1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد2

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد2

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ماخذاعتقادات و عبادات و معاملات اسلامیہ
    از حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٭٭٭ مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں۔
    (۱)قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی الایئشوں سے پاک ہے۔
    (۲) دوسری سنت اور اس جگہ ہم اہلحدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثیں کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت اور چیز ہے سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرتﷺ کا فعلی روش ہے جو اپنے اندر تاثر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ہاتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا یہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ ﷺ کا فعل اور قدیم سے عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہ السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لئے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ یہی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے یہی عمل کراتی ہیں ۔
    (۳)تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثارہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرتﷺ سے قریباً ڈیڑھ سو برس بعد مختلف روایوں کے ذریعہ سے جمع کی گئی ہیں پس سنت اور حدیث میں ٭٭٭ ہے کہ سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنی ساتھ ٭٭٭ رکھتا ہے جس کو آنحضرتﷺ نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا اور وہ یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے اور جس طرح آنحضرتﷺ قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے ایسا ہی سنت ٭٭٭ کے لئے یہی مامور تھے پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواتر ہی یقینی ہے۔یہ دونوں خدمات آنحضرت ﷺ اپنے ہاتھ سے بجالائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا تو آنحضرتﷺ نے خدا تعالیٰ کے اس قول کل اپنے فعل سے کھول کر دکھلادیا اور عملی رنگ میںظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں کے لئے یہ رکعات ہیں۔ایسا ہی سچ کر دکھلایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزارہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑی زور سے قائم کر دیا۔ پس عملی نمونہ جو اب تک اَمت میں تعامل کے رنگ میں مشہور ومحسوس ہے اس کا نام سنت ہے لیکن حدیث کو آنحضرتﷺ نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اُس کے جمع کرنے کے لئے کوئی اہتمام کیا۔ کچھ حدیثیں حضرت ابوبکرؓ نے جمع کی تھیں۔ لیکن پھر تقویٰ کے خیال سے اُنہوں نے وہ سب حدیثیں جلا دیںکہ یہ میرا٭٭٭ بلاواسطہ نہیں ہے خدا جانے اصل حقیقت کیا ہے پھر جب وہ دور صحابہ ؓ کا گذر گیا توبعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اِس طرف پھیردیا کہ حدیثوں کو ہی جمع کر لینا چاہئے تب خدیثیں جمع ہوئیں اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ اکثرحدیثوں کے جمع کرنیوالے بڑے متقی اور پرہیز کار تھے انہوں نے جہاں تک اُن کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہاجو ان کی رائے میں موضوعات میں سی تھیں اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی بہت محنت کی مگر تاہم چونکہ وہ ساری کاروائی بعدازوقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہے بااین ہمہ یہ سخت ناانصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور نکمی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ اُن حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتی یہودیوں میں بھی حدیثیں ہیں اور حضرت مسیح کے مقابل پر بھی یہی فرقہ یہودیوں کا تھا جو عامل بالحدیث کہلاتا تھا لیکن ثابت نہیں کیا گیا کہ یہودیوں کے محدثیں نے ایسی احتیاط سے وہ حدیثیں جمع کی تھیں جیسا کہ اسلام کے محدثیں نے تاہم یہ غلطی کی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے ناآشنا تھے کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے اُن میں پیدا ہوگیا تھا تمام حدوداور فرائض اسلام ان کو سکھلادئے تھے اس لئے یہ بات بالکل ٭٭٭ کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجود ہی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی تعلیم کا کچھ درج نہ تھا کیونکہ قرآن اور سلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا تاہم حدیثوں نے اس نور کو زیادہ کیا گو نوراعلیٰ نور ہو گیااور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہوگئیں اورا سلام کے بہت سے فر قے جو بعد میں پیدا ہوگئے ان میں سے سچے فرقہ کو احادیث صحیحہ سے بہت فائدہ پہنچا پس مذہب اسلم یہی جبکہنہ تو اس زمانہ کے اہل حدیث کی طرح حدیثوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جاوئے کہ قرآن پر وہ مقدم ہیں اور نیز اگر ان کیقصیصریح قرآن کے بیانات سے مخالف پڑیں تو ایسا نہ کریں کہ حدیثوں کیقصوں کو قرآن پر ترجیح دی جاوئے اور قرآن کو چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ چاہئے کہ قرآن اور سنت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جاوئے اور حدیث قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسروچشم قبول کیا جاوئے یہی صراط مستقیم ہے مبارک وہ جو اس کے پابند ہوتے ہیں نہایت بد قسمت اور نادان وہ شخص ہے جو بلحاظ اس قاعدہ کے حدیثوں کا انکار کرتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود کا اپنی جماعت کو قرآن و سنت و احادیث نبویہ وفقہ حنفی پر عمل کرنے کی وصیت
    امام علیہ السلام ٭٭٭ ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خوا ہ کیسی ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کریں کیونکہ ٭٭٭کثرت خداکے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلے کے اپنے خدا داد اجتہاء سے کام لیں لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پائیں تو اس حدیث کو چھوڑ دی۔
    حضرت مسیح موعود کی مقلدوں و غیر مقلدوں کی نسبت رائے
    امام علیہ السلام٭٭٭ اس میں کیا شک ہے کہ مدارنجات و رضا مندی حضرت باری ٭٭٭ اتباع رسولﷺہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قلاان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ لیکن اس دوسری بات میں بھی کچھ شک نہیں کہ آج کل جو دوگروہ اِس ملک میں پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک گروہ اہل حدیث یا موحد کہلاتے ہیں اور دوسرے گروہ اکثر حنفی یا شافعی وغیرہ ہیں اور دونوں گروہ اپنے تئیس اہل سنت سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے ایک گروہ نے تفریط کی راہ لی اور دوسرے گروہ نے افراط کی اور اصل منشائے ٭٭٭ کو یہ دونوں گروہ نے ہر ایک طبقہ کے مسلمان اور ہر ایک مرتبہ کی عقل کو اس قدر آزادی دے دی ہے جس سے دین کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور درحقیقت اسی آزادی سے فرقہ ٭٭٭ بھی پیدا ہو گیا ہے جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت سیدنا بنی علیہ السلام اور خدا کے پاک کلام کی باقی نہیں رہی۔جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لاعیسّہ الا المطہّرون اور ایسا ہی حدیث نبوی میں بھی ہے کہ تم دیکھ لیا کرو کہ اپنے دین کو کسی سے لیتے ہو پس یہ کیونکر ہو سکے کہ ہر ایک شخص جس کو ایک کامل حصہ تقویٰ کا بھی حاصل نہیں اور نہ وہ بصیرت اس کو عطا کی گئی ہے جو پاک لوگوں کو دی جاتی ہے وہ جس طرح چاہے قرآن کے معنی کرے اور جس طرح چاہے حدیث کے معنی کرے بلکہ بلاشبہ وہ ضلواواضلو کا مصداق ہو گا یہی خدا تعالیٰ کا بھی منشاء تھا کہ تما م لوگوں کو اس قدر آزادی دی جائے تو پھر انبیاء علیہ السلام کے بھیجنے کی کچھ بھی ضرورت نہ تھی بلکہ خداتعالیٰ کی قدرت کاملہ سے صرف آسمان بغیر توسط کسی انسان کے قرآن شریف نازل ہو سکتا تھا۔ پس جب کہ یہ سلسلہ ہدایت الٰہی کا انسانی توسط سے ہی شروع ہوا ہے اور توسط اُن لوگوں کا جو خدا سے ہدایت پاتے ہیں۔ پس اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہی طریق قیامت تک جاری رہے گا اس کی طرف اشارہ وہ حدیث کرتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر مجدو معبوث ہوگا اور اس کی طرف یہ آیت کریمہ اشارہ کرتی ہے ۔انا نحن نزلنا الذکر وانالہ لحافظون لینے خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اِس دین کی محافطت اپنے ذمہ لی ہے پس جبکہ خدا کے ذمہ اس دین کی محافطت ہے تو اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ محافطت کے بارہ میں جو قدیم قانون خدا کا ہے اِسی طریق اور منہاج سے وہ دین اسلام کی محافطت کرے گا۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اِللہِ تَبْدِیْلااور وہ طریق مجد دین ومصلحین کا ہے۔ غرض موحدین نے تو حد سے زیادہ بے قیدی اور آزادی کا راستہ کھول دیا ہے۔ بغل میں مشکوٰۃ یا بخاری یا مسلم چاہئے اور عربی خوانی کی استعداد پھر ایسے اشخاص کو جسب رائے موحدین کسی امام کی ضرورت نہیں۔اور فرقہ مقلدین اس قدر تقلید میں غرق ہیں کہ وہ تقلید اب بت پرستی کے رنگ میں ہوگئی ہے غیر معصوم لوگوں کے اقوال حضرت سیدنا رسول اللہ ﷺ کے قول کے برابر سمجھے جاتے ہیں صدہا بدحات کو دین میں داخل کر لیا ہے ٭٭٭٭٭٭ ہیں جس طرح ہمارے ملک کے ہندواذان نماز پر خوب جانتے ہیں کہ لَاَصَلٰوۃَٖ اِلّابِفَاتِحَتہِ الکِتَابِحدیث صحیح ہے اور قرآن کریم سورۃ فاتحہ سے ہی شروع ہوا ہے مگر پھر اپنی ضد کو نہیں چھوڑتے پس اس تنازع میں فیصلہ یہ ہے کہ اہل بصیرت اور معرفت اور تقویٰ اور طہارت کے قول اور فعل کی اس حدتک تقلید ضروری ہے جب تک کہ ٭٭٭معلوم نہ ہو کہ اس شخص نے ٭٭٭ قرآن اور احادیث نبویہ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہر ایک نظروقایق دنیا تک پہنچ نہیں سکتی لَاعَیَسَّہٗ اِلّاَاْلُطَہَّرُونمطہر کا دامن پکڑنا ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ شرط ہے کہ وہ شخص جس کی ان شرطوں کے ساتھ تقلید کی جاوئے۔ معضلات دین جو حالات موجودہ زمانہ کے موافق پیش آئیںاس سے حل کر سکیں اسی کی طرف اشارہ صداقت من لم یعرف امام زمانہ الحکرتی ہے۔ہاںجس قدرایمہ اربعہ ؓ یا اُن کے شاگردوں نے دین میں کوشش کی ہے حتی المقدور اُن کی کوششوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور ان بزرگوں کے اجتہادات کو نیک ظن کے ساتھ دیکھنا چاہئے ان کا شکر کرنا چاہئے اور تعظیم اور نیکی کے ساتھ ان کو یاد کرنا چاہئے اور ان کی عزت اور قبولیت کو رد نہیں کرنا چاہئے٭٭٭
    قرآن میں حقیقی نسح وحقیقی زیادہ جائزہ نہیں
    امام علیہ السلام٭٭٭ لوگ قرآن کریم کے دقیق اشارات اور اسرار کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط اور استخراج کرنے پر قادر نہیں اس لئے وہ احادیث صحیحہ نبویہ کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ قرآن کریم پر کچھ زائد بیان کرتے ہیں یا بعض احکام میں اُس کی ناسخ ہیں اور نہ زائد بیان کرتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے بعض مجمل اشارات کی شاخ ہیں ۔قرآن کریم آپ فرماتا ہے۔مَانَسْسَحْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُْسِہاَنَاْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَااَوْمِثْلِھَایعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت دیسی ہیں یا اس سے بہتر نہیں لاتے پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرمادیا ہے کہ ٭٭٭آیت کا آیت سے ہوتا ہے اس وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ نسخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے ہاں علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کے ور سے مشہور حدیث سے آیت منسوخ ہو سکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے۔ کہ متواترحدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محدثین خبرواحد سے بھی نسخ کے قائل ہیںلیکن قایلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طورپر حدیث سے آیت منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر ٭٭٭ جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے جائز ہے لین ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادہ قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اِس کی تکذیب لازم آتی ہے نور الا٭٭٭جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ(۹۱)میں لکھا ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اس عبارت مذکورہ بالامیں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے موید ہیں بیان کئے جائیں تو اس کے لئے ایک دفتر چاہئے الہذا اصل حص الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخلف ہے وہ مردوہ ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔ کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرین سے مستخرح اور مستنبط کئے گئے ہیں ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباظ ٭٭٭ رسول اللہ یا اس شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر ایک کاکام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق ومعارف و قیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کا وعدہ ہے۔لاعیّسہ الا المطہرون اور جیسا کہ وعدہ ہے یوء تی الحکمتہ من یشاء ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیرًاکثیرًا۔ اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں گو عوام اور علمائے ظواہر کو اس طرف راہ نہیں لیکن انکار اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مروہ کے لئے بھی معیار اور محک سے قرآن کریم نا م عام طور پر قول فیصل اور فرقان اور میزان اور امام اور حکم اور نور ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو ٭٭٭ اختلافات کے دور کرنے کا آلہ ٹھہرایا ہے اور فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل اور ہر ایک امر کا بیان ہے۔
    اختلاف مابین پیروانِ ائمہ اربعہ وغیرہ فرق اسلامیہ و غرض بعثت مسیح موعود السلام
    ٭٭٭٭٭ امت کے کئی فرقے بن گئے اور ملت میں اختلاف پیدا ہوگیا بعض ٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    حضرت مسیح موعود کی رائے حضرت امام ابوحنیفہ کی نسبت
    امام بزرگ ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بعض تابعین کو بھی دیکھا تھا اور ٭٭٭فانی فی سبیل اللہ اور علم دین کا ایک ٭٭٭ تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اُس کا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے امام بزرگ ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات علم اثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ٭٭٭پر خدا تعالیٰ رحمت کرے انہوں نے اپنے متکوب میں لکھا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔
    ارکان وضو
    ازامام ہمام حضرت مسیح موعودومہدی موعود علیہ السلام۔ وضو کرنا ہاتھ پیر اور منہ دھونا ومسح سر ہے
    وضو سے ازالہ گناہ
    حضرت مسیح موعود٭٭٭ یہ جو لکھا ہے کہ وضو کرنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ خداتعالیٰ کے چھوٹے چھوٹے حکم بھی ضائع نہیں جاتے اور ان کے بجالانے سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں۔
    قہقہ و نکسیر اور قہ سے وضو کا ٹوٹنا
    سوال :نکسیر اور قے اور قہقہ سے وضو ٹوٹ جاتاہے یا نہیں؟
    جواب :(از حکیم الامتہ مولوی نورالدین صاحب)نکسیر اور قہ سے وضو ٹوٹنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ میری تحقیق میں وضو نہیں ٹوٹتا اور نہ قہقہ سے ہاں احتیاط اور بات ہے۔
    حالت جنابت میں خوف سردی سے تیمم کرنا
    سوال : محتلم صبح کی نماز کے لئے بوجہ ٭٭٭ اور بزدلی اور خوف سردی کے غسل کرلینے سے عاری ہے تو نماز کیوں کر ادا کرے آیا بعد طلوع آفتاب غسل کر کے ادا کرئے یا پہلے کسی طرح تیمم کرے وغو کرنے سے عاری نہیں صرف اس وقت غسل کرنے سے وہم میں پڑھتا ہے۔
    جواب:( حضرت حکیم اُلامتہ )صبح کی نماز بوجہ خوف سردی تیمم سے جائز ہے جس کو مرض کا ڈر ہو اور مسلمان بزدل نہیں ہوا کرتا۔
    بخالت جنابت و مباشرت خداتعالیٰ کا نام لینا قرآن و درود و استغفار پڑھنا
    سوال: حالت جنابت، حالت مباشرت اور جائے ضرور میں اگر کسی امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں پیدا ہوا تو آیا زبان سے اُس کا اظہار باالفاظ الحمدللہ وغیرہ جو اکثر بے اختیاط ہو جاتا ہے جائز ہے یا نہیں۔
    جواب:( از حکیم الامت) نبی علیہ السلام ہر وقت خدا کو یاد کرتے تھے۔ البتہ بول وبراز میں تصریح سے ثابت نہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے منہ سے فرمایا ہو مگر پہلی حدیث سے پتہ لگ سکتا ہے۔
    سوال: جنبی بحالت جنابت قرآن شریف یا درود شریف و استغفار پڑھ سکتا ہے
    مسجد میں بحالت جنابت جانا
    سوال: مسجد میں بحالت جنابت جانا جائز ہے یا نہ
    جواب:( از حضرت حکیم الامتہ) رسولِ خدا ﷺ مسجد میں جنابت کے وقت نہیں جاسکتے تھے۔
    تیمم کی حد
    سوال: اگر کسی عُذر شرعی سے غسل جنابت کے بجائے تیمم کرکے نماز پڑھ لی جائے تو پھراس کے بعد کی نمازوں سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے یا وہ تیمم بالاستقال غسل کا کام دے سکتا ہے
    جواب :(از حکیم الامتہ) عُذر شرعی کے باعث تیمم عُذر تک محدودہے جب وہ عُذر جاتا رہا تو تیمم باطل ہو گیا پھر غسل کرے
    اذان کے وقت بات کرنا اور پڑھنا منع نہیں ہے
    عصر کی اذان ہوئی اور نواب صاحب اور مشیر اعلیٰ خاموش ہوگئے۔ حضرت اقدس امام الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اذان میں باتیں کرنی منع نہیں ہیں آپ اگر کچھ اور بات پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھ لیں۔ کیونکہ بعض باتیں انسان کے دل میں ہوتی ہیں اور وہ کسی وجہ سے اُن کونہیں پوچھتا اور پھر رفتہ رفتہ وہ بُرا نتیجہ ٭٭٭جو شکوک پیدا ہوں اُن کو فوراً باہر نکالنا چاہئے یہ بُری غذا کی طرح ہوتی ہیں اگر نہ نکالی جائیں تو سو ہضم ہو جاتی ہے۔ ۱۷/اپریل ۱۹۰۲ء کو ایک شخص اپنا مضمون اشتہار دوبارہ طاعوں سنارہا تھا اذان ہونے لگی وہ چپ ہوگیا حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا پڑھتے جاؤ۔
    اذان کے بعد دعا
    سوال :اذان ہونے کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے وہ ہاتھ اٹھا کر مانگنا چاہئے یا بغیر ہاتھ اٹھا ئے۔
    جواب:( از حکیم الامتہ) دعا بعد الاذان میں خصوصیت کے ساتھ ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں ہوا۔
    اذان مسجد میں اور جنگل میں
    سوال: اذان پنجوقتہ مسجد کے اندر دینا چاہئے یا باہر مسجد کے بھی۔
    جواب( از حکیم الامتہ)عن ابی سعید اذاکنت فی غنک اوبادیتک فارفع صوتک بالنداء دواہ
    بچہ کے کان میں اذان دینا
    سوال: بچہ کے کان میں اذان دینے کی کیا وجہ ہے؟
    جواب:( از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اُس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں۔ لہذا یہ رسم اپنی ہے۔
    (ازحصرت حکیم الامتہ) جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس کے کان میں اذان دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو آواز بچہ کے کان میں پہلے پڑتی ہے اُس کا اثر دماغ میں مستقل ہو جاتا ہے چنانچہ موجودہ زمانہ کی سائنس اور طب کی رؤ سے مرض یقظتہ النومی سے ایسا ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی زبان کے لیکچرز(خطبات)بعض ایسے آدمیوں نے پورے پڑھ کر ادا کئے ہیں جن کو اس زبان کی کوئی واقفیت نہ تھی۔ جب وہ اپنی ماں کی گود میں تھے تو انھوں نے اپنی ماں کی زبان سے سُنے اور ویسا ہی جوانی کے زمانہ میں ادا کر دئیے بچہ کے کان میں اذان دینا حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
    وضو کرنے کی وجہ
    سوال :کیا وجہ ہے کہ وضو کے فاسد ہونے سے ہاتھ پاؤں کا دھونا پڑتا ہے وضو کے ٹوٹ جانے سے یا ریح یا بول سے ان اعضاء کے دھونے کی کیا وجہ ہے۔
    جواب:اللہ تعالیٰ کے احکام بڑی بڑی حکمتوں پر مبنی ہوتے ہیں پاخانہ ، ریح، سے جو بو اٹھتی ہے اُس سے انسا ن سمجھ سکتا ہے کہ اُ س گندی چیز کی اندرونی بو اور گندے بخارات نے اندرونی اعضاء قلب دماغ روح کو کیسے صدمے پہنچاتے ہوں گے جن سے رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پناہ مانگنے کے لئے دعا فرمائی۔ اَلَّلھُمّث انِیِّْ اَ عُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْث وَالخَبَائِثِ۔یعنی جب آدمی جنگل کو جاوئے یعنی ریح بول براز کے لئے خلا میں جاوئے تو یہ دعا کرے یا اللہ میں تمام اندرونی بیرونی پلیدیوں اور نجاستوں سے پناہ مانگتا ہوں جس کا اثر قبل ازخروج باطن اور روح پر ہو سکتا ہے اور بعدازخروج ظاہری اعضاء دماغ قلب روح پر پڑتا ہے ان کے بد آثارسے مجھے بچائے اس سے بھی پناہ مانگے اور ان کو خبث اور خبائث بھی فرمایا اسی پر بس نہیں بلکہ فرمایا کہ عندالخروج غُفَْرانَکَ یعنی اے اللہ جو کچھ ان کے آثاربد ہیں اُن سے میں تیری حفاظت مانگتا ہوں اِسی واسطے بول برازریح کو روک کرنماز پڑھنا شارع علیہ السلام نے منع فرمایا تاکہ یہ گنداندر میں نہ رہے اور جہاں تک جلد ممکن ہو اُس کو نکال دیا جاوئے جب ریح یا بول براز ۔۔۔۔۔کو معلوم ہوا کہ انہوں نے روح کو بہت صدمہ پہنچایا اب روح کی تقویت کے لئے ہاتھ پاؤں پر پانی ڈالنے کا حکم دیا کہ روح کو طاقت ہو کیونکہ ہاتھ پاؤں منہ پر پانی ڈالنے سے تقویت روح ہوتی ہے چنانچہ جب کسی کو غشی یا بے ہوشی ہوتی ہے تو اس کو ہوش میں لانے کے لئے یا یوں کہو کہ اس کی تقویت قلب و روح کے لئے اُس کے منہ ہاتھ پاؤں پر چھینٹے مارے جاتے ہیں تو اُس کو افاقہ ہو جاتا ہے اوریہ ایک بیّن ثبوت ہے نیرقرآن مجید میں ہے ٭٭٭ یعنی پانی ہر چیز کی زندگی ہے۔ جسے ظاہر غشی جو ایک قسم کی موت ہے پانی سے دور کرنے کا حکم دیا ۔حکیم فضل دین بھیروی
    خروج منی سے غسل کی وجہ
    سوال :منی کے خروج سے غسل کیوں ہوتا ہے اور پاخانہ بول سے صرف استنجاکافی ہے حال آنکہ بول براز نجاست میں منی سے زائد ہے پر منی سے غسل کیوں کیا جاتاہے ۔
    جواب: خروج منی سے تمام بدن کو ضعف پہنچتا ہے منہ کا خروج کیسا قلیل ہوتا ہے پھر بھی بعض وقت بعض انسانوں کو ضعف محسوس ہوتا ہے اگرچہ ایک جوان قوی اس کو محسوس نہ کرئے مرگ ہوتا ضرور ہے اس کا پتہ اس وقت لگتا ہے جب متواتر خروج منی ہو جریان سے یا جلق سے کثرت سے تو پھر خواہ کیسا ہی قوی جوان ہو چند روز میں ہی دل مہاع آنکھ……غرض تام اعضاء میں بیماریاں اورضعف پہنچ کراس کو تباہ کر دینا ہے۔ یہ تو حال ہے تھوڑی تھوڑی منی نکلنے کا اگر وہ پاخانہ یا بول کے برابر نکلنے تو خدا جانے ایک ہی بار نکلنے سے کیا اندھر ڈھادے۔ پس خروج منی سے چونکہ تمام بدن کو طاقت آجاؤے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ اگر انسان دوبارہ جماع کرنا چاہے تو غسل کر کے جماع کرے اس سے کو نشاظ اور قوت عمدہ ہوجائے گی ۔حکیم فضل دین صاحب بھیروی
    نماز میں کسالت
    ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق میں کیا حکم ہے۔ اس پر حضرت اقص مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہمیں نماز معاف فرمائی جاؤے ۔کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔ مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اُ س کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو کہ جب تماز نہیں تو ہے ہی کیا وہ دین ہی نہیں جس میں نمازنہیں کیا ہے یہی کہ اپن عذراور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اُسی سے اپنی حاقت روائی چاہنا۔ کبھی خدا اور اُس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال ندلت اور فروتنی سے اُس کے آگے سجدہ میں گر جانا اس سے حاجات کا مانگنا۔ یہی نماز ہے ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کے جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے انسان ہر وقت مختاج ہے کہ اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اس سے خواہش گار ہو کیونکہ اس کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کاربند ہو کر تجھے راضی کر لیں۔ خدا کی محبت کا خوف اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنا چاہتا ہے اُس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیاوہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفارہے بلکہ جو دم غافل سووم کافر والی بات بالکل درست اور صحیح ہے چنانچہ قرآن شریف میں ہے اَذْ کُرُوْنِی اَذَکُرکُمْ وَاشْکُروْلِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ۔ یعنی اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کر۔ میرے انعامات کی قدر کیا کرو اورکفرنہ کیاکرو۔ اِس آیت سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو غافل وہ دم کافر والی بات صاف ہے یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہئے اور کبھی کسی وقت غافل نہ ہونا چاہئے۔ اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اُس کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر امید او ربھروسا کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔ اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے اُس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہوگی انتا ہی زیادہ تیزی کوشش اور محنت اور دیرتک اسے چلنا ہوگا۔ سو خدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اُس کا بعد اور دوری بھی لمبی ۔ پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اُس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر ساور ہر کر وہ جلدی تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔
    جو تارک نماز ہے وہ تارک ایمان ہے
    حضرت امام علیہ السلام۔ جوش شچص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آجاتا ہے اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اُس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی زوال میں آئی ہے وہ زمانہ جس میں نماز یں سناور کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ ایک دفع تو اسلام نے تمام دنیا کو ریز پا کر دیا تھا جب اسے ترک کیا وہ خود متروک ہوگئے ہیں ۔درددل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ ہمارا ٭٭٭کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدائے اس امر کو حل اور آسان کر دیتا ہے ٭٭٭ کرتا ہے التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے دوسرا اُس کی غرض کو اچھی طرح سنتا ہے پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنیوالے کو جواب دیتا ہے نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر سجود رہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے پھر آخری سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اسک وقت جلد آجاتا ہے کہ خداتعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا ہے اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے بھلا٭٭٭ حقیقی نماز کے ممکن ہے ہرگز نہیں اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئے گذرے ہیں اُن کاکیا دین اورکیا ایمان ہے وہ کس امید پر اپنی اوقات ضائع کرتے ہیں۔
    فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان نوافل
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ نماز فجر کی اذان کے بعد دوگانہ فرض سے پہلے اگر کوئی شخص نوافل ادا کرئے تو جائز ہے یا نہیں فرمایا نماز فجر کی اذان کے بعد سورج نکلنے تک دورکعت سنت اور دورکعت فرض کے سوا اور کوئی نماز نہیں ہے۔
    وجہ تعیین اوقات پنجگانہ نماز
    حضرت امام علیہ السلام۔ پنجگانہ نمازیں کیا ہیں وہ تمھارے مختلف حالات کا فوٹو ہے تماہری زندگی کے لازم حال پانچ تغیرہیں جو بلا کے وقت تم پر اورد ہوتے ہیں اور تماری فطرت کے لئے اُن کا اورد ہونا ضروری ہے۔
    ۱۔پہلے جب کہ مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے مثلاً جیسے تمھارے نام عدالت سے ایک اورنٹ جاری ہوا یہ پہلی حالت ہے جس نے تمھاری تسلی اور خوشحالی میںخلل ڈالا سو یہ حالت زوال کے وقت سے مشابہ ہے کیونکہ اس سے تمھاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا۔ اس کے مقابل پر نماز ظہر متعین ہوئی جس کاوقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔ـ
    ۲۔دوسرا تغیر اُس وقت تم پر آتا ہے جبکہ بلا کے محل سے بہت نزدیک کئے جاتے ہو مثلاًجب تم بذریعہ اورنٹ گرفتا ر ہو کر حاکم کے سامنے پیش ہوتے ہو یہ وہ وقت ہے کہ جب تمھارا خوف سے خون خشک اور تسلی٭٭٭٭٭ہے جبکہ آفتاب سے نور کم ہو جاتا ہے اور نظر اُس پرچم سکتی ہے اور صریح نظر آتا ہے کہ اب اُس کا غروب نزدیک ہے اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عصر مصر ہوئی۔
    (۳)تیسرا تغیر تم پر اس وقت آتا ہے جو اس بلا سے رہائی پانے کے بکلی امیدمنقطع ہوجاتی ہے مثلاً جیسے تمھارے نام فرو قرارداد جرم لکھی جاتی ہے اور مخالفانہ گواہ تمھاری ہلاکت کے لئے گذر جاتے ہیں یہ وقت ہے کہ جب تمھارے حواس خطا ہو جاتے ہیں اور تم اپنے تئیں ایک قید سمجھنے لگتے ہو سو یہ حالت اُس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور تمام امیدیں دن کی روشنی کی ختم ہو جاتی ہیں اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز مغرب مقرر ہے ۔
    (۴)چوتھا تغیر اس وقت ٭٭٭ آتا ہے کہ جب تم پر بلا اورد ہی ہو جاتی ہے اور اکُس کی سخت تاریک تمپرا حاطہ کرلیتی ہے مثلاً جبکہ فرو قرار داد جرم اور شہادتوں کے بعد سزا تم کو سنایا جاتا ہے اور قید کے لئے ایک پولیس میں کے تم والے کئے جاتے ہو سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ رات پڑجاتی ہے اور ایک سخت اندھیرا پڑھ جاتا ہے اس روحانی کے مقابل پر نماز عشاء مقر ر ہے۔
    (۵) پھر جب کہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو تو پھر آخر خدا کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمھیں اس تاریکی سے نجات دیتا ہے مثلاً تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی جمک کے ساتھ ظاہر ہوجاتی ہے سو اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہوئی ہے اور خدا نے تمھارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمھارے لئے مقرر کین اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمھارے نفس کے فائدہ کے لئے ہیں ۔ پس اگر تم ان بلاؤں سے بچے رہو تو تم پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمھاری اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں نمازمیں آنے والی بلاؤں کاعلاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیادن چڑہے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ تمھارے لئے خیر برکت کا دن چڑھا ہے۔
    عمدا نماز کا تارک کافر ہے
    حضرت امام علیہ السلام۔ تفسیر حسنیی میں زیر تفسیر آیت وَاَقِیْمُو االصَّلٰوۃَوَلَا تَکُوْنُوْامِنَ اْلمُشْرِکِیْنَلکھا ہے کہ کتاب تفسیر میں شیخ محمد ابن طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پرعرض کر لواگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ورنہ نہیں۔سو میں نے اِس حدیث کو کہ مَنْ تَرَ کَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِدً افَقَدْ کَفَنَقرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت ملی وَاَقِیْمُو االصَّلٰوۃَوَلَا تَکُوْنُوْامِنَ اْلمُشْرِکِیْنیعنی نماز قائم کرو اور مشرک نہ بنو۔
    غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو
    مورخہ۲۰ ؍فروری ۱۹۰۱ء کو کسی نے سوال کیاکہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں ہیں اُن کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے۔
    (جواب)حضرت نے فرمایا جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ پر جو مصائب ہیں اس سے لاپرواہ پڑے ہیں ان لوگوہڈ نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے۔ اِنَّما یَتَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَیعنی خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے اِس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔ قدیم سے بزرگان دین کا یہی مذہب ہے کہ جو شخص حق کی مخلفت کرتا ہے رفتہ رفتہ اُس کا ایمان صلب ہو جاتا ہے جو پیغمبر خدا ﷺ کو نہمانے وہ کافر ہے مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی صلب ایمان ہو جائے گا انجام ایک ہی ہے پہلے تخالف ہوتا ہے پھر اجنبیت پھر عداوت پھر غلو اور آخر کار صلب ایمان ہو جاتا ہے یہ معمولی اور چھوٹی سی بات نہیں بلکہ یہ امیان کا معاملہ ہے جنت اور دوزخ کا سوال ہے میرا انکار میرا انکار نہیں بلکہ یہ اللہ اور اُسے کے رسول اللہﷺ کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرالیتا ہے جب کہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی نساوحد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الّذِکُرَ واِنَّا لَہٗ لَحَفِظُوْنَکے اُن کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا جبکہ وہ اِس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرئے گا مگر اُس نے معاذ اللہ ٭٭ وعدہ کو پورا نہیں کیااور اِس وقت کوئی خلیفہ اس امت میں نہیں اور نہ صرف یہاں تک ہے بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت ﷺ کو٭٭٭ موسیٰ قرار دیا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے معاذاللہ کیونکہ اس سلسلہ کی تم مشاہبت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودہویں صدی کے سر پر اس امت میں سے ایک مسیح پیدا ہوتا اسی طرح جیسے موسی سلسلہ میں چودہویں صدی پر ایک مسیح آیا اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اِس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو ٭٭٭٭میںایک آنیوالے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی بلکہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ الحمد سے لیکر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے یہ میں خود نہیں کہتا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گاوہ زبان سے نہ کرے مگراپنے عمل سے اُس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے۔ اَنْتَ مِنِّی وَاَنَا مِنْکَبے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی ہے اس کی ہستی٭٭٭ ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر میری تکذیب نہیںرسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔ابکوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرات کر ذزا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے رسول اللہﷺ کی کیوں تکذیب ہوتی ہے اس طرح پر کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر ٭٭٭ آئیگا وہ معاذ اللہ جھوٹا نکلا اور پھر آپ نے جو اِمَا مُکَمْ مِنْکُمفرمایاتھا وہ بھی معاذاللہ غلط ہوا ہے اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی وہ یہی معاذ اللہ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہوگیا مگر آنیوالا امام نہ آیا۔ اب اِن باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا۔ عملی طور پر کیا وہ آنحضرت ﷺ کا مکذب ٹھہریگا یا نہیں۔ پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ یمری تکذیب آسان امر نہیں مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کو کافر بننا ہوگا مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہوگئی مگر پہلے اپنی گمراہی اور دسیاہی کو مان لینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔ میں قرآن اور حدیث کا مصدق و مصداق ہوں گمراہ نہیں بلکہ مَہْدِیْہوںمَیں کافر نہیں بلکہ اَنَا اوّل المومنین کا مصداق ہوں اور یہ جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ یہ سچ ہے جس کو خدا پر یقین ہے جو قرآن اور رسول اللہ ﷺ کو حق کو ملنا ہے اس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سُن کر خاموش ہو جائے لیکن جو دلیر اور مبارک ہے اس کا کیا علاج خدا خود اس کو سمجھاجائے گا۔
    غیر احمدی کے پیچھے نمازنہ پڑھنے کی سخت تاکید
    مورخہ۲۶؍جولائی ۱۹۰۲ء کو اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق ذکر تھا فرمایا صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو بہتر اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمھاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے دیکھو دنیا دار روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونیوالے یہی دشمن کو چاروں منہ نہیں لگاتے اور تمھاری ناراضگی اور روٹھنا تو خداتعالیٰ کے لئے ہے تم ٭٭٭ رہے تو خداتعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت الگ ہو تو پھر اس میں لڑائی ہوتی ہے ۔
    مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۱ء کو سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپبے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں اُن لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں۔ فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالت سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی فرمایا اُن کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا تکذیب۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لگ بہت سخت ہیں اور ہمار قوم شیعہ ہے۔فرمایا تم خدا کے بنو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنیوالے ہلاک شدہ قوم ہے اِس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمھارے پر حرام ہے کہ کسی مکفراور مکذب یا مرتد کے پیچھے نمازپڑھو بلکہ چاہئے کہ تمھارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مَنِکُمیعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمھیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمھارا امام تم میں سے ہو گا ۔ پس تم ایسا ہی کرو کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمھارے سرپر ہو اور تمھارے عمل ضبط ہو جائیں اور تمھیں خبر نہ ہو جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا ہے وہ دل سے اطاعت سے یہی کرتا ہے اور ہر ایک حال میںمجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جان لو کہ وہ مجھ میں سے نہیں کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھ خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اُس کی عزت نہیں۔
    مورخہ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء کو خان محمد٭٭٭ خان صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی اور ناواقف ہوتے ہیں اُن کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں فرمایا اول تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں اور جہاں ایسی صورت ہو کہ وگ ہم سے اجبنی اور ناواقف ہوں تو اُن کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کر کے دیکھ لیا اگر تصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں اکیلے پڑھ لو۔ خداتعالیٰ اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جن سے الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الٰہی کی مخالفت ہے۔
    تعداد رکعات فریضہ پنجگانہ
    امام علیہ السلام: کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دورکعت ہیں اور معرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار
    ارکان نماز
    کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ ہر ایک نمازمیں بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو قیام اورقعوداور سجود اور رکوع ضروری ہے اور اسلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا چاہئے اور ایسا ہی خطبہ جمعہ اور عیدین اور عبادات اور اعتکاف عشرہ آخر رمضان اور حج اور زکوۃٰ ایسے امور ہیں جو برکت تعامل اپنے نفس وجود میں محفوظ چلے آتے ہیں۔
    سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت
    امام علیہ السلام: سورئہ فاتحہ کی پہلی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ سورئہ فاتحہ کی سات آتتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔ پس ہر ایک آیت گویا ہر ایک دروازے سے بچاتی ہے ۔
    طریق دُعائے نماز
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں دعا سکھلائی ہے یعنی اِھْدِ نَ الصِّرَاطَالْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ اَلّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں۔
    ۱۔ ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے(۲)تمام مسلمانوں کو (۳) تیسرے اُن ٭٭٭ کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں اس طرح کی میّت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشاء خداتعالیٰ کا ہے کیونکہ اس سے پہلے اس صورت میں اُس کے اپنا نام رب العالمین رکھا ہے جو ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے جس میں حیوانات بھی داخل ہیں پھر اپنا نام رحمان رکھا ہے اور یہ نام مومنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ رحیم کا لفظ مومنوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام مالک یوم دین رکھا ہے اور یہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی میں کی ترغیب دیتا ہے۔ کیونکہ یوم الدین وہ دن جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیںحاضر ہونے لگی سوا اسی تفصیل کے ساتھ اہد نالصراط المستقیم کی دعا ہے۔ پس اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا میں تمام نوع انسان کی ہمدردی داخل ہے اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔
    نماز انسان کا تعویز ہے
    امام علیہ السلام:پانچ وقت دعا کا موقعہ ملتا ہے کوئی دعا تو سنی جائے گی اسی لئے نماز کو بہت سناور کر پڑھنا چاہئے اور مجھے بھی بہت ٭٭٭ہے نماز انسان کا تعویز ہے۔
    نماز میں جواب دینا
    مورخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۰۴ء کو ایک شخص نے سوال ذیل پیش کیا۔
    (سوال) اگر ایک احمدی یہاں نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اُس کا افسر آجائے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانے کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہئے اِسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس چلا گیا۔
    (جواب از مسیح موعود)ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھو کر چابی افسر کو دے دیتا کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جائے تو یہ سچت مصیبت ہوئی احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھودیا جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا ندایشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو ماردینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ اشد ضروتوں کے لئے نازک مواقع پر یہ حکم ہے یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھا کر نماز کی پروانہ کی جائے اور اسے ٭٭٭٭بنا دیا جائے نماز میں ٭٭٭ کی سخت ممانعت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک دل اور نیت کو بخوبی جانتا ہے۔
    حج میں احمدی کی نماز میں چار مصلّے
    آزحضرت مسیح موعود: حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے بعض آیمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی اس لئے کسی کے پیچھے نماز پیھنا گاورہ نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے یہ چار مصلّے جو اب میں یہ تو پیچھے بنے۔ رسول اللہﷺ کیکے وقت ہرگزنہ تھے اُس وقت ایک ہی مصلٰہ تھا اور اب بھی جب تک چاروں اُٹھ کر ایک ہی مصلّے نہ ہوگا تب تک وہاں توحید اور راستی ہرگز نہ پھیلے گی۔
    امام کا لمبی سورتیں پڑھنا
    ۱۶؍اپریل ۱۹۰۵ء کو کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھنے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا امام کو چاہئے کہ نمازمیں ضعفا کی رعایت رکھے۔
    امام کے کھڑے ہونے کی جگہ
    ذکر ہوا کہ چکڑالوی کا عقیدہ ہے کہ نماز میں امام آگے نہ کھڑا ہوبلکہ صف کے اندر ہو کر کھڑا ہو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا امام کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ وہ آگے کھڑا ہو ۔ یہ عربی لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں وہ شخص جو دوسرے کے آگے کھڑا ہو معلوم ہوتا ہے کہ چکڑالوی زبان عربی سے بالکل جاہل ہے۔
    ایسے احمدی کی امامت جو غیراحمدیوں کے پیچھے نمازپڑے
    ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک حضور کا مرید ہے وہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے اور کبھی کبھی ہمارا امام بننے کا بھی اُس کو اتفاق ہوتا ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جب کہ وہ لوگ ہم کو کافر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم ان کو کافر کہنے میں ہم غلطی پر ہیں تو ہم خود کافر ہیں تو اس صورت میں میں ان کے پیچھے نماز کیونکر جائز ہوسکتی ہے ایسا ہی جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ھے جب تک توبہ نہ کرے اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
    غسال کے پیچھے نماز
    ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ غسّال کے پیش امام بنانا جائز ہے حضرت نے فرمایا یہ سوال بے معنی ہے غسال ہونا کوئی گناہ نہیں امامت کے لائق وہ شخص ہے جو متقی ہے نیکوکار عالم باعمل ہو اگر ایسا ہے تو غسال ہونا کوئی عیب نہیں جو امامت سے روک سکے۔
    نمازروزہ کا اثر روح و جسم پر
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ روزہ اور نماز ہر دوعبادتیں ہیں روزہ کا زور جسم پر ہے اور نمازکا زور روح پر ہے نماز سے سوزوگذار پیدا ہوتی ہے اس واسطے وہ افضل ہے روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جوگیوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے لیکن روحانی گذارش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے اس میں کوئی شامل نہیں۔ بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے ۔ اے نادانو! خدا کو حاجب نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمھاری طرف توجہ کرے خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الٰہی ہے۔
    آداب مسجد
    حضرت اقدس امام الزماںکے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آگئے اور اپنے ابا جان کے پاس بیٹھے اور اپے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آجانے پر دبی آواز کھل کھلا کر ہنس پڑتے تھے اِس پر حضرت اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ مسجد میں ہنسا نہ چاہئے جب دیکھا کہ ہنسی ضبط نہیں ہوتی تو اپنے باپ کی نصیحت پر یوں عمل کیا کہ صاحبزادہ صاحب اُسی وقت اُٹھ کر چلے گئے۔
    مسجد کاحصہ مکان میں ملانا
    ایک شخص نے سوال لکھ کر بھیجا کہ میرے دادا نے مکان کے ایک حصہ ہی کو مسجد بنایا تھا اور اب اُس کی ضرورت نہیں رہی تو کیا اس کو مکان میں ملا لیا جائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہاں ملا لیا جائیـ۔
    کسی مسجد کے لئے چندہ
    ۲۰ ؍مئی ۱۹۰۱ء کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبرکاً آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں مگر جب کہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں یہاںجو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے وہ سب سے مقدم ہے اب لوگوں کو چاہئے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں ہمارا دوست وہ ہے جو ہمار ی بات کو مانے نہ وہ کہ جواپنی بات کو مقدم رکھے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اُس میں کچھ چندہ دیں انھوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ دے نہیں سکتا حالانکہ وہ چاہتے تو وہ بہت کچھ دیتے۔ اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے بھی نہیں مانگتے صرف تبرکاً کچھ دے دیجئے آخر انھوں نے ایک دو آنے کے قریب سکہ دیا شام کے وقت وہ شخص دوآنے لیکر واپس آیا اور کہنے لگا حضرت یہ تو کھوٹے نکلے ہیں وہ بہت ہو خوش ہوئے اور فرمایا خوب ہو اصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔
    مسجد کی زینت
    ازانفاس قدسیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام : دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائی۔
    کہنہ وردی اسباب مسجد کا استعمال کرنا اور اس کے زائد مال کا محتاجوں کو دینا
    (سوال) مسجد کا کہنہ دردی اسباب متولی مسجداینی رائے سے کسی کو دے سکتا ہے یا تبدیل تغیر کر سکتا ہے یا نہیں
    (جواب از حکیم الامتہ)مسجد کہنہ وردّی اسباب نیک متولی اپنی رائے سے اُس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ واللہ یعلم المسدمن المصلح
    (سوال) مال مسجد یعنی ایک مسجد کے لئے بہت فرش اور ڈول وغیرہ بکثرت جمع ہیں دوسری مسجد محتاج ہے تو کیا متولی مسجد سے اُس مسجد کو آباد کر سکتا ہے
    (جواب از حکیم الامتہ) ایک مسجد کا مال اگر بالکل اُس مسجد کی حاجتوں سے زائد پڑا ہوا ہو تو دوسری مسجد کو دے سکتا ہے۔
    ( سوال) ایک مسجد کی تعمیر کے لئے روپیہ جمع ہوا اب بعد اختتام تعمیر اگر کچھ روپیہ بچ جائے تو اس کو کسی محتاج بے کس پر خرچ کر لینا جائز ہے یا نہ۔
    (جواب ازحکیم الامتہ)مسجد کا بچا ہوا روپیہ مساکین کو دے سکتا ہے۔
    نماز میں اپنی زبان میں دعا
    (سوال) آیانماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا جائز ہے۔
