1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

فتاویٰ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ۔ جلد2

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    فتاویٰ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ۔ جلد2

    بسم اللہ الرحمان الرحیم
    نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھو الناصر

    لڑکا لڑکی ماں باپ کے مشورہ سے شادی کریں
    اسلام نے لڑکے لڑکی کو آزادی دی ہے شادی کے بارے میں مگر اس کے ساتھ ایک عجیب بات بھی رکھی ہے اور وہ یہ کہ لڑکا ہو یا لڑکی ماں باپ کے مشورہ سے شادی کریں۔اگر بغیر مشورہ کے شادی کرے تو ماں باپ کو اختیار ہے کہ اسے کہیں طلاق دے دیںاور لڑکے کو اس کی تعمیل کرنی چاہئے۔تو لڑکے کو مشورہ کرنے کا پابند قرار دیا ہے لیکن اگر ماں باپ بضد ہوں اور بغیر کوئی نقص اور خطرہ بتائے زور سے وہ روکیں تو لڑکا کر سکتا ہے ۔ہاں اسے یہ حکم ہے کہ والدین کی خواہش کو جہاں تک ممکن ہو پورا کرے۔مگر جب یہ سمجھے کہ ایسا کرنا اس کے لئے مضر ہے تو شادی کر لے ۔اگر لڑکا ماں باپ سے پوچھے بغیر شادی کرے تو وہ اسے طلاق دینے کاحکم دے سکتے ہیں۔
    اس میں حکمت یہ ہے کہ ماں باپ اس تعلق کو اور نظر سے دیکھتے ہیں اور لڑکا اور نظر سے دیکھتا ہے۔لڑکے کے سامنے حسن ،جذبات اور شہوات یا اور معاملات ہوتے ہیں لیکن ماں باپ کے مد نظر لڑکے کا آرام اور اس کا فائدہ ہوتا ہے۔اس لئے شریعت نے رکھا ہے کہ والدین سے اس بارہ میں مشورہ کیا جائے تاکہ ان کے مشورہ سے مفید باتیں اس کے سامنے آجائیںجن پر وہ اپنے جذبات کی وجہ سے اطلاع نہیں پا سکتا تھا۔لیکن اگر وہ اپنے لئے مفید سمجھے تو ماں باپ کی رضامندی کے بغیر بھی شادی کر سکتا ہے۔۔۔۔
    غرض شریعت نے اس پر بڑا زور دیا ہے کہ سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہئے خواہ مرد ہو خواہ عورت۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر:۱۹)وہ دیکھ لے کہ کل اس کے لئے کیا نتیجہ نکلے گا۔۔۔۔۔۔۔تو لڑکے اور لڑکی کو خود شادی کے متعلق غور و فکر سے کام لینا چاہئے جس کا اسلام نے انہیں حق دیا ہے ۔لیکن شاید ابھی یہ باتیں خواب ہیں اور ایسی خواب جس کی تعبیر آئندہ زمانے میں نکلے گی تاہم ہمارا فرض ہے کہ ان کی طرف توجہ دلائیں خواہ وہ زمانہ جلد آئے یا بدیر۔
    (الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۲۹ ؁ء خطبات محمود صفحہ ۲۲۸۔۲۲۷)
    لڑکی کو لڑکا منتخب کرنے کا حق دینا چاہئے
    نکا ح کا معاملہ انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور شاید جس قدر دنیوی معاملات ہیں ان سب سے زیادہ اس کا تعلق انسان سے ہے۔لیکن یہ نہا یت ہی عجیب بات ہے کہ وہ معاملات جن کا انسانی زندگی سے کم تعلق ہوتا ہے ان کو تو انسان لوگوں کے سپرد کر نے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور جس کا زیادہ تعلق ہے اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ایک کپڑا چھ مہینے نہیں سال،سال نہیں دو سال،دو سال نہیں تین سال،تین سال نہیں چار سال،چار سال نہیں پانچ سال چلتا ہے اور پھر پھٹ جاتاہے مگر ماں باپ کپڑے کے متعلق تو لڑکے لڑکی کو اجازت دیں گے بلکہ پسند کریں گے کہ لڑکا لڑکی کپڑا خود پسند کرلے۔حالانکہ اس کے انتخاب پران کی زندگی کا مدار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔مگر وہ بات جس میں ان کی پسندیدگی اور رضامندی کے بغیر غرض پوری نہیں ہو سکتی اس میں اجازت نہیں دیتے اور وہ بیاہ شادی کا معاملہ ہے۔شادی ساری عمر کا تعلق ہوتا ہے۔اگر لڑکا لڑکی کا مزاج نہ ملے ایک دوسرے کو پسند نہ کرے،ان کے تعلقات عمدہ نہ ہوںتو ان کی ساری عمر تباہ ہو جاتی ہے۔
    (الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۲۹ ؁ئ۔خطبات محمود صفحہ ۳؍۲۲۶)
    لڑکی کو نکاح سے پہلے دیکھنا
    اسلام نے اس( شادی بیاہ )کے متعلق بھی کئی اصول مقرر کئے ہیں مثلا ً عورت کا مہر مقرر کرنا اور پھر عورت کو شادی سے پہلے دیکھناتاکہ بعد میں جو فتنے پیدا ہو سکتے ہیں وہ نہ ہوں۔
    شادی کے موقع پر جب سب باتیں رشتہ داروں میں طے ہو جائیں تو لڑکی کو دیکھ لینا بہت سے فتنوں کا سد باب کر دیتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ایک نوجوان نے کسی لڑکی سے شادی کرنی چاہی۔لڑکی والوں کے سب حالات اسے پسند تھے اس نے لڑکی کے باپ سے کہا کہ مجھے اور تو سب باتوں سے اتفاق ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں لڑکی کو بھی د یکھ لوں۔اس وقت پردہ کو حکم نازل ہو چکا تھا۔لڑکی کے باپ نے کہا میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔وہ نوجوان رسول کریمﷺ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا کہ میں فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوںاور تو مجھے سب باتیں پسند ہیں میں صرف لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔میں نے لڑکی کے باپ سے اس کا ذکر کیا تھا مگر اس نے لڑکی دکھا نے سے انکار کر دیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس نے جو کچھ کیا ہے غلط کیا ہے۔شادی کے متعلق اگر سب باتیںطے ہو گئی ہیں تو تم لڑکی کو دیکھ سکتے ہو۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۵۹ ؁ء صفحہ ۳ نمبر ۱۵۴)
    رضامندی
    عورت کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں ہو سکتی ۔اسلام سے پہلے یہ رواج تھا کہ والدین جہاں چاہتے عورت کی شادی کر دیتے اس کی مرضی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا تھااور عورت کو ان کی بات ماننی پڑتی تھی۔مسلمانوں نے بھی اس زمانے میں یہ حق تلف کر دیا ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اسلامی تعلیم ناقص ہے ۔اسلام نے یہاں تک کہا ہے کہ عورت کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شادی ہو تو وہ باطل ہے۔
    (تفسیر کبیر۔ سور ۃ الکوثر صفحہ ۴۲۰)
    لڑکی کی اجازت کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہو سکتا ۔اگر لڑکی انکا ر کر دے تو کوئی نکاح نہیں۔مرد اگر ولیمہ کی دعوت کرے تو کھانی جائز ہے اور اگر لڑکی کی طرف سے ہو تو جائز نہیں۔
    (الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۱۳)
    لڑکی کے معاملے میں شریعت نے والدین کو ویٹو کا حق دیا ہے یعنی لڑکی اگر کہے فلاں جگہ شادی کرنا چاہتی ہوں،والدین مناسب نہ سمجھیں تو وہ انکار کر سکتے ہیں۔لیکن یہ محدود حق ہے یعنی دودفعہ کے لئے حق ہے۔اگر تیسری جگہ بھی انکار کریں تو لڑکی کا حق ہے کہ قضاء میں درخواست کرے کہ والدین اپنے فوائد یا اغراض کے لئے اس کی شادی میں روک بن رہے ہیںاس پر اگر قاضی دیکھے کہ یہ صحیح ہے تو لڑکی کو اختیار دے سکتا ہے کہ وہ شادی کر لے ۔پھر چاہے وہ اس پہلی جگہ ہی شادی کرے جہاں سے والدین نے اسے روکا تھا یہ جائز شادی ہو گی۔
    (الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۶ نمبر ۶۰)
    اسلام نے یہ حکم بھی دیا ہے ۔۔۔۔۔۔کہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کی نسبت تسلّی کر لیں۔عورت کے رشتہ دار بھی تسلی کر لیں کہ واقع میں مرد ایسے اخلاق کا ہے کہ اس سے رشتہ کرنا عورت کے لئے بھی اور آئندہ نسل کے لئے بھی مفید ہو گا ۔اور نکاح کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ مرد کی پسند ہو عورت کی منظوری ہواور عورت کے باپ یا بھائی یا جو خاندان کا بڑا مرد ہو اس کی منظوری ہو۔اور اگر کوئی مرد خاندان میں نہ ہو تو حاکم شہر اس امر کی تسلی کر ے کہ کسی عورت کو کوئی شخص دھوکہ دے کرتو شادی نہیں کرنے لگا۔عورت اور مرد میں اس وجہ سے فرق رکھا گیا ہے کہ مرد طبعاً ایسے امور میں حیا ء کم کرتا ہے اور خود دریافت کر لیتا ہے اورعورت شرم کرتی ہے اور اس کے احساسات تیز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ جلد دھوکہ میں آ جاتی ہے پس اس امر کے لئے اس کے خاندان کے بڑے مرد کی تحقیق اور منظوری یا ایسے کسی آدمی کی عدم موجودگی میںحاکم شہر کی منظوری ضروری رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    چونکہ اسلام میں پردے کا حکم ہے اس لئے نکاح کے ابتدائی امور طے ہو جانے اور دیگر امور میںتسلی ہو جانے پر مرد اور عورت کو آپس میں ایک دوسرے کو کھلے طور پر دیکھنے کی اجازت دی ہے تاکہ اگر شکل میں کوئی ایسا نقص ہو جو بعد میں محبت کے پیدا ہونے میں روک ہو تو اس کا علم مرد و عورت کو ہو جائے۔
    (احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ ۱۸۰)
    جہاں تک قاضی صاحب کے اس فیصلہ کا تعلق ہے کہ ایسی صور ت میں کہ لڑکی سے اجازت نہ لی ہونکاح ہر صورت میں ٹوٹا ہوا سمجھا جاتا ہے،میں اس سے متفق نہیں۔اگر یہ صورت ہو تو ہندوستان اور پنجاب کے قریباً تمام نکاح ٹوٹے ہوئے سمجھے جائیں گے اور سب اولادیں ولد الزنا سمجھی جائیں گی لیکن اس نکاح میں نئی بات پائی جاتی ہے کہ نہ صرف نکاح بلا اجازت ہو ابلکہ لڑکی نکاح کے بعد عدم رضامندی ظاہر کرتی رہی ہے اور اس کا بیان ہے کہ میں صرف اس لئے گئی کہ میرا باپ تو میری نہیں مانتاشاید میرا منسوب میری بات مان لے کہ جب میں اس نکاح پر رضامند ہی نہیںتو ہمارا نکاح باطل ہے گو اس کی توجیہ اور رنگ میں بھی کی جاسکتی ہے مگر چونکہ لڑکی کی رضامندی شروع سے ثابت نہیںہے اس لئے میں اس کے بیان کو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاتا اور مندرجہ ذیل فیصلہ کرتا ہوں۔
    ۱:۔ لڑکی کا نکا ح فسخ کیا جائے۔
    ۲:۔ لڑکے کے جتنے اخراجات ہوئے ہیں خواہ وہ کسی رنگ میں ہوئے ہیں اس کو لڑکی کے باپ سے دلوائے جائیں کیونکہ اس کے ساتھ دھوکہ بازی ہوئی۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۵۰۔دارالقضاء ربوہ)
    منگنی
    سوال: ہمارے ملک کا رواج ہے کہ جب باقاعدہ منگنی ہو جائے اور لڑکی کو زیور اور کپڑے پہنا دیے جائیںتو وہ نکاح کا قائم مقام سمجھی جاتی ہے۔اس واسطے اس لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح نہیں ہو سکتا؟
    جواب: فرمایا:۔ یہ کوئی دعویٰ نہیں،نہ منگنی کوئی شرعی بات ہے ۔جب والدین راضی اور لڑکی راضی ہے تو کسی تیسرے شخص کو بولنے کا حق نہیں۔
    (رجسٹر ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ،نظارت امور عامہ ہدایت نمبر 11/26.1.54)
    (خیار بلوغ کی صورت میں) اگر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا نکاح توڑ دیا جاوے تو ۔۔۔۔۔اس قدر جھگڑے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ابھی دونوں آپس میں ملے نہ تھے ۔اس وقت اگر باہمی تنازع پیدا ہو گیا تھاتو ان کو خوشی سے ان کا نکاح توڑ دینا چاہئے تھا۔کیونکہ ایسا نکاح درحقیقت ایک منگنی کا رنگ رکھتا ہے اور یہی فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مجھے زبانی پہنچا ہے۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۲۔دارالقضاء ربوہ)
    طریق نکاح
    نکاح کا طریق سادہ ہے نہ باجے نہ کچھ۔ایک نکاح خواں اور دو گواہ۔اگر نکاح خواں نہ ہو تو انسان گواہوں کی موجودگی میں اپنا نکاح خود پڑھ سکتا ہے یا لڑکی کا ولی پڑھ سکتا ہے۔نکاح کے بعد خرما یا کوئی اور چیز بانٹنا فرض نہیں،مستحب نہیں ،محض ایک پسندیدہ امر ہے اور سنت ثا بتہ ہے۔
    (الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۱ ؁ئ،خطبات محمود صفحہ ۳؍۸۶)
    (بعد نکاح )کچھ چھوہارے تقسیم کئے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ بھی نہیں لا سکتا تو نہ لائے۔اگر اپنے پاس کچھ نہ ہونے کی صورت میں چونّی یا دونّی کے بھی چھوہارے لاتا ہے تو وہ مُسرف ہے۔
    (الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۳ ؁ء ۔خطبات محمودصفحہ ۳؍ ۱۶۰)
    سوال: نکاح کے بعد برکت کے لئے دعا کرنا،اگر دلہا اور دلہن غیر احمدی ہوں تو کیا ناجائز ہے؟
    جواب: جائزہے بلکہ دعا غیر مسلم کے لئے بھی جائز ہے اور نکاح پر دعا تو حق انسانیت ہے۔
    ( الفضل ۳۰ اپریل ۱۹۵۱ ؁ئ)
    کفو
    کفو جو شریعت نے مقرر کی ہے وہ دینداری تقویٰ اور آپس کے دنیوی حالات کی مطابقت ہے ، جن کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے اور یہ تو بھائیوں بھائیوں میں بھی ہوتا ہے مثلا ایک بھائی مالدار ہے اور دوسرا غریب۔ایسی حالت میں مالدار خیال کرے گا کہ میری لڑکی جو آرام و آسائش میں پلی ہے وہاں جائے گی تو تکلیف اٹھائے گی اور آپس میں شکر رنجی رہے گی یا لڑکی لڑکے کی طبائع میں فرق ہوتا ہے۔دینداری کے لحاظ سے یا علم کے لحاظ سے اس کا بھی خیال نہ رکھا جائے تو نتیجہ خراب نکلتا ہے۔اس قسم کی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔باقی قومیت وغیرہ کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا کیونکہ سب وحدت پر قائم ہوتے ہیں اور ایک خدا کو مانتے ہیں اور اس وحدت کا ثبوت رسول کریم ﷺکے وقت بھی ملتا ہے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیںاور آپس میں رشتے ہوجاتے ہیں۔میرے نزدیک ایک وجہ مختلف جگہوں اور مختلف قوموں میں تھوڑے تھوڑے لوگوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق ملنے کی یہ بھی ہے کہ اس طرح قومیت وغیرہ کی بندشیں توڑی جائیںکیونکہ اگر ساری کی ساری قوم احمدی ہو جائے تو آپس میں رشتے کر سکتے ہیں۔
    (الفضل ۱۱ اکتوبر ۱۹۱۹ ؁ئ)
    ( خطبات محمود صفحہ ۳؍۴۴)
    ہماری غرض دین ہی ہو۔عزیزہ امۃ السلام میرے بھائی کی لڑکی ہے مگر میں اپنی لڑکی کے لئے بھی یہی پسند کروں گا کہ اگر دنیا میں کوئی دیندار نہ رہے اور چوہڑا مسلمان ہو کر خدا کا محبوب ہو تو میں اس کو سو میں سے سو درجے پسند کروں گا اور مطلقا ً پرواہ نہ کروں گا کہ میں بڑے خاندان سے ہوں اور علم والے خاندان سے تعلق رکھتا ہوںاور وہ ادنیٰ قوم سے ہے ۔میں صرف خدا کی یاد کی خوبی کو سب سے بڑی خوبی جانوں گا۔
    (الفضل ۶ جون ۱۹۲۴ ؁ئ۔خطبات محمود ۳؍۱۷۰)
    احمدی غیر احمدی کا نکاح اور کفو کا سوال
    تیسرا اہم مسئلہ جس پر میں آج کچھ بیان کرنا چا ہتا ہوںوہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نکاح کا سوال ہے اور اس کے ضمن میں کفو کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو شادیوں کے متعلق جو مشکلات پیش آتی ہیںمجھے پہلے بھی ان کا علم تھا لیکن اس نو ماہ کے عرصے میں تو بہت ہی مشکلات اور رکاوٹیں معلوم ہوئی ہیں اور لوگوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ہماری جماعت کو سخت تکلیف ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق یہ تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھے جائیںاور آپ نے یہ رجسٹر کسی شخص کی تحریک پر کھلوایا تھا۔اس نے عرض کیا تھا کہ حضور شادیوں میں سخت دقت ہوتی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ غیروں سے تعلق نہ پیدا کرو،اپنی جماعت متفرق ہے اب کریں تو کیا کریں؟ایک ایسا رجسٹر ہو جس میں سب ناکتخدا لڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوںتا رشتوں میں آسانی ہو۔حضور سے جب کوئی درخواست کرے تواس رجسٹر سے معلوم کر کے اس کا رشتہ کروا دیا کریںکیونکہ کوئی ایسا احمدی نہیں ہے جو آپ کی بات نہ مانتاہو۔بعض لوگ اپنی کوئی غرض درمیان میں رکھ کر کوئی بات پیش کیا کرتے ہیںاور ایسے لوگ آخر میں ضرور ابتلاء میں پڑتے ہیں۔اس شخص کی بھی نیت معلوم ہوتاہے درست نہ تھی۔انہی دنوں میں ایک دوست کو جو نہایت مخلص اور نیک تھے شادی کی ضرورت ہوئی ۔اسی شخص کی جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ رجسٹر بنایا جائے ایک لڑکی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دوست کو اس شخص کا نام بتایاکہ اس کے ہاں تحریک کرو۔لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذرکر کے رشتہ سے انکار کر دیا اور لڑکی کہیں غیر احمدیوں میں بیاہ دی۔جب حضرت صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ آج کے بعدمیں شادیوں کے معاملہ میں دخل نہیں دوں گا۔اور اس طرح یہ تجویز رہ گئی۔لیکن اگرا س وقت یہ بات چل جاتی تو آج احمدیوں کو وہ تکلیف نہ ہوتی جو اب ہو رہی ہے۔
    (برکات خلافت صفحہ ۷۲،۷۱)
    اپنی جماعت کے لئے ضروری اشتہار
    میں نے انتظام کیا ہے کہ آئندہ خاص میرے ہاتھ میں مستور اور مخفی طور پر ایک کتا ب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں۔اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبے میں ایسی شرائط کا لڑکا نہ پاویںجو اپنی جماعت کے لوگوں میں سے ہواور نیک چلن اور نیز ان کے اطمینان کے موافق ہو ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں توا س صورت میں ان پر لازم ہو گا کہ وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس جماعت میں سے تلاش کریں اور ہر ایک کو تسلّی رکھنی چاہئے کہ ہم والدین کے سچے ہمدرد اور غمخوار کی طرح تلاش کریں گے۔۔۔۔یہ کتاب پوشیدہ طور پر رکھی جائے گی۔۔۔۔۔اور کسی لڑکے یا لڑکی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک اس کی لیاقت اور نیک چلنی ثابت نہ ہو جائے۔اس لئے ہمارے مخلصوں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی فہرست اسماء بقیدعمر و قومیت بھیج دیں۔تا وہ کتاب میں درج ہو جائے ۔مندرجہ ذیل نمونہ کا لحاظ رہے۔
    نام دختر یا پسر۔ نام والد۔ نام شہر بقید محلہ و ضلع
    عمر دختر یا پسر۔
    (اشتہار ۷ جون ۱۸۹۸ ؁ء ۔تبلیغ رسالت صفحہ۴۵جلد ۷)
    غیر احمدیوں میں لڑکی کا رشتہ نہ کرو
    غیر احمدیوں میں لڑکیوں کے رشتہ نہ کرو۔جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقینا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔کیا ہے۔ کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔مگر تم احمدی کہلا کر ۔۔۔۔کو دے دیتے ہو۔کیا اس لئے دیتے ہو کہ وہ تمہاری قوم کا ہوتا ہے۔مگر جس دن سے تم احمدی ہو ئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی۔شناخت یا امتیاز کے لئے کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہوورنہ اب تمہاری قوم،تمہاری گوت،تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔پھر احمدیوں کو چھوڑکر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔مومن کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جب حق آجائے تو باطل کو چھوڑ دیتا ہے۔۔۔۔۔
    حضرت صاحب نے واضح طور پر فرمایاہے کہ غیر احمدیوں کولڑکی دینا گناہ ہے،ہاں لینا جائز ہے۔پس جب لڑکی دینا گناہ قرار دیتے ہیں تو پھر کس طرح دیتے ہو۔
    (ملائکۃ اللہ صفحہ ۴۶)
    ۲:۔
    چنانچہ ایک شخص فضل الرحمان ۔۔۔ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں ۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غیراحمدیوں کے ہاں اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔آپ کی وفات کے بعد جب اس نے رشتہ کر دیا تو حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے اس کو اپنی جماعت سے نکال دیا اور وہ وہاں کے احمدیوں کا امام تھا،اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی میں اسے داخل سلسلہ نہیں کیا اب میں نے اس کی توبہ قبول کرلی ہے۔
    (ذکر الٰہی صفحہ ۲۵۔۲۴)
    غیر احمدیوں کو لڑکی دینا
    ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدی کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے ۔آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھا ئے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔
    آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیااور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی با وجود یہ کہ وہ بار بارتوبہ کرتا رہا۔۔۔۔۔۔
    پس وہ لوگ جو ایسے ہیں وہ سن لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر بہت زور دیا ہے اس لئے اس پر ضرور عمل درآمد ہونا چاہئے۔میں کسی کو جماعت سے نکالنے کا عادی نہیں لیکن اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔ابھی چند ماہ ہوئے ایک شخص نے غیر احمدیوں میں اپنی لڑکی دی تھی میں نے اسے جماعت سے الگ کر دیا ۔بعد میں اس نے بہت توبہ کی اور معافی مانگی لیکن میں نے کہا کہ تمہارا اخلاص بعد از جنگ یاد آیا ہے اس لئے برکُلاہِ خود بایَد زد کے مطابق اپنے سر پر مارو۔
    (انوار خلافت صفحہ ۹۳ ۔۹۴،تقریر جلسہ سالانہ ۲۴، ۲۷،۲۸،۳۰ دسمبر ۱۹۱۵ ؁ء ۔ شائع اکتوبر ۱۹۱۶ ؁ئ)
    غیر احمدی کو لڑکی دینا
    پھر ایک بات غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کے متعلق ہے ۔اس کے متعلق جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ نہیں اور نہ ہی آپ سے اس کے متعلق مشورہ لیا گیا ۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ کہا تھا کہ میرے رشتہ دار کہتے ہیں کہ ایک لڑکی کا تم نے قادیان میں نکاح کر دیا ہے تو دوسری لڑکی ہمیں دے دو۔اگر میں نے نہ دی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا ہاں دے دو۔لیکن اس سے یہ کہاںثابت ہوا کہ آپ کو یہ بھی علم تھا کہ جس لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح ہونا ہے وہ غیراحمدی ہے۔بعد میں جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ صاحبہ کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو کہہ دیں کہ یہ نسبت انہوں نے کیوں کی ہے۔پھر فرمایا تم ابھی ان سے نہ کہنا میں حقیقۃ الوحی دو ں گا ۔وہ اس لڑکے کو پڑھنے کے لئے دی جائے اگر وہ اس کے بعد احمدی ہو جائے تو اس سے نکاح کیا جائے ورنہ نہیں۔مگر بعدمیں آپ کو یہ بات یاد نہ رہی۔۔۔۔۔
    لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس ایسی گواہیاں موجود ہیں جو اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیتی ہیںچنا نچہ ایک شخص فضل الرحمان نام ہیلان ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غیراحمدیوں کے ہاں اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔آپ کی وفات کے بعد جب اس نے رشتہ کر دیا تو حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے اس کو اپنی جماعت سے نکال دیا ۔
    (ذکر الٰہی صفحہ ۲۴ ،۲۵ ،شائع ۱۶ جولائی ۱۹۱۷ ؁ئ)
    سوال: ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ایک لڑکی دائمۃ المریض ہے۔باوجود تین سالہ تلاش کے اس کے رشتے کے لئے کوئی احمدی مائل نہیں ہو ا۔پس اس کا رشتہ غیر احمدی سے کرتے ہیں کہ لڑکی کے رشتے کی نسبت اس کے والدین کی حالت فَمَنِ اضْطُرَّ کے ماتحت ہے۔
    جواب: خلیفۃ المسیح الثانی نے جواب میں لکھایا کہ مَنِ اضْطُرَّ تو صرف کھا نے کی چیزوں کے متعلق ہے۔
    (الفضل ۹ مئی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۷)
    سوال: کیا جو شخص احمدی کہلاتا ہے ،چندہ بھی دیتا ہے،تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم صریح کے خلاف کہ غیر احمدی کو اپنی لڑکی نکاح میں دینا جائز نہیں اپنی لڑکی کا نکاح کر دیتا ہے۔وہ ایک ہی حکم توڑنے سے مسیح موعود کے منکروں سے ہو سکتا ہے؟
    جواب: جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دے دیتا ہے میرے نزدیک وہ احمدی نہیں ۔کوئی شخص کسی کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔اگر لڑکی خود ہی غیر احمدی ہے تو یہ الگ امر ہے۔یہاں اس بات کا سوال نہیں کہ ایسے آدمی نے شریعت کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اس نے کونسا حکم توڑا ہے۔ایسا حکم توڑنے والے کے دل میں ایمان کی کوئی قدر نہیں۔
    سوال: جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھائے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جا سکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔
    سوال: کیا ایسا شخص جس نے غیراحمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کر سکتا ہے؟
    جواب: ایسی شادی میں شریک ہو نا بھی جائز نہیں۔غیر احمدیوں کے رشتہ میں کسی مذہبی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہوتی۔جہاں چاہے کرے۔لیکن جو احمدی ہو کر اپنی لڑکی کی شادی کسی غیر احمدی سے کرتا ہے وہ شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔پس ایسی شادی میں شرکت ناجائز ہے۔
    (الفضل ۲۳ مئی ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۸ نمبر ۸۸)
    سوال: ایک احمدی اپنے رشتہ کی خاطر غیر احمدی بن گیا ہے اب اس کی شادی ہے کیا احمدی اس میں شریک ہو سکتے ہیں
    جواب: فرمایا:۔ احمدی شامل نہ ہوں۔
    (الفضل ۱۹ اگست ۱۹۱۶ ؁ئ)
    سوال: کیا غیر مبایعین سے رشتہ کر نا جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: جائز ہے مگر اسی طرح جائز ہے جیسے ایک بے نماز سے جائز ہے ۔کوئی مومن اپنی لڑکی کا ایما ن خطرہ میں نہیں ڈال سکتا جب تک وہ خود کمزور ایمان کا نہ ہو۔
    (الفضل ۲۲ مئی ۱۹۲۲ ؁ئ)

    یہ درست ہے کہ کسی شخص کے اپنے آپ کو احمدی کہنے پرہم اسے احمدی سمجھنے پر مجبور ہیں اور اگر وہ کہتا ہے کہ میں دو سال سے دلی طور پر احمدی ہوںتو ہم اسے سچا سمجھیں گے۔لیکن یہ معاملہ صرف ایمان تک محدود ہے ،معاملات میں یہ صورت نہیں ہوگی۔
    معاملات میں ہم ظاہر پر حکم صادر کریں گے کیونکہ ہم اس کے دل کی حالت کو دیکھ نہیں سکتے پس جن لوگوں نے اسے احمدی قرار دے کر رشتہ دلانے کے حق میں رائے دی غلطی کی ہے۔یہ کہنا کہ وہ گزشتہ دو سال کا چندہ دینے کے لئے تیار ہے معاملہ کو اور مشکوک کر دیتا ہے کیونکہ اس طرح تو نہایت آسانی سے ہر شخص پچھلے چند سالوں کا چندہ دے کر رشتہ حاصل کر سکتا ہے ۔
    (الفضل ۱۸ جون ؁ ۴۷۔۶۔۱۳)
    سوال: بعض غیر احمدی احمدیوں سے رشتہ لینے کی خاطر احمدی بن جاتے ہیں ان کی نسبت کیا ارشاد ہے؟
    جواب: حضور نے لکھوایا کہ میرے نزدیک جو شخص کسی احمدی سے رشتہ طلب کرتا ہو اور یہ سن کر کہ غیر احمدی کو احمدی لڑکی نہیں دیتے وہ احمدی ہو جائے تو ایسے آدمی کو ہرگز لڑکی نہیں دینی چاہئے۔اگر وہ دین کے لئے احمدی ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو لڑکی دے گا۔
    (الفضل ۱۹ جون ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۵۵)
    رضاعت
    رضیعا ًکے معنے گودی کے بچے کے ہونگے نہ کہ دودھ پینے والے بچے کے ۔اور اگر دودھ پینے والے بچے کے بھی معنے لئے جائیں تب بھی کوئی اعتراض کی بات نہیں ۔میں نے خود آٹھ آٹھ سال کے بچوں کو اپنی آنکھوں سے دودھ پیتے دیکھا ہے۔کیا آپ کا یہ خیال کہ اسلامی شریعت ہمیشہ سے چلی آتی ہے اورجو قوانین ہمارے لئے ہیں وہی قوانین پہلی امتوں میں بھی جاری تھے۔ایسا نہیں بلکہ ان کے لئے اور قوانین تھے اور ہمارے لئے اور۔
    رضاعت کی دو سالہ مدت قرآن نے مقرر کی ہے۔پہلی شریعتوں نے مقرر نہیں کی ۔میں نے آٹھ سالہ بچوں کودودھ پیتے دیکھنے کی جو بات کہی ہے اس کی ایک مثال بھی میں دے دیتاہوں ۔امۃ الحئی مرحومہ سات آٹھ سال کی عمر تک اپنی والدہ کا دودھ پیتی رہیں تھیںاور جو بچہ بھی پیدا ہوتا اس کے ساتھ شامل ہو کر دودھ پینے لگ جاتیں۔آخر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ نے ڈانٹا کہ یہ خلاف اسلام طریق ہے اسے چھوڑو تب انہوں نے دودھ پینا چھوڑا۔
    (الفضل ۷ مئی ۱۹۶۰ ؁ئ)
    رضاعت
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر منظور محمد صاحب کی لڑکی حامدہ خاتون کا نکاح حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے لڑکے میاں عبد الحی صاحب مرحوم سے کر دیا۔نکاح کے بعد میاں عبد الحی صاحب کی والدہ کو یاد آگیا اور انہوں نے کہا کہ ’’لڑکی نے میرا دودھ پیا ہوا ہے۔‘‘
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جب یہ بات پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اس امر کے لئے’’خمس رضاعات‘‘ کی شرط ہے یعنی یہ ضروری ہے کہ بچے نے پانچ دفعہ دودھ پیا ہو۔یہ نہیں کہ ایک ہی دفعہ اس نے پانچ گھونٹ دودھ پیا ہو بلکہ الگ الگ وقتوں میں پانچ دفعہ دودھ پینا ضروری ہے مگر حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فقہاء کے قول کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایک دفعہ بھی بچہ پانچ گھونٹ پی لیتا ہے تو اس پر اس مسئلہ کا اطلاق ہو جاتا ہے۔غرض ’’خمس رضاعات‘‘ کے ایک معنی وہ تھے جو حضرت خلیفہ اوّل ؓ سمجھتے تھے۔اور چونکہ یہ شادی کا معاملہ تھا اور حضرت خلیفہ اوّل ؓ فقہاء کی تشریح کو زیادہ قابل قبول سمجھتے تھے اس لئے آپ کو اس کا صدمہ ہواکہ آپ کو اسہال شروع ہو گئے ۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ نکاح توڑ دیا جائے یہ ایک فقہی مسئلہ ہے اور ضروری نہیں کہ میری تشریح کو ہی درست سمجھا جائے۔
    (الفضل ۳ ستمبر ۱۹۶۱ ؁ئ)
    ولی نکاح
    بعض لوگ عورتوں سے بغیر ان کے ماں باپ یا بھائیوں یا چچاؤں کی رضامندی کے محض عورت کی رضامندی دیکھ کر شادی کر لیتے ہیں اور اسے بالکل جائز سمجھتے ہیں ۔چونکہ عام طور پر زمینداروں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب لڑکی بالغ ہو جائے اور کسی جگہ وہ اپنی رضامندی کا اظہار کر دے تو ماں باپ یا بھائیوں یا چچوں کی رضامندی کی ضرورت نہیں رہتی۔اس لئے وہ ایسی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور انہیں اپنے گھروں میں بسا لیتے ہیں حالانکہ اسلام نے ایسے نکاحوں کی ہرگز اجازت نہیں دی۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ’’لا نِکاحَ اِلَّا بِوَلیٍّ‘‘ ولی کی رضامندی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہو سکتا۔
    اوّل ولی جو شریعت نے مقرر کیا وہ باپ ہے۔باپ نہ ہو تو پھر بھائی ولی ہیں اور اگر بھائی نہ ہوں توچچے ولی ہیں ۔غرض قریب اور بعید کے جدی رشتہ دار ایک دوسرے کے بعد ولی ہوتے چلے جاتے ہیں اور اگر کسی لڑکی کا باپ موجود ہو تو اس کی اجا زت کے بغیر سوائے مذہبی تبائن اور پھر قضاء کی اجازت کے بغیر ہرگز نکاح جائز نہیں۔
    اگر باپ نہ ہوں تو بھائیوں کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔اگر بھائی نہ ہوںتو چچوں کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔ہاں اگر کوئی بھی جدی رشتہ دار موجود نہ ہو تو قاضی یا عدالت کی اجازت سے اس لڑکی کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن اس کے بغیر جو نکاح ہو اگر مسلمانوں نے کیا ہو تو اس کا نام اسلام نے نکاح نہیں بلکہ ادھالارکھا ہے۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۳۷ ؁ء جلد ۲۵ نمبر ۱۵۱)
    ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں
    جو لڑکی اپنے ولی کی رضامندی کے بغیر کسی خاص شخص پر نظر رکھ کر اس سے شادی کر لیتی ہے اس کا نام ادھالا ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر کوئی غیر احمدی لڑکی اس طرح احمدیوں کے پاس آجائے اور وہ کسی خاص آدمی کو مدنظر رکھ کر اس سے شادی کرنے کے لئے آئے تو ہماری جماعت کے دوستوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایسی شادی ہر گز نہ ہو۔تا ہماری جماعت میں ادھالے کی رسم جاری نہ ہو۔میں نے یہ مسئلہ اس لئے بتایا ہے تا وہ لوگ جو اس فعل کے ذمہ دار ہیں اور زمیندار بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ جہاں جہاں ایسے واقعات ہوں ان لوگوں سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں جو ولی کی رضامندی کے بغیر کسی سے نکاح کر لیں ،بلکہ ہماری ہمدردی ان لوگوں سے ہوگی جن کی لڑکیوں سے ایسا سلوک کیا گیا ہے۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۳۷؁ئ)
    ہماری شریعت میں ولی مرد کو ہی ٹھہرایا گیا ہے چنا نچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں ایک عورت نکاح کرانے کے لئے آئی۔تو آپ نے اس کے لڑکے کو جس کی عمر غالباً دس گیارہ سال تھی ولی بنایا۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ولی مرد ہی ہوتے ہیں۔اس عورت کا چونکہ اور کوئی مرد ولی نہیں تھا اس لئے رسول کریم ﷺنے اس کے لڑکے سے دریافت کرنا ضروری سمجھا۔
    (خطبات نکاح حصہ دوئم صفحہ ۲۸۱ مرتبہ۔۔۔۔۔)
    ولایت نکاح
    ولایت کا پہلا حق باپ کو ہے اگر وہ نہ ہو تو بھائی ولی ہوتے ہیں اگر وہ بھی نہ ہوں تو پھر عورت کے بھائی ولی ہوتے ہیںاور اگر کوئی مرد ولی نہ ہو تو حکومت ولی ہوتی ہے خواہ وہ حکومت روحانی ہو یا جسمانی۔البتہ حکومت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرے۔ہمارے پاس اگر ایسے رشتے آئیں توہم لڑکی کی ماں سے مشورہ کرنے کے بعد ہی رشتہ کرتے ہیںاور بسا اوقات اس کی مرضی ہی مقدم رکھی جاتی ہے۔
    مجھے تو یاد نہیں کہ اس قسم کا واقعہ ہوا ہو اگر ہوا ہو تو اس قدر کم کہ وہ اب یاد بھی نہیںرہا۔بالعموم ماں کی مرضی دیکھی جاتی ہے۔البتہ وکالت اور ولایت کوئی عورت نہیں کر سکتی تو ایسے حالات میں کہ لڑکی کا کوئی ولی نہ ہو خلیفہ یا اس کا کوئی نمائندہ اس کا ولی ہوگا۔
    (الفضل ۲۵ جون ۱۹۳۸؁ئ۔خطبات محمود صفحہ۳؍۴۴۹)
    ولایت
    نکاحوں کے بارے میں ہمارے ملک میں ایک غلطی ہو رہی ہے جہاں مرد ولی نہیں ہوتے وہاں عورتوں کو ٹھہرا دیا جاتا ہے۔چنانچہ یہی فارم جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے اس میں بھی اسی قسم کی غلطی کی گئی ہے یعنی لڑکی کی والدہ ولی ہے گو یہ صرف ایک اصطلاحی غلطی ہے کیونکہ لڑکی کی والدہ نے مجھ سے دریافت کر لیا ہے اور میرے مشورہ سے اس نے یہ کا م کیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ میرے کہنے پر اس نے یہ کیا ہے ۔صرف اصطلاح کے طور پر والدہ ولی بنی ہے مگربہرحال ہماری شریعت میں ولی مرد کو ہی ٹھہرایا گیا ہے۔چنانچہ حدیثوں میںآتا ہے رسول کریم ﷺکی خدمت میں ایک عورت نکاح کرانے کے لئے آئی تو آپ نے اس کے لڑکے کو جس کی عمر غالباً دس گیارہ سال تھی ولی بنایاجس سے ثابت ہو تا ہے کہ ولی مرد ہی ہوتے ہیں۔
    شریعت اسلامیہ کا قاعدہ ہے کہ جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو اس کی ولایت حکومت کے ذمہ ہوتی ہے۔حکومت خواہ سیا سی ہو خواہ دینی اس کا فرض ہے کہ وہ اس لڑکی کا جس کا کوئی مرد ولی نہیں ولی بنے ہاں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔دیگر رشتہ داروں سے بھی مشورہ کرے مگرآخری فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے اور اس کا حق ہے کہ جہاں اس کی والدہ یا دیگر رشتہ دار پسند کرتے ہیںاگر اسے اس میں کوئی غلطی نظر آئے یا لڑکے میں کسی قسم کا عیب دیکھے تو انکار کر دے اور ان کے مشورہ کو ردّکر دے۔
    (الفضل ۲۵ جون ۱۹۳۸ ؁ء ۔خطبات محمود ۳؍۴۴۷)
    بغیر ولی کی وساطت کے نکاح
    سوال: کیا عورت خود بخود جس سے چاہے بغیر ولی کی وساطت کے اپنا نکاح کر سکتی ہے؟
    جواب: ولی کا ہونا بہر حال ضروری ہے اور ولی نہ مانیں تو حکومت کی معرفت نکاح کرلے۔اس جگہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا عورت کے ولی کسی حد تک بھی عورت کو روک سکتے ہیں یا کسی مرحلہ پر بھی انہیں یہ حق حاصل نہیں۔اس کے متعلق امام مالکؒاور امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ ایک دو موقعوں پر تو اولیا ء روک ڈال سکتے ہیں لیکن اگر وہ انکار ہی کرتے چلے جائیںاور کسی سے بھی اس کی شادی نہ ہونے دیں تو یہ ان کے لئے جائز نہیں ہوگا۔گویا ایک دو خواہش مندوں سے روکنا تو احتیاط میں شامل سمجھا جائے گا۔لیکن ان کو اتنا وسیع اختیار نہیں ہوگا کہ جہاں اور جب وہ عورت نکاح کرنا چاہے اسے روک دیں۔
    ۲: بعض کہتے ہیں کہ اگر بڑا ولی اجازت نہ دے تو دوسرے ولی کے ذریعے وہ اپنا نکاح کرا سکتی ہے۔
    ۳: بعض کہتے ہیں کہ بلا وجہ جائز ولیوں یا سلطان کے نکاح جائز نہیںاور یہی درست ہے۔ہاں اگر ولی کسی صورت میں بھی رضامند نہ ہوں تو وہ حاکم وقت اور قاضی کے ذریعہ کسی دوسری جگہ جہاں وہ اجازت دے نکاح کرا سکتی ہے یا قاضی کی معرفت اولیاء پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ روکیں نہ ڈالیں۔
    (تفسیر کبیر،تفسیر سورۃبقرۃ صفحہ ۵۲۵ زیر آیت فَلا تَعضُلُوھُنَّ اَن یَّنکِحنَ۔۔۔۔نمبر ۲۳۳)
    مہر
    مہر ایک معین رقم کا نام ہے جس کا شادی کے وقت مرد کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ادا کرے گا اور مسلمانوں کونصیحت کی گئی ہے کہ حتی الوسع مہر مقرر کر کے شادی کیا کریںاور اگر کسی وجہ سے مہر مقرر نہ ہو سکے تو شریعت اسلام کی رو سے جو مہر اس مرد اور عورت کے رشتہ داروں میں رائج ہے اسی کے مطابق مہر عورت کو دلوایا جائے گا۔
    (الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۱۳ ؁ء جلد ۱ نمبر ۲۸)
    ۲:۔
    سوال: عورتوں کے مہر مقرر کرنے کی کیا فلاسفی ہے؟
    جواب: فرمایا: ۔مہر کی فلاسفی یہ ہے کہ عورت کے لئے جائیداد مقرر ہو جس پر اس کا تصرف ہو ۔اس کی کئی ضروریات ہوتی ہیںجن کو مرد غیر ضروری سمجھتے ہیں مگر اس کے نزدیک وہ اہم ہوتی ہیں اور بعض باتیں مرد سے بیان بھی نہیں کر سکتی۔شریعت نے اس کی ضروریات کو تسلیم کیا ہے اور اس کے لئے مستقل جائیداد کا انتظام کیا ہے اور مہر مقرر کر کے عورت کا حق ثابت کر دیا اور اس طرح اسلام نے تمدن کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کیا۔
    ولایت میں عورت کی جائیداد نہیں ہوتی مگر جو کچھ وہ قرض کپڑوں وغیرہ کے لئے اٹھائے وہ مرد کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
    سوال ہوا کہ حضرت عمر ؓ نے کیو ں زیادہ مہر سے روکا تھا۔فرمایا:۔ اس سے کہ لوگوں نے محض نمود و نمائش کے لئے بڑا مہر باندھنا شروع کر دیا تھا۔ورنہ خود انہوں نے ام کلثوم بنت حضرت علی ؓ کا مہر چالیس ہزار باندھا۔اور وہ پہلے ادا کر دیا تھا۔
    (الفضل ۵ فروری ۱۹۲۴ ؁ء جلد ۱۱ نمبر ۶۱)
    نما ئشی مہر
    یاد رکھیں کہ مہر دینے کے لئے ہوتا ہے۔اسلام اس قسم کی نمائش کو جو دھوکا کا موجب ہو ہرگز جائز نہیں رکھتا۔پس جو لوگ صرف دوسروں کو دکھانے کے لئے بڑے بڑے مہر باندھتے ہیں اور ادا نہیں کرتے وہ گنہگار ہیں۔اور جو اپنی حیثیت سے کم باندھتے ہیں وہ بھی گنہگار ہیں ۔صحابہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی ادا کر دیتے تھے پس ایسا ہی کرنا چاہئے۔ہاں اگر کوئی ایک دفعہ سارا نہ ادا کرسکے تو کچھ مدت میں ادا کردے لیکن ادا ضرور کرے۔
    (الفضل ۵ جنوری ۱۹۱۷ ؁ء ۔بد رسوم کے خلاف جہاد)
    شرعی مہر
    نکاح آرام ،راحت ،سکینت اور تقویٰ اللہ کے حصول کے لئے کیا جاتاہے مگر آج کل مسلمانوں نے رسومات اور بدعات سے اسے دکھ کا موجب بنا لیا ہے۔بڑے بڑے امراء ۳۲ روپے مہر مقرر کرتے ہیںاوراس کا نام شرعی مہر رکھتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لئے غیر شرعی ہے اور غرباء کئی کئی ہزار مقرر کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لئے گناہ ہے۔
    (الفضل ۱۶ مئی ۱۹۱۶ ؁ء ۔بد رسوم کے خلاف جہاد شائع کردہ نظارت اصلاح و ارشاد ربوہ)
    مہر اپنی حیثیت سے بڑھ کر مقرر نہیں کرنا چاہئے
    ایک قضاء کی اپیل میں جو بغرض فیصلہ آخر حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی کے حضور پیش ہوئی۔
    ایک عورت کی طرف سے پانچ صد روپے مہر کا دعویٰ تھااور خاوند کی طرف سے یہ جواب تھا کہ اس قدر رقم مہر اس کی حیثیت سے بہت زیادہ ہے۔اس کو کم کیا جائے اور جو بھی دلایا جائے اس کی ادائیگی با اقساط ہو۔
    حضور نے حسب ذیل فیصلہ فرمایا:۔
    میری رائے یہی ہے کہ مدعا علیہ کی حیثیت پانچ صد روپیہ یک مشت ادا کرنے کی ہر گز نہیں۔لیکن چونکہ شریعت کے منشاء کے خلاف ہماری جماعت کے بعض افراد بھی بڑے بڑے مہر باندھنے پر اصرار کرتے چلے جاتے ہیںاور جو شریعت کا منشاء ہے کہ مہر یکمشت اور عند الطلب ادا ہونا چاہئے اس صورت میں پورا نہیں ہو سکتا ۔اس لئے بطور سزا کے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر مدعیہ اپنے خاوند کے گھر میںآجائے تو خاوند ایک ماہ کے اندر قادیان کے دفتر امور عامہ کی معرفت کل زر مہرمبلغ پانچ سو روپیہ اس کو ادا کردے۔بصورت عدم تعمیل امور عامہ کو مناسب تعزیری کاروائی کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
    اس فیصلہ کی ایک نقل امور عامہ کو بھجوائی جائے۔
    (الفضل ۴ مئی ۱۹۴۰ ؁ء جلد ۲۸ نمبر ۱۰۱)
    ۲:۔
    لوگ مہر یا تو ۳۲ روپے مقرر کرتے ہیں اور اسے مہر شرعی کہا جاتا ہے یا تین من سونا اور اتنے من چاندی اور اتنے گاؤں۔یہ دونوں فضول باتیں ہیں ۔مہر طرفین کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے۔
    (الفضل ۲ فروری ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۹۹)
    مہر کی مقدار
    میں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال کی آمد کی ہے۔یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو میں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اوریہ مشورہ میرا اس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔اس بناء پر میر اخیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورے کرتے ہوئے مخصوص کر دینامعمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی بڑی قربانی ہے کہ جس کے بدلہ میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حد ہے۔
    (الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۴۰ ؁ئ)
    مہر طرفین کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے
    اسی طرح مہر ہے۔لوگ اب اپنی حیثیت سے بہت بڑھ چڑھ کر مہر باندھتے ہیںبلکہ ہمارے ملک میں تو لاکھوں تک بھی مہر باندھے جاتے ہیں۔مگر وہ مہر صرف باندھے ہی جاتے ہیں ان کے اد اکرنے کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔اس وقت جس نوجوان کا نکاح ہے ان کے والد پیر اکبر علی صاحب کا نکاح بھی میں نے ہی پڑھاتھا۔اس میں مہر دس ہزار روپیہ تھا۔میں جب نکاح پڑھنے لگا تو میں نے پیر صاحب سے کہا کہ اگر یہ مہر دینے کی نیت ہے تو اتنا مہر باندھیں ورنہ کم کر دیں۔اس پر وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضور اب میں نیت کرتا ہوں کہ یہ مہر ضرو ر ادا کردوں گا۔شاید خدا نے ان کی اس وقت کی نیت اور نیک ارادہ کرنے کی وجہ سے بعد میں ایسے سامان پیدا کر دیے کہ انہوں نے دس ہزار روپیہ مہر ادا کر دیا ۔مگر لوگ تو ایسی حالت میں نکاح باندھتے ہیں کہ وہ خود کنگال ہوتے ہیں اور گھر میں کھانے تک کو کچھ نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ نکاح تک کے دو جوڑے بھی بنئے سے قرض لے کر لاتے ہیںمگر مہر دیکھو تو کیا ہوگا تین گاؤں۔ایک ہاتھی۔اتنے گھوڑے اور اتنے روپے وغیرہ۔۔۔۔۔۔
    درحقیقت عورت کا مہر اس لئے رکھا گیا ہے کہ بعض ضروریات تو خاوند پوری کر دیتا ہے لیکن بعض ان سے بھی زائد ضرورتیں ہوتی ہیںجن کو عورت اپنے خاوند پر ظاہر نہیں کر سکتی پس وہ اپنے اس حق سے ایسی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔اس لئے اسلام نے مہر کے ذریعہ عورت کا حق مقرر کیا ہے اور وہ خاوند کی حیثیت کے مطابق رکھا ہے مگر لوگ اتنا مہر باندھتے ہیںکہ بعض اوقات خاوند کی ساری کی ساری جائیداد دے کر بھی وہ مہر پورا نہیں ہوتا اور اس طرح مقدمات ہوتے ہیں اور اب تو عدالتیں بھی ایسے دعووں میں نصف مہر عورت کو دلا دیتی ہیں اور بعض مجسٹریٹ اتنے بڑے بڑے مہروں کو ظالمانہ فعل کہہ دیتے ہیں اور بعض دفعہ مرد کی جائیداد سے دلا بھی دیتے ہیں۔
    (الفضل ۲۱ اگست ۱۹۶۰ ؁ء ۔خطبات محمودجلد ۳ صفحہ ۴۷۴،۴۷۳)
    مہر مرد کے ذمہ عورت کا قرض ہے جس کا ادا کرنا ضروری ہے
    مہر حیثیت سے کم باندھنے والے گنہگار ہیں
    کسی صاحب نے ایک سوال پوچھا ہے کہ عورتوں کا جو مہر باندھا جاتا ہے وہ صرف دکھانے کے لئے ہی ہوتا ہے یا اس کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔وہ یاد رکھیںکہ مہر دینے کے لئے ہوتاہے۔اسلام اس قسم کی نمائش کو جو دھوکہ کا موجب ہو ہر گز جائز نہیں رکھتا۔پس جو لوگ صرف دوسروں کو دکھانے کے لئے بڑے بڑے مہر باندھتے ہیں اور ادا نہیں کرتے وہ گنہگار ہیں اور جو اپنی حیثیت سے کم باندھتے ہیں وہ بھی گنہگار ہیں۔صحابہ ؓ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی ادا کر دیتے تھے۔پس ایسا ہی کرنا چاہئے ۔ہاں اگر کوئی ایک دفعہ سارا نہ ادا کر سکے تو کچھ مدّت میں ادا کردے۔لیکن ادا ضرور کرے۔معجل اور غیر معجل کے الفاظ بعد کی ایجاد ہیں۔شریعت اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔پس جہاں تک ہو سکے پہلے ادا کرنا چاہئے ورنہ آہستہ آہستہ ۔یہ ایک قرضہ ہے جو عورت کی طرف سے مرد پر ہے ۔اس کا ادا کرنا بہت ضرور ی ہے۔
    (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۸ ؁ء جلد ۵ نمبر۵۷ ۔خطبات محمود ۳؍۲۸)
    مہر۔ عورتوں کے حقوق
    شادی کے ساتھ ہی شریعت اسلام نے عورت کے لئے علیحدہ جائیداد کا انتظام کیا ہے اور اس کو شادی کا ضروری جزو قرار دیا ہے۔اسے اسلامی اصطلاح میں مہر کہتے ہیں ۔اس کی غرض یہ ہے کہ عورت کی ایک علیحدہ جائیداد بھی رہے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو قائم رکھ سکے اور اپنے طور پر صدقہ دے سکے یا صلہ رحمی کر سکے۔گویا مہر کے ذریعہ پہلے دن سے ہی مرد سے یہ اقرار کرا لیا جاتا ہے کہ عورت اس امر کی حق دار ہے کہ اپنی الگ جائیداد بنائے اور خاوند کو اس کے مال پر کوئی تصرف نہیں ہوگا۔پھر عورت کا یہ حق مقرر کیا ہے کہ خاوند عورت کو بلا کسی کھلی کھلی بدی کے سزا نہیں دے سکتا اور اگر سزا دینی ہو تو اس کے لئے پہلے ضروری ہو گا کہ محلہ کے چار واقف مرد و عورت کو گواہ بنا کر ان سے شہادت لے کہ عورت واقعہ میں خلاف اخلاق افعال کی مرتکب ہوئی ہے اس صورت میں بے شک سزا دے سکتا ہے مگر وہ سزا تدریجی ہو گی۔
    چنانچہ فرمایا وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ۔۔۔۔الآیۃ (سورۃ نساء رکوع۶)یعنی پہلے وعظ ۔اگر وہ اس سے متاثر نہ ہو تو کچھ عرصہ کے لئے اس سے علیحدہ دوسرے کمرے میں سونا اگر اس کا اثر بھی عورت پر نہ ہوتو گواہوں کی گواہی کے بعد بدنی سزا کا دینا جس کے لئے شرط ہے کہ ہڈی پر چوٹ نہ لگے اور نہ اس مار کا نشان پڑے ۔(بخاری کتا ب النکاح)
    اور یہ بھی شرط ہے کہ یہ سزا صرف فحش کی وجہ سے دی جاتی ہے نہ کہ گھر کے کام وغیرہ کے نقصان کی وجہ سے ۔قطع تعلق کی صورت میں حکم ہے کہ وہ چار ماہ سے زیادہ کا نہیں ہو سکتا۔اگر چار ماہ سے زیادہ کوئی خاوند اپنی بیوی سے الگ رہے تو اسے قانون مجبور کرے گا کہ عورت کے حقوق ادا کرے اور خرچ کی ادائیگی سے تو وہ ایک دن کے لئے بھی انکا ر نہیں کر سکتا۔مرد پر فرض ہے کہ وہ عورت کے کھانے پینے پہننے اور مکان کی ضروریات کو مہیا کرے خواہ عور ت مالدار اور مرد غریب ہی کیوں نہ ہو۔
    (احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ ۱۸۰۔۱۸۱)
    مہر کی ادائیگی سے قبل مہر کی معافی
    عورت کو مہر ادا کئے جانے سے پہلے معافی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔وہ مال اس کا حق ہے اس کو پہلے وہ مال ملنا چاہئے پھر اگر وہ چاہے تو وہ واپس دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ ہے ۔آپ نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کے بیان کرنے پر کہ ان کی بیویوں نے مہر معاف کر دیا ہے فرمایا کہ پہلے ان کو مہر دے دو۔پھر وہ واپس دے دیں تو سمجھو کہ معاف کر دیا ہے۔جب انہوں نے روپیہ دیا تو بیویوں نے لے لیا اور کہا کہ اب تو ہم معاف نہیں کر تیں۔
    بعض فقہاء کا قول ہے کہ مہر دے کر فوراً بھی واپس ہو جائے تو جائز نہیں ۔کچھ مدت تک عورت کے پاس رہے تب واپس کرے تو جائز سمجھا جائے گا۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۱۱،۱۲۔دارلقضاء ربوہ)
    مہر معاف کرانا
    یوں تو عورت اپنے خاوندکو بھی مہر کا روپیہ دے سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہ خاوند مہر ادا کئے بغیر ہی لینے کا اقرار کرا لے۔اس طرح عورت سمجھتی ہے مہر پہلے کونسا مجھے ملا ہوا ہے ۔صر ف زبانی بات ہے اس کا معاف نہ کرنا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔اس لئے کہہ دیتی ہے میں نے معاف کیا ۔ورنہ اگر اسے دے دیا جائے اور وہ اس کے مصارف جانتی ہو تو پھر معاف کرا لینا اتنا آسان نہ ہو۔
    حضرت عمر ؓ اور دیگر ائمہ کبار اور بزرگوں کا فیصلہ تو یہ ہے کہ کم ازکم سال کے بعد عورت اپنامہر اپنے خاوند کو دے سکتی ہے یعنی مہر وصول کرنے کے بعدایک سال تک وہ اپنے پاس رکھے اور پھر اگر چاہے تو خاوند کو دیدے۔
    (مصباح ماہ جون ۱۹۴۱ ؁ئ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ ۱۵۹ ،ایڈیشن دوئم)
    مہر ضرور ادا کرنا چاہئے
    حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ میں السّابقون الاوّلون میں سے ہوئے ہیں ان کی دو بیویاں تھیں ۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مہر شرعی حکم ہے اور ضرور عورتوں کو دینا چاہئے ۔اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہو ا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کیا آپ نے ان کے ہاتھ پر رکھ کر معاف کرا یا تھا؟ کہنے لگے نہیں حضور یونہی کہا تھا اور انہوں نے معاف کر دیا ۔حضرت صاحب نے فرمایا پہلے آپ ان کی جھولی میں ڈالیں پھر ان سے معاف کرائیں۔(یہ بھی ادنیٰ درجہ ہے ۔اصل بات یہی ہے کہ مال عورت کے پاس کم از کم ایک سال رہنا چاہئے اور پھر اس عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرے تو درست ہے۔) ان کی بیویوں کا مہر پانچ پانچ سو روپیہ تھا ۔حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سو روپیہ ان کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے تم نے اپنا مہر مجھے معاف کیا ہوا ہے ۔سو اب مجھے یہ واپس دے دو۔ اس پر انہوں نے کہا اس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے اس وجہ سے کہہ دیا تھا کہ معاف کیا اب ہم نہیں دیں گے۔حکیم صاحب نے آ کر یہ واقعہ حضرت صاحب کو سنایا کہ میں نے اس خیال سے کہ روپیہ مجھے واپس مل جائے گا ایک ہزار روپیہ قرض لے کر مہر دیا تھا مگر روپیہ لے کر انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت صاحب یہ بات سن کر بہت ہنسے اور فرمانے لگے درست بات یہی ہے کہ پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور کچھ عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرنا چاہے تو کر دے ورنہ دیئے بغیر معاف کرانے کی صورت میں تو ’’مفت کرم داشتن‘‘ والی بات ہوتی ہے۔۔۔۔۔پس عورتوں سے معاف کرانے سے پہلے ان کو مہر دیا جانا ضروری ہے۔
