1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

قومی اسمبلی کی کاروائی 1974 یونی کوڈ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 21, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    قومی اسمبلی کی کاروائی 1974 یعنی کوڈ

    دوسری آئینی ترمیم
    {1974ء }
    خصوصی کمیٹی میں کیا گزری
    تاریخ کا ایک باب
    مرتبہ
    ڈاکٹر مرزا سلطان احمد
    C 1990 Islam International Publications Limited.
    Published by :
    Islam International Publications Limited
    Islamabad
    Sheephatch Lane, Tilford,
    Surrey GU10 2AQ U.K.
    Printed by:
    Raqeem Press
    Islamabad, U. K.
    ISBN 1 85372 386 x
    عرض ناشر
    جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ کی 3جلدیں ’’ سلسلہ احمدیہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکی ہیں۔ جلد سوئم میں جنوری 1966ء سے جون 1982ء تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اسی عرصے میں پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک سانحہ رونما ہوا جس میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کے ذریعہ بیک جنبش قلم لاکھوں کلمہ گو احمدیوں کو ’’غیر مسلم‘‘ قرار دے ڈالا۔ سلسلہ احمدیہ جلد سوئم کے فاضل مؤلف ڈاکٹر مرزا سلطان احمد نے ایک مؤرخ کی حیثیت سے اس دور کے حالات اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارگزاری کا جائزہ لیا ہے۔ بحیثیت مؤرخ واقعات کی جستجو اور پڑتال کی غرض سے اس دور کی بعض سرکردہ شخصیات سے ملاقات کرکے ان کے انٹرویو بھی لئے۔
    قومی اسمبلی کی کارروائی خفیہ قرار دی گئی تھی۔ اب قریباً چار دہائیوں کے بعد قومی اسمبلی کی سپیکر محترمہ فہمیدہ مرزا کی زیر ہدایت اس سے پردئہ اخفا اٹھالیا گیا ہے اور پابندی ختم کردی گئی ہے اور کارروائی سرکاری طور پر شائع بھی کردی گئی ہے مگر یہ کارروائی بالعموم دستیاب نہیں۔
    پاکستان کی نئی نسل اور علمی حلقوں میں اس کارروائی کے بارہ میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر محققین بھی یہ جاننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ خصوصی کمیٹی کی کارروائی میں اسمبلی کے سامنے معاملہ کس رنگ میں زیر بحث لایا گیا ، اسمبلی کے آئینی اختیارات کیا تھے، جماعت احمدیہ کا مؤقف کیا تھا، امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پر جو جرح کی گئی اس کا اثر اور ماحصل کیا تھا، قومی اسمبلی اس معاملے سے کس انداز سے نبرد آزما ہوئی اور کہاں تک اس نازک ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکی۔ توقع کی جانی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں اہل علم اور اہل نظر حلقوں کی طرف سے کارروائی کا باریک بینی سے تجزیہ اور بصیرت افروز اور چشم کشا تبصرے بھی سامنے آئیں گے۔
    دریں اثنا مذکورہ واقعات کے بارہ میں ایک مؤرخ کا بیان قارئین کی خدمت میں ’’خصوصی کمیٹی میں کیاگزری … تاریخ کا ایک باب‘‘ کے عنوان سے پیش ہے۔ اس میں 7؍ ستمبر 1974ء کی منظور کردہ آئینی ترمیم اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارگزاری اور پس منظر اور پیش منظر بیان کئے گئے ہیں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوں گے۔
    ناشر
    شکریہ احباب
    اس کتاب کی تیاری میں مختلف احباب نے تعاون فرمایا اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
    مکرم انور اقبال صاحب ثاقب حسبِ ثاقب اس کتاب کی تیاری کے دوران خاکسار کی مدد فرماتے رہے۔ انہوں نے بڑی محنت سے کارروائی کا تفصیلی جائزہ لے کر مختلف امور کی نشاندہی فرمائی۔ مکرم و محترم محمد صادق صاحب ناصر انچارج خلافت لائبریری اور عملہ خلافت لائبریری ربوہ نے بھی خاکسار سے بھر پور تعاون فرمایا۔ اس کتاب کی تیاری کے دوران سینکڑوں حوالوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت پڑتی رہی۔ ان میں ایسی کتابیں بھی شامل تھیں جو کہ اب بہت مشکل سے ملتی ہیں۔ کئی حوالے نامکمل صورت میں موجود تھے۔ اگر کتاب کا نام معلوم ہے تو مصنف کا نام معلوم نہیں ، اگر مصنف کا نام معلوم ہے تو یہ معلوم نہیں کہ یہ اس کی کس کتاب کا حوالہ ہے۔ اکثر اوقات یہ علم نہیں ہوتا تھا کہ یہ کس ایڈیشن کا حوالہ ہے۔ بعض حوالے جزوری طور پر غلط صورت میں موجود تھے حتّٰی کہ چند مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ صرف عبارت موجود تھی نہ مصنف کا نام معلوم تھا اور نہ ہی کتاب کا نام لیکن پھر بھی بہت تھوڑی مدت میں تحقیق کرکے حوالہ ڈھونڈ لیا گیا۔ ان حوالوں کو ڈھونڈنا ایک نہایت ہی مشکل کام تھا لیکن مکرم صادق صاحب ناصر اور ان کے رفقاء نے یہ کام بہت خوش اسلوبی سے مکمل کیا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ان کی خدمت میں دوپہر کو یا شام کو یہ درخواست کی گئی کہ یہ حوالہ درکار ہے اور عملہ خلافت لائبریری نے رات کو کام کرکے وہ حوالہ ڈھونڈ نکالا۔ خاکسار کوکئی موضوعات سے واقفیت نہیں تھی لیکن ان احباب نے بہت تھوڑی دیر میں تحقیق مکمل کرکے خاکسار کے حوالے کردی کیونکہ اس کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل صاحب مسلسل غلط اور نامکمل حوالے پڑھتے رہے تھے۔ اس لئے اس موضوع پر تحقیق کرنا ایک بہت مشکل کام تھا۔ اسی طرح مکرم ڈاکٹر سلطان احمد صاحب مبشر ابن مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے اس پر بڑی محنت سے تحقیق کی اور غلط حوالوں کے موضوع پر ایک مفصل مقالہ تیار کیا۔ ان کا یہ تیار کردہ مقالہ اس کتاب کو لکھنے کے دوران خاکسار کی کلیدی مدد کرتا رہا۔ ان چند ماہ میں تقریباً روزانہ خاکسار مکرم محمد صادق صاحب ناصر، مکرم انور اقبال صاحب ثاقب اور مکرم ڈاکٹر سلطان احمد صاحب مبشر سے فون پر رابطہ کرکے ان سے مدد کی درخواست کرتا رہا۔ یہ احباب تمام مصروفیات کے باوجود بہت بشاشت اور محنت سے خاکسار کی مدد کرتے رہے۔ اس کتاب کے کئی ایسے صفحات میں جن میں سے ایک ایک کی تیاری کے لئے یہ احباب سارا سارا دن اور رات گئے تک کام کرتے رہے۔
    محترم صاحبزادہ مرزا فضل احمد صاحب نے اس کام کے آغاز میں میری بہت اہم مدد کی۔
    اسی طرح مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے تلاش کردہ حوالے اس کتاب میں درج کئے گئے ہیں۔ مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب اس کام کے نگران تھے۔ ان کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی اس کتاب کی تیاری میں شامل رہی۔ مکرم منیر احمد صاحب بسمل ایڈیشنل ناظر اشاعت، مکرم محمد محمود صاحب طاہر مربی سلسلہ اور مکرم کلیم احمد صاحب طاہر مربی سلسلہ نظارت اشاعت نے مسودہ کا بغور مطالعہ کرکے اس کی اصلاح کی اور بہت تیزی سے اس عمل کو مکمل کیا ۔
    تمام پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ ان کو اور ان ساتھیوں کو جن کا ذکر میں نہیں کرسکا اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزاء عطا فرمائے۔ آمین
    خاکسار
    ڈاکٹر مرزا سلطان احمد
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    حرف ِ آغاز
    1974ء میں پاکستان کے آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم بہت سے پہلوؤں سے دنیا کی آئینی تاریخ کا ایک انوکھا فیصلہ تھا۔اس آئینی ترمیم کے ذریعہ سے بزعمِ خود یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک گروہ کو کس مذہب کی طرف منسوب ہونے کا حق ہے اور اس گروہ کے مذہب کاکیا نام ہونا چاہئیے؟ اس ترمیم سے قبل اس مسئلہ پر غور کے لئے پاکستان کی پوری قومی اسمبلی کو ایک سپیشل کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس سپیشل کمیٹی نے اس مسئلہ پر غور شروع کیا۔ شروع ہی سے یہ قاعدہ بنا دیا گیا تھا کہ اس کمیٹی کی کارروائی خفیہ رکھی جائے گی اور بار بار اس کااعادہ کیا گیا اور یہ یقینی بنایا گیا کہ اسمبلی ہال کے باہر کسی کو اس کارروائی کی حقیقت کا علم نہ ہو سکے ۔ اس کارروائی کے دوران جماعت احمدیہ کا وفد بھی گواہ کی حیثیت سے پیش ہوا اور اس سپیشل کمیٹی کے سامنے جماعتِ احمدیہ کا مؤقف ایک محضرنامہ کی صورت میں پڑھا گیا اور جماعتِ احمدیہ کا یہ موقف پیش کیا گیا کہ قانون کی رو سے، عقل کی رو سے اور قرآنی تعلیمات اور احادیثِ نبویہ کی رو سے دنیا کی کوئی بھی پارلیمنٹ یا اسمبلی اس سوال کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ اس کے بعد ممبرانِ قومی اسمبلی نے گیارہ روز تک جماعتِ احمدیہ کے وفد سے سوالات کئے۔ان سوالات اور ان کے جوابات کا تجزیہ تو ہم بعد میں پیش کریں گے لیکن یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ اس کارروائی کے دوران ہی اس کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے حوالے سے ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ انصاف کے معروف تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے۔ دنیا بھر کی عدالتوں میں یہ طریقہ کار ہے کہ جب کوئی گواہ بیان دیتا ہے تو اس کے بیان کا تحریری ریکارڈ گواہ کو سنایا جاتا ہے اور دکھایا جاتا ہے اور وہ اس بیان کو تسلیم کرتا ہے تو پھر یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے۔ لیکن اس کارروائی کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا کہ ہمیں بھی اس کی کاپی دی جائے لیکن انکار کیا گیا اور ایک ممبر اسمبلی کی طرف سے بھی یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کیا جماعتِ احمدیہ کے وفد کو اس کی کاپی دی جائے گی تو سپیکر صاحب نے کہا کہ ان کو اس کی کاپی نہیں دی جائے گی۔ یہ طریقہ کار صرف عدالتوں میں ہی نہیں رائج بلکہ دنیا کی پارلیمنٹوں کی کمیٹیوں میں بھی جب کوئی گواہ پیش ہوتا ہے تو یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ ہم اس کی دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کی select committeesمیں گواہی کو ضبط ِ تحریر میں لانے کے قواعد میں لکھا ہے:۔
    ‏ A transcript of what was said in oral evidence is available a few days after the hearing. This uncorrected transcript is:
    ‏ -Published on the committee website,
    ‏ -And sent to witness
    ‏ Witnesses are asked to correct the transcript and identify any supplementary information asked for by members of the committee. The transcript will be accompanied by a letter giving details of the very limited sorts of corrections which are acceptable and the deadline by such corrections need to be sent to committee staff.
    ان قواعد سے ظاہر ہے کہ جب پارلیمانی کمیٹی میں کوئی گواہ پیش ہو تو یہ اس گواہ کا حق ہے کہ وہ اپنی گواہی کا تحریری ریکارڈ ملاحظہ کرے اور اگر اس میں کوئی غلطی ہو تو اس کی نشاندہی کر کے اسے درست کرائے۔آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے قواعدمیں لکھا ہے
    ‏ The Senate rosolutions provide that "Reasonable opportunity shall be afforded to the witnesses to make corrections of errors of transcription in the transcript of their evidence and to put before a committee additional material supplementary to their evidence.
    ‏(Government Guidelines for Official Witnesses before Parliamentary Committees and Related Metters-November 1989.)
    آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے ان قواعد کی رو سے گواہ کو اس چیز کا خاطر خواہ موقع ملنا چاہئیے کہ وہ اپنی گواہی کا تحریری ریکارڈ پڑھ کر اس میں موجود غلطیاں درست کرائے اور اگر یہ گواہ پسند کرے تو اضافی تحریری مواد بھی ریکارڈ میں شامل کر سکتا ہے۔
    اس سپیشل کمیٹی میں جماعت کا وفد بحیثیت گواہ پیش ہوا تھا لیکن ان کو ان کے بیان کا تحریری ریکارڈ نہیں دکھایا گیا تاکہ وہ اس میں ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں۔
    جس دن قومی اسمبلی نے آئین میں دوسری ترمیم کے منظوری دی اس روز وزیر ِ اعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کی اور اس میں کہا کہ گو ابھی اس کارروائی کو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن بعد میں اس کو منظر ِ عام پر لایا جائے گا۔ اس کے بعد یہ کارروائی تو منظر ِ عام پر نہ آئی لیکن احمدیوں نے اور انصاف پسند طبقہ نے اس فیصلہ کے چند روز بعد اخبارات میں یہ خبر حیرت سے پڑھی کہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی اس کارروائی کا تحریری ریکارڈ مرتب کرنے کا کام مولوی ظفر احمد انصاری صاحب کے سپرد کیا گیا ہے۔
    ( روزنامہ امن کراچی ۔12؍ستمبر1975ء ص 4)
    یہ ممبر قومی اسمبلی جماعت ِ احمدیہ کے اشد مخالف تھے اور اس کارروائی میں ان کے سوالات اور تقاریر اس بات کا ثبوت ہیں۔اور تقریباََ ایک سال کے بعد یہ خبر شائع ہوئی کہ اس کارروائی کو مولوی ظفر انصاری صا حب کے سپرد کیا گیا تھا کہ وہ ’’ حسب ِ خواہش ‘‘ اس کارروائی کو اغلاط سے پاک کر کے محفوظ کرنے کا کام شروع کریں،معلوم نہیں اب یہ کام کس مرحلہ پر ہے۔
    (نوائے وقت 8ستمبر 1974)
    مولانا ابوالعطاء صاحب جماعت کے وفد کے رکن تھے ۔انہوں نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔
    ’’ فیصلے کا یہ کیا انوکھا طریقہ ہے کہ خود ہی لوگ مدعی ہوں اور خود ہی جج بن جائیں اور خود ہی فیصلے کر دیا کریں اور پھر خود ہی اپنی اغلاط کی تصحیح کر لیا کریں؟ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ خصوصی کمیٹی اپنے ہی ایک رکن کو جو فریقِ مخالف میں شامل تھا مقرر کر دے کہ اپنے ریکارڈ کو گھر میں بیٹھ کر’’ اغلاط سے پاک کر کے مرتب کرے‘‘۔ ظاہر ہے مولوی انصاری صاحب اپنی اور اپنے ساتھیوں کی اغلاط کو ہی درست کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
    (الفرقان ۔ستمبر 1975)
    پہلے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی کو روزانہ سرکلر کی بنیاد پر تیار کر کے ساتھ کے ساتھ ممبران میں تقسیم کیا جاتا تھا اور ممبران اس میں تصحیح کر کے واپس جمع کراتے تھے۔ بعد میں کسی مرحلہ پر اس کارروائی کو دوبارہ قلمبند کیا گیا۔اور اس مسودہ میں بہت تبدیلیاں کی گئیں اور جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں یہ کام جماعت ِ احمدیہ کے اشد مخالف مولوی ظفر انصاری صاحب کے سپرد ہوا تھا۔اس کے بعد ایک طویل خاموشی طاری ہو گئی۔ ( سلسلہ احمدیہ حصہ سوئم میں جو تجزیہ پیش کیا گیا تھا اس کا ماخذ اوّل الذکر سرکلر تھے اور اس کتاب میں درج تبصرہ کا ماخذ وہ اشاعت ہے جو اب منظر ِ عام پر آئی ہے)۔
    کئی سال گزرے۔دہائیاں گزریں۔جماعتِ احمدیہ کی طرف سے بار بار مطالبہ کیا گیا کہ اس کارروائی کو منظر ِ عام پر لایا جائے مگر دوسری طرف سکوتِ مرگ طاری تھا۔ مولوی صاحبان اس کارروائی کے حوالے سے متضاد غلط بیانیاں تو کرتے رہے لیکن یہ مطالبہ نہ کرتے کہ اس کارروائی کے اصل ریکارڈ کو منظر ِ عام پر لایا جائے۔کہیں حقائق منظر ِ عام پر نہ آ جائیں۔یہ گروہ اس خوف کے آسیب سے باہر نہ آ سکا۔
    آخر کار اس واقعہ کے 36سال بعد ہائی کورٹ میں دائر ہونے والے ایک مقدمہ کے نتیجہ میں لاہور ہائی کورٹ نے اس کارروائی کو منظر ِ عام پر لانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس کارروائی کو شائع کرنے کی اجازت دی۔ جب ا س کارروائی کی اشاعت منظر ِ عام پر آئی تو اس بات کی ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ اس اشاعت کی وقت بھی جماعتِ احمدیہ کے مخالفین کا گروہ اس عمل پر اثر انداز ہو رہا تھااور اس گروہ کی کوشش تھی کہ مکمل حقائق سامنے نہ آئیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ
    ۱)۔جماعت ِ احمدیہ کا موقف ایک محضر نامہ پر مشتمل تھا ۔دو دن کی کارروائی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے یہ موقف خود پڑھ کر سنایا تھا۔اس اشاعت میں یہ محضر نامہ جو جماعتِ احمدیہ کا اصل موقف تھا شامل نہیں کیا گیاحالانکہ یہ محضرنامہ کارروائی کا اہم حصہ تھا۔ اس کے برعکس جماعت کے مخالفین نے، جن میں مفتی محمود صاحب کا نام بھی شامل ہے جو اپنے مؤقف پر مشتمل طویل تقاریر کی تھیں وہ اس اشاعت میں شامل کی گئیں۔
    2)۔جماعتِ احمدیہ کے موقف کے طور پر محضر نامہ کے ضمیمے کے طور پر جو مضامین اور کتابچے جمع کرائے گئے تھے وہ اس اشاعت میں شامل نہیں کئے گئے اور جو ضمیمے مخالفین نے جمع کرائے تھے وہ اس اشاعت کا حصہ بنائے گئے۔
    3) ۔بعض جگہوں کچھ نمایاں سرخیاں لگا کر خلاف ِ واقعہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاََ اس اشاعت کے صفحہ 2360اور صفحہ 2384پر جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کی تقاریر کے تحریری ریکارڈ میں یہ ہیڈنگ لگائی گئی ہیں’’ مرزا ناصر احمد صاحب سے ‘‘ اور نیچے کچھ سوالات درج ہیں ۔اور یہ تاثر پیش کیا گیا ہے کہ گویا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے یہ سوالات کئے گئے تھے اور آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقاریر 30؍اگست 1974ء کی کارروائی کی ہیں اور اس روز حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ یا جماعتِ احمدیہ کے وفد کا کوئی ممبر وہاں پر موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ سوالات کبھی ان تک پہنچائے گئے۔ خدا جانے یہ سوالات کس سے کئے جا رہے تھے ؟
    4)۔ قومی اسمبلی کے قوانین میں یہ قاعدہ درج ہے کہ جب کمیٹی میں ایک گواہ کو سنا جاتا ہے
    ‏A verbatim record of the proceedings of the committee shall, when a witness is summoned to give evidence, be kept.
    اس قاعدہ کے الفاظ بالکل واضح ہیں ۔جب ایک گواہ کمیٹی میں گواہی دے تو اس کے بیان کا حرف بحرف ریکارڈ رکھنا ضروری ہے لیکن کیا ایسا کیا گیا؟ اس اشاعت میں بعض مقامات پر جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حوالہ کے طور پر عربی عبارت پڑھی ہے وہاں اصل عبارت کی جگہ صرف ’’ عربی‘‘ لکھنے پر اکتفا کی گئی ہے۔ یہ طریقہ کار قواعد کے بالکل خلاف ہے۔ اصل عبارت درج کیوں نہیں کی گئی ؟ مولوی ظفر انصاری صاحب عربی زبان سے بخوبی واقف تھے۔ کئی مولوی صاحبان کوجو اس اسمبلی کے ممبر تھے عربی دانی کا دعویٰ تھا۔ اگر یہ سب عربی عبارت سمجھنے سے عاجز تھے تو حسبِ قواعد ضروری تھا کہ جماعت کے وفد کو متعلقہ حصہ دکھا کر اصل عبارت درج کر لی جاتی ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ گروہ اس بات سے خائف کیوں تھا کہ اس ریکارڈ کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی جماعت ِ احمدیہ کے وفد کے کسی ممبر کو دکھایا جاتا ۔ آخر کیا خوف دامنگیر تھا؟ ہم اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔
    ان وجوہات کی بنا پر اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اگر جماعتِ احمدیہ یا کسی بھی محقق کی طرف سے اس اشاعت کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مسترد کیا جائے تو یہ ان کا حق ہے۔ جب اس کارروائی کو جزوی طور پر شائع کیا گیا تو اس وقت جماعت کے احمدیہ کے وفد کے پانچوں اراکین وفات پا چکے تھے۔ اب اس اشاعت کی تصدیق کرنا ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا اس کتاب میں جہاں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ ’’ حضور نے فرمایا … یا ’’حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا … ‘‘ تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس اشاعت میں یہ لکھا ہے کہ حضور نے یہ فرمایا تھا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا غلط؟ لیکن جب بھی اس قسم کا مواد دنیا کے سامنے آتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہم نے صرف یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب ایک عام پڑھنے والا اس کارروائی کو پڑھ کر اصل پس منظر اور حقائق کا جائزہ لیتا ہے اور اصل حوالوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا ممکنہ نتائج سامنے آتے ہیں ۔ جس گروہ نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے تو ان کے موقف کی کمزوری کی یہ کیفیت ہے وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔
    اس تمہید کے بعد میں ہم سب سے پہلے ان واقعات کا پس منظر پیش کرتے ہیں۔
    پس منظر
    جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور دنیا کی اصلاح کی لیے آتا ہے تو ایک عالم اس مامور کے اور اس کی قائم کردہ جماعت کے خلاف کمر بستہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس پیارے کی تکذیب کی جاتی ہے اور اس سے استہزاء کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔
    (المؤمنون : ۴۵)
    جب بھی کسی امت کی طرف اس کا رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔
    ( یٰسٓ : ۳۱)
    وائے حسرت بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتامگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔
    لیکن ان تمام تر مخالفتوں کو اور مخالفانہ حربوں کے باوجود اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے۔
    (المجادلۃ : ۲۲)
    اللہ نے لکھ رکھاہے کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب آئیں گے ۔یقیناََ اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔
    جب آ نحضرت ﷺ کے غلام ِ صادق ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر یہ اعلان فرمایا کہ میں تووہی وجود ہوں جس کے آنے کی خوش خبری نبی اکرم ﷺ نے دی تھی تو وہی تاریخ دہرائی گئی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے ہر مامور کی بعثت پر دہرائی جاتی ہے۔ تمام گروہ آپس کے اختلافات بھلا کر آپ کی مخالفت پر متحد ہو گئے۔ان مخالفین نے تمام حیلے اور تمام مکر استعمال کر کے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ آپ ناکام ہوں اور آپ کی جماعت کو ختم کر دیا جائے ۔ اور بار بار یہ اعلان کیا گیا کہ ہم اس گروہ کو نیست ونابود کر دیں گے۔لیکن دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا مامور اللہ تعالیٰ سے بشارات پا کر یہ اعلان کر رہا تھا۔
    ’’ اگر تمام دنیا میری مخالفت میں درندوں سے بدتر ہو جائے تب بھی وہ میری حمایت کرے گا۔ مَیں نامرادی کے ساتھ ہر گز قبر میں نہیں اُتروں گا کیونکہ میرا خدا میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور مَیں اس کے ساتھ ہوں۔ میرے اندرون کا جو اُس کو علم ہے کسی کو بھی علم نہیں۔ اگر سب لوگ مجھے چھوڑ دیں تو خدا ایک اور قوم پیدا کرے گا جو میرے رفیق ہوں گے۔ نادان مخالف خیال کرتا ہے کہ میرے مکروں اور منصوبوں سے یہ بات بگڑ جائے گی اور سِلسلہ درہم برہم ہو جائے گا مگر یہ نادان نہیں جانتا کہ جو آسمان پر قرار پا چکا ہے زمین کی طاقت میں نہیںکہ اس کو محو کر سکے۔ میرے خدا کے آگے زمین و آسمان کانپتے ہیں۔ خدا وہی ہے جو میرے پر اپنی پاک وحی نازل کرتا ہے اور غیب کے اسرار سے مجھے اطلاع دیتا ہے۔ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اور ضروری ہے کہ وہ اس سِلسلہ کو چلاوے اور بڑھاوے اور ترقی دے جب تک وہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلادے۔ ہر ایک مخالف کو چاہیئے کہ جہاں تک ممکن ہو اِس سِلسلہ کے نابود کرنے کے لئے کوشش کرے اورناخنوں تک زور لگاوے اور پھر دیکھے کہ انجام کار وہ غالب ہوا یا خدا… ‘‘
    ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۲۸۔ رو حانی خزائن جلد۲۱ص ۲۹۴ و ۲۹۵)
    جماعت ِ احمدیہ کی سو سال سے زائد کی تاریخ میں بار بار ایسے مراحل آئے جب مخالفین نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے اور تمام دنیاوی اسباب استعمال کر کے کوشش کی کہ کسی طرح اس جماعت کو ختم کر دیا جائے۔ جماعت کی تاریخ کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ جب مخالفین نے یہ محسوس کیا کہ وہ دلائل سے جماعت ِ احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ان کو یہ نظر آنے لگاکہ ان کی تمام کوششوں کے با وجودیہ جماعت ترقی کی منازل طے کرتی چلی جا رہی ہے تو پھر پہلے سے بھی زیادہ زہریلا وار کرنے کی کوشش کی گئی اور اپنی دانست میں پہلے سے بھی زیادہ منظم سازش تیار کی گئی کہ کسی طرح اس جماعت کو ختم کر دیا جائے یا کم از کم اس کی ترقی کو روک دیا جائے۔
    جب ہم ۱۹۷۰ ء کی دہائی کے آ غاز کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک ایسا ہی منظر نظر آتا ہے۔حضرت مصلح موعود کی علالت کے سالوں کے دوران ہمیں مخالفین کے لٹریچر میں اس بات کے واضح آثار نظر آتے ہیں کہ وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ حضرت مصلح موعود کے بعد اب یہ جماعت ختم ہوجائے گی۔لیکن ۱۹۷۰ء کی دہائی کے آغاز میں مخالفین کو یہ نظر آرہا تھا کہ خلافت ِ ثالثہ کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف جماعت ِ احمدیہ ترقی کرتی چلی جا رہی ہے بلکہ اس کے سامنے ترقی کے نئے نئے میدان کھلتے چلے جا رہے ہیں۔۱۹۷۰ء کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مغربی افریقہ کا دورہ فرمایا۔ اس وجہ سے وہاں پر جماعت احمدیہ کی ہونے والی ترقی نمایاں ہو کر سب کے سامنے آگئی۔اور اسی موقع پر حضور نے مجلس نصرت جہاں کے آ غاز کا اعلان بھی فرمایا۔مغربی افریقہ سے واپسی پر حضور نے 10؍ اگست 1970ء کو ربوہ میں احمدی ڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے احباب ِ جماعت کو مطلع فرمایا کہ جماعت کی ترقی دیکھتے ہوئے اب مخالفین ایک نئی سازش تیار کر رہے ہیں۔حضور نے اس موقع پر فرمایا:۔
    ’’ہماری اس سکیم کا اس وقت تک جو مخالفانہ ردِّ عمل ہوا ہے وہ بہت دلچسپ ہے اور آپ سن کر خوش ہوں گے اس وقت میری ایک Source سے یہ رپورٹ ہے۔البتہ کئی طرف سے رپورٹ آئے تو میں اسے پختہ سمجھتا ہوں بہر حال ایکSourceکی رپورٹ یہ ہے کہ جماعت ِ اسلامی کی مجلسِ عاملہ نے یہ ریزولیشن پاس کیا ہے کہ ویسٹ افریقہ میں احمدیت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس واسطے پاکستان میں ان کو کچل دو تا کہ وہاں کی سرگرمیوں پر اس کا اثر پڑے اور جماعت کمزور ہو جائے ۔بالفاظِ دیگر جو ہمارا حملہ وہاں عیسائیت اور شرک کے خلاف ہے اسے کمزور کرنے کے لیے لوگ یہاں سکیم سوچ رہے ہیں۔ویسے وہ تلوار اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کسی مخالف کو نہیں دی جو جماعت کی گردن کو کاٹ سکے۔‘‘
    لیکن ابھی جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ایک اور فسادات شروع کرنے سے قبل مخالفین کو ایک اور ناکامی کا منہ دیکھنا تھا۔
    ۱۹۷۰ء کے الیکشن اور مولویوں کی ناکامی
    پہلے کی طرح اب بھی پاکستان کی نام نہاد مذہبی جماعتیں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک شورش برپا کرنے کے لیے پر تول رہی تھیں۔ اور یہ ۱۹۷۰ء کا سال تھا ۔صدر ایوب خان کے دس سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ ہو چکا تھا ۔اور ملک میں مارشل لاء لگا ہوا تھااور پورے ملک میں انتخابات کی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں ۔ہمیشہ کی طرح مذہبی جماعتیں کہلانے والی سیاسی پارٹیوں کو یہ توقع تھی کہ ان کو اس الیکشن میں بہت بڑی کامیابی ملے گی ،جس کے بعد ان کے اقتدار کا سورج طلوع ہو گا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ اس کے بعد جماعت ِ احمدیہ کی ترقی کو روک دینا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔
    پاکستان کے مستقبل کے متعلق ابھرتے ہوئے خدشات اور جماعت ِ احمدیہ کا فیصلہ
    اُس وقت مشرقی پاکستان میں سیاسی صورتِ حال بڑی حد تک واضح تھی ۔وہاں پر عوامی لیگ سیاسی منظر پر مکمل طور پر حاوی نظر آ رہی تھی ۔اوریہ نظر آ رہا تھا کہ صوبائی خود مختاری کے نام پر مشرقی پاکستان میں یہ جماعت اکثر سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔دوسری طرف مغربی پاکستان میں صورتِ حال یہ تھی کہ تقریباََ دس جماعتیں میدان میں اتری ہوئی تھیں اور کوئی جماعت اتنی مضبوط نظر نہیں آ رہی تھی کہ یہاں کے سیاسی منظر پر واضح برتری حاصل کر سکے ۔اس صورتِ حال میں دو بڑے خدشات نظر آ رہے تھے۔ایک تو یہ کہ اس سیاسی خلا میں نام نہاد مذہبی جماعتیں کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لیں اور اپنے زعم میں انہیں بڑی کامیابی کی کافی امید بھی تھی۔ علاوہ اس حقیقت کے کہ یہ مذہبی پارٹیاں جماعت ِ احمدیہ کی شدید مخالف تھیں ۔ان کے نظریات ایسے تھے کہ وہ پاکستان کی سالمیت اور اہلِ پاکستان کی آزادی کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ تھے۔دوسری طرف یہ خطرہ بھی تھا کہ مغربی پاکستان میں دس کی دس جماعتیں کچھ سیٹیں حاصل کر جائیں اور کوئی بھی اس قابل نہ ہو کہ مستحکم حکومت بنا سکے اور اس طرح ایک سیاسی ابتری اور عدم استحکام کی صورت پیدا ہو جائے ۔اور یہ صورت کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔
    یہ امر پاکستان کے احمدیوں کے لیے دوہری پریشانی کا باعث تھا ۔ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کی مبارک تعلیم کے مطابق احمدی جس ملک کا باشندہ ہو اس کا سب سے زیادہ وفادار اور خیر خواہ ہوتا ہے اور جب پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ دکھ پاکستانی احمدیوں کو ہی ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ پاکستان میں جماعت ِ احمدیہ کا مرکز تھا اور اسی مرکز سے پوری دنیا میں اسلام کی عالمگیر تبلیغ کی مہم چلائی جا رہی تھی۔اگر اس ملک میں افراتفری اور طوائف الملوکی کے حالات پیدا ہو جاتے تو اس سانحہ کے جماعت کی مساعی پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔ایک محب ِ وطن شہری کی حیثیت سے احمدیوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آئندہ الیکشن میں کس جماعت کو ووٹ دینے ہیں۔
    اس مرحلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور سابق وزیر ِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے جماعت سے رابطہ کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی اجازت سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ان سے ملاقات کے لیے گئے۔بھٹوصاحب نے اپنی انتخابی مہم کے متعلق بات شروع کی ،انہیں یہ امید تھی کہ ان کی انتخابی مہم کے لیے جماعت کوئی مالی مدد کرے گی لیکن اس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ یہ ممکن نہیں ہو گا کیونکہ جماعتِ احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے اور وہ اس طرح ایک سیاسی پارٹی کی مدد نہیں کر سکتی۔دورانِ گفتگو بھٹو صاحب کو ایک پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا پڑا ۔اور پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے انتخابی مہم کا خاکہ اور اُن امیدواروں کی فہرست دکھائی جن کو پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا۔جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے یہ فہرست ملاحظہ فرمائی تو ان میں سے اکثریت کمیونسٹ حضرات کی تھی۔جب بھٹو صاحب واپس آئے تو آپ نے انہیں کہا کہ اگر یہ کمیونسٹ حضرات بھٹو صاحب کی مقبولیت کی آڑ میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان پر کمیونسٹوںکا قبضہ ہو جائے گا ۔اگر تو وہ کمیونسٹوں کا قبضہ چاہتے ہیں تو اس لسٹ کو برقرار رکھیں ورنہ اسے تبدیل کر دیں۔بھٹو صاحب نے پارٹی کے سینیئر لیڈروں کی میٹنگ طلب کی اور پھر یہ اعلان کیا کہ یہ لسٹ حتمی نہیں ہے۔بالآخر جو نئی لسٹ بنائی گئی اس میں کمیونسٹ حضرات کی تعداد کافی کم تھی۔(۱)
    اس دوران ملک کی انتخابی مہم میں تیزی آتی جا رہی تھی۔اور بہت سے پہلوئوں سے حالات مخدوش نظر آ رہے تھے۔جماعت ِ احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے اور سیاسی عزائم نہیں رکھتی لیکن پاکستان کے احمدی محبِّ وطن شہری ہیں اور انہیں دیانتداری سے آئندہ انتخابات میں اپنی رائے کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا تھا۔یہ فیصلہ کس طرح اور کن بنیادوں پر کیا گیا ۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے مئی ۱۹۷۳ء میںمنعقد ہونے والی ہنگامی مجلسِ شوریٰ میں جس کا تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا ان الفاظ میں روشنی ڈالی۔
    ’’… لیکن مغربی پاکستان میں صورت اس کے بالکل بر عکس تھی۔اگر خدا نخواستہ یہاں دس پارٹیوں کے ایک جیسے ارکانِ اسمبلی منتخب ہو جاتے تو گویا مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کے ایک سو چالیس ارکان میں سے چودہ چودہ ارکان ہر ایک کے حصہ میں آتے یا اگر تھوڑا بہت فرق بھی ہوتا تو کوئی پارٹی پندرہ اور کوئی بیس کی تعداد میں کامیاب ہوتی۔کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوتی تو ان حالات میں مغربی پاکستان بھی باقی نہ ہوتا۔یہ حصہ ملک بھی ختم ہو چکا ہوتا کیونکہ اکثریتی پارٹی کے علاوہ جو پارٹیاں کامیاب ہوئیں (ایک تو بالکل ناکام ہوئی )ان کے منصوبے اور ان کی سوچ جس نہج پر ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو مضبوط ہونے کی بجائے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں یعنی غدار ہیں اور یہ میں اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ میں پوری تحقیق کروں لیکن میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جو پالیسی ہے اور ان کے جو پلیٹ فارم ہیں وہ پاکستان کو مضبوط و مستحکم کرنے والے نہیں پاکستان کو کمزور اور بے بس کرنے والے ہیں …
    چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اگر مغربی پاکستان میں کوئی ایک پارٹی مضبوط بن کر ابھرے گی اور اسمبلیوں میںاکثریت حاصل کرے گی تو مغربی پاکستان کی حکومت مستحکم ہو گی ورنہ اگر ایک پارٹی نے اکثریت حاصل نہ کی تو حکومت مستحکم نہیں ہو گی ۔‘‘ (۲)
    اس کے بعد حضور ؒ نے اس وقت مغربی پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کا تجزیہ بیان فرمایا۔اور فرمایا کہ اس وقت مسلم لیگ تین جماعتوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ایک مسلم لیگ قیوم گروپ تھا۔اس کے سربراہ خان عبد القیوم خان بڑے مخلص اور محبِّ وطن راہنما تھے لیکن یہ پارٹی کمزور ہو چکی تھی اور اس کی قیادت میں بھی اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔اور کسی سمجھ دار آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اس پارٹی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کا باعث بنے۔اور ایک مسلم لیگ کونسل تھی جس کے سربراہ دولتانہ صاحب تھے۔انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ کوئی قادیانی ہماری مسلم لیگ کا ممبر بھی نہیں بن سکتا۔حالانکہ اس وقت بھی کچھ احمدی ان کی پارٹی کے ممبر تھے اور انہوں نے اس پر احتجاج کیا تو دولتانہ صاحب نے تقریر کے اس حصے کا انکار کر دیا لیکن اس کا ریکارڈ موجود تھا جو ان کو سنا دیا گیا ،جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔اس پر جو احمدی کونسل مسلم لیگ کے ممبر تھے انہوں نے دولتانہ صاحب کو ایک تحریری نوٹس دیا کہ وہ سات دن کے اندر اس بیان کی تردید کریں ورنہ وہ ان کی پارٹی کو چھوڑ دیں گے۔اس نوٹس پر بہت سے غیر از جماعت دوستوں نے بھی دستخط کر دئیے اور دولتانہ صاحب کی پارٹی کے ایک لیڈر نے بھی جماعت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ دولتانہ صاحب سے اس بیان کے بر عکس اعلان کروادیں گے۔لیکن دولتانہ صاحب نے اپنے ساتھیوں کے مشوروں کا جواب یہ دیا کہ اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور ان ساتھیوں سے خوشامدیں کراکے دوبارہ کرسیِ صدارت پر بیٹھ گئے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلسِ مشاورت میں ممتاز دولتانہ صاحب کے متعلق فرمایا:۔
    ’’وہ میرے بھی دوست رہے ہیں اس لئے جتنا میں ان کو جانتا ہوں اتنا شاید ہی کوئی اورجانتا ہو۔ہم بچپن کی عمر سے دوست رہے ہیںانہوں نے دوستی کا تعلق توڑ دیا لیکن ہم نے تو نہیں توڑا ۔ان کے لئے دوستانہ خیر خواہی کا جذبہ آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح پہلے تھا۔اگر وہ ناراض ہیں اور ہماری خیر خواہی نہیں چاہتے تو نہ سہی کسی سے زبر دستی تو خیر خواہی نہیں کی جا سکتی اور نہ اس کے مطلب کے کام کئے جا سکتے ہیں۔‘‘ (۳)
    دولتانہ صاحب کا مذکورہ بالا بیان اس لیے بھی زیادہ خدشات کو جنم دے رہا تھا کہ وہ ۱۹۵۳ء میں پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ تھے اور انہوں نے جماعت کے خلاف فسادات کی آگ کو عملًا وا دی تھی اور اس کوتاہ بینی کی وجہ سے آخر کار انہیں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا تھا۔
    حضور ؒ نے فرمایا کہ کنونشن مسلم لیگ جو کہ سابق صدر ایوب خان صاحب کی پارٹی تھی ،اس نے بھی گومگو کی کیفیت اختیار کی اس لیے جماعت نے ان کو بھی چھوڑ دیا۔پھر حضور ؒ نے مذہبی سیاسی جماعتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’باقی کچھ علماء کی سیاسی جماعتیں تھیں مثلاََ ایک جماعتِ اسلامی تھی۔اکثر احمدی دوستوں کو شاید یہ علم نہیں کہ یہ جماعت احمدیوں کے خلاف انتہائی شدید بغض رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ان کو موقع ملے تو ہماری بوٹیاں نوچنے سے بھی گریز نہ کریں مگر اس کے باوجود انہوں نے الیکشن کے دنوں میں اپنی جماعت کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ احمدیوں کے ساتھ پیار سے باتیں کریں، ان کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اگر یہ ہمارے پیچھے پڑ گئے تو ہمیں بہت تنگ کریں گے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کو احمدیوں سے شدید بغض اور عناد ہے اس لئے خود تو ہمارے خلاف پوشیدہ طور پر سازشوں میں مصروف رہے لیکن دوسری جماعتوں کو جو تھیں تو مذہبی لیکن بظاہر سیاسی لیبل لگا کر میدان میں اتریں تھیں یعنی جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام ،ان کو اکسا کرلوگوں نے ہماری مخالفت میں لگا دیا وہ ہمارے خلاف اعلانیہ بڑے بلند بانگ دعویٰ کرتے نہ تھکتے تھے اور کہتے تھے ہم احمدیوں کو مٹا دیں گے۔پھر جب جماعت ِ اسلامی نے دیکھا کہ ان کی ریاکارانہ پالیسی نے جماعت ِ احمدیہ پر کچھ بھی اثر نہیں کیا تو وہ بھی کھلم کھلا ہماری مخالفت پر اتر آئے۔اب آپ میں سے ہر دوست سمجھ سکتا ہے کہ جماعت ِ احمدیہ نے ان مخالف اور معاند پارٹیوں کو تو ووٹ نہیں دینے تھے۔‘‘ (۳)
    حضور ؒ نے کچھ اور سیاسی پارٹیوں کا تجزیہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ان حالات میں صرف ایک پارٹی رہ جاتی تھی جسے ووٹ دیئے جا سکتے تھے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔حضور نے الیکشن کے وقت اس پارٹی کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ۷۰ء میں اس پارٹی کی حالت یہ تھی کہ بحیثیت پارٹی کامیاب ہونے کے لیے نہ اسے پورا علم حاصل تھا اور نہ کوئی تجربہ ۔اور نئی پارٹی ہونے کی وجہ سے ابھی یہ عوام میں مقبولیت بھی حاصل نہیں کر پائی تھی۔اس کی اپنی کوئی روایات بھی نہیں تھیں حالانکہ ہر سیاسی پارٹی کی کچھ روایات ہوتی ہیں جو اس کی کامیابی میں ممد و معاون بنتی ہیں۔حضور ؒ نے فرمایا کہ چونکہ ہمیں خدا تعالیٰ کا یہ منشا معلوم ہوتا تھا کہ کسی ایک پارٹی کو مستحکم بنایا جائے چنانچہ ہم نے اپنی عقلِ خدا داد سے پاکستان کی سیاست کا جائزہ لیا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ہی ایک ایسی پارٹی ہے جسے کثرت کے ساتھ ووٹ دینا ملکی مفاد کے عین مطابق ہے۔حضورؒ نے ۱۹۷۰ء کے الیکشن سے قبل کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پارٹی کے اکثر ارکان ہم سے مشورہ لیتے تھے۔انہوں نے ہم سے بہت مشورے لیے گو وہ مشورے لیتے ہوئے ڈرتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے کہ ان کے بغیر کوئی چارہ کار بھی نہیں۔ (۴)
    اس طرح مغربی پاکستان میں احمدیوں نے اکثر جگہوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت شروع کردی۔لیکن یہ حمایت ہر جگہ پر پاکستان پیپلز پارٹی تک محدود نہیں تھی۔بلکہ کئی جگہوں پر احمدیوں نے دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کی بھی حمایت کی۔بعض سیٹوں پر احمدیوں نے مسلم لیگ قیوم گروپ کو ووٹ دیئے۔کچھ سیٹوں پر کنونشن مسلم لیگ کے ایسے امیدوار کھڑے تھے جن کے احمدیوں سے دوستانہ تعلقات تھے۔جماعت نے ان سیٹوں پر ان کو ووٹ دیئے۔صوبائی اسمبلیوں کی چار سیٹوں پر بھی احمدیوں نے وعدہ کیا تھا کہ کنونشن مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے لیکن جب ان کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں شکست ہو گئی تو انہوں نے خود ہی احمدیوں کو لکھ دیا کہ اب حالات ایسے ہوں گئے ہیں کہ ہم آپ کو اس وعدے سے آزاد کرتے ہیں۔بعض سیٹوں پر احمدیوں نے ایسے آزاد امیدواروں کی حمایت بھی کی جو طبعاََ شریف تھے اور احمدیوں سے تعلقات رکھتے تھے۔اورتو اور ایک سیٹ پر کونسل مسلم لیگ کے ایسے امیدوار کھڑے تھے ،جن کا اس پارٹی سے کوئی دیرینہ تعلق نہیں تھا مگر اس پارٹی نے مناسب امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ٹکٹ دے دیا ۔ان صاحب کے احمدیوں سے دیرینہ تعلقات تھے۔احمدیوں نے عرض کی کہ ان کو ووٹ دینے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ ان کو یہ اجازت دی گئی (۵)۔ لیکن مجموعی صورتِ حال یہ تھی کہ باقی جماعتوں کی نسبت پاکستان پیپلز پارٹی پیچھے پڑ کر اکثر سیٹوں پر احمدیوں کی حمایت حاصل کر رہی تھی۔اور دوسری طرف ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں کسی ایک جماعت کی مدد کرنا جماعت ِ احمدیہ کے لیے اپنی ذات میں ایک بہت نازک مسئلہ تھا۔کیونکہ جماعت ِ احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے اور ایسے معاملات اس کے نزدیک اپنے اصل مقاصد کی نسبت بہت کم اہمیت رکھتے تھے۔لیکن ملکی حالات کا تقاضا تھا کہ مغربی پاکستان میں کسی ایک پارٹی کو مضبوط شکل میں ابھرنا چاہیے ورنہ ملک کے لیے اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔اور بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ خدشات سو فیصد صحیح تھے۔ لیکن پیپلز پارٹی والوں کو یہ بات بھی محسوس ہو رہی تھی کہ احمدی ہر جگہ پر ان کی حمایت کیوں نہیں کر رہے۔چنانچہ ان کے چوٹی کے راہنما ؤں میں سے ایک نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ ہماری اتنی مدد کر رہے ہیں تو مکمل مدد کیوں نہیں کرتے۔یعنی تمام حلقہ ہائے انتخاب میں ان کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور ؒ نے ۱۹۷۳ ء کی ہنگامی مجلس ِ شوریٰ میں فرمایا:
    ’’یہ ان کو احساس تھا کہ ہم کلیۃً ان کی مدد نہیں کر رہے کیونکہ الحاق کی صورت نہیں ہے۔دراصل ہم ان سے الحاق کر ہی نہیں سکتے تھے۔ہمیں دنیا کے اقتدار اور مال و دولت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں ہے اس لئے جب میں اپنے آپ کو ایک مذہبی جماعت کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میرے ساتھ محبت اور پیار کا غیر منقطع رشتہ قائم کرو گے تو دین اور دنیا کے سارے انعامات تمہیں دے دوں گا۔
    ہم اس حقیقت زندگی کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کے انعامات کو چھوڑ کر کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ دنیوی الحاق کیسے کر سکتے ہیں ہم ان کے زر خرید غلام تو نہیں، ہم غلام ہیں اور اس کا پورے زور سے اعلان کرتے ہیں لیکن ہم صرف اس عظیم ہستی کے غلام ہیں جو واحد و یگانہ ہے ۔دنیا کے ساتھ ہمارے دنیوی تعلقات ہیں،پیار کے تعلقات ہیں،بطور خادم بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کے تعلقات ہیں،غم خوار اور ہمدرد کی حیثیت میں ان کی ہمدردی کرنے کے تعلقات ہیں ۔اس لحاظ سے گویا ہر فردِ بشر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں ۔‘‘(۶)
    مخالفینِ جماعت کا غیظ و غضب
    جب جماعت احمدیہ نے ملک کے مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آئندہ انتخابات میں ووٹ اور حمایت کے لیے مندرجہ بالا فیصلہ کیا توجماعت ِ اسلامی اور دوسری نام نہاد مذہبی جماعتوں کی پریشانی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔وہ اس امر کو اپنی فرضی کامیابی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ رہے تھے۔انہیں یہ بات کسی طرح نہیں بھا رہی تھی کہ احمدی کسی رنگ میں بھی آئندہ انتخابات میں حصہ لیں۔دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں بسنے والے احمدی ملک کے محبِّ وطن شہری ہیں۔وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اپنے شہری ہونے کے دوسرے حقوق ادا کرتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ عمومی طور پر احمدی سیاست میں اس لیے نہیں حصہ لیتے کہ ان کے سامنے اور اعلیٰ مقاصد ہیں اور وہ اپنی توانائی کو ان ادنیٰ کاموں پر خرچ نہیں کرتے لیکن یہ ان کا فیصلہ ہے۔قانونی اور اخلاقی طور پر احمدی اس بات کا مکمل حق رکھتے ہیں کہ وہ جب چاہیں قانون کے مطابق ملک کی سیاست اور انتخابات میں جس طرح پسند کریں حصہ لیں۔کسی اور گروہ یا جماعت کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ملک کی ٹھیکہ دار سمجھتے ہوئے اس پر اعتراض کرے۔بہر حال اب مولوی خیالات کے اخبارات اور رسائل اس بات پر اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر رہے تھے کہ احمدی اپنے بنیادی شہری حقوق کے مطابق اس انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ یہ حق صرف انہیں حاصل ہے کہ وہ انتخابی مہم میں حصہ لیں اور اس پر ہر طرح سے اثرانداز ہوں بلکہ اس مہم کی آڑ میں جس طرح دل چاہے جماعت ِ احمدیہ پر حملہ کریں اور یہ اعلان کریں کہ وہ اقتدار میں آکر احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیں گے ۔لیکن اگر احمدی اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اس کا جواب دیں یا ملکی مفادات کے تحفظ کی خاطرکسی طرح انتخابی عمل میں حصہ لیں تو اس پر وہ آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔ایک طرف تو جماعت کے مخالفین جماعت ِ احمدیہ کو اپنا نشانہ بنا رہے تھے اور دوسری طرف وہ ایک دوسرے پر بھی کیچڑ اچھال رہے تھے ۔
    مولوی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں
    رسالہ چٹان جماعت کی مخالفت میں پہلے بھی پیش پیش رہ چکا تھا۔اس انتخابی مہم میں یہ رسالہ مودودی صاحب کی جماعت ِ اسلامی کی حمایت کر رہا تھا اور اس کے مدیر یہ اعلان کر رہے تھے،’’ہم جیسے لاکھوں اشخاص مولانا مودودی سے متاثر ہیں اور صرف اس لئے متاثر ہیں کہ وہ قرآن کی دعوت دیتے ، انبیاء سے عشق پرا بھارتے اور معاشرہ کو عہدِ صحابہ کا نمونہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ (۷)اوریہ رسالہ اس بات پر مسلسل اپنے صفحات سیاہ کر رہا تھا کہ احمدی اس مرتبہ انتخابی عمل میں حصہ کیوں لے رہے ہیں(۸)۔وہ یہ واویلا تو کر رہے تھے کہ احمدی پیپلز پارٹی کی مدد کر رہے ہیں لیکن ساتھ کے ساتھ یہ الزام بھی لگا رہے تھے کہ جمعیت العلماء اسلام ،جو کہ جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہی تھی ،کے جلسے بھی احمدیوں کی مدد سے منعقد کیے جا رہے ہیں ۔اور یہ دعویٰ بار بار کیا جا رہا تھا کہ یہ جماعت اور ان کے لیڈر مثلاََ مفتی محمود صاحب قادیانیوں سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے وہ دومقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ایک تو یہ کہ ان الزامات سے خوفزدہ ہو کر جمعیت العلماء اسلام اور ان کے قائدین پہلے سے زیادہ بڑھ کر جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں جوش و خروش کا مظاہرہ کریں گے اور اس طرح جماعت ِ احمدیہ کو نقصان پہنچے گا ۔اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ چونکہ یہ جماعت انتخابات میں جماعت ِ اسلامی کے مدِّ مقابل کی حیثیت رکھتی تھی اس طرح ان الزامات سے اس حریف کو نقصان پہنچے گا۔ان الزامات کی زبان ملاحظہ ہو ۔مفتی محمود صاحب کی پارٹی جمعیت العلماء اسلام نے آئین شریعت کانفرنس منعقد کی تو اس پر چٹان نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا ’’قادیانی جماعت نے آئین شریعت کانفرنس کے انعقاد پر دس ہزار روپیہ دیا تھا۔ غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود کس استاد کے آلہ کار ہیں۔‘‘اس مضمون میںمضمون نگار نے انکشاف کیا
    ’’جمعیت العلماء کے دونوں بزر گ ان دنوں ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں ۔انھیں قادیانی گوارا ہیں ،کمیونسٹ عزیز ہیں لیکن مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور آغا شورش کاشمیری کے خلاف جو زہر ان کے دل میں بیٹھ چکا ہے وہ نکلنا مشکل ہے ۔
    غلام غوث اور مفتی محمود پلکوں سے جاروب کشی کرتے ہوئے مبشر حسن کے گھر جاتے ہیں۔ان کے جلسوں اور جلوسوں کی رونق سرخے ہوتے ،وہی انھیں اچھال رہے ہیں اور ان کی بدولت وہ اچھال چھکا ہو گئے ہیں۔آئینِ شریعت کانفرنس میں جو سبیلیں لگی تھیں، وہ سرخوں کی تھیں یا پھر ایک سبیل کے لیے قادیانی جماعت نے چندہ دیا تھا۔راستہ بھر جھنڈے بھی سرخوںیا پہیوں کے لہرا رہے تھے۔جمعیت کا ایک بھی جھنڈا کسی کونے یا نکڑ میں نہیں تھا۔‘‘ (۸)
    رسالہ چٹان تو یہاں تک لکھ رہا تھا کہ جمعیت العلماء اسلام مرزائیوں کا بغل بچہ ہے (۹)۔
    اس الزام پر جمعیت العلماء اسلام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جھوٹی خبریں شائع کرنے اور ائمہ کرام پر بہتان تراشی کرنے کے الزام میں چٹان رسالہ پر مقدمہ چلایا جائے۔اس کے جواب میں چٹان نے یہ بیان داغا :۔
    ’’جمعیت میں داخل ہونے کے بعد ہر ایرا غیرا مولانا ہو جاتا ہے ۔شاید اس قسم کے مولانا لعنۃ اللہ علی الکاذبین سے مستثنیٰ ہیں؟۔۔۔
    رہا ائمہ کرام کا سوال تو ان کے حدود اربعہ سے مطلع کیجئے ۔ہم شکر گزار ہوں گے، ہم نے تو جمعیت میں ائمہ کرام کی شکل نہیں دیکھی ۔یہ جنس اس کباڑ خانے میں کہاں ہے؟‘‘(۱۰)
    جواب میں جمعیت العلماء اسلام والے کس طرح پیچھے رہ جاتے۔انہوں نے اپنے جریدہ ترجمانِ اسلام میں الزام لگایا کہ مرزائیوں نے چٹان کے اس مضمون پر ،جس میں مفتی محمود صاحب اور ان کی پارٹی پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے قادیانیوں سے مالی مدد لی ہے،بہت مسرت کا اظہار کیا اور اس خوشی میں چٹان کے مدیر شورش کاشمیری صاحب کو نذرانہ پیش کرنے کے لیے ان کے رسالے کو اشتہارات سے نوازا ۔اس الزام پر تلملا کر شورش کاشمیری صاحب نے تحریر فرمایا کہ
    ’’۔۔۔ہم ان کوڑھ مغزوں سے نہیں الجھنا چاہتے ۔مفتی محمود اور غلام غوث اب اس قابل نہیں رہے کہ انھیں منہ لگایا جائے۔ہم ان سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی قرنِ اوّل میں حلقہ بگوشانِ رسول شرک سے کرتے تھے…
    مولانا کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان کی جماعت کے جو لوگ میرے خلاف اپنی خاندانی زبان استعمال کر رہے ہیں مثلاََ مشتے نمونہ از خروارے ،جانباز مرزا اور ضیاء القاسمی اپنے اعمال کی رو سے اس قابل ہیں کہ اسلامی حکومت ہو تو انہیں فوراََ سنگسار کر دیا جائے۔‘‘ (۱۱)
    جماعت ِاسلامی کا جریدہ ایشیا بھی اس مہم میں پوری سرگرمی سے حصہ لے رہا تھا۔اس نے ۹؍اگست ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں جہاں یہ الزام لگایا کہ جماعت ِ احمدیہ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ہو چکا ہے وہاں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب منکرین ِ ختم ِ نبوت اور نام نہاد محافظین ِ ختمِ نبوت بھی ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں اور اب جماعت ِ احمدیہ اور جمعیت العلمائِ اسلام بھی ایک صف میں کھڑے ہیں۔اسی مضمون میں یہ تجزیہ بھی شائع کیا گیا کہ بائیں بازوکی جماعتیں پانچ فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کر سکیں گی (۱۲) ۔ اس جریدے میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا تھا کہ اب تو خود پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو بھی نا امید ہو چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھا سکے گی اور انتخابات میں دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے کوئی خطرہ بن سکے گی۔اور اب پیپلز پارٹی کے کارکن انتخابی عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔ (۱۳)
    جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والی اور مذہبی جماعتوں کے نام سے موسوم ہونے والی پارٹیوں کی باتوں میں سے اگر نصف بھی صحیح تسلیم کر لی جائیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان سب کو قادیانیوں نے خریدا ہوا تھا اور ان میں سے بہت سے مکہ کے مشرکین کی طرح قابلِ نفرت ہیں بلکہ بعض تو اس قابل ہیں کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ایک دوسرے کے متعلق تو ان کی یہ آراء تھیں،لیکن اس کے باوجود اس بات پر لال پیلے ہو رہے تھے کہ احمدی انتخابی عمل میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ایک دوسرے کو ان الزامات سے نوازنے کے بعد چند برسوں کے بعد ان پارٹیوں نے ایک اتحاد بھی بنا لیا اور اس میں یہ سب پارٹیاں مفتی محمود صاحب کی صدارت میں ایک انتخابی اتحاد کا حصہ بھی بن گئیں۔ اور کچھ عرصہ قبل یہ الزام تراشی ہو رہی تھی کہ مفتی محمود صاحب قادیانیوں سے مالی مدد لے رہے ہیں۔اس مثال سے یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس گروہ کو اگر کسی چیز سے دلچسپی ہے تو وہ حصولِ اقتدار ہے اور اصول نام کی چیز سے یہ لوگ واقف نہیں ۔
    بھٹو صاحب کا انتخابات سے قبل موقف
    اس قسم کے سوالات پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے بھی کئے جا رہے تھے کہ کیا پیپلز پارٹی کا جماعت ِ احمدیہ سے کوئی معاہدہ ہے یا کیا وہ اقتدار میں آ کر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں گے۔اور بھٹو صاحب محتاط انداز میں ان سوالات کا جواب دے رہے تھے۔جولائی ۱۹۷۰ ء میں انتخابی مہم کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا پیپلز پارٹی عوام کے اس مطالبہ کی حمایت کرے گی کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا
    ’’یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے جس پر ملک میں پہلے بھی خون خرابہ ہو چکا ہے اور مارشل لاء لگ چکا ہے اور موجودہ حالات میں اگر اس مسئلہ کو ہوا دی گئی تو مزید خون خرابہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ہماری پالیسی یہ ہے کہ ملک میں سوشلسٹ نظام رائج کریں۔جس میں ہندو عیسائی وغیرہ تمام طبقوں کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ قطعاََ غلط ہے کہ قادیانی فرقہ کی ہم حمایت کر رہے ہیں۔ ہماری جماعت ترقی پسند ہے جس میں اس قسم کے مسئلوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘‘ (۱۴)
    پھر اس کے ایک ہفتہ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور احمدی فرقہ کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ نہیں ہوا ، تا ہم انتخاب میں کسی طبقہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ (۱۵)
    جماعت کی مخالفت میں تیزی آ تی ہے
    تمام تر کوششوں کے با وجود وہ جماعتیں جو مذہبی جماعتیں کہلاتی تھیںآپس میں اتحاد نہیں کر پارہی تھیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف بر سرِ پیکار تھیں۔اس پر مستزاد یہ کہ انہیں یہ بات بری طرح چبھ رہی تھی کہ اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے کئی احمدی انتخابی عمل میں حصہ کیوں لے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر احمدی اپنے شہری حقوق کے مطابق اس عمل میں حصہ لیں تو یہ ایک بہت بڑا جرم تھا۔وہ اپنے علاوہ باقیوں کو ملک کا دوسرے درجہ کا شہری سمجھتے تھے۔اب وہ اس حوالے سے پیپلز پارٹی پر حملے کر رہے تھے تا کہ اس طرح ایک طبقہ کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے اشد مخالف جریدے چٹان نے انتخابات سے دو ہفتہ قبل ۲۳؍ نومبر کے شمارے کے سرورق پر ایک تصویر شائع کی جس میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بھٹو صاحب کو ایک پرندے کی صورت میں دکھایا گیا تھا ۔اس کے ایک پر کے اوپر لکھا تھا مرزائیت اور دوسرے پر کے اوپر لکھا تھا کمیونزم ۔ا س شمارے کے آغاز میں ہی یہ واویلا کیا گیا تھا کہ جس دن سے گول میز کانفرنس ختم ہوئی ہے ہم اس دن سے چلّا رہے ہیں
    ’’بھٹو نے اس بر عظیم کی سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ مرزائیوں کو سیاسی پناہ دے کر اپنا دست و بازو بنایا اور انتخابی میدان میں مسلمانوں کے علی الرغم لا کھڑا کیا ۔
    بھٹو مسلمانوں کی اسلام سے شیفتگی کو نئی پود کے سینے سے نکال رہا اور جن شخصیتوں پر مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کا انحصار رہا ہے،ان کی عقیدت نئی نسل سے ختم کرنا چاہتا ہے۔‘‘ (۱۶)
    بعض اخبارات میں یہ خبریں شائع کی جا رہی تھیں کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے اہم کارکنان اسے چھوڑ رہے ہیں اور ان میں سے بعض کے یہ بیان بھی شائع کئے جاتے تھے کہ ہم پیپلز پارٹی کواس لئے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اس نے جماعت ِ احمدیہ سے اتحاد کر لیا ہے (۱۷) ۔یہ شور و غل ان کی اپنی ذہنی بوکھلاہٹ کی عکاسی کر رہا تھا ورنہ جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ جماعت ِ احمدیہ کا کسی سے سیاسی اتحاد ہو ہی نہیں سکتا ۔البتہ بعض مخصوص حالات میں اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت کے لیے پاکستانی احمدیوں نے اپنا قانونی حق استعمال کیا تھا اور اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔
    مخالفین کی خوش فہمیاں
    جماعت کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو آخر تک بہت سی امیدیں تھیں کہ انتخابات میں انہی کا پلّہ بھاری رہے گا۔ کونسل مسلم لیگ کے نائب صدر نے ایک جلسہ میں یہ دعویٰ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کاکوئی امیدوار زرِ ضمانت بچانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ عملی سیاست سے مستعفی ہو جائیں گے (۱۸) اور اس کے لیڈر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آ کر جداگانہ انتخابات کا نظام لائیں گے،یعنی مذہبی اقلیتوں کو انتخابات میں عام نشستوں سے بھی کھڑا ہونے کی اجازت نہیں ہو گی ،ان کی نشستیں علیحدہ ہوں گی تاکہ وہ ملکی سیاست کے دھارے سے علیحدہ ہی رہیں (۱۹)۔ الیکشن میں ایک ماہ سے بھی کم رہ گیا تھا اور جماعت احمدیہ کی اشد مخالف جماعت ،جمعیت العلماء پاکستان کو یہ امیدیں لگی ہوئی تھیں کہ وہ اپنی روحانیت کے بَل بوتے پر پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں گے۔چنانچہ ان کے صدر خواجہ قمر الدین سیالوی نے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم روحانیت کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے ۔اور یہ روحانیت ہمیں ورثہ میں ملی ہے ۔اور مزید کہا کہ ہماری جماعت ایسا اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے جو خلافتِ راشدہ کا نمونہ ہو (۱۹)۔ (شاید اپنی روحانیت پر انحصار کا یہ نتیجہ تھا کہ اس جماعت کو انتخابات میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا)۔جماعت ِ اسلامی بھی ایک بہت بڑی کامیابی کے خواب دیکھ رہی تھی۔چنانچہ اس کے لیڈر جلسوں میں دعوے کر رہے تھے کہ پیپلز پارٹی ملک کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اب نا قابلِ ذکر ہوچکی ہے۔اور ان کی کسی بھی سیٹ پر کامیابی مشکوک ہے۔اور آئندہ انتخابات میں جماعت ِ اسلامی یقیناََ بر سرِ اقتدار آ جائے گی (۲۰)۔ جماعت ِ اسلامی کو مشرقی پاکستان میں بھی خاطر خواہ کامیابی کی امیدیں تھیں۔بعد میں جب حمودالرحمن کمیشن کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ عوامی لیگ کے قائد مجیب الرحمن صاحب نے اس وقت جماعت ِ اسلامی اور دولتانہ صاحب کی کونسل لیگ کو انتخابی مفاہمت کی پیشکش کی تھی جس کی رو سے کچھ سیٹوں پر ان جماعتوں کے امیدواروں کے مقابل پر عوامی لیگ اپنے امیدوار نہ کھڑے کرنے کے لیے تیار تھی لیکن ان جماعتوں نے یہ پیشکش اس بنیاد پر مسترد کر دی کہ عوامی لیگ انہیں جتنی نشستیں دینے کے لیے تیار تھی جماعت ِ اسلامی اور دولتانہ صاحب کی کونسل لیگ کو اس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی امید تھی۔ لیکن آ خر نتیجہ یہ نکلا کہ یہ جماعتیں مشرقی پاکستان سے ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکیں (۲۱)۔ اخبار نوائے وقت نے انتخابات سے چند روز قبل ایک جائزہ شائع کیا جس کے مطابق ۳۷ فیصد ووٹر پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔۲۸ فیصد ووٹر جماعت ِ اسلامی کے حق میں اور ۲۶ فیصد دولتانہ صاحب کی کونسل مسلم لیگ کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ایسی صورت میں جبکہ کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہو رہی ہو ایسی جماعتیں بھی بہت اہمیت حاصل کر جاتی ہیں جنہوں نے تقریباََ ایک چوتھائی ووٹ حاصل کیے ہوں (۲۲)۔
    بہر حال ان قیاس آ رائیوں کے درمیان عام انتخابات کا دن آ گیا ۔۷؍ دسمبر کی رات کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی ۔کچھ نتائج بھی سامنے آنے شروع ہوئے ۔ووٹنگ شروع ہوتے ہی تین باتیںبہت واضح نظر آ رہی تھیں۔پہلی تو یہ کہ عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی تقریباََ تمام نشستیں حاصل کر رہی تھی۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثر نشستوں پر برتری حاصل ہورہی تھی۔اور نام نہاد مذہبی جماعتوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ان کے متعلق تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جماعت ِ اسلامی کے قائد مودودی صاحب کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پارٹی کو اتنی مکمل شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ابھی نصف نشستوں کے نتائج سامنے آ ئے تھے کہ مودودی صاحب نے اپنی پارٹی کے کارکنان سے اپیل کی کہ پولنگ کے موقع پر جہاں جہاں بھی بے ایمانیاں یا بے قاعدگیاں ہوئی ہیں وہاں سے شہادتیں حاصل کر کے جلد از جلد جماعت ِ اسلامی کے مرکزی دفتر بھجوائی جائیں تاکہ حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے (۲۳)۔ لیکن جلد ہی ان پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ ان کی پارٹی کی شکست کی وجہ کوئی بے قاعدگی یا بے ایمانی نہیں بلکہ لوگوں کی حمایت سے محروم ہونا ہے۔اس لیے جلد ہی تحقیقات کا مطالبہ ترک کر دیا گیا۔پورے ملک میں تین سو نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے ۔ان میں سے ۱۶۰ پر عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی ۔ان تمام امیدواروں کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا ۔مشرقی پاکستان کی نشستوں میں سے صرف دو ایسی تھیں جن پر عوامی لیگ کے امیدوار کامیاب نہیں ہوئے۔مغربی پاکستان کی ۱۳۸ نشستوں میں سے ۸۱ پر پاکستان پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کی۔پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔جماعت اسلامی کو صرف چار نشستوں پراور جمعیت العلماء ِ اسلام ،جمعیت العلماء پاکستان اور کونسل مسلم لیگ کو سات سات نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔
    ان سیاسی پارٹیوں کے لیے جو مذہبی جماعتیں کہلاتی ہیں اور جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں یہ نتائج بہت ہی مایوس کن تھے۔ایک تو یہ کہ ان کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے تمام دعووں کے بر عکس یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ یہ پارٹیاں پاکستان کے عوام کی حمایت سے محروم ہیں۔مغربی پاکستان میں بھی جماعت ِ اسلامی کو صرف ۴ فیصد ووٹ مل سکے ۔اور سیاسی غلبہ اور اقتدار حاصل کرنے کا ایک اور موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔اور یہ بات ان کے غیظ و غضب میں اضافہ کر رہی تھی کہ احمدی اکثر نشستوں پر جس پارٹی کی حمایت کر رہے تھے اس نے مغربی پاکستان میں اکثر نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔جماعت احمدیہ کے لیے تو اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ ایک سیاسی جماعت نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن جماعت کی مخالف مذہبی جماعتوں کا نظریہ تھا کہ مذہبی مقاصدسیاسی تسلط کے بغیر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔انتخابات میں خفت اُ ٹھانے کے بعد چٹان میں شورش کاشمیری کا یہ اداریہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت جماعت ِ اسلامی کا حامی طبقہ کن خیالات میں غلطاں تھا۔اس اداریہ کا عنوان تھا ’’ اپنی غلطیوں سے عبرت پکڑو‘‘۔ اس میں شورش کاشمیری صاحب نے لکھا:۔
    ’’اگر واقعہ محض یہ ہوتا کہ انتخاب میں رجعت پسندوں کو شکست ہو گئی ہے اور ان کی جگہ ترقی پسندآ گئے ہیں یا کلاہِ کامیابی کاسہ لیسوں کے سر سے اتار کر انقلابیوں کے سر پر رکھ دی گئی ہے ،تو ہم کھلے دل سے خیر مقدم کرتے لیکن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جو لوگ پنجاب اور سندھ سے منتخب ہوئے ہیں۔ان کی واضح اکثریت (۹۰ فیصد)ان افراد پر مشتمل ہے جو خلقتاََ انقلاب پسند نہیں اور نہ ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی بڑی بڑی جاگیروں اور اپنے شاندار ماضی کے باعث غربا ء کے ہمدرد ہو سکتے اور اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ۔۔۔۔
    دو گروہوں نے پیپلز پارٹی کے الیکشن کو منظم کیا ۔اوّلًا وہ عناصر جنہیں حادثاتی سوشلسٹ کہہ لیجئے اس عنصر نے اپنے صبح و شام اس غرض سے وقف کر دیے،ان میں آرگنائزر وہ لوگ تھے وہ اپنی جیت صرف اس میں سمجھتے تھے کہ سوشلزم کا لفظ رواج پا رہا ہے اور پرانی قدریں ٹوٹ رہی ہیں۔یہ لوگ بالطبع مذہب سے متنفر ہیں۔ان کے علاوہ جن دو فرقوں نے پیپلز پارٹی کی پشت پناہی کی ان میں ایک فرقہ تو مسلمانوں کا فرقہ ہی نہیں اور وہ مسلمانوں سے انتقام لے رہا ہے وہ ہے قادیانی!جس تندہی سے قادیانی امت کی عورتوں مردوں اور بچوں نے پیپلز پارٹی کے لیے کام کیا ،اس کی مثال نہیں ملتی۔لاہور میں طفیل محمد اور جاوید اقبال کے خلاف قادیانی ہر چیز داؤ پر لگائے بیٹھے تھے۔پسرور کا وہ حلقہ جہاں سے کوثر نیازی چنا گیا ہے تمام تر مرزائیوںکے ہاتھ میں تھا ۔وہ کوثر نیازی کو ووٹ نہیں دے رہے تھے بغض کو ووٹ دے رہے تھے۔وہ ہر شخص سے انتقام لے رہے تھے جو اسلام کے نام پر کھڑا اور ان کا مذہباََ مخالف تھا۔انھیں کسی حال میں بھی کسی جمعیت العلماء ،میاں ممتاز دولتانہ ،نوابزادہ نصراللہ خان اور ابو الاعلیٰ مودودی کا امیدوار گوارا نہ تھا۔۔۔‘‘ (۲۴)
    اس اقتباس سے یہ بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین ان انتخابی نتائج پر پیچ و تاب کھا رہے تھے۔پیپلز پارٹی کی جیت جماعت ِ احمدیہ کے لیے تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی تھی لیکن انتخابات میں شکست نام نہاد مذہبی پارٹیوں کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی تھی۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شورش کاشمیری صاحب کے نزدیک اگر احمدی ان سیاسی لیڈروں کی قانونی مخالفت کریں یا انہیں ووٹ نہ دیں جو جماعت ِ احمدیہ کے خلاف بیان بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے اور یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر احمدیوں کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے بھی محروم کر دیں گے تو یہ بھی ایک بہت بُری بات تھی۔گویا احمدیوں پر یہ فرض تھا کہ اپنے مخالفین کی مدد کرتے تاکہ وہ اقتدار میں آکر ان کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیتے۔
    کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ انتخابات میں فتح اور شکست تو ہوتی رہتی ہے۔دنیا میں ایک سیاسی جماعت سے وابستہ لوگوں کو شکست کے بعد وقتی صدمہ تو ہوتا ہے لیکن اس سے ان کے لیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں بن جاتا۔آخر جماعت ِ اسلامی اور پاکستان کی دیگر نام نہاد مذہبی جماعتوں میں اس شکست کے بعد ماتم کیوں برپا ہوگیا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جہاں تک اقتدار کی خواہش کا تعلق ہے تو وہ اس طبقہ میں سب سے زیادہ ہوتی ہے،اسی لیے اس شکست پر ان کی طرف سے ایسا ردِّ عمل ظاہر ہؤا جس کے متعلق خود مولوی طبقہ بھی یہ اقرار کر رہا تھا کہ یہ ردِّ عمل ان کے چہرے پر ایک بد نما داغ ہے۔چنانچہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں شکست کے بعد ہفت روزہ چٹان میں جماعت ِ اسلامی کے ایک حامی نے جماعت ِ اسلامی کی ہمدردی میں ایک مضمون لکھا جس میں یہ اعتراف کیا:۔
    ’’… جن لوگوں کو انتخابات سے قبل اس الیکشن کو حق و باطل کا معرکہ بتایا گیا تھا۔ اب شکست کے بعد ان کے دلوں کو ٹٹولیے کہ ان پر کیا قیامت گزر گئی اور مرکز کے علاوہ مختلف علاقوں کے امیدواروں اور ان کے حامیوں سے جو حرکات سرزد ہوئیں ۔وہ بجائے خود جماعت ِ اسلامی کے منشور اور دستورِ اسلام کے منافی تھیں۔جن سے نہ صرف یہ مقدس جماعت ہی ہدف ِ تنقید بنی ۔بلکہ ا س سے دین اسلام کا دامن بھی داغدار ہوا۔‘‘
    ( ہفت روزہ چٹان۔۱۵ فروری ۱۹۷۱ء ص۱۴)
    لیکن ان انتخابات سے مذہبی متعصب گروہ نے ایک اور سبق بھی حاصل کیا تھا اور وہ سبق یہ تھا کہ وہ انتخابات کے ذریعہ سے اقتدار حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اب انہیں حصول ِ اقتدار کی خواہش پوری کرنے کے لیے اور سیاسی منظر پر دوبارہ اپنی جگہ بنانے کے لیے دیگر ذرائع کا سہارا لینا ہوگا۔جماعت کی مخالفت میں پیش پیش جریدہ چٹان میں انتخابات کے بعد ایک مضمون شائع ہؤا جس کا عنوان تھا ’’ انتخابات کے حیرت کدے ‘‘ ۔اس میں مضمون نگار نے لکھا
    ’’اب پاکستان میں مسئلہ اسلام کے نفاذ کا نہیں ،اس کے تحفظ کا پیدا ہو گیا ہے۔اسی طرح مسئلہ جمہوریت کے تجربے کا نہیںبلکہ جمہوریت کے خطرناک نتائج سے ملک کو بچانے کا ہے۔عوام دھوکے میں آسکتے ہیں اور آ گئے ہیں۔اور آئندہ بھی آ سکتے ہیں ۔اس لئے مزید جمہوری تجربہ خطرناک ہو گا۔صورت ِ حال کے مطابق جمہور سے راہنمائی حاصل کرنے کی بجائے جمہور کو راہنمائی دی جائے اور صحیح اور با مقصد انقلاب کی تیاری کی جائے۔‘‘ ( ہفت روزہ چٹان ، ۱۱ دسمبر ۱۹۷۰ء ص۹)
    یہ بات ظاہر ہے کہ انتخابات میں مکمل شکست کے بعد نام نہاد مذہبی سیاستدان اب چور دروازے کے ذریعہ سیاسی منظر میں اور پھر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ان کو اس قسم کے مسئلہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،وہ جماعت ِ احمدیہ کے خلاف مہم چلا کر اپنا یہ مقصد پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    انتخابات کے بعد انتقالِ اقتدار سے قبل ۱۹۷۱ء کی جنگ کا دردناک مرحلہ آیا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔
    ‏(۱) A Man of God,by Iain Adamson,George Shepherd Publishers,page 92-95
    (۲)رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت ِ احمدیہ ۱۹۷۳ء ص ۱۱۔۱۲۔
    (۳)رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت ِ احمدیہ ۱۹۷۳ء ص ۱۶۔
    (۴)رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت ِ احمدیہ ۱۹۷۳ء ص ۱۹تا ۲۱۔
    (۵)رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت ِ احمدیہ ۱۹۷۳ء ص ۳۰۔۳۱۔
    (۶)رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت ِ احمدیہ ۱۹۷۳ء ص۲۹۔
    (۷) چٹان ۱۰ ؍اگست۱۹۷۰ء ص ۶۔
    (۸)چٹان ۲۰ ؍جولائی ۱۹۷۰ء ص۴،۶۔
    (۹)چٹان ۱۷ ؍ اگست ۱۹۷۰ ء ص۴۔
    (۱۰)چٹان ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۷۰ء ص۶۔
    (۱۱) چٹان۱۰ ؍ اگست ۱۹۷۰ ء ص ۵۔
    (۱۲) ایشیا ۹ ؍ اگست ۱۹۷۰ ء ۔
    (۱۳) ایشیا ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۷۰ ء ص ۱۔
    (۱۴)نوائے وقت ۲۹؍ جولائی ۱۹۷۰ ء ص۱۔
    (۱۵)مشرق ۱۵ ؍جولائی ۱۹۷۰ ء ۔
    (۱۶) چٹان ۲۳ ؍نومبر ۱۹۷۰ ء ص ۳۔
    (۱۷) ۲ ؍اکتوبر ۱۹۷۰ ء ص آخر۔
    (۱۸) نوائے وقت ۱۸؍ نومبر ۱۹۷۰ ء ص۴۔
    (۱۹) نوائے وقت ۱۷ ؍نومبر ۱۹۷۰ ء ص۴۔
    (۲۰)نوائے وقت ۱۹ ؍نومبر۱۹۷۰ء ص ۷۔
    ‏(۲۱)The Report of Hamoodur Rehman Commission of Inquiry into 1971 ئ۔
    ‏War,published by Vanguard ,page 75
    (۲۲) نوائے وقت ۳ ؍ دسمبر ۱۹۷۰ ء ص۱۔
    (۲۳) نوائے وقت ۸ ؍دسمبر ۱۹۷۰ ء ص ۱۔
    (۲۴) چٹان ۲۱؍ دسمبر ۱۹۷۰ ء ص۳۔
    آئین میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ
    ۱۹۷۱ء کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔صدر یحییٰ خان نے استعفیٰ دے دیا اور بھٹو صاحب نے ملک کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ اب ملک کے آئین کی تشکیل کا مسئلہ درپیش تھا۔مستقل آئین کی تشکیل میں تو کچھ وقت لگنا تھا ،اس دوران ملکی انتظامات چلانے کے لیے قومی اسمبلی نے ایک عبوری آ ئین کی منظوری دی اور مستقل آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک ۲۵ رکنی کمیٹی بنائی گئی،اس کمیٹی کے سربراہ وزیرِ قانون محمود علی قصوری صاحب تھے۔لیکن کچھ عرصہ بعد محمود علی قصوری صاحب نے اختلافات کی وجہ سے وزارت اور اس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور عبد الحفیظ پیر زادہ صاحب نے اس کمیٹی کی صدارت سنبھال لی۔ کمیٹی میں اپوزیشن کے کئی ایسے اراکین شامل تھے جو جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے تھے۔ جماعت ِ اسلامی کے پروفیسر غفور احمد صاحب،جمعیت العلماء اسلام کے قائد مفتی محمود صاحب، جمعیت العلماء پاکستان کے شاہ احمد نورانی صاحب اس کے ممبر تھے۔ان کے علاوہ میاں ممتاز دولتانہ صاحب اور سردار شوکت حیات صاحب بھی اس کے ممبر تھے۔دولتانہ صاحب 1953ء میں جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے تھے۔
    اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ’’تحدیث ِ نعمت ‘‘ میں بیان فرمایا ہے کہ جب وہ وفاقی کابینہ میں وزیرخارجہ تھے، اس وقت سردار شوکت حیات صاحب بھی دولتانہ صاحب کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ ظفراللہ خان کو اس عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
    بعد میں سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر جب کہ یہ کمیٹی آئین کی تشکیل کا کام کر رہی تھی ان دنوں میں بھٹو صاحب اپنے سیاسی مخالفین یعنی جماعت ِ اسلامی کے ساتھ گفت و شنید کر رہے تھے۔ ایک صحافی مصطفیٰ صادق جو روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں،کے مطابق پہلے پنجاب کے گورنر غلام مصطفیٰ کھر صاحب نے ان کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر اشتراکی اور قادیانی خطرہ بنے ہوئے ہیں اور ان سے انہیں خطرہ ہے ۔یہ بات تو خلافِ عقل ہے کہ امن پسند احمدیوں سے کسی کو خطرہ تھا ۔حقیقت یہ تھی کہ اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے اور اپنے سیاسی دشمنوں کو رام کرنے کے لئے احمدیوں کے جائز حقوق غصب کرنے کی تمہید باندھی جا رہی تھی۔ مصطفیٰ صادق صاحب کے ہی مطابق بھٹو صاحب اور مودودی صاحب کی ملاقات ہوئی۔اس میں بھٹو صاحب نے مودودی صاحب سے تعاون کی اپیل کی اور یہ اپیل بھی کی کہ مودودی صاحب قادیانیوں اور کمیونسٹوں کی سرگرمیوں بلکہ بقول ان کے سازشوں کے معاملے میں ان سے تعاون کریں۔پھر اس ملاقات کے بعد بھٹو صاحب اور مودودی صاحب مطمئن نظر آتے تھے اور کھر صاحب بھی بہت مسرور تھے کہ جس سیاسی بحران نے ان کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں اس کا حل اب نکل آئے گا۔تو اس طرح ایک بار پھر سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جماعت ِ احمدیہ پر مظالم کا سلسلہ شروع کیا جا رہا تھا (۱) یہ بیان تو مصطفیٰ صادق صاحب کا ہے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے جو کہ بھٹوصاحب کی کابینہ کے ایک اہم رکن تھے، اس بات کی بابت استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تو مشکل ہے کہ بھٹوصاحب نے مصطفیٰ صادق صاحب سے رابطہ کیا ہو کیونکہ وہ انہیں اس قابلیت کا آدمی نہیں سمجھتے تھے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ مودودی صاحب سے رابطہ کیا گیا ہو اور کھر صاحب کو کہا گیا ہو کہ ان سے رابطہ کریں۔لیکن اس کے ساتھ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت بھٹو صاحب کو احمدیوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔جب ہم نے مذکورہ بالا واقعہ کے بارے میں پروفیسر غفور صاحب سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔اور عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے بھی اس بابت سوال پر یہی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے۔لیکن گیارہ اپریل 2012کو دنیا نیوز چینل پر ایک پروگرام ’’تلاش‘‘ پر غلام مصطفیٰ کھر صاحب کا انٹرویو نشر ہوا ۔اور اس میں انہوں نے کہا کہ اس وقت مصطفیٰ صادق صاحب نے خود اپنی خدمات انہیں پیش کی تھیں اور انہوں نے پیپلز پارٹی اور جماعت ِ اسلامی کے قائد مودودی صاحب کا رابطہ کرایا تھا۔اور مودودی صاحب نے پیپلز پارٹی کے ساتھ آئین کے ضمن میں جو لائحہ عمل طے کیا تھا ، خود ان کی پارٹی کے قائدین اس سے بے خبر تھے لیکن وہ اپنی پارٹی کی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو اطلاعات دے رہے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ متفقہ آئین کے لئے جماعت ِ اسلامی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کیا۔اسی پروگرام میں پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر اور بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے یہ اعتراف کیا کہ بھٹو صاحب چاہتے تھے کہ آئین متفقہ طور پر منظور ہو اور اس غرض کے لئے انہیں مولوی ممبرانِ اسمبلی کی حمایت بھی درکار تھی۔اور یہ حمایت حاصل کرنے کے لئے کم از کم ایک مولوی رکنِ اسمبلی کو بھٹو صاحب نے خود اپنے ہاتھ سے رشوت بھی دی تھی اور یہ کیا تھا کہ ان مولوی صاحب کو اپنے دفتر میں بلایا اور جو رقم بطور رشوت دینی تھی وہ دفتر میں اِدھر اُدھر پھینکی اور ان سے کہا کہ یہ نوٹ اُ ٹھا لو اور ان مولوی صاحب نے گھٹنوں کے بل رینگ رینگ کر فرش سے یہ نوٹ اُ ٹھائے۔ بھٹو صاحب کا مقصد یہ تھا کہ ان مولوی صاحب کو اس طرح ذلیل بھی کیا جائے جو کہ ان مولوی صاحب نے بخوشی منظور کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دستور اصولو ں پر بنائے جاتے ہیں ۔ خواہ اس کے لئے اختلاف ِ رائے کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اگر اس طرح سربراہ ِ حکومت اور سربراہ ِ مملکت نوٹوں کو زمین پر پھینک کر رشوتیں دے رہا ہو اور ممبرانِ اسمبلی گھٹنوں کے بل رینگ رینگ کر یہ نوٹ اُ ٹھا رہے ہوں تو کیا اس سے قوم میں اتحاد پیدا ہو جائے گا۔ کیا ایسا آئین جو کہ اعلیٰ اقدار کی طرف راہنمائی کرے اس طرز پر بنایا جاتا ہے۔ کوئی ذی ہوش اس کا جواب اثبات میں نہیں دے سکتا۔ اس واقعہ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آئین بناتے ہوئے سب سے پہلے اصولوں کی قربانی دی گئی تھی۔جب اصول ہی قربان کر دیئے گئے تو پھر محض متفقہ آئین کے نعرے لگانے سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
    (نوٹ : اس کتاب کے بعض حصوں کے لئے ہم نے اس وقت کی بعض اہم سیاسی شخصیات سے انٹرویو لئے ۔ان میں مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب جو بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے،مکرم عبد الحفیظ صاحب پیرزادہ جو بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر رہے اور ۱۹۷۴ء میںوزیر ِ قانون تھے،مکرم صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب جو کہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کے سپیکر تھے،مکرم پروفیسر غفور احمد صاحب جو کہ قومی اسمبلی کے ممبر اور جماعت ِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل تھے ،سابق جج پنجاب ہائی کورٹ مکرم جسٹس صمدانی صاحب جنہیں ۱۹۷۴ء میں انکوائری ٹریبونل میں مقرر کیا گیا تھا اور مکرم ٹی ایچ ہاشمی صاحب جو کہ پاکستان کے سیکریٹری اوقاف تھے اور ۱۹۷۴ء میں رابطہ عالمِ اسلامی کے اجلاس میں حکومت ِ پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اور مکرم معراج محمد خان صاحب جو کہ ایک زمانے میں بھٹو صاحب کے خاص رفیق اور ان کی کابینہ میں بھی رہے ،شامل ہیں۔ان انٹرویوز کا تحریری اور آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔سوائے مکرم عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب کے انٹرویو کے جنہوں نے اگلے روز ریکارڈ کروانے کا فرمایا اور پھر معذرت کر لی۔ اکثر انٹرویوز لینے والی ٹیم میں خاکسار کے علاوہ مکرم مظفر احمد صاحب ڈوگر اور مرزا عدیل احمد صاحب شامل تھے)
    کمیٹی نے کام شروع کیا اور لمبی بحث وتمحیث کے بعد ۱۲ ؍اپریل ۱۹۷۳ء کو قومی اسمبلی نے نئے آئین کی منظوری دے دی۔بھٹو صاحب کے دور میں وفاقی وزیر اور ان کے قریبی معتمد مکرم رفیع رضا صاحب اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ آئین کی منظوری سے چند روز قبل تک اپوزیشن راہنماؤں نے اس عمل کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ وہ پارلیمانی نظام چاہتے ہیں اور وزیر ِ اعظم کی آمریت نہیں چاہتے۔بھٹو صاحب نے غلام مصطفیٰ کھر صاحب کے ذریعہ اپوزیشن کی جماعتوں خاص طور پر جماعت ِاسلامی سے رابطہ کیا اور ان سب نے آئین کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
    (Zulfikar Ali Bhutto and Pakistan 1967-1977, published by Oxford University Press Karachi 1997 page178)
    جیسا کہ دستور ہے اس آ ئین میں بھی مختلف عہدوں کے لئے حلف نامے شامل تھے جنہیں اُ ٹھا کر کوئی شخص ان عہدوں پر کام شروع کر سکتا ہے۔اس آ ئین میں صدر اور وزیر اعظم کے لیے جو حلف نامے تجویز کئے گئے تھے ان کے الفاظ سے یہ بات ظاہر ہو جاتی تھی کہ یہ حلف نامے تجویز کرنے والوں نے اپنی طرف سے یہ کوشش کی ہے کہ احمدیوں کو نشانہ بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کی ہے کہ کوئی احمدی ان عہدوں پر مقرر نہ ہو سکے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جماعت ِ احمدیہ کو سیاسی عہدوں کی بندر بانٹ سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن ان حلف ناموں کو تجویز کرنے والوں نے اپنی دانست میں احمدیوں کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تھی۔صدر اور وزیر ِ اعظم دو نوں کے حلف ناموں میں یہ الفاظ شامل تھے
    I ......................, do solemnly swear that I am a Muslim and believe in the unity and oneness of Almighty Allah, the books of Allah, the Holy Quran being the last of them, the prophethood of Muhammad (peace be upon him) as the last of the prophets and that there can be no prophet after him, the day of judgement, and all the requirement and teachings of the Holy Quran.................... That I will strive to preserve the Islamic ideology which is the basis for the creation of Pakistan.
    اس سے پہلے بھی ملک میں دو آ ئین رائج ہوئے تھے اور ان میں بھی صدر اور وزیر اعظم کے لئے حلف نامے مقرر کئے گئے تھے۔لیکن ان میں مذہبی عقائد کے متعلق کوئی ایسی عبارات شامل نہیں کی گئی تھیں۔۱۹۵۶ء کے آئین میں صدر کے حلف نامے کے الفاظ یہ تھے
    I..................do solemnly swear that I will faithfully discharge the duties of the office of president of Pakistan according to law, that I will bear true faith and allegiance to Pakistan, that I will preserve protect and defend the constitution, and that I will do right to all manner of people according to law without fear or favour, affection or ill-wil.
    اسی طرح ایوب خان صاحب کے دور میں جو آئین بنایا گیا تھا اس کے حلف ناموں میں بھی مذہبی عقائد کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان کے آئین میں اس قسم کا حلف نامہ شامل کیا گیا تھا۔
    ڈاکٹر مبشر حسن صاحب اس وقت بھٹو صاحب کی کابینہ کے ایک اہم رکن تھے اور وہ اس وقت اس کمیٹی کے رکن بھی مقرر ہوئے تھے جس نے آئین بنانے کا کام کیا تھا۔ان سے جب ہم نے یہ سوال کیا کہ حلف ناموں میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ ڈالنے کی کیا وجہ تھی تو ان کا کہنا تھا کہ گو کہ اس کارروائی کے دوران انہوں نے اس کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ وہاں جس طرح بحث ہوتی تھی وہ وقت کو ضائع کرنا تھا کیونکہ آئین نے جس طرح بننا تھا وہ تو اسی طرح بنا لیکن اس کی واضح وجہ یہی تھی کہ بھٹو صاحب کی پہلی کوشش یہ تھی کہ آئین منظور ہو اور پھر یہ خواہش تھی کہ متفقہ آئین منظور ہو۔ اس غرض کے لئے انہیں مذہبی عناصر کو جو Concessionsدینے پڑے ان میں یہ بھی شامل تھا ۔
    اور جب ہم نے عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب سے جو کہ آئین بنانے والی کمیٹی کے سربراہ تھے اس بابت سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو صدر کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ مسلمان ہو لیکن جب آئین کا سارا ڈھانچہ بنا اور یہ واضح ہوا کہ سارے اختیارات تو وزیر ِ اعظم کے پاس ہوں گے تو مذہبی جماعتوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وزیر ِ اعظم کے لئے بھی مسلمان ہونا ضروری قرار دیا جائے اور اس عہدہ کے لئے ختمِ نبوت کا حلف نامہ اُ ٹھانا بھی ضروری ہو۔
    جب ہم نے پروفیسر غفور صاحب جو اس وقت جماعت ِ اسلامی کے سیکریٹری تھے اور آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے رکن تھے، یہ سوال کیا کہ ان حلف ناموں میں ختم ِ نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کی تجویز کس طرف سے آئی تھی جبکہ پہلے جو آئین بنے تھے ان میں اس کا ذکر نہیں تھا؟ تو ان کا جواب تھا کہ پاکستان کے سابقہ آئینوں کو تو میں نے نہیں پڑھا لیکن ۱۹۷۳ء کا آئین بنتے وقت عدلیہ کی آزادی اور صوبائی خود مختاری کے مسئلے پر تو بحث ہوئی تھی لیکن اس حلف نامے کے موضوع پر تو کوئی بحث ہوئی ہی نہیں تھی۔اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے ان حلف ناموں میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کے لئے کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا تھابلکہ ان کی شمولیت ایک خاص ماسٹر پلان کا حصہ تھی جس کے باقی اجزاء بعد میں ظاہر ہوتے گئے۔لیکن اس بات نے مجھے بہت مایوس کیا کہ ایک صاحب جو نہ صرف آئین ساز اسمبلی کے رکن تھے بلکہ آئین کو مرتب کرنے والی کمیٹی کے ایک اہم رکن بھی تھے اور ایک پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی تھے انہوں نے آئین سازی کے عمل کے دوران پرانے آئین کو پڑھا بھی نہیں تھا۔
    آئین میں ایک دلچسپ تضاد یہ بھی تھا کہ آئین کی رو سے وزراء ،ممبرانِ اسمبلی و سینیٹ اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکرز کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہو ں یعنی ایک غیر مسلم بھی یہ عہدے حاصل کر سکتا تھا اور غیر مسلم وزراء بنتے رہے ہیں اور اسمبلی کے ممبر بنتے رہے ہیں۔لیکن ان کے حلف نامے میں یہ عبارت شامل تھی
    ‏That I will strive to preserve the Islamic ideology which is the basis for the creation of Pakistan
    یعنی اگر ایک غیر مسلم ان عہدوں پر فائز ہو جائے تو وہ یہ حلف اُ ٹھائے گا کہ وہ غیر مسلم ہونے کے با وجود نظریہ اسلامی کی حفاظت کے لئے کوشاں رہے گا۔
    ہم نے پروفیسر غفور صاحب سے یہ سوال کیا کہ ایک غیر مسلم یہ حلف کیسے اُ ٹھا سکتا ہے کہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے گا۔تو پہلے انہوں نے آئین کی کاپی میں متعلقہ حصہ پڑھا اور پھر کہا کہ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ میں مسلمان ہوں ۔یہ آئیڈیالوجی کے نقطہ نظر سے ہے۔ جب آئین میں یہ لکھاہے کہ ملک میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنے گا تو غیر مسلم کو بھی یہ حلف اُٹھانا پڑے گا۔
    بہر حال یہ واضح تھا کہ اب احمدیوں کے خلاف ایک سازش تیار کی جا رہی ہے۔اس مرحلہ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ۱۹۸۵ء میں فرمایا:۔
    ’’ … ۱۹۷۴ء کے واقعات کی بنیاد دراصل پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے آئین میں رکھ دی گئی تھی۔چنانچہ آئین میں بعض فقرات یا دفعات شامل کر دی گئی تھیں تاکہ اس کے نتیجہ میں ذہن اس طرف متوجہ رہیں اور جماعت ِ احمدیہ کو باقی پاکستانی شہریوں سے ایک الگ اور نسبتاً ادنیٰ حیثیت دی جائے۔میں نے ۱۹۷۳ء کے آئین کے نفاذ کے وقت اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں عرض کیا اور آپ کو اس وقت توجہ دلائی ۔بعد ازاں جس طرح بھی ہو سکا جماعت مختلف سطح پر اس مخالفانہ رویہ کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ان کوششوں کے دوران یہ احساس بڑی شدت سے پیدا ہوا کہ یہ صرف یہاں کی حکومت نہیں کروا رہی بلکہ یہ ایک لمبے منصوبے کی کڑی ہے اور اس معاملہ نے آگے بڑھنا ہے۔بہر حال ۱۹۷۴ء میں ہمارے خدشات پوری طرح کھل کر سامنے آگئے۔‘‘ (خطبات ِ طاہر جلد۴ص۵۴)
    لیکن بہت سے تکلیف دہ واقعات سے گزر کر ملک کو ایک دستور مل رہا تھا ۔جماعت ِ احمدیہ نے اس موقع پر کوئی مسئلہ نہیں پیدا کیا بلکہ ملکی مفادات کی خاطر اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ بالآخر ملک کو ایک دستور مل گیا ہے ۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔
    ’’گزشتہ ربع صدی میں پاکستان کو بہت سی پریشانیوں میں سے گزرنا پڑا۔قیامِ پاکستان کے ایک سال بعد بانیِٔ پاکستان قائدِ اعظم کی وفات ہو گئی۔ان کے ذہن میں پاکستان کے لئے جو دستور تھا وہ قوم کو نہ دے سکے ۔پھر ملک کو بعض دوسری پریشانیوں کا منہ دیکھنا پڑا ۔ پھر مارشل لاء لگا جس کے متعلق بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی ذمہ داری فوج پر ہے اور یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے لیکن اس کی اصل ذمہ داری تو ان لوگوں پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے اس قسم کے حالات پیدا کر دیئے کہ فوج کو مارشل لاء لگانا پڑا ۔بہر حال مارشل لاء کا زمانہ بھی پریشانیوں پر منتج ہوا۔اس کی تفصیل میں جانے کا نہ یہ وقت ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔مارشل لاء کے زمانہ میں بھی کچھ قوانین تو ہوتے ہیں جن کے تحت حکومت کی جاتی ہے۔ تاہم ان قوانین کو قوم کا دستور نہ کہا جاتا ہے نہ سمجھاجاتا ہے اور نہ حقیقۃََ ایسا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے قوم گویا دستور کے میدان میں پچھلے پچیس سال بھٹکتی رہی ہے چنانچہ ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ قوم کو ایک دستور مل گیا۔ ہم خوش ہیں اور ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہیں کہ ہماری اس سرزمین کو جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ِ ثانیہ کے لئے منتخب فرمایا ہے اس میں بسنے والی اس عظیم قوم کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ اپنے لئے ایک دستور بنائے۔‘‘ (۲)
    ۱۹۷۳ء کے آئین میں جو حلف نامے تجویز کئے گئے تھے ان میں عقائدکا تذکرہ اور ختمِ نبوت کا حلف مولویوں اور مولوی ذہنیت رکھنے والوں کو خوش کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔اور پیپلز پارٹی کے قائدین بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے ملک کو ایک اسلامی آئین دیا ہے۔چنانچہ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر افتخار تاری صاحب نے آئین کی منظوری کے بعد بڑے فخر سے یہ بیان دیا:۔
    ’’نیا آئین اسلامی ہے کہ اس میں پارلیمنٹ کی بالا دستی کے باوجود اسلامی مشاورتی کونسل کو سپریم حیثیت دی گئی ہے۔ہمارے مخالفین بالعموم اور جماعت ِ اسلامی والے بالخصوص پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگاتے رہے کہ یہ مرزائی فرقہ کے قائدین کی ہدایات اور اشاروں پر چلتی ہے اور موجودہ حکومت کو ربوہ سے حکم آتے ہیں۔اگر یہ الزام درست ہوتا تو آئین میںاسلامی قوانین کو کیسے اپنایا جا سکتا تھا۔نیز اس آئین میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے نبی آخرالزمان کو بنیاد بنا کر ان شکوک و شبہات کو قطعی طور پر دور کردیا گیا جن کی آڑ میں پیپلزپارٹی کو ہدف ِ تنقید بنایا جاتا تھا۔‘‘(روزنامہ امروز ۲۱ ؍اپریل ۱۹۷۳ء ص۲)
    چونکہ پیپلز پارٹی اور خود بھٹو صاحب پر مخالفین کی جانب سے مذہب سے بیزار ہونے کا الزام تھا، اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اس الزام کا رد کرنے کے لئے اور مخالفین کو خوش کرنے اور ان سے ممکنہ طور پر پیش آنے والے خطرات کا سدِ باب کرنے کے لئے پیپلز پارٹی نے اس قدم پر رضامندی ظاہر کی ہو۔ لیکن تعصب اور تنگ نظری کے دوزخ میں جتنا مرضی ڈالو اس میں سے ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍکی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ایک کے بعد دوسرا نا معقول مطالبہ سامنے آتا رہتا ہے۔اور اگر قوم کی تیرہ بختی سے حکومت ان کے آگے جھکنے کا راستہ اپنا لے تو پھر یہ عفریت معاشرے کی تمام عمدہ قدروں کو نگل جاتا ہے۔بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین کی یہ بھول تھی کہ وہ اس طرح تنگ نظر گروہ کو خوش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یا جیسا کہ ہم بعد میں اس امر کا جائزہ لیں گے اگر یہ سب کچھ کسی بیرونی ہاتھ کو خوش کرنے کے لئے کیا جا رہا تھا تو یہ خیال محض خوش فہمی تھی کہ یہ بیرونی ہاتھ اسی پر اکتفا کرے گا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔آئین کو بنے ابھی ایک ماہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ نئے مطالبے شروع ہو گئے۔یہ مطالبات اسلام کے نام پر کئے جا رہے تھے لیکن ان میں سے اکثر اسلامی تعلیمات کے بالکل بر عکس تھے۔ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس گروہ کے خیالات اسلام اور اسلامی ممالک کے لئے کتنا بڑا خطرہ بن سکتے ہیں اور ان میں معقولیت نام کی کسی چیز کا نام و نشان بھی نہیں پایا جاتا۔ماہنامہ الحق کے اپریل مئی کے شمارے میں آئین کے حوالے سے ان مطالبات کی فہرست شائع ہوئی جو اسمبلی کے اندر اور باہر نام نہاد مذہبی جماعتوں کی طرف سے کئے جا رہے تھے۔اس رسالے میں ’’ قومی اسمبلی میں مسودہ دستور کی اسلامی ترمیمات کا کیا حشر ہوا‘‘ کے نام سے ایک طویل مضمون شائع ہوا ۔اس میں مضمون نگار نے یہ اعتراضات کئے کہ اس آئین کو صحیح اسلامی رنگ دینے کے لئے جو تبدیلیاں ضروری تھیں وہ منظور نہیں کی گئیں۔یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:
    ’’لیکن ہماری نگاہیں اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے مغربی تہذیب سے مستعار بنیادی حقوق کے تصورات پر ٹھہرتی ہیں۔اور مغربی تہذیب سے مرعوب ہو کر بنیادی حقوق کے نام سے آئین کی رہی سہی اسلامیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔مثلاََ موجودہ بنیادی حقوق میں جنس (مرد ،عورت ) اور مذہب کی تمیز کئے بغیر ہر قسم کی ملازمتوں میں مساوات یہاں تک کہ وہ عدالت کا چیف جسٹس بھی بن سکے ،کلیدی مناسب بھی سنبھال سکے،عام مجالس اور مقامات میں داخلہ اور مرد و زن کا اختلاط ،تقریر و تحریر کی آ زادی کے نام پر اخلاقی اور مذہبی اقدار سے بھی آ زادی ہر شخص جو چاہے مذہب اختیار کرے،مسلم اور غیر مسلم ( اہلِ ذمہ) مرد و زن سب کو تمام شعبہ ہائے حیات میں ایک لاٹھی سے ہانکنا ،اس طرح کی بہت سی مثالیں اسلام کے عطا کردہ حقوق کی نفی کرتی ہیں۔اور آگے چل کر اسلامی قانون کی کئی اہم دفعات اور تقاضوں کے نفاذ کے لئے سدِّ راہ بن سکتی ہیں۔مثلاََ ۱ ۔کوئی مسلمان اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا۔ ۲ ۔ اسلامی مملکت میں ارتداد اور اس کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ۳۔غیرمسلموں پر مخصوص ٹیکس جزیہ لگانے کی گنجائش ہے۔ ۴ ۔غلامی کے بارہ میں مخصوص حالات میں گنجائش ہے۔ ۵۔عورت حدود اور قصاص جیسے معاملات میںجج نہیں ہو سکتی۔ ۶۔نہ اس کی قضا کئی ایسے امور میںمعتبر ہے۔ ۷ ۔نہ حدود اور قصاص میں اس کی شہادت معتبر ہے۔ ۸۔نہ وہ اسلامی سٹیٹ کی سربراہ بن سکتی ہے۔ ۹ ۔نہ کھلے بندوں مردوں کی تفریح گاہوں اور مخلوط اجتماعات میں آ جا سکتی ہے۔ ۱۰۔دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے۔ ۱۱۔غیر مسلم اور ذمی قاضی اور جج نہیں بن سکتا۔ ۱۲۔نہ وہ اسلامی آئین سازی کرنے والے اداروں مقننہ یا دستور ساز اداروں کا رکن بن سکتا ہے بالخصوص جب اسمبلی کو اس بات کا پابند کیا گیا ہو کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق قانون سازی کرے ……… اس لئے اسلام ملازمتوں اور انتخابی عہدوں میں امتیاز نا گزیر سمجھتا ہے۔جبکہ موجودہ بنیادی حقوق غیر مسلم اقوام ( جو مرتدین کو بھی شامل ہے )کو نہ صرف صدارت ،وزار ت عدلیہ کی سربراہی ،افواجِ اسلامی کی کمان تک عطا کرنے پر بھی قدغن نہیں لگاتے۔ ۱۴۔اسلام کی نگاہ میں کلیدی مناسب پر فائز ہونا تو بڑی بات ہے کسی غیر مسلم شہری کی مسلمانوں کے خلاف شہادت بھی معتبر نہیں۔‘‘ (۳)
    گویا ان علماء کے نزدیک صحیح اسلامی نظام تبھی آ سکتا تھا جب غلامی کی مشروط اجازت ہو، حالانکہ اسلام نے غلامی کے ختم کرنے کی ابتدا کی تھی۔ عورتوں کو نہ صرف کلیدی عہدوں پر نہ لگایا جائے بلکہ وہ پبلک تفریحی مقامات پر بھی نہیں جا سکتیں۔اور اگرچہ یہ مولوی حضرات جس سے مذہبی اختلاف ہو گا اس کے خلاف تو زہر اگلیں گے لیکن جس کو یہ غیر مسلم سمجھیں گے اسے اس بات کی ہر گز اجازت نہیں ہو گی کہ وہ ان کو دلائل سے جواب دے۔غیر مسلم کو نہ صرف کسی کلیدی عہدے پر مقرر نہیں کیا جائے گا بلکہ کسی مسلمان کے خلاف اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی۔یہ لغو خیالات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں بلکہ ان کا اسلام کی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
    (۱)قومی ڈائجسٹ جون ۱۹۸۴ء ص۳۷۔۳۸۔
    (۲) الفضل ۱۲؍جون ۱۹۷۳ئ۔
    (۳)ماہنامہ الحق اپریل مئی ۱۹۷۳ء ص۳تا۵۔
    کشمیر اسمبلی میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف قرارداد
    آئین میں شامل کئے گئے حلف ناموں سے یہ ظاہر ہوجاتا تھا کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ، آئین اور قانون میں ایسی تبدیلیاں کرنا چاہتا ہے جن کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اپنی دانست میں احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا جائے بلکہ احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کردیا جائے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جائے۔اور چونکہ الیکشن میں ان جماعتوں کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جن کو عرفِ عام میں مذہبی جماعتیں کہا جاتا ہے،اس لئے انہیں نئی سیاسی زندگی پانے کے لئے کسی ایسے مسئلہ کو چھیڑنے کی ضرورت تھی جس کی آ ڑ میں وہ اپنے سیاسی مردے میں کچھ جان پیدا کر سکیں۔ ان پارٹیوں کو صرف اپنے سیاسی مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ان حرکات سے ملک و قوم کو کتنا نقصان پہنچے گا ،یہ لوگ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔ابھی پاکستان کے آئین کو اسمبلی سے منظور ہوئے ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس سازش کے آ ثار مزید واضح ہو کر نظر آنے لگے۔اس مرتبہ یہ فتنہ کشمیر اسمبلی میں سر اُ ٹھا رہا تھا۔
    اس وقت سردار عبدالقیوم صاحب کشمیر کے صدر تھے اور سردار قیوم صاحب ایک عرصہ سے جماعت احمدیہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔کشمیر کی اسمبلی ۲۵ اراکین پر مشتمل تھی۔ ان میں سے ۱۱ اراکین کا تعلق حزب ِ اختلاف سے تھا اور ۲۹ ؍اپریل ۱۹۷۳ء کو ان اراکین نے کسی وجہ سے اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔اس بائیکاٹ کے دوران حکومتی گروہ کے ایک رکن اسمبلی میجرایوب صاحب نے ایک قرارداد پیش کی جس کے متعلق روزنامہ مشرق نے یہ خبر شائع کی:۔
    ’’آزاد کشمیر اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں حکومت آزاد کشمیر سے سفارش کی گئی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیںان کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد ان کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی کا یقین کرایا جائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہوگی۔یہ قرارداد اسمبلی کے رکن میجر محمد ایوب نے پیش کی تھی۔ قرارداد کی ایک شق ایوان نے ہفتہ کے روز بحث کے بعد ایک ترمیم کے ذریعہ خارج کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا جائے۔میجر ایوب نے قرارداد پیش کرتے ہوئے آئین پاکستان میں مندرج صدرِ مملکت اوروزیرِ اعظم کا حلف نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین میں ان عہدیداروں کے لئے مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کے مطابق یہ حلف نامہ تجویز کیا گیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حلف اُ ٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی ہے (سہو ِ کتابت معلوم ہوتی ہے ۔اصل میں کوئی نبی نہیں ہے کہ الفاظ کہے گئے ہوں گے)میجر ایوب نے کہا کہ اصولی طور پر آئین کی اس دستاویز کی رو سے وہ لوگ خود بخود غیر مسلم ہو گئے جو رسول اکرم ﷺ کوآخری نبی نہیں مانتے اور چونکہ آزاد کشمیر اسمبلی اس سے قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے اور اس کی روشنی میں قانون سازی بھی کی گئی ہے کہ ریاست میں اسلامی قوانین نافذکئے جائیں گے اس لئے لازم ہے کہ اس معاملہ میں شریعت کے مطابق واضح احکامات جاری کئے جائیں ۔ایوان کے ایک رکن نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کی بعض عدالتوں کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔‘‘(۱)
    گو کہ یہ قرارداد حکومت سے سفارش کے طور پر تھی اور قانون سازی نہیں تھی لیکن یہ بہر حال واضح نظر آ رہا تھا کہ جماعت کے مخالفین کے عزائم کیا ہیں۔وہ چاہتے تھے کہ احمدیوں کو آئینی طور پر ایک غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اور انہیں یہ امید تھی کہ اگر احمدیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو یہ چیز کم از کم پاکستان میں احمدیت کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو گی۔پہلے اس قدم کی تمہید کے طورپر آئین میں صدر اور وزیر ِ اعظم کے لئے ختم نبوت کا حلف اُ ٹھانا ضروری قرار دیا گیا۔اور پاکستان کے آئین میں ان حلف ناموںکو بنیاد بنا کر آزاد کشمیر کی اسمبلی میں سفارش کے طور پر یہ قرارداد منظور کرائی گئی تاکہ اسے بنیاد بنا کر پاکستان میں بھی اس قسم کا قانون بنانے کی کوششیں کی جا سکیں۔لیکن کشمیر اسمبلی میں بھی جو قرارداد پیش کی گئی اس کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کر دیتا ہے قانونی طور پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینا بھی ان کا آخری مقصد نہیں تھا بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ احمدیوں کو ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے۔مثلاََ یہ تجویز کیا گیا تھا کہ احمدیوں کی رجسٹریشن کی جائے اور انہیں آبادی کے تناسب سے مختلف شعبوں میں ملازمتیں دی جائیں ۔حالانکہ کشمیر یا پاکستان میں ایسا کوئی قانون تھا ہی نہیں کہ کسی مذہبی گروہ کو خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں ہو ،آبادی کے تناسب سے ملازمتیں دی جائیں گی۔یہ شوشہ چھوڑنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ احمدی میرٹ کی بنیاد پر اپنا حق حاصل نہ کر سکیں۔اور ان پر ایسا معاشی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ارتداد کا راستہ اختیار کریں۔ گو کہ منظوری کے وقت یہ حصہ حذف کر دیا گیا لیکن جو قرارداد میجر ایوب صاحب کی طرف سے پیش کی گئی اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ ریاست میں احمدیوں کے داخلے پر پابندی لگائی جائے۔تو اصل ارادے یہی تھے کہ احمدیوں کو ان کے تمام حقوق سے محروم کر دیا جائے ورنہ ریاست میں ہندو ،عیسائی اور یہودی تو داخل ہو سکتے تھے لیکن احمدی مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگانے کی تجویز کی جا رہی تھی۔گویا یہ ان خدمات کا صلہ دیا جا رہا تھا جو احمدیوں نے اہلِ کشمیر کی مدد کے لئے سر انجام دی تھیں۔ اس قراردادمیں ایک اہم سفارش یہ تھی کہ ریاست میں احمدیوں کی تبلیغ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ یہ بات قابلِ مذمت ہونے کے ساتھ قابلِ فہم بھی تھی کیونکہ مخالفینِ جماعت دلائل کے میدان میں احمدیوں کا مقابلہ کرنے سے کتراتے ہیں اور ان کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ انہیں تو ہر قسم کا زہر اگلنے کی اجازت ہو بلکہ اس غرض کے لئے ہر قسم کی سہولت مہیا کی جائے مگر احمدیوں پر پابندی ہونی چاہئے کہ وہ اس کا جواب نہ دے سکیں۔یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ کشمیرمیں عیسائیت یا دوسرے مذاہب کی تبلیغ پر کوئی پابندی لگانے کی سفارش نہیں کی گئی تھی ،صرف احمدیت کی تبلیغ پر پابندی لگانے پر زور تھا۔احمدیوںکی تبلیغ پر پابندی لگانے پر اصرار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ گروہ احمدیوں کے دلائل سے خائف رہتا ہے۔
    پاکستان کے اکثر بڑے اخباروں میں یہ خبر ایک خاص معنی خیز انداز میں شائع کی جا رہی تھی۔ ایک تو جب نوائے وقت ،امروز اور پاکستان ٹائمز میں یہ خبر شائع کی گئی تو یہ شائع نہیں کیا کہ ابھی اس کے مطابق قانون سازی نہیں کی گئی اور یہ قرارداد ایک سفارش کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ یہ لکھا گیا کہ کشمیر میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔دوسرے ان تینوں اخباروں میں یہ لکھا گیا کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے (۳،۴،۵)جس سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اسمبلی کے تمام اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت اپوزیشن اسمبلی میں موجود ہی نہیں تھی۔ اورخدا جانے یہ بات صحیح تھی کہ غلط مگر بعض حکومتی اراکین نے بھی احمدیوں کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ انہوں نے بھی اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ممکن ہے کہ اس وقت بعض حکومتی اراکین بھی اسمبلی میں موجود نہیں تھے جب کسی وجہ سے عجلت میں یہ قرارداد منظور کرائی گئی ۔(۵)
    یہ بات بھی قابلِ غور تھی کہ وہ اخبارات جو کہ پاکستان کی حکومت کے اپنے اخبارات تھے یعنی امروز اور پاکستان ٹائمز ،وہ بھی اس قرارداد کے متعلق صحیح حقائق پیش کرنے کی بجائے بات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے تھے ۔حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا ایک ہی مقصد ہو سکتا تھا اور وہ یہ کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کو ہوا دی جائے ۔جماعت کی مخالف پارٹیوں کو تو گزشتہ انتخابات میں مکمل شکست کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ جماعت ِ احمدیہ کے خلاف شورش پیدا کر کے اپنی سیاست کے مردے میں جان ڈالیں لیکن اب اس بات کے آ ثار واضح نظر آ رہے تھے کہ حکومت میں شامل کم از کم ایک طبقہ اب جماعت احمدیہ کے خلاف سازش میں شریک ہو رہا ہے اور کچھ سرکاری افسران بھی اس رو میں بہہ چکے تھے۔اور اسی طرح ایک شورش برپا کرنے کی کوشش ہو رہی تھی جس طرح بیس سال قبل ۱۹۵۳ء میں برپا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔بیس پچیس سال قبل بھی ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انتخابات میں وہ جماعت کامیاب ہوئی تھی جسے جماعت ِ احمدیہ کی حمایت حاصل تھی اور ان نام نہاد سیاسی جماعتوں نے سیاسی زندگی حاصل کرنے کے لئے جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ایک شورش برپا کی تھی اور بر سرِ اقتدار پارٹی کا ایک حصہ اپنے مفادات کیلئے مولویوں کی تحریک کی پشت پناہی کرنے پرآمادہ ہو گیا تھا اور وہ اخبارات جماعت کے خلاف زہر اگلنے لگے تھے جنہیں حکومت ِ پنجاب کی مالی سرپرستی حاصل تھی۔اور اب بھی اس بات کے آ ثار نظر آ رہے تھے کہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔
    بہت جلد پاکستان میں یہ بیان بازی شروع کر دی گئی کہ اب پاکستان میں ایسی قانون سازی کرنی چاہئے جس کے ذریعہ جماعت ِ احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔جماعت ِ اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے کہا کہ آ زاد کشمیر کی حکومت کا فیصلہ بالکل صحیح اور حقیقت کے مطابق ہے اور حکومتِ پاکستان کو اس کی پیروی کرنی چاہئے(۶)۔جمعیت العلماء پاکستان کی طرف سے بھی یہ قدم اُٹھانے پر صدر آ زاد کشمیر کو مبارکباد دی گئی اور اس جماعت کے صدر شاہ احمد نورانی صاحب نے حکومت ِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے ۔اس کے علاوہ مختلف مساجد میں خطیبوں نے بھی اس قرارداد کا خیر مقدم کر کے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے(۷،۸)۔آزاد کشمیر کی حکومت کو یہ مبارکبادیں صرف ملک کے اندر سے نہیں موصول ہو رہی تھیں بلکہ جلد ہی جماعت کے مخالف جریدوں نے یہ خبر شائع کی کہ رابطہ عالمِ اسلامی کے جنرل سیکریٹری نے تار کے ذریعہ مکہ معظمہ سے پاکستان کے صدر بھٹو کو آ زاد کشمیر کی اسمبلی کی اس قرار داد پر مبارکباد کی تار دی ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ تار آزاد کشمیر کے صدر کو نہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کے مسلمان ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں اور مسلمان فرقوں میں اس گمراہ فرقہ کو اپنا شر پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ (۹)
    جب احمدیوں نے یہ خبریں پڑھیں تو لازماََ انہیں بہت تشویش ہوئی اور ان کی طبیعتوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔فطرتی بات ہے کہ ایسے موقع پر احمدی احباب اپنے امام کی طرف دیکھتے ہیں اور انہی سے راہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ۴؍مئی ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں اس قرارداد پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور احباب جماعت کو بعض اصولی ہدایات سے نوازا۔ اس وقت احمدیوں کے دلوں میں جس قسم کے جذبات پیدا ہو رہے تھے اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ارشاد فرمایا:۔
    ’’ … غرض جس احمدی دوست نے بھی یہ خبر پڑھی اس کی طبیعت میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔ چنانچہ دوستوں نے مجھے فون کیے،میرے پاس آدمی بھجوائے،خطوط آئے، تاریں آئیں۔ احباب نے خطوط اور تاروں وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر خدمت کے لیے پیش کیا کہ اگر قربانی کی ضرور ت ہو تو ہم قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔چنانچہ میں نے تمام دوستوں کو جنہوں نے خطوط اور تاروں کے ذریعہ مخلصانہ جذبات کا اظہار کیا اور ان کو بھی جو میرے پاس آئے یہی سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل و فراست عطا فرمائی ہے اور عزت اور احترام کا مقام بخشا ہے۔پس عقل و فراست اور عزت و احترام کا یہ مقام جو خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں مرحمت فرمایا ہے،یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم پورے اور صحیح حالات کا علم حاصل کیے بغیر منہ سے کچھ نہ کہیں۔اس قرارداد کے الفاظ کیا ہیں۔ قرارداد پاس کرنے والوں میں کون کون شامل ہے۔یہ خبر اخباروں میں نمایاں طور پر کیوں آئی سوائے پاکستان ٹائمز کے جس نے پانچویں صفحے پر شائع کی لیکن چوکٹھا بنا کر گویا اس نے بھی اس کو نمایا ں کر دیا ۔جب تک اس کے متعلق ہمیں علیٰ وجہ البصیرت کوئی علم نہ ہو اس وقت تک ہم اس پر کوئی تنقید نہیں کر سکتے ۔میں نے دوستوں سے کہا ،ہم حقیقتِ حال کا پتہ کریں گے اور پھر اس کے متعلق بات کریں گے۔‘‘ (۱۰)
    حضور ؒ نے اس خطبہ جمعہ میں اس قرارداد کے پاس ہونے کے صحیح حالات بیان فرمائے اور جس طرح اخبارات نے اس خبر کو شائع کیا اس کا تجزیہ بیان فرمایا۔حضور ؒ نے کشمیر اسمبلی کی قرارداد کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
    ’’پس اگر نو یا بارہ آدمیوں نے اس قسم کی قرارداد پاس کر دی تو خدا کی قائم کردہ جماعت پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے ۔اس کے نتیجہ میںجو خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں وہ یہ نہیں کہ جماعت ِ احمدیہ غیر مسلم بن جائے گی۔ جس جماعت کو اللہ تعالیٰ مسلمان کہے اسے کوئی نا سمجھ انسان غیر مسلم قرار دے تو کیا فرق پڑ تا ہے ۔اس لیے ہمیں اس کا فکر نہیں ہمیں فکر ہے تو اس بات کا کہ اگر یہ خرابی خدا نخواستہ انتہا تک پہنچ گئی تو اس قسم کے فتنہ و فساد کے نتیجے میں پاکستان قائم نہیں رہے گا ۔اس لیے ہماری دعائیں ہیں ہماری کوششیں ہیں اور ہمارے اندر حُبُّ الوطنی کا یہ جذبہ موجزن ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فتنہ نہ اُ ٹھے کہ جس سے خود پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے ۔آخر فتنہ و فساد یہی ہے نہ کہ کچھ سر کٹیں گے، کچھ لوگ زخمی ہوں گے۔ کون ہوں گے، کیا ہو گا ،یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن جب اس قسم کا فساد ہوگا تو دنیا میں ہماری ناک کٹے گی،ہر جگہ پاکستان کی بد نامی ہو گی۔‘‘ (۱۱)
    حضور نے فرمایا کہ اب جماعت ِ اسلامی اور جماعت احمدیہ کی مخالف جماعتیں حکومت کو دھمکیاں دے رہی ہیںکہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے تو ۱۹۵۳ء جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے ۔دراصل یہ لوگ ۱۹۵۳ء کا نام لے کر اپنے نفسوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ان لوگوں کو اس وقت اتنی ذلّت اٹھانی پڑی تھی کہ اگر وہ ذرا بھی سوجھ بوجھ سے کام لیتے تو ۵۳ ء کا نام بھی نہ لیتے مگر جماعت ِ احمدیہ نے اس فساد فی الملک میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے عظیم نشان دیکھے ۔اللہ تعالیٰ کی رحمت نے جماعت کو بڑی ترقی عطا فرمائی اس لیے ہمارے حق میں ۵۳ ء بڑا مبارک زمانہ ہے جس میں جماعت بڑی تیزی سے ترقی اور رفعتوں میں کہیں سے کہیں جا پہنچی ۔حضور نے بیان فرمایا کہ ایسے بھی احمدی ہیں جو ۱۹۵۳ء میں احمدیوں کے گھروں کو آگ لگانے کے لیے نکلا کرتے تھے مگر بعد میں حق کو پہچان کر خود احمدی ہو گئے۔
    حضور نے خطبہ جمعہ کے آ خر میں فرمایا:۔
    ’’میرا خیال ہے کہ میں نے ایک احمدی کا جو صحیح مقام ہے وہ آپ کو سمجھا دیا ہے ۔ آپ دعا کریں اور اس مقام پر مضبوطی سے قائم رہیں کیونکہ ہمارے لئے جو وعدے ہیں اور ہمیں جو بشارتیں ملی ہیں وہ اس شرط کے ساتھ ملی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں جس مقام پر سرفراز فرمایا ہے اس کو بھولنا نہیں اوراس کو بھولنا نہیں اور اس کو چھوڑنا نہیں ۔خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا ہے۔آنحضرت ﷺ سے پیار کرتے رہنا ہے۔ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھنا۔ بے لوث خدمت میں آگے رہنا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہے اور جب دنیا پیار کوکلّی طور پر قبول کرنے سے انکار کردے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو یاد رکھنا کہ ’’ اُ ٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں‘‘ (۱۲)
    یہ ایک عجیب بات ہے کہ جب ہم نے جماعت ِ اسلامی کے لیڈر پروفیسر غفور صاحب سے انٹرویو کے دوران آزاد کشمیر اسمبلی کی اس قرار داد کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں اور یہ بھی کہا کہ ۱۹۷۳ء میں تو قادیانیوں کے بارے میں کوئیIssueنہیں تھا۔جب انہیں میاں طفیل محمد صاحب امیر جماعت ِ اسلامی کے بیان کا حوالہ دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے۔اور پھر دہرایا کہ ۱۹۷۳ء میں تو قادیانیوں کے بارے میں کوئیDisputeنہیں تھا۔
    (۱)مشرق یکم مئی ۱۹۷۳ء ص ۶۔
    (۲) نوائے وقت ۳۰ ؍اپریل ۱۹۷۳ء ص۱۔
    (۳)پاکستان ٹائمز ۳۰ ؍اپریل۱۹۷۳ء ۔
    (۴)امروز ۳۰ ؍اپریل ۱۹۷۳ء ص۱۔
    (۵)آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ از حضرت امام جماعت ِ احمدیہ ،ناشرنظارت اشاعت لٹریچرو تصنیف صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ ص۴۔
    (۶) نوائے وقت ۳ ؍مئی ۱۹۷۳ء ص ۱۔
    (۷)نوائے وقت ۱۶ ؍مئی ۱۹۷۳ء ص ۲۔
    (۸)نوائے وقت ۵ ؍مئی ۱۹۷۳ء ص آخر ۔
    (۹) المنبر۶؍ جولائی ۱۹۷۳ء ص۱۴و ۱۵۔
    (۱۰)آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ از حضرت امام جماعت ِ احمدیہ ،ناشرنظارت اشاعت لٹریچرو تصنیف صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ ص۲و۳۔
    (۱۱)آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ از حضرت امام جماعت ِ احمدیہ ،ناشرنظارت اشاعت لٹریچرو تصنیف صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ ص۴و۵۔
    (۱۲)آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ از حضرت امام جماعت ِ احمدیہ ،ناشرنظارت اشاعت لٹریچرو تصنیف صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ ص۱۶۔
    ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلسِ شوریٰ
    اب تک ہم یہ جائزہ لیتے رہے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کے پہلے تین ماہ کے اختتام تک اس بات کے آثار نظر آ رہے تھے کہ جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین پہلے کی طرح ایک بار پھر جماعت احمدیہ کے خلاف سازش تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن بہت سے حقائق ابھی منظرِ عام پر نہیں آئے تھے۔ احبابِ جماعت کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ ۱۹۵۳ء کی نسبت بہت زیادہ وسیع پیمانہ پر یہ سازش تیار کی جا رہی تھی۔ ۱۹۷۳ء کی مجلسِ مشاورت حسب معمول ۳۰ مارچ تا یکم اپریل ۱۹۷۳ء منعقد ہوئی تھی۔اب ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے جن سے جماعت کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے خصوصی ارشاد پر ۲۷ مئی ۱۹۷۳ء کو مجلسِ مشاورت کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ حسبِ قواعد اس میں جملہ نمائندگان مجلسِ مشاورت ۱۹۷۳ء کو مدعو کیا گیا کیونکہ قواعد کے مطابق کسی مجلسِ شوریٰ کا نمائندہ پورے سال کے لئے نمائندہ ہوتا ہے۔
    جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے حضور ؒ نے اس موقع پر۱۹۷۰ء کے انتخابات کے وقت ملک کی صورت حال اور انتخابات میں جماعت ِ احمدیہ کے فیصلے کی حکمت کا تفصیلی تجزیہ فرمایا ۔چونکہ اس وقت تک یہ بات ظاہر ہو چکی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک گروہ با وجود اس حقیقت کے کہ انتخابات کے مرحلہ پر احمدیوں نے ان کی مدد کی تھی اور وہ خود درخواست کر کے احمدیوں کی مدد طلب کر رہے تھے،اب جماعت کی مخالفت میں سرگرم نظر آ رہے تھے۔وہ اقتدار میں آ کر سمجھتے تھے کہ اب انہیں اس غریب مزاج گروہ کی کیا ضرورت ہے بلکہ اب احمدیوں کی مخالفت کرکے وہ مولویوں کی آ نکھوں کا تارہ بن سکتے ہیں۔ دنیاوی نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کا تجزیہ غلط بھی نہیں تھا لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ اس غریب جماعت کا ایک مولا ہے جو ان کی حفاظت کر رہا ہے۔حضور نے اس مجلسِ شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کے تین گروپ ہیں۔پہلا گروہ وہ ہے کہ جب سے انہوںنے ہوش سنبھالا ہے وہ جماعت ِ احمدیہ کے دشمن چلے آ رہے ہیں۔اور اب جب کہ وہ اسمبلیوں کے ممبر اور حق و انصاف کے امین ہیں ہنوز ہمارے بڑے سخت مخالف اور معاند ہیں۔اور جماعت احمدیہ نے صرف ملک کے استحکام کی خاطر انتخابات میں ان لوگوں کی مدد کی تھی۔دوسرا گروہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جن کے اندر کسی قسم کا مذہبی تعصب نہیں ۔وہ انتخاب سے پہلے بھی ہمارے دوست تھے اور اب بھی ہیں تا ہم یہ دوستی اسی قسم کی دوستی ہے جو دنیا میں دنیا کی خاطر پیداہوتی ہے۔یہ اس قسم کی دوستی نہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تو تمہارے لئے عزت اور شرف کا سامان آسمانوں سے نازل کیا تھا اور تم اس سے بے اعتنائی برت رہے ہو ۔پیپلز پارٹی کا ایک تیسرا گروہ بھی ہے اور اس کی شاید اکثریت ہے۔یہ گروہ نیوٹرل ہے یعنی نہ ہمارے ساتھ اس کی کوئی دوستی ہے اور نہ ہمارے ساتھ اس کی کوئی دشمنی ہے۔چونکہ پارٹی میں اس گروہ کی اکثریت ہے اور دنیا میں بالعموم نیوٹرل کی اکثریت ہوا کرتی ہے اس لئے اگر پیپلز پارٹی کی قیادت ان کو صحیح راستہ بتا دے گی تو وہ صحیح راستہ پر چل پڑیں گے ا گر ان کو غلط راستہ پر ڈال دیں گے تو غلط راستہ پر چل پڑیں گے ۔حضور نے ان تین گروہوں کا تجزیہ کرنے کے بعد فرمایا:۔
    ’’…پھر چونکہ ہم نے کوئی سودابازی نہیں کی تھی کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا اس لئے اگر پیپلز پارٹی کا وہ معاند گروہ (جس کا میں پہلے تجزیہ کر آیا ہوں اور جو پندرہ بیس فیصد سے زیادہ نہیں)اگر احمدیت مردہ باد کا نعرہ لگائے تو کسی احمدی دوست کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کاہم سے کوئی معاہدہ تھا جس کی انہوں نے کوئی خلاف ورزی کی ہے۔ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے ہم نے ان کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں کی ۔اگر وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی کریں تو ہمیں دکھ ہو گا،گلہ شکوہ اور غصہ نہیں آئے گا کیونکہ سودا بازی کا مطلب یہ ہے کہ جس سے ہم سودا بازی کر رہے ہیں وہ ہمیں غلام سمجھ کر یا مال سمجھ کر مارکیٹ میں لے جائے اور یہ تو ہم ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس معاند گروہ کی طرف سے ہمیں آوازیں پہنچتی رہتی ہیں کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے لیکن ہم پیپلز پارٹی کو بحیثیت مجموعی موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے ۔میں آج کی بات کر رہا ہوں کل کا مجھے پتہ نہیں کیا ہوگا۔نہ ہمیں اس بات کا کوئی حق ہے کیونکہ ہم نے ان کے ساتھ کوئی سودا ہی نہیں کیا۔ہم نے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اس شرط کے ساتھ کہ صرف وہی ہمارے دوست نہیں ہوں گے اور بھی ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ ہم نے کوئی الحاق تو نہیں کیا تھا ۔ہم نے تو دوسری پارٹیوں کے بعض امیدواروں کو بھی ووٹ دیئے تھے اب ان کی مرضی ہے کہ وہ دوستی کے حق کو نباہیں یا نہ نباہیں ۔ہمیں تعلیم دینے والے نے یہ فرمایا ہے کہ تم نے خود دوستی نہیں توڑنی لیکن ہمیں خدا نے یہ اختیار تو نہیں دیا کہ دوسروں کو مجبور کریں کہ ضرور دوستی قائم رکھی جائے۔دوستی کاتعلق ضرور ہے لیکن ہم ان کو خدا نہیں سمجھتے نہ داتا سمجھتے ہیں ۔ اَن داتا کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ دوست یہ یاد رکھیں پھر میں کہتا ہوں کہ یاد رکھیں ہمارے لئے ایک ہی دروازہ ہے جس کی دہلیز پر ہم کھڑے ہیںوہ اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہے ۔ خدا کی رحمت کے دروازے کے مقابلہ میں ان دروازوں کی حیثیت ہی کیا ہے اور ہم نے ان کی طرف منہ کیوں کرنا ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہمارا محافظ اور Saviour ہے تو وہ بڑا ہی نا لائق اور بیوقوف ہے،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی سے ہم نے دولت لینی ہے یا کسی سے ہم نے اثرو رسوخ حاصل کرنا ہے تواس سے زیادہ نا سمجھ اور کوئی نہیں ہم تو ایک ہی ہستی کے در پر جا پڑے ہیں اور اپنے اِس مقامِ عجز اور فروتنی پر خوش ہیں اور مطمئن ہیں اور راضی ہیں …
    بعض لوگوں نے (یہی جو پیپلز پارٹی میں ہمارا معاند اور مخالف گروپ ہے اس میں سے بعض نے )یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ہمارے بہت سر چڑھ گئے ہیں سفارشیں لے کر آ جاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی سفارشیں مانیں گے اس قسم کی باتیں سننے میں آئیں۔ اگر چہ ہم اس بات کا پیپلز پارٹی کو بحیثیت جماعت الزام نہیں دیتے کیونکہ اس قسم کی باتیں کرنے والا ان کی پارٹی کا چھوٹا سا حصہ ہے لیکن میں نے سوچا کہ اگر اس چھوٹے سے حصہ کی طرف سے بھی اس قسم کی آواز نکلتی ہے تو ان سے بالکل تعلق نہیں رکھنا چاہئے ۔چنانچہ میاں طاہر احمد صاحب بہت سارے کام کرتے تھے ان کو میں نے بلا کر مزاحاََ کہا کہ اب آپ اپنے آپ کو Under House Arrestسمجھیںآپ نے باہر بالکل جانا ہی نہیں ۔ یہ (پیپلزپارٹی والے ) اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں کیا ہم ان کے محتاج ہیں ۔ہم اگر کسی کے محتاج ہیں تو خدائے قادر و توانا کے محتاج ہیں۔خدا کرے کہ ہماری یہ احتیاج ہمیشہ قائم رہے عمل کے لحاظ سے بھی اور اعتقاد کے لحاظ سے بھی اور ایمان کے لحاظ سے بھی ۔غرض وہی خدائے قادر و توانا ہے جو ہماری ہر ایک احتیاج کو پورا کرنے والا ہے۔دنیا نے ہماری ضرورتوں کو کیا پورا کرنا ہے اور ہم نے ان سے کیا مانگنا ہے۔غرض میاں طاہر احمد صاحب کو میں نے روک دیا کہ آپ باہر جائیں ہی نہ۔ہمیں ضرورت ہی کوئی نہیں تا ہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے پندرہ بیس فیصد لوگ اس قسم کی باتیں کریں تو ہم نے پارٹی سے ناراض ہو جانا ہے۔ان پندرہ بیس فیصد لوگوں سے بھی اگر کہیں اتفاقاََ ملاقات ہو جائے تو کیا وہ حسنِ اخلاق جو اسلام نے ہمیں سکھائے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اخلاق کا ہماری زندگیوں میں دوبارہ احیاء فرمایا ہے۔وہ ہم چھوڑ دیں گے؟ نہیں ہر گز نہیں! ہم اسی طرح بشاشت اور مسکراتے چہروں کے ساتھ ان سے ملیں گے اور ان کی نالائقیوں کا ہم ان کے سامنے اظہار بھی نہیں کریںگے … ‘‘(۱)
    پھر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے موجودہ حالات پر منطبق ہونے والے قرآنِ کریم کے بعض احکامات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات بیان فرمائے اور ان کی روشنی میں جماعت ِ احمدیہ کی اہم ذمہ داریاں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کا صحیح طریق بیان فرمایا اور فرمایا کہ ہمیں اجتماعی زندگی میں فساد سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور فساد کرنے والوں کو قرآنِ کریم سخت انتباہ کرتا ہے البتہ خود حفاظتی میں تو گولی چلانا بھی جرم نہیں ہے۔حضور ؒ نے اس ضمن میں ۱۹۴۷ء کے پُر آشوب دور کا ذکر فرمایا، جب ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم تھا اور افراتفری پھیل گئی تھی۔ لیکن اس دور میں بھی احمدیوں نے دلیری سے حالات کا مقابلہ کیا تھا ۔پھر حضور ؒ نے حال میں ہی منظرِ عام پر آنے والی آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔
    ’’میں نے اپنے اس خطبہ میں جس میں مَیں نے آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ کیا ہے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنکہہ کر خود ہمارا نام مسلمان رکھا ہے اور پھر اسی آیہ کریمہ میں اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ میں نے تمہارا نام مسلمان کیوں رکھا ہے۔دوست اس آیت کو پیشِ نظر رکھیں اور اسے بار بار پڑھتے رہیں اور اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ ہمیں خدائے قادرو توانا نے مسلمان کا نام دیا ہے ۔جس آدمی کو خدا نے مسلمان کا نام دیا ہو اسے خدا کی مخلوق میں سے کوئی یا ساری مخلوق مل کر بھی غیر مسلم کیسے قرار دے سکتی ہے ۔البتہ اس قسم کے اعلان کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں اور نہ خود ہی اپنے اسلام کا ڈھنڈورا
    پیٹنے کا کوئی فائدہ ہے ۔ اسلام کا فائدہ تو تب ہے جب کہ انسان خدا کی نگاہ میں بھی مسلمان ہو کیونکہ اسلام کوئی شہد کی شیشی تو نہیں کہ اسے آپ گھر لے جائیں گے اور بوقتِ ضرورت استعمال کر لیں گے یا یہ کوئی ریشم کے نرم و نفیس کپڑے تو نہیں جسے آپ اپنی عورتوں کو پہنا دیں گے اور وہ ان سے خوشی اور فخر محسوس کریں گی۔اسلام تو ایک ایسی حقیقت ہے جس کی معرفت کا راز صرف اسی شخص پر کھلتا ہے جو خدا کا ہو کر خدا کی نگاہ میں حقیقی مسلمان ٹھہرتا ہے۔ خدائی ٹھیکیداروں کی طرف سے کسی کو مسلمان بنانے یا نہ بنانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا…
    پس یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں سراسر بے ہودہ ہیں ان سے ڈرنے کی قطعاََ ضرورت نہیں لیکن ہم نے تدبیر ضرور کرنی ہے اور وہ ہم انشاء اللہ کریں گے۔‘‘ (۲)
    جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اس بات کے آ ثار واضح نظر آ رہے تھے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک گہرا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک جماعتی عہدیداران میں سے ایک بڑی تعداد کو بھی اس کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔لیکن اب یہ ضروری تھا کہ کم از کم جماعت احمدیہ کے ذمہ دار افراد کو اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے ۔اس تمہید کے بعد حضورؒ نے نمائندگانِ مجلسِ مشاورت کو آگاہ فرمایا کہ اب جماعت ِ احمدیہ کے خلاف تین خطرناک منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں۔ اور ان منصوبوں سے محفوظ رہنے کی حکیمانہ نصائح سے نوازا۔حضور ؒ نے فرمایا کہ پہلا منصوبہ،جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دو مبارک رؤیا میں دی تھی ،وہ دو سیاسی جماعتوں نے مل کر بنایا ہے۔اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں امامِ جماعت اور بہت سے افرادِ جماعت کو قتل کر دیا جائے ۔حضور ؒ نے فرمایا کہ رؤیا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس منصوبے کو ناکام کر دے گا اور انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گااور فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ ہمیں کامیابی کی بہت بشارتیں دی گئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریاں بھول جائیں ۔ہم نے جو تدبیر کرنی ہے اور بیداری کا نمونہ دکھانا ہے اور اپنے مخالف اور معاند کے سامنے یک جہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے اور اس دنیا سے استغناء کے جو مظاہرے دنیا کو دکھانے ہیں وہ آسمان سے فرشتوں نے آکر نہیں دکھانے یہ تو ہمارا کام ہے کہ ہم حالات کامقابلہ کرنے کے لئے کما حقہ تدبیر کریں۔ بیداری اور چوکسی ،اتحاد اور اتفاق کا ایسا شاندار مظاہرہ کریں کہ ہمارے مخالفین کو ہمارے خلاف کچھ کہنے یا کرنے کی جرأت نہ ہو۔‘‘(۳)
    حضور ؒ نے دوسرے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
    ’’دوسرا منصوبہ بھی نہایت ہی خبیثانہ منصوبہ ہے۔اس کے متعلق بھی دیر سے خبریں مل رہی تھیں ۔جن لوگوں نے اس قسم کا منصوبہ بنایا ہے انہوں نے دراصل احبابِ جماعت کو پہچانا نہیں کہ وہ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔اس منصوبہ کے دو حصے ہیں۔ایک یہ ہے کہ دنیوی عزت و وجاہت یا شان و شوکت یا مال و زر کے بل بوتے پر وہ احبابِ جماعت کے سروں کو اپنے سامنے جھکا دیں اور بزعمِ خود جماعت کو اتنا تنگ کریں کہ دوست ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔ایسے لوگ جو اس قسم کے منصوبے بناتے ہیں کتنے نالائق اور بیوقوف ہیں۔وہ سمجھتے نہیں کہ ہم تو صرف ایک آستانہ پر جھکتے ہیں۔وہ دیکھتے نہیں کہ ایک ہی در ہے جس پر ہمارا سر جھکتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا در ہے …
    یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں ۔جماعت ِ احمدیہ اور اس کے افراد انہیں کیا وقعت دیتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے نا م پر باہر سے پیسے کھا کر وہ ہم پر رعب جماتے ہیں کہ وہ یہ کر دیں گے وہ کردیں گے۔‘‘(۴)
    حضور ؒ نے مخالفین کے تیسرے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
    ’’تیسرا منصوبہ ربوہ میں منافقین کے ذریعہ ایک متوازی جماعت قائم کرنے سے متعلق ہے۔ خداتعالیٰ نے ایسا تصرف فرمایا کہ مجھ تک ان کی بات پہنچ گئی ۔ہمارے مخالفین کچھ منافقوں کو ساتھ ملا کر ربوہ میںہی ان کا مرکز بنا کر ایک متوازی جماعت قائم کر کے جماعت احمدیہ کو دو حصوں میں بانٹ دینا چاہتے ہیں تا کہ اس طرح جماعت ِ احمدیہ کی طاقت ٹوٹ جائے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں کہ منافق کا سر تو اس لئے بچا ہوا ہے کہ خدا کہتا ہے کہ نہیں ! میں اس کو سزا دوں گا۔تمہاری سزا سے زیادہ سخت سزا دوں گا ۔تم خدا کے مقابلہ پر منافق کی بھلا کیا حفاظت کر سکو گے۔
    منافقت آج کا روگ نہیں یہ تو بہت پرانا روگ ہے۔جماعت ِ احمدیہ بڑے بڑے مشکل مراحل سے گزری ہے اور ہر مرحلے پر بڑے بڑے منافقوں سے اس کا پالا پڑا ہے۔ حضرت مصلح موعود کی خلافت کی ابتداء میں جماعت ِ احمدیہ کو منافقوں کے سب سے بڑے فتنہ کا مقابلہ کرنا پڑا ۔وہ ایک ایسا فتنہ تھا کہ اس کے بعد کے فتنے اس کا عشرِعشیر بھی نہیں تھے۔ اس وقت منافقین نے یہ اعلان کیا تھا کہ جماعت کا ۹۵ فیصد حصہ ان کے ساتھ ہے اور صرف ۵ فیصد خلافت سے وابستہ ہے۔جماعت کے اندر نفاق کا اس سے بڑا منصوبہ اور کون سا ہوگا ۔مگر جماعت احمدیہ نے اپنے اولوالعزم امام کی راہنمائی میں اپنی تاریخ کے اس سب سے بڑے فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور منافقین کو اپنے اندر سے اس طرح نکال باہر کیا جس طرح دودھ میں اگر مکھی پڑ جائے تو لوگ اس کو نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں۔ چنانچہ جب کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے جماعت نے نفاق کے گند کو باہر نکال پھینک دیا اور ہم نے اپنے آپ کو عسلِ مصفّٰی کی طرح پاک و صاف پایا۔
    پس اگر اب بھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ منافقوں کو شہ دے کر یا ان کو چند لاکھ روپے دے کر ، جماعتِ احمدیہ کے مقابلہ میں ایک نئی تنظیم کھڑی کر کے اور ان کو بعض عمارتوں پر قبضہ دلا کر جماعت ِ احمدیہ کو ناکام بنا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔عمارتیں کیا چیز ہوتی ہیں۔ پتھر کے بنے ہوئے مکانوں کی حیثیت کیا ہے ان سے بڑھ کر خوبصورت اور پختہ مکانوں کو تو ہم تقسیمِ ملک کے وقت قادیان میں چھوڑ آئے ہوئے تھے۔‘‘(۵)
    حضور نے اس ہنگامی مجلسِ مشاورت میں مخالفین کے یہ تین منصوبے بیان کرنے کے بعد فرمایا:
    ’’غرض مخالفین اور معاندین نے ان دنوں ہمارے خلاف جو منصوبے بنائے ہیں ان کے متعلق میں نے احباب کو مختصراََ بتا دیا ہے تا کہ وہ باخبر رہیں اور حسنِ عمل پر زور دیں ۔تا ہم اپنے اعمالِ صالح پر فخر بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جو ظاہر میں عملِ صالح سمجھا جاتا ہے انسانی آنکھ بعض دفعہ اس کے اندر کے کیڑے کو نہیں دیکھ سکتی ۔چنانچہ ایسا عمل انجام کار ر د کر دیا جاتا ہے ۔وہ عند اللہ قبول نہیں ہوتا ۔ہمیں تو صرف ایک چیز کا پتہ ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے الفاظ میں بتانے کے لائق ہے ۔آپ فرماتے ہیں :۔ ع
    لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول
    میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار
    پھر حضور ؒ نے فرمایا :
    ’’ احباب یاد رکھیں کہ جہاں تک دشمن کا تعلق ہے دشمن کو کبھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے ۔اس واسطے دشمن کو چونکہ کبھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے ہمیں لا پرواہ نہیں ہونا چاہئے لیکن جہاں تک ہمارے انجام کا تعلق ہے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ہم لا پرواہ تو نہیں ہوں گے ۔ہم قربانیاں تو دیں گے اور دیتے چلے جائیں گے ۔کام تو ہم کریں گے اور اپنی تدبیر کو انتہاء تک پہنچائیں گے ۔ اپنے عمل کو حسن و احسان سے مزین کر کے خدا کے حضور پیش کریں گے اور خدا سے یہ کہیں گے۔اے خدا ! تو اسے اپنے فضل سے قبول فرما لیکن اپنے اوپر فخر نہیں کریں گے ۔‘‘ (۶)
    اس خطاب کے بعد حضور نے لمبی پُر سوز دعا کر وائی جس کے بعد مجلسِ مشاورت کا یہ غیر معمولی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
    جہاں تک جماعت ِ احمدیہ کا تعلق ہے وہ پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لئے کوشاں تھی اور ان کا امام انہیں آئندہ پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر رہا تھا اور وہ اپنے رب کے حضور دعا ؤں میں مشغول تھا اور مخالفینِ جماعت پہلے سے بھی زیادہ زہریلا وار کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
    (۱) رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت احمدیہ مئی ۱۹۷۳ء ص۴۱ تا ۴۳۔
    (۲) رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت احمدیہ مئی ۱۹۷۳ء ص۱۰۸۔۱۰۹۔
    (۳) رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت احمدیہ مئی ۱۹۷۳ء ص۱۱۱تا۱۱۲۔
    (۴) رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت احمدیہ مئی ۱۹۷۳ء ص۱۱۶۔۱۱۷۔
    (۵) رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت احمدیہ مئی ۱۹۷۳ء ص۱۱۷۔۱۱۸۔
    (۶) رپورٹ ہنگامی مجلسِ مشاورت جماعت احمدیہ مئی ۱۹۷۳ء ص۱۲۳۔۱۲۵۔
    لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس
    ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ پر صد سالہ جوبلی کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے مسلمانوں کے تمام فرقوں کو اتحادِ عمل کی دعوت دی تھی اور فرمایا تھا کہ تمام فرقوں کو دنیا میں قرآنِ کریم اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لیے کام کرنا چاہئے۔اس سے قبل ۱۹؍اکتوبر ۱۹۷۳ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے عالمِ اسلام کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ
    ’’پس حکومتِ وقت یا دوسری اقوامِ عالم جن کا تعلق اسلام سے ہے ان کا یہ کام ہے (ہر فرد اگر اپنے طور پر اس قسم کے منصوبے بنائے تو فائدہ کی بجائے نقصان ہوا کرتا ہے) کہ وہ سر جوڑیں اور منصوبے بنائیں اور پھر ہر اسلامی ملک کی ذمہ داریوں کی تعیین کریں مثلاََ کہیں کہ فلاں ملک اس مہم اور مجاہدے میں یہ یہ خدمات اور قربانیاں پیش کرے یا اس قسم کا ایثار اور قربانی سامنے آنی چاہئے۔جب سارے اسلامی ممالک کسی منصوبے کے ماتحت اسلام کے دشمن کو جو اپنے ہزار اختلافات کے با وجوداکٹھا ہو گیا ہے اس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ایک جد و جہد ،ایک عظیم جہاد اور مجاہدے کا اعلان کریں گے پھر دیکھیں گے کہ کون اس میدان میں آگے نکلتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور ایک ہزار کی نسبت سے آگے نکل جائیں گے بلکہ ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ آگے نکلنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (خطبات ِ ناصر جلد پنجم ص۲۶۲)
    اورا سی خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا تھا، پاکستان کی حکومت ملک کی خاطر جو بھی قربانی مانگے گی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی سب سے بڑھ کر قربانیاں پیش کریں گے۔اس پس منظر میں جب کہ جماعت ِ احمدیہ کے خلاف نفرت کی ایک مہم چلائی جا رہی تھی ،حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒپوری دنیا کے مسلمانوں کو محبت کا پیغام دے رہے تھے،مشترکہ طور پر اسلام کی خاطر قربانیاں کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔
    فروری۱۹۷۴ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہورہی تھی۔اور مسلمان ممالک کے سربراہان نے اس کانفرنس میں شرکت کرنی تھی ۔اس کانفرنس سے بہت سی توقعات وابستہ کی جارہی تھیں کہ اس میں عالمِ اسلام کے اتحاد اور ترقی کے لیے منصوبے بنائے جائیں گے،فیصلے کئے جائیں گے۔مگر یہ کانفرنس ایک خاص پس منظر میں ہو رہی تھی۔
    بھٹو صاحب ایک ذہین سیاستدان تھے ،ان کی خواہش تھی کہ انہیں بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل ہو۔وہ صرف عزائم ہی نہیں صلاحیتیں بھی رکھتے تھے۔وہ تیسری دنیا کا لیڈر بننے کی کوشش بھی کرتے رہے۔مگر اس منظر پر پہلے پنڈت جواہر لال نہرو اور پھر ان کی صاحبزادی اور بھارت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کی قد آور شخصیتیں حاوی تھیں۔بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوانے کا ایک راستہ یہ تھا کہ وہ عالمِ اسلام کے ایک لیڈر کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔اس سلسلے میں انہیں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل کی پوری حمایت حاصل تھی۔ان کا مشترکہ خواب یہ تھا کہ بھٹو صاحب اسلامی دنیا کے سیاسی لیڈر اور سعودی عرب کے بادشاہ عالمِ اسلام کے روحانی لیڈر اور خلیفہ کے طور پر سامنے آئیں۔شروع میں تو شاہ فیصل کو عالمِ اسلام میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں تھا۔ مگر ان کے پاس دولت کی ریل پیل تھی اور سعودی عرب کے فرمانروا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے متولّی بھی تھے اور ہر مسلمان کا دل ان مقدس مقامات کی محبت سے لبریز تھا۔مغربی طاقتوں کا مفاد بھی اس میں تھا کہ کسی طرح شاہ فیصل کو دنیا ئے اسلام کا روحانی پیشوا بنا دیا جائے تاکہ اس طرح مشرقِ وسطیٰ میں مغرب کے مفادات محفوظ کر دیئے جائیں۔اور یہ سب کچھ اس طرح دبے پاؤںکیا جائے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو اس کی خبر بھی نہ ہو ۔یعنی اعلانات تو سعودی عرب کے لاؤڈ سپیکروں سے کئے جا رہے ہوں اور ان کا مائیکروفون مغرب کے ہاتھ میں ہو ۔ یہ بات پڑھنے والوں کے لئے کسی اچھنبے کا باعث نہیں ہونی چاہئے۔بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے لئے اس قسم کے کھیل کھیلتی رہتی ہیںاور یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کے لئے اس قسم کا کھیل شروع کریں۔پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکومت نے اسی طرح کی کوشش کی تھی۔پہلی جنگِ عظیم کے دوران ترکی کی سلطنت ِ عثمانیہ جرمنی کا ساتھ دے رہی تھی اور ہندوستان کے بہت سے مسلمان ترکی کی خلافتِ عثمانیہ سے ہمدردی رکھتے تھے۔یہ چیز انگریز حکمرانوں کو پریشان کر رہی تھی۔چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ایک ایسے شخص کو بطور خلیفہ کے لئے کھڑاکیا جائے جو سلطنت ِ برطانیہ کے ساتھ تعلق اور ہمدردی رکھتا ہو تو یہ ان کے لئے بہت مفید ہوگا۔اس کے لئے انہیں یہ خیال آیا کہ جو حکمران اس وقت حجاز پر حکومت کر رہا ہے اور ان کے ہاتھ میں بھی ہے اسے اس کام کے لئے کھڑا کیا جائے۔اس وقت حجاز پر شریفِ مکہ شریف حسین کی حکومت تھی اور اس وقت ان کے انگریز حکومت سے قریبی تعلقات بھی تھے اور چونکہ حجاز میں مکہ اور مدینہ واقع ہیں اس لئے حجاز سے وابستہ ہر چیز کے لئے ان کے دل میں ایک نر م گوشہ پیدا ہونا قدرتی بات تھی۔ چنانچہ انڈیاآفس کے ایک افسر کریو Crewe نے۱۳ ؍اپریل ۱۹۱۵ء کو حکامِ بالا کو جو رپورٹ بھجوائی اس میں لکھا :۔
    ’’… میں نہیں سمجھتا کہ استنبول پر قبضہ ہو جانے کے بعد شریفِ مکہ حسین سے متعلق ہماری پالیسی کی وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی ہو گی۔ہمیں چاہئے کہ ہم اسے ترکی کی غلامی سے نجات دینے کے لئے ہمارے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں۔لیکن اس سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ ہم اسے مقامِ خلافت پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں آج کل پان اسلام ازم کی جو تحریک چلی ہوئی ہے اس کا منبع اور مرکز استنبول ہے۔یہاں کے اسلام پسند عناصر اس بات کو قطعی پسند نہیں کریں گے کہ خلافت عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔لیکن شریف ِ مکہ یا کوئی اور عرب سنی لیڈر اپنے آپ کو عثمانیوں سے آزاد کر کے خلافت جیسے متبرک عنوان کو حاصل کر لے تو مسلمان رائے عامہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی ان کا ساتھ دینے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہ جائے گا …
    لیکن اس کے با وجود میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ مسئلہ خلافت کی بنا پر مسلمانوں میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔درحقیقت دیکھا جائے تو اس پھوٹ میں ہمارا سراسر فائدہ ہی ہے۔‘‘
    (بحوالہ تحریک ِ خلافت تحریر ڈاکٹر میم کمال او کے ،باسفورس یونیورسٹی استنبول،ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔
    سنگ ِ میل پبلیکیشنز لاہور۱۹۹۱ئ۔ص۶۲و ۶۳)
    جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا جب شریف حسین نے سلطنتِ عثمانیہ سے بغاوت کی تو ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کے خلاف شدید ردِّ عمل ظاہر کیا۔اس وقت حجاز پر شریف مکہ کی اور نجد کے علاقہ پر سعودی خاندان کی حکومت تھی۔جب شریف مکہ نے یہودیوں کے فلسطین میں آباد ہونے کے خلاف ردِّ عمل دکھایا تو برطانوی حکومت نے اس سے اپنی حمایت کا ہاتھ کھینچ لیا اور سعودی خاندان نے حجاز پر بھی قبضہ کر لیا۔
    ایک عرصہ سے تو جماعت احمدیہ کے مخالف علماء اپنے گلے پھاڑ پھاڑ کر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ جماعت ِ احمدیہ کو اورجماعت ِ احمدیہ کی خلافت کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لئے کھڑا کیا تھا۔ لیکن یہ انکشافات تو خود غیر احمدی مسلمانوں میں سے محققین نے کیے ہیں کہ اصل میں تو مغربی قوتوں کا یہ ارادہ تھا کہ سنی عرب لیڈروں میں سے کسی کو جو اُن کے ہاتھ میں ہو عالمِ اسلام کا خلیفہ بنا کر اپنے مقاصد پورے کئے جائیں۔
    عالمِ اسلام میں ایک وقت میں دو خلفاء تو نہیں ہو سکتے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ِ احمدیہ میں تو خلافت قائم تھی ۔اور یہ بات اس گروہ کو کسی طرح بھی برداشت نہ تھی جو شاہ فیصل کو عالمِ اسلام کا خلیفہ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔اس کے علاوہ یہ مسئلہ بھی تھا کہ مختلف ممالک میں مختلف فقہی گروہوں کی پیروی کرنے والے مسلمان اکثریت میں تھے۔سعودی عرب کے بادشاہ وہابی تھے جبکہ انڈونیشیا کے اکثر مسلمان شافعی ،افریقہ کے اکثر مسلمان مالکی اور کئی دوسرے مسلمان ممالک میں حنفی مسلمانوں کی اکثریت تھی۔اس لئے اس بات کا امکان تھا کہ دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء سعودی حکمرانوں سے رشوت لیتے ہوئے اور ان کی قیادت قبول کرتے ہوئے ہچکچائیں۔ لیکن اگر یہ مدد مدارس اور مساجد کے نام پر دی جاتی تو ظاہر تھا کہ کم ردِّ عمل ہوتا اور اگر اس امداد کو جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا تو دوسرے مسلک کے علماء کو یہ پیشکش قبول کرنے میں کوئی عذر نہ ہوتا،کیونکہ وہ تو پہلے ہی جماعت کی مخالفت پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔اس طریق پر دنیا بھر کے مسلمان سعودی اثر کے نیچے آ جاتے اور کوئی خاص ردِّ عمل بھی پیدا نہ ہوتا۔
    اب جب کہ لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کا آ غاز قریب آرہا تھا اور یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ اس کانفرنس کے موقع پر جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ایک با قاعدہ مہم کا آ غاز ہونے والا ہے۔اس ضمن میں جماعت کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے وزیرِ خارجہ پاکستان عزیز احمد صاحب کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔لیکن وزیرِ خارجہ نے اس سے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ ہر گز اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اس موقع کو جماعت احمدیہ کے خلاف مہم چلانے کے لیے استعمال کیا جائے بلکہ اس موقع پرمذہبی پروپیگنڈا پر سختی سے پابندی ہو گی اوراس نازک موقع پر کوئی سیاسی شوشہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔پھر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہراحمد صاحب کی بھٹو صاحب سے ملاقات ہوئی ،انہوں نے بھٹو صاحب کے سامنے بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔اس پر بھٹو صاحب نے بھی یقین دلایا کہ جماعت ِ احمدیہ کے خلاف کسی قسم کا پروپیگنڈا نہیں کیا جائے گا۔لیکن اس بات کے شواہد بھی سامنے آ رہے تھے کہ یہ سب زبانی جمع خرچ کی جا رہی ہے۔ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ رہے تھے اور وہ پمفلٹ بھی مل چکے تھے جنہیں جماعت ِ اسلامی نے چھپوایا تھا اور انہیں اس موقع پر مندوبین میں وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کا پروگرام تھا۔
    اور ان ارادوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کے لیے کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی جا رہی تھی۔ جماعت کے مخالف جرائد بھی شاہ فیصل کو عالمِ اسلام کا خلیفہ بنانے کا پروپیگنڈا کر رہے تھے۔اور اس کے ساتھ جماعت ِ احمدیہ کے خلاف زہر بھی اگلا جا رہا تھا۔مثلاََ رسالہ چٹان میں کانفرنس کے بعد یہ اطلاع شائع ہوئی کہ شاہ فیصل نے افریقہ میں تبلیغِ اسلام کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیئے ہیں اور ان کی کاوشوں کے نتیجے میں عیسائی مشنری اور قادیانی مراکز میں شگاف پڑنے لگے ہیں۔اور یہ بھی لکھا گیا کہ افریقہ کے صحراؤں میں توحید کی جو صدائیں گونج رہی ہیں اور اس ظلمت کدے میں قرآن و سنت کی جو روشنی پھیل رہی ہے اس کا سہرا دراصل شاہ فیصل کے سر پر ہے۔اور اگر شاہ فیصل کی کوششوں کی یہی رفتار رہی تو آئندہ دس سال میں افریقہ اسلام کا گہوارہ بن جائے گا۔اور اس ساری مدح سرائی کا ما حصل یہ تھا کہ اس کے آخر میں لکھا گیا
    ’’یوگینڈا کے مردِ آہن عیدی امین مبارکباد کے مستحق ہیں۔جو لاہورمیں منعقد ہونے والی اسلامی ملکوں کی سربراہ کانفرنس میں یہ تجویز پیش کرنے والے ہیںکہ شاہ فیصل کو عالمِ اسلام کا لیڈر تسلیم کیاجائے۔ ہمیں امید ہے کہ تمام مسلم راہنما اس تجویز کی حمایت کریں گے اور شاہ فیصل کو متفقہ طور پر اسلامی دنیا کا راہنما تسلیم کر کے اتحاد ِ اسلامی کی داغ بیل ڈالیں گے۔
    ہم اس موقع پر پاکستان کے مختلف مکاتب ِ فکر کے علماء کرام کی خدمت میں یہ اپیل کرتے ہیںکہ وہ تمام فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیں جو اسلامی کانفرنس کے موقعہ پر مسلم سربراہوں خصوصاََ شاہ فیصل ،معمر القذافی اور عیدی امین سے ملاقات کر کے قادیانیوں کے بارے میں یا دداشت پیش کریں ۔اور انہیں بتائیں کہ قادیانیت اسلام اور مسلمانوں کے لئے صیہونیت سے کم خطرناک نہیں ہے۔اور اس کے سَدّ ِ باب کے لئے تمام اسلامی ملکوں کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔‘‘
    غانا سے موصول ہونے والی اس تحریر کے نیچے چٹان کے مدیر نے لکھا:۔
    ’’اسلامی کانفرنس کے بعد خط ملا ،لیکن شاہ فیصل کو عالمِ اسلام کا لیڈر بنانے کی تحریک سے چٹان متفق ہے بلکہ بہت پہلے سے اس کا داعی ہے۔‘‘ (چٹان ۴؍ مارچ ۱۹۷۴ء ص۱۴ و ۱۵)
    نہ صرف یہ بلکہ ایسے اشتہارات جرائد میں شائع کروائے جا رہے تھے جن میں شاہ فیصل کو قائدملّت ِ اسلامیہ کا خطاب دیا گیا تھا۔ (چٹان ۲۵ ؍فروری ۱۹۷۴ئ)
    یہ پراپیگنڈا کچھ اس انداز سے کیا جا رہا تھا کہ خلفاء ِ راشدین کی عظمت کا بھی کچھ دھیان نہیں کیا جارہا تھا۔اسی جریدے نے شاہ فیصل اور دیگر سربراہانِ مملکت کی لاہور آمد کی منظر کشی پر جو رپورٹ شائع کی اس میں کچھ اس طرز میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے کہ اس رپورٹ کی ایک سرخی یہ تھی
    ’’ابو بکرؓ،عمرؓ، عثمان ؓ اور علی ؓ اسی طرح سیکیورٹی کا انتظام کر لیتے تو آج تاریخ یقیناََ مختلف ہوتی۔‘‘
    اور اس کے ساتھ شاہ فیصل کی تصویر شائع کی ہوئی تھی اور نیچے یہ سرخی تھی۔
    ’’شاہ فیصل کے آتے ہی ساری فضا احترام کے سانچے میں ڈھل گئی‘ ‘
    گویا یہ کہا جا رہا تھا کہ جس عمدہ طریق پر بھٹو صاحب اور ان کی ٹیم نے سیکیورٹی کا انتظام کیا ہے نعوذ ُ باللہ ایسے عمدہ طریق پر انتظامات کرنے کی توفیق تو خلفاء راشدین کو بھی نہیں ہوئی تھی۔لیکن جس طرح چند سال بعد بھٹو صاحب کا تختہ الٹا گیا اس سے اس کی حقیقت خوب ظاہر ہو جاتی ہے اور اسی رپورٹ میں چٹان نے لکھا کہ جب شاہ فیصل ایئر پورٹ پر اترے تو ان کی آمد نے ایئر پورٹ کی فضا کو ایک عجیب تقدس دے دیا تھا۔اور ان کی چال میں ایک وقار اور تمکنت تھی اور چہرے پرنور کا ایک ہالہ بھی تھا۔ (چٹان ۱۱؍ مارچ ۱۹۷۴ء ص۱۵و۱۶)
    اس مدح سرائی کا مقصد کیا تھا اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اس کانفرنس کا سپانسر تو تھا ہی کیونکہ یہ کانفرنس پاکستان میں ہی ہو رہی تھی لیکن اس کے ساتھ سعودی بادشاہ شاہ فیصل بھی اس کانفرنس کےCo-sponsor تھے۔
    کانفرنس شروع ہوئی تو تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔بھٹو صاحب نے ہدایت دی کہ جب بیرونی ممالک کے سربراہان اور مندوبین آئیں تو ان کے ساتھ کسی احمدی فوجی افسر کی ڈیوٹی نہ لگائی جائے۔لیکن راز زیادہ دیر تک راز نہ رہ سکا ۔افریقہ سے آئے ہوئے ایک وزیرِ اعظم کو جب جماعت کے خلاف دستاویزات دی گئیں تو انہوں نے یہ پلندہ اپنے ایک احمدی دوست کو تھمادیا۔یہ دستاویزات کیا تھیں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف جھوٹے الزامات اور زہر افشانیوں کاایک طومار تھا۔اس میں جماعت اور خلیفہ وقت کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا گیا تھا۔
    (A Man of God, by Ian Adamson, George Shepherd Publishers, Great Britian P. 96-100)
    مخالفین اس موقع کو جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ شور مچا رہے تھے کہ حکومت کو چاہئے کہ ایسا انتظام کرے کہ قادیانی اس کانفرنس پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔بلکہ اس بات پر شور بھی مچا رہے تھے کہ یہ کیا ظلم ہوا کہ ایک قادیانی فرم کو اس کانفرنس کی میزبانی کا ٹھیکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا بھی اظہار کیا کہ یہ بات ربّ العالمین کے حضور معتوب ہونے کی نشانی ہے۔اس فرم سے مراد ان کی شیزان کی کمپنی تھی۔
    (المنبر یکم فروری ۱۹۷۴ء ص۶)
    بہر حال سربراہی کانفرنس شروع ہوئی اور اس کا اختتام ہوا ۔پسِ پردہ اس میں کیا کیا کچھ ہوا تھا۔ اس کا اندازہ بعد میں منظرِ عام پر آنے والے واقعات سے بخوبی ہوجاتا ہے۔
    لیکن اس کانفرنس کے دوران اور بعد میں بھی بہت سے جرائد جس قسم کا پراپیگنڈا کرتے دکھائی دیئے اس کا اندازہ ان چند مثالوں سے ہو جاتا ہے۔رسالہ المنبر نے شاہ فیصل کی مدح سرائی کرتے ہوئے لکھا۔
    ’’سعودی عرب کے فرمانروا ۔خادم الحرمین شاہ فیصل ہیں۔موقع تفصیل کا نہیں، فیصلِ معظم کی صحرائی زندگی،اس دور میں اپنے عظیم المرتبت مجاہد فی سبیل اللہ ،توحیدِ الٰہی میں قابلِ رشک مقام پر فائز اور دینی بصیرت میں ممتاز شخصیت،سلطان عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمۃََ واسعۃََ کی تربیت اور جہاد اور اس کے تقاضوں کی تکمیل سے لے کر شاہ فیصل کے لقب سے ملقب ہونے اور اس کے بعد … اس عظیم فرمانروا نے خداداد بصیرت دینی حمیت، سیاسی دانش، اسلامی اخوت اور ایثار اور قربانی کے جو نقوش عہد ِ حاضر میں ثبت فرمائے ہیں اور ان سے ان کی شخصیت کا جو نکھار اپنوں و بیگانوں نے مشاہدہ کیا ہے،اسی کا نتیجہ ہے کہ یورپ اور پورا مغرب اس عظیم المرتبت قائد کے تیوروں سے سہما ہوا ہے اور عالمِ اسلام ان کی شخصیت پر اظہار ِ فخرو مباہات کر رہا ہے۔‘‘
    اور اس کے ساتھ ہی اس جریدہ نے یہ بھی لکھا کہ حکومت کو یہ انتظام کرنا چاہئے کہ قادیانیوں کا سایہ بھی اس کانفرنس پر نہ پڑے۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ خود جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین اس موقع کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔یہ ہمیشہ سے اس گروہ کا طریق رہا ہے کہ جب خود کوئی حرکت کرنی ہو تو یہ شور مچا دیتے ہیں کہ قادیانی یہ سازش کر رہے ہیں۔ (المنبر یکم تا ۸؍ فروری ۱۹۷۴ئ)
    اسی جریدہ نے کانفرنس کے بعد اس بات پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا کہ جب شاہ فیصل شاہی مسجد میں نماز ِ جمعہ پڑھنے آئے تھے تو انہوں نے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد نماز ادا کی تھی اور اس کے بعد جب انہوں نے طویل اور رقت سے بھری ہوئی دعاکی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور انہوں نے ان آنسوؤں کو پونچھا تھا۔اور لاکھوں لوگوں نے اس منظر کو ٹی وی پر دیکھا تھا اور اس سے ان پر بہت اثر ہوا تھا ۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جب دوبارہ یہ مناظر ٹی وی پر دکھائے گئے تو رقت پیدا ہونے والا اور آنسو پونچھنے والا منظر کاٹ دیا گیاجس پر سب کو بہت صدمہ ہوا۔اور اس جریدہ نے بہت اصرار سے لکھا کہ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت کیا گیا ہے تا کہ اسلامی ذوق ابھر نہ سکے۔
    (المنبر۱ تا ۸؍ مارچ ۱۹۷۴ئ)
    پھر اسی جریدے نے اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر لکھا کہ پہلے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ شاہ فیصل کانفرنس کے موقع پر شاہی مسجد لاہور میں جمعہ پڑھائیں لیکن پھر ایک طبقہ کی طرف سے یہ مسئلہ اُٹھایا گیا کہ چونکہ شاہ فیصل وہابی عقیدہ کے ہیں اس لئے ان کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی۔پھر اس مسئلہ پر مختلف لوگوں کی طرف سے تاریں دی گئیں ۔جب یہ چیز شاہ فیصل کے علم میں آئی تو انہوں نے جمعہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔پھر اس جریدے نے احمدیوں کے خلاف یہ لکھ کر زہر اگلا کہ یہ سب کچھ احمدیوں اور کمیونسٹوں کی سازش کی وجہ سے ہوا ہے۔ (المنبر ۲۹ ؍ مارچ ۱۹۷۴ئ)
    یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑتے۔اگر شاہ فیصل اس وجہ سے شاہی مسجد میں نماز نہیں پڑھا سکے تو اس سے احمدیوں کا کیا تعلق۔انہیں توکوئی شاہی مسجد میں نماز پڑھنے بھی نہیں دیتا کجا یہ کہ وہ کسی بادشاہ کو وہاں پر نماز پڑھانے سے روکیں۔
    یہ تلملاہٹ صرف اس بات تک محدود نہیں تھی کہ شاہ فیصل شاہی مسجد لاہور میںنماز ِ جمعہ نہیں پڑھا سکے بلکہ یہ بھی لکھا جا رہا تھا کہ یوگینڈا کے عیدی صدر امین نے اپنے اعلان کے مطابق اس کانفرنس پر شاہ فیصل کو عالمِ اسلام کا خلیفہ بنانے کی تجویز رکھی تھی لیکن اس پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی جیسا کہ المنبر نے لکھا۔
    ’’پچھلے سال سے یہ صدا سنائی دے رہی تھی کہ افریقہ کے مرد ِ مجاہد جنرل عیدی امین حفظہ اللہ نے حج کے موقع پر ایک اخباری ملاقات میں یہ کہا تھا کہ عالمِ اسلام اپنے مسائل کا اگر کوئی حل چاہتا ہے تواس کا آغاز اس بات سے ہوگا کہ عالمِ اسلام اپنا کوئی راہنما منتخب کرے اور پوری اسلامی دنیا کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہو اور اس کام کے اہل میری نظروں میں امام الحرمین ،خادم الحرمین پاسبانِ حرمین والیِ مملکت ِ سعودی عرب جلالۃ الملک فیصلِ معظم بن عبدالعزیز آلِ سعود ایدہ اللہ و حفظہ کی شخصیت ہے کیونکہ ان کی مومنانہ بصیرت اور عمیق نظر پوری دنیا کے مسائل پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور پھر جنرل عیدی امین نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ پاکستان میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا جانا چاہئے اور یہ کہ میں اس کانفرنس میں مسلم علمائے دین کے سامنے یہ تجویز رکھوں گا۔ اس کے بعد انہوںنے کئی مرتبہ مختلف مواقع پر اس بات کا اظہار بھی کیا اور پھر اس کانفرنس میں اور بہتر اور مفید تجاویز کے علاوہ اسے بھی پیش کیا گیا مگر ہمیں حیرت اور دکھ ہے کہ ان کی اس معقول بات پر کسی کو توجہ دینے کی توفیق نصیب نہ ہوئی اور یہ ممکن بھی کیسے تھا کہ جس کانفرنس پر یہودیوں،کمیونسٹوں اور قادیانیوں کا سایہ اوّل تا آخر ہو کوئی ایسی بات کیونکر عمل کا قالب اختیار کر سکتی ہے جو اسلامیانِ عالم کی بھلائی کی ہو۔‘‘
    ( المنبر ۲۹ ؍ مارچ ۱۹۷۴ء صفحہ آخر)
    اس رطب و یابس سے ظاہر ہے کہ جو بھی ہاتھ شاہ فیصل کو عالمِ اسلام کا خلیفہ بنانے کے لئے زور لگا رہے تھے انہیں ابھی اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی۔اور وہ اس مقصد کے لئے ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے جماعت ِ احمدیہ کے خلاف لوگوں کے ذہن میں زہر گھول رہے تھے تاکہ اس نفرت کو آڑ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔اور لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اگر عالم ِ اسلام ایک خلیفہ کے ہاتھ پر جمع نہیں ہو پا رہا تو یقیناََ یہ قادیانیوں کی سازش ہے۔یہ ایک دوجریدوں سے چند مثالیں دی گئی ہیں ۔جن کو پڑھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس سازش کا رخ کس طرف تھا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔
    ہم نے اس اہم مرحلہ کے بارے میں دوسری طرف کا نقطہ نظر معلوم کرنے کی کوشش بھی کی۔ چنانچہ جب اس امر کا ذکر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے انٹرویو کے دوران کیا اور ان سے سوال پوچھا کہ یہ کس طرح ہوا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر جماعت ِ احمدیہ کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ عزیز احمد یا ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے یہ جان کر کیا گیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ اسے روک نہیں سکتے تھے۔چونکہ بھٹو صاحب پاکستان کی تاریخ کے ایک مضبوط وزیراعظم سمجھے جاتے ہیں اس لئے ہمارے لئے یہ بات تعجب انگیز تھی۔ چنانچہ ہم نے پھر ان سے یہ سوال کیا
    ‏They were helpless?(وہ مجبور تھے؟)۔
    اس پر مبشر حسن صاحب نے پھر واضح طور پر کہا
    ‏Yes, They were helpless.(ہاں وہ مجبور تھے)۔
    اس پر میں نے دریافت کیا کہ وہ کون سے ہاتھ تھے؟اس پر ان کا جواب تھا
    ’’وہ خفیہ ہاتھ جن کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔گورنمنٹ کو پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘
    اور پھر انہوں نے اس بات کا اعادہ ان الفاظ میں کیا
    ‏P.M. knew he was helpless(وزیر ِ اعظم کو پتہ تھا کہ وہ مجبور ہے)۔
    اس کے بعد مبشر حسن صاحب نے کہاکہ انہوں نے اگست۱۹۷۴ء میں وزیر ِ اعظم بھٹو صاحب کو خط لکھا تھا جس میں ملک میں موجود مختلف حالات کا ذکر کر کے کہا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں نکلے گا۔بھٹو صاحب نے اس خط کا جواب نہیں دیا لیکن اس پر انہوں نے لکھا کہ جو کچھ مبشر نے کہا وہ سچ ہے اور پھر تین آدمیوں کو اس خط کی نقول بھجوا دیں۔
    ایک اور بات کا ذکر کرنا ہوگاکہ بنگلہ دیش کے علاوہ چھ نئے ممالک پہلی مرتبہ اس کانفرنس میں شامل تھے اور ان سب ممالک کا تعلق افریقہ سے تھا ۔اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ان چھ میں سے تین ممالک یوگینڈا،گیمبیا اور گنی بساؤ تھے۔بعد میں ان تین ممالک میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں حکومتوں نے انتہائی اقدامات اُ ٹھائے۔
    اس کانفرنس میںایک ہی غیر سرکاری تنظیم کا وفدشامل تھا اور یہ تنظیم رابطہ عالمِ اسلامی تھی۔اور اس کے سیکریٹری جنرل قزاز صاحب اس کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد اس تنظیم نے ایک کانفرنس مکہ مکرمہ میں منعقد کی اور اس میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ مسلمان ملکوں میں جماعت ِ احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دینا چاہئے۔اور ان پر پابندیاں لگا دینی چاہئیں۔اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیںجب آزاد کشمیر اسمبلی نے جماعت احمدیہ کے خلاف قرارداد منظور کی تو قزاز صاحب نے بھٹوصاحب کو مبارکباد کا پیغام بھجوایا تھا اور لکھا تھا کہ یہ قرارداد اسلامی ممالک کے لئے قابلِ تقلید ہے۔
    اس کانفرنس پرکانفرنس کے سیکریٹری جنرل کے فرائض محمد حسن التہامی صاحب نے سنبھالے تھے۔ ان سے قبل یہ فرائض ملیشیا کے تنکو عبدالرحمن سرانجام دے رہے تھے۔اور جب ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعت ِ احمدیہ کے خلاف قرارداد منظور کی تو اس سے چند روز قبل یہ صاحب پاکستان پہنچ گئے تھے اور اس قرارداد کے بعد فوراََ ہی انہوں نے اس قرارداد کا خیر مقد م کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ اب باقی اسلامی ممالک کو بھی اس قرارداد کی پیروی کرنی چاہئے۔
    رابطہ عالمِ اسلامی میں تیار ہونے والی سازش
    1962ء میں حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی اور اس کا مرکزی دفتر بھی مکہ مکرمہ میں بنایا گیا ۔اس کے مقاصد یہ مقرر کئے گئے تھے ۔اسلام کا پیغام دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔ایک بہتر سوسائٹی کے قیام کے لیے کوششیں کی جائیں،مسلم اُمّہ میں تفرقہ دور کیا جائے۔ ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو عالم ِ اسلام کی ایک لیگ قائم کرنے میں حائل ہیں وغیرہ۔ لیکن عملاً اس تنظیم سے تفرقہ اور فساد پیدا کرنے کا کام لیا گیا۔یہ تنظیم سعودی فرمانرواؤں کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔۱۹۷۴ء میں اس تنظیم نے کیا کردار ادا کیا یہ پڑھنے سے قبل یہ حقائق جاننے ضروری ہیں کہ ۱۹۵۳ء میں بھی جماعت ِ احمدیہ کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکائی گئی تھی اور ان فسادات کے بعد ہونے والی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ کے مطابق یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت اور بھاری رشوتیں دے کر کرایا گیا تھا۔اس دور میں بھی یہ کوشش کی گئی تھی کہ پہلے رابطہ عالم اسلامی ( جو اس وقت مُؤْتَمر کے نام سے کام کرتی تھی ) احمدیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرارداد پاس کرے اور پھر اس کو بنیاد بنا کر یہ فتنہ ایک نئی قوت کے ساتھ پاکستان میں اُ ٹھایا جائے۔ چنانچہ جماعت ِ احمدیہ کے شدید مخالف خلیل الرحمن سجاد ندوی صاحب اپنی تحریر ’’ نگاہ ِ اوّلین ‘‘ میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب ۱۹۵۲ء میں مُؤْتَمر عالم ِ اسلامی کا اجلاس کراچی میں منعقد ہؤا تو اس وقت اس کی صدارت مفتی ِ اعظم فلسطین امین الحسینی صاحب کر رہے تھے ۔ پاکستانی علماء کا ایک وفد جن میں وہ علماء بھی شامل تھے جو کہ مُؤْتَمر کے اجلاس میں مدعو تھے ، ان سے ملااور یہ خواہش ظاہر کی کہ موتمر کے اس اجلاس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے لیکن مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی صاحب اس کے لئے کسی طور تیار نہیں ہوئے۔ پھر یہ صاحب لکھتے ہیں:۔
    ’’ راقم سطور کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ ان حضرات کی گفتگو سے ان کو وہ یقین و اطمینان حاصل نہیں ہو سکا جو ان کے نزدیک تکفیر کے لئے ضروری تھا۔‘‘
    ( ماہنامہ بیّنات کراچی جنوری ، فروری ۱۹۸۸ ص۱۵)
    لاہور میں منعقدہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام کے صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد رابطہ عالم اسلامی کا ایک اجلاس مکہ مکرمہ میں منعقد کیا گیا۔اس میں مختلف مسلمان ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ اس میں ایک سب کمیٹی میںجماعت ِ احمدیہ کے متعلق بھی کئی تجاویز پیش کی گئیں۔اس کمیٹی کا نام کمیٹی برائے Cults and Ideologiesتھا۔اس کے چیئر مین مکہ مکرمہ کی اُمُّ الْقُرٰی یونیورسٹی میں اسلامی قانون کےAssociate پروفیسر مجاہدُ الصَّوَّاف تھے۔اس کمیٹی کے سپرد بہائیت، فری میسن تنظیم، صیہونیت اور جماعت ِ احمدیہ کے متعلق تجاویز تیار کرنے کا کام تھا۔ اس کمیٹی میں سب سے زیادہ زور و شور سے بحث اس وقت ہوئی جب اجلاس میں جماعت ِ احمدیہ کے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیالات ہوا۔ اور اس بات پر اظہارِ تشویش کیا گیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی، ملٹری اور سیاست میں احمدیوں کا اثرو رسوخ بہت بڑھ گیا ہے۔اور یہ ذکر بھی آیا کہ اگر احمدی غیر مسلم بن کر رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احمدی افریقہ اور دوسری جگہوں پر اپنے آپ کو عالمِ اسلام کی ایک اصلاحی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور اس بات پر اظہارِ تشویش کیا گیا کہ قادیانیوں نے حیفا میں اسرائیلی سرپرستی میں اپنا مشن قائم کیا ہے اور اسے چلا رہے ہیں۔(یہ تاریخی حقائق کے بالکل خلاف تھا۔کبابیر،حیفا میں جماعت اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے قائم تھی اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح انہوں نے اس وقت بے انتہا تکالیف اٹھائی تھیں جب وہاں پر یہودی تسلط قائم کیا جا رہا تھا۔اور اس وقت حیفا میں صرف احمدی ہی نہیں رہ رہے تھے بلکہ دوسرے بہت سے مسلمان بھی رہ رہے تھے) بہر حال خوب جھوٹ بول کر مندوبین کو جماعت کے خلاف بھڑکایا گیا۔تما م تگ و دو کے بعد جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پیش کی گئیں اور یہ تجویز کیا گیا کہ تمام عالمِ اسلام کو قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے مطلع کیا جائے کیونکہ قادیانی مسلمانوں کی سیکیورٹی کے لیے بالخصوص مشرق اوسط جیسے حسّاس علاقہ میں ان کے لیے سنگین خطرہ ہیں کیونکہ قادیانی جہاد کو منسوخ سمجھتے ہیں اور ان کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھااور یہ لوگ صیہونیت اور برطانوی استعمار کو مضبوط کر رہے ہیںاور قادیانی ان طریقوں سے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہ اپنی عبادت گاہیں تعمیر کر رہے ہیں جہاں سے یہ اپنے عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیںاور اپنی خلاف ِ اسلام سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے سکول اور یتیم خانے تعمیر کر رہے ہیں اور قرآنِ کریم کے تحریف شدہ تراجم دنیا کی زبانوں میں شائع کر رہے ہیںاور اس کام کے لیے انہیں اسلام کے دشمن مدد مہیا کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کے متعلق یہ فلمی منظر کشی کرنے کے بعد کمیٹی نے یہ تجاویز پیش کیں ۔
    ۱۔ تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معابد ،مدارس ،یتیم خانوں اور دوسرے تمام مقامات میں جہاں وہ اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں۔
    ۲۔ ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لیے اس گروہ کے کفر کا اعلان کیا جائے ۔
    ۳۔ قادیانیوں سے مکمل عدم تعاون اور مکمل اقتصادی ، معاشرتی اور ثقافتی بائیکاٹ کیا جائے۔ ان سے شادی سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔
    ۴۔ کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اوران کی املاک کو مسلمان تنظیموں کے حوالے کیا جائے۔اور قادیانیوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔
    ۵۔ قادیانیوں کے شائع کیے گئے تحریف شدہ تراجمِ قرآن مجید کی نقول شائع کی جائیں۔اور ان تراجم کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے۔
    جب یہ تجاویز کمیٹی کے سامنے آئیں تو مختلف تنظیموں کے مندوبین نے ان سے اتفاق کیااور اس قرارداد پر دستخط کر دیئے۔ پاکستان کے سیکریٹری اوقاف ٹی ایچ ہاشمی صاحب نے بھی اس قرارداد پر دستخط کئے لیکن اتنا اختلاف کیا کہ انہیں ان تجاویز کے مذہبی حصہ سے اتفاق ہے لیکن انہیں اس تجویز سے اتفاق نہیں کہ قادیانیوں کوملازمتوں میں لینے پر پابندی لگائی جائے۔اس کی جگہ انہیں غیر مسلم قرار دینا کافی ہوگا۔اس پر کمیٹی کے صدر جناب ڈاکٹر مجاہدُ الصَّوّاف نے کہا کہ علماء کے فتوے کے پیشِ نظر سعودی حکومت نے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ اس بات پر پابندی لگادی ہے کہ قادیانی سعودی عرب میں داخل ہوں یا انہیں یہاں پر ملازمت دی جائے۔اس طرح یہ قرارداد منظور کر لی گئی۔
    اب یہ صورت ِ حال ظاہر و باہر تھی کہ جماعت ِ احمدیہ کے خلا ف ایک ایسی سازش تیار کی جا رہی ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہو گی بلکہ اس کا جال بہت سے ممالک میں پھیلا ہو گا اور اب پاکستانی حکومت بھی اس بات کا تہیہ کئے بیٹھی ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور اس طرح ان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے۔اور اس قرارداد کے متن سے یہ بات بالکل عیاں تھی کہ مقصد صرف یہ نہیں کہ دستوری طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے بلکہ جو بھی یہ سازش کر رہا تھا وہ احمدیوں کی تبلیغ سے خائف تھا اور اس کی یہ کوشش تھی کہ جماعت کی تبلیغ کو ہر قیمت پر روکا جائے۔ اور یہ ارادے واضح طور پر نظر آ رہے تھے کہ احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائے۔
    یہاں یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے اس قرارداد پر پاکستان کے ایک فیڈرل سیکریٹری نے دستخط کئے تھے جب کہ ابھی ملک میں احمدیوں کے خلاف فسادات کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فیڈرل سیکریٹری حکومت کی رضامندی کے بغیر ایسی قرارداد پر دستخط کر دے تو ان کا جواب تھا کہ ہاں یہ گورنمنٹ سے پوچھے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب ان سے پھر یہ سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ یہ پلان فسادات کے شروع ہونے سے پہلے ہی بن چکا تھا کہ احمدیوں کوپاکستان میں غیر مسلم قرار دیا جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔
    ’’پلان بن نہیں چکا تھا ۔بس جس حد تک ہوا، اُس حد تک ہوا۔ اب اس کی جو Execution ہے۔ That is a different matter۔‘‘
    لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ایک فیڈرل سیکریٹری ایسی قرارداد پر ملک سے باہر جا کر دستخط کر آتا ہے کہ جس پر عمل کے نتیجہ میں ملک کی آبادی کے ایک حصہ کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا عمل شروع ہو جانا تھا ،لازمی بات ہے کہ ملک کی کابینہ کو کم از کم اس بات کا نوٹس تو لینا چاہئے تھا۔ جب ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا کابینہ میں اس قرارداد پر کوئی بات ہوئی تھی؟ تو ان کا جواب تھا کہ نہیں کابینہ میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
    یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ میں سعودی حکومت کی سرپرستی میں کام کرتی ہے اور اس کو مالی وسائل بھی سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں ۔اور جب کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے ایک وفاقی سیکریٹری نے صرف اس بات کی مخالفت کی کہ احمدیوں کی ملازمتوں پر پابندی لگانا مناسب نہ ہو گا تو سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر مجاہد الصواف نے برملا کہا کہ سعودی عرب میں تو علماء کے فتوے کی بنا پر شاہی فرمان جاری ہو چکا ہے کہ قادیانیوں کو سعودی عرب میں ملازمتیں نہ دی جائیں۔اور ساری الزام تراشیوں کا مرکز یہ تھا کہ قادیانیوں کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا اور استعمال کیا اور دوسر ا بڑا الزام یہ لگایا جا رہا تھا کہ قادیانی جہاد(یعنی جہاد قتال ) کے قائل نہیں ہیں ۔اس پس منظر میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جن فرمانرواؤں کی طرف سے یہ الزامات لگائے جا رہے تھے ،تاریخ کیا بتاتی ہے کہ ان کے تاجِ برطانیہ کے ساتھ کیسے تعلقات رہے اور انہوں نے گزشتہ ایک صدی میں کس کس سے جہاد اور قتال کیا۔اس کے لیے ہمیں نوے برس پہلے کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ لینا پڑے گا۔
    پہلی جنگ عظیم کے دوران حجاز سمیت موجودہ سعودی عرب کا علاقہ بھی سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھے۔ اور سلطنتِ عثمانیہ جرمنی کا ساتھ دے رہی تھی۔اس سلطنت کو کمزور کرنے کے لیے برطانیہ اور اس کے ساتھی کوششیں کر رہے تھے کہ کسی طرح عرب ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ اس وقت نجد کے علاقے پر سعودی خاندان اور حجاز پر شریفِ مکہ کی حکومت تھی۔ برطانیہ کے ایجنٹوں نے شریفِ مکہ سے تو روابط بڑھائے اور اپنے ایجنٹ لارنس کو استعمال کر کے شریف ِ مکہ سے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرائی۔لیکن اس کے ساتھ ان کے ایجنٹ سعودی خاندان سے بھی مستقل رابطے رکھ رہے تھے۔سب سے پہلے یہ رابطہ کیپٹن ولیم شیکسپیئر کے ذریعہ ہوا جو کویت میں برطانیہ کے پولیٹکل ایجنٹ تھے انہوں نے ۱۹۱۰ء میں نجد کے فرمانروا عبد العزیز بن عبد الرحمن ابنِ سعود سے ملاقات کی اور دونوں میں دوستی اور ملاقاتوں کا آ غاز ہوا۔ولیم شیکسپیئر نے ابنِ سعود کو برطانیہ کی حمایت کے لیے آمادہ کیا۔اور برطانیہ کو ان کی مدد کی ضرورت اس لیے تھی تا کہ انہیں دوسری مسلمان حکومتوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔۱۹۱۵ء میں سعودی خاندان اور سلطنت ِ برطانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس میں سعودی ریاست کو سلطنت ِ برطانیہ کی ایک Protectorateکی حیثیت حاصل ہوگئی۔برطانیہ کی نمائندگی پرسی کوکس (Percy Cox)کر رہے تھے۔اس معاہدے کی اوّل شرط میں درج تھا کہ سعودی فرمانروا اپنا جانشین نامزد کریں گے لیکن کسی ایسے شخص کو جانشین نامزد نہیں کیا جائے گا جو کسی طرح بھی برطانوی سلطنت کی مخالفت کرتا ہو اور معاہدے میں یہ درج تھا کہ اگر سعودی ریاست پر کسی نے حملہ کیا تو برطانیہ جس حد تک اور جس طرح مناسب سمجھے گا ان کی مدد کرے گا۔ ابنِ سعود کا خاندان کسی اور قوم یا طاقت کے ساتھ کوئی خط و کتابت یا معاہدہ نہیں کرے گا اور اگر کوئی اور حکومت ان سے رابطہ کرے گی تو اس کی اطلاع فوری طورپر برطانیہ کو دی جائے گی اور سعودی خاندان اپنے علاقے میں کسی اور ملک کو مراعات نہیں دے گا۔اس معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ ابنِ سعود کے خاندان کو سلطنت ِ برطانیہ سے پانچ ہزار پاؤنڈ کی مدد اور ہتھیار ملنے لگے اور پھر برطانوی سلطنت کی خواہش کے مطابق سعودی خاندان نے اپنے ہمسائے میں ابنِ رشید کی حکومت سے جنگ شروع کی اور انہیں شکست دی۔
    جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیںاس وقت حجاز پر جس میں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بھی ہیں، شریفِ مکہ کی حکومت تھی۔ابنِ سعود سمجھتے تھے کہ وہ اس علاقہ پر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن شریف مکہ کو برطانوی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور وہ برطانوی حکومت سے کثیر مالی مدد بھی پاتے تھے۔ابنِ سعود نے برطانوی حکّام کے سامنے اس بات کا اظہار بھی کیا تھا۔لیکن ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے شریف مکہ اور برطانیہ کے تعلقات پر بُرا اثر ڈالا۔شریف مکہ فلسطین میں یہودیوں کی بڑھتی ہوئی آمد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور وہ مستقبل میںبالفور اعلانیہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کو دیکھ رہے تھے ۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد۱۹۲۱ء میں مشہور برطانوی ایجنٹ لارنس ایک معاہدے کا مسودہ لے کرشریف مکہ کے پاس آئے ۔اس میں شریف مکہ کے لیے بہت سی مالی اور فوجی مدد کا عہد تھا اور انہیں اس مدد کی اشد ضرورت بھی تھی لیکن ایک شرط یہ بھی تھی کہ شریف مکہ فلسطین میں بر طانوی مینڈیٹ کو تسلیم کر لیں۔اس کا نتیجہ یہ نظر آ رہا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا عمل دخل بڑھتا جائے گا ۔شریف مکہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ برطانیہ فلسطین کے بارے میں اپنے وہ وعدے پورے کرے جو اس نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران کیے تھے۔لارنس نے انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ فلسطین کے مسئلہ سے ان کا تعلق نہیں ۔لیکن انہوں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ اس طرز پر فلسطین کے مفادات کا سودا کیا جائے۔ان کے اس اصرار نے انگریز حکومت کو ان کے خلاف کر دیا۔اب عبد العزیز محسوس کرتے تھے کہ ان کے لیے میدان خالی ہے۔اب وہ حجاز پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کو مزید وسیع کر سکتے تھے۔ ۱۹۲۴ء میں انہوں نے حجاز پرحملہ کر دیا ۔جب طائف پر قبضہ ہوا تو سعودی افواج نے کافی قتل و غارت کی۔شریف مکہ نے مدد کے لیے بار بار برطانوی سلطنت سے اپیل کی لیکن سب بے سود ۔اس اختلاف کے بعد اب برطانوی حکومت ان کی مدد کے لیے تیار نہیں تھی۔ان کی افواج عبد العزیز کی افواج کے سامنے شکست کھاتی گئیں۔اس طرح موجودہ سعودی عرب وجود میں آیا۔ اس ابتدائی تاریخ کے جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شروع ہی سے سعودی فرمانرواؤں اور برطانوی حکومت کے قریبی تعلقات تھے۔ انہوں نے اپنی ریاست کے لیے یہ درجہ قبول کیا تھا کہ اسے برطانوی حکومت کیProtectorateکا درجہ حاصل ہو۔اور یہاں تک معاہدہ کیا کہ کسی ایسے شخص کو ولی عہد نہیں مقرر کیا جائے گا جو برطانوی حکومت کے خلاف ہو۔اور سعودی حکومت کسی اور حکومت سے خط و کتابت تک نہیں کرے گی اور کسی اور ملک کو اپنی زمین پر مراعات نہیں دے گی۔اور وہ سالہا سال برطانوی حکومت سے مالی مدد اور اسلحہ لیتے رہے اور اس کے ساتھ انہوں نے کبھی بھی کسی غیر مسلم حکومت سے کوئی جنگ یا جہاد نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مسلمان حکومتوں سے جنگ کرتے رہے اور ایسا برطانوی حکومت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا گیا اور جب حجاز کے حکمران نے اس وجہ سے برطانیہ سے معاہدہ کرنے سے انکار کیا کہ اس کی شرائط میں برطانیہ کا فلسطین پر مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑتا تھا اور اس سے لازماََ یہودیوں کو اس بات کا موقع مل جاتا تھا کہ وہ فلسطین میں قدم جمائیں اور بعد میں عملاََ ایسا ہی ہوا تو عبدالعزیز نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے شریف مکہ کی ریاست پر حملہ کیا اور ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔اس کے بعد کی تاریخ بھی اس ابتدائی تاریخ سے مختلف نہیں لیکن اس معروف تاریخ کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔
    (تفصیلات کے لئے دیکھیں
    ‏The Brirtian and Saudia Arabia 1925-1939,
    ‏The Imperial Oasis by Clive Leatherdale page 372
    ‏(The Kingdom by Robert Lacey,168 -188
    یہ امر قابلِ حیرت ہے کہ اس تاریخی پس منظر کے باوجود سعودی حکومت کا اصرار تھا کہ قادیانیوں کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا اور قادیانی برطانیہ کے مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں اور جہاد کے منکر ہیں۔اس تاریخی پس منظر کے ساتھ تو ان کی طرف سے یہ الزامات مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود الزام لگانے والی حکومت کو برطانوی سلطنت نے کھڑا کیا تھا اور حجاز پر قبضہ کرنے کے بعد سعودی حکومت قانونی طور پر سلطنت ِ برطانیہ کی Protectorate کی حیثیت سے چلتی رہی تھی اور ان کی مدد کے ساتھ اور ان کی خواہش کے مطابق مسلمانوں ہی سے جنگ کرکے اور ان کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتے رہے تھے۔
    ایک دوسری بات قابلِ ذکر ہے اور وہ یہ کہ رابطہ عالمِ اسلامی میں بحث کے دوران سعودی مندوب مجاہدُ الصَّوّاف نے جو کہ سب کمیٹی کی صدارت بھی کر رہے تھے یہ دلیل بھی پیش کی کہ سعودی عرب کے علماء نے تو یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ قادیانیوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے اور اس کی پیروی میں سعودی حکومت نے فرمان بھی جاری کر دیا ہے۔تو اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ایسا تو ہونا ہی چاہئے تھا۔کیونکہ جماعت ِ احمدیہ کے قیام سے صدیوں پہلے ہی بہت سے صلحاء ِ امت نے یہ پیشگوئی کر رکھی تھی کہ جب مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا تو علماء ہر گز ان کی تائید نہیں کریں گے بلکہ اس کے سخت مخالف ہوں گے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت محی الدین ابن عربیؒ علماء کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’پس وہ اپنے کینوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔اور وہ لوگوں کی طرف جھکی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اپنے ہونٹوں کو ذکر کرتے ہوئے ہلاتے ہیں تاکہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ وہ ذکر کر رہے ہیںاور وہ عجمی زبان میں کلام کرتے اور استہزاء کرتے ہیں اور نفس کی رعونت ان پر غالب آجاتی ہے۔اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں کی طرح ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی طرف نہیں دیکھے گا۔
    اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ لوگوں کے لئے بھیڑ کی جلد پہنتے ہیں وہ ظاہری دوست اور پوشیدہ دشمن ہیں ۔پس اللہ ان کو واپس لوٹا دے گااور ان کو ان کی پیشانیوں کے بالوں کی طرف سے پکڑ کر اس کی طرف لے جائے گا جس میں ان کی خوش بختی ہے اور جب امام مہدی ظاہر ہوں گے تو اس کے شدید ترین دشمن اس زمانہ کے علماء ہوں گے۔ ان کے پاس کوئی حکومت باقی نہیں رہے گی اور نہ ہی انہیں عام لوگوں پر کوئی فضیلت ہو گی اور ان کے پاس فیصلہ کرنے کا علم تھوڑا ہی ہوگا اور اس امام کے وجود سے تمام عالم سے اختلا فات اُٹھا دیئے جائیں گے اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ اس کے ہاتھ میں تلوار ہو گی۔فقہاء اس کے قتل کافتویٰ دیں گے اور لیکن خدا تعالیٰ اس کو تلوار کے ساتھ غلبہ نصیب کرے گا۔
    (فتوحاتِ مکیہ مصنّفہ حضرت محی الدین ابنِ عربی ؒ، المجلد الثالث، ناشردار صادر بیروت صفحہ ۳۳۶)
    (جماعت ِ احمدیہ کے مسلک کے مطابق تلوار سے مرادخدا تعالیٰ کے جلالی نشانوں اور برہانِ قاطعہ کی تلوار ہی ہو سکتی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے الہامات اور رؤیا سے ظاہر ہوتا ہے۔)
    حضرت مجدد الف ثانی ؒ تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’پس ہمارے پیغمبر ﷺکی سنت آپ سے پہلی سنتوں کی ناسخ ہے۔اور حضرت عیسیٰ ؑ نزول کے بعد اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔کیونکہ اس شریعت کا نسخ جائز نہیں ہے۔ قریب ہو گا کہ علماء ِ ظواہر اس کے اجتہادات کا باریکی اور پوشیدگی کی وجہ سے انکار کریں اور کتاب و سنت کا مخالف سمجھیں۔‘‘
    (مکتوبات ِ امامِ ربانی ،حضرت مجدد الف ثانی ؒ،حصہ ششم دفتر دویم، باہتمام حافظ محمد رؤف مجددی ص۱۳و۱۴)
    شیعہ کتب میں بھی یہی بیان ہوتا آیا ہے کہ علماء ِ ظاہر کا طبقہ مہدی علیہ السلام کی مخالفت پر کمربستہ ہو گا۔چنانچہ اَلصِّرَاطُ السَّوِیّ فِیْ اَحْوَالِ الْمَہْدِیّ میں حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے متعلق لکھا ہے:۔
    ’’جب تک ان میںحالت ِ منتظرہ پہلے سے پیدا نہ ہو گی ہر گز اطاعت و اتباع میں سبقت نہ کر سکیں گے۔بلکہ ہر گز ایمان نہ لائیں گے۔بلکہ مثلِ شیطان شک و شبہ کر کے اپنے قیاسات باطل رکیکہ سے اس کی حجت کا انکار کریں گے۔بلکہ اس کے مقابلہ کو تیار اور عداوت اور دشمنی پر آمادہ ہو جائیں گے اور ہر طرح سے اس کو اور اس کے معتقدین کو اذیّت پہنچانے کی کوشش کریں گے۔علماء اس کے قتل کے فتوے دیں گے اور بعض اہلِ دُوَل اس کے قتل کے لیے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تمام نام کے مسلمان ہی ہوں گے۔‘‘
    (الصراط السوی فی احوال المہدی مصنفہ مولوی سید محمد سبطین السرسوی ، ناشر مینجر البرہان بکڈپو لاہور،صفحہ ۵۰۷)
    اس دور میں اہلِ حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب ’’حجج الکرامۃ فی آثارا لقیامۃ ‘‘میں تحریر کرتے ہیں۔
    ’’جب مہدی علیہ السلام احیاء ِ سنت اور اماتتِ بدعت پر مقاتلہ فرمائیں گے تو علمائِ وقت جو کہ فقہاء کی تقلید کرتے ہیں اور اپنے بزرگوں اور آباء و اجداد کی پیروی کے خوگر ہوں گے کہیں گے کہ یہ شخص ہمارے دین و ملّت پر خانہ برانداز ہے اور مخالفت کریں گے اور اپنی عادت کے موافق اس کی تکفیر و تضلیل کا فیصلہ کریں گے۔‘‘
    ( حجج الکرامۃ فی آثار القیامۃ صفحہ۳ ۳۶ مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہان بھوپال )
    تو ان مختلف فرقوں کے لٹریچر سے یہی ثابت ہے کہ ان کا ہمیشہ سے یہی نظریہ رہا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت اس وقت کے علماء ان کی مخالفت بلکہ قتل پر کمر بستہ ہوں گے۔ ہماری تحقیق کے مطابق تو کبھی کسی فرقہ نے اس بات کا اعلان کیا ہی نہیں کہ جب امام مہدی کا ظہور ہو گا تو اس وقت کے علماء ان کی تائید اور حمایت کریں گے۔
    بلکہ مختلف ائمہ احادیث نے جب قرب ِ قیامت کی علامات کے بارے میں احادیث جمع کیں تو ان میں اس وقت کے نام نہاد علماء کے بارے جس قسم کی احادیث بیان ہوئی ہیں ان کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
    چنانچہ کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال میں کتاب القیامۃ میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے
    ’’تَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ فَزْعَۃٌ فَیَصِیْرُالنَّاسُ اِلٰی عُلَمَائِ ھِمْ فَاِذَا ھُمْ قِرَدَۃٌ وَ خَنَازِیْرُ‘‘۔
    یعنی میری امت پر ایسا وقت آئے گا کہ لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کی جگہ بندر اور سور بیٹھے ہوں گے۔
    (کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال تالیف علّامہ علاؤالدین علی المتقی ۔الجزء الثالث عشر ،ناشر دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان۔ص۱۲۴)
    یہ دو احادیث بھی پیش ہیں
    ’’عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اُ ٹھائے گا کہ بندوں سے اسے نکال لے لیکن اسے اُ ٹھائے گا علماء کے اُ ٹھانے کے ساتھ یہاں تک کہ جب کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے ان سے مسائل پوچھیں گے ۔وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے ۔خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ (متفق علیہ ۔مشکوۃ شریف مترجم ،ناشر مکتبہ رحمانیہ اردو بازار ۔لاہور۔ص۶۵)
    ’’حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے ،نہیں باقی رہے گا اسلام مگر نام اس کا اور نہ باقی رہے گا قرآن مگر رسم اس کی۔ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے۔ان سے فتنہ نکلے گا اور ان میں ہی لوٹ جائے گا۔‘‘
    (رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔مشکوۃ شریف مترجم،جلد اول ، ص۷۶ ،ناشر مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)
    جیسا کہ پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں پاکستان کی طرف سے اوقاف کے فیڈرل سیکریٹری تجمل ہاشمی صاحب نے رابطہ عالمِ اسلامی کی قرارداد پر دستخط کئے تھے۔اور ہم نے اس کتاب کی تالیف کے دوران ان کا انٹرویو بھی لیا۔اور جب ان سے اس بابت یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا یہ تھا:
    ’’میرے لحاظ سے کسی کو کہہ دینا کہ یہ مسلمان ہے یا مسلمان نہیں۔ یہ میں سمجھتا ہوں۔ میں تو کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرے سے بہتر مسلمان ہے یا نہیں مسلمان ہے۔‘‘
    پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’کوئی کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مسلمان ہے کہ نہیں ہے۔
    اس کے با وجود یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو حکومت نے نہیں کہا تھا کہ وہ اس قرارداد پر دستخط کریں ۔اس کے با وجود جبکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ یہ کہے کہ دوسرا شخص مسلمان ہے یا نہیں پھر بھی انہوں نے اس قرارداد پر دستخط کر دیئے۔اور اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی کی اور اس کی قراردادوں کی کوئی اہمیت بھی نہیں تھی پھر بھی انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملہ پر بیرونِ ملک جا کر اس بحث میں حصہ لیا اور ایک ایسی قرارداد پر دستخط بھی کر دیئے جس کے مطابق پاکستان کی آبادی کے ایک حصہ کا اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ بھی کیا جانا تھا۔ البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ سعودی حکومت کے پاس پیسہ تھا اور وہ اس کے بَل بوتے پر ایسی کانفرنسیں کراتے تھے یا کتابیں لکھوا کر اور انہیں خرید کر یا پھر ویسے ہی علماء کی مدد بھی کرتے تھے۔پھرا ن سے دریافت کیا گیا کہ اس کمیٹی میں احمدیوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ جہاد کے قائل نہیں۔اس پر ان کا جواب یہ تھا کہ بھائی جہاد کسے کہتے ہیں ۔آج تک کسی نے جہاد کی Definitionکی ہے۔اگر جہاد کا مطلب یہی ہے کہ تلوار اُٹھانا تو وہ کن حالات میں اُٹھائی جائے۔جہاد کے تو اور بھی بڑے مطلب ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہاںکون سب سے زیادہ اس قرارداد میں دلچسپی لے رہا تھا تو ان کا جواب تھا کہ سعودی سب سے زیادہ اس قرارداد کو منظور کرانے میں دلچسپی لے رہے تھے۔پھر رابطہ کے اس اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اس وقت احمدی پاکستان کی سول سروس میں اور ملٹری میں بہت نمایاں پوزیشن حاصل کرتے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت احمدی ایسی نمایاں پوزیشن پر موجود ہی نہیں تھے۔جب ان سے کہا گیا کہ اس وقت تو احمدی ایسی کسی نمایاں پوزیشن پر موجود ہی نہیں تھے۔تو ان کا بے ساختہ جواب یہ تھا کہ ایم ایم احمد تو تھے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ایم ایم احمد اس قرارداد کے وقت پاکستان میں موجود نہیں تھے بلکہ ورلڈ بینک میں جا چکے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی احمدی اپنی صلاحیت کی بنا پر کوئی پوزیشن حاصل کرتا ہے تویہ اُس کاحق ہے۔ اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
    اب سابق وفاقی وزیر مبشر حسن صاحب کا یہ کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک فیڈرل سیکریٹری حکومت کی مرضی کے خلاف ایسی قرارداد پر دستخط کر آئے اور تجمل ہاشمی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں نہیں کہا تھا کہ اس قرارداد پر دستخط کرو ۔اب پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیںکہ کون سا جواب حقیقت کے قریب تر ہو سکتا ہے۔
    جماعت کے مخالفین کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی کی اس قرارداد کا حوالہ بار بار دیا گیا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں جب جماعت کے خلاف قراردادیں پیش کی گئیں تو بھی اس فیصلہ کو امّتِ مسلمہ کے مشترکہ فیصلہ کے طور پر پیش کیا گیا اور اس کے بعد بھی اب تک ہر سطح پر اس قرارداد کا حوالہ دیا جاتا ہے اور اس قرارداد پر دستخط کرنے والا پاکستانی مندوب خود اقرار کرتا ہے کہ اس قرارداد کے مندرجات سے تو مجھے اتفاق ہی نہیں تھا۔میں نے تو ویسے ہی اس پر دستخط کر دیئے تھے۔اس وقت سعودی حکومت کے پاس مدد دینے کے لئے پیسے تھے اور اس وقت وہ مختلف ذرائع سے مدد کیا کرتے تھے۔اب پڑھنے والے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قرارداد کی اصل حقیقت کیا ہے۔
    اس باب کے آ خرمیں یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ اس تنظیم رابطہ عالمِ اسلامی کا آ غاز کیسے ہوا اور اس کا بالواسطہ طور پر جماعت احمدیہ کی تاریخ سے کیا تعلق تھا؟ مُؤْتَمر عالمِِ اسلامی کا پہلا اجلاس ۱۹۲۶ء میں ہوا ۔ایک سال قبل ہی سلطان عبدالعزیز ابنِ سعود نے جو کہ پہلے صرف نجد پر حکمران تھے، حجاز پر قبضہ کیا تھا۔اس سے قبل حجاز پر شریفِ مکہ کی حکمرانی تھی۔سلطان عبدالعزیز ابن سعود وہابی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔جب حجاز پر ان کا قبضہ ہوا تو پوری دنیا کی طرح ہندوستان میں یہ خبریں پہنچیں کہ حجاز میں ان کے حملہ کے نتیجہ میں بہت خون ریزی کی گئی ہے اور صحابہ کی بہت سے قبروں کے نشانات اور بعض مزاروں پر سے گنبدوں کو منہدم کیا گیا ہے کیونکہ وہابی مسلک کے تحت ان چیزوں کو بدعت سمجھا جاتا ہے۔ان خبروں نے ہندوستان میں بھی بے چینی کی لہر پیدا کر دی۔لیکن عبدالعزیز ابنِ سعود اور ان کے حامیوں کی طرف سے ان خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیا گیا۔مولوی شبیر عثمانی صاحب جو جماعت ِ احمدیہ کے اشد ترین مخالفین میں سے تھے ان کی سوانح حیات ، حیات ِ عثمانی میں لکھا ہے:۔
    ـ’’لیکن ابنِ سعود حنبلی مذہب کے تھے۔عبدالوہاب نجدی کے ہم مشرب تھے کہ وہ بھی حنبلی تھا، انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خدمت کا چارج لیتے ہی مآثر ِ حجاز کو منہدم کرا دیا۔ صحابہ کے تمام پختہ مزارات کو پیوست زمین کر دیا، قبروں کا نام و نشان نہ چھوڑا۔ البتہ کچی قبریں نشانی کے طور پر رہنے دیں۔ترکوں نے تقریباََ تمام متبرک اور محترم شخصیتوں کی قبروں پر قُبِّے بنوا دیئے تھے ،اور ان پر ان کے نام بھی کندہ کرا دیئے تھے لیکن سب کو صاف کرا دیا گیا۔جنگ ِ احد کے شہداء بالخصوص امیر حمزہ رضی اللہ عنہم کی قبریں ہموار حالت میں ہیں جو میں نے اپنی آنکھوں سے ۱۹۶۵ء میں دیکھی ہیں۔اب چاروں طرف صرف پتھروں کے ٹکڑے رکھے ہوئے ہیں۔ جنت البقیع میں بھی مزارات کا یہی حال ہے۔ان کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کے فرزند یہاں آ کر قبروں کو سجدہ کرتے ہیں۔لہٰذا ان مآثر کو ہی اڑا دیا۔ ایسا کرنے سے دنیائے اسلام میں ہیجان پھیل گیا اور مشرق سے لے کر مغرب تک اضطراب اور جوش و غضب کی لہر دوڑ گئی۔احتجاج کیا گیا ۔جس کے نتیجے میں سلطان ابنِ سعود نے ممالک ِ اسلامیہ سے تبادلہ خیالات کے لئے ایک مؤتمر ( اجتماع ) منعقد کی جس میں ہندوستان ،کابل، مصر ،شام ،حجاز، روس وغیرہ کے علماء کو دعوت دی گئی ۔‘‘
    (حیات ِ عثمانی ، ص۲۳۷، مصنفہ پروفیسر محمد انوارالحسن شیر کوٹی،ناشر مکتبہ دارالعلوم کراچی )
    ان حالات میں خلافت کمیٹی کی طرف سے جو تار سلطان ابنِ سعود کو بھجوایا گیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حجاز کے متعلق معاملات کے بارے میں ایک عالمی مؤتمر اسلامی منعقد کی جائے اس کے متعلق خود مولانا محمدعلی جوہر تحریر کرتے ہیں کہ اس کے جواب میں سلطان ابن ِ سعود کا تار ملا کہ
    ’’آپ کاتار ملا ۔آپ کے اور مسلمانانِ ہند کے صحیح خیالات کا شکریہ … آخری فیصلہ تمام دنیائے اسلام کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
    (مولانا محمد علی آپ بیتی اور فکری مقالات ص۲۲۸۔مرتبہ سید شاہ محمد قادری ناشر تخلیقات )
    مئی ۱۹۲۶ء میں ہندوستان سے ایک وفد مکہ مکرمہ روانہ ہوا تا کہ وہاں پر سلطان عبد العزیز ابن سعود کی صدارت میںمنعقد ہونے والی مؤتَمر عالمِ اسلامی میں شرکت کر سکے۔اس وفد کی صدارت سید سلمان ندوی کر رہے تھے اور اس کے ممبران میں مولانا محمد علی جوہر ،مولانا شوکت علی صاحب، مولوی شبیر عثمانی،مفتی کفایت اللہ ،عبد الحلیم ،احمد سعید ،شعیب قریشی ،محمد عرفان ،ظفر علی خان صاحب وغیرہ شامل تھے۔ یہ وفد ہندوستان سے روانہ ہوا اور حجاز پہنچا۔ بہت سے لوگ جن میں مولانا محمد علی جوہر بھی شامل تھے یہ امید رکھتے تھے کہ ابنِ سعود نے حجاز پر قبضہ تو کر لیا ہے لیکن وہ اس مقدس خطے پر اپنی موروثی بادشاہت قائم کرنے کی بجائے یہاں پر تمام عالمِ اسلام کے مشورے سے ایک علیحدہ نظامِ حکومت قائم کریں گے اور سلطان عبدالعزیز ابن سعود نے اپنی ایک تار میں بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ حجاز کے خطے میں تمام عالمِ اسلام کے مشورے سے ہی ایک نظامِ حکومت قائم کیا جائے گا لیکن وہاں پہنچ کر جو آثار دیکھے تو یہ سب امیدیں دم توڑنے لگیں۔ سلطان عبد العزیزابنِ سعود بھی حجاز پر اپنی موروثی ملوکیت قائم کررہے تھے۔چنانچہ وہاں پہنچ کر کیا ہوا اس کے متعلق رئیس احمد جعفری اپنی کتاب ’’ سیرت محمد علی‘‘ میں تحریر کرتے ہیں :۔
    ’’جب محمد علی آمادہ ہوئے تو یہ تجویز ہوئی کہ ایک وفد بھی خلافت کمیٹی کی طرف سے حجاز بھیجا جائے وہ موتمر ِ اسلام میں شرکت کرے اور خلافت کمیٹی کا نظریہ پیش کرے اور سلطان ابنِ سعود کو ان کے مواعید یاد دلائے۔
    مولانا سید سلمان ندوی صدر وفد مقرر ہوئے۔مسٹر شعیب قریشی سیکریٹری اور علی برادران ممبر، اس طرح یہ وفد موتمر میں شرکت کے لئے حجاز ِ مقدس روانہ ہو گیا۔
    محمد علی کی صحت یہیں سے خراب تھی،وہاں پہنچے تو آب و ہوا کی نا موافقت کی وجہ سے علیل ہو گئے اور بائیں حصہ جسم پر خفیف سا فالج کا حملہ بھی ہوا لیکن وہ ان چیزوں کو خاطر میں نہیں لائے اور اپنا کام برابر پورے استقلال سے جاری رکھا۔
    موتمر میں عالم اسلام کے اکثر نمائندے شریک ہوئے تھے،خود سلطان ابنِ سعود نے موتمر کا افتتاح کیا تھا۔اکثر نمائندے ’’جلالۃ الملک ‘‘ کے جلال و جبروت سے متاثر و مرعوب تھے لیکن محمد علی کا ایک حق گو وجود ایسا تھا جو خدم و حشم ،جاہ و جلال،عظمت و جبروت کسی چیز سے بھی متاثر نہیں ہوا ۔اس نے وہیں موتمر میں سلطان ابنِ سعود سے پورے آزادانہ لہجہ میں تخاطب کیاکہ یہ ملوکیت کیسی؟اسلام میں تو شخصیت کی بیخ کنی کی گئی۔شورٰی اور جمہوریت کو تفوق حاصل ہے۔ تم کتاب و سنت کے تمسک کے مدعی ہو پھر یہ قیصر و کسریٰ کی پیروی کیوں؟ محمد علی کے اس آ وازئہ حق نے تمام لوگوں کو چونکا دیا اور یہ احساس پیدا کر دیا کہ ابھی عالمِ اسلام حق گو اور حق پرست شخصیتوں سے خالی نہیں ہے۔گو آج صحابہ کرام کا وجود ِ گرامی ہمارے درمیان نہیں پھر بھی ایسی ہستیاں ابھی موجود ہیںجو حق کے لئے سارے عالم اسلام سے دشمنی مول لے سکتی ہیں اور کسی شاہ و شہر یار کو خاطر میں نہیں لاتیں …
    سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ خلافت کمیٹی کی پالیسی ۔ہدایات اور نصب العین سے جن لوگوں کو کامل اتفاق تھا جن کی صدارت اور جن کی تائید سے یہ خبریں پاس ہوئی تھیں اور ابنِ سعود کو بھیجی گئی تھیں انہوں نے نہایت شد و مد سے اختلاف کیا ۔ملوکیت کی حمایت کی اور وعدہ خلافیوں پر پردہ ڈالنا چاہا۔‘‘
    (سیرت محمد علی حصہ اول و دوم ص۴۴۸ تا ۴۵۰،مصنفہ رئیس احمد جعفری،ناشر کتاب منزل لاہور )
    مولانا محمد علی جوہر صاحب نے جن خیالات کا بھی اظہار کیا ہو یہ ظاہر ہے کہ موتمرِ عالمِ اسلامی کے پہلے اجلاس میں کم از کم ہندوستان کا جو وفد شریک ہوا اس میں شبیر عثمانی صاحب ،ظفر علی خان صاحب اور سلمان ندوی صاحب جیسے افراد موجود تھے جو کہ جماعت ِ احمدیہ کے شدید مخالف تھے اور ان میں سے کئی ایسے تھے جو کہ سلطان عبد العزیز کی مخالفت کرتے گئے تھے اور پھر وہاں جا کر انہوں نے اپنا موقف بدل لیا تھا۔
    یہ واقعات ۱۹۲۶ء کے ہیں اور یہ سال جماعت ِ احمدیہ کی تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سال لندن میں مسجد فضل لندن کا افتتاح ہوا تھا۔اور یہ مغربی دنیا میں جماعت ِ احمدیہ کی پہلی مسجد تھی۔جب اس کے افتتاح کا معاملہ پیش ہوا تو یہ فیصلہ ہوا کہ عراق کے بادشاہ کے چھوٹے بھائی امیر زید جو اس وقت آکسفورڈ میں تعلیم پا رہے تھے یا عراق کے بادشاہ شاہ فیصل جو اس وقت انگلستان کے دورہ پر تھے، سے اس مسجد کا افتتاح کرایا جائے۔اس کے لئے شاہ فیصل کو خط بھی لکھا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا تو پھر سلطان عبد العزیز ابنِ سعود کو تار دی گئی کہ وہ اپنے کسی صاحبزادے کو اس بات کے لئے مقرر کریںکہ وہ مسجد فضل لندن کا افتتاح کریں۔ اور ان کے انگریز دوست نے بھی انہیں لندن سے تار دی کہ آپ اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر ہر دلعزیزی حاصل کر سکتے ہیں۔چنانچہ امام مسجد لندن حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب کی باقاعدہ درخواست پر انہوں نے بذریعہ تار جواب دیا کہ ہم اس درخواست کو قبول کرتے ہیں اور ہمارا بیٹا فیصل ستمبر میں لندن کے لئے جدہ سے روانہ ہو گا۔۲۳ ستمبر ۱۹۲۶ء کو شاہِ حجاز کے صاحبزادے امیر فیصل انگلستان پہنچے اور امام مسجد لندن کی سرکردگی میں ان کا پُر تپاک خیر مقدم کیا گیا اور تمام اخبارات میں بھی یہ خبریں شائع ہو گئیں کہ وہ لندن کی نئی مسجد کا افتتاح کریں گے۔امیر فیصل کا قیام بطور سرکاری مہمان ہائیڈ پارک ہوٹل میں تھا۔لیکن جلد ہی ایسے آ ثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے کہ امیر فیصل کسی وجہ سے مسجد کے افتتاح یا جماعت کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کرنے سے متردّد ہیں۔ ۲۹؍ ستمبرکی رات کو جماعت کی طرف سے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جانا تھا اور یہ پروگرام ان کی رضامندی سے رکھا گیا تھا اور ۳ ؍اکتوبر کو مسجد کا افتتاح کیا جانا تھا۔لیکن امام مسجد لندن کو مسٹر جارڈن جو کہ جدہ میں برطانوی کونسل تھے کا پیغام ملا کہ وہ انہیں ملیں ۔ملاقات پر ان کو بتایا گیا کہ ۲۹؍ ستمبر کی تاریخ اس استقبالیہ کے لئے مناسب نہیں کیونکہ اسی تاریخ کو حکومت ِ برطانیہ کی طرف سے بھی دعوت ہے لیکن جب حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ حکومت کی طرف سے دعوت دوپہر کو ہے اور جماعت کی طرف سے استقبالیہ رات کو ہے لیکن برطانوی افسران اس بات پر مصر رہے کہ یہ دعوت ۲۹؍ ستمبر کو نہیں ہونی چاہئے بلکہ مسجد کے افتتاح کے بعد ۶؍ اکتوبر کو ہونی چاہئے۔ یہ بات بہت معنی خیز تھی کہ دعوت قبول تو سعودی فرمانروا نے کی تھی لیکن اس پروگرام میں ردوبدل کا اختیار اب برطانوی حکومت کے پاس آ چکا تھا۔اور سعودی شہزادے اور ان کا وفد محض خاموش تھا۔ اور دوسری طرف اخبارات میں خبریں چھپ رہی تھیں کہ امیر فیصل اس نئی مسجد کا افتتاح کریں گے۔لیکن اب اس بات کے آ ثار واضح ہو رہے تھے کہ امیر فیصل اب مسجد کا افتتاح نہیں کریں گے۔ ۲۸ ستمبر کو حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب کو ایک با اثر شخصیت کی طرف سے خط ملا کہ امیر فیصل اس افتتاح میں شریک نہیں ہو سکیں گے اور وجہ یہ بتائی گئی کہ سلطان عبد العزیز کی طرف سے کوئی تار ملا ہے جس کی وجہ سے یہ رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور یہ بھی کہا کہ اس کی وجہ ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے کی جانے والی مخالفت ہے لیکن اس کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ خبر پہنچانے والے صاحب خود بھی اصل وجہ سے بے خبر ہیں۔ لیکن وہ صاحب یہ خیال ظاہر کر رہے تھے کہ مسجد کے افتتاح کی تقریب ملتوی کر دی جائے لیکن حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب کا خیال یہی تھا کہ مسجد کا افتتاح بہر حال مقرر کردہ تاریخ پر کیا جائے۔حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھی صورت ِ حال لکھ کر راہنمائی کے لئے درخواست کی گئی تو حضور نے بھی اسی خیال کے مطابق حکم دیا کہ افتتاح کی تیاری رکھی جائے۔ پھر حجاز کے وزیر خارجہ خود حضرت درد صاحب سے ملے اور کہا کہ ہمیں اس صورت ِ حال کا بہت افسوس ہے۔ اصل میں سلطان عبد العزیزکی طرف سے یہ تار ملا تھا کہ تم اپنی ذمہ داری پر اس مسجد کا افتتاح کر سکتے ہو اور وہاں کے مسلمانوں سے بھی مشورہ کر لینااور ہم نے سلطان کے حکم کی وضاحت کے لئے تار دی ہے اگر مثبت جواب آیا تو ہم اس تقریب میں بڑی خوشی سے شامل ہوں گے۔ لیکن آخر تک حجاز سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔اور حضور سے لی گئی اجازت کے مطابق سر عبد القادر صاحب نے مسجد کا افتتاح کیا۔اس وقت جو بھی حالات سامنے نظر آ رہے تھے اس کے مطابق کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن اس رکاوٹ کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کام کر رہی تھی۔چونکہ ایک عرصہ کے بعد امیر فیصل نے سعودی مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے جماعت کے مخالف ایک عالمی نفرت انگیز مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ وہ اُس مسجد کا افتتاح کر سکے جس کو بعد میں جماعت کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت ملنی تھی۔
    (تاریخ مسجد فضل لندن ص۴۵تا ۶۰،مصنفہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ،ناشر مینیجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان )
    انگلستان کے اس دورہ کے دوران امیر فیصل نے مسجد کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن وہ دوسرے معاملات میں مصروف رہے۔اس وقت تو یہ حقائق پوری طرح سامنے نہیں آئے تھے لیکن اب یہ معروف حقائق بن چکے ہیں کہ ان دنوں امیر فیصل سلطنت ِ برطانیہ کے عہدیداروں سے مذاکرات کر رہے تھے ۔اور ان مذاکرات کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ برطانیہ حجاز پر ان کے والد کی بادشاہت کو قبول کر لے۔ اور کچھ عرصہ کے بعد ان مذاکرات کا نتیجہ بھی سامنے آگیا اور مئی ۱۹۲۷ء میں باقاعدہ طور پر Treaty of Jeddahپر دستخط ہوئے جس کے نتیجہ میں حجاز اور نجد کے علاقہ پر سعودی خاندان کی حکومت تسلیم کر لی گئی۔لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ پہلی مرتبہ جن افسران نے اس بات کا اظہارکیا تھا کہ امیر فیصل جماعت ِ احمدیہ کی تقریب میں شامل نہیں ہوں گے وہ سعودی حکومت کے کوئی عہدیدار نہیں تھے بلکہ برطانوی سفارتکار تھے اور اس وقت امیر فیصل برطانوی عہدیداروں سے مذاکرات کر رہے تھے ۔اور ان مذاکرات کی کامیابی برطانوی حکومت کی خوشنودی پر منحصر تھی۔
    ‏(The late King Faisal, his life, personality and methods of
    ) یہ مضمون انٹر نیٹ پر موجود ہےGovernment by Mariane Alireza P8.