    (جواب از حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ) سب زبانیں خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں چاہئے انسان اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے نماز کے اندر دعائیں مانگے کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔ کلام الٰہی کو ضرورعربی میں پڑھو اور اس کے معنی یاد رکھو اور دعا بے شک اپنی زبان میں مانگو جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں کرتے ہیں اور حقیقت سے ناآشنا ہیں دعا کا وقت نماز ہے نماز میں بہت دعائیں مانگو۔
    نماز کے اندر مقامات دُعا اور ہر زبان میں دعا
    ازانفاس قدسیہ حضرت مسیح موعوعلیہ السلام۔ نماز کے اندر ہی اپنی زبان میں خداتعالیٰ کے حضور دعا کرو۔ سجدہ میں بیٹھ کر رکوع میں کھڑے ہو کر ہر مقام پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرو بے شک پنجابی زبان میں دعائیں کرو۔ جن لوگوں کی زبان عربی نہیں اور عربی سمجھ نہیں سکتے اُن کے واسطے ضروری ہے کہ نماز کے اندر ہی قرآن شریف پڑھنے اور مسنوں دعائیں عربی میں پڑھنے کے بعد اپنی زبان میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور عربی دعاؤں کا اور قرآن شریف کا بھی ترجمہ سیکھ لینا چاہئے۔ نماز کو صرف جنتر منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اُس کے معانی اور حقیقت سے معرفت حاصل کرو۔ خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ ہم تمھارے گہنگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے تو ہم کو معاف کر اور دنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔
    نماز کے بعد دعا بدعت ہے
    امام علیہ السلام۔آج کل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگنے بیٹھے جاتے ہیں یہ بدعت ہے ۔ جس نماز میں تضرع نہیں خداتعالیٰ کی طرف رجوع نہیں خداتعالیٰ سے رقت کے ساتھ دعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز ہے نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزہ آجائے خداکی حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جاؤ کہ رقت طاری ہو جائے جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتوے لگنے والا ہوتا ہے اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے ایسے ہی خوف زدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہئے جس نماز میں دل کہیں ے اورخیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلاتا ہے اور ایک *** ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی خدا تعالیٰ فرماتا ہے ٭٭٭٭٭یعنی *** ہے اُن نمازیوں پر جو اپنی نمازکی حقیقت سے ناواقف ہیں نمازوہی اصلی ہے جس میں مزہ آجائے ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کامعراج ہے۔نماز مومن کی ترقی کا ذریعہ ہے انّ الحسنات یذھبن السیئاتنیکیاں بدیوں کو دور کردیتی ہیں دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتا ہے تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھاتا ہے خدا تعالیٰ خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگواور میںتمھیں دونگا۔
    حاجت کے وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق دعا
    از امام ہمام حضرت مسیح موعود علیہ السلام: جب کبھی کسی امر کے واسطے دعا کی ضرورت ہو تو رسول اللہﷺ کا یہی طریق تھا کہ آپ وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جاتے اور نماز کے اندر دعا کرتے
    مقتدی کس قدرالحمد بلند پڑھے
    سوال۔مقتدی خلف الامام کس قدر بلند آواز سے پڑھ سکتا ہے بعض ایسا پڑھتے ہیں جو امام بھی سُنتا رہتا ہے بعض اس کے خلاف ہیں لہذا تصدیعہ ہے کہ تسبیح و قرات و تکبیر مقتدی خفی ہو کسی طرح ہو۔
    جواب:(از حکیم الامتہ)مقتدی الحمدشریف اتنا پڑھے کہ امام ہر گز نہ سُنے اگر امام کو سُنا ئے گا تو اُس کو تنازع کہتے ہیں اور حدیثوں میں تنازع منع لکھا ہے اسی طرح تسبیح وغیرہ بھی آہستہ پڑھے ہاں دوسروں کو آگاہ کرنے کے لئے تکبیر کا اونچاکرنا شرعاً جائز ہے۔
    مسلمان
    (ازحکیم الامتہ)مسلمان کے معنی حضرت بنی کریمﷺ نے مفصّل فرما دئیے ہیں مشکوٰۃ کے ابتداء میں لکھا ہوا ہے مسلمانوں وہ ہے جو اَشْہَدُاَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہٗ وَرَسْولُہٗاور پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے زکوۃٰ دے حج کرے اور ایک حدیث میں لکھا ہے ۔اَلْمُسْلِمُ مَن سَلَمَ اَلْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَذِہٖ
    نمازمیں قرات قرآن
    (ازحکیم الامتہ) قرآن کی کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس آیتیں فکر سے پڑھنی چاہئیں اور اس مطلب کے لئے پڑھنی چاہئیں جو قرآن شریف کی تلاوت کا اصل منشاء ہے دوسرا نماز کو درستی سے پڑھنا چاہئے۔
    جوتا پہن کر نماز پڑھنا
    ذکر ہوا میر کابل اجمیر کی خانقاہ میں بوٹ پہنے ہوئے چلا گیا تھا اور ہر جگہ بوٹ پہنے ہوئے نماز پڑھی اور اس بات کوخانقاہ کے مجاوروں نے بُرا منایا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس معاملہ میں امیر حق پر تھا جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا شرعاً جائز ۱؎ہے۔
    نماز میں امام کے سلام سے پہلے سلام پھیرنا
    ۲۲؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو نماز مغرب میں آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے پیش امام صاحب کا آواز آخری صفوں تک نہ پہنچ سکنے کے سبب درمیانی صفوں میں سے ایک شخص حسب معمول تکبیر کا بآواز بلند تکرار کرتا جاتا تھا آخری رکعت میں جب سب التحیات پر بیٹھے تھے اور دعا التحیات اور درود شریف پڑھ چکے تھے اور قریب تھا کہ پیش امام صاحب سلام کہیں مگر ہنوز انہوں نے سلام نہ کہا تھا کہ درمیانی مکبّر کو غلطی لگی اور اُس نے سلام کہہ دیا جس پر آخری صفوں کے نمازیوں نے یہی سلام کہہ دیا اور بعض نے سنتیں بھی شروع کر دیں کہ امام نے سلام کہا اور درمیانی مکبّر نے جو اپنی پہلی غلطی پر آگاہ ہو چکا تھا دوبارہ سلام کہا اس پر اُن نمازیوں نے جو پہلے سے سلام کہہ چکے تھے اور نماز سے فارغ ہو چکے تھے مسئلہ دریافت کیا کہ آیا ہماری نماز ہوگئی یا ہم دوبارہ نماز پڑھیں۔ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب نے جو خود بھی پچھلی صفوں میں تھے اور امام سے پہلے سلام کہہ چکے ہوئے تھے فرمایا کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا جاچکا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ایسا ہو جاوے تو مقتدیوں کی نماز ہو جاتی ہے اور دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
    حقیقت جماعت و حج
    از حکیم الامۃ۔ جناب الٰہی نے اطاعت اور طہارت کے ساتھ پانچ وقت جمع ہونے اور مل کر اُس کی عظمت و جبروت کو بیان کرنا مسلمانوں کا فرض کر دیا کوئی شہر اور قصبہ نہ دیکھو گے جس کے ہر محلہ میں اسلام کی پنجگانہ کمیٹی نہ ہوتی ہو لیکن اس روزانہ پانچ وقت کے اجتماع میں اگر تمام باشندگان شہر کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا جاتا تو یہ ایک تکلیف مالایطاق ہوتی اس لئے تمام شہر کے رہنے والے مسلمانوں کے اجتماع کے لئے ہفتہ میں ایک دن جمعہ کا مقرر ہوا۔ پھر اسی طرح قصبات اور دیہات کے لوگوں کے اجتماع کیلئے عید کی نماز تجویز ہوئی جور چونکہ یہ ایک بڑا اجتماع تھا اس لئے عیدکا جلسہ شہر کے باہر میدان میں تجویز ہوا لیکن اس سے پھر بھی کل دنیا کے مسلمان میل ملاپ سے محروم رہتے تھے اس لئے کل اہل اسلام کے اجتماع کیلئے ایک بڑے صدر مقام کی ضرورت تھی تا کہ مختلف بلاد کے بھائی اسلام رشتہ کے سلسلہ میں یکتا باہم ملجا دین لیکن اس کیلئے چونکہ ہر فرد و بشر مسلمان اور امیر اور فقیر کا شامل ہونا محال تھا اس لئے صرف صاحب استطاعۃ منتخب ہوئے تا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر تبادلہ خیالات کریں اور مختلف خیالات دماغوں کا ایک اجتماع ہو اور سب کے سب مل کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو بیان کریں۔ حج میں ایک کلمہ کہا جاتا ہے۔ لبیک لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعۃ لک والملک لاشریک لک جس کا مطلب یہ ہے کہ اے مولا تیرے حکموں کی اطاعت کیلئے اور تیری کامل فرمانبرداری کیلئے میں تیرے دروازے پر حاضر ہوں تیری احکام اور تیری تعظیم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ غرض کہ یہ حقیقت ہے مذہب اسلام کی جس کو مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر دن میں پانچ دفعہ کل مسلمانوں کو اللّٰہ اکبر کے لفظ سے بلایا جاتا ہے کوئی نادان اسلام پر کیسے ہی اعتراض کرے کہ ان کا خدا ایسا ہے ویسا ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کیلئے اکبر سے بڑھ کر لفظ وضع نہیں کر سکتا۔ نماز کیلئے بلاتے ہیں تو اللّٰہ اکبر سے شروع کرتے ہیں اور ختم کرتے ہیں تو رحمۃ اللّٰہ پر۔
    عبادت اور احکام الٰہی کی دو شاخیں
    (از حضرت مسیح موعود) عبادت اور احکام الٰہی کی دو شاخیں ہیں۔ تعظیم لامراللہ اور ہمدردی مخلوق۔ سو میں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میں تو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے مگر سورۃ فتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں سوچتا ہی تھاکہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الَّرحْمٰنِ الرَّحیمِ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ سے یہ ثابت ہوتا ہے یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں جو رب العالمین ہے یعنی ہر عالم میں نطفہ میں مضغہ وغیرہ میں سارے عالموں کا رب ہے۔ پھر رحمان ہے۔ پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔ اب اس کے بعد اِیَّاکَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اِس عبادت میں وہی ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت، مالکیت یوم الدین کے صفات کا پرتو انسان کو اپنے اندر لینا چاہئے کیونکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تخلقوا باخلاق اللّٰہ میں رنگین ہو جائے۔ پس اس صورت میں یہ دونوں بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان ہوئے۔
    رکوع و سجدہ میں قرآنی دعائیں نہ پڑھو
    سوال: سجدے اور رکوع میں قرآنی دعائیں مانگنا یا سورہ فاتحہ پڑھنا درست ہے یا نہیں اگر نہیں تو وجہ بھی جناب امید ہے کہ تحریر فرمائیں گے۔
    جواب از حکیم الامۃ: سجدہ اور رکوع میں قرآنی دعائیں مانگنا یا سورہ فاتحہ پڑھنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ تیرہ صدیوں سے اسلام کا تعامل بتاتا ہے کہ رکوع، سجود میں قرآن کریم نہیں پڑھا جاتا پھر اب اس کی کیا ضرورت پیش آئی۔
    بزہد و روع کوش و صدق و صفا
    ولاکن میفرائے بر مصطفی
    سجدہ اور رکوع میں قرآن کیوں نہیں پڑھا جاتا ایک باریک سر ہے۔ ہر شخص شاید اس کو نہ سمجھے تا ہم مختصر طور پر یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم ملک العلام اور حی و قیوم خدا کا کلام ہے۔ شاہی کلام اور فرمان ہمیشہ کھڑے ہو کر پڑھا جاتا ہے خصوصاً دربار شاہی میں سجدہ عبودیت اور ذلّت کا مقام ہے اس موقعہ پر کلام الٰہی نہیں پڑھنا چاہئے اس لئے عبودیت کے رنگ میں دعا ہو اپنی زبان میں بے شک دعائیں مانگو۔
    نماز میں آنکھیں بند کرنا اور چادر کا زمین لٹکنا
    سوال: نماز میں آنکھیں بند کرنا کیا مکروہ ہے اور نماز میں چادر جو اوڑھی ہوئی ہو اس کا لٹکنا اور زمین پر پڑنا بھی کیا مکروم ہے۔
    جواب: (از حکیم الامت) نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھلی رکھتے تھے۔ مومن کو چست ہونا چاہئے۔ مومن ڈھیلا ڈھالا نہیں ہوتا۔ فقہا نے منع کیا ہے۔
    فاتحہ خلف۱؎ الامام
    (از حکیم الامت) سورۃ فاتحہ خلف الامام کو ہم فرض سمجھتے ہیں۔ ضرور ہی پڑھی جاوے۔ میں بھی پڑھتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی پڑھتے ہیں۔ عن عبادۃ ابن الصامت ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ صَلٰوۃَ لِمَنْ یَقْرَئَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ رواہ الجماعۃ وعنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انَّہٗ قَالَ اِنِّیْ اَرَاکُمْ تَقْرَعُوْنَ وَرَاء یَ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہ ای واللّٰہ قَالَ لَاتَفْعَلُوْا اِلاَّ بِاُمِّ القُراٰنِ فَاِنَّہٗ لا صَلٰوۃَ لِمَنْ اَمْ یَقْرَئَ بِھَا۔
    (رواہ ابوداؤد الترمذی)
    آمین بِالجہر
    (از حکیم الامۃ) آمین بالجہر کو ہم پسند کرتے ہیں لیکن یہ موقوف ہے انسان کے دلی جوش پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ جب تعلقات شدید ہوں دل میں دعا کیلئے جوش اضطراب اور کرب ہوتو بے اختیار چلا اُٹھتا ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل ایسی اضطراری حرکات سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں جوش اضطراب، تذلل، انکسار سب کچھ ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور روتے چلاتے ہیں لیکن پاس والا معلومنہیں کر سکتا۔ ہم کبھی آمین بالجہر کرتے ہیں کبھی نہیں بھی کرتے۔ نماز دونوں طرح ہو جاتی ہے مگر سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی۔
    فجر کی سنت کو چھوڑ کر جماعت فرض میں ملنا
    سوال: فجر کی نماز ہوتی ہو اس وقت سنت پڑھ کر شامل ہونا چاہئے یا جماعت میں شریک ہو اور سنت کب پڑھے۔
    جواب: (از حکیم الامۃ) جماعت میں شریک ہو جاوے اور فرض پڑھ کر سنت پڑھے۔
    رفع یدین
    (از حکیم الامۃ) رفع یدین کو روایتاً ہم قوی جانتے ہیں ملاً ترک بھی ثابت ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے بھی کی ہے اور عام طور پر نہیں کرتے اور دونوں طور پر نماز کا ہو جانا مانتے ہیں۔ عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ قال کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ رَفعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یَکُونَا بِجَذ وَمنْکِبَیْہِ ثُمْ یکبَّر فَاِذَا اَرَادَاَنْ یَرْکعَ رَفَعَھُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ وَاِذَا رَفَعَ اللّٰہٗ مِنَ الُّرکُیْع رَفَعَھُمَا کَذٰلِکَ وَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد متفق علیہ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ صَلٰوتِہٖ حَتّٰی لقی اللّٰہ اخرجہ البیہقی۔ پس جواز رفع یدین میں کوئی کلام نہیں۔ (از حضرت امام الزمان علیہ السلام) اس میں چنداں حرج معلوم نہیں ہوتا خواہ کوشی کرے یا نہ کرے۔ احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا اور بعد ازاں ترک کر دیا۔
    نماز میں دعا برائے دفع طاعون وغیرہ
    سوال: نماز شام میں اکثر لوگ تیسری رکعت کے رکوع کے بعد دعائے رفع طاعون وغیرہ کیا کرتے ہیں اس طرح پر کہ امام بآواز بلند پڑھتا رہتا ہے اور مقتدی بآواز آمین پکارتے ہیں کیا یہ امر بموجب حدیث شریف درست ہے۔
    (جواب از حکیم الامۃ) اس طریق پر دعا مانگنا نزول۱؎ حوادث کے وقت ثابت ہے۔
    نماز میں بسم اللہ جہر پڑھنا
    سوال: بسم اللہ الرحمن الرحیم بالجہر قبل الحمد و دیگر سورۃ کے پڑھنا اور آمین بالجہر کہنا کس حدیث سے ثابت ہے۔
    (جواب از حکیم الامۃ) الحمد شریف کے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے متعلق اور سورتوں کے متعلق عرض ہے عن انس بن مالک قاز صلیت مع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم و ابی بکر و عمر و عثمان فلم اسمع احدا منھم یقرء بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم رواہ احمد و مسلم عن عبداللّٰہ بن مفصل اذا انت قرأت فقل الحمدللّٰہ رب العلمین رواہ الخمسۃ الاَّ باراود وعن قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نزلت علّی القا فقرأ بسم ۱؎ اللّٰہ الرحمن الرحیم انّا اعطینٰک الکوثر ارواہ احمد و مسلم والنسائی فکانا لاجیرون رواہ ابن حبان وکانوا یسرون رواہ ابن خزیمہ وذکر البیھقی فی الخلافیات انہ اجتمع ال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی الجہر بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
    نماز میں ہاتھ سینہ پر باندھنا
    سوال: نماز میں ہاتھ کہاں باندھنا چاہئے۔
    (جواب از حکیم الامۃ) عن وائل من حجر قال صلیت مع رسول اللّٰہ علیہ وسلم فوضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری علی صدرہ رواہ ابن خزیمۃ و صححۃ ترجمہ و ایل بن حجر سے روایت ہے کہتا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر اپنے سینہ پر رکھا۔ روایت کی ابن خزیمہ نے اور اس روایت کو صحیح بتلایا ہے وعن علی رضی اللّٰہ عنہ قال ان من السنۃ فی الصلوۃ وضع الا کف علی لاکف تحت السرۃ ۲؎ رواہ احمد و ابوداؤد دوفی اسنادہ عبدالرحمٰن اسحاق اکوفی قال ابوداؤد سمعۃ احمد بن حنبل یضعفہ وفی الکبیری شرح مفید المصلح انہ مجمع علی ضعفہ الکوفی قال ابوداؤد سمت احمد بن حنبل یضعفہ و فی الکبیری شرح مفید المصلے انہ مجمع علی ضعفہ
    (از فاضل امروہی مولوی محمد احسن صاحب) نماز میں ہاتھ سینہ کی روایت صحیح ہے اور تحت کی ضعیف مسند امام ہمام ابوعبداللہ احمد بن حنبل جلد۵ صفحہ۲۲۶ میں حدیث ذیل معہ اسناد لکھی ہے۔ حدثنا عبداللّٰہ حدثنی ابی حدثنا یحی ابن سعید عن سفیان حدثنی سماک عن قبیصۃ بن ھلب عن ابیہ قال رایت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ و رایۃ قال یضع ھذہ علی صدرہ ۱؎ وصف یحی الیصنی علی الیسرے فوق المصل……
    نماز میں دعا بالجہر
    سوال: دعا کو امام بالجہر نماز کے اندر مانگنا درست ہے یا نہیں اگر ہے تو کیونکر
    جواب از حکیم الامۃ عن ابن عمرانہ سمع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا رفع راسہ من الرکوع فی الرکعۃ الاخرۃ من الفجر قال اللھم الحن فلاحًا و فلانًا بعدما یقول سمع اللّٰہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد فانزل اللّٰہ لیس لک من الارشی والی قولہ فانھم ظالمون رواہ البخاری و عن انس قال کان القنوت فی المغرب والفجر رواہ البخاری
    سوتی موزوں پر مسح
    سوال: موزوں پر مسح۱؎ کرنا جائز ہے یا نہیں اور بالخصوص سوتی موزوں پر خواہ مہین ہوں یا موٹے ڈبل اس کے واسطے بھی حوالہ کی ضرورت ہے۔
    جواب از حکیم الامۃ: عن جرَیرَانَہٗ بَالَ ثُمَّ تَرَضَّائَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ متفق علیہ عن المغیرۃ ابن شعبۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تَرَضَّائَ وَمَسَحَ عَلٰی جَوْرَبَیْن وَالنَّعْلَیْنَ صححہ الترمذی
    امام کے کھڑا ہونے کی جگہ
    سوال: امام کو مسجد میں محراب کے اندر کھڑکی کے اندر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں اگر ہے تو کس دلیل سے۔
    (جواب از حکیم الامۃ) امام کیلئے ممانعت شرحاً جائز نہیں کہ فلاں جگہ کھڑا نہ ہو۔
    نماز میں طریق حصول حضور
    سوال: کبھی نماز میں لذت آتی ہے اور کبھی وہ لذت جاتی رہتی ہے اُس کا کیا علاج ہے۔
    (جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ہمت نہیں ہارنی چاہئے بلکہ اس لذت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنی کی سعی کرنی چاہئے جیسے چور مال اُڑا کر لے جاوے تو اُس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ کو اس خطرہ سے محفوظ رہے اس لئے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جائے انسان جب یہ حالت دیکھے کہ ا کا انس و ذوق جاتا رہا تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو۔ نماز میں بے ذوقی کا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے اِسی طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اُس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔ یاد رکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے جب کوئی اس سے گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذت مکدر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی مثلاً جب ناحق گالی دیتا ہے یا ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر بدمزاج ہو کر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے اخلاقی قویٰ کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے جب انسانی قویٰ میں فرق آئے گا تو اُس کے ساتھ ہی لذت میں فرق آ جاوے گا۔ پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ انس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا تو چاہئے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گم شدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے توبہ، استغفار، تضرع، بے ذوق سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی کثرت کرے جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اُس کو لذت اور سرور آ جاتا ہے پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے اور تھکنا مناسب نہیں آخر اسی بے ذوق میں ایک ذوق پیدا ہوجائے گا دیکھو پانی کیلئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں اس لئے اس ذوق کو حاصل کرنے کیلئے استغفار کثرت نماز و دعا مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔
    ۱۶؍ مئی ۱۹۰۲ء کو بمقام گورداسپور مولوی نظیر حسین سخا دہلوی نے بذریعہ عریضہ حضرت اقدس سے نماز حصول حضور کا طریق دریافت فرمایا اس پر حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا:
    السلام علکیم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ طریق یہی ہے کہ نماز میں اپنے لئے دعا کرتے رہیں اور سرسری اور بے خیال نماز پر خوش نہ ہوں بلکہ جہاں تک ممکن ہو توجہ سے نماز ادا کریں اور اگر توجہ پیدا نہ ہو تو پنج وقت ہر ایک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں بعد ہر ایک رکعت کے کھڑے ہو کر دعا کریں کہ اے خدائے تعالیٰ قادرو ذوالجلال میں گنہگار ہوں اوراس قدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ و ریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں ہو سکتا تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تا کہ اُس کے ذریعہ سے میری سخت دلی اور ہو کر حضور نماز میں میسر آوے اور یہ دعا صرف قیام پر موقوف نہیں بلکہ رکوع میں اور سجود میں اور التحیات کے بعد یہی یہی دعا کریں اور اپنی زبان میں کریں اور اس دعا کے کرنے میں ماندہ نہ ہوں اور تھک نہ جاویں بلکہ پورے صبر اور پورے استقامت سے اس دعا کو پنج وقت کی نمازوں میں اور نیز تہجد کی نماز میں کرتے رہیں اور بہت بہت خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں کیونکہ گناہ کے باعث دل سخت ہو جاتا ہے ایسا کرو گے تو ایک وقت یہ مراد حاصل ہو جاوے گی مگر چاہئے کہ اپنی موت کو یاد رکھیں آئندہ زندگی کے دن تھوڑے سمجھیں اور موت قریب سمجھیں یہی طریق حصول حضور کا ہے۔
    وظائف و اورادو تزکیۂ نفس
    مورخہ ۲۵؍ مئی ۱۹۰۳ء کو ایک شخص نے سوال ذیل پیش کیا۔
    سوال: آج کل کے پیر اور گدی نشین وظائف وغیرہ مختلف قسم کے اوراد بتاتے ہیں آپ کا کیا ارشاد ہے؟
    جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام: مومن جو بات سچی یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہوتی ہے کیونکہ مومن کا مظہر قبل اسرار الٰہی کا خزینہ ہے جو کچھ اس پاک لوح انسانی پر منفقش ہوتا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے مگر انسان جب ضعف بشریت سے سہو و گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرا بھی اس کی پروا نہیں کرتا تو دل پر سیاہ زنگ بیٹھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ قلب انسانی کی خشیت الٰہی سے گداز اور شفاف تھا سخت سیاہ ہو جاتا ہے۔ مگر جوں ہی انسان اپنی مرض قلب کو معلوم کر کے اس کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور شب و روز نماز میں دعائیں استغفار زاری و قلق جاری رکھتا ہے اور اس کی دعائیں انتہا کو پہنچتی ہیں تو تجلیات الٰہی اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھو ڈالتے ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لے کر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولد ثانی ہوتا ہے دو زبردست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے ایک لشکر رحمان کا دوسرا شیطان کا اگر یہ لشکر رحمن کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس سے بحکم الٰہی … جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو مصیبتوں اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پس ان کو چاہئے کہ گناہ کی زہریلی ہوا سے بچنے کیلئے رحمن کی حفاظت میں ہو جاوے وہ چیز جو انسان اور رحمن میں دوری اور تفرقہ ڈالتی ہے وہ فقط گناہ ہے جو اس سے بچ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی گود میں پناہ لی۔ دراصل گناہ سے بچنے کیلئے دو ہی طریق ہیں اوّل یہ کہ انسان خود کوشش کرے دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو زبردست مالک و قادر ہے استقامت طلب کرے یہاں تک کہ اُسے پاک زندگی میسر آوے اور یہی تزکیہ نفس کہلاتا ہے اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات اور کرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ہوتے ہیں۔ پیروں، فقیروں صوفیوں ، گدی نشینوں کے خود تراشیدہ ورو وظائف طریق و رسومات سب فضول بدعات ہیں جو ہرگز ہرگز ماننے کے قابل نہیں۔ اگر یہ لوگ کل معاملات دنیوی و دینی کو ان خود ساختہ بدعات سے یہی درست کر سکتے ہیں تو یہ ذرہ ذرہ سی بات پرکیوں تکرار کرتے لڑتے جھگڑتے حتیّٰ کہ سرکاری عدالتوں میں جائز وناجائز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ سب باتیں دراصل وقت کا ضائع کرنا اور خدا داد دماغی استعدادوں کا تباہ کرنا ہے۔ انسان اس لئے نہیں بنایا گیا کہ لمبی تسبیح لے کر صبح و شام لوازمات و حقوق کو تلف کر کے بے توجہگی سے سبحان اللہ سبحان اللہ میں لگا ہے اپنا اوقات گرامی بھی تباہ کرے اور خود اپنے قویٰ کو بھی تباہ کرے اور اوروں کے تباہ کرنے کے لئے شب و روز کوشاں رہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی مصیبت سے بچاوے۔ الغرض یہ سب باتیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے سے پیدا ہوئی ہیں۔ یہ حالت ایسی ہے جیسے پھوڑا، کہ اندر سے تو پیپ سے بھرا ہوا ہے اور باہر سے شیشے کی طرح چمکتا ہے۔ زبان سے تو ورد وظائف کرتے ہیں اور اندرونی بدکاری و گناہ سے سیاہ ہوئے ہوتے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ سب کچھ خدا سے طلب کرے جب وہ کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کی بلند شان کے خلاف ہے کہ واپس لے۔ تزکیہ وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ دنیا میں سکھایا گیا۔ یہ لوگ اس سے بہت دور ہیں بعض کہتے ہیں کہ میں سارے دن میں چار دفعہ دم لیتا ہوں۔ بعض فقط ایک یا دو دفعہ۔ اس سے لوگ ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسی واہیات دم کشی کوباعث فخر سمجھتے ہیں حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیات الٰہی پر چلے۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح و آشتی پیدا کرے جس سے کہ وہ انبیاء کا وارث کہلائے اور صلحاء و ابدال میں داخل ہو اسی توحید کو پکڑے اور اس ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ و عظمت اس کے دل پر بٹھا دے گا۔ وظیفوں کے ہم قائل نہیں یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے ہندو، سنیاسی، جوگی کرتے ہیں۔ جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں البتہ دعا کرنی چاہئے خواہ اپنی زبان میں ہو سچے اضطراب اور سچی تڑپ سے جناب الٰہی میں گداز ہوا ہو ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا۔ جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کرنے والے اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے ہی اس کو گناہ کی سوزش سے ڈرنا چائے۔ گناہگار زندگی انسان کے لئے دنیا میں مجسم دوزخ ہے۔ جس پر غضب الٰہی کی سموم چلتی ہے اور اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رو رو کر دعائیں کرو تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے۔ دیکھ شیعہ لوگ کیسے راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں حسین حسین کرتے مگر احکام الٰہی کے بے حرمتی کرتے ہیں حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسولوں کو استغفار کی ایسی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کا فعل اس پر شاہد ہے کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔
    چارپائی پر نماز پڑھنا
    سوال: چار پائی پر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
    جواب از مخدوم المۃ: بیماری اور عذر سے چارپائی پر نماز درست ہے۔
    نمازی کے آگے سے گذرنا
    از حضرت مخدوم الملۃ: بعض لوگ نماز کے واسطے پہلے آتے ہیں اور پیچھے آنے والوں کے کندھوں کو پھاند کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہ گناہ ہے اس سے اعمال ضائع ہوتے ہیں ایسا ہی نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنا بڑا گناہ۱؎ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر تم اس کے نقصان سے واقف ہوتے تو چالیس سال تک کھڑا رہنا منظور کرتے پر نمازی کے آگے سے نہ گذرتے۔
    لڑکوں کو نماز میں سب سے پیچھے کھڑا کرنے کی وجہ
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام :لڑکوں کو نماز میں سب سے پیچھے کھڑے ہونے کا حکم اس وجہ سے ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی کی ہوا خارج ہونے پر یا کسی اور امر پر ہنس پڑیں تو دوسروں کی نماز بھی خراب ہو دیکھو کیسی نیکی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی کی ہوا خارج ہوگئی اور بدبو کی وجہ سے اس کا پتہ لگ گیا۔ اب انہوں نے دیکھاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ شخص شرم سے وضو نہ کرے اور گناہ کا مرتکب ہو جائے نماز توڑ دی اور کہا کہ آؤ وضو دوبارہ ہم سب کریں کیونکہ وضو تو وہی ہے دوسری دفعہ وضو کرنے سے نورٌ علی نور ہو جائے گا اس سے یہ نہیں ثابت ہوا کہ ہمیشہ اس طرح کیا جائے بلکہ یہ ایک موقعہ تھا جو کسی خوش اسلوبی سے پورا کیا گیا۔
    باجماعت نماز میں زیادہ ثواب کی وجہ و حقیقت جماعت دوجہ تسؤیہ صفوف جماعت
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام: نماز میں جو جماعت ۱؎کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم کہیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں وہ تمیز جس میں خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے۔
    امام سے پہلے سجدہ و رکوع
    از مخدوم الملۃ: بعض لوگ امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں چلے جاتے ہیں متقدی کو چاہئے کہ تمام ارکان امام کی متابعت میں ادا کرے۔ ان ساری غلطیوں کی جڑ یہ ہے کہ لوگ حدیث کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
    دستور العمل نبوی تزکیہ نفوس کیلئے
    (از حکیم الامۃ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے مزکی ٹھہرے کہ آپ جو تعلیم دیتے تھے پہلے خود کر کے دکھا دیتے تھے۔ پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور خود پڑھ کر دکھا دی۔
    نبی علیہ السلام نمازوں میں امام ہوتے تھے
    (از حکیم الامۃ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانچوں نماز کے خود امام ہوا کرتے تھے۔
    طریق تہجد و نوافل نبوی
    پانچوں نمازوں کے علاوہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی پڑھتے اور بعض وقت تہجد میں اتنی اتنی دیر تک اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے رہتے کہ آپ کے پائے مبارک متورم ہو جاتے۔
    طریق تعلیم روزہ نبوی و حج و زکوٰۃ
    پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی تعلیم دی آپ نے ہفتہ میں دو بار، مہینہ میں تین روزے اور سال بھر میں معین روزے رکھ کر دکھا دیئے اور شعبان شوال میں بھی روزے رکھا کرتے۔ گویا قریباً چھ مہینے سال میں روزے رکھ کر بتا دیئے۔ جج کر کے دکھا دیا۔ خذاوعنی مناسککم۔ پھر زکوٰۃ کی تعلیم دی۔ زکوٰۃ لے کر اور خرچ کر کے دکھا دی اِسی طرح جو تعلیم دی اُسے خود کر کے دکھا دیاجس سے تزکیہ نفس ہوا۔
    یا رسول اللہ کہنا
    سوال: یا رسول اللہ کہنے پر وہابی اعتراض کرتے ہیں کیونکہ یا حاضر اشخاص کیلئے ہے۔
    جواب از حکیم الامۃ۔ کیا جب اللہ تعالیٰ کو یا کہہ کر پکارا جاتا ہے تو وہ سامنے ہو جاتا ہے۔ حتمی طور پر تو اس کا ثبوت نہیں۔ اب رہی صفات کی بات کہ وہ صفات سے حاضر ہوتا ہے تو اپنی صفات کی رو سے جو مطالعہ کے طور پر صاحب صفات ذہن میں سامنے آ جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے آ جاتے ہیں اور ہر زمانہ میں موجود ہیں۔ حضرت میرزا صاحب بھی ان کی موجودگی کا ثبوت ہیں پھر قرآن شریف میں یَاحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ کیاحسرت سامنے موجود ہوتی ہے یا وہ سب عباد ہوتے ہیں جو مخاطب ہوتے ہیں۔ فرط محبت یا فرط غم نیز نظم میں غائب کو ندا کی جاتی ہے اور اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ بجسد عنصری موجود ہوتا ہے بلکہ اظہار محبت کا یہ ایک طریق ہے۔
    بہترین وظیفہ
    سوال: بہترین وظیفہ کیا ہے؟
    جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام: نماز سے بڑہ کر کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے استغفار ہے اور درود شریف ہے تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم اور ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا اَلاَبِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنَّ الْقُلُوْبِ اطمینان سکینت قلب کیلئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قسم قسم کے درد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بنا رکھی ہے مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوںنے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں اِن وظائف اور اوراد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ … اور اوراد میں ایسے منہمک ہو رہے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہو کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اِسی سے حل ہو جائیں گے۔ نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے اِس لئے فرمایا ہے۔ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ
    قصر نماز وحد سفر
    نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ۔
    جواب از حضرت امام علیہ السلام: جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اُس کے واسطے قصر جائز ہے۔ میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔ یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے ہاں اگر امام مقیم ہے تو اُس کے پیچھے پوری نماز پڑھنی پڑے گی۔
    حُکّام کا دَورہ سفر نہیں
    از حضرت امام الزمان علیہ السلام: حکام کا دورہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں اگر دوروںکی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہوگا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔ سعدی نے بھی کہا ہے
    منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
    ہر جا کہ رفت خیمہ زدو خوابگاہ ساخت
    ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ مجھے دس پندرہ کوس اِدھر اُدھر جانا پڑتا ہے۔ میں کس کو سفر سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں۔ میں کتابوں کے مسائل نہیں پوچھتا ہوں۔ حضرت امام صادق کا حکم دریافت کرتا ہوں۔
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا۔ میرا مذہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔ عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اس میں قصر و سفر کے مسائل پر عمل کرے۔ انما الاعمال بالنیات۔ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اُٹھا کر سفرکی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔ شریعت کی بنا وقت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔
    دائمی دورہ کرنے والے کی نماز
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو شخص بسبب ملازمت کے ہمیشہ دورہ میں رہتا ہو اس کو نمازوں میں قصر کرنی جائز ہے یا نہیں۔
    فرمایا :
    جو شخص رات دن دورہ پر رہتا ہے اور اسی بات کا ملازم ہے۔ وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا اس کو پوری نماز پڑھنی چاہئے۔
    رفع یدین
    فرمایا کہ اس میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا۔ خواہ کوئی کرے یا نہ کرے۔ احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے، معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا۔ بعد ازاں ترک کر دیا۔
    سفری تاجر کی نماز
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں اور میرے بھائی ہمیشہ تجارت، عطریات وغیرہ میں سفر کرتے ہیں۔ نماز ہم دوگانہ پڑھیں یا پوری۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ سفر تو وہ ہے جو ضرورتًا گاہے گاہے ایک شخص کو پیش آوے۔ نہ یہ کہ اس کا پیشہ ہی یہ ہو۔ آج یہاں کل وہاں اپنی تجارت کرتا پھرے یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ ایسا آدمی اپنے آپ کومسافروں میں شامل کر کے ساری عمر نماز قصر کرنے میں ہی گزار دے۔
    نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق حضرت مسیح موعو علیہ السلام کی رائے
    نواب محمد علی خان صاحب کے استفسار کرنے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو خط میں لکھا ہے اگرچہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں اور دست بستہ کھڑا ہونا قانون فطرت کے رو سے بھی بندگی کیلئے مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہو جاتی ہے مالکی بھی شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ مسنون وہی طریق ہے جو اوپر بیان۱؎ ہوا ہے۔
    نمازوں کا جمع کرنا
    تقریر حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام مورخہ ۳ دسمبر۱۹۰۱ء
    دیکھو ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ بسبب بیماری کے اور تفسیر سورہ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور ان نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعود کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہوگا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم زیادہ بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے۔ اس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اس کی خاطر ایسا ہوگا۔ چاہئے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کی عزت و تکریم کریں اور ان سے بے پروا نہ ہوویں۔ ورنہ یہ ایک گناہ کبیرہ ہوگا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو خفت کی نگاہ سے دیکھیں۔ خدا تعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں۔ ورنہ ایک دو دن کے لئے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں۔
    جمع بین الصلوٰتین کے متعلق حضرت اقدس نے ۳؍ دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں یہ تقریر فرمائی۔ سب صاحبوں کو معلوم ہو کہ ایک مدت سے خدا جانے قریباً چھ ماہ یا کم و بیش عرصہ سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی جاتی ہے۔ میں اس کو مانتا ہوں کہ ایک عرصہ سے مسلسل نماز جمع کی جاتی ہے۔ ایک نو وارد یا نو مرید کو جس کو ہمارے اغراض و مقاصد کی کوئی خبر نہیں ہے یہ شبہ گذرتا ہوگا کہ کاہلی کے سبب سے نماز جمع کر لیتے ہوں گے جیسے بعض غیر مقلد، ذرا اَبر ہوا یا کسی عدالت میں جانا ہوا تو نماز جمع کر لیتے ہیں اور بلا مطر اور بلا عذر بھی نماز جمع کرنا جائز سمجھتے ہیں مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم کو اس جھگڑے کی ضرورت اور حاجت نہیں اور نہ ہم اس میں پڑنا چاہتے ہیں کیونکہ میں طبعاً اور فطرتًا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے۔ اگرچہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کئے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں۔ وہ صرف نفس کی کاہلی سے کام لیتے ہیں۔ سہل حدیثوں کو اپنے مفید مطلب پا کر ان سے کام لیتے ہیں اور مشکل کو موضوع اور مجروح ٹھہراتے ہیں۔ ہمارا یہ مدعا نہیں بلکہ ہمارا مسلک ہمیشہ حدیث کے متعلق یہی رہا ہے کہ جو قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو وہ اگر ضعیف بھی ہو تب بھی اس پر عمل کر لینا چاہئے۔ اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم القاء اور الہام کے بدوں نہیں کرتا۔ بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا۔ مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس جَمْعَ بَیْنَ الصَّلٰوتَیْن کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُجْمَعُ لَہٗ الصَّلٰوۃ کی بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جو اَب پوری ہو رہی ہے۔ میرا یہ بھی مذہب ہے کہ اگر کوئی امر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اور محدثین اس کو موضوع ہی ٹھہرادیں۔ مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا۔ اگر خدا تعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کر دی ہے۔ جیسے لاَ مَھْدِیْ اِلاَّ عِیْسٰی والی حدیث ہے۔ محدثین اس پر کلام کرتے ہیں مگر مجھ پر خدا تعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور یہ میرا مذہب میرا ہی ایجاد کردہ نہیں بلکہ خود یہ مسلم مسئلہ ہے کہ اہل کشف و اہل الہام لوگ محدثین کی تنقید حدیث کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے۔ خود مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ میں اس مضمون پر بڑی بحث کی ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ مامور اور اہل کشف محدثین کی تنقید کے پابند نہیں ہوتے تو جب یہ حالت ہے پھر میں صاف صاف کہتا ہوں کہ جو کچھ میں کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے القاء اور اشارہ سے کرتا ہوں۔ یہ پیشگوئی جو اس حدیث تُجْمَعُ لَہٗ الصَّلٰوۃ میںکی گئی ہے یہ مسیح موعود اور مہدی کی ایک علامت ہے۔ یعنی وہ ایسے دینی خدمات اور کاموں میں مصروف ہوگا کہ اس کے لئے نماز جمع کی جائے گی۔
    حضرت مسیح موعود کا سفر میں جمع بین الصلوٰتین
    سفر میں بھی میں نے چند روزہ اقامت کی حالت میں بعض دفعہ مسنون طور پر دو نمازوں کو جمع کر لیا ہے اور کبھی ظہر کے اخیر وقت پر ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو اکٹھے ۱؎کر کے پڑھا ہے۔ اب یہ علامت جب کہ پوری ہوگئی اور ایسے واقعات پیش آگئے پھر اس کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے نہ کہ استہزاء اور انکار کے رنگ میں۔ دیکھو انسان کے اپنے اختیار میں اس کی موت فوت نہیں ہے۔ اب اس نشان کے پورا ہونے پر تو یہ لوگ رکیک اور نامعقول عذر تراشتے ہیں اور اعتراض کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اور حدیث کی صحت اور عدم صحت کے سوال کو لے بیٹھتے ہیں لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ اس نشان کو پورا ہونے سے پہلے ہماری موت آ جاتی تو یہی لوگ اس حدیث کو جسے اب موضوع ٹھہراتے ہیں، آسمان پر چڑھا دیتے اور اس سے زیادہ شور مچاتے جو اب مچا رہے ہیں۔ دشمن اسی ہتھیار کو اپنے لئے تیز کر لیتا لیکن اب جب کہ وہ صداقت کا ایک نشان اور گواہ ٹھہرتا ہے تو اس کو نکما اور لاشے قرار دیا جاتا ہے۔ پس لوگوں کے لئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے تو صدہانشان دیکھے مگر انکار پر انکار کیا اور صادق کو کاذب ہی ٹھہرایا اور کس نشان کو انہوں نے مانا جو اس کی امید اِن سے رکھیں۔ کیا کسوف خسوف کا کوئی جھوٹا نشان تھا اس کے پورا ہونے سے پہلے تو اس کو نشان قرار دیتے رہے مگر جب پورا ہو گیا تو اس کو بھی مشکوک کرنے کی کوشش کی۔ بہرحال مخالفوں کی کور چشمی اور تعصب کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔ اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ اس کے لئے یہ کوئی ابتلا نہیں ہو سکتا کیونکہ جس کے دمشن کے منارہ پر چڑھنے والے اور فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زرد پوش مسیح کے اُترنے کی حقیقت کو خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اور جس نے خدا کی صفات والے دجال کا انکار کر کے دجال کی حقیقت حال پر اطلاع پائی ہے اور ایسا ہی دابۃالارض اور دجال کے متعلق ان لوگوں کے خانہ ساز مجموعوں کو چھوڑا ہے اور اس قدر باتوں پر جب وہ مجھ پر نیک ظن کرنے سے ان سے الگ ہو گئے ہیں تو یہ امر ان کی راہ میں روک اور ابتلا کا باعث کیونکر ہو سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ اب بات صرف حسن ظن تک نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ نے ان کو معرفت اور بصیرت کے مقام تک پہنچا دیا ہے اور وہ دیکھ چکے ہیں کہ میں وہی ہوں جس کا خدانے وعدہ کیا تھا۔ ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔ دوست و دشمن دور و نزدیک ہر مذہب و ملت کے لوگ ان کے گواہ ہیں۔ زمین نے اپنے نشانات الگ ظاہر کئے۔ آسمان نے الگ۔ وہ علامات جو میرے لئے مقرر تھیں وہ سب پوری ہوگئیں۔ پھر اس قدر نشانات کے بعد بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوتا ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک پر خدا نے ایسا فضل کیا ہے کہ ایک بھی تم میں سے ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔ کیا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا؟ ایک بھی نہیں۔ پھر ایسی بصیرت اور معرفت بخشنے والے نشانوں کے بعد مجھ پر حسن ظن ہی نہیں رہا بلکہ میری سچائی خدا کی طرف سے مامور ہو کر آئی۔ تم علیٰ وجہ البصیرت گواہ ہو اور تم پر حجت پوری ہوچکی ہے۔ پھر وہ بڑا ہی بدقسمت اور نادان ہوگا جو اتنے نشانوں کے بعد اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ابتلا میں پڑے جو اس کے ازدیاد ایمان کا موجب اور باعث ہونی چاہئے جو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آنے والے موعود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ اس کے لئے نماز جمع کی جائے گی۔ پس تمہیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ نشان بھی پورا ہوتا ہوا تم نے دیکھ لیا لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حدیث موضوع ہے تو میں نے پہلے اس کی بابت ایک جواب تو یہ دیا ہے کہ محدثین نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اہل کشف اور مامور تنقید احادیث میں ان کے اصولوں کے محتاج اور پابند نہیںہوتے تو پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس حدیث کی صحت کو ظاہر کر دیا ہے تو اس پر زور دینا تقویٰ کے خلاف ہے۔ پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ محدثین خود ہی مانتے ہیں کہ حدیث میں سونے کے کنگن پہننے کی سخت ممانعت ہے مگر وہ کیا بات تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صحابی کو سونے کے کنگن پہنا دیئے۔ چنانچہ اس صحابی نے بھی انکار کیا۔ مگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پہنا ہی دیئے۔ کیا وہ اس حرمت سے آگاہ نہ تھے۔ تھے اور ضرور تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہزاروں حدیثوں کو قربان کرنے کو تیار تھے۔ اب غور کا مقام ہے کہ جب ایک پیشگوئی کے پورا ہونے نے حرمت کا جواز کرا دیا تو بلا مطر و بلا عذر والی بات پر انکار کیوں۔
    احادیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اپنے خواب کو بھی سچا کرنے کی کوشش کرو۔ چہ جائیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی۔ جس شخص کو ایسا موقع ملے اور وہ عمل نہ کرے اور اس کو پورا کرنے کیلئے تیار نہ ہو وہ دشمن اسلام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ جھوٹا ٹھہرانا چاہتا ہے اور آپ کے مخالفوں کو اعتراض کا موقع دینا چاہتا ہے۔ صحابہ کا مذہب یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر اپنی معرفت اور ایمان میں ترقی دیکھتے تھے اور وہ اس قدر عاشق تھے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر کو جاتے تھے اور پیشگوئی کے طور پر کہہ دیتے کہ فلاں منزل پر نماز جمع کریں گے اور ان کو موقع مل جاتا تو وہ خواہ کچھ ہی ہوتا ضرور جمع کر لیتے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف دیکھو کہ آپ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے کس قدر مشتاق تھے۔ ہم کو کوئی بتائے کہ آپ حدیبیہ کی طرف کیوں گئے۔ کیا کوئی وقت ان کو بتایا گیا تھا اور کسی میعاد سے ان کو اطلاع دی گئی تھی۔ پھر کیا بات تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو جائے۔ یہ ایک باریک سر اور دقیق معرفت کا نکتہ ہے جس کو ہرایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ انبیاء اور اہل اللہ کیوں پیشگوئیوں کے پورا کرنے اور ہونے کی ایک غیر معمولی رغبت اور تحریک اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ جس قدر انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں۔ یا اہل اللہ ہوئے ہیں ان کو فطرۃً رغبت دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو پورا کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہوتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام نے اپنی جگہ داوٗدی تخت کو بحالی والی پیشگوئی کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی کہ اپنے شاگردوں کو یہاں تک حکم دیا کہ جس کے پاس تلواریں اور ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خریدے۔ اب اگر اس پیشگوئی کو پورا کرنے کی وہ فطری خواہش اور آرزو نہ تھی جو انبیاء علیہم السلام میں ہوتی ہے تو ہم کو کوئی بتائے کہ ایسا کیوں کیا گیا اور ایسا ہی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر یہ طبعی جوش نہ تھا تو آپ کیوں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے جب کہ کوئی میعاد اور وقت بتایا نہیں گیا تھا۔ بات یہی ہے کہ یہ گروہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی حرمت اور عزت کرتا ہے اور چونکہ ان نشانوں کے پورا ہونے پر معرفت اور یقین میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پورے ہوں۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نشان پورا ہوتا تو سجدہ کر لیا کرتے تھے۔ جب تک دل دھوئے نہ جاویں اور ایمان حجاب اور زنگ کے ہتوں سے صاف نہ کیا جاوے۔ سچا اسلام اور سچی توحید جو مدار نجات ہے حاصل نہیں ہو سکتی اور دل کے دھونے اور ان حجب ظلمانیہ کے دور کرنے کا آلہ یہی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جن سے خود اللہ تعالیٰ کی ہستی اور نبوت پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور جب تک سچا ایمان نہ ہو جو کچھ کرتا ہے وہ صرف رسوم اور ظاہر داری کے طور پر کرتا ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات تھی تو میرا نور قلب اس کے خلاف کرنے کی کیونکر رائے دے سکتا تھا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ یہ ہونا چاہئے تا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہو۔ ممکن تھا کہ ایسے واقعات پیش نہ آتے لیکن جب ایسے امور پیش آگئے کہ جن میں مصروفیت از بس ضروری تھی اور توجہ ٹھیک طور پر چاہئے تھی تو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آ گیا اور وہ پوری ہوئی اس طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا۔ والحمدللّٰہ علی ذلک