    (مصباح جون ۱۹۴۱ ؁ئ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ۱۶۰ ،ایڈیشن دوم)
    ایک مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا :۔
    میں فیصلہ کرتا ہوں کہ مہر سالم پانچ سو روپیہ مدعیہ کو دلایا جائے کیونکہ شریعت کی رو سے وہ عورت کا حق ہے اور بسا اوقات اس کی معافی بھی قابل تسلیم نہیں کیونکہ اس کی ایک رنگ ماتحت حالت اس کی معافی کی وقعت کو اصول شرعیہ کی رو سے بہت کچھ گرا دیتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ جسے مدعی علیہ نے بہت کچھ کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اس بارہ میں بالکل صاف ہے ۔پس قبل از ادائیگی مہر معافی کوئی حقیقت نہیں رکھتی خصو صاً جبکہ ہمارے ملک میں عورتوں میں یہ عام خیال ہو کہ مہر صرف نام کا ہوتاہے بلکہ بعض اس کی وصولی کو ہتک خیال کرتی ہیں۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۱ صفحہ ۴۶۔دارالقضاء ربوہ)
    دونوں فریق پیش ہوئے ۔مدعیہ کے وکیل کا مطالبہ ہے کہ پورا مہر دیا جاوے۔مدعا علیہ کہتا ہے کہ بالکل نہ دیا جاوے۔مدعیہ کی طرف سے قدوری کا ایک حوالہ پیش کیا گیا ہے کہ عنین ہونے کی صورت میں جب اختلاف کیا جاوے تو مہر سارا دلایا جانا چاہئے۔مگر اس کے ساتھ فقہاء کی طرف سے دلیل نہیں دی گئی جس کا شرعی اصول پر جواز نہ کیا جاسکے۔ اس لئے فتویٰ کی حقیقت محض ایک رائے کی ہے۔اس سے زیادہ نہیں اور شریعت کی نص پر کسی انسان کی رائے کا اثر نہیں پڑ سکتا ۔اس لئے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑکی کو صرف نصف مہر دلایا جاوے کیونکہ جس بناء پر اس نے طلاق حاصل کی ہے وہ بتاتی ہے کہ خاوند کے ساتھ ا س کا تعلق مائل نہیں ہوا۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۴۹۔دارالقضاء ربوہ)
    میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ اگر عورت مرد پر عنین کا الزام لگائے تو مرد کا بھی حق ہے کہ وہ عورت کا معائنہ کروائے کہ وہ باکرہ ہے یا نہیں۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۵۲ ۔دارلقضاء ربوہ)
    عورت مہر کی رقم اپنے ماں باپ اور خاوند کو دے سکتی ہے
    اگر عورت کو مہر مل جائے اور اس پر چار پانچ سال ہو گئے ہوں یا کم از کم تک اس کے پاس روپیہ رہ چکا ہوتو پھر اگر وہ اسے اپنے خاوند یا ماں باپ کو دے دے تو میں کہوں گا درست ہے اور پسندیدہ۔اگر کسی عورت کامہر ایک ہزار ہو اور اسے خاوند ایک لاکھ اپنی طرف سے دے دے تو میں کہتا ہوںوہ عورت اگر گھر بار کی ضروریات اور حالات سے واقف ہونے کے بعد ایک لاکھ ایک ہزار بھی ماں باپ کو دے دے تو میں کہوں گا اس نے بہت اچھا کیا۔لیکن اگر ماں باپ شادی کے وقت ہی لیتے ہیں تو یہ بردہ فروشی ہے جو گناہ ہے۔لیکن جو عورت شادی کے بعد ماں باپ کی مدد کرے گی اور اپنی ضروریات کو سمجھتے ہوئے مہر کی رقم ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ماں باپ کو دے گی وہ خدا تعالیٰ کی مقبول ہوگی۔رسول کریمﷺ کی بھی مقبول ہوگی اور وہ ماں باپ کی خدمت کا نیک نمونہ پیش کرے گی۔
    (مصباح جون ۱۹۴۱ ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ۱۶۱ ،ایڈیشن دوم)
    شادی بیاہ کی رسومات
    سوال: جو مستورات دلہن کو پہلی دفعہ دیکھنے آتی ہیں وہ کچھ نہ کچھ مٹھائی ضرور لایا کرتی ہیں۔خالی ہاتھ آنا پسند نہیں کرتیں۔آیا یہ جائز ہے یاکہ اس دستور کو روکا جائے؟
    جواب: ایک فضول رسم ہے ۔نہ حرام کہہ سکتے ہیں نہ حلال۔
    سوال: یہ عورتیں جب پہلی ملاقات کے لئے آتی ہیں تو واپس جاتے وقت ان کو کچھ پتاشے وغیرہ دیئے جایا کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: یہ بھی رسم ہے ۔ایسی سب باتیں حتی المقدور روکنی چاہئے۔
    سوال: دلہن کے گھر پہنچنے کی تقریب پر کیا کچھ مٹھائی احباب کو تقسیم کر دینی جائز ہے یا صرف وعوت ولیمہ پر کفایت کی جائے؟
    جواب: صرف ولیمہ۔
    سوال: دلہن کے آنے پر کیا مستورات جمع ہو کر کچھ شعر و اشعار وغیرہ پڑھ کر خوشی منا لیں؟
    جواب: بے شک۔بے حیائی کی بات نہ ہو۔
    سوال: لڑکے کے بیاہ پر ایک دستور ہوتا ہے کہ دلہاکی بہنیں ،پھوپھیاں یا تو دلہن کے لئے پارچات اور زیور بنا کر لاتی ہیںاور اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم کو اس سے بڑھ کر واپس دیا جائے یا یوں بھی رواج ہوتا ہے کہ ان کو ایسے موقعوں پر کچھ کپڑے اور زیورات بنوا دیے جائیں۔اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: یہ بھی بدعت ہے ۔روکنا مناسب ہے۔
    (الفضل مئی ۱۹۱۵ ؁ئ)

    اب مسلمانوں نے شریعت اسلام کو چھوڑ کر ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لی ہیں ۔بیاہ شادیوں میں انہی کی طرح تیل لگایا جاتا ہے۔گانا باندھا جاتا ہے اور اسی طرح کی کئی اور قبیح رسمیں عمل میں لائی جاتی ہیں۔
    ہمارے بعض احمدیوں میں بھی ابھی تک رسمیں چلی آتی ہیں۔مجھے بچپن سے رسموں سے نفرت ہے۔اس لئے دل جلتا ہے اور چاہتا ہوں کہ سختی سے روکوں لیکن رسول کریم ﷺ کی بات یاد آجاتی ہے کہ نئے نئے مسلمان ہونے والوں کا بھی ایک حد تک لحاظ رکھنا چاہئے۔
    (الفضل ۱۰ جولائی ۱۹۱۴ ؁ء جلد۲ نمبر ۱۰)
    سوال: تاریخ شادی سے چند دن پہلے لڑکے یا لڑکی کی مایاں کرتے ہیں ۔کیا یہ رسم جائز ہے؟
    جواب: اگر لڑکی کی مالش وغیرہ مراد ہے تو ہر ایک طریق جس سے اس کی شکل و صورت میں درستی ہو جائز ہے اور اگر بے وجہ کچھ کرنا بطور رسم مراد ہے تو درست نہیں۔
    (الفضل ۵ اگست ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۹)
    سوال ہوا بعض چوہڑے نکاح پڑھوانا چاہتے ہیں اور رواجاً کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں ایسے نکاح کا کیا حکم ہے؟
    فرمایا:۔ یہ سیاسی نکاح ہے۔حسب رواج ایجاب و قبول کر ا دیا کریں۔شرعی نکاح یہ نہیں ہے۔باقی کوشش کریں کہ ایسے لوگ مسلمان ہو جائیں ۔اگر مسلمان ان کو اپنے قبضہ نہ لیں گے تو عیسائی اور آریہ لے جائیں گے۔
    (الفضل ۴ مئی ۱۹۲۲ ؁ئ)
    نکاح شغار ۔وٹے سٹے کی شادی
    اسلام نے اس قسم کی شادی کو نا پسند کیا ہے کہ ایک شخص اپنی لڑکی دوسرے شخص کے لڑکے کو اس شرط پر دے کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی لڑکی اس کے لڑکے کو دے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر طرفین کے فیصلے الگ الگ اوقات میں ہوئے ہوںاور ایک دوسرے کو لڑکی دینے کی شرط پر نہ ہوئے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔
    (الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۱۸ ؁ئ۔ خطبات محمود جلد سوئم صفحہ ۲۶)
    ۲:۔
    ملک کا رواج ہے کہ لڑکی تب دیتے ہیں کہ جب کوئی ان کے لڑکے یا رشتہ دار کا بھی بندوبست کرے۔ایسا باپ جو لڑکی کے فوائد کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنے فوائد کو مقدم کر تا ہے وہ سخت برا کام کرتا ہے۔اس قسم کے رشتوں کو بٹّا کہتے ہیں اور یہ شریعت میں ناجائز ہے۔یہ جائز ہے کہ ایک جگہ کسی کی لڑکی بیاہی ہو اور پھر لڑکی والوں کے ہاں لڑکے والوں کی لڑکی کا رشتہ ہو جائے۔مگر مقرر کر کے رشتہ داری کر نا نا جائز ہے اور اپنے وکالت نامے کا غلط استعمال ہے اور ابھی تک ہماری جماعت میں ہے۔یہ بھی نہیں کیا گیا جب تک لوگ اس فرض کو نہ پہچانیں گے ہم اپنے وکالت نامے کو خراب نہیں کریں گے تب تک یہ رسم نہیںمٹ سکتی۔
    (الفضل ۲۲ جون ۱۹۲۲ ؁ء ۔خطبات محمود جلد ۳؍۱۲۷)
    جہیز اور مطالبہ جہیز
    شادی کے موقع پر بیوی کے لئے کپڑے وغیرہ دینا سنت ہے لیکن اگر کوئی لڑکی والا یہ شرط کرے کہ اتنے کپڑے دو اور اتنا زیور لاؤتو یہ بھی ناجائز ہے۔اس کے سوا اگر کوئی بھی شرط کی جائے تو وہ ناجا ئز ہے اور وہ نکاح نکاح نہیں رہے گابلکہ حرام ہو جائے گا۔کیونکہ شریعت نے نکاح کے لئے صرف مہر کو ہی ضرور ی قرار دیا ہے اور جو شخص اس کے علاوہ شرائط پیش کرتا ہے وہ گویا نئی شریعت بناتا ہے۔
    (الفضل ۱۲ جون ۱۹۶۰ ؁ء )
    جس چیز کو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ یہی ہے کہ مرد عورت کو کچھ دے ۔عورت اپنے ساتھ کچھ لائے یہ ضروری نہیں ہے۔اور اگر اس کے لئے کوئی مجبور کرتاہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے ۔ہاں اگر اس کے والدین خوشی سے کچھ دیتے ہیںتو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں۔
    (الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۳۰ ؁ئ)
    جہیز اور زیور کا مطالبہ اور اس کی نمائش
    نکاح کے لئے کسی روپیہ کی ضرورت نہیں۔مہر عورت کا حق ہے جو مرد کی حیثیت پر ہے وہ بہر حال دینا ہے ۔باقی جو یہ سوال لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے والوں سے ہوتا ہے کہ کیا زیور کپڑا دو گے۔اور اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے یہ کہ کیا لڑکی کو دو گے۔بہت تباہی بخش اور ذلیل طریق ہے۔اس طریق نے مسلمانوں کی جائیدادوں کو تباہ کردیا اور کہتے ہیں ناک نہیں رہتی۔لوگ پوچھتے ہیں لڑکی کیا لائی اور اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے کچھ نہ ہو تو لڑکی والے کہتے ہیںہماری ناک کٹتی ہے۔چونکہ اس طریق سے تباہی آتی ہے اس سے جماعت کو بچنا چاہئے۔اور بجائے بڑے جہیزوں والی لڑکی اور بڑے زیور لانے والے لڑکوں کے دیکھنا چاہئے کہ لڑکی جو گھر آئی ہے وہ مسلمان ہے اور لڑکا مسلمان ہے۔ورنہ بڑے بڑے زیور تباہی اور بربادی کا باعث ہو جاتے ہیں اور اس سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیںاور دین بھی ضائع ہو جاتا ہے اور لوگ سود میں مبتلا ہو کر جائیدادوں کو برباد کر دیتے ہیں اور اس کی ایک جڑ ہے وہ یہ کہ لوگوں میں رواج ہے کہ جہیز وغیرہ دکھاتے ہیں اس رسم کو چھوڑنا چاہئے۔
    (الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۱ ؁ئ۔خطبات محمود صفحہ ۳؍۸۵)
    ہندوؤں کے پاس رہنے سے مسلمانوں پر یہ اثر پڑا ہے کہ انہوں نے اپنی اسلامی سادگی جو نکاح میں تھی قربان کر دی۔
    جہیز کی نمائش
    لڑکیاں جب اپنی سہیلیوں کے جہیز وغیرہ کو دیکھتی ہیں تو پھر وہ اپنے والدین سے ایسی ہی اشیاء لینا چاہتی ہیں اور اس طرح کی نمائش گویا جذبات کو صدمہ پہنچانے والی چیز بن جاتی ہے۔جو کچھ بھی دیا جائے بکسوں میں بند کر کے دیا جائے۔
    ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ ؁ء صفحہ ۲۴)
    ۲:۔
    لوگوں میں رواج ہے کہ جہیز وغیرہ دکھاتے ہیں اس رسم کو چھوڑنا چاہئے جب لوگ دکھاتے ہیں تو دوسرے پوچھتے ہیں ۔جب دکھانے کی رسم بند ہوگی تو لوگ پوچھنے سے بھی ہٹ جائیں گے ۔ہمیشہ اس بات پر جانبین کی نظر ہونی چاہئے کہ ہمارے دین پر، ہمارے اخلاق پر اس معاملہ کا کیا اثر پڑے گا۔
    (الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۱ ؁ئ)

    مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے اگر بعض رسمیں مٹا ئی ہیں تو دوسری شکل میں بعض اختیار بھی کر لی ہیں۔نکاحوں کے موقع پر پہلے تو گھروں میں فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ اتنے زیور اور کپڑے لئے جائیں گے۔پھر آہستہ آہستہ ایسی شرائط تحریروں میں آنے لگیںپھر میرے سامنے بھی پیش ہونے لگیں۔
    شریعت نے صرف مہر مقرر کیا ہے۔اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ہونا بے حیائی ہے اور لڑکی بیچنے کے سوا اس کے اور کوئی معنی میری سمجھ میں نہیں آتے۔یہ تو خاوندکا کام ہے کہ اپنی بیوی کے لئے جو تحائف مناسب سمجھے لائے ۔اسے مجبور کر کے تحائف لینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کو گردن سے پکڑے اور اس کے منہ پر مکہ مار کر کہے مجھے چومو۔وہ بھی کوئی پیار ہے جو مار کر کرایا جائے۔ اسی طرح وہ کیا تحفہ ہے جو مجبور کر کے اور یہ کہہ کر کہ اگر یہ چیزیں نہ دو گے تو لڑکی نہیں دی جائے گی وصول کیا جائے۔یہ تحفے نہیں بلکہ جرمانہ ہو گاجس سے محبت نہیں بڑھ سکتی بلکہ رنجیدگی پیدا ہو گی۔
    میں آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوںکہ اگر مجھے علم ہو گیا کی کسی نکاح کے لئے زیور اور کپڑے وغیر ہ کی شرائط لگائی گئی ہیں یا لڑکی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا ۔اگر تم نے واقعہ میں اسلام قبول کیا ہے اور اپنی اصلاح کرنا چاہتے ہو تو اصلاح کی صحیح صورت اختیار کرو۔ایک طرف سے غلاظت پونچھ کر دوسری طرف لگا لینا صفائی نہیں۔
    (الفضل ۷ اپریل ۱۹۳۱ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۱۱۶۔خطبات محمود صفحہ ۳؍۲۷۵)
    اس زمانہ میں زیادہ تر شادی بیاہ کے موقع پر لوگ اپنی ناک رکھنے کے لئے زیورات وغیرہ پر طاقت سے زیادہ روپیہ خرچ کر دیتے ہیں جو انجام کا ر ان کے لئے کسی خوشی کا موجب نہیں ہوتا۔کیونکہ انہیں دوسروں سے قرض لینا پڑتا ہے۔جس کی ادائیگی انہیں مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے۔اگرکسی کے پاس وافر روپیہ موجود ہو تو اس کے لئے شادی پر مناسب حد تک خرچ کرنا منع نہیں۔لیکن جس کے پاس نقد روپیہ موجود نہیں وہ اگر ناک رکھنے کے لئے قرض لے کر روپیہ خرچ کرے گا تو اس کا یہ فعل اسراف میں شامل ہوگا۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسراف کی شکلیں ہمیشہ بدلتی رہتیں ہیں مثلاً ایک شخص کی آمد دو چار ہزار روپیہ ماہوار ہے اور وہ پندرہ بیس روپے گز کا کپڑا پہنتا ہے یا پانچ سات سوٹ تیار کرا لیتا ہے تو اس کے مالی حالات کے مطابق اسے ہم اسراف نہیں کہیں گے ۔لیکن اگر خدانخواستہ اس کے بیوی بچے بیمار ہو جائیں اور وہ ایسے ڈاکٹروں سے علاج کروائے جو قیمتی ادویات استعمال کروائیں اور ہزار میں سے پانچ سات سو روپیہ اس کا دواؤں پر ہی خرچ ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اپنے کھانے پینے اور پہننے کے اخراجات میں کوئی کمی نہ کرے تو پھر اس کا یہی فعل اسراف بن جائے گا۔حالانکہ عام حالات میں یہ اسراف میں شامل نہیں تھا۔
    (تفسیر کبیر۔سورۃ الفرقان صفحہ ۱۵۹)
    جہیز اور بَری کی رسومات
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہ صرف جہیز بلکہ بری بھی بری چیز ہے ۔اپنی استطاعت کے مطابق جہیز دینا تو پھر بھی ثابت ہے لیکن بری کا اس رنگ میں جیسے کہ اب مروج ہے مجھے اب تک کوئی حوالہ نہیں ملا لیکن اس کے یہ معنی نہیںکہ جہیز بھی اگر کوئی دے سکے تو نہ دے ۔ایسے موقعوں پر ہمارے لئے سنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز عمل ہے۔۔۔۔۔۔
    اصل بات یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اگر کوئی دیتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جو شخص معمولی چیزیں بھی دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اور پھر زیر بار ہو کر ایسا کرتا ہے تو شریعت اسے ضرور پکڑے گی چونکہ اس نے اسراف سے کام لیاحالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اسراف تبذیر سے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن اگر کوئی اپنی طاقت اور خوشی کے مطابق اس سے بہت زیادہ بھی دے دیتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں۔اگر آج ایک شخص اس قدر حیثیت رکھتا ہے کہ وہ لڑکی کو دس ہزار روپیہ دے سکتا ہے تو بے شک دے ۔اگر اس کے بعد اس کی حالت انقلاب دہر کے باعث ایسی ہو جائے کہ دوسری لڑکی کو کچھ بھی نہ دے سکے تو اس میں اس پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ پہلی کو دیتے وقت اس کی نیت یہی تھی کہ سب کو دے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔
    (مصباح ۱۵ مئی ۱۹۳۰ ؁ء ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۵۰ ،ایڈیشن دوم)
    اعلان نکاح بذریعہ دف
    فرمایا:۔ اعلان نکاح کے لئے دف جائز ہے مگر آج دنیا ترقی کر گئی ہے۔اور اس کو لوگ پسند نہیں کرتے ہیں اور جن باجوں کو لوگ پسند کرتے ہیں وہ جائز نہیں۔اس لئے قدرت نے ہم سے یہ بھی چھڑوا دیا۔اس کی بھی اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ دف سے غرض اعلان تھا اور اعلان کا ذریعہ دف سے بھی بہت اعلیٰ درجہ کا نکل آیاجو اخبار ہے کہ اس میں اعلان ہو جاتا ہے۔دف سے جو غرض تھی وہ دوسری صورت میں بطور احسن پوری ہو گئی۔
    (الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۱ ؁ئ۔خطبات محمود جلد سوئم صفحہ ۸۶)
    ۲:۔
    ایک صاحب نے لکھا کہ نکاح کے موقع پر انگریزی باجا اعلان بالدف کے قائم مقام ہو سکتا ہے یا نہیں؟
    فرمایا:۔ اعلان بالدف بالکل جائز ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ آیا آج کل اس ذریعہ سے زیادہ پختہ ذریعہ اعلان کا موجود ہے یا نہیں۔اگرموجودہو تو اس کی کیا ضرورت ہے۔لیکن اگر کوئی کرتاہے تو وہ گنہگار نہیں۔
    (الفضل ۷ اگست ۱۹۲۳ ؁ئ)
    برات کے ساتھ باجا
    ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ میرے لڑکے کی شادی کی کسی جگہ بات چیت ہو رہی ہے مگر لڑکی والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اتنا مہر دو، اتنی جائیداد لڑکی کے نام کرواور پھر جب شادی کے لئے آؤ تو باجا ساتھ لاؤ۔اور اس دوست نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو ان شرائط پر رشتہ کر لیا جائے ۔اس قسم کا سوال لاہور سے بھی ہوا ہے۔۔۔۔برات والوں میں سے کسی نے میرا کوئی فتویٰ نکال کر دکھایا ہے کہ باجا بجاناجائزہے؟
    فرمایا:۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے کبھی کوئی ایسا فتویٰ نہیں دیا کہ بارات کے ساتھ باجا لے جانے کی اجازت ہے۔یہ ممکن ہے میں نے یہ کہا ہوکہ نکاح کے موقع پر باجا بجانا جائزہے مگر اس کا مطلب تو یہی ہو سکتا ہے کہ ایسی تقریبوں پر ڈوم میراثی وغیرہ مکان کے دروازے پر جمع ہو کر گا بجا لیتے ہیں لیکن باجا والوںکو خود ساتھ لے کر بیاہنے کے لئے جانے کے یہ معنی ہیں کہ بھلے مانسوں کی جماعت خود میراثی اور ڈوم بن کر جائے اور جو شخص میری کسی تحریر کے یہ معنی لیتاہے کہ برات کے ساتھ باجا لے جانا جائز ہے وہ سخت غلطی کر تا ہے۔۔۔۔۔بے شک رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ نکاح وغیرہ کے موقع پر اعلان کے لئے اگر باجا وغیرہ بجا لیا جائے تو حرج نہیں۔اسے ایسا ضروری قرار دینا کہ اگر باجا ساتھ نہ ہو تو نکاح ہی نہ کیا جا سکے گا یہ تو ایسی بات ہے کہ جسے کوئی شریف آدمی برداشت بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
    (الفضل ۱۲ جون ۱۹۶۰ ؁ئ)
    شادی کے موقع پر گا نا ۔گھڑا بجانا وغیرہ
    شادی بیاہ کے موقع پر شریعت کی رو سے گانا جائز ہے۔مگر وہ گانا ایسا ہی ہونا چاہئے جو یا تو مذھبی ہو اور یا پھر بالکل بے ضرر ہو مثلاً شادی کے موقع پر عام گانے جو مذاق کے رنگ میں گائے جاتے ہیںاور بالکل بے ضرر ہوتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ وہ محض دل کو خوش کرنے کے لئے گائے جاتے ہیں،ان کا اخلاق پر کوئی برا اثر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
    ایک دوست نے سوال کیا کہ شادی کے موقع پر عورتیں بعض دفعہ گھڑا بجاتی ہیں اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟
    فرمایا:۔ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں تو صرف دف بجائی جاتی تھی ۔گھڑا بجانے کے متعلق مجھے کوئی ذاتی واقفیت نہیں ۔لیکن میر ناصر نواب صاحب چونکہ وہابی تھے اس لئے گھڑ ا بجانا وہ بہت برا سمجھتے تھے۔حدیثوں میں صرف دف کا ذکر آتا ہے۔
    (الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۴۵ ؁ء جلد ۳۳ نمبر ۱۸)
    سوال: ہمارے ملک میں عورتیں ایسے گیت گاتی ہیں جن میں صرف دولہا دلہن کی باتیں ہوتی ہیں ان کے متعلق کیا ارشاد ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ شادی کے موقع پر کوئی گیت گا لیں تو گناہ نہیں بشرطیکہ اس میں فحش اور لغو بکواس نہ ہواور بے حیائی سے نہ گایا جائے۔
    (الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۲)
    حکم ہے کہ تقویٰ سے کام لو مگر سنا ہے کہ لو گ خصوصاً عورتیں اس موقع پر گالیاں دیتی اور فحش گیت گاتی ہیںجس سے دل پر زنگ لگتا ہے۔
    (الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۱ ؁ئ)
    بیاہ شادی کے موقع پر پاکیزہ اشعار عورتیں پڑھ سکتی ہیں ۔پڑھنے والی مستاجرہ نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ۔
    عورتوں کا عورتوں میں دف کے ساتھ پاکیزہ گانا بھی منع نہیںہے۔
    (الفضل ۱۴ جون ۱۹۳۸ ؁ئ)
    شادی کے موقع پر فلمی گانے
    یہ بھی ایک عیب ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک رونی جماعت بنا دیا جائے اور حسن مذاق کا کوئی رنگ ان میں دکھائی نہ دے ۔لیکن جہاں اس قسم کے ہلکے مذاق اور پاکیزہ گانوں میں کوئی حرج نہیں وہاں اس گند کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ فلمی گانے جو نہایت ہی گندے اور غلیظ اور فطرت انسانی کو مسخ کر دینے والے ہوتے ہیں وہ شادی بیاہ کے موقع پر گائے جائیں اور چوڑیاں اور میراثن نچوائی جائیں۔یہ ایک بھاری نقص ہے جس کو روکنا بہت ضروری ہے۔
    (الفضل ۲۰ فروری ۱۹۴۵ ؁ئ)
    ناچ گانا شادی کے موقع پر
    فلمی گانے اور ناچ کی رپورٹ پر حضور نے فرمایا:۔
    جو دوست یہاں بیٹھے ہیں جب اپنے اپنے گھروں میں جائیں تو اپنے بیوی بچوں کو اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اگر آئندہ کسی گھر میں ایسا طریق اختیار کیا گیا تو جماعت کے مردوں اور عورتوں کو یہ ہدایت کر دی جائے گی کہ وہ ایسے لوگوں کی شادیوں میں شامل نہ ہوا کریں ۔آخر سوائے اس کے اس گنا ہ کو دور کر نے کا اور کیا علاج ہو سکتا ہے کہ اعلان کر دیا جائے کہ ان لوگوں کی شادیوں میں ہماری جماعت کا کوئی فرد شامل نہ ہو ۔وہ میراثیوں اور چوڑھیوں کو بلا لیں اور یا پھر ایکٹرسوں کو بلا لیں کیونکہ ایسے لوگوں کے گھروں میں وہی جا سکتی ہیں کوئی اور نہیں جا سکتا۔
    ( الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۴۵ ؁ء ،رجسٹر اصلاح وارشاد 12.5.44)
    مہندی
    شادی کے موقع پر مہندی اور اس کے ساتھ متعلقہ رسوم جو رائج ہیں ہمارے نزدیک غیر اسلامی ہیں ۔ہماری جماعت کو اس سے بچنا چاہئے۔
    (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ ؁ئ)
    رخصتانہ کا طریق
    یہ بات دونوں طرح ثابت ہے ۔لڑکے والے بھی جا کر لڑکی کو لے آتے ہیں اور ایسا بھی ثابت ہے کہ خود لڑکی والے لڑکے کے گھر لڑکی پہنچا دیتے ہیں ۔بلکہ میر ا مطالعہ تو یہ ہے کہ کثرت سے اس کی مثالیں ملتی ہیںکہ خود لڑکی والے لڑکے والوں کے گھر لڑکی لے آئے۔
    (الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۳۰ ؁ئ)
    رخصتانہ کے وقت لڑکی رونا
    ہندوستان میں یہ مرض بہت زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا تعلق اہل ہنود سے ہے اور اہل ہنود میں بیاہ شادی کے موقع پر ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے شادی تماشہ بن جاتی ہے۔۔۔۔مثلاً روانگی کے وقت لڑکی خواہ کتنی ہی خوش ہو رونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
    (الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۲۰ ؁ئ)
    سہرا
    سہرا کے بارہ میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:۔
    ’’ سہرے کا طریق بدعت ہے۔‘‘
    (الفضل ۴ جنوری ۱۹۴۶ ؁ئ)
    ۲:۔
    سوال: شادی کے موقع پر دولہا کو سہرا باندھنا کیسا ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ لغویت ہے ۔انسان کو گھوڑا بنانے والی بات ہے۔در اصل یہ رسم ہندوؤں سے مسلمانوں میں آئی ہے اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
    (الفضل ۴۶۔۴۔۲۰)
    (رجسٹر اصلاح وارشاد۔رسالہ بد رسوم کے خلاف جہاد شائع کردہ اصلاح وارشادصفحہ)
    ولیمہ
    ۱:۔
    ولیمہ اپنی استطاعت کے مطابق سامان چاہئے۔سویق (ستو) اور ثرید سے بھی ولیمہ ہو گیا ہے۔
    (الفضل مئی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۶)
    ۲:۔
    رسول کریمﷺ کے زمانہ میں بڑے سے بڑا ولیمہ بھی اتنا ہوا ہو گا جتنے ہمارے ہاں چھوٹے ہوتے ہیں ۔حالانکہ ولیمہ پر دس پندرہ دوستوں کو بلا لینا کافی ہوتا ہے یا جیسا کہ سنت ہے ایک بکر اذبح کیا شوربہ پکایا اور خاندان کے لوگوں میں بانٹ دیا۔
    (خطبہ جمعہ ۲۳ نومبر ۱۹۳۷ ؁ئ)
    ۳:۔
    ولیمہ کے متعلق بھی میں نے ہدایت دی کہ اس موقع پر صرف چند دوستوں کو بلا لینا کافی ہو تا ہے۔زیادہ لوگوں کو بلا کر اپنا روپیہ ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔بلکہ یہ بھی کافی ہے کہ لوگ اپنا اپنا کھانا لا کر ولیمہ والے گھر میں بیٹھ کر کھا لیں۔اور ایک آدمی کا کھانا اس گھر والے کی طرف سے بھی ہو جائے۔
    (تفسیر کبیر ۔سورۃ الفرقان صفحہ ۱۵۹)
    ۴:۔
    آج کل بڑی شان و شوکت سے ولیمے کیے جاتے ہیں خواہ اپنی حیثیت اس کے ولیموں کو بر داشت نہ کر سکتی ہو ۔دیکھ لو رسول کریم ﷺنے اس موقع کے لئے کیا حکم دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں اَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ (بخاری کتا ب النکاح) کہ ایک بکری ذبح کر کے ولیمہ کردو اور لوگوں کو کھانا کھلا دو۔
    (الفضل ۳۱ اگست ۱۹۶۰ ؁ء فرمودہ ۱۵ اپریل ۱۹۳۹ ؁ء ۔خطبات محمود ۳؍۴۷)
    میرے نکاح کے موقع پردفتروالوں نے مجھے فون کیا کہ مٹھائی دیںمگر میں نے کہا کہ یہ جائز نہیں یہ چند روپوں کا سوال نہیں بلکہ شریعت کے احترام کا سوال ہے ۔شریعت نے ولیمہ رکھا ہے ،اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔اس لئے میں مٹھائی وغیرہ کو جائزنہیں سمجھتا ۔ایسی باتیں قوم کے لئے نقصان کا موجب ہو جایا کرتی ہیں ۔جب ایک شخص مٹھا ئی کھلاتا ہے تو پھر دوسرے بھی اس کو ضروری سمجھنے لگتے ہیں اور پھر ہر ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ولیمہ تین دن ہے ۔اس کے بعض لوگ یہ معنی بھی کرتے ہیں کہ ولیمہ تین روز کے اندر اندر ہو سکتاہے۔یعنی اس عرصہ کے اندر اندر کر دیا جائے۔مگر دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ دعوت ولیمہ تین روز سے زیادہ ممتد نہیں ہونا چاہئے ۔اس دعوت ولیمہ کو اور بڑھائے جانے اور پھر مٹھائیاں وغیرہ تقسیم کرنا یہ سب بدعات ہیں جن سے پرہیز لازم ہے۔
    (الفضل ۱۲ جون ۱۹۶۰ ؁ئ)
    لڑکی کی شادی پر دعوت کرنا بدعت ہے
    الفضل میں کچھ عرصہ سے شادی کی تقریبوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ ہوتے ہیں کہ فلاں شخص نے شادی کے موقع پر چائے کی دعوت دی۔اس قسم کی عبارت پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔صرف کچھ مدت سے شائع ہونا شروع ہوئی ہے اور شاید کسی بدعت کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے ۔واقعہ صرف یہ ہے کہ لڑکی والے بعض اپنے دوستوں کو دعا اور خوشی میں شمولیت کے لئے جمع کر لیتے ہیں اور بلانے میں صرف اتنا لکھتے ہیں کہ ہماری لڑکی کی شادی ہے آپ بھی اس تقریب میں شامل ہوں اور دعا میں حصہ لیں۔یا اس قسم کے اور الفاظ ہوتے ہیں ۔اسی سلسلہ میں چونکہ برات آئی ہوتی ہے ان کے اعزاز میں کھانے کی کچھ چیزیں رکھی جاتی ہیں تو یہ مدعو مہمان بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں ۔سادہ طور پر کوئی ہلکا ناشتہ اس موقع پر مہمانوں کو پیش کر دینا بر ی بات نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایسے موقع پر دودھ وغیرہ پیش کیا ہے۔لیکن اس تقریب کو یہ رنگ دینا کہ وہ ایک باقاعدہ چائے کی دعوت تھی ایک بدعت کا قیام ہے جس کی تردید کر نا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔اور میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ الفضل نے سابقہ رویہ کے خلاف اس امر پر کیوں زور دیا کہ اس طور ایک ہلکے سے ناشتہ کے پیش کرنے کو جو پہلے ایک ضمنی چیز سمجھی جاتی تھی اب ایک باقاعدہ دعوت کی تقریب کیوں قرار دیا جانے لگا ہے۔
    نیز مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ الفضل میں گزشتہ ایام میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ کسی صاحب نے اپنی لڑکی کی شادی کی تقریب پر قادیان کے دوستوں کو باقاعدہ کھانے کے دعوت دی ۔یہ ایک ناجائز فعل تھا جس نے دعوت دی اس نے بھی غلطی کی ۔جو شامل ہوئے انہوں نے بھی غلطی کی ۔الفضل نے اس خبر کو شائع کر کے ایک غلط امر کی تائید کی اور اس کی اشاعت میں حصہ لینے کا گناہ کیا ۔
    حضرت خلیفہ اوّل ؓ اس قسم کی دعوت کو خلاف شریعت قرار دیا کرتے تھے۔میرے اپنے علم کی رو سے خواہ یہ خلاف شریعت نہ ہو مگر خلاف منشائے شریعت ضرور ہے اور احمدی احباب کو اس قسم کی حرکات سے بچنا چاہئے۔
    (الفضل ۹ ستمبر ۱۹۴۲ ؁ئ)
    لڑکی والوں کی طرف سے دعوت
    لڑکی والوں کی طرف سے دعوت جہاں تک میں نے غور کیا ہے ایک تکلیف دہ چیز ہے ۔لیکن اگر لڑکی والے بغیر دعوت کیے آنے والوں کو کچھ کھلا دیں تو یہ ہرگز بدعت نہیں۔ہاں اگر یہ کہا جائے کہ جو نہیں کھلاتا وہ غلطی کرتا ہے تو یہ ضرور بدعت ہے اور اسی طرح جو یہ کہے جو جہیز نہیں دیتا وہ غلطی کرتا ہے اور جہیز ضرور دینا چاہئے تو وہ بھی بدعت پھیلانے والوں میں سے ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے یا آنے والے مہمانوں کو کچھ کھلاتا ہے تو یہ ہرگز بدعت نہیںکہلا سکتی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مبارکہ بیگم کی شادی پر بعض چیزیں اپنے پاس سے روپیہ دے کر آنے والے مہمانوں کے لئے امرتسر سے منگوائیں۔
    جو شخص یہ سمجھ کر کہ ایسا کرنا ضروری ہے ایسا کرتا ہے وہ بدعتی ہے لیکن جو شخص اپنے فطری احساس اور جذبہ کے ماتحت آنے والوں کی کچھ خاطر کرتا ہے اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔
    (مصباح ۱۵ مئی ۱۹۳۰ ؁ئ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۴۹ ،ایڈیشن دوم)
    لڑکی کے رخصتانہ کے موقع پر دعوت طعام
    رخصتانہ کے موقع پر مدعوین کو معمولی طور پر اسراف و فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے چائے وغیرہ پیش کرنا جائز ہے۔دعوت طعام نا پسندیدہ ہے ۔جماعتی طور پر یہ پابندی لگائی جائے کہ کوئی شخص اس موقع پر اپنی استطاعت کو نظر انداز کر کے کسی طرح سے اسراف نہ کرے۔
    فرمایا:۔ درست ہے ۔ دستخط مرزا محمود احمد
    (فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱ ،۵۷۔۴۔۲۲)
    دولہا سے لاگ وصول کرنا
    سوال: حجام ،ماشکی ،خاکروب وغیرہ ملازم لوگ جو ماہوار تنخواہ لے کر کام کرتے ہیںشادی کے موقع پر ان کو لاگ دیے جاتے ہیں؟
    جواب: فرمایا:۔ نوکروںکو کچھ دینا برا نہیں ۔خوشی کے موقع پر یہ لوگ ضرور طالب ہوتے ہیں اور ایک حد تک مستحق بھی ،ہاں طرف ثانی سے لے کر دینا رسم میں داخل ہے اور ایک حد تک کمینگی میں داخل ہے۔
    (الفضل ۵ اگست ۱۹۱۵ ؁ئ)
    بہائی عورت سے شادی
    یہاں ایک شخص بہائی عورت بیاہ کر لایا ،وہ اسے میرے پاس لایا۔اس وقت میں گول کمرہ میں بیٹھا کر تا تھا ۔اور کہا کہ آپ اسے تبلیغ کریں۔مجھے اس وقت ایسا معلوم ہو ا میری اور اس کی روحیں آپس میں ٹکراتی ہیں ۔مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرے جسم سے ایک چیز نکل کر اس سے ٹکراتی ہے۔اس سے میں نے یہ معلوم کر لیا کہ یہ عورت ہدایت نہیں پائے گی۔چنانچہ وہ مدتوں یہاں رہی اور احمدی نہ ہوئی۔ایک دفعہ اس نے بعض اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے احمدیت کا اظہار بھی کیا مگر بعدمیں پھر وہ اپنی پہلی حالت پر آگئی۔
    (الفضل ۲۵ جون ۱۹۳۸ ؁ئ۔خطبات محمود صفحہ ۳؍ ۴۵۲)
    ہندو عور ت سے شادی
    اسلام کی رو سے ایک ہندو اور ایک یہودی لڑکی کے ساتھ بھی نکاح ہو سکتا ہے۔اور گو یہ رواج آج کل نہیں ہے لیکن اب بھی اگر ایک مسلمان ہندو لڑکی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرلے تو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان اسے پوتا کہہ کر جان دے گاتو دوسری طرف ایک ہندو اسے نواسہ کہہ کر جان دے گا۔اور آپس کے اختلافات بہت حد تک دور ہو جائیں گے۔لیکن یہ بات تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب اسے کثرت سے رائج کیا جائے اور پھر بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے۔مسلمانوں میں صرف اکبر نے اس پر عمل کیا لیکن جب باقی مسلمانوں نے اس پر عمل نہ کیا تو اکبر کا کام بھی بیکار ہو کر رہ گیااور بجائے فائدہ رساں کے مضر ہوگیا۔
    (تفسیر کبیر ۔سورۃ الفرقان جلد ۶ صفحہ ۵۲۴)
    ایک مسلمان ہندو لڑکی سے شادی کر سکتا ہے
    اسلام کی رو سے ایک ہندو اور ایک یہودی لڑکی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے گو یہ رواج آج کل نہیں ہے۔اب اگر ایک مسلمان مرد ہندو لڑکی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرے تو اس پر دوسرے مسلمان کفر کا فتویٰ لگا دیں۔مگر اسلام میں ایسے نکاح کی اجازت ہے اور اس سے تعلقات وسیع ہوتے ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان پوتا کہہ کر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو تو دوسری طرف ایک ہندو نواسہ کہہ کر ااس پر جان دیتا اوراس سے محبت کرتا ہو۔اس ذریعہ کو اختیار کرنے سے مذاہب کے اختلاف دور ہو جائیں گے۔
    (الفضل ۲۶ دسمبر ۱۹۳۷ ؁ء ۔خطبات محمود صفحہ ۳؍ ۴۲۵)
    برتھ کنٹرول
    میرے نزدیک خشیۃ املاق کی وجہ سے تو برتھ کنٹرول ناجائز ہے لیکن بچہ یا عورت کی صحت کے خطرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جائز ہے۔یعنی اگر بچہ کے متعلق خطرہ ہو کہ دماغی یا جسمانی لحاظ سے ناکارہ پیداہوگا یا عورت کی صحت اس قدر کمزور ہو کہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی جان کا خطرہ ہو تو برتھ کنٹرول کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے مگر عام طور پر برتھ کنٹرول کے حامی سب سے بڑی وجہ خشیۃ املاق ہی پیش کرتے ہیں۔
    (الفضل ۶ جون ۱۹۳۳ ؁ء جلد ۲۰ نمبر ۱۴۵)
    برتھ کنٹرول
    لاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَکُمْ خَشْیَۃَ إِمْلاقٍ (بنی اسرائیل:۳۲)
    اولاد کی پیدائش کو صرف اس خطرہ سے روکنا منع ہے کہ اگر اولاد زیادہ ہو جائے گی تو پھر کھائے گی کہاں سے۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اولاد کی پیدائش بند کرنا قتل اولاد کے حکم میں ہے اور قتل اولاد ہر حال میں منع ہے اور برا ہے۔تو معنی یہ ہوئے کہ املاق کی وجہ سے قتل اولاد یعنی اس کی پیدائش کو روکنا منع ہے۔البتہ بعض دوسری صورتوں میں جائز بھی ہو سکتا ہے مثلاً عورت بیمار ہو ۔اس وقت جائز ہو گا کہ اولاد پیدا کرنا بند کر دے۔کیونکہ جس چیز کی وجہ سے قتل اولاد کو روکا گیا ہے وہ غیر محسوس ہے۔ایسی وجہ کی بناء پر اولاد کی پیدائش کو روکنا جائز ہے۔لیکن کسی محسوس اور شاہد نقصان کی وجہ سے اولاد کی پیدائش کو روکنا منع نہیں۔
    علاوہ پیدائش میں روک ڈالنے کے جو بچہ بن چکا ہو بعض حالات میں اس کا مارنا بھی جائزہوتا ہے۔مثلاً کسی حاملہ عورت کے متعلق زچگی کے وقت یہ شبہ ہو کہ اگر بچہ کو طبعی طور پر پیدا ہونے دیا گیا تو والدہ فوت ہو جائے گی۔اس صور ت میں بچہ کو ضائع کردینا جائز ہے کیونکہ بچے کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ وہ مردہ پیدا ہو گا یا زندہ۔یا زندہ رہے گا یا نہیں۔مگر ماں سوسائیٹی کا ایک مفید وجود ہے اس لئے وہمی نقصان سے حقیقی نقصان کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اور بچہ کو تلف کر دیا جائے گا۔
    (تفسیر کبیر ۔سورۃ بنی اسرائیل جلد ۴ صفحہ ۳۲۷)
    برتھ کنٹرول بوجہ کمی آمد
    سوال: ایک آدمی کی تنخواہ بہت قلیل ہے اور آمدنی کا اورکوئی ذریعہ سوائے تنخواہ کے نہیں۔اور تنخواہ مثلاً پچاس یا ساٹھ روپے ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل تنخواہ میں آج کل کے زمانے میں بمشکل دو تین حد چار آدمیوں کا گزارہ ہو سکتاہے۔اب ایک خاندان میں دو میاں بیوی جوان اور تندرست ہیں اور ان کے سال بسا ل بچے ہو سکتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ اگر ان کے بچے زیادہ ہو جائیں گے تو ان کی پر ورش اور صحیح رنگ میں تعلیم و تربیت مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گی۔تو از روئے اسلام ان میاں بیوی کو برتھ کنٹرول یعنی ضبط تولید کی اجازت ہے یا نہیں ۔اگر عورت کی زندگی یا صحت بچانے کے لئے ضبط تولید کی اجازت ہے تو بچوں کی صحت بچانے اور ان کی اچھی طرح سے پر ورش کرنے اور تعلیم و تربیت کرنے کے لئے کیوں اس امر کی اجازت نہ ہو؟
    جواب: حضور نے فرمایا:۔ آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے اپنا ایک ماحول تجویز کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمارے اس ماحول کے مطا بق خدا تعالیٰ کا قانون یہ ہونا چاہئے۔
    سوال تو یہ ہے کہ یہی ماحول لڑائی کے دنوں میں قوم کا ہوتا ہے یا نہیں؟کیا مائیں اس وقت نہیں کہتیں کہ ہمارے بچے قتل ہونے کے لئے کیوں جائیں۔آپ اس وقت کیا کہیں گے۔کیا یہ کہ اس قسم کا ماحول ہے بچے قتل ہوتے ہیں قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ہم کیا کریں۔آج کل تو آپ کہتے ہیں پچاس ساٹھ روپے ماہوار ملتے ہیں جس میں زیادہ آدمیوں کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔سوال تو یہ ہے کہ کیا ایسا بھی ہوتا ہے یا نہیں کہ بعض کو پچاس بھی نہیں ملتے۔بعض کو نوکری بھی نہیں ملتی اس کو آپ روٹی کہاں سے کھلاتے ہیں ۔کیا اس کے لئے یہ جائز قرار دیتے ہیں کہ وہ ڈر کے مارے اور لوگوں کا مال اٹھا لے۔
    تکلیفیں بے شک ہوتی ہیں لیکن ہمیشہ چھوٹی سکیمیں بڑی سکیم کے ماتحت قربان کی جاتی ہیں۔بڑی سکیم یہی ہے کہ نسل انسانی کو بڑھنے دو۔جب اس کے مصائب انتہاء کو پہنچیں گے وہ خود اپنا علاج نکال لے گی اور قانون قدرت کی طرف لوٹے گی۔آپ کی انہی دلیلوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کو تباہ کیا ہے۔اگر مسلمان تبلیغ اسلام کرتا اور اگر مسلمان بچے پیدا کرتا تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بھوکے مرتے لیکن بھوکے مرنے کی کوئی حد ہوتی ہے ایک دن جا کر بند ٹوٹ جا تا ہے اور وہی بھوکا مرنے والی قوم بادشاہ بن جاتی ہے۔مسلمانوں کے ہاں تو کثرت ازدواج بھی ہے وہاں تو اور بھی زیادہ بھوکے مرنے والے بچے پید اہونے چاہئیں۔اگر یہ فا قہ کرنے والا بیس کروڑ ہندوستان میں ہو چکا ہوتاتو کیا وہ حال ہوتا جو آج ہوا ۔ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمان بجائے ایک ٹکڑہ پر راضی ہونے کے آج سا رے ہندوستان پر حکومت کرتا۔
    (الفضل ۲۴ اپریل ۱۹۵۲ ؁ئ)
    برتھ کنٹرول بوجہ کمی اجناس
    بچوں کی پیدائش و ضبط میں لانے کا مسئلہ ان لوگوں کے نزدیک درست ہے جو اوّل تو وطنیت کے پرستار ہیں ۔اسلام تو ساری دنیا کو ایک وجود قرار دیتا ہے۔کس نے کہا کہ لوگ وطنیت کے پرستار ہو کر اپنے لئے مشکلات پیدا کرلیں۔ان کو اپنا نقطہ نگاہ بدلنا چاہئے اور بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرنی چاہئے۔پھر ایک ملک میں آبادی کی زیادتی کے کوئی معنی ہی نہیں ہو نگے،ساری دنیا کی زیادتی زیادتی ہو گی۔اور جہاں تک دنیا کے پھیلاؤ کا سوال ہے ابھی دنیا کی آبادی کے بڑھنے کے لئے گنجائش باقی ہے۔
    دوسرے یہ کہ اسلام اس کو تسلیم ہی نہیں کرتا کہ غذا کی پیداوار اتنی ہو رہی ہے جتنی کہ ہونی چاہئے۔قرآن کریم کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ غلّہ تین چار سو من فی ایکڑ پیدا ہو سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ پیدا ہو سکتا ہے۔لیکن اوسط پیداوار دنیا کی پانچ من ہے۔اس کے تو یہ معنی بنتے ہیں کہ ابھی اس زمین کا غلّہ جو کہ زیر کاشت ہے اسّی گنے بڑھایا جا سکتا ہے اور اگر ان زمینوں کو بھی شامل کر لیا جائے جو افریقہ ،آسٹریلیا اور کینیڈا وغیرہ مما لک میں ہیں اور روس کے بعض حصوں میں خالی پڑی ہیں توان کو ملا کر تو غلّہ غالباً موجودہ غلّہ سے تین چار سو گنے زیادہ پیدا ہو سکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں دنیا کی آبادی تین چار سو گنے ابھی بڑھ سکتی ہے۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ کس نے کہا ہے کہ صر ف زمین ہی ہمارے لئے غذا پیدا کرتی ہے۔ممکن ہے کہ آئندہ سائنس ایسی ایجادیں کرلے جن کے ماتحت مصنوعی غذائیں تیار ہو سکیں یا سورج اور ستاروں کی شعاعوں اور روشنیوں سے غذائیں تیار کی جاسکیں ۔پس پہلے اپنے ایک محدود علم کے ما تحت ایک نظریہ بنا لینا ا ور پھر خدا کو اس کے تابع کرنا یہ کونسی عقل کی بات ہے۔اسلام اس بات پر قطعی روشنی ڈالتا ہے کہ غذا کے خیال سے اولاد کو کم نہیں کرنا چاہئے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اور بعض باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے اولاد بند کی جائے مثلاً عورت ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ ڈاکٹر کہہ دیں کہ اس کو حمل ہونا اس کی جان کے لئے خطرناک ہے۔اس صورت میں اسلام بے شک اس کو جائز قرار دے دیگا۔
    (الفضل ۵ اپریل ۱۹۵۲ ؁ئ)
    دوسری شادی ۔نکاح ثانی
    ہماری جماعت میں بعض ایسے نکاح ہو چکے ہیں جو میرے زمانہ خلافت سے پہلے کے ہیں ۔ان میں بعض مصالح کی وجہ سے میں دخل نہیں دیتا ۔مگر جو اب دوسرا نکاح کرتا ہے وہ چونکہ اس معاہدہ سے کرتا ہے کہ عدل و انصاف کرے گا ۔اگر وہ اس کے خلاف کرے توا س سے مقاطعہ کرنا چاہئے کیونکہ کوئی ایک کو مرتد کرتا ہے کوئی دو کو مگر ایسا آدمی لاکھوں کواسلام سے متنفر کرتا ہے اور ہماری آنکھیں دوسروں کے مقابلہ میں نیچی کراتا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ ایسی شادیاں اس سال بھی ہوئی ہیں کہ پہلی بیوی سے تعلق نہ رکھا جاوے گا۔ایسے لوگ خواہ کتنے ہی عزیزہوں ان سے سختی سے برتاؤ کرنا چاہئے۔اور ان سے تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔یہ نکاح جنہوں نے کئے ہیں میرے نزدیک وہ لوگ ایسے ہیں جیسے کہ مر گئے ۔ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ ؁ء صفحہ ۲۶)
    ہر بیوی کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان ہونے چاہئیں
    ہمارے ملک میں اسّی فیصدی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دو عورتوں کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں دے سکتے۔ایسے لوگوں کے لئے فواحدۃکا حکم ہے کہ وہ ایک ہی شادی کریں۔باقی بیس فیصدی لوگ رہ جاتے ہیں ان میں بعض لوگ عدل نہیں کر سکتے۔بعض کے قویٰ جسمانی مضبوط نہیں ہوتے۔بعض کے جسمانی قویٰ تو مضبوط ہوتے ہیں اور اس صورت میں وہ دو یا دو سے زیادہ عورتیں کر سکتے ہیںمگر الگ الگ مکان بیویوں کے لئے نہیں بنا سکتے۔حالانکہ شریعت کہتی ہے کہ بیویوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان ہونے چاہئیں ۔ہماری جماعت میں اس قسم کے جھگڑے بہت ہوتے ہیںکہ مرد اپنی بیویوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان نہیں بنواتے تو ان معنوں کے رو سے جو میں نے عدل کے کئے ہیں سو میں سے کوئی ہی ہو گا جو ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا ہے۔
    (الفضل ۲ جون ۱۹۳۸ ؁ء خطبات محمود ۳؍ ۔۔۴)
    بیوی کو مارنا ،گالی دینا درست نہیں
    یہاں عام طور پر عورتیں شاکی ہیں کہ خاوند گالیاں دیتے ہیں ۔گالی دینا کمزوری اور بزدلی کی علامت ہے ۔بعض وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے لیکن یونہی مارنا پیٹنا اور گالیاں دینا جائز نہیں ۔گالیاں تو کسی صورت میں جائز نہیں۔مارنا بھی مجبوری کے وقت جب عورت کھلی کھلی بے حیائی کرے جائز ہے مگر وہ بھی اتنا کہ جسم پر نشان نہ پڑے ۔عورتوں سے رأفت اور حسن سلوک کا حکم ہے۔
    (الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۹ نمبر ۲۳)
    میاں بیوی کے حقوق
    سوال: میرا خاوند کسی غیر ملک میں بغرض ملازمت جاتا ہے اور مجھے بھی ساتھ جانے کے لئے مجبور کرتا ہے؟
    جواب: عورت کو خاوند کی اطاعت ضروری ہے ۔چلی جائیں۔
    (الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۵)
    طلاق
    اسی طرح طلاق ہے ۔ایک آدمی ایک عورت کو دس پندرہ سال رکھتا ہے جب اس سے فائدہ اٹھا لیتا ہے اور اس کی جوانی ڈھل جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں ہوتی جو جائز ہو کہ وہ طلاق دے دیتا ہے اور اس وقت دیتا ہے جبکہ وہ نکاح نہیں کر سکتی اور اس کو تباہ کر دیتا ہے ۔حالانکہ قرآن کریم کا حکم ’’ فَابْعَثُواْ حَکَماً مِّنْ أَہْلِہِ وَحَکَماً مِّنْ أَہْلِہَا‘‘ (النساء :۳۶)کہ طرفین کی طرف سے جج مقرر ہونے چاہئیں جو فیصلہ کریں ۔اگر کوئی شخص ایسا نہیںکرتا تو وہ اسلام کو بدنام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
    پس عورتوں سے عدل نہ کرنے والے مجرم ہیں اورا ن کے نکاحوں میں شامل ہونے والے بھی مجرم۔کیونکہ وہ اسلام کو بدنام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ایسے شخصوںکی یہاں اطلاع دی جاوے،ہم فیصلہ کریں گے پھر ان سے قطع تعلق کیا جاوے۔
    (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ ؁ء صفحہ ۲۶)
    معلّقہ بیوی کب سے مطلقہ سمجھی جائے گی
    سوال: جو شخص اپنی عورت کو نہ گھر میں رکھے اور نہ خرچ دے کیا اس عورت کو مطلقہ سمجھا جائے؟
    جواب: فرمایا:۔ جو شخص اپنی عورت کو گھر میں نہیں رکھتا اور ایک سال تک خرچ نہیں دیتا میرے نزدیک ایک سال بعد اس کو طلاق ہو جاتی ہے۔پہلے فقہاء میں سے بعض نے چار سال کا فتویٰ دیا ہے باقی اب قانون کودیکھنا چاہئے۔مگر میرے نزدیک یہ طلاق جو ہے ایک قاضی کے ذریعہ ہوتی ہے۔اب اس زمانہ میں گورنمنٹ غیر مذہب کی ہے اگر اس کا قانون اجازت نہ دے تو دو صورتیں ہیں ۔اوّل :اگر میاں بیوی احمدی ہیں تو آسان ہے احمدی قاضی کے ذریعہ طلاق حاصل کریں۔
    دوئم: اگر میاں غیر احمدی ہے تو پھر برادری کے لوگوں یا دوسرے لوگوں کو بیچ میں ڈال کر علیحدگی کرالیں۔
    (الفضل ۱۲ مئی ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۸ نمبر ۸۵)
    طلاق واقعہ ہونے کا عرصہ
    ہمارے نزدیک شریعت کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہہ دے کہ میں تیرے پاس نہیں آؤں گا (یعنی میاں بیوی کے تعلقات منقطع کر دے)تو چار ماہ کے بعد اور زبان سے نہ کہے مگر سلوک ایسا کرے تو ایک سال کے بعد اور مفقود الخبر ہو تو تین سال کے بعد عورت پر طلاق واقع ہوجاتی ہے اور شرعی طور پر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے۔
    (الفضل ۶ جون ۱۹۳۸ ؁ء جلد ۲۰ نمبر ۱۴۵)
    طلاق کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ایک فتویٰ کی تشریح
    اخبار الفضل مجریہ ۶ اگست ۱۹۳۸ ؁ء میں طلاق کے متعلق چند فتاو یٰ کی تشریح مولوی شریف احمد صاحب بنگوی کی طرف سے کی گئی تھی۔اس میں ایک فتویٰ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ درج تھا کہ:۔
    ’’ ہمارے نزدیک شریعت کا فیصلہ ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہہ دے کہ میں تیرے پاس نہ آؤں گا (یعنی میاں بیوی کے تعلقا ت منقطع کر دے)تو چار ماہ کے بعد اور زبان سے نہ کہے مگر سلوک ایسا کرے تو ایک سال کے بعد اور مفقود الخبر ہو تو تین سال کے بعد عورت پر طلاق واقع ہوجاتی ہے اور شرعی طور پر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے۔‘‘
    اس فتویٰ کی تشریح مفتی صاحب سلسلہ عالیہ نے یہ کی تھی کہ ’’اس فتویٰ کا نفاذ عدالت یا قضا ء کے ذریعہ ہونا چاہئے۔۔۔۔پہلی دو صورتوں میں جب تک قاضی خاوند سے اس کی بیوی کی شکایت کے متعلق پوچھ کر فیصلہ نہ کرے طلاق واقع نہیں ہوتی اور عورت کو نکاح ثانی کا حق حاصل نہیں۔‘‘
    اس بارہ میں ایک دوست نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی سے در یافت کیا کہ کیا حضور سے فتویٰ لینے کے بعد بھی اس کا نفاذ قضاء کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے اور قضاء کے لئے خاوند سے دریافت کرنا ضروری ہے یا عورت حضور سے فتویٰ لینے کے بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہے؟
    اس پر حضور نے فرمایا:۔ اگر تنازعہ ما بین احمدیان ہو تو ضروری ہے کہ قضاء فیصلہ کرے گو بقیہ حصہ سے میں متفق نہیں۔پوچھنے کے صرف یہ معنی ہیں کہ وہ اسے عورت کے الزام کی تردید کا موقع دے۔ورنہ اس الزام کی تصدیق کے بعد کسی اور تفتیش کی قاضی کو اجازت نہیں۔
    (الفضل ۱۱ اکتوبر ۱۹۳۸ ؁ء )
    ایک ساتھ تین طلاقیں یا زائد دی گئیں ان کا حکم
    ہمارے ملک میں عام رواج ہے کہ معمولی سے جھگڑے پر وہ اپنی بیوی کو کہہ دیتے تھے تمہیں تین طلاق ،تمہیں تین ہزا ر طلاقیں ،تمہیں تین کروڑطلاق،تمہیں تین ارب طلاق۔یہی رواج حضرت عمر ؓ کے زمانے میں عربوں میں ہو گیا۔اب ملّا کہتا ہے کہ مرد کے تین طلاق کہنے پر تین طلاق واقع ہو جاتی ہیں۔حالانکہ اسلام نے اس بے وقوفی کی اجازت نہیں دی۔بلکہ اس طریق کو ناجائز قرار دیا ہے ۔اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ جس طہر میں خاوند بیوی کے پاس نہ گیا ہو اس طہر میں طلاق دی جائے۔اگر یہ امر ثابت ہو جائے کہ اس طہر میں وہ اپنی بیوی کے پاس گیا تھا تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔
    پھر آج کل ملّا کہتا ہے کہ تین دفعہ یکدم طلاق دینے کے بعد عورت سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا ۔حالانکہ اگر ایک عورت کو دس ہزار دفعہ بھی یکدم طلاق دے دی جائے تو وہ ایک ہی طلاق شمار کی جائے گی۔اور اس کے بعد عدت میں اسے رجوع کا اختیار حاصل ہو گا۔اگر مرد اس عرصہ میں رجوع نہیں کر تا اور عدت گزر جاتی ہے تو عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی اور دوبارہ تعلق صرف نکاح سے ہی قائم ہو سکے گا ۔لیکن اگر نکاح کے بعد مرد پھر کسی وقت عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع نہیںکرتا تو یہ دوسری طلاق ہو گی ۔اس کے بعدبھی نکاح کے ذریعہ مرد وعورت میں تعلق قائم ہو سکتا ہے لیکن ان دو نکاحوں کے بعد اگر پھر وہ کسی وقت غصہ میں طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع نہیں کر تا تو اس کے بعد اسے اپنی بیوی سے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اور نکاح مکمل نہ کرے اور درحقیقت اس قسم کی دو طلاقوں کے بعد کوئی پاگل ہی ہوگا جو تیسری طلاق دے ۔اور اگر وہ دیتا ہے اور پھر عرصہ عدت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو شریعت اس عورت کے ساتھ اسے نکاح کی اجازت نہیں دیتی۔
    لیکن آج کل کا ملّا منہ سے تین طلاق دینے پر ہی اس عورت کو مرد پر حرام کر دیتے ہیں اور دوبارہ نکاح کو ناجائز قرار دے دیتے ہیں۔حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اس قسم کے واقعات کثرت سے ہوئے تو آپ نے فرمایا اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک سے زیادہ طلاقیں دے گا تو میں سزا کے طور پر اس کی بیوی کو اس پر ناجائز قرار دے دوں گا ۔جب آپ پر سوال ہوا کہ رسول کریم ﷺنے ایسا حکم نہیں دیا ۔پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا رسول کریم ﷺ کا یہ منشاء تھا کہ اس قسم کی طلاق کو جائز قرار دے دوں گا۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور آپ کا ایسا کرنا ایک وقتی مصلحت کے ما تحت تھا اور صرف سزا کے طور پر تھا۔مستقل حکم کے طور پر نہیں تھا۔
    (الفضل ۵ نومبر ۱۹۵۴ ؁ئ)
    لوگ کرتے کیا ہیں جب غصہ آیا جھٹ کہہ دیا طلاق طلاق تین طلاق ،دس طلاق ،سو طلاق ،ہزار طلاق ۔تم میری ماں ہو ،بہن ہو ۔حالانکہ اس سے زیادہ بیہودہ بات کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔
    ایک وقت میں تو تین طلاقیں جائز ہی نہیں ہیں ۔مگر لوگ اس طرح طلاق طلاق کہتے چلے جاتے ہیں کہ گویا اس عورت کو سوٹے لگ رہے ہیں۔
    (الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۸ ؁ء جلد ۲۶ نمبر ۱۷ )
    عام طور پر اس زمانے کے علماء یہ سمجھتے ہیں کہ جس نے تین دفعہ طلاق کہہ دیا اس کی طلاق بائن ہو جاتی ہے یعنی اس کی بیوی اس سے دوبارہ اس وقت تک شادی نہیں کر سکتی جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرے۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں صاف فرمایا گیا ہے ’’ اَلطَّلا قُ مَرَّتٰنِ ‘‘(البقرۃ:۲۳۰)یعنی وہ طلاق جو بائن نہیں وہ دودفعہ ہو سکتی ہے ۔اس طور پر کہ پہلے مرد طلاق دے پھر یا طلاق واپس لے لے اور رجوع کرے یا عدت گزرنے دے اور نکاح کرے۔پھر ان بن کی صورت میں دوبارہ طلاق دے ۔اب ایسی طلاق کا دو دفعہ ہونا تو قطعی طور پر ثابت ہے۔پس ایک ہی دفعہ تین یا تین سے زیادہ بار طلاق کہہ دینے کو بائن قرار دینا قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے ۔طلاق وہی بائن ہوتی ہے کہ تین بار مذکورہ بالا طریق کے مطابق طلاق دے اور تین عدتیں گزر جائیں ۔اس صورت میں نکاح جائز نہیںجب تک کہ وہ عورت کسی اور سے دوبارہ نکاح نہ کرے اور اس سے بھی اس کو طلاق نہ مل جائے لیکن ہمارے ملک میں یہ طلاق مذاق ہو گئی ہے اور اس کا علاج حلالہ جیسی گندی رسم سے نکالا گیا ہے۔
    (تفسیر صغیر زیر آیت سورۃ بقرہ نمبر ۲۳۰ ایڈیشن ششم صفحہ ۵۵)
    سوال: ایک شخص نے اپنی عورت کو طلاق دے دی اور کاغذ بھی لکھ دیا اس کے بعد پھر اس شخص نے اس عورت کو اپنی بیوی بنا لیا (رجوع کر لیا ) کیا یہ جائز ہے؟
    جواب: ایسے آدمی کے لئے عورت حلال ہے اور اس کو آئندہ ایسی حرکت سے پرہیز رکھنا چاہئے۔
    (الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۹۸)
    سوال: ایک شخص نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر میں تمہیں اس مکان پر بلاؤںیا تم خود آؤ تو تم پر طلاق ۔اب وہ اپنی بیوی کو اس مکان پر بلانا چاہتا ہے؟
    جواب: اس مکان میں آجانے پر ایک طلاق واقع ہو گاجس سے اسی وقت بلا نکاح رجوع ہو سکتا ہے اگر مدت گزر جائے تو پھر بالنکاح رجوع ہو گا۔
    (الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۱۳)
    سوال: ایک شخص اپنی بیوی کا نام بدلنا چاہتا ہے کیا نکاح دوبارہ کرے ؟
    جواب: نام بدلنے سے نکاح میں فرق نہیں آتا ۔وہ تو دو ہی طرح ٹوٹ سکتا ہے ایک تو کوئی شخص اپنی بیوی کو خود طلاق دے دے یا بیوی خلع کرا لے۔
    دوسرے اس سے کہ مرد کافر ہوجائے۔
    (الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۶۵)
    تَمَسُّوْھُنَّ سے مراد
    سوال: آیت إِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَہَا(احزاب:۵۰) ۔اور آیت وَإِنْ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ (بقرۃ:۲۳۸)میں مس سے مراد کیا ہے۔خلوت صحیحہ یا مجامعت؟
    دوسری آیت میں بعض فقہاء مس سے مرا د خلوۃ صحیحہ لیتے ہیں؟
    جواب: دونوں جگہ مجامعت مراد لینی چاہئے سوائے اس کے کہ اس کے خلا ف کوئی حدیث ہو ۔اور اسے طلا ق بائن ہی سمجھنی چاہئے کیونکہ عورت کا نہ ہونا بتاتا ہے کہ دوسرے ہی دن بلکہ اسی وقت نکاح ہو سکتا ہے۔
    (حضور نے یہ جواب خود تحریر فرمایا ۔یہ تحریر رجسٹر فتاویٰ نمبر ۲ دا رالافتائ، فتویٰ نمبر 9/21.5.52صفحہ ۷ پر محفوظ ہے)
    خلع
    مرد یاد رکھیں کہ عورت ایک مظلوم ہستی ہے اس کے ساتھ محبت اور شفقت کے سلوک سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ’’خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَ ھْلِہٖ‘‘ یعنی تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال سے بہتر سلوک کرتا ہے خصوصاً طلاق اور خلع کے مواقع پر مردوں کی طرف سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ نہیں ہوتا ۔وہ طلاق کے وقت ہزاروں بہانے مہر نہ دینے کے لئے بناتے ہیں ۔ اسی طرح خلع میں باوجود اس کے کہ عورت اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہوتی ہے پھر بھی مرد اعتراض کرتے ہیں حالانکہ اگر عورت ساتھ رہنے پر رضامند نہیں تو مرد کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
    (الفضل یکم جنوری ۱۹۵۵ ؁ء )
    خلع کی درخواست خاوند کے گھر رہتے ہوئے دیں
    مدعیہ ۔۔۔۔کا خلع منظور فرماتے ہوئے تحریر فرمایا :۔ آئندہ جو عورتیں خاوندوں سے ناراض ہوں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک عدالت فیصلہ نہ کر لے یا اجازت نہ دیوے یا خاوند اجازت نہ دے انہیں خاوند کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ ہوگی ۔اور جو عورت ایسا کرے گی اس کی خلع کی درخواست پر اس وقت تک غور نہ کی جاوے گی جب تک وہ خاوند کے ہاں واپس نہ جاوے۔
    سوال: کیا حضور کے اس فیصلے کے تحت وہ عورتیں بھی جو ابھی خاوند کے گھر نہ گئی ہوں اور درخواست خلع کی دے دیں آسکتی ہیں یا نہیں؟
    جواب: حضور نے بعد ملاحظہ فرمایا :۔ جو عورتیں ابھی خاوند کے گھر نہ گئی ہوں وہ اس میں شامل نہیں ہیں ان کی درخواست پر بغیر ان کے خاوند کے گھر جانے کے سماعت مقدمہ ہو سکتی ہے۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۱ صفحہ ۲۔دارالقضاء ربوہ)
    عورت کی طرف سے خلع کی درخواست کے متعلق حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر رہ کر خلع کی درخواست کرے بجز اس کے کہ عورت کو خاوند کے گھر رہ کر خلع کی درخواست دینے سے جان اور ایمان کا خطرہ ہو ۔ایسی عورت قضاء کے ذریعہ منظوری لے کر خاوند کے گھر سے باہر بھی خلع کی درخواست کر سکتی ہے۔
    درحقیقت جب پہلا فیصلہ کیا گیا تھا اس وقت صرف جوان عورتوں کا معاملہ سامنے تھا اور جن کے متعلق یہ شبہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ انہیں ورغلا کر کوئی شخص گھروں کا امن برباد کر رہا ہو۔اس قسم کا معاملہ سامنے نہ تھا ۔سو اس بارہ میں آئندہ کے لئے یہ اصو ل مقرر کیا جائے کہ پہلا فیصلہ ان عورتوں کے متعلق ہے جن کی عمر چالیس سال سے کم ہو ۔جن کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو ان کے متعلق وہ قاعدہ نہ ہو گا بلکہ ان کا معاملہ قا ضی کی مرضی پر ہو گا۔حالات کے مطابق وہ ان کی درخواست کو خاوند کے گھر سے باہر پیش ہونے کی صور ت میں بھی قبول کر سکتا ہے اور اگر ایسے حالات ہوں کہ اس کے نزدیک خاوند کے ہاں اس کا جانا نیک نتیجہ پیدا کر سکتا ہے تو وہ یہ حکم بھی دے سکتا ہے کہ عورت خاوند کے ہاں جا کر پھر درخواست دے ۔ہاں یہ مدنظر رہنا چاہئے کہ عورت کو بلا وجہ خطرہ میں نہ ڈالا جائے۔
    (الفضل یکم اگست ۱۹۴۰ ؁ء جلد ۳۰ نمبر ۱۷۷)
    خلع
    اسلام میں خلع کا قانون ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ مرد جب چاہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے لیکن عورت اگر چاہے تو خلع نہیں کر اسکتی۔۔۔۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے نفرت کرتی ہے تو وہ اس سے الگ ہو سکتی ہے کیونکہ تعلقات زوجیت محبت پر مبنی ہوتے ہیں ۔اگر محبت نہیں رہی تو وہ اپنے خاوند سے الگ ہو جائے ۔اگر مرد کہتا ہے کہ اس کی بیوی کے اس سے تعلقات اچھے نہیں تو رشتہ داروں کا ایک بورڈ بیٹھے گا اور وہ اس امر کی تحقیقات کرے گا ۔اگر اس کی بات درست ثابت ہوئی تو اسے کہا جائے گا کہ تم اسے طلاق دے دو۔ اور اگرعورت کہتی ہے کہ اس کے خاوند کے اس سے اچھے تعلقات نہیں تو اس طرح کا ایک بورڈ عورت کے متعلق بیٹھے گا جو معاملہ کی تحقیقات کرے گا اور اگر واقعہ درست ثابت ہوا تو عورت کو خلع کی درخواست قضاء میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
    (الفضل ۵ نومبر ۱۹۵۴ ؁ء )
    فیصلہ خلع قاضی کے توسط سے ہونا چاہئے
    خلع قاضیوں کی معرفت ہوتا ہے اور اس میں حقوق کے باطل ہونے کا صاف ذکر ہوتا ہے ۔چونکہ اس طرح نہیں کیا گیا اس لئے اس کو خلع نہیں کہا جا سکتا ۔یہ طلاق ہے اور مہر ادا کرنا ہوگا۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۱۲،۱۱۔دارالقضاء ربوہ)
    میرے نزدیک قاضی کی معرفت فیصلہ کرنے کی غرض یہ ہے کہ لڑکی پر جبر کا شبہ نہ رہے اور اعلان ہو۔بدکاری میں روک ڈالی جائے۔اور صرف ایسی صورتوں میں قاضی روک ڈال سکتا ہے ۔ اگر لڑکی اپنی خوشی سے نکاح کو توڑنا چاہے تو قاضی نصیحت کر سکتا ہے فیصلہ کو ایک مناسب عرصہ تک پیچھے ڈال سکتا ہے تاکہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں ۔لڑکی کی درخواست کو ردّ نہیں کر سکتا۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۲ صفحہ ۱۴۔ دارالقضاء ربوہ)
    جب کوئی خلع کی درخواست آوے تو قاضی متعلقہ کو چاہئے کہ خلع کی درخواست کنندہ پارٹی کو تاریخ پیشی دے اور دوسرے فریق کو بالکل اطلاع نہ دے اور اسے سرسری تحقیق کے طور پر تسلی کرے کہ یہ درخواست ایسی ہے کہ خاوند کے گھر کے باہر رہ کر دی جاسکتی ہے تو باقاعدہ کاروائی کرے اور اگر اس کے نزدیک خاوند کے گھر میں جانے کے بغیر نہیں دی جا سکتی تو بغیر دوسرے فریق کو اطلاع دینے کے درخواست واپس کر دے پھر اس سرسری کاروائی کی اپیل نہیں ہو گی اور نہ اس کی مسل رکھی جاوے گی تاکہ وہ دوبارہ اپنے نفع نقصان سمجھ لیں ۔اس کے بعد اگر وہ دوبارہ نالش کریں تو چونکہ انہوں نے اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سمجھ لیا ہو گا اس لئے ایسی درخواست کے دوبارہ پیش ہونے پر فریق ثانی کو نوٹس دیا جاوے اورحسب قاعدہ سماعت ہو مگر اس میں بھی پہلے یہ سوال زیر غور آئے گا کہ کیا درخواست دہندہ کو خاوند کے گھر سے باہر رہ کر درخواست کرنے کا حق ہے یا نہیں۔اس کی اپیل ہو سکے گی۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۴۷ ۔دارالقضاء ربوہ)
    مختلعہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے
    نقل طلاق نامہ سے بالکل واضح ہے کہ یہ خلع ہے اور اس پر لڑکی کی تصدیق بھی موجود ہے ۔اور جب لڑکی کا اپنا بیان ہے کہ وہ علیحدگی چاہتی ہے اور مہر چھوڑتی ہے جسے خاوند نے منظور کر لیا ہے تو یہ خلع ہوا ۔اور خلع میں رجوع کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ہاں اگر لڑکی چاہے تو نکاح جدید (پہلے خاوند سے )کر سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو حوالہ جات پیش کیے گئے ہیںان سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت کے کہنے پر خاوند اسے نکاح سے آزاد نہ کرے تو عورت خود بخود آزاد نہیں ہو سکتی بلکہ اس صورت میں اسے قاضی کے ذریعہ طلاق حاصل کرنی پڑے گی یعنی جیسا کہ مرد اگر عورت کی رضامندی کے بغیر ہی اسے طلاق دے دے تو وہ اس کے عقد زوجیت سے آزاد ہو جائے گی۔لیکن عورت کے مطالبہ طلاق کی صورت میں اگر مرد اسے طلاق نہ دے تو عورت خود بخود آزاد نہیں ہو سکتی بلکہ اسے قاضی کے ذریعہ فیصلہ کرانا ضروری ہو گا ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت کے صفحہ ۲۳۸ پر تحریر فرمایا ہے ’’ اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی سمجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پا سکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ خلع کرا سکتی ہے۔‘‘
    (الفضل ۲۲ جون ۱۹۵۴ ؁ئ۔فائل ؍رجسٹر فیصلہ جات نمبر ۲ دارالقضاء ربوہ صفحہ ۵۳)
    خلع کے لئے وجہ منافرت زیر بحث آنا چاہئے
    قاضی عدالت اولیٰ نے فیصلہ کیا ہے اس میں جو وجہ بتائی گئی ہے کہ منافرت کی وجہ سے خلع کیا جاتا ہے درست نہیں کیونکہ منافرت کا سوال ابتداء میں ہوتا ہے ۔شکل و شباہت یا تعلقات شہوانی کے ادا کرنے کے متعلق تو پہلے چھ آٹھ دن میں ہی اور اخلا ق کے متعلق پہلے پانچ چھ ماہ میں اندازہ ہو جاتا ہے ۔اس کے بعد خصوصا ً جبکہ لمبا عرصہ گزر جائے منافرت کا سوال نہیں ہوتا۔
    ضرور ہے کہ اس وقت اختلاف کے کوئی اور بواعث ہوں ۔چاہئے کہ وہ زیر بحث لائے جاویں ۔گو اس وقت بھی بعض امور ایسے ہو سکتے ہیں جن کو عدالتی طور پر زیر بحث لانا مناسب نہ ہو ۔مگر بہر حال قاضی کو اپنے فیصلہ میں یہ بتانا چاہئے کہ اس نے پورے طور پر تسلی کر لی ہے کہ عورت اور مرد کی صلح کی کوئی صورت نہیں ۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۴۴۔ دارالقضاء ربوہ)
    ۲:۔
    خلع کے لئے اتنا کافی ہے کہ عورت کو خاوند سے شدید نفرت ہے اور اس کی اس نفرت کا موجب کوئی غیر شرعی امور نہیں۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۳ صفحہ ۲۹ ۔دارالقضاء ربوہ)
    خلع
    مومن کا فرض ہے کہ اگر اس کی عورت ذرا بھی انقباض ظاہرکرے تو وہ اسے فوراً چھوڑ دے۔احادیث میں رسول کریمﷺ کا ایک واقعہ آتا ہے کہ آپ نے ایک عورت سے شادی کی ۔جب آپ اس کے پاس گئے تو اس نے کہا ’’اَعُوْزُ بِاللّٰہِ مِنْکَ‘‘ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تو نے مجھ سے بڑی طاقت کی پناہ مانگی ہے ،اس لئے تمہیں میری طرف سے طلاق ہے ۔۔۔۔۔
    تو مومن کا یہ کام ہے کہ اگر اس کی عورت اس کو ناپسند کرتی ہو تو فوراً اسے چھوڑنے پر تیار ہو جائے ۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ توحید کے بھی خلا ف کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس عورت کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا ۔حالانکہ توحید کامل یہ کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی گزارہ نہیں ۔تو ہم مشرک ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور یقین سے دور چلے جاتے ہیں ۔
    (الفضل ۱۳ فروری ۱۹۵۹ ؁ئ)
    ایک عورت اگر خلع چاہتی ہے تو مرد کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔وہ تو اگر ایک دفعہ مانگتی ہے تو یہ دو دفعہ دیوے۔اس کو کوئی اعتراض نہیں ہو نا چاہئے ۔پھر جب وہ بے چاری خلع مانگتی ہے تو وہ اپنا حق آپ چھوڑ دیتی ہے ۔مہر چھوڑ دیتی ہے اور کئی قسم کے حقوق جو شریعت نے مقرر کیے ہیں سارے ترک کر دیتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے راستے میں روک پیدا کی جائے۔رسول کریم ﷺ کو دیکھ لو ۔ایک عورت نے ایک دفعہ ایسی ہی بات کہہ دی پیچھے اس نے بتایا کہ مجھے سکھایا گیا تھا کہ ایسا کہنا اچھا ہوتا ہے لیکن بہر حال وہ دھوکہ میں آگئی ا ور اس نے رسول کریم ﷺ سے کہا کہ میں آپ کے پاس آنا پسند نہیں کرتی ۔اسی وقت رسول کریم ﷺ واپس چلے گئے اور آپ نے فرمایا اس کو مہر وغیر ہ اخراجات دے دو،اور اس کو رخصت کر دو ۔دیکھو یہ چیز ہے جو اسلام سکھاتا ہے کہ اس کی درخواست کو اور اس کے اس فقرہ کو ہی رسول کریم ﷺ نے خلع سمجھا اور اسے خلع قرار دے دیا ۔پس اگر ایک عورت خلع مانگتی ہے توجس طرح تم کو طلاق دینے کا حق ہے عورت کے لئے شریعت نے خلع رکھا ہے ۔تم کیوں خواہ مخواہ اس پر لڑا کر تے ہو۔پھر طلاق دیتے ہیں تو مہر کے لئے ہزاروں بہانے بناتے ہیں کہ میں نے مہر نہیں دینا ۔اگر مہر دینے کی طاقت نہیں تو اس کو طلاق ہی کیوں دیتے ہو۔
    (الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۵ ؁ئ)
    شریعت کا حکم ہے کہ عورت خاوندکی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے مگر اس کے باوجود مرد عورت کو اس کے والدین کے ملنے سے نہیں روک سکتا ۔اگر کوئی مرد ایسا کرے تو یہ کافی وجہ خلع کی ہو سکتی ہے ۔والدین سے ملنا عورت کا حق ہے مگر وقت کی تعیین اور اجازت مرد کا حق ہے مثلا ً خاوند یہ کہہ سکتا ہے کہ شام کو نہیں صبح کو مل لینا ۔یا اس کے والدین کو اپنے گھر بلا لے ۔یا اس کو والدین کے گھر بھیج دے ۔مگر جس طرح مرد اپنے والدین کو ملتا ہے اسی طرح عورت کا بھی حق ہے ۔سوائے ان صورتوں کے کہ دونوں کا سمجھوتا ہو جائے مثلاً جب فساد کا اندیشہ ہو یا فتنہ کا ڈر ہو ۔مرد تو پہلے ہی الگ رہتا ہے مگر عورت خاوندکی مرضی کے خلاف باہر نہیں جا سکتی ۔ہاںاگر خاوند ظلم کرے تو قاضی کے پاس وہ شکایت پیش کر سکتی ہے لیکن اگر خاوند اس میں روک ڈالے اور گھر سے باہر نہ نکلنے دے تو پھر وہ گھر سے باہر بلا اجازت نکل سکتی ہے مگر اس کا فرض ہے کہ جلدی ہی مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کردے تا قاضی دیکھ لے کہ آیا اس کے باہر نکلنے کی کافی وجوہ ہیں کہ نہیں ۔پھر وہ اس کو خواہ باہر رہنے کی اجازت دے دے یا گھر میں واپس لوٹنے کا حکم دے۔پس اگر خاوند ظلم کرتا ہو اور حقوق میں روک ڈالتاہو اور قضاء میں نہ جانے دے تو پھر عورت بلا اجازت شوہر باہر نکل سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ قلیل ترین عرصہ میں وہ اس کے خلاف آواز اٹھائے مثلاً ۲۴ گھنٹے کے اندر یا اگر مقدمہ عدالت میں ہو تو جتنا عرصہ درخواست کے دینے میں عموماًلگتا ہے۔
    ہمارے ملک میں یہ بالکل غلط طریق رائج ہے کہ عورت خاوند سے لڑکر اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں بیٹھی رہتی ہے ۔والدین اس کی ناحق طرف داری کرتے ہیں اور فساد بڑھتا ہے۔دونوں کا معاملہ شریعت کے مطابق ہونا چاہئے۔
    (الفضل ۲۲ اپریل ۱۹۲۷ ؁ء جلد ۱۴ نمبر ۸۳)
    خلع کی صورت میں لڑکی کیا کیا سامان واپس کرے
    سوال: خلع ،طلاق کی صورت میں لڑکی کیا تمام سامان واپس کرے؟
    جواب: صرف وہ چیزیں جو بصورت جنس تھیں واپس ہونی چاہئیں یا وہ روپیہ جو جنس کی صورت میں دیا گیا اور لڑکی کی طرف سے جو ملا ہے اسے شریعت نہیں دلاتی بلکہ اس کا مال دلاتی ہے اسی طرح میرے نزدیک اگر لڑکے والوں نے لڑکی کے رشتہ داروں کو کچھ دیا تو واپس نہ ملے گا کیونکہ وہ تحائف ہیں اور تحائف دوسرے لوگوں کو دے کر واپس نہیں لئے جاسکتے۔
    شریعت کا اصول یہ ہے کہ خلع کا مطالبہ لڑکی کی طرف سے ہوتاہے اور شریعت اسے یہ اختیار دیتی ہے کہ خاوند کا مال اسے دے کر خلع کرا لے۔تبادلہ مال کا مسئلہ شریعت کا نہیں ہے ۔نہ معلوم اس کا خیال کس طرح پید ا ہو گیا ۔میں نے جو تبادلہ لکھا ہے اس کا یہ مطلب تھا کہ جو مال لڑکی کا خاوند کے پاس تھاوہ اسے واپس دلایا جائے۔پس صرف ایسا ہی مال واپس کیا جا سکتا تھا جو لڑکی کا مال سمجھا جاتا تھا اور گھر جاتے ہوئے لڑکی بھول گئی یا اسے لے جانے نہیں دیا گیا۔جو مال لڑکی کا نہیں یعنی اس وقت اس کی ملکیت نہیں وہ اسے نہیں دلایا جاتا ۔اس کی کوئی سند شریعت میں نہیں ۔اسی طرح وہ روپیہ جو لڑکی کے مملوکہ مال کی صورت میں خاوند کے ذمہ ہے وہ انہیں دینا پڑے گا۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر۱ صفحہ ۷۳۔دارالقضاء ربوہ)
    لڑکیوں کی شادی کی عمر و خیار بلوغ
    لڑکیوں کی شادی اس عمر میں جائز ہونی چاہئے جبکہ وہ اپنے نفع اور نقصان کو سمجھ سکیں اور اسلامی حکم یہی ہے کہ شادی عورت کی رضامندی کے ساتھ ہونی چاہئے اور جب تک عورت اس عمر کو نہ پہنچ جائے کہ وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھ سکے اس وقت تک اس کی رضامندی بالکل دھوکہ ہے۔لیکن ہمارے مذہب نے اشد ضرورت کے وقت اس بات کی اجازت دی ہے کہ چھوٹی عمر میں بھی لڑکی کی شادی کی جا سکتی ہے لیکن اس صورت میں لڑکی کو اختیار ہو گاکہ وہ بڑی ہو کر اگر اس شادی کو پسند نہیں کرتی تو مجسٹریٹ کے پاس درخواست دے کر اس نکاح کو فسخ کرائے۔عام طور پر باقی فرقہائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ ایسا نکاح اگر باپ نے پڑھوایا ہو تو نکاح فسخ نہیں ہو سکتا۔لیکن ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر صورت میں نکاح فسخ ہو سکتا ہے خواہ باپ نے کرایا ہویا کسی اور نے ۔کیونکہ جب لڑکی کی رائے بلوغت میں باپ کی رائے پر مقدم سمجھی گئی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ باپ کے پڑھوائے ہوئے نکاح کے بعد جب لڑکی بالغ ہو تو اس حق رضامندی کو اسے واپس نہ دیا جائے۔
    (الفضل ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۳۳)
    خیا ر بلوغ
    یہ امر کہ ماں کے کئے ہوئے نکاح کے متعلق لڑکی کو خیا ربلوغ حاصل نہیں ہے میرے نزدیک درست نہیں ۔میرے نزدیک لڑکی کو شریعت نے رضا کا حق دیا ہے اور جب وہ بالغ ہو جائے اس وقت اس کا حق اس کو مل جائے گا ،کوئی نکاح کرے۔ لڑکی بالغ ہو کر اس حق کو جو اسے خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت دیا ہے طلب کر سکتی ہے اور کوئی انسانی فقہ اس حق کو اس سے چھین نہیں سکتی ۔گو رسول کریم ﷺ سے اس قسم کی کوئی روایت ثابت نہیں کہ نابالغ لڑکی کا نکاح ماں باپ نے کر دیا ہو اور آپ نے لڑکی کی درخواست پر اسے توڑ دیا ہو ۔لیکن یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بالغ لڑکی کا نکاح اس کے باپ نے بلا اجازت کر دیا اور آپ نے اسے توڑ دیا ۔چنانچہ ابن عباس سے احمد ابو داؤد اور ابن ماجہ میں جابر ؓ ،حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن۔۔۔ؓ سے یہ بات روایت کی گئی ہے۔پس جبکہ رسول کریم ﷺ نے لڑکی کی رضا کو ایسا ضروری سمجھا ہے کہ اس کی فریاد پر اس کے باپ کے کئے ہوئے نکاح کو توڑ دیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس حق کو نکاح صغر کی وجہ سے باطل کر دیا جائے ۔جب وہ اس حق کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گی اس کو یہ حق دیا جاوے گا۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۲ صفحہ ۱۴ ۔دارالقضاء ربوہ)
    خیا ر بلوغ کی مدت
    سوال: عرض کی گیا کہ خیار بلوغ کی کوئی مدت معین ہے یا اس کی کوئی خاص میعاد نہیں ؟
    جواب: فرمایا:۔ یہ محض عقلی چیز ہے۔عقلاً کسی لڑکی کے متعلق جتنا عرصہ ضروری سمجھا جائے گا اس کے لئے ہم خیار بلوغ کی وہی میعاد قرار دیں گے۔اس میں سالوں یا عمر کی تعیین نہیں کی جاسکتی ۔خیار بلوغ کی تشریح آخر رسول اللہ ﷺنے تو نہیں فر مائی ۔گزشتہ فقہاء نے کی ہے اور چونکہ یہ تشریح فقہاء نے کی ہے اس لئے ہر زمانہ کے فقہاء کو اختیار ہے کہ وہ اس بارہ میں عقلی طور پر جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں۔ایک وقت ایسا تھا جب رسول کریم ﷺ کے ارد گرد صحا بہ کی تمام جماعت رہتی تھی۔اور فتویٰ جماعت کے تمام افراد میں اسی وقت پھیل جاتا تھا ۔لیکن اب وہ زمانہ ہے کہ لوگ دینی مسائل سے اکثر ناواقف ہوتے ہیں ۔اس ناواقفیت کی بناء پر جتنی دیر ضروری سمجھی جائے گی اس کو ملحوظ رکھنا پڑے گا ۔کیونکہ دینی مسائل سے ناواقفیت خود اپنی ذات میں ایک ایسی چیز ہے جو فتویٰ کو بدل دیتی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک عورت پر الزام لگایا گیا کہ اس نے بدکاری کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے خاوند کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ یہ اس قسم کی جاہل عورت ہے کہ اسے پتا ہی نہیں کہ دین کیا ہوتا ہے اور اخلاق کیا ہوتے ہیں ۔ایسی عورت پر شریعت کا وہ فتویٰ نہیں لگے گا جواس عورت پر لگ سکتا ہے جسے شریعت کا علم ہو اور اسلامی ا حکا م سے واقفیت رکھتی ہو۔
    (الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۴ ؁ء جلد ۳۲ نمبر ۲۵۵)
    خیا ر بلوغ کا عرصہ آٹھ نو ماہ کچھ زیادہ نہیں
    یہ دعویٰ کیا ہے کہ چونکہ ان کا نکاح قبل بلوغت کیا گیا تھا اور اب وہ بالغ ہیں اور نکاح پر راضی نہیں ہیں اس لئے ان کے نکاح کو فسخ کیا جاوے۔
    قاضی صاحب عدالت ابتدائی نے اور عدالت اپیل نے فسخ نکاح کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے خلاف میرے پاس اپیل کی ہے۔جواب دعویٰ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ لڑکی کی بلوغت اور فسخ نکاح کی درخواست میں بہت بڑافاصلہ ہے۔اس لئے لڑکی کے مطالبہ کو مسترد کرنا چاہئے۔گواہوں کے اختلاف سے ۔۔۔۔یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جو شہادتیں لڑکی کی طرف سے اظہار نفرت کی گزری ہیں وہ قابل سند نہیںہیں۔میرے نزدیک یہ اعتراض درست نہیں ۔شاہد اوقات کے متعلق غلطی کر سکتے ہیں جبکہ معاملہ ایساہو کہ جس کے یا د رکھنے کی ضرورت انہیں اس وقت محسوس نہ ہوتی ہو اور یہ معاملہ اس قسم کا ہے کہ اظہار نفرت کے وقت کسی شخص کو یہ خیال پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ کل کو اسے اس واقعہ کا پھر بھی ذکر کر نا ہو گا۔ایسے امور کو انسان کما حقہ یاد نہیں رکھتا پس جبکہ گواہ اس بات سے متفق ہیں کہ لڑکی اظہار نفرت کرتی تھی اور ان میں ایسے گواہ بھی ہیں جو بے تعلق ہیںاور ثقہ ہیں تو ہمیں ان کے بیان پر اعتماد کر لینے میں کوئی تامل نہیںہو سکتا۔لیکن میرے نزدیک جس قدر فرق لڑکی کی بلوغت اور درخواست میں بتایا جاتا ہے وہ اتنا نہیں ہے کہ اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ ناراضگی کا اظہار بعد کی بنی ہوئی بات ہے۔نکاح کا معاملہ ایسا معاملہ نہیں ہوتا جس کا کسی خاص وقت کے ساتھ تعلق ہو ۔ایسے امور میں بعض دفعہ انسان یہ بھی سوچنے لگتا ہے کہ کیا باوجود ناراضگی کے اتحاد سے رہنے کی کوئی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔بعض دفعہ بعض ایسے رشتہ دار جو نرم ہوتے ہیں معاملہ کو عدالت میں پیش کرنے سے روکتے رہتے ہیں۔اس تذبذب کی حالت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ہو سکتا ہے کہ یہ تذبذب کی وجہ سے بعض دفعہ صلح کی طرف مائل ہوں ۔اظہار نفرت نکاح کے بعد معقول طور پر قریب عرصہ میں ثابت ہے اور سوال بہت قریب کا ہے۔۔۔۔۔تو میرے نزدیک ایسے مشکوک فرق کے لئے عورت کے حق کو ہم باطل نہیں کر سکتے ۔خصوصا ً جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خیا ر بلوغ مسئلہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس سے عام طور پر لوگ واقف اور آگاہ ہوں ۔ایسے مسائل کے متعلق قدرتی طور پر لوگوں میں تردد زیادہ ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک آٹھ نو مہینے کا فرق ایسے غیر معروف مسئلے کے متعلق کوئی ایسا فرق نہیںجس کو خاص طور پر وقعت دی جائے اور میرے نزدیک عورت کا حق ہے کہ اس کی درخواست کو منظور کیا جاوے۔
    (رجسٹر ہدایات ۔دارالقضاء ربوہ صفحہ ۱۲)
    ظہا ر و کفارہ ظہار ۔قسم کا کفارہ
    سوال: کسی نے اپنی بیوی سے ناراض ہو کر ظہار کر لیا ہے یعنی اپنی بیوی سے اس نے کہا کہ جیسی میری ہمشیرہ ویسی ہی تو ہے ۔اگر طلاق لینا چاہتی ہے تو وہ بھی لے لے اور وہ بالکل مفلس اور بے روزگار ہے۔اس کا باپ دس روپے کا ملازم اور عیالدار ہے ۔وہ اپنی اس حرکت سے پشیمان ہے ۔اس کے اوپر کیا کفارہ لازم آتا ہے اور بباعث غریبی عدم ادائیگی کفارہ کے وہ کیا طریق اختیار کر سکتا ہے۔
    جواب: آپ نے جواب دیا کہ غریب کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو نصیحت کی جائے۔
    (الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۴ نمبر ۴)
    ۲:۔
    ایک شخص نے تقریباً دو سال سے اپنی بیوی کے ساتھ ہم صحبت ہو نے سے قسم کھا رکھی تھی۔اب وہ رجوع چاہتا ہے۔؟
    جواب: اسے لکھایا گیا کہ قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھاناکھلانا ہے یہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
    (الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۱۸)
    حاملہ کی عدت وضع حمل ہے
    وَاللَّائِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِن نِّسَائِکُم ۔۔۔۔ الآیۃ (الطلاق:۵)
    اور وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں ،بوڑھی ہوں ،جنکو حیض نہ آتا ہو یعنی سن بلوغت تک نہ پہنچی ہوں ۔وہ جو کہ بیمار ہوں یعنی استحاضہ والی ۔ان کے لئے تین ماہ کی عدت ہے اور حمل والیوں کی عدت ان کے ایام حمل ہی ہیں۔جب بچہ جن چکیں تو عدت ختم ہو گئی ۔اس پر لوگوں نے بڑی بڑی بحثیں کی ہیں کہ اگر تین ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو کیا عدت ختم ہو جائے گی ۔بعض کہتے ہیں کہ کم سے کم تین ماہ ہونگے۔مگر آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک واقعہ ہوا تھا کہ ایک عورت کو تین ماہ سے پہلے ہی وضع حمل ہو گیا تھا اور اسے آپ نے دوسری شادی کی اجازت دے دی تھی ۔اس لئے اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہوا ہے۔
    (الفضل ۴ مئی ۱۹۱۴ ؁ء جلد ۱ نمبر ۴۷ب)
    نان و نفقہ
    عورت اگر خاوند کی مرضی کے بغیر والدین کے گھر جاوے تو شریعت خرچ نہیں دلاتی ۔لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ لڑکی جب خاوند کے پاس تھی تب بھی وہ خرچ نہ دیتا تھا تب شریعت اسے خرچ دلائے گی کیونکہ اس صورت میں اس پر مقام کی تبدیلی نے کوئی نیا اثر پیدا نہیں کیا ۔2/10/42
    (رجسٹر ہدایات امیر المؤمنین ۔ہدایت نمبر ۱۳۸ ۔دارالقضاء ربوہ)
    لعان
    وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُن لَّہُمْ شُہَدَاء ۔۔۔ الآیۃ (النور:۷)
    وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں اور کوئی بیرونی گواہ نہیں رکھتے صرف ان کا نفس ہی گواہ ہوتا ہے ان میں سے ہر شخص چار دفعہ حلفیہ گواہی دے کہ واقعی میں نے اپنی عورت کو بدکاری کرتے دیکھا ہے اور میں سچا ہوں اور پانچویںدفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر *** ہو۔جب خاوند اس طرح قسم کھا چکے تو عورت بھی چار دفعہ قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر یہ سچاہے تو مجھ پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو ۔جب دونوں طرف سے قسمیں کھا لی جائیں تو پھر ان دونوں کو جدا کر دیا جاوے گا یعنی خلع کا حکم دے دیا جائے گا ۔لیکن اگر خاوند بیوی پر قذف تو کرے مگر نہ گواہ لائے نہ لعان کرے تو خاوند پر حد لگے گی۔(یعنی اسے اسیّ ۸۰ کوڑے لگیں گے)۔ہاں اگر وہ لعان کریں تو پھر وہ حد سے آزاد ہو جائے گا یعنی کوڑے کھانے سے بچ جائے گا ۔لیکن اگر بیوی بھی لعان کردے تو پھر بیوی پر زنا کا الزام ثابت نہیں ہو گا اور دونوں طرف کا معاملہ برابر سمجھا جائے گا۔
    یہ لعان کسی مخفی مقام پر نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا شخص اوّل لوگوں کے مجمع میں قسم کھائے دوئم کسی مقدس مقام پر کھائے سوئم جب وہ *** کرنے لگے تو اس کو کہا جائے گا کہ دیکھو خوب سوچ سمجھ لو ۔خدا کی *** جس شخص پر نازل ہوتی ہے اسے تباہ کر دیتی ہے۔
    (تفسیر کبیر سورۃ نور صفحہ ۲۶۷)
    متعہ
    سوال: متعہ کے متعلق جناب کا کیا خیال ہے؟
    جواب: رسول کریم ﷺکے زمانے میں پہلے متعہ کا رواج تھا ۔جب تک شریعت میں ا سکے متعلق کوئی حکم نہیں تھا تب تک رسول اللہ ﷺنے اس سے منع بھی نہیں کیا ۔آخر میں رسول اللہ ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے اس کو حرام قرار دے دیا۔حدیث میں اس کے حرام ہونے کے متعلق بیان آتا ہے۔
    (الفضل یکم مارچ ۱۹۲۷ ؁ئ)
    حق حضانت
    شریعت کا فیصلہ ہے کہ لڑکی ماں کے پاس رہتی ہے ۔چچا زاد بھائی کو نکاح کا اختیار ہے ۔رسول کریم ﷺ کے پا س ایک بچہ لایا گیا تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم کدھر جانا چاہتے ہوتو اس نے کہا کہ میں اپنی خالہ کے پاس رہنا چاہتا ہوں ۔آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کو الہام کیا ہے اور بچہ کو اس کی خالہ کے سپرد کر دیا۔
    (فائل مسائل دینی 32-A)
    نامرد
    اس مقدمہ میں صرف ایک ہی سوال تھا اوروہ یہ کہ آیا مدعا علیہ نامرد ہے یا نہیں۔مدعا علیہ کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ اس بارہ میں طبّی شہادت پیش کرے ۔مگر انہوں نے کہا کہ میں اس شرط پر سار ٹیفکیٹ پیش کر سکتا ہوں کہ قاضی صاحب یہ مان لیں کہ پھر ضرور میری بیوی کو میرے گھر پر بھیج دیا جائے گا ۔قاضی اوّل نے جائز طور پر کہا کہ آپ کا کام شہادت پیش کرنا ہے ۔فیصلہ کرنا قاضی کا کام ہے مگر انہوں نے سار ٹیفکیٹ پیش نہیں کیا ۔لہذا اپیل مسترد کیا جاتا ہے۔
    مگر اس موقع پر میں قاضیوں کو پھر ایک دفعہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ طلاق یا خلع کے مقدمات میں پورا زور صلح پر لگانا چاہئے تاکہ جماعتی اخلاق بگڑ نہ جائیں۔قضائی فیصلہ بصورت مجبوری کیا جاوے۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ صفحہ ۴۲۔دارالقضاء ربوہ)
    عدّت
    عدّت کے سوال میں میرے نزدیک بہت پیچیدگی ڈالی گئی ہے ۔مرد سے حیض کا ثبوت مانگنا نہایت ناواجب بات ہے اور دایہ کا مقرر کرنا خلاف شریعت ہے کیونکہ ستروں کا ظاہر کر نا صرف خاص حالا ت بیماری وغیرہ میں جائز ہوتا ہے ۔مالی مطالبات کے فیصلہ کے لئے ستر کا ظاہر کرنا ہرگز جائز نہیں ۔پس اس طریق کو میں اسلامی شعار کے بالکل خلاف سمجھتا ہوں گوکسی فقیہہ یا بہت سے فقیہوں نے ہی کیوں نہ ایسا لکھا ہو۔میرے نزدیک اس کے فیصلہ کے لئے بھی وہی طریق رکھنا چاہئے جو شریعت کا عام فیصلوں کے لئے ہے۔یعنی مدعی سے بینہ(گواہ ) طلب کیا جائے یا عورت کو حلف (قسم ) دیا جائے گو یہ حلف شرعی ہونی چاہئے۔یعنی قاضی کی موجودگی میں بعد از پند و نصیحت و تذکیر۔
    عدّت حلف نہ اٹھانے کی صورت میں تین ماہ تک سمجھی جائے گی ورنہ دودھ پلانے کے عرصہ تک۔کیونکہ دودھ پلانے کے بعد اگر حیض نہیں آتا تو وہ ایک قسم کی بیماری خیا ل کی جاوے گی۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۱ صفحہ ۴۷ ۔دارالقضاء ربوہ)
    اسلام نے جنگ کی اجازت کن حالات میں دی ہے
    ان آیات سے جو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دینے کے لئے نازل ہوئی ہیںظاہر ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے جنگ کی اجازت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب کوئی قوم دیر تک دوسری قوم کے ظلموں کا تختہ مشق بنی رہے اور ظالم قوم اسے ’’رَبُّنَا اللّٰہ ‘‘کہنے سے روکے۔یعنی اس کے دین میں دخل دے اور وہ جبراً اسلام سے لوگوں کو پھرائے یا اس میں داخل ہونے سے جبراً باز رکھے اور اس میں داخل ہونے والوں کو صرف اسلام قبول کرنے کے جرم میں قتل کرے ۔اس قوم کے سوا کسی دوسری قوم سے جہاد نہیں ہو سکتا ۔لیکن اگر جنگ ہوگی تو صرف سیاسی اور ملکی جنگ ہو گی ۔جو دومسلمان قوموں میں بھی ہو سکتی ہے۔مگر اس کا نام جہاد نہیں رکھا جا سکتا اور اس جنگ میں شامل ہونا ہر مسلمان کا فرض نہیں ہو گابلکہ صرف انہی مسلمانوں کا فرض ہوگا جو اس لڑنے والی حکومت میں بس رہے ہوں۔کیونکہ یہ جنگ حب الوطنی کی جنگ کہلائے گی۔دینی جنگ نہیں کہلائے گی۔اور رسول کریم ﷺفرماتے ہیں ’’حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الِایمَانِ‘‘یعنی وطن کی محبت بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ حج صفحہ ۶۳)
    جنگی قیدیوں کے متعلق اسلام کے احکام
    ۱:۔ یا تو ان قیدیوں کو احسان کر کے چھوڑ دیا جائے(سورۃمحمد)اور یہ ایسے قیدیوں کے متعلق ہی ہو سکتا ہے جو اپنی غلطی کا اقرار کریں اور آئندہ جنگ میں شامل نہ ہونے کا معاہدہ کریں۔چنانچہ رسول کریم ﷺنے ایک دفعہ ایک قیدی ابو عزہ نامی کو رہا کیا۔یہ شخص جنگ بدر میں پکڑا گیا تھا ۔رسول کریم ﷺ نے اس سے عہد لے کر چھوڑ دیا تھا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔مگر وہ جنگ احد میں مسلمانوں کے خلاف پھر لڑنے نکلا اور آخرحمراء الاسد کی جنگ میں مارا گیا۔
    ۲: اگر اسلامی حکومت کی مالی حالت ایسی نہ ہو کہ وہ احسان کر کے چھوڑ دے تو پھر قیدی کو حق ہے کہ وہ فدیہ دے کر اپنے آپ کو چھڑا لے لیکن اگر قیدی کو فدیہ کی طاقت نہ ہو تو پھر حکم ہے کہ اسلامی ملک کی زکوۃ میں سے اگر ممکن ہو تو اس کا فدیہ دے کر اس کو آزاد کر دیا جائے۔اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو قیدی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مکاتبت کرلے یعنی حکومت سے یہ عہد کرے کہ وہ کمائی کر کے آہستہ آہستہ اپنا فدیہ دے گا اور اسے آزاد کر دیا جائے گا۔چنانچہ وہ اس معاہدہ کے بعد فوراً آزاد ہو جائے گا اور قسط وار اپنا فدیہ ادا کرے گا۔
    یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پرانے زمانے میں جنگیں افراد کرتے تھے اور اپنے اخراجات جنگ وہ خود برداشت کرتے تھے اس لئے ان کا بوجھ اتارنے کے لئے دوسری قوم سے تاوان نہیں لیا جاتا تھا بلکہ افراد پر حسب طاقت تاوان ڈالا جاتا تھا ۔اب چونکہ قومی جنگ ہوتی ہے اور حکومت خرچ کی ذمہ وار ہوتی ہے ۔لازماًاس نظام میں بھی موجودہ حکومت کے لحاظ سے تبدیلی کرنی ہوگی اور قیدی سے تاوان نہیں لیا جائے گا بلکہ حملہ آور قوم سے بحیثیت قوم تا وان لیا جائے گا۔
    ۳: جب تک تاوان جنگ ادا نہ کرے اس سے خدمت لی جاسکتی ہے لیکن کام لینے کی صورت میں مندرجہ ذیل احکام اسلام دیتا ہے۔
    الف: تم کسی قیدی سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو۔
    ب: جو کچھ خود کھاؤ وہی قیدی کو کھلاؤاور جو کچھ خود پہنو وہی قیدی کو پہناؤ۔
    ج: کسی قیدی کو مار اپیٹا نہ جائے
    د: اگر کوئی شادی کے قابل ہو اور انہیں علم نہ ہو کہ کب تک وہ جنگی قیدی رہیں گے تو ان کی شادی کر دو۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃالکافرون صفحہ ۷۲)
    قیدی بنانا صرف اس صورت میں جائز ہے جب کسی قوم سے باقاعدہ جنگ ہو اور عین میدان جنگ میںدشمن قوم کے افراد کو بطور جنگی قیدی گرفتار کر لیا جائے۔گویا وہ قوم جس کے خلا ف اعلان جنگ نہیں ہوا اس کے افراد کو پکڑنا جائز نہیں۔اسی طرح وہ قوم جس سے جنگ ہو اس کے افراد کو بھی میدان جنگ کے علاوہ کسی اور جگہ سے بعد میںپکڑنا جائز نہیں ہے۔صرف لڑائی کے دوران میں لڑنے والے سپاہیوں کو یا ان کو جو لڑنے والے سپاہیوں کی مدد کر رہے ہیں پکڑ لیا جائے تویہ جائز ہوگا۔کیونکہ اگر ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ بعدمیں دوسرے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔لیکن ان کے بارہ میں بھی اللہ تعالیٰ یہ ہدایت دیتا ہے کہ ’’فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائ‘‘(محمد رکوع ۱) یعنی بعد میں یا تو ان کو احسان کے طور پر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو ۔پس یہ صورت تو اسلام میں جائز ہی نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتاہو پھر بھی اس کو غلام رکھا جائے۔اسے بہر صورت یا تو احسان کے طور پر رہا کرنا پڑے گا یا فدیہ لے کر چھوڑنا پڑے گا ۔مگر یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ موجودہ زمانے میں یہ قاعدہ ہے کہ تاوان جنگ لڑنے والی قوم سے لیا جاتا ہے لیکن اسلام نے یہ طریق رکھا ہے کہ خود جنگی قیدی یا اس کے رشتہ دار اس کا فدیہ ادا کریں۔بظا ہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے زمانے تک تنخواہ دار فوجیں نہیں ہوتی تھیںبلکہ دونوں طرف سے رضاکار لڑنے کے لئے آتے تھے۔پس چونکہ یہ لڑائی رضاکاروں کی لڑائی ہوتی تھی اس لئے فدیہ بھی رضاکاروں پر رکھا گیا۔اب چونکہ جنگ قومی ہوتی ہے اس لئے فدیہ قوم پر رکھا گیا ہے۔
    (تفسیر کبیر۔ تفسیر سورۃ النور صفحہ ۳۰۸)
    لونڈی کو بغیر نکاح بیوی بنانا
    إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُم ۔۔۔۔ الآیۃ (المؤمنون:۷)
    ’’داہنے ہاتھ مالک ہوئے ‘‘کی تشریح میں یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ تو اس میں نوکرانیوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اور بعض ان لونڈیوں کو بھی جو چھاپہ مار کر کسی کمزور قوم کے اندرسے زبردستی اغوا کر لی جاتی ہیںاور پھرفروخت کر دی جاتی ہیں ۔اور بعض لوگ ان الفاظ کے یہ معنی لیتے ہیں کہ جو عورتیں جہاد میں حاصل ہوں وہ بغیر نکاح کے گھروں میں رکھنی جائز ہیں لیکن یہ سب معنی غلط ہیں ۔قرآن کریم میں اور احادیث میں نوکروں اورغلاموں کا الگ الگ ذکر ہے اس لئے نوکر اس میں شامل نہیں۔
    اور غلاموں کے متعلق قرآن کریم صاف طور پر فرماتا ہے کہ ’’مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَن یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِیْ الأَرْضِ‘‘(الانفال:۶۸)یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی پر امن قوم میں سے مرد جنگی قیدی یا عورت جنگی قیدی زبردستی پکڑ لائے جب تک کہ اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان خونریز جنگ نہ ہو لے یعنی یونہی کسی قو م میں سے جو جنگ نہ کر رہی ہو قیدی پکڑنے جائز نہیں جیسا کہ سینکڑوں سال سے حجاز کے لو گ حبشہ سے غلام پکڑ لاتے ہیں یا جیسا کہ گزشتہ صدیوں میں عراق کے لوگ ایران سے یا روم سے یا یونان سے یا اٹلی کے جزیروںسے غلام پکڑ لے آتے تھے۔ایسی غلامی اسلام میںجائز نہیںصرف جنگی قیدی پکڑنے جائز ہیں اور جنگی قیدی پکڑنے بھی صرف اس وقت جائزہیں جبکہ دشمن سے باقاعدہ جنگ ہو جائے اور ایسے وقت میں بھی یہ حکم ہے کہ جنگی قیدی کا فدیہ لے کر اسے چھوڑدو۔اور اگر اس کے پاس فدیہ نہ ہو یا اس کی قوم اس کا فدیہ دینے کو تیار نہ ہو تو پھر حکومت اسلامیہ اسے احسان کے طور پر چھوڑ دے ۔(سورۃ محمد رکوع۱) اور اگر احسان کے طور پر چھوڑنا اس کے لئے مشکل ہو تو زکوۃ کے روپیہ میں سے اس کا فدیہ دے کر اسے چھوڑ دے (توبہ رکوع۸)اور اگر اس میں بھی مشکل ہو تو قیدی کو مکاتبت کا اختیار دیا جائے۔(نور رکوع ۴)
    مکاتبت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ جنگی قیدی اپنے مالک سے یہ کہتا ہے کہ تم مجھے آزاد کر دو میں محنت اور کمائی کر کے اپنا فدیہ ادا کر دوں گااور اس وقت تک اپنی ذاتی تجارتوں وغیرہ میں آزاد سمجھا جاؤں گا۔صرف اسلامی ملک میں رہنے کا وہ پابند ہوتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت اوپر کے تمام طریقوں کے باوجود آزاد ہو نانہ چاہے گی تو وہ عورت ایسی ہو گی جو اپنے ملک میں جانا اپنے لئے خطرناک سمجھتی ہو گی اور مسلمان مرد کے پاس رہنے کا جو خطرہ تھا اس کے راستے کھلے ہونے کے باوجود ان کو استعمال کرنا پسند نہ کرے گی۔اور جو عورت باوجود ہر قسم کی سہولت کے مسلمان گھرانے سے نکلنا پسند نہ کرے گی اس عورت سے جبراً شادی کرلینے کے سوا مسلمان مرد کے لئے کوئی چارہ نہیں کیونکہ اگر وہ آزاد نہ ہو گی اور مسلمان مرد اس سے جبراً شادی نہ کرے گا تو وہ گھر میں اور علاقہ میں بدکاری پھیلائے گی۔اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ۔پس آزاد عورتوں اور جنگی عورتوں میں اتنا ہی فرق ہے کہ آزاد عورت کے لئے اپنی مرضی سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے اور وہ عورت جو جنگی قیدی ہو وہ یا تو ان طریقوں سے اپنے آپ کو آزادکر الیتی ہے جو اسلام نے اس کے لئے کھلے رکھے ہیں یا پھر جس گھر میں وہ ہوتی ہے اس کا کوئی مرد اس سے شادی کر لیتا ہے تاکہ بدکاری نہ پھیلے اور اگر اس کے بال بچہ پیدا ہو جائے تو پھر وہ آزاد ہو جاتی ہے ۔پس داہنے ہاتھوں کی ملکیت کے الفاظ سے کوئی شخص دھوکہ نہ کھائے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ المومنون صفحہ ۱۳۰)
    لونڈی کو بغیر نکاح کے بیوی بنانا
    سوال: لونڈی کو بغیر نکاح کے گھر میں بمنزلہ بیوی کے رکھنا کہاں تک درست ہے ۔علماء کا فتویٰ ہے کہ لونڈی سے نکاح کی ضرورت نہیں ۔بلا نکاح تعلق رکھنا جائز ہے۔یہ درست ہے یا نا درست؟
    جواب: اس سوال کا جواب لونڈی کی تعریف پر منحصر ہے ۔اگر لونڈیوں سے وہ لونڈیاں مراد ہوں جو رسول کریم ﷺ کے مقابل حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے لئے ان کے ساتھ آتی تھیں اور وہ جنگ میں قید کرلی جاتی تھیں ۔تو اگر وہ مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا جائز ہے یعنی نکاح کے لئے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔درحقیقت جو میں نے اوپر مکاتبت کا ذکر کیا ہے وہ اس سوال کو پوری طرح حل کردیتا ہے اوراجازت نہ لینے کی حکمت اس سے نکل آتی ہے لیکن یہ ایک لمبا مضمون ہے۔
    اگر لونڈیوں سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جنہیںآج کل لوگ لونڈیاں کہتے ہیں تو ان سے ایسا تعلق بغیر نکاح کے ناجائز ہے۔اب دنیا میں کوئی ایسی لونڈی نہیں جس کا ذکر قرآن میں ہے۔
    (الفضل ۵ ستمبر ۱۹۳۶ ؁ء جلد ۲۴ نمبر ۵۷)
    چار آزاد منکوحہ عورتوں کی موجودگی میں لونڈی رکھنا
    سوال: کیا اب بھی کوئی مسلمان چار آزاد عورتوں کے بغیر لونڈیاں رکھ سکتا ہے؟
    جواب: اس وقت دنیا بھر میں مذاہب بدلوانے کے لئے کوئی جنگ نہیں ہو رہی اس لئے لونڈی نہ ہے نہ ہو سکتی ہے۔پس یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔
    سوال: قیدی عورت اور لونڈی میں کیا فرق ہے ؟ ایک عورت اسلام لا کر بھی لونڈی کی حیثیت میں رہ سکتی ہے تو پھر اسے آزاد کیونکر کہا جائے گا ۔اگرآزاد عورت کا مقام دیا جائے تو چار سے زائد بیویاں رکھنے پر اسے طلاق دینی پڑے گی؟
    جواب: قیدی جو سیاسی جنگ میں آئے اور لونڈی وہ ہے جو ایسی جنگ میں قید ہو جس میں ایک فریق دوسرے سے اس لئے لڑے کہ اس کا مذہب بدلوانا چاہے۔
    (الفضل ۲۳ اگست ۱۹۴۴ ؁ء جلد ۳۲ نمبر ۱۹۷)
    سوال: کیا آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈیوں کے ساتھ تعلقا ت قائم کئے جا سکتے ہیں ؟کیا قرآن کریم نے لونڈیوں کے ساتھ نکاح کو ضروری قرار دیاہے؟
    کیا لونڈی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جبراً تعلقا ت قائم کیے جا سکتے ہیں ؟
    جواب: لونڈی کے ساتھ نکاح ضروری ہے مگر طریقہ نکاح مختلف ہے اور اگر لونڈی چاہے کہ الگ ہو جائے اور وہ کسی شخص کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو وہ شریعت کے مطابق فوراً مکاتبت کی درخواست کرے ۔مکاتبت کے بعد کوئی شخص اس کو نہیں رکھ سکتا ۔
    (فائل مسائل دینی نمبر ۱۱ ۔DP6269/15.1.51)
    سوال: شریعت میں چار بیویاں ایک ہی وقت میں مساوات کے ساتھ رکھناجائز ہیں ۔مگر ما بعد اس کے جو خادمہ زر خرید رکھی جاتی ہے ،آیا ان سے بلا نکاح مباشرت کرنی جائزہے۔اگر جائز ہے تو زانیہ اور اس میں کیا تفاوت ہے؟
    جواب: کوئی فرق نہیں ۔زر خرید کرنا پہلا گناہ ہے ۔اس سے مبا شرت کر نا دوسرا گناہ ہے ۔قرآن کریم میں جن لونڈیوں کا ذکر ہے وہ بالکل اور ہیں ۔آج کل وہ ہیں ہی نہیں۔
    (الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۴۵ ؁ء جلد ۳۳ نمبر ۲۳۵)
    سوال نمبر ۲: اگر یہ جائز ہے تو خادمہ کی اولاد کو ورثہ جائیداد کیوں نہیں ملتا۔کیا وہ اولاد اپنے باپ کو باپ کہنے کی مستحق نہیں ہے۔اگر اس کو شرعاً باپ مانا جاتا ہے تو پھر اس کو اس کی جائیدادسے کیوں محروم کیا جاتا ہے؟
    جواب: اوپر جواب آچکا ہے مگر آپ کی دلیل غلط ہے۔
    (الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۴۵ ؁ء جلد ۳۳ نمبر ۲۳۵)
    موجودہ دور میں ہندو مسلم جنگ کی صورت میں ہندو عورتوں کو لونڈی بنانا
    سوال: آجکل ہندو مسلم جنگوں کے نتیجہ میں جو عورتیں آتی ہیں کیا ان سے تعلق جائز ہے؟
    جواب: اسلام نے ایسے تعلقا ت کی جو اجازت دی ہے وہ ہر جنگ میں نہیں بلکہ صرف جہاد میں ہے ۔دراصل اس جنگ میں جو عورتیں لونڈی بنائی جاتی ہیں ان سے تعلق اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوتا ۔اور چونکہ وہ لونڈی ہوتی ہے اس لئے عام اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔باہم رضامندی کافی ہے اور اس کے حقوق بھی بیویوں کے سے ہوتے ہیں بلکہ اسلام نے ایسی عورت کو یہ بھی حق دیا ہے کہ مکاتبت کر کے آزاد ہو جائے۔
    (الفضل ۳ جولائی ۱۹۴۷ ؁ء جلد ۳۵ نمبر ۱۵۶)
    سوال: لونڈی سے نکاح کرنے یا نہ کرنے کے متعلق حضور کا کیا خیال ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ نکاح ایک اعزاز ہے جو عورت کو حاصل ہوتا ہے ۔لونڈی کو یہ اعزاز دینے کا کیا مطلب ؟وہ تو اس قوم سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہے جو اسلام کو مٹانے کے لئے حملہ آور ہوتی ہے۔لونڈیاں اس قوم کی عورتیں بنائی جا سکتی ہیں جس نے مسلمانوں پر ان کا مذہب بدلوانے کے لئے حملہ کیا ہو ۔
    پولیٹیکل جنگ میں اگر فتح حاصل ہو تو لونڈیاں بنانا جائز نہیں ۔یہ دراصل اس قوم کے لئے سزا ہے جو مذہب بدلوانے کے لئے حملہ آور ہو ۔
    (الفضل ۱۴ اگست ۱۹۳۴ ؁ء جلد ۲۲ نمبر ۲۰ )
    زنا کا الزام
    چونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں عام طور پر لوگوں کو ٹھوکر لگی ہوئی ہے اس لئے میں اپنے ہاتھ سے اس خط کا جواب لکھتا ہوں ۔قرآن کریم کی رو سے زنا کا الزام لگانے والے دو قسم کے لوگ ہوسکتے ہیں۔
    ۱۔ خاوند یا بیوی ۲۔ غیر مرد یا عورت
    اگر الزام لگانے والا خاوند یا بیوی ہو (خاوند کا صریح ذکر قرآن کریم میںہے،بیوی کا معاملہ اس پر قیاس کیا جاوے گا کیونکہ قرآن کریم میںسوائے خاص طور پر مذکور ہونے کے بالمقابل حکم بیان ہوتے ہیں) تو گواہوں کی عدم موجودگی میں ملاعنہ ہوگا یعنی ایک دوسرے کے مقابل اسے قسم دی جاوے گی۔ایک گواہ کے مقابل ایک قسم ہوگی اور پانچویں دفعہ *** ہوگی۔جھوٹے پر عذاب نازل ہونے کی دعا کی جاوے گی۔اگر غیر خاوند یا غیر زوجہ الزام لگاوے تو اس کے لئے صرف چار گواہ لانے ہونگے نہ اس کے کہنے پر قسم دی جاسکتی ہے نہ الزام لگانے والے کی قسم کچھ حقیقت رکھتی ہے۔
    بغیر گواہوں کے الزام لگانے والا بہر حال جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے الزام کے مقابل پر قسم نہ کھانے والا ہرگز ہرگززیر الزام نہیں ۔رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے جب الزام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب تک دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر مانتی ہوں تو جھوٹ ہے اور اگر انکار کرتی ہوں تو لوگ نہ مانیں گے پس میں جواب ہی کچھ نہیں دیتی۔خدا شاہد ہے خدا نے ان کے اس فعل کی تائید کی اور ان کو بری قرار دیا ۔پس پبلک میں اس پر قسم لینا بطور عدالت کے نہ جائز ہے نہ ایسی قسم حجت ہے اور شرعاً الزام لگانے والا جھوٹا ہے اور اس کو ہم اس وقت تک جھوٹا سمجھیں گے جب تک وہ چار گواہ نہیں لاتا ۔اور اگر اسلامی شریعت ہو تو اس کو کوڑے لگیں گے۔اگر اس نے فی الواقع کچھ دیکھا بھی ہے تو اس کا فرض ہے کہ خاموش رہے اور خدا تعالیٰ کی ستاری کے مقابل نہ کھڑا ہو جائے۔
    (الفضل ۷ اگست ۱۹۲۳ ؁ء جلد ۱۱ نمبر ۹)
    سوال: وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِن نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْہِدُواْ عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعۃً مِّنکُمْ فَإِن شَہِدُواْ فَأَمْسِکُوہُنَّ فِیْ الْبُیُوت۔۔۔ الآیۃ (النسائ:۱۶)
    میں فاحشہ چار مرد گواہوں ،عورتوں کو گھروں میں رکھنا اور یَجْعَلْ لَّھُنَّ سَبِیلاً کے الفاظ سے کیا مراد ہے؟
    جواب: فاحشہ سے مراد ایسی برائی کے بھی ہوتے ہیں جو عریاں ہو اور نمایاں طور پر بری نظر آئے اور ضروری نہیں کہ یہ برائی زنا ہی ہو ۔بلکہ ہر بداخلاقی ،بد کلامی اور بد معاملگی فحش کہلا سکتی ہے ۔جو عورت بہت زیادہ بدکلام ہو اسے عربی میں فاحشہ سے موسوم کیا جاتا ہے۔
    اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی عورت اگر بعض برے اخلاق میں انتہاء کو پہنچ چکی ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو سمجھا نے کی کوشش کی جائے لیکن جب یہ مرض لا علاج صورت اختیار کر چکی ہو تو پھر اسے گھر میں مقید رکھنا بہتر ہو گا حتی کہ یا تو ایسی حالت میں اسے موت آجائے یا پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے ہدایت دے دے اور اس کے اخلاق کو درست کر دے۔
    (الفضل ۳ جولائی ۱۹۴۷ ؁ء نمبر ۱۵۶)
    الزام زنا میں شہادت
    سوال: ایک صاحب نے الزام زنا کے متعلق شہادت اور اس کے اثرات وغیرہ کے متعلق استفسار کیا ۔
    جواب: فرمایا:۔ دنیا کی سزا اصل میں فتنہ کو روکنے کے لئے ہے وگرنہ اصل سزا مالک یوم الدین کا کام ہے ۔اسلام نے دنیا میں سزا صرف اس لئے رکھی ہے کہ فتنہ کا سدباب ہو جائے اور جس جگہ فتنہ مکمل نہ ہو وہاں سزا کا کوئی حق نہیں ۔اگر الزام زنا میں چار گواہ شہادت دے دیں تو خواہ ملزم بے گناہ ہی ہو اسے سزا دے دی جائے گی۔کئی مقدمات ایسے ہوتے ہیں کہ مجسٹریٹ مجرم سمجھ کر سزا دے دیتا ہے اور سزا دہی کے لئے شہادت بھی کافی ہوتی ہے مگر حقیقت میں سز ا پانے والا بے گناہ ہوتا ہے ۔بعض جرائم ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک شاہد بھی کافی ہوتا ہے مثلا میں جا رہا ہوں اور میں نے دیکھا کہ زید بکر کو مار رہا ہے پس اسکے لئے چار شاہدوں کے ضرورت نہیں ۔میں بحیثیت مجسٹریٹ خود اپنی شہادت پر ہی اسے سزا دے سکتا ہوں ۔در اصل وہ جرائم جن میں چار گواہوں کی شہادت اسلام میں قرار دی گئی ہے وہ سو سائٹی سے تعلق رکھنے والے جرائم ہیں اور ایسے جرائم میں گواہوں کومجسٹریٹ خود نہیں بلا سکتا جب تک وہ خود بطور مدعی پیش نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ ہم فلاں بات کے گواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ فلاں شخص پر مقدمہ چلایا جائے۔لیکن مقدمہ شروع ہونے کے بعد اگر ان میں سے ایک بھی الزام لگانے سے انکار کر جائے تو باقی تین کو سزا ملے گی ۔جیسا کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہو ا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر پہلا ہی گواہ مکر جائے تو باقی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی شہادت بند کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم اب شہادت دینا نہیں چاہتے ۔لیکن اگر پہلے وہ الزام زنا میں شہادت دے چکے ہوں اور چوتھا مکر جائے تو شہادت دینے والوں کو سزا دی جائے گی ۔حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اس طرح ہوا تھا کہ تین گواہوں کے بعد جب چوتھے کی باری آئی تو اس کی شہادت مشتبہ پائی گئی۔اس پر شہادت دینے والوں کو سزا دی گئی۔در اصل شریعت کا منشاء یہ ہے کہ ایسی باتوں کی اشاعت نہ کی جائے۔
    سوال: عرض کیا گیا کہ آیا قاضی کو کوئی بات بتا نا بھی قذف کا مستحق بناتاہے یا صرف لوگوں میں اشاعت کرنا؟
    جواب: فرمایا:۔ رپورٹ کرنا اور چیز ہے اس کے ما تحت دوسرا مجرم نہیں قرار پا سکتا ۔مگر مقدمہ کے طور پر اگر معاملہ لے جایا جائے اور پھر چار عینی گواہوں کے ذریعہ ثابت نہ کیا جائے تو یہ جرم ہے اور شریعت نے اس کی سزا رکھی ہے۔
    سوال: عرض کیا گیا کہ کیا ایسی شہادت کو دوسروں سے مخفی رکھنے کا حکم ہے ؟
    جواب: فرمایا:۔ مجھے تو کوئی ایسا حکم معلوم نہیں بلکہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ کے واقعہ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو سننے کی اجازت ہے کیونکہ اس موقع پر حضرت علیؓ کی موجودگی بھی ثابت ہے ۔چنانچہ آتا ہے انہوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ چونکہ تینوں گواہ صحابی ہیں اس لئے انہیں سزا نہ دی جائے مگر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تو رسو ل کریم ﷺ کے فتویٰ پر ضرور عمل کروں گا۔
    بات یہ تھی کہ پہلے تین گواہوں نے تو الزام کی تائید میں گواہی دی مگر چوتھے نہ کہا کہ میں نے یہ واقعہ دیکھا تو ہے مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کوئی غیر عورت تھی یا اس کی اپنی بیوی تھی ۔اس شہادت نے پہلے تینوں گواہوں کو سزا کا مستحق بنا دیا۔
    (الفضل ۱۶ جون ۱۹۳۱ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۱۴۵)
    زنا ثابت کرنے کے لئے چار گواہوں کی شہادت مقرر کرنے کی وجہ
    چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ کیوں قرآن کریم نے چار گواہوں کی شرط لگائی ہے اور کیوں دوسرے الزامات کی طرح صرف دو گواہوں پر کفایت نہیں کی ۔اس لئے یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دو کی بجائے چار گواہوں کی شرط لگانا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کے واقعات میں کثرت سے جھوٹ بولا جاتا ہے ۔بس اس وجہ سے زیادہ گواہوں کی شرط لگا دی گئی اور پھر ایک ہی واقعہ کے متعلق چار کی شرط اس لئے لگائی کہ ایک وقت میں پانچ آدمیوں کا اکٹھا ہونا یعنی الزام لگانے والے اور چار گواہوں کا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اس کا جھوٹ آسانی سے کھولا جا سکتا ہے اور جرح میں ایسے لوگ اپنے قدم پر نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ پانچ آدمیوں کا ایک جگہ موجود ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا اخفاء مشکل ہوتا ہے اور پانچ آدمی مل کر یہ جھوٹ بہت کم بنا سکتے ہیںکیونکہ اس میں بعض کی نسبت یہ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے کہ یہ تو اس وقت فلاں جگہ بیٹھا تھا ۔پس چونکہ زنا ایک ایسا فعل ہے جس کے لئے بیرونی دلائل نہیں ہوتے۔۔۔اس لئے اس پر الزام لگانا آسان ہوتا ہے ۔اس وجہ سے شریعت نے چوری اور قتل کے لئے تو دو گواہوں کی گواہی کو تسلیم کیا لیکن بدکاری کے الزام کے متعلق چار گواہوں کی شرط لگائی اور الزام لگانے والوں سے ہمدردی کو بھی سخت جرم قرار دیا اور الزام سنتے ہی اس کو جھوٹا قرار دینے کی نصیحت کی ۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۲۶۳)
    وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ۔۔۔الآیۃ (النور:۵)
    اس آیت میں الزام زنا کی شہادت کا طریق بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے پر زنا کا الزام لگانے والا چار گواہ لائے جو اس الزام زناکی تصدیق کرتے ہوں۔مگر رسول کریم ﷺ اور صحابہؓ کے اقوال سے ثابت ہے کہ اگر گواہ مختلف جگہوں کے متعلق شہادت دے رہے ہوں تو وہ شہادت ہرگز تسلیم نہیں کی جائے گی۔اور چاہے وہ چار گواہ ہوں پھر بھی وہ ایک ہی جگہ کے متعلق الزام لگانے والے کے علاوہ چار عینی شاہد ہوں اور دوسرے ان کی گواہی اتنی مکمل ہو کہ وہ چاروں یہ گواہی دیں کہ انہوں نے مرد و عورت کو اس طرح اکٹھے دیکھا ہے جس طرح سرمہ دانی میںسلائی پڑی ہوتی ہے۔
    فقہاء کے نزدیک مجرم پر حد زنا تین طرح لگتی ہے ۔اوّل قاضی کے علم سے ۔دوئم اقرار سے ۔سوئم چار گواہوں کی شہادت سے ۔مگر قاضی کے علم سے حد لگانا میرے نزدیک قرآن کریم کی رو سے غلط ہے کیونکہ قاضی بہر حال ایک شاہد بنتا ہے لیکن قرآن کریم کی رو سے پانچ شاہد ہونے چاہئیں۔ایک الزام لگانے والا اور چار مزید گواہ۔بلکہ میرے نزدیک اگر قاضی کو کوئی ایسا علم ہو تو اسے مقدمہ سننا ہی نہیں چاہئے بلکہ اس مقدمہ کو کسی دوسرے قاضی کے پاس بھیج دینا چاہئے اور خود بطور گواہ پیش ہو نا چاہئے۔قاضی صرف امور سیاسیہ میں اپنے علم کو کام میںلا سکتا ہے حدود شرعیہ میں نہیں۔کیونکہ حدود شرعیہ کی سزا خود خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہوئی ہے۔اسی طرح گواہی کا طریق بھی اس کا مقرر کردہ ہے۔
    اقرار کے متعلق بھی یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اقراروہ ہے جو بغیر جبر اور تشدد کے ہوورنہ پولیس کئی دفعہ مار پیٹ کر بھی اقرار کروالیتی ہے حالانکہ وہ اقرار جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔پھر یہ اقرار ایک دفعہ کافی نہیں بلکہ چار دفعہ بغیر پولیس کے قاضی کے سامنے ہونا چاہئے۔اور اقرار بھی قسمیہ ہونا چاہئے۔تب اس کو حد لگے گی۔لیکن ایسا شخص چار دفعہ اقرار کرنے کے باوجود بعد میں اقرار کر دے تو اس کو حد زنا نہیں لگے گی۔ہاں اگر اس نے عورت پر زنا کا الزام لگایا ۔
    قذف کے متعلق فقہاء میں یہ بحث ہے کہ وہ کس طرح ہوتا ہے۔اگر صریح ہو تو اس پر حد ہے اور اگر کنایۃً ہو جیسا کہ یہ کہہ دے کہ اے فاسقہ یا اے مؤاجرہ یا اے ابنۃ الحرام تو اسے قذف نہیں سمجھا جائے گا جب تک اس کے ساتھ نیت نہ ہو۔بلکہ عام طور پر یہ گالی سمجھی جائے گی اور اگر تعریضا ًہو جیسے کوئی کہے میں تو زانی نہیں اور وہ اشارتاً یہ کہنا چاہتا ہو کہ تو زانی ہے یا کسی کو مخاطب کر تے ہوئے کہہ دے کہ اے ابن حلال اور اس کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب ابن حلال تو امام شافعی ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک تو تعریض قذف نہیںلیکن امام مالکؒ کے نزدیک قذف ہے اور امام احمد ؒ کے نزدیک غصہ کی حالت میں ایسا کہا گیا ہو تو قذف ہے ورنہ نہیں۔لیکن میرے نزدیک جو کلام بھی کسی ایسے رنگ میں ثابت ہو جائے کہ اس کے سننے والوں پر کسی الزام کا اثر ڈالنا مقصود ہو تو وہ قذف ہے اور اسی طرح قابل سزا ہے جس طرح کوئی آزاد آدمی اگر قذف کرے تو اس کے لئے اسی کوڑے سزا مقرر ہے۔اگر غلام قذف کرے تو اس کے لئے چالیس کوڑوں کی سزا مقرر ہے۔لیکن اس کا فیصلہ قاضی کرے گا پبلک کا کام نہیں کہ اس کا فیصلہ کرے۔
    اگر غیر شادی شدہ عورت یا غیر شادی شدہ مرد پر کوئی قذف کرے تو قرآن کی رو سے اس پر کوئی حد نہیںہاں قانون یا قاضی مناسب حال سزا اس کے لئے تجویز کرے گا ۔گویا ایسے مقدمہ کا فیصلہ صرف اس بناء پر ہوگا کہ قاضی اس کو مجرم قرار دے دے۔اس کے بعد حکومت اس سے مجرموں والا سلوک کرے گی ورنہ نہیں۔گویا اسلام نے دونوں کو پابند کر دیا ۔قاضی کو طریق شہادت سے پابند کر دیا اور حکومت کو قاضی کے فیصلہ سے پابند کر دیا۔
    اور اگر کوئی شخص کسی غیر محصنہ پر جس کو پہلے کبھی سزا مل چکی ہو الزام لگائے تو اس کو تعزیر کی سزا ملے گی۔کیونکہ پھر عزت کا سوال نہیںبلکہ فتنہ ڈالنے کا سوال ہوگا۔لیکن اگر الزام کسی ایسے شخص پر لگایا جائے جو مشہور بدنام اور آوارہ ہو اور قاضی بھی اسے بدنام اور آوارہ قرار دے دے تو پھر الزام لگانے والے کو صرف فتنہ پیدا کرنے کی سزا دی جائیگی۔
    یہ بھی فقہاء نے بحث کی ہے کہ گویہاں محصنات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے محصنین کا لفظ استعمال نہیںکیا گیامگر اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ جبکہ مردوں کے ذکر میں عورتیں شامل سمجھی جاتی ہیں توعورتوں کے ذکر میںمرد کیوں نہ شامل سمجھے جائیں گے۔پس وہ اس آیت کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے سمجھتے ہیں۔پھر فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اس جگہ محصنات کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اور محصنین کا نہیں کیا گیا تواس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گو مرد بھی اس حکم میں شامل ہیں مگر عورتوںکی عزت بچانا سوسائٹی کا پہلا فرض ہے۔کیونکہ جھوٹے الزاموں سے عورت کی عزت کو زیادہ نقصان پہنچتاہے اور مرد کی عزت کو کم۔
    اگر چار گواہ نہ ہوں وہ تین ہوں تو ان پر حد لگے گی اور اگر چار گواہ تو ہوں لیکن فاسق ہوں تب بھی بعض فقہاء کے نزدیک گواہوں پر حد لگے گی۔لیکن میرے نزدیک حد نہیں لگے گی۔کیونکہ فاسق قرار دینے کا فیصلہ قاضی کے اختیار میں تھا اور گواہ کو اس کا کوئی علم نہیں ہو سکتا تھا کہ مجھے فاسق قرار دیا جائے گا یا نہیں۔ہاں قاضی کو تعزیر کا اختیا ر ہوگا یعنی حالات کے مطابق سزا دینے کا تاکہ آئندہ احتیاط رہے اور جس پر الزام لگایا گیا ہو اس کی برأت کی جائے گی۔
    قرآن کریم کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ قاذف کے علاوہ چار گواہ ہوںگے یعنی کل پانچ نہ کہ قاذف سمیت چار۔بعض لوگوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ شہادت ایک مقام پر ہوگی یا مختلف مقامات پر لیکن میرے نزدیک یہ بحث فضول ہے۔قاضی جس طرح چاہے گواہی لے لے لیکن یہ ضروری ہے کہ گو مقام شہادت مختلف ہوں مگر جس واقعہ کی شہادت ہو وہ ایک ہی ہو تاکہ وہ احتیاط جو غلطی سے بچنے کے لئے کی گئی تھی ضائع نہ ہو جائے اور منصوبہ بازی کا ازالہ ہو جائے۔
    یہ حکم اس زمانے میں خوب یاد رکھنے کے قابل ہے کیونکہ جس قدر بے حرمتی اور ہتک اس زمانے میںاس کی ہو رہی ہے اور کسی حکم کی نہیںہو رہی۔بلا دلیل اور بلا وجہ اور بلا کسی ثبوت کے محض کھیل اور تماشہ کے طور پر دوسروں پر الزام لگائے جاتے ہیں اور قطعاً اس بات کی پر واہ نہیں کی جاتی کہ یہ کتنابڑ ا گناہ ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر سزا مقرر کی ہوئی ہے۔ایسا الزام لگانے والے کے لئے خدا تعالیٰ نے اسّی کوڑے سزا رکھی ہے جو زنا کی سزا کے قریب قریب ہے۔یعنی اس کے لئے سو کوڑے کی سزا ہے لیکن الزام لگانے والے کے لئے اسّی کوڑے کھا لینے کے بعد بھی یہ سزا ہے کہ کبھی اس کی گواہی قبول نہ کرو۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ سزا اور زیادہ آگے بڑھتی ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا انسان خدا تعالیٰ کے حضور فاسق ہے اورجسے خدا تعالیٰ فاسق قرار دے دے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتاکہ وہ مومن اور متقی ہے یونہی خدا نے اس کا نام فاسق رکھ دیا ہے بلکہ اس میں یہ اشارہ مخفی ہے کہ الزام والا خود اس بدی میں مبتلا ہو جائے گا ۔کیونکہ خدا تعالیٰ بلا وجہ کسی کا نام نہیں رکھتا بلکہ جب بھی کسی کا کوئی نام رکھتا ہے تواس کے مطابق اس میں صفات بھی پیدا کر دیتا ہے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۲۶۰ تا ۲۶۲)
    زنا کی سزا سو کوڑے
    الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِئَۃَ جَلْدَۃ۔۔۔۔الآیۃ (النور:۳)
    قرآن کریم کی اس آیت سے بالبداہت ثابت ہے کہ زانی مرد اور زانیہ عورت کی سزا ایک سو ۱۰۰کوڑے ہیں۔اور سورۃ نساء رکوع ۴ میں آتا ہے کہ یہ سزا ان عورتوں اور مردوں کے لئے ہے جو آزاد ہوں ۔جو عورتیں آزاد نہ ہوں ان کی سزا بدکاری کی صورت میں نصف ہے یعنی پچاس کوڑے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَیْْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنَات مِنَ الْعَذَاب(نساء :۲۶)یعنی جب وہ عورتیں جو آزاد نہ ہوں دوسروں کے نکاح میں آجائیں تو اگر وہ کسی قسم کی بے حیائی کی مرتکب ہوںتو ان کی سزا آزاد عورتوں کی نسبت نصف ہوگی۔اس آیت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مقرر ہ سزا ایسی ہے جو نصف ہو سکتی ہے ۔اور سو کوڑوں کی نصف سزا پچاس کوڑے بن جاتی ہے۔لیکن بعض لوگ اس آیت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سزا بعد میں رسول کریم ﷺ نے رجم کی شکل میں بدل دی تھی ۔یعنی آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ بجائے اس کے کہ کوڑے مارے جائیں رجم کرنا چاہئے۔لیکن ظا ہر ہے کہ اگر یہ معنی کیے جائیںتو نہ صرف محولہ بالا آیت نور ہی منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ سورۃ نساء کی آیت بھی بالکل بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ لونڈ ی کی سزا آدھی ہے اور رجم کا آدھا قیاس میں بھی نہیں آسکتا۔پس اس آیت کے صریح اور واضح مفہوم کے ہوتے ہوئے اور سور ۃ نساء کی آیت کی تصدیق کی موجودگی میں یہ بات بغیر کسی شک اور شبہ کے کہی جاسکتی ہے کہ قرآن کریم میں زنا کی سزا آزاد عورت اور مرد کے لئے سو کوڑے ہیں اور لونڈی یا قیدی کے لئے پچاس کوڑے ہیں۔
    اب رہا یہ سوال کہ رجم کا دستور مسلمانوں میں کس طرح پڑا ؟سو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے بد کار عورت اور مرد کے متعلق رجم کا حکم دیا۔پس اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں میں کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی صورت میں رجم کا حکم یقینا تھا۔سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا رجم نے کوڑے مارنے کے حکم کو منسوخ کیا یا کوڑے مارنے کے حکم نے رجم کے حکم کو منسوخ کیا۔یا یہ دونوں حکم ایک وقت میں موجود تھے۔اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس حکم کے متعلق ناسخ و منسوخ کا قاعدہ استعمال ہوا ہے تو ہمارے اپنے عقیدہ کی رو سے تو معاملہ بالکل صاف ہو جاتاہے ۔کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی منسوخ حکم قرآن کریم میں موجود نہیں ۔قرآن کریم میں جتنے احکام موجود ہیں وہ سب غیر منسوخ ہیں ۔اس عقیدہ کی رو سے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیںکہ اگر رجم کا کوئی حکم تھا تو اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا اور اس آیت نے اسے منسوخ کردیا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی اور حکم بعد میں نازل ہوا او ر اس نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور اگر کوئی حدیث اس کے خلاف ہے تو وہ مردود ہے کیونکہ وہ قرآن شریف کو رد کرتی ہے۔نیز اگر یہ آیت منسوخ ہو گئی ہوتی تو پھر یہ قرآن سے نکال دی جاتی ۔یہ جو بعض فقہاء نے مسئلہ بنایا ہوا ہے کہ بعض آیتیں ایسی ہیں کہ تلاوتاً قائم ہیں اور حکماً منسوخ ہیں یہ نہایت ہی خلاف عقل خلا ف دلیل اور خلاف آداب قرآنی ہے۔ہم اس مسئلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ہمارے نزدیک اگر منسوخ آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں تو پھر سارے قرآن کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔
    بہر حال رسول کریم ﷺ کا بعض لوگوں کو رجم کرنا محض یہودی تعلیم کی اتباع میں تھا لیکن اس کے بعد جب قرآن کریم میں واضح حکم آگیا تو پہلا حکم بھی بدل گیا اور وہی حکم آج بھی موجود ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یعنی اگر کسی کی نسبت زنا کا جرم ان شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں ۔کوڑوںکی تشریح قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی لیکن قرآنی الفاظ سے یہ بات ثابت ہے کہ کوڑا ایسی طرز پر مارا جانا چاہئے کہ جسم کو اس کی ضرب محسوس ہو ۔کیونکہ ’’جَلَدَہٗ بِا لسّیَاطِ‘‘ کے معنی ہوتے ہیں ضَرَبَہٗ بِھَا وَ اَصَابَ جِلْدَہٗ (اقرب) یعنی کوڑے سے اس طرز پر مارا کہ جلد تک اس کا اثر پہنچا۔پس کسی چیز سے جس کی ضرب اتنی ہو کہ جسم محسوس کرے سزا دینا اور لوگوں کے سامنے سزا دینا اس حکم سے ثابت ہوتا ہے۔خواہ وہ کوڑا چمڑے کا نہ ہو بلکہ کپڑے کاہو۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کوڑا وہی ہو جیسا کہ آج کل عدالتیں استعمال کرتی ہیں اور جس کی ضرب اگر سو کی حد تک پہنچے تو انسان غالباً مر جائے ۔سورہ نساء کی آیت نے ثابت کردیا ہے کہ ایسے کوڑے مارنے ناجائز ہیں جن کے نتیجہ میں موت وارد ہو جائے۔ایسے ہی کوڑے مارے جا سکتے ہیں جن سے انسان پر موت وارد ہونے کا کوئی امکان نہ ہو ۔یعنی نہ تو کوڑا ایسا ہونا چاہئے جس سے ہڈی ٹوٹ جائے کیونکہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے کہ جَلَدَہٗ بِا لسّیَاط کے معنوں میںیہ بات داخل ہے کہ صر ف جلد کو تکلیف پہنچے ہڈی کے ٹوٹنے یا اس کو نقصان پہنچنے کا کوئی ڈر نہ ہو اور نہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی ضرب سے انسان پر موت وارد ہونے کا کوئی امکان ہو ۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صرف زانی یا زانیہ کا لفظ نہیں رکھا ۔بلکہ الزانیۃ والزانی کے الفاظ رکھے ہیں یعنی الف لام کی زیادتی ہمیشہ معنوں میں تخصیص پیدا کر دیا کرتی ہے ۔پس اس جگہ الزانیۃ والزانی سے صرف ایسا ہی شخص مراد ہو سکتا ہے جو یا تو زنا کا عادی ہو یا علی الاعلان ایسا فعل کرتا ہو۔اور اتنا نڈر اور بے باک ہو گیا ہو کہ وہ اس بات کی ذرا بھی پر واہ نہ کرتا ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے یا نہیں یا اس میں شہوت کا مادہ تو نہ ہو اور پھر بھی وہ زنا کر تا ہو جیسے بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت ۔ان معنوں کے لحاظ سے اس حدیث کی بھی ایک رنگ میں تصدیق ہو جاتی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ ’’ الشیخ والشیخۃ اذا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا الْبَتَّۃَ‘‘ ایک بڑی عمر والا مرد یا ایک بڑی عمر والی عورت اگر زنا کریں تو ان کو پتھر مار مار کر مار دو۔گویا الزانیۃ والزانی کے معنی الشیخ والشیخۃ کے ہی ہیں ۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۲۴۹ تا ۲۵۷)
    زناکی سزا رجم نہیں
    سوال: زنا کی سزا رجم کا ذکر قرآن مجید میں نہیں۔احا دیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس سزا کو دیا۔آیا اس حدیث کو خلاف قرآن سمجھ کر ترک کر دیں اور آنحضرت ﷺکے اس فعل کی کیا تشریح کریں؟
    جواب: احادیث ہر زمانہ کے متعلق ہیں ۔سزائے رجم کے متعلق احادیث قرآنی احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہیں ۔رسول کریم ﷺ کا طریق تھا کہ جب تک قرآن کریم میں معین احکام نازل نہ ہوئے آپ تورات کے احکام کی تعمیل کرواتے تھے اور تورات میں رجم موجود ہے۔پس اب رجم کی سزا اسلام میں نہیں کوڑوں کی سزا ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے۔
    (فائل مسائل دینی ۔۔۔۔DP 6269/15.1.51)
    ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ stoningاسلام میں جائز نہیں ۔پرانے علماء کا عقیدہ تھا کہ سٹوننگ جائز ہے۔حدیثوں میں مذکور ہے لیکن قرآن اس کے خلاف ہے ۔ہمارے نزدیک شادی شدہ کی سزا کوڑے ہی ہونگے سوائے اس کے کہ adulteryکا عادی ہو اور لڑکیوں کو خراب کرے اس کو بے شک stoningکا مستحق سمجھیں گے ۔مگر شرائط وہی ہیں کہ چار عینی گواہ ہوں جو ملنے قریباً ناممکن ہوتے ہیں۔
    (فائل مسائل دینی 32-A 17.6.58 )
    زنا بالجبر کے نتیجہ میں پید اشدہ بچہ
    میرے خیال میں تو اسلام ایسے بچوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔ماں تو زنا بالجبر کی صورت میں بہر حال بے گناہ ہی ہے ۔اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ ایسے بچے کی ولادت کے بعد اس کی اچھی تربیت کرے اور بچہ سچا مسلمان ہو جائے تو غالباً ماں ثواب ہی کمائے گی۔لیکن زیادہ مشکل دنیا کی ہے جو ماں اور بچہ دونوں پر طعن رکھے گی۔اس لئے اگر مصلحتاً ماں کا نام اور پتہ بدل دیا جائے تو شاید وہ اس مصیبت سے بچ جائے ۔بہر حال جو بھی شرعی فتویٰ ہو اس سے مطلع فرمایا جائے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے آنحضرتﷺ نے تو رضامند ی کے ساتھ زنا کی مرتکب ہو کر تائب ہونے والی عورت کے بچہ کو بھی بچایا تھا اور یہاں تو جبر کا معاملہ ہے۔
    (الفضل ۱۸ دسمبر ۱۹۴۷ ؁ء جلد ۱ نمبر ۷۷)
    جانور کے ساتھ بد فعلی کرنے والے کی سزا
    سوال: اگر کوئی شخص کسی جانور کے ساتھ زنا کرے تو کیا اس جانور کو قتل کر کے دفنا دیا جائے اور زانی پر حد قائم کیا جائے؟
    جواب: کیا لغو بات ہے ۔جانور کے متعلق یہ خیال فاسد ہے ۔جانور کا کیا قصور اور کیا جانور ہر ایک جانور سے بغیر نکاح مجامعت نہیں کر واتا ۔
    آپنے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا ؟ایسا فعل کرنے والا انسان ایک خلاف فطرت فعل کا مرتکب ہے۔جانور کا نہ قصور نہ وہ ذمہ وار نہ زنا کا مسئلہ جانور کے متعلق ہے۔
    ( فائل مسائل دینی 65-A RP 7302/13.12.51-52)
    حد قذف
    اگر کوئی شخص اقرار کرنے کی بجائے کسی دوسرے پر اتہام لگائے تو جس پر اتہام لگایا جائے گا اس سے پوچھا بھی نہیں جائے گا اور نہ اس سے قسم یا مباہلہ کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا۔کیونکہ حدود میں قسم یا مباہلہ کرنا شریعت کی ہتک کرنا ہے اور یہی پرانے فقہاء کا مذہب ہے۔چنانچہ امام محمد ۔۔اپنی کتا ب مبسوط میں لکھتے ہیں ’’وَالْحَدُوْدُ لَا تُقَامُ بِالْاَ یْمَانِ ‘‘ (المبسوط صفحہ ۵۰۲ جلد ۹)یعنی جن امور میں حد مقرر ہے ان میں قسموں کے ذریعہ حد قائم نہیں کی جا سکتی ۔ایسے امور کا فیصلہ بہر حال گواہوں کی گواہی پر منحصر ہو گا ۔پھر اگر کوئی الزام لگا نے والا تین گواہ بھی لے آئے تو ان گواہوں کو بھی اور اتہام لگانے والوں کو بھی اسّی اسّی کوڑوں کی سز ادی جائے گی کیونکہ انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس کا ان کے پاس کوئی شرعی ثبوت نہیں تھا۔
    ۲:۔ کسی کا اپنے جرم کو ظاہر کر نا یا اس کا اقرار کر لینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ بڑا نیک ہے کیونکہ شریعت تو گناہ کو ظاہر کرنے سے روکتی ہے۔جب تک قاضی کے سامنے شہادت کے موقع پر اس کا بیان کرنا از روئے شریعت ضروری نہ ہو ۔پس جو شخص بلا وجہ اپنی طرف بدکا ری اور عیوب منسوب کرتا ہے اس کو تو شریعت شاہد عادل قرار نہیں دیتی کجا یہ کہ اس کے اقرار کو کوئی اہمیت دی جائے یا اسے اس کے تقویٰ کا ثبوت سمجھا جائے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۲۶۵)
    خائن کی سزا نہ مقرر کرنے کی وجہ
    سوال: اس کی کیا وجہ ہے کہ چور کی تو یہ سزا رکھی گئی کہ اس کے ہاتھ کاٹے جائیں مگر خائن کو ایسی سزا نہیں دی گئی ۔حالانکہ بعض اوقات خائن چور سے بھی زیادہ نقصان پہنچا دیتا ہے؟
    جواب: یہ اس لئے کہ خائن کے متعلق اپنا اختیار ہوتا ہے چاہے ہم اس کے پاس اپنا مال امانتاً رکھیں چاہے نہ رکھیں اور جب ایک دفعہ کسی شخص کی خیانت لوگوں پر واضح ہو جائے تو ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا اس کے پاس پھر مال بطور اما نت رکھے۔لیکن چور کے متعلق ہماراکوئی اختیا ر نہیں ہوتا وہ بغیر ہمارے علم کے آتا ہے اور مال چرا کر لے جاتا ہے۔پس اس وجہ سے خائن کے لئے وہ سزا تجویز نہیں کی گئی جو چور کے لئے رکھی گئی ہے کیونکہ چور پر ہمارا اپنا اختیا ر نہیں ہوتا۔انسان بے بس ہو جاتا ہے اورلا علمی میں اس کا مال چرا لیا جاتا ہے ۔لیکن خائن کے متعلق دنیا کو علم ہو جاتا ہے کہ یہ امین نہیں ۔اس لئے جب یہ علم ہو جاتا ہے تو کوئی شخص اس کے پاس اما نت رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اگر رکھے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا۔پس چونکہ ان دونوں میں فرق ہے اس لئے سزا بھی علیحدہ علیحدہ رکھی گئی ۔
    (الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۳۱ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۱۱۳)
    کیا امام وقت قرآنی سزا کو موقوف کر سکتا ہے
    سوال: قرآن مجید میں جو شرعی سزائیں جرائم کی مقرر کی گئی ہیں کیا امام وقت بعض حالات میں ان کو موقوف کر سکتا ہے اور اس کی جگہ دوسری سزائیں رکھ سکتا ہے؟
    جواب: ایسی کوئی سزا نہیں جسے منسوخ کرنے کی ضرورت ہو اور اس کی بجائے کسی نئی شریعت کے احکام کی ضرورت ہو۔یہ ان لوگوں کا نظریہ ہے جو مغربی خیالا ت کے خلا ف کہنے سے ڈرتے ہیں ۔یہ لوگ ابن الوقت ہیں ،جو طاقت زمانہ میں زیادہ ہو اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں۔ایسے لوگوں سے پوچھ کر مجھے لکھیں کہ کون سے احکام کے بدلنے کی ضرورت ہے اور وہ اس وقت نا قابل عمل ہیں ۔
    ہاں قرآنی اصول کے مطابق نا واقفیت سزا کو ہلکا یا موقوف کردیتی ہے ۔سو اگر کوئی قوم حدیث العہد بالاسلام ہو یا زمانہ میں جاہلیت کا دور دورہ ہو تو تعلیم کے مکمل ہونے تک سزاؤں میں اسلامی حاکم تخفیف کر سکتا ہے اور یہ شریعت کا بدلنا نہ ہو گا بلکہ تعلیمی دور کہلائے گا۔
    (فائل مسائل دینی نمبر ۱۱ DP6269/15.1.51 )
    سٹرائک و ہڑتال
    لیبر پارٹی اور مزدوروں اور کسانوں کی انجمن کے متعلق جماعت احمدیہ کے سابقہ رویہ میں تبدیلی
    احباب کو معلوم ہے کہ جماعت احمدیہ کا سابق رویّہ یہ رہا ہے کہ کسی قسم کی لیبر انجمنوں کی تحریک وغیرہ میں ہماری جماعت کے لوگ حصہ نہ لیں۔کیونکہ ایسی مجالس بعض دفعہ سٹرائک کا اعلان کرتی ہیں اور سٹرائک کرنے کو ہماری جماعت اس لئے نا پسند کرتی ہے کہ اس میں زبردستی اور زور کا دخل ہے۔جہاں تک اصول کا سوال ہے ہم اب بھی اس اصل کو مانتے ہیں لیکن جہاں تک قانون کا سوال ہے میں دیکھتا ہوں کہ پاکستان گورنمنٹ نے بھی اور دنیا کی بہت سی گورنمنٹوں نے سٹرائک وغیرہ کے اصول کو تسلیم کر لیا ہے اور اس کو جائز قرار دے دیا ہے۔گو بعض شرائط اس پر لگا دی ہیں اس لئے چونکہ قانون ایک چیز کو جائز قرار دیتا ہے کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ اس سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔پس اس اعلان کے ذریعہ سے میں جما عت کے لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ شوریٰ کے فیصلہ تک ہماری جماعت کے مزدور یا ملازم اپنے پیشہ کی انجمنوں یا لیبر تحریکوں میں حصہ لے سکتے ہیں ۔صرف اس شرط کے ساتھ کہ وہ کسی ایسی سٹرائک میں شامل نہ ہو ں جس کو قانونا ً ناجائز قرار دیا گیا ہو ۔باقی اپنے پیشہ کے لوگوں کی ترقی کے لئے ہر قسم کی جدوجہد وہ کر سکتے ہیں اور جو سٹرائک قانوناً جائز ہے اس میں وہ حصہ لے سکتے ہیں ۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ ان کو یقین رکھنا ہو گا کہ سٹرائک بذاتہٖ ناجائز ہے۔لیکن چونکہ ملک کا قانون اور حکومت کا طریق ایسا ہے کہ سٹرائک کے بغیر حقوق حاصل کرنے کا کوئی راستہ اس نے نہیں کھولا اور اسی وجہ سے اس نے خود سٹرائک کو اکثر حالت میں جائز قرار دے دیا ہے۔اس لئے ان مجبوریوں کی وجہ سے ایک احمدی ایسی انجمنوں میں حصہ لیتا ہے۔اگر یہ حالات بدل جائیں اورحکومت ایسے قوانین بنا دے کہ جن کے ذریعہ سے مزدور او ر ملازم پیشہ لوگ اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہوں تو قانوناً بھی اور شرعاً بھی سٹرائک ناجائز ہوگی۔
    ہماری جماعت کے لئے بڑی دقت یہی تھی کہ وہ جب ایسی انجمنوں میں شامل ہو تے تھے تو ان سے سوال کیا جاتا تھا کہ کیا آپ سٹرائک میں شامل ہونگے؟اور احمدی کہتے تھے نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں لیکن اب رائج الوقت قانون نے دو قسم کی سٹرائکیںقرار دے دی ہیں ایک جائز اور ایک ناجائز ۔اس لئے احمدی کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہر قسم کی جائز کوشش میں حصہ لیں گے۔لیکن اگر کوئی خلاف قانون سٹرائک ہوئی تو حصہ نہیں لیں گے اور اگر کسی عہدہ پر ہوئے تو اس سے استعفیٰ دے دیں گے۔اس صورت میں میں سمجھتا ہوں کہ جو شکوہ مزدوروں اور ملازموں کی انجمنوں کو احمدیوں سے تھا وہ بہت حد تک کم ہو جائے گا او ر ان کی غلطی بہت حد تک دور ہو جائے گی۔
    پس اس اعلان کی روشنی میں احمدی اپنے پرانے طریق عمل کو بدل لیں اور اپنے پیشہ یا اپنے محکمہ کی ایسی انجمنوں میں شامل ہو جائیں جو کہ اس پیشہ یا اس محکمہ کے ملازموں کے حقوق کے لئے بنائی گئی ہیں اور اگر ایسی سٹر ائک اس محکمہ یا کارخانہ کے کارکن کریں جس کو قانون منع نہیں کرتا تو بے شک اس سٹرائک میں بھی شامل ہو جائیں کیونکہ حکومت اس کی ذمہ دار ہے جب وہ ایک سٹرائک کو جائز قرار دیتی ہے تو ہمارے لئے اس کو ناجائز قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ۔خصوصاً جبکہ حکومت کی پالیسی کے بنانے میں ہمارا کوئی اختیا ر نہیں۔میں اس مسئلہ کو ایک دفعہ جما عت کی مجلس شوریٰ کے سامنے بھی رکھوں گا اور مجلس شوریٰ میں غور کرنے کے بعد جو فیصلہ ہو گا وہ آخری فیصلہ ہو گا ۔مگر میںجماعت کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے از خود ہی موجودہ اعلان کر رہا ہوں ۔اگر بعد میں کسی تبدیلی کی ضرورت سمجھی گئی تو وہ کر دی جائے گی۔
    مرزا محمود احمد 21.8.52
    (الفضل ۲۴ اگست ۱۹۵۲ ؁ء )
    قانون شکنی کی تلقین کرنے والوں سے ہم کبھی تعا ون نہیں کر سکتے
    بعض جماعتیں ایسی ہیں جو بغاوت کی تعلیم دیتی ہیں ۔بعض قتل و غارت کی تلقین کرتی ہیں ،بعض قانون کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتیں۔ان معاملات میں کسی جماعت سے ہمارا تعاون نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ہماری مذہبی تعلیم کے خلا ف امور ہیں اور مذہب کی پابندی اتنی ضروری ہے کہ چاہے ساری گورنمنٹ ہماری دشمن ہو جائے اور جہاں کسی احمدی کو دیکھے اسے صلیب پر لٹکا نا شروع کر دے پھر بھی ہمارا یہ فیصلہ بدل نہیں سکتا کہ قانون شریعت اور قانون ملک کبھی نہ توڑا جائے۔اگر اس وجہ سے ہمیں شدید ترین تکلیفیں بھی دی جائیں تب بھی یہ جائز نہیں کہ ہم اس کے خلا ف چلیں۔
    (الفضل ۶ اگست ۱۹۳۵ ؁ئ)
    سوال: ملتان کانفرنس میں ہماری یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ ۱۱ اکتوبر کو ہڑتال کریں؟
    جواب: پرائیوٹ سیکرٹری 19.9.59 ۔۔۔۔۔۔۔
    حضور نے سٹرائک کو جائز قرار نہیں دیا۔
    ( فائل رجسٹر اصلاح و ارشاد)
    اصولِ شہادت
    سلسلہ کی عدالتوں میں شہادت کے متعلق یہ اصول رہے گا کہ جن امور کے متعلق بیان دینے سے شریعت نے روک دیا ہے اگر ان کے متعلق دوران شہادت میں قاضی کوئی سوال کرے تو گواہ کو کہہ دینا چاہئے کہ اس کے جواب میں مجھے ایسی باتیں ظاہر کرنی پڑیں گی جن میں حدود شریعت کا سوال آ جائے گا۔اس لئے مجھے جواب دینے سے معذور سمجھا جائے ۔اگر اس کے بعد قاضی پھر بھی مجبور کرے کہ سوال کا جواب دیا جائے تو ایسی صورت میں گواہ کو یہ کہنا چاہئے کہ اس امر کے متعلق مجھے اپیل کا موقع دیا جائے۔جس پر عدالت کا فرض ہوگا کہ مقدمہ کی کاروائی کو روک کر مناسب موقع اپیل کا دے۔اگر عدالت مرافع بھی گواہ کے خلاف فیصلہ کرے تواس کا فرض ہوگا کہ اس امر کے متعلق خلیفہ وقت کے سامنے اپیل کرے پھر اگر خلیفہ وقت بھی فیصلہ کرے کہ اسے اس سوال کا جواب دینا چاہئے تو اس کا فرض ہو گا کہ سوال کا جواب دے۔لیکن اس صورت میں ۔۔۔۔۔۔آیت گواہ ایسے الزام سے جو اس سوال کے جواب سے اس پر یا کسی دوسرے پر عائد ہوتا ہے بری سمجھا جائے گا۔لیکن بہر حال کوئی گواہ کسی عدالت کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس سوال کا جواب نہیں دو ں گا۔ایسا کہناعدالت کی ہتک سمجھا جائے گا ۔وہ صرف اپیل کی اجازت لے سکتا ہے نیز اگر وہ اپیل کیے بغیر ایسے سوال کا جواب دے دے تو بھی مجرم سمجھا جائے گا ۔اور اس حصہ شہادت کو مسل سے خارج کیا جائے گا۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۱ ۔صفحہ ۳۴ ۔دارالقضاء ربوہ)
    ثبوت کے بغیر دعویٰ قابل قبول نہیں
    اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ۔۔۔۔ الآیۃ (النور:۲۷)
    بعض لوگ اس آیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں۔اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہیں ۔لیکن یہ معنی واقعات کے بھی خلاف ہیں اور عقل کے بھی خلاف ہیں ۔قرآن کریم نے حضرت لوط اور حضرت نوح علیھم السلامکی بیویوں کو مجرم قرار دیا ہے تو کیا حضرت لوط ؑاور حضرت نوح ؑکو بھی مجرم قرار دیا جائے گا؟۔۔۔۔
    یہ آیت درحقیقت ایک عام قانون پر مشتمل ہے اور اس میں بتلایا گیا ہے کہ الزام قبول کرنے سے پہلے ملزم کی عام حیثیت کودیکھ لو۔اگر وہ عام طور پر نیک سمجھا جاتا ہے تو بادی النظر میں الزام کو فوراً جھوٹا قرار دے دو اسی طرح یہ بھی دیکھ لو کہ الزام لگانے والے کن اخلا ق کے آدمی ہیں اور آیا وہ گواہ عادل ہیں یا نہیں۔اگروہ راستباز نہ ہوں یا ان کی دماغی کیفیت قابل تسلی نہ ہو توان کی گواہی کو کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔
    تاریخ قضا ء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے امام ابنِ تیمیہ ؒ کے خلاف ایک دعویٰ کیا۔قاضی نے آپ کے خلا ف سمن جاری کر دیا ۔ اتفاقاً آپ اسے ملنے چلے گئے ۔قاضی نے ان سے ذکر کیا کہ ایسا ایسا دعویٰ آپ کے خلاف ہوا ہے اور میں نے سمن جاری کردیا ہے۔امام ابن تیمیہ ؒ نے کہا کہ آپ نے قرآن و حدیث کے حکم کے خلا ف کیا ہے ۔آپ کو سمن جاری کرنے سے پہلے معاملہ کی تحقیق کرنی چاہئے تھی۔کیونکہ میری شہرت اس الزام کے خلا ف ہے۔پس چاہئے تھا کہ آپ مدعی سے ثبوت طلب کرتے اور اگر کوئی معقول ثبوت اس کے پاس ہوتا تو پھر بے شک مجھے اپنی برأت پیش کرنے کے لئے بلاتے ۔قاضی نے ان کی دلیل کو قبول کر لیا اور ان کے سمن کو منسوخ کر دیا ۔
    ( تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۲۹۱)
    اسلامی سزاؤں کا اصول
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سزا کے متعلق فرماتا ہے کہ ’’جَزَاء سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا‘‘(الشوریٰ:۴۱)کہ اصو ل سزا کا یہ ہے کہ جیسا جرم ہو اس کے مطابق سزا ہو ۔دوسرے قرآن و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا کی برابری سے مراد اس کی ظاہری شکل نہیں ہوتی ۔یہ نہیں کہ کوئی عورت گزر رہی ہو اور کوئی بدمعاش اسے چھیڑے یا اس کا برقع اتار لے تو سزا دیتے وقت اس کی بیوی یا بہن کو بلایا جائے اور اس کا برقع اتارا جائے ۔بلکہ برابری سے مراد باطنی برابری ہے گو بعض جگہ ظاہری شکل میں لی جاتی ہے ۔خصوصاً جسمانی حملہ کی صورت میں لیکن عام طور پر باطنی شکل لی جاتی ہے ۔جیسے زنا ہے اس کی سزا شریعت نے بعض حالتوں میں کوڑے اور بعض حالتوں میں سنگساری رکھی ہے۔گو سنگساری کی سزا میں اختلاف ہے مگر میں اس وقت مسئلہ بیان نہیں کر رہا بلکہ ایک مثال دے رہا ہوں ۔اب زنا کا کوڑوں یا سنگساری سے کیا تعلق ہے۔صاف پتا چلتا ہے کہ سزا کی برابری سے مراد ظاہری شکل کی برابری نہیں۔مگر جسمانی ایذاء کے متعلق عام طور پر سزا میںسزا کی ظاہری شکل قائم رکھی جاتی ہے ۔قرآن کریم میں آتا ہے ’’الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْد‘‘(البقرۃ:۱۷۹)اگر زید بکر کو جسمانی طور پر کوئی ایذاء دیتا ہے اور زید بڑا آدمی ہے تو یہ نہیں ہو گا کہ اگر بکر نے زید کو ایک لٹھ ماری ہے تو زید کے بڑے ہونے کی وجہ سے بکر کو پانچ سولٹھ ماری جائیں اس نے اگر ایک سوٹی ماری ہے تو اسے بھی ایک ہی سوٹی ماری جائے گی،اس خیال سے دو نہیں ماری جائیں گی کہ زید بڑ ا اور بکر چھوٹا ہے۔تیسرے شریعت اسلامی نے ایذا ء اور اس کے نتیجہ کو الگ الگ جرم قرار دیا ہے۔اس بارہ میں شریعت اسلامی انگریزی قانون سے مختلف ہے۔انگریزی قانون کے ماتحت اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا ہے تو اسے قتل کی ہی سزا دی جائے گی۔وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کس طرح قتل کیا گیا ۔فرض کر و ایک شخص گولی مار کر دوسرے کو مار دیتا یاتلوار چلا کر اس کی گردن اڑا دیتا ہے لیکن وہ چند دن بیمار رہ کر مرتا ہے ۔اب مارنے والے کی نیت فوری طور پر اس کو مارنا تھی۔یہ نہیں تھی کہ ایذاء دے دے کر مارے گو یہ الگ بات ہے کہ وہ ایذا سہہ سہہ کر مرا ۔لیکن ایک اور شخص ہے وہ اپنے دشمن کو پکڑتا ہے اور پہلے اس کی ایک انگلی کاٹتا ہے پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی اس طرح وہ ایک ایک کر کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کاٹتا ہے پھر پاؤ ں کی انگلیاں کاٹتا ہے پھر ناک کاٹ دیتا ہے پھر آنکھیں نکال دیتا ہے اور اس طرح ایذاء دے دے کر مارتا ہے۔ہماری شریعت ایسے موقعوں پر ایذاء کی الگ سزا دے گی اور قتل کی الگ دے گی۔اگر قاتل نے فوری طور پر قتل کیا ہے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا ۔اور اگر اس نے ایذاء دے دے کر مارا ہے تو اسے بھی ایذا ء دے دے کر مارا جائے گا ۔جیسے احادیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ بعض صحابہ کو پکڑ کر لے گئے اور لوہے کی گرم گرم سلاخیں انہوں نے ان کی آنکھوں میں پھیریں اور پھر قتل کردیا ۔جب وہ پکڑے گئے۔۔۔۔تو رسول اللہﷺ نے فرمایا انہیں بھی اسی طرح مارو۔پہلے لوہے کی سلاخیں گرم کر کے ان کی آنکھوں میں ڈالو اور پھر قتل کردو۔
    (الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۳۵ ؁ء جلد ۲۳ نمبر ۲۱)
    نفاذ قانون قضا ء کا کام ہے
    قانون کی پابندی
    اسلام ہمیں قانون کی پابندی کا حکم دیتا ہے اور ہمیں کسی امر کی صداقت کا خواہ کس قدر بھی یقین ہو وہ ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ ہم اپنے یقین کی وجہ سے کسی کو خود ہی سزا دے دیںاور اگر ہم ایسا کریں تو اسلا م ہمیں مجرم ٹھہراتاہے اور قابل سزا گردانتا ہے ۔اس امر میں اسلام نے اس قدر سختی سے کام لیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھوں سزا دینے والے کو ویسا ہی مجرم قرار دیا ہے جیسا کہ بلا وجہ حملہ کرنے والے کو ۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسو ل کریم ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسو ل اللہ کہ اگر کو ئی شادی شدہ زنا کر ے تو اس کی سزا رجم ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
    اس نے کہا یا رسو ل اللہ اس صورت میں اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنی بیوی سے بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اسے قتل کر دے تو اس پر کوئی گنا ہ نہ ہوگا۔آپ نے فرمایا سزا دینا اس کا کام نہیں ۔یہ عدالت کا کام ہے۔
    (الفضل ۲۰ اگست ۱۹۳۷ ؁ء )
    فسخ بیع
    یہ مسئلہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا فیصلہ عر ف عام پر ہو سکتا ہے۔اگر مشتری جان بوجھ کر دیر کرے جس سے بائع کا نقصان ہو نا ممکن ہو تب اس پر حرجانہ ڈالا جا سکتا ہے یا بعض حالات میں بیع فسخ کی جاسکتی ہے لیکن جب دیر صرف بارہ تیرہ گھنٹہ کی ہے کیونکہ اگر وہ اس دن صبح بھی آجاتے تب بھی رجسٹری کروا سکتے تھے۔اور آتے ہی انہوں نے مکان کی خرید پر آمادگی ظاہر کی ہے اس لئے یہ دیر نہ تو جان بوجھ کر کی گئی ہے اور نہ اس میں بائع کا حقیقتاً کوئی نقصان ہوا ہے۔اس لئے بیع قائم ہے اور بائع پر اپنی شرط پوری کرنی واجب ہے۔
    (فائل فیصلہ جات نمبر ۲ ۔دارالقضاء ربوہ)
    معاہدہ مضاربت
    اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو اس معاہدے کے تحت روپیہ دے کہ وہ اسے تجارت پر لگائے اور جو نفع ہو وہ ایک معین نسبت سے( مثلاً نصف نصف) باہم تقسیم ہو اور اگر نقصان ہو تو کام کرنے والے کی محنت ضائع اور روپیہ دینے والے کا اسی قدر روپیہ ضائع ہو گا تو کاروبار کی یہ صورت مضاربت یا قراض کہلاتی ہے جو اسلام میں جائز ہے ۔اس میں روپیہ دینے والے کا اس روپیہ پر تصرف جاری رہتا ہے۔جس تصرف کے لئے تفصیلی شرائط فریقین کے درمیان طے کی جا سکتی ہیں۔قرض میں یہ تصرف والی صورت نہیں ہوتی۔
    (الفضل ۲ مارچ ۱۹۶۱ ؁ئ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا ۔فیصلہ نمبر ۳ نمبر ۳)

    بیع سلم
    سوال: اگر کوئی شخص کسی سے یہ معاہدہ کرتا ہے کہ تیرا جتنا غلہ ہو گا وہ میں خرید لوں گا اور بھاؤ مقرر کر کے کچھ میعاد بھی دے دیتا ہے تو کیا یہ سٹّہ ہو گا؟
    جواب: حضور نے فرمایا یہ سٹہ نہیں یہ سودا ہے اور اس میں گندم موجود ہے جس کا سودا کیا گیا ہے ۔سٹہ میں یہ نہیں ہوتا ۔اس میں تو چیز کے ہونے کا امکان ہی نہیں ہوتا ۔اگر کوئی فصل نکلنے سے پہلے نرخ مقرر کر لیتا ہے ایسا نرخ جو امکان کے اندر اندر ہو (اگر غیر معمولی طور پر نرخ بڑھاتا ہے تو یہ لغو ہو گا) اور جتنی رقم کا غلہ خرید نا چاہے وہ پیشگی دے دے تو یہ جائز ہے اور یہ بیع سلم ہے ۔اسی طرح غلہ دینے والا اگر یہ کہے کہ جیسی بھی گندم ہو گی چاہے خراب ہو چاہے اچھی وہ لینی ہو گی تو یہ ناجائز ہو گا۔
    در اصل غیر معین چیز کا سودا کرنا ناجائز ہے۔حتی کہ رسو ل کریم ﷺ نے فرمایا اگر غلہ کا ڈھیر پڑا ہوا ہو اور غلہ والا خریدار سے کہے کہ یہ جو غلہ پڑا ہے یہ لیتے ہو تو یہ ناجائز ہے۔آپ نے ایک دفعہ غلہ کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر اندر کا غلہ نکال کر دکھا یا کہ وہ گیلا تھا ۔
    بیع سلم میں پہلے یہ بات طے ہو جا نی چاہئے کہ اس قسم کی گندم دی جائے گی سفید یا سرخ اور خرید نے والا سارا روپیہ دے تو شرط یہ ہو کہ غلہ نکلنے کے وقت جو منڈی کا بھاؤ ہو گا وہ لوں گا اس طرح گویا اس کی غرض سودا کرنا ہو گی۔
    (الفضل ۳۰ مئی ۱۹۳۳ ؁ء جلد ۲۰ نمبر ۱۴۲)
    اجارہ ۔احتکار
    جب فتح خیبر ہوئی تو رسول کریمﷺ نے کچھ زمین اپنے خاندان کے لئے وقف کر دی جس سے ان کے گزارہ کا سامان ہوتا تھا۔رسول کریم ﷺ زمینوں پر خود کام نہیں کرتے تھے بلکہ جس طرح اجارہ پر زمین دی جاتی ہے وہ زمین دوسروں کو دی گئی تھی اور اس سے جو حصہ آتا تھا وہ آپ خاندان میں تقسیم کر دیتے تھے۔
    ( الفضل ۶ جنوری ۱۹۶۰ ؁ئ)
    سوال: موجودہ طریقہ تجارت میں بعض اشیاء کو اس کے موسم پر سٹاک کر کے اس کے بعد فروخت کیا جاتا ہے ۔کیا ایسی تجارت کی اجازت ہے؟
    جواب: عموماً مال کو روکنے کو شریعت نے پسند نہیں کیا ۔خصوصاًجبکہ ملک کو ایسے مال کے چکر میں آنے کی ضرورت ہو ۔
    (فائل مسائل دینی32-A 16.5.59 )
    حق شفع
    فی الحال فیصلہ یہی ہے کہ شفع بغیر اشتراک راستہ کے نہیں چل سکتا ۔راستہ سے مراد وہ راستہ ہے جو پرائیوٹ ہو۔ان دونوں میں مشترک ہو ۔اس کے علاوہ کوئی شفع نہیں ۔ہاں ایک شخص اس بناء پر دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسے اس زمین یا مکان کی فروخت سے کوئی حقیقی نقصان خواہ مالی ہو خواہ اخلاقی خواہ مدنی پہنچتا ہے ۔اس صورت میں نالش کرنے والے پر بار ثبوت ہو گا کہ وہ ان امور کو ثابت کرے۔محض تخمین و قیاس پر اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔
    (الفضل ۶ فروری ۱۹۴۴ ؁ء جلد ۳۲ نمبر ۳۲)
    قرض کی تعریف
    روپیہ یا کوئی اور چیز جس کی مثل ہوتی ہو ۔کسی شخص کو اس معاہدہ پر دی جائے کہ وہ اس کی مثل واپس کرے گا (نہ کم نہ زیادہ) قرض کہلاتا ہے۔
    (الفضل ۲ مارچ ۱۹۶۱ ؁ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا فیصلہ نمبر ۳ نمبر ۱)
    تجارتی قرضہ
    ایک شخص نے دوسرے شخص کو تجا رت کے لئے روپیہ دیا اور نفع لینے کی شرط کی ۔لیکن نقصان کی ذمہ داری قبول نہیں کی بلکہ اپنے روپے کو قرض قرار دیا ۔معاملہ کی یہ صورت مضاربت یعنی تجارت کی ہے ۔قرض کی شرط فاسد ہے ۔اور تجارت کا یہ معاہدہ صحیح ہے۔
    (الفضل ۲ مارچ ۱۹۶۱ ؁ئ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۳ نمبر ۴ الف)
    قرض پر منا فع لینے کی شرط
    اگر کسی نے خالص قرض دیا ہو لیکن ساتھ منافع لینے کی شرط کی ہو تو قرضہ کی رقم کے بارہ میں شرعی حکم کیا ہے؟
    فیصلہ:۔ ایسی صورت میں اگر مقروض سے اصل رقم وصول ہو سکتی ہو ،ان معنوں میں کہ وہ رقم ادا کر سکتا ہے تو مقروض سے اصل رقم دلوائی جائے گی اور منافع معین کی شرط باطل ہو گی اور اگر نہ دے سکتا ہو تو قضا ء قرضہ کی رقم نہیں دلوائے گی۔
    (الفضل ۲ مارچ۱۹۶۱ ؁ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا،فیصلہ نمبر ۳ نمبر ۵ الف)
    سوال: روپیہ بطور قرض لیا گیا ،تحریر میں قرض لکھا گیا ،معاوضہ یا نفع کا اس میں کوئی ذکر نہ ہوا ۔اگرچہ روپیہ لیتے وقت قرض خواہ نے زبانی طور پر بلا مطالبہ مُقرِض غیر معین منافع کا لالچ دیا ۔قرض خواہ نے کچھ رقم غیر معین منافع کے طور پر بلا مطالبہ مُقرِض کو دی۔مُقرِض نے وہ قبول کر لی ۔اس کے بعد نقصان ہو گیا اور سارا روپیہ ضائع ہو گیا ۔کیا روپیہ دینے والامُقرِض اس نقصان میں شریک ہو گا۔اگر شریک نہیں ہوگا تو وصول کردہ منافع کی کیا صورت ہو گی۔کیا وہ اصل رقم میں سے وضع کیا جائے گا یا نہیں؟
    جواب: الف: سوال میں معاہدہ کی جو شکل ذکر کی گئی ہے،مجلس افتاء کے نزدیک وہ قرض کی شکل ہے اور جائز ہے۔
    ب: وصول کردہ منافع کی رقم اصل قرض سے وضع کی جائے گی۔
    (الفضل ۸ اگست ۱۹۶۲ ؁ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا،فیصلہ نمبر ۸)
    قرض دیتے وقت اسے ضبط تحریر میںلانا ضروری ہے
    وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَکْتُبُوْہُ صَغِیْراً أَو کَبِیْراً إِلَی أَجَلِہِ(بقرۃ:۲۸۳)(کی آیت میں )دوسرا سبب قومی تنزل کا یہ بتا یا ہے کہ لین دین کے معاملات میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا ۔قرض دیتے وقت تو دوستی اور محبت کے خیال سے نہ واپسی کی کوئی میعا د مقرر کرائی جاتی ہے اور نہ اسے ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے اور جب روپیہ واپس آتا دکھائی نہیں دیتا تو لڑا ئی جھگڑا شروع کر دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ مقدمات تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔اور تمام دوستی دشمنی میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپس کے تعلقات کو خراب مت کرو اور قرض دیتے اور لیتے وقت ہماری ان دو ہدایات کو ملحوظ رکھو۔اوّل یہ کہ جب تم کسی سے قرض لو تو اس قرض کی ادائیگی کا وقت مقرر کرلو۔دوم روپیہ کا لین دین ضبط تحریر میں لے آؤ۔اس شرط کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اس طرح مقروض کو احساس رہتا ہے کہ فلاں وقت سے پہلے پہلے میں نے قرض ادا کرنا ہے۔اور وہ اس کی ادائیگی کے لئے جدو جہد کرتا رہتا ہے۔اور پھر ایک اور فائدہ یہ ہے کہ قرض لینے والا ایک معین میعاد تک اطمینان کی حالت میں رہتا ہے اور اسے یہ خدشہ نہیں رہتا کہ نہ معلوم قرض دینے والا مجھ سے کب اپنے روپیہ کا مطالبہ کر دے۔غرض اس میں دینے والے کا بھی فائدہ ہے اور لینے والے کا بھی۔قرض دینے والے کا فائدہ تو یہ ہے کہ مثلا ً ایک مہینے کا وعدہ ہے تو وہ ایک مہینہ کے بعد جا کر طلب کرلیگا۔یہ نہیں کہ اس کو روز روز پوچھنا پڑے۔اور قرض لینے والے کا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ قرض لینے لگے گا تو سوچے گا کہ میں جتنے عرصہ میں ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوںاتنے عرصہ میں ادا بھی کر سکوں گا یا نہیں۔اس کے علاوہ یہ شرط اس لئے بھی عائد کی گئی ہے کہ بعض کمزور لوگ اعتراض کر سکتے تھے کہ ہم سود پر روپیہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرض لینے والے کو اس کی ادائیگی کا فکر رہتا ہے۔اور وہ کوشش کرتا ہے کہ جلد اس قرض سے سبکدوش ہو جاؤں۔لیکن اگر سود نہ لیا جائے تو اسے ادائیگی کا احساس نہیں رہتا۔اس وسوسہ کے ازالہ کے لئے فرمایا کہ جب تم ایک دوسرے کو قرض دو تو معاہدہ لکھوا لیا کرو کہ فلاں وقت کے اندر اندر ادا کردوں گاتاکہ تمہارا روپیہ بھی محفوظ رہے اور دوسرے شخص کوبھی اپنی ذمہ داری کا احساس رہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر قرض الیٰ اجلٍ مسمیً ہو تو لکھ لیا کرو اور الیٰ اجلٍ مسمیً نہ ہو تو بے شک نہ لکھو۔اس لئے کہ جب کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے تو بہر حال ایک اجل مسمیً کے لئے ہی دیتا ہے خواہ وہ میعا د تھوڑی ہو یا بہت ۔اس کے بعد وہ اسے وصول کرنے کا حق دار ہوتا ہے۔یہ تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے دوسرے کو قرض دیا ہو اور پھر اس کے واپس لینے کا اس کے اندر احساس ہی نہ ہو۔ہدیۃً یا امداد کے رنگ میں اگر کسی کو کوئی رقم دی جائے تو وہ ایک علیحدہ امر ہے۔لیکن جس چیز پر قرض کے لفظ کا اطلاق ہو گا وہ بہر حال الیٰ اجلٍ مسمیً ہی ہو گی ۔خواہ زبان سے کوئی میعاد مقرر کی جائے یا نہ کی جائے۔ہاں اگر خاص وقت کے لئے قرض نہیں بلکہ یونہی ایک دو گھنٹہ کے لئے یا ایک دو دن کے لئے ہے تو ایسی صورت میں اگر نہ لکھا جائے تو کوئی شرعی گناہ نہیں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ بقرۃ صفحہ ۶۴۳،۶۴۴،جلد دوم،الفضل ۵ اگست ۱۹۶۵)
    نقد اور ادھار بیع کی قیمت میں فرق
    محمد طاہر صاحب سیکرٹری جماعت ہاڑانگ کے سوالوں کے جوابات جو حضور ایدہ اللہ نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمائے۔
    سوال: ایک دوکان میں دو بیع ہوتی ہے ۔ایک نقد اور دوسرا قسط وار ۔قسطواری بیع نقد کی بیع سے زیادہ گراں ہوتی ہے۔جب تک مشتری بیع کی قیمت کو ادا نہ کرے وہ اپنے وعدہ کے مطابق ماہ میں یا ہفتہ میں کچھ نہ کچھ رقم بائع کے حوالہ کر دیتا ہے ۔جب وہ جمع شدہ رقوم اصل قیمت پر پہنچ جائیںتو اس وقت بائع مشتری کو رسید لکھ دیتا ہے کہ تم نے چیز کی قیمت ادا کر دی ہے اور اس دوران میں وہ چیز مشتری اپنے استعمال میں لا سکتا ہے اور وہ تھوڑی تھوڑی رقم جو ادا کرتا رہتا ہے اس چیز کا کرایہ سمجھا جاتاہے ۔بالفرض اگر مشتری دوران ادائیگی میں آگے مقررہ رقم ادا نہیں کر سکتا اور میعاد گزر جائے تو قانون کے لحاظ سے بائع اس چیز کو مشتری سے واپس لے سکتا ہے اور جتنی بھی رقوم مشتری ادا کر چکا ہے ضائع شدہ کرایہ کے طور پر سمجھا جائے گا۔کیایہ بیع اسلامی نقطہ نگاہ سے جائز ہے یا نہیں مثلاً Singerسلائی مشین کی بیع وغیرہ؟
    جواب: قسط وار بیع کی قیمت اگر مقرر ہی زیادہ ہو تو جائز ہے لیکن اگر سود کی طرح بڑھتی گھٹتی ہو تو جائز نہیں۔
    وقت مقررہ پر قرضہ واپس نہ کرنے والے سے ہر جانہ وصول کرنا
    سوال: زید نے بکر کو اپنا مال مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کے لئے دیا ۔بکر نے مال فرخت کرنے کے بعد رقم زید کو ادا نہ کی جس کو کم و بیش ایک سال گزر گیا۔کیا زید اس رقم کے روکنے کی وجہ سے بکر سے ہرجانہ طلب کر سکتا ہے۔اگر کر سکتا ہے تو کیا شریعت نے کوئی شرح مقرر کی ہے۔آریہ دھرم صفحہ ۱۰ حاشیہ در حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’ اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظا ر پر بند رہے گا اس کا مناسب ہرجانہ اس کو دینا ہو گا ‘‘؟
    جواب: میں نے (حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ) یہ حوالہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش کیا ہے اور حضور نے اس پر فر مایا ہے کہ تجارتی سود میں اور اس میںفرق باریک ہے۔جو ہر ایک اس باریک فرق تک نہیں پہنچ سکتا ۔اس واسطے جو قاعدہ ہم نے پہلے جاری کیا ہو ا ہے وہی ٹھیک ہے کہ قاضی اگر دیکھے کہ مدیون نے دائن کو تکلیف دی تو قاضی اس پر جرمانہ تو کر دے لیکن جرمانہ کی رقم انجمن کو دے تاجر کو نہ دے۔
    (فتویٰ نمبر 123/2.11.43رجسٹر فتاویٰ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحبؓ نمبر ۴ صفحہ ۳۸)
    ہرجانے کے متعلق میرا یہ فیصلہ ہے کہ وہ شرعاً درست ہے اگر باوجود تاکید کے لوگ معاملات میں زیادہ صفائی اور قرض دینے والے کے فوائد کا خیال نہ رکھیںتو اس صورت میں قاضیوں کو ہر جانہ مقرر کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے تاکہ جماعت کے معاملات میں اصلاح ہو اور وہ مؤمنانہ فرائض کو زیر نظر رکھا کریں۔
    (رجسٹر قضائی فیصلہ جات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صفحہ ۵،دارالقضاء ربوہ)
    قاضیوں کا فیصلہ ہرجانہ کا سود کے مشابہ نہیں ہے کیونکہ سود وہ ہوتا ہے جو قرض دینے والے کو دیا جائے اور یہ ایک جرمانے کی حیثیت ہے جس کی غرض یہ ہے کہ قرض لینے والے ناجائز طور پر قرض خواہ کو دِق نہ کریںاور لوگوں کے کاروبار میں حرج نہ ہو۔ اور یہ روپیہ جبکہ قرض خواہ کو نہیں دلوایا گیا نہ اس سے اسے کوئی فائدہ پہنچا ہے اس لئے یہ سود نہیں کہلا سکتا۔
    (رجسٹر قضائی فیصلہ جات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صفحہ ۵،دارالقضاء ربوہ)
    مولوی عبد الطیف صاحب ٹھیکیدار بھٹہ نے حضور کی خدمت میں شکایت کی کہ فضل عمر ہوسٹل کے ذمہ خاکسار کی ایک رقم ۱۹ صد روپے ۱۹۴۷ ؁ء سے واجب الادا چلی آتی ہے تاحال ادا نہیں ہوئی۔
    اس پر حضور نے فرمایا:۔
    قضاء فیصلہ کرے۔اگر ان کا مطالبہ درست ثابت ہو تو دس فیصدی سالانہ ہرجانہ دلوایا جائے۔
    (فائل ارشادات حضور ،دارالقضا ء ربوہ صفحہ ۵،۶)
    سود کی تعریف
    شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لئے دوسرے کو قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے جو محض روپیہ کے معاوضہ میں حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ گھاٹے کا عقلاً امکان نہیں ہوتا۔یہ مالی فائدہ مدت معینہ پر پہلے سے مقدار جنس یا رقم کی صورت میں معین ہوتا ہے۔
    (الفضل ۲ مارچ ۱۹۶۱ ؁ء فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا،فیصلہ نمبر ۳ نمبر ۲)
    سودی لین دین
    مولوی رحمت علی صاحب نے کہا سماٹرا کے علماء سود کا لین دین کرتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں قرآن شریف میں اضعافاً مضاعفۃً ہے یعنی بڑھ چڑھ کر اور دگنا تگنا سود نہ لو، تھوڑا سود بنک والا منع نہیں؟
    حضور نے فرمایا اگر اضعاف کے معنے دگنے کے ہیں تو ’’لکل ضعف‘‘ کے کیا معنی ہونگے۔اصل بات یہ ہے کہ عرب میں اس زمانہ میں دو قسم کا سود لیتے تھے ایک ساہوکار اپنی حسب منشاء جس قدر چاہتے سود منوا لیتے۔بیچارے غرباء اپنی ضروریات کی وجہ سے مجبور ہوتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا کہ سود خواہ تھوڑا ہو یا بہت ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے جب تک روپیہ ادا نہ کیا جائے۔پس اضعافاً مضاعفۃً سے دو چند سہ چند مراد نہیں بلکہ بڑھنا مراد ہے اور لا تأ کلو الربواضعافاً کا یہ مطلب ہے کہ ایمان والو سود بالکل نہ لو۔
    دوسرا سود تجارتی کاروبار کے لئے لیا جاتا تھا چونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے جانتا تھا کہ آخر زمانہ میں ایک بنکوں والا سود بھی جاری ہو گا ،اس لئے قرآن شریف میں ایک الگ آیت نازل کی کہ لِّیَرْبُوَ فِیْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوا عِنْدَ اللّٰہ(الروم:۴۰) کہ اس طریق سے جو لوگ اپنے اموال بڑھاتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔
    (الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۴۰ صفحہ ۶)
    سوال: کیا سود لینا جائز ہے ۔ہندو ہم سے سود لیتے ہیں اگر ہم نہ لیں گے تو ہمارا سار امال ہندوؤں کے ہاں چلا جائے گا؟
    جواب: اس بارے میں ہمارا مسلک دوسرے لوگوں سے مختلف ہے ۔اس وقت میں جو کچھ بیان کروں گایہ احمدی عقیدہ ہو گا ۔یہ نہیں کہ دوسرے علماء کیا کہتے ہیں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔
    ہمارے سلسلہ کے بانی نے یہ رکھا ہے کہ سود اپنی ذات میں بہر حال حرام ہے۔ترکوں نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بنکوں کا سود سود نہیں ۔حنفی علماء کا فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں چونکہ انگریزوں کی حکومت ہے اور یہ حربی ملک ہے اس لئے غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے۔اور اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ کوئی یہ مسئلہ پوچھتا ہی نہیں۔لوگ کثرت سے سود لیتے اور دیتے ہیں ۔ہم کہتے ہیں چاہے بنک کا سود ہو چاہے دوسرا دونوں ہی حرام ہیں۔لیکن بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک فیصلہ کیا ہے جو اسلام کے دوسرے مسائل سے مستنبط ہوتا ہے۔ایک حالت انسان پر ایسی بھی آتی ہے جو وہ کسی بلا میں مبتلا ء ہوجاتا ہے اس سے بچنے کے لئے یہ کہنا کہ فلاں چیز جائز ہے اور فلاں ناجائز یہ فضول بات ہے،مثلاً ایک آدمی گند میں گر جائے جو کئی گز میں پھیلا ہو اور اسے کہا جائے کہ گند میں چلنا منع ہے تو وہ کس طرح اس گند سے نکل سکے گا۔
    بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ رکھا ہے کہ اگر کوئی اس لئے سود لے کہ سود کی بلا سے بچ جائے تو وہ لے سکتا ہے مثلاً ایک جگہ وہ بیس فیصدی سود ادا کرتا ہے اگر اسے پانچ فیصدی سود پر بنک سے روپیہ مل سکتا ہے تو وہ لے لے۔اس طرح امید ہو سکتی ہے کہ وہ سود کی بلا سے بچ سکے۔
    (الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۶ نمبر ۵۱)
    ۱:۔
    سود لینا بھی گناہ ہے اور سود دینا بھی گناہ۔
    (الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۱۵ ؁ء نمبر ۱۲۰ ،۱۲۱)
    ۲:۔
    سودی روپیہ لینا جائز نہیں ۔جو احمدی ہو کرایسا کرتا ہے اس کا دین اور دنیا دونوں ضائع ہو جائیں گے۔
    (الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۰۰؍۹۹)
    ۳:۔
    سوال: سرکاری روپیہ تقا وی سود پر ملتا ہے کیا لے لیں؟
    جواب: فرمایا :۔سود ہر حالت میں ناجائز ہے۔
    (الفضل ۱۱ اپریل ۱۹۱۵ ؁ء نمبر ۱۲۵ صفحہ ۱ جلد ۲)
    ۴:۔
    سوال: بنک میں کچھ روپیہ جمع ہے جسکا سود ملتا ہے کیا کیا جائے؟
    جواب: اگر واپس کر سکتے ہیںتو کردیں ورنہ اگر لینا ہی پڑتا ہے تو لے کر اشاعت اسلام کی مد میں دے دیں۔
    (الفضل ۳۱ جنوری ۱۹۲۱ ؁ء نمبر ۵۷)
    ۵:۔
    سوال: کیا سودی قرضہ لے سکتا ہوں؟
    جواب: فرمایا:۔ ایک شخص بھوکا مرتا ہو اور سوائے سؤر کے گوشت کے اور کچھ نہ ملتا ہو تو اس کو جائز ہے کہ سؤر کا گوشت کھا لے۔لیکن سود کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔اس سے آپ سود کی حرمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
    (الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۷۹)
    سوال: موجودہ زمانہ میں بنک جو اپنی پارٹیوں کو (over draw)یعنی زائد رقم دیتے ہیں اور پھر اس پر کمیشن یا سود وصول کرتے ہیں۔کیا اس قسم کا روپیہ لینا جائز ہے؟
    جواب: سود کی صورت میں جائز نہیں البتہ اگر کسی حکومت کے ادارے یا دوسرے ادارہ کی طرف سے یا بنک کی طرف سے لازماً سود دیا جاتا ہو تو وہ اشاعت اسلام کے لئے خرچ کر دینا چاہئے۔
    (فائل مسائل دینی 32-A)
    سوال: محترم نواب عبداللہ خان صاحب کی طرف سے استفسار ہو ا حکومت سے روپیہ تعمیر مکانات کے لئے قرض لیا جائے جس کی ادائیگی کے وقت حکومت کو کچھ زائد رقم لینی ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ سود کا نام نہ آئے بلکہ نقد قیمت کی شکل دی جائے تو وہ جائز ہے یعنی وہی مکان گروی ہو جائے پھر اس گِرو پر روپیہ ملے یا اس کو فروخت سمجھا جائے اور کمپنی بعد میں قسط وار زیادہ رقم وصول کرے۔
    (فائل مسائل دینی 32-A DP 306/16.11.56)
    سوال: ایک صاحب کو جو احمدی ہیں پراویڈنٹ فنڈ کے سود سے تقریباً بارہ تیرہ سو روپے ملنے والے ہیں ان کا خیال ہے اگر یہ روپیہ مسجد وغیرہ مدّات میںصرف کرنے کی اجازت اگر حضور دے دیں تو میں یہ رقم ان مدّات میں خرچ کرنے کے لئے دے دوں گا۔
    جواب: فرمایا:۔ آپ کا خط ملا ۔ان مدّات میں سود کی رقم خرچ کرنے کی اجازت ہے۔
    (فائل مسائل دینی 32-A DP 149/ 6.5.56 )
    سوال: ایک جگہ 25%سود دینا پڑتا ہے اگر ایک مسلمان ایسے شخص سے کہے کہ میں 5%سود پر قرض دیتا ہوں تو کیا 5فیصدی سود لینے والا جائز کام کرتا ہے کیونکہ وہ زیادہ شرح سود سے بچاتا ہے؟
    جواب: دوسری جگہ زیادہ سود ادا کرنے والا اگر کم شرح سے سود لینے والے سے روپیہ لے کر سود ادا کر تا ہے تو یہ اس کے لئے جائز ہے مگر جو اس طرح سود لیتا ہے وہ نا جائز کرتا ہے اور گنہگار ہے کیونکہ وہ اپنے فائدہ کے لئے سود لیتا ہے۔کسی بڑی مضرت سے بچنا اس کی غرض نہیں۔
    (الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۶ نمبر ۵۹ صفحہ ۶)
    آج کل سود کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ تو بنکوں کا سود ہے اس کے لینے میں کیا حرج ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ۔نام خواہ کچھ رکھ لیا جائے وہ بہر حال سود ہے اور اس کا لینا ناجائز اور حرام ہے۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۵۹ ؁ئ)
    سودی حساب کتاب رکھنے کی ملازمت کرنا
    ایک صاحب نے لکھا کہ وہ ایک سردار صاحب کے پاس ملازم ہیں جو روپیہ سود پر دیتے ہیں انہیں اس کا حساب ادا کرنا پڑتا ہے۔ایسی حالت میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟
    حضور نے فرمایا:۔ آپ کے لئے سردار کا کام کرنا جائز ہے اور آپ نہایت ایمانداری سے کام کریں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔دیانتداری کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ انسان دوسر ے کا روپیہ نہ کھا جاوے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پورا وقت اس کے کام پر لگائے اور آنکھیں کھول کر اور عقل سے اس کا کام کرے۔
    (الفضل ۷ دسمبر ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۱۰ نمبر ۴۵ صفحہ ۸)
    جس ملازمت میں سود لینے یا اس کی تحریک کرنے کا کام کرنا پڑتا ہو وہ میرے نزدیک جائز نہیں ۔ہاں اگر ایسے بنک کے حساب کتاب کی ملازمت میرے نزدیک جائز ہے۔
    (الفضل ۷ مارچ ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۹۵ ۔الفضل ۱۲ فروری ۱۹۱۶ ؁ء نمبر ۸۸)
    جس ملازمت میں سود کی تحریک کرنی پڑے وہ نا جائز ہے۔کلرکی اور حساب رکھنا بہ تسلسل ملازمت جائز ہے
    (الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ ؁ء صفحہ ۸)
    حالت اضطرار میں بھی سود منع ہے
    فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَیْْہ۔۔۔۔۔الآیۃ (البقرۃ: ۱۷۴)
    فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ۔۔۔۔الآیۃ (المائدۃ:۴)
    بعض لوگوں کو اس اجازت کے حکم کو دیکھ کر دھوکہ لگا ہے اور انہوں نے اس کو وسیع کر لیا ہے۔۔۔۔۔چند ہی دن ہوئے ایک شخص نے مجھ سے سود کے متعلق فتویٰ پوچھا ۔میں نے اسے لکھایا کہ سود کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتا ۔اب اس کا خط آیا ہے کہ بعض علما ء کہتے ہیں کہ اصل حالت میں تو یہ فتویٰ ٹھیک ہے کہ سود جائز نہیں لیکن مضطر کے لئے یہ فتویٰ درست نہیں ہے اور ساتھ یہ مثال دی ہے کہ ایک شخص کو شادی کرنے کے لئے روپیہ کی سخت ضرورت ہے، کہیں سے اسے مل نہیں سکتا ۔اگر وہ سودی روپیہ لے کر شادی پر لگا لے تو اس کے لئے جائز ہے۔
    میں نے پہلے بھی اس قسم کے واقعات سنے تھے۔چنانچہ جو لوگ اہل قرآن کہلاتے ہیں انہوں نے اس قسم کے فتوے دیے ہیں۔
    لیکن اس قسم کے تمام فتوے قرآن کریم کے احکام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دیے گئے ہیں۔
    (الفضل ۱۱ اپریل ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۰۵۔خطبہ جمعہ )
    قماربازی لغو چیز ہے اس سے بچنا چاہئے
    آجکل قمار بازی یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا نہ صرف محبوب مشغلہ ہے بلکہ ان کے تمدن کا ایک جزو لا ینفک ہوگیا ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میں جوئے کا کسی نہ کسی صورت میں دخل ہے۔معمولی طریق کا جوا تو مجالس طعام کے بعد ان کا ایک معمو ل ہے لیکن اس کے علاوہ لاٹریوں کی وہ کثرت ہے کہ یوں کہنا چاہئے کہ تجارت کا کام بھی ایک چوتھائی حصہ جوئے کی نظر ہو رہا ہے۔ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سب جوا کھیلتے ہیں اور کبھی کبھی نہیں قریباً روزانہ۔اور جوئے کی کلبیں شاید سب کلبوں سے زیادہ امیر ہیں۔اٹلی کا کلب ’’مانٹی کارلو‘‘میں جو امراء کے جوئے کا مقام ہے بعض اوقات ایک ایک دن میں کروڑوں روپیہ بعض لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر بعض دوسرے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔غرض اس قدر جوئے کی کثرت ہے کہ یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ تمدن جدید میں سے جوئے کو نکال کر اس قدر عظیم الشان خلا پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی اور چیز سے پر نہیں کیا جاسکتا۔حالانکہ جوا ایسی خطرناک چیز ہے کہ اس کا عادی انسان بعض دفعہ آدھ گھنٹہ کے جوا کی خاطر اپنی ساری جائیداد بربادکر لیتا ہے اور اگر جیتتا ہے تو اور ہزاروں گھروں کی بربادی کا موجب بن کر۔پھر جوئے باز میں روپیہ کو لٹانے کی عادت لازمی طور پر پیدا ہو جاتی ہے۔شاید ہی کوئی جوئے باز ایسا ہو گا جو اپنے روپیہ کو سنبھال کر رکھتا ہو۔بالعموم سارے جوئے باز بے پرواہی سے اپنا مال لٹا دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ روپیہ کمانے کے لئے انہیں جدو جہد نہیں کرنی پڑے گی۔گویا ایک طرف تو وہ دوسرے لوگوں کو برباد کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنے مال سے بھی صحیح رنگ میں فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ روپیہ کمانے کے لئے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔پھر جوا عقل اور فکر کو بھی کمزور کر دیتا ہے اور جوئے باز ہار جیت کے خیال سے ایسی چیزوں کے تباہ کرنے کے لئے تیا ر ہو جاتا ہے جنہیں کوئی دوسرا عقلمند تباہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔پس یہ ایک لغو چیز ہے جس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ الفرقان صفحہ ۱۷۵)
    اسلام نے جوئے کو حرام قرار دے دیا کیونکہ اس کے ذریعہ بھی انسان ایسے طور پرکماتا ہے جس سے بہت لوگوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور صحیح تجارت سے رغبت ہٹ جاتی ہے۔
    لاٹریاں بھی اسی میں شامل ہیں ۔آج کل مسلمان یہ کام کرتے ہیں مگر یہ بھی جوئے میں شامل ہے اور جؤا نا جائز ہے خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔خواہ قرعہ ڈال کر کھیلا جائے یا نشانہ مار کر کھیلا جائے اسلام نے اسے ناجائز قراردیا ہے۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۵۹ ؁ء )
    لاٹری سے کمایا ہوا روپیہ
    مولوی رحمت علی صاحب نے عرض کیا ۔ایک شخص لاٹری کے ذریعہ لاکھ روپیہ حاصل کرتا ہے۔اگر وہ اس میں سے پچیس ہزار روپیہ مجھے مدرسہ یا کسی اور نیک کام کے لئے دے تو میرے لئے اس نیک کام پر اس روپیہ کا خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: حضور نے فرمایا :۔ اگر آپ کی لاٹری جیتنے والے کے ساتھ کسی قسم کی شراکت نہیں تو جائز ہے۔
    ۲:۔ لاٹری خالص جؤا ہے۔
    (الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۴۰)
    مسئلہ پوسٹل اور سیونگ سر ٹیفکیٹ
    ہر ایسا معاہدہ جس پر سود کی تعریف صادق آتی ہے خواہ وہ فرد اور فرد کے درمیان ہو یا حکومت اور فرد کے درمیان ہو ایک ہی حکم رکھتا ہے اور شرعاً حرام ہے۔
    رائج الوقت پوسٹل اور سیونگ سر ٹیفکیٹس کے معاہدات بھی ابھی موجودہ شرائط کے رو سے سود قرار پاتے ہیں۔
    موجودہ صورت میں حکومت کے جاری کردہ قرضہ جات پر بھی سود کی تعریف اطلاق پاتی ہے لیکن جائز ہو گا کہ سود لئے بغیر حکومت کو قرض دیا جائے اور اگر بامر مجبوری سود لینا پڑے تو اسے اشاعت اسلام میں دے دیا جائے۔
    حضور نے فرمایا:۔ ٹھیک ہے۔
    (فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۲۲)
    رھن
    میرا ارادہ تھا کہ زمین اور مکانات رھن لے لئے جائیں۔یہ تجارت بہت اچھی ہے اس میں خسارہ کا احتمال نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص کسی کامکان رھن لے لیتا ہے اور وہ مکان گر جائے تو مالک کا فرض ہے کہ اسے تعمیر کرائے۔کیونکہ جو چیز اس نے روپیہ کے بدلہ میں دی تھی وہ جب رہی نہیں تو رھن کیسا ۔ہاں جب تک تعمیر نہ ہو گا اس وقت تک کرایہ نہ ملنے کا خسارہ رہن رکھنے والے کو بھی ہو گا۔اور زمین تو گرنے گرانے کا کوئی احتمال نہیں ہوتا۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ فصل نہ ہو گی لیکن اس میں بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
    (الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۴۲)
    رھن میں وقت معین کرنا
    سوال: ایک شخص دو ہزار روپے میں ایک مکان رھن لیتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دو سال تک راھن سے روپیہ واپس نہ لے۔کیا رھن کرتے وقت اس قسم کی شرط رکھی جاسکتی ہے یا نہیں؟
    جواب: فرمایا:۔ فقہاء کا مذہب تو یہ ہے کہ وقت کی پابندی جائز نہیں ۔جب بھی راہن روپیہ دے وہ اپنا مکان مرتہن سے چھڑا سکتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پابندی کو جائز قرار دیا ہے۔چنانچہ جب مرزا نظام الدین صاحب کی دوکانیںحضرت ام المؤمنین نے رہن لیں تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ کیا وقت معین کیا جا سکتا ہے تو آپ نے اسے جائز قرار دیا ۔پس یہ شرط میرے نزدیک جائز ہے بشرطیکہ رہن جائز ہو۔اگر رہن ہی ناجائز ہے تو پھر سال دو سال وغیرہ کی مدّت کوئی حقیقت نہیں رکھتی وہ پہلے دن سے ہی نا جائز ہے۔
    (الفضل ۲۶ جون ۱۹۴۶ ؁ء جلد ۳۴ نمبر ۱۴۸،الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۰ ؁ء )
    مکان مرھونہ کا کرایہ زر رھن کے حساب سے مقرر کرنا
    سوال: بعض لوگ کسی کا مکان رہن رکھتے ہیں اور پھر ایک مقررہ رقم بطور کرایہ اسی مالک مکان سے وصول کرتے رہتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ اگر تو یہ شرط ہو کہ کرایہ مقرر اور معین نہ ہو جب رہن لینے والا چاہے کرایہ بڑھا دے یا مکان خالی کرا لے اور جب رہن دینے والا چاہے وہ کرایہ کم کرنے کا مطالبہ کرے اور کرایہ کم نہ ہونے کی صورت میں مکان خالی کر دے تو پھر جائز ہے وگرنہ نہیں۔یہ صورت کہ کرایہ معین طور پر دینا پڑتا ہے اور یہ خالی کرنے کرانے کا بھی اختیار نہیں ہوتا یہ نا جائزہے اور مقررہ کرایہ سود ہے۔رہن رکھنے والے کو اختیا ر ہونا چاہئے کہ جب چاہے چھوڑ دے یا کرایہ کم کرا لے اور لینے والا جب چاہے بڑھا دے یا مکان خالی کرا لے۔
    (الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۴۲۶ صفحہ ۶)
    سوال: اگر کوئی شخص کسی سے دو ہزار میں مکان رہن لے اور پچیس روپیہ اس کا کرایہ مقرر کر کے یہ طے کر لے کہ پانچ روپیہ کرایہ میں سے مرمّت وغیرہ کے وضع ہوتے رہیں تو کیا یہ جائز ہے؟
    جواب: فرمایا:۔یہ ناجائز ہے ۔مرمّت وغیرہ رھن لینے والے کو خود کرانی چاہئے اور یہ بھی ناجائز ہے کہ مکان لینے سے پہلے ہی کرایہ مقرر کر کے مالک مکان سے کرایہ نامہ کااسٹامپ لکھوا لیا جائے۔ہاں اگر کسی دوسرے سے کرایہ نامہ لکھوا لیا جائے تو یہ جائز ہے۔مختصر یہ کہ مکان والے کی حیثیت جب تک بالکل ایک اجنبی کی سی نہیں ہوتی یہ جائز نہیں۔
    (الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۴۲)
    سوال: کیا کوئی احمدی کسی کی کوئی زمین یا کوئی دیگر چیز رہن رکھ سکتا ہے یا کہ نہ۔شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: جائز ہے۔
    سوال: اگر کوئی احمدی یا غیر احمدی کی زمین گروی رکھے۔بعد رہن رکھنے کے اس رہن شدہ زمین کی سالانہ آمدنی مرتہن کو یک صد روپیہ یا کچھ کم وبیش آوے تو کیا مرتہن کے پاس جتنی رقم میں زمین رہن ہو وہ سالانہ مجرا دے راہن کو یا نہ؟
    جواب: رھن باقبضہ کی صورت میں منافعہ اس کا ہوگا ،رقم قائم رہے گی۔
    سوال: بصورت حکم شرع شریف مرتہن کو اگر رقم مجرا دینی پڑے مگر وہ دیدہ و دانستہ لا لچ میں آکر مجرا نہ دیوے تو اس احمدی کے لئے کیا حکم ہے؟وہ جماعت سے خارج متصور ہو گا یا نہ؟
    جواب: رہن با قبضہ کی صورت میں اصل رقم ادا ہی الگ کی جاتی ہے نہ کہ آمد سے۔
    (الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۴۳ ؁ء جلد ۳۱ نمبر ۶۲ صفحہ ۲ )
    رھن کی شرعی صورت اور ضیاع رھن کا زر رھن پر اثر
    الف:۔ اگر جائیداد منقولہ ہو تو رھن کی شرعی صورت صرف یہ ہے کہ جائیداد منقولہ مرتہن کے قبضہ اور تصرف میں واقعی طور پر دے دی جائے۔مرتہن اسے استعمال کرنے کاحق رکھتا ہے اور اس کی حفاظت اور نگہداشت کا وہ ذمّہ دار ہے۔
    ب:۔ اگر جائیداد غیر منقولہ ہو تو بھی رہن کی شرعی صورت رہن باقبضہ ہی ہے خواہ مرتہن قبضہ خود لے یا راھن کو بہ بحیثیت کرایہ دار اس پر قابض رہنے دے۔مؤخر الذکر صورت میں راھن کرایہ داری کی تمام شرائط کا پابند ہوگا اور ہر دو صورت میں مرتہن اس جائیداد کی حفاظت اور نگہداشت کا ذمّہ وار ہوگا۔
    ج:۔ اگر جائیداد راھن کے قبضہ میں بہ حیثیت کرایہ دار رہے اور وہ ضائع ہو جائے ۔لیکن اس ضیاع میں راھن کا کوئی قصور یا کوتاہی نہ ہو تو زر رھن بھی کلیۃًیا نقصان کی حد تک ضائع ہو جائے گا ۔مرتہن اگر خود قابض ہو اور جائیداد ضائع ہو جائے تو بھی زر رھن کلیّۃً یا نقصان کی حد تک ضائع ہو جائے گا۔
    تشریح:۔ اس صورت میں کہ راھن بطور خود کرایہ دار ہو یا مرھونہ جائیداد کا ٹھیکہ لینے والا ہو ،شرح کرایہ یا زر ٹھیکہ جائیداد مرھونہ کے معروف کرایہ یا زر ٹھیکہ کی نسبت سے متعین ہو گا نہ کہ زر رھن کی نسبت سے۔
    (الفضل ۸ اگست ۱۹۶۳ ؁ ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۵)
    ھبہ
    ھبہ بخشش کا نام ہے۔اس کا وصیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ علیحدہ چیز ہے اور رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق بعض قیود مقرر کر دیں ہیںمثلاً فرمایا کہ ایسا ھبہ نہ کیا جائے جس سے ورثاء میں امتیاز پیدا ہوتا ہو ۔میں سمجھتا ہوںرسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاداہم اشیاء کے متعلق ہے ۔چھوٹی موٹی چیزوں کے متعلق نہیں مثلاً اگر ہم کیلا کھا رہے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک بچہ جو سامنے موجود ہو اسے ہم دے دیںاور دوسرا محروم رہے۔
    حدیثوں میں گھوڑے کی مثال آتی ہے کہ رسو ل کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ یا تو وہ اپنے سب بیٹوں کو ایک ایک گھوڑا دے اور یا کسی کو بھی نہ دے۔مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں میں گھوڑے کی قیمت بہت ہوتی تھی ۔پس یہ حکم اس چیز کے متعلق ہے جس میں ایک دوسرے سے بغض پیدا ہونے کا امکان ہو۔معمولی چیزوں کے مثلاًفرض کرو ایک بچہ ہمارے ساتھ چلا جاتا ہے اور ہم اسے دوکان سے ایک کوٹ کا کپڑا خرید دیتے ہیں تو یہ بالکل جائز ہو گا اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب تک ساروں کے لئے ہم کوٹ خرید کر نہ لائیں ایک بچہ کو بھی کوٹ کا کپڑا خرید کر نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔بہر حال جائیداد ایسی ہونی چاہئے جو خاص اہمیت نہ رکھتی ہو اگر کوئی شخص ایسا ھبہ کرے جس سے دوسروں میں بغض پیدا ہونے کا امکان ہو تو قرآن کریم کا حکم ہے کہ وہ اسے واپس لے لے اور رشتہ داروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اسے اس گناہ سے بچائیں۔
    (الفضل ۱۶ اپریل ۱۹۶۰ ؁ئ)
    بیوی کے نام ھبہ کرنا
    خاوند اگر اپنی بیوی کو کچھ دیتا ہے تو تفاضل بین الاولاد کا مسئلہ بیوی کے متعلق اس صورت میں دیگر وارث ہیں نہیں لگتا۔بھائی اصل وارث نہیں ہیں وہ اولادکی عدم موجودگی میں وارث ہوتے ہیں ۔قرآن مجید نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ کلالہ کے وارث ہوتے ہیں نہ کہ ذوالارث کے۔اس لئے تفاضل کا اصل یہاں نہیں لگتا ۔اس میں صرف ایک ہی اصل دیکھا جائے گا کہ کس شخص نے بعض جائز حق داروں کو محروم کرنے کے لئے ایسا فعل کیا ہے۔جس سے وہ اپنے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر ایک شخص اپنی جائیداد کا کوئی حصہ اپنی بیوی کے حق میں ھبہ کرتا ہے تو قرآن کریم کی رو سے ایسا کر سکتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے اگر قنا طیر مقنطرۃ بھی اپنی بیوی کو دو تو اس کو واپس نہ لو۔اگر کوئی شخص یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی زندگی میں یا اس کے بعد اس کی بیوی کے معیشت کا کافی سامان موجود نہیں ہے اگر بیوی کے نام کچھ جائیداد ھبہ کر دے یا بشرطیکہ اس سے اس کے ہمراہ درست وارث یعنی ماں باپ یا بیٹے بیٹیوں کے حقوق کو کوئی نمایاں نقصان نظر نہ آتا ہو تو قرآن کریم کے مذکورہ بالا حکم کی موجودگی میں ہم اسے تفاضل نہیں قرار دیتے۔آخر وجہ کیا ہے کہ قرآن کریم نے بیوی کے متعلق تو یہ فرمایا کہ تم اسے قناطیر مقنطرۃ بھی دے دیتے ہو تو واپس نہ لو مگر یہ نہ فرمایا کہ اگر اپنی اولاد میں سے کسی کو قناطیر مقنطرۃ دے دیتے ہو تو اس سے واپس نہ لو ۔پس شریعت اور عقل عامہ ھبہ کو کلی طور پر باطل نہیں کرتی۔
    (فائل فیصلہ جات دارالقضاء ربوہ نمبر ۲ صفحہ ۵۱)
    اس وقت میں جس حکمت کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ھبہ کے متعلق ہے مثلا ً ایک والد نے اپنی ساری جائیداد ایک لڑکے کے نام ھبہ کردی ہے اور دوسرے لڑکے کو محروم کر دیا ہے۔آیا یہ ھبہ جائز ہے یا ناجائز؟
    سب سے پہلے ہمیں اس کے متعلق قرآن کریم کا حکم دیکھنا پڑے گا جو اس نے جائیداد تقسیم کے متعلق دیا ہے۔قرآن کریم نے اس قسم کے ھبہ کو بیان نہیں کیا بلکہ ورثہ کو بیان کیا ہے جس میں سب مستحقین کے حقوق کی تعیین کر دی ہے اور قرآن کریم کے مقرر کردہ حصص کو بدلا نہیں جا سکتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان احکام کے مقرر کرنے میں حکمت کیا ہے۔وراثت کی رو سے کیوں سب لڑکو ں کو برا بر حصہ ملنا چاہئے اور ایک لڑکے کی شکایت پر کیوں رسول کریم ﷺ نے ا س کے باپ کو ارشاد فرمایا کہ یا تو تم اس کو بھی گھوڑ ا لے دو یا بھر دوسرے سے بھی لے لو۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جس طرح اولاد پر والدین کی اطاعت فرض ہے اسی طرح والدین کے لئے بھی اولاد سے مساویانہ سلوک اور یکساں محبت کرنا فرض ہے۔لیکن اگر والدین اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنبہ داری سے کام لیں تو ممکن ہے اولاد شاید اپنے فرائض سے تو منہ نہ موڑے لیکن ان فرائض کی ادائیگی یعنی والدین کی خدمت کرنے میں کوئی شادمان اور مسرت محسوس نہ کرے بلکہ اسے چٹی سمجھ کر ادا کرے۔بعض لوگو ں کو اس قسم کا رویہ اولاد کے لئے مضر اور محبت کو تباہ کرنے والا ہوتا ہے جو اولاد اور ماں باپ میں ہوتی ہے۔اس لئے اسلام نے اس سے منع کیا ہے۔لیکن وصیت اور ھبہ جو اپنی اولاد کے لئے نہیں ہوتابلکہ دین کے لئے ہوتا ہے جائز ہے کیونکہ وہ شخص اس سے خود بھی محروم رہتا ہے،صرف اولاد کو ہی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اس کی ذات کو بھی پہنچتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ ہوتا ہے اس لئے اولاد بھی اس سے ملول خاطر نہیں ہوتی۔لیکن اگر ھبہ یا وصیت کسی خاص اولاد کے نام ہو ناجائز ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
    اس میں ایک بات سمجھنے والی یہ ہے کہ ایک وقتی ذمہ داری ہوتی ہے جسے ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ ایک شخص کے چار لڑکے ہیں اور اس نے سب سے بڑے لڑکے کو ایم اے کی تعلیم دلا دی اور دوسرے چھوٹی جماعتوں میں پڑ ھ رہے تھے کہ اس کی نوکری ہٹ گئی اور چھوٹے بچوں کی تعلیم رک گئی۔اب یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اس نے بڑے لڑکے سے امتیاز روا رکھا۔بلکہ یہ تو اتفاقی بات ہے۔اس کی تو کوشش تھی کہ میں پہلے بڑے کو پڑھاتا ہوں پھر دوسروں کو باری باری ایم اے تک پڑھاؤں گا۔یعنی وقتی ضروریات کے ماتحت اس نے ذمہ داری کو تقسیم کیا کہ اس وقت یہ کام کر لیتا ہوں اور جب دوسرے کا وقت آئے گا تو وہ کر لوں گا مگر پھر حالات بدل گئے اور وہ اپنی خواہشات پوری نہ کر سکا ۔لیکن اس کے برعکس اگر ایک والد اپنے بڑے لڑکے کو جو عیالدار ہو گیا ہے دو ہزار روپیہ دے کر الگ کر دے کہ تم تجارت کرو مگر جب دوسرے لڑکے بھی صاحب اولاد ہو جائیں تو انہیں کچھ نہ دے یہ ناجائز ہے اور امتیازی سلوک ہو گا۔
    ہماری جماعت کو ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہئے۔بچوں کی ضرورتوں میں تو اختلاف ہو سکتا ہے اور وہ بھی اس کو برا نہیں مناتے لیکن مستقل جائیداد میں امتیاز خطر ناک نتا ئج پید اکر دے گا۔ہاں اگر کوئی یہ کر دے کہ میں نے بڑے لڑ کے کو ایم اے تک پڑھا لیا ہے اور ابھی چھوٹے پڑھ رہے ہیں ،زندگی کا اعتبار نہیں۔ان میں سے ہر ایک کے نام اتنی رقم کر دیتا ہوں جس سے وہ ایم اے کی تعلیم حاصل کر سکے تو یہ جائز ہو گا ۔کیونکہ اس میں امتیاز نہیں بلکہ وہ خطرات سے بچنے کے لئے ایسا کر تا ہے۔ایسے حالا ت میں دوستوں کو چاہئے کہ وہ شریعت کے احکام کی حکمت کو دیکھیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں۔
    (رجسٹر اصلاح و ارشاد سے ارشاد حضور)
    ایک لڑکے کے نام ساری جائیداد ھبہ کرنا
    میرے سامنے جو مقدمہ پیش ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایک والد نے اپنی ساری جائیداد اپنے ایک بیٹے کے نام ھبہ کردی ہے اور دوسرے کو محروم الارث کر دیا ہے۔اب سوال یہ اٹھا یا گیا تھا کہ ھبہ جائز ہے یا ناجائز؟
    بعض صحابہ ؓ اور فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے لیکن ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ قرآن کریم اس بارہ میں ہماری کیا راہنمائی کرتا ہے اور قرآن کریم کے احکا م کے ساتھ جو حکمتیں کام کر رہی ہیں ان کی روشنی میں ھبہ کے متعلق کیا صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ھبہ کا ذکر احادیث میں آتا ہے لیکن قرآن کریم نے ورثہ کے قوانین کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ فلاں کو اتنا ،بیٹوں کو اتنا ،بیٹیوں کو اتنا دو۔۔۔۔۔اور آگے فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان احکا م کی خلاف ورزی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل کرے گا۔
    ان احکا م پر اتنا زور دیا ہے تو کسی باپ کو یہ کیا حق ہے کہ وہ اپنی تمام جائیداد کسی ایک بیٹے کے نام منتقل کر دے اور دوسروں کو محروم الارث قرار دے دے۔پھر اس بارہ میں ہمیں رسول کریم ﷺکے زمانے کابھی ایک وا قعہ بطور مثال نظر آتا ہے۔
    ایک دفعہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسو ل اللہ میرے باپ نے میرے بھائی کو گھوڑا دیا ہے اور مجھے نہیں دیا ۔آپ نے اس کے باپ کو بلوایا اور اس سے فرمایا یا تو اپنے اس دوسرے بیٹے کو بھی گھوڑا دو ۔اور اگر تم اس کو نہیں دے سکتے تو اس سے بھی گھوڑا واپس لے لو۔اب اس میں کیا حکمت تھی کہ قرآن کریم نے ہر بچے کایہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ ماں باپ کی خدمت کرے اور اس بارہ میں بڑا زور دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔اس کے مقابلہ میں ماں باپ کے لئے بھی ایک فرض بچوں کے حقوق کا مقرر کیا گیا ہے اور ان کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد میں سے کسی سے امتیازی سلوک نہ کریں ۔کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ محبت جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پید ا نہیں ہوگی۔ایک باپ جس کے دو بیٹے ہوں وہ اگر ان میں سے ایک کے ساتھ امتیازی سلوک کرے تو دوسرے کے دل میں قدرتی طور پر خیال پیدا ہوگا کہ باپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔اور میرے دوسرے بھائی سے زیادہ ہے۔اور گو وہ شریعت کے کہنے پر اپنے باپ کی خدمت تو کرے گا مگر اس کے دل میں اپنے باپ کے لئے دلی محبت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔جہاں تک دنیوی باتوں کا تعلق ہے ان کی فرمانبرداری ضرور ہونی چاہئے مگر ماں باپ کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی اولاد میں سے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں۔یورپ کے لوگ اپنی ساری جائیداد اپنے سب سے بڑے بیٹے کو دے دیتے ہیں یا جس کو جتنا چاہیں اتنا دے دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن ہم ان کے سامنے یہ بات پیش کرتے ہیںکہ اسلام نے ہر ایک کاحصہ مقرر کیا ہے۔پس اگر مسلمان بھی اپنی اولاد کے ساتھ امتیازی سلوک کریںتو اسلام نے جو تقسیم حصص میں حکمت رکھی ہے وہ باطل ہو جاتی ہے۔اسلام کے حکم کے مطابق دین کے لئے وصیت میں زیادہ سے زیادہ 1/3دیا جاسکتا ہے۔اور ھبہ میں ساری جائیداد دی جاسکتی ہے مگر وہ بات بالکل الگ ہے۔دین کے لئے بے شک ساری جائیداد انسان ھبہ کر سکتا ہے مگر اولاد میں سے کسی ایک کے نام ھبہ نہیں کر سکتا یا پھر ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے چار بیٹوں میں سے بڑے تین بیٹوں کو کافی جائیداد تجارت وغیرہ کے لئے دی ہوئی ہے اور چھوٹا لڑکا ابھی کسی کام پر نہیں لگایا ۔اس کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔اس لئے اگر وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ بڑے لڑکے کھاتے پیتے ہیںاور ان کے پاس کافی ذخیرہ ہے اپنی جائیداد کو چھوٹے کے نام ھبہ کر دیتا ہے تو یہ ایک جائز صورت ہے مگر اس میں بھی شرط یہ ہے کہ دوسرے بیٹوں کو اعتراض نہ ہو۔
    اگر ان کو اعتراض ہو تو ایسا نہیں کر سکتا مگر کھاتے پیتے بیٹوں کو جن کو باپ پہلے ہی کافی روپیہ یا جائیداد دے چکا ہو ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ کہیں گے ہمارے پا س سب کچھ موجود ہے۔بیسیوں باپ ایسے ہوتے ہیں جن کی آمد اپنے بیٹوں کی آمد سے بہت کم ہوتی ہے۔اس لئے ایسی صورت میں شریعت نے ھبہ کرنے کی اجازت دی ہے مگر باپ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹوں کا جائزہ لے جن کو وہ ھبہ سے محروم کر رہا ہے۔اگر وہ کھاتے پیتے ہوںتو کسی ایسے بیٹے کے حق میں جس کو باپ کی جائیداد سے تھوڑا حصہ ملا ہو ھبہ کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔اور اگر ان سب بیٹوں کی حالت یکساں ہو تو کسی ایک کے نام ھبہ کرنا جائز نہ ہوگا۔دین کے لئے ساری جائیداد کا ھبہ کرنے کی صورت تو یہ تھی کہ اس میں وہ اپنے آپ کو بھی محروم کر لیتا ہے اور بیٹوں کو بھی۔مگر کسی ایک بیٹے کے نام ھبہ کرنے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو محروم نہیں کر تا اور یہ نا جائز ہے۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فقہاء نے جو ھبہ کی اجازت دی ہے اس کی حقیقت لوگوں نے نہیں سمجھی ۔اصل بات یہ ہے کہ ایک وقتی ذمہ داری ہوتی ہے اس کے متعلق اور احکام ہیںاور ایک مستقل تقسیم ہوتی ہے جس کے متعلق اور احکام ہیں۔
    ھبہ یہ ہے کہ کوئی شخص پوری جائیداد یا اس کا کوئی بڑا حصہ کسی کے نام منتقل کردے ۔یہ ھبہ جیساکہ میں بیان کر چکا ہوں سوائے استثنائی صورتوں کے طور پر ناجائز ہے لیکن ایک صور ت یہ ہوتی ہے کہ وقتی ضرورتوں کے ماتحت کسی ایک بیٹے کو دوسرے بیٹوں سے کچھ زائد دے دیا جائے یہ صورت چونکہ تربیت حالیہ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے جائز ہے۔مثلا کسی شخص نے اپنے ایک بیٹے کو ایم اے کروایا مگر اس کے بعد اس کی نوکری جاتی رہی یا اسے تجارت میں نقصان پہنچ گیا تو اس صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے باقی بیٹوں پر بھی اتنا ہی خرچ کرے جتنا کہ اس نے اپنے ایم اے بننے والے بیٹے پر کیا تھا۔
    (الفضل ۲۴ اکتوبر ۱۹۶۱ ؁ئ)
    امتیازی ھبہ
    ایسا ھبہ کرنا جس میں امتیاز پایا جاتا ہو اسلامی روح کے خلاف ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو اس سے پر ہیز کر نا چاہئے۔قاضیوں کو بھی اس مسئلہ کے متعلق اچھی طرح علم ہونا ضروری ہے۔اگر کوئی ایسا معاملہ ان کے سامنے پیش ہو جس میں نظر آئے کہ اس میں امتیاز پیدا ہو رہاہے تو ان کا فرض ہے کہ امتیازی سلوک کی تردیدکرتے ہوئے حقدار کو حق دلائیں اور اگر اس معاملہ میں امتیازی سلوک نہ ہو بلکہ مصلحت وقت کے ماتحت کسی نے ایسا کیا ہوتو اسے قبول کر لینا چاہئے مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنے بڑے بچوں کو پڑھا لیا ہے اور اب میرے چھوٹے بچے رہ گئے ہیں جن کو تعلیم دلانا مقصود ہے اور میں بوڑھا ہو چکا ہوں اس لئے چھوٹے بچوں کے لئے میں اس قدر روپیہ ریزرو کر دینا چاہتا ہوں تو یہ جائز ہوگا۔اس میں یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹوں کو محروم کرنا چاہتا ہے۔
    (الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۶۱ ؁ئ)
    اپنی زندگی میں دی ہوئی چیز ھبہ ہے،وصیت میں نہیں آتی
    سوال: نواب محمد عبد الرحمن صاحب مرحوم کی امانت کے سامان اور کیش جس کے بارہ میں انہوں نے اپنی وفات سے قبل اڑھائی سال یہ تحریر دی تھی کہ:
    ’’ میر ا جو سامان یعنی چار عدد بکس بڑے چھوٹے صدر انجمن احمدیہ ربوہ میں امانت رکھوائے ہوئے ہیں اور تمام رقوم جو امانت رکھی ہوئی ہیں ،اس تمام سامان اور روپیہ کی مالک میری بیگم محمودہ بیگم ہیں ۔اس پر میرے کسی رشتہ دار کا حق نہیں۔میری زندگی اور وفات کے بعد اس کی مالک میری بیگم ہیں۔‘‘
    جواب: ارشاد حضور:۔
    ’’ٹھیک ہے ۔جب وصیت موجود ہے تو ان کے قول کے مطابق ان کی بیوہ مالک ہیں ۔یہ مال ان کی بیوی کا ہی ہے۔زیادہ سے زیادہ مفتی سے فتویٰ لے لو۔جو چیز انسان کسی کو زندگی میں دے جائے یا کسی کی قرار دے جائے وہ میرے نزدیک وصیت کے نیچے نہیں آتی۔‘‘
    (رجسٹر دارالافتاء فتویٰ نمبر 101/27-2-57)
    ھبہ اور وصیت میں فرق
    صدقہ و خیرات جو ایک بہت بڑی نیکی ہے اس میں بھی اسلام نے میانہ روی سے کام لینے کی ہدایت فرمائی ہے اور اپنا سارا ما ل خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ہاں اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ھبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔اس لئے کہ ھبہ کی تکلیف خود اسے بھی پہنچتی ہے مثلا ایک شخص جس کی سالانہ آمد ایک لاکھ روپیہ ہے وہ اگر اس آمد کو ھبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اس لئے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتا ہے۔وہ ھبہ سے پہلے اگر آٹھ ہزار یا چار ہزار یا تین ہزار روپیہ ماہوار میں گزارہ کر رہا تھا تو ھبہ کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کوبھی اس آمد سے محروم کر لیا۔پس ھبہ ایک علیحدہ چیز ہے اور اسلام نے اسے جائز رکھا ہے۔کیونکہ ھبہ میں انسان اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کو ہی اپنی جائیداد سے محروم نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر لیتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو تو شریعت اس کے جذبہ قربانی میں روک نہیں بنتی ۔لیکن اگر وہ اپنی زندگی میں ایک لاکھ روپیہ سالانہ آمد اپنے نفس پر خرچ کرتا رہتا ہے اور مرتے وقت چاہتا ہے کہ اپنا سارامال خدا کی راہ میں دے دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود تو سارے روپیہ سے فائدہ اٹھاتا رہا لیکن جب مرنے لگا تو اس نے چاہا کہ اب اس کے بیوی بچے اور دوسرے رشتہ دار جس طرح چاہیں گزارہ کریں اور ان کے لئے کوئی روپیہ باقی نہ رہے۔پس رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ مرنے والا صرف ایک تہائی تک کی وصیت کرے۔
    (الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۵۷ ؁ئ)
    غیر شادی شدہ عورت کی وصیت
    سوال: اگر وصیت کے لئے مہر کی شرط کی گئی تو غیر شادی شدہ عورتوں کی وصیت کے متعلق کیا ہو گا؟
    جواب: سو یا د رکھنا چاہئے کہ غیر شادی شدہ عورت جو بھی اپنی جائیداد بتائے گی ہم اسے تسلیم کر لیں گے۔اگر وہ کہے کہ میرے پاس ایک روپیہ ہے تو ہمار ا فرض ہو گا کہ اس ایک روپیہ کو ہی تسلیم کرلیں۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ غیر شادی شدہ رہنا منع ہے۔آخر دو چار سال تک تو وہ غیر شادی شدہ رہے گی اور جب وہ شادی کرے گی تو مہر والی صورت پیدا ہو جائے گی ۔کیونکہ وصیت کی ایک شق یہ بھی ہے کہ اگر کوئی عورت یہ کہے کہ میں مرنے تک شادی نہیں کروں گی تو یہ درست نہیں ہو گا۔۔۔۔۔اگر خدا نخواستہ ایسا حادثہ پیش آجائے کہ کوئی لڑکی وصیت کرنے کے بعد بغیر شادی کے فوت ہو جائے تو وہ چاہے ایک روپیہ وصیت میں لکھوائے ہم بہر حال اسے تسلیم کریں گے کیونکہ اس نے اپنے اخلاص کا ثبوت دے دیا ۔ہمارا کوئی حق نہیں کہ اس کی وصیت کو رد کریں۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۵۸ ؁ئ)
    طالب علم کی وصیت
    سٹوڈنٹ پر بھی چندہ واجب ہے خواہ پیسہ ماہوار ہو ۔اور جو کچھ بھی کسی کے پاس ہو اس کے حصہ کی وصیت ہو سکتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مال نہیں دیکھتا بلکہ اخلاص دیکھتا ہے۔
    (الفضل ۲۹ اپریل ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۳)
    ورثہ
    سوال: لڑکیوں کو ورثہ دینے کے بارہ میں سوال کیا کہ کیا ان جائیداد کی بجائے زیور کی صورت میں حصہ دیا جا سکتاہے؟
    جواب: فرمایا:۔ چونکہ قانون انگریزی لڑکیوں کو حصہ نہیں دلاتا اس لئے جب تک یا تو لڑکیوں کوحصہ دینے کا قانون نہ بن جائے یا احمدیت کی حکومت نہ قائم ہو جائے جہاں یہ خطرہ ہو کہ باپ کے مرنے کے بعد لڑکے جائیداد میں سے بہنوں کو حصہ نہ دیں گے وہاں باقاعدہ حساب کر کے جتنا حصہ بنے اتنے کا زیور دے دیا جائے تو کوئی بری بات نہیں ۔بلکہ اچھی بات ہے۔
    نیز حضور نے فرمایا:۔ شریعت نے باپ کی وفات کے بعد اولاد کو ترکہ کا وارث بتایا ہے ۔اگر باپ اپنی زندگی میں جائیداد کا حصہ ھبہ کردے اور لڑکی باپ کی زندگی میں ہی فوت ہو جائے تو وہ جائیداد ان لوگوں کے پاس چلی جائے گی جن کو شریعت نے اس کا وارث نہیں بنایا۔
    (الفضل ۹ مئی ۱۹۴۵ ؁ء جلد ۲۳ نمبر ۱۰۹)
    سوال: کیا غیر احمدی مسلمان ایک احمدی مسلمان کی وفات پر اس کی جائیداد سے بروئے قانون شریعت حصہ لے سکتا ہے؟
    جواب: یقینا لے سکتا ہے ۔یہ ایسا اختلاف نہیں کہ ورثہ روک دے۔ہاں لوگ ورثہ نہ دیتے ہوں تو بدلہ کے طور پر ان سے دوسرا سلوک ہو سکتا ہے۔
    (الفضل ۴ مئی ۱۹۵۴ ؁ء )
    سوال: احمدیوں نے اپنے بزرگوں کے مذہب کو ترک کر دیا ہے اس لئے یہ ان کے وارث نہیں ہو سکتے؟
    جواب: فرمایا:۔ یہ صحیح نہیں کہ احمدیوں نے اپنے بزرگوں کے مذہب کو ترک کر دیا ہے بلکہ احمدی ان تمام باتوں کو مانتے ہیں جو ان کے بزرگ مانتے تھے ۔البتہ ایک بات ان میں زائد ہے اور وہ یہ کہ ان بزرگوں میں جو ایک پیشگوئی چلی آرہی تھی کہ ایک شخص آنے والا ہے وہ ان کے زمانے میں مبعوث ہو ا اور انہوں نے ان تمام نشانات سے جو اس کے لئے پہلے سے مقرر تھے اس مامور کو پہچان کر قبول کر لیا ۔
    پس احمدیوں کا اختلاف اپنے بزرگوںسے نہیں بلکہ موجودہ لوگوں سے ہے اس لئے ان کے حقوق تلف نہیں ہو سکتے۔
    (الفضل ۲۸ فروری ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۸ نمبر ۶۴)
    یتیم پوتا اپنے دادا کا کیوں وارث نہیںہوتا
    سوال: یتیم پوتا اپنے دادا کا کیوں وارث نہیں ہو سکتا ؟
    جواب: فرمایا:۔ کیوں کا کیا سوال ہے۔ شریعت کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ وارث نہیں ہو گا لیکن اگر وہ ورثہ سے حصہ نہیں لے سکتا تو دادا اپنے تیسرے حصہ سے اس کے متعلق کیوں وصیت نہیں کر دیتا جس کا خدا نے اسے حق دیا ہے۔کیا اسے پتہ نہیں کہ اس کا بیٹا مر چکا ہے ۔جب وہ جانتا ہے تو وہ کیوں اسی وقت اپنے ورثہ میں سے اس کے متعلق وصیت نہیں کر دیتا ،جبکہ وہ جائیداد کا تیسرا حصہ وصیت میں دے سکتا ہے۔
    (الفضل ۱۶ اپریل ۱۹۶۰ ؁ئ)
    ایک خط کے جواب میں لکھوایا:۔
    ایسے پوتوں کو ورثہ دینا جن کے باپ اپنے والد کی زندگی میں فوت ہو چکے ہوں شرعی لحاظ سے ضروری قرار نہیں دیا گیا ۔البتہ وصیت کے قانون کے ماتحت سفارش کی تھی سوا اس کے متعلق تحریک تو کی جاسکتی ہے مگر جبری انتظام نہیں کیا جا سکتا ۔سوائے اس کے کہ مزید تحقیق کے نتیجہ میں مسئلہ کی صور ت دوسری ثابت ہو۔
    (فائل مسائل دینی 32-A 15-5-59)
    عاق کرنا جائز ہے
    عاق کرنا جائز ہے لیکن اس کی بنیا د ایسے امور پر ہونی چاہئے جس میں شریعت بچے کو عاق کرنا جائز قرار دیتی ہو مثلا ً اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ میرا بیٹا چوری ،شراب خوری ،جوئے بازی کرتا ہے اور کنچنیوں وغیرہ پر روپیہ ضائع کر رہا ہے اور اس کی تمام حرکات مذہب اور سوسائٹی کے اصل کے خلاف ہیں تو وہ اس کو عاق کرسکتا ہے۔
    (الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۶۱ ؁ء خطبہ جمعہ فرمودہ ۹ جون ۱۹۴۷ ؁ئ)
    سوال: ایک شخص احمدی کا لڑکا بالغ جو مسیح موعود کو جھوٹا نبی تصور کرتا ہے اور مسیح موعود کو برا جانتا ہے ،آیا اس کو عاق لکھنا اور کل جائیداد سے بے خل کرنے کا حکم ہے؟
    جواب: اس میں حکم کا تعلق نہیں ۔ایک شخص جو ہم سے عقیدہ میں اختلاف رکھتا ہے اس سے ہمیں لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ۔جس طرح غیر احمدی باپ کا وارث احمدی بیٹا ہو سکتا ہے غیر مذاہب والوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔فقہاء نے مختلف فتوے دیے ہیں ۔بعض کہتے ہیں کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے اور بعض کہتے ہیں نہیں ۔اور اس کی بناء انہوں نے بعض احادیث پررکھی ہے ۔لیکن میرے نزدیک یہی بات ہے جو میں نے بتائی۔
    (الفضل ۴ دسمبر ۱۹۲۳ ؁ ء نمبر ۴۵؍۴۴ جلد ۱۱)
    سوال: احمدیوں نے اپنے بزرگوں کے مذہب کو ترک کر دیا ہے اس لئے یہ ان کے وارث نہیں ہو سکتے؟
    جواب: فرمایا:۔ یہ صحیح نہیں کہ احمدیوں نے اپنے بزرگوں کے مذہب کو ترک کر دیا ہے بلکہ احمدی ان تمام باتوں کو مانتے ہیں جو ان کے بزرگ مانتے تھے ۔البتہ ایک بات ان میں زائد ہے اور وہ یہ کہ ان بزرگوں میں جو ایک پیشگوئی چلی آرہی تھی کہ ایک شخص آنے والا ہے وہ ان کے زمانے میں مبعوث ہو ا اور انہوں نے ان تمام نشانات سے جو اس کے لئے پہلے سے مقرر تھے اس مامور کو پہچان کر قبول کر لیا ۔
    پس احمدیوں کا اختلاف اپنے بزرگوںسے نہیں بلکہ موجودہ لوگوں سے ہے اس لئے ان کے حقوق تلف نہیں ہو سکتے۔
    (الفضل ۲۸ فروری ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۸ نمبر ۶۴)
    سوال: اگر ایک آدمی کی نالی دوسرے آدمی کے مکان سے گزرتی ہو ۔یا ایک آدمی کا پر نالہ دوسرے آدمی کے مکان یا صحن میں سے گزرتاہو۔یا کسی نے دوسرے کی زمین پر مخالفانہ قبضہ کر لیا ہو اور اس کو مدت مدید گزر جائے ۔ایسے مقدمات میں شریعت حقدار کو حق دلائے گی۔لیکن ضرورت اور آپس کے تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ایسے حقوق کے ٹوٹ جانے کی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے ۔لیکن شریعت نے اس کی کوئی تحدید نہیں کی ۔اسلامی مما لک میں جہاں شریعت کے مطابق فیصلہ جات ہوتے ہیں یہ حق خلیفہ یا امیر کا رکھا گیا ہے کہ وہ اس میعا د کی تعیین کرے ۔سلطان ترکی نے ارث وقف کے سوا باقی میں تیرہ سال کی حد رکھی ہے ۔سو اس کے متعلق حضور کا کیا فیصلہ ہے کہ یہ میعاد کتنی ہونی چاہئے؟
    جواب: میرے نزدیک یہ سوال گہرے غور اور فکر کے بعد طے ہونے والا ہے لیکن عارضی طور پر میں یہ فیصلہ کرتا ہوںکہ:
    ۱:۔ اگر کسی شخص کے سامنے جائیداد موجود ہو تو اس کا تیرہ سال کے بعد مقدمہ کا حق نہ ہو گا بشرطیکہ جائیداد کی صورت بدل گئی ہو یا اسے نئے قابض نے آگے فروخت کر دیا ہو ۔
    ۲:۔ اگر اس کی صورت نہ بدل گئی ہو اور نہ اسے فروخت کیا گیا ہو تو قاضی کی مرضی پر ہو گا کہ اگر وہ ۔۔۔۔۔کہ اس زمانہ میں ثبوت ضائع نہیں ہوئے اور انصاف کے راستے میں کوئی روک نہیں تو وہ تیرہ سال کے بعد بھی کیس کو سن لے۔
    ۳:۔ جائیداد کی صورت بدلنے کے معنی اس میں معتدبہ تبدیلی پیدا ہونے کے ہوں گے جس کے بعدا س کی ملکیت میں۔۔۔۔قابض پر ایک ناواجب بوجھ بن جائے گا۔
    ۴:۔ نابالغ بچے کے مقدمہ میں اس کی جوانی کے چھ سال تک مقدمہ کو سنا جا سکتا ہے اور جوانی کی حد ہماری عدالتوں میں ۲۱ اکیس سال کی ہوگی۔یعنی مقدمات مالی کے لئے۔
    ۵:۔ اگر کوئی شخص باہر گیا ہو ا ہو تو اس کے لئے پچیس سال کا عرصہ رہے ۔اس عرصہ میں وہ نالش کر سکتا ہے۔
    ۶:۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ قابض کو علم تھا کہ وہ جائیداد اس کی نہیں اور اس پر وہ قابض ہوا تو اس پر ہر جانہ میعاد فائدہ کا ڈالا جا سکتا ہے اور جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے اور اگر یہ ثابت ہو کہ مالک کو علم تھا کہ اس کی جائیداد پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور وہ خاموش رہا اور اس نے مقدمہ نہ کیا تواسے اپنے ہرجانہ کے مطالبہ کے ایک حصہ سے محروم بھی کیا جا سکتا ہے یہ قاضی کی مرضی پر ہو گا۔
    (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۱ صفحہ ۳۔ دارالقضاء ربوہ)
    انشورنس کے متعلق جماعت احمدیہ کا نظریہ
    انشورنس نہ تو عربی کا لفظ ہے نہ ہی شرعی اصطلاح ہے ۔اس لئے نام کے متعلق تو نہ ہی اس کے خلاف اور نہ ہی اس کے حق میں فیصلہ کیاجا سکتا ہے۔مثلاً کوئی ایسا جانور جو ہمارے ملک میں نہ پایا جاتا ہو بلکہ افریقہ یا اسٹریلیا سے پکڑا ہوا آئے تو حدیث اور فقہ کا فتویٰ تو اس پر لگ نہیں سکتا ۔کیونکہ اس کے نام کو وہ جانتے نہ تھے ۔اس کے متعلق فتویٰ صرف اس صورت میں لگ سکے گا کہ ہمیں اس جانور کے حالات معلوم ہوں ۔وہ حالات اگر حلال جانور کے مشابہ ہو ں گے تو حلا ل ہو گا ورنہ حرام۔مثلاً کوئی جانور اگر شکار کھانے والا ہو ،گندگی کھا نے والا اور خلاف فطرت فعل کرنے والا ہو تو وہ حرام ہو گا ۔اگر پھل ،ترکاری ،سبزی کھا نے والا ہو ،اس میں درندگی کے افعال نہ پائیں جائیں ،گندگی نہ کھا تا ہو اور نہ گندے افعال کرتا ہو تو حلا ل ہو گا۔
    پس اس رنگ میں انشورنس کے متعلق فتویٰ ہو گا ۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انشورنس حلال ہے یا حرام ۔ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت تک جتنی انشورنس کمپنیوں کے قواعد میں نے پڑھے ہیں ،قواعد کی رو سے ان میں حرمت کی وجہ پائی جاتی ہے۔اگر کوئی ایسی انشورنس کمپنی ہے جس کے قواعد اسلام کے مطابق ہوں تو ہم اسے جائز سمجھیں گے۔ہمیں انشورنس کے لفظ سے چڑ نہیں ۔ہمیں تو اس کی تفصیل سے غرض ہے ۔پس جو یہ فتویٰ پو چھتا ہے اس سے پوچھا جائے کہ جس کمپنی کے انشورنس کے متعلق وہ پوچھتا ہے اس کے قواعد کیا ہیں ۔پھر ہم اس کے جائز یا ناجائز ہونے کا بتا سکیں گے۔یہ اس کو بتا دیا جائے کہ کینیڈا ،پاکستان اور ہندوستان کی انشورنس کمپنیوں کے قواعد جتنے میں نے پڑھے ہیں حرمت کے فتوے والے قواعد ہیں۔
    (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۵۲ ؁ئ)
    انشورنس کیوں جائز نہیں
    یہ بات درست نہیں کہ ہم انشورنس کو سود کی ملونی کی وجہ سے ناجائز قرار دیتے ہیں۔کم از کم میں تو اسے اس وجہ سے ناجائز قرار نہیں دیتا ۔اس کے ناجائز ہونے کی بہت سی وجہ وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ:
    ۱:۔ انشورنس کے کاروبار کی بنیاد سود پر ہے اور کسی چیز کی بنیاد سود پر ہونا اور کسی چیز میں ملونی سود کی ہونا ان میں بہت بڑا فرق ہے۔گورنمنٹ کے قانون کے مطابق کوئی انشورنس کمپنی ملک میں جاری نہیں ہو سکتی جب تک ایک لاکھ کی سیکوریٹیز گورنمنٹ نہ خریدے۔پس اس جگہ آمیزش کا سوا ل نہیں بلکہ لزوم کا سوال ہے۔
    ۲:۔ دوسرے انشورنس کا اصول سود ہے کیونکہ شریعت اسلامیہ کے مطابق اسلامی اصول یہ ہے کہ جو کوئی رقم کسی کو دیتا ہے یا وہ ھدیہ ہے یا وہ امانت ہے یا شراکت ہے یا قرض ہے ۔ھدیہ یہ ہے نہیں ،امانت بھی نہیں کیونکہ امانت میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔یہ شراکت بھی نہیں کیونکہ کمپنی کے نفع و نقصان کی ذمہ داری اور اس کے چلانے کے اختیار میں پالیسی ہولڈر شریک نہیں ۔ہم اسے قرض ہی قرار دے سکتے ہیں اور حقیقتا ً یہ ہوتا بھی قرض ہی ہے کیونکہ اس روپیہ کو انشورنس والے اپنے ارادہ اور تصرف سے کام پر لگا تے ہیں اور انشورنس کے کام میں گھاٹا ہونے کی صورت میں روپیہ دینے والے پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتے۔پس یہ قرض ہے اور جس قرض کے بدلہ میں کسی قبل از وقت سمجھوتہ کے ماتحت کوئی نفع حاصل ہو اسے شریعت اسلامیہ کی رو سے سود کہا جاتا ہے۔پس انشورنس کا اصول ہی سود پر مبنی ہے ۔
    ۳:۔ تیسرے انشورنس کا اصول ان تمام اصولوں کو جن پر اسلام سوسائٹی کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے باطل کر تا ہے ۔انشورنس کو کلی طور پر رائج کر دینے کے بعد تعاون باہمی ،ہمدردی اور اخوت کا مادہ دنیا سے مفقود ہو جاتا ہے۔
    (الفضل ۱۸ ستمبر ۱۹۳۴ ؁ء جلد ۲۲ نمبر ۳۲)
    فرمایا:۔بیمہ کی وہ ساری کی ساری اقسام جواس وقت تک ہمارے علم میں آچکی ہیں ناجائز ہیں ۔ہاں اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدہ اور نقصا ن میں شریک ہو گا تو پھر بیمہ کرانا جائز ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔
    ہاں ایک طرح کا بیمہ جائز ہے اور وہ یہ کہ مجبوراً کرانا پڑے جیسے بعض محکموں میں گونمنٹ نے ضروری کر دیا ہے کہ ملازم بیمہ کرائیں ۔یہ چونکہ اپنے اختیار کی بات نہیں ہوتی اس لئے جائز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ موجود ہے ۔آپ نے فرمایا ہے پراویڈنٹ فنڈ جہاں مجبور کرکے جمع کرایا جاتا ہے وہاں اس رقم پر جو زائد ملے وہ لے لینا چاہئے۔
    (الفضل ۷ جنوری ۱۹۳۰ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۵۳)
    سوال: کیا شریعت میں زندگی بیمہ کرانے کی کوئی جواز ہے یا نہیں ۔یعنی زندگی کو انشورنس کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
    جواب: فرمایا:۔ بیمہ کی موجودہ کمپنیوں سے ان کے طریق پر تو ناجائز ہے۔لیکن بیمہ ایک نئی اصطلاح ہے ۔اگر کوئی کمپنی ایسے قانون بنائے جو اسلام کے مطابق ہوں تو وہ جائز ہو جائیں گی۔
    (فائل مسائل دینی 32-A DP 709/29.11.55)
    زندگی کے بیمہ میں سود ضرور ہوتا ہے اس لئے جائز نہیں ۔اور جوا بھی ہوتا ہے۔
    (الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۶ ؁ء )
    سوال: فرمایا :۔ ایک صاحب نے سوال کیا ہے کہ آجکل فسادات کی وجہ سے جو نقصانات ہو رہے ہیں ان میں مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے کیونکہ ان کی مالی حالت کمزور ہے اور دوسری قوموں کے پاس چونکہ روپیہ ہے اس لئے وہ اپنی حفاظت کے سامان کر سکتی ہیں ۔ایسی صورت میں بیمہ جائز ہے یا ناجائز؟
    جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ جس چیز کو شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے وہ بہر حال ناجائز ہے چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے۔آخر وفا داری کا پتہ بھی تونقصان یا دکھوںکے وقت ہی لگا کر تا ہے۔نفع اور آرام کے وقت تو ہر شخص وفاداری دکھا سکتا ہے۔
    بیمہ کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی تھی ۔اس لئے لفظ بیمہ کا ثبو ت نہ تو ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے اور نہ ہی احادیث سے ملتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث سے کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کے اصول کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ موجودہ صورت میں بیمہ جن اصول پر چلایا جاتا ہے وہ شریعت کے خلاف ہیں ۔شریعت میں سود بھی منع ہے اور جوا بھی منع ہے اور یہ دونوں چیزیں بیمہ کے اندر پائی جاتی ہیں ۔بیمہ کے موجودہ اصول کے مطابق نہ تو یہ سود کے بغیر چل سکتا ہے اور نہ جوئے کے بغیر ۔پس سود اور جوئے کی وجہ سے ہماری شریعت بیمہ کی موجود صورت کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ بیمہ منع ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ بیمہ کی موجو دہ صورت منع ہے۔
    ہمیں بیمہ کے لفظ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی تفصیل کے ساتھ تعلق ہے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی وقت ایسا بھی آجائے جبکہ بیمہ زندگی کی موجودہ صورت بدل جائے اور سود اور جوا دونوں ہی ا س میں نہ رہیں اور اسے خالص اسلامی اصو ل کے ماتحت چلایا جائے ۔ایسی صورت میں اس کے جواز کا فتویٰ دے دیا جائے گا۔بہر حال ہم لفظ بیمہ کو ناجائز قرار نہیںدیتے بلکہ بیمہ کی موجودہ شکل اور اس کی موجودہ تفاصیل کو ناجائز قرار دیتے ہیں ۔
    ایک دوست نے سوال کیا کہ یوپی گورنمنٹ نے حکم دیا ہے کہ ہر شخص جس کے پاس کوئی موٹر ہے وہ اس پر بیمہ کرائے کیا یہ جائز ہے؟
    اس کے متعلق بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ حکم صرف یوپی گورنمنٹ کا ہی نہیں بلکہ پنجاب میں بھی گورنمنٹ کا یہی حکم ہے ۔یہ بیمہ چونکہ قانون کے ماتحت کیا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے اسے جبری قرار دیا گیا ہے اس لئے اپنے کسی ذاتی فائدہ کے لئے نہیں بلکہ حکومت کی اطاعت کی وجہ سے یہ بیمہ جائز ہے۔
    (الفضل ۴ نومبر ۱۹۶۱ ؁ء فرمودہ ۲۵ جون ۱۹۴۲ ؁ء )
    پسماندگان کی مدد
    اس طرح ایک ضروری امر پسماندگان کی مدد ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ سب کچھ دین کے لئے قربان کر دو تو جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیںان کے فوت ہونے پر ان کے پسماندگان کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ایسے حاجتمندوں کے لئے ایک فنڈ ہونا ضروری ہے جس میں چندہ دینا لازمی نہ ہو بلکہ مرضی پر ہو۔اور اس کے لئے ایسا قانون بنا دیا جائے کہ جو اتنا چندہ دے دے اسے اتنے عرصہ کے بعد اتنی رقم بالمقطع دی جائے گی یا اگرفوت ہو جائے تو پسماندگان کو اتنی رقم ادا کر دی جائے گی۔اگر کسی ایسے فنڈ کا انتظام ہو جائے تو پسماندگان کا انتظام ہو سکتا ہے۔اس کے متعلق میں تفصیلی طور اس وقت نہیں بیان کر سکتا ۔میرا ارادہ ہے کہ مجلس مشاورت میں اسے پیش کیا جائے اور اسے ایسے رنگ میں رکھا جائے کہ سود نہ رہے ،انشورنس نہ ہو او رکام بھی چل جائے۔مثلاً یہی فیصلہ ہو کہ اس عمر تک پسماندگان کو گزارہ دیا جائے گا یا یہ کہ بچوں کو اس قدر تعلیم دلائی جائے گی۔
    (منہاج الطالبین صفحہ ۲۱)
    سوال: کیا چٹھیوں کو ڈاکخانے میں انشور کرانا جائز ہے؟
    جواب: فرمایا کہ ہاں چٹھیوں کا پہنچا دینا ڈاکخانہ کا فرض ہے لیکن کسی اور سے جس کا یہ فرض نہ ہو انشور کرانا جوئے کی طرح ہو جاتا ہے ۔یہ ناجائز ہے۔
    ریل یا جہاز کی کمپنی سے انشور کرانا جائز ہے لیکن ٹامس کک وغیرہ جس کا فرض اسباب کو پہنچا دینا نہیں اس سے انشور کرا نا ناجائز ہے۔
    زندگی کا بیمہ کرانا جائزنہیں ۔مکانوں کو انشور کرانا بھی جائز نہیں ۔
    سوال: پچاس یا سو آدمی مل کر ایک قسم کا فنڈ بنائیں جس میں سب چندہ دیا کریں تاکہ اگر ان میں سے کسی کے مکان کو آگ لگ جائے تو اس کی مدد کی جائے تو کیا یہ جائز ہے؟
    جواب: ہندوستان میں بہت سی کواپریٹو سوسائٹیاں بن رہی ہیں جن کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح اگر لوگ مل کر ایک سوسائٹی اس مقصد کے لئے بنائیںکہ سب چندہ دیا کریں اور اگر ان میں سے کسی ایک کاکچھ نقصان ہو جائے جو کہ اس کی غفلت کا نتیجہ نہ ہو تو اس کے ایسا ثابت کرنے پر اس کی مدد کی جائے تو یہ جائز ہے۔لیکن یورپ میںبہت سے لوگ اپنے مال کو انشور کرا کے خود اپنا نقصان کر لیتے ہیں تاکہ بیمہ کا روپیہ حاصل ہو جائے۔
    (الفضل ۲۸ اپریل ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۸ نمبر ۸۱)
    پراویڈنٹ فنڈ
    سوال: سود اسی کو کہا جاتا ہے جو روپیہ بغیر محنت کے زائد مل جائے اس صورت میں کیا پراویڈنٹ فنڈ سود نہیں؟
    جواب: نہیں ۔پراویڈنٹ فنڈ میں کام کرانے والا ادارہ کارکن کی امداد کرتا ہے اور وہ امداد اس روپیہ کے عوض میں نہیں ہوتی۔وہ ادارہ اس سے روپیہ اپنے فائدہ کے لئے نہیں کاٹتا بلکہ اس روپیہ کا فائدہ بھی کارکن کو ہی دیتا ہے اور جہاں گورنمنٹ جبراً روپیہ وضع کرتی ہے اور پھر اس پر منافع بھی دیتی ہے وہ جائز ہے اور سود نہیں ۔کیونکہ سود تو روپیہ کے عوض میں ہوتا ہے جو اس نیت سے کسی کو خود دیا جائے کہ مجھے زیادہ ملے گا۔
    بیمہ میں بھی یہی صورت ہے ۔اس میں آدمی اسی نیت سے روپیہ جمع کراتا ہے کہ اگر کل مر جاؤں تو بہت زیادہ روپیہ وارثوں کو مل سکے۔اس میں ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی قسط ادا نہ کی جائے تو سب ضائع ہو جاتا ہے ۔یہ پورا جوا ہے ۔ہم نے اس کے حلال کی یہ تجویز کی تھی کہ لوگ روپیہ دیں اور آپس میں معاہدہ کر لیں کہ اس کا کچھ منافع تو حصہ وار تقسیم کر لیا جائے گا اور کچھ جو ممبر مر جائیں ان کے ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے گا۔منافع کوئی مقرر نہ ہو بلکہ جو بھی ہو تقسیم کر دیا جائے ۔اگر نہ ہو تو نہ کیا جائے ۔قواعد اس کے بھی اسی طرح رکھے جائیں کہ جو قسط نہیں دے گا اس کی رقم ضبط ہو گی۔تاکہ ادائیگی قسط سے کوئی شخص رکے نہیں لیکن ایسا کیا نہ جائے۔یہ رقم جمع کر کے میرا رادہ تھا کہ زمین اور مکانا ت رہن لے لئے جائیں ۔یہ تجارت بہت اچھی ہے ۔اس میں خسارہ کا احتمال نہیںہوتا۔اگر کوئی شخص کسی کامکان رھن لے لیتا ہے اور وہ مکان گر جائے تو مالک کا فرض ہے کہ اسے تعمیر کرائے۔کیونکہ جو چیز اس نے روپیہ کے بدلہ میں دی تھی وہ جب رہی نہیں تو رھن کیسا ۔ہاں جب تک تعمیر نہ ہو گا اس وقت تک کرایہ نہ ملنے کا خسارہ رہن رکھنے والے کو بھی ہو گا۔
    (الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۴۲)
    ڈالی دینا
    ایک صاحب نے اپنے محکمہ میں اپنی حق تلفی کا ذکر کیا جو اس وجہ سے ہوئی کہ وہ افسران بالا سے مل کر ڈالی وغیرہ نہ دے سکے تھے؟
    فرمایا:۔ آپ بھی ڈالی دے دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے دوسرے کی حق تلفی کے لئے نہیں لیکن اپناحق حاصل کرنے کے لئے ڈالی دینا ناجائز نہیں۔
    اس پر ایک صاحب نے کہا یہ بات بظاہر ایک احمدی کے لئے موزوں معلوم نہیں ہوتی کہ رشوت دے۔
    فرمایا:۔ احمدیت کے بانی نے تو اس کی اجازت دی ہے ۔بے شک یہ ایک کمزوری ہے لیکن ہماری اپنی حکومت تو نہیں کہ سب نقائص دور کر یں۔انفرادی اخلاق قومی ضروریات کے ماتحت ہوتے ہیں۔یہ تو ایک انفرادی خلق ہے کہ رشوت نہ دی جائے لیکن اگر اس طرح سے ہماری جماعت کے لوگ پیچھے رہتے چلے جائیںتو جماعت کی ترقی رک جائے گی۔
    (الفضل ۲۴دسمبر ۱۹۲۹ ؁ء جلد ۱۷ نمبر ۵۱)
    رشوت اور نذرانہ
    ایک صاحب کو حضور نے رشوت کی یہ تعریف لکھائی۔وڈھی (رشوت ) اس رقم کو کہتے ہیں جو کسی ایسے شخص کو دی جائے کہ جس کے ہاتھ میں کسی امر کا فیصلہ ہوتا ہے۔جس کے ساتھ دو غیر شخصوں کے فوائد وابستہ ہوتے ہیں۔جو رقم کہ اس غرض کے لئے دی جاتی ہے کہ وہ شخص اس امر میں فیصلہ کرتے وقت اس روپیہ دینے والے کی تائید کرے اور اس کے حق میں کلی یا جزئی طور پر فیصلہ دے دے وہ رشوت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    اگر بلا کسی سمجھوتے کے خواہ وضاحتا ً ہو یا اشارتاً اور کنایۃً کسی ایسے کام کے متعلق جس میں دوسروں کو نقصان نہ پہنچتا ہو اگر کوئی رقم کسی سرکاری کارکن کو دے دی جائے تو وہ رشوت کی تعریف کے ماتحت نہیں آئے گی۔ہاں اکثر حالات میں ایسی رقوم افسروں کے اخلاق کے بگاڑ کا موجب ہوجاتی ہیں اس لئے اس سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہئے۔بعض ایسی بھی صورتیں ہو جاتی ہیں کہ بعض سر کاری کارندے کسی کا حق تلف کیے بغیر زائد وقت خرچ کرکے اور محنت کر کے کسی شخص کو کوئی کام کر دیتے ہیں ایسے وقتوں میں اگر کچھ رقم دی جائے اور وہ سرکاری قانون کے خلاف نہ ہو تو وہ اخلاق حسنہ کے خلاف نہیں بلکہ عین مطابق ہو گی۔
    (الفضل ۴ دسمبر ۱۹۲۳ ؁ء جلد ۱۱ نمبر ۴۵؍۴۴)
    سوال: ایک صاحب پوچھتے ہیں جو ڈاکٹر دیہا ت میں جاتے ہیں اگرنمبر دار انہیں ایک روپیہ نذرانہ دیں اور حکام اسے جانتے بھی ہوں تو کیا جائز ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ رشوت حرام اور علاج کی فیس جائز ۔
    (الفضل ۲۵ اپریل ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۱)
    ۱:۔
    ایک دوست نے دریافت کیا کہ اہلکار مال جو روپیہ لوگوں سے بطور بالا ئی آمدنی لے لیتے ہیں اگر وہ اس میں سے از خود کچھ حصہ دیں تو اس کو لے لیا جائے اور آیا وہ کسی کار خیر میں خرچ کرنا جائز ہوگا؟
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے ان کو جواب لکھایا کہ وہ روپیہ حرام ہے ۔مسکین فنڈ میں بھی داخل نہیں ہو سکتا جو رقم آ چکی ہو وہ کسی محتاج کو دے دیں اور آئندہ ہر گز نہ لیں۔
    (الفضل ۱۵ جون ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۵۳ )
    ۲:۔
    ایک دوست نے پو چھا کہ محکمہ ریلوے میں جو مال سٹیشنوں پر آتا ہے اس کے چھڑانے کے وقت بیو پاری کچھ پیسے اپنی خوشی سے دے دیتے ہیں کیا یہ لینے جائز ہیں؟
    فرمایا:۔ بالکل حرام ہیں۔
    (الفضل ۶ مئی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۶ )
    ’’وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا‘‘(النور:۳۲)کے یہ معنی ہیں کہ وہ حصہ جو آپ ہی آپ ظاہر ہو ۔۔۔۔خواہ مجبوری بناوٹ کے لحاظ سے ہو ۔۔۔۔یا بیماری کے لحاظ سے ہو کہ کوئی حصہ جسم علاج کے لئے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہاں تک فرمایا کر تے تھے کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر کسی عورت کے متعلق یہ تجویز کرے کہ وہ منہ نہ ڈھانپے ۔اگر ڈھانپے گی تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور اِدھر اُدھر چلنے پھرنے کے لئے کہے تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت منہ ننگا کر کے چلتی ہے تو بھی جائز ہے بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر کوئی عورت حاملہ ہے اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ ہو اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی قابل ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی جان خطرہ میں ہے۔تو ایسی صورت میں وہ مرد سے بچہ نہ جنوائے اور مر جائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی گنہگار سمجھی جائے گی جیسے اس نے خود کشی کی ہے۔
    پھر یہ مجبوری کام کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے جیسے زمیندار گھرانوں کی عورتوں کی میں نے مثال دی ہے کہ ان کے گزارے ہی نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ کاروبار میں اپنے مردوں کی امداد نہ کریں ۔یہ تمام چیزیں اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا میں ہی شامل ہیں۔
    (تفسیرکبیر۔ سورۃ نور صفحہ ۲۹۸)
    پردہ سے مراد
    پردہ سے مراد وہ پردہ نہیں جس پر پرانے زمانہ میں ہندوستان میں عمل ہو ا کرتا تھا اور عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند رکھا جاتا تھا اور نہ ہی پردہ سے مراد موجودہ برقعہ ہے ۔یہ برقعہ جس کا آج کل رواج ہے صحابہ ؓ کے زمانے میں نہیں تھا۔اس وقت عورتیں چادر کے ذریعہ گھونگھٹ نکال لیا کرتی تھیں جس طرح شریف زمیندار عورتوں میں آج کل بھی رواج ہے ۔
    جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے ۔ہاں اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھ سے رستہ دیکھے تو یہ جائز ہے ۔لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا، مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں یہ ناجائز ہے ۔اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے ۔
    غرض عورتوں کا مکسڈ مجالس میں جانا مردوں کے سامنے اپنا منہ ننگا کر دینا اور ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرنا یہ سب نا جائز امور ہیں لیکن ضرورت کے موقع پر شریعت نے بعض امور میں انہیں آزادی دی ہے بلکہ قرآن کریم نے ’’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا ‘‘کے الفاظ استعمال فرما کر بتا دیا کہ جو حصہ مجبورا ًظاہر کرنا پڑے اس میں عورت کے لئے کوئی گناہ نہیں ۔اس اجازت میں وہ تمام مزدور عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں کھیتوں اور میدانوں میں کام کر نا پڑتا ہے اور چونکہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے لئے آنکھوں اور ان کے ارد گرد کا حصہ کھلا رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ان کے کام میں دقت پیدا ہوتی ہے اس لئے ’’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا ‘‘کے تحت ان کے لئے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہو گا ۔اور چونکہ انہیں بعض دفعہ پانی میں بھی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے ان کے لئے یہ بھی جائز ہو گا کہ پاجامہ اڑس لیں اور ان کی پنڈلی ننگی ہو جائے۔بلکہ ہمارے علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ آسکے اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی مرد ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی زندگی خطرہ میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ نہیں جنوائے گی تو یہ گناہ ہوگا اور پردہ کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔حالانکہ عام حالات میں منہ کے پردہ سے ستر کا پردہ زیادہ ہے۔لیکن اس کے لئے اعضائے نہانی کو بھی مرد کے سامنے کر دینا ضروری ہو گا ۔بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مر جائے تو اللہ کے حضور وہ ایسی ہی سمجھی جائے گی جیسے اس نے خود کشی کی ہے۔
    (الفضل ۲۷ جون ۱۹۵۸ ؁ء )
    پردہ میں تشدد
    اس میں شبہ نہیں کہ بعض علا قوں میں پردہ کے متعلق ایسے تشدد سے کام لیا جاتا تھا کہ وہ ڈولیوں کو بھی پردوں میں سے گزارتے تھے۔چنانچہ میں نے خود دیکھا کہ عورتوں کو ڈولی میں لاتے اور پھر ڈولی کے ارد گرد پردہ تان کر انہیں گاڑی میں سوا ر کراتے۔اور بعض قوموں میں اس سے بھی بڑھ کر یہ پر دہ ہوتا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ عورت ڈولی میں آئے تو پھر اس کا جنازہ ہی گھر سے نکلے ۔مگر یہ لوگوں کے خود ساختہ پردے ہیںجو صریح ظلم ہیں اور ان کا اثر عورتوں کی صحت اور ان کے اخلاق اور ان کے علم اور ان کے دین پر بہت ہی گندا پڑا ہے۔
    قرآن وحدیث سے اس قسم کے کسی پردے کا پتہ نہیں چلتا ۔بلکہ قرآن کریم سے صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو باہر نکلنے کی اجازت ہے ۔اگر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی توغض بصر کے حکم کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۳۰۳)
    چھوٹی عمر میں لڑکیوں کو برقعہ اوڑھانا
    اسلامی تعلیم کے ماتحت پردے کے قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے عورت ہر قسم کے کاموں میں مردوں کے شریک حال ہو سکتی ہے ۔وہ مردوں سے پڑھ سکتی ہے ،ان کا لیکچر سن سکتی ہے ۔اور اگر کسی جلسہ میں کوئی ایسی تقریر کرنی پڑے جو مرد نہیں کر سکتا تو عورت تقریر بھی کر سکتی ہے۔مجالس وعظ اور لیکچروں میں مردوں سے الگ ہو کر بیٹھ سکتی ہے۔ضرورت کے موقع پر اپنی رائے بیان کر سکتی ہے اور بحث کر سکتی ہے کیونکہ ایسے امور جن میں عورتوں کا دخل ہو ان امور میں عورتوں کامشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح عورت ضرورت کے ماتحت مرد کے ساتھ مل کر بھی بیٹھ سکتی ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺنے ایک سفر میں ایک نوجوان لڑکی کو جو پیدل جا رہی تھی اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا(مسند احمد جلد ۶ صفحہ ۳۸۰)۔۔۔۔۔۔
    جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے ۔ہاں اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھ سے رستہ دیکھے تو یہ جائز ہے ۔لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا، مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں یہ ناجائز ہے ۔اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے ۔۔۔۔۔
    میرے نزدیک یہ بھی ظلم کیا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو برقعہ اوڑھا دیا جاتا ہے ۔اس سے ان کی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور ان کا قد بھی اچھی طرح نہیں بڑھ سکتا ۔جب لڑ کی میں نسائیت پیدا ہونے لگے اس وقت اسے پردہ کرانا چاہئے اس سے پہلے نہیں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۳۰۴؍۳۰۵)
    پردہ کن افراد سے کیا جائے
    سوال: کیا ان بارہ افراد (مذکورہ سورۃ نور) کے علاوہ سب سے پردہ لازمی ہے یا اور استثنائی صورتیں بھی ہیں مثلاً نبی ،موعود خلفاء یا عام خلفاء کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    جواب: میرے نزدیک جو بمنزلہ ایسے رشتہ داروں کے ہوں ان سے نیم پردہ جائز ہے یعنی بے تکلفی نہ ہو ۔مگر سر ڈھانپ کر سامنے ہو جائے تو منع نہیں ۔گو واجب بھی نہیں۔
    سوال: اس وقت عام رواج کے مطابق دیور ،بہنوئی ،چچا یا ماموں کے لڑکوں یا اسی طرح نزدیکی رشتہ داروں سے پردہ نہیں کیا جاتا ؟
    جواب: ان سے پردہ ہے۔ہاں یہ پردہ دوسروں سے کم ہے یعنی جو کم سے کم پردہ ہے وہ ان سے ہے۔
    سوال: بعض حالات میں رشتہ دار عورتیں رشتہ داری کی وجہ سے پردہ نہیں کرتیں حالانکہ قرآنی حکم کے مطابق ان کو پردہ کرنا چاہئے۔تو کیا ان کو مجبور کیا جائے کہ پردہ کریں اور انسان خود سامنے آنے سے پرہیز کرے یا جو پردہ نہ کریں ان کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں ؟
    جواب: جو خود پردہ نہیں کرتی اگر اس پر اختیار ہو تو روکے ورنہ اس پر گناہ نہیں۔ہاں خلوت میں نہ بیٹھے ،بے تکلف نہ ہو۔
    (الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۳۸ ؁ء جلد ۲۶ نمبر ۱۶۲)
    بوڑھی عورتیں اور پردہ
    وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاء اللَّاتِیْ لَا یَرْجُونَ نِکَاحاً فَلَیْْسَ عَلَیْْہِنَّ جُنَاحٌ أَن یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ َّ۔۔۔۔۔الآیۃ (النور:۶۱)
    جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں اور نکاح کے قابل نہ رہیں وہ اگر معروف پردہ چھوڑ دیں تو جائز ہے۔ہاں خواہ مخواہ زیور پہن کر اور بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلیں ۔یعنی پردہ ایک عمر تک ہے اس کے بعد پردہ کے احکام ساقط ہو جاتے ہیں ۔ہمارے ملک نے پردہ کے احکام کو ایسی بری طرح استعمال کیا ہے کہ جوان عورتیں پردہ چھوڑ رہی ہیں اور بوڑھی عورتوں کو جبراً گھر بٹھایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
    ہمارے ملک کے لحاظ سے ساٹھ سالہ اور یورپ کے لحاظ سے ستّر پچھتّر سالہ عورت پر اس اجازت کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔کیونکہ اس عمر میں بوڑھی عورتوں کے لئے چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے اور پھر پردہ کے کپڑوں کو سنبھالنا تو ان کی مشکل کو اور بھی بڑھا دیتا ہے ۔لیکن شریعت پھر بھی یہی کہتی ہے کہ اگر وہ پر دہ کو قائم رکھیں تو نتائج کے لحاظ سے یہ زیادہ بہتر بات ہے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۳۹۶)
    عورتوں کا عورتوں سے پردہ کرنا
    اَوْ نِسَائِھِنَّ سے پتا لگتا ہے کہ بعض عورتوں سے بھی پردہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہر ملک میں یہ رواج ہے اور ہمارے ملک میں بھی تھا گو اب کچھ کم ہو گیا ہے کہ بد چلن لوگوں نے آوارہ عورتیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں جو گھروں میں جا کر آہستہ آہستہ عورتوں کو ورغلاتی اور انہیں نکال کر لے جاتی ہیں ۔اس قسم کی عورتوں کو رو کنے کے لئے شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر عورت کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے بلکہ وہی عورتیں گھر میں آئیں جن کے متعلق اس قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو اور ان کے حالات سے پوری واقفیت ہو ۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتوں کے متعلق بھی پہلے تحقیق کر لیا کرو کہ ان کا چال چلن کیسا ہے اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو پھر انہیں گھر میں آنے کی اجازت دو اور یہی نِسَائِھِنَّ سے مراد ہے یعنی وہ عورتیں جو تمہارے گھر میں آئیں ایسی دیکھی بھالی ہوں کہ گو یا تمہاری اپنی ہی عزیز ہوں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۳۰۱)
    پردے کی قسمیں
    حکم قرآنی یہ ہے کہ عورتوں کے لئے خدا کی طرف سے پردہ مقرر کیا گیا ہے جو حالات کے ماتحت تین قسم کا ہے۔
    ۱:۔ ان عورتوں کا پردہ جن کو کام کاج کے لئے مجبورا ً نکلنا پڑتا ہے ۔بغیر باہر نکلنے اور روزی کے کچھ کام کرنے یا خاوند کو روزی میں مدد دیے بغیر کنبہ کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ایسی عورتوں کے لئے جائز ہے کہ کام کاج کے وقت ہاتھوں اور پاؤں کو اور ماتھے سے لے کر ٹھوڑی اور کانوں کے سامنے تک چہرہ کو ننگا کر لیں۔
    ۲:۔ اس سے اوپر کے درجہ کی عورتیں جن کو کام کاج کے لئے مجبوراً باہر نہیں نکلنا پڑتا وہ تمام جسم کو چھپا دیں سوائے قد اور چال کے جو مجبوراً ظاہر ہوتے ہیں ۔
    ۳:۔ تیسرا درجہ امہات المؤمنین کا ہے کہ وہ اکثر گھر سے باہر نہ نکلا کریں۔
    (الفضل یکم ستمبر ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۹ نمبر ۱۷ )
    ایک دوست کو لکھوایا کہ پردہ ان عورتوں کے لئے جو کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں صرف جسم کا پردہ ہے۔آنکھیں اور ناک کھلے رکھ کر اگر کام کرنے چاہیں تو کچھ حرج نہیں۔
    (الفضل ۹ مئی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۷)
    منہ پردہ میں شامل ہے
    زیادہ سے زیادہ پردہ تو یہ ہے کہ منہ سوائے آنکھوں کے اور وہ لباس جو جسم کے ساتھ چسپاں ہو چھپایا جائے باقی ’’إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا‘‘(النور:۳۲) کے تحت کسی مجبوری کی وجہ سے جتنا حصہ ننگا کرنا پڑے کیا جا سکتا ہے ۔مثلاً ایک زمیندار عورت منہ پر نقاب ڈال کر گوڈی وغیر ہ زمینداری کا کام نہیں کر سکتی۔اس کے لئے جائز ہے کہ ہاتھ اور منہ ننگے رکھے تاکہ کام کر سکے ۔لیکن جن عورتوں کو اس قسم کے کام نہ کرنے ہوں بلکہ یوں سیر کے لئے باہر نکلنا ہو ان کے لئے یہی چاہئے کہ منہ کو ڈھانکیں ۔۔۔۔۔دیکھنا یہ چاہئے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے کیا معنی سمجھے اور پھر صحابہ نے کیا سمجھے اور اس پر کس طرح عمل کیا ۔اس کے متعلق جب دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت منہ پردہ میں شامل تھا ۔صاف طور پر لکھا ہے کہ رسول کریمﷺ نے اپنے ایک رشتہ دار کے لئے شادی کی تجویز کی توایک عورت کو بھیجا کہ وہ جا کر دیکھ کر آئے لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔اگر اس وقت چہرہ چھپایا نہ جاتا تھا تو پھر عورت کو بھیج کر رنگ معلوم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اسی طرح حضرت عمر ؓ نے ایک عورت سے کہا ام ھانی میں نے تمہیں پہچان لیا ہے ۔نہ یہ کہ شکل دیکھ کر ۔کیونکہ ایسے انسان کو جو واقف ہو یہ کہنا کہ میں نے تمہاری شکل دیکھ کر تمہیں پہچان لیا ہے کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔۔۔۔
    اس قسم کے بہت سے واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ کھلے منہ عورتیں نہ پھرتی تھیں۔ہاں کام کے لئے باہر نکلتی تھیں ۔مردوں سے باتیں کرتی تھیں ،جنگوں میں شامل ہوتی تھیں ۔اصل میں بات یہ ہے کہ پردہ کے متعلق بے جا جو تشدد کیا گیا ہے اس کا یہ نتیجہ ہے کہ پردہ کو بالکل اڑا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    موجودہ جو پردہ ہے میں اسے سیاسی پردہ کہا کرتا ہوںکیونکہ حالات اس قسم کے ہیں کہ انگریزی قانون میں عصمت کی قیمت روپیہ رکھا گیا ہے۔اس لئے احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو وہاں عورتیں بھی باہر آزادی کے ساتھ چل پھر سکتی ہیں۔
    (الفضل ۶ جولائی ۱۹۲۸ ؁ء جلد ۱۶ نمبر ۲ صفحہ ۴)
    بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کے لئے منہ کا پردہ نہیں ۔حالانکہ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس پر کس طرح عمل کیا ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے۔اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا حکم دیا گیاہے۔بے شک ہم اس حد تک قائل ہیں کہ چہرہ کو اس طرح چھپایا جائے کہ اس کا صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے مثلا ً باریک کپڑا ڈال لیا جائے یا عرب عورتوں کی طرز کا نقاب بنا لیا جائے جس میں آنکھیں اور ناک کا نتھنا آزاد رہتا ہے مگر چہرہ کو پردے سے باہر نہیں رکھا جاسکتا۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ ۲۹۹ تا ۳۰۱)
    اسلام کہتا ہے کہ مردوں کو چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں کو نہ دیکھیں اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھیں اور اس طرح اپنے ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کریں۔
    مگر بعض لوگوں نے جو حقیقت پر غور کرنے کے عادی نہیں غلطی سے اس حکم سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر محرم عورت کے کسی بھی حصہ پر نظر ڈالنا اسلامی احکام کی رو سے جائز نہیں۔حالانکہ یہ درست نہیں۔اگر شریعت اسلامیہ کا یہی منشاء ہوتا کہ عورت کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر نہ ڈالی جائے تو عورتوں کو چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت ہی نہ ہوتی اور مکان بھی بند دریچوں کے بنائے جاتے جس قسم کے ظالم بادشاہ پرانے زمانہ میں قید خانے بنایا کرتے تھے حالانکہ عورت بھی اسی قسم کی انسان ہے جس قسم کا کہ مرد ہے اور اس کی طبعی ضروریات بھی مرد ہی کی طرح ہیں اور خدا تعالیٰ کا طبعی قانون بھی دونوں پر یکساں اثر کر رہا ہے۔اور وہ قانون صحت کی درستی اورجسم کی مضبوطی کے لئے اس امر کا مقتضی ہے کہ انسان کھلی ہوا میں پھرے اور محدود دائرہ میں بند ہونے کا خیال اس کے اعصاب میں کمزوری پیدا نہ کرے۔اور جبکہ شریعت عورت کو باہر پھرنے کی اجازت دیتی ہے تو لازماً جب وہ باہر نکلے گی اس کی نظر مردوں کے جسموں کے بہت سے حصوں پر اسی طرح پڑے گی جس طرح عورت کے بعض حصوں پر مرد کی پڑتی ہے۔خواہ وہ کپڑوں کے نیچے چھپے ہوئے ہوں ۔اوریہ چیز ممنوع نہیں۔اصل چیز جو پردہ کی جان ہے ۔۔۔۔۔وہ دونوں کی نظروں کو ملنے سے بچانا ہے اور جسم کا وہ حصہ جس پر نگا ہ ڈالتے ہوئے آنکھیں ملنے سے رہ ہی نہیں سکتیں یا اس امر کی احتیاط بہت مشکل ہو جاتی ہے وہ چہرہ ہی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔پس غض بصر کے حکم کا منشاء یہ نہیں کہ عورت کے لئے مرد کے جسم کے کسی حصہ پر نظر ڈالنا منع ہے یا مرد عورت کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر نہیں ڈال سکتا بلکہ صرف دونوں کی نگاہوں کو آپس میں ملنے سے بچانا ہے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نور صفحہ۲۹۵)
    اصل پردہ دل کا ہوتا ہے کہنا درست نہیں
    سوال: بعض لوگ کہتے ہیں اصل پردہ دل کا ہوتا ہے ،برقعہ وغیرہ کی کیا ضرورت ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ اگر عمل صرف دل کے خیالات کا ہی کافی ہوتا تو سارے کام دل میں ہی کر لئے جاتے۔۔۔۔مجھ سے یہی ایک شخص نے ایک دفعہ کہا کہ پردہ دل کا ہوتا ہے میں نے اس سے جواباً پوچھا کہ آپ نے اپنی بیوی سے پیار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہاں کیا ہے۔میں نے کہا تم اپنی بیوی سے پیار دل میں ہی کیوں نہیں کرلیتے۔
    (الفضل ۱۵ اپریل ؁ء جلد ۲ نمبر ۸۳)
    زخمیوں کی مرہم پٹی اور پردہ
    قرآن کریم کی جو پردہ کی آیت ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پردہ حالات کے مطابق بدل سکتا ہے۔پس جہاں تک مرہم پٹی اور خدمت کا سوال ہے یہ جائز ہے اور اس سے دریغ کرنا درست نہیں مگر جہاں تک پردہ کا لحاظ رکھا جا سکتا ہے وہ کیوں نہ کیاجائے۔ کیا ہمارا فرض یہی ہونا چاہئے کہ ہر حکم شریعت کا توڑیں۔مسیحی ننوں نے اٹھارہ سو سال سے اسلامی ضروری پردہ پر عمل کیا ہے۔سر اور گردن ڈھانکتی ہیں لاتوں کا لباس مناسب رکھتی ہیں ۔چھاتی پوری طرح ڈھانکتی ہیں ۔کیوں پاکستا ن میں یہ احتیاط نہ ہو اور خدمت قوم کے بہانہ سے لڑکیا ں ڈاکٹروں سے کھیلتی ہنستی پھریں ۔اگر وہ اس سے بچیں اور حکومت اس میں مدد کرے جو اب نہیں کر رہی تو ہر مسلمان عورت کو خدمت قوم کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔
    (الفضل ۱۰ اگست ۱۹۵۷ ؁ئ)
    سوال: عورتیں نقاب باندھتی ہیں آدھے سر پر اور بازار میں چلتے وقت منہ اور ناک ڈھانکنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر ماتھا اور آدھے سر کے بال ننگے رہتے ہیں؟
    جواب: غلطی کرتی ہیں ۔ایسا طریقہ ہونا چاہئے جس میں شریعت پوری ہو جائے اور ان کے سر کے بال اور ماتھا ننگا نہ رہے۔
    (فائل مسائل دینی 32-A DP 474/23.2.56)
    پردہ کی پابندی
    دوسری چیز جس کی طرف میں عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں وہ پردہ کہ پابندی ہے۔پرانے زمانے میں پردہ کو اتنی بھیانک شکل دے دی گئی تھی کہ وہ اچھا خاصا قید خانہ معلوم ہوتا تھا ۔ایسے پردے کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا ۔اسلامی تاریخ سے ایسے پردے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔لیکن اس زمانے میں پردے کی اس بھیانک صورت کا رد عمل اس رنگ میں ظاہر ہو رہا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ آخر پردہ کس چیز کا نام ہے۔عورتیں مردوں سے مصافحے کرتی ہیں ،تقریریں کرتی ہیں ،ان میں آزادانہ پھرتی ہیں اور پھر بھی وہ اسلا می پردہ کی قائل کہلاتی ہیں ۔اگر اسلامی پردہ اسی کو کہتے ہیں تو پھر پتہ نہیں بے پردگی کس کا نام ہے۔آخر قرآن مجید میں جو پردہ کا حکم ہے اس کے کوئی نہ کوئی تو معنی ہوں گے۔اگر اس کے کوئی معنی ہیں تو بہرحال اسے مسلمانوں نے ہی پورا کرنا ہے۔
    بے پردگی کا رجحان:۔ جو لوگ پردہ کے شروع سے پابند نہیں ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ایک دن میں پردے کے پوری طرح پابند ہو جائیں۔مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اسلام کے نام پر نئی نئی رسمیں جاری کی جائیں اور سخت قسم کے پردے کے ردعمل کے طور پر عورتیں پردہ سے بالکل ہی آزاد ہو جائیں۔جو لوگ ایک عرصہ سے پردہ چھوڑ چکے ہیں انہیں بے شک آہستہ آہستہ پردے کی حکمت کا قائل کرو اور بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے مسائل میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی ہیں ۔لیکن جو لوگ محض اپنی دنیوی ترقی اور اعلیٰ طبقہ میں اپنے جھوٹے وقار کو قائم کرنے کے خیال سے اپنے گھروں میں بے پردگی کو رواج دے رہے ہیں وہ یقیناً اپنے عمل سے کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    یورپ والے دو ہی اعتراض پیش کیا کرتے ہیں ایک یہ کہ پردے میں صحت برقرار نہیں رہ سکتی اور دوسرا یہ کہ تعلیم حاصل نہیں کی جاسکتی۔ہم نے اپنے ہاں عملاً ان دونوں اعتراضوں کو غلط ہونا ثابت کر دیا ہے۔ہمارے ہاں پردے کی پابندی کے باوجود اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم عورتیں حاصل کر رہی ہیں اور ان کی صحت پر بھی پردے نے کوئی برا اثر نہیں ڈالا۔
    (۔۔۔۔۔۔۔۔)
    پردہ کی پابندی
    میں اس خطبہ کے ذریعہ ان لوگوں کو جو اپنی بیویوں کو بے پردہ رکھتے ہیں تنبیہ کرتا ہوں اور انہیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ باقی احمدی بھی مجرم ہیں کیونکہ محض اس لئے کہ فلاں صاحب بڑے مالدار ہیںتم ان کے ہاں جاتے ہو ،ان سے مل کر کھانا کھاتے ہو اور ان سے دوستی اور محبت کے تعلقات رکھتے ہو۔ تمہارا تو فرض ہے کہ ایسے آدمی کو سلام بھی نہ کرو ۔تب بے شک سمجھا جائے گا کہ تم میں عزت پائی جاتی ہے اور تم محمد رسول اللہﷺ کے احکام کی اطاعت کروانا چاہتے ہو۔لیکن اگر تم ایسے شخص سے مصافحہ کرتے ہو ،اس کو سلام کرتے ہو اور اس سے تعلقا ت رکھتے ہوتو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ ہیں۔
    پس آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو بے پردہ باہر لے جاتے ہیں اور مکسڈ پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اگر وہ احمدی ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو،نہ ان سے مصافحہ کرو۔نہ انہیں سلام کرو۔نہ ان کی دعوتوں میں جاؤ اور نہ ان کو کبھی دعوت میں بلاؤ۔تاکہ انہیں محسوس ہو کہ ان کی قوم انہیں اس فعل کی وجہ سے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔اگر تم ایسے لوگوں سے تعلقات رکھتے ہو جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور پھر رسول کریم ﷺکے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو صرف وہی نہیں بلکہ تم بھی پکڑے جاؤ گے۔۔۔۔۔۔پس آئندہ ایسے احمدیوں سے نہ تم نے مصافحہ کرنا ہے ،نہ انہیں سلام کرنا ہے ،نہ ان کی دعوتوں میں جانا ہے،نہ ان کو کبھی دعوت میں بلانا ہے ،نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا ہے اور نہ ان کو جماعت میں کوئی عہدہ دینا ہے۔بلکہ اگر ہو سکے تو ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا ۔اسی طرح ہماری جماعت کی عورتوں کو چاہئے کہ ان کی دعوتوں سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔
    (الفضل ۲۷ جون ۱۹۵۸ ؁ئ)
    برقعہ کی بناوٹ
    میں اس برقعہ کو پسند کرتا ہوں جو نئی طرز کا نکلا ہے۔اس میں عورت زیادہ آزادی سے چل پھر سکتی ہے۔مگر بعض نے اس کا بھی غلط استعمال شروع کردیا ہے۔انہوں نے اسے کوٹ بنا لیا ہے جس سے جسم کی بناوٹ نظر آتی ہے۔ اس طرح یہ ناجائز ہو گیا۔شریعت نے جلباب کا حکم دیاہے کیوں کرتہ ہی نہیں رہنے دیا ۔اس لئے کہ جسم کی بناوٹ ظاہر نہ ہو ۔ڈھیلا ڈھالا کپڑا اوڑھا جائے ۔اب اس غلط استعمال سے اس برقعہ کو برا نہیں کہا جائے گا ۔مگر جو نقص ہوا ہے اسے دور کرنا چاہئے۔
    (الفضل ۱۱ دسمبر ۱۹۲۸ ؁ء جلد ۱۶ نمبر ۴۷)
    میں نے سامنے کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ تین چار مستورات جمعہ کے لئے برقعہ پہنے آرہی ہیں ۔لیکن ان کا منہ کا پردہ ایسے رنگ میں تھا جس کو پورا پردہ نہیں کہا جا سکتا ۔بڑی مشکل یہ ہے کہ اس زمانے میں پردہ کے خلاف اتنا رواج ہو چکا ہے کہ دوسری عورتیں تو الگ رہیں جو مسائل جاننے والی عورتیں ہیں ان کو سمجھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اور پھر حفظان صحت پر آج کل اتنا زور دیا جاتا ہے کہ اس کی آڑ میں پردہ میں بہت کچھ تخفیف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعض عورتیں سانس لینے کے لئے اپنا نقاب اس طرح رکھتی ہیں کہ جس سے پورا پردہ نہیں ہو سکتا ۔اور جب انہیں کہو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا اصل منشاء تو گھونگھٹ ہے۔حالانکہ نقاب کی گھونگھٹ اور چادر کی گھونگھٹ میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔چادر کی گھونگھٹ منہ سے ایک بالشت کے فاصلہ پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا شیڈ چہرہ پر پڑتا ہے اور وہ دوسرے کو نظر نہیںآسکتا لیکن نقاب کی گھونگھٹ اوّل تو باریک کپڑے کی ہوتی ہے اور پھر وہ منہ کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے چہرہ پر اس کا شیڈ نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔
    اسلام میں جو اصل پردہ تھا وہ گھونگھٹ تھا اور وہی اصل پردہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ گھونگھٹ کا پردہ بہ نسبت اس پردہ کے جو آج کل ہمارے ملک میں رائج ہے زیادہ محفوظ تھا ۔چنانچہ خلیفہ اوّل ہمیں گھونگھٹ نکال کردکھایا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ پردہ کا اصل طریق یہ ہے ۔اگر اس طرح گھونگھٹ نکالا جائے تو لازماً موٹے کپڑے کا چہرے پر سایہ پڑے گا اور صحیح معنوں میں پردہ قائم رہ سکے گا ۔لیکن موجودہ نقاب کا طریق ایسا ہے جس میں پورا پر دہ نہیں ہو سکتا ۔بہر حال ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کرے اور اگر کہیں اس کے عمل میں کمزوری پائی جاتی ہو تواس کو دور کرے۔
    پھر اس سے بھی زیادہ نقص میں نے یہ دیکھا کہ ایک خاتون نے ایسا برقعہ پہنا ہو اتھا جس کی آستین نہیں تھی اور اس کا بازو ننگا تھا ۔حالانکہ یہ تو ایسی ہی بات تھی جیسے ران ننگی کر دی جائے یا لاتیں ننگی کر دی جائیں ۔چونکہ عورتوں میں اب ایرانی طرز کے برقعہ کا رواج ہو رہا ہے اور اس کی آستینیں نہیں ہوتیں اس لئے بعض عورتیں وہ برقعہ پہن کر آ جاتی ہیں ۔حالانکہ ہاتھ کے جوڑ کے اوپر کا سارا کا سارا حصہ پردہ میں شامل ہے۔بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے بیان سے تو پتہ چلتا ہے کہ ہاتھ اور پیر بھی پردہ میں شامل ہیں۔
    (الفضل ۵ اپریل ۱۹۶۰ ؁ئ)
    شعار اسلامی ( داڑھی ) کے متعلق
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد
    حضور نے ایک موقع پر فرمایا:۔
    میں دیکھتا ہوں کہ نوجوانوں کے چہروں سے داڑھیاں غا ئب ہوتی جارہی ہیں ۔وہ دن بدن ان کو چھوٹا کر تے جا رہے ہیں ۔حالانکہ ہم نے خشخشی کی اجازت تو ان لوگوں کو دی تھی جو کہ استرا پھیرتے تھے ۔انہیں کہا گیا تھا کہ تم استرا نہ پھیرو اور چھوٹی چھوٹی خشخشی داڑھی ہی رکھ لو ۔لیکن یہ جواز جو استرا والوں کے لئے تھا اس پر دوسرے لوگوں نے بھی عمل کرنا شروع کردیا۔اور جن کی بڑی داڑھیاں تھیں ان میں سے بھی بعض نے اس جواز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض نے خشخشی کر لیں۔حالانکہ جواز تو کمزوروں کے لئے ہوتا ہے۔ہمارا مطلب تو یہ تھا کہ جب استرا پھیرنے والے خشخشی داڑھیاں رکھ لیں گے تو پھرہم ان کو کہیں گے کہ اب اور ذرا بڑھاؤ اور آہستہ آہستہ وہ بڑی داڑھی رکھنے کے عادی ہو جائیں گے۔لیکن اس جواز کا الٹا مطلب لیتے ہوئے بعض لوگوں نے بجائے داڑھیاں بڑھانے کے خشخشی کر لیں ۔۔۔۔۔۔پس میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں داڑھی کے متعلق خوب پروپیگنڈا کریں ۔خدام جوانوں کو سمجھائیں اور انصار اللہ بڑوں کو سمجھائیں اور یہ کوشش کی جائے کہ جو شخص داڑھی منڈواتا ہے وہ خشخشی داڑھی رکھے اور جو خشخشی رکھتا ہے وہ ایک انچ یا آدھا انچ بڑھائے اور پھر ترقی کرتے کرتے سب کی داڑھی حقیقی داڑھی ہو جائے ۔اسلام کے تمام احکام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔کوئی ایک حکم بھی بغیر مصلحت کے نہیں ۔داڑھی رکھنے میں بھی کئی حکمتیں اور کئی مصالح ہیں ۔یہ جسمانی صحت کے لئے مفید ہے اور جماعتی تنظیم کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے ۔۔۔۔۔اسی طرح اگر ہماری جماعت میں بھی اسلامی شعار کو قائم رکھنے کا احساس ہو جائے اور وہ سختی سے اس پر پابند ہو جائیں تو یقینا اس کا بھی لوگوں کے دلوںمیں رعب قائم ہو جائے گا۔اور لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ یہ لوگ اپنی بات کے پکے ہیں اور کسی کی رائے کی پرواہ نہیں کرتے۔جب یہ لوگ داڑھی کے معاملہ میں اس قدر سختی سے پابند ہیں تو باقی اسلامی احکام کے وہ کیوں پابند نہ ہو ں گے۔اگر ہم نے ان کی دینی بات میں دخل اندازی کی تو یہ لوگ مر جائیں گے مگر اپنی بات کو پورا کر کے چھوڑیں گے۔اس کے مقا بل پر اگر لوگ یہ دیکھیں کہ تم لوگوں کی باتوں سے ڈر کر اور لوگوں کی ہنسی سے ڈر کر داڑھی منڈوا لیتے ہو یا چھوٹی کر لیتے ہو تو وہ لوگ خیال کریں گے کہ جو لوگ دنیا کی با توں سے ڈر جاتے ہیں وہ گورنمنٹ کے قانون اور پولیس کے ڈنڈے سے کیوں مرعوب نہ ہو ں گے۔پس تمہار ا داڑھیوں کے معاملہ میں کمزوری دکھانا جماعت کے رعب اور اثر کو بڑھانے کا موجب نہیں بلکہ رعب اور اثر کو گھٹانے کا موجب ہے۔۔۔۔۔۔اگر تم داڑھیاں رکھو گے تو دنیا میں اسلام کا رعب قائم ہونا شروع ہو جائے گا اور لوگ خیال کریں گے کہ اس دہریت کی زندگی میں ،اس فلسفیانہ فضا میں ،اس عیاشی اور نزاکت کی صدی میں جبکہ دنیا داڑھیوں سے ہنسی اور ٹھٹھا کر رہی ہے یہ لوگ اسلام کے اس حکم پر عمل کرتے ہیں اور کسی کی رائے کا خیال نہیں کرتے۔واقعی ان کے دلوں میں اسلام۔۔۔۔۔۔۔۔
    (۔۔۔۔۔۔۔)
    ہر احمدی کو داڑھی رکھنی چاہئے
    بعض باتیں بلا واسطہ فائدہ دیتی ہیں ۔انہی میں سے ایک داڑھی رکھنا ہے ۔ایک صاحب میرے پاس آئے اور آکر کہنے لگے کیا داڑھی رکھنے سے خدا ملتا ہے ۔میں نے کہا داڑھی رکھنے سے نہیں مگر محمدﷺ کی اطاعت کرنے سے خدا ملتا ہے ۔آپ نے چونکہ داڑھی رکھی اس لئے ہمیں بھی آپ کی تقلید میں داڑھی رکھنی چاہئے۔
    ہم نے حکم دیا تھا کہ ایسے لوگ سلسلہ کے کاموں میں افسرنہ بنائے جائیں جو داڑھی منڈائیںاور فیصلہ کیا تھا کہ امپیریل سروس وغیرہ میں جہاں داڑھی منڈانے کی مجبوری ہو وہاں بھی ہم اجازت نہیں دیں گے۔کیونکہ ہم شریعت بدل نہیں سکتے ۔ہاں اتنا کر یں گے کہ ان کو عہدہ سے محروم نہ کریں گے۔مگر اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا جارہا اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مخلص نوجوانوں نے بھی داڑھی منڈانی شروع کر دی ہے۔
    داڑھی رکھنا ایک ضروری امر ہے اور ہر احمدی کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔
    (الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۳۳ ؁ء جلد ۲۰ نمبر ۸۵ صفحہ ۳)
    مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی ہے کہ لوگ داڑھی کیوں منڈواتے ہیں ۔میں بھی داڑھی رکھتا ہوں ۔داڑھی منڈوانے کی کوئی وجہ مجھے نظر نہیں آتی ۔میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کوئی شخص سر جھکائے چلا آتا ہو اور دریافت کرنے پر اس نے یہ کہا ہو کہ داڑھی کے بوجھ سے میر ا سر جھکا جاتا ہے یا کسی شخص کو میںنے نہیں دیکھا کہ وہ بے تاب ہو رہا ہو اور گھبرایا ہو ا جارہا ہو اور دریافت کرنے پر اس نے یہ بتلایا ہو کہ سخت گرمی لگ رہی ہے ،داڑھی منڈوانے جا رہا ہوں ۔اسی طرح میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی ضرورت کی بناء پر لوگ داڑھی منڈاتے ہوں۔دوسروںکی دیکھا دیکھی داڑھی منڈواتے ہیں ۔محض اس وجہ سے کہ دوسرے ان پر ہنستے ہیں یا یہ کہ دوسرے بھی سب کے سب نہیں رکھتے۔جب داڑھی منڈانے کی کوئی وجہ نہیں تو پھر ضرورت کیا ہے کہ داڑھی منڈوائی جائے۔داڑھی اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے ۔اب ایک غیر جو دیکھے گا کہ ایک شخص مسلمان کہلاتا ہے پھر داڑھی منڈواتا ہے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ کہلاتا تو مسلمان ہے لیکن اسلامی شعار کی اس کے دل میں کچھ حرمت اور وقعت نہیں۔اس لئے وہ داڑھی منڈوا کراسلام کی ہتک کرتا ہے۔جب داڑھی کا کوئی بوجھ نہیں نہ یہ کہ اس کی وجہ سے سخت گرمی محسوس ہوتی ہے اور ادھر داڑھی رکھنا اسلام کے شعار میں سے ہے اور آنحضرت ﷺنے بھی اس کا مطالبہ کیا ہے اور یہ حکم ہے بھی ایسا جس کی تعمیل کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے ۔سر کے اگلے حصہ پر رکھے ہوئے بڑے بال تو ٹوپی یا پگڑی کے نیچے انسان چھپا بھی سکتا ہے لیکن ٹھوڑی تو چھپائی نہیں جا سکتی۔پھر آنحضرت ﷺکی فرمانبرداری اور اسلامی شعار کی حرمت کے لئے اگر داڑھی رکھ لی جائے تو کونسی بڑی بات ہے۔
    (الفضل ۲۳ جون ۱۹۲۵ ؁ء جلد ۱۲ نمبر ۱۴۱ صفحہ ۶۔الازھار لذوات الخمار صفحہ۔۔۔۔۔)
    داڑھی کے متعلق اسلامی حکم
    سوال: داڑھی کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے؟
    جواب: حضور نے فرمایا:۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ داڑھی رکھو ۔پس ہمیں بھی اسی بات پر زور دینا چاہئے کہ داڑھی ہو اور ایسی ہو کہ دیکھنے والے کہیں کہ یہ داڑھی ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ وہ کتنی ہو اس کے متعلق کوئی پابندی نہیں ۔بعض لوگ تزئین کراتے ہیں بعض نہیں کراتے ۔مگر صحیح طریق یہی ہے کہ داڑھی کی تزئین کرائی جائے کیو نکہ رسول کریم ﷺ کے متعلق ثابت ہے کہ آپ تزئین کرا یا کرتے تھے۔
    اگر ایک شخص کی داڑھی ایسی ہے جو زیادہ لمبی ہونے کی صورت میں بد زیب معلوم ہوتی ہے مثلاً صرف ٹھوڑی پر ہی ہے تو ایسی صورت میں ترشوا کر چھوٹی کی جاسکتی ہے۔لیکن بعض لوگ جو زیرو مشین استعمال کرتے ہیں ان کی داڑھی واقعی میں داڑھی کہلانے کی مستحق نہیں ۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے داڑھی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ایسے لوگ مخنث قسم کے ہوتے ہیں ۔یعنی داڑھی رکھنے والوں اور داڑھی منڈانے والوں دونوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔باقی چھوٹی یا بڑی داڑھی رکھنا انسان کی اپنی طبیعت اور حالات پر مبنی ہے ۔وہ جیسی چاہے رکھ لے۔
    (الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۰ ؁ئ)
    رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ تو ثابت ہے کہ آپ نے داڑھی رکھی اور یہ بھی ثابت ہے کہ دوسروں سے کہا رکھّو۔یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اتنی لمبی داڑھی رکھو۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض صحابہ کی داڑھی چھوٹی تھی۔چنانچہ حضرت علی ؓ کی داڑھی چھوٹی تھی اور مؤرخوں کی رائے ہے کہ عام طور پر صحابہ کی چھوٹی داڑھی تھی۔
    مظہر جان جاناں کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی داڑھی مختصر تھی۔رسول کریم ﷺ کے متعلق تو یاد نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق معلوم ہے کہ آپ تزئین کراتے اور داڑھی کے بال بھی ترشواتے تھے۔میں بھی ہمیشہ اسی طرح کراتا ہوں ۔اس وقت میری جتنی داڑھی ہے اگر میں اسے بڑھنے دوں تو اور زیادہ لمبی ہو جائے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہفتہ وار داڑھی کے بال کتراتے جو کئی آدمیوں نے بطور تبرک رکھے ہوئے ہیں ۔میرے پاس بھی ایک شیشی میں تھے جو کسی نے تبرک سمجھ کر اٹھا لی۔
    ایک دفعہ میں نے طالب علموں کو کہا داڑھی نہ منڈوایا کرو ۔تو انہوں نے استرے سے منڈوانی چھوڑ دی لیکن استرے سے بھی نیچے کسی طرح قینچی پہنچا کر منڈوادی جاتی اورجب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا منڈائی نہیں کترائی ہے۔
    بات یہ ہے داڑھی ہو نی چاہئے آگے خواہ وہ چاول کے دانہ کے برابر ہوچاہے لمبی ہو ۔پھر چاہے کوئی فیشن ہو ۔جب صحابہ میں ایسے تھے جن کی چھوٹی داڑھی تھی توکسی کی لمبی داڑھی دیکھ کر کہنا کہ اتنی ہونی چاہئے یہ شریعت سے معلوم نہیں ہوتا ۔ہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی لمبی داڑھی تھی ۔اگر کوئی لمبی داڑھی رکھتا ہے تو اس بارہ میں بھی آپ سے محبت کا ثبوت دیتا ہے ۔پس چاہئے کہ داڑھی ایک جو کے برابر ہو یا دو جو کے ،چاہے بالشت کے برابر ہو یہ اپنے اپنے ذوق پر منحصر ہے ۔کسی کو اس میں دخل دینے کا اختیار نہیں ۔اگر کوئی دخل دیتا ہے تو وہ شریعت میں دخل انداز ہوتا ہے۔
    (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ ؁ء صفحہ ۱۶۷)
    اب بہت سے لوگ شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے مبلغوں کو داڑھیا ں چھوٹی ہوتی ہیں ۔میں نے بھی یہ نقص دیکھا ہے ۔اس میں شبہ نہیں کہ حضرت علیؓ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی داڑھی چھوٹی تھی ۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لمبی داڑھی رکھا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کی بھی لمبی داڑھی تھی ۔اور میری داڑھی بھی لمبی ہے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کی بھی بڑی داڑھی تھی،حضرت ابو بکر ؓ ،حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کی بھی بڑی داڑھی تھی۔یہ مان لیا کہ حضرت علی ؓ کی چھوٹی داڑھی تھی مگر ممکن ہے کہ اس کی وجہ ان کی کوئی بیماری ہو یا کوئی اور وجہ ۔اور اگر یہ بات نہ بھی ہو تب بھی کیوں رسول کریم ﷺ کی نقل نہ کی جائے اور حضرت علیؓ کی نقل کی جائے ۔بہر حال داڑھیوں میں نقص ہے۔
    (الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۵ ؁ئ)
    رسول کریم ﷺ کے زمانے میں داڑھی منڈانے کا رواج تھا مگر آپ نے مسلمانوں کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا ۔اس کے آپ نے کوئی ایسے فوائد بیان نہیں کیے جوبظاہر نظر آتے ہوں بلکہ صرف یہ فرما یا کہ دوسرے منڈاتے ہیں اس لئے تم رکھو۔اس کے علاوہ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں بیان فرمائی کہ ہم کہیںاس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حکم کی پابندی اس زمانہ میں ضروری نہیں ۔ لیکن اس کا ظاہری فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایک مسلمان دوسرے کو دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے۔گویا یہ بطور نشان اور علامت کے ہے ۔پھر اس کے علاوہ یہ فائدہ بھی ہے کہ ظاہری مشارکت قلبی اتحاد کی تقویت کا موجب ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ایک دفعہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ کیا داڑھی میں اسلام ہے ؟ میں نے کہا ہر گز نہیں مگر محمدرسول اللہ ﷺکی اطاعت میں یقینا اسلام ہے۔
    جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کر رہاہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات یہ کہے گا اسے مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کو مدنظر رکھتے ہوئے سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکم یا نیم حکم سے داڑھی رکھنی چاہے ۔ہاں اس صورت میں داڑھی نہ رکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے کیونکہ سرکاری ملازمتوں کے لحاظ سے بھی ہمیں جماعت کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے ۔مگر یہ ایسی ہی صورت ہے جیسے بیماری کی حالت میں شراب کا استعمال جائز ہے ۔اس لئے اس حالت والے کو چھوڑ کر باقی سب دوستوں کو داڑھی رکھنی چاہئے اور اپنے بچوں کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کرنے والے ہوں اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کا خرچ بند کردیا جائے ۔اسے کوئی صحیح الدماغ جبر نہیں کہہ سکتا۔
    (الفضل ۹ اکتوبر ۱۹۳۰ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۳۴ صفحہ ۶ ۔خطبہ جمعہ)
    سوال: انگریزی بال رکھنے چاہئیں یا نہیں ؟ میں نے کٹوا دیے ہیں لیکن دل سخت بے چین ہے؟
    جواب: ایسے بال رکھنا نا پسندیدہ ہیں۔ان باتوں میں کیا رکھا ہے کہ ان کے کاٹنے سے آپ کا دل بے چین ہو گیا۔
    (الفضل ۶ جولائی ۱۹۲۸ ؁ء جلد ۱۶ نمبر ۲)
    حافظ نور احمد صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا کہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے تذکرۃ المہدی میں سر منڈانے والے کو منافق کی نشانی بتلایا گیا ہے۔میں پہلے سر پر بال رکھا کرتا تھا مگر اب مونڈوا دیا ہے ۔آیا پھر مثل سابق بال رکھ لوں یا منڈوا لیا کروں؟
    جواب: فرمایا:۔ وہاں سر منڈانے سے مراد استرے سے منڈوانا ہے۔بال کتروا لینا نہیں۔
    (الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۶۵)
    ذبیحہ اہل کتاب
    ایسا جانور جو گردن پر تلوار مار کر مارا گیا ہو یا جو دم گھونٹ کر مارا گیا ہو کھانا جائز نہیں۔قرآن کریم منع کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب ولایت جانے والوں نے پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔پس اسے استعمال نہ کریں۔
    ہاں اگریہودی یا عیسائی گلے کی طرف سے ذبح کریں تو وہ بہر حال جائز ہے خواہ تکبیر سے کریں یا نہ کریں۔آپ بسم اللہ کہہ کر اسے کھا لیں۔یہودی ذبح کرنے میں نہایت محتاط ہیں ان کے گوشت کو بے شک کھائیں لیکن مسیحی آج کل جھٹکا کر کے یا دم کھینچ کر مارتے ہیں ۔اس لئے بغیرتسلی ان کا گوشت نہ کھائیں ۔ان کا پکا ہوا کھانا جائز ہے۔مچھلی کا گوشت جائز ہے۔کسی مسیحی کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پڑے تب بھی جائز ہے۔انسان ناپاک نہیں ہاں ہر ایک ناپاک چیز سے ناپاک ہو جاتا ہے۔عورتوں کو ہاتھ لگانا (مصافحہ کرنا) منع ہے۔احسن طریق سے پہلے لوگوں کو بتا دیں۔
    (الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۳۶)
    سوال: ایک فوجی نوجوان نے عرض کیا کہ ڈبوں میں جو گوشت آتا ہے اس کے کھانے کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ ولایت سے ڈبوں میں آنے والا گوشت تو جھٹکہ کا گوشت ہوتا ہے وہ نہیں کھانا چاہئے ۔لیکن ہندوستان میں جو گوشت خشک کر کے ڈبوں میں بند کیا جاتا ہے اس کے متعلق جہاں تک ہمیں معلوم ہے ذبیحہ کا گوشت ہوتا ہے وہ کھا لینا چاہئے۔
    (الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۶۰ ؁ء )
    ذبیحہ اہل کتاب
    ذبح کا اصل اسلامی طریق یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چھری یا کسی اور تیز دھار آلہ سے جانور کی گردن کی شاہ رگ اور نرخرہ کاٹ دے اور اس سے اچھی طرح خون بہہ جائے۔یا اونٹ کی گردن میں نیزہ مار کرنحر کرے۔پس اصل حکم یہ ہے کہ مسلمان عام حالت میں ایسے ہی گوشت کو استعمال کرے اور اسی طریق کو رواج دینے کی پوری پوری کوشش کرے۔اس کے علاوہ حلال ذبیحہ کی بعض اور بھی جائز صورتیں ہیں ۔مثلاً ذبح کرتے وقت مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے یا جانور قابو میں کسی طرح نہ آئے اور کوئی مسلمان اللہ کا نام لے کر نیزہ ،تیر یا بندوق جیسے ہتھیار سے اسے مارے۔
    یا کوئی اہل کتاب اللہ تعالیٰ کا نام لے چھری یا کسی اور تیز دھار آلہ سے جانور کی شاہ رگ اور نرخرہ کاٹ دے اور اس سے اچھی طرح خون بہہ جائے ۔یا اونٹ کی گردن میں نیز ہ مار کر نحر کرے یا بے قابو جانور کو اللہ کا نام لے کر نیزہ ،تیر یا بندوق جیسے ہتھیا ر سے مارے۔
    اسی طرح اگر کوئی اہل کتاب ذبح کرتے وقت نہ اللہ تعالیٰ کا نام لے اور نہ غیر اللہ کا اور ذبح معروف طریق کے مطابق کرے تو آیت کریمہ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ( مائدہ رکوع :۱) کے ماتحت ایسے گوشت کو بھی ضرورت پیش آنے پر بسم اللہ پڑھ کر استعمال کر نا جائز ہے۔ فرمایا:۔ درست ہے۔
    (الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۶۴ ؁ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱۵)
    مسئلہ ذبیحہ
    اہل کتاب میں عرفاً یہودی اور عیسائی دونوں شامل ہیں ۔لیکن جو عیسائی ذبیحہ کے بارہ میں تورات کے احکام پر پوری طرح عمل نہیں کرتے ان کے ذبیحہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے۔
    لفظ’’ معروف ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لینے کے سوا باقی طریق ذبح اسلامی ہو ۔
    درست ہے۔
    (الفضل ۱۱ ستمبر ۱۹۶۴ ؁ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱۷)
    مچھلی کو کیوں ذبح نہیں کیا جاتا
    فرمایا:۔ اسلام نے ان جانداروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے جن میں دوران خون ہوتا ہے اور ہوا میں سانس لیتے ہیں اور ذبیحہ میں یہ حکمت ہے کہ خون جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور جس میں زہر ہوتا ہے ذبح کرنے سے نکل جاتا ہے۔لیکن جھٹکا کرنے کی صورت میں خون جسم میں ہی رہتا ہے ۔ورنہ اسلام کو اس سے کیا کہ جانور کو گلے سے ذبح کیا جائے یا گردن کاٹی جائے ۔گردن میں ایسی رگیں ہوتی ہیں کہ ان پر چوٹ پڑنے سے ہی بے ہوشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے اور دوران خون رک جاتاہے۔مچھلی میں چونکہ دوران خون نہیں ہوتا اس لئے اسے ذبح کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
    (الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۶۰ ؁ئ)
    فَکُلُو مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّباً ۔۔۔۔الآیۃ
    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ ۔۔۔۔الآیۃ
    یاد رہے کہ مال کی حلت ذریعہ کسب کے صحیح ہونے پر مبنی ہوتی ہے مگر خوردنی اشیاء کے لئے اس کے علاوہ ایک اور شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ اس قسم میں شامل نہ ہوں جسے حرام کیا گیا ہے۔پس اس سوال کو کہ کونسی اشیاء حلال ہیں او ر کونسی حرام اس آیت میں حل کیا گیا ہے۔
    الفاظ قرآنیہ بتاتے ہیںکہ اشیاء کی حلت و حرمت میں اصل حلت ہے اور حرمت ایک قید کے طور پر ہے ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہر شے حرام ہے سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ نے جائز کر دیا ہو ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک ہے اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی چیز کا استعمال جائز نہیں ہوتا۔لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ ہم نے ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی ہے اور اس کے لئے مسخر کر دی ہے۔پس اس عام حکم سے ہر چیز انسان کے لئے جائز ہو گئی سوائے اس کے جس سے نصّاً یا اشارتاً روک دیا گیا ہو ۔
    اس آیت میں جو لحم الخنزیر فرمایا اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ لحم میں چربی بھی شامل ہے یا نہیں۔جہاں تک لغت کا سوال ہے شحم یعنی چربی کو لحم سے الگ قسم کا خیال کیا جاتا ہے۔لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ لحم کے نام میں شحم شامل ہے۔گو مفسرین کی دلیل ذوقی ہے اور لغت والوں کی بات اس مسئلہ میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔مگر اس کے باوجود میرے نزدیک سؤر کی شحم یعنی چربی جائز نہیں ۔اور اس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے اور سؤر کی حرمت اور مردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اور ایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔
    پس دونوں کا حکم ایک قسم کا سمجھا جائے گا ۔لیکن سؤر کی جلد کا استعمال جائز ہوگا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔احادیث میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امّ سلمیٰ رضی اللہ عنھا کی ایک بکری مر گئی ۔چند آدمی اس کو اٹھا کر باہر لے جارہے تھے ۔نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اس کا چمڑہ کیوں نہیں اتار لیتے۔انہوں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ یہ تو میتۃ ہے ۔آپ نے فرمایا کیا تم نے اسے کھانا ہے ۔پس معلوم ہو ا کہ جس کا گوشت حرام ہو اس کے چمڑے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔ہاں سؤر کے بالوں کے بنے ہوئے برش کو مکروہ کہا جائے گا ۔کیونکہ ان کو منہ میں ڈالا جائے گا جو کھانے کا دروازہ ہے۔
    اس آیت کے متعلق ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں چار چیزوں کی حرمت بیان فرمائی گئی ہے کہ یہی چار چیزیں حرام ہیں اور ان کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں ۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں جو حصر پایا جاتا ہے یہ حصر اضافی ہے یعنی کفار کے حرام کو مدنظر رکھ کر اضافی طور پر ان چیزوں کو حرام کیا گیا۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ النحل صفحہ۲۶۰)
    یٰاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْ ا مِنَ الطَّیِّبٰتِ۔۔۔۔الآیۃ
    حقیقت یہ ہے کہ انسان کی خوراک کا اس کے اخلاق پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے۔اورجس قسم کے اثرات کسی غذا میں پائے جائیں ویسے ہی جسمانی یا اخلاقی تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔چونکہ دنیا میں انسان کو اپنے تمام طبعی جذبات ابھارنے اور ان کو ترقی دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ان کا برمحل استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکے۔اس لئے قرآن کریم نے ان غذاؤں کے استعمال سے منع فرما دیا جن کا کوئی جسمانی ،اخلاقی یا روحانی ضرر ظاہر ہو۔مثلا ً اللہ تعالیٰ نے مردار ، خون اور سؤر کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔اسی طرح ہر ایسی چیز کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔اب ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنے اندر بہت بڑے نقصانات نہ رکھتی ہو ۔
    مردار کو ہی لے لو ۔اگر کوئی جانور مر جائے تو اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو وہ بالکل بوڑھا ہو کر مرا ہے یا کسی زہریلے جانور کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے یا کسی بیمار ی اور زہر کے نتیجہ میں مرا ہے اور یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو اس کے گوشت کو زہریلا اور ناقابل استعمال بنا دیتی ہیں اور اگر وہ کسی سخت صدمہ سے مرا ہو مثلاً کنویں میں گر کر یا جانوروں کی باہمی لڑائی میں تب بھی اس کے خون میں زہر پیدا ہو جاتا ہے جو اس کے گوشت کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے اور خون تو اپنی ذات میںایسی چیز ہے جو کئی قسم کی زہریں اپنے اندر رکھتا ہے اور طبی لحاظ سے اس کا استعمال صحت کو تباہ کرنے والا ہے۔یہی حال سؤر کے گوشت کا ہے ۔اس کے استعمال سے بھی کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور پھر سؤر میں بعض اخلاقی عیوب بھی پائے جاتے ہیں جو اس کا گوشت استعمال کرنے والوں میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔اور جو چیز غیر اللہ کے نام پر ذبح کی جائے اس کا استعمال انسان کو بے غیرت بنا دیتا ہے اور اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کا ادب دور کر دیتا ہے ۔اسی طرح پینے کی چیزوں میں سے اسلام نے شراب کو حرام قراردیا ہے کیونکہ وہ انسانی عقل پر پردہ ڈالتی اور اس کی ذہانت اور علم کو نقصان پہنچاتی ہے۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے جس قدر چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس کی وجہ ان کی جسمانی یا اخلاقی یا روحانی مضرات ہیں اور صرف ایسی ہی اشیاء کا کھانا جائز قرار دیا ہے جو انسان کی جسمانی ،اخلاقی اور روحانی ترقی کا موجب ہوں ۔اور پھر حلال اشیاء میں سے بھی طیبات کے استعمال پر زیادہ زور دیا ہے یعنی ایسی اشیاء پر جو انسان کی صحت اور اس کی طبیعت کے مطابق ہوں اور جن کے استعمال سے اسے کوئی ضرر لاحق ہونے کا اندیشہ نہ ہو ۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام نے اخلاق پر خورا ک کے اثر کو تسلیم کیا ہے اور اس کو خاص قیود اور شرائط سے وابستہ کر کے اخلا ق کے حصول کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔
    (تفسیر کبیر۔تفسیر سورۃ مؤمنون صفحہ ۱۸۰)
    ہندؤوں اور عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانا
    سوال: ایک شخص دس بارہ سال سے مسلمان ہے ،احمدی ہے، مبائع ہے ،چندہ بھی دیتا ہے،نماز بھی پڑھتا ہے ۔وہ چوہڑوں اور عیسائیوں کے ساتھ کھانا کھا لیتا ہے ۔ایسے آدمی سے کیا سلوک ہو؟
    جواب: اگرحرام چیز لے کر کھاتا ہے تو اسے منع کر دو ۔اگر غیر مذاہب والوں سے مثلا ً عیسائیوں سے کوئی حلال چیز لے کر کھائے تو کوئی حرج نہیں۔
    (الفضل ۶ مئی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۳۶)
    ہمارے ہاں پیشہ طبابت کی وجہ سے بعض اوقات ہندؤوںکے ہا ں سے بیاہ شادی کے موقعوں پر مٹھائی وغیرہ کا جو حصہ آجاتا ہے اس کا کھا لینا کیسا ہے اور اگر کوئی دیوی دیوتا کے چڑھاوے میں سے کچھ بھیج دے تو اس کی نسبت کیا ارشاد ہے؟
    فرمایا:۔ شادی بیاہ کا حصہ اگر اکل حلال ہو تو جائز ہے اور چڑھاوے کا کھانا منع ہے۔
    (الفضل ۱۰ نومبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۶۰)
    سوال: ایک عیسائی نے لکھا کہ میں ایک احمدی سے قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہوں اور اس کے ساتھ حقہ بھی پی لیتا ہوں ۔احمدی لوگ اس احمدی کو تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم عیسائی کے ساتھ کیوں حقہ پیتے ہو۔آپ اس کے متعلق کیا فتویٰ دیتے ہیں؟
    جواب: عیسائی کے ساتھ حقہ پینا جائز ہے مگر بہتر ہے کہ احمدی حقہ پینا ہی چھوڑ دے کیونکہ یہ ایک لغو عادت ہے۔
    (الفضل یکم جولائی ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۲۲)
    سوال: کیا میں اپنے بھائی کے ساتھ جس نے مسیح موعود کی بیعت نہیں کی خوردونوش اور بود و باش میں تعلق رکھوں ؟
    جواب: ان کے ساتھ کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ۔اس قدر اختلاط و تعلق نہ ہو جس سے دینی نقصان کا اندیشہ ہو۔
    (الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۱۸)
    ہندؤوں اور عیسائیوں کے گھر کا کھانا کھانا
    چھوت چھات کے متعلق فرمایا کہ یہ مسئلہ تو ہے ہی غلط ۔جو شخص بھی غلیظ ہو گا اس سے پرہیز کیا جائے گا۔اور اگر چوڑھا صاف ستھرا ہو یا اپنے سامنے اس کے ہاتھ دھلوا لئے جائیں تو کھانے پینے کی چیز کو اس کے ہاتھ بھی لگوائے جا سکتے ہیں اور اگر حرام چیز کسی اہل کتاب کے ہاتھ کو لگی ہوئی ہے مثلاً شراب یا سؤر کا گوشت تو اس کے ہاتھ لگنے سے بھی کھا نے کی چیز ناپاک ہو جائے گی۔
    (الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۱۰ نمبر ۹)
    سوال: ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا چوہڑے کے ہاتھ کا کھانا کھانا جائز ہے اگر وہ صاف ستھر ا ہو اور کوئی غلاظت یا مکروہ چیز اس کے جسم اور لباس پر نہ ہو ؟
    جواب: فرمایا:۔ صاف آدمی کے ہاتھ سے چیز کھانا جائز ہے البتہ غیر اہل کتاب کے ہاتھ کی پکی ہوئی کھانی منع ہے۔
    سوال ہو ا کہ ہندو اور سکھ کے ہاتھ کی پکی ہوئی کھانا جائز ہے؟
    جواب: ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا بگڑا ہو ا فرقہ ہے۔
    سوال ہو ا کہ سکھ جھٹکا کر تے ہیں ؟
    فرمایا :۔ وہ نا جائز ہے ۔اہل کتاب کے ساتھ کھانے کے یہ معنی نہیں کہ جو چیزیں شریعت اسلام میں نا جائز ہیں وہ بھی ان کے ساتھ کھانے سے جائز ہو جاتی ہیں۔
    (الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۱۰ نمبر ۵)
    سؤر کی چربی
    آیت میں جو لحم الخنزیر فرمایا اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ لحم میں چربی بھی شامل ہے یا نہیں۔جہاں تک لغت کا سوال ہے شحم یعنی چربی کو لحم سے الگ قسم کا خیال کیا جاتا ہے۔لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ لحم کے نام میں شحم شامل ہے۔گو مفسرین کی دلیل ذوقی ہے اور لغت والوں کی بات اس مسئلہ میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔مگر اس کے باوجود میرے نزدیک سؤر کی شحم یعنی چربی جائز نہیں ۔اور اس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے اور سؤر کی حرمت اور مردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اور ایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔
    پس دونوں کا حکم ایک قسم کا سمجھا جائے گا ۔لیکن سؤر کی جلد کا استعمال جائز ہوگا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔ جس کا گوشت حرام ہو اس کے چمڑے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔ہاں سؤر کے بالوں کے بنے ہوئے برش کو مکروہ کہا جائے گا ۔کیونکہ ان کو منہ میں ڈالا جائے گا جو کھانے کا دروازہ ہے۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ نحل صفحہ ۲۶۰)
    عورت کا ذبیحہ
    سوال: کیا مرد کی غیر موجودگی میں عورت کا ذبیحہ جائز ہے؟
    جواب: بہر حال جائز ہے۔ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ بعض ملّا نوں کو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ منع کرتے ہیں۔
    (الفضل ۷ مارچ ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۹۵)
    سوال: آیا مسلمان شراب کا ٹھیکہ اپنی طرف سے لے کر دوسرے شخص کو دے سکتا ہے ؟
    جواب: حضور نے لکھا یا:۔ مسلمان کے لئے شراب کے کام میں کسی بھی طرح حصہ لینا جائز نہیں۔
    (الفضل۲۱ نومبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۶۳ صفحہ ۱۱)
    سوال: میں نے اپنی دکان کرایہ پر دی ہے جس میں کرایہ دار نے شراب فروشی کا کام شروع کیا ہوا ہے ۔اس کا کرایہ میرے لئے حلال ہے یا حرام؟
    جواب: دکان خالی کرالو۔
    (الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ ؁ء صفحہ ۸)
    سوال: کیا میں بوجہ حاجت اپنے مکان کا نصف حصہ مسکرات کے ٹھیکہ دار کو دے سکتا ہوں؟
    جواب: فرمایا:۔ یہ بھی ایک قسم کی مدد ہے۔اس لئے نہ دیں۔
    (الفضل ۲۵ ما رچ ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۱۸)
    حقہ نوشی
    حقہ بہت بری چیز ہے ۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ چھوڑ دینا چاہئے۔ بعض لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ ہم نے ایسے ملہم دیکھے ہیں جو حقہ پیتے تھے اور ان کو الہام ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ حقہ پینے والے کو خدائی الہام ہوتے ہیں تو کہنا پڑے گا کہ وہ الہام اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں گے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ لہسن کھا کر مسجد میں نہ آؤ۔اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتے نہیں آتے۔پھر رسول کریم ﷺ کے سامنے کچا لہسن رکھا گیا تو آپ نے نہ کھا یا ۔صحابہ نے پوچھا یا رسو ل اللہ ہم نہ کھائیں۔فرمایا تم سے خدا کلام نہیں کرتا تم کھا سکتے ہو۔ان حدیثوں کے ہوتے ہوئے کس طرح مان لیں کہ حقہ پینے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں جبکہ حقہ کی بدبو لہسن سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔اور رسو ل کریم ﷺحقہ سے کم بدبو والی چیز کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ میں اسے استعمال نہیں کرتا کیونکہ میرے پاس فرشتے آتے ہیں ۔پس جب رسول کریم ﷺ اس قدر احتیاط کرتے تھے تو جو شخص الہام کا مدعی ہے یا جسے خواہش ہے کہ اسے الہام ہو اسے بھی حقہ سے بچنا چاہئے۔اور میں اس کی شکل دیکھنا چاہتا ہوں جو یہ کہے کہ مجھے الہام کی خواہش نہیں۔اگر کوئی ایسا شخص نہیں تو پھر کسی کو حقہ بھی نہیں پینا چاہئے۔
    (منہاج الطالبین صفحہ ۱۳۔۔۔۔)
    ۲:۔
    غلاظتوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ بھی فرشتے تعلق نہیں رکھتے ۔اسی ذیل میں حقہ پینے والے بھی آگئے۔حقہ پینے والے کو بھی صحیح الہام ہونا نا ممکن ہے۔
    (ملائکۃ اللہ صفحہ ۱۹۶)
    تمباکو نوشی
    سوال: ایک دوست نے عر ض کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ’’ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ‘‘ (بنی اسرائیل: ۲۸)اور تمباکو نوشی بھی تو فضول خرچی ہی ہے ۔اس کو حرام قرار دینا چاہئے؟
    جواب: حضور نے فرمایا:۔ آپ بے شک حرام قرار دے دیں میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتویٰ سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکروہ اور نا پسندیدہ قرار دیا ہے ۔ اس لئے ہم بھی اس فتویٰ کے خلا ف کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے۔آپ جانتے ہیں کہ چلتی ہوئی ریل کو یکدم روکا نہیں جا سکتا ۔آہستہ آہستہ ہی اسے روکا جا سکتا ہے۔اسی طرح سیگریٹ کی ریل جس میں سے دھوں نکلتا ہے آہستہ آہستہ ہی رکے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سخت مضر صحت چیز ہے اور اعصاب پر اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے لیکن اس وقت ایک رو اس کی تائید میں چل رہی ہے ۔اس لئے لوگ ایک رَو میں بہہ کر اس کا استعمال کرتے جا رہے ہیں ۔جب اس کے خلاف رَو زیادہ طاقتور ہو جائے گی تو لوگ خود بخود اس سے نفرت کرنے لگ جائیں گے۔
    (الفضل ۵ نومبر ۱۹۶۰ ؁ئ)
    ایک سوال کے جواب میں فرمایا:۔ حقہ کبھی کبھی پی سکتے ہیں حرام نہیں مکروہ ہے۔حتی الوسع پرہیز کرنا چاہئے۔صرف testکے لئے پی لیا کریں۔
    (فائل مسائل دینی 32-A 31.10.58)
    چوتھی چیز جو لغویات میں شامل ہے اور جس کا ترک کرنا نہایت ضروری ہے وہ حقہ ہے۔لوگ پہلے تو اس کو اس لئے شروع کرتے ہیں کہ اس سے قبض کھل جاتی ہے مگر پھر ان کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ پاخانہ میں بیٹھ کر تین تین دفعہ چلمیں بھرواتے ہیں تب انہیں اجابت ہوتی ہے۔اور پھر حقہ پینے والوں کو ہمیشہ گلے اور سینہ کی خرابی اور کھانسی کا عارضہ لاحق رہتا ہے کیونکہ جو چیز جسم کو سن کر دیتی ہے وہ آخر میں اعصاب کو ڈھیلا اور کمزور کر دیتی ہے اور کئی امراض کا موجب بن جاتی ہے۔مگر اس زمانے میں حقہ اور سیگریٹ کا اس قدر رواج ہے کہ اکثر نوجوان بلکہ بچے بھی اس میں مبتلا دیکھے جاتے ہیں۔مگر چونکہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے اس لئے رفتہ رفتہ وہ اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر ضرورت محسوس ہونے پر انہیں حقہ یا سیگریٹ یا نسوار وغیرہ نہ ملے تو وہ پاگلوں کی طرح دوڑے پھرتے ہیں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ الفرقان صفحہ ۱۷۶)
    ہمارے ملک میں ایک عام نشہ والی چیز حقہ ہے ۔یوں تو اس کا نشہ اس طرح نہیں ہوتا جس طرح دوسری نشہ والی چیزوں کا ہوتا ہے مگر اس کی وجہ سے اعصاب بے حس ہو جاتے ہیں۔
    میں آپ لوگوں کو نصیحت کر تا ہوں کہ تم میں سے جو لوگ حقہ پینے کی عادت رکھتے ہیں وہ چھوڑ دیں۔ اور اگر خود نہ چھوڑ سکیں تو اپنے بچوں میں اس عادت کو نہ جانے دیں۔ اوّل تو ہم یہی چاہتے ہیں کہ حقہ کی عمر ان کی عمر سے چھوٹی ہو یعنی وہ اپنی زندگی میں ہی حقہ کا خاتمہ کردیں۔لیکن اگر انہیں اتنا ہی عزیز ہے کہ جیتے جی نہیں چھوڑنا چاہتے تو اپنی عمر کے ساتھ ہی اس کا بھی خاتمہ کریں اور اپنے بچوں میں اسے نہ چھوڑیں۔۔۔۔۔
    یہ ایک *** ہے اور ایسی *** ہے کہ روٹی کے لئے نہیں مگر اس کے لئے گندی سے گندی اور ذلیل سے ذلیل مجلس میں جانا پڑتا ہے۔
    (ملائکۃ اللہ صفحہ ۴۳)
    ۲:۔
    ایک صاحب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ حقہ پینا کیسا ہے۔
    حضور نے فرمایا:۔ حقہ پینا نا پسند امر ہے گو حرام نہیں لیکن لغو اور داخل اسراف نہیں اور نقصان دہ شیء ہے۔پس ہر ایک احمدی کو اس سے اجتنا ب لازمی ہے۔
    (الفضل ۱۳ جولائی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۹)
    ناچ گانا
    وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ۔۔۔الآیۃ(الفرقان:۷۳)
    زور کے معنے مجلس الغناء یعنی گانے بجانے کی مجلس کے ہیں ۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ رحمن کے بندے گانے بجانے کی مجلس میں نہیں جاتے تاکہ اس کے زہریلے اثرات سے وہ محفوظ رہیں اور خدا تعالیٰ سے غافل ہو کر ہو ا و ہوس کے پیچھے نہ چل پڑیں۔اسی بناء پر میں نے اپنی جماعت کو ہدایت کی ہے وہ سنیما نہ دیکھا کرے۔کیونکہ اس میں بھی گانا بجانا ہوتا ہے جو انسانی قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے غافل کر دیتا ہے ۔پہلے یہ چیز تھیٹر میں ہوا کرتی تھی لیکن جب سے ٹاکی نکل آئی ہے سنیما میں بھی یہ چیزیں آگئی ہیں بلکہ تھیٹر سے زیادہ وسیع پیمانے پر آئی ہیں کیونکہ تھیٹر کا صرف ایک شو ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے ماہر فن گویّوں کو بلانا بہت بڑے اخراجات کا متقاضی ہوتا تھا جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور پھر ایک شو صرف ایک جگہ ہی دکھایا جا سکتا تھا۔مگر اب ایک شو سے ہزاروں فلمیں تیا ر کر کے سارے ملک میں پھیلا دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے ماہر فن گویّوںاور موسیقاروں کو بلایا جاتا ہے۔اس لئے تھیٹر سے سینما کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ گانا بجانا اور باجے وغیرہ یہ سب شیطان کا ہتھیا ر ہیں جن سے وہ لوگوں کو بہکاتا ہے ۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی اس واضح ہدایت کو بھلا دیا اور وہ اپنی طاقت کے زمانے میں رنگ رلیوں میں مشغول ہو گئے ۔جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ آخر انہیں اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ الفرقان صفحہ ۱۷۳)
    سینما
    موجودہ زمانے میں جو لغویات پائی جاتی ہیں ان میں سے سب سے مقدم سینما ہے جو قومی اخلاق کے لئے ایک نہایت ہی مہلک اور تباہ کن چیز ہے اور تمدنی لحاظ سے بھی ملکی امن کے لئے خطرہ کا موجب ہے۔ میں نے کچھ عرصہ ہوا فرانس کے متعلق پڑھا کہ وہاں کئی گاؤں صرف اس لئے ویران ہو گئے کہ لوگ سینما کے شوق میں گاؤں چھوڑ چھوڑ کر شہروں میں آکر آباد ہو گئے تھے اور گورنمنٹ کو فکر پڑ گئی کہ اس رَو کو کس طرح روکا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سینما اپنی ذات میں برا نہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس کا برے طور پر استعمال کر کے اس زمانے میں اسے انتہائی طور پر نقصان رساں اور تباہ کن بنا دیا گیا ہے۔ ورنہ اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کے نظا روں کی فلم تیار کرے اور وہاں کی برف اور درخت اور چشمے وغیرہ لوگوں کو دکھائے جائیں ۔اس کی چٹانوں اور غاروں اور چوٹیوں کا نظارہ پیش کیا جائے اور اس میں کسی قسم کا باجا یا گانا نہ ہو تو چونکہ یہ چیز علمی ترقی کا موجب ہو گی اس لئے یہ جائز ہو گی ۔اسی طرح اگر کوئی فلم کلّی طور پر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہو اور اس میں گانے بجانے اور تماشہ کا شائبہ تک نہ ہو تو اس کے دیکھنے کی ہم اجازت دے دیں گے۔اسی طرح تربیتی یا جنگی اداروں کی طرف سے جو خالص علمی تصاویر آتی ہیں جن میں جنگلوں دریاؤں کے نظارے یا کارخانوں کے نقشے یا لڑائی کے مختلف مناظر ہوتے ہیں وہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی ترقی ہو تی ہے یا بعض صنعتی یا زرعی تصویریں ہوتی ہیں جن میں کسانوں کوکھیتی باڑی کے طریق سکھائے جاتے ہیں ۔فصلوںکو تباہ کرنے والی بیماریوں کے علاج بتائے جاتے ہیں ۔زراعت کے نئے نئے آلات سے روشناس کیا جاتا ہے۔عمدہ بیج اور ان کی پیدا وار دکھائی جاتی ہے۔ایسی چیزیں لغو میں شامل نہیں کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی لحاظ سے انسان کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے اور اس کا تجربہ ترقی کر تا ہے اور وہ بھی اپنی تجارت یا صنعت یا زراعت کو زمانے کو دوڑ کے ساتھ ساتھ بڑھانے اور ترقی دینے کے وسائل اختیار کر سکتا ہے۔لیکن جھوٹی فلم خواہ جغرافیائی ہو خواہ تاریخی ناجائز ہے مثلا ً نپولین کی جنگوں کی کوئی شخص فلم بنائے تویہ جھوٹی ہو گی۔جغرافیائی اور تاریخی فلم سے مراد محض سچی فلم ہے۔جھوٹی فلم مراد نہیں۔بہر حال سینما کی وہ فلمیں جو آج کل تمام بڑے بڑے شہروں میں دکھا ئی جاتی ہیں اور جن میں ناچ بھی ہوتا ہے اور گانا بجانا بھی ہوتا ہے یہ ایک بد ترین *** ہے جس نے سینکڑوں شریف گھرانوں کے لوگوں کو گویّا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے ۔ میں چونکہ ادبی رسائل وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں ۔میں نے دیکھا ہے کہ سینما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میںعموماً ایک تمسخر ہوتا ہے اور ان کے اخلاق اور ان کا مذاق ایسا گندہ ہوتا ہے کہ حیرت آتی ہے ۔سینما والوں کی غرض تو محض روپیہ کمانا ہوتی ہے نہ کہ لوگوں کو اخلاق سکھانا۔اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ایسے لغو اور بے ہودہ افسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفاء جب ان کو دیکھنے جاتے ہیں تو ان کا اپنا مذاق بھی بگڑتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا مذاق بھی بگڑ جاتا ہے جن کو وہ سینما دکھا نے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں یا جن کو واپس آ کر وہاں کے قصے سناتے ہیں۔غرض سینما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اگر میری طرف سے ممانعت نہ ہوتی تب بھی ہر سچے اور مخلص مؤمن کی روح اس سے اجتنا ب کرتی۔
    بعض احمدی پوچھتے ہیں کہ انگریزی فلموں میں تو کوئی لغو بات نہیں ہوتی ان کو دیکھنے کی اجازت دی جائے۔حالانکہ کوئی انگریزی فلم ایسی نہیں ہوتی جس میں گانا بجانا نہ ہو اور گانا بجانا اسلام میں سخت منع ہے اور قرآن کریم کی اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کا بندہ ہی نہیںبن سکتا جب تک وہ گانے بجانے کی مجلسوں سے الگ نہ ہو۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورہ فرقان صفحہ ۱۷۴)
    سینما اور تماشے
    سینما اور تماشے کے متعلق میں جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ کوئی احمدی کسی سینما ،سرکس ،تھیٹر وغیرہ غرضیکہ کسی تماشہ میں بالکل نہ جائے اور اس سے کلی پرہیز کرے۔ہر مخلص احمدی جو میری بیعت کی قدر و قیمت کو سمجھتا ہے اس کے لئے سینما یا کوئی اور تماشہ وغیرہ دیکھنا یا کسی اور کو دکھانا نا جائز ہے۔
    (مطالبات تحریک جدید نمبر ۳۷)
    سینما اپنی ذات میں برا نہیں بلکہ اس زمانے میں اس کی جو صورتیں ہیں وہ مخرب الاخلاق ہیں ۔اگر کوئی فلم کلّی طور پر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہو اور اس میں کوئی حصہ تماشہ وغیرہ کا نہ ہو تواس میں کوئی حرج نہیں ۔اگرچہ میری یہی رائے ہے کہ تماشہ تبلیغی بھی نا جائز ہے۔
    (مطالبات تحریک جدید نمبر ۳۹)
    اگر تو فلم حقیقی مناظر کی ہے تو کوئی اعتراض نہیں ۔لیکن اگر وہ ایکٹنگ سے تیار کی گئی ہے تو اسے دیکھنے کی اجازت نہیں۔
    (الفضل ۲ جولائی ۱۹۴۴ ؁ء نمبر ۱۵۳)
    سینما چلانے کا کاروبار
    سینما فی ذاتہٖ بری چیز نہیں ۔اگر اس میں علمی اور واقعاتی فلمیں دکھائی جائیں تو وہ ایک مفید چیز ہے۔البتہ مخرب الاخلا ق فلموں کی صورت میں سینما دیکھنا اور سینما دکھا نے کا پیشہ سخت مکروہ اور نا پسندیدہ ہو چکا ہے۔
    (الفضل ۶ اگست ۱۹۶۳ ؁ء فیصلہ مجلس افتاء منظور کر دہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فیصلہ نمبر ۱۲)
    سوال: اسلامی شریعت میں سینما دیکھنا ممنوع ہے ۔کیا ہر اسلامی پکچر جو سینما میں دکھا ئی جاتی ہے مثلاً محمد بن قاسم ۔فخر اسلام ،جوش اسلام وغیرہ کا دیکھنا بھی معیوب ہے؟
    جواب: سینما صرف اس وجہ سے منع کیا جاتا ہے کہ بغیر فائدہ کے وقت ضائع ہوتا ہے ورنہ جغرافیہ یا طبعیات کی فلم ہو تو وہ مفید ہو گی۔
    (الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۱۵ ؁ء لاہور)
    سوال: ایک دوست نے دریافت کیا کہ خالص اخلاقی ڈراموں کو عملی طور پر دکھانا جائز ہے یا ممنوع اور کیا اس سے امکان ہے کہ لوگوں پر اخلاقی طور سے اچھا اثر پڑے ؟
    جواب: فرمایا:۔ ڈراما تو ایک نقل ہے اور نقل کبھی اخلاق پر اچھا اثر نہیں ڈال سکتی ۔دوسرے کی نقل سے حقیقت مٹتی ہے نہ کہ قائم ہوتی ہے ۔کوئی ڈرامہ کرنے والا آج تک اخلاق کے اعلیٰ مقام پر ثابت نہیں ہوا۔
    (الفضل ۱۶ دسمبر ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۱۰ نمبر ۶۸ یا ۹۸)
    سچی فلمیں
    بعض نوجوانوں کا خیال ہے کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہسٹاریکل پکچرز دیکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے ۔ہم نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں لکھا تھا کہ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    حضور نے ارشاد فرمایاکہ :۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں نے ہسٹاریکل پکچرز دیکھنے کی اجازت دی ہے وہ کذاب ہے ۔میں نے ہرگز ایسا نہیں کہا نہ اس خط میںاس کا ذکر ہے۔لفظ مشتبہ ہے ۔میں نے جو اجازت دی ہے وہ یہ ہے کہ علمی یا جنگی اداروں کی طرف سے جو خالص علمی پکچرز ہوتی ہیں مثلاً جنگلوں ،دریاؤں کے نقشے یا کارخانوں کے نقشے یا جنگ کی تصاویر جو سچی ہوں ان کو دیکھنے کی اجازت ہے کیونکہ وہ علم ہے۔
    (الفضل ۲۵ اپریل ۱۹۴۳ ؁ء جلد ۳۱ نمبر ۹۸)
    ۲:۔
    جغرافیائی اور تاریخی فلم سے مراد سچی فلم ہے۔جھوٹی فلم کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی۔تاریخی فلم ایسی ہے جیسے کہ سان فرانسسکو کے جاپان کے معاہدہ کی مجلس کی فلم ہو گی۔جغرافیائی سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ پر جا کر یا مثلا ً جاوا جا کر وہاں کے جنگلوں ،دریاؤں کے فلم لے۔جھوٹی فلم خواہ جغرافیائی ہو خواہ تاریخی ناجائزہے مثلاً نپو لین کی جنگوں کی کوئی شخص فلم بنائے تو یہ جھوٹی ہو گی باوجود نام نہاد تاریخی فلم ہونے کے وہ ناجائز ہوگی۔
    (الفضل ۲۵ ستمبر ۱۹۵۱ ؁ء )
    ناچ
    تیسری چیز جو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے لغو میں شامل ہے وہ ناچ ہے۔ انگریزوں میں کسی زمانے میں ناچ بہت برا سمجھا جاتا تھا مگر آہستہ آہستہ لوگوں نے اسے اختیار کر نا شروع کر دیا ۔پہلے عورت اور مرد صرف ہاتھ پکڑ کر ناچتے تھے پھر سینہ کی طرف سینہ کر کے ناچنے لگے ۔پھر یہ سلسلہ اور بڑھا اور درمیانی فاصلہ تین انگشت تک آگیا ۔اب بہت جگہ پر یہ بھی اڑ گیا ہے ۔قرآن کریم نے وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ (النور: رکوع ۴) میں عورتوں کے لئے اپنے پیروں کو اس طرح زمین پر مار کر چلنے سے بھی منع فرمایا ہے جس سے ان کی زینت کا اظہار ہو اور ناچ میں تو زینت کے اخفاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس ناچ بھی مال اور اخلاق کو تباہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔دنیا میں ایسے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کنچنیوں کے ایک ایک ناچ پر اپنی ساری جائیدادیں دے دیتے ہیں۔ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ڈوموں کے لطیفوں پر اپنے قیمتی اموال لٹا دیتے ہیں۔پس گانے کی طرح ہر قسم کا ناچ بھی ایک *** ہے جس سے نوجوانوں کے اخلاق بگڑتے اور قوم کے اموال تباہ ہوتے ہیں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ الفر قان صفحہ ۱۷۶)
    قوّالی
    سوال: قوّالی کے متعلق کیا حکم ہے کیونکہ قوّالی سننے سے بہت اثر اور سرور حاصل ہوتا ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ آپ نے کیا کبھی بھنگ پی ہے ؟بھنگ پینے والوں کو تو اتنا اثر اور اتنا لطف حاصل ہوتا ہے کہ اس کا عشر عشیر بھی قوّالی سننے والوں کو حاصل نہیں ہو سکتا۔بھنگ پینے والوں کو تو اتنا سرور حاصل ہوتا ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ آسمان کے طبقات اس پر کھل گئے ہیں اور کبھی وہ فلک کی سیر کر تا ہے اور کبھی اور دوسرے بلند مقامات پر اڑتا پھرتا ہے۔پس اگر لطف حاصل کرنا ہے تو آپ قوّالی سن کر چھوٹی چیز پر قناعت کیوں کرتے ہیں ۔کیوں زیادہ سرور دینے والی چیز اختیا ر نہیں کرتے۔
    سوال: قوّالی سننے سے بعض اوقات بے اختیار رقت طاری ہو جاتی ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ تھیٹر دیکھنے اور جھوٹے ناولوں کے پڑھنے سے بھی رقت طاری ہو جاتی ہے اور انسان بے اختیار رونے لگتا ہے۔رہا یہ کہ لوگوں کوقوّالی میں حال آجاتا ہے اس کے متعلق ابن سیرین ؒ نے لکھا ہے کہ ایک شخص کو کسی اونچی دیوار پر بٹھا کر اس کے سامنے تمام قرآن مجید پڑھ جاؤپھر میں دیکھوں گا کہ اسے کس طرح حال آتا ہے۔
    (الفضل ۶ جون ۱۹۳۱ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۱۴۱)
    گانا بجانا
    سوال: ریڈیو یا ریکارڈ کے ذریعہ غیر عورت کا گانا سننا شریعت اسلام کی رو سے کیسا ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ میں اس بات کا قائل نہیں کہ کسی عورت کا گانا آمنے سامنے ہو کر سننا یا بذریعہ ریڈیو یا گرامو فون سننا ایک ہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک دفعہ مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم کے گراموفون پر ایک غزل گائی جا رہی تھی میرے سامنے سنی اور اس کو منع قرار نہیں دیا ۔البتہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح برا اثر پڑ سکتا ہے اور ضیاع وقت ہے اس بات کو روکا جا سکتا ہے ۔مگر اس دلیل کی بناء پر اس کی حرمت کا فتویٰ میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔
    (الفضل ۱۴ جون ۱۹۴۰ ؁ء جلد ۲۸ نمبر ۱۳۵)
    ۲:۔
    خوش الحانی علیحدہ چیز ہے اور راگ علیحدہ ۔راگ میں الفاظ کو مد نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ سر اور تال کو دیکھا جاتا ہے۔مگر خوش الحانی میں صرف آواز کا خیال ہوتا ہے الفاظ کو نہیں بگاڑا جاتا۔اور ڈھولک تو بالکل ہی اور چیز ہے اس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا نہیں ہو سکتا ۔
    (چشمہ عرفان صفحہ ۲۷)
    سوال: حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ ٖالعزیز کی خدمت میں ریڈیو کے گانے کے متعلق حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم کا فتویٰ پیش کیا گیا ۔اس فتویٰ میں ان ہر دو علماء نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ریڈیو یا ریکارڈ کے ذریعہ غیر عورت کا گانا سننا شریعت اسلام کی رو سے نا جائز ہے ؟
