1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

قاتلین حضرت امام حسینؓ کون تھے؟

'مذہب شیعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    قاتلین حضرت امام حسینؓ کون تھے؟

    اہل کوفہ پکے شیعہ تھے:۔

    ۱۔ ’’وبا لجملہ اہل تشیع اہل کوفہ حاجت باقامت دلیل ندارد ۔ وسُنّی بودن کوفی الاصل خلافِ اصل محتاج بدلیل است۔‘‘ (مجالس المومنین مجلس اوّل صفحہ ۳۵ مطبوعہ ایران) یعنی اہل کوفہ کا شیعہ ہونا محتاج دلیل نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے ۔ ہاں کسی کوفی الاصل کو سُنی قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے ۔

    ۲۔ مجالس المومنین میں حضرت امام جعفر صادق ؒ سے روایت ہے :۔

    اَلَا اِنَّ لِلّٰہِ حَرَمًا وَھُوَ مَکَّۃُ وَاَلَااِنَّ لِرَسُولِ اللّہِ حَرَماً وَھُوَ الْمَدِیْنَۃُ واَلَااِنَّ لِاَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَمًا وَھُوَ الْکُوْفَۃُ۔ (مجالس المومنین مجلس اول صفحہ۳۶)

    ۳۔کوفہ وہ زمین ہے جس نے حضرت علیؓ کی محبت ابتدائے آفرینش سے قبول کی تھی۔

    (جلاء العیون ترجمہ اردو جلد ۱ باب۳ ۔فصل ۲ بیان اخبار شہادت حیدر کرار صفحہ ۲۲۷)

    ۴۔اہل کوفہ سلیمان بن خرد خزاعی کے گھر جمع ہوئے تو ان کو مخاطب کرکے سلیمان بن خرد نے کہا ’’اَنْتُمْ شِیْعَتُہٗ وَشِیْعَۃُ اَبِیْہِ۔‘‘ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر ۲ صفحہ ۱۳۰) کہ اے اہل کوفہ تم امام حسین ؓ اور ان کے باپ حضرت علیؓ کے شیعہ ہو۔

    اہل کوفہ کا خط حضرت امام حسینؓ کے نام

    جب حضرت امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تو پہلے مکہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا۔ (جلاء العیون مترجم اُردو مطبوعہ لکھنؤ جلد ۲باب ۵ فصل نمبر ۱۲ صفحہ ۴۲۶) مگر شیعان اہلِ کوفہ کی طرف سے مندرجہ ذیل عریضہ حضرت امام حسین ؓ کو پہنچا:۔

    ـِ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ یہ عریضہ شیعوں اور فدایوں اور مخلصوں کی طرف سے بخدمت امام حسین بن علیؓ بن ابی طالب ہے ۔ اما بعد،بہت جلد آپ اپنے دوستوں، ہوا خواہوں کے پاس تشریف لائیے کہ جمیع مرد مانِ ولایت منتظر قدوم میمنت لزو م ہیں اور بغیر آپ کے دوسرے شخص کی طرف لوگوں کو رغبت نہیں ہے البتہ بہ تعجیل تمام ہم مشتاقوں پاس تشریف لائیے۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲باب ۵ فصل نمبر۱۳ مترجم اُردوصفحہ۴۳۱)

    اہل کوفہ کی طرف سے دعوت کے ۱۲ہزار خطوط حضرت امام حسین ؓ کو ملے تھے۔

    (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲صفحہ ۱۳۱)

    حضرت امام حسین ؓ کا جواب

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔یہ خط حسین بن علیؓ کا مومنوں، مسلمانوں، شیعوں کی طرف ہے امابعد! بہت سے قاصدوں اور خطوط بیشمار آنے کے بعد جو تم نے مجھے خط ہانی وسعید کے ہاتھ بھیجا مجھے پہنچا تمہارے سب خطوط کے مضامین سے مطلع ہوا …… واضح ہو کہ میں بالفعل تمہارے پاس اپنے برادر و پسرعم و محل اعتماد مسلم بن عقیل کو بھیجتا ہوں۔اگر مسلم مجھے لکھیں کہ جو کچھ تم نے مجھے خطوط میں لکھا ہے بمشورۂ عقلا و دانایان و اشراف و بزرگان قوم لکھا ہے اس وقت میں انشاء اﷲ بہت جلد تمہارے پاس چلا آؤں گا۔‘‘

    (جلاء العیون ترجمہ اردو صفحہ۴۳۱جلد ۲باب ۵ فصل نمبر۱۳ وناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب دوم صفحہ ۱۳۱)

    امام مسلم کا کوفہ پہنچنا

    امام مسلم کی اہل کوفہ میں سے ۸۰ہزارآدمیوں نے بیعت کی ۔

    (بر وایت ابو مخنف دیکھو ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲صفحہ۱۳۳)

    ’’بروایت ابو مخنف ہشتاد ہزار کس بامسلم بیعت کرد‘‘۔

    امام مسلم کی شہادت اور وصیّت

    شیعان اہل کوفہ نے امام مسلم کے ساتھ کس طرح غداری کرکے ان کو اور ان کے دونوں بچوں کو شہید کیا۔بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔امام مسلم نے بوقت شہادت عمر بن سعد کو مخاطب کرکے مندرجہ ذیل وصیت کی:۔

    ’’میری وصیّت اوّل یہ ہے کہ اس شہر میں سات سو درہم کا میں قرض دار ہوں لازم ہے کہ شمشیر و زرہ میری فروخت کرکے میرا قرض ادا کر دے۔دوسری وصیّت یہ ہے کہ جب مجھے قتل کریں تو ابن زیاد سے اجازت لے کر مجھے دفن کر دینا۔ تیسری وصیّت یہ ہے کہ امام حسین کو اس مضمون کا خط لکھ کر کہ کوفیوں نے مجھ سے بے وفائی کی اور آپ کے پسر عم کی نصرت و یاوری نہ کی۔ان کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے آپ اس طرف نہ آئیں۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲باب ۵ فصل نمبر۱۳صفحہ۴۴۲و۴۴۳مترجم اردو)

    ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲صفحہ۱۴۲میں ہے:۔

    وَالثَّالِثَۃُ اَنْ تَکْتُبُوْا اِلٰی سَیِّدِ الْحُسَیْنِ اَنْ یَرْجِعَ عَنْکُمْ فَقَدْ بَلَغَنِیْ اِنَّہُ خَرَجَ بِنِسَاءِ ہٖ وَ اَوْلَادِہٖ فَیُصِیْبُہُ مَا اَصَابَنِیْ ثُمَّ یَقُوْلُ اِرْجِعْ فِدَاکَ اَبِیْ وَ اُمِّیْ بِاَھْلِ بَیْتِکَ فَلَا یَغْرُرْکَ اَھْلُ الْکُوْفَۃِفَاِنَّھُمْ اَصْحَابُ اَبِیْکَ الَّذِیْ تَمَنّٰی فِرَاقُھُمْ بِالْمَوْتِ۔

    کہ میری تیسری وصیّت یہ ہے کہ تم میرے آقا حضرت امام حسینؓ کو لکھنا کہ وہ تمہارے پاس نہ آئیں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہ مع عورتوں اور بچّوں کے تشریف لا رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی مصیبت پہنچے جو مجھے پہنچی ہے۔پھر انہیں لکھنا کہ مسلم کہتا ہے کہ اے امام حسینؓ! (میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں) اپنے اہل بیت سمیت واپس لوٹ جائیے اور اہل کوفہ کے وعدے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالیں‘کیونکہ وہ آپ کے والد (حضرت علیؓ) کے وہی صحابی ہیں جن سے جُدائی کے لئے آپ کے باپ نے موت کی خواہش کی تھی۔

    امام حسین ؓکی روانگی جانب کوفہ

    لیکن حضرت امام حسین ؓ کوفہ کی طرف بڑھتے چلے آرہے تھے۔ان کو امام مسلم کی شہادت کی خبر مقام ثعلبیہ پر پہنچی۔منزل زبالہ پر اپنے قاصد عبداﷲ بن یقطر کی شہادت کی خبر بھی آپ کو ملی۔اس پر آپ نے اپنے تمام اصحاب کو جمع کر کے فرمایا:۔

    ’’خبر پہنچی ہے کہ مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ اور عبداﷲ بن یقطر کو شہید کیا ہے اور ہمارے شیعوں نے ہماری نصرت سے ہاتھ اُٹھا لیا ہے جِسے منظور ہو مجھ سے جُدا ہو جائے۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔ ‘‘ پس ایک گروہ جو بہ طمع مال و غنیمت و راحت و عزّتِ دنیا حضرت کے رفیق ہوئے تھے ان اخبار کے استماع سے متفرق ہو گئے اور اہل بیت وخویشان آنحضرت اور ایک جماعت کہ ازروئے ایمان ویقین رفیق حضرت تھے باقی رہ گئے۔

    (جلاء العیون مترجم اردو جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۴صفحہ ۴۵۲)

    خلاصۃ المصائب میں ہے :۔

    بَلَغَنِیْ خَبَرُ قََتْلِ مُسْلِمَ وَ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنِ یَقْطُرَ وَقَدْ َخذَ لَنَا شِیْعَتُنَا۔ (خلاصۃ المصائب مطبوعہ نو لکشور روایت ہفتم صفحہ ۵۶) کہ مجھے مسلم اور عبد اﷲ بن یقطر کی شہادت کی خبر پہنچی ہے اور ہم کو ہمارے شیعوں نے ہی ذلیل و بیکس کیا ہے۔

    نوٹ :۔ اس عبارت میں قَدْ خَذَ لَنَا شِیْعَتُنَا کے الفاظ خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہیں کیونکہ حضرت امام حسین ؓ نے اپنی زبان سے فرمادیا ہے کہ ہماری ان تمام مصیبتوں کا موجب ہمارے شیعوں کے سوااور کوئی نہیں ۔

