقابلِ عمل ہیَ
    کالجوں اور مدرسوں ۱ ؎ میں انجیل پڑھانے کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ:۔
    ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ انجیل کو پیش کس خیال سے کرتے ہیں۔اس کی تعلیم تو انسانی فطرت کے ہی خلاف پڑی ہوئی ہے۔اور تَو اور ایک درخت ۲ ؎ کی طرح مثال خیال کرو اور اس کی مختلف شاخوں کو انسان کے مختلف قویٰ ۔انسان اس بات پر مجبور ہے کہ مختلف اوقات پر مختلف قویٰ سے کام لیوے کیونکہ اس کی فطرت میں اس کی پیدائش کے وقت سے ایسا ہی رکھا گیا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسا ن کو ایک وقت ایک اور بر محل غضب ہوتو اس کی جگہ حلم کرکرے اور ہمیشہ ایک قوت سے کام لے دوسرے قویٰ کے ظہور کا موقعہ ہی نہ آوے ۔اگر ایسا ہی خداتعالیٰ نے کرنا تھا تو اتنے مختلف قویٰ کیوں انسان کو دیئے؟ صرف ایک عضو اور حلم ہی دیتا ۔باقی قویٰ سے جب کام لینا ہی گُناہ تھا تو وہ کیوں عطا کئے ؟نہیں ایسا نہیں۔بلکہ اسنان کی انسانیت اور اخلاق فاضلہ ہی اسی میں ہیں کہ محل اور موقعہ کے مطابق اپنے قویٰ کا اظہا ر کرے ۔ورنہ اس میں اور حیوانوں میں مابہ الامتیاز کیا ہوا؟
    ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اُن سے ایک دو مرتبہ عفو اور در گذر کیا جاوے اور نیک سلوک کیا جاوے تو اطاعت میں ترقی کرتے اور اپنے فرائض کو پوری طرح سے ادا کرنے لگ جاتے ہیں اور بعض شرارت میں اَور بھی زیادہ ترقی کرتے اور احکام کی پرواہ نہ کرکے ان کو توڑدینے کی طرف دوڑتے ہیں ۔اب اگر ایک خدمت گار کو جو نہایت شریف الطبع آدمی ہے اور اتفاقاً اس سے ایک غلطی ہوگئی ہے اُسے اُٹھ کر مارنے اور پیٹنے لگ جائیں توکیا وہ کام دے سکے گا ؟نہیںبلکہ اس سے تو عفو اور درگذر کرنا ہی اس کے واسطے مفید اور اس کی اصلاح کا موجب ہے مگر ایک شریر کو جس کا بارہا تجربہ ہوگیا ہے کہ وہ عفو سے نہیں سمجھتا بلکہ اَور بھی شرارت میں قدم آگے رکھتا ہے تو اس کو ضرور سزا دینی پڑے گی اور اسکے واسطے مناسب یہی ہے کہ اُسے سزا دی جاوے ۔
    مگر قرآن شریف اس کے مقابلے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔فرماتا ہے
    جزو سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (الشوریٰ :۴۱)
    یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی معاف کردے اور اس عفو میں اصلاح مدِّ نظر ہو بگاڑ نہ ہو تو ایسے شخص کو اجر ملے گا ۔دیکھو قرآن شریف نے انجیل کی طرح ایک پہلو پر زور نہیں دیا بلکہ محل اور موقعہ کے موافق عفو یا سزا کی کاروائی کرنے کاحکم دیا ہے ۔ عفو غیر محل نہ ہو ۔ایسا عفو نہ ہوکہ اس کی وجہ سے کسی مجرم کو زیادہ جرأت ہو اور دلیری بڑھ جاوے اور وہ اَور بھی گناہ اور شرارت میں ترقی کرتے ۔غرض دونوں پہلوئوں کو مدِّ نظر رکھا ہے۔اگر عفو سے اس کی عادتِ بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اَور اگر اصلاح سزا میں ہوتو سزا ۱ ؎ دینی چاہیئے اَور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کرسکے گی ۔


    مسیح موعودؑ کے دعاوی کا انحصار نشانات پر ہوگا
    فرمایا:۔
    قرآن شریف نے جو فرمایا
    اخرجنا لھم وابۃ من الارض تکلمھم ان الناس کانو با یا تنا لا یو قنون (النمل:۸۳)
    اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مسیح موعود ؑ جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دارومدار نشانات پر ہوگا اور خدا تعالیٰ نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فرمارکھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ
    ان الناس کانو با یتنا لا یوقنون
    یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کچھ بھی پرواہ نہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کویہ سزا ملی۔ان نشانات سے مراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ امر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سوسال بعد آیا ہے ۔آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مِل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہوگئے اگر آیت سے وہی نشانات مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپ کے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فرمایا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں ۔اور ان کو وہ نہیں مانتے ۔حالانکہ وہ مومن بھی ہیں ۔اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں اُن کو کوئی انکار نہیں ۔ان لوگوں کے متعلق تو ہم آنحضرت ﷺ کو آپ کی نبوت کی تفاصیل سمیت مان لیا ہوا ہے وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر وہ نشانات اب حجت نہیں کیونکہ انہوں نے وہ دیکھے ہی نہیں تو انکار کی وجہ سے ہلاک کیسے ہوسکتے ہیں ؟
    پس معلوم ہوا کہ ان نشانات سے مراد مسیح موعودؑ ہی کے نشانات ہیں جن کا انکار کرنے کی وجہ سے عذاب کی تنبیہ ہے اور خدا تعالیٰ کا غضب ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مسیح موعود کے نشانات سے انکار کیا ہے اور یہ خدا ئی فیصلہ ہے جس کو رد نہیں کیا جاسکتا یہ نصِّ صریح ہے اس بات پر کہ طاعون مسیح موعود ؑ کے انکار کی وجہ سے آئی ہے ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ صفحہ ۳مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۱۸ اپریل ۱۹۰۳ء؁
    (بوقتِ سیر)
    حضور کا دعویٰ
    نووارد مہمانوں میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ فرمایا:۔
    ہمارا دعویٰ مسیح موعودؑ کا ہے جس کے کل عیسائی اور مسلمان منتظر ہیں اور وہ مَیں ہوں پھر پوچھا کہ اس کے دلائل کیا ہیں ؟فرمایا :۔
    اب وقت تھوڑا ہے ۔سوال تو انسان چند منٹوں میں کر لیتا ہے مگر بعض اوقات جواب کے لیے چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں ۔جب تک ہر ایک پہلو سے نہ سمجھا جاوے تو بات سمجھ نہیں آیا کرتی اس لیے آپ کتابیں دیکھیں یا پھر کافی وقت ہوتو بیان کر دیئے جاویں گے۔
    خاتم النبیین کی تشریح
    دوسرے صاحب نے سوال کیا کہ خاتم النبیین کی شرح کیا ہے ؟
    اس کے جواب میں حضرت اقدس نے اپنا وہی مذہب بیان کیا جو ۱۵ اپریل کی ڈائری میں آچکا ہے ۔نیز فرمایا:۔
    قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲)
    جو جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا ۔اسی طرح خدا تعالیٰ جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا ۔آنحضرت ﷺکی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام بھی کرتا ہے ۔غیب کی خبریں اس پر ظاہر کرتا ہے ۔اسی کانام نبوت ہے۔
    مجلس قبل از عشاء
    معرفت کی راہ
    فرمایا:۔
    خدا تعالیٰ کی معرفت کی راہ بہت باریک اور تنگ ہے ۔اس لیے اس کا مشاہدہ انسان پر مشکل ہے ۔ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔اور اسی لیے انسان اس پر مائل ہوجاتا ہے مگر تاہم ایک حصّہ امراض کا انسان کو ایسا لگا ہوا ہے کہ طبیب ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی ۔
    کیا دینداری اختیار کرنے سے مصیبت آتی ہَے ؟
    بعض دنیا دار اعتراض کرتے ہیں کہ دینداری اختیار کی تو مصیبت آئی ۔مگر وہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ۔دیندارپر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے ثواب اور معرفت کا موجب ہوتی ہے اور دنیا دا رپر جو مصیبت آتی ہے وہ اس کی *** کا موجب بن جاتی ہے ۔آنحضرت ﷺ پر مصیبت پڑی مگر کیا ہی پیاری مصیبت تھی کہ جیسے جیسے وہ بڑھتی جاتی ویسے ہی زور سے قرآن نازل ہوتا جاتا ۔وہ دَور گو جلدی ختم ہوگیا یعنی صرف حضرت معاویہ تک ہی رہا ۔مگر نہ وہ رہے نہ یہ ۔ہاں سعید گروہ کے آثار قیامت تک رہے اور شقی کا نام بھی ندارد ۔کاش کہ ابو جہل کبھی زندہ ہوکر آتا تو دیکھتا کہ جس کو وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتا تھا خدا تعالیٰ نے اس کی کیا شان بنائی ہے ۔مشرق اور مغرب تک کہاں کہاں بلاد اسلامیہ پھیلے ۔
    آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو صحابہ ؓ فوت ہوئے انہوں نے تو وہ ترقیات نہ دیکھیں مگر جنہوں نے حضرت عمر ؓ کا زمانہ پایا انہوں نے دیکھ لیں ۔اگر ابوجہل وغیرہ کو معلوم ہوتا کہ عروج ہوگا تو مثل غلاموں کے آنحضرتﷺ کے ساتھ ہوجاتے ۔ (البدر جلد ۲ نمبر۱۵ صفحہ۱۱۴مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۰ اپریل ۱۹۰۳ء؁
    (صبح کی سیر)
    حُبابِ ہستی
    فرمایا:۔
    مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ باوجود اس ودر بے بنیاد ہستی کے انسان دنیا میں بنیادیں قائم کرتا ہے صرف ایک دم کی آمدو شد ہے اَور کچھ بھی نہیں ۔پھر یہ سلسلہ خداتعالیٰ نے کیسا رکھا ہے کہ جو شخص یہاں سے رخصت ہوجاوے اس کو اجازت نہیں کہ واپس آکر وہاں کی خبر ہی بتلا جاوے ۔اس سے حکماء اور فلاسفر اور دانایانِ زمان سب عاجز ہیں ہاں اسی قدر پتہ ملتا ہے جو خدا کی کلام نے بتایاہے۔
    آدمی جو مرتا ہے اکثر اپنے بڑے بڑے تعلقات اور عزیز اور پیارے رشتہ دار چھوڑ جاتا ہے مگر معاً انتقال کے بعد ان سے کچھ تعلق نہیں رہتا ۔آجکل یورپ کو ہر ایک بات کی تلاش ہے ۔چناچہ امریکہ میں ایک شخص سے معاہدہ ہوا (جو واجب القتل تھا)کہ جب اس کاسر کاٹا جاوے تواس کو بہت بلند آواز سے پکارا جاوے تو مَیں آنکھ سے اشارہ کریگا ۔چناچہ جب سر کاٹا گیا تو بڑے زور سے آوازیں دی گئیں مگر کچھ حرکت نہ ہوئی ۔سچ ہے
    آنرا کہ خبر شد خبرش باز نیامد
    جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے ہاں موت اور نیند کو آپس میں مشابہت ہے ۔
    احیا ء موتیٰ
    احیا موتیٰ کے بارے میں سوال ہونے پر فرمایا کہ :۔
    اس میں ہمارا عقیدہ نہیں کہ اعجازی طور پر بھی احیاء موتیٰ نہیں ہوتا بلکہ یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرتا ۔مبارک احمد کی حیات اعجازی ہے ۔اس میں کوئی بحث نہیں کہ جس شخص کی باقاعدہ طور پر فرشتہ جان قبض کر لے اور زمین میں بھی دفن کیا جاوے وہ پھر کبھی زندہ نہیں ہوتا ۔شیخ سعدی نے خوب کہا ہے ۔ ؎
    واہ کہ گر مردہ باز گر دیدے درمیاں قبلہ و پیوند
    ردّ میراث سخت تر بُودے وارثا ںراز مرگ خویشادند
    خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا
    فیمسک التی قضی علیھا الموت (الزم :۴۳)
    حقیقتِ کشف
    کشف کیا ہے اسی بیداری کے ساتھ کسی اور عالم کا تذاخل ہو جاتا ہے ۔اس میں حواس کے معطل ہو نے کی ضرورت نہیں ۔دُنیا کی بیداری بھی ہو تی ہے اورا یک عالمِ غیبو بیّت بھی ہو تا ہے یعنی حالت بیداری ہو تی ہے اور اسرارِ غیبی بھی نظر آتے ہیں ۔
    قتلِ انبیاء
    قتلِ انبیاء پر سوال ہونے پر فر مایا :۔
    تورت میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاوے گا ۔اس کا یہ فیصلہ یہ ہے اگر قرآن کی نصِ صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کر نا پڑے گا ۔بہرل حال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہو تی ہے مگر ہاں ناکام قتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں ۔
    یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ بر پا ہو تا ہے تو مصلحتِ الہیٰ نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کراکر فتنہ بر پا کیا جاوے ۔ جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں حرج نہیں
    حد یث قر آن سے باہر نہیں
    پھر فرمایا کہ:۔
    جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے وہی کچھ حدیث میں ہے۔ہاں بعض ۱؎ باتوں کا استنباط ایسا اعلیٰ حدیثوں نے کیا ہے کہ دوسرے گو اس کو سمجھ نہیں سکتے ورنہ حدیث قرآن سے باہر نہیں۔
    خدا تعالیٰ نے قرآن کانام رکھا ہے مُفَصَّلاً۔ اس پر ایمان ہونا چاہیئے بعض تفاسیر سوائے انبیاء کے اَور کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔پھر اس طرح حدیث میں قرآن سے زائد کچھ نہیں۔
    (الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ صفحہ ۱۲ مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۷ء؁)
    متقی ہر وقت تیا ر رہتا ہے
    ہر رات حاملہ عورت کی طرح ہو تی ہے جیسے وہاں معلوم نہیں کہ کیا پیدا ہو نہیں معلوم صبح کو کیا نتیجہ پیدا ہو ۔اس لیے متقی اپنے اوقات کو ضائع نہیں کر تا بلکہ وہ ہر وقت ریار رہتا ہے یہ جان کر کہ معلوم نہیں کس وقت آواز پڑ جا وے ۔
    نبوتِ مسیح موعود
    نبوت کا لفظ ہمارے الہا ما ت میں دوشرطیں رکھتا ہے اول یہ کہ اس کے ساتھ شریعت نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ ابو سطہ آنحضرتﷺ ۔
    ملا ئکہ کا وجود
    جو لوگ ملا ئک سے انکا ر کر تے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ان کو اتنا معلو م نہیں کہ دراصل جس قدر اشیا ء دنیا میں مو جو د ہیں ذرہ ذرہ پر ملا ئکہ کا اطلا ق ہو تا ہیے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ بغیراس کے اذن کے کو ئی چیز اپنا اثر نہیں کر سکتی یہا نتک کہ پا نی کا ایک قطر ہ بھی اندر نہیں جا سکتا اور نہ وہ مو ثر ہو سکتا ہے
    وان من شیء الا یسبح بحمدہ (نبی اسرائیل:۴۵)
    کے یہی معنے ہیں اور
    رب کل شیئی خا دمک
    کے بھی یہی معنے ہیں یہی اسلام اور ایمان ہے اس کے سوا بد بودار چیز ہے ۔
    موت
    موت کا مضمون بہت ہی مو ثر مضمون ہے اگر یہ انسان کے اندر چلا جا وے تو انسان بد یوں سے بچنے کی بہت کو شش کر ے ۔ابراہیم اَدہم اور شاہ شجاع جیسے بادشاہوں پر اسی مضمون نے اثر کیا تھا جو سلطنتیں چھوڑ کر فقیر ہو گئے ۔
    خلق اور امر
    جو چیز غلل اور اسباب سے پیدا ہو تی ہے وہ خلق ہے اور جو محض کن سے ہو وہ امر ہے چنا نچہ فر ما یا
    انما امر ہ اذاراد شیئا ان یقول لہ کن فیلون(لیسؔ:۸۳)
    عالم ِ امر میں کبھی تو قف نہیں ہو تا خلق سلسلہ علل ومعلول کا محتاج ہے جیسے انسان کا بچہ پیدا ہو نے کے لیے نطفہ کا محتاج ہو پھر دوسرے مراتب اور طباتب کے قواعد کے نیچے ہو تا ہے مگر امر میں یہ نہیں ہو تا ہے ۔