    جواب: حضرت امیر المو منین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ ٖالعزیز نے فرمایا کہ میں اس بات کا قائل نہیں کہ کسی عورت کا گانا آمنے سامنے ہو کر سننا یا بذریعہ ریڈیو یا گرامو فون سننا ایک ہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک دفعہ مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم کے گراموفون پر ایک غزل گائی جا رہی تھی میرے سامنے سنی اور اس کو منع قرار نہیں دیا ۔البتہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح برا اثر پڑ سکتا ہے اور ضیاع وقت ہے اس بات کو روکا جا سکتا ہے ۔مگر اس دلیل کی بناء پر اس کی حرمت کا فتویٰ میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔
    (رجسٹر ہدایات ۔اصلاح و ارشاد)
    شطرنج
    سوال: لوگ کہتے ہیں کہ شطرنج کھیلنے سے دماغی تربیت ہو تی ہے۔حضور کا کیا خیال ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ ہر وہ کھیل جو انسان کو کلیۃً اپنی طرف متوجہ کر لے اور انسان کو علمی ترقی سے روک دے اس میں حصہ لینا شریعت نا پسند کرتی ہے۔شطرنج ایسی کھیل ہے کہ کھیلنے والوں پر اتنی محویت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ کئی کئی دن تک حتیٰ کہ بعض دفعہ چھ چھ مہینے تک اس میں مصروف رہتے ہیں اور دوسرے کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔لیکن شریعت چاہتی ہے کہ حد سے باہر قدم نہ رکھا جائے ۔ورنہ جس حد تک کھیل سے دماغی تازگی پیدا ہونے کا تعلق ہے شریعت اس سے منع نہیں کرتی خواہ کوئی بڑا آدمی ہو یا چھوٹا اسے کوئی نہ کوئی ایسا شغل ضرور چاہئے جس سے اس کے دماغی بوجھ میں کمی واقع ہو سکے۔۔۔۔۔۔ہمارے پنجاب میں ایک کھیل بارہ ٹہنی کھیلی جاتی ہے اس کے کھیلنے میں کوئی حرج نہیں ۔لیکن اگر کسی وقت میں یہ دیکھوں کہ ہر جگہ لوگ بارہ ٹہنی کھیل رہے ہیں اور اپنے اوقات کا اکثر حصہ اسی کھیل میں صرف کر رہے ہیں تو اس وقت اگر کوئی مجھے پوچھے تو میں یہی کہوںگا یہ سخت بری کھیل ہے مگر اب چونکہ اس میں لوگوں کا زیادہ توغُل نہیں ہے اس لئے کبھی کبھی کھیلنے میں حرج نہیں ہے۔
    (الفضل ۱۴ اپریل ۱۹۳۱ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۱۱۹)
    غیر مسلموں کو السلام علیکم کہنا
    میرا اپنا طریق تو یہ ہے کہ سب کو السلام علیکم کہتا ہوں ۔ہاں کوئی شقی جیسا لیکھرام تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سلام نہیں کیا اگر ملے تو ممکن ہے کہ طبیعت رکے ۔عام لوگ باوجود دشمن ہونے کے دھوکہ خوردہ ہیں اور سلام کی دعا کے مستحق۔
    (الفضل ۲۱ اگست ۱۹۴۶ ؁ء جلد ۳۴ نمبر ۱۹۵)
    سوال: ملّا غیر احمدی مکفر و اشد مخالف سلسلہ کو سلام میں سبقت کرنا جائز ہے؟
    جواب: سبقت جائز نہیں بلکہ جواب دینا بھی ناجائز ہے ۔اشد مخالفین سے حضور (مسیح موعود ؑ ) نے کلام بھی ترک کیا ہے۔
    (الفضل ۲ مارچ ۱۹۱۵ ؁ء نمبر ۱۱۱)
    سوال: اگر کوئی شخص غیر احمدی آپ کو السلام علیکم اسلامی طریقہ پر کہے تو آپ اس کو کیا جواب دیں گے؟
    جواب: ہم اس کو وعلیکم السلام کہیں گے ۔رسول کریم ﷺ یہودیوں کو کہتے تھے ۔ہم تو غیر احمدیوں کو جو مکذب نہ ہو ں ابتدا ء بھی کریں گے۔کیونکہ یہ رواج ہے ۔اب اس کو وہ بات حاصل نہیں جو پہلے تھی ۔جس قوم میں سلام کا رواج ہے ہم اس کو سلام ہی کہتے ہیں ۔
    (الفضل ۶ ستمبر ۱۹۱۹ ؁ء جلد ۷ نمبر ۲۰)
    حضور نے ایک دوست کو لکھوایا کہ ہندؤوں کو یا کسی کو بندگی کہنا یا پائے لاگی کہنا یہ سب ناجائز ہے۔دراصل سجدہ کے قائم مقام ہے۔
    (الفضل ۱۷؍۲۰ مئی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۴۲؍۱۴۱)
    رسم ورواج
    فرمایا:۔ ایک دفعہ جب میں چھوٹا تھا تو مولوی صاحب مرحوم ( مولوی برہان الدین صاحب) قادیان تشریف لائے ۔میری بچپن کی عمر تھی ۔محر م کا مہینہ تھا ۔لوگوں کی دیکھا دیکھی سرخ دھاگا جسے ۔۔۔مولی ۔۔۔کہتے ہیں ڈالا ہوا تھا۔
    مولوی صاحب نے مجھے پکڑ لیا کہ یہ بدعت ہے ابھی اس کو اتاررو۔میں بچپن میں بوجہ شرم باہر کم نکلتا تھا اس لئے اجنبی آدمی سے سخت ڈرا کر تا تھا ۔بھا گ کر گھر گیا اور مجھے بخار ہو گیا ۔حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو بلا کر سمجھایا کہ بچوں پر اتنی سختی نہیں کرنی چاہئے۔
    (الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۲۰ ؁ء جلد ۸ نمبر ۱۹)
    سوال: ہماری قوم کی رسم ہے کہ جب لڑکا پید اہو تو میراثی جو ہمارے آباؤ اجداد سے لیتے چلے آئے ہیں اس کی دوہائی مانگتے ہیں ۔انہیں حسب توفیق کچھ دے دیا جاتا ہے ۔ان کی حالت اور چال چلن کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا؟
    جواب: مؤمن کو اپنا مال ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔یہ لغو رسومات ہیں ان سے جہاں تک ہو سکے بچیں۔
    (الفضل یکم جولائی ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۳)
    شب برات ،گیارہویں ،بارہ وفات ،نیاز وغیرہ کا کھانا
    سوال: سنّی لوگ محرم کے دنوں میں خاص قسم کے کھانے وغیرہ پکاتے اور آپس میں تقسیم کرتے ہیں ۔ان کے متعلق کیا ارشاد ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ یہ بھی بد عت ہیںاور ان کا کھانا بھی درست نہیں اور اگر ان کا کھانا نہ چھوڑا جائے تو وہ پکانا کیوں چھوڑنے لگے۔بارہ وفات کا کھانا بھی درست نہیں اور گیارھویں تو پورا شرک ہے ۔قرآن کریم میں آتا ہے’ وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ ‘(بقرۃ:۱۷۴)۔یہ بھی ان میں داخل ہے کیونکہ ایسے لوگ پیر صاحب کے نام پر جانور پالتے ہیں ۔
    (الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۱۰ نمبر ۸۲)
    سوال: کیا شب برات کے روز حلوہ مانڈہ وغیرہ تیا ر کر نا احمدیوں کے لئے جائز ہے؟
    جواب: نہیں بدعت ہے۔
    (الفضل ۳۰ اپریل ۱۹۵۴ ؁ء )
    سوال: میری بیوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیاز مانی تھی جیسے کہ اولیاء وغیرہ کی مانی جاتی ہے ۔اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟
    جواب:ـ حضرت صاحب یا کسی دوسرے بزرگ کے لئے نیاز ماننی بدعت ہے۔
    (الفضل ۱۲ ستمبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۳۵)
    مسمریزم سیکھنا
    سوال: کیا مسمریزم سیکھ کر اس کے ذریعہ علاج کر سکتا ہوں ؟
    جواب: مسمریزم سے علاج کا طریق سیکھنا منع نہیں مگر افسوس کے دوائیوں سے علاج کرنے والے باوجود کثرت سے مریضوں کے شفاء پانے کے اپنے کام پر نازاں نہیں ہوتے مگر مسمریزم سے علاج کرنے والے اپنی ولایت کی طرف اس کام کو منسوب کرتے ہیں ۔حالانکہ یہ ایک دنیوی علم ہے اس لئے احتیاطاً واقف کاروں نے اس علم میں پڑنے سے منع کیا ہے ورنہ یہ اور علموں کی طرح ایک علم ہے اور میرے خیال میں ایک دن میں آدمی سیکھ سکتا ہے ۔اس کے سیکھنے کے لئے کوئی بڑا مجاہدہ نہیں کرنا پڑتا ۔
    (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۴ نمبر ۳)
    سوال: نظر کوئی چیز ہے یا نہیں؟
    جواب: لکھوایا:۔ انسان کی نظر میں ضرور اثر ہے اور احادیث سے بھی ثابت ہے اور اس کا علاج دعا ہے ۔طبّی طور سے بھی ثابت ہے کہ نظر میں ایک طاقت ہوتی ہے۔
    (الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۱۳)
    اللہ کے ذکر کے متعلق دریافت کیا جسے ضرب لگانا کہا جاتا ہے
    فرمایا:۔ یہ ذکر کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ مصلحت وقت کے ما تحت ہندوستانیوں کو خدا کی توحید کا قائل کرنے کے لئے اس وقت کے بزرگان نے جاری کیا تھا ۔کیونکہ اس ملک میں مسمریزم کا بہت رواج تھا چنانچہ اب بھی مدراس کے علاقہ میں اس کا بہت رواج ہے۔ان لوگوں میں جب اسلامی تعلیم پیش ہوتی ہے تو ان کے جو بزرگ تھے ان کی مثالیں لوگوں نے پیش کیں کہ وہ لوگ ایسے ایسے کمالات دکھاتے تھے اور کہ یہ باتیں ہمارے ہندو مذہب کی صداقت کے دلائل ہیں پس ان کے مقابلہ میں اسلام کو کس طرح سچا مذہب سمجھ لیں ۔اس وقت ان لوگوں کے مقابل پر مسلمانوں نے یہ باتیں پیش کردیں اور اس طرح سمجھایا کہ یہ باتیں کسی مذہب کی صداقت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں۔رام رام کی جگہ اگر خدا کا نام لیا جاوے تو وہی اثر ہوتا ہے۔آخر رفتہ رفتہ جو باتیں تعلق باللہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتی تھیں وہ تو ہٹ گئیں اور صرف نام رہ گیا۔
    (الفضل ۱۵ مئی ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۹ نمبر ۸۹)
    تعویز وغیرہ
    سوال : ایک صاحب نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا کہ میری بیوی مدت سے بیمار ہے ۔علاج و معالجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔عوام الناس کا خیال ہے کہ اس کو کسی نے سحر کیا ہوا ہے ۔حضور اس امر کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟
    جواب: فرمایا:۔ سحر کوئی چیز نہیں ۔آپ روز رات کو آیت الکرسی ،قل ھو اللہ اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر تین دفعہ پھونک دیا کریں اور ہینگ تھوڑی سی صبح و شام دودھ کے ساتھ پلا دیا کریں۔
    (الفضل ۱۸ ستمبر ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۱۰ نمبر ۲۲)
    سوال: ایک صاحب کا خط پیش ہوا کہ ان کی سوتیلی ماں تعویز کراتی رہتیں ہیں جن سے تکلیف ہوتی ہے؟
    جواب: حضور نے لکھوایا:۔ سوتے وقت قل ھو اللہ ،قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذ برب الناس تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک کر جسم پر مل لیا کریں ۔اور آیت الکرسی اگر شروع میں پڑھ لیں تو اور بھی اچھا ہے۔
    (الفضل ۱۰ فروری ۱۹۲۱ ؁ء )
    سوال: ایک صاحب نے عرض کیا کہ تعویز جو لوگ کراتے ہیں ان کا اثر ہوتا ہے یا نہیں؟
    جواب: حضور نے فرمایا:۔ میرے نزدیک تعویز تحریری دعا ہے اور دعا کا اثر مضر نہیں ہو سکتا ۔باقی مسمریزم وغیرہ کے ذریعہ جو کسی کے خلاف اثر ڈالے جاتے ہیں ان سے محفوظ رہنے کے لئے انسان دعائیں پڑھ کر سو رہے تو کچھ نقصان نہیں ہو سکتا اور اگر انسان یہ توجہ کرے کہ میں ایسا اثر قبول نہیں کروں گاتو اس پر اثر نہیں ہوگا ۔کیونکہ وہ انسانی اثر ہوتا ہے اور انسانی اثر کو انسان روک سکتا ہے اور چونکہ دفاعی طاقت زیادہ ہے اس لئے اثر نہیں ہو سکتا ۔جن لوگوں میں روحانی طاقت ہوتی ہے ان پر مسمریزم وغیرہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔
    (الفضل ۲۱ فروری ۱۹۲۱ ؁ء جلد ۸ نمبر ۶۳)
    سوال: ایک صاحب نے لکھا کہ حضور کی خدمت میں اگر کوئی چیز دم کرنے کے لئے مثلاً سرمہ بھیجی جائے تو حضور کی اس میں کیا رائے ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ میں تو دم کا ایسا قائل نہیں ہوں ۔دم مریض پر تو رسو ل اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عقلاًاس کا فائدہ اور حکمت معلوم ہوتی ہے ۔باقی چیزوں پر دم کر کے بھیجنا نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے گو اس میں بھی بعض حالات میں فائدہ ہو سکتا ہے ۔مگر اس سے بعض ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو خطرناک ہیں ،ان کا فائدہ کم ہے اور نقصان زیادہ ہے۔یہ روحانیت پر ایسا اثر ڈال دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ سے دور کر دیتی ہیںاور انسان مادی چیزوں کی طرف ہی راغب ہو جاتا ہے۔دم کی مثال بالکل اس شخص کی ہے جسے کوئی شخص کسی افسر کے پاس اپنے کسی کام کے لئے درخواست کرنے کے لئے لے جاوے اور پھر بجائے اس کے کہ خود اس کو بار بارتوجہ دلائے اس کو کہہ دیوے کہ اپنی میز پر ایک کاغذ لکھ کر رکھ چھوڑیں جس سے میرے معاملہ کی یاد تازہ ہوتی رہے۔یہ چیزیں انسان کو دعا سے غافل کر دینے والی ہیں اور خداکی طرف بار بار رجوع کرنا جو ایمان کی جڑ ہے اس سے انسان کو دور کردیتی ہیں۔
    (الفضل ۲۶ فروری ۱۹۲۴ ؁ء جلد ۲ نمبر ۶۷)
    سوال: عام خیال ہے کہ بچوں کو نظر لگ جاتی ہے کیا یہ درست ہے اگر درست ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟
    جواب: ہاں لگ جاتی ہے۔وجہ یہ کہ انسان کے اندر ایسی طاقت رکھی ہے کہ ایک کے خیالات کا اثر دوسرے کے اوپر جا کر پڑتا ہے۔جب انسان ہر چیز کو نہایت ہی محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تواس وقت اس کے دل میں اگر محبت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں تو ساتھ ہی مخفی طور پر ایک خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے اور ایسے ہی دوسرے شخص میں ،بچہ ہو یا جوان منتقل ہو کر ایک قسم کا احساس کمزوری یا مایوسی کا کردیتے ہیں جس کے نتیجہ میں بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ ایک طبعی بات ہے رسول کریم ﷺکے بعض اقوال سے بھی مستنبط ہوتا ہے ۔شریعت نے اس کو غیر معقول قرار نہیں دیا ۔ایسے لوگ جن کے دل زیادہ برداشت نہیں کر سکتے تھوڑی تھوڑی باتوں پر ان کی توجہ بہت ہی گہری ہو جاتی ہے ۔ان لوگوں کے ایسے خیا لات جو ہیں وہ دوسرے کے دل پر اثر کر جاتے ہیں اور اس کا نام نظر ہوتا ہے۔پس اگر ایسی حالت میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس صورت میں سورۃ فاتحہ یا قل اعوذ برب الفلق اور قل اعو ذ برب الناس پڑھ کر بچے پر دم کیا جاوے یا اگر بچہ نہیں جانور وغیرہ ہے تو اس پر ہاتھ پھیر دیا جاوے تو یہ دعا کی دعا بھی ہوتی ہے اور توبہ کی توبہ بھی۔
    (الفضل ۴ مارچ ۱۹۲۴ ؁ء جلد ۱۱ نمبر ۶۹)
    سوال: ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک جگہ ہے جہاں کی نسبت مشہور ہے کہ یہاں کسی بزرگ کی دعا ہے یہاں جو کھڑا ہو کر خون نکلواتا ہے صحت پاتا ہے ۔کیا میں اپنے مرض کے ازالہ کے لئے وہاں جا سکتا ہوں ؟
    جواب: فرمایا:۔ بعض لوگ اپنی دواؤں اور طریق علاج کے ساتھ ایسی باتیں اس علاج کی عظمت کے لئے لگا دیتے ہیں ۔آپ لغویات کی پرواہ نہ کریں اور وہاں سے بہ نیت علاج جا کر خون نکلوا لیں۔علاج کروا لیں ۔شفاء اللہ دینے والا ہے۔
    (الفضل ۶ جون ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۱۴۹)
    خاندانی روایات
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے بعض نے ٹوپیاں پہننی شروع کر دی ہیں،بعض نے نکٹائیاں لگانی شروع کر دی ہیں اور بعض داڑھیاں منڈواتے ہیں اور انہیں یہ ۔۔۔۔۔ہی نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔اس وقت ان کے باپ دادا کی عزت کا سوال تھا ۔انہیں چاہئے تھا کہ وہ خاندانی روایات کو قائم رکھتے اور اپنے دادا کے اچھے نمونہ کو قائم رکھتے لیکن انہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔
    (الفضل ۲۲ اگست ۱۹۶۲ ؁ئ)
    مردوں کو ریشمی کپڑا پہننا منع ہے
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے زمانہ خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ بعض صحابہ ؓ نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔
    ریشمی کپڑوں سے مراد وہ کپڑے ہیں جن میں کسی قدر ریشم ہوتا ہے ورنہ خالص ریشم کے کپڑے تو سوائے کسی بیماری کے مردوں کو پہننے ممنوع ہیں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ الفرقان صفحہ ۱۵۸)
    سوال: کیامردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز نہیں؟
    جواب: فرمایا:۔ ہاں مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز نہیں ۔درحقیقت اسلام کا منشاء یہ ہے کہ وہ چیزیںجو کہ قیمت کے طور پر کام آتی ہیں ان کو روک کر اپنے پاس نہ رکھا جائے ۔اگر لوگ سونے چاندی کو بند کرکے رکھ دیں تو تجارت پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور خزانوں میں سکّوں کی کمی ہو جاتی ہے ۔اس لئے اسلام نے سونے چاندی کے برتنوں سے منع کیا ہے ۔اگر سونے چاندی کے برتن بنائے جائیں گے تو وہ گھر میں بند ہو جائیں گے اور اس کا سکّوں پر برا اثر پڑے گا۔اگر سونے چاندی کو لوگ گھروں میں بند کر دیں گے تو پھر صرف نوٹ ہی نوٹ سکّہ کے طور پر رہ جائیں گے۔ اس لئے اسلام نے مردوں کو تو بالکل منع فرمایا کہ وہ سونا نہ پہنیں اور عورتوں کے ان زیورات پر جووہ نہیں پہنتیں چالیسواں حصّہ زکوٰۃ لگا دی ۔اس طرح چالیس و پچاس سال میں آہستہ آہستہ وہ سارا سونا خود بخود نکل آئے گا ۔اور اگر زکوٰۃ ادا نہیں کریں گی تو بے دین بنیں گی۔جو لوگ زکوٰۃ دیتے ہیں وہ خود محسوس کر لیتے ہیں کہ زکوٰۃ ہی ہمارا سارا سونا ختم کر دے گی۔میں نے اپنے گھروں میں دیکھا ہے کہ جب چند سال زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو آخر کہہ دیتے ہیں کہ اس زیور کو فلاں جگہ پر لگا دیجئے۔
    (الفضل ۵ نومبر ۱۹۶۰ ؁ئ)
    پیشہ ور فقیروں کو خیرات دینا
    سوال: پیشہ ور فقیروں کو کچھ دینا چاہئے یا نہیں؟
    جواب: فرمایا:۔ پیشہ ور فقیر کے لئے پہلے سوچنا پڑے گا کہ وہ پیشہ ور کیوں بنا۔کیونکہ خود پیشہ اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ۔اگر تو وہ شخص اس لئے پیشہ ور بنا ہے کہ اس کے ہمسائے یا گاؤں کے مسلمان یا ہندو اس قسم کے ظالم یا سنگدل ہیں کہ وہ اس پر رحم نہیں کرتے اور باوجود یکہ وہ مدد کا مستحق ہے اس کی مدد نہیں کرتے۔تو ایسے شخص کا پیشہ ور ہونا اس کا اپنا قصور نہ ہو گا ۔اس کو تو تم لوگوں نے اس کی مدد نہ کرنے کی وجہ سے اس پیشہ کے لئے مجبور کیا ہوگا۔ایسے شخص کو تو دینے یا نہ دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا ۔اسے تو اتنا دینا چاہئے کہ وہ اس پیشہ کو ہی چھوڑ دے بلکہ جب ایسا شخص مانگنے کے لئے آئے تو اسے کہنا چاہئے کہ ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم نے یہ معلوم کرتے ہوئے بھی کہ تم مدد کے مستحق تھے تمہاری مدد نہ کی ۔اب تم گھر بیٹھو ہم تمہیں تمہارے گھر پر ہی سب کچھ پہنچایا کریں گے۔
    (الفضل ۶ دسمبر ۱۹۶۰ ؁ئ)
    سادات کے لئے صدقہ کو ناجائز کرنے میں حکمت
    میرے نزدیک رسول کریم ﷺ کو جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کی اولاد کے لئے صدقہ جائز نہیں تو اس میں یہی حکمت تھی کہ امت اسلامیہ کو بتایا جائے کہ اس محسن اعظم کی اولاد سے جو سلوک کیا جائے وہ صدقہ ہو ہی نہیں سکتا وہ تو اس محسن کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ایک ادنیٰ کوشش ہو گی۔
    مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس مسئلہ کو خاص زور سے بیان کر تے ہیںکہ رسول کریم ﷺ ایسے بے نفس تھے کہ آپ نے اپنی اولاد کے لئے صدقہ کو حرام کر دیا اور انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ آپﷺایسے بے نفس تھے تو مسلمان ایسے نفس کے بندے کیوں ہو گئے ہیں کہ آپ کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ادنیٰ کوشش بھی نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔میرے نزدیک اس حکم سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ادب سکھایا تھا کہ اگر حضرت رسالت مآب کی اولاد میںسے کوئی غریب ہو تو وہ اس کے ساتھ حضور کے احسان کی یاد میں اچھا سلوک کریں کیونکہ آپ کی اولاد کے ساتھ صدقہ کا معاملہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔کیا اپنے بھائیوںکو لوگ صدقہ دیا کرتے ہیں ۔پھر کیا اس روحانی باپ کی اولاد سے ان کا سلوک بھائیوں جیسا نہیں ہونا چاہئے ۔افسوس کہ اس حکمت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان دو حکموں میں سے ایک کو توڑنے لگ گئے ہیں یا تو وہ سادات پر صدقہ اور زکوۃ خرچ کرنے لگ گئے ہیں یا ان کی خدمت سے بالکل محروم ہو گئے ہیں۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ بقرۃ صفحہ ۱۳۱)
    سوال: یزید کی فوج کے ہاتھوں جو واقعہ شہادت امام حسین ؓ کا ہوا تھا کیا وہ فوج بھی اس معاملہ میں گنہگار ہے یانہین یا صرف یزید ہی اس بات کا ذمہ دار ہے اور وہی قابل سزا ہے ۔اگر فوج کو بھی سزا ملنی چاہئے تو کیوں ۔فوج نے اولی الامر منکم کے تحت ایسا کیا تھا؟
    جواب: اس بات کے متعلق یزید بھی ذمہ دار تھا اور اس کے ماتحت بھی کیونکہ وہ سب ظلم کر رہے تھے ۔ظلم کرنے میں اولی الامر کی اطاعت ضروری نہیں۔انسان اس شخص کی اطاعت چھوڑ دے جو ظلم کر واتا ہے۔
    (الفضل یکم جولائی ۱۹۱۶ ؁ء جلد ۳ نمبر ۱۲۲)
    سوال: ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں سوال پیش کیا کہ کوئی طریقہ ایسا ہو کہ بندہ اس کو ہمیشہ کرتا رہے اور ہمیشہ ہی رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیدا ر سے مشرف ہوتا رہے؟
    جواب: دیدار حقیقی کے تو یہ معنی ہیں کہ ان کی روح سے ملاقات ہو ۔یہ خیال کرنا کہ نبی روزانہ لوگوں سے ملنے آجایا کریں یا ان کو ان کے پاس پہنچایا جایا کرے ۔یہ خیا ل عقل و دانش سے بعید ہے ۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا ایک فعل ہوتا ہے اس کے ماتحت وہ کبھی اپنے بندوں کو زیارت کر ا دیتا ہے۔یہ اصل رویت ہے ۔جسے یہ رویت نصیب ہو جائے صوفیاء کے نزدیک وہ صحابہؓ میں شامل ہو جاتا ہے اور ایک رویت ایسی ہوتی ہے کہ جس بات کا انسان خیا ل کرتاہے اس کا ایک واہمہ سامنے آجاتاہے۔ایسی رویت تو بعض کو روزانہ بھی ہوتی رہتی ہے مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں ۔انسان کو چاہئے کہ بجائے اس رویت کے روحانی رویت کا طالب ہو ان کے اسوہ حسنہ کی اتباع کرے تاکہ فائدہ بھی حاصل ہو۔
    (الفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۲۰ ؁ء جلد ۸ نمبر ۴۷)
    مسلمانوں میں جو امیر شریعت کی تحریک ہے اس کے متعلق فرمایا کہ اسلام میں امیر شریعت کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا مامور تو یہ حیثیت رکھتا ہے مگر اور کسی کو یہ درجہ نہیں۔حضرت عمر ؓ جیسا انسان جب یہ کہتا ہے کہ الماء بالماء ۔حدیث میں ہے کہ جب عورت سے صحبت میں انزال ہو توغسل واجب ہوتا ہے وگرنہ نہیں تو اس وقت بحث چھڑ گئی اور ایک صحابی نے کہا کہ اس مسئلہ کو تو ہمارے بچے بھی جانتے ہیں کہ جب مرد مجامعت کرے خواہ انزال ہو یا نہ ہو رسول اللہ ﷺ نے غسل واجب کیا ہے تو حضرت عمر ؓ کو ماننا پڑا ۔پس حضرت عمرؓ بھی امیر شریعت نہ رہے۔
    (الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۲۲ ؁ء جلد ۹ نمبر ۵۷)
    بچوں کے نام
    سوال: ایک دوست نے عرض کیا کہ ہم حضرت کرشن اور حضرت رام چندر جی کو نبی مانتے ہیں پھر ان کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام کیوں نہیں رکھتے۔
    جواب: فرمایا:۔ نام تو آپ لوگ نہیں رکھتے اور پوچھتے آپ مجھ سے ہیں ۔میں نے تو کئی نام اس قسم کے رکھے ہیں۔کرشن احمد اور منظور کرشن وغیرہ ۔جو لوگ شرح صدر سے اس قسم کے نام قبول کر لیتے ہیں میں ان کے ایسے نام رکھ دیتا ہوں۔
    دراصل جو نام لوگ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں ان ناموں پر نام رکھنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ہندؤوں سے زبان کی وجہ سے چونکہ بُعد ہے اس لئے عام طور پر لوگوں کی توجہ اس طرف نہیں جاتی،اسی طرح آج کل لڑکیوں کے ناموں کے ساتھ بعض ایسے الفاظ لگانے کا شوق پایا جاتا ہے جو ہمارے نزدیک پسندیدہ نہیں مثلاً اختر ،انجم ،زہرہ اور ثریّا وغیرہ حالانکہ عام طور پر ایسے نام کنچنیوں کے ہوتے ہیں ۔آج کل لڑکیاں فاطمہ ،خدیجہ ،یا زینب وغیرہ نا م سے گھبراتی ہیں ۔
    ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ لڑکیوں کو سمجھائیں کہ وہ ایسے نام نہ رکھا کریں ۔اصل بات یہ ہے کہ لوگ نام کی حکمت کو نہیں دیکھتے بلکہ رواج اور فیشن کو دیکھتے ہیں۔
    (الفضل ۸ اکتوبر ۱۹۶۰ ؁ء )
    ہماری جماعت میں لڑکیوں کے ناموں کے متعلق ایک غلط فہمی ہو رہی ہے جو مشرکانہ ہے اور جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔اگر دوسروں میں یہ غلطی ہو تو اس قدر افسوس پیدا نہیں ہو تا کیونکہ وہ پہلے ہی اسلام سے دور ہیں لیکن ہم لوگ تو وہ ہیں جو اسلام کو خوب سمجھتے ہیں پھر ہمارے اندر وہ نقص کیوں پیدا ہو ۔ہماری ایک بہن کا نام مبارکہ بیگم ہے اورایک کا نام امۃ الحفیظ ۔ایک بہن جو چھوٹی عمر میں فوت ہو گئی تھی اس کا نام عصمت تھا ۔اسی طرح ایک دوسری بہن کہ وہ بھی چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گئی تھی اس کا نام شوکت تھا۔گویا سوائے ایک بہن کے اور کسی کے نام میں خدا تعالیٰ کا نام نہیں آتا۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے وابستگی کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لڑکوں کے ناموں میں احمدکا نام آتا ہے خدا تعالیٰ کا نہیں آتا۔پس مجھے برا لگا کہ خدا تعالیٰ کا نام ہمارے خاندان کے ناموں میں سے جاتا رہے۔چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ لڑکیوں کے نام میں’’امۃ ‘‘کے نام پر رکھا کروں گا تاکہ خدا تعالیٰ کا نام ہمارے گھروں میں قائم رہے ۔چنانچہ ہمارے خاندان میں سے جو لوگ مجھ سے اپنی لڑکیوں کا نام رکھواتے ہیں میں ہمیشہ امۃ کے ساتھ ان کے نام رکھتا ہوں ۔اور جنھوںنے یہ نام نہیں رکھوانا ہوتا وہ مجھ سے پوچھتے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔
    بعض دفعہ حقیقت کو نظر انداز کر کے بغیر سوچے سمجھے نام رکھ دیے جاتے ہیں حالانکہ وہ مشرکانہ ہوتے ہیں ۔چنانچہ اس جلسہ میں تین لڑکیاں ایسی معلوم ہوئیں جن کے نام مشرکانہ تھے ۔۔۔۔ان کا نام امۃ البشیر ،امۃ الشریف تھا۔
    (الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۵۱ ؁ئ)
    شعر گوئی
    نظم کے متعلق میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں ۔نظمیں عام طور پر پڑھی جاتی ہیں ۔میں بھی نظم کو بہت پسند کرتا ہوں اور خود شاعر ہوں ۔مگر اب نہ صرف کوئی شعر کہتا ہی نہیں بلکہ کہہ ہی نہیںسکتا ۔۔۔۔۔جس سے میں نے سمجھ لیا ہے کہ اس طرف سے میری طبیعت ہٹ گئی ہے ۔لیکن اس سے پسندیدگی کے مادہ میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔تو میں خود شاعر ہوں یا شاعر تھا ۔شعروں کو پسند کرتا ہوں اور مجھے رویاء میں بتایا گیا ہے کہ قوم کی زندگی کی علامتوں میں سے ایک علامت شعر گوئی بھی ہے اور میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم شعر کہا کرو۔۔۔۔۔رویاء میں مجھے بتایا گیا ہے کہ اپنی جماعت کے لوگوں کو شعرکہنے کی تحریک کروں۔
    (الفضل ۱۳ جون ۱۹۱۹ ؁ء جلد ۶ نمبر ۹۵ صفحہ ۴)
    رسول کریم ﷺ پر نازل ہونے والے کلام میں کوئی ایک شعر بھی نہیں اور قرآن کریم خود کہتا ہے کہ یہ کلام کسی شاعر کا نہیں ۔اس لئے یاد رکھنا چاہئے کہ جب قرآن کریم کے متعلق یا پہلے نبیوں کی نسبت شاعر کا لفظ آتا ہے تو اس سے مرا دعرف عام والا شاعر نہیں ہوتا بلکہ محض جذبات سے کھیلنے والا انسان ہوتا ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ بھی کبھی شعر کہتے تھے مگر وہ شاعر نہیں کہلا سکتے ۔وہ خود کہتے ہیں
    ؎ کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق
    اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے
    زمیندار اخبار چالیس سال سے اس بات پر تمسخر اڑا تا رہاہے کہ مرزا صاحب شعر کہتے ہیں ۔حالانکہ نہ ان کے شعروں میں کوئی لطافت ہے نہ فصاحت اور نہ زباندانی کی کوئی جھلک۔
    غریب زمیندار تو یہ سمجھتا رہا کہ اس سے وہ مرزا صاحب کی تردید کر رہاہے حالانکہ وہ اس ذریعہ سے احمدیوں کو یہ ہتھیار مہیّا کر رہا تھا کہ باوجود کچھ موزوں کلا م کہنے کے مرزا صاحب شاعر نہیں کہلا سکتے اور ان کے ملہم ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
    (تفسیر کبیر ۔تفسیر سورۃ انبیاء صفحہ ۴۹۳ زیر آیت بَلِ افْتَرٰہُ بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ)
    مسئلہ اشاعت فوٹو حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    ۱: صحیح مقاصد کے لیے فوٹو اتروانا شرعاً جائز ہے چنانچہ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دینی اور جائز مقاصد کی خاطر ہی اپنا فوٹو اتروایا۔
    ۲: ایسے دینی اور جائز مقاصد کی تعیین اور فوٹو کی طرز اشاعت کے فیصلہ کا حق خلیفہ وقت یا آپ کے مقرر کردہ فرد یا ادارہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے۔
    ۳: حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ مامور من اللہ ہیں اس لئے یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ آپ کی فوٹو کی بے جا نمائش سے شرک خفی کا رجحان پیدا ہو جائے۔اسی بناء پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے فوٹو کو درو دیوار پر آویزاں کرنے کی ممانعت فرمائی ہے ۔حضور کا یہ حکم ادارہ جات پر بھی اسی طرح اطلاق پاتا ہے جیسے گھروں اور دوکانوں وغیرہ پر۔
    (الفضل ۱۸ دسمبر ۱۹۶۴ ؁ء فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا،فیصلہ نمبر ۲۰)
    فوٹو اور تصویر میں فرق
    بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ فوٹو اور تصویر میں کیا فرق ہے؟
    میں کہتا ہوں فوٹو میں انسان کے جذبات بدل نہیں سکتے ۔مگر مصور بے شک نقوش تو وہی بنائے گا مگر وہ جذبات کا بالکل برعکس بھی دکھا سکتا ہے مثلاً ایک نہایت ہی پارسا اور متقی انسان کی آنکھوں میں وہ شہوت کے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔اسی طرح وہ ایک نہایت ہی بدکار شخص کو اس کی تصویر میں معصوم ظاہر کر سکتا ہے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے تصویر بنوانے سے منع فرمایا ہے۔فوٹو چونکہ انسان کا کیا بلحاظ نقوش اور کیا بلحاظ جذبات بعینہٖ اصلی عکس ہوتا ہے اور اس میں کسی مصور کے ہاتھ کا کرشمہ نہیں ہوتا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فوٹو کی اجازت دے دی اور چونکہ اس میں بعض پہلو شرک کے بھی تھے اس لئے ساتھ ہی احتیاط کا بھی ارشاد فرمایا۔پس تصویر اور فوٹو میں یہی فرق ہے کہ تصویر کے اندر مصور اپنے ہاتھ کے کرشمہ سے نہایت شریف انسان کو بدمعاش دکھا سکتا ہے لیکن فوٹو کے اندر یہ بات نہیں پائی جاتی۔فوٹو میں وہی نقوش اور وہی جذبات نمایاں ہوں گے جو انسان کے اپنے ہوں گے۔
    (الفضل ۱۲ اگست ۱۹۶۱ ؁ء )
    دستی تصویر اور عکسی تصویر میں بہت فرق ہے ۔عکسی تصویر میں حقیقت اور اصلیت ظاہر ہو تی ہے جیسے خدو خال اصل میں ہوتے ہیں عکسی میں ہوبہو وہی ظاہر ہو جاتے ہیں ۔لیکن دستی تصویر میں ہو سکتا ہے کہ کوئی مصور کسی نبی کی تصویر بنائے اور اس کے چہرے پر نشانات ڈال دے جن سے اس کی معصومانہ صور ت تبدیل ہوجائے اور وہ ایک برے انسان کی شکل میں دکھائی دے یا کسی پاکدامن اور شریف عورت کی آنکھوں میں ایسی علامات بھر دے جن سے وہ شریر ظاہر ہو ۔چونکہ دستی تصویر میں محض اظہار حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ اس میں مصور کے خیالات کا دخل ہوتا ہے اور مصور نیکوں او رپاکبازوں کی تصاویر میں شرارت بھی کر سکتا ہے اور شریف شریر کی شکل میں دکھا سکتا ہے ۔اس لئے آنحضرتﷺ نے تصویر کی ممانعت فرمائی۔اور بذریعہ عکس جو فوٹو لیا جاتا ہے اس کی ممانعت نہیں فرمائی کیونکہ اس سے حقیقت آشکارا ہوتی ہے۔
    (الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۴۶ ؁ء جلد ۳۴نمبر ۹۸)
    سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ اور خود حضور کی تصاویر بکتی ہیں کیا یہ حضور کو پسند ہے؟
    جواب: سوائے کسی خاص ضرورت کے ایسی تصویروں کا خریدنا یا بیچنا میں نہایت ہی ناپسند کر تا ہوں۔
    (الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۲ نمبر ۹۱)
    فوٹو بت پرستی تو نہیں
    سوال: ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو کا ذکرکیا اور عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں یہ بت پرستی ہے؟
    جواب: فرمایا:۔ کیا بت پرستی ہے ؟کیا کسی کی شکل دیکھنا بت پرستی ہے ؟رہا یہ امر کہ رسول کریمﷺ کے وقت ایسا نہیں ہو ا سو اس وقت تو کیمرہ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا ۔رسول کریمﷺ نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ فوٹو نہیں بلکہ تصویر ہے ۔مصور انسانی جذ بات کا اظہا رتصویر میں دکھاتا ہے مگر فوٹو گرافر صرف شکل میں دکھاتا ہے اس میں باطنی جذبات کا اظہار نہیں ہوتا۔انبیاء کی تصویر اس لئے ناجائز ہے کہ انبیاء کا کیریکٹر اپنے اندر گوناگوں خصوصیات رکھتا ہے اور ممکن ہی نہیں کہ کوئی مصور ان کا نقشہ تصویر میں دکھا سکے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نہیں بلکہ فوٹو ہے اور یہ محض شکل ہے ۔مصور کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تصویر کے چہرہ پر ایسے اثرات ڈالے جس سے اس انسان کے اخلاق پر روشنی پڑے اور انبیاء کے باطنی کمالات کا اظہار کوئی مصور نہیں کر سکتا ۔بالکل ممکن ہے کہ ایک مصور رسول کریم ﷺکی تصویر کھینچے مگر آپ کے چہرہ پر وحشت کا اثر ڈالے وہ تصویر تو ہو گی مگر لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہو گی ۔حدیث میں جو تصویر کا ذکر آتا ہے اس سے مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہی مراد ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی صورت کا عکس ہے اور عکس کو تو وہابیوں نے بھی جائز تسلیم کیا ہے ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشہ میں انسان اپنی شکل دیکھے اور اگر عکس ناجائز ہے تو پھر شیشہ دیکھنا بھی جائز نہیں ہونا چاہئے ۔اسی طرح پانی میں بھی عکس آجاتا ہے مگر اسے کوئی ناجائز نہیں کہتا ۔ان میں اور فوٹو میں فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو تو انسان کی شکل محفوظ رکھتا ہے مگر شیشہ یا پانی کا عکس محفوظ نہیں رہتا۔
    (الفضل ۱۴ اپریل ۱۹۳۱ ؁ء جلد ۱۸ نمبر ۱۱۹)
    سوال: ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ ایک احمدی نے مندرجہ ذیل فتویٰ دیا ہے۔’’ہم تصویر کو بالکل ناجائز سمجھتے ہیں ۔اگر مرزا صاحب کی تصویر کو خراب کیا جائے یا جلایا جائے تو کوئی گناہ نہیں ۔یا خراب غلیظ جگہ پر پڑی ہو تو کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ ‘‘ کیا یہ فتویٰ صحیح ہے ۔اگر نہیں تو اسے جماعت سے فارغ کریں؟
    جواب: ہماری جماعت فتویٰ دینے والی جماعت نہیں ۔اگر کوئی شخص اپنے علم کی کمزوری کی وجہ سے غلط فتویٰ دیتا ہے تو ہم اتنا ہی کہیں گے کہ اس نے غلطی کی ۔جس بات پر اس کو بولنے کاحق نہیں تھا اس میں وہ بولا ۔نہ یہ کہ اس کو احمدیت سے خارج کردیں یا کافر قرار دے دیں۔حضرت کی تصویر کو جو شخص جان بوجھ کر ہتک کے لئے بگاڑتا ہے درحقیقت وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک کرتا ہے اور اگر وہ شخص اس کو اس لئے جلاتا یا پھاڑتا ہے کہ اس کے ذریعہ شرک پھیلنے کا خطرہ ہو تو وہ ایک ثواب کا کام کرتا ہے ۔فتویٰ دینے والے نے جس نیت سے فتویٰ دیا ہے اس کا حال خدا تعالیٰ جانتا ہے۔میں تو دلوں کا حال نہیں جانتا۔
    (الفضل ۱۵ اگست ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳نمبرجلد ۳ نمبر ۲۲)
    خلافت جوبلی منانا
    ایک معتدبہ عرصہ تک کسی نیک کام کے بخیر و خوبی سر انجام پانے پر اگر اللہ تعالیٰ کے شکرانے کے طور پر انفرادی یا قومی سطح پر خوشی منائی جائے تو اسے بدعت سیئہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔سوائے اس کے کہ خوشی کا اظہار فی ذاتہٖ غیر شرعی رنگ رکھتا ہو۔البتہ خوشی کے اظہار کے لئے کسی نصّ شرعی کے بغیر کسی خاص عرصہ پر تواتر اختیا رکرلینا بدعت ہے جو آئندہ قبیح رسومات کا پیش خیمہ بن سکتی ہے لہذا خلافت ثانیہ کے دوسرے پچیس سالہ دور کے کامیابی اور کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہونے پر خلافت جوبلی کی تکرار یا کسی جشن کا انعقاد کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا اس لئے اسے نہیں منانا چاہئے۔
    ( الفضل ۱۸ دسمبر ۱۹۶۴ ؁ء فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱۹)
    طبّی ریسرچ کے لئے نعش کی وصیت
    بعض لوگ وصیت کر جاتے ہیں کہ ان کی وفات پر ان کی نعش طبّی تجربات کے لئے وقف ہو گی۔یا یہ کہ ان کا معدہ ،دل یا دماغ یا آنکھیں نکال لی جائیں اور طبّی ریسرچ کے لئے استعمال کی جائیں ۔آج کل تو ایسے تجربات بھی ہو رہے ہیں کہ مرنے والے کی آنکھیں نکال کر محفوظ کر لی جاتی ہیں اور اندھوںکے فٹ کر دی جاتی ہیں۔یا جو لاشیں لا وارث ہو جاتی ہیںوہ طبی ریسرچ کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہیں یا جو قدیم لاشیں دستیاب ہوتی ہیں انہیں طبّی ریسرچ کے کام میں لایا جاتا ہے۔ضرورتاًبیان کر دہ سب صورتیں جائز ہیں ۔لیکن میّت کا احترام اور ورثاء کی اجازت ضروری ہے۔نیز موصی لہٗ کو اس کے متعلق کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہو گا۔
    درست ہے۔
    (الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۶۴ ؁ء ۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱۴ )
    حفاظت کمرہ رہائش و وفات حضرت امّان جان ؓ
    حضرت ام المومنین رضی اللہ عنھا ربوہ میں جس کچے کوٹھے میں قیام پذیر تھیں اور جو اب تک موجود ہے اس کا نقشہ اور پیمائش اور فوٹو محفوظ کر لینا شرعاًجائز ہے تاکہ تاریخی لحاظ سے یہ امور محفوظ رہ جائیں ۔لیکن اس کمر ہ کو محفوظ رکھنے سے بعض خلاف شریعت رسوم اور قباحتیں پیداہو جانے کا خطرہ ہے۔
    حضور نے فرمایا :۔ درست۔
    (الفضل ۱۱ ستمبر ۱۹۶۴ ؁ ء فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا ۔فیصلہ نمبر ۱۶)
    نذر کا پورا کرنا
    سوال: جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام منارہ بنوا رہے تھے میرا چھوٹا بھائی پیدا ہوا تھا اور اتفاق سے وہ بیمار ہو گیا ۔اس بیماری میں ہم نے یہ نذر مانی کہ ہم اس کو منارۃ المسیح کا مؤذن بنا دیں گے ۔اب وہ لڑکا تیرہ چودہ سال کا ہو گیا ہے۔اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟
    جواب: لکھوایا:۔ منارۃ المسیح دراصل تبلیغ اسلام ہی ہے ۔اس لڑکے کو اسلام کی تعلیم دیں ۔جب تبلیغ کرے گا تو منارۃ المسیح کا مؤذن ہو جائے گا مگر تبلیغ بغیر قادیان میںرہنے کے نہیں آتی۔
    (الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۱۵ ؁ء جلد ۳ نمبر ۳۷)
    سوال: میں نے منت مانی تھی کہ اگر مجھے مربع مل جائے تو مبلغ ۔۔۔۔۔روپے ہر فصل کی پیداوار سے دیتا رہوں گا مگر وہ مربع بجائے سارا ملنے کے ہم تین شخصوں کو ملا ہے اب اس منت کے متعلق کیا کرنا چاہئے؟
    جواب: فرمایا:۔ نذر کے لحاظ سے تو آپ کو تیسرا حصہ دینا چاہئے۔
    (الفضل ۱۱ ستمبر ۱۹۲۳ ؁ء )
    پیشہ زراعت
    سوال: حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺنے کسی شخص کے گھر میں آلات کشاورزی رکھے دیکھا تو فرمایا کہ اس گھر سے دین اور برکت اٹھ جائے گی۔احیاء العلوم میں ایک حدیث مذکور ہے کہ ’’اھل ال۔۔۔۔۔۔‘‘یعنی دیہات والے قیدیوں کی مانند ہیں ۔
    جواب: فرمایا:۔ ہمیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریباً تمام صحابہ زمیندار تھے ۔مہدی کے متعلق حدیثوں میں ہے کہ ’’حارث حرّاث‘‘ ہوگا۔وہ حدیث جس کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے یہی مراد ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو زراعت کے کام میں مشغول کر دیتا ہے اور دین کی طرف توجہ نہیں کر تا وہ ذلیل ہو جاتاہے۔زمینداروں میں یہ نقص عام پایا جاتا ہے کہ وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ بالکل نہیں کرتے ۔ہمیشہ ان کی یہ شکایت رہتی ہے کہ اس وقت فلاں فصل کے کاٹنے کا وقت ہے اور اب فلاں فصل کے بونے کا وقت ہے اور اس وقت پانی دینے کا وقت ہے۔اس نقص سے اگر انسان بچا رہے تو یہ پیشہ ایک بہترین پیشہ ہے اور اب تو اس پیشہ کی یہاں تک ترقی ہو گئی ہے کہ بالکل تجارت کے ہی رنگ میں اس کو کہا جا سکتا ہے یعنی کواپریٹو سوسائٹیوں کے ذریعہ سے۔
    اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ فتوحات کا زمانہ تھا اس وقت میں زمینداری کے فوائد کو عام اجتماعی فوائد پر فوقیت دینا موجب ذلت اور رسوائی تھا ۔پس ایسے لوگوں کے حق میں جو کچھ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ اپنے رنگ میں درست ہے کہ زراعت ایک معزز پیشہ نہیں ہے۔
    (الفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۲۰ ؁ء )
    گوبر(پاتھی ) سے کھانا بنانا
    لوگ گوبر جیسی پلید چیز کو پاتھ کر گھروں میں جلاتے ہیں حالانکہ گوبر کا جلانا صحت کے لئے بھی مضر ہے اور اقتصادی نقصان کا بھی موجب ہے ۔دوسرے ممالک میں لوگ گوبر کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور کھاد بنا کر اپنی زمینوںمیں ڈالتے ہیں اسی طرح وہ گوبر سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور گندگی سے بھی بچتے ہیں۔۔۔۔۔
    یہاں کی عورتیں جو اپنے آپ کو بڑی صاف ستھری سمجھتی ہوں گی اس کو اگر گھر کی صفائی کا بہت زیادہ خیال آجائے تو جانوروں نے جو گوبر کیا ہو اس کی زیادہ سے زیادہ یہ احتیاط کرے گی کہ اپلے بنا کر گھر میں جلائے گی۔جس سے ہاتھ بھی نجس ہو ں گے اور جو چیز اس سے پکائی جائے گی وہ بھی مکروہ ہوگی یعنی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے جانوروں کے گوہ کے ساتھ روٹی پکائی۔تورات میں جن قوموں پر *** کی گئی ہے انہیں کہا گیا ہے کہ تم گوہ سے روٹی پکاؤ گے ۔یعنی جو چیز غلّہ کو بڑھاتی ہے اور ایک زمیندار کے لئے نہایت مفید چیز ہے اس کو وہ جلاتا ہے اور ایک طرف تو اتنی مفید چیز کو ضائع کر دیتا ہے اور دوسری طرف اس سے ایسا کام لیتا ہے جو بالکل نجس ہے۔حالانکہ زمیندار کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنی زمینوں میں درخت اگائیں اور ان کی لکڑی بھی جلایا کریں اور دوسرے فوائد بھی اٹھائیں تاکہ وہ گوہ سے روٹی پکانے والی *** سے بچ جائیں۔۔۔۔اگر زمیندار اپنی زمینوں میں سڑک کے کنارے درخت اگائے اور اپنے گھر میں درخت لگائے تو اس کا گھر بھی خوشنما ہو جائے گا ،وہ لکڑی بیچ بھی سکتا ہے ۔۔۔اور گوبر جلانے کی بجائے اپنے کھیت میں ڈالے گا۔
    (الفضل ۲ دسمبر ۱۹۴۶ ؁ ء جلد ۳۴ نمبر)
    مشترکہ بنائی ہوئی مسجد میں نماز ادا کرنا
    سوال: لوگ مل کر ایک مسجد بناتے ہیںپھر ان میں سے کچھ لوگ احمدی ہو جاتے ہیں جنہیں غیر احمدی وہاں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں ۔کیا احمدی وہاں نماز پڑھنے سے رک جائیں؟
    جواب: یہ تو سوال ہی غلط ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ ایسے معاملات میں حالات پر غور کر لینا چاہئے ۔اگر وہ احمدی سمجھتے ہیں کہ بغیرفساد کے وہ اپنا حق لے سکتے ہیں تو انہیں اپنا حق لے لینا چاہئے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس جھگڑے میں لمبا وقت صر ف ہوگا تو مومن کا کام یہ ہے کہ جتنا وقت اس کا مقدمہ پر خرچ ہو سکتا ہے اتنا وقت تبلیغ پر خرچ کرے اور مقدمہ بازی نہ کرے۔
    (الفضل ۷ مئی ۱۹۶۰ ؁ئ)
    وطن کی آزادی کے لئے لڑنے والا شہید ہے
    انڈونیشیا کی آزادی کی تحریک میں حصہ لیتے ہوئے مرنے والا شہید ہے یا نہیں ؟اگر نہیں تو مَنْ قُتِلَ دُوْنَ اَصْلِہٖ وَ مَالِہٖ فَھُوَ شَھِیْدٌ کا کیا مطلب ہے؟
    فرمایا:۔ آزادی کی کوشش میں حصہ لینے والا شہید تو ضرور ہے مگر یہ شہادت دینی نہیں ورنہ ہر انگریز اور جرمن بھی شہید ہونا چاہئے ۔شہید سے مراد یہ ہے کہ قوم کا ہیرو ہو گا یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہیرو ہو گا۔خدا کا ہیرو وہی ہوگا جو دین کے لئے شہید ہو۔
    (الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۴۶ ؁ء صفحہ ۳)
    جس شخص کو دین کے کام پر لگایا جائے وہ مستعفی نہیں ہو سکتا
    شرعی حکومت میں استغفاء کا قانون نہیں ۔حکومت کے ماتحت وہ کام کرتے ہیں جو ان کو پسند ہوتے ہیں ۔لیکن شریعت میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ کام کریں جو لوگوں کو پسند ہو بلکہ وہ کرنا پڑتا ہے جس کا شریعت حکم دے اور اس شخص کا حق نہیں ہوتا کہ وہ جواب دے۔
    رسول کریم ﷺ نے اسامہؓ کو کمانڈر انچیف مقرر کیا ۔یہ نہیں کہ وہ اہلیت زیادہ رکھتے تھے بلکہ وہ ایک حکم تھا جس کی اطاعت اسامہؓ پر فرض تھی ۔اسامہؓ نے بھی انکار نہیں کیا اور اسامہؓ کے ماتحت عمر ؓ اور عمرو ابن العاص جیسے شخصوں کو کر دیا جن کے نام سے ایشیاء کے لوگ تھرّا اٹھتے تھے۔۔۔۔۔
    پس ایسی حالت میں اسامہ ؓ نے اپنے تئیں اس کام کے جو اسے سپرد کیا تھا ناقابل ظاہر کر کے علیحدگی نہیں چاہی اور یہ نہیں کہا کہ میں استغفیٰ پیش کرتا ہوں۔اور اگر وہ ایسا کرتا تو اس کے معنے ہوتے کہ میں دین سے علیحدہ ہوتا ہوں۔
    (الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۱۹ ؁ء جلد ۷ نمبر ۳۹)
    اصول فقہ ۔استخراجی مسائل
    یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب بھی کسی مذھب پرلمبا زمانہ گزرجاتا ہے اس کے ساتھ فقہی پیچیدگیاں شامل ہو جاتی ہیں ۔فقہ کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جو مسائل الٰہی کتاب میں نصّ کے طور پر نہیں آئے ان کا استخراج کیا جائے۔لیکن آہستہ آہستہ جب فقہ میں ضعف آتا ہے خود اصل مسائل میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔اس قسم کے نقائص کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اباحت کی طرف لے جاتے ہیں اور کچھ ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو ظاہر کی طرف انتہاء درجہ کی شدت کے ساتھ بلاتے ہیں۔
    (تفسیر کبیر۔تفسیر سورۃ البیّنۃ صفحہ ۳۶۳)
    محکمہ فتاویٰ
    رسول اللہ ﷺاور آپ کے بعد زمانہ خلفاء میںقاعدہ تھا کہ شرعی امور میں فتویٰ دینے کی ہر شخص کو اجازت نہ تھی۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو اتنی احتیاط کرتے تھے کہ ایک صحابی نے (غالباً عبد اللہ بن مسعود ؓ نے)جو دینی علوم میں بڑے ماہر اور ایک جلیل القدر انسان تھے ایک دفعہ کوئی مسئلہ لوگوں کو بتایااور اس کی اطلاع آپ کو پہنچی تو آپ نے فوراً ان سے جواب طلب کیا کہ تم امیر ہو یا امیر نے تم کو مقرر کیا ہے کہ فتویٰ دیتے ہو ۔دراصل اگر ہر ایک شخص کو فتویٰ دینے کا حق ہو تو بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور عوام کے لئے بہت سے فتوے ابتلاء کا موجب بن سکتے ہیںکیونکہ بعض اوقات ایک ہی امر کے متعلق دو مختلف فتوے ہوتے ہیں اوردونوں صحیح ہوتے ہیں مگر عوام کے لئے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ دونوں کس طرح درست ہیں اس لئے وہ اس پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں مثلاً نماز میں کئی باتیں مختلف طور پر ثابت ہیں ۔اب کئی لوگ اس پر لڑتے ہیں کہ فلاں یوں کر تا اور فلاں اس کے خلاف کرتا ہے حتیٰ کہ وہ کسی کو اپنے خیال کے ذرا سا خلاف کرتے ہوئے بھی دیکھیں تو اس کے پیچھے نماز توڑ دیتے ہیں حالانکہ وہ اگر سمجھیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ دونوں باتوں میں کچھ حرج نہ تھا ۔غرض عوا م جو واقف نہ ہوں ان کے سامنے دو جائز باتیں بھی پیش کی جائیں تو وہ لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔اس لئے فتویٰ دینے کے لئے ایک خاص محکمہ مقرر کیا گیا ہے۔ہر قسم کے فتوے دینا اس کا کام ہوگا اور کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی فتویٰ دے۔
    (عرفان الٰہی صفحہ ۸۱)
    کیا عورتیں ملازمت کر سکتی ہیں
    عورتیں کہتی ہیں کہ ہم نوکریاں کریں گی حالانکہ اگر وہ نوکریاں کریں گی تو ان کی اولادیں تباہ ہوجائیں گی۔وہ بچوں کی تربیت کیونکر کر سکیں گی۔یہ غلط قسم کی تعلیم ہی ہے جس نے عورتوں میں اس قسم کے خیالات پیدا کر دیے ہیں ۔
    ولایت میں عورتوں کے اس قسم کے طریق اختیار کرنے پر ایک شور برپاہے چنانچہ جن ملکوں کے لوگوں میں اولادیں پیدا کرنے کی خواہش ہے وہ یہی چاہتے ہیں کہ عورتوں کے لئے تمام ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے جائیں اور جس کام کے لئے عورتیں پیداکی گئی ہیں وہ ہی کام کریں۔
    (مصباح ۱۵؍۱ جنوری ۱۹۳۹ ؁ء ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ۳۲۶)
    ۲:۔
    پھر تعلیم جو تم پاتی ہو اس سے تمہارا مقصد نوکری کرنا ہوتا ہے ۔اگر نوکری کرو گی تو بچوں کو کون سنبھالے گا؟ خود تعلیم انگریزی بری نہیں لیکن نیت بد ہوتی ہے اور اگر نیت بد ہے تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔اگرغلط راستے پر چلو گی تو غلط نتیجے ہی پیدا ہوں گے۔جب لڑکیاں زیادہ پڑھ جاتی ہیں تو پھر ان کے لئے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں ۔ہاں اگر لڑکیاں نوکریاں نہ کریں اور پڑھائی کو صرف پڑھائی کے لئے حاصل کریں ۔اگر ایک لڑکی میٹرک پاس ہے اور پرائمری پاس لڑکے سے شادی کر لیتی ہے تو ہم قائل ہو جائیں گے کہ اس نے دیانتداری سے تعلیم حاصل کی ہے۔
    (الفضل ۲۴ مئی ۱۹۴۴ ؁ ء نمبر ۱۲۰ جلد ۳۲ ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ۱؍۳۸۹)
    ۳:۔
    کالج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہو سکتی ہیں ۔کچھ تو وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعددنیوی کام کریں اور کچھ وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کریں ۔میں دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت بھی دنیا سے الگ نہیں ہو سکتی اور دنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔اسلام نام ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دنیوی چیز ہے پس جب اسلام دونوں چیزوں کا نام ہے اور جب وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کا کام کرے اور وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرے دونوں اپنے آپ کو مسلمان۔۔۔۔۔تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جو لڑکی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دنیا کا کام کرے اسے معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کرنا بھی دین کاحصہ ہے۔
    (مصباح جولائی ۱۹۵۱ ؁ء ۔الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲؍ صفحہ۱۱۷)









    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    مکرمی محترمی سید شمس الحق صاحب
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ
    آپ نے جو فقہی مسائل بیان فرمودہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جمع کئے ہیں مجھے ان کے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔آپ نے ماشاء اللہ خوب محنت سے کام کیا ہے اور اچھی خاصی ترتیب سے انہیں جمع کیا ہے۔اگر انہیں شائع کیا جائے تو یہ دوستوں کے لئے بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں ۔
    اللہ تعالیٰ آپ کو اس کام کی جزائے خیر دے۔
    والسلام
    خاکسار
    ۔۔۔۔۔
    25-3-88
     

اس صفحے کو مشتہر کریں