    یہ سوال بار بار اُ ٹھایا گیا ہے کہ آخر میں امیر فیصل نے مسجد فضل کا افتتاح کیوں نہیں کیا جب کہ وہ اپنے ملک سے اس ارادہ سے چلے تھے کہ اس افتتاح کی تقریب میں حصہ لیں۔ جیسا کہ ایک مرحلہ پر تاثر دیا گیا تھا۔ اگر یہ باور کیا جائے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا تواس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ ہندوستان کے مسلمان کسی طرح اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں کہ سعودی مملکت پر کسی قسم کا دباؤ ڈال سکیں اور تاریخی طور پر اس قسم کا کوئی خاطر خواہ بیان یا ثبوت بھی نہیں ملتا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا دباؤ پیدا کیا گیا تھا۔ان کے کئی قائدین سلطان عبد العزیز کے خلاف بیان دیتے ہوئے ہندوستان سے گئے تھے اور حجاز مقدس پہنچ کر ان سے اتنا مرعوب ہوئے تھے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے واپس آ ئے تھے اور یہ بھی باور نہیں کیا جاسکتا کہ انگلستان کے مسلمانوں کی طرف سے ایسی صورتِ حال پیدا کی گئی تھی کیونکہ اس وقت انگلستان میں مسلمان برائے نام تعداد میں موجود تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد نے خود اس تقریب میں شمولیت کی تھی۔اس وقت سعودی مملکت خفیہ طور پر سلطنتِ برطانیہ سے جس قسم کے مذاکرات کر رہی تھی اس کے لئے یہ بہت ضروری تھا کہ کسی طرح سلطنتِ برطانیہ کی ناراضگی نہ مول لی جائے۔
    بہر حال امیر فیصل نے جو کہ بعد میں سعودی مملکت کے فرمانروا بھی بنے اس دورہ میں مسجد فضل کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن انہوں نے مغربی طاقتوں کی طرف بالخصوص سلطنتِ برطانیہ کے بارے میں جس طرح دوستانہ رویہ ظاہر کیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا اور اس کے متعلق مسلمان قائدین نے آوازیں بلند کرنی شروع کیں۔چنانچہ مولانا محمد علی جوہر نے امیر فیصل کے اس دورہ کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ۔الفاظ کافی سخت ہیں ہم اس کی تصدیق یا تردید کی بحث میں پڑے بغیر اس لئے درج کر رہے ہیں کہ تا کہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اس وقت اس دورہ کا عام مسلمان قائدین میں کیا ردِّ عمل تھا۔ مولانا محمد علی جوہر موتمر عالمِ اسلامی کے اجلاس کے انجام اور امیر فیصل کے دورہ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔
    ’’جو حشر جمہوریت کی تعریف اور مقدس مقامات کے احترام کا ہوا وہ ایک عالم جانتا ہے۔جو حشر موتمرعالم اسلام کا کیا جا رہا ہے اس کے متعلق جلد کچھ عرض کروں گا۔شرف عدنان بے اوّل موتمر کے صدر کا تار جو علّامہ سید سلمان ندوی نائب صدر موتمر کے نام موصول ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔پڑھئے اور سلطان ابنِ سعود کے ایفائے عہد کا لطف اُٹھائیے۔یہ ہے وہ تمسک بالکتب و السنۃ جو ہدم مقابر مأثر اور مزار ِ رسولِ اکرم(روحی فداہ) کے قرب و جوار تک کو اندھیرے میں ہی چھوڑنے سے ہی ثابت ہوتا ہے یا پھر شاہ انگلستان اور ملکہ ہالینڈ کے ہاتھوں سے صلیبی تمغہ اپنے نائب اور صاحبزادے کے سینے پر لٹکوانے سے اور اس کی تصویر ان حسین چھوکریوں کے ساتھ کھنچوانے جو لندن میں نیم عریانی کے لباس کی اپنے خوبصورت اور ڈھلے ہوئے جسموں پر نمائش کر کے دکان میں آنے والوں کو خریداری پر آ مادہ کرتی ہیں۔یہ صاحبزادے کس کے لئے یہ نیم عریاں لباس خریدنے گئے تھے۔ یہ آج تک معلوم نہ ہوامگر شاید لباس کے خریدار نہ ہوں … (آگے کچھ زیادہ سخت الفاظ حذف کر دیئے گئے ہیں)۔غرض جو کچھ ہو ہے ’’ فعلِ فیصل‘‘ اور تمسک بالکتب و السنۃ۔‘‘
    (ہمدرد ۱۳ ؍نومبر ۱۹۲۷ء بحوالہ مولانا محمد علی جوہر آپ بیتی اور فکری مقالات ص۸۲۸ مرتبہ سید شاہ محمد قادری )
    مخالفین جماعت کے ارادے ظاہر ہوتے ہیں
    اب یہ بات ظاہر وباہر ہوتی جا رہی تھی کہ جماعت کے مخالفین ایک بار پھر جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ایک بڑے منصوبے پر عملدرآمد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔اور ۱۹۵۳ء میں تو جماعت کی مخالف شورش کا دائرہ بڑی حد تک صوبہ پنجاب تک محدود تھا مگر اب ۱۹۷۴ء میں جبکہ جماعت ِ احمدیہ پہلے کی نسبت دنیا بھر میں بہت زیادہ ترقی کر چکی تھی۔ مخالفین کی کوشش تھی کہ پوری دنیا میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا جائے۔مگر چونکہ ابھی بھی پوری دنیا کی جماعتوں میں پاکستان کی جماعت سب سے زیادہ اہم تھی اور جماعت کا مرکز بھی پاکستان میں تھا اس لیے سب سے زیادہ زہریلا وار یہیں پر کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں تاکہ احمدیت پر ایسا وار کیا جائے جس سے جماعت کا عالمی تبلیغی جہاد اس سے بُری طرح متاثر ہو۔
    چنانچہ ۱۹۷۴ء کے آ غاز میں جماعت مخالف رسائل میں یہ اشتہارات چھپنے لگے کہ قادیانیت کی مخالفت کے لیے قادیانی محاسبہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اور اس کے لیے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی۔
    (ہفت روزہ چٹان ۲۸؍جنوری ۱۹۷۴ء ص۱۵)
    اس کو تو شاید معمول کی بات سمجھا جاتا لیکن اس کے ساتھ یہ اعلانات چھپنے لگے کہ مرکزی قادیانی کمیٹی کو ایک ہزار نوجوانوں کی ضرورت ہے۔اور کالج کے طلبا خاص طور پر اس طرف توجہ کریں۔
    (ہفت روزہ چٹان ۲۷؍مئی ۱۹۷۴ء ص۱۷)
    اور اس کے ساتھ جماعت کے مخالف جریدے عوام الناس کو احمدیت کے خلاف بھڑکانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔اور یہ سب کچھ کس انداز میں کیا جا رہا تھا اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے آنحضرت ﷺ کی سنت کی روشنی میں احباب ِ جماعت کو تلقین فرمائی تھی کہ وہ گھڑ سواری میں دلچسپی لیںاور پھر صد سالہ جوبلی کے لیے چندہ کی تحریک کی گئی۔ اس پر المنبر نے ۸؍ مارچ ۱۹۷۴ء کی اشاعت کے سرورق پر یہ اعلان جلی حروف میں شائع کیا۔
    ’’ربوہ میں دس ہزار انعامی گھوڑوں کی فوج … اور … نو کروڑ روپیہ کے فنڈ …کی فراہمی … کن مقاصد کے لئے؟ … مزید بر آں …قادیانی سیاست کا رخ … اب کس جانب ہے؟ … اور ہم مسلمان کیا سوچ رہے ہیں؟ … کیا کر رہے ہیں؟ … کیا کرنا چاہتے ہیں؟ … اور … ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‘‘
    شروع ہی سے جماعت کے مخالفین کا یہ طریق رہا ہے کہ جب وہ ملک میں کوئی شورش یا فساد برپا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہوں تو یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ قادیانی ملک میں فساد پھیلانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ورنہ اس دور میںکوئی دس ہزار گھوڑوں کی فوج پال کر کیا کر سکتا ہے ،اس کا جواب کسی سے پوشیدہ نہیں۔جنہوں نے فسادات برپا کرنے ہوں یا بغاوت کا ماحول پیدا کرنا ہو وہ گھوڑے پالنے کا تردد نہیں کرتے۔
    یہ بات واضح تھی کہ اب جماعت کے خلاف شورش کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور اس مرتبہ تعلیمی اداروںکے طلبا کو بھی اس فساد میں ملوث کیا جائے گا۔
    احبابِ جماعت کو صبر سے کام لینے کی تلقین
    جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ۱۹۷۴ء تک جماعت کے خلاف تیار کی جانے والی عالمی سازش کے آثار افق پر واضح نظر آ رہے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلسِ شوریٰ میں تفصیل سے بیان فرما چکے تھے کہ جماعت کے مخالفین اب کس طرح کی سازش تیار کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں حضور نے ۲۴؍ مئی ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ اس دنیا میں انبیاء اور مامورین کا آنا دنیا کی بھلائی اور خیر خواہی کے لیے ہوتا ہے۔اس لیے منکرین پر گرفت فوراََ نہیں ہوتی تاکہ اُن میں سے زیادہ سے زیادہ لوگ ہدایت پا جائیں اور جب عذاب آئے بھی تو سب کے سب ہلاک نہیں ہوتے جو باقی رہ جاتے ہیں ان میں سے بہت سے ہدایت پا کر دین کی تقویت کا باعث بن جاتے ہیں اور اس طرح ایمان لانے والوں کی تربیت کی جاتی ہے اور امتحان لیا جاتا ہے۔ پھر حضور نے جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا :۔
    ’’ہماری جماعت اس وقت مہدی اور مسیح علیہ السلام کی جماعت ہے اور وہ احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں دکھ نہیں دئے جائیں گے،ہم پر مصیبتیں نازل نہیں کی جائیں گی۔ہماری ہلاکت کے سامان نہیں کئے جائیں گے ہمیں ذلیل کرنے کی کوششیں نہیں کی جائیں گی اور آرام (کے )ساتھ ہم آخری غلبہ کو حاصل کر لیں گے وہ غلطی خوردہ ہے اس نے اس سنت کو نہیں پہچانا جو آدم سے لے کر آج تک انسان نے خدا تعالیٰ کی سنت پائی ۔ہمارا کام ہے دعائیں کرنا۔اللہ تعالیٰ کا یہ کام ہے کہ جس وقت وہ مناسب سمجھے اس وقت وہ اپنے عزیز ہونے کا اپنے قہار ہونے کا جلوہ دکھائے اور کچھ کو ہلاک کردے اور بہتوں کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے …
    پس ہمارا کام اپنے لئے یہ دعا کرنا ہے کہ جو ہمیں دوسروں کے لیے دعائیں کرنے کے لیے تعلیم دی گئی ہے کہیں ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ہمارا کام غصہ کرنا نہیں ۔ہمارا کام غصہ پینا ہے ۔ہمارا کام انتقام اور بدلہ لینا نہیں ، ہمارا کام معاف کرنا ہے۔ ہمارا کام دعائیں کرنا ہے ان کے لئے جو ہمارے اشد ترین مخالف ہیں کیونکہ وہ پہچانتے نہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہیں۔‘‘
    پھر احباب کو ہر حالت میں غصہ کے ردِ عمل سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
    ’’ … مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احبابِ جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف اس قسم کا غصہ نہ آئے جس کی اجازت ہمیں ہمارے ربّ نے نہیںدی۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے میری خاطر تم ظلم سہو میں آسمانی فرشتوں کو بھیجوں گا تا کہ تمہاری حفاظت کریں ۔اب ظاہر ہے اور موٹی عقل کا آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ اگر کسی فرد پر کوئی دوسرا فرد حملہ آور ہو اور جس پر حملہ کیا گیا ہے اس کو اپنے دفاع کے لیے ان دو چار ہتھیاروں میں سے جو میسر ہیں کسی ایک ہتھیار کے منتخب کرنے کا موقع ہو تو عقل کہتی ہے کہ اس کے نزدیک جو سب سے زیادہ مضبوط اور مؤثر ہتھیار ہو گا وہ اسے منتخب کرے گا تو اگر ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ ایک مومن کی عقل کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اگر دنیا کے سارے دلائل بھی ہمارے پاس ہوں اور ان کے ساتھ ہم اپنے مخالف کا مقابلہ کریں تو ہماری اس تدبیر میں وہ قوت اور طاقت نہیںجو ان فرشتوں کی تدبیر میں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے بھیجے اور کہے کہ میرے بندوں کی حفاظت کرو اور اس کی خاطر مخالفین سے لڑو۔پس جب یہ بات ہے تو ہماری عقل کہتی ہے کہ ہمیں کمزور ہتھیار سے اپنے مخالف کا مقابلہ نہیںکرنا چاہئے۔ جب ہمیں ایک مضبوط ہتھیار بھی میسر آسکتا ہے اور آ رہا ہے تو ہمارے خدا نے ہمیں یہ کہا کہ تمہارا کام ہے دعائیں کرنا اور میرا کام ہے تم سے قربانیاں لینا تاکہ تم میرے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بن جاؤ اور تمہاری اجتماعی زندگی کی حفاظت کرنا۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اور اس کے بعد ہمیں اپنے غصے نہیں نکالنے چاہئیں ۔تمہارا کام ہے دعائیں کرو
    گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
    جہاں کہیں تمہیں کوئی تکلیف دینے والا ہے وہاں خود سوچو کہ کوئی ایسی صورت نہیں ہو سکتی کہ ہم اس کی کسی تکلیف کو دور کر کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننے والے ہوں ۔‘‘(۱)
    ۲۹ ؍ مئی کا واقعہ
    جب خلیفہ وقت کسی بھی معاملہ میں کوئی ہدایت فرمائیں تو بیعت کرنے والوں کا کام ہے کہ اس ارشاد کو غور سے سن کر اس پر بڑی احتیاط سے عمل کریں۔اگر پوری جماعت میں سے ایک گروہ بھی خواہ وہ گروہ چھوٹا سا گروہ ہی کیوں نہ ہو اس ہدایت پر عمل پیرا ہونے پر کوتاہی کا مظاہرہ کرے تو اس کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔حضور اقدس نے ۲۴؍ مئی ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں احباب ِ جماعت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ہمارا کام غصہ کرنا نہیں بلکہ غصہ کو ضبط کرنا ہے۔اور اس خطبہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے جوفکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احبابِ جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف غصہ نہ آ جائے۔جہاں ہمیں کوئی تکلیف دے رہا ہو وہاں ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہم اس کی کوئی تکلیف کیسے دور کر سکتے ہیں۔(۲)
    اس خطبہ جمعہ سے چند روز قبل ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء کونشتر میڈیکل کالج کا ایک گروپ چناب ایکسپریس پر ٹرپ پر جاتے ہوئے ربوہ سے گزرااور ان طلباء نے ربوہ کے پلیٹ فارم پر مرزائیت ٹھاہ کے نعرے لگائے اور پٹری سے پتھر اُ ٹھا کر پلیٹ فارم پر موجود لوگوں پر اور قریب والی بال کھیلنے والے لڑکوں پر چلائے (۳)۔
    اس طرح اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت کسی تصادم کی نوبت نہیں آئی۔جب بعد میں اس واقعہ پر ٹریبونل قائم کیا گیا تو یہ شواہد سامنے آئے کہ مئی ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء نے سیر کے لئے راولپنڈی ،مری اور سوات جانے کا پروگرام بنایا ۔پہلے یہی پروگرام تھا کہ کالج کی طالبات اور کچھ اساتذہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اس سیر میں شامل ہوں گے۔ اور پروگرام یہ تھا کہ یہ طلباء ریل گاڑی خیبر میل کے ذریعہ جائیں گے۔یہ امر مدِّ نظر رہے کہ گاڑی خیبر میل ربوہ سے نہیں گزرتی تھی لیکن ریلوے حکام نے ان کی بوگی خیبر میل کے ساتھ لگانے کی بجائے چناب ایکسپریس کے ساتھ لگانے کا فیصلہ کیا جو کہ ربوہ سے ہو کر گزرتی تھی۔ درخواست یہ کی گئی تھی کہ ان طلباء کو دو بوگیاں مہیا کی جائیں اور پہلے پروگرام یہ تھا کہ یہ گروپ سیر کے لئے ۱۸ ؍مئی ۱۹۷۴ء کو سیر کے لئے روانہ ہو گا۔لیکن جب ۱۸ ؍مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء اور طالبات اور ان کے کچھ اساتذہ اپنے اہل ِ خانہ کے ہمراہ ۱۸ ؍مئی کو ملتان کے ریلوے سٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے لئے دو نہیں بلکہ ایک بوگی مخصوص کی گئی ہے۔اور یہ بوگی اتنے بڑے گروپ کے لئے نا کافی تھی۔ حالانکہ ریزرویشن کے بارے میں یہ معلومات تو بہت پہلے مل جاتی ہیں لیکن ہوا یہ کہ اس گروپ کو یہ پتہ سٹیشن پہنچ کر چلا کہ ان کے لئے دو نہیں بلکہ ایک بوگی مخصوص کی گئی ہے۔ چنانچہ اس پروگرام کو کچھ دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔اور پھر ریلوے حکام نے یہی فیصلہ کیا کہ صرف ایک ہی بوگی مہیا کی جا سکتی ہے اور پھر اس درخواست پر کہ یہ بوگی خیبر میل کے ساتھ لگائی جائے یہی فیصلہ برقرار رکھا کہ یہ بوگی چناب ایکسپریس کے ساتھ لگائی جائے گی۔ چنانچہ جگہ کی قلت کی وجہ سے یہی فیصلہ کیا گیا کہ اب صرف طلباء جائیں گے اور طالبات ،اساتذہ اور ان کے اہلِ خانہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے۔ ٹریبونل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ۲۲؍ مئی کو جب یہ طلباء ریلوے سٹیشن سے گزرے تو کسی نے انہیں جماعت کے اخبار روزنامہ الفضل کی کاپی پیش کی ۔ان طلباء نے احمدیت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس رپورٹ میں درج شواہد کے مطابق ان میں سے بعض طلباء نے اپنے کپڑے اتار دیئے اور ان کے جسم پر صرف زیر جامہ ہی رہ گئے اور انہوں نے اس عریاں حالت میں رقص کرنا شروع کیا اور ربوہ کے لوگوں سے حوروں کا مطالبہ کیا۔
    لیکن اس اشتعال انگیزی کے با وجود کوئی ہنگامہ نہیں ہوا اور گاڑی ربوہ سے نکل گئی۔یہاں پر دو باتیں قابلِ ذکر ہیں ایک تو یہ کہ اگر یہ طلباء اپنی درخواست کے مطابق خیبر میل سے جاتے تو یہ گروپ ربوہ سے نہ گزرتا اور اگر ان کے ساتھ ان کے کالج کے اساتذہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اور کالج کی طالبات بھی ہوتیں تو یہ طلباء اس طرز پر اشتعال انگیزی نہ کر سکتے۔اور یہ ایک حکومتی محکمہ کا فیصلہ تھا کہ انہیں چناب ایکسپریس سے بھجوایا جائے ۔اور دو بوگیاں بھی ریلوے نے مہیا نہیں کیں جن کی وجہ سے ایسی صورت پیدا ہوئی کہ صرف لڑکے ہی اس گروپ میں شامل ہو سکے۔
    ۲۲ ؍مئی کے واقعہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور احباب ِ جماعت کو ارشاد فرمایا کہ کسی طرح بھی اشتعال میں نہیں آنا اور صبر کا دامن پکڑے رکھنا ہے اور حضور کا یہ ارشاد صرف خطبہ جمعہ تک محدود نہیں تھا بلکہ حضور اس امر کی اس کے بعد بھی بار بار تلقین فرماتے رہے کہ ہر حال میں صبر کا دامن پکڑے رکھنا ہے۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد ابن مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب جو حضور کے بھتیجے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء کے بعد گھر میں بھی اور ڈیوٹی دیتے ہوئے بھی بار بار حضور سے صبر کی تلقین سنی۔ مجھے الفاظ یاد نہیں ہیں لیکن حضور نے یہ بار بار فرمایا تھا کہ ہم نے ہر صورت میں صبر سے کام لینا ہے اور کوئی سختی نہیں کرنی اور میرے ذہن میں حضور کی یہ ہدایت اتنی پختگی سے گھر کر چکی تھی کہ ۲۹؍ مئی کو جب نشتر میڈیکل کالج کے یہ طلباء واپسی پر پھر ربوہ سے گزر رہے تھے تو میں نے ربوہ کے کچھ نوجوانوں کو سٹیشن جاتے ہوئے دیکھا اور مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے حضور کی ہدایت کو سمجھا نہیں اور میں ان کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا کہ حضور نے ان طلباء کو مارنے سے منع کیا ہے لیکن ایک کے علاوہ باقی نے میری بات پر پوری طرح توجہ نہیں دی۔
    جب یہ طلباء ۲۹ ؍ مئی کو واپس ربوہ سے گزرے تو ربوہ کے کچھ جوشیلے نوجوان سٹیشن پر جمع ہو گئے اور نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ ان نوجوانوں کا یہ فعل یقیناََ جماعت احمدیہ کی تعلیمات اور ملکی قانون کے خلاف تھا اور اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی واضح ہدایات کے بھی خلاف تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کچھ عقل کا مظاہرہ بھی ہونے لگا اور گاڑی چلنے سے قبل ربوہ کے نوجوانوں نے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو قریب واقعہ رحمت بازار سے مشروب منگوا کر پلایا اور ربوہ کے بعض لڑکے جو کہ حضور کی ہدایات سے واقف تھے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر گر کر انہیں مارنے والوں کی ضربوں سے بچانے لگے(۴) ۔ اور اس واقعہ کی وجہ سے دو گھنٹے ٹرین وہاں پر رکی رہی اور جب سٹیشن ماسٹر صاحب نے جو کہ احمدی تھے گاڑی کو چلانے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ گاڑی کا ویکیوم نکل گیا ہے اور گاڑی چل نہیں سکتی اور پھر اس کو ٹھیک کرنے میں بھی دیر لگی ۔
    فسادات کا آغاز
    جیسا کہ اس صورتِ حال میں ہونا ہی تھا چند دنوں میں ہی،منظم طریق پر پورے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی بلکہ اسی روز ہی مولویوں نے پورے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوششیں شروع کردیں۔یہ نا خوشگوار واقعہ تو بہر حال ہوا تھا اور جیسا کہ ہم بعد میں اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ارشادات پیش کریں گے ۔ اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا اور ایک منظم طریق کے ذریعہ اس کی تشہیر کی جا رہی تھی اور اس کو بنیاد بنا کر پورے ملک میں فسادات برپا کئے جا رہے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا ۔کسی مضروب کی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی ۔کسی مضروب کی چوٹ کو قانون کی رو سےGrievious injury نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن فسادات کو ہوا دینے کے لئے ایک طرف تو بعض اخبارات اور جرائد لکھ رہے تھے کہ نشتر میڈیکل کالج کے کئی طلباء کی حالت نازک تھی اور دوسری طرف یہی جرائد لکھ رہے تھے کہ جب یہ طلباء لائلپور پہنچے تو ان کو پلیٹ فارم پر ابتدائی طبی امداد دی گئی ۔اور سرکاری اہلکاروں نے انہیں کہا کہ وہ لائلپور کے ہسپتال میں آکر علاج کروا سکتے ہیں تو ان طلباء نے کہا کہ وہ ملتان میں اپنے ہسپتال جا کر علاج کرائیں گے(۵)۔
    یہ کہنے والے طب کے پیشہ سے منسلک تھے اور یقیناََ جانتے تھے کہ شدید زخمی کے لیے علاج میں چار گھنٹے بلکہ اس سے بھی زیادہ کی یہ تاخیر جان لیوا بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے لائلپور کے ہسپتال میں علاج کے لیے جانا پسند نہیں کیا حالانکہ یہ ہسپتال ریلوے سٹیشن کے بالکل قریب واقع ہے۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان طلباء میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں تھا۔ان میں سے علاج کے لیے کوئی لائلپور کے ہسپتال تو نہیں گیا لیکن اسی وقت ان میں سے کچھ زخمی طلباء لائلپور کے تعلیمی اداروں میں پہنچ گئے اور وہاں طلباء کو جلوس نکالنے پر آمادہ کر نا شروع کر دیا۔
    اخبارات اور رسائل میں جو خبریں آ رہی تھیں ان میں بھی عجیب تضاد پایا جا رہا تھا ۔مثلاََ جماعت کے اشد مخالف جریدے چٹان نے جو خبر شائع کی اس میں لکھا کہ ربوہ سٹیشن پرپانچ چھ سو گرانڈیل قادیانیوں نے نشتر کالج کے طلباء پر حملہ کیا ۔بلکہ اپنی سرخی میں لکھا کہ ’’نشتر میڈیکل کالج کے ایک سو طلباء پر ربوہ میں قادیانی کتوں کا حملہ (۵)‘‘۔ دوسری طرف اخبار نوائے وقت نے اسی واقعہ کی رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حملہ کرنے والے قادیانیوں کی تعداد پانچ ہزار تھی۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رپورٹنگ حقائق پر بنیاد رکھنے کی بجائے اندازوں اور مبالغوں کی بنا پر کی جا رہی تھی۔ (۶)
    اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی اور ڈ ی آئی جی پولیس ربوہ پہنچ گئے (۷،۸)۔ اسی رات ربوہ میں پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں اور ستر سے زائد احباب کو گرفتار کیا گیا ۔کئی ایسے نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جو اس واقعہ میں ملوث تھے لیکن کئی اور ایسے راہ چلتے احباب کو بھی گرفتار کر لیا گیا جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مقصد صرف گنتی کو پورا کرنا تھا۔ایک مرحلہ پر پولیس والے تعلیم الاسلام کالج پہنچ گئے اور پرنسپل صاحب سے کہا کہ ہمیں یہاں حکومت کی طرف سے سو ڈیڑھ سولڑکا گرفتار کرنے کا حکم ہے۔پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا کالج کے جو طلبا کالج میں موجود تھے، وہ بے قصور ہیں انہیں کس جرم کی بنا پر آپ کے حوالے کیا جائے لیکن وہ مصر رہے اور کالج کے لڑکوں کو ہراساں کیا گیاہاسٹل کا گھیراؤ کر لیا گیالیکن پھر کالج سے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا ارادہ ترک کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث سٹیشن کے واقعہ کے وقت ربوہ سے باہر اپنے فارم نصرت آباد تشریف لے گئے تھے،آپ اسی روز واپس ربوہ تشریف لے آئے۔
    یہاں ایک اور بات کا ذکر بے جا نہ ہو گا۔ہم سے انٹرویو میں صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا کہ میں نے کابینہ کے سامنے حنیف رامے سے پوچھا کہ واپسی پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی بوگی دوسرے راستے سے بھی آ سکتی تھی۔پھر انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب نے کہا کہ مجھے اب تک پتا نہیں چلا کہ رامے کس کے ساتھ ہے۔ بعد میں رسالہ چٹان کے ایڈیٹر شورش کاشمیری صاحب نے تحقیقاتی ٹریبونل کے رو برو بیان دیا کہ جب ۲۹ ؍مئی کو ربوہ کے سٹیشن پر واقعہ ہوا ہے اس رات وزیر اعظم بھٹو کے سیکریٹری مسٹر افضل سعید نے فون کیا کہ بعض بیرونی طاقتیں پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں ہم سب کو چاہئے کہ ہم داخلی امن برقرار رکھیں اور اس کے ساتھ شورش کاشمیری صاحب نے یہ الزام بھی لگایا کہ قادیانی وزیر اعظم کو قتل کرنے کی سازش کرتے رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ فسادات سے فائدہ اُ ٹھا کر ملک میں اپنا اقتدار قائم کر لیں۔ (امروز یکم اگست ۱۹۷۴ء ص اوّل و آخر)
    شروع ہی سے اس بات کے آثار ظاہر ہو گئے تھے کہ ملک گیر فساد ات شروع کئے جا رہے ہیں اور جس فتنہ کی تمہید کچھ سالوں سے باندھی جا رہی تھی اس کی آگ کو منظم طور پر اور حکومت کی آشیرباد کے ساتھ بھڑکایا جا رہا ہے۔حضور نے چند احباب کو پرائیویٹ سیکریٹری کے دفتر میں طلب فرمایا اور حضور کی نگرانی میں ایک سیل نے مرکز میں کام شروع کر دیا۔ہر طرف سے فسادات کی اور احمدیوں پر ان کے گھروں ،مساجد اور دوکانوں پر حملہ کی خبریں آرہی تھیں۔جو اطلاع ملتی پہلے حضور اقدس اسے خود ملاحظہ فرماتے اور پھر قصرِ خلافت میں ایک گروپ جو مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کی زیر نگرانی کام کر رہا تھا ، وہ اس اطلاع کے مطابق متاثرہ احمدی دوستوں کی مدد کے لئے اقدامات اُٹھاتا اور ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے رضاکار روانہ کیے جاتے۔ اس کام کے لیے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے رضاکار خدمات سر انجام دے رہے تھے۔اس دور میں شہر سے باہر فون ملانا بھی ایک نہایت مشکل امر تھا ۔ پہلے کال بک کرائی جاتی اور پھر گھنٹوں اس کے ملنے یا نہ ملنے کا انتظار کرنا پڑتا اور اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ تھا کہ مرکزِ سلسلہ کی تمام فون کالیں ریکارڈ کر کے ان کے ریکارڈ کو حکومت کے حوالے کیا جا رہا تھا۔اس لیے جماعتوں سے رابطہ کی یہی صورت تھی کہ ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے آدمی بھجوائے جائیں۔مرکز میں کام کرنے والا یہ سیل اس بات کا اہتمام کر رہا تھا کہ ہر واقعہ کی اطلاع وزیر اعظم اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو با قاعدگی سے دی جائے۔ اس سیل میں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب ،مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر امورِ عامہ، مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کام کر رہے تھے۔ جب ان فسادات کا آغاز ہوا تو کام کا دباؤ اتنا تھا کہ حضور اقدس اور ان کے ساتھ کام کرنے والے رفقاء کو کچھ راتیں چند لمحے بھی سونے کا وقت نہیں مل سکا اور کچھ روز مسلسل جاگ کر کام کرنا پڑا۔
    بیرونِ پاکستان کی جماعتوں کو بھی حالات سے مطلع رکھنا ضروری تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ احمدیوں پر ہونے والے مظالم سے عالمی پریس اندھیرے میں نہ رہے۔حکومت ِ پاکستان اور جماعت کے مخالف حلقوں کی یہ بھرپور کوشش تھی کہ پوری دنیا کو اندھیرے میں رکھا جائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے لندن مشن کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ پوری دنیا کی جماعتوں کو پاکستان میں ہونے والے واقعات سے باخبر رکھے۔چنانچہ فسادات کے دوران ہفتہ میں دو مرتبہ پاکستان سے لندن اطلاعات بھجوائی جاتی تھیں۔ لندن سے تمام جماعتوں کوحالات سے مطلع رکھا جاتا۔حضرت چوہدری سر محمدظفراللہ خان صاحب نے لندن میں ایک پریس کانفرنس بلوائی ۔اس پریس کانفرنس میں عالمی پریس کے نمائندے شریک ہوئے۔اس طرح حقیقت ِ حال عالمی پریس تک پہنچ گئی۔ یہ بات پاکستان کے سفارت خانہ کو سیخ پا کرنے کے لئے کافی تھی ۔پاکستان کے سفارت خانہ کے ایک افسر نے لندن مشن کے انچارج کو ملاقات کے لیے بلایا اور اس بات پر بہت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سلسلہ فوراََ بند ہونا چاہئے۔انہیں جواب دیا گیا کہ پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کا سلسلہ بند کر دیا جائے تو یہ سلسلہ بھی بند کر دیا جائے گا۔(۹)
    اگلے روز ہی پنجاب کے مختلف مقامات پر فسادات کی آگ بھڑک اُ ٹھی۔اور ۳۰ مئی کو چنیوٹ، چک جھمرہ، لائلپور، گوجرہ، مانانوالا، شورکوٹ، خانیوال، ملتان، بہاولپور، صادق آباد،ضلع ساہیوال، ڈنگا، راولپنڈی ،اسلام آباد،کوہاٹ ،ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودہا میں فسادات ہوئے جن کے دوران احمدیوں کے گھروں اور دوکانوں پر حملے ہوئے اور انہیں نذرِ آتش کیا گیا اور لوٹا گیا۔ان کی مساجد کو نقصان پہنچایا گیا۔ان پر پتھراؤ کیا گیا۔ان کی کاروباری املاک کو آگ لگائی گئی،تعلیمی اداروں میں احمدی طلباء کی املاک اور کتب کو نذرِ آتش کیا گیا،احمدیوں کو مختلف مقامات پر زد و کوب کیا گیا ۔بعض مقامات پر مفسدین نے جماعتی لائبریری کی دیگر کتب کے علاوہ قرآنِ کریم کے بہت سے نسخے بھی شہید کئے۔جب احمدیوں پر حملے ہو رہے تھے تو پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مزید ظلم یہ کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودہا میں مفسدین کو قابو کرنے کی بجائے کچھ احمدیوں کو گرفتار کر لیا۔
    سٹیشن والے واقعہ کے اگلے دن ہی پنجاب اسمبلی میں اس پر بحث شروع ہو گئی۔اور اس بحث میں حکومتی پارٹی کے اراکین جماعت کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ ہم ناموسِ رسالت پر اپنا سب کچھ قربان کردیں گے۔حالانکہ یہاں پر ناموسِ رسالت کا کوئی سوال نہیں تھا ،ایک بَلوہ کے واقعہ پر بات ہو رہی تھی۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایک بَلوہ کا واقعہ ہوا تھا یقیناََ حکومت کا حق تھا کہ وہ قصوروار افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرتی لیکن اس کا مذہبی عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہے کہ اگر کوئی قانون شکنی کا مرتکب ہو تو اسمبلی میں اس کے مذہبی خیالات پر زور و شور سے بحث شروع ہو جائے۔حکومتی پارٹی کے اراکین اس مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے میں پیش پیش تھے۔پیپلز پارٹی کے ایک رکنِ اسمبلی نے صاف الفاظ میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کامطالبہ کیا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ احمدی بہت سے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ پیپلز پارٹی کا نعرہ تھا ،اسلام ہمارا مذہب ہے،جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ایک حکومتی رکنِ اسمبلی،سابق کرکٹر کیپٹن حفیظ کاردار صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا تو منشور ہی یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔اس کے بعد ایک اور رکنِ اسمبلی نے کہا کہ ہمارے منشور میں سوشلزم بھی شامل ہے اس پر ایوان میں شور مچ گیا کہ غیر متعلقہ بات شروع کر دی گئی ہے، موضوع پر بات کی جائے۔وزیر اعلیٰ ،حنیف رامے صاحب نے بھی ختمِ نبوت پر ایمان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خاندان کو اور اپنی جائیداد کو ناموسِ رسالت پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ۱۹۵۳ء میں مارشل لاء کی مثال قائم ہوئی تھی اور اب بعض قوتیں مارشل لاء لگانا چاہتی ہیں لیکن جمہوریت کا کارواں چلتا رہے گا۔پھر وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعلان کیا کہ جسٹس صمدانی کو ربوہ سٹیشن کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا جا رہا ہے (۱۰)۔
    پنجاب اسمبلی میں حکمران پیپلز پارٹی کے اراکین جس قسم کے بیانات دے رہے تھے ان سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ خود حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ عوام کے مذہبی جذبات بھڑکیں اور فسادات زور پکڑ جائیں۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس دور میں پیپلز پارٹی کا کوئی رکن اسمبلی وزیر اعظم بھٹو صاحب کے منشاء کے بغیر اس نوعیت کی بیان بازی کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔
    اس پس منظر میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ۳۱؍ مئی کے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ محمد کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔
    ……… (محمد : ۳،۳۶)
    ترجمہ :اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔
    … تم ہی غالب آنے والے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہر گز تمہیں تمہارے اعمال (کا بدلہ ) کم نہیں دے گا۔
    ان آیات کی تلاوت کے بعد حضور ؒ نے فرمایا :۔
    ’’اُمّتِ مسلمہ کو ان آیات میںان بنیادی صداقتوں سے متعارف کرایاگیا ہے۔ایک تو یہ کہ اگر امتِ مسلمہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے عملًا باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ان کے اعمال کا موعود نتیجہ نہیں نکلے گا اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے اور دوسرے یہ کہ دنیا جتنا چاہے زور لگا لے وہ امتِ مسلمہ پر ،اگر وہ امت اسلام پر حقیقی معنی میں قائم ہو کبھی غالب نہیں آسکتی۔علو اور غلبہ امتِ مسلمہ کے ہی مقدرمیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے فرمایا کہ ان کا ایک حقیقی تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے … ‘‘
    پھر حضور نے فرمایا:۔
    ’’ہمیں سختی سے اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ گالیوں کا جواب دعاؤں سے دینا اور جب کسی کی طرف سے دکھ دیا جائے تو اس کا جواب اس رنگ میں ہو کہ اس کے لئے سکھ کا سامان پیدا کیا جائے۔اسی لئے پچھلے جمعہ کے موقع پر بھی میں نے ایک رنگ میں جماعت کو خصوصاََ جماعت کے نوجوانوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ یہ تمہارا مقام ہے اسے سمجھو اور کسی کے لئے دکھ کا باعث نہ بنو اور دنگا فساد میں شامل نہ ہو اور جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے تسکین کا بھی باعث ہے،ترقیات کا بھی باعث ہے۔وہ ہے صبر اور دعا کے ساتھ اپنی اپنی زندگی کے لمحات گزارنا۔صبر اور دعا کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات گزارو مگر اہلِ ربوہ میں سے چند ایک نے اس نصیحت کو غور سے سنا نہیں اور اس پر عمل نہیں کیا اور جو فساد کے حالات جان بوجھ کر اور جیسا کہ قرائن بتاتے ہیں بڑی سوچی سمجھی سکیم اور منصوبہ کے ماتحت بنائے گئے تھے اس کو سمجھے بغیر جوش میں آ کر وہ فساد کی کیفیت جس کے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مخالفت کی اس تدبیر کو کامیاب بنانے میں حصہ دار بن گئے اور فساد کا موجب ہوئے۔
    ۲۹؍ مئی کو سٹیشن پر یہ واقعہ ہوا ۔اس وقت اس واقعہ کی دو شکلیں دنیا کے سامنے آتی ہیں۔ایک وہ جو انتہائی غلط اور باطل شکل ہے مثلاََ ایک روزنامہ نے لکھا کہ پانچ ہزار نے حملہ کر دیا ۔مثلاََ یہ کہ سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت ایسا کیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔یہ بالکل غلط ہے اس میں شک نہیں لیکن دوسری شکل یہ ہے کہ کچھ آدمیوں نے بہر حال اپنے مقام سے گر کر اور خدا اور رسول کی اطاعت کو چھوڑتے ہوئے فساد کا جو منصوبہ دشمنوں کی طرف سے بنایا گیاتھا اسے کامیاب کرنے میں شامل ہو گئے۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ ایسا ہوا اور اگر دشمن کو آپ کے دس آدمی ایک ہزار نظر آتے ہیں تو اس سے آپ کی براء ت نہیں ہوتی یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے لیکن آپ کی براء ت اس سے نہیں ہوتی جتنے بھی اس جھگڑے میں شامل ہوئے انہوں نے غلطی کی اور سوائے نفرت اور مذمت کے اظہار کے ان کے اس فعل کے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے نہ امام جماعت احمدیہ اور نہ جماعت ِ احمدیہ۔اس لئے انہوں نے تو غلطی کی اور چونکہ وہ دشمن کی سوچی سمجھی تدبیر تھی اور ایک نہایت بھیانک منصوبہ ملک کو خراب اور تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اب اس میں آپ کا ایک حصہ شامل ہو گیا اور اب ملک کے ایک حصہ میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس رنگ میں ہوا دی جا رہی ہے کہ یہ شدت اختیار کرے گی ۔یہ آگ جہاں لگی ہے وہاں ۱۹۵۳ ء کی آگ سے زیادہ شدید طور پر لگی ہوئی ہے ۔اُس وقت حکومتِ وقت زیادہ تدبر اور زیادہ انصاف سے کام لے رہی تھی۔اس وقت جو رپورٹیں آ رہی ہیں اگر وہ درست ہیںتو ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومتِ وقت نہ تدبر سے کام لے رہی ہے نہ انصاف سے کام لے رہی ہے …
    میں حقیقت بیان کرنے کے لیے یہ کہتا ہوں ورنہ میرا یہ کام نہیں تھا کہ میں یہ بتاؤں کہ ان کو کیا کرنا چاہئے۔جو سیاستدان ہیں ان کو اپنا مفاد خود سمجھنا چاہئے ۔اگر نہیں سمجھیں گے تو دنیا میں حکومتیں آتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں۔میری اس سے کوئی غرض نہیں میں تو مذہبی آدمی ہوں۔
    نصیحت کرنا میرا کام ہے ان کو بھی ایک رنگ میں نصیحت کر دی،سمجھنا نہ سمجھنا ان کا کام ہے لیکن اصل چیز میں آپ کے سامنے اوّل یہ لانا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے بھی غلطی کی، غلطی کی ہے اور ہمیں اس چیز کو تسلیم کرنا چاہئے ۔دوسرے یہ کہ صرف انہوں نے غلطی نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنی نا سمجھی کے نتیجہ میں دشمن کے ایک سوچے سمجھے منصوبہ میںشمولیت کی اور جماعت کے لیے بھی پریشانی کے سامان پیدا کرنے کے موجب بنے اور ملک کے لیے بھی کمزوری کا سامان پیدا کرنے کے موجب بنے۔میں سمجھتا ہوں اور میں انہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کم از کم دس ہزار مرتبہ استغفار کریں اور توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگیں ۔جو بھی اس معاملہ میں شامل ہوئے ہیں۔مجھے ان کا علم نہیں لیکن جو بھی شامل ہوئے ہیں وہ کم از کم دس ہزار مرتبہ استغفار کریں اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکیں اور اپنی بھلائی کے لئے اور خود کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کے لئے دس ہزار مرتبہ اس سے معافی مانگیں اور اس کے حضور عاجزانہ جھکے رہیں جب تک اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہ کر دے۔‘‘ (خطبات ِ ناصر جلد ۵ ص۵۳۴تا۵۳۶)
    ۳۱؍ مئی کو بھی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اُ ٹھایا۔خاص طور پر صوبہ پنجاب میں مولوی لوگوں کو احمدیوں پر،ان کے گھروں ،ان کی مساجد اور ان کی دوکانوں پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہے تھے۔جن مقامات کا ذکر آچکا ہے ان میں تو فسادات جاری تھے۔ ان کے علاوہ اس روز ماموں کانجن ،کمالیہ،بھیرہ،دنیا پور، عارفوالہ، بہاولنگر، خانپورضلع رحیم یار خان، سانگرہ، سانگلہ ہل، حافظ آباد، مریدکے، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، مری، کیمبل پور اور مظفر آباد بھی فسادات کی لپیٹ میں آگئے۔اسی روز ان فسادات نے پنجاب کی حدود سے نکل کر دوسرے صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چنانچہ صوبہ سندھ میں سکھر میں اور سرحد میں پشاور میں بھی فسادات شروع ہو گئے۔احمدیوں پر ہر طرح کے وحشیانہ مظالم کئے جا رہے تھے۔ان پر ارتداد کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا لیکن حکومت اگر کچھ کر رہی تھی تو احمدیوں کو ہی گرفتار کر رہی تھی تا کہ ان کی قوت مدافعت دم توڑ دے۔اس روز بھی مفسدین پر گرفت کرنے کی بجائے گوجرانوالہ میںان بارہ خدام کو گرفتار کر لیا گیا جو اپنی مسجد کی حفاظت کے لیے ڈیوٹی دے رہے تھے اور کیمبلپور میں احمدیوں کو پولیس نے حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں تک محدود رہیں۔
    وزیر اعلیٰ پنجاب نے ۳۰؍ مئی کو پنجاب اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ ربوہ کے واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائیں گی اور انہوں نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ ربوہ سے اکہتر افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور جرم ثابت ہونے پر سخت سزا دی جائے گی۔(۱۱)
    صمدانی ٹریبیونل کی کار روائی شروع ہوتی ہے
    ہائی کورٹ کے جج جسٹس صمدانی نے جنہیں اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا گیا تھا اسی روز لاہور میں ابتدائی کام شروع کر دیا۔یہاں ایک امر قابلِ ذکر ہے کہ ایک عدالتی کمیشن ۱۹۵۳ء میں بھی قائم کیا گیا تھا لیکن اس کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ ۱۹۵۳ء کے فسادات کے تمام پہلوؤں پر تحقیق کر کے رپورٹ مرتب کرے اور اس کے دائرہ کار میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم پر تحقیق کرنا بھی آتا تھا اور احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے متعلق تحقیق کر کے اس کے بارے میں بھی مواد رپورٹ میں شامل کیا گیا تھا لیکن کمیشن کے سپرد صرف یہ کام تھا کہ وہ ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ پر تحقیق کرے ۔حالانکہ جب اس کمیشن نے کام شروع کیا تو پورے ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم کئے جا رہے تھے ۔ان کی املاک کو لوٹا جا رہا تھا ان کے گھروں کو نذرِ آتش کیا جا رہا تھا ،ان کو شہید کیا جا رہا تھا لیکن ان سب واقعات پر کبھی تحقیقات نہیں کی گئیں ان کے بارے میں حقائق کبھی قوم کے سامنے نہیں لائے گئے۔جب جسٹس صمدانی سے یہ سوال کیا گیا کہ ان کے کمیشن کا کام صرف سٹیشن والے واقعہ تک محدود کیوں رکھا گیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو گورنمنٹ کا کام تھاجو کام گورنمنٹ نے کیا ہے میں اس کے متعلق جوابدہ نہیں ہوں ۔جو کچھ میں نے کیا ہے اس کے متعلق اگر سوال پوچھیں تو جواب دے سکوں گا۔
    جب صمدانی ٹریبونل میں گواہوں کے پیش ہونے کا عمل شروع ہوا تو یہ بات جلد ہی سامنے آگئی کہ ایک طبقہ اس واقعہ کی تفصیلات کو بہت مبالغہ کر کے اور اس میں جھوٹ ملا کر پیش کر رہا ہے تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ واقعہ خود احمدیوں نے ہی کرایا تھا تا کہ ملک گیر فسادات شروع کرائے جا سکیں اور اس کی آڑ میں احمدی پاکستان کی حکومت پر قبضہ کر سکیں۔ حقائق کا ادنیٰ سا بھی علم رکھنے والا اس الزام کو مضحکہ خیز ہی سمجھے گا لیکن اس وقت ٹریبونل میں یہ الزام بڑے شدّ و مدّ سے پیش کیا جا رہا تھا (مشرق ۲۲جون ۱۹۷۴ء ص۱)۔ ایک گواہ تو اس حد تک آ گے چلے گئے کہ انہوں نے ٹریبونل کے رو برو جماعت ِ احمدیہ پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ فسادات احمدیوں نے خود ہی شروع کرائے ہیں تا کہ ملک میں بد امنی پھیل جائے اور اس سے فائدہ اُ ٹھا کر احمدی جرنیل اقتدار پر قبضہ کر لیں اور ساتھ یہ شوشہ چھوڑا کہ جنرل ٹکا خان صاحب کے بعد جو کہ اس وقت پاکستانی برّی افواج کے سربراہ تھے چار سینیئر جرنیل قادیانی ہیں۔یہ بات بھی بالکل خلاف ِ واقعہ تھی اور اگر ٹریبونل چاہتا تو اس دعویٰ کو آسانی سے چیک کیا جا سکتا تھا اور محض ایک سوال کر کے یہ ظاہر کیا جا سکتا تھا کہ محض جھوٹا الزام لگا کر عوام کو بھڑکایا جا رہا ہے لیکن ایسانہیں کیا گیا۔ اگر حکومت خود چاہتی تو اس بات کی تردید کر سکتی تھی کہ یہ چار فرضی سینیئر قادیانی جنرل موجود نہیں ہیں لیکن حکومت نے بھی ایسا نہیں کیا۔اگر اخبارات حقائق شائع کرنا چاہتے تو چار سینیئر جرنیلوں کے نام شائع کر کے یہ ظاہر کر سکتے تھے کہ یہ احمدی نہیں ہیں اس لئے اس فرضی سازش کا الزام مضحکہ خیز ہے لیکن اخبارات نے یہ نامعقول الزام تو شائع کیا مگر حقائق شائع نہیں کئے۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک بھونڈے ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا اور ایک طرف تو یہ سٹوڈنٹ لیڈر یہ الزام لگا رہے تھے اور دوسری طرف یہ اعتراف بھی کر رہے تھے کہ جس جلسے سے میں نے خطاب کیا تھا اس میں مقررین نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت نہ قرار دیا گیا تو پنجاب کے کسی تعلیمی ادارے میں طلباء کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ (مشرق ۲۰ جون ۱۹۷۴ء ص۱) اس وقت جو ملک میں حالات پیدا کئے جا رہے تھے ان میں کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آخر وہ کون سے سینیئر جرنیل ہیں جو کہ عقیدہ کے اعتبار سے احمدی ہیں ۔ نہ یہ سوال عدالت میں کیا گیا اور نہ ان اخبارات میں جہاں ان الزامات کو سرخیوں کے ساتھ صفحہ اوّل پہ شائع کیا جا رہا تھا یہ سوال اٹھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب احمدیت کے مخالفین کسی خلاف ِ قانون سرگرمی کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں تو وہ یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ احمدی اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب چند سال کے بعد ایک جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کا تعلق جماعت ِ احمدیہ سے نہیں تھا بلکہ ان کا شمار احمدیت کے اشد ترین مخالفین میں سے ہوتا تھا۔ جب ہم نے جسٹس صمدانی صاحب سے اس الزام کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس بات پر کوئی توجہ نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس صمدانی صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ اس بات پر شاید ٹریبونل نے کوئی توجہ نہیں کی تھی لیکن یہ جھوٹے الزامات لگا کر اور انہیں نمایاں کر کے شائع کر کے ملک میں احمدیو ں کے خلاف فسادات تو بھڑکائے جا رہے تھے۔ایک اور صاحب نے تو ایک روز ٹریبونل کے روبرو یہ بیان بھی دیا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانی نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدام الاحمدیہ اسلام کی فوج ہے اور ہم بہت جلد اقتدار میں آنے والے ہیں (مشرق ۲۷ جون ۱۹۷۴ء ص۱)۔
    اس قسم کے رویہ کے متعلق ہمارے ساتھ انٹرویو میں جسٹس صمدانی صاحب نے فرمایا کہ چند گواہوں کی کوشش تھی کہ ٹریبونل کو احمدیوں کے خلاف متعصب کردیا جائے لیکن میں متعصب نہیں ہوا۔
    حکومت کی طرف سے اس موقع پر فرقہ وارانہ خبروں کی اشاعت پر پابندی لگائی گئی اور جب صوبائی اسمبلی میں اس قدم کے خلاف تحاریکِ التوا پیش ہوئیں تو سپیکر نے انہیں خلاف ضابطہ قرار دے دیا۔لیکن بڑی احتیاط سے یہ خبریں بھی نہیں شائع کی جا رہی تھیں کہ ملک بھر میں احمدیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور کئی احمدیوں کو وحشیانہ انداز میں شہید کیا جا رہا ہے۔تمام اخبارات نے اس معاملہ میں ایک مصلحت آمیز خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔(۱۲)
    یکم سے پندرہ جون تک کے حالات
    یکم جون تک حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کا رویہ واضح ہو کر سامنے آ چکا تھا۔اور اب مفسدین محسوس کر رہے تھے کہ انہیں کھلی چھٹی ہے۔اس روز ۴۱ مقامات پر فسادات ہوئے۔سکھر اور پشاور کے علاوہ باقی سب شہر اور قصبے صوبہ پنجاب کے تھے۔ یوں توپورے صوبے میں فسادات کی آگ لگی ہوئی تھی لیکن اس روز سب سے بڑا سانحہ گوجرانوالہ میں پیش آیا۔یہاں پر سول لائن اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاوہ باقی سب علاقوں میں احمدیوں کے مکانوں اور دوکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔بلوائیوں نے پہلے محمد افضل صاحب اور پھران کے بیٹے محمد اشرف صاحب کو بڑے درد ناک انداز میںشہید کیا ۔ پہلے محمد اشرف صاحب کے پیٹ میں چھرے مارے گئے جس سے انتڑیاں باہر آگئیں اور پھر اینٹوں سے سر کوٹا گیا۔جب دم توڑتے ہوئے محمد اشرف نے پانی مانگا تو کسی ظالم نے منہ میں ریت ڈال دی۔ جب نوجوان بیٹے کو اس طرح قتل کر دیا گیا تو باپ کو کہا کہ تم اب بھی ایمان لے آؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو گندی گالیاں دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم مجھے اپنے بیٹے سے بھی کمزور ایمان کا سمجھتے ہو۔اس پر ان کو بھی اسی طرح شہید کر دیا گیا۔پھر دوپہر کے وقت سعید احمدخان صاحب ،ان کے خسر چوہدری منظور احمد صاحب اور چوہدری منظور احمد صاحب کے بیٹے چوہدری محمود احمد صاحب کو شہید کردیا گیا۔ جب سعید احمد خان صاحب کو شہید کرنے کے لیے جلوس آیا تو ان کے ساتھ پولیس بھی تھی ۔سعید احمد خان صاحب نے تھانیدار کو کہا کہ وہ بلوائیوں کو روکیں مگر سب بے سود جب وہ واپس جانے کے لیے مڑے تو تھانیدار نے اشارہ کیا اور جلوس آپ پر ٹوٹ پڑا اور پتھروں اور ڈنڈوں سے آپ کو شہید کر دیا۔ ان کے علاوہ قریشی احمد علی صاحب کو بھی سفاکانہ انداز میں شہید کر دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں بہت سے مواقع پر پولیس بلوائیوں کو روکنے کی بجائے ان کا ساتھ دے رہی تھی۔
    یکم جون کو مندرجہ بالا مقامات پر سارا دن احمدیوں کے خلاف جلوس نکلتے رہے،اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور لوگوں کو احمدیوں کی قتل و غارت پر اکسایا گیا۔پہلے کی طرح اس روز بھی مفسدین کی بڑی توجہ احمدیوں کی دوکانوں کی طرف رہی۔اس کے پیچھے احمدیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ لوٹ مار کر کے خود فائدہ اُ ٹھانے کا جذبہ بھی کارفرما تھا۔سانگلہ ہل ،وزیر آباد اور ڈسکہ میں احمدیوں کی فیکٹریوں کو آگ لگائی گئی اور یہاں سے کثیر مقدار میں سامان لوٹا گیا۔اس کے علاوہ احمدیوں کے مکانوں پر اور ان کی مساجد پر حملے کئے گئے۔
    ایک طرف تو یکم جون کو احمدیوں کو بے دردی سے شہید کیا جا رہا تھا اور ملک کے کئی مقامات پر احمدیوں کے گھروں ،مساجد،دوکانوں اور فیکٹریوں کو لوٹا جا رہا تھا اور ان کو آگ لگائی جا رہی تھی اور دوسری طرف اسی روز قومی اسمبلی میں بھی سٹیشن کے واقعہ کی بازگشت سنائی دی۔لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ احمدیوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کچھ Creditلینے کے لیے بیتاب تھی۔چوہدری ظہور الٰہی جو مسلم لیگ سے اسمبلی کے ممبر تھے وہ سٹیشن کے واقعہ پرتحریک ِ التوا پیش کرنا چاہتے تھے۔سپیکر کا اصرار تھا کہ یہ معاملہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر تحقیق کے لیے جج مقرر کیا جا چکا ہے،اس لیے ممبرانِ قومی اسمبلی اپنی تقریر کو صرف قانونی نکات تک محدود رکھیں۔اور چوہدری ظہور الٰہی صاحب سٹیشن پر ہونے والا واقعہ اپنی طرز پر پورا کا پورا قومی اسمبلی کو سنانے پر مصر تھے،زیادہ تر وقت اسی بحث میں گزر گیا۔لیکن چند قابلِ ذکر امور یہ تھے کہ پچھلے دو روز سے لائلپور میں احمدیوں کے مکانوں کو آگ لگائی جا رہی تھی۔جب قومی اسمبلی میں بحث نے طول پکڑا تو ایک ممبر نے کہا کہ اپوزیشن والے اس مسئلہ کو ہوا دے کر ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اور وزیرِ قانون نے کہا کہ لائلپور میں مکان کس نے جلائے تھے؟اس میں اشارہ تھا کہ لائلپور میں احمدیوں کے مکان جلانے کے پیچھے اپوزیشن کی کچھ جماعتیں ملوث تھیں۔اس پر چوہدری ظہور الٰہی صاحب غصے سے بھڑک اٹھے۔ایک ممبر اسمبلی مولوی غلام غوث ہزاروی نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔اور ایک رکنِ اسمبلی احمد رضا قصوری صاحب نے جو احمدیت کے خلاف مختلف جگہوں پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے تھے نے ایک جملہیہ کہاکہ سٹیشن پر یہ واقعہ انٹیلی جنس نے کرایا ہے ۔الغرض یہ دوڑ لگی ہوئی تھی کہ کسی طرح احمدیت کی مخالفت میں کچھ بیان بازی کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کیے جائیں (۱۳)۔
    جب ہم فسادات کے آغاز سے لے کر پندرہ جون تک کے فسادات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ختم ہونے کی بجائے ان کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور حکومت بھی ان پر قابو پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہی تھی۔ حکومت کا رویہ کیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۳؍ جون کو حکومت کے ریونیو منسٹر رانا اقبال احمد صاحب نے گوجرانوالہ کے بار روم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احمدیوں کا جو نقصان ہوا ہے وہ ان کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔جب جلوس آیا تو افضل صاحب نے پستول دکھایا تو عوام نے مشتعل ہو کر انہیں قتل کردیا۔اگر احمدی مزاحمت نہ کرتے تو کوئی خاص نقصان نہ ہوتا۔پھر انہوں نے کچھ احمدیوں کا نام لے کر کہا کہ وہ مجھ سے سختی سے پیش آئے اور پھر وزیر صاحب نے فرمایا کہ علماء نے بہت تعاون کیا ہے اور ان کا رویہ معقول تھا۔کوئی بھی صاحبِ شعور شخص اگر وزیر صاحب کے ارشاد کا سرسری تجزیہ بھی کرے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ با وجود اس کے کہ کتنے ہی احمدی گوجرانوالہ میں شہید کر دیئے گئے تھے لیکن وزیر صاحب فرما رہے تھے کہ احمدی غلطی کر رہے ہیں وہ اگر اپنی املاک کا دفاع نہ کریں اور جلوسوں کو لوٹ مار کی خواہش پوری کرنے دیں تو احمدیوں کی جان بچ جائے گی ۔گویا ان کی حکومت میں اپنی املاک کا جائز دفاع کرنا بھی ایک نا قابلِ معافی جرم تھا۔اور حکومت کا کام صرف مظلوموں پر اعتراض کرنا تھا۔ ۱۹۷۴ء کے فسادات میں کتنے ہی احمدی اس حالت میں شہید کر دیئے گئے کہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے ایک چھڑی بھی نہیں تھی۔ان نہایت قابل وزیر صاحب نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا کہ ان کی شہادت کس وجہ سے ہوئی۔پندرہ جون تک پاکستان کے ۱۲۰ شہروں اور قصبوں میں فسادات کا آ غاز ہو چکا تھا۔ان میں اکثر مقامات صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے تھے لیکن پاکستان کے باقی صوبوں اور شمالی علاقہ جات کے کچھ مقامات میں فسادات کی آگ بھڑکنی شروع ہو چکی تھی۔احمدیوں کو دھمکیاں دے کر ارتداد پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ان کو مارا پیٹا جا رہا تھا۔ان کے گھروں پر حملے ہو رہے تھے،پتھراؤ کیا جا رہا تھا ،سامان لوٹا جا رہا تھا اور ان سترہ دنوں میں کئی مقامات پراحمدیوں کے۲۷۰ مکانات کو نذرِ آتش کیا گیا یا انہیں لوٹا گیا۔احمدیوں کی دوکانیںاور فیکٹریاں بھی خاص طور پر شورش کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔پندرہ جون تک احمدیوں کی ۳۴۰ دوکانوں کو لوٹ مار یا آتشزدگی کا نشانہ بنایا گیا اور چھ فیکٹریوں کو تاخت و تاراج کیا گیا۔دیگر کاروباری مراکز کا نقصان اس کے علاوہ تھا۔ فسادات کے ابتدائی سترہ دنوں میںاحمدیوں کی ۲۵ مساجد کو شہید کیا گیا اور تین پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آ شیر باد سے قبضہ کر لیا گیا۔۲۰ مقامات پر جماعت کی قائم کردہ چھوٹی چھوٹی لائبریریوں کو آگ لگا دی گئی اور قرآنِ کریم کے کئی نسخے شہید کر دیئے گئے۔کئی جگہوں پر پولیس نے فسادات پر قابو پانے کی بجائے ان احمدیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جو اپنے مکانات کی حفاظت کر رہے تھے۔پندرہ جون تک ربوہ کے اسیران سمیت ۱۰۸ احمدیوں کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔بہت سے شہروں میں مولوی لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ وہ احمدیوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کو ضروریاتِ زندگی بھی نہ فروخت کریں۔ربوہ کے ارد گرد کے دیہات کو بھی بھڑکایا جا رہا تھا کہ وہ ربوہ تک ضروریاتِ زندگی نہ پہنچائیں۔اب تک ۲۱ احمدی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے اور ۹ کے متعلق یہ علم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں بھی شہید کیا جا چکا ہے۔ دس شہداء کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور ساہیوال، ٹوپی اور بالا کوٹ ، کوئٹہ، حافظ آباد،ٹیکسلا،پشاور اور ایبٹ آباد کے احمدی بھی شہادت کے مقام پر سرفراز ہوچکے تھے۔
    (تفصیلات کے لئے دیکھیئے شہدائے احمدیت شائع کردہ طاہر فائونڈیشن ربوہ)
    ۲ ؍جون کو گوجرانوالہ میں مکرم بشیر احمد صاحب اور منیر احمد صاحب،غلام قادر صاحب اور چوہدری عنایت اللہ صاحب نے شہادت پائی۔۴ ؍جون کو مکرم محمد الیاس عارف صاحب نے ٹیکسلا میں اور ۸ ؍جون کو مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب کو پشاور میں شہید کیا گیا۔پھر ۹؍ جون کو ٹوپی میں غلام سرور صاحب اور ان کے بھتیجے اسرار احمد خان صاحب کو شہید کر دیا گیا۔۹؍ جون کو ہی کوئٹہ میں مکرم سید مولود احمد بخاری صاحب کو شہید کیا گیا۔۱۱ جون کو مکرم محمد فخرالدین بھٹی صاحب کو ایبٹ آباد میں اور اسی تاریخ کو مکرم محمدزمان خان صاحب مکرم مبارک احمد خان صاحب کوبالا کوٹ میں شہید ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایبٹ آباد میں مکرم محمد فخرالدین صاحب کو جس انداز میں شہید کیا گیا وہ اتنا بہیمانہ تھا کہ جس کے پڑھنے سے مشرکینِ مکہ کے کیے گئے مظالم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ان کو شہیدکرنے کے بعد بھی ہجوم ان کی لاش پر گولیاں برساتا رہا ۔نعش کے ناک ،کان کاٹ کر مُثْلہ کیا گیااور خنجروں سے وار کر کے نعش کی بے حرمتی کی گئی۔بھٹی صاحب کے گھر کا سارا سامان نکال کر اسے نذرِ آتش کیا گیا اور اس الاؤ میں ان کی لاش کو پھینک دیا گیا۔شرپسند جلتی ہوئی آگ میں بھی نعش پر سنگ باری کرتے رہے۔ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے نام پر تحریک چلانے والوں کی اخلاقی حالت کا یہ عالم تھا۔
    ان فسادات کے آ غاز میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان دنوں میں ملک کی قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر کیا بحث کی جارہی تھی۔۳ جون ۱۹۷۴ ء کو ایک بار پھر سٹیشن کے واقعہ پرقومی اسمبلی میں بحث شروع ہو گئی۔ وقفہ سے کچھ دیر پہلے جماعت ِ اسلامی کے پروفیسر غفور احمد صاحب نے کہا کہ با وجود اس کے کہ اس واقعہ کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے لیکن یہ ایک قومی اہمیت کا مسئلہ ہے اس لئے اس پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کا تعلق مذہب سے ہے۔اس کے بعد جمعیت العلماء اسلام کے مفتی محمود صاحب کچھ نکات بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ربوہ میں جو واقعہ ہوا ہے وہ ایک جارحانہ کاروائی ہے جو مرزائی فرقہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف کی ہے اور یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے ۔اور دعویٰ کیا کہ ہم ایوان کے سامنے ثابت کریں گے کہ یہ ایک منصوبہ تھا اور ایک پروگرام تھا اور اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔
    ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ سٹیشن پر ہونے والا واقعہ جماعتی تعلیمات کے اور قانون کے خلاف تھا۔لیکن یہ واقعہ جس میں کسی شخص کی جان نہیں گئی،کسی مضروب کی ہڈی نہیں ٹوٹی ،جو ایک قصبہ تک محدود تھا،تو مفتی محمود صاحب کے نزدیک پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا اور ایک بھیانک جارحیت تھی۔ لیکن اس روز تک پاکستان کے کئی مقامات پر احمدیوں کے خلاف فسادات شروع ہو چکے تھے اور انہیں ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔اور کئی احمدیوں کو ملک کے مختلف مقامات پرظالمانہ طریق پر شہید کیا جا چکا تھا ۔یہ بات مفتی صاحب کے نزدیک نہ تو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ تھی اور نہ ہی اس سے کسی قسم کی جارحیت کی بو آتی تھی۔ اور نہ ہی دیگر ممبرانِ اسمبلی کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ احمدیوں پر ہونے والے ان مظالم پر دو حرف ہی کہہ دیتے۔
    وقفہ کے بعد وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مہذب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم میں برداشت ختم کیوں ہو گئی ہے۔کیا ہم اپنے مسائل کو مہذب طریق سے حل نہیں کر سکتے۔جب بھی ہمارا ایک مسئلہ ختم ہوتا ہے ہم ایک اور مسئلہ تلاش کر لیتے ہیں تاکہ ہم آپس میں لڑ سکیں۔پھر کہا کہ یہ مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں۔یہ مسئلہ تقسیمِ ہند سے پہلے سے موجود تھا۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تقسیمِ ہند کے بعد لاہور میں پہلا مشہور مارشل لاء لگا تھا۔مجھے کوئی حیرت نہیں کہ اس معاملہ کا آ غاز کیوں ہوا ہے جب ہم ایک مسئلہ حل کر لیتے ہیں تو ہم ایک دوسرا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔پھر انہوں نے اپوزیشن اراکین کے بعض نکات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سے انکار نہیں کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔بے شک یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ہم کہتے ہیں کہ غالب امکان ہے کہ یہ ایک منصوبہ کے تحت کیا گیا ہے۔اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے لیکن یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔اور نہ ہی ہم نے اسے پیدا کیا ہے۔
    پھر انہوں نے کہا کہ اس پر بحث بھی ہونی چاہئے لیکن اس وقت جب خون بہنا بند ہو جائے اور ملک میں امن کا راج ہو پھر ہمیں ٹھنڈے دماغ سے اور معتدل انداز میں اس پر بات کرنی چاہئے اور چاہئے کہ ہم اس بارے میں کسی فیصلہ پر پہنچیں۔
    اس کے بعد وزیر ِ اعظم نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عرصہ سے اس مسئلہ کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے اور موقع کی تلاش میں تھے کہ انہیں کوئی موقع ملے کیونکہ انہیں دوسرے مواقع پر حکومت کے مقابل پر زک اُ ٹھانی پڑی ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ آئین کی منظوری اپوزیشن ممبران نے بھی دی تھی اور اس کے آرٹیکل ۱۰۶ (۱۳) میں اقلیت کی وضاحت کی گئی ہے۔ ۱۹۷۳ء کا آئین جو بھٹو صاحب کی حکومت کا ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے ۔اور جس پر اکثر اپوزیشن کے اراکین نے بھی دستخط کیے تھے۔اس کے آرٹیکل ۱۰۶ (۱۳) میں صوبائی اسمبلی میں مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا ذکر ہے۔اور ان مذہبی اقلیتوںکے نام بھی لکھے ہیں۔اور آئین میں یہ اقلیتیں عیسائی، ہندو، سکھ ،بدھ اور پارسی لکھی گئی ہیں۔بھٹو صاحب یہ نکتہ بیان کر رہے تھے کہ جب آئین منظور ہوا تھا تو اپوزیشن کے اکثر علماء ،جن میں مفتی محمود صاحب بھی شامل تھے اس پر دستخط کیے تھے بلکہ اس کی منظوری پر مفتی صاحب نے ہی دعا کرائی تھی۔اس آئین کو بنانے کے لیے اسمبلی نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی،مفتی محمود صاحب اس کے ممبر بھی تھے اور اس وقت انہوں نے مختلف نکات اٹھائے تھے لیکن یہ نکتہ نہیں اٹھایا تھا کہ احمدی غیر مسلم اقلیت ہیں ان کا نام بھی آئین کی اس شق میں غیر مسلم اقلیتوں میں درج ہونا چاہئے۔
    اس مرحلہ پر یہ کارروائی ایک گرا ہوا انداز اختیار کر گئی۔ ایک رکن اسمبلی احمد رضا قصوری صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ نو اراکین نے آئین پر دستخط نہیںکیے تھے۔(دراصل تین اراکین نے اس آئین کی منظوری کے وقت ووٹ نہیں دیا تھا۔یہ تین اراکین شاہ احمد نورانی صاحب ،محمود علی قصوری صاحب اور احمد رضا قصوری صاحب تھے ) (۱۴)۔
    اس پر وزیر اعظم غصہ میں آگئے اور کہا:۔
    You keep quiet. I have had enough of you. absolute poison. I will not tolerate your nuisance
    ترجمہ: خاموش رہو ۔میں تمہیں کافی برداشت کر چکا ہوں۔مکمل زہر۔میں تمہاری بدتمیزی برداشت نہیں کر وں گا۔
    اس پر تلخی بڑھی اور احمد رضاقصوری صاحب نے وزیر اعظم کو بندر کہا ۔پھر سپیکر نے مداخلت کی اور وزیر اعظم نے پھر تقریر شروع کی۔
    اس کے بعد وزیر ِ اعظم نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے حلف میں ختمِ نبوت کے عقیدہ کا حلف داخل کیا ہے اور کہا کہ اس طرح ہم نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی قوم ختمِ نبوت پر ایمان لاتی ہے اور یہ کہ ہمارے نبی کے بعد اب کوئی اور نبی نہیں ہو سکتا ۔اور پھر وزیر ِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں عدالتی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے۔ (۱۵)
    اس روز جب قومی اسمبلی میں کوئی شخص یہ کہنے کو تیار نہیں تھا کہ گوجرانوالہ میں اتنے احمدی شہید کر دیئے گئے ہیں ۔پاکستان میں کتنے ہی مقامات پر احمدیوں کو ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملک کے وزیر ِ اعظم بھی اگر کوئی بات کر رہے تھے تو بہت عمومی انداز میں کہ ہمیں ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہئے ،ملک میں پہلے ہی بہت سے مسائل ہیں اور پورے ملک میں احمدیوں پر جو مظالم ہو رہے تھے ان پر وہ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔آج ملک کے سب سے بالا منتخب اداروں میں بھی کوئی احمدیوں پر ہونے والے مظالم پر ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ یہ سب سمجھ رہے تھے کہ یہ تو ایک لاچار اور کمزور سا گروہ ہے اس کے متعلق آواز بلند کر کے ہم اپنا سیاسی مستقبل کیوں خطرہ میں ڈالیں ۔ لیکن ملک کی تاریخ کے سب سے مضبوط وزیرِ اعظم کو اندازہ نہیں تھا کہ آج کی بحث میں ان کے منہ سے ایک ایسا جملہ نکل گیا ہے جو کچھ برس بعد ان کے خلاف قتل کے مقدمہ میں دلیل کے طور پر پیش کیا جائے گا ۔بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری صاحب کو کہا تھا کہ میں تمہارا Nuisance برداشت نہیں کر سکتا ۔ کچھ سال بعد جب بھٹو صاحب پر یہ مقدمہ چل رہا تھا کہ انہوں نے احمد رضا قصوری صاحب پر قاتلانہ حملہ کرایا ،جس میں ان کے والد قتل ہو گئے تو یہی جملہ ان کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا گیا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ اب قصوری صاحب کو برداشت نہیں کر سکتے۔چنانچہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بھٹو صاحب احمد رضا صاحب کو راستہ سے ہٹانا چاہتے تھے۔ (۱۶)
    اگلے روز بھی قومی اسمبلی میںاس موضوع پر مختصر سی گفتگو ہوئی۔اور مفتی محمود صاحب نے سٹیشن والے واقعہ کے متعلق کہا:۔
    ’’ … آج میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ مرزا ناصر کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیاہے۔ہم یہ جانتے ہیںکہ ربوہ میں کوئی واقعہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔لہٰذا اس کو گرفتار کر لیا جائے۔‘‘(۱۷)
    اس روز قومی اسمبلی میں ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ کے بارے میں سات تحاریکِ التوا پیش کی گئیںاور اپوزیشن نے کہا کہ وزیر ِ اعظم نے ان حالات کا سارا الزام ہم پر لگا دیا ہے اور ہم جواب دینا چاہتے ہیں۔ لیکن سپیکر نے اس دن ان پر بحث کی اجازت نہیں دی۔اس پر اپوزیشن کے اراکین نے واک آؤٹ کیا اور نکلتے ہوئے ختم ِ نبوت زندہ بادکے نعرے لگائے۔
    ۵؍ جون کے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہونے لگ گئیں کہ حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس بارے میں سرکاری فیصلہ کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔(۱۸)
    ۹ ؍جون کو لاہور میں کل پاکستان علماء و مشائخ کونسل منعقد ہوئی اور اس میں مطالبہ پیش کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے اور ربوہ کی زمین ضبط کر لی جائے ورنہ ۱۴؍ جون سے ملک گیر ہڑتال کر دی جائے گی۔ (۱۹)
    اس کتاب کی تالیف کے دوران جب ہم نے پروفیسر غفور احمد صاحب سے انٹرویو کیا اور یہ دریافت کیا کہ کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ کسی گروہ کے متعلق یہ مطالبہ کیا جائے کہ اس سے تعلق رکھنے والے کلیدی آسامی پر فائز نہیں ہونے چاہئیں۔اس پر پہلے انہو ں نے جواب دیا کہ آئین میں تو صرف صدر اور وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے پابندی ہے دوسرے تمام عہدوں پر قادیانیوں سمیت کوئی بھی مقرر ہو سکتا ہے۔جب ہم نے انہیں پھر یاد دلایا کہ یہ مطالبہ اس وقت کی اپوزیشن کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے وہ خود رکن تھے تو اس پر انہوں نے فرمایا:۔
    ’’ہوگا۔میں نے آپ کو بتایا ناں کہ اس ساری چیز کو اس کے بیک گراؤنڈ میں دیکھیں۔ قادیانیوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیںتو کیا بات ہے کہ ملک کی ایک بہت بڑی Majority کے جذبات ان کے خلاف ہیں ۔کوئی نہ کوئی وجہ تو اس کی ہو گی۔
    پھر کہنے لگے کہ اس کی وجہ میں نے آپ کو یہ بتائی ہے کہ جب آپ اپنے اثر کو ناجائز استعمال کریں گے تو اس سے دوسرے Hurt ہوں گے اور پھر اس کی یہ مثال دی کہ سر ظفراللہ کی لوگ Respectکرتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کو Preach کیا لیکن انہوں نے میرٹ کی بجائے تعلقات پر بہت بھرتیاں کیں۔‘‘
    پروفیسر غفور احمد صاحب کا یہ بیان بہت دلچسپ ہے۔اوّل تو یہی بات محلِّ نظر ہے کہ ملک کی اکثریت احمدیوں کے خلاف ہے۔ لیکن اگر ان کا نظریہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر صورت ِ حال یہ بنے گی کہ اگر کسی ملک کی اکثریت کسی اقلیت کے خلاف ہو جائے تو ہمیں لازماََ یہ ماننا پڑے گا کہ قصور اس اقلیت کا ہی ہے اس لئے ان پر ہر ظلم روا ہے۔ مثلًا اگر انتہا پسند ہندوؤں کے زیر ِ اثر ہندوستان کی اکثریت وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ہو جائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انتہا پسند ہندوستان میں بہت ووٹ بھی لیتے رہے اور ان کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا تھا۔بلکہ جماعت ِ اسلامی یا پاکستان کی دوسری مذہبی پارٹیوں کو تو کبھی اتنی کامیابی نہیں ملی جتنی ہندو انتہا پسند پارٹیوں کو ہندوستان میں ملتی رہی ہے۔ تو اس صورت میں اگر یہ اکثریت میں ہوتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قدم اُٹھائیں تو کیا پھر پروفیسر غفور صاحب یہ نتیجہ نکالیں گے کہ قصور ضرور ہندوستان کے مسلمانوں کا ہی ہے۔ مگر یہ نظریہ انصاف کے مطابق نہیں ہو گا بلکہ اس اندھے تعصب کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ جن پر الزام لگایا جا رہا ہے ۔ان پر لگائے جانے والے الزاموں کی حقیقت کیا ہے۔یا پھر ہم یہ مثال لے سکتے ہیں کہ اگر کسی مغربی ملک میں وہاں کی اکثریت وہاں کے مسلمانوں سے نا روا سلوک کرے اور ان کے خلاف جذبات کو خواہ مخواہ ہوا دی جائے تو کیا لازماََ اس سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ قصور وار مسلمان ہی تھے۔ کوئی بھی صاحبِ عقل اس فلسفہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ان کا دوسرا الزام بھی بہت دلچسپ ہے اور وہ یہ کہ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے تعلقات کی بنا پر بھرتیاں کیں۔اس سوال کے پس منظر میں یہ الزام بھی مضحکہ خیز ہے۔سوال تو یہ تھا کہ ۹ جون ۱۹۷۴ء کو اپوزیشن نے جس میں پروفیسر غفور صاحب کی پارٹی بھی شامل تھی یہ مطالبہ کیوں کیا کہ احمدیوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کر دیا جائے تو اس کے جواب میں اس مطالبہ کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ اس مطالبہ سے کوئی پچیس سال پہلے ایک احمدی وزیر نے تعلقات کی بنا پر غلط بھرتیاں کی تھیں اس لئے ۱۹۷۴ء میں یہ مطالبہ پیش کرنا پڑا۔ اور یہ الزام بھی غلط ہے کیونکہ اس وقت ۱۹۵۳ء کی عدالتی تحقیقات کے دوران جماعت ِ اسلامی نے بھی اپنا بیان اور موقف پیش کیا تھا اور اس تحریری موقف میں بھی یہی الزام لگایا تھا کہ احمدیوں نے آزادی کے بعد اپنے آپ کو حکومتی اداروں میں بالخصوص ایئر فورس ،آرمی ،سفارت خانوں میں ، مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں مستحکم کر لیا تھا۔اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ وزارت ِ خارجہ میں تو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر ِ خارجہ تھے لیکن آرمی،ایئر فورس ،صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے سربراہ تو احمدی نہیں تھے ۔یہ کس طرح ممکن ہوا کہ احمدی ان میں نا جائز تصرف حاصل کرتے گئے ۔ اور اگر وزارت ِ خارجہ میں بھی ایسا ہوا تھا تو جماعت ِ اسلامی نے اس کا ثبوت کیا پیش کیا تھا ؟جماعت ِ اسلامی اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکی تھی ۔وہ کون سے لوگ تھے جن کو سفارت خانوں میں ناجائز طور پر بھرتی کیا گیا تھا؟جماعت ِ اسلامی تحقیقاتی عدالت میں کوئی ایک نام بھی پیش کرنے سے قاصر رہی تھی ۔ اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تھا کہ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے تعلقات کی بنا پر بھرتیاں کی تھیں۔کوئی ایک مثال نہیں پیش کی گئی تھی۔اس لئے کہ اس بات کا کوئی ثبوت تھا ہی نہیں یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔جنرل ضیاء کے دور ِ مارشل لاء میں پروفیسر غفور صاحب نے بھی وزارت قبول کی تھی۔اس وقت ان کے پاس موقع تھا کہ اس وقت احمدیوں کی مثالیں پیش کرتے جنہیں دوسروں کا حق مار کر میرٹ کے خلاف ملازمتیں دی گئی تھیں۔لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ احمدیوں کو تو کئی دہائیوں سے ان کے جائز حقوق سے بھی محروم کیا گیا ،ان کو میرٹ کے خلاف ملازمتیں دینے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔یہ لوگ نہ ۱۹۵۳ء میں اس بات کا کوئی ثبوت پیش کر سکے،نہ ۱۹۷۴ء میں اس الزام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے کوئی مثال پیش کر سکے اور نہ آج تک اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے کوئی معقول ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصہ بیت گیا بغیر ثبوت کے ایک بات ہی دہرائی جا رہی ہے کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پچاس سال پہلے کچھ احمدیوں کو نا جائز طور پر وزارت ِ خارجہ میں بھرتی کر لیا تھا۔
    اس دوران Associated Press نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ ان فسادات کے پیچھے حکومت ِ پاکستان کا ہاتھ کار فرما ہے۔آپ نے فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ و برباد نہیں کر سکتی ۔دنیا کے پچاس ممالک میں احمدیت موجود ہے۔ اگر پاکستان میں احمدی ختم بھی کر دیئے جائیں تو باقی دنیا میں موجود رہیں گے۔ (۲۰)
    جماعت کے مخالف مولویوں نے ۱۴ ؍جون ۱۹۷۴ء کو ایک ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی۔ملکی اخبارات میں مختلف تجارتی تنظیموں اور مجلس تحفظِ ختم نبوت اور دوسری تنظیموں کی طرف سے اعلانات شائع ہو رہے تھے کہ قادیانیوں کا مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔ان سے کسی قسم کے مراسم نہ رکھے جائیں اور نہ ہی کسی قسم کا لین دین کیا جائے۔اور ملک کا ایک حصہ اس مہم میں حصہ بھی لے رہا تھا۔اس مرحلہ پر حکومتِ وقت کے جو اعلانات شائع ہو رہے تھے ان کی روش کا اندازہ ان مثالوں سے ہو جاتا ہے۔ ۱۲؍ جون کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب حنیف رامے صاحب نے بیان دیا کہ حکومت قادیانیت کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ جماعت احمدیہ اور دیگر فرقوں کا مذہبی اختلاف ایک مذہبی معاملہ ہے لیکن حنیف رامے صاحب یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ یہ حکومت کا کام ہے مذہبی اختلافات کے معاملات کا مستقل حل تلاش کرے۔اس کے ساتھ رامے صاحب نے شورش برپا کرنے والوں کو یہ خوش خبری سنائی کہ امیر جماعت ِ احمدیہ کو شاملِ تحقیق کر لیا گیا ہے۔اور پھر اعلان کیا کہ ہمارے اور عامۃ المسلمین کے جذبات اور عقائد ایک ہیں اورپھر یہ خوش خبری سنائی کہ صوبہ پنجاب میں مکمل امن و امان قائم ہے اور پھرمولویوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن قائم کرنے کا کام اکیلے حکومتِ وقت نہیں کر سکتی تھی عوام کے شعور ،اخبارات اور علماء کے تعاون سے یہ کام ممکن ہوا ہے ۔(۲۱)
    جیسا کہ ہم پہلے ہی جائزہ لے چکے ہیں کہ جس وقت رامے صاحب نے یہ بیان دیا اس وقت پورے صوبے میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی،ان کے گھر اور املاک کو آگیں لگائی جا رہی تھیں اور لوٹا جا رہا تھا لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کو صوبے میںامن و امان نظر آ رہا تھا۔ مولویوں کا گروہ پورے ملک میں لوگوں کواکسا رہا تھا کہ وہ احمدیوں کا خون بہائیں اور وزیرِ اعلیٰ صاحب ان کے کردار کو سراہ رہے تھے۔اخبارات احمدیوں کی قتل و غارت اور ان پر ہونے والے مظالم کی خبروں کا مکمل بائیکاٹ کیے بیٹھے تھے اور ان میں روزانہ جماعت کے خلاف جذبات بھڑکانے والا مواد شائع ہوتا تھا اور اپیلیں شائع ہو رہی تھیں کہ احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دو،ان سے روز مرہ کا لین دین بھی نہ کرو لیکن پنجاب کے وزیر اعلیٰ اخبارات کی تعریف کر رہے تھے کہ انہوں نے امن قائم کرنے کے لیے مثالی تعاون کیا ہے۔وزیر ِ اعلیٰ پنجاب کے بیان کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے اور وہ یہ کہ یہ فسادات حکومت کی آشیر باد سے کرائے جا رہے تھے۔
    وزیر ِ اعظم کا انکشاف کہ ان حالات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کار فرما ہے
    ۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک نشری تقریر کی اور اس میں کہا کہ جو شخص ختم ِ نبوت پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں ہے۔اور کہا کہ بجٹ کا اجلاس ختم ہوتے ہی جولائی کے آغاز میں یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور ۹۰ سالہ اس مسئلہ کو اکثریت کی خواہش اور عقیدہ کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔لیکن کسی کو امن ِ عامہ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط اعصاب کے سیاستدان ہیں اور وہ جو فیصلہ کریں گے انہیں اس پر فخر ہو گا۔بھٹو صاحب نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ الیکشن میں قادیانیوں نے انہیں ووٹ دیئے تھے لیکن انہیں قادیانیوں نے خریدا نہیں اور نہ وہ ان کے محتاج ہیں۔اور انہیں شیعہ سنی اور دوسرے فرقہ کے لوگوں نے بھی ووٹ دیئے تھے۔(۲۲)
    لیکن ان سب باتوں کے ساتھ وزیر اعظم نے اس بات کا بھی بَرملا اظہار کیا کہ نہ صرف وہ بلکہ کئی دوسرے لوگ بھی یہ بات دیکھ رہے ہیں کہ ان حالات کے پیچھے بھی غیر ملکی ہاتھ کارفرما ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ایک طرف بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا ،دوسری طرف افغانستان کے صدر سرکاری مہمان کی حیثیت سے ماسکو پہنچ گئے۔اور پاکستان میں یہ مسئلہ اُ ٹھا دیا گیا۔ ربوہ کا واقعہ ان واقعات سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ۔اور کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت اور وحدت کے لیے خطرہ ہے۔ (۲۳،۲۴)
    یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ حکومت مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن کی جماعتیں اور مولویوں کا گروہ سب جماعت کے خلاف شورش سے اپنا سیاسی قد بڑھانے کے لیے اس شورش کو ہوا دے رہے تھے اور اس کارنامہ کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لیے کوشاں تھے لیکن یہ سب جانتے تھے کہ اس شورش کی باگیں ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ملک سے باہر ہیں اور کوئی بیرونی ہاتھ اس بساط پر مہروںکو حرکت دے رہا تھا اور بھٹو صاحب جیسا ذہین سیاستدان یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ اس راستہ میں کئی ممکنہ خطرات بھی تھے۔
    ۱۴ جون کو خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے احبابِ جماعت کو ان الفاظ میںاستغفار کی طرف توجہ دلائی:۔
    ’’پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کے لیے استغفار ہے اس لئے تم اٹھتے بیٹھتے ہر وقت خدا سے مدد مانگو ۔پچھلے جمعہ کے دن پریشانی تھی لیکن بشاشت بھی تھی اور گھبراہٹ کا کوئی اثر نہیں تھا لیکن بہر حال ہمارے کئی بھائیوں کو تکلیف پہنچ رہی تھی جس کی وجہ سے ہمارے لئے پریشانی تھی۔میں نے نماز میں کئی دفعہ سوائے خدا تعالیٰ کی حمد کے اور اس کی صفات دہرانے کے اور کچھ نہیں مانگا ۔میں نے خدا سے عرض کیا کہ خدایا تو مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ ایک احمدی کو کیا چاہئے۔ اے خدا !جو تیرے علم میں بہتر ہے وہ ہمارے ہر احمدی بھائی کو دے دے۔ میں کیا مانگوں میرا تو علم بھی محدود ہے میرے پاس جو خبریں آ رہی ہیں وہ بھی محدود ہیں اور کسی کے لیے ہم نے بد دعا نہیں کرنی، ہاں یاد رکھو بالکل نہیں کرنی ۔خدا تعالیٰ نے ہمیں دعائیں کرنے کے لیے اور معاف کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس نے ہمیں نوعِ انسان کا دل جیتنے کے لیے پیدا کیا ہے۔اس لئے ہم نے کسی کو نہ دکھ پہنچانا ہے اور نہ ہی کسی کے لیے بد دعا کرنی ہے۔آپ نے ہر ایک کے لیے خیر مانگنی ہے۔ یاد رکھو ہماری جماعت ہر ایک انسان کے دکھوں کو دور کر نے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ لیکن اپنے اس مقام پر کھڑے ہونے کے لیے اور روحانی رفعتوں کے حصول کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اُ ٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے اس طرح دعائیں کی جائیں کہ آپ کی خوابیں بھی استغفار سے معمور ہو جائیں۔‘‘ (۲۵)
    پندرہ جون سے تیس جون تک کے حالات
    جون کے آخری دو ہفتہ میں بھی جماعت ِ احمدیہ کے خلاف فتنہ کی آگ بھڑکانے کی مہم پورے زور و شور سے جاری رہی۔اور اب یہ فتنہ پرور اس بات کے لیے بھرپور کاوشیں کر رہے تھے کہ کسی طرح احمدیوں کا معاشی،معاشرتی اور کاروباری بائیکاٹ اتنا مکمل کیا جائے کہ اس کے دباؤ کے تحت ان کے لیے جینا نا ممکن بنا دیا جائے اور وہ اپنے عقائد کو ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ہم اس مرحلہ پر پڑھنے والوں کو یہ یاد دلاتے جائیں کہ جیسا کہ ہم ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلسِ شوریٰ کے ذکر میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس وقت یہ فرمایا تھا کہ مخالفین یہ منصوبہ بنا رہے ہیںکہ احمدیوں پر اتنا معاشی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائیں ۔اور ۱۹۷۴ء میں ہی مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں بھی یہ قرارداد منظور کی گئی تھی کہ احمدیوں کا معاشی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے اور ان کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔اور اب فسادات شروع ہونے کے بعد ان مقاصد کے حصول کے لئے ہر طرح کا ناجائز ذریعہ استعمال کیا جا رہا تھا۔
    سرگودھا کی دوکانوں پر جلی حروف میں یہ اعلان لکھ کر لگایا گیا تھا کہ یہاں سے مرزائیوں کو سودا نہیں ملے گا۔بعض اوقات جو احمدی گھروں سے باہر نکلتے تو ڈیوٹی پرمامور کچھ لڑکے ان سے استہزاء کرتے ،ان پر موبل آئل پھینکتے۔ان فتنہ پردازوں کی حالت اتنی پست ہو چکی تھی کہ ۱۸؍ جون کو چنیوٹ میں ایک دس سالہ احمدی لڑکا جب گھر سے باہر نکلا تو اس کے کپڑوں کو آگ لگا دی گئی ۔لیکن خدا نے اس کی جان بچا لی۔گوجر خان میں ایک بیمار احمدی دوائی لینے کے لیے نکلا تو پورے شہر میں اسے کسی نے دوائی بھی فروخت نہ کی۔یہ لوگ احمدیوں کو تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں کھونا چاہتے تھے خواہ اس کے لیے کتنی ہی پستی میں کیوں نہ گرنا پڑے۔ان کے مظالم سے زندہ تو زندہ فوت شدہ بھی محفوظ نہ تھے۔ ۲۲؍ جون کو خوشاب میں ایک احمدی کی قبر کو اکھیڑ کر اس کی بے حرمتی کی گئی ۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انہیں فسادات کے دوران ضلع خوشاب میں قائد آباد کے مقام پر ایک بہت بڑا جلوس نکال کر احمدیوں کی چھ دوکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا،لائبریری جلائی گئی اور احمدیوں کو زدو کوب کیا گیا۔اس ضلع میں بعض احمدیوں کے مکانوں کو آگ لگائی گئی اور بعض پر نشانات لگائے گئے کہ ان کو نذرِ آتش کرنا ہے لیکن پھر مفسدین کو کامیابی نہیں ہوئی۔اسی ضلع میں ۱۷ ؍جون ۱۹۷۴ء کو ایک گاؤں چک ۳۹ ڈی بی میں ایک بڑے جلوس نے محاصرہ کر لیا اور احمدیوں کو مرتد ہونے کے لئے الٹی میٹم دیا۔احمدیوں کی فصلیں تباہ کی گئیں۔اسی ضلع میں اکتوبر کے مہینے میں روڈہ کے مقام پر احمدیوں کی مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اور پھگلہ صوبہ سرحد میں دو غیر احمدی احباب کا صرف اس وجہ سے بائیکاٹ کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک احمدی کی تدفین میں شرکت کی تھی۔۲۶؍ جون کو فتح گڑھ میں ایک احمدی کی تدفین زبردستی رکوا دی گئی۔ڈسکہ میں ایک احمدی کی چھ ماہ کی بچی فوت ہو گئی۔جب تدفین کا وقت آگیا تو سات آٹھ سو افراد کا جلوس اسے روکنے کے لیے پہنچ گیا۔سرکاری افسران سے مدد طلب کی گئی تو انہوں نے کسی مدد سے انکار کر دیا۔ناچار بچی کو جماعت کی مسجد کے صحن میں ہی دفن کیا گیا۔جب پاکستان میں ہر طرف وحشت و بربریّت رقص کر رہی تھی تو اس پس منظر میں اخبارات احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا تو ذکر تک نہیں کر رہے تھے البتہ یہ سرخیاں بڑے فخر سے شائع کر رہے تھے کہ علماء کی اپیل پر احمدیوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ ۶ا؍جون کو یہ خبر نوائے وقت کے صفحہ اوّل کی زینت بنی کہ تحریک ختم نبوت کی اپیل پر آج مسلمانوں نے قادیانیوں کا مکمل سماجی اور سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا ہے اور یہ کہ قادیانیوں کے ریسٹورانٹ پر گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔
    اس مرحلہ پر پاکستان کے کچھ سیاسی لیڈر دوسرے ممالک کے سربراہان سے بھی اپیلیں کر رہے تھے کہ وہ قادیانیت کو کچلنے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں اور اس طرح دوسرے ممالک کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی دعوت دی جا رہی تھی۔چنانچہ جماعتِ اسلامی کے امیر طفیل محمد صاحب نے سعودی عرب کے شاہ فیصل کو ایک تار کے ذریعہ اپیل کی کہ پاکستان میں جو فتنہ قادیانیت نے سر اُ ٹھا رکھا ہے،اس کو کچلنے کے لیے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔انہوں نے مزیدلکھا کہ جس طرح رابطہ عالمِ اسلامی کے اجلاس میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا تھا اسی طرح پاکستان میں بھی ہونا چاہئے اور لکھا کہ میں حرمین شریفین کے خادم ہونے کے ناطے سے اپیل کرتا ہوںکہ آپ اس مسئلہ میں اپنا اثر و رسوخ اور دوسرے ذرائع استعمال کریں (۲۶)۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ایسی شورش برپا کی گئی تو اس کے بہت سے کرتا دھرتا افراد کی پرورش بیرونی ہاتھ کر تے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دوسرے ممالک کو اس ملک کے داخلی معاملات میں دخل دینے کا موقع مل جاتا ہے اور پھر یہ منحوس چکر چلتا رہتا ہے اور اس ملک کی پالیسیوں کی باگ ڈور بیرونی عناصر کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ بعد میں پاکستان میں جو حالات رونما ہوئے وہ اس بات کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔خادم حرمین شریفین یا کسی اور بیرونی سربراہِ مملکت کا یہ کام نہیں کہ پاکستان یا کسی اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے لیکن یہ حکومت ِ وقت کا کام بھی ہے کہ وہ اس چیز کا نوٹس لے اور یہ نوبت نہ آنے دے کہ کسی بیرونی ہاتھ کو ملک میں مداخلت کا موقع ملے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال کیا کہ کیا میاں طفیل محمد کایہ بیان غیر ملکی سربراہ کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینے کے مترادف نہیں ہے۔تو اس موقع پر جو سوال جواب ہوئے وہ یہ تھے۔
    ’’ڈاکٹر مبشر حسن صاحب۔ممکن ہے کہ انہوں نے وہ ان کے کہنے پر ہی کیا ہو کہ تم یہdemand کرو۔
    سلطان :کس کے کہنے پر؟
    ڈاکٹر مبشر حسن صاحب:باہر والوں کے۔
    سلطان: شاہ فیصل کے کہنے پر ؟
    ڈاکٹر مبشر حسن صاحب : ہاں۔
    سلطان: اچھا۔
    ڈاکٹر مبشر حسن صاحب :ان کے یا کسی اور کے۔جہاں سے بھی انہیں پیسے آتے تھے۔
    سلطان : میاں طفیل محمد کو جماعت ِ اسلامی کو پیسے ملتے تھے؟
    مبشر حسن:ہاں ہاں۔
    سلطان: ان کے کہنے پر انہوں نے کہا OK تم یہ کرو؟
    ڈاکٹر مبشر حسن صاحب:ہاں تم یہdemand کرو بھئی ہم کر دیں گے۔خود بخود ہم نے تو نہیں کیا۔demandہو رہی تھی بھائی عوام سے۔‘‘
    جب ہم نے عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب سے سوال کیا کہ میاں طفیل محمد صاحب کا یہ بیان غیر ملکی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف نہیں تھا تو انہوں نے کہا:
    ‘‘Jamat e Islami always did it, JUI always did it,
    JUP always did it’’
    جماعت ِ اسلامی ہمیشہ یہی کرتی تھی،جمعیت علماء ِ اسلام ہمیشہ یہی کرتی تھی،جمعیت علمائے پاکستان ہمیشہ یہی کرتی تھی۔
    حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ نے ۲۱ ؍جون ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم کا ذکر کر کے فرمایاکہ رسولِ کریم ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو شعبِ ابی طالب میں جو تکالیف پہنچائی گئیں وہ بہت زیادہ تھیں۔اور پھر آپ کا مکی دور تکالیف کا دور تھا۔ان کی محبت کا تقاضا ہے کہ اگر دسیوں برس تک بھی ہمیں تکالیف اُٹھانی پڑیں تو ہم اس پیار کے نتیجہ میں دنیا پر ثابت کر دیں کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں اور محمد ﷺ کے ساتھ پیار کرتے ہیں جوع کی حالت بھی ان کی وفا کو کمزور نہیںکرتی۔وہ اسی طرح عشق میں مست رہتے ہیں جس طرح پیٹ بھر کر کھانے والا شخص مست رہتا ہے۔ان دنوں جماعت کے خلاف حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ بڑے زور شور سے کیا جا رہا تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔حضور نے اس نا معقول مطالبہ کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا بھر میں ایک شخص کا مذہب وہی سمجھا جاتا ہے جس کی طرف وہ خود اپنے آپ کو منسوب کرتا ہو۔حضور نے اس ضمن میں چین جیسے کمیونسٹ مذہب کی مثال دی۔اور اس ضمن میں ان کے قائد چیئرمین ماؤ کے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔اور فرمایا کہ کسی حکومت کا یہ حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کسی شہری کا مذہب کیا ہے۔ اور یو این او کے انسانی حقوق کے منشور کا حوالہ دیا جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔اور پھر اس مضمون پر پاکستان کے آئین کا تجزیہ کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا:۔
    ’’آخر میں میں اپنے دستور کو لیتا ہوں ہمارا موجودہ دستور جو عوامی دستور ہے،جو پاکستان کا دستور ہے۔وہ دستور جس پر ہمارے وزیر ِ اعظم صاحب کو بڑا فخر ہے،وہ دستور جو ان کے اعلان کے مطابق دنیا میںپاکستان کے بلند مقام کو قائم کرنے والا اور اس کی عزت اور احترام میں اضافہ کا موجب ہے،یہ دستور ہمیں کیا بتاتا ہے؟اس دستور کی بیسویں دفعہ یہ ہے
    (a) Every Citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion and
    (b) every religious denomination and every sect thereof shall have the right to maintain and manage its religious institution.
    اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو ہمارا یہ دستور جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہے یہ ضمانت دیتا ہے کہ جو اس کا مذہب ہو اور جس مذ ہب کا وہ خود اپنے لئے فیصلہ کرے وہ اس کا مذہب ہے۔(بھٹو صاحب یا مفتی محمود صاحب یا مودودی صاحب نہیں بلکہ) جس مذہب کے متعلق وہ فیصلہ کرے وہی اس کا مذہب ہے اور وہ اس کا زبانی اعلان کر سکتا ہے۔یہ دستور اسے حق دیتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں کہ نہیںاور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں تو یہ آئین جس پر پیپلز پارٹی کو بھی فخر ہے (اور ہمیں بھی فخر ہے اس لئے یہ دفعہ اس میں آ گئی ہے)یہ دستور کہتا ہے کہ ہر شہری کا یہ حق ہے کہ وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمانوں کے اندر میں وہابی ہوں یا اہلِ حدیث ہوں یا اہلِ قرآن ہوں یا بریلوی ہوں ( وغیرہ وغیرہ تہتر فرقے ہیں )یا احمدی ہوں تو یہ ہے مذہبی آزادی …
    پس ہزار ادب کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ عقل کی بات ہم حکومت کے کان تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جس کا تمہیں انسانی فطرت نے اور سرشت نے حق نہیں دیا جس کا تمہیں حکومتوں کے عمل نے حق نہیں دیا،جسکا تمہیں یو این اوکےHuman Rights نے(جس پر تمہارے دستخط ہیں)حق نہیں دیا،چین جیسی عظیم سلطنت جو مسلمان نہ ہونے کے باوجود اعلان کرتی ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کوئی شخص Professکچھ کر رہا ہو اور اس کی طرف منسوب کچھ اور کر دیا جائے۔ میں کہتا ہوں میں مسلمان ہوں ،کون ہے دنیا میں جو یہ کہے گا کہ تم مسلمان نہیںہو۔یہ کیسی نا معقول بات ہے۔یہ ایسی نا معقول بات ہے کہ جو لوگ دہریہ تھے انہیں بھی سمجھ آ گئی۔پس تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کا تمہیں تمہارے اس دستور نے حق نہیں دیا۔۔‘‘ (۲۷)
    ایک طرف تو جماعت ِ احمدیہ کے متعلق حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارادے اچھے نہیں معلوم ہورہے تھے اور دوسری طرف ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کا ظلم کیا جا رہا تھا تاکہ وہ اس دباؤ کے تحت اپنے عقائد ترک کر دیں۔لیکن جب ابتلاؤں کی شدت اپنی انتہا پر پہنچی ہو تو ایک عارف با للہ یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ان مشکلات کے ساتھ اللہ کی نصرت آ رہی ہے۔چنانچہ ۲۸ جون کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا:۔
    ’’ہمارا زمانہ خوش رہنے، مسکراتے رہنے اور خوشی سے اچھلنے کا زمانہ ہے ۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے کہ اس زمانہ میں نبی اکرم ﷺ کا جھنڈا دنیا کے ہر ملک میں گاڑا جائے گا۔اور دنیا میں بسنے والے ہر انسان کے دل کی دھڑکنوں میں محمد ﷺ کی محبت اور پیار دھڑکنے لگے گا۔اس لئے مسکراؤ!۔
    مجھے یہ خیال اس لئے آیا کہ بعض چہروں پر میں نے مسکراہٹ نہیں دیکھی۔ہمارے تو ہنسنے کے دن ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی فتح اور غلبہ کی جسے بشارت ملی ہووہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیکھ کردل گرفتہ نہیں ہوا کرتا اور جو دروازے ہمارے لیے کھولے گئے ہیں وہ آسمانوں کے دروازے ہیں۔‘‘(۲۸)
    جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ ان فسادات کے دوران ایک گیارہ برس کے احمدی بچے کو بھی ہجکہ نامی گاؤں سے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس اس بچے کو گرفتا رکرنے کے لئے آئی تو سپاہی ہتھکڑی لگانے لگے۔بچے کی عمر اتنی چھوٹی تھی کہ ہتھکڑی لگائی گئی تو وہ بازو سے نکل گئی۔اس پر پولیس والے نے صرف بازو سے پکڑ کر گرفتار کرنے پر اکتفا کیا۔ البتہ اتنی مہربانی کی کہ اس بچے کو اپنے بھائیوں سمیت جیل میں اس احاطے میں رکھا گیا جہاں پر ربوہ سے گرفتار ہونے والے اسیران کو رکھا گیا تھا۔اس احاطے میں سات کوٹھریاں تھیں۔اسیران کو شام چار بجے کوٹھریوں میں بند کر دیا جاتا اور صبح چار بجے وہاں سے نکال دیا جاتا۔ان کا وقت یا تو دعاؤں میں گزرتا یا پھر دل بہلانے کو کوئی کھیل کھیلنے لگ جاتے۔مغرب عشاء کے وقت جب ہر کوٹھری سے اذان دی جاتی تو جیل کی فضاء اذانوں سے گونج اُٹھتی۔جیل میں کھانا اتنا ہی غیر معیاری دیا جاتا جتنا پاکستان کی جیلوں میں دیا جاتا ہے۔ صبح کے وقت گڑ اور چنے ملتے اور شام کو بد مزہ دال روٹی ملتی۔گرمی کے دن تھے اور جیل میں پنکھا تک موجود نہیں تھا البتہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے وہاں پر پنکھے لگانے کا انتظام فرما دیا تھا۔اَسّی افراد کے لئے ایک لیٹرین تھی جس کی دن میں صرف ایک مرتبہ صفائی ہوتی تھی۔اور اگرکوٹھریوں میں جانے کے بعد بارہ گھنٹے کے دوران کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تو اسے لیٹرین میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی اور اس کے لیے نا قابلِ بیان صورت پیدا ہو جاتی تھی۔جب یہ گیارہ سالہ بچہ اپنے رشتہ داروں سمیت رہا ہوا تواس کے والد ملک ولی محمدصاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے ساتھ ملاقات کرنے گئے مگر اس بچے کو اپنے ساتھ نہ لے کر گئے حضور نے اس بچے کے بارہ میں دریافت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس بچے کو بھی ملاقات کے لئے لاؤ۔جب یہ بچہ حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو حضور نے گلے لگا کر پیار کیا اور پرائیویٹ سیکریٹری کو ارشاد فرمایا کہ ان کی تصویریں بنانے کا انتظام کیا جائے۔یہ بچہ اب تک تاریخِ احمدیت کا سب سے کم عمر اسیرہے۔ یہ اسیر مبشر احمد خالد صاحب مربی سلسلہ ہیں۔
    پاکستان کی قومی اسمبلی پر مشتمل ایک سپیشل کمیٹی قائم ہوتی ہے
    پاکستان کے وزیر ِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ جب قومی اسمبلی بجٹ کے معاملات سے فارغ ہو گی،قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تاکہ اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی حل نکالا جائے۔۳۰؍ جون ۱۹۷۴ ء کو قومی اسمبلی میں بجٹ کی کارروائی ختم ہوئی ،اس موقع پر وزیراعظم بھی ایوان میں موجود تھے۔ اس مرحلہ پراپوزیشن کے ممبران نے ایک قرارداد پیش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیرو کاروںکو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے کہا کہ حکومت اصولی طور پر اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔وزیرِ قانون نے تجویز دی کہ کارروائی کو دو گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا جائے تاکہ حکومت اپوزیشن کے مشورہ کے ساتھ کوئی قرارداد تیار کر سکے یہ تجویز منظور کر لی گئی۔ان دو گھنٹوں میں سپیکر کے کمرہ میں ایک میٹنگ ہوئی۔جس میں وزیر قانون پیرزادہ صاحب،سیکریٹری قانون محمد افضل چیمہ صاحب،پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ حنیف رامے صاحب اور اپوزیشن کے ممبران میں سے مفتی محمود صاحب،شیر باز مزاری صاحب،شاہ احمد نورانی صاحب،غلام فاروق صاحب اور سردار شوکت حیات صاحب نے شرکت کی۔اپوزیشن کے ممبران نے یہ واضح کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی قرارداد کو ایوان میں پیش کریں گے۔اس وقفہ میں مشورہ کے بعد ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔اس میں وزیرِ قانون نے قرار داد پیش کی کہ ایک سپیشل کمیٹی قائم کی جائے جو ایوان کے تمام اراکین پر مشتمل ہو۔اور سپیکر اسمبلی اس کے چیئر مین کے فرائض ادا کریں۔اس کمیٹی کے سپرد مندرجہ ذیل تین کام ہوں گے۔
    ۱)۔اسلام میں اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہ مانتا ہو۔
    ۲)۔ایک مقررہ وقت میں ممبران کمیٹی سے قراردادیں اور تجاویز وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔
    ۳)۔غور کرنے ،گواہوں کا بیان سننے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس مسئلہ کے متعلق تجاویز مرتب کرنا۔
    اس کے ساتھ وزیرِ قانون نے کہا کہ اس کمیٹی کی کارروائی بند کمرہ میں(In Camera) ہو گی۔
    ایوان نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کر لی۔اس کے بعد اپوزیشن کے۲۲ اراکین کے دستخطوں کے ساتھ ایک قرارداد پیش کی گئی ۔ایوان میں اس قرارداد کو شاہ احمد نورانی صاحب نے پیش کیا اس پر مختلف پارٹیوں کے اراکین کے دستخط تھے۔اس قرارداد کے الفاظ تہذیب سے کلیۃً عاری تھے۔
    اس قرار داد کے الفاظ تھے
    ’’چونکہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت محمد ﷺکے بعد جو اللہ کے آخری نبی ہیں نبوت کا دعویٰ کیا۔
    اور چونکہ اس کا جھوٹا دعویٰ نبوت ،قرآنِ کریم کی بعض آیات میں تحریف کی سازش اور جہاد کو ساقط کر دینے کی کوشش،اسلام کے مسلّمات سے بغاوت کے مترادف ہے۔
    اور چونکہ وہ سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
    چونکہ پوری امتِ مسلمہ کا اس بات پرکامل اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار خواہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہوں یا اسے کسی اور شکل میں اپنا مذہبی پیشوا یا مصلح مانتے ہوں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    چونکہ اس کے پیروکار خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو۔وہ دھوکا دہی سے مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ بن کر اور اس طرح ان سے گھل مل کر اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
    چونکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی تنظیموں کی ایک کانفرنس میںجو ۶ تا ۱۰ ؍اپریل مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی ،جس میں دنیا بھر کی ۱۴۰ مسلم تنظیموں اور انجمنوں نے شرکت کی اس میں کامل اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ کردیا گیا کہ قادیانیت جس کے پیرو کار دھوکا دہی سے اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ کہتے ہیں۔دراصل اس فرقہ کا مقصد اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنا ہے اس لئے اب یہ اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو دستور میں ضروری ترامیم کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا سکے اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے ان کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔‘‘
    وزیرِ قانون نے اس قرارداد میں جو انہوں نے پیش کی تھی اور اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد میں مشترکہ امور کی نشاندہی کی۔ایوان نے اس قرارداد کو بھی سپیشل کمیٹی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔ (۲۹تا۳۱)
    اب یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ابھی اس موضوع پر اسمبلی کی باقاعدہ کارروائی شروع ہی نہیں ہوئی اور ابھی جماعت ِ احمدیہ کا موقف سنا ہی نہیں گیا تو اپوزیشن ایک مشترکہ قرارداد پیش کرتی ہے کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم قرار دیا جائے اور حکومت یہ کہتی ہے کہ ہم اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہیں تو باقی کیا رہ گیا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ابھی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ اصل میں فیصلہ ہو چکا تھا اور بعد میں جو کچھ کارروائی کے نام پر ہوا وہ محض ایک ڈھونگ تھا۔ جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے اس بارے میں سوال کیاتو ان کا جواب تھا کہ مجھے صحیح تو معلوم نہیں لیکن یہ ہوا ہو گا کہ جب قرارداد پیش ہوئی ہو گی تو پیرزادہ صاحب بھٹو صاحب کے پاس گئے ہوں گے کہ یہ قرارداد ہے اب کیاAttitude لیں۔ تو بھٹو صاحب نے کہا ہو گا کہ پیش ہونے دو۔مخالفت نہ کرو۔تو اب انہیں یہ سمجھ میں نہیں آئی کہ کیا الفاظ استعمال کریں۔ تا کہ یہ کہہ بھی دیں اوران الفاظ میں نہ کہیں اب تو پکڑے گئے۔اور پھر جب ہم نے یہ بات دہرائی کہ یہ واقعہ تو ۳۰ جون کا ہے تو ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے کہا۔
    ’’ہاں بالکل بیوقوف تھا لاء منسٹر۔اگر وہ بھٹو صاحب کا ساتھی ہوتا تو اس طرح انہیں exposeنہ کرتا۔‘‘
    جب انہیں کہا گیا کہ یہ تو انصاف سے بعید ہے کہ ایک فرقہ کا موقف سنے بغیر آپ فیصلہ سنا دیں۔اس پر ان کا جواب تھا۔
    ’’ نیت تو ہو گئی تھی۔‘‘
    جب ہم نے یہ سوال اس وقت کے سپیکر صاحب صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے پوچھا کہ جب اپوزیشن نے یہ قرارداد پیش کی تو حکومت نے کہا کہ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس وقت تک فیصلہ ہو چکا تھا تو ان کا جواب تھا:
    ’’نہیں وہ اس سے پہلے جائیں ناںرابطہ عالمِ اسلامی کی طرف‘‘
    اس پر ہم نے کہا۔
    ’’مطلب یہ کہ اس وقتDecide ہو چکا تھا‘‘
    اس پر صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا:
    ‏’’Decideنہیں مطلب یہ ہے کہThey were planning like that Decisionاور ہوتا ہے planningاور ہوتی ہے۔‘‘
    اب قارئین یہ بات صاف صاف دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت کے قومی اسمبلی کے سپیکر صاحب کے نزدیک جس وقت رابطہ عالمِ اسلامی کے اجلاس میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف قرار داد منظور کی گئی اسی وقت اس چیز کا منصوبہ بن چکا تھا کہ پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ہے۔ اب یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ ڈیڑھ ماہ میں ربوہ کے سٹیشن پر واقعہ بھی ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں ملک گیر فسادات بھی شروع ہو جائیں،جس کے نتیجہ میں یہ مطالبہ پورے زور و شور سے پیش کیا جائے کہ آئین میں ترمیم کر کے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ پڑھنے والے یہ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں لازماََ یہ ماننا پڑے گا کہ ان فسادات کو بھی ایک پلان کے تحت شروع کرایا گیا تھا۔
    اگلے روز یکم جولائی کو اس سپیشل کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا اور یہ اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔ اس اجلاس میں یہ منظور کیا گیا کہ اس کمیٹی کی تمام کارروائی بصیغہ راز رکھی جائے گی۔اور سوائے سرکاری اعلامیہ کے اس بارے میں کوئی خبر شائع نہیں کی جائے گی۔اور یہ بھی قرار پایا کہ یہ کمیٹی پانچ جولائی تک تجاویز کو وصول کرے گی۔اور اس کا اگلا اجلاس ۳ ؍جولائی کو ہو گا جس میں مزید قواعد و ضوابط طے کیے جائیں گے۔ (۳۲،۳۳)
    یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ آغاز سے ہی بڑے زور و شورسے اس بات کا اہتمام کیا جارہا تھا کہ تمام کارروائی کو خفیہ رکھا جائے اور کسی کو کان و کان خبر نہ ہو کہ کارروائی کے دوران کیا ہوا ۔حالانکہ اس کمیٹی میں ملک کے دفاعی رازوں پر تو بات نہیں ہونی تھی کہ اس کو خفیہ رکھنے کی ضرورت ہو ۔اس کے دوران تو جماعت کی طرف سے اور جماعت کے مذہبی مخالفین کی طرف سے مذہبی دلائل پیش ہونے تھے اور دلائل کا یہ تبادلہ کوئی نوے سال سے جاری تھا۔یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا تھا تاکہ امنِ عامہ کی حالت خراب نہ ہو کیونکہ جہاں جہاں فسادات کی آگ بھڑکائی جا رہی تھی ،ایسے اکثرمقامات پر تو قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو خاموش تماشائی بن کر کھڑے تھے یا پھر مفسدین کی اعانت کر رہے تھے۔لیکن جب وزیرِ اعظم بھٹو صاحب نے اس مسئلہ پر ۳؍ جون کو ایوان میں تقریر کی تو اس بات کا اشارہ دیا کہ اس ضمن میں کارروائی In Cameraکی جا سکتی ہے۔جب وزیرِ قانون نے تمام ایوان کو سپیشل کمیٹی میں تبدیل کر کے کارروائی شروع کرنے کی تجویز پیش کی تو ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ کارروائی In Cameraہوگی۔تمام ایوان کا سپیشل کمیٹی کے طور پر اجلاس شروع ہوا تو پھر یہ قانون منظور کیا گیا کہ کارروائی In Cameraہو گی۔آخر وزیر اعظم سے لے کر نیچے تک سب کورس میں اس بات کا ورد کیوں کر رہے تھے کہ کارروائی خفیہ ہو اور سرکاری اعلان کے علاوہ اس پر کوئی بات پبلک میں نہ آئے۔ یہ اس لیے تھا کہ نوے سال کا تجربہ انہیں یہ بات تو سکھا چکا تھا کہ وہ دلائل میں جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ورنہ جماعت نے جن پر ہر قسم کے مظالم ہو رہے تھے کبھی اس بات کا مطالبہ پیش ہی نہیں کیا تھا کہ اس کارروائی کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔
    تین جولائی کو کارروائی پھر سے شروع ہوئی اور مزید قواعد بنائے گئے اور ایک بار پھر In Camera یعنی خفیہ کارروائی کے اصول کا سختی سے اعادہ کیا گیا ۔منظور شدہ قواعد میں قاعدہ نمبر ۳ یہ تھا۔
    Secret Sittings_The sittings of the committee shall be held in camera and no strangers shall be permitted to be present at the sittings except the secretary and secretary Ministry of law and parliamentary affairs, and such officers and staff as the chairman may direct.
    یعنی کمیٹی کے اجلاسات خفیہ ہوں گے اور سوائے سیکریٹری اور سیکریٹری وزارت قانون اور پارلیمانی امور اور ان افسران کے علاوہ جن کی بابت صاحب ِ صدر ہدایت جاری کریں کوئی شخص ان اجلاسات کو ملاحظہ نہیں کر سکے گا۔ویسے تو اپوزیشن اور حکومت کے اراکین ہر معاملہ میں ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے تھے لیکن اس معاملہ میں اپوزیشن کی طرف سے بھی یہ نکتہ اعتراض نہیں اُ ٹھایا گیا کہ اس قدر خفیہ کارروائی کی ضرروت کیا ہے۔ انہیں بھی یہی منظور تھا کہ اس کارروائی کو منظر ِعام پر نہ لایا جائے۔ (۳۴)
    اس اجلاس میں بارہ رکنی ایک راہبر کمیٹی (Steering Committee) بھی قائم کی گئی جس میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کے اراکین شامل تھے۔بعد میں اس میں مزید اراکین کا اضافہ کر دیا گیا۔اور یہ طے پایا کہ ۶ ؍جولائی کی صبح کو راہبر کمیٹی کا اجلاس ہو اور اسی شام کو پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی کا اجلاس ہو۔وزیرِ قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب اس راہبر کمیٹی کے کنوینر مقرر ہوئے اور یہ فیصلہ ہوا کہ ۶؍ جولائی کی صبح کو اس راہبر کمیٹی کا اجلاس ہو گا اور شام کو پورے ایوان پر مشتمل سپیشل کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔
    یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے صدر کو لکھا کہ
    A delegation of the Ahmadiyya Movement in Islam comprising of the following members may kindly be allowed to present material with regard to our belief in Khatme Nabbuwat -finality of the prophethood of the Holy Prophet Muhammad may peace and blessing of Allah be on him and to depose as witnesses
    (1) Maulana Abul Ata (2) Sheikh Muhammad Ahmad Mazhar (3) Mirza Tahir Ahmad (4) Maulvi Dost Muhammad.
    یعنی جماعت کی طرف سے چار اراکین نامزد کئے گئے جو کہ اس موقع پر جماعت کے وفد کے اراکین کی حیثیت سے جماعت کامؤقف پیش کرنے کے لئے جائیں گے۔یہ چاراراکین مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب ،مکرم شیخ محمد احمد مظہر صاحب،حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور مکرم مولوی دوست محمد شاہد صاحب تھے۔
    ۸؍ جولائی۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری کی طرف سے جواب موصول ہوا:۔
    The special committee has permitted you to file a written statement of your views and produce documents etc in support. Thereof, the committee has also agreed to hear your delegation provided it is headed by chief of your Jammat. Oral statement or speech will not be allowed and only the written statement may be read before the committee. After hearing the statement and examining the documents the committee will put question to the chief of the jamaat. Please file your statement along with documents etc with the secretory National Assembly by six p.m. on eleventh July.
    یعنی اس ٹیلیگرام میں کہا گیا تھا کہ سپیشل کمیٹی جماعت کی طرف سے تحریری بیان کو قبول کرے گی اور اس کے ساتھ دوسری دستاویزات بھیجی جا سکتی ہیں ۔جماعت کے وفد کا موقف اس شرط پر سنا جائے گا کہ اس کی قیادت جماعت کے امام کر رہے ہوں۔کمیٹی کے سامنے تحریری بیان پڑھا جائے گا زبانی بیان یا تقریر کی اجازت نہیں ہو گی۔اس بیان کے بعد سپیشل کمیٹی جماعت کے سربراہ سے سوالات کرے گی۔براہ مہربانی اپنا بیان شام چھ بجے ۱۱؍ جولائی تک جمع کرادیں۔
    اب یہ عجیب صورت حال پیدا کی جا رہی تھی کہ جماعت کا وفد اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا تو یہ اختیار بھی جماعت کو ہی تھا کہ وہ جسے پسند کرے اس وفد کا رکن یا سربراہ مقرر کرے لیکن یہاں پر قومی اسمبلی کی کمیٹی بیٹھی یہ فیصلہ بھی کر رہی تھی کی کہ جماعت کے وفد میں کسے شامل ہونا چاہئے۔ لیکن اس اندھیر نگری میں عقل کو کون پوچھتا تھا۔
    چنانچہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۴ ء کو ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے سیکریٹری صاحب قومی اسمبلی کو ایک خط تحریر فرمایا جس کے آخرمیں آپ نے لکھا
    ‘‘I find it very strange that you propose to appoint the head of delegation. I think the delegation being ours the choice as to who should lead it should also be ours.’’
    یعنی یہ بات میرے لئے حیرت کا باعث ہے کہ آپ ہمارے وفد کا سربراہ مقرر کر رہے ہیں۔ اگر یہ وفد ہمارا وفد ہے تو یہ فیصلہ بھی ہمارا ہونا چاہئے کہ اس کی قیادت کون کرے گا؟
    لیکن یہ عقل کی بات منظور نہیں کی گئی۔
    چنانچہ یہ تحریری موقف ایک محضر نامہ کی صورت میں تیار کیا گیا اور مکرم محمدشفیق قیصر صاحب مرحوم اس محضر نامہ کی ایک کاپی مکرم مجیب الرحمن صاحب کے پاس لے کر آئے کہ وہ اسے داخل کرائیں۔ چنانچہ مکرم مجیب الرحمان صاحب نے یہ کاپی قومی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل الیاس صاحب کے حوالے
    کی ۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے قبل تمام ممبرانِ اسمبلی کو اس کی ایک ایک کاپی دی جائے۔چنانچہ مجیب الرحمن صاحب نے فون پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے اس بابت عرض کیا۔چنانچہ دو تین دن کے اندر مکرم شفیق قیصرصاحب ایک گاڑی میں اس کی شائع کردہ مطلوبہ کاپیاں لے کر آگئے۔ابھی اس کی جلدیں گیلی تھیں کہ یہ کاپیاں سیکریٹری اسمبلی کے حوالہ کی گئیں(۳۵)۔
    اس محضر نامے کے ساتھ کچھAnnexuresبھی اجازت لے کر جمع کرائے گئے تھے۔ان کی فہرست یہ ہے:۔
    (1 ) An extract from 'the Anatomy of Liberty' by William O. Douglas
    (2) We are Muslims by Hazrat Khalifa tul Masih Third
    (3) Press release by Mr. Joshua Fazaluddin
    (۴)فتاویٰ تکفیر
    (۵)مقربانِ الٰہی کی سرخروئی از مولوی دوست محمد شاہد صاحب
    (۶)القول المبین از مولانا ابوالعطاء صاحب
    (۷) خاتم الانبیاء ﷺ
    (۸) مقا مِ ختمِ نبوت از حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ
    (۹) ہم مسلمان ہیں از حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ
    (۱۰) ہمارا موقف
    (۱۱)عظیم روحانی تجلّیات از حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ
    (۱۲) حضرت بانیِ سلسلہ پر تحریفِ قرآن کے بہتان کی تردید
    (۱۳) مودودی شہ پارے
    (حضرت مولانا دوست محمدشاہد صاحب کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ضمیمہ جات ان کے بعد بھی جمع کرائے گئے تھے ان کی فہرست یہ ہے:۔
    ۱۔آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر تبصرہ۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ
    ۲۔تحریک ِ پاکستان میں جماعت ِ احمدیہ کا کردار از مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب)
    پندرہ جولائی کو وزیرِ قانون نے ایک پریس کانفرنس میں ان کمیٹیوں کی کارگزاری بیان کی۔ انہوں نے پریس کو بتایا کہ راہبر کمیٹی میں حکومتی اراکین کے علاوہ جماعت ِ اسلامی ، جمعیت العلماء اسلام اور جمعیت العلماء ِ پاکستان کے اراکینِ اسمبلی بھی شامل ہیں۔لاہور اور ربوہ دونوں کی جماعتوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنا تحریری موقف جمع کرائیں۔ربوہ کی جماعت کی طرف سے ۱۹۸ صفحات پر مشتمل ایک کاپی موصول ہوئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ ۱۵ ؍جولائی تک اس کی ۲۵۰ کاپیاں جمع کرائیں۔ اور دونوں جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان پر اپنی جماعتوں کے سربراہوں کے دستخط کرائیں۔مختلف افراد کی طرف سے۵۱۴ تحریری آراء موصول ہوئی ہیں جن میںسے ۲۶۸ قادیانیوں کے خلاف اور ۲۴۶ قادیانیوں کے حق میں ہیں۔اس کے علاوہ مختلف تنظیموں کی طرف سے تحریری آراء موصول ہوئی ہیں۔ان میں سے۱۱ قادیانیوں کے خلاف اور ۴ قادیانیوں کے حق میں اور ایک غیرجانبدار ہے۔ پیرزادہ صاحب نے کہا کہ مختلف حکومتوں کی امداد یافتہ تنظیموں کی طرف سے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اظہار ِ خیال کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔لیکن ابھی ان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے اور سابقہ حکومتیں اسے حل نہیں کرسکی تھیں۔راہبر کمیٹی نے اپنی تجاویز سپیشل کمیٹی میں بھجوائی تھیں اور سپیشل کمیٹی نے انہیں منظورکر لیا ہے۔دونوں جماعتوں کے وفود کے موقف کو سنا جائے اور ان وفود میں ان جماعتوں کے سربراہان کو بھی شامل ہونا چاہئے۔اس کے بعد سپیشل کمیٹی کے اراکین اٹارنی جنرل کی وساطت سے ان وفود سے سوالات کر سکتے ہیں۔ (۳۶)
    جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ قومی اسمبلی کے اراکین اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے سوال کریں گے یعنی وہ سوال لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دیں گے اور اٹارنی جنرل صاحب وفد سے سوال کریں گے۔یحییٰ بختیار صاحب نے اپنی عمر کے آخری سالوں میں ۷۴ء کی کارروائی کے متعلق ایک انٹرویو دیا اور اس میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو خیال تھا کہ اگر مولوی ہم سے سوال کریں گے تو ہماری بے عزتی کریں گے اس لئے جے اے رحیم نے یہ تجویز دی کہ سوالات اٹارنی جنرل کی وساطت سے پوچھے جائیں۔
    (تحریک ِ ختم نبوت جلد سوم ،ص۸۷۲،مصنفہ اللہ وسایا صاحب،ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت،
    حضوری باغ روڈ ملتان، جون۱۹۹۵ء )
    ان کے اس بیان سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس وقت احمدیوں کے جذبات کا اس قدر خیال رکھ رہی تھی کہ انہیں اس بات کی بھی بہت پرواہ تھی کہ کہیں احمدیوں کی بے عزتی بھی نہ ہو جائے حالانکہ اس وقت صورت ِ حال یہ تھی کہ احمدیوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور حکومت فسادات کو روکنے کی بجائے خود احمدیوں کو مورد ِ الزام ٹھہرا رہی تھی۔اس بیان کا سُقم اس بات سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ یحییٰ بختیار صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ احمدی اس بات سے پریشان تھے کہ مولوی ان کی بے عزتی کریں گے اور اس صورت ِ حال میں جے اے رحیم صاحب نے یہ تجویز دی کہ اٹارنی جنرل صاحب سوالات کریںمگر یہ بیان دیتے ہوئے یحییٰ بختیار صاحب ایک بات چیک کرنا بھول گئے تھے۔ جے اے رحیم صاحب کو ۳ ؍جولائی ۱۹۷۴ء کو وزیر ِ اعظم بھٹو صاحب نے برطرف کر دیا تھاکیونکہ بقول ان کے،جے اے رحیم صاحب کا طرز عمل پارٹی ڈسپلن کے خلاف تھا(مشرق ۴ ؍جولائی۱۹۷۴ء ص۱) اور ظاہر ہے کہ یہ شدید اختلافات ایک رات پہلے نہیں شروع ہوئے تھے ان کا سلسلہ کافی پہلے سے چل رہا تھا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی اس سے بہت بعد شروع ہوئی تھی اور اس کارروائی کے خط وخال تو سٹیرنگ کمیٹی میں طے ہوئے تھے اور اس کا قیام ۳؍ جولائی کو ہی عمل میں آیا تھااور یہ فیصلہ کہ حضور جماعت کے وفد کی قیادت فرمائیں گے بھی اس تاریخ کے بعد کا ہے۔بلکہ جے اے رحیم کے استعفیٰ کے وقت تک تو ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ جماعت کا وفد قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں اپنا موقف پیش کرے گا۔چنانچہ جب یہ وقت آیا تو جے اے رحیم صاحب اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں کہ کسی طرح اس قسم کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے۔
    لیکن بہر حال جب ہم نے اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر مکرم صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو لیا تو انہوں نے اس کے بارے میں ایک بالکل مختلف واقعہ بتایا۔گو یہ فیصلہ پہلے ہو چکا تھا کہ سوالات اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے کئے جائیں گے لیکن ایک اور واقعہ ہوا جس کے بعد حکومت نے اس بات کا مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر مولوی حضرات کو براہِ راست سوالات کرنے کا زیادہ موقع نہ ہی دیا جائے تو بہتر ہو گا۔صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے ہمارے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہاکہ مفتی محمود صاحب جو کہ اس وقت لیڈر آف اپوزیشن تھے ، نے ایک سوال پوچھا کہ آپ نے یعنی جماعت ِ احمدیہ نے اس لفظ کی یہ Interpretationکیوں کی ہے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ اس لفظ کی اتنی Interpretationsہو چکی ہیں ۔ہم نے اس کی یہ Interpretationلی ہے۔اور ہماری Interpretationدرست ہے۔
    صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب کہتے ہیں کہ اس پر مفتی محمود صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔کہتے ہیں کہ اسی روز میں نے بھٹو صاحب کو اپنے چیمبر سے فون کیا اور کہا کہ آپ کے لیڈر آف اپوزیشن کا یہ حال ہے کہ انہیں ایک سوال پر ہی صفر کر دیا گیا ہے۔اس پر بھٹو صاحب نے کہا کہ پھر آپ کیا مشورہ دیتے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ جرح اٹارنی جنرل ہی کرتا رہے اور اس کے ساتھ پانچ سات افراد کی کمیٹی اعانت کرے۔
    ان کی گواہی سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا مولوی حضرات کو بے عزتی سے بچانے کے لئے کیا گیا تھا اور اسی انٹرویو میں صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے ہم سے بیان کیا کہ آدھا گھنٹہ پہلے ہی سوال آجاتے تھے تو بسا اوقات یحییٰ بختیار صاحب سوال پڑھ کر اس کی نامعقولیت پر غصہ میں آجاتے اور کہتے یہ کس …… (آگے ایک گالی ہے)نے بھیجا ہے اور اسے پھاڑ دیتے۔
    یاد رہے کہ یہ روایت بیان کرنے والے صاحب اسمبلی کے سپیکر تھے اور اس سپیشل کمیٹی کی صدارت کر رہے تھے۔
    جماعت ِ احمدیہ کا محضر نامہ
    اس مرحلہ پر مناسب ہو گا کہ جماعتِ احمدیہ کے محضر نامہ کا مختصراََ جائزہ لیا جائے۔یہ محضر نامہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی ہدایات کے تحت تیار کیا گیا تھا اور ایک ٹیم نے اس کی تیاری پر کام کیا تھا۔ ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب،حضرت مولانا ابو العطاء صاحب، حضرت شیخ محمداحمد صاحب مظہر اور حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل تھے۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اسے سپیشل کمیٹی کے مطالعہ کے لیے بھجوایا گیا تھا اور اس میں بہت سے بنیادی اہمیت کے حامل اور متنازعہ امور پر جماعت ِ احمدیہ کا موقف بیان کیا گیا تھا۔یہ جماعت ِ احمدیہ کا وہ موقف تھا جو کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں پڑھ کر سنایا۔ اس محضر نامے میں جماعت ِ احمدیہ کا اصولی موقف بیان کیا گیا تھا اور یہ متنبہ بھی کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان کی قومی اسمبلی، پاکستان کی حکومت اور پاکستانی قوم اس راستہ پر چلی تو اس کا انجام کیا ہوگا ؟
    اس کے پہلے باب میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی مذکورہ قراردادوں پر ایک نظر ڈال کر یہ اصولی سوال اُ ٹھایا گیا تھاکہ آیا
    دنیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہ اس بات کی مجاز ہے کہ
    اوّل: کسی شخص کایہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔
    دوم: یا مذہبی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذہب ہے؟
    پھر اس محضر نامہ میں جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے اس اہم سوال کا جواب یہ دیا گیا تھا:۔
    ’’ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ و نسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو اور دنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔اقوامِ متحدہ کے دستور العمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔
    اسی طرح پاکستان کے دستور اساسی میں بھی دفعہ نمبر ۲۰ کے تحت ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو ۔اس لئے یہ امر اصولاً طے ہونا چاہئے کہ کیا یہ کمیٹی پاکستان کے دستور اساسی کی رو سے زیرِ نظر قرارداد پر بحث کی مجاز بھی ہے یا نہیں؟‘‘
    اگر قوم یا اسمبلی اس راستہ پر چل نکلے تو اس کے نتیجہ میں کیا کیا ممکنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، ان کا مختصر جائزہ لے کر یہ انتباہ کیا گیا۔
    ’’ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا صورتیں عقلاً، قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں اور بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کاموجب ہو جائیں گی۔
    کوئی قومی اسمبلی اس لئے بھی ایسے سوالات پر بحث کی مجاز قرار نہیں دی جا سکتی کہ کسی بھی قومی اسمبلی کے ممبران کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ وہ مذہبی امور پر فیصلے کے اہل بھی ہیں کہ نہیں ؟
    دنیا کی اکثر اسمبلیوں کے ممبران سیاسی منشور لے کر رائے دہندگان کے پاس جاتے ہیں اور ان کا انتخاب سیاسی اہلیت کی بناء پر ہی کیا جاتا ہے۔خود پاکستان میں بھی ممبران کی بھاری اکثریت سیاسی منشور کی بناء اور علماء کے فتوے کے علی الرغم منتخب کی گئی ہے۔
    پس ایسی اسمبلی کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ کسی فرقہ کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ فلاں عقیدہ کی رو سے فلاں شخض مسلمان رہ سکتا ہے کہ نہیں ؟
    اگر کسی اسمبلی کی اکثریت کو محض اس بناء پرکسی فرقہ یا جماعت کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا مجاز قرار دیا جائے کہ وہ ملک کی اکثریت کی نمائندہ ہے تو یہ موقف بھی نہ عقلاً قابلِ قبول ہے نہ فطرتاً نہ مذہباً ۔اس قسم کے امور خود جمہوری اصولوں کے مطابق ہی دنیا بھر میں جمہوریت کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح تاریخِ مذہب کی رو سے کسی عہد کی اکثریت کا یہ حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ کسی کے مذہب کے متعلق کوئی فیصلہ دے۔اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو نعوذُ با للہ دنیا کے تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ ظالمانہ تصوّر ہے جسے دنیا کے ہر مذہب کا پیروکار بلا توقف ٹھکرا دے گا۔‘‘
    مختصراََ یہ کہ اس اہم اور بنیادی سوال پر جماعت ِ احمدیہ کا اصولی موقف یہ تھا
    1۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی کوئی بھی قانون ساز اسمبلی اس بات کا اختیار نہیں رکھتی کہ وہ یہ فیصلہ کرے کسی شخص یا گروہ کا مذہب کیا ہے۔یا اس قسم کا کوئی قانون بنائے جس سے کسی شخص یا گروہ کی مذہبی آزادی متاثر ہو۔
    2۔ دنیا کی کوئی بھی سیاسی اسمبلی اس قسم کے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا نہ صرف اختیار نہیں رکھتی بلکہ اس قسم کا فیصلہ کرنے یا اس پر غور کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتی۔
    3۔ کسی ملک کی اکثریت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی گروہ کے مذہبی معاملات کے بارے میں فیصلے کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ وہ کس مذہب سے وابستہ ہے۔
    4۔ قرآن ِ کریم کی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی شخص یا حکومت کسی شخص یا گروہ کے مذہب کے بارے میں اس قسم کے فیصلے کریں۔
    5۔اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تو اس سے نہ صرف پاکستان میں ان گنت فسادات کے راستے کھل جائیں گے بلکہ پوری دنیا میں خطرناک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
    یہ ظاہر ہے کہ محضرنامہ کا یہ حصہ بہت اہم ہے۔اس میں نہ صرف جماعت ِ احمدیہ کا اصولی موقف بیان کیا گیا ہے بلکہ متنبہ بھی کیا گیا تھا کہ اگر یہ غلطی کی گئی تو پاکستان اور دنیا بھر میں کیا مسائل پیدا ہوں گے؟ کتاب کے آخر میں ہم اس بات کا جائزہ پیش کریں گے کہ اس غلطی کے اب تک کیا نتائج نکل رہے ہیں ۔
    اس محضرنامہ کا دوسرا باب بھی ایک بہت اہم اور بنیادی سوال کے بارے میں تھا ۔اگر یہ اس مسئلہ پر بحث ہو رہی ہے کہ کون مسلمان ہے تو پھر پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟ اور جہاں تک جماعت احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس سوال کا ایک پس منظر ہے۔جب ۱۹۵۳ء میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف فسادات پر عدالتی ٹریبونل نے کام شروع کیا تو اس کے سامنے جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کا یہ مطالبہ تھا کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ طبعاََ اس ٹریبونل کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر ایک فرقہ کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ ہے تو پہلے تو یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آخر مسلم کی تعریف کیا ہے؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟ جب یہ سوال ان علماء کے سامنے رکھا گیا جو کہ اس ٹریبونل کے روبرو پیش ہو رہے تھے تو کسی ایک عالم کا جواب دوسرے عالم کے جواب سے نہیں ملتا تھا۔ اس سے یہ صورت ِ حال سامنے آ رہی تھی کہ اگر چہ یہ گروہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے تو فسادات برپا کر رہا تھا لیکن ان کے ذہنوں میں خود یہ واضح نہیں تھا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ اس پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں یہ تبصرہ تھا:۔
    ’’ان متعدد تعریفوں کو جو علماء نے پیش کی ہیں پیشِ نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم ِ دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو ہم اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے۔
    ( رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات ِ پنجاب ۱۹۵۳(اردو)ص۲۳۵۔۲۳۶)
    اس تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کا حوالہ دینے کے بعد جماعت ِ احمدیہ کے محضرنامہ میں یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ اگر مسلمان کی تعریف کا تعیّن کرنا ہے تو ہمیں لازماََ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بیان کردہ تعریف کو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ یہ بالکل لا یعنی بات ہو گی کہ مسلمان کی تعریف کی جائے لیکن اس تعریف کو تسلیم نہ کیا جائے جو کہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی تھی اور اس ضمن میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تین احادیث پیش کی گئیں۔
    ان میں سے ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ یہ گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اورزکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ (مسلم کتاب الایمان )
    اور پھر صحیح بخاری میں یہ حدیث درج ہے
    ’’جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں۔اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذمّے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔‘‘
    (صحیح بخاری ۔باب استقبال القبلۃ)
    یہ احادیث درج کر کے محضرنامہ میں جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے یہ اپیل کی گئی
    ’’ہمارے مقدس آقا ﷺ کا یہ احسان ِ عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضورﷺ نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالم ِ اسلام کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ امت ِ مسلمہ کا شیرازہ ہمیشہ ہمیشہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔‘‘ (محضر نامہ ص۱۹)
    اس معیار کو تسلیم کر لینے کے بعد ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ مختلف فرقوں کے علماء ہمیشہ سے ایک دوسرے پر کفر کے فتاویٰ دیتے رہے ہیں اور مختلف اعمال کے مرتکب کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے رہے ہیں، تو ان فتاویٰ کی کیا حیثیت ہو گی ۔محضرنامہ میں جماعت ِ احمدیہ کا یہ موقف درج کیا گیا کہ ان فتاویٰ کی صرف یہ حیثیت ہے کہ ان علماء کے نزدیک یہ عقائدیا اعمال اس قدر اسلام کے منافی ہیں کہ قیامت کے روز ان کا حشر مسلمانوں میں نہیں ہوگا لیکن جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے ان فتاویٰ کی صرف ایک انتباہ کی حیثیت ہے اور اس دنیا میں کوئی فرقہ یا شخص اس بات کا مجاز ، اس بات کا اہل نہیں ہے کہ وہ کسی شخص یا گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے۔یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے اور اس کا فیصلہ جزا سزا کے دن ہی ہوگا۔ورنہ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتاویٰ اس کثرت سے موجود ہیں کہ کسی ایک صدی کے بزرگان دین کا اسلام ان کی زد سے نہیں بچ سکا اور کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں پیش کیا جا سکتا جس کا کفر بعض دوسرے فرقوں کے نزدیک مسلّمہ نہ ہو۔ (محضر نامہ ص۲۰۔۲۱)
    اس سے اگلے باب کا عنوان تھا مقامِ خاتم النبیین ﷺ اورحضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عارفانہ تحریرات‘‘۔ اس باب میں اس الزام کا تجزیہ پیش کیا گیا تھا کہ احمدی آنحضرت ﷺ کے مقامِ ختمِ نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ اس باب میں مخالفین کے اس تضاد کی نشاندہی کی گئی تھی کہ جو مخالفین احمدیوں پر یہ الزام لگا رہے ہیں وہ درحقیقت خود آنحضرت ﷺ کے مقامِ خاتم النبیین ﷺ کا انکار کر رہے ہیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد امت ِ مسلمہ کی اصلاح کے لئے ایک ایسے نبی کے منتظر ہیں جس کا تعلق آنحضرت ﷺ کی امت سے نہیں ہے۔وہ خود آنحضرت ﷺ کے بعد ایک اور نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں اوراس طرح اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت موسٰیؑ کی امت سے تعلق رکھنا والا ایک پیغمبر امت ِ محمدیہ کا آخری روحانی محسن ہوگا۔
    اس کے بعد کے ابواب میں ذات ِ باری تعالیٰ ، قرآن ِ کریم کی اَرْفَع شان کے بارے میں اور آنحضرت ﷺ کے اعلیٰ مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی معرفت سے پُر تحریرات درج کی گئی تھیں۔ ایک تفصیلی علیحدہ باب آیت خاتَم النبیین کی تفسیر کے بارے میں تھا۔اس باب میں قرآن کریم کی آیات ، احادیث ِ نبویہﷺ ، لغت ِ عربیہ اور بزرگان ِ سلف کے اقوال اور تحریرات کی رو سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ آیت خاتم النبیین کی صحیح تفسیروہی ہے جو جماعت ِ احمدیہ کے لٹریچر میں کی گئی ہے۔
    چونکہ اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد میں رابطہ عالمِ اسلامی کی قرارداد کو اپنی قرارداد کی بنیاد بنا کر پیش کیا گیا تھا اور اپوزیشن کی قرارداد میں بھی جماعت ا حمدیہ پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے تھے اس لئے اس محضر نامے میں ان دونوں قراردادوں میں شامل الزامات کی تر دید پر مشتمل مواد بھی شامل کیا گیا تھا اور پھراراکین ِ اسمبلی کے نام اہم گزارش کے باب میں مختلف حوالے دے کر لکھا گیا تھا کہ مذہب کے نام پر پاکستان کے مسلمانوں کو باہم لڑانے اور صفحہئِ ہستی سے مٹانے کی ایک دیرینہ سازش چل رہی ہے۔اس پس منظر میں پاکستان کے گزشتہ دور اور موجودہ پیدا شدہ صورتِ حال پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہو گا کہ اگرچہ موجودہ مرحلہ پر صرف جماعت ِ احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے پر زور ڈالا جا رہا ہے مگر دشمنانِ پاکستان کی دیرینہ سکیم کے تحت امتِ مسلمہ کے دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتنوں کا دروازہ کھل چکا ہے
    اس محضر نامہ کے آخر پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پُر درد انتباہ درج کیاگیا:۔
    ’’میں نصیحتاََ للہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریقِ شرافت نہیںہے۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیںتو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں پھر اگر میں کاذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی۔اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔
    لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریںکہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسو ؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرتِ گریہ و زاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں … کوئی زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے ۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا ۔مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کررہے ہیں۔میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔۔۔اے خدا !!تو اس امت پر رحم کر ۔آمین‘‘
    (ضمیمہ اربعین نمبر ۴صفحہ۵ تا ۷۔ روحانی خزائن جلد۱۷ ص ۴۷۱ تا ۴۷۳)
    اس وقت پورے ملک میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف پورے زور و شور سے ایک مہم چلائی جا رہی تھی اور احمدیوں پر ہر طرف سے ہر قسم کے الزامات کی بارش کی جا رہی تھی۔اس محضر نامہ میں اس قسم کے کئی اعتراضات کے جوابات بھی دیئے گئے تھے تا کہ پڑھنے والوں پر ان اعتراضات کی حقیقت آشکار ہو۔
    جب کئی دہائیوں کے انتظار کے بعد 1974ء میں ہونے والی سپیشل کمیٹی کی کارروائی شائع کی گئی تو اس میں جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ محضرنامہ کو شائع نہیں کیا گیاحالانکہ اس محضرنامہ کو جماعت ِ احمدیہ کے موقف کے طور پر دو روز میں سپیشل کمیٹی کے سامنے پڑھا گیا تھا اور یہ کارروائی کا اہم ترین حصہ تھا۔ جماعت ِ احمدیہ کا اصل موقف تو یہ محضرنامہ ہی تھاورنہ سپیشل کمیٹی میں کئے جانے والے سوالات تو اصل موضوع سے گریز کی کوشش کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے تھے۔ یہ تحریف کیوں کی گئی؟ فرار کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا؟اس لئے کہ اس کی اشاعت کے نتیجہ میں اصل حقیقت سب کے سامنے آ جانی تھی اور جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کو ایسی سبکی اُٹھانی پڑتی ،جس کا تصور بھی ان کے لئے نا قابلِ برداشت ہو رہا تھا۔
    یکم جولائی سے پندرہ جولائی تک کے حالات
    ایک طرف تو ان کمیٹیوں میں کارروائی ان خطوط پر جاری تھی اور دوسری طرف ملک میں احمدیوں کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔اور یہ سب کچھ علی الاعلان ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ اخبارات میں طالب علم لیڈروں کے بیانات شائع ہو رہے تھے کہ نہ صرف کسی قادیانی طالب علم کو تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا بلکہ جن قادیانی طالب علموں نے امتحان دینا ہے انہیں اس بات کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ امتحانات دے سکیں۔اور یہ بیانات شائع ہو رہے تھے کہ اہلِ پیغام میں سے کچھ لوگ کچھ گول مول اعلانات شائع کر کے اپنے کاروبار کو بائیکاٹ کی زد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے اعلانات کو صرف اس وقت قبول کیا جائے گا جب وہ اپنے اعلانات میں واضح طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور کاذب کہیں ورنہ ان کے کاروبار کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔اور اس کے ساتھ یہ مضحکہ خیز اپیل بھی کی جا رہی تھی کہ عوام پر امن رہیں۔ گویا ان لوگوں کے نزدیک یہ اعلانات ملک میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لیے تھے۔(۳۷)
    یکم جولائی سے پندرہ جولائی ۱۹۷۴ء تک کے عرصہ میں بھی ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم جاری رہے۔اس دوران مخالفین احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کو شدید تر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے تاکہ اس طرح احمدیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں عقائد کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکے۔بہت سے شہروں میں غنڈے مقرر کیے گئے تھے کہ وہ احمدیوں کو روز مرہ کی اشیاء بھی نہ خریدنے دیں اور جہاں کوئی احمدی باہر نظر آئے تو تو اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ روا رکھا جاتا ۔کئی مقامات پر احمدیوں کا منہ کالا کر کے انہیں سڑکوں پر پھرایا گیا اور یہ پولیس کے سامنے ہوا اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی۔ احمدیوں کی دوکانوں کے باہر بھی غنڈے مقرر کر دیئے جاتے جو لوگوںکو احمدیوں کی دوکانوں سے خریداری کرنے سے روکتے۔سرگودھا، دیپالپور اور بھیرہ میںاحمدیوں کے مکانوں کے ارد گرد محاصرہ کی صورت پیدا ہوگئی۔اور ۱۳ ؍جولائی کو تخت ہزارہ میں احمدیوں کے بارہ مکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ بائیکاٹ کی صورت کو شدید تر بنانے کے لیے یہ بھی کیا گیا کہ بھنگیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ احمدیوں کے مکانات کی صفائی نہ کریں اور بعض مقامات پر ڈاکٹروں نے احمدی مریضوں کا علاج کرنے سے بھی انکار کر دیا۔لائلپوراور بوریوالہ میں بعض صنعتوں کے مالکان نے احمدیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔ڈسکہ میں احمدیوں کے کارخانے کے ملازمین کو وہاں پر کام کرنے سے روک دیا گیا ،جس کے نتیجے میں یہ کارخانہ بند کرنا پڑا۔دیہات میں احمدیوں کی زندگی کو اجیرن کرنے کے لیے یہ بھی کیا گیا کہ احمدیوں کو کنویں سے پانی نہیں لینے دیا جاتا اور چکی والو ں کو مجبور کیا گیا کہ احمدیوں کو آ ٹا پیس کر نہ دیا جائے۔احمدیوں کو تکلیف دینے کے لیے ان کی مساجد میں غلاظت پھینکی جاتی۔اور پاکپتن میں جماعت کی مسجد پر قبضہ کر لیا گیا۔ان کی سنگدلی سے مردہ بھی محفوظ نہیں تھے۷؍ جولائی کو خوشاب میں ایک احمدی کی قبر کھود کر نعش کی بے حرمتی کی گئی اور کوٹلی اور گوجرانوالہ میں احمدیوں کی تدفین روک دی گئی۔ لائلپور میں اب مخالفین علی الاعلان یہ کہتے پھرتے تھے کہ پندرہ جولائی کے بعد ربوہ کے علاوہ کہیں پر احمدی نظر نہ آئے۔نصیرہ ضلع گجرات میں یہ اعلان کیے گئے جو احمدی اپنے عقائد کو نہیں چھوڑے گا اس کے گھروں کو جلادیا جائے گا۔۲ ؍جولائی کو ایک احمدی سیٹھی مقبول احمد صاحب کو ان کے مکان پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔لاہور کی انجینیئرنگ یونیورسٹی میں احمدی طالب علم امتحان دینے گئے تو ان کے کمرہ کے اندر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی ۔انہیں اپنی جانیں بچا کر وہاں سے نکلنا پڑا۔(۳۸)
    کراچی میں جماعت ِ اسلامی کے بعض لوگوں نے کچھ اور مولویوں کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی کہ کسی طرح لوگوں کے جذبات کو احمدیوں کے خلاف بھڑکایا جائے۔انہوں نے دستگیر کالونی کراچی کے ایک پرائمری پاس مولوی جس کا نام ابراہیم تھا کو چھپا دیا اور اس کے ساتھ یہ شور مچا دیا کہ قادیانیوں نے ہمارے عالمِ دین کو اغوا کر لیا ہے۔یہ خبر اخباروں میں شائع کی گئی اور اس کے ساتھ عوام میں اسے مشتہر کر کے اشتعال پھیلایا گیا۔جلوس نکلنے شروع ہوئے کہ اگر قادیانیوں نے ہمارے مولانا کو آزاد نہ کیا تو ان کے گھر وں اور دوکانوں کو نذرِ آتش کر دیا جائے گا۔اور اس کے ساتھ احمدیوں کے گھروں اور دوکانوں کی نشاندہی کے لئے ان پر سرخ روشنائی سے گول دائرہ بنا کر اس کے اندر کراس کا نشان لگا دیا گیا۔مقامی ایس ایچ او نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان جلوسوں کو منتشر کیا۔مخالفین کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پولیس نے پانچ احمدیوں کو اس نام نہاد اغوا کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ مولوی لوگ حوالات میں آکر پولیس سے کہتے کہ ان کی پٹائی کرو۔ابھی یہ نامعقول سلسلہ جاری تھا کہ پولیس نے چھاپے مار کر ۱۲؍ اگست کو علاقہ شیر شاہ کے مکان سے ان چھپے ہوئے مولوی کو برآمد کر کے گرفتار کر لیا۔اور پھر جا کر گرفتار مظلوم احمدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔(۳۹)
    پورے ملک میں احمدیوں کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلا کر لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑکایا جا رہا تھا۔یہاں تک کہ یہ خبریں مشہور ہونے لگیں کہ ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ میں بہت سے طالب علموں کی زبانیں اور دوسرے اعضاء کاٹے گئے تھے۔لیکن جب جسٹس صمدانی کی تحقیقات کی خبریں اخبارات میں شائع ہونے لگیں تو اس قسم کی خبر کا کوئی نام ونشان بھی نہیں تھا ۔اس پر جسٹس صمدانی کو اس مضمون کے خطوط ملنے لگے کہ یہ خبریں شائع کیوں نہیں ہونے دی جا رہیں کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی زبانیں اور دوسرے اعضاء کاٹے گئے تھے۔اس صورتِ حال میں جسٹس صمدانی کو دورانِ تحقیق ہی اس بات کا اعلان کرنا پڑا کہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ایسی کوئی شہادت سرے سے ریکارڈ پر آئی ہی نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ کسی طالب علم کی زبان کاٹی گئی یا کسی کے جسم کا کوئی عضو الگ کیا گیا یا مستقل طور پر ناکارہ کیا گیا۔فاضل جج نے کہا کہ میڈیکل رپورٹوں سے بھی یہ افواہیں غلط ثابت ہوتی ہیںاس لیے ان کی تردید ضروری تھی۔(۴۰)
    جس وقت سٹیشن کا واقعہ ہوا ،اس وقت جو خبریں اخبارات میں شائع کی جا رہی تھیں وہ یہ تھیں:۔
    چٹان نے لکھا :
    ’’اتنا زخمی کیا گیا کہ ڈیڑھ درجن طلباء ہلکان ہو گئے۔ان کے زخموں کو دیکھنا مشکل تھا … جس قدر طلباء زخمی ہوئے ہیں ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔‘‘(۴۱)
    نوائے وقت نے ۳۰ مئی ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں خبر شائع کی تھی کہ ۳۰ طلباء شدید زخمی ہوئے ہیں۔اسی اخبار نے یکم جون کو یہ خبر شائع کی تھی کہ ۱۲ طلباء شدید زخمی ہوئے ہیں۔اخبار مشرق نے ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء کو خبر شائع کی تھی کہ۴ طلباء کی حالت نازک ہے۔اور امروز نے ۳۰؍ مئی لکھا تھا کہ ۲ کی حالت نازک ہے۔ان خبروں کا آپس میں فرق ظاہر کر رہا ہے کہ بغیر مناسب تحقیق کے خبریں شائع کی جا رہی تھیں۔
    اور جیساکہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے ان طلباء نے لائلپور میں اپنا علاج کرانا پسند نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم ملتان جا کر اپنے تدریسی ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔حالانکہ اگر ان طلباء کی حالت اتنی ہی نازک تھی تو یہ خود طب کے پیشہ سے منسلک تھے اور جانتے تھے کہ علاج میں تاخیر کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔بہر حال ملتان میں ان کے تدریسی ہسپتال جا کر علاج شروع ہوا۔اور جو ڈاکٹر ان کے علاج میں شریک تھے انہوں نے ٹریبیونل کے سامنے ان زخمی طلباء کے زخموںکے متعلق گواہیاں دیں۔ان ڈاکٹروں کے نام ڈاکٹر محمد زبیر اور ڈاکٹر محمد اقبال تھے۔ان میں سے کچھ طلباء یقینا زخمی تھے اور ان میں سے کچھ کو داخل بھی کیا گیا تھا۔لیکن زخموں کی نوعیت کتنی شدید تھی اس کا اندازہ ان ڈاکٹروں کی گواہی سے ہونے والے ان انکشافات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔
    ڈاکٹر محمد زبیر صاحب نے گواہی دی
    ۱) ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو جب زخمی طلباء کو ہسپتال لایا گیا تو ان کو ایمرجنسی کی بجائے براہِ راست وارڈ میں لے جایا گیا۔میں نے ان کا معائنہ کیا اور ان میں سے ایک طالب علم آفتاب احمد کو کسی حد تک Seriousکہا جا سکتا ہے۔میں ان کی حالت کے متعلق یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس کے سر پر ضرب لگی تھی اور وہ اس وقت بے ہوش تھا۔اور باقی مضروب پوری طرح ہوش میں تھے۔
    باقی آٹھ طلباء کی حالت کو Grievious نہیں کہاجا سکتا۔
    ۲)اس ایک Seriousطالب علم آفتاب احمد صاحب کو بھی ۷ روز کے بعد ۸ ؍جون کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ان کا سر کا ایکسرے کیا گیا تھا اور وہ بھی ٹھیک نکلا تھا اور کوئی فریکچر نہیں تھا۔
    ۳) ڈاکٹر محمد زبیر صاحب نے کسی اور مریض کے ایکسرے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
    ۴) کسی طالب علم کو خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
    نشتر ہسپتال کے Casuality Medical Officerڈاکٹر اقبال احمد صاحب نے یہ گواہی دی
    ۱)میں نے چار زخمی طلباء کا شعبہ حادثات میں معائنہ کیا ،جن میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں تھا۔
    ۲)ان میں سے کسی کو بھی خون نہیں لگانا پڑا
    ۳) ایک طالب علم کی آنکھ کے ارد گرد نیلا داغ نمودار ہوا تھا،ایکس رے کرایا گیا تو وہ ٹھیک نکلا کوئی فریکچر نہیں تھا۔
    ان ڈاکٹر صاحبان نے بیان کیا کہ داخل ہونے والے طلباء میں سے بعض ایسے بھی تھے جو ڈسچارج ہونے کا انتظار کیے بغیر خود ہی ہسپتال سے چلے گئے تھے۔
    یہ تھی ان شدید زخمیوں کی نازک حالت کی حقیقت جس کے متعلق پورے ملک میں افواہیں اڑائی جا رہی تھیں کہ زبانیں اور اعضاء کاٹ دیئے گئے اور اخبارات بھی لکھ رہے تھے کہ ان میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔اور سچ یہ تھا کہ کسی ایک کے بھی زخم اس نوعیت کے نہیں تھے کہ انہیں Grievious Injuryکہا جا سکے۔کوئی جان ضائع نہیں ہوئی ۔کسی کی ہڈی فریکچر نہیں ہوئی۔کسی کو خون نہیں لگانا پڑا ۔صرف دو کے ایکسرے کرانے کی ضرورت پڑی اور وہ بھی ٹھیک تھے۔
    افرادِ جماعت پرسرگودھاریلوے اسٹیشن پرفائرنگ
    اِن دوہفتوںکے حالات مکمل کرنے سے قبل ایک اہم واقعہ درج کرناضروری ہے۔اِس واقعہ کو پڑھ کراندازہ ہوجاتاہے کہ اُس وقت احمدیوں پرکس قسم کے مظالم روارکھے جارہے تھے۔مکرم ومحترم ہادی علی چوہدری صاحب نے جوکہ اِس واقعہ کے چشم دید گواہ تھے۔اس واقعہ کوتحریرفرمایاہے۔آپ لکھتے ہیں:۔
    ’’مؤرخہ ۱۶؍جولائی کوسرگودھاریلوے اسٹیشن پراحمدیوںکے قافلہ پرفائرنگ کی گئی اور دس نہتے احمدیوںکوگولیوںکانشانہ بنایاگیا۔
    جس روزفائرنگ ہوئی،اس سے ایک دوروزقبل ربوہ سے جودوست اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لئے سرگودھاجیل گئے تھے ان کوملاقات کے بعد راستہ میںزدوکوب کیاگیا۔اس واقعہ کے پیشِ نظرصدرصاحب عمومی نے ۱۶؍جولائی کوملاقات کے لئے جانے والے دوستوں کو منظم طریق پرجانے کی ہدایت فرمائی اورمکرم محمداحمدصاحب لائبریرین تعلیم الاسلام کالج ربوہ (حال جرمنی)کوامیرِ قافلہ بنایا۔
    اس قافلہ کے چالیس سے زائد افراد میںخاکساراورخاکسارکے نانامحترم ماسٹرراجہ ضیاء الدین ارشدشہیدشامل تھے۔خاکسارکے ماموں مکرم نعیم احمدصاحب ظفراورخاکسارکے بڑے بھائی اشرف علی صاحب بھی جیل میںتھے۔ہم دونوںان سے ملاقات کی غرض سے گئے تھے۔
    ۱۶؍جولائی کی شام کوجب ملاقات کے بعدربوہ واپسی کے لئے اسٹیشن پہنچے توابھی گاڑی کی آمد میںکچھ دیرتھی۔ہم سب اکٹھے تیسرے درجہ کے ٹکٹ گھرمیںانتظارکرنے لگے۔یہ ٹکٹ گھراسٹیشن کی عمارت کے ساتھ مگراس کے جنگلے سے باہرتھا۔جب ٹکٹوںوالی کھڑکی کھلی تواکثرلوگ ٹکٹ لینے کے لئے قطارمیںلگ گئے۔بعض نے جب ٹکٹ لے لئے اورمختاراحمدصاحب آف فیکٹری ایریاکی باری آئی توٹکٹ دینے والے نے کہا:
    ’’ربوہ کے ٹکٹ ختم ہوگئے ہیں،آپ لالیاںیاچنیوٹ کاٹکٹ لے لیں،ویسے پتہ نہیںآپ لوگوںنے ربوہ پہنچنابھی ہے یانہیں۔‘‘
    تھوڑی دیرمیںہم سب چنیوٹ وغیرہ کی ٹکٹیںلے چکے تھے۔گاڑی کاوقت بھی قریب تھا چنانچہ دودوچارچارافرادباتیںکرتے ہوئے اسٹیشن کی بائیںجانب جنگلے کے ایک دروازے سے پہلے پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پرجانے کے لئے درمیانے پُل کی سیڑھیوں پرچڑھنے لگے۔ جب کچھ لوگ سیڑھیوںپرتھے اورکچھ پُل پراورکچھ پُل سے دوسرے پلیٹ فارم کی سیڑھیوںپراتررہے تھے کہ اچانک پہلے پلیٹ فارم پرپولیس کے کمرہ کے سامنے سے چندغنڈوںنے سیڑھیوںسے اترنے والوں پرفائرنگ شروع کی۔پولیس کے تین چارسپاہی ان حملہ آوروںکی پشت پر کھڑے تھے۔اس فائرنگ سے ابتدا ہی میںہمارے دس لوگ زخمی ہوگئے اوران میںسے دوتین دوسرے پلیٹ فارم پر گر بھی گئے۔باقی زخمی پلیٹ فارم سے نیچے عقب میںگاڑی کی پٹری پریاپلیٹ فارم پرستونوںاورپُل کی اوٹ میںہوگئے۔جب فائرنگ شروع ہوئی توخاکساراس وقت سیڑھیاںچڑھ کرپُل کے شروع میں تھا اوراس سارے منظرکودیکھ رہاتھا۔اس وقت ایک دیوانگی کے عالم میںخاکساراوردوتین اور دوستوں نے بھاگ کرزخمیوںتک پہنچنے اورگرے ہوئوںکوگھسیٹ کراِدھراُدھرچھپانے کی کوشش کی۔
    انہی لمحات میںایک ددغنڈوںکودونوںپلیٹ فارموںکی درمیانی پٹری کوپھلانگ کرہاتھوںمیں ہاکی اورخنجرلئے ادھرآتے دیکھا تو ہم نے فوراًپلیٹ فارم سے اُترکرپٹری سے پتھراُٹھاکرانہیںتاک کرمارے۔ہمارے پتھرانہیںکاری لگے اوروہ واپس بھاگ گئے۔
    ان حملہ آوروںمیںسے جواِس پلیٹ فارم پرآتاوہ ہمارے پتھروںکانشانہ بنتااورپسپا ہوجاتا۔ اس سارے وقت گولیاںمارنے والے ’’مجاہد‘‘ ہم پرگولیاںبرساتے رہے جوہمارے عقب میںکھڑی مال گاڑی پرلگ لگ کرآوازیںکرتی رہیں۔ہم موت سے بے خبر ایک دیوانگی کے علم میںان پر پتھر برساتے رہے۔اس اثنا میںریاض صاحب کوگرنے کی وجہ سے گھٹنے پرچوٹ آگئی۔کچھ دیربعد راشدحسین صاحب کے سینے میںبھی گولی لگ گئی۔اب ہم دوتھے جنہوںنے اس وقت تک ان میں سے ایک ایک پرپتھربرسائے جب تک کہ وہ بھاگ نہ گئے۔اس وقت اگر یہ دفاع نہ ہوسکتاتووہ یقینااِس پلیٹ فارم پرآکرہمارے زخمیوںکوشہیدکردیتے۔
    بہرحال جب گولیوںکی آواز ختم ہوئی توایک سنّاٹاچھاگیا۔ہم بھی اوربعض دوسرے دوست بھی فوراًہی پلیٹ فارم پرآگئے اورزخمیوں کوسنبھالنے لگے۔اسی اثنامیںگاڑی بھی آگئی۔ہم زخمیوںکو سہارے دے کراس میںچڑھانے لگے کہ اچانک ریلوے پولیس والے آگئے اور ہمیں رپورٹ لکھوانے پرزوردینے لگے۔امیرِقافلہ محمداحمدصاحب دوتین گولیاںلگنے کی وجہ سے زخمی تھے۔ چنانچہ خاکسار پولیس والوں سے نپٹ رہاتھا۔ہم بضدتھے کہ گاڑی فوراًچلائیںتاکہ ربوہ جاکرزخمیوںکاعلاج شروع ہو، رپورٹ ہم گاڑی کے اندرہی لکھادیںگے۔وہ مصرّ تھے کہ پہلے وقوعہ پررپورٹ درج ہوگی پھر گاڑی چلے گی۔
    ایک بے بسی کاعالم تھا۔اتنے میںسرگودھا کاایک پولیس انسپکٹرعبدالکریم نامی بھی آگیا۔اس نے سفید شلوارقمیص پہن رکھی تھی اورہیئت اور فطرت کاخالص چودھویںصدی کامولوی تھا۔وہ بھی پولیس والوں کے ساتھ مل کراصرارکرنے لگاکہ رپورٹ پہلے لکھوائو۔اس وقت صرف خاکسار تھاجواُن سے بحث کررہاتھا۔اس تکرارکے دوران اچانک ایک جیپ پلیٹ فارم پرآکررُکی۔جس میںسے سفید پتلون شرٹ میں افسرانہ شان سے ایک شخص اُترا۔اس نے ایک لمحے میںصورتحال کااندازہ کیا اور خاکسارسے مخاطب ہوکرکہنے لگاکہ فکرنہ کرو،ہم یہاں سرگودھامیںہی انہیںفوری طبّی امداد دیں گے۔ اس غرض کے لئے دو ایمبولینسیں پہنچ رہی ہیں۔اس نے بتایاکہ وہ یہاںکاکمشنرہے اور ہر قسم کے انتظامات ہوچکے ہیں۔اس کی شرافت اوربردباری قابلِ تعریف تھی۔اتنے میں دو ایمبولینسیں پلیٹ فارم پرپہنچ گئیں۔اس وقت تک بکھرے ہوئے بہت سے احمدی دوست یہاںجمع ہو چکے تھے۔ہم سب نے ایمبولینس والوںکے ساتھ فوری طورزخمیوںکوگاڑی سے اُتارا اورایمبولینس میں سوارکیا۔ کمشنرصاحب نے خاکسارکوبھی زخمیوںکے ساتھ ایمبولینس میںجانے کاکہا۔چنانچہ ہم سب ہسپتال چلے گئے۔ جہاںفوری طورپرزخمیوں کوخون دیاگیا اورمرہم پٹی وغیرہ کی گئی۔ خاکسار کو زخمیوں کے ساتھ ہسپتال میںہی رکھاگیا۔
    ہسپتال کے باہر اورہمارے زخمیوںکے وارڈ کے باہرکمشنرسرگودھاکی طرف سے پولیس کا کڑا پہرہ لگادیاتھااورہماری حفاظت کاخاص خیال رکھاگیا۔
    بعدمیںمعلوم ہواکہ ہسپتال کے CMOاحمدی تھے۔بہرحال اسی وقت ہرزخمی کے زخموں کا اندازہ بھی کیاگیا اوراس کے مطابق ان کے علاج بھی معیّن کئے گئے۔ان میںخاکسارکے نانا مکرم ماسٹرضیاء الدین ارشدصاحب کی حالت تشویشناک تھی کیونکہ گولی ان کے کان کے اوپرلگی تھی اوردماغ میںداخل ہوگئی تھی۔
    ایک اورغریبانہ ہیئت کے نوجوان تھے جوسیالکوٹ کے کسی گائوںسے اپنے کسی عزیز سے ملنے آئے تھے۔ان کے پیٹ میںگولی لگی تھی جوچند انتڑیوںکوکاٹتی ہوئی معدے میںجارُکی تھی۔ان کا آپریشن پہلی رات ہی کیاگیااورگولی نکال کے انتڑیاںسی دی گئیںاوروہ جلد صحت یاب ہوگئے۔
    راشدحسین صاحب جنہیںدفاع کرتے ہوئے سینے میںگولی لگی تھی۔ان کی حالت بھی ٹھیک نہ تھی کیونکہ گولی سینے سے پھیپھڑوں میںسے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ آکرٹھہرگئی تھی۔اس وجہ سے وہ نکالی نہ جاسکتی تھی۔پھیپھڑوں کی حدتک توان کاعلاج ہوگیا۔مگر گولی ان کے اندرہی رہی جوبعد میںجرمنی جاکرنکلوائی گئی۔
    اسی طرح مختلف لوگوںکوجوگولیاںلگیںوہ نکال دی گئیں اورعلاج کردئیے گئے۔خاکسارکے نانا کو لاہوروغیرہ بھی لے جایاگیا مگر ان کے سرسے گولی کانکلناناممکن رہا۔جس کی وجہ سے وہ تین ماہ بعد فضل عمرہسپتال میںوفات پاکرشہدائے احمدیت میںداخل ہوگئے۔
    بعدمیںچند روز کے بعدہمیںسرگودھاملزموںکی شناخت کے لئے اوروقوعہ کی رپورٹ کے لئے طلب کیاگیا۔شناخت پریڈ میںوہ تمام غنڈے موجودتھے جوہمارے قافلوںپرزیادتی کرتے تھے اور ان میںسے ایک دووہ بھی تھے جوفائرنگ میںشامل تھے اورخاکسار انہیں پہچانتاتھا۔چنانچہ خاکسار نے مجسٹریٹ کوان کی نشاندہی بھی کی۔مگر جس طرح ایک پلان تھا ہماری شناخت کوتسلیم نہیںکیاگیا اور نتیجہ یہ نکالا گیاکہ کوئی ملزم بھی پہچانانہیںگیا۔اسی طرح وقوعہ کی تفصیلات کوبھی تسلیم نہیںکیاگیا۔
    اس کے بعدپھردودفعہ ہمیںحاضری پرعدالت میںبلایاگیا۔مگر معلوم ہواکہ فیصلہ وہی ہوتا رہا جو صاحب اقتدار لوگ چاہتے تھے۔‘‘
    اس واقعہ میںزخمی ہونے والے دیگر دوستوںکے نام یہ ہیں:
    ۱۔مکرم لطف الرحمن صاحب(ٹھیکیدارپہاڑی)دارالنصرربوہ
    ۲۔مکرم حاکم علی صاحب فیکٹری ایریاربوہ
    ۳۔مکرم میاںعبدالسلام صاحب زرگرربوہ
    ۴۔مکرم ڈاکٹرعبدالغفورصاحب سرگودھا
    ۵۔مکرم ملک فتح محمدصاحب ریلوے روڈ ربوہ
    ۶۔مکرم ہدایت اللہ چٹھہ صاحب ربوہ
    ۱۷ ؍جولائی کو کارروائی شروع کرنے کی اطلاع اور صدر انجمن احمدیہ کا جواب
    حکومت کی طرف سے جس عجیب رویہ کا اظہار کیا جا رہا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۶ ؍جولائی ۱۹۷۴ء کی شام کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب کا فون ربوہ آیا کہ جماعت کا وفد، امام جماعت ِ احمدیہ کی سربراہی میں اسلام آباد آجائے۔کل سے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کارروائی کا آغاز کرے گی۔یہ بات پیشِ نظر رہے کہ اس وقت ربوہ سے اسلام آباد جانے میں تقریباََ چھ گھنٹے لگتے تھے اور اس وقت راستے میں امن و امان کی صورتِ حال نہایت مخدوش تھی۔راستے میں سرگودھا تھا جہاں ایک ہی روز قبل احمدیوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا اور اس امر کی تحریری اطلاع کوئی نہیں دی گئی تھی صرف زبانی اطلاع دی گئی تھی۔ان حالات میں صدر انجمن احمدیہ یہ مناسب نہیں سمجھتی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں درخواست کرے کہ وہ اسلا م آباد تشریف لے جائیں۔ چنانچہ فون پر سیکریٹری صاحب کو اس بات سے مطلع کر دیا گیا اور سٹیرنگ کمیٹی کے سربراہ کو خط لکھ کر اطلاع دی گئی کہ ان حالات میں صدر انجمن احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ مشورہ دینے کی ذمہ داری نہیں لے سکتی کہ وہ آج ہی اسلام آباد روانہ ہو جائیں اور ان سے یہ مطالبہ کیا کہ باقاعدہ تحریری نوٹس بھجوایا جائے۔ راستے کے لئے حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ملٹری اسکورٹ مہیا کرے۔اس کارروائی کے آغاز کی معیّن تاریخ کو خفیہ رکھا جائے۔ہمارے پندرہ مسلح محافظ ساتھ ہوں گے اور آخر میں لکھا کہ ہم آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔
    اس کا جواب ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری اسلم اسد اللہ خان صاحب کی طرف سے یہ موصول ہوا کہ نئی تاریخ ۲۲؍ جولائی رکھی گئی ہے اور اسے خفیہ رکھا جائے گا۔اسکورٹ مہیا کیا جائے گا لیکن پندرہ مسلح محافظ ساتھ رکھنے کے بارے میں اجازت اس لئے نہیں دی جاسکتی کہ راستے میں مختلف اضلاع کے مجسٹریٹ نے اپنے اضلاع میں اسلحہ لے کر جانے پر پابندی لگائی ہو گی اور قومی اسمبلی میں اسلحہ لے کر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
    اور حکومت کا یہ ارادہ کہ ۱۷ جولائی ۱۹۷۴ء کو کارروائی شروع کر دی جائے اس لئے بھی عجیب تھا کہ ۱۸ ؍جولائی کو توصمدانی ٹریبونل کے سامنے لاہورمیںحضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا بیان قلمبند ہونا تھا ۔یہ کارروائی بند کمرے میں ہوئی لیکن بعد میں اخبارات کو اس بیان کے مندرجات چھاپنے کی اجازت دے دی گئی۔حضور کے بیان کے علاوہ کئی سرکاری افسران کے بیانات بھی بند کمرے میں ہوئے تھے۔ ۲۰؍جولائی ۱۹۷۴ء جسٹس صمدانی نے ربوہ کا دورہ کیا اور ریلوے سٹیشن کا معائنہ کرنے کے علاوہ جماعتی دفاتر اور بہشتی مقبرہ بھی گئے ۔(مشرق ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء ص۱،۲۱ جولائی ۱۹۷۴ء ص۱)
    قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی میں کارروائی
    جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ راہبر کمیٹی کے بعد یہ معاملہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں پیش ہونا تھا اور اس کمیٹی کی صورت یہ تھی کہ پوری قومی اسمبلی کو ہی سپیشل کمیٹی میں تبدیل کر دیاگیا تھا اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جماعت مبایعین اور غیر مبایعین دونوں کے وفود اس کمیٹی میں آئیںاور ان پر سوالات کیے جائیں۔ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے لکھا گیا کہ ہم اس بات میں آزاد ہیں جن ممبران پر مشتمل وفد چاہیں مقرر کریں کہ وہ اس کمیٹی میں اپنا موقف بیان کرے لیکن حکومت کی طرف سے اصرار تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ لازماً اس وفد میں شامل ہوں۔اس صورت حال میں پانچ اراکین پر مشتمل وفد تشکیل دیا گیا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ، حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل تھے۔
    اس اہم کارروائی کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے سب سے زیادہ دعا ؤں سے ہی تیاری کی تھی۔خلافت لائبریری سے کچھ کتب منگوائی گئیں اور حضرت قاضی محمدیوسف صاحب مرحوم کے کتب خانہ کی کتب بھی منگوائی گئیں۔لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی ہدایت تھی کہ حضور کی اجازت کے بغیر یہ کتب کسی کو نہ دی جائیں۔وفد کے بقیہ اراکین میٹنگ کر کے اس مقصد کے لیے بڑی محنت سے تیاری کر رہے تھے اور جو اعتراضات عموماََ کیے جاتے ہیںان کے جوابات بھی تیار کیے گئے۔ چند میٹنگز میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ بھی شامل ہوئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اس بات کا اظہار بارہا فرمایاکہ اس کارروائی کے دوران نہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ کیا اور کس طرح جواب دینا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کب اس کا جواب دینا ہے؟حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے جب کارروائی میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانا ہوتا تو حالات کے پیشِ نظر اس کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا اور جس روز جانا ہوتا اس روز صبح کے وقت حضور ارشاد فرماتے اور پھر قافلہ روانہ ہوتا۔ اسلام آباد میں حضور کا قیام ونگ کمانڈر شفیق صاحب کے مکان میں ہوتا تھا ۔
    اس کارروائی کے آ غاز سے قبل حضورؒ کو اس کے بارے میں تشویش تھی۔اس فکرمندی کی حالت میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا :۔
    ’’وَسِّعْ مَکَانَکَ اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ‘‘
    یعنی اپنے مکان کو وسیع کر،ہم استہزاء کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔
    اس پُر آشوب دور میںاللہ تعالیٰ یہ خوش خبری عطا فرما رہا تھا کہ آج حکومت،طاقت اور اکثریت کے نشہ میں یہ لوگ جماعت کو ایک قابلِ استہزاء گروہ سمجھ رہے ہیںلیکن ان سے اللہ تعالیٰ خود نمٹ لے گا۔جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی ترقیات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔کوئی بھی غیر جانب دار شخص اگر بعد میں ظاہر ہونے والے واقعات کا جائزہ لے اور اس مختصر کتاب میں بھی ہم اس بات کا جائزہ پیش کریں گے کہ جن لوگوں نے بدنیّتی سے اس کارروائی کو شروع کیا اور پھر بزعمِ خود احمدیوںکو کافر قرار دیا یا کسی رنگ میں بھی استہزاء کی کوشش کی ان کا انجام کیا ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ صرف خدا کا ہاتھ تھا جس نے ان پر پکڑ کی اور ان کو دنیا کے لئے ایک عبرت کا سامان بنا دیا۔یہ کسی دنیاوی کوشش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خدا ان کی شرارتوں کے لئے کافی تھا۔
    اس کے علاوہ ۱۹۷۴ء کے پُر آشوب دور میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو الہام ہوا فَدَمْدَمَ عَلَیْھِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِھِمْ فَسَوَّاھَا(تب ان کے گناہ کے سبب ان کے ربّ نے ان پر پَے در پَے ضربیں لگائیں اور اس (بستی ) کو ہموار کر دیا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اسمبلی میں محضر نامہ پڑھتے ہیں
    ۲۲اور ۲۳ جولائی ۱۹۷۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے پوری قومی اسمبلی پر مشتمل خاص کمیٹی میں جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا محضر نامہ خود پڑھ کر سنایااور اس کے بعد کارروائی کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ اس محضر نامہ کے آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پر شوکت تحریر درج کی گئی تھی اور جب حضور نے کمیٹی میں یہ حوالہ پڑھ کر سنایا تو اس کا ایک خاص اثر ہوا اور بعد میں ایک ممبر اسمبلی نے اپنے ایک احمدی دوست کے ساتھ حیرت سے ذکر کیا کہ مرزا صاحب نے بڑے جلال سے یہ حوالہ پڑھ کر سنایا ہے اور جیسا کہ بعد میں ذکر آ ئے گا اس کارروائی کے آخر میں ممبران ِ قومی اسمبلی کے اصرار پر یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ اس حوالہ کو درج کرنے کا مقصد کیا ہے؟ (۶، ۷)
    قومی اسمبلی اور صدر انجمن احمدیہ کے درمیان مزید خط و کتابت
    ۲۲ ؍جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری نے ناظر صاحب اعلیٰ کے نام ایک خط لکھا۔ جس میں کچھ حوالے بھجوانے کا کہا گیا تھا۔یہ خط جو کہ دراصل سیکریٹری صاحب قومی اسمبلی نے مولوی ظفر انصاری ایم این اے کے ایک خط پر کارروائی کرتے ہوئے لکھا تھا۔اس خط سے یہ بخوبی ظاہر ہو جاتا تھا کہ خود قومی اسمبلی کو بھی نہیں معلوم کہ اس نے یہ کارروائی کس سمت میں کرنی ہے۔ اس خط میں لکھا گیا تھا جماعت ِ احمدیہ اس میمورنڈم کی کاپی بھجوائے جو کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔اور پروفیسر سپیٹ (Spate)جن کی خدمات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس کمیشن میں کچھ امور پیش کرنے کے لئے حاصل کی تھیں،ان کے نوٹس اور تجاویز بھی کمیشن کو بھجوائی جائیں۔اس کے علاوہ الفضل کے کچھ شماروں اور ریویو آف ریلیجنز کے تمام شمارے بھجوانے کا بھی لکھا گیا تھا۔اب موضوع تو یہ تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں سمجھتا ،اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس موضوع کے متعلق سوالات ہوں۔یاپھر اگر جماعت ِاحمدیہ کے محضر نامہ کے متعلق سوالات ہوتے تو بات کم ازکم سمجھ میں بھی آتی مگر اس فرمائش سے تو لگتا تھا کہ اس کارروائی کے کرتا دھرتا افراد کا ذہن کہیں اور ہی جا رہا تھا۔ لیکن ان کوصدر انجمن احمدیہ کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ یہ میمورنڈم اور پروفیسر سپیٹ کی تجاویزتو حکومت کے پاس ہی ہوںگی کیونکہ ان کو مسلم لیگ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ یہ سب کاغذات حکومت کی تحویل میں ہی تھے اور جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں ان کو شائع بھی کر دیاگیا تھا۔
    اب جو بھی سوالات اُ ٹھنے تھے ان کے جوابات کے لئے حوالہ جات کی ضرورت ہو نی تھی تاکہ صحیح اور مناسب حوالہ جات کے ساتھ جوابات سپیشل کمیٹی کے سامنے آئیں۔اب کسی جرم کی تفتیش تو نہیں ہو رہی تھی کہ پہلے سے سوال بتا دینا مناسب نہ ہوتا۔عقائد کے متعلق ہی کارروائی ہونی تھی۔ چنانچہ جماعت کی طرف سے یہی مطالبہ کیا گیا کہ جو سوالات سپیشل کمیٹی میں ہونے ہیں وہ اگر ہمیں مہیا کر دیئے جائیں تاکہ متعلقہ حوالہ جات بھی سوالات کے ساتھ پیش کئے جاسکیں کیونکہ وہاں پر جماعت کے وفد کے پاس نوے سال پر پھیلا ہوا لٹریچر تو مہیا نہیں ہونا تھا۔بہر حال ۲۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے دفتر کی طرف سے ایڈیشنل ناظر ِ اعلیٰ کو جواب موصول ہوا کہ سٹیرنگ کمیٹی نے اس پر غور کر کے یہ فیصلہ کیاہے کہ سوالات قبل از وقت مہیا نہیں کئے جا سکتے البتہ اگر کسی سوال کی تیاری کے لئے وقت درکار ہوا تو وہ دے دیا جائے گا۔اس خط سے یہ بھی اندازہ ہوتا تھا کہ قومی اسمبلی اور اس کے عملہ نے اس اہم کارروائی کی کوئی خاص تیاری نہیں کی ہوئی کیونکہ اس خط کے آغاز میں اور اس کے بعد بھی یہ لکھا ہوا تھا کہ اس موضوع پر انجمن احمدیہ کے ہیڈ سے زبانی بات ہوئی تھی اور اس خط سے یہ تاثر ملتا تھا کہ لکھنے والے کے ذہن میں ہے کہ جماعت کے وفد کی قیادت انجمن کے سربراہ کر رہے ہیں۔حالانکہ ناظر اعلیٰ یا صدر صدر انجمن احمدیہ سے اس موضوع پر کوئی زبانی بات ہوئی ہی نہیںتھی اور نہ ہی صدر صدر انجمن احمدیہ اس وفد کی قیادت کر رہے تھے ۔اس وفد کی قیادت تو حکومت کے اصرار کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرما رہے تھے۔چنانچہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے نیشنل اسمبلی کے سیکریٹری کو لکھا کہ اس وفد کی قیادت صدر انجمن احمدیہ کے سربراہ نہیں کر رہے بلکہ حضرت امام جماعت ِ احمدیہ کر رہے ہیں۔ صدر انجمن احمدیہ کے سربراہ تو اس کے صدر کہلاتے ہیں۔اب یہ ایک اہم قانونی غلطی تھی جس کو دور کر دیا گیا تھا لیکن آفرین ہے قومی اسمبلی کی ذہانت پرکہ اس کا بھی ایک غلط مطلب سمجھ کر دورانِ کارروائی اس پر اعتراض کر دیا۔ وہ اعتراض بھی کیا خوب اعتراض تھا ،ہم اس کا جائزہ بعد میں لیں گے۔
    قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں محضر نامہ پڑھے جانے کے بعد ۲۴؍ جولائی کو ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب کے نا م لکھا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت دو موشن پیش کئے گئے ہیںجن میں سے ایک شاہ احمد نورانی صاحب کی طرف سے اور دوسری وزیرِ قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔اگر اس مرحلہ پر کوئی اور موشن بھی ایوان کے سامنے پیش ہوئی ہے جس میں کچھ نئے نکات ہوں تو اس کے متعلق بھی ہمیں مطلع کر دیا جائے تاکہ ہم ان کے متعلق بھی اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔اس کے جواب میں ۲۵ ؍جولائی کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب نے لکھا کہ قومی اسمبلی کی سٹیرنگ کمیٹی نے آپ کے اس خط کا جائزہ ۲۵؍جولائی کے اجلاس میں لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو ان دوسرےMotionsسے ابھی مطلع نہیں کیا جا سکتا اگر بعد میں اس کی ضرورت ہوئی تو آپ کو اس سے مطلع کر دیا جائے گا۔
    اسمبلی کی خاص کمیٹی میں سوالات کا سلسلہ تو ۵؍ اگست سے شروع ہونا تھا لیکن اس دوران پورے ملک میں احمدیوں کے خلاف پُر تشدد مہم کا سلسلہ جاری تھا اور حکومت اس کو روکنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی تھی۔جگہ جگہ احمدیوں پر اپنے عقائد سے منحرف ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ احمدیوں کا بائیکاٹ جاری تھا بہت سے مقامات پراحمدیوں کے گھروں اور دوکانوں پر حملے کر کے ان کے ساز و سامان کو نذرِ آتش کیا جا رہا تھا۔بائیکاٹ اتنی مکروہ شکل اختیار کر گیا تھا کہ بعض جگہوں پر بچوں کے لیے دودھ لینا بھی نا ممکن بنایا جا رہا تھا۔خانیوال میں چکی والوں نے احمدیوں کا آٹا پیسنے سے بھی انکار کر دیا ۔۲۸؍ جولائی کو بھوپال والا میں احمدیوں کی مسجد جلا دی گئی۔ایک جگہ پر حجام احمدیوں کی حجامت تک نہیں بنا رہے تھے۔احمدی باہر سے ایک حجام لے کر آئے تو فسادیوں نے اس کا منہ کالا کر کے اسے ذلیل کیا۔یہ بات معمول بن چکی تھی کہ بس میں جہاں احمدی ملے اسے زدو کوب کیا جائے۔۳؍ اگست کو بھیرہ میںاحمدی ایک فوت ہونے والی خاتون کی تدفین احمدیہ قبرستان میں کر رہے تھے کہ فسادیوں نے وہاں حملہ کر کے تدفین کو روکنے کی کوشش کی۔۴؍ اگست کو اوکاڑہ میں اعلان کیا گیا کہ ہم احمدیوں کو پاکستان میں نہیں رہنے دیں گے۔اس سے قبل بھی اوکاڑہ میں مخالفت کا انداز یہ تھا کہ احمدیوں کی دوکانوں کا اور کاروباروں کا بائیکاٹ کیا جائے۔نہ ان سے کسی کو چیز لینے دی جائے اور نہ ان کو کہیں سے سودا سلف لینے دیا جائے۔احمدیوں کی دوکانوں کے باہر ملاں بیٹھ کر اس بات کی نگرانی کرتے رہتے کہ کوئی ان سے سودا نہ خرید لے۔ پھردماغ کا یہ خلل اس حد تک پہنچ گیا کہ جو غیر احمدی عورتیں کسی احمدی کی دوکان سے کپڑا خریدنے لگتیں تو ان کو کہا جاتا کہ اگر تم نے ان سے کپڑا خریدا تو تمہارا نکاح ٹوٹ جائے گا۔جس کسی بیچاری نے یہ غلطی کی اس سے سرِ عام توبہ کرائی گئی اور بعض کے نکاح دوبارہ پڑھائے گئے۔اوکاڑہ میں مخالفین فسادات کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش تھے ان میں سے کئی اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئے۔کوئی پاگل ہوا۔کوئی اب تک سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہے اور کبھی کسی احمدی کے پاس آکر بھیک کا طلبگار ہوتا ہے۔کسی کی اولاد خدا تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بنی۔میرک ضلع اوکاڑہ میں تو مخالفین کا غیظ و غضب اس حد تک بڑھا کہ انہوں نے پہلے احمدیوں کے گھروں کے آگے چھاپے لگا کر انہیں اندر محصور کر دیا۔جب پولیس نے آکر چھاپے اتروائے تو مخالفین نے اینٹوں کی چنوائی کر کے احمدیوں کے دروازے بند کر دیئے اور ملاں لوگ طرح طرح کی دھمکیاں دیتے رہتے۔ کوئی احمدی بازار میں نکلتا تو اس کے پیچھے اوباش مخالفین لگ جاتے۔اس ضلع کے احمدی صبر و استقامت سے ان مظالم کو برداشت کرتے رہے۔ایک مولوی ایک احمدی کے گھر پر آیا اور خاتونِ خانہ سے کہنے لگا کہ مسلمان ہوجاؤ ورنہ رات کو مکینوں سمیت گھر کو آگ لگا دیں گے۔اس بہادر خاتون نے کہا کہ میں اور بچے اس وقت گھر میں ہیں تم رات کی بجائے ابھی آگ لگا دو۔یہ سن کر ملاں گالیاں دینے لگا۔ غلام محمد صاحب اوکاڑہ شہر سے جا کر ایک گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھاتے تھے۔ان کو راستہ میں ایک شخص نے کلہاڑی مار کر شہید کر دیا ۔قاتل کو کچھ عرصہ گرفتاری کے بعدرہا کر دیا گیا۔اس پس منظر میں جب ۲۸؍ جولائی کو وزیر ِ اعلیٰ ساہیوال آئے تو احمدیوں کے ایک وفد نے ان سے ملنے کی درخواست کی تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔دوبارہ درخواست پر انہوں نے کہا کہ لاہور آکر ملیں۔جب یہ لوگ لاہور گئے تو وہاں بھی وزیر ِ اعلیٰ نے ملنے سے انکار کر دیا۔
    ۵؍ اگست کو کارروائی شروع ہوتی ہے
    اب ہم اس کارروائی کا جائزہ لیں گے جو پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں ہوئی اور اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ پر کئی روز تک سوالات کا سلسلہ چلا۔یہ جائزہ قدرے تفصیل سے لیا جائے گا۔ جیسا کہ جلد ہی پڑھنے والے اندازہ لگا لیں گے کہ اکثر سوالات تو غیر متعلقہ تھے لیکن پھر بھی اس کارروائی کی ایک اہمیت ہے ۔وہ اس لئے کہ اس کے بعد دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک گروہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہئے ۔اور اس لئے بھی کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش کا ایک اہم حصہ تھا۔اس کے علاوہ مخالفینِ جماعت کی طرف سے بارہا اس کارروائی کے متعلق غلط بیانی سے کام لے کر اپنے کارہائے نمایاں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر ایک نے اس نام نہاد کارنامے کا سہرا اپنے سر پرباندھنے کی کوشش کی ہے کہ یہ اصل میں مَیں ہی تھا جس کی ذہانت کی وجہ سے یہ فیصلہ سنایا گیا۔سوالات اور ان کی حقیقت جب بیان کی جائے گی تو پڑھنے والوں کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ ذہانت یا یوں کہنا چاہئے کہ اس کے فقدان کا کیا عالم تھا۔ اس کارروائی میں وہی گھسے پٹے سوالات کئے گئے تھے جو کہ عموماََ جماعت کے مخالفین کی طرف سے کئے جاتے تھے ۔ جب ان کا جواب درج کیا جائے گا تو پڑھنے والے ان کی حقیقت کے متعلق خود اپنی رائے قائم کر سکیں گے۔
    ۵؍ اگست کے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو آغاز میں سپیکر اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی صاحب نے کہا کہ اس وقت اٹارنی جنرل چیمبر میں مولوی ظفر احمد انصاری صاحب سے مشورہ کر رہے ہیں اور ان کے آنے پر چند منٹ میں ہم کارروائی کا آ غاز کریں گے۔پھر سپیکر اسمبلی نے اعلان کیا کہ کارروائی کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ جس نے سوال کرنا ہے وہ اپنا سوال لکھ کر دے گااور اٹارنی جنرل یہ سوال جماعت کے وفد سے کریں گے۔کارروائی کے آغاز پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو حلف اُ ٹھانے کے لئے کہا۔حضرت صاحب کے حلف اُ ٹھانے کے بعد اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ آپ نے اُن سوالات کے جواب دینے ہیں جو پوچھے جائیں گے اور اگر آپ کسی سوال کا جواب دینا پسند نہ کریں تو آپ انکار کر سکتے ہیں۔لیکن اس انکار سے سپیشل کمیٹی کوئی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے جو آپ کے حق میں اور آپ کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔اور اگر آپ کسی سوال کا فوراً جواب نہ دینا پسند کریں تو آپ اس کے لیے وقت مانگ سکتے ہیں۔
    پیشتر اس کے کہ ہم ان سوالات کا جائزہ لیں جو پوچھے گئے اور ان جوابات کو دیکھیں جو دیئے گئے یہ امر پیشِ نظر رہے کہ اس سپیشل کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ فیصلہ کرے کہ اسلام میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو رسولِ کریم ﷺکو آخری نبی نہیں مانتے ۔اور ان کے سپرد اس مسئلہ کے متعلق آراء جمع کرنا اور اس مسئلہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تجاویز تیار کرنا تھا۔یہ ایک مسلّمہ امر ہے کہ خواہ کسی کمیٹی کی تحقیقاتی کارروائی ہو یا کوئی عدالتی کارروائی ہو اور سوال پوچھے جائیں تو یہ سوالات پیشِ نظر مسئلہ کے بارے میں ہونے چاہئیں یا کم از کم ان سوالات کا اس مسئلہ کے متعلق تجاویز مرتب کرنے سے کوئی واضح تعلق ہونا چاہئے ۔ اور کچھ نہیں توسوالات کی اکثریت کا تعلق اس مسئلہ سے ہونا چاہئے ۔ اگرکوئی ایک غیر متعلقہ سوال بھی پوچھے تو یہ بھی قابلِ اعتراض ہے کجا یہ کہ کوئی کئی روز غیر متعلقہ سوالات پوچھتا جائے۔
    کارروائی کے آ غاز سے یہ امر ظاہر تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور اصل موضوع پر آنے سے کترا رہے ہیں۔ان کا پہلا سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں تھا۔اگر یہ پیشِ نظر رہے کہ یہ کمیٹی کس مسئلہ پر غور کر رہی تھی تو یہی ذہن میں آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کیا تھے یا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی شان میں آپ نے کیا فرمایا لیکن اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کب اور کہاں پیدا ہوئے ، آپ کا خاندانی پس منظر کیا تھا ،آپ کی تعلیم کیا تھی اور آپ نے کب اور کہاں وفات پائی۔اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا کہ اس کا تحریری جواب جمع کرا دیا جائے گا۔اٹارنی جنرل صاحب نے شکریہ ادا کیا اور موضوع تبدیل کیا ۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے دریافت کیا
    ‏’’You are the grandson of Mirza Ghulam Ahmad?‘‘
    اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا’’ہاں‘‘۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے ان کے حالات ِ زندگی دریافت کئے گئے۔
    پھر یہ تفصیلات دریافت کرتے رہے کہ کیا آپ خلیفۃ المسیح ،امام جماعت احمدیہ اور امیر المؤمنین تینوں منصبوں پر فائز ہیں۔جب اس کا جواب اثبات میں دیا گیا تویہ سوال کیا گیا کہ آپ ان مختلف عہدوں کے تحت کیا کام کرتے ہیں اور یہ مختلف عہدے کن اختیارات کے حامل ہیں۔اس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ مختلف عہدے نہیں بلکہ امام جماعت ِ احمدیہ ،خلیفۃ المسیح اور امیرالمومنین کے الفاظ ایک ہی شخص کے متعلق استعمال ہوتے ہیں ۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک اورمہمل سوال کیا کہ کیا جماعت ِ احمدیہ اورAhmadiyya Movement مختلف تنظیمیں ہیں۔اس تمہید کے بعد اب امید کی جارہی تھی کہ سوالات کا سلسلہ زیر بحث موضوع کی طرف آئے گا لیکن جو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔
    اس کے بعد یہ کہ جماعت ِ احمدیہ میں انتخاب ِ خلافت کے قوانین کیا ہیں؟ کیا حضرت بانیئِ سلسلہ احمدیہ کی تمام اولاد جو اب موجود ہے مجلسِ انتخابِ خلافت کی رکن ہوتی ہے۔ اس پر جب انہیں یہ بتایا گیا کہ ایسا نہیں ہے تو وہ اس بحث کو لے بیٹھے کہ کیا جماعت ِ احمدیہ میں خلیفہ کو معزول کیا جا سکتا ہے؟جب ان کو بتایا گیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُ ٹھایا کہ کیا خلیفہ کے حکم کوOver ruleکیا جا سکتا ہے۔یہ بالکل غیر متعلقہ سوالات تھے۔جماعت ِ احمدیہ میں خلافت کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ خلافت کا کیا مقام ہے؟ خلافت کے احکامات کا مقام کیا ہے ؟ یہ احمدیوں کا مسئلہ ہے۔ قومی اسمبلی کا اس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔
    واضح رہے کہ یہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی ہو رہی تھی اور قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی جس قاعدہ کے تحت ہوتی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں۔
    ‏(B) Special Committees: The assembly may by motion appoint a special committee, which shall have such composition and functions as may be specified in the motion.