    میرا ان نمازوں کو جمع کرنا جیسا کہ کہہ چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ اور ایماء اور القاء سے تھا حالانکہ مخالف تو خواہ نخواہ بھی جمع کر لیتے ہیں۔ مسجد میں بھی نہیں جاتے۔ گھروں میں ہی جمع کر لیتے ہیں۔ مولوی محمد حسین ہی کو قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا اس نے کبھی کسی حاکم کے پاس جاتے وقت نماز جمع کی ہے یا نہیں۔ پھر خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان پر کیوں اعتراض کیا جاوے۔ اگر تقویٰ اور خدا ترسی ہو تو اعتراض کرنے سے پہلے انسان اپنے گھر میں سوچ لے کہ کیا کہتا ہوں اور اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوگا اور کس پر پڑے گا۔ میں نے اس اجتہاد میں یہ بھی سوچا کہ ممکن تھا ہم دس دن میں ہی کام کو ختم کر دیتے جو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا موجب اور باعث ہوا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی پسند کیا کہ جب یہ لوگ اپنے نفس کی خاطر دو دو مہینے نکال لیتے ہیں تو پیشگوئی کی تکمیل کے لئے ایسی مدت چاہئے جس کی نظیر نہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اگرچہ وہ مصالح ابھی تک نہیں کھلے مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ضرور کھلیں گے۔ دیکھو ضعف دماغ کی بیماری بدستور لاحق ہے اور بعض وقت ایسی حالت لاحق ہوتی ہے کہ موت قریب ہو جاتی ہے۔ تم میں سے اکثر نے میری ایسی حالت کو معائنہ کیا ہے اور پھر پیشاب کی بیماری عرصہ سے ہے۔ گویا دو زرد چادریں مجھے یہ پہنائی گئی ہیں۔ ایک اوپر کے حصہ بدن میں ان بیماریوں کی وجہ سے وقت صافی بہت کم ملتا ہے۔ مگران ایام میں خدا تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا کہ صحت بھی اچھی رہی اور کام ہوتا رہا۔ مجھے تو افسوس اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جمع بین الصلوٰتین پر روتے ہیں حالانکہ مسیح کی قسمت میں بہت سے اجتماع رکھے ہیں۔
    مسیح موعود کے زمانہ کے اجتماعات
    کسوف خسوف کا اجتماع ہوا یہ بھی میرا ہی نشان تھا۔ اور وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ بھی میرے لئے ہے اور اٰخِرِیْن مِنھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمِ بھی ایک جمع ہی ہے۔ کیونکہ اوّل اور آخر کو ملایا گیا ہے اور یہ عظیم الشان جمع ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض کی زندگی پر دلیل اور گواہ ہے اور پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دیئے ہیں چنانچہ مطبع کے سامان کاغذ کی کثرت، ڈاکخانوں، تار اور ریل اور دخانی جہازوں کے ذریعہ کُل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور باہر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہی ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہو رہے ہیں۔ اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے اخباروں اور رسالوں کا جو اغراض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اغراض میں سے ایک تکمیل دین یہی تھی جس کے لئے فرمایا گیا تھا اَلْیَوْمِ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنُکمُ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتٖیْ اب اس تکمیل میں دو خوبیاں تھیں ایک تکمیل ہدایت دوسری تکمیل اشاعت ہدایت۔ تکمیل ہدایت کا زمانہ تو آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کا اپنا پہلا زمانہ تھا اور تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ آپ کا دوسرا زمانہ ہے جب کہ واٰخِرِیْن مِنھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمِ کا وقت آنے والا ہے اور وہ وقت اب ہے یعنی میرا زمانہ یعنی مسیح موعود کا زمانہ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تکمیل اشاعت ہدایت کے زمانوں کو بھی اس طرح پر ملایا ہے اور یہ بھی عظیم الشان جمع ہے اور پھر یہ بھی وعدہ ہے کہ سارے ادیان کو جمع کیا جاوے گا اور ایک دن کو غالب کیا جاوے گا۔ یہ بھی مسیح موعود کے وقت کی ایک جمع ہے کیونکہ لیظہرہ علی الدین کلہ مفسروں نے مان لیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا۔ پھر نہ یہی کہ وہ امن کا زمانہ ہوگا کہ بھیڑیا اور بھیڑ ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے جیسا کہ اس وقت نظر آتا ہے۔ ہمارے مخالفوں نے ہمارے قتل کے کس قدر منصوبے کئے مگر وہ کیوں کامیاب نہ ہو سکے اس گورنمنٹ کے حسن انتظام اور امن کی وجہ سے۔ پھر خدا نے یہ بھی ارادہ فرمایاہوا تھا کہ اس زمانہ میں حقائق معارف جمع کر دیئے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ جیسے ظہر و عصر جمع ہوئے ہیں کہ ظہر آسمان کے جلالی رنگ کا ظل ہے اور عصر جمالی رنگ کا اور خدا تعالیٰ دونوں کا اجتماع چاہتا ہے اور چونکہ میرا نام اس نے آدم بھی رکھا ہے اور آدم کے لئے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا یعنی جلالی اور جمالی رنگ دونوں اس میں رکھے۔ اس لئے اس جگہ بھی جلال اور جمال کااجتماع کر کے دکھایا۔
    جلالی رنگ میں طاعون وغیرہ اللہ تعالیٰ کی گرفتیں ہیں اور انہیں سب دیکھتے ہیں اور جمالی رنگ میں اُس کے انعامات اور مبشرانہ وعدے ہیں اور پھر میری دانست میں اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ ایک اور جمع کی بھی خبر رکھی ہے جس کی خدا نے مجھے اطلاع دی اور وہ یہ ہے کہ میرا پیدائش میں میرے ساتھ ایک لڑکی بھی اس نے رکھی ہے اور پھر قومیت اور نسب میں بھی ایک جمع رکھی اور وہ یہ ہے کہ ہماری ایک دادی سیّدہ تھیں اور دادا صاحب اہل فارس تھے اب بھی خدا نے اس قسم کی جمع ہمارے گھر میں رکھی کہ ایک صحیح النسب سیّدہ میرے نکاح میں آئی۔ اس طرح جیسے خدا نے ایک عرصہ پہلے بشارت دی تھی اب غور تو کرو کہ خدا نے کس قدر اجتماع یہاں رکھے ہوئے ہیں۔ ان تمام جمعوں کو خدا نے مصلحت عظیمہ کے لئے جمع کیا ہے۔
    ہماری جماعت کیلئے تو یہ امر دور از ادب ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں پیش کریں! ان کے وہم میں بھی ایسی باتیں آئیں اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں جو کرتا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی تفہیم اور اشارہ سے کرتا ہوں پھر کیوں اس کو مقدم نہیں کرتے اور پیشگوئی سمجھ کر اُس کی عزت نہیں کرتے جیسے حضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سمجھ کر ایک صحابی کو سونے کے کڑے پہنا دیئے اب تم بتاؤ کہ اور کیا چاہتے ہو خدا نے اس قدر نشان تمہارے لئے جمع کر دئے ہیں اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہو تو کوئی وہم اور خیال اس قسم کا پیدا نہیں ہو سکتا جس سے اعتراض کا رنگ پایا جاوے اور اگر اس قدر نشان دیکھتے ہوئے بھی کوئی اعتراض کرتا اور علیحدہ ہوتا ہو تو وہ بیشک نکل جاوے اور علیحدہ ہو جاوے اُس کی خدا کو کیا پرواہ ہے وہ کہیں جگہ نہیں پا سکتا جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حَکم عدل ٹھہرایا ہے اور تم نے مان لیا ہے پھر نشانہ اعتراض بتانا ضعف ایمان کا نشان ہے حَکم مان کو تمام زبانیں بند ہو جانی چاہئیں۔ اگر مخالفوں کا خیال ہو تو انہوں نے اس سے پہلے کیا کچھ نہیں کیا۔ دجال، بے یمان، کافر، الکفر تک ٹھہرایا اور کوئی گالی باقی نہ رہی جو انہوں نے نہیں دی اور کوئی منصوبہ شرارت اور تکلیف کا نہیں رہا جو انہوں نے نہیں سوچا پھر اور کیا باقی رہ گیا جو غیروں کی پروا کرتا اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا جب تک خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ حکم کی بات کے سامنے اپنی زبانوں کو بند نہ کرو گے وہ ایمان پیدا نہیں ہو سکتا جو خدا چاہتا ہے اور جس غرض کیلئے اس نے مجھے بھیجا ہے میں سچ کہتا ہوں کہ میرا یہ عمل اپنی تجویز اور خیال سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تفہیم سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کیلئے ہے میں کسی اور حَکم کی ضرورت نہیں سمجھتا جو چاہتا ہے اس کو قبول کرے اور جس کا دل مریض ہے وہ الگ ہو جاوے میں ایسے لوگوں کو یہ صلاح دیتا ہوں کہ وہ کثرت سے استغفار کریں اور خدا سے ڈریں ایسا نہ ہو کہ خدا ان کی جگہ اور قوم لائے۔
    ایک بار مجھے الہام ہوا تھا کہ کوئی شخص میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے ھذا الرجل بحیح الذین یعنی یہ شخص دین کی جڑ اُکھاڑ رہا ہے میں خوش ہوا کیونکہ آثار میں ایسا ہی لکھا ہے کہ مسیح اور مہدی کی نسبت ایسے فتوے دیئے جاویں گے جج الکرامۃ میں ایسا ہی لکھا ہے اور ابن عربی نے لکھا ہے کہ جب مسیح نازل ہوگا تو ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا کہ یہ شخص دین کو بگاڑتا ہے اور مجدد صاحب کے مکتوب روم میں صاف لکھا ہے کہ مسیح جو کچھ بیان کرے گا وہ اسرار غامضہ ہوں گے اور لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں گے حالانکہ وہ قرآن سے استنباط کرے گا پھر بھی لوگ اس کی مخالفت کریں گے۔
    اصل بات یہ ہے کہ جیسے مسیح موعود کے ساتھ جمع کا ایک نشان ہے عوام کے خیال کے موافق ایک تغیر بھی اُس کے ساتھ ضروری ہے کیونکہ وہ بحیثیت حَکم ہونے کے تمام بدعات اور خرابیوں کو جو فیج اعون کے زمانہ میں پیدا ہوئی ہیں دور کرے گا اور لوگ اُن کو تغیر دین کے نام سے یاد کریں گے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر تم مخالفوں سے ڈرتے ہو تو پھر مجھے قبول کرنے کا کیا فائدہ ہوا۔ میری مخالفت میں کافر اور دجال ٹھہرائے گئے اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا اور پھر اگر یہی بات ہے کہ اس کو تغیر دین کہتے ہیں تو بتاؤ کہ میں نے جہاد کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے اور شائع کر دیا ہے کہ دین کیلئے تلوار اُٹھانا حرام ہے پھر اس کی پروا کیوں کرتے ہو۔ ہمارے مخالف تو یضع الجن یہ کہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ یضع الحرب درست ہے اگر آپ یہ چاہیں کہ ان لوگوں کے پنجوں سے بچ جائیں یہ مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے جب تک پورے برگشتہ نہ ہو جاویں۔ پس اب یک در گیر محکم گیر پر عمل کرو۔جو شخص ایمان لاتا ہے اسے اپنے ایمان سے یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہئے نہ یہ کہ وہ پھر ظن میں گرفتار ہو۔ یاد رکھو ظن مفید نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے اِنَّ الظَّنَّ لا یغْنِیْ مِنَ الَحَقِّ شَیْئًا یقین ہی ایک ایسی چیزہے جو انسان کو بامراد کر سکتی ہے یقین کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اگر انسان ہر بات پر بدظنی کرنے لگے تو شاید ایک دم بھی دنیا میں نہ گزار سکے وہ پانی پی سکے کہ شاید اس میں زہر ملا دیا ہو بازار کی چیزیں نہ کھا سکے کہ اس میں ہلاک کرنے والی کوئی شئے نہ ہو پھر کس طرح وہ رہ سکتا ہے یہ ایک موٹی مثال ہے اس طرح پر انسان روحانی امور میں اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔
    اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود، حَکم عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کی فکر کرو وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہوگا لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حَکم ہے تو پھر اُس کے حُکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو اور اُس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا وہ حَکم عدل ہوگا۔ اگر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو پھر کب ہوگی یہ طریق ہرگز اچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی اور دل کے بعض گوشوں میں بدظنیاں بھی ہوں۔ میں اگر صادق نہیں ہوں تو پھر جاؤ اور صادق تلاش کرو اور یقینا سمجھو کہ اس وقت اور صادق مل نہیں سکتا اور پھر اگر دوسرا کوئی صادق نہ ملے اور نہیں ملے گا تو پھر میں اتنا حق مانگتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو دیا ہے جن لوگوں نے مجھے شناخت نہیں کیا اور جس نے مجھے تسلیم کیا اور پھر اعتراض رکھتا ہے وہ اور بھی بدقسمت ہے کہ دیکھ کر اندھا ہوا۔
    اصل بات یہ ہے کہ معاصرت بھی رتبہ کو گھٹا دیتی ہے اس لئے حضرت مسیح کہتے ہیں کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کو اپنے وطن سے کیا کیا تکلیفیں اور صدمے اُٹھانے پڑے تھے اور یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک سنت چلی آتی ہے۔ ہماس سے الگ کیونکر ہو سکتے ہیں اس لئے ہم کو جو کچھ اپنے مخالفوں سے سننا پڑا یہ اُسی سنت کے موافق ہے مَایَا یِتْھِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ افسوس اگر یہ لوگ صاف نیت سے میرے پاس آتے تو میں اُن کو وہ دکھاتا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور وہ خدا خود اُن پر اپنا فضل کرتا اور انہیں سمجھا دیتا مگر انہوں نے بخل اور حسد سے کام لیا اب میں اُن کو کس طرح سمجھاؤں جب انسان سچے دل سے حق طلبی کیلئے آتا ہے تو سب فیصلے ہو جاتے ہیں لیکن جب بدگوئی اور شرارت مقصود ہو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ میں کب تک ان کے فیصلے کرتا رہوں گا حجج الکرامہ میں ابن عربی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اُسے مفتری اور جاہل ٹھہرایا جاوے گا اور یہاں تک بھی کہا جاوے گا کہ وہ دین کو تغیر کرتا ہے اس وقت ایسا ہی ہو رہا ہے اس قسم کے الزام مجھے دئے جاتے ہیں ان شبہات سے انسان تب نجات پا سکتا ہے جب وہ اپنے اجتہاد کی کتاب ڈھانپ لے اور اس کی بجائے وہ فکر کرے کہ کیا سچا ہے یا نہیں بعض امور بے شک سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں لیکن جو لوگ پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں وہ حسن ظن اور صبر اور استقلال سے ایک وقت کا انتظار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن پر اصل حقیقت کو کھول دیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت صحابہ سوال نہ کرتے تھے بلکہ منتظر رہتے تھے اور جرات سوال کرنے کی نہ کرتے تھے۔ میرے نزدیک اصل اور اسلم طریق یہی ہے کہ ادب کرے جو شخص آداب النبی کو نہیں سمجھتا اور اس کو اختیار نہیں کرتا اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہلاک نہ کیا جاوے۔
    وہ لوگ بڑی غلطی پر ہیں جو ایک ہی دن میں حق الیقین کے درجے پر پہنچنا چاہتے ہیں یاد رکھو کہ ایک ظن ہوتا ہے اور ایک یقین و ظن صرف خیالی بات ہوتی ہے اس کی صحت اور سچائی پر کوئی حکم نہیں ہوتا بلکہ اس میں احتمال کذب کا ہوتا ہے لیکن یقین میں ایک سچائی کی روشنی ہوتی ہے یہ سچ ہے کہ یقین کے بھی مدارج ہیں ایک علم الیقین ہوتا ہے پھر عین الیقین اور تیسرا حق الیقین۔ جیسے دور سے کوئی آدمی دھواں دیکھتا ہے تو وہ آگ کا یقین کرتا ہے اور یہ علم الیقین ہے۔ اور جب جا کر دیکھتا ہے تو وہ عین الیقین ہے اور جب ہاتھ ڈال کر دیکھتا ہے کہ وہ جلاتی ہے تو وہ حق الیقین ہے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی ابھی ظن سے مخلصی نہیں ہوئی جب کہ سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جو مامور خدا کی طرف سے آتے ہیں اُن کے ساتھ ابتلا ضرور ہوتے ہیں پھر میں کیونکر ابتلا ء کے بغیر آ سکتا تھا اگر ابتلا نہ ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں سے آ جاتے تا کہ اُن کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملتا کہ آنے والے کے لئے لکھا ہے کہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہوگا اور اسی طرح حضرت مسیح کے وقت ایلیا ہی آ جاتا تا کہ ان کو ٹھوکر نہ لگتی۔
    ایک یہودی فاضل نے اِس پر جاری کتاب لکھی ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے لئے ہی کافی ہے کہ ایلیا نہیں آیا اور خدا بھی ہم میں سے پوچھے گا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب پیش کر دیں گے اس قدر معجزات جو حضرت مسیح سے صادر ہوئے بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے ایلیا بھی زندہ کر کے لے آتے ایماناً بتاؤ کہ کیا ایلیا کا ابتلا بڑا تھا یا نمازوں کو جمع کرنے کا ابتلاء۔ جس ابتلاء نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیا اب اس قدر لوگ جو گمراہ ہوئے اور حضرت مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر رہے تو اس کا باعث وہی ایلیا کا ابتلا ہے یا کچھ اور۔ غرض ابتلاء کا آنا ضروری ہے مگر سچا مومن کبھی ان سے ضائع نہیں کیا جاتا۔
    اس قسم کے لوگوں نے کسی زمانہ میں بھی فائدہ نہیں اُٹھایا کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انہوں نے فائدہ اُٹھایا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔ میں نے عام طور پر شائع کیا ہے کہ استجابت دعا کا مجھے نشان دیا گیا ہے جو چاہے میرے مقابلہ پر آئے میں نے کہا کہ جو مجھے حق پر نہیں سمجھتا وہ میرے ساتھ مباہلہ کرے میں نے یہ بھی شائع کیا کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کا ایک نشان مجھے عطا ہوا اس میں مقابلہ کر کے دیکھ لو مگر ایک بھی ایسا نہ ہوا جو میرے سامنے آتا اور میری دعوت کو قبول کرتا پھر خدا نے مجھے بشارت دی کہ ینصرک اللّٰہ فی مواطن اور اس کا ثبوت دیا کہ ہر میدان میں مجھے کامیاب کیا۔ پس اگر ان نشانات سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتا اور اس کی تسلی نہیں ہوتی پھر وہ کسی اور کے پاس جاوے اور تسلی کرے اگر کر سکتا ہے لیکن سچائی کو چھوڑ کر تسلی کہاں۔ فماذا بعد الحق الاالضلال۔ ایسے لوگ لامن الاحیاء ولامن الامرات کے مصداق ہوتے ہیں۔ غرض نمازوں کے جمع کرنے میں یہ راز اور سر تھا اور انما الاعمال بالنیات اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ آیا یہ سستی اور کسل کی وجہ سے تھا یا ایک معقول اور مبارک طریق پر یاد رکھو کہ اس قدر نشانات دیکھ کر بھی جسے کوئی شک و شبہ گزرتا ہے تو اسی سے ڈرنا چاہئے کہ شیطان عدو مبین اُس کے ساتھ ہے۔ میں جس راہ کی طرف چلاتا ہوں یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر غوثیت اور قطبیت ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعام ہوتے ہیں جو لوگ مجھے قبول کرتے ہیں ان کی دین و دنیا بھی اچھی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلیٰ یَرْمِ الْقِیَامۃِ درحقیقت وہ زمانہ آتا ہے کہ اُن کو امیت سے نکال کر خود قوت بیان عطا کرے گا اور وہ منکروں پر غالب ہونگے لیکن جو شخص دلائل اور نشانات کو دیکھتا ہے اور پھر دیانت امانت اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑتا ہے اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ من اظلم ممن افتری علی اللّٰہ کذبا اوکذب بایاتہ
    تم بہت سے نشانات دیکھ چکے ہو اور حروف تہجی کے طور پر ایک نقشہ تیا کیا جاوے تو کوئی حرف باقی نہ رہے گا کہ اس میں کئی کئی نشان نہ آویں۔ تریاق القلوب میں بہت سے نشان جمع کئے گئے ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔ اب وقت ہے کہ تمہارے ایمان مضبوط ہوں اور کوئی زلزلہ اور آندھی تمہیں ہلا نہ سکے بعض تم میں ایسے ہی صادق ہیں کہ انہوں نے کسی نشان کی اپنے لئے ضرورت نہیں سمجھی اگر خدا نے اپنے فضل سے ان کو سینکڑوں نشان دکھائے لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ تھے چنانچہ مولوی نورالدین صاحب کسی نشان کے طالب نہیں ہوئے۔ انہوں نے سنتے ہی امنا کہہ دیا اور فاروقی ہو کر صدیق … یہ کہ حضرت ابوبکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو راستہ ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کی خبر پہنچی وہیں انہوں نے تسلم کر لیا۔
    حضرت اقدس نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا مولوی نورالدین صاحب حکیم الامۃ ایک جوش اور صدق کے نشہ سے شرشار ہو کر اٹھے اور کہا کہ میں اس وقت حاضر ہوا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور تضِیْتُ بِاللّٰہِ وَبِمُحِمَّدً نَبِیًّا کہہ کر اقرار کیا تھا اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور وہم حضور کے متعلق نہیں اور میں نے ہمیشہ اس کو آب نبوت کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں میں آپ کے حضور اقرار کتا ہوں رضینا باللّٰہ ربَّا وَبِکَ مسیحا و مہدیا اِس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدس نے بھی اپنی تقریر ختم کر دی۔
    تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام درباب جمع صلوتین جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جمع کی
    شام کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدام حاضرین سے فرمایا کہ آج میں ایک نہایت ضروری بات سناتا ہوں اسے پوری توجہ سے سب دوست سنیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کا فعل جواس کے نزدیک بہت سی مصالح پر مبنی ہوتا ہے اجنبی اور ناواقف کی نگاہ میں مورد اعتراض ٹھہرایا جاتا ہے۔ … فضل سے یہاں ہر روز نئے آدمی آتے ہیں اور تھوڑے ہوتے ہیں جو ہمارے حال سے واقف ہوں اور وہ دیکھتے ہیں کہ ہم کچھ عرصہ سے لگاتار ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کسی کے دل میں کوئی اعتراض اور وسوسہ پیدا ہو جائے اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس…… اور مصالح ……… نمازوں کو جمع کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا اور نہ کسی فرد بشر کا مقدور اور اختیار ہے کہ شریعت کی ترمیم یا تنسیخ کرے ہاں ہم شریعت کے مبارک اور باریک اشاروں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں میری طبیعت کی افتاد ایسی واقع ہوئی ہے کہ جب تک پوری جمعیت حاصل نہ ہو اس سلسلہ مضمون کی زنجیر کی کڑیاں منتظم نہیں رہ سکتیں جو دل میں حاضر ہوا ہو تشتت اور قفرق سے اُس میں خلیل آ جاتا ہے اور از بسکہ ضروری تھا کہ خطبہ الہامیہ اور تحفہ گولڑوی اور تریاق القلوب اور دوسری چند کتابوں کو جو ایک عرصہ سے معرض التوا میں پڑی ہیں پورا کیا جاتا اور ان کے مضامین کے وقت اور عظمت اس امر کی متقضی تھی کہ سلسلہ خیالات میں غیر منقک اتصال اور ارتباط رہے لہٰذا صحت نیت اور افتائے قلب نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کرنے کا مشورہ دیا علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا کہ ہم اس وقت روحانی جنگ میں مصروف ہیں ہماری حالت اس وقت بلاتفاوت موئے مشابہ ہے ہماری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس حالت کے جو غزوہ خندق میں آپ کو تھی جب کہ ایک شدید مصروفیت اور عذر نے آپ کے لئے پانچوں نمازوں کے جمع کرنے کی راہ کھول دی تھی چونکہ ابتدا میں مقرر ہو چکا تھا کہ مسیح موعود کی جنگ روحانی جنگ ہوگی اور اُس کے ہتھیار آسمانی ہتھیار ہوں گے اس لئے ممکن ہے کہ کسی نافہم اور سطحی خیال کے آدمی کو اس گھمسان اور خوفناک جنگ کی تصویر نظر نہ آوے مگر یہ حق اور واقعی امر ہے کہ روحانی طور پر ہمیں وہی واقعات اور مشکلات پیش آئے ہوئے ہیں جو اس مصیبت ناک گھڑی میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں۔ بنائٔ اعلیٰ ہذا ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل جو سنت صحیحہ سے ثابت ہے ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم صحت نیت کے ساتھ اس سے جمع صلوٰتین کا فائدہ اُٹھائیں اس کے سوا ہم چاہے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو بھی پورا کریں جو آپ نے فرمائی کہ نماز اُس کے لئے جمع کی جائے گی۔
    اِس پیشگوئی میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ اطلاع دی کہ آپ کی اُمت کا آخری خلیفہ اُس سانپ یا دجال سے جنگ کرے گا جو ابتدا سے توحید کا دشمن چلا آتا ہے اور وہی اکیلا حضرت آدم کی شکست اور تمام انبیاء کی ہتک کا انتقام اُس زہریلے دشمن سے لے گا اور اُس آخری زمانہ میں جب کہ خدا تعالیٰ اور اس کی پاک کتاب اور سارے نبیوں کی بے عزتی کی جائے گی وہی دین حق کی کھوئی ہوئی عزت کو بحال کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی آپ کو دکھایا کہ اُس کی بعثت کے وقت سے آخر تک دو زرد چادریں اُس کے زیب تن رہیں گی یعنی ایک بیماری اُس کے جسم کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور ایک نیچے کے حصہ میں اس امر کے معلوم کرنے سے ضروری ہے کہ کام کی بزرگی اور مصروفیت کی شدت نے آپ کے مبارک قلب میں ترحم اور تعجب کو تحریک دی ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں گداز ہو کہ ایک تو اس کا یہ کام ہوگا کہ وہ اس دجال ستم گر سے قتال کرے گا جس کے تصور سے آپ کا رنگ زرد ہوہو جاتا تھا اور باایں ہمہ دو بیماریاں اور بڑی بھاری بیماریاں بھی اس کے لازم حال رہیں گی۔ تو اس صورت میں اتنا بڑا کام کیونکر چلے گا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تسلیت خاطر اور تثبیت قلب کیلئے جہاں خداوند کریم نے آپ کو مسیح موعود کی نسبت بڑی بڑی بشارتیں دیں جن کی بنا پر آپ نے کبھی اس کے حق میں فرمایا کہ وہ بعثت کے بعد چالیس سال تک اپنا کام کرے گا یعنی اس کی عمریں لمبی کی جائیں گی اور کارروائی کیلئے وسیع موقعہ اُسے دیا جائے گا اور کبھی اس کے حق میں سلام کہا جس سے یہ اشارہ ہے کہ وہ ایسے نازک جنگ اور خوفناک وقت میں سلامتی اور عافیت اور برکت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور اپنی مہمات کو انجام دے گا انہی بشارتوں کے ساتھ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ بھی اطلاع دی کہ اُس کے لئے یعنی اُس کے اغراض و مقاصد کے سرانجام اور سہولت کو مدنظر رکھ کر اُس کے لئے نماز جمع کی جائے گی کیسی عجیب بات ہے کہ ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیشگوئی فرمانا کہ وہ بیمار ہوگا اور اس کیلئے نمازیں جمع کی جائیں گی اور دوسری طرف واقع ہو اور خارج میں بھی ایسا ہی ہونا یعنی ہمارے پیش دست بڑے بھاری کاموں کا ہونا اور عظیم الشان روحانی جنگ کا پیش آنا اور دو بیماریوں میں مبتلا ہونا اور پھر بلاتکلف شدت ضرورت کے وجہ سے اضطراراً ظہر اور عصر کو جمع کرنا ان باتوں سے فی الحقیقت وہ شخص بڑا حظ اُٹھا سکتا اور خدا کی ہستی پر لذیذ اور نیا ایمان پیدا کر سکتا ہے جو قلب سلیم رکھتا ہو فرمایا کیا ہم نے تکلف سے یہ کوشش کی ہے کہ ان باتوں کے مصداق بن جائیں اور ان سب امور کو بناوٹ کے ساتھ اپنے اوپر جما لیں۔ پیشگوئی میں یکسرالصلیب کا ہونا جو بتاتا ہے کہ کتنا بڑا کام اسے سپرد کیا جائے گا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسے دو زرد چادیں پہنے ہوئے یعنی بیمار دیکھنا اور پھر فرمانا کہ اس کے لئے نماز جمع کی جائے گی اور پھر ہماری ذات اور ہمارے واقعات کا خارجاً اور فی الواقع اُس کا مصداق ہوتا گیا یہ خدا تعالیٰ کے عجائب کاموں سے ہی ممکن تھا کہ صلیب کے شدید غلبہ کا وقت ہی نہ ہوتا یا اس امر سے ہمیں مناسبت ہی نہ ہوتی اور ہماری طبیعت کا میلان کسی اور مباحثہ اور کام کی طرف ہوتا یا اُس کام سے کماحقہ عہدہ برآ ہم نہ ہو سکتے یا بیمار نہ ہوتے کون ایسا شخص ہے جو سالہا سال سے ہمیں جانتا ہے اور اس واقعی اور ضروری بات پر اسے اطلاع نہیں کہ دو بیماریاں ہمیں لازماً چمٹی رہتی ہیں اب غور کرنا چاہئے کہ کیا کسی انسان کی قدرت میں ہے کہ تکلف اور افترا سے ان مواد اور اسباب کو اپنے حق میں جمع کرے کوئی تکلف سے کر کے تو دکھائے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور پھر محض بناوٹ اور افترا سے اپنے تئیں اتنے آسمانی اور زمینی باتوں کا مصداق بنانے کی کوشش کرے اگر کوئی ایسا کرے تو یقینا یاد رکھے کہ وہ ان بے باک مفتریوں کی طرح نابود ہو جائے گا جو بناوٹ کی چال اختیار کر کے خدائے غیور کی آتش غضب کا ہیزم بنے۔
    پیشگوئیوں کا انسانی ہاتھوں سے پورا ہونا
    پھر فرمایا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم پیشگوئی کو اپنے ہاتھ سے کیوں پورا کرتے ہیں چنانچہ خدا تعالیٰ کی سنتوں اور انبیاء علیہم السلام کے حالات سے ناواقفوں نے اس سے پیشتر منارہ کی تعمیر کی نسبت یہی اعتراض کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسی طرح واقع ہوئی ہے کہ بعض باتوں کو وہ بلاتوسط انسانی ہاتھوں کے خود اپنے ہاتھ سے پورا کرتا ہے جیسے اُس نے آسمان پر کسوف خسوف کی پیشگوئی کو پورا کیا اور بعض لازماً انسانی واسطوں سے پوری ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا کہ آپ کے احداء شکست کھائیں گے اور ہلاک کئے جائیں گے اب نادانوں کے زعم کے موافق چاہئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ان وعدوں کے صدق وقوع پر ایمان لا کر خاموش ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے اور کفار کے مقابل ہتھیار نہ اُٹھاتے مگر خدا تعالیٰ کے وعدوں کے وقوع کی کیفیت کے علم اور سنن الٰہیہ کی پوری واقفیت اور اتباع نے ان کے دل میں جوش ڈالا کہ مردانہ وار اُٹھیں اور ان پیشگوئیوں کو اپنے ہاتھوں سے پورا کریں اس امر کی تائید خدا تعالیٰ کے اس حکم سے ہوتی ہے جو اُس نے اپنے نبی کو دیا تھا کہ یَااَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ المُوْمِنیْنَ عَلَی الْقِتَال اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا جب کہ انہوں نے ایران کی لوٹ کے سونے کے کنگن اپنی فوج کے ایک مسلمان کو پہنائے اور فرمایا میں نے تمہیں یہ اس لئے پہنائے ہیں کہ وہ پیشگوئی جو کتاب اللہ میں اَسْوِرَۃَ مِنَ الذَّھَبِ ہے پوری ہو جاوے۔ اِسی طرح علم تاویل الرؤیا میں مقدر ہو چکا ہے کہ اگر کوئی دیکھے کہ اس نے کسی شخص کو کچھ دیا ہے یا کوئی نیکی کسی کے حق میں اس سے وقوع میں آئی ہے تو تابمقدور اس رؤیا کے بات کو پورا کر دے غرض کسی کا حق نہیں اور نہ مقدور ہے کہ تصنع اور افترا سے اپنے قد و قامت کو آسمانی خلقت کے حسب حال اور موزوں بنائے ساری لوازم کو پورا کرنا اور مناسب اسباب کو مقاصد کی تقریب کے لئے مہیا کر دینا باری تعالیٰ کا فعل ہے۔
    حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تقریر درباب جمع صلوٰتین
    جب حضرت اقدس علیہ السلام یہ تقریر کر چکے تو مولوی نورالدین صاحب کے آپ کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھ سے بھی کئی دفعہ لوگوں نے اس جمع کی نسبت سوال کیا اس کے جواب میں جو کچھ میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ حضور کی خدمت میں بھی گزارش کروں اس لئے ممکن ہے کہ میری تقریر کے سمجھنے میں کسی نے خطا کی ہو اور کوئی غلط فہمی واقع ہوگئی ہو تو اب حضور کے سامنے ایک بات پوری صفائی سے کھل جائے میں نے اُنہیں جواب دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے تتبع سے ثابت ہوتا ہے کہ اپنے اپنی زندگی میں تین موقعوں پر نمازیں جمع کی ہیں۔
    وہ موقع جن میں پیغمبر خدا نے نمازوں کو جمع کیا
    ۱۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کو جاتے وقت ظہر اور عصر کو جمع کیا۔
    ۲۔ اور پھر عرفات سے واپس ہو کر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔
    ۳۔ غزوہ خندق میں آپ نے پانچوں نمازوں کو جمع کیا۔
    ۴۔ آپ نے سفروں میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔
    طریق نماز
    ان واقعات میں کبھی تو آپ نے جمع تاخیر پر عمل کیا جس کا واضح اور روشن ثبوت صحاح میں موجود ہے اور کبھی آپ نے جمع تقدیم سے کام لیا اس کے بارہ میں حسن حدیثیں موجود ہیں۔
    خوف و بارش و مرض کے وقت جمع صلوٰتین
    وہ جمع جو خوف اور بارش اور مرض کے وقت کی جاتی ہے یہ لوگوں کا اپنا استنباط اور استدلال ہے۔ ترمذی میں ایک حدیث جمع کی ہے جس کی نسبت ترمذی نے یہ کہا ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہوا مگر لوگوں نے اس کے اس دعویٰ جماع پر سخت اعتراض کئے ہیں بہرحال ان باتوں سے اتنا تو ثابت ہوتا ہے کہ کسی عذر قومی کی بناء پر انسان بعض نمازوں کو جمع کر سکتا ہے اس پر یہ بھی قابل غور ہے کہ صحابہ معمولاً بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے تھے ان کے وقتوں میں مینہ بھی برستے تھے غرض عذروں کے موقع ان کو بھی ملتے تھے مگر یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان کے لئے جمع کا ارشاد ہویا اپنے طور پر کبھی انہوں نے جمع کی ہو۔ سفروں میں تو ثابت ہوتا ہے کہ مینہ کے عذر پر وہ جماعت کی نماز میں حاضر ہونے سے معاف رکھے گئے مگر حضر میں یہ فتویٰ بھی اُن کے حق میں کبھی جاری نہیں ہوا۔ پھر مولوی صاحب نے فرمایا یہاں تک تو میں نے انہیں اس مسئلہ کی اصل حقیقت اور شریعت کے امور کی طرف توجہ دلائی اس کے بعد میں نے ایک دفعہ مدت ہوئی حضرت امام علیہ السلام سے جمع کی نسبت عرض کیا آپ نے فرمایا کہ جمع کرنے والا اپنے نفس میں غور کر کے دیکھ لے کر آیا وہ نفس کی شرارت اور کسل کی تحریک سے جمع کرتا ہے یا خدا کیلئے کرتا ہے مجھے تو اُسی وقت سے یہ جواب بڑا سچا اور لذیذ معلوم ہوتا ہے اور میں اسے کافی اور قاطع جواب سمجھتا ہوں پھر میں نے اُن لوگوں کو کہا کہ حضرت امام علیہ السلام کا معاملہ اور ہے ان کا معاملہ اور واقعہ اس وقت بالکل یہ غزوہ خندق کے معاملہ سے مشابہ ہے اس لئے حضرت امام اور آپ کے ساتھ کے لوگ تو جمع نماز میں عند اللہ معذور ہیں مگر تم لوگ جو اسے اپنے خیال کے موافق ایک سند بنا کر اپنے اپنے شہروں اور مکانوں میں جمع بین الصلوٰتین کرتے ہو تمہارے لئے ہر گز جائز نہیں اور تم دانستہ یا نادانستہ سنت کے خلاف کرتے ہو۔ مولوی صاحب کی اس تقریر کو حضرت امام علیہ السلام نے از بس پسند فرمایا اور فرمایا کہ واقعی ہمارا یہی مذہب ہے اور ہم عذر کی بناء پر اور نیز اُن خصایص کی بناء پر جو مسیح موعود علیہ السلام سے مخصوص کئے گئے ہیں جمع نماز کرتے ہیں اور دوسرے لوگ جو ہمارے اس حال اور چال کو سند بنا کر خواہ مخواہ بلا اُن عذروں کے جمع کریں جو سنت صحیحہ ثابتہ سے ثابت ہیں تو وہ عنداللہ ماخوذ ہونگے۔
    نماز اپنی زبان میں نہ پڑھنی چاہئے
    (از انفاس قدسیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں۔ مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا … کچھ بھی باقی رہا۔
    نماز وتر
    سوال: اکیلا وتر پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے۔
    جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام: ہم نے اکیلا وتر پڑھنے کے متعلق حکم کہیں دیکھا۔ ہاں دو رکعت کے بعد خواہ سلام پھیر کر دوسری رکعت پڑھ لے۔ خواہ تینوں رکعت ایک ہی نیت سے پڑھ لے۔
    وتر پڑھنے کا طریق و وقت
    سوال: وتر پڑھنے کا کیا طریق ہے؟
    جواب از حکیم الامۃ: حدیث شریف کے مطابق وتر اور مغرب کے فرائض میں فرق کرنا ضروری ہے اس کے واسطے حضرت مسیح موعود کا طریق یہ ہے کہ آپ پہلے۱؎ دو رکعت پڑھتے ہیں اور سلام پھیرتے ہیں۔ پھر معاً اُٹھ کر ایک رکعت اور پڑھتے ہیں۔
    سوال: وتر کس وقت پڑھنے چاہئیں؟
    جواب: (از حکیم الامۃ) وتر پہلی رات کو پڑھ لینا بہتر ہے۔ پچھلی رات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ پہلی رات پڑھ لئے جاویں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی طریق عمل ہے کہ آپ پہلی رات کو پڑھ لیا کرتے ہیں۔
    سفر میں وتر
    سوال: سفر میں وتر کی کتنی رکعت پڑھنی چاہئیں؟
    جواب: (از حکیم الامۃ) سفر و حضر میں وتر کے واسطے تین رکعت ضروری ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفر میں بھی وتر کے تین رکعت بعد نماز عشاء پہلی رات کو ضرور پڑھا کرتے ہیں۔
    سوال: بوقت ضرورت کون کون نمازیں جمع ہو سکتی ہیں۔
    جواب از حکیم الامۃ: ضرورت شریعہ کے وقت ظہر اور عصر کی نماز جمع ہو سکتی ہے اور مغرب اور عشاء کی نماز جمع ہو سکتی ہے۔
    جمع نماز کے وقت سنتوں کا پڑھنا
    سوال: نماز جمع کے وقت سنتوں کی رکعتیں پڑھنی ضروری ہیں یا نہیں؟
    جواب از حکیم الامۃ: نمازیں جمع کی جاویں تو پہلی اور پچھلی دونوں سنتیں معاف ہوتی ہیں اور کوئی پڑھ لے تو ممنوع نہیں نماز ظہر و عصر کے لئے جمع کے وقت حضر میں چار اور آٹھ رکعت اور نماز مغرب و عشاء کیلئے جمع کے وقت تین اور چار سات رکعت فرضوں کی پڑھنی ضروری ہیں۔ عشاء کے ساتھ تین وتروں کا پڑھنا ضروری ہے۔
    دعائِ قنوت
    سوال: دعائِ قنوت جو وتر میں پڑھی جاتی ہے اس کے لئے کیا حکم ہے۔
    جواب از حکیم الامۃ: قنوت۱؎ وتر میں ایسی چیز ہے کہ جس میں آیمہ کا اختلاف ہوا ہے اور قنوت الوتر کے اوپر بہ نسبت اختلاف آثار کے امام صاحب کا صریح فتوی یہ ہے کہ جہاں ایسا ہی اختلاف ہو اور صریح احادیث صحیحہ سے ترجیح نہ ہو سکے تو فقہ حنفی کے موافق عمل درآمد کرنا چاہئے یہ جناب الٰہی کو پسند بات ہے یہ بات میں نے اپنے کان سے سنی اور حضرت اقدس کو دیکھا کہ کسی اور شخص کا فعل ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ حضرت امام علیہ السلام ہم میں زندہ موجود ہیں۔
    نماز کے بعد دعا
    مولوی سید محمود شاہ صاحب جو سہارنپور سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔ حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور جب آپ نماز مغرب سے فارغ ہو کر شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔ یہ عرض کیا میں ایک امر جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں اگرچہ وہ فروعی ہے لیکن پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز دعا مانگتے ہیں لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز بھی نہیں مانگتے۔ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا کرتے ہیں اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان میں یہ تمام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔ گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔ اس لئے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے حالانکہ نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ذوق انس اور سرور بڑھتا ہے کہ جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں جس سے ان کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔ عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز ایسے طور پر پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لئے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا جو مومن کی معراج ہے مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لئے ام الادعیہ اھدنا الصراط المستیقم دعا مانگی جاتی ہے۔ انسان کبھی خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب کہ اقام الصلوٰۃ نہ کرے۔ اقیموا الصلوٰۃ اسی لئے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے۔ مگر جو شخص اقام الصلوٰۃ کرتے ہیں تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔ نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو اسے ایک بار پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی اور وہ فارغ ہی نہیں ہو سکتا۔ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساریعمر میں ایک بار بھی اسے چھکتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔ مومن کو بے شک ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے دعائیں کرنی چاہئیں۔ مگر نماز کے بعد جو دعاؤں کا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے۔ بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔ میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ اپنی نماز کو سنوارو، یہ بھی دعا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔ کوئی اثر روحانیت اور خشوع خضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا یہی سبب ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ *** بھیجتا ہے۔ ایسے نمازیوں کے لئے ویل ہے۔ دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جوہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لئے اسے اس کو پھینک دینا چاہئے ہرگز نہیں۔ اوّل اس جوہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پیسوں کو بھی سنبھالے اس لئے نماز کو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔
    سائل نے عرض کیا کہ الحمد شریف بیشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں ان کو تو دعا مانگنی چاہئے۔
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا۔ ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطے کی طرح مت پڑھو۔ سوائے قرآن شریف کے جو رب جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہیں۔ نماز بابرکت نہ ہوگی۔ جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔ اس لئے ہر شخص کو جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو پیش کرے۔ ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔ اس لئے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نماز کے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں اور ہم بھر کر لیتے ہیں۔ اگرچہ ہمیں عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ رب العزت میں عرض کرنا چاہئے۔
    میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کرو۔ جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔ فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں باقی نوافل اور سنن کو جیسا چاہو طول دو اور چاہئے کہ اس میں گریہ و بکا ہو تا کہ وہ حالت پیدا ہو جائے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔ نماز ایسی شے ہے کہ سیئات کو دور کرتی ہے۔ جیسے فرمایا اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْ ھِبْنَّ السَّیِّئَات۔ نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔ حسنات سے مراد نماز ہے مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں۔ یہ اس قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔ نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا اور آخر مر کر خدا کے حضور جاتا ہے۔ دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے اگر دس بیس دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔ پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور ان کا کوئی اثر محسوس اور مشہود نہیں ہوتا۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہوجاتی ہے۔ مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور روبدنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے۔ اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔ طبیعتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں۔ جیسے اگر ہندو کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا چھو جاوے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے۔ حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔ زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور ناآشنا نہیں۔ جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دعا نہیں مانگتے بلکہ نمازوں میں جو دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ بدعت نہیں۔
    پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں۔ جو ان لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی۔ اسی لئے ان کی ترقیات جلدی ہوئیں۔ لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی۔ اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے۔ ان کے نیچے جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔ اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان تو نماز پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔ یاد رکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔ صلوٰۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔ یہ قرب کی کنجی ہے۔ اسی لئے کشوف ہوتے ہیں۔ اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔ یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں۔ ہم دعاؤں سے انکار نہیں کرتے بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعاؤں کی قبولیت پر ایمان ہے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے ادعونی استجب لکم فرمایا ہے۔ دعا کے لئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے لگے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہنچانے۔ اتباع سنت ضروری ہے مگر تلاش رقت بھی اتباع سنت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم سمجھتے ہو دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے۔ حقیقت پرست بننا چاہئے مسنون دعاؤں کو بھی برکت کیلئے پڑھنا چاہئے مگر حقیقت کو پاؤ۔
    نماز کے بعد دعا کرنا نہ فرض ہے اور نہ التزامی طور پر مسنون ہے
    یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دعا کرنا فرض نہیں ٹھہرایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیںہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے التزام ثابت نہیں اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی۔
    تقاضائے وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کری اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ کا سارا ہی وقت دعاؤں میں گزرتا تھا لیکن نماز خزینہ دعاؤں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کرلے اور طرف توجہ نہ کرے کیونکہ جب نفل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہئے اگر کوئی شخص ذوق اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو پھر خارج نماز میں بیشک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے ہم تقدیم نماز کی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض ہے مگر لوگ آج کل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بعد ہو گیا مومن کیلئے نماز معراج ہے اور وہ اسی سے اطمینان قلب پاتا ہے کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اپنی عبودیت کا اقرار و استغفار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود۔ غرض وہ سب امور جو روحانی ترقی کیلئے ضروری ہیں موجود ہیں۔ ہمارے دل میں اس کے متعلق بہت سی باتیں ہیں جن کو الفاظ میں پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے بعض سمجھ لیتے ہیں اور بعض رہ جاتے ہیں مگر کام یہ ہے کہ ہم تھکتے نہیں … ہیں جو سعید ہوتے ہیں اور جن کو فراست دی گئی ہے وہ سمجھ لیتے ہیں۔
    (سائل) ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نماز اپنی زبان میں پڑھنی چاہئے۔
    (حضرت اقدس) وہ اور طریق ہوگا جس سے ہم متفق نہیں قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور رب جلیل کا کلام ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے ہم نے تو ان لوگوں کے لئے دعاؤں کے واسطے کہا ہے جو اُمی ہیں اور پورے طور پر اپنے مقاصد ادا نہیں کر سکتے ان کو چاہئے کہ اپنی زبان میں دعا کر لیں ان لوگوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ فتح محمد ایک شخص تھا اُس کے چچی بہت بؤھی ہوگئی تھی اُس نے کلمہ کے معنی پوچھے تو اُس کو کیا معلوم تھا کہ کیا ہیں اس نے بتائے تو اُس عورت نے پوچھا کہ محمد مرد تھا یا عورت تھی جب اُس کو بتایا گیا کہ وہ مرد تھا تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگی کہ پھر کیا اتنی مدت میں بیگانے مرد کا نام ہی لیتی رہی۔ یہ حالت مسلمانوں کی ہوگئی ہے۔ جب حضرت امام علیہ السلام تقریر ختم کر چکے تو مولوی محمد احسن فاضل امروہی نے مستفسر کو مخاطر کر کے فرمایا کہ صاحب سفر السعادت نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ نماز کے بعد دعا کی حدیث ثابت نہیں اس پر حضرت اقدس نے سلسلہ کلام یوں شروع کیا کہ میرا مذہب یہ ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہئے کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون ہے جب تک قرآن شریف متعارض نہ ہو تو مستحسن یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے مگر نماز کے بعد دعا کے متعلق حدیث سے التزام ثابت نہیں۔
    رکوع و سجود میں قرآنی دعا نہ پڑھو
    سوال: رکوع اور سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟
    (جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام): سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ ماسوا اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں۱؎ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔
    مخالف کی مسجد میں نماز
    سوال: مخالف ہم کو مسجد میں نماز پڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں ہمارا حق ہے۔ کیا ہم ان سے بذریعہ عدالت فیصلہ کرلیں؟
    (جواب از حضرت مسیح الموعود): اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو۔ فساد کرنا منع ہے۔ کوئی دنگہ فساد نہ کرو۔
    ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنا
    (از حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
    بعض لوگ جو ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنا فخر سمجھتے ہیںوہ درحقیقت لاف مارتے ہیں۔ دنیا کے پیشہ ور لوگ بھی اپنے اپنے پیشہ پر ناز کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس طریق سے قرآن ختم نہیں کیا بلکہ چھوٹی چھوٹی سورتوں پر آپ نے اکتفا کیا۔
    تصویر اور نماز
    سوال: کیا تصویر کی وجہ سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟
    (جواب از حضرت مسیح الموعود): کفار کے تتبع پر تو تصویر ہی جائز نہیں۔ ہاں نفس تصویر میں حرمت نہیں ہے بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے۔ اگر نفس تصویر مفسد نماز ہوتی تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا مفسد نہیں ہو سکتا۔ اس کا جواب اگر یہ دو کہ روپے پیسے کا رکھنا اضطراری ہے تو میں کہوں گا کہ کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آ جاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہوگا اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں۔ اگر یونہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے۔ اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ الاَّخْرِ مُعْرِضُوْن۔ لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے۔ اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔ لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعہ سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ مثلاً ہم نے ایک موقع پر عیسائیوں کے مثلث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔ اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ تا تثلیث کی تردید کر کے دکھائیں کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے حی و قیوم ازل و ابدی غیر متغیر ہے اور تجسم سے پاک ہے۔ اس طرح پر اگر خدمت اسلام کے لئے کوئی تصویر ہو تو شرع کلام نہیں کرتی کیونکہ جو امور خادم شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔
    کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں۔ قیصر روم کے پاس جب صحابہ گئے تھے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اس کے پاس دیکھی۔ تو یاد رکھنا چاہئے کہ نفس تصویر کی حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے۔ جو لوگ لغو طور پر تصویریں رکھتے ہیں اور بناتے ہیں۔ وہ حرام ہیں۔ شریعت ایک پہلو سے حرام کرتی ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔ روزہ ہی کو دیکھو۔ رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔ مگر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی۔
    حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک بالنفس حرام ہوتی ہے۔ ایک بالسبب۔ جیسے خنزیر بالکل حرام ہے۔ خواہ جنگل کا ہو یا کہیں کا۔ سفید ہو یا سیاہ ہو۔ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہر کام ایک قسم کا حرام ہے یہ حرام بالنفس ہے۔ لیکن حرام بالسبب کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص محنت کر کے کسب حلال سے روپیہ پیدا کرے تو حلال ہے۔ لیکن اگر وہی روپیہ نقب زنی یا قمار بازی سے حاصل کرے تو حرام ہوگا۔ بخاری کی پہلی حدیث ہے انما الاعمال بالنیات
    کسی خونی مجرم کی تصویر اس غرض سے لے لیں کہ اس کے ذریعہ اس کو شناخت کر کے گرفتار کیا جاوے تو نہ صرف جائز ہوگی بلکہ اس سے کام لینا فرض ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک شخص اسلام کی توہین کرنے والے کی تصویر بھیجتا ہے تو اس کو اگر کہا جاوے کہ حرام کام کیا ہے تو یہ کہنا مولوی کا کام ہے۔ یاد رکھو اسلام بت نہیں ہے بلکہ زندہ مذہب ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ناسمجھ مولویوں نے لوگوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔
    آنکھوں میں ہر شے کی تصویر بنتی ہے۔ بعض پتھر ایسے ہیں کہ جانور اُڑتے ہیں تو خود بخود ان کی تصویر ان میں اُتر آتی ہے اللہ تعالیٰ کا نام مصور ہے۔ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ۔ پھر بلاسوچے سمجھے کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔
    اصل بات یہ ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے کہ تصویر کی حرمت غیر حقیقی ہے کسی محل پر ہوتی ہے اور کسی پر نہیں۔ غیر حقیقی حرمت میں ہمیشہ نیت کو دیکھنا چاہئے۔ اگر نیت شرعی ہے تو حرام نہیں ہے ورنہ حرام ہے۔
    تارک نماز تارک ایمان ہے
    ایک شخص نے عرض کی کہ میرے لئے دعا کرو کہ نماز کی توفیق اور استقامت ملے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:
    جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے۔ اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آ جاتا ہے۔ اس طرف سے فرق آیا تو معاً اس طرف سے بھی فرق آ جاتا ہے۔
    … فی الرکوع و فاتحہ خلف الامام
    اس بات کا ذکر آیا کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آ کر شامل ہو اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔ مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے۔ آخر حضرت اقدس مسیح موعو دعلیہ السلام نے فیصلہ دیا اور فرمایاہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلٰوۃُ اِلاَّ بِفاتِحَۃ الکتاب۔آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہر حالت میں اس کو چاہئے کہ سورہ فاتحہ پڑھے۔ مگر امام کو نہ چاہئے کہ جلدی جلدی سورہ فاتحہ پڑھے۔ بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔ یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔ بہرحال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ اُم الکتاب ہے۔ لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے رکوع ۱؎ میں آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگی۔ اگرچہ اس نے سورہ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع پا لیا اس کی رکعت ہوگئی۔ مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں ایک جگہ تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں۔ وہ اُم الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے۔ مگر جو شخص باوجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آ کر ملا ہے اور چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔ وہ سورہ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔ میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا کر لیا اور ایک حصہ میں بسبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔ انسان کو چاہئے کہ رخصت پر عمل کرے۔ ہاں جو شخص عمدًا سستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اس کی نماز ہی فاسد ہے۔
    سلسلہ احمدیہ سے ناواقف و منافق و مداہن امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ
    سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟فرمایاپہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ۱؎ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
    امامت مسیح موعود علیہ السلام
    ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لئے نماز نہیں پڑھاتے۔ فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔
    تسبیح پھیرنے کے متعلق فتویٰ
    ایک شخص نے تسبیح کے متعلق پوچھا کہ تسبیح کرنے کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پورا کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔ اہل حق تو ہر وقت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے لئے گنتی کا سوال اور خیال ہی بیہودہ ہے۔ کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے۔ اگر سچی محبت اللہ تعالیٰ سے ہو اور پوری توجہ الی اللہ ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں گا۔ وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے سوال کرے گا زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں اور ترقی کرے گا لیکن اگر محض گنتی مقصود ہوگی تو وہ اسے ایک بیگار سمجھ کر پورا کرنا چاہے گا۔
    نماز کے بعد تینتیس بار اللہ اکبر وغیرہ پڑھنا
    حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بمقام گورداسپور احاطہ کچہری میں ایک صاحب نے پوچھا کہ نماز کے بعد تسبیح لے کر ۳۳ بار اللہ اکبر جو پڑھا جاتا ہے۔ آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ حسبِ مراتب ہوا کرتا تھا اور اسی حفظ ِ مراتب نہ کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو مشکلات پیش آئی ہیں اور انہوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ فلاںدو احادیث میں باہم اختلاف ہے حالانکہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ تعلیم بلحاظ محل اور موقع کے ہوتی تھی۔ مثلاً ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ نیکی کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اس میں یہ کمزوری ہے کہ ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ ہے کہ تو ماں باپ کی عزت کر۔ اب کوئی خوش فہم اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ بس اور تمام نیکیوں کو ترک کر دیا جاوے یہی نیکی ہے۔ ایسا نہیں۔ اسی طرح پر تسبیح کے متعلق بات ہے۔ قرآن شریف میں تو آیا ہے وَاُذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ یعنی اللہ کا بہت ذکر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اب یہ وَاُذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا نماز کے بعد ہی ہے۔ تو ۳۳ مرتبہ تو کثیر کے اندر نہیں آتا۔ پس یاد رکھو کہ ۳۳ مرتبہ والی بات حسبِ مراتب ہے۔ ورنہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے اسے شمار سے کیا کام وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی۔ اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لئے پھیر رہا ہے۔ اس عورت نے اس سے پوچھا۔ تو کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا۔ میں اپنے یار کو یاد کر رہا ہوں۔ عورت نے کہا۔ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر۔
    درحقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہو تو پھر گن گن کر کیا یاد کرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الٰہی کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اسی ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ۳۳ مرتبہ فرمایا ہے وہ آنی اور شخصی بات ہوگی۔ کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا تو آپ نے اسے فرما دیا کہ ۳۳ مرتبہ کر لیا کر اور یہ جو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھے ہیں یہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔ انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے۔ رات کو جو میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ کو اپنے بستر پر نہ پایا۔ مجھے خیال گزرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے چنانچہ میں نے سب گھروں میں دیکھا مگر آپ کو نہ پایا۔ پھر میں باہر نکلی تو قبرستان میں دیکھا کہ آپ سفید چادر کی طرح زمین پرپڑے ہوئے ہیں اور سجدہ میں گرے ہوئے کہہ رہے ہیں۔ سَجَدَلَکَ رُوْحِیْ وَ جنانی۔ اب بتاؤ کہ یہ مقام اور مرتبہ ۳۳ مرتبہ کی دانہ شماری سے پیدا ہوسکتی ہے ہر گز نہیں۔ جب انسان میں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش زن ہوتی ہے تو اس کا دل سمندر کی طرح موجیں مارتا ہے۔ وہ ذکر الٰہی کرنے میں بے انتہا جوش اپنے اندر پاتا ہے اور پھر گن کر ذکر کرنا تو کفر سمجھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عارف کے دل میں جو بات ہوتی ہے اور جو تعلق اپنے محبوب و مولیٰ سے اسے ہوتا ہے وہ کبھی روا رکھ سکتا ہی نہیں کہ تسبیح لے کر دانہ شماری کرے۔ کسی نے کہا ہے مَنْ کا منکا صاف کر۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے دل کو صاف کرے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔ تب وہ کیفیت پیدا ہوگی اور وہ ان دانہ شماریوں کو ہیچ سمجھے گا۔
    نماز بین تعداد رکعت کیوں رکھی ہے
    پھر پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعت کیوں رکھی ہے۔ فرمایا اس میں اللہ تعالیٰ نے اسرار رکھے ہیں۔ جو شخص نماز پڑھے گا۔ وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے۔ جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔
    دوسری بات حلال والی ہے۔ قال والی نہیں۔ جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔ اصل غرض ذکر الٰہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق سے وہ گناہوں سے بچتا رہے گا۔ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودا لیا اور ستر ہزار کا دیا۔ مگر وہ ایک آن میں بھی خدا تعالیٰ سے جدا نہیں ہوا۔ پس یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ رِجَالٌ لاَ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَلاَ بَیُعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ۔ جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے کسی کام میں مصروف ہو۔ مگراس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔ اسی طرح پر جو لوگ خدا کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا کو فراموش نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو رونے میں اتنا ثواب نہیں۔ جتنا کہ عارف کے ہنسنے میں ہے۔ وہ بھی تسبیحات ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں رنگین ہوتا ہے یہی مفہوم اورغرض اسلام کی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں۔
    سورہ مزمل وغیرہ کا وظیفہ
    ایک شخص نے جو سورہ مزمل کا وظیفہ کیا کرتا تھا اور اب اس کو آوازیں وغیرہ سنائی دیتی ہیں۔ اپنی ان مشکلات کو عرض کیا۔ فرمایا۔ اب اس شغل کو چھوڑ دو۔ شریعت نے رہبانیت کو اس لئے منع کیا ہے کہ اس سے دماغ پراگندہ ہو جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
    مامور من اللہ کی صداقت کے دلائل میں سے اس کے قوی بھی ہیں کیونکہ غیر محل پر وہ قوت نہیں دی جاتی اور اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور حکمت کہتے ہیں وضع الشی فی محلہ۔ پس مامور من اللہ کے قویٰ کی بناوٹ ایک نرالی قوت رکھتی ہے۔ قسم قسم کی تلخیاں اور مصیبتیں ان پر آتی ہیں۔ مگر خدا کی تسلی کی غذا ان کی زندگی کا موجب ہوتی ہے اور ان کے قویٰ کو ضعیف نہیں ہونے دیتی۔
    درود شریف پڑھنے کا طریق
    درود شریف سے پہلے اپنا یہ مذہب قائم کر لینا چاہئے کہ رابطہ محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ہرگز اپنا دل تجویز نہ کر سکے کہ ابتدائے زمانہ سے انتہا تک کوئی ایسا فرد بشر گزرا ہے جو اس مرتبہ محبت سے زیادہ محبت الٰہی رکھتا ہے کہ جو کچھ محبان صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مصائب اور شداید اُٹھاتے رہے ہیں یا آئندہ اُٹھا سکیں یا جن جن مصائب کا نازل ہونا عقل تجویز کر سکتی ہے وہ سب کچھ اُٹھانے کیلئے دل صدق سے حاضر ہو اور کوئی ایسی مصیبت عقل یا قوت واہمہ پیش نہ کر سکے کہ جس کی اطاعت سے دل میں روک یا انقباض پیدا ہو اور کوئی ایسا مخلوق دل میں جگہ نہ رکھتا ہو جو اس جنس کی محبت میں حصہ دار ہو اور جب یہ مذہب قائم ہو گیا تو درود شریف اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالم کیلئے سرچشمہ برکتوں کا بنائے اور اس کی شان و شوکت اس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے یہ دعا حضور تام سے ہونی چاہئے جیسے کوئی … مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا چاہئے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کاملہ الٰہیہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں اور اس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو پس جب اس طور پر درود شریف پڑھا گیا تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے اور بلاشبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے اور حضور تام کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو اور یہاں تک یہ توجہ رگ و ریشہ میں تاثیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جاوے علیٰ ہذا القیاس نماز جس کے لئے خداوند کریم نے صدہا مرتبہ قرآن شریف میں تاکید فرمائی ہے اور اپنے تقرب کیلئے فرمایا ہے وَاسْتَعٖلُیُوابِالصَّبْرِوَالصَّلٰوۃ یہ بیجا رسم اور عادت کے …… چیز نہیں ہے اس میں بھی ایسی صورت پیدا ہونی چاہئے کہ مُصلّی اپنی صلوٰۃ کی حالت میں ایک سچا دعا کنندہ ہو سو نماز میں بالخصوص دعا اِھدنا الصراط المستقیم میں دلی آہوں سے دلی تضرعات سے دلی خضوع سے سچے جوش سے حضرت احدیت کا فیض طلب کرنا چاہئے اور اپنے تئیں ایک مصیبت زدہ اور عاجز اور لاچار سمجھ کر اور حضرت احدیت کو قادر مطلق اور رحیم و کریم یقین کر کے رابطہ محبت اور قرب کیلئے دعا کرنی چاہئے اُس جناب میں خشک ہونٹوں کی دعا قابل پذیرائی نہیں فیضان سماوی کیلئے سخت بیقراری اور جوش و گریہ و زاری شرط ہے اور نیز استعداد قریبہ پیدا کرنے کیلئے اپنے دل کو ماسوائے اللہ کے بخل اور فکر سے بکلی خالی اور پاک کر لینا چاہئے کسی کا حسد اور … دل میں نہ رہے بیداری بھی پاک باطنی کے ساتھ ہو اور خواب بھی بے مغز باتیں سب فضول ہیں اور جو عمل روح کی روشنی سے نہیں وہ تاریکی اور ظلمت ہے خذوا التوحید والتفرید والمجید و موانواقبل ان تموتوا
    اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے جو شخص ذاتی محبت سے کسی کیلئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ بباعث … ذاتی محبت کے اس شخص کے وجود کی ایک جز ہو جاتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فیضان حضرت احدیث کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے مگر بغیر ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہو اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو اور محض اسی غرض کیلئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔
    قضاء عمری
    قضاء عمری پر سوال ہوا کہ جمعۃ الوداع کے دن لوگ تمام نمازیں پڑھتے ہیں کہ گذشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ان کی تلافی ہو جاوے۔ اس کا وجود ہے یا کہ نہیں۔ حضرت امام علیہ السلام نے فرمایا یہ ایک فضول امرہے مگر ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا کسی شخص نے حضرت علیؓ کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں۔ اسے منع کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنایا جاؤں۔ اَرَاَیْتَ الَّذِیْ یَنْحٰی عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ ہاں اگر کسی شخص نے عمدًا نماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔ کیونکہ منع کرتے ہو آخر دعا ہی کرتا ہے۔ ہاں اس میں پست ہستی ضرور ہے پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آ جاؤ۔
    انسان کو نماز کی حاجت
    (ارشادات امام علیہ السلام) جب انسان بندہ ہو کر لاپرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ ہر ایک اُمت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔ بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا ضرورت ہے۔ اے نادانو خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔ خدا کی طرف توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔ نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے۔
    مسئلہ تعظیم قبلہ
    سوال ہوا کہ اگر قبلہ شریف کی طرف پاؤں کر کے سویا جاوے تو جائز ہے کہ نہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ تعظیم کے برخلاف ہے۔ سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔ فرمایا کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اس بناء پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لئے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا۔ ہرگز نہیں۔ وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرِ اللّٰہَ فَاِنَّھَا مِنْ تَقُویَ الْقُلُوْبِ۔
    پگڑی پر مسح
    سوال: پگڑی پر مسح جائز ہے یا نہیں؟
    (جواب از حضرت مسیح موعود): پگڑی پر مسح میں اختلاف ہے۔ میری سمجھ میں جائز۱؎ ہے۔
    لوگوں کی خود تراشیدہ وظائف و سرود و رقص پر فتویٰ
    (از حضرت مسیح موعود) لوگوں نے اپنے شامت اعمال کو نہیں سوچا ۔ ان اعمال خیر کو جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے ترک کر دیا اور ان کے بجائے خود تراشیدہ دردوظائف داخل کر لئے اور چند کافیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلھے شاہ کی کافیوں پر وجدمیں آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت کم لوگ جمع ہوتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے جہاں مجمعے ہوںوہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔ نیکوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا ہے۔ دیکھا گیا کہ بعض ان رقص و سرور کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاں اتار لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھتے ہیں وجد ہو جاتا ہے اس قسم کی بد عتیں اور اختراعی مسائل پیدا ہوگئے ہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ جنہوں نے نماز سے لذت نہیں اٹھائی اور اس دوق سے محروم ہیں وہ روح کی تسلی اور اطمینان کی حالت ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہوتا ہے۔ مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اس قسم کی بدعتیں مسلمان کہلا کر نکالتے ہیں۔ اگر روح کی خوشی اور لذت کا سامان اس میں تھا۔ تو چاہئے تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیا میں تھے وہ بھی اس قسم کی کوئی تعلیم دیتے یا اپنے اعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گدی نشین اور صاحب سلسلہ ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ورد وظائف اور چلہ کشیاں الٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے تھے۔ اگر معرفت اور حقیقت شناسی کا یہی ذریعہ اصل تھے۔ مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شریف میں یہ پڑھتے ہیں۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُم نِعْمَتِیْ اور دوسری طرف اپنی ایجادوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو توڑ کر ناقص ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ ظالم طبع لوگ مجھ پر افترا کرتے ہیں کہ گویا میں ایسی مستقل نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جو صاحب شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا الگ نبوت ہے۔ مگر دوسری طزف یہ لوگ اپنے اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو خود کر رہے ہیں۔ جب کہ خلافِ رسول اور خلاف قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔ اب اگر کسی کے دل میں انصاف اور خدا کا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کرتے ہیں جب کہ اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حَکم مانتے ہیں۔
    کیارد کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی اثبات کے ذکر اور کیا کیا میں سکھات ہوں۔ پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعویٰ تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔
    یقینا یاد رکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں بن سکتا۔ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کرے۔ جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا۔ سعدی نے کیا اچھا کہا ہے۔
    بزہدو درع کوشش صدق و صفا
    ولیکن میفزائے بر مصطفی
    ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے۔ یہی ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جاوے۔ جو ابدالآباد کے لئے خدا نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جاوے۔ جو ان لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں۔ ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا یہ لوگ۔ یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کرتوتیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنا لو۔ بغدادی نماز، معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔ کیا قرآن شریف یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتا لتا ہے اور ایسا ہی یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للّٰہ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود بھی نہ تھا۔ پھر یہ کس نے بتایا تھا۔ شرم کرو، کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے۔ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کومان اور ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبیین کی مہر کو توڑا ہے۔ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کی طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے تو پھر میرے آنے ہی کی کیا ضرورت ہوتی۔ تمہاری ان بدعتوں اور نئی نبوتوں نے ہی خدا تعالیٰ کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے۔ جو ان جھوٹی نبوتوں کے بت کو توڑ کر نیست و نابود کرے۔ پس اسی کام کیلئیخدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ میں نے سنا کہ غوث علی پانی پتی کے ہاں شاکت مت کا ایک منتر رکھا ہوا جس کا وظیفہ کیا جاتا ہے۔
    ان گدی نشینوں کو سجدہ کرنا یا ان کے مکانات کا طواف کرنا یہ تو بالکل ان بدعتیوں کی معمولی اور عام باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس جماعت کو اس لئے قائم کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور عزت دوبارہ قائم کریں۔ ایک شخص جو کسی کاعاش کہلاتا ہے اگر اس جیسے ہزاروں ہوں تو اس کے عشق و محبت کی خصوصیت کیا رہے۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا ہیں جیسا کہ یہ دعویٰ کرتے ہیں تو یہ کیا بات ہے کہ ہزاروں قبروں اور مزاروں کی پرستش کرتے ہیں۔
    مدینہ طیبہ تو جاتے نہیں۔ مگر اجمیر اور دوسری خانقاہوں پر ننگے سر اور ننگے پاؤں جاتے ہیں۔ پاکپٹن کی کھڑی میں سے گزر جانا ہی نجات کیلئے کافی سمجھتے ہیں۔ کسی نے کوئی جھنڈا کھڑا کر رکھا ہے۔ کسی نے کوئی اور صورت اختیار کر رکھی ہے۔ ان لوگوں کے عرسوں اور میلوں کو دیکھ کر ایک سچے مسلمان کا دل تپ جاتا ہے کہ یہ انہوں نے کیا بنا رکھا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کو اسلام کی غیرت نہ ہوتی اور اِنَّ الذِّیْنَ عِنْد اللّٰہِ الْاِسْلَامِ خدا تعالیٰ کا کام نہ ہوتا اور اس نے یہ نہ فرمایا ہوتا اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ تو بے شک آج وہ حالت اسلام کی ہوگئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھا دے۔ چنانچہ اسی نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔
    آج دو قسم کے شرک پیدا ہوگئے ہیں جنہوں نے اسلام کو نابود کرنے کی بے حد سعی کی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہوتا تو قریب تھا کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور پسندیدہ دین کا نام و نشان مٹ جاتا۔ مگر چونکہ اس نے وعدہ کیا ہوا تھا۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ یہ وحدہ حفاظت بھی چاہتا تھا کہ جب غارتگری کا موقع ہو تو وہ خبر لے۔ چوکیدار کا کام ہے کہ وہ نقب دینے والوں کو پوچھتے ہیں اور دوسرے جرائم والوں کو دیکھ کر اپنے منصبی فرائض عمل میں لاتے ہیں۔ اسی طرح آج چونکہ فتن جمع ہوگئے ہیں اور اسلام کے قلعہ پر ہر قسم کے مخالف ہتھیار باندھ کر حملہ کرنے کو تیار ہوگئے تھے۔ اس لئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ منہاج نبوت قائم کرے۔ یہ مواد اسلام کی مخالفت کے دراصل ایک عرصہ دراز سے پک رہے تھے اور آخراب پھوٹ نکلے۔ جیسے ابتدا میں نطفہ ہوتا ہے اور پھر ایک عرصہ مقررہ کے بعد بچہ بن کر نکلتا ہے۔ اسی طرح پر اسلام کی مخالفت کے بچہ کا خروج ہو چکا ہے اور اب وہ بالغ ہو کر پورے جوش اور قوت میں ہے۔ اس لئے اس کو تباہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک حربہ نازل کیا اور مکروہ شرک کو جو اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہو گیا تھا دور کرنے کیلئے اور پھر خدا تعالیٰ کی توحید اور جلال قائم کرنے کے واسطے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں بڑے دعویٰ اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ بے شک یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس نے اپنے ہاتھ سے اس کو قائم کیا ہے۔
    طریق توجہ اختراع کردہ صوفیہ
    سوال: یہ طریق جو صوفیوں نے بنایا ہوا ہے کہ توجہ کے واسطے اس طرح بیٹھنا چاہئے اور پھر اس طرح دل پر چوٹ لگانا چاہئے اور دیگر اس قسم کی باتیں کیا جائز ہیں؟
    جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام: یہ جائز نہیں ہیں بلکہ سب بدعات ہیں۔ حَسُبُنَا کِتَاب اللّٰہ ہمارے واسطے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف سلوک کے واسطے کافی ہے جو باتیں ان لوگوں نے نکالی ہیں یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں ہرگز نہ تھیں۔ یہ سب ان لوگوں کا اختراع ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ کُوْنُوا مَعَ الصَّادِقِیْنَ صادق کی صحبت میں رہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امور میں مشکلات آسان ہو جاتے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلائی رحمۃ اللہ علیہ بڑے خدا رسیدہ اور بڑے قبولیت والے انسان تھے انہوں نے لکھا ہے کہ جس نے خدا کا راہ دیکھنا ہو وہ قرآن شریف کو پڑھے۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ طریق پر کچھ بڑھائیں اور نئی باتیں ایجاد کریں یا اس کے برخلاف چلیں تو یہ کفر ہوگا۔
    (۹۹) علماء و فقرا کے فرقے
    اس زمانہ میں جیسا کہ علماء کے درمیان بہت سے فرقے بن گئے ہیں۔ ایسا ہی فقراء کے درمیان بہت سے فرقے بن گئے ہیں اور سب اپنی باتیں نئی طرز کی نکالتے ہیں۔ تمام زمانہ کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں وہ مجدد بھجیا ہے جس کا نام مسیح موعود رکھا گیا ہے اور جس کا انتظار مدت سے ہو رہا تھا اور تمام نبیوں نے اس کے متعلق پیشین گوئیاں کی تھیں اور اس سے پہلے زمانہ کے بزرگ خواہش رکھتے تھے کہ وہ اس کے وقت کو پائیں۔
    نماز وطریق تہجد
    تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
    مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔ جو زیادہ نہیں وہ دو رکعت ہی پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع مل جاوے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور سچے جوش سے نکلتی ہیں۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل نہ ہو اس وقت ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے۔ پس اس وقت کا اُٹھنا ہی ایک دردِ دل پیدا کر دیتا ہے۔ جس سے دعا میں رقت۱؎ اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں لیکن اگر اُٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے لیکن جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کثرت سے نوافل ادا کرتے۔ آپ آٹھ رکعت نماز نفل اور تین وتر پڑھتے۔ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دو رکعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھتے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سو جاتے۔ غرض سو کر اور اُٹھ کر نوافل اس طرح ادا کرتے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کرسکے تو وہ اُٹھ کر استغفار درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔
    قبول ہونے والی دعا کے آثار
    دعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ اس کے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اس کا پیرایہ بتا دیتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دعائیں خود الہاماً سکھا دیتا ہے۔ بعض وقت ایسی دعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دعا کرنے والا ناپسند کرتا ہے۔ مگر وہ قبول ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہے۔ عَسیٰ اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَخَیْرٌ لَّکُمْ۔
    بہترین ذریعہ دعا و معراج مومن
    نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز اس لئے نہیں کہ ٹکریں ماریں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں۔ بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نمازیں پڑھنے لگتے ہیں یہ کچھ نہیں۔ نماز خدا تعالیٰ کی حضور ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرکب صورت کا نام نماز ہے۔ اس کی نماز ہرگز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصدس کو مدنظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔ پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔ کھڑے ہو تو ایسے طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتا دے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لئے دعاکرو۔
    سنتیں تکمیل فرائض کرتی ہیں
    (سوال) ظہر کے وقت فرض سے بعد کی دو رکعت سنت غیر موکدہ کہلاتی ہیں تو آیا بوقت عجلت و عدم فرصت اِن کے ترک سے معصیت لازم آتی ہے یا نہیں۔
    (جواب از حکیم الامۃ) سنتیں تکمیل فرائض کرتی ہیں ضرورت پر غفو ہو سکتی ہے بالافرائض ناقص رہیں گے۔
    محض تلاوت قرآن کا ثواب
    (سوال) تلاوت قرآن بلا فہم معانی بھی کسی حد تک موجب ثواب ہوتی ہے یا نہیں یا ظاہر ہے کہ ہر شخص کو تمام و کمال کلام مجید کا علم معانی نہیں ہوتا۔ پس یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جہاں اس کی سمجھ میں نہ آئے وہ مقامات بیچ میں چھوڑتا جاوے۔
    (جواب از حکیم الامۃ) صرف تلاوت قرآن کا بھی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ اُتْلُ مَا اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الکِتَابِ اس میں حفاظت قرآن کریم ہے اور حفاظت کا ثواب ہے۔
    تلاوت قرآن و نماز میں دعا
    قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی ناامید نہ ہو۔ مومن کبھی خدا سے مایوس نہیں ہوتا۔ یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہوتے جائیں۔ ہمارا خدا عَلی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْر خداہے۔ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھ لو۔ اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔ قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام۱؎ سمجھ کر پڑھو۔ نماز کو اس طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔ البتہ اپنی حاجتوں اور مطالبوں کو مسنون ۲؎ اذکار کے بعد اپنی زبان میں بے شک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے ۳؎مانگو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے نماز ہرگز ضائع نہیں ہوتی۔ آج کل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔ نمازیں کیا پڑھتے ہیں ٹکریں ماتے ہیں۔ نماز تو بہت جلد جلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مار کر پڑھتے ہیں اور پیچھے دعا کے لئے بیٹھے رہتے ہیں۔ نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہے۔ نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا حال عرض کرنے کا موقع بھی ہو لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کے، لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔ اس سے کیا فائدہ۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے۔ تم جو دعائیں مانگتے ہو، نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں۔ سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔
    امامت مساجد و ائمہ مساجد زمانہ موجودہ کاحال و روش
    میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔ مگر معاذ اللہ اس کی وجہ کسل یا استخفاف احکام الٰہی نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے ملک کی اکثر مساجد کا حال نہایت ابتر اور قابل افسوس ہو رہا ہے۔ اگر ان مسجدوں میں جا کر آپ امامت کا ارادہ کیاجاوے تو وہ جو امامت کا منصب رکھتے ہیں۔ ازبس ناراض اور نیلے پیلے ہو جاتے ہیں اور اگر ان کا اقتدا کیا جاوے تو نماز کے ادا کرنے میں مجھے شبہ ہے کیونکہ علانیہ طو رپر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دکان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھولتے ہیں اور اسی دکان پر ان کا اور کے عیال کا گزارہ ہے۔ چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کیلئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔ پس یہ امامت نہیں یہ تو حرام خوری کا ایک مکروہ طریقہ ہے پھر کیونکر کوئی شخص دیکھ بھال کر اپنا ایمان ضائع کرے۔ مساجد میں منافقین کا جمع ہونا جو احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کے حالات میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ پیشگوئی انہیں مُلّا صاحبوں سے متعلق ہے جو محراب میں کھڑے ہو کر زبان سے قرآن شریف پڑھتے ہیں اور دل میں روٹیاں گنتے ہیں۔
    اُجرت پر امامت شرعاً ناجائز ہے
    جو طریق آج کل پنجاب میںنماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے۔ مُلّا لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں۔ ایسا امام شرعاً ناجائز ہے۔ صحابہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اُجرت پر امامت کرائی ہو۔ پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک مُلّا نے نماز جنازہ کی ۶ یا ۷ تکبریں کہیں۔ لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یاد آتا ہے۔ کبھی سال میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو کیسے یاد رہے۔ جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت میّت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مُلّا یہاں آ کر رہا۔ ہمارے مرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے۔ ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں۔ اس لئے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی۔ اس وقت لوگوں کی حالت بہت ردی ہے۔ صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔
    صِفۃ الصلوٰۃ یعنی طریق نماز مطابق عملدرآمد حضرت مسیح موعود
    حسب تحریر سید محمد سرور شاہ صاحب۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام صلوٰۃ پڑھتے ہیں تو کعبہ کی طرف رخ کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ انگلیاں دونوں کانوں کے برابر ہو جاتی ہیں اور پھر دونوں کو نیچے لا کر سینہ یعنی دونوں پستانوں کے اوپر یا ان کے متصل نیچے اس طور پر باندھتے ہیں کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور عوماً ایسا ہوتا ہے کہ داہنے ہاتھ کی تینوں درمیانی انگلیوں کے سرے بائیں کہنی تک یا اس سے کچھ پیچھے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں اور انگوٹھے اور کنارے کی انگلی سے پکڑا ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف اوپر یا نیچے یا آگے بڑھا کر یا نیچے ہٹا کر یا ساری انگلیوں سے کوئی پکڑ کر ہاتھ باندھتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ آپ ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر پڑھتے ہیں۔
    سُبْحَالَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ اِلٰہَ غَیْرُکَ یا پڑھتے ہیں اَللّٰھُمَّ بَا عِدْبَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ الَلّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَا یَایَ کَمَایُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبُیَضُ مِنَ الذَّنْسِ اَللّٰھُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِالْمَائِ وَالشَّلْجِ وَالْبَرْدِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم مٰلِکَ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعُبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اِھْدِنَا الصِّرْاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ۔ ۱؎ اس کے بعد کوئی سورت یا قرآن مجید کی کچھ آیتیں پڑھتے ہیں اور فاتحہ میں جو اِھْدِنَا الخ کی دعا ہے۔ اس کو بہت توجہ سے اور بعض دفعہ بار بار پڑھتے ہیں اور فاتحہ کے اوّل یا بعد سورۃ کے پہلے ای پچھے غرض کھڑے ہوتے ہوئے اپنی زبان میں یا عربی میں علاوہ فاتحہ کے اور اور دعائیں بڑی عاجزی و زاری اور توجہ سے مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر۲؎ کہتے ہوئے رکوع میں جاتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں گھٹنوں کو انگلیاں پھیلا کر پکڑتے ہیں اور دونوں بازؤں کو سیدھا رکھتے ہیں اور پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے ہیں اور سُبْحَانَ رَبِّی العَظِیْم۳؎ یا پڑھتے ہیں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرلِیْ ۴؎تین یا تین سے زیادہ دفعہ پڑھتے ہیں اور رکوع کی حالت میں اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا کرنی چاہیں کرتے ہیںاس کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ۵؎ کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کھڑے کھڑے رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ یا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی۶؎ یا اس کے سوا اور کوئی ماثور کلمہ کہتے ہیں اور اس کے بعد جو دعا کرنی چاہتے ہیں۔ اپنی زبان میں یا عربی میں کرتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے نیچے جاتے ہیں اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ اور پھر ناک اور پیشانی یا پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے اور پھر ناک اور پیشانی زمین پر رکھ کر سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی یا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغفِرْلِیْ کم سے کم تین دفعہ یا اس سے زیادہ طاق پڑھتے ہیں اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ سجدہ میں دعا بہت قبول ہوتی ہے لہٰذا سجدہ میں اپنی زبان یا عربی زبان میں بہت دعائیں کرتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا رکھتے ہیں اوران کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ رکھتے ہیں اور دونوں ہاتھوں کے درمیان سر رکھتے ہیں اور دونوں بازؤوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا کر کے اور دونوں کہنیوں کو زمین سے اُٹھا کر رکھتے ہیں۔ ہاں جب لمبا سجدہ کرتے ہوئے تھک جاتے ہیں تو اپنی دونوں کہنیوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ کر سہارا لے لیتے ہیں۔ اس کے بعد اللّٰہ اکبر کہتے ہوئے سر اُٹھا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے ہیں اور بیٹھ کر اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْزُقْنِیْ یا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۱؎ تین دفعہ پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا چاہتے ہیں کرتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے پہلے سجدہ کی مانند سجدہ کرتے ہیں اور پہلے سجدہ کی مانند اس میں بھی وہی کچھ پڑھتے ہیں جو کہ پہلے سجدہ میں پڑھا تھا اور دوسرے سجدہ میں بھی دعاؤں مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور سوائے پہلے تکبیر اور سبحانک اللہ اور اعوذ باللہ کے بعینہٖ پہلی رکعت کی مانند دوسری رکعت پڑھتے ہیں اور دونوں سجدہ کے بعد اس طرح بیٹھ جاتے ہیں جیسا کہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھا کرتے ہیں۔ ہاں اس قدر فرق ہوتا ہے کہ پہلے سجدہ کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قبلہ کی طرف سیدھی ہوتی ہیں اور دوسری رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو اپنے بائیں ہاتھ کو تو ویسا ہی رکھتے ہیں اور پھر التحیات پڑھتے ہیں اور وہ یہ ہے اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور یہ کہتے ہوئے اس انگلی کو اُٹھا کر اشارہ کرتے ہیں اور پھر ویسی ہی رکھ دیتے ہیں جیسے کہ پہلے رکھی ہوئی تھی۔ پھر وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدٌا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلہٗ پڑھتے ہیں۔ پس اگر تین چار رکعتیں پڑھنی ہوتی ہیں تو اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر باقی رکعتوں کو ویسا ہی پڑھتے ہیں جیسا کہ دوسری رکعت کو پڑھا تھا اور پھر ان کو ختم کر کے اخیر میں پھر اسی طریق سے یا داہنے پاؤں کو کھڑا کر کے اور بائیں پاؤں کو داہنے طرف باہر نکال کر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ التحیات پڑھتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمّدٍ وَّ عَلٰی اٰل مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ۱؎
    اس کے بعد پھر کوئی دعا مقرر نہیں بلکہ جو چاہتے ہیں دعا مانگتے ہیں اور ضرور مانگتے ہیں۔ اس کے بعد داہنی طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ تم پر اللہ کی رحمت اور سلام ہو اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر اسی طرح کہتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ۔ پس اللہ اکبر سے نماز شروع ہوتی ہے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ پر ختم ہوتی ہے۔ یہ وہ نماز ہے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے اہل علم اور مخلص مہاجر رات دن ساتھ رہنے والے اصحاب پڑھتے ہیں۔
    مسبوق
    (محمد سرور) یہ صورت اکثر پیش آتی ہے کہ بعض وقت مقتدی اس وقت امام سے ملتا ہے کہ وہ ایک یا دو رکعت پڑھ چکا ہوتا ہے تو چونکہ حکم یہ ہے کہ فرضوں کی پہلی دونوں رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورۃ پڑھی جاتی ہے اور ان کے بعد کی رکعت اور رکعتوں میں فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ نہیں پڑھی جاتی لہٰذا ناواقف انسان کو اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا کیا جاوے تو اس کا فیصلہ یہ ہے کہ صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں فتویٰ آیا ہے کہ مَافَاتَکُمْ فَاَتِمُّوایعنی جو رکعت تم سے فوت ہو جاوے اس کو پورا کرو اور ظاہر ہے کہ فوت تو اُس کی پہلی رکعت یا رکعتیں ہوئی ہیں پس بموجب ارشاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فوت شدہ رکعتوں کو پورا کرے گا اور چونکہ فوت شدہ پہلی رکعتیں ہیں کہ جن میں فاتحہ کے بعد سورہ بھی پڑھنی ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ بالا مقتدی کہ جس کو عربی زبان میں اور فقہا کی اصطلاح میں بجائے مقتدی کے مسبوق بولتے ہیں جو رکعتیں امام کے بعد علا حدہ پڑھے گا تو ان میں سورۃ بھی پڑے گا اور اگر پہلے سبحانک اللھم نہ پڑھی ہو جو کہ فاتحہ سے پہلے پڑھی جاتی ہے تو اب وہ بھی پڑے گا۔ غرض کہ یہ ان رکعتوں کی سی طرح پڑھے گا کہ جس طرح ایک شحص فرضوں کی پہلی دو رکعتوں کو اکیلا ہونے کی حالت میں پڑھتا ہے۔
    نمازوں میں قرأت نبوی
    (محمد سرور) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ صبح کی نماز میں سب سے زیادہ طویل قرات پڑھتے مثلاً جمعہ کے دن پہلی رکعت میں سورۃ الم سجدہ اور دوسری میں ھَلْاَتَی عَلی الانسان اور اور دنوں میں سورۃ ق اور سورہ طور اور ان کی مانند طوال مفصل سے اور جو کہ ساٹھ سے سَو آیت تک ہوتی ہیں اور اس سے اُتر کر ظہر کی نماز میں لمبی کرتے تھے چنانچہ جمعہ کے دن سورۃ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھتے تھے اور عموماً چالیس آیت سے زیادہ پڑھتے تھے اور عصر اور عشاء میں اس سے کم پڑھتے تھے والشمس … اور واللیل وغیرہ کے جو کہ اوساط مفصل سے ہیں اور مغرب کے وقت سب سے کم پڑھتے تھے مثل قل یاایھا الکافرون کے ……
    قرأتوں کے نام
    (از محمد سرور) سورۃ ق سے آخر تک جو سورتیں ہیں ان کو مفصل کہتے ہیں پس ق سے بروج تک کو طوال مفصل کہتے ہیں اور بروج سے والضحی تک اور بعض کے نزدیک لم یکن تک اوساط مفصل کہتے ہیں اور والضحی سے آخر تک قصار مفصل بولتے ہیں۔
    اگر انسان بھول جائے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو کیا کرے
    (از محمد سرور) نماز میں بعض اوقات انسان کو یاد نہیں رہتا کہ کس قدر رکعتیں میں نے پڑھی ہیں تو ایسی صورت میں اوّل سوچنا چاہئے اگر کسی طرف زیادہ گمان ہو گیا تو وہ کرے ورنہ کم رکعتیں … دے کر باقی اور پڑھ لے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اسی طرح نماز میں جب کوئی بھول ہو جائے مثلاً دو رکعتوں کے بعد بیٹھنا بھول جائے تو اس صورت میں نماز ختم کر کے سجدہ سہو کرے اور اگر سجدہ بھول جاوے تو پھر حکم ہے کہ نماز ختم کر کے یہ سجدہ بھی کر لے اور اس کے بعد سجدہ سہو بھی کر لے۔
    سجدہ سہو
    (از محمد سرور) سجدہ سہو یوں ہوتا ہے کہ آخری التحیات ختم کر کے سلام پھیر کر یا سلام سے پہلے اللہ اکبر کہہ کر نماز کے دو سجدوں کی … دو سجدے کرے اور پھر سلام پھیر دے۔
    دوبارہ جماعت
    جہاں ایک دفعہ نماز ہو جاوے وہاں اس نماز کے واسطے دوبارہ جماعت ہوسکتی ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں حسب ضرورت اور جماعت بھی ہو سکتی ہے۔
    سفری نمازوں میں عملدرآمد حضرت مسیح موعود