    حضرت امام حسین ؓ کا خط اہل کوفہ کے نام

    امام مسلم بن عقیل اور عبد اﷲ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع ملنے سے قبل حضرت امام حسینؓ نے مندرجہ ذیل خط اہل کوفہ کو لکھا: ’’ بسم اﷲ الرحمن الرحیم ۔ یہ خط حسین بن علی ؓکی طرف سے برادران مومن مسلم کو ہے ۔ تم پر سلام الہٰی ہو …… امابعد بدر ستیکہ خط مسلم بن عقیل کا میرے پاس پہنچا ۔ اس خط میں لکھا تھا کہ تم لوگوں نے میری نصرت اور دشمنوں سے میرا حق طلب کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ اپنا احسان مجھ پر تمام کرے اور تم کو تمہارے حُسنِ نیت وکردار پر بہترین جزائے ابرار عطا فرمائے۔ بدرستیکہ میں آٹھویں ماہ ذی الحجہ روز سہ شنبہ کو مکہ سے باہر آیا اور تمہاری جانب آتا ہوں۔ جب میرا قاصد تم تک پہنچے لازم ہے کہ کمر متابعت مضبوط باندھو اور اسباب کا رزار آمادہ رکھو اور میری نصرت کے مہیا رہو کہ مَیں اب بہت جلد تم تک پہنچتا ہوں۔ والسّلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔‘‘

    (جلاء العیون مترجم جلد۲ باب۵ فصل نمبر۱۴ صفحہ ۴۴۹)

    نوٹ :۔ اس خط میں دو باتیں معلوم ہوتی ہیں :۔

    ۱۔ بقول شیعیان امام حسین ؓ کی روانگی بجانب کوفہ لڑائی اور کارزار کے لئے تھی نہ کہ پُرامن رہنے کی نیت سے۔

    ۲۔ امام حسین ؓ کو علم غیب نہ تھا اور نہ انہیں امام مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہو سکا اور نہ اہل کوفہ کی غداری کا علم ان کو ہوا۔ حالانکہ اس خط کی تحریر سے قبل امام مسلم بن عقیل انہی کوفیوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے تھے ۔

    نزول کربلا اور اس کے بعد:

    جب حضرت امام حسین ؓمیدانِ کربلا میں اُترے تو ابنِ زیاد نے (جو یزید کی فوج کا سپہ سالار تھا) مندرجہ ذیل مکتوب حضرت امام حسین ؓ کو لکھا :۔

    ’’ میں نے سنا ہے آپ کربلا میں اُترے ہیں اور یزید بن معاویہ نے مجھے خط لکھا ہے کہ آپ کو مہلت نہ دوں یا آ پ سے بیعت لوں اور اگر انکار کیجئے تو یزید پاس بھیج دوں‘‘۔

    (جلا ء العیون مترجم اُردو جلد ۲باب ۵ فصل نمبر ۱۴ صفحہ ۴۵۶)

    نوٹ :۔ اس خط سے معلوم ہو تا ہے کہ ابنِ یزید کی طرف سے حضرت امام حسین ؓ کو شہید کرنے کی ہدایت یا اجازت نہ تھی ۔

    اس خط کو حضرت امام حسین ؓ نے پھاڑ دیا ۔بعد ازاں جب قرۃ بن قیس کوفی آپ سے ملنے کے لئے آیا تو آپ نے فرمایا:۔

    ـ’’ تمہا رے شہر کے لوگوں نے نامہ ہائے بیشمار مجھے لکھے اور بہت مبالغہ اور اصرار کر کے بلایا۔ اگر میرا آنا اب منظور نہیں تو مجھے واپس جانے دو ‘‘۔ (ناسخ التواریخ جلد۶ کتاب نمبر ۲صفحہ ۱۷۵)
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    فرشتے لیٹ ہو گئے:

    حضرت امام حسینؓکی تکلیف اور بے بسی کو دیکھ کر ملائکہ نے خدا تعالیٰ سے بصد اصرار عرض کیا کہ حضرت امام حسین ؓ کی مدد کرنے کی اجازت دی جائے بالآخر اﷲ تعالیٰ نے اجازت دی لیکن جب فرشتے زمین پر پہنچے تو اس وقت حضرت امام حسین ؓ شہید ہو چکے تھے ۔

    (جلاء العیون جلد ۲باب ۵ فصل نمبر ۱۵ صفحہ ۴۹۸ و صفحہ ۵۴۰ مترجم اردو)

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن


    Kخاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

    پانی کا معجزہ :

    ذاکرین عام طور پر کربلا میں پانی کا بند کیا جانا‘ کئی کئی دن تک امام حسین ؓ اور آپ کے مصاحبین کی تشنگی اور اس کے ساتھ بیسیوں متعلقہ روایات بیان کرکے عوام کو رُلایا کرتے ہیں لیکن مندرجہ ذیل روایت ان سب روایا ت کی حقیقت کو آشکار ا کرنے کے لئے کافی ہے ۔جلاء العیون اردوجلد ۲ باب ۵ فصل نمبر۱۴ صفحہ ۴۵۹پر ہے:۔

    ’’حضرت نے ایک بیلچہ دستِ مبارک میں لیا اور عقب خیمہ حرم محترم تشریف لائے اور پشت خیمہ سے ۹ قدم سمت قبلہ چلے اور وہاں ایک بیلچہ زمین پر ماراکہ بہ اعجاز آنحضرتؓ چشمہ آبِ شیرین ظاہر ہوا اور امام حسین ؓ نے معہ اصحاب وہ پانی نوش کیااور مشکیں وغیرہ بھر لیں۔ پھر وہ چشمہ غائب ہو گیا اور اس کا اثر بھی کسی نے نہ دیکھا۔‘‘

    پس ایسے اعجازی بیلچہ کی موجودگی میں حضرت امام حسین کی تشنگی کی روایات گھڑ گھڑ کر بیان کرنا کیونکر جائز ہے؟