    ‏(National Assembly of Pakistan, Rules of procedures and conduct of business in teh National Assembly 2007p84)
    اس قاعدہ سے ظاہر ہے کہ سپیشل کمیٹی کی کارروائی اس کام کی حدود کی پابند ہوتی ہے جو کہ اس کے لئے قومی اسمبلی نے متعیّن کئے ہیں اور یہ کمیٹی اس کام کو سر انجام دے کر اپنی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے اور اس سپیشل کمیٹی کے لئے یہ کام مقرر ہوا تھا کہ یہ فیصلہ کرے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا ، اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ اب اس معاملہ پر جماعت ِ احمدیہ کا موقف محضر نامہ کی صورت میں اور جماعت ِ احمدیہ کے مخالف ممبران ِ اسمبلی کا موقف اور محضرنامہ کا جواب بھی تحریری صورت میں سامنے آ چکا تھا۔اس پس منظر میں یہی توقع کی جا سکتی تھی کہ اب سپیشل کمیٹی میں سوالات اس متعلقہ موضوع پر ہوں گے لیکن اتنے دنوں کی کارروائی میں کچھ اور ہی منظر سامنے آتا رہا۔
    اس کے بعد وہ اس تفصیلی بحث میں الجھ گئے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں احمدیوں کی تعداد کیا تھی؟ اور اب یہ تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے دریافت کیا کہ ۱۹۲۱ء میں ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد کیا تھی؟۱۹۳۶ء میں یہ تعداد کتنی ہو گئی تھی؟ اور اب پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کتنی ہے ؟انگریز حکومت کی مردم شماری کے مطابق یہ تعداد کتنی تھی ؟اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے مطابق یہ تعداد کتنی تھی ؟اور دونوں میں فرق کیوں ہے؟یہ کارروائی پڑھتے ہوئے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ صاحب موصوف یا ان کو سوال دینے والے کیا بحث لے بیٹھے تھے۔ ان کی یہ بحث اس لیے بھی زیادہ نامعقول معلوم ہو رہی تھی کہ شروع میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرما دیا تھا کہ ہمارے پاس بیعت کنندگان کا کوئی صحیح ریکارڈ موجود نہیں ہے۔اور مذکورہ معاملہ کا احمدیوں کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر پاکستان میں صرف پانچ یا چھ احمدی تھے اور ان کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا تو ان کی تعداد کی بنا پر ان کو غیر مسلم نہیں قرار دیا جا سکتا ۔اگر بالفرض پاکستان میں چھ سات کروڑ احمدی بھی تھے مگر ان کا عقیدہ غلط تھا تو اپنی زیادہ تعداد کی بنا پر وہ راسخ العقیدہ نہیں بن سکتے تھے۔اور نہ ہی ان کی تعداد سے ان کے مذہبی اظہار کے بنیادی حق پر کوئی فرق پڑتا تھا۔
    اس کے بعد کارروائی آگے بڑھی تو اس کے پڑھنے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کا وقفہ سے کچھ دیر قبل یہ تاثر ابھرنا شروع ہوا کہ شاید اب زیر بحث معاملہ کے متعلق سوالات شروع ہوں۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے خطبہ جمعہ کا حوالہ دیا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے آئین کے آرٹیکل ۸ اور ۲۰ میں مذہبی آزادی کی ضمانت کا حوالہ دیا تھا۔اور یہ سوال اٹھایا کہ اگرپارلیمنٹ چاہے تو دو تہائی کی اکثریت سے ان شقوں کو تبدیل کر سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کوایسا نہیں کرنا چاہئے۔کچھ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ہر ملک کے آئین میں پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اگر مطلوبہ تعداد میں اراکین اس کے حق میں رائے دیں تو ملک کے آئین میں تبدیلی کرسکتے ہیں۔لیکن آئین کی ہر شق اور ہونے والی ہر ترمیم کوبعض مسلّمہ بنیادی انسانی حقوق کے متصادم نہیں ہوناچاہئے خاص طور پر اگر اسی آئین میں ان حقوق کی ضمانت دی گئی ہو۔مثلاََ جس زمانہ میں جنوبی افریقہ کے آئین میں مقامی باشندوں کو ان کے حقوق نہیں دیئے گئے تو آخر کار پوری دنیا نے ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور یہ عذر قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ان کے آئین میں ایسا ہی لکھا ہوا تھااور اگر کسی ملک کی پارلیمنٹ ایسی کوئی آئینی ترمیم کر بھی دے جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاتا بلکہ بسا اوقات تو عدالت ہی اسے ختم کر دیتی ہے اور اندرونی دباؤ کے علاوہ پوری دنیا کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اس کو ختم کریں۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس سوال کے جواب کے شروع میں ہی ان الفاظ میں یہ موقف واضح فرما دیا تھا
    ’’ … یہ پارلیمنٹ ہماری جو ہے ، یہ نیشنل اسمبلی یہ سپریم لیجسلیٹو باڈی ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں ، سوائے ان پابندیوں کے جو یہ خود اپنے اوپر عائد کرے۔‘‘
    اور اس سے پہلے یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ پاکستان کا جو آئین ہے اس کی دفعہ8 یہ کہتی ہے کہ اس ہاؤس کو یہ اختیار نہیں ہو گا جو حقوق اس نے دیئے ہیں ان میں کمی کی جائے یا ان کو منسوخ کیا جائے۔
    اب یہاں صورت ِ حال یہ تھی خود اس اسمبلی کا بنایا ہوا آئین یہ اعلان کر رہا تھا کہ انہیں اس قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔آئین کا آرٹیکل 8، جس کا حوالہ حضور دے رہے تھے، اس کے الفاظ یہ ہیں:۔
    ‏ Laws inconsistent with or in derogation of fundamental rights to be void.
    ‏ (1) Any law, or any custom or usage having the force of law, in so far as it is inconsistent with the rights conferred by this Chapter, shall, to the extent of such inconsistency, be void.
    ‏ (2) The State shall not make any law which takes away or abridges the rights so conferred and any law made in contravention of this clause shall, to the extent of such contravention, be void.
    آئین کی اس شق کا مطلب واضح ہے کہ سٹیٹ کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ آئین ِ پاکستان کے Chapter 1میں مذکور انسانی حقوق سے متصادم کوئی قانون سازی کرے اور اس سے متصادم اگر قانون سازی کی جائے گی تو وہ کالعدم ہوگی اور اس آئین میںاس شق سے چند سطریں پہلے آرٹیکل 7میںسٹیٹ کی تعریف بھی درج ہے اور اس تعریف کی رو سے پارلیمنٹ بھی سٹیٹ کا حصہ ہے اور اس طرح یہ پابندی پارلیمنٹ پر بھی عائد ہوتی ہے اور آئین کاآرٹیکل 20یہ اعلان کر رہا تھا کہ ہر شخص کو اپنا مذہبprofessکرنے practice کرنے اور propagate کرنے کی اجازت ہو گی۔
    اب ملاحظہ کیجئے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اس دلیل کا کیا رد پیش کیا۔انہوں نے فرمایا کہ لیکن پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہے کہ وہ وہ دو تہائی کی اکثریت سے آئین کے آرٹیکل 8اور آرٹیکل20میں ترمیم کر دے۔ اوّل تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کیا بات کہہ گئے ہیں۔آئین تو واضح طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ پارلیمنٹ Chapter 1میں مذکور انسانی حقوق سے متصادم کوئی قانون نہیں بنا سکتی اور ایسا قانون کالعدم ہوگا اور اٹارنی جنرل صاحب اس کا حل کیا تجویز فرما رہے ہیں؟ پہلے انہوں نے یہ کہا کہ پارلیمنٹ ان شقوں میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے پھر اس موقف کا معیار اور بھی گر گیا اور انہوں نے یہ کہاکہ پارلیمنٹ آرٹیکل 8کو جس میں یہ پابندی لگائی گئی ہے مکمل طور پر ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہتے جا رہے ہیں کہ ان کے نزدیک پارلیمنٹ کو ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔ سیدھی سی بات ہے آئین کی رو سے پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہی نہیںا ور یہ بات کہتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کیا خوفناک راستہ کھول رہے تھے؟ وہ یہ راستہ کھول رہے تھے کہ دنیا کی کوئی بھی پارلیمنٹ بنیادی انسانی حقوق میںسے کچھ یا تمام حقوق کو سلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔جب ایک سے زیادہ مرتبہ ان کی توجہ آرٹیکل8میں پارلیمنٹ پر لگائی گئی پابندی کی طرف مبذول کرائی گئی تو اٹارنی جنرل جناب یحيٰ بختیار صاحب کو اور کچھ نہیں سوجھی تو اس کا یہ جواب دیا
    ‏Those are of political nature, religious nature but not of constitutional nature.
    یعنی آئین میں پارلیمنٹ پر لگائی گئی یہ پابندی سیاسی اور مذہبی نوعیت کی ہے مگر آئینی نوعیت کی نہیں ہے۔
    یہ جواب مہمل اور غلط ہونے کے علاوہ مضحکہ خیز بھی تھا۔ یعنی آئین میں واضح طور پر یہ لکھا ہے اس باب میں لکھے ہوئے انسانی حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور پارلیمنٹ یا کسی اور ادارہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی قانون سازی کے ذریعہ ان میں کوئی کمی بھی کر سکے ۔ اور اٹارنی جنرل صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ یہ تو محض سیاسی اور مذہبی قسم کی پابندی ہے آئینی پابندی نہیں ہے۔ خدا جانے ان کے ذہن میں آئینی پابندی کا کیا تصور تھا۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اس موضوع کے بارے میں ایک اور نکتہ بیان کیا۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ایک خطبہ جمعہ کا حوالہ سنایا جس میں حضور نے آئین کے آرٹیکل 20کا حوالہ دیا تھا ۔ اس پر انہوں نے یہ اعتراض پیش کیا کہ اس آرٹیکل میں جس میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے پہلے یہ عبارت موجود ہے۔
    ‏Subject to law, public order and morality:-
    یعنی یہ آزادی قانون ، امن ِ عامہ اور اخلاقیات کی حدود کی پابند ہو گی۔ ہم اس کے متعلق کچھ عرض کرنے سے قبل اس آرٹیکل کی پوری عبارت درج کر دیتے ہیں:۔
    ‏20. Freedom to profess religion and to manage religious institution
    ‏Subject to law, public order and morality:
    ‏(a) Every citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion and
    ‏(b) Every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions.
    اٹارنی جنرل صاحب کا کہنا یہ تھا اس آرٹیکل کی رو سے اگر اس قسم کی کوئی قانون سازی کی جائے تو احمدیوں کی یا کسی اور گروہ کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔حالانکہ آئین کی رو سے یہ دعویٰ بالکل غلط تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ
    ۱)۔ 1974ء میں اس وقت ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا جس سے احمدیوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، یا اس کا اظہار نہیں کر سکتے یا کسی قسم کے شعائر ِ اسلامی نہیں بجا لا سکتے، یا اپنے عقائد کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔آئین اور قانون اس قسم کی کوئی قدغن نہیں لگا رہے تھے۔
    2) ۔آئین کے آرٹیکل 8میں اس بات پر پابندی تھی کہ اس قسم کی کوئی قدغن لگانے کا کوئی قانون بنایا جائے اور ایسی ممکنہ قانون سازی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
    اس سے یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ اس وقت پارلیمنٹ آئین میں مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر رہی تھی اور آئین کی رو سے ا نہیں اس قسم کی کسی آئینی ترمیم کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اس کو ہمیں مسلمان کہنا پڑے گا۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ان کے ذہن میں اس بارے میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔ وہ یہ بحث لے بیٹھے کہ آپ نے کہا ہے کہ قانون کی رو سے ہر فرد اور فرقہ کا مذہب وہی ہونا چاہئے جس کی طرف وہ اپنے آپ کومنسوب کرتا ہے ۔اس پریحییٰ بختیار صاحب یہ دور کی کوڑی لائے کہ اگر ایک مسلمان طالب علم ڈاؤ میڈیکل کالج میں اقلیتوں کی سیٹ پرداخلے کے لیے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کرتا ہے تو کیا اسے قبول کرنا چاہئے۔اٹارنی جنرل صاحب یہاں بھی ایک غیر متعلقہ موازنہ پیش کر رہے تھے۔یہ مثال ہے کہ ایک طالب علم اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے لیکن داخلہ کے لیے جعلی اندراج کرتا ہے تا کہ اس جھوٹ سے ناجائزفائدہ اُ ٹھا سکے اور دوسری طرف ایک فرقہ ہے جو نوے سال سے دنیا کے بیسیوں ممالک میں اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہا ہے اور ان کے عقائد اچھی طرح سے مشتہر ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں مسلمان کہتے ہیں مسلمان لکھتے ہیں اور اچانک ایک ملک کی اسمبلی زبردستی ان کی مرضی کے خلاف یہ فیصلہ کرتی ہے کہ آج سے وہ قانون کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں گے۔دونوں مثالوں میں کوئی قدرِ مشترک نہیں۔بہر حال کارروائی میں ہونے والے سوالات زیر ِ بحث موضوع کے قریب بھی نہیں آئے تھے کہ کارروائی مختصر وقفہ کیلئے رکی۔لیکن یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا جب خود اٹارنی جنرل نے تمام ممبران اسمبلی کے سامنے بَرملا بڑے فخر سے یہ کہا تھا کہ پارلیمنٹ بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دینے والی شقوں کو منسوخ کر سکتی ہے اور اس طرح بنیادی انسانی حقوق تلف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔حالانکہ آئین اعلان کر رہا ہے کہ سٹیٹ کو، حکومت کو پارلیمنٹ کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان حقوق میں کمی بھی کر سکے۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کسی کو بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس اسمبلی کی اخلاقی حالت یہ تھی کہ کسی ایک ممبر نے بھی کھڑے ہو کر یہ نہیں کہا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ یہ تو ہمارے آئین ، ہماری اخلاقی قدروں اور ہمارے مذہب کی بنیاد ہے کہ کسی کو بھی ظالمانہ طریق سے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہے اور آپ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہمیں یہ اختیار ہے اس شق کو ہی ختم کر دیں جو بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دے رہی ہے۔ یہی ایک پہلو اس بات کو واضح کر دیتا کہ یہ اسمبلی جو فیصلہ کرنے کا تہیّہ کئے بیٹھی تھی اس کا پہلا قدم ہی یہ تھا کہ بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ ممبرانِ اسمبلی سب سے پہلے اپنے بنائے ہوئے آئین کو پامال کر رہے تھے۔
    اب ہم ایک اور پہلو سے اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا کسی پارلیمنٹ ؍ اسمبلی کو کوئی ایسا قانون بنانے یا آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے جو وہ کسی شخص یا گروہ کے مذہب کا فیصلہ کرسکے۔ اس کا جواب یقینا نہیں میں ہے۔
    انسانی حقوق کی تمام دستاویزات سوچ اور مذہب کی آزادی کا خاص طور پر تحفظ کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے "Universal Declaration of Human Rights" کے آرٹیکل نمبر18کے مطابق ہر انسان کو یہ مکمل آزادی ہے کہ وہ جو چاہے مذہب اختیار کرے اور اس پر عمل کرے۔ یہی حق "European Convention on Human Rights" کے آرٹیکل نمبر9 میں بھی دیا گیا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کے آئین بھی اس حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر20 کے تحت بھی ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔
    اب سوال یہ ہے کہ کیاآئینی ترمیم کے ذریعے کسی کے مذہب کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ Article 20آئین کے Chapter 2 کے پہلے حصہ میں شامل ہے اور بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے ۔ یہ وہ حقوق ہیں جن کو آئین میں خاص حیثیت حاصل ہے اور کوئی قانون جو ا ن کے خلاف ہو غیرقانونی اور غیر آئینی متصور ہوتا ہے۔ برصغیر کے کچھ ملکوں کی عدالتوں نے ایسی آئینی ترامیم کو بھی غیر آئینی قرار دیا ہے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہوں۔ اس سلسلہ میں بھارتی اور بنگلہ دیش سپریم کورٹ نمایاں ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے 2007ء میں دئیے گئے فیصلہ میں آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کو بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‏( Coehlo Versus State of Tamil Nado (2007) 2SCC1)
    اسی طرح بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کے اصول پر آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا ہے۔
    ‏(Anwar Hossain Chaudhury VS Bangla Desh 1989, 18CCC (AD)J)
    آئین کا آرٹیکل 20 پہلے دن سے آئین کا حصہ ہے اور بنیادی حقوق کے Chapterمیں شامل ہے۔ مذہبی آزادی عالمی طور پر ثابت شدہ حق ہے اور ان حقوق میں ہے جو ایمرجنسی کے دوران بھی معطل نہیں ہوتے۔ Article 233 & 233 Constitution of Pakistan یہ ان حقوق میں شامل ہیں جو آئین کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ ہیں اور پارلیمنٹ کوئی ایسی آئینی ترمیم بھی نہیں کرسکتی جو اس بنیادی حقوق کے برخلاف ہو اور جو کسی کے مذہب کا فیصلہ اس کی منشا اور مرضی کے خلاف کرے۔ مذہب انسان کا سراسر ذاتی معاملہ ہے۔ سابقہ امریکی صدر تھامسن جیفرسن جو امریکہ کے Founding Fathers میں سے ایک تھے انہوں نے کہا تھا:۔
    ‏".......Religion is a matter which lies solely between man and his God, that he owes account to none other for his faith or his worship, that the legitimate powers of government reaches actions only, and not opinions, I contemplate with sovereign reverence that act of whole American people which declared that their legislature should "Make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof." Thus building a wall of seperation between church and State.
    وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی ۔اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات تو بعد میں شروع ہوئے لیکن ایک ممبر ِ اسمبلی نے ایک اور مسئلہ کے بارے میں سوال پیش کر دیا۔انہوں نے یہ سوال کیا کہ اگر اسمبلی میں تقاریر ہوں تو رپورٹر ز اس کا متن تیار کر کے ممبران کو تصحیح کے لئے بھجوا دیتے ہیں، تو اب جو جماعت کا وفد ایک گواہ کی حیثیت سے بیان دے رہا ہے تو کیا اس کا ریکارڈ جماعت کے وفد کو تصحیح اور تصدیق کے لئے بھجوایا جائے گا؟ اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے کہا کہ جماعت کے وفد کو جماعت کے وفد کا بیان تصحیح اور تصدیق کے لئے بالکل نہیں بھجوایا جائے گا بلکہ ممبران کو اس کا ریکارڈ بھجوایا جائے گا اور صاحبزادہ صفی اللہ صاحب نے بھی اس کی تائید کی۔ یہ ایک نہایت ہی قابلِ اعتراض فیصلہ تھا کیونکہ دنیا بھر میں کسی بھی سطح پر جب گواہ سے بیان لیا جاتا ہے تو پھر اس کا تحریری ریکارڈ اس کو دیا جاتا ہے جسے وہ گواہ تسلیم کر کے یا پھر تصحیح کر کے دستخط کر کے دیتا ہے اور پھر یہ اس کا تصدیق شدہ بیان سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ گواہ کو مکمل اندھیرے میں رکھا جا رہا تھا کہ اس کا کیا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے۔اور اس صورت ِ حال میں یہ ریکارڈ مکمل طور پر صحیح طرح محفوظ رکھا گیا کہ نہیں ؟ اس سوال پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی اور جماعت ِ احمدیہ کو ایک فریق کی حیثیت سے اس ریکارڈ کی صحت کے متعلق سوال اُٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔
    اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ان سوالات کی طرز کا لُبِّ لُباب یہ تھا کہ کسی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے یا اگر کوئی فرد یا گروہ اپنے آپ کو ایک مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے تو حکومت کو یہ اختیار ہے کہ اس امر کا تجزیہ کرے کہ وہ اس مذہب کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ نہیں۔
    اس لایعنی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ایسی مثالیں پیش کر رہے تھے جو یا تو غیر متعلقہ تھیں یا ایسی فرضی مثالیں تھیں جن کو سامنے رکھ کر کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا ۔مثلاََ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں قرآنِ کریم پر ایمان نہیں لاتا لیکن وہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو کیا اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔اب یہ ایک فرضی مثال تھی جب کہ ایسا کوئی مسلمان فرقہ موجود ہی نہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہو اور یہ بھی کہتا ہو کہ ہم قرآن پر ایمان بھی نہیں لاتے اور ایسی فرضی اور انتہائی قسم کی مثال پر کوئی نتیجہ نہیں قائم کیا جا سکتا۔پھر وہ یہ مثال لے بیٹھے کہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ میں صرف مسلمان جا سکتے ہیں لیکن اگر کوئی یہودی اپنے فارم پر اپنا مذہب مسلمان لکھے اور اس بنا پر وہاں پر داخل ہوکر جاسوسی کرنے کی کوشش کرے تو کیا وہاں کی حکومت اسے گرفتار کرنے کی مجاز نہیں ہو گی۔اس پر حضور نے یہ مختصر اور جامع جواب دیا کہ اسے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے الزام میں نہیں بلکہ ایک ملک میں جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جائے گا اور یہ حقیقت تو سب دیکھ سکتے ہیں کہ اس مثال میں کسی مذہب کی طرف منسوب ہونا اتنا اہم نہیں،ایسے شخص پر تو جاسوسی کا الزام لگتا ہے۔یہاں پر یحییٰ بختیار صاحب کو اپنی مثال کے بودا ہونے کااحساس ہوا تو انہوں نے فوراََ بات تبدیل کی اور کہا کہ فرض کریں کہ ایک عیسائی صحافی ہے اور وہ تجسس کی خاطر مکہ اور مدینہ دیکھنا چاہتا ہے اور فارم غلط اندراج (False declaration) کرتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے تو کیا وہاں کی حکومت اسے روک نہیں سکتی۔اس پر حضور نے جواب دیا کہ اسے توFalse declaration کردینے کی بنا پر گرفتار کیا جائے گا،غیر مسلم ہونے کی بنا پر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔اب یہ مثال بھی زیر بحث معاملہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھی۔ایک شخص کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اور اس نے کبھی اسلام قبول ہی نہیں کیا۔وہ کسی مقصد کی خاطر غلط بیان دیتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان لکھتا ہے۔اس شخص سے کوئی بھی معاملہ کیا جائے لیکن دوسری طرف بالکل اور صورتِ حال ہے ۔ایک فرقہ ہے وہ اپنے آپ کو ہمیشہ سے مسلمان کہتا رہا ہے اور اس نے کبھی بھی اپنے آپ کو کسی اور مذہب کی طرف منسوب نہیں کیا ۔ ایک سیاسی اسمبلی ایک روز یہ فیصلہ سنانے بیٹھ جاتی ہے کہ اسے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا کوئی حق نہیں۔یہ دونوں بالکل مختلف نوعیت کی مثالیں ہیں۔
    پھر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کی کہ بنیادی حقوق پر بھی حکومت قد غن لگا سکتی ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے یہ معرکۃ الآراء مثال پیش کی کہ لیور برادر زکمپنی ،لکس نام کا صابن بناتی ہے۔اگر کوئی اور کمپنی اس نام سے صابن بنانے لگ جائے تو حکومت اسے روکے گی۔یہ بھی ایک نہایت غیر متعلقہ اور لا یعنی مثال تھی۔صنعتی مصنوعات کے متعلق Patentکرانے کا قانون موجود ہے اور اگر ایک کمپنی چاہے تو اپنی قابلِ فروخت مصنوعات کو اس قانون کے تحت Patent کرا سکتی ہے اور اس کے بعد کوئی اور کمپنی ان ناموں سے منسوب مصنوعات فروخت نہیںکر سکتی۔ اسلام یا کوئی اور مذہب قابلِ فروخت آئیٹم تو نہیں کہ کوئی اور گروہ یہ نام استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی ایک فرقہ نے یہ نام Patentکراکے اس کے استعمال کی اجارہ داری حاصل کی ہے ۔چنانچہ حضور نے اٹارنی جنرل صاحب پر واضح فرمایا کہ لیور برادرز کے پاس تو اس نام کو استعمال کرنے کیMonoply ہے اور عقیدہ پر کسی گروہ کی Monoplyنہیں ہوتی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا فرض کریں کہ جہاں تک عقیدہ کا تعلق ہے کسی کے پاس اس کی Monoply نہیں ہے لیکن میں ابھی اس موضوع کی طرف نہیں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اس موضوع کی طرف آنا ہی نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی اس کی طرف انہوں نے آنے کی کبھی کوشش کی۔اس موقع پر حضور نے یہ مثال بیان فرمائی کہ اگر ایک گروہ کہے کہ عیسائیت کا نام صرف وہی گروہ استعمال کر سکتا ہے اور دوسرے گروہ یا فرقے یہ نام استعمال نہیں کر سکتے۔ یقیناََ لکس صابن کی فروخت کی بجائے یہ مثال زیرِ بحث موضوع کے مطابق تھی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب کافی جز بز ہوئے اور کہنے لگے کہ
    I am not anticipating any thing please. I am just dealing with the restriction of the human rights.
    ایک بار پھر یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب اصل موضوع کی طرف آنے کی بجائے اِدھر اُدھر کی باتوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ان کی پیش کردہ مثالیں اس قدر دور از حقیقت اور موضوع سے ہٹ کر تھیں کہ حضور کو سوال کر کے کوشش کرنی پڑتی تھی کہ اصل بات واضح ہو اور سوال و جواب کا سلسلہ اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آئے اور اٹارنی جنرل صاحب غلط سوال کر کے خود الجھن میں پھنس جاتے تھے۔
    لیکن اس مرحلہ پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیچارگی کچھ بوکھلاہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ حکومت کو مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی اجازت ہے ایک بالکل لا یعنی سی مثال دے ڈالی۔ انہوں نے مثال دی کہ ہندوستان میں بعض صوبوں میں گائے کی قربانی کی اجازت نہیں۔ اس پر انہیں یاد دلایا گیا کہ اوّل تو اسلام میں ہر شخص پر بقر عید کے موقع پر قربانی کرنا لازم نہیں بلکہ صرف صاحب استطا عت پر ہے اور گائے کی قربانی کرنا بھی فرض نہیں ہے بکرے کی قربانی بھی کی جا سکتی ہے۔لیکن اپنے نکتے کو ثابت کرنے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب نے ایک فرضی آدمی کی مثال پیش کی اور وہ مثال ہم ان کے الفاظ میں ہی درج کر دیتے ہیں۔
    ’’ … اگر ایک آدمی کے پاس صرف گائے ہے بقر عید پر اور وہ بیچارا اس کو قربان کرنا چاہتا ہے … اور وہ کہتا ہے کہ میرے پاس پیسے ویسے ہیں اور گائے بھی میرے پاس ہے … ‘‘
    خدا جانے وہ اس گائے والے آدمی کی مثال پیش کر کے کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جب حضور نے ان کی مضحکہ خیز مثال سن کر فرمایا کہ اگر اس شخص کے پاس پیسے ہیں تو وہ قربانی کے لئے دنبہ کیوں نہیں خرید لیتا۔بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو اس کے بعد اس مثال کو ترک ہی کرنا پڑا۔ہر پڑھنے والا اس بات کو دیکھ سکتا ہے کہ یہ کوئی متعلقہ مثال نہیں۔ معیّن طور پر گائے ذبح کرنے کا حکم نہیں۔ بکرا بھی ذبح کیا جا سکتا ہے اور اگر یہ شخص قربانی نہیں بھی کر سکے تو اس کو اپنے ضمیر کے خلاف کوئی اعلان نہیں کرنا پڑتا اور اس مثال کی اس بات سے کوئی مناسبت نہیں کہ ایک فرقہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ،مسلمان کہتا ہے اور کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں سمجھتا اور ایک دن کوئی اسمبلی یہ نا معقول فیصلہ کرے کہ آج سے قانون کی رو سے اس فرقہ کو مسلمان شمار نہیں کیا جائے گا۔
    اس کے بعد انہوں نے پھر کچھ فرضی مثالیں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔ پہلے انہوں نے اس غرض کے لئے یہ کوشش کی کہ آئین کےPreambleکا حوالہ دیا کہ اس میں لکھا ہے
    ‏Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the collective and individual spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam..........
    اس بنیاد پر وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں مداخلت اور قانون سازی کا اختیار ہے۔ اس پر حضور نے یہ نشاندہی فرمائی کہ اس کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ ہر فرقہ اور ہر گروہ کو اپنے اپنے نظریات اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی اور سہولت دی جائے گی اور یحيٰ بختیار صاحب اگر صرف اس Preamble کو ہی پورا پڑھ لیتے تو انہیں احساس ہو جاتا کہ ان کی دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ جس سطر کا وہ حوالہ دے رہے تھے،اس سے اگلی سطر ہے:۔
    ‏Wherein adequate provision shall be made for the minorities freely to profess and practice their religions and develop their cultures.
    اب یحيٰ بختیار صاحب خواہ اپنے ذہن میں احمدیوں کو مسلمان سمجھتے تھے یا کوئی غیر مسلم اقلیت تصور کر رہے تھے ،یہPreambleیہی اعلان کر رہا تھا کہ احمدیوں کو جو بھی ان کا مذہب ہے اس کا اعلان کرنے ، اس پر عمل کرنے کی مکمل اجازت ہے۔ اور احمدیوں کا ہمیشہ سے اعلان ہے کہ ان کا مذہب اسلام اور صرف اسلام ہے۔ اور اسPreambleکی رو سے بھی انہیں اس بات کی پوری آزادی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں ، اس کا اعلان کریں اور اس پر عمل کریں۔پارلیمنٹ کو یا حکومت کو یاکسی اورکو یہ حق نہیں تھا کہ ان کو کسی اور مذہب کی طرف منسوب کرے۔ابھی یحيٰ بختیار صاحب نے یہ دلیل ختم ہی کی تھی کہ انہوں نے اپنی ہی دلیل کا رد کر ڈالا اور خود فرمایا
    ‏......Preamble is not enforceable
    یعنی Preamble آئین کا وہ حصہ ہے جس کی تعمیل ضروری نہیں۔
    اگر ان کے نزدیک ایسا ہی تھا تو پھر اس Preamble کو بنیاد بنا کر یہ بحث اُ ٹھانے کی کیا ضرورت تھی کہ ریاست کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔
    پھر انہوں نے آئین کے کچھ حصوں کو بنیاد بنا کر کچھ فرضی مثالیں پیش کر کے حضور سے دریافت کیا کہ کیا اس صورت میں ریاست کے لئے ضروری نہیں ہو گا کہ وہ کسی شخص کے مذہب کے بارے میں فیصلہ کرے ۔مثلاََ ایک شخص غیر مسلم ہے لیکن وہ صدر یا وزیر ِ اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے کاغذات جمع کرادیتا ہے مگر فرضی مثالوں پر بنیاد بنا کر کوئی معنی خیز گفتگو آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جب حضور نے دریافت فرمایا کہ اس وقت کیا قانون ہے یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ شخص مسلمان ہے کہ نہیں؟ تو پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کرے گا ۔پھر جب حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ اس مفروضے پر کاغذات مسترد کر سکتا ہے؟ تو اٹارنی جنرل صاحب نے خود کہا کہ نہیں ! فرض کریں کہ وہ نہیں کر سکتا لیکن اس پر اعتراض ہوتا ہے اور اسی گفتگو کے دوران اپنی مثال کو تبدیل کر کے کہا کہ یہ فرضی شخص جو صدر یا وزیر اعظم بننے کے لئے کاغذات جمع کراتا ہے وہ اسلام کے بنیادی اراکین میں سے کسی ایک مثلاََ زکوٰۃ کا انکار کردیتا ہے پھر کیاہوگا۔پھر کہا کہ فرض کریں کہ ایک عیسائی مسلمان ہونے کااقرار نامہ جمع کرا کے ان انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے تو کیا ہوگا۔ان کی مثالیں صرف فرضی ہی نہیں بلکہ کئی پہلؤوں سے افسانوی بھی تھیں ۔ یہ حصہ پڑھتے ہوئے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر فرضی مثال ہی پیش کرنا مقصد تھا تو وہ واضح ذہن کے ساتھ ایک معین مثال کیوں پیش نہیں کررہے تھے۔ کبھی ایک مثال پیش کرتے تھے اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر بالکل مختلف مثال پیش کر دیتے تھے۔دورانِ گفتگو انہیں خود بھی احساس ہو رہا تھا کہ وہ غلطی پر غلطی کر رہے ہیں اور انہیں خود کہنا پڑا
    ‏I am just giving you a ridiculous example
    یعنی میں آپ کو صرف ایک نامعقول مثال پیش کر رہا ہوں
    اب ہر پڑھنے والا یہ دیکھ سکتا ہے کہ نامعقول اور افسانوی مثالوں کو بنیاد بنا کر کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، کوئی سنجیدہ رائے نہیں دی جا سکتی اور نہ کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے۔
    اس صورت ِ حال کے پس منظر میں اس سیشن کے اختتام پر حضور نے فرمایا:۔
    ‏I have already humbly submitted so many times that these extreme examples, these imaginary examples, cannot solve the problem we are facing today. Let us face the facts.
    یعنی میں پہلے بھی کئی مرتبہ عاجزی سے یہ کہہ چکا ہوں کہ یہ فرضی مثالیں اور یہ انتہائی نوعیت کی مثالیں ان مسائل کو حل نہیں کر سکتیں جن کا ہمیں آج سامنا ہے۔ ہمیں حقائق کا سامنا کرنا چاہئیے۔
    اب تک جماعت کے مخالفین پر یہ امر واضح ہو چکا تھا کہ یہ بحث ان کی توقعات کے مطابق نہیں جا رہی اور جماعت احمدیہ پر گرفت کرنے کا موقع نہیں پا رہے۔چنانچہ شاہ احمد نورانی صاحب نے سپیکر اسمبلی کو کہا کہ جو سوال کیے جاتے ہیں یہ ان کا معیّن جواب نہیں دیتے ، ان کو پابند کیا جائے کہ وہ معیّن جواب دیں۔اوریہ الٹا اٹارنی جنرل صاحب سے سوال کر کے ٹال دیتے ہیں۔ یہ طریق غلط ہے انہیں پابند کیا جائے کہ یہ جواب پورا دیں۔ایک اور ممبر نے یہ شکوہ کیا کہ لگتا ہے کہ یہ جرح کر رہے ہیں۔اس پر سپیکر اسمبلی نے کہا کہ
    ‏He has got his own methods
    ان کا اپنا طریقہ ہے۔
    اب یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس سیشن کے اختتام پر ایسی فرضی مثالیں پیش کرکے سوال کئے گئے تھے جن مثالوں کے بارے میں خود اٹارنی جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ وہ نامعقول مثالیںہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نامعقول مثالوں کو سامنے رکھ کر تو کوئی معین جواب نہیں دیا جا سکتا۔
    اس مرحلہ پرچھ بجے شام تک کے لیے کارروائی ملتوی کر دی گئی۔چھ بجے شام کارروائی پھر شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع کی طرف آنے کی بجائے ایک بار پھر یہ سوال چھیڑ دیا کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کیا ہے۔اس پر آخر کار حضور نے فرمایا کہ میں کوئی بھی عدد وثوق سے نہیں کہہ سکتا ۔ مختلف لوگوں نے جو پاکستان میں احمدیوں کی تعداد بیان کی ہے وہ صرف اندازے ہیںاور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اگر پانچ آدمیوں پر بھی ظلم کیا جائے تو وہ بھی اتنا ہی بُرا ہو گا۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی گفتگو کا رخ ایک اور طرف پھیرا ۔اگرچہ بظاہر ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے بلکہ ابھی بحث اپنے اصل موضوع پر بھی نہیں آئی تھی لیکن یحییٰ بختیارصاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو اس سے ا ن کے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اوّل تو یہ بات ہی لایعنی تھی کہ ایک فرقہ اپنے آپ کو ایک مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے اور ایک سیاسی اسمبلی یہ فیصلہ کر دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو اس مذہب کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ۔ اور اس کے ساتھ آپ کے آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر شخص اپنے مذہب کو Professکر سکتا ہے۔ اور پھر یہ بھی اصرار کیا جارہا ہے کہ اس سے آپ کا کوئی حق متاثر بھی نہیں ہوگا۔
    یہ بحث کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب نے کہا
    ‏....I am just saying that your religion will not be affected because nobody is going to stop you from....
    یعنی’’ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کا مذہب متاثر نہیں ہوگا کیونکہ کوئی آپ کو روکے گا نہیں۔۔‘‘
    اس کے جواب میں حضور نے فرمایا
    ‏But my religion is affected; if my religious feelings and passions are affected, my religion is affected
    یعنی ’’ مگر میرا مذہب متاثر ہوتا ہے۔ اگر میرے مذہبی احساسات اور جذبات متاثر ہوتے ہیں تو میرا مذہب متاثر ہوتا ہے۔‘‘
    اگر اٹارنی جنرل صاحب کو یا اس وقت وہاں پر موجود ممبرانِ قومی اسمبلی کو پاکستان کے آئین میں یا کسی اور ملک کے آئین میں جس میں وہ جائیں ، ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دیا جاتا تو کیا وہ یہی کہتے کہ اس سے مذہبی طور پر ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہمارے حقوق محفوظ ہیں۔ یقینًا وہ ایسا نہ کہتے بلکہ وہ اس پر شدید احتجاج کرتے۔
    لیکن اس کے بعد انہوں نے جو تفصیلی دلائل بیان کئے وقت نے ان دلائل کو غلط ثابت کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعداحمدیوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے اور میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگر آپ کو غیرمسلم نہ قرار دیا گیا تو آپ کے حقوق محفوظ رہیں گے کہ نہیں۔ان کے معین الفاظ یہ تھے:۔
    ‏No, once you are declared a minority, your rights are protected, Mirza Sahib...If you are not declared a minority then I am not sure if your rights will be protected.
    یعنی مرزا صاحب ! ایک مرتبہ آپ کو اقلیت قرار دے دیا جائے تو آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔ اگر آپ کو اقلیت نہ قرار دیا گیا تو پھر میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آپ کے حقوق محفوظ رہ سکیں گے ۔
    ایک ملک کے ممبرانِ پارلیمنٹ کے سامنے اٹارنی جنرل کے منہ سے یہ جملہ اس ملک کے آئین کی ہی توہین تھی یعنی اگر کوئی فرقہ اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو پارلیمنٹ میں اٹارنی جنرل صاحب فرما رہے تھے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے حقوق محفوظ رہیں گے کہ نہیں۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر ملک میں آئین اور قانون کا فائدہ ہی کیا ہے۔پھر اس آئین میں مذہبی آزادی بلکہ کسی قسم کی آزادی کا ذکر ہی فضول ہے۔یہ عجیب نامعقولیت تھی کہ ایک ملک کا اٹارنی جنرل ملک کی قانون ساز اسمبلی میں یہ کہہ رہا ہے کہ اگر آپ نے اپنے ضمیر کے مطابق اپنے مذہب کا اعلان کیا تو آپ کے حقوق کی کوئی ضمانت حکومت نہیں دے سکتی لیکن اگر آپ نے جھوٹ بولا اور اپنے ضمیر کے خلاف کسی اور نام سے اپنے مذہب کو منسوب کیا تو پھر ہم آپ کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔ اس گفتگو کا ایک پس منظر ہے۔ جب قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں یہ کارروائی ہو رہی تھی تو اس وقت کچھ ماہ سے پورے پاکستان میں احمدیوں کو قتل کیا جا رہا تھا، ان کے اموال لوٹے جا رہے تھے ، ان کے گھروں کو آگیں لگائی جا رہی تھیں اور اس وقت حکومت کی مشینری فسادات کو روکنے کی بجائے نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی بلکہ کئی مقامات پر مفسدین کی اعانت کر رہی تھی اور یہ سب ظلم کرنے کے بعد اب جب جماعت کا وفد اپنا موقف پیش کررہا تھا تو اس وقت ان کے سامنے یہ پیشکش رکھی جا رہی تھی کہ تم اپنے ضمیر کے خلاف ملک کے آئین کے خلاف اسلام کی تعلیمات کے خلاف فیصلہ قبول کر لو تو ہم تمہیں تمہارے کچھ حقوق دے دیں گے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارے حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔کوئی بھی صاحب ِ ضمیر اس قسم کے گئے گزرے ہتھکنڈوں کی تائید نہیں کر سکتا۔ ان کا موقف تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم اس ملک کے شہری ہو ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر حال میں تمہارے حقوق کی حفاظت کی جائے ۔ تمہارا عقیدہ جو بھی ہو اس سے تمہارے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
    اس کے علاوہ انہوں نے تسلی دلائی کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد بھی آپ اپنے مذہب کو profess, practiceاور propagate کر سکتے ہیں۔یہ بھی صرف دکھانے کے دانت ہی تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ایک ملک یا ایک معاشرے میں مذہبی تنگ نظری کا سفر شروع ہو جائے تو یہ معاشرہ گرتے گرتے ایک مقام پر رکتا نہیں بلکہ تنگ نظری کی کھائی میں گرتا ہی چلا جاتا ہے۔جب تک کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے واپسی کا سفر شروع نہ کرے ۔پاکستان بھی تنگ نظری کی کھائی میں گرتا چلا گیا۔اور ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس میں جماعت سے اپنا مذہب profess, practice اورpropagateکرنے کے حقوق چھیننے کی کوشش بھی کی گئی اور یہ تعصب صرف جماعت ِ احمدیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور اس وقت سے اب تک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کے حقوق محفوظ نہیں رہے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے اس بات پر زوردیا کہ اگر آپ کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو اس سے آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔اس پر حضور نے واضح طور پر فرمایا
    ‏Then we do not want our rights to be protecetd.
    یعنی اس صورت میں ہم نہیں چاہتے کہ اس طرح ہمارے حقوق محفوظ کئے جائیں۔
    اس پیشکش کے مسترد ہونے پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا
    ‏It is upto you
    یعنی:’’ آپ کی مرضی‘‘
    اس پر حضور نے فرمایا
    ’’ہاں بالکل‘‘
    قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں ان الفاظ میں یہ پیشکش کی گئی اور حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے واضح الفاظ میں اس پیشکش کو مسترد فرمادیا۔ہر پڑھنے والا خود رائے قائم کر سکتا ہے کہ کس کا موقف اصولوں پر قائم تھا ۔اس موضوع پر مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔اس دو ٹوک جواب کے بعد یحییٰ بختیار صاحب کے سوالات کی ڈولتی ہوئی ناؤ نے کسی اور سمت کا رخ کیا۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے 21جون1974کے خطبہ جمعہ کا یہ حوالہ پڑھا
    ’’خدا تعالیٰ اپنے فعل سے ثابت کرے گا کون مومن ہے اور کون کافر ہے۔‘‘
    وہ محض ایک فقرہ پڑھ رہے تھے۔ ہم پورا اقتباس درج کر دیتے ہیں
    ’’پس تم وہ بات کیوں کرتے ہوجس کا تمہیں تمہارے اس دستور نے حق نہیں دیا جس دستور کو تم نے ہاتھ میں پکڑ کر دنیا میں یہ اعلان کیا تھا کہ دیکھو کتنا اچھا اور کتنا حسین دستور ہے۔آج اس دستور کی مٹی پلید کرنے کی کوشش نہ کرو اور اس جھگڑے میں نہ پڑو اوراسے خدا پر چھوڑ دو کیونکہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فعل سے ثابت کرے گا کہ کون مومن اور کون کافر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی جب اس قسم کے شور پڑتے تھے تو آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہاں کیوں شور مچاتے ہو امن سے آشتی سے اور صلح سے زندگی گذارو ۔جب ہم اس دنیا سے گزر جائیں گے اور خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو خود پتہ چل جائے گا کہ کون مومن ؟ اور کون کافر؟‘‘
    (خطبات ِ ناصر جلد 5ص574)
    بہر حال اس خطبہ جمعہ کا یہ فقرہ پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ اگر اس کے باوجود کہ آپ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، اگر میں یاکوئی شخص یہ کہتا ہے کہ آپ مسلمان نہیں تو کیا یہ آپ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی؟
    اس کے بعد خدا جانے وہ کیا سوال اُٹھانے لگے تھے ؟ اس پر حضور نے ایک بنیادی فرق کی نشاندہی فرمائی اور فرمایا:۔
    ’’یہاں یہ سوال نہیں زید بکر کو مسلمان کہتا ہے یا نہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت کا حق ہے کہ کسی کو دنیاوی لحاظ سے ، سیاسی لحاظ سے ،غیر مسلم قرار دے دے اور اس کا اعلان کر دے؟‘‘
    غالباََ یحيٰ بختیار صاحب یہ نکتہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ صدیوں سے علماء کفر کے فتاویٰ دیتے چلے آ رہے ہیں تو اب یہ کیسے ناجائز ہو گیا؟اس موقع پر ان کا ذکر کرکے کفر کے فتاویٰ کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا:۔
    ’’ … ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان فتاویٰ کا یہ مطلب ہے کہ ان کے نزدیک جن پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے ان کے اعتقادات یا اعمال اللہ کو پسند نہیں اور قیامت کے دن ان سے مواخذہ کیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک فتاویٰ کا اس سے زیادہ اور مطلب نہیں۔اور سیاسی طور پر کسی کا یہ حق نہیں کہ ان تین احادیث کی روشنی میں جو محضر نامے میں ہیں،سیاسی طور پر کسی حکومت کو حق نہیں ہے کہ کسی فرقے کو کافر قرار دے … ‘‘
    اس موقع پر اٹارنی جنرل صاحب کسی نامعلوم وجہ سے یہ دور کی کوڑی لائے کہ علماء نے جو ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے ہیں وہ جذبات میں الیکشن کے جوش میں ایک دوسرے کو کافر کہہ دیا تھا۔یہ بالکل لا یعنی دعویٰ تھا اس پر حضور نے فرمایا کہ الیکشن تو اب شروع ہوئے ہیں اور یہ فتوے صدیوں سے دیئے جا رہے ہیں۔
    پھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات پوچھے کہ کیا احمدی مرزا صاحب کو نبی سمجھتے ہیں ۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے یہ پُرمعارف جواب دیا کہ نہیں ،ہم انہیں امتی نبی سمجھتے ہیں۔
    اور پھر فرمایا کہ نبی ہونے اور امتی نبی ہونے میں بہت فرق ہے۔ جب اٹارنی جنرل صاحب نے وضاحت کرنے کے لیے کہا تو اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ’’امتی نبی کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے عشق و محبت میںاپنی … زندگی گزار رہا ہے ۔اس کو ہم امتی کہیں گے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ … میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو پاؤ گے۔امتی کے معنی یہ ہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نبی اکرم ﷺ کے کامل متبع تھے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی روحانی برکت اور فیض نبی اکرم ﷺ کی اتباع کے بغیر حاصل ہو نہیں سکتا۔‘‘
    اس کے بعد یہ بات شروع ہوئی کہ احمدیوں کے نزدیک جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور کفر کے کیا کیا مطالب ہو سکتے ہیں،شرعی اور غیر شرعی نبی میں کیا فرق ہوتا ہے۔
    اب یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ اب سارا دن گزار کر شاید اٹارنی جنرل صاحب موضوع پر آئیں اور کچھ علمی اور پر معرفت باتیں سننے کو ملیںلیکن چند منٹ ہی گزرے تھے کہ یحییٰ بختیار صاحب اچانک بغیر کسی تمہید کے پٹری سے اترے اور ایسا اترے کہ بہت دور نکل گئے۔انہوں نے اچانک سوال کیا آپ اپنے لیے تو تواضع پسند کرتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے تواضع نہیں ظاہر کرتے اور اس الزام کے حق میں اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی طرف سے جو دلیل پیش فرمائی وہ یہ تھی کہ آپ نے یہ تقاضا کیا تھا کہ آپ کے نام جو خط آئے وہ امام جماعت ِ احمدیہ کے نام آئے، جب کہ آپ نے اپنے انگریزی میں لکھے گئے ضمیمہ میں مودودی صاحب کا نام مسٹر مودودی لکھا ہے ، جب کہ ان کے پیروکار انہیں مولانا مودودی کہتے ہیں۔ان کا اصرار تھا کہ اس طرح مودودی صاحب کی تحقیر ہوتی ہے اور ان کی جماعت کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
    جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیںحکومت کی طرف سے ایک خط ملا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح کا ذکر کرنا تھا لیکن قومی اسمبلی کے سیکریٹری نے ان کے لئے انجمن احمدیہ کے ہیڈ کے الفاظ استعمال کئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کا صدر صرف جماعت کی اس تنظیم کا سربراہ ہوتا ہے اور وہ امام جماعت ِ احمدیہ نہیں ہوتا۔یہ بات نہ صرف احمدیوں میں بلکہ غیر احمدیوں میں بھی معروف ہے۔اس غلطی کی ضروری تصحیح کی گئی تھی اور وہ تصحیح بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی طرف سے نہیں بلکہ ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی طرف سے بھجوائی گئی تھی لیکن اٹارنی جنرل صاحب با وجود وکیل ہونے کے اس موٹی بات کو سمجھنے سے بھی قاصر تھے اور اس غلطی کو بنیاد بنا کر ایک لایعنی اور غیر متعلقہ اعتراض کر رہے تھے۔اس کے جواب میں حضرت صاحب نے مذکورہ وضاحت بیان فرمائی اور کہا کہ میں اپنے لیے کسی ادب کا مطالبہ نہیں کرتا۔ آپ مجھے مسٹر بھی نہ کہیں۔میرا نام مرزاناصر احمد ہے، آپ مجھے خالی ناصر کہیں۔
    جہاں تک اٹارنی جنرل صاحب کی دوسری بات کا تعلق تھا تو اس کا پس منظر یہ تھی کہ جماعت ِ احمدیہ کے محضر نامہ کے ضمیمہ میں مودودی صاحب کا نام انگریزی میں مسٹر مودودی کر کے لکھا ہوا تھا۔ اسی ضمیمہ میں مسٹر مودودی کے الفاظ سے پانچ لفظ پہلے مسٹر بھٹو کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ جو چیز میں نہیں سمجھ سکا وہ یہ ہے کہ اسی جگہ پانچ لفظ پہلے مسٹر بھٹو سے تو تحقیر ظاہر نہیں ہوتی اور مسٹر مودودی سے تحقیر ظاہر ہوتی ہے۔یہ بات میں نہیں سمجھ سکا ۔تحقیر کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اسی بات کو دہراتے رہے کہ اس طرح مودودی صاحب کے بارے میں تواضع کا رویہ نہیں دکھایا گیا۔انہوں نے ایسی کج بحثی کا مظاہرہ کیا کہ خود سپیکر اسمبلی کو کہنا پڑا کہ یہ مناظرہ ختم کر کے وہ معیّن سوال کریں۔
    یعنی اٹارنی جنرل صاحب یا اسمبلی کو تو یہ اختیار ہے کہ وہ جس کے متعلق پسند کریں اسے غیر مسلم کہہ دیں لیکن اگر انگریزی میںمودودی صاحب کو مسٹر مودودی کرکے لکھا جائے اور ان کو مولانا نہ کہا جائے تو یہ ایسی تحقیر ہے کہ اس کا سوال خود اسمبلی میں اٹھایا جائے جب کہ بحث کا مقصد یہ ہو کہ ختمِ نبوت کو نہ ماننے والوں کا اسلام میں کیا مقام ہے اور سوال یہ اٹھایا جائے کہ مودودی صاحب مسٹر ہیں یا مولانا ہیں اور ٹارنی جنرل صاحب یہ نامعقول بحث کرتے ہوئے یہ کس طرح فراموش کر گئے کہ اس وقت قومی اسمبلی کے سامنے اپوزیشن کی قرارداد تھی جس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہایت گستاخی سے لیا گیا تھا۔ کیا اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے اعتراض کیا تھا کہ یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے؟ بلکہ پیپلز پارٹی کے وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے کہا تھا حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اصولی طور پر اس سے متفق ہے اور اٹارنی جنرل صاحب یہ کس طرح بھول گئے کہ 4؍جون 1974ء کو جب قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مفتی محمود صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا نام لیا تھا تو ساتھ صاحب کا لفظ لگانے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا اور آج اٹارنی جنرل صاحب ایک طویل بحث کر کے یہ ثابت کر رہے تھے کہ اگر آپ نے انگریزی کی تحریر میں مسٹر مودودی لکھ دیا ہے تو اس سے شدید تحقیر ظاہر ہوتی ہے۔
    ابھی یحییٰ بختیار صاحب اس جنجال سے باہر نہیں نکلے تھے کہ انہوں نے اپنے دلائل کی زنبیل میں سے ایک اور دلیل باہر نکالی۔اور کہا کہ انگلستان میں جماعت ِ احمدیہ نے ایک ریزولیشن پاس کیا ہے جس میں Non Ahmadiyya Pakistaniکے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہیں کہا گیا۔اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ خبر وہاں کے اخباروں میں آئی ہے آپ بے شک Verify کر لیں۔اورکہا کہ اس کی ایک کاپی حضور کو دی جائے۔یہ حوالہ دکھا کر یحيٰ بختیار صاحب نے یہ اعتراض کیا
    ’’آپ ریفر کر رہے ہیں مسلمانوں کو عام طور پر as non-Muslims‘‘
    یہ ان کا ایک بے جان اعتراض تھا۔ ان الفاظ سے کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ غیر احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم کہا جا رہا ہے۔اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ وہ پاکستانی جو کہ جماعت ِاحمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے اور پاکستان میں صرف مسلمان نہیں رہتے بلکہ عیسائی بھی رہتے ہیں ، ہندو اور پارسی بھی رہتے ہیں۔
    مغرب کی نماز کے بعد حضرت صاحب نے وضاحت کے لیے کہا کہ اس کاپی پر تو کسی اخبار کا نام نہیں ،یہ کس اخبار کا حوالہ ہے ۔تو اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کس اخبار میں خبر آئی تھی جس کا وہ حوالہ دے رہے تھے،انہوں نے صرف یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کہ یہ مجھے ڈائرکٹ ملا ہے۔میں معلوم کروں گا کہ کس اخبار میں خبر آئی تھی۔اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے کارروائی سے قبل کوئی سنجیدہ تیاری نہیں کی تھی۔
    اس کے بعد کفر کی تعریف پر سوالات اور جوابات کا ایک طویل سلسلہ چلا۔ چونکہ اس قسم کے سوالات دورانِ کارروائی بار بار پیش کئے گئے تھے، اس لئے ہم ان کا جائزہ ایک ساتھ پیش کردیں گے۔
    معلوم ہوتا ہے کہ ممبرانِ اسمبلی خاص طور پر جماعت کے مخالفین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ بحث ان کی امیدوں کے بر عکس جا رہی تھی۔وہ غالباََ اس امید میں مبتلا تھے کہ جماعت کا وفد خدانخواستہ ایک ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہوگا اور ان کے ہر نامعقول تبصرہ کو تسلیم کرے گا اور اس پس منظر میں جب کہ ملک میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی،جماعت کا وفد ان سے رحم کے لیے درخواست کرے گا۔مگر ایسا نہیں ہو رہا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب ممبرانِ اسمبلی کے دیئے ہوئے جو سوالات کر رہے تھے وہ نہ صرف غیر متعلقہ تھے بلکہ جب بحث آگے بڑھتی تھی تو ان سوالات کا سقم خود ہی ظاہر ہوجاتا تھا۔ جب ۵؍ اگست کی کارروائی ختم ہوئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ جماعتی وفد کے دیگر اراکین کے ہمراہ جب ہال سے تشریف لے گئے تو ممبرانِ ا سمبلی کا غیظ و غضب دیکھنے والا تھا۔اس وقت ان کے بغض کا لاوا پھٹ پڑا ۔ایک ممبر میاں عطاء اللہ صاحب نے بات شروع کی اور کہا
    I have another point some of the witnesses who were here, for instances, Mirza Tahir, they were unnecessarily..........
    اس جملہ کی اٹھان سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق کچھ زہر اگلنا چاہتے ہیں لیکن ان کا تبصرہ سپیکر کےJust a minute کہنے سے ادھورا ہی رہ گیا۔ اس کے فوراََ بعد شاہ احمد نورانی صاحب نے جھٹ اعتراض کیا
    ’’وہ لوگ ہنستے بھی ہیں۔باتیں بھی کرتے ہیںاس طرف دیکھ کر مذاق بھی کرتے ہیں اور سر بھی ہلاتے ہیں۔آپ ان کو بھی چیک فرمائیں۔‘‘
    پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر جماعت کے وفد کی طرف سے کوئی نا مناسب رویہ ظاہر ہوتا تو یہ کارروائی سپیکر کے زیر صدارت ہو رہی تھی اور وہ اسی وقت اس کا نوٹس لے سکتے تھے اور اٹارنی جنرل صاحب جو سوالات کر رہے تھے اس پر اعتراض کر سکتے تھے لیکن ساری کارروائی میں ایک مرتبہ بھی انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اصل میں نورانی صاحب اور ان جیسے دوسرے احباب کو یہ بات کھٹک رہی تھی کہ وہ اس خیال سے آئے تھے کہ آج ان کی فتح کا دن ہے اور خدانخواستہ جماعت ِ احمدیہ کا وفد اس سیاسی اسمبلی میں ایک مجرم کی طرح پیش ہو گا لیکن جو کچھ ہو رہا تھا وہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ کارروائی کے دوران جماعت کا وفد حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی اعانت کر رہا تھا اور اس عمل میں ظاہر ہے آپس میں بات بھی کرنی پڑتی ہے اور اس عمل میں چہرے پر کچھ تاثرات بھی آتے ہیں۔ اور اسمبلی میں مسکرانا اور سر کو ہلانا کوئی جرم تو نہیں کہ اس کو دیکھ کر نورانی صاحب طیش میں آ گئے۔ آخر اسمبلیوں میں انسان شامل ہوتے ہیں کوئی مجسمے تو اسمبلیوں کی زینت نہیں بنتے۔
    یہ واویلا صرف نورانی صاحب تک محدود نہیں تھا ۔ایک اور ممبر عبدالعزیز بھٹی صاحب نے بھی کھڑے ہو کر کہا کہ گواہ یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سوال کوAvoid کرتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں ۔چیئر کا یعنی سپیکر صاحب کا فرض ہے کہ انہیں اس بات سے روکا جائے۔جہاں تک تکرار کا سوال ہے تو اس کا جواب پہلے آ چکا ہے کہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو اس کا جواب بھی دہرایا جائے گا۔ سپیکر صاحب نے انہیں جواب دیا کہ اگر اٹارنی جنرل صاحب یہ بات محسوس کریں کہ سوالات کے جواب نہیں دیئے جا رہے تو وہ چیئر سے اس بات کی بابت استدعا کر سکتے ہیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ان کے لئے ضروری ہی نہیں ہے کہ وہ سوال کا جواب دیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے سپیکر صاحب سے کبھی یہ استدعا کی ہی نہیں کہ ان کے سوال کا جواب نہیں دیا جا رہا کیونکہ جوابات تو مل رہے تھے لیکن سننے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
    عبد العزیز صاحب نے کہا:
    ‘‘The conduct of the witness is not coming before
    the house as to how he is behaving ........’’
    یہ تبصرہ غالباََ اسی ذہنی الجھن کی غمازی کر رہا تھا کہ ہم تو امید لگا کر بیٹھے تھے کہ یہ مجرم کی طرح پیش ہوں گے اور یہ الٹ معاملہ ہو رہا ہے ہمیں ہی خفت اُ ٹھانی پڑ رہی ہے۔اس کے بعد مولا بخش سومرو اور اتالیق شاہ صاحب نے بھی یہی اعتراض کیا کہ جوابات Evasiveدیئے جا رہے ہیں ۔جب تک وہ ایک سوال کا جواب نہ دے دیں دوسری بحث میں نہ پڑا جائے۔ان سے رو رعایت نہ کی جائے۔اس پر سپیکر صاحب نے جواب دیا کہ اس معاملے میں اسی وقت ہی مداخلت کی جائے گی جب اٹارنی جنرل صاحب اس بارے میں استدعا کریں گے۔
    آئینہ صداقت اور انوارِ خلافت کے حوالہ جات پر اعتراض
    جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ پہلے روز کی کارروائی کے اختتام پر یہ طویل بحث ہوئی تھی کہ کفر کے کیا کیا معانی بیان ہوئے ہیں؟چودہ سو برس پر محیط عالمِ اسلام کے لٹریچر میں یہ لفظ کن مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے؟جماعت ِ احمدیہ کے لٹریچر میں یہ لفظ کن مطالب میں بیان ہوا ہے؟کفر کے مختلف فتاویٰ کا کیا مطلب ہے؟دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے ؟ وغیرہ۔ اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں کئی روز یہ اعتراض بار بار پیش کیا گیا کہ جماعت کی بعض کتب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے والوں کے متعلق کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یا انہیں کافرکہا گیا ہے۔ اس اعتراض کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ احمدیوں کی بعض تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرنے والوں کے متعلق کفر کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس لئے ،اب قومی اسمبلی کا یہ حق ہے کہ وہ احمدیوں کوآئین میں ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دے دے۔چونکہ یہ اعتراض بار بار پیش کیا گیا۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ اس جگہ یہ ذکر ایک جگہ پر کر دیا جائے اور یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ اعتراض ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں بھی کیا گیاتھا۔
    سب سے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کفر کے لُغوی معنی کیا ہیں۔اس کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے۔کاشتکار چونکہ زمین کے اندر بیج چھپاتا ہے اس لیے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے۔کفر کے معنی نعمت کی نا شکری کرکے اسے چھپانے کے بھی ہیں۔اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،شریعت یا نبوت کا انکار ہے۔ (مفردات ِ امام راغب )
    مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرنے والوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تحریروں کے بعض حوالے درج ذیل ہیں ۔اگر سرسری نظر سے دیکھا جائے تو ان میں تضاد دکھائی دے گا لیکن اگر احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں اس مفہوم کو سمجھا جائے تو یہ درحقیقت تضاد نہیں۔ ان میں وہ حوالہ جات بھی شامل ہیں جن پر اعتراض کیا جاتا ہے اور یہ حوالے اس کارروائی کے دوران بھی پیش کئے گئے تھے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام تریاق القلوب میں تحریر فرماتے ہیں
    ’’کیونکہ ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا ۔ہاں ضال اور جادئہ صواب سے منحرف ضرور ہو گا ۔اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا ۔ہاں میں ایسے سب لوگوں کو ضال اور جادئہ صدق و صواب سے دور سمجھتا ہوں جو اُن سچائیوں سے انکار کرتے ہیںجو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں۔ میںبلا شبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا ہوں جو حق اور راستی سے منحرف ہے۔لیکن میں کسی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا جب تک وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کافر نہ بنا لیوے ۔سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا ۔میرے لئے فتویٰ طیار کیا ۔میں نے سبقت کر کے ان کے لئے کوئی فتویٰ طیار نہیں کیا ۔اور اس بات کا وہ خود اقرار کر سکتے ہیں کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہوں تو مجھ کو کافر بنانے سے رسول اللہ ﷺ کا فتویٰ ان پر یہی ہے کہ وہ خود کافر ہیں۔سو میں ان کو کافر نہیں کہتابلکہ وہ مجھ کو کافر کہہ کر خود فتویٰ نبوی کے نیچے آتے ہیں۔‘‘ (۸)
    تریاق القلوب میںاسی عبارت کے نیچے حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکامِ جدیدہ لاتے ہیں۔لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اورمحدَّث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب ِ الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعتِ مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ۔ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ ہاں بد قسمت منکر جو ان مقربانِ الٰہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ نور ِ ایمان اس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے اور یہی احادیثِ نبویّہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار ِ اولیاء اور ان سے دشمنی رکھنا اوّل انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور پھر اعمالِ حسنہ اور افعالِ صدق اور اخلاص کی ان سے توفیق چھین لیتا ہے۔‘‘(۸)
    پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آپؑ نے تریاق القلوب میں تحریر فرمایا ہے کہ آپ کے انکار سے کوئی شخص کافر نہیں بنتا علاوہ ا ن لوگوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں۔ لیکن عبدالحکیم خان کے نام مکتوب میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ہر شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیںکیا وہ مسلمان نہیں ہے ۔اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ اس کا جواب آپ نے حقیقۃ الوحی میں یہ تحریر فرمایا:۔
    ’’یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے …
    … جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزارہا نشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے ۔وہ خود اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر میںمفتری نہیں اور مومن ہوں تو اس صورت میں وہ میری تکذیب اور تکفیر کے بعد کافر ہوئے اور مجھے کافر ٹھہرا کر اپنے کفر پر مہر لگا دی ۔ یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کافر ہوجاتا ہے … ‘‘ (۹)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃالوحی میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’ … کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے
    (اوّل)ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا (دوم)دوسرے یہ کفرکہ مثلاََ وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو با وجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے ۔پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص با وجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا ۔اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذّب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ء ظاہر پر ہے ) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباعِ شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاقابلِ مواخذہ نہیں ہو گا ۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیںاس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں ۔یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک با وجود دلائلِ عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا ۔ہمیں دعوے سے کہنا نہیں چاہئے کہ فلاں شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے ۔‘‘ (۱۰)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری دنوں میں مشہور سیاسی لیڈر سر فضل حسین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات آپ کی خدمت میں پیش کئے۔اس گفتگو کے دوران آپ نے فرمایا:۔
    ’’ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۵ص۶۳۵)
    اسی مضمون کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اپنی تصنیف آئینہ صداقت میں تحریر فرماتے ہیں
    ’’میرا عقیدہ ہے کہ کفردرحقیقت خدا تعالیٰ کے انکار کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب بھی کوئی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہو کہ اس کا ماننا لوگوں کے لئے حجت ہو اس کا انکار کفر ہے اور چونکہ وحی کو انسان تب ہی مان سکتا ہے کہ جب وحی لانے والے پر ایمان لائے۔ اس لئے وحی لانے والے پر ایمان بھی ضروری ہے ۔اور جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ زید یا بکر کو نہیں مانتا بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے نہ ماننے کے نتیجہ میں اسے خدا تعالیٰ کے کلام کا بھی انکار کرنا پڑے گا … اور چونکہ میرے نزدیک ایسی وحی جس کا ماننا تمام بنی نوع انسان پر فرض کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود ؑ پر ہوئی ہے اس لئے میرے نزدیک بموجب تعلیم قرآن کریم کے ان کے نہ ماننے والے کافر ہیں خواہ وہ باقی سب صداقتوں کو مانتے ہوں۔‘‘ (۱۱)
    سرسری نظر سے ان حوالہ جات کو پڑھنے سے ایک نا واقف شخص شاید یہ نتیجہ نکالے کہ ان حوالہ جات میں تضاد ہے کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ ایسا شخص کافر ہے اور ایک اور جگہ پر لکھا ہے کہ ایسا شخص کافر نہیں ہے۔لیکن درحقیقت یہاں پر کوئی تضاد نہیں۔اس قسم کے مضامین احادیث نبویہ ﷺ میں بھی بیان ہوئے ہیں ۔
    مثلاًصحیح مسلم کی کتاب الایمان میں روایات ہیں کہ جو اپنے آپ کو کسی کا بیٹا کہے اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے اس نے کفر کیا (بَابٌ مَنِ ادَّعَیٰ اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ) اور ایک اور روایت میں ہے کہ جو اپنے باپ سے بیزار ہوا وہ کافر ہو گیا (بَابُ بَیَانِ حَالِ اِیْمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ اَبِیْہِ)اسی طرح رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں دو چیزیں ہیں جو کفر ہیں۔ایک نسب پر طعن کرنا اور دوسرے میت پر چلا کر رونا (اِطْلَاقُ اسْمِ الْکُفْرِ عَلٰی طَعْنٍ فِی النَّسْبِ وَا لنِّیَاحَۃِ)۔ اسی طرح ارشاد نبوی ہے کہ جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش پڑی اس نے کفر کیا (بَیَانُ کُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْعِ)پھر ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ آدمی اور شرک اور کفر کے درمیان نماز کا ترک کرنا ہی ہے اور اس پر امام مسلم ؒ نے باب ہی یہ باندھا ہے بَیَانُ اِطْلَاقِ اَسْمَائِ الْکُفْرِ عَلٰی مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ یعنی جس نے نماز ترک کی اس پر کفر کے نام کے اطلاق کا بیان ۔اسی طرح سنن ابی داؤد میں حدیث بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے ۔ (باب ۳۹۱ نَھَیٰ عَنِ الْجِدَالِ فِی الْقُرْآنِ)۔ جامع ترمذی ابواب الطہارۃ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کاہن کے پاس گیا اس نے اس کا جو محمد ﷺ پر نازل ہوا انکار کیا ۔ (بَابُ مَا جَآئَ فِی کَرَاھِیَۃٍ اتْیَانِ الْحَآئِضِ)۔ جامع ترمذی میں حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔ (بَابٌ فِی کَرَاھِیَۃِ الْحَلْفِ بِغَیْرِ اللّٰہِ)۔ اسی طرح ترمذی میں بیان ہوا ہے کہ جس کو کوئی عطا دی گئی اور اس نے تعریف کی تو اس نے شکر کیا اور جس نے چھپایا اس نے کفر کیا۔ (بَابُ مَا جَائَ فِی الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ یُعْطِہِ) اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلا کہ اس کی تائید کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے نکل گیا (مِشْکٰوۃ شریف بَابُ الظُّلْمِ )۔ ان احادیث میں بہت سے امور ایسے بیان ہوئے ہیں جن کا مرتکب جب تک کہ ان کو ترک نہیں کرتا وہ بموجب ارشاد ِ نبوی کفر کرتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں جو لوگ ان افعال کے مرتکب ہوتے تھے اس وقت کیا قانون کی رو سے وہ غیر مسلم شمار ہوتے تھے کہ نہیں۔مثلاََ اس وقت کے اسلامی قانون کے مطابق مسلمانوںسے زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا ۔اور زمانہ نبوی میں ایسے لوگ موجود تھے جو نماز ادا نہیں کرتے تھے یا میّت پر چیخ کر نوحہ کرتے تھے یا اپنے باپوں سے بیزار تھے ،یا غلطی سے غیر اللہ کی قسم کھا جاتے تھے تو کیا ایسے لوگوں کو اس وقت کے قانون کی رو سے غیر مسلم شمار کر کے ان سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا ،یا ان پر ممانعت تھی کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکیں یا ان پر ممانعت تھی کہ وہ مسجد میں آکر مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر سکیں ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناََ ایسا نہیں تھا ان پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی ۔ ان افعال کے مرتکب جب تک کہ اپنے افعال سے توبہ کرکے انہیں ترک نہ کر دیں کفر تو کرتے تھے لیکن یہ ان کا اور خدا تعالیٰ کے درمیان معاملہ تھا ۔گو ان احادیث کی رو سے ان افعال کے مرتکب افراد خدا کی نظر میںدائرہ اسلام سے تو خارج ہو جاتے تھے لیکن اس دنیا میں ملتِ اسلامیہ میں شامل رہتے ہیںاور انہیں غیر مسلموں میں ہر گز شمار نہیں کیا جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے خود اس امر کو اچھی طرح واضح فرمایا ہے ۔آپؐ نے فرمایا :۔
    ’’جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنایا اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور رسول کی امان ہے پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی امان میں بے وفائی نہ کرو۔‘‘ (صحیح بخاری ،کِتَابُ الصَّلٰوۃِ ۔باب ۲۶۹)
    اور اس سے اگلی حدیث میں ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا ،ہماری طرح نماز پڑھی ہمارے قبلہ کو اپنایا، ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کا خون ہمارے لئے حرام ہے اور ان کا حساب لینا اللہ تعالیٰ پر ہے ۔اس مضمون کی احادیث دوسری معتبر کتب ِ احادیث میں بھی بیان ہوئی ہیں مثلاََ سنن ابی داؤدکتاب الجہاد میں اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جس نے لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پڑھا، ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنایا ،ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہماری نماز پڑھی اس کا خون ہم پر حرام ہے ،جو مسلمانوں کا حق ہے وہ ان کا حق ہے اور ان پر وہ حق ہے جو مسلمانوں پر ہے۔ان احادیث سے یہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ قانونی طور پر جو مذکورہ بالا معیار پر پورا اترے وہ مسلمان شمار ہو گا اور اس کو عرف عام میں مسلمان ہی کہا جائے گا اور وہ ملت ِ اسلامیہ کا ہی حصہ سمجھا جائے گا اور ان کے باقی اعمال کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔اگرچہ پہلے بیان شدہ احادیث میں بہت سے ایسے اشخاص کے متعلق کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اعمال کے نتیجے میں کفر کیا ہے۔یہ امر قرآن کریم کے الفاظ کی معروف ترین لغت مفردات ِ امام راغب میں بھی بیان ہوا ہے۔مفردات ِ امام راغب میں لفظ اسلام کی وضاحت میں لکھا ہے کہ شرعاََ اسلام کی دو قسمیں ہیں۔اگر کوئی شخص زبان سے اقرار کر لے۔ دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کی جان مال عزت محفوظ ہو جاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ دلی اعتقاد بھی ہو اورعملاً اس کے تقاضوں کو پورا بھی کرے۔
    جماعت ِ احمدیہ کا یہی مسلک رہا ہے جو شخص اس قسم کی صورتوں میں ، احادیثِ نبویہ کی روشنی میں جن کی چند مثالیں اوپر دی گئی ہیں ،غلط افعال یا عقائد کی وجہ سے،دائرہ اسلام سے خارج بھی ہو لیکن وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو تو اسے بھی عرف ِ عام میں مسلمان ہی کہا جائے گا اور وہ ملتِ اسلامیہ میں ہی شمار ہوگا اور قانون کی رو سے اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔اس کا حساب اللہ تعالیٰ لے گا۔ حکومتوں یا انسانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اس سے یہ حق چھینیں۔ ورنہ تو یہ بھی ماننا پڑے گا جو شخص تین جمعے عمداً ترک کرے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا،جو میّت پر چیخ کر روئے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا،جو نماز ترک کرے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا ،جو غیر اللہ کی قسم کھائے وہ قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ظاہر ہے مندرجہ بالا صورت محض فتنہ کادروازہ کھولنے و الی بات ہو گی اور زمانہ نبویﷺ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح جماعت کے لٹریچر میں جن چند جگہوں کے حوالے ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں بھی دیئے گئے تھے اور اب بھی دیئے جا رہے تھے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کو کفر لکھا گیا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کو دائرہ اسلام سے نکلنے کا مترادف لکھا گیا ہے،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ملت ِ اسلامیہ سے خارج ہیں یا انہیں یہ حق نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں۔اس کی وضاحت بارہا جماعتی لٹریچر میں دی گئی ہے۔
    جب ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی پر غور کرنے کے بعد اس دیانتدارانہ نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ دعاوی غلط ہیں تو کیا ایسا شخص مسلمان رہے گا ؟تو اس پر حضور نے جواب دیا کہ ہاں عمومی طور پر اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔
    اور اسی کارروائی کے دوران جب جماعت ِ اسلامی کے وکیل چوہدری نذیر احمد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے سوال کیا:۔
    ’’کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب آئینہ صداقت کے پہلے باب میں صفحہ ۳۵ پر ظاہر کیا تھا ۔یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔‘‘
    اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا:
    ’’یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔ پس جب میں کافر کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیںجن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات ِ راغب کے صفحہ ۲۴۰ پر کیا گیا ہے۔جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں ۔ایک دُوْنَ الْاِیْمَانِ اور دوسرے فَوْقَ الْاِیْمَانِ ۔ دُوْنَ الْاِیْمَانِ میں وہ مسلمان شامل ہیںجن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔ فَوْقَ الْاِیْمَانِ میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔ اس لئے میں نے جب یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو فوق الایمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں ۔ مشکوٰۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘
    (تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت ِ احمدیہ کا بیان ،ناشر احمدیہ کتابستان حیدر آباد ۔ص۱۹، ۲۰)
    آئینہ صداقت کا جو حوالہ پیش کر کے یہ اعتراض اُٹھایا جاتا ہے کہ اس میں غیر احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم کہا گیا ہے خود اُس عبارت میں غیر احمدی مسلمانوں کو مسلمان قرار دیا گیا ہے۔اس حقیقت سے یہ اعتراض بالکل باطل ہو جاتا ہے۔
    اور اس کارروائی کے دوران ۶؍ اگست کو جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے سوال کیا گیا کہ ایسی صورت میں اگر کسی شخص کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے تو کیا پھر بھی مسلمان ہو گا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہاں وہ ملت ِ اسلامیہ کا فرد ہوگا ۔اور وہ بعض جہت سے مسلمان ہے اور بعض جہت سے کافر ہے۔
    اور۷؍ اگست کو جب دوپہر کے سیشن کی کارروائی ہوئی ہے تو اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس موقع پر بھی یہ فرمایا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے اب تک دو مختلف گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں ایک وہ مخلصین جنہوں نے اسلام کو اچھی طرح قبول کیا اور ان لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی اور اختیار سے اپنی گردنیں خدا تعالیٰ کے حضور میںپیش کر دیں۔اپنے اخلاص کے مطابق خدا کی راہ میں قربانی کرنے والا اور تمام احکامات پر عمل کرنے والا یہ ایک گروہ ہے۔اس کے ساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو اس مقا م کا نہیں ہے۔حضور نے حدیث کا حوالہ دے کر فرمایا کہ رسولِ کریم ﷺ کے زمانہ سے بعض گناہوں کے متعلق کفر کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور ساتھ ہی ان کو مسلمان بھی کہا جاتا تھا اور حضور نے یہ آیت کریمہ پڑھی:۔
    (الحجرات : ۱۵)
    یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں یا ہم نے اطاعت کر لی ہے۔
    اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ کیا احمدیوں میں بھی اس قسم کے مسلمان ہیں؟اس پر حضور نے جواب دیا کہ احمدیوں میں بھی ایک ایسا گروہ ہے جو کہ مخلص ہے اور دوسرا گروہ بھی ہے۔اس پرپھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ پھر وہ بھی کافر ہوئے اس حد تک۔اس پر حضور نے جواب دیا ’’اس حد تک وہ بھی کافر ‘‘۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیاکہ اگر ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی طرف سے نیک نیتی سے انکار کرتا ہے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟اس پر حضور نے فرمایا
    ’’ہاں وہ گنہگار ہے۔‘‘
    اٹارنی جنرل صاحب نے پھر سوال کیا کہ وہ شخص کسCategoryمیں کافر ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا ’’جس طرح نماز نہ پڑھنے والا۔‘‘
    اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ’’بس اتنا ہی؟ یہ مسلمان رہتا ہے؟‘‘
    اس پر حضور نے پھر فرمایا کہ
    ’’مسلمان رہتا ہے۔ اس واسطے میں نے اس کی وضاحت کی ہے۔‘‘
    اس وضاحت کے بعد بھی اٹارنی جنرل صاحب یہ گفتگو چلاتے رہے اور ان لوگوں کے متعلق سوال کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اتمامِ حجت کے بعد نبی نہیں مانتے۔ اس پر حضور نے پھر جواب دیا کہ
    ’’جو شخص حضرت مرزا غلام احمد صاحب ؑ کونبی نہیں مانتا لیکن وہ حضرت نبی اکرم خاتم الانبیاء ﷺکی طرف خود کو منسوب کرتا ہے اس کو کوئی شخص غیر مسلم کہہ ہی نہیں سکتا۔‘‘
    پھر حضور نے فرمایا:۔
    ’’ہر وہ شخص جو محمد ﷺ کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے وہ مسلمان ہے … اور کسی دوسرے کا حق نہیں ہے کہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔‘‘
    5؍ اگست کی کارروائی کے اختتام پر بھی اس موضوع پر سوالات ہوئے ۔ اٹارنی جنرل صاحب کی کوشش تھی کہ جماعت ِ احمدیہ کا وفد اس موقف کا اظہار کرے کہ جماعت ِ احمدیہ کے نزدیک جو مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں وہ ملت ِ اسلامیہ میں شمار نہیں ہوتے اور وہ آنحضرت ﷺ کی امت کا حصہ نہیں ہیں اور غیر مسلم ہیں اور اسی طرح کی کوشش اس وقت بھی کی گئی تھی جب 1953ء کی انکوائری میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پر سوالات کئے گئے تھے۔ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جن کے متعلق چودہ سو سال سے کفر کے فتوے دیئے جا رہے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا:۔
    ’’ اس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ان کے بعض کام ہمارے نزدیک ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پیارے نہیں … ‘‘
    یحییٰ بختیار : یعنی وہ مسلمان پھر بھی رہتے ہیں؟
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ: وہ قابلِ مواخذہ ہیں اللہ کے نزدیک۔
    یحییٰ بختیار: نہیں، پھر بھی وہ مسلمان رہتے ہیں یا نہیں؟
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ: اگر پانچ ارکانِ اسلام کے علاوہ باقی جو تعلیم ہے اور احکامِ قرآنی ہیں، ان کو چھوڑ کے یا خود ان پانچ پر عمل نہ کر کے بھی مسلمان رہتا ہے، … پھر وہ ایک sense میں مسلمان رہتے ہیں ایک میں نہیں۔
    پھر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ علماء جن کے متعلق یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، ان کی کیا حیثیت ہے۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا :
    ’’میرے نزدیک صرف یہ ہے کہ وہ قیامت والے دن مرنے کے بعد قابلِ مواخذہ ہوں گے۔‘‘
    پھر5؍ اگست کی کارروائی کے دوران اس موضوع پر سوالات آگے بڑھے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا:۔
    ’’ کلمہ طیبہ کا انکار کرے کوئی شخص تو وہ ملتِ ا سلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے، امت ِ مسلمہ میں نہیں رہتا لیکن جو بد عقیدگیاں ہیں ، دوسری کمزوریاں ہیں ،گنہگار ہے، انسان بڑا کمزور ہے، میں بھی آپ بھی ، اللہ محفوظ رکھے ہمیں، تو اس کو ابنِ تیمیہ یہ کہتے ہیں:۔
    ایک کفر ہے جو ملت سے خارج کردیتا ہے اور دوسرا کفر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جو کلمہ طیبہ کا انکار ہے وہ ملت سے خارج کر دیتا ہے۔ ‘‘
    اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس اصولی موقف کا اظہار فرمایا:۔
    ’’جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، وہ مسلمان رہتا ہے۔‘‘
    پھر یحییٰ بختیار صاحب نے ان دو سو مولویوں کی بابت سوال کیا جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ وہ بھی ملت ِ اسلامیہ سے خارج نہیں سمجھے جا سکتے۔
    اور یہ بات صرف احمدیوں کے لٹریچر تک محدود نہیں کہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جن پر ایک لحاظ سے کفر کا لفظ تو آتا ہے لیکن وہ پھر بھی ملت ِ اسلامیہ میں ہی رہتے ہیں اور ان کو عرف ِ عام میں مسلمان ہی کہا جاتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس کارروائی کے دوران پرانے علماء میں سے مشہور علّامہ ابنِ تیمیہ کا حوالہ دیا۔وہ اپنی تصنیف کتاب الایمان میں لکھتے ہیں:۔
    ’’۔۔فَقَالَتِ الْعُلَمَائُ فِیْ تَفْسِیْرِ الْفُسُوْقِ ھَاھُنَا ھِیَ الْمَعَاصِیْ قَالُوْا فَلَمَّا کَانَ الظُّلْمُ ظُلْمَیْنِ وَالْفِسْقُ فِسْقَیْنِ کَذَالِکَ الْکُفْرُ کُفْرَانِ اَحَدُھُمَا یَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّۃِ وَالْاٰخَرُ لَا یَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّۃِ‘‘
    (کتاب الایمان، تصنیف احمد ابن تیمیہ ،ناشر مطبع الانصاری، دہلی ص ۱۷۱)
    یعنی جس طرح ظلم دو قسم کا ہوتا ہے،فسق دو قسم کا ہوتا ہے کفر بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک کفر ملت سے نکالنے کا باعث بنتا ہے اور دوسرا کفر ملت سے نکالنے کا باعث نہیں بنتا۔
    اس کے علاوہ اس دور میںجماعت کے اشد مخالف مولوی شبیر عثمانی صاحب کا کہنا تھا:۔
    ’’ … حضر ت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے کُفْرٌ دُوْنَ کُفْرٍ کے الفاظ بعینہٖ مروی نہیں ہیںبلکہ ان سے ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ‘‘ کی تفسیر میں ’’اَیْ اَلْکُفْرُ لَا یَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّۃِ‘‘منقول ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کفر چھوٹا بڑا ہوتا ہے، بڑا کفر تو ملت سے ہی نکال دیتا ہے جب کہ چھوٹا ملت سے نہیں نکالتا۔ معلوم ہوا کہ کفر کے انواع و مراتب ہیں … ‘‘
    (کشف الباری عما فی صحیح البخاری جلد دوم ،افادات شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ناشر مکتبہ فاروقیہ کراچی ،ص۲۰۰)
    اب ہم اس فلسفہ کا جائزہ لیتے ہیں چونکہ احمدیوں کی بعض تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کو کفر قرار دیا گیا ہے ، اس لئے انہیں آئین میں غیر مسلم قرار دینا چاہئے ۔تو پھر ہمیں یہ اصول تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس فرقہ کی تحریروں میں دوسرے فرقہ کے لوگوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو اسے آئین میں تبدیلی کر کے غیر مسلم قرار دینا چاہئے ۔اس اصول کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صدیوں سے مختلف علماء دوسرے فرقوں کے متعلق اور ان کے ایمان کے بارے میں کیا فتاویٰ دیتے رہے ہیں۔ حنفیوں کی کتاب عرفانِ شریعت میں لکھا ہے کہ غیر مقلدین کی بدعت بہت وجہ سے کفر تک پہنچی ہوئی ہے کیونکہ وہ اجماع ،تقلید اور قیاس کے منکر ہیں اور بقول ان کے انہوں نے انبیاء کی شان میں گستاخی کی ہے۔اور اسی کتاب میں یہ فتویٰ ہے کہ حنفیوں کی نماز غیرمقلدین کے پیچھے درست نہیں اور وجوہات میں سے یہ وجوہات بھی لکھی ہیں کہ اگر کٹورہ پانی میںچھ ماشہ پیشاب پڑ جائے تو وہ اسے پاک سمجھتے ہیں۔اسی طرح شافعی اگر فرائض و شرائط حنفی کی رعایت نہ رکھیں تو ان کے پیچھے بھی نماز درست نہیں (۴۸)۔ خدا تعالیٰ کے مامور کی تکذیب و تکفیر تو ایک طرف رہی فتاویٰ عثمانی مصنّفہ تقی عثمانی صاحب میں لکھا ہے کہ اگر کوئی علماء کو بُرا بھلا کہے اور سبّ و شتم کرے تو یہ نہ صرف بد ترین اور فسق ہے بلکہ ان کلمات کا کلماتِ کفر ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر ایک شخص مؤذن کو بُرا بھلا کہے کہ وہ اذان کیوں دیتا ہے یہ کلماتِ کفر ہوں گے اور اگر کوئی شخص منکر ِ حدیث ہو تو یہ کفر ہے اور تجدیدِ ایمان اور تجدید ِ نکاح ضروری ہے ،نہ صرف یہ بلکہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ جہنم دائمی نہیں ہے تو اس کلمہ پر بھی کفر کا اندیشہ ہے(۴۹)۔ بعض علماء تو اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ قرآن شریف مخلوق ہے یا اگر یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی رئویت محال ہے تو یہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہیں کافر کہنا چاہئے (۵۰)۔ دیوبندی مسلک کی کتاب عزیز الفتاویٰ میں لکھا ہے اگر نکاحِ ثانی کو معیوب سمجھا جائے تو اس سے کفر کا اندیشہ ہے اور یہ بھی لکھا کہ ایک مرد صالح کو ڈانٹنے اورذلیل کرنے سے آدمی فاسق اور بے دین ہو جاتا ہے (۴۸)۔ اسی طرح دیوبندیوں کی طرف سے ان کے نمایاں عالم رشید احمد گنگوہی صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ شیعہ حضرات جو تعزیہ نکالتے ہیں وہ بُت ہے اور تعزیہ پرستی کفر ہے۔ جب ایک شخص نے ان سے میلاد میں شرکت کرنے والوں کے متعلق جو یہ مانتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ حاضر ہوتے ہیں اور بریلوی عالم احمد رضا خان صاحب کے بعض معتقدات کا ذکر کر کے ان کے متعلق سوال کیا تو رشیداحمد گنگوہی صاحب نے جواب دیا جو شخص اللہ جَلّ شَانہٗ کے سوا عالم غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کافر ہے اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت مودّت سب حرام ہیں ۔
    روافض کے متعلق سوال کیا گیا تو گنگوہی صاحب نے فتویٰ دیا کہ علماء میں سے بعض نے ان کے متعلق کافر کا حکم دیا ہے اور بعض نے ان کو مرتد قرار دیا ہے (۵۱)۔ فرنگی محل کے عالم مولوی عبد الحي صاحب نے فتوے دیئے کہ بعض شیعہ فرقے کافر ہیں (۵۲) ۔ حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین جو کہ بریلوی قائد احمد رضا خان صاحب کی تصنیف ہے اس میں لکھا ہے کہ:۔
    ’’ہر وہ شخص کہ دعویٰ اسلام کے ساتھ ضروریات ِ دین میں سے کسی چیزکا منکر ہو یقیناََ کافر ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے اور اس کی جنازے کی نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ شادی بیاہ کرنے اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے اور اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں اس کا حکم وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے ۔(۵۳)
    بریلوی مسلک کے قائد احمد رضا خان صاحب نے مسلمانوں کے کئی فرقوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے اور واضح طور پر مرتد قرار دیا ہے۔یہاں تک کہ ان کا فتویٰ تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ تو حلال ہے لیکن مسلمانوں کے کئی فرقوں کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام اور نجس ہے۔ ان کے فتوے کے الفاظ ہیں:۔
    ’’یہودی کا ذبیحہ حلال ہے جب کہ نام الٰہی عَزَّ جَلَالُہٗ لے کر ذبح کرے ۔یونہی اگر کوئی واقعی نصرانی ہو نہ نیچری دہریہ جیسے آج کل کے عام نصاریٰ ہیںکہ نیچری کلمہ گو مدعی اسلام کا ذبیحہ تو مردار ہے نہ کہ مدعی نصرانیت کا رافضی تبّرائی ،وہابی دیوبندی ،وہابی غیر مقلد ،قادیانی ،چکڑالوی، نیچری، ان سب کے ذبیحے محض نجس و مردار حرام قطعی ہیں ۔اگرچہ لاکھ بار نام الٰہی لیں اور کیسے ہی متقی پرہیز گار بنتے ہوں کہ یہ سب مرتدین ہیں۔ وَلَا ذَبِیْحَۃَ لِمُرْتَدِّ … ‘‘
    (احکامِ شریعت ۔ص138۔ تصنیف احمد رضا خان بریلوی صاحب ۔ ناشر ممتاز اکیڈمی لاہور )
    پھر احمد رضا خان بریلوی صاحب مسلمانوں کے کئی فرقوں پر مرتد اور کافر ہونے کا فتویٰ ان الفاظ میں لگاتے ہیں۔
    ’’ … مرتدوں میں سب سے خبیث تر مرتد منافق ، رافضی ،وہابی ، قادیانی ،نیچری چکڑالوی کہ کلمہ پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ،نماز وغیرہ افعال اسلام بظاہر بجا لاتے بلکہ وہابی وغیرہ قرآن و حدیث کا درس دیتے لیتے اور دیو بندی کتب ِ فقہ کو ماننے بھی شریک ہوتے بلکہ چشتی، نقشبندی وغیرہ بن کر پیری مریدی کرتے اور علماء و مشائخ کی نقل اتارتے اور بایں ہمہ محمد رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتے یا ضروریات ِ دین سے کسی شَے کا انکار رکھتے ہیں۔ان کی اس کلمہ گوئی و ادعائے اسلام نے اور افعال و اقوال میں مسلمانوں کی نقل اتارنے ہی نے ان کو اَخْبَثْ وَ اَضَر اور ہر کافر اصلی یہودی ،نصرانی ،بت پرست ،مجوسی سب سے بد تر کر دیا … ‘‘
    (احکام ِ شریعت ۔ ص 139۔مصنّفہ احمد رضا خان صاحب)
    احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ جو رَدّ الرفضہ کے نام سے شائع ہوا تھا اس میں لکھا ہے۔
    ’’ بالجملہ ان رافضیوں تبرّائیوں کے باب میں حکمِ یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خاص زنا ہے۔ معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر ِ الٰہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہوگا محض زنا ہوگا۔اولاد ولد الزنا ہوگی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی ۔ اگرچہ اولاد بھی سنی ہو کہ شرعًا ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں …۔
    جو ان ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہ سب احکام ہیںجو ان کے لئے مذکور ہوئے۔‘‘
    (رَدّالرَّفْضَۃِ ص 30و 31۔مصنفہ احمد رضا خان بریلوی صاحب ۔ناشر کتب خانہ حاجی مشتاق اندرون بوہڑ گیٹ ملتان )
    فتاوَی الحَرمین بِرجْفِ نَدْوَۃِ المَین، مطبع گلزار حسنی بمبئی میں درج چندفتاویٰ ملاحظہ ہوں۔ اس کتاب میں مختلف نمایاں علماء کے فتاویٰ درج ہیں ۔اور حرمین کے علماء کے فتاویٰ بھی شامل ہیں۔
    ’’اہلسنت کے سوا سب کلمہ گو اہل ِ قبلہ گمراہ فاسق بدعتی ناری ہیں۔‘‘ (صفحہ 29)
    نیچری زندیق ہیں دشمنانِ دین ہیں، فاسق ہیںانہیں اسلام سے اصلًا لگاؤ نہیں۔ وہ سخت خبیث کافر مرتد ہیں ان کی کلمہ گوئی اور نماز بقبلہ محض بے سود اور ان کی تاویلین سراسر مردود جو ان کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے۔وہ دین سے نکل گئے نرے ملحد ہیں۔ (صفحہ 31)
    رافضی دین سے خارج ہیں۔نرے ملحد۔اسلام و ملت سے باہر ہیں۔ (صفحہ 32)
    وہابی فاجر ہیں ۔دین و سنت کے دشمن ہیں … یہ شیطان کا گروہ ہیں۔ (صفحہ 32)
    ’’سرور ِ غریزی فتاویٰ عزیزی ‘‘ میں لکھا ہے کہ جب مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی سے ایک سوال پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:۔
    ’’بلاشبہ فرقہ امامیہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے منکر ہیں اور کتب فقہ میں مذکور ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے جس نے انکار کیا تو وہ اجماعِ قطعی کا منکر ہوا اور وہ کافر ہوگیا … ‘‘
    (سرورِ غریزی۔فتاویٰ عزیزی جلد اول اردو ترجمہ ۔ص۴۴۰۔ باہتمام محمد فخرالدین۔ فخرالمطابع لکھنو )
    صرف دوسرے فرقوں کی طرف سے شیعہ حضرات پر کفر کے فتوے نہیں لگائے جا رہے تھے بلکہ شیعہ حضرات نے بھی فتویٰ دیا کہ صرف شیعہ جنت میں جائیں گے اور باقی جہنم میں جائیں گے ۔ چنانچہ ممتاز شیعہ عالم سید علی حائری صاحب کا فتویٰ تھا:۔
    ’’یقیناجانیئے وہ ایک فرقہ ناجیہ صرف امامیہ اثنا عشریہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں … کیونکہ حدیث میں امت محمدی صلعم کو تہتر فرقوں میں محدود کیا گیا ہے ۔حضور علیہ السلام نے ان میں سے بہتر فرقوں کو تو جہنمی قرار دیا ہے صرف ایک فرقہ کو ان میں سے علیحدہ کر دیا ہے۔‘‘
    ( فتاویٰ حائری حصہ دویم ۔مطبع اسلامیہ سٹیم لاہور ۔پہلا سوال )
    صرف اپنے فقہ کے امام کے قیاس کو نہ تسلیم کرنے والے کو بھی کافر قرار دیا گیا۔فقہ کی کتاب عرفانِ شریعت میں لکھا ہے اور ’’ فتاویٰ عالمگیری ‘‘کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ:۔
    ’’جو شخص امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قیا س کو حق نہ مانے وہ کافر ہے۔‘‘
    (عرفانِ شریعت ۔حصہ سوم ۔ص۷۵)
    مولویوں کے طبقہ نے ہمیشہ امت مسلمہ کے اولیاء اور مجددین کو اپنی تکفیر بازی کا نشانہ بنایا ہے۔ چنانچہ مسعود عالم ندوی حضرت سید احمد شہید صاحب ؒکے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں لکھتے ہیں۔
    ’’ علماء سوء اور قبر پرستوں نے مجاہدینِ امت پر کفر کے فتوے لگائے ۔ سرحد کے خوانین نے اپنے مرشد و محسن سے غداری کی … سید احمد شہید اور اسماعیل شہید جیسے مجاہدینِ امت پر کفر کے فتوے لگائیں۔ مسلمانانِ ہند پر اس سے زیادہ منحوس گھڑی کوئی نہیں آئی … ‘‘
    (ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک ۔ص39 و40۔ مصنفہ مسعود عالم ندوی ۔ ناشر مکتبہ ملّیہ راولپنڈی)
    اور کفر کے فتووں کا یہ سلسلہ ایک صدی پہلے شروع نہیں ہوا بلکہ صدیوں سے یہ عالم چلا آرہا ہے۔ مثلاً فتاویٰ عالمگیری میں مختلف مآخذ کے حوالہ سے مختلف صورتیں درج ہیں جن میں ایک شخص پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے ۔صرف چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔
    اس میں لکھا ہے کہ اگرکسی نے اپنے ایمان میں شک کیا اور کہا میں ایماندار ہوں انشاء اللہ تو وہ کافر ہے۔
    جس شخص نے قرآن یعنی کلام اللہ کی نسبت کہا کہ اللہ کا کلام مخلوق ہے تو وہ کافر ہے۔
    اگر کسی نے ایمان کو مخلوق کہا تو وہ کافر ہے۔
    اگر کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انصاف کے واسطے بیٹھا ہے یا کھڑا ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر کہا کہ میرا آسمان پر خدا اور زمین پر فلاں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔
    اگر کسی سے کہا گیا کہ بہت نہ کھایا کر خدا تجھے دوست نہیں رکھے گا اور اس نے کہا میں تو کھاؤں گا خواہ مجھے دوست رکھے یا دشمن تو اس کو کافر کہا جائے گا۔اور اسی طرح اگر کہا کہ بہت مت ہنس یا بہت مت سو یا بہت مت کھا اور اس نے کہا کہ اتنا کھاؤںگا اور اتنا ہنسوں گا اور اتنا سوؤں گا جتنا میراجی چاہے تو اس کی تکفیر کی جائے۔
    اگر کسی سے کہا گیا کہ خدا ے تعالیٰ نے چار بیویاں حلال کی ہیں اور وہ کہے کہ میں اس حکم کو پسند نہیں کرتا تو یہ کفر ہے۔
    اگر کسی نے امامت ابو بکر ؓ سے انکار کیا تو وہ کافر ہے
    اور اگر کسی نے خلافت حضرت عمر ؓ سے انکار کیا تو وہ بھی اَصَحّ قول کے مطابق کافرہے۔
    اگر کسی نے کہا کہ کہ کاش حضرت آدمؑ گیہوں نہ کھاتے تو ہم لوگ شقی نہ ہوتے تو اس کی تکفیر کی جائے۔
    ایک نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اگر گواہ حاضر نہ ہوئے اور اس نے کہا خداا و ر فرشتوں کو گواہ کیا تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔
    اور اگر کسی نے رمضان کی آمد کے وقت کہابھاری مہینہ آیا تو یہ کفر ہے۔
    اگر ایک شخص مجلس علم سے آتا ہے اور کسی نے کہا کہ تو بت خانہ سے آتا ہے تو یہ کفر ہے۔
    اگر کسی نے کہا کہ مجھے جیب میں روپیہ چاہئے میں علم کو کیا کروں تو تکفیر کیا جائے گا۔
    اگر کسی نے فقیر کو مالِ حرام میں سے کچھ دے کر ثواب کی امید رکھی تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔
    اور اگر فقیر نے یہ بات جان کر دینے والے کو دعا دی اور دینے والے نے اس پر آمین کہی تو کافر ہوا ۔(۵۴)
    اس دور میں تو علماء نے تکفیر کے دائرہ کو اور بھی وسیع کر دیا ہے۔چنانچہ ۱۹۷۸ء میں جمعیت العلماء پاکستان کے ایک لیڈر مفتی مختار احمد گجراتی نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا (۵۵) اور اس پارٹی کے اراکین اسمبلی کے اس اجلاس میں بھی موجود تھے بلکہ جمعیت العلماء پاکستان کے قائد شاہ احمد نورانی صاحب نے تو جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قرارداد پیش بھی کی تھی۔اس موقع پر قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت ِ اسلامی کے اراکین اس بات کے لئے بہت کوشاں تھے کہ احمدیوں کوآئین میں ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دیا جائے خود مودودی صاحب کے بارے میں کئی علماء یہ فتویٰ دیتے آئے تھے کہ وہ ان تیس دجّالوں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی۔ مولوی محمد صادق صاحب یہ فتویٰ دیتے ہیں۔
    ’’ … حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اصلی دجال سے پہلے تیس دجال اور پیدا ہوں گے جو اس اس دجّالِ اصلی کا راستہ صاف کریں گے۔میری سمجھ میں ان تیس دجّالوں میں سے ایک مودودی ہیں۔‘‘
    (حق پرست علماء کی مودودیت سے ناراضگی کے اسباب ،ص 97، مرتبہ مولانا احمد علی بار اوّل، ناشر نوائے پاکستان لاہور )
    تو اگر یہ اصول تسلیم کیاجائے کہ جس فرقہ کی تحریر میں دوسرے فرقہ یا کسی گروہ کے متعلق کفر کا فتویٰ موجود ہے تو اسے آئین میں ترمیم کر کے قانونی طور پر غیر مسلم قرار دینا چاہئے تو پھر اس زد سے کوئی فرقہ نہیں بچ سکے گا۔اور پاکستان کے آئین کے مطابق یہاں پر صرف غیرمسلم اکثریت ہی بس رہی ہو گی۔
    ۶ ؍اگست کی کارروائی
    ۶؍ اگست کو اسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی ۔ابھی جماعت کا وفد اسمبلی میں نہیں آیا تھا۔ مگر معلوم ہو رہا تھا کہ آج کچھ حوالے پیش کر کے جماعت کے وفد کو لاجواب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔سپیکر صاحب نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی سہولت کے لئے کتابیں سامنے ہی رکھ دی جائیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ موجود ہیں۔سپیکر صاحب نے پھر تاکید کی کہ اٹارنی جنرل صاحب کے آس پاسLeast Disturbance ہونی چاہئے۔ان کے اردگرد کوئی سرگوشی نہیں ہونی چاہئے۔یہ اہتمام غالباََ اس لئے کیا جا رہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب پوری یکسوئی سے سوال کر سکیں۔
    اس سے قبل کہ حضور وفد کے ہمراہ ہال میں تشریف لاتے ایک ممبر جہانگیر علی صاحب نے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی صاحب سے کہا :۔
    Mr. Chairman interpretation of document or a writting is not the job of witness. I would therefore request that the witness should not be allowed to interpret; it is the job of the presiding officer or the judge.