    (الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ صفحہ ۱۲ مورخہ۷ ا؍اپریل ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۱؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    (بوقت ِسیرَ)
    وحی والہام کشف
    فر ما یا کہ :۔
    جب سماع ۱؎ کے ذریعہ سے کو ئی خبر دی جا تی ہے تواس وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذرہعی سے کچھ بتلا یا جاوے تواسے کشف کہتے ہیں اسی طرح مَیں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا امر ظا ہر ہو تا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت ِشا مہ سے ہو تا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسفؑ کی نسبت حضرت یعقوبؑ کو خوشبو آئی تھی ۔
    انی لا جد ریح یوسف لولا ان تفند ون(یوسف:۹۵)
    اور کبھی ایک امر ایسا ہو تا ہے کہ جسم اسے محسوس کر تا ہے گو یا کہ حواس ِخمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی با تیں اظہار کرتا ہے ۱؎
    دہر یت
    ہندوستان اور یورپ کی دہر یت میں فرق ہے ۔یورپ کے دہریہ اس خدا کے منکر ہیں جو مصنوعی ہے اور عیسائی وہاں اس کو دہریہ کہتے ہیں جوکہ مسیح کو خدا نہ مانے اور اب فسق و فجور نے بھی اثر ڈالا ہے ۔لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ سب اثر کفّار پرستی کا ہے ۔تو اب وہ کیسے مانیں۔
    قضاء عمری
    ایک صاحب نے سوال کیاکہ یہ قضاء عمری کیا شئے ہے جو کہ لوگ (عید الاضحی )کے پیشتر جمعہ کو ادا کرتے ہیں فرمایاکہ:۔
    میرے نزدیک یہ سب فضول باتیں ہیں ۔ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علیؓ نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت میں نماز ادا کررہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں ۔اس کی شکایت حضرت علی ؓ کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ مَیں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا
    ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی (العلق :۱۰ ،۱۱)
    یعنی تونے دیکھا اس شخص کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔نماز جورہ جائے اس کا تدارک نہیں ہو سکتا ہاں روزہ کا ہوسکتا ہے۔
    اور جو شخص عمداًسال بھر اس لیے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضاء عمری والے دن ادا کرلونگا تو وہ گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر توبہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کرونگا تو اس کے لیے حرج نہیں۔۱؎ہم تو اس معاملہ میں حضرت علیؓ ہی کا جواب دیتے ہیں۔
    نماز کے بعد دُعا
    سوال ہوا کہ نماز کے بعد دُعا کرنا سنت اسلام میں ہے یا نہیں؟فرمایا ہم انکار نہیں کرتے۔آنحضرت ﷺ نے دعا مانگی ہوگی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کرکے گلے سے اتارتے ہیں۔پھر دعائوں میں اس کے بعد اس قدر خشوع خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دومیل تک نکل جاوے۔بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔خشوع خضوع اصل جزو تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعا مانگتے ہیں۔اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعائوں کے بعد اپنی زبان میں دعا مانگ سکتا ہے۔
    سُنّت صحیحہ معلوم کرنے کا طریق
    جب اسلام کے فرقوں میں اختلاف ہے تو سنتِ صحیحہ کیسے معلوم ہو؟اس کے جواب میں فرمایا کہ:۔
    قرآن شریف،احادیث اور ایک قوم کے تقویٰ طہارت اور سنت کو جب ملایا جاوے تو پھر پتہ لگ جاتا ہے کہ اصل سنت کیا ہے۔
    نماز اور قرآن شریف کا ترجمہ جاننا ضروری ہیَ
    مولانا محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ
    ولا تقربو االصلوٰۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون (النساء :۴۴)
    سے ثابت ہے کہ انسان کو اپنے قول کا علم ضروری ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔
    جن لوگوں کو ساری عمر میں
    تعلموا
    نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے۔
    مزکیّ کی ضرورت
    ایک عورت کا ذکرکرتے ہیں کہ نماز پڑھا کرتی تھی۔ایک دن اس نے پوچھا کہ درود میں
    صل علیٰ محمد
    آتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔خاوند نے کہا۔محمد ﷺہمارے رسول تھے اس پر اس نے تعجب کیا اور کہا کہ ہائے ہائے مَیں ساری عمر بیگانہ مرد کا نام لیتی رہی(یہ حالت آج کل اسلام اور مسلمانوں کی ہے اور پھر اس پر کہا جاتا ہے کہ ایک مزکیّ انسان کی ضرورت نہیں ہے)
    قرآن کا صرف ترجمہ کافی ہے کہ نہیں
    فرمایا۔ہم ہرگز فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کو صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میںنہ رہے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو دعائیں رسول اللہ ﷺ نے مانگی ہیں وہ بھی عربی میں پڑھی جاویں دوسرے جو اپنی حاجات وغیرہ ہیں ماثورہ دعا کے علاوہ وہ صرف اپنی زبان میں مانگی جاویں۔
    ایک شخص نے کہا کہ حضور حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھ لینا کافی سمجھا گیا ہے فرمایا کہ:۔
    اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔
    صدقہ اور ہدیہ میں فرق
    صدقہ میں ردبلا ہوتی ہے اور یہ صدق سے نکلا ہے کیونکہ اس کے عملدرآمد میں انسان کو صدق وصفا دکھلاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہدیہ ہدایت سے نکلا ہے کہ آپس میں محبت بڑھے۔
    بعد وفات میّت کو کیا شئے پہنچتی ہیَ
    فرمایا کہ :۔دعا کا اثر ثابت ہے ایک روایت ہیں ہے کہ اگر میّت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے اور روزہ کا بھی ذکر ہے۔
    ایک شخص نے عرض کی کہ حضور یہ جو ہے
    لیس للانسان الا ماسعی (النجم:۴۰)
    فرمایا کہ:۔اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ بھائی کے حق میں دعا نہ قبول ہو تو پھر سورہ فاتحہ میں
    اھد نا کی بجائے اھدنی ہوتا۔
    مجلس قبل از عشاء
    ایک شخص کی موت کا ذکر ہوا۔اس باعث بیان ہوا کہ فلاں مرض اور اسباب تھے۔فرمایا کہ:۔
    جب انسان یہیں آکر ٹھہر جاوے کہ فلاں باعث موت کا ہے اور آگے نہ چلے تو ایسی باتیں معرفت کی روک ہیں اوراس سے نظر اسباب تک ہی رہتی ہے۔
    لولا الا کرام لھلک المقام
    فر ما یا :۔
    جب طا عون کی آگ بھڑک رہی ہے تو اب کو ئی سو چے کہ ایک مفتر ی کہہ سکتا ہے
    لولا الا کرام لھلک المقام
    کیا ممکن نہ تھا کہ وہ خوف ہی مر جا وے اور طا عون کا شکا ر ہو اس وقت قادیان مثلِ مکہ ہے کہ اس کے اردگر دلوگ ہلا ک ہو رہے ہیں اور یہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے با لکل امن ہے مکہ کی نسبت بھی ہے
    یتخطف النا س من حولھم(العنکبوت :۶۸)
    کہ لوگ اس کے گرد ونواح سے اچک لیے جا ویں گے
    لولا الا کرام
    سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا تعالیی اس سر زمین سے راضی نہیں ہے اور مجھے یہ بھی الہام ہوا ہے
    ماکان اللہ لیعذ بھم وانت فیھم۔
    قنوت
    آج کل چو نکہ وبا کا زور ہے اس لیے نمازوں میں قنوت پڑ ھنا چا ہیئے ۔
    (البدر جلد۲ نمبر۱۵صفحہ ۱۱۴۔۱۱۵مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۲؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء
    (بوقت ِسیر)
    گو شت خوری
    آریوں کے مسئلہ گو شت خوری پر ذکر چلا فر ما یا کہ :۔
    انسانی زند گی کے واسطے دوسری اشیا ء کی ہلا کت لا زمی پڑ ی ہو ئی ہے ۔مثلاً دیکھو ریشم جب ہی حاصل ہو تا ہے جب رشیم کے کیڑے مر یں پھر شہد کی مکھی کب چا ہتی ہے کہ اس کا شہد لیا جا وے اکثر جو نکیں خون پی کر مر جا تی ہیں پھر ہوا میں کیڑے ہیں سانس سے مر تے ہیں جب یکجا ئی نظر سے خدا ئی کے کل دائرے کو دیکھا جا وے تو پھر سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا میں سلسلہ آکل اور ما کول کا برابر جا ری ہے اور اس کے بغیر دنیا رہ ہی نہیں سکتی کہ بعض کی جان لی جا وے ورنہ اس طرح تو پھر کدودانہ وغیرہ کیڑے جو پیٹ میں پیدا ہو تے ہیں ان کو بھی نہ ما رنا چا ہیئے ۔
    ایک شخص نے کہا کہ حضور آریہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جوانسان کی طاقت سے با ہر امر ہے۔
    اس میں اس پر الزام نہیں ۔فر ما یا کہ :۔
    طا قت سے با ہر تو وہ کہا جا وے گا جس کا تعلق انسانی زند گی سے نہ ہو اور جو اس کے اندر ہے وہ سب طاقت میں ہو گا خدا تعالیٰ کا ہی یہ منشا ء ہے کہ انا نی حفاظت کے واسطے بہت جا نوں کو لیا جا وے پھر فطرت انسانی میں بعض قویٰ ایسے ہیں کہ اگر گوشت نہ کھا یا جا وے۔ توان کا نشوونما ہو ہی نہیں سکتا شجاعت پیدا ہی نہیں ہو تی اس لیے سکھ وغیرہ اقوام جو گوشت خورہیں وہ نسبتاً شجاعت بہت زیادہ رکھتے ہیں ۔
    اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ بنگالی گو شت خور ہیں مگر وہ ایسے بہادر نہیں ہو تے ۔فر ما یا :۔
    ایسی حالتوں میں قوموں کی مجموعی حالت کو دیکھا کر تے ہیں کہ کس قدر اقوام گو شت خور ہیں اور کسقدر نہیں پھر مقابلتہ دیکھا جا وے کہ کو نسی اقوام شجاعت میں بڑ ھ کر ہیں ۔
    مجلس قبل از عشاء
    احمدیوں کی اقسام
    فر ما یا ۔ ہمارے مر یدوں کے بھی کئی قسم کے طبقے ہیں ایک تو طا عونی ہیں جوطاعون سے ڈر کر اس سے بچنے کی نیت سے اب آرہے ہیں ۱؎ دوسرے قمری اور شمسی ہیں جو کہ قمر اور شمس کا گرہن دیکھ کر داخل بیعت ہو ئے ۔
    کچھ خوابی ہیں کہ بذریعہ خواب کے ان کی راہنما ئی گئی ۲؎
    بعض عقلی ہیں انہوں نے عقل سے کام لے کر بیعت کی ۔بعض نقلی ہیں کہ حدیث آثار وغیرہ دیگر امور کو پورے ہو تے دیکھ کر ایمان لا ئے اور ابھی شا ئدااَور بھی چند قسمیں ہوں۔
    ہمارا نقارہ
    اعداء کا وجود ہمارا نقارہ ہے یہ انہیں کی مہر با نی ہے کہ تنیلیغ کر تے رہتے ہیں مثنوی میں ایک ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے چور نے کہا کہ نقارہ بجارہاہوں اس شخص نے کہا آواز تو نہیں آتی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنا ئی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچا تے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہو تہ رہتی ہے۔
    فلسفہ جدیدہ کا فائدہ
    فلسفہ جدیدہ نے اگرچہ نصانا ت بھی پہنچائے ہیں مگر ایک صورت میں یہ مفید بھی ہواہیکہ بہت سی غیر معقول باتوں سے دلوں میں نفرت دلادی ہے مثلاًیہ فرقہ شیعہ کہ جن کی اصلاح کی کبھی امید نہ تھی مگر اس فلسفہ سے متاثر ہو کر وہ بھی راہ راست پر آتے جاتے ہیں۔
    صلحاء واتقیاء سے محبت میںغلو نہ کیا جائے
    ایک شخص کے سوال پر کہ کیا اولیاء اللہ سے محبت رکھی جاوے کہ نہ فرمایا:۔
    ہم اس کے مخالف نہیں ہیں کہ صلحاء ،اتقیاء اور ابرار سے محبت رکھی جاوے مگر حد سے گذر جانا حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ پر ان کو مقدم رکھنا یہ مناسب نہیں ہے جیسے کہ گذشتہ ایام میں بعض شیعہ کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی اس میں لکھا تھا کہ صرف امام حسین ؑکی شفاعت سے تمام انبیاء نے نجات پائی۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور اس میں آنحضرتﷺ کی کسر شان ہے۔اس سے تو ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ نے غلطی کی کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن نازل کیا اور حسین ؑپر نہ کیا۔ ۲؎ (البدر جلد۷صفحہ۱۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء؁)
    ازدیادِ ایمان
    ایمان کی نعت یہی ہے کہ خدائی مصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔جب وہ خدا تعالیٰ کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اس کا ایمان بڑھتا ہے اور معرفت اور بصیرت کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔جب تک خدا تعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی۔اس وقت یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب ان کی چمکار نظر آ جاتی ہے اس وقت سینہ کی غلاظتیںدور ہو جاتی ہیں اور اندر ایک صفائی اور نور نظر آتا ہے۔وہ حالت ہوتی ہے جب اس کے لیے کہا جاتا ہے
    اتقو افرا سۃالمومن فانہ ینظر بنور اللہ۔
    عابد کامل سے عبادت کا ساقط ہو جانا
    اہل اللہ کہتے ہیں کہ انسان جب عابد کامل ہوجا تا ہے اس وقت اس کی ساری عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔پھر خود ہی اس جملہ کی شرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز روزہ معاف ہو جا تا ہے نہین بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ تکالیف ساقط ہو جاتی ہیں یعنی عبادات کو وہ ایسے طور پر ادا کرتا ہے جیسے دونو وقت روٹی کھا تا ہے وہ تکالیف مدرک الحلاوت اور محسوس ا للذات ہو جاتی ہیں۔پس ایس حالت پیدا کرو کہ تمہاری تکالیف ساقط ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نہیں سے بچنا فطرتی ہو جاوے۔جب انسان اس مقام پر پہنتا ہے تو گویا ملائکہ میں داخل ہو جا تا ہے جو
    یفعلون ما یو مرون
    کے مصداق ہیں۔
    ثوابِ عبادت ضائع ہونے کا مطلب
    سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف اور عابد ہو جا تا ہے تو اسکی عنادت کا ثواب ضائع ہو جا تا ہے۔پھر خود ہی اس کی تشریح کرتے ہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہر نیکی کا اجر نقد پا لیتے ہیں یعنی جب نفسِ امارہ بدل کر مطمئنہ ہو جاتا ہے تو وہ تو جنت میں پہنچ گیا۔جو کچھ پانا تھا پالیا۔اس لحاظ سے ثواب نہیں رہتا۔مگر بات اصل یہ ہے کہ ترقیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    عربی میں الہامات کی کثرت کی وجہ