    کیا یزید حضرت امام حسین ؓ کو شہید کرنا چاہتا تھا؟

    اس سوال کا جواب مندرجہ ذیل روایات اہل شیعہ سے نفی میں ملتا ہے:۔

    ۱۔جلاء العیون اردو صفحہ ۴۵۶کی وہ روایت جو ’’نزول کربلا اور اس کے بعد ‘‘کے عنوان کے نیچے اوپر درج ہو چکی ہے ۔ (صفحہ ۱۷۱ پاکٹ بُک ہذا)

    ۲۔ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۲۶۹پر درج ہے کہ یزید کو تین شخصوں نے باری باری حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کی اطلاع دی ،اور ان تینوں کو یزید نے زجر و توبیخ اور تنبیہ کی۔وہ اشخاص زجر بن قیس۔محضر بن ثعلبہ اور شمر ذی الجوشن تھے۔

    زجر بن قیس نے جب قتل حسینؓ کی اطلاع دی تو لکھا ہے کہ:۔

    ’’یزید لختے سرفروداشت و سخن نہ کرد،و بس سر بر آورد و گفت قَدْ کُنْتُ اَرْضٰی بِطَاعَتِکُمْ بِدُوْنِ قَتْلِ الْحُسَیْنِ۔اَمَّا لَوْ کُنْتُ صَاحِبُہُ لَعَفَوْتُ عَنْہُ۔اگر من حاضر بودم حسینؓ معفومی داشتم‘‘

    یعنی یزید دم بخود ہونے کے باعث سکتہ میں چلا گیا،اور بعد ازاں سر اٹھا کر کہنے لگا کہ میں اس بات پر زیادہ راضی تھا کہ تم میرے حکم کی اطاعت کرتے اور امام حسینؓ کو قتل نہ کرتے ۔اور اگر میں وہاں موجود ہوتا تو انہیں چھوڑ دیتا۔

    اسی طرح محضر بن ثعلبہ نے اطلاع دیتے ہوئے اہل بیت امام حسین ؓ کی شان میں کچھ گستاخی کی تو یزید نے کہا:۔

    مَا وَلَدَتْ اُمُّ مَحْضَرٍ اَشَدَّ وَاَلْئَمَ وَلٰکِنْ قَبَّحَ اللّٰہُ ابْنَ مَرْجَانَۃَیعنی محضر کی ماں نے ایسا سخت ترین اور کمینہ بچہ نہ جنا ہوگا لیکن خدا ابن زیاد کا بھلا نہ کرے۔

    اسی طرح شمر ذی الجوشن دربار یزید میں آیا اور طالب انعام ہوا تو یزید نے اسے بھی ناکام و نامراد پھرایا اور کہا کہ خدا تیری رکاب آگ اور ایندھن سے بھر دے۔ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۲۶۹)

    پہلا ماتم کرنے اور کرانے والا یزید تھا

    ۱۔جب بعد از واقعہ کربلا ممبران اہل بیت امام حسین ؓ دمشق میں یزید کے ہاں بلائے گئے تو اس نے حکم دیا کہ ان کو فوراً حرم سرائے (زنانخانہ) میں لیجاؤ۔یزید کے اپنے متعلق لکھا ہے۔

    کَانَ بِیَدِہٖ مِنْدِیْلٌفَجَعَلَ یَمْسَحُ دُمُوْعَہُ فَاَمَرَھُمْ اَنْ یَّحُوْلَنَّ اِلٰی ھِنْدَ بِنْتِ عَامَرَ

    فَاِذَا دَخَلْنَ عِنْدَھَا فَسُمِعَ عَنْ دَاخِلِ الْقَصْرِ بُکَاءً وَنِدَاءً وَعَوَیْلًا۔

    (خلاصۃ المصائب نو لکشور صفحہ ۳۰۲)

    یعنی یزید کے ہاتھ میں رومال تھا جس سے وہ اپنے آنسو پونچھتا جاتا تھا ۔یزید نے کہا کہ حرم محترم کو ہند بنت عامر کے ہاں ٹھہراؤ۔چنانچہ جب وہ اندر داخل ہوئیں تو رونے اور چلانے کی صدا بلند ہوئی۔

    ۲۔جب محذرات اہل بیت عصمت و طہارت اس ملعون (یزید) کے گھر میں داخل ہوئے تو عورات آلِ ابو سفیان (خاندان یزید۔ناقل) نے اپنے زیور اتار ڈالے اور لباس ماتم پہن کے آواز بہ نوحہ و گریہ وزاری بلند کی اور تین روز ماتم رہا۔ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵صفحہ ۵۲۶)

    ۳۔ہند بنت عبداﷲ بن عامر جو یزید کی بیوی تھی کے متعلق لکھا ہے :۔

    اس نے پردہ کا مطلق خیال نہ کیا اور گھر سے نکل کے مجلس یزید ملعون میں جس وقت کہ مجمع عام تھا آکے کہا،اے یزید!تُو نے سرِ مبارک اما م حسینؓ پسر فاطمۃ الزہرا ؓکا میرے گھر کے دروازہ پر لٹکایا ہے ۔یزید نے دوڑ کے کپڑا اس کے سر پر ڈال دیا اور کہا گھر میں چلی جا اور گھر میں جا کر فرزندِ رسولؐ خدا بزرگ قریش پر نوحہ وزاری کر ابن زیاد نے ان کے بارہ میں جلدی کی۔

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵صفحہ ۵۲۶۔۵۲۷)

    میں ان کے قتل پر راضی نہ تھا:

    ’’پس اہل بیت رسولِ خداکو اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی اور ہر صبح و شام امام زین العابدین کو دستر خوان پر بلاتا تھا۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵صفحہ ۵۲۶۔و ناسخ التواریخ جلد ۶کتاب۲ صفحہ ۲۷۸و مہیج الاحزان صفحہ ۳۲۸)

    نوٹ:۔مندرجہ بالا حوالہ میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ یزید نے حضرت امام حسینؓ کا کاسۂ سر اپنے محل کے دروازہ پر آویزاں کر دیا تھا، یہ اہل شیعہ کی دوسری روایات کے پیش نظر محض غلط اور مبالغہ آمیزی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ امام حسینؓ کا سر مبارک کوفہ کے راستہ میں شام تک جانے سے پہلے ہی بذریعہ ایک مخلص و خیر خواہ کے نجف اشرف میں پہنچ گیا تھا۔دمشق میں توپہنچا ہی نہیں ۔

    (فروعِ کافی جلد ۱صفحہ ۵۹۴مطبع نو لکشور باب موضع راس الحسینؓ)

    اس فروعِ کافی والی روایت کو صاحب ناسخ التواریخ نے بحوالہ کتاب کامل الزیارۃ امام جعفر صادق ؓسے تسلیم کیا ہے۔

    (ناسخ التواریخ صفحہ ۳۸۸جلد ۶ کتاب ۲)

    ۴۔’’حضرت سکینہ دختر امام حسینؓ نے ایک خواب دیکھا جو کہ یزید کے آگے بیان فرمایا۔یزید نے جب یہ خواب سنا اپنے منہ پر طمانچہ مار کے رونے لگا اور کہا ۔مجھے قتل حسین ؓسے کیا مطلب تھا ۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵صفحہ۵۲۸)

    ۵۔آں ملعون طمانچہ برروئے نحس خود زد و گفت مرا چہ کار با قتل حسین ؓ بود؟ (مہیج الاحزان مجلس نمبر۱۳صفحہ ۲۳۵) کہ اس ملعون (یزید) نے اپنے منحوس چہرہ پر طمانچہ مارا اور کہا کہ مجھے قتلِ حسینؓ سے کیاتعلق یا واسطہ تھا؟

    ۶۔’’یزید نے اہل بیت رسالت کو طلب کرکے ان کو نہایت عزت و حرمت سے شام میں رہنے یا مدینہ منورہ کی طرف چلے جانے کا اختیار دیا،اور انہوں نے ماتم برپا کرنے کی اجازت چاہی جو منظور ہوئی،اور ملک شام میں جس قدر قریش وبنی ہاشم تھے وہ ماتم و گریہ زاری میں شریک ہوئے اور سات روز تک آنحضرت ؓ پر نوحہ و زاری کی ۔روز ہشتم یزید نے ان کو طلب کیا اور عذر خواہی کرکے ان کو شام میں رہنے کی تکلیف دی۔جب انہوں نے قبول نہ کیا تو محمل ہائے مزین ان کے واسطے آراستہ کئے اور خرچ کے لئے مال حاضر کیا اور ان سے کہا کہ یہ اس ظلم کا عوض ہے جو تم پر ہوا۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵صفحہ ۵۳۱،۵۳۲و مہیج الاحزان مجلس نمبر۱۳ صفحہ ۲۳۵)

    اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید نے خود امام حسینؓ کے ماتم کی اجازت دی اور ملک شام میں جو ماتم ہوا وہ خود یزید کی اجازت سے ہوا تھا ۔دوسرے یہ کہ امام حسین ؓ کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کو یزید بھی ظلم سمجھتا تھا۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ یزید باوجود اس کو ’’ظلم‘‘قرار دینے اور سمجھنے کے خود اسے روا رکھتا۔

    ۷۔’’یزید نے امام زین العابدین کو طلب کیا اور بخیال رفع تشنیع کہا خدا ابن مرجانہ (ابن زیاد) پر *** کرے ۔اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو امام حسینؓ جو کچھ وہ مجھ سے طلب کرتے میں ان کو دیتا اور ان کے قتل پر راضی نہ ہوتا۔آپ ہمیشہ مجھ کو خط لکھا کریں اور جو حاجت ہو مجھ سے طلب فرمائیں کہ میں بجا لاؤں گا۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵صفحہ ۵۳۲)

    ایک سوال:

    خلاصۃ المصائب صفحہ ۳۰۲مطبوعہ نو لکشور وغیرہ کتب کی روایات کی بناء پر یزید کا امام حسینؓ کے قتل پر آنسو بہانا ثابت ہے مگر جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر۵ صفحہ ۳۷۸پر درج ہے کہ ’’جو امام حسینؓ ‘‘ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ بقدر پرِ مگس آنسو نکلے ،ثواب اس کا خدا پر ہے اور خدا اس کے لئے کسی ثواب پر راضی نہیں بغیر بہشت عطا کرنے کے۔‘‘

    تو اندریں صورت یزید کے انجام کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟
     