    یعنی وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایک تحریر یا دستاویز سے استدلال کرنا گواہ کا کام نہیں ہوتا ۔یہ کارروائی کے چیئر مین یا ججوں کا کام ہوتا ہے۔لہٰذا گواہوں کو یعنی جماعت کے وفد کو اس بات سے روکا جائے کہ وہ استدلال کریں۔جہانگیر علی صاحب کی طرف سے یہ ایک لا یعنی فرمائش تھی۔سوالات کرنے والوں کی طرف سے جماعت کی تعلیمات پر اعتراض کیے جا رہے تھے اور سیاق و سباق اور پس منظر سے الگ کر کے جماعتی تحریرات کے حوالے پیش کیے جا رہے تھے۔لیکن ان صاحب کے نزدیک جماعتی وفد کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ وہ ان کے متعلق جماعتی موقف کے مطابق استدلال پیش کرے۔اگر سپیشل کمیٹی میں جماعتی وفد کو بلانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ ممبرانِ اسمبلی کے غیر متعلقہ سوالات سنے ان کے تبصرے سنے لیکن ان کے جواب میں اپنا استدلال نہ پیش کرے تو اس لغو عمل کو کوئی بھی ذی ہوش قبول نہیں کر سکتا اور یہ بات اس لئے بھی ناقابلِ فہم معلوم ہوتی ہے کہ اب تک کی کارروائی میں خود کئی تحریریں پیش کر کے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ دریافت کیا تھا کہ اس کے بارے میں جماعت کے وفد کا نقطہ نظر کیا ہے۔ا س کے جواب میں سپیکر صاحب نے صرف یہ کہا کہ جج تو آپ ہی لوگ ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب جب چاہیں اس ضمن میں درخواست کر سکتے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد جماعت کا وفد داخل ہوا۔سپیکر صاحب نے اظہار کیا کہ سوالات کا یہ سلسلہ دو تین دن جاری رہ سکتا ہے پوری کارروائی کے لئے حلف ہو چکا ہے یعنی نئے سرے سے گواہ سے حلف لینے کی ضرورت نہیں۔
    اس کارروائی کے آغاز میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے گزشتہ روز کی بحث کے تسلسل میں سلف ِ صالحین کے حوالے سے یہ بات فرمائی کہ کفر دو قسم کا ہے ایک کفر وہ ہے جو ملت ِ اسلامیہ سے نکالنے کا باعث ہو گا اور دوسرا وہ جو ملت ِ اسلامیہ سے باہر نکالنے کا باعث نہیں ہو گا۔اور یہ بھی فرمایا کہ جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار ملت ِ اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے وہی پرانے اعتراضات دہرائے جو عموماََ جماعت کے مخالفین کی طرف سے کیے جاتے ہیں ۔یعنی احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے ،ان سے شادیا ں نہیں کرتے۔ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے قائدِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔اب ذرا تصور کریں کہ یہ کارروائی ۱۹۷۴ء کے فسادات کے دوران ہو رہی تھی جبکہ خود اخبارات لکھ رہے تھے کہ علماء کی تحریک کے نتیجہ میں پاکستان بھر میں احمدیوں کا بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے اور ان دنوں میں احمدیوں کا جنازہ پڑھنا تو دور کی بات ہے،احمدیوں کی تدفین میں بھی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں ۔ بعض مقامات پراحمدیوں کی قبروں کو اکھیڑ کر ان کی نعشوں کی بے حرمتی کی جا رہی تھی۔جگہ جگہ احمدیوں کو شہید کیا جا رہا تھا اور حکومت اور قانون نافذکرنے والے ادارے تماشائی بنے کھڑے تھے۔لیکن اسمبلی میں اعتراض احمدیوں پر ہو رہا تھا کہ وہ غیر احمدیوں کے جنازے کیوں نہیں پڑھتے اور ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے۔یہ سوال تو پہلے غیر احمدی مسلمانوں سے ہونا چاہئے تھا ۔کیا وہ احمدیوں کا جنازہ پڑھتے ہیں ؟ اس کا جواب یقیناََ نفی میں ہے تو اس اعتراض کاحق انہیں نہیں ہو سکتا کہ احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔بلکہ جب ۱۹۵۳ء میں تحقیقاتی عدالت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پر سوالات کئے گئے تو سوالات کرنے والوں میں ایک مولانا میکش بھی تھے۔ انہوں نے حضور سے سوال کیا:۔
    ’’عام مسلمان تو احمدیوں کا اس لئے جنازہ نہیں پڑھتے کہ وہ احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ احمدی جو غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے اس کی اس کے علاوہ کیا وجہ ہے جس کا آپ قبل ازیں اظہار کر چکے ہیں۔‘‘
    (تحقیقاتی عدالت میں امام جماعت ِ احمدیہ کا بیان ۔ص۳۹۔ ناشر احمدیہ کتابستان سندھ)
    اب ایک عدالتی کارروائی میں کتنا واضح اقرار ہیں کہ مولانا جن کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ احمدیوں کو نہ مسلمان سمجھتے ہیں اور نہ ان کا جنازہ پڑھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود مولانا کا یہ خیال تھا کہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احمدیوں کو سرزنش فرمائیں کہ وہ غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔
    اور تو اور یہ اعتراض اُٹھاتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب نے ریویو آف ریلجنز میں شائع ہونے والی ایک تحریر پڑھی اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ تحریر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کی ہے اور اس طویل بحث کی بنیاد انہوں نے اس تحریر سے اُ ٹھائی۔حقیقت یہ تھی کہ یہ تحریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نہیں تھی بلکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تھی۔
    (ملاحظہ کیجئے ریویو آف ریلجنز جلد 14ص169)
    یہ بات قابل غور ہے کہ 6؍ اگست کی کارروائی کے بالکل شروع میں اٹارنی جنرل صاحب نے حوالہ جات کی کتب کو اٹارنی جنرل صاحب کے پاس رکھنے کا کہا تھا تو اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا ’’They are available‘‘۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا
    ‏’’All are available?‘‘۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے پھر کہا۔’’They are available‘‘ ۔ اس پر سپیکر صاحب نے کہا جو ریفرنس آپ پیش کریں وہ ان کو دکھا دیئے جائیں کہ یہ ریفرنس ہے۔اس گفتگو سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ جو ریفرنس پیش کئے جانے تھے وہاں پر موجود تھے۔اس کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب نے جو پہلا حوالہ پیش کیا اس میں تحریر غلط شخصیت کی طرف منسوب کی۔اگر یہ غلط حوالہ دینے کا واقعہ ایک دو مرتبہ ہوتا تو قابلِ درگزر تھا لیکن مختلف طریق پر غلط حوالے دینے کا سلسلہ اس کارروائی میں بہت تواتر سے جا ری رہا۔اس صورت حال میں دو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں۔
    1)۔ اپنے موقف کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین اس بات پر مجبور تھے کہ غلط حوالے پیش کر یں۔
    2)۔اٹارنی جنرل اور اس اسمبلی میں سوالات کرنے والوں کی ذہنی حالت ایسی تھی کہ وہ اگر سامنے حوالہ تحریری طور پر بھی موجود ہو تو صحیح طرح پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ایسی صورت میں ان پر سے اس پہلو سے بد دیانتی کا الزام تو ہٹ جاتا ہے لیکن ان کی ذہانت کے بارے میں کافی شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
    اب زیر بحث موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اسلام کے باقی فرقوں سے وابستہ اراکین جو یہ اعتراضات احمدیت پر کر رہے تھے ان کا حال یہ تھا کہ ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں پر وہ وہ اعتراضات کیے تھے اور ایسے فتوے لگائے تھے کہ خدا کی پناہ۔اس مرحلہ پر یہ ضروری تھا کہ ان کو کسی قدر آئینہ دکھایا جائے۔
    چنانچہ جب یہ بحث کچھ دیر چلی توحضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے غیر احمدی علماء کا ایک فتویٰ پڑھ کر سنایا۔اس فتویٰ سے صرف ہندوستان کے علماء نے ہی نہیں بلکہ بلادِ عرب کے بہت سے علماء نے بھی اتفاق کیا تھا۔حضور نے اس کے یہ الفاظ پڑھ کر سنائے:۔
    ’’وہابیہ دیوبندیہ اپنی تمام عبارتوں میں تمام اولیاء انبیاء حتیٰ کہ حضرت سید الاوّلین والآخرین ﷺ کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شَانہٗ کی اہانت اور ہتک کرنے کی وجہ سے قطعاََ مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد کفر میں سخت سخت سخت درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جو ان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہی جیسا مرتد و کافر ہے اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے وہ بھی مرتد و کافر ہے ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل محترز ومجتنب رہیں۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں انہیں گھسنے دیں۔ نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں اور نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں ۔یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں، مریں تو گاڑنے توپنے میں شرکت نہ کریں ۔مسلمانوں کے قبرستان میں کہیں جگہ نہ دیں غرض ان سے بالکل احتیاط و اجتناب رکھیں … ‘‘
    ابھی یہ باغ وبہار قسم کا فتویٰ جاری تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ یہ تو محضر نامہ میں بھی شامل ہے اس لیے اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس سے ان کی بے چینی ظاہر ہوتی تھی۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ مجھے یہاں پر دہرانے کی اجازت دی جائے کیونکہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو جواب بھی دہرایا جائے گا ۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس پر حضور نے اس فتوے کا باقی حصہ پڑھ کر سنایا ۔
    ’’پس دیوبندیہ سخت سخت اشد مرتد وکافر ہیں۔ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔ اس کی عورت اس کے عقد سے باہرہو جائے گی اور جو اولاد ہو گی وہ ّ*** ہو گی اور از روئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔‘‘
    حضور نے فرمایا کہ
    ’’ اس اشتہار میں جن علماء کے نام ہیں،ان میں چند ایک یہ ہیں سید جماعت علی شاہ ، حامد رضا خان صاحب قادری غوری رضوی بریلوی ،محمد کرم دین ،محمد جمیل احمد وغیرہ بہت سے علماء کے نام ہیں۔ایک رخ یہ بھی ہے تصویر کا۔ان کے بچوں کے متعلق بھی وہی فتویٰ ہے جس کے متعلق آپ مجھ سے وضاحت کروانا چاہتے ہیں۔اور یہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔یہ بہت سارے حوالے ہیں۔میں ساروں کو چھوڑتا ہوں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ اہلِ حدیث کے پیچھے نماز نہ پڑھیںتو اس کے متعلق بریلوی ائمہ ہمیں غیر مبہم الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ وہابیہ وغیرہ مقلدین ِ زمانہ بالاتفاق علماء ِ حرمین شریفین کافر مرتد ہیںایسے کہ جو ان کے اقوالِ لغویہ پر اطلاع پا کر کافر نہ مانے یا شک کرے وہ کافر ہے۔ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ ان کا نکاح کسی مسلمان کافر یا مرتد سے نہیں ہو سکتا۔اس کے ساتھ میل جول ، کھانا پینا ،اٹھنا بیٹھنا، سلام کلام سب حرام ہیں ۔ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔یہ اہلِ حدیث کے پیچھے نماز پڑھنے کا ذکرہو رہا ہے۔باقی اس کے حوالے میں چھوڑتا ہوں۔ بریلوی کے متعلق جہاں تک نماز پڑھنے کا تعلق ہے دیوبندی علماء یہ شرعی حکم ہمیں سناتے ہیں:۔
    ’’جو شخص اللہ جلّ شانُہٗ کے سوا علمِ غیب کسی دوسرے کاثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کافر ہے ۔ اس کی اعانت اس سے میل جول محبت و مودّت سب حرام ہیں۔‘‘
    یہ فتویٰ رشیدیہ میں رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے جو ان کے مرشد ہیں۔میںایک ایک فتوے کو صرف بتا رہا ہوں تا کہ معاملہ صا ف کر سکوں۔پرویزیوں اور چکڑالویوںکے متعلق نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ فتویٰ ہے:۔
    ’’چکڑالویت حضور سرورِ کائنات علیہ التسلیمات کے منصب و مقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کے منکر اور آپ کی افادیت مبارکہ کے جانی دشمن۔رسولِ کریم کے کھلے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذقائم کر دیا ہے۔جانتے ہو باغی کی سزا کیا ہے صرف گولی۔‘‘
    شیعہ حضرات کے متعلق کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں:۔
    ’’بالجملہ ان رافضیوں تبرّائیوں کے باب میں حکمِ یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفّارمرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خاص زنا ہے۔معاذاللہ مرد رافضی اورعورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہرِ الٰہی ہے۔اگر مرد سنی اورعورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہر گز نہ ہو گا محض زناہوگا۔اولاد ولد الزنا ہو گی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگرچہ اولاد بھی سنی ہو کہ شرعاََ ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔عورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لیے مہر نہیں۔رافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا ترکہ نہیں پا سکتا ۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاًکچھ حق نہیں۔ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول ،سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام ۔جو ان کے ملعون عقیدہ پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے … کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے ۔مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوش ِ ہوش سنیں اوراس پر عمل کرکے سچے پکے سنی بنیں۔‘‘
    (فتویٰ مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان بحوالہ رسالہ ردُ الرافضۃ)
    یہ اس میں آ گیا ہے ۔یہاں یہ سوال نہیں کہ احمدی ، وہابیوں ،دیوبندیوں وغیرہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے یا ان کی شادیوں کو کیوں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔اس سے کہیں زیادہ فتویٰ موجود ہے۔ہمیں ساروں کو اکٹھا لے کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔‘‘
    حضور نے یہ صرف چند مثالیں ممبرانِ قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کی تھیں ورنہ یہ فتاویٰ تو سینکڑوں ہزاروں ہیں اور مختلف فرقوں نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں اور دوسرے فرقوں میں شادی کی ممانعت کے فتوے دیئے ہیں۔چند مزید مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
    شادی کے معاملہ میں دیوبند کا ایک فتویٰ پیش کرتے ہیں۔مولوی رشید گنگوہی صاحب دیوبند کے ایک نہایت نمایاں عالم تھے اور جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں بھی بہت پیش پیش تھے۔ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر ایک سنی عورت شیعہ مرد سے شادی کرے اور اسے معلوم ہو کہ یہ مرد شیعہ ہے اور پھر وہ عقائد کو حیلہ بنا کر بغیر طلاق کے سنی سے دوسری شادی کرلے تو اس نکاح کی کیا حیثیت ہے؟ اور اگر کسی سنی کی اولاد شیعہ ہو جائے تو کیا وہ اس سنی کا ترکہ پائے گی۔اس سوال کے جواب میں رشید گنگوہی صاحب کا فتویٰ یہ تھا:۔
    ’’جس کے نزدیک رافضی کافر ہے وہ فتویٰ اوّل ہی سے بطلانِ نکاح کا دیتا ہے۔ اس میں اختیار زوجہ کا کیا اعتبار ہے پس جب چاہے علیحدہ ہو عدّت کر کے نکاح دوسرے سے کر سکتی ہے اور جو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک یہ امر ہر گز درست نہیں کہ نکاحِ اوّل صحیح ہو چکا ہے اور بندہ اوّل مذہب رکھتا ہے … رافضی اولاد سنی کو ترکہ سنی نہ ملے گا۔‘‘
    (فتاویٰ رشیدیہ ۔ص225۔ مُبَوَّب ۔ ناشر ادب منزل کراچی)
    شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کا فتویٰ ملاحظہ ہو
    ’’مرد سنی اور عورت شیعہ میں نکاح کا حکم اس پر موقوف ہے کہ شیعہ کافر ہیں یا نہیں۔ مذہب حنفی میں اس پر فتویٰ ہے کہ فرقہ شیعہ میں مرتد کا حکم ہے۔ایسے ہی فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے تو اہلِ سنت و جماعت کے لئے یہ درست نہیںکہ شیعہ عورت سے نکاح کریں۔
    اور مذہب ِ شافعی میں دو قول ہیں۔ایک قول کی بناء پر شیعہ کافر ہیںاور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ لوگ فاسق ہیں۔ایسا ہی صواعقِ محرقہ میں مذکور ہو۔لیکن قطع نظر اس سے اس فرقہ کے ساتھ نکاح کرنے میں طرح طرح کا بہت فساد ہوتا ہے ۔مثلاََ بد مذہب ہونا ۔ اہل ِ خانہ اور اولاد کا اور ایک ساتھ بسر کرنے وغیرہ میں باہمی اتفاق نہ ہونا تو اس سے پرہیز کرنا واجب ہے۔‘‘ (فتاویٰ عزیزیہ ۔ ص508۔ باہتمام حاجی محمد ذکی ۔ ناشر سعید کمپنی)
    اب تک ممبرانِ اسمبلی اٹارنی جنرل صاحب کے ذریعہ جو سوالات کر رہے تھے ان کی طرز یہ جارہی تھی کہ چونکہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیںپڑھتے ،ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے ،ان کی عورتیں ان کے مردوںسے شادی نہیں کرتیں،اس لیے یہ خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں لہٰذا دوسرے مسلمان اگر ان کو غیر مسلم قرار دے دیں تو کچھ مضائقہ نہیںلیکن جب حضور نے غیر احمدی جید علماء کی طرف سے دیئے گئے صرف چند فتاویٰ پڑھ کر سنائے تو یہ واضح ہو گیا کہ وہ ایک دوسرے کے متعلق کیا خیالات رکھتے ہیں ۔نماز پڑھنا یا جنازہ پڑھنا تو درکنار انہوں نے تو یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ نہ صرف دوسرے فرقہ سے وابستہ افراد کافر ہیں بلکہ اگر ان سے شادی کرلی جائے تو اولاد ولدالزنا ہو گی۔ اگر اسی امر کو معیار بنا کر آئین میں غیر مسلم بنانے کا عمل شروع کیا جائے تو تمام فرقے غیر مسلم قرار دے دیئے جائیں گے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا کوئی شخص دیکھنے کو بھی نہ ملے گا جسے آئینی طور پر مسلمان کہا جا سکے۔جنازہ کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ فرضِ کفایہ ہے ۔ اگر کہیں پر جنازہ پڑھنے والا کوئی مسلمان نہ ہو تو احمدیوں کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ضرور اس غیر احمدی مسلمان کا جنازہ پڑھیں بلکہ ایک مرتبہ جب ڈنمارک میں ایک مسلمان عورت کے جنازہ کی صورت میں ایسا نہیں کیا گیا تو اس پر حضور نے اس جماعت پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا:۔
    جب یہ حوالے پڑھے گئے تو جو اثر اٹارنی جنرل صاحب اپنے سوالات سے قائم کرنا چاہتے تھے وہ زائل ہو گیا۔نہ معلوم اس بات کی پریشانی تھی یا اس بد حواسی کا کچھ اور سبب تھا ،اٹارنی جنرل صاحب نے اس مرحلے پر کچھ نا قابلِ فہم سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔انہوں نے غیر احمدی علماء کے فتاویٰ کے بارے میں حضور سے دریافت کرنا شروع کیا کہ کیا اس سے مراد ہے کہ ان فتاویٰ کی وسیع زد میں آنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا ملت ِ اسلامیہ سے خارج ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ تو فتاویٰ دینے والے خود بتائیں کہ ان کی مراد کیا تھی میں کس طرح بتا سکتا ہوں؟ اور سادہ سی بات تھی کہ جن مسالک کے فتاویٰ تھے ان کے بڑے بڑے مولوی صاحبان سامنے بیٹھے تھے ، ان سے پوچھنا چاہیے تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے جو فتاویٰ دیئے ہیں ان سے کیا مراد تھی۔ جماعت ِ احمدیہ کا وفد اس کا جواب کیسے دے سکتا تھا؟پھر انہوں نے ایک اور نا قابل ِ فہم سوال کیا کہ جو فتاویٰ احمدیوں کے خلاف ہیں ان سے کیا مراد ہے؟ یعنی کیا ان سے مراد دائرہ اسلام سے خارج ہونا ہے یا ملتِ اسلامیہ سے خارج ہونا؟یہ ایک اور عجیب سوال تھا؟ حضور نے فرمایا کہ جو علماء سامنے بیٹھے ہیں یہ تو ان سے پوچھا جائے لیکن اٹارنی جنرل صاحب اس بات کو دہراتے رہے۔پھر حضور نے ایک بار اور واضح فرمایا کہ ان کے متعلق میں کیسے بتا سکتا ہوں کہ ان کی مراد کیا ہے؟
    اٹارنی جنرل صاحب نے پھر مطلوبہ تاثر کو قائم کرنے کے لیے یہ ذکر چھیڑا کہ احمدی غیر احمدی بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے ۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے انہیں یاد دلایا کہ کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ ایک احمدی بچہ کی تدفین کی گئی اور غیر احمدیوں نے اس بنا پر کہ یہ ایک احمدی بچہ تھا اس کی قبر اکھیڑ کر لاش کو باہر نکلوایا اور یہ یاد دلایا کہ انہی دنوں میں فسادات کے دوران گوجرانوالہ میں ایک احمدی بچے کی تدفین کو روکا گیا اور قائد آباد میں ایک احمدی کی قبر اکھیڑ کر اس کی لاش کو قبر سے باہر نکالا گیا۔ اس پس منظر میں یہ ایک مضحکہ خیز سوال تھا کہ احمدی ، غیر احمدیوں یا ان کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے ؟ اور یہ سوال احمدیوں سے کیوں کیا جا رہا تھا۔ خود غیر احمدی مسلمانوں نے تواتر سے یہ فتاویٰ دیئے ہیں کہ احمدی بچوں کا جنازہ پڑھنا بالکل نا جائز ہے۔ سینکڑوں میں سے صرف چند مثالیں پیش کی جاتی ہے۔ ’’فتاویٰ محمدیہ ‘‘ جو کہ مفتی عبید اللہ خان صاحب کے فتاویٰ پر مشتمل ہے اور مکتبہ قدوسیہ سے شائع ہوئی تھی ،اس کا ایک فتویٰ ملاحظہ ہو:۔
    ’’جن لوگوں نے قادیانی عورت کو مسلمان سمجھ کر اس کی نام نہاد نماز ِ جنازہ میں شرکت کی ہے اور دعائے استغفار پڑھی ہے وہ بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر شرعاََ کافر ہو گئے ہیں یعنی وہ مرتد ہیں اور ان کی بیویاں ان کے حبالہئِ عقد سے آزاد ہو چکی ہیں … ‘‘ (صفحہ123)
    اور احمدی بچوں کی نماز ِ جنازہ کے بارے میں اس کتاب میں فتویٰ ہے
    ’’جس طرح کسی بالغ قادیانی مرد کا جنازہ پڑھنا کفر ہے اور اسی طرح نا بالغ قادیانی کا جنازہ پڑھنا بھی کفر ہے … ‘‘ (صفحہ 119)
    ایک اور فتویٰ ملاحظہ ہو
    ’’… پس جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو علانیہ توبہ کرنی چاہئیے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدید ِ نکاح کرے … ‘‘
    ( فتویٰ شریعت ِ لاثانی بر عقائد ِ نبوت قادیانی ،براہمن سٹیم پریس ، ص19)
    حیرت ہے کہ جن مسالک کی طرف سے یہ فتوے دیئے گئے ہوں ،وہ احمدیوں پر اعتراض کریں کہ احمدی ان کے بالغ یا نابالغ افراد کی نماز ِ جنازہ کیوں نہیں پڑھتے؟ ہر ذی ہوش اس اعتراض کو خلاف ِ عقل قرار دے گا۔
    یہاں ذرا رک کر ایک اور پہلو سے اس الزام کا جائزہ لیتے ہیں کہ احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔بعض فرقے ایسے بھی ہیں کہ جو یہ تو کہتے ہیں کہ اپنے مذہبی مخالف کا جنازہ تو پڑھ لو مگر کس طرح؟یہ بات تو واضح ہے کہ کوئی بھی فرقہ غیر مسلم کا جنازہ نہیں پڑھتا ۔اس لئے نیچے درج کئے گئے حوالے کا اطلاق اس مسلمان کی نماز ِ جنازہ پر ہی ہو سکتا ہے جو اس فرقہ سے وابستہ نہ ہو ۔ چنانچہ شیعہ فقہ کی کتاب فروع ِ کافی کی کتاب الجنائز میں لکھا ہے کہ علی بن ابراہیم سے روایت ہے کہ اگر حق سے انکار کرنے والے کی نماز ِ جنازہ پڑھو تو یہ دعا کرو
    ’’اگر وہ حق سے انکار کرنے والا ہے تو اس کے لئے کہہ کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آگ سے بھر دے اور اس کی قبر کو بھی اور اس پر سانپ اور بچھو مسلط کر دے اور یہ ابو جعفر نے بنوامیہ کی ایک بد کار عورت کے لئے کہا جس کی نماز ِ جنازہ اس کے باپ نے ادا کی اور یہ بھی کہا کہ شیطان کو اس کا ساتھی بنا دے۔محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ اس کے لئے کہا کہ اس کی قبر میں سانپ اور بچھو بھر دے۔تو اس نے کہا کہ سانپ اس کو کاٹے گا اور بچھو اسے ڈسے گا۔ اور شیطان اس کے ساتھ اس کی قبر کا ساتھی ہو گا … ‘‘
    (فروع کافی ۔کتاب الجنائز ۔باب الصلوٰۃ علی الناصب ،ص۹۹)
    اس کے بعد بھی یہ عبارت اسی طرز پر جاری رہتی ہے۔اگر اپنے مخالف عقیدہ رکھنے والے مسلمان کا جنازہ پڑھ کر یہی دعا خدا سے مانگنی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ نماز ِ جنازہ پڑھنے کا تکلف نہ ہی کیا جائے۔اس پس منظر میں احمدیوں پر یہ اعتراض کسی طور پر بھی معقول اعتراض نہیں کہلا سکتا۔
    یہاں ذرا رک کر جائزہ لیتے ہیں کہ اس سپیشل کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ فیصلہ کرے کہ جو ختمِ نبوت کا منکر ہے اس کا اسلام میں کیا Status ہے۔بحث کا دوسرا دن جا رہا تھا اور سوالات اپنے موضوع کو چھو کر بھی نہیں گزر رہے تھے۔احمدیوںکی تعداد کتنی ہے ؟احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے ،ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے؟جب انہیں غیراحمدی علماء کے فتاویٰ سنائے گئے جس میں یہاں تک لکھا تھا کہ دوسرے فرقہ کے لوگ نہ صرف غیرمسلم بلکہ مرتد ہیں ۔ان سے سلام بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اگر ان سے شادی کر کے اولاد ہو تو وہ ولد الزنا ہو گی۔تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔جب یہ راگ الاپا گیا کہ احمدی غیر احمدی بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے تو انہیں یاد دلایاگیا کہ انہی دنوں میں احمدیوں کو شہید کیا جا رہا ہے ،ان کی قبریں اکھیڑی جا رہی ہیں ،ان کی تدفین میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں،ان کے مکانات اور دوکانیں اور فیکٹریاں نذرِ آتش کی جا رہی ہیں ،آخر یہ تو بتائیں کہ ان کے خلاف آواز کس نے اُٹھائی اور آخر کیوں نہیں اُٹھائی؟حکومت نے تو ان کے دفاع کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ بہت سے مقامات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مفسدین کی اعانت کر رہے تھے اور احمدیوں کو ہی گرفتار کر رہے تھے ۔کیا حکومت کا فرض نہیں تھا کہ ان مظالم کو روکے یا کم از کم ان کے خلاف آواز ہی اُ ٹھائے۔
    یہ ذکر دلچسپی کا باعث ہو گا کہ جب اٹارنی جنرل صاحب نے علماء کے یہ فتاویٰ سنے جن میں نہ صرف ایک دوسرے کو مرتد اور کافر ٹھہرایا گیا تھا بلکہ اس امر کی بھی سختی سے وضاحت کی گئی تھی کہ ان لوگوں سے سلام کرنا بھی ممنوع ہے اور اگر آدمی ان کے کفر پر شک بھی کرے تو خود کافر ہو جاتا ہے،تو معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کی قوتِ استدلال رخصت ہو گئی کیونکہ ان علماء کے دفاع میں انہوں نے کہا کہ
    ’’وہ کہتے ہیںکہ کسی ایک نے فتوے دیئے الیکشن کے زور میں۔یا کسی ایک نے
    ‏ Who take it seriously۔‘‘
    اس غیر مربوط وضاحت سے یہ لگتا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ یہ فتوے صرف الیکشن کے دوران دیئے گئے تھے ۔ حالانکہ اس قسم کے فتاویٰ کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب ابھی الیکشنوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا اور الیکشن کے دنوں میں ہر قسم کے اَنٹ شَنٹ فتاویٰ دینے کی کھلی آزادی تو نہیں ہو جاتی۔اس لایعنی جواب کو سن کر حضور نے انہیں یاد دلایا :۔
    ’’ یہ فتاویٰ رشیدیہ الیکشن سے کہیں پہلے کے ہیں‘‘
    اس پر شاید اٹارنی جنرل صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے کہا
    ’’ نہیں میں بات کرتا ہوں ،مثال کے طور پر‘‘
    اس صورت حال کے بارے میں پڑھنے والے اپنی رائے خود قائم کر سکتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا کہ مَیں ایک طویل عرصہ پرنسپل رہا ہوں اور نہ صرف غیر از جماعت طلباء کو وظائف دیئے جاتے تھے بلکہ ان طلباء کو بھی وظائف دیئے جاتے تھے جو کہ جماعت ِ احمدیہ کے خلاف جلوسوں میں شامل ہوتے تھے۔ اس پر یحییٰ بختیار صاحب نے فرمایا کہ وہ تو Humanity ہے جو کہ ہندو ،یہودی اور عیسائی طلباء سے بھی دکھائی جاتی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ’’ اور وہ Humanity کہاں گئی جنہوں نے سینکڑوں مکانوں اور دوکانوں کو جلا دیا … اور آدمیوں کو مار دیا‘‘
    یحییٰ بختیار صاحب :ان کو کوئیdefendنہیں کرتا
    حضور: کس نے آواز اُٹھائی
    یحییٰ بختیار صاحب: نہیں جی ، کوئی نہیں
    حضور: ان کے خلاف آواز کس نے اُ ٹھائی ؟
    یحییٰ بختیار صاحب:Nobody is defending them
    حضور:But nobody condemned them
    یحییٰ بختیارصاحب: Nobody condemned the Rabwah incident
    حضور: What was Rabwah incident?
    یحییٰ بختیار صاحب :All right so we don't go to that
    حضور : نہیں تیرہ بچوں کو ضربات ِ خفیفہ ۔کیا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سینکڑوں مکانوں اور دوکانوں کو جلا دیا۔
    یحییٰ بختیار: نہیں جی بالکل نہیںI agree with you they should be punishedاس کا سوال نہیں ہے۔
    اس مرحلہ پر ہونے والی گفتگو درج کردی گئی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب میں حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔وہ یہ فرما رہے تھے کہ ربوہ کے سٹیشن کے واقعہ کی کسی نے مذمت نہیں کی تھی۔ بالکل خلاف ِ واقعہ بیان تھا۔ جہاں تک جماعت ِ احمدیہ کا تعلق ہے تو اس واقعہ سے اگلے خطبہ جمعہ میں ہی حضور نے اس کی مذمت فرمائی تھی اور ان نوجوانوں کی حرکت کو خلافِ ِ تعلیمات ِ سلسلہ قرار دیا تھا اور پورے ملک کے سیاستدانوں اور مولویوں نے تو اس واقعہ کو مبالغہ کی انتہا کرتے ہوئے بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا اور جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ہر قسم کی زہر فشانی کی تھی۔اخبارات ان بیانات سے بھرے پڑے تھے اور ان حقائق کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب فرما رہے تھے کہ ربوہ میں ہونے والے واقعہ کو کسی نے Condemn ہی نہیں کیا اور جیسا کہ حضور نے فرمایا کہ کیا تیرہ لڑکوں کو لگنے والی خفیف ضربوں کا یہ نتیجہ نکلنا چاہئیے تھا کہ کئی احمدیوں کو شہید کر دیا جائے، سینکڑوں مکانوں اور دوکانوں کو لوٹ لیا جائے یا جلا دیا جائے۔
    پہلے یہ طے ہو چکا تھا کہ جو بھی سوال کرنے ہوں وہ یا تو پہلے اٹارنی جنرل یا سوالات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے سپرد کئے جائیں گے یا پھر دورانِ کارروائی کاغذ پر لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کے حوالہ کئے جائیں گے تا کہ وہ یہ سوال کریں لیکن اس مرحلہ پر جماعت کے مخالف مذہبی جماعتوں کے لیے یہ صورتِ حال برداشت سے باہر ہو رہی تھی کیونکہ کارروائی کی نہج ان کی امیدوں کے برعکس جا رہی تھی۔ وہ یہ سوال اُ ٹھا رہے تھے کہ احمدی غیر احمدیوں کی نماز ِ جنازہ کیوں نہیں پڑھتے یا ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے لیکن اب ایسے حوالے سامنے پیش کئے جا رہے تھے جن سے ہوتا واضح طور پر یہ معلوم ہو تا تھا کہ اعتراض کرنے والے ممبران ِ اسمبلی جن مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے تھے ان کے علماء نے ایک دوسرے کو کافر مرتد اور بے دین قرار دیا ہے۔اور ان کے ساتھ نکاح کرنے یا ان کے پیچھے نماز پڑھنے یا ان کا جنازہ پڑھنے سے سختی سے منع کیا ہے اور اس سیشن کے آخر میں جب آئینہ دیکھنا پڑا کہ پورے ملک میں اس وقت احمدیوں کو شہید کیا جا رہا تھا، ان پر ہر قسم کے مظالم کئے جا رہے تھے تو یہ صورت ِ حال جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کے لئے نا قابل ِ برداشت ہو گئی ۔ان کو نظر آرہا تھا کہ وہ دلائل سے کامیابی نہیں حاصل کر سکتے۔ وہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ احمدیوں پر ہونے والے مظالم اس طرح سامنے آئیں ۔آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
    سب سے پہلے چوہدری جہانگیر علی صاحب کھڑے ہوئے اور کہا:۔
    ‏Mr. Chairman Sir, may I draw your attention? No discussion should take place between question and their answers.
    اس مبہم جملے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب اب گبھراہٹ محسوس کر رہے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ مزید چلے۔ غالباََ اٹارنی جنرل صاحب بھی منتظر تھے کہ کوئی مداخلت کر کے سوال و جواب کے سلسلے کو روکے۔ انہوں نے فوراََ کہا: ۔
    ‏Shall we adjourn?
    یعنی کیا ہم کار روائی کو روک دیں؟
    سپیکر صاحب نے فرمایا
    ‏Yes. we adjourn to meet again at 12
    یعنی ہم وقفہ کر دیتے ہیں اور بارہ بجے کارروائی دوبارہ شروع ہو گی۔پھر جماعت کا وفد رخصت ہوا۔اس کے بعد کئی ممبرانِ اسمبلی کے شکووں کا سلسلہ شروع ہوا۔
    جماعت ِ اسلامی کے پروفیسر غفور صاحب کھڑے ہوئے اور یہ اعتراض کیا کہ یہ (یعنی جماعت کا وفد) سوالات کو Avoid کرتے ہیں اور Side Track کرتے ہیں۔جب کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو بہت سے پوائنٹ(Point) بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جب کوئی سوال اُ ٹھتا تھا تو جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ اپنا موقف بیان فرماتے تھے ۔کسی ایک مقام پر بھی غیر متعلقہ بات نہیں پیش کی گئی تھی۔اگر یہ سوال اُ ٹھایا جائے اور بار بار اُٹھایا جائے کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ ان کی نمازِ جنازہ کیوں نہیں پڑھتے احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں؟ تو اگر اس کے جواب میں غیر احمدی علماء کے فتاویٰ جو ان فرقوں سے تعلق رکھتے تھے جن سے تعلق رکھنے والے ممبران یہ اعتراضات اُٹھا رہے تھے،پیش کیے جائیں جنہوں نے دوسرے فرقوں کو مسلمان سمجھنے پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا ہے ان کے ساتھ شادی کرنا تو درکنار ان سے سلام کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کو قطعاََ حرام قرار دیا ہے۔دوسرے فرقہ سے شادی کو زنا قرار دیا ہے،کوئی بھی ذی ہوش اس بیان کو غیر متعلقہ نہیں قرار دے سکتا۔
    سوال یہ اُ ٹھتا ہے کہ اس پس منظر میں احمدیوں پر اعتراض ایک بے معنی بات نظر آتی ہے۔ موضوع کے مطابق حوالہ جات پیش کئے جارہے تھے۔ان کو کسی طرح بھی Avoid کرنا اور Side Track کرنا نہیں کہا جا سکتا۔یہ تلملاہٹ اس لئے ظاہر ہو رہی تھی کہ ان علماء کو اور دوسرے ممبران کو آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ہاں یہ سوال ضرور اُ ٹھتا ہے کہ اصل موضوع سے گریزکیا جا رہا تھا جب کہ ممبران محضر نامہ پڑھ چکے تھے تو یہ ہمت کیوں نہیںہو رہی تھی کہ زیر بحث موضوع کے متعلق سوالات کیے جائیں ۔اٹارنی جنرل صاحب اور ممبرانِ اسمبلی خود اصل موضوع کو Avoid اور Side track کر رہے تھے۔اس کے بعد پروفیسر غفور صاحب نے اپنی بات کے حق میں کوئی دلیل پیش کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈنمارک کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے ۔کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا اور عجلت میں پروفیسر غفور صاحب یہاں تک کہہ گئے۔
    ’’ڈنمارک کا واقعہ مجھے معلوم ہے کہ بالکل غلط ہے۔‘‘
    حقیقت یہ ہے کہ حضور نے یہ بیان فرمایا تھا کہ ڈنمارک میں ایک مسلمان کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ اس موقع پر سوائے احمدیوں کے کوئی اور جنازہ پڑھنے والا موجود نہیں تھا لیکن احمدیوں نے غلطی کی اور اس صورت ِ حال میں یہ جنازہ نہیں پڑھا۔ جب حضور کے علم میں یہ واقعہ آیا تو اس پر حضور نے اظہار ِ ناراضگی فرمایا کہ اس خاص صورت میں یہ جنازہ پڑھنا چاہئیے تھا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ پروفیسر غفور صاحب کو کیسے یہ علم ہو سکتا ہے کہ حضور نے کب ،کس احمدی سے اظہار ِ ناراضگی فرمایا کہ نہیں۔ عقل ان کے اس دعوے کو قبول نہیں کر سکتی۔
    پروفیسر غفور صاحب اپنی بات کے حق میں وہ یہ دلیل لائے کہ ڈنمارک میں احمدیوں کی نسبت دوسرے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے بلکہ وہ تو جوش میں یہ کہہ گئے کہ ڈنمارک میں دوسرے مسلمان بے حساب تعداد میں ہیں۔اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ نہ یہ بیان کیا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے یہ سوال اُ ٹھایا تھا کہ یہ واقعہ کب ہوا تھا ،کہاں پر ہوا تھا یا اس کی دیگر تفصیلات کیا تھیں۔یہ سب کچھ جانے بغیر وہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تھا ۔کیا ڈنمارک میں ہونے والا ہر واقعہ ان کے علم میں آتا تھا اور یہ بھی کوئی دلیل نہیں کہ ڈنمارک میں غیراحمدی مسلمانوں کی تعداد احمدیوں سے زیادہ ہے۔ڈنمارک میں اب بھی احمدیوں اور غیر احمدی مسلمانوں دونوں کی تعداد بہت کم ہے اور کئی مقامات پر ان میں سے کوئی بھی نہیں رہتا اور ایسا واقعہ ہونا کسی طور پر بھی نا ممکن نہیں کہلا سکتا۔اس پر اٹارنی جنرل نے پروفیسر غفور صاحب کی اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کے سوالات کو Avoid کیا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مرحلہ پر اس وفد کو کچھ کہنے سے روکا گیا تو انہیں یہ عذر مل جائے گا کہ اسمبلی نے ان کو صحیح طرح سنا ہی نہیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے بھی فوراََ کہا
    ‏Again and again he avoided the reply because he has got no reply.
    پڑھنے والے خود یہ بات محسوس کر سکتے ہیں کہ خود اٹارنی جنرل صاحب اور سپیشل کمیٹی کے اراکین سپیشل کمیٹی کے سامنے پیش کئے گئے اصل موضوع پر آنے سے کترا رہے تھے ۔اور غیر متعلقہ سوالات کر کے وقت گزار رہے تھے۔جو سوالات پوچھے گئے تھے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ان کے بارے میں جماعت کا موقف بیان فرمایا تھالیکن اگر اس قسم کے ناقابلِ فہم سوال جماعت کے وفد سے کئے جائیں کہ جب دوسرے فرقوں کے علماء نے ایک دوسرے کو کافر اور مرتد قرار دیا تو اس کا کیا مطلب تھا؟ تو ظاہر ہے کہ جماعت کا وفد اس کا جواب کیسے دے سکتا ہے۔ جن مسالک کی طرف سے یہ فتاویٰ جاری ہوئے تھے ،ان کے جید علماء سامنے بیٹھے تھے،ان سے دریافت کرنا چاہئیے تھا۔
    ایک اور ممبر مولوی نعمت اللہ صاحب نے یہ سوال اُ ٹھایا کہ اس بات کا صحیح جواب نہیں دیا گیا کہ چوہدری ظفراللہ خان نے قائدِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔یہ بات بھی قابلِ حیرت ہے کہ آج مولویوں کے گروہ کی طرف سے یہ سوال اُ ٹھایا جا رہا تھا کہ کتنا بڑا ظلم ہو گیا کہ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے قائد ِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا ۔انہی مولویوں نے تو قائد ِ اعظم کو کافرِ اعظم کا نام دیا تھا اور جب عدالتی تحقیقات میں ان سے اس بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ آج تک اپنے خیالات پر قائم ہیں(۵۶)۔اس اسمبلی میں جماعت ِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے چند ممبران بھی موجود تھے کیا وہ بھول گئے تھے کہ ان کے راہبر اور ان کی پارٹی کے بانی نے کس دھڑلے سے لکھا تھا :۔
    ’’مگر افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرزِ فکر رکھتا ہواور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔ یہ لوگ مسلمان کے معنی و مفہوم اور اس کی مخصوص حیثیت کو بالکل نہیں جانتے۔‘‘ (۵۷)
    گویا قائد ِ اعظم کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مسلمان لفظ کا مفہوم ہے کیا اور اب ان کو یہ فکر بہت تھی کہ قائد ِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت جماعت ِ احمدیہ پر اعتراض کرنے میں پروفیسر غفور صاحب پیش پیش تھے اور انہوں نے خود بیان دیا تھا کہ انہوں نے اور ان کی جماعت کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے قائد ِ اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ یہ ضروری نہیں تھا۔ (روزنامہ مساوات 27؍فروری1978ئ) اور آج یہ اعتراض اُٹھایا جا رہا تھا کہ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے قائد ِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تھا؟
    اور یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ احمدیوں پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے شبیر عثمانی صاحب کی اقتداء میں قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ کیوں نہیں ادا کی؟ یہ امر کس طرح فراموش کیا جا سکتا ہے کہ شبیرعثمانی صاحب نے نہ صرف یہ اعلان کیا تھا کہ احمدی مرتد ہیں بلکہ اس وجہ سے احمدیوں کے واجب القتل ہونے کا تحریر ی فتویٰ بھی دیا تھا اور اس امر کا ذکر ۱۹۵۳ء میں فسادات پر ہونے والی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ میں بھی ہے لیکن شبیر عثمانی صاحب پر کوئی اعتراض نہیں اگر اعتراض ہے تو احمدیوں پر ہے جنہوں نے ان کی اقتدا میں نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اس موضوع پر گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کے قائدِ اعظم کے جنازہ میں شامل نہ ہونے کے بارے میں الفضل 28؍اکتوبر 1952ء کی اشاعت میں یہ explanation شائع ہوئی تھی۔
    ’’ابو طالب بھی قائد ِ اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے مگر نہ مسلمانوں نے ان کا جنازہ پڑھا نہ رسولِ خدا ﷺ نے‘‘
    حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ الفضل کی اس اشاعت کے صفحہ 4پر موجود ہے اور اٹارنی جنرل صاحب بالکل غلط کہہ رہے تھے کہ یہاں پر اس بات کی explanation دی گئی ہے کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے قائد ِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ یہاں اس موضوع کا کوئی ذکر نہیں۔ مذکورہ تحریر میں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ پاکستان میں کچھ لوگ قائد ِ اعظم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ کے متعلق کافرِ اعظم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اگر انہیں روکا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے قائدِ اعظم کا جنازہ پڑھ دیا تھا لہٰذا ہماری وفاداری رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔پھر یہ لکھا ہے کہ کیا جنازہ پڑھ لینا اور بعد میں گند اچھالنا اور برا بھلا کہتے رہنا کیا یہ محبت کی علامت ؟اس کے بعد وہ جملہ درج ہے جس کا حوالہ اٹارنی جنرل صاحب پڑھ رہے ۔ایک مرتبہ پھر اٹارنی جنرل صاحب حوالے کے بارے میں غلط بیانی کر رہے تھے۔
    معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے علماء کے جو چند فتوے پڑھ کر سنائے تھے وہ اسمبلی میں موجود مولوی حضرات کے لئے خاص طور پر پریشانی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ان فتاویٰ سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ وغیرہ کثیر تعداد میںایک دوسرے پر کفر کے فتاویٰ لگاتے رہے ہیں اور اس بات کو حرام قرار دیتے رہے ہیں کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھی جائے یا دوسرے مسلک سے وابستہ افراد سے شادی کی جائے۔حتیٰ کہ ایک دوسرے سے میل جول کو بھی حرام قرار دیا گیا تھا۔مفتی محمود صاحب نے ان الفاظ میںاپنی پریشانی کا اظہار کیا ’’ … اس کے بعد انہوں نے مختلف عبارتیں پڑھیں اور مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان میں جو تکفیر کا مسئلہ تھا وہ ساری عبارتیں پڑھتا گیا۔وہ بالکل سوال سے متعلق بات نہیں تھی تو وہ جو سوال سے بالکل غیر متعلق بات کہے روکنا چاہیے … ‘‘ ایک اور مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے کہا
    ’’ علماء ِ دیوبند پر جھوٹے الزامات لگے … ‘‘
    حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت یہ بحث ہو رہی تھی کہ اُمّت مسلمہ کی تاریخ میں کفر کا لفظ یا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ کن کن معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔اور اس کی مثالیں سپیشل کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تھیں۔یہ غیر متعلقہ کس طر ح ہو گئیں۔اور غلام غوث ہزاروی صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ یہ کفر کے فتاویٰ علماء نے نہیں دیئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ فتاویٰ محضر نامہ میں بھی شامل تھے اور ان کے ساتھ مکمل حوالے بھی دے دیئے گئے تھے ۔اگر کوئی حوالہ غلط تھا تو ممبران جو جج بن کر بیٹھے تھے یہ سوال اُ ٹھا سکتے تھے لیکن کس طرح اُٹھاتے اس طرح کے فتوے دینا تو علماء کا معمول تھا۔آج تک یہ سارے حضرات مل کر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اس وقت جو کفر کے فتاویٰ پڑھے گئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی غلط تھااور نہ ہی محضرنامہ میں درج کفر کے فتاویٰ کے بارے میں کبھی کوئی ثبوت دیا گیا کہ یہ صحیح نہیں تھے،اگر آج بھی کسی کو شک ہے تو ان کے حوالے چیک کر کے حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔
    جب کچھ ممبران کی طرف سے بار بار اس بات کا اظہار کیا گیا کہ فلاں فلاں سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔تو سپیکر کو ان باتوں کی تصحیح کرنی پڑی۔چنانچہ جب مولوی نعمت اللہ صاحب نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ قائد اعظم کے جنازے کے بارے میں سوال کا جواب نہیں دیا گیا تو سپیکر نے انہیں یاد کرایا کہ اس کا جواب آگیا ہے۔ اسی طرح کا سوال جب مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب کی طرف سے اُٹھایا گیا تو ان کو بھی سپیکر صاحب نے یاد کرایا کہ اس سوال کا جواب آچکا ہے۔
    اس موقع پر ایک ممبر عبد الحمید جتوئی صاحب نے جو کہاہم اُسے من و عن درج کر دیتے ہیں۔
    ’’جناب ِ چیئر مین ! ہمیں کل سے پتہ لگا ہے کہ ہم اس ہاؤس میں جج بنے ہیں اور ہم فیصلہ کریں گے۔میں سمجھتا ہوں ہماری پوزیشن وہی ہے جیسے کہ کسی نان ایڈووکیٹ کو ہائی کورٹ کا جج بنا دیا جائے اور وہ فتویٰ دے اس جج کا جو فتویٰ ہے جج کی حیثیت سے … میری تو عرض یہ ہے کہ یا تو ہم اسلام کے ماہر ہوں ،اسلامیات پڑھے ہوں یا پروفیسر ہوں اسلامیات کے تو پھر ہم سے فتویٰ کی امید رکھی جا سکتی ہے۔لیکن ایسے حالات میں ہمارے لئے as a lay man بڑا مشکل ہے کہ ہم جج بنیں ‘‘
    سپیکر: آپ نے فتویٰ نہیں دینا آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔
    عبدالحمید جتوئی صاحب: فیصلہ کرنا ہے؟
    سپیکر: فیصلہ کرنا ہے۔
    عبد الحمید جتوئی صاحب : فیصلہ کرنے کا اس آدمی کو کیسے حق آپ دیتے ہیں جس کو فیصلہ کے قانون کا پتہ نہ ہو؟ انتہائی زیادتی ہے ہمارے ساتھ۔
    سپیکر: پھر بعد میں فیصلہ کریں گے۔
    اس کے بعد 12 بجے تک کے لئے اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
    اس اظہار ِ رائے سے اندازہ ہوتا تھا کہ جس طرز پر کارروائی جاری تھی اس پر اندر سے خود کئی ممبران کا ضمیر مطمئن نہیں تھا۔وہ جانتے تھے کہ اسمبلی اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔سپیکر یہ کہہ کر بات کو ٹال گئے کہ اس مسئلہ پر پھر بات کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ پر پھر کبھی بات نہیں کی گئی۔
    12بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ قبل ازیں غیر احمدی علماء کے جو فتاویٰ پڑھے گئے تھے ان کا کئی ممبران کے دل پر کیا اثر تھا اس کا اندازہ ایک اور ممبر چوہدر ی غلام رسول تارڑ صاحب کے اس تبصرہ سے ہوتا ہے جو انہوں نے سپیکر اسمبلی کو مخاطب کر کے کیا۔انہوںنے کہا کہ جو فتوے یہاں مرزا صاحب نے پڑھے ہیں ، ان کا اچھا اثر نہیں ہو گا۔ اگر کسی ممبر یا مولانا صاحب کے پاس ان کی تردید ہو تو وہ دے دیں۔عبدالعزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ مفتی محمود صاحب نے کہا ہے کہ تردید ہوئی ہے اور ان کی Citations بھی دی ہیں۔جب اٹارنی جنرل صاحب مناسب سمجھیں گے تو ان کے بارے میں سوال پوچھ لیں گے لیکن اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے ان کی تردید کا سوال نہیں اُٹھایا ۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان فتاویٰ کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں تھا اور نہ ہی ان کی کبھی کوئی تردید ہوئی تھی۔اگر مذکورہ فتاویٰ دینے والوں نے کبھی ان کی کوئی تردید کی تھی تو چاہئیے کہ اب بھی ان کو پیش کیا جائے تاکہ ان مولوی حضرات پر لگا ہوا یہ الزام دور ہو۔
    یہ فتوے تو علماء کئی صدیوں سے دوسرے فرقوں کے خلاف دیتے آرہے تھے ۔اگر ان کو تسلیم کر کے پاکستان کے آئین میں ترمیم کی جاتی تو پاکستان میں مسلمان دیکھنے کو نہ ملتا۔یہ کوئی ایک مثال تو نہیں تھی کہ تردید ہوجاتی ۔ایسے فتوے تو سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آخر تک اٹارنی جنرل صاحب نے اس تردید کو منظر ِ عام پر لانے کی ضرورت محسوس نہ کی جو مفتی محمود صاحب کے سینے میں ہی دفن رہی۔
    اس سیشن کے آغاز میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بارپھر یہ سوال اُٹھایا کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے قائد ِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تھا؟ اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جو کہ انہوں نے 1953ء کی تحقیقاتی عدالت میں دیا تھا اور وہ یہ تھا کہ ’’قائد ِ اعظم کا جنازہ شبیر احمد عثمانی صاحب نے پڑھایا تھا اور وہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کو احمدی ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھتے تھے ۔ اس وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ؒ نے ان کی اقتداء میں نماز ِ جنازہ نہیں پڑھی۔ ‘‘ اس کے بعد پھر کفر و اسلام ، دائرہ اسلام سے خارج کون ہے ؟ اور ملت ِ اسلامیہ کا فرد کون ہے؟ جیسے موضوعات پر پرانی بحث کا اعادہ ہوا۔
    شام چھ بجے تک جو کارروائی ہوئی اس کے متعلق جیسا کہ بعد میں سپیکر صاحب نے کہا کہ جنرل اگزامینیشن ختم ہو گیا ہے اور حوالہ جات دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ یہ ایک نہایت اہم مرحلہ کا آغاز ہو رہا تھا لیکن اس مرحلہ پر پہنچ کر اٹارنی جنرل صاحب نے جوسوالات کیے یا یوں کہنا چاہئے کہ ممبران میں سے جو جماعت کے مخالف مولوی حضرات تھے انہوں نے جو سوالات انہیں لکھ کر دیئے تا کہ وہ یہ سوالات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے سامنے رکھیں،ان کے حوالہ جات میں عجیب افراتفری کا عالم تھا۔جماعت ِ احمدیہ کے وفد کو تو یہ علم نہیں تھا کہ کیا سوالات کیے جائیں گے ۔دوسرا فریق سوالات کر رہا تھا۔ یہ ایک مسلّمہ اصول ہے کہ اگر سوال کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ پیش کرے تو یہ اس کا فرض ہے کہ وہ کتاب کا صحیح نام ،مصنف کا نام صفحہ نمبر اور مطبع خانہ کا نام سنِ اشاعت وغیرہ بتائے تا کہ جواب دینے والا اصل حوالہ دیکھ کر جواب دے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی حضرات نے اس تاریخی کارروائی کے لیے بنیادی تیاری کا تکلّف بھی نہیں کیا تھا۔بعض مرتبہ تو متعلقہ بحث کے لیے ان کے پاس بنیادی معلومات بھی نہیں مہیا ہوتی تھیں۔ پہلے تو جب حضور نے آیت ِ کریمہ کا یہ ٹکڑا پڑھا(البقرۃ:۲۸۶) تو اٹارنی جنرل صاحب کو یہ مغالطہ ہو گیا کہ یہ صرف شرعی نبیوں کے بارے میں ہے۔حالانکہ اس آیت میں کہیں پر صرف شرعی نبیوں کا ذکر نہیں ہے بلکہ سورۃ بقرۃ میں اس مضمون کی جو دوسری آیت یعنی آیت نمبر ۱۳۷ ہے اس میں اس مضمون کے بیان سے قبل حضرت اسحقؑ،حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت یعقوبؑ جیسے غیر شرعی نبیوں کا ذکر بھی ہے۔بہر حال پھر بحث شروع ہوئی کہ کون ملت ِ اسلامیہ میں رہتا ہے اور کون اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کسی ممبر کی طرف سے کیا گیا سوال اُ ٹھایا کہ’’ مرزا غلام احمد صاحب نے عبد الحکیم کو جو پہلے مرزا غلام احمد کا مرید تھا۔پھر اس سے شدید اختلاف کیا۔یا اس کی حیثیت نبوی ماننے سے انکار کیا تو مرزا غلام احمد نے اسے مرتد قرار دیا؟ (حقیقۃ الوحی صفحہ۱۶۳)۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے نے سطحی معلومات بھی حاصل کیے بغیر حوالہ دے کر سوال کردیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم نے اس عقیدہ کا اظہار کیا تھا کہ نجات کے لیے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں جب کہ جماعت ِ احمدیہ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لائے بغیر نہ تو نجات حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کوئی روحانی مدارج حاصل ہو سکتے ہیں۔چونکہ اس کا یہ عقیدہ جماعت احمدیہ کے بنیادی عقیدہ سے ہی مختلف تھا اس لیے حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کا اخراج فرمایا تھااور اس معاملہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا اور حقیقۃ الوحی کے جس مقام کا حوالہ دیا جا رہا تھا وہاں پر عبد الحکیم کے اخراج کا ذکر نہیںتھا ایک بالکل اور مضمون بیان ہو رہا تھا۔البتہ عبدالحکیم کو لکھے گئے ایک خط کا ذکر تھا۔
    اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد الحکیم کے ارتدادکی جو وجہ تحریر فرمائی تھی وہ یہ تھی:
    ’’وہ امر لکھنے کے لائق ہے جس کی وجہ سے عبد الحکیم خان ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات ِ اخروی حاصل کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو واحد لا شریک جانتا ہے (گو آنحضرت ﷺ کامکذب ہے) وہ نجا ت پائے گا۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی۔ رو حانی خزائن جلد۲۲ ص۱۱۲)
    معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ تک اٹارنی جنرل صاحب کا ذہن اس کشمکش میں تھا کہ مولویوں کے ایک دوسرے پر جو کفر کے فتاویٰ جو پڑھے گئے ہیں ، ان کے اثر کو زائل کرنے کی کوئی صورت نکالی جائے۔چنانچہ انہوں نے اس کے لئے ایک نہایت عجیب راستہ ڈھونڈا۔پہلے انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ جیسا کہ آپ کہتے ہیں ان علماء نے پہلے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے اور پھر جنوری 53ء میں اس کے باوجود انہوں نے متفقہ طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا ۔یہ منظر کشی کرنے کے بعد یحییٰ بختیار صاحب نے حضور سے دریافت فرمایا
    ’’ … وہ کیوں اکٹھے ہوئے؟ … ‘‘
    یہ حصہ پڑھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ یہ سوال جماعت احمدیہ کے وفد سے کیوں کر رہے تھے۔جماعت ِ احمدیہ کا وفد اس بات کے لئے جوابدہ نہیں تھا کہ کیوں ان کے مخالف مولوی حضرات کبھی ایک دوسرے پر کفر اور ارتدادکے فتوے لگاتے ہیں اور پھر مل کر احمدیوں کے خلاف فتوے دینے لگ جاتے ہیں۔اس عجیب سوال کا جواب جماعت ِ احمدیہ کا وفد کیا دے سکتا تھا ؟یہ سوال تو ان مولوی حضرات سے ہونا چاہئیے تھا جو کہ سامنے بیٹھے تھے۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا:۔
    ’’یہ سوال جو مجھ سے کر رہے ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی وجہ سوچوں اپنے دماغ سے؟‘‘اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر یہ عجیب سوال ان الفاظ میں دہرایا۔
    ’’آپس میں تو انہوں نے ایک دوسرے کو کافر کہہ دیا مگر اکٹھے ہو کے صرف آپ کو انہوں نے غیر مسلم قرار دیا۔‘‘
    اس پر حضور نے فرمایا’’ اس کی وجہ موجود ہے ۔ میں حوالہ نکالتا ہوں ۔ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم صاحب نے، یہ حوالہ ان کا ہے۔انہوں نے لکھا ہے۔
    ’’پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک ملائِ اعظم اور عالمِ مقتدر سے جوکچھ عرصہ ہو ابہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعدہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا۔انہوں نے فتویٰ دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ ایک اور فرقے کے متعلق پوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں ۔فرمایا وہ سب واجب القتل ہیں۔ یہی عالم ان تیس بتیس علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقہ کو تسلیم کر لیا جائے سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ہیں تو وہ بھی واجب القتل مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں۔ موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔انہیں میں سے ایک دوسرے سربراہ عالم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقہ کے خلاف شروع کیا ہے۔اس میں کامیابی کے بعد انشا ء اللہ دوسروں کی خبر لی جائے گی۔‘‘
    (اقبال اور ملّا ، مصنفہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ، ص 19، ناشر بزم اقبال لاہور)
    واضح رہے کہ مصنف کوئی احمدی نہیں تھا بلکہ کتاب کا سرسری مطالعہ ہی یہ واضح کر دیتا ہے کہ مصنف جماعت ِ احمدیہ کے عقائد سے شدید اختلاف رکھتا تھا لیکن ملا کے عزائم کوئی ایسے ڈھکے چھپے نہیں تھے کہ ملک کے پڑھے لکھے لوگوں کو اس کی خبر ہی نہ ہو۔جس طرح اب وطنِ عزیز میں مسلمانوں کو واجب القتل قرار دے کر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور جس طرح تنگ نظر طبقہ ہر ذریعہ استعمال کر کے ملک کے کسی نہ کسی حصہ پر اپنا تسلط جمانا چاہ رہا ہے اس سے یہ صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ خیالات محض وہم نہیں تھے۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ’’مرزا غلام احمد نے آئینہ صداقت میں۔یہ ان کی تصنیف ہے؟‘‘اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تصنیف کا نام آئینہ صداقت نہیں ہے تو پھر یحییٰ بختیار صاحب نے کچھ بے یقینی کے عالم میں کہا کہ پھر مرزا بشیر الدین کی ہوگی۔یہ عجیب غیر ذمہ داری ہے کہ آپ خود ایک کتاب کا حوالہ پیش کر رہے ہیں اور اس کے مصنف کا نام تک آپ کو معلوم نہیں اور کبھی ایک نام لیتے ہیں اور کبھی دوسرا نام لیتے ہیں اور یقین سے کہہ نہیں سکتے کہ کس کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔اس طرح سے تو کوئی سنجیدہ کارروائی یا بحث نہیں ہو سکتی اور نہ اس قسم کے انداز کو کوئی قابلِ توجہ سمجھ سکتا ہے۔
    پھر انہوں نے کسی کتاب نہجِ مصلّیٰ کا حوالہ پڑھنے کی کوشش کی جس کا انہیں خود علم نہیں تھا کہ کس کی لکھی ہوئی ہے اور یقیناََ کتب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور خلفاء یا سلسلہ کے کسی جانے پہچانے مصنف کی تحریر کردہ کتب میں اس نام کی کوئی کتاب نہیں۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے دریافت فرمایا کہ یہ کس کی لکھی ہوئی ہے تو اٹارنی جنرل صاحب نے اس کے جواب میں بجائے مصنف کا نام بتانے کے، کہا’’سوال کرنے والے نے کہا ہے کہ مرزاصاحب نے یہ کہا ہے اور یہ کتاب جو ہے … ‘‘ اس کے بعد اور بات شروع ہو گئی اور حضرت خلیفۃ المسیح نے واضح فرمایا کہ یہ کتاب (جس کے مصنف کا نام بھی بتایا نہیں جا رہا تھا )ہمارے لیے اتھارٹی نہیں ہو سکتی۔یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں ایک کتاب کے حوالے کو بطور دلیل پیش کر رہے تھے اور انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کس کی تصنیف ہے اور اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ کتاب ان کے پاس نہیں تھی ورنہ اس کو دیکھ کر مصنف کا نام بتا دیتے ۔یہ شواہد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس موقع پر ایک جعلی حوالہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
    یحییٰ بختیار صاحب بہر حال وکیل تھے ۔وہ جانتے تھے کہ اوپر تلے کی غلطیوں نے ان کی پوزیش کمزور کر دی ہے۔اب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو کتب کے حوالہ جات پیش کیے تا کہ اپنی طرف سے ایک مضبوط دلیل پیش کی جائے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۳۸۲ کے حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے ’’پھر دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بالکل ترک کرنا پڑے گا۔‘‘ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تحفہ گولڑویہ کے تو ۳۸۲ صفحات ہی نہیں ہیں۔نہ معلوم اٹارنی جنرل صاحب نے اس کتاب کے صفحہ نمبر382کا حوالہ کیسے دریافت کر لیا۔البتہ اس کتاب کے ایک مقام پر جو اس قسم کا فقرہ آتا ہے وہاں پر یہ بحث ہی نہیں ہو رہی کہ کس کو مسلمان کہلانے کا حق ہے کہ نہیں ،وہاں تو یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ احمدیوں کا امام احمدیوں میں ہی سے ہونا چاہئے ۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکذّبین کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔
    یہاں پر یہ دلچسپ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو انہوںنے کہا کہ یحییٰ بختیار صاحب نے کتابیں پڑھ کر سوال کئے تھے اور اس ضمن میں انہوں نے خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کا نام لیا کہ یحییٰ بختیار صاحب نے اس کتاب کو پڑھ کر سوال اُ ٹھائے تھے۔اس سے سوالات کرنے والوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کتاب کا ہی نام لیا جا رہا ہے کہ اس کو پڑھ کر سوال کئے گئے تھے اور اس کا جو ایک ہی حوالہ پڑھا گیا وہ بھی غلط نکلا۔
    پھر اس کے بعد یہ دلیل لائے کہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۱۸۵ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ’’کفر کی دو قسمیں ہیں ایک آنحضرت سے انکار، دوسرے مسیح موعود سے انکار ۔دونوں کا نتیجہ و ماحصل ایک ہے۔‘‘یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب صحیح الفاظ پڑھنے کی بجائے کوئی اور الفاظ پڑھ رہے تھے اور یہ دیانتدارانہ طریق نہیں تھا۔وہ نہ صرف عبارت صحیح نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ نامکمل پڑھ رہے تھے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ’’کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں یہ کہا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں ایک آنحضرت کا انکار اور دوسرے مسیح موعود کا انکار۔دونوں کا نتیجہ و ماحصل ایک ہے۔‘‘چونکہ اٹارنی جنرل صاحب معین الفاظ نہیں پڑھ رہے تھے اور عبارت مکمل بھی نہیں پڑ ھ رہے تھے اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا’’کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا۔‘‘اس پر انہوں نے حوالہ پڑھا حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸۵۔اس پر حضور نے فرمایا ’’جو الفاظ اصل تھے چھوڑ گئے ۔اس لئے میں کہتا ہوںکہ کسی کتاب میں نہیں لکھا۔‘‘اس پر اٹارنی جنرل صاحب بس اتنا ہی کہہ سکے ’’وہ توverifyکرلیں گے۔‘‘ اور پھر یہ عجیب و غریب جملہ ادا فرمایا،’’پوزیشن clarifyکرنی ہے۔یہ پڑھیں یا وہ پڑھیں۔‘‘
    اب پڑھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کوئی معقول جواب نہیں تھا۔یہ اعتراض کرنے والے کا کام ہوتا ہے کہ وہ اصل حوالہ اور صحیح عبارت پیش کرے نہ کہ اعتراض کرنے کے بعد حوالہ تلاش کرتا رہے۔یا غلط حوالہ پکڑے جانے پر یہ کہے کہ اس سے فرق کیا پڑتا ہے۔اس طرح تو کوئی معقول گفتگو نہیں ہو سکتی۔
    یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب صحیح الفاظ پڑھنے کی بجائے کوئی اور الفاظ پڑھ رہے تھے۔ وہ نہ صرف یہ کہ صحیح عبارت نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ ایک نامکمل عبارت پڑھ رہے تھے۔ اصل عبارت کو پڑھنے سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کا متعلقہ حوالہ پیش ہے۔
    ’’ اتمام حجت کا علم محض خدا تعالیٰ کو ہے۔ ہاں عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ چونکہ لوگ مختلف استعدا د اور مختلف فہم پر مجبول ہیں اسلئے اتمام حجت بھی صرف ایک ہی طرز سے نہیں ہوگا ۔ پس جو لوگ بوجہ علمی استعداد کے خدا کی براہین اور نشانوں اور دین کی خوبیوں کو بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور شناخت کر سکتے ہیں وہ اگر خدا کے رسول سے انکار کریں تو وہ کفر کے اول درجہ پر ہونگے اورجو لوگ اس قدر فہم اور علم نہیں رکھتے مگر خدا کے نزدیک اُن پر بھی اُن کے فہم کے مطابق حجت پوری ہو چکی ہے اُن سے بھی رسول کے انکار کا مواخذہ ہو گا مگر بہ نسبت پہلے منکرین کے کم ۔ بہر حال کسی کے کفر اور اس پر اتمام حجت کے بارے میں فرد فرد کا حال دریافت کرنا ہمارا کام نہیں ہے یہ اُس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے۔ ہم اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے نزدیک جس پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر ٹھہر چکا ہے وہ مواخذہ کے لائق ہوگا۔ ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بَری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔
    (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا ۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اُس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کے کتابوں میںبھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لایق ہوگا اورجس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے)اُسکا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اُس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّاوُسْعَہَا (البقرۃ : ۲۸۷) قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں ۔‘‘
    (’’حقیقۃالوحی ‘‘ صفحہ180-179 اشاعت 20اپریل 1907ئ)
    یہاں اس شخص کا ذکر ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور کو پہچان لیتا ہے کہ وہ سچا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کوماننے کا حکم فرمایا ہے لیکن پھر بھی وہ تکبر سے دیدہ دانستہ انکار کرتا ہے۔اب ایسے شخص کو کیا خدا اور اس کے رسول کے فرمان کا انکار کرنے والا کہیں گے یا اس کو پکا مومن قرار دیں گے؟
    اب ان کے حوالہ جات کی غلطیاں ایک عجیب و غریب صورت حال اختیار کر چکی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا حوالہ اس کتاب سے دیا جا رہا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر نہیں فرمائی تھی۔ایسی نامعلوم کتابوں کے حوالے پیش کئے جا رہے تھے جن کے متعلق خود انہیں معلوم نہیں تھا کہ لکھی کس نے تھی۔حضرت مسیح موعود کی کتب کے حوالہ جات بمعہ صفحہ نمبر پیش کئے گئے تو نہ صرف ان صفحات پر یہ عبارت موجود نہیں تھی بلکہ وہاں پر کسی اور موضوع کا ذکر ہو رہا تھا۔یا پھر صحیح الفاظ پڑھنے کی بجائے بدل کر الفاظ پڑھے جا رہے تھے۔اس کے باوجود وہ غلط حوالہ پیش کر کے غیر متعلقہ سوالات کا بے ربط اور طویل سلسلہ شروع کر دیتے۔جب کارروائی شروع ہوئی تھی تو سپیکر صاحب نے اسی وقت کہا تھا کہ کتب اٹارنی جنرل صاحب کے قریب کردی جائیں تاکہ وہ حوالہ اٹارنی جنرل صاحب گواہوں کو یعنی جماعت احمدیہ کے وفد کے اراکین کو دکھا سکیں۔لیکن یہاں یہ ہو رہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک حوالہ بھی دکھانے کی زحمت نہیں کر رہے تھے۔
    اس مرحلہ پر شام کی کارروائی میں وقفہ کا اعلان ہوا ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب سپیکر صاحبزادہ فاروق صاحب بھی یحییٰ بختیار صاحب اور ان کی ٹیم کی تیاری کے اس عالم سے تنگ آ چکے تھے۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ جماعت کے وفد کے ہمراہ ہال سے تشریف لے گئے تو سپیکر صاحب نے کہا
    ‏The honourable members may keep sitting
    پھر انہوں نے ان کتب کو قرینے سے لگانے کے متعلق ہدایات دیں جن کے حوالے پیش کیے جا رہے تھے اور لائبریرین کو اس کے قریب کرسیاں رکھنے کی ہدایت دی اور حوالہ جات میں نشانیاں رکھنے کی ہدایت دی اور کہا کہ جن لوگوں نے مخصوص حوالہ جات دیئے ہیں باقاعدہ کتابوں میں نشان لگا کر رکھیں اور اگر گواہ کسی چیز سے انکار کریں تو کتاب فوراََ پیش کی جائے اور پھر ان الفاظ میں سپیکر صاحب نے اظہار ِ برہمی کیا۔
    ’’یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے کہ ایک حوالہ کو تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔میں کل سے کہہ رہا ہوں کہ کتابیں اس طرح رکھیں یعنی چار پانچ کرسیاں ساتھ رکھ دیں۔جن ممبر صاحبان نے حوالہ جات تلاش کرنے ہیں ان کرسیوں پر بیٹھ کر تلاش کر سکتے ہیں اور وہ حضرات جنہوںنے حوالہ جات دینے ہیں اِدھر آکر بیٹھیں لہٰذا وہ کتابیں Ready ہونی چاہئیں تا کہ اٹارنی جنرل کو کوئی تکلیف نہ ہو اور ٹائم ضائع نہ ہو۔‘‘
    ابھی سپیکر صاحب کے یہ الفاظ ختم ہی ہوئے تھے کہ مفتی محمود صاحب نے جو عذرپیش کیا وہ بھی خوب تھا۔انہوں نے یہ دقیق نکتہ بیان فرمایا :۔
    ’’جناب ِ والا ان کا یہ ہے کہ جلد یں مختلف ہوتی ہیں۔ہم صفحہ اور لکھتے ہیں اور کتاب ہمارے پاس دوسری قسم کی آجاتی ہے ۔ ہمارے پاس تین حوالے تھے اب وہ ٹٹول رہے ہیں … ‘‘
    جو لوگ کتابوں کو دیکھنے سے کچھ بھی تعارف رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک کتاب کے کئی ایڈیشن چھپتے ہیں،حوالہ دینے والے کا فرض یہ ہے کہ وہ حوالہ دیتے ہوئے ایڈیشن کا نمبر اورسن ،اس کے پریس اور ناشر کا نام وغیرہ بتائے اور جس ایڈیشن سے صفحہ نمبر نوٹ کر کے بیان کرے اُسی ایڈیشن کی کتاب کارروائی کے دوران پیش کرے۔ اگر ایک ایڈیشن سے حوالہ کا صفحہ نمبرنوٹ کیا جائے گا اور کتاب دوسرے ایڈیشن کی نکال لی جائے تو پھر ظاہر ہے کہ پیش کردہ عبارت اس طرح نہیں ملے گی اور اگر اصل الفاظ پیش کرنے کی بجائے الفاظ بدل کر پیش کیے جائیں یا پھر محض ایک مخالف کی کتاب سے جماعت کی کتاب کا فرضی حوالہ نقل کر کے پیش کر دیا جائے تو پھر خفت تو اُٹھانی پڑے گی ۔ایسے بزرجمہروں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔مفتی محمود صاحب کے تبصرے سے تویہ معلوم ہوتا تھا کہ شاید انہیں کتابوں کو دیکھنے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ان کے ان جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جماعت ِ احمدیہ کے خلاف تین حوالے ڈھونڈے تھے اور پھر دوران کارروائی یہ حوالے نہ مل سکے۔لیکن یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ وہ کتابوں کو ٹٹول کر حوالہ ڈھونڈنے کی کوشش کیوں کر رہے تھے۔اگر ایک کتاب سے کوئی عبارت تلاش کرنی ہو تو اسے پڑھ کر تلاش کی جاتی ہے ۔
    لیکن شاید سپیکر صاحب مفتی محمود صاحب کا دقیق نکتہ سمجھ نہیں پائے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب جنرل ایگزامیشن ختم ہو چکا ہے۔ اب زیادہ تر حوالہ جات کی بات شروع ہو چکی ہے دو تین حوالہ جات نہیں مل سکے۔جن صاحب نے جو حوالہ پیش کیا ہے وہ اس کوflagکر کے رکھے اور جب اٹارنی جنرل سوال کریں تو اسمبلی کے عملہ کا آدمی یہ حوالہ وفد کو پیش کرے۔
    اس مرحلہ پر مولوی غلام غوث ہزاروی کو خیال آیا کہ وہ بھی کوئی نکتہ بیان فرمائیں۔ چنانچہ وہ کہنے لگے:۔
    ’’جناب والا میں ایک چیز کے متعلق عرض کروں کہ ہم حوالہ جات اس وقت تیار رکھیں گے جب ہم کو اٹارنی جنرل کی طرف سے علم ہو کہ اب وہ کون سے سوالات کریں گے …‘‘
    یہ نکتہ بھی خوب تھا۔مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب جیسے ممبران سوالات حوالہ جات سمیت پیش کر رہے تھے اور چند حوالے ابھی ابھی پیش کئے گئے تھے اور وہ بھی غلط نکلے۔جس نے سوال کیا تھا وہ حوالہ نکال کر اپنے پاس رکھ سکتا تھا تاکہ عند الطلب پیش کر سکے یا پھر کتاب سے نکال کر اٹارنی جنرل کو دے سکتا تھا تا کہ جماعت کے وفد کو دکھایا جا سکے۔
    اس کے بعد شاہ احمد نورانی صاحب نے خفت مٹانے کی کوشش کی اور سپیکر صاحب کو کہا کہ انہوں نے یعنی حضورؒ نے حقیقۃ الوحی والے حوالے کا انکار کیا ہے جب کہ یہ حوالہ یہاں پر موجود ہے اور سپیکر صاحب کو کہا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔آفرین ہے نورانی صاحب پر۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ کارروائی کے دوران ذہنی طور پر غیر حاضر تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا تھا کہ اصل الفاظ چھوڑ دیئے گئے ہیں یعنی معیّن عبارت نہیں پڑھی گئی اور اس کا علاج بہت آسان تھا اور وہ یہ کہ اصل عبارت پڑھ دی جاتی اور بس۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا اور جو الفاظ اٹارنی جنرل صاحب نے پڑھے تھے وہ معیّن الفاظ اس کتاب میںموجود نہیں ہیں۔صحیح طریق تو یہی ہے کہ حوالہ کی معین عبارت پڑھی جائے۔کتاب سامنے موجود تھی ،سادہ سی بات تھی کتاب اُ ٹھاتے اور معیّن عبارت پڑھ دیتے۔لیکن اٹارنی جنرل پوری عبارت اس لئے نہیں پڑھ سکتے تھے کہ پوری عبارت کے سامنے آنے پر وہ اعتراض اُٹھ ہی نہیں سکتا تھا جو وہ اُ ٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
    مغرب کی نماز کے بعد جب کارروائی شروع ہوئی تو حقیقۃ الوحی کے اسی حوالہ سے بات شروع ہوئی جس کا حوالہ وقفہ سے پہلے دیا جا رہا تھا۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اب بھی پرانی غلطی پر مصر تھے۔ انہوں نے ایک بار پھر معین عبارت پڑھنے کی بجائے اپنی طرف سے اس کا خلاصہ پڑھا البتہ اس مرتبہ یہ نہیں کہا کہ یہ حقیقۃ الوحی کے اس صفحہ پر لکھا ہے بلکہ یہ کہنے پر اکتفا کی کہ کسی تحریر میں لکھا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا:۔
    ’’کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں لکھا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ایک آنحضرت ﷺ سے انکار اور دوسرا مسیح موعود سے انکار۔‘‘
    حضور نے ان کی غلطی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے آگے کی عبارت خود اس کا مطلب واضح کردیتی کیونکہ آگے لکھا ہے کہ جو با وجود اتمامِ حجت کے اس کو جھوٹا جانتا ہے ۔حالانکہ خدا اور رسول نے اس کے ماننے کی تاکید کی ہے۔کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔
    کچھ دیر بعد پھر اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات نے ایک عجیب رخ اختیار کر لیا ۔ اور یہ بحث اٹھا دی کہ جماعت ِ احمدیہ کا کلمہ کیا ہے ،یہ کوئی خفیہ امر نہیں۔جماعت کا وسیع لٹریچر بیسیوں زبانوں میں دنیا کے سو سے زائد ممالک میں اچھی طرح معروف ہے۔ہر کتاب میں ،ہر تحریر میں کوئی ایک صدی سے یہی لکھا ہوا ملے گا کہ جماعت ِ احمدیہ کا کلمہ لا الٰہ الّا اللّٰہ محمّدٌ رَّسُول اللّٰہ ہے۔ دنیا بھر کے دو سو کے قریب ممالک میں کسی احمدی بچے سے بھی پوچھ لیں تو وہ یہی جواب دے گا کہ ہمارا کلمہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ ہے۔ لیکن اس کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب ایک تصویر اٹھا لائے جو کہ نائیجیریا کے ایک شہر اجیبو اوڈے میں جماعت کی مسجد کی تھی۔اس کے اوپر کوفی رسم الخط میں کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھااور اس رسم الخط میں محمد کی پہلی میم کو لمبا کرکے لکھا گیا تھا۔اور اس کو دکھا کر اٹارنی جنرل صاحب یہ باور کروانے کی کوشش فرما رہے تھے یہ محمد رسول اللہ نہیں لکھا تھا بلکہ احمد رسول اللہ لکھا تھا یعنی کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ احمدیوں کا تو کلمہ ہی مسلمانوں سے علیحدہ ہے۔حضور نے اس امر پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا کلمہ اگر دوسرا تھا تو ہر جگہ پر دوسرا ہونا چاہئے تھا ،یہ ممکن نہیں تھا کہ ہمارا کلمہ دوسرا تھا اور یہ صرف ایک جگہ پر لکھا ہے ،باقی مقامات پر وہ کلمہ لکھا ہے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے ۔ یہ الزام ہی بچگانہ تھا اور اٹارنی جنرل صاحب خود بھی اس سوال کو کر کے ایک مخمصے میں پھنس گئے تھے۔ آغاز میں ہی انہوں نے کچھ بے یقینی سے کہا کہ یہImpressionپڑتا ہے کہ احمد رسول اللہ لکھا ہے۔ May be it isمحمد رسول اللہ۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے انہیں تو خود یقین نہیں تھا کہ یہ الزام معقول بھی ہے کہ نہیں۔کبھی وہ کہتے تھے کہ محمد لکھا ہوا ہے پھر کہتے کہ احمد لکھا ہوا لگ رہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ہماری سینکڑوں مساجد دنیا کے مختلف ممالک میںہیں ان میں سے صرف ایک مسجد کو منتخب کر کے شور مچایا گیا ہے کہ ان کا کلمہ مختلف ہے۔اس مرحلہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا کہ اس لفظ کی دوسری میم پر تشدید نظر آ رہی ہے ،احمد کے اوپر تشدید کہاں ہوتی ہے۔اب بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کسی کے کہنے پر یہ نا معقول سوال تو اُ ٹھا چکے تھے لیکن اب اس تشدید کا کیا کرتے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ محمد لکھا ہوا ہے احمد ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے عاجز آکر کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ یہVerifyکردیں کہ یہ صرف لا الٰہ الا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ لکھا ہے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہے ہی یہ جب سے ہم پیدا ہوئے ،ہوش نہیں سنبھالی تھی تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہمیں سکھایا گیا۔اب یہ اعتراض ہو گیا عجیب بات ہے۔‘‘اس مثال سے یہ بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں جو سوالات اُٹھائے جا رہے تھے وہ عقلِ سلیم سے عاری تھے ورنہ یہ تشدید اس وقت بھی موجود تھی جب کہ یہ نامعقول سوال اُٹھانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
    جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے تو جماعت ِ احمدیہ نے توہر گز مسلمانوں سے اپنا علیحدہ کلمہ نہیں بنایا لیکن مسلمانوں میں ایسا مسلک بھی موجود ہے جو کہ نہ صرف اپنا علیحدہ کلمہ رکھنے کا دعویٰ پیش کرتے رہے ہیں بلکہ اسے اپنے جنتی ہونے کی دلیل کے طور پر بھی بیان کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ مشہور شیعہ عالم علی حائری صاحب ایک فتویٰ میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ صرف شیعہ فرقہ جنتی اور باقی تمام فرقے جہنمی ہیں لکھتے ہیں کہ صرف شیعہ فرقہ ہے جو کہ اصول و فروع میں باقی تمام مسلمان فرقوں سے علیحدہ ہے اور اس کی پہلی دلیل یہ دیتے ہیں
    ’’سب سے پہلے کلمہ طیبہ ہے جس کو بہتر فرقے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صرف پڑھتے ہیں مگر امامیہ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰہ اس کے ہمراہ پڑھتے ہیں۔‘‘
    (فتاویٰ حائری ۔حصہ دوئم ماہ صفر ۱۳۲۴ھ مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہورص۴)
    اس کے بعد پھر انہی پرانے سوالات پر بات شروع ہوئی کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کیا کہ نہیں ؟یا پھر قومی اسمبلی کو ایسا فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ نہیں؟ جب بات آگے چلتی اور سوالات کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے سوالات کیے جاتے تو ان کا سُقم خود ہی ظاہر ہو جاتا۔ اب اٹارنی جنرل صاحب نے رابطہ عالمِ اسلامی کی قرارداد کو دلیل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ایک بار پھر یہ معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اس سوال کے لئے بھی کوئی تیاری نہیں کی۔انہوں رابطہ عالم ِ اسلامی کی بجائے ’’ مُؤْتَمَر عالمِ اسلامی ‘‘ کا نام استعمال کیاجو کہ اس تنظیم کی ابتدائی شکل کا نام تھا اور اب کئی دہائیوں سے تبدیل ہو چکا تھا۔اس پر حضور نے درستگی فرمائی کہ وہ مُؤْتَمَر عالمِ اسلامی کی نہیں بلکہ رابطہ عالمِ اسلامی کی بات کر رہے ہیں۔اس سے پہلے وہ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کیاہے۔جب رابطہ کی قرارداد کی بات شروع ہوئی تو حضور نے انہیں یاد دلایا کہ اس قرارداد میں تو یہ لکھا ہے کہ قادیانی سارے مسلمانوں والے کام کرتے ہیںاور ساتھ یہ کہاگیا کہ اندر سے کافر ہیں اور حدیث کے حوالے سے فرمایا کہ دنیا کی کون سی طاقت ہے جو دل چیر دیکھے اور فیصلہ کرے ۔ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل نے زچ ہو کر کہا کہ ’’میں Reasoning میں نہیں جا رہا ۔
    اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ‏’’Well اگر reasoning میں نہیں جا رہے تو میں بغیر reasoning کے بات نہیں کرتا۔‘‘
    اب کون سا ہوشمند ہو گا جو کہ یہ کہے گا کہ جب اس قسم کی کارروائی جاری ہو تو Reasoning میں نہیں جانا چاہئے۔ظاہر ہے جماعت ِ احمدیہ پر اعتراضات کئے جا رہے تھے اور مختلف علمی بحثیں اُٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی ،یہ بات تو Reasoning کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔اگر اٹارنی جنرل صاحب اور ممبرانِ اسمبلی Reasoning میں نہیں جانا چاہتے تھے تو پھر یہ کارروائی نہیں محض ڈرامہ کیا جا رہا تھا۔
    اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ’’اور وہ جو بیس فتوے ،ان کے متعلق ہیں،شیعہ کے متعلق، اور جو حرمین شریف کے فتاویٰ محمد بن عبدالوہاب اور ان کے متبعین کے خلاف،بارہ سال انہوں نے حج نہیں کرنے دیا وہابیوں کو۔ساری اپنی تاریخ بھول جائیں گے ہم؟اب جلدی میں ایک فیصلہ کرنے کے لئے تاریخ کے اوراق بھول جائیں گے ہم۔‘‘
    لیکن بعد کی کارروائی سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب یایہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ سوالات کرنے والی ٹیم Reasoning کا طریقہ کار نہیں اپنانا چاہتی تھی۔اس سے پہلے بھی یہ ذکر آ چکا ہے کہ خود سپیکر اسمبلی نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ جو حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں، ان کو ڈھونڈنے میں آدھا آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔لیکن اب بھی یہی حال تھا کہ یا تو حوالے صحیح پیش ہی نہیں ہوتے تھے یا جب ان پر بات شروع ہوتی تو یہ صاف نظر آ جاتا کہ یا تو اس حوالہ کا سیاق و سباق بھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی گئی یا پھر اس سوال کو اُ ٹھانے والوں میں یہ مضمون سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں پائی جاتی تھی۔چند مثالیں پیش ہیں۔
    بحث کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ الفضل۲۶ ؍ جنوری ۱۹۱۵ء کا حوالہ ہے مرزابشیر الدین محمود کا ہے:
    ’’مسیح موعودؑ کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا ۔آپ کو امتی قرار دینا۔امتی گروہ سمجھنا ۔گویا آنحضرت ﷺ سید المرسلین خاتم النبیین ہیں کو امتی قرار دیناامتوں میں داخل کرنا ہے کفر عظیم ہے اور کفر در کفر ہے۔‘‘
    اس حوالہ کو پڑھتے یا یوں کہنا چاہئے کہ ایجاد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ ساری عبارت مہمل ہے اس کا مطلب ہی کچھ نہیں بنتا۔بہر حال اس کے جواب میں حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ یہ فقرہ تو بظاہر ٹوٹا پھوٹا لگتا ہے۔لیکن یحییٰ بختیار صاحب پھر بھی نہیں سمجھ پائے اور کہا کہ میں پھر پڑھ دیتا ہوں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں چیک کروں گا۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس حوالہ کے متعلق کچھ گو مگو کی کیفیت میں رہے۔کبھی یہ حوالہ ۲۶ تاریخ کا بن جاتا اور کبھی ۲۹؍ جنوری کا ۔اس کا ذکر تو بعد میں آئے گا لیکن یہاں پر یہ بتاتے چلیں کہ یہ حوالہ بھی جعلی اور خود ساختہ تھا۔
    جعلی حوالے تو پہلے ہی پیش کئے جا رہے تھے ۔اس مرحلہ پر پہنچ کر ایک اور طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ ایک ایسا حوالہ پیش کیا گیا جس کی آدھی عبارت صحیح تھی اور آدھی خود ساختہ تھی۔ اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تقریر ’’ملائکۃ اللّٰہ ‘‘ کے صفحہ46و47کی یہ عبارت پڑھی
    ’’کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروئوں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کے زمانے کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں انہوں نے اپنی جماعتوںکو غیروں سے الگ نہیں کیا ۔ہرشخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے پس اگر حضرت مرزا صاحب نے جوایک نبی اور رسول ہیں اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق اپنی جماعت کوغیروں سے علیحدہ کردیا ہے تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے … جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تو تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی شناخت اور امتیا ز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو ورنہ اب تو تمہاری قوم، تمہاری گوت ، تمہاری ذات احمدی ہی ہے پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیراحمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔‘‘
    (ملائکۃ اللّٰہ صفحہ47-46)
    ’’ملائکۃ اللّٰہ‘‘ میں ’’ کیا مسیح ناصر ی ‘‘کے الفاظ سے لے کر’’انوکھی بات کون سی ہے‘‘ تک والی تحریر موجود ہی نہیں ہے اور اس کے بعد کے الفاظ واضح ہیں
    (’’ملائکۃ اللّٰہ ‘‘ صفحہ نمبر 47-46۔ شائع کردہ الشرکۃ الاسلامیہ۔ انوارالعلوم جلد5 ص441)
    ہر صاحبِ ضمیر اس بات سے اتفاق کرے گا کہ یہ ایک شرمناک حرکت تھی کہ اس طرح کے جعلی حوالے بنا کر پیش کئے جائیں۔
    اٹارنی جنرل صاحب نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ
    ’’صفحہ ۳۴۴ پر آئینہ کمالات ِ اسلام ہے تو اس میں ہے کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا۔وہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرارکرے ۔ اورنیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنائے جو اس کو نبی سمجھتی ہواور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔‘‘
    اس کے بعد انہوں یہ سوال اُٹھایا کہ اس عبارت کا ریفرنس ان کا (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا) Referenceکس کی طرف ہے۔اپنی طرف یا آنحضرت ﷺ کی طرف؟
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے یہ اہم سوال اُ ٹھایا کہ اس کی ضمیر کس طرف جاتی ہے ۔اشارہ واضح تھا لیکن آفرین ہے کہ سننے والوں کو سمجھ نہیں آیا۔
    یہ حوالہ پڑھنے کے بعد پاکستان کی قابل اسمبلی میں نہایت قابل ا ٹارنی جنرل صاحب نے یہ اہم سوال اُ ٹھایا کہ
    ’’تو یہ Referenceآنحضرت کی طرف ہے ان کایا اپنے سے مراد ہے؟‘‘
    حضور نے فرمایا کہ اسے چیک کریں گے۔
    اب ہم پورا حوالہ پیش کرتے ہیں :۔
    ’’اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ دجّال اوّل نبوت کا دعویٰ کریگا پھر خدائی کا۔اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں کہ چند روز نبوت کا دعویٰ کر کے پھر خدا بننے کا دعویٰ کرے گا تو یہ معنی صریح باطل ہیںکیونکہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرورہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے ۔اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے۔اب سمجھنا چاہئے کہ ایسا دعویٰ کرنے والا اسی امت کے روبرو خدائی کا دعویٰ کیونکرکر سکتا ہے کیونکہ وہ لوگ کہہ سکتے ہیںکہ تو بڑا مفتری ہے پہلے تو خدائے تعالیٰ کا اقرار کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کا کلام ہم کو سناتا تھا اور اب اس سے انکار ہے اور اب آپ خدا بنتا ہے …
    صحیح معنے یہی ہیں کہ نبوت کے دعویٰ سے مراد دخل در امور ِ نبوت اور خدائی کے دعویٰ سے مراد دخل درامور ِ خدائی ہے جیسا کہ آج کل عیسائیوں سے یہ حرکات ظہور میں آرہی ہیں۔ ایک فرقہ ان میں سے انجیل کو ایسا توڑ مروڑ رہا ہے کہ گویا وہ نبی ہے اور اس پر آیتیں نازل ہو رہی ہیں اور ایک فرقہ خدائی کے کاموں میں اس قدر دخل دے رہا ہے کہ گویا وہ خدائی کو اپنے قبضہ میںکرنا چاہتا ہے۔‘‘ (۵۸)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے لیکن اس حوالہ کا ایک حصہ پڑھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ سوال اُ ٹھانا کہ کیا اس کی ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف جاتی ہے؟ اور پھر اس سوال کو دہرانا یا پرلے درجہ کی بے عقلی ہے یا ایک ایسی خوفناک گستاخی کہ کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ایک بات تو ظاہر ہے کہ ان سوالات کو پیش کرنے سے قبل کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی۔ ان احادیث میں ایک اہم پیشگوئی بیان ہوئی ہے اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات اس عظیم پیشگوئی کی واضح تصدیق کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پیشگوئی کی ایک لطیف تشریح بیان فرما رہے ہیں لیکن پاکستان کے ممبران ِ اسمبلی میں سے اس سوال کو اُٹھانے والے سمجھے بھی تو کیا سمجھے۔
    ان احادیث ِ نبویہ میں اور مذکورہ عبارت میں ایک لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس دور میں اعجازی طور پر پورا ہو کر آنحضرت ﷺ ؑ کا ایک زندہ نشان بن چکا ہے۔لیکن یہ علمی مضمون پاکستان کی قابل قومی اسمبلی میں سوالات مہیا کرنے والوں کی عقل سے بالاتر تھا۔
    اس کے بعد کچھ دیر تک اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بحث اُ ٹھائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ شرعی نبوت کا تھا یا غیر شرعی نبوت کا تھا۔ اس معاملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور تحریرات بالکل واضح ہیں۔آپؑ کا دعویٰ امتی نبی کا تھا ۔آپ نے بارہا واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان فرمایا تھا کہ اب آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کے احکامات کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا اور اب جو بھی کوئی روحانی مدارج حاصل کرے گا وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع اور فیض سے ہی حاصل کر سکتا ہے۔اس بات کو بحث بلکہ کج بحثی کا موضوع بنانا ایک لایعنی بات تھی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پڑھ کر سنائیں جن سے اُٹھائے گئے اعتراضات باطل ہو جاتے تھے۔ابھی بحث جاری تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب یا ان کو سوالات مہیا کرنے والے قابل احباب اپنی طرف سے ایک برہانِ قاطع یہ لائے اور اٹارنی جنرل صاحب نے یہ حوالہ پیش کیا۔
    ’’پس شریعت ِ اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت غلام احمد صاحب ہر گز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ارشاد فر مایا’’یہ کہاں کا حوالہ ہے؟‘‘ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے لب کشائی فرمائی’’شریعت نبوت صفحہ ۱۷۲ ‘‘۔ایک منٹ میں یہ ان کا دوسرا کارنامہ تھا۔ اس نام کی جماعت کی کوئی تصنیف نہیں تھی۔یہ حوالہ بھی جعلی تھا۔بقیہ کارروائی میں وہ اس نام نہاد کتاب کو پیش کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔ پیشتر اس کے کہ یحییٰ بختیار صاحب حوالہ جات پیش کرنے کے میدان میں کچھ اور جوہر دکھاتے کہ سپیکر صاحب نے انہیں اس مخمصے سے نجات دلائی اور کہا کہ کل کارروائی جاری رہے گی اب وفد جا سکتا ہے۔کل دس بجے کارروائی شروع ہو گی۔
    یعنی سپیکر صاحب نے تو یہ متنبہ کیا تھا کہ آپ کو حوالے وقت پر نہیں ملتے اور آدھا آدھاگھنٹہ حوالہ ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہے اور اس کے بعد سوال اُ ٹھانے والوں نے یہ اصلاح کی کہ ان کتابوں کے حوالے پیش کرنے شروع کر دیئے جو کبھی لکھی ہی نہیں گئیں تھیں۔اسی افراتفری کے عالم میں ۶؍ اگست کی کارروائی ختم ہوئی۔
    ۷؍ اگست کی کارروائی
    جب ۷؍ اگست کی کارروائی شروع ہوئی تو بات ان حوالہ جات سے شروع ہوئی تھی جو گزشتہ روزپڑھے گئے تھے۔سوالات کرتے ہوئے جو حوالہ جات پیش کیے جا رہے تھے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ جن کو پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی وہ عجیب افراتفری کا شکار تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا کہ جو حوالے میں نے کل پڑھے تھے آپ نے ان کی تصدیق کر لی ہے؟اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا ’’ ایک ایک کولے لیتے ہیںجو ۲۹؍ جنوری ۱۹۱۵ء کا آ چکا ہے یہ پڑھ کر سنا دیجیئے۔ میں Verify کر دیتا ہوں۔‘‘ اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ کل جو آخر میں پڑھا تھا وہ پہلے پڑھتا ہوں ۔ایک روز پہلے انہوں نے ایک حوالہ پیش کیا تھا اور کتاب کا نام ’’شریعت ِ نبوت‘‘ بیان فرمایا تھا۔آج اس حوالہ کی کتاب کا نام اور صفحہ نمبر سب نیا جنم لے چکے تھے۔اب انہوں نے یہ عبارت پڑھی ’’اسلامی شریعت نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت مرزا غلام احمد ہرگز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ (حقیقۃ النبوّت صفحہ ۱۷۴ )۔ اب اس بحث سے ان کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حقیقی نبی لکھا گیا ہے اس لیے اس سے مراد یہ ہے کہ انہوںنے صاحبِ شریعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔کیونکہ جب ایک روز قبل یہ حوالہ پیش کیا گیا تھا تو اس وقت شرعی اور غیرشرعی انبیاء کا تذکرہ چل رہا تھا۔پہلی تو یہ بات قابلِ غور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت سلیمان ؑ ، حضرت ایوب ؑ،حضرت یعقوب ؑ اور بہت سے دوسرے انبیاء شریعت نہیں لائے تھے۔ تو کیا یہ سب حقیقی نبی نہیں تھے،کیا ان کو غیر حقیقی انبیاء کہہ کر ان کی شان میں گستاخی کی جائے گی یا اگر کسی بھی لحاظ سے یہ کہا جائے کہ یہ حقیقی انبیاء تھے تو اس کا یہ مطلب لیا جائے گاکہ ان کو شرعی نبی سمجھا جا رہا ہے؟اور اسی کتاب میں جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تصنیف ہے اس بات کی وضاحت بار بار کی گئی ہے ۔اس کا صرف ایک حوالہ پیش ہے
    حقیقی اور مجازی کی اس تشریح کو سمجھنے کے بعد حضرت صاحب کے اس فقرہ کو لو کہ میں مجازی طور پر نبی ہوںاور حقیقی طور پر نبی نہیں ہوں۔ اور شریعت اسلام کو دیکھو کہ وہ نبی کسے کہتی ہے اور چونکہ شریعت اسلام قرآن کریم ہی ہے اسے جب ہم دیکھتے ہیں تو ا س میں نبی کی تعریف یہی معلوم ہوتی ہے کہ جس شخص پر کثرت سے اظہار غیب ہو اور انذاری اور تبشیری رنگ اس کی پیشگوئیوں میں پایا جائے۔ اب یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہیں۔ اور تیسری یہ بات بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپکا نام نبی رکھا ۔ پس شریعت اسلام نبی کے جو معنے کرتی ہے، اسکے معنے سے حضرت صاحب ہر گز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ ہاں حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کیلئے اصطلاحی طور پر نبوت کی جو حقیقت قرار دی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لائے۔ اس اصطلاح کے رُو سے حضرت مسیح موعود ہر گز حقیقی نبی نہیں ہیں بلکہ مجازی نبی ہیں یعنی کوئی جدید شریعت نہیں لائے۔ ‘‘
    (’’حقیقۃالنبوت حصہ اوّل‘‘ از حضرت مصلح موعود ۔ اشاعت 1925 ئ۔ صفحہ 174-173)
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ اس کتاب میں اصل عبارت یہ لکھی ہے کہ اگر حقیقہ کے معنی شرعی نبی کئے جائیں تو میں آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا لیکن اگر حقیقی کے مقابلہ پر بناوٹی رکھا جائے تو میں آپ کو بناوٹی نبی نہیں مانتا۔اس جواب سے یہ صاف ظاہر تھا کہ اس حوالہ کو پیش کر کے مخالفین جو مطلب نکالنا چاہتے تھے وہ مطلب اس عبارت سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
    اس کے بعد بھی سوالات کرنے والے احباب کا ستارہ گردش میں ہی رہا۔اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ احمدیوں کے نزدیک نعوذُ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنِ کریم سے علیحدہ ایک نئی شریعت لے کر آئے ہیں،ایک حوالہ پڑھنا شروع کیا اور اس حوالہ میں یہ عبارت پڑھ گئے
    ’’ … ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربّانی کتابوں کا خاتم ہے۔ تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور معمول کے ذریعہ یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو جھوٹی گواہی نہ دو زنا نہ کرو خون نہ کرو ظاہر ہے ایسا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے … ‘‘
    اب اس عبارت میں واضح طور پر نئی شریعت کی تردید تھی ،یہ صرف تجدید ِ احکام کا ذکر تھا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ تو بہت واضح ہو گیا ہے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب کو اس دلیل کو ترک کر کے دوسرا موضوع شروع کرنا پڑا۔
    اس کے بعد ۲۹؍ جنوری یا ۲۶؍ جنوری کے اُس پُر اسرار حوالہ کا ذکر شروع ہوا جس کی فرضی ٹوٹی پھوٹی عبارت ایک روز قبل پڑھی گئی تھی۔۷؍ اگست کی کارروائی میں یہ حوالہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۱۵ء کا بنا ہوا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرتبہ پھر اس حوالے کی عبارت دہرائی ۔حضور نے فرمایا کہ اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔اصولًا تو سوال پیش کرنے والوں کے پاس حوالہ یا ثبوت ہونا چاہئے تھالیکن اب ان کے لیے عجیب صورت ِ حال پیدا ہوئی تھی کہ جس روز کے الفضل کا وہ حوالہ اتنے فخرسے پیش کر رہے تھے،اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔کیونکہ اس دور میں الفضل روزانہ شائع نہیں ہوتا تھا۔اب اپنی خفت کو چھپانے کے لیے اٹارنی جنرل صاحب نے ایک اور ذہنی قلابازی کھائی اور فرمایا کہ ۱۹؍ جنوری میں یا کسی اور شمارہ میں یہ چھپا ہو گا۔ان کی یہ عجیب و غریب دلیل پڑھ کر تو ہنسی آتی ہے۔یہ صاحب قومی اسمبلی کی ایک اہم کمیٹی میں ایک حوالہ پیش کر رہے تھے اوردو روز میں ایک سے زائد مرتبہ پیش کر چکے تھے۔اور علماء کی ایک ٹیم اس کام میں ان کی اعانت کر رہی تھی اور اس حوالہ کی بنا پر وہ اپنے زعم میںجماعت احمدیہ کے خلاف کیس مضبوط کر رہے تھے اور ابھی انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ حوالہ کس تاریخ کا تھا۔اس پر حضور نے واضح الفاظ میں فرمایا’’ نہیں نہیں،یہ کسی Issue میں نہیں ہے۔کسی حوالہ میں نہیں ہے۔یہ بنایا گیا ہے۔‘‘اس تاریخ کے قریب ترین الفضل جو شائع ہوئے تھے ان کے نمبر ہی اس بات کو واضح کر دیتے ہیں کہ اس روز الفضل شائع نہیں ہوا تھا اور وہ نمبر یہ تھے۔
    ۲۸؍ جنوری ۱۹۱۵ء جلد نمبر ۲ نمبر ۹۷
    ۳۱ ؍ جنوری ۱۹۱۵ء جلد نمبر ۲ نمبر ۹۸
    اور یہ عبارت الفضل میں شائع ہی نہیں ہوئی۔
    اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بات ختم کی۔اب اٹارنی جنرل صاحب بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ممبرانِ قومی اسمبلی ایک عجیب صورت ِ حال سے دوچار ہو چکے تھے۔انہوں نے بہت سے حوالے جمع کر کے ایک کیس تیار کیا تھا لیکن اب یہ ہو رہا تھا کہ وہ ایک کتاب کا حوالہ پیش کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کتاب کا کوئی وجود ہی نہیں ۔کبھی وہ ایک کتاب کا صفحہ نمبر بتاتے تو حقیقت یہ سامنے آتی کہ اس کتاب کے اتنے صفحات ہی نہیں۔اگر کتاب کا نام مصنف کے نام سمیت بتایا جاتا تو عقدہ یہ کھلتا اس مصنف نے کبھی کوئی کتاب اس نام سے نہیں لکھی۔اگر یحییٰ بختیار صاحب قسمت سے کوئی معین عبارت پڑھتے تو آخر کار یہ انجام ہمارے سامنے ہے کہ اصل میں اس کتاب میں یہ معین عبارت موجود ہی نہیں۔کسی اخبار کا حوالہ پڑھا تو انجام یہ ہوا کہ یہ ثابت ہو گیا کہ اس روز تو یہ اخبار شائع ہی نہیں ہوا۔ اٹارنی جنرل صاحب جانتے تھے کہ ان کی بہت سی غلطیاں تو ابھی سے سامنے آ چکی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ ابھی جب تحقیق ہو گی تو بہت سی مزید غلطیاں سامنے آئیں گی۔اس کا جواز پیدا کرنے کی انہوں نے جو کوشش کی وہ انہی کا حصہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے ابن تیمیہ کی ایک کتاب ’ ’کتاب الایمان ‘‘ کا حوالہ دیا اور اپنے ممبرانِ وفد کو کتاب دینے کا ارشاد فرمایا تو اس کے ساتھ اس کتاب کے ایڈیشن کے متعلق استفسار فرمایا کہ یہ مطبوعہ مصر ہے؟ اس پر یحییٰ بختیار صاحب نے اپنی خفت مٹانے کے لئے فرمایا:۔
    ’’کیونکہ بعض مرزا صاحب کی کتابوں کے مختلف ایڈیشن ہیں اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔‘‘
    کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کا ایک ہی ایڈیشن شائع ہوا تھا۔ یقیناََ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں لیکن اگر ایک حوالہ نہ مل رہا ہو تو یہ حوالہ پیش کرنے والے کا فرض ہے کہ جس ایڈیشن سے حوالہ پیش کیا جا رہا ہے اس کی وضاحت کرے اور ان دو دنوں میں ان کی غلطیوں کا دائرہ صرف غلط ایڈیشن بتانے تک محدود نہیں تھا بلکہ بہت وسیع ہو چکا تھا۔
    اب انہوں نے حوالہ جات کے علم سے باہر نکل کر علم تاریخ کا رُخ کیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ایک جریدہ کا حوالہ پڑھنا چاہتے ہیں۔ جریدہ کا نام Impactتھا اور یہ ۲۷؍ جون ۱۹۷۴ء کے شمارے کا حوالہ تھا۔ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوا تھا کہ وہ کیا فرمانا چاہ رہے ہیں کہ حضور نے اس جریدہ کی اس تحریر کے متعلق ان سے استفسار فرمایا Who is the writer? یعنی اس تحریر کو لکھنے والا کون ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کمال قولِ سدید سے فرمایا I really do not know. یعنی حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔حضور نے اگلاسوال یہ فرمایا What is the standing of this publication? یعنی اس اشاعت یا جریدہ کی حیثیت کیا ہے؟یعنی کیا یہ کوئی معیاری جریدہ ہے یا کوئی غیر معیاری جریدہ ہے۔اس کی حیثیت ایسی ہے بھی کہ نہیں کہ اس کے لکھے کو ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔چونکہ یہ ایک غیر معروف نام تھا اس لیے اس سوال کی ضرورت پیش آئی۔اس سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر نہایت بے نفسی سے فرمایا May be nothing at all, Sir یعنی جناب شاید اس کی وقعت کچھ بھی نہیںہے۔ خیر اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے دریافت فرمایا : Have we any thing to do with this یعنی کیا ہمارا اس تحریر سے کوئی تعلق ہے؟اس کا جواب یہ موصول ہوا No! No! You have got nothing to do with it. I do not know یعنی ’’ نہیں ! نہیں! آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔مجھے نہیں علم ………
    اب یہ ایک عجیب مضحکہ خیز منظر تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں ایک جریدہ کی ایک تحریر بطور دلیل کے پیش کر رہا ہے اور اسے یہ بھی علم نہیں کہ یہ تحریر لکھی کس کی ہوئی ہے ،اسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس جریدہ کی کوئی حیثیت بھی ہے کہ نہیں۔بہر حال انہوں نے حوالہ پڑھنے کا شوق جاری رکھا اور ایک طویل اقتباس پڑھا ۔اس کی تحریر اور ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر بہکتے چلے جانا ہی بتا رہا تھا کہ یہ ایک غیر معیاری تحریر ہے لیکن اس کا لُبِ لُباب یہ تھا کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کیا ہے اور بعض وہ اعتراضات دہرائے جن کا جواب پہلے ہی گزر چکا ہے ۔لیکن جس حصہ کو اٹارنی جنرل صاحب نے بہت زور دے کر پڑھا اس میں دو اعتراضات تھے جن کا مختصرًا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔
    ایک اعتراض تو اس تحریر میں یہ کیا گیا تھا کہ جب پنجاب کے باؤنڈری کمیشن میں پاکستان کا مقدمہ پیش ہو رہا تھاتو
    At the time of independance and demarcation of boundries the Qadianis submitted a representation as a group seperate from Muslims. This had the effect of decreasing the proportion of the Muslims population in some marginal areas in the Punjab and on consequent award Gurdaspur was given to India to enable her to have link with Kashmir.