    آنحضرت ﷺ کی اِتباع کے سوا اگر ہم کسی اور راستہ پر چلتے تو ہماری کثرتِ الہام کسی دوسری زبان میں ہوتی۔مگرجب کہ اسی خدا ،اسی کی کتاب اور اسی نبی کے اتباع پر ہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہم کیوں عربی زبان میں مثل لانے کی تحّدی نہ کریں؟
    حقیقی جنت
    مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب میں کسی کتاب کا مضمون لکھنے بیٹھتا ہو ں اور قلم اٹھاتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی اندر سے بول رہا ہے اور میں لکھتا جا تا ہوں۔اصل یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھا بھی نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آجاتا ہے اور میرا ایمان تو یہ ہے کہ جنت ہو یا نہ ہو۔خدا تعالیٰ پر پورا یقین ہونا ہی جنت ہے ۔(الحکم جلد۷نمبر۱۶صفحہ ۵مورخہ۳۰؍اپریل۱۹۰۳ء؁)
    ۲۳ اپریل ۱۹۰۳ء ؁
    دربارِ شام
    مسیح کا مقامِ رُوح منہ
    ایپی فینی میں کسی ہندو نے ایک مضمون شائع کردیا ہے کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح ؑکی نسبت روح اللہ کا لفظ آیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب سے افضل ہیںاس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ:۔
    اللہ تعالیٰ کا مسیح ؑکو روح منہ فرمانے سے اصلی مطلب یہ ہے کہ تا ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جاوے جو ان کی ولادت کے متعلق کئے جاتے ہیں۔یاد رکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اس میں روح الیٰ کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ
    وشار کھم فی الاموال والاولا د(بنی اسرائیل:۶۵)
    یہ شیطان کو خطاب ہے غرض خدا تعالیٰ نے روح منہ فرما کر یہودیوں کے اس اعتراض کو رد کیا ہے جو وہ نعوذباللہ حضرت مسیؑح کی ولادت کو ناجائز ٹھہرا تے تھے روح منہ کہہ کر صاف کردیا کہ ان کی ولادت پاک ہے۔
    یہودی تو ایسے بیباک اور دلیر تھے کہ ان کے منہ پر بھی ان کی ولادت پر حملہ کرتے تھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ مس شیطان سے پاک ہیں۔اس میں بھی اس کی تصدیق ہے ورنہ تمام انبیاء اور صلحاء مس شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔حضرت مسیؑح کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے اسلیئے ان کے لیے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی دوسرے نبیوں یا آنحضرت ﷺکے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے کیونکہ اگر ایک مسلم و مقبول نیک آدمی کی نسبت کہا جاوے کہ وہ تو زانی نہیں یہ اس کی ایک رنگ میں ہتک ہے
    آنحضرت ﷺکوتو خود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ مس شیطان سے پاک ہیں تب ہی تو آپ کا نا م انہوں نے امین اکھا ہوا تھا اور آپ نے ان پر تحّدی کی کہ
    فقد لبثت فیکم عمرا(یونس:۱۷)
    پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔یہ الفاظ حضرت مسیؑح کی عزت کو بڑھانے والے نہیں ہیں۔انکی برات کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنک کا بھی پتہ دے دیتے ہیں کہ ان پر الزام تھا۔
    یاد رکھو کہ کلمہ اور روح کا لفظ عام ہے۔حضرت مسیؑح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں ہے۔
    یومن باللہ وکلماتہ (الاعراف:۱۵۹)
    اب اللہ تعالیٰ کے کلمات تو لا انتہا ہیں اور ایسا ہی صحابہ کی تعریف میں آیا ہے
    اید ھم بروح منہ (امجادلۃ:۲۳)
    پھرمسیؑح کی کیا خصوصیت رہی؟حضرت مسیؑح کی ماں کی نسبت جو صدیقہ کا لفظ آیا ہے یہ بھی دراصل رفع الزام ہی کے لیے آیا ہے یہودی جو معاذ اللہ ان کو فاسقہ فاجرہ ٹھہراتے تھے۔قرآن شریف نے صدیقہ کہہ کر ان کے الزاموں کو دور کیا ہے کہ وہ صدیقہ تھیں۔اس سے کوئی خصوصیت اور فخر ثابت نہیں ہوتا اور نہ عیسائی کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ ان کو تو یہ امور پیش بھی نہیں کرنے چاہیئں ۔
    (الحکم جلد۷نمبر۱۶صفحہ ۵مورخہ۳۰؍اپریل۱۹۰۳ء؁)
    ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل ازعشاء
    ایک اعتراض کا جواب
    کسی نے اعتراض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں کوئی احمدی طاعون سے فوت ہوتا ہے ؟فرمایا کہ :۔
    یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ انجام کو نہیں دیکھتے۔آنحضرت ﷺ کے وقت جب ایک طرف کافر مرتے ہوں گے اور ایک طرف صحابہؓ بھی۔تو لوگ اعتراض تو کرتے ہوں گیکہ مرتے تو وہ بھی ہیں پھر فرق کیا؟اس لیے ہمیشہ انجام کو دیکھنا چاہئیے۔ایک وہ وقت تھا کہ آنحضرت ﷺ اکیلے تھے اور کوئی ساتھ نہ تھا ہر ایک مقابلہ کے لیے تیار ہوتا۔اب ہم ان کوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر طاعون سے ہمارے مرید مرتے جاتے ہیں تو پھر ہماری ترقی کیوں ہوتی جاتی ہے؟اور ان کی جمعت کیوں گھٹتی جاتی ہے؟
    یہ اعتراض تو پھر سب پیغمبروں پر ہوگا اور ہم نے تو اسی لیے کشتی نوح میں لکھ دیا تھا کہ اگر عافیت کا پہلو نسبتاً ہماری طرف ہو تو ہم سچے اور موت تو سب کو آنی ہے۔اس سے کس کو انکار ہے۔طاعون کو جو ایک طرف شہادت اور ایک طرف عذاب کہا جاتا ہے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ اسکے ذریعے سے جس فریق کے لیے برکات ظاہر ہورہے ہیں ان کے لیے تو شہادت اور رحمت ہے اور جن کے لیے برکات ظاہر نہ ہوں اور کمی ہوتی جاوے ان کے لیے عذاب ہے۔ہم کو اس سے دو فائدے ہیں اور ان کو دو نقصان ہیں اور پھر ہم بیس سال سے براہین میں یہ پیشگوئی عذاب کی شائع کرچکے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ان کافروں کو جس طرح چاہے عذاب دیوے۔پھر جب ان لوگوں پر وہ عذاب ایک جنگ کے رنگ میں نازل ہوا تو کفار کے ساتھ صحابہؓ کیوں اس میں حصہ لیتے رہے؟یہ امر اس لیے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک پہلو اخفاء اور ایمان بالغیب کا بھی رہے۔
    ہندوئوں کا بانگ دلوانا
    آج کل طاعون کی کثرت کے وقت اکثر سکھوں اور ہندوئوں کے گائون میں یہ علاج کیا جاتا ہے کہ اذان نماز بڑے زور اور کثرت سے ہر ایک گھر میں دلائی جاتی ہے اس کی نسبت ایک شخص نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ فعل کیسا ہے؟فرمایا کہ:۔
    اذان سراسر اللہ تعالیٰ کا پاک نام ہے ہمیں تو حضرت علیٰؓ کا جواب یاد آتا ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ مَیں اس
    ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی (العلق :۱۰ ،۱۱)
    کا مصداق ہونا نہیں چاہتا۔ہمارے نزدیک بانگ میں بڑی شوکت ہے اور اس کے دلوانے میں حرج نہیں (حدیث میں آیا ہے کہ اس سے شیطان بھاگتا ہے) (البدر جلد۲نمبر ۱۵صفحہ۱۱۶مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ء؁)
    ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۳ء؁
    دربار شام
    الہام
    یا ارض ابلعی ما ء ک ویا سما ء اقلعی ۱؎
    مولوی محمد حسین کے ذکر پر فرمایا ۲؎ کہ:۔
    اصل میں اگر کوئی صاف دل اور بے تعصب ہو کر ہمارے دلائل سنے تو اس کو معلوم ہوجاوے کہ درحقیقت ہم حق پر ہیں۔ہمارا ان کا اختلاف ہی کیا ہے۔
    وفات مسیح علیہ السلام
    مسیحؑ کی حیات ممات کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایسا صاف ہے کہ اس میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔شروع سے یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے اور وفاتِ مسیحؑ اکثر اکا بران ملت کا مذہب ہے۔صحابہؓ کا یہی مذہب تھا۔
    احیاء موتیٰ
    رہا حضرت عیسیٰ کا احیاء موتیٰ۔اس میں روحانی احیاء نوتیٰ کے تو ہم بھی قائل ہیں۔اور ہم مانتے ہیں کہ روحانی طور پر مُردے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہو کہ ایک شخص مر گیا اور پھر زندہ ہوگیا۔تو یہ قرآن شریف یا احادیث سے ثابت نہیںہے اور ایسا ماننے سے پھرقرآن شریف اور احادیث نبوی گویا ساری شریعت اسلام ہی کو ناقص ماننا پڑے گا کیونکہ رد الموتیٰ کے متعلق مسائل نہ قرآن شریف میں ہیں نہ حدیث نے کہیں ان کی صراحت کی ہے۔اور نہ فقہ میں کوئی بات اس کے متعلق ہے۔غرض کسی نے بھی اس کی تشریح نہیںکی۔اس طرح پر یہ مسئلہ بھی صاف ہے۔ ۱؎
    خلق طیر
    پھر ان کا جانور بنانا ہے سواس میں بھی ہم اس بات کے قائل ۲ ؎ ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ انہوں نے چڑیاں بنا دیں اور انڈے بچے دے دئیے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے۔ہم کیا کریں ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے اور دوسری طرف بار بار کثرت کے ساتھ ہمیں الہام الہیٰ کہتا ہے۔
    قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مومنون۔قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مسلمون۔
    اب ان الہامات کے بعد ہم اَور کس کی بات سنیں؟ اور وہ کون ہے جس کی آواز خدا تعالیٰ کی ان آوازوں کے بعد ہمارے دل کو لے سکے ؟مولوی محمد حسین صاحب نے تو خود لکھدیا ہے کہ اہل کشف اور ولی الہام کی رو سے احادیث کی صحت کر لیتے ہیں۔بعض احادیث ائمہ اہلِ حدیث کے نزدیک موضوع ہوتی ہیں اور اہل کشف بذریعہ کشف ان کو صحیح قرار دیتے ہیں۔اور وہ حق پر ہوتے ہیں۔ان وہ خود ہی بتائیں کہ ہم کیا کریں۔کیا یم خدا تعالیٰ کے الہام کو مانیں یا کسی دوسرے کے قیل وقال کو؟
    براہین احمدیہ موجود ہے اور وہ دشمنوں دوستوں سب کے ہاتھ میں ہے اس میں اس وقت سے ۲۵ سال پہلے کی وہ پیشگوئیاں اور وعدے بھرے ہوئے ہیں جن کا اس وقت نام ونشان بھی نہ تھا۔اور وہ اب بڑے زور شور سے اپنے سچے معنوں میں پوری ہو رہی ہیں کیا کوئی آدمی ایسی نظیر بتا سکتا ہے کہ کسی کاذب کو ایسے سامان ملے ہوں کہ پہلے اتنا عرصہ دراز اس نے پیشگوئیاں کی ہوں اور وہ پھر اسی طرح پوری ہوئی ہوں اور وہ کامیاب ہو گیا ہو۔ ۱؎ (الحکم جلد۷نمبر ۱۶صفحہ۸مورخہ ۳۰ ؍اپریل۱۹۰۳ء؁)
    ۲۶؍اپریل ۱۹۰۳ء؁
    بوقت سیر
    خدا تعالیٰ اور انبیاء کا علم مساوی نہیں ہوتا
    فرمایا کہ:۔خدا کے علم کے ساتھ بشر کا علم مساوی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے انبیاء سے اجتہاد میں غلطی واقع ہوتی رہی ہیں اور پھر جب خدا تعالیٰ نے اس پر اطلاع دی تو ان کو علم ہوا۔یہودیون کو مسیحؑ کے وقت یہی مغالطہ ہوا۔انہوں نے کہا کہاںدائود کی بادشاہت قائم ہوئی ۔
    اور یہی دعویٰ آخر کار رخنہ کا موجب ہوا۔اگر پیغمبر پر ہر ایک تفصیل کھول دی جاتی تو پھر ہر ایک پیغمبر کو یہ علم ہوتا کہ میرے بعد فلاں پیغمبر آوے گا اور موسیٰ علیہ السلام کو علم ہوتا کہ میرے بعد آنحضرت ﷺ ہونگے حالانکہ ان کا یہی خیال ہوگا کہ آپ بنی اسرائیل سے ہوں گے۔اسی طرح آئندہ کے امور بعض وقت ایک نبی پر منکشف کئے جاتے ہیں مگر تفصیلی علم نہیں دیا جاتا۔پھر جب ان کا وہ وقت آتا ہے تو خود بخود حقیقت کھل جاتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جو حکم ہو کر آئے تھے تو کیا آپ نے یہود کی کل باتیں تسلیم کرلی تھیں؟
    مجلس قبل از عشاء
    دینی غیرت
    ایک مقام کے چند ایک احباب آریوں کے ایک ایسے جلسے میں گئے تھے جہاں آنحضرت ﷺ اور آپ کی پاک تعلیم پر نا جائز اور فحش سے بھر ے ہو ئے نا معقول حملے ہو رہے تھے اس پر حضرتاقدس نے نا راضگی کا اظہا کیا اور فر ما یا :۔
    یہ لوگ ایسی محفلوں میں کیوں جا تے ہیں ؟اور جب ایسے ذکر اذ کا ر شروع ہوں تو کیوں نہیں اٹھ کر چکے آتے ؟
    ہماری رائے میں ہمارے احباب کو یہ طریق اختیار کر نا چاہیئے کہ اپنی ہفتہ وار کمیٹی میں ایسی با توں کی تردید کیا کریں اور بذریعہ اشتہار ان تمام لوگوں کو مدعو کیا کریں جو کہ اعتراض کر تے ہیں یہ طریق نہایت امن اور عمد ہ تبلیغ حق کا ہے اور غیرت دینی کے بہت اقرب ہے ۔
    نبوت کا اقرار اور انکار
    اعتراض ۔ایک شخص کی طرف سے یہ سوال پیش ہواکہ مرزا صاحب اپنی تصنیفات میں کہیں نبوت کی نفی کرتے ہیں اور کہیں جواز۔
    جواب۔ فر ما یا ۔ یہ اس کی غلطی ہے ہم اگر نبی کا لفظ اپنے متعلق استمعال کر تے ہیں تو ہم ہمیشہ وہ مفہوم لیتے ہیں جو کہ ختم ِنبوت کا مخل نہیں ہے اور جب اس کی نفی کرتے ہیں تووہ معنے مراد ہو تے ہیں جو ختم ِنبوت کے مخل ہیں ۔
    نیوگ اور طلاق میں سے کو نساامر کا نشنس کے خلاف ہے
    طلاق پر آریوں کے اعتراض سنکر فر ما یا کہ :۔
    اگر طلاق ایسا امر ہو تا جوکہ نشنس کے خلاف ہے تو پھر دیگر اقوام بھی اسے بجانہ لا تیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کو ئی بھی ایسی قوم نہین ہے جو ضرورت کے وقت عورت کو طلاق نہ دتی ہو لیکن اگر نیوگ بھی ایسا ہی ہے تو آریوں کو چا ہیئے کہ اپنی قوم کے مغر ز اور برگزید ہ کئی سوممیر انتخاب کر یں کہ جن کی اولاد نہ ہو اور پھر وہ اپنی عورتوں سے نیوگ کراویںاور شائع کریں کہ فلاں فلاں صاحب اپنی عورت سے نیوگ کرواتے ہیں جب تک وہ یہ نمو نہ دکھلا ویں تب تک بحث فضول ہے اور جب وہ ایسا کر یں تو پھر ہم ان کو کچھ افسوس نہ ہو گا ہمارا اعتراض اس وقت تک ہے جب تک وہ عملی طور پر قوم میں نہیں دکھلا تے اسی طرح اگر وہ بالمقابل چا ہیں توہم اہل ِاسلام کے رؤساء اور مغرز لوگوں کی ایسی فہرست تیار کردیویں گے جنہوںنے معقول وجوہات پر اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے ۔
    وجود طلاق
    احمدی جماعت میں سے ایک صاحب نے اپنی عورت کو طلاق دی عورت کے رشتہ داروں نے حضرت کی خد مت میں شکایت کی کہ بے وجہ اور بے سبب طلاق دی گئی ہے مرد کے بیان سے یہ بات پا ئی گئی کہ اگر اسے کو ئی سزاہی کیوں نہ دی جاوے مگر وہ اس عورت کو بسانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے عورت کے رشتہ داروں نے جو شکا یت کی تھی ان کا منشا ء تھا کہ پھر آبادی ہو اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
    عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہو تا ہے اس پر دوسرے کا مل اطلاع نہیں ہو تی بعض وقت ایسا بھی ہو تا ہے کہ کو ئی فحش عیب عورتوں میں نہیں ہو تا مگرتا ہم مزاجوں کی نا موافقت ہو تی ہے جو کہ با ہمی معاشرہ میں مخل ہو تی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے ۔
    بعض وقت عورت گو ولی ہو اور بڑی عابد اور پر ہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چو نکہ اس کی طرف سے کراہت ہو تی ہے اس لیے وہ طلاق دے سکتا ہے مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہو نا یہ بھی ایک شرعی امر ہے اس لیے ہم اہمیںدخل نہیں دے سکتے جو ہوا سوہوا ۔مہر کا جو جھگڑا ہووہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے ۔
    (البدؔر جلد۲ نمبر۱۵صفحہ ۱۱۶۔۱۱۷یکم مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    بوقت ِسیر
    ضروۃحَکم
    جب مدت درازگذر جا تی ہے اور غلطیاں پڑجا تی ہیں تو خدا ایک حََکم مقر ر کر تا ہے جو ان غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے آنحضرت ﷺ حضرت مسیحؑ کے سات سو برس بعدآئے اسوقت ساتویں صدی میں ضرورت پڑی تو کیا اب چودہویں صدی بھی ضرورت نہ پڑتی اور پھر جس حال میں کہ ایک ملہم ایک صحیح حدیث کو وضعی اور وضعی کو صحیح بذریعہ الہام قرار دے سکتا ہے اور یہ اصول ان لوگوں کا مسلم ہے تو پھر حکم کو کیوں اختیار نہیں ہے ؟ایک حدیث کیا اگر وہ ایک لاکھ حدیث بھی پیش کر یں توان کی پیش کب چل سکتی ہے ؟
    العزۃللہ
    مولوی محمدی حسین صاحب بٹالوی کے ذکر پر فر ما یا کہ:۔
    انہوں نے لکھا تھا کہ ہم ہی نے اونچا کیا تھا اور ہم ہی اسے نیچا گرادیں گے مگر ہم پو چھتے ہیں کہ انہوں نے چڑ ھا نے کے لیے کیا کو شش کی تھی ہم پر تو سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کاذرہ بھر بھی احسان نہیں ہاں اب گرانے کے لیے انہوں نے بہت کو شش کی اور جتنی اس نے کی اور کسی نے مطلق نہیں کی مگر خدا تعالیٰ کے آگے کس کی پیش چلتی ہے ۔
    اس کے بعد مو لوی صاحب کی شہادت قتل کے مقدمہ ہیں اور وہاں کر سی وغیرہ ما نگنے کا ذکر ہو تا رہا اس پر حضرت نے فر ما یا کہ :۔
    قلوب میں عظمت ڈالنا خدا کا کام ہے َ
    علماء دین کے واسطے ظاہر ی بلندی چا ہنی عیب میں داخل ہے قلوب میں عظمت ڈالنی انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے یہ ایک کشش ہو تی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہو تی ہے ہم کیا کر رہے ہیں جو ہزارہا آدمی کھنچے چلے آتے ہیں یہ سب خدا تعالیٰ کی کشش ہے ان لوگوں کی علمیت اور حکمت دانا ئی ان کے کچھ کام نہ آئی مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولت مند تھا مگر بیچا رے کی عقل کم تھی وہ کہیں جا نے لگا تواس نے گدھے پر بورے میں ایک طرف جواہرڈالے اوروزن کو برابر کر نے کے واسطے ایک طرف اتنی ہی ریت ڈال دی آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہو ئے ،بھوک کا مارا ہوا سر پرپگڑی نہیں اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جوارات کو نصف کیوں نہ دونو طرف ڈالا اب نا حق جانور کو تکلیف ہے دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ مَیں تیری عقل نہیں برتتا تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا ۔
    فر وتنی
    انسا ن کو چا ہیئے جب کہیں جاوے توسب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے اگر وہ کسی اَور جگہ کے لائق ہو گا تو میز بان خود اسے بلا کر جگہ دیگا اور اس کی عزت کر یگا۔
    عوام الناس کی کم فہمی
    جن لوگوں کے دل میں کجی ہووہ متشا بہات کی طرف جاتے ہیں جن لوگوں نے حضرت موسیٰؑ اورعیسیٰؑ اورآنحضرتﷺ کو قبول نہ کیا انہوں نے آیات ِمبینہ سے فا ئدہ نہیں اٹھا یا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک حبشی عورت سے نکا ح کیا تو لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ منجانب اللہ ہوتا تو حبشن سے نکا ح نہ کرتا اس ذرہ سی بات پران کے تمام معجزات کو نظر انداز کر دیا ۔
    مجلس قبل ازعشاء
    معبِرکی رائے کااثر تعبیر پر نہیں پڑتا
    ایک شخص نے سوال کیا کہ جب خواب بیان کیا جاتا ہے تو یہ بات مشہور ہے کہ سب سے اول جو تعبیر معبِر کر ے وہی ہوا کرتی ہے۔ اور اسی بنا ء پر یہ کہا جاتا ہے۔ کہ کس وناکس کے سامنے خواب بیان نہ کرنا چا ہیئے فر ما یا :۔
    جو خواب مبشر ہے اس کا نتیجہ انذار نہیں ہو سکتا اور جو منذر ہے وہ مبشر نہیں ہو سکتا اس لیے یہ بات غلط ہے کہ اگر مبشر کی تعبیر کو ئی معبِر منذر کی کرے تووہ منذر ہو جاوے گا اور منذر مبشر ہو جاوے گا ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کو ئی منذر خواب آوے توصدقہ وخیرات اور دعا سے وہ بلا ٹل جاتی ہے ۔
    تفاؤل
    کسی کے نام سے بطور تداؤل کے فال لینے پر سوال ہوا فر ما یا :۔
    یہ اکثر جگہ صحیح نکلتا ہے آنحضرت ﷺ نے بھی تفاؤل سے کام لیا ہے ایک دفعہ مَیں گورداسپور مقدمہ پر جارہاتھا اور ایک شخص کو سزا ملنی تھی میرے دل میں خیال تھا کہ ادے سزا ہو گی یا نہیں ؟اتنے میں ایک لڑکا ایک بکری کے گلے میں رسی ڈال رہا تھا اس نے رسی کا حلقہ بنا کر بکری کے گلے میں ڈالا اور زور سے پکارا کہ وہ پھنس گئی وہ پھنس گئی مَیں نے اس سے یہ نتیجہ نکا لا کہ اسے سزا ضرور ہو گئی چنا نچہ ایسا ہی ہوا ۔
    اسی طرح ایک دفعہ سیر کو جارہے تھے اور دل میں پگٹ کا خیال تھا کہ بڑا عظیم الشان مقابلہ ہے دیکھے کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک شخص غیر از جماعت نے راستہ میں کہا السلام علیکم مَیں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ ہماری فتح ہو گئی ۔
    طاعون کے متعلق ایک تازہ الہام
    قلنا یا ارض ابلعی مائک ویا سمائاقلعی۔
    اس الہام کے متعلق جہانتک میری رائے ہے وہ یہ ہے یہ عام شہروں اور دیہات کے متعلق نہیں اور نہ اس سے دوام منع ثابت ہو تا ہے غالباًیہی ہے کہ بعض دیہات اور شہروں میں جن کی نسبت خدا تعالیٰ کاارادہ ہے چند مہینوں تک طاعون بند رہے گی اور پھر جہاں خدا وندقدیر چا ہے پھر پھوٹ پڑے اور یہ بکلی بند نہیں ہو گی جبتک وہ ارادہ بکمال وتمام پورا نہ ہو جاوے جوآسمان پر قرار پایا ہے اور ضرور ہے کہ زمین اپنے مواد نکالتی رہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ اپنے کمال کو نہ پہنچے۔
    مرزا غلام احمد
    ایک الہام
    جو مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۳؁ء کو شام کو بیان فر مایا :۔
    رب انی مظلوم فانتصر
    (البدر ؔجلد۲نمبر۱۵صفحہ ۱۱۷مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء؁)
    ۲۸؍اپر یل ۱۹۰۳؁ء
    بوقت ظہر
    مہندی اور وسمہ
    مہندی اور وسمہ کی نسبت ذکر ہوا ۔حضور نے فر ما یا کہ:۔
    اکثر اکا براس طرف گئے ہیں کہ وسمہ نہ لگا نا چا ہیئے یا مہندی لگا ئی جاوے یا وسمہ اور مہندی ملا کر۔
    (البدر ؔجلد۲نمبر۱۶صفحہ ۱۲۱مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ء؁)
    ۲۹؍اپریل ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل ازعشاء
    نا پائید ر زند گی
    ایک شخص کی نئی ایجاد کا ذکر ہوا کہ اس کی ایجاد بہت مقبول ہو ئی ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ لکھو کھا روپیہ اب کما ویگا ۔فر ما یا کہ:۔دنیا چندروزہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت آوے گی اور ان کی نظر یہاں تک ہی محدو درہتی ہے لیکن اگر زند گی نہ ہو ئی تو کیا فائدہ ؟ لوگوں کا دستور ہے کہ ہر ایک پہلو پر نظر نہیں ڈالتے ۔
    (البدر ؔجلد۲نمبر۱۶صفحہ ۱۲۱مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ء؁)
    ۳۰؍اپر یل ۱۹۰۳؁ء
    بوقت سیر
    ایک الہام
    فر ما یا کہ :۔
    مجھے الہام ہوا مگر اس کا آخری حصہ یاد ہے دوسرے الفاظ یاد نہیں رہے جو الفاظ یاد ہیں وہ یہ ہیں
    فیہ خیر وبر کۃ
    اس کا ترجمہ بھی بتلا یا گیا ’’ اس میں تمام دنیا کی بھلا ئی ہے ‘‘
    حج نہ کر نے پر اعتراض کا جواب
    مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ مراز صاحب حج کیو ں نہیں کرتے ۔فر ما یا :۔
    کیا وہ یہ چا ہتے ہیں کہ جو خدمت خدا تعالیٰ نے اول رکھی ہے اس کو پس انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے یہ یادرکھنا چا ہییے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کی نہیں ہو تی وہ خدا تعا لیٰ کی ہدا ہت اور رہمنا ئی سے ایک امر کو بجا لا تے ہیں اگر چہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں مگر ہرایک حکم کی تقدیم، وتا خیر الہیٰ ارادہ سے کرتے ہیں اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گو یا اس خدا کے حکم کی مخالفت کر نیوالے ٹھہرنیگے اور
    من استطاع الیہ سبیلا(اٰل عمران :۹۸)
    کے بارے میں کتا ب حجج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے۔ کہ اگر نماز کے فوت ہو نے کا اندیشہ ہو تو ۔حج سا قط ہے حالا نکہ اب جو لوگ جا تے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہو تی ہیں مامورین کا اول فرض تبلیغ ہو تا ہے آنحضرت ﷺ ۱۳ سال مکہ میں رہے آپؐ نے کتنی دفعہ حج کیء تھے ؟ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا ۔
    حضرت عیسؑی کی بے باپ پیدائش
    سوال :۔ کیا قرآن میں کو ئی صریح آیت ہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ مسیحؑ بلاباپ کے پیدا ا ہو ئے تھے ؟فر ما یا کہ:۔
    جواب :۔ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کوایک جاجمع کر نا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام کی پیدا ئش خارق طریق سے ہے ۱؎ ویسے ہی مسیحعلیہ السلام کی بھی ہے پھر یحییٰ علیہ السلام کی پیدا ئش کا حال کر کے مسیحؑ کی پیدا ئش کا حال بیان کیا ہے تر تیب قرآنی بھی بتلا ئی ہے کہ ادنی حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف تر قی کی ہے یعنی جسقدر معجزنما ئی کی قوت یحییٰ کی پیدا ئش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدا ئش میں ہے اگر اس میں کو ئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحییٰ کی پیدا ئش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑدیا؟ اس سے کیا فائدہ تھا؟ اسی لیے کیا تا ویل کی گنجائش نہ رہے ان دونو بیانوں کو ایک جاذکر کر نا اعجازی امر کو ثابت کرتا ہے اگر یہ نہیں ہے تو گو یا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے ۔
    پھر اس کے علاوہ یہ بھی فر ما یا کہ
    ان مثل عیسی عند اللہ کمثل ادم(الٰ عمران :۶۰)
    اگر مسیحؑ بن باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہو ئی ؟اور وہ کیا اعتراض مسیحؑ پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا؟
    توار یخی بات یہ بھی ہے کہ یہود ٓپ کی پیدا ئش کو اسی لیے نا جائز قرار دتیے تھے کہ آپ کا باپ کو ئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہو ا تھا بلا ماں بھی بہ اعتبار واقعات کے جواعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چا ہیئے اور اگر کو ئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تواول قانون قدرت کی حد بست دکھلا وے ۔ (البدر ؔجلد۲نمبر۱۶صفحہ ۱۲۱مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ء؁)
    یکم مئی۱۹۰۳ء؁
    دربار شام
    ایک رئو یا
    فرمایا کہ:۔ایک رئو یا تھی تو وحشت ناک مگر اللہ نے ٹال ہی دیا۔دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ بیل کو میدان میں ذبح کریںگے۔ مگر عملی کاروائی نہ ہوئی۔ ذبح نہ ہو کہ جاگ آگئی۔
    آنحضرت ﷺکی قبر میں مسیح موعودؑ کے دفن ہونے کا سرّ
    رسول اللہ ﷺنے جو یہ فرمایا ہے کہ مسیح موعودؑ کی قبر میں ہو گی۔اس پر ہم نے سوچا کہ یہ کیا سر ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہر ایک قسم کی دُورکو دُور کرتا ہے اور اس سے اپنے اور مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کیا ہے اور ظاہر کردیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کاآنا گویا آنحضرت ﷺ ہی کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔اگر کوئی اور شخص آتا ہے تو اس دُوئی لازم آتیاور غیرت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔
    بروز میں دُوئی نہیں ہوتی
    اگر کو ئی غیرشخص آجاوے توغیرت ہو تی ہے لیکن جب وہ خود ہی آوے تو پھر غیرت کیسی ؟اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے اور پاس اس کی بیوی بھی موجودہ ہو تو کیا اس کی بیوی آئینہ والی تصویر کو دیکھ کر پردہ کر لگی اور اسکو یہ خیا ل ہو گا کہ کو ئی نا محرم شخص آگیا ہے اس لیے پردہ کر نا چاہیئے اور یا خاوند کو غیرت محسوس ہو گی کہ کو ئی اجنبی شخص گھر میں آگیا ہے اور میری بیوی سدامنے ہے نہیں بلکہ آئینہ میں انہیں خاوند بیوی کی شکلوں کا بروز ہو تا ہے اور کو ئی اس بروز کو غیر نہیں جا نتا اور نہ ان میں کسی قسم کی دوئی ہو تی ہے۔