  3. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خود شیعہ ہی قاتلین امام حسینؓ ہیں:

    ناسخ التواریخ میں لکھا ہے کہ ابن زیاد سپہ سالار لشکر یزید جس نے امام حسینؓ کو شہید کیا ۸۰ہزار کوفیوں پر مشتمل تھا۔ملاحظہ ہو:۔

    ’’وابی مخنف لشکر ابن زیاد را ہشتاد ہزار سوار نگاشتہ و گوید ہمگاں کُوفی بودند و حجازی و شامی با ایشاں نہ بود۔‘‘ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر۲ صفحہ ۱۷۴) یعنی ابو مخنف نے ابن زیاد کا لشکر اسّی ہزار بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ سب کے سب کوفی تھے ۔ان میں نہ کوئی حجازی تھا اور نہ شامی۔

    ۲۔فَتَکَمَّلَ الْعَسْکَرُ ثَمَانُوْنَ اَلْفاً فَارِسَ مِنْ اَھْلِ الْکُوْفَۃِ لَیْسَ شَامِیٌ وَلَا حِجَازِیٌ۔ (مرقع کربلا مطبوعہ ریاضی پریس امرویہ صفحہ ۲۰)

    کہ ابن زیاد کا لشکر سب کا سب ۸۰ ہزار کوفی سواروں پر مشتمل تھا۔ان میں نہ کوئی شامی تھا نہ حجازی۔

    اب دیکھئے اسی ابو مخنف کی دوسری روایت جس میں وہ کہتا ہے کہ امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے ۸۰ ہزار کوفی تھے۔

    ’’بروایت ابو مخنف ہشتاد ہزار کس با مسلم بیعت کرد۔‘‘ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۱۳۳)

    ۳۔علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ کربلا میں جب وقتِ ظہر ہواتو حضرت امام حسینؓ اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور ابن زیاد کے لشکر کے درمیان کھڑے ہو کر ابن زیاد کے لشکر کو مخاطب کر کے فرمایا۔ ’’اَیُّھَا النَّاسُ!میں تمہاری طرف نہیں آیامگر جب کہ تمہارے خطوط متواتر اور تمہارے قاصد پیاپے میرے پاس پہنچے ۔تم نے لکھا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیے کہ ہمارا امام و پیشوا کوئی نہیں ہے شاید خدا ہم کو اور آپ کو حق و ہدایت پر متفق کرے ،اگر تم اپنے عہد و گفتار پر برقرار ہو تو مجھ سے پیمان تازہ کرکے دل میرا مطمئن کرواور اگر اپنے گفتار سے پھر گئے ہو اور عہد و پیمان کو شکستہ کر دیا ہے اور میرے آنے سے بیزار ہو میں اپنے وطن واپس جاتا ہوں۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۴صفحہ۴۵۳)

    اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین ؓ کے نزدیک بھی آپ کے قاتلین بھی وہی تھے جنہوں نے کوفہ سے بیشمار خطوط بھیج کر اور بیعت مسلم کر کے بلایا تھا۔

    ۴۔ناسخ التواریخ (مکمل حوالہ اگلے صفحہ پر درج ہے) میں ہے کہ امام حسین ؓ نے لشکر یزید کے قاصد قرہ بن قیس کو مخاطب کر کے فرمایا:۔

    ’’تمہارے شہر کے لوگوں نے نامہ ہائے بیشمار مجھے لکھے ،بہت مبالغہ اور اصرار کر کے مجھے بلایا۔اگر میرا آنا اب منظور نہیں ہے تو مجھے واپس جانے دو۔‘‘ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۱۷۵)

    ۵۔جب حضرت امام حسینؓ دشت کربلا میں خیمہ زن تھے ،ایک عراقی مکّہ کو جارہا تھا ۔دیکھا کہ خیمہ کے باہر کرسی پر بیٹھ کر خطوط کا مطالعہ فرما رہے تھے۔جب اس نے و جہ بے کسی و بے وطنی کی دریافت کی تو امام نے فرمایا:۔

    ’’بنو امیہ مرابیم قتل دادند و مردم کوفہ مرا دعوت کردند،اینک مکاتیب ِ ایشاں است ،حالانکہ کشندۂ من ایشانند۔‘‘ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ۱۵۹)

    کہ بنو امیہ نے مجھے قتل کی دھمکی دی اور کوفہ والوں نے مجھے بلا یا،یہ سب خطوط انہی کے ہیں اور حالانکہ میرے قاتل یہی لوگ ہیں۔

    نوٹ:۔اس روایت میں تو خود حضرت امام حسینؓ نے اپنے قتل اور واقعات کربلا کی تمام ذمہ داری یزید سے ہٹا کر اہل کوفہ پر رکھی ہے۔

    ۶۔ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر۲صفحہ ۱۶۶میں بحوالہ کتاب نورالعین مرقوم ہے:۔

    ’’حضرت سکینہ ؓ دختر حضرت امام حسینؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے خیمہ میں تھی ،ناگاہ رونے کی آواز سنائی دی۔میں چپکے سے اپنے پِدر بزرگوار کے پاس چلی گئی ،وہ رو رہے تھے اور اپنے اصحاب سے فرما رہے تھے۔’’اے جماعت!جس وقت تم میرے ساتھ باہر نکلے ،تم نے ایسا جانا کہ میں ایسی قوم میں جاتا ہوں جس نے دل و زبان سے میری بیعت کر لی ہے ۔اب وہ خیال دگرگوں ہو گیا ہے۔ شیطان نے ان کو فریفتہ کر لیا ،یہاں تک کہ خدا کو بھول گئے۔ ان کی ہمت اب اس پر لگی ہے کہ مجھ کو قتل کریں اور میرے مجاہدین کو قتل کریں۔‘‘