    یعنی آزادی کے وقت جب سرحدوں کے خطوط کھینچے جا رہے تھے ،اس وقت قادیانیوں نے مسلمانوں سے ایک علیحدہ گروہ کے طور پر اپنا موقف پیش کیااور اس کے نتیجہ میںپنجاب کے بعض سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی اور بعد میں گورداسپور کو بھارت کو دے دیا گیا اور اس طرح وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ کشمیر سے رابطہ پیدا کر سکے۔
    یہ الزام بالکل غلط تھا۔احمدیوں نے مسلم لیگ کی اعانت کے لیے اپنا میمورنڈم پیش کیا تھا۔مسلم لیگ نے خود اپنے وقت میں سے جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا کہا تھااور احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کا حصہ قرار دے کر کے استدعا کی تھی کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان کے ساتھ شامل کیا جائے۔ سکھوں نے اپنا موقف پیش کیا تھا کہ ہمارے مقدس مقامات جن اضلاع میں ہیں ان کو بھارت میں شامل کیا جائے کیونکہ ہم بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔اس کے جواب میں جماعت ِ احمدیہ نے یہ میمورنڈم پیش کیا تھا کہ قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہم مسلمان ہیں اور پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا انتخاب کیا تھا اور جتنی جد وجہد کی تھی حضرت چوہدری صاحب اور جماعت ِ احمدیہ نے کی تھی ورنہ پنجاب کی مسلم لیگ تو فقط ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہی تھی لیکن یہاں ذکر ضروری ہے کہ خود حکومت ِ پاکستان نے یہ سب کارروائی مع جماعت کے میمورنڈم کے1983ء میں حرف بحرف شائع کی اور یہ دور جماعت ِ احمدیہ کے اشد ترین مخالف جنرل ضیاء صاحب کے دور ِ صدارت کا تھا۔اس کتاب کا نام The partition of the Punjab ہے اور اس کی پہلی جلد میں صفحہ 428 سے 469 تک جماعت کا میمورنڈم حرف بحرف نقل کیا گیا ہے۔اس کے چند حوالے پیشِ خدمت ہیں۔ قادیان کے بارے میںاس کا پہلا نکتہ ہی یہ تھا
    It is the living centre of the world wide Ahmadiyya movement in Islam.
    پھر لکھا ہے:۔
    The Headquarters of the Ahmadiyya Community, an important religious section of Muslims having branches all over the world, is situated in the district of Gurdaspur.
    احمدیہ جماعت کا مرکز ،جو کہ مسلمانوں کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کی شاخیں پوری دنیا میں ہیں،ضلع گورداسپور میں ہے۔
    اس میمورنڈم کے آ غاز میں ہی یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ جماعت ِ احمدیہ نے قطعاََ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ کے طور پر پیش نہیں کیا تھا بلکہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے حصہ کے طور پر پیش کیا تھا اور اس وقت مسلم لیگ نے قطعًا اس کی تردید نہیںکی تھی۔اس وقت کانگرس کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا تھا کہ گو بعض اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں مگر یہاں پر ہندوؤں اور سکھوں کے پاس جائیداد زیادہ ہے اس لیے ان اضلاع کو ہندوستان میںشامل کرنا چاہئے ۔اس کے متعلق جماعت ِ احمدیہ نے اپنے میمورنڈم میں یہ موقف بیان کیا
    If the idea of Pakistan was to give Muslims a chance to make up their losses in political and economic life and if this idea of division (which has been accepted by the British Government and the congress) is legitimate, then any attempt to partition the Muslims areas on the basis of property or superior economic status is to nullify the very idea of Pakistan, and will have to be rejected as fundamentally wrong.
    اب کتنا صاف ظاہر ہے کہ جماعت ِ احمدیہ تو ہر طرح مسلم لیگ کے موقف کی تائید کر رہی ہے۔
    اور جب اس کمیشن کے ایک جج جسٹس تیجا سنگھ صاحب نے سوال پوچھا
    What is the position of the Ahmadiyya community as regards Islam.
    احمدیہ جماعت کا اسلام سے کیا تعلق ہے یا ان کی مسلمان ہونے کے بارے میں کیا پوزیشن ہے؟
    تواس پر جماعت ِ احمدیہ کے نمائندہ مکرم شیخ بشیر احمد صاحب نے اس کا جو جواب دیا اس کا پہلا جملہ یہ تھا
    They claim to be Mussalmans first and Mussalmans last. They are part of Islam.
    یعنی وہ شروع سے لے کر آخر تک مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ اسلام کا حصہ ہیں۔
    ان چندمثالوں سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ الزام بالکل غلط ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ کے طور پر پیش کیا تھا۔نہ صرف جماعت ِ احمدیہ نے مسلم لیگ کے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے یہ میمورنڈم پیش کیا تھا بلکہ اس وقت مسلم لیگ بھی اس کمیشن کے روبرو بہت زور دے کر یہ موقف پیش کر رہی تھی کہ وہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں اور انہوں نے مکمل طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور قادیان ان کا مقدس مقام ہے۔ اس لئے ضلع گورداسپور کو پاکستان میں ہی شامل ہونا چاہئیے۔مسلم لیگ بٹالہ نے جو میمورنڈم پیش کیا تھا اس میں بہت زور دے کر یہ نکتہ بیان کیا گیا تھا۔
    ‏.6(.6The Partition of the Punjab, Vol 1, published by Sang e Meel Publication p472.6)
    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کا مکمل ریکارڈ تو حکومتِ پاکستان کی اپنی تحویل میں تھا اور بعد میں جب حکومتِ پاکستان نے یہ کارروائی شائع کی تو یہ بات روز ِ روشن کی طرح ثابت ہو گئی کہ۱۹۷۴ء کی کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک انگریزی جریدہ کے حوالہ سے جو الزام لگایا تھا وہ بالکل غلط تھا ۔اور انہیں اس بات کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی کہ وہ اس مسئلہ پر ایک غیر معروف انگریزی جریدہ کا حوالہ پیش کریں،اصل کارروائی تو ان کی حکومت کی اپنی تحویل میں تھی جس کا سرسری مطالعہ ہی اس بات کو ظاہر کر دیتا کہ یہ الزام غلط ہے۔یا تو اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی ٹیم قومی اسمبلی اور قوم کو غلط حقائق پیش کر کے عمداََ دھوکہ دے رہے تھے یا پھر انہیں حقائق کی کچھ خبرنہ تھی اور شاید اس سے کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی۔
    ایک اور دلچسپ بات جو یہاں درج کرنی مناسب ہو گی وہ یہ ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ باؤنڈری کمیشن میں چوہدری ظفراللہ خان صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں؟ تو چوہدری صاحب نے کہا کہ باقی مسلمان ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے قادیانی کہتے ہیںاور گورداسپور اسی لئے گیا تھا۔
    یہاںہم بڑے ادب سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اب یہ تمام کارروائی شائع ہو چکی ہے اور ایک ایک لفظ شائع ہوا ہے۔اس طرح کا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں تھااور یہ سوال حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب سے ہونا ہی کیوں تھا۔وہ تو مسلم لیگ کا کیس پیش کر رہے تھے۔ جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے مسلم لیگ کے ایماء پر تو شیخ بشیراحمد صاحب پیش ہوئے تھے اور ان سے اس قسم کا سوال جسٹس تیجا سنگھ صاحب نے کیا تھا اور اس کا جو جواب انہوں نے دیا تھا وہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ اس مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران اربابِ حل و عقد ان موضوعات کے متعلق بنیادی حقائق سے بھی بے خبر تھے جن کے متعلق سوالات کئے جا رہے تھے اور یہ صورت ِ حال اس لئے بھی زیادہ افسوسناک ہو جاتی ہے کہ یہ ریکارڈ حکومت کی تحویل میں تھا اور کسی نے حقائق جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ صرف غیر سنجیدہ انداز میں سوالات کئے جا رہے تھے۔
    اب ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔کیا اس وقت اٹارنی جنرل صاحب اور ان کے ساتھی ممبرانِ اسمبلی نے محض عام پروپیگینڈا سے متاثر ہو کر اس جریدے کے حوالے سے یہ غلط الزام جماعت ِ احمدیہ پر لگایا تھا یا پھر انہوں نے عمداََ غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے کمزور موقف میں جان پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ 1947ء میں احمدیوں کی تعداد کے بارے میں بحث کرتے ہوئے جماعت ِ احمدیہ کا وہ میمورنڈم جو کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا تھا ہاتھ میں پکڑ کر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کو دکھایا بھی تھاکہ یہ اس میمورنڈم کی کاپی ہے۔اس سے یہ واضح طور پر ظاہر ہو تا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی ٹیم یہ میمورنڈم ریکارڈ سے نکلوا چکے تھے اور اس کے مندرجات ان کے علم میں تھے۔اس کے باوجود انہوں نے سپیشل کمیٹی کے روبرو دانستہ طور پر غلط الزامات پیش کئے تھے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور یہ پہلو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔
    اب ہم اُس دوسرے الزام کا جائزہ لیتے ہیںجو Impactکے اس شمارے میں جماعت پر لگایا گیا تھااور وہ یہ تھا:۔
    Many allege a Qadiani role in the breakup of Pakistan. Suggestion to this effect were made even in the correspondence column of Bangladesh observer.Given this background the recent eruption of widespread disturbance should come as no surprise but it is deplorable too.
    یعنی اٹارنی جنرل صاحب جس جریدہ کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر جماعت ِ احمدیہ کے خلاف یہ الزامات پڑھ رہے تھے،اس کے مطابق بہت سے لوگوں کے نزدیک چند سال پہلے پاکستان ٹوٹا تھا اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا تو اس کے ذمہ دار بھی احمدی تھے اور اس پس منظر میں اگر احمدیوں کے خلاف موجودہ فسادات شروع ہو گئے ہیں تو یہ بات قابلِ حیرت نہیں اگرچہ قابلِ مذمت ضرور ہے۔
    ہم یقیناََ اس بات سے متفق ہیں کہ سقوط ِ ڈھاکہ کا سانحہ اور پاکستان کا دو لخت ہو جانا ایک بہت بڑا سانحہ تھا ۔اور جو گروہ بھی اس کا ذمہ دار تھا اس کو سزا ملنی چاہئے تھی۔لیکن ہم ایک بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب سانحہ ہو چکا تھا تو اس کے معاََ بعد ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ اور اٹارنی جنرل صاحب اسی پارٹی کی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے اور اسمبلی کی اکثریت کا تعلق بھی اس پارٹی سے تھا۔جیسا کہ توقع تھی حکومت نے ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۱ء کو جب کہ ابھی مشرقی پاکستان میں شکست کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا ایک کمیشن قائم کیا تاکہ وہ اس سانحہ کے ذمہ دار افراد کا تعیّن کرے۔ اس کمیشن کی سربراہی پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس حمود الرحمن صاحب کر رہے تھے۔ حمود الرحمن صاحب کا تعلق بنگال سے تھا۔پنجاب اور سندھ کے چیف جسٹس صاحبان اس کمیشن کے ممبر تھے اور عسکری پہلوؤں کے بارے میں مدد دینے کے لیے مکرم لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر صاحب مقرر کئے گئے۔اس کمیشن نے تمام واقعات کی تحقیق کر کے ۸ ؍جولائی ۱۹۷۲ء کو اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی تھی ۔یعنی اسمبلی کی اس کمیٹی کے کام شروع کرنے سے دو سال قبل حکومت کے پاس یہ رپورٹ پہنچ چکی تھی کہ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار کون تھا۔اور اٹارنی جنرل صاحب جس حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے وہ بخوبی جانتی تھی کہ مجرم کون کون تھا۔مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر حکومت نے یہ رپورٹ شائع نہیں کی اور ۱۹۷۴ء میں یہ رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آئی تھی۔اور چند دہائیوں بعد یہ رپورٹ جو کہ خفیہ رکھی گئی تھی پاکستان کی حکومت کی مستعدی کے باعث بھارت پہنچ گئی اور وہاں شائع ہو گئی اور اس کے بعد پھر حکومت ِ پاکستان بھی اس رپورٹ کو منظر عام پر لے آئی۔
    اب ہم رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اس میں یہ لکھا ہے کہ احمدی اس ملک کو دو لخت کرنے کے ذمہ دار تھے؟ ہر گز نہیں ۔اس رپورٹ میں کہیں جماعت ِ احمدیہ پر یہ مضحکہ خیز الزام نہیں لگایا گیا۔اس رپورٹ میں اس سانحہ کا سب سے زیادہ ذمہ دار اس وقت کی حکومت ِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل یحییٰ خان صاحب اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو قرار دیا تھااور یہ سفارش کی تھی ان پر مقدمہ چلایا جائے۔اور اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ پاکستان کی افواج کی ہائی کمان نہ حالات کا صحیح تجزیہ کر پا رہی تھی اور نہ انہیں صحیح طرح ملک کو درپیش خطرات کا کوئی اندازہ تھا اور نہ افواج جنگ کرنے کے لیے کسی طور پرتیار تھیں۔مالی بد عنوانی کے الزامات اور غیر آئینی طریقوں سے اقتدار حاصل کرنے کے شواہد سامنے آئے تھے۔دورانِ جنگ مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کی گئی۔آپریشن کے دوران مشرقی پاکستان میں قتل و غارت اور دیگر مظالم کی نشاندہی کی گئی۔اور حکومت سے کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ان امور پر تفصیلی تحقیقات بلکہ کھلا مقدمہ چلایا جائے اور قصوروار افراد کو سزا دی جائے اور اس کمیشن نے اس رپورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین پر بھی تنقید کی تھی کہ انہوں نے کیوں اسمبلی کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا اور کہا کہ وہ مغربی پاکستان سے کسی کو ڈھاکہ میں اسمبلی کے اجلاس میں شامل نہیں ہونے دیں گے اور اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اُدھر تم اِ دھر ہم کا نعرہ کیوں لگایا تھا۔ ان عوامل کی وجہ سے آئینی طریقوں کے راستے بند ہو گئے اور حالات بگڑتے گئے۔
    یہ رپورٹ حکومت کے حوالے کی گئی لیکن حکومت نے اس رپورٹ کو خفیہ رکھا اور عوام کو ان حقائق سے لا علم رکھا۔اور اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات بھی نہیں چلائے گئے اور نہ ہی انہیں کوئی سزا دی گئی۔بلکہ اس رپورٹ میں جن افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے اور اسے دوام بخشنے کے لیے غیر قانونی ذرائع اختیار کیے اور رشوت ستانی سے بھی کام لیا ،ان میں سے ایک کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا جیسا کہ کمیشن نے پہلے سفارش کی تھی جب وہ جرنیل جو جنگی قیدی بنے ہوئے تھے ملک واپس آگئے تو حکومت نے اس کمیشن کو دوبارہ کام شروع کرنے کا کہا تاکہ ان سے تحقیقات کر کے رپورٹ کے نا مکمل حصہ کو مکمل کیا جائے۔چنانچہ جب باقی جرنیل قید سے ملک واپس آگئے تو اس کمیشن کا دوبارہ احیاء کیا گیا تاکہ تحقیقات مکمل کر لی جائیں۔یہ حکم ۲۵؍ مئی ۱۹۷۴ء کو جاری ہوتا ہے اور چند روز بعد ہی جماعت کے خلاف فسادات شروع ہو جاتے ہیں یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ شروع کرا دیئے جاتے ہیں اور اسمبلی کی اس سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل صاحب اس جریدہ کے حوالے سے یہ الزام سامنے لا رہے ہیں کہ ملک کو دو لخت کرنے کی ذمہ داری احمدیوں پر عائد ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف یہ فسادات شروع ہوئے ہیں۔جب کہ ارباب ِ حکومت جانتے تھے کہ یہ الزام جھوٹا ہے۔وہ صرف لا یعنی الزامات عائد کر کے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے تھے اور حقائق پاکستان کے عوام سے پوشیدہ رکھے جا رہے تھے۔
    ہاں جہاں تک جماعت ِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے جنرل یعنی جنرل افتخار جنجوعہ صاحب کا تعلق تھا تو یہ پاکستان کی تاریخ کے واحد جنرل تھے جنہوں نے دورانِ جنگ جامِ شہادت نوش کیا اور کسی جرنیل کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی اور اس رپورٹ سے یہ واضح طو ر پر نظر آتا ہے کہ اس جنگ کے دوران ان میں سے اکثر اس سعادت کے لیے مشتاق بھی نہیں تھے اور حمود الرحمن رپورٹ میں جہاں باقی اکثر جرنیلوں پر شدید تنقید کی گئی ہے اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے وہاں جنرل افتخار جنجوعہ شہید کے متعلق اس رپورٹ میںA capable and bold commander کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اور کسی جرنیل کے متعلق یہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہاں ان کی کارکردگی کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں بھی بعض امور کی نشاندہی کی گئی ہے ۔لیکن فرق دیکھیں کہ باقی جرنیلوں پر یہ تنقید کی گئی کہ وہ لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے انہوں نے موجود وسائل کا بھی صحیح استعمال نہیں کیا،وہ قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔وہ مرکزی کمان کو بھی غیر ضروری طور پر سیاہ تصویر دکھاتے رہے ،اپنے فرائض چھوڑ کر چلے گئے وہاں جنرل جنجوعہ شہید پر یہ تبصرہ کیا گیا کہ انہیں جس علاقہ پر قبضہ کرنے کا کہا گیا تھا وہ اس سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں تھے اور جی ایچ کیو کو چاہئے تھا کہ انہیں اس سے روکتا اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بجائے علاقہ دشمن کے حوالہ کرنے کے دشمن کے علاقہ پر قبضہ کیا تھا ۔فرق صاف ظاہر ہے۔(۵۹)
    اس حبُّ الوطنی کا صلہ احمدیوں کو یہ دیا گیا کہ قومی اسمبلی میں یہ الزام لگایا گیا کہ ملک کو دو لخت کرنے کے ذمہ دار احمدی تھے۔جب کہ اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھی جسے خود حکومت نے قائم کیا تھا اس الزام کو صرف ایک تیسرے درجہ کا جھوٹ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
    اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے دو ایسے اعتراضات کیے جو ایک طویل عرصہ سے مخالف مولویوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔اور وہ یہ کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی بعض تحریروں میں حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت حسین ؓ کی توہین کی ہے۔اور اس نام نہاد الزام کو ثابت کرنے کے لیے وہ توڑ مروڑ کر یا سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے بعض تحریروں کے حوالے پیش کرتے ہیں۔ہم یہاں پر ان دو مقدس ہستیوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند تحریروں کے اقتباسات پیش کرتے ہیں،جس سے اس الزام کی قلعی کھل جاتی ہے۔اور زیادہ بحث کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک اشتہار میں تحریر فرمایا:۔
    ’’اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پرکرتے ہیں۔عیسائی لوگ درحقیقت ہمارے اس عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں پیشگوئی کی تھی بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیںجس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو بٹمار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی ﷺ کا سخت مکذب تھا اور اس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں ،کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی … ‘‘ (۶۰)
    پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف تحفہ قیصریہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’اُس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اوراپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔‘‘ (۶۱)
    ’’اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابنِ مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزّت کرتا ہوں ۔کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں ۔نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں ۔کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔‘‘ (۶۲)
    ان حوالوں سے یہ بات روز ِ روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کی ہے یا آپ کے احترام کا خیال نہیں رکھا۔اور حضرت حسین ؓ کے بلند مقام کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کا فتویٰ ہے:۔
    ’’ … ہم اعتقاد رکھتے ہیں ۔کہ یزید ایک نا پاک طبع دنیا کا کیڑاا ور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے ۔وہ معنے اس میں موجود نہ تھے … دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا ۔مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھااور بلا شبہ ان برگزیدوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے مامور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلبِ ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔۔اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتدا کرنے والے ہیں۔جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے۔اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میںاس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوب صورت انسان کا نقش ۔یہ لوگ دنیاکی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے۔کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی تھی۔کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔‘‘ (۶۳)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر تو ہم نے دیکھ لی کہ یزید کو ہم مومن نہیں کہہ سکتے اور اس کے برعکس جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والے علماء کے خیالات کی ایک مثال پیش ہے۔
    دیوبند کے مشہور مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب سے جب پوچھا گیا کہ یزید کو کافر کہنا اور لعن کرنا جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے فتویٰ دیا کہ جب تک کسی کا کفر پر مرنا متحقق نہ ہو جائے اس پر *** کرنا نہیں چاہئے، جو علماء اس میں تردد رکھتے ہیں کہ اوّل میں وہ مومن تھا اس کے بعد اُن افعال کا وہ مستحل تھا یا نہ تھا اور ثابت ہوا یا نہ ہوا تحقیق نہیں ہوا (۶۴) ۔ البتہ بعض شیعہ کتب جو حضرت حسینؓ کی شان بیان کرتے ہوئے بعض نا مناسب باتیں تحریر ہیں جماعت ِ احمدیہ ان سے اتفاق نہیں کرتی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا ردّ بھی فرمایا ہے۔مثلاََ بعض شیعہ کتب میں تو یہ بھی لکھا ہے حضرت حسینؓ کی ولادت سے کئی ہزار برس قبل حضرت آدم ؑ نے جب عرفات میں دعا کی تو پنجتن کا واسطہ دیا اور جب یہ واسطہ دیتے ہوئے حضرت حسین کا نام لیا تو آپ کے آنسو نکل آئے۔شبِ معراج کے دوران خود آنحضرت ﷺ نے حضرت حسین کا گریہ فرمایا ،جب حضرت نوحؑ کا سفینہ کربلا کے اوپر سے گزر رہا تھا تو اسے جھٹکا لگا اور حضرت نوحؑ روئے،بساطِ سلیمانی جب کربلا کے اوپر سے گزری تو اسے چکر آگیا۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(الانعام : ۷۶) یعنی ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت (کی حقیقت )دکھاتے رہے تا کہ (وہ) مزید یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔‘‘اس کی تفسیر میں شیعہ کتب میں لکھا ہے کہ جب اس دوران حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت حسینؓ کی شبیہ دیکھی تو گریہ شروع کر دیااور جب عیسٰی ؑ نے حواریوں کے درمیان کربلا کا ذکر کیا اور سب رونے لگے اور حضرت موسٰیؑ جب کوہ ِ طور پر گئے تو حضرت حسینؓ کی وجہ سے بار بار روئے (۶۵)۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروںمیں اور اشعار میں اس قسم کے عقائد کا کما حقہ ردّ فرمایا ہے۔
    اس روز اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں کہ نعوذُ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت امام حسین ؓ کی توہین کی ہے ،حضرت مسیح موعودؑ کا یہ شعر پڑھا
    کربلائے ایست سیر ہر آنم
    صد حسین است در گریبانم
    پڑھا۔ ابھی وہ یہ تاثر قائم کرنے کا آغاز ہی کر رہے تھے کہ اس شعر میں حضرت امام حسین کی توہین کی گئی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے انہیں شیعہ عالم علامہ نوعی کا یہ شعر سنایا
    کربلائے عشقم لب تشنہ سر تا پائے من
    صد حسین کشتہ در ہر گوشہ صحرائے من
    اور فرمایا کہ یہاں ’’صد حسین‘ ‘ نہیں بلکہ ’’ ہر گوشہ صحرائے من ‘‘ میں صد حسین ہے۔یہ الفاظ تحقیر کے لئے نہیں بلکہ اظہار ِ عشق کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب کے پاس اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔
    اٹارنی جنرل صاحب کے اعتراض کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے فرمایا ’’جہاں تک امام حسین ؓ اور دوسرے اہلِ بیعت کی ہتک کے الزام کا تعلق ہے ،اس دُکھ دِہ امر کے اظہار کے بغیر چارہ نہیں کہ جماعت ِ احمدیہ کے ساتھ مسلسل نا انصافی کا یہ طریق اختیار کیا جا رہا ہے کہ حضرت بانیِ سلسلہ احمدیہ کے اقتباس کو ادھورا پیش کیا جاتا ہے حالانکہ جس رنگ میں ان اقتباسات کو پیش کیا جاتا ہے خود اس کی تردید میں حضرت بانیِ سلسلہ کی واضح تردید موجود ہوتی ہے ۔زیر ِ نظر الزام میں حضرت امام حسین ؓ کے بارے میں ’’اعجاز ِ احمدی‘‘ کی جو عبارت پیش کی جاتی ہے وہاں مضمون میں توحید اور شرک کا موازنہ کیا جا رہا ہے حضرت امام حسین کے متعلق حضرت بانیِ سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں … ‘‘ پھر حضور نے حضرت امام حسینؓ کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریر پڑھنی شروع کی جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے تو یہ صورت ِ حال ان ممبران کے لیے نا قابلِ برداشت ہو گئی جو ان خیالات میں غرق تھے کہ وہ جو کچھ کہیں گے اس کو بغیر کسی بحث کے قبول کر لیا جائے گا۔سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی عبد العزیز کھڑے ہوئے۔وہ اس وقت تو خاموش بیٹھے رہے جب کچھ نا مکمل حوالوں کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی حضرت امام حسینؓ کی توہین کی گئی لیکن جب حضرت امام حسین کی شان میں حوالے پڑھے گئے تو انہوں نے فوراََ یہ مہمل اعتراض کیا کہ مرزا صاحب جو حوالہ پڑھ رہے ہیں اگر وہ کہیں شائع ہوا ہے تو وہ پڑھ سکتے ہیں۔لیکن اگر خالی یہاں بیٹھ کر اس سوال کے جواب میں وہ کچھ پڑھنا چاہتے ہیں تو شاید قواعد کی رو سے اس کی اجازت نہیں ہے۔سپیکر صاحب نے ان ممبر صاحب کو کہا کہ وہ بعد میں اٹارنی جنرل صاحب سے اس بابت بات کر سکتے ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب بھی اس جواب سے کچھ خوش معلوم نہیں ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ’’ قاعدہ یہ ہے کہ ایک گواہ زبانی گواہی دیتا ہے وہ کسی سوال کے جواب میں پہلے سے تیار شدہ تحریر نہیں پڑھ سکتا ۔‘‘ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ان حوالوں کے بعد ان کے اُ ٹھائے گئے الزامات کی عمارت زمین بوس ہوتی نظر آ رہی تھی۔
    یہ ایک عجیب اعتراض تھا کہ وہ نا مکمل حوالے پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں نعوذ با للہ حضرت حسینؓ کی توہین کی ہے۔جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے حضرت امام حسین ؓ کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ پڑھنا شروع کیا تو یہ عجیب نکتہ ا ٹھا یا گیا کہ گواہ تحریر نہیں پڑھ سکتا۔ اس موضوع پر جب بحث ہو رہی ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس ضمن میں حوالہ نہیں پڑھا جا سکتا تواور کیا کیا جا سکتا ہے۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا
    ‏I can quote the quotation
    یعنی کہ میں ایک تحریر کا حوالہ پڑھ سکتا ہوں۔بہر کیف اس مرحلہ پر سپیکر صاحب نے مداخلت کی اور کہا کہ آپ کسی تحریر سے اپنی یاداشت کو تازہ کر سکتے ہیں۔پھر جاکر یہ حوالہ مکمل پڑھا گیا۔ یہ ایک عجیب اعتراض تھا جو ایک ایسے ممبر کی طرف سے کیا گیا تھا جو خود وکیل تھا۔یہ ٹھیک ہے کہ عدالت میں ایک گواہ ایک تیار شدہ Statementنہیں پڑھ سکتا لیکن یہ ایک حوالہ تھا ۔جب جماعت کی طرف ایک غلط بات منسوب کی جا رہی تھی اور اس الزام کی تائید میں نا مکمل یا غلط حوالے پڑھے جا رہے تھے تو جماعت ِ احمدیہ کا وفد اپنے صحیح عقائد کو ظاہر کرنے کے لیے متعلقہ حوالہ کیوں نہیں پڑھ سکتا؟
    یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریروں کو نا مکمل طور پر پیش کر کے یہ اعتراضات کئے جاتے ہیں کہ آپ نے نعوذُ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین کی ہے۔مندرجہ بالا حوالہ جات سے اس بے بنیاد الزام کی تردید ہو جاتی ہے۔لیکن یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس الزام کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کے حوالہ جات کا وہی عالم رہا جو کہ پہلے تھا۔سب سے پہلے تو انہوں نے ایک کتاب ’’مکتوب ِ احمدیہ‘ ‘ کا حوالہ دیا۔ جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں اس نام کی کسی کتاب کا کوئی وجود نہیں۔
    یہاں ایک اصولی بات کا ذکر ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اسی کتاب’’انجامِ آتھم‘‘میں جس کے حوالے اٹارنی جنرل صاحب نے پڑھے تھے تحریر فرمایا ہے:۔
    ’’ اور یا درہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔‘‘ (روحانی خزائن ،جلد۱۱،ص13)
    ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ الفاظ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اس خیالی یسوع کے بارے میں ہیں جس کا دعویٰ انجیل کرتی ہے جبکہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے پیمبرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعلق ہے تو اس کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے اور یہ حقیقی حضرت عیسٰیؑ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے۔
    اور انجیل میں یسوع کے متعلق بیان کردہ حالات کا ذکر بھی کیوں کرنا پڑا اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دیکر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے آنحضرت ﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں۔ پس اسی طرح مردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہے ہمیں اس بات پرمجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھااور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔‘‘ (روحانی خزائن جلد 11ص293)
    یہ عبارت اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ اس فرضی وجود کے حالات کا ذکر ہو رہا ہے جس نے پادریوں کے مطابق خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن اگر یہ نکتہ واضح ہو جاتا تو ’’انجام آتھم ‘‘ کے جن حوالوں کو اٹارنی جنرل صاحب پیش کر رہے تھے ان پر نہ کوئی اعتراض ہو سکتا تھا اور نہ ہی ان سے وہ تاثر پیدا ہو سکتا تھا جو کہ اٹارنی جنرل صاحب پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس لئے اس بار پھر انہیں حوالوں میں جعلسازی کر کے ردّ و بدل کرنا پڑا۔ ہم اس کی مثال پیش کرتے ہیں۔
    جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے انہیں باور کرایا کہ ان عبارتوں میں تو یسوع لکھا ہوا ہے حضرت عیسیٰ نہیں لکھا ہوا۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والوں نے عجلت میں یہ جعلی حوالہ تراشا۔ اٹارنی جنرل صاحب نے یہ حوالہ پیش کیا:۔
    ’’آپ کو (یعنی حضرت عیسیٰ کو) بریکٹ میں یہ ہے’’ یسوع‘‘ نہیں ہے یہاں لکھا ہوا ہے
    ’’آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی …… آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی… ‘‘
    حقیقت یہ ہے کہ یہ جملے نا مکمل طور پر پیش کئے جا رہے تھے۔یہ عبارت انجام آتھم میں جہاں ہے وہاں سرے سے کوئی بریکٹ موجود ہی نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ یہ عبارت حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے یسوع کے بارے میں نہیں۔بلکہ یہ عبارت جہاں پر شروع ہو رہی ہے وہاں پر واضح طور پر ایک سے زائد مرتبہ ’’یسوع ‘‘ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ عبارت فرضی یسوع کے بارے میں ہے،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں ہے۔
    اب وقفہ کا وقت قریب آ رہا تھا اور اس سے قبل اعتراضات اُ ٹھانے والے اپنی دانست میں بڑا وار کرنا چاہتے تھے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے پہلے یہ تمہید باندھی کہ آپ نے اپنے محضرنامہ میں لکھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ ؑ کا آنحضرت ﷺ سے بہت عقیدت اور پیار کا تعلق تھا۔اس تمہید کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سؤر کی چربی پڑتی ہے۔
    اس اعتراض کو پڑھ کر یہ تاثر ملتا ہے کہ سوالات کرنے والے اس بات پر تو تلے ہوئے تھے کہ جماعت ِ احمدیہ کے لٹریچر پر اور عقائد پر ہر طرح کا اعتراض کریں جبکہ انہیں اسلامی لٹریچر پر بھی کوئی خاص دسترس نہیں تھی ورنہ اتنا بودا اعتراض کرنے کی غلطی نہ کرتے۔
    سب سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے صحیح عبارت پڑھ کر سنائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان فرما رہے ہیں کہ دین میں وہم جائز نہیں ہے اور صرف شک کی بناء پر کوئی چیز پلید نہیں ہو جاتی۔آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب عیسائیوں کے ہاتھ کا بنا ہوا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس میں سؤر کی چربی پڑتی تھی۔ (مشہور تھا ،یہ نہیں کہ پڑی ہوتی تھی۔)
    اس موضوع پر احادیث کی کتب اور ان کی شروح میں بہت سی روایات درج کی گئیں ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے سنن ابی داؤد، مسند احمد بن حنبل ؒ اور بیہقی سے روایات پڑھ کر سنائیں اور یہ واضح فرمایا کہ یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ محض وہم کی بناء پر کوئی چیز حرام نہیں ہو جاتی۔اس ضمن میں کچھ مثالیں درج کی جا رہی ہیں۔
    حضرت ابنِ عباس ؓ بیان فرماتے ہیںکہ ایک غزوہ میں آنحضور ﷺ کے پاس پنیر لایا گیا ہے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کہاں کا بنا ہوا ہے؟ صحابہ نے عرض کی کہ فارس کا بنا ہوا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ وہ اس میں مردار ڈالتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اُسے چھری سے کاٹو اور کھاؤ۔
    (مسند احمد بن حنبل جلد ۱ص302)
    اس مضمون کے بارے میں مُلّا علی قاری لکھتے ہیں کہ جو مجوسیوں کے دیس سے یا اس کے ارد گرد سے آتی تھیں نجاست سے لبریز ہوتی تھیں جیسا کہ جوخ جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ سور کی چربی سے تیار ہوتا تھا اور جیسے پنیر جس کی تیاری میں سؤر کی چربی وغیرہ ڈالا کرتے تھے۔
    (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح از ملا علی قاری )
    اسی طرح حدیث کی شرح کی ایک اور کتاب میں لکھا ہے:۔
    ’’اور جوخ کا بنانا سؤر کی چربی سے مشہور ہے اور شام کے پنیر کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ اسے سؤر کے پیٹ کی چربی سے بنایا جاتا تھا۔ یہ پنیر آنحضرت ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اسے کھایا اور اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔ ہمارے شیخ نے شرحِ منہاج میں اس کا ذکر کیا ہے۔‘‘
    (فتح العین شرح قرۃ العین مصنفہ علامہ شیخ زین الدین بن عبد العزیز مطبوعہ 1311ھ صفحہ 14باب الصلوۃ)
    ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ یہاں پر نعوذ ُ باللہ حرام چیز کھانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ بیان ہے کہ صرف وہم کی بنا ء پر کسی چیزکو حرام نہیں سمجھ لینا چاہئیے۔
    دوپہر کا وقفہ ہونے سے پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ نکتہ اُ ٹھایا کہ ممبران میں روزانہ کی کارروائی کا سرکلر ہونے سے قبل ان سے تصحیح کرانا ضروری ہے کیونکہ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کچھ کہا اور لکھا کچھ اور گیا۔سپیکر صاحب نے ان سے اتفاق کیا لیکن یہاںپر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حق پھر جماعت کے وفد کو بھی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ پھر یہ بھی احتمال تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کا بیان بھی غلط لکھا جا رہا ہو۔یہ حق جماعت کے وفد کے پاس بھی ہونا چاہییے تھا کہ وہ اپنے بیان کو پڑھ کر اس کی تصحیح کرے لیکن جب ایک ممبر اسمبلی نے یہ سوال اُ ٹھایا کہ کیا جماعت کے وفد کو اس کارروائی کی کاپی دی جائے گی تو سپیکر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوگا۔
    جب اس کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا تو یحییٰ بختیار صاحب نے دوبارہ یہ بحث شروع کی کہ حضرت بانیء سلسلہ احمدیہ نے اپنی تحریروں میں مقدس ہستیوں کی توہین کی ہے۔اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس مرحلہ پر وہ کیا حکمت ِ عملی استعمال کر رہے تھے۔اس جائزہ کے نتیجہ میں یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ سوالات کرنے والے احباب ابھی وہی طریقہ استعمال کر رہے تھے کہ یا تو خود ساختہ حوالے پیش کئے جائیں یا پھر اپنی طرف سے ایک معیّن حوالہ پیش کیا جائے لیکن عبارت کو اس طرح تبدیل کر دیا جائے کہ اس کا مطلب اور مفہوم بالکل بدل جائے اور اس طرح اپنے کمزور موقف میں جان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ دوپہر کے سیشن میں اٹارنی جنرل صاحب نے یہ حوالہ پڑھا:۔
    ’’حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص13)
    یہ صاف ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ اس حوالے کی معین عبارت پڑھ رہے ہیں اور جو کارروائی شائع کی گئی ہے اس میں بھی یہ عبارت inverted commas میں دکھائی گئی ہے ،جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اپنی طرف سے اس حوالے کی معین عبارت درج کی گئی تھی لیکن بہت افسوس سے یہ لکھنا پڑتا ہے کہ’’ ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں یہ معیّن الفاظ موجود ہی نہیں ہیں۔اس مبارک کشف کو بیان کرتے ہوئے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ بالکل ایک اور مفہوم بیان کر رہے ہیں اور جب اس طرح کسی حوالے کی معین عبارت کو پیش کیا جائے تو اسے حرف بحرف صحیح پیش کرنا چاہئیے نہ کہ اس طرح کہ اس کے الفاظ تبدیل کر کے اپنا مطلب نکالا جائے۔ جب حضور نے اس کا جواب دیا تو اس کے ساتھ ہم تمام تفاصیل پیش کریں گے۔
    اس مرحلہ پر جب اٹارنی جنرل صاحب غلط حوالوں کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے تو حضور نے ایک حوالہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم چیک کر کے اور سیاق و سباق دیکھ کر اس کی تصدیق کریںگے اور حضور نے فرمایا:۔
    ’’ آج صبح ایسا حوالہ پیش کیا گیا جس کا وجود ہی نہیں تھا … ایسے اخبار کا حوالہ تھا جو چھپا ہی نہیں۔‘‘
    جیسا کہ ہم حوالوں کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں کہ اٹارنی جنرل صاحب نے الفضل کے اس دن کے شمارے کا حوالہ دے دیا تھا جس روز الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔ ان دنوں الفضل روزانہ شائع نہیں ہوتا تھا۔اس موقع پر کسی معذرت کرنے یا شرمندگی کے اظہار کی بجائے اٹارنی جنرل صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا:۔
    ’’ ہمیں کہتے ہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں۔‘‘
    اب پڑھنے والے قومی اسمبلی کی ذہنی کیفیت کے بارے میں خود ہی کوئی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ سپیشل کمیٹی میں ایک ایسا حوالہ پڑھا گیا جس کے متعلق ثابت کر دیا گیا کہ یہ جعلی ہے۔ حوالہ پیش کرنے والے اس کا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ اس حوالہ کا کوئی وجود بھی تھا اور کارروائی کے آخر تک اس بات کا کوئی بھی ثبوت مہیا نہیں کیا گیااور جب اس بات کا ذکر کیا گیا تو نازک مزاجی کا عالم یہ تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا’’ ہمیں کہتے ہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں۔‘‘ گویا کہ اگر وہ جعلی حوالہ پیش کریں اور جماعت کے وفد سے اس کے بارے میں دریافت فرمائیں اور جماعت کا وفد انہیں باور کرائے کہ اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا تو بیچارے اٹارنی جنرل صا حب کو یقین ہی نہیں آتا کہ انہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ کا حوالہ تو جعلی نکلا۔اگر حوالہ جعلی ہے تو پھر ہر ایک کا حق ہے کہ وہ کہے کہ یہ حوالہ جعلی ہے اور جعلی حوالہ پیش کرنے والوں کو یہ سننا پڑے گا۔
    اب سپیکر صاحب نے انہیں مزید خفت سے بچانے کے لئے کہا۔
    ‏There might be some bonafider mistake of fact. But when the book is available, the book may be handed over and the other members of the delegation can verify those.
    یعنی: ہو سکتا ہے کہ نیک نیتی سے ہی غلطی ہو گئی ہو مگر جب کتابیں موجود ہیں توکتاب ان کے حوالے کر دی جائے اور وفد کے دوسرے ممبران اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
    لیکن اٹارنی جنرل صاحب اپنی حوالہ دانی کے بارے میں ابھی بھی پُر اعتماد تھے۔ انہوں کہا
    ’’ حوالے موجود ہیں ۔ جی!‘‘
    اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ متعلقہ کتابیں ان کو یعنی جماعت کے وفد کو دے دیں۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جو فرمایا وہ ہم حرف بحرف نقل کر دیتے ہیں۔
    ‏If I give the quotation, then I forget the subject. I wanted it to be clarified.
    یعنی اگر میں حوالہ پڑھوں تو میں مضمون بھول جاتا ہوں۔ میں اس معاملہ کی وضاحت چاہتا تھا۔
    دنیا بھر کا اصول ہے کہ جب کسی عبارت کا حوالہ پیش کیا جائے تو اس کی عبارت پڑھی جاتی ہے ۔ اور معین حوالہ دیا جاتا ہے کہ یہ حوالہ کس کتاب یا اخبار یا جریدے سے لیا گیا ہے۔ لیکن بیچارے اٹارنی جنرل صاحب اپنی بیچارگی کا اظہار ان الفاظ میں کر رہے تھے کہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں حوالہ پڑھ دوں تو میں یہ ہی بھول جاتا ہوں کہ مضمون کیا بیان کرنا تھا۔ اب اگر وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ انہیں نسیان کی بیماری ہے تو پھر اس کی ذمہ دار بہر حال جماعت ِ احمدیہ نہیں تھی۔
    اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ جب حوالہ پڑھیں تو کتاب انہیں دے دی جائے اور جب حوالہ ختم ہو تو وفد اس کا جواب شروع کر سکتا ہے۔
    اب اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر اپنی علمی قوت جمع کی اور ایک اور حوالہ پڑھنے کا آغاز کیا اور حوالہ پڑھا:
    ’’ سیرۃالابدال صفحہ 193‘‘
    لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شائع ہونے والی کارروائی کے مطابق اس مرحلہ پر نہ تو اٹارنی جنرل صاحب اس حوالہ کی عبارت پیش کر سکے اور نہ ہی حسب ِ فیصلہ یہ کتاب جماعت کے وفد کو دی گئی کہ وہ اس عبارت کو دیکھ کر اس کی موجودگی کی تصدیق کر سکے اور خوش قسمتی سے کسی اور موضوع پر بات شروع ہو گئی۔ اب ہر پڑھنے والا یہ سوچے گا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ یہ اس لئے ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تصنیف ’’سیرۃ الابدال‘‘کے صرف 16صفحات ہیں ۔اور اٹارنی جنرل صاحب اس کتاب کے صفحہ نمبر193سے کوئی حوالہ پڑھنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔اس سے قبل سپیکر صاحب نے ایک ممبراسمبلی عبدالعزیز بھٹی صاحب کو کہا تھا کہ وہ جس کتاب کا حوالہ پڑھا جا رہا ہو وہ جماعت کے وفد کے حوالے کریں لیکن بھٹی صاحب بیچارے اس مرحلہ پر کیا کرتے ۔جس حوالے کا کوئی وجود ہی نہیں تھا وہ جماعت کے وفد کے حوالے کیسے کرتے ؟یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب روحانی خزائن کے نام سے اکٹھی شائع ہوئی ہیں ۔اس کی جلد نمبر 20میں سیرت الابدال موجود ہے ۔اور روحانی خزائن میں بھی سیرت الابدال صفحہ نمبر144 پر ختم ہوجاتی ہے۔
    اس افراتفری کے عالم میں سپیکر صاحب کو بار بار یاد دلانا پڑ رہا تھا کہ جب جماعت کے وفد کے سامنے کوئی حوالہ پڑھا جائے تو متعلقہ کتاب کی جو عبارت پڑھی جا رہی ہے وہ نکال کر جماعت کے وفد کو دے دی جائے تا کہ وہ کم از کم یہ تصدیق تو کر سکیں کہ یہ حوالہ اس کتاب میں موجود ہے کہ نہیں۔چنانچہ سپیکر صاحب نے ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب کو ان کا یہ فرض یاد دلایا۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے جو فرمایا وہ یہ تھا۔
    ‏No, all these books are in the possession of the witness. They are presumed to be because these are the writtings of the.................................................
    یعنی یہ سب کتابیں گواہ(یعنی جماعت کے وفد کے پاس موجود ہیں ۔انہیں ان کے پاس موجود ہونا چاہئیے…
    اس عجیب الخلقت وضاحت کے جواب میں حضور نے فرمایا:۔
    ‏In our possession but not at this place
    یعنی یہ کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں لیکن اس جگہ پر نہیں ہیں۔ اب ادنیٰ سا بھی فہم رکھنے والا شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ جماعت کا وفد اپنی ساری لائبریری تو اپنے ساتھ اُٹھا کر اس ہال میں نہیں لاتا تھا اور نہ اس کی اجازت تھی اور نہ ہی جماعت کے وفد کو یہ علم ہوتا تھا کہ اب کس کتاب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔یہ فرض تو سوال کرنے والوں کا تھا کہ وہ حوالے کا ثبوت پیش کرتے اور وہ یہ فرض ادا کرنے سے قاصر تھے۔ جماعت کا وفد تو زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا تھا کہ کارروائی کے اختتام کے بعد متعلقہ کتب میں سے حوالے چیک کر کے اگلے روز جواب دے دیتا۔
    سوالات پیش کرنے والے ممبرانِ اسمبلی کو اب تک جو سبکی اُ ٹھانی پڑی تھی ، اب انہوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ اس کے ازالے کی کوشش شروع کی۔ اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک عربی شعر کا ترجمہ پڑھا اور ایک ممبر اسمبلی عبد العزیز بھٹی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب’’ نزول المسیح‘‘ جماعت کے وفد کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ اس کے صفحہ 96پر یہ لکھا ہوا ہے پڑھ کر تصدیق کر دیں۔ جماعت کے وفد نے کچھ دیر اس صفحہ کا جائزہ لیا پھر حضور نے سپیشل کمیٹی سے فرمایا کہ یہ عبارت تو اس صفحہ پر موجود ہی نہیں ۔ تھوڑی ہی دیر میں سوالات کرنے والوں کو شرمندگی پر شرمندگی اُ ٹھانی پڑ رہی تھی۔سپیکر صاحب نے کہا:۔
    ’’بھٹی صاحب!آپ نے یہ کتاب دی ہے صفحہ 96 پر نہیں مل رہا ۔آپpinpointکریں، اس صفحہ کو underline کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ صفحہ96 پر نہیں مل رہا۔‘‘
    معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر عبدالعزیز بھٹی صاحب تو کوئی کارروائی نہ دکھا سکے لیکن اب نورانی صاحب کو خیال آیا کہ وہ اس ڈولتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لئے آگے بڑھیں اور سپیکر صاحب کو کہا کہ وہ اس کے ازالے کے لئے یہ عبارت ’’ براہینِ احمدیہ ‘‘ سے پیش کر سکتے ہیں لیکن سپیکر صاحب اس پیشکش سے زیادہ مطمئن نہیں تھے ۔انہوں نے کہا
    ’’ نہیں! نہیں! ایک سیکنڈ تشریف رکھیں ۔جب آپ نے اپنا ریفرنس پوچھا تو آپ اس ریفرنس پر rely کریں گے۔‘‘
    پھر اس حوالے نے یکلخت ایک نیا جنم لیا اور اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا:۔
    ’’ اعجاز ِ احمدیہ صفحہ 80‘‘
    (’’ اعجاز ِ احمدیہ ‘‘ تو کوئی کتاب نہیں ، البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تصنیف ’’اعجاز احمدی‘‘ ہے اور اس کتاب کا دوسرا نام ’’ ضمیمہ نزول المسیح ‘‘ بھی ہے لیکن جن صفحات کے حوالے پیش کئے جا رہے تھے وہاں پر یہ شعر اور اس کا ترجمہ موجود نہیں تھا۔)
    اب تک صورت ِ حال یہ تھی کہ سوال کرنے والی قابل ٹیم نے اعتراض کرنے کے لئے ایک عبارت پڑھی جو کہ ان الفاظ سے شروع ہوتی تھی ’’ تمہارے حسینؓ اور مجھ میں بڑا فرق ہے …‘‘ اور چند منٹ میں اس عبارت کے تین مختلف کتابوں کے حوالے پیش کیے جا چکے تھے اور اس کے با وجود جماعت کے وفد کو دکھانے کے لئے یہ عبارت نہیں مل رہی تھی
    اغلباََ خفت کو کم کرنے کے لیے شاہ احمد نورانی صاحب نے یہ مہمل سی وضاحت پیش کی:۔
    ’’ میرے خیال میںmisunderstandingتھوڑی سی ہے۔آپ اس پر غور فرمائیں کہ انہوں نے جو یہاں کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔یہ وہ ہیں جو ربوہ کی چھپی ہوئی ہیں اور اسی پر نشان لگے ہوئے ہیں۔ جن حضرات نے سوالات کئے ہیں انہوں نے ان کتابوں کو دیکھ کر جو ان کی پرسنل ہیں انہوں نے ان میں سے ریفرنسز دیئے ہیں۔‘‘
    یہ عجیب وضاحت تھی۔سوال کرنے والے جن کتابوں سے حوالے پیش کر رہے تھے وہ انہوں نے خود تو شائع نہیں کی تھیں ۔وہ بھی تو جماعت کی شائع کی ہوئی تھیں۔یہ سوال کرنے والوں کا کام تھا کہ وہ اس حوالے کا ثبوت پیش کرتے۔ سپیکر صاحب نے جواب دیا
    ’’آپ چیک کر سکتے ہیں۔The books have been available
    ‏for the last ten days."
    یعنی دس روزسے یہ کتابیں یہاں پر دستیاب ہیں اور ظاہر ہے کہ جب دس روز سے یہ کتب وہاں پر موجود تھیں جس کتاب کی جس جگہ سے حوالہ پیش کرنا مقصود تھا اس پر نشان لگا کر پیش کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔
    نورانی صاحب نے کچھ حیرت سے کہا:۔
    ’’ لیکن کتابیں موجود ہیں۔حوالے سب پر لگے ہوئے ہیں۔سب موجود ہیں … ‘‘
    سپیکر صاحب کی جھنجلاہٹ جاری تھی وہ کہنے لگے
    ‏You should check it up....
    یعنی آپ کو چاہئے کہ اسے چیک کریں۔
    اس پر نورانی صاحب فرمانے لگے’’صرف چھاپے خانے کا فرق ہوتا ہے‘‘۔اب ظاہر ہے کہ اگر ایک ایڈیشن کا حوالہ دیا جائے گا اور دوسرے ایڈیشن کی کتاب ڈھونڈ کر اس صفحہ
    پر حوالہ ڈھونڈا جائے گا تو اس خفت کو تو بھگتنا پڑے گا۔اس لئے حوالہ دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ حوالہ کس ایڈیشن سے نوٹ کیا گیا ہے اور سامنے کون سا ایڈیشن موجود ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا حوالہ دیتے ہوئے تو یہ مشکل ہونی ہی نہیں چاہئے تھی کیونکہ جب روحانی خزائن کے نام سے کتب کا مجموعہ شائع ہوا تو اس میں پہلے ایڈیشن کے صفحات کے نمبر بھی ایک طرف لکھے ہوئے ہوتے تھے۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ صرف مختلف ایڈیشن کا معاملہ نہیں تھا کئی مرتبہ غلط حوالے پیش کئے جا رہے تھے۔
    خدا ہی جانتا ہے کہ سوال کرنے والے مزید کس کارکردگی کا مظاہرہ کرتے کہ آخر کار جماعت کے وفد نے خود ہی کوشش کر کے یہ حوالہ ڈھونڈا اور انہیں مطلع کیا۔دراصل یہ عربی شعر ’’اعجاز ِ احمدی‘‘ کے صفحہ 69 اور روحانی خزائن جلد 19 کے صفحہ181پر تھا اور یہ حوالہ بھی جماعت کے وفد نے ڈھونڈا تھا ۔حضور نے فرمایا کہ اس کا explanation ہم بعد میں دیں گے۔
    اس مرحلہ پر سپیکر نے اعلان کیا کہ اب تک کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔ہم چھ بجے دوبارہ کارروائی شروع کریں گے۔ جب حضور انور اراکینِ وفد کے ہمراہ ہال سے تشریف لے گئے تو سپیکر نے اراکین ِ اسمبلی کو رکنے کا کہااور ایک بار پھر حوالہ جات نہ ملنے کی بات شروع ہوئی۔معلوم ہوتا ہے کہ سپیکر صاحب کو اس بات کا بہت احساس تھا کہ جماعت کے وفد کے سامنے ممبرانِ اسمبلی کو شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے کیونکہ انہوں نے کہا:۔
    ‏We should not cut a sorry figure before the members of the delegation. And these members should be here up to 6.
    یعنی ہمیں وفد کے ممبران کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہئیے۔ وفد کے ممبران 6بجے یہاں پہنچ جائیں گے۔پھرکہا
    ’’اگر آپ نے اپنا work دکھانا ہے تو یہ نہیں ہے ایک حوالہ تلاش کرتے ہی آدھا گھنٹہ لگ جائے
    ‏The change of edition, or print at Rabwah or Qadian is no excuse, or you say.
    یہ ریفرنس نہیں ہے ،غلط دیا یا کتاب ہی نہیں exist کرتی۔‘‘
    یہ کارروائی ان ممبران کی امیدوں کے بالکل بر عکس جا رہی ہے۔اس کا اندازہ اس سیشن کے آخری تبصرہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔یہ تبصرہ ممبر اسمبلی عبد الحمید جتوئی صاحب کا تھا انہوں نے کہا کہ جو سوال کیا جاتا ہے جماعت کے وفد کے پاس اس کا لکھا ہوا جواب ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوالات Leak ہو رہے ہیں اور ممبران اسمبلی میں سے کوئی ایسا کر رہا ہے۔ اس پر دو اور ممبران نے ان کی تائید کی۔
    حقیقت یہ تھی کہ جو اعتراضات ممبرانِ کمیٹی کی طرف سے بالخصوص جماعت کے مخالفین کی طرف سے پیش کیے جا رہے تھے،وہ وہی تھے جو تقریباََ ایک صدی سے جماعت ِ احمدیہ پر کیے جا رہے تھے۔ اوراس وقت سے ہی ان کا تسلی بخش جواب دیا جا رہا تھا۔اور ان کا جواب ممبرانِ وفد نے پہلے سے ہی تیار کیا ہوا تھا۔نئی بات یہ تھی کہ جتنے غلط حوالے اب پیش کیے جا رہے تھے،شاید ہی پہلے مسلسل اتنے غلط حوالے پیش کیے گئے ہوں۔
    لنچ کے وقفہ کے بعد دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔اب تک غلط حوالے پیش ہونے کی وجہ سے جو صورت ِ حال پیدا ہوئی تھی،اب اس کی درستگی کے لئے یہ تدبیر کی گئی کہ سپیکر صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ کیوں نہ مولانا عطا ء اللہ صاحب کو کتب خانہ کا انچارج بنا دیا جائے؟ اور پھر عطاء اللہ صاحب کو کہا کہ آپ کتب خانہ کے انچارج ہو جائیں۔
    جب وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے آغاز اسی عربی شعر سے فرمایا جس کا ابھی ذکر کیا گیا تھااور فرمایا کہ اس سے پہلے جو اشعار ہیں وہی اس بات کو واضح کر دہتے ہیں کہ کیا مضمون بیان ہو رہا ہے۔یہ ذکر اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ تم گمان کرتے ہو کہ حسین ؓ تمام مخلوق کا سردار ہے اور تمام انبیاء ان کی شفاعت سے نجات پائیں گے اور بخشے جائیں گے اور اس شعر میں حسینکم کے الفاظ اس بات کو واضح کر دیتے ہیں کہ یہاں ایک مخصوص گروہ کے غلط عقائد کا رد کر کے ان کے تصور کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس بحث کے دوران حضور نے یہ اصول بیان فرمایا اگر ایک شخص کی تحریریں جو مختلف کتب میں پائی جاتی ہیں اگر ان سب کو سامنے رکھا جائے تو ہی صحیح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔اس کے بعد ایک بار پھر ’کفر ‘ ، ’ایمان‘ اور ’دائرہ اسلام‘ جیسے الفاظ کے بارے میں بحث ہوئی جس کا ایک اجتماعی جائزہ ہم پہلے ہی لے چکے ہیں۔
    اس روز کی کارروائی کے آخر میں یعنی اس سیشن میں جو کہ رات آٹھ بجے شروع ہوا حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی توہین کے الزام کے بارے میں ہمارے جوابات تیار ہیں اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کے بارے میں فرمایا۔
    ’’1850-60 ء اور1880ء کے درمیان حکومت ِ برطانیہ اپنے ساتھ ایک زبردست فوج پادریوں کی بھی لے کر آئی تھی اور 70ء کے قریب ایک پادری عمادالدین صاحب نے ایک مضمون امریکہ لکھ کر بھیجاجس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ سارا ہندوستان عیسائی ہو جائے گا اور ہندوستان کے مسلمان بھی عیسائی ہو جائیں گے اور اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی مسلمان کو دیکھے تو اس کی خواہش پوری نہیں ہو گی اور اس وقت اتنی جرأت پیدا ہوئی بعض پادریوں میں کہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ عنقریب نعو ذ ُ باللہ خدا وند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ معظمہ پر لہرایا جائے گا۔اس وقت دینِ متین کے دفاع کے لئے اور اسلام کے جوابی حملوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے متعدد علماء کو پیدا کیا جن میں سے مَیں تین نام لوں گا: نواب صدیق حسن خان صاحب ، مولوی آلِ حسن صاحب، مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی۔ان کے علاوہ احمد رضا صاحب کے بھی حوالے ہیںاور بھی تھے اور حضرت مسیح موعود بانیِ سلسلہ بھی تھے اور اتنی زبردست جنگ شروع ہوئی کہ اس کا اندازہ لگانا اس زمانہ کے لوگوں کے لئے مشکل ہے۔
    اس وقت پادریوں نے حکومت ِ برطانیہ کے بل بوتے پر اس قدر گندی گالیاں دی ہمارے محبوب حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ کو کہ جن کو سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان سب نے جن کا میں نے نام لیا ہے اور کچھ اور جو ہیں انہوں نے پادریوں کی گندہ دہانی کا جواب انہی کی انجیل سے نکال کے ، جو انجیل نے ایک خاکہ کھینچا تھا ،وہ الزامی جواب جیسے کہتے ہیں وہ دیا اور اعلان کیا۔
    بڑا ذہن رکھتے تھے یہ سب علماء اللہ تعالیٰ نے فراست دی تھی، اسلام کا پیار دیا تھاان کو ایک طرف ان کے لئے یہ مشکل تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی اور بزرگ بندے اور دوسری طرف یہ تھی کہ ان کے نام پرحضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء جو انبیاء کے اوّل بھی ہیں اور آخر بھی ہیں، ان کی طرف اور ان کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ عطاء کردہ فراست کے نتیجے میں ان بزرگوں نے دو مختلف شخصیتیں بنا دیں ایک یسوع کی شخصیت اور ایک مسیح علیہ السلام کی شخصیت، ایک وہ شخصیت جسے انجیل پیش کر رہی ہے اور ایک وہ شخصیت جسے قرآن عظیم پیش کر رہا ہے اور انہوں نے یہ بات واضح کرنے کے بعدکہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور عزت و احترام ان کا کرنا ضروری ہے، لیکن جو حملہ ہم کر رہے ہیں وہ مسیح علیہ السلام پر نہیں وہ اس یسوع پر ہے جس نے تمہارے نزدیک خدائی کا دعویٰ دیا تھاتو دوpersonalities بالکل علیحدہ علیحدہ کر کے اس طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس فراست کے نتیجے میں وہ اس قابل ہوئے کہ اس دجل کو پاش پاش کریں جو اسلام کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا۔‘‘
    اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے غیر احمدی علماء کے کئی حوالے پیش کئے جن میں انجیل کے پیش کردہ تصور اتی یسوع پر تنقید کی گئی تھی ۔
    حضور نے سید آلِ حسن صاحب کے اس استفسار کے یہ حوالے پڑھے جس کو مولوی رحمت اللہ مہاجر مکی کی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں درج کیا گیا ہے
    ’’پس تربیت حضرت عیسٰیؑ از روئے حکمت بہت ہی ناقص ٹھہری ۔‘‘ ( استفسار107)
    حضرت عیسٰیؑ کے معجزات کے بارے میں سید آلِ حسن صاحب نے لکھا:۔
    ’’حضرت عیسٰیؑ کا معجزہ احیاء ِ میت کا بعض بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ ڈالا۔ اس کے بعد سب کے سامنے دھڑ سے ملا کر کہا : اٹھ کھڑا ہو۔وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔‘‘ (استفسار ص336)
    ’’اشیاع اور ارمیہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی عیب گوئیاں قواعد نجوم و رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں۔‘‘
    (استفسار ص336)
    یسوع نے کہا کہ لومڑیوں کی اپنی کہوئیں ہیں اور پرندوں کی اپنی بسیریں ہیں پر میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے۔دنیا کی تنگی کی شکایت کرنا ،اقبح ترین امور ہے۔‘‘
    ( استفسار ص334)
    حضرت عیسٰیؑ نے انداز ِ خطاب کے بارے میں سید آلِ حسن صاحب لکھتے ہیں۔
    ’’حضرت عیسٰیؑ ایک انجیر کے درخت پر صرف اس جہت سے کہ اسمیں پھل نہ تھے خفا ہوئے۔ پس جمادات پر خفا ہونا کمال جہالت کی بات ہے۔‘‘( استفسار ۔ص417)
    حضرت عیسٰیؑنے کون سا مرتبہ درشت گوئی کا اُٹھا رکھا۔‘‘ (استفسار ۔ ص417)
    حضورؒ نے مولوی رحمت اللہ مہاجر مکی کی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ جو کہ فارسی میں ہے کے ایک اقتباس کا یہ ترجمہ پڑھا:۔
    ’’جناب ِ مسیح کے ہمراہ بہت سی عورتیں چلتی تھیں اور اپنا مال انہیں کھلاتی تھیں۔فاحشہ عورتیں آنجناب کے پاؤں چومتی تھیں اور آنجناب مرتا مریم کو دوست رکھتے تھے اور خود دوسرے لوگوں کو پینے کے لئے شراب عطا کرتے تھے۔‘‘ ( ازالہ اوہام مصنفہ مولوی رحمت اللہ مہاجر مکی ص ۳۷۰ )
    اُس وقت اس سپیشل کمیٹی میں اس مسلک سے وابستہ کئی ممبران وہاں موجود تھے جو احمد رضا خان صاحب کے پیرو کار تھے انہیں مجدّد بھی تسلیم کرتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے یسوع مسیح کے بارے میں ان کی کتاب’’ العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘ کا یہ حوالہ پڑھ کر سنایا:۔
    ’’نصاریٰ ایسے کو خدا کہتے ہیں ……… ایسے کو یقیناََ دغا باز ہے پچھتاتا بھی ہے۔ ایسے کو جس کی دو جورئیں ہیں ۔دونوںپکی زنا کار حد بھر کی فاحشہ ۔ایسے کو جس کے لئے زنا کی کمائی ۔فاحشہ کی خرچی کمال مقدس کمائی ہے …… جو اس کی شریعت پر عمل کرے ملعون ہے بلکہ اس کا اکلوتا بیٹا خود ہی ملعون ہے۔‘‘
    ( العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ مصنفہ احمد رضا خان صاحب ، ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص741)
    اس کے علاوہ حضر ت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے جماعت ِ احمدیہ کے اشد ترین مخالف جریدے ’’اہلحدیث ‘‘ کی ایک اشاعت کا حوالہ پڑھ کر سنایا ۔یہ حوالہ 31؍مارچ1939ء کی اشاعت سے تھا۔ اس اشاعت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا تھا۔ہم ان خیالات کے چند نمایاں پہلو پیش کرتے ہیں۔
    ’’اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کہ مسیح خود اپنے اقرار کے مطابق کوئی نیک انسان نہ تھے …
    ظاہر ہے کہ اجنبی عورت بلکہ فاحشہ اور بدچلن عورت سے سر اور پاؤں کو ملوانا اور وہ بھی اس کے بالوں سے ملا جانا کس قدر احتیاط کے خلاف کام ہے ۔اس قسم کے کام شریعت ِ الٰہیہ کے خلاف صریح خلاف ہیں … ان حالات میں مسیح کی شراب سازی خلاف شریعت فعل ہے ۔انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے کذب کو روا رکھا … ہمیں انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اپنی والدہ کی تعظیم نہیں کرتے تھے‘‘ ( اہلحدیث 31؍مارچ 1939ء ۔ص8و9)
    جن کی اپنی تحریروں میں یہ مواد پایا جاتا ہو حیرت کا مقام ہے کہ وہ کس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں پر اعتراض کر رہے تھے۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ حوالے سنائے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کے بارے میں ہیں۔
    اس بیان کے اختتام پر حضور نے فرمایا کہ میں تھکاوٹ محسوس کر رہا ہوں باقی کل کر لیا جائے۔ اس پر اس سیشن کا اختتام ہو گیا۔ اسمبلی ممبران میں جماعت کے مخالفین دلائل دینے کی بجائے کس ذہنیت کے ساتھ کارروائی چلانا چاہتے تھے اس کا اندازہ ایک ممبر محمود اعظم فاروقی صاحب کی اس تجویز سے ہوتا ہے جو انہوں نے اس وقت سپیکر صاحب کو دی۔ انہوں نے سپیکر صاحب کو کہا کہ جماعت کے وفد کو رات کے بارہ بجے تک بٹھا کر سوالات کریں ۔ہم بھی بیٹھیں گے۔ اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ گواہ کے کچھ حقوق ہوتے ہیں اور انہیں یاد دلایا کہ وہ اب تک تو کارروائی سے غیر حاضر رہے ہیں اور اب آکر کارروائی ڈال رہے ہیں۔ اس اوٹ پٹانگ تجویز کا اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں تھا کہ اس طرح جماعت کے وفد کو تھکایا جائے اور انہیں اتنا وقت نہ مل سکے کہ وہ جا کر جو حوالے چیک کرنے ہیں انہیں چیک کر سکیں۔
    اس مرحلہ پر ممبرانِ اسمبلی اور سپیکر صاحب نے اٹارنی جنرل صاحب کے طریقہ کار پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل صاحب نے اس روز کی کارروائی کے اختتام پر کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ممبران نے بہت سے سوالات دے دیئے ہیں اور میں ان کو fit in کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
    اس مرحلہ پر ایک ممبر اسمبلی محمد سردار خان صاحب نے نہایت اہم نکتہ اُٹھایا ۔انہوں نے کہا
    ‏I want to bring it to the notice of this honourable house, that the main question I should say, before the special committee or the assembly is as to what is the status of the person who does not believe in the finality of the prophethood. That question or that point is still untouched.
    یعنی میں اس معزز ایوان کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اس سپیشل کمیٹی یا اس ایوان کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ جو شخص ختمِ نبوت پر ایمان نہیں لاتا اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس سوال یا اس نقطہ کا ابھی تک کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔
    اس پر سپیکر صاحب نے جواب دیا:۔
    ‏It will come it will be taken up. It will come at its proper place.
    یعنی اس کی باری بھی آئے گی۔ اس کو بھی اُ ٹھائیں گے، صحیح وقت پر اس کو بھی اُ ٹھایا جائے گا۔
    اس سوال اور اس کے جواب سے مندرجہ ذیل امور واضح ہیں
    1)۔ تین روز کے سوالات کے بعد بھی ابھی تک اصل موضوع کا ذکر تک نہیں کیا گیا تھا۔
    2)۔اصل موضوع سے گریز اس وقت کیا جا رہا تھا جب کہ اس موضوع پر جماعت ِ احمدیہ کا موقف محضر نامہ کی صورت میں اسمبلی کے اراکین کے سامنے آ چکا تھااور وہ اس کی مضبوط یا بر عکس ہونے کے بارے میں کوئی رائے قائم کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ ممبران جماعت ِ احمدیہ کے موقف کو مضبوط خیال کر رہے تھے تو اس صورت میں ان کا رحجان یہی ہو سکتا تھا کہ اس سے گریز کیا جائے۔
    3)۔یہ گریز ممبران کی رضامندی سے کیا جا رہا تھا کیونکہ سوالات تو ممبران کی طرف سے آ رہے تھے اور ابھی کچھ ہی دیر قبل انہوں نے اٹارنی جنرل صاحب کے طریقہ کار پر بھر پور اعتماد کیا تھا۔
    4)۔ہم بعد میں جائزہ لیں گے کہ اس روز کے بعد بھی یہ کارروائی اپنے اصل موضوع پر نہیں آئی اور اس سے عمداََ گریز کا سلسلہ جاری رہا۔
    اب اسمبلی میں ان ممبران کی پریشانی بڑھ چکی تھی جو جماعت احمدیہ سے بُغض رکھتے تھے۔کارروائی ان کی امیدوں کے بر عکس جا رہی تھی ۔ان کی نفسیاتی الجھن یہ تھی کہ وہ اعتراض تو کر بیٹھتے تھے لیکن جب جواب شروع ہوتا تو انہیں اپنی خفت سامنے نظر آرہی ہوتی تھی۔چنانچہ کارروائی کے اختتام کے قریب جب حضور اور جماعت کا وفد باہر جا چکا تھا مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے سپیکر سے درخواست کی:۔
    ’’جناب ِ والا ! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جو تحریری بیان دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔یہ محضر نامے میںکافی طویل جواب دے چکے ہیں ۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے ہم ان کو Discourage کریںتا کہ یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہو جائے۔ اب اس کی ضرورت نہیں۔‘‘
    ان الفاظ پر زیادہ تبصرہ کی ضرورت نہیں۔جماعت ِ احمدیہ نے ایک مختصر سا محضر نامہ پیش کیا تھا، اسے کسی طرح بھی طویل نہیں کہا جا سکتا۔اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گستاخی کے معاملہ میں جب باقاعدہ جماعت کا موقف پڑھا گیا تو اس کا کوئی معقول جواب معترضین کے پاس نہیں تھا۔۵؍ اگست کو کارروائی شروع ہوتی ہے اور ۷؍ اگست کو مولوی صاحب کو خیال آنے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو بہت طویل ہو گئی ہے حالانکہ اس کے بعد بھی کئی روز کارروائی جاری رہی۔اصل بات تو یہ تھی کہ وہ جوابات سے خفت محسوس کر رہے تھے اور اپنی جان چھڑانا چاہتے تھے۔لیکن اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گواہ زیادہ سے زیادہ بولے کیونکہ جتنا وہ زیادہ بولے گا اتنا ہی اس کے بیان میںContradiction آئے گی۔ان کی خوش فہمی کس حد تک بجا تھی۔میرا نہیں خیال کہ اس کارروائی کو پڑھنے والے کو اس بارے میں خود فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش آئے گی۔
    ۸؍ اگست کی کارروائی
    ۸؍ اگست کو کارروائی شروع ہونے سے قبل سپیکر صاحب نے اس عندیہ کا اظہار کیا کہ جماعت ِ احمدیہ مبایعین اور جماعت ِ احمدیہ غیر مبایعین پر سوالات 10؍ اگست تک چلیں گے یعنی سپیشل کمیٹی کی کارروائی ہو گی۔ 13اور14؍ اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس کر کے یہ معاملہ نمٹا دیا جائے گا۔ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ پہلے سپیکر صاحب نے کہا تھا کہ یہ سلسلہ دو تین دن جاری رہ سکتا ہے لیکن اب یہ کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی 10؍اگست تک چلے گی۔اس کے بعد عملًا یہ کارروائی اس سے بھی آگے تک جاری رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ سوال کرنے والے جانتے تھے کہ انہیں اب تک عملاً کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن وہ محسوس کرتے تھے کہ اگر یہ کارروائی اور زیادہ جاری رہے تو انہیں مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
    اگلے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اس اعتراض کا جواب دینا شروع کیا جو ایک روز قبل کیا گیا تھا ۔اور یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کشف پر کیا گیا تھا اور اس ضمن میں حضور کی تصنیف ’’ ایک غلطی کا ازالہ ‘‘ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اور یہی کشف براہین ِ احمدیہ میں بھی درج کیا گیا ہے ۔جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اٹارنی جنرل صاحب نے حوالہ پڑھتے ہوئے تحریف شدہ عبارت پڑھی تھی۔ہم صحیح عبارت درج کرتے ہیں ۔پڑھنے والے فرق کو خود محسوس کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں
    ’’ … افاضہ انوار ِ الٰہی میں محبت اہلِ بیت کو بھی بہت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت ِ احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہی طیّبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیااور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز ِ مغرب کے بعد عین بیداری میں …… ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسے بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے ۔یعنی جناب ِ پیغمبر ِ خداﷺ و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت و شفقت سے مادر ِ مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا …… ‘‘ (روحانی خزائن جلد 18ص213)
    اب اگر اس پاکیزہ بیان اور با برکت کشف سے کوئی غلط اور قابلِ اعتراض مطلب اخذ کرتا ہے تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مخالف تو ہے مگر اس کے دل میں اہلِ بیت کی ذرا سی محبت بھی نہیں ہے۔ ذرا تصور کریں اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اور روحانی علوم حاصل کرنے کے لئے اہلِ بیت سے محبت رکھنا نہایت ضروری ہے اور معترضین کی ذہنیت ملاحظہ کریں کہ ’’مادر ِ مہربان ‘‘ کے الفاظ غائب کر کے یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ اہلِ بیت کی توہین کی گئی ہے۔ یہ اعتراض صرف معترض کے گندے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔حضرت فاطمہؓ کو یا آنحضرت ﷺ کو اگر رؤیا میں دیکھا جائے تو یہ نہایت ہی بابرکت رؤیا ہے۔ اس روز یعنی ۸؍ اگست کو جب کمیٹی کی کارروائی کا آ غازہوا تو حضور نے علم التعبیر کا ذکران الفاظ میں فرمایا:۔
    ’’ایک سوال ایک کشف کے متعلق پوچھا گیاتھاجس کا تعلق حضرت فاطمہؓ سے ہے۔اس سلسلے میں مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امت ِ محمدیہ میں علم رؤیا کا ایک علم مدوّن ہوا ، بڑ ازبردست اور اس کے اماموں میں امام جعفر صادقؒ اور ابن سیرینؒ مشہور امام ہیں۔ اس علم کے اور علم کی حیثیت سے مدوّن ہوا اور امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ کشوف اور رؤیا کی تعبیر کی جاتی ہے …… اعتراض نہیں کیا جاتا۔اس نکتہ کو سمجھانے کے لیے چند رؤیا جو پہلے آئی ہیں وہ بتانا چاہتا ہوں ۔اس کے بغیر جس کے متعلق سوال کیا گیا ہے اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔
    پہلی مثال امام ابو حنیفہ ؒ کی ’’ تذکرۃ الاولیائ‘‘ فارسی میں ہے جس کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس میں لکھا ہے۔
    ’’حضرت امام ابو حنیفہ ؒ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ انہوں نے پیغمبرﷺ کی ہڈیاں لحد سے جمع کیں اور بعض کو چھوڑ کر بعض کو پسند کر لیا اور اس ہیبت سے آپ بیدار ہو گئے۔ابن سیرینؒ کے اصحاب میںسے ایک نے پوچھا تو اس نے کہا کہ تو پیغمبر ﷺ کے علم میں اور ان کی سنت کی حفاظت میں ایسا درجہ پائے گا کہ اس میں متعرف ہوجائے گا ،صحیح کو سقیم سے جدا کرے گا۔‘‘
    ( تذکرۃ الاولیاء ۔ مصنفہ حضرت فریدالدین عطار ؒ،ناشراحمد پبلیکیشنز 2000ء ص187)
    تو اتنا بھیانک خواب کہ اپنے خواب ، رؤیا میں دیکھتے ہیں کہ روضہ مطہرہ میں سے آپ کے جسمِ مطہر کی ہڈیاں لیں اور بعض کو پسند کیا اور بعض کو نا پسند کیا ۔اس صالح انسان پر کپکپی طاری ہو گئی کہ یہ میں نے کیا دیکھ لیا۔اور اصحاب ِ ابن ِ سیرین کے جو ان کے شاگرد وغیرہ تھے،ان کے پاس گئے اور کہا کہ میں نے یہ خواب دیکھی ہے۔گبھرائے ہوئے تھے۔تو انہوں نے کہا کہ گبھرانے کی بات نہیں۔آپ نے جو خواب دیکھی،جو رؤیا دیکھی،اس کی تعبیر ہے اور تعبیر یہ ہے کہ آپ سنت ِ نبوی میں جو غلط باتیں شامل ہو چکی ہیں،ان کو صحیح سے علیحدہ کر دیں گے اور خالص سنت نبویﷺ کے قیام کا ذریعہ بنیں گے۔
    دوسر ی رؤیاء جو یہاں میں مثال کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں ،وہ ’’ گلدستہء کرامات‘‘ سے ہے۔اور سوانحِ حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی ؒ (آپ ہمارے ایک مشہور بزرگ ہیں جن کا نام تعارف کا محتاج نہیں)… جواہر القلائد میں لکھا ہے
    ’’فرمایا جناب محبوب سبحانی ،قطب ِ ربّانی ،سیّد شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے کہ ایک روز ہم نے بہ عالمِ طفولیت (یعنی عمر تو بڑی تھی لیکن اپنے آپ کو ایک بچے کی شکل میں دیکھا ) … کہ فرشتگانِ آسمانی بحکمِ ربانی ہم کو اٹھا کر حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے ہم کو گود میں اُٹھایا اور چھاتی سے لگایا اور اتنا پیار کیا کہ پستانِ مبارک میں دودھ بھر آیا اور سرِ پستان ہمارے منہ میں رکھ کر دودھ پلایا اور اتنے میں رسالتمآب ﷺ بھی وہاں رونق افروز ہوئے اور فرمایا ۔۔۔۔ (۶۶)
    اس کی بھی اس کشف اور رؤیاء کی بھی تعبیر کی گئی ہے۔حضرت سید عبد القادر جیلانی پر اعتراض نہیں کیا گیا۔ تیسری مثال اس وقت جو میں دینا چاہتا ہوں ،وہ حضرت مولانا سید احمد بریلوی ؒ صاحب کے ایک خواب کی ہے۔
    ’’ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جناب سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء کو سیّد صاحب نے خواب میں دیکھا ۔اس رات کو حضرت علی ؓ نے اپنے دست ِ مبارک سے آپ کو نہلایا اور حضرت فاطمہ نے ایک لباس اپنے ہاتھ سے آپ کو پہنایا ۔بعد ان وقوعات کے کمالات طریقہ نبوت کے نہایت آب و تاب کے ساتھ آپ پر جلوہ گر ہونے لگے ۔ (یہ خواب کی تعبیر بتائی گئی ہے اس میں) اور وہ عنایات ازلی جو مکنون اور محجوب تھیں ظاہر ہو گئیں اور تربیت یزدانی بلاواسطہ کسی کے متکفل حال آپ کے ہو گئی۔‘‘
    ایک چھوٹی سی مثال اور ہے۔حضرت مولوی اشرف علی صاحب تھانوی فرماتے ہیں: ۔
    ’’ہم نے حضرت فاطمہؓ کو دیکھا ۔ انہوں نے ہم کو اپنے سے چمٹالیا ہم اچھے ہو گئے۔ ‘‘
    (’’افاضات الیومیہ تھانوی ‘‘ جلد 6، بحوالہ ’’ دیوبندی مذہب‘‘ صفحہ156)‘‘
    اس کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ کشف کی صحیح تفصیلات بیان فرمائیں اور فرمایا :۔
    ’’تو یہ کشف ہے جس کی طرف ’’ نزول المسیح‘‘ میں اشارہ کیا گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ کشف ہے۔ جس طرح دوسرے کشوف میں اولیاء ِ امت نے حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ کے متعلق کشوف دیکھے یا جیسے حضرت امام ابو حنیفہؒ نے بظاہرنہایت بھیانک کشف دیکھا لیکن اس کی تعبیر کی گئی تو جیسا کہ امت ِ محمدیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کشوف و رؤیاء کی تعبیر کی جاتی ہے ان پر اعتراض نہیں کیا جاتا ،اس کشف کی بھی تعبیر ہونی چاہئیے اور تعبیر اس کی اس کے اندر واضح ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے اس کشف میں پانچ وجود آپ کے سامنے آئے اور ان کی موجودگی میں جن میں نبی اکرم ﷺ اور سارے کھڑے ہوئے تھے ’’ مادر ِ مہربان کی طرح میرا سر اپنی ران کے ساتھ لگایا‘‘ کا مطلب ہے کہ کشف میں خود کو بہت چھوٹے بچے کی طرح دیکھا کہ آپ کا سر صرف ران تک پہنچتا تھا … ‘‘
    جن لوگوں نے یہ اعتراض اُ ٹھایا تھا انہوں نے صحیح عبارت میں تحریف کر کے اُٹھایا تھا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے جو جواب دیا گیا ،اس میں علم التعبیر کی تاریخ سے معروف مثالیں دے کر اور اس کشف کی صحیح عبارت پیش کر کے دیا گیا۔ ہر پڑھنے والا خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس کا طرز ِ عمل قابلِ مذمت اور کس کا طرز عمل عقل اور اخلاق کے تقاضوں کے مطابق تھا۔
    اب اٹارنی جنرل صاحب نے جو یہ دیکھا کہ جو تاثر وہ پیدا کرنا چاہتے تھے اس سے تو الٹ نتیجہ برآمد ہو رہا ہے تو انہوں نے اس موضوع کو بدلنے کے لیے گفتگو کا رُخ وحی کے موضوع کی طرف کیا لیکن ان کی ساری گفتگومیں ایک مسئلہ مسلسل نظر آ رہا تھا ۔وہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک سوال کرتے اور جب حضور اس کا جواب شروع فرماتے تو ابھی ایک دو فقرے مکمل نہیں ہوتے تھے کہ اٹارنی جنرل صاحب کوئی اور گفتگو شروع کر دیتے۔یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ایسا کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے چونکہ اٹارنی جنرل صاحب اور سوالات تیار کرنے والی ٹیم کو اس قسم کے موضوعات کا نہ تو کوئی خاطر خواہ علم تھا اور نہ ہی ان موضوعات سے کوئی دلچسپی تھی۔ وہ صرف ایک رسمی کارروائی کر رہے تھے ۔ دوسری ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سوالات کرنے والے اس بات سے خائف تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کا کسی موضوع پر مکمل جواب سامنے آئے کیونکہ اس سے ان کے اُٹھائے گئے اعتراضات کا تانا بانا بکھر جاتا تھا۔ اس لئے وہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ بار بار بدل بدل کر سوالات کرتے رہیں اور زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ کسی موضوع پر مکمل جواب سامنے نہ آنے پائے۔
    اس گفتگو کے دوران یحییٰ بختیار صاحب نے کہا کہ وحی تو صرف نبیوں کو ہوتی ہے۔ اب وہ ایک اور غلط بات کہہ گئے تھے۔قرآنِ کریم میں شہد کی مکھی کو بھی وحی ہونے کا ذکر ملتا ہے۔جب حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے اور اس ضمن میں سورۃ نحل کی آیت 69 پڑ ھنی شروع کی تو اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرتبہ پھرقطع کلامی کر کے ایک اور سوال کرنے کی کوشش کی تو اس پر حضور نے انہیں یاد دلایا کہ’’ میں قرآنِ کریم کی آیت پڑھ رہا ہوں۔‘‘ لیکن وہ پھر بھی نہ سمجھے کہ یہ مناسب نہیں کہ قرآنِ کریم کی آیت پڑھی جا رہی ہو اور کوئی شخص بیچ میں اپنی بات شروع کر دے ۔
    ’’حضور نے مزید واضح کرنے کے لیے سورۃ القصص کی آیت 8کا حوالہ دیاجس میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ کو وحی ہونے کا ذکر ہے اور اٹارنی جنرل صاحب کے پاس ان ٹھوس دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا۔
    اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اشعار پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے بعد حضور نے ان کا صحیح مطلب بیان فرمایا۔پھر نبی اور محدَّث کی اصطلاحات پر بات ہوئی۔ اس کارروائی کے دوران یہ صورتِ حال بار بار سامنے آ رہی تھی کہ سوال پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ بغیر سیاق و سباق کے پڑھ کر کوئی اعتراض اُ ٹھانے کی کوشش کی جاتی لیکن جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ تمام حوالہ پڑھتے تو اعتراض خود بخود ہی ختم ہو جاتا۔ کچھ سوال کرنے والوں کی علمی حالت بھی دِگر گوں تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُ ٹھا دیا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرعی نبی تھے۔ حالانکہ یہ بات تو بچوں کو بھی معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ کوئی نئی شریعت نہیں لے کر آئے تھے۔ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جو معیّن جملہ کہا وہ یہ تھا:۔
    ’’نہیںمرزا صاحب !میں آپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ امتی نبی نہیں تھے کیونکہ ان کی شریعت آگئی تھی اپنی۔‘‘
    اس کے جواب میں حضور نے یہ ضروری تصحیح فرمائی:۔
    ’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی شریعت نہیں ، کوئی بھی نہیں مانتا ، کیونکہ وہ صاحب ِ شریعت نبی نہیں تھے۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے … ‘‘
    اُس اسمبلی اور اٹارنی جنرل صاحب کی دینی معاملات میں علمی حالت یہ تھی کہ ان قابل حضرات کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ حضرت عیسیٰ شرعی نبی نہیں تھے بلکہ حضرت موسیٰ کی شریعت کی پیروی کرتے تھے اور اس کے با وجود وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے تھے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون مسلمان ہے اور کون مسلمان نہیں ہے۔
    کچھ ہی دیر قبل حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے رؤیاء و کشوف کے تعبیر طلب ہونے کے بارے میں ایک نوٹ پڑھا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والوں نے غور سے اس کو نہیں سنا تھا۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف پڑھ کر اعتراض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذباللہ خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ کشف ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ہی تحریر کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف کتاب البریہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔یا اس شے کی طر ح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔اس اثناء میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہا ںکر لیا۔یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان ِ جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔سو نہ تو مَیں مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی … ‘‘(۶۷)
    اس پُر معرفت کشف کا بیان تو جاری رہتا ہے لیکن اتنی سی عبارت کا مطالعہ ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ اس کشف میں فنا فی اللہ ہونے کا ذکر ہے ،اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھوئے جانے کا ذکر ہے، اس کشف کی تعبیر کرتے ہوئے خدائی کا دعویٰ تو اس سے کسی طرح بھی نہیںنکالا جا سکتا اور یہ حقیقت کس طرح نظر انداز کی جا سکتی ہے کہ خواب اور کشف تعبیر طلب ہوتے ہیں ۔اور جب آئینہ کمالات ِ اسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کشف بیان فرمایا تو خود یہ امر بھی تحریر فرما دیا کہ اس کشف سے وہ عقیدہ مراد نہیں ہے جو وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذہب ہے اور نہ وہ مطلب نکلتا ہے جو حَلُولی عقائد رکھنے والوں کا مذہب ہے بلکہ اس میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تومیں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے،اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے،اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔
    (صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب التواضع)
    اگر اعتراض کرنے والوں کی منطق قبول کر لی جائے تو پھر اس حدیث ِ نبوی کی روشنی میں تمام مقربین الٰہی کو خدا کا بیٹاتسلیم کرنا پڑے گا لیکن کوئی بھی ذی شعور یہ منطق قبول نہیں کر سکتا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب اس کوشش میں تھے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ نعو ذُ باللہ جماعت ِ احمدیہ مشرکانہ عقائد رکھتی ہے۔لیکن اس مقصد کے لئے جو سوالات کئے جا رہے تھے ،وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ سوال کرنے والے قرآنِ مجید ،احادیثِ نبویہ اور امتِ محمدیہ کے مجددین اور اولیاء کی تحریرات اور اقوال کا سطحی علم بھی نہیں رکھتے۔ اب اٹارنی جنرل صاحب سیرت المہدی میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیان فرمودہ کشف کی یہ عبارت پڑھی:۔
    ’’ میں نے کچھ احکامات قضا و قدر کے متعلق لکھے اور ان پر دستخط کروانے کی غرض سے اللہ کے پاس گیا ۔انہوں نے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھایا ۔اس وقت میری یہ حالت ہوئی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے سالہا سال کے بعد ملتا ہے … ‘‘
    (کسی قدر فرق کے ساتھ یہ بیان سیرت المہدی کے موجودہ ایڈیشن کی جلد اوّل کے صفحہ نمبر74و75پر موجود ہے)
    یہ عبارت پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ’’یعنی وہ خدا کے بیٹے … ‘‘یعنی وہ یہ الزام لگا رہے تھے کہ نعوذُ باللہ حضرت بانیء سلسلہ احمدیہ نے خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ ایک نہایت ہی خلاف ِ عقل الزام تھا۔اس کشف کا بیان کرتے ہوئے کہیں خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔صرف بیان کیا گیا ہے کہ میری حالت اس وقت ایسی تھی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے سالہا سال کے بعد ملتا ہے۔یہ بات کسی طرح بھی قابلِ اعتراض نہیں ہو سکتی۔ پھر تو یہ معترضین اس آیت ِ کریمہ پر بھی اعتراض کر دیں گے۔
    ’’پس جب تم اپنے (حج کے ) ارکان ادا کر چکو تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ ذکر … ‘‘ ( البقرۃ : 201)
    جب اس اجلاس کی کارروائی ختم ہو رہی تھی تو پھر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک حوالہ پڑھنے کی کوشش فرمائی۔یہ سمجھ تو کیا آنی تھی کہ وہ اعتراض کیا کرر ہے ہیں لیکن پہلے ہی انہوں نے خود ہی اعلان کیا کہ انہیں صحیح طرح معلوم نہیں کہ یہ حوالہ کہاں کا ہے؟ انہوں نے فرمایا:۔
    ’’یہ ایک جگہ اور … یہ اخبار الفضل سے لیا گیا ہے۔پتہ نہیں کون سا ان کا حوالہ ہے۔ وہ میں آپ کو بتا دوں گا … ‘‘
    اٹارنی جنرل صاحب جو کچھ بھی فرما رہے تھے بالکل نا قابلِ فہم تھا۔وہ نہ کوئی عبارت پڑھ رہے تھے نہ معین حوالہ دے رہے تھے بس کچھ بے یقینی کا اظہار کر رہے تھے۔اس پر حضور نے دریافت فرمایا:۔
    کہ یہ کون سا حوالہ ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے عبارت پڑھنی شروع کی :۔
    ’’اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ کہتے ہیں ریفرنس ہے ایک کہ ’’ وہ بہت خوبصورت عورت ہے … ‘‘
    اب تک اٹارنی جنرل صاحب نہ کوئی حوالہ پیش کر سکے تھے کہ معین طور پر کہ یہ عبارت کہاں سے لی گئی ہے اور نہ ہی وہ یہ بتا سکے تھے کہ یہ کہا کس نے تھا۔اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ’’ نہیں جی! ہمارے علم میں تو ایسا نہیں … ‘‘ا ور فرمایا کہ چیک کریں گے یہ نہ تصدیق کے قابل ہے نہ تردید کے قابل جب تک چیک نہ کر لیا جائے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سنا کہ یہ حوالہ چیک کیا جائے گا تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مزید گبھرا گئے اور فوراََ یہ کہہ کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی
    ’’ نہیں، یہ میں نے ابھی تک پڑھا نہیں۔‘‘
    اس پر حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے اس حوالے کو پیش کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب پر پھر کچھ بے یقینی کے ساتھ کہا :
    ’’میں نے پڑھا ہی نہیں ابھی تک۔ میں آپ کو پڑھ کر سنا رہا ہوں ۔ پھر آپ چیک کریں۔‘‘
    اب صورتِ حال کافی دلچسپ ہو چکی تھی اتنی دیر میں اٹارنی جنرل صاحب کی سوئی’’ وہ بہت خوبصورت عورت ہے … ‘‘ کے الفاظ پر رکی ہوئی تھی۔ اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ’’ آپ نے عورت کہا نہ بس اتنا اشارہ کافی ہے؟‘‘
    اب اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر اپنے حواس جمع کئے اور حوالہ پڑھنا شروع کیا اور کہا
    ’’ وہ خوبصورت عورت ہے … ‘‘
    حضور:’’ ہاں ،ہاں ، خوبصورت عورت ہے اللہ ‘‘ اور اس کو …
    اٹارنی جنرل صاحب: تو ایسی کوئی چیز آپ کے علم میں ہے؟
    حضور: میرے علم میں کہیں نہیں۔ نہ ہمارے بزرگوں کے علم میں ہے کوئی ۔دیکھنا یہ ہے کہ کس نے یہ حوالہ بنایا ہے؟
    اب صورت ِ حال واضح ہو چکی تھی۔سپیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ واضح الزام لگا دیا گیا تھا کہ سوالات کرنے والے ایک بار پھر جعلی حوالہ پیش کرنے کا جرم کر رہے ہیں۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب فوری طور پر معین حوالہ اور اس کا ثبوت دیتے تا کہ اس الزام کا داغ ان سے دور ہو لیکن انہوں نے کیا کہا ؟انہوں نے کہا کہ میں ایک دو حوالے دیکھوں گا اور سپیکر صاحب سے وقفہ کی درخواست کی ۔ اب ضروری ہو گیا تھا کہ سپیکر صاحب ان کی گلو خلاصی کرائیں تاکہ انہیں مزید شرمندگی نہ اُ ٹھانی پڑے چنانچہ سپیکر صاحب نے وقفہ کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کئی دن یہ کارروائی جاری رہی لیکن اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی حضرات اس حوالے کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کر سکے۔
    سوا بارہ بجے اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ابھی جماعت کا وفد ہال میں نہیں آیا تھا۔ سب سے پہلے تو سپیکر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ دروازہ بند کر دیں۔سب سے پہلے تو مولوی شاہ احمد نورانی صاحب بولے کہ پہلے ان سے (یعنی جماعت کے وفد سے )معیّن جواب لیا جائے۔ اس کے بعد تشریح وغیرہ کریں لیکن تحریری بیان نہ ہو۔سپیکر صاحب نے انہیں تسلی دلائی تو پھر مفتی محمود صاحب نے اپنے شکوے شروع کئے۔ان کا پس منظر یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات اور کشوف اور رؤیا پر اعتراضات اُ ٹھائے گئے تھے۔ان کے جوابات دیتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے احادیث سے بعض بزرگان کی تحریروں سے اور بعض غیر از جماعت احباب کی تحریروں سے کئی مثالیں سنائی دی تھیں کہ اس طرح کے کشف اور رؤیا تو بہت سے بزرگوں کو ہوتے رہے ہیں اور ان کی تعبیر کی جاتی ہے ۔اب عقل کی رو سے جائزہ لیا جائے تو اس طرح کے جواب پر کوئی اعتراض نہیں اُ ٹھتا بلکہ ہر صاحبِ شعور اس علمی جواب کی قدر کرے گا۔مگر عقل اور شعور اس کمیٹی میں ایک جنسِ نایاب کی حیثیت رکھتی تھی۔مفتی صاحب کا اصرار یہ تھا کہ حضور کو روکا جائے کہ جب اس طرح کا کوئی اعتراض ہو تو وہ کوئی اور مثال پیش نہ کریں ۔بھلا کیوں نہ کریں مفتی صاحب نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی۔مفتی محمود صاحب نے جو فرمایا وہ یہ تھا:۔
    ــ’’جی عرض یہ ہے کہ کل بھی یہ بات ہوئی تھی وہ ایک جواب لکھ کر لاتے ہیں اور پڑھتے ہیں اور سوال ہوتا ہے ایک بات کے متعلق وہ جواب دیتے ہیں دوسری بات کا۔اب سوال آج تھا کشف کے متعلق انہوں نے کشف کے مقابلے میں جب کہ کشف اور خواب میں فرق ہے ،وہ خود تسلیم کرتے ہیں۔
    خواب کی چار پانچ مثالیں دیں کہ فلاں نے خواب دیکھا فلاں نے خواب دیکھا انہوں نے بھی دیکھاتو گویا ان کے جرم سے ہمارا جرم کم ہو جاتا ہے۔اس طریقے سے پانچ چھ لوگوں کی مثالیں دیں ان کے خوابوں کی کوئی مثال کشف کی نہیں تھی تو میں کہتا ہوں کہ وہ چیز پوچھی جائے اسی کا جواب دے ایک چیز پوچھی جاتی ہے جواب اور باتوں کا آ جاتا ہے۔‘‘
    معلوم ہوتا ہے کہ یا تو مفتی محمود صاحب نے حضور کی طرف سے دیا گیا جواب سنا نہیں تھا یا پھر سمجھ نہیں پائے تھے۔جماعت کے موقف میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا تھا کہ کشف اور خواب دونوں تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اس سلسلہ میں بہت سی مثالیں پیش کی گئی تھیں ۔
    اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے یہ تبصرہ کیا کہ بہت سی غیر متعلقہ باتیں آرہی ہیں۔اب یہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر غیر متعلقہ باتیں کیوں آ رہی تھیں ؟وجہ یہ تھی کہ کارروائی کو تیسرا دن گزر رہا تھا اور کمیٹی سوال پر سوال کئے جا رہی تھی لیکن ابھی تک اس موضوع پر سوال شروع ہی نہیں ہوئے تھے جس کے لیے اس کمیٹی کو قائم کیا گیا تھا۔پھر نورانی صاحب نے فرمایا :۔
    ‏’’Explanationقرآن اور حدیث کی روشنی میں مختصرexplanation۔‘‘ یہ جملہ پڑھ کر تو احساس ہوتا ہے کہ شاید نورانی صاحب ابھی ابھی گہری نیند سے بیدار ہوئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اب تک کمیٹی نے بیسیوں سوالات اور تبصرے لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دیئے تھے لیکن کسی ایک میں بھی کسی آیتِ کریمہ یا حدیث شریف کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔البتہ جو جوابات حضور نے دیئے تھے اور جو جوابات اس کے بعد بھی دیئے گئے ان میں سے بہت سے جوابات میں قرآنی آیات اور احادیث کو بطور دلیل کے پیش کیا گیا تھا۔پھرایک اور ممبر محمد حنیف خان صاحب نے یہ گلہ کیا ’’وہ questionکرنا شروع کر دیتا ہے۔‘‘ سب اپنے گلے شکوے کر رہے تھے لیکن سب سے عجیب پوزیشن اٹارنی جنرل صاحب کی تھی۔بیشتر سوالات تو مولوی حضرات لکھ کر دیتے تھے لیکن انہیں اٹارنی جنرل صاحب کو پڑھنا ہوتا تھا۔اور اگر سوال لایعنی ہو یاحوالہ ہی غلط ہو تو خفت بھی انہیں اٹھانی پڑتی تھی۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب اس صورت ِ حال سے عاجز آ رہے تھے۔چنانچہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا :۔
    ‏Sir, I will respectfully submit that explanations are different; you may or may not accept; but I request the honourable members not to supply me loose balls to score boundaries.
    اٹارنی جنرل صاحب نے کرکٹ کا بہت دلچسپ محاورہ استعمال کیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہمیں بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ تشریحات تو مختلف ہو سکتی ہیں لیکن ممبران مجھے کمزور گیندیں نہ مہیا کریں جن پر یہ چوکے چھکے لگائیں۔
    اب اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟ صرف یہی کہ خود سوالات کرنے والا اس بات کا شکوہ کر رہا ہے کہ اسے کمزور سوالات مہیا کئے جا رہے ہیں۔اس پر سپیکر صاحب نے پھر ممبران سے صحیح طرح حوالہ جات پیش کرنے کی درخواست کی اور کہا :۔
    ’’ …… وہ جوquestionsہمارےapproveہوئے ہیں۔ان میں کئی حوالہ جات نکلتے ہی نہیں ہیں۔‘‘
    پھر ایک اور ممبر ا سمبلی سردارمولا بخش سومرو صاحب نے کہا کہ کوئی جواب پانچ یا دس منٹ سے زیادہ کا نہیں ہونا چاہئے اور جب کتب یہاں پر موجود ہیں تو انہیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ بعد میں اپنی کتب سے پڑھ کر جواب دیں گے۔ سومرو صاحب کی یادداشت کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھی۔وہ بھول گئے تھے کہ پہلے روز ہی اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا تھا کہ اگر وہ کسی سوال کا جواب دینے کے لیے وقت لینا چاہیں تو کمیٹی سے اس کا وقت لے سکتے ہیں۔اس پر سپیکر صاحب نے سومرو صاحب کو یاد دلایاکہ سوال سوال میں فرق ہوتا ہے۔ بعض سوالات کے جواب میں وضاحتیں ہو تی ہیں اور بعض سوالات کا جواب تحقیق کے بعد دینا ہوتا ہے۔ ویسے یہ کوئی ایسا دقیق نکتہ نہیں تھا کہ اس کو دریافت کرنے کے لیے سومرو صاحب کو سپیکر صاحب کی مدد کی ضرورت ہوتی۔یہ بات کارروائی کے سرسری مطالعہ ہی سے نظر آ جاتی ہے کہ دس میں سے آٹھ سوالات کا جواب تو صرف ایک دو منٹ میں نہایت اختصار سے دیا گیا تھا اور شاید ہی اب تک کی کارروائی میں کسی سوال کا جواب دس منٹ کا ہو۔پھر عبد العزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ جہاں جواب Irrelevantہو وہاں سپیکر صاحب اپنا اختیار استعمال کر کے اس کو بند کریں۔مولوی ظفر انصاری صاحب نے اصرار کیا کہ انہیں لکھی ہوئی چیز پڑھنے کا زیادہ موقع نہ دیا جا ئے۔احمد رضا قصوری صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ گواہ بعض جوابات کو بار بار دہرا رہا ہے اور بعض کتابوں کے حوالے بھی بار بار دہرائے جا رہے ہیں ۔ہم یہاں اس لیے نہیں بیٹھے کہ ہمیں بتایا جائے کہ احمدیہ عقائد کیا ہیں اور نہ ہی وہ ہمیں تبلیغ کر رہے ہیں۔اب یہ اعتراض معقولیت سے قطعاََ عاری تھا کیونکہ حقیقت یہ نہیں تھی کہ کچھ جوابات دہرائے جا رہے تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب بعض سوالات کو بار بار دہرا رہے تھے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی سوال دہرایا جائے گا تو جواب دینے والے کو جواب بھی دہرانا پڑے گا۔یہ حقیقت اتنی واضح تھی کہ خود وفاقی وزیر عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کو بھی اس کی نشاندہی کرنی پڑی کہ اٹارنی جنرل صاحب کو بعض سوالات اس لیے دہرانے پڑتے ہیں تا کہ جوابات میں تضاد پیدا ہو۔
    اس کے بعد جماعت ِ احمدیہ کا وفد داخل ہوا۔اب جو کارروائی شروع ہوئی تو جوابات میں تو کیا تضاد پیدا ہونا تھا ، خدا جانے کیا ہوا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جلد جلد کچھ بے ربط سوالات کرنے شروع کیے۔پہلے انہوں نے ایک حوالہ پڑھ کر یہ سوال اُٹھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرو ں میں حضرت مریم کا کیا مقام بیان ہوا ہے ابھی اس پر تین چار منٹ ہی گزرے ہوں گے اور ابھی اس مسئلہ پر بات صحیح سے شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے اچانک یہ سوال اُٹھا دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو ملعون لکھا ہے۔ابھی لائبریرین کو حوالہ پکڑانے کا کہا ہی تھا کہ انہوں نے کہا کہ میں دو چار اکٹھے پڑھ دیتا ہوں اور فوراً ہی اس مسئلہ پر آ گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رشید احمد گنگوہی کو شیطان گمراہ اور ملعون لکھا ہے۔ابھی اس کا جواب نہیں آیا تھا کہ سپیکر صاحب نے کہا کہ میں یہ تجویز دوں گا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک وقت میں ایک سوال کریں لیکن وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک ہی طرح کے سوالات ہیں اور ایک اور سوال کیا کہ بانیء سلسلہ احمدیہ نے سعدا للہ لدھیانوی کے بارے میںیہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ ہم یہ حوالہ جات چیک کر کے جواب دیں گے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کچھ اور حوالہ جات پڑھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں میں مخالفین کے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔اس کے جواب میں بھی حضور نے فرمایا کہ یہ سب حوالہ جات نوٹ کرا دیئے جائیں ان کے جوابات اکٹھے دیئے جائیں گے۔
    اس اعتراض کو پرکھتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جن لوگوں کا نام لے کر یہ اعتراض کیا جا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ہیں، خود ان مخالفین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کیا الفاظ استعمال کئے تھے۔پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی مثال لے لیں۔انہوں نے اپنی کتاب سیفِ چشتیائی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا تھا ’’الغرض اکثر الہامات ان کے تو کاذب ہونے کی وجہ سے ان کو مفتری علی اللہ قرار دیتے ہیں اور بعض الہامات گو کہ فی نفسھا صحت رکھتے ہیں مثل آیتِ قرآنیہ ملہمہ کی مگر ان سے الٹا نتیجہ نکالنے کے باعث سے ان پر پوری جہالت کا دھبہ لگاتے ہیں اور مع ھٰذا تلبیس ابلیس ہونے میں بھی کوئی شک نہیں رہتا۔‘‘ پھر وہ اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ تین اقسام کے ہیں ’’(۱) الہاماتِ کاذبہ جن کے کاذب ہونے پر وہ خود ہی گواہ ہیں (۲)الہاماتِ کاذبہ جن کو بوجہ نہ پورا نکلنے ان کے کاذب سمجھا گیا ہے(۳)الہامات ِ صیّاد یہ جن کا ابنِ صیّاد کے الہام کی طرح اگر سر ہے تو پاؤں نہیں اگر پاؤں ہیں تو سر نہیں … (۴) الہاماتِ شیطانیہ انسیہ جن کو کسی آدمی پڑھے ہوئے نے اس کے قلب میں ڈال دیا ہے(۵)الہامت ِ شیطانیہ جنیہ (۶) الہامات ِ شیطانیہ معنویہ … ‘‘ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بد زبانی کی’’قادیانی صاحب نے اس مقام پر بڑی چالاکی اور دجل سے کام لیا ۔‘‘ (۶۸)
    اور پھر پیر گولڑوی صاحب نے اپنی کتاب سیف ِ چشتیائی میں یہ فارسی شعر درج کیا
    زمیں نفرت کند از تو فلک گرید بَر احوالت
    ملک *** کناں نزد خدا بَر آسماں بینی
    یعنی زمین تجھ سے نفرت کرتی ہے اور آسمان تیرے حال پر روتا ہے۔تو دیکھتا ہے کہ خدا کے نزدیک آسمان پر فرشتے تجھ پر *** کرتے ہیں۔ (۶۹)
    پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف اعجاز احمدی (ضمیہ نزول المسیح) میں یہ عربی شعر ان صاحب کے متعلق تحریر فرمایا۔
    اَ لَا اَیُّھَا اللَّعَّانُ مَا لَکَ تَھْجُرٗ
    وَ تَلْعَنُ مَنْ ھَُوَ مُرْسَلٌ وَّ مُوَقَّرٗ
    یعنی اے *** کرنے والے تجھے کیا ہو گیا ہے کہ بیہودہ بک رہا ہے ۔اور تو اس پر *** کر رہا ہے جو خدا کا فرستادہ اورخدا کی طرف سے عزت یافتہ ہے۔ (۷۰)
    اور اٹارنی جنرل صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کو اعتراض کے لئے پیش فرما رہے تھے حالانکہ ا س شعر کے الفاظ ہی ظاہر کر دیتے ہیں کہ یہ پیر گولڑوی کی سخت بیانی کے جواب میں ہے۔
    اب ہر صاحبِ عقل دیکھ سکتا ہے کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مامور من اللہ مانتے ہیں اور ان کے الہامات کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ مانتے ہیں۔اور پیر گولڑوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے الہامات کے متعلق اتنی بد زبانی کر رہے ہیں اور یہ جھوٹی تعلّی کر رہے ہیں کہ آسمان کے فرشتے نعو ذُ با للہ آپ پر *** کر رہے ہیں تو مذہب کے مسلّمہ اصولوں کے مطابق ایسا مکذب اور مکفر اگر ملعون نہیں کہلائے گا تو کیا احمدی اسے ولی اللہ سمجھیں گے؟
    اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراض تو اُ ٹھا دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض بدزبانی کرنے والے معاندین کے متعلق ملعون کے الفاظ استعمال کئے ہیں لیکن وہ یہ بھول گئے تھے اگر *** کا لفظ استعمال کرنا فی ذاتہ قابلِ اعتراض ہے تو ان کا یہ اعتراض دوسرے انبیاء پر ،قرآنِ کریم پر اور نبی اکرم ﷺ کی مقدس ذات پر بھی ہوتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے (المائدۃ:۷۹) یعنی جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا وہ داؤد کی زبان سے *** ڈالے گئے اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے بھی اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا فرماتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور لوگوں کی *** ہے۔ (اٰل عمران: ۸۸)
    حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے قبر کی زیارت کے لیے جانے والی عورتوں پر *** کی (بعد میں اس بابت رخصت دے دی گئی تھی) (جامع ترمذی ابواب الجنائز )۔
    حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کی زبان سے اس شخص پر *** کی جو حلقہ کے بیچ بیٹھے (جامع ترمذی۔ باب ما جاء فی کراھیۃ القعود وسط الحلقۃ)
    اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابنِ عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر *** کی ہے جو زندہ جانورکو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرے ۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الصید و الذبائح )
    بہر حال جیساکہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ حضور نے فرمایا تھا کہ یہ حوالے نوٹ کرا دیئے جائیں،چیک کر کے جواب دیا جائے گا۔سوال اُ ٹھانے والوں کو محضر نامے کے مطالعہ سے ہی یہ انداز ہ ہو جانا چاہئے تھا کہ یہ سوال کرنا انہیں مہنگا پڑے گا۔عقلمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ سوال اُ ٹھایا ہی نہ جاتا اور اگر اس کو اُٹھا ہی دیا گیا تھا تو اس کے جواب کے لئے اصرار نہ کیا جاتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب بظاہر سخت الفاظ استعمال کئے ہیں ،تو وہ مخالفین کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی بد زبانی کے جواب میں مناسب اور جائز سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیںلیکن یہ غلطی بھی کر دی گئی۔ہم کچھ دیر کے لیے واقعات کے تسلسل کو نظر انداز کر کے ۹؍ اگست کو شام چھ بجے شروع ہونے والی کارروائی کا جائزہ لیتے ہیں۔جب چھ بجے کارروائی شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل صاحب نے از خود دریافت کیا کہ چند حوالے سنائے گئے تھے جو چند بزرگوں کے متعلق توہین آمیز جملے تھے ان کا مطلب کیا تھا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا بات کرنے کا ایک خاص دھیما انداز تھا۔آپ نے آہستگی سے بات شروع فرمائی اور فرمایا: ’’جی … وہ جو حوالے جس میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔جس کی طرف آپ نے میری توجہ دلائی تھی وہ تاریخ کا ایک ورق ہے جس پہ قریباََ ستر سال ؟ ستر سال گزر چکے ہیں اور تاریخی واقعات کی صحت سمجھنے کے لیے وہ تاریخ کا ماحول سامنے لاناضروری ہے ورنہ اس کی سمجھ نہیں آ سکتی۔‘‘کچھ تمہید کے بعد حضور نے مثالیں دینا شروع کیں اور ابھی پہلی مثال ہی دی تھی جس میں بریلویوں نے ایک اور فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کو خبیث اور ان سے نکاح کو زنا اور ایسی شادی سے ہونے والی اولاد کو ولد الزنا قرار دیا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کی آنکھیں کچھ کھلیں کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھے ہیں حالانکہ ابھی تو اس بدزبانی کا ذکر شروع ہی نہیں ہوا تھا جو ان کے بزرگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کی تھی۔ اب انہوں نے اس جواب کو روکنے یاکم از کم مختصر کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے اور کہا کہ میرا سوال تو سادہ تھا میں نے تو تین بزرگوں کا نام لے کر دریافت کیا تھا کہ ان کے متعلق مرزا صاحب نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔آپ ان فتووں کا ذکر کر رہے ہیں کہ سنیوں نے شیعوں کو کیا کہا ہے اور شیعوں نے سنیوں کو کیا کہا ہے۔ان کا کیا جواز ہے۔حضور نے اس کے جواب میں ابھی یہی فرمایا تھا کہ’’ آپ کا مطلب یہ ہے …‘‘ ۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کو احساس ہوا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں ۔سوال تو وہ کر چکے تھے ۔جواب کو روکنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ انہوں نے بات بدل کر کہا کہ’’ یہ مختصر ہو ۔میں نہیں آپ کو روکتا ۔نہ مجھے اختیار ہے نہ میں آپ کو روک سکتا ہوں۔صرف یہ ہے کہ Proceedings لمبی ہو گئی ہیں۔آپ پر بھی Strain ہے ۔ اسمبلی پر بھی Strain ہے۔ اس لئے میں مؤدبانہ عرض کروں گا کہ اگر آپ اس کو اس چیز کے لیے Confine کریں۔ اس کا Background ہمیں مل گیا ہے ۔ آپ نے پوری تفصیل سے بتایا ہے… ‘‘
    بہر حال تیر تو اب کمان سے نکل چکا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا’’اگر میں یہ سمجھوں کہ اس پس منظر کو سامنے لائے ہوئے کہ میں اس مختصر سوال کا مختصر جواب نہیں دے سکتا تو پھر میرے لیے کیا ہدایت ہے آپ کی؟‘‘ اب یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب بے بس تھے۔انہوں نے بے چارگی سے کہا جیسے آپ کی مرضی، میں نےRequest کی تھی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے سینکڑوں میں سے صرف چند مثالیں لی ہیں اور دوسرا حوالہ پڑھنا شروع کیا۔اب تو مولوی حضرات کو بھی نظر آ رہا تھا کہ ان کے اعتراض کی کیا گَت بن رہی ہے۔چنانچہ قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب نے سپیکر صاحب سے اپیل کی کہ گواہ کو روکا جائے کہ وہ دوسروں کی گالیاں کیوں پیش کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت سپیکر صاحب ان کی مدد کو نہیں آ رہے تھے چنانچہ سپیکر صاحب نے ان کو تنبیہ کی۔
    ‘‘This is a question. This can only come through the attorney general. Yes the witness can reply. He should continue, what he was replying.
    یعنی یہ ایک سوال ہے اور یہ صرف اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے کیا جا سکتا ہے۔جی! گواہ جواب دے سکتا ہے انہیں وہ جواب جاری رکھنا چاہئے جو وہ دے رہے تھے۔
    اس کے بعد حضور نے وہ حوالے سنائے جن میں سوال کرنے والوں کے کچھ بزرگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں بد زبانی کی انتہا کر دی تھی۔گندی سے گندی گالی دے کر کے دل دُکھائے گئے تھے ۔شاید ہی کوئی جھوٹا الزام ہو جو آپ کی ذات اقدس پر ان لوگوں نے نہیں لگایا۔ اٹارنی جنرل صاحب نے سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر پر اعتراض کیا تھا ۔حضور نے شاعرِ مشرق اقبال کے کچھ اشعار سنائے جو انہوں نے ایف اے میں سعداللہ لدھیانوی کے متعلق کہے تھے ۔وہ اشعار یہ تھے
    واہ سعدی دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی
    خوب ہو گی مہتروں میں قدر دانی آپ کی
    بیت سعدی آپ کی بیت الخلاء سے کم نہیں
    ہے پسندِ خاکروباں شعر خوانی آپ کی
    گوہر بے راہ جھڑے ہیں آپ کے منہ سے سبھی
    جان سے تنگ آ گئی ہے مہترانی آپ کی
    قوم عیسائی کے بھائی بن گئے پگڑی بدل
    واہ کیا اسلام پر ہے مہربانی آپ کی (۷۱)
    پھر آپ نے پیر گولڑوی صاحب کی کتاب سیف ِ چشتیائی کا حوالہ سنایا جس میں انہوںنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ایک فارسی شعر میں لکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو فرشتے ہیں وہ تجھ پر *** کر رہے ہیں۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر لکھا تھا جس کا مطلب یہ تھا تم پر آسمانی *** ہو۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراض کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رشید احمد گنگوہی کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔اس کے جواب میں حضور نے حوالہ دیا کہ رشید احمد گنگوہی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہاں تک بدزبانی کی تھی کہ آپ کو اہل ھوا اور گمراہ اور دجال تک کہا ، تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق وہ سخت الفاظ استعمال کئے ۔اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراض کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالفین کے متعلق ذریۃ البغایا کے الفاظ لکھے ہیں اور یہ اصرار کیا تھا کہ اس کا مطلب ولد الحرام ہی ہوتا ہے ۔ حضور نے لغوی تحقیق بیان فرمائی اور پرانے بزرگوں کی مثالیں بیان فرمائیں اور اہلِ بیت کے اقوال بیان فرمائے کہ اس کا مطلب سرکش انسان کے ہوتے ہیں اور ہمارے لٹریچر میں اس کا یہی مطلب لیا گیا ہے۔ ان سب مثالوں میں اس کا مطلب ولدالحرام ہونے کے نہیں بلکہ سرکش انسان ہونے کے بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صرف ایک تحریر میں اس کا مطلب ’’ولدالحرام‘‘ لے کر اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔ابھی حضور کا جواب جاری تھا کہ سپیکر صاحب نے مغرب کی نماز کے لئے وقفہ کا اعلان کیا ۔حضور نے فرمایا:۔
    ’’میں وہ جوحوالے ہیں نا دوسرے … ‘‘
    ابھی جملہ مکمل نہیں ہوا تھا مگر اس سے معلوم ہوتا تھا کہ حضور اس ضمن میں اور حوالوں کو پیش کرنے کا ذکر فرما رہے ہیںکہ سپیکر صاحب نے جلدی سے جملہ کاٹا اور کہا:
    ‏’’The delegation is permitted to leave....‘‘
    اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے دریافت فرمایا کہ کیا یہconcludeہو گیا ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ اور حوالے بھی ہیں مگر میں اب انہیں چھوڑتا ہوں۔میرے خیال میں بات واضح ہو گئی ہے۔
    اس کے بعد ہم کارروائی کے تسلسل کے حساب سے ہی جاری رکھتے ہیں۔
    اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جن خطوط پر بحث چلانے کی کوشش کی اس کا اندازہ ان مثالوں سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے پیش کیں۔اب تک وہ اس موضوع پر گفتگو شروع کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پا رہے تھے جس موضوع کے بارے میں اس سپیشل کمیٹی نے کام کرنا تھا۔اب تک جن خطوط پر انہوں نے بحث لانے کی کوشش کی تھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہوں نے وہی حکمتِ عملی اپنائی جو عموماََ جماعت کے مخالفین اپناتے ہیں یعنی کچھ غلط بیانی کر کے اور کچھ سیاق و سباق کے بغیر حوالے پیش کر کے موقع پر موجود لوگوں کے جذبات یہ کہہ کر بھڑکاؤ کہ مرزا صاحب نے تمہارے متعلق سخت زبانی کی انتہا کر دی ہے تا کہ ان میں سے کوئی متوازن سوچ کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ اس کے لئے سب سے پہلے انہوں نے ’’نزول المسیح‘‘ کا حوالہ پیش کیا۔ اب شائع ہونے والی کارروائی میں اس حوالے کو inverted commas میں لکھا گیا ، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت اٹارنی جنرل صاحب یہی تاثر دے رہے تھے کہ میں ’’ نزول المسیح ‘‘ کے معین الفاظ پڑھ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ’’نزول المسیح ‘‘ کے صفحہ4 پر لکھا ہے:
    ’’جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی یہودی مشرک اور جہنمی ہے۔‘‘
    حقیقت یہ ہے کہ ’’نزول المسیح‘‘ میںیہ معین الفاظ موجود نہیںاور اصل الفاظ جو وہاں پر درج ہیں وہ بالکل مختلف مضمون بیان کر رہے ہیں۔اصل الفاظ یہ ہیں:
    ’’اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم،ابراہیم ، نوح ، موسیٰ ، داؤد ، سلیمان، یوسف ، یحییٰ ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہینِ احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیائِ گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہوگئے یہاں تک کہ سب کے آخر میں مسیح پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘
    (نزول المسیح ایڈیشن اوّل ص4)
    حضور نے نشاندہی فرمائی کہ یہاں یہ تو نہیں لکھا کہ یہ نام میں نے رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ پر بالکل مختلف مضمون بیان ہو رہا تھا اور وہ یہ کہ ہر مامور من اللہ کے مخالف ، انبیاء ِ گزشتہ کے مخالفین کی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں اور ان سے مماثلت پیدا کر لیتے ہیںاور یہ مضمون حدیثِ نبوی میں بھی بیان ہوا ہے۔رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت پر ایک زمانہ آئے گا جب اس کے لوگ یہود سے مکمل مشابہت پیدا کرلیں گے۔اگر یہ زمانہ مسیح موعود کے دور میں نہیں آنا تھا تو پھر اور کب آنا تھا؟
    اس سیشن میں مفتی محمود صاحب نے ایک اور طریقہ استعمال کیا ۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عربی عبارت کی اور اس کا خود وہ ترجمہ کر کے سنایا جس سے وہ جماعتِ احمدیہ کے خلاف متعصبانہ جذبات کو بھڑکا سکیں۔عربی عبارت یہ تھی
    ’’ تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبۃ و المودۃ و ینتفع من معارفھا و یقبلنی و یصدق دعوتی۔ الّا ذریۃ البغایا الذین ختم اللّٰہ علی قلوبھم فھم لا یقبلون۔‘‘ (’’آئینہ کمالات ِ اسلام ‘‘صفحہ 548-547)
    اور اس کا ترجمہ مفتی محمود صاحب نے خود یہ کر کے سنایا
    ’’یہ وہ کتابیں ہیں جن کی طرف دیکھتا ہے ہر مسلمان محبت اور مودت کی آنکھ سے اور اس کے علوم سے نفع اُٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں ،جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے ،وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔حضور نے اس وقت یہ نشاندہی فرمائی کہ اس عبارت میں ذریۃ البغایا کے الفاظ ہیں اور اس کا مطلب کنچنیاں یا کنچنیوں کی اولاد نہیں ہوتا اور اس اصطلاح پر لغت کو سامنے رکھ کر بحث ضروری ہے۔
    ہم ذریۃ البغایا کے الفاظ پر لغوی تحقیق کے کچھ پہلو پیش کرتے ہیں۔
    لغت ِ عربی میں جب با کی کسرہ کے ساتھ بغیٰ کا لفظ آئے تو اس کا مطلب بدکاری اور جب با کی فتح کے ساتھ بغیٰ کا لفظ آئے تو اس کا مطلب سرکشی ہوتا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت امام باقر ؒنے بھی بغیٰ کا مطلب سرکشی اور زیادتی کرنے والا بیان کیا ہے۔
    (مستدرک سفینۃ البحار جلد1 ص382)
    اگر یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر پر کیا جائے تو یہ اعتراض اہلِ بیت کے بزرگان پر بھی آئے گا کیونکہ حضرت امام حسین ؓ کی صاحبزادی حضرت سکینہ نے ایک شعر میں قاتلین حسین کے بارے میں ذریۃ البغایا کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔
    (الامام الحسین۔ عربی تالیف عبدالواحد خیاری الجزائری ۔ اردو ترجمہ نور محمد انیس مطبوعہ شہداد پور سندھ)
    حضرت سیدہ زینب بنت حضرت امام حسینؓ نے بھی قاتلینِ حسین کے بارے میں ذریۃ البغایا کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ (بحارالانوار جزء 45ص59)
    حضرت امام جعفر صادق ؒ اور حضرت امام باقر ؒ نے خدا کے رسولوں کو قتل کرنے والوں یا اس کی کوشش کرنے والوں کو ذریۃ البغایا قرار دیا ہے۔
    ( العلل ج ۱ ص۵۷ مع اختلاف فی السند و العبارۃ بحوالہ : مسطرفات السرائر ۔ابن ِ ادریس الحلی جلد ۱ ص۱۰۵۔ مستدرک سفینۃ البحار المؤلف :العلامہ آیت اللہ الشیخ علی النمازی)
    اسی طرح حضرت امام جعفر صادق ؒکا قول ہے :۔
    ’’ جو شخص ہمارے ساتھ محبت کرتا ہے وہ تو اچھے آدم کا نطفہ ہے اور جو ہم سے عداوت رکھتا ہے وہ نطفہ شیطان ہے۔ ( فروعِ کافی جلد ۲ کتاب النکاح ص ۲۱۶)
    امام باقر ؒ فرماتے ہیں:۔
    ’’ خدا کی قسم ہماری جماعت کے سوا تمام لوگ ذریۃ البغایا ہیں۔‘‘
    (فروع ِ کافی حصہ سوئم کتاب الروضہ ص۱۳۵ مطبوعہ نول کشور)
    حضرت امام ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں:۔
    ’’ جو حضرت عائشہ ؓ پر زنا کی تہمت لگائے وہ حرامزادہ ہے۔‘‘ (کتاب الوصیّت ص ۳۹ مطبوعہ حیدر آباد)
    حضور نے مندرجہ بالا میں سے بہت سے حوالے 9؍ اگست کو پڑھ کر سنائے جن سے واضح ہوجاتا تھا کہ ذریۃ البغایا کا مطلب سرکش اور نافرمان انسان کے کئے جاتے رہے ہیں اور مفتی محمود صاحب جو ترجمہ کر کے سنا رہے تھے وہ بے بنیاد تھا۔اس تحقیق کا معترضین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
    اس کے بعد پھر اٹارنی جنرل صاحب نے وہی پرانا سوال بار بار دہرایا۔مثلاً ایک موقع پر انہوں نے پوچھا:
    ’’جو اللہ اور رسولﷺ پر ایمان لاتا ہے ان کو مانتا ہے۔اور مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا ۔پھر بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔‘‘
    اس پر حضور نے جواب میں فرمایا
    ’’غیر مسلم نہیں ہے۔گنہگار ہے وہ۔‘‘
    اٹارنی جنرل صاحب بیچارے عجیب مخمصے میں مبتلا تھے۔وہ علمی بحثوں میں پڑنا چاہتے تھے اور اس کارروائی کی نوعیت کا تقاضا بھی یہی تھا لیکن ان کی طبیعت کو اس کام سے کوئی مناسبت نہیں تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر بحث اٹھائی کہ ’’اتمامِ حجت‘‘ کا کیا مطلب ہے۔ حضور نے عربی زبان کی رُو سے اس کا مطلب بیان فرمایا۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے ایک لغت نوراللغات کا حوالہ پیش کیا ۔آغاز میں ہی حضور نے فرمایا کہ یہ تو کوئی معیاری لغت نہیں ہے اور حضور نے معیاری لغت کی مثال کے طور پر منجد،مفردات ِ امام راغب،لسان العرب اور اقرب کے نام بھی لیے ۔ بہرحال صاحب موصوف نے اپنی چنیدہ لغت سے اس کا مطلب پڑھنا شروع کیا اور کہا کہ اس لغت میں اتمامِ حجت کا مطلب یہ لکھا ہے:
    ’’صحت کا پورا کرنا۔کسی معاملہ میں آخری مرتبہ سمجھانے اور معاملہ طے کرنے کی جگہ۔‘‘
    اصل میں نورالغات میں ’’اتمامِ حجت‘‘ کا مطلب یہ لکھا ہے:
    ’’حجت کا پورا کرنا، کسی امر میں آخری مرتبہ سمجھانے اور معاملہ طے ہونے کی کوشش کرنے کی جگہ‘‘
    اس لغت کے الفاظ میں جو غلطی ہے وہ تو ظاہر ہے لیکن ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب اس لغت کا حوالہ دیتے ہوئے بھی صحیح اور معیّن الفاظ نہیں پڑھ رہے تھے۔ اردو لغات میں سب سے زیادہ تفصیلی لغت ’’ اردو لغت ‘‘ شائع کردہ ترقی اردو بورڈ میں اتمامِ حجت کا مطلب یہ لکھا ہے۔
    ’’سمجھانے کی آخری کوشش، آخری دلیل، فیصلہ کن بات۔‘‘
    اٹارنی جنرل صاحب عجیب مخمصے میں پھنس گئے تھے۔ جس لغت کو وہ دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے نہ صرف اس کا بیان کردہ مطلب غلط تھا بلکہ اس بیچاری لغت کی تو اردو بھی ٹھیک نہیں تھی۔ حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ اس کی تو اردو بھی ٹھیک نہیں یہ معیاری لغت کہاں سے ہو گئی۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ آپ کوئی معیاری ڈکشنری لے آئیں اس میں دیکھ لیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے اس کے معنی کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور ان کے بے ربط جملوں کا مطلب یہ نکلتا تھا کہ وہ خود بھی اس اصطلاح کے معنی کے بارے میں واضح نہیں ہیں ۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا This is rediculous اٹارنی جنرل صاحب تو اٹارنی جنرل! اسمبلی میں موجود مولوی حضرات کی علمی حالت بھی ایسی تھی کہ جب وقفہ ہوا اور جماعت کا وفد ہال سے چلا گیا تومولوی غلام رسول ہزاروی صاحب سپیکر صاحب سے فخریہ انداز میں کہنے لگے:
    ’’ میں آج کے مباحثے کے بارے میں عرض کرتا ہوں آج مرزا صاحب بری طرح پھنسے ہیں ۔اس لئے اتمامِ حجت جس کے معنی وہ کر رہے ہیںجس کو دنیا بالکل تسلیم نہیں کر سکتی … ‘‘
    اس جملے سے بیچارے مولوی صاحب کی بچگانہ خوشی ظاہر ہوتی ہے۔وہ اس خیال میں تھے کہ آج اللہ اللہ کر کے تیسرے دن ہمیں بھی کوئی خوشی ملی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سپیکر صاحب ان کی خوش فہمی میں شریک نہیں تھے کیونکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بعدمیں دیکھیں گے۔
    بہر حال ان کی جو بھی خوش فہمی تھی جلد رفع ہو گئی کیونکہ وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی تو ایسا تصرف ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے جن الفاظ کے لغوی معانی کے متعلق بات ہوئی تھی ان پر مختصر تحقیق کے بیان سے بات شروع فرمائی۔حضور نے حجت اور اتمامِ حجت کے الفاظ کے متعلق قرآنِ کریم سے مثالیں دیں ،مفردات ِ امام راغب اورلسان العرب جیسی عظیم لغات سے ان الفاظ کے مطالب بیان فرمائے،امام زہری کے اقوال پڑھ کر سنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر سے اس کے بارے میں اقتباس پڑھا۔ اس خفت کے بعد اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی مدد کرنے والوںنے کسی لغت کا حوالہ دینے کی کوشش نہیں کی۔
    پھر حضور نے فرمایا کہ آپ نے ایک کتاب کلمۃ الفصل سے حوالہ دیا ہے اور اسے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کلمۃ الفصل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی کتاب ہے ہی نہیں بلکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ہے ۔پھر حضور نے وہ پورا حوالہ پڑھ کر سنایا جس سے کیا گیا اعتراض خود بخود ہی رفع ہو جاتا تھا۔معلوم ہوتا ہے اب تک اٹارنی جنرل صاحب کو یقین نہیں آ رہا تھا انہوں نے جو حوالہ دیا تھا اس میں وہ مصنف کا نام غلط بتا گئے ہیںیا پھر وہ اب خفت مٹانے کی کوشش کر رہے تھے ۔جب انہوں نے یہ سنا کہ یہ کتاب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تصنیف نہیں ہے تو انہوں نے فوراََ کہا:۔
    ’’ان کی compilation ہے۔‘‘
    جب اس کا جواب بھی نفی میں ملا تو پھر انہوں نے ایک راستہ نکالنے کی کوشش کی اور کہا:۔
    ’’ تقریباََ ان کو اکٹھا کیا گیا ہے۔‘‘
    جب اس کی بھی تردید کر دی گئی تو پھر یحییٰ بختیار صاحب نے اس تحریر کے مندرجات پر بحث اُٹھانے کی کوشش کی لیکن اس وضاحت کے بعد بھی دورانِ گفتگووہ اس کے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہی کہتے رہے کہ مرزا بشیرالدین محمود احمد نے یہ لکھا ہے۔حالانکہ یہ خلاف واقعہ تھا۔
    اس کے بعد اس روز ایک بار پھر ’’کلمۃ الفصل‘‘ پر گفتگو ہوئی لیکن دوبارہ وہی مسئلہ سامنے آیا پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے غلط صفحہ نمبر پڑھ دیا ۔جب اس صفحہ پر متعلقہ عبارت نہیں ملی تو پھر انہوں نے دوسرا صفحہ نمبر بتایا۔جب صحیح عبارت سامنے آئی تو حضور نے نشاندہی فرمائی کہ یہاں پر نجات کا ذکر ہو رہا ہے اور ان الفاظ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر احمدی مسلمان ملت ِ اسلامیہ سے خارج ہیں۔آخر میں اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ کیونکہ یہ کتاب حضرت بانی ِ سلسلہ احمدیہ کی یا خلفاء ِ سلسلہ میں سے کسی کی نہیں اس لئے وہ اس پر بات نہیں کریں گے۔
    پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بحث بھی اُ ٹھانے کی کوشش کی تھی کہ تقسیمِ ہند کے وقت احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوںسے علیحدہ ایک فریق کے طور پر پیش کیا تھا اور یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے مذہبی طور پر علیحدہ ہیں اور اس طرح مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد کو نقصان پہنچایا تھا۔حضور نے الفضل کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا ۔اٹارنی جنرل صاحب یا تو غلط حوالہ پیش کرتے یانامکمل عبارت پڑھ کر یا تبدیل شدہ عبارت پڑھ کر ایک تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔لیکن جب پورا اقتباس پڑھا جاتا تو یہ اثر ویسے ہی زائل ہوجاتا۔اور اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔
    جب وقفہ کے بعد رات کو آٹھ بجے دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو حضورؒ نے اٹارنی جنرل صاحب کے ایک پیش کردہ حوالے کا پورا پس منظر پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ایک ذمہ دار انگریز افسر کو پیغام بھجوایا تھا کہ تم دو پارسی پیش کرو میں اس کے مقابل پر چار احمدی پیش کروں گااور یہ اعتراض کیا تھا کہ اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ مذہب سے وابستہ ظاہر کیا تھا۔ اگر اس خطبہ جمعہ کو مکمل طور پر پڑھ لیا جاتا تو یہ سوال اُ ٹھنے کی نوبت نہ آتی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا تھا:۔
    ’’میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ممکن ہے برطانوی حکومت اس غلطی میں مبتلا ہو کہ اگر مسلم لیگ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہمارے خلاف نہیں ہوگی۔ بلکہ ایسے مسلمان جو لیگ میںشامل نہیں اور ایسی جماعتیں جو لیگ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں، ان کو ملا کر وہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں قائم کر سکے گی۔ اس خیال کے آنے پر میں نے مزید سوچا اور فیصلہ کیا کہ ایسے لوگ جو لیگ میں شامل نہیں یا ایسے لوگ جنہیں تعصب کی وجہ سے لیگ والے اپنے اندر شامل کرنا پسند نہیں کرتے ۔ جیسے احمدی کہ ان کو تعصب کی وجہ سے لیگ میں شامل کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کو چاہیئے کہ آپس میں مل جائیں اور مل کر گورنمنٹ پر یہ واضح کر دیں کہ خواہ ہم لیگ میں نہیں ۔ لیکن اگر لیگ کے ساتھ حکومت کا ٹکراؤ ہوا ۔ تو ہم اس کومسلمان قوم کے ساتھ ٹکراؤ سمجھیں گے اور جو جنگ ہوگی ، اس میں ہم بھی لیگ کے ساتھ شامل ہوں گے۔ یہ سوچ کرمیں نے چاہا کہ ایسے لوگ جو اثر رکھنے والے ہوں۔ خواہ اپنی ذاتی حیثیت کی وجہ سے اور خواہ قومی حیثیت کی وجہ سے ان کو جمع کیا جائے۔ دوسرے میں نے مناسب سمجھا کہ کانگرس پر بھی اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے کہ وہ اس غلطی میں مبتلا نہ رہے کہ مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر وہ ہندوستان پر حکومت کر سکے گی۔ اسی طرح نیشنلسٹ خیالات رکھنے والوں پر بھی یہ واضح کر دیا جائے کہ وہ کانگرس کے ایسے حصوں کو سنبھال کر رکھیں اوران کے جوشوں کو دبائیں جن کا یہ خیال ہو کہ وہ مسلمانوں کو دبا کر یا ان کو آپس میں پھاڑ پھاڑ کر حکومت کر سکتے ہیں ۔‘‘
    (’’الفضل‘‘ 13؍ نومبر1946 ء کالم نمبر 1 تا3)
    یہ تھی پوری عبارت ۔اب ملاحظہ کیجیئے کہ کیا اس میں اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا ؟ کیا یہ کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کو اور مسلم لیگ کو نقصان پہنچایا جائے؟ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تو حکومت کو یہ انتباہ کیا تھا کہ اگر اس کی مسلم لیگ کے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم ہر حال میں مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے اور یہ فرما رہے تھے کہ حکومت اور کانگرس یہ خیال ترک کر دیں کہ وہ مسلمانوں کو پھاڑ کر ان پر حکومت کر سکتے ہیں۔اگر اس سے کوئی شخص یہ نتیجہ نکال رہا ہے کہ اس خطبہ میں اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو پھر اس شخص کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے لیکن آفرین ہے اس قابل قومی اسمبلی پر اور قابل اٹارنی جنرل پر کہ اس حوالے کے پڑھے جانے کے بعد بھی وہ یہی نکتہ اُٹھاتے رہے کہ احمدی پاکستان کے قیام کے حق میں نہیںتھے اور کہا کہ آپ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھیں۔اگر چہ اس سلسلہ میں حضور نے اور بہت سے حوالے بھی انہیں سنائے۔ ہٹ دھرمی ایک لا علاج مرض ہے۔
    اس کے بعدیحییٰ بختیار صاحب نے یہ تمہید بیان کی کہ آپ کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد اُمتی نبی آ سکتا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے پھر دو سوال اُ ٹھائے ۔ایک تو یہ کہ آپ کے نزدیک کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ بھی کوئی نبی آ سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ کیا پھر آپ کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری نبی ہوں گے؟پہلے سوال کے متعلق تو حضور کا اصولی جواب یہ تھا کہ اب وہ امتی نبی آ سکتا ہے ۔مگر وہی آ سکتا ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے خوشخبری دی ہو اور فرمایا کہ جہاں تک مجھے علم ہے ایک وجود کے علاوہ آنحضرت ﷺ نے کسی اور امتی نبی کی بشارت نہیں دی اگر کسی کے علم میں کوئی ایسی حدیث ہو جس میں کسی دوسرے وجود کو بھی آنحضرت ﷺ نے نبی کا نام دیا ہو تو وہ بیان کر سکتے ہیں ۔
    اور جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو یہ سوال ہی بنیادی طور پر غلط ہے اور اس کی بنیاد یہ غلط تصور ہے کہ آخری ہونا اپنی ذات میں کوئی فضیلت کی بات ہے ۔حالانکہ زمانی طور پر آخری ہونا کسی طور پر کوئی فضیلت کا پہلو نہیں رکھتا۔البتہ یہ بات ایک عظیم الشان فضیلت کے بعد ہے کہ اب جو بھی مامور یا مصلح یا نبی آئے گا وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع اور محبت کے نتیجہ میں یہ مقام پائے گا اور آپ کے تمام احکامات اور تعلیمات کی پیروی کرے گا اور جماعت ِ احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے۔اصل میں وہ یہ اعتراض اُ ٹھانا چاہتے تھے کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔
    اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ تمام فرقوں کے مطابق مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کے بعد آنا ہے تو کیا یہ وجود ان فرقوں کے نزدیک آخری نبی نہیں بن جائے گا۔اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا گیااور حضور نے شاہ محمد اسمٰعیل شہید صاحب کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان میں لکھا تھا ’’اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے ایک آن میں ایک حکم کُنْ سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن اور فرشتہ جبرئیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے۔‘‘ (۷۲)
    اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُ ٹھایا کہ’’ایک اور سوال پو چھتا ہوں۔روز قیامت سارے نبی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوں گے۔آخری نبی کون شمار ہو گا۔حضرت محمد ﷺ یا مسیح یا عیسیٰ علیہ السلام۔‘‘
    اس پر حضور نے یہ پُر معرفت جواب دیا کہ
    ’’حضرت محمد ﷺ سب سے پہلے نبی بھی ہیں اور سب سے آخری نبی بھی ہیں۔‘‘
    اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا:۔
    ’’آخری نبی وہی ہو جائیں گے۔‘‘
    اس پر حضور نے فرمایا:
    ’’ بالکل۔‘‘
    اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے پھر یہ بحث اُ ٹھائی کہ اب اور نبی آ سکتے ہیں اور آخری نبی کون ہوگا اور سپیکر صاحب نے بھی اصرار کیا کہ اس سوال کا جواب نہیں آیا۔اس پر حضور نے پھر فرمایا کہ امتِ محمدیہ میں وہ اشخاص جن کی بزرگی پر شک نہیں کیا جا سکتا،جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو محمد ﷺ جیسے کروڑوں پیدا کر سکتا ہے تو ان کے لئے یہ بات خاموشی سے قبول کر لی جاتی ہے تو وہ بات ہمارے لئے بحث کا موضوع کس طرح بن سکتی ہے اور فرمایا کہ جس امتی نبی کی بشارت دی گئی تھی اس کا اپنا کوئی وجود نہیں اور اس نے آنحضرت ﷺ کے مقاصد کے لئے اپنے نفس پر کامل موت وارد کی ہے ۔اس لئے اس کو آخری نبی نہیں کہا جا سکتا۔
    حضور ؒ نے ان کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول کرائی کہ رسول کریم ﷺ نہ صرف انبیاء کا آخر ہیں بلکہ اوّل بھی ہیں۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اس وقت سے اللہ تعالیٰ کا بندہ اور خاتم النبیین ہوں جب کہ ابھی آدم ؑ مٹی میں تھے۔ (۷۳)
    بہر حال جب ۸؍ اگست کی کارروائی ختم ہوئی تو کم از کم دو ممبران یعنی مولا بخش سومرو اور میاں عطاء اللہ خوشی کا اظہار کر رہے تھے کہ آج اٹارنی جنرل صاحب نے اچھی بحث کی ہے لیکن حقیقت کا اظہار اگلے روز کیسے ہوتا ہے اس کا ہم جائزہ ابھی لیتے ہیں۔
    ۹؍ اگست کی کارروائی
    9؍ اگست کی کارروائی کے آغاز میں مولوی ظفر انصاری صاحب نے جو تبصرہ فرمایا وہ صرف یہ ظاہر کر رہا تھا کہ ان پر دلائل کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔الفضل 13؍ نومبر 1946ء کا جو حوالہ ہم درج کر چکے ہیں اس کے مندرجات بالکل واضح ہیں لیکن ابھی بھی ان صاحب کا خیال تھا کہ اس کا وہ حصہ پڑھا گیا جس سے جماعت احمدیہ کا اپنا کام بنتا تھا ۔اس لئے وہ کہہ رہے تھے کہ یہ تمام اخبار ریکارڈ میں داخل کیا جائے۔ کارروائی شروع ہوئی تو ممبران کی ایک اور گھبراہٹ سامنے آئی۔ احمد رضا قصوری صاحب نے سپیکر صاحب سے درخواست کی کہ جب احمدیوں کا وفد ہال سے چلا جاتا ہے تو ہم آپس میں بات کرتے ہیں۔اگر یہ ریکارڈ کل کلاں کسی کے ہاتھ لگ گیا تو اس پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ جب گواہ یہاں پر موجود نہیں ہوتے تھے تو چیئرمین اور ممبران جو کہ جج کی حیثیت سے بیٹھے ہوئے تھے اس بارے میں تبادلہ خیالات کرتے تھے۔اس لئے میری درخواست ہے کہ جب ایسا ہو رہا ہو تو پلگ نکال دیا جائے یعنی اس گفتگو کی ریکارڈنگ نہ کی جائے۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ ہم یہاں پر عدالت کی حیثیت سے نہیں بلکہ سپیشل کمیٹی کی حیثیت سے بیٹھے ہیں۔اس کے کچھ دیر بعد ایک اورممبر چوہدری جہانگیر صاحب نے اپنی اس پریشانی کا اظہار کیا ۔
    ’’مسٹر چیئر مین سر!میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ Delegation کے ممبر بڑے Brief Cases لے کر اورBagsلے کر اندر آ جاتے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جناب ِ والا کہ وہ اسمبلی کی ہاؤس کی کارروائی کو ٹیپ ریکارڈ کر رہے ہوں ۔اس کے متعلق ذرا تسلی کر لیجئے۔‘‘
    اگر اُس وقت اس کمیٹی میں سب کچھ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو رہا تھا تو ممبران کو اتنی پریشانی نہیں ہونی چاہئیے تھی کہ یہ سب کچھ منظر ِ عام پر آگیا تو کیا ہو گا۔
    اس کے بعد جب سوالات شروع ہوئے تو اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر وہی پرانے سوالات دہرانے شروع کیے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے ؟یا امتی نبی تھے ؟کیا آپ کے بعد بھی کوئی نبی آ سکتا ہے؟ پھر آخری نبی کسے کہا جائے گا؟کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سوالات کے جواب میں انہیں جماعت ِ احمدیہ کا موقف بتا دیا گیا تھا پھر انہیں بار بار دہرانے سے ان کا مقصد کیا تھا؟
    ان سوالات کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ آنے والے مسیح کو رسول اللہ ﷺ نے مسلم کی ایک حدیث میں چار مرتبہ نبی اللہ فرمایا ہے اور امت ِ محمدیہ آج تک مسیح نبی اللہ کے آنے پر عقیدہ رکھتی آئی ہے۔ اور سب اس بات کو تسلیم کرتے آئے ہیں کہ ایک نبی نے آنا ہے۔اور حضور نے جماعت ِ احمدیہ کا عقیدہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:۔
    ’’ … ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تیرہ سو سال تک ہمارے سلفِ صالحین جو عقیدہ رکھتے آئے ہیں وہ درست ہے،اور ان کے اس عقیدہ کے مطابق آنے والے کی خبر دی گئی تھی، سارے فرقے اس سے اتفاق رکھتے ہیں، وہ آگیا تو یہ جماعت ِ احمدیہ کا نیا عقیدہ نہیں۔ پہلے دن سے اس عقیدہ پر امتِ محمدیہ اور اس کے سارے فرقے جو ہیںوہ متفق ہیں کہ اس امت میں ایک نبی پیدا ہوگا۔‘‘
    حضور نے اب واضح الفاظ میں یہ حقیقت تمام قومی اسمبلی کے سامنے بیان فرما دی تھی کہ تمام فرقے ایک ایسے وجود کا انتظار کرتے رہے ہیں جس نے مقامِ نبوت پر سرفراز ہونا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جماعت ِ احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق جس وجود نے آنا تھا وہ آگیا۔ اگر یہ عقیدہ ختمِ نبوت کے منافی ہے پھر اس کلیہ کی رو سے کوئی فرقہ بھی ختمِ نبوت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اگر یہ حقیقت نہیں تھی تو فوراََ ہر طرف سے یہ اعتراضات اُٹھنے چاہئیں تھے کہ یہ بالکل غلط ہے۔ ہمارے فرقہ کا یہ عقیدہ ہر گز نہیں ہے اور فوراََ اپنے اس دعوے کے حق میں حوالے بھی پیش کرنے چاہئیں تھے لیکن کیا ایسا ہوا؟ ایسا نہیں ہوا ۔ کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ حضور کے اس دعوے کی تردید کر سکتا۔
    اور آنحضرت ﷺ کے جاری فیضان کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا:۔
    ’’میں اس کا اعلان کر دیتا ہوں کہ ہمارے نزدیک اب اللہ تعالیٰ کے انعامات کے سب دروازے اتباع محمد ﷺ کے بغیر بند ہیں۔ تواب میں نے چونکہ یہ اعلان کر دیا ہے اس واسطے براہِ راست آپ مجھ سے سوال کریں۔‘‘
    پھر اٹارنی جنرل صاحب نے خاتم النبیّین ﷺ کی مختلف تفاسیر کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر حضور نے جواب دیا:۔
    ’’ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم النبیّین ہیں۔اس معنی میں بھی کہ آپ سے قبل جس قدر انبیاء گزرے ہیںان کی ساری روحانی تجلّیات مجموعی طور پر محمد ﷺ کی روحانی تجلیات سے حصہ لینے والی اور ان سے کم تھیں۔پہلے بھی اور آئندہ بھی۔ کوئی شخص بزرگی، روحانی بزرگی اور روحانی عزت کے چھوٹے سے چھوٹے مقام کو بھی حاصل نہیں کر سکتا سوائے نبی اکرم ﷺ کے فیض سے حصہ لینے کے۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔‘‘
    اس مرحلہ پر ایک بار پھر یحییٰ بختیار صاحب نے یہ اعتراض اُ ٹھانے کی کوشش کی کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں ۔اس پر حضور نے فرمایا:۔
    ’’میں نے ابھی عرض کی کہ امت ِ محمدیہ شروع سے لے کے تیرہ سو سال تک حضرت نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہوئے ایک ایسے مسیح کا انتظار کرتی رہی جسے مسلم کی حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے چار بار نبی اللہ کہا اور وہ خاتم النبیین پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ اس واسطے میرے نزدیک توکوئی اس میںالجھن نہیں ہے۔ ساری امت تیرہ سو سال تک خاتم النبیین کے خلاف اس عقیدہ کو نہیں سمجھتی کہ ایک مسیح آئے گا جو نبی اللہ ہو گااور میں نے ابھی بتایا ہے کہ امت کے سلف صالحین کی سینکڑوں عبارتیں یہاں بتائی جا سکتی ہیں جو آنے والے کا مقام ظاہر کر رہی ہیں …
    اس طرح سینکڑوں حوالے ہیں۔ اگر آپ کو ضرورت ہو تو میں آٹھ دس دن میں وہ سینکڑوں حوالے آپ کو دکھا سکتا ہوں کہ تیرہ سو سال تک امت محمدیہ ایک نبی کا انتظار بھی کرتی رہی اور تمام سلفِ صالحین اس بات پر متفق تھے کہ اس نبی کا انتظار ختمِ نبوت کو توڑنے والا نہیں ہے۔‘‘
    اس مرحلہ پر ٹھہر کر یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس سپیشل کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ جائزہ لے کہ جو آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں سمجھتااس کا اسلام میں status کیا ہے؟ اب تک ممبرانِ اسمبلی غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر رہے تھے ۔اب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس موضوع پر جماعت احمدیہ کا واضح موقف بیان فرما دیا تھا اور یہ بھی واضح اعلان فرما دیا تھا کہ تمام فرقوں کے سلف صالحین ایک موعود نبی کا انتظار کرتے رہے ہیں۔اگر یہ سپیشل کمیٹی موضوع پر آنے کا کچھ بھی ارادہ رکھتی تو یہ اچھا موقع تھا کہ وہ اصل موضوع پر سوالات شروع کر دیتے ۔لیکن اب بھی ان میں اس کی ہمت نہیں تھی۔وہ اصل موضوع سے گریز کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر موضوع تبدیل کیا اور وہ سوال دہرایا جو وہ پہلے بھی کئی مرتبہ دہرا چکے تھے یعنی کیا آپ کے مطابق کیا بانیء سلسلہ احمدیہ مسیح موعود بھی ہیں اور امتی نبی بھی؟
    اس کے بعد انہوں نے کچھ حوالے تصدیق کے لئے نوٹ کرائے۔اور پھر اپنی طرف سے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا کہ احمدیوں کے علاوہ باقی فرقے یہ کہتے ہیں کہ آ نحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور احمدی کہتے ہیں کہ امتی نبی آ سکتا ہے۔اس پر حضور نے پھر اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ تیرہ سو سال تک امت محمدیہ ایک مسیح نبی اللہ کاانتظار کر تی رہی ہے۔
    اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ تو پہلے ہی نبی بن چکے ہیں۔حالانکہ یہاں نئے اور پرانے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو پھر وہ بھی نہیں ہو سکتا جسے پہلے ہی نبوت ملی ہو۔اس کے جواب میں حضور نے یہ پر معرفت نکتہ بیان فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعتِ موسویہ کو جاری کرنے کے لئے دنیا میں آئے تھے یعنی قرآنِ کریم کے مطابق تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا گیا تھا اور بہت سے غیر احمدی مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت ِ محمدیہ کی اصلاح کے لئے بھجوائے جائیں گے۔اس پر یحییٰ بختیار صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ انہیں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا:
    ’’مرزا صاحب ان کی اتھارٹیchangeہو گئی … ‘‘
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ فرما رہے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو صرف حضرت موسٰیؑ کی پیروی اور تورات کی پیروی میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے جیسا کہ انجیل میں ان کے بہت سے اقوال سے ثابت ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم میں ان کے متعلق یہ ارشاد موجود ہے (اٰل عمران: ۴۹) یعنی حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے اور یہ خبر ان کی والدہ کو ان کی پیدائش سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی۔ اور کسی آیت میں یہ نہیں آتا کہ ان کو کسی اور قوم کی طرف مبعوث کیا جانا مقدر تھا ۔لیکن اب قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل صاحب یہ اعلان فرما رہے تھے کہ اب ان کی اتھارٹیchangeہو گئی ہے۔گویا ان کے نزدیک قومی اسمبلی صرف یہی اختیار نہیں رکھتی تھی کہ یہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں بلکہ یہ اختیار بھی رکھتی تھی کہ یہ فیصلہ کرے کہ کس نبی کا دائرہ کار کیا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس نکتے کی وضاحت نہیں فرمائی کہ جو بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے وہ کس طرح تبدیل ہو گئی اور کس نے اسے تبدیل کر دیا؟ اس مرحلہ پر پہنچ کر اٹارنی جنرل صاحب یہ سوال بار بار اُٹھا رہے تھے کہ اگر بانیء سلسلہ احمدیہ امتی نبی تھے تو کیا اب ان کے بعد کوئی اور نبی ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا تو کیوں نہیں ہو سکتا ؟ اب یہ سوالات کا لا یعنی سلسلہ تھا۔ اس بارے میں جماعتِ احمدیہ کا جو بھی عقیدہ ہے اس کے قطع ِ نظر قومی اسمبلی کا یہ کام نہیں کہ وہ بیٹھ کر یہ فیصلہ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کب نبی مبعوث کرنا ہے اور کب نہیں کرنا۔ موسوی سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا تھا۔اب کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی تھے تو ان کے بعد کوئی اور نبی کیوں نہیں مبعوث ہوا۔
    اس مرحلہ پر کچھ دیر کے لئے یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شاید اب یہ کارروائی اپنے اصل موضوع کی طرف آ جائے اور وہ موضوع یہ مقرر ہوا تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں کیاstatusہے۔اور اس مرحلہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے بڑے جامع انداز میں یہ بیان فرمایا تھا کہ جماعت ِ احمدیہ کے نزدیک خاتم النبیّین کے معنی کیا ہیں اورآنحضرت ﷺ کا اعلیٰ اور ارفع مقام کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ کیا تھا۔ اور جب حضور نے یہ لطیف نکتہ بیان فرمایا کہ تیرہ سو سال سے امت ِ احمدیہ ایک ایسے مسیح کی منتظر رہی جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے نبی کا لفظ بیان فر مایا تھا اور وہ پھر بھی آنحضرت ﷺ کی ختمِ نبوت کے قائل تھے ۔تو پھر اٹارنی جنرل صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ اصل موضوع کے بارے میں سوالات اُ ٹھاتے اور بحث ایک ٹھوس رنگ اختیار کرتی لیکن جیسا کہ ہم جائزہ لیں گے کہ ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب اصل موضوع سے کترا کے نکل گئے اور ایک بار پھر یہ واضح ہو رہا تھا کہ اربابِ حل و عقد کا یہ ارادہ ہی نہیں کہ وہ اس بحث کو اپنے اصل موضوع پر آنے دیں۔یہاں پر ایک سوال لازماََ پیدا ہو تا ہے کہ آخر وہ اس موضوع سے کترا کیوں رہے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل تیرہ سو سال تک امت ِ محمدیہ کے کتنے ہی بزرگ گزرے ہیں جو اس عقیدہ کا بَرملا اظہار کرتے رہے کہ خاتم النبیّین کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺکے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔آنحضرت ﷺ کے بعد شرعی نبی کوئی نہیں آسکتا لیکن آپ کی غلامی میں اور آپ کی اطاعت کا جوا اُ ٹھا کر امتی نبی ضرور آ سکتا ہے۔ ہم اس کی صرف چند مثالیں یہاں پر پیش کر تے ہیں۔ ان مثالوں سے یہ بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کی ٹیم کا یہ دعویٰ بالکل غلط تھا کہ تمام امتِ مسلمہ اس بات پر متفق رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔
    سب سے بڑھ کر یہ کہ صحیح مسلم میں کتاب الفتن کی ایک ہی حدیث میں رسول کریم ﷺ نے آنے والے مسیح کو چار مرتبہ نبی اللہ کا نام دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نبی دجّال کے فتنہ کا سدِّباب کرے گا۔ اس حدیث کے راوی حضرت نواس بن سمعان ؓ ہیں۔
    اس کے علاوہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:۔
    ’’قولوا خاتم النبیین و لا تقولوا لا نبی بعدہ ‘‘
    یعنی (آپﷺکو) خاتم النبیین تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
    (الدرالمنثور فی التفسیر الماثور،مصنفہ جلال الدین السیوطی ،الجزء الخامس،دارالکتب العلمیّہ۔بیروت ص۳۸۶)
    حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے سامنے ایک آدمی نے یوں درود پڑھا صلّی اللّٰہ علی محمّد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ۔یعنی اللہ محمدﷺ خاتم الانبیاء پر سلامتی نازل کرے۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓنے فرمایا جب تو نے خاتم الانبیاء کہا تھا تو یہ تیرے لئے کافی تھا۔ہم یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ ظہور فرمائیں گے جب آپ ظہور فرمائیں گے تو وہ پہلے بھی ہوں گے اور بعد بھی ہوں گے۔
    (الدر المنثور فی التفسیر الماثور،مصنفہ جلال الدین السیوطی ،الجزء الخامس، دارالکتب العلمیّہ۔بیروت ص۳۸۶)
    حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ اپنی تصنیف قُرَّۃُ الْعَیْنَیْنِ فِیْ تَفْضِیْلِ الشَّیْخِیْنِ میں درود شریف کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :۔
    ’’وَ قَدْ قَضَیْتَ اَنْ لَّا شَرْعَ بَعْدِیْ فَصَلِّ عَلَیَّ وَ عَلٰی آلِیْ بِاَنْ تَجْعَلَ لَہُمْ مَرْتَبَۃَ نَبُوَّۃٍ عِنْدَکَ وَ اِنْ لَّمْ یَشْرَعُوْا فَکَانَ مِنْ کَمَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنْ اَلْحَقَ آلَہٗ بِالْاَنْبِیَائِ فِی الْمَرْتَبَۃِ ‘‘۔
    ترجمہ ۔ اور یقیناََ تو نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میرے بعد شریعت نہیں ہو گی۔پس تو مجھ پر اور میری آل پر سلام بھیج ان معنوں میں کہ اپنے حضور انہیں نبوت کا مرتبہ عطا کر۔اگر چہ وہ شریعت لانے والے نہ ہوں۔پس یہ رسول اللہ ﷺ کا کمال ہے کہ آپ نے اپنی آل کو نبیوں کے ساتھ ملا دیا۔
    (قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مصنفہ حضرت شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ ،المکتبۃ السلفیہ ۔شیش محل روڈ لاہور ص۳۲۰)
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث ِ نبوی لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کی تشریح میں علماء سلف کیا فرماتے رہے ہیں۔
    مشہور عالم مُلّا علی قاری تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’بعض علماء آنحضرت ﷺکے قول لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے بارے میں کہتے ہیںکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو وہ اس امت کے حکّام میں سے ایک ہوں گے اور وہ شریعت ِ محمدیہ کی طرف بلائیں گے اور کوئی اور نبی نازل نہیں ہو گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اس بات کی نفی نہیں ہے کہ کوئی نبی پیدا ہو جائے اور وہ آنحضرتﷺ کی پیروی کرنے والا ہو۔آپ کی شریعت کے احکام کے بیان میں اگرچہ اس کی طرف وحی بھی ہوتی ہو جس طرح رسولِ کریم ﷺ کے اس قول میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگرموسٰیؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے علاوہ چارہ نہ ہوتا۔ آنحضرتﷺ کی مراد اس سے یہ ہے کہ اگر وہ نبوت اور رسالت کے وصف کے ساتھ بھی آئیں تو انہیں میری پیروی کرنی ہو گی۔‘‘
    (من مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح للعلامۃ الفاضل والفھامۃ الکامل المرحوم برحمۃ ربہ الباری علی بن سلطان محمد القاری الجزء الخامس ص۵۶۴)
    حضرت مجدد الف ثانی ؒاپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
    ’’پس حصول کمالات ِ نبوت مرتابعانِ را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل علیہ و علیٰ آلہ و علیٰ جمیع الانبیاء و الرسل الصلوات و التحیات منافی خاتمیّت نیست‘‘
    ترجمہ:خاتم الرسل کی بعثت کے بعد کامل تابعداروں کواتباع اور وراثت کے طریق سے کمالات نبوت کا حاصل ہوناخاتمیت کے منافی نہیں ۔
    (مکتوباتِ امامِ ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ ،باہتمام محمد سعید احمد نقشبندی ،ص۱۴۱)
    علّامہ شہاب الدین تورپشی جو ساتویں صدی کے بزرگ تھے تحریر فرماتے ہیں:
    ’’اگر سوال کیا جاوے کہ حدیث نواس بن سمعان میں بعد وصف دجال اور اس کے ہلاک ہونے کے آپ نے عیسٰی علیہ السلام کی بابت فرمایا یفتح باب الدار کہ وہ انصاف کا دروازہ کھولیںگے۔کما فی اصل الحدیث اور اسی حدیث میں حضرت عیسٰیؑ کو نبی اللہ کہا۔ اور دوسری جگہ فرمایا فیرغب نبی اللّٰہ اس پر حضرت عیسٰیؑ کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور تم اس سے نفی نبوت کرتے ہو۔
    جواب یہ ہے کہ ہم وحی شریعت کی نفی کرتے ہیںنہ الہامِ الٰہی کی اور ہم آخر زمانے میں یعنی آنحضرت ﷺ کے حکمِ نبوت کی نفی کرتے ہیں نہ اسم ِنبوت کی‘‘
    (عقائد مجدّدیّہ المسمّٰی بہ اَلصِّرَاطُ السَّوِیّ ترجمہ عقائد ِ تورپشی مصنفہ علامہ شہاب الدین تورپشی ؒ ۔ ناشر اللہ والے کی قومی دوکان ص۲۲۴)
    ملّا علی قاری اپنی کتاب الموضوعات الکبیر میں تحریر کرتے ہیں۔
    ’’لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ وَ صَارَ نَبِیًّا ، لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِیًّا لَکَانَا مِنْ اَتْبَاعِہٖ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلامُ کَعِیْسٰی وَالْخِضْرِ وَاِلْیَاسَ عَلَیْھِمُ السَّلامُ فَلا یُنَاقِضُ قَوْلُہٗ تَعَالٰی وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ اِذِ الْمَعْنٰی اَنّہٗ لَا یَأْتِیْ نَبِیٌّ بَعْدَہٗ یَنْسَخُ مِلَّتَہٗ وَلَمْ َیکُنْ مِنْ اُمَّتِہٖ ‘‘
    ترجمہ : اگر ابراہیم زندہ رہتے اورنبی بن جاتے اور اسی طرح اگر (حضرت ) عمر ؓ بھی نبی بن جاتے تو وہ دونوں حضرت عیسیٰ ؑ۔حضرت خضر اور حضرت الیاس کی طرح آنحضرتﷺ کے تابع ہوتے ۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے قول وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن کے مخالف نہیں ہے۔اس کے معنی ہیںکہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔‘‘
    (الموضوعات الکبیر مصنفہ ملا علی قاری ناشر نور محمد اصح المطابع آرام باغ کراچی ص۱۰۰)
    امام عبد الوہاب شعرانی ؒ تحریر کرتے ہیں
    ’’اِعْلَمْ اَنَّ النُّبُوَّۃَ لَمْ تَرْتَفِعْ مُطْلَقًا بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ وَ اِنَّمَا ارْتَفَعَ نُبُوَّۃُ التَّشْرِیْعِ فَقَطْ فَقَوْلُہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ اَیْ مَا ثَمَّ مَنْ یَّشْرَعُ بَعْدِیْ شَرِیْعَۃً خَاصَّۃً ‘‘
    جان لو مطلق نبوت بند نہیں ہوئی ۔صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔آنحضرت ﷺ کے قول لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَ لَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ سے یہ مراد ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص شریعت ِ خاصہ کے ساتھ نہیں آئے گا۔‘‘
    (الیواقیت والجواھر فی بیان عقائد الاکابر الجزء الاول۔ ناشر ۔داراحیاء التراث العربی مؤسّسۃ التاریخ العربی بیروت ص۳۷۴)
    حضرت محی الدین ابنِ عربی ؒ تحریر فرماتے ہیں
    ’’ … عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلامُ یَنْزِلُ فِیْنَا حَکَمًا مُقْسِطًا عَدْلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَوَلَا نَشُکُّ قَطْعًا اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ نَبِیُّہٗ وَ ھُوَ یَنْزِلُ فَلَہٗ عَلَیْہِ السَّلامُ مَرْتَبَۃُ النُّبُوَّۃِ بِلَا شَکٍّ عِنْدَ اللّٰہِ وَمَا لَہٗ مَرْتَبَۃُ التَّشْرِیْعِ عِنْدَ نُزُوْلِہٖ فَعَلِمْنَا بِقَوْلِہٖ ﷺ اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَ لَا رَسُوْلَ وَ اَنَّ النُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ وَالرَّسَالَۃَ اِنَّمَا یَرِیْدُ بِہِمَا التَّشْرِیْعُ۔۔۔‘‘
    یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہم میں نزول فرمائیں گے اس حال میں کہ وہ حکم و عدل ہوں گے۔وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔اور ہمیں آپ کے نبی ہونے پر قطعاََ کوئی شک و شبہ نہیں اور جب وہ نازل ہوں گے تو اللہ کے نزدیک یقیناََ نبوت کا مرتبہ پائیں گے اور نزول کے وقت وہ شرعی نبی نہیں ہوں گے۔اور ہمیں آنحضرت ﷺکے قول لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَ لَا رَسُوْلَکا یہ مطلب سمجھایا گیا ہے کہ یقینا رسالت منقطع ہو چکی ہے۔اس سے مراد شریعت ہے … ‘‘
    (الفتوحات المکیہ ۔المجلد الاوّل ۔ناشر دار صادر بیروت ،ص۵۴۵)
    پھر اسی کتاب میں ایک اور مقام پر حضرت محی الدین ابنِ عربی فرماتے ہیں۔
    ’’فَاِنَّ النُّبُوَّۃَ الَّتِیْ قَدِ انْقَطَعَتْ بِوُجُوْدِِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِنَّمَا ہِیَ النُّبُوُّۃُ التَّشْرِیْعِ لَا مُقَامُھَا فَلا شَرْعَ یَکُوْنُ نَاسِخًا لِشَرْعِہٖ ﷺ وَلا یَزِیْدُ فِیْ حُکْمِہٖ شَرْعًا آخَرَ وَ ھٰذَا مَعْنٰی قَوْلِہٖ ﷺ اَنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ اَیْ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ یَکُوْنُ عَلٰی شَرْعٍ یُخَالِفُ شَرْعِیْ بَلْ اِذَا کَانَ یَکُوْنُ تَحْتَ حُکْمِ شَرِیْعَتِیْ ۔‘‘
    ترجمہ: وہ نبوت جو رسول کریم ﷺ کے آنے سے منقطع ہو گئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقامِ نبوت۔پس اب کوئی شرع نہ ہو گی جو آنحضرتﷺ کی شرع کی ناسخ ہو اور نہ آپ کی شریعت میں کوئی نیا حکم بڑھانے والی شرع ہو گی اور یہی معنی رسولِ کریم کے اس قول کے ہیں کہ نبوت اور رسالت منقطع ہو گئی ہے۔پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی یعنی مراد آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کی یہ ہے کہ اب کوئی ایسا نبی نہیں ہو گاجو میری شریعت کے مخالف شریعت پر ہو بلکہ جب (کوئی نبی) ہو گا تو وہ میری شریعت کے تحت ہو گا۔ (الفتوحات المکیہ ،المجلد الثانی ،ناشر دار صادر بیروت ص۳)
    اور یہ عقیدہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد امتی نبی ہو سکتا ہے صرف سلف صالحین تک محدود نہیں تھا بلکہ اس دور کے علماء بھی بڑی تعداد میں یہ عقیدہ رکھتے رہے۔چنانچہ بانی دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب اپنی تصنیف تحذیر الناس میں ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اوّل معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہمِ جواب میں کچھ دقت نہ ہو سو عوام کے خیال میںتو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور سب میں آخر نبی ہیں مگر اہلِ فہم پر روشن ہو گا کہ تقدّم یا تأخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقامِ مدح میں وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف ِ مدح میں سے نہ کہیے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجیئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخرِ زمانی صحیح ہو سکتی ہے مگر میںجانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی …
    عرض پردازہوں کہ اطلاقِ خاتم اس بات کو مقتضیٰ ہے کہ تمام انبیاء کاسلسلہ نبوت آپ پر ختم ہوتا ہے جیسا انبیاء گزشتہ کا وصف ِ نبوت میں حسب تقریر مذکور اس لفظ میں آپ کی طرف محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج ہونا انبیاء گزشتہ ہوں یا کوئی اور اسی طرح اگر فرض کیجئے آپ کے زمانے میں بھی اس زمین میں یا کسی اور زمین میں یا آسمان میں کوئی اور نبی ہو تو وہ بھی اس وصف ِ نبوت میں آپ ہی کا محتاج ہو گا اور اس کا سلسلہ نبوت بہر طور پر آپ پر مختتم ہوگا …بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتَم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘
    ( تحذیر الناس،مصنفہ مولانا قاسم نانوتوی صاحب ،قاری پریس دیوبند ص۳)
    اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب نے تحریر کیا ہے کہ
    ’’حدیث لَا وَحْیَ بَعْدَ مَوْتِیْ بے اصل ہے ہاں لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ آیا ہے۔ اس کے معنی نزدیک اہلِ علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرعِ ناسخ نہ لائے گا۔‘‘
    (اقتراب الساعۃ ،مطبع مفید عام آگرہ ،مصنفہ نواب صدیق حسن خان ص۱۶۲)
    ان کتابوں میں بھی جو لکھی ہی جماعت کی مخالفت میں گئی تھیں اور جن میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف جی بھر کر زہر اگلا گیا تھا،اس بات کا برملا اظہار کیا گیا تھا کہ امت ِ مسلمہ کے سلفِ صالحین کی ایک بڑی تعداد یہ عقیدہ رکھتی رہی ہے کہ گو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد شرعی نبی نہیں آ سکتا لیکن آنحضرت ﷺ کی اتباع میں ایک شخص کو نبوت کا مقام مل سکتا ہے چنانچہ ایک کتاب ’’ مرزائیت نئے زاویوں سے ‘‘ میں مصنّف لکھتا ہے :۔
    ’’اب رہی یہ بحث کہ صوفیائِ کرام نے نبوت کے معنی میں یہ توسیع کیوں فرمائی کہ اس کا اطلاق اولیاء پر بھی ہو سکے تو یہ ایک لطیف بحث ہے۔ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری صوفیاء کے اس تصور پر عائد ہوتی ہے جو انہوں نے نبوت سے متعلق قائم کیا۔انہوں نے یہ سمجھا کہ کمالات ِ نبوت ایسی چیز ہے جو سعی اور کوشش سے حاصل ہو سکتی ہے۔زہد و ریاضت اور اللہ کی خوشنودی کے حصول میں جد و جہد انسان کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ اس کا آئینہ دل اتنا مجلا اور شفاف ہو جائے کہ غیب کے انوار و تجلّیات کی جھلک اس پر منعکس ہو۔ان کا دل مہبط ِ وحی قرار پائے اور اس کے کان طرح طرح کی آوازیں سنیں یعنی مقامِ نبوت یا محدثیت اور بالفعل نبوت کا حصول یہ دو مختلف چیزیں نہیں ۔مقامِ نبوت سے مراد عمل و فکر کی وہ صلاحیتیں ہیں جو بشریت کی معراج ہیں۔اُن تک رسائی کے دروازے امتِ محمدیہ پر بلاشبہ کھلے ہیں۔شوقِ عبودیت اور ذوقِ عبادت شرط ہے۔جو بات ختمِ نبوت کی تصریحات کے بعد ہماری دسترس سے باہر ہے ۔وہ نبوت کا حصول ہے کہ اس کا تعلق یکسر اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے ہے۔یعنی یہ اس پر موقوف ہے کہ اس کی نگاہِ کرم اس عہدہ جلیلہ کے لئے اپنے کسی بندے کو چن لے ۔جس میں نبوت کی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہوں اور جو مقامِ نبوت پر پہلے سے فائز ہو۔اب چونکہ نامزدگی کایہ سلسلہ بند ہے۔اس لئے کوئی شخص ان معنوں میں تو نبی ہر گز نہیں ہو سکتاکہ اس کاماننا دوسروں کے لئے ضروری ہو اور اس کے الہامات دوسروں پر شرعاً حجت ہوں۔البتہ مقامِ نبوت یا نبوت کی صلاحیتیں اب بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔نبوت کے اس تصور سے چونکہ نبوتِ مصطلحہ اور ولایت کے اس مقام میں بجز نامزدگی کے اور کوئی بنیادی فرق نہیں رہتا۔اس لئے وہ حق بجانب ہیں کہ اس کو بھی ایک طرح کی نبوت قرار دیں کہ دونوں فطرت وحقیقت کے اعتبار سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔‘‘ (مرزائیت نئے زاویوں سے مصنفہ محمد حنیف ندوی ص ۷۵۔۷۶)
    اس کے علاوہ اس کارروائی کے دوران حضور نے ایک اور اہم پہلو یہ پیش فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق روایات میں صرف یہ نہیں آتا کہ آپ آخری نبی ہیں بلکہ یہ بھی آتا ہے کہ آپ سب سے اوّل نبی بھی ہیں ۔ ہم اس مفہوم کی کچھ روایات درج کرتے ہیں
    حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے :۔
    لما خلق اللہ عزّ و جل آدم خیر لآدم بنیہ، فجعل یریٰ فضائل بعضہم علی بعض قال فرآنی نورًا ساطعًا فی اسفلھم فقال یا ربّ من ھذا؟ قال: ھذا ابنک احمد ھوالاوّل والآ خر و ھو اوّل شافع
    ( دلائل النبوۃ و معرفۃ احوال صاحب الشریعۃ ۔ احمد بن الحسین البیھقی ۔السفر الخامس۔
    دارالکتب علمیہ بیروت ص۴۸۳)
    حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔
    ’’ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو آدم کے لئے ان کے بیٹوں کو عظمت دی اور حضرت آدم ان میں سے بعض کی بعض پر فضیلت دیکھنے لگے ۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے مجھے سب لوگوں کے نیچے سے ابھرتے ہوئے نور کی صورت میں دیکھا۔ انہوں نے پوچھا اے رب یہ کون ہے ہے؟ (اللہ تعالیٰ) نے فرمایا یہ تیرا بیٹا احمد ہے۔ وہ اوّل ہے اور وہی آخر ہے اور وہ سب سے اوّل شفاعت کرنے والا ہے۔
    اس حدیثِ قدسی سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ صرف آخری نبی نہیں بلکہ سب سے اوّل نبی بھی ہیں۔اگر آخری نبی کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آ سکتا تو پھر چونکہ آپ اوّل نبی بھی ہیں اس لئے پھر یہ مفروضہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کے علاوہ پھر کوئی نبی نہیں آیا اور اس طرح اس بناء پر تمام انبیاء کی نبوت کی نفی کرنی پڑے گی۔
    اب ان چند مثالوں سے ظاہر ہے کہ پہلی صدی سے لے کر موجودہ دور تک سلف ِ صالحین اور بعد کے علماء کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد آنحضرت ﷺ کی غلامی میں امتی نبی آنے کا دروازہ بند نہیں ہوا اور خاتم النبیّین کے الفاظ کا قطعاََ یہ مطلب نہیں کہ آپ کے بعد اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ سکتا۔اب پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی کے سپرد تو یہ کام ہوا تھا کہ یہ تعین کرے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں سمجھتا اس کا اسلام میں کیاStatusہے۔اب اگر وہ یہ بحث شروع کرتے تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ کارروائی اپنے موضوع پر آگئی ہے ۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا تھا کہ پرانے بزرگوں اور بعد کے علماء نے اتنے تواتر سے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد امتی نبی کا مقام حاصل کرنامقامِ خاتم النبیّین کے منافی نہیں ہے کہ ان حوالوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔تو چاہئے تو یہ تھا کہ قومی اسمبلی بھی مشتاق ہوتی کہ ہاں ہمیں بھی وہ حوالے سنائیں ورنہ ہم ابھی تک تو یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ آنحضرت ﷺکے بعد جو کسی قسم کی نبوت کے دروازے کو کھلا ہوا سمجھے وہ فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔سوالات اُ ٹھانے والے اپنی اس کمزوری کو جانتے تھے۔عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اگر اس بنیاد پر کسی کو غیر مسلم کہا جاتا تو اس کافر گری کے عمل کی زَد میں سلف ِ صالحین کی ایک بڑی تعداد آجاتی۔ چنانچہ اس صورت ِ حال میں ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ آخر کیوں ایک بارپھر اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع سے گریز کیا اور دوسرے موضوع پر سوالات شروع کر دیئے۔
    بہر حال اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی طرف سے ایک دلیل پیش فرمائی ۔اس دلیل کی حالت ملاحظہ ہو۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر کو پڑھا:۔
    ’’ … اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسٰی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔‘‘ (۷۴)
    یہ حوالہ پڑھ کر یحییٰ بختیار صاحب نے حضور سے کہا : ۔
    ’’یہ آپ دیکھ لیجئے۔‘‘
    یہ پڑھتے ہوئے آدمی سوچتا ہے کہ آخر اس پر وہ کیا اعتراض کریں گے۔انہوں نے یہ حوالہ دکھاتے ہی کہا:۔
    ’’اب مرزا صاحب ۔آپ اس پر ذرا کچھ روشنی ڈالیں کہ جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ایک نبی کی حیثیت سے بول رہے ہیں کہ مجھ پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسٰیؑ،حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ یہ ان تینوں سے ایک علیحدہ نبی ہو کے اپنے کلام کا ذکر کر رہے ہیں۔‘‘
    یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ اس حوالہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ امتی نبی ہونے کا نہیں تھا اور نہ آپ کادعویٰ یہ تھا کہ آپ ؑ نے جو کچھ پایا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے فیض سے پایا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حوالہ پر یہ اعتراض کسی طور سے نہیں اُ ٹھ سکتا یہاں صرف منبع وحی کا ذکر ہے۔اٹارنی جنرل صاحب کا مطلب کیا یہ تھا کہ امتی نبی کو یہ کہنا چاہئے کہ مجھ پر کسی اور خدا کی وحی اترتی ہے اور اس خدا کی وحی نہیں اترتی جس نے گزشتہ انبیاء سے کلام کیا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب کا یہ استنباط ان کے پاس دلائل کے فقدان کا ثبوت تو ہو سکتا ہے لیکن اسے کوئی سنجیدہ استنباط نہیں کہا جا سکتا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کتاب کے اسی صفحہ پر اس نام نہاد اعتراض کی مکمل تردید ہو جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیو ض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علمِ غیب پایا ہے مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔‘‘
    یحییٰ بختیار صاحب کو حضورؒ نے اس عبارت کا مطلب سمجھانا شروع کیا مگر وہ بار بار یہ اصرار کر رہے تھے کہ اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک مختلف نبی کی حیثیت سے وحی آئی ہے۔حالانکہ اگر مذکورہ عبارت مکمل پڑھی جائے تو یہ عبارت تو صاف صاف یہ اعلان کر رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود کو امتی نبی کا مقام آنحضرت ﷺ کی اقتدا ء کی برکت سے ملا تھا ۔اور آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے ۔مگر اٹارنی جنرل صاحب کو اپنے استدلال پر اتنا یقین تھا کہ وہ اپنی بات پر مصر تھے اور یہاں تک کہہ گئے
    ‏The words are quite simple and plane
    یعنی یہ الفاظ تو بالکل واضح ہیں۔بات تو ٹھیک تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ تو بالکل واضح تھے لیکن اٹارنی جنرل صاحب اور انہیںسوالات مہیا کرنے والوں کا ذہن کج روی کا شکار تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام انبیاء میں آنحضرت ﷺ کی وحی سب سے زیادہ کامل ہے اور انبیاء کی وحی ، عام لوگوں کے الہام و وحی سے ممتاز ہے اور جو وحی انسانوں کو ہو سکتی ہے وہ بہر حال شہد کی مکھی پر ہونے والی وحی سے افضل ہے لیکن یہ سب وحی ایک ہی خدا کی طرف سے ہے ۔ان سب کا منبع ایک ہی ہے۔
    ابھی یہ بحث کسی نتیجہ کے قریب نہیں پہنچی تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع تبدیل کیا اور یہ اعتراض پیش کیا کہ احمدیوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔حالانکہ احمدیوں نے تو ہمیشہ مظالم کا نشانہ بننے کے با وجود مسلمانوں کے مفادات کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ اعتراض اس لئے بھی بے بنیاد تھا۔عالمِ اسلام میں بہت سے فرقوں نے بہت سے پہلوؤں سے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھا ہے۔ بلکہ بہت سے علماء نے دوسرے فرقوں کے متعلق یہ فتاویٰ دیئے تھے کہ ان کے ساتھ شادی بیاہ، مودت تو ایک طرف رہی عام معاشی تعلقات بھی حرام ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس سلسلہ میں الفضل کے بہت سے حوالے بھی نوٹ کرائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ یہ حوالے نوٹ کر لئے جائیں ان کو چیک کر کے جواب دیا جائے گا لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ یہ سوال جماعت احمدیہ سے کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس اسمبلی میں کئی جماعتوں کے اراکین بزعم ِ خود منصف بن کر بیٹھے تھے ،ان کی جماعتوں نے تاریخ کے بہت نازک ادوار میں اپنے آپ کو مسلمانوں کی اکثریت سے علیحدہ رکھا تھا۔جماعت ِ اسلامی کی مثال لے لیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت جب مسلمانوں کی اکثریت مسلم لیگ کا ساتھ دے رہی تھی تو اس وقت جماعتِ اسلامی صرف مسلم لیگ کو اور ان کے قائدین کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔یہ سوال اس جماعت سے کیوں نہیں کیا جا رہا تھا۔
    9 ؍ اگست کی کارروائی کے آخر میں ایک بار پھر مفتی محمود صاحب نے ’’ ذریۃ البغایا ‘‘ والے اعتراض میں جان پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ سوال اُ ٹھایا کہ قرآنِ کریم میں یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اس پر حضور نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ قرآنِ کریم میں تو ’’ ابن البغایا ‘‘ یا ’’ ذریۃ البغایا ‘‘ کا محاورہ استعمال ہی نہیں ہوا لیکن مفتی محمود صاحب یہ نکتہ اُ ٹھا رہے تھے کہ قرآنِ کریم میں ’’ بغیٰ‘ ‘کا لفظ تو استعمال ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ لفظ بد کاری معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اپنے نکتے کو ثابت کرنے کے لئے وہ سورۃ النور کی یہ آیت پیش کر رہے تھے
    … و لا تکرھو فتیتکم علی البغاء ان اردن تحصنا … (النور : ۳۴)
    یعنی اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں (روک کر مخفی) بدکاری پر مجبور نہ کرو۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں پر یہ بحث نہیں تھی کہ ’’ البغی ‘‘ کا کیا مطلب ہے بلکہ بحث یہ تھی کہ ذریۃ البغایا کے محاورے کا کیا مطلب ہے لیکن یا تو یہ بات مفتی صاحب کے علم میں نہیں یا پھر وہ عمداََ پوری تصویر پیش نہیں کر رہے تھے۔حقیقت یہ قرآنِ کریم کے الفاظ کی لغت مفردات ِ امام راغب میں اس لفظ کا مطلب یہ لکھا ہے:۔
    ’’ کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔خواہ تجاوز کر سکے یا نہ ‘‘
    اور پھر لکھا ہے’’ بغی ‘‘ دو قسم پر ہے محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کر کے تطوع بجا لانا اور مذموم یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل یا شبہات میں واقع ہونا۔‘‘ اور پھر لکھا ہے کہ ’’ بغیٌ ‘‘کے معنی تکبر کرنے کے بھی آتے ہیں کیونکہ اس میں بھی اپنی حد سے تجاوز کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔
    سورہ توبہ کی آیت 47اور48میں یبغونکم الفتنۃ ، ابتغو االفتنۃ کے الفاظ فتنہ چاہنے کے معانی میں استعمال ہوئے ہیں اور سورۃ الشوریٰ کی آیت 43میں یبغون فی الارض بغیر الحق کے الفاظ ’’زمین میں ناحق سر کشی سے کام لینے کے ‘‘ معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اور یہی الفاظ سورۃ یونس کی آیت 24میں انہی معانی میں استعمال ہوئے ہیں اور اسی آیت کریمہ میں انما بغیکم علٰی انفسکم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ یقینا تمہاری بغاوت اپنے نفسوں کے ہی خلاف ہے۔سورۃ الحج کی آیت میں ثم بغی علیہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔اس کا مطلب ہے ’’ پھر اس کے خلاف سرکشی کی جائے۔‘‘ اس کے علاوہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیت میں یہ لفظ سرکشی اور بغاوت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ یہ لفظ صرف زنا اور بد کاری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
    اس کے بعد یہ گھسا پٹا اعتراض دہرایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریز گورنمنٹ کی اطاعت اور ان سے تعاون کا حکم دیا تھا۔اوّل تو اس اعتراض کا اس مسئلہ سے کیا تعلق تھا کہ جس پر غور کرنے کے لیے یہ کمیٹی کام کر رہی تھی۔زیر غور مسئلہ تو یہ تھا کہ جو شخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں کیا Statusہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آج سے کئی دہائیا ں قبل جب برِ صغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم تھی تو کیا احمدی اس حکومت کی اطاعت کرتے تھے یا نہیں۔کوئی بھی صاحبِ شعور دیکھ سکتا ہے کہ غیر متعلقہ امور پرسوالات کر کے محض اصل موضوع سے کنارہ کیا جا رہا تھا۔ اور یہ سوال قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک کیا جا رہا ہے۔اگر ایک منٹ کے لیے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ جس گروہ نے انگریز حکومت کی اطاعت کی تھی اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہئے۔یا اگر کوئی گروہ اس وقت انگریزوں کی حکومت سے تعاون کر رہا تھا تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ اس نے اپنے آپ کو امتِ مسلمہ سے علیحدہ رکھا ہے ۔تو پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس وقت کون کون سے گروہ انگریز حکومت کی اطاعت کر رہے تھے اور ان سے تعاون کر رہے تھے۔یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہندوستان طوائف الملوکی کے ایک خوفناک دور سے گزر رہا تھا۔مغل سلطنت تو اب لال قلعہ کی حدود تک محدود ہو چکی تھی اور اس دورِ خرابی میں ہندوستان میں بالعموم اورپنجاب میں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق بُری طرح پامال کیے جا رہے تھے اور پنجاب میں تو سکھوں کی حکومت میں مسلمانوں پر وہ وحشیانہ مظالم کئے گئے تھے کہ جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کی مذہبی آزادی مکمل طور پر سلب کی جا چکی تھی۔اس دور میں جب کہ ابھی پورے ہندوستان پر انگریزوں کا غلبہ نہیں ہوا تھا ،اس وقت ان علاقوں کے لوگوں کے خیالات کیا تھے جہاں پر ابھی مقامی راجہ مہاراجہ حکومت کر رہے تھے۔اس کے متعلق مسلمانوں کے مشہور لیڈر سر سید احمد خان صاحب لکھتے ہیں :۔
    ’’ … ہماری گورنمنٹ کی عملداری دفعۃََ ہندوستان میں نہیں آئی تھی بلکہ رفتہ رفتہ ہوئی تھی جس کی ابتداء ۱۷۵۷ ء کے وقت سراج الدولہ کے پلاسی پر شکست کھانے سے شمار ہوتی ہے۔ اس زمانے سے چند روز پیشتر تک تمام رعایا اور رئیسوں کے دل ہماری گورنمنٹ کی طرف کھنچتے تھے اور ہماری گورنمنٹ اور اس کے حکّامِ تعہد کے اخلاق اور اوصاف اور رحم اور استحکامِ عہود اور رعایا پروری اور امن و آسائش سن سن کر جو عملداریاںہندو اور مسلمانوں کی ہماری گورنمنٹ کے ہمسائے میں تھیں وہ خواہش رکھتی تھیں اس بات کی کہ ہماری گورنمنٹ کے سایہ میں ہوں ۔‘‘ (۷۵)
    اس زمانہ کے حالات کے گواہ،مسلمانوں کے لیڈر اور عظیم خیر خواہ سر سید احمد خان صاحب لکھ رہے ہیں جب کہ خود ہندوستان کے لوگوں کی جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے یہ خواہش تھی کہ وہ انگریزوں کی حکومت کے تحت آجائیں۔اس دور میں جب کہ پنجاب اور اس کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں انگریزوں کی نہیں بلکہ سکھوں کی حکومت قائم تھی ۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں تو پھر بھی مسلمانوں کی کچھ اشک شوئی ہوئی ورنہ باقی سکھ فرمانرواؤں کے دور میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو اس بُری طرح پامال کیا گیا کہ بعض مسلمان قائد ین نے ان کے خلاف اعلانِ جہاد کر دیا۔ جن میں ایک نمایاں نام سید احمد شہید صاحب اورمولوی اسماعیل شہید کا ہے۔
    حضرت سید احمد شہید ؒکا فتویٰ تھا :۔
    ’’سرکار انگریز گو منکر ِ اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدّی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرضِ مذہبی اور عبادت ِ لازمی سے روکتی ہے ۔ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے اور ترویج کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے ۔ہمارا اصل کام اشاعتِ توحید الٰہی اور احیائے سنن سید المرسلین ہے۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں ۔پھر ہم سرکار ِ انگریز پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف ِ اصولِ مذہب طرفین کا خون بلاسبب گرادیں ۔‘‘ (۷۶)
    تو سید احمد شہید صاحب ؒ کے نزدیک اس دور میں انگریز حکومت کے خلاف جہاد کرنا خلاف ِ اصول مذہب اسلام تھا۔اسی دور میں مولوی اسماعیل شہید صاحب نے سکھوں سے جہاد کرنے کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور لشکر ترتیب دیئے۔انہوں نے یہ واضح اعلان کیا کہ ’’جو مسلمان سرکار ِ انگریز کی امان میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے ۔‘‘ (۷۷)
    جب انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں مستحکم ہو گئی تو علما ء نے اس کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی چنانچہ جماعت ِ احمدیہ کے ایک اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تحریر کرتے ہیں :۔
    ’’بناء علیہ اہلِ اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے۔‘‘(۷۸)
    پھر تحریر کرتے ہیں :
    ’’اس امن و آزادی عام و حسنِ انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہلحدیث ِ ہند اس سلطنت کو ازبس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں اور جہاں کہیں وہ رہیں یا جائیں (عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں)کسی اور ریاست کا محکوم و رعایا ہونا نہیں چاہتے ۔‘‘ (۷۹)
    اس وقت ہندوستان اور عرب کے تمام مسالک کے