    یہی حالت مسیح موعود کی آمد کی ہے وہ کو ئی غیر نہیں اور نہ آنحضرتﷺ سے جدا ہے اور کسی وجہ سے آنحضرتﷺ کو اس کے آنے سے کو ئی غیرت دا منگیر نہیں ہو ئی بلکہ اس کو اپنے سا تھ ملا یا ہے اور یہی سرِہے آپ کے اس ارشاد میں کہ وہ میری قبر میں دفن کیا جاوے گا یہ امر غایت اتحاد کی طرف رہبر ی کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی اس قدر تعریف کر کے بھی جو قرآن شریف کی گئی ہے اور آپ کو خاتم الا نبیا ء ٹھہرا کر بھی کبھی اور آپ کے بعد نبوت کے تخت پر بٹھا دیتا تو آپ کی کسی قدر کسرِشان ہو تی اور اس سے نعوذباللہ یہ ثابت ہو تا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی ہی کمزور ہے کہ آپ سے ایک شخص بھی ایسا تیار نہ ہو سکا جو آپ کی امت کی اصلاح کر سکتا اس سے نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی کسرِشان ہو تی بلکہ یہ امر جیسا کہ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے منا فی غیرت بھی ہو تا ہر شخص میں دنیا کے ادنیٰادنیٰ معاملات کے لیے غیرت ہو تی ہے تو کیا انبیا ء علیہم السلام میں جدا ئی تعلقات میں بھی غیرت نہیں؟ معاذاللہ اس قسم کے کلمات کفر کے کلمات ہیں آحضرت ﷺ نے فر ما یا کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہو تے تو وہ بھی میری ہی اطاعت کر تے اس سے کیا مراد تھی؟ یہی کہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں اَور کو ئی دوسرا نہیں آسکتا تھا ایسا ہی جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپ نے تورات کا ایک ورق دیکھا تو آنحضرت ﷺ کا چہرہ شرخ ہو گیا اس کی وجہ کیا تھی ؟یہی غیرت تھی جس سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا کہ اے عمر ؓ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ کو نہیں دیکھتا یہ سنکر حضرت عمر ؓ نے وہ کا غذ اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور اس طرح پر غیرت ِنبوی کاادب کیا بھلا جب ایک چھوٹی سی بات کے لیے آپ کا چہرہ غیرت سے سرخ ہو گیا تھا تو کیا اگر وہی مسیحؑ جو نبی اسرائیل کا آخری رسول تھا اگر آپ کی امت کی اصلاح اور آپ کی ختم ِنبوت کی مہر کو توڑ نے کے واسطے آجاویگا تو آپ کو غیرت نہ آئے گی؟ ۱؎ اور کیا خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی اس قدر ہتک کر نی چا ہتا ہے ؟افسوس ہے یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور آپ کا کلمہ پڑھ کر بھی آنحضرت ﷺ کی تو ہین کرتے ہیں اور آپ کو خاتم النبیین مان کر پھر آپ کی مہر کو توڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھی الزام لگا تے ہیں کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس قدر تعریفوں کے بعد قرآن شریف میں آپ کی کی گئی ہیں آپ سے یہ سلوک کر ے معاذاللہ ۔
    ایک غلو کا جواب
    شیعہ لوگوں کے ذکر پر فر ما یا :۔
    ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رحم آتا ہے اگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایسی ہی شان اور عظمت تھی جو یہ بیان کرتے ہیںاورکل نبیوں کی نجات ان ہی کی شفا عت سے ہو ئی ہے تو پھر تعجب ہے کہ قرآن شریف میں آی کا نام ایک مر تبہ بھی اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ۔زیدؓ جو ایک معمولی صحابی تھے ان کا نام تو قرآن شریف نے لے لیا مگر امام حسین رضی اللہ عنہ کا جو ایسے جلیل القدر منحبی اور کل انبیا ء علیہم السلام کے شفیع تھے ان کا نام بھی قرآن شر یف نے نہ لیا کیا قرآن شریف کو بھی ان سے کچھ عداوت تھی ؟
    اگر کو ئی یہ کہے کہ قرآن شریف میں تحریف ہو گئی ہے ۱؎ اور آپ کا نام بھی محرگف مبدل ہو گیا ہو گا تو یہ الزام بھی انہی کی گردن پر ہے کیو نکہ جن کی طرف یہ تحریف منسوب کی جا تی ہے ان کی وفات کے بعد جناب علی رضی اللہ عنہ تو زندہ تھے اور وہ اپنے وقت کے مقتد رخلیفہ تھے شیر خدا تھے جب ان کو یہ معلوم تھا کہ اس قرآن میں تحریف کی گئی ہے تو کیوں انہوں نے اس کو درست نہ کیا؟ ان کو چاہیئے تھا کہ اصل قرآن شریف کی اشاعت کرتے اوراس کو درست کر دیتے ،لیکن جبکہ انہوں نے بھی یہی قرآن رکھا اور اپنا صحیح اور درست قرآن شائع نہ کیا تو یہ الزام بھی ان کے اپنے ہی سررہا ان کا حق تھا اور ان پر فرض تھا کہ جب اصل قرآن شریف گم کر دیا گیا تھا تواس وقت تو بھلا وہ خوف کے مارے کچھ نہ کر سکتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد توان کو موقعہ تھا کہ لوگوں میں اس امر کا اعلان کر دیتے کہ اصل قرآن شریف یہ ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ محرف مبدل ہو گیا ہے مگر جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر یہ الزام ان ہر رہا ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷ صفحہ ۱۳ مورخہ ۱۰ ؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ھوشعنا
    براہین میں یہ ایک الہام حضرت اقدس کا درج ہے یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں ’’نجات دے ‘‘ فر ما یا کہ :۔
    یامسیح الخلق عدوانا
    کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے
    مامور کی اطاعت کا معیار
    فر ما یا:۔
    ایک مامور کی اطاعت اس طرح ہو نی چا ہییے کہ اگر ایک حکم کسی کو دیاجاوے تو خواہ اس کو مقابلہ پر دشمن کیسا ہی لا لچ اور طمع کیو ں نہ دیوے یا کسی ہی عجز ۔انکساری اور خوشا مد درآمد کیو ں نہ کرے مگر اس حکم پر ان با توں میں سے کسی کو بھی تر جیح نہ دینی چا ہیئے اور کبھی اس کی طرف التفات نہ کر نی چا ہیئے سیرت اور خصلت اس قسم کیچا ہیئے کہ جس سے دوسرے آدمی پر اثر پڑے اور وہ سمجھے کہ ان لوگوں میں واقعی طور پر اطاعت کی روح ہے صحابہ کرامؓ کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہ ملے گا کہ اگر کسی کو ایک دفعہ اشارہ بھی کیا گیا ہے تو پھر خواہ باسشا ہ وقت نے ہی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا یا مگر اس نے سوائے اس اشارہ کے اور کسی کی کچھ ما نی ہو ۔
    اطاعت پوری ہو تو ہدایت پوری ہو تی ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب سن لینا چا ہیئے اور خدا تعالیٰ سے تو فیق طلب کر نی چا ہیئے کہ ہم سے کو ئی ایسی حر کت نہ ہو ۔
    (البدرجلد ۲ نمبر ۱۷ صفحہ ،۱۲۳۱۲۲ مورخہ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۲ مئی ۱۹۰۳؁ء
    بوقتِ سیر
    مہر
    مہر کے متعلق ایک شخص نے پو چھا کہ اس کی تعداد کس قدر ہو نی چا ہیئے ؟فر ما یا کہ
    تر اضی طرفین سے جو ہو اس پر کو ئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کو ئی اس کی حد مقر ر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لو گوں کے مر وجہ مہر سے ہوا کر تی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہو تی ہے اور محض نمونہ کے لیے لا کھ لا کھ رو پے کا مہر ہو تا ہے صرف ڈراوے کے لیے یہ لکھا جا تا کرتاہے کہ مردقابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہو تی ہے اور نہ خاوند کی دینے کی ۔
    میر امذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنا زعہ آپڑے تو جب تک اس کی نیت ثابت نہ ہو ہاں رضا ورغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقر ر شدہ ہے تب تک مقررہ مہر نہ دلا یا جاوے اور اسکی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیو نکہ بد نیتی کی ابتاع نہ شریعت کر تی ہے اور نہ قانون
    مولوی محمد حسین بٹالوی کے ریویوکا ذکر چلا جو کہ براہین پر لکھا ہے اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ
    ہمیں اس کی حالت پر تعجب ہے کہ جس وقت ایک درخت کا ابھی تخم ہی زمین میں ڈالا گیا ہے اور کسی طرح کا نشوونما نہ پتہ نکلا ہے نہ پھل لگا ہے نہ کو ئی پھول تو اس معدومی کی حالت میں تو اس کی تعریف کی جا تی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سا ل میں کہیں نہیں ملتی اور اب جب وہ درخت پگلا اور پھو لا اور نشوونما پائی تواس کے وجود سے انکار کیا جا تا ہے ابتدا میں ہمارے دعویٰ کی مثال رات کی تھی اس وقت تو شپر کی طرح اسے قبول اور پسند کیا اور اب جب دن چڑھا اور سورج کی طرح وہ چمکا تو آنکھ بند کر لی۔
    جن ایام میں شناخت کے آثار نہ تھے اور اس وقت یہ امر مستور تھاتوریویو لکھے اور را ئے طاہر کی اب یہ وقت آیا تھا کہ وہ اپنے ریویو پر فخر کرتا کہ دیکھو جو با تیں مَیں نے اول کہی تھیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں اور میری اس فراست کے شواہد پیدا ہو گئے ہیں مگر افسوس کہ اب وہ اپنی فراست کے خود ہی دشمن ہو گئے ہم نے کو نسی با ت نئی کی ہے جس حکم کے وہ لوگ منتظر ہیں بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اس نے آکر ہر ایک رطب ویا بس کو قبول کر لینا ہے اور وہ وحی کی پیروی کر ے گا یاکہ ان مختلف مو لو یوں کی ؟ اس نے آکر انہی کی ساری با تیں قبول کر لنیی ہیں تو پھر اس کا وجود بہیودہ ہے ۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ صفحہ ۱۲۳ مورخہ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    دربارِشام
    دعا کے جواب میں ایک الہام
    فر ما یا :۔
    آج ہم نے عام طور پر بہت سے بیماروں کے لیے دعا کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا’’آثار صحت‘‘ یہ نہیں معلوم کہ کس شخص کے متعلق ہے دعا عام تھی ۔
    ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے
    فرمایا کہ
    جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس امر کی گرہ کشائی کے لیے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون
    والذین جاھدو افینا لنھد ینھم سبلنا
    یعنی جو لوگ ہم میںسے ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں)کے موافق کود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل کو ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک وبدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے اور وہ ہی کیا ہے جس پر نتائج ِ حسنہ مترتب نہ ہوں ۔جب تک انسان پاک دل اورصدق و خلوص سے تمام ناجائز رستوں اور اُمیدوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کرکے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا ۔اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اورتائید اُسے ملے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پر گر تا اور اسی سے دُعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذبِ نصرت اور رحمت ہوتی ہے ۔خدا تعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ضلمت یا شرک و بد عت کا کوئی حصّہ ہوتا ہے تو اُسکی دُعائوں اور عبادتوں کو اُس کے مُنہ پر اُلٹا مارتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اُس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے ۔
    اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگ آتے ہیں اور وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں ۔اگر اغراض پورے ہوگئے تو خیر ورنہ کدھر کا ایمان ۔ ۱ ؎ لیکن اگر اس کے مقابلہ میں صحابہ ؓ کی زندگی میں نظر کی جاوے تو اُن میں ایک بھی ایسا واقعہ نظر نہیں آتا ۔انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ہماری بیعت تو بیعت توبہ ہی ہے لیکن ان لوگوں کی بیعت تو سر کٹانے کی بیعت تھی ۔ایک طرف بیعت کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے سارے مال و متاع ،عزت وآبرو اور جان و مال سے دست کش ہوجاتے تھے گویا کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اس طر ح پر اُن کی کُل امید یں دنیا سے منقطع ہوجاتی تھیں ۔ہر قسم کی عزت و عظمت اور جاہ و حشمت کے حصول کے ارادے ختم ہوجاتے تھے ۔کس کو یہ خیال تھ اکہ ہم بادشاہ بنیں گے یا کسی ملک کے فاتح ہوں گے ۔یہ باتیں اُن کے وہم وگما ںمیں بھی نہ تھی بلکہ وہ تو ہر قسم کی امیدوں سے الگ ہوجاتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دُکھ اور مصیبت کو لذّت کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے یہاں تک کہ جان تک دینے کو آمادہ رہتے تھے ،ان کی اپنی تو یہی حالت تھی کہ وہ اس دنیا سے بالکل الگ اور منقطع تھے ۔لیکن یہ الگ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت کی اور ان کو نوازا۔اور اُن کو جنہوں نے اس راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیاتھا ہزار چند کر دیا۔
    صحابہؓ کی مثالی زندگی
    دیکھے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال ومتاع خدا تعالیٰ کی راہ میں دیدیا اور آپ کمبل پہن لیاتھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر انہیں کی کیا دیا تمام عرب کا انہیں بادشاہ بنا دیا اور اسی کے ہاتھ سے اسلام کو نئے سرے زندہ کیا اور مر تدعرب کو پھر فتح کر کے دکھا یا اور وہ کچھ دیا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا غرض ان لوگوں کا صدق ووفا اور اخلاص ومروت ہر مسلمان کے لیے قابل اسوہ ہے صحابہؓ کی زند گی ایک ایسی زند گی تھی کہ تمام نبیوں میں سے کسی نبی کی زندگی میں یہ مثال نہیں پا ئی جا تی اور آپ ؐکے صحابہؓ کے مقابلہ میں حضرت مسیحؑ کے حواری تو بہت ہی گری ہو ئی حالت میں نظر آتے ہیں ان میں وہ جو ش ،صدق ووفا جو ایک مرتد مو اپنے مر شد کے لیے ہو نا چا ہیئے پا یا ہی نہیں جا تا بلکہ مصیبت کے وقت سب کے سب بھا گ گنے اور جو پاس رہ گیا اس نے *** بھیجنی شر وع کر دی ۔
    اصل با ت یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی خواہشوں اور اغراض سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا ہے وہ کچھ حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصا ن کر تا ہے لیکن جب وہ تمام نفسانی خواہشات اور اعراض سے الگ ہو جا وے اور خالی ہا تھ اور صافی قالب لے کر خدا تعالیٰ کے حضور جا وے تو خدا اس کو دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دستگیری کر تا ہے مگر شرط یہی ہے کہ انسان مر نے کو تیا ر ہو جا وے اور اس کی راہ میں ذلت اور موت کو خیر باد کہنے والا بن جا وے ۔
    اہل صدق ووفا کے لیے قبولیت وعظمت
    دیکھو دنیا ایک فا نی چیز ہے مگر اس کی لذت بھی اسی کو ملتی ہے جواس کو خدا کے واسطے چھوڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا مقرب ہو تا ہے خدا تعالیٰ دنیا میں اس کے لیے قبولیت پھیلا دیتا ہے یہ وہی قبولیت ہے جس کے لئے دنیا دار ہزاروں کو ششیں کر تے ہیں کہ کسی طرح کو ئی خطاب مل جا وے یا کسی عزت کی جگہ یا دربا ر میں کر سی ملے اور کر سی نشینوں میں نا م لکھا جا وے غرض تمام دنیوی عزتیں اسی کو د ی جا تی ہے اور ہر دل میں اسی کی عظمت اور قبولیت ڈال دی جا تی ہے جو خداتعالیٰ کے لیے سب کچھ چھوڑنے اور کھو نے پر آما دہ ہو جا تے ہیں نہ صرف آما دہ بلکہ چھوڑدیتے ہیں غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے واسطے کھو نے والوں کو سب کچھ دیا جا تا ہے ۱؎ اور وہ نہیں مرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پا لیں جو انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیا ہے خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیں رکھتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ان با توں کو ما ننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پا نے والے بہت ہی کم لوگ ہیں پزاروں اہل صدق ووفا گذرے ہیں مگر کسی نے نہ دیکھا ہوگا اور نہ کسی نے سنا ہو گا کہ وہ ذلیل وخوار ہو ئے ہوں دنیوی امور میں اگر وہ نہایت درجہ کی ترقی کر تے تو زیا دہ سے زیا دہ تین چا ر آنے کی مزدوری کر لیتے اور کس مپرس اور گمنا م لو گوں میں سے ہو تے مگر جب انہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لگا یا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ایسا کیا کہ تمام دنیا میں نا م آور بن گئے اور ان کی عز ت وعظمت دلوں میں بٹھا ئی گئی اور اب ان کے نا م ستاروں کی طرح چمکتے ہیں دنیوی عظمت اور عزت بھی بذریعہ دین ہی حاصل ہو تی ہے پس مبا رک وہی ہے جو دین کو مقدم کر ے ۲؎ دیکھو ایک جو نک کی نسبت بیل کو اور ایک بیل کی نسبت انسان کو اور انسانوں میں سے خواص کو اللہ تعالیٰ نے لذت اور حظوظ دئیے ہو ئے ہیں اور خواص کو خاص قویٰ لذتوں کے ملتے ہیں اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ کے مقرب ہو کر خواص بنتے ہیں تو انکدنیوی لذائذوغیرہ بھی اعلیٰ درجہ کے عطا ہو تے ہیں ۱؎ ایک پنجا بی شعر ہے جو با لکل کلا م الہیٰ کے موافق اسی کا گو یا
    تر جمہ ہے کہ ؎
    جے تو ں میر ا ہورہیںسب جگ تیرا ہو
    پس خدا تعالیٰ کے خاص بند ے بننے کی کو شش کر نی چا ہیئے ۲؎
    (الحکم جلد ۷نمبر ۱۷ صفحہ ۱۳۔۱۴ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۳؍ مئی ۱۹۰۳؁ء
    بوقت سیر
    خواب کی اقسام
    ایک نورارد صاحب نے سوال ۳؎ کیا کہ خواب کیا شئے ہے ؟میرے خیال میں تو صرف خیالا ت انسانی ہیں حقیقت میں کچھ نہیں فر ما یا کہ :۔
    خواب کی تین قسمیں ہیں :۔ نفسانی ۔شیطانی ۔رحمانی
    نفسانی جس میں انسان کے اپنے نفس کے خیالا ت ہی متمثل ہو کر آتے ہیں جیسے بلی کو چھیچھڑو ں کے خواب ۔
    شیطا نی وہ جس میں شیطا نی اور شہوانی جذبا ت ہی نظر آویں۔
    رحما نی وہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں دی جا تی ہیں اور بشارتیں دی جا تی ہیں۔
    سوال ۴ ؎
    کیا کسی بد کار آدمی کو بھی نیک خواب آتا ہے ؟
    جواب فرمایا کہ ایک بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آجاتی ہے کیونکہ فطرتاً کوئی بد نہیں ہوتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے
    ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات:۵۷)
    تو جب عبادت کے واسطے سب کو پیدا کیا ہے ۔سب کی فطرت میں نیکی بھی رکھی ہے ۔اور خواب نبوت کا حصّہ بھی ہے اگر یہ نمونہ ہر ایک کو نہ دیا جات تو پھر نبوت کے مفہوم کو سمجھنا تکلیف مالا یطاق ہوجاتا ۔اگر کسی کو علمِ غیب بتلایا جاتا وہ ہر گز نہ سمجھ سکتا ۔بادشاہِ مصر جو کہ کافر تھا اُسے سچی خواب آئی مگر آج کل سچی خواب کا انکا ر داراصل خدا تعالیٰ کا انکار ہے اور اصل میں خدا ہے اورضرور ہے ۔اسی کی طرف سے بشارتیں ہوتی ہیں اور نیک خوابیں آتیں ہیں اور وہ پوری بھی ہوتی ہیں جس قدر انسان صدق اور راستی میں ترقی کرتا ہے ویسے ہی نیک اور مبشر رئویا بھی آتے ہیں۔
    حُسنِ عقیدت کیسے حاصل ہو
    سوال :۔مَیں ایک مسلمان ہوں اور مسلمانوں کی اولاد ہوں عام طور پر دنیا کو دیکھ کر حسن عقیدت کسی پر پیدا نہیں ہوتی۔یہاں کے لوگوں کا طرز زند گی دیکھ کر چا ہتا ں کہ حسن عقیدت ہو مگر پھر نہیں ہو تی اسکی کیا وجہ اور کیا علاج ہے؟
    جواب :۔ فر ما یا کہ :۔
    انسان ہمیشہ تجارت سے نیتجہ نکا لتا ہے اور عقل انسانی بھی بذریعہ تجارت کے تر قی رہتی ہے مثلاً انسا ن جا نتا ہے کہ انب کے درخت کا پھل میٹھا ہو تا ہے اور بعض درخت کے پھل کڑوے ہو تے ہیں تو اس تجربہ کثیر سے اسے ایک فہم حاصل ہو جا ویگا کہ انب کے پھل ضرور شیریں ہو تے ہیں اسی طرح چو نکہ تجربہ آج کل یہی ہو تا ہے کہ دنیا میں فسق وفجور اور مکر وفریب کا سلسلہ بڑھا ہوا ہے اس لیے اس کا خیال بند ھ جا تا ہے کہ ہر ایکفریبی اور مکاری ہی ہے سابقہ تجارب اسے تعلیم دیتے ہیں کہ ایسا ہی ہو نا چا ہیئے اسی وجہ سے حسن عقیدت کی جگہ بد عقیدگی پیدا ہو تی ہے اور اسی لیے لوگ انبیا ء پر بھی سوء ظن رکھتے آئے ہیں ۔مو سیؑ کی وفات کی دوہزار بر س گذر چکے تھے تو آنحضرتﷺمعبوث ہو ئے اور اس زما نے میں بہت سے جھو ٹے معجزات دکھا نے والے اور دعوے کر نے والے پیدا ہو ئے تھے لوگوں کو ان کا تجربی تھا اور ادی حالت میں یک لخت ایک صادق بھی آگیا ۔آخر ان کو اس صادق کو بھی وہی کہنا پڑا جوان جھو ٹے مد عیوں کے حق میں کہتے تھے یعنی
    ان ھذا لشی یداد(صؔ:۷)
    کہ یہ تو دکا نداری ہے غرضکہ انسان تجارت کے ذریعہ سے بھول رہے ہیں خدا تعالیٰ کے بندوں کی معرفت کا ہو نا یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے وہی معرفت دے تو پتہ لگتا ہے دعا بہت کرے دعا کے سوا چا رہ نہیں ہاں یہ امرضروری ہے کہ استغفار نہ کرے کہ نیک اور بد کو ایک جیسا جان لیوے اور کہے کہ جیسے برے درخت ہو تے ہیں ویسے ہی اچھے بھی ہو تے ہیں۔ یہ ایک قاعدہ اپنی طرف سے ہر گز بنا نا چا ہیئے بلکہ نفس کو یہ سمجھا نا چا ہیئے کہ اچھے بھی ضرورہیں جب شیطا ن کا گروہ اس قدر دنیا میں مو جود ہے کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا گروہ با لکل ہی دنیا میں مو جود نہ ہوخدا تعالیٰ سے دعا کر تا رہے کہ آنگھیںملیں۔
    آج کل واقعہ میں علماء کی یہی حالت ہے ؎
    واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر میکننذ ـ؛ چوں نجلوت مے روندآں کار دیگر میکنذ
    حافظ نے بھی اسی مضمون کا ایک شعر لکھا ہے ؎
    تو جہ فر ما یاںچراخود تو بہ کمتر میکنذ
    اور غور سے دیکھا جا وے تو سچے بغیر جھوٹ کی کچھ روشنی ہی نہیں ہو تی اگر آج سچا سوناچا ندی نہ ہو تو چھوٹے سو نے سے کو ئی فا ئدہ نہ اٹھا سکے
    انبیاء و مامورین کی عظمت و صداقت
    جس قدر انبیاء ہوئے ہیں سب اکراہ سے آگے ہوئے ہیں ۔گروہوں اور مجلسوں سے ان کی طبیعت متنفر ہوتی ہے ۔انبیا ء میں انقطاع ور اخلاص کا مادہ بہت ہوتا ہے ۔ان کی بڑی آرزو ہوتی ہے کہ لوگ اُنکی طرف رجوع نہ کریں مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے فطرت ایسی جدی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے کام کریں ۔اس لیے اُن کی عظمت جس قدر دنیا میں پھیلتی ہے وہ مکاندسے ہر گز نہیں پھیلتی بلکہ خود خُدا پھیلاتا ہے ۔اُنکے مقابل کے کُل مکاند پاش پاش ہو جاتے ہیں ۔ان کے کام میں اعجاز اور پیشگوئیاں بے نظیر ہوتی ہیں اگر معجزات نہ ہوتے تو طبائع پر بہت مشکلات پڑتے کیسی ہی طبیعت کثیف ہو مگر ان کو دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہوجاتے ہیں
    ایک مخالف کا میرے پاس خط آیا کہ مَیں آپ کا مخالف ہوں مگر آج کل مجھے یہ حیرانی ضرور ہے کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو اس قدر کامیابی اور ترقی کیوں ہے ۔دنیا میں وہ انسان اندھا ہے جو مختصر تجارب سے نتیجہ نکالتا ہے ۔سچا نتیجہ اس وقت نکلتا ہے جب تمام شواہد کو یکجائی نظر سے دیکھا جاوے ۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنیوالے ماموروں کو ایسی بات نہ ملے تو پھر ان کی سچائی کا ثبوت کیا ہے ۔شاہی سند پاس ضرو ر ہونی چاہیئے آفتاب نکلا ہوا ہو اور کوئی اُسے رات کہے تو کب تک کہہ سکتا ہے ۔
    خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آتا ہے وہ دلائل ،شواہد،اثار،اخبا،زمینی نشان ،آسمانی نشان،سماوی تائیدات، قبولیت وغیرہ لیکر آتا ہے ۔اس کی اخلاقی حالت اور تعلق خدا سب اس کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں اور اس کے لیے ایک میدان دلائل سے بھر اہوا ہوتا ہے ۔ایک نیک دل اگر یقین کے لیے کافی ثبوت چاہے تو اُسے فکر کرنے سے مل جاویں گے۔
    اگر عتراض ہوکہ کل دینا کے لوگ کیوں نہیں ایمان لا تے تو جواب یہ ہے کہ بعض لوگوں کی فطرت میں روشنی کم اور بدظنی کا مادہ زیادہ ہو تا ہے موسیٰ علیہ السلام پراعتراض ہو ئے ۔نشان دیکھ دیکھ پھر ان کو جھٹلا تے رہے آنحضرت ﷺ کو فر یبی کہا ایسے لوگوں کی فطرت بد ہوا کرتی ہے اسی لیے کہا ہے ؎
    اے بسا ابلیس آدم رؤے ہست ؛ پس بہر دسرت نہ باید داد دست
    یہ بھی نہ ہو کہ سب کو فریبی جان لے نہ بدظنی کو اتنا وسیع کر ے کہ راستبازوں کے فیوض سے محروم رہے نہ اس قدر حسنِ ظن کہ ایک مکار اور فریبی کو بھی خدا رسیدہ جان لے سچے دل سے دعا کرتا ہے انبیاء وغیرہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے ہو تے ہیں جب تک خدا نہ دکھا وے کو ئی ان کو دیکھ نہیں سکتا ابو جہل مکہ میں ہی رہتا تھا آنحضرتﷺ کا نشوونما دیکھتا رہا آپ کی ساری زند گی دیکھی مگر پھر بھی ایمان نہ لا یا ۔
    کہتے ہیں کہ سلطان محمود ایک راجہ کو گر فتا ر کر کے اپنے ساتھ لے گیا وہ راجہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر آخر کار اپنے مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر کے مسلمان ہو گیا الگ خیمہ میں وہ رہا کرتا تھا ایک دن وہ بیٹھا ہوا رورہا تھا کہ خیمہ کے پاس سے محمود گذرا اس نے رونے کی آواز سنی اندر آیا ۔پو چھا کہ اگر وطن یاد آیا ہے تو وہیں کا راجہ بنا کر بھیج دیتا ہوں اس نے کہا ابن مجھے دنیا کی ہوس کو ئی نہیں اس وقت مجھے یہ خیال آیا ہے کہ قیامت کے دن اگر یہ سوال ہوا کہ تو کیسا مسلمان ہے کہ جب تک محمود نے چڑھا ئی نہ کی اور وہ گر فتار کر کے تجھ کو نہ لا یا تو مسلمان نہ ہوا کیا اچھا ہوتا کہ مجھے اسوقت ابتدا میں سمجھ آجا تی کہ اسلام سچا مذہب ہے ۔
    مخالفت کا جنازہ
    ایک صاحب نے پو چھا ۱؎ کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے اور اکثرمخالف مکذب مرتے ہیں ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ ؟فر ما یا کہ :۔
    یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جا تا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون ذدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے دوسرے وہ مخالف ہے ۔خواہ نخواہ تد اخل جائز نہیں ہے ۔ خدا فر ماتاہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑدو اور اگر وہ چا ہے گا توان کو خود دوست بناوے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلا یا ہے مداہنہ سے ہر گز فائدہ نہ ہو گا اپنا حصہ ایمان کا بھی گنواؤگے۔
    مجلس قبل ازعشاء
    توبہ کادروازہ بند ہو نا
    طاعون پر ذکر ہوابعض مقامات بالکل تباہ ہوگئے ہیں مگر پھر بھی وہاںکے لوگوں کی فسق فجور کی وہی حالت ہے کو ئی پاک تدیلی نظر نہیں آتی فر مایا کہ:۔
    سمجھ الٹی ہے توبہ کادروازہ بند ہو نے کے ایک یہ معنے بھی ہیں۔
    لَارَآدَّلِفَضْلِہٖ
    یہ ایک حضرت اقدس علیہ السلام کا پرانا الہام ہے جو مسجد کے اوپر کے حصہ میںلکھا ہوا تھا اور عمارت کے تغیر وتبدل کے وقت وہ نوشتہ قائم نہ رہ سکا۔فر ما یا کہ:۔
    اسے پھر لکھوایا جاوے اور نہیں معلوم کہ اس کے معنے کس قدر وسیع ہیں۔ ۱؎
    (البدرؔ جلد ۲نمبر ۱۷ صفحہ ۱۹۲۔۱۳۰ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۴مئی ۱۹۰۳؁ء
    بوقت سیر
    اکرامِ ضیف
    مہمانوں کے انتظام مہمان نوازی کی نسبت ذکر ہوا فر ما یا :۔
    میر اہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کا تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لیے ہمیشہ تا کید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہو تا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھا نا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے تر قی کی اور پرہیز ی کھا نا کھا نا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کا فی نہ ہو تی تھی اس لیے بمجبوری علیحدگی ہو ئی ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے بعض لوگ بیمار ہو تے ہیں ان کے واسطے الگ کھا نے کا انتظام ہو سکتا ہے ۔ ۲؎
    دربارشام
    رسوم وعادات
    فر ما یا کہ:۔ ۳؎
    عادات اور رسوم کا قلع قمع کر نا نہویت مشکل ہو تا ہے اور یہی ایک حجاب ہزاروں انوار سے محروم بھی رکھتا ہے ورنہ ہمارا معاملہ تو نہایت ہی صاف اور کھلا کھلا ہے کیسے ہی دلائل اور براہین سے ایک امر کو مدلل کر کے کیوں نہ بیان کیا جاوے عادت ورسم کا پا بندضرور اس کے ماننے میں پس وپیش کر یگا اور جب تک وہ اس حجاب کو چھا ڑ کر باہر نہ نکلے اسے حق لینا نصیب ہی نہیں ہو تا ۔
    آنحضرتﷺ کی صداقت کیسی اجلیٰ اور اصفیٰ تھی مگر ان کے دعویٰ کے وقت بھی عیسائی راہبوں اور یہودی مولویوں نے جو عادت اور رسم کے پا بند تھے ہزاروں عذر تراشے اور آپ کو صادق کہنے کی بجائے کاذب کا خطاب دیا گو یا رسم اور عادت کی لمت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالاہواتھا کہ وہ نور کو ظلمت کہتے تھے ورنہ آپ کے معجزات ،بینات اور فیوض اس قدر کامل اور اعلیٰ تھے کہ کسی کوان سے انکار ممکن نہ تھا ۱؎
    تسلی پانے کے تین طریق
    اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک قسم کے دالا ئل بینات ہمارے واسطے جمع کر دئیے ہیں انسان کے تسلی پانے کے تین ہی طریق ہوا کرتے ہیں ۔
    (۱) اول نقلی دلائل۔سورۃقرآن شریف کے نصوص سے ثابت ہیں کیو نکہ جو شخص قرآن شریف کو کلام الہیٰ مانتا ہے ہے اسے تو اس بن چارہ نہیں بلکہ اس کاایمان ہی کلام ِالہیٰ کے بغیر ناقص ہے۔ ۲؎
    نقلی دلائل کا دوسا حصہ احادیث ہیں سوان میں سے وہ احادیث قابل پذیرائی ہیں جوقرآن شریف کے معارض نہ ہوں کیو نکہ جو حد یث قرآن شریف کے مخالف ومعارض ہووہ وہ ردی ہے اور قبول کر نے کے لا ئق نہیں مثلاً قرآن شریف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ہو ئے ہیں تو وہ بالکل ردی ہے اور ماننے کے لائق نہیں یا ایسی ہی اگر اور کو ئی مخالفت صریح قرآن شریف کی کو ئی حدیث کر ے تو وہ بھی اس ذیل میں داخل ہے ۔
    احادیث میں احتمال صدق اور کذب دونو طرح کا ہے کیونکہ احادیث تو قرآن شریف کی طرح اس وقت رسول اللہ ﷺ نے جمع نہیں کیں اور نہ ہی ان کا قرآن شریف کی طرح کو ئی نام رکھا ہے بلکہ آپ سے قریباً اڑھائی سو برس جمع ہو ئی ہے غرض ان کے صدق کذب کا معار قرآن شریف ہے پس جواحادیث قرآن شریف کے معارض نہیں وہ ماننے کے لا ئق ہیں یہ جو۷۳ فر قے بن گئے ہیں یہ بھی توان احادیث کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے جب لوگوں کی توجہ قرآن شریف سے ہٹ گئی اور احادیث کو قرآن شریف پر قاضی جانا تو یہاں تک تو بت پہنچی ۔
    (۲) دوسرا ذریعہ عقل ہے جس سے انسان حق کو پہچان سکتا ہے چنانچہ قرآن شریف مین مجرمین کے الفاظ درج ہیں کہ
    لوکنا نسمح اونعقل ماکنا فی اصحب السعیر(الملک :۱۱)
    سواگر ان لوگوں سے سوال کیا جاوے کہ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کو ئی شخص زندہ بحسبم عنصری آسمان پر چلا جاوے اور دوہزار برس تک وہیں بیٹھا رہے اور کسی قسم کی ضروریات اور عوارض اسے نہ لگیں کیا کو ئی عقل ہے جواس خصوصیت کو مان سکے؟بھلا ان لوگبوں سے پوچھا جاوے کہ اس خصوصیت کی جو تم نے حضرت عیسیٰؑ میں مانی ہے کیا وجہ ہے یہ تو ایک قسم کا باریک شرک ہے اللہ تعالیٰ فرما تا ہے ۔
    فسئلو ااھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (الانبیاء ـ۸۰)
    اللہ تعالیٰ انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ ہر ایک امر میں نظائر ضروری ہیں جس چیز میں نظیر نہیں وہ چیز خطر ناک ہے آجکل جس طرح کا ہمارا جھگڑا ہے اسی قسم کا ایک جھگڑا پہلے بھی اہل کتاب میں گذرچکا ہے اور وہ الیاس کا معاملہ تھا ان کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مسیحؑ آسمان سے نہیں نازل ہوگا جب تک ایلیا آسمان سے دوبارہ نہ آلے اسی بنا ء پر جب حضرت مسیحؑ آئے اور انہوں نے یہود کو ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے صاف انکار کیا کہ ہمارے ہاں مسیحؑ کی علامت یہ ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے دوبارہ نازل ہو گا مگر حضرت متسیحؑ نے اس کی ایلیا مان لو وہ آسمان سے دربارہ نہیں آویگا جس نے آنا تھا وہ آچکا چا ہو تومانو چاہو تو نہ مانو غرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک مصیبت پڑ چکی تھی اور ان کا فیصلہ ہمارے اس مقدمہ کے لیے ایک دلیل ہو سکتا ہے اگر حضرت عیسیٰؑ یہود کے مقابل میں حق پڑ تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کا انکار کریں بعد مین ہمارا معاملہ آئے گا۔
    اگر واقعی طور پر ان یہودیوں کی طرح یہ یہودی بھی حق پر ہیں تو پھر اول تو حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت نہیں توان کا آسمان سے آنا کجا؟ پس یاتو یہ مسلمان اس باتے کو مان لیں کہ آسمان پر کو ئی شخص زندہ نہیں جا یا کرتا اورنہ ہی وہ دربارہ واپس آیا کرتا ہے اور وہ اسی قاعدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات پائے ہو ئے مان لیں اور یا حضرت عیسیٰؑ کی نبوت سے انکار کر یں اور اس طرح پر ان کی آمد کے متعلق تمام امیدوں سے ہاتھو دھولیں غرض ان کی منفرد اور خا ص قسم کی زندگی ایک خطرناک قسم کا شرک ہے غرض دوسری قسم کے دلائل عقلی تھے سوان کی رو سے بھی یہ قوم ملزم ہے ۔ ۱ ؎
    (۳) تیسرا ذریعہ ایک صادق کی شناخت کااس کے ذاتی نشانات اور خارق عادت پیشگوئیاں ہو تی ہیں اور منہاج نبوت پر رکھی جا تی ہے سواس قسم کے دلائل بھی اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بہت جمع کر دئیے ہیں کیا زمینی ،کیا آسمانی ،کیا مکانی ،کیا زمانی ،ہر قسم کے نشانات اس نے خود ہمارے لیے ظاہر فر مائے ہیں آنحضرت ﷺ کی اکثر پیشگوئیوں کا ظہور بھی ہو چکا ہے آسمان نے ہمارے لیے گو اہی دی زمین ہمارے واسطے شہادت لا ئی اور ہزاروں خارق عادت ظہور میں آچکے ہیں زمانہ سووہ زبانِحال سے چلا رہا ہے کہ ضرور کو ئی آنا چا ہیئے قوم کے ۷۳ فرقے ہو چکے ہیں یہ خودایک حکم کو چاہتے ہیں ان تمام فرقوں میں ایسے ایسے اختلاف پڑے ہیں کہ ایک دوسرے کو تکفیر کے فتوے لگا ئے جا تے ہیں اور ارتداد کا جرم ان میں سے ہر ایک کی گردن پر سوارہے خفی وہابیوں کو اور وہابی خفیوں کی جہنمی بتا تے ہیں شیعہ ان سب کو راہ راست سے بٹکھے ہو ئے کہتے ہیں خارجی ہیںسووہ شیعہ کی جان کے دشمن ہیں غرض ہر ایک فرقہ دوسروں کے خون کا پیاسا ہے اب ان میں اختلاف کو دور کرنے کے واسطے جو حکم آوے گا کیا وہ ان کی مساوی باتوں کو مان لے گا؟اگر ایسا کر یگا تو دوسرا ناراض ہو جاوے گا یہاں ہرایک فرقہ یہی چاہتا ہے کہ میری اگر ساری باتیں وہ نہ مانے گا تو وہ خدا کی طرف سے نہ ہو گا غرض ہرایک نے اس کے صدق کا معیار اپنے تمام عقائد کو مان لینا مقرر کیا ہو ہے مگر کیا وہ ایسا ہی کر یگا ؟ہر گز نہیں بلکہ وہ ہر ایک راستی کا حامی اور ناراستی کا دشمن ہو گا اگر ایسا نہیں تووہ حکم ہی کس کام کا ہوا ؟اور ایسے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کے وجود سے عدم بہتر ہے ۔
    اصل مشکل یہ ہے کہ ان بیچا رے لوگوں کی عادت ہی ہو گئی ہے اور بچپن سے کان میں ہی یہی پڑتا آیا ہے کہ وہ اس طرح آسمان سے ایک مینار پر اترے گا پھر سیڑھی مانگیگا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ نیچے اتر ے گا پس آتے ہی نہ بھلی نہ بری کفار کو تہ تیغ کر کے انکے اموال واہلاک سب مسلمانوں کے حوالے کر یگا وغیروغیرہ۔
    ان باتوں کو جو مدتوں سے سادہ لوح پر کندہ ہو گئی ہیں دور کریں تو کس طرح ؟وہ بیچارے معذور ہیں یہ مشکلات ہیں اور ان کادور ہونا بجز خدا تعالیٰ کی مشیت کے ہر گز ممکن نہیں۔
    (قرآن نے)
    توفیتنی
    فر مایا اور بخاری نے اپنا مذہب اور اس آیت کے معنے بیان کر دئیے کہ
    متوفیک۔ممیتک
    تو پھر اس کے بعد خواہ نخواہ ان کو زندہ آسمان پر بٹھا نا ان لوگوں کی کیسی غلطی ہے وہ بیچارہ توخودہ بھی دہائی دیتا ہے کہ یہ لوگ میرے مرنے کے بعد بگڑ ے ہیں بھلا اب ہمیں کو ئی بتاوے کہ یہ لوگ ابھی بگڑے ہو ئے ہیں یا نہی ں اگر یہ بگڑے ہیں تو مسیح وفات پا چکے ہیں ورنہ ان کے تثلیث کفار ے اور دوسرے اعتقادات پر ایمان لاؤ اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار کرو یہ جواللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ مین فرمایا ہے کہ
    غیر المغضوب علیھم ولا الضالین
    اس میں ہم نے غور کیا تومعلوم ہو تا ہے کہ آنے والے شخص میں دوقسم کی صفات کی ضرورت ہے اول تو عیسوی صفات اور دوم محمود ی صفات کی کیو نکہ
    مغضوب علیھم
    سے مراد یہود اور
    الضالین
    سے مراد نصاریٰ ہیں جب یہود نے شرارت کی تھی تو حضرت عیسیٰؑ ان کے واسطے آئے تھے جب نصاریٰ کی شرارت زیادہ بڑھ گئی تو آنحضرت ﷺ تشئف آور ہو ئے تھے اور یہاں خدا تعالیٰ نے دونو کا فتنہ جمع کیا اندرونی یہود بیرونی نصاریٰ جن کے لیے آنے والا بھی آنحضرتﷺ کا کامل بروزاور حضرت عیسیٰؑ کا پورا نقشہ ہو نا چاہیئے تھا۔
    حکم کا مقام
    حکم کے سا منے کسی کی پیش ہی کیا جا تی ہے اور اس سے ان کی بحث ہی کیا ۔
    یہ زمینی وہ ّسمانی ۔یہ نا قابل ِمحض ،وہ ہر وقت خدا سے تعلیم پاتا یہ لوگ ہمیں رطب ویا بس احادیث اور اقوام کا انبار پیش کر کے ہرانا چا ہتے ہیں مگر یہ کیا کریں ہمیں تو تیس سال ہو ئے کہ خود خدا ہر وقت تازہ الہامات سے خبر دیتا ہے کہ یہ امر حق ہے جو تو لایا ہے تیرے مخالف نا حق پر ہیں ہم اب کیا کریں ان لوگوں کی مانیں یا آسمان سے خدا کی مانیں۔
    سوچنے والے کے لیے کافی ہے کہ صدی کا سر بھی گذرگیا ہے اور تیرھویں صدی تو اسلام کے واسطے سخت منحوس صدی تھی ہزاروں مرتد ہو گئے یہود خصلت نبے اور جو ظاہر میں مرتد نہیں اگر باریک نظر سے دیکھا جاوے تووہ بھی مرتد ہیں ان کے رگ وریشے میں دجال نے اپنا تسلط کیا ہوا ہے پو شاک تک ان کی بدل گئی ہے تو دل ہی نہ بدلے ہوں گے صرف بعض خوف سے یا بعض اور وجوہات سے اظہار نہیں کرتے ورنہ ہیں وہ بھی مرتد اپنے دین کی خبر نہ ہو ئی دوسروں کے زیراثر ہو ئے تواب ارتداد میں کَسرہی کو نسی رہ گئی اگر اب بھی ان کا مہدی اور مسیح نہیں آیا تو کب آئے گا ؟جب اسلام کا نام ہی دنیا سے اٹھ جا ویگا اور یہ بیڑاہی غرق ہو جاویگا۔
    افسوس کہ قوم آنکھیں بند کئے پڑی ہے اور اسے اپنی حالت کی بھی خبر نہیں۔
    (البدرؔ جلد ۲نمبر ۱۷ صفحہ ۱۳۱ مورخہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۵، مئی ۱۹۰۳ء؁
    (بوقتِ سیر )
    قبولِ حق کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیئے
    ۶؍مئی ۱۹۰۳؁ء ۱؎
    بوقت سیرَ
    پیشگوئیوں میں ہمیشہ استعارات ہو تے ہیں
    نووارد صاحب نے در یافت کیا کہ گھنگھریالے بالوں سے کیا مراد ہے ؟
    فر ما یا کہ:
    احادیث ایک ظنّی شئے ہے یہ ہر گز ثابت نہیں ہے کہ جو آنحضرتﷺ کے منہ سے نکلا ہو وہ ضبط ہوا ہو معلوم نہیں کہ اصل لفظ کیا ہو پیشگو ئیوں میں ہمیشہ استعارات ہو تے ہیں اور پھر یہ بھی یادرکھنا چا ہیئے کہ جب خبروں میں کو ئی ایسی خبر موجودہ ہو جو ثابت شدہ واقعہ کے برخلاف ہو تواسے بہرحال رد کر نا پڑیگا ۔
    اس وقت جو فتنہ موجود ہے تم اس کی نظیر کسی زمانہ سابقہ میں دکھا ؤ کہ کبھی ہوا ہے ؟پھر سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے اور ادھر دجال کا فتنہ سب سے بڑا رکھا گیا ہے اور دجال کے معنے بھی *** سے معلوم ہو گئے تواب شک کی کو نسی جگہ باقی رہ گئی ہے ؟
    پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر استعارات صرف دجال کے معاملہ میں ہو تے اور کسی جگہ نہ ہو تے تو پھر بھی کسی کو کلام ہو تا کہ کیوں تاویل کر تے ہو مگر دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ خود قرآنشریف اور نیز احادیث بھی استعارات سے بھرے پڑے ہیں اور نہ ہی اس امر کی ضرورت ہے کہ ہر ایک استعا رہ کی حقیقت کھو لی جاوے کیا آج تک دنیا کے سب امور کسی نے جان لیے ہیں جواس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ ایک ایک لفظ کی حقیقت بتلاؤ ۔
    دستور ہے کہ موٹے موٹے امور کو انسان سمجھ کر باقی کواس پر قیاس کر لیتا ہے ۔
    توفی
    تو فی کا لفظ صرف انسانوں پر ہی آتا ہے دیگر حیوا نات پر استعمال نہیں ہوا س کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت دہریہ طبع لوگ بھی تھے جو کہ خشر ونشر کے قائل نہ تھے ان کا اعتقاد تھا کہ کو ئی شئے انسان کی باقی نہیں رہتی اس لفظ کو استعمال کر کے اللہ تعالیی نے بتلا دیا کہ روح کو ہم اپنی طرف قبض کر لیتے ہیں اور باقی رہتی ہے قرآن شریف اور حدیث میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا وہاں معنی قبض روح کے ہیں اس کے سوا اور کوئی معنے نہیں ہوتے۔ ۲؎
    تحصیل حاصل؟
    سوال جب ایک شخص نے ایک بات تحصیل کی ہے تو دوبارہ اسی کے تحصیل کر نے سے کیا حاصل ہے؟
    جواب ۔ہم اس اصول کو لا نسلم کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے قرآن میں لکھا ہے ۔
    الست بربکم قالو ابلی ۔(الاعراف :۱۷۳)
    یعنی جب روحوں سے خدا تعالیٰ نے سوال کیا کہ کیا مَیں تمہارا رب نہیں ہوں تو وہ بولیں کہ ہاں تواب سوال ہو سکتا ہے کہ روحوں کو علم تو تھا تو پھر انبیا ء کو خدا تعالیی نے کیوں بھیجا گو یا تحصیل حاصل کروائی یہ اصل میں غلط ہتے ایک تحصیل پھیکی ہو تی ہے ایک گا ڑھی ہو تی ہے دونو میں فق ہو تا ہے وہ علم جو کہ نبیوں سے ملتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔
    علم الیقین ۔عینؔ الیقین ۔حق الیقین
    اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص دور سے دھواں دیکھے تو اسے علم ہو گا کہ وہاں آگ ہے کیو نکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں آگ ہو تی ہے وہاں دھواں بھی ہوتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں ۔یہ بھی ایک قسم کا علم ہے جس کا نام علم الیقین ہے مگر اور نز دیک جا کر وہ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو اُسے عین الیقین کہتے ہیں ۔پھر اگر اپنا ہاتھ اس آگ پر کر اس کی حرارت وغیرہ کو بھی دیکھ لیوے ۔تو اُسے کوئی شبہ اس کے بارے میں نہ رہے گا اورا س طرح سے جو علم اُسے حا صل ہو گا اس کا نام حق الیقین ہے اب کیا ہم اسے تحصیل حا صل کہہ سکتے ہیں ۔ہر گز نہیں ۔ ۱ ؎ (البدر ؔ جلد۲نمبر۱۸ صفحہ۱۳۷ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    در بار شام
    نزولِ وحی کا طریق
    فر مایا کہ
    وحی کا قاعدہ ہے کہ ا جمالی رنگ میں نازل ہو ا کرتی ہے اور اس کیساتھ ایک تفہیم ہو تی ہے مثلاًجب آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم ہو اتو ساتھ کشفی رنگ میں نماز کا طریق اس کی رکعات کی تعداد ،اوقات نماز وغیرہ بتادیا گیا تھا ۔علی ہذ االقیاس ۔
    جو اصطلاح اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے اس کی تفصیل اور تشریح کشفی رنگ میں ساتھ ہو تی ہے جن لوگوں کو وہ اس وحی کے منشاء سے آگا ہ کرتا ہے اور اسکو دوسرے کے دلوں میں داخل کرتا ہے جب سے دُنیا ہے وحی کا یہی طرز چلا آیا ہے اور کل انبیاء علیہم السلام کی وحی اسی رنگ کی تھی ۔وحی کشفی تصویروں یا تفہیم کے سوا کبھی نہیں ہوتی اور نہ وہ اجمال بجز اس کے کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے ۲؎
    مُدّ میں پیشگوئی کے مطابق تباہی
    مُدّ سے خبر آئی ہے کہ اس جگہ آبادی کچھ اُوپر دوسو آدمی کی ہے اور ابتک ایک سوتین آدمی مر چکے ہیں اور چار پانچ روز مر تے ہیں ۔اس پر حضرت اقدس نے حکم دیا کہ
    اخباروں میں مُدّ کے متعلق پیشگوئی مندرجہ قصیدہ اعجاز احمدی کو شائع کر کے دکھا ئیں اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو آگا ہ کریں کہ وہی الفاظ جن پر وہ مقدمہ بنوانا چاہتا تھا اللہ تعالیٰ اب پورے کر رہا ہے ۔اب وہ لوگ سو چیں کہ وہ حق تھا یا نہیں ۔ (الحکم ؔ جلد۷نمبر۱۸ صفحہ۲ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۷ مئی ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل از عشاء
    عورتوں کے حقوق
    فر مایا کہ :۔
    عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی ۔مختصر الفاظ میں فرما دی ہے ۔
    وکھن مثل الذی علیھن(البقرہ: ۲۲۹)
    کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں ،بعض لوگوں کا حال سناُ جاتاہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طر ح جانتے ہیں اور ذلیل تر ین خد مات ان سے لیتے ہیں گالیا ں دیتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق بر تتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں ۔
    چاہیے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہو تا ہے۔انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں ۔اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صکح ہو رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا ہے
    خیر کم لاھلہ
    تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے اچھا ہے ۔
    ۸ مئی ۱۹۰۳؁ء
    مجلس قبل از عشاء
    محمد حسین بٹالوی اور قرآن کریم کی بے ادبی
    بہ ظاہرتُک بندی تومسیلمہ نے بھی کر لی تھی اس میں قرآن شریف کی خصو صیت کیا ہے یہ ایک کلمہ ہے جو کہ محمد حسین بٹالوی اوّل المکفّرین کی قلم سے قرآن کریم کی شان میں نکلا ہے ۔اس پر حضرت اقدس نے فر مایاکہ :۔
    اس سے بڑھ کر کیا بے ادبی ہو گی کہ قرآن شر یف کی آیا ت کو جوکہ ہر ایک پہلو اور ہر ایک رنگ کیا بلحاظ ظاہر اور بلحاظ باطن کے معجزہ ہے۔ تُک بندی کہا جاتا ہے ۔جیسے قرآن شریف کا باطن معجزہ ہے ویسے ہی اس کے ظاہر الفاظ اور تر تیب بھی معجزہ ہے ۔اگر ہم اس کے ظاہر کو معجزہ نہ مانیں تو پھر باطن کے معجزہ ہو نے کی دلیل کیا ہو گی ؟ایک انسان کا اگر ظاہر بھی گندہ ناپاک اور خبیث ہو گا تو اس کی رُوحانی حالت کیسے اچھی ہو سکتی ہے ؟عوام الناس اور موٹی نظر والوں کے واسطے تو ظاہری خوبی ہی معجزہ ہو سکتی ہے اور چونکہ قرآن ہر ایک قسم کے طبقہ کے لوگوں کے واسطے ہے اس لیے ہر ایک رنگ میں معجزہ ہے ۔مامور من اللہ کی عداوت کا نتیجہ کفر تک پہنچا دیتا ہے ۔ (البدرؔ جلد ۲نمبر۱۸ صفحہ۱۳۷۔۱۳۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    (الحکمؔ جلد ۷نمبر۱۸ صفحہ۲ مورخہ ۷؍مئی ۱۹۰۳؁ء)
    ۹ مئی ۱۹۰۳؁ء
    بوقت سیر
    وباکے علاقے سے نکلنا
    عام لوگوں کا خیال ہے کہ وبا سے بھا گنا نہ چا ہیئے یہ لوگ غلطی کر تے ہیں آنحضرت ﷺ نے فر ما یا ہے کہ اگر وبا کی ابتداہوا ہو تو بھاگ جانا چا ہیئے اور اگر کثرت سے ہو تو پھر نہیں بھا گنا چا ہیئے جس جگہ وبا ابھی شروع نہیں ہو ئی تب تلک اس حصہ والے اس کے اثر سے محفوظ ہو تے ہیں اور ان کا اختیار ہو تا ہے کہ اس سے الگ ہو جاویں اور توبہ اور استغفار سے کام لیویں۔
    جماعت ِاحمدیہ اور طاعون
    یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ نشان بھی ہو تے ہیںاور ان میں التباس بھی ہو تا ہے ّآنحضرتﷺ سے معجزہ مانگا گیا تو کہا کہ خدا قادر ہے خواہ آسمان سے نشان دکھلاوے یا بعض کو بعض سے جنگ کرا کر نشان دکھا وے ۔ ۱؎ چنانچہ جنگوں میں صحابہؓ بھی شہید ہو ئے بعض کمزور ایمان والوں نے اعتراض کیا کہ اگر یہ عذاب ہے تو ہم میں سے کیوں مرتے ہیں اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا
    ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ وتلک لایام نداولھابین الناس(ال عمران:۱۴۱)
    پس اگر ہماری جماعت ،یں سے کو ئی بھی نہ مرے اور کل قو میں مرتی رہیں تو کل دنیا ایک ہی دفعہ راہ راست پر آجاوے اوربجز اسلام کے اور کو ئی مذہب دنیا پر نہ رہے حتیٰ کہ گو رنمنٹوں کو بھی مسلمان ہو نا پڑے۔ ۱؎ اور یہی سِر تھا کہ آنحضرتﷺ کے صحابہؓ بھی فوت ہو ئے تھے ہاں سلا متی کا حصہ نسبتاً ہماری طرف زیادہ رہے گا براہین احمدیہ میں بھی لکھا ہے ۔
    ان الذین امنو اولم یلبسو ایمانھم بظلم۔( الا نعام :۸۳)
    اب خدا جانے کہ کون ظلم سے خالی ہے کسل اور غفلت بھی ظلم ہے مگر تا ہم دعا کر نا ضروری ہے اس جماعت کا قطعاً محفوظ رہنا یہ الفاظ کہیں ہم نے نہیں لکھے اور نہ یہ سنت اللہ ہے اگر ایسا ہو تو اکراہ فی الدین ہو جاتا ہے جب سے انبیاء پیدا ہو ئے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا احمقوں کوان بھیدوں کی خبر نہیں خدا تعالیٰ کا وعدہ نسبتاً حفاظت کا ہے نہ کہ کلیتہً ۲؎ پھر بھی یہ دیکھ لینا چا ہیئے کہ اگر ہماری جماعت کا ایک مرتا ہے تو اس کے بد لے سَو آجاتے ہیں انجام ہمیشہ کے واسطے ہی ہو تا ہے اگر خدا تعالیٰ ایسا کھلا کھلا فرق کر دیوے تو میں نہیں جا نتا کہ مذہبی اختلاف ایک ذرہ بھر بھی رہ جاوے حالا نکہ اس اختلاف کا قیامت تک ہو نا ضروری ہے ۔
    بعض لوگ ہماری جماعت میں سے بھی غلطی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نہ مر یگا یہ ان کو مغالطہ لگا ہے ایسا ہر گز ہو نہیں سکتا اگر چہ ایک حد تک خدا تعالیٰ نے وعدے کئے ہو ئے ہیں مگر ان کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جماعت سے مطلقاً کو ئی بھی نشانہ طاعون نہ ہو یہ بات ہماری جماعت کو خوب یادرکھنی چا ہیئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے کہ تم میں سے کو ئی بھی نہ مر یگا ہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے
    ماما ینفع الناس فیمکث فی الا رض (الد عد:۱۸)
    پس جو شخص اپنے وجود کو نا فع الناس بناویں گے ان کی عمر یں خدا تعالیٰ زیادہ کر یگا خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی بجاآوری پورے طور پر بجالانی چا ہیئے ۔
    نوحؑ اور مسیح موعود کے حالات کا فرق
    اعتراض ہوا نوحؑ کی کشتی پر چڑھنے والے سب کے سب طوفان سے محفوظ رہے تھے تو کیا وجہ ہے کہ جو لوگ یہاں بیعت میں ہیں وہ محفوظ نہ رہیں۔
    جواب۔ فرمایا کہ ’’ ہمارا سلسلہ آنحضرتﷺ کے قدم برقدم ہے نوحؑ کے وقت ایمان کا دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس وقت کو ئی التباس ایمان کا نہ تھا مگر اب ہے نوحؑ کے وقت یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب قوم تو ضرور ہلاک ہو نے والی ہے خواہ ایمان لاوے خواہ نہ لاوے مگر آنحضرت ﷺ کے وقت مہلت دی گئی کہ جو تو بہ کریگا وہ بچ جاویگا چنا نچہ آنحضرتﷺ نے عین قتل کے وقت فرمایا کہ اگر کو ئی ایمان لاوے تو تلواروک لی جاوے مگر نوحؑ کی قوم کے واسطے تھا کہ صرف کشتی والے بچا ئے جاویں گے باقی سب تباہ اور ہلاک ہون گے وہ صورت خاص اور الگ تھی اور اعتراض تو کود نوحؑ پر بھی تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میرے اہل بچے رہیں گے مگر پھر بھی مخالفوں کوو یہ کہنے کی گنجائش رہی کہ نوحؑ اپنے نیٹے کو نہ بچا سکا معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ کو بھی شبہ پیدا ہوا تھا تب ہی تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زجر ہوا پھر دیکھو جاوجود نبی ہو نے کے ان کو دھوکا لگا اور یہ معاملہ اسی طرح سے ہوا کہ مخالفین تو در کنا ر خود نوحؑ کو ہی شکوک پیدا ہو گئے خدا تعالیٰ اپنے رعب اور خوف کو دور نہیں کرنا چا ہتا اگر آج وہ کھلا وعدہ دے دے کہ جماعت میں سے کوئی نہ مریگا تو پھر اس کا خوف دلوں میں نہ رہے جہاں خاص گھر کا اس نے وعدہ کیا ہے کہ
    انی احافظ کل من فی الدار
    وہاں بھی ایک فقرہ ساتھ رکھ دیا ہے کہ
    الا الذین علو اباستکبار۔
    مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رجوع کب ہو گا؟
    فرما یا :۔
    دیکھو بچہ جب پیٹ میں ہو تا ہے تو اگر چہ زند ہ ہو تا ہے مگر ہم خوشی پر ہنس نہیں سکتا اور تکلیف پر رد نہیں سکتا بلاؤ تو بو لتا نہیں مگر جب با ہر آتا ہے تو اس کو حواس مل جاتے ہیں ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے بلانے سے بو لتا ہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اول زند گی جو کہ پیٹ میں تھی وہ اصلی اور حقیقی زند گی نہ تھی حواس اس میں نہ تھے جب خدا تعالیٰ ایک بات ڈالتا ہے تو حواس آجاتے ہیں یہی مولوی محمد حسین صاحب کا ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کو ئی بات دل مین ڈالی جاوے گی تو اسی وقت تبدیلی ہو جاوے گی ۔
    جو بلائے جاتے ہیں وہ آتے ہین اور جو بلائے نہیں جاتے وہ کفر مین ترقی کرتے ہیں اگر قرآن شریف نہ آتا تو ابو جہل اعلیٰ درجہ کے لوگوں میں شمار ہو تا اسی طرح صدہا آدمیوں کو ہم صلحاسمجھتے ہین مگر جب ان کے سامنے حق پیش کیا گیا اور انہوں نے انکار کیا تو ہعلوم ہوا کہ کدا کے نزدیک ان میں صلاحیت نہ تھی کسی کے باطن کا کسیکو کیا علم؟ مگر حق پیش کرنے پر حقیقت کھل جاتی ہے کہ کدا کی آواز سننے والے کون ہیں اور اس سے انکار کر نیوالے کون ؟
    ایک غیر معمولی مجلس
    کل سے اکسڑ ااسسٹنٹ کمشنر صاحب گورداسپور سے دورہ پر اور تحصیلدار صاحب بٹالہ سے مینا ر کی تعمیر کے ملا خط کے واسطے تشریف لا ئے ہو ئے تھے حضرت اقدس علیہ السلام جب سیر سے واپس تشریف لا ئے تو کو ئی آد ھ گھنٹہ کے بعد ہر دو عہد یدار صاحبان نے حضرتاقدس سے ملا قات کی طاعون پر ذکر اذکار ہو تے رہے اور مینار کے متعلق بھی تحصیلدار صاحب نے چند امور استفسار کئے اس موقعہ پر جو حضر ت اقدس نے ارشاد فرمایا اسے ہم یکجائی طور ہر درج کر دیتے ہیں۔
    (ایڈیٹر)
    طاعون
    طاعون کے تجربہ کے سوال پر فرمایا کہ
    اس کے تجربہ کا موقعہ ابھی بہت ہے حکماء نے لکھا ہے کہ اس کا دورہ ستر ستر برس تک ہوا کرتا ہے بڑے بڑے حکماء نے پچاس ساٹھ برس تک اس کے دور ہ کا مشاہد لکھا ہے لیکن خدا جانے کہ بعد مین اس کے کیا تجارب ہوں یہ کہنا کہ تجربہ ہوا ہے کھلی ہوا میں کے کیڑے سے زیادہ ہو تے ہیں ٹھیک نظر نہیںآتا کیو نکہ علاقہ بمبئی میں اس نے سب سے پہلے زیادہ حصہ شہر بمبئی کا ہی پسند کیا تھا شاید یہ بات بعد میں بدل جا ئے ہم اس رائے کو اس وقت قبول کرتے ہیں جب طاعون کی رفتار بھی اسے قبو ل کر ے جیسے حکام کے دورے ہو تے ہیں اسی طرح اس کے بھی دورے ہو تے ہیں کسی جگہ پر عود کرتی ہے اور کسی جگہ نہیں لیکن اس پر بھی زور نہیں دیا جاسکتا شاید ایک ہی جگہ بار بات آجاوے پہلا تجربہ یہ ہے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ اپنی عمر پوری کر کے خود بخود ہی چھوڑ جاتی ہے ۔
    طاعون کا باعث
    سوال ہوا کہ طاعون کا اصل باعث کیا ہے ؟فرمایا کہ:۔
    مَیںاس مجلس میں اس ذکر اس لیے پسند نہیں کرتا کہ مذہبی رنگ کے مسائل کو لوگ کم سمجھتے ہیں حقیقت میں جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں وہ جا نتے ہین کہ یہ اس کی نافرمانی کا نتیجہ ہے قاعدہ کی بات ہے جب انسان اپنی عقل پر بہت بھروسہ کرتا ہے تو ہر شیئی کا انکارکر دیتا ہے حتیٰ کہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو جاتا ہے مَیں دیکھتا ہوں کہ آج کے جنٹلمین دنیی بات کرنے والے کو بیوقوف کہہ دیتے ہیں لیکن یقین ہے کہ اب زمانہ خود بخود مئود ب ہو جائے گا نرے ارضی اسباب ہی اس طاعون کے موجد نہیں ہیں آخر اس کے کیڑے کسی پیدا کرنے والے کی وجی سے ہی پیدا ہو ئے ہیں اور وہ زمانہ قریب ہے کہ لوگوں کو اس کی ہستی کا پتہ لگ جاویگا ابھی تک لوگوں کو عبرت کامل نہیں ہو ئی ہے طاعون کی گذشتہ چال سے پتہ چلتا ہے کہ اول عوام پر پھر خواص پر پھر ملوک پر حملہ کرتی ہے اور اس کے اصل اسباب کا معمہ تو خدا خود ہی کھو لے گا مَیں نے اس کی خبرآج سے بائیس سال پیشتر دی ہے پھر سات سال کے بعد دی پھر اس وسقت دی جب ایک دوضلوں میں یہ تھی قرآن میں انجیل میں،دانیال نبی کی کتاب میں اس کاذکر ہے غرض ازوقت ہم اس کی نسبت کھل کر بات نہیں کرتے کیو نکہ اس پرہنسی کی جاوے گی جب خدا تعالیٰ اس کا پورا دورہ خود ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتہ لگ جاوے گا ۔
    اطباء نے لکھا ہے کہ جب موسم جاڑے یا گرمی کی طرف حرکت کرتا ہے تواس وقت یہ زیادہ ہو تی ہے مگر ابھی موسم اتنی شدت گر می کا نہیں ہے لیکن اگر مئی کے گذرنے پر یہی حال رہا تو شاید یہ قاعدہ بھی ٹوٹ جاوے مگر اصل بات کا علم تو خدا تعالیٰ ہی کوہے ۔
    اکثر جگہ چو ہے کثرت سے مرتے ہیں تو وہاں طاعون کا اندیشہ ہو تا ہے مگر ہمارے گھر میں دو بلیاں ہیں اور وہ کو ئی چو ہا نہیں چھوڑ تیں شاید یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک علاج ہو۔
    طاعون کا حقیقی علاج
    سوال ہواپھر اس کا علاج کیا ہے ؟فرمایا :۔
    ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ بجز تقویٰ طہارت اور رجوع الیٰ اللہ کے اور کو ئی چارہ نہیں گو لوگ اسے دیوانہ پن سمجھتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ دنیا خود بخود نہیں ہے ایک خا لق اور مدبر کے ماتحت یہ چل رہی ہے جب وہ دیکھتا ہے۔ کہ زمین پر پاب اور گناہ بہت بڑھ گیا ہے تو وہ تنبہیہ نازل کرتا ہے۔ اور جب رجوع الیٰ اللہ ہو تو پھر اسے اٹھا لیتا ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بہت بیباک ہیں اور ان کو ابھی تک کچھ پروا نہیں ہے ۔
    مینارہ المسیح کی غرض
    سوال ہوا کہ مینار کیوں بنایا جاتا ہے ؟فر مایا کہ :۔
    اس مینار کی تعمیر میں ایک یہ بھی بر کت ہے کہ اس پر چڑھ کر خدا تعالیٰ کا نام لیا جاوے گا اور جہاں خدا تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے وہاں بر کت ہو تی ہے چنانچہ اسی لیے سکھوں نے بھی اذانیں دلوائی ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں بلا کر قر آن پڑھوایا ہے پھر اس کے اوُپر ایک لالٹین بھی نصب کی جاوے گی ۔جس کی روشنی دُور دُور تک نظر آویگی۔
    سُنا گیا ہے کہ روشنی سے بھی طاعونی م