    (از محمد سرور) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سفر میں سوائے مغرب کی نماز کے اور سب نمازیں دو رکعت پڑھتے ہیں اور سنتیں نہیں پڑھتے ہاں وتر پڑھتے ہیں اور سفر میں اکثر اوقات ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے ہیں۔ یعنی ایک ہی وقت میں پہلے ایک اور پھر دوسری نماز پڑھ لیتے ہیں اور جب جمع کرتے ہیں تو اذان ایک ہی ہوتی ہے اور اقامت دو دفعہ۔ اور کبھی سخت بارش یا بیماری کی وجہ سے بھی جمع کرتے ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ سفر میں بارہا ایسا اتفاق ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود بہت دن ایک مقام رہے ہیں اور حضرت سے دریافت کرتے رہے ہیں کہ سفری نمازیں پڑھیں یا پوری تو حضور نے فرمایا ہے کہ چونکہ ہمارا خود رہنے کا مصمم ارادہ نہیں تو ایسے تردد کی حالت میں خواہ بہت دن رہیں تو بھی قصر یعنی سفری نماز پڑھنی چاہئے۔
    سفر کی حد
    (از محمد سرور) حد سفر کی نسبت بہت دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال ہوا ہے تو حضور نے یہی فرمایا ہے کہ شریعت میں کوئی حد مقرر نہیں جس کو عرف عام میں سفر کہا جاتا ہے اس میں قصر کرنا چاہئے چنانچہ حضور کا معمول یہی دیکھا ہے کہ گورداسپور (جو کہ قادیان سے غالباً ۱۲ میل ہوگا) اور بٹالہ کو جو قادیان سے نو میل کے فاصلہ پر ہے جب تشریف لے جاتے ہیں تو سفری نماز پڑھتے ہیں۔
    وتروں کے متعلق حضرت مسیح موعود کا عملدرآمد
    (از محمد سرور) وتروں کی نسبت بہت سوال ہوتا رہتا ہے کہ ایک پڑھا جائے یا تین اور یہ بھی کہ اگر تین ہوں تو پھر کس طرح پڑھے جائیں تو ان میں حضور کا یہ حکم ہے کہ ایک رکعت تو منع ہے اور تین اس طور پر پڑھتے ہیں کہ دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھ کر سلام پھیر دیتے ہیں اور پھر اُٹھ کر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور کبھی دو کے بعد التحیات پڑھتے ہیں اور سلام پھیرنے سے پہلے اُٹھ کر تیسری رکعت پڑھتے ہیں۔
    نماز کے ختم کے بعد جو کلمات مسنونہ پڑھے جاتے ہیں
    (از محمد سرور) رَبِّ۱؎ اغْفِرْوَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُالرَّاحِمِیْنَ اَللّٰہ تَغْفِرُ اللّٰہَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ العظِیْمَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِے لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ رَادَلِمَا قَضَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ … اَللّٰھُمّ اَنْتَ السَّلَام وَمِنْکَ السَّلَام وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام اور ۳۳ دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور ۳۳ دفعہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ سب تعریف اللہ ہی کیلئے ہے۔ ۳۳ دفعہ اللّٰہ اکبر اور ایک دفعہ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ
    تصویر بنوانے کی غرض
    اعتراض کیا گیا کہ تصویر پر لوگ کہتے ہیں یہ تصور شیخ کی غرض سے بنوائی گئی ہے۔
    (جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام): یہ تو دوسرے کی نیت پر حملہ ہے۔ میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ تصویر سے ہماری غرض کیا تھی۔ بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کو بلادیورپ خصوصاً لندن میں تبلیغ کرنی منظور تھی لیکن یہ لوگ کسی دعوت یا تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتے جب تک داعی کے حالات سے واقف نہ ہوں اور اس کے لئے ان کے ہاں علم تصویر میں بڑی بھاری ترقی کی گئی ہے۔ وہ کسی شخص کی تصویر اور اس کے خط و خال کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس میں راستبازی کی قوت قدسی کہاں تک ہے اور ایسا ہی بہت سے امور کے متعلق انہیں اپنی اپنی رائے قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے پس اصل غرض اور نیت ہماری اس سے یہ تھی جس کو ان لوگوں نے جو خواہ نخواہ ہر بات میں مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔ برے برے پیرایوں میں پیش کیا اور دنیا کو بہکایا۔ میں کہتا ہوں کہ ہماری نیت تو تصویر سے صرف اتنی ہی تھی۔ اگر یہ نفس تصویر کو ہی برا سمجھتے تو پھر کوئی سکہ اپنے پاس نہ رکھیں۔ بلکہ بہتر ہے کہ آنکھیں بھی نکلوا دیں کیونکہ ان میں بھی اشیاء کا ایک انعکاس ہی ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ افعال کی تہہ میں نیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ پڑھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔ بھلا اگر کوئی شخص محض ریاکاری کے لئے نماز پڑھے تو اس کو یہ کوئی مستحسن امر قرار دیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ ایسی نماز کا فائدہ کچھ نہیں بلکہ وبال جان ہے تو کیا نماز بُری تھی؟ نہیں اس کے بداستعمال نے اس کے نتیجہ کو بُرا کیا۔ اسی طرح پر تصویر سے ہماری غرض تو دعوت اسلام کی دعوت میں مدد لینا تھا۔ جو اہل یورپ کے مذاق پر ہو سکتی تھی اس کو تصور شیخ بنانا اور کچھ سے کچھ کہنا افتراء ہے جو مسلمان ہیں ان کو اس پر غصہ نہیں آنا چاہئے تھا جو کچھ خدا اور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔ اگر مشائخ کا قول خدا اور رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو کالائے بدبریش خاوند۔
    تصور شیخ
    (از حضرت امام علیہ السلام) تصور شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانی فی اللہ لوگوں کی محبت ایک عمدہ شے ہے۔ لیکن حفظِ مراتب ضروری ہے۔
    گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی
    پس خدا کو خدا کی جگہ رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کی کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ اس سے زیادہ چونکہ قرآن مجید میں اور کچھ نہیں تو کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْن پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ تم اسے ہی سب کچھ سمجھو قرآن شریف میں یہ حکم ہے۔ اِنّ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتِّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمٍ اللّٰہُ۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے یہ سمجھ لو۔ بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ اتباع کا حکم تو دیا ہے مگر تصور شیخ کا حکم قرآن میں نہیں پایا جاتا۔
    سوال: جو لوگ تصور شیخ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا نہیں سمجھتے۔
    جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام: مانا کہ وہ ایسا کہتے ہیں۔ مگر بت پرستی تو شروع ہی تصور سے ہوتی ہے۔ بت پرستی بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچی ہے۔ پہلے تصور ہی ہوگا۔ پھر یہ سمجھ لیا کہ تصور قائم رکھنے کے لئے بہتر ہے تصویر ہی بنا لیں اور پھر اس کو ترقی دیتے دیتے پتھر اور دھاتوں کے بت بنانے شروع کر دیئے اور ان کو تصویر کا قائم مقام بنا لیا۔ آخر یہاں تک ترقی کی کہ ان کی روحانیت کو اور وسیع کرکے ان کو خدا ہی مان لیا۔ اب نرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ منتر کے ساتھ ان کو درست کر لیتے ہیں اور پرمیشر کا حلول ان پتھروں میں ہو جاتا ہے۔ اس منتر کا نام انہوں نے آواہن رکھا ہوا ہے۔
    میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ میں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو تو اس نے کہا کہ اس پر آواہن لکھا ہوا ہے۔ مجھے اس سے کراہت آئی میں نے اسے کہا کہ تو مجھے دکھا۔ جب میں نے پھر ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا اَرَرْتُ اَنْ اَسْتَخْلَفُ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ جو ہوتا ہے ردائے الٰہی کے نیچے ہوتا ہے۔ اس لئے آدم کے لئے فرمایا نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ اسی طرح پر غلطیاں پیدا ہوتی گئیں۔ اصول کو نہ سمجھا۔ کچھ کا کچھ بگاڑ کر بنا لیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شرک اور بت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ ہماری تصویر کی اصل غرض وہی تھی جو ہم نے بیان کر دی کہ لنڈن کے لوگوں کو اطلاع ہو اور اس طرح پر ایک اشتہار ہو جائے۔
    غرض تصویر شیخ کا مسئلہ ہندوؤں کی ایجاد اور ہندوؤں سے ہی لیا گیا ہے۔ قلب جاری ہونے کا مسئلہ بھی ہندوؤں ہی سے لیا گیا ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کی اصل غرض انسان کی پیدائش سے یہ ہوتی تو پھر اتنی بڑی تعلیم کی کیا ضرورت تھی۔ صرف اجرائے قلب کا مسئلہ بتا کر اس کے طریقے بتا دیئے جاتے۔ مجھے ایک شخص نے معتبر روایت کی بنا پر بتایا کہ ایک ہندو کا قلب رام رام پر جاری تھا۔ ایک مسلمان اس کے پاس آ گیا۔ اس کا قلب بھی رام رام پر جاری ہو گیا۔
    یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ رام خدا کا نام نہیں ہے۔ دیانند نے بھی اس پر گواہی دی ہے کہ یہ خدا کا نام نہیں۔ قلب جاری ہونے کا دراصل ایک کھیل ہے جو سادہ لوح جہلا کو اپنے دام میں پھنسانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اگر لوٹا لوٹا کہا جاوے تو اس پر بھی قلب جاری ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو تو پھر وہی بولتا ہے۔ یہ تعلیم قرآن نے نہیں دی ہے بلکہ اس سے بہتر دی ہے ۔ اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبِ سَلِیْم خدا یہ چاہتا ہے کہ سارا وجود ہی قلب ہو جاوے ورنہ اگر وجود سے خدا کا ذکر جاری نہیں ہوتا تو ایسا قلب قلب نہیں بلکہ کلب ہے۔ خدا یہی چاہتا ہے کہ خدا میں فنا ہو جاؤ اور اس کی حدود شرائع کی عظمت کرو۔ قرآن فنا نظری کی تعلیم دیتا ہے میں نے آزما کر دیکھا ہے کہ قلب جاری ہونے کی صرف ایک مشق ہے جس کا انحصار اصلاح و تقویٰ پر نہیں ہے۔ ایک شخص منٹگمری یا ملتان کے ضلع کا مجھے چیف کورٹ میں ملا کرتا تھا۔ اسے اجرائے قلب کی خوب مشق تھی۔ پس میرے نزدیک یہ کوئی قابل وقعت بات نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو کوئی عزت اور وقعت نہیں دی۔ خدا تعالیٰ کا منشاء اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقصد یہ تھا کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زکّٰھَا کپڑا جب تک سارا دھویا نہ جاوے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوے جاویں۔ کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے سوا یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا کا سنوارا ہوا بگڑتا نہیں مگر انسان کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بنا پر گواہی دیتے ہیں کہ جب تک انسان اپنے اندر خدا تعالیٰ کی مرضی اور سنت نبوی کے موافق تبدیلی نہیں کرتا اور پاکیزگی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو خواہ اس کے قلب سے ہی آواز آتی ہو وہ زہر جو انسان کی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے دور نہیں ہو سکتی۔ روحانیت کے نشوونما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔ جو لوگ قلب جاری ہونے کے شعبدے لئے پھرتے ہیں انہوں نے سنت نبوی کی سخت توہین کی ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں گزرا ہے۔ کیا غار میں بیٹھ کر وہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرتے تھے یا فنا کا طریق آپ نے اختیار کیا ہوا تھا۔ پھر آپ کی ساری زندگی میں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ آپ نے صحابہ کو یہ تعلیم دی ہو کہ تم قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرو اور کوئی ان قلب جاری والوں میں سے یہ پتہ نہیں دیتا اور کبھی نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی قلب جاری تھا۔
    یہ تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں۔ انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔ قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔ اَشَدُّ حُبّالِلّٰہ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ پر عمل کرو اور ایسی فنا اتم تم پر آ جاوے کہ تَبَتَّل اَلْیِہِ تَبْتِیْلاً کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کر لو۔ یہ امور ہیں جن کے اصول کی ضرورت ہے۔ نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو ناپنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔ پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان خیالات سے بالکل الگ رہو اور وہ طریق اختیار کرو جو خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے طرز عمل سے ثابت کر دکھایا کہ اسی پر چل کر انسان دنیا اور آخرت میں فلاح اور فوز حاصل کر سکتا ہے اور صحابہ کوجس کی تعلیم دی۔ پھر وقتاً فوقتاً خدا کے برگزیدوں نے سنت جاریہ کی طرح اپنے اعمال سے ثابت کیا اور آج بھی خدا نے اسی کو پسند کیا۔ اگر خدا تعالیٰ کا اصل منشا یہی ہوتا تو ضرور تھا کہ آج بھی جب اس نے ایک سلسلہ گم شدہ صداقتوں اور حقائق کے زندہ کرنے کے لئے قائم کیا یہی تعلیم دیتا اور میری تعلیم کا منشا یہی ہوتا مگر تم دیکھتے ہو کہ خدا نے ایسی تعلیم نہیں دی ہے بلکہ وہ تو قلب سلیم چاہتا ہے وہ محسنوں اور متقیوں کو پیار کرتا ہے ان کا ولی ہوتا ہے۔ کیا سارے قرآن میں ایک جگہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ ان کو پیار کرتا ہے جن کے قلب جاری ہوں۔
    یقینا سمجھو کہ یہ محض خیالی باتیں ہیں اور کھیلیں جن کا اصلاح نفس اور روحانی امور سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے بلکہ ایسے کھیل خدا سے بُعد کا موجب ہو جاتے ہیں اور انسان کے عملی حصہ میں مضر ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے تقویٰ اختیار کرو۔ سنت نبوی کی عزت کرو اور اس پر قائم ہو کر دکھاؤ۔ جو قرآن کریم کی تعلیم کا اصل فخر یہی ہے۔
    سوال: پھر صوفیوں کو کیا غلطی لگی؟
    جواب:حضرت مسیح موعود۔ ان کو حوالہ بخدا کرو۔ معلوم نہیں انہوں نے کیا سمجھا اور کہاں سے سمجھا۔ تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَھَا مَاکَسَبَتْ بعض وقت لوگوں کو دھوکا لگتا ہے کہ وہ ابتدائی حالت کو انتہائی سمجھتے ہیں۔ کیا معلوم ہے کہ انہوں نے ابتدا میں یہ کیا ہو پھر آخر میں چھوڑ دیا ہو کسی اور ہی نے ان باتوں میں التباس کر دیا ہو اور اپنے خیالات ملا دیئے ہوں۔ اسی طرح پر تو توریت و انجیل کی تحریف ہوگئی۔ گذشتہ مشائخ کا اس میں نام بھی نہیں لینا چاہئے ان کا تو ذکر خیر چاہئے۔
    انسان کولازم ہے کہ جس غلطی پر خدا اسے مطلع کر دے۔ خود اس میں نہ پڑے۔ خدا نے یہی فرمایا ہے کہ شرک نہ کرو اور تمام عقل اور طاقت کے ساتھ خدا کے ہو جاؤ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا۔ مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَان اللّٰہُ لَہٗ
    حبس دم
    (سوال) حبس دم کیا ہے؟
    جواب: از حضرت مسیح موعود۔ یہ بھی ہندو جوگیوں کا مسئلہ ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔
    نماز میں دعا
    (سوال) فرضوں اور باقی نمازوں میں عین بیچ یعنی درمیان میں دعا مانگنا کس حدیث یا آیت کی رو سے ہے۔
    جواب از حکیم الامۃ: تم جانتے ہو کہ جب انسان نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اِھْدِنَاالصِّراطَ الْمُسْتَقِیْمَ پڑھتا ہے۔ یہ بھی ایک دعا ہے۔پھر رکوع میں اور سجود میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخر عمر میں سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی پڑھتے تھے اور یہ بھی دعا ہے پھر التحیات میں اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادَ الصَّالِحِیْنَ اور دونوں درود رَبِّ اجَعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃ وغیرہ یہ سب دعائیںہیں اور نماز کے اندر ہیں اگر تم غور کرو تو معلوم ہوگا کہ نماز ساری دعا ہے اوررکوع کے بعد یا پہلے آخری رکعت میں دعا مانگنا بلوغ المرام میں موجود ہے دیکھ لو۔ دعا کیلئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں یہ مناسب نہیں انسان مسنون دعاؤں کے ایسے پیچھے پڑے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہنچانے اتباع سنت ضروری ہے مگر تلاش رقت بھی اتباع سنت ہے اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے حقیقت پرست بننا چاہئے۔ مسنون دعاؤں کو بھی برکت کیلئے پڑھنا چاہئے مگر حقیت کو پاؤں ہاں جس کو زبان عربی سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔
    کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز
    سوال: کیا کنچنی کی مسجد میں نماز ہو سکتی ہے۔
    جواب: حضرت مسیح موعود۔ کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز درست نہیں ہے۔
    ظاہری نماز، روزہ و قربانی
    از حضرت مسیح موعود علیہ السلام: ظاہری نماز و روزہ کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو تو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اُٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں بخشتیں اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے۔ وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔ اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا۔ لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لَحُوْمُھَا وَلاَ دِمَائُ ھَاوَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْویٰ مِنْکُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔ حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے اور اسی طرح نماز روزہ اگر روح کا ہے تو ظاہر کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیاز مندی اور عبودیت پیدا نہیں ہو سکتی جو اصل مقصد ہے اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں روح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں اور یہ جوگی اس قسم کے ہیں۔ روح اور جسم کا خدا تعالیٰ نے باہم ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آ ہی جائے گا اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہے تو آخر اسے آ ہی جاتی ہے۔ اسی طرح نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں۔ مثلاً کھڑا ہونا یا رکوع کرنا اس کے ساتھ ہی روح پر بھی اثر پڑتا ہے اور جس قدر جسم میں نیاز مندی کی حالت دکھاتا ہے اسی قدر روح میں پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ نرے سجدہ کو قبول نہیں کرتا مگر سجدہ کو روح کے ساتھ ایک تعلق ہے اس لئے نماز میں آخری مقام سجدہ کا ہے۔ جب انسان نیازمندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ کرنا چاہتا ہے۔ جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔ کتے بھی جیسا اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آ کر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہو جاتا ہے۔ جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے اثر ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور پژمردگی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے۔ دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کے لئے ایک انجن ہے۔ اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔ غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔ روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ پھر جسم میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے جب روح میں واقعی عاجزی اور نیاز مندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خودبخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے۔ تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہئے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کرو۔ اگرچہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہو جاتا ہے اور واقعی روح میں وہ نیاز مندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔
    مردہ کی آواز
    سوال: کیا مردہ کی آواز دنیا میں آتی ہے؟
    جواب: حضرت مسیح موعود۔ خدا تعالیٰ کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے۔ مگر مردوں کی نہیں آتی۔ اگر کبھی کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خدا تعالیٰ کی معرفت یعنی خدا تعالیٰ کوئی خبر ان کے متعلق دے دیتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی ہو۔ خواہ نبی ہو یا صدق یہ حال ہے کہ
    آن را کہ خبر شد خبرش باد نیامد
    اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے۔ وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے فرماتا ہے۔ فَلَا اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ۔
    تصویر کشی
    مولوی نظیر حسین صاحب نے سوال کیا کہ میں فوٹو کے ذریعہ تصویریں اُتارا کرتاتھا اور دل میں ڈرتا تھا کہ کہیں خلاف شرع نہ ہو لیکن جناب کی تصویر دیکھ کر یہ وہم جاتا ہا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ ہم نے اپنی تصویر محض اس لئے اُتروائی ہے کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ ان لوگوں کا عام مذاق اسی قسم کا ہو گیا ہے کہ وہ جس چیر کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے نتائج نکال لیتے ہیں۔ مولوی لوگ جو میری تصویر پر اعتراض کرتے ہیں وہ خود اپنے پاس روپیہ پیسہ کیوں رکھتے ہیں۔ کیا ان پر تصویریں نہیں ہوتی ہیں۔ اسلام ایک ایسا وسیع مذہب ہے جو ہر بات کا مدار نیت پر رکھتا ہے۔ بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدان جنگ میں نکلا جو اِترا کر چلتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بہت بُری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا یعنی زمین میں اِترا کر نہ چلو۔ مگر اس وقت یہ چال خدا کو بہت پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک نثار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جاوے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا تہ بند نیچے ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا تہ بند بھی ویسا ہی تھا۔ آپ نے فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں ہے۔ غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظِ مراتب ضروری شے ہے۔ مولوی نظیر حسین نے عرض کی میں خود تصویر کشی کرتا ہوں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر کفر اور بت پرستی کو مدد نہیں دیتے ہو تو جائز ہے۔ آج کل نقوش و قیافہ کا علم بہت بڑھا ہوا ہے۔
    حرمت تصویر بازی
    ذکر آیا کہ ایک شخص نے حضور کی تصویر ڈاک کے کارڈ پر چھپوائی ہے تا کہ لوگ ان کارڈوں کو خرید کر خطوط میں استعمال کریں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
    میرے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ بدعات پھیلانے کا یہ پہلا قدم ہے۔ ہم نے جو تصویر فوٹو لینے کی پہلے دی تھی وہ اس واسطے تھی کہ یورپ امریکہ کے لوگ جو ہم سے بہت دور ہیں اور فوٹو سے قیافہ شناسی کا علم رکھتی ہیں اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لئے ایک روحانی فائدہ کا موجب ہو کیونکہ جیسا تصویر کی حرمت ہے۔ اس قسم کی حرمت عموم نہیں رکھتی بلکہ بعض اوقات مجتہد اگر دیکھے کہ کوئی فائدہ ہے اور نقضان نہیں تو وہ حسبِ ضرورت اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ خاص یورپ کی ضرورت کے واسطے فوٹو کی اجازت دی گئی۔ چنانچہ بعض خطوط یورپ امریکہ سے آئے جس میں لکھا ہے کہ تصویر کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل وہی مسیح ہے۔ ایسا ہی امراض کی تشخیص کے واسطے بعض وقت تصویر سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ شریعت میں ہر ایک امر کو مَایَنْفَعُ النَّاس کے نیچے آوے اس کو دیرپا رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ جو کارڈوں پر تصویریں بنتی ہیں ان کو خریدنا نہیں چاہئے بت پرستی کی جڑ تصویر ہے۔ جب انسان کسی کا معتقد ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ تعظیم تصویر کی بھی کرتا ہے۔ ایسی باتوں سے بچنا چاہئے اور ان سے دور رہنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری جماعت پر سر نکالتے ہی آفت پڑ جائے۔ میں نے اس ممانعت کو کتاب میں درج کر دیا ہے جو زیر طبع ہے۔ جو لوگ جماعت کے اندر ایسا کام کرتے ہیں ان پر ہم سخت ناراض ہیں۔ ان پر خدا ناراض ہے۔ ہاں اگر کسی طریق سے کسی انسان کی روح کو فائدہ ہو تو وہ طریق مستثنیٰ ہے۔ ایک کارڈ تصویر والا دکھایا گیا۔ دیکھ کر فرمایا۔ یہ بالکل ناجائز ہے۔ ایک شخص نے اس قسم کے کارڈوں کا ایک بنڈل لا کر دکھایا کہ میں نے یہ تاجرانہ طور پر فروخت کے واسطے خرید کئے تھے اب ان کا کیا کروں۔ فرمایا ان کو جلا دو اور تلف کر دو۔ اس میں اہانت دین اور اہانت شرع ہے نہ ان کو گھر میں رکھو۔ اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس سے اخیر میں بت پرستی پیدا ہوتی ہے اس تصویر کی جگہ پر اگر تبلیغ کا کوئی فقرہ ہوتا تو خوب ہوتا۔
    اوقات ثلاثہ جن میں نماز پڑھنا منع ہے
    حکیم الامۃ۔ جنازہ قبل از ادائے فرض مغرب جائز ہے۔ حضرت نبی کریم نے تین وقت میں جن میں نماز جنازہ پڑھنا منع فرمایا ہے ان میں اس کو داخل نہیں کیا۔ دیکھو نسائی شریف کتاب المواقیت باب النہی عن الصلوٰۃ نصف النہار اُس میں یہ حدیث لکھی ہے۔
    ثلاث اوقات کان ینھا نا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان نصلی فیھن اونقبر فیھن موتا ناحین نظلع الشمس بازختہ حی ترتفع حین یقوم قائم الظہیرۃ حتی تمیل وحین تصلیف للغروب حتی تغرب جلد اوّل صفحہ۹۵ مطبوعہ مصر
    بہت صحابہ کا عمل ہے کہ وہ دو رکعت فرض مغرب سے پہلے پڑھ لیتے تھے بلکہ تاخیر مغرب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نسائی جلد اوّل صفحہ۹۷ باب الرخصۃ قبل المغرب ھذا صلوۃ کنا نصلیھا علی عھد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اس کتاب کے باب آخر وقت مغرب صفحہ۹۰ میں تاخیر مغرب لکھا ہے۔
    مردہ کے ہاتھ میں کوئی لکھی ہوئی چیز دیکھنا
    حکیم الامۃ۔ میت کے ہاتھ میں کچھ لکھ کر دینا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
    سماع موتی
    حکیم الامۃ۔ نسائی مطبوعہ مصر کے جلد اوّل باب ارواح المومنین صفحہ۱۹۳ کی شرح میں امام جلال الدین سیوطی نے ایک لمبی بحث اس کے متعلق لکھی ہے اس میں لکھا ہے قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من …… قبری سمعتہ ومن صلی علی غائبا بلغۃ الملائکۃ اور اس کے باب التسھیل فی غیر السنۃ میں ہے قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان العبد اذا وضع فی قبر الخ فولی عند اصحابہ انہ یسمع قرع فعالھم صفحہ۲۸۸ اور اس مضمون کو شرع بلوغ المرام سبل السلام جلد اوّل صفحہ۲۰۲ میں مفصل لکھا ہے اور سبل السلام جلد اوّل صفحہ۲۰۶ میں ہے کہ جب کوئی قبرستان میں سے گزرتا ہے اور وہ سلام کہتا ہے تو وہ اس کے سلام کو سنتے ہیں اور ان دعاؤں سے بھی نفع ہوتا ہے اور واقرواعلی موتاکم یاسین کا ارشاد بھی کیا ہے جس کی تفصیل انہیں صفحوں میں لکھی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ایک قسم کا ادراک اور سماع ہے۔
    تصاویر کی طرف کثرت توجہ پر حضرت مسیح موعود ؑ کی نا رضامندی
    مفتی محمد صادق نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص کی تحریری درخواست بذریعہ کارڈ کے ان الفاظ میں پیش کی کہ یہ شخص حضور کی تصویر کو خط و کتابت کے کارڈوں پر چھاپنا چاہتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’میں تو اسے ناپسند کرتا ہوں‘‘۔ یہ الفاظ جا کر میں نے اپنے کانوں سے سنے۔ لیکن حضرت مولوی نورالدین صاحب و حکیم فضل الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس سے پیشتر آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ ’’یہ بدعت بڑھتی جاتی ہے میں اسے ناپسند کرتا ہوں‘‘۔
    غیر احمدی کا جنازہ
    ۱۵۔ اپریل ۱۹۰۳ء
    سوال ہوا کہ جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
    اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں بُرا کہتا تھا اور بُرا سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے بشرطیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے ہو۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔ متوفی اگر بالجہر مکذب اور مکفر نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ علام الغیوب خدا ہی کی ذات پاک ہے۔
    گیارہویں، فاتحہ، تیجہ، عرس
    سوال۔ فاتحہ، تیجہ، گیارہویں، عرس کرنا کیسا ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ … تَرکہٗ مَالاَ یغنِیْہِ وَاتَّباع مُحمّد صلی اللہ علیہ وسلم ھوالدین ۱؎
    مُردہ کی اسقاط
    سوال ہوا کہ مُلّا لوگ مردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟
    جواب امام علیہ السلام: حضرت اقدس نے فرمایا۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ مُلّاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمہیں پیدا کر لی ہیں۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
    مردہ کے بعد فاتحہ خوانی
    سوال ہوا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جمع رہتے ہیں اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ فاتحہ خوانی ایک دعائے مغفرت ہے۔ پس اس میں کیا مضائقہ ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہاں سوائے غیبت اور بیہودہ بکواس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم یا صحابہ کرام و آئمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا۔ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے، خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی۔ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں ناجائز ہے۔
    جنازہ غائب
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جو جنازہ میں شامل نہ ہو سکیں وہ اپنے طور پر دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۔
    مردہ کا ختم و اسقاط میّت و قرآن کو چکر دینا
    سوال: مردہ کا ختم وغیرہ جو کرایا جاتا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟
    جواب حضرت مسیح موعود: اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ صرف دعا اور صدقہ میّت کو پہنچتی ہے۔ مومن کو چاہئے کہ نماز پنجگانہ ادا کرے اور رکوع سجود میں میّت کیلئے دعا کرے۔ یہ طریق نہیں ہے کہ الگ کلام پڑھ کر بخشے۔ اب دیکھ لغت کا کلام منقول چلا آتا ہے۔ کسی کا حق نہیں ہے کہ اپنی طرف سے معنی گھڑے۔ ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو امر ثابت ہو اس پر عمل کرنا چاہئے نہ کہ اپنی من گھڑت پر ایک طریق اسقاط کا رکھا ہے کہ قرآن کو چکر دیتے ہیں۔ یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔ انسان خدا سے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہو سکتا جب تک سب نظر خدا پر نہ ہو۔
    میّت کیلئے قُل
    سوال: میت کیلئے قُل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں۔ ان کا ثواب اسے پہنچتا ہے یا نہیں؟
    جواب حضرت امام علیہ السلام: قُل خوانی کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے۔ دعا اور استغفار میّت کو پہنچتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مُلّانوں کو اس سے ثواب پہنچ جاتا ہے۔ سو اگر انہیں ہی کو مردہ تصور کر لیا جاوے تو ہم مان لیں گے۔ ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں۔ دین اسلام تو ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں۔ صحابہ کرام بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قُل پڑھے گئے۔ صد ہاسال کے بعد بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہے۔
    دسویں محرم کو خیرات کرنا
    سوال پیش ہوا کہ محرم کی دسویں کو جو شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ للہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشادہے؟
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کرنا ایک رسم اور بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرکت کی طرف لے جاتی ہیں۔ پس اس سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ ابتدا میں اسی خیال سے ہو مگر اب تو اس نے شرک اور غیراللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔ اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے۔
    قبر میں سوال و جواب
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ قبر میں سوال و جواب روح سے ہوتا ہے یا جسم میں وہ روح ڈالا جاتا ہے۔
    فرمایا۔ اس پر ایمان لانا چاہئے کہ قبر میں انسان سے سوال و جواب ہوتا ہے لیکن اس کی تفصیل اور کیفیت کو خدا پر چھوڑنا چاہئے۔ یہ معاملہ انسان کا خدا کے ساتھ ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر قبر کا لفظ وسیع ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی حالت بعد الموت میں جہاں خدا اس کو رکھتا ہے وہی قبر ہے۔ خواہ دریا میں غرق ہو جاوے۔ خواہ جل جاوے۔ خواہ زمین پر پڑا رہے۔ دنیا سے انتقال کے بعد انسان قبر میں ہے اور اس سے مطالبات اور مواخذات جو ہوتے ہیں اس کی تفصیل کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اس دن کیلئے تیاری کرے نہ کہ اس کی کیفیت معلوم کرنے کے پیچھے پڑے۔
    میّت کیلئے فاتحہ خوانی
    سوال: میّت کیلئے جو فاتحہ خوانی کیلئے بیٹھتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں اس کا کوئی ثبوت ہے؟
    جواب حضرت مسیح موعود۔ یہ درست نہیں ہے۔ بدعت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔
    مردوں کو سلام اور اُن کا سننا
    سوال: السلام علیکم یا اھل القبور۱؎ جو کہا جاتا ہے کیا مردے سنتے ہیں؟
    جواب حضرت مسیح موعود: دیکھو وہ سلام کا جواب وعلیکم السلام تو نہیں دیتے۔ خدا تعالیٰ وہ سلام جو ایک دعا ہے پہنچا دیتا ہے۔ اب ہم جو آواز سنتے ہیں اس میں ہوا ایک واسطہ ہے۔ لیکن یہ واسطہ مردہ اور تمہارے درمیان نہیں لیکن سلام علیکم میں خدا تعالیٰ ملائکہ کو واسطہ بنا دیتا ہے۔ اسی طرح درود شریف ہے کہ ملائک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیتے ہیں۔
    قبور پر بیٹھ کر قرآن پڑھنا اور قبر پر بیٹھنے سے نہیں
    حکیم الامۃ: قبور پر بیٹھ کر قرآن کریم پڑھنا شریعت میں ثابت نہیں۔ نبی کریم تمام صحابہ کو احب الناس تھے مگر آپ کی قبر پر کسی صحابی کا قرآن کریم بیٹھ کر پڑھنا ثابت نہیں بلکہ نسائی جلد اوّل صفحہ۲۵۷ میں ہے قال۱؎ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لان یجلس اَحَدُکُمْ علی جَمَرِۃ حتی تحرق خَیْرٌ لہ مِنْ ان یجلس عَلی قبرٍ سے ایک قسم کی نہی مطلق کا استنباط ہوتا ہے۔
    غسل میّت طاعون زدہ
    سوال ہوا کہ طاعون زدہ کے غسل کے واسطے کیا حکم ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مومن طاعون سے مرتا ہے تو وہ شہید ہے۔ شہید کے واسطے غسل کی ضرورت نہیں۔
    طاعون زندہ کو کفن
    سوال ہوا کہ اس کو کفن پہنایا جاوے یا نہیں؟
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ شہید کے واسطے کفن کی ضرورت نہیں۔ وہ انہیں کپڑوں میں دفن کیا جائے۔ ہاں اس پر ایک چادر ڈال دی جائے تو ہرج نہیں ہے۔
    مرنے پر طعام کھلانا
    سوال ہوا کہ دیہات میں دستور ہے شادی غمی کے موقعہ پر ایک قسم کا خرچ کرتے ہیں کوئی چوہدری مر جاوے تو تمام مسجدوں، دواروں و دیگر کمینوں کو بحصہ رسدی کچھ دیتے ہیں اس کی نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ طعام جو کھلایا جاوے۔ اس کا مردہ کو ثواب پہنچ جاتا ہے۔ گو ایسا مفید نہیں جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں خود کرتا ہے۔ غرض کیا گیا۔ حضور وہ خرچ وغیرہ کمینوں میں بطور حق الخدمت تقسیم ہوتا ہے۔ فرمایا۔ تو کچھ ہرج نہیں۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کسی کی خدمت کا حق تو دے دینا چاہئے۔
    عرض کیا گیا کہ اس میں فخر و ریاء تو ضرور ہوتا ہے۔ یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔ فرمایا بہ نیت ایصال ثواب تو وہ پہلے ہی وہ خرچ نہیں حق الخدمت ہے۔ بعض ریاء شرعاً بھی جائز ہیں۔ مثلاً چندہ وغیرہ نماز باجماعت ادا کرنے کا جو حکم ہے تو اسی لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔ غرض اظہار و اخفاء کے لئے موقع ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا تار و ڈاک کے ذریعہ خبر منگوانا سب بدعت ہو جاتے۔
    قبر پکی بنانا
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میرا بھائی فوت ہو گیا ہے میں اس کی قبر پکی بناؤں یا نہ بناؤں؟
    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا۔ اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جاویں تو یہ حرام ہے لیکن اگر خشک مُلّا کی طرح یہ کہا جاوے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جاوے تو یہ بھی حرام ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ عمل نیت پر موقوف ہے۔ ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں پکی کرانا درست ہے۔ مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا یہ۔ بعض جگہ قبر میں سے میّت کو کتے اور بجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔ مردے کے لئے یہی ایک عزت ہوتی ہے۔ اگر ایسی وجوہ پیش آ جائیں تو اس حد تک نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے لئے قبر کا پکّا کرنا جائز ہے۔ اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے لئے بھی عزت رکھی ہے۔ ورنہ عزت ضروری نہیں تو غسل دینے کفل دینے خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔ مومن اپنے لئے ذلّت میں رہنا نہیں چاہتا۔ حفاظت ضروری ہے جہاں تک نیت صحیح ہے خدا تعالیٰ مواخذہ نہیں کرتا۔ دیکھ مصلحت الٰہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پختہ گنبد ہو اور کئی بزرگوں کے مقبرے پختہ ہیں۔ مثلاً نظام الدین، فرید الدین، قطب الدین، معین الدین رحمۃ اللہ علیہم یہ سب صلحاء تھے۔
    محرم کے دنوں میں امامین کے روح کو ثواب پہنچانا
    ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں میں امامین کے روح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:-
    عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میّت کو پہنچتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرک کی رسومات نہیں چاہئیں۔ رافضیوں کی طرح رسومات کا کرنا جائز نہیں۔
    میت کو قرآن و طعام کا ثواب
    سوال: کیا فوت شدہ شخصوں کو قرآن مجید پڑھ کر ثواب پہنچانا اور اُن کیلئے کھانا پکا کر کھلانا جائز ہے یا نہیں۔
    جواب حکیم الامۃ: دونوں صورتوں میں ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
    قبرستان میں جانا
    سوال قبرستان میں جانا جائز ہے یا نہیں؟
    جواب حکیم الامۃ: نذر، دنیا کیلئے قبروں پر جانا اور وہاں جا کر منتیں مانگنا درست نہیں ہے ہاں وہاں جا کر عبرت سیکھے اور اپنی موت یاد کرے تو جانا جائز ہے۔
    روح کا تعلق قبور سے
    (تقریر ۵؍ جنوری ۱۸۹۹ء)
    سوال: روح کا تعلق جو قبور سے بتلایا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے؟
    جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام: اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا ہے وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کُنہ کیا ہے۔ جس کے معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ البتہ یہ ہمارا فرض ہو سکتا ہے کہ ہم ثابت کر دیں کہ اس قسم کا تعلق قبور کے ساتھ ارواح کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی محال عقلی لازم نہیں آتا اور اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت میں ایک نظیر پاتے ہیں۔ درحقیقت یہ امر اسی قسم کا ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض امور کی سچائی اور حقیقت صرف زبان ہی سے معلوم ہوتا ہے اور اس کو ذرا وسیع کر کے یوں کہتے ہیں کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقے رکھے ہیں۔ بعض خواص آنکھ کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں اور بعض صداقتوں کا پتہ صرف کان لگاتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ حس مشترک کے ذریعہ سے ان کا سراغ چلتا ہے اور کتنی ہی سچائیاںہیں کہ وہ مرکز قویٰ یعنی سے معلوم ہوتی ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت معلوم کرنے کیلئے مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔ مثلاً مصری کی ایک ڈلی کو اگر کان پر رکھیں تو وہ اس کا مزہ معلوم نہ کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ کو بتلا سکیں گے۔ ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے تو اس کے ذائقہ کے متعلق کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے مختلف قویٰ اور طاقتیں ہیں۔ اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنا ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں۔ یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں تو کب ممکن ہے۔ آج کل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔ روز مرہ کے کاموں میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا۔ بلکہ جداگانہ خدمتیں مقرر ہیں۔ سقّہ پانی لاتا ہے۔ دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے۔ باورچی کھانا پکاتا ہے۔ غرضیکہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔ پس اس اصل کو یاد رکھو کہ مختلف قوموں کے مختلف نام ہیں۔ انسان بڑے قویٰ لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خدمتیں اس کی تکمیل کے لئے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔ نادان فلسفی ہر ایک بات کا فیصلہ اپنی عقل خاص سے چاہتا ہے حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔ تاریخی امور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربہ صحیحہ کے کیونکر لگ سکتا ہے۔ امور قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔ اس طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔ انسان دھوکہ میں مبتلا ہو کر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہو جاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف امور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔ میں اس اصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آ جاتی ہے اور روز مرہ ہم ان باتوں کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔ پس جب روح جسم سے مفارقت کرتا ہے یا تعلق پکڑتا ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے اس طرح پر قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس آنکھ کا کام نہیں۔ یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔ اگر عقل محض سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پتلا اتنا ہی بتا دے کہ روح کا وجود بھی ہے یا نہیں۔ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار ہا فلاسفر دہریہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔ اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام۔ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو ایک چیز کو دیکھتی ہے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس چیز کا ذریعہ بتلائے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طورپر نہیں بتلا سکتی۔ چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کر سکے۔ فلاسفر تو روح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور روح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔ یہ تفاسیر روح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمۂ نبوت سے ملی ہیں اور نرے عقل والے تو دعویٰ ہی نہیں کر سکتے۔ اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو یاد رکھو کہ انہوں نے منقولی طور پر چشمۂ نبوت سے لے کر کچھ لکھا ہے۔ (پس یہ بات ثابت ہوگئی کہ روح کے متعلق علوم چشمہ نبوت سے ملتے ہیں) تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس چشم سے دیکھنا چاہئے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودۂ خاک سے روح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السلام علیکم یا اہل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے۔ پس جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قبور ہوتا ہے تو وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔
    ہم ایک بات کو مثال کے طورپر پیش کرتے ہیں کہ ایک نمک کی ڈلی اور ایک مصری کی ڈلی رکھی ہو اب عقل محض ان پر کیا فتویٰ دے سکے گی۔ ہاں اگر ان کو چکھیں گے تو دو جداگانہ مزوں سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نمک ہے اوروہ مصری ہے۔ پس اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیرین کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا۔ پس ہمارا کام دلائل سے سمجھا دینا ہے۔ آفتاب کے چڑھنے میں جیسے ایک اندھے کے انکار سے فرق نہیں آ سکتا اور ایک مسلوب القوۃ کے طریق استدلال سے فائدہ نہ اُٹھانے سے اس کا ابطال نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پر اگر کوئی شخص کشفی آنکھ نہیں رکھتا تو وہ اس تعلق ارواح کو کیونکر دیکھ سکتا ہے۔ پس اس کے انکار سے محض اس لئے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اس کا انکار جائز نہیں ہے۔ ایسی باتوں کا پتہ نری عقل اور قیاس سے کچھ نہیں لکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس لئے انسان کو قویٰ دیئے ہیں۔ اگر ایک ہی سب کام دیتا تو پھر اس قدر قویٰ کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بعض کا تعلق آنکھ سے ہے اور بعض کا کان سے۔ بعض زبان کے متعلق ہیں اور بعض ناک سے۔ مختلف قسم کی حِسّیں انسان رکھتا ہے۔ قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کے لئے کشفی حس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء صلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بیشمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں۔ گو اس کی حقیقت اور تعلقات کی وجہ مخفی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔ غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔ کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور۔ وہ اور قوت کا کام ہے۔ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر سے ضرورت ہوتا ہے۔ انسان میّت سے کلام کر سکتا ہے۔ روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔ پھر میں کہتاہ وں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر مسئلہ ہے۔ بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے اور یہ امر کہ کس جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلا دے گی۔
    جیالوجسٹ یعنی عالم علم طبقات الارض بتلا دیتے ہیں کہ یہاں فلاں دھات ہے اور وہاں کان ہے دیکھو ان میں یہ ایک قوت ہوتی ہے جو فی الفور بتلا دیتا ہے پس یہ ایک سچی بات ہے کہ اراوح کا تعلق قبور سے ضرور ہوتا ہے یہاں تک کہ اہل کشف توجہ سے میت کے ساتھ کلام بھی کر سکتے ہیں۔
    چھوٹی اولاد جو مرتی ہے
    حکیم الامۃ: اولاد جو مرتی ہے وہ فرط ہوتی ہے حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ہے کہ جس کی اولاد نہیں مرتی وہ کیا کرے گا۔ فرمایا میں اپنی اُمّت کا فرط ۱؎ہوں۔
    بکرا وغیرہ جانور جو غیراللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں
    ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکرا وغیرہ جانور جو غیراللہ تھانوں پر اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے۔ سختی پر نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اُھِلَّ بہٖ لغیر اللّٰہ سے یہ مراد ہے کہ جو اِن مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع و شرا میں آ جاتے ہیںاس کی حلت سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیرینیاں تیار کرتے ہیں اور میلے کچیلے دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے ہیں اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں۔ چوہڑے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جوٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں۔ ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح اگر تشدد ہو تو سب حرام ہو جاویہ۔ اسلام نے مالایطاق تکلیف نہیں رکھی بلکہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے۔
    اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اس سوال کی باریک جزئیات پر سوال شروع کئے۔
    فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لاتسئلواعن اشیاء ۱؎ کم بھی فرمایا ہے۔ بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ متقی کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ۲؎۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں۔ اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے تو وہ ایسے ابتلاؤں سے بچایا جائے گا۔ ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی۔ جب کھانا رکھا گیا تو عمداً سور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے اور اپنے دوستوں کے آگے رکھا۔ جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذریعہ کشف اصل حال کھول دیا۔ انہوں نے کہا ٹھہرو۔ یہ تقسیم ٹھیک نہیں اور یہ کہہ کر اپنے آگے کی رکابیاں ان کے آگے اور ان کے آگے کی رکابیاں اپنے آگ رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ ۔ غرض جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بُری مکروہ باتوں سے بچا لیتا ہے۔ اِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیْ کے یہی معنی ہیں۔
    مردہ کو دعا و خیرات کا ثواب
    از حکیم الامۃ۔ ثواب کے متعلق یاد رہے کہ موتے تو نقدی کا دعا کا ثواب ضرور پہنچتا ہے روزہ اور حج کے ثواب کیلئے بھی احادیث موجود ہیں۔ کلام کے ثواب کیلئے علماء ربانی کی شہادت موجود ہے کہ اُنہوں نے کشف میں دیکھا کچھ احادیث اور آثار بھی اس باب میں موجود ہیں گو ان میں ضعف ہے البتہ حضرت صاحب کی زبانی نہیں سنا کہ کلام کا ثواب کس طرح پہنچتا ہے دعا اور جنازہ کی نماز کا ثواب پہنچنا آپ نے فرمایا ہے۔
    یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئًا لِلّٰہ کہنا
    سوال ہوا کہ یا شیخ عبدالقادر جیلائی شیئًا لِلّٰہ کہنا درست ہے کہ نہیں؟
    جواب حضرت مسیح موعود: ہر گز نہیں۔
    سوال: قرآن شریف میں جو آیا ہے کہ خدا کی راہ میں جو مارے گئے تم ان کو مردہ نہ کہو۔ وہ زندہ ہیں؟
    جواب حضرت مسیح موعود: اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ وہ تمہاری آواز بھی سنتے ہیں۔ بٹالہ میں جو لوگ زندہ موجود ہیں کیا اگر تم ان کو یہاں سے بلاؤ تو آواز دیویں گے۔ ہرگز نہیں۔ اگر مردہ کو آواز دو تو وہ بھی جواب نہ دے گا۔ معلوم ہوا وہ بھی نہیں سنتا۔ بغداد میں جا کر شیخ عبدالقادر صاحب کے مزار پر آواز دے کر دیکھ لو۔ کیا جواب دیتے ہیں۔ ہاں خدا کو کامل ایمان کے ساتھ بلاؤتو وہ جواب دے گا۔ اگر قبروں میں پڑے ہوئے مردے بھی سنتے ہیں تو بلا کر دکھلاؤ۔
    سوال: خدا جو یہ فرماتا ہے کہ وہ زندہ ہیں؟
    جواب: اگر زندہ کہتا ہے تو وہ اپنے نزدیک کہتا ہے نہ کہ تمہارے نزدیک اور زندگی میں یہ کوئی امر لازمی نہیں ہے کہ قوت سماع اور حاضر ناظر ہونا ان کا ثابت ہو۔ ہم زندہ ہیں لیکن لاہور کی آواز نہیں سن سکتے۔ اگر وہ بھی اس طرح حاضر و ناصر اور دعا کے سننے والے اور مرادوں کے پورا کرنے والے ہیں تو خدا اور ان میں فرق کیا ہوا۔ جائے شرم ہے۔ کیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شیخ عبدالقادر سے کم ہیں جو یہ فضیلت شیخ صاحب کے لئے تجویز کی جاتی ہے یا ابوبکرؓ یا عمرؓ کیوں نہیں کہتے۔ ایک تخصیص تو مشرک بنا دیتی ہے۔ دنیا میں اسلام اس لئے آیا ہے کہ توحید پھیلا دے۔ اگر شیخ عبدالقادر کو قرب حاصل ہوا تو توحید سے ہوا۔ اگر وہ غیر اللہ کو پکارنے والے ہوتے تو مقام قرب سے گرائے جاتے۔ انہوں نے کامل اطاعت کی تو درجہ پایا۔
    نماز جنازہ فرض کفایہ ہے
    سوال: ایک شخص نے حضرت حجۃ اللہ کے حضور سوال کیا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون بہت ہے اور اکثر مخالف مکذب مرتے ہیں۔ ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ؟
    جواب مسیح موعود: فرمایا۔ یہ فرض کفایہ ہے۔ اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاتا ہے تو ادا ہو جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک تو طاعون زیادہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے۔ دوسرے وہ مخالف ہے۔ خواہ نخواہ کیوں تداخل کیا جاوے۔ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو۔ وہ اگر چاہے گا تو ان کو درست بنا دے گا۔ یعنی وہ مسلمان ہو جاویں گے۔ خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر یہ سلسلہ قائم کیا۔ مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنے ایمان کا حصہ بھی گنواؤ گے۔
    اُجرت پر امام صلوٰۃ ٹھہرانا
    ایک مخلص اور معزز خادم نے بحضرت مسیح موعود علیہ السلام عرض کی کہ حضور میرے والد صاحب نے ایک مسجد بنائی تھی۔ وہاں جو امام ہے اس کو وہ کچھ معاوضہ دیتے تھے اس غرض سے کہ مسجد آباد رہے۔ وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں۔ میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے۔ اب کیا کرنا چاہئے۔
    فرمایا۔ خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کے لئے نماز پڑھتا ہے اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ نماز تو خدا کے لئے ہے۔ اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا کے لئے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی ہو یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی۔ امام اتقی ہونا چاہئے۔
    رمضان میں تراویح کیلئے حافظ مقرر کرنا
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں۔ یہ درست نہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو جائز ہے۔
    زیارت قبور
    صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مردانہ مکان میں تشریف لائے۔ دہلی کی سیر کا ذکر درمیان میں آیا۔ فرمایا لہوو لہب کے طور پر پھرنا تو درست نہیں۔ البتہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں ان پر ہم بھی جائیں گے۔ عاجز کو (یعنی مفتی محمد صادق) کو فرمایا کہ ایسے بزرگوں کی فہرست بناؤ تا کہ جانے کے متعلق انتظام کیا جاوے۔ حاضرین نے یہ نام لکھائے۔
    ۱۔شاہ ولی اللہ صاحب، ۲۔ خواجہ نظام الدین صاح، ۳۔جناب قطب الدین صاحب، ۴۔خواجہ باقی باللہ صاحب، ۵۔ خواجہ میر درد صاحب، ۶۔ جناب نصیر الدین صاحب چراغ دہلی۔ چنانچہ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا اور حضرت بمعہ خدام گاڑیوں میں سوار ہو کر سب سے اوّل خواجہ باقی باللہ کے مزار پر پہنچے۔ راستہ میں حضرت نے زیارت قبور کے متعلق فرمایا۔ قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لئے ایک سنت ہے۔ یہ ثواب کا کام اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آ جاتا ہے۔ انسان اس دنیا میں مسافر آیا ہے۔ آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ جب انسان قبروں میں آ جاوے تو کہے السلام علیکم یا اھل القبور من المؤمنین و المسلمین وانا انشاء اللّٰہ بکم لاحقون۔ حضرت باقی باللہ کے مزار پر جب ہم پہنچے تو وہاں بہت سی قبریںایک دوسری کے قریب قریب اور اکثر زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ میں نے غور سے دیکھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نہایت احتیاط سے ان قبروں کے درمیان چلتے تھے تا کہ کسی قبر کے اوپر پاؤں نہ پڑے۔ قبر خواجہ صاحب پر پہنچ کر آپ نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔ بعد دعا میں نے عرض کی کہ قبر پر کیا دعا کرنی چاہئے تو فرمایا کہ
    صاحب قبر کے واسطے دعائے مغفرت کرنی چاہئے اور اپنے واسطے بھی خدا سے دعا مانگنی چاہئے۔ انسان ہر وقت خدا کے حضور دعا کرنے کا محتاج ہے۔ فرمایا خواجہ باقی باللہ صاحب بڑے مشائخ میں سے تھے۔ شیخ احمد سرہندی کے پیر تھے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ان بزرگوں کی ایک کرامت تو ہم نے بھی دیکھ لی ہے اور وہ یہ ہے کہ دہلی جیسے شہر کو انہوں نے قائل کیا اور یہ وہ شہر ہے جو ہم کو مردود اور مخذول اور کافر کہتا ہے۔
    خواجہ باقی باللہ کی قبر پر کھڑے ہو کر بعد دعا کے فرمایا کہ
    ان تمام بزرگوں کی جو دہلی میں مدفون ہیں کرامت ظاہر ہوتی ہے کہ ایسی سخت سرزمین نے ان کو قبول کیا۔ یہ کرامت اب تک ہم سے ظہور میں نہیں آئی۔
    ذِلّت کا رزق
    قبر پر بہت سے سائل جمع تھے۔ فرمایا یہ سائلین بہت پیچھے پڑتے ہیں۔ پہلے معلوم نہ تھا۔ ورنہ ان کے واسطے کچھ پیسے ساتھ لے آتے۔ شیخ نظام الدین کی قبر پر سائل اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں۔ یہی ان کا رزق ہو گیا ہے جو ذِلّت کا رزق ہے۔
    مردوں سے امداد
    (تقریر مورخہ ۱۴؍ مئی ۱۹۰۰ء)
    سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن نے سوال کیا کہ کیا مردوں سے امداد مانگنی چاہئے؟
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ بات یہ ہے کہ مردوںسے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مردوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور زندوں سے دور بھاگتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ ان کی نبوت کاانکار کرتے رہے اور جس روز آپ انتقال کر گئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ بلکہ کُونُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ کا حکم دے کر زندوں کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کر کے ہمدردی اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔
    قرآن کریم کے منشاء کے موافق تو زندوں ہی کی صحبت میں رہنا ثابت ہوتا ہے اور استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ۔ پہلے صفات الٰہی ربّ، رحمن، رحیم، مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا۔ پھر سکھایا کہ اِیّاَکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمداد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے کسی انسان، حیوان، چرند، پرند غرضیکہ کسی مخلوق کے لئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں۔
    غرض ہرصدی کے سر پر مجدد کا آنا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ مردوں سے استمداد خدا تعالیٰ کی منشاء کے موافق نہیں۔ اگر مردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہزاروں ہزار جو اولیاء اللہ پیدا ہوتے ہیں اس کا کیا مطلب تھا۔ مجددین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جاتااگر اسلام مردوں کے حوالے کیاجاتا۔ تو یقینا سمجھو کہ اس کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا۔ یہودیوں کا مذہب مردوں کے حوالے کیا گیا۔ نتیجہ کیا ہوا۔ عیسائیوں نے مردہ پرستی سے بتلاؤ کیا پایا۔ مردوں کو پوجتے پوجتے خود مردہ ہوگئے۔ نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی۔ نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔ اوّل سے لے کر آخر تک مردوں ہی کا مجمع ہو گیا۔ اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔ اسلام کا خدا حی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔ وہ حی و قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے۔ یحی الارض بعد موتہا تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے یا نہیںہر گز نہیں۔ اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی و قیوم خدا نے اِنّاَ لَہٗ لِحَافِظون کہ کر اُٹھایا ہوا ہے۔ پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔ یاد رکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔
    اب ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ مردوں سے مدد مانگنے کا خدا نے کہیں ذکر نہیں کیا بلکہ زندوں ہی کا ذکر فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا جو اسلام زندوں کے سپرد کیا۔ اگر اسلام کو مردوں پر ڈالتا تو نہیں معلوم کیا آفت آتی۔ مردوں کی قبریں کہاں کم ہیں۔ کیا ملتان میں تھوڑی قبریں ہیں۔ ’’گرد گرما گداؤ گورستاں‘‘ اس کی نسبت مشہور ہے۔ میں بھی ایک بار ملتان گیا جہاں کسی قبر پر جاؤ۔ مجاور کپڑے اُتارنے کو گرد ہو جاتے ہیں۔ پاکپٹن میں مردوں کے فیضان سے دیکھو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان کے مشاہد میں سوا بدعات اور ارتکاب مناہی کے کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ نے جو صراط المستقیم مقرر فرمایا ہے وہ زندوں کی راہ ہے۔ مردوں کی راہ نہیں۔ پس جو چاہتا ہے کہ خدا کو پائے اور حی و قیوم خدا کو ملے تو وہ زندوں کو تلاش کرے کیونکہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے نہ مردہ۔ جن کا خدا مردہ ہے، جن کی کتاب مردہ ہے وہ مردوں سے برکت چاہیں تو کیا تعجب ہے۔ لیکن اگر سچا مسلمان جس کا خدا زندہ خدا جس کا نبی زندہ نبی جس کی کتاب زندہ کتاب ہے اور جس دین میں ہمیشہ زندوں کا سلسلہ جاری ہو اور ہر زمانہ میں ایک زندہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا کرنے والا آتا ہو وہ اگر اس زندہ کو چھوڑ کو بوسیدہ ہڈیوں اور قبروں کی تلاش میں سرگردان ہو تو البتہ تعجب اور حیرت کی بات ہے۔ پس تم کو چاہئے کہ تم زندوں کی صحبت تلاش کرو اور بار بار اس کے پاس آکر بیٹھو۔
    ختم اور ختم کی ریوڑیاں
    سوال: ختم کی ریوڑیاں وغیرہ لے کر کھانی چاہئیں کہ نہ؟
    جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام: ختم کا دستور بدعت ہے۔ شرک نہیں ہے۔ اس لئے کھا لینی جائز ہیں۔ لیکن ختم دینا دلوانا ناجائز ہے اور اگر کسی پیر کو حاضر ناظر جان کر اس کا کھانا دیا جاتا ہے وہ ناجائز ہے۔
    سوال: یہ جو لکھا ہے کہ مدینہ میں جاکر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے یا حبیب اللّٰہ خذبیدی کہا۔
    جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام: اوّل تو اس کی سند کیا ہے۔ پھر بعض وقت اہل اللہ کو مکاشفہ ہوتا ہے اس میں خدا تعالیٰ اہل قبور سے باتیں کرا دیتا ہے مگر یہ خدا کا فضل ہوتا ہے۔
    مردہ پر نوحہ
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام: ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیاپا کرنا اور چیخیں مارکر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں۔ جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں۔ کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے یہ حکم قرآن شریف میں ہے کہ صرف اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْن کہیں۔ یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں۔ اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان ہے۔ برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیاپا کرنا اور باہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلانا، رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک سال تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے یہ سب ناپاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پرہیز کرنا چاہئے۔
    سجدہ یغر اللّٰہ
    ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو آپ کے ایک خادم آمدہ از کشمیر نے سربسجود ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام اُسْجُدُوْ اِلاٰدَمَ کو اس کے ظاہری الفاظ پر پورا کرنا چاہا اور نہایت گریہ و زاری سے اظہار محبت کیا۔ مگر حضور علیہ السلام نے اس حرکت سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ مشرکانہ باتیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہئے۔
    خوش الحانی سے قرآن پڑھنا
    سوال: خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا کیسا ہے؟
    جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام: خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا عبادت ہے اور بدعات جو ساتھ ملا لیتے ہیں وہ اس عبادت کو ضائع کر دیتی ہیں۔ بدعات نکال نکال کر ان لوگوں نے کام خراب کیا ہے۔
    ماتم میں بیجا خرچ سے ممانعت
    حضرت امام علیہ السلام۔ سیاپا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں۔ حرام خور عورتیں شیطان کی بہنیں جو دور دور سے سیاپا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکرو فریب سے منہ کو ڈھانپ کر اور بھینسوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چیخیں مار کر روتی ہیں ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتلانے کے لئے صد ہا روپیہ کا پلاؤ اور زردہ پکا کر برادری وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اس غرض سے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی۔ اچھا نام پیدا کیا سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے توبہ کرنا لازم ہے۔
    مردوں سے طلب حاجت و مشکل کشائی کی درخواست
    حضرت امام علیہ السلام ۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جس سے انسان دعا کرتا ہے اس پر کامل ایمان ہو۔ اس کو موجود، سمیع، بصیر، خبیر، علیم، متصرف، قادر سمجھے اور اس کی ہستی پر ایمان رکھے کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ مگر کیا کروں، کس کو سناؤں اب اسلام میں مشکلات ہی اور آ پڑی ہیں کہ جو محبت خدا تعالیٰ سے کرنی چاہئے وہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خدا کا رتبہ انسانوں اور مردوں کو دیتے ہیں۔ حاجت رو اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک تھی۔ مگر اب جس قبر کو دیکھ حاجت روا ٹھہرائی گئی ہے۔ میں اس حالت کو دیکھتا ہوں تو دل میں درد اُٹھتا ہے مگر کیا کہیں کس کو جا کر سنائیں۔ دیکھو قبر پر اگر ایک شخص بیس برس بھی بیٹھا ہوا پکارتا ہے تو اس قبر سے کوئی آواز نہیں آئے گی مگر مسلمان ہیں کہ قبروں پر جاتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔
    میں کہتا ہوں وہ قبر خواہ کسی کی بھی ہو اس سے کوئی مراد برآ نہیں ہو سکتی۔ حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کوئی اس صفت کا موصوف نہیں۔ قبر سے کسی آواز کی امید مت رکھو۔ برخلاف اس کے اگر اللہ تعالیٰ کو اخلاص اور ایمان کے ساتھ دن میں دس مرتبہ بھی پکارو تو میں یقین رکھتا ہوں اور میرا اپنا تجربہ ہے کہ دس دفعہ ہی آواز سنتا ہے اور دس دفعہ ہی جواب دیتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پکارے اس طرح پر جو پکارنے کا حق ہے۔ ہم سب ابرار اور اخیار اُمت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں اور وہ صفات جو خدا تعالیٰ میں ہیں ان میں یقین کر لیں کہ وہ ہماری آواز نہیں سنتے اور اس کا جواب نہیں دیتے۔ دیکھ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔ کہ ایک گھنٹہ میں ۷۲ آدمی آپ کے شہید ہوگئے۔ اس وقت سخت نرغہ میں تھے اب طبعاً ہر ایک شخص کا کانشنس گواہی دیتا ہے کہ وہ اس وقت جب کہ ہر طرف سے دشمنوں میں گھرے تھے اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اس مشکل سے نجات مل جائے لیکن وہ دعا اس وقت منشاء الٰہی کے خلاف تھی اور قضاء و قدر اس کے مخالف تھی۔ اس لئے وہ اس جگہ شہید ہوگئے۔ اگر ان کے قبضہ و اختیار میں کوئی بات ہوتی تو انہوں نے کونسا دقیقہ اپنے بچاؤ کے لئے اُٹھا رکھا تھا۔ مگر کچھ بھی کارگر نہ ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قضاء و قدر کا سارا معاملہ اور تصرف تام اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے جو اس قدر ذخیرہ قدرت کا رکھتا ہے اور حی و قیوم ہے اس کو چھوڑ کر جو مردوں اور عاجز بندوں کی قبروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتا ہے اس سے بڑھ کر بے نصیب کون ہو سکتا ہے۔ انسان کے سینہ میں دو دل نہیں ہوتے۔ ایک ہی دل ہے وہ دو جگہ محبت نہیں کر سکتا۔ اس لئے اگر کوئی زندوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتا ہے وہ حفظ مراتب نہیں کرتا اور یہ مشہور بات ہے۔ ’’گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘ خدا تعالیٰ کو خدا تعالیٰ کی جگہ پر رکھو اور انسان کو انسان کا مرتبہ دو۔ اس سے آگے مت بڑھاؤ۔ مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ حفظِ مراتب کیا زندہ اور مردہ کی تمیز ہی نہیں رہی بلکہ انسان عاجز اور خدا قادر میں بھی کوئی فرق اس زمانہ میں نہیں کیا جاتا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے۔ صدیوں سے خدا تعالیٰ کا قدر نہیں پہچانا گیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت عاجز بندوں اور بے قدر چیزوں کو دی گئی ہے۔ مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن باوجود مسلمان کہلانے کے مسیح کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ جیسا کہ میں دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم کو جو ایک عاجز انسان تھا اور قرآن شریف نہ آیا ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے تو ان کی رسالت بھی ثابت نہ ہوتی بلکہ ا سانجیل سے تو وہ کوئی اعلیٰ اخلاق کا آدمی بھی ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن عیسائیوں کے اثر سے متاثر ہو کر مسلمان بھی ان کو خدائی درجہ دینے میں پیچھے نہیں رہے کیونکہ جیسا کہ وہ صاف مانتے ہیں کہ وہ اب تک حی و قیوم ہے اور اس زمانہ کا کوئی اثر اس پر نہیں ہوا۔ آسمان پر موجود ہے۔ مردوں کو زندہ کیا کرتا تھا۔ جانوروں کو پیدا کرتا تھا۔ غیب جاننے والا تھا۔ پھر اس کے خدا بنانے میں اور کیا فرق باقی رہا۔ افسوس مسلمانوں کی عقل ماری گئی جو ایک خدا کے ماننے والے تھے۔ وہ ایک مردہ کو اب خدا سمجھتے ہیں اور ان خداؤں کا تو شمار نہیں جو مردہ پرستوں اور مزار پرستوں نے بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت اور صورت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا ہے کہ ان مصنوعی خداؤں کی خدائی کو خاک میںملایا جائے اور زندوں اور مردوں میں ایک امتیاز قائم کر کے دنیا کو حقیقی خدا کے سامنے سجدہ کرایا جاوے۔ اس غرض کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے اور اپنے نشانوں کے ساتھ بھیجا۔ یاد رکھو انبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا۔ وہ صرف اس بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی۔ اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا۔ کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں۔
    دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کتنے بڑے عظیم الشان نبی تھے اور خدا تعالیٰ کے حضور ان کا کتنا بڑا درجہ اور رتبہ تھا۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بجائے خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ کرنے کے ابراہیم علیہ السلام کی پوجا کرتے تو کیا ہوتا۔ کیا آپ کو وہ اعلیٰ مراتب مل سکتے تھے جو آپ کو ملے ہیں۔ کبھی نہیں، کبھی نہیں۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام آپ کے بزرگ بھی تھے اور آپ نے ان کی قبر پر جا کر یا بیٹھ کر ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کسی اور قبر پر جا کر آپ نے اپنی کوئی حاجت پیش کی تو یہ کس قدر بے وقوفی اور بے دینی ہے کہ آج مسلمان قبروں پر جا کران سے مرادیں مانگتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ قبروں سے کچھ مل سکتا تو اس کے لئے سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبروں سے مانگتے۔ مگر نہیں مردہ اور زندہ میں جس قدر فرق ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔ بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی مخلوق اور ہستی نہیں ہے جس کی طرف انسان توجہ کرے اور اس سے کچھ مانگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ محمد اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم
    تعویذ باندھنا، دم کرنا
    (۴؍ جولائی ۱۹۰۳ء)
    سوال: تعویذ باندھنا یا دم وغیرہ کرنا کیسا ہے؟
    بجواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی حکیم نورالدین کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ نے احادیث میں اس کے متعلق کچھ پڑھا ہے۔
    غرض کیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ جب کبھی جنگوں میں جایا کرتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک پگڑی یا ٹوپی میں رکھ لیا کرتے تھے اور آگے کی طرف لٹکا لیتے اور جب ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمنڈوایا تو آدھے سر کے کٹے ہوئے بال ایک شخص کو دے دیئے اور آدھے دوسرے حصہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جُبّہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایاکرتے تھے اور وہ شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک دفعہ ایک عورت نے آپ کا پسینہ بھی جمع کیا۔
    یہ سب سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ ان تعویذو دموں کی اصل کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔ جو خالی از فائدہ نہیں۔ میرے الہام میں جو ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ اس سے بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تو ہوگا جو بادشاہ ایسا کریں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان باتوں کی بنا محبت و اخلاص پر ہے۔ صادقوں کی نکتہ چینی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ بزرگوں کے صفائر پر نظر کرنے سے سلب ایمان کا اندیشہ ہے۔
    طعام پر فاتحہ خوانی و منت سالانہ
    (۱۶؍ مارچ ۱۹۰۳ء)
    سوال: روٹیوں پر فاتحہ پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب مسیح موعود علیہ السلام: کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا ہے؟
    سوال: (۲۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء) ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملازم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیرانِ پیر کا ختم دلاؤں گا۔ اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیںـ؟
    جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام: حضرت اقدس نے فرمایا کہ خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے۔ مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم جاری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھا کرتے ہیں۔ یہ طریق تو شرک ہے اور اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے نہیں۔ غرباو مساکین کو بے شک کھانا کھلاؤ۔
    مردوں کیلئے دعا کرنا
    سوال: قبر پر کھڑے ہو کر کیا پڑھنا چاہئے؟
    جواب مسیح موعود علیہ السلام: میّت کے واسطے دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس کے قصوروں اور گناہوں کو بخشے جو اس نے اس دنیا میں کئے تھے اور ان کے پس ماندگان کے واسطے بھی دعا کرنی چاہئے۔
    سوال: دعا میں کونسی آیت پڑھنی چاہئے؟
    جواب مسیح موعود علیہ السلام: یہ تکلفات ہیں تم اپنی زبان میں جس کو بخوبی جانتے ہو اور جس میں تم کو جوش پیدا ہوتا ہے میّت کے واسطے دعا کرو۔
    میّت کیلئے صدقہ دینا اور قرآن شریف پڑھنا
    سوال: میّت کو صدقہ خیرات اور قرآن شریف کا پڑھنا پہنچ سکتا ہے؟
    جواب مسیح موعود علیہ السلام: میّت کو صدقہ خیرات جو اس کی خاطر دیا جائے پہنچ جاتا ہے لیکن قرآن شریف پڑھ کر پہنچانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہیں ہے۔ اس کی بجائے دعا کی جائے جو میّت کے حق میں کرنی چاہئے۔ میّت کے حق میں صدقہ خیرات اور دعا کا کرنا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی سنت سے ثابت ہے لیکن صدقہ بھی وہ بہتر ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دے جائے کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے ایمان پر مہر لگا دیتا ہے۔
    تذکرہ مولود نبویؐ
    سوال: مولود کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟
    جواب مسیح موعود علیہ السلام: محض تذکرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمدہ چیز ہے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپ کی اتباع کے لئے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں بھی اس لئے بعض تذکرے موجود ہیں جیسے فرمایا وَاْذکُرْ فِیْ الْکِتَابِ اِبْرَاھِیْم لیکن اگر تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملا دی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ ’’گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘ یاد رکھو کہ اصل مقصد اسلام کا توحید ہے۔ مولود کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملالی گئی ہیں۔ جس نے ایک جائز اور ایک موجب رحمت فعل کو خراب کر دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ موجب رحمت ہے۔ مگر غیر مشروع امور و بدعات منشاء الٰہی کے خلاف ہیں۔ ہم خود اس امر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اور آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گویا خود شریعت بناتا ہے۔ اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ بعض لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہی حرام ہے۔ یہ ان کی حماقت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بے باکی ہے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ دراصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی تحریک ہوتی ہے جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔
    ہاں جو لوگ ذکر مولود کرتے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں یہ ان کی جرأت ہے۔ ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں ان میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوٰۃ، سود خور اور شرابی ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق اور یہ لوگ محض ایک تماشا کے طور جمع ہو جاتے ہیں۔ پس اس قسم کے خیال بے ہودہ ہیں۔ جو شخص خشک وہابی بنتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو دل میں جگہ نہیں دیتا ہے وہ بیدین آدمی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے۔ وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔ خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ دنیا کے لئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔ اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔ انبیاء ،اولیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔
    حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہشت میں ایک اعلیٰ مقام ہوگا اور اس میں مَیں رہوں گا۔ ایک صحابی جس کو آپ سے بہت ہی محبت تھی وہ یہ سن کر رو پڑا اور کہا کہ حضور مجھے آپ سے بہت محبت تھی۔ آپ نے فرمایا تو میرے ساتھ ہوگا۔ مشرک بھی سچی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں رکہ سکتا اور ایسا ہی وہابی بھی نہیں کر سکتا۔ یہ مسلمانوں کے آریہ ہیں ان میں روحانیت نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ اور اس کے سچے رسول سے سچی محبت نہیں ہے۔
    دوسرا گروہ جنہوں نے مشرکانہ طریق اختیار کئے ہیں۔ روحانیت ان میں بھی نہیں۔ قبر پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ میرے نزدیک جیسا کہ وہابی کہتے ہیںحرام نہیں۔ بلکہ یہ اتباع کی تحریک کے لئے مناسب ہے۔ جو لوگ مشرکانہ رنگ میں بعض بدعتیں پیدا کرتے ہیں وہ حرام ہیں۔
    بوقت اذان ابھام کو بوسہ دینا
    سوال: ابھام کو بوسہ دینا اس وقت جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی یا اذان اور کسی وقت لیا جائے اور مولود شریف میں قیام کرنا کیسا ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: بوسہ ابھام اور مولود میں قیام احادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں۔ بوسے بزرگوں کے ہاتھ پر دینے کی ضرورت اس وقت ایجاد ہوی ہے جب پیروں میں حقیقی قوت نہ رہی۔
    بدنی و مالی عبادتیں
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ عبادت دو قسم کی ہوتی ہے۔ مالی اور بدنی۔ مالی عبادتیں تو اس کے لئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جس کے پاس نہیں وہ معذور ہے۔ بدنی عبادتیں بھی انسان جوانی ہی میں کر سکتا ہے۔ ورنہ ۶۰ سال کے بعد طرح طرح کے عوارضات لاحق ہو جاتے ہیں۔ نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر نابینائی آجاتی ہے۔ سچ کہا ہے۔ پیری و صدعیب چنیں گفتہ اند اور جو کچھ انسان جوانی میں کر لیتا ہے اس کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اسے بڑھاپے میں بھی صدہا رنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
    موئے سفید زاجل آرد پیام
    اس لئے انسان کو چاہئے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجا لائے۔
    نماز و حج کی حقیقت
    حضرت مسیح موعود۔ عبادت کے دو حصے تھے ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ جو ڈرنے کا حق ہے خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی روح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے۔ جو محبت کرنے کا حق ہے اسی لئے فرمایا ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہ اور دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جائے۔
    یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے۔ ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لئے یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اس کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں۔
    خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جائے گی اور جس قدر محبت الٰہی میں وہ ترقی کرے گا۔ اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جاوے گا۔ پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کیلئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے۔ خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں۔ بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاحت نہیں رہتی۔ عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔
    غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔ سرمنڈوایا جاتا ہے۔ دوڑتے ہیں، محبت کا بوسہ رکھا گیا۔ وہ یہی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آتا ہے۔ پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔ اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے۔ نادان وہ شخص ہے جو اپنی نابینائی سے اعتراض کرتا ہے۔
    اسلامی مسائل عقل کے موافق ہیں
    سوال:کیا اسلام کاکوئی مسئلہ عقل کے خلاف نہیں ہے؟
    جواب حضرت مسیح موعود:ہاں یہ سچ ہے مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے روٹی کے ساتھ سالن بھی ہو۔ عقلی ۱؎حواس کے علاوہ اور حواس ہیں جو خدا شناسی کے لئے ہیں اور عقل بھی ان کے ساتھ مل جاتی ہے۔ یہ کوئی تسلی کی راہ نہیںبتا سکتی جب تک کہ دوسرے حواس ساتھ نہ ہوں۔
    سوال: اگر غیر پوچھیں تو انہیںکیا جواب دیں۔
    فرمایا ۔ ان کو یہی جواب دو کہ جو اس کے اہل ہیں ان کے پاس رہو کیونکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان حواس کے ذریعہ ہم ان باتوںکو محسوس کر لیں جن کے لئے دوسرے حواس ہیں۔ کیا کان آنکھ کا کام دے سکتے ہیں یا زبان کانوں کا کام دے سکتی ہے۔ پھر کس قدر غلطی ہے کہ اس امر پر زور دیا جائے۔ خدا شناسی کے لئے حواس اور ہیں اور ان کے ذریعہ ہی ان امور پر جو ان محسوسات سے ماورا ہیں ایمان پیدا ہوتا ہے۔ عقلمند ان چیزوں پر جیسے ملائک ہیں۔ خدا ہی روح کا بقا ہے۔ ان پر عقلی دلائل تلاش نہیں کرتا بلکہ اس راہ سے ایمان لاتا ہے جو اس کے لئے مقرر ہے۔ فلاسفر صرف اٹکل بازی سے کام لیتے ہیں وہ قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے ہاں انکار کر دیتے ہیں۔
    دعا بحرمت مسیح موعود
    حضرت مسیح موعود۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ بحرمت مسیح موعود دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں۔ فرمایا احیاء کا توسّل جائز ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کی گئی تھی۔
    قرض کے متعلق دعا
    (۱۹؍ جنوری ۱۹۰۱ء)
    حضرت مسیح موعود۔ ایک شخص نے اپنے قرض کے متعلق دعا کے واسطے عرض کی۔ فرمایا۔ استغفار بہت پڑھا کرو۔ انسان کے واسطے غموں سے سبکدوش ہونے کے واسطے یہ طریق ہے۔
    استغفار
    حضرت مسیح موعود۔ استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ قرآن شریف میں دو معنی پر آیا ہے۔ اوّل تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا یہ استغفار تو مقربوں کا ہے۔ جو ایک طرفۃ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں۔ اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے۔ ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا کہ پاک نشوونما پاکر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا ہے۔ استغفار غفر سے نکلا ہے جس کے معنی ڈھانکنے کے ہیں اور دبانے کے۔ گویا استغفار سے یہ مطلب ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اس کی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے۔ دبا رکھے اور بشریت کی جڑھ ننگی نہ ہونے دے بلکہ الوہیت کی چادر میں لے کر اپنی قدوسیت میں سے حصہ دے یا اگر کوئی جڑھ گناہ کے ظہور سے ننکی ہوگئی ہو پھر اس کو ڈھک دے اور اس کی برہنگی کے بد اثر سے بچائے۔ استغفار کلید ترقیات روحانی ہے۔
    طریق بیعت
    سوال: سوال ہوا کہ آپ دوسرے صوفیا اور مشائخ کی طرح عام طور پر بیعت لیتے ہیں یا بیعت لینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔
    جواب حضرت مسیح موعود: ہم تو امر الٰہی سے بیعت کرتے ہیں جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں کہ اِنَّ الَّذِیْنَ تُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ۔
    حضرت مسیح موعود ؑنے کس سے بیعت کی ہے
    سوال: اکثر لوگ جو سلسلہائے متعارفہ کی زنجیروں میں پابند ہیں یہ سوال کیا کرتے ہیں کہ حضرت اقدس جناب مسیح و مہدی مسعود علیہ السلام نے چونکہ سلسلہائے اربعہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ میں کسی کی بیعت نہیں کی ہوئی ہے اس لئے وہ واصل باللہ اور سالک کامل نہیں ہو سکتے۔
    جواب حکیم الامۃ: جن لوگوں نے ظاہری بیعت کسی سے نہیں کی وہ ہزاروں ہیں ان میں سرتاج لولیا حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عام اولیا جنہوںنے کسی سے بیعت نہیں کی وہ یہ ہیں۔
    ۱۔ حضرت اویس قرینی سید التابعین اور رئیس اولیائے معاصرین ہیں۔
    ۲۔عامر بن عبداللہ بن تمیمی جن کا حال طبقات کبری امام شعرانی میں بصفحہ ۲۷ مندرج ہے۔
    ۳۔ مسروق بن عبدالرحیم
    ۴۔ علقمہ بن قیس۔ ان سب کا حال طبقات میں ہے۔
    بلکہ امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبلؒ، امام بخاریؒ، امام شافعی بھی ایسے ہی ہیں۔ جامع اصول الاولیا مطبوعہ مصر صفحہ۷ سطر ۷،۴ میں لکھا ہے کہ شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اب میں نبوۃ اور فتوۃ کے دریاؤں سے پانی پیتا ہوں۔ کیا معنی کہ میں سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پاتا ہوں۔ امام ابوالحسن شازلی صاحب …… البحر نے فرمایا ہے۔ میں دس سمندروں سے پانی پیتا ہوں۔ ان میں سے پانچ سمندر آسمانی ہیں اور پانچ زمینی ہیں۔ آسمانی پانچ یہ ہیں۔ جبرئیل، میکائل، اسرافیل، عزرائیل، روح۔ زمینی پانچ یہ ہیں۔ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    اور پھر بصفحہ ۲۴ جامع اصول الاولیاء مطبوعہ مصر سطر ۲۷ میں ہے۔ سالک کیلئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی مرشد ہو ظاہری مرشد ہو یا باطنی۔ باطنی مرشد الہام ہے اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اجماع امت جس کو خوب غور سے سمجھ سے حاصل کیا ہو پھر صفحہ۲۹ میں لکھا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ سالک کو ان سب باتوں سے بے پرواہ کر دیتا ہے اور محض اپنے فضل سے اپنے جذب سے بغیر مشقت کے … بنا دیتا ہے۔
    زمانہ کے موجودہ گدی نشین و پیر زادوں کا حال
    حضرت مسیح موعود۔ اس ملک کے گدی نشین اور پیر زادے دین سے ایسے بے تعلق اور اپنی بدعات میں ایسے دن رات مشغول ہیں کہ ان کو اسلام کی مشکلات اور آفات کی کچھ بھی خبر نہیں۔ ان کی مجالس میں اگر جاؤ تو بجائے قرآن شریف اور کتب حدیث کے طرح طرح کے طنبورے اور سارنگیاں اور ڈھولکیاں اور قوال وغیرہ اسباب بدعات نظر آئیں گے اور پھر باوجود اس کے مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ اور اتباع نبوی کی لاف زنی اور بعض ان میں سے عورتوں کا لباس پہنتے ہیں اور ہاتھوں میں مہندی لگاتے ہیں۔ چوڑیاں پہنتے ہیں اور قرآن شریف کی نسبت اشعار پڑھنا اپنی مجلسوں میں پسند کرتے ہیں۔ یہ ایسے پرانے زنگار ہیں جو خیال میں نہیں آسکتا کہ دور ہو سکیں تا ہم خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے گا اور اسلام کا عامی ہوگا۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت سے پہلے مشائخ کی بیعت ٹوٹ جاتی ہے
    (۱۲؍ ستمبر ۱۹۰۱ء)
    سوال: حضور کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں؟
    جواب مسیح موعود علیہ السلام: جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کا مرشد اب زندہ بھی ہو۔ تب بھی وہ حقائق اور معارف ظاہر نہ کرے گا جو خدا تعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔ صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے۔ ہندوستان میں جس قدر گدیاں اور مشائخ اور مرشد ہیں سب سے ہمارا اختلاف ہے۔ بیعت دینی سلسلوں میں ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔ ان لوگوں کا ہمارے مسائل میں اختلاف ہے۔ اگر ان میں سے کسی کو شک ہو کہ وہ حق پر ہیں تو ہمارے ساتھ فیصلہ کر لیں۔ قرآن شریف کو حَکم ٹھہرائیں۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت سب گدیاں ایک مردہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور زندگی صرف اسی سلسلہ میں ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر قائم کیا ہے۔ اب کیسا نادان ہوگا وہ شخص جو زندوں کو چھوڑ کر مردوں میں زندگی طلب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی چاہا تھا کہ ایک زمانہ فیج اعوج کا ہو اور اس کے بعد ہدایت کا بہت بڑا زمانہ آوے۔ چنانچہ ہدایت کے دو ہی بڑے زمانے ہیں جو دراصل ایک ہی ہیں مگر ان کے درمیان ایک وقفہ ہے۔ اس لئے وہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک وہ زمانہ جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اور دوسرا مسیح موعود کا زمانہ اور مسیح موعود کے زمانے میں کسی دوسرے کی بیعت کب جائز ہوسکتی ہے اور قائم رہ سکتی ہے۔ یہ اس شخص کا زمانہ ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا۔ اب اس کی بیعت کے سوا سب بیعتیں ٹوٹ گئیں۔
    مسیح موعود کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟
    ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مولویوں سے جا کر پوچھو کہ ان کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے اس کو جو نہ مانے گا اس کا کیا حال ہے۔ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آنے والا تھا۔
    اپنے صدق دعویٰ و منصب خداداد کے متعلق
    مسیح موعود علیہ السلام کا قسم کھانا
    ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں جن کی نسبت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں خبر دی ہے۔ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ اس کا جواب لکھیں۔ شام کینماز کے بعد دوات اور کاغذ حضرت کے آگے رکھا گیا۔ حضرت نے فوراً کاغذا ہاتھ میں لیا اور یہ چند سطریں لکھ دیں۔
    ’’ میں نے پہلے بھی اس اقرار مفصل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پرچہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وَکَفْی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا ‘‘۔
    (الراقم۔ میرزا غلام احمد عفاء اللہ واید۔ ۱۷؍ اگست ۱۸۹۹ء)
    اگر حضرت اقدس کو بزرگ مانا جائے اور بیعت نہ کی جائے
    سوال: ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جاوے اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہووے۔ تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا:
    بیعت کے معنی ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے۔ جس کو قلب محسوس کرتا ہے جب کہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ بیعت کے لئے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جاوے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔
    جمعہ
    مسیح موعود علیہ السلام۔ روز جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کر کے اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہرایا ہے اور اس بارے میں خاص ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے تو تم دنیا کا ہر ایک کام بند کر دو اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گنہگار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو اور جس قدر جمعہ کی نماز اورخطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر نماز کی بھی نہیں۔ اسی غرض سے قدیم سے اور جب سے کہ اسلام ظاہر ہوا ہے جمعہ کی تعطیل مسلمانوں میں چلی آتی ہے۔
    کیا جماعت جمعہ دو آدمیوں سے ہو سکتی ہے
    مسئلہ پیش ہوا کہ دو احمدی کسی گاؤں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ؟
    حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ دو سے جماعت ہوجاتی ہے اس لئے جمعہ بھی ہو جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں پڑھ لیا کروں۔ فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے۔
    خطبہ جمعہ و شروط جمعہ
    حکیم الامۃ: خطبہ، وعظ جس طرح مخاطب لوگ سمجھیں۔ خطبہ نثر پر بولا جاتا ہے نہ اشعار پر نماز جمعہ کے لئے تعداد مقتدیوں کے متعلق اور … وغیرہ کی شروط احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں۔
    خطبہ جمعہ کے وقت اذان
    سوال: وہ اذان جو خطیب کے خطبہ پڑھنے کے وقت دی جاتی ہے کہاں پر دینا چاہئے۔
    جواب حکیم الامۃ: خطبہ کی اذان اصل اذان ہے جہاں ہمیشہ مؤذن اذان دیتا ہے وہاں دے۔ جمعہ کی اذان خطبہ سے پہلے کوئی خصوصیت مکانی نہیں رکھتی۔
    مقام فی الخطبہ
    عن جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا خطب یستقد الی جذاع نخلۃ من سواری المسجد فلما وضع المنبر استوی علیہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خطبہ پڑھا کرتے تھے۔ خطبہ میں بیٹھنا۔ نسائی باب کم یخطب النی میں لکھا ہے عن جابر ابن سمرۃ قال جالست النبی صلی اللہ علیہ وسلم فما رایتہ الا قائما ویجلس ثم …… الخطبۃ الاخرۃ
    خطبہ میں دعا
    خطبہ میں دعا بیٹھ کر مانگنا ثابت نہیں بلکہ نسائی میں یفصل بین الخطبتین … کا ایک باب باندھا ہے۔ اور باب السکوت فی القورۃ بین الخطبتین میں یہ لکھا ہے کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخطب یوم الجمعۃ قائما یقعد قعدۃ
    ایک مسجد میں دو جمعے
    سوال پیش ہوا کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرا لینے کا اختیار قانوناً یا باہمی مصالحت سے حاصل ہوتا ہے۔ تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جائے کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہو سکتے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وہ تو بہرحال تمہاری اذان اور تمہاری نماز جمعہ کو اذان اور نماز سمجھتے ہی نہیں۔ اس واسطے وہ تو پڑھ لیں گے اور چونکہ وہ مومن کو کافر کہہ کر بموجب حدیث نبوی خود کافر ہوچکے ہیں اس واسطے تمہارے نزدیک بھی ان کی اذان اور نماز کا عدم وجود برابر ہے۔ تم اپنی اذان کہو اور اپنے امام کے پیچھے اپنا جمعہ پڑھو۔
    جمعہ کے بعد احتیاطی نماز
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نماز سب مسلمانوں پر فرض ہے جب کہ جمعہ کی نماز پڑھ لی۔ تو حکم ہے کہ جاؤ اپنے کاروبار کرو۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت میں جمعہ کی نماز اور خطبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ بادشاہ مسلمان نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ خود بڑے امن کے ساتھ خطبہ اور نماز جمعہ پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں۔ اس واسطے ظہر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھاہے۔ ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں۔ ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میں گئی۔ نہ یہ حاصل ہوا نہ وہ۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو اور احتیاطی کی کوئی ضرورت نہیں۔
    نماز جمعہ میں عورتیں
    سوال ہوا کہ نماز جمعہ کیلئے اگر کسی جگہ صرف ایک مرد احمدی اور کچھ عورتیں ہوں تو کیا جائز ہے۔ کہ عورتوں کو جماعت میں شامل کر کے نماز جمعہ ادا کی جائے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جائز ہے۔
    نماز جمعہ کی سنتیں
    سوال: نماز جمعہ میں فرض سے پہلے چار رکعت سنت ہے۔ یا کم و بیش۔ بعض فرض کتنی رکعتیں ہیں۔
    جواب حکیم الامۃ: جمعہ سے پہلے جس قدر اللہ تعالیٰ توفیق دیوے سنتیں پڑھو کوئی حد بندی نہیں دو ہوں یا چار ہوں چھ ہوں یا اسی سے بھی زیادہ۔
    نماز جمعہ کے ساتھ عصر جمع کرنا
    سوال: کیا کسی شرعی ضرورت کے واسطے نماز جمعہ کے ساتھ بھی نماز عصر جمع کرنا جائز ہے؟
    جواب حکیم الامۃ: جائز ہے۔ گذشتہ دسمبر ۱۹۰۵ء میں جمعہ کے روز کثرت آدمیوں کے سبب اور قبل از نماز ایک عظیم الشان جلسہ دینی میں شمولیت کے سبب کھانا نہ کھا چکے تھے اور نماز جمعہ بھی کسی قدر پچھلے وقت ہو سکی۔ اس واسطے حسب الحکم حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کی گئی تھی۔
    نماز خسوف یعنی چاند گرن و کسوف یعنی سورج گرہن
    سوال: نماز خسوف باجماعت قرأت جہر سے ہو۔ علیحدہ علیحدہ پڑھیں اور بعد ازاں خطبہ بھی جائز ہے یا نہیں؟
    جواب حکیم الامۃ: نماز خسوف باجماعت جہری قرأت سے پڑھنا مسنون ہے اور اس کے بعد خطبہ ہے یہ تو عام کتب احادیث میں مندرج ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بلوغ المرام ہے۔ اس میں کافی بحث ہے۔ دارالامان میں خسوف اور کسوف دونوں جماعت سے پڑھی جاتی اور یہاں بھی رواج ہے ہاں یہ جماعت مسنون ہے فرض نہیں۔
    ۳۳؍جون ۱۸۹۹ء کی شب کو قریب مغرب چاند گرہن شروع ہوا۔ تھوڑی دیر میں سارا چاند گھنا گیا۔ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے اس موقعہ پر خسوف کی نماز پڑھائی اور تاوقتیکہ چاند بالکل روشن نہ ہو گیا مسنون طریق کے موافق کھانا نہ کھایا گیا بلکہ عشاء کی نماز پڑھ چکنے کے بعد جب چاند بالکل صاف ہو گیا کھانا کھایا گیا۔ گویا تمام وقت نماز اور ذکر الٰہی میں صرف ہوا۔
    ۱۴؍ جنوری ۱۹۰۵ء کو مدینۃ المسیح میں نماز کسوف پڑھی گئی۔ ۲؍۱۰۔۱۰ بجے کے قریب حضرت حکیم الامۃ سلمہ ربہٗ نے نماز با جماعت جہری قرأت سے پڑھائی۔ پہلی رکعت۱؎ میں سورۃ الم سجدہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع سے سر اُٹھا کر سمع اللّٰہ لمن حمدہ کہہ کر سورہ احقاف پڑھی اور پھر رکوع کیا۔ دوسری رکعت میں پہلے سورۃ محمدؐ کو پڑھ کر رکوع کیا اور پھر رکوع سے سر اُٹھا کر انا فتحنا پڑھی اور پھر رکوع کیا ۔ غرض ہر رکعت میں دو دو رکوع کئے۔ یہ نماز ایک گھنٹہ میں ختم ہوئی۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بعض صحابہ کو اس نماز میں طوالت قرأت کے سبب غش ہو جاتی تھی۔ نماز ختم ہونے کے بعد مولوی صاحب مکرم نے خطبہ پڑھا جو نہایت ہی لطیف تھا۔ آپ نے فرمایا کہ دوکارخانے ہیں جسمانی اور روحانی۔ پہلے اپنی حالت کو دیکھو کہ دل سے بات اُٹھتی ہے تو اس پر ہاتھ عمل کرتے ہیں جس سے روح و جسم کا تعلق معلوم ہوتا ہے۔ غمی و خوشی ایک روحانی کیفیت کا نام ہے۔ مگر اس کا تو چہرہ پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ کسی سے محبت ہو تو حرکات و سکنات سے اس کا اثر معلوم ہو جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام نے بھی اس نکتہ کو کوئی پیرایوں میں بیان کیا۔ مثلاً حدیبیہ کے مقام پر جب سہیل آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سہل الامر یعنی اب یہ معاملہ آسانی سے فیصل ہو جائے گا۔ دیکھئے بات جسمانی تھی نتیجہ روحانی نکالا۔ اسی طرح نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کی طرف خیال کرو کہ پاخانے جاتے وقت ایک دعا سکھائی۔ الھم انی اعوذبک من الخبث و الخبائث۔ یعنی جیسے پلیدی ظاہری نکالی اس طرح باطنی نجاست کو بھی نکالنے کی توفیق دے۔ پھر جب مومن فارغ ہو تو پڑھے غفرانک۔ اس میں بھی یہ اشارہ تھا کہ گناہ کی خباثت سے جب انسان بچتا ہے تو اس طرح کا روحانی چین پاتا ہے۔ نماز، حج، زکوٰۃ۔ سب ارکان اسلام میں جسمانیت کے ساتھ ساتھ روحانیت کا خیال رکھا ہے۔ نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ مثلاً وضو ظاہری اعضاء کے ہونے کا نام ہے مگر ساتھ ہی دعا سکھلائی ہے اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطہرین یعنی جیسے کہ میں نے ظاہر طہارت کی ہے مجھے باطنی طہارت بھی عطا کر۔ پھر قبلہ کی طرف منہ کرنے میں یہ تعلیم ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کیلئے سارے جہان کو پشت دیتا ہوں۔ یہی تعلیم رکوع و سجود میں ہے۔ وہ تعظیم جو دل میں اللہ تعالیٰ کی ہے وہ جسمانی اعضاء سے ظاہر کی جاتی ہے۔ زکوٰۃ روحانی بادشاہ کے حضور تک نماز ہے اور جان و مال کو … کرنے کا ایک شست ہے۔ جیسا کہ ظاہری بادشاہ کیلئے کیا جاتا ہے اور حج کے افعال کو سمجھنے کے لئے اس مثل کو پیش نظر رکھیئے کہ جیسے کوئی مجازی عاشق سن لیتا ہے کہ میرے محبوب کو … مقام کسی نے دیکھا تو وہ مجنونانہ وار اپنے لباس وغیرہ سے بے خبر اُٹھ کر دوڑتا ہے۔ ایسا ہی یہ اُس محبوب لم یزلی کے حضور حاضر ہونے کی ایک تعلیم ہے۔ غرض جسمانی سلسلہ کے قابل ایک روحانی سلسلہ بھی ضرور ہے اور اس کو نہ جاننے کے لئے بعض نادانوں نے اس سوال پر بڑی بحث کی ہے کہ مرکز قوی قلب ہے۔ یا دماغ۔ اصل بات فیصلہ کن یہ ہے کہ ایمانی رنگ میں مرکز دماغ ہے کیونکہ تمام حواس کا تعلق دماغ سے ہے اور روحانی رنگ میں مرکز قلب ہے۔ انبیاء علیہم السلام چونکہ روحانیت کی طرف توجہ رکھتے ہیں اس لئے وہ ظاہری نظارہ سے روحانی نظارہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے سراجاً منیراً فرمایا ہے۔ اور آپ سراج منیر کیوں نہ ہوتے جب کہ آپ نے دعا فرمائی اَللّٰھُمَّ جَعَلُ فِیْ قَلْبِیْ نُوْراً وَّ فِیْ بَصْرِیْ نُوْراً وَّ فِیْ سَمْعِیْ نُوْراً وَّعَنْ … نُوْرًا وَّ عَنْ یَسَارِیً نُوْراً وَّ فَوْتِی نُوْراً وَّ تَحْتِیْ نُوْراً وَّامَا مِیْ نُوْراً وَّ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّا جْعَلَ لِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ لِسَانِیْ نُوْراً وَّ عَصْبِیً نُوْرًا وَّ لَحْمِیْ نُوْرًا وَّ حَرْمِیْ نُوْرًا وَشَعْرِیْ نُوْرًا وَّ بَشْرِیْ نُوْرًا وَّاجُعَلُ فِیْ لنَفْسِیْ نُوْراً وَّاعَظِمْ لِیْ نُوْراً اَللّٰھمَّ اَعْطِنِیْ نُوْراً۔ ترجمہ اللہ کر نور میرے دل میں اور نور میری آنکھ میں نور اور میرے کان میں نور اور میرے داہنے نور اور میرے بائیں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور اور پیدا کر میرے واسطے نور اور میری زبان میں نور اور میرے پیٹھوں میں نور اور میرے گوشت میں نور اور میرے خون میں نور اور میرے بالوں میں نور اور میرے بدن میں نور اور کر میری جان میں نور اور بڑا کر واسطے میرے نور اے اللہ بخش مجھ کو نور۔
    خیر جب اس حقیقی سورج نے دیکھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا۔ یعنی کچھ ایسے اسباب پیش آگئے جس نے سورج کی روشنی سے اہل زمین مستفید نہیں ہو سکتے تو اس نظارہ سے آپ کا دل بھڑک اُٹھا کہ کہیں میرا فیضان پہنچنے میں بھی کوئی ایسی ہی آسمانی روک نہ پیش آ جائے اس لئے آپ نے اس وقت تک صدقہ دعا استغفار نماز کو نہ چھوڑا جب کہ سورج کی روشنی باقاعدہ طور سے زمین پر پہنچنی شروع نہ ہوگئی۔ اب چونکہ ہر ایک مومن شخص بھی بقدر اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نور رکھتا ہے جیسے باپ بیٹے کا اثر۔ چنانچہ اس لئے فرمایا مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُم وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَمتم النبِیْن یعنی رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسمانی بیٹا نہیں تو روحانی بیٹے بیشمار ہیں اس لئے ہر مومن بھی اس ایسے نظارہ پر گھبراتا ہے اور گھبرانا چاہئے کہ کہیں ایسے اسباب۱؎ پیش نہ آ جائیں جس نے ہمارا نور دوسروں تک پہنچنے میں روک ہو جاوے۔ اس لئے وہ ان ذرائع سے کام لیتا ہے جو مصیبت کے انکشاف کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یعنی صدقہ خیرات کرتا ہے۔ استغفار پڑھتا ہے اور نماز میں کھڑاہو جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مشکل کے وقت نماز میں کھڑے ہو جاتے۔ آخر اللہ تعالیٰ کا دربائے رحمت جوش میں آتا ہے اور جیسے وہاں حرکت و دور سے وہ اسباب ہٹ جاتے ہیں جس نے سورج کی روشنی باقاعدہ زمین پر پہنچنی شروع ہو جاتی ہے اس طرح دعا استغفار سے مومن کے فیضان پہنچنے میں جو روکیں پیش آ جاتی ہیں دور ہو جاتی ہیں۔ تم اپنے انوار کو دوسروں تک پہنچانے میں تمام مناسب ذرائع استعمال کرو۔
    سفر میں قصر نماز اور تعداد ایام جن میں نماز قصر کی جائے اور سنتوں کا نہ پڑھنا
    سوال: سفر میں جو نماز قصر کرنے کا حکم ہے کیا عام سفر ہے یا دس روز پانچ روز تین روز تو وہ نماز پوری پڑھے یا نصف۔ ایسا ہی سنتیں پڑھے کہ نہیں اور روزے رکھے کہ نہیں۔
    (جواب مولوی حکیم فضل الدین بھیروی ثم القادیانی) اللہ تعالیٰ نے نماز اور روزہ کے متعلق لفظ سفر عام فرمایا ہے۔ اس میں اپنی طرف سے تخصیص کرنا مومن کا کام نہیں۔ ہر ایک ملک کے لوگ لفظ سفر کے معنی جانتے ہیں جو اُن کے ملک میں سفر کے معنی ہوں وہی مراد قصر نماز اور افطار روزہ والے سفر کے ہیں۔ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ الاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جَنَاحٌ اَنْ تَقْصُرْ وْامِنَ الصَّلٰوۃِ یعنی جب تم چلو (سفر کرو) کسی ملک میں تو تم پر کچھ مضائقہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرو اگر تم کو فتنہ کفار کا خوف ہو۔
    عن ابن عمر قال صحبت النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکان لایزید فی السفر علی رکعتین و ابابکر و عمر و عثمان کذالک متفق علیہ۔ نیل الاوطار صفحہ۷۶ جلد سوم۔ یعنی ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتا ہے میں ساتھ رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ نہیں بڑھایا کرتے تھے سفر میں دو رکعتوں پر اور ابابکر و عمر و عثمان بھی اسی طرح کرتے تھے۔ وعن یعلی ابن امیۃ قال قلت عمر ابن الخطاب فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقُصُرُْ ولِمنَ الصَّلٰوۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَقد امن الناس قال عجبت مما عجبت منہ فسالت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن ذالک فقال صدقۃ تصدق اللّٰہ بھا علیکم فاقبلوا صدقۃ۔ رواہ الجماعۃ الاالبخاری نیل الاوطار۔ یعنی یعلی ابن اُمیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آیۃ صلوٰۃ السفر میں شرط تھی خوف کی اور اب تو امن ہو گیا ہے حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے اس بات سے تیری طرح تعجب ہوا تھا تو میں نے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو فرمایا یہ صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کیا ہے۔ سو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو۔ وعن ابن عمر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اللّٰہ یحب ان توفی رخصتہ کایکرہ ان توفی معصیتہ۔ رواہ احمد نیل الاوطار صفحہ۸۰
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی رخصت پر عمل کیا جائے جیسے ناپسند فرماتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جاوے۔
    ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں قصر افضل ہے بلکہ قصر نہ کرنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے بلکہ معصیت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر نہ کرنے کو معصیت سے ہی تشبیہہ دی جو احرص الناس تھے تقویٰ اور عبادت الٰہی پر۔
    ان ایام کی تعداد جن میں قصر کرنا چاہئے
    حکیم فضل الدین صاحب بھیروی۔ اگر سفر کسی جگہ چار روز یعنی اقامت ہو تو قصر کرے۔ اور اگر یقینی اقامت نہ ہو تو پھر ایام کی کوئی تعداد نہیں ہے۔ عن ابی ہریرۃ انہ صلے مع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی مکۃ والسیر والمقام بمکۃ الی اوا رجعوا رکعتیں رکعتین۔ رواہ ابوداؤد الطیالسی۔ نیل الاوطار صفحہ۸۴۔ یعنی حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی…… اور مقام میں مکہ میں واپس آنے تک دو دو رکعتیں۔
    ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قدم مکۃ صبیحۃ رابعۃ من ذی الحجۃ فاقام بھاالرابع والخامس والسادس والربع و صلے الصبح فی یوم التامن ثم خررج الی منی و خرج من مکۃ متوجھا الی المدینۃ بعد ایام التشریق ومعنی ذالک کلہ فی الصحیحین وغیرہا ۔نیل الاوطار صفحہ۴ ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح چوتھی ذی الحجہ کو مکہ تشریف لائے اور صبح آٹھویں ذی الحج کو منی کی طرف تشریف لے گئے اور دوگانہ ہی پڑھتے رہے۔ غرض اس چار روز کی یقینی اقامت میں دوگانہ ہی پڑہتے رہے۔
    عن جابر قال تام النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بتبوک عشرین یوما یقصرالصلوٰۃ ۔رواہ احمد۔ یعنی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں بیس روز ٹھہرے رہے اور قصر نماز فرماتے کیونکہ جہاد میں کوئی آدمی اپنی اقامت کا اندازہ نہیں کر سکتا۔
    عن انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذاخرج … ثلاثۃ امیال اوثلاثۃ فراسخ صلی رکعتین رواہ مسلم۔ بلوع المرام۔ یعنی حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ یعنی ۹ میل کے سفر کے لئے تشریف لے جاتے تو دوگانہ پڑہتے۔ لفظ فرسخ اور میل میں اختلاف بہ سبب شک راوی کے ہے۔
    احادیث متذکرہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ سنتوں کی بابت اختیار ہے پڑہے یا نہ پڑہے کیونکہ صرف دوگانہ فرائض کا ہی ذکر ہے اور کسی سنت کا ذکر نہیں۔
    روزہ سفری کے متعلق احادیث کا جوالہ تو وہی کافی ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے صدقہ نہ لینے اور رخصتوں پر عمل نہ کرنے کے بارہ میں گذر چکا ہے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی رخصتوں پرعمل نہ کرنے کی بھی صریح ممانعت ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَمَنْ کَاَن حَرِیْضًا اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ فَعِدًا مِنْ … … یعنی جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ گنتی اَور دنوں سے پوری کر دے۔ یعنی جتنے روز مریض یا سفر پر رہے اتنے روز روزہ رکھ دے اور اس بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے چھوڑ دیا کہ ایام مرض یا سفر میں اگر روزے رکھے ہوں تو وہ … ہونگے گویا جس شخص نے ایسی حالت میں روزے رکھے اُس کے روزے بے فرمانی کے جرمانہ میں ضائع ہوگئے۔ جیسے چھٹی پر ایک آنہ کا ٹکٹ لگانا اگر ضروری ہوا اور آدھ آنہ کا لگا دے تو اس کا آدھ آنہ بھی جرمانہ میں ضائع جاتا ہے اور دوبارہ محصول پورا دینا پڑتا ہے۔
    نماز عید
    سوال: عید کی نماز کی ہر رکعت میں تکبریں سات اور پانچ قبل از قرأت کہنی چاہئیں۔ یا چار پہلی رکعت میں قبل از قرأت اور دوسری رکعت میں قبل از رکوع۔ خود آپ کا عمل کس پر ہے اور کیوں۔ یعنی دوسرے طریقہ کو چھوڑنے کی کیا وجہ ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: عید کی نماز میں جو تکبریں آئی ہیں ان میں علماء کا اختلاف ہے جیسا آپ نے ذکر کیا۔ مگر میں اس روایت کو ترجیح دیتا ہوں جس میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبریں اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبریں آئی ہیں۔ حنیفہ کا مذہب کہ پہلی رکعت میں قبل از قرأت اور دوسری میں بعد قرأت کہتے ہیں یہ تابعین سے ثابت ہے مگر ہم پہلی راویت کو ترجیح دیتے اور اس پر میرا عملدرآمد ہے۔ کیوں کا جواب یہ ہے کہ فقہاء محدثین اور مدینہ طیبہ کا عملدرآمدیہ ہے جس کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔
    قربانی
    سوال: قربانی کس پر واجب ہے۔ کیا صاح نصاب پر۔ نصاب کتنا۔ آج کل کے سکہ کے موافق نصاب نامی یا غیر نامی۔ بیل زمین وغیرہ بھی نصاب میں آ سکتے ہیں یا صرف زر و سیم
    جواب حکیم الامۃ: قربانی کی نسبت وجوب اور نصاف اور پھر نصاب میں تفرقہ نامی اور غیر نامی کا کوئی نہیں اس واسطے میں آپ قربانی کو ایک امر مسنون یقین کرتا ہوں اور تمام گھرانے کی طرف سے ایک ہی قربانی دو مینڈھوں کی مسنون ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر یہی کرتے تھے۔ ہاں آپ نے حجۃ الوداع میں بیبیوں کی طرف سے بھی علیحدہ قربانی فرمائی ہے۔ مگر جب کہ مسنون ہے تو اس پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔
    قربانی اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے
    سوال: قرانی اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے بھی جیسا کہ صدقہ علیحدہ دینی چاہئے یا ایک ہی قربانی کافی ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: قربانی بچوں کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔ ابوادؤد اور مؤطا میں بہت سی حدیثیں ہیں جن میں بیان ہے کہ تمام گھر کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔ـ
    شروع ذی الحج میں ناخن کٹوانا و حجامت کرانا
    قربانی کرنے والا شروع چاند سے حجامت نہ کرائے۔ یہ مستجات سے ہے یا سنت واجب۔
    حکیم الامۃ: قربانی کرنے والا شروع چاند سے حجامت نہ کرائے اور ناخن نہ کٹوائے۔ اس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔ پر یہ آیا وہ حجامت نہ کرنا فرض یا واجب یا سنت ہے۔ یہ سلف سے بہت بعید ہے اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔
    غیر مستطیع کی قربانی
    غیر مستطیع کی قربانی
    ایک شخص کی عرضی پیش ہوئی کہ میں نے تھوڑی سی رقم ایک قربانی میں حصہ کے طور پر ڈال دی تھی۔ مگر دوسرے حصہ داروں نے مجھے احمدی ہونے کے سبب اس حصہ سے خارج کر دیا ہے۔ کیا میں وہ رقم قادیان کے مسکین فنڈ میں دے دوں تو میری قربانی ہو جائے گی؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ قربانی تو قربانی کرنے سے ہی ہوتی یہ مسکین فنڈ میں دینے سے نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ رقم کافی ہے تو ایک بکرا قربانی کرو۔ اگر کم ہے اور زیادہ کی توفیق نہیں تو تم پر قربانی کا دینا فرض نہیں ہے۔
    قربانی کے جانور کی عمر
    سوال: بکری بھیڑ اہلحدیث کے نزدیک دو برس کی جائز ہے۔ فقہاء کے نزدیک ایک برس کی۔ آپ کا فیصلہ۔
    حکیم الامۃ: میں آپ بکری اور دُنبہ کی نسبت یہ تحقیق رکھتا ہوں کہ بکری دو برس سے کم کی نہ ہو اور دُنبہ ایک برس سے کم نہ ہو۔ یہ آپ تعجب کریں گے کہ ہمارے ملک کی بھیڑ کا نام عرب میں نہیں اور نہ شریعت میں اس کا نام ملا ہے۔ عربی میں ضأن اُس کو کہتے ہیں جو چکی والا ہو۔ اہل عرب سے میں نے تحقیقات کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس بھیڑ کو ہم نہیں جانتے اور زیادہ سے زیادہ اس کو ایک قسم کی غنم کہتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے مولوی ضأن کا ترجمہ دُنبی کرتے ہیں یا بھیڑ۔ پس میں اس ملک کی بھیڑ بکری میں داخل کر کے دو برس معیاد مقرر کرتا ہوں اور دُنبی کو ایک برس میں۔ اور یہی شریعت سے ثابت ہے۔
    قربانی کی کھال بیچنا
    سوال: قربانی کی کھال فروخت کرنے کی حدیث میں ممانعت ہے بلکہ یہ کہ گویا اس نے قربانی نہیں کی۔ ہم چاہتے ہیں کہ کھال فروخت کر کے قیمت دارالامان میں بھیج دیں۔ فرمائیے اگر اجازت ہے تو دلیل۔
    حکیم الامۃ: قربانی کھال فروخت کرنے کی ممانعت ہم نے حدیث میں نہیں دیکھی۔ آپ نے لکھی ہے اگر آپ کوئی حدیث بتلا دیں تو پھر ہم توجہ کریں گے کیونکہ قربانی کی کھال گھر میں بھی رکھنا جائز ہے۔ کیونکہ قربانی تو ذبج کا نام ہے خواہ تمام بکرا بھیڑ اپنے گھر میں رکھ لیوے۔ اراقتہ الذم کا نام قربانی ہے۔اس کے بعد جو کچھ رہتا ہے خواہ دے دے خواہ سارا رکھ لے۔
    قربانی کس تاریخ تک جائز ہے
    سوال: قربانی عید کے بعد کتنے دن تک جائز ہے۔ اہل حدیث کے نزدیک ۱۳ تاریخ تک اور فقہاء کے نزدیک ۱۲ تاریخ تک۔ کس پر عمل کرنا چاہئے۔
    جواب حکیم الامۃ: قربانی ہمارے نزدیک بارہ تاریخ تک جائز ہے۔ ہاں فقہا نے ۱۳ تاریخ بھی رکھی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعامل میں ضرور اس امر میں کچھ فرق ہوا ہے۔
    کیا قربانی خلاف رحم ہے
    سوال: ایک شخص سوال کرتا ہے مسئلہ قربانی پر کہ یہ خلاف رحم ہے؟
    جواب حکیم الامۃ: دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک اللہ تعالیٰ کے منکر دوسرے قائل۔ منکروں کے نزدیک تو رحم کیا بلا ہے۔ اعتراض نہیں اور نہ آپ کی طرف ان کے متعلق کچھ لکھنا مفید ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قائل ہیں اور آپ بھی اُن میں سے معلوم ہوتے ہیں وہ ذرا غور کریں۔ ہوا میں نظر کریں۔ باز، شاہین، شکرہ اور کس قدر شکار کرنے والے جانور موجود ہیں اور کس طرح پرندوں کو پکڑ کر کھا جاتے ہیں۔ ذرہ بھی رحم نہیں کرتے کیا بازوں کو اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا۔ اس طرح جنگلوں میں شیروں، چیتوں، شکار کرنے والے جانوروں کو کس نے بنایا۔ بلی کس طرح چوہوں کو پکڑ کر ہلاک کرتی ہے۔ پس ایسے بے رحم جانور کس کے بنائے ہوئے ہیں۔ غور کرو پانیوں میں بھی شکار کرنے والے جانور موجود ہیں۔
    بلکہ بہت غور کرو تو حضرت ملک الموت کو دیکھو کیسے کیسے انبیاء رسل، بادشاہ، بچے، غریب، امیر، سوداگر سب کو مار کر ہلاک کرتے اور دنیا سے نکال دیتے ہیں۔ پھر غور کرو اگر ہم جانوروں کو عیداضحی پر ذبح نہ کریں اور ہمارا ذبح کرنا رحم کے خلاف ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا اور اُن پر یہ رحم ہوگا کہ وہ نہ مریں۔ پس اس تمہید کے بعد گزارش ہے کہ اگر جانوروں کو ذبح کرنا رحم نہیں ہے تو شکاری اور گوشت خور اور اللہ کریم پیدا نہ کرنا۔ نیز اگر ذبح نہ کیا جاوے تو خود بیمار ہو کر مریں گے۔ پس غور کرو۔ ان کے مرنے میں کیسی تکلیف ان کو لاحق ہوگی۔
    پھر اگر ایسا ہی رحم ہے تو اپنے مطلب کو جانوروں سے ہل چلوانا، ان کو لادنا، اُن کے بچے باندھ کراُن کا دودھ لینا کیسی بے رحمی ہوگی۔ ہمیں تعجب آتا ہے کہ وہ لوگ ایسے صوفی کون ہیں جو لوگ قربانی کے مخالف ہیں خود سرور دو عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ قربانی کی اور جمعۃ الوداع میں سَو اونٹ قربانی فرمایا۔
    ذبح حیوانات رحم ہے
    حکیم الامۃ: خدا تعالیٰ کو ماننے والی کل قومیں خواہ وہ کوئی ہوں اس بات کی ہرگز قائل نہیں کہ خدا ظالم ہے بلکہ خدا کو رحمان، رحیم، دیالو، کرپالو مانتے ہیں۔ پس خدا تو ظالم نہیں اور بیشک وہ ظالم نہیں۔ اب خدا تعالیٰ کا فعل دیکھو کہ ہوا میں باز، شکرے، گد، چرخ وغیرہ شکاری جانور موجود ہیں اور وہ غریب پرندوں کا گوشت ہی کھاتے ہیں۔ گھاس اور عمدہ سے عمدہ میوے اور اس قسم کی کوئی چیز نہیں کھاتے۔ پھر دیکھو کہ آگ میں پروانہ کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ پھر پانی کی طرف خیال کرو کہ اس میں کس قدر خونخوار جانور موجود ہیں۔ گھڑیال اور بڑی بڑی مچھلیاں اودبلاؤ وغیرہ چھوٹے چھوٹے آبی جانوروں کو کھا جاتے ہیں بلکہ بعض مچھلیاں قطب شمالی سے قطب جنوبی تک شکار کے لئے جاتی ہیں۔ پھر ایک اور قدرتی نظارہ سطح زمین پر دیکھو کہ چیونٹی خور جانور کیسے زبان نکالے پڑا رہتا ہے۔ جب بہت سی چیونٹیاں اس کی زبان کی شیرینی کی وجہ سے اس کی زبان پر چڑھ جاتی ہیں تو جھٹ زبان کھینچ کر سب کو نگل جاتا ہے۔ مکڑی مکھیوں کاشکار کرتی ہے مگس خور جانور اپنی غذا ان جانداروں کو ہی مار کر بہم پہنچاتے ہیں۔ بندروں کو چیتا مار کر کھاتا ہے۔ جنگل میں شیر، بھیڑیئے، تیندوے کی غذا جو مقرر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔
    اب بتلاؤ اس کہ اس نظارۂ عالم کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ قانون ذبح کاجو عام طو رپر جاری ہے یہ کسی ظلم کی بناء پر ہے۔ ہرگز نہیں۔ پھر انسان پر حیوان کے ذبح کرنے کے ظلم کا الزام کیامطلب رکھتا ہے۔ انسان کو جوئیں پڑ جاتی ہیں یا کیڑے پرجاتے ہیں کیسی بے باکی سے ان کی ہلاکت کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیا اس کا نام حلم رکھا جاتا ہے۔ جب اسے ظلم نہیں کہتے صرف اس لئے کہ اشرف کے لئے اخس کا قتل جائز ہے تو ذبح پر اعتراض کیوں۔
    قانون الٰہی میںہم دیکھتے ہیں کہ ہر چیز بے انت بڑھنا چاہتی ہے۔ اگر ہر ایک بڑ کے بیج حفاظت سے رکھے جائیں تو دنیا میں بڑہی بڑہوں اور دوسری کوئی چیز نہ ہو۔ مگر دیکھو ہزاروں ہزار جانور اس کاپھل کھاتے ہیں۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس بڑھنے کو روکنا منشاء الٰہی ہے۔ اگر ساری گایوں کی پرورش کریں تو ایک وقت میں کیا دنیا کی ساری زمین بھی ان کے چارے کے لئے متکفی ہوگی۔ آخر بھوک، پیاس سے خود ان کو مرنا پڑے گا جب کہ یہ نظارہ قدرت موجود ہے تو ذبح کرنا خلاف منشاء الٰہی کیوں ہے۔ اگر کسی چیز کو ذبح نہ کریں تو پھر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ کبھی نہ مرے گی۔ جب آخر مرے گی تو سُکھ کی موت ذبح ہو سکتی ہے یا یہ کہ بھوکا پیاسا رہ کر یا بیماری وغیرہ کے بہت سے شدائد اور تکالیف اُٹھا کر مرے۔ ماننا پڑے گا کہ سُکھ کی موت ذبح ہی ہے۔ پھر کوئی کہے کہ ذبح انسان بھی جائز ہو سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ذبح انسان کے لئے بھی عمدہ تو ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہادت کو سب نے متفق اللفظ ہو کر اعلیٰ مانا ہے۔ مگر انسان کے ذبح نہ کرنے پر اور بہت سے قوی دلائل ہیں۔ انسان کے ساتھ اوروں کے حقوق ہیں کسی کی پرورش ہے تو کسی کا کچھ۔ اگر ایسا حکم دے دیں تو مشکلات کا ایک بڑا سلسلہ پیدا ہو جائے اس لئے قتل انسان مستلزم السزا کو حرفی اور شرعی قانون میں سخت گناہ کہا گیا ہے۔
    اب ان دلائل کو کوئی پڑھ کر بتلاوے کہ کیا ذبح کرنا رحم ہے یا ظلم۔ ماننا پڑے گا کہ ذبح سے بڑھ کر رحم نہیں ہے۔
    کیسی قربانیاں دی جاویں
    حکیم الامۃ: قربانیاں وہ دو جو بیمار نہ ہوں۔ دبلی نہ ہوں۔ بے آنکھ نہ ہوں۔ کان چری ہوئی نہ ہوں۔ عیب دار نہ ہوں۔ لنگڑی نہ ہوں۔
    گوشت خوری
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ چونکہ انسان جلالی اور جمالی دونوں رنگ رکھتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ گوشت بھی کھائے اور …وغیرہ بھی کھائے۔
    گوشت قربانی غیر مسلم کو دینا
    سوال ہوا کہ قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس نے فرمایا۔ صدقہ کے واسطے مسلم یا غیر مسلم کی قید ضروری نہیں۔ کافر محتاج مسکین کو بھی علاقہ دیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی دعوت کے واسطے بھی جائز ہے کہ تالیف قلوب کے واسطے غیر مسلم کو دعوت کی جائے۔
    برکات حج
    حج کے برکات میں سے ایک یہ تعلیم ہے جو کہ اس کے ارکان سے حاصل ہوتی ہے کہ انسان سادگی اختیار کرے اور تکلفات کو چھوڑ دے۔ اس کے ارکان کبرو بڑائی کے بڑے دشمن ہیں۔ دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے احباب اور اقارب چھوٹتے ہیں۔ سستی اور نفس پروری کا استیصال ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک بات یہ ہے کہ ہزاروں ہزار سال سے ایک معاہدہ چلا آتا ہے وہ یہ کہ جناب الٰہی کے حضور حاضر ہو کر منظور کرتا ہے اور بہت سی دعائیں مانگتا ہے۔
    موانع حج
    حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عنداللہ حج نہ کرنے کے لئے عذر صحیح ہیں۔ چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا جب مکہ یا راہ میں ہی کوئی صورت فتنہ برپا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہاں نہ جانا چاہئے۔ خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو۔ مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی الَّھْلُکَۃِ حج کرنا مشروط بشرائط ہے۔ مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے۔ جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔
    جماعت کو وصیت
    امام علیہ السلام: ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہوچکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ چاہئے کہ زکوٰۃ دینے والا اس جگہ اپنی زکوٰۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۶۶)
    ہمسایہ فاقہ ہو تو شرعاً حج جائز نہیں
    امام علیہ السلام: اگر کسی کا ہمسایہ فاقہ میں ہو تو اس کے لئے شرعاً حج جائز نہیں۔ مقدم ہمدردی اور اس کی خبرگیری ہے کیونکہ حج کے اعمال بعد میں آتے ہیں مگر آج کل عبادت کے اصل غرض اور مقصد کو ہرگز مدنظر نہیں رکھا جاتا بلکہ عبادات کو رسوم کے رنگ میں ادا کیا جاتا ہے اور وہ نری رسمیں ہی رہ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں حاجیوں کے متعلق بدظنیاں پیدا ہوئی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں ایک اندھی عورت بیٹھی تھی کوئی شخص آیا اور اس کی چادر چھین کر لے گیا۔ وہ عورت چلائی کہ بچہ حاجیا میری چادر دے جا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ مائی تو یہ تو بتا کہ یہ کیونکر تجھے معلوم ہوا کہ میں حاجی ہوں۔ اس نے کہا تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسا کام حاجی ہی کرتے ہیں۔ پس اگر ایسی ہی حالت ہو تو پھر ایسے حج سے کیا فائدہ۔ حج میں قبولیت ہو کیونکر جب کہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں ان کو ادا کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتے ہیں۔
    متوفی کا حج دوسرے آدمی کے ذریعہ سے
    خوشاب سے ایک مرحوم احمدی کے ورثاء نے حضرت کی خدمت میں خط لکھا کہ مرحوم کا ارادہ پختہ حج پر جانے کا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی۔ کیا جائز ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی آدمی خرچ دے کر بھیج دیا جائے۔
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا جائز ہے۔ اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہو جائے گا۔
    زکوٰۃ
    امام علیہ السلام۔ زکوٰۃ کیا ہے۔ یوخذمن الامراء ویرد الی الفقراء امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔ اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی ہے۔ اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔ امراء پر یہ فرض ہے کہ وہ ادا کریں۔ اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جائے۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہو تو پروا نہیں۔ اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔ جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے میں اس کے بیان کرنے سے رک نہیں سکتا۔ انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ یعنی تم ہرگز ہرگز اس نیکی کوحاصل نہیں کر سکتے۔ جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جائے اور وہ کہے کہ اچھا اسے منس دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سڑی بُسی روٹیاں جو کسی کام نہیں آ سکتی ہیں فقیروں کو دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے وہ تو صاف طور پر کہتا ہے۔ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیارے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لئے خرچ نہ کرو۔ اس موقع پر ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بعض فقیر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی باسی روٹی دے دو۔ پھٹا پُرانا کپڑا دے دو۔ وہ مانگتے ہی پرانا اور باسی ہیں۔ فرمایا۔ تم نئی دے دو گے ،وہ کیا کریں۔ جانتے ہیں کہ کوئی نہیں دے گا۔ اس لئے وہ ایسا سوال کرتے ہیں۔ جہاں تک ہو سکے مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کرو۔
    سید کیلئے زکوٰۃ
    سوال ہوا کہ غریب سید ہو تو کیا وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہوتا ہے یا نہیں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اصل میں منع ہے۔ اگر اضطراری حالت ہو فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِلاَّ مَااضْطُرِرْتُمْ اِلَہِ (۱:۸) حدیث سے فتویٰ تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہئے۔ اگر سیّد کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اسے زکوٰۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہاں اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔
    معلق مال کی زکوٰۃ
    ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جو مال معلق ہے۔ اس پر زکوٰۃ نہیں۔ جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آ جائے۔ لیکن تاجر کو چاہئے کہ حیلہ بہانہ سے زکوٰۃ کو نہ ٹال دے۔ آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔ بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔
    زیور کی زکوٰۃ
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام: بعض عورتیں زکوٰۃ دینے کے لائق ہوتی ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہوتا ہے مگر وہ زکوٰۃ نہیں دیتی ہیں۔
    جو زیور استعمال میں آتا ہے اس کی زکوٰۃ نہیں ہے اور جو رکھا رہتا ہے اور کبھی کبھی پہنا جاوے اس کی زکوٰۃ دینی چاہئے جو زیور پہنا جاوے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کے لئے دیا جاوے۔ بعض کا اس کی نسبت یہ فتویٰ ہے کہ اس کی زکوٰۃ نہیں اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال کے لئے نہ دیا جائے اس میں زکوٰۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ اس پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو زیور روپیہ کی طرح رکھا جائے اس کی زکوٰۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔
    صاحب نصاب
    سوال: صاحب نصاب ہونے کی مقدار کیا ہے۔ مقروض بھی ہو اور صاحب جائداد بھی تو زکوٰۃ کا کیاحکم ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: مقروض پہلے قرض ادا کرے۔ نصاب کے لئے چاندی ۵۲ تولہ اور سونا ساڑھے سات تولہ۔ گائیں ۳۰ یا ۳۰ سے زیادہ۔ اونٹوں میں پانچ ہوں اور غلہ جو باہر سے آوے اس کی ۳؍۱ یا ۴؍۱ کاٹ کر باقی ۲۲ من غلہ انگریزی ہو۔
    سوال: زکوٰۃ کی شرح کیا ہے۔ نقد پر۔ زیورات پر جو نقرئی یا طلائی ہوں۔ زیورات زیر استعمال اور زیورات داشتہ بغیر استعمال پر پارچات داشتہ یا زیر استعمال پر۔ اراضی کی آمدنی پر جو چاہی ہو۔ نہری ہو۔ بارانی ہو اور سیلاب ہو۔ پیداوار اراضی پر جو معانی ہو یا جس کا سرکاری لگان ادا کرنا ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: نقد پر ڈھائی فیصدی۔ چاند میں ۴۰؍۱ فیصد ۔ عام استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ نہیں۔ جو زیوارت داشتنی ہیں اُن پر زکوٰۃ ہے۔ ساڑھے سات تولہ سونے میں ۲ ماشہ سونا زکوٰۃ ہے۔ پارچات پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اراضی کی آمدنی پر چاہی ہو تو ۲۰؍۱ بہری میں آبیانہ دینا ہو تو ۲۰؍۱ بارنی میں ۱۰؍۱ سیلاب میں ۱۰؍۱ جو معافی ہے اس کو زکوٰۃ چاہئے۔ پیداوار اراضی جس کا لگان دیا جائے۔ اگر لگان زیادہ ہے تو نہیں اگر شرح مقرر سے کم ہے تو جس قدر کم ہے اتنی زکوٰۃ دے۔
    سوال: اس مال پر جو کسی شخص کو تو جائز وسلہ وارث سے حاصل ہو مگر جانتا ہو کہ مورث نے ناجائز طو رپر حاصل کیا ہے زکوٰۃ کا کیا حکم ہے۔
    جواب حکیم الامۃ: مورث کا ذمہ دار نہیں خود زکوٰۃ دے۔
    راشی و بازاری عورت کے جمع کردہ مال پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے
    سوال:اس مال پر جو مثلاً بازاری عورت کو بدکاری سے، راشی کو رشوت سے، بددیانت کو فریب سے، چور کو چوری سے، خائن کو خیانت سے حاصل ہوا ہو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
    جواب حکیم الامۃ: ایسے اموال کا رکھنا مومن کا کام نہیں کسی دینی کام میں لگا دے۔
    مصارف زکوٰۃ
    سوال: مصرف زکوٰۃ کیا ہیں اور ان کے درجے کس طرح ہیں۔
    جواب حکیم الامۃ: قرآن کہتا ہے۔ محتاج ہو، پیشہ جانتا ہو بے سامان ہو، محصل زکوٰۃ۔ مولفۃ الصلوب، دینی جہادوںمیں، غلام کے آزاد کرنے میں، جن پر چٹی پڑ گئی ہو۔
    سوال: مصرف زکوٰۃ میں ذوی القربی میں کون لوگ داخل ہیں اور ان میں سے مستحق زکوٰۃ کیسے آدمی ہونے چاہئیں۔
    جواب حکیم الامۃ: جو محتاج ہو۔
    نصاب زکوٰۃ و قربانی
    نصاب آج کل کے سکہ کے مطابق … روپیہ ہوتے ہیں۔ مگر قربانی کو اس میں دخل نہیں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے اور صاحب زکوٰۃ نہ تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بے ریب بہت بڑے عظیم الشان دولتمند تھے جن کے وقت اس قربانی کا رواج ہوا۔
    قربانی کا جانور کتنے سال کا ہو
    سوال: قربانی میں بکرا سال کا درست ہے یا دو سالہ ہونا ضروری ہے؟
    جواب مولوی محمد احسن صاحب: بکرا ایک سال کا بھی قربانی میں درست ہے۔ عربی میں ایک سال کے بکرے کو مسنہ کہتے ہیں اور ثنی بھی کہتے ہیں۔ یعنی دو دانت کا۔ حواشی اور شروح احادیث و فقہ میں اس کی تفصیل لکھی ہے۔ چنانچہ اس کی تفصیل ہدایہ سے لکھتے ہیں۔ والثنی منھا ای من الضأن و من المغر ابن سنۃ و من البقرا بن سنتین و من الابل ابن خمس سنین۔ ترجمہ۔ثنی یعنی دو دانت والا دُنبہ ہو یا بکرا ایک سال کے بعد ہو جاتا ہے اور گائے بیل دو برس میں دو دانت والا ہو جاتا ہے۔ اور اونٹ دو دانت کا پانچ برس کے بعد ہوتاہ ے۔ اور حاشیہ ابن ماجہ میں فاضل سند ہی لکھتا ہے الثینۃ ای المسنۃ وھی التی باخت سنتین یعنی قربانی نہ کرو سوائے ایک برس کی عمر والے کے مگر جب تم پر دشواری اور عسر ہو تو پھر جذعہ یعنی چھ ماہ کا دُنبہ بھی قربانی کر لو۔ بہرحال بکری اور دُنبہ میں یہ فرق ہے جو مذکور ہوا۔ ترمذی میں لکھا ہے۔ وقداجمع اھل العلم ان لایجزی الجذع من المفردقالوا انما یجزی الجذع من الضأن۔ یعنی اہل علم کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ چھ ماہ کا بکرا قربانی میں کافی نہیں ہے اور اگر دُنبہ ہو تو چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ حدیثوں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شارع علیہ السلام نے اس مسئلہ میں کہیں رخصت پر بھی عمل کرایا ہے جیسا کہ ابن ماجہ میں ہے ہے کنا مع رجل من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقال لہ مجاشع من بنی سلیم فغرت الغنم فامر منادیا فنادی ان رسول اللّٰہ کان یقول ان الجذع یوفی مما توفی منہ الثینۃ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بوقت گرانی بھیڑ، بکری، دُنبہ کی منادی کرا دی کہ چھ ماہ کا دُنبہ یا بکرا کافی ہے بجائے ایک برس کے دُنبہ یا بکرے کے۔ اور کسی جگہ حزیمت پر عمل کرایا ہے جیسا کہ لاتذبجواالا مسنۃ تین گذرا ہے لہذا ہم کو بھی رخصت اور عزیمت دونوں کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ پس ایک غریب کے واسطے چھ ماہ کا دُنبہ بھی جائز ہے اور اس کے لئے رخصت ہے اور توانگر اور امراء کے لئے افضل دو سال کا ہے جو عزیمت بھی ہے لیکن ایک جانب پر اصرار کر کر ایک طرف کو فرض اور واجب قرار دے دینا خلاف مراد شارع کے ہے۔
    قربانی کرنے کی وجہ
    قربانیاں کیوں ہوتی ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدت پر انسان کو یقین ہو جائے اور ہر طرح سے عزیز سے عزیز چیزوں کی قربانی کر کے ثابت ہو جائے کہ ان سب سے پیارا اور مقصود بالذات خدا ہی ہے اس پر اپنا سب کچھ قربان کر کے دکھا دینا ہی سچی بہادری اور صداقت ہے۔
    عشر اراضی ہند
    سوال: ہندوستان میں اراضی مزروعہ پر جس میں سے سرکار کو خراج دیا جاتا ہے عشر دینا واجب ہے یا نہیں؟
    جواب فاضل امروہی: ہندوستان میں اکثر اراضی عشری نہیں معلوم ہوتی کیونکہ جو تعریف اراضی عشری کی مجہتدین نے لکھی ہے وہ اکثر جگہ صادق نہیں آ سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ ہدایہ وغیرہ میں اراضی عشری کی تعریف یہ لکھی ہے کل ارض اسلم اھلھا اوفتحت عنوۃ وقسمت بین الغلمین فھی ارض عشر۔ یعنی ملک کے لوگ طوعاً خود مسلمان ہو جاویں یا وہ ملک بادشاہ اسلام کے ہاتھ سے بزور فتح کیا گیا ہو اور فاتحوں میں تقسیم کیا گیا ہو تو اس ملک کی زمین عشری قرار دی جاتی ہے ظاہر ہے کہ ہندوستان کی زمینوں میں سے اکثر زمین ایسی نہیں معلوم ہوتی کہ جس پر یہ تعریف پوری صادق نہیں آتی۔ بسبب طوالت کے یہاں پر وہ تعریف اور عدم صدق اس کا اکثر یہاں کی اراضی پر اس خط میں نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا وجوب عشر کا ہندوستان کی اکثر اراضی پر شرعاً نہیں معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ اراضی عشری ہی نہیں۔ وہاں اگر کوئی اراضی ایسی ہو جن پر تعریف عشری زمین کی صادق آتی ہو۔ اور نیز خراج بھی گورنمنٹ میں ادا نہ کیا جاتا ہو تو اس زمین پر عشر واجب ہوگا۔ وجہ ثانی یہ ہے کہ کل اراضی ہندوستان پر الاماشاء اللہ مالگذاری سرکار یا اقل درجہ نذرانہ جو ایک قسم کا خراج ہے بحکم سرکار ادا کرنا ایسا واجبات سے ہے کہ ایک دستور قدیم اور معروف میں داخل ہو گیا ہے اور ہر ایک امر معروف اور … میں خواہ اپنے نزدیک محبوب ہو یا خلاف مرضی ہو سرکار کے حکم اطاعت اور تعمیل فرض ہے۔ اگر کوئی کہے کہ مسلمان کو خراج کا ادا کرنا کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام سے بھی ادا کرنا خراج کا ثابت ہے۔ چنانچہ ہدایہ میں لکھا ہے وقد صح ان الصحابۃ اشتروا اراضی الخراج وکانوایؤدون خراجھا فدل علی جواز الشراء واخذ الخراج وادنہ المسلم من غیر کراہتہ۔ بیہقی وغیرہ میں ایسی روایات بھی موجود ہیں۔ پس جب کہ ادائے خراج صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہو گیا تو یہ خراج یعنی مالگذاری سرکار یا نذرانہ داخل خزانہ سرکار کرنا منجملہ معروف کے ہو گیا اور امر معروف میں اطاعت حکام کی واجب ہے طوعاً و کرہاً جیسا کہ احادیث بخاری وغیرہ سے ثابت ہے کہ ان لا فازع الامراھلہ یعنی حکام سے امر معروف میں مخالفت کرنا پسند و ناپسند امور میں جائز نہیں ہے۔ دیکھو سیاق اور جب کہ ان اراضی سے خراج گورنمنٹ میں داخل کیا جاتا ہے تو خراج اور عشر کا جمع کرنا واجب نہیں ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے کہ ولاعشر فی الخارج من ارض الخراج یعنی زمین خراجی میں پیداوار پر عشر واجب نہیں ہے۔ ابن ہمام اس پر لکھتے ہیں وغالب الظن ان الخلفاء من عمر و عثمان وعلی لم یأخذوا عشرا من ارض الخراج والانقل کمانقل تفاصیل اخذھم الخراج یعنی ظن غالب یہی ہے کہ خلفاء راشدین حضرت عمر و عثمان اور علی نے زمین خراجی سے عشر نہیں لیا ورنہ روایات میں ضرور ہی مروی ہوتا جب کہ اور تفاصیل جزیہ اخذ خراج کے منقول و ماثور ہوئی ہیں لہٰذا ان اراضی پر جو خراج سرکار میں ادا کیا جاتا ہے ان پر ادا کرنا عشر کا واجب نہیں ہے۔ ہدایہ میں لکھا ہے ولنا قولہ علیہ السلام لایجتمع عشر و خراج فی ارض مسلم ولان احدا من ایمۃ العدل والجور لم یمع بینھما وکفی باجماعھم حجتہ ولان الخراج یجب فی ارض فتحت عنوۃ وقھرا والعشر فی ارض اسلم اھلھا طوعا والوصفان لایجمتعان فی ارض واحدۃ وسبب الحقین واحد وھوا الارض النامیۃ الا انہ یعتبر فی العشر تحقیقا و فی الخراج تقدیر ولھذا یضاقان الی الارض۔ ترجمہ۔ یعنی ہماری دلیل حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ مسلمان کی زمین میں عشر اور خراج دونوں جمع نہیں ہوتے ہیں اور نیز کسی نے سلاطین و خلفائے اسلام میں سے خواہ وہ عادل ہوں یا غیر عادل عشر اور خراج کو جمع نہیں کیا۔ اور یہ اُن کا اجماع واسطے ہونے حجت شرعی کے کافی ہے اور نیز خراج اس اراضی میں ہوتا ہے جو بزور فتح کی گئی ہو اور عشر ایسی اراضی پر ہے جس کے اہل اور سکان اپنی رغبت سے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور یہ دونوں وصف مختلف ایک اراضی میں جمع نہیں ہو سکتے اور نیز عشر اور خراج کے وجوب کی علت ایک ہی ہے یعنی پیداواری زمین کی۔ ہاں البتہ عشر میں ضرور ہے کہ پیداوار بالفسل ہونی ہو اور خراج میں فیصلہ ضروری نہیں ہے بلکہ اوفتادہ زمین پر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کسی نہ کسی وقت میں کاشت اس میں ہو سکتی ہے اور اسی لئے عشر و خراج دونوں زمین ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں نہ ذوات انسان کی طرف۔
    فصل کاٹنے و گاہنے کے وقت خیرات واجب ہے
    اس میں شک نہیں ہے کہ نصوص کتاب اللہ نے اراضی مزروعہ میں وقت ورد کے اور خرمن کے مساکین کے حقوق بھی ضرور قرار دیئے ہیں کما قال اللّٰہ تعالیٰ وَنُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ یعنی دو حق اس کا دن کاٹنے اس کے۔ اور قصہ اصحاب الجنۃ کا جو سورہ ن والقلم میں مذکور ہے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا قول اَنْ لاَّیَدْ خَلَنَّھَا الیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِسْکِیْنٌ نقل فرمایا ہے اور حق مسکین کا روکنے پر عذاب نازل کیا ہے۔ کما قال اللّٰہ تعالیٰ فی اخر الرکوع کَذَالِکَ الْعَذابُ وَلَعَذَاَبُ الاٰخِرَۃِ اکَبْرَ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اراضی کی پیداوار پر بوقت درو اور خرمن کے حق مسکین کا نکالنا مسلمانوں پر واجب ہے۔ چونکہ تحدید اس حق کی قران مجید میں بیان نہیں فرمائی گئی۔ لہٰذا اس کی تحدید باختیار خود دو طرح سے ہوسکتی ہے یا تو حسب الارشاد علی الموسع قَدَرُہٗ وَعَلی للقُتِرِ قَدَرُہٗ یعنی گنجائش والے پر بموجب اس کی مقدرت کے اور تنگی والے پر حسب اس کی مقدرت کے دیا جاوے جیسا کچھ کہ ہو اور یا بقدر نصاب زکوٰۃ کے پیداوار کا اندازہ کر لیا جاوے کیونکہ پانچ دسق اس وقت میں بقدر نصاب زکوٰۃ کے ہی ہوتا تھا۔ اور پھر چالیسواں حصہ مثل زکوٰۃ کے اس پیداوارمیں سے حقوق مساکین کے لئے نکالا جاوے۔ پس یہ تحدید زمیندار و معافیدار کی ہمت اور استعداد پر موقوف ہے چونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت کے زمینداروں کی تنگی حال سے واقف تھا۔ لہٰذا اُس رحمان و رحیم نے اپنے کلام پاک ازلی و ابدی میں اس حق کی تحدید اور تعیین بیان نہیں فرمائی اور عدم تحدید میں یہی سر الٰہی تھا ورنہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ کوئی خاص تحدید اس کو منظور اور مرکوز ہوتی اور پھر بھی اس کو بیان نہ فرماتا اور اپنے کلام پاک کو نعوذ باللّٰہ ناقص رکھتا۔ اب جو ہم دستور زمینداروں پر نظر کرتے ہیں تو مشاہد ہے کہ یہ حقوق مساکین کے ہر اراضی کاشت پر زمینداروں و معافیداروں بوقت درو اور خرمن کے نکالتے بھی ہیں اور کوئی زمیندار یا معافیدار ایسا بخیل اور کم بخت نہیں جو پیداوار اراضی پر کچھ نہ کچھ حقوق مساکین کے نہ نکالتا ہو۔
    مکانات و جواہرات پر زکوٰۃ
    کسی شخص کا خط سے سوال پیش ہوا کہ میرا پانچ سو روپیہ کا حصہ ایک مکان میں ہے کیا اس حصہ میں مجھ پر زکوٰۃ ہے یا نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جواہرات و مکانات پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
    مکان اور تجارتی مال پر زکوٰۃ
    ایک شخص کے سوال کے جواب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ مکان خواہ کتنے ہزار روپیہ کا ہو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ اگر کرایہ پر چلتا ہو تو آمد پر زکوٰۃ ہے۔ ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے۔ زکوٰۃ نہیں۔ حضرت عمرؓ چھ ماہ کے بعد حساب کر لیا کرتے تھے اور روپیہ پر زکوٰۃ لگائی جاتی تھی۔
    قرض پر زکوٰۃ
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس کو زکوٰۃ دینی لازم ہے۔ فرمایا نہیں۔
    وجہ تسمیہ رمضان
    فرمایا۔ رمضان سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا اس لئے رمضان کہلایا۔ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ عرب کے لئے خصوصیت نہیں ہو سکتی۔ روحانی رمضان سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔ رمضان اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہوتے ہیں۔ رمضان دعا کا مہینہ ہے۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القران سے ہی ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیوں نے اس مہینہ کو تنویر قلب کیلئے عمدہ لکھا ہے۔ اس میں کثرت سے مکاشفات ہوتے ہیں۔ نماز تزکیہ نفس کرتی ہے اور روزہ سے تجلی قلب ہوتی ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوے۔ اور تجلی قلب سے مکاشفات ہوتے ہیں جن سے مومن خدا کو دیکھ لیتا ہے۔ انزل فیہ القران میں یہی اشارہ ہے۔ بیشک روزہ کا حکم اجر عظیم ہے مگر امراض اور اغراض اس نعمت سے انسان کو محروم کر دیتے ہیں۔ روزہ کے بارہ میں خدا فرماتا ہے۔ ان تصوموا خیرلکم یعنی اگر تم روزہ رکھ ہی لیا کرو تو تمہارے لئے اس میں بڑی خیر ہے۔
    اشیاء غیر ناقضہ روزہ
    حکیم الامۃ: نکسیر یا قَے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اپریشن سے زورہ نہیں ٹوٹا۔ نہ مالش روغن سے اور نہ سونگھنے سے نہ خوشبو سے نہ سر میں تیل ڈالنے سے نہ سرمہ سے نہ کلوروفارم سے۔
    سوال: دودھ پلانے والی اور حاملہ روزہ رکھے یا نہ۔
    جواب از حکیم الامۃ: دودھ پلانے والی اور حاملہ روزہ نہ رکھے۔
    نماز تراویح
    سوال: اکمل آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اُٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے لیکن عموماً محنتی مزدور زمیندار لوگ جو ایسے اعمال کے بجا لانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اوّل شب میں ان کو گیارہ۱؎ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھا دی جائے تو کیا یہ جائز ہوگا۔
    جواب: حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کچھ حرج نہیں پڑھ لیں۔
    فدیہ توفیق روزہ کا موجب ہے
    حضرت مسیح موعود۔ ایک بار میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس کے لئے مقرر ہے۔ تو معلوم ہوا یہ اس لئے ہے کہ اس سے روزہ کی توفیق ملتی ہے۔ خدا ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی طاقت روزہ عطا کر سکتا ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ ایسا انسان جو دیکھے کہ روزہ سے محروم رہا جاتا ہوں تو دعا کرے کہ الٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے۔ میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال رہوں یا نہ رہوں یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ کر سکوں۔ اس لئے اس سے توفیق طلب کرے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے قلب کو خدا طاقت بخش دے گا۔ اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا۔ مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔ میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور اسی حالت میں اگر رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق رحمت ہو جاتی ہے کیونکہ ہر کام کا مدار نیت پر ہے۔ مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کرے۔ جو شخص کہ روزہ سے محروم رہتا ہے۔ مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا۔ اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے۔ بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ ہرگز اسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔ یہ ایک باریک امر ہے۔ اگر کسی شخص پر اپنے نفس کے کسل کی وجہ سے روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدائی نعمت کو خود اپنے اوپر گراں گمان کرتا ہے کب اس ثواب کا مستحق ہوگا۔ ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر ہی تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزہ سے محروم نہیں ہے۔ اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں۔ ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔ بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن وہ خدا کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ تکلف کا باب بہت وسیع ہے۔ اگر انسان چاہے تو اس کی رو سے ساری عمر کو بیٹھ کر ہی نماز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔ مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اسے اصل ثواب سے بھی زیادہ دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شے ہے حلیہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں ہے۔
    تاثیرات روزہ و حضرت مسیح موعود ؑ کا التزام صوم
    حضرت مسیح موعود۔ ایک مرتبہ ایام جوانی میں ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر ملک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہلبیت رسالت کو بجا لاؤں۔ میں نے رؤیا مذکور بالا کے موافق چھ ماہ تک برابر مخفی طور پر روزوں کا التزام کیا۔ اس اثنا میں عجیب عجیب مکاشفات مجھ پر کھلے۔ بعض گذشتہ نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیہ اور جو اعلیٰ طبقے کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مع حسین و علی رضی اللہ عنہم و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔ غرض اس طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیںہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستاں طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے تھے جن میں سے بعض چمکدار اور بعض سبزو سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوتی جیسا کہ اس کو دیکھ کر دل اور ارواح کو لذت آتی تھی۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور روزہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔ یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔ یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہنچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دنا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔
    جب میں نے چھ ماہ کے روزے رکھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء ؑ کا مجھ سے ملا اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ اس سے باہر نکل۔ اس طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ ماں باپ کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہے مگر جو لوگ تکلف سے اپنے آپ کومشقت سے محروم رکھتے ہیں خدا ان کو دوسری مشقت میں ڈالتا ہے اور نکالتا نہیں اور دوسرے جو خود مشقت میں پڑتے ہیں ان کو وہ آپ نکالتا ہے۔ انسان کو وجب ہے کہ اپنے نفس پر آپ شفقت نہ کرے بلکہ ایسا بنے کہ خدا اس کے نفس پر شفقت کرے کیونکہ انسان کی شفقت اس کے نفس پر اس کے واسطے جہنم ہے اور خدا کی شفقت جنت۔ ابراہیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کرو کہ جو آگ میں خود گرنا چاہتا ہے اسے تو وہ خدا آگ سے بچاتا ہے اور جو خود آگ سے بچنا چاہتے ہیں وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ اسلم ہے اور یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس کا انکار نہ کرے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عظمت کی فکر میں خود لگتے تو وَاللّٰہُ یَعْضْمُکَ مِنَ النَّاس کی آیت نازل نہ ہوتی۔ حفاظت الٰہی کا یہی سر ہے۔
    کیا سفر میں روزہ رکھیں
    (۲۶ جنوری ۱۸۹۹ء)
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ سفر کے لئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے۔ حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن کریم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ اَیَّامٍ اُخَر۔ یعنی مریض اور مسافر روزہ ۱؎نہ رکھے۔ اس میں امر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔ میرے خیال میں مسافر کوروزہ نہ رکھنا چاہئے اور چونکہ عام طور پر اکثریت لوگ رکھ لیتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔ مگر عِدَِّۃٌ مِنْ اِیَّامِ اُخَر کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ سفر میں تکالیف اُٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا۔ یہ غلطی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعتِ امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔
    بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے
    بیمار اور مسافر کے روزہ رکھنے کا ذکر ہوا۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ شیخ ابن عربی کا قول ہے کہ اگر کوئی بیمار یا مسافر روزہ کے دنوں میں روزہ رکھ دیا تو پھر بھی اسے صحت پانے پر ماہ رمضان کے گزرنے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا اَوْ عَلی سَفَرٍ فَعِدْۃٌ مِنّ اَیَّامٍ اُخَر یعنی جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہووہ ماہ رمضان کے بعد کے دنوں میں روزے رکھے اس میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو مریض یا مسافر اپنی ضد سے یا اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے انہی ایام مرض و سفر میں روزے رکھے تو پھر بعد میں رکھنے کی اس کو ضرورت نہیں خدا تعالیٰ کا صریح حکم ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھے بعد کے روزے بہرحال اس پر فرض ہیں درمیان کے روزے اگر وہ رکھے تو امر زائد ہے اور اس کے دل کی خواہش ہے اس سے خدا تعالیٰ کا وہ حکم جو بعد میں رکھنے کے متعلق… نہیں سکتا۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہِ صیام میں روزہ رکھتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے‘‘۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پائے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔
    روزہ بغیر سحری
    (۳۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء)
    سوال۔ کیا روز بغیر سحری رکھنا یعنی آٹھ پہرے روز کہنا برائے تزکیہ نفس درست ۔
    جواب حکیم الامتہ۔ اللہ تعالیٰ کے حدود کو قائم رکھنا بڑا ضروری ہے ہرایک نیکی کا کام اس وقت نیکی کا کا کام ہو سکتا ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ فرسودہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علمدرآمد کے موافق ہو روزہ بغیر سحری کے کہنا آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے عا م لوگوں کے لئے پسند۱؎عن انس ابن مالک قال قال رسول صلی اللہ علیہ وسلم تسحروانانّ ِ فی السحور
    زوزہ رکھنے کی وجہ اور رمضان میں اُس کی تخصیص
    حکیم الامتہ۔ ہماری کتاب قرآن شریف روزہ کا حکم دیتی ہے تو اس کی وجہ بھی بتاتی ہے کہ کیوں روزہ رکھنا چاہئے …… روزہ کہنا کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم گناہوں سے بچ جاؤ گے اور رمضان ہی میں کیوں کہیں اس کی وجہ بتائی …… چونکہ اس میں قرآن نازل ہو ا یہ برکات الہیہ کے نزول کا موجب ہے اس لئے وہ غرض جو لَعلکم تتقون میں ہے حاصل ہوجاتی ہے۔
    روزہ کی حقیقت
    حکیم الامتہ۔ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی اور بقائی شخصی ضروتوں میں جیسے کھانا پینا ہے اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق۔ ان دونوں قسم کی طبعی ضرورتوں پر قدرت حاصل کرنیکی راہ روزہ سکھاتا ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان متقی بننا سیکھ … ۔آجکل تو دن چھوٹے ہیں سردی کا موسم ہے اور رمضان بہت آسانی سے گذرا مگر گرمی میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھوک پیاس کا کیا حال ہوتا ہے اور جوانوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کی بیوی کو کس قدر ضروت ہوتی ہے۔ سخت گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔ گھر میں دووھ ، برف ، مزیدار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ دار ان کو نہیں پیتا۔ کیوں اس لئے کہ اس کی مولا کریم کی اجازت نہیہ کہ ان کو استعمال کرے بھوک لگتی ہے ہر ایک قسم کی نعمت زردہ، پلاؤ، قلیہ، قورمہ، فرنی وغیرہ گھر میں موجود اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے تیار ہو سکتی ہیں گھر روزہ ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا کیوں صرف اس لئے کہ اس کے مولائے کریم کی اجازت نہیں ۔ شہوت کے زور سے پٹھے پھٹے جاتے ہیں اور اس کی طبیعت میں سخت اضطراب جماع کا ہوتا بیوی سے حسین نوجوان اور صحیح القویٰ موجود ہے مگر روزہ دار اس کے نزدیک نہیں جاتا۔ کیوں صرف اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اگر جائے گا تو خدا تعالیٰ ناراض ہوگا اس کی عدول حکمی ہوگی۔ ان باتوں سے روزہ کی حقیقت طاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر یہ تسلّط پیدا کر لیتا ہے کہ گھر میں اس کی ضروت اور استعمال کی چیزیں موجو ہیں مگر اپنے مولا کی رضا کے لئے حسبِ تقاضا ہے نفس ان کو استعمال نہیں کرتا تو جو اشیاء اس کو میسر نہیں ان کی طرف کو کیوں راغب ہونے لگا رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیس ہی شیدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لئے یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضروتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لئے ان سب پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کی پراوہ نہیں کرتا۔ قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا ہے ……… روزہ تمھارے لئے اس واسطے ہے کہ تقویٰ سیکھنے کی تم کو عادت پڑ جائے ایک روزہ دار خدا کے لئے ان تمام چیزوں کی ایک وقت ترک کر دیتا ہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے صرف اس لئے کہ اس وقت میرے مولا کی اجازت نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھروہی شخص ان چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اور وہ حرام کھاؤے پیوئے اور بدکاری میں شہوت کو پورا کرے۔ تقویٰ کے لئے ایک … بیان کی ہے آپس میں ایک دوسرے کا مال مت کھایا کرو۔
    روزہ باعت قرب الہٰی ہے
    حکیم الامتہ۔ روزہ جیسے تقویٰ سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے ویسے ہی قرب الٰہی حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ماہ زمضان کا ذکر فرماتے ہوئے ساتھ یہ بھی بیان کیا ہے …………… یہ رمضان کی ہی شان میں فرمایا گیا ہے اور اس سے اس ماہ کی عظمت اور ستر الٰہی کا پتہ لگتا ہے اہ اگر وہ اس ماہ میں دعائیں مانگیں تو میں قبول کروں گا لیکن ان کو چاہئے کہ میری باتوں کو قبول کریں اور مجھے مانیں انسان جس قدر خدا کی باتیں ماننے میں قوی ہوتا ہے خدا بھی ویسے ہی اس کی باتیں مانتا ہے …… سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کو رشد سے بھی خاص تعلق ہے اور اس کا ذریعہ خدا پر ایمان اس کے احکام کی اتباع اور دعا کو قرار دیا ہے اور یہی باتیں ہیں جن سے قرب الہٰی حاصل ہوتا ہے۔
    یَسْئَلُنَکَ عِنِ الْاَھِلَّۃِکی شان نزول
    حکیم الامتہ۔ جب صحابہؓ نے دیکھا کہ ایک ماہ رمضان کی یہ عظمت اور شان ہے اور اس میں قرب الہٰی کے حصول کے بڑے ذرائع موجود ہیں تو ان کے دل میں خیال گذرا کہ ممکن ہے کہ دوسرے چاندوں ، مہینوں میں بھی کوئی ایسے ہی اسرار مخضیہ اور قرب الہٰی کے ذرائع موجود ہوں وہ معلوم ہو جائیں اور ہر ایک ماہ کے الگ الگ احکام کا علم ہو جاوئے اس لئے انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دوسرے چاندوں کے احکام اور عبادات خاصہ بھی بتادئیے جاویں۔
    روزہ و خدمت والدین
    حضرت مسیح موعود۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں۔ ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا۔ پر اس کے گناہ بخشے نہ گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔ والدین کے سایہ میں جب کہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم و غم والدین اُٹھاتے ہیں۔ جب انسان خود دینی امور میں پڑتا ہے۔ تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچے کے واسطے بہت دکھ اُٹھاتی ہے کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا۔ ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ ماں بہت تکالیف میں بچہ کے شریک ہوتی ہے۔ یہ طبعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر سکتی۔
    روزۂ وصال نبوی
    ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے روز روزہ رکھنا ضروری ہے کہ نہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔ ضروری نہیں ہے۔
    روزۂ محرم
    اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ محرم کے پہلے دس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے کہ نہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ضروری نہیں۔
    سفیدی میں نیت روزہ
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور میرا یقین تھا کہ ہنوز روزہ رکھنے کا وقت ہے اور میں نے کچھ کھا کر روزہ کی نیت کی۔ مگر بعد میں ایک دوسرے شخص سے معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہوگئی تھی۔ اب میں کیا کروں؟
    حضرت نے فرمایا۔ کہ ایسی حالت میں اس کا روزہ ہو گیا۔ دوبارہ رکھنے کی حاجت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں۔
    روزہ دار کو آئینہ دیکھنا
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پش ہوا کہ روزہ دار کو آئینہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ جائز ہے۔
    حالت روزہ میں سر و ڈاڑھی کو تیل لگانا
    اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ حالت روزہ میں سر کو یا ڈاڑھی کو تیل لگانا جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ جائز ہے۔
    آنکھ کے بیمار کا روزہ
    اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کی آنکھ بیمار ہو تو اس میں دوائی ڈالنی جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ یہ سوال ہی غلط ہے۔ بیمار کے واسطے روزہ رکھنے کا حکم نہیں۔
    غیر مستطیع الصوم کا فدیہ
    اسی شخص کا یہ سوال پیش ہوا کہ جو شخص روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو اس کے عوض مسکین کو کھانا کھلانا چاہئے۔ اس کے کھانے کی رقم قادیان کے یتیم فنڈ میں بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس نے فرمایا۔ ایک ہی بات ہے۔ خواہ اپنے شہر میں کسی مسکین کو کھلائے یا یتیم اور مسکین فنڈ میں بھیج دے۔
    دائمی مسافر اور مریض فدیہ دے سکتے ہیں
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مورخہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء کو فرمایا۔
    جن بیماروں اور مسافروں کو امید نہیں کہ کبھی پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے۔ مثلاً ایک بوڑھا، ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بہ سبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال پھر اسی طرح گزر جائے گا ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں۔ فدیہ صرف شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزے کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے۔ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھولنا ہے۔ جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔ اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ میری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جائے گی۔
    روزہ دار کا خوشبو لگانا
    سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کو خوشبو لگانا جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ جائز ہے۔
    روزہ دار کا آنکھوں میں سرمہ ڈالنا
    سوال پیش ہوا کہ روزہ دار آنکھوں میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مکروہ ہے۔ اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے۔ رات کو سرمہ لگا سکتا ہے۔
    گرمی میں مزدور و محنتی کا روزہ
    سوال: بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں سے جب کہ کام کی کثرت مثل تخمریزی و ورودگی ہوتی ہے ایسے مزدوروں سے جن کا گزارہ مزدوری پر ہے۔ روزہ نہیں رکھا جاتا۔ ان کی نسبت کیا ارشاد ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ انما الاعمال بالنیات۔ یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے اگر کوئی اپنی جگہ مزدور رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے۔ ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔ پھر جب یسر ہو رکھ لے اور عَلَی الَّذِیْنَ یَطِیْقُوْنَہٗ کی نسبت فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے۔
    اعتکاف
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جب آدمی اعتکاف میں ہو تو اپنے دنیوی کاروبار کے متعلق بات کر سکتا ہے یا نہیں؟
    فرمایا سخت ضرورت کے سبب کر سکتا ہے اور بیمار کی عیادت کیلئے اور حوائج ضروری کے واسطے باہر جا سکتا ہے۔
    مجموعہ فتاوی احمدیہ کی پہلی جلد تمام ہوئی
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    فتاویٰ مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 2 ۔ حاشیہ

    حاشیہ جات جلد دوم
    ۱(آج رات مجھے رؤیا میں دکھایا گیا کہ ایک درخت بار وار اور نہایت لطیف اور خوب صورت پہلون سے فدا ہوا ہے اور کچھ جماعت ٭٭٭ اور زور سے ایک بوٹی کو اُس پر چڑھانا چاہتی ہے جس کی جڑنہیں بلکہ چڑھا رکھی ہے وہ بوٹی ٔٔٔٔ٭٭٭ کی مانند ہے اور جیسے وہ بوٹی اس درخت پرچڑھتی ہے اس کے پہلون کو نقصان پہنچاتی ہے وار اس لطیف درخت میں ایک کھجواہٹ اور بد شکلی پیدا ہو رہی ہے اور جن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے اُن کے ضائع ہونے کا سخت اندیشہ ہے بلکہ کچھ ضائع ہو چکے ہیں۔ تب میرا دل بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پگھل گیا اور میں نے ایک شخص کو جوایک نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھا پوچھا کہ یہ درخت کیا ہے اور یہ بوٹی کیسی ہے جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دے رکھا ہے۔ تب اس نے جواب میں مجھے یہ کہا کہ یہ درخت قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ بوٹی وہ احادیث اور ٭٭٭ وغیرہ ہیں جوقرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائے جاتے ہیں اور اُن کی کثرت نے اس درخت کو دبا لیا ہے اور اس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔)
    (٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭)
    (٭٭٭ ترجمہ ۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خدا تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرتے تھے ۔ روایت کی یہ حدیث مسلم نے ٭٭٭ حدیث مذکور بالا اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام ہر وقت خدا تعالیٰ کو یاد کرتے تھے ۔ محمد فضل عفی عنہ٭٭٭٭٭٭ترجمہ۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے روایتہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ ان گردن کے رخ مسجد سے پھروکیونکہ میں مسجد کو خایضہ اور جنبی کے لئے حلال نہیں ٹھہرایا۔
    (٭٭٭٭٭٭٭٭ ترجمہ۔ روایت ہی ابی رافع سے کہ کیا دیکھا میں نے رسول اللہﷺ کو کہ اذان دی آپ نے بیچ کان حسن بن علی کے اُس وقت کہ جنا اُس کو حضرت فاطمہ نے اذان دی نماز کی اذان کی طرح نقل کی یہ حدیث ترندی اور ابوداؤو نے اور ترندی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان دینا بچہ کے کان میں بعد پیدا ہونے کے سنت ہے اور مسند ابویعلی موصلی میں حضرت حسین سے بطریق مرقوع منقول ہے کہ جس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور وہ اذان دے اُس کے دائیں کان میں تکبیر کہے اور بائیں کان میں تو ضرور نہیں کرے گی اُس کو ام الصبیان کذافی الجامع الصفیرفلسیوطی ، اور نووی نے لکھا ہے کہ بچہ کے کان میں اِنِیّْ اُعِیْذُھَابِکَ وَذُرِّیَّتَھامِنَ الشَّیطَانِ الَّرجِیْمکہنا مستحب ہے۔
    ٭٭اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچہ کے کان میں اذان دینا بانئی اسلام علیہ الوف الصلوۃ والسلام نے اس لئے ٹھہرایا کہ بچہ کے کان میں جو پہلے آواز جاکر اس کی فطرت میں قائم ہو وہ توحید الٰہی و رسالت نبوی کی آواز ہو اللھم صلی علی محمد والہ واصحاب اُلوف الصلوۃ والسلاممحمد فصل عفی عنہ۔)
    (٭٭٭٭٭٭ ترجمہ روایت ہے جابر سے کہ تحقیق نبیﷺ نے فرمایا ہے درمیان کفر اور ایمان کے فرق ترک نماز ہے)
    (عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ بَیْنَ الَّرجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ تَرکُ الصَّلٰوۃ رواہ مُسلم
    ترجمہ روایت ہے حضرت جابر ؓ سے کہا فرمایا رسول خداﷺ نے فرق درمیان مرد اور درمیان شرک اور کفر کے چھوڑ دینا نماز کا ہے۔)
    (٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    ترجمہ ۔وعدہ کرتا ہے خدا تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جوایمان لائے اور اچھے کام کئے البتہ اُن کو خلیفہ کریگا زمین میں جیسا کہ اس نے خلیفہ بنایا اُن سے پہلوں کر اور ان کو ٭٭٭اُن کا دین جو اُن کے لے خداتعالیٰ کو پسند ہے وار اُن کو خوف سے امن بدل دیگا ان کو چاہئے کہ میری عبادت کریں میرے ساتھ کچھ بھی شریک نہ کریں اور جو کوئی اُن خلفاء کی خلافت کے علامات ونشانات کے ظاہر ہونے کے بعد انکار کرے ایسے لوگ سرکش اور بے راہ ہیں۔
    (٭٭٭٭٭٭
    ترجمہ۔ تحقیق خدا تعالیٰ ہرصدی کے سر پر کوئی ایسا شخص اس امت کے لئے بھیجتا رہے گا جو اُس صدی کے دین اسلام کو تازہ کرئے گا۔ روایت کی یہ حدیث ابو داؤد نے ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں: کہ کیا ہوگا تمھارا حال اُس وقت جب کہ ظاہر ہوگا تم میںابن مریم کی صفت کا آدمی اور وہ میر ام میں سے تمھارا امام ہوگا۔ روایت کی یہ حدیث بخاری نے
    ٭٭٭٭٭نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں: قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ تم میں ایک شخص ابن مریم کی صفت کا حاکم عادل ظاہر ہوگا پس وہ صلیبی مذہب کی شوکت کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کر ے گا۔ اور مذہبی لڑائی ٭٭٭ کرے گا۔ دیکھو نقطہ نزول کے معنی کلام الٰہی میں سورہ اعراف ٭٭٭٭یعنی ہم نے تمھارے لئے لباس پیدا کیا۔سورہ زمر٭٭٭ معنی پیدا کئے تمھارے لئے چوپائے آٹھ جوڑے سورہ ٭٭٭٭ اور پیدا کیا ہم نے لوہا سورہ طلاق ٭٭٭٭ تحقیق خدا تعالیٰ نے تمھارے لئے ٭٭٭دینے والا رسول پیدا کیا دیکھو مذکورہ بالا آیات میں لفظ نزول و انزال کے معنی آسمان سے اُترنے اتارنے کے نیں ہیں بلکہ ظاہر و پیدا ہونے و کرنے کے بھی آئے ہیں۔ محمد فضل چنگوی احمدی عفی اللہ عنہ)
    (٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭)
    (٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    ترجمہ۔ جسم روح سے اور عمل نیتوں سے زندہ ہوتے ہیں جیسے بادل برسنے سے زمین رندہ ہوتی ہے اور پھر شگوفے کھلتے ہیں۔ اور درخت پھولتے پھلتے ہوئے تم دیکھتے ہو۔ ایسا ہی ہماری عملوں سے کچھ صورتیں بدبو دار اور خوشبو دار پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگر ٭٭٭ نہ ہوتی تو ان کی بدبو اور خوشبو سے کستوری کہ مہک بھی شرمندہ ہوجاتی اور ظاہری نظر ایسا ہی اُس پر حکم کرتی شریعت نبوی کی پابند رہوگے۔ تو اس کی حسن وشرافت سے آرام و نفع حاصل کرو گے اور اُن صورتوں سے آخرت میں ملو گے جو تختوں پر ناز کرتی ہیں اور ان کو بادشاہوں کی طرح اپنی عمدہ جگہوں میں یا مرغوب الطبع دولہا دولہنوں کی طرح پاؤ گے جو قابل دید ہوتے ہیں ۔ محمد فضل)
    ۱؎ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یُصَلَّی حافیۃً وسنتعلا۔ عن عبداللّٰہ قال لقد رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یُصَلی فی النعلین و الخفین (ترجمہ) شیعب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتا ہے کہ میں نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو برہنہ پا اور پاپوش پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پاپوش اور جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ حدیثیں ابن ماجہ جلد اوّل مطبوعہ مصر صفحہ۱۶۷ میں لکھی ہیں۔
    کتاب تفریح المہج بتاریخ الفرج مطبوعہ مصر صفحہ۱۸۱ حاشیہ پر لکھا ہے۔ الاسکاف فاومن حقہ ان لا یخرزنعلین بنجس من شعر خنزیر او غیرہ فان الصلوۃ فی النعلین جائزۃ صح انہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم صلی فی النعلین و انما فعل ذٰلک بیانا للجوازوکان اغلب احوالہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم الصلوۃ حافیا فلوان الا سکاف استعمل فی النعلین نجاسۃ لخان اللّٰہ تعالیٰ والمومنین۔ ترجمہ کفش دوز یعنی موچی کو لازم ہے کہ جوتی خنزیر کے بالون وغیرہ نجس چیزوں کے ساتھ نہ سیئے کیونکہ جوتی کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔ یہ بات بپایہ ثبوت پہنچ چکی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جوتی کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔ یہ امر آپ نے اس لئے کیا تا کہ لوگوں پر واضح ہو جاوے کہ جوتی کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے اور اکثر اوقات نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ننگے پاؤں سے نماز پڑھا کرتے تھے۔ پس اگر موچی جوتی سینے میں کوئی ناپاک چیز استعمال کرے تو وہ خدا تعالیٰ اور مومنوں کی خیانت کرے گا۔
    (محمد فضل چنگوی احمدی عفی اللہ عنہ)
    ۱؎ وعن عمرو بن … قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلقی قالوا انعما …لَن…………………
    ٭ عربی پڑھی نہیں جا رہی۔ عبداللہ بن براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت… کرتے تھے اور انس سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مہینہ … کے بعد دعا قنوت پڑھی تھی عرب کے ایک قبیلہ پر بددعا کرتے تھے۔
    ٭ حاشیہ کی عربی واضح لکھیں پڑھی نہیں جا رہی
    ٭ جد حدیث حضرت علی رضی اللہ سے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے متعلق تیسیرالوصول وغیرہ کتب میں لکھی ہے اس کو علاوہ اور روایات کے حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ذیل ضعیف ٹھہرا کر رد کر رہا ہے جو تفسیر کبیرجلد آخر چھاپ مصر صفحہ۶۴۵ میں لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ روایت کی گئی ہے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہ تحقیق انہوں نے تفسیر کی وانحر کی ساتھ رکھنے ہاتھوں کے اوپر سینے کے بیچ نماز اور عقلمہ بن وائل بن حجر سے جو روایت ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے متعلق شرح و قاویہ وغیرہ میں لکھی ہے اس کو علاوہ اور رویات ثقہ کے یہ بات ضعیف ٹھہرا رہی ہے کہ سماع علقمہ کا وائل سے ثابت نہیں ہے چنانچہ تقریب التہذیب میں ہے علقمہ بن وائل بن حجر بضم المہلمہ و سکون الجیم لحضرمی الکونی صدوق … لم یسمیع من ابیہ یعنی علقمہ بن وائل بن حجر ساتھ ضمہ مہل اور سکون جیم کے حضرمی کوفی سچا ہے مگر تحقیق اس نے نہیں سنا ہے اپنے باپ سے انتہی اور وجہ و سنئے علقمہ کی اپنے باپ وایل سے یہ ہے کہ وہ اپنے باپ وائل کے مرنے کے چھ مہینے پیچھے پیدا ہوا چنانچہ کہا ابن ہمام نے فتح القدیر صفحہ۱۲۱ چھاپ نول کشور میں ذکر الترمذی فی عللہ الکبیر قال انہ سال البخاری ھل اسمع علقمۃ من ابیہ فقال انہ ولد بعد موتا بیہ بستۃ اشہر۔ یعنی ذکر کیا اس کو ترمذی نے بیچ کتاب اپنی حلل کبیر کے کہ پوچھا ترمذی نے بخاری سے کہ آیا علقمہ نے اپنے باپ سے سنا ہے پس کہا بخاری نے کہ وہ اپنے کے مرنے سے چھ مہینے پیچھے پیدا ہوا ہے۔
    تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے روایت کی گئی ہے ابی الجوزا سے اس نے روایت کی ابن عباسؓ سے کہ کہا ابن عباس نے بیچ تفسیر فصل لربک والنحر کے رکھنا داہنے ہاتھ کا اوپر بائیں ہاتھ کے بیچ نماز کے نزدیک نحر کے یعنی سینے پر انتہی۔ مذہب امام شافعی کا یہی ہے کہ نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے چاہئیں اور نزدیک امام احمد کے اختیار ہے خواہ نیچے ناف کے رکھے خواہ برابر سینے کے اور نزدیک امام ابوحنیفہ کے اور بیچ میں ایک روایت کے امام احمد سے نیچے ناف کے اور نزدیک امام مالک کے ہاتھوں کو چھوڑ کر نماز پڑھنی چاہئے لیکن ہاتھ باندھ کر پڑھنی بھی جائز ہے۔
    ٭ روی ارھًا عن طاؤمرانہ علیہ السلام کان یشدھما علی الصدر۔ اجمع المحدثون من حدیث الصدر صحیح۔
    ٭ حاشیہ میں عربی پڑھی نہیں جاتی۔
    ٭ وعن ابی جھجم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الریعلم الماربین یدی المصلی مافی علیہ مکان ان تعف اربعین خیر
    ٔ٭ قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَلْجَماعَۃُ مِنْ سُنَنِ الْھُدٰی لَا یَتَخَلَّفُ عَنْھَا اِلاَّ اُلمُنَافِقُ۔ وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام مَا مِنْ ثلثۃٍ فی قریۃ لایوذنُ فیھم ولایقام فیہم سلوۃ الاقد استحوذعلیہم الشیطان علیک بالجماعۃ فانما یاخذالذئب الفارۃ
    ترجمہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جماعت سنت مؤکدہ ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا مگر منافق۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ کسی گاؤں میں تین آدمی ہوں اور اُن میں اذان اور جماعت نہ ہو تو اُن پر شیطان غالب ہو جاتا ہے۔ جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ اکیلے کو شیطان پکڑ لیتا ہے۔
    ٭ عَن انس قال صلی بنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم فلما تضیٰ صلوۃ اقبلی علینا بوجھ فقال ایھاالناس انی امامکم فلاحبقونی بالرکوع ولا بالسجود ولا بالقیام ولا بالانصراف فانی اراکم امامی ومن خلفی رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَمَا یخشی الذی یرفع راسہ قبل الا مام ان یحول اللّٰہ راسہ راس حمار متفق علیہ وعن ابی ہریرۃقال الذی یرفع ویخفضہ قبل الامام فاغاناصیتہ بیدالشیطان رواہ مالک
    ٭ یعنی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا مسنون طریق ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام خود بھی مدام سینہ پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ میں نے بچشم خود صد ہا بار حضرت اقدس علیہ السلام کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (محمد فضل چنگوی احمدی عفی اللہ عنہ)
    ٭ عن انس بن مالک ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لایزداد الا من الا شدۃ ولا الدنیا الا ادبارًا اولا الناس الا شحاولا تقوم الساعۃ الا علی شرایرالناس ولاالمھدی الاعیسیٰ ابن مریم رواہ ابن ماجہ جلد دوم صفحہ۲۵۷ مطبوعہ۔ مصر
    ترجمہ: ان بن مالک سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام فرماتے ہیں ایک زمانہ آئے گا کہ اس میں دین اسلام کا کام سخت ہو جائے گا یعنی اس کے مدد گار تھوڑے اور مخالف بہت ہونگے اور دنیا دار لوگ دین اسلام اور اس کی امداد سے پیٹھ پھیر دیں گے اور لوگ بخل سے دین اسلام کی امداد کم کریں گے اور عذاب کی گھڑی شریر لوگوں پر قائم ہوگی اور اس نماز میں جو شخص عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہی مہدی ہے۔
    عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یجمع بین صلوۃالظُہرِوَالعَصْرِ اذا کان علیٰ ظہرِ سَیْر و یجمع بین المغرب والعشاء رواہ البخاری وعن انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا رتحل قبل ان تزیغ الشمس اخر الظہر الی وقت العصر ثم نزل فجمع بینھما فان زاغت الشمس قبل ان یرتحل صلی الظہر شورکب متفق علیہ وفی روایۃ الحاکم فی الاربعین باسناد صحیح صلی الظہر والعصر ثم رکب بعیم فی مستخرج مسلم کان اذا کان سفر فزالت الشمس صلی الظہر و العصر جمیعاً ثم ارتحل۔
    ترجمہ:روایت ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جمع کرتے تھے درمیان ظہر کے اور عصر کے جس وقت کہ ہوتے سفر میں اور جمع کرتے درمیان مغرب اور عشاء کے۔ روایت کی یہ حدیث بخاری سے روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب کوچ کرتے تھے پہلے جب کہ آفتاب کے دیر کرتے ظہر میں عصر کے وقت تک پھر اُترتے۔ پس جمع کرتے درمیان ان دونوں کے پھر اگر چمکتا آفتاب پہلے رکوع کرنے کے نماز پڑھتے ظہر کی پھر سوار ہوتے روایت کیا اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے اور … ایک روایت حاکم کے چہل حدیث میں … صحیح سے ہے کہ پڑھتے ظہر اور عصر پھر سوار ہوتے اور ابی نعیم کی روایت مسلم کی مستخرج میں ہے جب ہوتے تھے حضرت سفر میں پس جکھتا آفتاب پڑھتے ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پھر کوچ کرتے۔
    ۱؎ عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا اَنَّہٗ کَانَ یَفْصِلُ بَیْنَ شُفْعَۃٍ وَدِتْنِ بِتَسْلِیْمَۃٍ وَاَخْیَرَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلیَّ اللّٰہُ عَلَیْہ وسلم کَانَ یَفْعَلُہٗ رواہ الطحاری۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تحقیق وہ فرق کرتے تھے درمیان دو رکعت اور وتر اپنے کے ساتھ اسلام کے اور خبر دی انہوں نے کہ تحقیق صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے روایت کی اس کو طحاوی نے۔
    ۱؎ دعائے قنوت بروایت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما یوں آئی ہے عن الحسن بن علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا قال علمنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کلمات اقولھن فی قنوت الوتر۔ـ اللّٰھُمَّ اِھْدِنِیْ فِیْمَنَ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ و فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْ مَنْ تولَّیَتَ وَبَارِکَ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّمَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لایَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ
    ترجمہ: یعنی حضرت حسن بن علی فرماتے ہیں کہ مجھے نبی علیہ السلام نے یہ قنوت سکھائی ہے جو میں وتر میں پڑھتا ہوں۔ یا الٰہی ہدایت کر مجھ کو بیچ زمرہ ان لوگوں کے جن کو تو نے ہدایت کی اور عافیت میں رکھ مجھ کو آفتوں دنیاوی اور آخرت سے بیچ ان لوگوں کی جن کو عافیت میں رکھا تو نے اور کارسازی کر میری بیچ اُن لوگوں کے کہ کارسازی کی تو نے ان کی اور برکت دے مجھے اُس چیز میں جو تو نے مجھے دی ہے اور بچا مجھے برائی اُس چیز سے جو تو نے مقدر کی پس تحقیق تو حکم کرتا ہے جو چاہتا ہے اور نہیں حکم کیا جاتا تجھ پر جس کو تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
    اور دعائے قنوت بروایت حضرت عمر بن خطاب بالفاظ ذیل آئی ہے ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے مختلف اوقات میں حسبِ حال مختلف قنوتیں پڑھی ہیں۔
    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُوْء مِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرِ وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ۔ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکَ مَنْ یَفْجُرُکَ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُوَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشْیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفْارِ مُلْحِقٌ۔
    ترجمہ: اے اللہ ہم مدد مانگتے ہیں تجھ سے اور بخشش مانگتے ہیں تجھ سے اور ایمان لاتے ہیں تجھ پر اور بھروسہ رکھتے ہیں تجھ پر اور خوبی بیان کرتے ہیں تیری اور تیرا شکر اکرتے ہیں اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے اور الگ ہوتے اور چھوۃے ہیں ہم اُس شخص کو جو تیرا نافرمان ہو۔ اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے لئے ہی نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف دوڑتے اور تیری خدمت کرتے ہیں اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں تیرا عذاب منکروں کو لاحق ہونے والا ہے۔
    ایک اور روایت میں قنوت بالفاظ ذیل آئی ہے۔
    اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عُدْوِّکَ وَعُدُوِّھِمْ اَللّٰھُمَّ اَلْعَنِ الکَفَرَۃَ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ وَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلَا… وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَائَ کَ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ …… قْدَامَھُمْ وَاَنْزِلْ بِھِمْ بَأسَکَ الَّذِیْ لَاتَرُدُّہٗ……اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُوْء مِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرِ وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ۔ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکَ مَنْ یَفْجُرُکَ بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰن الَّرحیم اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُوَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشْیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفْارِ مُلْحِقٌ۔
    ترجمہ: اے اللہ بخش دے ہم کو اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردار عورتوں کو اور ان کے دلوں میں اُلفت میں الفت ڈال اور ان کی آپس میں اصلح کر دے اور اُن کی مدد کر اپنے دشمنوں اور اُن کے دشمنوں پر اے اللہ *** کر منکروں پر جو تیرے راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اور تیرے رسول … اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔ اے اللہ اپنے دشمنوں کے درمیان… پھیلا دے اور اُن پر اپنا وہ عذاب اُتار جو مجرموں سے …مدد چاہتے ہیں اور تیرے سے مغفرت طلب کرتے ہیںاور تیری خوبی بیان کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم الگ ہوتے ہیں اور چھوڑتے ہیں تیری نافرمان … اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لئے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے اور تیری طرف دوڑتے اور تیری خدمت کرتے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں بیشک تیرا عذاب منکروں کو لاحق ہونے والا ہے۔
    علاوہ ازیں ادعیہ قنوت کے متعلق روایت…… علیہ السلام نے بحسب ضرورت حادثات و نازلات کے وقت پڑھی ہیں۔
    (عربی مٹی ہوئی ہے پڑھی نہیں جاتی)
    ۱؎ وعن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلعم الا وانی نھیت ان اقرا القران راکعا و مساجدا فاما الرکوع فنظموا فیہ الرب واماالسجود فاجتھدوا فی الدعا فقمن ان بستجاب لکم رواہ مسلم
    (ترجمہ مٹا ہوا ہے صحیح لکھیں)
    عن ابی ھریرۃ قال کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول فی سجودہ اللھم اغفرلی ذنبی کلہ رقہ وجلہ واولہ واخرہ و علانیتہ و سرہ رواہ مسلم
    ابی ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سجدہ میں پڑھا کرتے تھے اے اللہ میرے سب چھوٹے بڑے پہلے اور پچھلے ظاہر اور چھپے گناہ بخش دے روایت کی یہ حدیث مسلم نے۔
    عن ابن عباس قال کان رسول اللّٰہ علیہ وسلم یقول بین السجدتین فی صلوٰۃ اللَّیْل رب اغفرلی وارحمنی وَاجْبُرْنِی وَارْزُقْنِیْ ورفعَنْی رواہ ابن ماجہ٭؎
    حضرت ابن عباس سے راویت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام دونوں سجدوں کے درمیان رات کی نماز میں فرماتے اے پروردگار مجھے بخش اور رحم کر اور میری کسر چیر کر اور مجھے رزق دے اور میرا رفع کر۔ روایت کیا اس کو ابن ماجہ نے۔
    ٭؎ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلعم اقرب مایکون العبد من ربہ وھی ساجد… الدعاء رواہ مسلم
    حضرت ابی ہریرہ سے روایت ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے نزدیک تر سجدہ میں ہوتا ہے پس تم سجدہ میں دعا بہت کرو۔
    ۱؎ وعن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ علیہ وسلم من اَدْرَکَ رکعۃً مِنَ الصَّلٰوۃ قَبْلَ اَنْ یُقْمَ الْاِمَامُ صُلبہٗ فقلا رکھا رواہ ابن خزیمہ
    (ترجمہ) جو شخص امام کے …… سے پہلے نماز کو رکوع پا لیوے پس اس نے پالیا اس رکعت کو یعنی اس کی دو رکعت ادا ہوگئی۔ روایت کی حدیث ابن خزیمہ نے۔
    ۱؎ حاکم نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ان سرکم ان تقبل صلاتکم فَلْیُومّکم خیار کم فانھم وفد کم فیما بینکم و بین ربکم (ترجمہ) اگر خوش لگے تم کو یہ کہ قبول کی جاوے نماز تمہاری پس چاہئے کہ امامت کرا دین تمہیں بہتر تمہارے پس تحقیق وہ قاصد ہیں درمیان اس چیز کے کہ درمیان تمہارے اور درمیان تمہارے رب کے ہے۔
    ۱؎ درروایت ترمذی و ابی داؤد و نسائی و ابن ماجہ از حدیث مغیرہ بن شعبہ آمدہ و نیز روایت کردہ امام … بلال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وضومے کرد و مسح مسکر برعمامہ و موقین و ابی داؤد… مانند ایں آوردہ) محمد فضل عفی اللّٰہ عنہ

    ۱؎ از حضرت حکیم الامت۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچشم خود تہجد پڑھتے دیکھا ہے بعض دفعہ آدھ آدھ گھنٹہ ایک رکعت میں خرچ کرتے اور بعض دفعہ حکم الٰہی کے یہاں تک کہ پابند ہوتے کہ جب تک الہام نہ ہو رکوع اور سجود میں نہ جھکتے اور نہ سر اُٹھاتے۔
    ۱؎ وعن حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ قال صلیت مع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فما مرت بہ ایتہ ھمۃ الا وقف عندھا یسال ولا ایۃ عذاب الا تعوذ منھا اخرجہ الخمسۃ وحسہ الترمذی
    ۲؎ غن تمیم الداری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اول مایجا سیہ بہ العبد یوم القیامۃ صلاتہ فان اکملھا کتبت لہ نافلۃ فان لم یکن اکملھا قال اللّٰہ سبحانہ لملائکتہ انطروا ھل تجدون لعبدے من تطوع فاکملوابھا من فریضتہ ثم ترخذ الاعمال علی حسب ذلک۔ (ترجمہ) تمیم داری نے بنی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہے کہ پہلے جو بندہ سے روز قیامت میں حساب لیا جاوے گا اس کی نمازہوگی۔ پس اگر اُس نے اپنی نماز پوری کی ہوگی تو اس کے لئے بخشش لکھی جاوے گی اور اگر اس نے نماز پوری نہ کی ہوگی تو خدا تعالیٰ فرشتوں کو فرمائے گا کہ میرے بندہ کا کوئی نفل پاؤ تو اس کے ساتھ اُس کے ضائع شدہ فرض کو پورا کرو۔ پھر اُس کے سارے عملوں کا حساب اس مناسبت سے لیا جاوے گا۔
    ۳؎ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ ان النبی کان یقول بین المسجدتین اللھم اغفرلی وارحمنی واحدنی وعافنی وارزقنی رواہ الا ربعۃ الاالنسائی
    ۱؎ اے اللہ میں تجھے پاک ہونے کے علاوہ بڑی تعریفوں والا یقین کرتا ہوں اور تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری ذات بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اے اللہ میرے اور میری خطاؤں میں مشرق و مغرب کی دوری کر دے اے اللہ مجھے خطاؤں سے ایسا صاف کر دے جیسا کہ سپید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ میری خطاؤں کو پانی اور برف اور ساونوں سے دھو دے۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں دھتکارے ہوئے شیطان سے میں اللہ کے نام کے ساتھ پڑھتا ہوں جو بن مانگے اور بے کئے دینے والا اور مانگنے اور کرنے پرعمدہ دینے والا ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پیدا کرکے پالنے والا اور بن مانگے اور بے کئے دینے والا اور مانگنے اور کرنے پر بہت عمدہ دینے والا اور دین کے دن (یا یوں کہو کہ جزا کے دن) کا مالک ہے۔ ہم تو تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم کو سیدھی راہ بتا اور اس پر چلا جو کہ تجھ سے انعام پانے والوں کی راہ ہے یعنی نبیوں صدیقوں شہیدوں صالحوں کی نہ غضب شدہ لوگوں کی اور نہ گمراہوں کی یعنی نہ یہود کی اور نہ عیسائیوں کی۔
    ۲؎ میں اپنے رب کو سب سے بہت بڑا یقین کرتا ہوں۔
    ۳؎ میں اپنے رب کو سب نقصوں سے پاک یقین کرتا ہوں جو کہ بہت بڑا ہے۔
    ۴؎ اے ہمارے رب ہم تجھے سب نقصوں سے پاک جاننے کے علاوہ سب تعریفوں والا یقین کرتے ہیں۔ اے اللہ تو مجھے میری کمزوریوں کے بدنتائج سے اور آئندہ کمزوریوں سے بچا۔
    ۵؎ اللہ سنتا ہے اُس کی جو اس کی حمد کرتا ہے۔
    ۶؎ اے ہمارے رب تیرے ہی لئے سب تعریف ہے۔ اے اللہ اے ہمارے رب تیرے ہی لئے سب تعریف ہے اور میں تیری بہت تعریف کرنی چاہتا ہوں جس میں برکت ہو جیسا کہ ہمارا رب پسند اور خوش رکھے۔
    ۱؎ اے اللہ میری کمزوریوں کے بدنتائج سے اور آئندہ کمزوریوں سے بچا اور مجھ پر رحم کر اور مجھے ہر ایک امر کی سیدھی راہ بتا اور مجھے رفعت اور عزت دے اور میرے سب نقصوں کا تدارک کر دے اور مجھے رزق دے۔ـ
    ۱؎ اے اللہ تو اپنی بڑی رحمت نازل فرما حضرت محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اور ان کی آل پر جیسی کہ تو نے رحمت نازل فرمائی ہے۔ حضرت ابراہیم اور ان کی آل پر بے شک تو صفت کیا گیا اور بزرگ ہے۔ اے اللہ تو برکت نازل فرما حضرت محمد علیہ السلام پر اور اُن کی آل پر جیسے کہ تو نے نازل فرمائی ہے حضرت ابراہیم اور اُن کی آل پر بیشک تو صفت کیا گیا اور بزرگ ہے۔
    ۱؎ اے میرے رب پہلے قصوروں کے بد نتائج سے اور آئندہ کمزوریوں سے بچا اور رحم کر اور سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔ میں اس اللہ عظیم سے مغفرت چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں اے اللہ اس شے کو کوئی روکنے والا نہیں جو کہ تو دے اور نہ کوئی اس کو کوئی دینے والا ہے جس کو تو روک دے اور نہ اس کو کوئی رد کر سکتا ہے جو تو حکم دے اور نہ کوشش والوں کی کوشش اس کو تجھ سے بچا سکتی ہے اے اللہ تو سلام ہے اور سلامتی تیری طرف سے مل سکتی ہے اور سلامتی کا مرجع تو ہی ہے تو بڑی برکت والا ہے اے جلال اور عزت والے۔
    ۱؎ یعنی یہ ہرسہ کام ناجائز ہیں اسلام میں ان کی کوئی سند نہیں۔ محمد فضل عفی اللہ عنہ
    ۱؎ اے قبرستان والو تم پر سلامتی ہو۔
    ۱؎ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں تم میں سے کسی کا آگ کی چنگاری پر بیٹھ کر جلنا قبر پر بیٹھنے سے اچھا ہے۔
    ۱؎ فرط وہ جو لشکر سے آگے جا کر سامان ومکان ……
    ۱؎ یعنی نبی علیہ السلام سے اپنے …… یعنی کے متعلق سوال نہ کرو۔
    ۲؎ ناپاک عورتوں کے تعلق ناپاک مردوں سے اور پاک عورتوں کے تعلق پاک مردوں سے ہوتے ہیں۔

    ۱؎ الشرع یقبلہ عقل و ایمان: وللقول مواندین واوزان اعند الا لہ علوم لیس یصرفھا الالبیب لہ فی الوزن رحجان۔ ترجمہ: شریعت کو عقل اور ایمان قبول کرتے ہیں اور باتوں کے لئے تول و نماز دھوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے پاس وہ علم ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا سوائے اُس عاقل کے جس کے لئے وزن میں گرانی ہوتی ہے۔ محمد فضل عفی عنہ
    ۱؎ وعن عبداللہ ابن عباس قالا الخسفت الشمس علی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افصلی رسول اللہ علیہ وسلم والناس معہ فقام قیاماً طویلاً نحواً من قرأۃ البقر ثم رکع رکوعًا طویلاً ثم رفع فقام قیاماً طویلاً وھودون القیام الاوّل ثم رکع رکوعًا طویلا وھودون الرکوع الاوّل ثم رفع ثم سجد ثم قام فقام قیاماً طویلا وھو دون القیام الاوّل ثم رکع رکوعًا طویلاً وھودون الرکوع الاوّل ثم رفع فقام قیاماً طویلاً وھودون القیام الاوّل ثم رکع رکوعا وھودون الرکوع الاوّل ثم رفع ثم سجد ثم انصرف وقد تجلت الشمس فخطب الناس
    ۱؎ وان حل خسف النیرین فانہ حجاب وجود النفس دونک یانتی
    ومن کان یستسقی یحور راء ہ تحول عن الافعال علک ترتضی
    ۱؎ عن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما قالت ماکان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَزِیْدَ فِیْ رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِہٖ عَلیٰ اخدمے عَشْرَۃَ رَکَعَۃً یُصَلِیّ اَرْبَعَا فَلاَ تَسْالَ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی اَرْبَعًا فَلَاَتَسْالْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمْ یَّصِلُّی ثُلَاثَا قَالَتَ عَائِشَۃُ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَنَامُ قُبْلَ اَنْ تُوْ تِرَقَالَ یَاعَائِشَۃُ اِنَّ عَیْنِی تَنَامَانِ وَلاَّیَنَامُ قَلْبِیُ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ ترجمہ۔ روایت ہے حضرت عائشہؓ سے کہ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھاتے نہ تھے رمضان میں اور نہ اُس کے سوامین اوپر گیارہ رکعت کے۔ پڑھتے تھے چار رکعت پس نہ پوچھ تو ان کی تعریف اور درازی کا حال پھر پڑھتے تھے چار رکعت پس نہ پوچھ تو ان کی خوبی اور … کا حال۔ پھر پڑھتے تھے تین رکعت۔ کہا عائشہؓ نے میں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ سوتے ہیں پہلے وتر پڑہنے کے۔ فرمایا اے عائشہ میری آنکھیں سوتی اور نہیں سوتا دل میرا۔ روایت کیا اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے۔ وعن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال انہ صلی اللہ علیہ وسلم قَلمَ بِھِمْ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلّٰی ثَمانَ رَکَعَاتٍ وَاَوْتَرَ تُمَّ انْتَظَرُوْہُ مِنَ الْقَابلَۃِ ثُمَّ خَرَجَ اِلَیْھِمً فََاتَوْہُ فَقَاَلَ خَثِیْتُ اَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْکُمْ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ ترجمہ روایت ہے جابرؓ سے کہ کہا تحقیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ساتھ … کے رمضان میں پس پڑھیں آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے پھر منتظر رہے صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شب آئندہ میں۔ پس نکلے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم طرف صحابہ کے پس آئے صحابہ حضرت کے پاس پس فرمایا حضرت نے … اس سے کہ فرض کی جاوے تم پر یعنی تراویح جماعت کے ساتھ روایت کیا اس حدیث کو ابن جابر نے بیچ صحیح اپنی کے۔ وعن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال صلی بنا رسول اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان تمان رکعاتٍ ثُمَّ اَوْتَرَ فَلَمَّا کَأنتِ القابلۃ اجتمعنا فی السجدورجونا ان یخرج الینا حتی اصبحنا رواہ ابن خزیمۃ۔ ترجمہ روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ پڑہیں ساتھ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں آٹھ رکعتیں پھر وتر پڑھے۔ پھر جب آئندہ رات ہوئی تو ہم مسجد میں جمع ہوئے اور … تھے کہ ہم … حضرت ہماری طرف یہاں تک کہ صبح کی ہم نے روایت کی یہ حدیث ……(باقی صحیح نہیں لکھا ہوا)
    ۱؎ عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس من البر الصیام فی السفر (رواہ ابن ماجہ صفحہ۲۶۳۔ ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں سفر میں روزہ رکھنا کسی نیکی میں شمار نہیں ہے روایت کی یہ حدیث ابن ماجہ نے عن عبدالرحمن ابن عوف قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم … رمضان فی السفر کالمفطرف الحقراء رواہ ابن ماجہ جلد اوّل مطبوعہ مصر ۲۶۳ عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا … گہر میں روزہ افطار کرنے والے کے ہے۔ روایت کی یہ حدیث ابن ماجہ نے دیکھو جلد اوّل مطبوعہ مصر
     

اس صفحے کو مشتہر کریں