    حضرت زینب ؓ و دیگر اہل بیت امام ؓ کی تقریریں:

    ۱۔بعد از واقعہ کربلا جب خاندان امام حسین ؓ کے بقیہ ممبران کو دمشق کی طرف لے جایا جا رہا تھا ۔تو جب یہ قافلہ کوفہ کے پاس سے گزرا تو کوفہ کے بہت سے لوگ دیکھنے کے لئے آئے اور ممبران اہل بیت امام حسینؓ کو دیکھ کر رونے لگے اور ماتم کرنے لگے ،اس پر حضرت زینب ؓ ہمشیرہ حضرت امام حسینؓ نے حسب ذیل تقریر فرمائی :۔

    اما بعد،اے اہل کوفہ !اے اہل غدر و مکر و حیلہ!تم ہم پر گریہ کرتے ہواور خود تم نے ہم کو قتل کیا ہے۔ ابھی تمہارے ظلم سے ہمارا رونا موقوف نہیں ہوا اور تمہارے ستم سے ہمارا فریاد و نالہ ساکن نہیں ہوا اور تمہاری مثال اس عورت کی ہے جواپنے رسّہ کو مضبوط بٹتی اور پھر کھول ڈالتی ہے…………تم ہم پر گریہ و نالہ کرتے ہو حالانکہ خود تم ہی نے ہم کو قتل کیا ہے۔ سچ ہے واﷲ!لازم ہے کہ تم بہت گریہ کرو اور کم خندہ ہو۔ تم نے عیب و عارِ ابدی خود خرید کیا ۔اس عار کا دھبّہ کسی پانی سے تمہارے جامے سے زائل نہ ہوگا۔جگر گوشہ خاتم پیغمبران و سید جوانانِ بہشت کے قتل کرنے کا کس چیز سے تدارک کر سکتے ہو! …… اے اہل کوفہ! تم پر وائے ہو!! تم نے کن جگر گوشہ ہائے رسولؐ کو قتل کیااور کن باپردے گان اہل بیت رسولؐ کو بے پردہ کیا؟ کس قدر فرزندانِ رسول ؐ کی تم نے خونریزی کی ،ان کی حرمت کو ضائع کیا ۔تم نے ایسے بُرے کام کئے جن کی تاریکیوں سے زمین و آسمان گھر گیا۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵صفحہ ۵۰۴-۵۰۳نیزناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ۲۴۳مطبوعہ لندن)

    ۲۔بعد ازاں حضرت فاطمہ ؓ بنت امام حسینؓ نے بھی اہل کوفہ کو لعن طعن کی ہے لکھا ہے:۔

    ’’درودیوار سے صدا ئے نوحہ بلند ہوئی اور کہااے دختر پاکان و معصومان۔ خاموش رہو کہ ہمارے دلوں کو تم نے جلا دیا اور ہمارے سینہ میں آتش حسرت روشن کردی اور ہمارے دلوں کو کباب کیا۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵صفحہ۵۰۵)

    ۳۔اس کے بعد حضرت ام کلثوم ؓ خواہر امام حسین ؓ نے ہودج میں سے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی:۔

    ’’اے اہل کوفہ !تمہارا حال اور مآل برا ہو اور تمہارے منہ سیاہ ہوں!تم نے کس سبب سے میرے بھائی حسینؓ کو بلایا اور ان کی مدد نہ کی اور انہیں قتل کرکے مال و اسباب ان کا لوٹ لیا؟اور ان کی پردیگان عصمت و طہارت کو اسیر کیا؟وائے ہو تم پر اور *** ہو تم پر،کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے کیا ظلم و ستم کیا ہے اور کن گناہوں کا اپنی پشت پر انبار لگایا اور کیسے خون ہائے محترم کو بہایا دخترانِ رسولِ مکرمؐ کو نالاں کیا؟ …… بعد اس کے مرثیہ سید الشہداء میں چند شعر انشاء فرمائے جس کے سننے سے اہل کوفہ نے خروش واویلا واحسرتا بلند کیا۔ ان کی عورتوں نے بال اپنے کھول دیئے۔ خاک حسرت اپنے سر پر ڈال کے اپنے منہ پر طمانچے مارتی تھیں اور واویلا وا ثبورا کہتی تھیں اور ایسا ماتم برپا تھا کہ دیدۂ روزگار نے کبھی نہ دیکھا تھا۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵صفحہ۵۰۵،۵۰۶و ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر۲ صفحہ ۲۴۶)

    امام زین العابدینؓ کی تقریر:

    ۴۔پھر امام زین العابدین ؓ نے اہل کوفہ سے خطاب کیا اور فرمایا:۔

    ’’میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں !تم جانتے ہو کہ میرے پِدر کو خطوط لکھے اور ان کو فریب دیا اور ان سے عہد و پیمان کیا اور ان سے بیعت کی۔آخر کار ان سے جنگ کی اور دشمن کو ان پر مسلط کیا۔پس *** ہو تم پر! تم نے اپنے پاؤں سے جہنم کی راہ اختیار کی اور بری راہ اپنے واسطے پسند کی۔ تم لوگ کن آنکھوں سے حضرت رسول کریم ﷺکی طرف دیکھو گے جس روز وہ تم سے فرمائیں گے۔ تم نے میری عزت کو قتل کیا اور میری ہتک حرمت کی۔ کیا تم میری امت سے نہ تھے۔‘‘ یہ سن کر پھر صدائے گریہ ہر طرف سے بلند ہوئی۔آپس میں ایک دوسرے سے کہتا تھا ہم لوگ ہلاک ہوئے۔

    جب صدائے فغاں کم ہوئی ،حضرت ؓ نے فرمایا۔خدا اس پر رحمت کرے جو میری نصیحت قبول کرے سب نے فریاد کی کہ یا بن رسول اﷲ!ہم نے آپ کا کلام سنا۔ ہم آپ کی اطاعت کریں گے …… جو آپ سے جنگ کرے اس سے ہم جنگ کریں اور جو آپ سے صلح کرے اس سے ہم صلح کریں۔ اگر آپ کہیئیآپ کے ستمگاروں سے آپ کا طلبِ خون کریں۔حضرت ؓ نے فرمایا۔ہیہات ہیہات !! اے غدّارو!اے مکّارو!!اب پھر دوبارہ میں تمہارے فریب میں نہ آؤں گا اور تمہارے جھوٹ کو یقین نہ جانوں گا۔ تم چاہتے ہو مجھ سے بھی وہ سلوک کرو جو میرے بزرگوں سے کیا۔بحق خداوند آسمانہائے دوّار!میں تمہارے قول و قرار پر اعتماد نہیں کرتا اور کیونکر تمہارے دروغ بے فروغ کو یقین کروں،حالانکہ ہمارے زخم ہائے دل ہنوز تازہ ہیں،میرے پدر اور ان کے اہل بیت کل کے روز تمہارے مکر سے قتل ہوئے اور ہنوز مصیبت حضرت رسول و پدر و برادر و عزیزو اقرباء میں نہیں بھولا اور اب تک ان مصیبتوں کی تلخی میری زبان پر ہے اور میرے سینے میں ان محبتوں کی آگ بھڑک رہی ہے ۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵صفحہ۵۰۶،۵۰۷)

    ۵۔ایک دوسری روایت میں ہے:۔

    ’’فَقَالَ عَلِیُّ ابْنُ حُسَیْنِ بِصَوْتٍ ضَعِیْفٍءَ تَنُوْحُوْنَ وَ تَبْکُوْنَ لِاَجْلِنَا فَمَنْ قَتَلَنَا۔ سیّد سجاد بآواز ضعیف فرمود،ہاں اے مردم بر ما گریند و برما نوحہ مے کنند۔پس کشندۂ ما کیست؟ مارا کہ کشت و کہ اسیر کرد۔‘‘ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۲۴۳) کہ امام زین العابدین ؓ نے کمزور آواز سے کہا تم ہم پر نوحہ و ماتم کرتے اور روتے ہو ۔تو پھر ہم کو قتل کس نے کیا ہے؟

    ۶۔حضرت اُم کلثوم ؓ نے اہل کوفہ کی عورتوں کے رونے پر محمل پر سے کہا۔’’اے زنانِ کوفہ! تمہارے مردوں نے ہمارے مردوں کو قتل کیا ہم اہلِ بیت کو اسیر کیا ہے پھر تم کیوں روتی ہو؟ خداوند عالم بروز قیامت ہمارا تمہارا حاکم ہے۔‘‘

    (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل ۱۵ صفحہ ۵۰۷ وناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ۲۴۸)

    نوٹ:۔ ان سب تقاریر سے تین باتیں ثابت ہیں۔

    اوّل:۔ قاتلین امام حسین شیعہ تھے اور حضرت امام حسینؓ کے مبایعین تھے جیسا کہ حضرت امام زین العابدینؓ کی تقریر میں بیعت کا لفظ بھی موجود ہے۔

    دوم:۔ سب سے پہلے عالمگیر ماتم کرنے والے (یزید کے بعد) خود اہل کوفہ قاتلین امام حسینؓ ہی تھے جیسا کہ الفاظ ’’ایسا ماتم برپا تھا کہ دیدۂ روزگار نے نہ دیکھا تھا۔‘‘سے ظاہر ہے۔

    سوم:۔ موجودہ ماتم محض حضرت زینبؓ کی بددعا کا نتیجہ ہے۔ ’’واﷲ !لازم ہے کہ تم بہت گریہ کرو اور مت خندہ ہو‘‘۔سچ ہے ؂

    قریب ہے یار روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا قتل کیونکر

    جو چُپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا


    ۱؂ یہ جغرافیہ بطور ریڈر سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اور گورنمنٹ آف انڈیا سے رجسٹری شدہ ہے۔ اسے ملکھراج ڈبل بک سیلز پبلشز بٹالہ نے شائع کیا ہے۔

    e ۱؂ یہ پیشگوئی نئے ایڈیشن میں سے نکال دی گئی ہے۔

    K ۱؂ حق کے قبول کرنے میں بخیل ہو گی۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں