1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد1

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد1


    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدمت دین
    کے کئی ایک شعبے اور کئی ایک طریقے ہیں۔ مومن کا فرض ہے کہ خدمت دین کے ہر موقعہ اور ہر شعبہ میں حصہ لینے کی کوشش کرتا رہے۔ کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ کو کونسی خدمت پسند آ کر اس کی رضا کے حصول کا موجب ہو۔ اللہ تعالیٰ جو علیم بذات الصدور ذات ہے وہ خوب جانتا ہے کہ میں ہر حرکت خدمت کی ابتدا اسی نیت سے کرتا ہوں۔ البتہ الحاقی اور فہمی رنگ میں \فی الدنیا … بھی ضرور مقصود مدنظر رہتا ہے اور میں ہمیشہ اس کا پھل اسی دنیا میں اس رنگ میں بھی حاصل کرتا رہا ہوں کہ باوجود کم مائگی اور بے بضاعتی او بالکل بے سروسامانی کے بڑے سے بڑے کام حیر العقول رنگ میں انجام پذیر ہوتے رہے ہیں۔ جس کو میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان بیکراں یقین کرتا ہوں۔
    منجملہ ان ناچیز خدمات کے ایک یہ خدمت بھی ہے۔ قریباً آٹھ نو سال کا عرصہ گذرتا ہے کہ میں نے اس مقدس کام فتاویٰ کو شروع کیا تو لاہور میں مولوی محمد فضل خان صاحب چنگوی جو دراصل فتاویٰ احمدیہ کے پہلے موجد اور مؤلف ہیں ملے۔ ان سے میں نے ذکر کیا کہ میں نے فتاویٰ کا کام اس طرح شروع کیا ہے کہ ہر ایک فتویٰ کا اصل حوالہ بھی ساتھ ہی درج کر دیا جاوے تا کہ مستند ہو جائیں۔ اس پر انہوں نے مجھے فرمایا کہ اب میں نہج المصلی فتاویٰ احمدیہ شائع کر رہا ہوں۔ اس میں میں نے اس امر کا لحاظ رکھ لیا ہے، تو میں نے یہ سن کر اپنی سرگرمیوں کو ملتوی کر دیا۔
    مگر بعد میں جب چنگوی صاحب کی نہج المصلی نکلی تو میرے افسوس کی کوئی حد نہ رہی کہ ایسی مفید کتاب کو انہوں نے اپنے ایک طول طویل عربی مضمون سے غیر معمولی طور پر مجیم اور ضخیم کر دیا اور پھر بھی وہ حصہ نامکمل رہا اگر وہ اس عربی حصہ کو شامل نہ بھی کرتے تب بھی میرے منشاء کے مطابق وہ نہ تھی کیونکہ میرا منشا صرف حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے فتاویٰ کو الگ طور پر انتخاب کر کے شائع کرنا تھا۔ مگر چنگوی صاحب کی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ دیگر بزرگان سلسلہ کے فتاویٰ بھی جمع کئے گئے تھے کیونکہ جو طغرای امتیاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو حاصل ہے وہ اوروں کے کلام کو میسر نہیں ہو سکتا۔ حضرت صاحب صرف مفتی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حَکم و عدل اور مامور کی حیثیت سے مسئلہ کی کنہ اور حقیقت کو معقولی طور پر پوری بیان فرما کر سائل کو اس امر سے بکلّی مستغنی فرما دیتے ہیں کہ وہ یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں فرمایا بلکہ وہ خود معقولی طور پر ہر میدان میں ان مسائل کو نہ صرف بیان ہی کر سکتا ہے بلکہ حضرت صاحب کے طرز بیان سے تمام مسائل کے حل کرنے کے لئے ایسے آسان ترین اصول اور قواعد سائل کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں کہ ان فتاویٰ کو پڑھ کر اور سمجھ کر پھر کسی مسئلہ کے لئے کسی مفتی سے زیادہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ میں علیٰ وجہ البصیرت یہ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت صاحب کے فتاویٰ کے مطالعہ سے شریعت اسلام کا مغز، حقیقت و عظمت اس قدر دل میں گڑ جاتی ہے کہ دل سے بے اختیار بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود شریف … ہے کہ اس محسن اعظم کے ذریعہ ایسی پاک تعلیم ہم کو نصیب ہوئی۔ اگر کوئی شخص ضد اور تعصب سے بالکل آنکھیں نہ بند… توصرف اسی فتاویٰ کے مطالعہ سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایمان اور عرفان کا مرتبہ دیکھ سکتا ہے۔… سے دعا ہے کہ میری یہ ناچیز محنت نافع الناس ثابت ہو کر میرے لئے موجب رضائے الٰہی ہو۔ آمین
    خاکسار
    فخر الدین ملتانی 2-9-1935
    ٭ جن فتووں کے اصل حوالہ جات میسر نہیں آ سکے ان کے آگے پرانے فتاوی احمدیہ مؤلفہ … کے صفحات کا حوالہ دینے پر اکتفاکیا گیا ہے۔ (فخر ملتانی)




    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    (۱) عقائد، عبادات اور معاملات کے ماخذ
    از حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کیلئے تین چیزیں ہیں۔
    (۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی قطعی اور یقینی نہیں۔ وہ خدا کا کلام ہے۔ وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔
    (۲) دوسری سنت اور جس جگہ ہم اہلحدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں۔ یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے۔ جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت اور چیز ہے۔ سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی۔ یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں۔
    (۳) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریباً ڈیڑھ سَو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعہ سے جمع کئے گئے ہیں۔ پس سنت اور حدیث میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ سنت ایک عملی طریق ہے۔ جو اپنے ساتھ تواتر رکھتا ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا اور وہ یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے ایسا ہی سنت کی اقامت کیلئے بھی مامور تھے۔ پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے۔ یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجا لائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا۔ مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں کے لئے یہ رکعات ہیں۔ ایسا ہی حج کر کے دکھلا دیا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔ پس عملی نمونہ جو اب تک اُمت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی کا نام سنت ہے۔ لیکن حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی اہتمام کیا۔ کچھ حدیثیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمع کی تھیں لیکن پھر تقویٰ کے خیال سے انہوں نے وہ سب حدیثیں جلا دیں کہ یہ میرا سماع بلاواسطہ نہیں ہے۔ خدا جانے اصل حقیقت کیا ہے۔ پھر جب وہ دَور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا گزر گیا تو بعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہئے۔ تب حدیثیں جمع ہوئیں۔ اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پرہیز گار تھے۔ انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو ان کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی۔ بہت محنت کی مگر تاہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہے باایں ہمہ سخت ناانصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور نکمی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔ یہودیوں میں بھی حدیثیں ہیں اور حضرت مسیح کے مقابل پر بھی وہی فرقہ یہودیوں کا تھا جو عامل بالحدیث کہلاتا تھا۔ لیکن ثابت نہیں کیا گیا کہ یہودیوں کے محدثین نے ایسی احتیاط سے وہ حدیثیں جمع کی تھیں جیسا کہ اسلام کے محدثین نے۔ تا ہم یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اُس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے ناآشنا تھے کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے ان میں پیدا ہوگیا تھا۔ تمام حدود اور فرائض اسلام ان کو سکھا دیئے تھے۔ اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجودبھی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی تعلیم کا کچھ بھی حرج نہ تھا کیونکہ قرآن اور سلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا۔ تا ہم حدیثوں نے اس نور کو زیادہ کیا۔ گویا اسلام نور علی نور ہو گیا اور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہوگئیں اور اسلام کے بہت سے فرقے جو بعد میں پیدا ہوگئے ان میں سے سچے فرقہ کو احادیث صحیحہ سے بہت فائدہ پہنچا۔ پس مذہب اسلم یہی ہے کہ نہ تو اس زمانہ کے اہلحدیث کی طرح حدیثوںکی نسبت یہ اعتقاد رکھا جاوے کہ قرآن پر وہ مقدم ہیں اور نیز اگر ان کے قصے صریح قرآن کے بیانات سے مخالف پڑیں تو ایسا نہ کریں کہ حدیثوں کے قصوں کو قرآن پر ترجیح دی جاوے اور قرآن کو چھوڑ دیا جاوے۔ بلکہ چاہئے کہ قرآن اور سنت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جاوے اور جو حدیث قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسروچشم قبول کیا جاوے۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ مبارک وہ جو اس کے پابند ہوتے ہیں۔ نہایت بدقسمت اور نادان۱؎ وہ شخص ہے جو بلحاظ اس قائدہ کے حدیثوں کا انکار کرتا ہے۔ (ریویو مباحثہ چکڑالوی صفحہ۲،۳)
    (۲) کتاب اللہ و سنت اور حدیث کے مدارج
    فرمایا کہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے تو وہ دو ذمہ داریاں لے کر آتا ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان کو امانت کے طور پر پہنچا دے۔ اوّل کلام الٰہی۔ دوئم کلام الٰہی کے موافق عمل کر کے دکھا دینا اور یہی دو باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل ہیں اور اسی کو کتاب اور سنت کہتے ہیں اور اب ایک تیسری بات ان دو کے ساتھ شامل کر لی گئی ہے وہ حدیث ہے۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ وہ تیسری شے یعنی حدیث جب تک ان دو یعنی کتاب اور سنت کے موافق نہ ہوگی ہم نہیں مانیں گے۔
    ان لوگوں نے دھوکا دہی کے طور پر سنت اور حدیث کو مخلوط کر کے ایک بنا دیا ہے۔ حالانکہ وہ دو جدا چیزیں ہیں۔ سنت اور شے ہے اور حدیث اور چیز۔ سنت کے معنی طریق اور عمل کے ہیں اور
    ۱؎حاشیہ: آج رات مجھے رؤیا میں دکھایا گیا کہ ایک درخت بار دار اور نہایت لطیف اور خوبصورت پھلوں سے لدا ہوا ہے اور کچھ جماعت تکلّف اور زور سے ایک بوٹی کو اس پر چڑھانا چاہتی ہے جس کی جڑ نہیں بلکہ چڑھا رکھی ہے وہ بوٹی افیتمون کی مانند ہے اور جیسے جیسے وہ بوٹی اس درخت پر چڑھتی ہے اس کے پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس لطیف درخت میں ایک کھجواہٹ اور … پیدا ہو رہی ہے اور جن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے ان کے ضائع ہونے کا سخت اندیشہ ہے بلکہ کچھ ضائع ہو چکے ہیں۔ تب میرا دل اس بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پگھل گیا اور میں نے ایک شخص کو جو ایک نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھا پوچھا کہ یہ درخت کیا ہے اور یہ بوٹی کیسی ہے جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دبا رکھا ہے۔ تب اس نے جواب میں مجھے یہ کہا کہ یہ درخت قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ بوٹی وہ احادیث اور اقوال وغیرہ ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائے جاتے ہیں اور ان کی کثرت نے اس درخت کو دبا لیا ہے اور اس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ منہ
    حدیث کا مفہوم صرف بات ہے۔ یعنی وہ باتیں جو لوگوں نے اپنے الفاظ میں مدتوں بعد جمع کیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اللہ تعالیٰ سے پاتے تھے۔ سنت کے طریق پر اسے بتا دیتے تھے۔ مثلاً نماز کا حکم ہوا۔ آپ نے نماز پڑھ کر بتا دی۔ ایسا ہی زکوٰۃ اور اس کے متعلق جملہ امور حج اور اس کے ارکان روزہ اور اس کے متعلقات غرض تمام امور جو اللہ تعالیٰ سے پاتے، ان کو کر کے دکھا دیتے۔ آپ کے اس عمل کا نام ہی سنت ہے جو حدیث سے بالکل الگ ہے اور قرآن شریف کی طرح سلسلہ تعامل میں یہ محفوظ ہے۔ کیا اگر حدیث نہ ہوتی تو ہمارے مخالف کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان نماز نہ پڑھتے یا روزہ نہ رکھتے یا حج نہ کرتے؟ نہیں نماز و روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ضروریات دین اسی طرح ہوتیں جیسے اب ہیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ حدیث کے زمانہ تک جو دو سَو برس تک کا زمانہ ہے مسلمانوں میں ضروریات دین پر عمل نہ ہوتا تھا اور جب تک بخاری اور مسلم مرتب نہ ہوگئیں مسلمان مسلمان نہ تھے۔ یہ تو قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے کیا آپ نے اس ذمہ واری کو پورا نہ کیا جو لے کر آئے تھے۔ قرآن میں سب کچھ ہے مگر نبوت کا استدلال لطیف ہوتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام سے جو معلوم ہوتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علم پا کر اپنے عمل سے دکھا دیتے۔ پس اس بات سے کبھی دھوکا نہ کھاؤ کہ حدیث اور سنت کو ایک قرار دو۔ حدیث وہ اقوال رطب و یابس ہیں جو پیچھے جمع ہوئے۔ ان میں وہی قابل اعتبار ہیں اور صحیح ہیں جو کتاب اور سنت کے مخالف اور منافی نہیں ہیں۔
    اگر کوئی سوال کرے کہ قرآن شریف سے نماز کی رکعتیں دکھاؤ ؟تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ ہمیں حدیث سے نہیں بلکہ سنت سے معلوم ہوا ہے اور اگر حدیثیں ایسی ہی تھیں جیسے قرآن شریف تو پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذمہ واری میں فرق ڈالا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوکام کئے۔ اوّل قرآن سنا دیا اور پھر اپنے عمل سے دکھا دیا۔ چنانچہ اوّل کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اور دوسرے عمل کے متعلق یعنی سنت کے متعلق فرمایا دیا۔ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ اور دونوں کے مجموعہ اور نتیجہ کا نام اسلام ہوا۔ اب اگر کوئی یہ اعتراض کرتے کہ مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق سنت دکھاؤ تو اس کا جواب یہی ہے کہ سنت موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مَرکر دکھا دیا۔ ورنہ اگر اِدھر آسمان پر چڑھ جانا سنت انبیاء تھا تو آسمان پر اُڑ جاتے۔ مگر جیسے قرآن نے شہادت دی مسیح کی وفات پر اور آپ کی وفات پر اِنّکَ میّت وانّھُمْ میّتون آپ نے مر کر دکھا دیا اور مَامُحَمَّدٌ اِلاَّرَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرّسل کی تصدیق کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا اجماع آپ کی وفات پر حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی نسبت ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ کا استدلال کیسا لطیف تھا اور یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو خلیفہ ہونے والا ہے۔ اس کو لطیف استدلال اور نبوت کے انوار کا حصہ دیا جاتا ہے اور وہ ملکہ مخفی رہتا ہے۔ جب تک کہ وہ وقت نہ آ جائے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے ہوا۔ غرض خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتاب سنت اور حدیث کو ہرگز ہرگز ملانا نہیں چاہئے۔
    (الحکم ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ۲)
    ’’فرمایا کہ ہمارے نزدیک تین چیزیں ہیں۔ ایک کتاب اللہ دوسرے سنت یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور تیسرے حدیث۔ ہمارے مخالفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ سنت اور حدیث کو باہم ملایا ہے۔ ہمارا مذہب حدیث کے متعلق یہی ہے کہ جب تک وہ قرآن اور سنت کے صریح مخالف اور معارض نہ ہو اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ خواہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف سے ضعیف کیوں نہ ہو۔ جب ہم اپنی زبانوں میں دعا کر لیتے ہیں تو کیوں حدیث میں آئی ہوئی دعائیں نہ کریں۔ جب کہ وہ قرآن شریف کے مخالف بھی نہیں۔ قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانا سخت غلطی ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک بڑھیا نے حدیث پیش کی تو انہوں نے یہی کہا کہ میں ایک بڑھیا کے لئے قرآن نہیں چھوڑ سکتا۔ ایسا ہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ماتم کرنے سے مردہ کو تکلیف ہوتی ہے۔ تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے۔ لاتزروا زرۃ وزراخری۔ پس قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانے میں اہلحدیث نے سخت غلطی کھائی۔ اصل بات یہ ہے کہ اپنی موٹی عقل کی وجہ سے اگر کوئی چیز قرآن میں نہ ملے تو اس کو سنت میں دیکھو اور پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ جن باتوں میں ان لوگوں نے قرآن کی مخالفت کی ہے۔ خود ان میں اختلاف ہے۔ ان کی افراط تفریط نے ہم کو سیدھی اور اصل راہ دکھا دی۔ جیسے یہودیوں اور عیسائیوں کی افراط اور تفریط نے اسلام بھیج دیا۔
    پس حق بات یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعہ تواتر دکھا دیا اور حدیث ایک تاریخ ہے اس کو عزت دینی چاہئے۔ سنت کاآئینہ حدیث ہے۔
    یقین پر ظن کبھی قاضی نہیں ہوتا کیونکہ ظن میں احتمال کذب کا ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک قابل قدر ہے۔ انہوں نے قرآن کو مقدم رکھا ہے۔
    کتاب۔ سنت اور حدیث میں کتاب اللہ سب سے مقدم ہے جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور سنت کے معنی روشن اور راہ کے ہیں یا دوسرے لفظوں میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک عمل کہو جو کچھ آپ کو حکم ہوتا تھا آپ اسے کر کے دکھا دیتے تھے۔ اس کر کے دکھا دینے کا نام سنت ہے۔
    ان لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ سنت اور حدیث کو ایک ہی قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں الگ ہیں اور اگر حدیث جو آپ کے بعد ڈیڑھ سَو دو سَوبرس کے بعد لکھی گئی نہ بھی ہوتی تب بھی سنت مفقود نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ یہ سلسلہ تو جب سے قرآن نازل ہونا شروع ہوا ساتھ ساتھ چلا آتا ہے اور حدیث وہ اقوال ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے اور پھر آپ کے بعد دوسری صدی میں لکھے گئے۔ (الحکم ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱)
    (۳) حدیث کی ضرورت
    سوال: مولوی چکڑالوی کہتا ہے کہ حدیث کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ حدیث کا پڑھنا ایسا ہے جیسے کہ کتے کو ہڈی کا چسکا ہو سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ قرآن کے لانے میں اس سے بڑھ کر نہیں جیسا کہ ایک چپڑاسی یا مذکوری کا درجہ پروانہ سرکاری لانے میں ہوتا ہے۔
    از حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔
    جواب: ایسا کہنا کفر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بے ادبی کرتا ہے۔ احادیث کو ایسی حقارت سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ کفار تو اپنے بتوں کی جنتر منتر کو یاد رکھتے ہیں تو کیا مسلمانوں نے اپنے رسول کی باتوں کو یاد نہ رکھا۔ قرآن شریف پہلے سمجھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور اس پر آپ عمل کرتے تھے اور دوسروں کو عمل کراتے تھے۔ یہی سنت ہے اور اسی کو تعامل کہتے ہیں اور بعد میں ائمہ نے نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ اس سنت کو الفاظ میں لکھا اور جمع کیا اور اس کے متعلق تحقیقات اور چھان بین کی۔ پس وہ حدیث ہوئی۔ دیکھو بخاری اور مسلم کو، کیسی محنت کی ہے۔ آخر انہوں نے اپنے باپ دادوں کے احوال تو نہیں لکھے۔ بلکہ جہاں تک بس چلا صحت و صفائی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال یعنی سنت کو جمع کیا اور اکثر حدیثوں مثلاً بخاری کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں برکت اور نور ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی ہیں۔ مثلاً امامکم منکم کی حدیث کیسی صاف ظاہر کرتی ہے کہ مسیح تم میں سے ہوگا اور یہ عیسائیوں کا رد ہے کیونکہ عیسائی فخر کرتے تھے کہ عیسیٰ پھر آئے گا اور دین عیسوی کو بڑھائے گا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنایا کہ ہم نے اس کو آسمان پر دیگر فوت شدہ لوگوں میں دیکھا اور پھر فرمایا کہ جو آنے والا مسیح یہ وہ امامکم منکم ہوگا۔ غرض احادیث متعلق ایسا کلمہ نہیں بولنا چاہئے کہ اس کو قرآن اور تعامل سے بڑھ کر سمجھا جاوے بلکہ جو کچھ قرآن اور سنت کے مطابق حدیث میں ہو اس کو ماننا چاہئے کیونکہ جب حدیث کی کتابیں نہ تھیں تب بھی لوگ نمازیں پڑھتے تھے اور تمام شعائر اسلام بجا لاتے تھے۔ پس قرآن شریف کے بعد تعامل یعنی سنت ہے اور پھر حدیث ہے جو ان کے مطابق ہو۔
    مولوی محمد حسین نے پہلے اپنے رسالہ اشاعت السنۃ میں ایسا ہی ظاہر کیا تھا کہ جو لوگ خدا سے وحی اور الہام پاتے ہیں وہ اپنے طور پر براہ راست احادیث کی صحت کر لیتے ہیں۔ بعض وقت قواعد علم حدیث کی رُو سے ایک حدیث موضوع ہوتی ہے اور ان کے نزدیک صحیح اور ایک حدیث صحیح قرار دی ہوئی ان کے نزدیک موضوع۔ غرض بات یہ ہے کہ قرآن اور سنت اور حدیث تین مختلف چیزیں ہیں۔ (الحکم ۱۷؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱)
    (۴) حدیث کی عظمت
    حدیث پر میرا مذہب
    فرمایا۔ میرا مذہب یہ ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے۔ جب
    تک قرآن شریف سے متعارض نہ ہو تو مستحسن یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے۔ مگر نماز کے بعد دعا کے متعلق حدیث سے التزام ثابت نہیں۔ ہمارا تو یہ اصول ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے جو قرآن شریف سے مخالف نہ ہو۔ (الحکم ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱)
    (۵) حدیث کی اہمیت
    یہ ہم پر افترا کرتے ہیں کہ ہم حدیث کو نہیں مانتے حالانکہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر عمل کرلینا چاہئے۔ اگر وہ قرآن کے معارض نہ ہو۔ مگر وہ باوجودیکہ قرآن پر حدیث کو مقدم کرتے ہیں اور قاضی ٹھہراتے ہیں لیکن پھر بھی اس کی اتنی بڑی عزت نہیں کرتے۔ چنانچہ حنفی رفع یدین کی حدیثوں کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان پر عمل بُرا سمجھتے ہیں اور انہیں بیکار چھوڑتے ہیں۔ ایسا ہی دوسرے فرقوں کا حال ہے کہ وہ حدیث کی خود بھی عزت نہیں کرتے۔ پھر احادیث کو وہ خود طنی سمجھتے ہیں اور ظن وہ ہے جس میں احتمال کذب ہو۔ پھر ظن یقین (کتاب اللہ) پر حکم اور قاضی کس طرح ہو سکتا ہے۔ قرآن شریف مقبول فریقین ہے اور حدیث مقبول فریقین نہیں ہے۔
    ہم یہ بھی پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر اہتمام قرآن شریف کے لکھانے کا کیا ہے۔ احادیث کا کہاں کیا ہے؟ اور علاوہ بریں کوئی حدیث ہی ہم کو دکھاؤ جس میں آپ نے پیشگوئی کی ہو کہ میرے بعد فلاں فلاں شخص آئے گا اور وہ احادیث کو جمع کرے گا۔
    حدیث اور ہم
    ہمارا مذہب اور اعتقاد حدیث کے متعلق یہ ہے کہ ہم ہر حدیث کو جو قرآن شریف سے معارض اور سنت کے خلاف نہ ہو مانتے ہیں اور چاہتے ہیں
    کہ اس پر عمل کریںخواہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف سے ضعیف بھی ہو۔ اصل میں یہ تین چیزیں ہیں جو میں نے کئی بار بیان کی ہیں۔ (الحکم ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱)
    (۶) حدیث کے خلاف قرآن
    ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسی ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کے بنائے ہوئے فقہ پر اس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کر لیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں۔ لیکن ہو شیار رہیں کہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں۔ ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں۔ (الحکم ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۹)
    (۷) حدیث
    حدیث کے متعلق ہمارا مذہب یہ ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ بھی ہو تو اس پر عمل کر لیا جاوے۔ جب تک کہ وہ مخالف قرآن کریم نہ ہو۔ پھر سنت پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے رفع یدین پر کیوں عمل نہ کیا۔ کیا اس وقت حدیث کے راوی نہ تھے۔ راوی تو تھے مگر چونکہ یہ سنت اس وقت ان کو نظر نہ آئی اس لئے انہوں نے عمل نہیں کیا۔ مولویوں کی بدقسمتی ہے کہ یہود و نصاریٰ تو محرف و مبدل توریت کو لئے پھرتے ہیں اور یہ بجائے قرآن کریم کے حدیثوں کو لئے پھرتے ہیں۔ (البدر ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۹)
    حدیث
    ایک اور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک غلط بات ہے۔ قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور
    حدیث کا مرتبہ ظنی ہے۔ حدیث قاضی نہیں بلکہ قرآن اس پر قاضی ہے۔ ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے۔ اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہئے۔ حدیث کو اس حد تک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہو۔ لیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مرد و قول ہے۔ لیکن قرآن شریف کے سمجھنے کے واسطے حدیث ضروری ہے۔ قرآن شریف میں جو احکامِ الٰہی نازل ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عملی رنگ میں کر کے اور کرا کے دکھا دیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا۔ اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں نہ آ سکتا۔ لیکن اصل قرآن ہے۔ بعض اہل کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں ہوئیں یا موجودہ احادیث کی تصدیق کر لیتے ہیں۔
    (الحکم ۱۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ۴)
    (۸)مقلّد و غیر مقلّد
    فرمایا اس میں کیا شک ہے کہ مدارنجات و رضامندی حضرت باری عزاسمہٗ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ لیکن اس دوسری بات میں بھی کچھ شک نہیں کہ آج کل جو دو گروہ اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔ جن میں سے ایک گروہ اہلحدیث یا موحد کہلاتے ہیں اور دوسرے گروہ اکثر حنفی یا شافعی وغیرہ ہیں اور دونوں گروہ اپنے تئیں اہلسنت سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے ایک گروہ نے تفریط اور غلو کی وجہ سے چھوڑ بیٹھے ہیں۔ تفریط کا طریق موحدین نے اختیار کیا ہے۔ اس گروہ نے ہر ایک طبقہ کے مسلمان اور ہر ایک مرتبہ کی عقل کو اس قدر آزادی دے دی ہے۔ جس سے دین کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور درحقیقت اسی آزادی سے فرقہ نیچریہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت سیدنا نبی علیہ السلام اور خدا کے پاک کلام کی باقی نہیں رہی۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لایمسہ الاالمطھرون۔ اور ایسا ہی حدیث نبوی میں بھی ہے کہ تم دیکھ لیا کرو کہ اپنے دین کو کس سے لیتے ہو۔ پس یہ کیونکر ہو سکے کہ ہر ایک شخص جس کو ایک کامل حصہ تقویٰ کا بھی حاصل نہیں اور نہ وہ بصیرت اس کو عطا کی گئی ہے جو پاک لوگوں کو دی جاتی ہے۔ وہ جس طرح چاہے قرآن کے معنی کرے اور جس طرح چاہے حدیث کے معنی کرے۔ بلکہ بلاشبہ وہ ضلواواضلوا کا مصداق ہوگا۔ اگر یہی خدا تعالیٰ کا بھی منشا تھا کہ تمام لوگوں کو اس قدر آزادی دی جائے تو پھر انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی کچھ بھی ضرورت نہ تھی بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے صرف آسمان سے بغیر توسط کسی انسان کے قرآن شریف نازل ہو سکتا تھا۔ پس جب کہ یہ سلسلہ ہدایت الٰہی کا انسانی توسط سے ہی شروع ہوا ہے اور توسط ان لوگوں کا جو خدا سے ہدایت پاتے ہیں۔ پس اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہی طریق قیامت تک جاری رہے گا۔ اسی کی طرف اشارہ وہ حدیث کرتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر مجدد مبعوث ہوگا اور اس کی طرف یہ آیت کریمہ اشارہ کرتی ہے۔ انا نحن نزلنا الذکروانالہ لحافظون یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس دین کی محافظت اپنے ذمہ لی ہے۔ پس جب کہ خدا کے ذمہ اس دین کی محافظت ہے تو اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ محافظت کے بارہ میں جو قدیم قانون خدا کا ہے۔ اسی طریق اور منہاج سے وہ دین اسلام کی محافظت کرے گا۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً اور وہ طریق مجددین و مصلحین کا ہے۔ غرض موحدین نے تو حد سے زیادہ بے قیدی اور آزادی کا راستہ کھول دیا ہے۔ بغل میں مشکوٰۃ یا بخاری یا مسلم چاہئے اور عربی خوانی کی استعداد۔ پھر ایسے اشخاص کو حسب رائے موحدین کسی امام کی ضرورت نہیں۔
    اور فرقہ مقلدین اس قدر تقلید میں غرق ہیں کہ یہ تقلید اب بت پرستی کے رنگ میں ہو گئی ہے۔ غیر معصوم لوگوں کے اقوال حضرت سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔ صد ہا بدعات کو دین میں داخل کر لیا ہے۔ قراء ۃ فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجہر پر یوں چڑتے ہیں جس طرح ہمارے ملک کے ہندو بانگ نماز پر۔خوب جانتے ہیں کہ لَاصَلٰوۃَ اِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ حدیث صحیح ہے اور قرآن کریم فاتحہ سے ہی شروع ہوا ہے۔ مگر پھر اپنی ضد کو نہیں چھوڑتے۔ پس اس تنازع میں فیصلہ یہ ہے کہ اہل بصیرت اور معرفت اور تقویٰ اور طہارت کے قول اور فعل کی اس حد تک تقلید ضروری ہے۔ جب تک کہ ببداہت معلوم نہ ہو کہ اس شخص نے عمداً یا سہواً قرآن اور احادیث نبویہ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہر ایک نظر دقائق دنیا تک پہنچ نہیں سکتی۔ لاَ یَمَسُّہٗ اِلاَّ الْمُطَّھَّرُوْن۔ مطہر کا دامن پکڑنا ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی یہ شرط ہے کہ وہ شخص جس کی ان شرطوں کے ساتھ تقلید کی جاوے معضلات دین جو حالات موجودہ زمانہ کے موافق پیش آویں اس سے حل کر سکیں۔ اسی کی طرف اشارہ صداقت من لم یعرف امام زمانہ الخ کرتی ہے۔
    ہاں جس قدر ائمہ اربعہ رضی اللہ عنہم یا ان کے شاگردوں نے دین میں کوشش کی ہے حتی المقدور ان کی کوششوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور ان بزرگوں کے اجتہادات کو نیک ظن کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔ ان کا شکر کرنا چاہئے اور تعظیم اور نیکی کے ساتھ ان کو یاد کرنا چاہئے اور ان کی عزت اور قبولیت کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۵ ایڈیشن اوّل)
    (۹) قرآن میں حقیقی نسخ و حقیقی زیادت جائز نہیں
    محجوب لوگ قرآن کریم کے دقیق اشارات اور اسرار کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط اور استخراج کرنے پر قادر نہیں اس لئے وہ احادیث صحیحہ نبویہ کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ قرآن کریم پر کچھ زواید بیان کرتے ہیں۔ یا بعض احکام میں اس کی ناسخ ہیں اور نہ زواید بیان کرتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے بعض مجمل اشارات کی شارح ہیں۔ قرآن کریم آپ فرماتا ہے۔ مَانَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْ مِثْلِھَا یعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت ویسی ہی یا اس سے بہتر نہیں لاتے۔ پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرما دیا ہے کہ نسخ آیت کا آیت سے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ نسخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے۔ ہاں علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کی رُو سے مشہور حدیث سے آیت منسوخ ہو سکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محدثین خبر واحد سے بھی نسخ کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہوجاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے جائز ہے۔ لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے۔ یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے۔ نور الانوار جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ ۹۱ میں لکھا ہے۔ رُوِیَ عَنِ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَنَّہٗ بَعَثَ مَعَاذَ اِلَی الْیَمْنِ قَالَ لَہٗ بِمَا تَقْضِیْ یا معاذ فقال بکتاب اللّٰہ قال فان لم تجد قال بسنۃ رسول اللّٰہ قال فان لم تجد قال اجتھد برایٔ فقال الحمدللّٰہ الذی وفق رسولہ بما یرضٰی بہ رسولہ ـ لا یقال انہ یناقض قول اللّٰہ تعالیٰ مافرطنا فی الکتاب من شئی فکل شئی فی القران فکیف یقال فان لَمْ تَجِدْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ لاَ نَّانَقُوْلُ اِنَّ عَدْمَ الْوَجْدَانَ لَا یَقْضِیْ عَدَمَ کَوْنِہٖ فِیْ الْقُرانِ وَلِھٰذَا قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَانِ لَمْ تَجِدْ وَلَمْ یَقُلْ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِی الْکِتَابِ۔ اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے۔ کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے مویّد ہیں بیان کئے جائیں تو اس کے لئے ایک دفتر چاہئے لہٰذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں کیونکہ وحی غیر متلوکی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اس شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو۔ ہر ایک کا کام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جس کو ظلی طور پر عنایات الٰہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہٗ کا وعدہ ہے۔لاَ یَمْسّہٗ الاَّ الْمُطَّھَّروْن اور جیسا کہ وعدہ ہے یوتی الحکمۃ من یشاء ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً۔ اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔ سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔ گو عوام اور علمائے ظواہر کو اس طرف راہ نہیں لیکن ان کا اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مرویہ کے لئے بھی معیار اور محک ہے۔ قرآن کریم کا نام عام طور پر قول فیصل اور فرقان اور میزان اور امام اور حکم اور نور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جمیع اختلافات کے دور کرنے کا آلہ ٹھہرایا ہے اور فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل اور ہر ایک امر کا بیان ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۷)
    (۱۰) مسیح موعود کی بعثت کی غرض
    (از حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
    افترقت الامۃ وتشاجرت الملۃ فمنھم حنبلی وشافعی و مالکی و حنفی و حزب المتشیعین ولاشک ان التعلیم کان واحدًا ولا کن اختلف الاحزاب بعد ذٰلک ـ فترون کل حزب بمالدیھم فرحین وکل فرقۃ نبی لمذھبۃ قلعۃ ولایرید ان یخرج منھا ولو وجد احسن منھا صورۃ وکانوا لعماس اخوانھم متحصّنین فارسلئی اللّٰہ لا ستخلص الصیاصی واستد فی القاصی وانذر العاصی ویرتفع الاختلاف ویکون القران مالک النواصی وقبلۃ الدین ـ
    امت کے کئی فرقے بن گئے اور ملت میں اختلاف پیدا ہو گیا بعض حنبلی اور شافعی اور مالکی اور حنفی اور بعض اہل تشیع بن گئے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ابتدا میں تعلیم اسلام ایک ہی تھی لیکن بعد ازاں کئی مختلف گروہ بن گئے اور ہر گروہ اپنے عندیہ پر مسرور ہے ہر فرقہ نے اپنے مذہب کا ایک قلعہ بنا رکھا ہے اور اس سے نکلنا نہیں چاہتے اگرچہ اس سے بہتر صورت ان کو مل جاوے اور اپنے بھائیوں کی جہالت اور تاریکی کے قلعہ کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ اہل قلعہ کو خلاصی دوں اور دور کو نزدیک کرو اور سرکشوں کو عذاب الٰہی کی خبر سناؤں اور اختلاف رفع ہو جاوے اور قرآن کریم پیشانیوں کا مالک اور دین اسلام کا قبلہ ہو۔ (الہدی)
    (۱۱) حضر امام حنیفہؒ کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کی رائے
    امام بزرگ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بعض تابعین کو بھی دیکھا تھا اور وہ فانی فی سبیل اللہ اور علم دین کا ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیںہیں اس کا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے۔ امام بزرگ ابوحنیفہ کو علاوہ کمالات علم اثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں یدطولی تھا۔ حضرت مجدد الف ثانی پر خدا تعالیٰ رحمت کرے انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ امام اعظم صاحب کے آنے والے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۸، ازالہ اوہام)
    (۱۲) ارکان وضو
    (از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) وضو کرنا ہاتھ پیر اور منہ دھونا و مسح سر ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۹)
    (۱۳) وضو سے ازالہ گناہ
    (از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) یہ جو لکھا ہے کہ وضو کرنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے چھوٹے چھوٹے حکم بھی ضائع نہیں جاتے اور ان کے بجا لانے سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں۔ (نور القرآن دوم صفحہ۳۵)
    (۱۴) مسواک
    حضرت صاحب مسواک کو بہت پسند فرماتے ہیں اور علاوہ مسواک کے اور مختلف چیزوں سے دن میں کئی دفعہ دانتوں کو صاف کرتے ہیں اور نبی کریم صلعم کی بھی یہی سنت تھی۔ پس سب کو چاہئے کہ اس طرف بھی توجہ رکھا کریں۔ (بدر ۲۸؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۱۰)
    (۱۵) اذان کے وقت بات کرنا اور پڑھنا منع نہیں ہے
    عصر کی اذن ہوئی اور نواب صاحب اور مشیر اعلیٰ خاموش ہوگئے۔ حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اذن میں باتیں کرنی منع نہیں ہیں۔ آپ اگر کچھ اور بات پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھ لیں کیونکہ بعض باتیں انسان کے دل میں ہوتی ہیں اور وہ کسی وجہ سے ان کو نہیں پوچھتا اور پھر رفتہ رفتہ وہ بُرا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ جو شکوک پیدا ہوں ان کو فوراً باہر نکالنا چاہئے۔ یہ بُری غذا کی طرح ہوتی ہیں اگر نہ نکالی جائیں تو سوء ہضمی ہو جاتی ہے۔
    ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۲ء کو ایک شخص اپنا مضمون اشتہار دربارہ طاعون سنا رہا تھا۔ اذان ہونے لگی وہ چپ ہو گیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا۔ ’’پڑھتے جاؤ‘‘۔ (الحکم مئی ۱۹۰۲ء)
    (۱۶) بچہ کے کان میں اذن دینا
    سوال: بچہ کے کان میں اذان دینے کی کیا وجہ ہے؟
    جواب :(از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان کے اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ رسم اچھی ہے۔
    (بدر ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۱۷) نماز میں کسالت
    ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
    نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرمائی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔ مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔ تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو کہ جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ نماز کیا ہے یہی کہ اپنی عجزو نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا اس سے حاجات کا مانگنا۔ یہی نماز ہے۔ ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے۔ اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا۔ پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔ انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اس سے خواستگار ہو کیونکہ اس کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کاربند ہو کر تجھے راضی کرلیں۔ خدا کی محبت اسی کا خوف اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔ پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا۔ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سو رہنا۔ یہ تو دین ہرگز نہیں۔ یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل سو دم کافر والی بات بالکل درست اور صحیح ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے۔ اذکرو فی اذکر کم واشکر ولی ولاتکفرون یعنی اے میرے بندو۔ تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یادمیں مصروف رہا کرو۔ میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔ اس آیت سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے۔ پس جو دم غافل وہ دم کافر والی بات ہے۔ یہ پانچ وقت توخدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہوئے ہیں۔ ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہئے اور کبھی کسی وقت غافل نہ ہونا چاہئے۔ اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر امید اور بھروسا کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔ اصل میں قائدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے۔ اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا۔ سو خدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لمبی۔ پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۱ ایڈیشن اوّل)
    (۱۸) جو تارک نماز ہے وہ تارک ایمان ہے
    جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے۔ اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آ جاتا ہے۔ اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا۔ یا اسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا شروع کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرضِ زوال میں آئی ہے۔ وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں۔ غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔ جب اسے ترک کیا وہ خود متروک۱؎ ہوگئے ہیں درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے، ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کو حل اور آسان کر دیا ہوتا ہے۔ ایک عرض کرتا ہے التجا کے ہاتھ بڑھاتا
    ۱؎ وعن جابرؓ قال قال النبی ﷺ بین الکفر والایمان ترک الصلٰوۃ رواہ الترمذی۔ ترجمہ: روایت ہے جابرؓ سے کہ تحقیق نبی ﷺ نے فرمایا ہے درمیان کفر اور ایمان کے فرق ترک نماز ہے۔
    ہے۔ دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔ پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گزارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔ نمازی کا یہی حال ہے۔ خدا کے آگے سربسجود رہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے پھر آخری سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے۔ بھلا یہ بجز حقیقی نماز کے ممکن ہے، ہرگز نہیں اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئی گزرے ہیں۔ ان کا کیا دین اور کیا ایمان ہے وہ کس امید پر اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں۔
    (الحکم ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء)
    (۱۹) فجر کی سنتوں کے و فرضوں کے درمیان نوافل
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ نماز فجر کی اذان کے بعد دوگانہ فرض سے پہلے اگر کوئی شخص نوافل ادا کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔
    نماز فجر کی اذان کے بعد سورج نکلنے تک دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا اور کوئی نماز نہیں ہے۔ (بدر ۷ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۰) وجہ تعیین اوقات پنجگانہ نماز
    پنجگانہ نمازیں کیا ہیں۔ وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے۔ تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں جو بلا کے وقت تم پر نازل ہوتے ہیں اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وارد ہونا ضروری ہے۔
    ۱۔ پہلے جب کہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے۔ مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہو۔ یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہاری تسلی اور خوشحالی میں خلل ڈالا۔ سو یہ حالت زوال کے وقت سے مشابہ ہے کیونکہ اس سے تمہاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا۔ اس کے مقابل پر نماز ظہر متعین ہوئی جس کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔
    ۲۔ دوسرا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے جب کہ تم بلا کے محل سے بہت نزدیک کئے جاتے ہو۔ مثلاً جب تم بذریعہ وارنٹ گرفتار ہو کر حاکم کے سامنے پیش ہوتے ہو۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارا خوف سے خون خشک اور تسلی کا نور تم سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے۔ سو یہ حالت تمہاری اس وقت سے مشابہ ہے جب کہ آفتاب سے نور کم ہو جاتا ہے اور نظر اس پر جم سکتی ہے اور صریح نظر آتا ہے کہ اب اس کا غروب نزدیک ہے۔ اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عصر مقرر ہوئی۔
    ۳۔ تیسرا تغیر تم پر اس وقت آتا ہے جو اس بلا سے رہائی پانے کی بکلّی امید منقطع ہو جاتی ہے۔ مثلاً جیسے تمہارے نام فرد قرار داد جرم لکھی جاتی ہے اور مخالفانہ گواہ تمہاری ہلاکت کے لئے گزر جاتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ جب تمہارے حواس خطا ہو جاتے ہیں اور تم اپنے تئیں ایک قیدی سمجھنے لگتے ہو۔ سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جب کہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور تمام امیدیں دن کی روشنی کی ختم ہو جاتیں ہیں۔ اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز مغرب ہے۔
    ۴۔ چوتھا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے کہ جب تم پر بلا وارد ہی ہو جاتی ہے اور اس کی سخت تاریکی تم پر احاطہ کر لیتی ہے۔ مثلاً جب کہ فرد قرار داد جرم اور شہادتوں کے بعد حکم سزا تم کو سنایا جاتا ہے اور قید کیلئے ایک پولیس مین کے تم حوالے کئے جاتے ہو۔ سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جب کہ رات پڑ جاتی ہے اور ایک سخت اندھیرا پڑ جاتا ہے۔ اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عشا مقرر ہے۔
    (۵) پھر جب کہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو۔ تو پھر آخر خدا کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمہیں اس تاریکی سے نجات دیتا ہے۔ مثلاً تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔ سو اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہوئی ہے اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدہ کیلئے ہیں۔ پس اگر تم ان بلاؤں سے بچے رہو تو تم پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہاری اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں۔ نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے۔ تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قضا و قدر کو تمہارے لئے لائے گا۔ پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیرو برکت کا دن چڑھا ہے۔ (کشتی نوح صفحہ ۲۴ و ۲۵)
    (۲۱) عمدًا نماز کا تارک ۱؎کافر ہے
    تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْامِنَ الْمُشْرِکِیْنَ لکھا ہے۔ کہ کتاب تفسیر میں شیخ محمد ابن طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کچھ مجھ سے روایت کرو۔ پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو۔ اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی۔ ورنہ نہیں۔ سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا۔ مجھے یہ آیت ملی۔ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْامِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ یعنی نماز قائم کرو اور مشرک نہ بنو۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۴)
    (۲۲) غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو
    مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۱ء کو کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے۔
    جواب: حضرت نے فرمایا:۔
    جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ پر جو مصائب ہیں اس سے لاپروا پڑے ہیں۔ ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ یعنی خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔ اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔ قدیم سے بزرگان دین کا یہی مذہب ہے کہ جو شخص حق کی مخالفت کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔ جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جائے گا۔ انجام ایک ہی ہے۔ پہلے تخالف ہوتا ہے۔ پھر اجنبیت پھر عداوت پھر غلو اور آخر کار سلب ایمان ہو جاتا ہے۔ یہ معمولی اور چھوٹی سی بات نہیں بلکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے۔جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔ میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول اللہ
    ۱؎ عن جابرؓ عنہ قال قال رسول اللّٰہ بین الرجل و بین الشرک ترک الصلوٰۃ (رواہ مسلم) ترجمہ: روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہا۔ فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرق درمیان مرد اور درمیان شرک اور کفر کے چھوڑ دینا نماز کا ہے۔
    صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے جب کہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھنے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدۂ اِنَّ نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَ اِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا۔ جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف۱؎ میںوعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا۔ مگر اس نے معاذ اللہ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اور اس وقت کوئی خلیفہ اس اُمت میں نہیں اور نہ صرف یہاں تک ہے بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ معاذ اللہ کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کیلئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی کے سر پر اس اُمت میں سے ایک مسیح پیدا ہوتا۔ اسی طرح جیسے موسوسی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا۔ اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی بلکہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے۔ یہ میں از خود نہیں کہتا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے۔ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَامِنْکَ بے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی ہے اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا
    ۱؎ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ و عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الّذِیْ ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰئکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ۔ (۱۳:۱۸) ترجمہ: وعدہ کرتا ہے خدا تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے۔ البتہ ان کو خلیفہ کرے گا زمین میں جیسا کہ اس نے خلیفہ بنایا ان سے پہلوں کو اور ان کو … دے گا ان کا دین جو ان کے لئے خدا تعالیٰ کو پسند ہے اور ان کو خوف سے امن بدل دے گا۔ ان کو چاہئے کہ میری عبادت کریں۔ میرے ساتھ کچھ بھی شریک نہ کریں اور جو کوئی ان خلفا کی خلافت کے علامات و نشانات ظاہر ہونے کے بعد انکار کرے۔ ایسے لوگ سرکش اور بے راہ ہیں۔
    ہے اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔ اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرأت کرے۔ ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے۔ اس طرح پر کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد۱؎ آئے گا۔ وہ معاذ اللہ جھوٹا نکلا اور پھر آپ نے جو اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۲؎ فرمایا تھا۔ وہ بھی معاذ اللہ غلط ہوا ہے اور آپ نے جو صلیبی۳؎ فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی وہ بھی معاذ اللہ غلط نکلی۔ کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا۔ اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا عملی طور پر کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ٹھہرے گا یا نہیں۔ پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں۔ مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر بننا ہوگا۔ مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہوگی۔ مگر پہلے اپنی گمراہی اور روسیاہی کو مان لینا پڑے گا۔ مجھے، قرآن اور حدیث کو چھوڑنے والا کہنے سے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑ دینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔
    ۱؎ اِنَّ اللّٰہُ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الَّاُمَّۃِ عَلٰی رَأسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّ دُلَھَا دِیْنَھَا(رواہ ابوداود) ترجمہ: تحقیق خدا تعالیٰ ہر صدی کے سر پر کوئی ایسا شخص اس امت کے لئے بھجتا رہے گا جو اس صدی کے دین اسلام کو تازہ کرے گا۔ روایت کی یہ حدیث ابوداؤد نے۔
    ۲؎ قال رسول اللّٰہ ﷺکیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم و امامکم منکم۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ کہ کیا ہوگا تمہارا حال اس وقت جب کہ ظاہر ہوگا تم میں ابن مریم کیصفت کا آدمی۔ اور وہ میری اُمت میں سے تمہارا امام ہوگا۔ روایت کی یہ حدیث بخاری نے۔ (رواہ البخاری)
    ۳؎ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الذی نفسی بیدہ لیوشک ان ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عَدَ لاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضح الحرب۔ الخ۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں… قریب ہے کہ تم میں ایک شخص ابن مریم کی صفت کا حاکم عادل ظاہر ہوگا۔ پس وہ صلیبی مذہب کی طاقت کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور مذہبی لڑائی موقوف کرے گا۔ دیکھو لفظ نزول کے معنی کلام الٰہی میں سورہ اعراف: قَدْاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لبَاسًا یعنی ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا۔
    سورہ حدید: وَاَنْزَلَنَا الْحَدِیْدَ۔ اور پیدا کیا ہم نے لوہا۔ سورہ طلاق: قَدْاَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا رَّسُوْلاً تحقیق خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے پنددینے والا رسول پیدا کیا۔ دیکھو مذکورہ بالا آیات میں لفظ نزول و انزال کے معنی آسمان سے اُترنے و اُتارنے کے نہیں ہیں۔ بلکہ ظاہرہ پیدا ہونے و کرنے کے بھی آئے ہیں۔
    میں قرآن اور حدیث کا مصدق و مصداق ہوں۔ گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں۔ میں کافر نہیں بلکہ انا اوّل المؤمنین کا مصداق ہوں اور یہ جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ یہ سچ ہے۔ جس کو خدا پر یقین ہے، جو قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کو مانتا ہے اس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ وہ میرے منہ سے سن کر خاموش ہو جائے لیکن جو دلیر اور بیباک ہے اس کا کیا علاج، خدا خود اس کو سمجھا جائے گا۔ (الحکم ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۸)
    (۲۳) غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی سخت تاکید
    مورخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۰۲ء کو اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق ذکر تھا۔ فرمایا صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتر اور نیکی اسی میں ہے۔ اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا دار روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔ تم اگر رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت اگر الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔
    (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ۳)
    (۲۴)
    مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۰۱ء کو سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب کو جاتا ہوں۔ وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں۔ فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا۔ پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔ فرمایا۔ تم خدا کے بنو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔ کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اورتکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے۔ کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے۔ کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسروں فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلّی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جاویں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حَکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ مگر جو مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جان لو کہ وہ مجھ میں سے نہیں کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں۔ عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔
    (اربعین نمبر۳ صفحہ۳۴ حاشیہ)
    (۲۵)
    مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو خان محمد عجب خاں صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی او ناواقف ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں۔ فرمایا۔ اوّل تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں اور جہاں ایسی صورت ہو کہ لوگ ہم سے اجنبی اور ناواقف ہوں تو ان کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کر کے دیکھ لیا۔ اگر تصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں۔ اکیلے پڑھ لو۔ خدا تعالیٰ اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے۔ پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الٰہی کی مخالفت ہے۔
    (الحکم ۲۴؍ستمبر۱۹۰۱ء، بدر ۳؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۳۱، بدر؍۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۳)
    (۲۶) غیر احمدی کے پیچھے نماز ہرگز نہیں ہوتی
    کسی کے سوال پر فرمایا:۔
    مخالف کے پیچھے نماز بالکل نہیں ہوتی۔ پرہیزگار کے پیچھے نماز پڑھنے سے آدمی بخشا جاتا ہے۔ نماز تو تمام برکتوں کی کنجی ہے۔ نماز میں دعا قبول ہوتی ہے۔ امام بطور وکیل کے ہوتا ہے۔ اس کا اپنا دل سیاہ ہو تو پھر وہ دوسروں کو کیا برکت دے گا۔ (الحکم ۲۱؍ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ۴)
    (۲۷)
    سوال: ایسے لوگوں کی نسبت سوال ہوا جو نہ مکفر ہے، نہ مکذب اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔
    جواب: فرمایا۔ اگر وہ منافقانہ رنگ میں ایسا نہیں کرتے جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ’’بامسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام‘‘ تو وہ اشتہار دے دیں کہ ہم نہ مکذب ہیں، نہ مکفر بلکہ بزرگ، نیک ولی اللہ سمجھتے ہیں اور مکفرین کو اس لئے کہ وہ ایک مومن کو کافر کہتے ہیں۔ کافر جانتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو کہ وہ سچ کہتے ہیں۔ ورنہ ہم ان کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں اور کیونکر ان کے پیچھے نماز کا حکم دے سکتے ہیں۔ گر حفظ مراتب نکنی زندیقی نرمی کے موقع پر نرمی اور سختی کے موقع پر سختی کرنی چاہئے۔ فرعون میں ایک قسم کا رُشد تھا اور اسی رُشد کا نتیجہ تھا کہ اس کے منہ سے وہ کلمہ نکلا جو صدہا ڈوبنے والے کفارکے منہ سے نہیں نکلا۔ یعنی اٰمنت بالذی لا الٰہ الاھو اس کے ساتھ نرمی کا حکم ہو۔ قولاً لہ قولاً لینا اور دوسری طرف نبی کریم کو فرمایا۔ واغلظ علیھم۔ معلوم ہوتا ہے ان لوگوں میں بالکل رُشد نہ تھا۔ پس ایسے معترضین کے ساتھ صاف صاف بات کرنی چاہئے تا کہ ان کے دل میں جو گند و خبث پوشیدہ ہے نکل آئے اور ننگ جماعت نہ ہوں۔
    (البدر ۲۳؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ۱۲)
    (۲۸) تعداد رکعات فریضہ پنجگانہ
    کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دو رکعت ہیں اور مغرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۹)
    (۲۹) سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت
    سورہ فاتحہ کی پہلی آیت بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ہے۔ سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں۔ پس ہر ایک آیت گویا ہر ایک دروازے سے بچاتی ہے۔
    (۳۰) طریق دعائے نماز
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں دعا سکھلائی ہے۔ یعنی اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اس میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں۔
    ۱۔ ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے۔
    ۲۔ تمام مسلمانوں کو۔
    ۳۔ ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔
    اس طرح کی نیت میں کل نوع انسان اس میں داخل ہونگے اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس سے پہلے اس صورت میں اس نے اپنا نام رب العلمین رکھا ہے جو ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے جس میں حیوانات بھی داخل ہیں۔ پھر اپنا نام رحمٰن رکھا ہے اور یہ نام مومنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔ پھر رحیم کا لفظ مومنوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام مالک یوم الدین رکھا ہے اور یہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ یوم الدین وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیں حاضر ہونگی۔ سو اسی تفصیل کے ساتھ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا ہے۔ پس اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا میں تمام نوع انسان کی ہمدردی داخل ہے اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۲۰)
    (۳۱) نماز انسان کا تعویذ ہے
    پانچ وقت دعا کا موقعہ ملتا ہے۔ کوئی دعا تو سنی جائے گی۔ اس لئے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہئے اور مجھے بھی بہت عزیز ہے۔ نماز انسان کا تعویذ ہے۔
    (۳۲) نماز میں جواب دینا
    مورخہ ۲۹؍ نومبر ۱۹۰۴ء کو ایک شخص نے سوال ذیل پیش کیا:
    سوال: اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آ جاوے اور دروازہ کو ہلاہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہئے۔ اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کرہندوستان واپس چلا گیا۔
    جواب: ( از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔ احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو تی۔ ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو۔ ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو مار دینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ اشد ضرورتوں کے لئے نازک مواقع پر یہ حکم ہے۔ یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھ کر نماز کی پروا نہ کی جاوے اور اسے بازیچہ طفلاں بنا دیا جائے۔ نماز میں اشغال کی سخت ممانعت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک دل اور نیت کو بخوبی جانتا ہے۔ (الحکم دسمبر ۱۹۱۴ء)
    (۳۳) حج میں احمدی کی نماز و کعبہ میں چار مصلے
    حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے۔ یہ چار مصلے جواب ہیں۔ یہ تو پیچھے بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہرگز نہ تھے۔ اس وقت ایک ہی مصلّٰے تھا اور اب بھی جب تک چار دن اُٹھ کر ایک ہی مصلّٰے نہ ہوگا تب تک وہاں توحید اور راستی ہرگز نہ پھیلے گی۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۲۱)
    (۳۴) امام کا لمبی سورتیں پڑھنا
    ۱۶؍اپریل ۱۹۰۵ء کو کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔
    ’’امام کو چاہئے کہ نماز میں ضعفاء کی رعایت رکھے‘‘۔ (بدر ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۹)
    (۳۵) امام مقتدیوں کا خیال رکھے
    سوال پیش ہوا کہ ایک پیش امام ماہ رمضان میں مغرب کے وقت لمبی سورتیں شروع کر دیتا ہے۔ مقتدی تنگ آتے ہیں کیونکہ روزہ کھول کر کھانا کھانے کا وقت ہوتا ہے۔ دن بھر کی بھوک سے ضعف لاحق حال ہوتا ہے۔ بعض ضعیف ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیش امام اور مقتدیوں میں اختلاف ہو گیا ہے۔
    حضرت اقدس نے فرمایا کہ:
    ’’پیش امام کی اس معاملہ میں غلطی ہے اس کو چاہئے کہ مقتدیوں کی حالت کا لحاظ رکھے اور نماز کو ایسی صورت میں بہت لمبا نہ کرے‘‘۔ (البدر ۳۱؍ ۱۹۰۷ء)
    (۳۶) امام کے کھڑا ہونے کی جگہ
    ذکر ہوا کہ چکڑالوی کا عقیدہ ہے کہ نماز میں امام آگے نہ کھڑا ہو بلکہ صف کے اندر ہو کر کھڑا ہو۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
    ’’امام کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ وہ آگے کھڑا ہو۔ یہ عربی لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں۔ وہ شخص جو دوسرے کے آگے کھڑا ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ چکڑالوی زبان عربی سے بالکل جاہل ہے‘‘۔
    (۳۷)
    سوال: پیل پایوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں۔
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا: اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہئے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ خدا کی رضا مندی کے موافق خلوص دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ ان باتوں کی طرف کوئی خاص خیال نہیں کرتا۔
    (البدر ۱۳؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۱۰)
    (۳۸) ایسے احمدی کی امامت جو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھے
    ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک حضور کا مرید ہے۔ وہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے اور کبھی کبھی ہمارا امام بننے کا بھی اس کو اتفاق ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
    ’’جب کہ وہ لوگ ہم کو کافر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم ان کو کافر کہنے میں غلطی پر ہیں تو ہم خود کافر ہیں تو اس صورت میں ان کے پیچھے نماز کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ ایسا ہی جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے جب تک توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو‘‘۔ (بدر ۲۳؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۱۰)
    (۳۹) غسال کے پیچھے نماز
    ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ غسال کو پیش امام بنانا جائز ہے۔
    حضرت نے فرمایا:
    ’’یہ سوال بے معنی ہے۔ غسال ہونا کوئی گناہ نہیں۔ امامت کے لائق وہ شخص ہے جو متقی ہو، عالم باعمل ہو، اگرایسا ہے تو غسال ہونا کوئی عیب نہیں جو امامت سے روک سکے‘‘۔
    (۴۰) نماز و روزہ کا اثر روح و جسم پر
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ:
    روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔ روزہ کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔ نماز سے سوز وگداز پیدا ہوتی ہے۔ اس واسطے وہ افضل ہے۔ روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جوگیوں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے اس میں کوئی شامل نہیں۔ بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔ اے نادانو خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔ خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔ نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الٰہی ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۳)
    (۴۱) ادب مسجد
    حضرت اقدس امام الزمان کے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب اپنے دوسرے بھائیوںکے ساتھ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آگئے اور اپنے ابا جان کے پاس ہو بیٹھے اور اپنے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آ جانے پر آپ دبی آواز سے کھل کھلا کر ہنس پڑتے تھے۔ اس پر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’مسجد میں ہنسنا نہ چاہئے‘‘۔ جب دیکھا کہ ہنسی ضبط نہیں ہوتی تو اپنے باپ کی نصیحت پر یوں عمل کیا کہ صاحبزادہ صاحب اسی وقت اُٹھ کر چلے گئے۔
    (۴۲) مسجد کا حصہ مکان میں ملانا
    ایک شخص نے سوال لکھ کر بھیجا کہ میرے دادا نے مکان کے ایک حصہ ہی کو مسجد بنایا تھا اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی تو کیا اس کو مکان میں ملا لیا جاوے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’ہاں ملا لیا جاوے‘‘۔ (الحکم۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۱۱)
    (۴۳) کسی مسجد کیلئے چندہ
    کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبرکاً آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔ حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ:
    ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں مگر جب کہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔ یہاں جو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے۔ وہ سب سے مقدم ہے۔ اب لوگوں کو چاہئے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔ ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے۔ نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔ انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ دے نہیں سکتا۔ حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیتے۔ اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے بہت نہیں مانگتے صرف تبرکًا کچھ دے دیجئے۔ آخر انہوں نے ایک دو آنے کے قریب سکہ دیا۔ شام کے وقت وہ شخص دو آنے لے کر واپس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت یہ تو کھوٹے نکلے ہیں۔ وہ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا۔ خوب ہوا۔ دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں۔ مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔ (الحکم ۲۴؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۹)
    (۴۴) مسجد کی زینت
    از حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر حضرت امام مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:
    مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔ مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جاویں۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۲۴، الحکم ۱۹۰۱ء)
    (۴۵) نماز میں اپنی زبان میں دعا
    سوال: آیا نماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا جائز ہے۔
    جواب: (از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سب زبانیں خدا تعالیٰ نے بنائیں ہیں چاہئے کہ انسان اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے نماز کے اندر دعائیں مانگے کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔ کلام الٰہی کو عربی میں پڑھو اور اس کے معنی یاد رکھواور دعا بے شک اپنی زبان میں مانگو۔ جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں کرتے ہیں وہ حقیقت سے ناآشنا ہیں۔ دعا کا وقت نماز ہے۔ نماز میں بہت دعائیں مانگو۔
    (بدر یکم اگست ۹۱۰۷ء صفحہ۱۲، بدر ۲؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۴۶)
    سوال: ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور! امام اگر اپنی زبان میں ’’مثلاً اُردو میں‘‘ بآواز بلند دعا مانگتا جاوے اور پیچھے آمین کہتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے۔ جب کہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو۔
    جواب: دعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ تضرعًا و خفیۃ اور دون الجھر من القومل۔ عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں۔ فرمایا۔ ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آ چکی ہیں۔ وہ بے شک پڑھ لی جاویں۔ باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل میں ہی پڑھنی چاہئیں۔ (البدر یکم اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲)
    (۴۷) نماز کے اندر مقامات دعا اور ہر زبان میں دعا
    از حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ نماز کے اندر ہی اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔ سجدہ۱؎ میں، بیٹھ کر رکوع میں،کھڑے ہو کر ہر مقام پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرو۔ بے شک پنجابی زبان میں دعائیں کرو۔ جن لوگوں کی زبان عربی نہیں اور عربی سمجھ نہیں سکتے ان کے واسطے ضروری ہے کہ نماز کے اندر ہی قرآن شریف پڑھنے اور مسنون دعائیں عربی میں پڑھنے کے بعد اپنی زبان میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور عربی دعاؤں کا اور قرآن شریف کا بھی ترجمہ سیکھ لینا چاہئے۔ نماز کو صرف جنتر منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اس کے معانی اور حقیقت سے معرفت حاصل کرو۔ خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ ہم تمہارے گنہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے۔ تو ہم کو معاف کر اور دنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔
    (بدر ۲۶؍ جنوری ۱۹۰۶ء)
    (۴۸) دعا میں صیغہ واحد کو جمع کرنا
    ایک دوست کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں ایک مسجد میں امام ہوں۔ بعض دعائیں جو صیغہ واحد متکلم میں ہوتی ہوں یعنی انسان کے اپنے واسطے ہی ہو سکتی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو صیغہ جمع میں پڑھ کر مقتدیوں کو بھی اپنی دعا میں شامل کر لیا کروں۔ اس میں
    ۱؎ عن عباس قال کان رسول اللّٰہﷺ یقول بین السجدتین فی صلوۃ اللیل رب اغفرلی وارحمنی واجبرنی وارزقنی ورفعنی۔ (رواہ ابن ماجہ)
    کیا حکم ہے۔
    جواب: فرمایا۔ جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں۔ ان میں کوئی تغیر جائز نہیں کیونکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ وہ جس طرح قرآن شریف میں ہے۔ اسی طرح پڑھنا چاہئے۔ ہاں حدیث میں جو دعائیں آئی ہیں۔ ان کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحد کے بجائے صیغہ جمع پڑھ لیا کروں۔
    (بدر ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء)
    (۴۹) نماز کے بعد دعا بدعت ہے
    آج کل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ بدعت ہے۔ جس نماز میں تضرع نہیں، خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں، خدا تعالیٰ سے رقت کے ساتھ دعا نہیں، وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔ نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزا آ جائے۔ خدا کی حضوری میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جاؤ کہ رقت طاری ہو جاوے۔ جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتا ہے اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ ایسے ہی خوف زدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہئے۔ جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک *** ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ویل للمصلین الذین ھم عن صلا تھم ساھون یعنی *** ہے ان نمازیوں پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آ جاوے۔ ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔ نماز مومن کی ترقی کا ذریعہ ہے۔ اِنَّ اْلْحَسَنَاتَ یُذْھِبن السَّیِّاَتِ نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتا ہے۔ تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھاتا ہے۔ خداتعالیٰ تو خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگو اور میں تمہیں دوں گا۔ (بدر یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۴)
    (۵۰) حاجت کے وقت رسول اللہ صلعم کا طریق دعا
    جب کبھی کسی امر کے واسطے دعا کی ضرورت ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ آپ وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جاتے اور نماز کے اندر دعا کرتے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۲۸)
    (۵۲) نماز میں امام کے سلام سے پہلے سلام پھیرنا
    ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو نماز مغرب میں آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے پیش امام صاحب کا آواز آخری صفوں تک نہ پہنچ سکنے کے سبب درمیانی صفوں میں سے ایک شخص حسب معمول تکبیر کا بآواز بلند تکرار کرتا جاتا تھا۔ آخری رکعت میں جب سب التحیات پر بیٹھے تھے اور دعاء التحیات اور درود شریف پڑھ چکے تھے اور قریب تھا کہ پیش امام صاحب سلام کہیں۔ مگر ہنوز انہوں نے سلام نہ کہا تھا کہ درمیان مکبر کو غلطی لگی اور اس نے سلام کہہ دیا۔ جس پر آخری صفوں کے نمازیوں نے بھی سلام کہہ دیا اور بعض نے سنتیں بھی شروع کر دیں کہ امام نے سلام کہا اور درمیانی مکبر نے جو اپنی پہلی غلطی پرآگاہ ہو چکا تھا۔ دوبارہ سلام کہا۔ اس پر ان نمازیوں نے جو پہلے سے سلام کہہ چکے تھے اور نماز سے فارغ ہو چکے تھے مسئلہ دریافت کیا کہ آیا ہماری نماز ہوگئی۔ یا ہم دوبارہ نماز پڑھیں۔ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب نے جو خود بھی پچھلی صفوں میں تھے اور امام سے پہلے سلام کہہ چکے ہوئے تھے فرمایا کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا جاچکا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ایسا ہو جاوے تو مقتدیوںکی نماز ہو جاتی ہے۔ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ (بدر ۲؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۲)
    (۵۳) عبادت اور احکام الٰہی کی دو شاخیں ہیں
    عبادت اور احکام الٰہی کی دو شاخیں ہیں۔ تعظیم لامراللہ اور ہمدردی مخلوق۔ سو میں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میںتو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے۔ مگر سورۃ فاتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں سوچتا ہی تھا کہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے۔ یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیںجو رب العلمین ہے اور مالک یوم الدین ہے۔ اب اس کے بعد اِیَّاکَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت، رحمانیت، رحمیت، مالکیت یوم الدین کے صفات کا پرتو انسان کو اپنے اندر لینا چاہئے کیونکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تخلقوا باخلاق اللّٰہ میں رنگین ہو جاوے۔ پس اس صورت میں یہ دونوں بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان ہوئے۔(فتاویٰ احمدیہ صفحہ۳۱)
    (۵۴) فاتحہ الامام پڑھنا ضروری ہے
    سوال: ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ کیا فاتحہ خلف الامام پڑھنا ضروری ہے۔
    جواب: فرمایا۔ ’’ضروری ہے‘‘۔
    (بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء ،۲۳؍مئی ۱۹۰۴ء،۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء)
    (۵۵) نماز میں طریق حصول حضور
    سوال: کبھی نماز میں لذت آتی ہے اور کبھی وہ لذت جاتی رہتی ہے۔ اس کا کیا علاج ہے؟
    جواب: ہمت نہیں ہارنی چاہئے بلکہ اس لذت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔ جیسے چور مال اُڑا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ کو اس خطرہ سے محفوظ رہے۔ اس لئے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے۔ اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جائے۔ انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا انس و ذوق جاتا رہا تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو۔ نماز میں بے ذوقی کا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے۔ جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے۔ اسی طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔ یاد رکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے جب کوئی اس سے گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذت مکدر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی۔ مثلاً جب ناحق گالی دیتا ہے یا ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر بدمزاج ہو کر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے۔ اخلاقی قویٰ کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے۔ جب انسانی قویٰ میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذت میں فرق آجاوے گا۔ پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ انس اور ذوق جو نماز میں آتاتھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہئے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گم شدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے توبہ، استغفار، تضرع، بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی کثرت کرے۔ جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آ جاتا ہے۔ پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے اور تھکنا مناسب نہیں۔ آخر اسی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جائے گا۔ دیکھو پانی کے لئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم ہو جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔ اس لئے اس ذوق کو حاصل کرنے کے لئے استغفار، کثرت نماز و دعا مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔
    (۵۶)
    ۱۶؍ مئی ۱۹۰۲ء کو بمقام گورداسپور مولوی نظیر حسین سخا دہلوی نے بذریعہ عریضہ حضرت اقدس سے نماز میں حصول حضور کا طریق دریافت فرمایا۔ اس پر حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا:
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ طریق یہی ہے کہ نماز میں اپنے لئے دعا کرتے رہیں اور سرسری اور بے خیال نماز پر خوش نہ ہوں بلکہ جہاں تک ممن ہو توجہ سے نماز ادا کریں اور اگر توجہ پیدا نہ ہو تو پنج وقت ہر ایک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں بعد ہر ایک رکعت کے کھڑے ہو کر یہ دعا کریں کہ اے خدا تعالیٰ قادر ذوالجلال میں گنہگار ہوں اور اس قدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ و ریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں ہو سکتا تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تا کہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میں میسر آوے اور یہ دعا صرف قیام پر موقوف نہیں بلکہ رکوع میں اور سجدہ میں اور التحیات کے بعد بھی یہی دعا کریں اور اپنی زبان میں کریں اور اس دعا کے کرنے میں ماندہ نہ ہوں اور تھک نہ جاویں بلکہ پورے صبر اور پورے استقامت سے اس دعا کو پنج وقت کی نمازوں میں او نیز تہجد کی نماز میں کرتے رہیں اور بہت بہت خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں کیونکہ گناہ کے باعث دل سخت ہو جاتا ہے۔ایسا کرو گے تو ایک وقت یہ مراد حاصل ہو جاوے گی۔ مگر چاہئے کہ اپنی موت کو یاد رکھیں۔ آئندہ زندگی کے دن تھوڑے سمجھیں اور موت قریب سمجھیں۔ یہی طریق حصول حضور کا ہے۔ (الحکم ۲۴؍ مئی ۱۹۰۴ء)
    (۵۵)وظائف و اورادو تزکیۂ نفس
    مورخہ ۲۵؍ مئی ۱۹۰۳ء کو ایک شخص نے سوال ذیل پیش کیا۔
    سوال: آج کل کے پیر اور گدی نشین وظائف وغیرہ مختلف قسم کے اوارد بتاتے ہیں۔آپ کا کیا ارشاد ہے۔
    جواب: مومن جو بات سچے یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہوتی ہے۔ کیونکہ مومن کا مطہر قلب اسرار الٰہی کا خزینہ ہے۔ جو کچھ اس پاک لوح انسانی پر منقش ہوتا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے۔ مگر انسان جب ضعف بشریت سے سہو و گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرا بھی اس کی پروا نہیں کرتا تو دل پر سیاہ رنگ بیٹھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ قلب انسانی کی خشیت الٰہی سے گداز اور شفاف تھا، سخت اور سیاہ ہو جاتا۔ مگر جونہی انسان اپنی مرض قلب کو معلوم کر کے اس کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور شب و روز نماز میں دعائیں استغفار و زاری و قلق جاری رکھتا ہے اور اس کی دعائیں انتہا کو پہنچتی ہیں تو تجلیات الٰہی اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھو ڈالتے ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لے کر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولد ثانی ہوتا ہے۔ دو زبردست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے۔ ایک لشکر رحمان کا دوسرا شیطان کا۔ اگر یہ لشکر رحمان کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس سے بحکم الٰہی مدد دی جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو مصیبتوں اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پس ان کو چاہئے کہ گناہ کی زہریلی ہوا سے بچنے کے لئے رحمان کی حفاظت میں ہو جاوے۔ وہ چیز جو انسان اور رحمان میں دوری اور تفرقہ ڈالتی ہے وہ فقط گناہ ہے جو اس سے بچ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی گود میں پناہ لی۔ دراصل گناہ سے بچنے کے لئے دو ہی طریق ہیں۔ اوّل یہ کہ انسان خود کوشش کرے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو زبردست مالک و قادر ہے استقامت طلب کرے یہاں تک کہ اسے پاک زندگی میسر آوے اور یہی تزکیہ نفس کہلاتا ہے اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات اور کرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ہوتے ہیں۔ پیروں، فقیروں، صوفیوں، گدی نشینوں کے خود تراشیدہ درود وظائف طریق و رسومات سب فضول بدعات ہیں جو ہرگز ہرگز ماننے کے قابل نہیں۔ اگر یہ لوگ کل معاملات دنیوی و دینی کو ان خود ساختہ بدعات سے بھی درست کر سکتے ہیں تو یہ ذرہ ذرہ سی بات پر کیوں تکرار کرتے لڑتے جھگڑتے حتیّٰ کہ سرکاری عدالتوں میں جائز و ناجائز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ سب باتیں دراصل وقت کا ضائع کرنا اور خدا داد دماغی استعدادوں کا تباہ کرنا ہے۔ انسان اس لئے نہیں بنایا گیا ہے کہ لمبی تسبیح لے کر صبح و شام لوازمات و حقوق کو تلف کرکے بے توجہگی سے سبحان اللہ سبحان اللہ میں لگا رہے۔ اپنا اوقات گرامی بھی تباہ کرے اور خود اپنی قویٰ کو بھی تباہ کرے اور اوروں کے تباہ کرنے کے لئے شب و روز کوشاں رہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی معصیت سے بچاوے۔ الغرض یہ سب باتیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے سے پیدا ہوئی ہیں۔ یہ حالت ایسی ہے جیسے پھوڑا کہ اندر سے تو پیپ سے بھرا ہوا ہے اور باہر سے شیشے کی طرح چمکتا ہے۔ زبان سے تو درود وظائف کرتے ہیں اور اندرونی بدکاری و گناہ سے سیاہ ہوئے ہوتے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ سب کچھ خدا سے طلب کرے۔ جب وہ کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کی بلند شان کے خلاف ہے کہ واپس لے۔ تزکیہ وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ دنیا میں سکھایا گیا یہ لوگ اس سے بہت دور ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ میں سارے دن میں چار دفعہ دم لیتا ہوں۔ بعض فقط ایک یا دو دفعہ۔ اس سے لوگ ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسی واہیات دم کشی کو باعث فخر سمجھتے ہیں حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیات الٰہی پر چلے۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح و آشتی پیدا کرے۔ جس سے کہ وہ انبیاء کاوارث کہلائے۔ اور صلحا و ابدال میں داخل ہو۔ اسی توحید کو پکڑے اور اس پر ثابت قدم رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ و عظمت اس کے دل پر بٹھا دے گا۔ وظیفوں کے ہم قائل نہیں۔ یہ سب جنتر منتر ہیں جو ہمارے ملک کے ہندو، سنیاسی، جوگی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں۔ دعا کرنی چاہئے خواہ اپنی زبان میں ہو۔ سچے اضطراب اور سچی تڑپ سے جناب الٰہی میں گداز ہو ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔ جب یہ حالت ہوگئی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا۔ جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کرنے والی اشیاء سے ڈرتا ہے۔ ویسے ہی اس کو گناہ کی سوزش سے ڈرنا چاہئے۔ گنہگار زندگی انسان کے لئے دنیا میں مجسم دوزخ ہے۔ جس پر غضب الٰہی کی سموم چلتی ہے اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے۔ اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رو رو کر دعائیں کرو تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے۔ دیکھو شیعہ لوگ کیسے راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حسین حسین کرتے مگر احکام الٰہی کی بے حرمتی کرتے ہیں حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسولوں کو استغفار کی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کا فعل اس پر شاہد ہے۔ کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔
    (الحکم جون ۱۹۰۳ء)
    (۵۸) دلائل الخیرات اور دیگر وظائف
    سوال: جناب قاضی اٰل احمد صاحب رئیس امروہہ نے دریافت کیا کہ دلائل الخیرات جو ایک کتاب وظیفوں کی ہے۔ اگر اسے پڑھا جاوے تو کچھ حرج تو نہیں کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف ہی ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی جابجا تعریف ہے۔
    فرمایا کہ:
    انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔ جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہ ہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جن کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔ بلا مدد وحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو۔ وہ محدثات میں داخل ہوگی۔ رسم اور بدعات سے پرہیز بہتر ہے۔ اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔ بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔ دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے بھی یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔ جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الٰہی میرے شامل حال ہو۔ قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے۔ پھر آگے چل کر اور قسم کا پھول چنتا ہے۔ پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اُٹھاوے۔ اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے ورنہ پھر سوال ہوگا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی۔ خدا کے سوااور کس کی طاقت ہے کہ کہے کہ فلاں راہ سے اگر سورۃ یسٰین پڑھو گے تو برکت ہوگی۔ ورنہ نہیں۔
    قرآن شریف سے اعراض کی صورتیں
    قرآن شریف کے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک صوری
    اور ایک معنوی۔ صوری یہ کہ کبھی کلام الٰہی کو پڑھا ہی نہ جائے۔ جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کے برکات و انوار و رحمت الٰہی پر ایمان نہیں ہوتا۔ پس دونوں اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔
    امام جعفرؓ کا قول ہے۔ واللہ اعلم کہاں تک صحیح ہے کہ میں اس قدر کلام الٰہی پڑھتا ہوں کہ ساتھ ہی الہام شروع ہو جاتا ہے۔ مگر بات معقول معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایک جنس کی شے دوسری شے کو اپنی طرف کشش کرتی ہے۔
    اب اس زمانہ میں لوگوں نے صد ہا حاشئے چڑھائے ہوئے ہیں۔ شیعوں نے الگ سنیوں نے الگ۔ ایک دفعہ ایک شیعہ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ میں ایک فقرہ بتلاتا ہوں وہ پڑھ لیا کرو تو پھر طہارت اور وضو وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اسلام میں کفر بدعت زندقہ الجاد وغیرہ اسی طرح آئے ہیں کہ ایک شخص واحد کے کلام کو اس قدر عظمت دی گئی جس قدر کلام الٰہی کو عظمت دی جانی چاہئے تھی۔ صحابہ کرام اسی لئے احادیث کو قرآن سے کم درجہ پر مانتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ فیصلہ کرنے لگے تو ایک بڑھیا عورت نے کہا کہ حدیث میں یہ آیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں ایک بڑھیا کے لئے کتاب اللہ کو ترک نہیں کر سکتا۔ مگر ایسی باتوں کو جن کے ساتھ وحی کی کوئی مدد نہیں۔ وہ ہی مدد دی جاوے توپھر کیا ہے کہ مسیح کی حیات کی نسبت جو اقوال ہیں ان کو بھی صحیح مان لیا جاوے حالانکہ وہ قرآن شریف کے بالکل مخالف ہیں۔
    (الحکم ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۵۹) لڑکوں کو نماز میں سب سے پیچھے کھڑا کرنے کی وجہ
    لڑکوں کو نماز میں سب سے پیچھے کھڑے ہونے کا حکم اس وجہ سے ہے کہ ایسا نہ ہو کسی کی ہوا خارج ہونے پر یا کسی اور امر پر ہنس پڑیں۔ تو دوسروں کی نماز بھی خراب ہو۔ دیکھو کیسی نیکی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی کی ہوا خارج ہوگئی اور بدبو کی وجہ سے اس کا پتہ لگ گیا۔ اب انہوں نے دیکھا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ شخص شرم سے وضو نہ کرے اور گناہ کا مرتکب ہو جائے۔ نماز توڑ دی اور کہا کہ آؤ وضو دوبارہ ہم سب کریں کیونکہ وضو تو وہی ہے۔ دوسری دفعہ وضو کرنے سے نورٌ علی نور ہو جائے گا۔ اس سے یہ نہیں ثابت ہوا کہ ہمیشہ اس طرح کیا جائے بلکہ یہ ایک موقع تھا جو کس خوش اسلوبی سے پورا کیا گیا۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۴۲)
    (۶۰)با جماعت نماز میں زیادہ ثواب کی وجہ و حقیقت جماعت و وجہ تسئویہ صفوف جماعت
    نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔ وہ تمیز جس میں خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے۔
    (فتاوی احمدیہ صفحہ۴۲)
    (۶۱) بہترین وظیفہ
    سوال: بہترین وظیفہ کیا ہے؟
    جواب: نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے۔ استغفار ہے اور درود شریف ہے۔ تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم اور ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرہ بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے الابذکر اللّٰہ تطمئن القلوب اطمینان سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بنا رکھی ہے۔ مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہوئی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان وظائف اور اوراد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اوراد میں ایسے منہمک ہو رہے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔ میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔ اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ۔ (الحکم ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء صفحہ۳)
    (۶۲) قصر نماز وحد سفر
    نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ؟
    جواب: جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے۔ میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو۔ اس میں قصر جائز ہے۔ یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ ہاں اگر امام مقیم ہے تو اس کے پیچھے پوری نماز پڑھنی پڑے گی۔
    (البدر یکم ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ۲ و ۳)
    (۶۳) سفر میں قصر
    سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کرے؟
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا۔ ہاں۔ مگر دیکھو اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سفر کیلئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میںوہ سفر کہلاتا ہو۔ دیکھو یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں۔ ایسے موقعہ پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہئے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔ استفت قلبک (اپنے دل سے فتویٰ لو) پر عمل چاہئے۔ ہزار فتویٰ ہو۔ پھر مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شے ہے۔
    عرض کیا گیا کہ انسان کے حالات مختلف ہیں۔ بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے بعض کے لئے تین چار کوس بھی سفر ہے۔
    فرمایا۔ شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔ صحابہ کرام نے تین کوس کو سفر سمجھا ہے۔
    عرض کیا گیا حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں۔ فرمایا ہاں۔ کیونکہ وہ سفر ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبعت یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا رہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔ فقط
    خلاصہ تقریر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے نزدیک تین کوس بھی سفر ہے اور اس میں قصر جائز ہے۔ لیکن اگر کوئی بطور سیر یا معمولی روزمرہ کے کاروبار کے لئے اتنی دور یا اس سے کچھ زیادہ دور نکل جاوے تو وہ سفر نہیں۔ (البدر ۲۳؍ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۲)
    (۲۴) حکام کا دورہ سفر نہیں
    حکام کا دورہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔ خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔ اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہوگا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔ حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔ سعدی نے بھی کہا ہے۔
    منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
    ہر جا کہ رفت خیمہ زدو خوابگاہ ساخت
    ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ مجھے دس پندرہ کوس اِدھر اُدھر جانا پڑتا ہے۔ میں کس کو سفر سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں۔ میں کتابوں کے مسائل نہیں پوچھتا ہوں۔ حضرت امام صادق کا حکم دریافت کرتا ہوں۔
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا۔ میرا مذہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔ عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اس میں قصر و سفر کے مسائل پر عمل کرے۔ انما الاعمال بالنیات۔ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اُٹھا کر سفرکی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔ شریعت کی بنا وقت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔ (الحکم ۲۴ ؍ اپریل ۱۹۰۳ء)
    (۶۵) دائمی دورہ کرنے والے کی نماز
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو شخص بسبب ملازمت کے ہمیشہ دورہ میں رہتا ہو اس کو نمازوں میں قصر کرنی جائز ہے یا نہیں۔
    فرمایا :
    جو شخص رات دن دورہ پر رہتا ہے اور اسی بات کا ملازم ہے۔ وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا اس کو پوری نماز پڑھنی چاہئے۔ (الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء)
    (۶۶) رفع یدین
    فرمایا کہ اس میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا۔ خواہ کوئی کرے یا نہ کرے۔ احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا۔ بعد ازاں ترک کر دیا۔ (بدر ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۶۷)
    سوال: ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ کیا رفع یدین ضروری ہے۔
    جواب: فرمایا۔ کہ ضروری نہیں اور جو کرے تو جائز ہے۔ (بدر ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۶۸) سفری تاجر کی نماز
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں اور میرے بھائی ہمیشہ تجارت، عطریات وغیرہ میں سفر کرتے ہیں۔ نماز ہم دوگانہ پڑھیں یا پوری۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ سفر تو وہ ہے جو ضرورتًا گاہے گاہے ایک شخص کو پیش آوے۔ نہ یہ کہ اس کا پیشہ ہی یہ ہو۔ آج یہاں کل وہاں اپنی تجارت کرتا پھرے یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ ایسا آدمی اپنے آپ کومسافروں میں شامل کر کے ساری عمر نماز قصر کرنے میں ہی گزار دے۔ (بدر ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۶۹) نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق حضرت مسیح موعود کی رائے
    نواب محمد علی خان صاحب کے استفسار کرنے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو خط میں لکھا ہے۔ اگرچہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں اور دست بستہ کھڑا ہونا قانون فطرت کے رو سے بھی بندگی کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہو جاتی ہے۔ مالکی بھی شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ مسنون وہی طریق ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔
    (۷۰) نمازوں کا جمع کرنا
    (تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۳؍ دسمبر ۱۹۰۱ء)
    دیکھو ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ بسبب بیماری کے اور تفسیر سورہ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور ان نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعود کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہوگا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم زیادہ بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے۔ اس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اس کی خاطر ایسا ہوگا۔ چاہئے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کی عزت و تکریم کریں اور ان سے بے پروا نہ ہوویں۔ ورنہ یہ ایک گناہ کبیرہ ہوگا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو خفت کی نگاہ سے دیکھیں۔ خدا تعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں۔ ورنہ ایک دو دن کے لئے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں۔
    (۷۱)
    جمع بین الصلوٰتین کے متعلق حضرت اقدس نے ۳؍ دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں یہ تقریر فرمائی۔ سب صاحبوں کو معلوم ہو کہ ایک مدت سے خدا جانے قریباً چھ ماہ یا کم و بیش عرصہ سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی جاتی ہے۔ میں اس کو مانتا ہوں کہ ایک عرصہ سے مسلسل نماز جمع کی جاتی ہے۔ ایک نو وارد یا نو مرید کو جس کو ہمارے اغراض و مقاصد کی کوئی خبر نہیں ہے یہ شبہ گذرتا ہوگا کہ کاہلی کے سبب سے نماز جمع کر لیتے ہوں گے جیسے بعض غیر مقلد، ذرا اَبر ہوا یا کسی عدالت میں جانا ہوا تو نماز جمع کر لیتے ہیں اور بلا مطر اور بلا عذر بھی نماز جمع کرنا جائز سمجھتے ہیں مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم کو اس جھگڑے کی ضرورت اور حاجت نہیں اور نہ ہم اس میں پڑنا چاہتے ہیں کیونکہ میں طبعاً اور فطرتًا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے۔ اگرچہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کئے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں۔ وہ صرف نفس کی کاہلی سے کام لیتے ہیں۔ سہل حدیثوں کو اپنے مفید مطلب پا کر ان سے کام لیتے ہیں اور مشکل کو موضوع اور مجروح ٹھہراتے ہیں۔ ہمارا یہ مدعا نہیں بلکہ ہمارا مسلک ہمیشہ حدیث کے متعلق یہی رہا ہے کہ جو قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو وہ اگر ضعیف بھی ہو تب بھی اس پر عمل کر لینا چاہئے۔ اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم القاء اور الہام کے بدوں نہیں کرتا۔ بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا۔ مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس جَمْعَ بَیْنَ الصَّلٰوتَیْن کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُجْمَعُ لَہٗ الصَّلٰوۃ کی بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جو اَب پوری ہو رہی ہے۔ میرا یہ بھی مذہب ہے کہ اگر کوئی امر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اور محدثین اس کو موضوع ہی ٹھہرادیں۔ مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا۔ اگر خدا تعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کر دی ہے۔ جیسے لاَ مَھْدِیْ اِلاَّ عِیْسٰی والی حدیث ہے۔ محدثین اس پر کلام کرتے ہیں مگر مجھ پر خدا تعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور یہ میرا مذہب میرا ہی ایجاد کردہ نہیں بلکہ خود یہ مسلم مسئلہ ہے کہ اہل کشف و اہل الہام لوگ محدثین کی تنقید حدیث کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے۔ خود مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ میں اس مضمون پر بڑی بحث کی ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ مامور اور اہل کشف محدثین کی تنقید کے پابند نہیں ہوتے تو جب یہ حالت ہے پھر میں صاف صاف کہتا ہوں کہ جو کچھ میں کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے القاء اور اشارہ سے کرتا ہوں۔ یہ پیشگوئی جو اس حدیث تُجْمَعُ لَہٗ الصَّلٰوۃ میںکی گئی ہے یہ مسیح موعود اور مہدی کی ایک علامت ہے۔ یعنی وہ ایسے دینی خدمات اور کاموں میں مصروف ہوگا کہ اس کے لئے نماز جمع کی جائے گی۔ (الحکم ۱۹۰۲ء)
    (۷۲) حضرت مسیح موعود کا سفر میں جمع بین الصلوٰتین
    سفر میں بھی میں نے چند روزہ اقامت کی حالت میں بعض دفعہ مسنون طور پر دو نمازوں کو جمع کر لیا ہے اور کبھی ظہر کے اخیر وقت پر ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو اکٹھے کر کے پڑھا ہے۔ اب یہ علامت جب کہ پوری ہوگئی اور ایسے واقعات پیش آگئے پھر اس کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے نہ کہ استہزاء اور انکار کے رنگ میں۔ دیکھو انسان کے اپنے اختیار میں اس کی موت فوت نہیں ہے۔ اب اس نشان کے پورا ہونے پر تو یہ لوگ رکیک اور نامعقول عذر تراشتے ہیں اور اعتراض کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اور حدیث کی صحت اور عدم صحت کے سوال کو لے بیٹھتے ہیں لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ اس نشان کو پورا ہونے سے پہلے ہماری موت آ جاتی تو یہی لوگ اس حدیث کو جسے اب موضوع ٹھہراتے ہیں، آسمان پر چڑھا دیتے اور اس سے زیادہ شور مچاتے جو اب مچا رہے ہیں۔ دشمن اسی ہتھیار کو اپنے لئے تیز کر لیتا لیکن اب جب کہ وہ صداقت کا ایک نشان اور گواہ ٹھہرتا ہے تو اس کو نکما اور لاشے قرار دیا جاتا ہے۔ پس لوگوں کے لئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے تو صدہانشان دیکھے مگر انکار پر انکار کیا اور صادق کو کاذب ہی ٹھہرایا اور کس نشان کو انہوں نے مانا جو اس کی امید اِن سے رکھیں۔ کیا کسوف خسوف کا کوئی جھوٹا نشان تھا اس کے پورا ہونے سے پہلے تو اس کو نشان قرار دیتے رہے مگر جب پورا ہو گیا تو اس کو بھی مشکوک کرنے کی کوشش کی۔ بہرحال مخالفوں کی کور چشمی اور تعصب کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔ اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ اس کے لئے یہ کوئی ابتلا نہیں ہو سکتا کیونکہ جس کے دمشن کے منارہ پر چڑھنے والے اور فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زرد پوش مسیح کے اُترنے کی حقیقت کو خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اور جس نے خدا کی صفات والے دجال کا انکار کر کے دجال کی حقیقت حال پر اطلاع پائی ہے اور ایسا ہی دابۃالارض اور دجال کے متعلق ان لوگوں کے خانہ ساز مجموعوں کو چھوڑا ہے اور اس قدر باتوں پر جب وہ مجھ پر نیک ظن کرنے سے ان سے الگ ہو گئے ہیں تو یہ امر ان کی راہ میں روک اور ابتلا کا باعث کیونکر ہو سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ اب بات صرف حسن ظن تک نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ نے ان کو معرفت اور بصیرت کے مقام تک پہنچا دیا ہے اور وہ دیکھ چکے ہیں کہ میں وہی ہوں جس کا خدانے وعدہ کیا تھا۔ ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔ دوست و دشمن دور و نزدیک ہر مذہب و ملت کے لوگ ان کے گواہ ہیں۔ زمین نے اپنے نشانات الگ ظاہر کئے۔ آسمان نے الگ۔ وہ علامات جو میرے لئے مقرر تھیں وہ سب پوری ہوگئیں۔ پھر اس قدر نشانات کے بعد بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوتا ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک پر خدا نے ایسا فضل کیا ہے کہ ایک بھی تم میں سے ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔ کیا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا؟ ایک بھی نہیں۔ پھر ایسی بصیرت اور معرفت بخشنے والے نشانوں کے بعد مجھ پر حسن ظن ہی نہیں رہا بلکہ میری سچائی خدا کی طرف سے مامور ہو کر آئی۔ تم علیٰ وجہ البصیرت گواہ ہو اور تم پر حجت پوری ہوچکی ہے۔ پھر وہ بڑا ہی بدقسمت اور نادان ہوگا جو اتنے نشانوں کے بعد اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ابتلا میں پڑے جو اس کے ازدیاد ایمان کا موجب اور باعث ہونی چاہئے جو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آنے والے موعود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ اس کے لئے نماز جمع کی جائے گی۔ پس تمہیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ نشان بھی پورا ہوتا ہوا تم نے دیکھ لیا لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حدیث موضوع ہے تو میں نے پہلے اس کی بابت ایک جواب تو یہ دیا ہے کہ محدثین نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اہل کشف اور مامور تنقید احادیث میں ان کے اصولوں کے محتاج اور پابند نہیںہوتے تو پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس حدیث کی صحت کو ظاہر کر دیا ہے تو اس پر زور دینا تقویٰ کے خلاف ہے۔ پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ محدثین خود ہی مانتے ہیں کہ حدیث میں سونے کے کنگن پہننے کی سخت ممانعت ہے مگر وہ کیا بات تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صحابی کو سونے کے کنگن پہنا دیئے۔ چنانچہ اس صحابی نے بھی انکار کیا۔ مگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پہنا ہی دیئے۔ کیا وہ اس حرمت سے آگاہ نہ تھے۔ تھے اور ضرور تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہزاروں حدیثوں کو قربان کرنے کو تیار تھے۔ اب غور کا مقام ہے کہ جب ایک پیشگوئی کے پورا ہونے نے حرمت کا جواز کرا دیا تو بلا مطر و بلا عذر والی بات پر انکار کیوں۔
    احادیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اپنے خواب کو بھی سچا کرنے کی کوشش کرو۔ چہ جائیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی۔ جس شخص کو ایسا موقع ملے اور وہ عمل نہ کرے اور اس کو پورا کرنے کیلئے تیار نہ ہو وہ دشمن اسلام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ جھوٹا ٹھہرانا چاہتا ہے اور آپ کے مخالفوں کو اعتراض کا موقع دینا چاہتا ہے۔ صحابہ کا مذہب یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر اپنی معرفت اور ایمان میں ترقی دیکھتے تھے اور وہ اس قدر عاشق تھے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر کو جاتے تھے اور پیشگوئی کے طور پر کہہ دیتے کہ فلاں منزل پر نماز جمع کریں گے اور ان کو موقع مل جاتا تو وہ خواہ کچھ ہی ہوتا ضرور جمع کر لیتے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف دیکھو کہ آپ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے کس قدر مشتاق تھے۔ ہم کو کوئی بتائے کہ آپ حدیبیہ کی طرف کیوں گئے۔ کیا کوئی وقت ان کو بتایا گیا تھا اور کسی میعاد سے ان کو اطلاع دی گئی تھی۔ پھر کیا بات تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو جائے۔ یہ ایک باریک سر اور دقیق معرفت کا نکتہ ہے جس کو ہرایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ انبیاء اور اہل اللہ کیوں پیشگوئیوں کے پورا کرنے اور ہونے کی ایک غیر معمولی رغبت اور تحریک اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ جس قدر انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں۔ یا اہل اللہ ہوئے ہیں ان کو فطرۃً رغبت دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو پورا کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہوتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام نے اپنی جگہ داوٗدی تخت کو بحالی والی پیشگوئی کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی کہ اپنے شاگردوں کو یہاں تک حکم دیا کہ جس کے پاس تلواریں اور ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خریدے۔ اب اگر اس پیشگوئی کو پورا کرنے کی وہ فطری خواہش اور آرزو نہ تھی جو انبیاء علیہم السلام میں ہوتی ہے تو ہم کو کوئی بتائے کہ ایسا کیوں کیا گیا اور ایسا ہی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر یہ طبعی جوش نہ تھا تو آپ کیوں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے جب کہ کوئی میعاد اور وقت بتایا نہیں گیا تھا۔ بات یہی ہے کہ یہ گروہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی حرمت اور عزت کرتا ہے اور چونکہ ان نشانوں کے پورا ہونے پر معرفت اور یقین میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پورے ہوں۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نشان پورا ہوتا تو سجدہ کر لیا کرتے تھے۔ جب تک دل دھوئے نہ جاویں اور ایمان حجاب اور زنگ کے ہتوں سے صاف نہ کیا جاوے۔ سچا اسلام اور سچی توحید جو مدار نجات ہے حاصل نہیں ہو سکتی اور دل کے دھونے اور ان حجب ظلمانیہ کے دور کرنے کا آلہ یہی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جن سے خود اللہ تعالیٰ کی ہستی اور نبوت پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور جب تک سچا ایمان نہ ہو جو کچھ کرتا ہے وہ صرف رسوم اور ظاہر داری کے طور پر کرتا ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات تھی تو میرا نور قلب اس کے خلاف کرنے کی کیونکر رائے دے سکتا تھا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ یہ ہونا چاہئے تا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہو۔ ممکن تھا کہ ایسے واقعات پیش نہ آتے لیکن جب ایسے امور پیش آگئے کہ جن میں مصروفیت از بس ضروری تھی اور توجہ ٹھیک طور پر چاہئے تھی تو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آ گیا اور وہ پوری ہوئی اس طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا۔ والحمدللّٰہ علی ذلک
    میرا ان نمازوں کو جمع کرنا جیسا کہ کہہ چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ اور ایماء اور القاء سے تھا حالانکہ مخالف تو خواہ نخواہ بھی جمع کر لیتے ہیں۔ مسجد میں بھی نہیں جاتے۔ گھروں میں ہی جمع کر لیتے ہیں۔ مولوی محمد حسین ہی کو قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا اس نے کبھی کسی حاکم کے پاس جاتے وقت نماز جمع کی ہے یا نہیں۔ پھر خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان پر کیوں اعتراض کیا جاوے۔ اگر تقویٰ اور خدا ترسی ہو تو اعتراض کرنے سے پہلے انسان اپنے گھر میں سوچ لے کہ کیا کہتا ہوں اور اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوگا اور کس پر پڑے گا۔ میں نے اس اجتہاد میں یہ بھی سوچا کہ ممکن تھا ہم دس دن میں ہی کام کو ختم کر دیتے جو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا موجب اور باعث ہوا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی پسند کیا کہ جب یہ لوگ اپنے نفس کی خاطر دو دو مہینے نکال لیتے ہیں تو پیشگوئی کی تکمیل کے لئے ایسی مدت چاہئے جس کی نظیر نہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اگرچہ وہ مصالح ابھی تک نہیں کھلے مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ضرور کھلیں گے۔ دیکھو ضعف دماغ کی بیماری بدستور لاحق ہے اور بعض وقت ایسی حالت لاحق ہوتی ہے کہ موت قریب ہو جاتی ہے۔ تم میں سے اکثر نے میری ایسی حالت کو معائنہ کیا ہے اور پھر پیشاب کی بیماری عرصہ سے ہے۔ گویا دو زرد چادریں مجھے یہ پہنائی گئی ہیں۔ ایک اوپر کے حصہ بدین میں ان بیماریوں کی وجہ سے وقت صافی بہت کم ملتا ہے۔ مگران ایام میں خدا تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا کہ صحت بھی اچھی رہی اور کام ہوتا رہا۔ مجھے تو افسوس اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جمع بین الصلوٰتین پر روتے ہیں حالانکہ مسیح کی قسمت میں بہت سے اجتماع رکھے ہیں۔ (الحکم ۳؍ دسمبر۱۹۰۱ء)
    (۷۳) نماز اپنی زبان میں نہ پڑھنی چاہئے
    خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں۔ مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔ کچھ بھی باقی رہا۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۶۸)
    (۷۴) نماز وتر
    سوال: اکیلا وتر پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: ہم نے اکیلا وتر پڑھنے کے متعلق حکم کہیں دیکھا۔ ہاں دو رکعت کے بعد خواہ سلام پھیر کر دوسری رکعت پڑھ لے۔ خواہ تینوں رکعت ایک ہی نیت سے پڑھ لے۔
    (بدر ۲؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۵)
    (۷۵) وتر پڑھنے کا طریق و وقت
    سوال: وتر پڑھنے کا کیا طریق ہے؟
    جواب: (از حضرت خلیفہ اوّلؓ) حدیث شریف کے مطابق وتر اور مغرب کے فرائض میں فرق کرنا ضروری ہے اس کے واسطے حضرت مسیح موعود کا طریق یہ ہے کہ آپ پہلے دو رکعت پڑھتے ہیں اور سلام پھیرتے ہیں۔ پھر معاً اُٹھ کر ایک رکعت اور پڑھتے ہیں۔
    سوال: وتر کس وقت پڑھنے چاہئیں؟
    جواب: (از حضرت خلیفہ اوّل) وتر پہلی رات کو پڑھ لینا بہتر ہے۔ پچھلی رات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ پہلی رات پڑھ لئے جاویں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی طریق عمل ہے کہ آپ پہلی رات کو پڑھ لیا کرتے ہیں۔ (بدر ۱۲؍جنوری ۱۹۰۶ء)
    (۷۶) سفر میں وتر
    سوال: سفر میں وتر کی کتنی رکعت پڑھنی چاہئیں؟
    جواب: (از حضرت خلیفہ اوّل) سفر و حضر میں وتر کے واسطے تین رکعت ضروری ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفر میں بھی وتر کے تین رکعت بعد نماز عشاء پہلی رات کو ضرور پڑھا کرتے ہیں۔ (بدر ۱۲؍ جنوری ۱۹۰۲ء)
    (۷۷) نماز کے بعد دعا
    مولوی سید محمود شاہ صاحب جو سہارنپور سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔ حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور جب آپ نماز مغرب سے فارغ ہو کر شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔ یہ عرض کیا میں ایک امر جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں اگرچہ وہ فروعی ہے لیکن پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز دعا مانگتے ہیں لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز بھی نہیں مانگتے۔ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا کرتے ہیں اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان میں یہ تمام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔ گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔ اس لئے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے حالانکہ نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ذوق انس اور سرور بڑھتا ہے کہ جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں جس سے ان کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔ عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز ایسے طور پر پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لئے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا جو مومن کی معراج ہے مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لئے ام الادعیہ اھدنا الصراط المستیقم دعا مانگی جاتی ہے۔ انسان کبھی خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب کہ اقام الصلوٰۃ نہ کرے۔ اقیموا الصلوٰۃ اسی لئے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے۔ مگر جو شخص اقام الصلوٰۃ کرتے ہیں تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔ نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو اسے ایک بار پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی اور وہ فارغ ہی نہیں ہو سکتا۔ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساریعمر میں ایک بار بھی اسے چھکتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔ مومن کو بے شک ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے دعائیں کرنی چاہئیں۔ مگر نماز کے بعد جو دعاؤں کا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے۔ بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔ میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ اپنی نماز کو سنوارو، یہ بھی دعا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔ کوئی اثر روحانیت اور خشوع خضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا یہی سبب ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ *** بھیجتا ہے۔ ایسے نمازیوں کے لئے ویل ہے۔ دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جوہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لئے اسے اس کو پھینک دینا چاہئے ہرگز نہیں۔ اوّل اس جوہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پیسوں کو بھی سنبھالے اس لئے نماز کو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔
    سائل نے عرض کیا کہ الحمد شریف بیشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں ان کو تو دعا مانگنی چاہئے۔
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا۔ ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطے کی طرح مت پڑھو۔ سوائے قرآن شریف کے جو رب جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہیں۔ نماز بابرکت نہ ہوگی۔ جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔ اس لئے ہر شخص کو جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو پیش کرے۔ ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔ اس لئے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نماز کے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں اور ہم بھر کر لیتے ہیں۔ اگرچہ ہمیں عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ رب العزت میں عرض کرنا چاہئے۔
    میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کرو۔ جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔ فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں باقی نوافل اور سنن کو جیسا چاہو طول دو اور چاہئے کہ اس میں گریہ و بکا ہو تا کہ وہ حالت پیدا ہو جائے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔ نماز ایسی شے ہے کہ سیئات کو دور کرتی ہے۔ جیسے فرمایا اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْ ھِبْنَّ السَّیِّئَات۔ نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔ حسنات سے مراد نماز ہے مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں۔ یہ اس قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔ نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا اور آخر مر کر خدا کے حضور جاتا ہے۔ دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے اگر دس بیس دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔ پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور ان کا کوئی اثر محسوس اور مشہود نہیں ہوتا۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہوجاتی ہے۔ مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور روبدنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے۔ اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔ طبیعتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں۔ جیسے اگر ہندو کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا چھو جاوے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے۔ حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔ زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور ناآشنا نہیں۔ جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دعا نہیں مانگتے بلکہ نمازوں میں جو دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ بدعت نہیں۔
    پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں۔ جو ان لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی۔ اسی لئے ان کی ترقیات جلدی ہوئیں۔ لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی۔ اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے۔ ان کے نیچے جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔ اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان تو نماز پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔ یاد رکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔ صلوٰۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔ یہ قرب کی کنجی ہے۔ اسی لئے کشوف ہوتے ہیں۔ اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔ یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں۔ ہم دعاؤں سے انکار نہیں کرتے بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعاؤں کی قبولیت پر ایمان ہے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے ادعونی استجب لکم فرمایا ہے۔ دعا کے لئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے لگے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہنچانے۔ اتباع سنت ضروری ہے مگر تلاش رقت بھی اتباع سنت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم سمجھتے ہو دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے۔ حقیقت پرست بننا چاہئے مسنون دعاؤں کو بھی برکت کیلئے پڑھنا چاہئے مگر حقیقت کو پاؤ۔
    (الحکم ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱)
    (۷۸) رکوع و سجود میں قرآنی دعا نہ پڑھو
    سوال: رکوع اور سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟
    جواب: سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ ماسوا اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔ (الحکم ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء و ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء)
    (۷۹) مخالف کی مسجد میں نماز
    سوال: مخالف ہم کو مسجد میں نماز پڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں ہمارا حق ہے۔ کیا ہم ان سے بذریعہ عدالت فیصلہ کرلیں؟
    جواب: اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو۔ فساد کرنا منع ہے۔ کوئی دنگہ فساد نہ کرو۔ (فتاوی احمدیہ صفحہ۷۸)
    (۸۰) ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنا
    بعض لوگ جو ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنا فخر سمجھتے ہیںوہ درحقیقت لاف مارتے ہیں۔ دنیا کے پیشہ ور لوگ بھی اپنے اپنے پیشہ پر ناز کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس طریق سے قرآن ختم نہیں کیا بلکہ چھوٹی چھوٹی سورتوں پر آپ نے اکتفا کیا۔
    (بدر ۱۹؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱)
    (۸۱) تصویر اور نماز
    سوال: کیا تصویر کی وجہ سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟
    جواب: کفار کے تتبع پر تو تصویر ہی جائز نہیں۔ ہاں نفس تصویر میں حرمت نہیں ہے بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے۔ اگر نفس تصویر مفسد نماز ہوتی تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا مفسد نہیں ہو سکتا۔ اس کا جواب اگر یہ دو کہ روپے پیسے کا رکھنا اضطراری ہے تو میں کہوں گا کہ کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آ جاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہوگا اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں۔ اگر یونہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے۔ اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ الاَّخْرِ مُعْرِضُوْن۔ لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے۔ اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔ لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعہ سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ مثلاً ہم نے ایک موقع پر عیسائیوں کے مثلث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔ اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ تا تثلیث کی تردید کر کے دکھائیں کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے حی و قیوم ازل و ابدی غیر متغیر ہے اور تجسم سے پاک ہے۔ اس طرح پر اگر خدمت اسلام کے لئے کوئی تصویر ہو تو شرع کلام نہیں کرتی کیونکہ جو امور خادم شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔
    کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں۔ قیصر روم کے پاس جب صحابہ گئے تھے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اس کے پاس دیکھی۔ تو یاد رکھنا چاہئے کہ نفس تصویر کی حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے۔ جو لوگ لغو طور پر تصویریں رکھتے ہیں اور بناتے ہیں۔ وہ حرام ہیں۔ شریعت ایک پہلو سے حرام کرتی ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔ روزہ ہی کو دیکھو۔ رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔ مگر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی۔
    حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک بالنفس حرام ہوتی ہے۔ ایک بالسبب۔ جیسے خنزیر بالکل حرام ہے۔ خواہ جنگل کا ہو یا کہیں کا۔ سفید ہو یا سیاہ ہو۔ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہر کام ایک قسم کا حرام ہے یہ حرام بالنفس ہے۔ لیکن حرام بالسبب کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص محنت کر کے کسب حلال سے روپیہ پیدا کرے تو حلال ہے۔ لیکن اگر وہی روپیہ نقب زنی یا قمار بازی سے حاصل کرے تو حرام ہوگا۔ بخاری کی پہلی حدیث ہے انما الاعمال بالنیات
    کسی خونی مجرم کی تصویر اس غرض سے لے لیں کہ اس کے ذریعہ اس کو شناخت کر کے گرفتار کیا جاوے تو نہ صرف جائز ہوگی بلکہ اس سے کام لینا فرض ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک شخص اسلام کی توہین کرنے والے کی تصویر بھیجتا ہے تو اس کو اگر کہا جاوے کہ حرام کام کیا ہے تو یہ کہنا مولوی کا کام ہے۔ یاد رکھو اسلام بت نہیں ہے بلکہ زندہ مذہب ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ناسمجھ مولویوں نے لوگوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔
    آنکھوں میں ہر شے کی تصویر بنتی ہے۔ بعض پتھر ایسے ہیں کہ جانور اُڑتے ہیں تو خود بخود ان کی تصویر ان میں اُتر آتی ہے اللہ تعالیٰ کا نام مصور ہے۔ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ۔ پھر بلاسوچے سمجھے کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔
    اصل بات یہ ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے کہ تصویر کی حرمت غیر حقیقی ہے کسی محل پر ہوتی ہے اور کسی پر نہیں۔ غیر حقیقی حرمت میں ہمیشہ نیت کو دیکھنا چاہئے۔ اگر نیت شرعی ہے تو حرام نہیں ہے ورنہ حرام ہے۔ (الحکم ۲۸؍ فروری ۱۹۰۲ء صفحہ۶)
    (۸۲) تارک نماز تارک ایمان ہے
    ایک شخص نے عرض کی کہ میرے لئے دعا کرو کہ نماز کی توفیق اور استقامت ملے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:
    جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے۔ اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آ جاتا ہے۔ اس طرف سے فرق آیا تو معاً اس طرف سے بھی فرق آ جاتا ہے۔ (الحکم ۲۸؍ فروری ۱۹۰۲ء صفحہ۶)
    (۸۳)رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہوتی ہے یا نہ
    اس بات کا ذکر آیا کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آ کر شامل ہو اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔ مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کئے گئے۔ آخر حضرت اقدس مسیح موعو دعلیہ السلام نے فیصلہ دیا اور فرمایا:
    ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلٰوۃُ اِلاَّ بِفاتِحَۃ الکتاب۔آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہر حالت میں اس کو چاہئے کہ سورہ فاتحہ پڑھے۔ مگر امام کو نہ چاہئے کہ جلدی جلدی سورہ فاتحہ پڑھے۔ بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔ یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔ بہرحال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ اُم الکتاب ہے۔ لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے رکوع میں آ کر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگی۔ اگرچہ اس نے سورہ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع پا لیا اس کی رکعت ہوگئی۔ مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں ایک جگہ تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں۔ وہ اُم الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے۔ مگر جو شخص باوجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آ کر ملا ہے اور چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی۔ وہ سورہ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔ میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا کر لیا اور ایک حصہ میں بسبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔ انسان کو چاہئے کہ رخصت پر عمل کرے۔ ہاں جو شخص عمدًا سستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اس کی نماز ہی فاسد ہے۔
    (الحکم ۲۴؍ فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۹)
    (۸۴) سلسلہ احمدیہ سے ناواقف و منافق و مداہن امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ
    سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟
    فرمایا:
    پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ (الحکم ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ۷)
    (۸۵) امامت مسیح موعود علیہ السلام
    ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لئے نماز نہیں پڑھاتے۔ فرمایا کہ:
    حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔
    (بدر ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۲۲)
    (۸۶) تسبیح پھیرنے کے متعلق فتویٰ
    ایک شخص نے تسبیح کے متعلق پوچھا کہ تسبیح کرنے کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا:
    تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پورا کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔ اہل حق تو ہر وقت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے لئے گنتی کا سوال اور خیال ہی بیہودہ ہے۔ کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے۔ اگر سچی محبت اللہ تعالیٰ سے ہو اور پوری توجہ الی اللہ ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں گا۔ وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے سوال کرے گا زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں اور ترقی کرے گا لیکن اگر محض گنتی مقصود ہوگی تو وہ اسے ایک بیگار سمجھ کر پورا کرنا چاہے گا۔
    (الحکم ۱۰؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۸۷) نماز کے بعد تینتیسبار اللہ اکبر وغیرہ پڑھنا
    حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بمقام گورداسپور احاطہ کچہری میں ایک صاحب نے پوچھا کہ نماز کے بعد تسبیح لے کر ۳۳ بار اللہ اکبر جو پڑھا جاتا ہے۔ آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا:
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ حسبِ مراتب ہوا کرتا تھا اور اسی حفظ ِ مراتب نہ کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو مشکلات پیش آئی ہیں اور انہوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ فلاںدو احادیث میں باہم اختلاف ہے حالانکہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ تعلیم بلحاظ محل اور موقع کے ہوتی تھی۔ مثلاً ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ نیکی کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اس میں یہ کمزوری ہے کہ ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ ہے کہ تو ماں باپ کی عزت کر۔ اب کوئی خوش فہم اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ بس اور تمام نیکیوں کو ترک کر دیا جاوے یہی نیکی ہے۔ ایسا نہیں۔ اسی طرح پر تسبیح کے متعلق بات ہے۔ قرآن شریف میں تو آیا ہے وَاُذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ یعنی اللہ کا بہت ذکر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اب یہ وَاُذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا نماز کے بعد ہی ہے۔ تو ۳۳ مرتبہ تو کثیر کے اندر نہیں آتا۔ پس یاد رکھو کہ ۳۳ مرتبہ والی بات حسبِ مراتب ہے۔ ورنہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے اسے شمار سے کیا کام وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی۔ اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لئے پھیر رہا ہے۔ اس عورت نے اس سے پوچھا۔ تو کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا۔ میں اپنے یار کو یاد کر رہا ہوں۔ عورت نے کہا۔ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر۔
    درحقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہو تو پھر گن گن کر کیا یاد کرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الٰہی کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اسی ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ۳۳ مرتبہ فرمایا ہے وہ آنی اور شخصی بات ہوگی۔ کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا تو آپ نے اسے فرما دیا کہ ۳۳ مرتبہ کر لیا کر اور یہ جو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھے ہیں یہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔ انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے۔ رات کو جو میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ کو اپنے بستر پر نہ پایا۔ مجھے خیال گزرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے چنانچہ میں نے سب گھروں میں دیکھا مگر آپ کو نہ پایا۔ پھر میں باہر نکلی تو قبرستان میں دیکھا کہ آپ سفید چادر کی طرح زمین پرپڑے ہوئے ہیں اور سجدہ میں گرے ہوئے کہہ رہے ہیں۔ سَجَدَلَکَ رُوْحِیْ وَ جنانی۔ اب بتاؤ کہ یہ مقام اور مرتبہ ۳۳ مرتبہ کی دانہ شماری سے پیدا ہوسکتی ہے ہر گز نہیں۔ جب انسان میں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش زن ہوتی ہے تو اس کا دل سمندر کی طرح موجیں مارتا ہے۔ وہ ذکر الٰہی کرنے میں بے انتہا جوش اپنے اندر پاتا ہے اور پھر گن کر ذکر کرنا تو کفر سمجھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عارف کے دل میں جو بات ہوتی ہے اور جو تعلق اپنے محبوب و مولیٰ سے اسے ہوتا ہے وہ کبھی روا رکھ سکتا ہی نہیں کہ تسبیح لے کر دانہ شماری کرے۔ کسی نے کہا ہے مَنْ کا منکا صاف کر۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے دل کو صاف کرے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔ تب وہ کیفیت پیدا ہوگی اور وہ ان دانہ شماریوں کو ہیچ سمجھے گا۔
    (الحکم ۲۴؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱)
    (۸۸) نماز میں تعداد رکعت کیوں رکھی ہے
    پھر پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعت کیوں رکھی ہے۔ فرمایا:
    اس میں اللہ تعالیٰ نے اسرار رکھے ہیں۔ جو شخص نماز پڑھے گا۔ وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے۔ جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔
    دوسری بات حلال والی ہے۔ قال والی نہیں۔ جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔ اصل غرض ذکر الٰہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق سے وہ گناہوں سے بچتا رہے گا۔ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودا لیا اور ستر ہزار کا دیا۔ مگر وہ ایک آن میں بھی خدا تعالیٰ سے جدا نہیں ہوا۔ پس یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ رِجَالٌ لاَ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَلاَ بَیُعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ۔ جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے کسی کام میں مصروف ہو۔ مگراس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔ اسی طرح پر جو لوگ خدا کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا کو فراموش نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو رونے میں اتنا ثواب نہیں۔ جتنا کہ عارف کے ہنسنے میں ہے۔ وہ بھی تسبیحات ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں رنگین ہوتا ہے یہی مفہوم اورغرض اسلام کی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں۔
    (الحکم ۲۴؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱)
    (۸۹) فاتحہ خلف الامام نہ پڑھنے سے نماز ہوتی ہے یا نہ؟
    ایک شخص نے سوال کیا کہ جو شخص نماز میں الحمد امام کے پیچھے نہ پڑھے۔ اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ:
    یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ نماز ہوتی ہے یا نہیں بلکہ یہ سوال کرنا اور دریافت کرنا چاہئے کہ نماز میں الحمد امام کے پیچھے پڑھنا چاہئے یا نہیں۔ سو ہم کہتے ہیں کہ ضرور پڑھنی چاہئے۔ ہونا یا نہ ہونا خدا تعالیٰ کو معلوم ہے اور ہزاروں اولیا اللہ حنفی طریق کے پابند تھے اور وہ خلف الامام الحمد نہ پڑھتے تھے۔ جب ان کی نماز نہ ہوئی تو وہ اولیاء کس طرح ہوگئے۔ چونکہ ہمیں امام ابی حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک طرح کی مناسبت ہے اور ہمیں ان کا ادب ہے ہم یہ فتویٰ نہیں دیتے کہ نماز نہیں ہوتی۔ اس زمانہ میں تمام حدیثیں مدون نہیں ہوئی تھیں اور یہ بھید چونکہ اب کھلا ہے۔ اس واسطے وہ معذور تھے اور اب یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اب اگر نہیں پڑھے گا تو بے شک اس کی نماز درجہ قبولیت کو نہیں پہنچے گی۔ ہم بار بار اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ الحمد نماز میں خلف امام پڑھنی چاہئے۔
    (تذکرہ المہدی صفحہ۲۵۳)
    (۹۰) فاتحہ خلف الامام پڑھنے کے محال
    ایک روز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ الحمد کس موقع پر پڑھنی چاہئے۔ فرمایا:
    جہاں موقع پڑھنے کامل جائے۔پوچھا گیا کہ امام کے سکوت میں فاتحہ پڑھی جاوے۔ فرمایا۔ ہاں موقعہ ہو۔ پڑھنا ضرور ہے۔ (تذکرۃ المہدی صفحہ۲۵۳)
    (۹۱) رکوع میں ملنے والے کی رکعت
    ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر جماعت ہو رہی ہے اور مقتدی کو رکوع میں ملنے کا موقعہ ملا۔ اب اس نے الحمد نہیں پڑھی وہ رکعت اس کی ہو جائے گی یا نہ؟
    مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا کہ وہ رکعت اس کی نہیں ہوگی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ رکعت اس کی ہوگئی۔ نہیں کیسے ہوگی۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ اگر اس کو موقعہ ملتا کہ وہ الحمد پڑھ لیتا تو کیا وہ الحمد نہ پڑھتا۔ مولوی صاحب موصوف نے عرض کیا کہ کیوں نہ پڑھتا۔ اس کا اعتقاد تو یہی ہے کہ الحمدللہ پڑھ لوں۔ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا نیت کے ساتھ بموجب ارشاد نبوی انما الاعمال بالنیات عمل کا دارومدار ہے۔ اس کو اتنی مہلت نہ ملی۔ دل میں تو اس کا اعتقاد ہے۔ وہ رکعت اس کی ضرور ہوگی۔
    (تذکرۃ المہدی صفحہ۲۵۴)
    (۹۲) سورہ مزمل وغیرہ کا وظیفہ
    ایک شخص نے جو سورہ مزمل کا وظیفہ کیا کرتا تھا اور اب اس کو آوازیں وغیرہ سنائی دیتی ہیں۔ اپنی ان مشکلات کو عرض کیا۔ فرمایا۔ اب اس شغل کو چھوڑ دو۔ شریعت نے رہبانیت کو اس لئے منع کیا ہے کہ اس سے دماغ پراگندہ ہو جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
    مامور من اللہ کی صداقت کے دلائل میں سے اس کے قوی بھی ہیں کیونکہ غیر محل پر وہ قوت نہیں دی جاتی اور اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور حکمت کہتے ہیں وضع الشی فی محلہ۔ پس مامور من اللہ کے قویٰ کی بناوٹ ایک نرالی قوت رکھتی ہے۔ قسم قسم کی تلخیاں اور مصیبتیں ان پر آتی ہیں۔ مگر خدا کی تسلی کی غذا ان کی زندگی کا موجب ہوتی ہے اور ان کے قویٰ کو ضعیف نہیں ہونے دیتی۔
    (الحکم ۲۴؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ۲)
    (۹۳) قضاء عمری
    قضاء عمری پر سوال ہوا کہ جمعۃ الوداع کے دن لوگ تمام نمازیں پڑھتے ہیں کہ گذشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ان کی تلافی ہو جاوے۔ اس کا وجود ہے یا کہ نہیں۔ حضرت امام علیہ السلام نے فرمایا یہ ایک فضول امرہے مگر ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا کسی شخص نے حضرت علیؓ کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں۔ اسے منع کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنایا جاؤں۔ اَرَاَیْتَ الَّذِیْ یَنْحٰی عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔ ہاں اگر کسی شخص نے عمدًا نماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔ کیونکہ منع کرتے ہو آخر دعا ہی کرتا ہے۔ ہاں اس میں پست ہستی ضرور ہے پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آ جاؤ۔
    (الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء)
    قضا و نماز
    ایک شخص نے سوال کیا کہ میں چھ ماہ تک تارک صلوٰۃ تھا۔ اب میں نے توبہ کی ہے کیا وہ سب نمازیں اب پڑھوں۔ فرمایا۔
    نماز کی قضا نہیں ہوتی اس کا علاج توبہ ہی کافی ہے۔ (بدر ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۸ء)
    (۹۴) انسان کو نماز کی حاجت
    جب انسان بندہ ہو کر لاپرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ ہر ایک اُمت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔ بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا ضرورت ہے۔ اے نادانو خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔ خدا کی طرف توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔ نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۸۸)
    (۹۵) مسئلہ تعظیم قبلہ
    سوال ہوا کہ اگر قبلہ شریف کی طرف پاؤں کر کے سویا جاوے تو جائز ہے کہ نہیں؟
    امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ تعظیم کے برخلاف ہے۔
    سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔ فرمایا کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اس بناء پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لئے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا۔ ہرگز نہیں۔ وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرِ اللّٰہَ فَاِنَّھَا مِنْ تَقُویَ الْقُلُوْبِ۔ (بدر ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ۶، الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۴)
    (۹۶) پگڑی پر مسح
    سوال: پگڑی پر مسح جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: پگڑی پر مسح میں اختلاف ہے۔ میری سمجھ میں جائز ہے۔ (الحکم ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء)
    (۹۷) لوگوں کی خود تراشیدہ وظائف و سرود و رقص پر فتویٰ
    لوگوں نے اپنے شامت اعمال کو نہیں سوچا ۔ ان اعمال خیر کو جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے ترک کر دیا اور ان کے بجائے خود تراشیدہ دردوظائف داخل کر لئے اور چند کافیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلھے شاہ کی کافیوں پر وجدمیں آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت کم لوگ جمع ہوتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے جہاں مجمعے ہوںوہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔ نیکوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا ہے۔ دیکھا گیا کہ بعض ان رقص و سرور کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاں اتار لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھتے ہیں وجد ہو جاتا ہے اس قسم کی بد عتیں اور اختراعی مسائل پیدا ہوگئے ہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ جنہوں نے نماز سے لذت نہیں اٹھائی اور اس دوق سے محروم ہیں وہ روح کی تسلی اور اطمینان کی حالت ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہوتا ہے۔ مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اس قسم کی بدعتیں مسلمان کہلا کر نکالتے ہیں۔ اگر روح کی خوشی اور لذت کا سامان اس میں تھا۔ تو چاہئے تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیا میں تھے وہ بھی اس قسم کی کوئی تعلیم دیتے یا اپنے اعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گدی نشین اور صاحب سلسلہ ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ورد وظائف اور چلہ کشیاں الٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے تھے۔ اگر معرفت اور حقیقت شناسی کا یہی ذریعہ اصل تھے۔ مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شریف میں یہ پڑھتے ہیں۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُم نِعْمَتِیْ اور دوسری طرف اپنی ایجادوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو توڑ کر ناقص ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ ظالم طبع لوگ مجھ پر افترا کرتے ہیں کہ گویا میں ایسی مستقل نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جو صاحب شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا الگ نبوت ہے۔ مگر دوسری طزف یہ لوگ اپنے اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو خود کر رہے ہیں۔ جب کہ خلافِ رسول اور خلاف قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔ اب اگر کسی کے دل میں انصاف اور خدا کا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کرتے ہیں جب کہ اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حَکم مانتے ہیں۔
    کیارد کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی اثبات کے ذکر اور کیا کیا میں سکھات ہوں۔ پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعویٰ تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔
    یقینا یاد رکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں بن سکتا۔ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کرے۔ جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا۔ سعدی نے کیا اچھا کہا ہے۔
    بزہدو درع کوشش صدق و صفا
    ولیکن میفزائے بر مصطفی
    ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے۔ یہی ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جاوے۔ جو ابدالآباد کے لئے خدا نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جاوے۔ جو ان لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں۔ ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا یہ لوگ۔ یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کرتوتیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنا لو۔ بغدادی نماز، معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔ کیا قرآن شریف یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتا لتا ہے اور ایسا ہی یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للّٰہ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود بھی نہ تھا۔ پھر یہ کس نے بتایا تھا۔ شرم کرو، کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے۔ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کومان اور ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبیین کی مہر کو توڑا ہے۔ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کی طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے تو پھر میرے آنے ہی کی کیا ضرورت ہوتی۔ تمہاری ان بدعتوں اور نئی نبوتوں نے ہی خدا تعالیٰ کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے۔ جو ان جھوٹی نبوتوں کے بت کو توڑ کر نیست و نابود کرے۔ پس اسی کام کیلئیخدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ میں نے سنا کہ غوث علی پانی پتی کے ہاں شاکت مت کا ایک منتر رکھا ہوا جس کا وظیفہ کیا جاتا ہے۔
    ان گدی نشینوں کو سجدہ کرنا یا ان کے مکانات کا طواف کرنا یہ تو بالکل ان بدعتیوں کی معمولی اور عام باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس جماعت کو اس لئے قائم کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور عزت دوبارہ قائم کریں۔ ایک شخص جو کسی کاعاش کہلاتا ہے اگر اس جیسے ہزاروں ہوں تو اس کے عشق و محبت کی خصوصیت کیا رہے۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا ہیں جیسا کہ یہ دعویٰ کرتے ہیں تو یہ کیا بات ہے کہ ہزاروں قبروں اور مزاروں کی پرستش کرتے ہیں۔
    مدینہ طیبہ تو جاتے نہیں۔ مگر اجمیر اور دوسری خانقاہوں پر ننگے سر اور ننگے پاؤں جاتے ہیں۔ پاکپٹن کی کھڑی میں سے گزر جانا ہی نجات کیلئے کافی سمجھتے ہیں۔ کسی نے کوئی جھنڈا کھڑا کر رکھا ہے۔ کسی نے کوئی اور صورت اختیار کر رکھی ہے۔ ان لوگوں کے عرسوں اور میلوں کو دیکھ کر ایک سچے مسلمان کا دل تپ جاتا ہے کہ یہ انہوں نے کیا بنا رکھا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کو اسلام کی غیرت نہ ہوتی اور اِنَّ الذِّیْنَ عِنْد اللّٰہِ الْاِسْلَامِ خدا تعالیٰ کا کام نہ ہوتا اور اس نے یہ نہ فرمایا ہوتا اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ تو بے شک آج وہ حالت اسلام کی ہوگئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھا دے۔ چنانچہ اسی نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔
    آج دو قسم کے شرک پیدا ہوگئے ہیں جنہوں نے اسلام کو نابود کرنے کی بے حد سعی کی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہوتا تو قریب تھا کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور پسندیدہ دین کا نام و نشان مٹ جاتا۔ مگر چونکہ اس نے وعدہ کیا ہوا تھا۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّ لْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ یہ وحدہ حفاظت بھی چاہتا تھا کہ جب غارتگری کا موقع ہو تو وہ خبر لے۔ چوکیدار کا کام ہے کہ وہ نقب دینے والوں کو پوچھتے ہیں اور دوسرے جرائم والوں کو دیکھ کر اپنے منصبی فرائض عمل میں لاتے ہیں۔ اسی طرح آج چونکہ فتن جمع ہوگئے ہیں اور اسلام کے قلعہ پر ہر قسم کے مخالف ہتھیار باندھ کر حملہ کرنے کو تیار ہوگئے تھے۔ اس لئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ منہاج نبوت قائم کرے۔ یہ مواد اسلام کی مخالفت کے دراصل ایک عرصہ دراز سے پک رہے تھے اور آخراب پھوٹ نکلے۔ جیسے ابتدا میں نطفہ ہوتا ہے اور پھر ایک عرصہ مقررہ کے بعد بچہ بن کر نکلتا ہے۔ اسی طرح پر اسلام کی مخالفت کے بچہ کا خروج ہو چکا ہے اور اب وہ بالغ ہو کر پورے جوش اور قوت میں ہے۔ اس لئے اس کو تباہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک حربہ نازل کیا اور مکروہ شرک کو جو اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہو گیا تھا دور کرنے کیلئے اور پھر خدا تعالیٰ کی توحید اور جلال قائم کرنے کے واسطے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں بڑے دعویٰ اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ بے شک یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس نے اپنے ہاتھ سے اس کو قائم کیا ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۹۱)
    (۹۸) طریق توجہ اختراع کردہ صوفیہ
    سوال: یہ طریق جو صوفیوں نے بنایا ہوا ہے کہ توجہ کے واسطے اس طرح بیٹھنا چاہئے اور پھر اس طرح دل پر چوٹ لگانا چاہئے اور دیگر اس قسم کی باتیں کیا جائز ہیں؟
    جواب: یہ جائز نہیں ہیں بلکہ سب بدعات ہیں۔ حَسُبُنَا کِتَاب اللّٰہ ہمارے واسطے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف سلوک کے واسطے کافی ہے جو باتیں ان لوگوں نے نکالی ہیں یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں ہرگز نہ تھیں۔ یہ سب ان لوگوں کا اختراع ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ کُوْنُوا مَعَ الصَّادِقِیْنَ صادق کی صحبت میں رہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امور میں مشکلات آسان ہو جاتے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلائی رحمۃ اللہ علیہ بڑے خدا رسیدہ اور بڑے قبولیت والے انسان تھے انہوں نے لکھا ہے کہ جس نے خدا کا راہ دیکھنا ہو وہ قرآن شریف کو پڑھے۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ طریق پر کچھ بڑھائیں اور نئی باتیں ایجاد کریں یا اس کے برخلاف چلیں تو یہ کفر ہوگا۔
    (بدر ۱۹۰۲ء………)
    (۹۹) علماء و فقرا کے فرقے
    اس زمانہ میں جیسا کہ علماء کے درمیان بہت سے فرقے بن گئے ہیں۔ ایسا ہی فقراء کے درمیان بہت سے فرقے بن گئے ہیں اور سب اپنی باتیں نئی طرز کی نکالتے ہیں۔ تمام زمانہ کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں وہ مجدد بھجیا ہے جس کا نام مسیح موعود رکھا گیا ہے اور جس کا انتظار مدت سے ہو رہا تھا اور تمام نبیوں نے اس کے متعلق پیشین گوئیاں کی تھیں اور اس سے پہلے زمانہ کے بزرگ خواہش رکھتے تھے کہ وہ اس کے وقت کو پائیں۔ (بدر ۱۹۰۷ء ۳۔۳۱۔۱)
    (۱۰۰) نماز وطریق تہجد
    تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
    مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔ جو زیادہ نہیں وہ دو رکعت ہی پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع مل جاوے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور سچے جوش سے نکلتی ہیں۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل نہ ہو اس وقت ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے۔ پس اس وقت کا اُٹھنا ہی ایک دردِ دل پیدا کر دیتا ہے۔ جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں لیکن اگر اُٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے لیکن جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کثرت سے نوافل ادا کرتے۔ آپ آٹھ رکعت نماز نفل اور تین وتر پڑھتے۔ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دو رکعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھتے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سو جاتے۔ غرض سو کر اور اُٹھ کر نوافل اس طرح ادا کرتے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کرسکے تو وہ اُٹھ کر استغفار درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔ (الحکم اپریل ۱۹۰۲ء)
    (۱۰۱) تہجد میں رکعات گیارہ ہیں یا تیرہ
    سوال: تروایح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو بیس رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وتر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے۔
    جواب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہیں اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے۔ مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے اوّل حصہ میں اسے پڑھا۔ بیس رکعات بعد میں پڑھی گئیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔ (البدر ۶؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۷)
    (۱۰۲) قبول ہونے والی دعا کے آثار
    دعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ اس کے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اس کا پیرایہ بتا دیتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دعائیں خود الہاماً سکھا دیتا ہے۔ بعض وقت ایسی دعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دعا کرنے والا ناپسند کرتا ہے۔ مگر وہ قبول ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہے۔ عَسیٰ اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَخَیْرٌ لَّکُمْ۔
    دعا نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے
    ایک رئیس کا یہ خیال سن کر کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ دعا سے مشکل حل ہوتی ہے۔
    ان کو بہت ہی کمزور کرنے والا ہے۔آپ نے فرمایا جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے۔ صرف ایک دعا ہی ذریعہ خدا شناسی کا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہاً مانا جاوے۔ اصل میں ہر جگہ دہریت ہے۔ آج کے کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا توکل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں ان باتوں کو بے وقوفی کہا جاتا ہے۔ ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے۔ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر ان کے نزدیک خدا کوئی شے نہیں ہے تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے۔ اسے ذرا بند کر کے تو دکھا دیں۔ تعجب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے ناامید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو کون کھول سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک کتے کو عقل دے سکتا ہے کہ یہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے۔ (الحکم ۲۴؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۱۰۳) بہترین ذریعہ دعا و معراج مومن
    نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز اس لئے نہیں کہ ٹکریں ماریں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں۔ بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نمازیں پڑھنے لگتے ہیں یہ کچھ نہیں۔ نماز خدا تعالیٰ کی حضور ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرکب صورت کا نام نماز ہے۔ اس کی نماز ہرگز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصدس کو مدنظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔ پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔ کھڑے ہو تو ایسے طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتا دے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لئے دعاکرو۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۹۵)
    (۱۰۴) معراج
    سوال: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی بابت کسی نے سوال کیا۔
    جواب: فرمایا۔ سب حق ہے۔ معراج ہوئی تھی۔ مگر یہ فانی بیداری اور فانی اشیاء کے ساتھ نہ تھی بلکہ وہ اور رنگ تھا۔ جبرائیل بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اور نیچے اُترتا جس رنگ میں اس کا اُترنا تھا اُسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چڑھنا ہوا تھا۔ نہ اُترنے والا کسی کو اُترتا نظر آتاتھا اور نہ چڑھنے والا کوئی چڑھتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔ حدیث شریف جو بخاری میں ہے آیا ہے۔ ثُمَّ استقیظ یعنی پھر جاگ اُٹھے۔ (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ۳)
    (۱۰۵) تلاوت قرآن و نماز میں دعا
    قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی ناامید نہ ہو۔ مومن کبھی خدا سے مایوس نہیں ہوتا۔ یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہوتے جائیں۔ ہمارا خدا عَلی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْر خداہے۔ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھ لو۔ اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔ قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو۔ نماز کو اس طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔ البتہ اپنی حاجتوں اور مطالبوں کو مسنون اذکار کے بعد اپنی زبان میں بے شک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے مانگو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے نماز ہرگز ضائع نہیں ہوتی۔ آج کل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔ نمازیں کیا پڑھتے ہیں ٹکریں ماتے ہیں۔ نماز تو بہت جلد جلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مار کر پڑھتے ہیں اور پیچھے دعا کے لئے بیٹھے رہتے ہیں۔ نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہے۔ نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا حال عرض کرنے کا موقع بھی ہو لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کے، لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔ اس سے کیا فائدہ۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے۔ تم جو دعائیں مانگتے ہو، نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں۔ سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۹۴)
    (۱۰۶) امامت مساجد و ائمہ مساجد زمانہ موجودہ کاحال و روش
    میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔ مگر معاذ اللہ اس کی وجہ کسل یا استخفاف احکام الٰہی نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے ملک کی اکثر مساجد کا حال نہایت ابتر اور قابل افسوس ہو رہا ہے۔ اگر ان مسجدوں میں جا کر آپ امامت کا ارادہ کیاجاوے تو وہ جو امامت کا منصب رکھتے ہیں۔ ازبس ناراض اور نیلے پیلے ہو جاتے ہیں اور اگر ان کا اقتدا کیا جاوے تو نماز کے ادا کرنے میں مجھے شبہ ہے کیونکہ علانیہ طو رپر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دکان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھولتے ہیں اور اسی دکان پر ان کا اور کے عیال کا گزارہ ہے۔ چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کیلئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔ پس یہ امامت نہیں یہ تو حرام خوری کا ایک مکروہ طریقہ ہے پھر کیونکر کوئی شخص دیکھ بھال کر اپنا ایمان ضائع کرے۔ مساجد میں منافقین کا جمع ہونا جو احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کے حالات میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ پیشگوئی انہیں مُلّا صاحبوں سے متعلق ہے جو محراب میں کھڑے ہو کر زبان سے قرآن شریف پڑھتے ہیں اور دل میں روٹیاں گنتے ہیں۔ (فتح اسلام صفحہ۲۱)
    (۱۰۷) اُجرت پر امامت شرعاً ناجائز ہے
    جو طریق آج کل پنجاب میںنماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے۔ مُلّا لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں۔ ایسا امام شرعاً ناجائز ہے۔ صحابہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اُجرت پر امامت کرائی ہو۔ پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک مُلّا نے نماز جنازہ کی ۶ یا ۷ تکبریں کہیں۔ لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یاد آتا ہے۔ کبھی سال میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو کیسے یاد رہے۔ جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت میّت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مُلّا یہاں آ کر رہا۔ ہمارے مرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے۔ ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں۔ اس لئے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی۔ اس وقت لوگوں کی حالت بہت ردی ہے۔ صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔
    (الحکم ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۶)
    (۱۰۸) صِفۃ الصلوٰۃ یعنی طریق نماز مطابق عملدرآمد حضرت مسیح موعود
    حسب تحریر سید محمد سرور شاہ صاحب۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام صلوٰۃ پڑھتے ہیں تو کعبہ کی طرف رخ کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ انگلیاں دونوں کانوں کے برابر ہو جاتی ہیں اور پھر دونوں کو نیچے لا کر سینہ یعنی دونوں پستانوں کے اوپر یا ان کے متصل نیچے اس طور پر باندھتے ہیں کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور عوماً ایسا ہوتا ہے کہ داہنے ہاتھ کی تینوں درمیانی انگلیوں کے سرے بائیں کہنی تک یا اس سے کچھ پیچھے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں اور انگوٹھے اور کنارے کی انگلی سے پکڑا ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف اوپر یا نیچے یا آگے بڑھا کر یا نیچے ہٹا کر یا ساری انگلیوں سے کوئی پکڑ کر ہاتھ باندھتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ آپ ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر پڑھتے ہیں۔
    سُبْحَالَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ اِلٰہَ غَیْرُکَ یا پڑھتے ہیں اَللّٰھُمَّ بَا عِدْبَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ الَلّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَا یَایَ کَمَایُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبُیَضُ مِنَ الذَّنْسِ اَللّٰھُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِالْمَائِ وَالشَّلْجِ وَالْبَرْدِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم مٰلِکَ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعُبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اِھْدِنَا الصِّرْاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ۔ اس کے بعد کوئی سورت یا قرآن مجید کی کچھ آیتیں پڑھتے ہیں اور فاتحہ میں جو اِھْدِنَا الخ کی دعا ہے۔ اس کو بہت توجہ سے اور بعض دفعہ بار بار پڑھتے ہیں اور فاتحہ کے اوّل یا بعد سورۃ کے پہلے ای پچھے غرض کھڑے ہوتے ہوئے اپنی زبان میں یا عربی میں علاوہ فاتحہ کے اور اور دعائیں بڑی عاجزی و زاری اور توجہ سے مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جاتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں گھٹنوں کو انگلیاں پھیلا کر پکڑتے ہیں اور دونوں بازؤں کو سیدھا رکھتے ہیں اور پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے ہیں اور سُبْحَانَ رَبِّی العَظِیْم یا پڑھتے ہیں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرلِیْ تین یا تین سے زیادہ دفعہ پڑھتے ہیں اور رکوع کی حالت میں اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا کرنی چاہیں کرتے ہیںاس کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کھڑے کھڑے رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ یا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی یا اس کے سوا اور کوئی ماثورہ کلمہ کہتے ہیں اور اس کے بعد جو دعا کرنی چاہتے ہیں۔ اپنی زبان میں یا عربی میں کرتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے نیچے جاتے ہیں اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ اور پھر ناک اور پیشانی یا پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے اور پھر ناک اور پیشانی زمین پر رکھ کر سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی یا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغفِرْلِیْ کم سے کم تین دفعہ یا اس سے زیادہ طاق پڑھتے ہیں اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ سجدہ میں دعا بہت قبول ہوتی ہے لہٰذا سجدہ میں اپنی زبان یا عربی زبان میں بہت دعائیں کرتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا رکھتے ہیں اوران کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ رکھتے ہیں اور دونوں ہاتھوں کے درمیان سر رکھتے ہیں اور دونوں بازؤوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا کر کے اور دونوں کہنیوں کو زمین سے اُٹھا کر رکھتے ہیں۔ ہاں جب لمبا سجدہ کرتے ہوئے تھک جاتے ہیں تو اپنی دونوں کہنیوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ کر سہارا لے لیتے ہیں۔ اس کے بعد اللّٰہ اکبر کہتے ہوئے سر اُٹھا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے ہیں اور بیٹھ کر اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْزُقْنِیْ یا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ تین دفعہ پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا چاہتے ہیں کرتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے پہلے سجدہ کی مانند سجدہ کرتے ہیں اور پہلے سجدہ کی مانند اس میں بھی وہی کچھ پڑھتے ہیں جو کہ پہلے سجدہ میں پڑھا تھا اور دوسرے سجدہ میں بھی دعاؤں مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور سوائے پہلے تکبیر اور سبحانک اللہ اور اعوذ باللہ کے بعینہٖ پہلی رکعت کی مانند دوسری رکعت پڑھتے ہیں اور دونوں سجدہ کے بعد اس طرح بیٹھ جاتے ہیں جیسا کہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھا کرتے ہیں۔ ہاں اس قدر فرق ہوتا ہے کہ پہلے سجدہ کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قبلہ کی طرف سیدھی ہوتی ہیں اور دوسری رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو اپنے بائیں ہاتھ کو تو ویسا ہی رکھتے ہیں اور پھر التحیات پڑھتے ہیں اور وہ یہ ہے اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور یہ کہتے ہوئے اس انگلی کو اُٹھا کر اشارہ کرتے ہیں اور پھر ویسی ہی رکھ دیتے ہیں جیسے کہ پہلے رکھی ہوئی تھی۔ پھر وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدٌا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلہٗ پڑھتے ہیں۔ پس اگر تین چار رکعتیں پڑھنی ہوتی ہیں تو اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر باقی رکعتوں کو ویسا ہی پڑھتے ہیں جیسا کہ دوسری رکعت کو پڑھا تھا اور پھر ان کو ختم کر کے اخیر میں پھر اسی طریق سے یا داہنے پاؤں کو کھڑا کر کے اور بائیں پاؤں کو داہنے طرف باہر نکال کر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ التحیات پڑھتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمّدٍ وَّ عَلٰی اٰل مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
    اس کے بعد پھر کوئی دعا مقرر نہیں بلکہ جو چاہتے ہیں دعا مانگتے ہیں اور ضرور مانگتے ہیں۔ اس کے بعد داہنی طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ تم پر اللہ کی رحمت اور سلام ہو اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر اسی طرح کہتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ۔ پس اللہ اکبر سے نماز شروع ہوتی ہے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ پر ختم ہوتی ہے۔ یہ وہ نماز ہے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے اہل علم اور مخلص مہاجر رات دن ساتھ رہنے والے اصحاب پڑھتے ہیں۔ (تفسیر قرآن مؤلفہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب)
    (۱۰۹) تصویر بنوانے کی غرض
    اعتراض کیا گیا کہ تصویر پر لوگ کہتے ہیں یہ تصور شیخ کی غرض سے بنوائی گئی ہے۔
    جواب: یہ تو دوسرے کی نیت پر حملہ ہے۔ میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ تصویر سے ہماری غرض کیا تھی۔ بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کو بلادیورپ خصوصاً لندن میں تبلیغ کرنی منظور تھی لیکن یہ لوگ کسی دعوت یا تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتے جب تک داعی کے حالات سے واقف نہ ہوں اور اس کے لئے ان کے ہاں علم تصویر میں بڑی بھاری ترقی کی گئی ہے۔ وہ کسی شخص کی تصویر اور اس کے خط و خال کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس میں راستبازی کی قوت قدسی کہاں تک ہے اور ایسا ہی بہت سے امور کے متعلق انہیں اپنی اپنی رائے قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے پس اصل غرض اور نیت ہماری اس سے یہ تھی جس کو ان لوگوں نے جو خواہ نخواہ ہر بات میں مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔ برے برے پیرایوں میں پیش کیا اور دنیا کو بہکایا۔ میں کہتا ہوں کہ ہماری نیت تو تصویر سے صرف اتنی ہی تھی۔ اگر یہ نفس تصویر کو ہی برا سمجھتے تو پھر کوئی سکہ اپنے پاس نہ رکھیں۔ بلکہ بہتر ہے کہ آنکھیں بھی نکلوا دیں کیونکہ ان میں بھی اشیاء کا ایک انعکاس ہی ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ افعال کی تہہ میں نیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ پڑھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔ بھلا اگر کوئی شخص محض ریاکاری کے لئے نماز پڑھے تو اس کو یہ کوئی مستحسن امر قرار دیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ ایسی نماز کا فائدہ کچھ نہیں بلکہ وبال جان ہے تو کیا نماز بُری تھی؟ نہیں اس کے بداستعمال نے اس کے نتیجہ کو بُرا کیا۔ اسی طرح پر تصویر سے ہماری غرض تو دعوت اسلام کی دعوت میں مدد لینا تھا۔ جو اہل یورپ کے مذاق پر ہو سکتی تھی اس کو تصور شیخ بنانا اور کچھ سے کچھ کہنا افتراء ہے جو مسلمان ہیں ان کو اس پر غصہ نہیں آنا چاہئے تھا جو کچھ خدا اور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔ اگر مشائخ کا قول خدا اور رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو کالائے بدبریش خاوند۔
    (الحکم ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۱ء)
    (۱۱۰) تصور شیخ
    تصور شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانی فی اللہ لوگوں کی محبت ایک عمدہ شے ہے۔ لیکن حفظِ مراتب ضروری ہے۔
    گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی
    پس خدا کو خدا کی جگہ رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کی کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ اس سے زیادہ چونکہ قرآن مجید میں اور کچھ نہیں تو کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْن پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ تم اسے ہی سب کچھ سمجھو قرآن شریف میں یہ حکم ہے۔ اِنّ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتِّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمٍ اللّٰہُ۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے یہ سمجھ لو۔ بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ اتباع کا حکم تو دیا ہے مگر تصور شیخ کا حکم قرآن میں نہیں پایا جاتا۔
    سوال: جو لوگ تصور شیخ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا نہیں سمجھتے۔
    جواب: مانا کہ وہ ایسا کہتے ہیں۔ مگر بت پرستی تو شروع ہی تصور سے ہوتی ہے۔ بت پرستی بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچی ہے۔ پہلے تصور ہی ہوگا۔ پھر یہ سمجھ لیا کہ تصور قائم رکھنے کے لئے بہتر ہے تصویر ہی بنا لیں اور پھر اس کو ترقی دیتے دیتے پتھر اور دھاتوں کے بت بنانے شروع کر دیئے اور ان کو تصویر کا قائم مقام بنا لیا۔ آخر یہاں تک ترقی کی کہ ان کی روحانیت کو اور وسیع کرکے ان کو خدا ہی مان لیا۔ اب نرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ منتر کے ساتھ ان کو درست کر لیتے ہیں اور پرمیشر کا حلول ان پتھروں میں ہو جاتا ہے۔ اس منتر کا نام انہوں نے آواہن رکھا ہوا ہے۔
    میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ میں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو تو اس نے کہا کہ اس پر آواہن لکھا ہوا ہے۔ مجھے اس سے کراہت آئی میں نے اسے کہا کہ تو مجھے دکھا۔ جب میں نے پھر ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا اَرَرْتُ اَنْ اَسْتَخْلَفُ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ جو ہوتا ہے ردائے الٰہی کے نیچے ہوتا ہے۔ اس لئے آدم کے لئے فرمایا نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ اسی طرح پر غلطیاں پیدا ہوتی گئیں۔ اصول کو نہ سمجھا۔ کچھ کا کچھ بگاڑ کر بنا لیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شرک اور بت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ ہماری تصویر کی اصل غرض وہی تھی جو ہم نے بیان کر دی کہ لنڈن کے لوگوں کو اطلاع ہو اور اس طرح پر ایک اشتہار ہو جائے۔
    غرض تصویر شیخ کا مسئلہ ہندوؤں کی ایجاد اور ہندوؤں سے ہی لیا گیا ہے۔ قلب جاری ہونے کا مسئلہ بھی ہندوؤں ہی سے لیا گیا ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کی اصل غرض انسان کی پیدائش سے یہ ہوتی تو پھر اتنی بڑی تعلیم کی کیا ضرورت تھی۔ صرف اجرائے قلب کا مسئلہ بتا کر اس کے طریقے بتا دیئے جاتے۔ مجھے ایک شخص نے معتبر روایت کی بنا پر بتایا کہ ایک ہندو کا قلب رام رام پر جاری تھا۔ ایک مسلمان اس کے پاس آ گیا۔ اس کا قلب بھی رام رام پر جاری ہو گیا۔
    یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ رام خدا کا نام نہیں ہے۔ دیانند نے بھی اس پر گواہی دی ہے کہ یہ خدا کا نام نہیں۔ قلب جاری ہونے کا دراصل ایک کھیل ہے جو سادہ لوح جہلا کو اپنے دام میں پھنسانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اگر لوٹا لوٹا کہا جاوے تو اس پر بھی قلب جاری ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو تو پھر وہی بولتا ہے۔ یہ تعلیم قرآن نے نہیں دی ہے بلکہ اس سے بہتر دی ہے ۔ اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبِ سَلِیْم خدا یہ چاہتا ہے کہ سارا وجود ہی قلب ہو جاوے ورنہ اگر وجود سے خدا کا ذکر جاری نہیں ہوتا تو ایسا قلب قلب نہیں بلکہ کلب ہے۔ خدا یہی چاہتا ہے کہ خدا میں فنا ہو جاؤ اور اس کی حدود شرائع کی عظمت کرو۔ قرآن فنا نظری کی تعلیم دیتا ہے میں نے آزما کر دیکھا ہے کہ قلب جاری ہونے کی صرف ایک مشق ہے جس کا انحصار اصلاح و تقویٰ پر نہیں ہے۔ ایک شخص منٹگمری یا ملتان کے ضلع کا مجھے چیف کورٹ میں ملا کرتا تھا۔ اسے اجرائے قلب کی خوب مشق تھی۔ پس میرے نزدیک یہ کوئی قابل وقعت بات نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو کوئی عزت اور وقعت نہیں دی۔ خدا تعالیٰ کا منشاء اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقصد یہ تھا کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زکّٰھَا کپڑا جب تک سارا دھویا نہ جاوے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوے جاویں۔ کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے سوا یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا کا سنوارا ہوا بگڑتا نہیں مگر انسان کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بنا پر گواہی دیتے ہیں کہ جب تک انسان اپنے اندر خدا تعالیٰ کی مرضی اور سنت نبوی کے موافق تبدیلی نہیں کرتا اور پاکیزگی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو خواہ اس کے قلب سے ہی آواز آتی ہو وہ زہر جو انسان کی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے دور نہیں ہو سکتی۔ روحانیت کے نشوونما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔ جو لوگ قلب جاری ہونے کے شعبدے لئے پھرتے ہیں انہوں نے سنت نبوی کی سخت توہین کی ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں گزرا ہے۔ کیا غار میں بیٹھ کر وہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرتے تھے یا فنا کا طریق آپ نے اختیار کیا ہوا تھا۔ پھر آپ کی ساری زندگی میں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ آپ نے صحابہ کو یہ تعلیم دی ہو کہ تم قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرو اور کوئی ان قلب جاری والوں میں سے یہ پتہ نہیں دیتا اور کبھی نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی قلب جاری تھا۔
    یہ تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں۔ انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔ قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔ اَشَدُّ حُبّالِلّٰہ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ پر عمل کرو اور ایسی فنا اتم تم پر آ جاوے کہ تَبَتَّل اَلْیِہِ تَبْتِیْلاً کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کر لو۔ یہ امور ہیں جن کے اصول کی ضرورت ہے۔ نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو ناپنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔ پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان خیالات سے بالکل الگ رہو اور وہ طریق اختیار کرو جو خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے طرز عمل سے ثابت کر دکھایا کہ اسی پر چل کر انسان دنیا اور آخرت میں فلاح اور فوز حاصل کر سکتا ہے اور صحابہ کوجس کی تعلیم دی۔ پھر وقتاً فوقتاً خدا کے برگزیدوں نے سنت جاریہ کی طرح اپنے اعمال سے ثابت کیا اور آج بھی خدا نے اسی کو پسند کیا۔ اگر خدا تعالیٰ کا اصل منشا یہی ہوتا تو ضرور تھا کہ آج بھی جب اس نے ایک سلسلہ گم شدہ صداقتوں اور حقائق کے زندہ کرنے کے لئے قائم کیا یہی تعلیم دیتا اور میری تعلیم کا منشا یہی ہوتا مگر تم دیکھتے ہو کہ خدا نے ایسی تعلیم نہیں دی ہے بلکہ وہ تو قلب سلیم چاہتا ہے وہ محسنوں اور متقیوں کو پیار کرتا ہے ان کا ولی ہوتا ہے۔ کیا سارے قرآن میں ایک جگہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ ان کو پیار کرتا ہے جن کے قلب جاری ہوں۔
    یقینا سمجھو کہ یہ محض خیالی باتیں ہیں اور کھیلیں جن کا اصلاح نفس اور روحانی امور سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے بلکہ ایسے کھیل خدا سے بُعد کا موجب ہو جاتے ہیں اور انسان کے عملی حصہ میں مضر ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے تقویٰ اختیار کرو۔ سنت نبوی کی عزت کرو اور اس پر قائم ہو کر دکھاؤ۔ جو قرآن کریم کی تعلیم کا اصل فخر یہی ہے۔
    سوال: پھر صوفیوں کو کیا غلطی لگی؟
    جواب: ان کو حوالہ بخدا کرو۔ معلوم نہیں انہوں نے کیا سمجھا اور کہاں سے سمجھا۔ تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَھَا مَاکَسَبَتْ بعض وقت لوگوں کو دھوکا لگتا ہے کہ وہ ابتدائی حالت کو انتہائی سمجھتے ہیں۔ کیا معلوم ہے کہ انہوں نے ابتدا میں یہ کیا ہو پھر آخر میں چھوڑ دیا ہو کسی اور ہی نے ان باتوں میں التباس کر دیا ہو اور اپنے خیالات ملا دیئے ہوں۔ اسی طرح پر تو توریت و انجیل کی تحریف ہوگئی۔ گذشتہ مشائخ کا اس میں نام بھی نہیں لینا چاہئے ان کا تو ذکر خیر چاہئے۔
    انسان کولازم ہے کہ جس غلطی پر خدا اسے مطلع کر دے۔ خود اس میں نہ پڑے۔ خدا نے یہی فرمایا ہے کہ شرک نہ کرو اور تمام عقل اور طاقت کے ساتھ خدا کے ہو جاؤ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا۔ مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَان اللّٰہُ لَہٗ (الحکم ۲۴؍ اکتوبر و ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۱ء صفحہ۱،۲)
    (۱۱۱)حبس دم
    سوال: حبس دم کیا ہے؟
    جواب: یہ بھی ہندو جوگیوں کا مسئلہ ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔
    (الحکم ۲۴؍ اکتوبر و ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۱ء صفحہ۱،۲)
    (۱۱۲) کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز
    سوال: کیا کنچنی کی مسجد میں نماز ہو سکتی ہے۔
    جواب: کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز درست نہیں ہے۔
    (الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء)
    (۱۱۳) ظاہری نماز، روزہ و قربانی
    ظاہری نماز و روزہ کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو تو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اُٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں بخشتیں اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے۔ وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔ اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا۔ لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لَحُوْمُھَا وَلاَ دِمَائُ ھَاوَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْویٰ مِنْکُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔ حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے اور اسی طرح نماز روزہ اگر روح کا ہے تو ظاہر کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیاز مندی اور عبودیت پیدا نہیں ہو سکتی جو اصل مقصد ہے اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں روح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں اور یہ جوگی اس قسم کے ہیں۔ روح اور جسم کا خدا تعالیٰ نے باہم ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آ ہی جائے گا اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہے تو آخر اسے آ ہی جاتی ہے۔ اسی طرح نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں۔ مثلاً کھڑا ہونا یا رکوع کرنا اس کے ساتھ ہی روح پر بھی اثر پڑتا ہے اور جس قدر جسم میں نیاز مندی کی حالت دکھاتا ہے اسی قدر روح میں پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ نرے سجدہ کو قبول نہیں کرتا مگر سجدہ کو روح کے ساتھ ایک تعلق ہے اس لئے نماز میں آخری مقام سجدہ کا ہے۔ جب انسان نیازمندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ کرنا چاہتا ہے۔ جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔ کتے بھی جیسا اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آ کر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہو جاتا ہے۔ جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے اثر ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور پژمردگی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے۔ دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کے لئے ایک انجن ہے۔ اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔ غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔ روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ پھر جسم میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے جب روح میں واقعی عاجزی اور نیاز مندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خودبخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے۔ تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہئے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کرو۔ اگرچہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہو جاتا ہے اور واقعی روح میں وہ نیاز مندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۱۲)
    (۱۱۴) مردہ کی آواز
    سوال: کیا مردہ کی آواز دنیا میں آتی ہے؟
    جواب: خدا تعالیٰ کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے۔ مگر مردوں کی نہیں آتی۔ اگر کبھی کسی مردے کی آواز آئی ہے تو خدا تعالیٰ کی معرفت یعنی خدا تعالیٰ کوئی خبر ان کے متعلق دے دیتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی ہو۔ خواہ نبی ہو یا صدق یہ حال ہے کہ
    آن را کہ خبر شد خبرش باد نیامد
    اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے۔ وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے فرماتا ہے۔ فَلَا اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۱۴)
    (۱۱۵) تصویر کشی
    مولوی نظیر حسین صاحب نے سوال کیا کہ میں فوٹو کے ذریعہ تصویریں اُتارا کرتاتھا اور دل میں ڈرتا تھا کہ کہیں خلاف شرع نہ ہو لیکن جناب کی تصویر دیکھ کر یہ وہم جاتا ہا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ ہم نے اپنی تصویر محض اس لئے اُتروائی ہے کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ ان لوگوں کا عام مذاق اسی قسم کا ہو گیا ہے کہ وہ جس چیر کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے نتائج نکال لیتے ہیں۔ مولوی لوگ جو میری تصویر پر اعتراض کرتے ہیں وہ خود اپنے پاس روپیہ پیسہ کیوں رکھتے ہیں۔ کیا ان پر تصویریں نہیں ہوتی ہیں۔ اسلام ایک ایسا وسیع مذہب ہے جو ہر بات کا مدار نیت پر رکھتا ہے۔ بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدان جنگ میں نکلا جو اِترا کر چلتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بہت بُری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا یعنی زمین میں اِترا کر نہ چلو۔ مگر اس وقت یہ چال خدا کو بہت پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک نثار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جاوے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا تہ بند نیچے ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا تہ بند بھی ویسا ہی تھا۔ آپ نے فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں ہے۔ غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظِ مراتب ضروری شے ہے۔ مولوی نظیر حسین نے عرض کی میں خود تصویر کشی کرتا ہوں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر کفر اور بت پرستی کو مدد نہیں دیتے ہو تو جائز ہے۔ آج کل نقوش و قیافہ کا علم بہت بڑھا ہوا ہے۔ (الحکم ۲۴؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۱۱۶) حرمت تصویر بازی
    ذکر آیا کہ ایک شخص نے حضور کی تصویر ڈاک کے کارڈ پر چھپوائی ہے تا کہ لوگ ان کارڈوں کو خرید کر خطوط میں استعمال کریں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
    میرے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ بدعات پھیلانے کا یہ پہلا قدم ہے۔ ہم نے جو تصویر فوٹو لینے کی پہلے دی تھی وہ اس واسطے تھی کہ یورپ امریکہ کے لوگ جو ہم سے بہت دور ہیں اور فوٹو سے قیافہ شناسی کا علم رکھتی ہیں اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لئے ایک روحانی فائدہ کا موجب ہو کیونکہ جیسا تصویر کی حرمت ہے۔ اس قسم کی حرمت عموم نہیں رکھتی بلکہ بعض اوقات مجتہد اگر دیکھے کہ کوئی فائدہ ہے اور نقضان نہیں تو وہ حسبِ ضرورت اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ خاص یورپ کی ضرورت کے واسطے فوٹو کی اجازت دی گئی۔ چنانچہ بعض خطوط یورپ امریکہ سے آئے جس میں لکھا ہے کہ تصویر کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل وہی مسیح ہے۔ ایسا ہی امراض کی تشخیص کے واسطے بعض وقت تصویر سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ شریعت میں ہر ایک امر کو مَایَنْفَعُ النَّاس کے نیچے آوے اس کو دیرپا رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ جو کارڈوں پر تصویریں بنتی ہیں ان کو خریدنا نہیں چاہئے بت پرستی کی جڑ تصویر ہے۔ جب انسان کسی کا معتقد ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ تعظیم تصویر کی بھی کرتا ہے۔ ایسی باتوں سے بچنا چاہئے اور ان سے دور رہنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری جماعت پر سر نکالتے ہی آفت پڑ جائے۔ میں نے اس ممانعت کو کتاب میں درج کر دیا ہے جو زیر طبع ہے۔ جو لوگ جماعت کے اندر ایسا کام کرتے ہیں ان پر ہم سخت ناراض ہیں۔ ان پر خدا ناراض ہے۔ ہاں اگر کسی طریق سے کسی انسان کی روح کو فائدہ ہو تو وہ طریق مستثنیٰ ہے۔ ایک کارڈ تصویر والا دکھایا گیا۔ دیکھ کر فرمایا۔ یہ بالکل ناجائز ہے۔ ایک شخص نے اس قسم کے کارڈوں کا ایک بنڈل لا کر دکھایا کہ میں نے یہ تاجرانہ طور پر فروخت کے واسطے خرید کئے تھے اب ان کا کیا کروں۔ فرمایا ان کو جلا دو اور تلف کر دو۔ اس میں اہانت دین اور اہانت شرع ہے نہ ان کو گھر میں رکھو۔ اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس سے اخیر میں بت پرستی پیدا ہوتی ہے اس تصویر کی جگہ پر اگر تبلیغ کا کوئی فقرہ ہوتا تو خوب ہوتا۔ (الحکم ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳)
    (۱۱۷) تصاویر کی طرف کثرت توجہ پر حضرت مسیح موعود ؑ کی نا رضامندی
    مفتی محمد صادق نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص کی تحریری درخواست بذریعہ کارڈ کے ان الفاظ میں پیش کی کہ یہ شخص حضور کی تصویر کو خط و کتابت کے کارڈوں پر چھاپنا چاہتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’میں تو اسے ناپسند کرتا ہوں‘‘۔ یہ الفاظ جا کر میں نے اپنے کانوں سے سنے۔ لیکن حضرت مولوی نورالدین صاحب و حکیم فضل الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس سے پیشتر آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ ’’یہ بدعت بڑھتی جاتی ہے میں اسے ناپسند کرتا ہوں‘‘۔
    (۱۱۸) غیر احمدی کا جنازہ
    سوال ہوا کہ جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
    اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں بُرا کہتا تھا اور بُرا سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے بشرطیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے ہو۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔ متوفی اگر بالجہر مکذب اور مکفر نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ علام الغیوب خدا ہی کی ذات پاک ہے۔
    (الحکم ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۲ء کالم ۲، البدر ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۹)
    (۱۱۹) مردہ کی اسقاط
    سوال: سوال ہوا کہ مُلّا لوگ مردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ مُلّاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمہیں پیدا کر لی ہیں۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ (بدر ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء)
    (۱۲۰) مردہ کے بعد فاتحہ خوانی
    سوال ہوا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جمع رہتے ہیں اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ فاتحہ خوانی ایک دعائے مغفرت ہے۔ پس اس میں کیا مضائقہ ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہاں سوائے غیبت اور بیہودہ بکواس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم یا صحابہ کرام و آئمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا۔ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے، خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی۔ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں ناجائز ہے۔
    (بدر ۱۹۰۶ء… بدر ۱۹ مئی ۱۹۰۷ء)
    (۱۲۱) جنازہ غائب
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جو جنازہ میں شامل نہ ہو سکیں وہ اپنے طور پر دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۔ (بدر ۱۹؍ مئی ۱۹۰۷ء)
    (۱۲۲) شہید کا جنازہ
    ذکر تھا کہ بعض جگہ چھوٹے گاؤں میں ایک ہی احمدی گھر ہے اور مخالف ایسے متعصب ہیں کہ وہ کافر کہتے ہیں کہ اگر کوئی احمدی مر جائے گا تو ہم جنازہ بھی نہیں پڑھیں گے۔
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسے مخالفوں کا جنازہ پڑھا کر احمدی نے کیا لینا ہے۔ جنازہ تو دعا ہے جو شخص خود ہی خدا کے نزدیک مغضوب علیہم میں ہے اس کی دعا کا کیا اثر ہے۔ احمدی شہید کا جنازہ خود فرشتے پڑھیں گے۔ ایسے لوگوں کی ہرگز پروا نہ کرو اور اپنے خدا پر بھروسہ کرو۔
    (البدر ۱۶؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۱۲۳) مردہ کا ختم و اسقاط میّت و قرآن کو چکر دینا
    سوال: مردہ کا ختم وغیرہ جو کرایا جاتا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟
    جواب: اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ صرف دعا اور صدقہ میّت کو پہنچتی ہے۔ مومن کو چاہئے کہ نماز پنجگانہ ادا کرے اور رکوع سجود میں میّت کیلئے دعا کرے۔ یہ طریق نہیں ہے کہ الگ کلام پڑھ کر بخشے۔ اب دیکھ لغت کا کلام منقول چلا آتا ہے۔ کسی کا حق نہیں ہے کہ اپنی طرف سے معنی گھڑے۔ ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو امر ثابت ہو اس پر عمل کرنا چاہئے نہ کہ اپنی من گھڑت پر ایک طریق اسقاط کا رکھا ہے کہ قرآن کو چکر دیتے ہیں۔ یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔ انسان خدا سے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہو سکتا جب تک سب نظر خدا پر نہ ہو۔
    (بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء)
    (۱۲۴) میّت کیلئے قُل
    سوال: میت کیلئے قُل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں۔ ان کا ثواب اسے پہنچتا ہے یا نہیں؟
    جواب: قُل خوانی کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے۔ دعا اور استغفار میّت کو پہنچتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مُلّانوں کو اس سے ثواب پہنچ جاتا ہے۔ سو اگر انہیں ہی کو مردہ تصور کر لیا جاوے تو ہم مان لیں گے۔ ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں۔ دین اسلام تو ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں۔ صحابہ کرام بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قُل پڑھے گئے۔ صد ہاسال کے بعد بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہے۔
    (بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء)
    (۱۲۵) دسویں محرم کو خیرات کرنا
    سوال پیش ہوا کہ محرم کی دسویں کو جو شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ للہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشادہے؟
    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا۔ ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کرنا ایک رسم اور بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرکت کی طرف لے جاتی ہیں۔ پس اس سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ ابتدا میں اسی خیال سے ہو مگر اب تو اس نے شرک اور غیراللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔ اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے۔ ( بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۱۲۶) قبر میں سوال و جواب
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ قبر میں سوال و جواب روح سے ہوتا ہے یا جسم میں وہ روح ڈالا جاتا ہے۔
    فرمایا۔ اس پر ایمان لانا چاہئے کہ قبر میں انسان سے سوال و جواب ہوتا ہے لیکن اس کی تفصیل اور کیفیت کو خدا پر چھوڑنا چاہئے۔ یہ معاملہ انسان کا خدا کے ساتھ ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر قبر کا لفظ وسیع ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی حالت بعد الموت میں جہاں خدا اس کو رکھتا ہے وہی قبر ہے۔ خواہ دریا میں غرق ہو جاوے۔ خواہ جل جاوے۔ خواہ زمین پر پڑا رہے۔ دنیا سے انتقال کے بعد انسان قبر میں ہے اور اس سے مطالبات اور مواخذات جو ہوتے ہیں اس کی تفصیل کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اس دن کیلئے تیاری کرے نہ کہ اس کی کیفیت معلوم کرنے کے پیچھے پڑے۔ (بدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۱۲۷) میّت کیلئے فاتحہ خوانی
    سوال: میّت کیلئے جو فاتحہ خوانی کیلئے بیٹھتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں اس کا کوئی ثبوت ہے؟
    جواب: یہ درست نہیں ہے۔ بدعت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔ (بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۵)
    (۱۲۸) مردوں کو سلام اور ان کا سننا
    سوال: السلام علیکم یا اھل القبور جو کہا جاتا ہے کیا مردے سنتے ہیں؟
    جواب: دیکھو وہ سلام کا جواب وعلیکم السلام تو نہیں دیتے۔ خدا تعالیٰ وہ سلام جو ایک دعا ہے پہنچا دیتا ہے۔ اب ہم جو آواز سنتے ہیں اس میں ہوا ایک واسطہ ہے۔ لیکن یہ واسطہ مردہ اور تمہارے درمیان نہیں لیکن سلام علیکم میں خدا تعالیٰ ملائکہ کو واسطہ بنا دیتا ہے۔ اسی طرح درود شریف ہے کہ ملائک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیتے ہیں۔ (بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۵)
    (۱۲۹) غسل میّت طاعون زدہ
    سوال ہوا کہ طاعون زدہ کے غسل کے واسطے کیا حکم ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مومن طاعون سے مرتا ہے تو وہ شہید ہے۔ شہید کے واسطے غسل کی ضرورت نہیں۔ (بدر ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۲)
    (۱۳۰) طاعون زندہ کو کفن
    سوال ہوا کہ اس کو کفن پہنایا جاوے یا نہیں؟
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ شہید کے واسطے کفن کی ضرورت نہیں۔ وہ انہیں کپڑوں میں دفن کیا جائے۔ ہاں اس پر ایک چادر ڈال دی جائے تو ہرج نہیں ہے۔
    (بدر ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۲)
    (۱۳۱) مرنے پر طعام کھلانا
    سوال ہوا کہ دیہات میں دستور ہے شادی غمی کے موقعہ پر ایک قسم کا خرچ کرتے ہیں کوئی چوہدری مر جاوے تو تمام مسجدوں، دواروں و دیگر کمینوں کو بحصہ رسدی کچھ دیتے ہیں اس کی نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ طعام جو کھلایا جاوے۔ اس کا مردہ کو ثواب پہنچ جاتا ہے۔ گو ایسا مفید نہیں جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں خود کرتا ہے۔ غرض کیا گیا۔ حضور وہ خرچ وغیرہ کمینوں میں بطور حق الخدمت تقسیم ہوتا ہے۔ فرمایا۔ تو کچھ ہرج نہیں۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کسی کی خدمت کا حق تو دے دینا چاہئے۔
    عرض کیا گیا کہ اس میں فخر و ریاء تو ضرور ہوتا ہے۔ یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔ فرمایا بہ نیت ایصال ثواب تو وہ پہلے ہی وہ خرچ نہیں حق الخدمت ہے۔ بعض ریاء شرعاً بھی جائز ہیں۔ مثلاً چندہ وغیرہ نماز باجماعت ادا کرنے کا جو حکم ہے تو اسی لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔ غرض اظہار و اخفاء کے لئے موقع ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا تار و ڈاک کے ذریعہ خبر منگوانا سب بدعت ہو جاتے۔ (بدر ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۱۳۲) قبر پکی بنانا
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میرا بھائی فوت ہو گیا ہے میں اس کی قبر پکی بناؤں یا نہ بناؤں؟
    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا۔ اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جاویں تو یہ حرام ہے لیکن اگر خشک مُلّا کی طرح یہ کہا جاوے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جاوے تو یہ بھی حرام ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ عمل نیت پر موقوف ہے۔ ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں پکی کرانا درست ہے۔ مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا یہ۔ بعض جگہ قبر میں سے میّت کو کتے اور بجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔ مردے کے لئے یہی ایک عزت ہوتی ہے۔ اگر ایسی وجوہ پیش آ جائیں تو اس حد تک نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے لئے قبر کا پکّا کرنا جائز ہے۔ اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے لئے بھی عزت رکھی ہے۔ ورنہ عزت ضروری نہیں تو غسل دینے کفل دینے خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔ مومن اپنے لئے ذلّت میں رہنا نہیں چاہتا۔ حفاظت ضروری ہے جہاں تک نیت صحیح ہے خدا تعالیٰ مواخذہ نہیں کرتا۔ دیکھ مصلحت الٰہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پختہ گنبد ہو اور کئی بزرگوں کے مقبرے پختہ ہیں۔ مثلاً نظام الدین، فرید الدین، قطب الدین، معین الدین رحمۃ اللہ علیہم یہ سب صلحاء تھے۔ (الحکم ۱۷؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۲)
    (۱۳۳) محرم کے دنوں میں امامین کے روح کو ثواب پہنچانا
    ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں میں امامین کے روح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:-
    عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میّت کو پہنچتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرک کی رسومات نہیں چاہئیں۔ رافضیوں کی طرح رسومات کا کرنا جائز نہیں۔
    (الحکم ۱۷؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۲)
    (۱۳۴) روح کا تعلق قبور سے
    (تقریر ۵؍ جنوری ۱۸۹۹ء)
    سوال: روح کا تعلق جو قبور سے بتلایا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے؟
    جواب: اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا ہے وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کُنہ کیا ہے۔ جس کے معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ البتہ یہ ہمارا فرض ہو سکتا ہے کہ ہم ثابت کر دیں کہ اس قسم کا تعلق قبور کے ساتھ ارواح کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی محال عقلی لازم نہیں آتا اور اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت میں ایک نظیر پاتے ہیں۔ درحقیقت یہ امر اسی قسم کا ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض امور کی سچائی اور حقیقت صرف زبان ہی سے معلوم ہوتا ہے اور اس کو ذرا وسیع کر کے یوں کہتے ہیں کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقے رکھے ہیں۔ بعض خواص آنکھ کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں اور بعض صداقتوں کا پتہ صرف کان لگاتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ حس مشترک کے ذریعہ سے ان کا سراغ چلتا ہے اور کتنی ہی سچائیاںہیں کہ وہ مرکز قویٰ یعنی سے معلوم ہوتی ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت معلوم کرنے کیلئے مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔ مثلاً مصری کی ایک ڈلی کو اگر کان پر رکھیں تو وہ اس کا مزہ معلوم نہ کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ کو بتلا سکیں گے۔ ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے تو اس کے ذائقہ کے متعلق کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے مختلف قویٰ اور طاقتیں ہیں۔ اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنا ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں۔ یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں تو کب ممکن ہے۔ آج کل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔ روز مرہ کے کاموں میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا۔ بلکہ جداگانہ خدمتیں مقرر ہیں۔ سقّہ پانی لاتا ہے۔ دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے۔ باورچی کھانا پکاتا ہے۔ غرضیکہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔ پس اس اصل کو یاد رکھو کہ مختلف قوموں کے مختلف نام ہیں۔ انسان بڑے قویٰ لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خدمتیں اس کی تکمیل کے لئے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔ نادان فلسفی ہر ایک بات کا فیصلہ اپنی عقل خاص سے چاہتا ہے حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔ تاریخی امور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربہ صحیحہ کے کیونکر لگ سکتا ہے۔ امور قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔ اس طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔ انسان دھوکہ میں مبتلا ہو کر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہو جاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف امور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔ میں اس اصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آ جاتی ہے اور روز مرہ ہم ان باتوں کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔ پس جب روح جسم سے مفارقت کرتا ہے یا تعلق پکڑتا ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے اس طرح پر قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس آنکھ کا کام نہیں۔ یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔ اگر عقل محض سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پتلا اتنا ہی بتا دے کہ روح کا وجود بھی ہے یا نہیں۔ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار ہا فلاسفر دہریہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔ اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام۔ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو ایک چیز کو دیکھتی ہے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس چیز کا ذریعہ بتلائے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طورپر نہیں بتلا سکتی۔ چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کر سکے۔ فلاسفر تو روح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور روح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔ یہ تفاسیر روح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمۂ نبوت سے ملی ہیں اور نرے عقل والے تو دعویٰ ہی نہیں کر سکتے۔ اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو یاد رکھو کہ انہوں نے منقولی طور پر چشمۂ نبوت سے لے کر کچھ لکھا ہے۔ تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس چشم سے دیکھنا چاہئے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودۂ خاک سے روح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السلام علیکم یا اہل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے۔ پس جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قبور ہوتا ہے تو وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔
    ہم ایک بات کو مثال کے طورپر پیش کرتے ہیں کہ ایک نمک کی ڈلی اور ایک مصری کی ڈلی رکھی ہو اب عقل محض ان پر کیا فتویٰ دے سکے گی۔ ہاں اگر ان کو چکھیں گے تو دو جداگانہ مزوں سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نمک ہے اوروہ مصری ہے۔ پس اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیرین کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا۔ پس ہمارا کام دلائل سے سمجھا دینا ہے۔ آفتاب کے چڑھنے میں جیسے ایک اندھے کے انکار سے فرق نہیں آ سکتا اور ایک مسلوب القوۃ کے طریق استدلال سے فائدہ نہ اُٹھانے سے اس کا ابطال نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پر اگر کوئی شخص کشفی آنکھ نہیں رکھتا تو وہ اس تعلق ارواح کو کیونکر دیکھ سکتا ہے۔ پس اس کے انکار سے محض اس لئے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اس کا انکار جائز نہیں ہے۔ ایسی باتوں کا پتہ نری عقل اور قیاس سے کچھ نہیں لکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس لئے انسان کو قویٰ دیئے ہیں۔ اگر ایک ہی سب کام دیتا تو پھر اس قدر قویٰ کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بعض کا تعلق آنکھ سے ہے اور بعض کا کان سے۔ بعض زبان کے متعلق ہیں اور بعض ناک سے۔ مختلف قسم کی حِسّیں انسان رکھتا ہے۔ قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کے لئے کشفی حس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء صلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بیشمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں۔ گو اس کی حقیقت اور تعلقات کی وجہ مخفی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔ غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔ کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور۔ وہ اور قوت کا کام ہے۔ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر سے ضرورت ہوتا ہے۔ انسان میّت سے کلام کر سکتا ہے۔ روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔ پھر میں کہتاہ وں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر مسئلہ ہے۔ بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے اور یہ امر کہ کس جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلا دے گی۔
    (۱۳۵) بکرا وغیرہ جانور جو غیراللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں
    ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکرا وغیرہ جانور جو غیراللہ تھانوں پر اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے۔ سختی پر نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اُھِلَّ بہٖ لغیر اللّٰہ سے یہ مراد ہے کہ جو اِن مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع و شرا میں آ جاتے ہیںاس کی حلت سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیرینیاں تیار کرتے ہیں اور میلے کچیلے دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے ہیں اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں۔ چوہڑے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جوٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں۔ ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح اگر تشدد ہو تو سب حرام ہو جاویہ۔ اسلام نے مالایطاق تکلیف نہیں رکھی بلکہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے۔
    اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اس سوال کی باریک جزئیات پر سوال شروع کئے۔
    فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لاتسئلواعن اشیاء کم بھی فرمایا ہے۔ بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ متقی کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں۔ اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے تو وہ ایسے ابتلاؤں سے بچایا جائے گا۔ ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی۔ جب کھانا رکھا گیا تو عمداً سور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے اور اپنے دوستوں کے آگے رکھا۔ جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذریعہ کشف اصل حال کھول دیا۔ انہوں نے کہا ٹھہرو۔ یہ تقسیم ٹھیک نہیں اور یہ کہہ کر اپنے آگے کی رکابیاں ان کے آگے اور ان کے آگے کی رکابیاں اپنے آگ رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ ۔ غرض جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بُری مکروہ باتوں سے بچا لیتا ہے۔ اِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیْ کے یہی معنی ہیں۔ (بدر ۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۴۲)
    (۱۳۶) یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئًا لِلّٰہ کہنا
    سوال ہوا کہ یا شیخ عبدالقادر جیلائی شیئًا لِلّٰہ کہنا درست ہے کہ نہیں؟
    جواب: ہر گز نہیں۔
    سوال: قرآن شریف میں جو آیا ہے کہ خدا کی راہ میں جو مارے گئے تم ان کو مردہ نہ کہو۔ وہ زندہ ہیں؟
    جواب: اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ وہ تمہاری آواز بھی سنتے ہیں۔ بٹالہ میں جو لوگ زندہ موجود ہیں کیا اگر تم ان کو یہاں سے بلاؤ تو آواز دیویں گے۔ ہرگز نہیں۔ اگر مردہ کو آواز دو تو وہ بھی جواب نہ دے گا۔ معلوم ہوا وہ بھی نہیں سنتا۔ بغداد میں جا کر شیخ عبدالقادر صاحب کے مزار پر آواز دے کر دیکھ لو۔ کیا جواب دیتے ہیں۔ ہاں خدا کو کامل ایمان کے ساتھ بلاؤتو وہ جواب دے گا۔ اگر قبروں میں پڑے ہوئے مردے بھی سنتے ہیں تو بلا کر دکھاؤ۔
    سوال: خدا جو یہ فرماتا ہے کہ ہل احیاء عندلھم؟
    جواب: اگر زندہ کہتا ہے تو وہ اپنے نزدیک کہتا ہے نہ کہ تمہارے نزدیک اور زندگی میں یہ کوئی امر لازمی نہیں ہے کہ قوت سماع اور حاضر ناظر ہونا ان کا ثابت ہو۔ ہم زندہ ہیں لیکن لاہور کی آواز نہیں سن سکتے۔ اگر وہ بھی اس طرح حاضر و ناصر اور دعا کے سننے والے اور مرادوں کے پورا کرنے والے ہیں تو خدا اور ان میں فرق کیا ہوا۔ جائے شرم ہے۔ کیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شیخ عبدالقادر سے کم ہیں جو یہ فضیلت شیخ صاحب کے لئے تجویز کی جاتی ہے یا ابوبکرؓ یا عمرؓ کیوں نہیں کہتے۔ ایک تخصیص تو مشرک بنا دیتی ہے۔ دنیا میں اسلام اس لئے آیا ہے کہ توحید پھیلا دے۔ اگر شیخ عبدالقادر کو قرب حاصل ہوا تو توحید سے ہوا۔ اگر وہ غیر اللہ کو پکارنے والے ہوتے تو مقام قرب سے گرائے جاتے۔ انہوں نے کامل اطاعت کی تو درجہ پایا۔
    (الحکم ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ء بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۴ء)
    (۱۳۷) نماز جنازہ فرض کفایہ ہے
    سوال: ایک شخص نے حضرت حجۃ اللہ کے حضور سوال کیا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون بہت ہے اور اکثر مخالف مکذب مرتے ہیں۔ ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ؟
    جواب: فرمایا۔ یہ فرض کفایہ ہے۔ اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاتا ہے تو ادا ہو جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک تو طاعون زیادہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے۔ دوسرے وہ مخالف ہے۔ خواہ نخواہ کیوں تداخل کیا جاوے۔ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو۔ وہ اگر چاہے گا تو ان کو درست بنا دے گا۔ یعنی وہ مسلمان ہو جاویں گے۔ خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر یہ سلسلہ قائم کیا۔ مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنے ایمان کا حصہ بھی گنواؤ گے۔
    (الحکم ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ء بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۴ء)
    (۱۳۸) اُجرت پر امام صلوٰۃ ٹھہرانا
    ایک مخلص اور معزز خادم نے بحضرت مسیح موعود علیہ السلام عرض کی کہ حضور میرے والد صاحب نے ایک مسجد بنائی تھی۔ وہاں جو امام ہے اس کو وہ کچھ معاوضہ دیتے تھے اس غرض سے کہ مسجد آباد رہے۔ وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں۔ میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے۔ اب کیا کرنا چاہئے۔
    فرمایا۔ خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کے لئے نماز پڑھتا ہے اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ نماز تو خدا کے لئے ہے۔ اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا کے لئے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی ہو یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی۔ امام اتقی ہونا چاہئے۔
    (الحکم ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۶)
    (۱۳۹) رمضان میں تراویح کیلئے حافظ مقرر کرنا
    بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں۔ یہ درست نہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو جائز ہے۔ (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء)
    (۱۴۰) زیارت قبور
    صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مردانہ مکان میں تشریف لائے۔ دہلی کی سیر کا ذکر درمیان میں آیا۔ فرمایا لہوو لہب کے طور پر پھرنا تو درست نہیں۔ البتہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں ان پر ہم بھی جائیں گے۔ عاجز کو (یعنی مفتی محمد صادق) کو فرمایا کہ ایسے بزرگوں کی فہرست بناؤ تا کہ جانے کے متعلق انتظام کیا جاوے۔ حاضرین نے یہ نام لکھائے۔
    ۱۔شاہ ولی اللہ صاحب، ۲۔ خواجہ نظام الدین صاح، ۳۔جناب قطب الدین صاحب، ۴۔خواجہ باقی باللہ صاحب، ۵۔ خواجہ میر درد صاحب، ۶۔ جناب نصیر الدین صاحب چراغ دہلی۔ چنانچہ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا اور حضرت بمعہ خدام گاڑیوں میں سوار ہو کر سب سے اوّل خواجہ باقی باللہ کے مزار پر پہنچے۔ راستہ میں حضرت نے زیارت قبور کے متعلق فرمایا۔ قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لئے ایک سنت ہے۔ یہ ثواب کا کام اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آ جاتا ہے۔ انسان اس دنیا میں مسافر آیا ہے۔ آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ جب انسان قبروں میں آ جاوے تو کہے السلام علیکم یا اھل القبور من المؤمنین و المسلمین وانا انشاء اللّٰہ بکم لاحقون۔ حضرت باقی باللہ کے مزار پر جب ہم پہنچے تو وہاں بہت سی قبریںایک دوسری کے قریب قریب اور اکثر زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ میں نے غور سے دیکھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نہایت احتیاط سے ان قبروں کے درمیان چلتے تھے تا کہ کسی قبر کے اوپر پاؤں نہ پڑے۔ قبر خواجہ صاحب پر پہنچ کر آپ نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔ بعد دعا میں نے عرض کی کہ قبر پر کیا دعا کرنی چاہئے تو فرمایا کہ
    صاحب قبر کے واسطے دعائے مغفرت کرنی چاہئے اور اپنے واسطے بھی خدا سے دعا مانگنی چاہئے۔ انسان ہر وقت خدا کے حضور دعا کرنے کا محتاج ہے۔ فرمایا خواجہ باقی باللہ صاحب بڑے مشائخ میں سے تھے۔ شیخ احمد سرہندی کے پیر تھے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ان بزرگوں کی ایک کرامت تو ہم نے بھی دیکھ لی ہے اور وہ یہ ہے کہ دہلی جیسے شہر کو انہوں نے قائل کیا اور یہ وہ شہر ہے جو ہم کو مردود اور مخذول اور کافر کہتا ہے۔
    خواجہ باقی باللہ کی قبر پر کھڑے ہو کر بعد دعا کے فرمایا کہ
    ان تمام بزرگوں کی جو دہلی میں مدفون ہیں کرامت ظاہر ہوتی ہے کہ ایسی سخت سرزمین نے ان کو قبول کیا۔ یہ کرامت اب تک ہم سے ظہور میں نہیں آئی۔ (بدر ۱۹۰۵ء ……)
    (۱۴۱) ذِلّت کا رزق
    قبر پر بہت سے سائل جمع تھے۔ فرمایا یہ سائلین بہت پیچھے پڑتے ہیں۔ پہلے معلوم نہ تھا۔ ورنہ ان کے واسطے کچھ پیسے ساتھ لے آتے۔ شیخ نظام الدین کی قبر پر سائل اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں۔ یہی ان کا رزق ہو گیا ہے جو ذِلّت کا رزق ہے۔
    (بدر ۱۹۰۵ء ……)
    (۱۴۲) مردوں سے امداد
    (تقریر مورخہ ۱۴؍ مئی ۱۹۰۰ء)
    سید رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن نے سوال کیا کہ کیا مردوں سے امداد مانگنی چاہئے؟
    فرمایا۔ بات یہ ہے کہ مردوںسے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مردوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور زندوں سے دور بھاگتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ ان کی نبوت کاانکار کرتے رہے اور جس روز آپ انتقال کر گئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ بلکہ کُونُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ کا حکم دے کر زندوں کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کر کے ہمدردی اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔
    قرآن کریم کے منشاء کے موافق تو زندوں ہی کی صحبت میں رہنا ثابت ہوتا ہے اور استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ۔ پہلے صفات الٰہی ربّ، رحمن، رحیم، مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا۔ پھر سکھایا کہ اِیّاَکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمداد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے کسی انسان، حیوان، چرند، پرند غرضیکہ کسی مخلوق کے لئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں۔
    غرض ہرصدی کے سر پر مجدد کا آنا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ مردوں سے استمداد خدا تعالیٰ کی منشاء کے موافق نہیں۔ اگر مردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہزاروں ہزار جو اولیاء اللہ پیدا ہوتے ہیں اس کا کیا مطلب تھا۔ مجددین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جاتااگر اسلام مردوں کے حوالے کیاجاتا۔ تو یقینا سمجھو کہ اس کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا۔ یہودیوں کا مذہب مردوں کے حوالے کیا گیا۔ نتیجہ کیا ہوا۔ عیسائیوں نے مردہ پرستی سے بتلاؤ کیا پایا۔ مردوں کو پوجتے پوجتے خود مردہ ہوگئے۔ نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی۔ نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔ اوّل سے لے کر آخر تک مردوں ہی کا مجمع ہو گیا۔ اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔ اسلام کا خدا حی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔ وہ حی و قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے۔ یحی الارض بعد موتہا تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے یا نہیںہر گز نہیں۔ اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی و قیوم خدا نے اِنّاَ لَہٗ لِحَافِظون کہ کر اُٹھایا ہوا ہے۔ پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔ یاد رکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔
    اب ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ مردوں سے مدد مانگنے کا خدا نے کہیں ذکر نہیں کیا بلکہ زندوں ہی کا ذکر فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا جو اسلام زندوں کے سپرد کیا۔ اگر اسلام کو مردوں پر ڈالتا تو نہیں معلوم کیا آفت آتی۔ مردوں کی قبریں کہاں کم ہیں۔ کیا ملتان میں تھوڑی قبریں ہیں۔ ’’گرد گرما گداؤ گورستاں‘‘ اس کی نسبت مشہور ہے۔ میں بھی ایک بار ملتان گیا جہاں کسی قبر پر جاؤ۔ مجاور کپڑے اُتارنے کو گرد ہو جاتے ہیں۔ پاکپٹن میں مردوں کے فیضان سے دیکھو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان کے مشاہد میں سوا بدعات اور ارتکاب مناہی کے کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ نے جو صراط المستقیم مقرر فرمایا ہے وہ زندوں کی راہ ہے۔ مردوں کی راہ نہیں۔ پس جو چاہتا ہے کہ خدا کو پائے اور حی و قیوم خدا کو ملے تو وہ زندوں کو تلاش کرے کیونکہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے نہ مردہ۔ جن کا خدا مردہ ہے، جن کی کتاب مردہ ہے وہ مردوں سے برکت چاہیں تو کیا تعجب ہے۔ لیکن اگر سچا مسلمان جس کا خدا زندہ خدا جس کا نبی زندہ نبی جس کی کتاب زندہ کتاب ہے اور جس دین میں ہمیشہ زندوں کا سلسلہ جاری ہو اور ہر زمانہ میں ایک زندہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا کرنے والا آتا ہو وہ اگر اس زندہ کو چھوڑ کو بوسیدہ ہڈیوں اور قبروں کی تلاش میں سرگردان ہو تو البتہ تعجب اور حیرت کی بات ہے۔ پس تم کو چاہئے کہ تم زندوں کی صحبت تلاش کرو اور بار بار اس کے پاس آکر بیٹھو۔ (الحکم ۱۹۰۰ء)
    (۱۴۳) ختم اور ختم کی ریوڑیاں
    سوال: ختم کی ریوڑیاں وغیرہ لے کر کھانی چاہئیں کہ نہ؟
    جواب: ختم کا دستور بدعت ہے۔ شرک نہیں ہے۔ اس لئے کھا لینی جائز ہیں۔ لیکن ختم دینا دلوانا ناجائز ہے اور اگر کسی پیر کو حاضر ناظر جان کر اس کا کھانا دیا جاتا ہے وہ ناجائز ہے۔
    سوال: یہ جو لکھا ہے کہ مدینہ میں جاکر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے یا حبیب اللّٰہ خذبیدی کہا۔
    جواب: اوّل تو اس کی سند کیا ہے۔ پھر بعض وقت اہل اللہ کو مکاشفہ ہوتا ہے اس میں خدا تعالیٰ اہل قبور سے باتیں کرا دیتا ہے مگر یہ خدا کا فضل ہوتا ہے۔ (بدر ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء)
    (۱۴۴) مردہ پر نوحہ
    ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیاپا کرنا اور چیخیں مارکر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں۔ جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں۔ کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے یہ حکم قرآن شریف میں ہے کہ صرف اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْن کہیں۔ یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں۔ اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان ہے۔ برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیاپا کرنا اور باہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلانا، رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک سال تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے یہ سب ناپاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پرہیز کرنا چاہئے۔ (بدر ۱۹۰۵ء ……)
    (۱۴۵) سجدہ یغر اللہ
    ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو آپ کے ایک خادم آمدہ از کشمیر نے سربسجود ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام اُسْجُدُوْ اِلاٰدَمَ کو اس کے ظاہری الفاظ پر پورا کرنا چاہا اور نہایت گریہ و زاری سے اظہار محبت کیا۔ مگر حضور علیہ السلام نے اس حرکت سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ مشرکانہ باتیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہئے۔ (الحکم ۸؍ فروری ۱۹۰۵ء)
    (۱۴۶) خوش الحانیسے قرآن پڑھنا
    سوال: خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا کیسا ہے؟
    جواب: خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا عبادت ہے اور بدعات جو ساتھ ملا لیتے ہیں وہ اس عبادت کو ضائع کر دیتی ہیں۔ بدعات نکال نکال کر ان لوگوں نے کام خراب کیا ہے۔
    (۱۵؍ مارچ ۱۹۰۳ء)
    (۱۴۷) ماتم میں بیجا خرچ سے ممانعت
    سیاپا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں۔ حرام خور عورتیں شیطان کی بہنیں جو دور دور سے سیاپا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکرو فریب سے منہ کو ڈھانپ کر اور بھینسوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چیخیں مار کر روتی ہیں ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتلانے کے لئے صد ہا روپیہ کا پلاؤ اور زردہ پکا کر برادری وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اس غرض سے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی۔ اچھا نام پیدا کیا سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے توبہ کرنا لازم ہے۔
    (بدر ۱۹۰۶ء……)
    (۱۴۸) مردوں سے طلب حاجت و مشکل کشائی کی درخواست
    فرمایا۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جس سے انسان دعا کرتا ہے اس پر کامل ایمان ہو۔ اس کو موجود، سمیع، بصیر، خبیر، علیم، متصرف، قادر سمجھے اور اس کی ہستی پر ایمان رکھے کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ مگر کیا کروں، کس کو سناؤں اب اسلام میں مشکلات ہی اور آ پڑی ہیں کہ جو محبت خدا تعالیٰ سے کرنی چاہئے وہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خدا کا رتبہ انسانوں اور مردوں کو دیتے ہیں۔ حاجت رو اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک تھی۔ مگر اب جس قبر کو دیکھ حاجت روا ٹھہرائی گئی ہے۔ میں اس حالت کو دیکھتا ہوں تو دل میں درد اُٹھتا ہے مگر کیا کہیں کس کو جا کر سنائیں۔ دیکھو قبر پر اگر ایک شخص بیس برس بھی بیٹھا ہوا پکارتا ہے تو اس قبر سے کوئی آواز نہیں آئے گی مگر مسلمان ہیں کہ قبروں پر جاتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔
    میں کہتا ہوں وہ قبر خواہ کسی کی بھی ہو اس سے کوئی مراد برآ نہیں ہو سکتی۔ حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کوئی اس صفت کا موصوف نہیں۔ قبر سے کسی آواز کی امید مت رکھو۔ برخلاف اس کے اگر اللہ تعالیٰ کو اخلاص اور ایمان کے ساتھ دن میں دس مرتبہ بھی پکارو تو میں یقین رکھتا ہوں اور میرا اپنا تجربہ ہے کہ دس دفعہ ہی آواز سنتا ہے اور دس دفعہ ہی جواب دیتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پکارے اس طرح پر جو پکارنے کا حق ہے۔ ہم سب ابرار اور اخیار اُمت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں اور وہ صفات جو خدا تعالیٰ میں ہیں ان میں یقین کر لیں کہ وہ ہماری آواز نہیں سنتے اور اس کا جواب نہیں دیتے۔ دیکھ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔ کہ ایک گھنٹہ میں ۷۲ آدمی آپ کے شہید ہوگئے۔ اس وقت سخت نرغہ میں تھے اب طبعاً ہر ایک شخص کا کانشنس گواہی دیتا ہے کہ وہ اس وقت جب کہ ہر طرف سے دشمنوں میں گھرے تھے اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اس مشکل سے نجات مل جائے لیکن وہ دعا اس وقت منشاء الٰہی کے خلاف تھی اور قضاء و قدر اس کے مخالف تھی۔ اس لئے وہ اس جگہ شہید ہوگئے۔ اگر ان کے قبضہ و اختیار میں کوئی بات ہوتی تو انہوں نے کونسا دقیقہ اپنے بچاؤ کے لئے اُٹھا رکھا تھا۔ مگر کچھ بھی کارگر نہ ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قضاء و قدر کا سارا معاملہ اور تصرف تام اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے جو اس قدر ذخیرہ قدرت کا رکھتا ہے اور حی و قیوم ہے اس کو چھوڑ کر جو مردوں اور عاجز بندوں کی قبروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتا ہے اس سے بڑھ کر بے نصیب کون ہو سکتا ہے۔ انسان کے سینہ میں دو دل نہیں ہوتے۔ ایک ہی دل ہے وہ دو جگہ محبت نہیں کر سکتا۔ اس لئے اگر کوئی زندوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتا ہے وہ حفظ مراتب نہیں کرتا اور یہ مشہور بات ہے۔ ’’گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘ خدا تعالیٰ کو خدا تعالیٰ کی جگہ پر رکھو اور انسان کو انسان کا مرتبہ دو۔ اس سے آگے مت بڑھاؤ۔ مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ حفظِ مراتب کیا زندہ اور مردہ کی تمیز ہی نہیں رہی بلکہ انسان عاجز اور خدا قادر میں بھی کوئی فرق اس زمانہ میں نہیں کیا جاتا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے۔ صدیوں سے خدا تعالیٰ کا قدر نہیں پہچانا گیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت عاجز بندوں اور بے قدر چیزوں کو دی گئی ہے۔ مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن باوجود مسلمان کہلانے کے مسیح کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ جیسا کہ میں دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم کو جو ایک عاجز انسان تھا اور قرآن شریف نہ آیا ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے تو ان کی رسالت بھی ثابت نہ ہوتی بلکہ ا سانجیل سے تو وہ کوئی اعلیٰ اخلاق کا آدمی بھی ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن عیسائیوں کے اثر سے متاثر ہو کر مسلمان بھی ان کو خدائی درجہ دینے میں پیچھے نہیں رہے کیونکہ جیسا کہ وہ صاف مانتے ہیں کہ وہ اب تک حی و قیوم ہے اور اس زمانہ کا کوئی اثر اس پر نہیں ہوا۔ آسمان پر موجود ہے۔ مردوں کو زندہ کیا کرتا تھا۔ جانوروں کو پیدا کرتا تھا۔ غیب جاننے والا تھا۔ پھر اس کے خدا بنانے میں اور کیا فرق باقی رہا۔ افسوس مسلمانوں کی عقل ماری گئی جو ایک خدا کے ماننے والے تھے۔ وہ ایک مردہ کو اب خدا سمجھتے ہیں اور ان خداؤں کا تو شمار نہیں جو مردہ پرستوں اور مزار پرستوں نے بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت اور صورت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا ہے کہ ان مصنوعی خداؤں کی خدائی کو خاک میںملایا جائے اور زندوں اور مردوں میں ایک امتیاز قائم کر کے دنیا کو حقیقی خدا کے سامنے سجدہ کرایا جاوے۔ اس غرض کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے اور اپنے نشانوں کے ساتھ بھیجا۔ یاد رکھو انبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا۔ وہ صرف اس بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی۔ اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا۔ کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں۔
    دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کتنے بڑے عظیم الشان نبی تھے اور خدا تعالیٰ کے حضور ان کا کتنا بڑا درجہ اور رتبہ تھا۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بجائے خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ کرنے کے ابراہیم علیہ السلام کی پوجا کرتے تو کیا ہوتا۔ کیا آپ کو وہ اعلیٰ مراتب مل سکتے تھے جو آپ کو ملے ہیں۔ کبھی نہیں، کبھی نہیں۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام آپ کے بزرگ بھی تھے اور آپ نے ان کی قبر پر جا کر یا بیٹھ کر ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کسی اور قبر پر جا کر آپ نے اپنی کوئی حاجت پیش کی تو یہ کس قدر بے وقوفی اور بے دینی ہے کہ آج مسلمان قبروں پر جا کران سے مرادیں مانگتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ قبروں سے کچھ مل سکتا تو اس کے لئے سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبروں سے مانگتے۔ مگر نہیں مردہ اور زندہ میں جس قدر فرق ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔ بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی مخلوق اور ہستی نہیں ہے جس کی طرف انسان توجہ کرے اور اس سے کچھ مانگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ محمد اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۳۷)
    (۱۴۹) تعویذ باندھنا، دم کرنا
    سوال: تعویذ باندھنا یا دم وغیرہ کرنا کیسا ہے؟
    جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی حکیم نورالدین کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ نے احادیث میں اس کے متعلق کچھ پڑھا ہے۔
    غرض کیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ جب کبھی جنگوں میں جایا کرتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک پگڑی یا ٹوپی میں رکھ لیا کرتے تھے اور آگے کی طرف لٹکا لیتے اور جب ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمنڈوایا تو آدھے سر کے کٹے ہوئے بال ایک شخص کو دے دیئے اور آدھے دوسرے حصہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جُبّہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایاکرتے تھے اور وہ شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک دفعہ ایک عورت نے آپ کا پسینہ بھی جمع کیا۔
    یہ سب سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ ان تعویذو دموں کی اصل کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔ جو خالی از فائدہ نہیں۔ میرے الہام میں جو ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ اس سے بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تو ہوگا جو بادشاہ ایسا کریں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان باتوں کی بنا محبت و اخلاص پر ہے۔ صادقوں کی نکتہ چینی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ بزرگوں کے صفائر پر نظر کرنے سے سلب ایمان کا اندیشہ ہے۔ (الحکم ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء)
    (۱۵۰) کلام پڑھ کر پھونکنا
    سوال: ایک دوست نے سوال کیا کہ مجھے قرآن شریف کی کوئی آیت بتلائی جاوے کہ میں پڑھ کر اپنے بیمار کو دم کروں تا کہ اس کو شفا ہو؟
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا۔ بے شک قرآن شریف میں شفا ہے۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں کا وہ علاج ہے مگر اس طرح کے کلام پڑھنے میں لوگوں میں ابتلا ہے۔ قرآن شریف کو تم اس امتحان میں نہ ڈالو۔ خدا تعالیٰ سے تم اپنے بیمار کے واسطے دعا کرو۔ تمہارے واسطے یہی کافی ہے۔
    (البدر ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
    (۱۵۱) طعام پر فاتحہ خوانی و منت سالانہ
    سوال: روٹیوں پر فاتحہ پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا ہے؟
    (۱۶؍ مارچ ۱۹۰۳ء)
    سوال: (۲۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء) ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملازم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیرانِ پیر کا ختم دلاؤں گا۔ اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیںـ؟
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا کہ خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے۔ مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم جاری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھا کرتے ہیں۔ یہ طریق تو شرک ہے اور اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے نہیں۔ غرباو مساکین کو بے شک کھانا کھلاؤ۔ (بدر ۳ ؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۳)
    (۱۵۲) مردوں کیلئے دعا کرنا
    سوال: قبر پر کھڑے ہو کر کیا پڑھنا چاہئے؟
    جواب: میّت کے واسطے دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس کے قصوروں اور گناہوں کو بخشے جو اس نے اس دنیا میں کئے تھے اور ان کے پس ماندگان کے واسطے بھی دعا کرنی چاہئے۔
    سوال: دعا میں کونسی آیت پڑھنی چاہئے؟
    جواب: یہ تکلفات ہیں تم اپنی زبان میں جس کو بخوبی جانتے ہو اور جس میں تم کو جوش پیدا ہوتا ہے میّت کے واسطے دعا کرو۔ (بدر ۱۹۰۶ء………)
    (۱۵۳) میّت کیلئے صدقہ دینا اور قرآن شریف پڑھنا
    سوال: میّت کو صدقہ خیرات اور قرآن شریف کا پڑھنا پہنچ سکتا ہے؟
    جواب: میّت کو صدقہ خیرات جو اس کی خاطر دیا جائے پہنچ جاتا ہے لیکن قرآن شریف پڑھ کر پہنچانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہیں ہے۔ اس کی بجائے دعا کی جائے جو میّت کے حق میں کرنی چاہئے۔ میّت کے حق میں صدقہ خیرات اور دعا کا کرنا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی سنت سے ثابت ہے لیکن صدقہ بھی وہ بہتر ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دے جائے کیونکہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے ایمان پر مہر لگا دیتا ہے۔
    (بدر ۱۹۰۶ء………)
    (۱۵۴) تذکرہ مولود نبوی
    سوال: مولود کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟
    جواب: محض تذکرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمدہ چیز ہے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپ کی اتباع کے لئے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں بھی اس لئے بعض تذکرے موجود ہیں جیسے فرمایا وَاْذکُرْ فِیْ الْکِتَابِ اِبْرَاھِیْم لیکن اگر تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملا دی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ ’’گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘ یاد رکھو کہ اصل مقصد اسلام کا توحید ہے۔ مولود کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملالی گئی ہیں۔ جس نے ایک جائز اور ایک موجب رحمت فعل کو خراب کر دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ موجب رحمت ہے۔ مگر غیر مشروع امور و بدعات منشاء الٰہی کے خلاف ہیں۔ ہم خود اس امر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اور آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گویا خود شریعت بناتا ہے۔ اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ بعض لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہی حرام ہے۔ یہ ان کی حماقت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بے باکی ہے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ دراصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی تحریک ہوتی ہے جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔
    ہاں جو لوگ ذکر مولود کرتے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں یہ ان کی جرأت ہے۔ ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں ان میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوٰۃ، سود خور اور شرابی ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق اور یہ لوگ محض ایک تماشا کے طور جمع ہو جاتے ہیں۔ پس اس قسم کے خیال بے ہودہ ہیں۔ جو شخص خشک وہابی بنتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو دل میں جگہ نہیں دیتا ہے وہ بیدین آدمی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے۔ وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔ خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ دنیا کے لئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔ اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔ انبیاء ،اولیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔
    حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہشت میں ایک اعلیٰ مقام ہوگا اور اس میں مَیں رہوں گا۔ ایک صحابی جس کو آپ سے بہت ہی محبت تھی وہ یہ سن کر رو پڑا اور کہا کہ حضور مجھے آپ سے بہت محبت تھی۔ آپ نے فرمایا تو میرے ساتھ ہوگا۔ مشرک بھی سچی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں رکہ سکتا اور ایسا ہی وہابی بھی نہیں کر سکتا۔ یہ مسلمانوں کے آریہ ہیں ان میں روحانیت نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ اور اس کے سچے رسول سے سچی محبت نہیں ہے۔ دوسرا گروہ جنہوں نے مشرکانہ طریق اختیار کئے ہیں۔ روحانیت ان میں بھی نہیں۔ قبر پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ میرے نزدیک جیسا کہ وہابی کہتے ہیںحرام نہیں۔ بلکہ یہ اتباع کی تحریک کے لئے مناسب ہے۔ جو لوگ مشرکانہ رنگ میں بعض بدعتیں پیدا کرتے ہیں وہ حرام ہیں۔
    (بدر ۲۷؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۳ و بدر ۲۴؍ مئی ۱۹۰۴ء)
    (کسی شخص نے حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مجلس مولود کے متعلق بذریعہ عریضہ استفسار کیا تھا۔ آپ نے اس کے جواب میں جو کرامت نامہ لکھا ہے اس کا درج کرنا خالی از منفعت نہ ہوگا اس لئے ہم اسے ذیل میں درج کرتے ہیں)۔ایڈیٹر
    ’’میرا اس میں یہ مذہب ہے کہ مصالح اعلاء کلمۃ اسلام و تذکرہ نبوی کی نیت سے کوئی ایسا جلسہ کیا جائے کہ جس میں سوانح مقدسہ نبویہ کا ذکر ہو اور نہایت خوبی اور صحت وبلاغت سے اس تقریر کو سنایا جائے کہ کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تاریکی کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور کس طرح بے سامانی کی حالت میں تمام قوموں کے جوروجفا اُٹھا کر بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہوگئے اور کیسی خدا تعالیٰ نے اپنے اس مقبول بندے کی تائیدیں کیں اور آخر کس طور سے اس کو مشارق و مغارب میں پھیلا دیا اور اس تقریر میں اور ہر ایک محل میں کچھ کچھ نظم بھی ہو اور پُردرد اور مؤثر بیان ہو اور درمیان میں کثرت درود شریف کی سامعین کی طرف سے ہو۔ کوئی علت اور بدعت درمیان نہ ہو تو ایسا جلسہ ناجائز نہیں بلکہ میری نظر میں موجب ثواب عظیم ہے کیونکہ اس میں یہ نیت کی گئی ہے کہ تا سوانحہ مقدسہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ طور پر لوگوں کو سنائے جائیں اور مشتاقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھا دی جائے اور لوگوں کو عشق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حرکت دی جائے اور ناواقفوں پر عظمت اس انسان کامل اور مرد فانی فی اللہ کی کھول دی جائے جس نے دنیا میں تنہا آ کر اور تمام دنیا کو شرک اور غفلت میں گرفتار پا کر بڑی جوانمردی سے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر ہر ایک قوم میں توحید کی صدا بلند کی اور ہر ایک کان میں لَا اِلٰہَ اِلاَاللّٰہَ کی آواز پہنچا دی۔ غرض سوانحہ نبویہ کو خوش آوازی سے لوگوں پر ظاہر کرنا حقیقی مومن کا فر ض ہے۔ وہ مومن ہی کا ہے جس میں سوانح نبویہ کی عزت نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہی جلسہ اظہار سوانح مجلس موعود ہے۔ اس جلسہ اظہار سوانح میں درحقیقت بڑے بڑے فوائد ہیں۔ ان سوانح کے سننے سے محبان رسول کا وقت خوش ہوگا اور ہر ایک مرد طالب جب ان سوانح کے ذریعے ہمت اور صدق اور استقامت کے کام سنے گا تو اس کو بھی ہمت اور صدق اور استقامت کی طرف شوق بڑھے گا اور اس کی طلب زیادہ ہوگی اور مسلمان کہلا کر کچھ دین کی راہ میں کسل اور ضعف اور بزدلی رکھتا ہے۔ سوانحہ نبویہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سن کر خوش ہوگا اور اپنے اسلام پر افسوس کرے گا اور خدا تعالیٰ سے چاہے گا کہ جس نبی کے اقتدا کا اس کو دعویٰ ہے اس کی سرگرمی اور اس کا عشق اور اس کی ہمدردی اس کو بھی نصیب ہو اور جس طرح ایک شخص جو ایک جنگل میں اکیلا بیٹھا ہو اور درندوں اور دوسری بلاؤں سے ڈر رہا ہو اور ناگاہ اس کو ایک قافلہ نظر آیا جس میں صدہا سپاہی ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص اس قافلے کو پاکر کس طرح قوی دل ہو جائے گا۔ ایسا ہی سوانحہ طیبہ نبویہ ایک لشکر مسلح کی مانند ہیں جن کے سننے سے دل قوی ہو جاتا ہے اور تخویفات شیطانی سے نجات ملتی ہے اور حدیث صحیح میں ہے کہ عند ذکر الصالحین تتنزل الرحمۃ یعنی ذکر صالحین کے وقت رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت کس قدر نازل ہوں گی۔ ہاں اس جلسہ کو بدعات سے محفوظ رکھنا چاہئے تا بجائے ثواب کے گناہ پیدا نہ ہو۔ صرف سوانحہ نبویہ کا ذکر ہو اور درود شریف اور تسبیح ہو۔ اگر کسی قسم کا شرک یا کسی قسم کی بدعت درمیان ہو تو یہ ہرگز جائز نہیں۔ لیکن جو میں نے ذکر کیا ہے وہ نہ صرف جائز بلکہ میری سمجھ میں ضروریات سے ہے۔ (الحکم ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۱۵۵) بدنی و مالی عبادتیں
    عبادت دو قسم کی ہوتی ہے۔ مالی اور بدنی۔ مالی عبادتیں تو اس کے لئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جس کے پاس نہیں وہ معذور ہے۔ بدنی عبادتیں بھی انسان جوانی ہی میں کر سکتا ہے۔ ورنہ ۶۰ سال کے بعد طرح طرح کے عوارضات لاحق ہو جاتے ہیں۔ نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر نابینائی آجاتی ہے۔ سچ کہا ہے۔ پیری و صدعیب چنیں گفتہ اند اور جو کچھ انسان جوانی میں کر لیتا ہے اس کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اسے بڑھاپے میں بھی صدہا رنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
    موئے سفید زاجل آرد پیام
    اس لئے انسان کو چاہئے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجا لائے۔
    (فتاوی احمدیہ صفحہ۱۴۳)
    (۱۵۶) نماز و حج کی حقیقت
    عبادت کے دو حصے تھے ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ جو ڈرنے کا حق ہے خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی روح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے۔ جو محبت کرنے کا حق ہے اسی لئے فرمایا ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہ اور دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جائے۔
    یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے۔ ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لئے یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اس کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں۔
    خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جائے گی اور جس قدر محبت الٰہی میں وہ ترقی کرے گا۔ اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جاوے گا۔ پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کیلئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے۔ خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں۔ بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاحت نہیں رہتی۔ عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔
    غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔ سرمنڈوایا جاتا ہے۔ دوڑتے ہیں، محبت کا بوسہ رکھا گیا۔ وہ یہی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آتا ہے۔ پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔ اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے۔ نادان وہ شخص ہے جو اپنی نابینائی سے اعتراض کرتا ہے۔
    (الحکم ۲۴؍ جولائی … صفحہ۵)
    (۱۵۷) نماز کیا ہے
    ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ نماز اصل میں دعا ہے۔ نماز کا ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے اگر نماز میں دل نہ لگے۔ تو پھر عذاب کیلئے تیار رہے کیونکہ جو شخص دعائیں نہیں کرتا۔ وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اُٹھاتا ہوں۔ مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔ میں بہت رحم کرتا ہوں بیکسوں کی امداد کرتا ہوں لیکن ایک شخص جو مشکل میں مبتلا ہے۔ اس کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی ندا کی پروا نہیں کرتا۔ نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لئے تیار ہے۔ بشرطیکہ اس سے کوئی درخواست کرے قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے۔ تب آگ پیدا ہوتی ہے۔ الی رَبِّکَ یَوْمَئِذِنِ الْمُسْتَقَر اس آیت کو قیامت پر چساں کرنا غلطی ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ)
    (۱۵۸) اسلامی مسائل عقل کے موافق ہیں
    سوال:کیا اسلام کاکوئی مسئلہ عقل کے خلاف نہیں ہے؟
    جواب:ہاں یہ سچ ہے مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے روٹی کے ساتھ سالن بھی ہو۔ عقلی حواس کے علاوہ اور حواس ہیں جو خدا شناسی کے لئے ہیں اور عقل بھی ان کے ساتھ مل جاتی ہے۔ یہ کوئی تسلی کی راہ نہیںبتا سکتی جب تک کہ دوسرے حواس ساتھ نہ ہوں۔
    سوال: اگر غیر پوچھیں تو انہیںکیا جواب دیں۔
    فرمایا ۔ ان کو یہی جواب دو کہ جو اس کے اہل ہیں ان کے پاس رہو کیونکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان حواس کے ذریعہ ہم ان باتوںکو محسوس کر لیں جن کے لئے دوسرے حواس ہیں۔ کیا کان آنکھ کا کام دے سکتے ہیں یا زبان کانوں کا کام دے سکتی ہے۔ پھر کس قدر غلطی ہے کہ اس امر پر زور دیا جائے۔ خدا شناسی کے لئے حواس اور ہیں اور ان کے ذریعہ ہی ان امور پر جو ان محسوسات سے ماورا ہیں ایمان پیدا ہوتا ہے۔ عقلمند ان چیزوں پر جیسے ملائک ہیں۔ خدا ہی روح کا بقا ہے۔ ان پر عقلی دلائل تلاش نہیں کرتا بلکہ اس راہ سے ایمان لاتا ہے جو اس کے لئے مقرر ہے۔ فلاسفر صرف اٹکل بازی سے کام لیتے ہیں وہ قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے ہاں انکار کر دیتے ہیں۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۴۵)
    (۱۵۹) دعا بحرمت مسیح موعود
    ایک شخص نے عرض کیا کہ بحرمت مسیح موعود دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں۔ فرمایا احیاء کا توسّل جائز ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کی گئی تھی۔ (فتاویٰ احمد صفحہ۱۴۵)
    (۱۶۰) قرض کے متعلق دعا
    ایک شخص نے اپنے قرض کے متعلق دعا کے واسطے عرض کی۔
    فرمایا استغفار بہت پڑھا کرو۔ انسان کے واسطے غموں سے سبکدوش ہونے کے واسطے یہ طریق ہے۔ (الحکم ۱۹؍ جنوری ۱۹۰۱ء)
    (۱۶۱) ایک دعا اور اس کا جواز
    سوال: میاں محمد الدین صاحب احمدی کباب فروش لاہور حال ساکن موضع دعورہ دھڑی بٹاں ریاست جموں کا ایک عریضہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا جس میں لکھا تھا یا حضرت میں نے چند روز سے محض رضائے الٰہی کے لئے جناب باری تعالیٰ میں یہ دعا شروع کی ہے کہ میری عمر میں سے دس سال حضرت اقدس مسیح موعود کو دیئے جاویں کیونکہ اسلام کی اشاعت کے واسطے میری زندگی ایسی مفید نہیں۔ کیا ایسی دعا مانگنا جائز ہے؟
    جواب: حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا۔ ایسی دعا میں مضائقہ نہیں۔ بلکہ ثواب کا موجب ہے۔ (البدر ۶؍ جون ۱۹۰۷ء صفحہ۸)
    (۱۶۲) استغفار
    استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ قرآن شریف میں دو معنی پر آیا ہے۔ اوّل تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا یہ استغفار تو مقربوں کا ہے۔ جو ایک طرفۃ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں۔ اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے۔ ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا کہ پاک نشوونما پاکر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا ہے۔ استغفار غفر سے نکلا ہے جس کے معنی ڈھانکنے کے ہیں اور دبانے کے۔ گویا استغفار سے یہ مطلب ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اس کی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے۔ دبا رکھے اور بشریت کی جڑھ ننگی نہ ہونے دے بلکہ الوہیت کی چادر میں لے کر اپنی قدوسیت میں سے حصہ دے یا اگر کوئی جڑھ گناہ کے ظہور سے ننکی ہوگئی ہو پھر اس کو ڈھک دے اور اس کی برہنگی کے بد اثر سے بچائے۔ استغفار کلید ترقیات روحانی ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۴۶)
    (۱۶۳) استخارہ
    ۸؍ جون ۱۹۰۷ء بوقت عصر فرمایا کہ آج کل اکثر مسلمانوں نے استخارہ کی سنت کو ترک کر دیا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش آمدہ امر میں استخارہ فرما لیا کرتے تھے۔ سلف صالحین کا بھی یہی طریقہ تھا چونکہ دہریت کی ہوا پھیلی ہوئی ہے اس لئے لوگ اپنے علم و فضل پر نازاں ہو کر کوئی کام شروع کر لیتے ہیں اور پھر نہاں در نہاں اسباب سے جن کا انہیں علم نہیں ہوتا ہے نقصان اُٹھاتے ہیں۔ اصل میں یہ استخارہ ان بد رسومات کی عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کے ابتداء سے پہلے کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان اسے بھول گئے ہیں حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے۔ جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ بعض لوگ کوئی کام خود ہی اپنی رائے سے شروع کر بیٹھتے ہیں۔ جس علم و عقل سے پہلے شروع کیا تھا اس سے نبھائیں۔ اخیر میں مشورہ کی کیا ضرورت۔ (البدر ۱۳؍ جون ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۱۶۴) طریق بیعت
    سوال: سوال ہوا کہ آپ دوسرے صوفیا اور مشائخ کی طرح عام طور پر بیعت لیتے ہیں یا بیعت لینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔
    جواب: ہم تو امر الٰہی سے بیعت کرتے ہیں جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں کہ اِنَّ الَّذِیْنَ تُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۴۶)
    (۱۶۵) زمانہ کے موجودہ گدی نشین و پیر زادوں کا حال
    اس ملک کے گدی نشین اور پیر زادے دین سے ایسے بے تعلق اور اپنی بدعات میں ایسے دن رات مشغول ہیں کہ ان کو اسلام کی مشکلات اور آفات کی کچھ بھی خبر نہیں۔ ان کی مجالس میں اگر جاؤ تو بجائے قرآن شریف اور کتب حدیث کے طرح طرح کے طنبورے اور سارنگیاں اور ڈھولکیاں اور قوال وغیرہ اسباب بدعات نظر آئیں گے اور پھر باوجود اس کے مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ اور اتباع نبوی کی لاف زنی اور بعض ان میں سے عورتوں کا لباس پہنتے ہیں اور ہاتھوں میں مہندی لگاتے ہیں۔ چوڑیاں پہنتے ہیں اور قرآن شریف کی نسبت اشعار پڑھنا اپنی مجلسوں میں پسند کرتے ہیں۔ یہ ایسے پرانے زنگار ہیں جو خیال میں نہیں آسکتا کہ دور ہو سکیں تا ہم خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے گا اور اسلام کا عامی ہوگا۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۴۷)
    (۱۶۶) حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت سے پہلے مشائخ کی بیعت ٹوٹ جاتی ہے
    سوال: حضور کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں؟
    جواب: جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کا مرشد اب زندہ بھی ہو۔ تب بھی وہ حقائق اور معارف ظاہر نہ کرے گا جو خدا تعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔ صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے۔ ہندوستان میں جس قدر گدیاں اور مشائخ اور مرشد ہیں سب سے ہمارا اختلاف ہے۔ بیعت دینی سلسلوں میں ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔ ان لوگوں کا ہمارے مسائل میں اختلاف ہے۔ اگر ان میں سے کسی کو شک ہو کہ وہ حق پر ہیں تو ہمارے ساتھ فیصلہ کر لیں۔ قرآن شریف کو حَکم ٹھہرائیں۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت سب گدیاں ایک مردہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور زندگی صرف اسی سلسلہ میں ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر قائم کیا ہے۔ اب کیسا نادان ہوگا وہ شخص جو زندوں کو چھوڑ کر مردوں میں زندگی طلب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی چاہا تھا کہ ایک زمانہ فیج اعوج کا ہو اور اس کے بعد ہدایت کا بہت بڑا زمانہ آوے۔ چنانچہ ہدایت کے دو ہی بڑے زمانے ہیں جو دراصل ایک ہی ہیں مگر ان کے درمیان ایک وقفہ ہے۔ اس لئے وہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک وہ زمانہ جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اور دوسرا مسیح موعود کا زمانہ اور مسیح موعود کے زمانے میں کسی دوسرے کی بیعت کب جائز ہوسکتی ہے اور قائم رہ سکتی ہے۔ یہ اس شخص کا زمانہ ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا۔ اب اس کی بیعت کے سوا سب بیعتیں ٹوٹ گئیں۔
    (الحکم ۲۴؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۷)
    (۱۶۷) مسیح موعود کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟
    ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مولویوں سے جا کر پوچھو کہ ان کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے اس کو جو نہ مانے گا اس کا کیا حال ہے۔ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آنے والا تھا۔
    (بدر ۲۴؍ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ۶)
    (۱۶۸) اپنے صدق دعویٰ و منصب خداداد کے متعلق
    مسیح موعود علیہ السلام کا قسم کھانا
    ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں جن کی نسبت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں خبر دی ہے۔ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ اس کا جواب لکھیں۔ شام کینماز کے بعد دوات اور کاغذ حضرت کے آگے رکھا گیا۔ حضرت نے فوراً کاغذا ہاتھ میں لیا اور یہ چند سطریں لکھ دیں۔
    ’’ میں نے پہلے بھی اس اقرار مفصل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پرچہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وَکَفْی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا ‘‘۔
    (الراقم۔ میرزا غلام احمد عفاء اللہ واید۔ ۱۷؍ اگست ۱۸۹۹ء)
    (۱۶۹) اگر حضرت اقدس کو بزرگ مانا جائے اور بیعت نہ کی جائے
    سوال: ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جاوے اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہووے۔ تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا:
    بیعت کے معنی ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے۔ جس کو قلب محسوس کرتا ہے جب کہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ بیعت کے لئے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جاوے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔
    (الحکم ۱۷؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۲)
    (۱۷۰) جمعہ
    روز جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کر کے اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہرایا ہے اور اس بارے میں خاص ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے تو تم دنیا کا ہر ایک کام بند کر دو اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گنہگار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو اور جس قدر جمعہ کی نماز اورخطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر نماز کی بھی نہیں۔ اسی غرض سے قدیم سے اور جب سے کہ اسلام ظاہر ہوا ہے جمعہ کی تعطیل مسلمانوں میں چلی آتی ہے۔
    (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء، الحکم ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۳ء)
    (۱۷۱) کیا جماعت جمعہ دو آدمیوں سے ہو سکتی ہے
    مسئلہ پیش ہوا کہ دو احمدی کسی گاؤں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ؟
    حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ دو سے جماعت ہوجاتی ہے اس لئے جمعہ بھی ہو جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں پڑھ لیا کروں۔ فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے۔ (الحکم ۲؍ مارچ ۱۹۰۵ء)
    (۱۷۲) ایک مسجد میں دو جمعے
    سوال پیش ہوا کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرا لینے کا اختیار قانوناً یا باہمی مصالحت سے حاصل ہوتا ہے۔ تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جائے کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہو سکتے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وہ تو بہرحال تمہاری اذان اور تمہاری نماز جمعہ کو اذان اور نماز سمجھتے ہی نہیں۔ اس واسطے وہ تو پڑھ لیں گے اور چونکہ وہ مومن کو کافر کہہ کر بموجب حدیث نبوی خود کافر ہوچکے ہیں اس واسطے تمہارے نزدیک بھی ان کی اذان اور نماز کا عدم وجود برابر ہے۔ تم اپنی اذان کہو اور اپنے امام کے پیچھے اپنا جمعہ پڑھو۔ (البدر ۲؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۲)
    (۱۷۳) جمعہ کے بعد احتیاطی نماز
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نماز سب مسلمانوں پر فرض ہے جب کہ جمعہ کی نماز پڑھ لی۔ تو حکم ہے کہ جاؤ اپنے کاروبار کرو۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت میں جمعہ کی نماز اور خطبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ بادشاہ مسلمان نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ خود بڑے امن کے ساتھ خطبہ اور نماز جمعہ پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں۔ اس واسطے ظہر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھاہے۔ ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں۔ ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میں گئی۔ نہ یہ حاصل ہوا نہ وہ۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو اور احتیاطی کی کوئی ضرورت نہیں۔
    سوال: پھر اس شخص نے جس کا ذکر یکم اگست کی شام میں آیا ہے۔ سوال کیا کہ حضرت۔ احتیاطی نماز کے لئے کیا حکم ہے؟
    جواب: فرمایا۔ احتیاطی نماز کیا ہوتی ہے۔ جمعہ کے تو دو ہی فرض ہیں۔ احتیاطی فرض کچھ چیز نہیں۔ فرمایا۔ لدھیانہ میں ایک بار میاں شہاب الدین بڑے پکے موحد نے جمعہ کے بعد احتیاطی نماز پڑھی۔ میں نے ناراض ہو کر کہا کہ یہ تم نے کیا کیا۔ تم تو بڑے پکے موحد تھے۔ اس نے کہا میں نے جمعہ کی احتیاطی نہیں پڑھی بلکہ میں نے مار کھانے کی احتیاطی پڑھی ہے۔
    (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ۷)
    (۱۷۴) نماز جمعہ میں عورتیں
    سوال ہوا کہ نماز جمعہ کیلئے اگر کسی جگہ صرف ایک مرد احمدی اور کچھ عورتیں ہوں تو کیا جائز ہے۔ کہ عورتوں کو جماعت میں شامل کر کے نماز جمعہ ادا کی جائے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جائز ہے۔ (بدر ۵؍ ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۱۷۵) غیر مستطیع کی قربانی
    ایک شخص کی عرضی پیش ہوئی کہ میں نے تھوڑی سی رقم ایک قربانی میں حصہ کے طور پر ڈال دی تھی۔ مگر دوسرے حصہ داروں نے مجھے احمدی ہونے کے سبب اس حصہ سے خارج کر دیا ہے۔ کیا میں وہ رقم قادیان کے مسکین فنڈ میں دے دوں تو میری قربانی ہو جائے گی؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ قربانی تو قربانی کرنے سے ہی ہوتی یہ مسکین فنڈ میں دینے سے نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ رقم کافی ہے تو ایک بکرا قربانی کرو۔ اگر کم ہے اور زیادہ کی توفیق نہیں تو تم پر قربانی کا دینا فرض نہیں ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۶۰)
    (۱۷۷) قربانی کا جانور ناقص ہے
    سوال: ایک شخص نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ اگر جانور مطابق علامات مذکورہ در حدیث نہ ملے تو کیا ناقص کو ذبح کر سکتے ہیں؟
    جواب: فرمایا۔ مجبوری کے وقت تو جانور جائز ہے۔ مگر آج کل ایسی مجبوری کیا ہے۔ انسان تلاش کر سکتا ہے اور دن کافی ہوتے ہیں خواہ مخواہ حجت کرنا یا تساہل کرنا جائز نہیں۔
    (البدر ۲۳؍ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۲)
    (۱۷۸) گوشت قربانی غیر مسلم کو دینا
    سوال ہوا کہ قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا۔ صدقہ کے واسطے مسلم یا ۸غیر مسلم کی قید ضروری نہیں۔ کافر محتاج مسکین کو بھی علاقہ دیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی دعوت کے واسطے بھی جائز ہے کہ تالیف قلوب کے واسطے غیر مسلم کو دعوت کی جائے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۲۵)
    (۱۷۹) غیروں کے ساتھ مل کر قربانی
    سوال: ایک شخص نے سوال پیش کیا کہ کیا ہم غیراحمدیوں کے ساتھ مل کر یعنی تھوڑے تھوڑے روپے ڈال کر کوئی جانور مثلاً گائے ذبح کریں تو جائز ہے؟
    جواب: فرمایا۔ ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ہے کہ تم غیروں کے ساتھ شامل ہوتے ہو۔ اگر تم پر قربانی فرض ہے تو بکرا ذبح کر سکتے ہو اور اگر اتنی بھی توفیق نہیں تو پھر تم پر قربانی فرض بھی نہیں۔ وہ غیر جو تم کو اپنے سے نکالتے ہیں اور کافر قرار دیتے ہیں وہ تو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے ساتھ شامل ہوں تو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ شامل ہو خدا پر توکل کرو۔
    (۱۸۰) حلت خرگوش
    سوال: خرگوش کی حلت حرمت پر سوال کیا گیا۔
    جواب: فرمایا۔ خرگوش کی حرمت خدا نے بیان نہیں کی اور نہ احادیث میں اس کا ذکر ہے۔
    (بدر ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۹)
    (۱۸۱) وجودیوں کا ذبیحہ حلال ہے
    ایک شخص نے سوال کیا کہ ہمارے شہر میں وجودی فرقہ کے لوگ کثرت سے ہیں اور ذبیحہ وغیرہ ان کے ہاتھ سے ہوتا ہے۔ کیا اس کا کھانا حلال ہے یا نہیں۔
    فرمایا۔ کہ بہت تجسس کرنا جائز نہیں ہے۔ موٹے طور پر جو انسان مشرک یا فاسق ہو اس سے پرہیز کرو۔ عام طور پر اس طرح تجسس کرنے سے بہت سی دقتیں در پیش آتی ہیں جو ذبیحہ اللہ کا نام لے کر کیا جاوے اور اس میں اسلام کے آداب مدنظر ہوں وہ خواہ کسی کا ہو جائز ہے۔
    اس کے بعد فرمایا۔ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجودی پیدا کہاں سے ہوئے۔ قرآن شریف اور اسلام میں تو ان کا پتہ نہیں ملتا۔ مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو صرف دھوکا لگا ہوا ہے جو راستباز اکابر گزرے ہیں وہ اصل میں فنا فطری کے قائل تھے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون میں توجہ اللہ کی طرف رکھے اور اس قدر فانی اس میں ہو کہ گویا اور کسی شے کی صورت اور حرکت بذاتہٖ اسے نظر نہ آوے۔ ہر ایک شے کو فانی جان لے اور اس قدر تصرف الٰہی کے سوا اور کچھ نہیں ہورہا۔ اسی مسئلہ میں غلطی واقعہ ہو کر آخر فنا وجودی تک نوبت آگئی اور یہ کہنے لگے کہ سوائے خدا کے اور کوئی شے نہیں ہے۔ اپنے آپ کو بھی خدا ماننے لگے۔ اس خیال سے یہ مذہب پھیلا ہے کہ فنانظری کے شوق میں اولیاء اللہ سے کچھ ایسے کلمات نکلے ہیں کہ جن کی تاویل کر کے یہ وجودی فرقہ بن گیا۔ فنانظری تک انسان کا حق ہے کہ محبوب میں اور اپنے آپ میں کوئی جدائی نہ سمجھے اور
    من تو شدم تو من شدی
    من تن شدم تو جاں شدی
    تا کس نہ گوید بعد ازیں
    من دیگرم تو دیگری
    کا مصداق ہو۔ کیونکہ محب اور محبوب کا علاقہ فنانظری کا تقاضا کرتا ہے اور ہر ایک سالک کی راہ میں ہے کہ محبوب کے وجود کو اپنا وجود جانتا ہے لیکن فنا وجودی ایک من گھڑت بات ہے جیسے ذوق شوق محبت صدق اور وفا اور اعمال صالحہ سے کوئی تعلق نہیں۔ فنانظری کی مثال وہی ہے جو ماں اور بچے کی ہے۔ اگر کوئی بچے کو مکی مارے تو درد ماں کو ہتا ہے۔ سخت تعلق جو محبت کا ہے یہ اس سے بھی دردناک ہے اور یہ ایک سچی اور حقیقی محبت ہوتی ہے مگر وجودی کا مدعا جھوٹا ہے۔ یہ وہ کرے جو خدا پر محیط ہو۔ وجودی چونکہ ترک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے اس لئے طاعت محبت، عبادت الٰہی سے محروم رہتا ہے۔ (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۱۱)
    (۱۸۲) موانع حج
    حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عنداللہ حج نہ کرنے کے لئے عذر صحیح ہیں۔ چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا جب مکہ یا راہ میں ہی کوئی صورت فتنہ برپا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہاں نہ جانا چاہئے۔ خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو۔ مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی الَّھْلُکَۃِ حج کرنا مشروط بشرائط ہے۔ مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے۔ جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۶۶)
    (۱۸۳) جماعت کو وصیت
    ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہوچکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ چاہئے کہ زکوٰۃ دینے والا اس جگہ اپنی زکوٰۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۶۶)
    (۱۸۴) ہمسایہ فاقہ ہو تو شرعاً حج جائز نہیں
    اگر کسی کا ہمسایہ فاقہ میں ہو تو اس کے لئے شرعاً حج جائز نہیں۔ مقدم ہمدردی اور اس کی خبرگیری ہے کیونکہ حج کے اعمال بعد میں آتے ہیں مگر آج کل عبادت کے اصل غرض اور مقصد کو ہرگز مدنظر نہیں رکھا جاتا بلکہ عبادات کو رسوم کے رنگ میں ادا کیا جاتا ہے اور وہ نری رسمیں ہی رہ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں حاجیوں کے متعلق بدظنیاں پیدا ہوئی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں ایک اندھی عورت بیٹھی تھی کوئی شخص آیا اور اس کی چادر چھین کر لے گیا۔ وہ عورت چلائی کہ بچہ حاجیا میری چادر دے جا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ مائی تو یہ تو بتا کہ یہ کیونکر تجھے معلوم ہوا کہ میں حاجی ہوں۔ اس نے کہا تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسا کام حاجی ہی کرتے ہیں۔ پس اگر ایسی ہی حالت ہو تو پھر ایسے حج سے کیا فائدہ۔ حج میں قبولیت ہو کیونکر جب کہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں ان کو ادا کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتے ہیں۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۶۶)
    (۱۸۵) متوفی کا حج دوسرے آدمی کے ذریعہ سے
    خوشاب سے ایک مرحوم احمدی کے ورثاء نے حضرت کی خدمت میں خط لکھا کہ مرحوم کا ارادہ پختہ حج پر جانے کا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی۔ کیا جائز ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی آدمی خرچ دے کر بھیج دیا جائے۔
    حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا جائز ہے۔ اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہو جائے گا۔ (بدر ۱۹۰۷ء……)
    (۱۸۶) زکوٰۃ کیا ہے؟
    زکوٰۃ کیا ہے۔ یوخذمن الامراء ویرد الی الفقراء امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔ اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی ہے۔ اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔ امراء پر یہ فرض ہے کہ وہ ادا کریں۔ اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جائے۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہو تو پروا نہیں۔ اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔ جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے میں اس کے بیان کرنے سے رک نہیں سکتا۔ انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ یعنی تم ہرگز ہرگز اس نیکی کوحاصل نہیں کر سکتے۔ جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جائے اور وہ کہے کہ اچھا اسے منس دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سڑی بُسی روٹیاں جو کسی کام نہیں آ سکتی ہیں فقیروں کو دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے وہ تو صاف طور پر کہتا ہے۔ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیارے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لئے خرچ نہ کرو۔ اس موقع پر ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بعض فقیر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی باسی روٹی دے دو۔ پھٹا پُرانا کپڑا دے دو۔ وہ مانگتے ہی پرانا اور باسی ہیں۔ فرمایا۔ تم نئی دے دو گے ،وہ کیا کریں۔ جانتے ہیں کہ کوئی نہیں دے گا۔ اس لئے وہ ایسا سوال کرتے ہیں۔ جہاں تک ہو سکے مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کرو۔
    (بدر ۱۹۰۸ء ……)
    (۱۸۷) سید کیلئے زکوٰۃ
    سوال ہوا کہ غریب سید ہو تو کیا وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہوتا ہے یا نہیں۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اصل میں منع ہے۔ اگر اضطراری حالت ہو فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِلاَّ مَااضْطُرِرْتُمْ اِلَہِ (۱:۸) حدیث سے فتویٰ تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہئے۔ اگر سیّد کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اسے زکوٰۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہاں اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔
    (الحکم ۲۴؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۱۸۸) معلق مال کی زکوٰۃ
    ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جو مال معلق ہے۔ اس پر زکوٰۃ نہیں۔ جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آ جائے۔ لیکن تاجر کو چاہئے کہ حیلہ بہانہ سے زکوٰۃ کو نہ ٹال دے۔ آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔ بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔
    (الحکم ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۷ء البدر ۱۱؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۱۸۹) زیور کی زکوٰۃ
    بعض عورتیں زکوٰۃ دینے کے لائق ہوتی ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہوتا ہے مگر وہ زکوٰۃ نہیں دیتی ہیں۔
    جو زیور استعمال میں آتا ہے اس کی زکوٰۃ نہیں ہے اور جو رکھا رہتا ہے اور کبھی کبھی پہنا جاوے اس کی زکوٰۃ دینی چاہئے جو زیور پہنا جاوے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کے لئے دیا جاوے۔ بعض کا اس کی نسبت یہ فتویٰ ہے کہ اس کی زکوٰۃ نہیں اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال کے لئے نہ دیا جائے اس میں زکوٰۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ اس پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو زیور روپیہ کی طرح رکھا جائے اس کی زکوٰۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔
    (الحکم ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱۱)
    (۱۹۰) مکانات و جواہرات پر زکوٰۃ
    کسی شخص کا خط سے سوال پیش ہوا کہ میرا پانچ سو روپیہ کا حصہ ایک مکان میں ہے کیا اس حصہ میں مجھ پر زکوٰۃ ہے یا نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جواہرات و مکانات پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ (بدر ۱۴ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۱۹۱) مکان اور تجارتی مال پر زکوٰۃ
    ایک شخص کے سوال کے جواب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ مکان خواہ کتنے ہزار روپیہ کا ہو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ اگر کرایہ پر چلتا ہو تو آمد پر زکوٰۃ ہے۔ ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے۔ زکوٰۃ نہیں۔ حضرت عمرؓ چھ ماہ کے بعد حساب کر لیا کرتے تھے اور روپیہ پر زکوٰۃ لگائی جاتی تھی۔ (البدر۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۱۹۲) قرض پر زکوٰۃ
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس کو زکوٰۃ دینی لازم ہے۔ فرمایا نہیں۔
    (البدر ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۱۹۳) وجہ تسمیہ رمضان
    فرمایا۔ رمضان سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا اس لئے رمضان کہلایا۔ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ عرب کے لئے خصوصیت نہیں ہو سکتی۔ روحانی رمضان سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔ رمضان اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہوتے ہیں۔ رمضان دعا کا مہینہ ہے۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القران سے ہی ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیوں نے اس مہینہ کو تنویر قلب کیلئے عمدہ لکھا ہے۔ اس میں کثرت سے مکاشفات ہوتے ہیں۔ نماز تزکیہ نفس کرتی ہے اور روزہ سے تجلی قلب ہوتی ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوے۔ اور تجلی قلب سے مکاشفات ہوتے ہیں جن سے مومن خدا کو دیکھ لیتا ہے۔ انزل فیہ القران میں یہی اشارہ ہے۔ بیشک روزہ کا حکم اجر عظیم ہے مگر امراض اور اغراض اس نعمت سے انسان کو محروم کر دیتے ہیں۔ روزہ کے بارہ میں خدا فرماتا ہے۔ ان تصوموا خیرلکم یعنی اگر تم روزہ رکھ ہی لیا کرو تو تمہارے لئے اس میں بڑی خیر ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۷۵)
    (۱۹۴) نماز تراویح
    سوال: اکمل آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اُٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے لیکن عموماً محنتی مزدور زمیندار لوگ جو ایسے اعمال کے بجا لانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اوّل شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھا دی جائے تو کیا یہ جائز ہوگا۔
    جواب: حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کچھ حرج نہیں پڑھ لیں۔
    (بدر ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
    (۱۹۵) فدیہ توفیق روزہ کا موجب ہے
    ایک بار میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس کے لئے مقرر ہے۔ تو معلوم ہوا یہ اس لئے ہے کہ اس سے روزہ کی توفیق ملتی ہے۔ خدا ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی طاقت روزہ عطا کر سکتا ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ ایسا انسان جو دیکھے کہ روزہ سے محروم رہا جاتا ہوں تو دعا کرے کہ الٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے۔ میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال رہوں یا نہ رہوں یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ کر سکوں۔ اس لئے اس سے توفیق طلب کرے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے قلب کو خدا طاقت بخش دے گا۔ اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا۔ مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔ میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور اسی حالت میں اگر رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق رحمت ہو جاتی ہے کیونکہ ہر کام کا مدار نیت پر ہے۔ مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کرے۔ جو شخص کہ روزہ سے محروم رہتا ہے۔ مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا۔ اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے۔ بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ ہرگز اسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔ یہ ایک باریک امر ہے۔ اگر کسی شخص پر اپنے نفس کے کسل کی وجہ سے روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدائی نعمت کو خود اپنے اوپر گراں گمان کرتا ہے کب اس ثواب کا مستحق ہوگا۔ ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر ہی تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزہ سے محروم نہیں ہے۔ اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں۔ ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔ بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن وہ خدا کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ تکلف کا باب بہت وسیع ہے۔ اگر انسان چاہے تو اس کی رو سے ساری عمر کو بیٹھ کر ہی نماز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔ مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اسے اصل ثواب سے بھی زیادہ دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شے ہے حلیہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۷۵)
    (۱۹۶) تاثیرات روزہ و حضرت مسیح موعود ؑ کا التزام صوم
    ایک مرتبہ ایام جوانی میں ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر ملک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہلبیت رسالت کو بجا لاؤں۔ میں نے رؤیا مذکور بالا کے موافق چھ ماہ تک برابر مخفی طور پر روزوں کا التزام کیا۔ اس اثنا میں عجیب عجیب مکاشفات مجھ پر کھلے۔ بعض گذشتہ نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیہ اور جو اعلیٰ طبقے کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مع حسین و علی رضی اللہ عنہم و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔ غرض اس طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیںہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستاں طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے تھے جن میں سے بعض چمکدار اور بعض سبزو سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوتی جیسا کہ اس کو دیکھ کر دل اور ارواح کو لذت آتی تھی۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور روزہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔ یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔ یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہنچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دنا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔
    جب میں نے چھ ماہ کے روزے رکھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء ؑ کا مجھ سے ملا اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ اس سے باہر نکل۔ اس طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ ماں باپ کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہے مگر جو لوگ تکلف سے اپنے آپ کومشقت سے محروم رکھتے ہیں خدا ان کو دوسری مشقت میں ڈالتا ہے اور نکالتا نہیں اور دوسرے جو خود مشقت میں پڑتے ہیں ان کو وہ آپ نکالتا ہے۔ انسان کو وجب ہے کہ اپنے نفس پر آپ شفقت نہ کرے بلکہ ایسا بنے کہ خدا اس کے نفس پر شفقت کرے کیونکہ انسان کی شفقت اس کے نفس پر اس کے واسطے جہنم ہے اور خدا کی شفقت جنت۔ ابراہیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کرو کہ جو آگ میں خود گرنا چاہتا ہے اسے تو وہ خدا آگ سے بچاتا ہے اور جو خود آگ سے بچنا چاہتے ہیں وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ اسلم ہے اور یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس کا انکار نہ کرے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہوسلم اپنی عظمت کی فکر میں خود لگتے تو وَاللّٰہُ یَعْضْمُکَ مِنَ النَّاس کی آیت نازل نہ ہوتی۔ حفاظت الٰہی کا یہی سر ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ)
    (۱۹۷) کیا سفر میں روزہ رکھیں
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ سفر کے لئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے۔ حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن کریم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ اَیَّامٍ اُخَر۔ یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ اس میں امر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔ میرے خیال میں مسافر کوروزہ نہ رکھنا چاہئے اور چونکہ عام طور پر اکثریت لوگ رکھ لیتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔ مگر عِدَِّۃٌ مِنْ اِیَّامِ اُخَر کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ سفر میں تکالیف اُٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا۔ یہ غلطی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعتِ امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔ (الحکم ۲۲؍ جنوری ۱۸۹۹ء)
    (۱۹۸) بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہِ صیام میں روزہ رکھتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے‘‘۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پائے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔ (بدر ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۱۹۹) روزہ و خدمت والدین
    حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں۔ ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا۔ پر اس کے گناہ بخشے نہ گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔ والدین کے سایہ میں جب کہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم و غم والدین اُٹھاتے ہیں۔ جب انسان خود دینی امور میں پڑتا ہے۔ تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچے کے واسطے بہت دکھ اُٹھاتی ہے کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا۔ ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ ماں بہت تکالیف میں بچہ کے شریک ہوتی ہے۔ یہ طبعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر سکتی۔
    ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ نے انسان پر فرض کی ہے۔ مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کو کہا کہ ہم سے خط و کتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل کبھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ اب میں اس فرض الٰہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہو سکتا ہوں۔ فرمایا کہ قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ ربکم اعلم بمانی نفسوکم۔ ان تکونوا صالحین فانہ کان للاوابین غفورا (بنی اسرائیل رکوع۳) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوںمیں ہے اگر تم صالح ہو۔ تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی والدین سے نزاع ہوگئی تھی۔ بہرحال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبرگیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو جب کوئی موقع ملے۔ اسے ہاتھ سے جانے نہ دو۔ تمہاری نیت کا ثواب تم کو مل رہے گا۔ اگر محض دین کی وجہ سے اللہ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔ اصلاح کو مدنظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔ یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ بہرحال خدا کا حق مقدم ہے۔ پس خدا کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔ (الحکم ۲۹ ؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۴)
    (۲۰۰) والدہ کی اطاعت
    ایک دوست نے خط کے ذریعے اس امر کا استفسار کیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اور مجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے مگر مجھے بیوی سے کوئی رنجش نہیں۔ میرے لئے کیا حکم ہے۔ فرمایا۔ والدہ کا بہت بڑا حق ہے اور اس کی اطاعت فرض۔ مگر پہلے یہ بات دریافت کرنا چاہئے کہ آیا اس ناراضگی کی تہ میں کوئی اور بات تو نہیں جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو۔ مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے جب تو وہ خود واجب طلاق ہے۔
    اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں۔ گالیاں دیتی ہیں۔ ستاتی ہیں۔ بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔ والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آ سکتی ہے کہ وہ بے طور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ والدہ حق بجانب ہوتی ہے ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔ جب اس کی والدہ ناراض ہے تو وہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔ یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ تو نہیں۔ والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔ اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً اُسے دور کرنا چاہئے۔ خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اور بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تو لازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کرا دے اور کُل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔ والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔ بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔ پس سبب کو دور کرنا چاہئے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹا دینا چاہئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہئے۔ دیکھو شیر اور بھیڑیے اور درندے بھی تو ہِلائے سے ہِل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔ دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔ فرمایا ایک شخص کی بیویاں تھیں۔ بیویوں میں باہمی نزاع ہو جانے پر ایک بیوی خود بخود بلا اجازت اپنے گھر میکے چلی گئی۔ وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طلاق دے دوں۔ میں نے سوچا کہ یہ معاملات بہت باریک ہوتے ہیں۔ سوکن کو بڑی سختیاں اُٹھانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتیں اپنی مشکلات کی وجہ سے خود کشی کر لیتی ہیں۔ جیسے دیوانہ آدمی مرفوع القلم ہوتا ہے اسی طرح سے یہ بھی ایسے معاملات کی وجہ سے مرفوع القلم اور واجب الرحم ہوتی ہیں کیونکہ سوکن کے معاملات بھی دیوانگی کی حد تک پہنچا دیتے ہیں۔ اصل بات یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کا منشاء قدرت نمائی کا تھا۔ توریت میں یہ قصہ لکھا ہے۔ بچہ جب بوجہ شدت پیاس رونے لگا تو بیوی ہاجرہؓ پہاڑ کی طرف پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھبراہٹ سے دوڑتی بھاگتی پھرتی رہی۔ مگر جب دیکھا کہ اب یہ مرتا ہے تو بچے کو ایک جگہ ڈال کر پہاڑ کی چوٹی پر دعا کرنے لگ گئیں کیونکہ اس کی موت کو دیکھ نہ سکتی تھی۔ اسی اثناء میں غیب سے آواز آئی کہ ہاجرہ لڑکے کی خبر لے۔ وہ جیتا ہے آ کر دیکھا تو لڑکا جیتا تھا اور پانی کا چشمہ جاری تھا۔ اب وہی کنواں ہے جس کا پانی ساری دنیا میں پہنچتا ہے۔ اب بڑی حفاظت اور تعظیم اور شوق سے پیا جاتا ہے۔ (الحکم ۲۶؍ مارچ ۱۹۰۸ء)
    (۲۰۱) روزۂ وصال نبوی
    ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے روز روزہ رکھنا ضروری ہے کہ نہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔ ضروری نہیں ہے۔
    (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۲۰۲) روزۂ محرم
    اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ محرم کے پہلے دس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے کہ نہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ضروری نہیں۔ (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۲۰۳) سفیدی میں نیت روزہ
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور میرا یقین تھا کہ ہنوز روزہ رکھنے کا وقت ہے اور میں نے کچھ کھا کر روزہ کی نیت کی۔ مگر بعد میں ایک دوسرے شخص سے معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہوگئی تھی۔ اب میں کیا کروں؟
    حضرت نے فرمایا۔ کہ ایسی حالت میں اس کا روزہ ہو گیا۔ دوبارہ رکھنے کی حاجت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں۔ (بدر۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۸)
    (۲۰۴) روزہ دار کو آئینہ دیکھنا
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پش ہوا کہ روزہ دار کو آئینہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ جائز ہے۔ ( بدر ۷؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۰۵) حالت روزہ میں سر و ڈاڑھی کو تیل لگانا
    اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ حالت روزہ میں سر کو یا ڈاڑھی کو تیل لگانا جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ جائز ہے۔
    (۲۰۶) آنکھ کے بیمار کا روزہ
    اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کی آنکھ بیمار ہو تو اس میں دوائی ڈالنی جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ یہ سوال ہی غلط ہے۔ بیمار کے واسطے روزہ رکھنے کا حکم نہیں۔
    (بدر ۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۰۷) غیر مستطیع الصوم کا فدیہ
    اسی شخص کا یہ سوال پیش ہوا کہ جو شخص روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو اس کے عوض مسکین کو کھانا کھلانا چاہئے۔ اس کے کھانے کی رقم قادیان کے یتیم فنڈ میں بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس نے فرمایا۔ ایک ہی بات ہے۔ خواہ اپنے شہر میں کسی مسکین کو کھلائے یا یتیم اور مسکین فنڈ میں بھیج دے۔ (بدر ۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۰۸) دائمی مسافر اور مریض فدیہ دے سکتے ہیں
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مورخہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء کو فرمایا۔
    جن بیماروں اور مسافروں کو امید نہیں کہ کبھی پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے۔ مثلاً ایک بوڑھا، ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بہ سبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال پھر اسی طرح گزر جائے گا ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں۔ فدیہ صرف شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزے کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے۔ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھولنا ہے۔ جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔ اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ میری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جائے گی۔ ( فتاویٰ احمدیہ صفحہ۱۸۳)
    (۲۰۹) روزہ دار کا خوشبو لگانا
    سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کو خوشبو لگانا جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ جائز ہے۔ (بدر ۷؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۱۰) روزہ دار کا آنکھوں میں سرمہ ڈالنا
    سوال پیش ہوا کہ روزہ دار آنکھوں میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مکروہ ہے۔ اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے۔ رات کو سرمہ لگا سکتا ہے۔ (بدر ۷؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۱۱) گرمی میں مزدور و محنتی کا روزہ
    سوال: بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں سے جب کہ کام کی کثرت مثل تخمریزی و ورودگی ہوتی ہے ایسے مزدوروں سے جن کا گزارہ مزدوری پر ہے۔ روزہ نہیں رکھا جاتا۔ ان کی نسبت کیا ارشاد ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ انما الاعمال بالنیات۔ یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے اگر کوئی اپنی جگہ مزدور رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے۔ ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔ پھر جب یسر ہو رکھ لے اور عَلَی الَّذِیْنَ یَطِیْقُوْنَہٗ کی نسبت فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے۔
    (بدر ۲۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۲۱۲) اعتکاف
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جب آدمی اعتکاف میں ہو تو اپنے دنیوی کاروبار کے متعلق بات کر سکتا ہے یا نہیں؟
    فرمایا سخت ضرورت کے سبب کر سکتا ہے اور بیمار کی عیادت کیلئے اور حوائج ضروری کے واسطے باہر جا سکتا ہے۔(بدر ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۲۱۳) نکاح
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ تعلیم دی ہے کہ پرہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو اور اولاد صالح طلب کرنے کیلئے دعا کرو۔ جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے۔ محصنین غیر مسافحین (الجزء نمبر۵) یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پرہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو اور محصنین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا۔ وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱)
    (۲۱۴) اغراض و فوائد نکاح
    قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں۔ ایک عفت اور پرہیز گاری۔ دوسرا حفظ صحت۔ تیسرا حفظ نسل اور پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ وَلَیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْہُ نِکَاحًا حَتَّی یُغْنِیْھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (سورۃ النور) یعنی جو لوگ نکاح کی طاقت نہ رکھیں جو پرہیزگار رہنے کا اصل ذریعہ ہے تو ان کو چاہئے کہ اور تدبیروں سے طلب عفت کریں۔ چنانچہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اس کے لئے پرہیزگار رہنے کے لئے یہ تدبیر ہے کہ وہ روزے رکھا کرے اور حدیث یہ ہے یَامَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاہ فَلْیَتَزَوَّجَ فَاِنَّہٗ غَضَّ الْبَصَرِ وَاَحْصَنَ لِلْفَرَجِ وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہٗ لَہٗ وَجَاء۔( صحیح مسلم و بخاری)۔ یعنی اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم میں سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو چاہئے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح آنکھوںکو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے۔ ورنہ روزہ رکھو کہ وہ رخصتی کر دیتا ہے۔
    اب ان آیات اور حدیث اور بہت سی اور آیات سے ثابت ہے کہ نکاح شہوت رانی کی غرض سے نہیں بلکہ بدخیالات اور بدنظری اور بدکاری سے اپنے تئیں بچانا اور نیز حفظِ صحت بھی غرض ہے اور پھر نکاح سے ایک اور بھی غرض ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے ۔ وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیش رو ہیں۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱)
    (۲۱۵) تعدد ازدواج
    ہمارے اس زمانہ میں بعض خاص بدعات میں عورتیں مبتلا ہیں۔ وہ نکاح کے مسئلہ کو نہایت بُری نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ گویا اس پر ایمان نہیں رکھتیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ خدا کی شریعت ہر ایک قسم کا علاج اپنے اندر رکھتی ہے۔ پس اگر اسلام میں تعدد نکاح کا مسئلہ نہ ہوتا تو ایسی صورت میں کہ جو مردوں کے لئے نکاح ثانی کے لئے پیش آ جاتی ہیں۔ اس شریعت میں ان کا کوئی علاج نہ ہوتا۔ مثلاً اگر عورت دیوانہ ہو جاوے۔ یا مجذوم ہو جاوے یا ہمیشہ کے لئے کسی ایسی بیماری میں گرفتار ہو جاوے جو بیکار کر دیتی ہے یا اور کوئی ایسی صورت پیش آ جائے کہ عورت قابل رحم ہو مگر بیکار ہو جائے اور مرد بھی قابل رحم کہ وہ تجرد پر صبر نہ کر سکے تو ایسی صورت میں مرد کے قویٰ پر یہ ظلم ہے کہ اس کو نکاح ثانی کی اجازت نہ دی جائے۔ درحقیقت خدا کی شریعت نے انہی امور پر نظر کر کے مردوں کے لئے یہ راہ کھلی رکھی ہے اور مجبوریوں کے وقت عورتوں کے لئے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے خلع کرالیں۔ جو طلاق کے قائمقام ہے۔ خدا کی شریعت دوا فروش کی دکان کی مانند ہے۔ پس اگر دکان ایسی نہیں ہے جس میں سے ہر ایک بیماری کی دوا مل سکتی ہے تو وہ دکان چل نہیں سکتی۔ پس غور کرو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ بعض مشکلات ایسے پیش آ جاتے ہیں جن میں وہ نکاح ثانی کے لئے مضطر ہوتے ہیں۔ وہ شریعت کس کام کی جس میں کل مشکلات کا علاج نہ ہو۔ دیکھو انجیل میں طلاق کے مسئلہ کی بابت صرف زنا کی شرط تھی اور دوسرے صدہا طرح کے اسباب جو مرد اور عورت میں جانی دشمنی پیدا کر دیتے ہیں ان کا کچھ ذکر نہ تھا۔ اس لئے عیسائی قوم اس خامی کی برداشت نہ کر سکی اور آخر امریکہ میں ایک طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔ سوچو کہ اس قانون سے انجیل کدھر گئی اور اے عورتو فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں۔
    (۲۱۶) خلع
    اگر عورت مرد کے تعدد ازواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم خلع کرا سکتی ہے۔ خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں۔ اپنی شریعت میں ان کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی۔ سو تم اے عورتو۔ اپنے خاوندوں کے ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلا سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ مرد سخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جوروئیں کر کے انصاف نہیں کرتا۔ مگر تم خود خدا کی نافرمانی کر کے موردِ قہر الٰہی مت بنو۔ ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔ اگر تم خدا کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جائے گا۔ اگرچہ شریعت کے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے لیکن قضاء و قدر کا قانون تمہارے لئے کھلا ہے۔ اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضاء و قدر کے قانون سے فائدہ اُٹھاؤ کیونکہ قضاء و قدر کا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آ جاتا ہے۔ تقویٰ اختیار کرو دنیا سے اور اس کی زینت سے دل مت لگاؤ۔ قومی فخر مت کرو کسی عورت سے ٹھٹھا ہنسی مت کرو۔ خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو ان کی حیثیت سے باہر ہیں۔ کوشش کرو تاتم معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو جاؤ۔ عورتوں میں یہ ایک بدعادت ہوتی ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لئے دوسرا نکاح کر نا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندۂ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ ایسی عورتیں اور ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں کیونکہ اللہ جلشانہٗ نے اپنی حکمت کاملہ سے جس میں صدہا مصالحہ ہیں۔ مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔ پھر جو شخص خدا اور رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ نہایت مردود اور شیطان کے بہن بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کیلئے دوسرا نکاح ضرور کرے۔ (کشتی نوح صفحہ۷۱)
    (۲۱۷) بیوہ عورت کا نکاح
    اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو۔ دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھاری گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام ہے اور پاکدامن ہوگئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔ عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بڑے ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کر لے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود شیطان کی چیلیاں اور لعنی ہیں۔ جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔ جس عورت کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیارا ہے اس کو چاہئے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صدہا درجہ بہتر ہے۔
    (۲۱۸) اپنے شوہر کی نافرمان عورتیں
    عورتوں میں ایک خراب عادت یہ بھی ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں کچھ بُرا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک *** ہیں۔ ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجا نہ لائے اور پسِ پشت یعنی اس کے لئے اس کی خیر خواہ نہ ہو اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں۔ ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایا ہے کہ اگر بغیر خدا کے سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بدزبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اسے دیکھتی ہے اور حکم ربانی سن کر بھی باز نہیں آتی تو وہ *** ہے۔ خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔ عورتیں کو چاہئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچائیں۔
    پردہ۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ بجز خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بدوضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گند کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶)
    (۲۱۹) اسلامی پردہ
    اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جائے ۔ قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔ وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔ جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے۔ وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔
    حضرت اُمّ المومنین کی طبیعت کسی قدر ناساز رہا کرتی تھی۔ آپ نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی آیا کریں تو کچھ حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ دراصل میں تو اس لحاظ سے کہ معصیت نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ رعایت پردہ کے ساتھ باغ میں لے جایا کرتا تھا اور میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتا۔ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ باہر کی ہوا کھاؤ۔ گھر کی چاردیواری میں ہر وقت بند رہنے سے بعص اوقات کئی قسم کے امراض حملہ کرتے ہیں۔ علاوہ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کو لے جایا کرتے تھے۔ جنگلوں میں حضرت عائشہؓ ساتھ ساتھ ہوتی تھیں۔
    پردہ کے متعلق بڑی افراط تفریط ہوئی ہے۔ یورپ والوں نے تفریط کی ہے۔ اب ان کی تقلید سے بعض نیچری بھی اسی طرح چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس بے پردگی نے یورپ میں فسق و فجور کا دریا بہا دیا ہے اور اس کے بالمقابل بعض مسلمان افراط کرتے ہیں کہ کبھی عورت گھر سے باہر نکلی ہی نہیں حالانکہ ریل پر سفر کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ غرض ہم ان دونوں قسم کے لوگوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں جو افراط اور تفریط کر رہے ہیں۔ (الحکم ۱۷؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۵)
    (۲۲۰) حمدی جماعت کے ناطوں و رشتوں کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ
    چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم اور اس کی بزرگ عنایات سے ہماری جماعت کی تعداد میں بہت ترقی ہو رہی ہے اور اب کئی لاکھ تک اس کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ان کے باہمی اتحاد کے بڑھانے کے لئے اور نیز ان کو اہل اقارب کے بداثر اور بدنتائج سے بچانے کے لئے لڑکیوں اور لڑکوں کے نکاحوں کے بارے میں کوئی احسن انتظام کیا جائے۔
    یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ مخالف مولویوں کے زیر سایہ ہو کر تعصب اور عناد اور بخل اور عداوت کے پورے درجہ تک پہنچ گئے ہیں ان سے ہماری جماعت کے نئے رشتے غیر ممکن ہوگئے ہیں۔ جب تک وہ توبہ کر کے اس جماعت میں داخل نہ ہوں۔ اور اب یہ جماعت کسی بات میںان کی محتاج نہیں۔ مال میں، دولت میں، علم میں، فضیلت میں، خاندان میں، پرہیزگاری میں، خداترسی میں سبقت رکھنے والے اس جماعت میںبکثرت موجود ہیں اور ہر ایک اسلامی قوم کے لوگ اس جماعت میں پائے جاتے ہیں تو پھر اس صورت میں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگوں سے ہماری جماعت نئے تعلق پیدا کرے جو ہمیں کافر کہتے ہیں اور ہمارا نام دجال رکھتے ہیں یا خود تو نہیں مگر ایسے لوگوں کے ثنا خواں اور تابع ہیں۔
    یاد رہے کہ جو شخص ایسے لوگوں کو چھوڑ نہیں سکتا وہ ہماری جماعت میں داخل ہونے کے لائق نہیں جب تک پاکی اور سچائی کے لئے ایک بھائی بھائی کو نہیں چھوڑے گا اور ایک باپ بیٹے سے علیحدہ نہیں ہوگا تب تک وہ ہم میں سے نہیں۔ سو تمام جماعت توجہ سے سن لے کہ راستباز کے لئے ان شرائط پر پابند ہونا ضروری ہے اس لئے میں نے انتظام کیا ہے کہ آئندہ خاص میرے ہاتھ میں مستور اور مخفی طور پر ایک کتاب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں اور اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبہ میں ایسی شرائط کا لڑکا نہ پاویں جو اپنی جماعت کے لوگوں میں سے ہو اور نیک چلن اور نیز ان کے اطمینان کے موافق لائق ہو۔ ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں تو اس صورت میں ان پر لازم ہوگا کہ وہ اس میں اجازت دیں کہ ہم اس جماعت میں سے تلاش کریں اور ہر ایک کو تسلی رکھنی چاہئے کہ ہم والدین کے سچے ہمدرد اور غمخوار کی طرح تلاش کریں گے اورحتی الوسع یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی جو تلاش کئے جائیں۔ اہل رشتہ کے ہم قوم ہوں یا اگر نہیں تو ایسی قوم میں سے ہوں جو عزت عام کے لحاظ سے باہم رشتہ داریاں کر لیتے ہوں اور سب سے زیادہ یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی نیک چلن اور لائق بھی ہوں اور نیک بختی کے آثار ظاہر ہوں۔
    یہ کتاب پوشیدہ طور پر رکھی جائے گی اور کسی لڑکے یا لڑکی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہیں کی جائے گی۔ جب تک اس کی لیاقت اور نیک چلنی ثابت نہ ہو جائے اس لئے ہمارے مخلصوں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی ایک فہرست اسماء بقید عمر و قومیت بھیج دیں تا کہ وہ کتاب میں درج ہو جائے۔ مندرجہ ذیل نمونہ کا لحاظ رہے۔
    نام دختر یا پسر، نام والد، نام شہر بقیہ محلہ و ضلع، عمر دختر یا پسر (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۷)
    (۲۲۱) غیر اقوام سے ناطہ
    ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کو لڑکی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل برخلاف ہے۔ بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔ رشتہ ناطہ میں یہ بات دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو اور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں۔ صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان اکرمکمعنداللّٰہ اتقاکم یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے۔ (فتاوی احمدیہ صفحہ۸)
    (۲۲۲) پہلی بیوی والے کو لڑکی نہ دینی
    بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔ پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔ سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۹۰۸)
    (۲۲۳) شادیوں میں بیجا خرچ اور بھاجی تقسیم کرنا
    ہماری قوم میںایک یہ بھی بدرسم ہے کہ شادیوں میں صدہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونو باتیں عندالشرع حرام ہیں اور آتشبازی جلانا اور رنڈی، بھڑوؤں، ڈوم دہاڑیوں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۹)
    (۲۲۴) تنبول
    عرض کیا گیا کہ تنبول کی نسبت حضور کا ارشاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ انما الاعمال بالنیات۔ اپنے بھائی کو ایک طرح کی امداد ہے۔ عرض کیا گیا جو تنبول ڈالتے ہیں وہ تو اس نیت سے ڈالتے ہیں کہ ہمیں پانچ کے چھ روپے ملیں اور پھر اس روپیہ کو کنجروں پر خرچ کرتے ہیں۔
    فرمایا۔ ہمارا جواب تو اصل رسم کی نسبت ہے کہ نفسِ رسم پر کوئی اعتراض نہیں۔ باقی رہی نیت۔ سو آپ ہر ایک کی نیت سے کیونکر آگاہ ہو سکتے ہیں۔ یہ تو کمینہ لوگوں کی باتیں ہیں کہ زیادہ لینے کے ارادے سے دیں یا چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب کریں۔ ایسے شریف آدمی بھی ہیں جو محض بہ تعمیل حکم تعاون و تعلقات محبت تنبول ڈالتے ہیں اور بعض تو واپس لینا بھی نہیں چاہتے بلکہ کسی غریب کی امداد کرتے ہیں غرض سب کا جواب ہے انما الاعمال بالنیات۔
    (بدر ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۷ء)
    (۲۲۵) نابالغ کے نکاح کا فسخ
    سوال پیش ہوا کہ اگر نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح اس کا ولی کر دے اور ہنوز وہ نابالغ ہی ہو اور ایسی ضرورت پیش آوے تو کیا طلاق بھی ولی دے سکتا ہے یا نہیں؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’دے سکتا ہے‘‘۔
    (بدر ۲۵؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ۱۱)
    (۲۲۶) خدا اور رسول کی حلال کردہ چیزوں میں سب سے بُری چیز
    جائز چیزوں میں سے سب سے زیادہ بُرا خدا اور اس کے رسول نے طلاق کو قرار دیا ہے اور یہ صرف ایسے موقعوں کے لئے رکھی گئی ہے جب کہ اشد ضرورت ہو۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے جو رب ہے کہ سانپوںاور بچھوؤں کے لئے خوراک مہیا کی ہے۔ ویسا ہی ایسے انسانوں کے لئے جن کی حالتیں بہت گری ہوئی ہیں اور جو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے۔ طلاق کا مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اس طرح ان آفات اور مصیبتوں سے بچ جاویں۔ جو طلاق کے نہ ہونے کی صورت میں پیش آئیں۔ یا بعض اوقات دوسرے لوگوں کو بھی ایسی صورتیں پیش آ جاتی ہیں اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ سوائے طلاق کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ پس اسلام نے جو کہ تمام مسائل پر حاوی ہے یہ مسئلہ طلاق کا بھی دکھلایا ہے اور ساتھ ہی اس کو مکروہ بھی قرار دیا ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱۰)
    (۲۲۷) ادب رسول
    سوال: ۱۱؍ فروری ۱۹۰۷ء ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ میں ایک عورت سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔ مگر خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کیا ہے۔ اس کی کیا تعبیر ہے۔
    جواب: فرمایا کہ ممکن ہے کہ اس کی تعبیر خواہ کچھ اور بھی ہو۔ لیکن طریق ادب یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جو کچھ فرمایا ہے۔ اسی پر عمل کیا جاوے۔
    (البدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۸)
    (۲۲۸) افریقہ کی برہنہ عورتوں سے نکاح
    سوال ہوا کہ کیا افریقہ کی برہنہ عورتوں سے نکاح جائز ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اس ملک میں اور ان علاقوں میں بحالت اضطرار ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے لیکن صورت نکاح میں ان کو کپڑے پہنانے اور اسلامی شعار پر لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ (بدر ۲۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
    (۲۲۹) ولیمہ
    شرع شریف میں صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے۔ یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱۰)
    (۲۳۰) عورات کی بدعات و شرک
    بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں کوتاہی کرتی ہیں۔ بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجا لاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا، بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔ بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط لگا دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں۔ کوئی مرد نہ کھائے یا کوئی حقہ نوش نہ کھائے۔ بعض جمعرات کو چوکی بھرتی ہیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱۱)
    (۲۳۱) مہر کی تعداد
    سوال: مہر کی تعداد کیا ہونی چاہئے؟
    جواب: مہر تراضی فریقین سے جو ہو۔ اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں ہے کہ احادیث یا نصوص قرآنیہ نے اس کی کوئی حد مقرر کر دی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ محض نمود کیلئے اور اس غرض کے واسطے کہ مرد ڈرتا رہے اور قابو میں رہے لاکھ لاکھ کا مہر مقرر کر دیتے ہیں۔ نیت نہ عورت والوں کی لینے کی ہوتی ہے اور نہ مرد کی دینے کی۔ محض نمائش کے لئے ایسا ہوتا ہے اور آخر اس سے بُرے بُرے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔
    میرا مذہب یہ ہے کہ ایسے تنازعوں میں نیت کو دیکھ لیا جائے اور جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ رضاؤ و رغبت سے وہ اس قدر مہر پر آمادہ تھا تب تک مقررہ شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور عام رواج کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔
    مہر کا بخشوانا
    سوال: میری بیوی فوت ہوگئی ہے میں نے مہر نہ اس کو دیا نہ بخشوایا۔ اب کیا کروں؟
    جواب: مہر اس کا ترکہ ہے اور آپ کے نام قرض ہے۔ آپ کو ادا کرنا چاہئے اور اس کی یہ صورت ہے کہ اس کو شرعی حصص کے مطابق اس کے دوسرے مال کے ساتھ تقسیم کیا جاوے جس میں ایک حصہ خاوند کا بھی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے نام پر صدقہ دیا جاوے۔
    سودی روپیہ سے زیور بنوانا
    سوال: ایک عورت تنگ کرتی ہے کہ سودی روپیہ لے کر زیور بنا دو اور اس کا خاوند غریب ہے؟
    جواب: وہ عورت بڑی نالائق ہے جو خاوند کو زیور کے لئے تنگ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سودی روپیہ لے کر زیور بنا دے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا اور آپ کی ازواج نے آپ سے بعض دنیوی خواہشات کی تکمیل کا اظہار کیا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان کو فقیرانہ زندگی منظور نہیں ہے تو ان کو کہہ دے کہ آؤ تم کو الگ کر دوں۔ انہوں نے فقیرانہ زندگی اختیار کی آخر نتیجہ یہ ہوا کہ وہی بادشاہ ہوگئیں۔ وہ صرف خدا کی آزمائش تھی۔
    عورت کا مہر نہ بخشنا
    سوال: ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی۔
    جواب: یہ عورت کا حق ہے اسے دینا چاہئے۔ اوّل تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے۔ ورنہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئے۔ پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر خاوند کو اپنا مہر بخش دیتی ہیں یہ صرف رواج ہے۔
    سوال: جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے؟
    جواب: لَایُکَلِفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا۔ اس بات کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہئے۔ خاوند کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اگر اس کی حیثیت دس روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ کا مہر کیسے ادا کرے گا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مہر ہی نہیں۔ یہ لَایُکَلِفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَامیں داخل ہے۔
    سوال: ایک شخص اپنی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا مگر وہ عورت کہتی تھی تو اپنی نصف نیکیاں مجھے دے دے تو بخش دوں۔ خاوند کہتا رہا کہ میرے پاس حسنات بہت کم ہیں بلکہ بالکل ہی نہیں ہیں۔ اب وہ عورت مر گئی ہے خاوند کیا کرے؟
    جواب: اسے چاہئے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دے دے۔ اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں سے ہے۔ شرعی حصہ لے سکتی ہے اور اعلیٰ ہذا القیاس خاوند بھی لے سکتاہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱۳)
    (۲۳۲) فاسقہ کو حق وراثت
    ایک شخص نے بذریعہ خط حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص مثلاً زید نام لاولد فوت ہو گیا ہے۔ زید کی ایک ہمشیرہ تھی جو زید کی حین حیات میں بیاہی گئی تھی۔ بہ سبب اس کے کہ خاوند سے بن نہ آئی اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہیں رہی یہاں تک کہ زید مر گیا۔ زید کے مرنے کے بعد اس عورت نے بغیر اس کے کہ پہلے خاوند سے باقاعدہ طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ ناجائز ہے۔ زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کیا ان کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہئے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو حصہ شرعی ملنا چاہئے کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی اور فاسق ہوجانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہو سکتا۔ شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہئے باقی معاملہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔ اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ باضابطہ کارروائی کر سکتاہے۔ (بدر۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۲۳۳) ایک ناطہ کے متعلق فتویٰ
    سوال: ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ۔ ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لئے راضی تھے۔ مگر ایک بھائی مخالف تھا۔ وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔ اس لڑکی کا نکاح کہاں کیا جاوے؟
    جواب: وہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے۔ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔ فرمایا۔ پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔
    پھر نکاحوں پر ذکر چل پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکیوں کے رشتے ابولہب سے کر دیئے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت نکاح کے متعلق وحی کا نزول نہ ہوا چونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر توحید غالب تھی اس لئے دخل نہ دیتے تھے اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سرانجام دیتے اس لئے ابولہب کو لڑکی دے دی تھی۔
    سوال: رسول عالم الغیب ہوتا ہے کہ نہیں؟
    اس پر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب ہوتا تو آپ زینبؓ کا نکاح زید سے نہ کرتے کیونکہ بعد کو جدائی نہ ہوتی اور اسی طرح ابولہب سے بھی رشتہ نہ کرتے۔
    (البدر ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۹۳، الحکم ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۱)
    (۲۳۴) برات کے ساتھ باجا
    سوال: برات کے ساتھ باجا بجانے کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: فقہا نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لئے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے ہم کو مقصود بالذات لینا چاہئے۔ اعلان کے لئے یہ کام کیا جاتا ہے یا کوئی اپنی شیخی اور تعلی کا اظہار مقصودہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض چپ چاپ شادیوں میں نقصان پیدا ہوتے ہیں یعنی جب مقدمات ہوتے ہیں تو اس قسم کے سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔ غرض ان خرابیوں کے روکنے کے لئے اور شہادت کے لئے اعلان بالدف جائز ہے اور اس صورت میں باجا بجانا منع نہیں ہے بلکہ نسبتوں کی تقریب پر جو شکر وغیرہ بانٹتے ہیں دراصل یہ بھی اس غرض کے لئے ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔ مگر اب یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے اور اس میں بہت سی باتیں اور پیدا ہوگئی ہیں۔ پس ان کو رسوم نہ قرار دیا جائے بلکہ یہ رشتہ ناطہ کو جائز کرنے کے لئے ضروری امور ہیں۔ یاد رکھو جن امور سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہے۔ شرع اس پر ہرگز زد نہیں کرتی کیونکہ شرع کی خود یہ غرض ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچے۔ باجا بجانا اس صورت میں جائز ہے جب کہ یہ غرض ہو کہ اس نکاح کا عام اعلان ہو جائے اور نسبت محفوظ رہے کیونکہ اگر نسبت محفوظ نہ رہے تو زنا کا اندیشہ ہوتا ہے۔ جس پر خدا نے بہت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ یہاں تک کہ زنا کے مرتکب کو سنگسار کرنے کاحکم دیا ہے۔ اس لئے اعلان کا انتظام ضروری ہے البتہ ریاکاری فسق و فجور کے لئے یا صلاح و تقویٰ کے خلاف کوئی منشا ہو تو منع ہے۔
    شریعت کا مدار نرمی پر ہے۔ سختی پر نہیں ہے۔لَایُکَلِفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا باجہ کے متعلق حرمت کا کوئی نشان بجز اس کے کہ وہ صلاح و تقویٰ کے خلاف اور ریاکاری اور فسق و فجور کے لئے ہے پایا نہیں جاتا اور پھر اعلان بالدف رکھا ہے اور اصل اشیاء میں حلت ہے اس لئے شادی میں اعلان کے لئے جائز ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۱۵)
    (۲۳۵) شادی میں آتش بازی و تماشا و باجا
    آتشبازی اور تماشا بالکل منع ہے۔ اس سے مخلوق کو کوئی فائدہ بجز نقصان کے نہیں ہے۔ البتہ آتشبازی میں ایک جزو گندھک کا بھی ہوتا ہے اور گندھک وبائی ہوا کو صاف کرتی ہے۔ چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میںمثلاً انار بہت جلد ہوا کو صاف کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص صحیح نیت اصلاح ہوا کے واسطے ایسی آتشبازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلاوے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں مگر یہ شرط اصلاح نیت کے ساتھ ہو کیونکہ تمام نتائج نیت پر مترتب ہوتے ہیں۔
    ہمارے دین میں دین کی بنا یسر پر ہے۔ عسر پر نہیں۔ اور پھر انما الاعمال بالنیات ضروری چیز ہے۔ باجوں کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھا۔ اعلاج نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے کیونکہ کئی دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے اس لئے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔ رنڈی کا تماشا، آتشبازی فسق و فجور اور اسراف ہے۔یہ جائز نہیں۔
    باجے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے باجا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد
    جواب: فرمایا۔ ایسے سوالات اور جزئی در جزی نکالنا بے فائدہ ہے اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان و شوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی باجا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اسلامی جنگوں میں بھی تو باجا بجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔ (الحکم ۲۴ ؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۰)
    (۲۳۶) شادی میں لڑکیوں کا گانا
    سوال: لڑکی یا لڑکے والوں جو جوان عورتیں مل کر گھر میں گاتی ہیں وہ کیسا ہے؟
    جواب: اگر گیت گندے اور ناپاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے۔ اس وقت لڑکیوں نے جو پہلا گیت گایا اس کا مطلع یہ تھا۔ طلع البدر علینا من ثنیات الوداع یعنی طلوع ہوا چاند بدر ہم پر ثنیات الوداع سے (ایک وادی کا نام ہے جس میں سے نبی علیہ السلام مکہ سے آتے ہوئے گزر کر مدینہ میں داخل ہوئے تھے)
    مسجد میں ایک صحابی نے خوش الحانی سے شعر پڑھے تو حضرت عمرؓ نے ان کو منع کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے ہیں تو آپ نے منع نہیں کیا۔ بلکہ آپ نے ایک بار اس کے شعر سنے تو اس کے لئے رحمۃ اللہ فرمایا اور جس کو آپ یہ فرمایا کرتے تھے وہ شہید ہو جاتا تھا۔
    غرض اس طرح پر اگر وہ فسق و فجور کے گیت نہ ہوں تو منع نہیں۔ مگر مردوں کو نہیں چاہئے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں۔ یہ یاد رکھو کہ جہاں ذرا بھی مظنہ فسق و فجور کا ہو وہ منع ہے۔
    بز ہدورع کوشش صدق و صفا
    ولیکن میفزائے بر مصطفی
    یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان میں خود انسان فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے۔ مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ منع ہے او رپھر جو اسراف کرتا ہے۔ وہ سخت گناہ کرتاہے اگر ریا کاری کرتا ہے تو گناہ کرتا ہے۔ غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف، ریاء، فسق، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو ان امور سے صاف ہے وہ منع نہیں۔ گناہ نہیں کیونکہ اصل اشیا کی حلت ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ ۱۷۔۱۸)
    (۲۳۷) تعدد ازواج اور عورتوں میں عدل
    سوال: تعدد ازواج میں جو عدل کا حکم ہے کیا اس سے یہی مراد ہے کہ مرد بحیثیت الرِّجَالٌ قَوَّا مُوْنَ عَلَی النِّسَائِ کے خود ایک حاکم عادل کی طرف جس بیوی کو سلوک کے قابل پاوے۔ ویسا سلوک اس سے کرے یا کچھ اور معنی ہیں۔
    جواب: محبت کو قطع نظر بالائے طاق رکھ کر عملی طور پر سب بیویوںکو برابر رکھنا چاہئے۔ مثلاً پارچات، خرچ خوراک، معاشرے، حتیّٰ کہ مباشرت میں بھی مساوات برتے۔ یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوا رہنا پسند کرے۔ خدا تعالیٰ کی تہدید کے نیچے رہ کر جو شہد زندگی بسر کرتا ہے وہی ان کی بجا آواری کا دم بھر سکتا ہے۔ ایسی لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔
    تعدد ازواج کی نسبت اگر ہم تعلیم دیتے ہیں تو صرف اس لئے کہ معصیت میں پڑنے سے انسان بچا رہے اور شریعت نے اسے بطور علاج کے ہی رکھا ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوات کی طرف دیکھے اور اس کی نظر بار بار خراب ہوتی ہو تو زنا سے بچنے کے لئے دوسری شادی کرلے لیکن پہلی بیوی کے حقوق تلف نہ کرے۔ تورات سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس کی دلداری زیادہ کرے کیونکہ جوانی کا بہت سا حصہ اس نے اس کے ساتھ گزار ہوا ہوتا ہے اور ایک گہرا تعلق خاوند کا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک کرنی چاہئے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے اس کی پہلی بیوی کو سخت دکھ ہوتا ہے اور حد درجہ کی اس کی دلشکنی ہوتی ہے تو اگر وہ صبر کر سکے اور کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہوتا ہو اور نہ کسی شرعی ضرورت کا اس سے خون ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اگر ان اپنی ضرورتوں کی قربانی سابقہ بیوی کی دلداری کے لئے کر دے اور ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے مناسب ہے کہ دوسری شادی نہ کرے۔ اس قدر ذکر ہوا تھا کہ ایک صاحب نے اُٹھ کر عرض کی کہ البدر اور الحکم اخباروں میں تعدد ازواج کی نسبت جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ذمہ دوسرا نکاح حضور نے فرض کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ تقریر تاکید ازدواج پر مندرجہ ذیل ہے۔
    میرا تو یہی جی چاہتا ہے کہ میری جماعت کے لوگ کثرت ازدواج کریں اورکثرت اولاد سے جماعت کو بڑھائیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیوی کے ساتھ دوسری بیوی کی نسبت زیادہ اچھا سلوک کریں تا کہ اسے تکلیف نہ ہو۔ دوسری بیوی پہلی بیوی کو اس لئے ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ میری غور پرداخت اور حقوق میں کمی کی جائے گی۔ مگر میری جماعت کو اس طرح نہ کرنا چاہئے۔ اگر عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کی غور پرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری سے اسے زیادہ خوش رکھا جاوے۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ بجائے ثواب کے عذاب ہو۔ عیسائیوں کو بھی اس امر کی ضرورت پیش آئی ہے۔
    ہمیں جو کچھ خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا ہے وہ بلا کسی رعایت کے بیان کرتے ہیں۔ قرآن شریف کا منشاء زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقویٰ پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مثل اولاد صالحہ حاصل کرنے اور خویش و اقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آواری سے ثواب حاصل ہو اور انہی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لو لیکن اگر ان میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔ دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں۔ جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالہ کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا امیدیں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کااندازہ انسان عَاشِرُوْھُنَّ بالْمَعْرُوْف کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔ اگر انسان کا سلوک اپنی بیوی سے عمدہ ہو اور اسے ضرورت شرعی پیدا ہو جائے تو اس کی بیوی اس کے دوسرے نکاحوں سے ناراض نہیں ہوتی۔ ہم نے اپنے گھر میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ وہ ہمارے نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے رو رو کر دعائیں کرتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بیویوں کی ناراضگی کا بڑا باعث خاوند کی نفانسیت ہوا کرتی ہے اور اگر ان کو اس بات کا علم ہو کہ ہمارا خاوند صحیح اغراض اور تقویٰ کے اصول پر دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو پھر کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔ فساد کی بناء تقویٰ کی خلاف ورزی ہوا کرتی ہے۔
    خدا کے قانون کو اس کے منشاء کے برخلاف ہرگز نہ برتنا چاہئے اور نہ اس سے ایسا فائدہ اُٹھانا چاہئے جس سے صرف نفسانی جذبات کی ایک سیر بن جاوے۔ یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیت ہے خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔ اگر شریعت کو سپر بنا کر شہوات کی اتباع کے لئے بیویاں کی جائیں گی تو سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہوگا کہ دوسری قومیں اعتراض کریں کہ مسلمانوں کو بیویاں کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔ زنا کا نام ہی گناہ نہیں بلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے۔ دنیاوی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہم کم ہونا چاہئے تا کہ فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلاً وَّلْیَبْکُوْا کثیرًا یعنی ہنسو تھوڑا اور رؤو بہت کا مصداق نہ بنو لیکن جس شخص کے دنیاوی تمتع کثرت سے ہیں اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے اس کو رقت اور رونا کب نصیب ہوگا۔ اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان کرتے ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کے اصل منشاسے دور جا پڑتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اگرچہ بعض اشیاء جائز تو کر دی ہیں مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔ خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا کہ وہ اپنے رب کے لئے تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔ اب دیکھو رات دن بیویوں میں غرق رہنے والے کے منشاء کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔ وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لئے شریک پیدا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نوبیویاں تھیں اور باوجود ان کے پھر بھی آپ ساری ساری رات خدا کی عبادت میں گزارتے تھے۔ ایک رات آپ کی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کچھ حصہ رات کا گذر گیا تو عائشہؓ کی آنکھ کھلی۔ دیکھا کہ آپ موجود نہیں۔ اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ اس نے اُٹھ کر ہر ایک کے گھر میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے۔ آخر دیکھا کہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رو رہے ہیں۔ اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چاہیتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کے قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظِ نفس یا اتباع شہوت کی بناء پر ہو سکتی ہیں۔ غرض کہ خوب یاد رکھو کہ خدا کا اصل منشا یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لئے اگر ضرورت حقّہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ سے ملنے گئے۔ ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے۔ یہ وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کو دیکھ کر رو پڑے۔ آپ نے پوچھا۔ اے عمر تجھ کو کس چیز نے رلایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنعم کے اسباب رکھیں اور آپ جو خدا کے رسول اور دو جہاں کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے عمر مجھے دنیا سے کیا غرض میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے جس قدر نبی اور رسول ہوئے سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مدنظر رکھا ہوا تھا۔
    پس جاننا چاہے کہ جو شخص شہوات کی اتباغ سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دور رہتا ہے۔ ہر ایک دن جو چڑھتا ہے اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی بسر نہیں کرتا اور روتا کم بلکہ بالکل ہی نہیں روتا اور ہنستا زیادہ ہے تو یاد رہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔ استیفائے لذات اگر حلال طور پر ہو تو حرج نہیں۔ جیسے ایک شخص ٹٹو پر سوار ہے اور راستہ میں اسے نہاری وغیرہ اس لئے دیتا ہے کہ اس کی طاقت قائم رہے اور وہ منزل مقصود تک اسے پہنچا دے۔ جہاں خدا تعالیٰ نے سب حقوق رکھے ہیں۔ وہاں نفس کا بھی حق رکھا ہے کہ وہ عبادت بجا لاسکے۔ لوگوں کے نزدیک چوری زنا وغیرہ ہی گناہ ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ استیفائے لذات میں مشغول ہونا بھی گناہ ہے۔ اگر ایک شخص اپنا اکثر حصہ وقت کا تو عیش و آرام میں صرف کرتا ہے اور کسی وقت اُٹھ کر چار ٹکریں بھی مار لیتا ہے یعنی نماز پڑھ لیتا ہے تو وہ نمرودی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاضت اور مشقت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو اس محنت میں مر جائے گا۔ حالانکہ ہم نے تیرے لئے بیویاں بھی حلا کی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسے ہی فرمایا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کو پڑھنے یا دوسرے کامیں مستغرق دیکھ کر صحت کے قیام کے لحاظ سے اسے کھیلنے کودنے کی اجازت دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا یہ خطاب اسی غرض سے ہے کہ آپ تازہ دم ہو کر پھر دینی خدمت میں مصروف ہوں۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ آپ شہوات کی طرف جھک جاویں۔ نادان معترض ایک پہلو کو تو دیکھتے ہیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پادریوں نے اس بات کی طرف کبھی غور نہیں کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی میلان کس طرح تھا اور رات دن آپ کس فکر میں رہتے تھے۔ بہت سے مُلّا اور عام لوگ ان باریکیوں سے ناواقف ہیں اگر ان کو کہا جاوے کہ تم شہوات کے تابع ہو تو جواب دیتے ہیں کیا ہم حرام کرتے ہیں۔ شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے تو ہم کرتے ہیں ان کو امبات کا علم نہیں کہ بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسِ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ سے ظاہرہے کہ انسان صرف عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ پس اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے جس قدر اسے درکار ہے۔ اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شے حلال ہی ہو مگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لئے حرام ہو جاتی ہے۔ جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے۔ وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے۔ مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگانی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ ہمارے کلام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا جائے۔ یہ نہیں کہ صرف لذات کے پہلو پر زور دیا جاوے اور تقویٰ کو بالکل ترک کر دیا جاوے اسلام نے جن کاموں اور باتوں کو مباح کہا ہے۔ اس سے یہ غرض ہرگز نہیں ہے کہ رات دن اس میں مستغرق رہے۔ صرف یہ ہے کہ بقدر ضرورت وقت ان سے فائدہ اُٹھایا جاوے۔
    اس مقام پر سائل بولا کہ اس سے تو یہ نتیجہ نکلا کہ تعدد ازواج بطور دوا کے ہے نہ بطور غذا کے۔ حضور نے فرمایا ہاں۔ اس پر سائل نے عرض کی کہ ان اخبار والوں نے تو لکھا ہے کہ احمدی جماعت کو بڑھانے کے لئے زیادہ بیویاں کرو۔ حضور نے فرمایاکہ ایک حدیث میں یہ ہے کہ کثرت ازواج سے اولاد بڑھاؤ کہ اُمت زیادہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ اِنَّمَا الاْعْمَالُ بِالنِّیَاتِ۔ انسان کے ہر عمل کا مدار اس کی نیت پر ہے۔ کسی کے دل کو چیر کر ہم دیکھ نہیں سکتے۔ اگر کسی کی یہ نیت نہیں ہے کہ زیادہ بیویاں کر کے عورتوں کی لذات میں فنا ہو بلکہ یہ ہے کہ اس سے خادم دین پیدا ہوں تو کیا حرج ہے۔ لیکن یہ امر بھی مشروط بشرائط بالا ہے۔ مثلاً ایک شخص کی چار بیویاں ہوں اور ہر سال ہر ایک سے ایک اولاد ہو تو چار سال میں سولہ بچے ہوں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ لوگ دوسرے پہلو کو ترک کر دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیںکہ صرف ایک پہلو پر ہی زور دیا جائے حالانکہ ہمارا یہ منصب ہرگز نہیں ہے۔ قرآن شریف میں متفرق طو رپر تقویٰ کا ذکر آیا ہے لیکن جہاں کہیں بیویوں کا ذکر ہے۔ وہاں ضرور ہی تقویٰ کا بھی ذکر ہے۔ ادائیگی حقوق ایک بڑی ضروری شے ہے۔ اس لئے عدل کی تاکید ہے۔ اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ حقوق کو ادا نہیں کر سکتا یا اس کی رجولیت کے قویٰ کمزور ہیں یا خطرہ ہو کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہئے کہ دیدہ دانستہ اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالے۔ تقویٰ یعنی شرعی ضرورت جو اپنے محل پر ہو۔ اگر موجود ہو تو پہلی بیوی خود تجویز کرتی ہے کہ خاوند اور نکاح کرے۔ آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کے لئے سپرد نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اسے کر لیا۔ کل اور نظر آئی تو اسے کر لیا۔ یہ تو گویا خدا کی گدی پر عورتوں کو بٹھانا اور اسے بھلا دینا ہوا۔
    دین تو چاہتا ہے کہ کوئی زخم دل پر ایسا رہے جس سے ہر وقت خدا تعالیٰ یاد آوے۔ ورنہ سلبِ ایمان کا خطرہ ہے۔ اگر صحابہ کرام عورتیںکرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے والے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے۔ حالانکہ ان کا یہ حال تھاکہ ایک کی انگلی کٹ گئی تو اسے مخاطب ہو کر کہا کہ تو ایک انگلی ہے ہے۔ اگر کٹ گئی تو کیا ہوا۔ مگر جو شب و روز عیش و عشرت میں مستغفرق ہے وہ کب ایسا دل لا سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم ہو جاتا۔ صحابہ نے عرض کی کہ خدا نے آپ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں۔ پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے۔ فرمایا کیا مَیں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ کسی شخص کا اعتراض ہے کہ اسلام میں جو چار بیویاں رکھنے کا حکم ہے یہ بہت خراب ہے۔ یہ ساری بداخلاقیوں کا سرچشمہ ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ چار بیویاں رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اجازت دی ہے کہ چار تک رکھ سکتا ہے۔ اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ چار ہی کو گلے کا ڈھول بنا لے۔ قرآن کا منشا تو یہ ہے کہ چونکہ انسانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس واسطے ایک سے لے کر چار تک کی اجازت دے دی ہے۔ ایسے لوگ جو ایک اعتراض کو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں اور پھر وہ خود اسلام کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ان کا ایمان کیسے قائم رہ جاتا ہے۔ وہ تو اسلام کے معترض ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانون بنانے کے وقت کن کن باتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔ بھلا اگر کسی شخص کی ایک بیوی ہے اسے جزام ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اندھی ہوگئی ہے یا اس قابل ہی نہیں کہ اولاد اس سے حاصل ہو سکے وغیرہ وغیرہ یا عوارض میں مبتلا ہو جاوے تو اس حالت میں اب اس خاوند کو کیا کرنا چاہئے کیا اسی بیوی پر قناعت کرے۔ ایسی مشکلات کے وقت وہ کیا تدبیر پیش کرتے ہیں یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بدمعاشی زنا وغیرہ میں مبتلا ہوگئی ہو تو کیا اب اس خاوند کی غیرت تقاضا کرے گی کہ اس کو اپنی پُرعصمت بیوی کا خطاب دے رکھے۔ خدا جانے یہ اسلام پر اعتراض کرتے وقت اندھے کیوں ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے۔ جو انسانی ضروریات ہی کو پورا نہیں کر سکتا۔ اب ان مذکورہ حالتوں میں عیسویت کیا تدبیر بتاتی ہے۔ قرآن شریف کی عظمت ثابت ہوتی ہے کہ انسانی کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کا پہلے سے ہی اس نے قانون نہ بنادیا ہو۔ اب تو انگلستان میں بھی ایسی مشکلات کی وجہ سے کثرت ازدواج اور طلاق شروع ہوتا جاتا ہے۔ ابھی ایک لارڈ کی بابت لکھا تھا کہ اس نے دوسری بیوی کر لی۔ آخر اسے سزا بھی ہوئی مگر وہ امریکہ میں جا رہا۔
    غور سے دیکھو کہ انسان کے واسطے ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ جب ایسی ضرورتیں ہوں تو ان کا علاج نہ ہو تو یہی نقص ہے۔ جس کے پورا کرنے کو قرآن شریف اتم اکمل کتاب بھیجی ہے۔ (الحکم ۲۸ فروری ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰)
    (۲۳۸) خواہش اولاد و ترکِ اولاد
    اگرچہ اس دارالابتلاء میں خدا تعالیٰ نے اولاد کو بھی فتنہ میں ہی داخل رکھا ہے۔ جیسا کہ اموال کو۔ لیکن اگر کوئی شخص صحت نیت کی بنا پر محض اس غرض سے اور سراسر وحد اور فکر سے طالب اولاد ہو کہ تا اس کے بعد اس کی ذریت میں سے کوئی خادم دین پیدا ہو۔ جس کے وجود سے اس کے باپ کو بھی دوبارہ ثواب آخرت کا حصہ ملے تو خاص اس نیت اور اس جوش سے اولاد کا خواہشمند ہونا نہ صرف جائز بلکہ اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ میں سے ہے۔ جیسا کہ اس خواہش کی تحریک اس آیت کریمہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ وَاجْعَلنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا لیکن سچ مچ اور واقعی اور حقیقی طور پر بھی جوش پیدا ہونا اور اس للّٰہی جوش کی بنا پر اولاد کا خواہشمند ہونا ان ابرار اخیار اور اتقیا کا کام ہے جو اپنے اعمال خیر کے آثار باقیہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتے ہیں۔
    ابنائے روزگار کی رسم اور عادت کے طور پر خواہشمند اولاد ہونا اور یہ خیال رکھنا کہ ہماری موت فوت کے بعد ہمارے اقارب دنیا کی ہماری اولاد وارث بنے اور شرکاء ہماری جائیداد کے قابض نہ ہونے پائیں بلکہ ہمارے بیٹے ہمارے ترکہ پر قبضہ کریں اور شریکوں سے لڑتے جھگڑتے رہیں اور ہمارے مرنے کے بعد دنیا میں ہماری یادگار رہ جاوے یہ خیال سراسر شرک اور فساد اور سخت معصیت سے بھرا ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ جب تک یہ خیال دل میں سے دور نہ ہو کوئی شخص سچا موحد اور سچا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ہمیں ہرروز خدا تعالیٰ کی طرف سے قدم بڑھانا چاہئے اور جن امور کو وہ فتنہ قرار دیوے بغیر تحقیق صحت نیت کے ان کو اپنی درخواست سے اپنے اوپر نازل نہیں کرانا چاہئے جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے وہ اس کے اندرونی پاک جوشوں اور مظہر جذبات کو خوب جانتا ہے بلکہ درحقیقت پاک دل انسان کے اندرونی جوش اس کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر وہ انہی کو پورا بھی کر دیتا ہے۔ جس وقت وہ دیکھتا ہے کہ ایک للّٰہی ہی حالت کا آدمی اس کے دین کی خدمت کے لئے اپنا کوئی وارث چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور کوئی وارث عنایت کرتا ہے اس کی دعائیں پہلے ہی سے قبول شدہ کے حکم میں ہوتی ہیں۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۲۳،۲۴)
    (۲۳۹) عورتوں کے حقوق و معاشرت
    عورتوں کے حقوق کی حفاظت جیسی اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ وَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیھِنَّ۔ ہر ایک قسم کے حقوق بیان فرما دیئے۔ یعنی جیسے حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر بھی ہیں۔ بعض لوگوں کا حال سنا جتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے یہں۔ گالیاں دیتے ہیں۔ حقارت کی نظر سے دیکھتے اور پردہ کے طریق کو ایسے ناجائز طریق سے کام میں لاتے ہیں کہ گویا وہ زندہ درگور ہوتی ہیں۔ چاہئے کہ اپنی عورتوں سے انسان کا دوستانہ طریق اور تعلق ہو۔ اصل انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔ اگر ان سے اس کے تعلقات اچھے نہیں تو پھر خدا سے کس طرح ممکن ہے کہ صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ خیرکم خیرلاھلہٖ۔ یعنی اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا ہی تم میں سے بہترین ہے۔
    درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہمی ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وعاشروھن بالمعروف یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور حدیث میں ہے خیر کم خیر کم باھلہٖ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بدخدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔ (الحکم ۱۷؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲، البدر ۲۲ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳۷)
    (۲۴۰) حیض
    فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِیْ الْمَحِیْضِ وَلَا تَفْرِبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْن۔ یعنی حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کرو اور ان کے نزدیک مت جاؤ۔ یعنی صحبت کے ارادہ سے جب تک کہ وہ پاک ہو لیں۔ ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ خاوند کو بغیر ارادہ صحبت کے اپنی عورت کو ہاتھ لگانا بھی حرام ہے۔ یہ تو حماقت اور بیوقوفی ہوگی کہ بات کو اس قدر دور کھینچا جائے کہ تمدن کی ضروریات میں بھی حرج واقع ہو اور عورت کو ایام حیض میں ایک ایسے زہر قاتل کی طرح سمجھا جائے جس کے چھونے سے فی الفور موت نتیجہ ہے۔ اگر بغیر ارادہ صحبت عورت کو چھونا حرام ہوتا تو بچاری عورتیں بڑی مصیبت میں پڑ جاتیں۔ بیمار ہوتیں تو کوئی نبض بھی نہ دیکھ سکتا۔ گرتیں کو کوئی ہاتھ سے اُٹھا نہ سکتا۔ اگر کسی درد میں ہاتھ پیر دبانے کی محتاج ہوتیں تو کوئی جا نہ سکتا۔ اگر مرتیں تو کوئی دفن نہ کر سکتا۔ کیونکہ ایسی پلید ہوگئیں کہ ہاتھ لگانا حرام ہے۔ سو یہ نافہموں کی جہالتیں ہیں اور سچ یہی ہے کہ خاوند کو ایام حیض میں صحبت حرام ہو جاتی ہے لیکن اپنی عورت سے محبت اور آثار محبت حرام نہیں ہوتے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۲۵)
    (۲۴۱) طلاق
    مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسنِ معاشرت شرط ہے اورعورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فتخ ہو جاتا ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ اگر مرد کی طرف سے شرائط ٹوٹ جائیں تو عورت خودبخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کو توڑ سکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کرا سکتی ہے اور یہ کمئی اختیار اس کی فطرتی شتابکاری اور نقصان عقل کی وجہ سے ہے۔ لیکن مرد جیسا کہ اپنے اختیار سے معاہدہ نکاح کا باندھ سکتا ہے ایسا ہی عورت کی طرف سے شرائط ٹوٹنے کے وقت طلاق دینے میں بھی خود مختار ہے۔ سو یہ قانون فطرتی قانون سے مناسبت اور مطابقت رکھتا ہے گویا کہ اس کی عکسی تصویر ہے کیونکہ فطرتی قانون نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ ہر ایک معاہدہ شرائط قرار دادہ کے فوت ہونے پر قابل فسخ ہو جاتا ہے اور اگر فریق ثانی فسخ سے مانع ہو تو وہ اس فریق پر ظلم کر رہا ہے جو فقدان شرائط کی وجہ سے فسخ عہد کا حق رکھتا ہے۔ جب ہم سوچیں کہ نکاح کیا چیز ہے تو بجز اس کے اور کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ ایک پاک معاہدہ کی شرائط کے نیچے دونوں کا زندگی بسر کرنا ہے اور جو شخص شرائط شکنی کا مرتکب ہو وہ عدالت کے رو سے معاہدہ کے حقوق سے محروم رہنے کے لائق ہو جاتا ہے اور اس محرومی کا نام دوسرے لفظوں میں طلاق ہے۔ لہٰذا طلاق ایک ایسی پوری پوری جدائی ہے جس سے مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بداثر نہیں پہنچتا یا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک عورت کسی کی منکوحہ ہو کر نکاح کے معاہدہ کو کسی اپنی بدچلنی سے توڑ دے۔ تو وہ اس عضو کی طرح ہے جو گندہ ہو گیا اور سڑ گیا یا اس دانت کی طرح ہے جس کو کیڑے نے کھا لیا اور وہ اپنے شدید درد سے ہر وقت تمام بدن کو ستاتا اور دکھ دیتا ہے۔ تو اب حقیقت میں وہ دانت نہیں ہے اور نہ وہ متعفن عضو حقیقت میں عضو ہے اور سلامتی اس میں ہے کہ اس کو اکھیڑ دیا جائے اور کاٹ دیا جائے اور پھینک دیا جائے۔ یہ سب کارروائی قانون قدرت کے موافق ہے۔ عورت کا مرد سے ایسا تعلق نہیں جیسے اپنے ہاتھ سے اپنے پیر کا۔ لیکن تا ہم اگر کسی کا ہاتھ یا پیر کسی ایسی دقّت میں مبتلا ہو جاوے کہ اطباء اور ڈاکٹروں کی رائے اس پر اتفاق کرے کہ زندگی اس کے کاٹ دینے میں ہے تو بھلا تم میں سے کون ہے کہ ایک جان کے بچانے کے لئے کاٹ دینے پر راضی نہ ہو۔ پس ایسا ہی اگر تیری منکوحہ اپنی بدچلنی اور کسی مہاپاپ سے تیرے پر وبال لاوے تو وہ ایسا عضو ہے کہ بگڑ گیا اور سڑگیا اور اب وہ تیرا عضو نہیں ہے۔ اس کو جلد کاٹ دے اور گھر سے باہر پھینک دے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی زہر تیرے سارے بدن میں پہنچ جائے اور تجھے ہلاک کرے۔ پھر اگر اس کاٹے ہوئے اور زہریلے جسم کو کوئی پرند یا درند کھا لے تو تجھے اس سے کیا کام۔ وہ جسم تو اس وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جب کہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا۔ (فتاوی احمدیہ جلد دوم صفحہ۲۵،۲۷)
    سوال: ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلاق دے دیتے ہیں ان کی وہ طلاق ہوتی ہے یا نہیں۔
    جواب: اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف کے فرمودہ کی رو سے تین طلاق دی گئی ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے درمیان اتنا ہی وقفہ لکھا گیا جو قرآن شریف نے بتایا ہے تو ان تینوں کی عدت گذرنے کے بعد اس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا۔ ہاں اگر کوئی اور شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھر اتفاقاً وہ اس کو طلاق دے دے تو خاوند اول کو جائز ہے کہ اس بیوی سے نکاح کر لے مگر دوسرا خاوند، خاوند اوّل کی خاطر سے یا لحاظ سے اس بیوی کو طلاق دے تو وہ پہلا خاوند اس سے نکاح کر لے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔ لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو کیا فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گذرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائز طلاق تھا اور اللہ اور رسول کے فرمان کے مطابق نہ دیا گیا تھا۔
    دراصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ امر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں۔ وقفہ کے بعد تین طلاق کا دینا اور ان کا ایک ہی جگہ رہنا وغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت ان کے دلی رنج دور ہو کر آپس میں صلح ہو جاوے۔
    اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازے جوش کے وقت میں حکام کے پاس عرضی پرچی لے کر آتے ہیں تو آخر دانا حکام اس وقت ان کو کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔ اصل غرض ان کی صرف یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور ان کے یہ جوش فرو ہونگے تو پھر ان کی مخالفت باقی نہ رہے گی۔ اسی واسطے وہ اس وقت ان کی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلاف جانتے ہیں۔
    اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرد اور عورت کے الگ ہونے کے واسطے ایک کافی موقعہ رکھ دیا ہے۔ یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ طرفین کو اپنی بھلائی برائی کے سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
    خدا تعالیٰ فرماتا ہے الطلاق مرتن۔ یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جاوے یا احسان سے جدا کر دیا جاوے۔ اگر اتنے لمبے عرصے میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہوں۔
    سوال: ایک وقت میں طلاق کامل ہو سکتا ہے یا نہیں اور تین طلاق کے بعد پہلا خاوند نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟
    جواب: ایک ہی وقت میں طلاق کامل نہیں ہو سکتی دراصل تین ماہ میں ہونی چاہئے۔ فقہا نے ایک مرتبہ تین طلاق دینے کو جائز رکھا ہے لیکن اس میں یہ رعایت رکھی گئی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔
    سوال: جب تین طلاق ہو جاویں تو کیا پہلا خاوند پھر بھی نکاح کر سکتا ہے؟
    جواب: جب تین طلاق واقع ہو جائیں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کسی دوسرے سے وہ نکاح نہ کر لے اور پھر وہ خاوند اس کو طلاق دے دیوے۔ مگر عمداً اس لئے نہ دے کہ پہلا خاوند اس سے نکاح کرے۔ اس کا نام حلالہ ہے اور یہ حرام ہے۔ ہاں اگر ایسے اسباب پیش آ جاویں کہ وہ دوسرا شخص اس عورت کو طلاق دے دیوے تو وہ پہلے شخص سے شادی کر سکتی ہے لیکن اگر ایک ہی مرتبہ تین طلاق دی جاویں تو پھر عدت گزرنے کے بعد وہی خاوند نکا ح کرنا چاہے تو وہ نکاح کر سکتا ہے کیونکہ اس کی یہ طلاق شرعی طریق پر نہیں دی گئی۔ جس میں تین ماہ کی عدت مقرر ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے نفع و نقصان کو سمجھ لے۔ دو طلاقیں دے کر اگر تیسری نہیں دی اور عدت گزر گئی ہے تب بھی رجوع ہو سکتا ہے۔
    (البدر ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۰۵ ، الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۹)
    سوال: احمدی جماعت میں سے ایک صاحب نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ عورت کے رشتہ داروں نے حضرت اقدس کی خدمت میں شکایت کی کہ بے وجہ اور بے سبب طلاق دی گئی ہے۔ مرد کے بیانوں سے یہ بات پائی گئی کہ اگر اسے کوئی ہی سزا دی جاوے۔ مگر وہ اس عورت کو بسانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے۔ عورت کے رشتہ داروں نے جو شکایت کی تھی ان کا منشاء تھا کہ پھر آبادی ہو۔
    جواب: اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی۔ بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کوئی فحش عیب عورت میں نہیں ہوتا مگر تا ہم مزاجوں کی ناموافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرت کی مخل ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔ بعض وقت عورت گو ولی ہو مگر بڑی عابد اور پرہیزگار اور پاکدامن ہو اور اس کی طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اس لئے وہ طلاق دے سکتا ہے۔ مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی امر ہے۔ اس لئے اب ہم اس میں دخل نہیں دے سکتے جو ہوا سو ہوا۔ مہر کا جو جھگڑا ہو وہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے۔ (البدر یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۷)
    (۲۴۲) شرعی طلاق
    اس پر فرمایا کہ اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے۔ جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھا لے تو طلاق ہو جاتی ہے۔ (البدر ۱۲؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲۲)
    (۲۴۳) عورتوں کو طلاق دینے میں جلدی نہ کرو
    بارہا دکھا گیا اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملال کا موجب ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اور اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط جلدی اس کی طرف روانہ نہ ہوگی تو اسے طلاق دے دی جاوے گی۔ سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کا پکا تعلق ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش آیا تھا کہ ایک صاحب نے اول بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بعض سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔ چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں۔ جو کچھ زوجہ اوّل کو دیویں۔ وہی اسے دیوں۔ ایک شب اِدھر رہیں تو ایک شب اُدر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے۔ اسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گذر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصول اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اوّل کو جو صدمہ ہوا اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔
    اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے ناراضگی ظاہر فرمائی اور خاوند نے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا اور وہ بیچار بفضل خدا اس دن سے اب تک اپنے گھر میں آباد ہے۔ (البدر ۲۶؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۷۸)
    (۲۴۴) اعتراض اہل ہنوذ کا جواب جو طلاق کو نیوگ سے مناسبت دیتے ہیں
    اب جب کہ طلاق کو ایسی صورت ہے کہ اس میں خاوند خاوند نہیں رہتا اور نہ عورت اس کی عورت رہتی ہے اور عورت ایسی جدا ہو جاتی ہے کہ جیسے ایک خراب شدہ عضو کاٹ کر پھینک دیا جات ہے تو ذرا سوچنا چاہئے کہ طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت ہے۔ طلاق تو اس حالت کا نام ہے کہ جب عورت سے بیزار ہو کر بکلّی قطع تعلق اس سے کیا جائے۔ مگر نیوگ میں تو خاوند بدستور خاوند رہتا ہے اور نکاح بھی بدستور نکاح ہی کہلاتا ہے اور جو شخص اس غیر عورت سے ہمبستر ہوتا ہے اس کا نکاح اس عورت سے نہیں ہوتا اور اگر یہ کہو کہ مسلمان بے وجہ بھی عورتوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو تمہیں معلوم ہے کہ ایشر نے مسلمانوں کو لغو کام کرنے سے منع کیا ہے کہ قرآن میں ہے۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِمُعْرِضُوْنَ۔ اور قرآن میں بے وجہ طلاق دینے والوں بہت ڈرایا ہے۔ ماسوا تم اس بات کو بھی تو ذرا سوچو کہ مسلمان اپنی حیثیت کے موافق بہت سال مال خرچ کر کے ایک عورت سے شادی کرتے ہیں اور ایک رقم کثیر عورت کے مہر کی ان کے ذمہ ہوتی ہے اور بعض کے مہر کئی ہزار اور بعض کے ایک لاکھ یا کئی لاکھ ہوتے ہیں اور یہ مہر عورت کا حق ہوتا ہے اور طلاق کے وقت بہرحال اس کا اختیار ہوتا ہے کہ وصول کرے اور نیز قرآن میں یہ حکم ہے کہ اگر عورت کو طلاق دی جائے تو جس قدر مال عورت کو طلاق سے پہلے دیا گیا ہے وہ عورت کا ہی رہے گا اور اگر عورت صاحب اولاد ہو تو بچوں کے تعہد کی مشکلات اس کے علاوہ ہیں۔ اس واسطے کوئی مسلمان جب تک اس کی جان پر ہی عورت کی وجہ سے کوئی وبال نہ پڑے تب تک طلاق کا نام نہیں لیتا۔ بھلا کون ایسا پاگل ہے کہ بے وجہ اس قدر تباہی کا بوجھ اپنے سر پر ڈالے۔ بہرحال جب مرد اور عورت کے تعلقات نکاح باہم باقی نہ رہے تو پھر نیوگ کو اس سے کیا نسبت ہے۔ جس میں عین نکاح کی حالت میں ایک شخص کی عورت دوسرے شخص سے ہمبستر ہو سکتی ہے۔ پھر طلاق مسلمانوں سے کچھ خاص بھی نہیں بلکہ ہر قوم میں بشرطیکہ دیوث نہ ہوں۔ نکاح کا معاہدہ صرف عورت کی نیک چلنی تک ہی محدود ہوتا ہے اور اگر عورت بدچلن ہو جائے تو ہر ایک قوم کے غیرتمند کو خواہ ہندو ہو خواہ عیسائی ہو بدچلن عورت سے علیحدہ ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً ایک آریہ کی عورت نے ایک چوہڑے سے ناجائز تعلق پیدا کر لیا ہے۔ چنانچہ بارہا اس ناپاک کام میں پکڑے بھی گئے۔ اب آپ ہی فتویٰ دو کہ اس آریہ کو کیا کرنا چاہئے۔ کیا نکاح کا معاہدہ ٹوٹ گیا یا اب تک باقی ہے۔ کیا یہ اچھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرح اس عورت کو طلاق دے دے یا یہ کہ ایک دیوث بن کر اس آشنا پر راضی رہے۔ غرض یہ مثال نہایت درست ہے کہ گندی عورت گندے عضو کی طرح ہے اور اس کا کاٹ کر پھینکنا اسی قانون کی رو سے ضروری پڑا ہوا ہے جس قانون کی رو سے ایسے ایسے عضو کاٹے جاتے ہیں اور چونکہ ایسی عورتوں کو اپنے پاس سے دفع کرنا واقعی طور پر ایک پسندیدہ بات اور انسانی غیرت کے مطابق ہے۔ اس لئے کوئی مسلمان اس کارروائی کو چھپے ہرگز نہیں کرتا۔ مگر نیوگ چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ بُرا کام ہے۔ پس طلاق میں اور نیوگ میں فرق ہے کہ نیوگ میں تو ایک بے غیرت انسان اپنی پاکدامن اور بے لوث منکوحہ عورت کو دوسرے سے ہمبستر کرا کر دیوث کہلاتا ہے اور طلاق کی ضرورت کے وقت ایک باغیرت مرد ایک ناپاک طبع عورت سے قطع تعلق کر کے دیوثی کے الزام سے اپنے تئیں بری کر لیتا ہے۔
    آریہ جب اُس اعتراض کے وقت جو نیوگ پر وارد ہوتا ہے بالکل لاجواب اور عاجز ہو جاتے ہیں تو پھر انصاف اور خدا تسری کی قوت سے کام نہیں لیتے بلکہ اسلام کے مقابل پر رہنا نہایت مکروہ اور بیجا افتراؤں پر آ جاتے ہیں۔ چنانچہ بعض تو مسئلہ طلاق کو ہی پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر ایسی آفات ہر ایک قوم کے لئے ہمیشہ ممکن الظہور ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں۔ مثلاً اگر کوئی عورت زانیہ ہو تو کس طرح اس کے خاوند کی غیرت اس کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر دن رات زنا کاری کی حالت میں مشغول رہے۔ ایسا ہی اگر کسی کی جورو اس قدر دشمنی میں ترقی کرے کہ اس کی جان کی دشمن ہو جاوے اور اس کے مارنے کی فکر میں لگی رہے تو کیا وہ ایسی عورت سے امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے بلکہ ایک غیرتمند انسان جب اپنی عورت میں اس قدر خرابی بھی دیکھے کہ اجنبی شہوت سے اس کو پکڑتے ہیں اور اس کا بوسہ لیتے ہیں اور اس سے ہم بغل ہوتے ہیں اور وہ خوشی سے یہ کام کراتی ہے۔ گو تحقیق کی رو سے ابھی زنا تک نوبت نہ پہنچی ہو بلکہ وہ فاسقہ موقع کے انتظار میں ہو تا ہم کوئی غیرت مند ایسے ناپاک خیال عورت سے نکاح کا تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ اگر آریہ کہیں کہ کیا حرج ہے۔ کچھ مضائقہ نہیں تو ہم ان سے بحث کرنا نہیں چاہتے۔ ہمارے مخاطب صرف وہ شریف ہیں جن کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے غیرت اور حیا کا مادہ رکھا ہے اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ عورت کا جوڑا اپنے خاوند سے پاکدامنی اور فرمانبرداری اور باہم رضامندی پر موقوف ہے اور اگر ان تین باتوں میں سے کسی ایک بات میں بھی فرق آ جائے تو پھر یہ جوڑ قائم رہنا محالات میں سے ہو جاتا ہے۔ انسان کی بیوی اس کے اعضا کی طرح ہے۔ پس اگر کوئی عضو سڑگل جاوے یا ہڈی ایسی ٹوٹ جاوے کہ قابل پیوند نہ ہو تو پھر بجز کاٹنے کے اور کیا علاج ہے۔ اپنے عضو کو اپنے ہاتھ سے کاٹنا کوئی نہیں چاہتا کوئی بڑی مصیبت پڑتی ہے تب کاٹا جاتا ہے۔ پس جس حکیم مطلق نے انسان کے مصالح کے لئے نکاح تجویر کیا ہے اور چاہا ہے کہ مرد اور عورت ایک ہو جائیں اسی نے مفاسد ظاہر ہونے کے وقت اجازت دی ہے کہ اگر آرام اس میں متصور ہو کہ کرم خوردہ دانت یا سڑے ہوئے عضو یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح موذی کو علیحدہ کر دیا جائے تو اس طرح کاربند ہو کر اپنے تئیں فوق الطاقت آفت سے بچا لیں کیونکہ جس جوڑ سے وہ فوائد مترتب نہیں ہو سکتے کہ جو اس جوڑ کی علت غائی ہیں بلکہ ان کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ درحقیقت جوڑ نہیں ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۲۹)
    (۲۴۵) حلالہ و نیوگ
    بعض آریہ عذر معقول سے عاجز آ کر یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حلالہ کی رسم نیوگ سے مشابہ ہے۔ یعنی جو مسلمان اپنی جورو کو طلاق دے وہ اپنی جورو کو اپنے پر حلال کرنے کیلئے دوسرے سے ایک رات ہمبستر کراتا ہے تب آپ اس کو اپنے نکاح میں لے آتا ہے۔ سو ہم اس افترا کا جواب بجز لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین کے اور کیا دے سکتے ہیں۔ناظرین پر واضح ہو کہ اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس ناپاک رسم کو قطعاً حرام کر دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر *** بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں۔ چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔ اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہوگا کہ جب واقعی طور پر اس کو اپنی جورو بنا لے اور اگر دل میں یہ خیال ہو کہ وہ اس حیلہ کے لئے اس کو جورو بناتا ہے کہ تا اس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جاوے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب دے۔ وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔ غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور ائمہ اور علمائے سلف جیسے حضرت قتادہ، عطا اور امام حسن اور ابراہیم نخعی اور حسن بصری اور مجاہد اور شعبی اور مسعہ ابن مسیب اور امام مالک، لیث، ثوری، امام احمد حنبل وغیرہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعی اور سب محققین علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں اور شریعت اسلام اور نیز لغت عرب میں بھی زوج اس کو کہتے ہیں کہ کسی عورت کو فی الحقیقت اپنی جورو بنانے کے لئے تمام حقوق کو مدنظر رکھ کر اپنے نکاح میں لاوے اور نکاح کا معاہدہ حقیقی اور واقعی ہو نہ کہ کسی دوسرے کے لئے ایک حیلہ ہو اور قرآن شریف میں جو آیا ہے۔ حَتّٰی تُنْکِحَ زَوْجًاغَیْرَہٗ اس کے یہی معنی ہیں کہ جیسے دنیا میں نیک نیتی کے ساتھ اپنے نفس کی اغراض کے لئے نکاح ہوتے ہیں ایسا ہی جب تک ایک مطلقہ کے ساتھ کسی کا نکاح نہ ہو اور وہ پھر اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے تب تک پہلے طلاق دینے والے سے دوبارہ اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ سو آیت کا یہ منشا نہیں ہے کہ جورو کرنے والا پہلے خاوند کے لئے ایک راہ بناوے اور آپ نکاح کرنے کے لئے سچی نیت نہ رکھتا ہو بلکہ نکاح صرف اس صورت میں ہوگا کہ اپنے پختہ اور مستقل ارادے سے اپنے صحیح اغراض کو مدنظر رکھ کر نکاح کرے ورنہ اگر کسی حیلہ کی غرض سے نکاح کرے گا تو عند الشرع وہ نکاح ہرگز درست نہیں ہوگا اور زنا کے حکم میں ہوگا۔ لہٰذا ایسا شخص جو اسلام پر حلالہ کی تہمت لگانا چاہتا ہے اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ مذہب نہیں ہے اور قرآن اور صحیح بخاری اور مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کی رو سے حلالہ قطعی حرام ہے اور مرتکب اس کا زانی کی طرح مستوجب سزا ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۲۹۔۳۰)
    (۲۴۶) متعہ و نیوگ
    بعض آریہ نیوگ کے مقابلہ پر اسلام پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں متعہ یعنی نکاح اس وقت جائز رکھا گیا ہے جس میں ایک مدت تک نکاح کی میعاد ہوتی ہے اور پھر عورت کو طلاق دی جاتی ہے لیکن ایسے معترضوں کو اس بات سے شرم کرنی چاہئے تھی کہ نیوگ کے مقابل پر متعہ کا ذکر کریں۔ اوّل تو متعہ صرف اس نکاح کا نام ہے جو ایک خاص عرصہ تک محدود کر دیا گیا ہو۔ پھر ماسوا اس کے متعہ اوائل اسلام میں یعنی اس وقت میں جب کہ مسلمان بہت تھوڑے تھے صرف تین دن کے لئے جائز ہوا تھا اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وہ جواز اس قسم کا تھا جیسا کہ تین دن کے بھوکے کے لئے مردار کھانا نہایت بیقراری کی حالت میں جائز ہو جاتا ہے اور پھر متعہ ایسا حرام ہو گیا جیسے سؤر کا گوشت اور شراب حرام ہے اور نکاح کے احکام نے متعہ کے لئے قدم رکھنے کی جگہ باقی نہیں رکھی۔ قرآن شریف میں نکاح کے بیان میں مردوں کے حق عورتوں پر اورعورتوں کے حق مردوں پر قائم کئے گئے ہیں اور متعہ کے مسائل کا کہیں ذکر بھی نہیں۔ اگر اسلام میں متعہ ہوتا تو قرآن میں نکاح کے مسائل کی طرح متعہ کے مسائل بھی بسط و تفصیل سے لکھے جاتے لیکن کسی محقق پر پوشیدہ نہیں کہ نہ تو قرآن میں اور نہ احادیث میں متعہ کے مسائل کا نام و نشان ہے لیکن نکاح کے مسائل بسط اور تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں۔ مثلاً نیوک جو ہندوؤں میں ایک امر واجب العمل ہے تو ان کی کتابوں میں اس کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ لیکن قرآن اور حدیث کے دیکھنے والوں پر ظاہر ہوگا کہ اسلام میں متعہ کے احکام ہرگز مذکور نہیں۔ نہ قرآن میں اور نہ احادیث میں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر متعہ شریعت اسلام کے احکام میں سے ایک حکم ہوتا تو اس کے احکام بھی ضرور لکھے جاتے اور وراثت کے قواعد میں اس کا بھی کچھ ذکر ہوتا۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ متعہ اسلامی مسائل میں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بعض احادیثوں پر اعتبار کیا جائے تو صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ جب بعض صحابہ اپنے وطنوں اور اپنی جورؤں سے دور تھے تو ایک دفعہ ان کی سخت ضرورت کی وجہ سے تین دن تک متعہ ان کے لئے جائز رکھا گیا تھا اور پھر بعد اس کے ایسا ہی حرام ہو گیا جیسا کہ اسلام میں خنزیر و شراب وغیرہ حرام ہے اور چونکہ اضطراری حکم جس کی ابدیت شارع کا مقصود نہیں۔ شریعت میں داخل نہیں ہوتے۔ اس لئے متعہ کے احکام قرآن اور احادیث میں درج نہیں ہوئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے متعہ عرب میں نہ صرف جائز بلکہ عام رواج رکھتا تھا اور شریعت اسلامی نے آہستہ آہستہ عرب کے رسوم کی تبدیلی کی ہے۔ جس وقت بعض صحابہ متعہ کے لئے بیقرار ہوئے سو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتظامی اور اجتہادی طور پر اس رسم کے موافق بعض صحابہ کو اجازت دے دی کیونکہ قرآن میں بھی اس رسم کے بارے میں کوئی ممانعت نہیں آئی تھی۔ پھر ساتھی ہی چند روز کے بعد نکاح کی مفصل اور مبسوط ہدایتیں قرآن میں نازل ہوئیں جو متعہ کے مخالف اور متضاد تھیں۔ اس لئے ان آیات سے متعہ کی قطعی طور پر حرمت ثابت ہوگئی۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ گو متعہ صرف تین دن تک تھا مگر وحی اور الہام نے اس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ وہ پہلے سے ہی عرب میں عام طور پر رائج تھا اور صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح موقت ہے کوئی حرامکاری اس میں نہیں کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسے خاوند والی عورت دوسرے سے ہمبستر ہو جاوے بلکہ درحقیقت ایک بیوہ یا باکرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر کیا جاتا ہے تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نہیں اجتہادی طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دے دی۔ لیکن خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ اور صدہاعرب کی بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں ایساہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اُٹھا دیا جائے۔ سو خدا نے قیامت تک متعہ کو حرام کر دیا۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ہے۔ نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اس میں خاوند والی عورت باوجود زندہ ہونے خاوند کے دوسرے سے ہمبستر کرائی جاتی ہے لیکن متعہ کی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں ہوتی بلکہ ایک باکرہ یا بیوہ ہوتی ہے جس کا ایک مقررہ وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا ہے۔ سو خود سوچ لو کہ متعہ کو نیوگ سے کیا نسبت ہے اور نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت۔
    پھر ماسوا اس کے ہم یہ کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ اسلام ہی میں خوبی ہے کہ اس میں ایک موقت نکاح بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ ورنہ دوسری قوموں پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ادنیٰ ادنیٰ ضرورتوں کے لئے بھی زناکاری کو جائز رکھا ہے۔ بھلا ایک دانشمند نیوگ کے مسئلہ پر ہی غور کرے کہ صرف اولاد کے لالچ کی وجہ سے اپنی پاکدامن عورت کو نامحرم کے بستر پرلٹا دیا جاتا ہے حالانکہ نہ اس عورت کو طلاق دی گئی نہ خاوند کے تعلقات اس سے ٹوٹے ہیں بلکہ وہ خاوند کی سچی خیرخواہ بن کر اس کے لئے اولاد پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا ہی عیسائیوں میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو ایک نوجوان عورت کو دوسرے اجنبی نوجوان مرد سے ہم بغل ہونے سے روکے اور مرد کو اس عورت کا بوسہ لینے سے منع کرے۔ بلکہ یورپ میں یہ تمام مکروہ باتیں نہایت بے تکلفی سے رائج ہیں اور پردہ پوشی کے لئے ان کاموں کا نام پاک محبت رکھا جاتا ہے۔ سو یہ ناقص تعلیم کے بدنتائج ہیں۔ اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی ایسے سفر میں جاتا جس میں کئی سال کی توقف ہوتی تو وہ عورت کو ساتھ لے جاتا یا اگر عورت ساتھ جانا نہ چاہتی تو وہ ایک دوسرا نکاح اس ملک میں کر لیتا۔ لیکن عیسائی مذہب میں چونکہ اشد ضرورتوں کے وقت میں بھی دوسرا نکاح ناجائز ہے اس لئے بڑے بڑے مدبر عیسائی قوم کے جب ان مشکلات میں آ پڑتے ہیں تو نکاح کی طرف ان کو ہرگز توجہ نہیں ہوتی اور بڑے شوق سے حرامکاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن لوگوں نے ایکٹ چھاوینہائے نمبر۱۳ ۱۸۸۹ء پڑھا ہوگا وہ اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ عیسائی مذہب کی پابندی کی وجہ سے ہماری مدبر گورنمنٹ کو بھی یہی مشکلات پیش آگئیں۔ ناظرین جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کس قدر دانا اور دور اندیش اور اپنے تمام کاموں میں باحتیاط ہے اور کیسی کیسی عمدہ تدابیر رفاہ عام کے لئے اس کے ہاتھ سے نکلتی ہیں اور کیسے کیسے حکماء اور فلاسفر یورپ میں اس کے زیر سایہ رہتے ہیں۔ مگر تا ہم یہ دانا گورنمنٹ مذہبی روکوں کی وجہ سے اس کام میں احسن تدابیر پیدا کرنے سے ناکام رہی ہے۔ یوں تو اس گورنمنٹ نے اپنی تدابیر اور حکمت اور ایجادات سے یونانیوں کے علوم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔ مگر جس انتظام میں مذہب کی روک واقع ہوئی اس کے درست کرنے اور ناقابل اعتراض بنانے میں گورنمنٹ قادر نہ ہو سکی۔ اس بات کے سمجھنے کے لئے وہی نمونہ ایکٹ نمبر ۱۳ ،۱۸۸۹ء کافی ہے کہ جب گوروں کو اس ملک میں نکاح کی ضرورت ہوئی تو مذہبی روکوں کی وجہ سے نکاح کا انتظام نہ ہوگا اور نہ گورنمنٹ اس فطرتی قانون کو تبدیل کر سکی جو جذبات شہوت کے متعلق ہے۔ آخر یہ قبول کیا گیا ہے کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز تعلق ہو۔ کاش! اگر اس کی جگہ پر متعہ بھی ہوتا تو لاکھوں بندگان خدا زنا سے بچ جاتے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۱۔۳۳)
    (۲۴۷) غیر حائضہ عورت کی عدت
    قال اللہ تعالیٰ وَالّٰتِیْ تَئِسْنَ مِنَ الْحَیْضِ مِن نِّسَائِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُھُنَّ ثَلَاثَۃَاَشْھُرٌ وَّ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہِ یُکَفِر عَنْہُ سَیئِاتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗ اَجْرًا یعنی اور جو عورتیں حیض سے نومیدہوگئی ہیں ان کی مہلت طلاق بجائے تین حیض کے تین مہینہ ہیں اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا خدا اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تمہاری طرف اُتارا گیا اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اورحتی الوسع طلاق سے دست بردار رہے گا خدا اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا اور اس کو بہت بڑا اجر دے گا۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۴، ۳۵)
    (۲۴۸) حمل دار کی عدت
    قاَلَ اللّٰہ تعالیٰ وَاُدْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمَلُھُنَّ (جزو نمبر۲۸) یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔ اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جاوے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسبت ضائع ہوگی اور یہ پتہ نہیں ملے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔ (فتاویٰ احمدہ جلد دوم صفحہ۳۴)
    (۲۴۹) ایلاء یعنی اپنی بیوی سے جدا ہونے کیلئے قسم کھانا
    قال اللہ تعالیٰ لِلّٰذِیْنَ یُؤلُوْنَ مِنْ نِّسَائِھِمْ تَرَبُّضُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرِ فَاِنْ فَاوُ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ فَاِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہونے کے لئے قسم کھا لیتے ہیں وہ طلاق دینے میں جلدی نہ کریںبلکہ چار مہینے انتظار کریں سو اگر وہ اس عرصہ میں اپنے ارادے سے باز آجاویں۔ پس خدا کو غفور و رحیم پائیں گے اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کر لیں۔ سو یاد رکھیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بددعا کرے تو خدا اس کی بددعا سن لے گا۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۲۵)
    (۲۵۰) طلاق ایک جلسہ میں بحالت غصہ
    ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھا اور فتویٰ طلب کیا کہ ایک شخص نے از حد غصہ کی حالت میں اپنی عورت کو تین دفعہ طلاق دی۔ ولی منشا نہ تھا۔ اب ہر دو پریشان اوراپنے تعلقات جو توڑنا نہیں چاہتے۔
    حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا۔ فتویٰ یہ ہے کہ جب کوئی ایک ہی جلسہ میں طلاق دے تو یہ طلاق ناجائز ہے اور قرآن کے برخلاف ہے۔ اس لئے رجوع ہو سکتا ہے۔ صرف دوبارہ نکاح ہو جانا چاہئے اور اسی طرح ہم ہمیشہ فتویٰ دیتے ہیں اور یہی حق ہے۔ والسلام
    (فتاوی احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۵)
    (۲۵۱) ہدایت برائے مطلقات و طالق و ترتیب طلاق
    قال اللہ تعالیٰ۔ وَالْمُطَلَّقَّاُ یَتَّرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلَاثَۃَ قُرْوْئٍ۔ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ وَّلَا یُحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاخُذُوْا مِمَّا اَتَیْتُمُوْ ھُنَّ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ چاہئے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی۔ وہ رجوع کی امید کے لئے تین حیض تک انتظار کریں اور ان تین حیض میں جو قریباً تین مہینے ہیں۔ دو دفعہ طلاق ہوگی۔ یعنی ہر ایک حیض کے بعد خاوند اپنی عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو خاوند ہشیار ہو جانا چاہئے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے یا تیسری طلاق سے رک جاوے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہوگا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھا وہ واپس لے لے اور اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے۔ دے دے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی اور جب تک دوسرا خاوند نہ کرے تب تک نیا نکاح اس سے نہیں ہو سکتا۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۶)
    (۲۵۲) انقضائے عدت و طلاق ثلاثہ دینے کے بعد عورت کو نکاح کرنے سے روکنا و اثنائے عدت میں عورت کو گھر سے نکالنا طلاق رجعی کی حد
    قال اللہ تعالیٰ۔ وَاِذَا طَلَّقْتُمُّ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا یَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجُھُنَّ وتقوا اللّٰہُ رَبَّکُمْ لَاتُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُؤتِّھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلاَّ اَنْ یَّتِھُنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبْیِّنَۃٍ فَاِذَا یَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْفَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَمَنْ یَّتَقِ اللّٰہُ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُفْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبُ اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ مدت مقررہ تک پہنچ جائیں اور عدت کی میعاد گزر جائے تو ان کو نکاح کرنے سے مت روکو۔ یعنی جب تین حیض کے بعد تین طلاقیں ہو چکیں۔ عدت بھی گذر گئی تو اب وہ عورتیں تمہاری عورتیں نہیں۔ ان کو نکاح کرنے سے مت روکو اور خدا سے ڈرو اور ان کو عدت کے دنوں میں گھر سے مت نکالو۔ مگر یہ کہ کوئی کھلی کھلی بدکاری ان سے ظاہر ہو اور جب تین حیض کی مدت گذر جائے اور تم نے ابھی تیسری طلاق نہ دی ہو تو پھر بعد اس کے احسان کے ساتھ ان کو رخصت کرو۔ اگر کوئی تم میں سے خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور کسی بے ثبوت شبہ پر بگڑ نہیں جائے گا تو خدا اس کو تمام مشکلات سے رہائی دے گا اور ان کو ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اسے علم نہیں ہوگا کہ مجھے کہاں سے رزق آتا ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۶)
    (۲۵۳) وہ ہدایتیں جن کی پابندی کے بعد پھر ایک شخص طلاق دینے کا مجاز ہو سکتا ہے
    قال اللہ تعالیٰ وَالَّتِیْ تُخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُ وْھُنَّ فِیْ الْمَعْنَاجِعِ وَاْضِربُوْھُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیًّا کَبِیْرًا فَاِنْ خِفْتُمْ شْقَاقٌ بَیْنِھِمَا فَبْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اَنْ یُرِیْدَا اِصْلَاحاً یُّوَفِّقِ اللّٰہَ بَیْنِھِمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا
    یعنی جن عورتوں کی طرف سے ناموافقت کے آثار ظاہر ہو جائیں۔ پس تم ان کو نصیحت کرو اور خوابگاہوں میں ان سے جدا رہو اور مارو (یعنی جیسی حیسی صورت اور مصلحت پیش آوے) پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ کا نام نہ لو اور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کے لئے مسلم ہے۔ یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے۔ میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر میاں بیوی کی مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف خاوند کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف بیوی کی طرف سے مقرر کرو۔ اگر منصف صلح کرانے کے کے لئے کوشش کریں گے تو خدا توفیق دے دے گا۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۷)
    (۲۵۳) ظہار یعنی اپنی عورت کو ماں کہنا
    قال اللہ تعالیٰ اَلَّذِیْنَ یُظَاھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِنْ نِّسَائھِمْ مَاھُنَّ اُمھَّاَتُھُمْ اِنْ اُمَّھَاتُھُمْ اِلاَّ الّٰیی وَلَمْ نَھُمْ وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرَا مِنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوًّا غُفُوْرًا وَالَّذِیْنَ یُظَاھِرُوْنَ مِنْ نِّسَائِھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِنْ قَلبْلِ اَنْ یَّتَمَا تَاذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْر۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُسَّتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَماتَا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا(الجز و ۲۸ سورہ مجادلہ) یعنی جو شخص اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے تو وہ حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہو سکتی۔ ان کی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے سو ان کی بات نامعول اور سراسر جھوٹ ہے اور خدا انصاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں اپنی عورتوں کو اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کریں۔ یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے۔ اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے دو مہینے کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلائیں۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۷۔۳۸)
    (۲۵۴) اپنی بیوی سے حسن معاشرت
    چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قسام ازلی نے دے رکھی ہے اور ذرہ ذرہ سی باتوں میں تادیب کی نیت سے یا غیرت کے تقاضا سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت حلم اور برداشت کی تاکید کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ احباب کو اس تاکید سے کسی قدر اطلاع کروں۔ اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے۔ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی اپنی بیویوں سے تم ایسی معاشرت کرو جس میں کوئی امر خلاف اخلاق معروفہ کے نہ ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ خَیْرُکُمْ خَیْرُکَمْ بِاھْلِہٖ یعنی تم میں سے بہتر وہ انسان ہے جو اپنی بیویوں سے نیکی سے پیش آوے۔ انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالہ کر دیا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر ایک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے نرمی برتنی چاہئے اور ہر ایک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے۔ جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمانداری بجا لاتا ہوں اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے۔ مجھے اس پر کونسی زیادتی ہے۔ خوانخوار انسان نہیں بننا چاہئے۔ بیویوں پر رحم کرنا چاہئے اور ان کو دین سکھلانا چاہئے۔ درحقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔ میں جب کبھی اتفاقاً ایک ذرّہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک عورت کو خدا نے صدہا کوس سے لا کر میرے حوالہ کیا ہے۔ شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔ تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرما دے اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
    (فتاوی احمدیہ جلد دوم صفحہ۳۸)
    (۲۵۵) سیّدزادی سے نکاح
    ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سوال پیش کیا کہ غیر سیّد کو سیّدانی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے واسطے جو محرمات بیان کئے ہیں ان میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ مومن کے واسطے سید زادی حرام ہے۔ علاوہ ازیں نکاح کے واسطے طیبات کو تلاش کرنا چاہئے اور اس لحاظ سے سید زادی کا ہونا بشرطیکہ تقویٰ و طہارت کے لوازمات اس میں ہوں افضل ہے۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ سید کا لفظ اولاد حسین کے واسطے ہمارے ملک میں ہی خاص ہے۔ ورنہ عرب میں بزرگوں کو سید کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عہ سب سید ہی تھے اور حضرت علیؓ کی ایک لڑکی حضرت عمرؓ کے گھر میں تھی اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لڑکی حضرت عثمانؓ سے بیاہی گئی تھی اور اس کی وفات کے بعد پھر دوسری لڑکی بھی حضرت عثمانؓ سے بیاہی گئی تھی۔ پس اس عمل سے یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے۔ جاہلوں کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ اُمتی سیّدانی کے ساتھ نکاح نہ کرے حالانکہ اُمت میں تو ہر ایک مومن شامل ہے خواہ وہ سیّد ہو یا غیر سیّد۔(بدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۵۶) ناجائز وعدہ نکاح کو توڑنا
    ایک شخص کی درخواست پیش ہوئی کہ میری ہمشیرہ کی منگنی مدت سے ایک غیر احمدی کے ساتھ ہوچکی ہے۔ اب اس کو قائم رکھنا چاہئے یا نہیں؟
    جواب: فرمایا۔ ناجائز وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قسم کو توڑ دیا جاوے۔ علاوہ ازیں منگنی تو ہوتی ہی اسی لئے ہے کہ اس عرصہ میں تمام حسن و قبیح معلوم ہو جاویں۔ منگنی نکاح نہیں ہے کہ اس کا توڑنا گناہ ہو۔ (البدر ۲۷؍ جون ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۲۵۷) غیر کفو میں نکاح
    ایک دوست کا سوال پیش ہوا کہ ایک احمدی اپنی ایک لڑکی غیر کفو کے ایک احمدی کے ہاں دینا چاہتا ہے۔ حالانکہ اپنی کفو میں رشتہ موجود ہے۔ اس کے متعلق آپ کا کیا ہے؟
    حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر حسب مراد رشتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے بہتر ہے۔ لیکن یہ امر ایسا نہیں کہ بطور فرض کے ہو۔ ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھ سکتا ہے۔ اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھتا تو دوسری جگہ دینے میں حرج نہیں اور ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہرحال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے۔ جائز نہیں ہے۔ (بدر ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۲)
    (۲۵۸) بیوہ کا نکاح کن صورتوں میں ضروری ہے
    ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ بیوی عورتوں کا نکاح کن صورتوں میں فرض ہے۔ نکاح کے وقت عمر، اولاد، موجودہ اسباب، نان و نفقہ کا لحاظ رکھنا چاہئے یا کہ نہیں۔ یعنی کیا بیوہ باوجود عمر زیادہ ہونے کے یا اولاد بہت ہونے کے یا کافی دولت پاس ہونے کے ہر حالت میں مجبور ہے کہ اس کا نکاح کیا جاوے۔
    فرمایا۔ بیوہ کے نکاح کا حکم اس طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔ چونکہ بعض قومیں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتی ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلیہوئی ہے اس واسطے بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے۔ نکاح تو اسی کا ہوگا جو نکاح کے لائق ہے اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔ بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں۔ بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں۔ مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق حال ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا ایک بیوہ کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کرسکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے۔ ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جائے۔ ہاں اس بدرسم کو مٹا دینا چاہئے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبراً رکھا جاتا ہے۔
    (بدر ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۱۱)
    (۲۵۹) دَف کے ساتھ اعلان شادی
    دَف کے ساتھ شادی کا اعلان کرنا بھی اس لئے ضروری ہے کہ آئندہ اگر جھگڑا ہو تو ایسا اعلان بطور گواہ ہو جاتا ہے ایسا ہی اگر کوئی شخص نسبت اور ناطہ پر شکر وغیرہ اس لئے تقسم کرتا ہے کہ وہ ناطہ پکّا ہو جاوے تو گناہ نہیں ہے لیکن اگر یہ خیال نہ ہو بلکہ اس سے مقصد صرف شہرت اور شیخی ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہوتے۔ (الحکم ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۲)
    (۲۶۰) گانا
    اسی طرح پر سب اعمال کا حال ہے۔ اگر ان کی اصلیت کا لحاظ اور مغز کا خیال نہ ہو تو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے۔ اسی طرح روزہ میں خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے۔ لیکن اگر حقیقت نہ ہو تو پھر یہ رسم ہی رہ جاتی ہے۔
    یقینا یاد رکھو کہ جو خدا تعالیٰ کے فضل پر خوش نہیں ہوتا اور اس کا عملی اظہار نہیں کرتا تو وہ مخلص نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل پر سال بھر تک گاتا رہے تو وہ سال بھر ماتم کرنے والے سے اچھا ہے جو امور قال اللہ و قال الرسول کے خلاف ہوں یا ان میں شرک یا ریا ہو اور ان میں اپنی شیخی دکھائی جاوے وہ امور اثم میں داخل ہیں اور منع ہیں۔
    (الحکم ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۲)
    (۲۶۱) راگ
    سوال: ذکر آیا کہ بعض لوگ راگ سنتے ہیں۔ آیا یہ جائز ہے؟
    جواب: فرمایا۔ اس طرح بزرگان دین پر بدظنی کرنا اچھا نہیں۔ حسن ظن سے کام لینا چاہئے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اشعار سنے تھے۔ لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک صحابی مسجد کے اندر شعر پڑھتاتھا۔ حضرت عمرؓ نے اس کو منع کیا اس نے جواب دیا میں نبی کریم صلعم کے سامنے مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا۔ تو کون ہے جو مجھے روک سکے۔ یہ سن کر حضرت امیرالمومنینؓ بالکل خاموش ہوگئے۔ قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہئے بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور خود اس میں ایک اثر ہے۔ عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔ وہی تقریر ژولیدہ زبان سے کی جائے تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جس شے میں خدا نے تاثیر رکھیہے اور اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جاوے تو اس میں کیا حرج ہے۔ حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی۔ جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام خدا کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی اس کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ (البدر ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۶)
    (۲۶۲) مزامیر
    سوال: مزامیر کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟
    جواب: فرمایا۔ بعض نے قرآن شریف کے لفظ لہوالحدیث کو مزامیر سے تعبیر کیا ہے مگر میرا مذہب یہ ہے کہ ہر ایک شخص کو مقام اور محل دیکھنا چاہئے۔ ایک شخص کو جو اپنے اندر بہت سے علوم رکھتا ہے اور تقویٰ کے علامات اس میں پائے جاتے ہیں اور متقی باخدا ہونے کے ہزار دلیل اس میں موجود ہے۔ صرف ایک بات جو تمہیں سمجھ میںنہیں آتی اس کی وجہ سے تم اسے بُرا نہ کہو۔ اس طرح انسان محروم رہ جاتا ہے۔ بایزید بسطامی کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ لوگ بہت ان کے اردگرد ہوئے اور ان کے وقت کو پراگندہ کرتے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا انہوں نے سب کے سامنے روٹی کھانی شروع کر دی۔ تب سب لوگ کافر کہہ کر بھاگ گئے۔ عوام واقف نہ تھے کہ یہ مسافر ہے اور اس کے واسطے روزہ ضروری نہیں۔ لوگ نفرت کر کے بھاگے۔ ان کے واسطے عبادت کے لئے مقام خلوت حاصل کیا۔ (البدر ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۵ء)
    (۲۶۳) رہن و بیمہ
    سوال: مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو سوال ہوا کہ رہن کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: ہمارے نزدیک رہن جب کہ نفع و نقصان کا ذمہ وار ہو جاتا ہے اس سے فائدہ اُٹھنا منع نہیں ہے۔
    سوال: بعض لوگ جو عمارتوں کے بیمے کسی بیمہ کمپنی سے آتشزدگی وغیرہ کے متعلق کراتے ہیں اس کی بابت حضور کیا فرماتے ہیں؟
    جواب: سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے۔ قماربازی میں ذمہ واری نہیں ہوتی۔ دنیا کے کاروبار میں ذمہ واری کی ضرورت ہے۔ پس ان معاملات میں دیکھ لو کہ سود یا قمار کی کوئی جزو تو نہیں۔ اگر صرف اقرارت ہوں ان کو شریعت نے جائز رکھا ہے کہ جن میں ذمہ واری ہوتی ہے ۔
    چونکہ اس قسم کے سوالوں کے متعلق ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اس لئے حجۃ اللہ نے فرمایا۔ لَاتَسْئَلُوْاعَنْ اَشْیَاء۔ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جائے تو اب اس خیال میں لگ جائے کہ کسی وقتحرام کا پیسہ ان کے آیا ہوگا۔ پھر اس طرح تو آخر کار عورتوں کا کھانا ہی بند ہو جائے گا۔ خدا کا نام ستار بھی ہے۔ ورنہ دنیا میں عام طور پر راستباز کم ہوتے ہیں۔ مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔ یہ بھی قرآن میں لکھا ہے۔ وَلاَتَجسَّوُا یعنی تجسس مت کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔
    (البدر ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۷۶)
    (۲۶۴) زمین کا رہن
    مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۳ء کو رہن کے متعلق سوال ہوا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جواباً فرمایا کہ موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں۔ گذشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہوگئی تو حکام زمینداروں سے معاملہ وصول کر لیا کرتے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جاتا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مطالبہ وصول کر ہی لیتے ہیں۔ پس چونکہ حکام وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اس طرح یہ رہن بھی جائز رہا۔ کیونکہ کبھی فصل ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی۔ تو دونوں صورتوں میں مرتہن نفع و نقصان کا ذمہ وار ہے۔ پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے۔ جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑا رہن باقبضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مرتہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہوگیا۔ (الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱)
    (۲۶۵) رہن زیور و زکوٰۃ زیور
    مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۳ء کو زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ زیور ہو کچھ ہو جب کہ انتفاع جائز ہے۔ تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بنائے جائیں۔ اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے تو اس کی زکوٰۃ بھی اس کے ذمہ ہے۔ زیور کی زکوٰۃ بھی فرض ہے۔ چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوٰۃ ڈیڑھ سو روپیہ دیا ہے۔ پس اگر زیور استعمال کرتا ہے تو اس کی زکوٰۃ دے۔ اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔ (الحکم ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱)
    (۲۶۶) کسی شخص کو جو تجارتی روپیہ دیا جاوے اس کا منافع لینا
    مورخہ ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو ظہر کے وقت ایک صاحب کی خاطر حضرت حکیم الامت نے ایک مسئلہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ ایک شخص ہیں۔ جن کے پاس بیس بائیس ہزار روپیہ کے قریب موجود ہے۔ ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرناچاہتا ہے اور ان کے اطمینان کے لئے اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے۔ اس طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں اور جو روپیہ آوے۔ وہ امانت رہے سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سو روپیہ ان کو منافع دے دیا کرے گا۔ یہ اس غرض سے یہاں فتویٰ دریافت کرنے آئے ہیں کہ یہ روپیہ جو ان کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شراکت کر لی جائے۔
    اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا چونکہ انہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے۔ اس لئے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ دس دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جو ان کو وہ دیتا ہے سود نہیں ہے اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔ سود کا لفظ تو اس روپیہ پر دلالت کرتا ہے جو مفت بلامحنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں) لیا جاتا ہے۔ اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروزبر ہوگئے ہیں۔ کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔ اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ (البدر یکم نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ۸ و الحکم ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ۱۱)
    (۲۶۷)وزنوں کے باٹوں میں کمی بیشی
    ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی برادرس وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیر اسّی روپیہ کا دیتے ہیں اور لیتے اکاسی روپے کا ہیں کیا یہ جائز ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ جن معاملات بیع و شراء میں مقدمات نہ ہوں۔ فساد نہ ہوں۔ تراضی فریقین ہو اور سرکار نے بھی حرام نہ رکھا ہو۔ عرف میں جائز ہو۔ وہ جائز ہے۔ (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۱۹)
    (۲۶۸) غلّہ ارزاں خرید کر روک رکھنا
    سوال: کسی نے پوچھا کہ بعض آدمی غلّہ کی تجارت کرتے ہیں اور خرید کر اسے رکھ چھوڑتے ہیں۔ جب مہنگا ہو جائے تو اسے بیچتے ہیں کیا ایسی تجارت جائز ہے؟
    جواب: فرمایا۔ اس کو مکروہ سمجھا گیا ہے۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ میرے نزدیک شریعت اور ہے اور طریقت اور ہے۔ ایک آن کی بدنیتی بھی جائز نہیں اور یہ ایک قسم کی بدنیتی ہے۔ ہماری غرض یہ ہے کہ بدنیتی دور ہو۔ (الحکم ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۵)
    (۲۶۹) سود اور ایمان
    مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو ایک شخص نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ حرام ہے۔ اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اسے زیادہ دینے کا نہ ہو۔ نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو۔ پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دے دے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو ھَلْ جَزَائُ الْاِحْسَانِ اِلاَّ الْاِحْسَان ہے۔ اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہو اور سوائے سود کے کام نہ چل سکے تو پھر ؟
    اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ
    خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مومنوں کے واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔ اسلام میں کروڑ ہا ایسے آدمی گزرے ہیں جنہوں نے سود لیا نہ دیا۔ آخر ان کے حوائج بھی پورے ہوتے ہی رہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سود نہ لو نہ سود دو۔ جو ایساکرتا ہے گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی تیاری کرتا ہے۔ ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے۔ ایمان بڑی بابرکت شے ہے۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ شَیٌ قَدِیْرٌ اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے تو کیا خدا کا حکم بھی بیکا رہے۔ اس کی قدرت بہت بڑی ہے۔ سود تو کوئی شے ہی نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا۔ اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔ جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتی ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا۔ جب تک خدا نہ چھڑوائے۔ ورنہ انسان توہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے۔ اگر چھوڑیں تو گزارہ نہیں چلتا۔ دکانداروں، عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سالہا سال تک بیچتے ہیں۔ دھوکا دیتے ہیں۔ ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں کہ گزارہ نہیں چلتا۔ حالانکہ مومن کے لئے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔ یہ تمام راستبازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے۔ لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے۔ جیسے ان کو حرام کے دروازے پر بھروسہ ہے۔ ویسا خدا پر نہیں۔ خدا پر ایمان، یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو، تو جی چاہے کہ جیسے اور عجیب نسخے مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جائے۔ (البدر ۲۷؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۷۵)
    (۲۷۰) فتویٰ در باب سود بینک
    مورخہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۵ء کو شیخ نور احمد صاحب نے بینک کے سود کے متعلق تذکرہ کیا کہ بینک والے ضرور سود دیتے ہیں۔ پھر اسے کیا کیا جاوے۔ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی ہے کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لئے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔ پس سود اپنے نفس کیلئے، بیوی، بچوں، احباب، رشتہ داروں اور ہمسایوں کیلئے بالکل حرام ہے لیکن اگر یہ روپیہ خالصۃً اشاعت دین کے لئے خرچ کیا جائے تو حرج نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوٰۃ بھی نہیں دیتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہیں اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔ اوّل یہ کہ زکوٰۃ جس کے دینے کا حکم تھا۔ وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔ یعنی جو خدا کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق نہ تھا وہ لیا گیا۔ جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعفمیں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتی ہیں یکمشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں۔ میں نے جو فتویٰ دیا ہے وہ عام نہیں ہے۔ ورنہ سود کا لینا دینا دونوں حرام ہیں۔ مگر اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جب کہ مالی ترقی کے ذرائع پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے۔ ایسا روپیہ اسلام کے کام میں لگنا حرام نہیں ہے۔قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔ یہ بھی یاد رکھو جیسے سود اپنے لئے درست نہیں کسی اور کو اس کا دینا بھی درست نہیں۔ ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال دینا درست ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ وہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ ہو۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہو رہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو۔ اس وقت محض اس خیال سے رک جانا کہ یہ گولی بارود مال حرام ہے۔ ٹھیک نہیں بلکہ مناسب یہی ہوگا کہ اس کو خرچ کیا جاوے۔ اس وقت تلوار کا جہاد تو باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی گورنمنٹ دی ہے جس نے ہر ایک قسم کی مذہبی آزادی عطا کی ہے۔ اب جہاد قلم کا باقی ہے۔ اس لئے اشاعت دین میں ہم اس کو خرچ کر سکتے ہیں۔ (الحکم ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۹)
    ایک دوست نے عرض کی کہ میرے ایک رشتہ دار کا بہت سا روپیہ بینک میں کئی سالوں کے واسطے جمع تھا۔ جہاں سے ماہواری سود ملتا ہے اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث لیتے ہیں۔ ایسے سود کے متعلق کیا حکم ہے۔ بینک والے وہ رقم ضرور دیتے ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر روپیہ جمع کرنے والا سود سے فائدہ نہ اُٹھائے تو بینک والوں سے ایسا روپیہ مشنری عیسائی اشاعت دین عیسوی کے واسطے لے لیتے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ سود کا روپیہ بالکل حرام ہے کہ کوئی شخص اسے اپنے نفس پر خرچ کرے اور کسی قسم کے بھی ذاتی مصارف میں خرچ کرے یا اپنے بال بچے کو دے یا کسی فقیر مسکین کو دے، کسی ہمسایہ کو دے یامسافر کو دے،سب حرام ہے۔سود کے روپیہ کا لینا اور خرچ کرنا سب گناہ ہے لیکن ایک بات جس پر خدا تعالیٰ نے ہمارے دل کو قائم کر دیاہے اور وہ صحیح ہے۔ یہ ہے کہ کہ یہ ایام اسلام کے واسطے بڑے مالی مشکلات کے ہیں۔ اوّل تو مسلمان اکثر غریب ہیں۔ پھر جو امیر ہیں وہ اپنے ذاتی مصارف میں مال اور عیال کے فکر میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ سود کا روپیہ لے لیتے ہیں اور زکوٰۃ نہیں دیتے۔ دونوں طرف سے گنہگاری میں پڑے ہوئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ غریب ہو یا امیر ہو کسی کو بھی دین اور اسلام کی اشاعت کا فکر نہیں۔ جو زکوٰۃ دیتے ہیں وہ بھی رسمی طور پر دنیاوی عزت کے موقع پر اپنا روپیہ خرچ کر ڈالتے ہیں۔ اپنا جو حق نہ تھا وہ لیتے ہیں اور خدا کا جو حق تھا وہ بھی نہیں دیتے اور اس طرح اپنے اندر دوگناہ ایک ہی وقت میں جمع کرتے ہیں۔ غرض اس قدر اسلامی مصیبت کے وقت میں اگر اس قسم کا روپیہ اشاعت اسلام کے واسطے تالیف کتب میں صرف کیا جائے تو یہ جائز ہے۔ سود کا روپیہ تصرف ذاتی کے واسطے ناجائز ہے۔ لیکن خدا کے واسطے کوئی شے حرام نہیں۔ خدا کے کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ گولی بارود کا چلانا کیسا ہی ناجائز اور گناہ ہو لیکن جو شخص اسے ایک جانی دشمن کے مقابلہ پر نہیں چلاتا وہ قریب ہے کہ خود ہلاک ہو جائے۔ لیکن کیا خدا نے نہیں فرمایا کہ تین دن کے بھوکے کے واسطے سؤر بھی حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔ پس سود کا مال اگر تم، ہم کوئی خدا کے لئے لگائیں تو پھر کیونکر گناہ ہو سکتا ہے۔ اس میں مخلوق کاحصہ نہیں لیکن اعلائے کلمۂ اسلام میں اور اسلام کی جان بچانے کے لئے اس کا خرچ کرنا ہم اطمینان اور ثلج قلب سے کہتے ہیں کہ یہ بھی فلا اثم علیہ میں داخل ہے۔ یہ ایک استثناء ہے اشاعت اسلام کے واسطے ہزاروں حاجتیں ایسی پڑتی ہیں جن میں مال کی ضرورت ہے۔ مثلاً آج کل یہ معلوم ہوا ہے کہ جاپانی لوگ اسلام کی طرف توجہ رکھتے ہیں اس واسطے بہت ضروری ہے کہ اسلامی خوبیوں کی ایک جامع کتاب تالیف کی جائے۔ جس میں سے سر سے لے کر پاؤں تک اسلام کا پورا نقشہ کھینچا جائے کہ اسلام کیا ہے۔ صرف بعض مضامین لکھنا ایسا ہے جیسا کہ کسی کو سارا بدن نہ دکھایا جائے اور صرف ایک انگلی دکھا دی جائے۔ یہ مفید نہیں ہو سکتا۔ پوری طرح دکھانا چاہئے کہ اسلام میں کیا کیا خوبیاں ہیں اور پھر ساتھ ہی دیگر مذاہب کا حال بھی لکھ دینا چاہئے۔ وہ لوگ بالکل بے خبر ہیں کہ اسلام کیا شے ہے۔ اس کے واسطے ایک مستقل کتاب لکھنی چاہئے جس کو پڑھ کر وہ لوگ دوسری کتاب کے محتاج نہ رہیں۔ آج کل اس کام میں روپیہ خرچ کرنے کی اس قدر ضرورت ہے کہ ہمارے نزدیک جو آدمی حج کے واسطے روپیہ جمع کرتا ہے اس کو بھی چاہئے کہ اپنا روپیہ اسی کام میں صرف کر دے کیونکہ یہ جہاد کا موقع ہے۔ اب تلوار کا جہاد باقی نہیں رہا۔ لیکن قلم کا جہاد باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح کی تیاری کفار تمہارے مقابلہ میں کرتے ہیں۔ اسی طرح کی تیاری تم بھی ان کے مقابلہ میں کرو۔ اب قوموں کے درمیان تلوار کا مذہبی جنگ باقی نہیں رہا لیکن قلم کا جنگ ہے۔ پادری لوگ طرح طرح کے مکروفریب کے ساتھ اسلام کے برخلاف کتابیں شائع کرتے ہیں اور غلط باتیں افترا پردازی سے کہتے ہیں جب تک ان خبیث باتوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ہونا ثابت نہ کیا جائے۔ اسلام کو اشاعت کس طرح ہو سکتی ہے۔ پس ہم اس بات سے شرم نہیں کرتے۔ کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔ میرا مذہب جس پر خدا نے مجھے قائم کیا ہے اور جو قرآن شریف کا مفہوم ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے نفس، عیال اطفال، دوست عزیز کے واسطے اس سود کو مباح نہیں کر سکتے بلکہ یہ پلید ہے اور کا گناہ حرام ہے لیکن اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جب کہ دین مالی امداد کا سخت محتاج ہے۔ اسلام کی مدد ضرور کرنی چاہئے جیسا کہ ہم نے مثال کے طور پر بیان کیا ہے کہ جاپانیوں کے واسطے ایک کتاب لکھی جاوے اور کسی فصیح بلیغ جاپانی کو ایک ہزار روپیہ دے کر ترجمہ کرایا جائے اور پھر اس کا دس ہزار نسخہ چھاپ کر جاپان میں شائع کر دیا جائے۔ ایسے موقعہ پر سود کا روپیہ لگانا جائز ہے کیونکہ ہر ایک مال خدا کا ہے اور اس طرح پر وہ خدا کے ہاتھ میںجائے گا۔ مگر بایں ہمہ اضطراری کی حالت میں ایسا ہوگا اور بغیر اضطرار یہ بھی جائز نہیں۔ (البدر ۲۹؍ ستمبر ۱۹۰۵ء و الحکم ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۵ء)
    (۲۷۱) اسلامی تائید کیلئے اجازت سود مختص المقام و مختص الزمان ہے
    ایک دوست نے عرض کی کہ اگر اس طرح سے ایک خاص امر کے واسطے سود کے روپے کمانے کی اجازت دی گئی ہو تو لوگوں میں اس کا رواج ہو کر عام قباحتیں پیدا ہو جائیں گی۔
    حضرت اقدس نے فرمایا کہ بے جا عذر تراشنے کے واسطے تو بڑے حیلے ہیں۔ بعض شریر لاتقربوا الصلوٰۃ کے یہ معنی کردیتے ہیں کہ نماز نہ پڑھو۔ ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ اضطراری حالت میں جب خنزیر کھانے کی اجازت نفسانی ضرورتوں کے واسطے جائز ہے تو اسلام کی ہمدردی کے واسطے اگر انسان دین کو ہلاکت سے بچانے کے واسطے سود کے روپیہ کر خرچ کرے تو کیا قباحت ہے۔ یہ اجازت مختص المقام اور مختص الزمان ہے۔ یہ نہیں کہ ہمیشہ کے واسطے اس پر عمل کیا جائے۔ جب اسلام کی نازک حالت نہ رہے تو پھر اس ضرورت کے واسطے بھی سود لینا ویسا ہی حرام ہے کیونکہ سود کا عام حکم حرمت ہی ہے۔ (البدر ۲۹؍ ستمبر ۱۹۰۵ء)
    (۲۷۲) نوٹوں پر کمیشن
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ نوٹوں کے بدلے روپیہ لینے یا دینے کے وقت یا پونڈ یا روپیہ توڑانے کے وقت دستور ہے کہ کچھ پیسے زائد لئے یا دیئے جاتے ہیں کیا اس قسم کا کمیشن لینا یا دینا جائز ہے۔
    فرمایا جو نوٹ لے کر روپیہ دیتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ کچھ مناسب کمیشن اس پر لے لے۔ کیونکہ نوٹ یا روپیہ یا ریزگاری کے محفوظ رکھنے اور تیار رکھنے میں وہ خود بھی وقت اور محنت خرچ کرتا ہے۔ (البدر ۲۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
    (۲۷۳) بنکوں کا سود بونس وغیرہ کا روپیہ جو گورنمنٹ دیتی ہے
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ان کی تنخواہ میں سے ایک آنہ فی روپیہ کاٹ کر رکھا جاتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ زائد روپیہ بھی وہ دیتے ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے؟
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔ یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلائے گا۔ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے۔ چنانچہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔ اگر بادشاہ کچھ روپیہ دیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے۔ تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے۔ وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ دیا ہو۔ یہ خیال رہنا چاہئے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔ خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔ ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خاں صاحب نے لکھا ہے کہ اضعافاً مضاعفًا کی ممانعت ہے۔ فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ سود در سود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے۔ شریعت کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے۔ یہ فقرہ اس قسم کا ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ۔ اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرتے جاؤ۔ اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جب کہ لینے والا اس خواہش سے روپیہ دیتا رہے کہ مجھ کو سود ملے۔ ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احساناً دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔ (البدر ۲۷؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۷۵)
    (۲۷۴) رشوت وغیرہ حرام مال سے جو عمارت وغیرہ ہو
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تائب ہو تو اس کے پاس جو اوّل جائداد رشوت وغیرہ سے عمارت بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے؟
    امام علیہ السلام نے فرمایا۔ شریعت کا حکم ہے کہ توبہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسی کو پہنچایا جاوے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۵۰)
    (۲۷۵) سود لین دین
    سوال: سودی روپے کے لینے اور دینے کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: ہمارے نزدیک سودی روپیہ لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ مومن وہ ہوتے ہیں جو اپنے ایمان پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کا خود متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔ اس قدر مومن دنیا میں گزرے ہیں وہ کبھی ایسی مشکلات میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ یرزقہ من حیث لایحتسب اللہ تعالیٰ نے ہر ضیق سے ان کو نجات دیتا ہے۔ ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک نمونہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ جب کسی سے کچھ روپیہ قرض لیتے تو اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیتے۔ اس طریق پر کہ ھل جزاء الاحسان الا الاحسان پر عمل ہو جاوے۔ اور جو زائد دیتے وہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ اصل سے دو چند سہ چند ہوتا۔ ایسی صورتیں جائز ہیں کہ اگر کسی اپنے دوست سے روپیہ لے اور کوئی شرط اس کے ساتھ نہ ہو توصلہ مواسات کے طور پر کچھ بڑھا کر دے دے لیکن جیسے آج کل عام طور پر مروج ہے کہ پہلے سود کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ یہ جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
    ایمان بڑی بابرکت چیز ہے۔ مومن کو اللہ تعالیٰ ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔ مومن اپنے رب کی نسبت یقین رکھتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ الم تعلم ان اللّٰہ علی کل شی قدیر۔ مومن کو یہ ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہوتی ہے تو وہ خود کفیل ہو جاتا ہے۔ سود تو کوئی چیز نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا کہ تو زمین کا پانی نہ پیا کر تو میں ایمان رکھتا ہوں کہ اس کو آسمان سے پانی ملتا۔ جس قدر ضعف اور لاچاری ہوتی ہے اسی قدر ایمان کی کمزوری ہوتی ہے۔ کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا۔ جب تک اللہ تعالیٰ توفیق اور قوت نہ دے۔ جب وہ قوت عطا کرتا ہے تو پھر سہولت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر عذر نکال نکال کر گناہ کئے جائیں جیسے مثلاً کہتے ہیں کہ سودی روپیہ لئے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تو پھر عذورں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی کتاب کے کسی حکم پر عمل نہ ہو۔ سب راستبازوں کا تجربہ یہی ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ رحمت کا دروازہ نہ کھولے کچھ بھی نہیں بنتا۔ افسوس یہ ہے کہ جیسا بھروسہ انسان مخلوق کے دروازوں پر رکھتا ہے اگر اپنے خالق کے دروازہ پر رکھے تو کبھی محتاج نہ ہو۔ مگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے۔
    عذر رکھ کر معصیت میں مبتلا ہونا یہ سفلی عذر ہے۔ جو شیطان آتا ہے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرے تو سب کچھ ہوتا ہے۔ میں نے بعض بیماریوں میں آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ محض دعا سے اس کا فضل ہوا اور مرض جاتا رہا ہے۔ ابھی دو چار دن ہوئے ہیں کثرت پیشاب اور اسہال کی وجہ سے مضمحل ہو گیا تھا۔ میں نے دعا کی تو الہام ہوا۔ دعاء ک مستجابٌ۔ اس کے بعد ہی دیکھا کہ وہ شکایت جاتی رہی۔ خدا ایک ایسا نسخہ ہے جو سارے نسخوں سے بہتر ہے اور چھپانے کے قابل ہے۔ مگر پھر دیکھتا ہوں کہ یہ بخل ہے اس لئے ظاہر کرنا پڑتا ہے۔
    اسلام اور غیر اسلام میں یہی فرق ہے کہ وہ اپنی قدرت کے کرشمے دکھاتا ہے۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تھا۔ اب بھی خدا تعالیٰ وہی کرشمے دکھاتا ہے اور تازہ بتازہ کرشمے دکھاتا ہے اور ہم پہنچانتے ہیں کہ گویا وہی زمانہ اور وقت ہے اس سے بڑا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو جلتی آگ میں بچا لیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کہا۔ یا نارکونی بروًا و سلامًا۔ اور یہاں بھی ڈگلس کے سامنے جو کلارک کا مقدمہ تھا وہ اس آگ سے کم نہ تھا۔
    غرض مومن کو خدا تعالیٰ ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔ جو پڑتا ہے وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے پڑتا ہے۔
    بونس سود ہے یا نہ
    سوال: بابو عطا الٰہی صاحب سٹیشن ماسٹر نے عرض کی کہ حضور ریلوے کے محکمہ میں ملازموں کی تنخواہ میں سے ماہوار کچھ حصہ وضع ہوتا ہے اور وہ گورنمنٹ کے پاس جمع رہتا ہے پھر اس پر کچھ بونس دیا جاتا ہے۔ کیا وہ سود میں داخل ہے۔
    جواب: بات اصل یہ ہے کہ سود کی تعریف یہ ہے کہ اپنے ذاتی فائدے کے لئے روپیہ قرض دیا جاوے۔ یہ تعریف جہاں قرض دیا جاوے۔ وہ سود ہے لیکن جب کہ محکمہ ریلوے کے ملازم خود وہ روپیہ سود کی لالچ سے نہیں دیتے بلکہ جبراً وضع کیا جاتا ہے تو یہ سود کی تعریف میں داخل نہیں ہے اور خود جو کچھ وہ روپیہ زائد دے دیتے ہیں وہ داخل سود نہیں ہے۔
    غرض یہ خود دیکھ سکتے ہو کہ آیا یہ روپیہ سودا لینے کیلئے تم خود دیتے ہو یا وہ خود وضع کرتے ہیں اور بلا طلب اپنے طور پر دیتے ہیں۔ (۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵)
    سیونگ بنک اور تجارتی سود
    سوال: ایک شخص نے ایک لمبا خط لکھاکہ سیونگ بنک کا سود اور دیگر تجارتی کارخانوں کا سود جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کوتجارتی معاملات میں بڑا نقصان ہو رہاہے۔
    جواب:حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جب تک کہ اس کے سارے پہلوؤں پر غور نہ کیا جاوے اور ہر قسم کے حرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے سامنے پیش نہ کئے جاویں ہم اس کے متعلق اپنی رائے دینے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کئے ہیں۔ مسلمان کو چاہئے کہ ان کو اختیار کرے اور اس سے پرہیز رکھے۔ ایمان صراط مستقیم سے وابستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے۔ مثلاً اگر دنیا میں سؤر کی تجارت میں سب سے زیادہ نفع ہو جاوے تو کیا مسلمان اس کی تجرات شروع کر دیں گے۔ ہاں اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑنا اسلام کے لئے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے تب ہم فمن اضطر غیر باغٍ ولا عادٍ کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر نہیں۔
    اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔ ہم فی الحال بڑے بڑے عظیم الشان امور دینی کی طرف متوجہ ہیں۔ ہمیں تو لوگوں کے ایمان کا فکر پڑا ہوا ہے۔ ایسے ادنیٰ امور کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے۔ اگر ہم بڑے عالیشان دینی مہمات کو چھوڑ کر ابھی سے ایسے ادنیٰ کاموں میں لگ جائیں تو ہماری مثال اس بادشاہ کی ہوگی جو ایک مقام پر ایک محل بنانا چاہتا ہے۔ مگر اس جگہ بڑے شیر اور درندے اور سانپ ہیں اور نیز مکھیاں اور چیونٹیاں ہیں۔ پس اگر وہ پہلے درندوں اور سانپوں کی طرف توجہ نہ کرے اور ان کو ہلاکت تک نہ پہنچائے اور سب سے پہلے مکھوں کے فنا کرنے میں مصروف ہو تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سائل کو لکھنا چاہئے کہ تم پہلے اپنے ایمان کا فکر کرو اور دو چار ماہ کے واسطے یہاں آ کر ٹھہرو تا کہ تمہارے دل و دماغ میں روشنی پیدا ہو اور ایسے خیالات میں نہ پڑو۔ (۱۰؍ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱)
    سودی مجبوری کی حالت میں
    سوال: سود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبوریات لاحق حال ہو جاتے ہیں۔
    جواب: فرمایا کہ اس کا فتویٰ ہم نہیں دے سکتے۔ یہ بہرحال ناجائز ہے۔ ایک طرح کا سود اسلام میں جائز ہے کہ قرضہ دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے تو مروت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دیوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایساہی کیا کرتے۔ اگر دس روپے قرض لیتے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دے دیا کرتے۔ سود حرام وہی ہے جس میں عہد و معاہدہ اور شرائط اوّل ہی کر لی جاویں۔
    (البدر ۲۴؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۸)
    (۲۷۶) پیشگی وصولی قیمت اخبار کم لی جاوے
    سوال: اخبار کی قیمت اگر پیشگی وصول کی جاوے تو اخبار کے چلانے میں سہولت ہوتی ہے جو لوگ پیشگی قیمت نہیں دیتے اور بعد کے وعدے کرتے ہیں ان میں سے بعض تو صرف وعدوں پر ہی ٹال دیتے ہیں اور بعض کی قیمتوں کی وصولی کے لئے بار بار خط و کتابت میں اور ان سے قیمتیں لینے کے واسطے یادداشتوں کے رکھنے میں اس قدر دقت ہوتی ہے کہ اس زائد محنت اور نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کے واسطے اور نیز اس کا معاوضہ وصول کرنے کے واسطے اخبار بدر کی قیمت مابعد کے نرخ میں ایک روپیہ زائد کیا گیا ہے۔ یعنی مابعد دینے والوں سے قیمت اخبار بجائے تین روپے کے چار روپیہ وصول کئے جاویں گے۔ اس پر ایک دوست لائل پور نے دریافت کیا کہ کیا یہ صورت سود کی تو نہیں ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ شرعی تھا۔ اس واسطے مندرجہ بالا وجوہات کے ساتھ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس کا جواب جو حضرت اقدس نے لکھا۔ وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    جواب: السلام علیکم۔ میرے نزدیک اس سے سود کو کچھ تعلق نہیں۔ مالک کا اختیار ہے جو چاہے قیمت طلب کرے۔ خاص کر بعد کی وصولی میں ہرج بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے۔
    والسلام خاکسار مرزا غلام احمد (البدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۴)
    (۲۷۷) سود کا علاج
    ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھ پر بڑا قرض ہے۔ دعا کیجئے۔ فرمایا۔ توبہ و استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ جو استغفار کرتا ہے۔ اس کے رزق میں کشائش دیتا ہے۔
    پھر پوچھا کہ اتنا قرض کس طرح چڑھ گیا۔ اس نے کہا بہت ساحصہ سودی ہے۔
    جواب: فرمایا۔ پس پھر تو یہ شامت اعمال ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑتا ہے اسے سزا ملتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے فرما دیا کہ اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو لڑائی کا اعلان ہے۔ خدا کی لڑائی ہے کہ ایسے لوگوں پر عذاب بھیج دیتا ہے۔ پس یہ مفلسی بطور عذاب اور اپنے کئے کا پھل ہے۔
    اس شخص نے کہا کیا کریں مجبوری سے سودی قرضہ لیا جاتا ہے۔
    فرمایا۔ جو خدا تعالیٰ پر توکّل کرتا ہے خدا اس کا کوئی سبب پردۂ غیب سے بنا دیتا ہے۔ افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقعہ نہیں بناتا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ یاد رکھو جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا اور چوری۔ ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ہے کسی قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا۔ حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔ معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو۔ جو انسان سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں۔ طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔ بعد ازاں ولیمہ سنت ہے۔ سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔ انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لئے خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں۔ جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔ دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں۔ سؤر کا کھانا بحالت اضطرار رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ فمن اضطر غیر باغٍ ولا عادٍ فَلَا اثم علیہ ان اللّٰہ غفور رحیم۔ یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے یایھا الذین امنوا اتقوا اللّٰہ و زروامابقی من الربو ان کنتم مؤمنین فان تفعلوا فاذنوا بحرب من اللّٰہ و رسولہ۔ اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جو توکل کرتا ہے اسے حاجت نہیںپڑتی۔ مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں۔ مسلمان یہ گناہ کرتے ہیںتو تباہ ہو جاتے ہیں۔ خیرالدنیا والاخرۃ کے مصداق۔ پس کیا یہ ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں۔
    انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدنظر رکھے تا کہ سودی قرضہ کے اُٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ ابھی کل ایک شخص کا خط آیا کہ ہزار روپے دے چکا ہوں۔ ابھی پانچ چھ سو باقی ہے۔ پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں۔ مگر اس میں عدالتوں کا کیاگناہ۔ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے۔ پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور پر اسے فروغ دیتے تا کہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حاجت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دے دیتا۔ احمدی متمول احباب توجہ کریں۔
    حکیم فضل دین صاحب نے سنایا کہ علامہ نورالدین صاحب بھیرہ میں حدیث پڑھا رہے تھے۔ باب الربو تھا۔ ایک سود خوار ساہوکار کے پاس بیٹھ گیا۔ جب سود کی ممانعت سنی تو کہا اچھا مولوی صاحب۔ آپ کو نکاح کی ضرورت ہو تو پھر کیا کریں۔ انہوں نے کہا پس ایجاب قبول کر لیا جائے۔ پوچھا۔ اگر رات کو گھر میں کھانا نہ ہو تو پھر کیا کرو۔ فرمایا۔ لکڑیوں کا گٹھا باہر سے لاؤں۔ روز بیچ کر کھاؤں۔ اس پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ کہنے لگا آپ کو دس ہزار تک اگر ضرورت ہو تو مجھ سے بلا سود لیں۔ حضور نے فرمایا دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لئے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے۔ مَن یتق اللّٰہ تجعل لہ مخرجا۔ جو سود دینے اور ایسے حرام کاموں سے بچے۔ خدا تعالیٰ اس کے لئے کوئی سبیل بنا دے گا۔ ایک کی نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو سود خوار بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ (بدر ۶؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۶)
    (۲۷۸) معاملات تجارت میں سود
    سوال: ایک صاحب کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا کہ جب بینکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کی حالت کو مدنظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے۔ سو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لئے ذاتی، قومی، ملکی، تجارتی وغیرہ اضطرار ات بھی پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں۔
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا اس طرح سے لوگ حرام خوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا سود بہ سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے۔ بلکہ اشاعت اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہونا بتلایا گیا ہے۔ وہ بھی اس وقت تک کہ امداد دین کے واسطے روپیہ مل نہیں سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے۔ کیونکہ کوئی شے خدا تعالیٰ کے واسطے تو حرام نہیں۔ باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات۔ سو ان کے واسطے اور ایسی باتوں کے واسطے سود بالکل حرام ہے۔ وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوقوں کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہاہے۔ (بدر ۶؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۷)
    سوال: ایک شخص نے کہا کہ تجارت کے متعلق خواہ نخواہ سود دینا پڑتا ہے۔
    جواب: ہم جائز نہیں رکھتے۔ مومن ایسی مشکلات میں پڑتا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود اس کا تکفیل کرتا ہے۔ عذرات سے شریعت باطل ہو جاتی ہے۔ کونسا امر ہے جس کے لئے کوئی عذر آدمی نہیں تراش سکتا ہے۔ خداسے ڈرنا چاہئے۔ (الحکم ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۵)
    (۲۷۹) زندگی کا بیمہ کرانا منع ہے
    سوال: ایک دوست کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا۔
    بحضور جناب مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام
    مارچ ۱۹۰۰ء میں مَیں نے اپنی زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپیہ کے کرایا تھا۔ شرائط یہ تھیں کہ اس تاریخ سے تا مرگ… سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا۔ تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ کے میرے وارثان کو ملے گا اور زندگی میں یہ روپے لینے کا حقدار نہ ہوں گا۔ اب تک تقریباً میں نے مبلغ چھ سَو روپے بیمہ کرنے والی کمپنی کو دے دیا ہے۔ اب اگر میں اس بیمہ کو توڑوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حقدار ہوں۔ یعنی دو صد روپیہ ملے گا اور باقی چار صد روپیہ ضائع ہو جائے گا مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم ہو جانے کے میں ایسی حرکات کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے برخلاف ہو اور آپ حَکم اور عدل ہیں۔
    اس واسطے نہایت عجز سے ملتجی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صادر فرمایا جاوے تا کہ اس کی تعمیل کی جاوے۔
    جواب: اس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سنا جاتا ہے اس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظاہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قماربازی ہے۔ اگرچہ وہ بہت سا روپیہ خرچ کر چکے ہیں لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو یہ روپیہ ان سے اور بھی زیادہ گناہ کرائے گا۔ ان کو چاہئے کہ آئندہ زندگی گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر دیویں اور جتنا روپیہ اب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں۔ (البدر ۱۹؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ۳)
    (۲۸۰) رشوت
    رشوت ہرگز نہیں دینی چاہئے۔ یہ سخت گناہ ہے۔ مگر میں رشوت کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ جس سے گورنمنٹ یا دوسرے لوگوں کے حقوق تلف کئے جاویں۔ میں اس سے سخت منع کرتا ہوں۔ لیکن ایسے طور پر کہ بطور نذرانہ یا ڈالی اگر کسی کو دی جاوے۔ جس سے کسی حقوق کے اتلاف مدنظر نہ ہو بلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو تو یہ میرے نزدیک منع نہیں اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا۔ کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی بلکہ لاتلقوا بایدیکم الی التھئکۃ فرمایا ہے۔ (الحکم ۱۷؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۹)
    (۲۸۱) رشوت و ہدیہ میں فرق
    رشوت اور ہدیہ میں ہمیشہ تمیز چاہئے۔ رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا لیا جاوے۔ ورنہ اگر کسی نے ہمارا ایک کام محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہوئی تو اس کو جو دیا جائے گا وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۵۱)
    (۲۸۲) رشوت ستانی
    سوال: رشوت ستانی سے اگر کسی نے مال جمع کیا ہوا ہے اور پھر وہ اس سے توبہ کرلے تو اسے کیا کرناچاہئے؟
    جواب: ایسا مال جو رشوت ستانی سے لیا گیا ہے جب توبہ کرے تو اس مال کو ان لوگوں کو جن سے لیا ہے واپس کرے اور اگر پتہ نہ لگے تو پھر اسے صدقہ و خیرات کر دے۔
    (الحکم ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶)
    (۲۸۳) حکام اور برادری سے تعلق
    سوال: حکام اور برادری سے کیا سلوک کرنا چاہئے۔
    جواب: ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ سب سے نیک سلوک کرو۔ حکام کی سچی اطاعت کرنی چاہئے کیونکہ وہ حفاظت کرتے ہیں۔ جان اور مال ان کے ذریعہ امن میں ہے اور برادری کے ساتھ بھی نیک سلوک اور برتاؤ کرنا چاہئے کیونکہ برادری کے بھی حقوق ہیں۔ البتہ جو متقی نہیں اور بدعات و شرک میں گرفتار ہیں اور ہمارے مخالف ہیں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے تا ہم ان سے نیک سلوک کرنا ضروری چاہئے۔ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو جو دنیا میں کسی سے نیکی نہیں کر سکتا وہ آخر میں کیا جارے لگا۔ اس لئے سب کے لئے نیک اندیش ہونا چاہئے۔ ہاں مذہبی امور میں اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔ جس طرح پر طبیب ہر مریض کی خواہ ہندو ہو یا عیسائی یا کوئی ہو۔ غرض سب کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ اسی طرح پر نیکی کرنے میں عام اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ (الحکم ۱۷؍ اگست ۱۹۰۲ء)
    (۲۸۴) مخالف رشتہ داروں سے تعلق
    سوال: مجھ کو حضور سے بیعت ہوئے عرصہ تقریباً ڈیڑھ سال گذرا ہے۔ اس عرصہ میں مخالفین نے تکلیف پہنچائی ہے اور اب بھی پہنچا رہے ہیں۔ کاروبار دنیوی میں بھی ہر طرح سے روک ڈال رہے ہیں۔ میں خود ان میں رہنا نہیں چاہتا مگر مجبور پڑا ہوا ہوں۔ اب میری بابت جیسا کچھ حضور انور مناسب سمجھیں حکم فرماویں۔ اب مجھ کو کیا کرناچاہئے۔ جیسا حکم ہوں عمل میں لاؤں۔
    جواب: میں نے تمام خط پڑھ لیا ہے۔ میرے نزدیک مناسب ہے کہ بے صبری نہ کریں بلکہ اپنے صبر اور استقامت اور نرمی اور اخلاق کے ساتھ دشمن کو شرمندہ کریں اور نیک سلوک سے پیش آویں اور بہت نرمی کے ساتھ اپنے عقائد کی خوبی اور راستی ان کے ذہن نشین کریں اور اپنا نیک نمونہ ان کو دکھلا دیں۔ ممکن ہے کہ وہ ایذا دہی کی خصلت سے باز آجاویں۔ بہرحال بے صبری نہیں کرنی چاہئے اور کچھ صبر اور استقامت سے کام لینا چاہئے اور اپنے دشمنوں کے حق میں ہدایت کی بھی دعا کرتے رہیں۔ کیونکہ ہمیں خدا نے آنکھیں عطا کی ہیں اور وہ لوگ اندھے اور دیوانہ ہیں۔ ممکن ہے کہ آنکھ کھلے تب حقیقت کو پہنچان لیں۔ (البدر ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء)
    (۲۸۶) ہڑتال کے متعلق
    سوال: ذکر تھا کہ سیالکوٹ کے تجار نے بہ سبب محصول چنگی میں زیادتی کے دکانیں بند کر دی تھیں اور چند روز کا نقصان اٹھا کر پھر خود بخود کھول دیں۔
    جواب: فرمایا۔ اس طرح کا طریق گورنمنٹ کی مخالفت میں برتنا ان کی بے وقوفی تھی۔ جس سے ان کو خود ہی باز آنا پڑا۔ محصول تودراصل پبلک پر پڑتا ہے۔ آسمانی اسباب کے لحاظ کے سبب سے بھی جب کبھی قحط پڑتا ہے تو تاجر لوگ نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ سو اس وقت کیوں دوکانیں بند نہیں کر دیتے۔ (البدر ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ۳)
    (۲۸۷) جان کے خوف میں والدین کی فرمانبرداری
    مدت سے ایک افغان ایسے علاقہ کا رہنے والا جہاں اپنا عقیدہ و ایمان کے اظہار موجب قتل ہو سکتا ہے۔ اس جگہ قادیان میں ایسی تعلیم کے حصول کے واسطے آیا ہوا ہے۔ حال میں اس کے والدین نے اس کو اپنے وطن میں طلب کیا ہے۔ اب اس کو ایک مشکل پیش آئی۔ سو اگر وطن کو جائے تو خوف ہے کہ مبادا وہاں کے اس بات سے اطلاع پا کر کہ یہ شخص خونی مہدی اور جہاد کا منکر ہے قتل کے درپے ہوں اور اگر نہ جاوے تو والدین کی نافرمانی ہوتی ہے۔ پس اس نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ ایسی حالت میں کیا کروں۔ حضرت اقدس نے جواب میں فرمایا۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ چونکہ در قرآن شریف درآن امور کہ مخالف شریعت نہ باشند حکم اطاعت والدین است۔ لہٰذا بہتر است کہ ایں قدر اطاعت کنند کہ ہمراہ شاں روند وآں جا چو محسوس شوند۔ کہ اندیشہ قتل یا حبس است۔ تلاتوقف باز بیائند۔ چرا کہ خود را در معرض ہلاک انداختن جائز نیست۔ ہم چنیں مخالفت والدین ہم جائز نیست۔ پس دریں صورت ہر دو حکم قرآن شریف بجا آوردہ مے شود۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد۔(البدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۲۸۸) ہندوؤں سے ہمدردی
    ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بہ سبب پرانے تعلقات کے ایک ہندو ہمارے شہر کا ہمارے معاملات شادی اور غمی میں شامل ہوتا ہے اور کوئی مر جائے تو جنازہ میں بھی ساتھ جاتا ہے۔
    فرمایا کہ ہندوؤں کی رسوم اور امور مخالف شریعت اسلام سے علیحدگی اور بیزاری رکھنے کے بعد دنیوی امور میں ہمدردی رکھنا اور ان کی امداد کرنا جائز ہے۔
    یہ شرک ہے کہ ایک تخصیص بلاوجہ کی جاوے۔ جب خدا کے سوا کسی چیز کی محبت بڑھ جاتی ہے تو پھر انسان صمٌ بُکمٌ ہو جاتا ہے۔ جو اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام توحید کے لئے آیا ہے جب توحید کے خلاف چلے تو پھر مسلمان کیسا۔ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کو یہ لوگ خدا کا حصہ دار بناتے ہیں خود ان کو بھی یہ مقام توحید ہی کے ماننے سے ملا تھا۔ اگر وہ بھی ایسے ہانکنے والے ہوتے تو ان کو یہ مقام ہرگز نہ ملتا بلکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی اطاعت اختیار کی۔ تب یہ رتبہ ان کو ملا۔ یہ لوگ شیعوں اور عیسائیوں کی طرح ایک قسم کا شرک کرتے ہیں۔ (الحکم ۱۵ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲)
    (۲۸۹) طعام اہل کتب و اہل ہنود پر فیصلہ کن تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    مورخہ ۳۰؍ جون ۱۹۰۴ء کو امریکہ اور یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس میں یہ بھی ذکر آ گیا کہ دودھ اور شوربا وغیرہ جو ٹینوں میں بند ہو کر ولایت سے آتا ہے بہت نفیس اور ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا۔ دودھ تک بھی بذریعہ مشین کے دوہا جاتا ہے۔
    اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ چونکہ نصاریٰ اس وقت ایسی قوم ہوگئی ہے جس نے دین کے حدود اور اس کے حلال و حرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سؤر کا کوشت ان میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے۔ بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سر جیسا کہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس لئے شبہ پڑ سکتا ہے کہ بسکٹ اور دودھ وغیرہ جو ان کے کارخانوں وغیرہ کے بنے ہوئے ہوں ان میں سؤر کی چربی اور سؤر کے دودھ کی آمیزش ہو۔ اس لئے ہمارے نزدیک ولایتی اور اس قسم کے دودھ اور شوربے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلاف تقویٰ اور ناجائز ہیں۔ جس حالت میں کہ سؤر کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیاء خوردنی جو کہ یہ لوگ تیار کرکے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصہ اس کا نہ ہوتا ہو۔
    اس پر ابوسعید المعروف عرب صاحب تاجر برنج رنگون نے ایک واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں یوں عرض کیا کہ رنگون میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بنانے کا ایک کارخانہ انگریزوں کا تھا۔ وہ ایک مسلمان تاجر نے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرید لیا۔ جب اس نے حساب و کتاب کی کتابوں کو پڑتا ل کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سؤر کی چربی بھی اس کارخانہ میں خریدی جاتی رہی ہے۔ دریافت پر کارخانے والوں نے بتلایا کہ ہم اسے بسکٹ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر یہ چیزیں لذیذ نہیں ہوتیں اور ولایت میں بھی یہ چربی ان چیزوں میں ڈالی جاتی ہے۔چونکہ اس موقع پر ہم میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کو اکثر سفر کا اتفاق ہوا ہے اور بعض بھائی افریقہ وغیرہ دور دراز مصارو بلاد میں اب تک موجود ہیں جن کو اس قسم کے دودھ اور بسکٹ وغیرہ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے اس لئے ان کو بھی مدنظر رکھ کر دوبارہ اس مسئلہ کی نسبت دریافت کیا گیا اور نیز اہل ہنود کے کھانے کی نسبت عرض کیا گیا کہ یہ لوگ بھی اشیاء کو بہت غلیظ رکھتے ہیں اور ان کی کڑاہیوں کو اکثر کُتّے چاٹ جاتے ہیں۔
    اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ۔ ہمارے نزدیک نصاری کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور ازروئے قرآن مجید کے وہ حرام نہ ہو۔ ورنہ اس کے یہی معنی ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاریٰ کے ہاتھ سے کھا لیا اور نصاریٰ پر ہی کیا منحصر ہے۔ اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ مثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حلال و حرام کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا تیار کردہ چیزوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہم گھر میں ولایتی بسکٹ استعمال نہیں کرنے دیتے۔ بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنی کے منگوایا کرتے ہیں۔ عیسائیوں کی نسبت ہندوؤں کی حالت اضطراری ہے کیونکہ یہ کثرت سے ہم لوگوں میں مل جل گئے ہیں اور ہر جگہ انہی کی دکانہیں موجود ہوتی ہیں۔ اگر مسلمانوں کی دکانہیں ہوں اور سب شے وہاں سے مل جاوے تو پھر البتہ ان سے خوردنی اشیاء نہ خریدنی چاہئیں۔ علاوہ ازیں میرے نزدیک اہل کتاب سے مراد غالباً یہودی ہی ہیں کیونکہ وہ کثرت سے اس وقت عرب میں آباد تھے اور قرآن شریف میں بار بار خطاب بھی انہی کو ہے اور صرف توریت ہی کتاب اس وقت تھی جو کہ حلت اور حرمت کے مسئلے بیان کر سکتی تھی اور یہود کا اس پر اس امر میں جیسے عملدرآمد اس وقت تھا ویسے ہی اب بھی ہے۔ انجیل کوئی کتاب نہیں۔
    (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۱۰)
    (۲۹۰) مخالفوں کے گھر کی چیزیں کھانا
    سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیزیں کھا لیوں یا نہ؟
    جواب: فرمایا۔ نصاریٰ کی پاک چیزیں بھی کھا لی جاتی ہیں۔ ہندوؤں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں۔ پھر ان کی چیز کھا لینا کیا منع ہے۔ ہاں میں تو نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو۔ اس کے سوائے دنیاوی معاملات میں بے شک شریک ہو۔ احسان کرو، مروت کرو اور ان کو قرض دو۔ اور ان سے قرض لو۔ اگر ضرورت پڑے اور صبر سے کام لو شاید کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔ (الحکم ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱)
    (۲۹۱) اہل کتاب کا کھانا
    سوال: اہل کتاب کے کھانا کھانے پر بابو محمد افضل صاحب کے سوال پر جواب دیا کہ تمدن کے طور پر ہندوؤں کی چیز بھی کھا لیتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں کا کھانا بھی درست ہے مگر باینہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہو۔ کوئی ناپاک چیز نہ ہو۔ (الحکم ۱۷؍ جون ۱۹۰۱ء صفحہ۴)
    (۲۹۲) ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا
    اس کے بعد ایک شخص نے سوال کیا کہ ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست نہیں؟
    فرمایا شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا پر زور دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گذارا بھی تو نہیں ہوتا ہے۔
    (الحکم ۱۰؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۲۹۳) چھری کانٹے سے کھانا
    چھری کانٹے سے کھانے کے متعلق فرمایا کہ اسلام نے منع تو نہیں فرمایا ہاں تکلف سے ایک بات یا ایک فعل پر زور دینے سے منع کیا ہے۔ اس خیال سے کہ اس قوم میں مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا اور یہ فعل اس لئے کیا کہ امت کو تکلیف نہ ہو۔ جائز صورتوں پر کھانا جائز ہے۔ مگر بالکل اس کا پابند ہونا تکلف کرنا اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو ناجائز سمجھنا منع ہے کیونکہ آہستہ آہستہ انسان یہاں تک تتبع کرتا ہے کہ ان کی طرح طہارت بھی چھوڑ دیتا ہے۔ من تشبہ بقوم فھومنھم سے یہی مراد ہے کہ التزامًا ان باتوں کو نہ کرے۔ ورنہ بعض وقت جائز صورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے۔ میں خود بعض وقت میز پر کھانا رکھ لیتا ہوں۔ جب کام کی کثرت ہوتی ہے اور میں لکھتا ہوں ایسا ہی کبھی چٹائی پر کبھی چارپائی پر بھی کھاتا ہوں۔ تشبہ کے یہی معنی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لیا جائے۔ ورنہ ہمارے دین کی سادگی پر غیر اقوام نے بھی رشک کھایا ہے اور انگریزوں نے بھی تعریف کی ہے اور اکثر اصول ان لوگوں نے عرب سے لے کر اختیار کئے تھے۔ مگراب رسم پرستی کے طور پر مجبور ہیںکہ ترک نہیںکر سکتے۔ (البدر ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۳۱)
    (۲۹۴) حقہ وغیرہ پر نصیحت
    حدیث میں آیا ہے ومن حسن الاسلام بترک مالایغنیہ۔ یعنی اسلام کا حسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دی جاوے۔
    اس طرح پر یہ پان حقہ زردہ (تمباکو) افیون وغیرہ ایسی چیزیں ہیں۔ بڑی سادگی یہ ہے کہ ان چیزوں سے پرہیز کرے۔ کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان ان کا بفرض محال نہ ہو تو بھی اس سے ابتلاآ جاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے۔ مثلاً قید ہو جائے تو روٹی تو ملے گی۔ لیکن بھنگ چرس یا اور منشی اشیاء نہیں دی جاویں گی یا اگر قید نہ ہو کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائمقام ہو تو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔
    عمدہ صحت کو کسی بیہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہئے۔ شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مضر ایمان قرار دیا ہے اوران سب کی سردار شراب ہے۔
    یہ سچی بات ہے کہ نشوںاور تقویٰ میں عداوت ہے۔ افیون کا نقصان بھی بہت بڑا ہوتاہے۔ طبی طور پر یہ شراب سے بھی بڑھ کر ہے اور جس قدر قویٰ لے کر انسان آیا ہے ان کو ضائع کر دیتی ہے۔ (الحکم ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ۳)
    (۲۹۵) تمباکو
    تمباکو ہم مسکرات میں داخل نہیںکرتے لیکن یہ ایک لغو فعل ہے۔ اور مومن کی شان ہے وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِمُنوْن۔ اگر کسی کو کوئی طبیب بطور علاج بتائے تو ہم منع نہیںکرتے۔ ورنہ یہ لغو اور اسراف کا فعل ہے اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تو آپ اپنے صحابہؓ کے لئے کبھی پسند نہ فرماتے۔ (الحکم ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۷)
    تمباکو کے مضرات کے متعلق ایک انگریزی ٹریکٹ مجلس میں پڑھا جا رہا تھا کہ جس میں قریباً کل بیماریوں کا باعث تمباکو کا استعمال قرار دیا گیا اور تمباکو کی مذمت میں بہت مبالغہ کیا ہوا تھا۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا کی بات اور مخلوق کی بات میں کس قدر فرق ہوا کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اگر کسی شے کے نقصانات بیان کرتا ہے تو ساتھ ہی منافع بھی بیان کرتا ہے۔ کیونکہ کوئی شے ایسی نہیں ہے کہ جس میں کچھ پہلو منافع کا نہیں لیکن مخلوق کے علوم کو دیکھو کہ نقصانات کے بیان کرنے میں کس قدر مبالغہ کیا ہے اور تمباکو کے نفع کا نام بھی نہیں لیا۔
    تمباکو کے بارے میں اگرچہ شریعت نے کچھ نہیں بتلایا۔ لیکن ہم اسے اس لئے مکروہ خیال کرتے ہیں کہ اگر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ اس کے استعمال کو منع فرماتے۔ (البدر ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۲۰۸)
    تمباکو کی نسبت فرمایا کہ یہ شراب کی طرف تو نہیں ہے کہ اس سے انسان کو فسق و فجور کی طرف رغبت ہو مگر تا ہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پرہیز کرے۔ منہ میں اس سے بدبو آتی ہے اور یہ منحوس صورت ہے کہ انسان دھؤاں اپنے اندر داخل کرے اور پھر باہر نکالے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ صلعم کے وقت یہ ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوے۔ ایک لغو اور بیہودہ حرکت ہے۔ ہاں مسکرات میں اسے شامل نہیں کر سکتے۔ اگر علاج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے۔ ورنہ یونہی مال کو بے جا صرف کرنا ہے۔ عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی شے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا۔ انگریز چاہتے ہیں کہ اسے دور کر دیں۔
    (البدر ۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء)
    (۲۹۲) حقہ نوشی
    فرمایا۔ انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور بہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے آئے ہیں۔ بڑھاپے میں آ کر جب کہ عادت کا چھوڑنا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہو جاتے ہیں۔ میں حقہ کو منع کہتا اور ناجائز قرار دیتا ہوں۔ مگر ان صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔ یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پرہیز کرنا چاہئے۔ (البدر۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۱۰)
    مورخہ ۲۹؍ مئی ۱۸۹۸ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا ملخص یہ ہے۔ میں نے چند ایسے آدمیوں کی شکایت سنی تھی کہ وہ پنج وقت نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں ٹھٹھے اور ہنسی اور حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا اور بعض کی نسبت شک کیا گیا تھا کہ وہ پرہیزگاری کے پاک اصول پر قائم نہیں ہیں۔ اس لئے میں نے بلاتوقف ان سب کو یہاں سے نکال دیا ہے کہ تا دوسروں کو ٹھوکر کھانے کا موجب نہ ہوں۔ حقہ کاترک اچھا ہے۔ منہ سے بو آتی ہے۔ ہمارے والد صاحب مرحوم نے اس کے متعلق ایک شعر بنایا ہواپڑھا کرتے تھے۔ جس سے اس کی بُرائی ظاہر ہوتی ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۵۹)
    (۲۹۷) تمباکو نوشی برائے علاج
    ایک شخص نے سوال کیا کہ سنا گیا ہے کہ آپ نے حقہ نوشی کو حرام فرمایا ہے۔
    حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔ ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا کہ تمباکو پینا مانند سؤر اور شراب کے حرام ہے۔ ہاں ایک لغو امر ہے۔ اس سے مومن کو پرہیزچاہئے۔ البتہ جو لوگ کسی بیماری کے سبب مجبور ہیں وہ بطور دوا و علاج کے استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں۔
    (بدر ۲؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۲ و ۲۳؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۲۰۸)
    (۲۹۸) شراب
    حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ سچا سُکھ یا راحت کفار کو حاصل ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ یہ لوگ شراب جیسی چیزوں کے کیسے غلام ہیں اور ان کے حوصلے کیسے پست ہیں۔ اگر اطمینان اور سکینت ہو تو پھر خود کشیاں کیوں کرتے ہیں۔ ایک مومن کبھی خود کشی نہیں کر سکتا۔ جیسے شراب اور دوسرے نشہ بظاہر غم غلط کرنے والے مشہور ہیں۔ اسی طرح سب سے بہتر غم غلط کرنے والا اور راحت بخشنے والا سچا ایمان ہے۔ یہ مومن ہی کے لئے ہے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ۔ (الحکم ۱۷؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۹۲)
    شراب کے ذکر پر کسی نے کہا کہ اب تو حضور شراب کے بسکٹ بھی ایجاد ہوئے ہیں۔
    فرمایا۔ شراب تو انسانی شرم حیا، عفت و عصمت کا جانی دشمن ہے۔ انسانی شرافت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتے، بلے، گدھے ہوتے ہیں۔ اس کو پی کر بالکل انہی کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں ناکردہ گناہ بھی ان میں شامل ہو جایا کریں گے۔ پہلے تو بعض کو شرم و حیا ہی روک دیتی تھی اب بسکٹ لئے اور جیب میں ڈال لئے۔ بات یہ ہے کہ دجال نے اپنی کوششوں میں تو کمی نہیں رکھی کہ دنیا کو فسق و فجور سے بھر دے۔ مگر آگے خدا کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرے۔ اسلام کی کیسی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام پر کوئی اعتراض کیا۔ اس سے شراب کی بدبو آئی اس کو حد مارنے کا حکم دیا کہ شراب پی کر اسلام پر اعتراض کیا۔ مگر اب تو کچھ حد و حساب نہیں۔ شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں۔ غرض کوئی بدی نہیں جو نہ کرتے ہوں مگر باینہمہ پھر اسلام پر اعتراض کرنے کو تیار ہیں۔
    (الحکم ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵)
    (۲۹۹) بھنگ، چرس، افیون و عادات بد کا چھوڑنا و عہدبیعت پر ثابت قدم رہنا
    بہت لوگ بیعت کی حقیقت نہیں سمجھتے۔ اس لئے یاد رکھو کہ تم نے آج اللہ تعالیٰ کی جناب میں اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کر کے آئندہ کے لئے توبہ کی تھی کہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ نہیں کریں گے۔ یہ وہ عہد اور اقرار ہے جو تم نے میرے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کے ساتھ کیا ہے۔ اس لئے تم کو چاہئے کہ اپنے اس اقرار اور عہد کے موافق جہاں تک تمہاری سمجھ اور طاقت ہے گناہوں سے بچتے رہو۔ کیونکہ اس اقرار کی دو تاثیریں ہوتی ہیں یا تو آئندہ زندگی میں یہ فضل کا وارث بنا دیتا ہے جب کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس پر رحمت نازل کرے گا اور جب اس عہد اور اقرار کو توڑے گا تو پھر عذاب کا مستحق ہوگا کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو توڑتا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا ہے۔ دنیا میں دیکھ لو کہ جب ایک آدمی کسی سے کوئی اقرار کر کے اسے توڑتا ہے تو وہ جرم عہد شکنی کا مرتکب ہوتا ہے اور سزا پاتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ جو عہد کر کے توڑتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور اسے سزا ملتی ہے۔ پس آج کے جمعہ کے روز کا اقرار کہ ہم گناہوں سے بچتے رہیں گے۔ بڑی بھاری بات ہے کیونکہ یا تو آج سے تمہارے لئے رحمت کی بنیاد پڑتی ہے یا عذاب کی۔ اگر کوئی شخص محض خدا کے لئے ان ساری باتوں کو چھوڑتا ہے جو اس کی عادت میں ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور نارضامندی کا موجب ہیں تو وہ بڑی رحمت کا مستحق ہوتا ہے۔ عادت کا سنوارنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ جیسے افیونی، شرابی، جھوٹ بولنے والے وغیرہ کو اپنی عادت کا چھوڑنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو یہ سہل کام نہیں ہے۔ اسی طرح پر جب کوئی آدمی گناہ کرتا رہتا ہے اورایک حصہ اس کی عمر کا اس گناہ میں گزر جاتا ہے تو جیسے ان نشہ بازوں کو جو افیونی، چرسی، بھنگی وغیرہ ہوتے ہیں اپنی عادت کے خلاف چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ گہنگار کو بھی اپنی عادت سے باز آنا بہت ہی مشکل معلوم ہوتا ہے اور بدون دکھ اُٹھائے وہ اس عادت کو چھوڑ نہیں سکتا۔ لیکن اگر وہ دکھ اُٹھا کر بھی اس بدعادت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے تو پھر وہ آرام بھی پاتا ہے۔ ماسوا اس کے ایک اور مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ افیونی یا شرابی یا اور قسم کا نشہ کھانے والے کو تو اس کے گھر والے بھی پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ وہ ان نشوں کو چھوڑ دے کیونکہ جس قدر وہ نشے میں غرق رہے گا۔ اسی قدر معاش میں سست اور غافل ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ بیوی بچے والدین سب اس سے ناراض ہونگے اور کوشش کرتے رہیں گے کہ کسی طرح وہ ان نشوں سے باز آوے۔ مگر بعض عادتیں اور گناہ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ گھر والے اور کنبہ والے ان کے حامی ہو جاتے ہیں۔ مثلاً رشوت لینے والا اگر توبہ کرے اور رشوت سے باز آوے تو بیوی ناراض ہوگی۔ والدین ناراض ہوں گے کیونکہ بظاہر ان کے مفاد اور آمدنی میں فرق آئے گا اور وہ کب گوارا کریں گے کہ ایسا ہو۔ اس قسم کی صورتوں میں تو وہ اس کے گناہ کی عادتوں کے حامی اور معاون ہوں گے۔ ایسا ہی ایک زمیندار اپنے کاروبار کو چھوڑ کر جب نماز پڑھنے لگے توگھر والے کب پسند کریں گے کہ وہ ہل چھوڑ دے اور نماز میں لگا رہے۔ وہ تو اسے ملامت کریں گے یا کب وہ چاہیں گے کہ یہ روزہ رکھ کر سست ہو اور کام نہ کرے۔ اسی طرح پر چوری یا قماربازی کی عادت رکھنے والے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے گھر والے ان کی حمایت کرتے ہیں اور پھر ان کو ان عادتوں سے باز آنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ایک تو ان کا نفس ہے جو عادت کا خوکردہ ہوتا ہے۔ ان بدیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پھر گھر والے بھی حامی ہوتے ہیں۔ اس لئے توبہ کرنا بہت ہی مشکل ہے لیکن جو سچی توبہ اختیار کرتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضلوں کا وارث بنتا ہے۔ یہ مت سمجھو کہ فریب یا دغا سے کوئی رزق کما سکتا ہے۔ رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔ قرآن شریف میں وعدہ ہے کہ جو شخص توکل کرے گا اور متقی ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو خود رزق دے گا۔ جیسے فرمایا مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا و یرزقہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبْ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہ کو چھوڑ دے گا تو میں ہر ایک تنگی سے اسے نجات دوں گا اور اس کے لئے رزق کی ایسی راہ پیدا ہوگی اور ایسے طور سے اس کو رزق ملے گا کہ معلوم بھی نہیں ہوگا کہ کہاں سے رزق آتا ہے۔ ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا ہے۔ ھُوَیَتَوَلَّی الصّالِحْیِنَ۔ جیسے ماں شیر خوار بچہ کی پرورش کرتی ہے۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرتا ہے۔ پھر ایک جگہ فرمایا۔ رزقکم فِی السَّماء وَمَا تُوْعدون۔ تمہارا رزق اور جو کچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے۔ آسمان میں ہے۔ پھر اس کو تاکید کے ساتھ ثابت کیا کہ فررب السماء والارض انہ لحق درحقیقت خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور اس سے ڈر کر گناہوں سے نجات ملتی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کا بھروسہ چھوڑتا ہے وہ درحقیقت اس کو مانتا ہی نہیں ہے۔ گناہوں سے بچنے کی اصلی جڑ یہی ہے کہ جب گناہ چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر چھوڑتا ہے۔ جو لوگ بیعت کرتے ہیں ان کو مناسب ہے کہ وہ سچی توبہ کریں۔ اس کے بغیر فائدہ نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کوئی بازار سے شربت بنفشہ لے اور دراصل وہ نہ ہو تو اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح پر جو نرے سڑے ہوئے لفظ ہی ہیں وہ زبان تک ہی آتے ہیں اوپر نہیں جاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ اس صورت میں بیعت کرانے والے کو تو ثواب ہو جاتا ہے مگر کرنے والے کو نہیں ہوتا۔
    یہ بھی یاد رکھو کہ بیعت کے معنی بیچ دینے کے ہیں۔ اگر تم میں کوئی اپنا بیل بیچ دے تو وہ پھر اس پر کیا حق رکھ سکتا ہے۔ جس نے لیا ہے وہ اسے جس طرح چاہے کام میں لائے۔ اسی طرح تم نے اپنے آپ کوخدا تعالیٰ کی راہ میں بیچ دیا ہے۔ اب جس کی بیعت کی اس کی مرضی پر چلنا ضروری ہوگا۔ اگر کچھ اپنی مرضی کے موافق کرو اور کچھ اس کی باتیں مانو تو یہ بیعت کوئی فائدہ نہ دے گی بلکہ نقصان ہوگا۔ خدا تعالیٰ ملی جلی باتوں کو پسند نہیں کرتا۔ وہ خلوص چاہتا ہے اس لئے اپنی طاقت کے موافق کوشش کرو کہ صالح بن جاؤ۔ اپنی عورتوں کو بھی نصیحت کرو کہ وہ نمازیں پڑھیں۔ معمولی ایام کے سوا جب کہ انہیں معاف ہوتی ہے کبھی نماز چھوڑنی نہیں چاہئے۔ اس طرح پر اپنے ہمسایوں کو بھی سکھاؤ اور غافل نہ رہو۔ یہ بھی چاہئے کہ اس بات کو کسی واقف کار سے معلوم کر لو کہ خدا تعالیٰ نے جو اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ اس کی کیا غرض ہے۔ لوگوں نے خدا تعالیٰ کے دین کو بدل دیا ہے۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کو اصل حالت پر قائم کرے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۵۹،۶۱)
    (۳۰۰) تمام اشیائے منشی سے پرہیز کی تاکید
    اے عقلمندو! دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں۔ تم سنبھل جاؤ۔ تم ہر ایک بے اعتدالی کو چھوڑ دو۔ ہر ایک نشہ کی چیز کو ترک کر دو۔ انسان کو تباہ کرنے والی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیون، گانجا، چرس، بھنگ، تاڑی اور ہر ایک نشہ جو ہمیشہ کے لئے عادت کر لیاجاتا ہے۔ وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سو تم اس سے بچو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں ان چیزوں کو استعمال کرتے ہو۔ جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں۔ یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مگر اے مسلمانو! تمہارے نبی علیہ السلام تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں۔ سو تم مسلمان کہلا کر کس کی پیروی کرتے ہو۔ قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔ پھر تم کس دستاویز سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو۔ کیا مرنا نہیں ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۷۱)
    (۳۰۱) مقویات کا استعمال اور مسیح موعود
    منشی الٰہی بخش اور اس کے دوسرے رفیق اعتراض کرتے ہیں کہ میں بیدمشک اور کیوڑہ کا استعمال کرتا ہوں یا اور اس قسم کی دوائیاں کھاتا ہوں۔ تعجب ہے کہ حلال اور طیب چیزوں کے کھانے پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر وہ غور کر کے دیکھتے اور مولوی عبداللہ غزنوی کی حالت پر نظر رکھتے تو میرا مقابلہ کرتے ہوئے ان کو شرم آ جاتی۔ مولوی عبداللہ کو بیویوں کا استغراق تھا۔ اس لئے انڈے اور مرغ کثرت سے کھاتے تھے۔ یہاں تک کہ اخیر عمر میں شادی کرنا چاہتے تھے۔ میری شہادت مل سکتی ہے کہ مجھے کیوڑہ وغیرہ کی ضرورت کب پڑتی ہے۔ میں کیوڑہ وغیرہ کا استعمال کرتا ہوں جب دماغ میں اختلال معلوم ہوتا ہے یا جب دل میں تشنج ہوتا ہے۔ خدائے وحدہٗ لاشریک جانتا ہے کہ بجز اس کے مجھے ضرورت نہیں پڑتی۔ بیٹھے بیٹھے جب بہت محنت کرتا ہوں تو ایک دفعہ ہی دورہ ہوتا ہے۔ بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ قریب ہے کہ غش آجاوے۔ اس وقت علاج کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور اس لئے ہر روز باہر سیر کو جاتا ہوں۔
    مگر مولوی عبداللہ جوکچھ کرتے تھے یعنی مرغ، انگور، انڈے وغیرہ جو استعمال کرتے تھے اس کی وجہ کثرت ازدواج تھی اور کوئی سبب نہ تھا۔
    انبیاء علیہم السلام ان چیزوں کو استعمال کرتے تھے مگر وہ خدا کی راہ میں فدا تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی گھبراتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہاتھ مار کر کہتے۔ اے عائشہ ہم کو راحت پہنچا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو سارا جہان دشمن تھا۔ پھر اگر ان کے لئے کوئی راحت کا سامان نہ ہو تو یہ خدا کی شان ہی کے خلاف ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے کہ جیسے کافور کے ساتھ دو چار مرچیں رکھی جاتی ہیں کہ اُڑ نہ جاوے۔
    (الحکم ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱)
    (۳۰۲) عیسائیوں سے معانقت دکھانا
    مورخہ ۱۱؍اگست ۱۹۰۲ء قبل نماز ظہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور معانقہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
    فرمایا۔ میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں۔ یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے کہ وہ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہم ان سے معانقہ کریں۔ قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع کرتا ہے۔ جہاں اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر ہنسی اُڑائی جاتی ہو اور پھر یہ لوگ خنزیر خور ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی ماں بہن کو گالی دے تو کیا وہ روا رکھے گا کہ اس کے ساتھ مل کر بیٹھے اور معانقہ کرے۔ پھر جب یہ بات نہیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمنوں اور گالیاں دینے والوں سے کیوں اس کو جائز رکھا ہے۔
    (الحکم ۷؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰)
    (۳۰۳) پانی میں دم کرانا اور تبرک لینا
    سوال: ایک شخص نے دریافت کیا کہ پانی میں دم کرانا اور تبرک لینا جائز ہے؟
    جواب: کہ سنت سے ثابت ہے۔ مگر کسی صالح سے تبرک لینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو جیسا کہ مسلمہ کذاب کا تبرک ہوتا تھا۔ جہاں ہاتھ ڈالتا تھا وہ پانی بھی خشک ہو جاتا تھا۔
    (البدر ۲۱؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۳۰۴) بندوق سے مرا ہوا جانور
    سوال: ایک شخص نے حضرت اقدس سے سوال کیا کہ بندوق کی گولی سے جو حلال جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی مر جاوے اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: فرمایا۔ گولی چلانے سے پہلے تکبیر پڑھ لینی چاہئے۔ پھر اس کا کھانا جائز ہے۔
    (بدر ۷؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۳۰۵) دریائی جانور کون سے حلال ہیں
    سوال پیش ہوا کہ دریائی جانور حلال ہے یا نہیں؟
    جواب: فرمایا۔ دریائی جانور بے شمار ہیں۔ ان کے واسطے ایک ہی قاعدہ ہے۔ جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرما دیا ہے کہ جو ان میں سے کھانے میں طیب پاکیزہ اور مفید ہوں ان کو کھا لو دوسروں کو مت کھاؤ۔ (بدر ۵ ؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۳۰۶) جوہڑ کے پانی کا استعمال
    سوال: ۱۸؍ ستمبر ۱۹۰۷ء قادیان کے اردگرد نشیب میں بارش اور سیلاب کا پانی جمع ہو کر ایک جوہڑ سا بن جاتا ہے۔ جس کو یہاں ڈھاب کہتے ہیں۔ جن ایام میں یہ نشیب زمین (ساری یا اس کا کچھ حصہ) خشک ہوتی ہے تو گاؤں کے لوگ اس کو رفع حاجت کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس میں بہت سی ناپاکی جمع ہو جاتی ہے جو سیلاب کے پانی کے ساتھ مل جاتی ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بمعہ خدام جب باہر سیر کے لئے تشریف لے گئے تو اس ڈھاب کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا پانی گاؤں کی صحت کے واسطے مضر ہوتا ہے۔ پھر فرمایا۔ اس پانی میں بہت سا گند شامل ہو جاتا ہے اور اس کے استعمال سے کراہت آتی ہے اگرچہ فقہ کے مطابق اس سے وضو کر لینا جائز ہے کیونکہ فقہاء کے مقرر کردہ وہ وردہ سے زیادہ ہے تا ہم اگر کوئی شخص جس نے اس میں گندگی پڑتی دیکھو اگر اس کے استعمال سے کراہت کرے تو اس کے واسطے مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ اس سے یہ پانی استعمال کرایا جائے۔
    جیسا کہ گوہ کا کھانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز رکھا ہے مگر خود کھانا پسند نہیں فرمایا۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسا کہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔
    سعدیا حب وطن گرچہ حدیثے است درست
    نتواں مرد بسختی کہ دریں جا زادم
    (۳۰۷) صدقہ کی جنس خرید لینا جائز ہے
    سوال: ایک شخص نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ میں مرغیاں رکھتا ہوں اور ان کا دسواں حصہ خدا کے نام پر دیتا ہوں اور گھر سے روزانہ تھوڑا تھوڑا آٹا صدقہ کے واسطے الگ کیا جاتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے کہ وہ چوزے اور وہ آٹا خود ہی خرید کر لوں اور اس کی قیمت مد متعلقہ میں بھیج دوں۔
    جواب: فرمایا۔ ایسا کرنا جائز ہے۔
    نوٹ: لیکن اس میں یہ خیال کر لینا چاہئے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسی اشیاء اس واسطے خود ہی خرید کر لے گا کہ چونکہ خرید اور فروخت ہر دو اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں جیسی تھوڑی قیمت سے چاہئے خرید لے تو یہ اس کے واسطے گناہ ہوگا۔
    (۳۰۸) حرمت خنزیر
    ایک نکتہ اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ خنزیر جو حرام کیا گیا ہے خدا نے ابتدا سے اس کے نام میں ہی حرمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کیونکہ خنزیر کا لفظ خنز اور ار سے مرکب ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ میں اس کو بہت فاسد اور خراب دیکھتا ہوں۔ خنز کے معنی بہت فاسد اور ار کے معنی دیکھتا ہوں۔ پس اس جانور کا نام ابتدا سے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ وہی اس کی پلیدی پر دلالت کرتا ہے اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ ہندی میں اس جانور کو سؤر کہتے ہیں اور یہ لفظ بھی سوء اور ارسے مرکب ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں میں اس کو بہت بُرا دیکھتا ہوں۔ اس سے تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ سوء کا لفظ عربی کیونکر ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی کتاب منن الرحمن میں ثابت کیا ہے کہ تمام زبانوں کی ماں عربی زبان ہے اور عربی کے لفظ ہر ایک زبان میں نہ ایک نہ دو بلکہ ہزاروں ملے ہوئے ہیں۔ سؤر عربی لفظ ہے۔ اس لئے ہندو میں سؤر کا ترجمہ بد ہے۔ پس اس جانور کو بد بھی کہتے ہیں۔ اس میں کچھ شک معلوم نہیں ہوتا کہ اس زمانہ میں جب کہ تمام دنیا کی عربی زبان تھی۔ اس ملک میں یہ نام اس جانور کا عربی میں مشہور تھا۔ جو خنزیر کے نام سے ہم معنی ہے۔ پھر اب تک یادگار باقی رہ گیا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ شاستری میں اس کے قریب قریب ہی لفظ متغیر ہو کر اور کچھ بن گیا ہو۔ مگر صحیح لفظ یہی ہے کیونکہ اپنی وجہ تسمیہ ساتھ رکھتا ہے۔ جس پر لفظ خنزیر گواہ ناطق ہے اور یہ معنی جو اس لفظ کے ہیں یعنی بہت فاسد۔ اس کی تشریح کی حاجت نہیں۔ اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اوّل درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیر اور دیوث ہے۔ اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت بھی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر پلید ہی ہو کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہوتا ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی پڑے گا۔ جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کرتا ہے اور دیوثی کو بڑھاتا ہے اور مردار کا کھانا بھی اسی لئے اس شریعت میں منع ہے کہ مردار بھی کھانے والے کو اپنے رنگ میں لاتا ہے اور نیز ظاہری صحت کے لئے بھی مضر ہے اور جن جانوروں کا خون اندر ہی رہتا ہے جیسے گلا گھونٹا ہوا یا لاٹھی سے مارا ہوا یہ تمام جانور حقیقت مردار کے حکم میں ہی ہیں۔ کیا مردہ کا خون اندر رہنے سے اپنی حالت پر رہ سکتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ بوجہ مرطوب ہونے کے بہت جلد گندہ ہو گا اور اپنی عفونت سے تمام گوشت کو خراب کرے گا اور نیز خون کے کیڑے جو حال کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئے ہیں مرکر ایک زہرناک عفونت بدن میں پھیلا دیں گے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ۲۳)
    (۳۰۹) شہد
    شہد کے تذکرہ پر آپ نے فرمایا کہ دوسری تمام شیرینیوں کو تو اطبا نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔ انب وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربہ کئے گئے ہیں کہ وہ بالکل خراب نہیں ہوتے سالہا ویسے ہی پڑے رہتے ہیں۔
    فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے انڈے پر تجربہ کیا تو تعجب ہوا کہ اس کی زردی تو ویسی ہی رہی مگر سفیدی انجماد پا کر مثل پتھر کے سخت ہوگئی۔ جیسے پتھر نہیں ٹوٹتا وہ بھی نہیں ٹوٹتی تھی۔
    خدا تعالیٰ نے اسے شفاء للناس کہا ہے۔ واقعی عجیب اور مفید چیز ہے یہی تعریف قرآن شریف نے فرمائی ہے۔ ریاضت کش اور مجاہدہ کرنے والے لوگ اکثر اسے استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں وغیرہ کو محفوظ رکھتا ہے۔
    اس میں ال کو ناس پر لگایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اپنے یعنی خدا تعالیٰ کے ناس جو (بندے) ہیں اور اس کے قرب کے لئے مجاہدے اور ریاضتیں کرتے ہیں ان کے لئے شفا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ تو ہمیشہ خواص کو پسند کرتا ہے۔ عوام سے اسے کیا کام۔
    (الحکم ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۳۱۰) آبکاری کی تحصیلداری جائز ہے یا ناجائز
    ایک دوست جو محکمہ آبکاری میں نائب تحصیلدار ہیں ان کا خط حضرت کی خدمت میں آیا اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا اس قسم کی نوکری ہمارے واسطے جائز ہے۔
    حضرت اقدس مسیح موعو دعلیہ السلام نے فرمایا کہ اس وقت ہندوستان میں ایسے تمام امور حالت اضطرار میں داخل ہیں۔ تحصیلدار یا نائب تحصیلدار نہ شراب بناتا ہے، نہ بیچتا ہے، نہ پیتا ہے۔ صرف اس کی انتظامی نگرانی ہے اور بلحاظ سرکاری ملازمت کے اس کا فرض ہے۔ ملک کی سلنطت اور حالات موجودہ کے لحاظ سے اضطرارًا یہ امر جائز ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ انسان کے واسطے اس سے بھی بہتر سامان پیدا کرے۔ گورنمنٹ کے ماتحت ایسی ملازمتیں بھی ہو سکتی ہیں جن کا ایسی باتوں سے تعلق نہ ہو۔ خدا تعالیٰ سے استغفار کرتے رہنا چاہئے۔ (بدر ۲۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
    (۳۱۱) نشان کے پورا ہونے پر دعوت
    خان صاحب عبدالحمید خاں نے حضرت کی خدمت میں ڈوئی کے شاندار نشان کے پورا ہونے پر دوستوں کو دعوت دینے کی اجازت حاصل کرنے کے واسطے خط لکھا۔ حضرت اقدس نے اجازت دی اور فرمایا کہ تحدیث بالنعمت کے طو رپر ایسی دعوت کا دینا جائز ہے۔
    (بدر ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۳۱۲) جھنڈ یا بودی کسی کے نام پر رکھنا
    ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ کسی بزرگ کے نام پر جو چھوٹے بچوں کے سر پر جھنڈ یعنی بودی رکھی جاتی ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے۔
    حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔ ناجائز ہے۔ ایسا نہیں چاہئے۔
    (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۳۱۳) لڑکی کا نام جنت رکھنا
    کسی لڑکی کا نام جنت تھا۔ کسی شخص نے کہا کہ یہ نام اچھا نہیں کیونکہ بعض اوقات انسان آواز مارتا ہے کہ جنت گھر میں ہے اور اگر وہ نہ ہو تو گویا اس سے ظاہر ہے کہ دوزخ ہی ہے یا کسی کا نام برکت ہو اور یہ کہاجائے کہ گھرمیں برکت نہیں تو گویا نحوست ہوئی۔
    جواب: فرمایا۔ یہ بات نہیں ہے۔ نام رکھنے سے کوئی ہرج نہیں ہوتا اور اگر کوئی کہے کہ برکت اندر نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اندر نہیں ہے نہ یہ کہ برکت نہیں۔ یا اگر کہے کہ جنت نہیں۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت نہیں اور دوزخ ہے۔ بلکہ یہ کہ وہ انسان اندر نہیں جس کا نام جنت ہے۔ کسی اور نے کہا کہ حدیث میں بھی مخالفت آئی ہے۔ فرمایا کہ میں ایسی حدیثوں کو ٹھیک نہیں جانتا اور ایسی حدیثوں سے اسلام پر اعتراض ہوتا ہے کیونکہ خدا کے بتائے ہوئے نام عبداللہ، عبدالرحیم، عبدالرحمن جو ہیں ان پر یہی بات لگ سکتی ہے کیونکہ جب ایک انسان کہتا ہے کہ عبدالرحمن اندر نہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ عبدالشیطان اندر ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ شخص جس کا نام نیک فال کے طور پر عبدالرحمن رکھا گیا تھا وہ اندر نہیں اور اسی طرح دوسرے نام یا یہ کہ دین محمد اندر نہیں تو کفر کا ہونا ضرور ہوا۔ پس یہ ایک غلط خیال ہے یہ نام ایک نیک فال کے طور پر رکھے جاتے ہیں تا وہ شخص بھی اس نام کے مطابق ہو۔
    (بدر ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۲)
    (۳۱۴) غیر اللہ کی قسمیں کھانا
    سوال: زانجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ سورۃ الطارق میں خدا تعالیٰ نے غیر اللہ کی قسم کیوں کھائی۔ حالانکہ آپ ہی فرماتا ہے کہ بجز اس کے کسی دوسرے کی قسم نہ کھائی جائے۔ نہ انسان نہ آسمان کی نہ زمین نہ کسی ستارہ کی۔ نہ کسی اور کی۔ اور پھر غیر کی قسم کھانے میں خاص ستاروں اور آسمان کی قسم کی خدا تعالیٰ کو اس جگہ کیا ضرورت آپڑی۔ سو درحقیقت یہ دو اعتراض ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور بوجہ ان کے باہمی تعلقات کے ہم مناسب سمجھتے ہیںکہ ان کے جواب ایک ہی جگہ بیان کئے جائیں۔
    جواب: سو اوّل قسم کے بارے میں خوب یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ جلشانہٗ کی قسموں کا انسانوں کی قسموں پر قیاس کر لینا قیاس مع الفارق ہے۔ خدا تعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رویت کا قائم مقام ٹھہرا دے جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھو تو قسم کا اصل مفہوم شہادت ہی ہے۔ جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے۔ تا اس سے وہ فائدہ اٹھاوے جو ایک شاہدرویت کی شہادت سے اُٹھانا چاہئے لیکن یہ تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزا دہی یا کسی اور امر پر قادر ہے تو صریح کلمہ کفر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں انسان کے لئے یہی تعلیم ہے کہ غیر اللہ کی ہر گز قسم نہ کھاوے۔
    اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی قسموں کا انسان کی قسموں کے ساتھ قیاس درست نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آتی کہ جو انسان کو قسم کے وقت پیش آتی ہے بلکہ اس کا قسم کھانا ایک اور رنگ کا ہے جو اس شان کے لائق اور اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور غرض اس سے یہ ہے کہ تا صحیفۂ قدرت کے بدیہیات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل کرنے کے لئے بطور شاہد کے پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جب ایک قسم کھانے والا جب مثلاً خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ میرے اس واقعہ پر گواہ ہے۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے بعض کھلے کھلے افعال بعض چھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں۔ اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جا بجا قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے غیر اللہ کی قسم کھائی کیونکہ وہ درحقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں۔ مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس نیت سے ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس …… بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔
    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ۹۶)
    (۳۱۵) قرآن شریف خوش الحانی سے پڑھنا
    حضرت اقدس نے حافظ محبوب الرحمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز ان سے قرآن شریف سنا کریں گے۔ مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ صحیح قرآن شریف پڑھنے والا ہو تو اس سے سنا کروں۔ پھر حافظ صاحب موصوف کو مخاطب کر کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ آج آپ سیر میں کچھ سنائیں۔ چنانچہ تھوڑی دور جا کر آپ نہایت سادگی کے ساتھ ایک کھیت کے کنارے زمین پر بیٹھ گئے اور تمام خدام بھی زمین پر بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے نہایت خوش الہانی سے سورۃ دہر پڑھی جس کے بعد آپ سیر کے واسطے آگے تشریف لے گئے۔ (بدر ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۳۱۶) قادیان میں تجارت کے لئے آنا
    ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ میں تجارت کے لئے یہاں آنا چاہتا ہوں۔ فرمایا۔ یہ نیت فاسد ہے۔ اس سے توبہ کرنی چاہئے۔ یہاں تو دین کے واسطے آنا چاہئے اور اصلاح عاقبت کے لحاظ سے یہاں رہنا چاہئے۔ نیت تو یہی ہو اور اگر پھر اس کے ساتھ کوئی تجارت وغیرہ یہاں رہنے کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے ہو تو حرج نہیں۔ اصل مقصد دین ہو نہ دنیا۔ کیا تجارتوں کیلئے شہر موزوں نہیں؟ یہاں آنے کی اصل غرض کبھی دین کے سوا اور نہ ہو۔ پھر جو کچھ حاصل ہو جائے وہ خدا کا فضل سمجھو۔ (الحکم ۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۳)
    (۳۱۷) ٹیکہ لگوانا
    کسی نے ٹیکہ لگوانے کی بابت دریافت کیا۔ فرمایا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ کوئی بیماری نہیں کہ جس کی دوا نہ ہو۔ ٹیکہ بھی ایک دوا ہے۔ (الحکم اگست ۱۹۰۷ء)
    (۳۱۸) کیمیا
    فرمایا۔ بہت سے لوگ کیمیا کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ عمر کو ضائع کرتے ہیں اور … کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتے ہیں۔ ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدر غربت سے گزارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کے لئے بنایا تھا اس کے باہر ایک ایک اینٹ تو پکی تھی اور باقی اندر سے کچھ کچا تھا۔ ایک دن اسے ایک فقیر ملا۔ جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہراً نہایت نیک معلوم ہوتا تھا بوجہ اس کے ظاہری ورد وظائف کے، وہ سادہ لوح آدمی اس کے ساتھ بہت بیٹھتا تھا اور تعلق رکھتا تھا۔ کچھ مدت کے بعد اس فقیر نے بڑی سنجیدگی سے اس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح کیوں بنایا ہے۔ کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے۔ اس نے جواب دیا کہ روپیہ نہیں غریب ہوں۔ اس پر فقیر نے کہا روپیہ کی کیا بات ہے اور اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔ اس ذو معنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہوا اور اس نے اس سے پوچھاکیا تم کچھ کیمیا جانتے ہو۔ اس نے کہا ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے۔ پر میں کسی کو بتاتا نہیں۔ چونکہ تم بہت پیچھے پڑے ہو اس لئے کچھ تم کو بتا دیتا ہوں اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا زیور اکٹھا کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جا کر وظیفہ پڑھتا رہا۔ زیور لے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرال یا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دیئے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہہ گیا کہ اس ہنڈیا کو بہت سے اپلوں میں رکھ کر آگ دو۔ مگر دیکھنا کچا نہ اُتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں ہاتھ نہ لگانا۔ اس نے اس کے کہنے کے مطابق اس ہنڈیا کو خوب آگ دی اور اس قدر دھواں ہوا کہ ہمسایہ اکٹھے ہوگئے اور دروازے کھلوا کر اندر گئے اور جب اس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کو سمجھایا کہ وہ تجھے لوٹ کر لے گئے اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے۔ چنانچہ وہ شخص جب کسی کام کے لئے گورداسپور گیا تو اسے وہاں معلوم ہوا کہ وہی شخص کسی اور دھوکا دے گیا ہے۔ اور وہاں آگ جل رہی ہے۔ پس اس نے اس کو بھی سمجھا دیا کہ وہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا ہے۔ اور وہاں بھی ہنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی نکلے۔ اسی طرح قادیان کے پاس ایک گاؤں ہے وہاں ایک کیمیا گر آیا اور مسجد میں ٹھہرا۔ مسجد والے سے پوچھا کہ یہ مسجد ٹوٹی پھوٹی ہے اس کو بناتے کیوں نہیں۔ اس نے کہا کہ ہمارے اباؤاجداد کے زمانے میں یہ مسجد بنی تھی اب ہم غریب ہیں اس قدر وپیہ نہیں۔ اس نے کہا کہ نہیں روپیہ کا کیا ہے بندوبست ہو جائے گا اور پوچھے جانے پر جواب دیا کہ میں چاندی بنا سکتا ہوں۔ چنانچہ اس شخص نے پچیس روپے دیئے اور وہ کیمیا گر اس کو لے کر بٹالے آیا اور وہاں پہنچ کر اس کو صاف کی ہوئی قلعی دے دی۔ وہ شخص بے چارہ سادہ لوح تھا۔ فرق نہ کر سکا اور اپنے گاؤں میں آ کر سنار کو دکھلائی تو معلوم ہوا کہ بالکل بے قیمت ہے۔ اسی طرح ایک ڈپٹی صاحب تھے جن کو مدت سے کیمیا کا شوق تھا اور اس میں بہت سا روپیہ ضائع کر چکے تھے۔ ایک دن ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ میں کیمیا بنانی جانتا ہوں مگر سامان وغیرہ کے لئے پانچ سو روپیہ درکار ہے۔ وہ ڈپٹی صاحب نے فوراً دلوا دیا۔ روپیہ لے کر وہ ایک پاس کی دکان پر بیٹھ گیا اور ڈپٹی صاحب کو کہلا بھیجا کہ روپیہ تو میں لے چکا اب جو مرضی ہو کرو، میں نہیں دیتا۔ لینا ہے تو عدالت میں نالش کرو۔ ڈپٹی صاحب ایسے بڑھاپے میںنالش کس طرح کرتے، اور کرتے تو اپنی بے عزتی ہوتی۔ چپ ہو رہے۔ غرض یہ سب بیہودہ ہے۔ کیمیا کی مرض پہلے زمانہ میں تو عام طور پر تھی اور ہنود اس میں مدت سے پھنسے ہوئے ہیں مگر افسوس بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی اب تک اس کے دالدادہ ہیں۔ اسلام اس کو بالکل ناجائز قرار دیتا ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ رزق کریم متقی کو ضرور ملتا ہے اور وہ رزق جس سے فائدہ پہنچے کریم ہی ہوتا ہے۔ ورنہ بہت سے ایسے مال ہوتے ہیں جو ناجائز طریقوں سے کمائے جاتے ہیں اور ناجائز باتوں میں اور فضول رسومات میں اُٹھ جاتے ہیں حالانکہ محنت اور نیکی سے کمایا ہوا روپیہ اپنے اصل موقعہ پر خرچ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ان دو بھائیوں کے قصے سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابوھما صالحاً کی وجہ سے دو نبیوں کو اس بات پر مامور کیا کہ اس روپیہ کی حفاظت کے لئے جو کہ نیکی اور تقویٰ سے کمایا ہوا تھا ایک دیوار بنائیں۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فی السماء رزقکم وما توعدون یا فورب السماء والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون۔ یعنی ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے روزی دیتا ہے۔ حضرت داؤد کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور بوڑھا ہو گیا ہوں۔ مگر آج تک میں نے کسی صالح کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح توریت میں ہے کہ نیک بخت انسان کا اثر اس کی سات پشت تک جاتا ہے۔ پھر قرآن مجید میں بھی ہے کہ کان ابوھما صالحا۔ یعنی ان کا باپ صالح تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کا خزانہ محفوظ رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ ایسے نیک نہ تھے۔ باپ کی نیکی کی وجہ سے بچا لئے گئے۔ پس انسان کے لئے متقی اور نیک بننا کیمیا گر سے بہت بہتر ہے۔ اس کیمیا گری میں تو روپیہ ضائع ہوتا ہے مگر اس کیمیا گری میں دین بھی اور دنیا بھی دونو سدھر جاتے ہیں۔ افسوس ہے کہ ان لوگوں پر جو ساری عمر یونہی فضول ضائع کر دیتے ہیں اور کیمیا کی تلاش میں ہی مر جاتے ہیں۔ حالانکہ اس کوچہ میں سوائے نقصان مال اور نقصان ایمان کے کچھ اور نہیں اور ایسا شخص ’’یکے نقصان مایہ و دیگر شماتت ہمسایہ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اصل کیمیا تقویٰ ہے۔ جس نے اس کوحاصل کر لیا۔ اس نے سب کچھ حاصل کر لیا اور جس نے اس نسخہ کو نہ آزمایا اس نے اپنی عمر ضائع کی۔ اگر کیمیا واقعی ہو بھی، تو بھی اس کے پیچھے کھونے والا کبھی متقی اور پرہیزگار نہیں ہو سکتا۔ جس کو رات دن دنیا کی محبت لگی رہے گی وہ اپنے پاک اور پیارے خدا کی محبت کو اپنے دل میں کس طرح جگہ دے گا۔ (الحکم ۱۸؍ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ۷)
    (۳۱۹) درازی عمر کا نسخہ
    انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنی عمر بڑھائے اور لمبی عمرپائے تو اس کو چاہئے جہاں تک ہو سکے خالص دین کے واسطے اپنی عمر کو وقف کرے۔ یہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا نہیں چلتا جو اللہ تعالیٰ کو دغا دیتا ہے وہ یاد رکھے کہ اپنے نفس کو دغا دیتا ہے۔ وہ اس کی پاداش میں ہلاک ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جب تک زندگی بڑھانے کے لئے اس کے خلوص وفاداری کے ساتھ اعلائے کلمۃ الاسلام میں مصروف ہو جائے اور خدمت دین میں لگ جاوے اور آج کل یہ نسخہ بہت ہی کارگر ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ وار نہیں ہے یونہی چلی جاتی ہے۔
    ایک صحابی کا ذکر ہے کہ اس کے ایک تیر لگا اور اس سے خون جاری ہو گیا۔ اس نے دعا کی کہ اے اللہ عمر کی تو مجھے کوئی غرض نہیں۔ البتہ میں یہود کا انتقام دیکھناچاہتا تھا جنہوں نے اس قدر اذیتیں اور تکلیفیں دی ہیں۔ لکھا ہے کہ اسی وقت اس کا خون بند ہو گیا۔ جب تک کہ وہ یہود ہلاک نہ ہوئے اور جب وہ ہلاک ہوگئے تو خون جاری ہو گیا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ حقیقت میں سب امراض اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی مرض اس کے حکم کے بغیر پیش دستی نہیں کر سکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرے۔ یہی اقبال کی راہ ہے۔ مگر افسوس ہے جن راہوں سے اقبال آتا ہے ان کو انسان بدظنی کی نظر سے دیکھتا ہے اور نحوست کی راہوں کو پسند کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر گر جاتا ہے۔ (الحکم ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۷)
    (۳۲۰) تقدیر معلق اور مبرم
    صدقات و خیرات سے بلا کے ٹلنے کا ذکر ہوا۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایاکہ:
    ہاں یہ بات ٹھیک ہے اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تقدیر کے دو حصے کیوں ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ بعض وقت سخت خطرناک صورتیں پیش آتی ہیں اور انسان بالکل مایوس ہو جاتا ہے لیکن دعا و صدقات و خیرات سے آخر کار وہ صورت ٹل جاتی ہے۔ پس آخر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اگر معلق تقدیر کوئی شے نہیں ہے اور جو کچھ ہے مبرم ہی ہے تو پھر دفع بلا کیوں ہو جاتا ہے اور دعا و صدقہ و خیرات وغیرہ کوئی شے نہیں ہے۔ بعض ارادے الٰہی صرف اس لئے ہوتے ہیں کہ انسان کو ایک حد تک خوف دلایا جائے اور پھر صدقہ و خیرات جب وہ کرے تو وہ خوف دور کر دیا جاوے۔ دعا کا اثر مثل نرو مادہ کے ہوتا ہے کہ جب وہ شرط پوری ہو اور وقت مناسب مل جائے اور کوئی نقص نہ ہو تو ہر ایک امر ٹل جاتا ہے اور جب تقدیر مبرم ہو تو پھر ایسے اسباب دعا کی قبولیت کے بہم نہیں پہنچتے۔ طبیعت تو دعا کو چاہتی ہے مگر توجہ کامل میسر نہیں آتی اور دل میں گداز پیدا نہیں ہوتا۔ نماز سجدہ وغیرہ جو کچھ کرتا ہے اس میں بدمزگی پاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام بخیر نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔ اسمقام پر ایک نے عرض کی کہ جب نواب محمد علی خاں صاحب کا صاحبزادہ سخت بیمار ہوا تھا تو جناب کو اس قسم کا الہام ہوا کہ تقدیر مبرم ہے اور موت مقدر ہے لیکن پھر حضور کی شفاعت سے وہ تقدیر مبرم ٹل گی۔
    آپ نے فرمایا کہ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ بھی لکھتے ہیں کہ بعض وقت میری دعا سے تقدیر مبرم ٹل گئی ہے۔ اس پر شاح شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اعتراض کیا ہے کہ تقدیر مبرم تو ٹل نہیں سکتی۔ پھر اس کے کیا معنی ہوئے۔ آخر خود ہی جواب دیا کہ تقدیر مبرم کی دو اقسام ہیں۔ ایک مبرم حقیقی اور ایک مبرم غیر حقیقی۔ جو مبرم حقیقی ہے وہ تو کسی صورت سے ٹل نہیں سکتی ہے جیسے انسان پر موت تو آتی ہے۔ اب اگر کوئی چاہے کہ موت نہ آوے اور یہ قیامت تک زندہ رہے تو یہ نہیں ٹل سکتی۔ دوسری غیر حقیقی وہ ہے جس میں مشکلات اور مصائب انتہائی درجہ تک پہنچ چکے ہوں اور قریب قریب نہ ٹلنے کے نظر آویں۔ اس کا نام مجازی طور پر مبرم رکھا گیا۔ ورنہ حقیقی مبرم تو ایسی ہے کہ اگر کل انبیاء بھی مل کر دعا کریں کہ وہ ٹل جاوے تو وہ ہرگز نہیں ٹل سکتی۔
    (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۱۰)
    (۳۲۱) مشاعرہ
    ایک جگہ بعض شاعرانہ مذاق کے دوست ایک باقاعدہ انجمن مشاعرہ قائم کرناچاہتے تھے۔ اس کے متعلق حضرت سے دریافت کیا گیا۔
    فرمایا: یہ تضیع اوقات ہے کہ ایسی انجمنیں قائم کی جائیں اور لوگ شعر بنانے میں مستغرق رہیں۔ ہاں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ذوق کے وقت کوئی نظم لکھے اور اتفاقی طور پر کسی مجلس میں سنا دے۔ یا کسی اخبار میں چھپوائے۔ ہم نے اپنی کتابوںمیں کئی نظمیں لکھی ہیں۔ مگر اتنی عمر ہوئی آج تک کبھی کسی مشاعرہ میں اپنا نام پیدا کرنا نہیں چاہا۔ ہاں اگر حال کے طور پر نہ صرف قال کے طور پر اور جوش روحانی سے نہ خواہش نفسانی سے کبھی کوئی نظم جو مخلوق کے لئے مفید ہو سکتی ہے لکھی جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر یہی پیشہ کر لینا ایک منحوس کام ہے۔
    (۳۲۲) سانڈ رکھنا
    ۹؍ جولائی ۱۹۰۷ء کو ایک شخص نے سوال کیا کہ خالصۃً لوجہ اللہ نسل افزائی کی نیت پر اگر کوئی سانڈ چھوڑے تو کیا یہ جائز ہے۔ اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔
    اصل الاشیاء باحۃ۔ اشیاء کا اصل تو باحت ہی ہے۔ جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام فرمایا۔ وہ حرام ہیں باقی حلال۔ بہت سی باتیں نیت پر موقوف ہیں۔ میرے نزدیک تو یہ جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔
    عرض کیا گیا کہ قرآن مجید میں اس کوحرام فرمایا گیا ہے۔
    فرمایا۔ میں نے جواب دیتے وقت اسے زیر نظر رکھ لیا ہے۔ وہ تو دیوتوں کے نام پر دیتے تھے۔ یہاں خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے۔ نسل افزائی ایک ضروری بات ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں انعام مویشی وغیرہ کو اپنی نعمتوں سے فرمایا ہے۔ سو اس نعمت کا قدر کرنا چاہئے اور قدر میں نسل کا بڑھانا بھی ہے۔ پس اگر ایسا نہ ہو تو پھر چارپائے کمزور ہوں گے اور دنیا کے کام بخوبی نہ چل سکیں گے۔ اس لئے میرے نزدیک تو حرج کی بات نہیں۔ ہر ایک عمل نیت پر موقوف ہے۔ ایک ہی کام جب کسی غیر اللہ کے نام پر ہو تو حرام ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو حلال ہے۔ (بدر یکم اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲)
    (۳۲۳) لباس
    عرب صاحب نے انگریزی قطع وضع کے متعلق ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا۔
    انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھانا چاہئے ویسے ہی ظاہر میں بھی، ان لوگوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے جو انگریزی لباس کو یہاں تک اختیار کرتے ہیں کہ عورتوں کو بھی اس لباس اور وضع میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ جو شخص ایک قوم کے لباس کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اس قوم کو اور پھر دوسرے اوضاع و اطوار حتیّٰ کہ مذہب کو بھی پسند کرنے لگتا ہے۔ اسلام نے سادی کو پسند فرمایا ہے۔ تکلفات سے منع کیا ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۵۴)
    (۳۲۴) ڈاڑھی یعنی ریش کا رکھنا
    عرب صاحب نے ڈاڑھی کے متعلق پوچھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ہر ایک انسان کے دل کا خیال ہے۔ بعض ڈاڑھی مونچھ منڈوانے کو خوبصورتی سمجھتے ہیں۔ مگر ہمیں اس میں ایسی سخت کراہت ہے کہ سامنے ہو تو کھانا کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ ڈاڑھی کا جو طریق انبیاء اور راستبازوں نے اختیار کیا ہے وہ بہت پسندیدہ ہے۔ البتہ اگر بہت لمبی ہو تو ایک مشت رکھ کر کٹوا دینی چاہئے۔ خدا نے یہ امتیاز عورت اور مرد کے درمیان رکھ دیا ہے۔
    (بدر ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷ و بدر۶؍ فروری ۱۹۰۳ء)
    (۳۲۵) ہندوؤں والی دھوتی باندھنی اور بودی رکھنی و لباس نبویؐ
    ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟
    اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ تشبہ بالکفار تو کسی ہی رنگ میں جائز نہیں۔ اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکا سا لگاتے ہیں۔ کوئی وہ بھی لگا لے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں۔ مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۔ مسلمانوں کو اپنے ہر ایک حال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئے۔ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی آپ کا خریدنا ثابت ہے۔ جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں۔ ان میں سے جو چاہے پہنے۔ علاوہ ازیں ٹوپی کرتہ چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔ جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت درپیش آوے تو اسے چاہئے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔ جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے ہے اور وہ کونسی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم و عادت کی۔ اب اسے ڈر چاہئے تو خدا کا۔ اور اتباع چاہئے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہئے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔ سیالکوٹ سے ایک دو بار انگریزی جوتا آیا ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل ہوتا تھا۔ کبھی اِدھر کا اُدھر اور دائیں کا بائیں۔ آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے۔ مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔ آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔ (بدر۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۹۸)
    (۳۲۶) قیام فیما اقام اللہ
    ایک شخص نے ملازمت چھوڑ کر تجارت کے متعلق مشورہ پوچھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ نوکری چھوڑنی نہیں چاہئے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۲)
    (۳۲۷) فری میسن
    امیر کابل کا ذکر ہوا کہ اس کے فری میسن ہونے کے سبب اس کی قوم اس پر ناراض ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کی قوم اس ناراضگی میں حق پر ہے۔ کیونکہ کوئی موحد اور سچا مسلمان فری میسن میں داخل نہیں ہو کتا۔ اس کا اصل شعبہ عیسائیت ہے اور بعض مدارج کے حصول کے واسطے کھلے طور پر بپتسمہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں داخل ہونا ایک ارتداد کا حکم رکھتا ہے۔ (بدر ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۳۲۸) مدارات اور مداہنہ میں فرق
    مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جائے تا دوسرے کو ذہن نشین ہو اور حق کو اس طرح اظہار کرنا کہ ایک کلمہ بھی باقی نہ رہے اور سب ادا ہو جائے اور مداہنت اسے کہتے ہیں کہ ڈر کر حق کو چھپا لینا، کھا لینا، اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نرمی سے گفتگو کر کے پھر گرمی پر آ جاتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ حق کو پورا پورا ادا کرنے کے واسطے ایک ہنر چاہئے۔ وہ شخص بہت بہادر ہے جو کہ ایسی خوبی سے حق کو بیان کرے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی اسے سن لیویں۔ خدا ایسی پر راضی ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حق گو سے لوگ راضی نہ ہوں۔ اگرچہ وہ نرمی بھی کرے۔ مگر تاہم درمیان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۳)
    (۳۲۹) جنگ میں قتل کرنا
    سوال: جو لوگ لڑائیوں میں جاتے ہیں اور وہاں قتل کرتے ہیں کیا وہ قتل ان کا گناہ ہے یا نہیں؟
    جواب: عِلْمُھَا عِنْدَرَبِّیْ۔ میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے اچھا کیا یا بُرا کیا۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۳)
    (۳۳۰) بدخیالات ولی کا مواخذہ
    سوال: اگر کوئی چوری یا زنا کے ارادے سے جاوے۔ مگر نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا؟
    جواب: جو خیالات وسوسہ کے رنگ میں دل میں گزرتے ہیں اور پھر کوئی عزم یا ارادہ انسان نہیں کرتا۔ ان پر مواخذہ نہیں ہے لیکن جب کوئی خیال بد دل میں گزرے اور انسان اس پر مصمم ارادہ کرے تو اس پر مواخذہ ہوتا ہے اور وہ گناہ ہے جیسے ایک اچکا دل میں خیالکرے کہ فلاں بچہ کو قتل کر کے اس کا زیور اُتار لوں گا تو گو قانونی جرم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ہے اور سزا پائے گا۔ یاد رکھو دل کا ایک فعل ہوتا ہے مگر جب تک اس پر مصمم ارادہ اور عزیمت نہ کرے اس کا کوئی اثر نہیں۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۴)
    (۳۳۱) حضرت مسیح موعود کے بعد مجدد کی ضرورت
    سوال: کیا آپ کے بعد بھی مجدد آئے گا؟
    جواب: اس میں کیا حرج ہے کہ میرے بعد بھی کوئی مجدد آ جائے۔ حضرت موسیٰ علیہ اللام کی نبوت ختم ہوچکی تھی اس لئے مسیح علیہ السلام پر آپ کے خلفاء کا خاتمہ ہو گیا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ قیامت تک ہے۔ اس لئے اس میں قیامت تک ہی مجدددین آتے رہیں گے۔ اگر قیامت نے فنا کرنے سے چھوڑا۔ تو کچھ شبہ نہیں کہ کوئی اور بھی آ جائے گا۔ ہم ہرگز اس سے انکار نہیں کرتے کہ صالح اور ابرار لوگ آتے رہیں گے اور پھر بغتۃً قیامت آجائے گی۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۴)
    (۳۳۲) خود کشی گناہ ہے
    ایک شخص نے اپنی مصائب اور تکالیف کو ناقابل برداشت بیان کرتے ہوئے ایک لمبا خط حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ کر یہ ظاہر کیا کہ میں بہ سبب ان مصائب کے ایسا تنگ ہوں کہ خود کشی کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو جواب میں لکھا خود کشی کرنا گناہ ہے اور اس میں انسان کے واسطے کچھ فائدہ اور آرام نہیں ہے۔ کیونکہ مرنے سے انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا بلکہ ایک نئی طرز زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اس دنیا میں تکالیف میں ہے تو خدا تعالیٰ کی نارضامندیوں کو ساتھ لے کر دوسری طرف چلا جائے گا تو وہاں کے مصائب اور تلخیاں اس جگہ کی مرارت سے بڑھ کر ہیں۔ پس ایسی خود کسی اس کو کیا فائدہ دے گی۔ انسان کو چاہئے کہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا مانگنے میں مصروف رہے اور اپنی حالت کی اصلاح میں کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ جلد رحم کرکے تمام بلاؤں اور آفتوں سے اس کو نجات دے گا۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۴)
    (۳۳۳) محرم میں تابوت نکالنا
    سوال پیش ہوا کہ محرم پر جو لوگ تابوت بناتے ہیں اور محفل کرتے ہیں اس میں شامل ہونا کیسا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ گناہ ہے۔
    (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    (۳۳۴) طاعونی مقامات میں جانے سے ممانعت
    قادیان کے کسی شخص کا ذکر ہوا کہ فلاں جگہ طاعون ہے اور فلاں شخص وہاں باربار جاتا رہا۔ آخر وہ طاعون میں گرفتار ہو کر مر گیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا جب کہ ایک جگہ آگ برستی ہے تو اس جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے۔ (الحکم ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ۷)؍
    (۳۳۵) گھوڑی کو گدھے سے ملانا
    احادیث نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گدھے سے گھوڑی کو ملانا ممنوع ہے۔
    (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۶)
    (۳۳۶) طاعونی مریض کا معالجہ و ہمدردی
    سوال ہوا کہ طاعون کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں طبیب کے واسطے کیا حکم ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ طبیب اور ڈاکٹر کو چاہئے کہ علاج معالجہ کرے اور ہمدردی دکھائے لیکن اپنا بچاؤ رکھے۔ بیمار کے بہت قریب جانا اور مسکان کے اندر جانا اس کے واسطے ضروری نہیں ہے۔ وہ حال معلوم کر کے مشورہ دے۔ ایسا ہی خدمت کرنے والوں کے واسطے بھی ضروری ہے کہ اپنا بچاؤ بھی رکھیں اور بیمار کی ہمدردی بھی کریں۔
    (بدر ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
    (۳۳۷) اسم اعظم
    ایک شخص کا سوال ہوا کہ قرآن شریف میں اسم اعظم کون سا لفظ ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔ اسم اعظم ’’اللہ‘‘ ہے۔ (بدر ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
    (۳۳۸) طاعونی مقامات و طاعونی مریضوں و شہیدوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد
    آج کل طاعون بہت بڑھتا جاتا ہے اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ میں اپنی جماعت کے واسطے خدا تعالیٰ سے بہت دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کو بچائے رکھے۔ مگر قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ دیکھو حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان سب پر پڑا اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوع علیہ السلام کا دعویٰ اور اس کے دلائل کیا ہیں۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں وہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں۔ لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔ کافر جہنم کو گیا اور مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعا میں مصروف ہیں کہ وہ ان میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے۔ لیکن جماعت کے آدمیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کچھ نہیں بنتا۔ جب تک ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جاوے۔ سب سے اوّل حقوق اللہ کو ادا کرو اپنے نفس کو تمام جذبات سے پاک رکھو۔ اس کے بعد حقوق عباد کو ادا کرو اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔ خدا تعالیٰ پر ہی ایمان لاؤ اور تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو اور کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن میں تم نے خدا کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو۔ اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو۔ جس مکان میں چوہے مرنے شروع ہوں اس کو خالی کر دو اور جس محلہ میں طاعون ہو اس محلہ سے نکل جاؤ اور کسی کھلے میدان میں جا کر ڈیرا لگاؤ۔ جو تم میں سے بتقدیر الٰہی طاعون میں مبتلا ہو جائے اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے اس کی مدد کرو اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھو۔ لیکن یاد رہے کہ ہمدردی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کے زہریلے سانس یا کپڑوں سے متاثر ہو جاؤ۔ بلکہ اس اثر سے بچو۔ اسے کھلے مکان میں رکھو اور جو خدانخواستہ اس بیماری سے مر جائے۔ وہ شہید ہے۔ اس کے لئے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اور چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے اس واسطے سب لوگ اس کے اردگرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اُٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔ جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔ جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میّت کو لاد کر لے جاویں اور میّت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جائے۔ خدا کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں بُرا کہیں گے۔ وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں۔ یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔ مکررًا یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان تنگ اور تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے۔ اس کو بلاتوقف چھوڑ دو کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتا ہے۔ گو کوئی چوہا بھی اس میں مرا نہ ہو اور حتی المقدور مکانوں کی چھتوں پر رہو۔ نیچے کے مکان سے پرہیز کرو اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو۔ نالیاں صاف کراتے رہو۔ سب سے مقدم یہ کہ اپنے دلوں کو بھی صاف کرو اور خدا کے ساتھ پوری صلح کرو۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۶۹)
    (۳۳۹) مسمریزم کیا ہے
    ایک شخص نے بذریعہ تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ مسمریزم کیا چیز ہے۔ حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا ہے۔ مدت ہوئی ہے کہ میں نے مسمریزم کے لئے توجہ کی تھی کہ یہ کیا چیز ہے تو خدا کی طرف سے جواب ملا تھا۔ ھذا ھوالترب الذی لا یعلمون۔ یعنی یہ عمل ترب ہے جس کو لوگ نہیں مانتے۔ (الحکم ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳)
    (۳۴۰) گاؤں میں جب شدت طاعون ہو تو کیا حکم ہے
    بموجب حدیث صحیح کے اگر طاعون کی ابتدائی حالت ہو تو شہر سے نکل جانا چاہئے۔ اور اگر طاعون زور پکڑ جائے تو نہیں جانا چاہئے۔ مگر مضائقہ نہیں کہ اسی گاؤں کی سرزمین میں باہر سکونت اختیار کریں۔ (دستخط مرزا غلام احمد۔ فتاوی احمدیہ جلد دوم صفحہ۷۲)
    (۳۴۱) نرخ اشیاء
    سوال پیش ہوا کہ بعض تاجر گلی کوچوں میں یا بازار میں اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ ایک ہی چیز کی قیمت کسی سے کم لیتے ہیں اور کسی سے زیادہ۔ کیا یہ جائز ہے؟
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مالک شے کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کی قیمت جو چاہے لگا لے اور مانگے۔ لیکن بوقت فروخت تراضی طرفین ہو۔ اور بیچنے والا کسی قسم کا دھوکا نہ کرے۔ مثلاً ایسا نہ ہو کہ چیز کے خواص وہ نہ ہوں جو بیان کئے جاویں اور کسی قسم کا دغا خریدار سے کیا جاوے اور جھوٹ بولا جائے اور یہ بھی جائز نہیں کہ بچے یا ناواقف کو پائے تو دھوکا دے کر قیمت زیادہ لے لے۔ جس کو اس ملک میں لگّا دا لگانا کہتے ہیں۔ یہ ناجائز ہے۔
    (بدر ۱۶؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۱۰)
    (۳۴۲) طاعون زدہ علاقہ سے باہر نکلنا
    یکم مارچ ۱۹۰۷ء ایک دوست نے ذکر کیا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے۔ فرمایا کہ گاؤں سے فوراً باہر نکل جاؤ اور کھلی ہوا میں اپنا ڈیرہ لگاؤ۔ مت خیال کرو کہ طاعون زدہ جگہ سے باہر نکلنا انگریزوں کا خیال ہے اور اس واسطے اس کی طرف توجہ کرنا فرض نہیں۔ یہ بات نہیں بلکہ طاعون والی جگہ سے باہر نکلنا یہ فیصلہ شرعی ہے۔ گندی ہوا سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پڑو اور راتوں کو اُٹھ اٹھ کر دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ بخشواؤ کہ وہ قادر خدا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے باوجود ان احتیاطوں کے اگر تقدیر الٰہی آ جاوے تو صبر کرو۔ (بدر ۱۶؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
    (۳۴۳) مصیبت زدہ و ماتم والے کے ساتھ ہمدردی
    جس کے ہاں ماتم ہو جائے اس کے ساتھ ہمدردی کے متعلق حضرت امام علیہ السلام کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جائز ہے کہ جب کسی بھائی کے گھر ماتم ہو جائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔ حضرت نے فرمایا۔ یہ امر نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کی راہ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جائے۔ (بدر ۱۱؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۳۴۴) کنوئیں کو پاک کرنا
    سوال ہوا کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ جب چوہا یا بلی یا مرغ یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مر جاویں تو اتنے دلو (ڈول) پانی نکالنے چاہئیں۔ اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے۔ کیونکہ پہلے توہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ، بو، مزہ نہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیا ہے۔ یہ جو حساب ہے کہ اتنے ڈول نکالو اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے۔ یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس پر ہمارا عمل ہے۔ عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنت صحیحہ سے پتہ نہ ملے۔ وہاں فقہ حنفی پر عمل کر لو۔ فرمایا فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی کب ایسا تعین ہے۔ ہاں نجات المؤمنین میں لکھا ہے۔ سو اس میں تو یہ بھی لکھا ہے۔ سر ٹوئے وچ دے کر بیٹھ نماز کرے۔ کیا اس پر کوئی عمل کر سکتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جب کہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز منع ہے۔ پس ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو میں تمہیں ایک اصل بتا دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔والرجز فاھجر۔ پس جب پانی کی حالت اس قسم کی ہو جائے جس سے صحت کی ضرور پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہئے۔ مثلاً پتے پڑ جاویں یا کیڑے وغیرہ۔ باقی یہ کوئی مقرر نہیں جب تک رنگ، بُو، مزہ نجات سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔ (بدر یکم اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲)
    (۳۴۵) اختلاف فقہا
    آج کل علماء کے درمیان باہم مسائل کے معاملہ میں اس قدر اختلاف ہے کہ ہر ایک مسئلہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ لاہور میں ایک طبیب غلام دستگیر نام تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی اس ملک میں رسم ہے کہ وہ طبیب سے پوچھا کرتے ہیں کہ یہ دوا گرم ہے یا سرد۔ تو میں نے اس کے جواب میں ایک بات رکھی ہوئی ہے میں کہہ دیا کرتا ہوں کہ اختلاف ہے۔ اول تو اس اختلاف کے سبب کئی فرقے ہیں۔ پھر مثلاً ایک فرقہ حنفیوں کا ہے ان میں سے آپس میں اختلاف ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۷۴)
    (۳۴۶) مرشد کو سجدہ کرنا ناجائز ہے
    ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک شخص حضرت کی خدمت میں آیا۔ اس نے سر نیچے جھکا کر آپ کے پاؤں پر رکھنا چاہا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے ہاتھ کے ساتھ اس کے سر کو ہٹایا اور فرمایا۔ یہ طریق جائز نہیں۔ السلام علیکم کہنا اور مصافحہ کرنا چاہئے۔ (بدر ۸؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲)
    (۳۴۷) گذشتہ روحوں کو ثواب
    مورخہ ۶؍ اگست کو ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی شخص حضرت سید عبدالقادرؒ کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر کھانا پکا کر کھلا دے تو کیا یہ جائز ہے۔
    اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ طعام کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔ گذشتہ بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر اگر طعام پکا کر کھلایا جاوے تو جائز ہے۔ لیکن ہر ایک امر نیت پر موقوف ہے۔ اگر کوئی شخص اس طرح کے کھانے کے واسطے کوئی خاص تاریخ مقرر کرے اور ایسا کھانا کھلانے کو اپنے لئے قاضی الحاجات خیال کرے تو یہ ایک بت ہے۔ اور ایسے کھانے کا دینا لینا سب حرام ہے اور شرک میں داخل ہے۔ پھر تاریخ کے تعین میں بھی نیت کا دیکھنا ہی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ملازم ہے اور اسے مثلاً جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے تو حرج نہیں۔ کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقرر کرے۔ غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شرک پایا جائے صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلانا جائز ہے۔
    (بدر ۸؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲)
    (۳۴۸) پندرہویں شعبان کی بدعات
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نصف شعبان کی رات کو جو لوگ رسوم حلوے وغیرہ کی کرتے ہیں یہ سب بدعات ہیں۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم صفحہ۷۵)
    (۳۴۹) ناول نویسی و ناول خوانی
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ ناولوں کا لکھنا اور پڑھنا کیسا ہے۔ فرمایا کہ ناولوں کے متعلق وہی حکم ہے جو آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کے متعلق فرمایا ہے۔حسنہ حسن و قبیحہ قبیح۔ اس کا اچھا حصہ ہے اور قبیح قبیح ہے۔ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ مثنوی مولوی رومی میں جو قصے لکھے ہیں۔ وہ سب تمثیلیں ہیں اور اصل واقعات نہیں ہیں۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمثیلوں سے بہت کام لیتے تھے۔ یہ بھی ایک قسم کے ناول ہیں۔ جو ناول نیت صالح سے لکھے جاتے ہی۔ زبان عمدہ ہوتی ہے۔ نتیجہ نصیحت آمیز ہوتا ہے اور بہرحال مفید ہیں۔ ان کے حسب ضرورت و موقعہ لکھنے و پڑھنے میں گناہ نہیں۔
    (بدر ۵؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۳۵۰) لڑکے کی بسم اللہ
    ایک شخص نے بذریعہ تحریر عرض کی کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچے کو بسم اللہ کرائی جائے تو بچے کو تعلیم دینے والے مولوی کو ایک عدد تختی چاندی یا سونے کی اور قلم و دوات سونے یا چاندی کی دی جاتی ہے۔ اگرچہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء اپنے بچے کی بسم اللہ پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں۔ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام نے فرمایا۔ تختی اور قلم و دوات سونے یا چاندی کی دینا یہ سب بدعتیں ہیں۔ ان سے پرہیز کرنا چاہئے اور باوجود غربت کے اور کم جائیداد ہونے کے اس قدر اسراف کرنا سخت گناہ ہے۔ (بدر ۵؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۳)
    (۳۵۱) فتویٰ در باب تعظیم امام حسینؓ و اہانت یزیدپلید
    واضح ہو کہ کسی شخص کے ایک کارڈ کے ذریعہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) حسینؓ بوجہ اس کے کہ اس نے خلیفہ وقت یعنی یزید پلید سے بیعت نہیں کی۔ باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راستباز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں۔ مگر ساتھ اس کے میرے دل میں بھی خیال گزرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے درد تبرہ اور لعن و طعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو۔ جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفان کہہ دیتے ہیں۔ بہرحال میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کے رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے۔ وہ معنی اس میںموجود نہ تھے۔ مومن بنناکوئی سہل امر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے۔ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْ مِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا۔ مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔ جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے ہیں اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے۔ خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں۔ یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لئے جاتے ہیں۔ لیکن بدنصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔ دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔ مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے مامور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتدا کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش۔ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے۔ دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔ دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی۔ تا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی محبت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجہ شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے کیونکہ اللہ جلشانہٗ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔ جو شخص مجھے بُرا کہتا ہے یا لعن طعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الٰہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لانا سخت معصیت ہے۔ ایسے موقع پر درگذرنا اور نادان دشمن کے حق میں دعا کرنا بہتر ہے کیونکہ اگر وہ لوگ مجھے جانتے کہ میں کس کی طرف سے ہوں تو ہرگز بُرا نہ کہتے۔ وہ مجھے ایک دجال اور مفتری خیال کرتے ہیں۔ میں نے جو کچھ اپنے مرتبہ کی نسبت کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا نے کہا۔ پس مجھے کیا ضرورت ہے کہ ان بحثوں کو طول دوں۔ اگر میں درحقیقت مفتری اور دجال ہوں اور اگر درحقیقت میں اپنے ان مراتب کے بیان کرنے میں جو میں خدا کی وحی کی طرف ان کو منسوب کرتا ہوں۔ کاذب اور مفتری ہوں تو میرے ساتھ اس دنیا اور آخرت میں خدا کا وہ معاملہ ہوگا جو کاذبوں اور مفتریوں سے ہوا کرتا ہے کیونکہ محبوب اور مردود یکساں نہیں ہوا کرتے۔ سو اے عزیزو! صبر کرو کہ آخر وہ امر جو مخفی ہے کھل جائے گا۔ خدا جانتا ہے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اور وقت پر آیا ہوں مگر وہ دل جو سخت ہوگئے اور وہ آنکھیں جو بند ہوگئیں میں ان کاکیا علاج کر سکتا ہوں۔ خدا میری نسبت اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا ااسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ پس جب کہ خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا تو اس صورت میں کیا ضرورت ہے کہ کوئی شخص میری جماعت میںسے خدا کاکام اپنے گلے ڈال کر میرے مخالفوں پر ناجائز حملے شروع کرے۔ نرمی کرو اور دعا میں لگے رہو اور سچی توبہ کو اپنا شفیع ٹھہراؤ اور زمین پر آہستگی سے چلو۔ خدا کی قوم کا رشتہ دار نہیں ہے اگر تم نے اس کی جماعت کہلا کر تقویٰ اور طہارت کو اختیار نہ کیا اور تمہارے دلوں میں خوف اور خشیت پیدا نہ ہو تو یقینا سمجھو کہ خدا تمہیں مخالفوں سے پہلے ہلاک کرے گا کیونکہ تمہاری آنکھ کھولی گئی اور پھر بھی تم سو گئے اور یہ مت خیال کرو کہ خدا کو تمہاری کچھ حاجت ہے۔ اگر تم اس کے حکموں پر نہیں چلو گے۔ اگر تم اس کی حدود کی عزت نہیں کرو گے تو وہ تمہیں ہلاک کرے گا اور ایک اور قوم تمہارے عوض لائے گا جو اس کے حکموں پر چلے گی اور میرے آنے کی غرض صرف یہی نہیں کہ میں ظاہر کروں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں یہ تو مسلمانوں کے دلوں پر سے ایک روک کا اُٹھانا اور سچا واقعہ ان پر ظاہر کرنا ہے بلکہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ تا مسلمان خالص توحید پر قائم ہو جاویں اور ان کو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جاوے۔ اور ان کی نمازیں اور عبادتیں ذوق اور احسان سے ظاہر ہوں اور ان کے اندر سے ہر ایک قسم کا گند نکل جائے اور اگر مخالف سمجھتے تو عقائد کے بارے میں مجھ میں اور ان میں کچھ بڑا اختلاف نہ تھا۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔ سو میں بھی قائل ہوں کہ جیسا کہ آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ کا منشا ہے۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد وفات مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔ صرف فرق یہ ہے کہ وہ جسم عنصری نہ تھا بلکہ ایک نورانی جسم تھا جو ان کو اس طرح خدا کی طرف سے ملا جیسا آدم اور ابراہیم اور موسیٰ اور داؤد اور یحی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو ملا تھا۔ ایسا ہی ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ضرور دنیا میں دوبارہ آنے والے تھے۔ جیسا کہ آگئے صرف فرق یہ ہے کہ جیسا کہ قدیم سے سنت ہے۔ ان کا آنا صرف بروزی طور پر ہوا جیسا کہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں بروزی طور پر آیا تھا۔ پس سوچنا چاہئے کہ اس قلیل اختلاف کی وجہ سے جو ضرور ہونا چاہئے تھا اس قدر شور مچانا کس قدر تقویٰ سے دور ہے۔ آخر جو شخص خدا تعالیٰ کی رف سے حَکم بن کر آیا۔ ضرور تھا کہ جیسا کہ لفظ حَکم کا مفہوم ہے۔ کچھ غلطیاں اس قوم کی ظاہر کرتا۔ جن کی طرف وہ بھیجا گیا ورنہ اس کا حَکم کہلانا باطل ہوگا۔ اب زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنے مخالفوں کو صرف یہ کہہ کر اِعْمَلُوْا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ اس اعلان کو ختم کرتا ہوں والسلام علی مَنِ اتَّبَعَ الھدٰی۔
    (فتاویٰ احمدیہ حصہ دوم صفحہ۷۱)
    (۳۵۲) نماز ۱؎
    کپڑے وغیرہ پر سے ذرہ بھر نجاست کو بھی دھونے کا راز
    حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کی بابت لکھا ہے کہ آپ ایک بار بہت ہی تھوڑی سی نجاست جو ان کے کپڑے پر پڑی تھی دھو رہے تھے۔ کسی
    نے کہا کہ آپ نے اس قدر نجات کے لئے تو فتویٰ نہیں دیا۔ اس پر آپ نے کیا لطیف جواب فرمایا کہ ’’آں است وایں تقویٰ‘‘ (الحکم ۱۰؍نومبر ۱۹۰۵ء)
    (۳۵۳) پانچوقتی اذان
    واضح ہو کہ قرآن کریم کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لاشریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کی رو سے بھی اس کو واحد لاشریک ٹھہراؤ۔ جیسا کہ کلمہ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ جو ہر وقت مسلمانوں کو ورد زبان رہتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ اللہ ولاہ مشتق ہے اور اس کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔ یہ کلمہ نہ تورات نے سکھلایا اور نہ انجیل نے۔ صرف قرآن کریم نے سکھلایا اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔ یہی کلمہ پانچ وقت مساجد کے مناروں پر بلند آواز سے کہا جاتا ہے۔ جس سے ہندو اور عیسائی سب چڑتے ہیں۔
    یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ صبح ہوتے ہی اسلامی مؤذن بلند آواز سے کہتا ہے کہ اشھد اَنّ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی ہمارا پیارا اور محبوب اور معبود بجز اللہ کے نہیں۔ پھر دوپہر کے بعد بھی یہی آواز اسلامی مساجد سے آتی ہے۔ پھر عصر کو بھی بھی یہی آواز اور پھر مغرب کو بھی یہی آواز اور پھر عشاء کو بھی یہی آواز گونجتی ہوئی آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے کیا دنیا میں کسی اور مذہب میں یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے۔
    (سراج الدین عیسائی کے سوالوں کا جواب صفحہ۲۸)
    (۳۵۴) چغہ یا کوٹ اُتار کر وضو کرنا
    میں نے ارادہ کیا کہ عصر کی نماز یہیں پڑھ لوں۔ اس لئے میں نے چغہ اُتار کر وضو کرنا چاہا اور چغہ وزیر صاحب کے ملازم کو پکڑوایا اور پھر چغہ پہن کر نماز پڑھ لی۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ۲۴۵)
    (۳۵۵) تیمم
    وَان کنتم مرضی اوعلی سفر اوجاء احد منکم من الغائط اولمستم النساء فلم تجدوہ ما فتیمموا اصعیدًا طیبًا۔ یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو یا پاخانہ سے آؤ یا عورتوں سے مباشرت کرو اور پانی نہ ملے تو ان سب صورتوں میں پاک مٹی سے تیمم کر لو۔
    (شہادۃ القرآن صفحہ۳۶)
    (۳۵۶) نماز خوف
    اگر تمہیں خوف ہو تو نماز پیروں سے چلتے یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لو۔
    (شہادۃ القرآن صفحہ۳۹)
    (۳۵۷) محلہ اہل ہنود میں مسجد کو ترک کرنا یا آباد کرنا چاہئے
    مسجد اہل ہنود کے محلہ میں واقع ہے اور وہ بالکل ویران ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ اس مسجد کو فروخت کر کے اس کے روپیہ سے ایک اور مسجد کسی مناسب موقعہ پر بنائی جاوے۔
    حضرت حکیم الامت نے وہ خط حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے خیال میں بجائے دوسری جگہ مسجد بنانے کے اسی کو آباد کرنا اور نماز کی پابندی سے اس مسجد کو رونق دینا باعث ثواب ہے۔ فرمایا۔ آج ہی میرے واپس آتے ہوئے ہمارے دل میں بڑی مسجد کو دیکھ کر خیال آیا کہ اگر مسجد کی جانب شمال کی دو تین دکانیں مل جائیں تو وہ خرید کر مسجد کو جانب شمال بھی وسیع کر دیا جائے۔ اس طرح سے ہماری مسجد عید بازار کے چوک میں آجائے گی۔ (الحکم ۱۴؍ مارچ ۱۸۹۸ء)
    (۳۵۸) مال مویشی رکھنے والوں کی نماز
    بحضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شخص کا سوال مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو دربار شام میں پیش ہوا کہ نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔ فرمایا۔ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک قوم اسلام لائی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہمیں نماز معاف فرمائی جاوے۔ کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔ مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا۔ نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو اور ہے ہی کیا۔ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا۔ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سو رہنا یہ تو دین ہرگز نہیں۔ یہ سیرت کفار ہے بلکہ ’’جو دم غافل وہ دم کافر‘‘ والی بات بالکل درست اور صحیح ہے۔ (الحکم مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء)
    (۳۵۹) نماز اشراق
    پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اشراق پر مداومت ثابت نہیں۔ تہجد کے فوت ہونے یا سفر سے واپس آ کر پڑھنا ثابت ہے۔ لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا عین سنت ہے۔ وَاُذکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن (مکتوبات جلد اوّل صفحہ۲۰)
    (۳۶۰) حسب ضرورت دوبار جماعت نماز
    سوال ہوا کہ جہاں ایک دفعہ نماز ہو جاوے وہاں اسی نماز کے واسطے دوبارہ جماعت ہو سکتی یہ یا نہیں؟ فرمایا اس میں کچھ ہرج نہیں حسب ضرورت اور جماعت بھی ہو سکتی ہے۔
    (بدر ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۷ء نمبر۱)
    (۳۶۱) امام کے ساتھ دوسری تیسری رکعت میں ملنا اور عبدہٗ و رسولہٗ سے آگے پڑھنا
    امام کے ساتھ بعد از رکعت اوّل تیسری رکعت میں ملے تو قعدہ میں عبدہٗ و رسولہٗ سے آگے پڑھتے جانا کوئی منع نہیں ہے اور سلام پھیرنے تک ٹھہرے۔ (بدر مورخہ ۷؍ مئی ۱۹۰۸ء)
    سوال: کیا کسی شرعی ضرورت کے واسطے نماز جمعہ کے ساتھ بھی نماز عصر جمع جائز ہے؟
    جواب: جائز ہے۔ گذشتہ دسمبر میں جمعہ کے روز کثرت آدمیوں کے سبب اور قبل از نماز ایک عظیم الشان دینی جلسہ میں شمولیت کے سبب کھانا بھی نہ کھا چکے تھے اور نماز جمعہ بھی کسی قدر پچھلے وقت میں ہوسکا۔ اس واسطے حسب الحکم حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کی گئی تھی۔ (البدر ۲۶؍جنوری ۱۹۰۲ء)
    (۳۶۲) کیا وظیفہ پڑھیں
    ایک شخص نے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ استغفار بہت پڑھا کرو۔ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں۔ یا تو وہ گناہ نہ کرے اور یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے بدانجام سے بچا لے۔ سو استغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہئے اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہئے کہ آئندہ گناہوں سے بچا لے مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا بلکہ دل چاہئے نماز میں اپنی زبان میں بھی دعا مانگو۔ یہ ضروری ہے۔ (الحکم ۱۰؍ اگست ۱۹۰۱ء صفحہ۳)
    (۳۶۳) روزہ
    سوال: جہاں چھ ماہ تک سورج نہیں چڑھتا۔ روزہ کیونکر رکھیں؟
    جواب: اگر ہم نے لوگوں کی طاقتوں پر ان کی طاقتوں کو قیاس کرنا ہے تو انسانی قویٰ کی جڑ جو حمل کا زمانہ ہے۔ مطابق کر کے دکھلانا چاہئے۔ پس ہمارے حساب کی اگر پابندی لازم ہے تو ان بلاد میں صرف ڈیڑھ دن میں حمل ہونا چاہئے اور اگر ان کے حساب کی۔ تو دو سو چھیاسٹھ برس تک بچہ پیٹ میں رہنا چاہئے اور یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے کہ حمل صرف ڈیڑھ دن تک رہتا ہے۔ لیکن دو سو چھیاسٹھ برس کی حالت میں، یہ تو ماننا کچھ بعید از قیاس نہیں کہ وہ چھ ماہ تک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں کیونکہ ان کے دل کا یہی مقدار ہے اور اس کے مطابق ان کے قویٰ بھی ہیں۔
    (جنگ مقدس صفحہ۱۶۳)
    (۳۶۴) حج
    حج میں قبولیت ہو کیونکر جب کہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں۔ ان کو تو ادا کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۔ فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور آداب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔ (الحکم ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۹)
    بدل حج
    فرمایا کہ دعا کا اثر ثابت ہے یا ایک روایت میں ہے کہ اگر میّت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے۔ اور روزہ کا ذکر بھی ہے۔ ایک شخص نے عرض کی کہ
    حضور یہ جو ہے۔ لیس الانسان الاماسعی۔ فرمایا کہ اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ بھائی کے حق میں نہ دعا قبول ہو تو پھر سورۃ فاتحہ میں اھدنا کے بجائے اھدنی ہوتا۔ (البدر یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۵)
    (۳۶۵) خدمت دین بھی ایک طرح حج ہے
    ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم تو حج کرنے کو گئے ہوئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ہے۔
    فرمایا۔ اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہی ہے۔ حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے۔ اور ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کشف میں دیکھا تھا کہ دجال اور مسیح موعود علیہ السلام اکٹھے طواف کر رہے ہیں اصل میں طواف کے معنی ہیں پھرنا۔ تو طواف دو ہی طرح کا ہوتا ہے ایک تو رات کو چور پھرتے ہیں۔ یعنی گھروں کے گرد پھرتے ہیں اور ایک چوکیدار طواف کرتا ہے۔ مگر ان میں فرق یہ ہے کہ چور تو گھروں کو لوٹنے اور گھروں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اور چوکیداران گھروں کی حفاظت اور بچاؤ اور چوروں کے پکڑنے کے واسطے طواف کرتے ہیں۔ یہی حال مسیح اور دجال کے طواف کا ہے۔ دجال تو دنیا میں اس واسطے پھرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تا دنیا کو خدا کی طرف سے پھیر دے اور ان کے ایمان کو لوٹ لیا جائے۔ مگر مسیح موعود اس کوشش میں ہے کہ تا اسے پکڑے اور مارے اور اس کے ہاتھ سے لوگوں کے دین و ایمان کے متاع کو بچاوے۔ غرض یہ ایک جنگ ہے جو ہمارا دجال سے ہو رہا ہے۔ (الحکم ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲)
    (۳۶۶)صدقہ اور ہدیہ میں فرق
    صدقہ میں رد بلا ملحوظ ہوتی ہے اور یہ صدق سے نکلا ہے کیونکہ اس کے عملدرآمد میں انسان اللہ تعالیٰ کو صدق وفا دکھلاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہدیہ ہدایت سے نکلا ہے کہ آپس میں محبت بڑھے۔ (بدر یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۵)
    (۳۶۷) فاتحہ خوانی
    فاتحہ۔ ایک صاحب نے عرض کی کہ میرا اللہ تعالیٰ سے معاہدہ تھا کہ جب میں ملازم ہوں گا تو اپنی تنخواہ سے آدھ آنہ فی روپیہ نکال کر اللہ کے نام دیا کروں گا۔ اس لئے جو کچھ اب مجھے ملتا ہے اسی حساب سے نکال کر کھانا وغیرہ پکا کر اس پر ختم اور فاتحہ وغیرہ پڑھوا دی جاتی ہے۔ حضور کا اس بارے میں کیا حکم ہے۔
    فرمایا۔ مساکین وغیرہ کی پرورش کر دینی چاہئے یا اور کسی مقام پر۔ مگر فاتحہ خوانی کرانی یہ تو ایک بدعت ہے اسے نہ کرنا چاہئے۔ (بدر ۲؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۳)
    (۳۶۸) چٹھ برائے برآمدگی مراد ذبیحہ دینا
    سوال: ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ برائے برآمدگی مراد یا سیرابی ملک یا بطور چٹھ جو لوگ ذبیحہ دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: فرمایا کہ جائز نہیں ہے۔ (بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۵)
    صدقہ جاریہ
    ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء قبل نماز ظہر۔ ایک شخص کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہواکہ انسان اپنی زندگی میں کس طرح کا صدقہ جاریہ چھوڑجائے
    کہ مرنے کے بعد قیامت تک اس کا ثواب ملتا رہے۔
    جواب: فرمایا کہ قیامت تک کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ہر ایک عمل انسان کا جو اس کے مرنے کے بعد اس کے آثار دنیا میں قائم رہیں وہ اس کے واسطے موجب ثواب ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کا بیٹا ہو اور وہ اسے دین سکھلائے اور دین کا خادم بنا دے تو یہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے۔ جس کا ثواب اس کو ملتا رہے گا۔ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ ہر ایک عمل جو نیک نیتی کے ساتھ ایسے طور سے کیا جاوے کہ اس کے بعد قائم رہے وہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے۔
    (بدر ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
    (۳۶۹) مردے کیلئے دعا یا صدقہ
    اس ترقی کی ایک یہ بھی صورت ہے کہ جب مثلاً ایک شخص ایمان اور عمل کی ادنیٰ حالت میں فوت ہوتا ہے تو تھوڑی سی سوراخ بہشت کی طرف اس کے لئے نکالی جاتی ہے کیونکہ بہشتی تجلی کی اسی قدر اس میں استعداد موجود ہوتی ہے۔ پھر بعد اس کے اگر وہ اولاد صالح چھوڑ کرمرا ہے جو جدوجہد سے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور صدقات و خیرات اس کی مغفرت کی نیت سے مساکین کو دیتے ہیں یا ایسے کسی اہل اللہ سے اس کی محبت تھی جو تضرعات سے جناب الٰہی سے اس کی بخشش چاہتا ہے یا کوئی ایسا خلق اللہ کے فائدہ کا کام وہ دنیا میں کر گیا ہے جس سے بندگان خدا کو کسی قسم کی مدد یا آرام پہنچتا ہے تو اس خیر جاری کی برکت سے وہ کھڑی اس کی جو بہشت کی طرف کھولی گئی۔ دن بدن اپنی کشادگی میں زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اور سبقت رحمتی علی غضبی کا منشا اور بھی اس کو زیادہ کرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کھڑکی ایک بڑا وسیع دروازہ ہو کر آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ شہیدوں اور صدیقوں کی طرح وہ بشت میں ہی داخل ہو جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات شرعاً و انصافاً و عقلاً بیہودہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ اب اور ثواب اور اعمال صالحہ کی بعض وجوہ اس کے لئے کھلی رہیں۔ مگر پھر بھی وہ کھڑکی جو بہشت کی طرف اس کے لئے کھولی گئی ہے ہمیشہ اتنی کی اتنی ہی رہے جو پہلے دن کھولی گئی تھی۔
    (ازالہ اوہام صفحہ۱۴۸/۳۶۱)
    (۳۷۰) صدقہ میّت کے متعلق
    سوال: ایک شخص نے سوال کیا کہ میّت کے ساتھ جو لوگ روٹیاں پکا کر یا اور کوئی شے لے کر باہر قبرستان میں لے جاتے ہیں اور میّت کو دفن کرنے کے بعد مساکین میں تقسیم کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب: فرمایا۔ سب باتیں نیت پر موقوف ہیں۔ اگر یہ نیت ہو کہ اس جگہ مساکین جمع ہو جایا کرتے ہیں اور مردے کو صدقہ پہنچ سکتا ہے۔ اِدھر وہ دفن ہو اُدھر مساکین کو صدقہ دے دیا جاوے تا کہ اس کے حق میں مفید ہو اور وہ بخشا جاوے تو یہ ایک عمدہ بات ہے لیکن اگر صرف رسم کے طور پر یہ کام کیا جاوے تو یہ جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا ثواب نہ مردے کے لئے اور نہ دینے والوں کے واسطے اس میں کچھ فائدے کی بات ہے۔
    (۳۷۱) اسقاط
    ایک شخص نے سوال کیا کہ کسی شخص کے مر جانے پر جو اسقاط کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے۔
    جواب۔ فرمایا یہ بالکل بدعت ہے اور ہرگز اس کے واسطے کوئی ثبوت سنت اور حدیث سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔ (بدر ۱۶؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۲)
    میت
    (۳۷۲) جمعہ کے دن مرنا یا چہرہ اچھا رہنا
    سوال: ۱۲؍ جنوری ۱۹۰۸ء جمعہ کے دن مرنا، مرتے وقت ہوش کا قائم رہنا یا چہرہ کے رنگ کا اچھا ہونا۔ ان علامات کو ہم قاعدہ کلیہ کے طور سے ایمان کا نشان نہیں کہہ سکتے کیونکہ کئی دہریہ بھی اس دن کو مرتے ہیں کہ بعض امراض ہی ایسے ہیں مثلاً دق و سل کہ ان کے مریضوں کا اخیر تک ہوش قائم رہتا ہے۔ بلکہ طاعون کی بعض قسمیں بھی ایسی ہی ہیں ہم نے بعض دفعہ دیکھا کہ مریض کو کلمہ پڑھایا گیا اور یسٰین بھی سنائی۔ بعد ازاں وہ بچ گیا اور پھر وہی بُرے کام شروع کر دیئے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صدق دل سے ایمان نہیں لایا۔ اگر سچی توبہ کرتا تو کبھی ایسا کام نہ کرنا۔ اصل میں اس وقت کا کلمہ پڑھنا ایمان لانا نہیں۔ یہ تو خوف کا ایمان ہے جو مقبول نہیں۔
    (۱۶؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۳)
    (۳۷۳) چہلم جائز ہے یا نہ
    ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ چہلم کرنا ناجائز ہے یا نہ۔
    جواب: فرمایا۔ یہ رسم سنت سے باہر ہے۔ (بدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴)
    (۳۷۴) قرضہ لین دین اور مرض الموت میں مبتلا
    ایک بیمار شخص کا ذکر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ انسان حالت تندرستی میں صحت کی قدر نہیں کرتا کہ ان ایام میں اپنے تعلقات اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرے۔تا کہ ہر طرح وہ اس کا حافظ و ناصر ہو اور جب بیمار ہوتا ہے تو پھر دوبارہ صحت اس لئے طلب کرتا ہے کہ انہی دنیا کے امور میں مبتلا ہو۔ اگر اس کاارادہ خدمت دین ہو تو اس کا صحت کا طلب کرنا گویا منشائے الٰہی کے مطابق ہوگا اس بیمارکی نسبت ذکر ہوا کہ اس نے کئی سَو روپیہ لوگوں سے لینا ہے مگر صرف چند روپوں کے کاغذات ہیں باقی تمام زبانی لین دین ہے اور اس کی دو لڑکیاں ہیں۔
    بعض احباب نے تجویز کیا کہ جو کچھ رقوم لوگوں کے ذمہ ہیں اور وہ تحریر میں نہیں آئیں تو چاہئے کہ اب دو آدمی گواہ مقرر کر کے اس کی زندگی میں وہ رقمیں ان مقروضوں سے منوالی جاویں اور تحریر کرا لی جاوے۔
    حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس ضرور کوشش کرنی چاہئے یہ بڑے ثواب کی بات ہے ممکن ہے کہ اگر وہ مر جاوے تو بے چاری لڑکیوں کو ہی کچھ فائدہ پہنچ جاوے۔ یہ میں نے اس لئے لکھا ہے کہ اس قسم کی احتیاطیوں کو ایسے نازک موقعوں پر مدنظر رکھا جاوے اور سہل انگاری سے ان معاملات کو ترک نہ کیا جاوے۔ (بدر یکم نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ۹)
    (۳۷۴) رشوت
    سوال: حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ حضور ایک سوال اکثر آدمی دریافت کرتے ہیں کہ ان کو بعض وقت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ جب تک وہ کسی اہلکار وغیرہ کو کچھ نہ دیں کام نہیں ہوتا۔ اور وہ تباہ کر دیتے ہیں۔
    جواب: فرمایا۔ میرے نزدیک رشوت کی یہ تعرف ہے کہ کسی کے حقوق کو زائل کرنے کے واسطے یا ناجائز طور پر گورنمنٹ کے حقوق دبانے یا لینے کیلئے کوئی مابہ الاحتظاظ کسی کو دیا جاوے۔ لیکن اگر کوئی ایسی صورت ہو کہ کسی دوسرے کا اس سے کوئی نقصان نہ ہو اور نہ کسی دوسرے کا کوئی حق ضائع ہو۔ صرف اس لحاظ سے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کچھ دے دیا جاوے تو کوئی حرج نہیں اور یہ رشوت نہیں بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم راستہ پر چلے جاویں اور اس کے شر سے محفوظ رہیں۔
    اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ بعض معاملات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ اصل میں حق پر کون ہے۔
    فرمایا۔ ایسی صورتوں میں استفتاء قلب کافی ہے۔ اس میں شریعت کا حصہ رکھا گیا ہے میں نے کچھ کہا ہے اس پر اگر زیادہ غور کی جاوے تو امید ہے قرآن شریف سے بھی کوئی نص مل جاوے۔
    ( الحکم ۱۷؍ اگست ۱۹۰۲ء)
    (۳۷۵) شراب نوشی
    مثلاً ایک شراب ہی کو دیکھو جو اُم الخبائپ ہے۔ جس سے طرح طرح کے نفسانی جوش پیدا ہو کر کبھی انسان مرتکب فسق و فجور کا ہوتا ہے اور کبھی خونریزی کا ارتکاب کرتا ہے اور بلاشبہ یہ تمام گناہوں کی ماں ہے۔ مگر نہ صرف یہودیوں کے اعتراضات سے بلکہ انجیل سے بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح تمام عمر اس کے مرتکب رہے۔ اسی وجہ سے عیسائیوں کی عشاء ربانی کی بھی یہ ایک جز ہے۔ اور انجیل میں حضرت مسیح اقرار کرتے ہیں کہ یوحنا شراب نہیں پیتا تھا۔ مگر اپنی نسبت مبالغہ سے کھاؤ پیو کا لفظ استعمال کیا ہے۔ غرض اس میں کسی کو بھی کلام نہیں کہ یسوع مسیح شراب پیا کرتا تھا۔ چنانچہ پرچہ اخبار ایپی فنی ۲۷؍ اپریل ۱۹۰۱ء میں بھی جو ایک مشہور پادریوں کا پرچہ انگریزی زبان میں کلکتہ سے نکلتا ہے۔ یہ عبارت ہے۔
    ’’مسیح گوشت بھی کھاتا تھا اور شراب بھی پیتا تھا‘‘ اور کتاب دانی ایل باب اوّل میں شراب کو ناپاک قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ دانی ایل اس کو ناپاک سمجھتا تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ شراب ایسی خبیث چیز ہے کہ اس کا پلید ہونا اس بات کا محتاج نہیں کہ توریت یا انجیل یا کسی دوسرے صحیفہ میں اس کوپلید اور ناپاک لکھا ہو۔ مگر اگر فرض کے طور پر کسی کتاب نے شراب کی تعریف کی ہو تو شراب اس سے قابل تعریف نہیں ٹھہرے گی۔ ہاں اس کتاب پر اعتراض آئے گا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ جس چیز کے عیب اور مضرتیں تجارب سے کھل گئے ہوں اس میں ہم کسی کتاب کی شہادت کے محتاج نہیں ہیں۔ہزاروں قسم کی زہریں اور خبیث چیزیں دنیا میں موجود ہیں جن کی مضرتیں تجربہ نے ہم پر کھول دی ہیں۔ پس ضرور نہیں کہ ہم ان چیزوں کو خبیث ٹھہرانے کیلئے آسمانی کتابوں کی ورق گردانی کریں۔ ان سب میں سے اوّل درجہ پر شراب ہے۔ دنیا میں ہزاروں شہادتیں اس کی مضرت اور خباثت پر موجود ہیں۔ ان سب کا لکھنا موجب تطویل ہے۔
    (ریویو جلد اوّل صفحہ۱۱۰)
    دنیا میںنفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے بڑے بڑے دو گناہ ہیں۔ ایک شراب نوشی اور ایک بدکاری۔ اب کہو کیا سچ نہیں ہے۔ کہ ان دو گناہوں میں یورپ کے اکثر مردوں اور عورتوں نے پورا حصہ لیا ہے۔ بلکہ میں اس بات میں مبالغہ نہیں دیکھتا کہ شراب نوشی میں ایشیا کے تمام ملکوں کی نسبت یورپ بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے اکثر شہروں میں شراب فروشی کی اس قدر دکانیں ملیں گی کہ ہمارے قصبوں کی ہر قسم کی دکانیں ملا کر بھی ان سے کمتر ہوں گی اور تجربہ شہادت دے رہا ہے کہ تمام گناہوں کی جڑ شراب ہے۔ کیونکہ وہ چند منٹ میں ہی بدمست بنا کر خون کرنے تک دلیر کر دیتی ہے اور دوسری قسم کا فسق و فجور اس کے ضروری لوازم ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور اس پر زور دیتا ہوں کہ شراب اور تقویٰ ہرگز جمع نہیں ہو سکتے اور جو شخص اس کے بدنتیجوں سے آگاہ نہیں وہ عقلمند ہی نہیں اور اس میں ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ اس کی عادت کو ترک کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ (ریویو جلد اوّل صفحہ۲۳)
    (۳۷۶) معراج
    احادیث میں مسیح موعود کے لئے نزول من السماء نہیں لکھا۔ نزول کا لفظ ہے اور یہ اظلالی معنی رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔ نزیل لغت میں مسافر کو کہتے ہیں۔ کیا وہ آسمان سے اُترتا ہے۔ بہرحال قرآن ہر میدان میں فتحیاب ہے۔ آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا اور اخرین منھم لما یلحقوابھم کہہ کر مسیح موعود کو اپنا بروز بتا دیا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کو رد کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ بھی رؤیا کہتی ہیں۔
    حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا۔ کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپ کو اس جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے معراج ہوا۔
    (پھر آپ نے اس امر کی تائید میں چند آیات سے استدلال کیا کہ جسم آسمان پر نہیں جاتا یہ باتیں قریباً پہلے ہم بار ہا درج کر چکے ہیں۔ بخوف طوالت اعادہ نہیں کرتے۔
    (ایڈیٹر ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۵)
    (۳۷۷) باجا بجانے کی حلت
    اسی طرح میرے نزدیک باجے کی بھی حلت ہے اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں دیکھتے۔ بشرطیکہ نیت میں خلل نہ ہو۔ نکاحوں میں بعض وقت جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور وراثت کے مقدمات ہو جاتے ہیں۔ جب اعلان ہو گیا ہوا ہوتا ہے تو ایسے مقدمات کا انفصال سہل اور آسان ہو جاتا ہے۔ اگر نکاح گم صم ہو گیا اور کسی کوخبر بھی نہ ہوئی تو پھر وہ تعلقات بعض اوقات قانوناً ناجائز سمجھے جا کر اولاد محروم الارث قرار دے دی جاتی ہے۔ ایسے امور صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہیں کیونکہ ان سے شرع کی قضایا فیصل ہو جاتے ہیں۔ یہ لڑکے جو پیدا ہوتے رہتے ہیں بعض وقت ان کے عقیقہ پر ہم نے دو دو ہزار آدمی کو دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری غرض اس سے یہی تھی تا کہ اس پیشگوئی کا جو ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے کی گئی تھی بخوبی اعلان ہو جاوے۔ (الحکم ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۲)
    (۳۷۸) مسئلہ کفرواسلام
    سوال ہوا کہ ابتدا میں بھی مسلمانوں کے درمیان آپس میں عداوت اور دشمنیاں ہوتی رہی ہیں اور اختلاف رائے بھی ہوتا رہا ہے مگر باوجود اس کے ہم کسی کو کافر نہیں کہہ سکتے۔
    حضرت اقدس نے فرمایا یہ تو شیعوں کا مذہب ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان آپس میں ایسی سخت دشمنی تھی۔ یہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس کی تردید میں فرماتا ہے کہ نزعنا ما فی صدورھم من غل۔ برادریوں کے درمیان آپس میں دشمنیاں ہوا کرتی ہیں مگر شادی مرگ کے وقت وہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔ اخیار میں خونی دشمنی کبھی نہیں ہوتی۔
    سوال: جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے مگر آپ کے مرید بھی نہیں ہیں۔ ان کا کیا حال؟
    حضرت اقدس نے فرمایا۔ وہ لوگ راہ و رسم اور تعلقات کس کے ساتھ رکھتے ہیں۔ آخر ایک گروہ میں ان کو ملنا پڑے گا جس کے ساتھ کوئی اپنا تعلق رکھتا ہے۔ اسی میں سے وہ ہوتا ہے۔
    سوال ہوا کہ جو لوگ آپ کو نہیں مانتے وہ انعمت علیہم کے نیچے ہیں یا کہ نہیں؟
    جواب: حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ انعمت علیہم میں تو میں اپنی جماعت کو بھی شامل نہیں کر سکتا جب تک کہ خدا کسی کو نہ کرے۔ جو کلمہ گو سچے دل سے قرآن پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو بشرطیکہ سمجھایا جائے وہ اپنا اجر پائے گا جس قدر کوئی مانے گا اسی قدر ثواب پائے گا۔ جتنا انکار کرے گا اتنی ہی تکلیف اٹھائے گا۔ میں قسماً کہتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جو ہمیں کافر نہیں کہتے۔ ان کے دلوں کا خدا مالک ہے مگر حضرت مسیح کا خالق اور حی ماننا بھی تو ایک شرک ہے اگر وہ کہیں کہ خدا کے اذن سے کرتا تھا تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں دیا گیا۔ جو خدا کے ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے خدا اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ جس کے ساتھ خدا جنگ کرے اس کا ایمان کہاںرہا۔ (الحکم ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۱ء)
    (۳۷۹) مسیح موعود کو ماننے کی ضرورت
    (۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء بروز جمعہ۔ حضرتاقدس کی خدمت میں آج پھر ایک سوال پیش ہوا کہ جب ہم لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور قرآن شریف کی دیگر امور کی پیروی کرتے ہیں تو صرف آپ کو نہ ماننے کے سبب کیا حرج ہو سکتاہے۔
    جواب: حضرت اقدس نے فرمایا۔ میں نے اس بات کا جواب کئی بار دیا ہے۔ ہم قال اللہ اور قال الرسول کو مانتے ہیں۔ پھر خدا کی وحی کو مانتے ہیں۔ میرا آنا اللہ اور رسول کے وعدے کے مطابق ہے۔ جو شخص خدا اور رسول کی ایک بات مانتا ہے اور دوسری نہیں مانتا وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں۔ یہ تو وہ بات ہے جو قرآن شریف میں تذکرہ ہے اور وہ لوگ بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ دراصل ایمان نہیں۔ ایک خدا اور اس کے رسول کا موعود اپنے وقت پر آیا۔ صدی کے سر پر نشانات لایا۔ عین ضرورت کے وقت آیا اپنے دعویٰ کے دلائل صحیح اور قویٰ رکھتا ہے۔ ایسے شخص کا انکار کیا ایک مومن کا کام ہے۔ یہود بھی موحد کہلاتے تھے۔ اب تک ان کا دعویٰ ہے کہ ہم توحید پر قائم ہیں۔ نماز پڑھتے روزہ رکھتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانتے تھے۔ اس سبب سے کافر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کے ایک حکم اور فرمودہ رسول کی ایک بات کا بھی جو شخص انکار کرتا ہے اور اس کی مخالفت ضد کرتا ہے وہ کافر ہوتا ہے اور یہ بھی ان لوگوں کی غلطی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نماز روزہ ادا کرتے ہیں اور تمام اعمال حسنہ بجا لاتے ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اعمال حسنہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتی ہے۔ (البدر ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۵ء)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں