1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

فتاویٰ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع۔ حضرت مرزا طاہر احمد رح

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    فتاویٰ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع۔ حضرت مرزا طاہر احمد رح


    باب نمبر 1
    الفضل 1982ء تا اپریل 2003ء
    قرآنِ کریم
    سوال :1 کیا قرآن کریم ترجمے کے ساتھ لکھ سکتے ہیں جو بچے آسانی سے پڑھ سکیں؟
    جواب: اگر اردو نہ آتی ہو اور صحیح تلفظ نہ ہو تو ایسے تلفظ سے لکھ سکتے ہیں جس میں قرآن کریم کی تلاوت صحیح طریقے پر ہو اور قرأت ٹھیک ہو۔ اگر ٹرانسلیشن اس رنگ میں کی جاسکتی ہے تو کرنی چاہئے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :2 سورہ نساء میں ہے کہ پوچھا جائے گا کہ خداتعالیٰ کی زمین اتنی وسیع تھی، تم نے ہجرت کیوں نہ کی اور دوسری طرف دروازے بند ہورہے ہیں؟
    جواب: یہ جو پوچھا جائے گا یہ ان سے پوچھا جائے گا جو ہجرت سے پہلے کے ابتلاء میں ناکام ہوئے، دوسرے سے نہیں پوچھا جائے گا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی ایسا ہوا اور قرآن کریم نے یہ بتایا کہ سوائے ان کے جو خدا کے راستہ میں گھیرے ہوئے ہیں اس لئے پوچھنا صرف ان کے لئے ہے جو ان تقاضوں کو جو صبر اور وفا کے ہیں اس ابتلاء میں پورا نہ کرسکے۔ اس وقت ہے کہ پھر تم نے ہجرت کیوں نہ کی۔ اگر ہجرت نہ کرسکیں تو (احصروا فی سبیل اللہ) میں آئے گا۔ پھر ان کی دو قسمیں ہو جائیں گی۔ کچھ وہ جو تقاضے پورے کرسکے اور بہت ظلم برداشت کئے۔ وہ پھر اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں۔ کچھ جو نہیں کرسکے ان کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ ان کے متعلق خدا فیصلہ کرے گا کہ انہیں بخشے گا یا کیا ان سے سلوک کرے گا۔ کیونکہ دوسری آیت میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص مطمئن بالایمان ہو اور دباؤ کے نتیجہ میں آکر وہ ایسا کلمہ کہنے پر مجبور ہو جائے جو اس کے دین کے خلاف ہے تو ایسا شخص یا جو دل میں چھپاتا ہے اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ جہنم میں جائے گا، نہ یہ فرمایا کہ وہ ضرور بخشا جائے گا۔ فرمایا اس کا فیصلہ خدا پر ہے۔ کس حد تک دباؤ تھا، کس حد تک اس کو استطاعت تھی اور اپنی استطاعت کے تعلق میں اگر وہ دباؤ ہلکا تھا اور وہ ناکام ہو گیا تو کسی حد تک سزا پائے گا۔ اگر دباؤ زیادہ تھا تو پھر خدا اس کو سزا نہیں دیگا۔
    (الفضل ۲۶؍اپریل ۲۰۰۳ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۱۸؍اگست ۱۹۹۵ء)
    سوال :3 تلاوت قرآن کے دوران جو سجدے آتے ہیں ان کی کیا اہمیت ہے؟
    جواب: مختلف روایتیں ہیں۔ بعض روایتوں کے مطابق تو بعض ائمہ نے تجویز کیا ہے کہ یہاں سجدہ کر لینا چاہئے۔ مثلاً ایک سجدہ کے مقام پر لکھا ہوا ہے عند الشافعی یعنی حضرت امام شافعی کا خیال تھا یہاں سجدہ کرنا چاہئے۔ بعض جگہ کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تو لوگ روایتوں سے ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ کس نے پہلی دفعہ یہاں سجدہ کیا۔ مگر آنحضرت ﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ سجدے کی آیت پڑھی گئی۔ آپ نے سجدہ نہیں کیا۔ا س کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سختی سے لوگ عمل کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ویسی سختی نہیں کی۔ روح سجدہ ریز ہونی چاہئے۔ اصل بنیادی بات یہ ہے۔ اور جسم کا سجدہ ساتھ ہو جائے تو بہتر ہے لیکن اگر جگہ نہ ہو، توفیق نہ ہو تو کوئی بھی حرج نہیں۔ اس وقت وہاں سجدہ نہ کیا جائے بعد میں گھر جا کے کر لیا جائے۔ مگر آج کل کے لوگ جو ہیں یہ بہت زور دیتے ہیں اس بات پر کہ جہاں سجدہ ہو وہیں کرو۔ تقریر ہورہی ہے۔ ایک دفعہ ایک مولوی صاحب تھے انہوں نے تقریر شروع کی۔ تقریر شروع کرنے والے تھے کسی حافظ نے تلاوت کی تو اس میں سجدہ آگیا۔ ان کو اتنا غصہ آیا کہ بولے۔ تم نے مروا دیا ہمیں اب یہاں سب کو سجدہ کرنا پڑے گا۔ تو ان کی باتیں چھوڑو۔ سجدہ جہاں تک توفیق ہو کرنا چاہئے۔ گندی جگہ ہو۔ نہ کرسکے تو پھر آپ گھر جاکے سجدہ کرسکتی ہیں۔ اب رستہ چلتے بعض دفعہ تلاوت ہورہی ہے۔ آواز باہر آرہی ہے اور اس میں سجدہ آجائے تو آدمی سڑک پر سجدہ کرے گا تو یہ نہیں ہوسکتا تو ظاہری باتوں پر بہت زور نہیں دینا چاہئے بلکہ روحانی لحاظ سے سمجھنا چاہئے۔ اصل سجدہ روح کا ہے۔ بعض جگہ آتا ہے جب لوگ رکوع کررہے ہوں تم بھی رکوع کرو۔ تو کیا رستہ چلتے خدا کے گھر میں اگر رکوع ہو جائے تو سارے رکوع کرکے چلنے لگ جائیں گے۔ یہ سارے توہمات ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان سب توہمات کو دور کیا ہے۔ اصل رکوع بھی روح کا ہے اور اصل سجدہ بھی روح کا ہے۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۸؍مئی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکاررڈنگ ۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :4 ایک حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ سورۂ زلزال آدھے قرآن کے برابر ہے۔ سورۂ الکافرون تہائی قرآن کے برابر ہے۔ سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۂ زلزال دو بار پڑھ لیں تو قرآن مجید کے ایک دور مکمل کرنے کے برابر ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں؟
    جواب: جو درست حدیثیں ہیں ان کے معانی پر غور کرنا چاہئے قرآن کے برابر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ مگر بعض سورتوں میں خلاصے بیان ہیں قرآن کریم کے۔ مثلاً سورۂ فاتحہ ہے وہ سارے قرآن پر حاوی ہے۔ اس کے اندر تمام مضامین جو قرآن کریم کے اندر ہیںحضرت مسیح موعود نے اس سے نکالے ہیں۔ اسی طرح سورۂ اخلاص، سورۂ فلک، سورۂ الناس ان میں بھی قرآن کریم کے بعض حصوں کے خلاصے ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ یہ تین سورتیں پڑھ لو تو پورا قرآن شریف پڑھ لیا۔ یہ لوگوں کے نفس کے بہانے بنائے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم پورا پڑھنا الگ بات ہے اور قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ بعض سورتوں میں ہونا یہ الگ بات ہے۔ ان مضامین کے خلاصے کا پتہ بھی نہیں لگ سکتا جب تک پوراقرآن شریف نہ پڑھ لو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورا قرآن کریم پڑھنا ضروری ہے اور تلاش کرنا چاہئے کہ قرآن کریم کا کہاں کہاں کس کس سورہ میں تعارف کروایا گیا ہے جہاں ان مضامین کا خلاصہ ہے اور یہ مل سکتے ہیں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
    (مجلس عرفان الفضل ۲۰؍جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ ۳۔ منعقدہ ۲۶؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :5 عورت کے لئے قرآن سیکھنے اور سکھانے کی بھی اجازت ہے مگر اس کی تفسیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
    جواب: غلط ہے۔ جو عورت سیکھ سکتی ہے سکھائے بھی تفسیر کی بھی اجازت ہے مگر جو تفسیر سے منع کیا ہو اہے اس کا مطلب ہے کہ اتنا علم تو ضروری ہے کہ وہ جو مسلمہ بزرگ ہیں جن کی تفسیریں ہیں ان کے ساتھ Clash نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تفسیر کچھ اور ہو جو ابتداء سے چلی آرہی ہے۔ اور وہ بالکل Clash کر دیں۔ یہ عام عورتوں کا حق نہیں۔ عام مردوں کا بھی حق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کو سکھائے تو بعض دفعہ وہ سب سے الگ تفسیر کر دیتا ہے۔ میں بھی کئی دفعہ درس میں ایسی تفسیر کرتا رہا ہوں جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ مگر اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا ہے۔ تو عام عورتیں ہی نہیں عام مردوں کو بھی یہ حق نہیں ہے وہ لکھ کے پہلے پوچھ لیں علماء سے اگر ان کے نزدیک ٹھیک ہے تو پھر وہ آگے چلائیں۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۱۰؍جون ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :6 ایک سوال ہوا کہ رسول کریم ﷺ پر جب قرآن کریم نازل ہوا تو کس طرح اکٹھا کیا گیا؟
    جواب : حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ نے فرمایا آنحضرت ﷺ پر جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس کو محفوظ کرنے کی مختلف صورتیں تھیں۔ بعض دفعہ یہ چمڑے کے ٹکڑوں پر لکھا جاتا تھا۔ کاغذ کی ایک قسم بھی دستیاب تھی اس پر بھی لکھا جاتا تھا۔ یہ کاغذ فراعین مصر کے زمانے سے موجود تھا۔ اس پر بائبل بھی لکھی گئی تھی۔ اس کے ساتھ حافظ بھی تیار ہورہے تھے جو قرآن کریم کو زبانی حفظ کرلیتے تھے۔ اگر کہیں شبہ پڑ جاتا تھا تو حفاظ کی گواہی لی جاتی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ بڑا احسان ہے کہ تمام حفاظ کی گواہیاں لے کر قرأت کے اختلافات دور کئے گئے اور ایک قرآن کی متفقہ شکل جاری کردی۔ جس کو مصحفِ عثمان کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی یہی شکل آج بھی رائج ہے۔
    (مجلس عرفان الفضل ۱۴؍جون ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :7 قرآن میں ہماری تعلیم بار بار کہتی ہے کہ خدا کا خوف کرنا چاہئے۔ ایک مخالف اس سے یہ استدلال کرتی ہے کہ آپ کا خدا ظالم ہے۔ تو ہم کس طرح ان کو ثابت کرسکتے ہیں کہ ہمارا خدا بہت پیار کرنے والا ہے؟
    جواب: خدا کا خوف اس وقت کہتے ہیں جب کوئی کسی پر ظلم کرتا ہے۔ کسی کو جب کہتے ہیں کہ خدا کا خوف کرو تو مراد یہ ہے کہ وہ ظلم نہ کرو اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ایک اور جواب اس کا یہ ہے جو اصل حقیقی جواب ہے کہ خدا سے خوف اس طرح نہیں کرتے جس طرح سانپ سے، بچھو سے یا بھیڑیئے سے یا چیتے سے خوف کرتے ہیں اور ان سے بھاگتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ وہ کھا نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ آپ لوگوں کو کھا جائے اس لئے اللہ تعالیٰ سے یہ خوف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ سے بالکل الٹ خوف ہے۔ خوف یہ ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے محبت نہ چھوڑ دے ،اللہ ہم سے پیار کرنا نہ بند کردے۔ تو یہ خوف اتنا فرق والا خوف ہے۔ بعض دفعہ ماں سے بھی اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ میری غلطی کا پتہ لگ گیا تو مجھ سے پیار کرنا چھوڑ دے گی۔ باپ سے بھی ایسا خوف کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے سب کچھ، اس لئے خدا کا خوف اس لحاظ سے ہمیشہ دل میں رہنا چاہئے کہ ایسی کوئی حرکت نہ ہو جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرنا بند کر دے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ تا ۴۔ ریکارڈنگ ۶؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :8 یوگوسلاویہ کے ایک دوست نے جو سات سال سے احمدی ہیں۔ ترجمان کی وساطت سے سوال کیا کہ اگر کوئی احمدی فوت ہو جائے تو کیا اس کی وفات کے بعد سورۂ یٰسین حصول ثواب کے لئے پڑھی جاسکتی ہے۔ جس طرح اس کی موت کے وقت پڑھی جاتی ہے؟
    جواب: حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا سورۂ یٰسین مرنے والے کی زندگی میں پڑھی جاتی ہے۔ مرنے کے بعد اس کے پڑھے جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ وفات کا وقت قریب ہو تو سورۂ یٰسین اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ اس میں روح کے جسم سے جدا ہونے اور امن و سلامتی کا ذکر ہے اس وجہ سے اس سورۃ کی تلاوت روحانی تسلی کا موجب بنتی ہے۔ اور سب لوگوں کی طرف سے مرنے کے قریب شخص کے لئے دعا ہو جاتی ہے۔ یہ حکمت سورۂ یٰسین کو پڑھنے کی ہے۔ لیکن مرنے کے بعد اس کا کوئی سوال نہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۴؍جون ۱۹۹۹ء صفحہ ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :9 قیامت کے دن انسانی جسم کو یہاں رہنا پڑے گا یا روح جہنم یا جنت میں جائے گی تو قرآن کریم میں جو آیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں تمہاری گواہی دیں گے اس کا کیا مطلب ہوا؟
    جواب: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس روح کے اندر یہاں کی باتیں نقش ہوں گی اور اس روح میں سے ایک اور روح نکلے گی تو وہ روح جسم ہو جائے گی۔
    (مجلس عرفان ۔ الفضل ۹؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۳؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال :10 غیراحمدی لوگ قرآن کریم کی تلاوت ختم کرنے پر صدق اللہ العظیم کہتے ہیں؟
    جواب: احمدی بھی کہہ سکتے ہیں کہنے میں تو کوئی حرج نہیںمگر یہ کوئی رواج نہیں ہے سنت نہیں ہے ۔رسول اللہ ﷺ ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے مگر بعد میں صدق اللہ العظیم نہیں کہا کرتے تھے۔ یہ لوگوں کی بنائی ہوئی بات ہے۔ وہ کہیں نہ کہیں کہ اللہ نے سچ بولا ہے اللہ تو سچ ہی بولتا ہے۔ صدق اللہ العظیم کا مطلب ہے۔ اللہ عظیم نے سچ بات کی ہے۔ یہ ویسے تو گندی رسم نہیں ہے تصدیق کرنے کا حرج ہی کیا ہے مگر سنت نہیں ہے۔ اس لئے ہم احمدی یہ نہیں پڑھتے۔ دعائے ختم القرآن پڑھنی چاہئے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :11 بچوں کو کس عمر میں قرآن کریم شروع کرنا چاہئے۔
    جواب: جتنی جلد ہو اچھا ہے۔ بعض بچے تو بہت جلدی شروع کردیتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے بعض بچے اڑھائی سال کی عمر میں قرآن کریم پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن چار سال کی عمر تو عام ہے۔تو بہتر یہی ہے کہ چار سال کی عمر سے نو سال کی عمر تک قرآن کریم بھی سیکھ لیں اور اس کا ترجمہ اگر ہوسکتا ہو تو وہ بھی سیکھ لیںورنہ صرف ناظرہ پڑھیں اور آمین کروالیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۲؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۵؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :12 عام حالات میں انسان قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہے لیکن جب دوسرے حالات ہوتے ہیں یا انسان بیمار ہوتا ہے تو اس وقت خصوصی سورتوں کا ورد کرتے ہیں۔ جیسے سورۃ یٰسین ہے یا کوئی اور سورۃ جب کوئی پریشانی ہو تو کیا سورۃ یٰسین ہی پڑھنی چاہئے یا کوئی بھی سورۃ پڑھی جاسکتی ہے؟
    جواب: جب کوئی مررہا ہو اس وقت سورۃ یٰسین پڑھی جاتی ہے اور اس وقت یہی پڑھنی چاہئے۔ اور ویسے پریشانی کے وقت جو مناسب حال سورۃ کسی کو معلوم ہو اس کو پڑھا کریں۔ بے شک اور کوئی سورۃ پڑھنے کی بجائے دعائیہ آیات جو پریشانی سے تعلق رکھتی ہیں وہ پڑھنی چاہئیں آپ کو پریشانی ہو تو قرآن کریم کی دعائیں، رسول اللہ ﷺ کی دعائیں، حضرت مسیح موعود کی دعائیں جو اس پریشانی سے تعلق رکھنے والی ہوں پڑھا کریں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :13 قرآن کریم کی 114 سورتیں جو ہیں ان کے نام الہامی ہیں یا بعد میں کوئی تجویز ہوئے؟
    جواب: سب نام الہامی ہیں۔ ایک بھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں بنایا۔ سارے نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۸؍جون ۲۰۰۰ء۔ ریکارڈنگ ۱۸؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :14 لوگ روشنیوں یا قرآنی آیات کا مراقبہ کرتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟
    جواب: قرآنی آیات کے مراقبہ سے کیا مراد ہے۔ قرآنی آیات پڑھ کے بغیر سوچے سمجھے اس کو پڑھتے رہو اور مراقبہ میں چلے جاؤ۔ یہ محض فرضی باتیں ہیں۔ اور نفسیاتی طور پر اپنے باشعور ضمیر سے ڈوب کر غیرشعوری ضمیر میں اترنے کی کوشش ہے۔ لیکن قرآن کریم کا حقیقت میں اگر مراقبہ کرنا ہے تو آیات پر غور کریں ان کے مضامین کو سمجھیں، انہیں اپنی زندگی پر اطلاق کرکے دیکھیں، اس سے بہتر اور مراقبہ کا کوئی طریق نہیں ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۵؍اکتوبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۶؍مئی ۱۹۹۴ء)
    سوال :15 جب قرآن کریم کی تلاوت کے دوران سجدے کا مقام آتا ہے کیا قبلہ رو ہو کر سجدہ کرنا ضروری ہے؟
    جواب: قبلہ رو ہونا ضروری نہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :16 اللہ میاں نے قرآن کریم میں اپنے آپ کو ’’ہم‘‘ کہہ کر کیوں مخاطب کیا ہے جبکہ وہ ایک ہے؟
    جواب: ’’ہم‘‘ جو لفظ ہے یہ عظمت کے لئے ہوا کرتا ہے۔ ہم یہ کام کریں گے۔ یہ عام زبانوں میں بھی محاورہ ہوتا ہے یو۔پی والے اکثر بچے، لوگ اپنے آپ کو’’ ہم‘‘ کہتے ہیں۔ ’’ہم‘‘ بڑائی کا نشان ہے اکیلا آدمی۔ جب ہم کہیں تو اس کا مطلب نہیں کہ ’’جمع‘‘ ہو جاتے ہیں۔ یہاں بھی ملکہ یا بادشاہ جب وہ سٹیج ایڈریس دیتے ہیں تو اپنے آپ کو ’’I‘‘ کی بجائے "We" کہتے ہیں۔ تو یہ قرآن کا محاورہ ہے کہ جب کلام میں بہت عظمت ہو اور یہ بتانا ہو کہ میرے ساتھ ساری کائنات ہے تم میری مرضی کو بدلا نہیں سکتے۔ پھر اس وقت خدا اپنے آپ کو’’ ہم‘‘ کہتا ہے ورنہ اکثر جگہ میں کہتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :17 حضور۔ جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس دوران جو کاتب تھے وہ کس چیز سے لکھتے تھے؟
    جواب: قلم سے۔ قرآن کریم میں آتا ہے ن والقلم… نون کا ایک معنی دوات بھی ہے جو قلم دوات سے لکھتے ہیں اس زمانے میں بھی قلمیں تھیں اور قلموں سے لکھا جاتا تھا۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۲؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۵؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :18 حضور کئی سورتوں کے ایک سے زیادہ نام ہیں؟
    جواب: ان میں بھی حکمتیں ہیں۔ یہ بتانے کی خاطر کہ ان سورتوں میں بہت سی برکتیں ہیں اور ناموں سے ان سورتوں کی برکت کی طرف اشارہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً سورۃ فاتحہ ہے۔ فاتحۃ الکتاب (شروع کرنے والی) کھولنے والی اور اس سورۃ کا نام شفاء بھی ہے تو اور بہت سے نام ہیں سورۃ فاتحہ کے تو یہ اس کے مضامین کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲؍جون ۲۰۰۰ء ۔ ریکارڈنگ ۱۸؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :19 قرآن شریف میں رکوع کے نشان کا کیا مطلب ہے؟
    جواب: قرآن میں رکوع کے نشان حضرت عثمانؓ والے مصحف میں نہیں تھے یہ بعد میں لوگوں نے چونکہ ٹھہر ٹھہر کے پڑھنا تھا اس لئے لوگوں نے بعد میں رکوع کے نشان لگادیئے۔ علماء نے سوچ کے اندازہ کرکے نشان لگائے ہیں چھوٹے چھوٹے رکوع بھی ہیں۔ بعض سورتیں ہی چھوٹی ہیں وہ ایک ہی چھوٹا سا رکوع ہوگا لیکن بڑی سورتوں میں اندازہ قریب قریب ایک مضمون کے اوپر انہوں نے جو سمجھا وہاں رکوع کا نشان لگا دیا۔ تاکہ لوگ پڑھتے وقت یاد رکھیں کہ آج کتنے رکوع پڑھ لئے تھے اور کتنے کل پڑھیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :20 قرآن مجید میں سجدہ کیوں آتا ہے اور کیسے ادا کرنا چاہئے؟
    جواب: قرآن مجید میں جو سجدہ آتا اس کا بعض دفعہ مضمون خود بتا دیتا ہے کہ یہاں سجدہ کرنے کی طرف طبیعت مائل ہورہی ہے اور سجدے کچھ رسول ﷺ نے خود مقرر فرمائے تھے کہ یہاں سجدہ کرنا چاہئے کچھ بعد کے علماء نے سجدے تجویز کئے۔ تو جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اگر زمین صاف ہو اور پاک ہو اور سجدہ آجائے تو وہاں سجدہ کرلینا ٹھیک ہے۔ لیکن اگر گندی جگہ ہو اور زمین صاف نہ ہو تو انسان گھر جاکے سجدہ کرسکتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :21 حضور جب آپ چھوٹے تھے اور پہلی بار قرآن کریم کا دور مکمل کیا تو آپ کی آمین کس نے کروائی تھی؟
    جواب: کسی نے نہیں کروائی اور اب یاد کروا دیا ہے تو کسی بچے کے ساتھ اپنی آمین بھی کروادوں گا۔
    (مجلس عرفان الفضل ۲۰؍جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ۳۔ منعقدہ ۲۶؍نومبر ۲۰۰۰ء)
    سوال :22 قرآن پاک میں جو سورتوں کے نام رکھے ہوئے ہیں وہ سورتوں کے ساتھ ہی نازل ہوئے تھے؟
    جواب: حضور انور نے فرمایا کہ ہاں سورتوں کے نام ساتھ ہی نازل ہوئے تھے۔ تمام سورتوں کے نام الہامی ہیں۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۷؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :23 ایک سوال ہوا کہ جب قرآن مجید نازل ہوا تو زیرزبر نہیں تھی۔ پھر یہ بعد میں کیوں ڈالی گئی ؟
    جواب:حضور نے فرمایا زیرزبر تو موجود تھی لیکن لکھی نہیں جاتی تھی۔ لکھنے والے لکھتے نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ عربوں کی زبان تھی۔ وہ جانتے تھے کہ کہاں کیا پڑھنا ہے لیکن جب اسلام پھیل گیا اور قرآن پڑھنے والے بدو اور عجمی بھی پیدا ہوگئے تو اس وقت غلطی سے بچانے کے لئے بڑی احتیاط سے زیرزبر ڈالی گئی۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۹؍مئی ۱۹۹۹ء صفحہ:۴۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :24 قرآن کریم میں اگر سائنس کی ترقی کا بیان ملتا ہے تو کیا یہ اور آگے جائے گا؟
    جواب: ہاں یہ جاری ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال25: سورہ مائدہ آیت نمبر ۴۲ میں ہے ۔جو ایمان لاتے ہیں ۔انہیں یہودی اور عیسائی سے دوستی نہیں کرنی چاہئے۔اس پر روشنی ڈالنے کی درخواست ہے ؟
    جواب: حضور کے ارشاد کی تعمیل میں اس سے اگلی پچھلی آیات کا محترم امام صاحب نے اردو ترجمہ پیش کیا ۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم یہود اور نصاریٰ کو اولیاء نہ بناؤ۔ان میں سے بعض بعض کے دوست ہیں ۔تو ان کے درمیان فیصلہ کر اس کے ذریعے جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔او ر توان سے ڈر مبادہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال دیں ۔
    حضور انور نے فرمایا : یہ ہے اصل بنیاد۔کہ جہاں تک ان کے متعلق فیصلے کا تعلق ہے ۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں دشمن سے بھی انصاف اور تقویٰ کے ساتھ فیصلے کا حکم دیا ہے ۔عدل کے ساتھ فیصلے کاحکم دیا ہے ۔اس لئے ان سے معاملات میں عدل سے فیصلہ کر۔لیکن خوف رکھو کہ وہ تمہیں فتنے میں مبتلاء نہ کر دیں ۔اس ڈر سے اپنا بچاؤ کرو ۔تمہاری تعلیم میں دخل اندازی کریں ۔اور تمہاری تعلیم کے بعض حصوں کو کہیں کہ ان کی ضرورت نہیں ۔تویہ بڑا خطرناک فتنہ ہے ۔جو یہ تم میں پیدا کر سکتے ہیں اگر وہ پھر بھی پیٹھ پھیر لیں ۔اور سازشیں کرنے سے باز نہ آئیں ۔تو پھر جان لو کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے لئے کافی ہے ۔اور انسانوں میں سے اکثر لوگ ہیں ہی فاسق۔
    کیا وہ جاہلیت کے احکام کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور جو یقین رکھنے والے لوگ ہیں ان کے لئے تو اللہ کا حکم سب سے اچھا ہے ۔
    ومن یتولھم منکم (۔)ان کو ایسے دوست نہ بناؤ کہ یہ جانتے ہوئے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کے عہد کئے ہوئے ہیں ۔اور تمہارے خلاف اکٹھے ہوئے ہوئے ہیں ۔اگر تم ایسے دوست بناؤ گے ۔تو تم ان میں سے ہی ہو جاؤ گے ۔دین کے نہیں رہو گے بلکہ انہی کے ہو جاؤ گے ۔
    فرمایا یہ فتنہ ہے جس سے روکا گیا ہے ۔اب جب تم یہاں عیسائیوں اور یہودیوں کو دوست بناتے ہو ۔تو کوئی گناہ نہیں ۔جب تک ان سے متاثر ہو کر ان جیسے نہ ہو جاؤ ۔یہاںبہت سے بچے جب ان سے دوستیاںکرتے ہیں ۔تو ویسے ہی ان کے اخلاق ہو جاتے ہیں۔عیسائیوں سے دوستی ہے تو سؤر بھی کھانے لگ جائیں گے ۔ان جیسی ہی بیہودہ حرکتیں بھی کریں گے۔تو یہ تعلیم اپنے اخلاق اور اپنی شریعت کی حفاظت کے لئے ہے ۔ورنہ ان سے دوستی کرنا ہر گز گناہ نہیں ۔قرآن کریم میں دوسری جگہ ان کی دوستی کی اجازت کے متعلق بھی آتا ہے ۔اس آیت کے علاوہ جہاں خدا نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ تم سے دشمنی نہ کرتے ہوں ہر گز گناہ نہیں کہ ان سے تقویٰ کا سلوک کرو ان سے نیکی اور احسان کا سلوک کروتو یہ دوستی سے بڑھ کر ہے ۔
    (اطفال سے ملاقات ،الفضل ۹ ۔ اپریل ۲۰۰۱ء صفحہ ۳،۴ریکارڈنگ ۱۰۔مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال26: کیا قرآن کریم میں تیسری جنگ عظیم کا ذکر ہے۔اگر ذکر ہے تو کون سی سورۃ میں ذکر ہے؟
    جواب: بہت سی ایسی سورتیں ہیں جن میں تیسری جنگ عظیم کا نقشہ کھینچا ہوا ہے ۔مثلاًسورۃ ھمزہ میں آتا ہے کہ انسان ایک آگ میں ڈالاجائے گاجو حطمہ ہے حطم کو ایٹم ایک بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ فرنچ میں مثلاً Hنہیں
    پڑتے ۔حطم اور ایٹم ایک ہی ہے اور معنے بھی ایک ہیں حطم عربی ڈکشنری میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کو کہتے ہیں ۔ایٹم چھوٹی سے چھوٹی چیز کو کہتے ہیں ۔تو ایسی آگ میں ڈالا جائے گاجو ایٹم میں بند ہے،حطمہ میں بند ہے۔اگر آپ ایٹم کو بھول بھی جائیں۔توچھوٹے سے چھوٹے ذرے میں کون سی آگ بند ہوتی ہے۔روشنی پڑتی ہے تو چھوٹے سے چھوٹے ذرے اڑتے ہیں وہ بھی حطمہ ہیں ۔ان میں آگ تو کوئی بند نہیں ہوتی ۔اور پھر آگے تشریح یہ ہے کہ وہ حطمہ جس چیز میں بند ہے وہ کھینچ کے لمبی کی جائے اور اس ستون جیسی شکل بن جائے گی اور پھر وہ آگ ایسی ہو گی کہ وہ جو دلوں پہ جھپٹے گی ٍ ا ب آگ جسم کو جلاتی ہے تو دل جلتے ہیں لیکن وہ جسموں کو چھوڑ کر دلوں پہ لپکے گی۔
    سائنس دانوں نے ATOMIC WAR FAIR کے جو نقشے کھینچے ہوئے ہیں انھوں نے اس کی رو سے ثابت کیا ہے کہ RADIATION میں جو گرمی کا حصہ ہے وہ بعد میں جاتا ہے اور جو دھڑکانے والی چیز ہے یعنی دل کو دھڑکا کے بند کر دیتی ہے وہ پہلے پہنچ جاتی ہے ۔پھر قرآن کریم میں سورۃ دخان ہے ۔دخان کا مطلب ہے کہ ا یک ایسا دھواں ہو گا جو جہاں جائے گا جس جگہ سے گزرے گا وہاں سے زندگی ختم کر دے گا۔ بادل سے سکون ملنا چاہئے مگر وہ کوئی سکون نہیں چھوڑے گا ۔پھر قرآن کریم میں آتا ہے تین شعلوں والا عذاب ہے ۔ان کے اوپر یعنی تین قسم کی چیزیں بری جنگ،سمندری جنگ اور فضائی جنگ ۔تو اتنے حوالے ہیں قرآن کریم میں اس زمانے کی جنگ کے۔وہ ایک طرف اور سورۃ ٰطہٰ میں ایک حتمی پیش گوئی ہے ۔سورہ طہٰ میں یہ خبر ہے کہ ان لوگوں کو ایک ایسے عذاب میں مبتلاء کیا جائے گا جو ان کو levelکر دے گا ان کے تکبر کو توڑ دے گا اور ان میں کجی باقی نہیں رہے گی Large scale پر رسول اللہ ﷺ کی پیروی کریں گے جن میں کوئی کجی نہیں ۔یہ واقعہ ابھی تک نہیں ہوا۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ تیسری جنگ کے بعد یہ واقعہ ہو گا ۔پہلےPartial اظہار سچائی کے ہوتے رہتے ہیں ۔تاکہ زمانے کو یہ پتہ چل جائے کہ قرآن کریم نے جو باتیں کی ہیں وہ سچی ہیں اور پھر یہ بات بھی سچی نکلے گی ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۱۰۔جون ۲۰۰۲ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۹۔جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال27: مجھے کسی نے بتایا ہے کہ جب ہم اپنی شہادت کی انگلی قرآن کریم کے الفاظ پر رکھتے ہیں تو ہمیں زیادہ ثواب ملتا ہے۔حضور کیا شہادت کی انگلی نہ رکھنے سے ثواب اتنا زیادہ نہیں ملتا؟
    جواب: نہیںنہیں یونہی وہم ہے کس نے بتایا ہے آپکو؟صرف آمین کے وقت دیکھتے ہیں کہ ٹھیک لفظ پڑھ رہا ہے کہ نہیں بچہ۔ اس وقت میں رکھواتا ہوں انگلی ورنہ تو ضروری نہیں ہے ۔
    (لجنہ سے ملاقات ۔الفضل ۷۔جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۶ ۔جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال28: حضور قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے مگر یہ بھی آتا ہے کہ اللہ شرک معاف نہیں کرے گا ۔کیا یہ تضاد نہیں ہو جاتا ؟
    جوابـ: ایک تو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک معاف کر دیتا ہے ۔بشرطیکہ زندگی میں انسان توبہ کر لے اس لئے یہ خیال غلط ہے کہ شرک کسی صورت میں معاف نہیں ہوتا ۔بڑے بڑے عظیم الشان صحابہ تھے جو ایمان سے پہلے مشرک ہوا کرتے تھے ۔پھر دیکھو کتنے جان فدا کرنے والے صحابی بن گئے کیونکہ زندگی میں توبہ کر گئے ۔ لیکن اگر کوئی مشرک فوت ہو جائے اور وہ مشرک ہی فوت ہو تو وہ اس آیت کے تابع ہوگا کہ خدااس کو نہیں بخشے گا۔
    (لجنہ سے ملاقات ،الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۵ ریکاڈنگ ۷۔نومبر۱۹۹۹ء)
    سوال29 : کچھ سورتیں مکی ہیں کچھ مدنی ہیں اور سورۃ مائد ہ ہے۔اس کا کچھ حصہ مکہ میں نازل ہوا اور کچھ مدینہ میں یہ کیسے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مکی ہو یا مدنی ہو؟
    جواب: ہجرت کے بعد کی سورتیں مدنی کہلاتی ہیں ۔اگرچہ وہ مکہ میں نازل ہوئی ہوں ۔اور ہجرت سے پہلے کی سورتیں مکی کہلائیں گی خواہ ان میں سے بعض آیات مدینے میں بھی نازل ہوئی ہوں ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۸۔جون ۲۰۰ء ریکارڈنگ ۱۸۔فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال 30: قرآن کریم عیسا ئیوں سے اور یہودیوں سے کس قسم کی دوستی سے منع فرماتا ہے ؟
    جواب: ایسی دوستی سے جو آپ کو ان کا بنا دے اور دین کا نہ چھوڑے۔بعض دوست ایسے ہوتے ہیں کہ دوست کی طرف ہی الٹ جاتے ہیں اور ویسے ہی ہوجاتے ہیں ۔اگر ایسی دوستی کریں کہ وہ دین کی طرف الٹ آئیں تو یہ بہت اچھی دوستی ہوگی ۔اس دوستی سے اللہ منع نہیں کرتا ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات،الفضل ۳۔اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۶۔نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال31: سکول میں اردو کی استانی بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
    جواب: بیہودہ حرکت ہے۔وجہ ان سے پوچھو جو لکھتے ہیں ۔بہت بیہودہ حرکت ہے ۔بسم اللہ الرحمان الرحیم کے انھوں نے اپنی طرف سے اعداد نکالے ہوئے ہیں ۷۸۶ عدد بنائے ہوئے ہیں اور اس لئے لکھتے ہیںکہ بسم اللہ کہنے سے کہیں کاغذادھر ادھر پھینک جائے تو بے عزتی نہ ہوجائے ۔اگر وہ بسم اللہ ہی ہے توبسم اللہ کو پڑھ کے بسم اللہ ہی دماغ میں آتی ہے ۔تو اس کی بھی تو بے عزتی ہو سکتی ہے ۔اور بسم اللہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ۔اس کی بے عزتی کہاںہوتی ہے ۔بسم اللہ کی کوئی بے عزتی نہیں ہو سکتی ۔اللہ کا نام ہے اور وہ خود اس کی حفاظت کرتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات ،الفضل ۲۳ فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۴ ریکارڈنگ ۲۴۔نومبر۱۹۹۹ء)
    احادیث
    سوال :1 ایک حدیث ہے کہ ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔ اور دوسری طرف یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی کو Criticise کرتے ہیں تو وہ بہت برا مناتے ہیں اور ناراض ہو جاتے ہیں تو ہم کیا کریں؟
    جواب: اس سوال کا میں نے بہت دفعہ جواب دیا ہے۔ یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے جن کو کہتے ہیں جوامع الکلم یعنی ایک چھوٹے سے فقرے میں بہت گہری اور تفصیلی باتیں ہوئی ہوتی ہیں۔ تو مومن جو آئینہ ہوتا ہے اس کا ایک ترجمہ تو یہ ہے کہ آپ آئینہ اٹھاتی ہیں اپنے چہرے کے نقص دیکھنے کے لئے کہ ان کو ٹھیک کر لیں۔ جہاں جہاں نشان ہے اس کو مٹاتی ہیں۔ سرخی پاؤڈر لگایا ٹھیک ٹھاک ہو گئیں۔ جب آپ آئینہ چھوڑ دیتی ہیں تو کسی دوسرے کو وہ آئینہ نہیں بتاتا کوئی اور جب وہ آئینہ دیکھے تو وہ اس کا حال نہیں بتاتا کہ پہلے جو دیکھنے والی تھی اس میں یہ نقص تھے۔ اس میں یہ خرابی تھی۔ چپ رہتا ہے۔ اس سے ایک سبق تو یہ ملتا ہے کہ Criticism ہوتا ہے پہلے الگ ہونا چاہئے۔ Criticism لوگوں کے سامنے نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ شیشہ جو عورتیں دیکھتی ہیں تو بعض دفعہ نہیں پسند کرتیں کہ خاوند بھی دیکھ لے تو اس لئے شیشہ کا نمونہ پکڑو اور سچی بات کرو۔ شیشہ بالکل سچی بات کرتا ہے اور ایسی بات کرو کہ دوسرے کو غصہ نہ آئے۔ اچھا شیشہ ہو تو توڑا تو نہیں کرتے غصے میں آکے جتنا اچھا ہو اتنا سنبھال کے رکھتے ہیں۔ جتنا داغ زیادہ دکھائے اتنا اچھا لگتا ہے تو اس لئے ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے کا یہ مطلب ہے کہ باتیں بالکل ٹھیک کہتا ہے لیکن پبلک میں نہیں کہتا ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۴ ریکارڈنگ ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :2 احادیث کو اکٹھا کرنے کا کام آنحضور ﷺ کی زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا یا آپؐ کی وفات کے بعد یہ کام ہوا تھا؟
    جواب: زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھارسول کریم ﷺ کے زمانے میں ۔جو بھی قرآن کریم نازل ہوا کرتا تھا اس کو بھی لکھوایا جاتا تھا اور جو تشریح صحابہ زبانی یاد کیا کرتے تھے۔ احادیث کو اس وقت اس لئے نہیں لکھتے تھے کہ ان کو یہ خیال تھا کہ پھر قرآن کریم اور احادیث میں فرق نہیں رہے گا۔ ورنہ احادیث کو زبانی یاد کرنے کا شوق بہت زیادہ تھا اور اس زمانے میں عربوں کی یادداشت کے ذریعے چیزیں محفوظ کرنے کا اتنا ملکہ تھا کہ بعض عرب ایک ایک لاکھ شعر زبانی جانتے تھے۔
    اب سوچو ذرا تمہیں شاید بیس شعر بھی نہ یاد ہوں۔ (بچے سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا )یاد ہیں؟
    بچے نے عرض کیا ۔ نہیں۔
    فرمایا:-
    عربوں میں یہ رواج تھا کہ ایک لاکھ شعر تک زبانی یاد کرلیتے تھے اور سنانا شروع کر دیتے تھے شروع سے آخر تک۔ بعض عربوں کی یادداشت بہت تھی اور رسول کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کو ذہنی طور پر محفوظ کیا۔ لیکن لکھنے والی بات ٹھیک ہے یہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں نہیں کرتے تھے۔ اس لئے کہ قرآن کریم سے فرق ظاہر ہو جائے کہ کہیں لوگ قرآن کریم اور حدیث کو ایک چیز نہ سمجھ لیں۔
    مضمون کے لحاظ سے تو ایک ہی ہیں مگر لفظاً فرق ہے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۴ فروری ۲۰۰۰ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۱۴ فروری ۱۹۹۹ء)
    سوال :3 ایک حدیث ہے المستشار مؤتمن اس کا مطلب ہے کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔ اس میں امین کا کیا مطلب ہے؟
    جواب: جب کسی سے مشورہ کیا جائے تو اس کے ’’مؤتمن‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس پر اعتبار کرتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ اپنا مشورہ دیانتداری سے دے۔ ایک مطلب اس کا یہ ہے۔ جس سے مشورہ کیا جائے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے متعلق دیانتداری سے مشورہ دے کہ میرے خیال میں یہ کرنا چاہئے اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ آگے اس بات کو پھیلانے کی اس کو اجازت نہیں ہے۔ تم کسی سے ذاتی مشورہ مانگو اور وہ مشہور کرتا پھرے تو اس کا مطلب ہے وہ امین نہیں رہا۔ امانت دار ہے تمہارا اور اس لحاظ سے پوچھا جائے گا۔ جس کے پاس تم امانت رکھواتے ہو وہ اس کی خیانت نہیں کرسکتا۔ مشورہ بھی اس سے لینا ایک امانت بن جاتی ہے۔ اور وہ آگے کسی کو نہیں بتا سکتا۔ سوائے اس کے کہ ایسی بات ہو جس کو مشورہ کرنے والا اگر اجازت دے یا عام بات ہو جس کا کوئی حرج نہ ہو۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۱۹ ۔ اپریل ۲۰۰۱ء صفحہ ۴ ریکارڈ شدہ ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال :4 کسی حدیث کے بارے میں کیسے پتہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ واقعی رسول پاکﷺ کی ارشاد فرمودہ ہے؟
    جواب: رسول اللہ ﷺ کے منہ کی باتیں تو صاف پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی خوشبو ،ان کا رنگ، ان کی روحانیت ،ان کا گہرا فلسفہ یہ تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی انسان مس (Miss) نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنے خطبات میں کئی دفعہ یہ باتیں بیان کی ہیں کہ حدیث کی خوشبو ہی الگ ہے۔ وہ اپنی خوشبو سے پہچانی جاتی ہے۔ جس طرح گلاب اپنی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے اس طرح رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بھی اپنی خوشبو سے پہچانی جاتی ہیں۔
    دوسری بات یہ ہے کہ یعنی ظاہری علامت کہ قرآن کریم میں ان کی بنیاد ہوتی ہے اس لئے قرآن کریم کی کسی آیت سے وہ ٹکراتی نہیں ہے۔ جو حدیث قرآنی مضمون کے مطابق ہو وہ ضروری سچی ہے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۴ فروری ۲۰۰۰ ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۱۴ فروری ۱۹۹۹ء)
    سوال :5 ایک حدیث ہے جس میں وگ سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
    جواب: یہ جو وگ پہننا ہے یہ ایک قسم کا دھوکہ دینا ہے تو پرانے زمانے میں اگر وگ پہن کے آپ دکھاتے تھے کہ بال ہیں اور ہوتے نہیں تھے تو اس سے بعض دفعہ دھوکہ ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی اور اس طرح شادیاں کرنے میں آسانی ہوجاتی تھی۔ آج کل کے زمانے میں تو وگ اتنا عام ہو گیا ہے کہ سب کوپتہ چل جاتا ہے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتے۔ تو میرے خیال میں اب وہ حکم اس طرح نہیں لگتا۔ وگ پہننے سے اب کوئی پاگل نہیں بنتا۔ سب کو سمجھ آجاتی ہے کہ اندر سے کیا معاملہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی پرانے زمانے میں وگ کیسا ہوا کرتا تھا۔ دیکھنے والی بات ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں وگ کیسا ہوا کرتا تھا۔ کیونکہ اس طرح کا تو وگ نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو آج کل ماڈرن ٹیکنالوجی سے بنتا ہے۔ اس میں کوئی فرق ضرور ہوگا۔ وگ جو ہے اکثر جوان آدمی دھوکہ دینے کے لئے وگ پہن لیتے ہیں لیکن اگر پتہ ہو کہ اندر سے کچھ نہیں ہے صرف شرم کے مارے وگ پہنا ہوا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ دھوکہ نہیں ہے۔ میں نے دیکھا ہے اکثر جو شادیاں ہوتی ہیں ان کو پتہ ہوتا ہے لیکن اگر یہ ہو کہ وگ پہنا ہے اور اثر یہ ڈالا ہے کہ ہمارے بال ہیں اور نہ ہوں تو پھر یہ دھوکہ بازی ہے۔ یہ تو بالکل حرام ہے اور منع ہے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۴ ریکارڈنگ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :6 ایک حدیث میں سفر کے متعلق آیا ہے کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔ اب تو سفر بہت آسان ہو گیا ہے۔ کیا پھر بھی عذاب کا ٹکڑا ہے؟
    جواب: پھر بھی عذاب کا ٹکڑا ہی رہتا ہے۔ کتنا تیز جیٹ چلتا ہے اور اس میں بعض دفعہ دو دو دن کے لئے بہت تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ جیٹ کمپنیوں کے جو مالک ہیں وہ اپنے ملازمین کو کہتے ہیں کہ گھر پر آرام کرو اور کوئی سنجیدہ کام نہیں کرناا ور جا کر نیند ہی نہیں ختم ہوتی وہ بھی تو ایک عذاب کا ٹکڑا ہے۔ تکلیف بھی ہوتی ہے سفر میں جتنا مرضی اچھا کھانا دیں انسان کو کافی تکلیف پہنچتی ہے۔ جتنا انسان نازک مزاج ہو گیا ہے سفر بھی اتنا آسان ہو گیا ہے۔ جتنا پہلے انسان سخت جان تھا سفر کا عذاب بھی اتنا ہی سخت تھا۔ اب نازک انسانوں کو سفر کا عذاب اسی طرح ملتا ہے۔
    (مجلس عرفان الفضل ۹ اگست ۲۰۰۱ ء صفحہ ۳ منعقدہ ۱۶ جون ۲۰۰۰ء)
    نماز
    سوال نمبر 1 : سوال ہوا (کہا جاتا ہے) اگر کوئی صاحب ایمان متواتر تین جمعے کی نمازیں نہ پڑھے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ایک احمدی جو باقاعدگی سے کئی مہینے چندہ نہ دے تو اس کی کیا صورت ہے؟
    جواب : حضرت صاحب نے اس کا بڑی تفصیل سے جواب دیا جس کے بعض حصے افادہء احباب کے لیے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔
    فرمایا ۔اصل بات یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ باتیں سمجھانے کی خاطر اور بعض دفعہ برے انجام سے ڈرانے کی خاطربیان فرمائی ہیں۔اس لیے نہیں بیان فرمائیں کہ ان باتوں پر ایک دوسرے کو کافر کہنا شروع کر دیں ۔اس لیے اگر سوال کرنے والے کا یہ مطلب ہے کہ جس کی نماز چھٹی ہوئی نظر آئے ہم اس کو لوگوں کے سامنے چھیڑیں اورکہیں کہ تم کافر ہو گئے ہو یہ اس حدیث کا مقصد ہی نہیں تھا۔حدیث کا مقصد صرف بے عمل شخص کو ڈرانا ہے نہ کہ بے عمل لوگوں کو اجازت دے دینا کہ وہ یہ کہیں کہ تم کافر ہو گئے ہو۔اس لیے اس پس منظر میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چندہ کے متعلق بھی یہی شکل بنتی ہے ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ میں چندہ اور عبادت دونوں کو اکٹھا ذکر کیا ہے اور دونوں پر اتنا زور دیا ہے کہ فرمایا اگر ایک کو چھوڑ دو گے تو دوسری مکمل نہیں ہو گی۔ا س لیے جو نماز کا حکم ہے وہ چندہ کا بھی حکم ہے ۔مالی قربانی کرنے اور چندہ دینے پر اتنا زور دیا گیا ہے جتنا عبادت کرنے پر ۔متّقیوں کی صفات میں نماز قائم کرنے اور جو کچھ دیا گیا ہے اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو ایک ساتھ پیش کیا ہے ۔ایک خدا کی عبادت کر نا اور دوسرے خدا کی راہ میں خرچ کرنا سارا قرآن ان دو باتوں سے بھرا پڑا ہے ۔
    فرمایا:متقی کون ہے ؟وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں نمازوں کو قائم کرتے ہیں او ر خدا کی راہ میں اس کے عطا کردہ مال میں سے خرچ کرتے ہیں ۔پس جب سیکرٹری مال یا صدر چندہ کی ادائیگی پر زور دیتے ہیں تو بعض احمدی کہتے ہیں کہ جائو جائو تمہیں پیسوں کی پڑی ہے ہم نماز پڑھ لیتے ہیں یہی کافی ہے ۔صرف نماز کا پڑھنا کافی نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ کافی نہیں ہے تو آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کافی ہے ؟قرآن کریم اٹھا کر دیکھیں تو یہ پہلی سورۃ کی پہلی دو آیات کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ شرط لگا دی ہے کہ نماز قائم کرنا اور خدا کی راہ میں خرچ کرنا لازم و ملزوم ہیں۔فرمایا جو کچھ بھی ہم ان کو دیتے ہیں وہ اس میں خدا کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔اس میں استمرار پایا جاتا ہے کہ گو یا ان کی مالی قربانی کا نہ ختم ہونے والازمانہ ہے ۔
    دین و دنیا کا بابرکت سودا :
    اسی طرح خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میںایمان والوں سے جو سودا کیا ہے اس میں بھی مال کی شرط شامل کر دی ہے۔فرمایا(۔) کہ خدا تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں اور ان کے مال بھی خرید لئے ہیں تا کہ اس کے بدلے ان کو جنت عطا فرمائے۔تو جب یہ بات ہو رہی ہو کہ کون ایمان والا نہیں رہتا تو اس کا پتہ قرآ ن کریم دیتا ہے کہ جو اپنی جان خدا کے حضور پیش نہیں کرتا وہ صاحب ایمان نہیں رہتاجو مال پیش نہیں کرتا وہ صاحب ایمان نہیں رہتا کیونکہ وہ سودا تو ڑ دیتا ہے ۔خدا نے یہ فرمایا ہے کہ تمہارے ساتھ میں نے سودا کیا ہے کہ آج کے بعد تمہارے مال تمہارے نہیںرہے میرے ہو چکے ہیںاب تم مالک نہیں رہے تمہارے ایمان کے اندریہ سودا شامل ہے کہ جو کچھ ہے خدا کا ہو گیا ۔۔۔
    ہر احمدی جو کماتا ہے وہ اس تصور کے ساتھ کماتا ہے کہ جو میں کما رہا ہوں یہ میں اپنے اوپر اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ مجھ سے جماعت نہیں مانگ رہی جب تک نہیں مانگتی مجھے اس سے استمتاع کا حق ہے ۔جب مانگے گی وہ میں دے دوں گا کیونکہ میرے سودے میں یہ بات داخل ہے ۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اب بطور امام جماعت مالی تحریک کرنے کا حق مجھے ملا ہے اور میں مالی تحریکات کے ذریعے اسی چیز کا مطالبہ کرتا ہوں جس کا مجھ سے پہلے آئمہ مطالبہ کرتے رہے ہیں۔پس جب میں یا میرے نمائندے چندہ کا مطالبہ کریں تو کسی کا یہ کہنا کہ مال مال کی رٹ لگائی ہوئی ہے قرین انصاف نہیں ۔اس طرح تو اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔منہ سے اس کو کافر تو ہم نہیں کہیں گے نہ میں اس کی کسی کو اجازت دوں گا کہ وہ کسی کو کافر کہے مگر قرآن کریم کہہ رہا ہو گا خدا کا رسول کہہ رہا ہو گا اس لیے باوجو د اس کے ہر ایک کو منع کرتا ہوں کہ اس معاملہ میں چندہ نہ دینے والے کو کوئی طعنہ نہیں دینا،برا نہیں کہنا،کافر نہیں کہنااور بے عزتی نہیں کرنی لیکن مضمون میںنے آپ کے اوپر کھول دیا ہے کہ چندہ نہ دینے والا خدا کو دھوکا دیتا ہے کہتا یہ ہے کہ میں صاحب ایمان ہوں لیکن صاحب ایمان کی جو شرط قرآن نے بیان کی ہے نہ جان اس کی رہی نہ مال اس کا رہا وہ اپنے عمل سے اس پر پورا نہیں اترتا تو اس کے مومن رہنے کا حق کس طرح باقی رہتا ہے ۔لیکن احمدیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص کو طعنے دیں اور نظام جماعت میں خرابی پیدا کریں ۔ایسے لوگوں کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا کرے ۔
    حضرت صاحب نے فرمایا میرا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کو چندہ دینے کی عادت نہ تھی ان کو جب پیار سے سمجھایا گیاتوان کی زندگیوں میں انقلاب آگیا۔بعض لوگوں نے لکھا جب ہم خدا کا حق مار رہے تھے اپنے وعدے توڑ رہے تھے اس وقت مال میں کوئی برکت نہ تھی۔کوئی چین اور سکون نہیں تھا ۔ہمیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ ہمارے پیسے کم ہو جائیں گے ۔گزارہ نہیں چلے گا۔جب سے چندہ دینا شروع کیا ہے گزارہ بھی پہلے سے اچھا چل رہا ہے دل کو تسکین ملی ہے ۔پس خدا کی راہ میں چندہ دینے سے ہاتھ کھینچنا پرلے درجے کی بے وقوفی اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی ہے۔ایسے لوگوں کے گھر بے برکت اور اولاد بے دین ہو جاتی ہے ۔ایسے لوگوں سے سختی نہیں کرنی چاہیے پیار سے سمجھانا چاہیے کہ تم اپنے وعدے پورے کرو خدا کی را ہ میں بشاشت سے مال پیش کرو پھر دیکھو خدا تمہاری کس طرح مدد فر ماتاہے اور تمہارے اموال میں غیر معمولی برکتیں عطا فرماتا ہے ۔

    (روزنامہ الفضل3 نومبر1999ء صفحہ 3)

    سوال نمبر 2: حضور بیوت الذکر میں مینار کس لیے لگا ہوتا ہے ؟
    جواب: بیت الذکر کے باہر جو مینا ر ہے وہ اذان دینے کے لیے ہے ۔جتنی اونچی جگہ سے اذان دی جائے اتنی زیادہ پھیلتی ہے ۔ابتدائی زمانے سے یہ رواج چلا آ رہا ہے مینار ہو تو مینا رسے اذان دینے سے دو ر دور آواز پھیلے گی لیکن اب لائوڈ اسپیکر لگ گئے ہیں مگر یہ جو رواج ہے یہ ختم نہیں ہوا اس لیے ہر بیت الذکر کے ساتھ ایک چھوٹا سا یا بڑا مینار ہ بنایا جاتا ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ستمبر 2000ء ص3ریکارڈنگ 3مارچ 2000ء)
    سوال نمبر 3: کلام الٰہی میں وضو کے متعلق بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے لیکن اس کے مقابلے پہ نماز کی تفاصیل جو ہیں ان کا ذکر کم ہے ۔اس کی کیا وجہ ہے ؟
    جواب : یہ ٹھیک ہے ۔کہ اس کی تفصیل کہ کس طرح پڑھنی ہے یہ بیان نہیں فرمائی گئی۔اصل بات یہ ہے کہ کلام الٰہی نے آنحضرت ﷺکو ماڈل بنایا اور نماز روزمرہ کی ایسی چیز تھی جو صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺسے سیکھی اور یہ بنیادی ذکر کر کے کہ کس طرح کرنا ہے آپ ﷺ نے ماڈل دے دیا۔وضو جو ہے اس میں رسول اللہ ہر وقت ہر ایک کے سامنے ماڈل نہیں تھے۔کیونکہ وضو علیحدگی میں کیا جاتا ہے شاذ کے طور پر سامنے آتا ہے اور جہاںیہ خطرہ تھا کہ وضو کے متعلق بے احتیاطیاں ہو جائیںگی اور تمام تقاضے پورے نہیں ہوں گے وہاں اللہ تعالیٰ نے کھول دیا ہے اس لیے وہاں کوئی خطرہ نہیں پیدا ہوا باوجود تفصیل نہ ہونے کے سب کو تفصیل سے پیغام مل گیاہے ۔وضو پر کلام الٰہی زور نہ دیتا تو بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوتیں۔ابھی بھی لوگ بے احتیاطیاں کر جاتے ہیںاس لیے کہ وضو ایک اور بارڈر لائن پر ہے ۔انسانی فطرت کی وجہ سے ایک خطرہ لاحق ہوتا ہے اور جوخطرہ کی چیز ہو اس میں انسا ن زیادہ بے احتیاطی کر جاتاہے ۔اکثر عورتوں میں ہم نے یہ رجحان دیکھا ہے کہ تیمم کیا اور بیٹھ کے نماز پڑھ لی اس سے پتہ چلتا ہے کلام الٰہی فطرت کی کتاب ہے ۔
    (مجلس عرفان۔ روزنامہ الفضل 3نومبر۱۹۹۹ ء صفحہ 3)
    سوال نمبر 4: ایک سوال تھا کہ آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا کیوں مکروہ ہے ؟
    جواب:حضور نے فرمایا :آپ کو کیسا لگے گا کہ آپ کے سامنے کوئی شخص آئے اور وہ آنکھیں بند کرکے آپ سے باتیںکر رہا ہو آنحضرت ﷺنے فرمایاخدا کے دربار میں پیش ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تم ایسے ظاہر کروکہ گویا خدا تمہارے سامنے ہے ۔اس سے عرض حال کرتے ہوئے اس کے سامنے رہنے کا خیا ل کرو۔
    (مجلس عرفان الفضل 29مئی 1999ء صفحہ3ریکارڈنگ16مئی1999ء)
    سوال نمبر5: جس دن عید کی نماز تھی اس دن میرے سکو ل میں امتحان تھے اس وجہ سے میری عید کی نماز چھوٹ گئی کیا میں عید کی نماز بعد میں پڑھ سکتا ہوں؟
    جواب: نہیں آپ کو کوئی گناہ نہیں ہو گا یہ مجبوری ہے ۔بچوں کو ایسا ہو جاتا ہے ۔ایک غیر ملک میں رہ رہے ہیں۔جہاں مذہب دین حق نہیں ہے۔اس لیے وہاں ایسی باتیںہو جاتی ہیں۔چھوٹے بچوں پر ویسے بھی عید کی نماز فرض نہیں ہے ۔آپ کی عمر تو ابھی چھوٹی ہے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 29جنوری2001 صفحہ3 ریکارڈنگ 22مارچ 2000ء)
    سوال نمبر6: اگر ہم کسی وجہ سے دن میں ساری نمازیں ادا نہ کر سکیں تو کیا ہم ان نمازوں کو عشاء کی نماز کے ساتھ اداکر سکتے ہیں؟
    جواب:عشاء کی نماز کی بحث نہیں ہے بھولی ہوئی نماز جب بھی یاد آجائے اس کو پڑھ لینا چاہیے ۔سوائے اس کے کہ سورج ڈوب رہا ہو یا نکل رہا ہو ،سر پہ ہو۔یہ الگ مسئلہ ہے مگر بھولی ہوئی نماز جب یاد آ جائے اس کو پڑھ لینا چاہئے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 17جون2000ء صفحہ3 ریکارڈنگ10نومبر 1999ء)
    سوال نمبر 7: نماز کے علاوہ عموماً ہاتھ اٹھا کے دعا مانگتے ہیں جبکہ نماز وتر میں ہاتھ چھوڑ کر ۔اس میں کیا حکمت ہے ؟
    جواب: نماز وتر میںجو ہاتھ چھوڑ کر دعائیں کرتے ہیں وہ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کا یہی رواج تھا اور نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کی کوئی سنت کسی صورت میں نہیں ہے ۔وتر چھوڑ جس وقت مرضی آپ دعا کریں ہاتھ اٹھا کے دعا کرنا منع ہے ۔اس لیے ہم تو سنت پہ چلیں گے ۔رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جو کچھ سکھایا ہے ہم وہی کرتے ہیں۔سلام پھیر کر ہاتھ اٹھا نے کی مثال حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے یہ دی ہے کہ کسی کے دربار میں کوئی چلا جائے بادشاہ کے دربار میں ۔ا سکے سامنے پورا ادب کرے اور جب ڈیوڑھی سے باہر نکل جائے تو یاد آ جائے تو باہر سے آوازدے کر کہے کہ او بادشاہ سلامت ! میرا یہ کام بھی کر دینا تو یہ مناسب نہیں اس لیے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا ہے اسی پر عمل کرنا چاہیے ۔بہترین آدا ب ہم رسول اللہ ﷺ سے سیکھتے ہیں ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 23فروری2000ص 4ریکارڈنگ 24نومبر1999ء)
    سوال نمبر8: آنحضرت ﷺ کا جنازہ کیسے ہوا تھا کس نے پڑھایا تھا ؟
    جواب: یہ کئی دفعہ سوال ہوتاہے ۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا وجہ ہے Confusionکیوں ہے ؟بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺکا ایک جنازہ ہوا ہی نہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہ کو جوں جوں اطلاع ملتی چلی گئی ۔اس زمانہ میںکوئی رسل و رسائل کے انتظامات تو نہیں تھے کہ ٹیلیفون ہو گئے ہوں اور تاریں چلی گئی ہوں کھلا علاقہ تھا۔سفر میں دقت ہوتی تھی۔مدینے اور مکہ کے درمیان کئی منازل کا اڑھائی سو میل کا فاصلہ تھا اور زیادہ سے زیادہ ایک دن کی منزل لمبی سے لمبی 20میل کہلاتی ہے اور عموما 12میل کی ہوتی تھی۔آپ بتائیں کہ پانچ جمع پانچ د س دن اور پھر آگے اڑھائی دن ساڑھے بارہ دن کی تو منز ل ہے ۔مکہ اور مدینہ کے درمیان تواردگرد کے جو صحابہؓ تھے عرب میں بسنے والے ان کو اطلاعوںمیں دیرہو رہی تھی اور ہر ایک کی خواہش تھی ہم نماز جنازہ پڑھیں اس لیے تدفین سے پہلے جو بھی ٹولی باہر سے آئی تھی ۔وہ اپنا لیڈر منتخب کر کے امام جس طرح ان کو عادت تھی نماز میںامام بنانے کی وہ نماز جنازہ پڑھ لیتے تھے۔اور تدفین کے بعد غائبانہ جنازے ہوئے۔تو یہ ہے حضور اکرم ﷺکے جنازہ کی کیفیت۔
    (مجلس عرفان الفضل 24فروری1999صفحہ3دورہ کراچی7فروری 1983ء)
    سوال نمبر 9: نماز کے دوران اگر وضو ٹوٹ جائے تو پھر دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھنی چاہیے یا نمازجاری رکھنی چاہئے؟
    جواب: دوبارہ وضو کرنا چاہیے پھر نماز پڑھنی چاہیے۔اور اگر ایسی جگہ بیت میں پھنسا ہو ا ہو کہ با ہر جانے کا راستہ ہی نہ ہو ۔تو پھر وہ اسی حالت میں بیٹھا رہے اور بعدمیں پھر اپنی نماز پوری کرے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 19اپریل2001ص 4 ریکارڈ شدہ10مئی2000)
    سوال نمبر10: اگر کسی وجہ سے امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو کیا مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں گے؟
    جواب: نہیں مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں گے ۔امام اگر کسی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی نہیں بیٹھیں گے وہ کھڑے رہیں گے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل21اپریل2000ء ص 3ریکارڈنگ19جنوری2000ء)
    سوال نمبر11: قصر نماز کیا ہے اور کیسے پڑھتے ہیں؟
    جواب: قصر نماز کا مطلب ہے جہاں چار رکعتیں ہوں وہاں دو پڑھی جاتیں ہیں۔جس نماز کی دو ہوں۔وہاں تو دو ہی پڑھی جاتی ہیں۔لیکن اس کی ایک اور رعایت یہ ہے کہ قصر نماز کے ساتھ سنتیں نہیںہوتیں۔ظہر کی نماز دو پڑھو گے اور سنت کی کوئی ضرورت نہیں۔عصر کی نماز بھی دو رکعت پڑھو گے اور کسی سنت کی ضرورت نہیں۔مغرب کی صرف تین فرض پڑھو گے ۔عشاء کی نماز میں دو رکعتیں پڑھو گے ۔کسی سنت کی ضرورت نہیں۔وتر کی نماز نماز عشاء کے بعد ہوتی ہے انکی قصر نہیںہوا کرتی۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل19 اپریل2001ص3ریکارڈنگ10مئی 2000)
    سوال نمبر 12: جب سورج سر پر ہوتا ہے تو اس وقت نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟
    جواب : اس لیے کہ عموما مشرک یہ کیا کرتے تھے بہت سے مشرکوںکا رواج تھا کہ سورج نکل رہا ہو یا سورج ڈوب رہا ہو یا سر پر ہو اس وقت وہ اپنی عبادت کرتے تھے۔تو مسلمانوں کو اس شرک سے بچانے کے لیے یہ حکم دیا۔فرمایا۔جب سورج ڈوبے یا چڑھے یا سرپرہوتو مشرکوں کی طرح اس وقت نہ عبادت کیا کرو۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل16 مارچ2000ص6 ریکارڈنگ 26جنوری2000ء)
    سوال نمبر13: حضور آپ جمعہ کی نماز میں ہمیشہ سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے ہیں ۔کیا رسول کریم ﷺبھی ایسا ہی کیا کرتے تھے؟
    جواب: اکثر یہی کیا کرتے تھے۔اور بعض دفعہ دوسرا حصہ بھی تلاوت کیا ہے لیکن اکثر یہی روایت ہے ہم نے تو قادیان میں بچپن سے جب بھی جمعہ سنا ہے چاہے کسی نے پڑھایا ہویہی دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور اسی سے ہم نے آگے سلسلہ چلایا ہوا ہے ۔ربوہ میں بھی ہر بزرگ نے بھی یہی کیا ہر’’بیت ‘‘میں یہی پڑھایا جاتا ہے تو ہم بھی اسی کی متابعت کرتے ہیں۔جو اچھی سنت ہے اس کو ہم جاری رکھتے ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل16مارچ 2000ص4ریکارڈنگ26جنوری2000ء)
    سوال نمبر14: کیا یہ درست ہے کہ حضرت محمد ﷺہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے؟
    جواب: نہیں یہ غلط ہے ۔نماز کے بعد اکثر تو تھوڑی دیر کیلیے تشریف رکھتے تھے اور بغیر ہاتھ اٹھائے مختلف قسم کے چھوٹے جملوں میں تسبیح و تحمید کیا کرتے تھے اور پھر تشریف لے جاتے تھے مگر جب کبھی کوئی دعا کے لیے کہتا تھا پھر باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔
    (مجلس عرفان الفضل19اگست2001 ص3ریکارڈنگ16جون2000ء)
    سوال نمبر15: نماز میں رکوع اور سجدے میںجانا کیوں ضرور ی ہے ؟
    جواب: اس لیے کہ رکوع میں خدا کے سامنے جھکتے ہو۔نصف جھکتے ہو اور سجدے میںپورے جھک جاتے ہو تو جب نصف جھکتے ہو تو کہتے ہو سبحان ربی العظیم او ر جب پورے جھک جاتے ہو تو کہتے ہو سبحان ربی الاعلیٰ سب سے اونچا خدا ہے ۔تو جھکنا اور رکوع میں جانا یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔کسی بڑے آدمی کی تعظیم کرنی ہو تو جھکتے بھی ہیں اور پرانے زمانے میں بادشاہوں کے سامنے یوں کر کے جھک کے پہنچا کر تے تھے۔یہ رواج تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تکریم کی نشانی تھی۔اور بعض پرانے زمانہ میں بادشاہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے جایا کرتے تھے ۔یہ تو شرک ہے ۔مگر خدا کے سامنے تو ضروری ہے وہاں تو تعظیم کرنے کی بہت ضرورت ہے۔اصل میں تو رکوع اور سجدہ خدا ہی کو ہونا چاہیے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل23فروری2000ص 4 ریکارڈنگ24 نومبر1999ء)
    سوال نمبر16: اللہ تعالیٰ کی نظر میں پانچوں نمازیں الگ الگ پڑھنا زیادہ بہتر ہے یا مغرب کی اور عشاء کی نماز مسلسل جمع کر کے پڑھنا بہتر ہے ؟
    جواب: بہتر تو یہی ہے کہ الگ الگ پڑھی جائیں اس میںکوئی شک نہیںلیکن اگر بہت دور دور سے لوگوں نے آنا ہو اور ان کی سہولت کی خاطر فیصلہ کریں امیر صاحب سے پوچھ کے جمع کر لی جایا کریں تو جمع بھی ہو سکتی ہے لیکن الگ پڑھنا بہر حال بہتر ہے ۔جمع کیلئے بہت سے اصول ہمیشہ حدیثوں سے ملتے ہیں۔آنحضرت ﷺجب دینی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے اور دیر ہو جایا کرتی تھی تو نمازیںجمع کر لیا کرتے تھے حالانکہ حدیث میں آتا ہے کہ نہ کوئی بارش تھی اور نہ کوئی اور خوف تھا ۔یہاں بھی جب ہم بعض دفعہ دینی مجالس لگاتے ہیں اور دیر ہو رہی ہو تو ہم اس میں نمازیں جمع کر لیتے ہیں۔تو جمع کا مسئلہ احادیث کے مطابق بڑا گہرا بڑا تفصیلی مسئلہ ہے ۔سفر میں نمازیں قصر بھی ہوتی ہیںجمع بھی ہوتی ہیں ۔تو یہ جو رسم بتا رہی ہے وہ رسم مجھے پسند نہیں۔ویسے وہاں کے لوگ زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ کیوں جمع ہوتی ہے ۔اگر اس کو رسم بنا لیا جائے کہ کسی جگہ ہمیشہ نماز جمع ہی ہو تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔تو اس لئے اس مسئلہ پر امیر صاحب سے مشورہ کر کے دوبارہ فیصلہ کروائیں۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 10 جون 2002 صفحہ 4ریکارڈنگ 29جنوری 2000ء)
    سوال نمبر 17: میرا سوال یہ ہے کہ اگرکوئی قرآن شریف تہجد کے بالکل آخری وقت میں پڑھے تو یہ
    ’’ قرآن فجر‘‘میں شامل ہو گا؟
    جواب: ہاں ہاں۔’’قرآن فجر ‘‘میں شامل ہو گا۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل7جولائی2000صفحہ3ریکارڈنگ16جنوری 2000ء)
    سوال نمبر18: میری یونیورسـٹی میں لڑکیوں کے لیے ایک نماز کا کمرہ ہے اس میں لکھا ہے کہ جہاں کتا اور تصویریں ہو ں وہاں فرشتے نہیں آتے؟
    جواب: یہ غلط ہے یہ تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ فرشتے آتے ہیں جہاں کتا بھی ہوتا ہے اور تصویریں بھی ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں تصویریں بھی لٹکی ہوتی تھیں اور کتا بھی پھرا کرتا تھا۔وہاں تو فرشتے کوئی نہیں ڈرتے تھے ۔یہاں کتے سے مراد یہ ہے کہ کتا دل نہ ہو۔دل اگر کسی کا کتا ہو بھونکنے والا ہو تو فرشتے وہاں نہیں آتے۔اور دوسرا ایک اور معنی بنتے ہیں ظاہر ی طور پر کہ انگریزوں میں تو کتے بہت تربیت یافتہ ہوتے ہیں وہ یونہی حملہ نہیں کرتے ہمارے ملک میں کتے ٹرینڈ نہیں ہوتے اور اگر غلطی سے چلے جائو تو وہ وحشیانہ طورپر آکے زخمی کر دیتے ہیںحملہ کر دیتے ہیں جو نیک لوگ ہیں بیچارے وہ تو ایسے گھروں میں جانے سے توبہ ہی کرتے ہیں۔فرشتوں کی طرح وہ ایسے گھروں میں نہیں جاتے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 24مارچ2000ء صفحہ4ریکارڈنگ 24اکتوبر1999)
    سوال نمبر 19: اگر نماز پڑھتے وقت تلاو ت کرتے وقت یا نظم پڑھتے وقت یہ خیال آ جائے کہ لو گ نمازی کہیں گے یا یہ کہیں گے کہ اچھی آواز ہے داد دیں گے تو کیا اس شخص کو نماز یا کوئی نیک عمل کرنا چاہئے یا نہیں؟
    جواب: یہ تو ایسی ہی بات کر رہے ہیں کہ ایک برائی سے بچنے کے لیے اس سے زیادہ برائی میں مبتلا ہو جائو۔یہ کیوں نہیں کہا کہ اگر ایسا خیال آئے تو انسان شیطان کے منہ پر تھوکے استغفار کرے لاحول پڑھے ۔یہ کیوں خیال آگیا کہ نماز سے ہی چھٹی کر جائو۔نماز سے چھٹی تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے یہ تو اللہ کا حکم ہے جو چاہیں کریں نماز سے تو آپ بچ نہیں سکتے اور بچیں گے تو اپنی ہلاکت کا سامان کریں گے ۔اس کی راہ میں جو خطرے ہیں صرف یہی نہیں اور بھی کئی قسم کے خطرات ہیں ۔سستیاں غفلتیں کئی قسم کے خیال دل کو گھیر لیتے ہیں
    تو ان سے استغفار کرتے ہوئے بچنے کی کوشش کرنا اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ضروری ہے ۔
    جب ریا کاری کا خیا ل آئے اس کو دل سے نکال دیں ۔استغفار کریں۔
    اور اس کا علاج یہ ہے کہ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھا کریں کہ جب کوئی نہیں دیکھتا اور اگر
    آواز اچھی ہے تو اکیلے اس وقت تلاوت کر لیا کریں تا کہ جو وہم پیدا ہوئے تھے دل سے مٹیں۔
    (مجلس عرفان الفضل20اپریل 2002صفحہ4ریکارڈنگ16مارچ 1994)
    سوال نمبر 20: میں نماز فجر اور عشاء تو گھر میں پڑھ لیتا ہوں لیکن درمیان کی تین نمازیں وقت پر پڑھتا ہوں لیکن ساتھ ساتھ کام بھی کر رہا ہوتا ہوں لیکن دل میں وہم ہے کہ میں غلط کرتا ہوں مجھے بتائیں کہ
    ٹھیک کرتاہوں یا غلط؟
    جواب: ایسی نماز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ساتھ فیکٹری کا کام کررہے ہیں اور دل میں نماز پڑھ رہے ہیں۔یہ پتہ نہیں کہاں سے انہوںنے نماز ایجاد کی ہے اور ابھی وہم ہے ۔اس وہم کو نکالیں یقین پیدا کریں ۔یہ بالکل جھوٹی نمازیں ہیں ان کی کوئی حیقیقت نہیں ہے ۔حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے صرف سفر کے دوران سواری پر بیٹھ کر نماز کی اجازت دی ہے اور اس میں آپ ﷺچونکہ ہاتھوں سے اور دوسرے کام نہیں کر رہے اس لیے یہ سمجھ آ سکتی ہے لیکن اس اجازت کے باوجود آپ ﷺ کے غزوا ت کے واقعات دیکھ لیں سفروں کے واقعات دیکھ لیں ۔پڑائو کر کے جہاں جہاںتک ممکن ہو سکتا ہے ہمیشہ زمین پر اتر کر باقاعدہ جماعت بندی کر کے نماز پڑھی ہے ۔اگر اتفاقاً کوئی ایسا وقت آ جائے کہ بہت مجبوری ہو تو سواری کی پیٹھ پر بھی او ر کچھ اس لیے بھی یہ حکم ہے کہ آئندہ زمانے میں کچھ ایسی سواریاں بننی تھیں جہاں سے اتر کر نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ہمارے وہم دور فرما دیئے۔سب ہوائی جہاز سے اتر کر کیسے نماز پڑھیں گے ؟پس آنحضرت ﷺکا احسان ہے کیونکہ آپ ﷺ ہر زمانہ کے نبی ہیں اس لیے ہر زمانہ پر نظر ہے اس سواری پر نماز کی اجازت کے ساتھ آئندہ کے لیے ہم سب کے وہم دور فر ما دیئے ۔مگر یہ کبھی نہیں کہا کہ روٹیاں بھی پکائو اور ساتھ نماز بھی پڑھتی جائو ساتھ ساتھ۔ذکر الٰہی او ر چیز ہے ذکر الٰہی کرو۔دست باکار اور دل با یار ۔وہ تو الگ بات ہے لیکن آ پ کی جو تین نمازیں ہیں وہ تو گئیں ا ب قضاء عمری کا تو موقع نہیںہے۔آج سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے اپنی نمازیں ٹھیک کریں۔
    (مجلس عرفان الفضل20اپریل 2002صفحہ4ریکارڈنگ16مارچ 1994)
    سوال نمبر21: حضور لوگ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھنی چاہئے۔حضور اس سورۃ کے پڑھنے کی
    کیا وجہ ہے ؟
    جواب: اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ سورۃ کہف کی پہلی دس آیتوں اور آخری دس آیتوں میں دجال کی نشانیاںلکھی ہوئی ہیں تو جو پہلی دس آیات میں ان میں دجال کی نشانیاں اس طرح ملتی ہیں کہ انہوں نے خدا کا بیٹا بنا لیا اور جھوٹ بولااور یہ ساری باتیںعیسائیوں کی نشانیاں ہیں اور آخری آیات میں یہ ہے کہ وہ بڑی ترقی کریں گے ۔دنیا میں بے حد ترقی کریں گے مگر دین سے خالی ہوں گے جو چیزیں بنائیں گے وہ اتنی اچھی ہوں گی کہ اس پہ ان کا تکبر پیدا ہو جائے گااور وہ یہ دعویٰ کریں گے کہ ہماری خدا سے کوئی ملاقات نہیں ہونی اس دنیا میں ہی جو چیزیں ہم بنا رہے ہیں بہت اچھی ہیں۔اس کے بعد پھر آخری حصہ میں یہ ہے کہ اگر سمندر بھی سیاہی بن جائیںتو خدا کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا خدا تعالیٰ کے کلمات کی بات کرتے ہو ہر چیز خدا کا کلمہ ہے یہ جو وہم ہے کہ کلمہ سے چیزیں پیدا ہوئیں ۔ہر چیز خدا کے کلام سے پیدا ہوئی ہے اور آخر پر جو رسول اللہ ﷺنے جو تو حید پیش کی اس کا ذکر ہے ۔یہ وجہ ہے کہ تم نے کہیں پڑھاہے کہ سورۃ کہف کی تلاوت کرنی چاہئے مگر ساری ضرورت نہیں بہت لمبی سورۃ ہے۔اس لیے میں تو اپنے لیے پہلی اور آخری آیات چنتا ہوں۔دن ایک کی تلاوت کر لی جمعہ والے دن اور ہفتہ کی دوسرے حصہ کی کر لی۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 30نومبر2001صفحہ 3)
    سوال نمبر 22: جب ہم دو نمازیں جمع کرتے ہیں مثلا ظہر اور عصر تو ہم سنتیں کیوں نہیں پڑھتے؟
    جواب: اس لیے کہ رسول کریم ﷺ بھی نہیں پڑھتے تھے ۔رسول کریم ﷺ جب نمازیںجمع کرتے تھے تو سنتیں نہیں پڑھتے تھے ۔ہم نے تو اپنے رسول ﷺکی پیروی کرنی ہے ۔زبردستی تو اللہ کو خوش نہیں کر سکتے ۔اللہ اسی میں راضی ہو گا جو اس نے خود اجازت دی ہو گی رسول کریم ﷺنے ایک اصولی ہدایت دی ہے آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو تم زبردستی اللہ کو خو ش نہیں کر سکتے جو اجازت دے جو زیادہ بتائے اس کو مانو رضا ماننے میں ہے، خدا کی مانو گے تو خدا خوش ہو گا ورنہ زبردستی کیسے خوش کرسکتے ہو ؟ہر وقت نماز پڑھو گے تب بھی خوش نہیں ہو گا ۔اس کی مرضی ماننی چاہئے ۔
    آپ کے ابا اور امی اگر کوئی تحفہ دیں تو آپ اگر نخرہ کریں تو بری بات ہے مجھے یاد ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو بہت شوق تھا اس بات کا کہ جب کوئی بڑا چیز دے تو انکار نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ ادب کے خلاف ہے ۔ایک لطیفہ مجھے یاد ہے ہماری ایک چچا زاد بہن تھی موجن۔وہ بیچاری اپناخواب بتار ہی تھی خواب میں اس نے دیکھا کہ مجھے حضرت اماں جان نے کہا لو بیٹا یہ چیز کھا لو میںنے کہا نہیں بس میںکھا چکی ہوں ۔یہ سن کر حضرت میاںصاحب نے کہا ــ’’دیکھو میں کہا کرتا ہوں جب بھی بڑا کوئی چیز دے تو اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے کھایا بھی ہو تو تھوڑا سا لے کر چکھ لو تبرک ہوتا ہے ‘‘یہ موجن بیچاری رونے والی ہو گئی ۔کہا میں نے تو خواب بتائی تھی ۔فرمایا ’’خواب تبھی آئی ہے کہ تم اس قسم کی ہو۔اگر ایسی نہ ہوتی تو خوا ب بھی ایسی نہ آتی۔‘‘
    (لجنہ سے ملاقات الفضل28.4.2000صفحہ4ریکارڈنگ 31.10.1999)
    سوال نمبر 23: بعض ملکوں میں چوبیس گھنٹوں کا دن ہے اور چوبیس گھنٹوں کی رات ہے تو وہ وہاں نماز کس طرح پڑھتے ہیںاور روزے کس طرح رکھتے ہیں؟
    جواب: اس کا اصولی جواب رسول اللہ ﷺ نے اس زمانے میں بھی دیدیا تھا ان دیکھے آنحضرت ﷺکو اللہ نے ہر زمانے کی خبر دی ہوئی تھی چونکہ آپ ﷺ کا زمانہ قیامت تک چلنا تھا۔تو مثال کے طور پر ایک ایسی خبر دی جو اس وقت لوگوں کو سمجھ نہیں آ سکتی تھی ۔آپ ﷺ نے فرمایا دجال کا زمانہ جو آج کل کا زمانہ ہے اس میں بعض جگہ چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہوا کرے گی اور اس طرح تدریجاً دن بڑے اور چھوٹے ہوں گے تو صحابہ ؓ حیران رہ گئے ۔وہاں عرب میں تو ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوتا تھا دن بارہ گھنٹے کا ہوتا تھا یا تھوڑا سا فرق ہوتا تھاتو انہوںنے کہا یا رسول اللہ ﷺ اتنا لمبا دن اتنی لمبی رات ۔آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے خبردی ہے کہ یہ ہو گا تو صحابہ نے پوچھا کہ ہم نمازیں اور روزے کس طرح رکھیں گے ۔ چھ مہینے کا دن ہے اگر ایک روزہ آج رکھ لیں اسی میں پھنس جائیں ۔تو آپ ﷺنے فرمایا اندازہ کیا کرنا اس وقت نارمل دنوں کے حساب سے ۔دن کے چوبیس گھنٹوں میں جو پانچ وقت نمازیں ہوتیں ہیں وہ پانچ نمازیں پڑھنی پڑیں گی اور عام دنوں کے مطابق روزے بھی تیس رکھنے پڑیںگے ۔کتنا عظیم الشان نبی ہے جس کو خدا تعالیٰ نے آئندہ کی سب خبریںدے دی تھیں جو اس زمانے کے لوگوں کے تصور میں بھی نہیں آ سکتی تھیں ۔اس زمانے کا کوئی آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دن بڑے ہوں گے ۔دن چھوٹے ہوں گے یعنی نارمل سے بہت بڑے اور بہت چھوٹے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 10.6.2002صفحہ3ریکارڈنگ19.1.2000)
    سوال نمبر 24: ایک رات اندھیرے میںحضرت عائشہ صدیقہ نے اپنا بسترٹٹولا پھر حضور ﷺکو سجدہ کی حالت میں پایا ۔حضور اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺاندھیرے میں نوافل ادا فرماتے تھے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اندھیرے میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے؟
    جواب: لوگوں کی مانیں گے یا آنحضور ﷺ کی بات مانیں گے ۔آنکھیں بند نہیں کرنی چاہییں چاہے روشنی ہو یا اندھیرا ہو۔آنکھیں بند کر کے نماز نہیں پڑھنی چاہئے ورنہ نماز اندھیرے میں جائز ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل 19.8.2001صفحہ 3منعقدہ 16.6.2000)
    ٍسوال نمبر25: آج اطفال کی مجلس سوال و جواب میںآپ نے فرمایا کہ جب نماز با جماعت ہو رہی ہو اور ساری صفیں مکمل ہوں تو جو نیا آدمی نماز پڑھنے آئے تو وہ اگلی صف سے ایک آدمی کو لے کر نئی صف بنا لے کیونکہ اکیلے آدمی سے صف نہیں بنتی۔حضور نے ایک موقعہ پر پہلے فرمایا تھا کہ یہ طریق ٹھیک نہیں؟
    جواب: میں نے پہلے کب یہ کہا تھا ؟کیا آپ کے پاس حوالہ ہے ؟سوال کرنے والے نے نفی میں جواب دیا تو حضور ایدہ اللہ نے فرمایا میں نے یہ کہا تھا کہ یہ بظاہر عجیب لگتا ہے کہ ایک شخص کی خاطر ساری صف کے نمازی ڈسٹرب ہوں ۔لیکن یہ مسئلہ اس وقت اسی طرح رائج ہے جماعت کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اکیلے آدمی پر منطبق نہیں ہوتا۔لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی آئے تو سب کی نماز ڈسٹرب نہ کرے۔اس کا طریق یہ ہو سکتا ہے کہ نیا آدمی پہلی صف کے کونے سے ایک شخص کو پیچھے کھینچ کر صف بنا لے اور وہیں کونے میں نماز ادا کرلے۔یہ عیب کی بات تو ہے مگر بنیادی بات یہ ہے کہ نمازیوں کی نماز ڈسٹرب نہیں ہونی چاہیے ۔یہ بات زیادہ معیوب ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک آدمی کی نماز جیسے بھی ہو ادا کر لی جائے۔
    (مجلس عرفان الفضل 24.6.1999صفحہ3ریکارڈنگ15.5.1999)
    سوال نمبر26: عیدیں علیحدہ علیحدہ دنوں میں کیوں مناتے ہیں؟
    جواب: ہر جگہ عید کی علامتیں الگ الگ ظاہر ہوتی ہیں۔کسی جگہ افق پہ چاند نظر آ گیا ۔کسی پہ نہ آیا ۔اب زمین تو گھوم رہی ہے اور چاند بھی مختلف وقتوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔افق بدل جاتے ہیں ا س لئے جب قرآن کریم پر غور کریں تو وہاں چاند دیکھنے ذکر ملتا ہے۔اس لیے رسول اللہ ﷺ پوچھا کرتے تھے ۔کسی نے چاند دیکھا؟اگر چاند نظر آ گیا ہوتو پھر عید کر لیا کرتے تھے۔جہاں نظر نہیں آتا تھا وہاںانتظار کرتے تھے۔اصول یہ ہے کہ تیس روزے تک چاند کا انتظار کر سکتے ہو ۔اس کے بعد اکتیسویں دن ضروری ہے عید۔لیکن اگر چاند انتیسویں روزے میں نظر آجائے توپھر انتیس روزے ہو جائیں گے ۔تیسویں دن عید ہو جائے گی۔چاند پر انحصار ہے ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 9.4.2001ص6ریکارڈنگ10.5.2000)
    سوال نمبر 27 : نماز پڑھنے کے لیے ٹوپی پہننا ضروری ہے ؟
    جواب: سر ڈھانپنا ضروری ہے ۔ٹوپی پہننا ضروری نہیں ہے ۔پگڑی سے ڈھانپیں یا کپڑے سے ۔بیشک رومال باندھ لیں لیکن سر ڈھانپنا ادب کے لیے ضروری ہے کیونکہ جائے ادب ہوتی ہے خدا کے دربار میں جاتے ہو۔یہ دینی رواج ہے کہ کسی بڑے کے سامنے جائو تو سرڈھانپ کر جائو۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل16.3.2000صفحہ3ریکارڈنگ26.1.2000)
    سوال نمبر 28: کیا جمعہ کے دن بھی نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا منع ہے ؟
    جواب : چونکہ آج جمعہ کے بعد عصر کی نماز بھی ہو گی اور جمعہ سے پہلے دو سنتیں سنت رسول اللہ ﷺکے مطابق ضرور اد اکرنی چاہیئںتو عصر کے بعد عام طور پر یہ سنتیں نہیں پڑھی جاتی اس لیے میںیہ اعلان کر رہا ہوں کہ لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں کھڑے ہو کے ۔مجھے بھی سنتیں ادا کرنی ہیں اس لیے انتظار کر لیں جب جمعہ کے خطبے کے بعد میں سنتیں ادا کروں گا نماز سے پہلے ،اس وقت آ پ سب لوگ بھی اپنی اپنی سنتیں ادا کر سکتے ہیں۔اس کے بعد پھر انشاء اللہ نماز جمعہ ہو گی۔
    اب نصف النہار کا وقت تو گز ر چکا ہے اور اس پہلو سے کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ سورج عین سر پر ہو تو نماز پڑھنے کی جو مناہی ہے ہم اس پہلو سے خیال کریں کہ بچ سکیں کہ جب نماز پڑھ رہے ہوں تو سورج سر پر نہ ہو۔لیکن عجیب اتفاق ہے کہ اس پہلو سے جب میں نے بعض احادیث کا مطالعہ کیا تو جمعہ کے دن ایسی کوئی مناہی نہیں ہے اور جمعہ پڑھنے کے متعلق آنحضرت ﷺ نے واضح رخصت فرمائی ہے کہ جمعہ کی نماز کے وقت جب سورج سر پر آ چکا ہو تو اس کا کوئی حرج نہیں۔باقی اوقات میںخیال رکھا کرومگر اس وقت کا کوئی نقصان نہیں۔
    چنانچہ ابو دائود کتاب الصلوٰۃ میں یہ حدیث ہے حضرت ابو قتادہ ؓآنحضرت ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ جمعہ کے دن سوائے نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے کو نا پسند فرماتے تھے۔
    (سنن ابی داود کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ یوم الجمعہ قبل الزوال)
    ’’جمعہ کے دن کے علاوہ ‘‘یہ خاص توجہ کے قابل ہے کہ نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے لیکن جمعہ کے دن نہیں۔جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے کی اجازت دیا کرتے تھے۔
    اسی طرح ابو دائود کتاب الصلوٰۃ سے یہ دوسری حدیث بھی لی گئی ہے کہ حضرت ایاس بن سلمہ بن الاکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہیںکہ ہم آنحضرت ﷺکے ساتھ جمعہ پڑھ کر چلے جاتے تھے اور دیواروں کا کوئی سایہ نہیں ہوتا تھا ،یعنی جمعہ پہلے پڑھنا بھی جائز ہے ۔یعنی ابھی دیواروں کا سایہ نہ شروع ہوا ہو یعنی نصف النہار سے پہلے کا وقت ہے تو دونوںصورتوں میں جمعہ کے دن یہ پابندیاں باقی نہیں رہیں تو آج یہ دو حدیثیں صرف میں نے آ پ کے سامنے رکھنی تھیں ۔یہ بیان کرنے کے بعد اب میں خطبہ ثانیہ کے لیے بیٹھ جاتاہوں۔
    (خطبہ جمعہ فرمودہ 17.3.2000 الفضل 6.6.2000 صفحہ 5 ریکارڈنگ 17.3.2002)
    سوال نمبر 29:
    جمعۃ الوداع
    جواب:میں نے گزشتہ سال بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ ہمارے نزدیک تو درحقیقت یہ جمعۃ الوصال ہے۔کیونکہ یہ جمعہ اگر کوئی اہمیت رکھتا ہے سوائے اس کے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ وہ مبارک دن ہے جس میں وصل الٰہی کا سب سے زیادہ امکان ہے اور وصل کے بعد وداع کا تصور تو بڑا دردناک تصور ہے ۔یہ تو ساری خوشیوں کو المیہ میں تبدیل کر دینے والاتصو ر ہے ۔پس اگر جمعۃ الوداع کا معنی یہ ہے کہ خدا کا شکر ہے کہ جمعہ آیا اورآ کر چلا گیا ۔پس اسے رخصت کرو اور جس طرح یہاں رواج ہے ’’ٹاٹا‘‘کہہ کے اس جمعہ سے چھٹی حاصل کر لو تو یہ بالکل غیر دینی بلکہ ایسا تصور ہے جسے کوئی عاشق قبول نہیں کر سکتا۔پس یہ جمعہ درحقیقت جمعۃ الوصال کی حیثیت سے ہی اہمیت رکھتا ہے اور جمعۃ الوصال کی حیثیت سے ہی اسے سمجھنا چاہیے ۔
    (خطبہ جمعہ الفضل 17جون 1990ء)
    سوال نمبر 30: کیا نماز عشاء کے بعد وتر پڑھ کر نوافل پڑھے جا سکتے ہیں؟
    جواب: وتر پڑھ کر نوافل کا شوق کیا ہے ۔سوال تو یہ ہے اگر وترکے بعد اچانک کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے کوئی غم کی خبر کوئی فکر کی تو اس کے لیے سوائے ان اوقات کے جن میں نمازیں ممنوع ہیں ہر وقت نفل ہو سکتا ہے ۔لیکن بالعموم سنت کی متابعت کرنی چاہیے ۔اور سنت یہی ہے کہ آنحضور ﷺ تمام نوافل کو آخر پر ایک رکعت پڑھ کر وتر بنا دیا کرتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص حکمت ہے ۔فرائض میں بھی یہی حال ہے سب فرائض جفت ہیں سوائے مغرب کی نماز کے اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک رکعت زائد کر کے وتر بنایا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی رو ح کی پیروی فرماتے تھے اس لیے نوافل کے بارہ میں اگر کوئی واضح وحی بھی نہیں ہوئی تو میں سمجھتا ہوںفرائض کی متابعت میں آپ نے نوافل کو بھی وتر ہی بنایا ہے ۔اس لیے یہ اتنی بڑی حکمت ہے کہ اس کے پیش نظر وجہ ہی کوئی نہیںکہ کوئی شخص وتروں کے بعد نوافل کا سوچے لیکن جیساکہ میں نے بیان کیا ہے منع نہیں ہے ۔اگر کوئی ضرور ت پیش آ جائے تو کوئی حرج نہیں ۔
    (مجلس عرفان الفضل 20اپریل2002صفحہ3ریکارڈنگ 16مارچ1994ء)
    سوال 31: عید کی نماز میں سات اور پانچ تکبیریں کیوں کہی جاتی ہیں؟
    جواب:سات اور پانچ یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ عید کی نماز میں بہت زیادہ لوگ اکٹھے ہوتے ہیں ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے تا کہ آواز سب تک پہنچ جائے مگر میرا خیا ل نہیں کہ یہ وجہ ہو گی اصل وجہ یہ ہو گی اندازہ ہے رسول کریم ﷺنے ہمیں بتایا تو نہیں کہ یہ کیوں کرتے ہیںاندازہ ہے کہ وہ خاص اللہ کی تکبیر کا وقت ہوتا ہے روزے ختم ہوئے عید ہوئی اور بڑی عید بھی قربانیوں کی عید ہے اس طرح سارا وقت بار بار اللہ کی تکبیر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر سے گونج رہا ہوتا ہے اس لیے یہ حکمت ہے جب خوش ہوں تو ہم تالیاں تو نہیں بجاتے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہیں اب وہ ساری عمر تو اس طرح نہیں کہہ سکتے اس لیے کوئی وقت مقرر کرنا تھا اس لیے سات اور پانچ تکبیریں مقرر کر دیں۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 28اپریل2000ء صفحہ 4 ریکارڈنگ31 اکتوبر1999ء)
    سوال 32: سورۃ النساء آیت 44کے درس کے دوران آپنے فرما یا کہ جب آپ حوا س میں نہیں ہیں تو آپ نماز کی طرف نہ جائیںاس طرح انسان کو بہت زیادہ نیندآتی ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اسی میں شامل ہوتا ہے تو نماز کسی اور وقت پڑھیں ؟
    جواب: کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کوئی چیز پی لی جائے یا کوئی ایسی چیز جس سے نیند اڑے او ر پھر زور لگائے توجہ کرے لیکن اگر ایسی حالت نہ ہو تو بے ہوشی ایسی کیفیت ہے کہ اس میں جو نماز ضائع ہو جائے وہ صحت آنے پر بعد میں بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔عام طور پر تو ایسی ضرور ت پیش نہیں آتی مگر کبھی کبھی ہوسکتا ہے اتنی نیند ہو ۔میں بہت سفر کیا کرتا تھا دن رات بعض دفعہ چوبیس چوبیس گھنٹے جاگنا پڑتا تھاتو نیندآجاتی تھی لیکن نماز سے پہلے ذرا سر ہلا کے ٹھنڈا پانی ڈالا پھر نماز پڑھ کر سویا کرتا تھا۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 20 اکتوبر2001ء صفحہ3ریکارڈنگ4مارچ2000ء)
    سوال 33: نماز کے وقت ہم ٹوپی پہنتے ہیں کیا نماز کے علاوہ دن میں پہن سکتے ہیں؟
    جواب: پہننی چاہیے ۔ٹوپی پہننا یہ احمدی بچوں کا رواج ہونا چاہیے بڑوں کا بھی ۔دیکھو امام صاحب جب باہر نکلتے ہیں ٹوپی پہن کر نکلتے ہیں ۔
    ٹوپی پہننے کا فائدہ یہ ہے کہ ٹوپی پہننے سے ایک ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے شرارت او ر آوارگی کا موقع ہی نہیں مل سکتا ۔سر پہ ٹوپی ہو تو کوئی آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں شرارت کروں اور کسی کو چھیڑوں ۔ٹوپی کا بہت فائدہ ہے ۔ٹوپی پہننی چاہئے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 29جنوری 2001ء صفحہ 4 ریکارڈ شدہ 22مارچ 2000ء)
    سوال 34: ایک سوال تھا کہ اگر ظہرعصر کی نمازیں چھو ٹ جائیں تو کیا اگلے دن اسی وقت چھوٹی ہوئی نماز ادا کر لی جائے ؟
    جواب : حضور نے فرمایا جب یاد آ جائے اسی وقت پڑھ لیں چاہے سورج غروب ہو گیا ہو چاہے فجر کی نماز رہ جائے اور سورج طلوع ہو گیا ہو جب یاد آ ئے اسی وقت پڑ ھ لیں۔
    (مجلس عرفان الفضل 29مئی99ء صفحہ4ریکارڈنگ 16مئی1999ء)
    سوال 35: نبی اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺدعوی نبوت سے قبل کس طرح عبادت کرتے تھے؟
    جواب: دعویٰ نبوت سے قبل کی جو عبادت ہے اس کے متعلق صرف آپ کے استغراق کی خبر ملتی ہے حدیثوں میں قیام سجدہ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا اگر کرتے تھے تو محفوظ نہیں ہے ۔حدیثوں میں صر ف یہ ہے کہ جس طرح ایک انسان گہرے غور و فکر میں ڈوبا ہوا اپنے رب کی تلاش کر رہا ہے یہی کیفیت بتلا ئی جاتی ہے بس ۔
    ( مجلس عرفان الفضل 9اگست2001صفحہ3منعقدہ16جون2000ء)
    سوال 36: اگر کوئی نماز تہجدکا ارادہ کر کے سوئے اور اس کی آنکھ نماز فجر سے تھوڑی دیر پہلے کھلے تو کیا اس وقت پڑھے جانے والے نوافل تہجد کا درجہ رکھتے ہیں ؟
    جواب:نہیں تہجد کا اپنا وقت ہوتا ہے ۔تہجد کے لیے آنکھ نہ کھلے نوافل پڑھ لیں نوافل کا ثواب ہو جاتا ہے ۔ہو سکتا وہ اللہ میاں کے نزدیک تہجد کے برابر بھی ہو جائے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 4فروری2000ء صفحہ3 ریکارڈنگ14فروری99ء)
    سوال37: جن دنوں میں لڑکیاں نماز نہیں پڑھ سکتی ہیں ان دنوں وہ قرآ ن کریم کا سبق سنا سکتی ہیں؟
    جواب:ناظرہ تو سنا سکتی ہیں بچپن میں ہم نے جو دیکھا ہے ایسی عورتیں جو اس حالت میں ہوں وہ قرآن کریم پہ کپڑا رکھ کے یا ہاتھ پہ دستانے چڑھا کے قرآن کو کھولتی تھیں تا کہ کوئی کسی قسم کا گند لگنے کا شبہ بھی باقی نہ رہے ۔قرآن کریم پڑھتی تھیں اس لیے قرآن کریم پڑھنا گناہ نہیںنہ پڑھانا گناہ ہے ۔لیکن اپنی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہئے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 27دسمبر2000ء صفحہ4ریکارڈنگ19.2.2000)
    سوال 38: بیت الذکر میں داخل ہونے کی دعا اگر نہ کی جائے تو کیا نماز قبول ہوتی ہے ؟
    جواب: ہو جاتی ہے ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 23فروری 2000ء صفحہ4ریکارڈنگ24نومبر1999ء)
    سوال39: نماز کے بعد تسبیح بیٹھ کے پڑھنی ضروری ہے یا اٹھنے کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں؟
    جواب: سارادن تسبیح کرتے رہنا چاہیے مگر خود تھوڑا سا بیٹھ کر بھی پڑھو تا کہ ایک دم جماعت سے باہر نہ نکلو ایک دو منٹ استغفار کرتے ہوئے پھر اٹھا کرو۔
    (اطفا ل سے ملاقات الفضل 29جولائی 2000ء صفحہ3 ریکارڈنگ10نومبر1999ء)
    سوال 40: کیا ڈرائیور گاڑی چلاتے وقت نماز پڑھ سکتا ہے ؟
    جواب: اگر کہیں ایسی مجبوری ہو کہ لازما ًتیزی سے پہنچنا ضروری ہو اور کوئی چارہ نہ ہو تو پھر پڑھ سکتا ہے ۔ورنہ مناسب نہیں ۔کہیں گاڑی روکے ۔اپنے کاموں کے لیے کھانے کے لیے پیشاب کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے،بعض دفعہ چاکلیٹ خریدنے کے لیے آدمی رک جاتا ہے تو نماز کے لئے کیوں نہیں رک سکتا ؟کسی پٹرول پمپ پر کار کو پارک کریں۔اور اگر پتہ ہو کہ قبلہ کس طرف ہے تو اس طرف منہ کریں اگر نہ پتہ ہو جدھر کارکا منہ ہے ادھر منہ کر کے اللہ اکبر کر دیں۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 17جون2000ء صفحہ3ریکارڈنگ10نومبر1999ء)
    سوال41: جب ہم وضو کرتے ہیں تو اپنے جسم کے مختلف حصوں کو تین دفعہ کیوں دھوتے ہیں؟
    جواب:رسول اللہ ﷺکا یہی طریقہ تھا ایک دفعہ سے تو چیز اتنی صاف نہیں ہوتی جب بار بار دھویا جائے تو چیز خوب اچھی طرح صاف ہو جاتی ہے ۔خوب صفائی کے لیے رسول اللہ ﷺکا یہی طریقہ تھا کہ تین تین دفعہ کرتے تھے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 21اپریل2000ء صفحہ4ریکارڈنگ19جنوری 2000ء)
    سوال42: اگر ہم سجدہ میںحضرت نبی کریم ﷺ کے لیے دعائیں کرنا چاہیں تو کیا ہم سجدہ میں درود شریف پڑھ سکتے ہیں؟
    جواب: سجدہ میں تو درود شریف نہیں پڑھنا چاہیے ۔اٹھ کے جو رسول کریم ﷺ نے درود مقرر فرمایا ہوا ہے وہی پڑھا کرو ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل7جولائی2000ء صفحہ4ریکارڈنگ16جنوری2000ء)
    سوال 43: حضور ہم نماز کے بعد تسبیح کیوں پڑھتے ہیں؟
    جواب: اللہ کو یاد کرتے ہیں یہ کوئی بری بات ہے ؟نماز کے بعد ایک دم اٹھ کر جانے کی بجائے کچھ بیٹھ کے
    سبحان اللہ کیا جائے اللہ کو یاد کیا جاتا ہے ۔اچھی بات ہے ۔
    (اطفا ل سے ملاقات الفضل17جون2000 صفحہ4 ریکارڈنگ10نوبر1999ء)
    سوال44: نماز میں ہم دائیں ہاتھ کی انگلی کیوںاٹھاتے ہیں؟
    جوا ب:ایک کے معنوں میں کسی چیز کو ایک کہناہو تو سب کی یہی انگلی اٹھتی ہے ۔گواہی کے طور پر اللہ ایک ہے اس وقت اٹھاتے ہیں ۔بچہ سے حضور انور نے سوال کیا آپ کے کتنے بھائی بہن ہیں ؟اس نے انگلی اٹھا کر کہا ایک بہن بھائی۔آپ نے فرمایا دیکھا ایک کا اشارہ کرتے ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 31اگست2000صفحہ3ریکارڈنگ 16فروری2000ء)
    سوال 45: ایک دوست نے سوال کیا کہ میرے والد فوت ہو گئے ہیں ان کی جو نمازیں چھوٹ گئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے اکٹھی کر کے وہ نمازیں ادا کر سکتا ہوں؟
    جواب : حضور نے فرمایا یہ کوئی سنت نہیں اور کسی ذریعے سے ایسا طریقہ ثابت نہیں۔
    (مجلس عرفان الفضل24 جون99 ء صفحہ 3 ریکارڈنگ 15مئی1999ء)
    سوال 46: اگر کسی احمدی کو نظام جماعت کی خلاف ورزی پر اخراج کی سزا دی جائے اور اس کی وفات تک اسے معافی کی مہلت نہ ملے تو کیا اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی؟
    جواب: اگر وہ شخص خود کو احمدی کہتا ہو افوت ہوا ہے اور اس نے انحراف نہیں کیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا احمدیوں کا فرض ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل 24جون99ء صفحہ3ریکارڈنگ15مئی 99ء)
    سوال 47: نماز جنازہ صرف کھڑے ہو کر کیوں پڑھی جاتی ہے ؟
    جواب:جنازہ سامنے ہو تو اس کو سجدہ تو نہیں کرنا پڑتا اس لیے جو رسول اللہ ﷺکا طریقہ ہے وہی بہترین ہے ۔ کھڑے رہ کر نماز جنازہ پڑھنی چاہئے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل21اپرل2000ء صفحہ3ریکارڈنگ19جنوری2000ء)
    سوال 48 :جب ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیںتو کبھی کبھی ہماری توجہ دوسری چیزوں کی طرف چلی جاتی ہے کوئی دعا ہے کہ ہماری توجہ نماز کی طرف رہے ؟
    جواب: بس دعا ہی کرنی چاہیے کوئی بھی دعا خاص دعا نہیں جب توجہ ہٹے استغفار کرو اور دعا کرو۔
    (اطفا ل سے ملاقات الفضل 17جون2000ء صفحہ3ریکارڈنگ10نومبر1999ء)
    سوال49: جب ہم نماز شروع کرتے ہیں تو اللہ اکبر کیوںکہتے ہیں ؟
    جواب: یہ بتانے کے لیے کہ اللہ سب سے بڑا ہے ۔اس لیے ہم اسی کے سامنے جھکیں گے ۔ہر رکعت میںہر حرکت سے پہلے سوائے سَمِعَ اللّٰہٗ لِمَنْ حَمِدَہٗ کے اللہ اکبر کہنا ہوتا ہے ۔انسان کو یاد دہانی ہے کہ کسی کے سامنے سر نہیں جھکانا اللہ سب سے بڑا ہے ۔
    (اطفا ل سے ملاقات الفضل 9اپریل2001ء صفحہ3 ریکارڈ شدہ 10مئی 2000)
    سوال50: حضور ﷺ بچوں کو عیدی دیتے تھے ؟
    جواب: اچھا سوال ہے ۔بچوںکو کھجور وغیرہ مٹھائی وغیرہ دیا کرتے تھے مگر یہ بات جو ہے یہ مجھے پہلے نہیں پتہ تھی اچھا خیال آیا۔آپ لوگ مجھ سے جو باتیں پوچھتیں ہیں میں تحقیق کرتا ہوں پھر مجھے پتہ لگ جاتی ہیں ۔کبھی خیال بھی نہیں آیا تو میں آپ کا استاد آپ میرے استاد اس طرح علم بڑھتا جاتا ہے ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل25نومبر2000ء صفحہ5 ریکارڈنگ6فروری2000ء)
    سوال51: کیا دن اور رات میں کوئی ایسا وقت ہے جس میں قرآن پڑھنا منع ہے ؟
    جواب: ایسا کوئی وقت نہیں ۔قرآن ہر وقت پڑھا جا سکتا ہے ۔بعض وقتوں میںنماز منع ہے جب سورج چڑھ رہا ہو یا سورج غروب ہو رہا ہوں ۔سورج بالکل سر پر ہو مگر قرآن تو ہمیشہ پڑھا جا سکتا ہے ہر جگہ۔ہاں سجدے اور رکوع میں نہیں پڑھا جا سکتا۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 23ستمبر2000ء صفحہ3ریکارڈنگ22.1.2000)
    سوال 52: ایک خادم نے قبلہ رخ پائوں کر کے سونے کے بارہ میں سوال کیا ؟
    جواب: حضور نے فرمایا بہتر یہی ہے کہ کمرے کی سیٹنگ(Setting )اس طرح کی جائے کہ سونے والے کے پائوں قبلے کی طر ف نہ ہوں ۔کسی شخص کے دماغ میں یہ شعور پیدا ہو جائے تو اس کو یہ بات تنگ کرے گی ۔جس طرف منہ کر کے وہ نماز پڑھتا ہے اسی طرف اس کے پائوں ہیں اس لیے سیٹنگ (Setting )ایسی ہونی چاہیے کہ قبلہ کی طرف پائوں نہ ہوں۔حضو ر نے فرمایا میں تو ہمیشہ یہ احتیاط کرتا ہوں۔
    (مجلس عرفان الفضل 29مئی1999ء صفحہ4 ریکارڈنگ16مئی1999ء)
    سوال 53 : ایک بچہ نے سوال کیا کہ جب ہم نماز پڑھتے ہیںتو بعض اوقات خیال کسی اور طر ف چلا جاتا ہے اس سے نماز خراب ہو جاتی ہے؟
    جواب:حضور نے اس بچہ کو پہلے تو یہ سمجھایا کہ جیبوں میںہاتھ ڈال کر کھڑے ہو کر سوال نہ کریں ۔سوال کرنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے ۔پھر فرمایا کہ نفس کا شیطان ہوتا ہے جو اسے بھٹکاتا رہتا ہے خیالات اور وساوس کا پیدا ہونا بھی اس کی وجہ سے ہے ۔انسان کا کام ہے کہ مسلسل دعا کرتا رہے ،استغفار کرے،مسلسل جدو جہد کرے انسان صبر دکھائے تو پھر کامیاب ہو سکتا ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل 29مئی1999ء صفحہ4ریکارڈنگ16مئی1999ء)
    سوال54: ہم نماز میں رسول کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں کیا رسول کریم ﷺبھی نماز میں درود پڑھا کرتے تھے؟
    جواب: رسول کریم ﷺخود درود شریف پڑھا کرتے تھے اور اپنی ذات کو الگ کر کے اپنے آپ کو انسان کے طور پر الگ کر کے نبی کی حیثیت سے اپنے اوپر درود بھیجتے تھے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 28اپریل2000ء بقیہ صفحہ4ریکارڈنگ 31اکتوبر1999ء)
    سوال55: عید کے روز سنت کے مطابق جانے کا راستہ اور واپسی کا راستہ مختلف ہونا چاہیے کیا دوسرے سفروں میں بھی یہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟
    جواب: صرف عید کے متعلق ہے کہ دعائیں پڑھتے جاتے ہیں اس لیے وہ جس رستے پر جاتے ہیں وہ رستہ بابرکت ہو جاتا ہے ۔واپسی کے سفر پر دوسرے رستہ سے دعائیں کرتے آتے ہیں اچھا لگتا ہے ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 25نومبر2000ء صفحہ 4ریکارڈنگ6فروری2000ء)
    سوال 56: جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ کہتاہے تو دائیں بائیں کیوں مڑتا ہے ؟
    جواب: بلانے کے لیے حَیََّکا مطلب ہے چلے آئو دوڑ کر آئو۔حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ نماز کی طر ف دوڑے آئو۔تو اس طرف کے لوگوں کو آواز پہنچانے کے لیے پھر حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کہتا ہے تو دوسری طرف مڑ کے ان لوگوں کو بلاتا ہے ۔تو سیدھا اگر بولتا جائے ۔آج کل لائوڈ اسپیکر سے آواز بہت پھیل جاتی ہے ۔وہاں اس زمانے میں لائوڈ اسپیکر تو نہیں تھے نا۔اس لے ایک تو مینا رپر چڑھ کے جہاں تک ہو سکے اذان دیا کرتے تھے ۔دوسرے وہ مڑتے تھے تا کہ دائیں بھی اور بائیں طرف بھی آواز پھیل جائے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل29جنوری2001ء صفحہ5ریکارڈنگ22مارچ2000ء)
    سوال 57: وضو اور آداب مجلس
    جواب:اس کے بعد حضور نے فرمایا آ ج تو میں نے مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھا دی ہیں لیکن عام طو ر پر دیکھا گیا ہے کہ دوستوں کو نمازیں جمع کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے ۔اس عادت کو توڑنا چاہئے ۔نہ کہ مدد دینی چاہئے۔اس لئے جب مغرب کی نماز کے بعد بیٹھناہی ہے تو آخر پر پھر عشاء کی نماز پڑھ لیا کریں۔ اس پہ ایک دوست نے عرض کیا۔اس طرح وضوء کرنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔حضور نے فرمایا ۔بعض دوست بیمار ہوتے ہیں ان کو کنارے پر بیٹھنا چاہئے تا کہ پیشاب وغیرہ کرنے کے لیے وہ اٹھ کر آسانی سے باہر جا سکیں او ر پھر ساتھ ساتھ وضو ء کر کے آجائیں لیکن جن دوستوں کو کوئی تکلیف نہیں ہے ان کا فرض ہے کہ وہ وضو نہ توڑیں کیونکہ یہ بات آداب مجلس کے خلاف ہے ۔ایک دوست نے پوچھا کیا اس صورت میں تیمم جائز ہے ؟آپ نے فرمایا ۔نہیں اس کا کوئی جواز نہیں فرمایا وضو کرنے کا جو فلسفہ ہے اس میں یہ بات داخل ہے کہ مجالس کے کچھ حقوق ہیں۔مجالس میں جہاں بعد میں نماز ہوتی ہے اس جگہ میں جب انسان بیٹھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو روکے رکھنے پر مجبور ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے اگر مجھ سے کوئی حرکت سرزد ہوگئی تو باہر جانا پڑے گا۔ اس لیے یہ بات تہذیب کا حصہ ہے کہ جب تم مجالس میں بیٹھے ہوئے ہو تو اس قسم کی حرکتیں نہ کرو جن سے دوسروں پر برا اثر پڑتا ہو مثلاً ڈکار وغیرہ لینے سے منع فرمایا ۔اسی طرح بدبو دار چیزیںکھا کر مسجد میں آنے سے روکا ۔یہ تربیت کا ایک نہایت لطیف رنگ ہے ۔
    فرمایا:مجالس میں وضوء ٹوٹنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیںایک پیشاب کی با ر با ر حاجت اور دوسرے اونگھ کی صورت میں نیند کا غلبہ ۔اگر اونگھ میں انسانی جسم سنبھلا رہے تو وضو نہیں ٹوٹتا ۔نیند فی ذاتہٖ وضو توڑنے کا موجب نہیں ہے۔نیند کی وجہ سے اعصاب کے relaxہو جانے پر یا ہوا کے خارج ہو جانے پر وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔پس مجلس میں اس قسم کے اکّادکّا کیس کی خاطر ہم نمازوں کا نظام ہی بدل دیں یہ تو درست نہیں ہے ۔نمازیں جمع کرنے کی اجازت ہے منع نہیں ہے مگر مشکل یہ ہے کہ بڑے شہروں میں الگ الگ نمازیں پڑھنے کے مواقع کم ملتے
    ہیں ۔جب ایسے مواقع مل رہے ہوں تو تربیت کی خاطر اگر ہم الگ الگ نمازیں پڑھیں تو یہ بہت اچھی بات ہے ۔اس لیے جہاں تک ممکن ہو نمازیں اپنے وقت پر پڑھنی چاہئیں۔
    (الفضل 6فروی1984ء)
    سوال 58: عید کی نماز عورت پر فرض ہے
    جواب: جہاں تک عام دنوں میں عام عبادتوں کی شمولیت کا تعلق ہے ،میں بیان کر چکا ہوں کہ اس میں فرضیت نہیں ہے ۔لیکن فقہاء یہ بیان کرتے ہیں کہ عید کی نماز عورت کے لیے بھی فرض ہے اس میںاس نے ضرور شامل ہونا ہے۔شاید اس لیے کہ عید میں بچے بھی تیار ہو کر ساتھ چلتے ہیں۔اور بلکہ بچوں کو اچھے کپڑے پہننے کی وجہ سے زیادہ شوق ہوتا ہے باہر نکلنے کا ۔تو مائوں پر فرض کر دیا کہ بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں ساتھ لے کر نکلیں صر ف ایک ہی نماز ہے جو ان پر فرض ہے اور وہ عید کی نماز ہے ۔
    (ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ ستمبر1988ء صفحہ 5)
    سوال59: گرہن کے موقع پر نماز کسوف و خسوف کیوں پڑھتے ہیں؟
    جواب: یہ رسول اللہ ﷺکی عادت تھی اور رسول اللہ ﷺ سے ہم نے سیکھا ہے چاند گرہن پہ کسوف کی نماز نہیں ہوتی لیکن سورج گرہن پر ہوتی ہے ۔کیونکہ اندھیرا سا چھا جاتا ہے اس وقت دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو روشن کرے اور اس اندھیرے کو دور کر دے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل17جون 2000ء صفحہ4ریکارڈنگ10نومبر1999ء)
    سوال 60: حضور میں نے حدیث میں پڑھا ہے کہ بیت الذکر میں چل کر جائیں تو زیادہ ثواب ہوتا ہے اس کی کیا وجہ ہے اور اگر ہمیں نماز کے لیے دیر ہو گئی ہو تو کیا ہمیں پھر بھی چل کر جانا چاہئے ؟
    جواب: اصل چیز تو خدا کی خاطر کوشش کرنے کا ثواب ہے ۔جن کے پا س موٹریں ہوں او ر فاصلہ ہو تو موٹر پہ جانا چاہئے ۔جن کے پاس گھوڑے ہوں ان کو گھوڑے پہ جانا چاہئے ۔یہ تو بعض لوگوں کے لیے مشکل تھا۔بعض لوگ بے چارے ٹھوکریں کھاتے جاتے تھے۔مدینے میںگلیاں ایسی تھیں کہ ان میں چلنا مشکل ہوتا تھا۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ جتنا زیادہ چل کے جائو گے زیادہ دور سے آئو گے اتنا ہی زیادہ ثواب ہو گا۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل21اپریل2000ء صفحہ3 ریکارڈنگ19جنوری2000ء)
    سوال 61: ہم اگرعصر کی نماز پڑھنا بھول جائیں تو ہم اس کو مغرب کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟
    جواب: نہیں جمع وہ نمازیںہوا کرتی ہیں جن میں آپس میں میل ہو ظہر عصر کے ساتھ۔اور مغرب عشاء کے ساتھ۔لیکن ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب نماز قضاء ہو جائے تو جس وقت یاد آئے اس وقت پڑھ لو تو اگر مثلاً مغرب کی نماز شروع ہو چکی ہے اور باجماعت ہو رہی ہے تو پہلے وہ پڑھنی ضروری ہے بعد میں نماز عصر یاد آئے تو پڑھ سکتے ہیں ۔اور اگر یاد پہلے آ جائے تو پہلے نماز عصر پڑھ لیں پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ہو جائے گی۔
    (الفضل یکم جولائی2000ء صفحہ5ریکارڈنگ7نومبر1999ء)
    سوال 62: وضو کیوں ضروری ہے ؟
    جواب: وضو اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی آپ خدا کے حضور جائیں تو بدن بالکل پاک و صاف ہو اور وہ حصے خاص طور پر جو عموماً گندے ہوتے رہتے ہیں کھانے سے ہاتھ منہ گندا ہو جاتا ہے ۔چہرے پہ بھی داغ لگ جاتا ہے۔چلنے سے پائوں گندے ہو جاتے ہیں تو یہ سارے اعضاء جو روزمرّہ کے کام میں گرد آلود ہوتے رہتے ہیں یا گندے ہوتے رہتے ہیں ان کو آپ صاف کر لیتے ہیں پھر مسح کرتے ہیں اس سے پھر سکون آ جاتا ہے ۔پیچھے ہاتھ پھیرتے ہیں تو طبیعت یکسوئی کے ساتھ خدا کی طرف مائل ہو جاتی ہے ۔اس وجہ سے وضو کے بہت فوائد ہیں۔
    بلکہ ہر وضو کے ساتھ رسول اللہ ﷺمسواک بھی کیا کرتے تھے ۔اگر آپ لوگ بھی کر سکیں تو یہ بہت اچھی عادت ہے مسواک کرو گے تو دانت اچھی طرح صاف ہو جائیں گے ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 16مارچ2000ء صفحہ3.4ریکارڈنگ26جنوری2000ء)
    سوال 63: ساڑھے تین بجے یا اس کے لگ بھگ ادا کرنے سے کیا نماز جمعہ ادا ہوجاتی ہے یا نماز قضاء ہو جاتی ہے؟
    جواب: نماز جمعہ تو ہو سکتی ہے ۔نماز جمعہ ویسے کوشش یہی کرنی چاہیے کہ پہلے وقت میںہو لیکن پتہ نہیں ان لوگوں کو کیا مجبوری ہے غالباً ٹیلی ویژن کی وجہ سے شاید فرق پڑتا ہو وقت کا لیکن ان کو ٹیلی ویژن سے میرا خطبہ سننا ہو تو وہ الگ بعد میں رکھا کریں پہلے نماز جمعہ ادا کیا کریں ساڑھے تین بجے کی بجائے جو وقت جرمنی میں ہو جمعہ کا وقت اس وقت جمعہ ادا کر لینا چاہئے بعد میں پھر جس نے بیٹھنا ہو گا وہ بیٹھے گا جس نے نہیں بیٹھنا ہو گا وہ نہیں بیٹھے گا۔تو ایک قسم کی زبردستی بھی کرتے ہیں لوگوں پر جمعہ تو فرض ہے مگر ٹیلی ویژن پر میرا خطبہ سننا فرض تو نہیں ہے ۔وہ تو کسی کو شوق ہے تو سنے اس لیے جمعہ پہلے پڑھنا چاہیے اور جس نے فارغ ہو کے واپس جانا ہے وہ جائے اور جس نے بیٹھنا ہے میرے خطبے کے شوق میں کہ دیکھیں کہ کیا کہتا ہے بیٹھنا پسند کرے تو بے شک بیٹھے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۱۹مئی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۱۳ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال 64: حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا تھا کہ جمعہ والے دن ایک وقت ہے کہ اس میں ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں وہ کون سا وقت ہے ؟
    جواب: کوئی معین وقت نہیں بتایا ہوا اس کا مطلب ہے کہ جمعہ کے بعد مغرب تک دعائیں کرتے رہا کرو یہ رسول اللہ ﷺکا خاص طریق تھا ۔جستجو پیدا کرنے کے لیے او ر دعائوں میں تسلسل پیدا کرنے کے لیے بعض وقت فرما دیا کرتے تھے کہ اس کے درمیان ایک وقت آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ وقت نصیب ہو جائے اس لیے دعا کرتے رہنا چاہئے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۲۱ اپریل۲۰۰۰ صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۹ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 65: جب ہم نماز ختم کرتے ہیں تو السلا م علیکم کیوں کہتے ہیں؟
    جواب:اس لیے کہتے ہیںکہ نمازپڑھنے کے بعد آپ زیادہ بہتر فرمانبردار بن چکے ہوتے ہیں ۔ اور خدا کی طرف سے گویا سب کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم تمہیں سلامتی بھیجتے ہیں ۔اور دائیں بائیں سب دنیا کو ہم سلامتی بھیجتے ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیامیں کسی کے خلاف کوئی بد ارادہ نہیں باندھنا چاہیے بلکہ دنیا کوامن کا پیغام دینا چاہیے۔تو یہ نماز میں تربیت ہے ۔کہ جب نماز سے فارغ ہو ۔واپس دنیا میں آ جائو تو سلام لے کر واپس آئو۔
    (اطفال سے ملاقات ۱۹اپریل ۲۰۰۱ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال 66: صرف عشاء کی نماز میں وتر کیوں ہوتے ہیں اور اس میں کیا حکمت ہے ؟
    جواب: عشاء کی نما ز میں تو کوئی نہیں وتر ہوتے ۔تہجد کی نماز میں وتر ہوتے ہیں اور جو لوگ تہجد نہ پڑھ سکیں وہ عشاء کے بعد وتر پڑھتے ہیںاصل جو وتر ہے وہ تہجد کے وقت ہونا چاہیے ۔اصل میں اللہ تعالیٰ نے نظام وتر فرض نمازوں میں بھی رکھا ہو ا ہے اور نفلی نمازوں میں بھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور اسے وتر پسند ہے ۔اب جتنی فرض نمازیں ہیں ان میں مغرب کی نماز میں تین رکعتیں ہیں ۔کسی اور نماز میں تین رکعتیں نہیں ہیں یا چار یا دو۔تو تین جو ہے وہ ساری نمازوں کو وتر بنا دیتی ہے اور نوافل دو دو اور چار پڑھے جاتے ہیں مگر جب ایک پڑھتے ہیں تو وہ اس کو وتر بنا دیتے ہیں تو یہ بڑی گہری حکمت والی تعلیم ہے قرآن کریم کی یونہی نہیں ہے ۔باقی کسی مذہب میںایسی گہری حکمتیں نہیں ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 67: خطبہ جمعہ میں ایک دفعہ بیٹھ کر پھر کیوں اٹھتے ہیں؟
    جواب: یہ رسول کریم ﷺ کی سنت ہے مسلم کتاب الجمعہ میں حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺدو خطبے دیا کرتے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔مسند احمد بن حنبل میں ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺجمعہ کے روز دو دفعہ خطبہ دیتے تھے اور ان دونوں کے درمیان تھوڑی دیر کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔وہی چیز ہے بس تھوڑے تھوڑے الفاظ کا فرق ہے ۔
    مسلم کتاب الجمعہ میں ہے کہ مجھے جابر بن سمرہ نے بتایا کہ آنحضور ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔پھر آپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ بخاری میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضر ت ﷺکھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ۔سنن نسائی میں ہے جابر بن سمرہ ہی کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا ہے پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس دوران کوئی بات نہ کرتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے سب میں تھوڑا تھوڑا الفاظ کا فرق ہے وضاحت زیادہ ہوئی ہوئی ہے ۔آخری حدیث مسلم کتاب الجمعہ سے ہے جابر بن سمرہ سے مروی ہے کہ آنحضو ر ﷺدو خطبے دیا کرتے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل ۲۵ نومبر۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۶ فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال 68: کیا یہ اجازت ہے کہ ایک ہی بلڈنگ میں دو مختلف منزلوں پر ایک ہی مسلک کے لوگوں کو دو امام بیک وقت نماز پڑھائیں؟
    جواب: نہیں نا جائز بات ہے ۔ایک مسلک کے لوگ مثلاً اگر احمدی ایسا کرتے ہوں کہ اوپر والوں نے اپنا الگ امام بنایا ہوا ہے اور نیچے والوں نے الگ تو یہ جائز بات نہیں اکٹھا انتظام ہونا چاہیے لیکن اگر مجبور ی ہے تو ایسی صورت میں امیر صاحب کو حالات بتا کر اجازت لینی چاہیے ۔بغیر اجازت کے دو الگ الگ نمازیں جائز نہیں۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات ۸ فروری ۲۰۰۲ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۶ فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال 69: رمضان میں ایک غیر احمدی ٹیچر ہمیں نماز اور دعا پڑھاتی ہے کیا ہم اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں؟
    جواب: عورتوں کو مردوں کی امامت کروانے کی اجازت ہی نہیں ہے ۔وہ کہاں سے کرا دیتی ہے ؟اس کو کہیں اس طرح عورتوں کو مرد لڑکوں کی امامت نہیں کرانی چاہیے اور دوسرے اس کے پیچھے نہ پڑھا کریں ۔آپ تو احمدی ہیں احمدی کا امام احمدی ہی ہونا چاہیے۔
    (اطفال سے ملاقات ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 70: نمازی کے آگے سے گزرنا منع ہے لیکن اگر کوئی بچہ نماز ی کے آگے سے گزر جائے تو کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
    جواب: بچے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ گزرے۔نماز میں تھوڑی سی Disturbanceتو ہوتی ہے ۔مگر پھر بھی نماز تو ٹھیک ہی رہتی ہے ۔بعض لوگ اس بات پر بہت زیادہ تشدد کرتے ہیں آگے سے گزرنے والے پر ۔قادیان میں ہمارے مہدی حسن صاحب ہوا کرتے تھے وہ دو ہتڑ مارا کرتے تھے اتنی زور سے چپیڑ مارا کرتے تھے کہ بچہ بے چارہ بہت دور جا کے گر پڑتا تھا ۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔غلطی سے میں نے بھی ان سے تھپڑ کھایا ہوا ہے ۔تو یہ مطلب نہیں ہے کہ تھپڑ مارو تھپڑ مارنے سے تو زیادہ نماز خراب ہوتی ہے بلکہ ہلکا سا اشارہ کر کے یوں روک دینا چاہیے بس اتنا ہی کافی ہے ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 71: عید الفطر کو چھوٹی عید اور عید الاضحی کو بڑی عید کیوں کہتے ہیں؟
    جواب: چھوٹی عیداور بڑی عید تو عام مشہور ہو گئے ہیں نام ۔ورنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے چھوٹی عید بڑی کا فرق کوئی نہیں تھا۔عید الاضحی شاید اس لیے بڑی کہلاتی ہو کہ اس عید میں تین دن تک قربانیاں ہوتی رہتی ہیں اور اس کا پھیلائو زیادہ ہے تقریبوں وغیرہ کا ۔اس لیے اس کو بڑی عید کہتے ہیں یا حج ک وجہ سے بڑا کام ہے اس کے بعد عید آتی ہے ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل ۷ جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 72: نماز عصر سے نماز مغرب تک کوئی نفل پڑھنا کیوں منع کیا گیا ہے ؟
    جواب: کھیل کا وقت ہوتا ہے ۔دیکھو سب دنیا عصر کے بعدیعنی عصراور مغرب کے درمیان کھیلتی ہے بعض لوگ دوپہر کو بھی کھیلتے ہیں مگر جو رواج ہے وہ سب جگہ یہی ہے کہ عصر کے بعد لوگ کھیلتے بھی ہیں اور سیر کے لیے بھی نکلتے ہیں۔پرندے بھی اس وقت چہچہاتے ہیں دوپہر کو بالکل خاموش ہو جاتے ہیں اور عصر کے بعد مغرب تک خوب بولتے ہیں گاتے ہیں تو خدا کے فضل سے فطرت میں یہ چیز داخل ہے ۔
    (اطفال سے ملاقات ۲۴ جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۰ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال73: سجدہ یا رکوع کی حالت میں کیوں ہم قرآن نہیں پڑھتے۔ کیوں منع ہے ؟
    جواب: سجدہ یا رکوع کی حالت خدا کے حضور تذلل کی انتہائی حالت کا نام ہے تذلل کی پہلی حالت ہے کہ انسان نیچے جاتا ہے اور سب سے آخری تذلل کی حالت سجدے کی ہے تو قرآن کریم ایک جلالی کلام ہے اس لیے قرآن کریم اس تذلل کی حالت میں نہ پڑھا جائے۔
    حضر ت خلیفۃ المسیح الاول ؓلکھتے ہیں کہ اہل قرآن میں سے میرا ایک دوست تھا جو اس بات کو نہیں مانتا تھا کہ قرآن سجدے میں نہیں پڑھنا چاہئے ۔کہتے ہیں کہ جب یہ دلیل اس کو دی تو وہ مان گیا ہوسکتا ہے اور بھی سننے والے اس سے متاثر ہوں۔
    (مجلس عرفان الفضل ۹ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۳ مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال 74: اذان کیسے شروع ہوئی؟
    جواب: یہ اذان والا جو مسئلہ ہے یہ بڑا دلچسپ ہے ۔کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ نے اذان رویاء میں دیکھی تھی ۔آپ ﷺ کی اس تائید میں حضرت عمر ؓ نے بھی رویاء میں بالکل یہی اذا ن دیکھی تھی۔خدا تعالیٰ نے ا س طرح دونوں کو دکھا کر اس امر کو ثابت کر دیا یہ اللہ کی منشاء تھی چنانچہ اس طرح اذان شروع ہوئی ۔
    (اطفال سے ملاقا ت الفضل ۲۳ فروری ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال 75: جنازہ کے ساتھ عورتوںکے جانے کی ممانعت
    جواب: جنازے کے ساتھ عورتوں کے جانے کی ممانعت کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا آ پ کا سوا ل قبرستان سے متعلق نہیں عورتوں کے متعلق ہے ۔بات یہ ہے کہ جس وقت نعش کو دفن کیا جا رہا ہوتا ہے عورتیں کیونکہ زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اس وقت بعید نہیں کہ ان سے کوئی واویلا ہو جائے ۔ان کی طرف سے کوئی شور اٹھ کھڑا ہو۔وہ کوئی گہر اصدمہ محسوس کر لیں۔بچیاں بعض دفعہ اس قسم کا واقعہ دیکھ کر اس کا ہمیشہ کے لیے دل پر اثر لے لیتی ہیں ۔مغربی سوسائٹی میں تو غالبا ًیہ بات نسبتاً مدہم پڑ چکی ہے کیونکہ تعلقات کے دائرے ہی کمزور ہو گئے ہیں لیکن دین تو صرف مغربی سوسائٹی کے لیے نہیں ہے ۔دین حق تویونیورسل ہے ۔ایشیا میں بھاری آبادی ایسی ہے جس میں لڑکیوں کے جذبات ان معاملات میں بہت نازک ہوتے ہیں ۔عورتیں اپنے سے جدا ہونے والوں کے غم بالعموم برداشت نہیں کر سکتیں۔پس وہاں جو منظرCreate ہوں جو اس وقت وفات یافتہ کے لیے اور عام ماحول کے لیے نامناسب ہوں ان سے بچانے کے لیے منع فرمایا ہے ۔بعد میں قبروں پر جانے کی کوئی حدیث میرے علم میں نہیں کہ قبر پر دعا کے لیے بھی کوئی عورت نہ جائے۔کوئی ایک بھی مسلک اس کے خلاف
    رفقاء مسیح موعود ؑمیں نظر نہیں آیا۔جو ہم نے قادیان میں دیکھے ہیں ان کے زمانہ سے لے کر اب تک میںنے کہیں اور نہیں دیکھا خلیفۃ المسیح الثالث ؒکے زمانہ میں بھی اور حضرت مصلح موعود ؓکے زمانہ میں بھی۔اور مسیح موعود ؑکے رفقاء جو روایات لے کر آگے ہم تک پہنچے ان سب کا یہی مسلک تھا کہ عورتوں کو جنازہ پڑھتے وقت الگ انتظام کے ساتھ شامل تو ہونے دیتے تھے لیکن تدفین کے وقت عورتوں کو ساتھ نہیں جانے دیا جاتا تھا ا س کی غالبا ً یہی حکمت ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۳ ستمبر ۱۹۹۹ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۰ مارچ ۱۹۹۵ء)
    سوال 76: دعائے قنوت صرف وتروں میں پڑھی جاتی ہے۔باقی نمازوں میں کیوں نہیں پڑھتے؟
    جواب:اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو سکھایا ہے وہی ہم کریں گے ۔رسول اللہ ﷺ باقی نمازوں میں نہیں پڑھا کرتے تھے ۔صرف وتروں میں پڑھا کرتے تھے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل ۸ مئی ۲۰۰۰ ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۹ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 77: عید کی نماز سے پہلے اذان اور تکبیر کیوں نہیں دی جاتی؟
    جواب:اس لیے کہ عید کی نماز بہت بڑے علاقے کے لیے ہوتی ہے اس میں پورا شہر کا علاقوں کی بستیاں ،سارے ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں ۔تو اذان سے ان کو بلایا جا ہی نہیں سکتا۔اذان تو ہوتی ہی لوگوں کو بلانے کی خاطر ہے اور اسی طرح تکبیربھی وہاں سب کو نہیں پہنچ سکتی۔لیکن نماز میں تکبیریں بہت ہوتی ہیں ۔تو بظاہر تکبیر کم ہو رہی ہے ۔مگر اللہ نے نماز میں بہت تکبیریں شامل کر دی ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۹ ۲ جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۲۲ مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال 78: بعض لوگ نماز میں ہر دفعہ اللہ اکبر کہتے وقت ہاتھ کانوں تک اوپر کرتے ہیںاحمدی کیوں نہیں کرتے؟
    جواب: اس لیے کہ رسول اللہ ﷺکا یہ عام طریق نہیں تھا اس کو رفع یدین کہتے ہیں ۔بعض اہل حدیث یہ کرتے ہیں ۔کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ہر دفعہ رسول اللہ ﷺہاتھ اٹھایا کرتے تھے ۔لیکن ہم نے جہاں تک تحقیق کی ہے۔اکثر پختہ حدیثوں سے ہر گز ثابت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ ہاتھ اٹھائے ہوں۔مگر چونکہ بعض روایات ملتی ہیں ۔اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان روایات کی خاطر کبھی ہاتھ اٹھا بھی لیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسو ل اللہ ﷺ سے چونکہ بہت عشق تھا۔آ پ چاہتے تھے کہ اگر چھوٹی سی روایت بھی ہو تو اس کی بھی پیروی کر لی جائے مگر یہ دستور نہیں ہے ۔کبھی علیحدگی میں اپنے نفل پڑھتے وقت بے شک تبرکاً ہاتھ اٹھا بھی لو تو کوئی حرج نہیں ۔مگر ہماری بیو ت میں تو ایسا نہیں ہوا کرتا۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۲۳ فروری ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۴ نومبر ۹۹ء)
    سوال 79: دن میں پانچ نمازیںہوتی ہیں زیادہ یا کم کیوں نہیں ہیں؟
    جوابـ:اگر چھ ہوتیں تو پھر آپ یہ سوال کرتے کہ چھ کیوں ہیں ۔کوئی تو تعداد ہونی تھی نا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ تعداد جو ہے وہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے جو بھی تعداد مقرر کرتے آپ نے کہہ دینا تھا کہ یہ کیوں ہے زیادہ کیوں ہے یا کم کیوں نہیں۔لیکن اصل حکمت میں آپ کو بتا تا ہوں ۔دن کے پانچ حصے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان مہذب اور امیر قومیں جسم کی خوراک کا انتظام کرتی ہیں ۔صبح کا ناشتہ کرتے ہیں نا؟سکول میںریفرشمنٹ ٹائم۔پھر لنچ ہوتا ہے۔پھر tea ہے پھر ڈنر ہے ۔پانچ کھانے ہیں ناںآپکے ۔تو یہ اسی طرح کا روحانی کھانا ہے نماز پانچ دفعہ روح کو غذا دیتی ہے ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۶ ۱ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 80: کیا ٹوپی پہنے بغیر نماز یا قرآن پڑھ سکتے ہیں؟
    جواب: اگر چلتے پھرتے بغیر ٹوپی کے ہو ۔اور قرآن کریم کی آیتیں دماغ میں آتی ہیں تو کوئی حرج نہیں۔مگر جب بیت میں جاتے ہو اور عبادت کے لیے کھڑے ہوتے ہو یا قرآن کریم کی تلاوت کرنا چاہتے ہو تو اس وقت ضرور ٹوپی پہننی چاہیے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۹ اپریل ۲۰۰۱ء صفحہ ۴ تا ۵ ریکارڈنگ ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال 81: چھوٹے بچوں کوسات سال کی عمر سے پہلے سختی کرنا جائز نہیں ہے ۔سات سال کی عمر کے بعد ا گر بچہ نماز نہ پڑھے تو کس قسم کی سختی کرنا مناسب ہے؟
    جواب: معمولی ڈانٹ ڈپٹ تھوڑ ی سی ۔زیادہ نہیں کرنی چاہیے ۔زیادہ نہیں کرنی معمولی سختی کرنی ہے ۔نماز کے اندر سختی بارہ سال کے بعد تو بالکل ختم ہو جاتی ہے ۔جب وہ بالغ ہو جائیں تو پھر اس پر کوئی سختی نہیں کرنی چاہیے ۔اگر پیار سے سمجھائو تو کافی بچے سات سال سے پہلے ہی شروع ہو جاتے ہیں ۔انہیں ساتھ نماز پڑھنے کا شو ق ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ ماں باپ خود بھی نماز پڑھتے ہوں۔گھر میں نما ز پڑھتے دیکھیں گے تو بچے ضرور نماز پڑھتے ہیں ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 30 نومبر2001صفحہ3)
    سوال 82: رفع یدین سے متعلق ایک سوال لکھا ہے زیر دعوت دوست کہتے ہیں کہ بہت سی ایسی حدیثیں موجود ہیں جس میں رفع یدین کرنے کا ذکر ہے ۔تو آپ بھی اپنے طریقہ کو حدیث سے ثابت کریں؟
    جواب:اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ بہت سی حدیثیں تو ایسی ہیں کہ جن میں رفع یدین کا ذکر ملتا ہے ۔پر ایک بھی ایسی نہیں جہاں نہ ملتا ہو تو میںان کے سوال کو کسی حد تک معقول سمجھتا ۔ان کو غالبا ً ایسے فرقوں سے بحثوں کا موقع ملا ہے جو تشدد کرتے ہیں اور رفع یدین کو جھوٹ قرار دیتے ہیں ۔ہمارا یہ مسلک ہی نہیں ہے ۔اس لیے ہم سے بحث چھیڑنا بے کار اور بے معنی ہے ۔ہمارا مسلک یہ ہے کہ جس آنحضرت ﷺکے طریق پر چند ہی مستند حدیثیں گواہ ہوں تو کسی مومن کا کام نہیں ہے کہ دوسرے مسلک والوں سے بحث کرے کہ یہ غلط طریقہ ہے ۔جھوٹا طریقہ ہے ۔اگر تواتر نہ سہی ایک دفعہ ہی رسول کریم ﷺ سے کوئی طریق کار ثابت ہو جائے جس کو خود آپ نے بعد میں یہ کہہ کر ترک نہ کیا ہو کہ اللہ نے مجھے فرمایاہے کہ اس کو چھوڑو اور یہ طریق اختیار کرو اس طریق کو بھی اگر کوئی مومن اپنا لیتا ہے تو اس کو زیادہ سے زیادہ یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے تواتر نہیں فرمایا تھا ہمیشہ نہیں کیا کرتے تھے۔تم ایک آدھ دفعہ کر لیا کرو ۔یہ مشورہ تو دے سکتے ہیں مگر اس کو غلط نہیں کہہ سکتے ۔پس کسی احمدی کی مجال نہیں ہے کہ بہت سی حدیثیں جس پر گواہ ہون اس کو جھوٹ اور غلط قرار دے مگر احمدی مسلک یہ ہے کہ اس کے علاوہ ایسی حدیثیں بھی ہیں کثرت سے جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ غالباً رسول اللہ ﷺکا روزمرّہ کا دستور نہیں تھا۔ اگر ایک واقعہ زندگی میں دس مرتبہ دہرایا گیا ہو اور سینکڑوں نمازی گواہ ہوں تو ممکن ہے ۔وہ لوگ جب واپس اپنے علاقوں میں گئے ہیں ان میں یہ روایتیں پھیلا دی ہوں لیکن یہ دستور کہ رسول اللہ ﷺاس کے سوا نہیں کیا کرتے تھے یا زیادہ تر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے یہ اس بات سے ثابت ہے کہ اکثر بزرگ صحابہ جنہوں نے قریب سے دیکھا انہوں نے نہ ہی یہ طریق اختیار کیا نہ ان کے تابعین نے بعد میں اس طریق کو اپنایا تو سارے اہلسنت جو اہلحدیث کے علاوہ ہیں ان کا مسلک آخر انہی حدیثوں پر مبنی ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح ہاتھ چھوڑنے والی مالکی حدیثیں ہیں میںنے ہمیشہ یہ مسلک اختیار کیا ۔جماعت کو یہ نصیحت کی کہ ایسے شخص سے یہ بحث نہ کرو کہ تم غلط کر رہے ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺسے ایک دفعہ بھی جو با ت ثابت ہو اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔یہ سمجھایا کرو پیار سے کہ ہمارا علم جہاں تک ہے اکثر یہ دستور نہیں تھا ۔اکثر ایک اور دستور تھا تو ہم اکثر دستور میں رہتے ہیں لیکن اگر کوئی احمدی ایسا کرتا ہو تو کسی کا حق نہیں ہے کہ اسے غلط کہے ۔میں احمدیوں کے اندرونی دائرے میں آرہا ہوں ۔اگر کبھی کوئی ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور کچھ لو گ ٹیڑھی نظر سے دیکھیں کہ یہ غلط کر گیا تو یہ درست نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح طور پر خود یہ فرمایا کہ چونکہ دونوںقسم کی احادیث ہیں اس لیے کبھی یہ کر لینا میرے نزدیک ہر گز ناجائز نہیں۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوںکہ احادیث دستور نبوی سے یہ ثابت نہیںہوتا اس لیے ہمیں بھی اس کو پابند دستور کے طور پر اختیار نہیں کرنا چاہئے۔
    (ملاقات الفضل 30.1.2003صفحہ 4ریکارڈنگ 18 .11.1994)
    سوال 83: قرآن کریم میں مختلف نبیوں کا ذکر ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا تو ہمیں پتہ ہے کہ وہ کس طرح عبادت کرتے تھے مگر اور بہت پرانے نبی ہیں تو انہوں نے کس طرح عبادت کی ہے ؟
    جواب:ان کی قوموں میں جو طریقہ اس وقت عبادت کا قائم ہے اس کی کوئی بنیاد تو ہے بعد میں وہ بگڑ گئی ہیں۔عبادتیں بالکل ویسی تو نہیں رہیں مگر کچھ نہ کچھ بنیاد ضرور ہوتی ہے ۔اب دین نے ان سب کی عبادتوں میں سے کچھ کچھ لے کر اکٹھا کر دیا ہے تا کہ دنیا کی ہر قوم کو اس عبادت کا وہ حصہ پتہ ہو۔بعض ہیںجو کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ہندو کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں بتوں کو سجدہ کرتے ہوں گے لیکن اکثر ہندئو وں کی عبادت ہے جو وہ کھڑے ہو کر ہوتی ہے یا بیٹھ کر ۔اس کو کہتے ہیں دھونی دھما کر ۔تو دین میں بھی کھڑے ہو کر بھی ہے بیٹھ کے بھی ہے ۔عیسائیوں میں بھی ایک عبادت کا طریق ہے جو چرچ میں آپ جا کر دیکھ لیں وہ جو بھی پادری بولتا جاتا ہے سنتیں ہیں جس طرح ہمارا خطبہ ہو رہا ہوتا ہے اور وہی ان کی عبادت ہوتی ہے ۔یہودیوں کا طریق عبادت معروف ہے ابھی تک اس کے مطابق عبادت کرتے ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ عبادت کے طریق آہستہ آہستہ زمانے کے لحاظ سے تو بگڑ گئے ہیں مگر غور سے دیکھیں تو ان کے اندر جو بنیادی چیز ہے وہ ابھی تک ہے ۔تو دین نے سب عبادتوں کو اکٹھا کر دیا ہے کھڑے ہو کر بھی ہے رکوع بھی ہے پھر ہاتھ نیچے چھوڑ کر بھی ہے باندھ کر بھی ہے ۔پھر سجدہ کر کے بھی ہے پھر بیٹھنے کی بھی ہے تو یہ سارے مختلف طریق جو عبادت کے ہیں وہ دین نے ایک جگہ اکٹھے کر دیے ہیں
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 27.12.2000صفحہ 4ریکارڈنگ 19.2.2000ء)
    سوال 84: اگر بیماری کی وجہ سے وضو بار بار ٹوٹ جاتا ہو تو کیا ہر دفعہ وضو کرنا پڑے گا جبکہ ایک رکعت بھی پوری نہیں ہوئی؟
    جواب:بے چاری بہت بیمار ہے توایک ہی دفعہ وضوکر کے توبہ استغفار کر لیا کرے ۔ایک بدو تھا وہ نماز کے لیے آیا تو اس کا وضو بھی ٹوٹتا جا رہا تھا ۔تو ایک آدمی نے دیکھا کہ وضو ٹوٹتا بھی جار ہا ہے اور اس کے باوجود وضو کے لیے بھی نہیں جاتا تو اس نے بعد میں اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کیسے شخص ہو وضو بھی توڑتے ہو اور وضو کے لیے جاتے بھی نہیں ہو اس نے کہا اگر میںہر دفعہ وضو ٹوٹنے پر وضو کروں تو مچھلی یا مینڈک بن جائوں تو اس بے چاری کا بھی یہی حال لگتاہے ۔تو اس کو کہیں کہ استغفار کیا کرے اور بس کافی ہے ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل 10.6.2000صفحہ 3ریکارڈنگ29.1.2000)
    سوال 85: ایک سوال یہ تھا کہ نماز قبلے کی طرف منہ کرکے کیوں پڑھتے ہیں؟
    جواب: حضور ایدہ اللہ نے فرمایا تاکہ سب نماز پڑھنے والوں کا رخ ایک طرف ہو جائے اور وہ ایک ایسی قوم بن جائیں جو ایک ہاتھ کے اٹھنے سے اٹھیں ایک ہاتھ کے نیچے ہونے سے بیٹھیں۔تا کہ امت واحد بن کر رہیں
    (مجلس عرفان الفضل 24.6.1999صفحہ 3ریکارڈنگ 15.5.1999ء)
    سوال 86: درود شریف میں ہم کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺپر سلامتی نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم پر سلامتی نازل فرمائی۔اس میں حضرت ابراہیم کا ذکر کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے ؟
    جواب: اس طرح کہ جتنے بھی انبیاء گزرے ہیں ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک خاص مقام ہے ۔اور جس طرح قرآ ن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے اور آپ سے برکتوں کے وعدے کیے ہیں ویسا کبھی کسی اور نبی کے ساتھ برکت کے وعدے نہیں کیے ۔اور ان کو ابو الانبیاء کہتے ہیں یعنی آپ کی اولاد میں سے انبیاء پیدا ہوئے اور خد رسول اللہ ﷺبھی آپ کی ہی اولاد میں سے تھے ۔تو اس کا ایک مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ آپ کی روحانی اولاد میں سے بھی نبی پیدا ہوں جیسے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے نبی پیدا ہوئیے مگر یہ صرف ایک معنی نہیں بے شمار باتیں ہیںجو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کو ورثہ میں ملیں ۔ایک خدا تعالیٰ کا آپ پر صلوٰۃ بھیجنا اور دوسرے برکتوں کے وعدے تو رسول اللہ ﷺ بہت احسان شناس تھے آپ کو یہ پتہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میرے لیے بہت دعائیں کی ہوئی ہیں اور قرآن کریم میں تین جگہ ان دعائوں کا ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی گریہ وزاری سے دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ان لوگوں میں ایسا نبی برپا کر اس کثرت سے کبھی کسی نبی نے کسی آنے والے نبی کیلئے ایسی دعائیں نہیں کیں۔پس رسو ل اللہ ﷺکسی کا احسان نہیں رکھتے تھے ۔یہاں تک کہ ا براہیم علیہ السلام کا بھی احسان نہیں رکھا اپنی دعا میں ان کو شامل کر لیا ابراہیم کی امت کے دوسرے لوگ تو ان کو دعا میں یاد نہیں رکھتے نہ عیسائی رکھتے ہیںنہ یہودی مگر ان پر درود بھیجتے ہیں تو مسلمان ۔تو یہ آنحضرت ﷺ کی بڑی عظیم شان ہے کہ کسی کا احسان نہیں رکھا کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی درود کے ذریعے اتنی دعائیں ملی ہیں قیامت تک کے لیے کسی نبی کی امت نے کبھی ان کے لیے ایسی دعا نہیں کی سوائے رسول اللہ ﷺکی امت کے ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل9.4.2001 صفحہ 5ریکارڈنگ 10.5.2000)
    سوال 87: عورتوں کا میک اپ اور وضو
    جواب: خواتین کی طرف سے اس سوال پر کہ کیا نیل پالش اور لپ سٹک وغیرہ کے ہوتے ہوئے وضوہو جاتا ہے؟حضرت صاحب نے فرمایا ایسی حالت میں بھی وضو ہو جاتا ہے وضو کا مقصد ہے کہ جسم صاف ہو جائے اور جو گندگی لگی ہے وہ دور ہو جائے اگر تو لپ اسٹک کوئی گندی چیز ہے تو پھر تو وضو نہیں ہو گا اور اس گند کو دور کرنا چاہیے لیکن اگر یہ اچھی چیز ہے خوشبودار ہے تو وضو میں کس طرح حائل ہو سکتی ہے ۔جو لوگ کہتے ہیں کہ نیل پالش سے وضو نہیں ہوتا یا لپ اسٹک پر وضو نہیں ہوتا انکے جسموں پر بعض دفعہ لپ اسٹک سے بھی کئی گنا زیادہ میل کی تہیں جمی ہوتی ہیں اس کے باوجود اگر ان کا وضو ہو جاتا ہے تو بے چاری باریک سی نیل پالش یا لپ اسٹک کی تہہ سے کیوں نہیںہو گا ۔یہ سب جاہلانہ باتیںہیں ۔وضو کا حکم محض توجہ دلانے کیلئے ہے کہ تمہیں خدا تعالیٰ کے حضور پاک صاف ہو کر جانا چاہیے اور اس نیت سے جب آپ صاف پانی سے وضو کرتے ہیں اور گندگی جسم پر نہیں رہتی توپھر وضو ہو جاتا ہے ہاں اگر پوڈر سرخی میں گند شامل ہو اور غلاظت ہو تو وضو نہیں ہو گا ۔تب آپ کو میک اپ صاف کرنا پڑے گا تب وضو ہو گا ۔
    (مجلس عرفان الفضل 3نومبر1999ء صفحہ3)
    سوال88: ایک طالبعلم نے یہ سوال کیا کہ کالجوں میںلیکچرزکے دوران نماز کا وقت ہو جاتا ہے ایسے وقت میں کیا کرنا چاہئے؟
    جواب:حضور ایدہ اللہ نے فرمایا جو نمازیں کاموں کے وسط میں آجائیں ان کی ادائیگی کی اہمیت قرآن کریم سے واضح ہے ۔ایسی نمازوں کو زیادہ توجہ سے ادا کرنے کی ضرورت ہے چاہے جمع ہی کرنی پڑے۔مگر جمع کرنے کے لیے کوئی جائز ضرورت ہونی چاہیے ۔یا ظہر ذرا جلدی ادا کر لی جائے اور عصر ذرا لیٹ ادا کر لی جائے۔نماز کو قضاء نہ کریں۔
    (مجلس عرفان الفضل 24.6.1999صفحہ 3 ریکارڈنگ15.5.1999)
    سوال 89: با جماعت نماز میں اِنِّی وَجَّہْتُ والی دعا کب پڑھتے ہیں ؟
    جواب:اس سلسلے میں بچوں کے پوچھنے کی وجہ سے ہم نے تحقیق کی ۔میں تو اللہ اکبرکے بعد اِنِّی وَجَّہْت ۔۔۔المشرکین پڑھا کرتا تھا ۔تم بچوں کے سوالوں کی وجہ سے جب ہم نے تحقیق کی تو اور بہت سی عجیب و غریب باتیں ملیںاو ر ایک ان میں سے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺہمیشہ یہ نہیں پڑھا کرتے تھے بلکہ بعض بہت لمبی لمبی دعائیں ہیں مثلا اے اللہ میرے اور میرے گناہوں میں مشرق اور مغرب کابعد ڈال دے اور بہت سی دعائیں ہیں اور سید الاستغفار بھی ہے تو ایک بات تو مجھے پتہ لگ گئی ہے کہ ہمارے ہاں یہ جو مشہور ہے کہ نیت پہلے پڑھنی چاہیے درست بات نہیں ۔آنحضرت ﷺ اللہ اکبر کہنے کے بعد نیت کی دعا کیا کرتے تھے اور یہ خیال کہ ہمیشہ یہی دعا کرتے تھے یہ بات بھی درست نہیں بہت سی دوسری دعائیں جو بخاری میں ہیں اور بہت سی اہم کتب میں بھی درج ہیں اور ان میں اور دعائیں ہیںاس کا بہت کم ذکر ہے ۔حضرت علی ؓ کی روایت میں اس کا ذکر ہے ۔قرآن کریم میں جو آیت ہے اس میں اِنیِّ کا لفظ ملتا ہے مگر جو روایات میں ملتا ہے وہ وَجَّھْتُ سے شروع ہوتی ہے اور اس کے سوا اور بہت سی دعائیں ہیں تو آ پ لوگوں کے لئے ممکن ہی نہیں کہ اتنی لمبی نیت کیا کریں ۔ہر نماز سے پہلے اس کو تو سات آٹھ منٹ لگ جائیں گے ۔اس لیے مختصر یہی رواج ہمار اچل پڑ ا ہے اور حرج نہیں اگر وَجَّھْتُ والی نیت کیا کریں اور اللہ اکبر کے بعد کیا کریں اس سلسلے میںجو وہم پید ہوتے ہیں لوگوں کو کہ یہ دعا پڑھیں یا وہ دعا پڑھیں جب یہ روایت دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ بہت ساری دوسری دعائیں ہیں جو کی جاتی تھیں۔اور وَجَّھْتُوالی دعا کے بعد بھی دوسری دعائیں تھی جو کی جاتی تھیں صرف اسی پر بس نہیں کی جاتی تھی۔اس لیے توہمات میں نہیں پڑنا چاہئے ۔یہ چھوٹی سی دعا کافی ہے ۔وہموں کے متعلق ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک آدمی کو یہ وہم کی بیماری تھی وہ جب پچھلی صف سے دعا کیا کرتاتھا اِنِّی وَجَّھْتُتو چونکہ ان میں ایک یہ بھی رواج ہے کہ وہ یہ بھی نیت کیا کرتے ہیں کہ اس امام کے پیچھے تو کہا کرتا تھا ۔تو پھر خیال آیا آگے میرے کوئی آدمی کھڑا ہے میںنے جو کہہ دیا اس امام کے پیچھے ۔تو پھر اللہ میاں سمجھے گا میں اس امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور پھر وہ کوشش کر کے اگلی صف میں آ گیا اور کہا ’’پچھے اس امام دے‘‘تو اس کو خیال آیا کہ سامنے تو دیوار ہے امام تو ہے ہی کوئی نہیں پھر اس نے سوچا بہتر یہی ہے کہ عین امام کے پیچھے کھڑا ہو تا کہ اللہ میاں کو بھی دھوکا نہ لگے کہ میں کس کے پیچھے نماز پڑھ رہاہوں تو اس نے زور سے کہا ’’پچھے اس امام دے ‘‘پھر خیال آیا کہ اس کے اور میرے درمیان تو فاصلہ ہے تو پکی بات نہیں ہے تو امام کو دو ہتڑ مار کر کہا ’’پچھے اس امام دے‘‘ا س لئے توہمات میں نہیں پڑنا چاہیے اللہ میاں کو پتہ ہے کس کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔
    (مجلس عرفان الفضل 4.3.1999صفحہ 4ریکارڈنگ 18.2.2000)
    سوال 90: ایک طفل نے یہ سوال کیاکہ جب نماز پڑھ رہے ہوں تو اگر کوئی بندہ لیٹ آئے اور پہلے سے موجود تمام صفیں پوری ہو چکی ہوں تو وہ کیا کرے کیا اکیلا نماز شروع کر دے؟
    جواب:حضور نے فرمایا اگر وہ اکیلا ہو تو وہ ایک اور شخص کو پہلے سے مکمل شدہ صف میں سے پیچھے کھینچ لے اور اس کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ۔صف میں کم سے کم دو افراد ہونے چاہییں۔
    (مجلس عرفان الفضل 14.6.1999صفحہ3ریکارڈنگ15.5.1999)
    سوال 91: نماز کے بعد تسبیح کرتے ہیں سبحان اللہ 33 دفعہ الحمدللہ 33دفعہ اللہ اکبر34دفعہ پڑھتے ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ حضور کیا یہ نمبر اوپر نیچے بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
    جواب:یہ تو آنحضرت ﷺ نے بعض غرباء کو نسخہ بتایا تھااور جس طرح بتایا تھا اس کو بدل نہیں سکتے ہم۔ہوا یہ تھا آنحضرت ﷺنے امراء کو جو قربانیاں دیتے تھے ان کو خوشخبری دی تو غرباء نے کہا ہم کیا کریں ہماری بھی خواہش ہے تو آنحضرت ﷺ نے ان کو یہ نسخہ بتا دیا تم یہ کام کیا کرو تم پھر برابر ہو جائو گے ان کے اس لحاظ سے ۔وہ تم سے پہلے جنت میں نہیں جائیں گے تم بھی انکے ساتھ پہنچو گے ۔تو یہ ایک تحریض کا ذریعہ ہے جنت میں تو سب مومنوں نے اکٹھے جانا ہے مگر رسول اللہ ﷺتحریص دلاتے تھے۔شوق دلاتے تھے تو اس طرح بات کر کے شوق دلایا کرتے تھے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل 7.7.2000صفحہ 4ریکارڈنگ 16.1.2000)
    سوال92: ایک سوال نماز قصر کے بارہ میں تھا پوچھنے والے خادم نے یہ پوچھا کہ جو بہت زیادہ سفروں پر ہوں اگر وہ پوری نماز پڑھ لیں تو کیا ان کو زیادہ ثواب ملے گا؟
    جواب:ثواب اس وقت ملتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی رضا کو پورا کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ سہولت دیتا ہے اس سے فائدہ اٹھانا نیکی ہے اس کا انکار کرنا تکبر ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل سے یہ بات ثابت کہ جب خدا کی راہ میں سفر ہو اور اس کا وقت پہلے سے معین نہ ہو یعنی جب سفر کیا تو ارادہ تھا کہ بارہ تیرہ دن کا سفر ہے ایسی حالت میں نماز قصر ادا کی گئی ۔پھر ایسے حالات پیدا ہوگئے جو تصور میں نہ تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل سے ثابت ہے کہ بہت لمبا سفر کرنا پڑااور اس سارے سفر نمازیں قصر ادا کی جاتی رہیں۔
    (مجلس عرفان الفضل29.5.1999صفحہ3ریکارڈنگ16.5.1999)
    سوال 93: حضرت رسول اللہ ﷺ کا جنازہ کس نے پڑھایا تھا؟
    جواب:گروپوں میں جنازہ پڑھایا گیا ۔حضرت ابو بکر نے بھی جنازہ پڑھایا اور جو سنتے تھے باہر سے آتے تھے ان کا ایک امام آگے ہو جاتا تھا کیونکہ تار وغیرہ تو نہیںہوتی تھی نہ ہوائی جہاز ہوتے تھے کہ فوراً پہنچ سکے ۔جب تک جنازہ دفن نہیں ہوا اس وقت تک جتنی ادھر ادھر سے پارٹیاں پہنچتی رہیں وہ اپنا امام بناتے تھے اور جنازہ پڑھ لیتے تھے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل 21.4.2000صفحہ 4 ریکارڈنگ19.1.2000)
    سوال 94ـ: جب کوئی گھر میں جماعت کروا رہا ہو اور وہ نماز میں سورۃ بھول جائے اور مقتدیوں میں سے بھی کسی کو نہ آتی ہو تو کیا وہ سورۃ چھوڑ کے اور دوسری سورۃ شروع کرسکتا ہے؟
    جواب: حضور نے فرمایا۔ کرسکتا ہے۔ پہلی سورۃ میں سے اگر چند آیات ہو چکی ہوں تو وہی
    کافی سمجھ لے۔ اس پہ کسی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں۔ یعنی اگر کسی سورۃ کی تین کے
    قریب آیات ہوچکی ہوں تو پھر اسی پہ ختم کرسکتا ہے۔
    دوسری سورۃ شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔
    (مجلس عرفان الفضل4 مارچ 1999ء صفحہ 3ریکارڈنگ 18فروری2000ء)
    سوال95: ایک بچے نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کا وضو ٹوٹ جائے کیا پھر بھی اس کی نماز جاری رہتی ہے؟
    جواب: حضور نے فرمایا نہیں۔ جائے وضو کرے اور پھر نماز جاری کرے۔ اس کو یہ خداتعالیٰ نے سہولت دے رکھی
    ہے کہ اس کی جو پہلی نماز تھی وہ ضائع نہیں ہوتی وضو کرے اور وہیں سے شروع کردے جہاں سے وضو ٹوٹا تھا۔
    (مجلس عرفان الفضل4 مارچ 1999ء صفحہ 3ریکارڈنگ 18فروری2000ء)
    روزہ
    سوال :1 لیلۃ القدر کی تلاش
    (ارشاد سیدنا حضرت امام جماعت احمدیہ (الرابع) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
    (قادیان میں) ’’جب بھی رمضان کے آخری عشرہ میں ہم داخل ہوا کرتے تھے تو بعض راتوں کے متعلق آپس میں گفتگو ہوا کرتی تھی اور اپنے تجارب بیان کئے جاتے تھے تو ان معنوں میں جو ہمارا تجربہ ہے اس کی رو سے اکثر راتیں ۲۷ ہی کو ہوا کرتی تھیں جن کے متعلق عموماً یہ مشاہدہ تھا کہ وہ لیلۃ القدر سے ملتے جلتے اثرات ظاہر کرگئی ہیں۔ چنانچہ دلوں میں دعا کے لئے غیرمعمولی تحریک پیدا ہوئی تھی۔‘‘
    (الفضل ۱۹؍اپریل ۱۹۹۱ء)
    سوال :2 بعض دوست کہتے ہیں کہ جو روزہ نہیں رکھتے وہ تراویح بھی نہیں پڑھ سکتے۔ یہ بات کس حد تک درست ہے؟
    جواب: جن کو خداتعالیٰ نے روزہ رکھنے سے مستثنیٰ قرار دے دیا ان کو دوسری عبادتوں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ تراویح کی کیا بحث ہوئی۔ پہلے تو نماز کی بحث اٹھے گی۔ عبادتیں کرسکتے ہیں کہ نہیں۔ قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں کہ نہیں زکوٰۃ دے سکتے ہیں کہ نہیں اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ہر شخص اگر کسی پہلو میں کمزور ہے تو دیگر فرائض اس سے جھڑ نہیں جاتے۔ ہر ایسا شخص جس میں کوئی کمزوری پائی جاتی ہے اگر وہ بعض دوسرے فرائض سرانجام دیتا ہے تو اس کے لئے بہتر ہے وہ پکڑ کے نیچے تو آجاتاہے لیکن یہ کہنا کہ وہ باقی فرائض سے بھی آزاد ہوگیا کیونکہ ایک کمزوری پائی جاتی ہے بالکل غلط اور بے معنی بات ہے مگر یہ فرائض کی بحث کو چھوڑ کر نوافل کی بحث سے گزر کر تراویح میں جابیٹھے ہیں اور تراویح بھی نوافل کی وہ قسم ہے جو ثانوی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ طریق تھا کہ آپ تہجد کے وقت نوافل پڑھا کرتے تھے۔ میں نے تحقیق کی ہے کہ آپ سے یہ تو ثابت ہے کہ آپ نے تہجد کے وقت باجماعت بھی نوافل پڑھائے لیکن اس دستور کو ہمیشہ اختیار نہیں فرمایا کچھ عرصے کے بعد چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اس طرح تم لوگوں کے لئے مشکل نہ پڑ جائے لازم ہی نہ ہو جائے اور سب کے لئے یہ وقت ہو کہ تہجد کے وقت اس طرح باجماعت نوافل پڑھے اس حکمت کے پیش نظر احسان کے طور پر آپ نے باجماعت نوافل پڑھانے ترک کر دیئے۔ لیکن کم از کم یہ ثابت ہو گیا کہ باجماعت نوافل پڑھنا غلط نہیں اب اگلا پہلو دیکھیں کہ تراویح کس طرح شروع ہوئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں شروع ہوئی وہ مزدور پیشہ لوگ جو دن بھر سخت محنت کا کام کرتے تھے ان کے لئے یہ مشکل تھا کہ وہ تہجد کے وقت اتنا پہلے اٹھیں کہ پھر وہ رات کو بھی جاگیں اس لئے ان کی رعایت سے حضرت عمر ؓ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد تم نوافل پڑھ لیا کرو اور باقاعدہ جماعت کے ذریعہ وہ نوافل ادا ہونے لگے۔ ان کو تراویح کہا جاتا ہے اور اس کے آخر پر وتر پڑھے جاتے تھے وجہ یہ تھی کہ ظاہر تھا کہ جو صبح نہیں اٹھ سکتا وہی تراویح پڑھے گا اور جو صبح اٹھ ہی نہیں سکتا اس نے بعد میں پھر کون سے نفل پڑھنے ہیں اس لئے ایک اور سوال بھی اٹھا ہوا ہے وہ بھی ساتھ ہی جواب میں دے دیتا ہوں کہ تراویح کے بعد نفل پڑھے جائیں یا نہیں تراویح تو نفل کی ثانوی شکل کا نام ہے اول نفل کی صورت وہی ہے کہ تہجد پڑھ کر رات کو اٹھ کر نوافل ادا کیا کر یہ حکم ہے۔ اول نمبر پر آنحضور ﷺ ہمیشہ اسی کے پابند رہے ہیں اگر ایک آدمی کسی نیکی سے جاتا ہے تو جس طرح آب کے بعد تیمم آجاتا ہے اس طرح حضرت عمرؓ نے تراویح کو تیمم کے طور پر جاری فرمایا۔ مگر یہ شرط ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہے اس کے لئے لازم ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت اور قرآن کی ہدایت کے مطابق تہجد پڑھا کرے ا سکے علاوہ بے شک نوافل ادا کرے جس شخص سے رمضان کے تہجد کی ادائیگی بھی ممکن نہ ہو اگر وہ اس مجبوری کے پیش نظر رات کو تہجد کے متبادل نفل پڑھ لے تو یہ گناہ نہیں ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس کے بعد وتر ہوں گے اور جب وتر ہو گئے تو وہ نوافل اپنی تکمیل کو پہنچے اور اس کے بعد پھر کسی نفل کا اس لئے سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اس نے وہ تراویح پڑھی اس غرض کے لئے تھی کہ مجبوری ہے کہ صبح اٹھ نہیں سکتا اگر آنکھ کھل جائے تو اٹھ کھڑا ہو بعض دفعہ ڈراؤنی خواب آجاتی ہے تہجد کی عادت نہ بھی ہو تو بے چارے ساری رات کانپتے رہتے ہیں تو ان لوگوں کے لئے میں نے کہا تھا کہ منع نہیں ہے اگر رات کو آنکھ کھلی ہے اور دل چاہتا ہے خدا کی عبادت کرنے کو تو کوئی نہیں روک سکتا اس لئے بے شک پڑھے مگر جو احسن طریق ہے جو مسنون طریق واضح اور اول ہے وہ میں نے کھول کر بیان کر دیا ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۸؍اکتوبر ۲۰۰۲ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۲؍مارچ ۱۹۹۴ء)
    سوال :3 روزہ افطار کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟
    جواب: سنیوں میں بہت سے فرقے ایسے ہیں جن کا مسلک یہ ہے کہ غروب آفتاب کے بعد فوری طور پر افطار کرنا چاہئے دیر کرو گے تو تمہارا روزہ مکروہ ہو جائے گا اس سلسلے میں کچھ حدیثیں بیان کرتا ہوں۔ ایک حدیث قدسی ہے حدیث قدسی اس حدیث کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو وحی خفی کے ذریعے یا وحی ظاہری کے ذریعے جس کا ہمیں علم نہیں وہ بات پہنچائی ہو اور یہ حدیث کی سب قسموں میں سب سے قوی ہے یہ ترمذی ابواب الصوم میں درج ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے سب سے پیارے بندے وہ ہیں جو افطاری کے وقت سب سے جلدی افطاری کرتے ہیں اللہ کی پیاری بندی بننا چاہتی ہیں تو اس حدیث پر عمل کریں دوسرے کریں یا نہ کریں۔ دوسری حدیث بخاری کتاب الصوم سے لی گئی ہے سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا روزہ افطار کرنے میں جب تک لوگ جلدی کرتے رہیں گے اس وقت تک خیروبرکت بھلائی اور بہتری حاصل کرتے رہیں گے۔ پھر سنن ابی داؤد کتاب الصوم میں ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دین اس وقت تک مضبوط رہے گا جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی روزہ افطار کرنے میں تاخیر کرتے تھے۔ مسلم کتاب الصیام میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب دن چڑھ جائے اور رات آجائے اور سورج ڈوب جائے تو روزہ افطار کرو حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کے ایک سفر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس سفر میں آنحضور ﷺ کے ہمراہ تھا غروب آفتاب کے بعد حضور نے ایک شخص کو افطاری لانے کا ارشاد فرمایا اس شخص نے عرض کی کہ حضور ذرا تاریکی ہو لینے دیں آپؐ نے فرمایا کہ افطاری لاؤ اس نے پھر عرض کی کہ حضور ابھی تو روشنی ہے حضورؐ نے فرمایا افطاری لاؤ وہ شخص افطاری لایا آپ نے روزہ افطار کرنے بعد اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ جب تم غروب آفتاب کے بعد مشرق کی جانب سے اندھیرا اٹھتے دیکھو تو افطار کرلیا کرو۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :4 شوال کے جو چھ روزے رکھے جاتے ہیں کیا وہ شوال کے مہینے میں کسی بھی وقت رکھے جاسکتے ہیں یا ان کے کوئی دن مقرر ہوتے ہیں؟
    جواب: ان کے دن مقرر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ عید کے بعد وہ روزے شروع کردیتے تھے اور چھ روزے رکھا کرتے تھے۔ اس لئے وہی دن ٹھیک ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائے ہوئے ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۱؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :5 روزہ اور تراویح
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ جو روزہ نہیں رکھ سکتے کیا وہ تراویح بھی نہیں پڑھ سکتے؟
    حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس کا اصولی جواب تو یہ ہے کہ جن کو خداتعالیٰ نے روزہ سے مستثنیٰ رکھا ہے ان کو دوسری عبادتوں سے تو مستثنیٰ نہیں رکھا۔ وہ نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ قرآن پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ یقینا
    پڑھ سکتے ہیں۔
    حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر ایک شخص اپنے بعض فرائض میںکمزور ہو تو دوسرے فرائض جھڑ تو نہیں جاتے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے تراویح کی تاریخ اور نوافل پر روشنی ڈالی۔
    (ملاقات ۲۲؍مارچ ۱۹۹۴ء۔ روزنامہ الفضل ۱۳؍نومبر ۱۹۹۹ء صفحہ۳)
    سوال :6 رمضان کے مہینہ میں دعاؤں پر کیوں زیادہ زور دیا گیا ہے؟
    جواب: رمضان کے مہینے میں ساری عبادتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور دعائیں باقی مہینوں کی نسبت زیادہ کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ان کو اللہ پھر قبول بھی کرتا ہے دیکھو جو چیزیں تم پر حلال ہیں وہ بھی تم اپنے آپ پر ایک وقت کے لئے حرام کرلیتے ہو کھانا، پینا، اور بہت سی باتیں چھوڑ دیتے ہو اللہ کی خاطر اور رات کو اٹھ کے تہجد بھی پڑھتے ہو تو اس وجہ سے دعا کی قبولیت کا خاص زمانہ ہوا کرتا ہے اس لئے اس پر اتنا زور ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۹؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۳؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال :7 ناروے میں (آرکٹک سرکل) میں تین مہینے کا دن اور تین مہینے کی رات ہوتی ہے۔ تو وہاں روزے رکھنے کی کیا صورت ہے؟
    جواب: رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی فرمادیا تھا۔ Arcticسرکل کے اوپر جو عین نقطہ ہے۔ اس پہ چھ مہینے کے دن اور چھ مہینے کی رات ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ یہ ذکر فرمایا کہ آئندہ دنیا میں دن چھ مہینے کے اور چھ مہینے کی رات بھی ہوا کرے گی۔ دجال کے زمانے میں۔ اب اس زمانے میں کوئی وہم بھی نہیں کرسکتا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ دجال کے زمانے میں یعنی آج کل اس کا پتہ لگنا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے Arctic سرکل کس کو پتہ تھا کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔ عربوں بے چاروں کو تو وہم بھی نہیں آتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ کہا تو صحابہ میں سے ایک نے سوال کیا یا رسول اللہ کیا ہم چھ مہینے کا روزہ رکھیں گے اور نمازیں چھ مہینے میں صرف پانچ ہوا کریں گی۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ عام دنوں کے مطابق اندازہ کیا کرو۔ چوبیس گھنٹے کا نارمل دن ہوتا ہے اس میں پانچ نمازیں ہوتی ہیں اور چوبیس گھنٹے کے دن میں آدھا دن روزے کا ہوا کرتا ہے تو اس حساب سے بارہ گھنٹے کا روزہ رکھ لیا کرنا اور پورے چوبیس گھنٹے کے اندر پانچ نمازیں پڑھا کرنا۔ دیکھو کتنا پرحکمت جواب ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :8 بچے روزے کیوں نہیں رکھ سکتے؟
    جواب: بچے رکھ سکتے ہیں۔ چھوٹے بچے ہوں تو وہ چڑی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ تھوڑا سا روزہ۔ کئی بچے ہوتے ہیں جو دو دفعہ روزہ رکھتے ہیں ایک دفعہ دوپہر کے کھانے تک۔ اور ایک دفعہ شام کو جب روزہ ٹوٹتا ہے۔ پھرکئی تین دفعہ رکھ لیتے ہیں۔ تو بچوں کو سکھانے کی خاطر اس چھوٹے سے روزے کو چڑی روزہ کہتے ہیں۔ تاکہ ان کو عادت پڑے۔ اور جب پورا روزہ رکھنے کے قابل ہو جائیں تو بالغ نہ بھی ہوں تو رکھ سکتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے بچے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ رکھتے ہیں۔ ہم بھی رکھا کرتے تھے۔ تو اس سے روزہ رکھنے کی پریکٹس ہو جایا کرتی ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۹؍اپریل ۲۰۰۱ء صفحہ۵۔ ریکارڈنگ ۱۰؍مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال :9 عید کے بعد جو چھ نفلی روزے ہوتے ہیں ان کی کیا اہمیت ہے اور یہ کیسے شروع ہوئے؟
    جواب: عید کے بعد جو نفلی روزے ہیں یہ آنحضرتؐ نے شروع کئے تھے اور جن لوگوں کو توفیق رکھنے کی ہوان کو رکھنے چاہئیں ا س سے ان کی ایک قسم کی وصیت ادا ہوجاتی ہے کیونکہ 30 روزے میں 6 اور ڈال لو تو چھتیس بن گئے اور سال کے 360 دن اور 36 روزے یہ ان کی گویا وصیت ہوگئی تو بدن کی بھی وصیت ہوجاتی ہے۔ اس پہلو سے جو رکھ سکتے ہیں جن کو توفیق ہے وہ رکھیں شوق سے بعضوں کو رمضان میں ہی مشکل ہوتی ہے اور ان کے لئے زائد روزے رکھنا طبیعت کے لحاظ سے یا بیماری کے لحاظ سے آسان نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کو اجازت ہے وہ بیشک نہ رکھیں۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۸؍مئی ۲۰۰۰ء صفحہ۵۔ ریکارڈنگ ۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :10 کیا اعتکاف دس دن سے کم بیٹھنے کی اجازت ہے؟
    جواب: نہیں۔ جو عورت ایسی حالت میں ہو کہ اس کو پورے دس دن کی توفیق نہ ملے۔ تو اس کو بیٹھنا ہی نہیں
    چاہیے۔ گھر میں تبرکاً بیٹھ جائیں اصل اعتکاف تو بیت الذکر میں ہوتا ہے۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ روزنامہ الفضل ۸؍مئی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :11 حضور کیا آپ نے کبھی اعتکاف کیا ہے اور اگر کیا ہے تو آپ نے کیا محسوس کیا تھا؟
    جواب: ربوہ میں ہی ایک یا دو دفعہ اعتکاف کیا تھا۔ اعتکاف کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے مجھے تو بڑا مشکل لگا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے لگتا تھا میرے گھٹنے جڑ گئے ہیں۔ دوسرا اعتکاف میں ایک باریک باریک پردہ اور ساتھ دوسرا آدمی۔ اب آدمی اونچی دعا بھی نہیں کرسکتا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں الگ الگ خیمے ہوتے تھے۔ اس میں اعتکاف کی بڑی سہولت تھی۔ اب تو ذرا سا ہُو کرو تو ساتھ کے آدمی کو آواز آرہی ہوتی ہے۔ یا اس کی چیخوں کی آواز آرہی ہوتی ہے۔ نماز پڑھنی مجھے مشکل پڑی ہوئی تھی۔ میں نے کہا مجھے اعتکاف کا فائدہ کیا۔ جو ہمارا نظام اعتکاف کا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ مسجد نبوی بہت بڑی مسجد تھی۔ بہت کھلی اور اعتکاف والے الگ الگ اپنے خیمے لگا کے رہتے تھے۔ اس قسم کا اعتکاف ہو تو پھر مزہ زیادہ آتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۷؍جون ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :12 بعض بیمار اور غریب لوگ جو رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی فدیہ دے سکتے ہوں۔ ان کے لئے کیا حکم ہے؟
    جواب: ان کے لئے حکم ہے کہ وہ چپ کر کے جو ملتا ہے کھایا کریں قرآن کریم میں کوئی سختی نہیں ہے۔ بہت نرمی ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی اس معاملے میں بہت نرمی فرمایا کرتے تھے۔ ایک آدمی آنحضورؐ کے پاس آیا کہ میں نے کچھ قصور کیا ہے جو بھی اس کا فدیہ دینا ہے اس کے بدلے کچھ صدقہ دینا ہے تو میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے کیا کروں تو عجیب اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اسی وقت رسول اللہ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرہ تحفۃً آگیا تھا۔ آپ نے فرمایا یہ لے لو اور جاکے صدقہ دے دو۔ تو اس نے کہا کہ کس کو دوں یہاں مجھ سے زیادہ تو کوئی غریب ہے ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا خود ہی کھالو۔ یہ کتنا پیارا مذہب ہے کتنا آسان ہے کہ جو مجبور ہے وہ مجبور ہے بیچارہ اللہ تعالیٰ اس کی غریب کے دل کی خواہش کو قبول کرے گا۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۲۵؍نومبر ۲۰۰۰ء۔ صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۶؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :13 ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں؟
    جواب: روزہ رکھنا بہت فائدہ مند ہے۔ سال میں ایک دفعہ روزے رکھنے ہوتے ہیں۔ اس کے تو بہت سے روحانی فائدے ہیں۔ روزہ میں روزوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ تہجد کی عادت پڑتی ہے۔ دعاؤں کے بہت موقعے ملتے ہیں۔ اور دوسرے اب تم تھوڑے تھوڑے موٹے ہورہے ہو رمضان آئے گا تو پھر پتلے ہو جاؤ گے۔ ڈائٹنگ بھی ہو جاتی ہے۔ پھر رمضان میں روزہ رکھ کے دل میں غریبوں کی ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کو جب بھوک لگتی ہے تو پھر سوچ سکتا ہے کہ دیکھو میرے غریب بھائی فاقے کرتے رہتے ہیں ان کے لئے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے ان کے لئے انسان اور زیادہ قربانی کرتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کی بھی سنت تھی۔ کہ رمضان کے دنوں میں غرباء کو بہت دیتے تھے۔ بہت زیادہ۔ ویسے بھی دیا کرتے تھے۔ مگر رمضان میں تو بہت زیادہ۔ اس بات میں یہی حکمت ہے۔ کہ رمضان میں بھوک کے وقت غربت کا خیال آتا ہے اس سے انسان پہلے سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ تو ویسے ہی ہر وقت غریبوں پہ خرچ کیا کرتے تھے۔ مگر رمضان میں ہمارے لئے آپؐ نے نمونہ قائم کیا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۲؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال :14 سحری کے وقت نوافل کی عادت ڈالی جائے ؟
    ’’رمضان کے روزوں کے سلسلے میں… بچوں کو سحری کے وقت اٹھا کر کھانے سے پہلے کچھ نوافل پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ قادیان میں یہی دستور تھا جو بہت ہی ضروری اور مفید تھا جسے اب بہت سے گھروں میں ترک کر دیا گیا ہے۔‘‘
    (ارشاد سیدنا حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ الفضل ۳؍اپریل ۱۹۹۱ء)
    سوال :15 رمضان میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑنے کے بارے میں حدیث میں ذکر آتا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟
    جواب: رمضان میں جو شیطان کو جکڑا جاتا ہے وہ یہاں تو ہم نے کبھی نہیں جکڑا ہوا دیکھا۔ کبھی دیکھا ہے؟ رمضان میں شیطان جکڑا ہو تو سارے یہ انگریز، عیسائی، یہودی سارے آوارگیاں کرتے پھرتے ناچتے گاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ شیطان نہیں جکڑا ہوا لیکن اس کا ایک اور معنی ہے۔
    ان معنوں میں کہ جو مومن ہو اس کا شیطان جکڑا جاتا ہے۔ رمضان کے علاوہ وہ کبھی غلطیاں بھی کر جاتا ہے لیکن رمضان میں تو پھر پکی توبہ کرلیتا ہے کہ بالکل کبھی برا کام نہیں کرنا۔ اور رمضان گزر جائے تو بعض دفعہ بھول بھی جاتا ہے۔ لیکن رمضان میں تو اس کا عہد ہوتا ہے پھر روزے کی وجہ سے ویسے بھی گناہ کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ روزے کی راتوں میں اٹھنا تہجد پڑھنا، نمازیں پڑھنی اس لئے شیطان کے متعلق فرمایا کہ شیطان جکڑا جاتا ہے سے مراد ہے مومن کا شیطان جکڑا جاتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۳؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۴؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :16 بعض لوگ شب برأت بڑے زوروشور سے مناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس رات اللہ میاں رزق تقسیم کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟
    جواب: غلط ہے۔ رزق تو روزانہ تقسیم ہورہا ہوتا ہے۔ وہم ہیں لوگوں کے اللہ تعالیٰ ہر وقت رزق دیتا ہے۔ آسمان کا رازق ہے۔ سمندر کی تہہ میں کوئی کیڑا نہیں جس کو خدا رزق نہ دے رہا ہو۔ اس کا رزق تو بے انتہا ہے کیا وہ صرف شب برأت پر دیتا ہے۔ باقی راتیں بھوکے مر جاتے ہیں سب باقی دنوں میں؟ غلط باتیں پھیلائی ہوئی
    ہیں لوگوں نے۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۷؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :17 رمضان میں کس عمر سے روزے رکھنے چاہئیں؟
    حضور انور نے دریافت فرمایا:
    تمہاری عمر کتنی ہے؟
    بچے نے عرض کیا۔
    گیارہ سال
    حضور نے فرمایا:
    کبھی روزہ رکھا ہے؟
    بچے نے عرض کیا۔ جی۔ فرمایا کتنے! بچے نے جواب دیا (14)چودہ
    حضور نے فرمایا: کس عمر سے رکھنے شروع کئے ہیں؟
    بچے نے جواباً عرض کیا (9 )نوسال سے۔
    فرمایا ٹھیک ہے پھر۔ بڑی اچھی عمر ہے۔ اور جوان ہوتے ہوتے پھر پوری طرح پورے روزوں کی پریکٹس ہو جائے بعض بچے آدھا آدھا رکھتے ہیں ان کو سکھانے کے لئے مائیں کہتی ہیں تمہارا آدھا روزہ ہے سحری کے وقت اٹھتے ہیں پھر بارہ بجے روزہ کھول لیتے ہیں۔ پھر شام کو کھولتے ہیں۔ تم تو پورے روزے رکھ چکے ہوچودہ۔ شاباش۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۳؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۴؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :18 حضور ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں؟
    جواب: روزہ اللہ میاں نے فرض کیا ہوا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں سب میں روزے کی کوئی نہ کوئی شکل موجود ہے۔ کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جس میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں نہ ہو۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے۔
    روزہ ہم اللہ کی رضا کی خاطر رکھتے ہیں۔ ایک تو یہ بات ہے۔ دوسرے یہ کہ روزے سے بھوک کا احساس ہوتا ہے ورنہ امیر لوگوں کو پتہ ہی نہ لگے کہ بھوک کیا ہوتی ہے؟ جب امیر لوگ روزے رکھتے ہیں اور بھوک سے تڑپتے ہیں تو پھر ان کو اپنے غریب بھائیوںکا بھی خیال آتا ہے پانی کی بھی قدر پیدا ہوتی ہے۔ روزے کے بہت فوائد ہیں اور صحت کے لئے بھی اچھا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۴؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۴؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :19 رسول کریم ﷺ کھجور سے روزہ کیوں کھولتے تھے؟
    جواب: رسول اللہ ﷺ کو کھجور پسند تھی اور عربوں میں تو ویسے رواج زیادہ کھجور ہی کا تھا اور دوسرے یہ بات یاد رکھو کہ کھجور کے اندر غذائیت بڑی ہوتی ہے بہترین چیز ہے روزہ کھولنے کے لئے دودھ اور کھجور۔ ہم بھی اس سنت کو پورا کرنے کے لئے جب بھی روزہ کھولیں پہلے کھجور سے کھولتے ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۴؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۴؍فروری ۱۹۹۹ء)
    سوال :20 رمضان کے مہینے میں جب ہم بیت الذکر میں نماز تراویح پڑھتے ہیں اس کے بعد وتر باجماعت پڑھتے ہیں کیا ہمیں تہجد کی نماز کے بعد بھی وتر ادا کرنے چاہئیں؟
    جواب: اگر تہجد کی نماز پڑھو تو تراویح کی کوئی ضرورت نہیں ہے تہجد بھی پڑھو اور وتر اس کے بعد خود پڑھو۔ تراویح تو محض ایک مجبوری ہے محض ان لوگوں کے لئے جن کی تہجد پہ آنکھ نہ کھل سکے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۱؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :21 نفلی روزے رکھنے کے لئے تراویح پڑھنی چاہئے یا نہیں؟
    جواب: تراویح تو تہجد کا بدل بنا ہوا ہے اور باجماعت نفلی روزے تو نہیں رکھا کرتے۔ تراویح تو باجماعت ہوتی ہے۔ اس لئے اس کا تو سوال ہی نہیں۔ نفل پڑھو۔ نفلی روزے رکھو تو رات کو تہجد کے وقت نوافل پڑھو۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۷؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :22 سورۃ القدر میں لکھا ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے یعنی ساری زندگی سے بہتر ہے اسی رات کے اندر انسان خدا کے ساتھ ایک خاص تجربہ کرتا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ لیلۃ القدر رمضان کے دس مقررہ دنوں سے ہٹ کر بھی مل سکتی ہے یا رمضان سے ہٹ کر بھی مل سکتی ہے۔
    جواب: لیلۃ القدر زیادہ تر رمضان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں عبادت کی تلقین کرنے کے لئے کوئی ایک دن مقرر نہیں فرمایا بلکہ ہر طاق رات جو آخری عشرے میں آتی ہے اس میں کوشش کرو تو لیلۃ القدر مل سکتی ہے۔ خاص وہ عبادت کے دن ہوتے ہیں لوگ خاص زور ماررہے ہوتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو جو توبہ کا دن نصیب ہو جائے چاہے کسی وقت ہو کسی بھی عمر میں ہو سچی توبہ کا دن نصیب ہو جائے تو اس کی لیلۃ القدر اسی وقت آگئی ہے۔ یہ فرمایا ہے کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ اوسط عمر زیادہ سے زیادہ جو صحت مند ممالک میں ان کی بھی اسّی سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی اس سال کچھ مہینے تو ساری عمر اگر آدمی اس ایک رات کو نہ پائے تو وہ اس کی ساری عمربے کارہو جائے گی اور اگر وہ پالے تو جب بھی پالے تو اس کی وہ ایک رات جو ہے خدا نے اس کے گناہ معاف کردیئے صاف کر دیئے تو اس کی ساری زندگی سے بہترہے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۱۰؍جون ۲۰۰۲ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :23 لیلۃ القدر کیا ہوتی ہے؟
    جواب: لیلۃ القدر کے تو کئی معانی ہیں۔ سب سے بڑی لیلۃ القدر تو وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ظاہر ہوئی۔ خود رسول اللہ ﷺ لیلۃ القدر کے زمانے میں آئے تھے۔ سب سے بڑی قدر کی رات جس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور اندھیری راتوں کو دن میں بدل دیا۔ پہلا معنی تو میں ہمیشہ یہی کرتا ہوں کہ وہ لیلۃ القدر تھی۔
    دوسرے لیلۃ القدر وہ ہے جو ہر شخص کی زندگی میں آتی ہے۔ کہتے ہیں لوگ کہ رمضان کے آخری عشرے میں ستائیسویں رات کو یہ ہوتی ہے۔ حالانکہ ستائیس ضروری نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ کہ آخری عشرے میں اکیس تاریخ سے شروع ہو کر انتیس تک تلاش کرو، لیلۃ القدر کو۔ مطلب ہے کہ تہجد میں اٹھ کے خوب زور لگاؤ اگر تمہاری قسمت اچھی ہے تو تمہیں لیلۃ القدر مل جائے گی۔ اور وہ دن بتایا کیوں نہیں۔ ایک دن نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کے دل کی کیفیت الگ الگ ہوا کرتی ہے۔ کسی کی لیلۃ القدر اکیس کو ہو جاتی ہے کسی کی انتیس کو ہو جاتی ہے، یا بیچ میں کسی وقت۔ ہر شخص کا اپنے دل کا حال بدلتا رہتا ہے۔ جس کو زیادہ مزا آجائے نماز میں اور تہجد میں اور دعائیں اس کو لگتا ہو کہ قبول ہو رہی ہوں اس کی تو لیلۃ القدر ہوگئی۔
    اس کی علامت کیا ہے۔ پکی بات ہو کہ ہاں لیلۃ القدر یہ ہے پھر ساری زندگی وہ نیک رہتا ہے جس کی لیلۃ القدر ایک دفعہ آجائے وہ پھر مٹتی نہیں ہے۔ ہمیشہ کے لئے پھر وہ نیک کاموں میں لگ جاتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۴؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۳ تا۴۔ ریکارڈنگ ۱۴؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :24 کتنے میل کا سفر ہو تو روزہ رکھا جاسکتا ہے اور کتنے میل کا سفر ہو تور وزہ نہ رکھا جائے؟
    جواب: سفر کے متعلق میں پہلے بھی بار بار بیان کرچکا ہوں کہ آنحضور ﷺ نے جو سفر اختیار فرمائے ہیں ان کے متعلق قطعی طور پر ہمیں میلوں کا حساب نہیں ملتا۔ لیکن لفظ سفر قرآن کریم نے رکھا ہے اس کی فاصلے میں تعین نہیں کی اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ زمانے کے بدلنے سے سفروں کی تعریف بھی بدلتی جاتی ہے۔ ایک سفر وہ تھا جو اس زمانے میں کیا جاتا تھا۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ ایک منزل بارہ میل سے لے کر بیس میل تک ہوتی تھی۔ تو اس خیال سے بعض علماء نے 12 سے 20 میل کے درمیان کا فاصلہ سفر کا فاصلہ قرار دیا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں اور اب تو خاص طور پر میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک شہر میں ہی ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک سو میل کے قریب بن جاتا ہے۔ میں جب اٹھہتر (1978ء) میں امریکہ گیا تھا تو شکاگو میں ایک ایسے گھر میں ٹھہرے ہم جہاں وہ ایک کنارے پر واقع تھا۔ دوپہر کو ہمارا کھانا کہیں تھا وہاں تک کا فاصلہ ستّر (70) میل کے قریب تھا یا کچھ زائد اور پھر رات کا کھانا کہیں اور تھا وہاں بھی ستّر اسّی میل کا فاصلہ طے کرکے پہنچے جو کم و بیش اتنا ہی ہے جیسے ربوہ سے شیخوپورہ چلے جائیں یا لاہور کے کنارے تک پہنچ جائیں اور وہ سفر نہیں تھا ہمارا دل بتاتا تھا۔ سب جانتے تھے کہ ہمارایہ سفر نہیں Trip ہے شہر کے اندر اتنے بڑے بڑے فاصلے ہوتے ہیں لیکن اگر انسان سفر پر نکلے اور ارادہ سفر کا ہو تو اس سے بہت کم فاصلے بھی سفر بن سکتے ہیں۔ انسانی مزاج بتاتا ہے اس کی نیت کا دخل ہوتا ہے کہ ہم سفر پر چل رہے ہیں کہ نہیں اس لئے میلوں میں سفر ناپنا درست ہے نہ کوئی قطعی سند ایسی ملے گی کہ اتنے میل پر سفر شروع ہوتا ہے جب آپ گھر سے بے گھر ہوتے ہیں اور کچھ عرصے کے لئے یہ ارادہ کرکے نکلتے ہیں کہ ہم اب باہر رہیں گے تو سفر شروع ہو جاتا ہے سفر شروعع ہونے کے بعد پھر یہ بحث نہیں رہتی کہ تھوڑا سفر کیا ہے یا زیادہ کیا ہے اگر آپ سفر کی نیت سے نکلتے ہیں تو تھوڑا سا سفر کرنے پر بھی آپ کا سفر شروع ہے اور یہی حال واپسی کا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق روایت ملتی ہے کہ جب آپ سفر سے واپس آیا کرتے تھے تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے جو نماز پڑھتے تھے وہ قصر کرتے تھے حالانکہ شہر ہوسکتا ہے کوس دو کوس کے فاصلے پر رہ گیا ہو تو یہ سارے معاملات نیتوں سے تعلق رکھتے ہیں اس ضمن میں ایک بحث جو اٹھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اب ہمارے سفر خواہ کتنے بھی لمبے ہوں وہ آرام دہ ہو گئے ہیں اس لئے سفر کی جو سہولتیں قرآن کریم نے دی ہیں ان سے استفادہ جائز نہیں یہ بات بھی غلط ہے اور انسانی فطرت کے خلاف ہے اور قرآن کریم کا جو مرتبہ ہے اس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں یہ بات پیدا ہوتی ہے قرآن کریم میں جب اللہ تعالیٰ سفر کی سہولت دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ ہر زمانے میں سفر کس کس کیفیت سے گزریں گے اور آسان ہوں گے یا مشکل ہوں گے یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں پھر ہر سفر اس زمانے میں بھی تو ایک جیسا نہیں تھا کچھ خواتین اونٹوں پہ ہودج میں بیٹھ کر سفر کرتی تھیں کچھ کو کہار اٹھا کر پھرا کرتے تھے کچھ پیدل چلنے والے تھے کچھ سوار تھے گرمیوں کے سفر تھے سردیوں کے سفر تھے مختلف سفروں کی کیفیات اس زمانے میں بھی ادلتی بدلتی تھیں تو اس زمانے میں اگر سفر کی کیفیات بدلی ہیں تو یاد رکھنا چاہئے کہ انسانی مزاج بھی تو بہت بدل چکے ہیں اس زمانے میں ایسی بھی شہادت ملتی ہے کہ ہمایوں نے ایک سو میل کی منزل گھڑ سواری کے ساتھ کی ہے جب اس کی منہ بولی بہن کی طرف سے فریاد آئی تھی کوئی خطرہ لاحق ہوا تھا تو اس نے سو میل کی منزل ماری تھی پس وہ بھی لوگ تھے جو ایسے کڑے بدن کے تھے کہ سو سو میل کی منزلیں گھوڑے پر طے کرتے تھے آج حال یہ ہے کہ دس بارہ میل گھوڑے پر جو سفر کرلے تو جوڑ جوڑ دکھنے لگتا ہے تو اس لئے مزاج بھی تو بدلے ہیں اب دیکھ لیجئے سفر خواہ کتنے ہی آسان ہو گئے ہوں جو شخص چھ گھنٹے میں جیٹ (Jet) میں بیٹھ کر لندن سے امریکہ پہنچتا ہے وہاں پہنچتے پہنچتے اس کا تھکاوٹ سے یہ حال ہو جاتا ہے کہ باقاعدہ اس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تم فوری طور پر اپنی کسی اہم میٹنگ میں نہ جاؤ اور ڈرائیونگ خود نہ کرو Jet Lag ہو گیا ہے۔ تو زمانہ بدلا ہے تو ساری کیفیات بدلی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ سفر ہے وہاں سفر کی سہولتیں ضروری ہوتی ہیں گھر کی اور بات ہے سفر کی اور بات ہے وہ پنجابی میں کہتے ہیں
    ’’جیڑے عیش چوبارے نہ بلخ نہ بخارے ‘‘
    جب انسان گھر سے نکلتا ہے تو مسافر بن جاتا ہے اور بے آرامی شروع ہو جاتی ہے۔
    (مجلس عرفان الفضل ۲۰؍اپریل ۲۰۰۲ء صفحہ ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مارچ ۱۹۹۴ء)
    حج
    سوال ۱: ایک بچے نے سوال کیا کہ حج کے بعد بال کٹوانا کیوں ضروری ہیں ؟
    جواب : اس کا جواب میں دے چکا ہوں ۔ کہ حج ایک نئی پیدائش کی خوش خبری ہے ۔ بچہ جب نیا پیدا ہوتا ہے تو اس کے بال کٹوا دئے جاتے ہیں ۔ حج بھی اس لئے کیا جاتا ہے کہ یہ خداکے حضور نئی زندگی شروع کرنے کا اعلا ن ہے ۔
    ( الفضل ۱۴ جون ۱۹۹۹ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۵ مئی ۱۹۹۹ء )
    سوال ۲: کتنے سال کے بچوں پر حج فرض ہو جاتا ہے ؟
    جواب : جب بچہ بالغ ہو جائے تو حج فرض ہوتا ہے اسکی بھی شرائط ہیں وہ پوری ہوں پھر فرض ہوتا ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۲۲ ستمبر ۲۰۰۱ء ریکارڈنگ ۱۰ مارچ ۲۰۰۰ء )
    سوال ۳ : سب سے پہلا حج کب ہو ا اور حضرت محمد ﷺ نے کتنے حج کئے تھے ؟
    جواب : سب سے پہلا حج جو ہے وہ تو حضرت ابراہیم ؑ نے کیا ۔اور قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے لیکن اس سے پہلے بھی لوگ حج کیا کرتے تھے حضرت ابن عربی کے کشف میں یہ ذکر ملتاہے انہوں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ خانہ کعبہ بہت پرانا ہے اور آدم ہوئے تھے جو یہاں طواف کیا کرتے تھے تو معلوم تو صرف حضرت ابراہیم کا حج ہے آنحضرت ﷺ نے جب خانہ کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے اس وقت تو کوئی حج نہیں کیا ۔ جب بت نکل گئے فتح مکہ کے بعد تو پھر آپ ﷺ نے حج کیا ہے جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں ۔
    ( لجنہ سے ملاقات الفضل۲۵ نومبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۶ فروری ۲۰۰۰ء )
    سوال ۴ : ایک دوست نے سوال کیا کہ حج میں سفید کپڑا لباس کے طور پر کیوں استعمال کیا جاتا ہے ؟
    جواب : حضور نے فرمایا حج کے لباس کی دو باتیں ہیں ایک سفید اور دوسرا ان سلا کفن بھی سفید اور ان سلا ہوتا ہے یہی حال لباس کا ہے حج کے موقع پر یہ اظہار ہوتا ہے کہ انسان خد ا کے حضور مر گیا جس طرح مردے کو کفن پہنایا جا تا ہے اسی طرح اور انسان کو اب ایک نئی زندگی عطا کرتا ہے حج کا فریضہ ادا کر کے اس نے گویا اپنی مرضی کی زندگی پر موت وارد کر دی وہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ اس موت کے بعد اسے زندہ کر دے جو تیری خاطر اس نے قبول کی ہے۔
    ( مجلس عرفان الفضل ۲۴جون ۱۹۹۹ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۱۵ مئی ۱۹۹۹ء )
    سوال ۵ : حضور اکیلی عورت حج پر جا سکتی ہے ؟
    جواب : اکیلی عورت اگر بوڑھی ہو تو اس پر محرم غیر محرم کی شرط اڑ جا تی ہے لیکن ویسے نوجوان لڑکی ہو تو اس کو اکیلے نہیں جا نا چاہیے ۔ اپنے ماں باپ یا کسی محرم کے سا تھ جانا چاہیے ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ۲۲جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۵ فروری ۲۰۰۰ء )
    سوال۶: حجر اسود کی کیا تفصیل ہے ۔اس کی حفاظت کس طرح ہوئی ہے، کیا حضرت ابراہیم کے بعد بھی اسی طرح طواف ہوتا تھا ؟
    جواب : حجرہ اسود کی کہانی بہت لمبی ہے حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے سے بھی پہلے کی ۔ خانہ کعبہ پہلا گھر ہے جو صرف خدا کے لئے ہی نہیں بلکہ سب بنی نوع انسان کے لئے بنایا گیا اور اسی گھر سے نمونہ پکڑ کے غار کا زمانہ تبدیل ہو ا اور یہ پہلا گھر ہے جس کے لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کیلئے بنایا گیا ہے تعمیر کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم میں اس کی ابتداء کی تفصیل نہیں ہے تفصیل کیلئے ہم حدیث دیکھتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے لئے پتھر آسمان سے گرے تھے اور جب وہ زمین میں داخل ہوئے تو زمین کی فضاء کی ثقافت کی وجہ سے یا زمین کے گناہوں کی وجہ سے وہ سفید پتھر سیاہ ہو گئے تو اس سے ہم نے یہ اندازہ لگا لیا کہ Meteorsکی بارش ہوئی ہے آسمان سے اور جب وہ کثیف فضا میں دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو وہ جلنے سے کالے ہو جاتے ہیں تو ان دونوں چیزوں کو ملا کر اس سے میں یہی نتیجہ نکالتا ہوں کہ یہ پتھر وہی ہیں جو پرانے زمانہ کا بچا ہوا ہے اور حضرت ابراہیم ؑ نے جب خانہ کعبہ کیلئے کھدائی کی تو یہ پرانا پتھر اسوقت بھی مل گیا تھا ایک نشانی پرانے زمانے کی خدا نے آئندہ کے لئے بھی باقی رکھی ۔ اس پتھر کو خانہ کعبہ کی ایک دیوارمیں چسپاں کر دیا گیا اور یہی وہی پتھر ہے جس کو لوگ بوسہ بھی دیتے ہیں حضرت عمر ؓ جب اس پتھر کو بوسہ دے رہے تھے تو یہ فقرہ بہت پیا را انہوں نے کہا اے پتھر تو پتھر ہی ہے اور کیا حیثیت ہے ۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ تجھے بوسہ دے رہے ہیں تو میں بھی تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔
    ( جرمن خواتین سے ملا قا ت الفضل ۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء )
    سوال۷:
    حجر اسود کہاں سے آیا تھا ؟
    ایک دوست نے حجر اسود کے بارہ میں سوال کیا ۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ بڑا پرانا سوال ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی اٹھا تھا ۔آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب پہلی بار خانہ کعبہ تعمیر ہوا تو یہ پتھر اس کیلئے آسمان سے اترا تھا اور جب زمین میں داخل ہوا تو یہاں کے گناہوں سے آلودہ ہو کر کالا سیاہ ہو گیا حالانکہ جب آسمان سے چلا تھا تو بالکل سفید پتھر تھا اس ارشاد نبوی ﷺ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ تمثیلی زبان میں بات ہو رہی ہے کیونکہ پتھر کے تو کوئی گناہ نہیں ہوتے اور نہ گناہ ان پر اثر کرتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ وہ علاقہ جہاں خانہ کعبہ تعمیر ہوا وہاں آسمان سے شہب گرے ہوں اور اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہو کہ پہلے خانہ خدا میں جو پتھر استعمال ہوں وہ ظاہری صورت میں بھی آسمان سے آئے ہوں اور ان پر ارشاد نبوی بالکل صادق آتا ہے کہ اگر آسمان سے پوری طرح سفید پتھر بھی چلے تو جب وہ زمین کی کثیف فضا میں داخل ہو تا ہے تو اس کو آگ لگ جا تی ہے پتھر کا جو حصہ نیچے پہنچتا ہے وہ جھلس کر سلیٹی یا کالی رنگت میں بدل جاتا ہے یہ ہر گز بعید نہیں کہ ایسا واقع ہوا ہو اور وہ پتھر جو گرے ہوں وہ خانہ کعبہ کی بنیادوں میں استعمال کئے ہوں یہ نہ عقل کے خلاف ہے نہ سائنسی مشاہدہ کے خلاف ہے نہ موقع و محل کے مضمون کے خلاف ہے ۔ یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ خانہ کعبہ پر کئی دور آئے ہیں کہ امتداد زمانہ سے یہ گھر گرتا بھی رہا پھر بنتا رہا رفتہ رفتہ پرانے پتھر ضائع ہو گئے صرف یہی ایک پتھر بچا ہوا ہے جسے آغاز کی یاد کے طور پر سنبھال کے رکھا ہوا ہے اس سے محبت اور عشق ایک قدرتی بات ہے حضرت عمر ؓ اس کو بوسہ دیتے وقت یہ فرمایا کرتے تھے کہ تو ایک پتھر ہی تو ہے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو چومتے نہ دیکھا ہوتا تو ہر گز تجھے بوسہ نہ دیتا۔ اس سے شرک کا جو احتمال تھا اس کی نفی ہو جاتی ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۹۸ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء کراچی )
    سوال ۸: حجر اسود کی کیا اہمیت ہے اور طواف کے دوران لوگ اس کو کیوں چومتے ہیں ؟
    جواب : حجر اسود کی اہمیت میں کئی دفعہ پہلے بیان کر چکا ہوں میرے نزدیک بہت پہلے جب خانہ کعبہ بنا تھا نا تو آسمان سے پتھر آئے تھے ۔ بوچھاڑ ہوئی تھی پتھروں کی جس طرح آج کل بھی کئی جگہ آسمان سے پتھر گرتے ہیں جب وہ فضا میں داخل ہوتے ہیں تو جل جاتے ہیں اور کالے رنگ کے ہو جاتے ہیں سب پتھر جو یہاں پہنچتے ہیں جھلسے ہوئے ہوتے ہیں کالے رنگ کے ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ جب پہلا خدا کا گھر بنے تو وہ زمینی پتھروں سے نہ بنے بلکہ آسمانی پتھروں سے بنے ۔
    پس آسمان سے جو ان پتھروں کی بوچھاڑہوئی ان میں سے سب مٹ مٹا گئے پتہ نہیں کون سے پرانے زمانے کی بات ہے کہاں غائب ہو گئے ۔ صرف یہ پتھر نشان کے طور پر باقی ہے اور چونکہ اللہ نے آسمان سے بھیجا تھا اس لئے اس پہ پیار آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کو پیار کیا کرتے تھے ۔ اور صحابہ نے بھی پیار کرنا شروع کر دیا ۔ ہم آج تک یہی کرتے ہیں ۔ ( اطفال سے ملا قات الفضل ۳۱ اگست ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۱۶ فروری ۲۰۰۰ء)

    سوال ۹: سعودی حکومت نے احمدیوں کو حج سے روکا ہوا ہے وہ کہتے ہیں احمدی غیر مسلم ہیں اسلئے حج نہیں کرسکتے کیا کسی اور کو بھی حج کرنے سے روکا گیا ہے اور اگر روکا گیا ہے تو کہاں ؟
    جواب: سعودی عرب نے جو روکا ہوا ہے یہ ایک واہمہ ہے سب کو ہر جگہ نہیں روکا ہوا ۔ صرف پاکستان سے حج کے نام پر لوگ نہیں جا سکتے ورنہ سب ملکوں سے جاتے ہیں انگلستان سے بھی جاتے ہیں افریقہ کے سب ممالک سے بھی جاتے ہیں اور باقاعدہ ملکوں کے وفود ان کے OFFICIAL نمائندہ ہوتے ہیں ایک موقع پر سعودی عرب نے اعتراض کیا تھا نائجیریا کی بات ہے انہوں نے کہا تھا ہم نے جن کو ممبر بنایا ہے اگر یہ نہ گئے تو اس سال تمھارے پاس کوئی بھی نہیں جائے گا حج کیلئے نائجیریا خالی رہے گا تو حکومت کو مجبو ر کر دیا یہ جانتے ہوئے کہ احمدی ہیں پھر بھی ان کو حج کرنے کا موقع ملا اور آفیشل مہمان بن کے حج کیا ۔ تو یہ واہمہ بالکل غلط ہے ۔
    ( لجنہ سے ملا قات الفضل ۸ مئی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۹ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال ۱۰: زندگی میں کم از کم ایک دفعہ مکہ جا کر حج کرنا کیوں ضروری ہے ؟
    جوابـ: اللہ نے فرمایا ہوا ہے لیکن ساتھ شرطیں بھی لگا دی ہیں ۔
    (۱) کسی کو مالی توفیق ہو ۔
    (۲) اس کا راستہ صاف ہو
    (۳) سہولت سے جا سکتا ہو۔
    تو وہ جائے ورنہ قرضے اٹھا اٹھا کر جانا غریب آدمی کا کام نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حج فرض ہے مگر بہت سے غریب ممالک میں یہ فرض نہیں رہتا کیونکہ وہ جا نہیں سکتے ۔ دنیا کی اکثر آبادی اتنی غریب ہے وہ اپنے ملک میں ہی ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں جا سکتے ۔ تو حج کرنا تو بڑا مشکل کا م ہے ۔ تو بظاہر یہ حکم سو فیصد انسانوں کے متعلق ہے لیکن عملاً اتنا نہیں ہے اگر یہ ہو جاتا تو جتنے مسلمان ہیں وہ اگر ایک دفعہ بھی سارے حج کریں تو لوگ وہاں سنبھالے نہ جائیں ۔ اس لئے قرآن کریم کے حکم کے اند ر مخفی قدرتی ایسی روکیں رکھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کسی کو ناجائز تکلیف نہیں پڑتی ۔ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس میں بھی بڑی حکمت ہے کہ غریب جن کے رستے خراب ہوں جن کے رستے کو تلوار سے روکا جائے ۔ خطرات لاحق ہوں ۔ بیمار ہوں وہ اگر حج نہ بھی کریں تو ان پر حج نہ کر نے کا کوئی گناہ نہیں ہے ۔
    ( اطفال سے ملاقات الفضل ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال ۱۱:
    ارکان حج کب فرض ہوئے تھے
    ایک دوست نے سوال کیا کہ یہ جو حج کے ارکان ہیں کیا اسلام سے پہلے بھی یہی ارکان تھے یا بعد میں تبدیل ہو گئے ۔
    جواب : یہ ارکا ن حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ سے تو ضرور ہیں کیونکہ انہیں یا دوں کو زندہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ ارکان تھے جن کا ہمیں علم بھی نہیں کیونکہ خانہ کعبہ ہمیشہ سے ہی حج کا مرکز بنایا گیا ہے ۔ اَوَّلُ بَیْتِِ وُضِعَ لِلْنَّاسِ میں اس مرکز کے گرد انسانوں کے اجتماع کا فلسفہ بیان ہوا ہے ۔ پس یہ قدیم سے حج کے لئے استعمال ہونے والی جگہ ہے ۔ یہاں تک کہ حضرت ابن عربی ؒ نے ایک کشف میں یہ دیکھا کہ کچھ لوگ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور یہ جب ان سے پوچھتے ہیں ( اسکی تفصیل مجھے یاد نہیں لیکن اس کشف کا مضمون یہی ہے ) تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت پرانے زمانہ کے لوگ تھے جو ہمارے آدم کی تخلیق سے بہت پہلے کے تھے تو جب یہ پوچھتے ہیں تم آدم کی اولاد ہو یا اس قسم کا کوئی سوال کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے تم کس آدم کی بات کر رہے ہو اور پھر ایک بڑا اچھا شعر پڑھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ سے اس مقام کی زیارت کرتے چلے آئے ہیں اور اس کے گرد طواف کرتے رہے ہیں۔
    انسانی تمدن کی پہلی درسگاہ

    پس اس سے پتہ چلتا ہے کہ حج کو جو قرآن کریم میں البیت العتیق قرار دیا ہے ۔ یہ لفظ عتیق اس کو بہت دور تک ماضی میں کہیں پہنچا دیتا ہے جب بھی پہلی دفعہ انسان کو شعور ملا ہے خواہ وہ کسی بھی آد م کی اولاد تھی اس وقت سے خانہ کعبہ مرکز بنایا گیا ہے میں سمجھتا ہوں پتھروں اور غاروں کے زمانہ سے نکل کو انسان جب تہذیب کے زمانہ میں داخل ہو ا ہے جہاں مکان بننے شروع ہوئے ہیں یہ تمدنی تا ریخ جہاں تک ہمیں پیچھے لے جاتی ہے وہاں خانہ کعبہ اس سے پہلے نظر آئیگا کیونکہ للناس کے لفظ سے یہ ثابت ہو ا کہ انسانوں کے فائدہ کے لئے جنہیں گھر کا مضمون سکھایا گیا تہذیب دی گئی ہے وہ یہی گھر تھا جس میں شہری سکونت یا تمدن اختیار کرنے کا سبق دیا گیاہے۔
    سوال کرنے والے دوست نے عرض کیا یہ جو سعی ہے تو حضرت ہاجرہ سے شروع ہوئی بلکہ ان کے بعد کہنا چاہئے کیو نکہ حضرت ہاجرہ تو اپنی مامتا کی وجہ سے دوڑ رہی تھیں اور آپ کی یہ ادا اللہ تعالیٰ کوپسند آگئی اور اس کو عبادت میں شامل کر لیاگیا حضور نے فرمایا ۔ نہیں نہیں اور بھی بعض باتیں ہیں مثلاً قربانی دینا حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوا۔ بہت سی باتیں وہیں پہنچ جاتی ہیں ۔ جو ابراہیمی روح تھی اس کو زندہ رکھا گیا ہے اور ارکان حج کا حضرت ابرہیم ؑ سے بہت گہرا تعلق تھا لیکن آپ نے یہ سوال کیا تھا کہ اس سے پہلے بھی یہ ارکا ن تھے یا نہیں ۔ اس کا میں جواب دے رہا ہوں اور یہ بتا رہا ہوں کہ اگر حج تھا تو ارکان بھی ضرور ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابرہیم ؑ نے انہی بنیادوں پر عمارت اٹھائی ہے جو پہلے موجود تھیں جن کے کھنڈر بن چکے تھے اس لئے زمین میں دب گئی تھیں اللہ تعالیٰ نے اس دی ہوئی جگہ کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائی ۔ آپ نے وہ جگہ تلاش کر لی اور اسی پرانی عمارت کی بنیادوں پر ہی ایک خانہ کعبہ تعمیر فرمایا ہے ۔ پس اگر پرانی عمارت کی بنیادوں پر ظاہر میں بھی خانہ کعبہ اسی طرح تعمیر کی گیا ہے تو ہر گز بعید نہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کی جو اپنی ادائیں اس وقت ظاہرہوئی ہیں وہ بھی مماثلت رکھتی ہوں اس لئے یہ اندازے ہیں قطعی طور پر ہمیں علم نہیں ذاتی طور پر میرا یہی رجحان ہے کہ اس سے ملتی جلتی باتیں کچھ پہلے بھی ہوں گی لیکن جس شان سے حضرت ابراہیم ؑ سے ظہور میں آئی ہیں اللہ تعالیٰ نے وقت کو وہاں سے شروع کر دیا ہے ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ۳ ستمبر ۱۹۹۹ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۰ مارچ ۱۹۹۵ء )
    سوال ۱۲: حج کے دوران شیطان کو کیوں پتھر مارتے ہیں جبکہ شیطان ادھر نہیں ہے ؟
    جواب: شیطان کو پتھر نہیں مارتے جب کہ تین پہاڑیاں ہیں ان کو پتھر مارتے ہیں اس وجہ سے کہ ان پہاڑیوں پر حضرت ابراہیم ؑ نے بھی پتھر مارے ہوئے تھے شیطان کا تصور کر کے ۔ ورنہ تو ہر جگہ شیطان موجود ہے ہر جگہ ہوہر وقت پتھر پکڑ کے تم شیطان کو مارے جاؤ ۔اس کو لگتا ہی نہیں ۔تو یہ ایک محض تصورکی بات ہے یعنی دل میں شیطان کے لئے نفرت پیدا کرنے کیلئے رمی جمار ہوتی ہے ۔ اس میں پتھر پہاڑیوں کو مارتے ہیں اور ذہن میں یہ رکھتے ہیں کہ شیطان کو مار رہے ہیں ۔ صرف ایک تصور ہے ۔ ورنہ شیطان وہاں کہاں بیٹھا ہوا ہے ۔
    ( اطفال سے ملا قات، الفضل ۱۷ جون ۲۰۰۰ء صفحہ۳ ریکارڈنگ ۱۰ نومبر ۱۹۹۹ء )
    سوال ۱۳: اگرمیں حج پر نہ جا سکوں تو پھر کیا ہو گا ؟
    جواب : کچھ بھی نہیں ہونا تمھیں کیا ہو جائے گا ۔ لیکن دعا کرتے رہو کہ اللہ توفیق دے ۔
    ( اطفال سے ملا قات ، الفضل ۳۱اگست ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۶ فرور ی ۲۰۰۰ء )
    سوال۱۴: آب زم زم کب شروع ہوا ہے کہ آج تک چل رہا ہے اتنا لمبا عرصہ سے اس کے پانی کی حفاظت کس نے کی ہے اور کیسے کی ہے ؟
    جواب : آب زم زم تو پھوٹا تھا جب حضرت اسماعیل ؑ ایڑیاں رگڑ رہے تھے اور کوئی پانی نہیں مل رہا تھا ۔ تو ایڑیاں رگڑتے ہوئے آپ کی ایڑی کے نیچے سے خدا نے چشمہ بہا دیا تھا ۔ ا س زمانہ میں یہ آب زم زم شروع ہوا ہے ۔ اور پھر جاری رہا ۔
    ( جرمن خواتین سے ملا قا ت الفضل ۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳ ریکارڈنگ ۲۲جنوری ۲۰۰۰ء )
    سوال ۱۵: جب لوگ حج پر جاتے ہیں تو آب زم زم کا پانی کیوں پیتے ہیں ؟
    جواب : تبرک کیلئے ۔ کیونکہ یہ وہ پانی ہے جو خدا تعالیٰ کے ایک نشان کے طور پر حضرت اسماعیل ؑ کی ایڑیاں رگڑنے کے نتیجہ میں وہاںسے نکلا تھا اور چونکہ یہ ایک بہت متبرک واقع ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ظاہر ہو ا تھا اس لئے آب زم زم لوگ تبرکاً پیتے ہیں ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ۹ اگست ۲۰۰۱ء صفحہ ۳ منعقدہ ۱۶ جون ۲۰۰۰ء )
    سوال ۱۶: قربانی کے گوشت کا مسئلہ :
    جانوروں کی قربانی کے بارہ میں ضمناً یہ سوال بھی ہوا کہ سعودی عرب میں حج کے موقع پر قربانیوں کا گوشت ضائع کیوں کیا جاتا ہے ؟
    جواب : یہ سوال آسٹریلیا میں بھی اٹھا یا گیا تھا وہاں بھی اس پر تفصیل سے گفتگو ہوئی تھی ۔
    جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ رزق کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور کسی جان کو بھی بلا ضرورت تلف کرنا جائز نہیں ہے۔ صرف جائز ضرورت کیلئے جان تلف کرنی ہے اس کے بغیر نہیں کرنی ۔ اس لئے ہم اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ قربانیاں کرو اور گوشت پھینک دو یہ ناجائز بات ہے ۔دین نے اس سے منع کیا ہے ۔ اگر جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں انتظام ہو تو ہم تو وہاں فوراً کارخانہ لگا دیں اور گوشت کو ڈبوں میں بند کر کے غریب ملکوں میں بھجوائیں۔ قربانی کا مقصد انسانوں کی خدمت ہے بغیر کسی مقصد کے قربانی کرنا جائز نہیں ہے ۔ اور اگر استعمال نہ ہو سکے تو گوشت بدوؤ ں کو دے دیا جائے وہ اسے سکھا کر سارا سال استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر قربانی کریں تو لوگوں کی خدمت کیلئے قربانی کریں گڑھے میں پھینک کر اپنے گلے سے بلا ٹالنے والی بات نہ کریں ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۷ اکتوبر ۱۹۹۸ ء صفحہ ۳ دورہ سری لنکا ۹ اکتوبر ۱۹۸۳ء)
    سوال ۱۷: جب میں پانچ سال کا تھا تو میں نے اپنے ابو اور امی کیساتھ حج کیا تھا کیا میرا حج ہو گیا ہے ؟
    جواب : یہ مسئلہ جو ہے میں آج سوچ ہی رہا تھا ۔ کہ بعض لوگ حج پہ جا رہے ہیں مگر بچے ابھی نا بالغ ہیں ان کا بچپن والا حج جس طرح نماز ہو جاتی ہے ہو تو جائے گا مگر وہ فریضہ پورا ہوا ہے کہ نہیں یہ سوال ہے ۔جب وہ بڑے ہو جائیں گے اور دوبارہ نہ جاسکیں تو کیا ایک دفعہ ان کا حج کرنا وہ بالغوں کی طرح جو فرض ہے وہ پورا ہوتا ہے کہ نہیں ۔
    حضور اید ہ اللہ تعالیٰ نے امام راشد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :
    ’’یہ آپ پتہ کریں اپنے افتاء سے ‘‘
    بچے کو مخاطب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ۔ تم نے اچھا سوال کیا ہے خدا کرے تمھا را حج ہو گیا ہو۔لیکن بڑے ہو کے پھر توفیق ملی تو پھر کر لینا ۔
    ( اطفال سے ملا قات ،الفضل ۱۶مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء )
    سوال ۱۸: حضور کچھ لوگ اپنے حصے کا حج یا جن کے والدین جو وفات پا گئے ہوں ان کی طرف سے حج دوسرے لوگوں سے کرواتے ہیں یا حج کے پیسے خداکی راہ میں دے دیتے ہیں ۔ حضور کیا یہ درست طریقہ ہے ؟
    جواب : اگر حج کر نا ممکن نہ ہو کسی کیلئے بیماری کیوجہ سے یا اور دشمنیوں کی وجہ سے تو وہ پیسے دے سکتا ہے کسی کو اور وہ اس کی طرف سے حج کر سکتا ہے بشرطیکہ اس نے اپنا حج کیا ہو اور اگر مرحوم ماں باپ کی خواہش ہو ۔ کئی ہوتے ہیں انکا دل چاہتا ہے حج کرنے کو مگر وہ نہیں کر سکتے تو ان کی طرف سے پیسے دے کے کسی کو دوبارہ بھیجا جائے ۔ کہ ہمارے ماں باپ کی طرف سے بھی کر آؤ تو وہ ہو سکتا ہے ۔
    ( لجنہ سے ملا قا ت ، الفضل ۲۵ نومبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۶ فروری ۲۰۰۰ء )
    سوال ۱۹: جب حج پہ جاتے ہیں تو سر کے بال اتارتے ہیں جن کے بال نہیں ہوتے وہ کیا کرتے ہیں ؟
    جواب : ان کے اترے ہی ہوتے ہیں توکیا کریں گے حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا ۔ جن کے بال نہیں ہوتے وہ بس ہاتھ پھیر لیا کریں ۔
    ( اطفال سے ملا قات ، الفضل ۹ اپریل ۲۰۰۱ ء صفحہ ۴ ریکارڈ شدہ ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء )
    سوال ۲۰: حج یا عمرہ کے دوران کعبہ کے گرد سات دفعہ طواف کیوں کرتے ہیں ؟
    جواب : اس لئے کہ حضرت ہاجرہ کو جب حضرت ابراہیم ؑ چھوڑ کے گئے تھے توآپ گھبراہٹ میں دو پہاڑیوں کے درمیان چکر لگاتی تھیں ۔ اور آپ نے سات چکر لگائے تھے اس یاد کو تا زہ رکھنے کے لئے اور بچہ بے چارہ پیاس اور بھوک سے ایڑیاں رگڑ رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا کہ بچے کی ایڑیوں کی رگڑ کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا ۔ اسی کو آب زم زم کہتے ہیں ۔ اور ایک قافلہ قریب آ کر ٹھہر گیا ۔ اس کی وجہ سے ان کو ساری خوراک ملنی شروع ہو گئی اور ارد گرد آبادی ہو گئی ۔ سات چکر حضرت ہاجرہ کی یاد میں لگاتے ہیں ۔
    ( اطفال سے ملاقات ، الفضل ۱۷ جون ۲۰۰۰ ء ریکا رڈنگ ۱۰ نومبر ۱۹۹۹ء)
    زکوٰۃ
    سوال1 : ہم جو صدقہ دیتے ہیں وہ مشکلات کو کیسے ٹالتا ہے ؟
    جواب :۔ مشکلات کو تو اللہ ٹالتا ہے صدقہ جو ہم غریبوں کودیتے ہیں ان کی دعائیں لگتی ہیں۔ دو طریق ہیں ایک تو اللہ براہ راست خوش ہوتا ہے اس بات پر کہ اس کے بندوں کی خدمت کر رہی ہو دوسرے جن غریبوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے وہ خوش ہوتے ہیں دعائیں دیتے ہیں آپ کو ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل ص 3،25نومبر 2000ء ریکارڈنگ 6فروری 2000ء(
    سوال 2: خیرات اور صدقے میں کیا فرق ہے ؟
    خیرات تو ایک عام لفظ ہے خیرات میں ہر نیکی شامل ہے ہر بھلائی ہے اور خیر کا لفظ تو اتنا وسیع لفظ ہے کہ امت محمدیہ کے لئے لفظ خیر استعمال ہوا ہے ۔تم بہترین امت ہو جو کبھی دنیا کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ۔ پس خیر کا لفظ بالکل عام لفظ ہے اور خیر کے تعلق میں خیرات کا معنی ہے ایسی نیکیاں ایسی بھلائیاں جو خواہ لفظی ہوں خواہ عملاً مدد کی صورت میں ہوں خواہ وہ مال و دولت یا کپڑے روٹی کی صورت میں کسی کو دی جائیں یہ ساری خیرات میں آتی ہیں مگر صدقہ و خیرات کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے اور میرا خیال ہے سوال کرنے والے کے ذہن میں یہ بات ہو گی کہ صدقہ بعض لوگ نہیں کھاتے اور خیرات سب کھا لیتے ہیں اس لئے جب تم کسی کو صدقہ دو تو کچھ طبیعتیں متنفر ہوتی ہیں کہتے ہیں ہم صدقہ نہیں کھائیں گے یہ جو لفظ صدقہ ہے ان معنوں میں خیرات کے مقابل پر ایک خاص معنے رکھتا ہے اور اس میں کچھ ایسے معنے بھی داخل ہو چکے ہیں جو ہمیں ہندوستان میں ہندو تہذیب اور کلچر سے ورثے میں ملے ہیں ہندوؤں میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ ایک بلا کسی دوسرے کے سر پر بھی ڈالی جا سکتی ہے اپنے سے ٹال کر دوسرے پر ڈال دی جائے اور وہ جو بعض دفعہ پُن کیا کرتے تھے اس کے ساتھ یہ روایتیں یہ تصور بھی شامل تھا کہ ہماری بلا ٹل رہی ہے اور اس ضمن میں بعض دفعہ ٹونے ٹوٹکے سے بھی کام لیتے تھے بعض دفعہ جب صبح صبح جب سڑک پر ہم سیر کے لئے نکلتے تھے تو کئی جگہ انہوں نے چھوٹے چھوٹے ٹونے ٹوٹکے بچھائے ہوتے تھے کہ جس کا پاؤں اس پر پڑ گیا ہماری بلا اتر کر اس کے گلے پر آ جائے گی اور میں اکثر اس کو پاؤں سے مسل کر گزرتا تھا ٹھوکر مار کر اور کبھی کوئی بلا نہیں پڑی عام طور پر اسی قسم کا تصور خواہ و ہ ان سے لیا ہو یا نہ لیا ہو ہمارے معاشرے میں یہ پایا جاتا ہے تو صدقہ جو ہے اس کے ساتھ بلا وابستہ ہے اس کے ساتھ کوئی بیماری لگی ہوئی ہے اور صدقے کا گوشت کھانا ان چیزوں سے کراہت کرنا طبعاً فطرت میں داخل ہے جب خدا کی خاطر بکرا ذبح کر کے آپ لوگوں کو دیں تو کئی پوچھتے ہیں کہ یہ عام ہے خیرات یا صدقہ ہے صدقہ کہو تو کہتے ہیں صدقہ نہیں ہم کھائیں گے اس قسم کا خوف وابستہ ہے صدقے میں ایک ایسا عنصر شامل ہو گیا جس کا دراصل تعلق خالصۃً حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اہل بیت سے تھا جو صدقات دیئے جاتے تھے غریبوں میں تقسیم کرنے کے لئے انذار کے پیش نظر بلا ٹالنے کے لئے خیرات کی تلقین تھی اس میں آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے اہل بیت کو صدقہ استعمال کرنا ممنوع فرمادیا گیا اس میں آپؐ کی عظمت ہے صدقے کی خرابی پیش نظر نہیں ہے ۔ آنحضور ﷺ اور اہل بیت کی عظمت ان معنوں میں کہ آنحضور ؐ کا تو سب دنیا پر احسان ہے پس ایسا کوئی مال جس میں احسان کرنے کا کوئی معنی پایا جاتا ہو گویا کہ ایک مجبور کو جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کو دیا جا رہا ہے اس سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ؐ اور آپ ؐ کے اہل بیت مبرا ہیں اس سے بالا شان رکھتے ہیں ان معنوں میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ صدقہ آپ پر منع فرمایا گیا لیکن صدقے والی چیز کے ساتھ براہ راست کوئی عیب وابستہ نہیں فرمایا گیا یہ بالکل غلط خیال ہے وہ ویسی ہی چیز ہے جیسے خیرات کی کوئی چیز ہو ۔
    اس کے ساتھ کوئی بلا نہیں لگی ہوئی کوئی نحوست نہیں چمٹی ہوئی اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس محمد مصطفٰی ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے ہاں تشریف لائے تو ہنڈیا میں کچھ گوشت ابل رہا تھا آپؐ نے پوچھا یہ کیا ہے تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ بریرہ لونڈی کو صدقہ ملا تھا اس نے ہمیں ہدیہ بھیجا ہے تو آنحضور ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ اٹھا کر پھینکو باہر یہ سب کیا ہے آپ ؐ نے فرمایا کہ بریرہ کے لئے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لئے یہ ہدیہ ہے جب اس نے ہمیں بھیجا تو ہمارے لئے تحفہ ہو گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو صدقہ دیا جاتا ہے وہ پورا مالک بن بیٹھتا ہے اور اپنی ملکیت کو خواہ وہ بیچے خواہ وہ تحفۃً کسی کو دے اس کی چیز کی نوعیت بدل جاتی ہے اور خود کھا کر یہ توہمات امت کے دور فرما دیئے کہ صدقے کی چیز کو لوگ کتنا برا سمجھتے ہیں کوئی تحفہ میں دے تو کہیں گے نہ نہ ۔۔۔۔۔ہمارے پاس سے ہٹالو لیکن رسول اکرم ﷺ سے بڑھ کر کیا مرتبہ ہو سکتا ہے اور یہ بھی آپ ؐ کا بلند مرتبہ ہونے کا ثبوت ہے بڑا ہی وسیع دل اور بڑی شان رکھتے تھے لوگوں کے دلوں سے وہم دور کرنے کے لئے اس گوشت کو کھایا فرمایا ہمارے لئے تحفہ ہے ٹھیک ہے اس میں کوئی خرابی کی بات نہیں توخیرا ت ایک عام لفظ ہے صدقہ باالعموم ایسی خیرات کو کہا جاتاہے جو بری خوابیں ڈراؤنی خوابیں دیکھ کر یا ویسے ہی سفر پر جانے سے پہلے بعض عورتوں کو وہم ہوتا ہے کہ کچھ ہو نہ جائے یا کسی بچے کے متعلق وہم آ گیا کہ اس کو نہ کچھ ہو جائے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے لئے وہ خدا کے بندوں کو راضی کرتے ہیں ۔ یہ اس کا مفہوم ہے اللہ کو تو صدقے کی کوئی احتیاج نہیں ہے اور اس کا راضی ہونا اس کے بغیر بھی ممکن ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بہانہ بنا دیا ہے غریبوں کی ہمدردی کا ۔
    پس جو بلا ٹالنے سے تعلق رکھتا ہے وہ صدقہ ہے جو ویسے عمومی بنی نوع انسان کے بارے میں انسان خرچ کرتا ہے وہ خیرات ہے ۔ (مجلس عرفان الفضل ص 4،20اپریل 2002ء ریکارڈنگ 16مارچ 1994ء)
    سوال 3: اس سوال پر کہ کسی فوت شدہ عزیز کو ثواب کس طرح پہنچایا جائے ؟
    جواب ۔فرمایا آنحضرت ﷺ کی سنت سے یہ بات ثابت کہ اگر کوئی اپنی زندگی میں نیکیاں کرتا ہو ان کو اس کی موت کے بعد بھی جاری رکھنا جائز ہے اگر زندگی میں قرآن نہیں پڑھتا مرنے کے بعد اسے قرآن بخشوایا جائے تو یہ لغوبات ہے ایک شخص نے حضرت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں صدقہ و خیرات بہت کیا کرتی تھی اور اس کی خواہش تھی کچھ دینے کی لیکن وہ اس سے پہلے فوت ہو گئی تو میرے لئے کیا حکم ہے؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم اس کی طرف سے صدقہ دو اس کا ثواب خدا تعالیٰ اس کو دے گا یعنی وہ نیکی کی نیت کرنے والی تھیں لیکن موت حائل ہو گئی اب اس کو جاری رکھنا منع نہیں ۔ اس لئے جماعت میں اپنے بزرگوں کی طرف سے چندے دینا جائز سمجھا جاتا ہے اور اس کو کثرت سے رواج دیا جاتا ہے چنانچہ ہم بھی اپنے ماں باپ کی طرف سے چندے دیتے ہیں اس لئے کہ وہ دیتے تھے لیکن کوئی یہ کہے کہ نادہندہ کا چندہ میں دینا شروع کر دوں اس کو اسے ثواب ملے گا تو یہ لغو بات ہے ایک آدمی خود تو ساری عمر چندہ نہ دیتا ہو اور اس کا بچہ مخلص بن جائے اور کہے میں اپنے باپ کے چندے پورے کروں گا تو وہ اسی بچہ کے نام لگیں گے اس کے نادہند بزرگ کے نام نہیں لگیں گے تو جواز اس بات کا ہے کہ کسی سے جو نیکی ثابت ہو خصوصاً جو منفعت بخش نیکی ہو اس کو آگے جاری رکھنا جائز ہے اور اس کا ثواب بھی مل جاتا ہے
    ( مجلس عرفان الفضل 4مارچ 1999ء ص 3ریکارڈنگ دورہ کراچی فروری 1983ء)
    سوال4: ہمارے ہمسائے ختم یا قل وغیرہ کرواتے رہتے ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں وہ اس طرح تقسیم کرتے ہیں بقول ان کے کہ نہ تو وہ صدقہ ہوتے ہیں نہ خیرات ۔ نہ ہی اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر وہ چیزیں پکائی جاتی ہیں ان حالات میں ان اشیاء کو قبول کر کے کھا لینے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
    جواب ۔ یہ تو بڑا خطرناک اور لپیٹ کر کیا ہوا سوال ہے اس کے اندر ایسے نکات ہیں کہ ان کو نظر انداز کریں گے تو کئی قسم کی جماعت میں رسمیں پھیل جائیں گی ہم نے ان رسوم کے خلاف جہاد کیا ہے اور کرتے رہیں گے ۔ یہ جتنی رسمیں آپ نے بیان فرمائیں یہ تمام وہ ہیں جن کا کوئی وجود حضرت اقدس محمد مصطفٰی ﷺ کے زمانہ میں نہیں تھا ۔ نہ آپﷺ کے خلفاء کے زمانہ میںتھا ۔ (خلفاء راشدین کے زمانہ میں ) نہ ان صدیوں میں پایا جاتا ہے جو روشن صدیاں ہیں پس یہ کہنا کہ کھانا خدا کے سوا کسی اور کے لئے نہیں کیا جا رہا اس لئے حرام نہیں ہے یہ الگ بات ہے ۔ حرام حلال کی بحث کو سر دست ایک طرف رکھیں یہ سوال ہے کہ کیا ان رسموں کے خلاف جماعت احمدیہ نے جہاد کرتے رہنا ہے یا چھوڑ دینا ہے اگر جہاد کرنا ہے تو ان کا کھانا کھا کر اس جہاد کے خلاف پھر کوشش شروع کرنیوالی بات ہو جائے گی اب یہ جہاد سے متصادم رجحانات پیدا کرنے کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہو گا اب ایک طرف وہ ان کو کہیں گے کہ بہت بری بات ۔ دوسری طرف اس بری بات کے نتیجہ میں آپ کو کھانے کو کچھ مل جائے تو کھا لیںیہ بہت گھٹیا بات ہے ۔ آپ ان سے کہیں کہ ہم اس وجہ سے اس کو جائز نہیںسمجھتے ۔ مناسب نہیں سمجھتے کہ آنحضرت ﷺ کے قائم کردہ معاشرہ میں ان چیزوں کا وجود نہیں تھا ۔ ہمیں دین کی پاکیزہ نورانی اصلیت کی طرف لوٹنا چاہیے لیکن اگر وہ غیر اللہ کے نام پر نہیں ہے جب کہ بسا اوقات ہوتا ہے اور وہ تفریق کرنا احمدیوں کے لئے عامۃ الناس کے لئے بہت مشکل ہو جائے گا ۔ اس لئے ویسے بھی اجازت نہیں دینی چاہیے لیکن اگر وہ غیر اللہ کے نام پر نہیں ہے تو آپ کو حرام کہنے کا حق نہیں ہے ۔ یہ دو الگ الگ باتیں ہیں ان کو کھول کر سمجھ لیں ان باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے جو شرطیں آپ نے بیان کی ہیں اگر وہ واقعتہً درست ہیں سو فیصدی درست ہیں ان میں شک ہے کہ یہ درست ہوں کیونکہ اکثر اوقات مجھے پتہ ہے کہ بعض پیروں فقیروں کے نام پر چڑھایا جاتا ہے جو غیر اللہ کی طرف چیزیں بھیجنے کے مترادف ہے ان کی رضا کی خاطر نہ کہ اللہ کی رضا کے لئے تو اس لئے اس بحث کو چھوڑتے ہوئے اگر یہ درست ہے تو ایسے کھانے کو حرام نہیں کہا جا سکتا ۔ مگر عقل کے خلاف ہے اس کو قبول کر کے کھانا کیونکہ آپ نے جو پاک غرض کی خاطر ایک مہم شروع کی ہے دین کو ہر پہلو سے اس کی اصلیت کی طرف لوٹا کر اسی کے مطابق دین پر عمل کیا جائے ۔ یہ اس مہم کی روش کے اس کے رخ کے خلاف بات ہو گی ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ص 4،4دسمبر 2002ء رکارڈنگ 4نومبر 1994ء)
    سوال 5: جب لڑکا پیدا ہوا تو دو بکرے قربانی کرتے ہیں اور لڑکی جب پیدا ہوتی تو ایک کیوں ؟
    جواب۔ اس لئے کہ لڑکے پہ زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے اور لڑکی پہ کم ۔ دینی نظام میں بیوی میاں سے لے کے کھاتی ہے اپنے طور پر کمائے تو اس کو اجازت ہے وہ اس کا اپنا ہوتا ہے اور خاوند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں پہ خرچ کرے تو اس کا ڈبل حصہ تو ہونا چاہیے کم سے کم یہ بھی تھوڑا ہے زیادہ بکرے قربان کرنے چاہییں تھے کیونکہ مرد صرف بیوی کو نہیں پالتا بچوں کو بھی پالتا ہے اور ہر وقت محنت کرتا ہے بیچارہ تو یہ تو اعتراض کر سکتے ہیں کہ اس کا کم حصہ رکھا ہوا ہے مگر یہ اعتراض جائز نہیں کہ زیادہ حصہ رکھا ہوا ہے بیوی کو اجازت ہے وہ اپنی کمائی خود کرے لیکن خاوند کو اجازت نہیں ہے کہ بیوی کی کمائی میں ہاتھ ڈالے کئی لوگ یہ ظلم کرتے ہیں کہ بیویوں سے کام کرواتے ہیں اور ان کے پیسے خود کھا جاتے ہیں ۔ مگر یہ گناہ ہے ۔ عورت اگر کمائی کرتی ہے اور خاوند اس کو اجازت دیتا ہے کہ کمائی کرے تو اس کا اپنا پیسہ ہے جس کو چاہے دے خاوند کو کوئی حق نہیں ہے اس میں مداخلت کرے اس
    میں دخل دے ۔ ( جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ص 4،13اپریل 2000ء ریکارڈنگ 6نومبر 1999ء)
    سوال 6: میرا سوال دو حصوں میں ہے پہلا عقیقہ کیا ہوتا ہے ؟ اور لڑکے کے لئے دو بکرے اور لڑکی کے لئے ایک بکرا کیوں ہے ؟
    جواب ۔ عقیقہ کروانے کے تو بہت سے فوائد ہیں جب سر مونڈتے ہیں تو بہتر بال نکل آتے ہیں اور سر مونڈنا وقف کرنے کی علامت ہوتا ہے ۔ دنیا کے سارے مذاہب میں ہندوؤں میں ، بدھوں میں عیسائیوں میں سرمونڈتے ہیں یعنی خدا کے حضور پیش کر دیا ۔ حج میں بھی سر مونڈتے ہیں تو یہ جو سر منڈانا ہے تو یہ دراصل وقف کی روح ہے اور ماں باپ جب عقیقہ کرتے ہیں تو گویا خدا کے حضور اپنے بچے کو پیش کر دیتے ہیں اور دو اور ایک بکروں کی جو نسبت ہے وہ اس لئے کہ مردوں پر ذمہ داری ہے بیویوں کو پالیں ۔ بیویوں پر ذمہ داری نہیں ہے کہ مردوں کو پالیں تو بڑی حکمت کی باتیں ہیں ۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل ص 5،25نومبر2000ء ریکارڈنگ 6فروری 2000ء)
    سوال7: ہم یہاں انگلینڈ میں رہتے ہیں تو کس طریقے سے عقیقہ کریں ادھر کر لیں یا پاکستان بھیجیں یا قادیان بھیجیں ؟
    جواب ۔ عقیقہ تو یہیں جہاں رہتے ہیں وہیں بہتر ہے عقیقہ صدقہ نہیں ہے عقیقے میں سب رشتے دار گوشت کھا سکتے ہیں اس کا تیسرا حصہ غربا ء کے لئے دیا جاتا ہے عام طور پر اور باقی جو ہے اپنے رشتے دار کھاتے ہیں تو اگر آپ عقیقہ کرتے ہیں آپ فریج میں رکھ لیں یہاں بھی غریب ہیں بہت غربت ہے یہاں ۔ ضروری نہیں عقیقے کے لئے کہ کسی ہم مذہب کو ہی دیا جائے انگریزوں اور عیسائیوں وغیرہ میں ایسی غربت ہے بعض جگہ کہ وہ بھوکے مرتے ہیں بیچارے تو ایسی ایسوسی ایشنز ( Associations )بنی ہوئی ہیں جن کو وہ گوشت دلواسکتے ہیں اور اگر یہاں یہ ممکن نہ ہو قانون خلاف ہو تو پھر آپ کی مرضی ہے چاہے عقیقہ باہر کروادیں ۔ پاکستان میں بھی کروا سکتی ہیں ۔ قادیان میں بھی کرواسکتی ہیں
    ( جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ص 4،13اپریل 2000ء ریکارڈنگ 6نومبر 1999ء)
    سوال 8: قرآن کریم کی آیت وَ الْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَاسے مراد صرف زکٰوۃ اکٹھا کرنے والے مراد ہیں یا بیت المال سے منسلک سب لوگ مراد ہیں ؟
    جواب ۔ عَامِلِیْنَ عَلَیْھَا میں سارے مراد ہیں ۔ وسیع مضمون ہے ۔ صرف اکٹھا کرنے والے نہیں ۔ بلکہ ان کا تو بہت تھوڑا سا Share ہو گا جتنا انسپکٹران بیت المال کو ان کی سروسز سے ملتا ہے ۔ تو زکوٰۃ اس کے مقابل پر بہت زیادہ ہوتی ہیں اس کے جو بڑے وسیع مقاصد ہیں اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں ان کا ذکر فرمایاہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ص 3،3دسمبر 1999ء ریکارڈنگ ملاقات 31مارچ 1995ء)
    سوال9: جو ہم چندہ عام یا چندہ وصیت ادا کرتے ہیں وہ گروس انکم Gross Income پر ادا کرنا چاہئے یا نیٹ انکم Net Income پر ادا کرنا چاہئے؟
    جواب گروس انکم اصل ہے ورنہ بہانے بہت سے بن جاتے ہیں نیٹ انکم کی بحث اٹھانے والے جو لوگ ہیں وہ بہت سی کٹوتیاں از خود ہی کر دیتے ہیں بعض لوگوں کے متعلق مجھے شکایت ملی کہ وہ چندہ ٹھیک نہیں دیتے جب میں نے تحقیق کروائی تو ایک آدمی نے کہا کہ ایک تو جو ٹیکس وغیرہ کاٹا جاتا ہے اس کو میں وضع کرتا ہوں پھر جو کار کا الاؤنس ملتا ہے مجھے ۔میں اس کو وضع کرتا ہوں پھر بچوں کا جو الاؤنس ہے اس کو وضع کرتا ہوں پھر اور بہت سے الاؤنس انہوں نے بتائے اور اگر 25ہزار ماہانہ انکم تھی تو آخر میں کٹ کٹا کے 5ہزار رہ گئی تو یہ نفس کے بہانے ہیں کوشش ہر انسان کو یہ کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ پر چندہ دے اور اس سے نقصان نہیںہوتا ہمیشہ اس سے برکت ملتی ہے آج ہی اس قسم کا خط مجھے ملا ہے بڑا دلچسپ خط ہے کینیڈا میں ایک خاندان ہے ان کی آمد زیادہ نہیں تھی خاوند بھی اس عورت کا بیمار تھا اس کو نوکری بھی نہیں ملتی تھی ۔ انہوں نے لکھا کہ منیر الدین شمس صاحب نے بڑی دردناک تقریر کی ہے کہ چندہ کی بہت ضرورت ہے آپ قرض بھی اٹھائیں تو قرض اٹھا کے دے دیں تو انہوں نے 200ڈالر قرض اٹھا لیا اور چندہ دے دیا دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کو اس کے فوراً بعد نوکری مل گئی اور پہلی نوکری جو چھوٹی تھی اس سے 200 ڈالر تنخواہ زیادہ تھی اللہ تعالیٰ نے نشان دکھا دیا کہ جو تم نے دیا تھا وہ تو میں نے پورا کر دیا اس لئے خدا کمی کبھی بھی نہیں کیا کرتا تو روز کا میرا تجربہ ہے خطوط آتے رہتے ہیں کہ جو دینی قربانی میں زیادہ کی طرف مائل ہوتے ہیں ان کو اللہ بہت زیادہ دیتا ہے اس لئے اس نیٹ اور گروس Grossکی بحث میں زیادہ مبتلا نہ ہوں تو زیادہ بہتر ہے اور اگر نیٹ Netکرنا ہی ہے تو بہت زیادہ نیٹنگ نہ کرنی شروع کر دیں ۔
    (مجلس عرفان الفضل ص 4،9اگست 2001ء منعقدہ 16جون )

    قربانی کا نعم البدل کوئی چیز نہیں
    سوال 10: اس موقعہ پر ایک دوست نے اپنے ذاتی تاثرات کی بناء پر عرض کیا کہ کیا یہ جائز ہے کہ گوشت کے ضیاع کے پیش نظر جانوروں کی جگہ اتنے پیسے غرباء پر خرچ کر دیئے جائیں ؟
    جواب ۔ حضور نے فرمایا بات یہ ہے کہ جہاں تک حج کا تعلق ہے حاجی کو وہیں قربانی دینی پڑتی ہے اس کے علاوہ جو قربانیاں ہیں وہ ضرور نہیں کہ وہیں ہوں مثلاً آپ یہاں قربانی کرنے کی بجائے قادیان میں دلواسکتے ہیں ۔ کسی اور ملک میںبجھواسکتے ہیں ۔ انگلینڈ والے ہیں ، امریکہ والے ہیں وہاں ضرورت کوئی نہیں ہے وہاںغریب آدمی نہیں ہیں جن میں گوشت تقسیم کیا جا سکے ویسے ہی مشکل ہے وہاں اجازت بھی نہیں ہوتی اس لئے وہ سارے لوگ دوسرے غریب ملکوں میں قربانی کرنے کے لئے پیسے بھیج دیتے ہیں لیکن جہاں تک حج کا تعلق ہے وہاں حاجی کی عبادت کے اندر یہ بات داخل ہے اس لئے اسے خود وہاں قربانی دینی چاہیے باقی یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھیں کہ ایک زمانہ آئے گا جب قربانیاں دینے والے لوگ زیادہ ہوں گے لیکن خدا کے علم میں یہ بھی تھا کہ ایسی چیزیں ایجاد ہو چکی ہوں گی کہ ان کی بدولت قربانی کے خون کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہو گا پہلے زمانوں میں تو قربانیاں دینے سے گوشت بچ جاتا تھا خون پھر بھی ضائع ہو جاتا تھا لیکن آج کل دنیا میں جو بڑے بڑے کارخانے بنے ہیں اور بڑی بڑی کمپنیاں قائم ہوئی ہیں وہ تو خون کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتیں وہ خون کو بھی سمیٹ کر یا جانوروں کی خوراک میں ڈال دیتی ہیں یا اسے پودوں کی خوراک کے طور پر استعمال کر لیتی ہیں ۔ پس موجودہ زمانے میں انسان نے جو ترقی کی ہے ا س سے فائدہ اٹھایا جائے تو وہاں قربانی بھی ہو سکتی ہے اور ضائع بھی کچھ نہیں ہو گا اور وہ غریبوں کے پھر بھی کام آئے گی ۔
    (ّمجلس عرفان الفضل ص3،7اکتوبر 1998ء دورہ سری لنکا 19اکتوبر 1983ء)
    سوال11: صدقہ نبی اور ان کی اولاد کو منع ہے تو پھر حضرت یوسف کے بھائیوں نے کس طرح صدقہ مانگا ؟
    جواب ۔ وہ صدقہ ایک محاورہ ہے یہ مطلب نہیں کہ یہ شرعی صدقہ ہے بلکہ ایک محاورہ ہے کہ غریب ہو برا حال ہو تو بھوکوں کے لئے تو نبی کی اولاد بھی ہو تو صدقہ جائز ہو جاتا ہے ویسے یہ اس وقت محادرے کے طور پر تھا شرعی صدقہ نہیں تھا ۔
    ( لجنہ سے ملاقات الفضل ص4،8مئی 2000ء ریکارڈنگ 9جنوری 2000ء)
    سوال 12: ایک دوست نے سوال کیا کہ رسید بک میں زکوٰۃ کا کوئی خانہ نہیں ۔ کیا اس کے لئے علیحدہ رسیدبک ہے ؟
    جواب ۔ حضور نے فرمایا کہ زکٰوۃ بعض لوگوں کے لئے فرض ہے اور بعض کے لئے نہیں ۔ زکٰوۃ کے مصارف کے مطابق ہی جماعت کے مصارف ہیں اور جو چندہ تمام احمدیوں سے لیا جاتا ہے وہ معروف زکٰوۃ سے زیادہ ہوتاہے۔ نصاب بحث ہو یا نہ ہو چندہ زکوٰۃ سے زیادہ ہو جاتا ہے تا ہم بعض لوگوں پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مثلاً عورتیں ہیں ان کا زیور سارا سال پڑا رہتا ہے ۔ جماعت ان کی زکٰوۃ وصول کرتی ہے ۔ اس کے لئے الگ رسید رکھی جاتی ہے ۔ ( مجلس عرفان الفضل ص4، 24جون 1999ء ریکارڈنگ 15مئی 1999ء)
    سوال13: قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم صحت مند کھانا کھائیں اور آج کل لوگ کہتے ہیں کہ Organic food کھانا چاہئے وہ صحت کے لئے زیادہ اچھا ہے۔ لیکن Organic Food بہت مہنگا ہے تو جب یہ کھانا خریدتے ہیں تو صدقہ دینے کے لئے پیسے کم بچتے ہیں۔ کس کو کس چیز پر ترجیح دینی چاہئے؟
    جواب: صدقہ تو دینا چاہئے لیکن اس کا طریقہ بڑا آسان ہے۔ مومن کو تھوڑا کھانے کی بھی تو ہدایت ہے۔ تو جتنا یہ کھانا مہنگا ہے اتنا ذرا کم کر لیں تو اسی طرح گزارہ ہوجاتا ہے۔ ہم تو یہی کوشش کرتے ہیں کہ Organic food ہی کھائیں۔ پھل بھی، ہر چیز، چکن بھی Organic، انڈے بھی Organic لیکن کھانے کو کچھ کم کر دیتے ہیں۔ تو کم کرنا بھی صحت کے لئے بہت اچھا ہے۔ صدقہ ضرور دیں صدقہ نہ چھوڑیں۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات ،الفضل 10جون 2002ء ریکاڈنگ 29 جنوری2002ء)
    دعا
    سوال1: کیا واقعی دعا سے تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو جاتی ہیں؟ اور کیا دعا اس وقت تک مانگتے رہنا چاہئے جب تک قبول نہ ہو جائے۔ نیز کیا دعا کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے؟
    جواب: دعا تو ہر حالت میں کی جاتی ہے۔ ہر حالت میں انسان باوضو کیسے ہو سکتا ہے۔ دعا تو ہر ایسی حالت میں بھی ہوسکتی ہے، قضائے حاجت سے فارغ ہوتے وقت بھی خبث اور خبائث سے پناہ مانگتے ہوئے باہر جاتے ہیں۔ اور کوئی حال ایسا نہیں ہے جس میں دعا نہ ہوسکے۔ پس وضو کے ساتھ دعا کا کوئی وجود اور لزوم کا تعلق نہیں ہے۔ وہ لوگ جو باوضو رہنے کا شوق رکھتے ہیں وہ اگر باوضو رہیں تو بڑی اچھی بات ہے۔
    دعا کا جہاں تک قبولیت کے ساتھ تعلق ہے، بعض لوگ تو قطع نظر اس کے کہ دعا قبول ہوتی ہے کہ نہیں کرتے چلے جاتے ہیں، مانگتے چلے جاتے ہیں۔ وہ قصہ آپ نے حضرت مصلح موعود ؓسے بھی بارہا سنا ہے، میں بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ ایک ولی کے متعلق یہ قصہ آتا ہے کہ وہ رات کو تہجد کے وقت دعا مانگا کرتے تھے تو ایک خاص دعا بھی مانگا کرتے تھے۔ ان کے ایک بہت ہی محبت کرنے والے مرید بھی ان کے ساتھ تہجد پڑھتے رہے۔ تہجد کے دوران جب وہ خصوصیت سے وہ دعا مانگتے تھے جو ان کا بہت شوق تھا تو انہوں نے الہاماً یہ آواز سنی کہ تیری دعا قبول نہیں ہے اور جو مرید تھے انہوں نے بھی وہ الہام سنا۔ اس رنگ میں خداتعالیٰ نے وہ الہام فرمایا کہ مرید کے کانوں میں بھی وہ بات پہنچ گئی۔ ایک دفعہ دو دفعہ تین دفعہ ہر روز کا یہ قصہ چلتا رہا۔ وہ دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ فرماتا تھا قبول نہیں کروں گا، تو مرید کا دل چھوٹا تھا وہ ایک دن ہمت ہار بیٹھا۔ اس نے کہا اے پیرومرشد آپ بہتر جانتے ہیں مگر میں یہ سن رہا ہوں کہ خدا کہہ دیتا ہے کہ میں نے نہیں ماننی تو کیا آپ نے یہ جھگڑا شروع کیا ہوا ہے۔ روزانہ وہی دعا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں بارہ سال سے یہ دعا کررہا ہوں۔ تو چند دن میں گھبرا گیا ہے۔ وہ مالک ہے، اس کا کام ہے دے نہ دے، میں مانگنے والا بھکاری ہوں، میرا پیشہ مانگنا ہے۔ میں مانگتا رہوں گا۔ یہ بات سن کر پھر الہام ہوا اس شان کے ساتھ ہوا کہ وہ مرید نے بھی سنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے بندے میں نے تیری ساری دعائیں جو بارہ سال سے مانگ رہا ہے وہ ساری قبول کرلیں۔ ایک بھی نہیں باقی چھوڑی۔
    جو مالک ہے جس کے اختیار میں ماضی بھی، حال بھی، مستقبل بھی ہے، جو لامتناہی خزانوں کا مالک ہے اس سے اس قسم کے چھوٹے دلوں کے ساتھ بات کرنا مانگنا زیب نہیں دیتا بھکاری کو۔ آپ اس لائق نہیں ہیں کہ اس در کے بھکاری بنیں۔ اگر آپ اتنی جلدی تھک جانے والے اور ہمت توڑنے والے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے خزانے ایسے لامتناہی ہیں کہ اگر وہ تم سب کچھ مانگ لو جو تمہارے دل میں ہے جو سوچ سکتے ہو، تمام تر جتنی بھی تمنا کرسکتے ہو سب کچھ مانگ لو اور وہ سب کچھ تمہیں دے دے تو اس کے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی جتنا سمندر میں ایک سوئی کو ڈبو کر اس کو نکالو، اس کی نوک سے جتنا پانی چمٹا ہوگا اتنی بھی کمی نہیں آئے گی۔ اب مثال کیسی پیاری دی ہے۔ سوئی کی نوک پر قطرہ نہیں رہا کرتا۔ وہ خالی کی خالی باہر نکل آتی ہے۔
    تو جب دینے والا لامتناہی بے انتہا خزانوں کا مالک ہے تو پھر اس سے دعا میں کنجوسیاں کرنا اپنی بیوقوفی ہے۔ وہ دے نہ دے آپ مانگتے رہیں۔
    اک اور بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بارہا سمجھائی ہے کہ بعض دفعہ آپ مانگتے ہیں اور خداتعالیٰ کسی حکمت کے پیش نظر نہیں دیتا۔ اس بحث میں نہ پڑیں کہ حکمت ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اور طرح سے دیتا ہے۔ بعض دفعہ ایک بچے کی ایک بات کو آپ نہیں مانتے۔ بیمار ہے، آپ کو پتہ ہے کہ وہ چیز اس کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ کوئی کھانے کی چیز مانگ رہا ہے یا کوئی اور چیز۔ آپ اس سے بہت ہی زیادہ پیار کرتے ہیں اور دل بہلانے کے لئے اس سے زیادہ قیمتی چیزیں لا کے دیتے ہیں جو وہ مانگ رہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ بھی ماں سے زیادہ مہربان اور پیار کرنے والا ہے۔ وہ اپنے وفادار بندوں کو بے ثمر نہیں چھوڑا کرتا۔ ان کے بعض ایسے مطالب بھی پورے کرتا ہے جن کا ان کو پتہ ہی نہیں وہ دعا بھی نہیں مانگتے تو اس کو پورا کر دیتا ہے۔ بس دعا میں کمی نہیں کرنی چاہئے۔ اور اعتماد رکھنا چاہئے وفا رکھنی چاہئے۔ جو گدا مانگنا چھوڑے نہیں وہ کچھ نہ کچھ در سے لے کر ہی ہٹتا ہے۔ اور کنجوسوں کے در سے بھی لے کر ہٹتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بادشاہوں کا بادشاہ لامتناہی
    خزانوں کا مالک ہے اس کی عطا لامحدود ہے۔ اس لئے اس سے اگر آپ کنجوسی کریں گے تو آپ خود اپنا
    نقصان اٹھائیں گے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍ستمبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۴۔ ملاقات ۱۲؍مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال2: جب حضور ایم ٹی اے پر دعا کرواتے ہیں تو کیا ہم اس میں ہاتھ اٹھا کر شامل ہوسکتے ہیں؟
    جواب: ہوسکتے ہیں۔ نماز نہیں پڑھ سکتے مگر دعا کا کوئی رخ نہیں ہوتا۔ جس طرف مرضی منہ ہو اس لئے
    دعا ہوسکتی ہے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۲۱؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۱۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال3: کیا دل کی گہرائی سے کی ہوئی دعا تقدیر الٰہی کو تبدیل کرسکتی ہے؟
    جواب: دل کی گہرائی سے کی ہوئی دعا تقدیر الٰہی کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اگر تقدیرِ الٰہی دل سے ایسی دعا اٹھنے کی توفیق عطا فرمادے توپھر اس کے مطابق تقدیر ٹل جائے گی۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال4: کیا میں اپنے دوست کے ساتھ چرچ جاسکتا ہوں اور کیا ہم وہاں اپنے لئے دعا کرسکتے ہیں؟
    جواب: (بیت) نہیں ملتی دعا کے لئے۔ یہ کیا تمہیں سوجھی ہے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۴؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۱۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال5: وہ کون سی دعا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے؟
    جواب: دعا تو موقع اور حال کے مطابق جو بھی اچھی ہو وہ اللہ کو پسند آتی ہے اور کچھ دعائیں ہیں جو نبیوں نے کی ہوئی ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے تو وہ اللہ کو پسند ہوں گی تو اللہ نے قرآن میں ان کا ذکر کیا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 6: ایک سوال کرنے والے نے صراطِ مستقیم کا مطلب دریافت کیا کہ یہ دعا کیوں مانگی جاتی ہے۔ کیا ہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں؟
    جواب:حضور نے فرمایا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا راستہ سیدھا راستہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھ۔ اور ہمیشہ اسی راہ پر چلا۔ چنانچہ سیدھے راستے پر ہوتے ہوئے جو قائم نہ رہ سکے ان میں ایک یہود ہیں۔ اللہ نے ان کو رستہ دکھایا، وہ اس رستہ پر چلے بھی مگر سیدھے راستے پر قائم نہ رہ سکے۔ اور اللہ کے غضب کے نیچے آ گئے۔ پھر عیسائی تھے۔ یہ بھی سیدھا راستہ پانے کے بعد گمراہ ہو گئے۔ اس سورۃ کے اندر ہی اس سوال کا جواب موجود ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۹؍جون ۱۹۹۷ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال 7:
    کیا دعا کرنا کسی حالت میںمنع ہے؟
    جواب:دعا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حضرت صاحب نے فرمایا دعا ہر حالت میں کی جاسکتی ہے۔ حتیٰ کہ جہاں نجاست ہو۔ آپ بیت الخلا میں جائیں تب بھی خبث اور خبائث سے نجات کی دعا مانگی جاسکتی ہے۔ سوال کرنے والے نے پوچھا تھا کہ کیا دعا کرتے ہوئے باوضو ہونا ضروری ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا دعا کے لئے باوضو ہونا ضروری نہیں۔ ہاں جو لوگ باوضو ہونے کا شوق رکھتے ہیں وہ اپنی جگہ ایک اچھی بات ہے۔
    اللہ سے مانگتے چلے جاؤ۔ سوال کیا گیا تھا کہ کیا دعا قبول نہ ہو رہی ہو تب بھی دعا جاری رکھی جائے۔ حضرت صاحب نے فرمایا جہاں تک دعا کی قبولیت کا تعلق ہے قطع نظر اس سے کہ دعا قبول ہورہی ہے یا نہیں دعا مانگنے والے مانگتے چلے جاتے ہیں۔ ایک ولی کا قصہ ہے جو ہر روز رات کو ایک خاص دعا مانگا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان کا ایک بہت ہی محبت کرنے والا مرید ان کے پاس آکر رہا۔ جب یہ بزرگ وہ دعا مانگنے لگے تو غیب سے آواز آئی کہ دعا قبول نہیں ہو گی یہ آواز اس مرید نے بھی سنی۔دوسری رات بھی ایسا ہی ہوا۔ پھر ہر روز ایساہونے لگا۔ آخر اس مرید سے نہ رہا گیا۔اس نے کہا جب فیصلہ ہی ہو گیا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوگی تو اب یہ دعا بار بار مانگنے کا کیا فائدہ ہوگا؟ اس ولی نے کہا کہ میں تو بارہ سال سے یہ دعا مانگ رہا ہوں۔ ہر روز یہی آواز آتی ہے وہ مالک ہے اس کا کام ہے کہ دے یا نہ دے۔ میں تو مانگتا ہی رہوں گا۔ اگلی رات جب پھر یہ دعا مانگی تو جواب آیا کہ نہ صرف یہ دعا منظور ہوئی بلکہ بارہ سال سے جتنی دعائیں مانگی تھیں سب منظور ہوگئیں۔
    حضرت صاحب نے فرمایا خدا تو مالک ہے۔ ہر کام میں بااختیار ہے۔ اس سے جب مانگا جائے تو چھوٹے دل سے مانگنا زیب نہیں دیتا۔ اللہ کے خزانے تو اتنے لامتناہی ہیں کہ اللہ فرماتا ہے کہ اگر بندہ اپنی ساری تمنائیں سوچ لے اور سب کچھ مانگ لے اور اللہ اسے سب کچھ دے دے تو اللہ کے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی سمندر میں ایک سوئی کے ڈبو کر نکالنے سے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے۔
    حضرت صاحب نے فرمایا بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی حکمت کے ماتحت دعا قبول نہیں کرتا اور کئی اور طریق سے بعد میں اس کمی کو پورا کر دیتا ہے۔ اس کی مثال ایک بچے کی سی ہے جو بیمار ہے وہ ایسی چیز مانگتا ہے جو اس کی صحت کے لئے مناسب نہیں۔ بچہ نادانی میں مانگتا چلا جاتا ہے تو ماں باپ کو اس پر اور زیادہ پیار آتا ہے اور وہ اس سے زیادہ قیمتی چیز دے کر بچے کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تو ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ وہ اپنے وفاداروں کو بے ثمر نہیں چھوڑتا۔ اللہ سے مانگیں اور مانگتے چلے جائیں۔ وہ تو بادشاہ ہے اس کے سامنے مانگنے میں کنجوسی کرنا تو اپنا نقصان کرنا ہے۔
    (مجلس سوال و جواب۔ روزنامہ الفضل ربوہ ۱۲؍مئی ۱۹۹۴ء صفحہ ۳۔ ریکارڈنگ ۲۹؍اپریل ۱۹۹۴ء)
    سوال8: میرا سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑکی رزق کی دعا صرف مسیحیوں کے لئے ہی تھی یا (احمدیوں) کو بھی کرنی چاہئے؟
    جواب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی طرف سے جو مائدہ اترے گا اس کا ایک تو ظاہری مائدہ پہلوں کو بھی پہنچے گا اور دوسروں کو بھی پہنچے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک وارننگ بھی ہے۔ اگر تم نے ناشکری کی تو سزا ملے گی۔ اب دیکھو انگریز عیسائی قوموں کو کتنی دنیا میں دولت ملی ہوئی ہے۔ بے شمار غلبہ ہے۔ رزق سارا ان کے قبضہ میں چلا گیا ہے۔ تو یہ حضرت مسیح کی دعا کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں کو پتہ نہیں کہ کیوں ہم پر اتنے فضل ہورہے ہیں۔ فضل بھی ہیں اور غضب بھی ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ اگر تم نے شکر کا حق ادا نہ کیا تو پھر ایسی سزا دوں گا کہ کبھی کسی کو نہ ملی ہو۔ تو یہ دعا جو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔ اور ہمیں شکر گزار بندے بنائے۔ اور ہم پر آخر میں جو رزق اترتا ہے ہمیں اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ (احمدیوں) کو بھی کرنی چاہئے۔ اب عذاب جو ہیں وہ دیکھو Atomic bomb کے عذاب جو ہیں کبھی کسی قوم پر نہیں آئے ایسے خوفناک عذاب جن کی تیاری ہے قرآن کریم میں اس کا ذکر ملتا ہے وہ صرف ان لوگوں کو اپنی ناشکری کی وجہ سے ملیں گے۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۹؍جنوری ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال9: ہم قبر کے پاس بیٹھ کر دعا کرسکتے ہیں یا پھر کھڑے ہو کر دعا کرنا ضروری ہے؟
    جواب: عموماً تو کھڑے ہو کر دعا کی جاتی ہے۔ بیٹھنے کی کوئی خاص جگہ قبرستان میں نہیں ہوتی۔ کھڑے ہو کر دعا کرنی چاہئے۔ مگر جو بیمار ہیں ان کے بیٹھنے کے لئے کرسی یا کوئی چیز ہونی چاہئے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۹؍اگست ۲۰۰۱ء صفحہ۳۔ منعقدہ ۱۶؍جون ۲۰۰۰ء)
    سوال10: سونے سے پہلے ہم دعا پڑھتے ہیں کہ اَللّٰھُمَّ بِاِسْمِکَ اَمُوْتُ وَ اَحْیَا۔ کیا یہ سچ ہے کہ سوتے وقت روح جسم سے نکل جاتی ہے اور اگر یہ سچ ہے تو اس کا فلسفہ کیا ہے؟
    جواب: روح نکلتی نہیں ہے۔ روح کو خدا تعالیٰ Sink کرتا ہے۔ Subconcious mind جو ہے وہ بھی Active ہوتا ہے عام طور پر ہمیں پتہ نہیں لگتا۔ لیکن رات کے وقت جب ہم سوتے ہیں تو ہماری روح جس کو انگریز لوگ یا باقی لوگ Mind کہتے ہیں وہ اندر جانا شروع کر دیتا ہے اور تہہ تک پہنچ جاتاہے۔ پھر جس طرح پتھر آجاتا ہے اور نیچے مزید آگے نہیں جاسکتا اس طرح جن لوگوں نے نہ مرنا ہو اللہ تتعالیٰ وہاں سے ان کو واپس چڑھانا شروع کر دیتا ہے اور پھر آنکھ کھل جاتی ہے۔ آنکھ ہمیشہ R.E.M (Rapid Eye Movment) کے طور پر کھلتی رہتی ہے اور اس وقت اگر آپ کسی کی Rapid Ey Movement دیکھیں آپ سب لوگ کرتے ہیں۔ سب کی سوتے سوتے آنکھیں یوں یوں ہلتی رہتی ہیں۔ تو جب وہ ہل رہی ہوں اس وقت اگر جگا دیں تو اس وقت وہ خواب جو بھی ہوگی یاد آجائے گی۔ لیکن یہ سسٹم اللہ نے رکھا ہوا ہے روحوں کو واپس کرنے کا جو روحیں واپس نہ کرنی ہوں Sink کرتے کرتے پرلے کنارے پر چلی جاتی ہیں۔ (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۶؍نومبر ۱۹۹۹ء)

    سوال11: قادیان میں جو بیت الدعا ہے کیا وہاں ہر دعا قبول ہوتی ہے؟
    جواب: نہیں ضروری نہیں۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل یکم ۲۰۰۰ ء ۔صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۷ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :12 آپ نے بیت الدعا کی اینٹ انگلستان کی نئی بیت الذکر کی بنیاد میں رکھی ہے۔ کیا اس سے پہلے بھی کہیں بیت الدعا کی اینٹ رکھی گئی ہے؟
    جواب: کئی دفعہ رکھی ہے مختلف جگہ پر رکھی ہے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۷ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال13 : کیا ہندوؤں کی دعا بتوں کے سامنے قبول ہوتی ہے؟
    جواب: نہیں بت تو پتھر ہیں ان کے سامنے دعا کیا قبول ہوگی۔ تم کسی پتھر کے سامنے دعا مانگو کوئی فائدہ ہوگا؟
    تو ہندوؤں کی بھی نہیں ہوتی۔ پتھر کی شکل جو مرضی بنا لو بہرحال پتھر پتھر ہی ہے۔
    (اطفا ل سے ملاقات الفضل ۲۱ اپریل۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۹ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال14: آپ کے دورِخلافت میں جماعت کو مختلف کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مثلاً M.T.A تحریک وقت نو دعوت الی اللہ وغیرہ ان میں سے کون سی کامیابی پر آپ کو سب سے زیادہ خوشی ملی ہے؟
    جواب: سب سے خوشی ملتی ہے۔ اللہ کی دین ہے حضرت موسیٰؑ کی دعا ہے جو مجھے سب سے زیاد پسند ہے۔
    رَبِّ اِنِّی لِمَآاَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرِِِِ فَقِیْرٌ(القصص:۲۵) یعنی اے میرے پیارے اللہ جو بھی تو مجھے عطا کرے میں اسی کا فقیر ہوں۔ یہ دعا بہت پیاری لگتی ہے۔ آپ بھی کیا کریں۔ اللہ کی طرف سے جو بھی ملے وہی اچھا ہوتا ہے۔ رسولِ کریم ﷺ کو اتنا پیار تھا خدا کی نعمتوں کے ساتھ کہ بارش کا جو بھی پہلا قطرہ ہوتا اسے اپنی زبان پر لیتے تھے۔ کتنی پیاری بات ہے ہر چیز جو بھی خدا سے ملے اچھی ہوتی ہے۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ روزنامہ الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ منعقدہ ۷؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال15: یہ کیا بات ہے کہ ہر سال لاکھوں لوگ اللہ تعالیٰ کے گھر جا کر حج کے موقع پر دین کی ترقی، خوشحالی اور اتفاق کی دعا کرتے ہیں لیکن بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے کے سارے مسلمان ملک غیرمسلمان ملکوں سے قرض لے کر اپنا ملک چلا رہے ہیں۔ ان کی دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟
    جواب: جو دعا کرو تو اس کے مطابق ویسا عمل بھی تو کرنا چاہئے۔ خالی دعا کافی نہیں ہے۔ جو ذریعہ ہے اس دنیا کا وہ بھی ساتھ اختیار کرنا چاہئے۔ اب اس کی مثال میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ایک شخص گاڑی میں سفر کررہا تھا تو اس نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہٗ یا کسی اور بزرگ کو کہا کہ میرے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے بیٹا عطا فرمائے۔ تو انہوں نے کہا انشاء اللہ مگر تم بتاؤ کہ تم کہاں جارہے ہو۔ اس نے بتایا کہ وہ کسی اور ملک میں جارہا ہے۔ کتنی دیر کے لئے؟ آٹھ دس سال کے لئے۔ انہوں نے کہا تمہارے پیچھے بچہ کیسے ہوجائے گا۔ تم گھر میں رہو تو بچہ ہوگا نا۔ تو قدرت کا نظام جو ہے وہ اپنی جگہ ہے۔ دعا کا نظام اور قدرت کا نظام جب آپس میں مل جائیں پھر وہ دعا قبول ہوتی ہے۔ (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ۵۔ ریکارڈنگ ۲۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال16: حضورﷺ نے دعا کی کہ مسکینی کی حالت میں آپ زندہ ہوں اور مسکینی کی حالت میں وفات ہو تو کیا اس صورت میں انسان کو اپنے لئے خوشحالی کی دعا نہیں کرنی چاہئے؟
    جواب: ضرور کرنی چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے دوسروں کو بار بار یہ بھی نصیحت فرمائی کہ رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً(البقرہ:۲۰۲)کی دعا کیا کرو تو حسنہ کی تعریف میں نیکی بھی ہے اور دنیا کی اچھی چیزیں بھی۔ تو آنحضرت ﷺ کا جو حوصلہ تھا وہ ہر شخص میں نہیں ہوسکتا۔ آپ کو خدا نے سب کچھ دیا اور آپؐ نے اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھا تو رسول اللہ ﷺ کی شان کے مطابق ہر شخص کا حوصلہ نہیں ہوسکتا۔ دوسروں کو رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی نصیحت کی کہ اپنے بچوں کو محتاج نہ چھوڑو۔ ان کے حق میں کچھ نہ کچھ مال رکھا کرو۔ ایک شخص نے کہا میں ساری جائیداد دین کو دینا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں اس نے کم کرنا شروع کیا اس نے کہا 2/3 لے لیں حضور نے فرمایا نہیں اس نے کہا 1/3 مجھے دین کو دینے دیں۔ آپ نے فرمایا یہ بھی زیادہ ہے مگر خیر میں اس کو قبول کر لیتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو یہی نصیحت کی کہ اپنے بچوں کو غریب نہ چھوڑو پس اس نصیحت کو عام لوگوں کے حق میں ایک خوشخبری بھی سمجھنی چاہئے یا آپ ﷺکا اندازہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہر شخص کو رسول اکرمؐ کے معیار پر نہیں ناپا جاسکتا۔ اس لئے اپنی توفیق کے مطابق دین کی خدمت کریں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۹؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۳؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال17: جب ہم دعا کریں اور قبول نہ ہو تو ہم کیا کریں؟
    جواب: کچھ نہیں کرسکتے۔ تم جب اپنے ابا یا امی سے کوئی چیز مانگتے ہو وہ نہ دیں تو کیا کرسکتے ہو۔ زبردستی لو گے؟ بچے نے عرض کیا نہیں۔
    حضور نے فرمایا:- بس ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ سے بھی یہی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بہت بڑا ہے۔ اللہ سے مانگو نہیں دیتا تو کہو ٹھیک ہے۔ اللہ میاں کی مرضی ہے جو چیز اچھی ہوگی دے دے گا جو اچھی نہیں ہوگی وہ نہیں دے گا۔ بعض دفعہ دعا قبول نہ بھی ہو تو اس کے بدلے اللہ میاں اور کچھ دے دیتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۱؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال18 : خطرناک بیماریاں جو انسان کے اندر پوشیدہ ہوتی ہیں ان سے بچنے کے لئے حفظ ماتقدم کے طور پر کون سی دعائیں کرنی چاہئیں؟
    جواب: دراصل پوشیدہ بیماریاں ہوں یا ظاہری بیماریاں ہوں ایک دعا یہی ہے جو ان سب میں بہت کام آتی ہے۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الشَّافِی لَاشفَائَ اِلَّا شفَائُکَ وَاشْفِ مَرضَانَا شفاَئً کَاِملاً عَاجِِلاً لَا یغاَدِر سُقْمًا۔ اس دعا کی میں بہت پابندی کرتا ہوں اور اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اپنوں کے لئے بھی اور غیروں کے لئے بھی جو دعاؤں کے لئے خط لکھتے ہیں ان کے لئے یہ دعا کرتا ہوں تو آپ بھی دعا کیا کریں۔ اس کا ترجمہ یہ ہے۔ اے میرے خدا شفاء دینے والا تو تو ہی ہے تیری شفاء کے سواو کوئی اور شفاء نہیں ہے۔ پس ہمارے مریضوں کو اچھا کر دے۔ شفاء دے جلدی کامل ایسی شفاء کہ اس کے بعد بیماری کا بداثر باقی نہ رہے۔ اس کے سوا ایک اور دعا بھی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا وہ بھی بہت پیاری دعا ہے۔ فَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ۔کہ بیمار تو میں ہوتا ہوں اور اچھا اللہ میاں کرتا ہے۔ میرا خدا کتنا مہربان ہے کہ اپنی غلطیوں سے میں بیمار ہوتا ہوں کوتاہیوں سے بیمار ہوتا ہوں اور جب اچھا کرتا ہے تو میرا خدا اچھا کردیتا ہے تو اس دعا کو بھی یاد رکھیں پھر ایک عمومی دعا ہے جس کو اسم اعظم کا نام بھی دیا گیا ہے۔ رَبِّ کُلُّ شَیئِِ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ۔۔۔(تذکرہ صفحہ۶۷۸)۔ یہ تین دعائیں ایسی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے سوال میں کافی ہوں گی۔ ویسے جو دل میں آئے دعا کریں۔
    )مجلس عرفان الفضل ۸ جون ۲۰۰۰ء ریکارڈنگ ۱۸ فروری ۲۰۰۰ء)
    معاملات
    نکاح، خلع، طلاق
    سوال0: ایک سوال یہ تھا کہ ایک بیوی پاکستان میں ہے اور مرد جرمنی میں ہے۔ بیوی نے سول عدالت میں طلاق کے لئے مقدمہ دائر کرا دیا۔ مرد کو علم نہیں ہوا کہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ فیصلہ بیوی کے حق میں ہو جاتا ہے اور طلاق ہو جاتی ہے کیا یہ طلاق جائز ہے؟
    حضور نے فرمایا قانون کے لحاظ سے بے شک یہ جائز ہو مگر شرع کے لحاظ سے ناجائز ہے۔
    سوال1 : نن وغیرہ شادی نہیں کرتے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی شادی نہیں کی تھی۔ حضور کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
    جواب: حضرت عیسیٰ ؑ نے شادی نہیں کی تھی تو جتنے عیسائی تھے اگر وہ شادی نہ کریں تو پھر عیسائیت تو اس وقت ہی ختم ہو جاتی۔ اگر حضرت عیسیٰ نے شادی نہیں کی اور یہ حکم ہے ان کی شریعت کا تو پھر عیسائیت کی بہت جلدی چھٹی ہو جاتی۔ اب دنیا میں اربوں عیسائی ہیں۔ پتہ نہیں کیوں انہوں نے حضرت عیسیٰ کی بات نہیں مانی۔ اگر مان لیتے تو ان سے چھٹی ملتی ہمیں ۔اس لئے یہ غلط ہے نن جو بنتی ہے وہ محض انہوں نے اپنی طرف سے قصہ بنالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ہم نے ان کو نیکی کی تعلیم دی تھی۔ نیک رہیں اور بدیوں سے بچیں۔ لیکن وہ اسے سمجھے نہیں اور اپنے اوپر زیادہ سختی کرلی۔
    نن وغیرہ کا یہی قصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ پاک و صاف رہو تو انہوں نے سمجھا کہ پاک و صاف رہنے کا مطلب ہے کہ شادی نہ کرو۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیوں نہیں کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ جب دوبارہ نازل ہوں گے تو شادی کریں گے ویولد لہ بچے بھی ہوں گے۔ مراد یہ تھی کہ نیا عیسیٰ دنیا میں آئے گا وہ شادی کرے گا اور اس کے بچے بھی ہوں گے۔
    (الفضل ۲۸؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ پروگرام لجنہ سے ملاقات۔ ریکارڈنگ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۹۹ء؁)
    سوال 2: جماعت میں بڑی اچھی روایت ہے شادی کے موقع پر لڑکی والے کھانا نہیں دیتے تھے لیکن اب بعض گھروں میں یہ سلسلہ چل پڑا ہے۔ دوسروں نے تو ہماری تقلید میں یہ ختم کر دیا تھا۔ وہ بعض اوقات ہمیں کہتے ہیں کہ تم لوگوں نے بھی شروع کر دیا؟
    جواب: شوریٰ میں یہ مسائل دو دفعہ پیش ہوئے اور ان کے سامنے میں نے وضاحت کی کہ کیوں اب کسی حد تک کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اور تفصیل سے اس صورت حال کا تجزیہ کیا تھا۔ ایک لمبا خط لکھا تھا ان کے نام اور ان کو نصیحت کی تھی کہ اسے ساری جماعت میں مشتہر کریں تاکہ مجھے ان کو بار بار نہ سمجھانا پڑے اور سارے پہلو جس حد تک میرے ذہن میں ابھرے تھے ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے ایک تفصیلی جواب دیا تھا۔ (حضور کے یہ ارشادات کتابی شکل کے علاوہ روزنامہ الفضل 26، 27جون 2002ء میں شائع ہوچکے ہیں)۔ اب میں ان کو یہی کہوں گا ناظر صاحب اصلاح و ارشاد کو جن کے سپرد تھا کہ ان باتوں کو عام کریں ورنہ بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ محض کسی خوشی کے موقعہ پر مہمانوں کو کھانا کھلا دینا اپنی ذات میں نہ گناہ ہے نہ معیوب ہے نہ رسم ہے۔ بلکہ ایک عام سنت ہے تابع ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ بہت زیادہ مہمان نواز تھے اور اپنے تمام بہت اعلیٰ اور مقدس مشاغل کے باوجود اپنے دوستوں کی اپنے غلاموں کی دعوت بھی فرمایا کرتے تھے اور قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جیسے یہ عام دستور ہو۔ آپؐ بلا لیا کرتے تھے۔ بعض لوگ زیادہ دیر تک بیٹھتے اور تنگ کرتے تھے تو اللہ نے سمجھایا ایسا نہ کیا کرو۔ مگر اس سے اشارہ یہ ملتا ہے کہ رسول اللہ کا ایسا دستور ہے جو اگرچہ روایتوں میں نظر نہیں آتا مگر قرآن نے اس کو محفوظ کر دیا۔ مجھے کئی دفعہ تعجب ہوا ہے کہ اتنی قطعی حقیقت اور یقینی حقیقت پر اب تک تفصیلی حدیثیں نہیں آئیں۔ اس لئے اگر اہل علم کے سامنے وہ احادیث ہوں تو مطلع کریں۔ مجھے دلچسپی ہے کہ باتیں کیسے ہوا کرتی تھیں یا کیا ان میں باتیں ہوتی تھیں۔ کیونکہ اندازہ تو ہے کیا ہوتی ہوں گی لیکن غور سے سن کر ایک اور قسم کا لطف آتا ہے۔ تو بہرحال مہمان کو کچھ کھلا دینا منع نہیں ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ٗنے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ اس سے کچھ گریز کرو۔ اس کے دو پہلو تھے ایک تو تحریک جدید کا آغاز تھا۔ جماعت بہت غریب تھی اور جس حد تک ممکن تھا حضرت مصلح موعود ؓنے ایسے نکات پیش کئے کہ لوگ کچھ بچا کر جو خرچ دوسری جگہ کرنا ہے وہ وہاں کریں۔ یہ اصل بنیادی اعلیٰ مقصد تھا جو پیش نظر تھا اور اب جماعت کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور قربانی کی روح رفتہ رفتہ مشقت کرتے کرتے بشاشت کی حد میں داخل ہوچکی ہے۔ ایسی عظیم قربانی جماعت بشاشت کے ساتھ پیش کررہی ہے کہ بعض دفعہ دل چاہتا ہے کہ روک دیں بس بس کافی کررہے ہو اب اس سے زیادہ نہیں۔ ایسی کیفیت میں ان ذرائع کی ضرورت نہیں ہے جہاں محسوس ہوں گے وہاں جماعت ازخود خرچ کو کم کرے گی۔ مگر اس کے علاوہ اور مصالح بھی پیش نظر تھے جن کا آپ نے ذکر فرمایا۔ غرباء کی بھی شادیاں ہوا کرتی تھیں۔ خصوصاً قادیان میں کثرت غرباء کی تھی اور حضرت مصلح موعود نے محسوس کیا کہ بعض دفعہ اس تکلف میں کہ ہم نے ضرور مہمانوں کے سامنے کچھ پیش کرنا ہے وہ قرض لے لے کر یا مانگ مانگ کر اپنی ضرورت پوری کرتے تھے۔ یہ ان کی عزت نفس کے خلاف بات تھی اور ان کے کردار کو بگاڑنے والی تھی۔ اس لئے آپ نے امیر بھائیوں کو کہا کہ تم میں توفیق ہے تو رک جاؤ تاکہ یہ بھی رک جائیں اور یہ نہ ہو کہ یہ امیر ہے اس لئے کررہا ہے میں غریب ہوں اس لئے نہیں کرسکتا۔ یہ وہ مضمون ہے جو اب بھی اسی طرح جاری ہے اور زیادہ تر اسی کے پیش نظر مجھے احتجاجی خطوط ملتے ہیں لیکن ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ امیری صرف شادی کے موقع پر تو ظاہر نہیں ہوا کرتی۔ خدا نے جس کو رزق عطا فرمایا ہے اس کی روزمرہ کی زندگی غریب کی زندگی سے مختلف ہے تو کیا یہ بھی حکم جاری کیا جائے کہ اپنے معیار کو اس حد تک گرا دو جس حد تک ایک مزدور کا معیار زندگی ہے۔ یا ایک کم سے کم تنخواہ پانے والے کی زندگی ہے۔ وہ کیوں نہیں مطالبہ کرتے۔ کیا اس سے غریبوں کو تکلیف نہیں ہوتی۔ پس جہاں تک تکلیف کا پہلو ہے یہ اپنی ذات میں ایک بدی بن جاتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو اپنے سے اوپر ہے اس کو نہ حسد سے دیکھو نہ حسرت سے دیکھو۔ اللہ نے کسی کو دیا ہے تو تم تکلیف نہ محسوس کرو۔ تمہارا خدا ہے تمہیں بھی دے سکتا ہے۔ پس حسد اور دوسرے کے اچھے حال پر تکلیف محسوس کرنا یہ فی ذاتہٖ ایک گناہ ہے اور مجھے کچھ عرصہ پہلے مشاورت کے بعد یہ خطرہ محسوس ہوا تھا اور میرے یہ فیصلہ کرنے میں ممد بنا۔ یوں لگتا تھا بعضوں کی تقریروں سے کہ مجھے اشتراکیت کی تعلیم دی جارہی ہے۔ دین چاہتا ہے کہ سب بالکل ایک جیسے برابر ہو جائیں۔ اور اونچ نیچ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے کہا اگر یہ تمہارا دین ہے تو قرآن کا یہ دین نہیں ہے۔ وہاں امیر اپنی امارت سے جس حد تک فائدہ اٹھاتے تھے اس سے روکا نہیں گیا اور قرآن کریم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ یہ جو نعمتیں ہیں یہ خدا اپنے بندوں کے لئے دیتا ہے۔ فرماتا ہے ان سے کہہ دے خدا نے جو زینتیں نکالی ہیں خوبصورتی سجاوٹ کی چیزیں یہ کس نے اللہ کے بندوں پر حرام کی ہیں۔ ہم نے تو اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں اور اس میں سے بھی پاکیزہ چیزیں۔ فرق یہ ہے کہ اس دنیا میں بھی یہ مومنوں کے لئے ہیں خدا کے بندوں کے لئے لیکن آخرت میں خالصتہً ان کے لئے ہو جائیں گی یا دوسرے اس سے محروم ہو جائیں گے۔ تو اپنے مذہب کو اس طرح تنگ نظری سے تنگ کرتے چلے جانا اس کے بہت لمبے اور بداثرات ظاہر ہوسکتے ہیں اور ایک خلیفہ کے فیصلے کو دائمی شریعت کا قانون بنا دینا جائز نہیں ہے۔ ہر خلیفہ وقت مختار ہے خدا کے سامنے حاضر رہتے ہوئے تقویٰ کے ساتھ جماعت کی اصلاح اور بہتری کے لئے کوئی انتظامی فیصلے کرے۔ وہ شریعت میں دخل اندازی نہیں ہوتی وہ وقتی علاج ہوتے ہیں۔ کسی مضمون میں الجھ کر ہمارے فقہاء نے بحثیں کیں کہ حضرت عمرؓ نے طلاق کے متعلق یہ حکم کیوں دیا۔ فلاں حکم کیوں دیا۔ وہ دائمی احکام نہیں تھے۔ وہ وقتی ضرورت کے پیش نظر لوگوں کو سمجھانے کی باتیں تھیں۔ پس میرے نزدیک بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا یہ فیصلہ شریعت کا دائمی حصہ نہیں بن سکتا۔ شریعت وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی مگر ہر خلیفہ کو بعض بیماریوں کی اصلاح کی خاطر بعض چیزوں سے وقتی طور پر روکنے کا حق ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہٗ نے اس حق کو بہترین رنگ میں استعمال فرمایا۔
    اب رہا تکلیف کا معاملہ اس کے متعلق میں عرض کرتا ہوں کہ یہ دلیل ہی غلط ہے کہ غریب کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہم نے قناعت بھی تو پیدا کرنی ہے۔ عظمت کردار بھی تو بخشنی ہے۔ جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے رفقاء تھے ان کو تو کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔ ابوہریرہؓ کو تو کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔ ان غلاموں کو تو کبھی تکلیف نہیں ہوئی جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بھی واقعہ ایسانظر نہیں آتا کہ وہ اپنی محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہوں سوائے اس بات کے کہ نیکیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بعض ایسے غریب، بے بس ،بے کس لوگ حاضر ہوئے کہ یہ امیر جو ہیں یہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو پھر ہمارے دل میں حسرت پیدا ہوتی ہے یہ نہیں کہ اپنی زندگی پر خرچ کرتے ہیں۔ ایک بھی آپ کو مثال دکھائی نہیں دے گی۔ ان کو پرواہ کوئی نہیں تھی۔ اپنے حال میں مست اور خوش تھے کہ خدا نے ہمیں سعادت بخشی ہے محمد رسول اللہ ﷺ کے قرب کی۔ اس کے مقابل پر دنیا کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے یہ دکھ محسوس کرتے تھے کہ کاش ہم اور کرسکتے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو وہ نسخہ بتادیا کہ تم یوں کیا کرو کہ نماز کے فوراً بعد اٹھ کر گھر کو نہ چلے جایا کرو۔ 33 بار الحمدللہ 33بار سبحان اللہ اور 34 دفعہ اللہ اکبر کہا کرو۔ عبادتیں سکھائیں ذکر الٰہی کرلیا کرو۔ کہ تم ان سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس دنیا کی زندگی تو زیادہ سے زیادہ سو سال تک جاری رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ جس کا مطلب ہے دس گنا نیکی کا اجر ملے گا۔ پچاس سالہ زندگی کے مقابل پر تمہیں خداتعالیٰ دس گنا نعمتیں عطا کردے گا۔ امیروں کو بھنک پڑ گئی۔ یہ کیوں اکٹھے رہتے ہیں۔ ہم اٹھ کر چلے جاتے ہیں یہ کیا ہورہا ہے۔ یہ اکٹھے کیا کرتے رہتے ہیں۔ پتہ کیا تو بات سمجھ آئی۔ سو وہ بھی بیٹھ گئے۔ پھر شکایت لے کے گئے کہ یا رسول اللہ ہم کیا کریں۔ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کے فضل سے نہیں لڑ سکتا۔ کوئی نہیں لڑ سکتا۔ اللہ نے فضل فرمایا تو تم صبر کرو۔ میں کیسے روک سکتا ہوں۔ یہ وہ عظمت کردار ہے جو میں جماعت احمدیہ میں دیکھنا چاہتا ہوں اور اتنی چھوٹی چھوٹی گھٹیا باتوں سے تکلیف محسوس کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک اور تکلیف محسوس کرنی چاہئے وہ کیوں نہیں کرتے۔ بہت سے امیر ہمارے ایسے ہیں جو اتنی زیادہ حرکتیں کرتے ہیں شادیوں پر کہ کراہت آنی چاہئے۔ ان پر رحم آنا چاہئے۔ وہ ساری بے ہودہ باتیں جس سے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکالا، روشنیوں میں لے کر آئے وہ نقالی کرتے ہوئے سب باتیں دہرانا چاہتے ہیں بعضوں کے ہاں سنا ہے بینڈ بھی آجاتے ہیں اور بے ہودہ باتیں بے حد ضیاع دولت کا۔ اس طرح لٹانا کہ جس طرح خاک اڑائی جارہی ہو۔ اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور یہ نہیں سوچتے قرآن کریم نے دولت کے بعض مصارف کو تمہارے فائدے کا نہیں بلکہ نقصان کا موجب بتایا ہے۔ کہتا ہے یہ شیطان کے بھائی ہیں جو اس طرح اپنے رزق کو برباد کرتے ہیں اور جس طرز سے وہ شادیاں مناتے ہیں اس کے اوپر کوئی دلیل کے ساتھ حرف رکھ سکے یا نہ رکھ سکے لیکن مزاج بول رہا ہوتا ہے کہ یہ احمدیت کے مزاج سے ہٹ چکے ہیں۔ یہ دنیاداری کے مزاج میں داخل ہورہے ہیں۔ اب انہیں کہیں گے تو ناراض ہوں گے تم کون ہوتے ہو۔ کیا مطلب ہے ہر بات میں قانون، نظام جماعت کیا چیز ہے، کہیں یا نہ کہیں دل میں یہی سوچتے ہیں۔ ہوتا کون ہے کوئی روکنے والا ہمیں ان کو کرنے دو۔ انہوں نے اپنی دنیا الگ بنا لی ہے۔ تم جلتے کیوں ہو۔ تمہیں شکر کرنا چاہئے اللہ نے یہ دنیا تمہاری نہیں بنائی۔ پس زیادہ سے زیادہ یہ حق ہے کہ ان کو سمجھاؤ۔ کہ اللہ کا خوف کرو اس طرح پیسے برباد نہ کرو۔ نئی رسمیں جاری نہ کرو۔ ہمارا کردار عظیم ہے سادگی اور متوازن خرچ کے دائرے میں رہتے ہوئے خوشیاں منانی چاہئیں۔ یہ تو نہیں کہ موت کا بھی وہی عالم ہو اور خوشی کا بھی وہی عالم ہو۔ شادی ہورہی ہو، موت ہورہی ہو، کسی کو پتہ ہی نہیں کہ کس وجہ سے سائبان لگے ہوئے ہیں۔ خوشی بولتی ہے۔ خوشی میں ایک ترنم پیدا ہوتا ہے۔ اس کی آواز لوگ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ اس میں رنگ ہوتا ہے خوشبو ہوتی ہے۔ یہی چیزیں غم میں اور کیفیت اختیار کرتی ہیں تو نوحے بن جایا کرتے ہیں۔ تو یہ فرق تو رکھنا ہوگا سوسائٹی میں۔ مگر سادگی کی تعلیم دینا ان کو سمجھانا کہ کچھ حوصلے سے بات کرو گندی رسمیں اختیار نہ کرو۔ یہ سب کا فرض ہے مگر ہمدردی کے ساتھ غصے کے ساتھ نہیں یہاں آپ نے غصے سے بات کی۔ صاف لگتا ہے کہ طبیعت میں ایک غضب پیدا ہوگیا ہے۔ یہ لوگ یوں کررہے ہیں ہم ان کو نیچے گرا کے دیکھیں۔ جماعت سزا کیوں نہیں دیتی۔ ان کو نکال کر باہر پھینکو۔ یہ کرو وہ کرو۔ یہ ساری باتیں غضب میں جڑیں بنائے ہوئے ہیں اور غضب میں جڑیں بنانے کی ایمان میں کوئی گنجائش نہیں۔ رحم میں نصیحت کی جڑیں ہوں تو نصیحت پیاری لگتی ہے۔ حوصلہ بڑھتا ہے، تکلیف نہیں ہوتی۔ ایک انسان وسیع حوصلہ مومن ہو تو دیکھے گا گزر جائے گا۔
    توفیق ہوئی تو نصیحت کر دے گا دل میں اگر ناپسند کرے گا تو دعا کرے گا۔
    تیسری بات جو میں نے اس میں خاص طور پر لکھی تھی وہ یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں یہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ اگر ہم زیادہ خرچ کی توفیق رکھتے ہیں تو دوسروں کی بچیاں ہیں وہ صبر کریں مگر ان کا دل تو چاہتا ہے نا تو اپنی ہر شادی پر اگر دسواں حصہ اپنی طرف سے مخفی طور پر جماعت کے سپرد کر دو یا کچھ غریبوں
    کو تاک لو کہ یہ گھر ہیں جب ان کی شادیاں ہوں گی میں ان پر خرچ کروں گا۔
    ان کے لئے معمولی اپنے حالات کے مطابق دعوت کا انتظام کر دے تو کیا نقصان ہے۔
    فائدہ ہوگا۔ محبتیں آپس میں بڑھیں گی۔ بجائے اس کے کہ یہ فرق نفرتوں میں تبدیل ہوں گے یہ قرب کا موجب بن جائیں گے۔ ایک دوسرے کے قریب کرنے کا موجب بنیں گے۔ تو میں نے ان کو سمجھایا تھا جماعت بھی مخفی ہاتھ سے ایسے لوگوں کی مدد کرسکتی ہے۔ آپ کے پاس توفیق نہیں مقامی طور پر تو مجھے لکھ دیا کریں۔ ہورہا ہے اس طرح۔ میں نے جو تحریک کی تھی اتنے لوگوں کی شادیاں کروائیں جن کو توفیق ہو تو مجھے کئی خط آئے ہیں کہ ہم کروارہے ہیں۔ لیکن حیثیت اور توفیق کے مطابق۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایک غریب آدمی ہزاروں آدمیوںکی اسی طرح دعوت کرے۔ اسی طرح قمقموں پر پیسے ضائع کرے تو جو روزمرہ کی زندگی گزاررہے ہیں اس کی نسبت تو قائم رکھیں۔ اگر ہزار کو بلانا ہو تو چند کو بلالے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری لجنات میں سے جو نیک دل خواتین ہیں وہ ایسے موقع پر پہنچ جایا کریں کہ ہم تمہارا کھانا پکا دیتی ہیں۔ کچھ بہنیں مل کر اس کا انتظام کر دیں۔ دس پندرہ بیس کو بلاؤ اور اس میں امیر بھی حاضر ہوا کریں۔ اس سے ان کو رونق ملے گی۔ حوصلہ ملے گا۔ اور شادی میں اک خاص پیار کا رنگ پیدا ہو جائے گا۔ پس مجھ سے توقع نہ رکھیں کہ میں اپنے مزاج کے خلاف آپ کی ہر بات مانتا چلا جاؤں۔ میرا وہ مزاج وہ جو خدا کے مزاج کے تابع درست سمجھ رہا ہوں اس میں میں تبدیلی نہیں کروں گا۔ جب اگلا خلیفہ وقت آئے گا تو اس سے جو چاہیں کروالیں۔ وہ بھی اسی طرح کرے گا مگر اس کا مزاج آپ کے (مزاج) کے مطابق ہوگا تو مانے گا ورنہ نہیں مانے گا۔ (الفضل ۱۹؍جولائی ۲۰۰۲ء صفحہ ۳تا۴۔ ریکارڈنگ پروگرام مجلس عرفان ۱۱؍فروری ۱۹۹۴ء)
    سوال3: بعض دفعہ انسان سے شادی سے قبل کوئی بڑی غلطی ہو جاتی ہے۔ غلطی کے بعد توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی پردہ پوشی فرمالیتا ہے۔ کیا اس صورت حال کے بعد جب شادی بیاہ کا معاملہ ہو تو کیا شادی سے پہلے کی باتیں بتانا ضروری ہے؟
    جواب: بعض دفعہ توبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ توّاب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہوا ہے کہ توبہ کرو توبہ کرتے وقت نیت صاف ہو پھر جو غلطیاں ہوں تو دوبارہ توبہ کرو۔ تو اگر باارادہ توبہ صحیح ہو تو خداتعالیٰ باربار بھی بخشتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا ہے۔ خدا کو مخاطب کرکے اردو میں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اے میرے خدا بار بار میں نے غلطیاں کی ہیں اور بار بار تو نے بخشا ہے۔‘‘ اس پہلو سے امید کا پہلو نمایاں ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو توبہ کرنے والے ہوں ان کی توبہ کے وقت خلوص کا ہونا ضروری ہے۔ بعض دفعہ مزاج کے مطابق ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ کبھی کسی مجلس میں جاتا ہے انسان اور کبھی کسی مجلس میں۔ بُری مجلس میں بیٹھے تو طبیعت گناہ کی طرف پھر مائل ہو جاتی ہے۔ بار بار توبہ کرنا معیوب نہیں ہے۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ یہ لکھا ہوا ہے کہ گناہ کا وجود اس لئے بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توّابیّت ثابت ہو۔ اگر گناہ نہ ہوتا تو توّابیّت کس طرح ثابت ہوتی اللہ کی۔ اس مضمون کو مدنظر رکھ کر سچے دل سے توبہ کرنی چاہئے۔ غلط فہمی یا غلط بیانی شادی کے وقت اگر ہو جائے یعنی بعض دفعہ لڑکی یا لڑکے میں نقص ہوتے ہیں اور ان کو چھپا دیا جاتا ہے لوگ شادی بیاہ کے موقع پر بتاتے نہیں اگر بعد میں یہ باتیں ظاہر ہو جائیں تو اس کا حق ہے کہ طلاق دے دے لڑکی کا یا لڑکے کا دونوں کا حق ہے کہ خلع یا طلاق کے ذریعہ فیصلہ کرلیں اور اس بات کو جج کو ماننا پڑے گا کہ چونکہ غلط بیانی کی گئی تھی اس لئے یہ شادی ناجائز ہے۔ لیکن کئی لوگ معاف بھی کردیتے ہیں۔ کئی شادیوں کو میں جانتا ہوں کہ غلط فہمی سے بعض مرتبہ باتیں بیان نہیں ہوسکیں۔ جان بوجھ کر یا بھول کر۔ دونوں صورتوں میں جو فریق دوسرا ہے وہ عفو سے کام لیتا ہے، بعض دفعہ اگر کوئی عفو سے کام لے سکتا ہے، بخشش سے کام لے سکتا تو بہت بہتر ہے۔ بچیوں یا لڑکوں سے شادی سے پہلے اگر کوئی غلطیاں ہوئی ہوں تو وہ توبہ کریں اور شادی کے وقت بھی توبہ کریں۔ اس وقت یہ باتیں کھولنا ضروری نہیں ہے۔
    (پروگرام مجلس عرفان۔ الفضل ۲۰؍جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ۴۔ منعقدہ ۲۶؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :4 (ادلے بدلے کی شادی)
    دین نے ادلے بدلے کی شادی کو منع کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا یہ حدیث اور قرآن کا حکم ہے؟
    جواب: یہ ادلے بدلے کی شادی کا قرآن کریم میں تو کوئی ایسا حکم نہیں جو اس پر روشنی ڈالے لیکن آنحضرت ﷺ نے جن معنوں میں فرمایا ہے وہ ان معنوں میں منع فرمایا ہے جن معنوں میں آج کل ہمارے جھنگ کے علاقے میں بھی رواج ہے۔ بعض تو اتفاقی ہوتا ہے کہ ایک گھر میں ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے اور دوسرے گھر میں بھی ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت معلوم ہوتی ہے اور وہ غور کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں کے لئے اچھا ہے۔ جس شادی کو منع کیا ہے اور اس کا عرب میں بھی رواج تھا اور آج کل ہمارے بعض پسماندہ Backward ضلعوں میں بھی جہالت کی وجہ سے اس کا رواج ہے کہ ایک بڈھا ہے بھائی اور ایک چھوٹی عمر کی بیٹی ہے اور وہ شادی کی خاطر مجبور کرتے ہیں کہ تم اپنی چھوٹی بہن جس کے ساتھ کوئی پچاس ساٹھ سال کا فرق ہے وہ دو تو پھر ہم اپنی بہن تمہیں دیں گے۔ اس قسم کی شادیاں ہوتی ہیں اور یہ بھی شرط ہوتی ہے کہ اگر کسی کی بہن کی اپنے خاوند سے معاشرت ٹھیک نہ ہو تو یہ گھر آئے گی تو دوسری بھی بے چاری مظلوم بے وجہ دوسرے کے گھر پہنچ جائے گی۔ کیونکہ اس طریق کار میں بے وجہ سوسائٹی میں دکھ پیدا ہوتا تھا اور ظلم ہوتا تھا۔ شادیوں کے پیوند میں بھی اور ان کے پیوند ٹوٹنے میں بھی اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس طریق کو منع فرمایا۔ ابھی بھی اگر کوئی یہ کرے تو ناجائز ہے۔ (الفضل ۲۴؍فروری ۱۹۹۹ء صفحہ ۳۔ مجلس عرفان دورۂ کراچی ۲۷؍فروری ۱۹۸۳ء)
    سوال :5 ایسے ملک میں حق مہر کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے جیسے انگلینڈ ہے یا جرمنی ہے جس میں عورت کو پیسے مل جاتے ہیں اور وہ نوکری بھی کرتی ہے اور جب طلاق ہوتی ہے تو اس کو ویسے آدھا حصہ ہر چیز کا قانونی طور پر مل جاتا ہے؟
    جواب: وہ جو حصہ ہے قانونی طور پر وہ ملک دلواتا ہے وہ شریعت کی وجہ سے تو نہیں ملتا۔ تو قرآن کریم نے تو ساری دنیا کے لئے ضرورت مہیا کی ہے۔ صرف یورپ اور امریکہ کے لئے تو نہیں وہ تو ہر زمانے کے لئے ہ۷ے اس لئے ان ممالک کے جو قوانین ہیں وہ اپنی جگہ کام کرتے ہیں بے شک کریں لیکن (دینی) حق مہر ضروری ہے تاکہ شریعت کے تقاضے پورے ہوں۔
    (پروگرام جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۸؍فروری ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۶؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :6 ایک سوال کیا گیا کہ اخبارات میں ذکر آیا ہے کہ ایک خاتون عاصمہ جہانگیری نے ایک نکاح پڑھایا ہے۔ کیا عورت نکاح پڑھا سکتی ہے؟
    جواب: فرمایا :۔سنت نبوی سے ایک بھی ایسا واقعہ یاد نہیں آتا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کسی عورت نے نکاح پڑھایا ہو۔ تاہم جس ملک اور جن حالات میں یہ نکاح پڑھا گیا ہے وہاں تو جائز و ناجائز کے تصور بدل گئے ہیں اس لئے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔
    (مجلس عرفان الفضل ۲۴؍جون ۱۹۹۹ء صفحہ ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :7 جو غیرمذاہب میں شادیاں ہوتی ہیں اس میں ہم جاسکتے ہیں؟
    جواب : کیوں نہیں شوق سے جائیں مگر ان کی رسموں میں شامل نہ ہوں۔ ڈانسوں وغیرہ میں ننگے اس طرح پھرنا غلط ہے۔ اپنی حفاظت جس طرح اب آپ نے کی ہوئی ہے بہت اچھی لگ رہی ہیں ماشاء اللہ طریقے سے برقعہ اوڑھا ہوا ہے اسی طرح آپ شادیوں میں جایا کریں اور اپنی حفاظت کیا کریں۔ اپنے ساتھ اپنی بہنوں وغیرہ کو لے جایا کریں تاکہ گروپ اکٹھا ہو جایا کرے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل ۲۴؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :8 کیا دین میں چار بیویوں کے علاوہ لونڈی رکھنی جائز ہے۔ ویسٹرن کلچر میں رہنے والے بچے پوچھتے ہیں کہ چار بیویوں کا کیا جواز ہے اور ساتھ یہ لونڈی والا کیا حکم ہے کیا دوسری بیوی لانا پہلی بیوی کے ساتھ ناانصافی اور انسانی فطرت کے خلاف نہیں؟
    جواب: قرآن کریم تو غلامی کے خلاف ہے۔ آزادی کا علمبردار ہے اور جہاں بھی غلامی کی بات ہوئی ہے وہاں خصوصیت کے ساتھ ان جنگوں میں غلام بننے والوں کا حوالہ ہے جو اس زمانے کے دستور کے مطابق غلام بنائے جاتے تھے اور دونوں طرف سے بنائے جاتے تھے اس زمانے میں کوئی ایسا انتظام تو نہیں تھا کہ وارکیمپس ہوں جہاں ہزارہا مردوں عورتوں کو اکٹھا رکھا جائے۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ قیدی تقسیم کئے جاتے تھے۔ ان میں عورتیں بھی تھیں اور مرد بھی اگر اس خصوصی صورت حال کو پیش نظر رکھ کر مناسب حال حکم جاری نہ ہوتا تو سارا معاشرہ کئی قسم کی بدیوں سے بھر جاتا۔
    یہ بھی یاد رکھیں کہ مقابل پر دشمن وہی کرتا تھا اور جب دشمن کے قیدیوں سے ایک سلوک کرتا ہے تو عمومی طور پر وہ سلوک ان لوگوں کے نزدیک مناسب ہو یا نامناسب ہو ایک جنگ کا قانون ہے جو ایک جنگ کے عدل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جنگی عدل کا تقاضا یہ ہے کہ دشمن اگر تم سے کوئی زیادتی کرتا ہے تو تم اسی حد تک زیادتی کرسکتے ہو لیکن دین میں یہ زیادتی خاص قواعد اور پابندیوں کے تابع ہے۔ وہ دشمن جو اس زمانے میں دوسری قوموں کے قیدیوں پر دسترس رکھتے تھے ان پر قبضہ کرتے تھے وہ طرح طرح کے مظالم ان پر کرتے تھے اور دین نے ان کی اجازت نہیں دی حالانکہ جنگی عدل کا اگر اطلاق ہو تو دین کو بھی اجازت تھی کہ ویسی ہی بہیمانہ کارروائیاں اس وقت تک اس سے کریں جس حد تک وہ مسلمان قیدیوں پر کیا کرتے تھے۔ مثلاً جنگ کے دوران مثلہ کرنا چہرہ بگاڑنا اور کئی قسم کی بدحرکتیں تھیں قطعاً دین نے ان کی اجازت نہیں دی۔
    غلاموں کے متعلق یہ تاکید فرمائی کہ تمہارے پاس ٹھہرے ہیں مگر بندے خدا کے ہیں اور تم امین ہو تم ان کے بارے میں جوابدہ ہو گے۔ تمہارے لئے ضروری ہے کہ جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔ جو خود کھاتے ہو ویسا ہی ان کو کھلاؤ اور اگرتم نے ان پر زیادتی کی تو تم خدا کے حضور پکڑے جاؤ گے۔ جو لونڈیوں والا حصہ ہے اس کی اجازت دینا اس لئے ایک مجبوری تھی کہ یہ لونڈیاں اگر گھروں میں پلتیں اور ان کے بارے میں کوئی ایسی تعلیم نہ دی جاتی تو خطرہ تھا کہ سارے معاشرے میں بعض بدیاں پھیل جائیں گی اس لئے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ شادی بیاہ کے قانون بنائے۔ پس گناہ کا ایک غلط تصور بعض ذہنوں میں موجود ہے۔ اگر واقعتہً یہ قانون خدا کی طرف سے ہے تو جس طرح شادی جائز ہے اس طرح یہ بھی جائز ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ تو حق ہے کہ ایک بیوی کی اجازت دے دے یا دو بیویوں کی اجازت دے دے مگر یہ حق نہیں ہے کہ شادی کا ایک اور طریق رائج کردے۔ پس جو دینی قوانین ہیں ان کا ماخذ خدا ہے اور اگر کسی کو یہ اعتبار نہیں تو پھر اعتراض کا حق ہی کوئی نہیں رہتا۔ پھر سیدھا سادھا جواب ہے کہ دشمن اس سے بہت زیادہ ظلم کیا کرتا تھا مسلمانوں نے اس سے بہت کم کرلیا تو تمہیں کیا تکلیف ہے۔ لیکن کو ئی مستقل قیدیوں کو بنانے کا اور بیچنے اور خریدنے کا ایسا نظام قرآن کریم نے جاری نہیں فرمایا جو ہمیشہ کے لئے آئندہ نسلاً بعد نسلٍ منتقل ہوتا رہے۔
    اگر کسی لونڈی سے اس کے مالک کا بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ آزاد ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی غلام یہ چاہتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں کیونکہ ان کو رکھنے کا اور انتظام کا ایک خرچ ہوا کرتا تھا اس لئے ہر قیدی کا ایک فدیہ ہوا کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی پابند کر دیا کہ اگر کوئی غلام یہ کہے کہ میں اس وقت نہیں دے سکتا مگر میں کما کے دوں گا اور مالک انکار کرے تو وقت کے خلیفہ کا امام کو یہ حق حاصل ہے کہ زبردستی اس کو آزاد کروائے اور یہ دیکھے کہ جس حد تک اس کو توفیق ملے اس توفیق کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنی قیمت ادا کرے پھر ہر قسم کے گناہوں میں معافی کی شرط یہ رکھ دی کہ ایک غلام بھی آزاد کر دیا اتنے غلام آزاد کرو۔ پس آزادی کی ساری تعلیمیں ملتی ہیں غلام بنانے کا کوئی ذریعہ دکھائی نہیں دیتا۔ سوائے اس جنگ کے جو مدافعانہ جنگ ہو اس میں دشمن پہل کرے گا تو تمہیں موقع ملے گا۔ پس ایک ایسا برتن جس میں داخل ہونے کے رستے بہت ہی تنگ ہوں اور شاذ ہوں اور اس سے نکل جانے کے رستے بہت کھلے کھلے اور بکثرت ہوں اس میں پانی ٹھہر کہاں سکتا ہے۔ پس اگر مسلمان سچے طور پر دین کی تعلیم پر عمل کرتے تو کسی غلامی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا تھا۔ بعد میں لوگوں نے اپنے نفس کے بہانے بناکر غلامی کو جاری رکھنے کے لئے عذر تراشے ہیں ورنہ حقیقت میں قرآن کریم سے پتا چلتا ہے۔ فرمایا کہ کسی کو غلام بنانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ جب تک کہ خونریز جنگ نہ ہو۔ معمولی جھڑپ نہیں کہ رستہ چلتے کسی سے لڑائی ہوگئی تو پکڑ کے غلام بنالیا۔ خونریز جنگ کا ذکر ہے اور اس میں یہ بات مضمر ہے لازماً شامل ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے حوالے سے جنگ مدافعانہ ہو۔ تو جنگ کرنے کا اختیار نہیں ہے سوائے اس کے کہ دشمن ٹھونسے اور پھر قیدی اس وقت بنانا ہے جب واقعتہً سنگین لڑائی ہو اور خونریز لڑائی ہو۔ اس زمانے میں کہیں کوئی ایسی جنگ مجھے نظر نہیں آرہی جو مذہب کو مٹانے کے لئے جنگ لڑی جارہی ہو اور اس میں مسلمان خواتین سے وہ سلوک کیا جارہا ہو کہ ان کو لونڈی بنایا جارہا ہو اور پھر اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ اجازت ہو کہ وہ ایسا ہی کریں۔
    غلامی کی تعلیم کے متعلق جو غلط تاثرات قائم ہیں ان کو دل سے نکالیں۔ دین تو آزادی ضمیر کا اور آزادی انسانیت کا علمبردار ہے بلکہ جو غلاموں کو آزاد نہیں کرتے قرآن کریم میں ان کے متعلق بڑے سخت لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ فَکُّ رَقَبَۃِِ کا جو مضمون بیان ہوا ہے ایسے وقت میں سچے مومن وہ ہیں جو گرے پڑے لوگوں کو اٹھاتے ہیں، جو گردنوں کو آزاد کرتے ہیں۔ پس آزادی کی مہم کا نام ہی سچا ایمان ہے اور غلامی مجبوری کے استثناء ہیں اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
    ایک جواب الزامی ہے کہ یورپ اور مغرب عجیب شرافت کے لبادے اوڑھ کے سوال کرتا ہے۔ ان کو یہ تو نظر آجاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ عورتیں ہوں تو پہلی بیوی کی دل شکنی ہوئی لیکن یہ نہیں دکھائی دیتا کہ اتنی بے حیائی ہے کہ ایک عورت کو رکھ کر اس کے حقوق ادا کرکے اس کے ساتھ تعلق قائم کرنا تو ان کو وحشت اور بربریت دکھائی دیتی ہے مگر معاشرے میں ہر طرف بے حیائی عام ہو جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر جنگ کے بعد ایک سے زیادہ شادی نہ کرنے کے نتیجے میں ان کے معاشرے پہلے سے زیادہ گندے ہوئے ہیں۔ یہ میں نے اپنی ایک کتاب Response to the contemporary issues میں تفصیل سے اس بات کو بیان کی ہے۔ (مجلس عرفان الفضل ۲۴؍اکتوبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۳تا ۴۔ ریکارڈنگ ۹؍فروری ۱۹۹۴ء) سوال :9 حق مہر عورت کو کیوں دیا جاتا ہے اور ہم حق مہر کے متعلق کس طرح غیروں کو بتاسکتے ہیں؟
    جواب: حق مہر عورت کو اس لئے دیا جاتا ہے کہ کچھ اس کی ذاتی ملکیت بھی ہو اور اگر علیحدگی ہو تو اس کے پاس کوئی سرمایہ موجود ہو وہ اپنا کام بھی کرسکے اور حق مہر فوراً دے دینا چاہئے۔ لمبا لیکھا نہیں ہے۔ بہت بعد میں بلکہ شادی کے وقت شروع میں ہی دے دینا چاہئے تاکہ بیوی اپنی مرضی سے اس کو کام پر بھی لگاسکے۔ اگر شادی ہو تیس سال پہلے اور حق مہر تیس سال بعد دیا جائے تو وہ روپیہ جو تیس سال پہلے حق مہر میں باندھا گیا تھا اس کی تو ویلیو ہی ختم ہو جائے گی اس لئے یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ حق مہر پہلے دیا جائے پھر بیوی اپنی مرضی سے اس کو اپنے کام پر لگاسکتی ہے اور اس میں کافی برکت پڑسکتی ہے تو یہ احتیاطاً اس لئے ہے کہ تاکہ اس کو یہ خیال ہو کہ اگر خدانخواستہ علیحدگی ہو تو میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکوں۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۸؍فروری ۲۰۰۲ء صفحہ۳ ۔ ریکارڈنگ ۲۶؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :10 قرآن پاک کی بہت سی جگہوں پر جہاں جہاں بیویوں کا ذکر آیا ہے ان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذکر آتا ہے کہ جن کے مالک ان کے داہنے ہاتھ ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو اگر باقاعدہ نکاح کے ذریعہ عقد میں لایا جاتا تھا تو وہ تو بیویاں ہوئیں نہ کہ وہ جن کے مالک ان کے داہنے ہاتھ ہوئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو بیویوں سے علیحدہ پیش کرنے کا کیا مقصد ہے؟
    جواب: یہ بالکل درست ہے کہ درحقیقت اس مسئلہ میں چونکہ مختلف علماء اور بزرگوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس لئے الجھنیں باقی رہ گئی ہیں اور میرے نزدیک یہ بات درست ہے کہ وہ اس زمانہ کے حالات میں جو آئندہ بھی آسکتے ہیں، جب آئیں گے ان پر عمل درآمد ہوگا۔ یہ نہیں کہ یہ ماضی کا حکم ہے۔ بعض حالات سے تعلق کا حکم ہے۔ وہ حالات ان احکامات کی شرائط ہیں۔ وہ شرائط جس جگہ جہاں بھی پیدا ہوں گی وہ احکام دوبارہ عمل دکھائیں گے۔ وہ شرائط یہ تھیں۔ حالات یہ تھے کہ عربوں میں چونکہ غلامی کا رواج تھا اور ساری دنیا میں تھا۔ اس لئے اس زمانہ میں غلام عورتیں اور غلام مرد بکا بھی کرتے تھے۔ جب تک قرآن کریم نے بالآخر غلامی کا صفایا نہیں فرمایا اور اس طریق کو کہ کسی آزاد کو پکڑ کر بیچ دیا جائے قطعاً رد نہیں فرمادیا۔ اس وقت تک یہ طریق رائج تھا پہلے معاشرے کے ورثے کے طور پر جو رسمیں عربوں میں رائج تھیں، انہوں نے مال خرچ کئے اور غلام خریدے۔ ان کو حرام قرار دے کر دین حق نے آزاد کروایا۔ دین نے کثرت کے ساتھ ان کی آزادی کے ذرائع مہیا فرما دیئے۔ نصیحتیں کیں۔ گناہوں کی پاداش کے نتیجہ میں بھی مسلمانوں کو کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنے کی بکثرت تلقین فرمائی۔ خدا کی رضا کی خاطر غلام آزاد کرنے کی کثرت سے تلقین فرمائی۔ تو ان کو آزاد کرنے کے رستے بہت کھول دیئے۔ لیکن داخل ہونے کے وہ رستے بند کر دیئے جو اس زمانہ میں رائج تھے کہ کسی آزاد پر غلبہ پاکر اسے بیچ دیا جائے۔ اور قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ فرمایا کہ سوائے خون ریز جنگ کے کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ کسی کو غلام بنائے اور اس کے علاوہ آنحضرت ﷺ نے سختی سے اس بات سے منع فرمایا۔ بلکہ انذار فرمایا کہ جس کو خدا نے آزاد پیدا کیا ہے کون ہے جو اس کو غلام بنائے۔ یہ باتیں یاد رکھنی چاہئیں پس منظر کے طور پر۔ اس پس منظر میں میرا ذاتی استنباط یہ ہے اور حضرت مصلح موعودؓ نے جہاں اس سے اختلاف فرمایا ہے آپ کا اپنا ایک فہم القرآن ہے جو بہت ہی گہرا ہے اور بہت ہی توقیر رکھتا ہے۔ اس سے نعوذباللہ من ذالک۔ اس مقام کو میں چیلنج نہیں کررہا۔ لیکن حضرت مصلح موعود ؓنے جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓسے بعض جگہ اختلاف فرمایا حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓکا بھی فہم قرآن ایک خاص عظیم مرتبہ رکھتا تھا۔ اور بعض جگہ احمدی یہ بتاتے ہیں مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ایک تفسیر پیش فرمائی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کے علاوہ کوئی دوسری فرمائی ہے۔ اس کو میں اختلاف تو نہیں کہتا۔ مختلف تفاسیر ہیں۔ لیکن خلفاء کا آپس میں اختلاف بھی جائز ہے۔ میرے نزدیک قرآن کریم سے جہاں تک میں سمجھا ہوں بیویوں کے علاوہ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ کا ذکر ہے یہاں وہی لوگ ہیں جن کا میں ذکر کررہا ہوں کہ جنگی قیدی کے طور پر عورتیں تقسیم ہوتی تھیں اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خاندانوں پر ڈالی جاتی تھی۔ ان کے خاوند قتل ہو چکے یا باہر رہے۔ عورتیں الگ آگئیں۔ ان کو اگر معاشرہ میں جذب نہ کیا جائے اور کھلی چھٹی دے دی جائے تو اس صورت میں بہت سی بے حیائی پھیل سکتی تھی تو خداتعالیٰ نے اس کا علاج یہ فرمایا کہ بے حیائی کی بجائے اپنے امر سے خاص شرطوں سے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ اپنی قیدی خواتین سے اس حد تک تعلقات قائم کرسکتے ہو کہ معاشرہ بد نہ ہو۔ گھر میں الجھن پیدا نہ ہو۔ بیویوں کی خاوندوں سے چپقلش نہ ہو۔ کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔ تو کئی قسم کے مسائل ہیں۔ ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہر انسان اپنے تصور میں معاشرے کی اقدار کو لاسکتا ہے۔ اس کی الجھنوں کو لاسکتا ہے تو میرے نزدیک تو بہت ہی اعلیٰ اور پاکیزہ حکم تھا کہ بجائے اس کے کہ ایک انسان کی آزمائش اس حد تک ہوکہ وہ بے راہ روی اختیار کرکے خدا کا باغی بھی بنے اور سارے معاشرے کو گندہ کرے۔ خاص حدود کے تابع ان کے ساتھ تعلقات کی اجازت بطور شادی شدہ جوڑے کے دے دی اور اس کو آپ اس لئے ناجائز نہیں کہہ سکتے کیونکہ شریعت کے جواز یا عدم جواز کا تعلق محض امرالٰہی سے ہے۔ جب امرالٰہی آگیا تو اس میں یہ بحث کرنا کہ بیوی کے علاوہ خدا نے کیوں جائز قرار دیا ہے، خدا مالک ہے، تم کون ہوتے ہو ان باتوں میں دخل دینے والے۔ خدا جو چاہے کرتا ہے۔ اس لئے میرے نزدیک یہ حرام حلال کی بحث نہیں ہے۔ یہ خداتعالیٰ کی مالکیت اور ملکیت کا ایک اظہار ہے اس نے جہاں ایک کی بجائے چار کی اجازت دی ہے وہاں اس کے علاوہ کچھ اردگرد کے ماحول کے جو مسائل ہیں ان کے حل کے لئے اور بھی اجازت دی ہے۔ مگر وہ شرطیں وہی ہوں گی جن کا میں پہلے ذکر کرچکا ہوں۔ ان شرطوں کی رو سے اس زمانہ میں کوئی انسان کسی کو غلام نہیں بناسکتا۔ اس لئے یہ بحث ماضی کی بحث تو ہے، موجودہ حالات پر اطلاق پانے والی نہیں ہے۔ کیونکہ جب تک وہ جنگ نہ ہو جو شریعت کے لحاظ سے جہاد کہلائے اور جو ایک مسلمان پر ٹھونسی جائے اور اس کے نتیجہ میں جو غلام اور ایسی عورتیں جو لونڈیاں کہلاتی ہیں پیدا ہوں۔ اس وقت تک یہ احکام جو ہیں یہ ماضی کے ایک خاص دور سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کی اس وقت کی مجبوریاں تھیں اور چونکہ خدا نے دوسرے رستے بند فرمادیئے اور رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت کو پکڑ کر بیچنے کا حکم قطعاً حرام قرار دے دیا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ اب ہم بنی بنائی غلام عورتیں خرید لیں یہ بالکل ناجائز بات ہے۔ ہندوستان سے بعض عرب ان کی غربت سے فائدہ اٹھا کر لے کے آتے ہیں صراحتاً رسول اللہ ﷺ کی بات کی خلاف ورزی ہے کسی انسان کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ عام حالات میں کسی کو پکڑے اور غلام کے طور پر بیچ دے۔ اس لئے یہ علمی بحث ہے خاص حالات سے تعلق رکھنے والی ہے۔
    ایک اور بحث بھی ہے جو اس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ آئندہ اگر ایسے حالات پیدا ہوں اور اس زمانے میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والی قوم اس رنگ میں حملہ کرے کہ جہاد فرض ہو جائے۔ ایسی قوم اگر مسلمان عورتوں سے ان قیدیوں سے شرافت کا سلوک کرے، ان سے اچھا معاملہ کرے اور مسلمان کہیں کہ جی ہمیں اجازت ہے کہ ہم ان سے وہ سلوک کریں جو لونڈیوں سے کیا جاتا ہے تو یہ سراسر ظلم ہوگا اور مسلمان عورتوں کی عزتوں پر ظلم کا ہاتھ اٹھانے پر اکسانے کے مترادف ہوگا۔ اس لئے عقل سلیم سے کام لینا چاہئے۔ یہ ایسے احکامات ہیں جن کا اس وقت کے رائج معاشرے سے تعلق ہے اور رائج دستور اور اقتصادی باہمی دو طرفہ تعلقات سے اس کا ایک تعلق ہے اسلئے وہاں یہ بات مفہوم کے اندر داخل ہے کہ یہی اجازت دین نے اس لئے دی کہ مقابل پر مسلمان عورتوں سے وہ ایسا ہی بلکہ اس سے بدتر سلوک کرتے تھے۔ اس لئے اسلام کی اجازت بہت ہی مہذب ہے ا سکے مقابل پر جو دشمن سلوک کیا کرتا تھا۔ پس اس پہلو سے دو طرفہ تعلق کا جو معاملہ ہے اس میں جائز یا ناجائز کی بحث صرف یہ اٹھتی ہے کہ عقل سلیم کا کیا تقاضا ہے قومی مفادات میں جائز سے فائدہ اٹھایا جائے یا نہ اٹھایا جائے۔ اگر آپ اپنے جائز سے فائدہ اٹھا کر مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کا موجب بن جاتے ہیں تو یہ خودکشی کے مترادف ہے۔ یہاں جائز ناجائز کی بحث نہیں۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴؍دسمبر ۲۰۰۲ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۴؍نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال :11
    حق مہر اور اس کا فلسفہ
    اسی ضمن میں خواتین کی طرف سے ایک سوال یہ بھی حضور کی خدمت میں پیش ہوا کہ اکثر خاوند حق مہر ادا نہیں کرتے اور مانگنے کی صورت میں کہتے ہیں کہ ساری عمر انہی کا کھا پی رہی ہیں لہٰذا علیحدہ حق مہر کی ادائیگی کا کیا سوال؟
    جواب: حضور نے فرمایا یہ بھی لغو بات ہے۔ مشقت کی تقسیم (Division of Labour) کی وجہ سے خدا نے مرد کی کمائی میں عورت کا حق رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتیں تمہارے لئے ایک غیرمعمولی قربانی کرتی ہیں وہ تمہارے بچے پیٹوں میں پالتی ہیں ان کو اپنا خون دیتی ہیں۔ اپنی ہڈیاں دیتی ہیں، اپنا دماغ، اپنی آنکھیں اور اپنے ناخن تک دیتی ہیں اور پھر جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کی پرورش کرتی ہیں۔ تمہارے گھروں کو سنبھالتی ہیں تو پھر کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے جو تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے رحم و کرم پر پل رہی ہیں۔ پس یاد رکھیں کہ حق مہر بالکل اور چیز ہے۔ وہ اس فلسفہ کے تابع ہے کہ بعض ظالم مرد یا بعض ظالم عورتیں (غلط تربیت یافتہ ماحول میں بسااوقات ایسی عورتیں بھی پائی جاتی ہیں جن کی زبان درازی، گندی تربیت اور اولاد کے معاملہ میں ٹیڑھی روش خاوندوں کو مجبور کردیتی ہے کہ وہ طلاق دے دیں) اگر ایسی صورت حال پیدا کردیں کہ علیحدگی اختیار کرنی پڑے تو ایسی صورت میں بھی فرمایا کہ معروف کے مطابق سلوک رکھو اور اگر سمجھتے ہو کہ نباہ مشکل ہے تو پھر احسان کے ساتھ چھوڑ دو اور احسان کا مرحلہ حق مہر کی ادائیگی کے بعد آتا ہے، پہلے نہیں آتا۔ طلاق کی صورت میں جب عورت الگ زندگی بسر کرنا چاہے تو ساری عمر تو اس نے کچھ کمایا نہیں خاوند کی کمائی پر بیٹھی ہوئی تھی تو حق مہر کی صورت میں نئی زندگی کے لئے اس کو کچھ زادراہ مل جائے کچھ سرمایۂ حیات میسر آجائے جس سے وہ اپنی گزراوقات کے سامان کرسکے۔ گویا حق مہر آزادانہ باعزت زندگی کے انتظام کی ضمانت ہے۔ اس لئے یہ اتنا تھوڑا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ وہ صرف نام کا ہی رہ جائے اور اتنا زیادہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اس کی ادائیگی مرد کی استطاعت سے باہر ہو جائے۔ تھوڑا حق مہر مقصد کو پورا نہیں کرے گا اور زیادہ ہو تو مرد بخشوانے لگ جائیں گے۔ پس یہاں بھی اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔
    بہنیں ان سوالوں کو قبل ازیں لجنہ کی ملاقات میں بھی اٹھا سکتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے سوال کرنے کا حق بڑے موقعہ اور محل پر استعمال کیا ہے اور ہمارے آقا نے بھی ان کے سوالوں کو ایسے پیارے رنگ میں پذیرائی بخشی کہ روح وجد کرنے لگی۔
    (الفضل مورخہ ۹؍فروری ۱۹۸۴ء)
    وراثت
    سوال :1 موجودہ سائنسی علوم نے ثابت کیا ہے کہ بچہ کی ولادت اور پرورش اور شخصیت کو بنانے میں والدہ کا حصہ والد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ آغاز حمل کے وقت بچے کو بے شک 23کروموسومز باپ کی طرف سے ہوتے ہیں اور 23ماں کے مگر اس کے بعد باپ کا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ ولادت کے بعد ماں دودھ پلاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے باوجود بچہ والد کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کو حق ولایت ملتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
    جواب: جہاں تک ماں کے بچہ پالنے کا تعلق ہے موجودہ سائنس کے حوالے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ یہ تو معروف باتیں ہیں، قدیم زمانے سے جب سائنس ایجاد بھی نہیں ہوئی تھی کسی قسم کی سب جانتے تھے کہ ماں کے پیٹ میں پلتا ہے۔ وہی زیادہ بوجھ اٹھاتی ہے۔ وہی خدمت کرتی ہے۔ لیکن باپ کی طرف منسوب ہوتا ہے اور یہ دین حق نے نہیں شروع کیا۔ یہ قدیم سے ساری دنیا میں چلا آیا ہے۔ ایک یونیورسل گواہی ہے۔ اس کو آپ کیسے رد کریں گے؟ اس کا دین سے تعلق ہی نہیں ہے۔ اس کا یونیورسل انسانی رواج ہے۔ اور ہر ملک میں ہر قوم میں یہی رواج جاری ہوا۔ بعض قوموں میں استثناء موجود ہیں مگر میں ایک عالمی عمل کے طور پر آپ کو بتا رہا ہوں مرد ہی سے نام چلے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم کی شخصیت میں مردانگی کی صفات کا بہت بڑا دخل ہے اور جب قوموں کو زندگی کا خطرہ ہوتا ہے تو مرد ہوتے ہیں جو آگے بڑھتے ہیں۔ انہی کا ذمہ ہے کہ وہ دفاع کریں اور شروع ہی سے مردوں ہی کے ذمہ ہے کہ وہ اقتصادی بوجھ اٹھائیں۔ وہاں بھی اگرچہ استثناء ہیں تھوڑے تھورے جیسے افریقہ میں ہیں بعض جگہ لیکن تمام انسانی تاریخ کا عمل یہ بتارہا ہے کہ مردوں نے ہی اکثر و بیشتر جو اقتصادی نظام ہے اس کو چلانے کی ذمہ داری قبول کی اور وہی چلاتے رہے۔ عورتیں جو بھی وہ Dependent رہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ 9 مہینے ماں نے جو پرورش کی ماں کی پرورش کون کررہا تھا اور بچہ بننے کے بعد بڑے ہونے تک جو پرورش تھی وہ کس نے کی تھی۔ ماں نے یا باپ نے۔ اکثر صورتوں میں باپ کرتا رہا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر جب ایک باپ کی شکایت کی گئی کہ یہ مجھ پر ظلم کرتا ہے یا میرے حق نہیں دیتا تو رسول کریمؐ نے باپ کو بلایا۔ اس نے ایک عرب شاعر کا کلام پیش کیا کہ یہ چھوٹا سا تھا جب اس کو بولنا نہیں آتا تھا میں نے اس کو بولنا سکھایا۔ میں نے اس کو ادب سکھایا۔ چھوٹا سا تھا اس کو چلنا نہیں آتا تھا۔ میں نے قدم بقدم چلنا سکھایا اور اس کو فنون حرب سکھائے اور بتایا کہ کس طرح تلوار چلائی جاتی ہے۔ کس طرح تیراندازی ہوتی ہے اور اسی طرح اس نے اس کی اقتصادی حالت وغیرہ کو بیان کرنا شروع کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ شعر سنے تو آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ باپ جو ہر قسم کے خطرات مول لیتا ہے اور اپنے گھر کو چلاتا ہے یہ وقتی طور پر کسی قوم میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ انسان کے حوالے سے کہہ رہا ہوں کہ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ اسی طرح ہوتا رہا ہے۔ اس کو کیسے نظرانداز کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا کہ باپ کا ہے باپ کی طرف منسوب ہوتا ہے یہ درست ہے لیکن یہ کہنا کہ ماں کی طرف نہیں ہوتا یہ غلط ہے۔
    قرآن نے ماں کے حقوق بڑے زور اور شدت سے بیان کئے ہیں۔ لیکن جہاں تک انسان کے قوی تشخص کا تعلق ہے وہ باپ کی طرف منسوب ہوگا۔ کیونکہ ا سکی پرورش اور بڑھانے میں زیادہ دخل باپ کا ہے۔ لیکن ماں کی پرورش میں بھی باپ ہی کا دخل ہے۔ یہ بھی ایک پہلو ہے جس کو آپ نہیں بھلا سکتے۔ ایسی صورت میں استثناء کو پیش نظر رکھ کر کوئی عام قانون جاری نہیں کیا جاسکتا۔ بعض دفعہ مائیں پالتی ہیں اور یہ قانون جاری ہو جاتا ہے کہ جہاں مائیں پالتی ہیں اور باپ نہیں وہاں بیٹا ماں کا ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ باپ نان نفقہ نہ دے اور بچے کا مطالبہ کرے کہ یہ میرا ہے تو یہ استثنائی فیصلے تو اپنے دائرے میں معقولیت رکھتے ہیں۔
    پھر لوگ بھول جاتے ہیں کہ نو سال تک تو (دین) نے بہرحال ماں کو حق دیا ہے۔ وہ صرف ماں کی خاطر نہیں بچے کی خاطر بھی ہے کیونکہ نو سال کی عمر تک بچے کے جذبات ایسے نازک ہوتے ہیں اور ماں سے ایسا تعلق اس کا ہوتا ہے کہ اس سے الگ وہ رہ نہیں سکتا۔ اس کی شخصیت مکمل نہیں ہوسکتی اور اس کے بعد پھر اختیار دیا ہے کہ باپ کے پاس چلا جائے۔ لیکن باپ کو اس عرصہ میں ملنے جلنے کا حق دیا ہے اور یہ دیکھنے کا حق دیا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار جو اس کی ذات یا اس کے خاندان یا اس کے مذہب سے منسوب ہوں عورت اس میں رخنہ تو نہیں ڈال رہی۔ اگر ڈالے گی تو پھر اس سے لے کر باپ کو دیا جاسکتا ہے یا کوئی اور حفاظتی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد بچے کو قضاء میں حق دیا ہے کہ باپ کے پاس جانا ہے یا ماں کے پاس رہنا ہے۔ اب بتائیے ایسا بچہ جو ماں کی پرورش میں اتنا پلا ہو اور ماں نے اس کے ساتھ بہت احسان کا سلوک کیا ہو اور سب کچھ پیار سے رکھا ہو پھر اس وقت باپ کے پاس کیوں جائے گا۔ اگر باپ کے پاس جانے کا فیصلہ کرنا ہے تو بہت معقول بات ہے کہ اس کو باپ کے پاس بھیجا جائے۔ تمام Advantage ماں کو حاصل تھے اور پھر بچے نے کہا کہ میں ماں سے باپ کے پاس جانا چاہتا ہوں اس لئے کہ اس عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کو اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ باپ کے اندر ایک گہری شرافت ہے وہ روز تو مجھے پیار نہیں کرسکتا لیکن میری ذمہ داریاں قبول کررہا ہے۔ میرے اخراجات وہ دیتا ہے۔ ماں کے بھی بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں تو وہ بچے کی فطرت کا پیغام ہے وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور وہ اس کو کہتا ہے کہ ماں ٹھیک ہے اور اکثر صورتوں میں بچے باپ کو مل جاتے ہیں لیکن یہ عرصہ بھی ابتلاء کا تھوڑا سا ہے جب وہ بلوغت کو پہنچا تو پھر قضاء کو یا کسی اور کو دخل دینے کا حق ہی کوئی نہیں۔ نہ زبردستی باپ اس کو لے سکتا ہے نہ زبردستی ماں اس کو لے سکتی ہے۔ وہ آزاد بچہ ہے۔ ماں کے پاس رہے تو شوق سے رہے تو ماں کی حق تلفی کہاں ہوئی۔ نو سال باپ کے خرچ پر ماں نے اس کو پالا اور نو سال کے بعد بچے کو یہ بھی اختیار ہے کہ چاہے تو باپ کے پاس جانے سے انکار کرکے ماں کے پاس رہے۔ اس کو فقہ میںخیار بلوغ کہتے ہیں۔
    خیار بلوغ کے لئے بعض سات سال بھی کہتے ہیں لیکن نو سال والی حدیث ہمارے ہاں رائج ہے۔ سات سال تو بہت ہی جلدی فیصلہ کرنے والی بات ہے۔ نو سال کی عمر تک بچہ کافی حد تک ادھر ادھر دیکھ لیتا ہے۔ فیصلے کرلیتا ہے۔ اب بتائیے ماں کی حق تلفی کہاں ہوئی۔ مجھے کہیں کوئی نظرنہیں آئی ہے۔
    قومیں مردوں سے تشخص پاتی ہیں۔ جس کا باپ نہیں تھا اس کو ابن مریم کہا گیا باقی سب تو ابنائے آدم ہی کہلاتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو مسیح نے بھی ابن آدم کہا ہے۔ تو (دین) پر کیوں اعتراض کرتے ہیں یہ مجھے سمجھ نہیں آتی۔ ایک عالمی دستور ہے اس کے حوالے سے بات ہونی چاہئے اور مذاہب عالم کے دستور کے حوالے سے بھی بات ہونی چاہئے۔ کون سا مذہب ہے جس میں اس کے برعکس فیصلے ہوئے ہیں۔ کوئی ہے۔ کوئی بھی دنیا میں ایسا مذہب نہیں ہے تو جہاں انسان کی تاریخ متفق ہو مذہب کی تاریخ متفق ہو وہاں اعتراض کا کسی کو کیا حق ہے اور دین کی تفصیلی تعلیم تو بہت ہی معقول اور مبنی برحقائق ہے۔ اس پر تو کسی کو کسی اعتراض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی روشنی میں دوسرے مذاہب پر شاید یہ اعتراض ہو کہ انہوں نے اس شان کی تعلیم پیش نہیں کی۔ دین پر نہیں ہوتا۔
    (ملاقات پروگرام، الفضل ۲؍جنوری ۲۰۰۳ء، صفحہ۴،۵۔ ریکارڈنگ ۱۱؍نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال :2 وراثت سے محروم کرنے کی عجیب واردات ۔
    ایک نواحمدی کی طرف سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک کروڑپتی تاجر کے دو لڑکے اس کے کاروبار میں شامل تھے۔ والد کے انتقال پر چھوٹے بھائی نے تمام کاروبار اور مال و اسباب پر یہ کہتے ہوئے قبضہ کرلیا اور بڑے بھائی کو وراثت سے کچھ بھی نہ دینے کا اعلان کردیا کہ چونکہ بڑا بھائی نہ مکمل مرد ہے اور نہ مکمل عورت ہے لہٰذا اس وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا کلام الٰہی کی رو سے بڑے بھائی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
    جواب: حضرت صاحب نے فرمایا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص طبی نقطہ نگاہ سے مرد ثابت ہو اور اولاد سے محروم ہو۔ یہ عین ممکن ہے کیونکہ ظاہری مردانگی اولاد کی ضامن نہیں ہوسکتی۔ اندرونی کمزوریاں اور بیماریاں اس کے باوجود رہ سکتی ہیں تو اس کو بھی پھر اسی دلیل سے وراثت سے محروم کر دیں گے؟ یہ ایک لغو خیال ہے۔ بڑے بھائی کو وراثت سے محروم کرنے کا بہانہ بنایا ہے اور بڑا بھائی معلوم ہوتا ہے تھا بھی کوئی زنخا ہی کہ چھوٹے بھائی کی بات مان گیا ہے۔ اس میں اگر کوئی مردانگی ہوتی تو مقابلہ کرتا اور کہتا چھوٹے بھائی کی جرأت کیا ہے کہ وہ آکے سب کچھ لے جائے۔ اس لئے یہ ساری باتیں فرضی تو نہیں ہیں مگر موہوم سے باتیں ہیں کوئی قطعی ایسے دلائل نہیں ہیں جن کو سامنے رکھ کر ان کا توڑ کیا جائے۔
    ضمناً یہ سوال اٹھایا گیا کہ زنخے کچھ تو عورتوں کے قریب ہوتے ہیں اور کچھ مردوں کے قریب تر ہوتے ہیں۔ تو آیا ان کا جو حصہ بنے گا وہ اسی طرح بنے گا جس طرح مردوں اور عورتوں کا بنتا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ ڈاکٹری نقطہ نگاہ سے دیکھنے والی بات ہوگی۔ مگر میرے خیال میں تو فقہ میں اس طرح کی تقسیم کبھی سننے میں نہیں آئی۔ یہ تفریق بڑا مشکل کام ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ غالباً یہ ہوگا۔ بہتر ہے ایسے استثنائی معاملات میں عقل کو استعمال کیا جائے۔
    (مجلس عرفان، روزنامہ الفضل۔ ۱۲مارچ ۱۹۹۸ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۷؍دسمبر ۱۹۹۶ء)
    سوال :3 چونکہ سب لوگوں کو شریعت کے مسائل کا تفصیلی علم نہیں ہوتا کیا کوئی شخص وصیت کرسکتا ہے کہ میری جائیداد شریعت کے مطابق تقسیم ہو؟
    جواب: ہاں ہاں۔ قطعاً کوئی حرج نہیں۔ مرنے والا یہ وصیت کر جائے اور اگر وہ نہ کرے گا تو تب بھی جب وراثت کا سوال اٹھے گا تو ہر بچے کا حق ہوگا کہ قضاء میں جائے اور کہے۔ لیکن میں نے اور باتیں اٹھائی تھیں۔ زندگی میں فیصلے کرتا ہے تو کہاں تک اس کو پابند کرسکتے ہیں اور مرنے کے بعد 1/3کی پابندی کہاں تک ثابت شدہ حقیقت ہے اور اگر ثابت شدہ حقیقت ہو (یعنی میرے نزدیک ہے لیکن اس کے حوالے دینے پڑیں گے) تو اس کے بعد جس کو چاہے دے سکتا ہے۔ پھر کسی کو اعتراض کا کیا حق ہے۔ وہ جو 1/3 بعض دفعہ چھٹ جاتا ہے قرآن کریم میں یا نصف چھٹ جاتا ہے۔ لوگوں نے ازخود یہ بنالیا ہے کہ وہ نسبتاً زیادہ دور کے رشتہ داروں کو ازخود تقسیم کریں یہ درست نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ فتویٰ نہیں ہے۔ یہ ایک امکان ہے جو میں بیان کررہا ہوں۔ کیونکہ وہ ہوسکتا ہے ایسے قریبی رشتہ داروں کی خاطر چھوڑا گیا ہو جو اگر زندہ ہوں تو ان کے لئے حق موجود ہونا چاہئے اور اگر وہ فوت ہو چکے ہوں تو پھر وہ واپس اول جو ذمہ دار ہیں جن کے نان نفقے کا ذمہ دار ہے ان کو ملنا چاہئے۔ ان کو چھوڑ کر جب یہ استنباط دراستنباط کرتے ہوئے کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں تو ایسی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو طبعاً فطرت انسانی کے خلاف ہیں۔ مثلاً ایک شخص کی صرف ایک بیٹی ہے اور اس کے دو یا تین بھائی ہیں۔ اب وہ اگر فوت ہو تو عام قانون کی رو سے بیٹی کو نصف سے زیادہ نہیں مل سکتا اور بھائیوں کو باقی نصف مل جائے گا۔ تو اب یہ بتائیں کہ یہ کیا فطرت انسانی کے مطابق دکھائی دیتا ہے۔ ایک شخص مر جاتا ہے اس کی بیوی اس سے ورثہ پاتی ہے اور اس کی اپنی اولاد ہے ۔
    بیٹی جو اس کی ذمہ داری تھی اور جو اپنی زندگی میں اس پر سب سے زیادہ حق رکھتی تھی کہ وہ جو چاہے اس پر خرچ کرے۔ بھائیوں کی مجال نہیں تھی کہ وہ دخل دیں مگر مرنے کے بعد وہ آدھے کے حقدار قرار دے دیئے جائیں گے۔ یہ سوچنے والی باتیں ہیں۔ قرآن کریم فطرت کے مطابق ہے اور قرآن کریم میں جہاں گنجائشیں ہیں وہاں فطرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر اس کا ایسا حل ہو جس میں تضادات نہ پیدا ہوتے ہوں تو وہ زیادہ قابل قبول حل ہے بہ نسبت دوسرے کے جس میں فطرت انسانی سے تصادم ہوتا ہو۔ جو خدا نے خود پیدا فرمائی ہے اور میں نے جو مثال دی ہے بڑی واضح ہے اس لئے کہ عقل کے استعمال کئے بغیر یہ استنباط دراستنباط کرتے کرتے کہیں سے کہیں جانکلے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اسی لئے فتویٰ دیا تھا کہ اب معاملات درہم برہم ہوچکے ہیں۔ ہمیں ازسرنو غور کرنا پڑے گا۔ تیرہ چودہ سو سال کی زورآزمائی کے نتیجے میں جو بنیادی واضح روشنی والے اصول تھے ان سے ہٹ کر کئی دھندلکوں میں، اندھیروں میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہمیں ان کو کھینچ کر واپس لانا ہوگا اور چاہے دنیا جو مرضی کہے لیکن قرآن کریم کی تعلیم کے اوپر یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔ لیکن یہ ابھی سب بحثیں جاری ہیں لوگوں نے کئی مجھے احتجاجی خط بھی لکھے مجھے پتہ ہے اور فقہاء بھی ڈھونڈنے لگے ہوں گے کہ فلاں فقیہہ نے یہ کہہ دیا تھا مگر میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو راہنما اصولوں کا قائل ہوں۔ قرآن کو عزت دو اور جو قرآن کی عزت کے خلاف استنباط کرتے ہو وہ درست نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ اب معاملات سب درہم برہم ہوچکے ہیں۔ نئی روشنی تمہیں خود حاصل کرنی پڑے گی۔ اس لئے وہ جو پہلے فتوے تھے کہ اگر نہ ہو تو حضرت امام ابوحنیفہ ؒکے پیچھے چلے جاؤ وہ معاملہ بدل گیا اور یہ آخری فیصلہ آچکا ہے کہ بہت الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں اس لئے تم دوبارہ استنباط کرو۔
    (پروگرام ملاقات۔ الفضل ۵؍مارچ ۲۰۰۳ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۱؍نومبر ۱۹۹۴ء)
    حلال حرام و جا ئز نا جائز
    سوال 1: کیا لڑکیاں سا ئیکل چلاسکتی ہیں؟
    جواب: سائیکل چلانا لڑکیوں کے لئے بالکل منع تو نہیں ہے۔ لیکن یہ خیا ل ضروری ہے کہ اس سے ان کے لئے کسی قسم کے روز مرہ کے خطرات نہ ہوں ۔ مثلا بازاروں میں اگر سائیکل چلاتی پھریں تو کہیں ٹکر لگتی ہے ۔ کہیں کچھ ہو تا ہے ۔ حلیہ بگڑ تا ہے ۔ زمین پر گرتی ہیںاور یہ روز مرہ کی بات ہے۔ کار سے ایکسیڈنٹ ہو جاتے ہیں مگر اس کی با لکل نوعیت اور ہے ۔ وہ زندگی کا خطرہ ہے۔ لیکن اپنی عزت اور اپنے وقار کا اتنا خطرہ نہیں ہوتا۔ سائیکل جو ہے وہ بہت حد تک وقا ر کا خطرہ بن جاتا ہے ۔ اور غنڈوں کے لئے بد اخلاق لوگوں کے لئے ایسی لڑکیوں کو شرارت کے ساتھ گرا دینا یہ کو ئی بعید بات نہیں ہے۔ اس لئے مجھے سائیکل کے متعلق اصولاً تو اعتراض ہرگز نہیں ہے کہ لڑکی چلائے ۔ لیکن جگہ دیکھ لے۔مناسب جگہ ہو ۔ ماحول صاف ستھر ا ہو ۔ضرور چلائے ۔ میں نے اپنی بچیوں کوخود سائیکل چلانا سکھایا تھا۔ اب ہم باہر کبھی ایسی جگہ جاتے ہیںجہاں فضا صاف ہو اور کھلے جنگل میں پردے کی دقتیں نہ ہوں۔تو وہاں وہ خوب سائیکل چلا لیتی ہیں۔اس لئے جو بات میں اپنی بچیوں کے لئے جائز سمجھی آپ کے لئے کیسے نا جائز سمجھ سکتا ہو ں ۔ مگر میں نے سا را پس منظر بتا دیا ہے۔میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عورتیں لندن کی گلیوں میں سائیکل چلاتی پھریں۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴ نومبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۴ نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال 2: کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہاتھو ں کی لکیریں بتاتی ہیں کہ عمر کتنی ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟
    جواب : جھوٹ ہے سا را ۔ بالکل جھوٹ ہے۔
    ( مجلس عرفان الفضل۹ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳ ریکاڈنگ ۳ مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال3: ایک بچی نے پوچھا کہ کیا احمدی لڑکیاں با ل کاٹنے کا کام کر سکتی ہیں؟
    جواب: حضور نے استفسار فرمایا کہ کیا اور کام نہیں ملتا؟ پھر فرمایا عورتوں کے بے شک کاٹیں مگر مکس نہیں لیکن ویسے بھی یہ اچھا کام نہیں ہے۔ مجبوری میں کر سکتی ہیں ،ناجائز نہیں ہے۔
    )دورہ جرمنی الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۹۸ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ دورہ جرمنی اگست ۹۸ء)
    سوال4: میرا سوال ہے کہ اگر ایک بچہ جھوٹ بولے تو اس کی سزا کیا ہے؟
    جواب: اس کی دنیا میں تو کوئی سزا نہیں ہے مگر خدا کے ہا ں سزا ہے۔جو جھوٹ بولتا ہے تو پھر اس کو ساری بدیا ں آجاتی ہیں۔ ایک دفعہ ایک شخص جس کو بہت گندی عادتیں تھیں ۔ چوری بھی کرتا تھا اور کئی قسم کی خرابیاں تھیں۔وہ حضور اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ مجھے صرف کوئی ایک نصیحت کریں ۔میں زیادہ نصیحتیں برداشت نہیں کر سکتا ۔ مجھے بہت ساری عادتیں ہیں ۔مجھے صرف ایک نصیحت کر دیں۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا جھوٹ نہ بولو۔اب بے چارہ وعدہ تو کر گیا ۔اب رات کو چوری کرنے نکلا تو اس نے کہا او ہو لوگوں کو تو پتہ ہے کہ میں چور ہوں ۔اور مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کوئی صبح پوچھے تو میں کیا جواب دوں گا۔پھر اور بدیا ں اسی طرح اس کے دماغ میں آیا کرتی تھیں کہ یہ بدی میں کروں گا اور اگر کسی نے پوچھا کہ کس نے کی ہے تو مجھے ماننا پڑے گا ۔ جتنی بدیاں تھیں ساری اس کا پیچھا چھوڑ گئیں۔ آپ بھی جھوٹ سے توبہ کریں جھوٹ کبھی نہیں بولنا ۔تو اللہ کے فضل سے پھر بالکل نیک بچے بن جائیں گے۔
    (اطفال سے ملاقات ۲۴ جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۰ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال 5: کیا ہم کارڈ کھیل سکتے ہیں؟
    جواب: اگر سیر وغیرہ پر جاؤ ۔اور شغل میلے کے لئے کارڈز کھیل لو تو کوئی گناہ نہیں ہے۔ مگر جو اء نہیں کھیلنا ۔اسی طرح لڈو ہے۔ دوسری کھیلیں ہیں۔ لیکن جواء منع ہے۔کوئی ہار جیت کی شرط نہیں لگانی چاہیے۔روزمرہ اس چیز میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔یعنی جب پڑھائی ہو تی ہے اور دوسرے کام ہوتے ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۹ اپریل ۲۰۰۱ ء صفحہ ۳ ریکارڈ شد ہ ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال 6: کیا یہ سچ ہے کہ ہم Millionium Dom نہیں جا سکتے ہیں ؟
    جواب: جا سکتے ہیں ۔ غلط ہے کس نے کہا ہے کہ نہیں جا سکتے ۔ اس میں کیا حرج ہے سب جگہ پھرتے ہو لندن دیکھتے اور غیر ملکو ں میں جاتے دوسر ے شہروں میں پھرتے ہو تو Millionium Dom میں کوئی شیطان بیٹھا ہے کہ وہاں جانا منع ہے ۔ فضول بات ہے کسی نے خواہ مخواہ فضول بات کر دی ہے۔
    (اطفال سے ملاقا ت الفضل ۶ ۱ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 7: دین صحت مند کھانے کے بارے میں بہت کچھ سکھاتا ہے مگر سگریٹ پینے سے کیوں منع نہیں کیا یہ تو بہت نقصان پہنچاتا ہے ؟
    جواب: اس لئے کہ اس کے نقصان کا لوگوں کو پتہ ہے کسی زہر کے متعلق آپ کو قرآن میں کوئی آیت نہیں ملے گی کہ فلاں زہر نہ کھاؤ فلاں چیز نہ کھاؤ اس لئے کہ انسا ن کو پتہ ہے کہ یہ نہیں کھانا چاہئے ۔ اور قرآن میں حلال کے ساتھ طیّب کی شرط لگی ہے ۔تو یہ جو سگریٹ نوشی ہے یہ طیبّ نہیں ہے ۔کیونکہ نقصان دہ ہے اور اس کے نقصان ساری دنیا کو پتہ ہیں ۔زیادہ سے زیادہ پتہ چلتا چلا جا رہا ہے اس زمانے میں ہیں تو انسان کو عقل کر نی چائیے ۔اور ایسی چیزیں نہیں کھانی چاہئیں۔جس سے مستقل نقصان ہو سکے۔ وہ چیزیں منع ہیں جن سے انسان اپنی عقل کھو دے اور عقل کھو کے نقصان پہنچائے ۔شراب پینے سے عقل کھو جاتی ہے آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ میں کیا کر رہا ہو ں ۔لیکن سگریٹ پینے والا جتنے مرضی چاہے سگریٹ پیئے وہ زہر اس کے پھیپھڑوں میں تو اثر کرے گی لیکن اس کی عقل نہیں ماری جاتی۔ چین سموکرز ہم نے دیکھے ہیں ایک سگریٹ کے بعد دوسرا جلاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے شراب وغیر ہ منع کی ہوئی ہے اور یہ منع نہیں کیا ۔اپنا نقصان خود اٹھاتے ہیں تو اٹھاؤبے شک لیکن عقل نہیں ماری جاتی اور اس کے نتیجے میں تم لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔مگر یہ حَلَالاً طَیِّباً سگریٹ پہ نہیں لگ سکتا کیونکہ وہ کھانے پینے کی چیزوں پہ لگتا ہے۔تو اس لئے اگر کوئی سگریٹ کی نسوار لیتا ہے۔اور منہ میں تمباکو رکھتا ہے تو وہ حرام تو نہیں مگر طیبّ نہیں اس لئے منع ہے وہ نہیں کھانا چاہئے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۸ فروری ۲۰۰۲ صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۲۶ فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال 8: سکول میں جو کھانے کے لئے چیزیں دیتے ہیں وہ حلال نہیں ہوتیں ۔ کیا وہ ہم کھا سکتے ہیں؟
    جواب : چکن(مرغ) تو بسم اللہ پڑھ کے کھا سکتے ہیں ۔ کیونکہ ذبح کیا جا تا ہے۔ ہم نے تحقیق کی تھی پرانے زمانے میں حرام ہو تا تھا کیونکہ گردن مروڑا کرتے تھے ۔ لیکن اب تو چکن کو ذبح کرتے ہیں ۔ اس لئے خون نکل جاتا ہے۔ تو پہلے بسم اللہ پڑھ لیں اور اگر کوئی مسلمان قصاب موجود ہو اور اس کے پاس چکن ہو تو اسی سے لینا چاہیے۔ ہمارے احمدی قصاب ہیں شجا ع صاحب ان سے ہی ہمیشہ چکن منگواتے ہیں ۔ کسی اور جگہ سے لینے کا رسک لیتے ہی نہیں ہیں ۔ ضمناََ میں بتا دوں شجا ع صاحب آجکل بہت سخت بیمار ہیں ۔ ہسپتال میں داخل ہیں ۔تو سب بچے ان کے لئے دعا بھی کریں جو لوگ بھی یہ پروگرام سنیں گے وہ شجاع صاحب کو دعا میں یا د رکھیں ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 9: سوال ہوا کہ قرآن میں سحر کا لفظ استعما ل ہو ا ہے ۔ آپ لو گ جا دو کو کیو ں نہیں مانتے ؟
    جواب : فرمایا جو قرآن نے تشریح کی ہے اس کے مطابق مانتے ہیں۔ دیکھیں ہما را مسلک بالکل واضح ہے ۔اور اس میں ایک روشنی ہے ۔ خدا کے فضل سے ہم کہتے کہ جو محاورہ قرآن اور حدیث میں استعما ل ہو ا ہو ۔ اس کا ماخذہی روشنی کا ماخذ ہے۔ اور محاورہ اگر قرآن ِ کریم سے ثابت ہو جا ئے کہ اس کا یہ معنی ہے تو اس میں انسا ن اپنی طرف سے جب معنی ڈالے گا تو وہ معنی بگڑ جائیں گے ۔ چنا نچہ سحر کا لفظ قرآن کریم نے حضرت موسیٰ اور فرعون کے مقابلے کے وقت استعما ل فرمایا ۔ ایک طرف جادو گر تھے اور ایک طرف
    موسیٰ تھے ۔ جادوگروں نے رسیا ں پھینکیں اور بظاہر سانپ بنا دیا ۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ انہوں نے جادو کیا جادو تھا ؟ فرماتا ہے سحروا اعین الناس انہوں نے لوگوں کے آنکھو ں پر جا دو کیا ۔ پھر فرماتا ہے ۔ان کے لئے یا وہ خیال کرنے لگے کہ وہ سانپ ہیں حالانکہ وہ رسیا ں کی رسیاں رہیں ۔ تو جادو کی حقیقت جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے اس کو modern termsمیں مسمریزم کہتے ہیں ۔ اعین الناس کو ایسا دھوکا دے دینا جس کے نتیجے میں حقیقت اگرچہ وہی رہے مگر وہ تبدیل شدہ شکل میں نظر آئے ۔ یہ ہے قرآن کریم میں مبینہ جادو ۔ دنیا کا کوئی احمدی اس جادو کا انکار نہیںکر تا۔لیکن جہاں ٹونے ٹوٹکے اور قسم کے ہیں ان کا قرآن سے ثبوت ہی نہیں ملتا ۔ ہم ان کو کیوں تسلیم کریں گے۔
    (مجلس عرفان الفضل۲۴ فروری ۱۹۹۹ء صفحہ ۳ دورہ کراچی ۲۷ فروری ۱۹۸۳ء)
    سوال 10: کیا لڑکے دوسری لڑکیوں کے ساتھ سوئمنگ کر سکتے ہیں ؟
    جواب : بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ۔ لڑکی کا اپنی زینت کو چھپانا عام لباس میں بھی ایک خصوصی دینی ہدایت ہے اور سوئمنگ میں تو بالکل بے حیائی ہے اور زینت چھپانے کا کیا سوال ۔ اس میں تو زینت کو حد سے زیادہ اچھال کر نظروں کے سامنے لانے کی بات ہے۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴ دسمبر ۲۰۰۲ صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۴ نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال 11: تعویذگنڈے کروانے کے بارے میں ارشاد فرمائیں کیا یہ اچھی بات ہے یا بری؟
    جواب:ہزار دفعہ یہ گفتگو جماعت کے ذریعے بھی اور خلفاء کے ذریعے بھی سامنے آ چکی ہے۔حضرت مسیح موعود کی تحریروں میں بھی ہے ۔ یہ اس طرح بات کرر ہی ہیں جس طرح نئی بات کر رہی ہیں ۔جس طرح نئی بات ہو تی ہے ۔ تعویذ گنڈہ وغیرہ کو دستورِ زندگی بنا لینا حد سے زیادہ جہالت ہے۔اور تمام دینی معاشرہ کی روح اس سے تباہ ہو جائے گی ۔ اصل دعا ہے۔ حضرت مسیح موعودنے تیرہ سو سال کہ جو رسو م کے خلاف ایک عظیم جہاد فرمایا ۔ اور دین حق کو اس کی اصل صورت پہ بحال کر نے کے لئے بہت بڑی جدوجہد فرمائی ہے۔ یہی در اصل حقیقی مجدیت ہے ۔ اسی کا نام مجددیت ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں اب جماعت جو ابھر کر اور نکھر کر دنیا کے سامنے آئی ہے اس کا مرکزی نقطہ دعا ہے ۔ اس کی سار ی زندگی اس کے تمام اعما ل اور تمام کامیابیاں اس کی تمام کاوشیں اس کے غم و فکر کے علاج دعا میں ہیں۔ اور دعا کو چھوڑ کر تعویذ گنڈوں کی طرف جانا حد سے زیادہ جہالت ہے ۔ یہ تاریک زمانے کی پیداوار باتیں ہیں ۔ اور ایسی قوموں کو دعا سے ہٹا کر جادو منتر وغیر ہ کی طرف منتقل کر دیتی ہیں ۔ یہ کہہ کر دنیا کہ رسول اکرم ﷺ نے دَم کی اجازت دی ۔ یہ ایک بالکل الگ بات ہے۔ تعویذ گنڈے کا معا شرہ پیدا کر نا با لکل الگ بات ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایسا ہر گز یہ کوئی معاشرہ نہیں تھا۔دعا ہی کا معا شرہ اور جس دم کی بات کرتے ہیں اس میں سورۃ فاتحہ بطور دعا استعمال ہوتی ہے اور وہ اب بھی اسی طرح جائز ہے فاتحہ کو دعا کے طور پر آپ چاہے پانی پر پڑ کے دم کرے اور نفسیاتی لحاظ سے اس کو برکت کے لئے دے دیں ۔اس حد تک تو کوئی ہرج نہیں ہے ۔لیکن تعویذگنڈے کی جو یہ بات کر رہی ہیںیا کر رہے ہیں جو بھی ہے لکھنے والا ۔یہ تو بہت خطرناک بہیودہ رسم ہے۔جوروشنی سے اندھیر وں کی طرف لے جانے والی ہے ۔اور حضرت مسیح ِ موعود کے آنے کے مقاصد کے بالکل بر عکس تحریک ہے ۔بالکل بر عکس جماعت کا رُخ موڑنے والی بات ہے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴ دسمبر ۲۰۰۲ صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۴ نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال12:۔ ہم بچے کے پیدا ہونے پر اس کو گھٹی دیتے ہیں اس کا بچے کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے ۔کیا یہ لازمی ہے کہ گھٹی کسی بزرگ سے دلوائی جائے ؟
    جواب:۔حضور مسکرائے اور فرمایا نہیں یہ آپ خود بھی دے سکتے ہیں ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۱۸ فروری ۲۰۰۰صفحہ ۳ یکارڈنگ۴ مارچ ۱۹۹۹ء )
    سوال 13:۔ ایک مسلم حکومت میں رہنے والے غیر مسلموں کو کس حد تک آزادی ہوتی ہے ؟مثلاًوہ قانونی طور پر اسلامی ملک میں رہتے ہوئے شراب پی سکتا ہے ؟
    جواب:۔یہ جو فیصلہ ہے اس کے دو پہلوہیں ۔ایک یہ کہ شرعی احکام کے ہیں اگر قرآنِ کریم میں یہ تسلیم کیا ہو اور یہود اور عسائیوں کو یہ حق دیا ہو کہ تم اپنی شریعت کے مطابق جو چاہو کرو لیکن شریعت پہ عمل کرو تو پھر کس کو حق ہے کہ ان کی شریعت میں اگر کسی چیز کو جائز قرار دیا ہے تو اس کو اپنی شریعت کے تابع حرام قرار دے دے ۔قرآن نے یہ حق دیا ہے اور قطعی طور پر دیا ہے ۔ایک طرف کہتا ہے کہ تم اپنے قول اور فعل میں سے تضاد دور کرو جس چیز ایمان لاتے ہو اس پر عمل کرو ۔اور اس کتاب کو مانو جس کو تم کہتے ہو کہ خدا کی کتاب ہے ۔اور پھر دوسری طرف سے وہ حق چھین لے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے ۔ایک یہ اصول ہے ۔
    دوسرا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی بات جو شریعت کے ہاں قطعی طور پر ناجائز ہو اور بعد کے رواج میں داخل ہو گئی ہو اور وہ انسانی حقوق سے متصادم ہو اس صورت میں قانون ساز اداروں کوایسا قانون بنانا ہو گا جو شریعت کے حوالے سے نہیں بلکہ انسا نی حقوق کے حوالے سے بنانا ہوگا اور اس میں مسلمان ،سکھ،ہندوعیسائی سارے برابر کے شریک ہونگے۔یہ انصاف کی اعلیٰ تعلیم ہے۔جو قرآن نے دی ہے ۔ اس کے مطا بق ہو گا۔ مگر شریعت کے حوالے سے کسی چیز کو دوسرے پر نافذکر نا یہ جائز نہیں ۔
    اب بہت سے ایسے جرائم ہیں جو سب شریعتوں میں حرام ہیں ۔ اس لئے یہ تصادم کا تصو رپیدا کر نا ہی بیہودہ اور لغو کوشش ہے۔ مثلاََ جھوٹ منع ہے ۔بدکاری منع ہے ۔ ہر قسم کے ایسے افعال جو عرفِ عام میں نا پسندیدہ کہلاتے ہیں اور منکرات میں ہیں وہ تقریباََ دنیا کی شریعتوں میں حرام ہیں ۔ مثلاََ بدکار ی ہے اس کا حلال ہونے کا کسی شریعت میں تصور میرے علم میں نہیں ہے ۔ لیکن سزائیں مختلف ہو سکتی ہیں ۔ ایسی صورت میں قرآن کے حوالے سے نہیں بلکہ بعض بدیوں کو دور کرنے کی خاطر جو سب شریعتوں میں مشترکہ طور پر تسلیم شدہ بدیا ں ہیں ۔ قانون سازی ہو سکتی ہیں ۔ لیکن جہاں حد کا معا ملہ ہے ۔ یہ بحث اٹھے گی کہ حد کس پر لگے گی ۔اس کا آنحضرت ﷺخود فرما چکے ہیں ۔ اور بار ہا فرما چکے ہیں ۔ اس لئے اس بحث کو اٹھانا کسی شخص کا حق ہی نہیں ہے ۔ میثاق ِ مدینہ کے رو سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنی قوم میں جس میں ہر قسم کے مذہب کے لوگ اور قومیں بستی تھیں ۔ مدینہ میں ایک قسم کا صدارتی حق حاصل ہو چکا تھا ۔ اور عدلیہ کا بھی آخری حق آپ کو تھا ۔چنا نچہ اس کو سب نے تسلیم کیا ۔اور یہودی بھی اپنے جھگڑے لیکر آتے رہے ۔ اور عیسائی بھی اور مشرکین بھی ۔ آنحضر ت ﷺکا طریق تھا کہ ان کے سامنے تین امکانات رکھتے تھا Options کہنا چایئے ۔ یعنی ان کے لئے تین قسم کے اختیارات تھے اوّل یہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں اس شریعت کے مطابق فیصلہ کروں جو مجھ پر نازل ہوئی ۔ تو یہ بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن تمہاری مرضی کے بعد ۔ اس کے بغیر نہیں ۔ دوسرا اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری شریعت کے مطابق ۔ جس کو تم سچا مانتے ہو فیصلہ کیا جائے ۔ تو یہ بھی درست ہے یہ بھی ہو سکتا ہے اور اگرتم چاہتے ہو کہ رواج کے مطابق ہو تو وہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اتنی Options دیتے تھے اور اس کے بعد جس جو Option اختیار کی اس پر سختی سے عمل درآمد ہو تا تھا ۔ اختیا ر ماننے کے بعد کوئی یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ثالثی کروا لی جائے اور جو ثالثی کا رواج ہے اس کے مطابق کروایا جائے چنا چہ وہ جو یہود کے قتل ِعام کا حکم ہو ا تھا وہ یہودکے خود منہ مانگے طریق کے مطابق فیصلہ ہو اتھا ۔ انہوں نے ایک طریق پہلے تجویذ کیا اس کے مطابق وہ جو بائیبل کے قانون کی رو سے تھا پھر یہ بھی مانگا کہ ثالث ہو اور آپ نہ ہو ں فیصلہ کرنے والے اور وہ ہو جس کو جو ہمیں قبول ہو۔ چنانچہ آنحضرتﷺنے ساری شرطیں قبول کر لیں ۔اور ان کے پسند کے ثالث نے ان کی شریعت کے مطابق ان کے قتل ِعام کا حکم دیا ۔ تو شریعت کے نا م پر دنیا کو جو مذہب کی آزادی کا حکم قرآن کر یم نے دیا ہے اس میں دخل اندازی شریعت کے خلاف ہے ۔ یہ بنیادی ا صول ہے ۔ جہاں تک حقوقِ انسانی کا تعلق ہے ایک عام مسئلہ جس میں ہندو ــ،مسلم،سکھ ۔۔۔۔اور یہودی اور عیسائی وغیر ہ کی تفریق نہیں بلکہ دنیا کی ہر حکو مت ان معاملات میں قانون سازی کر تی ہے ۔ اس حق ِعامہ کو استعمال کر تے ہو ئے ۔ انسانی، سیاسی حق کو استعمال کر تے ہو ئے حکو مت قانون سازی کر سکتی ہے ۔لیکن اس میں لازماََ شرط یہ ہو گی کہ شریعت کے حوالے کے بغیر کرے۔ حقوق انسانی کے حوالے سے کر ے او ر پھر سب پر اس کا برابر اطلاق ہو ۔اس طرح نظام عدل تو ایک ہی رہے گا کہ ہر شخص کو اس کا بنیادی حق حاصل ہے ۔ جو خدا نے دیا ہے کہ تمہیں اپنے مذہب کہ پیروی کا حق حاصل ہے۔ اور ہر شخص مذہب کے معاملے میں اس پر عمل درآمد کے معاملے میں آزاد ہیں ۔اور جو بھی تمہارا اولی الامر ہے وہ فیصلہ کر ے اس کی اتباع کرو۔ ( جب تک تم لو گو ں کے درمیان فیصلہ کر و تو عدل کے ساتھ کرو ) اولو الامر پابند ہے اس بات کا کہہ عدل سے ہٹ کر فیصلہ نہیںکر سکتا تو پھر عدل الگ الگ کیسے ہو گیا ۔عدل ایک ہی ہے او ر عدل کے تقاضے ہیں یہ عدل کے تابع قانون الگ الگ ہو سکتے ہیں عدل نہیں بدل سکتا ۔ عدل اگر نہ ہو تا تو یہ حق کیسے دیتے ؟
    (مجلس عرفان الفضل ۲۰ دسمبر ۲۰۰۲ صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۱ نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال 14: جانوروں کے ساتھ جو تجربے کئے جاتے ہیں اس سے جانوروں کو بہت تکلیف ہو تی ہے ۔کیا یہ جائز ہے ؟
    جواب :۔یہ جو تجربے کرتے ہیں ان کیلئے ہر ممکن کو شش کر تے ہیں ایسی دوائیاں دینے کی کہ جس کے نتیجے میں تکلیف ان کو محسوس نہ ہو۔ ویسے تو بڑا ظلم ہو گا اگر زندہ جانوروں کو بغیر کسی دوائی کے اثر کے تجربے کے طور پر استعمال کریں ۔ جب کتے ، بلیاں وغیر ہ بیمار ہو تے ہیں ان کو بھی ٹیکے لگائے جا تے ہیں ۔ بیہوش کر دیتے ہیں پھر چیر تے پھاڑ تے ہیں اس کے بغیر نہیں ۔ تو جتنے بھی جا نوروں کے تجربے ہیں بیہو شی کی حا لت میں کر تے ہیں ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۳ اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۶ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال 15: کیا جیلی ٹن کھانے کی اجازت ہے کیونکہ وہ سور کی ہڈیو ں سے بنتا ہے ؟
    جواب :۔ضروری تو نہیں کہ سؤر کی ہڈیوں سے بنے مگر ہڈیا ں ہو سکتی ہیںجیلی ٹن کا بنیادی اصول تو یہ ہے کہ اس کو اتنا heat کر تے ہیں کہ اس میں لائف نہیں رہتی ۔ اور کیمیکلز بن جا تے ہیں اس طرح تو جو سبزیا ں ہیںنہایت گندی جگہوں پر اگتی ہیں جو کیمیکلز بدل کے نئی چیز بن جاتی ہیں تو جیلی ٹن کا اصول یاد رکھو کہ وہ ہڈیوں کو اصل شکل جو ہے وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے پگھل کے لائف کے سیل باقی نہیں رہتے وہ محض کیمیکل رہ جا تے ہیں اور اگر پتہ ہو کہ کسی ملک میں سؤر بھی ڈالا جاتا ہے تو پھر کر اہت آتی ہے دل بالکل نہیں چاہتا ۔ اس کا علا ج اس زما نے میں نکل آیا ہے ۔ ایسی جیلیز بنتی ہیں جو vegetarians کی جیلیز کہلاتی ہیں ۔وہ vegetablesسے ہی سمندر سے جو چیزیں پودے وغیر ہ نکلتے ہیں اس کی جیلی بناتے ہیں اور میں نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ وہ زیادہ اچھی ہو تی ہے پہلے زمانے میں یہ جیلی کھا لیا کر تا تھا مگر پھر میں نے ایک دفعہ پڑھا تو پتہ چلا کہ گند وغیر ہ سے بنتی ہے تو طبیعت میں کر اہت آگئی تو میں نے چھو ڑ دی لیکن vegetarianجیلی کھا یا کریں یا پھر کو شر جیلی ۔ وہ جو یہودی ہیں وہ تو سؤر سے سخت نفرت کرتے ہیں تو ہوتی تو ہڈیو ں کی ہے مگر سؤر کی ہڈی نہیں ہو تی ۔ اس میں تو ہڈیوں سے بہتر تو پھر بھی یہی ہے ۔کو شر جیلی کی بجائےvegetarianکھائیں ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ریکارڈنگ ۲۲ جنوری ۲۰۰۰)
    سوال 16: یہ سوا ل ایک ترکش نواحمدی بہن کی طرف سے ہے ۔ کیا یہ صحیح ہے کہ ہم اپنے بچوں کو غیر مذاہب کے بچو ں سے رابطہ یا تعلق رکھنے سے منع کریں ؟
    جواب:۔ نہیں ۔قرآ ن کریم اور رسول کریم ﷺکی سنت سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسی دوستی نہیں کرنی چاہیے کہ ویسا ہو جائے انسا ن لیکن بغیر دوستی کے ان کو اپنے جیسا بھی نہیں بنا سکتے اس لئے غیر وں سے دوستی تو ضروری ہے۔لیکن گھر میں تربیت اچھی ہو اور کر دار ایسا ہو کہ وہ دوسرے کا ہی نہ ہو جائے ۔ بلکہ اس کو اپنے جیسا بنائے تو یہ منع نہیں ہے ۔ اور اس لئے ملنا تو فرض ہے۔ تو ان کا فرض ہے کہ گھر میں تو تربیت اچھی کریں پھر ملنے دیں
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ریکارڈنگ ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 17: کیا لڑکے دوسرے لڑکوں کے ساتھ سوئمنگ کر سکتے ہیں ؟
    جواب :۔ جی ہا ں لیکن اگر اپنے لباس کو ٹھیک رکھیں ۔ اس میں بے حیا ئی نہ ہو ۔ بعض ننگے بھی نہا تے ہیں ۔ جو بہت ہی بے ہو دہ بات ہے ۔ ہم نے خود دیکھا تھا کینیڈا میں ایک جگہ لے کے گئے ، جہا ں سلفر کے پانی کیو جہ سے بہت گرم پانی طبعی ہے اور سنا تھا کہ وہاں نہانے کا بھی انتظام ہے ۔تو وہاں جاتے ہی ہمیں واپس آنا پڑا ۔ کیونکہ دور سے جو نظارہ نظر آیا تھا وہ یہ تھا مر د ننگے نہا رہے تھے ۔ اگرچہ وہا ں مر دوں عورتوں کا الگ انتظام تھا لیکن ایسی جگہ نہیں تھی کہ وہاں جا کے انسان کچھ دیر ٹھہر سکے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴ دسمبر ۲۰۰۲ ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۴ نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال 18: کیا بازار میں جو بیف برگر ملتے ہیں حلا ل ہو تے ہیں ؟
    جواب :۔میر ا خیا ل ہے کہ چیک کرنا چاہیے کہ بیف برگرز کے متعلق بظاہر میر ی معلوما ت تو یہی ہیں کہ وہ ذبح کی ہوئی گائے کے برگر ز بناتے ہیں اس کا خون نکل چکا ہو تا ہے ۔ لیکن اگر یہ میری معلو ما ت غلط ہیں اور وہ صرف چوٹ لگا کے یا چوٹ سے ماری ہو ئی گائے ہے تو اس کا خون اندر ہی جم جائے گا ۔ اور وہ حرام ہو جا ئے گا ۔ اس لئے اپنے طور پر ان دوکانوںسے تحقیق کر لینی چاہیے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۹ اپریل ۲۰۰۱ صفحہ۳ ریکارڈنگ ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال 19: کیا گھر میں جانور رکھنے کی اجازت ہے جیسے کتے اور پرندے ؟
    جواب:۔اجازت ہے ۔ مگر پرندوں کو قید رکھنا اچھا نہیں لگتا مجھے ۔ جانوروں کو بھی ہر وقت قید رکھنا ٹھیک نہیں ہے ۔ مگر ٹرینڈtrained) ( اچھے ہونے چاہیے ۔اگر وہ جا نور مہمانوں کو تنگ کریں گے تو پھر اس گھر میں فرشتے نہیں آئیں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ نیک لو گ پھر وہا ں نہیں آتے جن کو کتے کے کاٹنے کا خطرہ ہو ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۱۹ مئی ۲۰۰۰ ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۳ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال 20: کیا میوزک سننا (دین ) میں نا پسند کیا جا تا ہے ؟
    جواب :۔میوزک نا پسند کی جا تی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنا پسند فرمایا کر تے تھے ۔ ہما ری mtaپہ میوزک اسی وجہ سے نہیں آتی ۔میوزک سے آواز کی طرف توجہ رہتی ہے اس کے مضمون کی طرف نہیں رہتی ۔جب بغیر میوزک کے اچھی آواز سے پڑھا جائے تو پھر مضمو ن دل میں ڈوبتا ہے تو میوزک مست کر نے کے لئے ٹھیک ہے ۔مگر معنوں کے لحاظ سے اچھی نہیں ہے ۔ اور بھی بہت سی خرابیا ں ہیں میوزک کی جو میں بیا ن کیا کرتا ہو ں لیکن اب وقت نہیں ۔ لیکن ایک بات یاد رکھو کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ جس میں انسان میوزک سے بچ ہی نہیں سکتا ۔ تم ہر وقت کانوں کے اندر روئی دے کر تو نہیں پھر سکتے ۔ اگر خود نہ میوزک سنو تو بازاروں میں میوزک ہو گی تم کو ئی کارٹون دیکھ رہے ہو تو بیچ میں ناچ گانا اور میوزک شروع ہو جا ئے گی ۔ تو کہاں تک میوزک سے بھاگو گے تو یہ مجبوری ہے یہ دجا ل کا دھواں ہے اصل میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے ۔ جس کے اوپر دجا ل قبضہ نہیں کر ے گا اس کو دھواں ضرور پہنچ جائے گا۔ تو میوزک بھی آ جکل کا فیشن بن گیا ہے ۔ اور اسے کلیتہََ چھوڑ ہی نہیں سکتے ۔ اس لئے یہ درست ہی نہیں ہے کہ میوزک انسان آجکل بالکل ہی نہ سنے۔یہ ممکن نہیں ہے ۔ مگر جب نمونہ پیش کر نا ہو دین کا تو پھر جیسا کہ mtaپر ہے ہم اس میوزک کو نزدیک بھی نہیں آنے دیتے ۔ ایک یاد رکھنے کی بات ہے کہ قرآن کریم اگر میوزک کے خلاف بات کر تا ہے یا رسول اکرم ﷺنے میوزک کے خلاف بات کی تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں اور ان میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی ہے دوسری ایک وجہ ہے جو بہت ہی اہم ہے ایک زمانے میں میوزک جو ہے وہ بڑی Peacefulہوا کر تی تھی وہ روح کو تسکین دیا کر تی تھی ۔ اور پرانے زمانے کے میوزیشن میوزک لکھا کر تے تھے وہ سُر کو قائم کرنے کے لئے لکھا کر تے تھے مگر رسول اللہ ﷺنے جومنع فرمایا ہو ا ہے معلوم ہو تا ہے آخری زمانے میں جو دجال کا زمانہ ہے میوزک نے برا رنگ اختیار کر لینا تھا چنانچہ آجکل جو میوزک ہے یہ انسان کے اندر سے اچھی چیزوں کی بجائے Worseچیزیں نکالتی ہے Pop Music یہ وہ گند ہے جو انسان کے اندر ہے اور وہ میوزک سے باہر نکل آتا ہے اس لئے جو میو زک اچھی بھی تھی وہ بھی اب آہستہ آہستہ بدل کے گندی ہو چکی ہے۔میں بھی ایک زمانے میں یہاں دیکھنے کے لئے کہ میوزک کیا ہو تی ہے گیا تھا ایک ہا ل میں میوزک کا انتظام تھا جس میں کلا سیکل میوزک تھی پرانے زمانوں کی اور وہ جب چلی تو میں حیران رہ گیا اتنا دل پہ سکون تھا اتنی روح پہ طمانیت اور آرام کا احساس ہو اکہ اس وقت مجھے پتہ چلاکہ پرانے زمانے کے میوزک لکھا کرتے تھے اب سن کے دیکھو ہا لو ں میںجاکے کہیں تو بہ توبہ گند op Music Pیہ میوزک وہ میوزک سب بکواس ہے ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۲۴ جون ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۲۰ نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال21: جادو اور معجزہ میں کیا فرق ہے:۔
    جواب: ا س ضمن میں ایک اور سوال یہ کیا گیا کہ جادو اور معجزہ میںکیا فرق ہے ۔حضور نے فرمایا بہت بڑا فرق ہے۔جہاںمیںنے مثال دی تھی وہیں فرق ظاہر کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے جادو گروں کے متعلق فرمایا سَحَرُوااعینِ الناَسِ اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا ازدہا بن کر نگلنے کے واقعہ کے متعلق ایسا نہیں فرمایا (الاعراف آیت ۱۱۸)صاحب اقتدار ہستی اگر چاہے تو خلقی تخلیقی تبدیلیاں پیداکر سکتی ہے اور اس میں دھوکا نہیں ہوگا لیکن غیر اقتداری ہستیاں ہیں وہ یہ تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکتی ہیں اور حقیقت حال کو بدل نہیں سکتی ہیں۔جادو میں جھوٹ کا عنصر لازماً پایا جاتاہے نہ صرف یہ کہ تبدیلی کا ادعا کیاجاتا ہے بلکہ باور کرانے کے لئے کئی ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ دنیا حقیقتاً یہ سمجھے کہ یہ تبدیلی واقع ہو گئی ہے ۔جہاں تک معجزہ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ ایسی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے کہ جو چیز عام قانون ِ قدرت کے تابع نہیں ہوسکتی وہ ہوتی تو قانونِ قدرت کے تابع ہی ہے لیکن ایک مخفی غالب قانون قدرت کے قدرت کے تابع ہوتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اقتدار ی معجزہ ایک خارق چیز ہے یعنی عام دستور کے پسِ منظر میں واقعہ ہوتا ہے ۔انسان بعض دفعہ اس کو سمجھتا نہیں لیکن علم میں ترقی پاکر بعض دفعہ اس تک پہنچ جاتا ہے۔اقتداری معجزہ صرف ان کے لئے ظاہر ہوتا ہے جو خدا سے اپنے تعلق میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں تو جتنی تبدیلی کوئی پیداکرتا ہے ۔اسی قسم کے معجزہ کا حق دار بنتا چلاجاتا ہے۔غرض عام انسانوں کے ساتھ خداتعالیٰ یہ سلوک نہیں فرماتا لیکن جو بندے خداکی خاطر اپنے نفس میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کر لیتے ہیں ان کیلئے اگر خدا چاہے تو سلوک فرماتا ہے۔
    دوسرے یہ کہ خدا Forces of Natuer کو اس طرحOrganiseکر دے کہ وہ ایک ایسا قطعی نتیجہ پیدا کر دیں جس کی پہلے سے خبر دی گئی مثلاً حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے جب دریا کو عبور کیا تو اس میں مدوجزر کا اثر ہوتا ہی تھا وہ خارق عادت نہیں ہے لیکن معجزہ ہے اس لئے کہ خداتعالیٰ نے خبر دی کہ تم بچائے جاؤ گے خوف نہیں کھانا اور تمہارے پیچھے جو دشمن ہے یہ ہلاک ہو جائے گا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ ٹائمنگ ایسی Set کی ۔کہ سمندر کا وہی پانی پیچھے ہٹ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور بڑھ کر فرعون کی ہلاکت کا باعث بن گیا ۔یہ معجزہ اور بھی زیادہ حسین نظر آتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہی موسیٰ ؑ معصوم اور بے طاقت بچے کے طو ر پر ایک صندوق رکھ کر بہتے ہوئے نیل کی انہی لہروں کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں وہ ان کو ڈبو نہیں سکتے اور انجام میں کہانی دہرائی جاتی ہے کہ جو فرعون ان کو غرق کرنا چاہتا تھا اپنے تمام لاؤ لشکر کے ساتھ انہی لہروں کی نذر ہو جاتا ہے۔
    (الفضل 6فروری 1984)
    سوال22:
    جادو کی حقیقت
    جواب : ایک دوست کے اس سوال پر کہ جادو کی کیا حقیقت ہے حضور نے فرما یا قرآن کر یم نے جب جادو کی تشریح کر دی ہے تو پھر ادھر ادھر ٹامک ٹوئیا ں مارنے کی ضرورت ہی نہیں رہی ۔حضرت مو سیٰ ؑکے فرعون کے ساتھ ہونے والے مقابلہ میں جادو کی تشریح مو جو د ہے ۔ فرما یا سحروا اعین الناس۔لوگوں کی آنکھوں پر جادو چل گیا تھا اور وہ حقیقت حال کو تبدیل نہیں کر سکے تھے ۔یخیل الیہ من سحرھم انما تسعی ۔ان کی رسیاں اور سونٹے حضرت مو سی ٰ علیہ السلام کو یوں محسوس ہوئے کہ گویا وہ سانپ ہیں ۔ حا لانکہ واقعہ میں وہ سانپ نہیں تھے۔فریب نظر تھا۔ پس جادو کیا ہے دھوکا اور فریب نظر کے سوا کچھ نہیں اس سے زیادہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ یہ دھوکا بعض دفعہ بیماری کی صورت میں مثلاََ ILLUSIONS ٰ یا DELUSIONS وغیر ہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے ۔ بیماری کی حد تک انبیاء کو بھی بعض دفعہ یہ چیزیں لاحق ہو جاتی ہیں ۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اثرات کو دور بھی فرما دیتا ہے ۔ چنا چہ صحیح بخاری کی روایت ہے
    عن عائشہ قالت سحر رسول اللہ ﷺحتیٰ انہ لیخیل الیہ انہ یفعل الشیء عما فعلہ
    (بخاری کتاب الطب باب السحر )
    آنحضرت ﷺ کوآخری عمر میں نسیان کی تکلیف ہو گئی تھی ۔نسیان ماضی کا دھوکا ہے مثلاً انسان سمجھے کہ کوئی کام کر لیا ہے ۔اور وہ نہ کیاہو ۔ کیا ہو اور سمجھے کہ نہیں کیا ۔دنیااسے جادو سمجھتی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں پس جادو کا جو عام تصور ہے اس کی تعریف جب قرآنِ کریم کے مطابق کریں گے ۔یا بخاری کی حدیث کی تشریح قرآنِ کریم کے ا ندر رہتے ہوئے کریں گے تو کوئی عتراض وارد نہیں ہوتا ۔
    (روزنامہ الفضل 6فروری 1984ء )
    سوال 23:۔ ہمارے سکول میں کچھ غیر احمدی مسلمان کہتے ہیں کہ جیلی (Jelly)میں کچھ حرام چیزیں مکس ہیں۔جیلی (Jelly)نہیں کھانی چاہیے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
    جواب :۔اگر (Jelly)کے متعلق تم غور کر کے دیکھو تو حرام چیزیں جو مکس ہوتی ہیں وہ کیمیکل میں بدل چکی ہوتی ہیں اس میں زندگی کا کوئی وجود نہیں رہتا ۔
    کھیت سے اُگی ہوئی چیزیں کھاتے ہیں اس میں جو گند پڑا ہوا ہوتا ہے ۔مردے بھی دفن ہوتے ہیں پتہ نہیں کیا کیا گند ہوتا ہے ۔جتنا گند ڈالو اُتنی ہی زیادہ سبزی اُگتی ہے ۔اس کے با وجود جو بیج میں سے اُگتا ہے اس کی کیفیت بدل جاتی ہے ۔
    جیلی (Jelly)کے متعلق اس کو حرام کہنا جائز اس لئے نہیں کہ جیلی(Jelly)میں جس قسم کی بھی ہڈیاں ہوں ان کو اتنا ہائی ٹمپریچر پر گلاتے ہیں کہ وہ کیمیکل بن جاتی ہیں زندگی کا کوئی نشان نہیں رہتا مگر چونکہ اب ہمیں آج کل پتہ لگ گیا ہے کہ اس میں سور کی ہڈیاں بھی ہوتی ہیں توکراہت پیدا ہوتی ہے۔
    میں نے اس کا بڑا آسان علاج سوچ لیا ہے کہ ایک سبزیوں کی جیلی بھی بنتی ہے یہ ویجیڑین (Vegetrarion) کی خاطر بناتے ہیں ۔اس کا مزہ دوسری جیلی سے بھی اچھا ہوتا ہے۔اگر تمہیں جیلی (Jelly)کا شوق ہو تا توویجیڑین جیلی(Jelly) کھایا کرو ۔میں نے اپنے گھر میں اب یہی شروع کر دی ہے۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل صفحہ 4 ،4فروری 2000ء ریکارڈنگ 14فروری 1999ء)
    سوال 24:۔ آپ نے 22دسمبر 1999ء کے درس میں فرمایا تھا کہ شراب اور جوئے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں اور فوائد بہت کم ہیں ۔جو کم فائدے ہیں وہ کیا ہیں؟
    جواب:۔فائدہ ایک تو بتا دیتا ہوکہ شراب کو طبی نقطہ نگا ہ سے بہت استعمال کیا جاتا ہے میڈیکل پوائنٹ آف ویو سے ہومیو پیتھک میں جتنی پوٹینسیاں بنتی ہیں وہ شراب میں حل ہو کے بنائی جاتی ہیں ۔اور مدر ٹنکچر بھی سب شراب میں بنتی ہیں۔یعنی الکوحل سے اس لئے اس کے فوائد بھی ہے اور یہ دوائیں حرام اس لئے نہیں ہیں کہ اتنی وہ انسان پی ہی نہیں سکتا جس سے نشہ ہو جائے قانون یہ ہے کہ وہ چیز جس کے زیادہ پینے سے نشہ ہو وہ حرام ہے ۔مگر کوئی زیادہ پی ہی نہ جاسکے اور نا ممکن ہو تو پھر یہ مسئلہ بدل جائے گا۔پس ہو میو پیتھک طاقت میںیہ اتنی ہوتی ہی نہیں مثلاً ہومیو پیتھک دوائی کی ایک کروڑ گولیاں بھی کھا لے تب بھی نشہ نہیں آئے گا۔اس لئے بعض دفعہ سخت نمونیا ہو جائے سردی لگ جائے بچوں کو تو ان کو اگر برانڈی کا ایک چمچ پلایا جائے تو ہر گز گناہ نہیں کیوں کہ اس وقت اس کو سردی سے نکال کر گرم کرنے کا یہی ایک نسخہ بہت کامیاب ہے۔فوری طور پر یہ لیا جاسکتا ہے۔
    سوال 25:۔ حضور احمدی لڑکیوں کو یا عورتوں کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت ہے کہ نہیں؟
    جواب:۔سرپر خول پہن کے عینک بھی پہنوں گی برقعہ بھی پہنوں گی ۔برقعہ اوڑ ھ کے موٹر سائیکل میں پھنس جائے گا ۔وہی حال نہ ہو جائے جو ہمارے محمد احمد صاحب کا ہوا تھا ۔نواب محمد احمد خان صاحب جو ہماری بڑی پھوپھی جان کے بیٹے تھے ۔ان کا جہاں کارخانہ ہوتا تھا وہاں سے وہ موٹر سائیکل پہ بیٹھ کر گھر آئے ۔گھر آئے تو ان کی بیگم نے پوچھا آپ کے صرف بازو ہیں باقی اچکن کہاں چلی گئی ؟انہوں نے کہا کہ ہوا بہت تیز چل رہی تھی پیچھے کو دھکیل رہی تھی ۔وہ اچکن پھنسی ہوئی تھی وہ سمجھے کہ ہوا چل رہی ہے۔اچکن پھنس کے پیچھے کو دھکیل رہی تھی ۔کہا بڑی مشکل سے پہنچا ہوں ۔تمہارے برقعہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا ۔اس لئے توبہ کرو اور موٹر سائیکل کے حادثے بڑے خطرناک ہو تے ہیں ۔کار کے حادثے اتنے خطرناک نہیں ہوتے ۔جتنے موٹر سائیکل کے ہوتے ہیں زیادہ Fatalityموٹر سایئکل کے حادثوں کی ہے۔
    (لجنہ سے ملاقات الفضل صفحہ 3،30نومبر 2001ء)
    سوال 26: گوشت کھانا کیوں جائز ہے ؟(ایک ہندو دوست کا سوال)
    جواب۔ فرما یا کہ پہلے آپ یہ فرمائیں کہ گوشت کھایا کیوں نہ جائے ۔ منطق کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی چیز کے نفی ہو نے کے متعلق دلیل دی جاتی ہے ۔مثلاََ اگر کو ئی چیز موجود ہو تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس کو موجود کیوں نہ ہو نا چائیے ۔یہ ہے اصل استدلا ل ۔۔۔۔آپ کا استدلال منفی ہے ۔گویا گوشت نا کھایا جانا تو ایک معقول بات ہے ۔اوراس کے حق میں تو دلائل موجود ہیں ۔ اس لئے گوشت کھانے کے حق میں دلیل دو۔میں اس کے بر عکس آ پ سے یہ سوال کر تا ہو ں کہ گوشت کیوں نہ کھایا جائے۔ کیو نکہ کھانے سے مضر نہیں۔ انسان نے کھانا تو بہر حا ل کھانا ہی ہے اس لئے جو میسر آئے وہ کھایا جا ئے سوائے اس کے کہ تجربہ بتائے کہ وہ چیز زہریلی یا گندی ہے اور اس سے نقصان ہوتا ہو ۔ چنانچہ جتنے بھی قدیم مذاہب ہیں ان میں سب کچھ کھانے کی اجازت ہے لیکن مذہب نے ترقی کرنے کے بعد نسبتاََ زیادہ پا بندی لگا دی ہے ۔ جن ممالک میں مذہب کا اثر بالکل نہیں یا بہت پرانا مذہب تھا جس کا اثر زائل ہوتے ہوتے مٹ گیا وہا ں سب کچھ کھانے کی اجازت ہے ۔چین جہاں کنفیوشس ازم ہوتا تھا اور پھر رفتہ رفتہ مٹ گیا اور اب وہا ں صرف ایک تہذیب رہ گئی ہے ۔ وہاں ہر چیز کھانیکی اجازت ہے ہر قسم کے جانور ، کیڑے مکوڑے جو مارلیں وہ کھا لیں ۔ یہاں تک کہ کھا نا مسئلہ بن گیا ۔ہر چیز کھا کھا کر غائب کر دی وہا ں تو کتے بھی کھا لیتے ۔ کیوںکہ وہ ہر چیز کھانے کے قائل ہیں ۔ان کو یہ دلیل دینے پڑے گی کہ کو ئی چیز کیوں نہ کھائی جائے ؟اس ملک میں جانے والوں کے لئے یہ بات ایک دردِ سر بن گئی ہے ۔کہ کھانے کو نامعلو م کیا ملے؟ ۔ ایک پاکستانی دوست کے متعلق کسی نے بتایا (نامعلوم درست ہے یا نہیں ) کہ وہ ہانگ کانگ گئے اور ایک چینی ہوٹل میں بیٹھے ۔ وہ ڈر رہے تھے کہ حرام چیز نہ کھا لیں چنا چہ انہوں نے حفظِ ما تقدم کے طور پر ایک لسٹ تیا ر کی۔ جس میں بندر ، چوہا ، مینڈک ، چھپکلی ، کیڑے مکوڑے اور غرضیکہ جو ان کے ذہن میں آیا ، اسے لسٹ میں شامل کر لیا اور بیرے کو بلا کر وہ لسٹ دے دی اور اسے کہا کہ ان چیزوں میں سے کو ئی بھی انہیں کھانے کو نہ دی جائے ۔بیرے نے انہیں تسلی دلائی اور کہا کہ فکر نہ کر و ایسی کوئی چیز نہ دی جائے گی۔ جب رات کا کھانا آیا تو کھاتے کھاتے ا نہوں نے محسوس کیا کہ گرمی سی لگ رہی ہے اور جوش سا آ رہا ہے ۔ او ر رات بڑی مشکل سے گزری۔ طبیعت میں جوش آتا رہا ۔ صبح اٹھ کر اس نے بیر ے سے پوچھا کہ تم نے رات والی لسٹ میں سے تو کو ئی چیز نہیں کھلا دی ۔ اس نے جو ا ب دیا کہ بالکل نہیں میں نے تو آپ کو کتے کا گوشت کھانے کو دیا تھاجو آپ کی لسٹ میں شامل نہیں تھا ۔ جن قوموں میں یہ شعورنہیں وہ سب کچھ کھا تے ہیں ۔ جب مذہب کسی چیزکو حرام نہ کرے اس وقت تک یہ بحث نہیں اٹھتی کہ کو ئی چیز حرام ہے ۔کسی چیز کو حرام قرار دینے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے ۔ حلال ہونے کے لئے زندگی کی بقا کی جدوجہد کے لئے یہی مضمون انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے ۔ اور یہی انسان نے آغاز آفرینش سے لیکر اب تک اپنے تجربے کی بنیا د پر سیکھا ہے کہ ہر چیز حلا ل ہے سوا ئے اس کے کہ حرام ہونے کی وجہ موجود ہو ۔ حضور انور نے فرمایا کہ حرمت جو تجربے سے حاصل ہو تی ہے اور دوسری مذہبی حرمت جس کے پیچھے کوئی دوسر ی فلا سفی ہو تی اور وہ نبوت سے حاصل ہو تی ہے ۔ اس کے سوا کو ئی راستہ نہیں رہتا ۔ اب چونکہ نبوت نے ہمیں اکثر جانوروں کاگوشت کھانے سے منع نہیں کیا او ر نہ ہی اس میں ہم نے زہر کی حرمت پائی اس لئے اس کا کھانا جائز سمجھتے ہیں ۔
    ( مجلس عرفان منعقدہ یکم مارچ ۱۹۸۷ء ۔الفضل نے یہ ارشاد ہفت روز ہ (النصر )لندن ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۸ ء صفحہ ۱۱ سے لیا ہے )
    سوال 26A: کچھ لو گ آزاد ہو اؤں میں اڑنے والے پرند وں کو پنجروں میں بند کر کے گھر میں سجاتے ہیں ۔ کیا یہ جائز ہے ۔؟
    جواب ۔ اچھی بات نہیں ہے ۔ پنجر ے میں بند کر نا ۔ آزاد پرندے کو پسندیدہ بات نہیں ہے ۔ مگر بعض لوگ طوطے رکھتے ہیں میں نے بھی بچپن میں طوطا رکھا ہو ا تھا ۔ اس کو پنجرے میں بند کیا کر تا تھا مگر اس کو باہر بھی چھوڑ دیا کرتا تھا ۔ اور وہ چلتا پھر تا تھا بعض دفعہ میں ٹہلتا تھا تو وہ میر ے ساتھ ساتھ ٹہلتا تھا اگر غلطی تھی تو اللہ معاف کر ے مگر پنجر وں میں بندکر نا مجھے پسند نہیں ہے ۔ تمہیں کوئی کہیں قید کر دے تو اچھا لگے گا ۔ ہا ں تو بس پرندے بھی آزاد ہو اؤں میں اڑنے والے ہیں ۔ ان کو قید کر نا اچھی بات نہیں ہے ۔ پرندوں کو اپنے سا تھ سدھا سکتے ہو ۔ بعض پر ند وں کو سکھایا جائے بہت پیار کرتے ہیں ۔ ہاتھ کر و تو اڑ کے آ کر بیٹھ جا ئیں گے ۔ کبھی کندھے پر بیٹھ جائیں گے ، کبھی سر پر بیٹھ جا ئیں گے ۔ تو جن پر ندوں کو سد ھایا جا ئے یہ منع نہیں ہے ۔ ان کے سا تھ دل کو پیار ہو جا ئے تو پر ند ے بھی پیار کر نے لگ جا تے ہیں ۔ میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے مالک سے بہت زیادہ پیار کر تے ہیں۔ اس لحاظ سے پرند ے پنجر ے میں بند کر نے کی ضرورت ہی کو ئی نہیں گھر میں کھلے رہیں ۔ جب بھی اڑنا چاہیں اڑ جائیں جب واپس آ نا چاہیں واپس آ جائیں ۔
    ( روزنامہ الفضل 17جون2000ء)

    سوال27)): وکا لت کے پیشے میں بعض دفعہ ایسے لو گو ں کا بھی دفاع کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں علم ہو تا کہ وہ واقعی مجر م ہیں لیکن قانون کے تحت انہیں بچایا بھی جا سکتا ہے تو کیا ایسا کر نا جائز ہے ؟
    جواب:وکیل کو تو پتہ نہیں کہ کسی نے جر م کیا ہے کہ نہیں مگر اس کے دفا ع کے لئے ضروری ہے کہ جس نے اسے وکیل رکھا ہو ا ہے ۔ اس کو ساری باتیں بتا دے اور جب وہ Confidence میں آ کر بتا دے تو وکیل کو حق نہیں ہے کہ Confidence میں جو باتیں بتائی ہو ئی ہیں ۔ وہ دوسروں کو بتائے ۔ فیس طے ہو گئی ہے اس کو وکیل بننا پڑتا ہے ۔ مگر یہ اس کا اخلا قی فرض بنتا ہے کہ آگے کسی کو نہ بتا ئے قانون کا بہاناڈھونڈکر جو بھی ہے اس کی خدمت کر ے۔ مگر شیخ محمد احمد صاحب مظہر جن کا ذکر میں نے کیا ہے بہت متقی آدمی تھے ۔ بہت ڈرتے تھے خدا سے اور خدا کی محبت بہت تھی انکا طریقہ یہ تھا انہو ں نے خود مجھے بتایا ہوا ہے کہ اپنے موکل سے پوچھا کر تا تھا بتاؤ بھئی کو ئی جر م کیا بھی ہے تم نے کہ نہیں تو وہ وکیل سمجھ کے بے تکلف بتا دیا کرتا تھا تو کہتے تھے ۔بس ٹھیک ہے اب یہ بات مجھ تک رہے گی میں آگے نہیں بتاؤں گا لیکن اپنا وکیل اور کر لو ۔ کبھی بھی اس کے وکیل نہیں بنتے تھے ۔ جو کہتا تھا کہ نہیں کیا جرم تو اس سے جرح کیا کر تے تھے اور پتہ لگے کہ وہ سچ بول رہا ہے تو پھر اس کی زبر دست حمایت کیا کر تے تھے ۔ اوربڑے بڑے مشکل کیس بھی آ پ جیت جایا کر تے تھے اور ججز کو بھی پتا لگ گیا تھا کہ شیخ محمد احمد غلط کیس نہیںلیتا اور اس لئے ان کا جانا ہی ان کے مو کل کے حق میں ایک قسم کی ضمانت تھی کہ ٹھیک ہو گا تو شیخ محمد احمد کے پا س آ ئے گا۔ (رو زنامہ الفضل یکم جولائی 2000ء)
    سوال28: ایک احمدی اپنی دوکان یا ریسٹورنٹ میں شراب اور سؤر کا کاروبار کر سکتا ہے یا حرام چیزوں کو بنا سکتا یا بیچ سکتا ہے ؟ (ایک غیر از جماعت دوست کا سوال )
    جواب ۔ حرام کاموں میں شریک ہونے والے ، ان کی مدد کرنے والے یہاں تک کہ اگر اس کاروبار کے متعلق معاہدہ لکھنے کی ضرورت پڑے تو ایسا معاہدہ لکھنے والے پر بھی *** ڈالی گئی ہے یہ تمام مکاتب فکر کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ سؤر اور شراب کا براہ راست کاروبار حرام ہے لیکن یہ معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے آگے اس کی باریک شکلیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور بالخصوص مغربی معاشرے میں رہائش پذیر لوگوں کے لئے کئی طرح کی دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں مثلاً سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی خود تو شراب اور سؤر کا کاروبار نہیں کرتا لیکن ایسے ریسٹورنٹ میں ملازم ہے جہاں یہ کام ہوتا ہے اگر اس سے بھی حکماً بند کر دیا جائے تو پھر یہ سوال پیدا ہو گا کہ سؤر بھی حرام ہے اس سے تعاون کرنے والے پر بھی *** ڈالی گئی ہے ایسی صورت میں بینکوں میں کام کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے ۔ پھر آگے یہ مسئلہ اور بھی پھیل جاتا ہے جس معاشرے کی بنیاد سود پر ہو اور جس کا پورا مالی نظام حرام پر مبنی ہے اس میں ۔۔۔ رہ بھی سکتا ہے یا نہیں لہذا ہمیں کسی مقام پر حد لگانی پڑے گی اور اگر ضروری ہوا اور کوئی متبادل راستہ نظر نہ آئے تو بعض چیزوں کو کراہت کے ساتھ قبول کرنا پڑے گا ۔
    حضرت صاحب نے فرمایا کہ جرمنی میں مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا گو وہاں ایسے احمدی تو بہت ہی کم تھے جو براہ راست ایسے کاروبار کرتے تھے لیکن اکثر احمدی بالواسطہ ایسے کاروبار میں ملوث تھے اس وقت میں نے ان کو یہی ہدایات دی تھیں کہ اگر کسی کا اپنا ریسٹورنٹ ہے اور اس میں شراب اور سؤر کا کاروبار ہے تو اس کو فوراً ان دونوں چیزوں کو ختم کر دینا چاہیے ورنہ اس کو جماعت سے خارج کر دیا جائے گا کیونکہ ایسے شخص کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہ سکتا ہے جس کے اختیار میں ہو اور پھر بھی وہ شراب اور سؤر کا کاروبار کرے دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں ان کی بھی آگے دو شکلیں ہیں ایک تو وہ ہیں جو انتظامیہ میں کام کرتے ہیں اس میں تو کوئی حرج نہیں ورنہ اس غیر مسلم معاشرے میں رہنا ممکن نہ ہو کیونکہ ہر جگہ حرمت کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہے دوسری شکل یہ ہے کہ وہ خود سؤر پکاتا ہے یا شراب یا سؤر (Serve )کرتاہے یہ کافی مکروہ صورت حال ہے اگرچہ براہ راست ان پر اسی کاروبار کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ایسے لوگوں کے لئے میری ہدایت تھی کہ جس قدر جلدی ہو سکے اس کے متبادل جگہ تلاش کر لیں اور جس حد تک انسان کے اختیار میں ہے اس کام سے بچنے کی پوری کوشش کریں ورنہ ہمیشہ کے لئے آپ کے منہ پر داغ لگ جائے گا کہ ایک طرف تو آپ اس کے انسان کے لئے ضرررساں خیال کرتے ہوئے اس کو حرام سمجھتے ہیں دوسری طرف آپ اس کو serve بھی کرتے ہیں ان کے مطابق بعض لڑکوں نے بڑی حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ کیا اور فوری طور پر بغیر کسی متبادل کام ملنے سے پہلے استعفے دے دیئے ۔
    حضرت صاحب نے فرمایاکہ اس بات کی خبر دی گئی تھی کہ جب دجال دنیا میں ظاہر ہوگا تو اس کا غلبہ اور اس کا اثر سب قوموں پر چھا جائے گا اور اس طرح سرایت کر جائے گا کہ اگر کسی کو براہ راست اثر نہیں پہنچتا تو اس کا دھواں ضرور پہنچے گا تو یہ دھوئیں والی بات ہے مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے یہ ناممکن ہے کہ کلیۃً حرام کے دھوئیں سے انسان محفوظ رہ سکے دھواں تو بہر حال پہنچے گا اس کے لئے پھر یہی ہو سکتا ہے کہ استغفار کریں اور حتی المقدور اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔
    ( مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۲۴ مارچ ۱۹۹۸ ؁ء )
    سوال 29: حضور ۵ سال تا ۱۱ سال کے لڑکے لڑکیوں کو چرچ آف انگلینڈ یا رومن کیتھولک سکولوں میں بھیج سکتے ہیں یا نہیں ۔
    جواب :۔ یہ منحصر ہے اس بات پر کہ آپ نے ان کی تربیت کیسی کی ہوئی ہے اگر گھر میں ان کی تربیت اچھی ہے تو ان کو کیتھولک سکول میں بھیجنے کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ وہاں نسبتاً زیادہ اخلاقی نگرانی کی جاتی ہے اور آج کل جو بگڑا ہوا معاشرہ ہے اس کے مقابل پہ نسبتاً زیادہ صاف ستھرا ماحول ہوتا ہے تو یہ فائدہ تو ہے لیکن روحانی طور پر بچے کو عقل نہ ہو اور وہ ان کی باتوں میں آجائے اور ویسا ہی بن جائے تو پھر تو بہت ہی مہنگا سودا ہے عام جو اب تو اس کا یہی ہے خاص بچے کے متعلق میں یہاں تو آپ کو جواب نہیں دے سکتا وہ تو ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں اور وہ ذمہ دار ہوں گے اگر بچے کو کوئی روحانی تقصان پہنچا تو پھر یہ ماں باپ ایسے ہیں کہ انہیں بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۵ سال تو ویسے بھی بہت چھوٹی عمر ہے ۵ سال تک تو اتنی پختگی آ ہی نہیں سکتی ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۲۲ جولائی ۲۰۰۰؁ء ،۲۵ فروری ۲۰۰۰ء؁)
    سوال 30:۔ اگر کسی کی امانت مثلاً رقم وغیرہ گھر میں ہو تو کیا ضرورت پڑنے پر وہ استعمال کی جا سکتی ہے ؟
    جواب :۔ امانت کا مسئلہ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے امانت کے متعلق چند احتیاطیں ضرور پیش نظر رہنی چاہیں ورنہ انسان خائن ہو سکتا ہے اگر امانت بغیر شرط کے ہو کچھ وضاحت نہ ہو تو استعمال کی اجازت ہے یا نہیں تو اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر انسان اس امانت کو استعمال کرے تو عند الطلب اسے پیش کرنا ضروری ہے اور یہ بہانہ قابل قبول نہیں ہو گاکہ میں نے تھوڑی دیر کے لیے استعمال کر لی ۔
    اس کا دینا لازم ہے اسی لمحہ جس لمحے اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اگر کوئی تقصان پہنچتا ہے تو اس تقصان کا وہ ذمہ دار ہے لیکن امانت میں اگر وہ تصرف نہیں کر رہا کوئی امانت رکھوا گیا ہے اور وہ چوری ہو جاتی ہے یا ثابت ہو جائے کہ وہ چوری ہو گئی ہے یا گھر کو نعوذ باللہ آگ لگ جاتی ہے ایسی صورت میں وہ اس امانت کا دین دار نہیں رہتا لیکن جہاں اس نے تصرف شروع کیا وہاں اس کا دین دار بن جائے گا وہ وقتی طور پر ایک مستعار رقم بن جاتی ہے اور اس کو واپس کرنا قطع نظر اس کے کہ ضائع ہوئی یا باقی بچی لازم ہو جاتا ہے اس لئے یہ ضرور احتیاط کر لینی چاہیے امانت لیتے وقت وضاحت کروالینی مناسب ہے کہ اس امانت کی کیا حیثیت ہے اگر وہ کہے کہ وہ امانت ہے ۔ صرف امانت ہے تو اس کو ہاتھ نہ لگانا یہی تقویٰ ہے ورنہ آپ کے لئے خطرات پیدا ہوں گے اگر اس سے پوچھ لیا جائے کہ کیا اس کو میں اپنی ذات پر استعمال کر سکتا ہوں اور جب آپ مطالبہ کریں تو کتنی دیر کے اندر میں نے یہ پیش کرنا ہے تو جو بھی وہ کہے اس کے مطابق پھر کارووائی کریں اور ایسی جگہ اس کو Invest نہ کریں کہ اس عرصہ واپسی کے اندر آپ عہد کے مطابق اسے واپس نہ کر سکیں اور ایسی صورت میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگر آپ کو نقصان پہنچتا ہے تو آپ دین دار ہوں گے پھر امانت میں بعض دفعہ یہ شرطیں بھی لگا دی جاتی ہیں کہ تم اسے استعمال کرو سرمایہ کاری کرو اور منافع میں میں بھی شریک ہوں گا ۔ امانت میں اگر شراکت کی شرئط داخل کر دی جائیں تو اس کا مسئلہ امانت کے دائرہ سے نکل کر شراکت کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے
    (مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۴ دسمبر ۲۰۰۲ء؁ ریکارڈنگ ۴ نومبر ۱۹۹۴ء؁ )
    سوال31:
    مصنوعی طریق ولادت:
    جواب:Test Tube Babies کے متعلق حضرت صاحب نے فرمایا یہ سوال عام طور پر اٹھایا جاتا کیونکہ یہ طریق اپنی ذات میں نرالا ہے اس میں سوچنے والی بات یہ ہے اگر یہ بچے میاں بیوی کے نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں تو اس میں کوئی ہرج نہیں اور اگر یہ طریق نہیں تو ایسے بچے ناجائز اولاد کہلائیں گے ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سوسائٹی میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا چاہتا ہے اس طرح کہ ہر بچہ کے ماں باپ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ تمہارا بچہ ہے اور اس کی پرورش کے تم ذمہ دار ہو ۔ اگر بچہ کا باپ کوئی اور ہو اور اس کی پرورش کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دی جائے تو یہ امر خلاف فطرت بھی ہے اور قرین انصاف بھی نہیں اس لئے اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک عورت ایک ایسے آدمی کا بچہ جنے جو اس کا خاوند نہیں ورنہ یہ تو ہندوؤں کی نیوگ کی تعلیم پر عمل کرنے کے مترادف ہے
    (مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۲ دسمبر ۱۹۹۸ء؁ کراچی ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء؁ )
    سوال32: کیااحمدیہ ٹیلی ویژن کے پروگرام بیت الذکر میں دیکھنے جائز ہیں کہ نہیں ؟
    جواب :۔ بیت الذکر میں دیکھنے جائز تو ہیں مگر اکثر بیوت الذکر کو ان پروگراموں کی آماجگاہ بنانا جائز نہیں ہے بیوت الذکر عبادت کے لئے ہیں نیک باتوں کے لئے ہیں کبھی کبھی وہاں جلسے ہو جاتے ہیں کبھی کبھی اس وجہ سے کہ خدا کا ذکر چل رہا ہے ذکر کی مجالس لگتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں ان کو کوئی حرام نہیں کہہ سکتا کیونکہ حضرت اقدس محمد ﷺ بھی ایسی مجالس لگاتے تھ لیکن روز مرہ کا دستور بنا کر بیوت الذکر کو پروگراموں کی آماجگاہ بنا لینا یہ میرے نزدیک درست نہیں ۔ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے اس سے فتنے پیدا ہو جائیںگے اس لئے اپنی کوئی اور جگہ ڈھونڈیں جہاں یہ پروگرام ہوا کریں خطبہ سننا ہو تو بیت الذکر میں سنیں کبھی کوئی غیر معمولی پروگرام ایسا ہے جس میں سب کو دعوت دینی ہے بے شک وہ بیت الذکر میں کر لیں لیکن روزمرہ کا دستور بنانا جائز نہیں ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ص ۴ ، ۱۳ستمبر ۲۰۰۲ ء؁ ملاقات ۱۲ مئی ۲۰۰۰ء؁)
    سوال33: ہم Shell والی مچھلی کیوں نہی کھا سکتے ؟
    جواب :۔ Shell والی مچھلی کھا سکتے ہیں آپ کو کس نے منع کیا ہوا ہے Shellکے اندر کی جو چیزیں ہوتی ہیں وہ تو کچی بھی کھا جاتے ہیں آپ نے اگر کھانی ہو تو پکا کے کھا لیں یہاں تو ریڑھیاں لگتی ہیں میں نے خود دیکھا ہے اس میں جو گھونگے ہیں ان کو یہ لوگ یوں کر کے کھا جاتے ہیں نمک مرچ کے بغیر ہی ۔ بعض لوگ نمک بھی نہیں لگاتے اور پی جاتے ہیں کتنی کراہت آتی ہے ہمیں تو الٹی آ جاتی ہے ۔
    ( اطفال سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۳۱ اگست ۲۰۰۰ء؁ ریکارڈنگ ۱۶ فروری ۲۰۰۰ ء ؁ )
    سوال34: کیا کوئی عورت اپنے خاوند کے بھائیوں ، کزن یا اپنے کزن سے ہاتھ ملا کر السلام علیکم کر سکتی ہے ؟
    جواب :۔ ہاتھ ملانا ایک ایسی عادت ہے جو مغربی معاشرے کی وجہ سے ہمارے ہاں رواج پکڑ گئی ہے اور اس میں تقوٰی کا تقاضا یہ ہے کہ احتیاط برتی جائے گھر میں بزرگ ہوتے ہیں ان کے بچے ہوتے ہیں بزرگ ان کو پیار سے گلے سے لگا تا ہے بعض دفعہ سر پہ ہاتھ پھیر تا ہے کسی کے ذہن میں وہم و گمان بھی نہی گزر سکتا کہ اس تعلق میں کسی قسم کی کوئی قباحت ہے اور یہ ہمارے ملک میں خصوصاً گھر کے بزرگوں کے پاس جاکے سر کو آگے کرنا یہ رواج پایا جاتا ہے اس کی کیا سند ہے یہ میں نہیں جانتا مگر جس رنگ میں یہ رائج ہے کبھی اس سے کوئی بدی پھلتی ہوئی ہمیں نظر نہیں آئی مگر جس ماحول کا یہ ذکر کر رہے ہیںکہ گھر میں کزنز وغیرہ ہوں اور اس سے ہاتھ ملاتے پھریں اس سے بہت بدیاں پھیل سکتی ہیں اور یہ آغاز ہے خلا ملا کا ۔ اس لئے میرے نزدیک تو اس کو سختی سے منع کرنا چاہیے سختی سے اسے روکنا چاہئے رسم کو اگر آپ رواج دیں گے تو معاشرہ میں بہت سی بدیاں پیدا ہو جائیں گی اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے رکھے۔ سر کے اشارہ سے ہاتھ کے اشارے سے آپس میں احترام کو ظاہر کر سکتے ہیں اتنا ہی کافی ہے اور رفتہ رفتہ آپ کے معاشرے کی خوبیاں ان میں پھیلنی شروع ہو جائیں گی ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۵اکتوبر ۲۰۰۲ ء؁ ریکارڈنگ ۶ مئی ۱۹۹۴ء؁ )
    سوال35: آج کل جو ایلوپیتھک دوائیں بن رہی ہیں اس میں ۸۰ فیصد الکحل پڑ رہا ہے بخار وغیرہ یا دیگر دوائیوں میں ۸۷ فیصد سے ۹۰ فیصد الکحل شامل ہے ساتھ لکھا ہوتا ہے اتنی مقدار میں پی لیں ۔
    جواب :۔ وہی بات ہے برانڈی والی کہ ایک چمچہ پلاتے ہیں بچے کو اس میں تو ۷۰ یا ۸۰ فیصد الکحل ہوتا ہے اس کی اجازت ہے ۔
    ( مجلس عرفان ص ۴ ، ۱۳ ۔اپریل ۲۰۰۰ ء ؁ ریکارڈنگ ۴ فروری ۲۰۰۰ ء؁ )
    سوال 36: میرا سوال پلاسٹک سرجری کے بارے میں ہے وہ پلاسٹک سرجری جو خوبصورت بننے یا جوان لگنے کے لئے کرتے ہیں کیا اس کی اجازت ہے ؟
    جواب: ابھی میں نے کل بھی خط لکھا ہے ایک شخص کو اللہ رحم کرے اس پر ۔ اس نے خط لکھا ہے کہ میرا منہ ٹیڑھا ہے پیدائشی تھوڑا سا اور اس کی وجہ سے کوئی مجھ سے شادی نہیں کرتا ۔ تو میں نے اس کو لکھا کہ تم پلاسٹک سرجری کرالو بے شک اگر ایک نیک کام کی خاطر کروائی جائے تو قطعاً کوئی حرج نہیں اور آج کل ہو جاتی ہے ابھی اس کا جواب آئے گا تو پھر پتہ لگے گا کہ اس نے کیا فیصلہ کیا ہے اگر اس کو مالی امداد کی ضرورت پڑی تو وہ انشاء اللہ دے دیں گے لیکن اس کی زندگی بن جائے پلاسٹک سرجری سے تو اور کیا چاہیے ۔
    ( لجنہ سے ملاقات الفضل ص ۴ ، ۲۵ نومبر ۲۰۰۰ء؁ ریکارڈنگ ۶ فروری ۲۰۰۰ء؁ )
    سوال 37: آج کل Euthanasiaکے بارے میں بہت زیادہ گفتگو ہوتی ہے یعنی جب کوئی بہت شدید بیمار ہوتا تو اس پر رحم کرتے ہوئے اس کو مار دیتے ہیں اس بارہ میں کیا ارشاد ہے ؟
    جواب :۔یہ جو ہے نا Mercy killing یہ بہت بڑے Crimes کو کھول دے گی کیونکہ Mercy Killing کے بہانے کئی لوگ مار دیتے ہیں جائیداد لینے کی خاطر ۔ رشتے دار جو ہیں نا وہ اگر پیسہ دیں ڈاکٹر کو کہ اس کی Mercy Killingکر دو تو امریکہ میں تو بہت واقعات ہوتے ہیں کہMercy Killingکے بہانے وہ اچھے بھلے مریضوں کو پاگل کر کے مار دیتے ہیں اور نکلنے ہی نہیں دیتے وہاں سے اور نتیجۃً ان کی جائیدادیں ان کے رشتہ دار لے جاتے ہیں امریکہ میں ہو یا یہاں ہو کہیں بھی ہو Mercy Killingکی اجازت نہیں ہے اور خود کشی کی بھی اجازت نہیں ہے کیونکہ زندگی خدا نے دی ہے اور جب وہ چاہے واپس لے لے اس اصول کو دہریہ نہ بھی مانیں لیکن دل میں سے کچھ آواز اٹھتی ہے وہ کہتے ہیں خود کشی کی اجازت نہیں ورنہ اگر دہریہ ہوں تو خود کشی سے کیا فرق پڑ جاتا ہے زندگی کسی نے بھی نہیں دی اس کی اپنی زندگی ہے جو مرضی کرے تو Mercy Killingبھی اسی ضمن میں آتی ہے کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں ہے اگر تکلیف میں ہے تو دوائیں دو بہت سی ایسی دوائیں ہیں جو زندگی کو آخری لمحے میں آسان کر دیتی ہیں ہومیوپیتھک بھی ہیں اور ایلوپیتھک دوائیں تو بڑی سخت ہیں ایسی گہری نیند میں لے جاتی ہیں کہ کچھ پتہ نہیں لگتا کہ کیا ہوا ہے اس کو تو جب وہ علاج موجود ہے تو پھر Mercy Killing کی ضرورت کیا ہے ؟
    ( جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء؁ رکارڈنگ ۶ نومبر ۱۹۹۹ ء؁ )
    سوال38: بیت بنانا ثواب کا کام ہے اگر میں اپنے غیر احمدی دوست کی بیت میں چندہ دوں تو کیا مجھے اس کا ثواب ملے گا ؟
    جواب :۔ اتنی احمدی بیوت الذکر بن رہی ہیں تو پھر جس بیت میں وہ تمہیں گھسنے نہیں دیتے اس میں چندہ دینے کی کیا ضرورت ہے اس میں چندہ دینے کا کیا فائدہ ؟ اگر دے دو تو گناہ تو کوئی نہیں کوئی حرج نہیں بعض دے دیتے ہیں میں بھی دے دیا کرتا تھا مگر بس تھوڑا سا چندہ جس طرح و ہ دیا کرتے ہیں میں بھی کراچی آتے جاتے راستے میں لوگ کھڑے ہوتے تھے ہاتھوں میں ڈبے پکڑے اور یوں بجاتے ہوئے ۔ میں موٹر کھڑی کر کے ان سے پوچھا کرتا تھا میں احمدی (۔) ہوں میرے چندے سے تمہاری مسجد (۔) تو نہیں ہو جائے گی وہ کہتے تھے نہیں بالکل نہیں ہو گی ٹھیک ہے پھر میں کچھ نہ کچھ پیسے دے دیا کرتا تھا آپ بھی اس طرح بے شک دے دیا کریں گناہ تو نہیں ہے مسجدکسی کی بھی ہو ٹھیک ہے ۔ لیکن زیادہ خرچ احمدی( بیوت )پہ کریں ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۲۹ جنوری ۲۰۰۱ء؁ ریکارڈنگ ۲۲ مارچ ۲۰۰۰ء؁ )
    سوال 39:۔ کیا احمدیت میں کسی کے چہرے کی تصویر بنانے کی اجازت ہے ؟
    جواب :۔ تصویریں منظر کی تو کھینچ لو مگر انسانوں کی تصویریں ہاتھ سے نہ ہی بناؤ تو اچھا ہے کیونکہ اس سے آہستہ آہستہ پھر بت پرستی کی طرف توجہ ہو جاتی ہے مگر خاص طور پر جو تمہارے امام ہوں یا ایسے لوگ جن کے ساتھ بزرگی کا تعلق ہو ان کی تصویر تو بالکل حرام سمجھنی چاہیے جو اصل ہے وہی ہے بس ۔ ہاتھ سے نہ کھینچی جائے اس سے جو مصور ہے اس کا اپنا تصور اس کے چہرے پر آ جاتا ہے اور حقیقی نہیں رہتا اس سے تو پورا پرہیز کرنا چاہیے اس لئے جو ہاتھ سے کھینچنے کا شوق رکھتے ہیں ان کو میں کہتا ہوں کہ مناظر کی تصویر کھینچ لیا کرو بنا لیا کرو مگر انسانوں کی نہ بنایا کرو ۔ انسانوں کا ہیولہ کہیں دور بیٹھا ہوا ہو وہ اور بات ہے منظر کشی کے وقت کہیں زمیندار اِدھر ُادھر بیٹھا ہوا ہو وہ اور بات ہے مگر کسی کو نمایاں کرکے کسی انسان کا پورٹریٹ بنانا مجھے پسند نہیں ۔
    ( اطفال سے ملاقات الفضل ص ۴ ، ۲۱ اپریل ۲۰۰۰ء؁ ریکارڈنگ ۱۹ جنوری ۲۰۰۰ء؁ )
    سوال 40: میرے سکول میں کسی نے بتایا تھا کہ مرغیوں کو ذبح کرنے کے لئے مشین استعمال کی جاتی ہے جس سے ان کا خون نہیں نکلتا ۔ اور چھوٹی نالیوں میں رہ جاتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ ایسا گوشت کھانے کے لئے حلال ہے یا نہیں ؟
    جواب :۔ ایسی مرغیاں جن کو ذبح سے پہلے بے ہوش کر دیا گیا ہو وہ مشکوک گوشت ہے بعض جانوروں کو بھی سٹن کر دیتے ہیں سٹن ہونے کے بعد ذبح کیا جائے تو کچھ نہ کچھ خون اندر رہ جاتا ہے اگر احتیاط کرنی ہو تو بہتر یہی ہے کہ ذبح کیا ہو ا سچ مچ کا گوشت مل جائے اگر نہیں تو پھر ایسی مرغیوں کو اچھی طرح دھوکر صاف کرلینا چاہیے تا کہ کوئی خون کا نشان باقی نہ رہے اور پھر دعا کر کے بسم اللہ پڑھ کر بے شک کھا لیا جائے خون تو نکلتا ہی ہے مگر اتنا نہیں جتنا نکلنا چاہیے تو بقیہ خون کا حصہ اچھی طرح دھولیں صاف کر لیں اور بسم اللہ پڑھ کر کھا لیں شک نہ کیا کریں ۔
    ( لجنہ سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۲۸ اپریل ۲۰۰۰ ء؁ ریکارڈنگ ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۹ ء؁ )
    سوال 41:۔ کیا یہ سچ ہے کہ بہت زیادہ گوشت کھانا Aggressive کرتا ہے اور بالکل گوشت نہ کھانا بزدل کرتا ہے تو ہمیں کتنا گوشت کھانا چاہئے؟
    جواب :۔ درمیانہ ۔ قرآن شریف کی تعلیم کے مطابق ہر چیز Moderate ہونی چاہیے اور کہا جاتا ہے کہ زیادہ گوشت کھانے والے Aggressive ہوتے ہیں اور جو Aggressive ہوں وہی زیادہ گوشت کھاتے ہیں جتنے بھیڑئیے ، چیتے ، شیر اور عقاب پرندے ہوں یا جانور یہ سارے جو Aggressive Nature کے ہیں وہ گوشت کھاتے ہیں اب گوشت کھانے سے نیچر Aggressive ہوتی ہے یا Aggressive ہونے سے گوشت کھاتے ہیں ان میں پٹھان ہیں وہ بڑے Aggressive ہوتے ہیں اور یہ ویسے غلط ہے کہ گوشت نہ کھانے والے بزدل ہوتے ہیں ہو سکتا ہے بعض بزدل ہوں مگر ہندوؤں میں بڑے بڑے بہادر بھی ہیں ۔ ڈوگرا قوم ہے ہندو ہے میرا خیال ہے وہ بھی گوشت نہیں کھاتے مگر بہادر قوم ہے تو بہادری اور بزدلی کا ضروری نہیںکہ گوشت سے تعلق ہو مگر عموماً عام طور پر یہی دیکھتے ہیں گوشت بہت نہیں کھانا چاہیے اس سے بلڈ پریشر بھی بہت زیادہ ہو جاتا ہے شاید اسی لئے ایسے جانور بھی بہت Aggressive ہوتے ہیں ۔
    ( جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ص۳ ، ۲۰ ۔اکتوبر ۲۰۰۱ء؁ ریکارڈنگ ۴ مارچ ۲۰۰۰ ء؁ )
    سوال 42: آج کل سڑکوں پر مانگنے والے بہت آتے ہیں اور جرمنی میں بھی زیادہ آتے ہیں اور جرمنی میں بھی انگلینڈ میں بھی کسی کو ضرورت نہیں ہے کہ وہ مانگے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کو ضرور دینا چاہیے تو اگر میں نہیں دیتی ہوں تو کوئی گناہ تو نہیں کرتی ہوں ؟
    جواب : اگر تو فقیر ہو اور اس کو مانگنے کی ضرورت نہ بھی ہو تو جو مانگتا ہے اس کو کچھ نہ کچھ دے دینا چاہیے مگر ایک فرق ہے جب یہ پتہ ہو کہ جو لے گا سیدھا شراب خانے جا کر شراب پیئے گا پھر نہیں دینا چاہیے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ بھی ایسے فقیروں کو جو اچھے بھلے ہوتے تھے ان کو پیسے دے دیا کرتے تھے مگر یہ تو نہیں تھا کہ پیسے لیے اور جا کر شراب پر خرچ کر دیئے تومیں نے دیکھا ہے خود یہاں ایک فقیر بیٹھا ہوا تھا ایک دفعہ جب میں سٹوڈنٹ تھا تو اس نے ہیٹ اپنے آگے رکھا ہوا تو مجھے خیال بھی نہیں تھا میں نے کہا جو بے چارہ مانگ رہا ہے اس کو دے دوں وہ پب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا س نے دیکھا کہ پیسے کافی مل گئے ہیں تو سیدھا پب میں چلا گیا تو اس وقت مجھے خیال آیا کہ ایسے لوگوں کو جو اس وجہ سے مانگتے ہیں ان کو نہیں دینا چاہیے ۔
    ( جرمن ملاقات الفضل ص ۴ ، ۱۹ مئی ۲۰۰۰ ء؁ ریکارڈنگ ۱۳ نومبر ۱۹۹۹ ء؁ )
    سوال 43:۔ مرد کو ریشم اور سونا کیوں منع ہے ؟
    جواب :۔ آدمی کو خدا تعالیٰ نے Tough بنایا ہے سخت کام کرنے کے لئے اور ریشم پہننے سے نزاکت پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح سونا بھی عورتوں کے لئے الگ کر دیا ہے ان کا کام ہے خوبصورت لگیں سونا پہنیں اگر اجازت ہوتی تو مردوں نے سارا سونا عورتوں سے چھین لینا تھا افریقہ میں گھانا میں آپ دیکھیں وہاں عورتیں بے چاری خالی ہوتی ہیں اور چیفس سارا سونا پہنے پھرتے ہیں تو اس سے انسانی فطرت کا پتہ چلتا ہے ان بے چاریوں کے لئے کچھ بھی نہ رہتا نہ ریشم رہتا نہ سونا رہتا اور جیسا کہ میں بتایاویسے بھی مرد کو ٹف ہونا چاہیے اس کا کام تقاضا کرتاہے کہ اس کو نرم و نازک چیزوں سے الگ رکھا جائے ۔
    ( جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۸ فروری ۲۰۰۲ء؁ ریکارڈنگ ۲۶ فروری ۲۰۰۰ء؁ )
    نوٹ:اسی مضمون کا جواب درج ذیل حوالہ کے تحت بھی موجود ہے۔
    (مجلس عرفا ن ،ا لفضل۹۔اگست۲۰۰۱ء ص ۳ منعقدہ ۱۶ جون ۲۰۰۰ء)
    سوال44 :۔ ہمارے سکول میں ہفتے میں ایک دن موسیقی کی کلاس ہوتی ہے جو مجھے پسند نہیں لیکن میرے ٹیچر کہتے ہیں کہ ضروری ہے حضور مجھے کیا کرنا چاہئے؟
    جواب : چپُ کرکے بیٹھے رہا کرو کانوں میں روئی دے لیا کرو ۔۔۔۔۔ بیٹھنا فرض ہے ۔
    ( اطفال سے ملاقات الفضل ص ۵ ، ۴ فروری ۲۰۰۰ ء؁ ریکارڈنگ ۱۴ فروری ۱۹۹۹ ء؁ )
    سوال45: بعض عورتیں یہ بات کہہ دیتی ہیں کہ عورتیں ناپاک ہیں اس لئے بیت الذکر نہیں جاسکتیں اس بارے میں روشنی ڈالیں ؟
    جواب :عورتیں ناپاک ہوں تو یہ ماننا پڑے گا کہ جنت ناپاک لوگوں کے قدموں کے نیچے ہے حضرت محمد رسول للہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ناپاکوں کے قدموں سے جنت ملے عورتیں بہت پاک ہیں پاک لوگوں کو جنم دینے والیاں ہیں یہ تو جاہلانہ باتیں ہیں بعض دن ایسے ہیں جن میں بیت الذکر میں جانا اس لئے منع ہے کہ مجبوریاں ہیں اس وقت حفظان صحت کے تقاضے یہ ہیں کہ ان دنوں میں احتیاط کی جائے باقی ناپاکی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
    ( مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء؁ ریکارڈنگ 6مئی(1994
    سوال 46:۔ کیا نظر لگنا صحیح ہے ؟
    جواب :۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نظر لگ جاتی ہے مگر میں نے جو غور سے دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ توجہ کا اثر پڑتا ہے اسے مسمریزم کہتے ہیں نظر لگنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کا بچہ ہی نہ ہو کوئی کہہ دے کسی عورت نے نظر ڈال دی ہے۔ مگر کھانا کھاتے وقت بعض دفعہ لوگوں کے ہاتھ سے لقمہ گر جایا کرتا ہے ہمارے اباجان کو بالکل وہم کوئی نہیں تھا لیکن ہماری ایک بہن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ میں جب لقمہ کھاتا ہوں تو جب یہ توجہ کرے تو میرے ہاتھ سے گر جاتا ہے اور واقعتہً وہ بات ٹھیک نکلی تو نظرلگنے کا اتنا مطلب ہے کہ مسمریزم ٹائپ کی چیز ہے مگر باقی جو وہم ہیں وہ فضول ہیں کہ نظر لگ گئی ہے فلاں کا بچہ نہیں ہو رہا یہ سب جھوٹ ہے ۔
    ( لجنہ سے ملاقات الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ ء؁ ص ۴ ریکارڈنگ ۷ نومبر ۱۹۹۹ء؁ )
    نوٹ:مندرجہ بالا مضمون مقالہ کے عنوان "متفرق" میں سوال 16کے تحت بھی موجود ہے ۔نیز وہاں اس کا حوالہ درج ذیل ہے۔ (مقا لہ نگا ر)
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال47:۔ اگرکوئی غلط کام کرے تو اس کی شکایت لگانی چاہئے کہ نہیں ؟
    جواب :۔ ہاں اگر کوئی ایسا کام ہو کہ اسکی شکایت لگانے سے اس کو فائدہ پہنچ سکے تو اس کو بتا کے شکایت لگانی چاہئے چھپ کے شکایت نہیں کرنی چاہیے تم نے غلط کام کیا ہے توبہ کرو ورنہ میں تمہاری شکایت لگانے لگا ہوں جرأت ہونی چاہئے ورنہ چھپ کے لگاؤ گے تو غیبت بن جائے گی ۔
    (اطفال سے ملاقات الفضل ص ۴ ، ۴ فروری ۲۰۰۰ ء؁ ریکارڈنگ ۱۴ فروری ۱۹۹۹ء؁ )
    سوال 48: آج کل دیکھا گیا ہے کہ کئی لڑکے اپنے بالوں کو مختلف رنگ لگاتے ہیں پیلا ، لال یا کوئی اور رنگ۔ کیا احمدیت میں اس کی اجازت ہے ۔
    جواب :۔ نہیں یہ بری بات ہے ۔ بوڑھے مہندی تو لگا لیتے ہیں لیکن بچے اپنے بالوں کو سنوارنے کے لئے مختلف رنگ دیتے ہیں یہ اچھی بات نہیں ۔
    ( اطفال سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۲۱ اپریل ۲۰۰۰ ء؁ )

    سوال 49: کیا مذاق میں جھوٹ بولنا جائز ہے ؟
    جواب :۔ ناجائز ہے مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ۔
    ( افطال سے ملاقات الفضل ص ۴ ، ۱۷ جون ۲۰۰۰ ء؁ ریکارڈنگ ۱۰ نومبر ۱۹۹۹ء؁ )
    سوال 50: ایک بچے نے پوچھا کہ ہم سکولوں میں تیرنے کے لئے جاتے ہیں کیا ہمیں اس کی اجازت ہے ؟
    جواب :۔ حضور نے فرمایا۔ اگر دینی ذمہ داریوں کے مطابق تیریں تو اس کی اجازت ہے ننگے بدن نہ تیریں ۔ جس جگہ یہ لازمی ہو کہ ننگے ہو کر تیریں وہاں ہرگز تیرنے نہ جائیں ۔
    (مجلس عرفان الفضل ص ۳ ، ۱۴ جون ۱۹۹۹ ء؁ ریکارڈنگ ۱۵ مئی ۱۹۹۹ ء؁ )
    سوال 51: جادو کیا ہے کیا یہ تصور ہے یا حقیقت ہے ؟
    جواب : تصور ہے جادو میں کچھ بھی نہیں ۔ کالا جادو فلاں جادو یہ سب جھوٹ اور بکواس ہے Magicکوئی چیز نہی مگر اس کے متعلق قرآن کریم میں جو لفظ آتا ہے سحر اس سے پتہ چلتا ہے کہ جادو گروں نے نظرکو باندھا تھا یعنی رسیوں کو سانپ نہیں بنایا تھا سوٹیوں کو سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ مسمریزم تھا اور دماغوں پر انہوں نے بہت Concentrate کیا تو ایک مسمریزم سب کے اوپر ہو گیا اور انہوں نے یہ سوچا کہ گویا یہ سانپ سنپولیاں پھر رہی ہیں تو اس کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے سحروا اعینھم یہ نہیں کہا کہ ان سوٹیوں پر جادو کیا بلکہ ان کی آنکھوں پر جادو کیا تو یہ جادو تو ہو سکتا ہے اور ٹیلی ویژن پہ بھی نظر آتا رہتا ہے آنکھوں پر جادو کیا جاتا ہے اصل چیز نہیںبدلتی ۔
    ( جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ص ۳ ، ۸ فروری ۲۰۰۲ ء؁ رکارڈنگ ۲۶ فروری ۲۰۰۰ ء؁ )
    سوال52: کیا ہم ہندوؤں کا کھانا کھا سکتے ہیں ؟
    جواب :۔ اگر وہ سبزیاں ہیں اور بیچ میں ایسا حرام کھانا نہیں ہے تو کھا سکتے ہو کوئی حرام چیز اس میں نہیں ہونی چاہیے
    ( اطفال سے ملاقات الفضل ص ۴ ، ۲۱ اپریل ۲۰۰۰ ء؁ رکارڈنگ ۱۹ جنوری ۲۰۰۰ ء؁ )
    سُود
    سوال :1
    سود اور تجارتی نفع میں کیا فرق ہے؟
    ایک دوست کے سوال پر کہ ایک شخص بنک میں روپیہ جمع کرواتا ہے اور مقررہ شرح کے مطابق نفع لیتا ہے جسے سود کہا جاتا ہے اور یہ ناجائز ہے۔ لیکن ایک دوسرا شخص اپنے روپیہ سے بلڈنگ بنا کر کرایہ پر دے دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔
    جواب: حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس سوال کو خود قرآن کریم میں بیان فرمایا ہوا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں تجارت اور ربوٰ تو ایک جیسی چیزیں ہیں مگر اللہ نے ایک کو حلال اور دوسری کو حرام قرار دیا۔ اس مسئلہ کو باریک نظر سے دیکھا جائے تو فرق نمایاں ہے۔ مثلاً عمارت بنوانا اقتصادیات اور قانون قدرت کے طبعی قوانین کے تابع ہے۔ عمارت بنواتے وقت کچھ خطرات مول لینے پڑتے ہیں مثلاً غلط قسم کا میٹریل استعمال ہونے کی وجہ سے عمارت کے منہدم ہوکر یا طبعی قانون کے تابع زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے روپیہ ضائع بھی ہوسکتا ہے اور کبھی اچانک اقتصادی حالات بدلتے ہیں تو اس کی قیمت گر جاتی ہے پھر عمارت کی Maintenance کی ذمہ داریاں ہیں جو مالک ادا کرتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جہاں تک سود کی آمد کا تعلق ہے وہ ایک مقررہ منافع ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں اور روپیہ رکھوانے والے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر بنک میں اس کا سارا روپیہ ضائع بھی ہو جائے تو تب بھی قانوناً بنک اس کو واپس کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ اس مسئلہ کے گہرے مطالعہ سے سود کی حرمت اور تجارت کی حکمت میں ایک اور بنیادی اور حقیقی فرق نظر آتا ہے کہ سودی کاروبار کرنے والوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی رو سے نہ کوئی تعمیری کام ہوتا ہے نہ کوئی چیز Produce ہوتی ہے جبکہ مکان بنانے میں بنی نوع انسان کے مفادات وابستہ ہیں۔ سودی نظام سے ایسی سوسائٹی پروان چڑھتی ہے جس کی اپنی شمولیت اقتصادی معاملات میں کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ سارا روپیہ ایسے ہاتھوں میں جاکر اقتصاردی کاروبار چلاتا ہے جس کے نتیجہ میں سرمایہ کاری کو تقویت ملتی ہے اور عوام الناس کا ان لوگوں سے اقتصادی فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے ایسی صورت میں روپیہ پر منافع محض ایک دھوکہ بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ اس طرح جب بڑے لوگوں کے ہاتھ میں روپیہ اکٹھا ہوکر بڑی بڑی اقتصادی مشین چلاتا ہے تو اس صورت میں یہ فیصلہ کرنا ان کے بس میں ہوتا ہے کہ فرد نے روپیہ پر جو منافع لیا ہے اس کا فائدہ اس کو پہنچائیں یا نہ پہنچائیں چنانچہ جب وہ فائدہ نہیں پہنچانا چاہتے تو Inflation یعنی افراطِ زر کا رخ تیز کرکے روپے کی قیمت گرا دیتے ہیں جبکہ مکان بنوانے میں الا ماشاء اللہ یہ صورت نہیں ہوتی سودی روپیہ کا انفرادی سوسائٹی میں بھی دھوکہ ہورہا ہے اور قومی طور پر بھی۔ غریب قومیں سودی نظام کی چکی میں پس رہی ہیں۔ بڑی طاقتیں ان کا خون چوس رہی ہیں۔ بظاہر منافع کی صورت میں جو پیسہ ملتا ہے اس سے کہیں زیادہ افراطِ زر کی وجہ سے پیسے کی قیمت گر جاتی ہے اور روپیہ منفی قدر اختیار کر جاتا ہے لیکن اگر کسی نے مکان بنانے کے لئے پلاٹ خریدا ہو تو قیمت دگنی تگنی ہو جاتی ہے یہ تجارت ہے اور وہ سود ہے۔ قرآن کریم نے سود سے منع کیا اور تجارت کی اجازت دی جو حکمتوں پر مبنی ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۸؍نومبر ۱۹۹۸ء صفحہ۳۔ منعقدہ کراچی ۲۶؍اگست ۱۹۸۳ء)
    سوال :2 بنکوں میں جو Saving رکھی جاتی ہے کیا اس پرسود لینا جائز ہے؟ باہر ہر وقت چوری کا خطرہ رہتا ہے۔
    جواب: یہ عجیب بات کی ہے چوری کے خطرے کی خاطر اگر بنک میں جمع رکھتے ہیں تو جو چوری سے بچ گیا ہے اس پر سود لیں گے تو خدا کی چوری کریں گے۔ چوروں کو چوری سے بچانے کے لئے آپ چور بن بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کی اجازت نہیں دی اس کا استعمال چوری ہے۔ تو بعینہٖ ان کا سوال الٹ جاتا ہے ان پر۔ چوروں کو تو چوری سے بچارہے ہیں اپنے آپ کو بھی تو چوری سے بچائیں۔ وہ مال کسی کا نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کو واپس لوٹا دیا جائے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۰؍اپریل ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مارچ ۱۹۹۴ء)
    سوال :3
    دین اور بنکاری نظام
    ایک دوست نے سوال کیا کہ دینی نظام میں بینکنگ کا کیا طریق ہوگا یہ کیسے کام کرے گا Investor کے لئے اس میں کیا Attraction ہوگی۔ ضرورت مند کو قرض کن شرائط یا Basis پر ملے گا۔
    جواب: حضور ایدہ اللہ نے جواباً فرمایا اس وقت آپ نے جوسوال اٹھایا ہے اس کو اس رنگ میں پیش کرنے میں موجودہ اقتصادیات کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوگا۔ Investor کو بنک میں اپنا روپیہ جمع کرانے کی دلچسپی نہیں ہوتی بینک سے لینے کی دلچسپی ہوتی ہے۔ اس لئے یہ سوال ہی الٹ ہے۔ بینک میں وہ جمع کراتا ہے جس بیچارے کو تجارت کا کوئی سلیقہ ہی نہیں ہے یا اتنے تھوڑے روپے ہیں کہ وہ ان کو کسی خاص مصرف میںلا نہیںسکتا۔ تو وہ بینک میں جمع کرادیتا ہے لیکن جو تاجر جمع کراتا ہے وہ زیادہ لینے کی خاطر جمع کراتا ہے اس کے پیسے پر بینک نہیں چلتے وہ بینک کے پیسوں پر چلتا ہے اور اسی میں آپ کے سوال کا جواب آجانا چاہئے۔ موجودہ بینکنگ کا یہ نظام مہلک ہے۔ یہ سادہ لوح عام انسانوں کی دولت کو کھینچ کر چند ہاتھوں میں پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے اور اسی سے ساری سوسائٹی کی اقتصادی خرابیاں پیدا ہوتی ہے۔ پس دین اس قسم کی کوئی بینکنگ جاری نہیں کرے گا۔
    (الفضل ۲۴؍اپریل ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ پروگرام ملاقات ۱۰؍مارچ ۱۹۹۵ء)
    پردہ
    خلیفہ وقت سے پردہ :
    سوال 1: ایک خاتون نے سوال کیا ۔کیا خلیفہ وقت سے پردہ ضروری ہے؟
    جواب: خلیفہ وقت سے پردہ نہ کرنے کا یہ عذر کہ وہ روحانی باپ ہوتا ہے درست نہیں۔پردے کی مختلف قسمیں ہیں۔ایک ہے چہرہ ڈھانپنا اور اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھنا۔یہ پردہ ہر ایک سے ضروری ہے۔خلیفہ وقت سے بھی ضروری ہے۔ لیکن گھر کے ماحول میں جس طرح بعض عزیز آتے رہتے ہیں ان سے یہی پردہ کافی ہے۔یعنی اپنے آپ کو ڈھانک کر رکھنا اور چہرہ چھپانا ان سے ضروری نہیں ہوتا۔ہم گھروں میں بے پردگی کی اجازت نہیں دیتے بلکہ Relax پردہ اس خیال سے کہ وہاں ماں باپ بھی موجود ہوتے ہیں کسی قسم کے خطرات نہیں ہوتے اور روز مرہ کا آنا جانا ہے وہاں برقعہ سمیٹ کر کہاں تک بیٹھا جا سکتا ہے ۔اس لئے وہ بھی پردہ ہی ہے لیکن پردے کی نرم قسم ہے اس کی اجازت دی جاتی ہے ۔خلیفہ وقت کے سامنے جب آپ آتی ہیں تو اس وقت نرم پردہ کرنا منع نہیں ہے۔ لیکن پردے کی روح کو بہرحال قائم رکھنا چاہئے ۔یہ بات ہے جسے آپ ہمیشہ پیش نظر رکھیں ۔بعض دفعہ ایسی بچیاں ہوتی ہیں جو خلیفہ وقت کے سامنے اسی طرح بے تکلفی سے بیٹھ جاتی ہیں جس طرح اپنے ماں باپ کے سامنے بیٹھی ہوتی ہیں ۔ان میں زیادہ مین میخ کرنا دخل اندازی کرنا مناسب نہیں ہوتا حسب حالات سمجھ آجاتی ہے انسان کو کہ کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔مگر اصولی تعلیم یہی ہے جس کو پیش نظر رکھنا چاہئے چہرہ کی Relaxation خلیفہ وقت کے علاوہ بھی ہے اور مناسب ماحول میں اگر یہ Relaxation ملے تو منع نہیں ۔لیکن جو عورتیں پورا پردہ کرتی ہیں ان کو میں نے کبھی منع نہیں کیا ۔نہ حضرت مصلح موعود (نوراللہ مرقدہ) اور خلیفہ ثالث( نوراللہ مرقدہ)نے کبھی منع کیا تھا بعض بچیاں سمٹ کر بیٹھتی ہیں مجھے خوشی ہوتی ہے جو یہاں پابندی کرتی ہیں وہ باہر جا کر اور بھی زیادہ کرتی ہوں گی۔
    (مجلس عرفان روزنامہ الفضل ربوہ۔ ۴؍مارچ ۱۹۹۹ء صفحہ ۳۔ ریکارڈنگ دورہ کراچی فروری ۱۹۸۳ء)
    سوال2 : اگر احمدی عور ت پولیس فورس میں شامل ہونا چاہے اور اس حالت میں اگر اس کو بھاگنا پڑے مثلاً چور کے جواب :پیچھے بھاگے تو اس حالت میں وہ پردہ کیسے کرے گہ جبکہ پردہ کسی کام میں روک نہیں ہے؟
    جواب: جب پولیس میں داخل ہوگی تو پردہ کیسے کرے گی۔ چور کے پیچھے بھاگے نہ بھاگے یہ تو بیہودہ خیال ہے۔ پولیس میں احمدی عورتوں کو نہیں جانا چاہئے۔ کئی قسم کی ایسی ذمہ داریاں ان پر پڑتی ہیں جو ان کے لئے اچھی نہیں ہیں۔ ان کی حفاظت کا سامان نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اگر پولیس میں جانے کا خیال ہے تو اس کو دل سے نکال دو۔
    )لجنہ سے ملاقات الفضل ۸ جنوری ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ )
    سوال3: کیا مغربی ممالک میں پورا پردہ کرنا، نقاب لینا فائدہ کی بجائے نقصان نہیں پہنچاتا؟ کیونکہ اس سے خالی مرد نہیں گھبراتے بلکہ عورتیں بھی گھبراتی ہیں اور اس طرح رابطہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے؟
    جواب: یہاں تو میں دیکھتا ہوں کہ بہت احمدی عورتیں اردگرد نقاب لے کر پھرتی ہیں۔ کوئی بھی نہیں گھبراتا بلکہ عزت کرتے ہیں۔ بہت وہم ہے بعض عورتوں اور لڑکیوں کو کہ جی اس سے گھبراتے ہیں۔ یونیورسٹی میں جاتے ہیں تو لوگ برا مناتے ہیں۔ تو مجھ سے اجازت مانگی کہ ہم بغیر پردے کے چلے جائیں۔ میں نے کہا آپ جب گھر میں پردہ کرتی ہیں، اپنی مجلس میں تو کرتی ہیں اور باہر نکل کر پردہ چھوڑنا تو منافقت ہے۔ اس لئے یہاں بیت الذکر میں آتی ہیں تو پردہ کرتی ہیں تو باہر بھی پردہ کیا کریں۔ یا پھر اتنی اخلاقی جرأت ہو کہ وہاں بھی چھوڑ دیں۔ تو اس پر انہوں نے پردہ شروع کر دیا۔ اور اس کے بعد سوئٹزرلینڈ سے بھی اس قسم کی رپورٹ آئی۔ ایک امریکہ سے آئی تو وہ لوگ جو پہلے ہنستے تھے انہوں نے عزت کرنی شروع کردی اور پروفیسروں نے بھی کہا یہ بڑے کردار کی لڑکی ہے۔ غیر معاشرے کا اس پر کوئی اثر نہیں۔ میں جب اپنی بیوی آصفہ مرحومہ اور بڑی دو بچیوں فائزہ اور شوکی کو امریکہ لے کر گیا تھا، ہر جگہ پردہ کرکے جاتی تھیں ااور ہم پارکوں میں نماز باجماعت بھی پڑھتے تھے۔ تو لوگ اردگرد کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوتے تھے اور بعضوں کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ ان کی آنکھوں سے جذبات کی وجہ سے آنسو جاری تھے۔ تو اللہ کے ذکر سے اور اللہ کی طرف سے جو پابندیاں ہیں ان سے کوئی نقصان نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک لڑکی نے امریکہ سے لکھا کہ میری بڑی عزت افزائی ہورہی ہے۔ تو ہر جگہ دل میں پردے کی بڑی عزت ہے اور یہ وہم ہے محض بہانہ ہے کہ لوگوں کو برا لگے گا۔ اگر برا بھی لگتا ہے تو جائیں جہنم میں۔ برا لگتا ہے تو برا لگے بے شک۔ اللہ میاں کی خاطر لگنے دو برا۔ یہ حکم جو ہے یہ خاص طور پر جوان لڑکیوں کے لئے ہے یا درمیانی عمر کی عورتوں کے لئے۔ جو جوان نہیں ہوتیں اور قرآن سے پتہ چلتا ہے، جن کی عمر زیادہ ہو جائے ان کے لئے اس قسم کے پردہ کا بالکل حکم نہیں ہے۔ وہ چادر اوڑھ لیں بس کافی ہے۔ اور جسم کو ڈھانپ کے رکھیں تو عمر عمر کے لحاظ سے بھی پردے کا فرق ہو جاتا ہے۔ پردے کے متعلق مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔ لطیفہ بھی ہے ایک دلچسپ واقعہ بھی تو ہم نے کرائے پر کار لی تھی۔ ایک جگہ سے اور اس پر پھر کر سارے چکر لگاکے واپس کرنے کے لئے آئے۔ قانون یہ تھا کہ پھرا ہوا پٹرول وہ دیتے ہیں اور بھرا ہوا پٹرول واپس لیتے تھے۔ تو میرے ساتھ شوکی تھی تو اس لڑکی نے پوچھا یہ کیا ہے۔ اس نے کہا پردہ کیا ہوا ہے۔ ہم پاکستان میں بھی کرتے ہیں یہاں بھی کرتے ہیں۔ کسی ملک سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ بہت متاثر ہوئی اور اتنے میں ایک لڑکی آگئی وہ بھی پاکستانی تھی بالکل بے پردہ۔ اس نے کہا تم پاکستان کی نہیں ہو؟ اس نے کہا پاکستان کی ہوں۔ اس نے کہا پردہ نہیں کیا ہوا۔ اس نے کہا وہاں میں کرتی تھی یہاں امریکہ میں نہیں کرتی۔ اس نے کہا تمہارا کوئی اعتبار نہیں۔ جس کا کردار ایسا ہو کہ اپنے ملک میں پردہ کرے دوسرے ملک میں چھوڑ دے یہ تو کوئی پردہ نہیں۔ اس لئے مجھے تمہاری بات کا بھی اعتبار نہیں۔ تم جو کہتی ہو میں نے پٹرول بھروا کے کار کھڑی کی ہوئی ہے۔ ابھی میں چیک کروں گی۔ مجھے یقین ہے تم جھوٹ بول رہی ہو اور عجیب لطیفہ ہوا اس نے جاکے پہلے ہماری کار چیک کی اس نے کہا دیکھا سوفیصدی جس طرح آپ نے کہا تھا اسی طرح بھرا ہوا پٹرول ہے۔ اس کی کار چیک کی تو آدھا پٹرول بھی نہیں تھا۔ وہ دھوکہ دینے کی کوشش کررہی تھی۔ تو پردے کی وجہ سے پکڑی گئی وہ بڑی ذہین لڑکی تھی جو کاؤنٹر پر کھڑی تھی تو اس قسم کے دلچسپ واقعات ہوتے رہے ہیں تو میں نے کہا میں یہ بھی سنا دوں آپ کو۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل ۲۳؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ ۳ تا۴۔ ریکارڈنگ ۲۲؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال4: رسول کریمﷺ سے عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں؟
    جواب: نہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے کبھی کسی نے پردہ نہیں کیا۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ سے زیادہ پاک نظر اور کس کی ہوسکتی تھی؟
    (اطفال سے ملاقات الفضل ۳۱ اگست ۲۰۰۰ء صفحۃ ۳ تا ۴ ریکارڈنگ ۱۶ فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال 5:
    پردہ کے متعلق ایک سوال کا جواب
    سوال : اس سوال پر کہ چچا یا ماموں زاد بہن بھائیوں میں گہری قرابت پائی جاتی ہے مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کو محرم رشتہ داروں میں شامل نہیں کیا؟
    جواب: حضور نے جواباً فرمایا معاشرہ میں اگر تو ایسی بے پردگی ہو کہ بے دھڑک آنا جانا ہو تو یہ ناجائز ہے۔ ایک میز پر اکٹھے کھانا کھا لینا لیکن اپنے آپ کو سنبھال کر رکھنا قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ منع نہیں ہے لیکن ایسے گھروں میں داخل ہونا ہو تو ان کو لازم ہے کہ عورتیں اپنے آپ کو سنبھالیں اور وہ بے تکلف آنا جانا جو حقیقی بہنوں کے ساتھ ہوسکتا ہے وہ نہیں ہے اس میں فرق کرنا پڑے گا۔ پرانے زمانے میں ایسی خواتین تھیں جو اپنی تہذیبی اقدار کو پہچانتی اور سمجھتی تھیں۔ وہ جب بھی کوئی ایسا قریبی شخص آئے تو اپنی بچیوں اور بہوؤں کو ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ پردہ کرو۔ بلکہ بہوؤں کے دیور وغیرہ کے آنے پر فوراً کہا کرتی تھیں کہ اپنے آپ کو سنبھالو دوپٹہ لو، یوں کرو۔ اور ایسی تربیت ہوتی تھی کہ ہر دفعہ کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی وہ ضرور سنبھل جاتی تھیں اور اگر کوئی نہ سنبھلے تو اس کو گھور کر دیکھا جاتا تھا کہ تم کیا کررہی ہو۔ پس چچا یا ماموں زاد اگرچہ محرم رشتہ داروں میں مذکور نہیں لیکن محرم کے قریب تر لوگ ہیں اور روزمرہ کے آنے جانے اور گھریلوں معاشرت کی وجہ سے جب ہمارے ہاں خاندان کا دائرہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس میں یہ سختی سے اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ برقعہ پہن کر بیٹھیں لیکن سنبھل کر بیٹھنا اور اپنی زینت کو سنبھال کر رکھنا یہ بہت ضروری ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو اسی بہانے سے کہ کوئی بات نہیں آخر بہنیں ہی تو ہیں جو بے احتیاطیاں ہوتی ہیں ان سے پھر معاشرہ میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۷؍مارچ ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ پروگرام ملاقات ۲۳؍دسمبر ۱۹۹۴ء)
    سوال6: لڑکیوں کو اپنے کزن بھائیوں سے پردہ کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟
    جواب: عام طور پر تو لوگ نہیں کرتے۔ مگر اس لئے نہیں کرتے کہ شریف بچے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کزن کے متعلق خطرہ ہو کہ آوارہ ہے یا بری نظر ڈالنے والا ہے تو اس سے ضرور پردہ کرنا چاہئے۔ ہمارے اباجان تو پردہ کروایا کرتے تھے کزن سے لیکن وہ سبق دینے کے لئے تھا۔ بعد میں ڈھیل ہوگئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نہیں کروایا کرتے تھے۔ لیکن اس اعتماد کی وجہ سے کہ شریف بچے ہیں تو ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر پھر بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھنا چاہئے۔ ٹھیک ہے کم سے کم پردہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھو۔
    (الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۷؍نومبر ۱۹۹۹ء ۔ لجنہ سے ملاقات)
    سوال7: لڑکیوں کو پردہ کس عمر میں شروع کرنا چاہئے؟
    جواب: جب لڑکیاں جوان ہو جائیں۔ جب لڑکیاں ایسی ہو جائیں کہ وہ Attract کریں کسی کو تو اس وقت پردہ شروع کر دینا چاہئے۔
    (الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۔ ریکارڈنگ ۷؍نومبر ۱۹۹۹ء ۔ لجنہ سے ملاقات)
    سوال:8 ایم ٹی اے کے ایک پروگرام میں پردہ کا معیار جماعت احمدیہ کی شان کے کچھ منافی معلوم ہوا تھا۔ اس بارہ میں بھی حضور کچھ نصیحت فرمائیں۔
    جواب: جماعت احمدیہ کا معیار تو میں نے طے کرنا ہے۔ بلکہ میں نے بھی کیاطے کرنا ہے ۔قرآن کریم نے طے کیا ہوا ہے۔میں بارہا اس کے متعلق روشنی ڈال چکا ہوں ہو سکتا ہے آپ کے اپنے ذوق کے خلاف ہو۔ لیکن یہاں آپ یہ کہتے ہیں جماعت کے وقار کے منافی ہے تو یہ محاورہ قابل قبول نہیں ہے۔ آپ یہ بتائیں غیر دینی بات کیا تھی؟کیا اس پردے میں بے حیائی کا عنصر شامل تھا۔کیا اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ دعوت نظارہ دی جارہی ہے۔ یا یہ اثر پڑتا تھا کہ شریف سلجھی ہوئی عورتیں ہیں اور کہیں نقاب ڈھیلا بھی ہو اجاتا ہے اور ضروری نہیں وہی نقاب ہو جو پاکستان میں رائج ہے جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہی نقاب حضرت رسول کریم ﷺکے زمانے میں بھی پہنا جاتا تھا۔تو اپنے تعصبات کو دین کا نام دینا بالکل جائز نہیں ہے۔دوسرے ایک چھوٹے سے ملک میں رہ کر ساری دنیا کو اس معیار پر ناپنا۔ یہ ویسے ہی خلاف عقل بات ہے۔ ایک پردہ جس کو واضح طور پر میں نے معین نہ کیا ہوا گر آپ اس کو ساری دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کریں گے۔ تو دین سے دشمنی کریں گے۔بنیادی روح جو پردے کی ہے اس کو پیش نظر رکھیں اگر باہر کی قومیں جن کو پردے کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ بلکہ بے حیائی سے رک کر۔حیا کی طرف اٹھاتی ہیں تو دین کے گھر میں داخل ہو رہی ہیں ان داخل ہونے والیوں کا یہ استقبال کہ تمہارا پردہ ٹھیک نہیں تم یوں کر رہی ہو وہ کر رہی ہو آپ دین کا کچھ بھی باقی نہ رہنے دیں گے اور یہی چیزیں جب اپنے ملک میں دیکھتے ہیں تو آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اپنے دیہات میں جا کر آپ کو کیوں تکلیف نہیں ہوتی۔عورتیں کھیت میں گھونگھٹ لے کر یا چادر لے کر بھی جاتی ہیں۔آپ نے کبھی تکلیف محسوس نہیں کی کبھی خیال نہیں آیا کہ دینی پردہ کے خلاف ہے۔پاکستان میں مختلف شہروں میں جو پردے کا معیار ہے اس کو بھی آپ جانتے ہیں اور اس پہ اعتراض نہیں۔ دراصل آپ کی مراد ہے دکھاوے سے یعنی میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ کی نیت یقینا دکھاوے کی تھی۔ ایک سوال کرنے والے کا انداز ایسا ہو سکتا ہے جس میں وہ اپنی سبکی محسوس کرتا ہے۔ کہ اپنے گھر میں ماحول اور بنایا ہوگا ہو سکتا ہے وہاں بچیوں پر سختی زیادہ ہوتی ہو۔ اور پھر جب ان کی بیٹیاں یہ پروگرام دیکھیں گی تو کہیں گی کہ دیکھ لو اب وہاں تو یہ ہو تا ہے۔ یہ خوف بھی ہوتے ہیں مجھے کئی خط آتے ہیں یہ پہلا خط نہیں ہے۔ دیکھنے والی بات بنیادی طور پر وہی ہے کہ آپ کو پردے کی محبت ہے یا اپنی انا کی خاطر آپ بعض باتیں سوچتے ہیں۔سبکی محسوس کرتے ہیں تو کیوں محسوس کرتے ہیں ۔مجھے پنڈی سے بھی ایک خاتون کا ابھی خط آیا تھا۔بڑی مخلص اور بڑی خدمت کرنے والی اعلیٰ خاندان کجی ہیں۔ لیکن بڑی سختی سے تنقید کی ہوئی تھی اس پردے پر جو یہاں بچیوں کا پردہ تھا۔اور اس نے لکھا تھا کہ ہم تو شرمندہ ہوگئے ہم اپنے غیر احمدی دوستوں کو کیا منہ دکھائیں گے یہ کیا پردہ ہے پھر میں نے باقاعدہ تحقیق کی سب سے پتہ کیا۔کیا ہوا تھا۔ تو پتہ چلا کہ دو قسم کے پردے سامنے آئے تھے۔ایک تو وہ پروگرام تھا جس میں خواتین نے خوب کس کس کر نقاب باندھے ہوئے اور آنکھوں پر عینکیں چڑھائی ہوئیں اور بہت شدت کے ساتھ وہ پردہ تھا۔اس کے اندر ہی یہ باتیں بھی ہو رہی تھیں کہ یہاں جب ہم پہلے پہلے آئی تھیں تو یہاں کے لوگ ہمیں ڈارلنگ کہا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ وہ لطیفے کے طور پر باتیں ہورہی تھیں تو اظہار میں پردہ نہیں تھا۔ مگر جو ظاہری شکل و صورت ہے اس میں ایسی عمر میں سختی تھی جس عمر میں قرآن کریم بھی ڈھیلا ہونے کی اجازت دے دیتا ہے۔
    امر واقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے اصول نہیں بدل سکتے۔وہ اصول جو قرآن نے پیش کئے ہیں سننے سے ثابت ہیں وہ تبدیل نہیں ہوں گے۔لیکن ہمارے اپنے قومی تعصبات یا قومی انداز دینی اصول کے نام پر اگر دنیا میں پیش کئے جائیں گے تو قبول نہیں ہونگے بلکہ روکے جائیں گے۔ پس باہر کی دنیا ۔سب دنیا کے لئے دین سارے جہان کے لئے ہے۔ مختلف قسم کے دینی معاشرے ہیں انڈونیشیا کا پردہ خاص قسم کا ہے۔بہت کھلا کھلا سا۔جو خواتین پردہ کرتی ہیں میں ان کی بات کر رہا ہوں ۔وہ جو نہیں کرتیں وہ تو بہت کثرت سے ہیں۔عربوں کے مختلف ممالک میں مختلف پردے رائج ہیں مراکو میں جو دیہاتی علاقے ہیں وہاں کا پردہ ایسا ہے جیسے کوئی بالکل تمبو کے اندر بند ہوجائے اور ان کے برقعوں میں مقید عورتوں کی تصویر یورپ میں دکھائی جاتی ہے۔نتیجۃ لوگ دین سے متنفر ہوتے ہیں ۔مراکو سے نہیں ہوتے یا الجیریا یا انڈونیشیا سے نہیں ہوتے ۔وہ کہتے ہیں دیکھ لو دین چاہتا ہے کہ عورت اس طرح بورے میں بند ہو جائے اور خیمے بن کر ساری دنیا میں پھرے وہ جو توجہ ہٹانے کے لئے ایک ذریعہ اختیار کیا گیا تھا۔ وہ توجہ غیر معمولی طور پر کھینچنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
    یہ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کرو۔یہ تو نہیں فرمایا بدذوق بد صورت بن کر پھرو۔ان دو چیزوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔پس پردے کی روح کو چھوڑ کر ایسی باتوں میں پڑجانا مناسب نہیں ۔درحقیقت اگر آپ اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں گے تو آپ کو اندر اپنی کوئی انا کچلی ہوئی دکھائی دے گی۔ اپنے کوئی تصور زخمی دکھائی دیں گے۔
    دین کی محبت اگر ہو تو پاکستان میں کیوں ردعمل نہیں ہوتا۔وہاں جا کر مختلف قسم کے پردے رائج دیکھتی ہیں وہاں کیوں نہیں بولتیں جس طرح سے کہا جا رہا ہے وہاں کی اطلاعیں مجھے ملتی رہتی ہیں کس قسم کا پردہ وہاں چل رہا ہے۔پردہ ہر قسم کا دنیا میں رائج ہو گا۔کوئی دنیا کی طاقت اس کو ایک قسم میں تبدیل نہیں کر سکتی اگر آپ کا یہ خیال ہے تو بھول جائیں اس بات کو ۔لیکن ایک پردہ ہے جو ساری دنیا میں رائج ہو سکتا ہے اور جماعت لازماًوفا کے ساتھ اس کو رائج کرنے کی کوشش کر تی رہے گی۔وہ ہے حیا۔دینی اقدار کو اپنانا ۔عورت کا اس طرح سنبھل کے باہر کے باہر نکلناکہ کوئی نظر کوئی بیمار نظر بھی اس سے حوصلہ نہ پائے اور یہ روح جو ہے بعض دفعہ پورے برقعے میں بھی پیش نظر نہیں رکھی جاتی۔ایسے ایسے فیشن برقعوں کے بنتے ہیں کہ بدن کے اونچ نیچ سب اس سے ظاہر کرنے کی بالارادہ کوشش کی جاتی ہے۔یہ بھی فیشن چلے ہوئے ہیں تو انسان کی نیت اس کو ضرور بتا دیتی ہے۔پردے کے خلاف ایک یہ ردعمل ان بچوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہم کوئی قدامت پرست چیز ہیں پرانے زمانے کی باتیں ہیں ہم مجبوراًبرقعہ تو پہنتی ہیں لیکن دیکھو ہماری کاٹ کیسی ہے۔اور بالکل جدید طریق پر پہن رہی ہیں تو وہ جو بوجھ ہے تعلیم پر عمل کرنے کا اس کا تھوڑا سا بدلہ اس تعلیم کو بگاڑ کر اس کی شکل میں تبدیلی پیدا کر کے اتار لیتی ہیں یہ ساری باتیں ظاہر کی باتیں ہیں میں پھر آپ کو بتاتا ہوں کہ میں جانتا ہوں یورپ میں مختلف جگہ پر جو خواتین احمدیت قبول کر رہی ہیںان کے اندر ایک نمایاں پاک تبدیلی ہے۔ان کے سامنے اگرآپ احمدی معاشرے کے طور پر پاکستانی معاشرہ پیش کریں گی اور ان کے اوپر ویسی پابندیاں داخل کریں گی جیسے بعض پسماندہ ممالک میں ان کا اپنا تصور دین کے نام پر عورتوں کے لئے زنجیریں بن گیا ہے تو پھر دین کو پھیلانے کے لئے بڑی دقت پیش آئے گی۔ اور ہم توکل کی بجائے آج فتح چاہتے ہیں تو وہی بعض فقرے دوہراتا ہوں۔ دین کے اصولوں پر کسی سے کوئی صلح نہیں ہوسکتی۔ لیکن دین نے جو سوچ رکھی ہے جو حکمتیں بیان کی ہیں جو مختلف حالات کے پیش نظر پردے کی مختلف شکلیں بیان فرمائی ہیں ۔حضر ت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیعت کے لئے اور پردہ مقرر فرمایا ہے۔کھل کر بتایا گیا وہ گھر کے ملازم جن سے کسی قسم بے حیائی کا خطرہ نہیں انکے لئے اور پردہ بتایا گیا ہے۔وہ خواتین جو ایک خاص عمر کو پہنچ چکی ہیں یہاں بالعموم بیمار نظر بھی کسی حرص کے ساتھ نہیں پڑ سکتی ان کا اور پردہ دکھایا گیا ہے۔بیمار معاشروں کا اور پردہ دکھایا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگ پھرتے ہیں جن کے دلوں میں مرض ہے اور اس لحاظ سے بعض ملکوں میں پردہ ان اصولوں کے تابع ڈھیلا ہو سکتا ہے اور سخت بھی ہو سکتا ہے اگر ایسے ملک میں جہاں چہرے پر نظر پڑتے ہی بے حیائی کا تصور ابھرتا ہے اور لوگ گھورتے پھرتے ہیں امن نہیں دیتے بیچاری عورت کو ۔وہاں پردے میں نسبتاً زیادہ سختی ضروری ہے لیکن جہاں عادت پڑی ہوئی ہے ایسی بے حیائی کی کہ چہرہ کوئی تحریک ہی پیدا نہیں کرتا۔ وہاں چہرہ ضرورت سے زیادہ ڈھانپنا دین سے وفا نہیں اورنہ دینی پردے کی روح سے وفا ہے۔بلکہ بے وجہ دین کے ایک ایسے پہلو کی طرف کھینچنا ہے جو پہلو اپنی ذات میں منفی نہیں بلکہ حسین اور دل کش پہلو ہے۔ پس ان سب باتوں کو دیکھا کریں اور جن بچیوں کی یہ بات کررہے ہیں کہ پردہ بڑا خطرناک اوربڑاقابل شرم تھا۔
    میں نے وہ دیکھا ہے واقعہ یہ ہے کہ اچھا بھلا یہاں تک ان بچیوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔اتفاق ایسا ہوا ہے کہ جب ایک بچی کی طرف کیمرے کا منہ ہوا ہے تووہ نقاب گر گیا اور اس نے اسی وقت پھر ٹھیک کیا ۔اب یہ جو بچیاں جن پر آپ کو اعتراض ہو رہا ہے ایسی بچیاں کم ہوتی ہیں دنیا میں اپنے کالجوں میں جاتی ہیں اپنے کاموں پر جاتی ہیں اور بڑی جرات اور سر اٹھا کر دین کے لئے غیرتیں دکھاتی ہیں اپنے پروفیسروں سے لڑتی ہیں کوئی بے حیائی کسی قسم کی نہیں کبھی کوشش نہیں ہوئی کہ لوگ ہمیں دیکھیں اور ہماری طرف مائل ہوں ۔یہ کسی کلب میں نہیں جاتیں۔گھروں میں نہیں بیٹھ سکتیں ۔بیت الذکر پہنچ جاتی ہیں وہاں دن رات خدمتیں کر رہی ہیں۔ بعض دفعہ رات گیارہ گیارہ بجے بھائی بے چارے اپنی بہنوں کو لینے کے لئے آئے ہوتے ہیں یا باپ پہنچے ہوئے ہوتے ہیں یہ سارا منظر جو ہے یہ آپ نے بھلا دیا ہے اور ان کے اس پردے پر جو یہاں کے لحاظ سے بڑا سخت پردہ ہے اعتراض کیا ہے کالج میں ان پر اعتراض ہوتے ہیں ۔یونیوسٹیوں میں لوگ ان پر بعض دفعہ ہنستے ہیں۔ان پر آپ اعتراض کر رہے ہیں۔یہ کوئی دین کی محبت نہیں ہے یہ بس قومی اور ملی تعصبات ہیں اور احمدیت کے لئے ایسی کئی مشکلات ہیں جن کا بین الاقومی ہونے سے تعلق ہے اور ہم سارے پہلوئوں کو دیکھ کر پھونک کر قدم آگے بڑھا رہے ہیں اور کسی ایک کے اپنے ذاتی تعصبات یا تنگ نظری کو ہم ہرگز دین کی طرف منسوب نہیں ہونے دیں گے اور کسی ایک کے کھلے بے حیائی کے خیالا ت کو بھی اور ان کے نام پردہ جو آزادی طلب کرتا ہے ہم ان کو دین میں دخل دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہ تو پل صراط ہے جس پر پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں ۔جن بچیوں پر اعتراض ہے میں گواہی دیتا ہوں میں جانتا ہوں بڑی دیر سے بہت سی ہیں جو میرے زیر تربیت ریسرچ کے کام کر رہی ہیں۔عیسائیت کے متعلق پوری گہری ریسرچ کر رہی ہیں ۔بالکل پاک باز اور صاف دل اور صاف باطن اور صاف گو بچیاں ہیں جو کبھی بھی دنیا کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے سج دھج کر نہیں نکلیں تو ان کو اپنے اعتراض کا نشانہ نہ بنائیں۔حوصلہ کریں اور وہاں بھی ایسا پردہ رائج کریں جو دین کے پردے کی روح کی ضرور حفاظت کرتا ہو۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴؍جولائی ۲۰۰۲ء صفحہ ۳ تا ۴۔ ریکارڈنگ ۱۰؍فروری ۱۹۹۴ء)
    داڑھی
    سوال 1:
    داڑھی رکھنا ہمارے اندرونی اخلاق کی حفاظت کے لئے ضروری ہے
    جواب:’’میں امیر صاحب سے انگریزی میں مخاطب تھا کیونکہ یہ اردو نہیں جانتے مگر یہ پیغام ایسا ہے امیر صاحب نے مجھے یاد کروایاہے کہ جو باتیں انگریزی میں ہوئی ہیں لازماً اردو بولنے والوں کے لئے اردو میں اس کا ترجمہ ضروری ہے۔ میں نے پہلے تو اس بات پر اپنی خفگی کا اظہار کیا کہ میں بارہا یہ کہہ چکا ہوں کہ مجلس انصاراللہ کے سٹیج سے یا کسی بھی ایسی سٹیج سے جس پر میں بھی بیٹھا ہوا ہوں کوئی احمدی جو بغیر داڑھی کے ہے وہ نہ تلاوت کرے گا نہ نظم پڑھے گا اور اس چیز پر سختی سے انگلینڈ میں عمل ہوتا ہے۔ کئی ایسے اچھی آواز والے جن کی داڑھی نہیں تھی پروگرام میں ان کا نام تھا مگر میں نے Cancel کر دیا۔ اور پھر وہ دوسری دفعہ آئے اگلے سال تو داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ یہ چیز ہمارے اندرونی اخلاق کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ داڑھی ایک سنت ہے اور ہم اس طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کرسکتے کہ جس طرح ہو یا نہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انصاراللہ کی عمر میں پہنچ کے جبکہ داڑھیاں بڑھنی ضروری ہیں وہ لوگ جن کی چھوٹی چھوٹی داڑھیاں ہوا کرتی تھیں انصار میں گئے تو بڑی داڑھیاں رکھ لیں۔ اس کے برعکس منظر ہو کہ جوانی میں تو تھوڑی بہت توفیق ہو اور انصار میں داخل ہو کر سب کچھ مونڈ دو۔ ہماری سٹیج کو ساری دنیا میں لوگ دیکھتے ہیں اور یہ نمونہ صرف احمدی انصاراللہ کے لئے نہیں بلکہ غیراحمدیوں کے سامنے بھی ہوتا ہے اور وہ جائز اعتراض کریں گے کہ یہ جو سنت کے علمبردار بنے پھرتے ہیں ان کے سٹیج دیکھو کہ کس طرح کے لوگ ان میں شامل ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ نہایت ہی نامناسب حرکت ہوئی ہے میرے نزدیک تو آئندہ سے کوئی بھی کسی مقابلے میں شامل ہی نہ ہو یعنی علمی مقابلہ جات میں جن کی داڑھی نہ ہو۔ ان کو رد کر دیا کریں۔ گھٹیا آوازیں بہتر ہیں اس سے کہ گھٹیا چہرہ ہو۔ اس لئے ان سب کو آئندہ رد کیا جائے گا کسی مقابلے میں وہ انصاراللہ کے شامل نہیں ہوں گے جو بغیر داڑھی کے ہوں۔ اور جہاں تک خدام الاحمدیہ کا تعلق ہے وہاں بھی سٹیج پر بے داڑھی والا نہ تلاوت کرے گا نہ نظم پڑھے گا۔ سمجھ گئے ہیں اچھی طرح۔ آئندہ سے اس بات کی حفاظت کریں۔ یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے کہ داڑھی کو لوگ ترک کررہے ہیں اور یہ جائز بات نہیں۔ اس کے برعکس بعض غیراحمدی مسلمان داڑھی کے معاملے میں ضرورت سے بھی زیادہ سختی کرتے ہیں مگر چہرہ سجا تو ہوا ہوتا ہے داڑھی سے احمدیوں نے یہاں خاص طور پر جرمنی میں تو اپنا شعار ہی بنا لیا ہے کہ داڑھی مونڈو تو پھر احمدی دکھائی دو گے۔ یہ ناقابل برداشت بات ہے۔ آئندہ سے امیر صاحب اور صدر صاحب انصاراللہ اور صدر خدام الاحمدیہ ان باتوں کا خیال رکھیں گے۔
    (ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرمودہ ۱۷؍مئی ۱۹۹۹ء برموقع سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ جرمنی ،الفضل ۲۷ اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۴)
    سوال 2: ایک نوجوان نے سوال کیا کہ داڑھی کیوں رکھتے ہیں؟
    جواب:حضور نے فرمایا داڑھی رکھنا سنت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس پر عمل کیا اور یہ سنت پہلے بزرگوں میں بھی اور پرانے انبیاء میں بھی موجود تھی۔ داڑھی مرد اور عورت میں تفریق کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر عورت کے داڑھی ہو تو وہ شرم محسوس کرے گی۔ مرد کے اگر داڑھی ہو تو اسے عزت اور فخر محسوس ہونا چاہئے۔ اب تو مغرب میں بھی داڑھی کا رواج چل پڑا ہے۔ انشاء اللہ داڑھی کا رواج احمدیت کی ترقی سے عام ہوتا جائے گا۔
    ‎(مجلس عرفان۔ الفضل ۲۴؍جون ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال3: سب خلیفہ داڑھی کیوں رکھتے ہیں؟
    جواب: رسول اللہ ﷺ داڑھی رکھتے تھے اور اسی سنت میں سب داڑھی رکھتے ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۹؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۳؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    نوٹ :مندرجہ بالا سوال مقالہ کے عنوان ’’متفرق مسائل ‘‘ کے سوال 12کے تحت بھی موجود ہے ۔(مقالہ نگار)
    رسومات
    فوتیدگی پر کھانا بانٹنے کی رسمیں :
    سوال 1: لاہور کی طرح کراچی میں بھی خواتین کی مجلس سوال وجواب میں فوتیدگی کی رسموں کا کئی بار ذکر ہوتا رہا۔ چنانچہ اس مسئلہ کے متعلق ایک بہن نے یہ سوال کیا کہ کسی کے فوت ہونے پر گھر والوں کو کھانا کھلانے کا جو رواج ہے ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
    جواب: حضور نے فرمایا فوتیدگی میں کھانا بانٹنے کا تصور بالکل لغو بے معنی اور بے جوڑ بات ہے سوائے اس کے کہ صدقہ دے کوئی۔اور آپ کسی کے مرے ہوئے کا صدقہ تو نہیں کھائیں گی۔ اس لئے ظاہر بات ہے کہ آپ اس کو رد کر دیں گی۔ اگر لوگ یہ کہیں کہ اس کے کھانے سے فوت ہونے والے کو ثواب پہنچتا ہے۔ تو یہ ایک بیہودہ اور لغو رسم ہے جس کا شریعت میں کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ اس لئے بھی اس کو رد کردیں۔ویسے بھی نامناسب بات ہے۔ دکھ کے موقع پر کھانے تقسیم کرنا ایسی بے ہودہ رسم ہے کہ اس کو توڑنا چاہئے۔
    جس کا کوئی فوت ہوجائے۔اس کا لوگوں میں کھانا تقسیم کرنا بے معنی اور لغوبات ہے اس سے پرہیز کریں۔ نہ ایسے کھانے کھائیں۔نہ ایسی حرکت کریں۔جو فوت ہوجاتا ہے چند دن ایسے آتے ہیں کہ ان دنوں میں ملنے والے، تعزیت والے بہت۔انتظام کی مشکلات اور بسا اوقات فوت ہونے والے ایسے بھی ہوتے ہیںجنہوں نے نقدی پیچھے نہیں چھوڑی ہوتی۔ اس وقت ان کے بچوں یا بیویوں کے لئے پیسے مانگنا اور گھر کے اخراجات چلانا یہ مزاج کے خلاف بات ہے اس لئے وہ کھانا تعاون باہمی کا ایک اظہار ہے اگر دکھاوے سے پاک ہو۔ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسموں کے بہت خلاف تھے انہوں نے اس خیال سے ایک نظم لکھی جس کا ایک مصرعہ یہ تھا۔
    نہ غم کے عذر سے زردے پلائو فرنیاں آئیں
    یعنی میں جب مروں تو مجھے اس ظلم سے باز رکھنا کہ غم کے بہانے تم بڑی بڑی پرتکلف دعوتیں بھیج رہے ہو۔ مناسب کھانا جو ایسے موقعوں کے لئے مناسب ہو، بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور بعض دفعہ ہم چاول بھی ساتھ بھیج دیتے ہیں اس لئے کہ ان دنوں بعض بیمار ہوتے ہیں۔ ان کے کام آجائیں اور کچھ دن کے بعد اگر کچھ میٹھا بھی بھیج دیں تکلف سے پاک رہ کر تو منع نہیں ہے۔ لیکن جہاں بھی یہ رسمیں تکلف میں داخل ہوجائیں گی اور سوسائٹی پر بوجھ بن جائیں گی وہاں منع کرنا پڑے گا اس لئے حد اعتدال میں رہا کریں۔ اصل تعلیم اسلام کی حداعتدال ہے جب نظام کی طرف سے دخل دیئے جاتے ہیں تو ہمیشہ حداعتدال کو توڑنے کی وجہ سے دیئے جاتے ہیں۔ اگر آپ مناسب حد تک محض تعاون باہمی اور ہمدردی کے طور پر ان لوگوں کو انتظامی مصیبتوں سے نجات دینے کے لئے چند دن ریا سے پاک رہ کر عقلی طور پر کھانے بھجوائیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر مجمعے سج کر جائیں اور پتہ ہو کہ فلاں کے گھر سے آرہے ہیں تو پھر ریاکاری پیدا ہوگی۔ اس سے بچنا چاہئے۔
    (مجلس عرفان روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۴؍مارچ ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ دورہ کراچی فروری ۱۹۸۳ء)
    (روزنامہ الفضل مورخہ ۴؍فروری ۱۹۸۴ء)
    سوال2: نئے ملینیم کو منانے کے لئے ساری دنیا میں بہت پروگرام بن رہے ہیں۔ احمدیوں کو اس موقع پر کیا کرنا چاہئے؟
    جواب: احمدیوں کو اس موقع پر دعوت الی اللہ کرنی چاہئے۔ نئے ملینیم پر عیسائی دنیا میں بڑے پروگرام بنائے ہوئے ہیں کہ دنیا کو عیسائیت کا پیغام پہنچائیں گے۔ ہم نے بھی ایک پروگرام بنایا ہوا ہے اور وہ ایک یہ ہے کہ دنیا کی کم سے کم 1/10 آبادی تک احمدی لٹریچر پہنچا دینا ہے۔ تو ہمارا ملینیم کا پروگرام بڑا معنی خیز ہے اور انشاء اللہ اللہ کے فضل کے ساتھ اس ملینیم پہ دیکھو گے کہ کم از کم دنیا کی 1/10 آبادی تک پیغام پہنچ جائے گا۔ اگر 1/10 کو اگر پیغام پہنچ جائے تو دس آدمیوں کو باتیں کرکے بتادیتے ہیں اس لئے سب دنیا کو پہنچ جائے گا۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ جماعت اس کے لئے کوشش کررہی ہے۔ ایم ٹی اے پر بھی بہت کچھ نشر ہوگا۔ انشاء اللہ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل صفحہ ۴ ۲؍جون ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    برتھ ڈے کی تقریب :
    سوال 3: سوال ایک خاتون نے یہ کیا کہ ہم لوگ برتھ ڈے پارٹی یعنی سالگرہ کی تقریب نہیں مناتے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی تقریب بڑے محدود پیمانے پر منالی جائے جس میں صرف اپنے چند لوگ مدعو ہوں تاکہ اس تقریب پر جماعتی پابندیوں کا اطلاق نہ ہوسکے۔
    جواب: حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر یہ تقریب کوئی اچھی چیز ہے تو سوال یہ ہے کہ دیگر لوگوں کو اس سے کیوں محروم رکھا جائے۔ حضرت صاحب نے فرمایا اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھ ایمانداری اختیار کریں۔ اگر آپ جماعتی اصولوں اور روایات سے انحراف کررہے ہیں تو اس کے لئے بہانے نہ تلاش کریں۔ برتھ ڈے منانا کوئی ایسی برائی نہیں ہے جس کے لئے قرآن کریم نے کوئی قطعی حکم جاری کیا ہو یا سزا مقرر کی ہو۔ بلکہ برتھ ڈے منانے سے روکنے کا حکم اس قرآنی ہدایت کی اتباع میں دیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لغو باتوں سے اعراض کرو۔ اور مومن ان لغو باتوں میں حصہ نہیں لیتے۔
    حضرت صاحب نے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کیوں روکتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ برتھ ڈے منانا مغرب کی ایک ایسی نقل ہے جس کی پیروی بغیر وجہ جانے صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل مغرب ایسا کرتے ہیں لہٰذا ہم بھی کریں۔ ایک احمدی کے لئے ہر طرزِ عمل میں رہنمائی حضرت نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک سے ملتی ہے۔ چنانچہ پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی اپنی سالگرہ نہیں منائی۔ قطعی طور پر یہ بھی ثابت ہے کبھی کسی نبی نے اپنی سالگرہ نہیں منائی۔ کبھی کسی صحابی نے اپنی یا اپنے بانی مذہب کی سالگرہ نہیں منائی۔ بائیبل میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ بنی اسرائیل کے کسی نبی یا خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برتھ ڈے منائی گئی ہو۔ حضرت نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ آپؐ ہی سے تربیت یافتہ تھے اور کسی سے بھی زیادہ آنحضرت ﷺ سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ انہوں نے اس شدید محبت کے باوجود کبھی حضرت نبی کریم ﷺ کی سالگرہ نہیں منائی۔ نہ صحابہ نے نہ تابعین نے اور نہ تبع تابعین نے۔
    حضرت صاحب نے فرمایا کہ میرے مرحوم والد حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی برتھ ڈے کی رسم کے سختی سے مخالف تھے۔ ان کی زندگی میں کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ وہ برتھ ڈے منائے اور جب بھی ان کے علم میں ایسی بات آتی تو بے حد ناراض ہوتے۔ لیکن کوئی خاص تادیبی اقدام بھی نہیں فرمایا کیونکہ یہ بات شریعت کا حصہ نہیں تھی۔ حضرت صاحب نے فرمایا انہی وجوہات پر ہم بھی ہمیشہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔
    حضرت صاحب سے سوال کرنے والے انگریز احمدی صاحب نے تجویز کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ یوم پیدائش کے دن جس بچے یا بچی کی ولادت ہوئی اس کو یہ تلقین کی جائے کہ وہ اس دن خصوصی نوافل ادا کرے۔ اسی طرح اس کے ماں اور باپ بھی اور دیگر بہن بھائی یا عزیز بھی ایسا ہی کریں۔ حضرت صاحب نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور اس کی تائید فرمائی۔
    (الفضل ۱۴؍فروری ۱۹۹۴ء صفحہ۲)
    سوال4 : ہم سالگرہ نہیں مناتے۔ مگر کیا ہماری امی ہمیں خوش کرنے کے لئے کوئی تحفہ دے سکتی ہیں؟
    جواب: گھر میں دے دیں تو کوئی حرج نہیں۔ مگر سالگرہ منانے کا تو کوئی رواج نہیں۔ لوگ ویسے تحفہ دے دیتے ہیں۔ مجھے تو اپنی سالگرہ یاد ہی نہیں لیکن کئی دفعہ تحفے آتے ہیں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ کیا بات ہے۔ تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ سالگرہ تھی۔ یعنی اس سال میں اس وقت اس مہینے، اس دن پیدا ہوا تھا۔ مگر سالگرہ منانا لوگوں کو دعوت دینا، بلانا یہ رسم جماعت کو پسند نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی سالگرہ بھی کسی نے نہیں منائی۔ صحابہ نے نہیں منائی۔ صحابہ کی سالگرہ کوئی نہیں مناتا تھا۔ خلفاء کی کوئی نہیں مناتا تھا۔ تو ہم کوئی زیادہ بڑے لوگ ہوگئے ہیں کہ ہماری سالگرہ منائی جائے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۲؍مارچ ۲۰۰۰ء(
    سوال 5: حضور نے فرمایا تھا کہ سالگرہ نہیں منانی چاہئے اور مومن کو لغویات سے پرہیز کرنا چاہئے لیکن اس تقریب کو اگر اس نیت سے دوسرے پر بوجھ ڈالے بغیر صرف بچے کی خوشی اور آپس میں محبت بڑھانے کے لئے منایا جائے تو کیا پھر بھی یہ لغو بات میں آئے گی؟
    جواب: یہ مختلف بہانے ہیں جو نفس پیش کرتا رہتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے نفس تمہارے لئے تمہاری چیزیں خوبصورت کرکے دکھاتا ہے اور یہ اس کی ایک مثال ہے۔ جب ایک رسم کو بطور رسم کے ترک کرنا ہو تو پھر انفرادی بحث نہیں رہا کرتی کہ کسی کی کیسی نیت ہے اور کیا ہے۔ شراب جب منع ہوئی تو اس لئے منع تھی کہ اس کے نتیجہ میں انسان بہک جاتا تھا اور صاف ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں انسان بعض نمازوں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا لیکن آج کوئی یہ عذر تو نہیں کرسکتا کہ میں تو بہت تھوڑی پیوں گا اور بالکل نہیں بہکوں گا۔ اس لئے مجھے اس کا نقصا ن نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کریم فرماتا ہے اس کے فوائد بھی ہیں۔ تو میں کیوں نہ صرف فوائد سے استفادہ کروں اور نقصان سے بچا رہوں۔ تو یہ محض نفس کے بہانے ہیں۔ جب ایک عمومی حکم جاری کیا جاتا ہے تو اس سے سب کورکنا چاہئے۔ ورنہ یہ رسمیں پھر سر اٹھائیںگی اور آگے پھیل جائیں گی۔ پھر ان کے بد پہلو نمایاں ہوتے جائیں گے۔ میں نے جو بات سمجھائی تھی وہ پتہ نہیں کیوں ان کو سمجھ نہیں آرہی۔ میں نے کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کا دن نہ آپ نے منایا نہ صحابہ نے نہ خلفاء کی پیدائش کا دن منایا گیا۔ آپ شاید یہ عذر کریں کہ اس زمانہ میں یہ باتیں تھیں نہیں۔ پھر یہ زمانہ آیا گیا۔ اس میں حضرت مسیح موعود بطور حکم کے تشریف لائے، سنت کو اپنے عمل میں زندہ کرکے دکھایا۔ اب تو وہ زمانہ ہے جبکہ یہ رسمیں منائی جارہی ہیں۔ آپ کی کیوں برتھ ڈے نہیں منائی گئی۔ کیوں خلفاء میں سے کسی کی برتھ ڈے نہیں منائی گئی۔ مجھے تو یاد بھی نہیں ہوتا کہ آج برتھ ڈے ہے۔ کبھی کسی کا فون آجائے اتفاق سے تو پتہ چلتا ہے۔ تو یہ فضول باتیں ہیں۔ خوشیوں کے اور بھی طریقے ہیں۔ آمین منانے کا کتنا اچھا طریق رائج ہے۔ یہ سنت حسنہ ہے جو دین میں داخل ہوئی ہے۔ اس سنت حسنہ سے فائدہ اٹھائیں۔ بچوں میں قرآن کریم کا شوق ہوگا۔ اور وہ جب سج دھج کے تیار ہو کے قرآن پڑھنے آئیں گے پھر آپ دعوت کریں تو آپ کے سارے شوق اچھی طرح پورے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے فضول باتوں کے لئے فضول بہانہ نہ بنائیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۵؍اکتوبر ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۶؍مئی ۱۹۹۴ء)
    شادی میں ڈھولک بجانا منع نہیں :
    سوال 6: ایک خاتون نے حضور سے پوچھا کیا شادی میں ڈھولک بجانے کی اجازت ہے۔
    جواب: فرمایا کیوں نہیں۔ شادی میں ڈھولک جتنا چاہیں بجائیں۔ یہ منع نہیں ہے۔ گانا بھی گائیں۔ آخر شادی اور موت میں کچھ فرق تو ہونا چاہئے۔ لیکن ایسے مواقع پر ناجائز رسمیں نہ کریں۔ ناجائز رسمیں بظاہر معصوم بھی ہوں تو نہ کریں۔ کیونکہ وہ معاشرہ کو بوجھل بنا دیں گی اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیں گی۔ لیکن اسلام نے جس حد تک جائز خوشی کا اظہار کھا ہوا ہے اس میں منع نہیں کرنا چاہئے۔ آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں کی بچیاں دف بجا رہی تھیں جو ڈھولک ہی کی ایک قسم ہے اور گیت گارہی تھیں۔ رسول اکرم ﷺ نے منع نہیں کیا بلکہ پسند فرمایا۔ آپؐ کے ساتھ مرد بھی تھے انہوں نے بھی سنا۔
    فرمایا اس سے قبل مسجد مبارک ربوہ میں بھی ایک سوال ہوا تھا۔ وہاں بھی میں نے یہی جواب دیا تھا کہ اگر عورت کی آواز میں پاکیزہ گیت گایا جارہا ہو اور اس کے نتیجہ میں شر پیدا نہ ہوتا ہو تو کہاں منع کیا ہوا ہے خدا نے۔ اگر عورت کی آواز سننا منع ہے تو مرد کی بھی منع ہونی چاہئے۔ وہ عورت کے دل میں تحریک پیدا کرے گی۔ پس اگر اشعار صاف اور پاکیزہ ہیں مثلاً درثمین کی نظمیں ہیں، اس کے نتیجہ میں گند پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ محض لغو بات ہے۔ اگر ڈھولک بجانے کی بات اور ہے لیکن اس میں بھی اگر اس قسم کے گیت گائے جائیں جن سے معاشرہ میں گند نہ پھیلے تو جائز ہے۔ لیکن ڈھولک پر گندی گالیاں دینا اور سٹھنیاں دینا لغو یات ہیں۔ ان کو آپ اختیار نہ کریں۔ عام گیت چھیڑ چھاڑ کے، پیار کی باتیں ہیں، مذاق بھی ہوتے ہیں، جائز ہیں۔ اس میں گندگی اور غلاظتیں نہیں ہونی چاہئیں۔
    (مجلس عرفان۔ روزنامہ الفضل ۴؍مارچ ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ دورۂ کراچی ریکارڈنگ فروری ۱۹۸۳ء)
    (روزنامہ الفضل ۴؍فروری ۱۹۸۳ء)
    متفرق مسائل
    سوال :1 حضور نے خطبہ میں جو ارشاد فرمایا ہے، کہ کسی کو نیک نہ کہو۔ تو کیا ہم حضور کو بھی نیک نہ کہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ ہیں جن کو ہم عرصہ دراز سے دیکھ رہے ہیں ان کو بار بار سچی خوابیں آتی ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں کیا ان کو بھی نیک نہ کہیں؟
    جواب: وہ یہ بات سمجھے نہیں۔ میں نے کب کہا تھا کہ کسی کو نیک نہ کہو۔ میں نے کہا کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ اپنے آپ کو نیک نہ قرار دو۔ اللہ متقی کو بہتر جانتا ہے۔ یہ اللہ کا حکم بتایا تھا۔ اس کے فلسفے پر شاید میں نے پوری تفصیل سے روشنی نہ ڈالی ہو۔ اور مضمون چونکہ اور بھی بہت سے بیان کے لائق ہوتے ہیں بعض دفعہ ایک آیت پر سرسری گفتگو سے انسان آگے گزر جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ تقویٰ کا تعلق دل سے ہے اور انسانی چہرے اور دل کے درمیان بہت پردے ہیں اتنے پردے ہیں کہ بعض دفعہ انسان کو خود بھی اپنے دل کی سچی کیفیت دکھائی نہیں دیتی۔ سوائے اس کے کہ غور کرے اور ٹھہرے۔ جسے خداتعالیٰ بصیرت عطا کرے۔ پس جن آنکھوں کے اندھا ہونے کا ذکر قرآن میں ملتا ہے۔ وہ آنکھیں باہر ہی دیکھنے سے اندھی نہیں ہوتیں بلکہ اندر دیکھنے میں بھی اندھی ہوتی ہیں ان کی دونوں سمتیں اندھی ہوتی ہیں۔ اور یہ جو نظر کی کمزوری ہے ضروری نہیں ہے کہ اندھے پن تک ہی پہنچ جائے۔ بلکہ بعض دفعہ اس سے ورے بہت سی منزلیں ہیں اندھا ہونے اور بینا ہونے کے درمیان دشوار منازل ہیں اور جوں جوں انسان نابینائی کی طرف حرکت کرتا ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے اس کو باہر بھی کم دکھائی دیتا ہے۔ اندر کا بھی کم دکھائی دیتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بہت گہرا ایک نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا ہے۔ اور انفسکم میں جمع کا صیغہ ہے۔ واحدکا نہیں ہے۔ اس میں واحد بھی شامل ہو جاتے ہیں جب قومی خطاب ہو۔ اجتماعی خطاب ہو۔ تو ہر شخص فی ذاتہٖ بھی مخاطب ہوتا ہے اور قوم اجتماعی طور پر بھی مخاطب ہوتی ہے۔ اس میں گہری حکمت ہے۔ اول یہ کہ اپنے آپ کو تم خواہ مخواہ نہ پاک ٹھہراتے پھرو۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو پاک ٹھہراتے پھرتے ہیں وہ پاک ہوتے ہی نہیں۔ کیونکہ اپنے آپ کو پاک ٹھہرانا ایک ایسا مجاز ہے۔ جو دکھاوے کا مجاز ہے اور اس بات کی بنیاد ہی تقویٰ کی کمی یا تقویٰ کے فقدان میں ہے۔ تو کیسی پیاری بات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔ جس کی دلیل وہاں اس طرزِ بیان کے اندر بیان فرمادی تم اپنے آپ کو اگر نیک ٹھہراؤ گے۔ تو تمہیں شاید علم نہیں تم نہیں جانتے کہ تقویٰ کیا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم میں سے کون زیادہ متقی ہے۔ اور پھر یہ فرما دیا۔ کہ ہم جو تمہیں پیدائش سے پہلے جانتے ہیں جب ماں کے پیٹ میں تھے۔ اور ہمیں پتہ ہے کہ تم کیا مزاج لے کر نکلے ہو۔ ان سب باتوں میں سب سے پہلے تو انسان مخاطب ہے۔ کہ اپنے آپ کو نیک بنا کر دنیا کو نہ دکھایا کرو۔ جو ہو ویسے رہو۔ اور اپنی تعریفیں نہ کیا کرو۔ خدا کا خوف کرو۔ ہوسکتا ہے تم خود بھی دھوکے میں مبتلا ہو۔ دنیا کو بھی دھوکے میں مبتلا کردو۔ دوسرا پہلو ہے قومی طور پر یہ عادت بنا بیٹھنا کہ اپنے آدمیوں کو اپنے تعلق والوں کو نیک بنا کر دکھانا۔ کسی کی بزرگی کے چرچے کرنا۔ کسی کے متعلق کہنا کہ فلاں تو بڑا بزرگ بڑا صاحب الہام انسان ہے جب یہ قوموں میں روح پیدا ہوتی ہے تو تقویٰ کا غرور پیدا ہوتا ہے بت پرستی شروع ہو جاتی ہے اور جگہ جگہ لوگ اپنے بزرگوں کے بت بنا کر ان کو ابھارتے ہیں اور ہمیں تجربہ ہے کہ نظامِ جماعت کو اس سے شدید نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ نے نیک بیان کرنے سے تو منع فرمایا ہے کسی کو نیک سمجھنے سے تو منع نہیں فرمایا۔
    لاتزکوا انفسکم کا یہ مطلب نہیں ہے۔ کہ اگر تمہارے اندر نیکی ہے تو تمہیں اس کا شعور ہی نہیں ہونا چاہئے یہ طرزِ بیان ایسی ہے کہ اس کو ظاہر نہ کیا کرو اس کا پروپیگنڈا نہ کیا کرو اس کا چرچا نہ کیا کرو۔ نیک ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ پبلک میں لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا یہ نیک ہیں وہ نیک ہیں۔ اس قسم کے مضمون کو تزکوا سے بیان فرمایا گیا ہے۔ تو کسی کو دل سے نیک سمجھنا یہ ایک طبعی اور فطری بات ہے۔ خداتعالیٰ یہ حکم کیسے دے سکتا ہے۔ کہ تمہاری عقل تمہارا روزمرہ کا تجربہ کسی کو نیک بتاتا ہو۔ اور تم کہو کہ نیک نہیں ہے۔ ایک بے اختیاری سی چیز ہے میں نے اسی خطبے میں یا دوسرے خطبے میں بڑی تفصیل سے مثال دی تھی۔ کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ کے پاک بندے پھرتے تھے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے تربیت یافتہ تھے ہم انہیں بزرگ سمجھتے تھے لیکن انہوں نے کبھی اپنے آپ کو بزرگ نہیں کہا۔ ہم جھک کر ان سے مصافحے کرتے تھے۔ ان پر دل فدا ہوتا تھا۔ ان کو دعاؤں کے لئے کہتے تھے۔ مگر ان کے آثار بتاتے تھے کہ وہ اس بات سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہورہے۔ بلکہ بعض دفعہ شرمندہ ہوتے تھے دو ہاتھ سے کسی بزرگ سے مصافحہ کرتے تو وہ ہاتھ کھینچ لیتا تھا صاف پتہ لگتا تھا کہ اس کے اندر خجالت ہے۔
    تو یہ مراد ہے لاتزکوا انفسکم سے۔ اپنے آپ کو خواہ مخواہ بزرگ نہ بناتے پھرو۔ نہ اپنے معاشرے میں کسی کو اس طرح اٹھایا کرو۔ اس سے قوم کو نقصان پہنچے گا۔ اورر جس قوم میں یہ رجحان پیدا ہو جائے وہاں جھوٹے بت ضرور پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور جن کوشوق ہو ان کی طرف پھر لوگ دوڑتے ہیں ان کو اٹھاتے ہیں۔ پھر باقاعدہ پارٹیاں بن جاتی ہیں یہ فلاں کو بزرگ سمجھنے والے لوگ ہیں۔ یہ فلاں کو بزرگ سمجھنے والے لوگ ہیں۔ ان کا بزرگ زیادہ سچا ہے۔ ان کا بزرگ کم سچا ہے۔ عجیب و غریب بے ہودہ حرکتیں شروع ہو جاتی ہیں یہ رجحان ایسا نہیں ہے جو صرف چودہ سو سال پہلے تھا۔ اور اب مٹ گیا ہے۔ اللہ فطرت کی بات کرتا ہے اور فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ اللہ نے جو فطرت قائم فرمائی ہے وہ اب بھی ویسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ قرآنی شریعت کبھی تبدیل نہ ہوگی۔ نہ ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔ اور فطرت کے متعلق اللہ کی گواہی ہے۔ کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ پس آج بھی یہی ہوتا ہے جس چیز پر خدا کی اس وقت نظر تھی آج بھی بعینہٖ اس پر صادق آرہی ہے۔ پس ہم اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ یہ جو رجحانات ہیں بزرگ قرار دینا اور بنانا یہ بڑے مہلک انداز ہیں اس سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس سے پیر پرستی کے غلط رجحان قائم ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے۔ کہ ہم آپ کو بزرگ کہیں یا نہ کہیں مجھے تو ذرا بھی فرق نہیں پڑتا۔ نہ کہیں مجھے اس کا کوئی خوف نہیں۔ لیکن منصب خلافت کے مقام کو پیش نظر رکھیں۔ جو اس کے تقاضے ہیں ان کو پورا کریں یہی کافی ہے۔ لیکن اس سے آگے ایک اور مضمون بڑھے گا اس پر مجھے روشنی ڈالنا لازمی ہے۔ سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے حضرت محمد مصطفی ﷺ کا متبع قرار دیں یا نہ دیں۔ بات تو وہاں سے شروع ہوگی قرآن میں ایک ہی تو آیت نہیں جس کے اوپر بات ہوتی ہے اور بھی آیتیں ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر روشنی ڈالتی ہیں۔ اس آیت کو نہ بھلائیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (۔) اللہ کے نزدیک تم میں سے جو سب سے زیادہ متقی ہے وہ سب سے زیادہ عزت کے لائق ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو انتخاب فرماکر اللہ نے گواہی دی ہے لوگوں نے آپ کو متقی نہیںبنایا لوگوں کے کہنے سے آپ کی ذات پر کوڑی کا بھی فرق نہ پڑتا تھا۔ جس کو خدا نے ایسے منصب پر قائم کر دیا جس منصب کے لئے وہ خود تقویٰ پر نظر رکھتا ہے اس کا لحاظ کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ اس کو کہیں نہ کہیں اس کو کیا فرق پڑتا ہے۔ آنحضرت ﷺ انکسار کے انتہائی مقام پر فائز تھے اور انکسار کے انتہائی مقام پر ان کا فائز ہونا اس بات کا ضامن تھا کہ آپ رفعتوں کے انتہائی مقام پر بھی فائز ہوں گے۔ اس انکسار کے باوجود آپؐ نے بعض جگہ اپنے مقام بیان فرمائے لیکن ساتھ یہ فرماتے رہے بار بار وَلَا فَخْر۔ و۔لَا فَخْرَ ، وَلاَ فَخْرَ فرمایا یہ نہ سمجھنا میں فخر سے بات کررہا ہوں تم بے وقوفی میں ایسی باتیں خود نہ شروع کر دینا اپنے متعلق۔ مجھے اللہ نے بتایا ہے اس لئے میں فرض کے طور پر اعلان کررہا ہوں۔ ایسی نعمت عطا کی ہے جس پر ساتھ بیان کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ میں مجبور ہوں تو ہرگز ایک ذرہ بھی فخر کا پہلو میرے اس اعلان میں شامل نہیں ہے۔ لیکن امرواقعہ کی مجبوری سے میں ایسا کرتا ہوں۔ چنانچہ آپﷺ نے ایک دفعہ فرمایا تم میں سب سے اعلیٰ سب سے اچھا وہ ہے۔ جو اپنے اہل و عیال سے اچھا ہو۔ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ اور میں تم سے اپنے اہل و عیال سے سب سے اچھا ہوں۔ اپنے آپ کو بہترین قرار دے دیا سب سے زیادہ متقی قرار دے دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے ظاہر ہونے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ سارے زمانوں کے لئے فرما چکا اور ظاہر کرچکا تھا۔ کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ سب سے زیادہ اکرم ہیں اور اس لئے کہ سب سے زیادہ متقی ہیں۔ سب سے زیادہ بہتر ہیں اس کے بعد یہ سوچنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کسی کو متقی قرار نہ دو۔ یا نعوذباللہ اس میں حضرت رسول کریم ﷺ بھی شامل ہو جائیں گے کہ نہیں۔ یہ ناقص جاہلانہ توہمات ہیں ان کا قرآنی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک واضح مضمون ہے کہ اپنی برائیاں نہ کرتے پھرو۔ لوگوں کو بزرگ نہ بناتے پھرو۔ اللہ پر چھوڑ دو جس کو خدا نے عزت دینی ہوگی وہ خود اس کا تقویٰ ظاہر فرمائے گااور خود اسے عزت عطا کرے گا۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۴؍جولائی ۲۰۰۲ء صفحہ ۴ تا ۵۔ ریکارڈنگ ۱۰؍فروری ۱۹۹۴ء)
    سوال :2 معروف فیصلہ سے مراد
    سائل نے عرض کیا خدام الاحمدیہ کے عہد میں معروف کا جو لفظ ہے اس سے کیا مراد ہے؟
    جواب: حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو بہت پرانا سوال ہے۔
    جہاں تک معروف فیصلے کی اطاعت کا سوال ہے یہ وہ اطاعت ہے جو کلام الٰہی کے فرائض اورر احکام اور سنت کے فرائض اور احکام کے علاوہ عام باتوں میں کی جاتی ہے جس میں براہ راست انسان کسی چیز کا پابند نہ ہو۔ اب یہ نفلی اطاعت ہے یعنی نفلی دائرہ کے معاملات میں اطاعت ہے نہ کہ فرائض کے معاملہ میں۔ فرائض کے معاملہ تو امام جماعت اللہ کے حکم کو نافذ کرتا ہے۔ اور اس میں کسی شرط کی بحث ہی کوئی نہیں۔ لازماً اس کی پابندی ہوگی معروف میں بھی نافرمانی نہیں کریں گے۔
    معروف سے مراد یہ ہے کہ جن باتوں میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر حکم نہیں دیا لیکن اچھی باتیں ہیں اور ان میں اگر آپ حکم دیں گے تو پھر ہم ان میں بھی نافرمانی نہیں کریں گے۔ چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ الثانیؓ نے تحریک جدید سے تعلق میں بہت سے ایسے قوانین جاری کئے جو (حکماً) انسان کو پابند نہیں کرسکتے مگر ساری جماعت نے پابندی کی۔ یہ معروف کی پابندی ہے احکامِ دینیہ کے خلاف نہیں بلکہ احکام دینیہ کی تائید میں زوائد جو عرف عام میں اچھی باتیں ہیں ان کی سند عالمی سند ہے عرف عام کی بحث ہے تبھی معروف کہلاتی ہیں۔ تمام ایسی باتیں جو اچھی ہیں خواہ احکام دینیہ نے ان کا حکم دیا ہو یا نہ دیا ہو اگر ہمیں ان کا پابند کیا جائے تو ہم ان کے بھی پابند ہو جائیں گے۔ پس اس کی اطاعت کی جو اتھارٹی ہے اس کا جو منصب ہے اس کو کم کرنے کی بجائے معروف کا لفظ اس کو اونچا کررہا ہے (۔) انہی معنوں میں آئندہ یہ بیعت چلتی ہے۔
    (مجلس عرفان۔ رونامہ الفضل ربوہ ۱۲؍مارچ ۱۹۹۸ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۷؍دسمبر ۱۹۹۶ء)
    سوال :3 دین میں والدین کی اطاعت ماسوائے شرک کے فرض ہے۔ کیا والدین اپنی اولاد کی ازدواجی زندگی میں مداخلت کا حق رکھتے ہیں۔ اگررکھتے ہیں تو کس حد تک؟
    جواب: حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت ابراہیم کے حوالہ سے یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ کبھی کبھی آتے تھے اپنے بیٹے اسماعیل کو ملنے کے لئے۔ ایک دفعہ جب تشریف لائے تو حضرت اسماعیل باہر شکار پر گئے ہوئے تھے اورر ان کی اہلیہ وہاں موجود تھی۔ اس کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اندازہ لگایا کہ یہ بااخلاق عورت نہیں۔ اور اسماعیل کی نسل سے جن مقدس وجودوں نے پیدا ہونا ہے ان کے شایانِ شان نہیں ہے۔ تو آپ جب واپس تشریف لے جانے لگے تو اس کو نصیحت فرمائی کہ جب میرا بیٹا شکار سے واپس آئے گا تو اس کو کہنا اپنی دہلیز بدل دو۔ اور جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ بات سنی تو صاحب فراست تھے فوراً مطلب سمجھ گئے اور اس بیوی کو طلاق دے کر ایک اور نیک بی بی سے آپ نے شادی کر لی۔ تو بطور نصیحت کے باپ کو حق ہے اپنے بیٹے کو نصیحت کرے۔ مگر دینی اغراض غالب ہوں۔ اور کوئی نفسی طمع یا رشتہ داروں کے تعلقات وغیرہ نصیحت کا محرک نہ بنیں۔ تو یہ ٹھیک ہے لیکن نصیحت کی حد تک۔ حکم کی حد تک نہیں۔ امرواقع یہ ہے کہ ہر شخص کی بیوی اس کے بچے اس کی تحویل میں ہیں اور آنحضرت ﷺ نے جہاں یہ مثال دی ہے کہ تم سب لوگ گڈریئے ہو اور تمہاری بھیڑیں تم ان پر نگران ہو اور پوچھے جاؤ گے وہاں یہ نہیں فرمایا کہ باپ اپنے بیٹے کے اہل و عیال کے متعلق پوچھا جائے گا اور وہ اس کی بھیڑیں ہیں۔ فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنے اہل و عیال کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اس پہلو سے بیٹا آزاد ہے آزاد ہی نہیں بلکہ پابند ہے کہ خود اپنی بیوی اہل و عیال کی تربیت کرے اور اس معاملہ میں وہ خدا کو جواب دہ ہے۔ جہاں حقوق کے دائرے ہیں وہاں شرعاً دخل دینے کا ان کو حق نہیں ہے۔ اس میں آپ ذمہ دار ہیں بعض مائیں بڑی درشت مزاج کی ہوتی ہیں بعض باپ بڑے درشت مزاج کے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی بہو پر سختی سے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے معاملے میں بیٹے کا فرض ہے کہ بیوی کے جائز حقوق کی حفاظت کرے۔ ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے مگر جو اپنی ذمہ داریاں ہیں ان کو اد اکرے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۵؍اکتوبر ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۶؍مئی ۱۹۹۴ء)
    سوال 4: وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے مگر جو لوگ دنیا کمانے کے لیے دوسرے ملک کی شہریت لے لیتے ہیں تو ان کی اپنے ملک کی شہریت تو ختم ہو جاتی ہے ۔کیا ایسے لوگوں کا عمل درست ہوتا ہے؟
    جواب:اللہ کے رسول نے یہ نہیں فرمایا کہ فلاں وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے ۔تو جو بھی کسی کا وطن ہو اس کی محبت اس پر فرض ہو جائے گی ۔پس وہ لوگ جو کسی غرض سے کسی ضرورت سے باہر جاتے ہیںاور قرآن کریم اس کو ناپسند نہیں کرتا بلکہ اس بارہ میں حوصلہ بڑھاتا ہے ۔
    سِیْرُوْ فِیْ اْلاَرْضِِ اور پھر ہجرت کر کے خدا تعالیٰ تمہیں وسعت عطا فرمائے گایہ دونوں مضامین اپنے اپنے موقع پر بالکل درست ثابت ہوتے ہیں۔پس نہ صرف منع نہیں بلکہ قرآن کریم چاہتا ہے کہ مومن دنیا میں پھیل جائیںاور اگر کسی اور ملک کو اپنا ملک بنا لیا جائے تو پھر وہ آپ کا وطن ہے ۔اس سے محبت کرنی چاہیے۔محبت میں دین ایک پابندی لگاتا ہے کہ جو اعلیٰ دینی تقاضے ہیں ان کو نظر انداز کر کے کوئی محبت نہیں ہو گی کیونکہ الحب فی اللہ کا حکم ہے ۔وہ محبت جو اللہ کی محبت سے ٹکراتی نہیں وہ جائز ہے اور جس حد تک وہ نہیں ٹکراتی اس وقت تک کوئی نقصان نہیں خواہ اس وطن کا کوئی نام بھی ہولیکن اگر وہ بنیادی اخلاقی تقاضوں سے جو خدا تعالیٰ نے سکھائے ہیں ٹکرانے لگے تو پھر ایک او ر مضمون شروع ہو جاتا ہے وہاں فائق حق اللہ ہی کا ہے۔
    (مجلس عرفان الفضل ۴ جولائی ۲۰۰۲ ء صفحہ ۳ریکارڈنگ ۱۰ فروری۱۹۹۴ء)
    سوال5: آجکل انگلستان میں لاٹری کا بڑا چرچاہے ۔اس میں شامل ہونا کس وجہ سے منع ہے ؟
    جواب:لاٹری ایک واضح کھلی کھلی جوئے کی قسم ہے اور جوئے کو قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے ۔شیطان کے ہاتھوں میں انسان کو گمراہ کرنے کاا یک ذریعہ ہے ۔اور نقصان پہنچانے کا ذریعہ ہے ۔اور جتنی بڑی لاٹری ہو گی اتنے زیادہ لوگ شریک ہوں گے ۔اتنی زیاہ امیدیں آسمان سے زمین پر گرائی جائیں گی۔تو صدمے اور ٹھوکر کے مقامات اتنے زیادہ ہیں۔اور ایک آدھ آدمی کو اتنی دولت مل جائے گی جو اس سے ویسے ہی سنبھالی نہیں جائے گی۔وہ پاگل ہو جائیگا۔او ر اس کا خرچ بھی بڑا بیہودہ کریں گے۔تو جہاں پہلے ہی سوسائٹی میںامیر تھوڑے اور غریب بہت زیادہ ہیں۔وہاں زیادہ غریبوںکو اور غریب کرنے کا کیا فلسفہ ہے ۔اس لیے بحیثیت نظام اتنا واضح طور پر بودا نظا م ہے کہ اس کے خلاف ایک احمدی کی پاک سرشت کو از خودپاک ردعمل دکھا نا چاہیے تھااور یہ تربیت کی کمی لگ رہی ہے ۔اس امکانی دس لاکھ پائونڈکی خاطر قرآن کریم کے نظام سے تعلق توڑ لیں اور پھر اپنے لیے بھاری اکثریت کے لیے بلکہ قریبا سب کے لیے ہی ایک مایوسی اور ناکامی اور آخر نامرادی کا سامان پیدا کریں۔بالکل لغو بات ہے ۔
    (ملاقات پروگرام الفضل ۰ ۳ جنوری صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۱۸ نومبر ۱۹۹۴ء)
    سوال 6: حضرت علی ؓ کے بعد کوئی خلیفہ کس لیے نہیں بنا تھا؟
    جواب:حضرت علی ؓ کے بعد خلافت بادشاہت اور روحانی خلافت میں تقسیم ہو گئی تھی۔اور جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے وہ سمجھتے ہیں کہ مسلسل رسول اللہ ﷺکے خاندان میں خلافت جاری رہی ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی تھی۔کہ ہر صدی کے سر پر مجدد ظاہر ہو گا اب اگر خلیفہ ہوتا تو مجدد کیسے آ سکتا تھا۔خلیفہ کے ہوتے ہوئے مجدد کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ۔اس لیے اس میں ایک پیشگوئی مضمر تھی ۔ایک چھپی ہوئی پیشگوئی تھی ۔کہ یہ خلافت جاری نہیںرہ سکے گی۔
    ‎(اطفال سے ملاقات الفضل ۱۷ جون ۲۰۰۰ء صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۱۰ نومبر۱۹۹۹ء)
    سوال :7 جو کوئی مریض لائف سپورٹ مشین پر ہو اور ڈاکٹر بالکل جواب دے دیں اور کوئی بچنے کی امید نہ ہو تو کیا فیصلہ رشتہ داروں پر چھوڑ دیں؟
    جواب: میرے خیال میںمشین سے اتارنا ہی بہتر ہے یہ وہم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہے اصل میں اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ چکا ہوتا ہے اور ایک روح سے جسم کا زبردستی رشتہ رکھا جاتا ہے اور جب مشین اتار دیں تو وہ مر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو جو کہہ دیتے ہیں کہ شایدوہ زندہ رہے میں ان کو کہتا ہوں کہ مشین اتروا کے دیکھ لیں پتہ لگ جائے گا 5 منٹ کے اندر حقیقت مل جائے گی اگر اس نے زندہ رہنا ہو تو اپنے سانس شروع کر دے گا اگر نہیں تو ایک مردے کو پال رہے ہو تم اس کا جسم گھسیٹنے کا کیا فائدہ اس لئے اس کو چھوڑ دینا چاہئے اپنے حال پہ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۲۲؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۵؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :8 کیا ہم بائیبل کا مطالعہ کرسکتے ہیں؟
    جواب: ہاں ہاں ضروری ہے اس لحاظ سے کہ اپنا علم بڑھائیں مگر قرآن کا مطالعہ ساتھ رکھیں تاکہ آپ کو بائیبل سے غلط فہمیاں نہ ہوں۔ قرآن پڑھیں اور قرآن کا مطالعہ کریں اور پھر بائیبل کا بھی مطالعہ کریں۔د وسروں کی کتابیں بھی پڑھیں، وید بھی پڑھیں سب کچھ پڑھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سب دنیا کی مذہبی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں مگر پہلے قرآن کو پکا کیا تھا اس کی روشنی میں پھر دوسری کتابیں پڑھی ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۳۱؍اگست ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :9 جب میں پاکستان گیا تھا تو ادھر لاہور کی بادشاہی مسجد میں حضرت محمد ﷺ کی چیزیں تھیں کیا وہ اصلی ہیں وہ کس طرح پاکستاں پہنچیںوہاں بال وغیرہ رکھے ہوئے ہیں؟
    جواب: میں نے تونہیں دیکھے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے تبرکات میں اس بارہ میں بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ بعض لوگوں نے اپنے بزنس بنانے کے لئے بھی تبرکات بنالئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرے۔ اس سے آمد شروع ہو جاتی ہے۔ پھر بعض لوگ آتے ہیں یا ویسے ہی اپنی بڑائی کہ ہم نے تبرک رکھا ہوا ہے۔
    مجھے اس لئے شک پڑتا ہے کہ کشمیر میں ایک جگہ ہے ’’حضرت بل‘‘ وہاں جو بال ہے بہت موٹا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے بال ریشم کی طرح تھے۔ اب مجھے پتہ نہیں کہ یہ بال کس شکل کا ہے۔
    اگر تو اس بال کی طرز ایسی ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے بالوں جیسا ہو پھر تو پتہ لگ جائے گا وگرنہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہے کہ نہیں۔ بس دیکھیں اور دعا کرلیں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۱؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :10 جب کیڑے مکوڑے سے خوف آتا ہے کیا اس خوف سے نجات کے لئے کوئی دعا ہے؟
    جواب: بعض بچے کیڑے سے بڑا سخت ڈرتے ہیں معصوم سا کیڑا اڑ رہا ہوتا ہے تو ان کی جان نکلی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو زمین پہ چلنے والے کیڑوں سے بھی خوف آتا ہے۔ تو یہ نفسیاتی چیز ہے اس پر لاَحوَْلَ وَلاَقُوَّ ۃپڑھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ خوف دور کردے لاَحوَْلَ وَلاَقُوَّۃ کا یہی مطلب ہے۔
    کوئی خوف نہیں کرنا چاہئے سوائے اللہ کے اور کوئی طاقت نہیں۔ اگر یہ دعائیں کی جائیں تو یہ خوف ہٹ بھی جاتے ہیں۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۸؍فروری ۲۰۰۲ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۶؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :11 حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے فارغ وقت میں کیا کیا کرتے؟
    جواب: فارغ وقت ہوتا ہی نہیں تھا وہ کرتے کیا تھے؟ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا کہ تو ایسا ایک بزرگ مسیح موعود ہے جس کے وقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں جاتا۔ ہر کام آپ کرتے رہتے تھے اور کبھی ورزش بھی کرتے تھے تو اس وجہ سے کہ صحت بحال رہے۔ مقصد کی خاطر آپ ہر کام کیا کرتے تھے۔ سیر بھی کرتے تھے تو اسی غرض سے کہ صحت اچھی رہے اور میں کام زیادہ کرسکوں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل اپریل ۲۰۰۱ء صفحہ۵۔ ریکارڈنگ ۱۰؍مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال :12 سب خلیفہ داڑھی کیوں رکھتے ہیں؟
    جواب: رسول اللہ ﷺ داڑھی رکھتے تھے اور اسی سنت میں سب داڑھی رکھتے ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۹؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۳؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    نوٹ:مندرجہ بالا سوال مقالہ کے عنوان ’’داڑھی‘‘کے تحت بھی موجود ہے ۔(مقالہ نگار)

    سوال :13 جوانی میں اگر کسی نے بہت سخت جرائم کئے ہوں اور بڑھاپے میں پکڑا جائے تو کیا اسے سزا دینی
    چاہئے؟
    جواب: یہود تو کہتے ہیں ملنی چاہئے وہ کہتے ہیں مرنے سے پہلے جنہوں نے ظلم کئے تھے نازی دور میں جس عمر میں
    پکڑے جائیں ان کو سزا دینی چاہئے۔ لیکن ہر شخص کا حال الگ الگ ہوا کرتا ہے بعض ایسے بھیانک جرائم کرتے
    ہیں کہ ان کے رشتے دار ان کے تعلق والے یا ہم مذہب ان کو بھول ہی نہیں سکتے تو وہ سزا دیتے ہیں اور اس میں کوئی
    حرج نہیں یعنی یہ عدل کے خلاف نہیں ہے بخشش کے خلاف ہے مگر عدل کے خلاف نہیں اور بہت سے ایسے لوگ بھی
    ہیں معاف بھی کردیتے ہیں تو یہ عدل سے بہتر ہے۔

    (مجلس عرفان۔ الفضل ۹؍ستمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۳؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال :14
    قتل اولاد کا مطلب
    (ارشاد سیّدنا حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع رحمہ اللہ الفضل ۹؍دسمبر ۱۹۹۰ء)
    ’’اگر تم اپنی اولاد کو مالی قربانی سے روکو گے اس خیال سے کہ وہ غریب نہ ہو جائیں تمہاری مجموعی دولت میں کمی نہ
    آئے تو یاد رکھو کہ تم اپنے ہاتھ سے اپنی اولاد کو قتل کرنے والے ہوگے۔‘‘
    سوال :15 کیا ہر خلیفہ کو حضرت مسیح موعود کی الیس اللہ کی انگوٹھی پہننا ضروری ہے ۔
    جواب: نہیں ضروری نہیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ جو انگوٹھی مصلح موعودؓ کے حصہ میں آئی تھی میرے اباجان کے حصہ میں تو آپ نے وصیت کی تھی کہ یہ میری ملکیت نہیں جماعت کی ملکیت ہے۔ اس لئے جو بھی بعد میں خلیفہ بنے گا اس کو یہ انگوٹھی جماعت کی طرف سے تحفہ ملے گی۔ مجھے بھی ملی تھی اس لئے میں بہت احتیاط کرتا ہوں۔ اب میں نے نہیں پہنی ہوئی۔ نشان پڑا ہوا ہے ابھی تک اس لئے کہ خدانخواستہ کہیں گر نہ جائے۔ کبھی اس کو تھوڑا موٹا کرتا ہوں۔ چاندی لگا لگا کر۔ لیکن پھر بھی خطرہ رہتا ہے۔ کوشش کرتا ہوں جمعہ پہ جانے کے سوا جہاں تک ممکن ہے اس کو اتار کر سنبھال کے رکھ دوں۔ کہیں گر جائے تو بڑی مصیبت پڑتی ہے بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ ابھی کل کا واقعہ ہے بڑا حیرت انگیز انگوٹھی میری غائب اور بڑی سخت مجھے گھبراہٹ شروع ہوئی۔ ہر چیز دیکھی کپڑے دیکھے سارے اوپر گیا اپنی پتلون کی جیبیں سائیڈ کی جیبیں ہر چیز دیکھی کہیں نام و نشان نہیں ملا تو میں بڑا سخت گھبرا گیا۔ انگوٹھی میری گم ہوتی ہے تو مجھے بڑا ڈر لگتا ہے کہ اللہ کا احسان تھا اور میں نے ضائع کر دیا۔ پتہ نہیں کیوں مجھے خیال آیا کہ میں نے کہا سیفی سے پوچھوں۔ شاید میرے کپڑے وہ لے گیا ہو اس نے کہا میں تو کپڑے لے کر نہیں گیا۔ پھر کہا میں ابھی ڈھونڈتا ہوں۔ میں نے کہا تم بیچارے کہاں سے ڈھونڈو گے تو کہنے لگا بس میں ڈھونڈتا ہوں اور آکر دو منٹ کے اندر انگوٹھی لاکر پکڑا دی۔ میں نے کہا سیفی تم نے یہ جادو کیا ہے۔ کہتا ہے بس یہ اللہ کی شان ہے۔ دیکھو اگر میں سیفی کو نہ بلاتا تو مجھے پندرہ دن، بیس دن، پچیس دن کتنی سخت گھبراہٹ رہنی تھی۔ ہوا یہ کہ رات کو پہن کے سویا ہوں تو سوتے میں خیال آیا ہے کہ انگوٹھی کی ہتک نہ ہو جائے جسم کے نیچے نہ آجائے۔ تو اتار کر میں نے سوتے میں ہی لحاف کے کنارے رکھ دی باہر کی طرف۔ لحاف کے باہر اس طرف پڑی رہی اٹکی رہی اور سیفی جب آیا اور اس نے جاتے ہی لحاف اٹھایا تو کھڑک کی آواز آئی تو انگوٹھی ساتھ والی چارپائی کے نیچے پڑی تھی۔ اسی وقت اٹھا کر لایا کہا یہ لیں آپ کی انگوٹھی اس لئے میں بڑا بچا بچا کر رکھتا ہوں۔ میں نے اس کو ڈبیہ میں ڈالا ہوا ہے۔ صرف جمعہ پر پہنتا ہوں اور جاکر اتار دوں گا انشاء اللہ اگر یاد رہے گا تو میں وہیں رکھ دوں گا۔
    اب میں نے سوچ لیا ہے قریبی طریقہ جب انگوٹھی اتارا کروں گا تو ایک چھوٹی سی کاپی بناتا ہوں۔ اس پر لکھا کروں گا۔ یہ انگوٹھی میں نے فلاں فلاں وقت اتاری اور فلاں جگہ رکھی ہے۔ گھبراہٹ ہو تو وہاں سے لے لینا یہ طریقہ ہے شاید کام آجائے۔
    (الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء۔ ریکارڈنگ ۷؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :16 حضور سننے میں آیا ہے کہ نظر لگ جاتی ہے۔ اگر لگ جاتی ہے تو اس سے محفوظ رہنے کے لئے کیا کیا جائے؟
    جواب: یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے کہ نظر لگتی ہے ویسے نظر کوئی چیز نہیں ہے لیکن انسان بعض دفعہ دوسرے کے نفسیاتی اثر میں آجاتا ہے یہ جادوگری نہیں ہے جس طرح جاہل لوگ خیال کرتے ہیں بلکہ پیراسائیکولوجی کی ایک قسم ہے اگر کوئی توجہ سے دیکھ رہا ہو اور آپ اس کے اثر کے نیچے آجائیں تو بعض دفعہ کانپ کر ہاتھ سے پیالی گر جاتی ہے لقمہ گر جاتا ہے تو یہ نظر لگنا ہے مگر یہ وہم ہے کہ بچوں کو نظر لگتی ہے کئی بیمار ہو جاتے ہیں بچوں کا علاج کروانا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔ (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    نوٹ:مندرجہ بالا مضمون مقالہ کے عنوان حلال حرام وجائز ناجائز میں سوال 42کے تحت بھی موجود ہے ۔نیز وہاں اس کا حوالہ درج ذیل ہے۔ (مقالہ نگار)
    ( لجنہ سے ملاقات الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ ء؁ صفحہ ۴ ریکارڈنگ ۷ نومبر ۱۹۹۹ء؁ )
    سوال :17 تبرک کیا ہے یہ دین کا حصہ ہے یا صرف ایک کلچر ہے؟
    یہ دین کا حصہ ہے اور مختلف مذاہب میں موجود ہے ۔اب دیکھیں عیسائیت میں کتنا زیادہ تبرک چلتا ہے لیکن دین میںجو تبرک کا تصور ہے اس کے مطابق جو بھی خدا تعالٰی سے تعلق رکھتا ہو اس کے پاس بیٹھنے سے برکت ملتی ہے وہ نہ ملے تو اس کے ساتھیوں سے ملنے سے برکت ملتی ہے اور اگر وہ بھی نہ رہیں تو اس کے کپڑوں میں بھی برکت ہوتی ہے کیونکہ اس نے ان کپڑوں کے ساتھ دعائیں کی ہوتی ہیں۔ پھر اس کے پس خوردہ میں بھی برکت ہے اس پہلو سے کہ رسول اللہ ﷺ بعض دفعہ جب کلی کیا کرتے تھے تو صحابہؓ کلی ہاتھوں میں لے لیتے تھے اور پی لیتے تھے تو اتنا زیادہ عشق تھا ان کو تو تبرک دو طرفہ ہوتا ہے جس شخص کو خدا سے تعلق ہے اس سے تعلق رکھنے والے کو یہ فائدہ دیتا ہے رسول کریم ﷺ کا تبرک ابوجہل کو توکچھ فائدہ نہیں دے سکتا تھا۔ مگر جن کو آپ ﷺ کے ساتھ عقیدت تھی پیار تھا۔ ان کے لئے باعث برکت تھا تبرک والے کی طرف سے کچھ نہیں ملتا مگر اس کے اخلاص اس کی نیت اس کے دل کی صفائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو برکت دیتا ہے تو یہ برکت تو ہم نے بہت دفعہ دیکھی ہے مگر یہ پرستی نہیں ہے بلکہ دل میں یقین ہونا چاہئے اور اچھا اخلاص ہونا چاہئے پھر برکت ضرور ملتی ہے ایک اور بات یہ ہے کہ جو تبرک میں اتنا زیادہ اخلاص دکھاتا ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جو تبرک سے اتنا زیادہ پیار کیا کرتے تھے ان کو رسول اللہ ﷺ کی دعائیں بھی تو ملتی تھیں اور وہ دعائیں بعد کے لوگوں کو بھی ملتی رہتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی محبت میں آپ کی کسی چیز سے پیار کرتے ہیں ان کو وہ دعائیں ملتی رہتی ہیں۔ تو اسی طرح تبرک کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اس شخص سے تعلق بڑھتا ہے اور وہ دعائیں دیتا ہے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۲۷؍دسمبر ۲۰۰۰ء صفحہ۳ تا۴۔ ریکارڈنگ ۱۹؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :18
    حکم ہے کہ ہم سیدھے ہاتھ سے کھانا کھائیں کیا یہ حکم صرف اس وقت ہے جب ہم ہاتھوں سے کھائیں یا جب ہم چھری کانٹے کے ساتھ کھاتے ہیں اس کے لئے بھی ہے۔ جب ہم روٹی کے لئے آٹا گوندھتے ہیں یا کھانا بناتے ہیں تو اس وقت دونوں ہاتھ استعمال کرتے ہیں اس وقت کیا کرنا چاہئے؟
    جواب:
    دونوں ہاتھ جہاں ضروری ہیں وہاں دونوں ہاتھ ہی استعمال کئے جاتے ہیں۔ جب کھدائی کرتے ہیں دوسرے کام کرتے ہیں اس میں تو منع نہیں ہے۔ مگر جب کھانا ہو تو دائیں ہاتھ سے کھائیں صاف چیز کو ہاتھ لگانا ہو تو دائیں ہاتھ سے پکڑیں۔
    تو کیسی حیرت انگیز سپیشلائزیشن ہے Right اور Left کی میں تو دائیں ہاتھ میں کانٹا پکڑتا ہوں اور بائیں ہاتھ میں چھری اورر مجھے تو کوئی مشکل نہیں لگتی۔ اگر ان کو کاٹنے میںمشکل ہے تو پہلے کاٹ لیں پھر کانٹا دائیں ہاتھ میں پکڑ کر کھائیں۔

    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۱۰؍جنور ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 19 :
    دین اور مصوری
    ایک دوست کے اس سوال پر کہ قرآن کریم میں مصوری اور پینٹنگ کے خلاف کوئی واضح آیت نظر نہیں آتی اور اب
    تصویر کو بت پرستی کا نذریعہ بھی نہیں بنایا جا رہا تو پھر مصوری کے خلاف دینی معا شرہ کا تعصب اب کیوں نہ ختم کیا
    جائے ؟
    جواب: حضور انور نے فرمایا مصوری کے حق میں حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام کے زمانہ کی باتیں بیان ہوئی ہیں وہ تصاویر بھی بناتے تھے اور بت بھی بنائے تھے مگر اور مقاصد کے لئے، شرک کے لئے نہیں بناتے تھے۔ حضور نے فرمایا مصوری کے خلاف دینی معاشرہ کا تعصب نہیں ہے۔ یہ ضرورت ہے۔ تعصب تو یہ ہوتا ہے کہ بغیر کسی مقصد کے بلکہ مقصد کے خلاف کوئی مؤقف اختیار کر کے اس پر انسان ڈٹ جائے۔ جہاں تک مصوری کو شرک کا ذریعہ ٹھہرایا جاتا ہے اس حد تک تو قرآن کریم میں واضح طور پر منع فرمایا گیا ہے لیکن غیرمشرکانہ مصوری کو جائز قرار دے کر اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں فرمائی گئی البتہ لغو کے مضمون میں بہت کچھ بیان فرمادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی ایک تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں جن چیزوں کو فنون لطیفہ کہا جاتا ہے وہ اس معنوں میں لغو ہیں۔ لغو کی تعریف مختلف لوگوں نے مختلف کی ہوگی۔ میرے نزدیک لغو کی تعریف یہ ہے کہ وہ چیز جو انسان کو اپنے اندر اس طرح کھینچتی ہے کہ فرائض سے غافل ہوکران میں حارج ہونے لگتی ہے ورنہ تو پھر ہمارا بیٹھنا بھی لغو ہے لیکن خالی بیٹھنا فرائض کی راہ میں حائج نہیں ہوتا۔ جب نمازکا وقت آتا ہے ہم بیت الذکر کی طرف دوڑتے ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۴؍اپریل ۱۹۹۹ء۔ صفحہ۳۔ ملاقات ۱۰؍مارچ ۱۹۹۵ء)
    سوال :20 ایک سوال سؤر کی حرمت کے بارے میں کیا گیا۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اللہ کی اجازت سے کھاتے ہیں سؤر کی ممانعت کے بارے میں اور کوئی بات نہ بھی ہو تو یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ جس انسان نے اللہ کی اجازت سے جانوروں کو کھانے کے لئے ذبح کرنا شروع کیا تو اللہ نے جہاں روکا وہاں اس انسان کو رک جانا چاہئے بندے کا یہ حق نہیں کہ وہ مالک پر سوال کرے۔ جس نے ہر اچھی چیز جائز قرار دے دی ہے تو جب وہ کسی چیز سے روکے تو رک جانا چاہئے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۹؍مئی ۱۹۹۹ء۔ صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :21 ہمارا ایمان ہے کہ سب مذہب اللہ کی طرف سے ہیں۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے کیسے شراب پی سکتے ہیں؟
    جواب: ہر مذہب ابتداء میں خدا کی طرف سے تھا۔ بعد میں بگڑ گیا۔ اب ہندو بھی تو مذہب ہے۔ دیکھو کتنی بت پرستی شروع ہوگئی۔ تو مذہب اوریجنلی اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ لیکن وقت کے لحاظ سے آہستہ آہستہ بگڑتے جاتے ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    ؎
    سوال 22 : بات بات پہ ماں باپ مجھے جھڑکتے ہیں۔ڈانٹتے ہیں ،ناراض ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں؟
    جواب: یہ کوئی انداز تربیت ہے بالکل نامناسب ہے اور بچپن سے بچوں کے دلوں میں بغاوت کے جذبات پیدا کرنے والی بات ہے ۔ایسے بچے متوازن شخصیتیں لے کر بڑے نہیں ہوتے بلکہ کئی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں اور جب ماں با پ کے خلاف بغاوت ہوتی ہے تو پھر دین کے خلاف بھی بغاو ت شروع ہو جاتی ہے۔ اس لیے استغفار سے کام لیں۔حضرت مسیح موعود ایسے والدین سے جو اس طرح سختی کرتے تھے بہت سخت ناراض ہوتے تھے۔یعنی اپنی تکلیف کا اظہار فرماتے تھے۔کہ تم کیا ظلم کر رہے ہو۔اگر کوئی بچہ تم سمجھتے ہو کہ ہاتھ سے نکل رہا ہے تو دعا کرو۔سب سے پہلی تدبیر اور اہم تدبیر دعا ہے اور یہی تدبیر ہے جو تقدیر بن جایا کرتی ہے ۔ورنہ آپ کی ہر بات بے کار ہے ۔تو بچوں کو پیار و محبت سے گلے لگا کرساتھ چلیں ۔اب سختی کا زمانہ ہے کہ بچے ڈنڈے کے زور پر اپنی اصلاح کر لیں۔وہ کچھ دیر دبے رہیںگے ۔کچھ دیر اپنے جذبات کو دبائیں گے پھر آپ کے خلاف بھی باغی بنیں گے معاشرے کے خلاف بھی بغاوت کریں گے ۔
    (مجلس عرفان الفضل ۱۹ جولائی۲۰۰۲ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ۱۱ فروری ۱۹۹۴ء)
    سوال 23:
    رنگین تصویر کا مسئلہ
    ایک دوست نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کے تصویر کھنچوانے کے بارہ میں غیر از جماعت دوستوں نے جو اعتراض کیے تھے اس کے متعلق غالباً حضور نے تشریح فرمائی ہے کہ جو فوٹو گرافی ہے اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ بالکل اصل کے مطابق ہوتی ہے لیکن پینٹنگ کرنے میں انسان ذرا سا بھی کسی آنکھ میں ایسا اشارہ کر سکتا ہے جس سے اس کا کیریکٹر متاثر ہو سکتا ہے ۔
    جواب:حضو ر انور نے جواباًفرمایا میں تو اسی لیے رنگین تصویر کے بھی خلاف ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کو رنگنا مجھے سخت نا پسند ہے بلکہ میں اسے جائز ہی نہیں سمجھتاکیونکہ رنگ کرنے والا وہاں فرضی باتیں حضرت مسیح موعود کے چہرے کی طرف یا جسم کی طرف منسوب کر تا ہے آپ کے لباس کی طرف منسوب کرتا ہے اور وہ مقصد جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصویر کھنچوائی تھی وہ تو یہ تھا کہ بعینہٖ جو میں ہوں وہ دکھائی دوںتا کہ وہ لوگ جو ذکاوت رکھتے ہیں ۔جن میں یہ مادہ ہے کہ انسان کو دیکھ کر اس کی اندرونی شخصیت کو سمجھ سکیں وہ لوگ فائدہ اٹھا جائیں۔وہ دیکھ لیں کہ سچا آدمی ہے ۔اس کا ایک عجیب دلچسپ واقعہ ہو ا کہ امریکہ میں آ رہا تھا تو مجھے کسی نے اصرارسے دعوت دی کہ آپ ہمارے گھر ضرور ہوتے جائیں۔آپ نے واشنگٹن نیویارک جانا ہی ہے ہمارا گھر راستے میں پڑتا ہے ۔و ہاں کی ایک خاتون نے اپنی ایک غیر احمدی سہیلی کو بھی مدعو کیا ہوا تھاجو بہت شریف النفس اور سعید فطرت خاتون ہیں۔ان کے آنے سے پہلے انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک تصویر دکھائی جو رنگین تھی۔میں نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا میں نے کہا یہ تو ٹھیک نہیں۔آپ اس کو پرائیویٹ سیکرٹری کے سپرد کر دیں ۔وہ احتیاط سے جس طرح اس کو ضائع کرنے کا حق ہے اس طرح اس کو تلف کردیں گے ۔اس غیر احمدی لڑکی نے خواب مجھے جو سنائی وہ یہ تھی کہ آپ آئے ہیں اور اس کو رنگین تصویر رکھنے سے منع کر رہے ہیں۔اب وہ جو غیر احمدی دوست ہیں جنہوں نے ایم ٹی اے پر میرے کسی خطاب کے بارہ میں سوال کیا ہے ان کو میں بتا رہا ہوں کہ صر ف مجھے سچی خوابیں نہیں آتیںدوسروں کو بھی آ جاتی ہیں اور میں خود گواہ ہوں اس بات کا۔اب اس لڑکی کو جو خواب آئی وہ اس کی ہدایت کے لیے تھی کہ اس کو پتہ لگے کہ جس شخص سے ملاقات کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا انسان ہے اور صحیح فیصلے کرتا ہے ۔وہ لڑکی حیران رہ گئی کہ یہ عجیب واقعہ ہوا ہے اس رویا میں جو دیکھا اس کے متعلق اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ میرے وہاں جانے پر ظاہر میں بھی اس کا خواب پورا ہو جانا تھاجسے اس نے رویا میں دیکھ لیا تھا حالانکہ وہ غالباًسیدنا برہان الدین صاحب کے مسلک سے تعلق رکھتی ہیں۔
    (مجلس عرفان روزنامہ الفضل ربوہ ۳ ستمبر ۱۹۹۹ء صفحہ ۳ریکارڈنگ ملاقات ۱۰ مارچ ۱۹۹۵ء)
    سوال 24:
    غیر اللہ کی قسم کھانے کا مسئلہ
    ایک غیر از جماعت دوست کا سوال پیش ہوا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کی قسم کھانے سے منع کیا ہے ۔لیکن خود ہی ایک شعرمیں فرمایا ہے ۔
    ؎ تیرے ہی منہ کی قسم اے میرے پیارے احمد
    تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے
    جواب:حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے فرمایا ۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے واضح فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا کسی غیر کی قسم نہیںکھانی چاہیے ۔کیونکہ اللہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس جگہ آپ نے بتوں اور فرضی خدائوں کی بات کی ہے اور فرمایا ہے کہ ہر غیر اللہ چونکہ علم کامل نہیں رکھتا ۔اس لیے اسکو اپنی کسی بات کی شہادت کے طور پر نہیں پیش کرنا چاہیے ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ قرآن فرماتا ہے کہ دیگر متفرق لغو قسموں پر اللہ مؤاخذہ نہیں کرے گا۔
    حضرت صاحب نے فرمایا لیکن محاورۃ ً قسم کھانا یہ روز مرہ کے استعمال کی بات ہے ۔صحیح مسلم کتاب الایمان میں ٰایک حدیث آتی ہے کہ ایک شخص نے آ کر حضرت نبی کریم ﷺ سے اسلام کے بارہ میں سوال کیا حضرت رسول کریم ﷺنے فرمایا پانچ نمازیں فرض ہیں۔ا س نے سوا ل کیا کہ کیا کوئی اور بھی نماز ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا اور کوئی نہیں سوائے نوافل کے اگر کوئی چاہے ۔پھر فرمایا رمضان کے روزے فرض ہیں۔اس نے سوال کیا کہ کیاکوئی اور بھی روزے فرض ہیںآپ ﷺ نے فرمایا نہیں سوائے نفلی روزوں کے۔پھر فرمایا زکوٰۃ دو ۔اس نے سوال کیا کہ کیا اور کوئی بھی زکوٰۃ بھی فرض ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا اور کوئی نہیں سوائے صدقات کے ،اگرکوئی چاہے۔اس کے بعد وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا۔اور کہتا جاتا تھا کہ خدا کی قسم نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گا۔اس پر حضرت نبی پاک ﷺ نے فرمایا یہ شخص کامیاب ہو گیا۔اس کے باپ کی قسم اگر وہ سچا ہے اور اس پر قائم رہے تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے فرمایا یہ مثال ان قسموںکی ہے جو محاورہ کی ذیل میں آتی ہیں۔یہ لغو قسموںمیں سے نہیں ہو سکتیں۔کیونکہ آنحضرت ﷺکی یہ شان ہر گز نہیں ہو سکتی کہ آپ ﷺ کوئی لغو کام کریں۔اس قسم کی جو قسمیں عادتاً کھائی جاتی ہیںاللہ ان سے درگزر فرماتا ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص ارادۃً کوئی فائدہ اٹھانے کے لیے قسم اٹھائے تو اس کا مواخذ ہ ہو گا ۔
    حضرت صاحب نے فرمایا محاورۃ ً قسموں میں سب سے اچھی مثال حضرت بانی سلسلہ کی یہ قسم ہے جس میں آپ نے پیارے نبی کے چہرے کی قسم کھائی ہے ۔یہاں گواہی کے معنے صداقت کے درجہء کمال کے ہیںکہ وہ چہر ہ سچا ہے یہ چہرہ اتنا پیارا ہے اس کا عاشق ہو جانا بے اختیاری کی بات ہے ۔اسی قسم کا مضمون حضرت بانی سلسلہ نے یوں بھی بیان فرمایا ہے کہ
    ؎ اگر خواہی دلیلی عاشقش باش
    محمد ﷺ ہست برہان محمد
    کہ اگر محمد ﷺ کی صداقت کی دلیل چاہتے ہو تو آ پ ﷺ کے عاشق ہو جائو۔کیونکہ حضرت محمد ﷺکا وجو د خود محمد ﷺکی صداقت کی دلیل ہے ۔
    حضرت صاحب نے فرمایا اس لیے اس قَسم کا ان قسموں سے کوئی تعلق نہیں جن کی اجازت نہیں ہے۔
    حضرت صاحب نے حضرت بانی سلسلہ کا وہ اقتباس بیان فرمایا جو اعتراض کا موجب بنا ہے ۔اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہاں پر حضرت بانی سلسلہ نے جو قسم کھانا جائز ہے اس کی شرائط بیان کی ہیں۔اگر یہ شرائط نہ ہوں تو چاہے قسم ہو یا محاورۃ ً ہو اس کا اس قِسم کی قَسموں سے کوئی دو رکا بھی تعلق نہیں ہوتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ خدا کی تمام کتب میں انسان کے لیے یہ تعلیم ہے کہ غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے۔ یہاں پر غیر اللہ سے مراد فرضی خدا اور بت وغیر ہ مراد ہیں۔
    (مجلس عرفان الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۹۹ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ ملاقات ۲۲ مارچ ۹۴ء)
    سوال 25:
    جماعت احمدیہ میں کتاب الحیل کی کوئی گنجائش نہیں
    بہنوںنے شادی بیاہ کے متعلق بھی کئی سوال کیے ۔ایک سوال یہ تھا کہ کیا لڑکی کی رخصتی پر عقیقہ کے نام سے بڑے پیمانے پر دعوت کرنا جائز ہے ؟
    جواب :حضور نے فرمایابات یہ ہے کہ احکامات کی روح کو دھوکہ بازی اور حیلے بہانے سے ناکام کرنے کی کوشش فی ذاتہٖ ایک بڑا مکرو ہ فعل ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا دل گواہی دیتا ہے وہ چاہتے تو یہ ہیں کہ بچی کی شادی پر کھانا کھلائیںلیکن نظام جماعت کی حرف گیری کی وجہ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عقیقہ کے نام پر بہترین بہانہ ہاتھ آ گیا ہے ۔اب اگر اعتراض ہو گا تو کہہ دیں گے یہ تو بچوں کا عقیقہ ہے ۔یہ نفس کا دھوکا ہے ۔یہ اسی قسم کا بہانہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم مین تنبیہ موجود ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلِ الْاِنْسَانُ عَلیٰ نَفْسِہ بَصِیرۃً وَّ لَوْ اَلْقیٰ مَعَا ذِیْرَہ(القیامہ :۱۵،۱۶)یعنی ہر انسان خواہ کتنے ہی عذر پیش کرے وہ اپنی نیتوں اور اپنے اعمال کی کنہ کو جانتا ہے ۔
    فرمایا حیلہ سازی کا طریق تقویٰ کے خلاف اور موجب ہلاکت ہے ۔چنانچہ قرآن کریم اس کی مثال دیتا ہے کہ یہود کی آزمائش کے لیے سبت یعنی ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار منع کر دیا گیا تھا ۔یہ چھوٹا سا حکم تھا لیکن یہودی بڑے حیلہ جو اور ہوشیار لوگ تھے انہوں نے کہا اچھا اللہ میاں منع کرے ہم نے اپنا کام بھی کر کے چھوڑنا ہے اور اس کا طریق انہوں نے یہ نکالا کہ جو مچھلیاں ساحل پر ہفتہ کے دن اکٹھی ہو جاتی تھیں ان کے ارد گرد جال بن دیتے تھے اور وہ واپس نہیں جا سکتی تھیں ۔پھر ہفتہ کے اگلے دن یعنی اتوار کو ان کا شکار کر لیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس طرح حکم بھی نہیں ٹوٹتا اور ان کی بات بھی پوری ہو جاتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ا ن کی اس حیلہ سازی پر *** ڈالی جو بالآخر ملعون اور مغضوب ٹھہری۔اسی طرح طالوت جب لشکر لے کر چلے تو ان کو یہ حکم دیا گیا کہ آگے نہر آئے گی۔اس میں سے کوئی بھی چلو ،دو چلو سے زیادہ پانی نہ پئے پیاس کے مارے لشکر کا برا حال ہو رہا تھا ۔انہوں نے کہا ہم کیوں نہ پیٹ بھر کر پانی پییں اس پر بہت سارے لوگوں نے جب زیادہ پانی پی لیا تو وہ جہاد میں حصہ لینے کے قابل نہ رہے تب وہ تھوڑی سی جماعت جس نے حکم کی اطاعت کی تھی حضرت طالوت کی سرکردگی میں انہی کو لڑنے کی توفیق ملی۔ پس احکام خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے ہوں۔ان کے پس پردہ جو روح کارفرما ہوتی ہے ا س کے بگاڑنے کے نتیجہ میں خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم کی تعلیم اس پہلو سے بھی بڑی واضح ہے ۔پھر بھی بعض علماء نے ایک کتاب الحیل لکھ ڈالی۔جس میں حیرت انگیز طور پر احکام کو ٹالنے کی مختلف راہیں بتائی گئی ہیں۔جماعت احمدیہ احیائے اسلام کی علمبردار ہے اس کے مرد بھی اور عورتیں بھی اس کے چھوٹے بھی اور بڑے بھی اس بات کے پابند ہیں کہ ان کو جب بھی امور دینیہ میں اور اصلاح معاشرہ کے طور پر کوئی حکم دیا جائے وہ اسے بلا تردد لفظاً اور معناً بجا لائیں اور اس میں ان کی اپنی بہتری اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کا راز مضمر ہے ۔
    (الفضل۹ فروری ۱۹۸۴ء )
    سوال 26:ہم رسول اللہ ﷺکی مکمل پیروی کس طرح کر سکتے ہیں جبکہ ان کے مرتبے اتنے اونچے ہیں کہ ہم وہاں پر پہنچ نہیں سکتے ۔
    جواب:پہنچ سکنا اور بات ہے اور پیروی کرنے کی کوشش کرنا اور بات ہے ۔اس کے متعلق میںآپ کو سندھ کا ایک قصہ بتاتا ہوں وہاں ایک احمدی تھا جو پہلے بہت آوارہ ہوا کرتا تھا۔بہت گناہ گار چور اچکاّ اتنی پکی بیعت اس نے کی کہ ولی اللہ بن گیا اور اس کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا تو ایک دفعہ وہ پیروں کی مجلس میں چلا گیا اور کہا کہ پیر صاحب کا کیا حال ہے ۔کیا کرتے ہیں پیر صاحب؟انہوں نے کہا پیر صاحب تو بہت اونچے ہیں وہ قبروں میں سے نکال لاتے ہیں زندہ اور تمہارے مرزا صاحب نے قبرو ں میں سے کوئی زندہ نکالا ہے ؟تو انہوں نے کہا نہیں کوئی نہیں نکالا اس کے بعد باتیں اور شروع کر دیں جب وہ بھو ل گیا ۔تو اسے کہا تمہاری اماں زندہ ہیں۔اس نے کہا نہیں وہ فوت ہو گئیں ہیں۔اس نے کہا پیر صاحب سے کہو جب وہ تمہاری اماں کو نکال کر لائیں گے پھر مجھے بتا نا پھر میں دیکھوں گا۔تو نا ممکن بات جو ہے وہ نا ممکن ہی ہوتی ہے ۔ایک عیسائی سے اس نے کہا حضرت عیسیٰ اس لیے آئے تھے کہ ان کی پیروی کرو تو تم بھی ان کی طرح آسمان پر چڑھ کر دکھائواور اگر سارا نہیں چڑھ سکتے تو پچاس ساٹھ فٹ ہی اوپر جا کر دکھائو۔تو مطلب یہ ہے کہنے کا کہ مامور پیروی کے لیے ہوتے ہیں۔اگر چھلانگ پوری نہیں لگائی جا سکتی تو کچھ نہ کچھ تو لگائی جا سکتی ہے ۔آپ رسول کریم ﷺکی پیروی کریں اور جتنی توفیق ہو کریںاور ترقی کرتے کرتے بہت اونچا بھی اٹھ سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے پیچھے پیچھے چل کر کتنا بلند مقام حاصل کر لیا۔ساروں کو ایک مقام نہیں ملا کرتا۔کوئی کسی مقام پر رہ جاتا ہے کوئی کسی مقام پر رہ جاتا ہے ۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات الفضل۱۰ جون ۲۰۰۲ء صفحہ۳ ریکارڈنگ ۲۹ جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال 27:
    نابالغ بچوں کی مجرمانہ حرکتوں پر مواخذہ
    آج کل مغربی ممالک میں نابالغ بچوں میں جرائم کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور کم عمری کیوجہ سے یہاں کی عدالتیں انہیں سزا نہیں دے سکتیں۔اس سلسلہ میں دین حق کی کیا تعلیم ہے ؟
    جواب:حضرت صاحب نے فرمایا ۔دین حق نے تو بڑے واضح طور پر اس کی ذمہ داری ماں باپ پر ڈالی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کریں اور ان کی عدم تربیت کے نقصانات نہ صرف اس دنیا میں ان کو پہنچیں گے بلکہ آخرت میں بھی پہنچیں گے اور وہ جواب دہ ہوں گے ۔پس اس سے زیادہ ذمہ داری اور کیا ہو سکتی ہے ۔پس بچہ اگر شرارت کرے گا تو جس حد تک وہ اس شرارت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے سزا سے مبرّا نہیں اور نہ انسانی فطرت ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے کیا کبھی یہ ہوا ہے کہ کوئی بچہ قانونی لحاظ سے بلوغت کو نہیں پہنچا ،اگر گھر میں کسی کی آنکھ پھوڑ دے ،کسی کا ناک کاٹ لے اور چیزیں توڑتا پھرے اور ماں باپ کہیں کہ دیکھو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا ۔یہ فطرت کے تقاضے ہیں کہ جب کوئی بچہ شرارت کرتا ہے تو اگر وہ پیار اور معافی سے ٹھیک ہو سکتا ہے تو وہی بہتر ہے لیکن باز نہیں آتا تو اس کے کان کھینچنے پڑتے ہیں۔مگر اس حد تک نہیںکہ کان ہی اکھیڑ دیں ۔پس دین حق کی تعلیم تواز ن کی تعلیم ہے ۔
    (مجلس عرفان روزنا مہ الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۹۸ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ۲۷ دسمبر ۱۹۹۶ء)
    سوال نمبر28:
    ٹیسٹ ٹیوب بے بی
    جائز طریق پر اولاد پیدا ہونے میں مدد دینا :
    جواب:حضرت صاحب نے فرمایا آپ نے جو بات کی ہے اس کا ایک پہلو اور ہے اگر کسی کے اولاد نہ ہو تو اولاد دینے میں مدد دینا کار ثواب ہے ۔آنکھیں دیکھنے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔اگر ڈاکٹر آنکھوں کے دیکھنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کوشش کرتے ہیں تو ا س میں مدد دینا خدا کے کاموں کی مخالفت نہیں ہے۔جو ایسا کرنے میں مدد دے یہ بات بہتر ہو گی۔جو بھی اللہ کے کام میں نصرت کرتا ہے اللہ نے قانون بنایا ہے کہ ایسے شخص کی اللہ مدد کرتا ہے ۔
    ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی اجازت ہے :
    حضرت صاحب نے فرمایاکہ اگر عورت بانجھ ہے یا خاوند میں طاقت نہیں اور مصنوعی ذرائع سے دونوں اپنی جائز اولاد حاصل کر سکتے ہیں تو یہ طریق اختیار کرنا گناہ نہیں ہے ۔کئی احمدی خواتین نے مجھ سے اجازت لے کر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لیے کوشش کی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ کامیابی کی شرح بہت ہی کم ہے ۔ایک بچی نے مجھ سے اجازت لی اور پھر اپنے وقت پر وہ دو پیارے پیارے بچے لے کر آئی ۔خدا کے کاموں میں یہ مدد دینا خدا کے کاموں میں مخالفت نہیں ہے ۔
    حضرت صاحب نے فرمایاکہ اس میں ایک اور طریق ایسا ہے کہ جس کی اجازت نہیں وہ ہے کرائے کی ماں Surrogate mother کا تصور ۔یعنی ماں باپ کا مادہ کسی دوسری عورت کے پیٹ میں رکھ کر بچہ حاصل کرنا یہ جائز نہیں ہے ۔بعض نو احمدیوں کو اس بارہ میں پتہ نہ تھا ۔ان کو جب پتہ چلا تو انہوں نے بڑا استغفار کیا ۔کسی دوسری عورت کے پیٹ سے اس طرح بچہ حاصل کرنا خدائی قانون کو توڑنا ہے ۔بچہ تو معصوم ہوتا ہے لیکن ایسا کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے ۔جہاں تک جانا ممکن ہے وہ میں بتا رہاہوں ۔جائز کوشش سے میاں بیوی کے مادوں سے بچہ پید اکرنے میںمدد دینا جائز ہے ۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ ۱۲ مئی ۱۹۹۴ء صفحہ ۳ ریکارڈنگ پروگرام ملاقات۲۹ اپریل۱۹۹۴ء)
    سوال 29:
    مظاہروں میں شہید ہونے والو ں کے ورثاء کی کفالت کا اعلان
    جواب:۔۔۔مجھے بہت تکلیف ہے کہ مسلمان علماء بھی اور بعض سیاسی لیڈر بھی جذباتیات کو ابھا ر کربعض مسلمان عوام کو جو لا علم ہیںجن کو پتہ نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں ان کو گلیوں سے نکالتے ہیں اور خود اپنے ہی اہل ملک کے سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں ۔ایسے واقعات اسلام آباد میں بھی ہوئے ،کراچی میں بھی ہوئے،بمبئی میں بھی ہوئے دوسرے ملکوں میں بھی ہوئے اور بہت سے مسلمان ہیں جو اس دینی غیرت کی وجہ سے شہید ہو گئے۔یہ درست ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اس قسم کے بیہودہ اور خطرناک ردعمل کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ بھی درست ہے کہ جن لوگوں نے اپنی جانیں فدا کیں،ان کو ان باتوں کا کوئی علم نہیں ۔ان میں سے اکثریت بالکل معصوم ہے اور صرف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غیرت پر حملہ ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے لیے زندہ رہنا پسند نہیں کیا۔وہ گلیوں میں پلنے والے عام غریب لوگ اور مزدور لوگ تھے لیکن حضرت اقد س محمد مصطفی ﷺاور آپ کے دین کی غیرت رکھنے والے تھے۔جب مولویوں نے انہیں کہا کہ آج دین کی غیرت تمہیںبلا رہی ہے آ ج محمد مصطفی ﷺ کی آواز تمہیں بلا رہی ہے تو جو کچھ ان کے پاس تھا یعنی ننگی چھاتیاں،وہ لے کر وہ میدان میں نکل آئے او ر گولیوں کا نشانہ بنائے گئے۔ان کے پسماندگان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔یہ مشرق کی ایک بہت بڑی بد نصیبی اور بد قسمتی ہے کہ ان کے لیڈر عوام کو اٹھاتے ہیں او ر اپنے مقاصد کے خواہ وہ سچے ہوں یا جھوٹے ہوں ان کے حصول کی خاطر ان سے قربانیاں لیتے ہیں اور جب یہ قربانی کے میدانوں میں جانوروں کی طرح مارے جاتے ہیں اور گلیوں میں گھسیٹے جاتے ہیں تو ان کی اولادوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔یہ معاملہ ایسا ہے جس میں حضرت محمد ﷺ کی عز ت اور احترام کا تعلق ہے ۔آپ کی محبت اورغیرت کا تعلق ہے ۔اس لیے ہر جگہ جماعت احمدیہ کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ جہاں جہاں ایسے لوگ شہید ہوئے ہیں جو اس نام پر شہید ہوئے ہیں اگر چہ وہ غلط تعلیم معلوم کرنے کے نتیجہ میں شہید ہوئے ہیں لیکن وہ ان کے گھروں پر پہنچیں ،معلوم کریں ان کا کیا حال ہے،کوئی ان کا پرسان حال ہے بھی کہ نہیں۔اور اگر یہ معلوم کریں کہ اقتصادی حالات سے ان کو امداد کی ضرورت ہے تو جماعت تحقیق کے بعد فوری طور پر مجھے رپورٹ کرے کہ ہندوستان میں یا پاکستان میں یا دوسری جگہوں پر کتنے ایسے مظلوم مسلمان ہیں جن کے پسماندگان کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔وہاں حضرت محمد ﷺ کی عاشق ایک جماعت ہے جو ضرور ان کا حال پوچھے گی اور آپ ﷺ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان کو ذلیل نہیں ہونے دیاجائے گا۔خدا ہماری وسعتیں بڑھائے اور ہم آنحضرت ﷺکے احترام کی خاطرجس قربانی کا عہد کر چکے ہیں ،ہمیں اب اس عہد پر پور ااترنے کی توفیق بخشے ۔میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری توفیق کو بڑھاتا رہے گا۔اور اپنے فضل سے ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے گا کہ ان غریبوں ،معصوم بچوں ،ان یتیموں ،ان بیوائوں کی خبر گیری کریںاور اپنے آقا محمد ﷺکے نام پر ان کی خبر گیری کریںجو دنیامیں سب سے بڑھ کر یتیموں کی خبر گیری کرنے والا تھا جو کائنات میں سب سے بڑھ کر یتیموں کا والی تھا۔جن کاکوئی دیکھنے والا نہیں تھا ان کا دیکھنے والا ہمار آقا محمد مصطفی ﷺتھا اس لیے آج آپ کی غیرت اور آپ کی محبت اور آپ کے عشق کا تقاضا ہے کہ وہ جنہوں نے آپ ﷺکی راہ میں جانیں دیں ہیں ،ان کے بھی تو دیکھنے والے ہوںاور وہی ان کے دیکھنے والے ہوں گے جو آنحضرت ﷺسے دائمی ازلی اٹوٹ محبت رکھتے ہیں۔کوئی دنیا کی طاقت اس محبت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
    )خطبہ جمعہ الفضل ۵ اپریل ۱۹۸۹ء صفحہ ۵،۶)
    سوال 30:جب مسلمانوں کا اللہ اور رسول ایک ہے تو پھر اتنے فر ق کیوں ہیں؟
    جواب:اس لیے کہ اللہ اور رسول کو سمجھنے میں فرق ہے ہر ایک نے اپنی سمجھ کے مطابق خدا کو کچھ سمجھا ہے اور رسول کو کچھ سمجھا ہے ۔لیکن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔اگر فرق ہوتا تھا تو رسول اللہ ﷺسے لوگ پوچھ لیا کرتے تھے۔پھر ایک ہو جاتے تھے۔خلفاء کے زمانے میں بھی کوئی فرق نہیں تھا۔آہستہ آہستہ فرق پڑے ہیں زاویہ بدلنے کی وجہ سے ۔تم ایک چیز کو ایک زاویے سے دیکھتے ایک اور آدمی ایک اور زاویے سے دیکھ رہا ہے ان کو الگ الگ چیزیں دکھائی دیتی ہیں ۔اسی قسم کا ایک قصہ سپینش زبان کا مشہور ہے
    ‏Don quixote کا ۔ہم اس کو پڑھتے ہیں ڈان کوئیگ زوٹ۔یہ بڑی مزے دار کہانی ہے ۔ Donquixote(ڈان کیخوتے)یہ اس کا تلفظ ہے ۔اس کی مثال میں دیتا ہوں ۔Donquixoteاپنے آپ کو بہت بڑا پہلوان اور نیزہ باز سمجھتا تھا۔وہ ایک دفعہ جا رہا تھا تو وہاں ایک شیلڈ لگی ہوئی تھی ۔ایک طرف سے سرخ تھی دوسری طرف سے سبز تھی۔ادھر سے بھی ایک Knight آ رہا تھا ۔اس نے کہا بہت خوب صورت شیلڈ ہے ۔ڈان نے بھی کہا اس نے بھی کہا ۔ہاں خوبصورت ہے ۔اس نے کہا دیکھو اس کا کتنا خوبصورت سرخ رنگ ہے ۔دوسرے نے کہا خوبصورت تو ہے مگر سبز رنگ ہے ۔اب یہ نہیں کہ ادھر جا کر دیکھ لیں ۔دونوں کو سمجھ آجاتی کہ ایک طرف سے سرخ ہے ایک طرف سے سبز ۔مگر آپس میں پھر نیزہ بازی شروع ہو گئی۔لڑے بھڑے اور بے چارہ Donquixoteمار اگیا۔مار ا گیا کا مطلب ہے زخمی ہو کے بے چارہ گر گیا۔تو یہ پاگلوں والی لڑائی کو ڈان سے مثال دیتے ہیں۔
    جن لوگوں نے اسلام کے متعلق اختلاف کیا ہے ان کا بھی یہی حال رہا ہے۔ایک نے اسلام کو ایک طرف سے دیکھا دوسرے نے دوسری طرف سے دیکھا ۔زاویے بدلتے گئے ۔یہاں تک کہ پھر اور بڑے ہو گئے اور بڑے ہو گئے۔یہاں تک کہ 72فرقوں میں تبدیل ہو گئے۔تو یہ زاویہ نظر بدلنے سے بظاہر دین بدلتا نظر آتا ہے مگر ایک ہی ہے ۔ایک بہت اچھا شعر ہے اسی مضمون کا ۔
    ؎ لو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہے
    فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
    جب فانوس گھومتا ہے تو اس میںمختلف قسم کے جس طرح ہیرے جواہرات چمکتے ہیں اس طرح وہ الگ الگ چیزیں نظر آتی ہیں۔اندر شمع ایک ہی ہوتی ہے ۔اسلام کا نور بھی ایک ہے لیکن چونکہ لوگوں نے مختلف زاویوں سے دیکھا ہے ۔اس لیے الگ الگ دکھائی دے رہا ہوتا ہے ۔

    (اطفال سے ملاقات الفضل ۴ فروری ۲۰۰۰ء صفحہ ۵ ریکارڈنگ ۱۴ فروری ۸۹ء)
    سوال 31:احمدی پاکستان میں غالب آ جائیں تو کیا غیر احمدیوں کو مذہبی آزادی ہو گیـ؟
    جواب:کیوں نہیں ۔غیر احمدی جب آ پ کو اجازت نہیں دیتے تو آپ کو کتنا برا لگتا ہے۔کسی کا کیا حق ہے ۔مندر میں ہندو آزاد ہوں گے گرجوں میں عیسائی آزاد ہوں گے ۔مسجدوں میں مسلمان آزاد ہوں گے ۔جس فرقے کے ہوں ان کو اجازت ہے کہ اپنے فرقے کی بات کریں ۔جس طرح بھی وہ بیان کرتے ہیںمذہبی آزادی ہے۔قرآن کریم کا بنیادی حکم ہے لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِاس کا مطلب ہے دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔ہر شخص کا دین آزاد ہے ۔اللہ کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ (اطفال سے ملاقا ت الفضل۲۹جولائی۲۰۰۰ ء صفحہ۳ریکارڈنگ۱۰نومبر۱۹۹۹ء) سوال32 برتھ کنٹرول اور ابارشن آپ کا ابارشن اور برتھ کنٹرول کے بارے میں کیاخیال ہے ؟ جواب:حضور انور نے فرمایا کہ برتھ کنٹرول یہ ہے کہ ابھی بچے کا سفر نہ شروع ہوا ہو اور ابارشن یہ ہے کہ بچے کا ماں کے رحم میں آغاز ہو جائے، بڑھنا شروع کر دے اس کو گرائیں تو ابارشن ہے احمدیت کے نزدیک اگر برتھ کنٹرول صرف اس وجہ سے کیا جائے کہ لوگوں کو کھانے کے لئے نہیں ملے گا تو دین اس بات کی مذمت کرتا ہے اور اس سے منع فرماتا ہے لیکن بعض دیگر وجوہات کی بناء پر برتھ کنٹرول سے منع نہیں کرتا۔ آغاز اسلام میں لوگ برتھ کنٹرول کرتے رہے۔ عربی میں اس کو عزل کہتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے مطابق خداتعالیٰ دو چیزوں کو ڈیزائن کرتا ہے۔ (1) خوراک کو پیدا کرتا ہے (2) نوعِ انسان کو پیدا کرتا ہے۔ اور خداتعالیٰ کا کوئی کام عقل کے خلاف نہیں اور تاریخ انسانی اس بات کی تائید کرتی ہے۔ حضور انور نے مزید فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ مخلوق کا بڑھ جانا خوراک کو کم کرنے کا موجب ہوگا۔ ماڈرن وقت میں ہمیشہ سے کافی غذا تمام انسانیت کے لئے موجود رہی ہے۔ بعض ملک پہاڑوں کے برابر خوراک پیدا کرتے ہیں مگر جانتے نہیں کہ کیا کریں۔ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں کے لوگ جانتے نہیں کہ خوراک کیسے پیدا کریں۔ بہرحال خوراک ہمیشہ سے تمام دنیا کے لئے کافی ہے۔ یورپ میں ایک وقت تھا کہ پہاڑوں کے برابر Beef تھا، انڈے، مکھن سب کچھ تھا لیکن جانتے نہیں تھے کہ کیا کریں اس وقت بعض لوگ بھوک سے مررہے تھے، ان کو سامان نہ بھجوایا گیا اور یہ بات تمام زمانوں پر لاگو ہوگی کہ ہر زمانے میں (دیگر ممالک میں) کافی خوراک رہی ہے لیکن روابط کی کمی کی وجہ سے ان ضرورتمندوں تک نہ پہنچ سکی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا کہ ایتھوپیا اور سوڈان میں آج بھی وہی غمگین کہانی دہرائی جارہی ہے کہ بعض جگہ بہت زیادہ ہے، بعض میں نہیں ہے۔ اور امریکہ کی خوراک کی مدد صرف ان غریب ممالک تک پہنچتی ہے جو اس کی طاقت کو قبول کرلیتے ہیں۔ جو قبول نہیں کرتے وہ بے شک بھوکے مریں انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ یہ مسئلہ زیادہ آبادی کی وجہ سے نہیں ہے۔ حضور نے فرمایا کہ صرف خوراک کی کمی کے خیال سے برتھ کنٹرول منع ہے دیگر وجوہات کی بناء پر ممکن ہے جیسے عورت کی صحت، بچوں کی صحت وغیرہ۔ اس کے بعد ابارشن کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کے مطابق ابارشن شروع میں ممکن ہے جبکہ بچے کو اس کی خاص شناخت نہ دی گئی ہو۔ یہ ابتدائی ساڑھے چار ماہ کا عرصہ ہے۔ اس کے بعد اچانک بچہ آزاد روح حاصل کرلیتا ہے یا ماں یہ محسوس کرے یہ وزن اٹھانا اس کے لئے ممکن نہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے۔ لیکن جب بچہ آزاد شناخت حاصل کرلیتا ہے تو اس وقت دین کا رویہ ابارشن کے خلاف ہے۔ اس وقت بھی اگر ڈاکٹر بتائے کہ تمہاری زندگی خطرہ میں ہے تب دین ایسے ابارشن سے منع نہیں کرتا لیکن دیگر وجوہات اس وقت جبکہ بچہ مکمل ہو اور آزاد شناخت حاصل کرلے ان کو دین اہمیت نہیں دیتا اور ایسی وجوہات کو قبول نہیں کرتا۔
    (الفضل ۲۵؍نومبر ۱۹۹۸ء صفحہ۴۔ (دورۂ جرمنی)
    سوال :33
    اسلام اور جنگی قیدی
    لاہور ہی کی کچھ خواتین یہ معلوم کرنا چاہتی تھیں کہ اسلام میں لونڈیوں کا کیا مقام ہے جو جنگ میں آتی ہیں؟
    جواب:
    حضور نے فرمایا ’’اور غلاموں کا۔‘‘؟
    یہ بہن کہنے لگیں کہ چلو غلام تو خالی غلام ہوتے ہیں۔
    فرمایا ’’چلو کا کیا مطلب ہے؟‘‘
    بہنوں نے عرض کیا۔ یہ لونڈیوں کا جو مسئلہ ہے اکثر لوگ تقریروں یا تحریروں میں اس مسئلہ پر پوری روشنی نہیں ڈالتے۔
    چنانچہ حضور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
    اگر وہ حالات آج بھی پیدا ہوں گے تو آج بھی وہ مسئلے اسی طرح پیش ہوں گے اس وقت پوزیشن یہ تھی کہ حکومتوں کے اندر جنگی قیدیوں کو الگ رکھنے کا انتظام نہیں تھا اور قیدی رواجاً سب تقسیم ہو جایا کرتے تھے۔ اور اگر قیدی تقسیم ہوں اور خاص طور پر غیرمسلم معاشرہ آزادانہ ان سے جو چاہے ظلم کرے۔
    یعنی مسلمان عورتیں قید ہوں تو ان کے
    ساتھ جو ظلم کریں اور مقابل پر یہ ہوں اور ان کے ساتھ بالکل مختلف سلوک ہورہا ہو تو یہ تو انصاف کے خلاف بات ہے۔
    کوئی قوم جس قسم کا سلوک کرتی ہے اسی قسم کے سلوک کی وہ حقدار ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں دو ہی صورتیں تھیں یا تو یہ کہ اجازت نہ دی جاتی اور ان کو کھلم کھلابے حیائی پر چھوڑ دیا جاتا اور وہ سارے معاشرہ کو گندا کردیتیں۔ کیونکہ عدم تربیت یافتہ عورتیں آیا کرتی تھیں اور یا ایک قانون کے تابع مسلمانوں کو اجازت دی جاتی لیکن ایک قانون اور حدود کے اندر رہتے ہوئے اور پھر ان کے حقوق بھی قائم کئے جاتے۔ چنانچہ اسلامی تعلیم میں بعینہٖ یہی شکل اختیار کی گئی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس وقت جو جائز تھا اور جس طرح دشمن کرتا تھا اسی طرح کرتے۔ اس کو محدود کرکے اخلاقی ضابطوں میں ڈھال کے ان کے حقوق قائم کئے گئے۔ یہاں تک حقوق قائم کر دیئے گئے کہ اگر کسی لونڈی کے ہاں بچہ ہوگا تو وہ آزاد کر دی جائے گی۔ اور لونڈیوں کے نکاح کی ترغیب دی گئی۔ یہاں تک کہا کہ ایک آزاد غیرمسلم سے وہ لونڈی بہت بہتر ہے جو مسلمان ہو جائے۔ تاریخ میں تمام حالات پر اگر غور کریں تو اس سے بہتر حکم نہ ہوسکتا تھا ۔ آج بھی اس میں آپ ترمیم نہیں کرسکتیں۔ اگر ایسے حالات دوبارہ پیدا ہو جائیں تو پھر بھی آپ کو یہی کرنا پڑے گا۔ اس کا تیسرا حل کوئی نہیں۔
    ایک بہن نے بڑے تعجب سے پوچھا۔ کیا آج کے معاشرہ میں بھی؟
    فرمایا آج کے معاشرہ میں ایسے حالات پیدانہیں ہوں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ اگر غیرمسلموں کے ساتھ جنگ ہو جائے اور وہ مسلمان عورتوں سے یہی سلوک کریں تو اسلام کی تعلیم کے مطابق ان کی قیدیوں سے اتنا بہیمانہ سلوک کرنے کی تو اجازت نہیں ہوگی۔ لیکن اسلامی تعلیم کی حدود میں وہ سلوک کرنے کی اجازت ہوگی۔ جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے۔ اس سے زیادہ منصفانہ اور کیا تعلیم ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر وہ نہ کریں تو پھر یہ خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا کہ یہاں ان کی عورتوں سے ایسا سلوک کیا جائے جس کے نتیجہ میں مسلمان خواتین کی عزتیں خطرہ میں پڑ جائیں۔ پھر اس کی اجازت نہیں ہوسکتی۔
    (الفضل مورخہ ۲؍فروری ۱۹۸۴ء لاہور اور کراچی کی مجالس سوال و جواب)


    سوال :34
    دینی نظام کب تک جاری رہا
    ایک صاحب نے سوال کیا کہ ہم جو عالمگیر دینی نظام لانا چاہتے ہیں وہ تو فتح مکہ سے خلفائے راشدین سے تک چلا ہے… پھر ملوکیت شروع ہو گئی ہم ایسے نظام کی تمنا کیوں کررہے ہیں؟
    جواب: حضرت صاحب نے جواباً فرمایا ہم تو جس نظام کے لئے کوشاں ہیں وہ کسی حکومت کا محتاج نہیں۔ حضرت نبی اکرم ﷺ تو آسمانی تاجدار تھے آپ ﷺ کے وقت میں تو کوئی فتنہ نہ تھا۔ یہ نظام خلافت راشدہ کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ مجددین کا سلسلہ جاری رہا۔ آپکی تان حکومت پر ہی کیوں جاکر ٹوٹتی ہے۔ کامیابی کا معیار آپ نے یہ کیوں رکھا ہے کہ کوئی شخص حکومت کب تک کامیابی سے چلاتا ہے۔ جب تک حکومت اور روحانیت کا سلسلہ چلتا رہا اس وقت تک نظام ٹھیک تھا جب یہ اجتماع نہ رہا تو اللہ نے حکومت کی پرواہ چھوڑ دی پھر بھی خدا اپنے پاک بندوں کے ذریعہ فضل فرماتا رہا۔ اللہ کے بندے مسلسل اللہ کی رحمتوں کے نشان ہر ایک ملک میں دکھاتے رہے۔ اسی سے اللہ کا دین زندہ رہا ہم تو اس نظام کو چاہتے ہیں۔
    (مجلس سوال و جواب۔ روزنامہ الفضل ۱۲؍مئی ۱۹۹۴ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۹؍اپریل ۱۹۹۴ء)
    سوال :35 سب سے زیادہ نبی عرب کے علاقوں میں آئے ہیں ایسا کیوں ہے؟
    جواب: عرب کے علاقوں میں کتنے نبی آئے ہیں؟ یونہی وہم ہے۔ کوئی دنیا کا ایسا خطہ نہیں جس میں نبی نہ آئے ہوں۔ اور ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کا نام کبھی سنا ہے؟
    عرب میں ایک لاکھ چوبیس ہزار آئے ہیں؟ چوبیس ہزار بھی نہیں آئے۔ ہزار بھی نہیں گن سکتے۔ اس لئے یہ وہم ہے صرف اس لئے عرب کا زیادہ ذکر ملتا ہے کہ وہ سلسلہ نبوت جس کے آخر پر حضرت رسول اللہ ﷺ نے پیدا ہونا تھا۔ وہ عرب میں جاری ہوا ہے اس لئے اس سلسلے کو اہمیت دی گئی ہے۔ اور قرآن کریم نے ایسے نمونے پیش کر دیئے ہیں جس میں ہر قسم کی نبوت کے نمونے ہیں۔ بائیبل میں ایک پیشگوئی تھی۔ کہ آسمان سے کئی تخت اترے اور ایک بہت بڑا تخت بھی اترا جس پہ بہت بڑا شہنشاہ تھا۔ تو انبیاء کا ذکر قرآن کریم میں پڑھو کل پچیس ہیں۔ تو ایک لاکھ چوبیس ہزار کہاں سے ہوگئے۔ اور پچیس میں رسول اللہ ﷺ پچیسویں نمبر کے سب سے افضل نبی تھے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۷؍جون ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :36 معاشرے کی دکھتی رگ جہیز
    لاہور ہی کی ایک اور احمدی خاتون نے سوال کیا کیا اسلام میں جہیز جائز ہے اور اگر جائز ہے تو کہاں تک؟
    جواب: فرمایا جہیز جائز اور ناجائز ہونے کی بحث بالکل غیرمعقول ہے۔ بحث صرف یہ اٹھنی چاہئے کہ باپ کو اپنی بیٹی کو کچھ دینے کا حق ہے کہ نہیں۔ یہ بنیادی بحث ہے باپ کو اپنی بیٹی کو کچھ دینے کا حق ہے کہ نہیں ہے۔ صرف بحث اس میں بیٹی کے جہیز یا مرد کی بری کی نہیں اٹھنی چاہئے۔ اگر باپ کو حق ہے تو اسلام نے اس کی حدبندی کی ہوئی ہے۔ اس حدبندی کو توڑ کر جہیز دینے کا حق نہیں ہے۔ مثلاً اگر ایک آدمی یہ سمجھتا ہو کہ اس معاشرہ میں بیٹیوں کو جائیداد نہیں ملتی اور اپنی زندگی میں جب بیٹی کو رخصت کررہا ہو تو وہ بیٹی کا حق اپنی زندگی میں دینا چاہے اور اسلامی تعلیم کے مطابق اسے پورا حصہ دے دے تو کوئی اس کو نہیں روک سکتا۔ اگر تحفتہً جس طرح اپنے بیٹوں پر خرچ کرتا ہے تعلیم میں اور دوسری چیزوں میں اسی طرح اپنی بچی کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے اس کو بھی کچھ دے دیتا ہے تو کون اس کو روک سکتا ہے۔ اس میں کون سی ناانصافی کی بات ہے یا ناجائز بات ہے۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ ۲؍فروری ۱۹۸۴ء ۔ لاہور اور کراچی کی مجالس سوال و جواب)
    سوال :37 خلیفہ پگڑی کیوں پہنتے ہیں۔
    جواب: کچھ تو پہننا ہے میں ٹوپی پہنتا تو تم نے کہنا تھا ٹوپی کیوں پہنتے ہو، مگر اصل بات یہ ہے پگڑی ہم نے اسی طرح دیکھی ہے، حضرت مسیح موعود کی پگڑی تھی، حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی پگڑی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ کی پگڑی تھی تو وہی پگڑی ورثے میں مجھے مل گئی ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۲؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۵؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :38 میرے ابو پاکستان میں پیدا ہوئے اور امی کینیا میں پیدا ہوئیں اور اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہاری نیشنیلٹی کیا ہے تو مجھے کیا جواب دینا چاہئے؟
    جواب: وہ تمہاری امی کی تو نہیں پوچھتاتمہاری پوچھتا ہے۔ تم اپنی یہاں کی برٹش نیشنیلٹی بتاؤ ابو کی پوچھو تو پاکستانی بتا دو۔ امی کی پوچھے تو ایسٹ افریقہ کی اور تمہاری پوچھے تو یہاں کی اس میں کیا مشکل ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جنوری ۲۰۰۱ء صفحہ ۵۔ ریکارڈنگ ۲۲؍مارچ ۲۰۰۰ء)
    سوال :39
    اسلام اور بیوی کے حقوق
    ایک خاتون کی طرف سے تحریری سوال حضور کی خدمت اقدس میں پیش ہوا اور وہ سوال یہ تھا کہ قرآن کریم میں بہنوں بھائیوں کے حقوق کا ذکر تو ملتا ہے کیا بیویوں کے حقوق کا کہیں ذکر نہیں ہے؟
    جواب:
    حضور نے فرمایا اس سوال کے پس پردہ وہ دکھ وہ کہانی ہے جس کے متعلق دوست سمجھ گئے ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے اس خاتون کو پتہ ہے کہ قرآن کریم میں بیویوں کے حق ادا کرنے کا حق تو ہے لیکن بعض خاوند اس حکم کو اس طرح نظرانداز کردیتے ہیں کہ گویا حکم ہی نہیں ہے۔ یہ بڑا ظلم ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک خطبہ جمعہ میں توجہ دلائی تھی کہ جب عورتوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ مردوں کی نسبت کم آزادی کو قبول کرلیں اور اسلام کی خاطر سوسائٹی کو پاک رکھنے کے لئے مردوں سے زیادہ قربانی دیں تو وہ اس لحاظ سے مردوں سے بہتر سلوک کا حق رکھتی ہیں لیکن اس کے برعکس اگر مرد عورتوں کو غلام اور ان سے لونڈیوں کی طرح سلوک کریں اور ان کے حقوق نہ دیں تو یہ تو ایک بہت بڑا ظلم اور سفاکی ہے۔ ایسے لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے نظام جماعت ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تو میں ان کو بتادیتا ہوں کہ خدا کا نظام ضرور ہاتھ ڈالے گا۔ اور وہ اس کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔
    حضرت رسول اکرم ﷺ مستورات سے جو حسن سلوک فرمایا کرتے تھے اس کی مثالیں دے کر حضور نے فرمایا آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں یہ سبق ہے کہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی عورتوں کا خیال رکھیں۔
    (روزنامہ الفضل ۹؍فروری ۱۹۸۴ء ۔روداد سفر کراچی و اندرونِ سندھ )
    سوال :40 کیا پتھر بھی انسان پر اثرانداز ہوتے ہیں؟
    جواب: یہ عجیب و غریب باتیں ہیں۔ انسان پر تو آج کل انسان بھی اثرانداز نہیں ہورہا۔ جہاں اچھی باتیں ہیں وہاں تو اثرانداز نہیں ہورہا بری باتوں پہ ہورہا ہے۔ اگر پتھر کے متعلق یہ رجحان ہے تو آپ کے دل پتھر دل ہی بنیں گے۔ یہ توہمات کی باتیں ہیں۔ قرآن کریم انسان کی اصلاح کے لئے کامل کتاب بن کر آیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ سیرت کا کامل نمونہ بن کر تشریف لائے۔ آپ کو ابھی تک پتھروں ہی کی تلاش ہے۔ سر پھوڑنے کے لئے۔ ان پتھروں کی طرف رجوع کرنا جہالت ہی ہے۔ پھر پتھر بت بن جایا کرتے ہیں۔ اس لئے خدا کا خوف کریں۔
    اپنا مقدر ڈھونڈنا ہے تو قرآن میں سے ڈھونڈیں۔ حدیث میںڈھونڈیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہی نیکیوں کو دوبارہ رائج کرنے کے لئے تشریف لائے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍ستمبر ۲۰۰۲ء صفحہ۳۔ پروگرام ملاقات ۲۲؍مئی ۲۰۰۰ء)
    سوال :41
    مصنوعی طریقے پر زندہ رکھنے کا جواز
    چند سال قبل فٹ بال کے ایک میچ میں ایک لڑکا زخمی ہو گیا تھا جسے تین سال تک قومہ میں مشینوں کے ذریعے کھانا دے کر زندہ رکھا گیا حالانکہ اس کا دماغ فوت ہوچکا تھا۔ اس کے ناامید والدین نے عدالت کے ذریعہ اس کی مشین اتروا دی۔ اس کے دو ہفتوں کے بعد اس کی وفات ہو گئی۔ اس لئے کہ مشینوں کے ذریعے اس کو خوراک بھی پہنچائی جاتی تھی۔ کیا یہ جائز ہے کہ بھوکا رکھ کر ایک انسان کو مار دیا جائے؟
    جواب: حضرت صاحب نے فرمایا اس کو کیوں بھوکا رکھا گیا تھا؟
    سائل نے عرض کیا وہ مشینیں اتروا دی گئی تھیں جن سے اس کو کھانا دیتے تھے۔
    آپ نے فرمایا دماغ تو مرچکا تھا۔ وہ تو گوشت کا ایک لوتھڑا تھا اس نے کیا کرنا تھا۔ اس میں کھانے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ خداتعالیٰ نے نارمل طریقے پر غذا وغیرہ کے جو انتظام فرمائے ہیں اگر کوئی شخص ان سے عاری ہو جائے تو دوسرے طریقے سے زبردستی غذا دینا فرض نہیں ہے، خاص طور پر اگر دماغ مرچکا ہو پھر تو لاش گھسیٹنے والی بات ہے۔ ایسی صورت میں تو سجدہ کرنا چاہئے خدا کے حضور کہ تیرا جو حکم آگیا ٹھیک ہے۔
    یہ جو مصنوعی طریق پر لوگ مشینوں کے ذریعہ زبردستی لوگوں کو گھسیٹتے ہیں میرے نزدیک یہ صرف اس حد تک جائز ہے جس حد تک دماغ ابھی مرا نہ ہو اور اس کے دوبارہ نارمل زندگی گزارنے کے امکانات موجود ہوں۔ یعنی اس کے لئے دوبارہ عام روزمرہ زندگی گزارنے کے لئے امکانات موجود ہوں۔ اگر یہ نہ ہوں تو اس کو کہتے ہیں Vegetative Growth جیسے سبزی اگی ہوئی ہے اس کا کیا فائدہ؟ اللہ کی تقدیر ہے، انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔
    سائل نے عرض کیا میرا پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی کوئی تکلیف تو نہیں ہوتی جیسے مثلاً بھوکا رہنے میں ہوتی ہے؟
    آپ نے فرمایا جب دماغ ہی نہیں ہے تو تکلیف کا کیا سوال ہے۔ آپ نے تو بات ہی اس سے شروع کی تھی کہ اس کا دماغ مرچکا ہے۔
    (مجلس عرفان۔ روزنامہ الفضل ۴؍جولائی ۱۹۹۸ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ پروگرام ملاقات ۱۰؍جنوری ۱۹۹۷ء)
    سوال :42 زنا بالجبر کی سزا
    جواب: دین میں زنا بالجبر کی سزا کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا دین میں لفظRape کے مضمون کے تابع کوئی معین سزا نہیں رکھی گئی البتہ زانی کی سزا ہے مگر زنا بالجبر کہنے والے کے متعلق ایک آیت سے استنباط ہوسکتا ہے جس میں سخت ترین سزائیں رکھی گئی ہیں اس کا قتل بھی ہے اس کو سنگسار کرنا بھی ہے اس کو ملک سے نکال دینا بھی ہے کیونکہ وہ عموماً بغاوت کرنے والے لوگ ہیں جو فساد کو آخر تک پہنچا دینے والے ہیں۔ ان کا ذکر کرکے کسی ایک کی تعریف نہیں کی گئی بلکہ عمومی طور پر حکومت کے لئے رستہ کھول دیا ہے۔ وقت کی حکومت کو اختیار دیا ہے کہ اس قسم کے بدباطن اور خبیث لوگ جو اپنے جرم میں حد سے بڑھ چکے ہوں ان کو ویسی ہی سزا دینی چاہئے تاکہ وہ لوگوں کے لئے عبرت بنیں۔ زنا بالجبر کرنے والے محض ایک زانی ہوتے ہیں۔ بعض زانی ہیں جن کے اندر نہایت وحشیانہ مظالم کا جذبہ پایا جاتاہے۔ وہ قتل بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتے ہیں پھر قتل کردیتے ہیں۔ قتل نہ بھی کریں تو عملاً قتل کی طرح چھوڑ جاتے ہیں تو زنا بالجبر کرنے والے ایسے لوگوں کی وہ سزا تو نہیں ہوسکتی جیسے ایک چور کی سزا ہوتی ہے مثلاً کسی کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ اس کو دس سال کے لئے قید کردو۔ یہ تو نہایت ہی لغو بات ہے اس میں انصاف والی کوئی بات ہی نہیں ہے۔
    (الفضل ۲۴؍اپریل ۱۹۹۹ء صفحہ ۳۔ پروگرام ملاقات ۱۰؍مارچ ۱۹۹۵ء)
    سوال :43
    کلوننگ
    کلوننگ کے متعلق دین کی تعلیم کیا ہے؟
    جواب: اس کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ جو یہ نئی مخلوق پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ قرآن کریم نے جو پیدائش کا طریقہ بتایا ہے اس کے خلاف ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات میں محبت ہوتی ہے مگر کلوننگ کے ذریعہ پیدا ہونے والی مخلوق ایک قسم کی کمپیوٹرائزڈ سی چیز بنے گی، انسانی جذبات سے عاری۔ اگر فوجیں بنائی جائیں تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اپنے ملک پر قبضہ کرلیں۔ کلوننگ ایسی چیز ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ ان کو بہت بڑی سزا ملے گی ہوسکتا ہے کہ اسی کے ذریعہ ان کو سزا دی جائے۔
    (روزنامہ الفضل ۲۵؍نومبر ۱۹۹۸ء صفحہ ۳ ۔دورہ جرمنی)
    سوال :44 حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے احمدی رفیق کہلاتے ہیں خلیفہ کے زمانے کے لوگ کیا کہلائیں گے؟
    جواب: اگر وہ (رفیق ہوں) تو (رفیق) کہلائیں گے۔ کسی خلیفہ کی زندگی میں بہت سے (رفیق) بھی ہوتے ہیں ابھی تک بھی رفیق موجود ہیں تو وہ تو (رفیق) کہلائیں گے مگر محض خلیفہ کی پیروی کی وجہ سے کوئی (رفیق) نہیں کہلا سکتا۔ خلیفہ اگر (رفیق) بھی ہو تو اس کی پیروی کے نتیجے میں اس کو (رفیق) نہیں کہہ سکتے۔
    (مجلس عرفان۔ روزنامہ الفضل۔ ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :45 جب ساری دنیا احمدی ہو جائے گی تو اس وقت کے خلیفہ کہاں رہیں گے؟
    جواب: کوئی پتہ نہیں کیا ہوگا۔ جب ساری دنیا احمدی ہو جائے گی۔ تو اللہ ہی جانتا ہے کیا ہوگا۔ اگر ساری دنیا احمدی ہو جائے گی پھر خراب بھی تو ہونی شروع ہو جائے گی۔ اس لئے یہ فکر کرو کہ احمدی ہو تو اچھی بھی رہے۔ ورنہ عام طور پر لوگ جب ایک دفعہ بات مان لیتے ہیں پھر اس کے بعد ان کی خرابی شروع ہو جایا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو آج دنیا میں کتنے لوگ مانتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں۔ اور لوگ سمجھتے ہیں حاجی لکھا ہوا ہے تو بڑا نیک آدمی ہوگا اور حج کے نام پر فراڈ کرتے ہیں۔ تو یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ دنیا احمدی ہو جائے تو کیا ہو جائے گا۔ دنیا احمدی ہو گئی تو یہ دعا کرو کہ اچھے احمدی بنیں۔ ورنہ آج کل تھوڑے مسلمان ہیں۔ احمدیت کی کیا ضرورت تھی۔ صرف اس غرض سے کہ لوگ نیک بنیں اور اصل فرق احمدی اور غیراحمدی میں یہی ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ احمدی خدا کے نزدیک نیک ثابت ہو۔ اور ورنہ قرآن بھی وہی ہے رسول اللہ ﷺ بھی وہی ہیں۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :46 جماعت میں جو تنظیمیں ہیں مثلاً خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ یہ سب عہد کرتے ہیں لیکن اگر کوئی عہد کرنے کے بعد اسے پورا نہ کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
    جواب :
    استغفار کرنا چاہئے اور پھر عہد کرنا چاہئے۔ انسان تو توبہ کرتا رہتا ہے پھر غلطی ہو جاتی ہے پھر دوبارہ عہد
    کرتا ہے پھر غلطی ہو جاتی ہے بار بار توبہ کرنی چاہئے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :47 یہ اجازت ہے کہ شریف عورتیں اہل کتاب مردوں سے شادی کرسکتی ہیں۔ مگر اہل کتاب نے تو اپنی کتابیں بدل دیں اور توحید سے بہت دور چلے گئے ہیں؟
    جواب: کہاں لکھا ہوا ہے کہ شریف عورتیں اہل کتاب مردوں سے شادی کرسکتی ہیں۔ اہل کتاب مردوں سے شادی کی اجازت نہیں اہل کتاب کی عورتوں سے شادی ہوسکتی ہے۔لیکن اہل کتاب مردوں سے احمدی عورتیں نہیں شادی کرسکتیں۔ کیونکہ مرد حاوی ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اولاد کی پرابلمز (Problems) پیدا ہوجاتی ہیں اور اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ جو عیسائی مردوں سے شادی کریں یا غیرمذہب کے مردوں سے شادی کریں ان کی اپنی زندگی بھی خراب ہوتی ہے بعد میں اور ان کی اولاد تو بالکل ختم ہو جاتی ہے اس لئے قرآن کریم کا یہ حکم جو ہے یہ بہت حکمت والا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۳؍اپریل ۲۰۰۰ء ۔ ریکارڈنگ ۶؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال:48 پامسٹری کے بارہ میں ایک سوال ہے کہ بعض سائنٹیفک طریقوں سے حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں؟
    جواب: میں وضاحت سے یہ بات کھول چکا ہوں۔ ہر انسان جو کام کرتا ہے اس کے چہرے پر اس کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اس کی پیشانی پر لکھا جاتا ہے کہ وہ کیسا ہے۔ اور قیافہ شناس انسان بڑی آسانی سے کسی انسان کے سچ جھوٹ کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کے مزاج کو سمجھ جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی عادتوں کا اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں ہوتا۔ اس لئے ہاتھوں سے بعض دفعہ پیشے کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی روزمرہ کی زندگی کا علم ہوسکتا ہے۔ آرٹسٹ کے اگر مزاج میں نفاست اور لطافت پائی جاتی ہے تو اس کے ہاتھوں میں بھی مخروطی انگلیاں اور لمبی انگلیاں اور ان میں نزاکت دکھائی دے گی۔ الاماشاء اللہ۔ عام طور پر آرٹسٹ کی انگلیاں نازک اور ہاتھ اس کے خصوصیت کے ساتھ ایک خاص ادا لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ تو ایک ذہین آدمی پہچان لیتا ہے۔ وہ کہے گا میرے خیال میں تم آرٹسٹ ہو تو وہ کہے گا دیکھو جی یہ سچی بات نکلی۔ پھر وہ کہے گا کہ تمہارے چہرے سے پتہ چلتا ہے کہ تم اس مزاج کے ہو۔ یہ باتیں عالم الغیب ہونے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ بعض آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہ تو اسی طرح سے عالم الغیب بنتا ہے۔ جس طرح ایک شخص سخت سردی میں ٹھنڈے پانی کے تالاب میں بلی کو نہلا رہا تھا۔ ایک مسافر پاس سے گزرا۔ اس نے کہا بابا تم کیا کررہے ہو۔ اس غریب کو ماردو گے اس نے کہا جاؤ جاؤ تم بڑے ولی بنتے پھرتے ہو۔ جاؤ جاؤ بھاگو۔ وہ چل پڑا بے چارہ۔ کچھ دیر کے بعد وہ آیا تو ایک طرف بلی مری پڑی تھی اس نے کہا کیوں جی میں نہ کہتا تھا کہ جاؤ جاؤ تم ولی بنتے پھرتے ہو۔ یہ نہلانے سے نہیں مری یہ نچوڑنے سے مری ہے۔ یہ نہا چکی تھی اس لئے نچوڑا تھا۔ یہ نچوڑنے سے مری ہے۔ تو آپ اس کا نام نچوڑنا رکھ دیں۔ نہلانا رکھ دیں۔ یہ ظاہری شہادات ہوتی ہیں جن کے نتیجہ میں یہ معلومات ہو جاتی ہیں۔ ان کا علم غیب سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ولایت سے کوئی تعلق ہے۔ (مجلس عرفان۔ الفضل ۵؍اکتوبر ۲۰۰۲ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مئی ۱۹۹۴ء)
    سوال :49
    پامسٹری (دست شناسی)
    ایک اندازہ ایک حقیقت
    فرمایا ایک دفعہ لندن یونیورسٹی میں ہم ایک جگہ ایک پارٹی میں جمع تھے۔ مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء کا ایک بڑا
    دلچسپ Academic (اکیڈیمک) اجتماع تھا۔ میں بھی وہاں گیا ہوا تھا۔ طلباء سے باتوں باتوں میں پامسٹری
    (دست شناسی) کے متعلق بات شروع ہو گئی۔ میں نے ان سے کہا کہ پامسٹری ہے تو گپ شپ لیکن اس کے باوجود
    یہ ہوسکتا ہے کہ آدمی بڑے اچھے اچھے اندازے لگائے۔ اس نیت سے اگر تم مجھے ہاتھ دکھانا چاہتے ہو تو میں دیکھ لیتا
    ہوں۔ میں ایسے اندازے تمہیں بتاؤں گا کہ تم حیران ہو جاؤ گے اور یقین ہو جائے گا کہ بغیر لکیروں کے بھی انسان

    ‏(Features) کوکسی حد تک پڑھ سکتا ہے۔
    ایک صاحب تھے جو بعد میں بی بی سی کے ایک بڑے افسر بنے انہوں نے اپنا ہاتھ
    دکھایا۔ میں نے ان کا ہاتھ دیکھ کر کہا کہ آپ کی شادی شدہ زندگی نہایت تلخ گزرے گی۔ یہاں تک کہ بہت دکھوں
    میں آپ مبتلا رہیں گے۔ آپ کو پہلی تسکین جو نصیب ہوگی وہ تقریباً پچپن سال میں ہوگی۔

    اس وقت تک آپ کی زندگی بڑی تلخ گزرے گی۔
    ایک مدت کے بعد جب میں ۱۹۷۸ء میں لنڈن گیا۔ آصفہ بھی میرے ساتھ تھیں۔ غوری صاحب کے ہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔ میرے کسی دوست نے ان صاحب کو بتا دیا کہ میں لنڈن آیا ہوا ہوں۔ اس نے غوری صاحب سے بار بار پتہ کیا۔ غوری صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک صاحب آپ سے ملنے کے بہت مشتاق ہیں۔ بار بار فون آرہے ہیں۔ بی بی سی میں ہیں پہلے تو مجھے یاد نہیں تھا پھر خیال آیا کہ وہی صاحب ہوں گے جنہوں نے مجھے اپنا ہاتھ دکھایا تھا۔ چنانچہ فون پر ان سے بات ہوئی وہ کہنے لگے آپ تو کہتے تھے کہ پامسٹری میں کچھ نہیں ہے لیکن آپ نے جو میرے متعلق خبر دی تھی وہ تو سوفیصدی سچی نکلی۔ بتائیں کس طرح پتہ لگایا تھا آپ نے؟ میں نے کہا ہوا کیا؟ کہنے لگے وہی ہوا جو آپ نے کہا تھا۔ میں نے بڑی تلخ زندگی گزاری اور اب میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ مگر یہ بتائیں آپ نے کیسے اندازہ لگایا تھا۔ میں نے کہا بات یہ ہے کہ میں آپ کا مزاج سمجھتا تھا آپ نہایت اچھی اور نفیس طبیعت کے آدمی ہیں لیکن آپ جوگرل فرینڈ ساتھ لائے تھے۔ جس کے متعلق نظر آتا تھا کہ آپ اس کے ساتھ شادی کرنے والے ہیں وہ ایک Crude قسم کی عورت تھی۔ اگرچہ وہ جسمانی لحاظ سے تمہیں Attract کررہی تھی لیکن دو تین باتوں سے اندازہ ہو گیا کہ وہ مزاجاً تمہارے ساتھ چل ہی نہیں سکتی۔ چند دن کی لذتیں ہیں جو ختم ہو جائیں گی۔ لیکن پھر جب مزاج زندہ رہتا ہے یعنی رفاقت کا مزاج تو وہ اصل چیز ہے۔ جسمانی حسن تو کچھ عرصہ کے بعد ماند پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ میں نے یہ اندازہ لگایا کہ جب یہ کشش ختم ہو جائے گی تو آپ جیسے نفیس آدمی کے لئے ایسی Crude عورت کے ساتھ رہنا جہنم بن جائے گا۔ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ آپ پچپن سال کی عمر میں طلاق دے دیں گے میں نے تو یہ اندازہ لگایا تھا کہ بوڑھے ہو کر آہستہ آہستہ چین آہی جائے گا۔ آپ گزارہ کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا خیر یہ بات پھر طلاق کے ذریعہ پوری ہوئی ہے۔
    یہ میں نے مثال اس لئے دی ہے کہ ایک اندازہ ہو جاتا ہے کچھ ہاتھوں کی طرز انسان کا مزاج بتا دیتی ہے۔ بعض بیماریوں کے نتیجہ میں بعض ہاتھوں کی شکلیں بدل جاتی ہیں جن سے بیماریوں کی بھی تشخیص ہو جاتی ہے۔ مثلاً Lungs کمزور ہوں تو ہاتھ کی ایک خاص قسم کی شکل بن جاتی ہے۔ آنکھوں پر بھی بیماریوں کے اثرپیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ آج کل جرمنی میں باقاعدہ ایک سائنس Develope ہورہی ہے جو ایلوپیتھی طریق علاج میں مدد دے رہی ہے۔ ڈاکٹر صرف آنکھوں کا رنگ دیکھتے ہیں اور بیماری کی تشخیص کر دیتے ہیں۔ یہ محض ذہانت ہے جو خبر دیتی ہے۔ لکیریں خواہ مخواہ بہانہ بنا ہوا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بنا کر پیسے بٹورنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۴؍فروری ۱۹۸۴ء )
    سوال 50:
    قسمت کی لکیریں یا مزاج کی تعبیریں :
    کراچی کی ایک اور بہن کی طرف سے جتنا زیادہ مشکل اور علمی سوال تھا جواب اتنا ہی زیادہ دلچسپ، خیال افروز اور فکرانگیز تھا۔ سوال یہ تھا کہ علم نجوم سے کیا مراد ہے۔ نیز دست شناسی کی کیا حقیقت ہے؟
    جواب: حضور نے فرمایا علم نجوم کے ذریعہ آج کل دنیا میں بڑی بڑی معلومات حاصل ہورہی ہیں۔ (Astronomy) علوم نجوم کے ذریعہ ساری دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو سٹڈی کیا جارہا ہے۔ اس حد تک تو علم نجوم درست ہے۔ مگر یہ کہنا کہ فلاں ستارے نے فلاں کی قسمت بنائی ہوئی ہے اور اس کی سٹڈی سے فلاں کی زندگی میں یہ یہ واقعات رونما ہوں گے۔ یہ سب گپ شپ ہے۔ اسی طرح ہاتھ دکھا کر قسمت کا حال معلوم کرنا بھی محض گپ ہے۔ واقعتا یہ ممکن ہے کہ ایک لکیر کی بناوٹ سے انسانی مزاج اور اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہو جس طرح پاؤں دیکھ کر عرب بھی قیافہ شناسی کیا کرتے تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی اس کو درست قرار دیا ہے۔ اس حد تک تو دشت شناسی درست ہے لیکن یہ خیال کرنا کہ ہاتھوں کی لکیروں میں قسمت بنی ہوئی ہے اور یہ یہ واقعات رونما ہوں گے یہ سب گپیں ہیں۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ مورخہ ۴؍فروری ۱۹۸۴ء۔ لاہور اور کراچی کی مجالس سوال و جواب)
    سوال :51 جماعت (ملینیئم) Millenium کیسے منارہی ہے ؟
    جواب: جماعت Millenium تو میرے خیال میں منا ہی نہیں رہی۔ صرف ایک طریقہ ہے منانے کا۔ ہم کوشش کررہے ہیںکہ Millenium کے سال تک دنیا کی ہر زبان میں لٹریچر شائع ہو جائے۔ اور کم سے کم دس حصہ دنیا کی آبادی کا اگر دس ارب آبادی ہو تو ایک ارب آدمیوں کو احمدی لٹریچر مل جائے تو یہ ایک معنی خیز Millenium منانے کا طریقہ ہے۔
    دوسرا Millanium کے سال عیسائیت نے جہاں عیسائیت پر زور دینا ہے ہم نے عیسائیت کے خلاف
    مسیح علیہ ا لسلام کی توحید پر زور دینا ہے کہ وہ مؤحد تھے۔ ایک خدا کو مانتے تھے۔ تو یہ دو طریقے ہوں گے جس سے ہم انشاء اللہ Millanium منائیں گے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ ۲۹؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :52 فرعون کی بیوی بہت نیک تھیں انہوں نے اتنے گندے آدمی کے ساتھ شادی کیوں کی؟
    جواب: فرعون نے شادی کے بعد پر پرزے نکالے ہیں۔ اس زمانے میں شادیاں اس طرح عورتوں کے اختیار میں نہیں ہوا کرتی تھیں جو جابر بادشاہ تھے وہ جس پہ چاہیں اپنی چادر رکھ دیں وہ ان کی بیوی بن جایا کرتی تھی تو حضرت آسیہ اسی طرح فرعون بدبخت کی بیوی تھیں کہ مجبور تھیں مگر جس بچے کو انہوں نے پالا تھا اس کی وجہ سے وہ مومنہ بنی تھیں تو جب شادی ہوئی تھی اس وقت کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ کہ مومن ہے یا غیرمومن ہے وہ بہت پہلے کی بات ہے شادی کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پالا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نیکیوں کی وجہ سے ان کے دل میں بھی موسیٰ علیہ السلام کی محبت بڑھی اور خود موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :53
    انسانی اعضاء کا عطیہ
    انسانی اعضاء کے Donate کرنے کے بارہ میں سوال پر حضرت صاحب نے فرمایا یہ جائز ہے۔ جہاں تک انسانی اعضاء کے عطیے کا سوال ہے ایک شخص اگر کچھ ایسی قربانی کرے کہ اس کی زندگی کو خطرہ نہ ہو اور دوسرے کی زندگی بچا لے تو یہ بعینہٖ دینی روح کے مطابق ہے۔ مگر کوئی شخص اپنی زندگی کو جان بوجھ کر ختم کرے اس کی اجازت نہیں۔ یہ ایک قسم کی خودکشی ہے سوائے اس کے کہ جنگ وغیرہ کی صورت ہو۔ یہ بالکل اور مضمون ہے اس میں سب کو برابر خطرہ ہے اور اس میں ایک شخص جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے جاکر صحابہ لڑے میں اپنے سے زیادہ قیمتی وجود کی جان بچانے کے لئے اپنی جان خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔ تو یہ گناہ نہیں ہے لیکن کوئی اپنا دل نکال کر پیش کر دے تو یہ گناہ ہے کیونکہ دل کے بغیر کوئی زندہ نہیں رہ سکتا۔ یا جگر کاٹ کر باہر پھینک دے تو یہ گناہ ہے۔ کیونکہ یہ خودکشی کی ایک قسم ہے۔ لیکن اگر ایک گردہ دینے سے کسی بچے یا بچے کی طرف سے گردہ دیا جائے تو ماں کی جان بچتی ہے اور اس کی جان کو خطرہ نہ ہو تو اس میں کون سا گناہ ہے ؟
    پس اگر جنگوں میں کھلم کھلا اپنی جان پیش کردینے کی اجازت ہے تو عام حالات میں اس قسم کی قربانیاں دین کی روح کے منافی نہیں ہیں۔ مرنے کے بعد تو یہ معاملہ اور بھی زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو صرف یہ خطرہ ہوتا ہے اور مولویوں نے اسی وجہ سے فتویٰ دیا ہے کہ اگر آنکھیں نکال دیں تو قیامت کے دن اندھے اٹھیں گے اپنی آنکھیں کسی اور کو ملی ہوں گی۔ یہ خطرناک بے وقوفی ہے۔ آنکھوں نے کہاں رہنا ہے۔ وہ نہ بھی دو گے تو گل سڑ جائیں گے۔ ہم نے تو مردوں کے پنجر اور لاشیں ڈیلوں کے بغیر دیکھی ہیں ڈیلے کہاں دیکھے ہیں۔ آنکھوں کے ڈیلے غائب ہو جاتے ہیں اس لئے یہ فضول باتیں ہیں۔ (مجلس عرفان۔ ۱۳؍مارچ ۱۹۹۸ء صفحہ۳)
    سوال :54 ایک سوال یہ کیا گیا کہ سقراط کو نبی کہا جاتا ہے جبکہ انہوں نے زہر پی کر خودکشی کی؟
    جواب: حضور نے فرمایا زہر کا پیالہ پی کر خودکشی کرنے کے خیال نے کئی لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا ہوا ہے۔ حضرت سقراط نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ میں خودکشی کا ہرگز قائل نہیں کیونکہ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ لیکن اگر قانون میری موت کا یہ ذریعہ تجویز کرتا ہے تو میں اس سے بھاگوں گا نہیں۔
    حضور نے فرمایا میں ان کو نبی سمجھتا ہوں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس اختیار ہی نہیں تھا۔ دشمن چاہتا تو ان کو پھانسی لگا دیتا اس لئے یہ مجبوری کی بات تھی۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۹؍مئی ۱۹۹۹ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :55 ہندو لوگ مردے کیوں جلاتے ہیں ؟
    جواب: صرف ہندو لوگ نہیں جلاتے یہاں انگریز بھی جلاتے ہیں آگ میں جلا کر ان کو بالکل خاک بنا دیتے ہیں ہندوؤں میں جلانے کی رسم میرا خیال ہے یہ اس زمانے میں شروع ہوئی ہے جبکہ مردے سے آگے وبائیں پھیلنے کا خطرہ ہوا کرتا تھا۔ اس کو وہ جلا دیا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ یہ رسم آگے چل پڑی اور آج کل تو جو بے خدا لوگ ہیں جن کا کوئی دین ایمان نہیں وہ تو بعض دفعہ وصیت کرتے ہیں کہ ہماری لاش کو جلا دینا اور ایک ڈبیہ میں اس کی خاک آجائے تو لوگ ڈبیہ دفن کردیتے ہیں۔ دفناتے تو ہیں مگر جلانے کے بعد۔ اور ہندوؤں میں بھی دفناتے ہیں وہ جلانے کے بعد جلی ہوئی ہڈیاں دفنا دیتے ہیں۔ دفنانے سے تو کوئی گریز نہیں ہے سب مذاہب میں دفنانے کا تصور پایا جاتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۶؍مارچ ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۶؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :56 اب جبکہ گائے کے گوشت پر سے پابندی ہٹا لی گئی ہے کیا ہم یہ گوشت کھا سکتے ہیں ؟
    جواب: اگر حلال Beef ہو تو آپ کھاسکتے ہیں مگر Beef اتنی اچھی چیز نہیں ہے اس سے کئی لوگ بیمار بھی ہو جاتے ہیں۔
    ‏ Beef کا بائیکاٹ تو نہ کریں مگر کوشش کریں کہ مرغا وغیرہ چھوٹا گوشت مچھلی اور بکرے کا گوشت یہ زیادہ اچھا ہوتا ہے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۳؍فروری ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۲۴؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :57 خلافت کتنا عرصہ جاری رہے گی؟
    جواب: میں نے جواب دے دیا ہے۔ اس کے بعد بھی خلافت تو رہے گی مگر وہ فرضی خلافت ہوگی یعنی خلافت تو جاری رہے گی مگر اسکے اوپر سے خدا کا فضل اٹھ چکا ہوگا کیونکہ لوگ بھی گندے ہوچکے ہوں گے اور بعد میں جو خلفاء ہوں گے وہ بھی انہی کی تصویر ہوں گے جیسے لوگ ہوں گے۔ دورِ اول میں بھی خلافت راشدہ کے بعد خلافت تو نام کی جاری رہی مگر وہ بادشاہت تھی ملوکیت تھی اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ خلیفہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی ہوگی صحیح مگر اللہ کے فضل کے نیچے نہیں ہوگی۔ وعدے نہیں ہوں گے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وعدے تھے۔
    (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل ۸؍فروری ۲۰۰۲ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۲۶؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :58 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر ہے ’’بھیج درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار‘‘ بعض دفعہ انسان کا جسم پاک صاف نہیں ہوتا کیا پھر بھی یہ پڑھ سکتا ہے ؟
    جواب: درود تو جاری رہتا ہے، دل سے اٹھتا رہتا ہے اس پہ آپ پابندی لگا ہی نہیں سکتے جس کے دل میں ذکر الٰہی ہو اور دل میں درود ہو وہ تو اٹھتے بیٹھتے بے خیالی میں کرتا ہی چلا جاتا ہے اور اس وقت پاکی ناپاکی کی کوئی بحث نہیں رہا کرتی، دل میں جو بات ہو زبان پہ آہی جاتی ہے اونچی آواز میں بے شک نہ پڑھیں اس وقت لیکن زبان پہ تو آتی ہے وہ بات۔
    (مجلس عرفان ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۴؍فروری ۲۰۰۰ء)
    سوال :59 صرف صحابہ کے نام کے ساتھ ہی کیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہ آتا ہے ؟
    جواب: یہ اصطلاح بن گئی ہے پرانے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ قرآن کریم میں جب صحابہ کا ذکر آتا ہے تو اس میں آتا ہے رضوان اللہ علیہم۔ اللہ کی رضوان ان کو حاصل تھی۔ اس وقت سے یہ اصطلاح بن گئی ہے کہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ روزنامہ الفضل ۸؍مئی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۹؍جنوری ۲۰۰۰ء)
    سوال :60 جس گھر میں کتا ہو اس گھر میں رحمت کا فرشتہ داخل نہیں ہوتا کیا یہ درست ہے ؟
    جواب: مراد صرف یہ ہے کہ اگر کتے کاٹنے والے ہوں اور پوری طرح ٹرینڈ نہ ہوں تو جو بھی مہمان بے چارہ شریف آدمی جائے گا اس کو کتا بھونک کے پڑتا ہے۔ فرشتے سے مراد نیک دل آدمی اچھے لوگ بھی ہیں جس کے گھر میں کتا بدتمیز ہوگا وہاں تمیز والے لوگ نہیں جاتے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۱۷؍جون ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :61 حضرت رسول کریم ﷺ کون سا لباس پہنتے تھے۔
    جواب: رسول اللہ ﷺ تو عربوں والا لباس پہنا کرتے تھے۔ بعض دفعہ تہہ بند ہوتی تھی۔ اس کے نیچے پاجامہ بھی ہوتا تھا اور چادر پہنا کرتے تھے۔ سر کو چادر کے ساتھ لپیٹا کرتے تھے۔ تو جہاں تک روایت ملتی ہے۔ جو عربوں کا اس وقت اچھا لباس تھا وہی رسول اللہ ﷺ پہنا کرتے تھے۔
    (اطفال سے ملاقات۔ الفضل ۲۹؍جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۰؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :62 سوال کرنے والے نے پوچھا کہ چار خلفاء میں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی کہ ان کو یہ الہام ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
    جواب: حضور ایدہ اللہ نے فرمایا حضرت نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو بھی الہام ہوتا تھا مگر وہ اس کو خفیہ رکھتے تھے تاکہ قرآنی وحی سے کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو جائے کسی قسم کا ادنیٰ سا اشتباہ بھی ان کو گوارہ نہ تھا اس لئے وہ ایسے الہامات کو اپنے تک ہی محدود رکھتے تھے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۴؍جون ۱۹۹۹ء ۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :63 ایک بچے نے سوال کیا کہ اگر اللہ سب سے زیادہ طاقتور ہے تو اسے فرشتے بنانے کی کیا ضرورت ہے؟
    جواب: حضور نے فرمایا اللہ کی طاقت کے اظہار کے لئے فرشتوں کو پیدا کیا گیا انسانوں کا پیدا کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔ یہ اللہ کی طاقت کے مظہر ہیں۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۱۴؍جون ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :64 رسول کریم ﷺ اپنے مبارک سر پر کیا پہنا کرتے تھے۔
    جواب: حضرت محمد رسول کریم ﷺ صافہ لپیٹ لیا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں کلوں کا تو رواج نہ تھا۔ مگر صافہ لپیٹنے کا رواج تھا۔ اور اس کے علاوہ عرب ایک چیز پہنتے ہیں وہ بھی پہنتے ہوں گے۔ اندازہ ہے مگر سر ڈھانپ کر رکھتے تھے۔ جب نماز پڑھنی ہو تو ہمیشہ سر ڈھانپ کر رکھتے تھے۔
    (لجنہ سے ملاقات۔ الفضل ۲۸؍اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :65 حضور جو لوگ مسلمان نہیں ہیں کیا وہ جنت میں جاسکتے ہیں؟
    جواب: اللہ میاں کی مرضی ہے۔
    (الفضل یکم جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ۴۔ ریکارڈنگ ۹؍نومبر ۱۹۹۹ء)
    سوال :66
    ایک سوال یہ تھا کہ کیا کوئی ایسا زمانہ بھی آجائے گا کہ انسان لائٹ ایئر (نوری سال) کی رفتار سے سفر کرسکے؟
    جواب:
    حضور نے فرمایا کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا۔ ہاں کہانیوں اور ٹی وی کے قصوں میں آئے گا۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۴؍جون ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۵؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :67
    ایک خادم نے سوال کیا کہ خلفائے راشدین میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے جبکہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔
    جواب:
    حضور نے فرمایا اگر ایسی بات ہے تو شہادت کا سارا نظام ہی رک جانا چاہئے۔ خدا تو خود شہادت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے آپ کا سوال غلط مفروضے پر مبنی ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۹؍مئی ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :68 ایک سوال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو چیز کھائیں اس کا اخلاق پر اثر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے سؤر کھانے کی ممانعت ہے۔ جبکہ چین کے لوگ سانپ مینڈک سب کچھ کھا جاتے ہیں کیا ان کے اخلاق پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے۔
    جواب:
    حضور نے فرمایا چینی قوم بعض لحاظ سے بڑی خطرناک ہے ان کے اخلاق پر اس کا لازمی اثر ہوگا۔ جنگ ہو تو بے دھڑک انسانوں کو مارتے ہیں انہوں نے اپنوں کو اس بری طرح ہلاک کیا ہے کہ انسانی جان کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی۔ شاید یہ بھی ان کی خوراک کا اثر ہو۔ اخلاق پر تعلیمی مذہبی بیک گراؤنڈ بھی اثر ڈالتا ہے۔ اثرانداز ہونے والی اشیاء میں ایک چیز خوراک بھی ہے۔
    (مجلس عرفان۔ الفضل ۲۹؍مئی ۱۹۹۹ء صفحہ۳۔ ریکارڈنگ ۱۶؍مئی ۱۹۹۹ء)
    سوال :69 ایک سوال عورتوں کے بارے میں تھا کہ آپ کے معاشرے میں ان کا کیا کردار ہے۔ پاکستان کی سوسائٹی میں وہ آزاد نہیں۔ ہمارا میڈیا بہت منفی تصویر پیش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ؟
    جواب: یہ وہ سوال ہے جو یورپ میں حضور انور سے سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسی مجلس ہو جس میں یہ سوال نہ کیا گیا ہو۔ حضور انور نے مختلف مواقع پر اس کے مختلف جوابات ارشاد فرمائے ہیں۔ اس مجلس میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ اگر آپ سچ سننا چاہتے ہیں تو سنیں کہ عورتیں تمام معاشروں میں ایک جیسی ہی ہیں۔ تمام سوسائٹیوں میں ایک بڑا حصہ عورتوں سے ایسا سلوک کرتا ہے جیسے انگلستان پر ٹی وی پر پروگرام دکھائے جاتے ہیں کہ ایک طبقہ عورتوں سے صحیح سلوک نہیں کرتا۔ اس میں مذہب کا قصور نہیں، ایسے لوگ کسی مذہب پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ یہی صورت پاکستانی سوسائٹی کی ہے اور دنیا کی دیگر سوسائٹیوں کی ہے۔ امریکہ میں مرد شراب پی کر عورتوں سے بدسلوکی کرتے ہیں۔ اگر آپ سب معاشروں کا مطالعہ کریں آپ کو یہی نظر آئے گا کہ عورتوں سے صحیح سلوک نہیں ہورہا۔
    حضور انور نے مزید فرمایا کہ احمدیت میں عورتیں آزاد ہیں۔ ہم ان پر کسی قسم کی زبردستی نہیں ٹھونستے لیکن ان کے دلوں کو ایک چیز اپیل کرتی ہے کہ وہ ایک way of life کو اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں، اعلیٰ عہدوں کو اختیار کرسکتی ہیں لیکن وہ معاشرے کی گندی نظر سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ ہم احمدی ہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم حقیقی دین کو اپنائے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ ایک دفعہ اوسلو (ناروے) میں ایسی ہی سوال و جواب کی میٹنگ میں اس وقت (حضرت سیّدہ) آصفہ بیگم مرحومہ زندہ تھیں۔ ایک عورت نے جو اپنے آپ کو بہت بڑی عیسائی ثابت کررہی تھی دین میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں سوال اٹھایا۔ میرے جواب پر سب موجود افراد نے میری تائید کی اس پر وہ اوپر میری بیگم کے پاس چلی گئی اور کہنے لگی کہ او غریب عورت تمہارا خاوند تمہیں قید رکھتا ہے تم سے اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔تمہیں نیچے بھی نہیں جانے دیا۔ وہ یہ سب سن کر حیران ہوئیں اور جواب دیا کہ میں اپنی مرضی سے ہی نہیں گئی میرا ارادہ نہیں تھا۔
    (روزنامہ الفضل ربوہ ۲۵؍نومبر ۱۹۹۸ء صفحہ۴۔ دورہ جرمنی)


    باب نمبر 2
    دارالافتا ء کے فتا ویٰ پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے ارشادات ۔
    عنوان :نماز کے بعد ذکر الٰہی جلی یا خفی طریق سے کر نا۔
    حوالہ نمبر 423 تاریخ 17-6-82
    بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہٖ الکریم
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    با جماعت فرض نماز کے بعد ذکر الٰہی کے سلسلہ میں بزرگا ن امت کا مختلف عمل رہا ہے ۔ اکثر ذکر خفی پر عمل پیرا رہتے ہیں اور بعض نے ذکر جلی کے پہلو کو اختیار کیا ہے ۔ ذکر جلی کے بارہ میں حضرت ابن عباسؓ کی مندرجہ ذیل روایت امام بخاری ؒ نے بیان کی ہے ۔
    ابا معبد مولیٰ ابن عباس اخبرہ ان ابن عباس اخبرہ ان رفع الصوت با لذکر حین ینصر ف الناس من المکتوبۃ کا ن علیٰ عھد النبی ﷺ ۔ وقال ابن عباس کنت اعلم اذا انصر فوبذلک اذا صمعتہ ۔ ( ای کنت اعلم النصرافھم بسماع الذکر)
    ( بخاری باب الذکر بعد الصلوٰۃ صفحہ 1/116 )
    صیحح مسلم کی روایت ہے ۔
    عن ابن عباس ؓقال کنا نعرف انقضا ء صلوۃ رسول اللہ ﷺ بالتکبیر ۔
    ( مسلم باب الذکر بعد الصلوٰ ۃ صفحہ1/219 )
    ابو داؤد اور نسائی نے بھی مختصراً یہ حدیث روایت کی ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحما ن
    ناظم دارالافتاء
    ارشاد حضور :
    جزاکم اللہ۔
    دستخط
    19-6-82
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :امام کا خطبہ جمعہ کے لئے آنے پر آہستہ آوازمیں سلام کہنا اور اذان کے دورا ن نیچے بیٹھنا۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    منسلکہ خط پر حضور کا ارشاد موصول ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
    حضور اید ہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں جو ارشاد فرمایا ہے مندوبات کے دائرہ میں وہی حقیقت شرعیہ ہے ۔ہر گلے رازنگ بوئے دیگر است ۔
    عمومی حوالے پیش خدمت ہیں ۔
    ۱۔ کان بلالؓ یؤذن اذا جلس النبی ﷺ علی المنبر و یقیم اذا نزل۔ سند احمد ۔نسائی ۔
    ( نیل الا وطار صفحہ 3/262)
    ۲۔ عن سلمۃ بن الا کوع انہ قال خطب رسول اللہ ﷺ خطبتین و جلس جلستین۔ استوی ﷺ علی الدرجۃ التی تلی المستراح قائماً ثم سلم ثم جلس علی المستراح حتیٰ فرغ المؤذن من الاذان ثم قام فخطب ثم جلس ثم قام فخطب الثانیۃ علامہ شوکا نی اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں و الحدیث یدل علی مشروعیۃ التسلیم من الخطیب علی الناس بعد ان یر قی المنبر و قبل ان یؤذن المؤذن ۔ و قال ابو حنیفۃ و مالک انہ مکروۃ قالا یدن سلامہ عند الد خول المسجد مغن عن الا عا دۃ ۔
    ( نیل الا وطار 3/261 )
    ان دونوں اماموں کے نزدیک یہ مذکورہ بالا حدیث جس میں منبر پرکھڑے ہو کر سلام کہنے کا ذکر ہے ضیعف ہے ۔ کیونکہ کہ اسکے راویو ں میں ابن لہیعہ اور ابن عبد اللہ ا نصاری ضعیف ہیں۔
    ۳۔ کانت الصحابۃ ؓ یتحد ثون یوم الجمعۃ و عمر ؓ جالسن علی المنبر فاذا سکت المؤذن قام عمر ؓ فرم یتکلم احدٌ حتی یقضی الخطبتین کلتیہمافاذا اقیمت الصلوٰۃ و نزل عمر ؓ تکلمو ا ۔
    ( کشف الغمہ 1/263 )
    ۴۔ حضر ت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے بارہ میں بعض کی روایت یہ ہے کہ حضور جب تشریف لاتے ( قادیان کی بات ہے ) منبر پر بیٹھ جاتے اور پھر اذان کے بعد کھڑے ہو کر خطاب فرماتے ۔ بلند آواز سے سلام کہنے کی کوئی روایت نہیں ملی ۔ واللہ ا علم بالصواب ۔
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا خادم ملک سیف الرحمان ۔
    دارلافتا ء ۔ ربوہ
    ارشاد حضور:
    جزاکم اللہ۔فائل
    دستخط
    5-7-82
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :۱۔نماز عید کی تکبیرات کی تعداد اور قرات کا طریق ۔
    ۲۔نماز جنازہ کی تکبیرات میں ہاتھ اٹھا نا ۔
    ۳۔نماز کی پہلی رکعت میں لمبی اور دوسری رکعت میں چھوٹی سورہ پڑھنا

    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    نماز سے متعلق بعض مسائل فقہیہ میں مختلف روایا ت کی بناء پر اختلاف ہے لیکن جماعت میں ایک طرز عمل مروج ہے ۔خلفاء کا عمل قریباً قریباً اس کے مطابق ہے اس لئے جماعتی یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں روایا ت پر عمل ہو جن کو جماعت ’’ یعنی خلفاء احمدیہ‘‘ نے اپنا لیا ہے ۔ مثلاً
    ۱۔عید کی نماز میں یہ صورت متعین ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا ء پڑھی جائے پھر سات تکبیریں کہی جائیں ۔ ہر تکبیرکیساتھ ہاتھ اٹھا ئے جائیں اور چھوڑ دیئے جائیں ۔ دوسری رکعت میں اسی طرح پانچ تکبیریں قرا ت سے پہلے کہی جائیں ۔
    اس سلسلہ میں دوسری روایات جن میں کسی میں آتا ہے کہ دونوں رکعت میں پانچ تکبیریں ۔ کسی میں تین تکبیریں کسی میں چھ تکبیریں ۔کسی میں قرات سے پہلے کسی میں قرات کے بعد ۔۔۔ جماعت میں بحیثیت جماعت ان سب روایا ت میں سے اس روایت کو اختیار کیاہے جس کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے ۔ اس لئے جماعت کی طرف سے عوام کے مطالعہ کیلئے کوئی ایسی کتاب شائع نہیں ہونی چاہیئے یا شائع کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے جس میں دوسری روایات کے اختیار کر نے کی تلقین کی گئی ہو ۔ کیونکہ عملی اختلاف کا رواج مناسب نہیں ہوگا ۔
    ارشاد حضور:
    ( اس مندرجہ بالاپیر ا گراف پر حضور نے تحریر فرمایا )
    کیا اس کے بر عکس کوئی کتاب شائع ہوئی ہے ؟
    دستخط حضور
    27-7-82
    ۲۔ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں پہلی تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں ۔ دوسری تین تکبیریں کہتے ہوئے ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے ۔ جماعت کا عمل یہی ہے گو ہاتھ اٹھانے کی روایت بھی موجود ہے لیکن عملی یکجہتی کیلئے یہی مناسب ہو گا کہ جو جماعت کا عمل ہے اس روایت کو ترجیح دی جائے ۔
    ۳۔ جماعت ’’ خلفاء راشدین ‘‘ کا عمومی طریق یہ رہا ہے کہ فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں قرآن کریم کی ترتیب ملحوظ رکھی جائے یعنی پہلی رکعت میں قرآن کا جو حصہ پڑھا گیا ہے دوسری رکعت میں قرآن کا اس کے بعد کا حصہ پڑھا جائے اور دوسری رکعت میں قرآن کریم کا جتنا حصہ پڑھا جائے وہ پہلی رکعت کے حصہ کے برابر ہو یاکم ۔ زیادہ نہ ہو۔گو اس کے خلاف بھی جائز ہے لیکن عمومی صورت وہی ہے جس کا ذکر خاکسار نے اوپر کیا ہے اورچونکہ عوام مرکز سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اس لئے ان کی ذہنی یکجہتی کے لئے ایک سا طرز عمل اپنانا شاید زیادہ مناسب ہو ۔ جواز اپنی جگہ ہے ۔
    ۴۔ مرکز میں بعض بزرگ پہلی رکعت میں صرف سورۃ اخلاص پڑھتے ہیں اور دوسری رکعت میں قل اعوذ برب الفلق اور اس میں ایک رنگ کا تسلسل ہے شاذصورت نہیں ہے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؓ فرمایا کرتے تھے کہ نماز کی شکل گاؤ دم کی طرز پر ہے یعنی پہلے لمبی پھر چھوٹی خلفاء کے طرز عمل کے تسلسل سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے ھذا ما عندی و الا مر علیکم یا سیدی ۔
    والسلام
    خاکسار
    حضورکا خادم ملک سیف الرحمان ۔ دارالافتاء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :عورت کیلئے چہرے کا پردہ۔
    ( مضمون کے وہ پیرا گراف جن پر حضور نے نشان لگائے )
    ارشاد باری ہے :
    ۱۔ اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِِیْثٰتِ ۔وَالطَّیِّبٰتِ لِلْطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِبُوْنَ لِلْطَّیِّبَاتِ
    ( نور:27)
    ٍ ترجمہ: خبیث باتیں خبیث مردوں کیلئے ہیں اور خبیث مرد خبیث باتوں کیلئے ہیں اورپاک باتیں پاک مردوں کیلئے ہیں اور پاک مرد پاک باتوں کیلئے ہیں ۔
    ۲۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ
    ( نور:20 )
    یقینا جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میںبدی پھیل جائے ان کے لئے بہت دردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
    ؎ وَاِذَا سَاَ لْتُمُوْھُنَّ مَتَاعاً فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابِِ ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْ بِکُمْ وَقُلُوْبِِھِنَّ ۔
    ( الاحزاب:54)
    ترجمہ : اور چاہیے کہ جب تم ان یعنی نبی کی بیویوں سے کوئی گھرکی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگا کرو یہ بات تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کیلئے بہت اچھی ہے ۔
    ۲۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَکیٰ مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدِِِاَبٍَدًاوََََّّٰلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیِْ مَنْ یَّشَائُ وَاللّٰہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔
    ( نور :22 )
    اور اگر اللہ کا فضل اور رحم تم پر نہ ہو تا تو کبھی بھی تم میں سے کوئی پاکباز نہ ہوتا ۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاکباز بنا دیتاہے اور اللہ بہت دعائیں سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
    ؎ غض بصر یعنی نظریں نیچی رکھنا اور خوابدیدہ نگاہوں سے کام لینا اور ذر دیدہ نگاہی سے بچنا نیز غیر کے سامنے اظہار زینت سے اجتناب کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ فرمایا ۔
    ۳۔ قُلْ لِّلْمُؤمِنِینَ یَغُضُّوْامِنْ اَبْصَارِِھِم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لَعَلَّکُم تُفلِحُونَ ۔
    (نور: 31,32)
    ارشاد باری ہے
    وَ لَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّامَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ
    (نور:32)
    اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریںسوائے اس کے جو آ پ ہی آپ بے اختیار ظاہر ہوتی ہے اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینہ پر سے گزارکر اور اس کو ڈھانک کر اوڑھا کریں ۔
    ارشاد حضور:
    ( اس مندرجہ بالا پیراگراف پر حضور نے تحریر فرمایا)
    عورت کو مرد سے زیادہ پابند کر نا فطری تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی ہے ۔
    ۴۔ وَلَا یُبْدِیْنَ زِِیْنَتَھُنَّ اِلَّامَاظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ۔
    ( نور:32 )
    اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے جو آپ ہی آپ بے اختیا ر ظاہرہوتی ہو اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینہ پر سے گزار کر اور اس کوڈھانک کر اوڑھا کریں ۔
    ۵۔ عَن قَتَادۃ اَن رَسُول اللّٰہ ﷺ قَالَ اَنَّ الجَارِیَۃ اِذَا حَاضَت لَم یُصلِح ان یُرٰی مِنھا اِلَّا وجھھا وَ یَدَاھا الی المفصل
    ( مراسیل ابوداؤد ماجا فی اللباس)
    یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عورت جب بالغ ہو جائے تو چہرے اور پہنچوں تک ہاتھوں کے سوا جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے ۔
    سیدناحضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس آیت کا تفسیری ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں :
    ایسا ہی ایمان دارعورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نا محرم مردوں کے دیکھنے سے بچاویں اور اپنے کانوں کو بھی نا محرموں سے بچاویں یعنی ان کی پر شہوات آوازیں نہ سنیں اور اپنی ستر کی جگہوں کو پردہ میں رکھیں اور اپنے زینت کے اعضا ء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوں کا ن اور سر اور کن پٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں ۔ یہ وہ تد بیرہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے ۔
    ( اسلامی اصول کی فلاسفی )
    ۶۔ ’’لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِِھِِمْ مَرَضٌ وَ الْمُرْجِِِفُوْنَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِِیَنَّکَ بِِھِِمْ ثُمَّ لَا یُجَا وِِرُوْنَکَ فِیھَا اِلَّا قَلِیْلاً ۔ مَلْعُونِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْ ا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوا تَقْتِیْلَاَ۔ ‘‘ ( احزاب: 61,62 )
    اگر منافق مرد اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلاتے پھرتے ہیں بعض نہ آئیں گے تو ہم تجھے ان لوگوں کے خلاف ایک دن کھڑا کر دیںگے پھروہ تیرے ساتھ اس شہر میں بہت ہی تھوڑی مدت تک ہمسائیگت میں بسر کریں گے ۔ وہ جہا ں کہیں بھی تمھارے قابومیں آئیں چاہیے کہ پکڑے جائیں اور قتل کر دئے جائیں ۔ کیونکہ وہ خدا کے رحم سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : غصہ کی حالت میں خاوند کا بیوی کو کہنا کہ میں تمھارا خاوند نہیں۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    منسلکہ خط کے سلسلہ میں تحریری خدمت ہے کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک میاں بیوی میں علیحدگی کے لئے صریح لفظ ’’طلاق ‘‘مقرر ہے جب کہ خا وند کی طرف سے اقدام جدائی ہو ۔ اگر خاوند طلاق کا لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ کوئی اور غصہ کا لفظ استعمال کر تا ہے مثلاً بیوی کو کہتا ہے ’’دفعہ ہو جاؤ ۔ دور ہو جاؤ ۔ گھر سے نکل جاؤ میں تمھارا خاوند نہیں ۔‘‘ تو ایسے الفاظ کو غصہ پر محمول کیاجائیگا ۔ جس کا مداوا توبہ استغفار اور معاشرہ کی طرف سے کوئی سرزنش کی صورت میں تو ہو سکتا ہے لیکن قانون کے دائرہ میں اس کا مفہوم طلاق نہیں ہو گا ۔
    بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ایسے الفاظ طلاق کنائی کے حکم میں ہیں یعنی ان سے کنایتہ طلا ق کا مفہو م نکلتا ہے اس لئے خاوند سے وضاحت کروائی جائے گی کہ اسکی نیت کیا تھی یعنی الفاظ استعمال کرتے وقت اس کا ارادہ کیا تھا لیکن خاکسار کے نزدیک اس طرح کی وضاحت طلب کر نا تکلف ہے اگر خاوند طلاق دینا چاہتاہے تو وہ مقررہ صریح لفظ’’ طلاق‘‘ کا استعمال کرے اس کیلئے اسے کیا روک ہے ؟ کیاوہ ذومعنی لفظ استعمال کر نے پر مجبور ہے ؟ ایسے کمزور ان معاشرتی دور رس اثرات رکھنے والے معاملات میں ایسے کمزور مؤقف کی کوئی اہمیت نہیں ہو نی چاہیے ۔ واللہ اعلم بالصواب
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا ادنیٰ خادم
    ملک سیف الرحمان ۔
    ناظم افتاء۔
    ارشاد حضور : الفضل میں ایک نصیحت کا نوٹ دے دیں کہ خاوند بیویوں سے حسن سلوک کریں اور غصہ کے وقت نا واجب الفاظ استعمال نہ کیاکریں ۔
    دستخط حضور 26-10-82
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان :رسومات کے متعلق اسلامی تعلیم
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    خاکسار کی رائے میں عمومی لحاظ سے یہ رسالہ ( رسومات کے متعلق اسلامی تعلیم)مفید ہے۔ تاہم مندرجہ ذیل امور قابل توجہ ہیں ۔
    ارشاد حضورـ:
    ( مضمون کے وہ پیرا گراف جن پر حضور نے صرف نشان لگائے )
    رسومات کی بجاآوری میں آنحضرت ﷺ کی صرف مخالفت ہی نہیں ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت ﷺ کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا ۔ اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی ۔
    ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 440 )
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحما ن۔ ناظم افتاء
    24-10-82
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :نماز کی حرکات و سکنات اور فرائض و سنن
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    نماز جن حرکا ت یا اقوال پر مشتمل ہے ان کی اہمیت کو ظاہر کرنے کیلئے فقہاء نے ان کے لئے مختلف اصطلاحات استعمال کی ہیں مثلاً ( مضمون کے وہ پیرا گراف جن پر حضور نے نشان لگائے )
    رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا (قومہ ) درمیانی تشھد وغیرہ اگر یہ بھو ل جائے تو اس کا تدارک سجدہ سہو سے ہو جائے گا ان کو ’’پھر کرنا ‘‘ضروری نہ ہو گا گویا سجدہ سہو ان کا قائم مقام ہو گا ۔
    اب جبکہ جماعت کا عمل یہ ہے کہ مرکز میں ہاتھ سینہ پر باندھ کر نماز پڑھی جا تی ہے ۔یا رفع یدین نہیں کیا جاتا تو عوامی رسائل میں بھی ایسا ہی ذکر ہونا چاہئے۔اختلاف ذکر ان کے ذہن کو مشوش کر دے گا۔جماعت (مرکز)کا عمل یہ ہے کہ نماز جنازہ میں بعد کی تین تکبیریںکہتے ہوئے ہاتھ نہیںاٹھاتے لیکن فقہ احمدیہ اور محمد یامیں صاحب مرحوم کی طرف سے جو کتابچہ شائع ہوا ہے اس میں اختلاف کا ذکر ہے ۔اور یہ امر کئی افراد کیلئے ذہنی پریشانی کا موجب بنتا ہے ۔ھذا ما عندی ۔واللہ اعلم باالصواب والیہ المرجع والمأب۔
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ
    ارشاد حضور:
    مندرجہ بالا پیراگراف پر حضور نے تحریر فرمایابالکل صحیح ہے لیکن کوئی ایسی کتاب شائع ضرور ہونی چاہئے وہ ہے کہاں؟نیز مجموعی طور پر جزاکم اللہ تحریر فرمایا۔
    دستخط حضور
    3-11-82
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : فوتید گی پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا کہیں ثابت نہیں اس بارہ میں حضرت مصلح موعود ؓ کے عمل کی وضاحت۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ( مضمون کے وہ پیرا گراف جن پر حضور نے نشان لگائے )
    محرم کے ایام میں علماء سلسلہ کی طرف سے اگر ایک دو مضمون الفضل میں شائع ہو جائیں جو شہادت امام حسین ؑ سے متعلق ہوں تو اس کا اثر مفید ہو سکتا ہے۔انہیں مضامین میںدرود اور دعاکی تحریک بھی ہو سکتی ہے ۔ غیر احمدیوں سے یہ رسم کس طرح دور کی جائے اس کے لئے اہل ُالرائے سے اور امرا ء اضلاع سے مشورہ مفید رہے گا۔
    ایک روایت یہ ہے کہ سیدنا حضرت مصلح موعو د ؓ سر عبدالقادر صاحب کی وفات پر شیخ منظور قادر صاحب کے پاس تعزیت کے لئے تشریف لے گئے شائد انہوں نے کہا کہ دعا کر لیں تو حضور نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی ۔
    واللہ اعلم با لصواب
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا ادنیٰ خادم
    ملک سیف الرحمان ۔ربوہ
    ارشاد حضور:
    (مندرجہ بالا پیراگراف پر حضور نے تحریر فرمایا)
    یہ استثنائی واقعہ تھا۔میری موجودگی میں ہوا تھا ۔کوئی رسمی دعا نہ تھی بلکہ شیخ صاحب کے حضور کے ساتھ عقیدت کے تعلق کی بنا پر بیٹے نے ان کے لئے دعا کی درخواست کی تھی ۔
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ دستخط حضور
    17-11-82 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان :درمیانی قعدہ کے سہواََچھوٹ جانے پر سجدہ سہو کرنا۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ( مضمون کا وہ پیرا گراف جس پر حضور نے نشان لگایا )
    دو رکعتوں کے بعد درمیان میں جو بیٹھنا ہوتا ہے اگر کوئی نہ بیٹھے اور غلطی سے کھڑا ہو جائے تو فقہا ء کی رائے یہ ہے کہ کھڑا ہو جانے کے بعد پھر نہ بیٹھے بلکہ اس کی جگہ آخر میں سجدہ سہو کر لے۔
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ ارشاد حضور:
    دستخط حضور
    24-11-82 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:پانچ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پینے سے حرمت رضاعت واقع ہوتی ہے۔ سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    اس سلسلہ میں تحریر خدمت اقدس ہے کہ چھوٹی بہن نے بڑی بہن کے جس بچے کو دودھ پلایا ہے اس کا نکاح چھوٹی بہن کی کسی بچی سے نہیں ہو سکتا ہے۔البتہ بڑی بہن کے دوسرے بچوں کا چھوٹی بہن کے بچوں کے ساتھ رشتہ ہو سکتا ہے ۔یعنی چھوٹی بہن کے سب بچوں کا بڑی بہن کے ان بچوں کے ساتھ جنہوں نے دودھ نہیں پیا ۔رضاعت کی بنا پر تبھی رشتہ حرام ہوتا ہے جب بچے نے پانچ بار پیٹ بھر کر دودھ پیا ہو۔اس وقت رضاعت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا یہی مسلک ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ
    ناظم افتاء
    ارشاد حضور:
    دستخط حضور
    09-2-83
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:عورت کے لئے بھنویں بنوانا جائز ہے ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    (خلاصہ)
    بہر حال خاکسار کے نزدیک جسم گندھوانے۔یا مصنوعی بال لگانے کی ممانعت میں شدت کی بنیاد مذکورہ توہمات کا قلع قمع ہے ۔تزئین کے لئے بال لگوانے کا رواج جو حد اعتدال کے اندر ہو اس کی ممانعت کا اس میں کوئی ذکر نہیں ۔واللہ اعلم بالصواب۔
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ
    ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    دستخط حضور
    30-04-83
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:میت کی قبر تبدیل کرنا۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    (خلاصہ)
    سیدی ! بے حرمتی سے بچانے کے لئے یا کسی اور اہم ضرورت کی وجہ سے میت کو قبر سے نکالنا یا کسی اور جگہ دفن کرنا شرعاََ درست ہے ۔اور اس کی مثالیں احادیث میں ملتی ہیں ۔حضرت جابرؓ نے اپنے والد حضرت عبداللہ ؓ کو جو جنگ اُحد میں شہید ہوئے تھے حضور ﷺ کی اجازت سے قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کیا تھا ۔
    (بخاری کتاب الجنائز باب ھل یخرج ا لمیت من القبر بعلَّۃِِ)
    اسی طرح بعض اور حوالے بھی ملتے ہیں ۔
    جہاں تک مصلحت کا تعلق ہے بہتر یہی لگتا ہے کہ غلام صابر صاحب(فرضی نام) خود ایسا نہ کریں ہاں اگر غیر احمدی خود یا حکومت کی مدد سے قبر کھدوائیں اور نعش نکالیں تو پھر تدفین اپنے قبرستان میں کی جائے ۔
    ارشاد حضور:
    (مندرجہ بالا پیرا گراف پر حضور نے نشان لگایا اورتحریرفرمایا ’’ٹھیک ہے‘‘
    دستخط حضور
    25-06-83
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:قومی بچت سے ملنے والے منافع کی بابت اعلان کی عبارت۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    (خلاصہ)
    ربٰو ، بینکوں سے لین دین اور دوسری ایسی نفع مند سکیمیں جن میں ربوٰ کا شائبہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔اسی سلسلہ کے ایک خط کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔
    ’’قومی بچت سکیم کا منافع لینا فی الحال فیصلہ طلب ہے ۔لیکن واضح طور پر منع نہیں ۔لہٰذا جب تک فیصلہ نہ ہو بے شک استعمال کریں ‘‘
    والامر الیکم یا سیدی ۔والسلام
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ
    ناظم افتاء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :ذبیحہ کی بابت اصولی ہدایت
    (خلاصہ)۔۔۔۔اگر ترجیح کاسوال پیدا ہو مثلاََ دونوں ایک معیار کے گوشت ہوں لیکن ایک کو احمدی نے ذبح کیا ہو اور دوسرے کو کسی غیر احمدی نے یا یہودی یا عیسائی نے ذبح کیا ہو اور اللہ کا نام لیا ہو تو ایک احمدی کو پہلے نمبر کے گوشت کو ترجیح دینی چاہئے کیونکہ ذبح کرنے والے فرد (person ( کو بھی ذبح کے معاملہ میں مؤثر اہمیت دی گئی ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    حضور کا خادم
    ملک سیف الرحمان۔ربوہ
    ناظم افتاء27-06-83 ارشاد حضور:
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ احمدی مسلمان یا اہل کتاب میںذبیحہ کے معاملہ میں فرق کیا جائے ۔اس لئے یہ درست نہیں ۔
    دستخط حضور
    29-06-83
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:سجدہ میں جھکنے اور اٹھنے کا طریق۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    سجدہ میں جانے کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ پہلے گھٹنے زمین پر لگیں پھر ہاتھ پھر ناک پھر ماتھا ۔اور اٹھتے وقت پہلے ماتھا پھر ناک پھر ہاتھ پھر گھٹنے زمین پر سے اٹھائے جائیں ۔لیکن یہ عمومی حکم ہے اور بہتر صورت ہے ورنہ کوئی عذر ہو تو اس کے خلاف بھی جائز ہے ۔مثلاََ کمزوری ہے سہارے کیلئے پہلے زمین پر ہاتھ رکھے پھر گھٹنا رکھے تو یہ جائز ہے اسیطرح ہاتھ کا سہارہ لے کر گھٹنا اٹھانا جائز ہے ۔اس میں کوئی شرعی روک نہیں حسب حالات تبدیلی جائز ہے ۔
    والسلام
    حضور کا خادم
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان
    ناظم افتاء
    ارشاد حضور ـ:
    حضور نے اس پر ٹِک کا نشان لگایا اور دستخط فرمائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :سہواََ وقت سے پہلے روزہ کھولنے کا مسئلہ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    سیدی علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا ۔حدیث میں بھی اس کا ذکر واضح طور پر موجود ہے ۔
    (ترمذی جلد اول صفحہ 90)
    لیکن اگر کوئی غلطی سے روزہ میں کھا پی لے مثلاً اگر کسی نے روزہ میں غلط اطلاع دی کہ اذان ہو گئی ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ابھی وقت کافی باقی ہے یا بادل تھا یا اندھیرا تھا اور سمجھ لیا کہ وقت ہو گیا ہے اور روزہ کھول لیا لیکن بعدمیں بادل چھٹنے پر سورج نکل آیا ۔
    امام شافعی کہتے ہیں کہ اس قسم کی غلطی کیوجہ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ان کااستد لال اس حکم سے ہے۔حدیث میں آتا ہے ’’رفع عن امتی الخطاء والنسیان‘‘
    اس میں نسیان کے ساتھ خطا ء کو بھی بریکٹ کیا گیا ہے ۔ لیکن امام ابو حنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ غلطی ( خطاء ) کیوجہ سے اگر کسی نے روزہ کھول لیا تو گنا ہ تو نہیںہو گا لیکن اس روزے کی قضا ء ضروری ہو گی (رفع سے مراد اخروی گرفت کا نہ ہونا ہے ) وہ نسیان اور خطا ء میں فرق کر تے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک بار حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں بادلوں کی وجہ سے لوگوں نے قبل از وقت روزہ کھول لیا بعد میں بادل چھٹ گئے اور سورج نکل آیا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اس کی جگہ ایک اور روزہ رکھ لینا ۔
    بہر حال غلطی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے بعض کے نزدیک اس کا حکم وہی ہے جو نسیان کا ہے اور بعض کے نزدیک فرق ہے ۔ و الھدایۃ مطلوبۃ من حضرتکم یا سیدی ۔
    والسلام
    حضور کا خادم
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے اس پر ٹِک کا نشان لگایا اور دستخط فرمائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :عقیقہ میں لڑکے کیلئے ایک بکرہ ذبح کرنا ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    عقیقہ کے بارہ میں عمومی صورت یہ ہے کہ لڑکا ہو تو دو بکرے اور لڑکی ہو تو ایک بکرہ عقیقہ کی نیت سے ذبح کئے جائیں ۔
    بعض روایا ت ( ابو داؤد جلد 2 صفحہ 38 ) میں لڑکے کیلئے بھی ایک بکراذبح کرنے کا ذکر ہے اس لحاظ سے اگر کسی نے عقیقہ میں ایک بکراذبح کیا تو بھی عقیقہ کا مقصد حاصل ہو جائے گا ۔ دو بکرے ذبح کرنا ضروری نہیں ۔ صرف ثواب زیادہ ہے ۔
    مسنون عقیقہ کا یہ بھی حصہ ہے کہ بچہ کی پیدائش کے ساتویں روز عقیقہ کیا جائے (ابو داؤد جلد 2 صفحہ36 ) تاہم اگر کوئی معذوری ہو تو پھر بعد میں بھی توفیق اور ارداہ بنے توعقیقہ کیا جا سکتاہے ( نیل الاوطار جلد 5
    صفحہ 133) چاہے دو بکرے اکھٹے ذبح کرے یا وقفہ وقفہ کے بعد ہر صورت میں ثواب کی توقع ہے گو اصل سنت وہی ہے جس کا ذکر اوپر کر دیا گیا ہے کہ ساتویں روزعقیقہ کیا جائے ۔
    والسلام
    حضور کا خادم
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے اس پر ٹِک کا نشان لگایا اور دستخط فرمائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : مختلف اشیاء کی خریداری پر انعامی سکیم کا انعام جائز ہے ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    مختلف تجارتی میلوں میں جن لا ٹریوں کا اعلان کیا جاتاہے اگر کوئی شخص اپنی ضرورت کی کوئی چیز خریدتا ہے اور اس پر اس کا انعام نکل آتا ہے تو اس انعام کے حاصل کر نے میں خاکسار کی رائے میں کوئی حرج نہیں ہوناچاہیے ۔ اس سلسلہ میں ایک استنباط اس واقع سے ہو سکتا ہے جس میں آتا ہے کہ ایک شخص نے زمین خریدی اس میں سے خزانہ نکل آیا تو اس شخص نے وہ خزانہ اس زمین کے پہلے مالک کو واپس کرنا چاہا تو اس نے کہا میں نے تو زمین وما فیھا کے بیچی ہے اب اس خزانہ پر میر ا کوئی حق نہیں ہے ۔
    ( بخاری کتا ب الا نبیا)
    (مندرجہ بالا پیرا گراف پر حضور نے ’’ ٹھیک ہے ‘‘ تحریر فرمایا ۔ )
    دوسرے یہ انعام اس منافع سے ادا ہوتا ہے جو ایسے تجارتی میلوں میں انتظامیہ کو حاصل ہو تا ہے ۔ اس کی بنیاد بظاہر کسی سود ی آمد پر نہیں ہے ۔
    ٍ والسلام
    حضور کا خادم
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے اس پر ٹِک کا نشان لگایا اور دستخط فرمائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : یتیم پوتے کی میراث ۔

    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    (خلاصہ مضمون جو الفضل 4 فروری 1984 ء میں شائع ہوا)
    ۔۔۔۔ا ب اسی مؤقف کے مطابق فقہ احمدیہ میں بھی دفعات ترتیب دی گئی ہیں ، جو یہ ہیں ۔
    ’’ کوئی نص صریح یتیم پوتے وغیرہ کی توریث یا عدم توریث کی موجود نہیں۔ البتہ معروف تعامل یہی رہا ہے کہ چچوں کی موجودگی میں یتیم پوتا وغیر ہ اپنے دادا کا وارث نہیں ہوتا ۔ تاہم اگر قرآن کریم کے حکم وصیت پر عمل کیا جائے تو کوئی یتیم پوتا پوتی وغیرہ محروم الا رث نہیں رہ سکتے ۔ اگر دادا کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے وصیت نہ کرسکے تو قاضی 3/1 ترکہ تک ایسے یتامیٰ کو دلا سکتا ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو نقصان نہ پہنچے۔ ( فقہ احمدیہ صفحہ 140 )
    ۱؎مثلاً اسکے باپ کو میراث میں سے جو حصہ ملتا وہ کم ہو ، اس سے جو اسے وصیت کی صورت میں مل رہا ہے ۔ گویا اصول یہ ہوا کہ وصیت اسکے میراث کے حصہ سے زیادہ نہ ہو ، واللہ اعلم ۔
    والسلام
    حضور کا خادم
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    بہت عمدہ سیر حاصل محاکمہ ہے ۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء اللہ آپ کے علم و فضل اور عمر اور خوشیوں اور صحت اور قوت عمل میں برکت دے اور دنیا اور آخرت کی حسنات سے نوازے الفضل کی رعائت سے معمولی ترمیم کے بعد الفضل میں شائع کروادیں ۔
    والسلا م
    دستخط حضور
    1985/26-1-1363
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :سونے میں زکٰوۃ کا نصاب سات تولے سونا ہے نیز زیور پر زکٰوۃ ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    سات تولے کی حد تک سونے کے زیورات جو کسی عورت کی ملکیت ہیں اور وہ ان زیورات کو بالعموم استعمال کرتی رہتی ہے او ر اگر کوئی عاریۃََ مانگے تو دے دینے میں کوئی تردد بھی نہیں ہوتا تو اس مقدا ر پر زکٰوۃ نہیں ہے ۔ اس مقدار سے زائد اگر کسی کے پاس سونا ہے خواہ زیورات کی صورت میں یا کسی اور صورت میں اس پر زکٰوۃ ہے بشرطیکہ وہ اسکی ملکیت میں سال بھر رہا ہو ۔
    ۲۔ زکوٰۃ کی مقدار چالیسواں حصہ ہے یا قیمت کے لحاظ سے 2.50%
    ۳۔ زکوٰۃ خلیفہء وقت کے ذریعہ ادا ہونی چاہئے اگر کوئی اپنے کسی عزیز کو یا مستحق کو زکٰوۃ دینا چاہتا ہے تو خلیفہ ء وقت سے اس کی اجازت لے ۔
    والسلام
    حضور کا خادم
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے ’’ اس کے مطابق جواب ‘‘ تحریرفرمایا اور دستخط فرمائے نیچے29-1-84 تاریخ تحریر فرمائی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :ایسی ماں جس کا بچہ اسے صبح اٹھنے نہ دیتا ہو اسکی فجر کی نمازکی ادائیگی
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ’’اسلام کی اصولی ہدایت یہ ہے کہ لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا ۔ اور انما الا عمال با لنیات ۔
    ان دونوں صورتوںکو سامنے رکھ کر جیسا ممکن ہو نماز پڑھ سکتی ہیں آہستہ آہستہ کوشش کریں کہ بچہ کسی دوسرے کیساتھ مانوس ہو جائے ۔ یا اسے الگ سولانے کا عادی بنائیں اور دعا بھی کریں ۔اس طرح کچھ مدت کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے دیگا کہ آپ پوری شرائط کیساتھ نماز ادا کرسکیں اور بچے کو بھی کوئی تکلیف نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ بچے کو صحت و عافیت سے رکھے اور آپ سب کو اپنے فضلوں کا وارث بنائے ۔ آ مین ۔‘‘
    والسلام
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ ناظم افتاء
    ارشاد حضور:
    حضور نے اس پر ٹِک کا نشان لگا یا او ر دستخط فرمائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :سوتیلی پھوپھی سے نکاح حرام ہے
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ’’ جس خاتو ن کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ آپ کے باپ کی سوتیلی بہن ہے اور آپ کی سوتیلی پھوپھی کیونکہ دونوں کا باپ ایک ہے اور مائیں الگ الگ ہیں اور پھوپھی خواہ سگی ہو یا سوتیلی اس سے نکاح جائز نہیں لہٰذا آپ خاتون مذکور سے شادی نہیں کر سکتے ۔ شرعاً ایسی شادی نا جا ئز ہو گی ۔‘‘
    (مندرجہ بالا پیرا گراف پرحضور نے لائن لگائی اور ٹھیک ہے تحریر فرمایا )
    آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دل سے ایسے خیالات جو شریعت کے خلاف ہوں دور کر دے ۔ بزرگوں خصوصاً حضور کی خدمت میں بھی دعا کیلئے لکھتے رہیں ۔
    والسلام
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے دستخط فرمائے اور 22-2 تاریخ تحریرفرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:انشورنس کروانا جائز ہے یا نہیں ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ’’ نظام انشورنس باہمی تعاون پر مبنی ہے نہ جوا ہے نہ ہی شرک یہ ایسا ہی ہے جیسا انسان مستقبل کی ضروریا ت کیلئے کچھ روپیہ جمع رکھتا ہے یا جائیداد بناتا ہے یا خطرات سے محفوظ رہنے کیلئے انتظام کر تا ہے ۔ پہرے دار رکھتاہے مکان کو تالہ لگا تا ہے ۔
    بہرحال مستقبل کا خیال رکھنا آیت قرآنیہ ’’ وَالْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِِ (الحشر:۱۹) کے مطابق منع نہیں ۔
    نظام انشورنس کی اصل ممانعت اس بناء پر ہے کہ اس میں سود کی آمیزش ہوتی ہے ۔ اگر یہ نظام سود سے پاک ہو مثلاً نفع یا نقصان میں شرکت پر مشتمل ہو تو پھر اس خرابی کا خدشہ بھی موجود نہیں رہتا۔ اس نظام کا جب آغاز ہوا تھا تو اس وقت بعض شرائط کے لحاظ سے اس میں جوئے کا پہلو تھا لیکن اب اس خرابی کو دور کر دیا گیا ہے۔ ۔۔۔۔۔‘‘
    والسلام
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    ’’ٹھیک ہے جزاکم اللہ
    دستخط حضور
    بمعہ تاریخ 25-3-84‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :۱۔درمیان قعدے میں تشہدتک پڑھنا۔
    ۲۔آخری قعدہ میں درود شریف پڑھنا نہ واجب ہے نہ سنت بلکہ سنت میں اضافہ ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ۔۔۔۔۔۔قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد دورد شریف یا کوئی اور دعا پڑھنا صیحح سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ یہی ہدایت ملتی ہے کہ تشہد پڑھ کر یعنی عبدہ و رسولہ پر تیسری رکعت کیلئے نماز پڑھنے والا کھڑا ہوجائے۔
    اور تشہد کے بعد درود شریف اور دعائیں وغیرہ آخری قعدہ میں پڑھے ۔
    محترم مولوی دوست محمد شاہد صاحب نے جو اپنی رائے اور تحقیق لکھی ہے اس کا خلاصہ بھی یہی ہے ۔ نیز انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ علامہ ابن قیم نے ’’ زاد المعاد ‘‘ میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے یہ ثابت نہیں کہ آپ ﷺ پہلے تشہد کے بعد کوئی اور دعائیں وغیرہ پڑھتے ہوں ۔
    والسلام
    خاکسار

    ملک سیف الرحمان
    ریسرچ سیل ۔ ادارۃ المصنفین 25-3-84
    ارشاد حضور :
    حضورنے اس پر دستخط فرمائے اور تاریخ 28-3-84تحریر فرمائی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :دعائے قنوت کب پڑھنی چاہیے ؟
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ( خلاصہ مضمون ) دعائے قنوت حنفی رکوع سے پہلے پڑھتے ہیں اور جماعت احمدیہ اور بعض دوسرے فقہاء رکوع کے بعد ۔ یہ کسی روایت میں نہیں کہ دعائے قنوت رکوع کے اند ر پڑھی جا سکتی ہے ۔
    ( مندرجہ بالا پیرا گراف پر حضور نے ٹِک کا نشان لگایا)
    اسی طرح دعائے قنوت واجب ہے یا سنت یا مستحب حنفی اسے واجب مانتے ہیں ۔ خاکسار نے حضرت خلیفہ ثانی ؓ کی ایک روایت پڑھی ہے کہ دعائے قنوت ضروری نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ایک خاص موقع پر اسے پڑھا تھا ۔ اور اب بھی ایسے مواقع کے وقت اسے پڑھا جاتا ہے ۔
    ( الفضل17 اپریل 1947 )
    والسلام
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے دستخط فرمائے اور تاریخ 28-3-84 تحریر فرمائی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : ۱۔بینک سے نفع و نقصان میں شراکت کے تحت منافع لینا ۔
    ۲۔شرک کا خدشہ نہ ہو تو بزرگوں کی تصاویر یا فوٹو بنانا جائز ۔
    ۳۔آمین کی تقریب پر تکلف اور اسراف نا جائز ہے ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ۱۔ بینک کے سود کے سلسلہ میں جماعت کا مسلک یہ ہے کہ سوائے اس صور ت کے کہ نفع و نقصان میں شرکت کا معاہدہ ہو اور زائد معین رقم کی صورت نہ ہو بلکہ شرح آمد کے لحاظ سے ہو تو ایسی صورت میں آمد جائز ہے ۔ ورنہ نہیں ۔
    ۲۔ بزرگان امت کی تصاویر ۔ فوٹوز کے بنانے کی ممانعت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے شرک کو فروغ ملتاہے ۔ اگر اس قسم کا خدشہ نہ ہو تو خاکسا ر کے نزدیک تصویر اور فوٹو بنانادونوں جائز ہیں ۔ البتہ تَصَنُّع اور اصل شخصیت سے مختلف انداز جس میں بناوٹ کا پہلو نمایاں ہو درست نہ ہو گا ۔
    ۳۔ تقریب آمین کی ہو یا شادی کی تکلف کرنا اور اسے رسم بنانا اور اسراف سے کام لینا تینوں ناجائز امر ہیں ۔ ہاں اگر بچوں کو شوق ہو تو پڑھانے کیلئے ہو اور اسراف سے کام نہ لیاگیا ہو تو تقریب کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ کیونکہ اس سے نیکی کی تحریک ہوتی ہے اور اسراف کا بھی کوئی شائبہ نہیں ۔
    والسلام
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    حضور نے ٹِک کا نشان لگایا اور جزاکم اللہ تحریر فرمایا نیز دستخط بمع تاریخ 2-4-84 تحریر فرمائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :شرعاََ احمدی اور غیر احمدی ایک دوسرے کے وارث ہیں ۔
    سیدی و مولائی ایدکم بنصرہ العزیز ۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    ۔۔۔۔ بعض عدالتوں نے یہ فیصلے دیئے ہیں کہ احمدی غیر احمدی کا وارث نہیںہو سکتا ۔
    ایسی صورت میں جماعت کا کیا مسلک ہو اس بارہ میں ہدایت کیلئے درخواست ہے ۔ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں بعض قابل وکلاء ( مثلاً محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ۔ اور محترم مرزا عبد الحق صاحب ) کامشورہ مفیدہو ؟
    والسلام
    خاکسار
    ملک سیف الرحمان ۔ ناظم افتاء
    ارشاد حضور :
    بے شک مشورہ کریں لیکن مد مقابل کے ظالمانہ رویے سے شرعی فتویٰ تو تبدیل نہیںہوسکتا ۔ جسے قرآن وارث قرار دے اسے آپ غیر وارث کیسے قراردے سکتے ہیں ۔
    دستخط حضور
    بمعہ تاریخ 1-6-83
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :GOLD PLATED CHAIN استعمال کرنا نیزعور توں کا نماز جنازہ میں شامل ہونا ۔
    (فتوٰی پر ارشادحضور)
    آمد ڈاک افتاء 126/21-3-92
    مکرم ناظم صاحب دارالافتاء ۔ربوہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ
    آپ کی مرسلہ رپورٹ نومبر ۔دسمبر 1991ء؁ میں GOLD PLATED CHAIN کے مرد کیلئے استعمال کی بابت سوال کے جواب میں بنیادی بات تو یہ بتانی چاہئے کہ سونے کا استعمال ممنوع ہے لیکن GOLD PLATED ہونا اور بات ہے ۔جہاں تک بعض فقہاء کے نزدیک آلاتِ حرب میں سونے یا چاندی کے لگانے کا تعلق ہے اسے سونے یا چاندی کی گھڑی وغیر ہ پر قیاس کر کے مردوں کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔آلات حر ب میں سونے چاندی کے استعمال کو اور اہمیت حاصل ہے ۔
    جہاں تک نماز جنازہ میں عورتوں کی شمولیت کا تعلق ہے ۔عورتوں کیلئے زیارت قبورمیّت کے ساتھ تو منع ہے لیکن اس سے استنباط کر کے جنازہ پر اس کی ممانعت کے اطلاق کا کیا جواز ہے ؟ اس بارہ میں مزید تحقیق وتلاش ہونی چاہئے کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے؟ اگر منع نہیں فرمایا تو نمازِ جنازہ میں جو فرضِ کفایہ ہے عورتوں کو شمولیت کی سعادت سے کیوں محروم رکھا جائے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخظ
    خلیفۃالمسیح الرابع

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان : ۱۔درمیانی قعدہ میں تشہد تک پڑھنا۔
    ۲۔نماز تراویح سنت ہے یا نہیں۔
    ۳۔نماز تراویح میں سامع کا قرآن لے کر کھڑے ہونا۔
    ۴۔خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنا۔
    ۵۔نماز جمعہ سے قبل دو سنتوں کی ادائیگی کا طریق۔
    (فتاویٰ پر ارشادات حضور)
    آمد ڈاک افتاء 2/6-7-92
    مکرم ناظم صاحب دارالافتاء صاحب ربوہ
    السلام و علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    مکرم ناظر صاحب اعلیٰ کی طرف سے نظامت دارالافتاء کی ماہانہ رپورٹ بابت ماہ اپریل ملی ہے ۔ اس میں 13-4-92کو نمبر266کے تحت آپ نے فاتح احمد صاحب (فرضی نام)کو وتروں کے پڑھنے کے طریق سے متعلق جو فتویٰ دیا ہے اس کا آخری پیرا س طرح ہے کہ ’’یہ بات یاد رہے کہ قعدہ میں کلمہ شہادت تک پڑھنا واجب ہے ۔درود شریف اور دیگر دعائوں کا پڑھنا سنت ہے۔ ‘‘اس میں واجب کے مقابل پر لفظ ’’سنت‘‘ لکھنا ابہام پیدا کرتا ہے جبکہ بہت سی سنتیں واجب ہیں۔
    چٹھی نمبر 270-A/14-4-92میں ’’تراویح کی سنت کا احیاء کیا جائے ‘‘کے الفاظ درج ہیں۔آنحضور ﷺ نے تو ایسی کسی سنت کا اجراء نہیں فرمایا بلکہ آپ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تھکے ہارے مزدوروں کی دلجوئی کی خاطر نہ کہ کسی سنت مستحبہ کی پیروی کی خاطر یہ نظام جاری فرمایا تھا اور یہ ہر گز بدرجہ اولیٰ کے طور پر نہیں تھا۔اسے سنت قرار دینا ہی غلط ہے کجا یہ کہ کہا جائے ’’ہاں اگر مجبوری ہے ...‘‘جو نہ واجب نہ فرض نہ سنت مستحبہ اس کو نافذ کرنے کے لیے مجبوری کی کیا بحث ہے ۔
    باقی رہا قرآن کریم لے کر سامع کے کھڑا ہونے کا مسئلہ تو یہ بھی قطعاََ درست نہیں۔نماز کے دوران قرآن کریم پڑھ پڑھ کر یاد دہانیاں کروانے کا کوئی جواز نہیں۔ نہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں ایسا ہوااور نہ ہی بعد میں خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایسا ہوا۔اگر کوئی قاری غلطی کرتا تھا تو مقتدیوں میں سے اگر کسی کو یاد ہوتا تو وہ درستی کروا دیتا ورنہ اسے خدا کے حضور قابل معافی سمجھا گیا ۔پس اگر آپ نے یہ نئے نئے سلسلے جاری کروا دیے تو بات کہیں ایرانی شیعوں تک نہ جا پہنچے۔جن میں ایک لڑکا باہر بیٹھے تکبیر پڑھ کر پریڈ کی طرح لوگوں کو نماز پڑھواتا ہے۔چونکہ آپ ایک فتویٰ جاری کر چکے ہیں اس لیے اس مسئلہ کو پوری چھان بین کے لیے میرے اس نوٹ کے ساتھ مجلس افتاء میں پیش کریں اور ممبران کو اجازت دیں کہ اگر کسی کے پاس کوئی قوی سند مجھ سے اختلاف رکھنے کی موجود ہو تو بے شک وہ میرے مذکورہ رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے دلائل پیش کرے۔
    خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ کے بارہ میں آپ نے زیر نمبر271/14-4-92یہ فتویٰ دیا کہ’’جماعت کے ذمہ دار اور بڑے افراد کو اجتناب کرنا چاہیے ‘‘ہم نے تو بچپن سے یہی سن رکھا تھا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں ہوتی۔مجھے آج پہلی دفعہ آپ کے فتویٰ سے معلوم ہوا ہے کہ ’’ذمہ دار اور بڑے افراد کا اجتناب بہتر ہے ورنہ منع نہیں۔اگر یہی فتویٰ ہے تو اس کی سند مہیا کریں تا کہ جماعتوں کو اس کے جواز کے متعلق بتایا جائے ورنہ بیسیوں خود کشی کرنے والے بغیر جنازوں کے دفن ہو گئے اور آئندہ ہوتے رہیں گے۔
    نماز جمعہ سے پہلے دو سنتوں کی ادائیگی کے متعلق آپ نے بدلائل جو فتویٰ دیا ہے یہی میرا مسلک رہا ہے اور ہے کہ نماز جمعہ سے پہلے دو سنتیں ہیں ان کا ایک نفلی رنگ بھی ہے جو اتنا غالب ہے کہ سفر میں بھی یہ سنتیں ادا کی جاتی ہیں۔مسجد میں ان کا ادا کرنا ضروری نہیں۔اس معاشرہ میں غالباََ اکثر احباب چونکہ گھروں میں سنتیں ادا کرنے کی بجائے مسجد میں ادا کرتے تھے اس لیے اس مسئلہ نے یہ صورت اختیار کر لی کہ بعض نے انہیں مسجد میں ادا کرنا ضروری سمجھ لیا جو کہ درست نہیں۔
    جہاں تک امام کا تعلق ہے اس کے لیے یہ بحث ہی نہیں اٹھتی کہ امام مسجد میں کیوں ادا نہیں کرتا ۔اس لیے کہ وہ گھر سے ادا کر کے جاتا ہے اور یہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریق رہا ہے اور یہی میرا طریق ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ رہے گااور غالباََحضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے ہی عمل فرمایا کرتے تھے۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفۃ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا طریق۔
    (حوالہ جات پر ارشادحضور)

    مکرم امیر صا حب )سر کلر(
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکا تہ،
    خود کشی کرنے والے کے بارے میں اب تک جماعت میں یہ رجحان رہا ہے کہ اس کی نماز جنا زہ ہر گز ادا نہیں ہو گی لیکن اس بارہ میں دار الا فتا ء سے حاصل ہونے والی ایک رپو رٹ میں بزرگان سلف کے فتا و یٰ پڑھ کر میں سمجھتا ہوںکہ سابقہ رجحان کلیۃََ درست نہیں ۔ اس میں ہر گز کوئی شک نہیں کہ یہ ایک حرام موت ہے اور ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی قاتل ہو ۔اسلئے جرم کا بھیا نک ہونا اپنی جگہ لیکن یہ بات کہ اس کا جنا زہ شر عا حرام ہے درست نہیں اس لیے خدا نخوا ستہ کوئی احمدی اس جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اسکی نماز جنازہ کے لئے تمام حالات لکھ کر مرکز سے باقا عدہ اجازت حاصل کر لیا کریں پھر بے شک احمدی اس کا جنازہ پڑھیں اسمیں کوئی حرج نہیں ۔حضرت ملک سیف الرحمان صاحب مرحوم مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا فتویٰ مصدرہ 24-6-75 بھی یہی ہے کہ
    ’’ عام اصول یہی ہے کہ جو شخص خود کشی کرے اسکی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے ۔تا ہم ۔۔۔یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس میں حالات کے لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔حالا ت کے لحاظ سے خلیفہ وقت نماز جنازہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا حکم دے سکتے ہیں ۔۔۔‘‘
    و السلام
    خاکسار
    دستخط خلیفۃ المسیح الربع
    (نوٹ :مندرجہ بالا ارشاد حضور رحمہ اللہ درج ذیل حوالہ کے تحت بھی موجود ہے ۔
    مجلس افتاء کے فتاویٰ پرحضور کے ارشادات ر جسٹرنمبر2 کا صفحہ نمبر 36 حوالہ نمبر 18-11-92/31
    نیز مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۲۶۸۔مقالہ نگار)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:۱۔چندہ تحریک جدید اور وقف جدید کو صدقہ و خیرات کے مترادف کہنا غلط ہے ۔ (فتویٰ درست کرانے کی ہدایت)
    ۲۔مسئلہ عاق
    (مجلس میں پیش کرنے کی ہدایت)
    ۳۔سامان تجارت پر زکوٰ ۃ کا طریق
    (فتویٰ پر ارشاد)
    ۴۔قضاء میں جھگڑے کی صورت میں فتویٰ کا اجراء نہ کرنا۔
    (فتویٰ پر ارشاد)
    ارشاد حضور:
    مکرم صدر صاحب مجلس افتاء ربوہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آمد ڈاک افتاء6/6-7-94
    ۔۔۔کسی کے اس استفسار پر کہ مرحومین کی طرف سے چندہ تحریک جدید یا وقف جدید کی ادائیگی مساکین کی صدقہ و خیرات کے مترادف ہے یا نہیں؟جو جواب دیا گیا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بے محل استعمال کیا گیا ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون
    افتاء میں اس قسم کی کھینچا تانی مجھے ہر گز قبول نہیں۔صدقہ و خیرات بالکل اور چیز ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو ارشاد ہے وہ اس روپیہ کے متعلق ہے جو اسکی ملکیت ہی نہیں۔ان دو باتوں کا آپس میں کوئی جوڑ ہی نہیں۔اس لیے اس فتویٰ کو درست کرائیں۔
    ٍ ٔٔایک فتویٰ بچوں کو عاق کرنے کے متعلق استفتاء پر دیا گیا ہے ۔یہ بحث پہلے بھی ایک دفعہ مجلس افتاء میں اٹھائی گئی تھی ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے فعل کے حوالہ سے یہ مسئلہ کھڑا ہوا ہے حالانکہ آپ کا فعل خاص الٰہی منشاء کے تابع تھا ۔اس سے عمومی فتویٰ لے کر لوگوں کو یہ کھلی چھٹی دے دینا جبکہ بد اخلاق اور دینی لحاظ سے کمزور والدین بھی بہانہ بنا کر یہ قدم اٹھا سکتے ہیںاس لیے اس مسئلہ کو بھی پوری صراحت کے ساتھ نکھر کر سامنے آنا چاہیے۔یہ بھی مجلس افتاء میں رکھیں ۔قرآ ن کریم تو کہتا ہے کہ ہم نے جو قوانین بنائے ہیں ان میں اگر کوئی تصرف کرتا ہے تو معاشرے کو حق ہے کہ اس کو ٹھیک کر دے اس ضمن میں قرآن کریم کی وہ آیت ملاحظہ فرما لیں جس میںوصیت میں کسی غلط قد م کے اٹھائے جانے پر اس کی درستگی کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔
    (مزید تفصیل کیلئے صفحہ۳۹۹دیکھیں۔مقالہ نگار)
    سامان تجارت پر زکوٰۃ کے وجوب یا عدم وجوب سے متعلق استفتاء پر فقہ احمدیہ سے جو عبارت پیش کی گئی ہے یہ توبے حد خوفناک عبارت ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ عبارت کیسے منظور ہوئی تھی کہ ’’جتنا جتنا روپیہ جتنے جتنے ماہ تک تجارت میں لگایا جائے اتنے اتنے مہینوں میں ضرب دے کر تمام حاصل ضربوں کو جمع کر لیا جائے۔۔۔وغیرہ وغیرہ ایسے شخص کادماغ تجارت کی طرف رہے گا یا حساب بالکل صاف تھااس پر اکتفا کر لیتے تو کافی تھاکہ سال کے آخر پر مال تجارت کی قیمت کا تخمینہ کیا جائے اور اگر نصاب زکوٰۃ پورا ہوتا ہو تو اس کے مطابق نقد زکوٰۃ ادا کی جائے۔
    طلاق کے مؤثر ہونے سے متعلق مسئلہ پر بھی غیر محتاط فتویٰ دیا گیا ہے طلاق دینے والے نے جب بیوی کے ماموں کو طلاق نامہ بھیجا تو فتویٰ دیتے وقت اس سے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ تم نے طلاق نامہ بیوی کو کیوں نہیں بھیجا اس کے ماموں کو کیوں بھیجا ہے ؟بعض لوگ قضاء کو پریشان کرنے کے لیے افتاء سے فتویٰ لے لیتے ہیں۔ایسے قضائی جھگڑوں میں صاف کہنا چاہیے کہ قضاء میں جائیں۔ہم آپ کو فتویٰ نہیں دیں گے ہاں اگر قضاء نے راہنمائی چاہی تو اسے اصل مسئلہ بتا دیں گے۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفۃ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : نماز جمعہ نصف النہار سے قبل پڑ ھنا ۔
    ارشاد حضور:

    آمد ڈاک افتاء53/27-10-94
    مکرم محترم مفتی صاحب سلسلہ عا لیہ احمدیہ ۔ ربوہ
    (بذ ریعہ تبشیر لندن ) السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکا تہ
    نماز جمعہ نصف النہا ر سے قبل پڑھنے کے بارہ میں آپ کا فتوٰی موصول ہو گیا تھا ۔ آپ کا خط خا کسار نے حضور انور کوپیش کر دیا تھا ۔اس پر حضور نے فرمایا تھا کہ ان دلائل سے تو تسلی نہیں ہو تی اور جہاں یہ ذکر ہے کہ صحابہ جمعہ کے بعد قیلو لہ کر تے تھے تو وہ گرمیوں کی لمبی دو پہر میں جمعہ کے بعد بھی ممکن ہے ۔ جس دن خیال تھا کہ جمعہ نصف النہار سے قبل پڑھا جائے اس دن بعض کا موں کی تاخیر کی وجہ سے اس کی ضرورت بھی پیش نہ آئی لیکن حضور نے فرمایا کہ اگر ہم پہلے پہنچ بھی جاتے تو بہتر یہی تھا کہ ہم وقت پر ہی جمعہ پڑھیں ۔
    چنا نچہ وقت پر ہی حضور نے جمعہ پڑ ھا یا ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخظ
    نسیم مہدی صاحب
    (نوٹ :مندرجہ بالا ارشاد حضور رحمہ اللہ درج ذیل حوالہ کے تحت بھی موجود ہے ۔
    مجلس افتاء کے فتاویٰ پرحضور کے ارشادا ت رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 51حوالہ نمبر 54/ 27-10-94 )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:نکاح سے قبل مرد و عورت کا اکٹھے رہنا اور بعد ازاں ان کا آپس میں نکاح کرنا۔
    (فتویٰ اور اس پر ارشادحضور)
    مکرم و محترم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب
    بتوسط محترم ناظر امور عامہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    ۔۔۔بحوالہ فیکس ۔۔۔موصولہ دارالافتاء زیر نمبر 48/12-10-94جو اس بارہ میں ہے کہ نکاح کے بغیر بطور میاں بیوی اکٹھے رہنے والے ایک مرد اور عورت کی خواہش پر ان کا باقاعدہ نکاح کر دیا جائے؟نیز کیا ان کے سابقہ خلاف شریعت فعل پر کوئی تعزیری کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے؟
    خاکسار کی دانست میں ہر دو سوال کا حل قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر 17میں موجود ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
    وَالَّذٰنِ یَا تِیٰنِھَا مِِنکُم فَاٰذُوھُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَافَاَعْرِِضُواعَنھُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَِ تَوَّاباََرَّحِیماََ۔ (سورۃ النساء :17)
    مختصر تفصیل یہ ہے :
    (ا)الّٰذٰانِ کے معنے بعض مفسرین نے دو مرد کیے ہیں لیکن اکثر نے اس سے ایک مرد اور ایک عورت لیے ہیں۔کیونکہ مرد و عورت دونوں کے لیے تثنیہ کا استعمال کیا جائے تو وہ مذکر کا صیغہ ہی ہو گا۔پس اس آیت میں ایسے مردو عورت کا ذکر ہے جن کے باہم ناجائز تعلقات قائم ہو گئے ہوں۔
    (ب)فَاذُوھُمَا میں ہدایت کی گئی ہے کہ ناجائز طور پر زن و شوئی تعلق کی فاحشہ کا ارتکاب کرنیوالے مرد
    و عورت دونوں پر مناسب سختی کی جائے اور انہیں فہمائش کی جائے کہ ان کا رویہ فرمان الٰہی
    غَیرَمُسَافِحِینَ وَلَا مُتَّخِذِی اَخدَانِِ
    (مائدہ:6)
    اور ارشاد نبوی ﷺ لَا نِکَاحَ اِلَّا بِرَبِّی (جامع ترمذی) کی صریح خلاف ورزی اور قابل نفرت و مذمت ہے ۔
    (ج)اگر وہ اپنے رویہ پر نادم ہوں اور ان ناجائز تعلق سے توبہ کر کے شریعت کے مطابق ازدواجی زندگی قائم کرنے کے لیے تیار ہوں تو انہیں اصلاح کا موقع دیاجائے اور ان کا باقاعدہ نکاح کر دیا جائے۔
    (د)شریعت کے مطابق نکاح ہوجانے اور ان دونوں کے اندر حقیقۃََتبدیلی اور اصلاح ہو جانے کے بعد ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ان سے اعراض یعنی درگزر سے کام لیا جائے۔نہ ان سے مزید سختی کا سلوک کیا جائے۔نہ ان کی تشہیر کی جائے ۔کیونکہ توبہ اور اصلاح کے باوجود سختی روا رکھنے سے ان میں مایوسی اور Frustrationکا احساس پیداہو جائے گا۔
    اور تشہیر سے دوسروں کے لیے عبرت سے زیادہ اشاعت فاحشہ کا خطرہ ہے ۔

    (ھ)اَعْرِِِضُوْا عَنھُمَا میں جہاں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ توبہ اور اصلاح کر لینے کے بعد ان سے
    درگذر کا سلوک کیا جائے ۔اس کی تذلیل نہ کی جائے۔وہاں اَعْرِِضُوْا عَنھُمَا میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ ہر
    دینی اورمہذب معاشرہ میں وہ ایک نہایت قبیح جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ۔
    درگذر کے علاوہ کسی رنگ میں توقیر اور پذیرائی کے مستحق نہیں ہیں۔
    واللہ اعلم بالصواب۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفۃ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







    عنوان:عورت کی امامت نیز دوسری شادی کو روکنے کے لیے قانونی پابندی

    (فتویٰ نیز مجلس کی رپورٹ کی منظوری)
    ارشاد حضور:
    آمد نمبر2146/28-2-95دارالافتاء ربو
    محترم ناظم صاحب قضاء ربوہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    آپ کے خطوط 135/17-1-95بابت عورت کی امامت(2)نمبر138/18-1-95بابت دوسری شادی کو روکنے کے لیے قانونی پابندی موصول ہوئے۔جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو علم و عمل کی توفیق دے اور ذہن و قلب کو روشن فرمائے اور مقبول خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔سب کو محبت بھرا سلام
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفۃ المسیح الرابع
    نوٹ:
    تفصیل کے لئے مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۲۳۹ملاحظہ فرمائیں۔
    مقالہ نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:متفرق فقہی مسائل سے متعلق مفتی سلسلہ سے رابطہ کریں۔

    (سائل کے خط پر ارشاد)
    ارشاد حضور:
    آمد افتاء117/4-3-98

    عزیزم مکرم محمد بخش صاحب (فرضی نام)

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    آپ کا خط ملا جس میں فقہی مسائل پوچھے گئے ہیں۔فقہی مسائل میں نصراللہ ناصر صاحب تو سند نہیں ہیں۔آپ نے جو مسائل اٹھائے ہیں ان کے حل کے لیے مفتی سلسلہ سے رابطہ کریں۔میں آ پ کا خط انہی کو مارک کر رہا ہوں۔
    تمام احباب جماعت کو بہت بہت محبت بھرا سلام او ر دعا۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفۃ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:۱۔رہن پر قرض لینا۔
    ۲۔اگلی صف میں سے نمازی کو پیچھے کھینچنا درست نہیں

    (فتاویٰ پر ارشاد)
    ارشاد حضور:

    آمد افتاء65/16-11-99
    مکرم و محتر م خلیل احمد صاحب(فرضی نام)فیصل آباد
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ۔۔۔جواباََتحریر ہے کہ کوئی چیز قرض دینے والے کے پاس بطور رہن(گروی)رکھوا کر قرض لینا جائز ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    ’’و َاِن کُنتُم عَلیٰ سَفَرِِ وَّلَم تَجِدُوا کَاتِباََفَرِھٰنٌ مَقبُوضَۃٌ
    (سورۃالبقرۃ:284)
    یعنی اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں لکھنے والا نہ ملے تو اس کا قائم مقام رہن با قبضہ ہے ۔
    سفر کے علاوہ عام حالات میںبھی رہن رکھ کر قرض لیا جا سکتا ہے ۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روایت کرتی ہیںکہ آنحضور ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ کھانے کی اشیاء اپنے لوہے کی زرہ رہن رکھ کر خریدیں ۔
    (بخاری کتاب البیوع باب شراء النبی ﷺ بالنسیۃ)

    دوسرے سوال کی بابت تحریرہے کہ اس بار ہ میں بعض فقہاء اس امر کے قائل ہیں کہ بعد میں آنے والا اگلی صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ نہ ملائے بلکہ اکیلا ہی نماز شروع کر دے۔اوربعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ وہ اگلی صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لے ۔
    کتب احادیث میں سے ہمیں کوئی ایسی حدیث نہیں مل سکی جو بعد میں آنے والے کو تنہا کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت دیتی ہو۔البتہ اگلی صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچ کر اور اپنے ساتھ ملا کر نماز پڑھنے کے بارہ میں روایات موجود ہیں۔

    حضرت وابصہ بن معبد ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے اس شخص کر جس نے صف کے پیچھے اکیلے ہی نماز پڑھی تھی فرمایا اے نماز پڑھنے الے تو اگلی صف میں کیوں نہ داخل ہو گیا یا صف میںسے کوئی آدمی اپنے ساتھ کیوں نہ کھینچ لیا۔اب تو اپنی نماز کو دُھرا۔
    (طبرانی فی الاوسط‘بیہقی کتاب الصلٰوۃ باب کراھیۃ الوقوف خلف الصف وحدہ)
    ارشاد حضور:
    فرمایا:۔طبرانی اور بیہقی کے حوالے تو فضول ہی ہیں۔کئی بار ایسے حوالے دینے سے منع کیا ہے ۔مستند کتب سے حوالے لینے چاہئیں۔دوسرے نماز میں تو disturbance منع ہے تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اگلی صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچا جائے یا خود اگلی صف میں گھسا جائے ۔اس سے تو ساری صف ہی disturbہو جاتی ہے ۔اس لیے کیسے ممکن ہے کہ اس کی اجازت د ی گئی ہو۔
    منیر احمد جاوید
    (6-11-99)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:جمعہ والے دن نصف النہار کے وقت سنت یا نفل نماز پڑھنا
    (فتویٰ پر ارشاد)
    آمد افتاء 123/13-03-2k
    محتر م رافع احمد لقمان صاحب (فرضی نام)
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا خط دارالافتاء میں موصول ہوا ۔آپ نے تحریر کیا ہے کہ آپ جمعۃ الوداع کے روز 11:45پر نوافل ادا کر رہے تھے کہ بعض لوگوں نے یہ کہہ کر نماز پڑھنے سے منع کر دیا کہ ابھی زوال نہیں ہوا۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس وقت نوافل ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
    جوابا َ تحریر ہے کہ جہاں تک زوال کے وقت کا تعلق ہے تو یہ چند لمحوں کا دورانیہ ہوتا ہے ۔جبکہ سورج عین درمیان میں ہوتا ہے ۔صرف اس وقت نفل نماز کی ادائیگی منع ہے اس سے پہلے اور بعد میں نفل پڑھنے میں کوئی ممانعت نہیں۔لیکن جمعۃ المبارک کے رو ز اس وقت بھی نماز پڑھنے کی ممانعت نہیں ۔چنانچہ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضور ﷺ نے جمعہ کے علاو ہ باقی دنوں میں نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ یوم الجمعۃ قبل الزوال)
    والسلام
    خاکسار
    مبشر احمد کاہلوں
    مفتی سلسلہ احمدیہ
    ارشاد حضور:
    فرمایا:۔یہ نئی بات ہے ۔اس پر مزید تحقیق کرائیں۔
    منیر احمد جاوید
    (12-3-2000)
    نوٹ :حضور انور ایدہ اللہ نے مؤرخہ 17-3-2000کے خطبہ جمعہ میں یہی حدیث بیان فرمائی ہے۔ (خطبہ جمعہ 17-3-2000 مسجد فضل لندن)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:آنحضور ﷺ کا پیشاب یا خون پینے کی بات بالکل لغو ہے۔
    (فتویٰ پر ارشاد)
    محتر م مبشر شاہد صاحب (فرضی نام)
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    آپ نے آنحضرت ﷺ کا پیشاب صحابہ کو بطور پانی پینے کے متعلق بعض حوالہ جات بھجوا کر اس بار ہ میں وضاحت چاہی ہے ۔
    جواباََ تحریر ہے کہ آپ کے ارسال کردہ مضمون میں مندرج حوالہ جات میں سے کوئی بھی ایسا حوالہ نہیں جو احادیث کی مستند کتب صحاح ستہ میں سے ہو۔تمام حوالہ جات دوسرے درجہ کی کتب کے ہیں۔
    تاہم اہم بات یہ ہے کہ تمام حوالہ جات میںصرف ایک ایسی حدیث ہے جس میں کسی خاتون کے غلطی سے آنحضرت ﷺ کے پیشاب پینے کا ذکر ملتا ہے ۔جس کو آنحضرت ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس پیشاب کے جو مضر اثرات تیرے پیٹ میں وارد ہو سکتے ہیں اس سے تو محفوظ رہے گی۔اور ایک دوسری حدیث میں اس خاتون کا ایک دوسرا نام درج ہے ۔غالباََ واقعہ ایک ہی ہوا ہے مگر دو مختلف کتب میں نام میں سہو ہو گیا ہے ۔
    اس کے علاوہ اور کسی حوالہ میں کسی صحابی یا صحابیہ کے پیشاب پینے کا ذکر نہیں ملتا۔البتہ حضور ﷺ کے خون اور پیشاب کو شفاء کے طور پر استعمال کرنے کا ذکر ملتا ہے ۔ان احادیث میں پیشاب یا خون کے پینے کا کہیں ذکر نہیں ملتا ۔ممکن ہے کسی زخم کے لیے صحابہ نے اپنے طور پر اسے استعمال کیا ہو۔
    اگر یہ بات درست ہوتی تو اس بارہ میں حضور اکرم ﷺ کی ازواج او ر کبار صحابہ کی طرف سے متعدد احادیث مروی ہوتیں۔لیکن ایسا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بعد کے علماء و فقہاء کی ایجاد ہے ۔اس سے زائد کچھ نہیں۔
    والسلام
    خاکسار
    حافظ مظفر احمد
    قائمقام ناظم دار الافتاء
    ارشاد حضور:
    فرمایا:۔یہ بالکل لغو بات ہے ۔ہندوئوں والا مذہب بنایا ہوا ہے ۔کلیۃََ اس فتویٰ کو ختم کر دیں اور اس کا نام و نشان مٹا دیں۔نہایت گندہ اور لغو فتویٰ ہے ۔ایسی روایات کا ہر گز کوئی اعتبار نہیں ۔اور پھر وہ پیشاب تھا کہاں۔ایسے معاملات پر فتویٰ دینے سے پہلے یہاں سے لکھ کر پوچھ لیا کریں ۔
    آئندہ ہر گز ایسے لغو فتوے جاری نہیں ہونے چاہیئں۔

    منیر احمد جاوید
    29-9-2000
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:قبرستان کے اوپر چھت ڈال کر چھت کو مسجد کے طور پراستعمال کرنا درست نہیں۔
    (فتویٰ پر ارشاد)
    آمد ڈاک افتاء80/21-12-00
    مکرم و محترم امیر صاحب جماعت احمدیہ ۔ضلع۔۔۔
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا خط بذریعہ نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ دارلافتاء میں موصول ہوا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ مسجد سے ملحقہ قبرستان پر ستون کھڑے کر کے چھت ڈال کر چھت کو مسجد اور دیگر دینی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟
    جواباََ تحریر ہے کہ جو صورت آپ نے بیان کی ہے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔بے شک چھت ڈال کر اسے مسجد کے طو ر پر استعمال کر لیں۔
    والسلام
    خاکسار
    مبشر احمد کاہلوں
    مفتی سلسلہ احمدیہ
    ٓ ارشاد حضور:
    فرمایا:۔قبرستان کے اوپر چھت ڈال کر چھت کو مسجد وغیرہ کے لیے استعمال کرنے کا یہ فتوٰی مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔
    منیر احمد جاوید
    19-12-2000
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باب نمبر 3
    مجلس افتاء کے فیصلہ جات پر حضو ررحمہ اللہ کے اِر شادات۔






    عنوان :کیا مختلف علاقوں کے لوگ مختلف مہینوں میں حج کر سکتے ہیں ؟
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 10 حوالہ نمبر 1/11-7-90
    بحضور سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
    سیدی :- اس سال بھی حج کے موقعہ پربہت سے لوگ منیٰ میں مارے گئے اور ایک دوسرے حادثے میں آتش زدگی کے نتیجے میں بہت سا نقصان ہو ا بہر حال ہر سال ہی کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جا تا ہے ۔ آج جنرل محمود الحسن کیساتھ ایک نشست تھی انہوں نے مجھ سے سوال پوچھا کہ اتنی بڑی تعداد میں حج کرنے والے لوگ ہر سال بڑھتے ہی رہیں گے کیا ایسا ممکن نہیں کہ حج کو نسبتاً ایک لمبے عرصے کیلئے پھیلا دیا جائے ۔ کہ مختلف علاقوں کے لوگ مختلف مہینوں میں حج کر سکیں ۔انہوں نے ذکر کیا کہ انکے والد صاحب اس بارے میں کوئی پرانے حوالے پیش کرتے تھے ۔خاکسار کا فوری رد عمل تو یہ تھا کہ حج ذی الحج کے مخصوص دنوں میں ہی ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی قرآن کریم کی اس آیت کی طرف خیال گیا کہ اَلْحَجُّ اَشْہُرُ مَعْلُوْمَاتٍ اور خیال آیا کہ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ شھرٌ معلوم نہیں کیاگیا ۔ یہ بھی خیال آیا کہ قبل از اسلام غالباً تین مہینے ایسے تھے جن میں حج کیا جاتا تھا ۔ اس بارہ میں مزید تحقیق ہونی چاہیے اور اگر گنجائش نکلتی ہو تو عصر حاضر کی ایک مشکل کا حل نکل جائے گا اور اگر اس کی اجازت شرعاً ممکن نہ ہو تو عصر حاضر کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات کیلئے اس کی مفصل وجوہ بھی اور پس پردہ حکمت بھی سامنے آنی چاہیے ۔
    سوال حضور کی توجہ اور رہنمائی کیلئے ادب سے پیش ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    طالب دعا حضور کا ادنیٰ خادم
    دستخط
    مجیب الرحمان
    امیر جماعت ہائے احمدیہ ضلع راولپنڈی
    ارشاد حضور:
    حوالہ نمبر 2/ 21-8-9
    مکرم سیکرٹری صاحب مجلس افتاء ۔ ربوہ (حال لندن )
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ ۔
    مکرم مجیب الرحمان صاحب کے خط کی نقل آپ کو بھجوا رہا ہوں ۔اس میں انہوں نے حج کے متعلق جو سوال اٹھایا ہے۔اس پر گہری تحقیق کی ضرورت ہے ۔ اس سوال کے مختلف پہلؤوں کو مختلف علماء کے سپرد کر کے اس پر گہری تحقیق کی جائے ۔ تاہم جہاں تک ’’ الحج اشھر معلومات ‘‘کے قرآنی ارشاد کا تعلق ہے اسکا ایک یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ حج سے تعلق رکھنے والے چار مہینے جن کو حرمت دی گئی ہے وہ معلوم اور معروف ہیں ۔ اور ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حج کے ایام ان مہینوں کے اند ر کسی وقت بھی واقع ہو سکتے ہیں ۔اس پہلوسے یقینا تحقیق کی گنجائش موجود ہے ۔لیکن اس دوسری تشریح کی ٹھوس بنیادوں کی تلاش لازمی ہے ۔یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی روایا ت یا تا ریخی شہا دتیں یہ ثابت کریں کہ حج ذی الحجہ کی مقررہ تاریخوں کے علاوہ بھی کبھی کیا جاتا تھا یا کیا جانے کا امکان موجود ہے ۔ان سب امور کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مسئلہ کو مجلس افتاء میں پیش کریں اور مکمل تحقیق کروائیں ۔
    کان اللہ معکم
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : عورت کی امامت کا جواز یا عدم جواز کی بابت
    ارشاد حضور:
    حوالہ نمبر 4/30-4-91
    مکرم و محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ( صدر مجلس افتاء ۔ ربوہ )
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کا تہ
    آنمکرم کی طرف سے عورت کی امامت کے جواز یا عدم جواز کے مسئلہ پر مجلس افتاء کی تفصیلی رپورٹ ملی باوجود اس کے کہ بہت محنت کی گئی اور بہت بحثیں چلیں ۔تشویش کا پہلو یہ ہے کہ اختلافی نوٹ سابقہ روایا ت کے مقابل بہت زیا دہ آئے ۔ اختلاف تو مسائل میں ہمشہ پایا جاتا ہے لیکن اس شدت سے اور اس کثرت سے اختلاف پایا جانا قابل فکر ہے لیکن ساتھ ہی خلافت کی نعمت کی شدید ضرورت کی طرف بھی متوجہ کرتاہے ۔ اگر خدانخواستہ جماعت احمدیہ مبایعین کو خلافت نصیب نہ ہوتی تو جس طرح زیر بحث مسئلہ بھی دینی علماء بھی بٹ گئے اور دیگر ماہرین علوم بھی بٹ گئے ۔حتیٰ کہ بہت سے پختہ اور ثقہ رائے رکھنے والوں نے بھی اس حد تک شدت سے اختلاف کیا کہ اختلافی نوٹ پر اصرار کیا ،خلافت کی نعمت میسر نہ ہوتی تو بعید نہیں تھا کہ یہ صور ت حال فرقہ بندیوں پر اور اخلاق کی خلیج وسیع کرنے پر منتج ہو جا تی ۔ خلافت راشدہ کے بعد اسی طرح فرقے وجود میں آئے ہوں گے ۔ شروع میں علماء دین اور بزرگان دین نے دیانت داری سے اختلاف کئے ہوں گے ۔ بعد ازاں فتنہ کے پہلو بھی داخل ہو گئے ،انانیت کے بھی اور ریاء کے بھی ۔اللہ جماعت کو ہمیشہ تقویٰ پر قائم رکھے اور محض ایسے اختلاف کی توفیق عطا فرمائے جن پر آنحضرت ﷺ کا صادر فرمودہ فتویٰ ’’ رحمت ‘‘ اطلاق پاتا ہو ۔ہر وہ اختلاف جو تقویٰ سے کیا جائے رحمت کے زمرہ میں ہی آتا ہے لیکن تقویٰ بھی ایک دم زائل نہیں ہواکرتا ۔ آغاز میںتقویٰ کی باریک راہیں نظر سے اوجھل ہو نے لگتی ہیں اور قد م کچھ باہر پڑنے لگتے ہیں ۔
    مسئلہ زیر نظر میں تمام آراء کے گہری نظر سے مطالعہ کے بعد خدا تعالیٰ سے ہدایت کی دعا مانگتے ہوئے جو فیصلہ کرنے کی توفیق ملی ہے وہ حسب ذیل ہے ۔
    امامت کی بنیاد خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ امام ہے جس کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کی بجائے کسی کو امام بننے کا ذاتی حق نہیں ۔ پس یہ طر ز استنباط بے معنی ہے کہ جب تک کسی میں صلاحیت امام کی واضح موجود نہ ہو اسکی صلاحیت کا انکار نہیںہو سکتا ۔ اس ضمن میں واضح ارشادات نبوی ﷺ کے علاوہ حدیث تقریری اور آنحضرت ﷺ کے ایسے تعامل کو بھی دیکھنا ہو گا جہاں مواقع پیدا ہونے کے باوجود آپ نے کبھی ایک دفعہ بھی کسی خاتون کو حق امامت تفویض نہیں فرمایا ۔
    یہ پہلو بھی اس مسئلہ کو حل کرنے میں اہمیت رکھتا ہے کہ نماز با جماعت تمام بالغ عاقل مردوں پر فرض ہے ۔ اور ایسی نماز باجماعت کے ساتھ جو عاقل بالغ مردوں پر فرض ہے اذان اور دعوت کی شرط شامل فرما دی گئی ہے۔یہانتک کہ آنحضرت ﷺ جنگل میں بکریاں چرانے والے گڈریئے کو بھی یہی ہدایت فرمائی کہ اگر اور ساتھ نماز پڑھنے والا نہ بھی ہو ،اذان دو، اقامت کہو اور خود اکیلے امام بن جاؤ ۔اگر کوئی آواز کو سن کر شامل ہو جائے گا تو باجماعت نماز بن جائے گی اور اگر شامل نہیں ہو گا تو خدا کے فرشتے نازل ہو کر تمھاری نماز کو با جماعت بنا دیں گے۔اگر عورت کی امامت نماز کو فرض باجماعت نماز کا مرتبہ دیتی ہے ۔تو عورت کی امامت میں نماز ادا کرنے سے غیر مردوں کو بھی روکا نہیں جا سکتا لیکن چونکہ عورت پر نماز باجماعت فرض ہی نہیں اس لئے اس کا باجما عت پڑھنا محض نفلی حیثیت رکھتاہے ۔فرض نماز با جماعت کے درجہ میں نہیں آتا ۔
    آنحضور ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفاء نے کبھی ایک مرتبہ بھی کسی عورت کو مردوں کی امامت کا حق عطا نہیں فرمایا ۔جہاں تک اس مفروضے کا تعلق ہے کہ کسی دور کے علا قے میں کوئی پہلی مسلمان عورت ہو بعد میں اسکی تبلیغ سے مرد دین میں شامل ہوئے ہوں تو انکو باجما عت نماز پڑھانے کے لئے وہ عورت جسکا دینی علم زیادہ ہے امام بنائی جا سکتی ہے یہ محض ایک قیاسی بات ہے ہر گز وزن نہیں رکھتی ۔ اگر کوئی مرد نماز پڑھنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اسکی اپنی نماز صحیح ہو جا تی ہے تو اس کی امامت میں دوسرے کی نماز بھی صحیح ہو گی ۔
    یہ استنباط بھی غیر متوازن ہے کہ امامت کی شرط لازم کے طور پر زیادہ علم قرآن کی شق رکھی گئی ہے کیونکہ 1400 سالہ تا ریخی تعامل میں یہ بات ثابت نہیں کہ اسے کبھی عمومی ہدایت اور رہنمائی سے بڑھ کر لازمی چھان بین کرنی پڑے گی کہ کیا نمازیوں میں کوئی زیادہ علم القرآن رکھنے والا تو شامل نہیں ہو گیا ۔ تفقہ فی الدین کیلئے اس عمومی فراست کا ہونا بھی ضروری ہے وہاں نصوص سے صحیح استنباط کیلئے اس عمومی فراست کا ہونا بھی ضروری ہے جسےCommen Sense کہتے ہیں ۔پس کسی نص سے کوئی ایسا استنباط قابل قبول نہیں ہو سکتا جس سے روزمرہ کی زندگی میں تضادات اور ناقابل حل مسائل اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ یہ Commen Sense کے خلاف ہے پس علم القرآن کے بارے میں بھی متوازن اور قابل عمل استنباط بھی کرنا ہو گا ۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضور ﷺ نے اور آپ ﷺ کے خلفاء نے جو آپ کے بعد امامت کے وارث ہوئے کبھی کسی عورت کو مرد کی امامت کا منصب تفویض نہیں فرمایا ۔پس جب تک اس کا کوئی مثبت شاھد نہ ہو مناہی کے نہ ہونے سے اثبات مستحق نہیں ہو سکتا ۔
    جہاںتک دیگر امکا نات کا تعلق ہے ان امکا نات میں سے ایک قوی اور روز مرہ کا امکان ایک یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ ایک مرد بیمار ہے مسجد میں نہیں جا سکتا توکیوں نہ اپنی بیوی یا بہن یا بچی کو امام بنا کر اس کے پیچھے نماز پڑھے ۔اول تو جو بیمار ہے اور گھر سے باہر نہیں جا سکتااس سے نماز با جماعت ساقط ہو جاتی ہے ۔لہٰذا اس کا نماز باجما عت نہ پڑھنا محل اعتراض ہی نہیں ۔علاوہ ازیں بیماری کی حالت میں وہ خود بھی امام بن سکتا ہے اسلئے عورت کی امامت کا جواز تب بھی نہیں بنتا ۔
    حضرت مصلح موعود ؓ ایک مرتبہ بیمار ہوئے تو آپ نے قصر خلافت میں مجھے اور میری بہنوں کو ( مجھے یاد نہیں کہ والدہ بھی ساتھ تھیں یا نہیں مگر شاید کوئی اور بچہ بھی شامل ہو ) باجماعت نماز اس طرح پڑھائی کہ آپ نے بیٹھ کر امامت کروائی ۔ اس پر میں نے سوال کیا کہ آپ جو بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں اور کھڑے نہیں ہو سکتے تو آپ امام کیسے بن گئے تو اس کا جواب آپ نے مجھے یہ دیا کہ اگر میری نماز میرے لئے صحیح ہے تو میں امام بھی بن سکتا ہوں اور میری امامت بھی صحیح ہے۔
    آخر پر سب سے اہم بات جوان مفروضے والی دلیلوں کو رد کرنے کیلئے کافی ہے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور خلفاء کی زندگی میں با ر ہا ایسے مواقع پیش آئے کہ آپ ﷺ بیماری کے باعث مسجد میں جا کر باجماعت نماز کا فریضہ ادا نہیںکر سکتے تھے اور یہ امکا ن واضح طور پر موجود تھا کہ اپنی ازواج یا دیگر محترم خواتین میں سے کسی کو امامت کر وانے کا ارشاد فرماتے ۔ ایسا ایک دفعہ بھی نہ کرنا ایک معنی میں حدیث تقریری کا حکم رکھتا ہے ۔ گو بعینہٖ حدیث تقریری کی تاریخ اس پر صادق نہیں آتی ۔ بار بار محل اور موقع پیدا ہونے کے باوجود ایک عمل سے ہر مرتبہ گریز کرنا میرے نزدیک ایک شاھد ناطق کا درجہ رکھتا ہے کہ آ پ ﷺ اس بات کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ بعینہٖ اس پر خلفاء ؓ نے اور دیگر صحابہ نے بھی تعامل فرمایا اور محمد رسول اللہ والذین معہ کے اس تعامل کے باوجود جس میں ایک بھی استثنا نہیں مفروضوں اور توہمات میں پکڑ کر استثنا ء کی راہ نکالنا ہر گز جائز نہیں۔
    عورتوں کو مردوں کا امام نہ بنانے کی ایک ایسی حکمت بھی ہے جو نا با لغ بچوں کو با لعموم امام نہ بنانے سے الگ ہے۔ عورت اپنی نسوانیت کے لحاظ سے یہ فرق رکھتی ہے کہ اس کے بدن کی حرکا ت اور بعض حا لتیں ابتلاء پیدا کرنے کا احتما ل رکھتی ہیں ۔ بعض دفعہ مرد امام کی صورت میں یہ بھی دیکھا گیا ہے قمیض اٹھ کر کمر میں اٹک گئی ہے یا پاجامہ پسینے کی وجہ سے بدن سے چمٹ گیا یا قمیض پھنس گئی ، یہ ساری حالتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ عورت کی صرف حرمت اور عزت کی خاطر اسے ایسے ابتلاء میں نہ ڈالا جائے ۔ بچوں کو پیچھے کھڑا کرنے میں یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے ۔ کہ جن پر نماز فرض ہے ان کو آگے کھڑا ہو نے کا پہلا حق ہے ۔ بچے شرارت بھی کر سکتے ہیں اور ان کے وضو توڑنے کے احتمال بھی زیادہ ہیں لیکن ضروری نہیںکہ محض اسی حکمت کی وجہ سے عورتوں کو بھی پیچھے کھڑا کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہو ۔ کیونکہ بالغ عورتوں اور بچوں کے احکا مات میں فرق ہے ۔ پس بالغ عورتوں سے وہ حرکا ت سر زد نہیں ہو سکتیں جو نابا لغ بچوں سے ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا انکی مناہی کہ حکمتیں الگ الگ ہیں اس لئے محرم نا محرم کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا، عورت باجما عت نماز پر مکلف نہیں ۔ اس کے پیچھے خواتین بے شک اس نیکی میں شامل ہوں اور بچے بھی بے شک شامل ہوں ۔ مردوں کا عورتوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا کسی پہلوسے مجھے کوئی جواز نظر نہیں آتا۔
    والسلام
    خاکسار
    ٍ دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : مسئلہ عاق
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ 14 حوالہ نمبر 6/1-10-91
    مکرم مولانا محمد احمد صاحب جلیل سیکرٹری مجلس افتاء ۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
    آپ کی طرف سے زیر نمبر 395/16-6-91 عاق کے مسئلہ پر تحقیقی نوٹ ملا ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
    اس میں آپ نے حضرت مصلح موعود ؓ کے دو ارشادات اور حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ کا ایک فتویٰ بھی درج کیا ہے لیکن ان میں جو بظاہر اختلاف پایا جاتا ہے اس کا حل پیش نہیں کیا اور نتیجہ نہیں نکالا۔ بنیادی طور پر مذہبی اختلاف وراثت کے احکام پر اثر انداز نہیں ہو تے ۔سورۃ نساء کی آیت نمبر 34 کا آپ نے ذکرکیا ہے اس میں خطاب تمام بنی نوع انسان سے ہے اور صرف مومنوں کا ذکر نہیں ہے بلکہ ولکلٍ جعلنا ۔۔۔ کے الفاظ ہیں ۔اس میں بنیادی لفظ لِکُلِِِِِِِِِِِِ ہے اور اس کے بیان ہے وہ خونی رشتوں اور اموالات کا ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔
    پھر نکاح کے وقت جو آیات تلاوت کی جاتی ہیں انہیں ( نساء: 2) کا آغاز یا ایھا الناس ۔۔ ۔ ۔ سے ہو تا ہے جسکا مطلب ہے کہ نکاح کا حکم جو ساری دنیا میں مشترک حکم ہے وہ ارحام سے تعلق رکھنے والا ہے ۔اور وراثت وغیرہ اس سے بنتی ہے اور یہاں کسی قسم کی مسلم یا غیر مسلم کی تفریق کا کوئی ذکر نہیں ۔
    حدیث ھل ترک لنا عقیل منزلا سے آپ نے عمدہ قوی استنباط فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ کفار یا مشرکین کا ترکہ ہے اسلئے ہم اس کے وارث نہیں بنتے بلکہ یہ فرمایا کہ اکیلے کچھ نہیں چھوڑا پس کوئی ایسی حدیث جو خود آپ کے اس واضح ارشاد سے ٹکراتی ہو اسکی تاویل کرنی ہو گی اور آپ نے جو تاویل کی ہے وہ درست ہے ۔یہ حدیث بتاتی ہے کہ حق موجود تھا مگر انہوں نے ظلم سے چھین لیا ،مخصوص حالات میں جبکہ دشمن کی طرف سے پہل ہو تو اس کے مقابل جَزَائُ سَیِّئَۃِِ سَیِّئَۃٌ مِثْلُھَا کے مصدا ق اس سے ویسا ہی سلوک ہو سکتاہے ۔قرآن کریم کا مزاج یہ ہے کہ اگر دشمن انصاف سے نہیں ہٹتا اور بنیادی انسانی حقوق کی ادائیگی سے نہیں ہٹتا تو تمھیں کوئی حق نہیں ہے کہ اس سے زیادتی کرو ۔جتنے حصہ میں وہ ہٹ جائے اتنے حصہ میں تمھیں بھی حق ہے ۔ فا عتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم۔ وہاں چونکہ کفار مسلمانوں کو انکا حق نہیں دے رہے تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان بھی نہیں دیں گے ۔
    والسلا م
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    نوٹ:مزید تفصیل کے لئے صفحہ نمبر۲۸۰ اور صفحہ نمبر۳۹۹ ملاحظہ فرمائیں۔مقالہ نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :احمدیوں کی بچیاں سائیکل چلاسکتی ہیں ۔
    رجسٹرنمبر2 صفحہ نمبر 15 حوالہ نمبر 6/25-8-91
    مکرم محترم ناظر صاحب اصلاح و ارشاد
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
    آپ کا خط نمبرN-766/17-8-91 ملا۔ خاکسار کی رائے میں پاکستان کے معاشرے میں لڑکیوں کو سائیکل چلانے کی اجازت دینا مناسب نہیں ہو گا ۔
    یہاں چونکہ ابھی تک لڑکیاں سائیکل نہیں چلاتیں اس لئے یہ بات ہماری لڑکیوں کو بہت نمایا ں کر دے گی۔ اور آوارہ قسم کے لوگوںکو چھیڑ خانی کا موقع مل سکتا ہے۔
    کار کی بات مختلف ہے اس میں عورت چھپی رہتی ہے صرف اوپر کا حصہ نظر آتا ہے اور پردہ بھی ٹھیک طور پر رکھا جا سکتا ہے اور رفتا ر زیادہ ہونیکی وجہ سے کسی کو موقع ملنے کی گنجائش بھی نہیں ہو تی ۔ سائیکل کو تو کوئی آوارہ شخص گرا بھی سکتاہے اور اس طرح بے عزتی اور بے پردگی کا با عث بن سکتا ہے ۔ خصوصاً جب کہ صرف ہماری لڑکیا ں ہی سائیکل استعمال کر رہی ہو ںگی ۔ البتہ سائیکل آہستہ آہستہ رائج ہو جائے ( لڑکیوں کے لئے ) توپھر ہماری لڑکیا ں بھی استعمال کر سکتی ہیں موجود ہ حالات میں وہ غیروں کا نشانہ بن جائیں گی ۔ واللہ عالم با لصواب
    یہ ایسی چیز نہیں جس کے جاری کرنے والے ہم پہلے بنیں ۔
    والسلام
    خا کسا ر
    مرزا عبد الحق
    دستخط
    صوبائی امیر پنجاب
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 7 حوالہ نمبر 7/18-10-91
    پیارے مکرم سلطان محمود صاحب
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ ۔
    آپ کا خط 144-KM/30-9-91 موصول ہوا جس میں احمدی بچیوں کے سائیکل چلانے سے متعلق مختلف آراء بھی ارسال کیں ہیں ۔ ان میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی رائے نہایت متوازن اور متناسب ہے ۔ سوال صرف مسئلے کا نہیں ہے۔ جہاںتک مسئلے کا تعلق اسے ہر گز حرام نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ اگر کوئی احمدی لڑکی پردہ کر کے سائیکل چلاتی ہے تو قطعاً قابل مواخذہ نہیں ہے لیکن مصلحت عامہ کے تقاضے اپنی جگہ ہیں ۔ پاکستان کے ماحو ل میں اور خصوصاً ربوہ میں نوجوان بچیوں کو سر عام سائیکل چلانیکی اجازت دے دی جائے تو بہت سی معا شرتی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ انہیں موٹر ڈرائیونگ میں احتیاط کی ضرورت ہے لیکن سائیکل میں تو عامۃالناس کے ساتھ رابطہ اور خطرات کو دعوت دینا موٹر کے مقابلے پر بہت زیادہ کثرت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اور کئی قسم کے احتمالات ایسے ہیں جو طبیعت میں اجازت دینے سے روک پیدا کرتے ہیں۔ ۔اسلئے اس رجحان کی مصلحت عامہ کے اصول کے تابع سختی سے حوصلہ شکنی کریں ۔ لیکن اس کے باوجود بچیوں کو سائیکل سکھانا نا صرف جائز بلکہ ضروری ہے ۔ لجنہ کی چار دیواری میں یا ایسی جگہوں میں لجنہ کی کلبیں قائم کی گئی ہوں جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ؒ نے ایسی تحریک فرمائی تھی وہاں سائیکل سواری کو فروغ دیا جائے ۔ ہنگامی حالات میں یہ چیز بہت کا م بھی آ سکتی ہے ۔ دوسرے سیر و تفریح کے مواقع پر اگر معا شرتی خرابیوں کا احتمال نہ ہو اور بعض خاندان اپنے ماحول میں الگ تفریح میں حصہ لینا چاہیں تو ان کی بچیاں بے شک سائیکل چلائیں ۔اسطرح لجنہ کے تحت اگر کوئی سائیکل سواری کے مقا بلے ہوں اور ایسی مہمات ہوں جہاں کوئی قباحت کا احتما ل نہ ہو وہاں بھی کوئی شرعی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔
    ایسے فیصلے کا تعلق ملکی حالات سے ہے ۔ یورپ میں اگر کوئی احمدی بچی سائیکل چلاتی ہے تو ہر گز اسکے لئے کوئی قباحت نہیں مثلاً ہالینڈ کے گزشتہ اجتماع میں شرکت کیلئے بعض خواتین اپنے ساتھیوں کے ساتھ پردہ کی رعا یت سے سائیکل پر آئی تھیں ۔ یہ بات جب میرے علم میں آئی تو میں نے اسے ہر گز نا مناسب نہیں سمجھا ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    رجسٹر نمبر 2 حوالہ نمبر 8/12-11- 91
    مکرم و محترم مولانا محمد احمد جلیل صاحب مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کا تہ ۔
    امید ہے کہ آنمکرم خدا کے فضل سے خیریت سے ہوں گے ۔ آپ کی طرف سے ارسال کردہ چھٹی زیر نمبر 46/17-8-91 موصول ہوئی۔ جسمیں آپ نے لڑکیوں کے سائیکل چلانے کے بارہ میں اپنا مشورہ ارسال فرمایاتھا ۔آپکے علاوہ بعض اور بزرگوں سے بھی مشورہ حاصل کیاگیا ۔جن میں حضرت مرزا عبد الحق صاحب امیر ضلع سرگودھا و صوبائی امیر بھی شامل ہیں ۔ چنانچہ حضور پر نور کی خدمت رپورٹ پیش کی گئی جس پر حضور انور نے حضرت مرزا عبد الحق صاحب کی رائے کی توثیق فرمائی ہے ۔
    حضور انور اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے موصولہ ارشاد اور حضرت مرزا عبد الحق صاحب کی رائے کی فوٹی کا پی بغرض اطلاع و ریکا رڈ منسلک ھذا ارسال ہے ۔
    والسلا م
    خاکسار
    دستخط
    نائب ناظر اصلاح و ارشاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :احمدی وفات پر کسی غیر احمدی کی آمد پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر2 صفحہ نمبر 16 حوالہ نمبر9/8-11-91
    پیارے عزیزم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کا 26-10-91 کو لکھا ہوا خط ملا ہے ۔ جس میں آپ نے میری طرف منسوب اس بات کا ذکر کیا ہے کہ
    ’’ اگر کوئی احمدی فوت ہو جائے اور تعزیت کیلئے غیراحمدی دوست آئے اور فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھانے کا کہے تو ایسے دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ خود ہاتھ اٹھانے میں پہل نہ کرے ۔‘‘
    افسوس کہ میری طرف بالکل غلط بات منسوب کی گئی ہے ۔ میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی میں کوئی بات ہوئی ہے ۔جسے یہ سمجھے نہیں اور الٹ بات میری طرف منسوب کر دی ہے ۔فوری طور پر وہاں سب احباب کو بتائیں ،ہر گز کوئی نئی رسم جاری نہیں کی جائے گی ۔جماعتی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : مردوں کا سونے کی گھڑی استعمال کرنا نیز عورتوں کا نماز جنازہ میںشامل ہونا ۔
    ارشاد حضور:
    حوالہ نمبر 19/21-3-92
    مکرم ناظم صاحب دارالا فتاء۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
    آپکی مرسلہ رپورٹ نومبر، دسمبر 1991 ؁ میں GOLD PLATED CHAIN کے مرد کیلئے استعمال کی بابت سوال کے جواب میں بنیادی بات تو یہ بتانی چاہیے کہ سونے کا استعمال ممنوع ہے لیکن GOLD PLATED ہونا اور بات ہے جہاں تک بعض فقہاء کے نزدیک آلات حرب میں سونے یا چاندی لگانے کا تعلق ہے اسے سونے یا چاندی کی گھڑی وغیرہ پر قیاس کر کے مردوں کو اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ آلات حرب میں سونے چاندی کے استعمال کو اہمیت حاصل ہے ۔
    جہاں تک نماز جنازہ میں عورت کی شمولیت کا تعلق ہے عورتوں کیلئے زیارت قبور میت کے ساتھ تو منع ہے لیکن اس سے استنباط کرکے جنازہ پر اس ممانعت کے اطلاق کا کیا جواز ہے ؟ اس بارہ میں مزید تحقیق و تلاش ہو نی چاہیے کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو جنازہ پرھنے سے منع فرمایا ہے ؟اگر نہیں فرمایا تو نماز جنازہ میں جو فرض کفایہ ہے عورتوں کو شمولیت کی سعادت سے کیوں محروم رکھا جائے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :اسقاط حمل کی صورت میں جرمانے کی سزا دینا ۔
    ارشاد حضور:
    حوالہ نمبر 20/31-3-92
    مکرم صدر صاحب قضاء بورڈ ۔ ( قادیان)
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ ۔
    مکرم حنا شاھین صاحبہ بنت مکرم ناصر احمد صاحب (فرضی نام) آف بمبئی کے مقدمہ بنام مکرم علیم احمد صاحب(فرضی نام) کے قضائی فیصلہ میں جو قاضی سلسلہ نے کیا اور دارالقضاء قادیا ن میں ریکارڈ ہو کر 28-9-91 کو فریقین کو بھجوایا گیا اس کی تنفیذ میں تا خیر کے متعلق مکرم شرافت احمد صاحب کی شکایت پر تحقیق کے دوران ضمناً میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مکرم قاضی صاحب سلسلہ نے اپنے فیصلہ میں مکرمہ حنا شاھین صا حبہ کے ان کی مرضی کے خلاف اور جبراً اسقا ط حمل کروانے پر فریق ثانی (مکر م علیم احمد صا حب) وغیرہ کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی ہے ۔چنانچہ فیصلہ میں تحریر ہے کہ :
    ’’ ۔۔۔۔۔۔فریق اول کے دعویٰ کے مطابق مکرمہ حنا شاھین صاحبہ (فرضی نام) کے فریق ثانی کے ذریعہ اس کی مرضی کے خلاف اور جبراً اسقاط حمل کرایا گیا تھا جسکے لئے فریق ثانی سزا کے مستحق ہیں اور فریق اول مکرمہ حنا شاھین صاحبہ (فرضی نام) معاوضہ کی مستحق ہیں ۔چنانچہ فریق ثانی کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ مکرمہ حنا شاہین صاحبہ (فرضی نام) کا اسکی مرضی کے خلاف ظالمانہ طور پر اور جبراً اسقاط کرانے کیلئے اسے فوری طور پر مبلغ ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے جو اس فیصلہ کے ایک مہینے کے اند ر ادا ہو جا نا لازمی ہے۔اسکے علاوہ فریق ثانی کے مذکورہ بالا ظالمانہ اور غیر انسانی اور جماعت کو بد نام کرنے والی حرکت کیلئے ناظر امور عامہ جو مناسب کاروائی فریق ثانی کے خلاف ضروری سزا کے لئے جو مناسب کاروائی سمجھے کرے ۔۔۔۔۔‘‘
    ( فیصلہ مذکورہ آئٹم نمبر19 صفحہ 20)
    شرعاً اور جماعت کی روایت کے مطابق کسی حد تک قاضی کو اس قسم کے معاملے میں جرمانہ ڈالنے کی اجازت ہے ۔ یہ معاملہ اپنے طور پر تحقیق طلب ہے اس لئے اس حصہ کی تنفیذ تا فیصلہ ثانی روک دی جائے ۔ اس کا تعلق اپیل سے نہیں بلکہ ایک بنیادی اصول سے ہے ۔اگر اس قسم کی نظیر قائم کر دی جائے تو خطرہ ہے کہ آئندہ شریعت کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قاضی اپنی مرضی سے جس قسم کے فیصلے چاہے جاری کرے گا ۔
    یہ معاملہ مزید غور اور مشورہ کیلئے صدر صاحب قضاء بورڈ ربوہ اور مفتی سلسلہ ربوہ کو بھجوایا جارہا ہے ۔
    والسلام
    نوٹ:مزید تفصیل کیلئے مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۳۷۵ خاکسار
    ملاحظہ فرما لیں۔مقالہ نگار دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: الیس اللہ کی انگوٹھی ، مقدس کا غذات کو جلانا ، مرنے والے کا لواحقین سے رشتہ رہتا ہے ۔
    ارشاد حضور:
    رجسڑ نمبر 2 ۔صفحہ 22 ۔ حوالہ نمبر 21/15.05.92
    مکرمہ امتہ الحفیظ صاحبہ
    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
    آپکا خط ملا ۔ آ پ نے پو چھا ہے کہ کیا الیس اللہ بکافِِ عبدہٗکی انگوٹھی نا پاکی کی حالت میں پہنی جا سکتی ہے ؟ نا پا کی کی حالت سے تو کئی چیزیں مراد ہو سکتی ہیں ۔ جہانتک ذکر ِالٰہی کا تعلق ہے وہ تو ہر مو قعہ کی منا سبت سے ہمیشہ جاری رہتا ہے ۔آنحضر ت ﷺنے مختلف مواقع ، حا لتوں کے لئے دعائیں سکھائی ہیں ، قضائے حاجت کیلئے جاتے وقت کی دعا اَلّٰلھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخبَائِثِبھی سکھائی ہے ۔ بحث صرف یہ ہے کہ اگر دعا دل میں جاری ہو سکتی ہے اور زبان پر آسکتی ہے تو لکھی ہوئی اگر ہا تھ کی انگلیوں میں اس طرح پہنی ہو کہ قطعی طور پر یہ احتیاط ممکن نہ ہو کہ اس پر کسی قسم کی گندگی نہ پڑے تو یہ غور طلب مسئلہ ہے ۔اس لئے یہ مسئلہ مفتی سلسلہ کو بجھوا رہا ہوں۔ (نوٹ: مزید تفصیل کے لئے مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۳۷۰ملاحظہ فرمائیں۔مقالہ نگار)
    جہاںتک پرانے اخبارات ، ایسے کاغذات جن پر قرآنی آیات لکھی ہو ں ان کو بے ادبی سے بچانے کیلئے جلانے کا تعلق ہے اسمیں کو ئی حرج نہیں ۔ انہیں احتیاط کے ساتھ جلایا جا سکتا ہے ۔
    جہا ں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا انسان کی وفات کے بعد اسکی روح کا تعلق دنیا سے رہتا ہے یا نہیں ۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ فوت شدگان کی روح کا براہ راست اس دنیا سے کو ئی تعلق نہیں رہتا ۔ سوائے اسکے کہ خدا جس سے چاہے کسی روح کا تعلق پیدا فرما ئے ۔اس بارہ میں تفصیل سے جوابات میری سوال و جواب کی کیسٹس میں مو جو د ہیں ۔آپ اپنے مبلغ سے رابطہ رکھیں وہ مزید راہنمائی کریں گے ۔
    اللہ آپکو صحت و عافیت والی زندگی دے اور بچوں کی طرف سے قرۃ عین نصیب فرمائے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفۃالمسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : فاتحہ خلف الامام پڑھنا ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر2 صفحہ نمبر 23 حوالہ نمبر 22/6-7-92
    پیارے عزیزم حافظ مظفر احمد صاحب
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ،
    فا تحہ خلف الا مام کے مسئلہ سے متعلق قادیان کی مجلس عرفان کے حوالہ سے آپ کا وضاحتی خط ملا ۔ جب تک میں نے وہ کیسٹ دوبارہ نہیں سنی تو فاتحہ نہ پڑھنے سے متعلق میری طرف منسوب بیان کے بارہ میں مجھ پر وہ تاثر تھا جس کا میں نے اس ضمن میں لکھے ہوئے گزشتہ خطوط میں ذکر کیا تھا ۔کیونکہ مجھے یاد نہیںتھا کہ اس بارہ میں میں نے کیا کہا لیکن اب اس کو دوبارہ سننے کے بعد ساری تفصیلات سا منے آئی ہیں ۔تو اس مسئلہ پر روشنی ڈال رہا ہوں ۔اس لئے اگرپہلے میں نے کوئی بات اس کے برعکس لکھی ہو تو اسے کا لعد م سمجھیں ۔
    میرا تو اس بارہ میں یہی مسلک ہے کہ امام جب قرات کر ے تواسے اس طرح توجہ کیساتھ سننا چاہیے کہ گویا ذہن ساتھ ساتھ دہرا رہا ہے خواہ ہونٹ ہلیں یا نہ ہلیں ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعو د ؑ کا یہ اقتباس جو میری بات کی تائید میں مکرم حافظ عبد الرشید صاحب کو سنایا ۔ ساری بات کو کھول کر واضح کر رہا ہے ۔ یہ اقتباس میں نے پڑھا ہو ا ہے اور بچپن میں ہمارایہی طریق رہا ہے کہ سکتات الامام میں ہم جلدی جلدی پڑھ لیا کرتے تھے ۔ آپ نے حافظ صاحب کی اس بات پر کہ ’’ بعض امام رکتے ہی نہیں تو ہم کیاکریں ‘‘ انہیں ازراہ تفنن دلچسپ جواب تو دیا مگر اصل بات بیان نہیں کی کہ آپ یہ غلط کہہ رہے ہیں ۔کیونکہ غور سے سننا ذہنی طور پر دہرائے بغیر ممکن ہی نہیں اس لئے وہ پیچھے فاتحہ نہیں دہر ا رہا تو اور کیا کہہ رہا ہے ۔ ان کے نزدیک تو بحث صرف یہ کہ ہونٹوں سے بڑ بڑ کرتا ہے کہ نہیں ۔ جبکہ میرے نزدیک تو احادیث رسول ﷺ اور حضر مسیح موعود ؑ کے اسی اقتباس کی روشنی میں مسلک یہ بنتاہے کہ خاموش نمازوں میں لا زماً مقتدی سورۃ فاتحہ پرھے گا ۔ اور ایسی تمام نمازیں جہاں سورۃ فاتحہ امام کی طرف سے بالجہر پڑھی جا رہی ہے وہاں مقتدی کا اسے بغورسننا سورۃ فاتحہ کے دہرانے کے مترادف ہے ۔ اور ناممکن ہے کہ ذہن میں وہ الفاظ نہ دہرائے جا رہے ہوں اس لئے ایسی صورت میں یہ فتویٰ جاری کرنا کہ کسی نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی یہ فتویٰ ہی غلط ہے ۔
    دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ حضور ﷺ نے قرآن کریم کی کس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا تو اس سلسلہ میں مجھے اس بات میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ
    وَاِذَا قُرِیَٔ القُراٰنُ فَا سْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔
    ( الاعراف نمبر205 )
    ہی وہ آیت جس کی عملی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے ۔ لفظ اَنْصِتُوْا اس بات کی تو نفی کرتا ہے کہ منہ سے کچھ بولا لیکن اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ اس کے مضامین کو ساتھ ساتھ ذہن میں دہراؤ اور اس کے ساتھ ساتھ موید ہو کر ساتھ چلو ان امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ نے مذکورہ اقتباس کو سامنے رکھیں اور حسب ذیل علماء پر مشتمل کمیٹی غور کر کے مشورہ دے کہ کیا یہ طریق جو میں نے بیان کیا ہے قرآ ن اور سنت اور رسول اللہ ﷺ کے فرمودات کے خلاف ہے ؟ اگر مذکو رہ کمیٹی ایسی بات ثابت کرے تو بلا تؤقف اس کی نفی کا اعلا ن کر دیا جائے گا ۔ بصورت دیگر اگر آپس میں اختلاف ہو اور ممبران کسی ایک نتیجہ پر نہ پہنچ سکیں تو پھر یہ معاملہ مجلس افتاء میں پیش کیا جانا ضروری ہے ۔
    اس کمیٹی کے ممبران حسب ذیل ہیں ۔ نام ممبران ۔۔۔۔۔۔
    والسلام
    نوٹ:مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۳۱۵بھی ملاحظہ فرما لیں۔ خاکسار
    مقالہ نگار دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : یتیم پوتاداد ا کے تر کہ میں وارث نہیں نیز سود کا مسئلہ ۔
    ارشاد حضور: رجسٹر نمبر2 صفحہ نمبر 25 حوالہ نمبر 24/16-7-92
    مکرم عطا ء اللہ صاحب
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
    آپ کا خط ملا ۔ آپ نے جو سوالات کئے ہیں کئی دفعہ اس بارہ میں وضاحت کر چکا ہوں ۔ داد ا جب زندہ ہے تو اپنے مرحوم بیٹے کیلئے اس سے زیادہ درد مند کون ہو سکتا ہے ۔ یہ اس کا کام ہے کہ مرحوم بیٹے کی اولاد کیلئے اپنے حق کو استعما ل کرتے ہوئے اپنی جائیداد سے کچھ لگوا دے ۔اصل بحث اصولی ہے جو شخص اپنی زندگی میں جائیداد کا مالک ہے اس کی اولاد ہر گز اس کی ملکیت میں دخل نہیں دے سکتی ۔اورجو باپ بیٹا کی زندگی میں مر جائے وہ مالک ہوئے بغیر مرا ہے ۔لہٰذا اسکی اولاد کیسے داد ا کی ملکیت میں دخل اندازی کرسکتی ہے ۔اگر اس میں اصول کو چھوڑ دیا جائے تو اسلام کے نظام ملکیت و نظام وراثت میں فساد برپا ہو جائے گا ۔
    مشورہ کے متعلق بھی آپ نے عجیب بات لکھی ہے کہ :
    چونکہ بعض لوگ سود کھا رہے ہیں اسلئے عملاً جائز ہو گیا ۔ جو سود لیتے دیتے ہیں وہ حرام کھا رہے ہیں مسئلہ تو صاف ہے اگر کوئی بے مثل ہے تو اس سے شریعت پر تو حرف نہیںآتا ۔ آپ ایسے تعلیم یافتہ سمجھ دار آدمی ہیں ایسی باتیں پڑھ کر تعجب ہو ا ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفۃ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : آصفہ بیگم صاحبہ کی وفات پر کمنٹری ، تابوت پر کلمہ لکھی چادر ڈالنا ۔
    بخدمت اقدس حضرت خلیفۃ المسیح الربع ایدکم اللہ ۔
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ ۔
    دو روز قبل حضرت بیگم صاحبہ مرحومہ کے جنازہ کی ویڈیو کیسٹ جو ٹیلی کاسٹ ہوئی تھی دیکھنے کا موقع ملا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے حضرت سید ہ بیگم صاحبہ کو جنت میں مقام خاص عطا فرمائے ۔ آمین ۔
    اور ہمارے پیارے آقا اور آپکی بچیوں کو صدمہ عظیم کے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
    پیارے آقا : اسی سلسلہ میں حضور پر نور کی خدمت میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔اگر غلطی ہو گئی تو امید ہے حضور معاف فرمائیں گے ۔
    ویڈیو کیسٹ کے شروع میں قطعاً کچھ نہیں بتایا جا رہا ۔ تقریبا ً دس منٹ تک فلم خا موش چل رہی ہے اور کوئی کمنٹری نہیں کی گئی ۔جن لوگوں نے لنڈن مشن ہاؤس نہیں دیکھا ہو ا وہ کچھ نہیں سمجھ سکتے ۔ اسلام آباد پہنچ کر پھر مکرم امام صاحب نے بتایا ہے ۔ اسلئے کیسٹ کے شروع میں بڑی کمی محسوس ہوئی ہے ۔ مائیک کھلا رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ادھر ادھر کا شور سنائی دیتا رہا ہے ۔ اگر ساتھ ساتھ کوئی رواں تبصرہ نہیں کر رہا تھا تو کیمرے کا مائیک بند کر دینا چاہئے تھا ۔
    خطبہ جمعہ میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ کل میں دو جنازے پڑھاؤنگا ۔ جب حضرت بیگم صاحبہ کا جنازہ ہوا وہاں پر دوسرے جنازہ غائب یعنی مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کے جنا زہ غائب کا کوئی اعلان نہیں ہو ا ۔ ویڈیو کیسٹ دیکھنے سے تو یہی معلوم ہو تا ہے یا پھر شاید کسی اور موقع پر پڑھا دیا گیا ہے یا غلطی سے اعلان رہ گیا ہے۔
    تیسری بات جومیں عرض کر نا چاہتا ہوں کہ ویڈیو کیسٹ میں تا بو ت پہ ایک کپڑا ڈالا ہو ا دکھا یا گیا ہے۔ جو میں نے کسی احمدی جنازہ پر پہلی بار دیکھا ہے ۔ اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود ؓ سے سوال پوچھا گیا تھا ۔
    سوال : ایک کپڑا ہے جس پر قرآن کریم کی آیا ت لکھی ہوئی ہیں جسے مردے پر ڈال کر قبرستا ن لیجایا جاتا ہے ۔ بعض احمدی بھی اس مرض میں مبتلا ہیں اس کپڑے کے متعلق کیا ارشاد عالی ہے ۔
    جواب : احمدی غلطی کرتے ہیں یہ بد عت ہے ۔رسول کریم ﷺ کا یہ طریق نہیں ۔
    (فائل مسائل دینی 32-A/12-6-61 بحوالہ فتاویٰ حضرت مصلح موعود ؓ ۔ مرتبہ سید شمس الحق صاحب حصہ اول صفحہ 197 غیر مطبوعہ۔)
    والسلام
    خاکسار
    نصیر احمد(فرضی نام)
    ٍ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ارشاد حضور:
    عزیزم مکرم نصیر احمد صاحب
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ ۔
    آپ کا خط ملا جس میں آ پ نے آصفہ بیگم کے جنازہ کی ویڈیو کیسٹ دیکھنے کے بعدچند توجہ طلب امور کا ذکر کیا ہے ۔ جہاں تک کمنٹری وغیر ہ نہ ہونے کا تعلق ہے تو وہ وقت ایسا تھا کہ کسی کو ان باتوں کی ہوش ہی نہ تھی کہ کیسٹ کی نگرانی کی جا تی اور ایسا ضروری فرض بھی نہیں ہے کہ اس قسم کی کیسٹ جماعت کو باقا عدہ مہیا کی جائے لیکن افسوس کہ آپ کا دل اس پر مطمئن نہیں ہے ۔جن لوگوں نے طوعی طور پر اتنی خدمت کی ہے ان کو ایسی باتوں میں کیسے ڈانٹوں باقی رہا تابوت پر کپڑے کا معاملہ تو احمدی ایسا انتظام اپنے طور پر نہیں کر تے ایک غیر احمدی کمپنی ہے جو یہ انتظام کرتی ہے ۔اس کپڑے پر کلمہ لکھا ہوتا ہے اور سبھی جنازوں پر پڑا ہوتا ہے ۔ کبھی کسی کو اس کا خیال ہی نہیں آیا کیونکہ لا الہ الا اللہ کے کلمات اپنی ذات میں تو قابل اعتراض نہیں ہیں لیکن پہلی بار آپکی تنقیدی نظر نے اس کو پکڑا ہے ۔مجلس افتاء کی طرف بھجوا رہا ہوں میں نہیں جانتا کہ حضرت مصلح موعود ؓ نے کن حالات میں یہ فتویٰ دیا تھا۔غالباً انفرادی طور پر ایسے رجحانات پر فرمایا ہو گا بہرحال افتاء کو بھجوا رہاہوں جو فتویٰ آئے گا اسکی روشنی میں جماعتوں کوہدایت کر دی جائے گی ۔

    والسلام

    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حوالہ نمبر 27 / 20-7-92
    مکرم ومحترم ناظم صاحب مجلس افتا ء ۔ ربوہ ۔
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ ۔
    حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کے نام مکرم ( نصیر احمد صاحب ) کا خط اوراس پر حضور انور کے جواب کی نقل اس خط کے ہمراہ ارسال ہے ۔ حسب ارشاد اس بارہ میں یہاں کے حالات بھی ذیل میں درج ہیں ۔ ارشاد ہے کہ ان سب امور پر غور کرنے کے بعد اس کی رپورٹ بھجوائیں ۔
    تابوت کے اوپر جنازہ کے وقت جو کپڑا ڈالا گیا تھ ااس سلسلہ میں وضاحت ہے کہ اس کا انتطام یا اہتمام جماعت اپنی طرف سے نہیں کرتی بلکہ تجہیزو تدفین کا انتظام کر نے والی ایک کمپنی ہے جس کے مالک غیر احمدی مسلمان ہیں ۔ان کا یہ طریق ہے کہ جب وہ تابوت نماز جنازہ کیلئے مسجد میں لاتے ہیں تو برکت کی غرض سے سبز رنگ کا یہ کپڑا اس پر ڈال دیتے ہیں ۔کیونکہ اس کپڑا پر کلمہ طیبہ اور آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے ۔یہ ا ن کا اپنا طریق ہے اور اسی کے مطابق وہ احمدی جنازوں پر بھی عام طور پر کپڑا ڈال دیتے ہیں ۔ جنازہ کے وقت یہ کپڑا تابوت پر ڈالا ہوتا ہے ۔اور تدفین سے قبل اتار لیا جا تا ہے ۔ اور تابوت کے ساتھ قبرمیں دفن نہیں کیا جا تا ۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ قرآنی آیات اور کلمہ سے حصو ل برکت کے طور پر نیز خوبصورتی کیلئے تابوت کے اوپر یہ کپڑا ڈالا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ احمدی جنازوں کی صورت میں اس کمپنی کا طریق گزشتہ کچھ عرصہ سے پہلے سے ہے اس سے پہلے یہ طریق نہ تھا اور یہ طریق جاری ہونے پربھی کسی احمدی نے اس کو اس پہلو سے نوٹ نہیں کیا کہ اس میں کوئی قباحت ہے ۔ یہ وضاحت بھی شاید مفید ہو کہ یہ کپڑا جس پر کلمہ طیبہ اور آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے بند تابوت کے اوپر ڈالا جا تا ہے ۔ معیت کو نیچے نہیں چھوتا اور نہ تا بوت کے نیچے آتا ہے ۔اور نہ ہی تدفین کے وقت دفن کی جا تا ہے ۔ امید ہے یہ وضاحت مفید ہو گی اور امر وضاحت طلب ہو تو مطلع فرمائیں ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    عطا ء المجیب راشد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:وراثت کے مسائل کے با رہ میں وضاحت۔
    ارشاد حضور:
    حوالہ نمبر 29/8-10-92
    مکرم صدر صاحب ۔ تدوین فقہ کمیٹی ۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کا تہ ۔
    تدوین فقہ کمیٹی نے فقہ حنفیہ احمدیہ میں وراثت کے مسائل کے ضمن میں ’’ مانع میراث ‘‘ کے عنوان کے تحت جو باب مرتب کیا ہے اسمیں لکھا ہے کہ ’’ اختلاف دین کا مانع وقتی اور بعض مصالح کی بناء پر ہے ۔‘‘ (صفحہ 125 ) تعجب ہے کہ جن آیات کو بیان کر کے استدلال کیا گیاہے ان میں کہیں اختلاف دین کی بناء پر وراثت سے محرومی کا کوئی تعلق نہیں بلکہ محارب اور جنگ پر آمادہ لوگوں سے گہری دوستی نہ کرنے کا ذکر ہے ۔ اس لئے وہ مسئلہ جو پورے قرآن میں کہیں مذکور نہ ہو اسے دوسرے کی فقہاء کی تقلید میں ہر گز اختیا ر نہیں کرنا چاہئے۔کسی حدیث یا فقہ کی وجہ سے قرآن کو تو نہیں چھوڑا جا سکتا ۔لہٰذا اس بارہ میں دوبارہ تحقیق کریں کیونکہ کسی بھی حکم کیلئے قرآن کریم کی بنیاد ضروری ہے ۔اسی طرح اس باب میں جو دو حدیثیں بیان کی گئی ہیں ان کے بارہ میں بھی تحقیق ہونی چاہئے ۔کہ آنحضور ﷺ نے کس موقع پر انہیں بیان فرمایا ۔راوی کون کون ہیں؟ کیا کسی نے بعد کے زمانہ میں اپنے مطلب کیلئے تو انہیں نہیں گھڑ لیا؟ یہ ساری باتیں تحقیق طلب ہیں ۔اس بارہ میں تحقیق کر کے مطلع فرمائیں ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : رسومات شادی بیاہ پر سب کمیٹی کی رپورٹ ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 28 حوالہ نمبر 30/13-11-92
    پیارے مکرم مجیب الرحمان صاحب ۔
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ ۔
    آپ کی طرف سے مجلس شوریٰ 1990 ؁ کے ایجنڈا کی تجویز نمبر1 کے بارہ میں تشکیل کردہ سٹینڈنگ کمیٹی بابت رسومات شادی بیاہ کی رپورٹ زیر نمبر 1788/8-7-92 ملی جزاکم اللہ احسن الجزاء ۔
    شادی بیاہ کے موقع پر آئے ہوئے مہمان دو قسم کے ہیں ۔
    ۱۔ایک وہ جو باہر سے آئے ہوئے ہوں خواہ وہ بارات سے تعلق رکھتے ہوں یا لڑکی والوں کے عزیز اور دوست ہوں ۔ان کے قیام اور رہائش وغیرہ کی ذمہ داری چونکہ بلانے والوں کا اولین فرض ہے ۔اس لئے خواہ وہ ان کے گھروں میں ٹھہریں یا نہ ٹھہریں جب بھی تقریبات میں شرکت کیلئے آئیں ان کی حسب توفیق ماکولات سے خدمت کرنا بنیادی فریضہ ہے جو اسلا م کی اکرام ضیف کی تعلیم کے تابع دوسر ے غیر مسلموں کے مقابل پر اسلام میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔
    ۲۔ دوسری قسم عام مہمانوں کی ہے ۔اس قسم میں مختلف نوع کی مزید تقسیمیں پائی جاتی ہیں ۔ایک وہ مہمان ہیں جو گاؤں یا قصبات سے ہیں جہاں فاصلے کوئی نہیں ۔کھانا گھروں میں کھا کر بے تکلفی سے دعا کی نیت سے تقریب میں شرکت کی جا سکتی ہے ۔ایسے مہمانوں کیلئے کھانے کا تردد کرنا اور بوجھ اٹھانا ایک بے ضروت تکلیف ہے جبکہ اکرام ضیف کا حق ادا کرنے کیلئے کوئی مشروبات یا تھوڑی سی مٹھائی پیش کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں دیہاتی معاشرے اور شریکے کی روایا ت کے پیش نظر اگر کھانے کا اہتمام وہاں کروایا جائے تو بہت زیادہ دکھاوے اور ضیاع کے احتمالات ہیں ۔اسلئے بہتر ہو کہ ایسی جگہ پر بلا وجہ دوبارہ مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے رواج کو جاری نہ کیاجائے ۔ ہاں معمولی خاطر مدارت میں کوئی مذائقہ نہیں ۔
    مقامی مہمانوں کی دوسری قسم وہ ہے جو بڑے شہروں سے تعلق رکھتی ہے ۔ مثلاً کراچی ، اسلام آباد ،لاہور ، راولپنڈی وغیرہ ایسی جگہوں پر عموماً احمدیوں کو غیر احمدی دوستوں اور تعلق والوں کی تقریبات شادی پر بھی جا نا پڑتا ہے ۔اگرچہ ایسی جگہوں پر کھانا پیش کرنے میں کوئی حرج دکھائی نہیںدیتا لیکن ضروری نہیںکہ کھانے سے ہی تواضع ہو ۔ فرق اچھا نہیں لگتا کہ غیر احمدی اور باہر سے آئے ہوئے مہمان کھانا کھا رہے ہوں اور مقامی دوست اور مہمان موقعہ پر سرک جائیں گویا کھانا حرام ہے ۔ اسلئے حتی المقدور یکجہتی اختیا ر کرنی چاہئے۔اگر دوسرے مہمانوں کو کھانا دیاجا رہا ہے تو احمدی مہمانوں کو بھی کھانا پیش کیا جائے ۔ ہاں دعوت تعداد کے لحاظ سے بھی اور کھانے کی قسم کے لحاظ سے بھی حسب توفیق دینی چاہیے ۔اگر یہ رخصت دکھاوے اور ضیاع اور اسراف پر منتج ہوگی پھر بعید نہیں کہ کسی وقت جماعت یہ انتظامی فیصلہ کرے کہ اس سے کلیتہ ً احتراز کیا جائے۔ اسلئے میانہ روی میں ہی سلامتی ہے اور میانہ روی ہی کی تعلیم دینی چاہیے ۔اور افراد کو اس امور میں ناصح اور نگران کا کردار ادا کرناہوگا ۔
    اگر رائے عامہ میں میانہ روی ہو اور وہ زیادہ تکلفات کو پسند نہ کریں تو ایک آدھ دعوت میں شرکت کرنے والے اگر یہ اظہا ر کر دیں تو آئندہ ایسے رجحانات کی حوصلہ شکنی کیلئے کسی انتظامی تعزیری کاروائی کی بھی ضرورت نہیں۔جماعت کو یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ عام روز مرہ کے جماعتی تقاضوں پر سزا دینے کا اور تعزیری دھمکی دے کر نیکیوں پر قائم رکھنے کا رجحان آخر کار نفع مند ثابت نہیںہو سکتا اور بعید نہیں کہ فوائد کی بجائے نقصانات زیادہ اٹھا نے پڑیں ۔جو طریق کا ر قرآن مجید نے سمجھایا ہے وہی بہترین ہے ۔ اور دیر پا گہرا اثر رکھنے والا ہے ۔اور وقت گزرنے پر کمزور نہیں پڑ تا بلکہ مزید مضبو ط ہو تا چلا جا تا ہے ۔ اور وہ امر با لمعروف اور نھی عن المنکر کا نظام ہے۔ بد رسوم کے خلاف بھی اسے استعمال کرنا چاہیے ۔بے پردگی اور فحاشی کے رجحانات کو روکنے کیلئے بھی اسے استعمال کر نا چاہئے۔ اور نیک رسم و رواج کے قیام کیلئے بھی میانہ روی کو جماعتی کردارکا حصہ بنانے کیلئے یہی سب سے مؤثر طریق ہے ۔ ہمارا روز مرہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر ایک بات پر دشمن نہیں بلکہ اپنے بھی وقار اور متانت سے غلطی کی طرف توجہ دلانا شروع کریں تو ان چیزوں کا شوق بجھ جاتاہے اور طبیعت بے کیف سی ہو جاتی ہے ۔ اس لیے یہ مناسب طریق ہے اور یہی طریق جماعت کے ہاتھ میں جس کو نظام جماعت باقاعدہ نظم و ضبط کے ساتھ جاری کرے اور اس کو نشوونما دے ۔
    ایک اور امر یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ جب آپ ان چیزوں کی اجازت دیں گے تو بہت سے غریب ایسے رہ جائیں گے جن کو توفیق نہیں ہو گی ۔ اور جن پر بوجھ پڑے گا ۔ اس کا علاج میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ شادی بیاہ کے موقعہ پر صاحب توفیق لوگوں میں یہ تحریک کی جائے کہ آپ دعوتوں میں اسراف نہ کریں بلکہ صاف ستھرا اچھا اور لیکن بے تکلف کھا نا دیں اور ان اخراجا ت میں اس نیت سے بچت کریں کہ آپ کے شہر کے کسی اور غریب احمدی کی بچی کی سفید پوش رخصتی میں کوئی غربت حائل نہ ہو سکے ۔ چنانچہ مستقلاً ایک ایسا فنڈ جاری کر دیا جائے جسمیں شادی بیاہ کے موقع پر نہ صرف دونوں خاندان محض للہ حصہ لیں بلکہ جماعت کے متمول دوستوں میں مستقلاً ایک تحریک جا ری رہے کہ غریب بچیوں کی شادی کیلئے وہ ضرور اپنے اموال میں سے کچھ خرچ کریں ۔اور جن بچیوں کی رخصتی کے وقت ان کے پا س مہمانوں کی معمولی آؤ بھگت کیلئے بھی کچھ نہیں ہو گا ان کو اس فنڈ سے مدد دی جائے۔اور ایک صاف ستھرے لیکن غریبانہ معیار پر ان کے متفرق اخراجا ت کا بوجھ اٹھا لیا جائے ۔یہ ایک ایسی چیز ہے جسمیں جماعت کے متمول دوست یقینا خوشی سے دل کھول کر حصہ لیں گے بلکہ یہ رواج بھی دیناچاہیے کہ لوگ اپنے آپ کو کسی نہ کسی غریب بچی کی شادی کروانے کیلئے پیش کریں ۔ ایسی صورت میں یہ بھی ضروری نہیں کہ جما عت کی وساطت سے ایسا کریں اگر وہ مناسب سمجھیں تو بعض خاندانوں کا ایسا تعلق قائم کروایا جا سکتا ہے کہ غریب بچیوں کو ایک سہارا میسر آ جائے ۔
    میری اہلیہ نے وفات کے دنوں میں اس خواہش کا اظہا ر کیا تھا کہ چار بچیوں کی شادی وہ خود کروانا چاہتی ہیں ۔ چنانچہ خدا کے فضل سے میں چار سے زائد شادیاں کروا چکا ہوں اور ہر دفعہ ایسا کرنے پر روحانی لذات نصیب ہوئی۔ میں یہ صرف اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ جماعت میں اس کا رواج پڑ جائے اور یہ جو سوال اٹھتا ہے کہ امیر اگر بچیوں کے رخصتانہ پر زیادہ خرچ کریں گے تو غریبوں کے دل جلیں گے یہ اعتراض اٹھ جائے گا ۔لیکن یہ بھی احمدی غریبوں کا ایک الزام ہے ۔ میں تو احمدی غریبوں کو بڑا حوصلے والا سمجھتا ہوں ان پر یقینا قرآن کریم کی یہ تعلیم صادق آتی ہے کہ:
    لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلیٰ مَا مَتَّعْنَا بِہٖ اَزْوَاجاً مِّنْھُمْ
    ( الحجر : 89 )
    ٍ اس لئے انکو خوامخواہ حریص یا حاسد سمجھتے ہوئے اپنی طرف سے اس رنگ میں دلداری کرنا کہ امیر بھی اکرام ضیف سے کلیتہً ہاتھ دھو بیٹھیں حقیقی علاج نہیں ہے ۔ اور ایسا کرنے سے خاص فائدہ بھی کچھ نہیں دکھائی دیتا کیونکہ یہ رواج تھا کی غریب بھی مہمانوں کی کچھ نہ کچھ خاطر مدارت کیاکرتے تھے تو وہ امیر جو ان میں شامل ہوتے تھے وہ اس سے متاثرہو کر مخفی ہاتھ سے ضرور کچھ نہ کچھ مدد کیا کرتے تھے ۔اب تو امیروں اور غریبوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں ۔پس نیکی کو رائج کرنے کیلئے نیکی کی روح کو سمجھنا ضروری ہے ۔اور یہ بھی بہت ضروری ہے کہ امراء ضرور غریبوں کی شادی پر جائیں اور ان کو بھی موقعہ پر تحائف پیش کریںاور ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی غریبانہ روٹی میں شامل ہوں ۔اور اس طرح غریبوں کو امیروں کی شادیوں میں ضرور بلوایا جائے ۔ اور ان کی غربت سے شرم نہ کی جائے ۔بلکہ انکا دعوت قبول کر کے بے جھجھک امیرانہ لباسوں میں ملبوس مہمانوں میں شامل ہو جانا دراصل ان کی قربانی ہے ۔ اس پہلو سے ان کے آنے کو باعث عزت سمجھا جائے اور غیر احمدی مہمانوں پر یہ بات خوب کھل جانی چاہئے کہ سادگی اور غرباء کی عزت کا قیام جماعت احمدیہ کے شعار میں داخل ہے ۔اس کے ساتھ بھی ضروری ہے کہ غرباء کی اجتماعی کھانوں کے وقت تربیت کی جائے اور کسی کو موقع نہ دیا جائے کہ ان کی غربت کی مجبوریوں پر ہنسے۔ مجھے یاد ہے بارہا ربوہ میں میں نے ایسی دعوتوں میں حصہ لیاہے جہاں خصوصاً غریب بچے کھانے پر ٹوٹ کر پڑ تے ہیں اور بعض نسبتاً خوشحال لوگ انکی اس حرکت پر نا پسند یدگی کا اظہار کرتے اور ایسے جملے کستے ہیں جن سے تکبر کی بو آتی تھی۔ جب بھی میرے سامنے ایسا ہوا ان کو میں نے سمجھایا کہ خدا کا خوف کرو ۔تمھیں احساس بھی نہیں کہ جن لوگو ں کو عید بقر پر گوشت میّسر آتا ہو یا گھر میں کبھی پلاؤ زردے دیکھنے نصیب نہ ہو ں ان کو اگر کبھی قسمت سے ایسی دعوت میسرآ جائے تو ان کا بے قابو ہو جا نا ان سے زیادہ شہر کے متمول لوگوں کی بے حسی کی تصویر کھنچتاہے تا ہم حضرت رسول اللہ ﷺ کہ سنت کے مطابق جہاں امیروں کو سمجھایا جائے وہاں غریبوں کو سمجھانا بھی تو ضروری ہے اور انکی تربیت کے لئے سلسلہ کے کارکنان مقرر ہونے چاہئے جو اُنہیں محبت اور پیار سے سمجھائیں تاکہ ایسے مواقع پر ان کا طرز عمل عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہو ۔
    جہاں تک قباحتو ں کا تعلق ہے دیہات میں وہاں کے حالات کے مطابق اور شہر میں وہاں کے حالات کے مطابق قباحتیں ہیں جو راہ پا رہی ہیں لیکن رسمی اور سرسری طور پر نہیں بلکہ ہر قبا حت کی حقیقت تک پہنچ کر اس کے استیصال کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ منع کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ قباحت ہے کیا ۔ مثلاً مہندی کی رسم ہے۔فی ذاتِہٖ اس میں قباحت نہیں کہ اس موقع پر بچی کی سہیلیاں اکٹھی ہوں اور خوشی منائیں ۔طبعی اظہار تک اسکو رکھا جائے تو اس میں حرج نہیں لیکن اگر اس کو رسم بنا لیا جائے کہ باہر سے دولہا والے ضرور مہندی لیکر چلیں تو ظاہر ہے کہ اس میں ضرور تصنع پایا جاتا ہے ۔ بچی کی مہندی گھر پر ہی تیار ہونی چاہیے اس لئے ایک چھوٹی سی بارات بنانے کا رواج قباحتیں پیدا کرے گا ۔اس موقعہ پر دولہا والوں کی طرف سے باقاعدہ ایک وفد بنا کر حاضر اور اس موقعہ پر اس کے لوازمات کے طور پر پر تکلف کھانے وغیرہ وغیرہ۔ یہ جب ایک رسم بن جائے تو سو سا ئٹی پر بوجھ بن جا تا ہے ۔ اور و یصنع عنھم اصرھم والا عدل الٰتی کانت علیھم ۔ کی روح کے منافی ہو جا تا ہے اس بارہ میں بھی دوبارہ سادگی کی طرف لوٹنا ضروری ہے لیکن اچھی روح یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی روح ہی پیش نظر رہے اور جیسا کہ کمیٹی نے تجویز کی شق نمبر 7 کے حوالے سے سفا رش کی ہے اس میں تا دیبی رنگ نہ ہو بلکہ تربیتی رنگ ہو لیکن بار بار ہو ۔نصیحت اگر ایک دفعہ اثر نہیں کر تی تو پھر کی جائے اور پھر کی جائے حتّٰی کہ ذکر کا مضمون جا ری ہو جائے اور’’ اِنْ نَّفَعت ِالذِّکرٰی ‘‘ کا نتیجہ ظاہر ہو نے لگے۔
    جو قباحتیں راہ پکڑ رہی ہیں انہی میںسے ایک بے پردگی کا عام رجحان بھی ہے جو یقینا احکام شریعت کی حدود پھلانگنے کے قریب ہو چکا ہے اور شادی والوں کی اس معاملہ میں بے حسی کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ معزز مہمانوں میں بہت سی حیا دار پردہ دار بیبیاں ہو تی ہیں ، بے دھڑک انٹ سنٹ فوٹو گرافروں یا غیر ذمہ دار او ر غیر محرم مردوں کو بلا کر تصویرں کھینچوانا اور یہ پرواہ نہ کرنا کہ یہ معاملہ صرف خاندان کے قریبی حلقے تک ہی محدود ہے اس بارہ میں واضح طور پر بار بار نصیحت ہونی چاہئے کہ آپ نے اگر اندرون خانہ اگر کوئی ویڈیو بنانی ہے تو پہلے مہمانوں کو متنبہّ کر دیا جائے اور صرف محدود خاندانی دائرے میں ہی شوق پو رے کئے جائیں ۔
    بیہودہ گا نوں کا رجحان بھی انہیں قبا حتوں میں سے ہے ۔ بیہودہ گانوں میں ’’ سِٹھنیاں دینی ‘‘ بھی شامل ہیں مزاح سے بڑھ کر بد تمیزی اور گالی گلوچ اور کھلم کھلا تذلیل کی حد تک پہنچ جاتی ہیں ۔ایسی بیہود گوئیوں کی بجائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نظموں کو رواج دینا اور اسی طرح دوسرے صاف ستھرے کلام کا ذوق پیدا کرنا چاہیے ۔
    جماعت میں دراصل لجنہ میں اس مضمون پر بھی ایک سوچ اور فکر کے حلقے قا ئم ہو نے چاہیئیں کہ خوشی کے اظہار کے ایسے طریق بھی تو سوچیں جائیں اور بنائے جائیں جو صاف ستھرے اور پاک ہوں اور مجلس عزاء اور مجلس شادی میں فرق نمایا ں دکھائی دینے لگے ۔ صرف راہیں بند کر دینا تو کا فی نہیں ۔ بہتر اچھی اور صحت مند راہیں تجویز کرنا بھی تو ضروری ہے جس سے طبیعتوں پر اچھا اثر پڑے اور محفلیں یا د گار بنیں لیکن بدی کی طرف جھکاؤ کے بغیر تا کہ بوریت کی بجائے فرحت پیدا ہو اور دیکھنے والے بھی گہرے نیک تاثرلے کر لوٹیں ۔ جماعت نقالی کرنے والی نہ ہو بلکہ جماعت کی نقالی کی جانے لگے یہ جو ہدایات ہیںان کی شق نمبر1 تانمبر11پر آپکی سفارشات سے تعلق ہے ۔
    جہاں تک بد رسوم کا تعلق ہے اس بارہ میں پہلے تو کثرت سے ان کی نشاندہی کرنا اور ان کا تجزیہ کر نا اور سمجھانا ضروری ہے کہ کیوں یہ رسوم بد ہیں تا کہ جماعت پر عمومی حجت تمام ہو جائے ۔بعد میں چند ماہ کی کوشش اور محنت کے بعد پھر یہ تنبیہ بھی ہو جائے کہ اگر کوئی احمد ی خاندان بد رسوم سے چمٹنے پر اصرار کر یگا تو پھر اس بات کے لئے اسے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے کہ احتجاجاً کم از کم جماعت کے ذمہ دا ر احباب اور عہدیدار وغیرہ اجازت لے کر اس تقریب سے الگ ہو جائیں ۔مراد یہ نہیں کہ وہاں کوئی ہنگامہ کر کے الگ ہوں بلکہ دلی معذرت کیساتھ علیحدگی میں اپنی مجبوری پیش کرکے اجازت لینی شروع کر دیں لیکن ساتھ ہی اس کے متعلق بتانا ضروری ہے کہ اگر بعض نہ آئے تو پھر ایسا ہو گا ۔
    غرباء کی شادیوںسے متعلق یہاں میں نے جو حل تجویز کئے ہیں ضروری نہیںکہ یہ بعینہٖ ہر جگہ نفاذ العمل ہوں ۔کئی مختلف صورتیں ہیں جن کو ملحوظ رکھ کر بہت حد تک ان پر عمل کیا جا سکتاہے ۔ یہ سوچ فی ذاتِہٖمحل نظر ہے کہ سب غربا امیروں کی شادیوں پر رخصتانے کے موقعہ پر تواضع پیش کرنے سے احساس کم تری میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔اور تکلیف اٹھاتے ہیں ۔
    اول تو بڑی تعداد میں ایسے غرباء ہیں جن کو علم ہی نہیں کہ امیروں کے ہا ں کیا ہوتاہے ۔اگر وہ رخصتانہ کے موقعہ پر احساس کمتری کاشکار ہوتے ہیں تو روز مرہ کے رہن سہن پر بھی تو یہی صورت اطلاق پاتی ہے ۔صرف بیاہ شادی کے ہی نہیں غمی کے اور بیماری کے حالات بھی تو گزرتے ہیں ۔پھر ولیمے میں جو مشکل انہیں پیش آتی ہے۔اس کا بھی تو حل ہونا چاہیے ۔غریب صرف لڑکیوں والے ہی تو نہیں ہوتے لڑکے والے بھی ہوتے ہیں۔ایک بہت وسیع مسئلے کا اتنا مختصر حل تجویز کر دینا ہر گز کا فی نہیں ۔
    رخصتانہ کے موقعہ پر تواضع کر نے کے کچھ فوائد بھی تو تھے جن سے غریب محروم رہ گئے ۔مجھے یاد ہے کہ قادیان میں رخصتانے پر کثرت سے دعوت دی جاتی ۔ اور بارہا انکے لئے مواقع مہیا ہوتے تھے کہ وہ بھی بار ہا اچھا کھانا کھلا سکیں ۔بار بار ان کو نسبتاً متمول لوگوں کی شادیوں میں شامل ہو کر ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا تھا اور جب ہم متمول کہتے ہیں تو ہر گز یہ مراد نہیںکہ بہت امیر ، یہ نسبتی بات ہے ۔ درمیانے درجے کے متوسط حال احمدی بھی جب رخصتانے کیا کرتے تھے تو چائے کیساتھ تواضع پیش کیا کرتے تھے جن میں غریب بھی بڑے شوق سے شامل ہو تے تھے ایسے مواقع سے وہ محروم ہوئے تو یہ بھی سوسائٹی کا ایک نقصان ہے یہ طرز فکر بھی درست نہیں کہ غریب کی شادی پر اس پر غیر معمولی بوجھ پڑ تا ہے ۔تواضع ہمیشہ نسبتی چیز ہو ا کرتی ہے ۔قادیان ہی میں مجھے یاد ہے کہ بعض غرباء محض چائے کی ایک پیالی اور ساتھ معمولی مٹھائی یا پکوڑے وغیرہ پیش کر دیا کرتے تھے اور امیر جوان شادیوں میں شامل ہو تے تھے اس شمولیت کی وجہ سے انکو غریب بھائیوں کی ضرورتوں کا پہلے سے بڑھ کر احساس ہو تا تھا ۔اور مخفی ہاتھ سے ان کی مدد کی جاتی تھی۔پس یہ بھی لازم نہیں کہ جماعتوںمیں غریبوں کی شادیوںپر پر تکلف اخراجات کا سامان کیاجائے ۔ہر غریب یہ قبول نہیںکرے گا کہ اسکی کھلم کھلا مدد ہو۔ بہت سے غریبوں میں بہت عزت دار لوگ ہوتے ہیں۔ جو اگر کچھ نہ بھی کریں تو کسی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتے اور عزت کے ساتھ سر بلندی سے اپنی بچی کو رخصت کرتے ہیں ۔درحقیقت یہی بنیادی اعلیٰ انسانی قدر ہے جسے فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ سادگی ضروری نہیں کہ امیروں کی سادگی کو ہی دیکھ کر قبول کیا جائے ۔جو سادگی سنت حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے نصیب ہو تی ہے اس میں استغنا پایا جا تاہے ، قناعت پائی جا تی ہے ، عزت نفس پائی جا تی ہے اسکی ایک بہت ہی پاکیزہ مثال میرے علم میں مولوی محمد منور صاحب کا وہ مضمون پڑھ کر سامنے آئی جو انہوں نے اپنی مرحومہ بیگم کی یا د میں لکھا ہے ۔کس طرح ان کی شادیاں ہوئیں ۔بے حد سادگی کے باوجود عزت نفس پر ایک ادنیٰ بھی داغ نہیں لگا بلکہ ساری زندگی پر وقار گزری ۔پس یہ سوچ دماغوں پر غالب ہو جا نا کہ امیر کی شادی دیکھ کر غریب جلتے رہیں گے اور ان کی زندگی اجیرن ہو جائے گی اسلامی سوچ نہیں ہے ۔ ہاں اذہان اور قلوب میں مخفی اشتراکیت کے جراثیم سے پیدا ہوتی ہے ۔ ہمیں اور عطا کرنا ہے ۔ پس بیاہ شادی کے سلسلہ میں اگر غریب بھائیوں کی مدد کرنی ہے تو ایک رسمی رواج کی صورت میں اسے فروغ دینا نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ لیکن احساس کو زندہ رکھنا اور امیروں میں اور متمول لوگوں میں مسلسل نصیحت کے ذریعہ سے اس رجحان کو تقویت دینا کہ جو نعمتیں اور خوشیاں خدا تعالیٰ نے انکو عطا کی ہیں ۔وہ ان میں سے ہر ایک سے کچھ نہ کچھ حصہ اپنے کمزور بھائیوں کو اس طرح پیش کریں کہ انکی آنکھیں اس کے نتیجہ میں جھکی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں ۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے کے جو اسلوب بیان فرمائے ہیں ۔ ان میں یہ بھی نصیحت ہے کہ وہ چیزیں پیش نہ کرو کہ اگر تمھیں دی جائیں تو تمھاری آنکھیں شرم سے جھک جائیں ۔ اس میں اگرچہ بظاہر چیز کی طرف اشارہ ہے لیکن میرے نزدیک اس کا مضمون زیادہ وسیع ہے اور چیز پیش کرنے کی طرف بھی اس میں شامل ہے ۔بعض لوگ اچھی چیزیں بھی اس طرح پیش کرتے ہیں کہ لینے والے کا دل سخت شرمندگی محسوس کر تا ہے جبکہ بعض لوگ معمولی چیز بھی اس طرح پیش کرتے ہیں کہ دل کسی قسم کی حجالت محسوس کرنے کی بجائے پیش کرنے والے کیلئے گہری محبت محسوس کر تا ہے ۔ قرآ ن کر یم نے یہ جو مضمون بیان کیا ہے اس میں پیش کی جانے والی چیز کے لوازمات اور ماحول بھی شامل ہے ۔
    پس قرآنی تعلیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرآنی اخلاق کو زندہ کرنا ہمارہ فرض ہے ۔ غریبوں کو یہ سمجھانے کی
    ضرورت ہے کہ جو کچھ انہیں توفیق ہے اس کے مطابق کریں اور ہر گز شرمائیں نہیں اور امیروں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ریاء کاری اور شیطان کے رنگ میں پر تکلف اخراجا ت سے پرہیز کریں ۔ اپنی تقاریب میں میانہ روی اور وقا ر اختیا ر کریں اور مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْن کے تابع ہر نوع کی جو خوشی ہو اس میں اپنے کمزور بھائیوں کا حصہ رکھیں لیکن جس حد تک ممکن ہو مخفی ہاتھ سے اور عزت نفس کا لحاظ رکھتے ہوئے ۔
    آخر پر اس سوال سے متعلق کچھ کہہ کر اس تبصرے کو ختم کرتا ہوں کہ غریبوں کی تعداد زیادہ ہے اور امیروں کی کم ہے اس صورت میں چند امیر سب غریبوں کے بوجھ کیسے اٹھا سکیں گے ؟ اوّل تو امارات اور غربت کی تقسیم اس طرح برابر نہیں ہے کہ ہر شہر، ہر قصبے ، اور ہر علاقے میں چند بہت امیر اور چند بہت غریب ہوں ۔ یہ نسبتی چیزیں ہیں۔ بعض اضلاع ، بعض شہر اور بعض علاقوں کے علاقے غریب ہیں اور عرف عام میں جسے امیر کہا جاتا ہے وہ وہاں نہیں ہیں یا فرق بھی ہیں تومعمولی معمولی ہیں ۔وہاں بھی تعلیم افصح اور ابلغ ہے ۔ یعنی اقتضائے حال کے مطابق ہے اس کے مطابق ضرورتیں پو ری کی جائیں اور عملاً یہی ہوتا ہے۔ اگر ڈیرہ غازی خان کی جماعتیں ہیں تو رخصتانہ کے وقت چند کھجوریں پیش کر نا ایک عمدہ تواضع ہے ۔ نسبتاً امیر لوگ زیادہ دوستوں کو بلاتے ہیں اور نسبتاً کم کو لیکن خاطر مدارت حسب توفیق ہر شخص کو کچھ نہ کچھ آ ہی جا تی ہے لیکن شہری علاقوں میں امیروں اور غریبوں کی نسبت مختلف ہو تی ہے ۔ اکثر متوسط یا نچلے درجے کا متوسط طبقہ ہوتاہے لیکن جو بہت غریب ہیں اور مدد قبول کرنے کے ضرورت مند ہیں اور مزاج کے لحاظ سے اس طرف مائل بھی ہیں ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیںکہ سنبھالی نہ جاسکے لیکن اگر ہو بھی تو آخری صورت بہر حال یہی ہے جو ہمیں لازماً اپنا نی ہو گی کہ غربت کو ہر گز باعث ذلت نہ سمجھا جائے اور عظمت کردار اور نیکی کے باعث عزت ہونے کا احساس دلوں میں اور ذہنوں میں جا گزیں کیا جائے ۔ محلہ داروں کا کام ہے کہ غریبوں کو سمجھائیںکہ تم بے شک کچھ بھی پیش نہ کرو ہم تمھاری شادی میں شامل ہوں گے اور عزت کے ساتھ بچی کو رخصت کریں گے ۔ پھر انہیں توفیق ہو تو بے شک کچھ خرچ کر دیں ورنہ انکی شمولیت بھی غرباء کی عزت کا موجب بن سکتی ہے ۔ یہ بھی ہو سکتاہے جہاں ممکن ہو لجنہ کی مدد سے کچھ خواتین شادی والے گھر میں پہلے پہنچ کر صفائیاں کریں اورسادگی سے جو کچھ سجاوٹ ممکن ہو اس کی تیاری میں ان کی رہنمائی اور مدد کریں اور اگر وہیں انکے لئے سادگی سے کچھ پکوڑے اور کچھ شکر پارے وغیرہ معمولی قیمت کی مٹھائی تیار کر دی جائے تو یہ ایسا بوجھ نہیں کہ جسے قصباتی اور شہری جماعتیں برداشت نہ کر سکیں ۔ لیکن جس چیز کی کمی محسوس کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ امیر لوگ غرباء کی حالت سے اس طرح با خبر نہیں رہے جس طرح قادیان میں ہو ا کرتا تھے ۔ نظام جماعت کو چاہیے کہ امیروں کو یاد دہانی کراتے رہا کریں اور ارد گرد جہاں کوئی شادی نظر آئے کوشش کریں کہ باضمیر خاندانوں کے بچے بچیاں اس میں ضرور شامل ہوں ۔ کچھ دیں یا نہ دیں یہ بات خارج از بحث ہے ۔ ان کی شمولیت بھی غریب کی دلداری کا موجب بنے گی اور ان کی اصلا ح نفس کا ذریعہ ۔ اس طرح صرف رخصتانوں پر ہی نہیں ولیموں کے موقع پر بھی تو یہ کا روائیاں ضروری ہیں ۔ رخصتانے کی توا ضع بند کرا کر یہ کیسے سوچا جا سکتاہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا ۔ ولیمہ تو فرض ہے ۔ اس طرف بھی تو نگاہ رکھنی چاہئے جس طرح ولیمہ کا فرض چند آدمیوں کو کھانا پیش کر کے پورا ہو سکتاہے ایسے ہی رخصتانہ پر کیوںنہیں ہو سکتا ۔ نیز ولیمہ کے وقت رخصتانے کی نسبت زیادہ اخراجات اٹھنے کا احتمال اور امکان ہوتا ہے ۔ اس لئے ولیموں کے موقعہ پر بھی ان امور کی طرف توجہ دینی ضروری ہے ۔ بہر حال اگر جماعت کی نگاہیں ہمیشہ اس پر مرکوز رہیں اور تقویٰ کیساتھ جماعت ان معاملات میں کاروائی کرے تو پاکیزہ معاشرتی ماحول میں تمام تمدنی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔
    پس تواضع کے پیچھے اتنا پڑنے کی بجائے بیہودہ رسم و رواج ،دکھاوے اور نمائش اور تبذیر کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلہ میں مکرم مولوی محمد منو ر صاحب کی کتاب ’’ ایک بی بی کی یاد میں ‘‘ایک اچھی چیز ہے جس کو بیاہ شادی کے موقعہ پر عام کر نا چاہئے تا کہ انہیں علم ہو کہ یہ بھی شادی کا ایک طریق ہے ۔ اس سے ان کی نفسیاتی اصلا ح ہو گی ۔اور بہت سی رسم و رواج کے ازالے کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور سچی عزت نفس اور وقار کا مضمون سمجھ آئیگا ۔
    آپ کی رپورٹ اور سفارشات کے ساتھ سٹینڈنگ کمیٹی کے دو ممبران مکرم احمد عمران صاحب آف راولپنڈی اور مکرم چوہدری مبارک احمد صاحب بیرسٹر آف کراچی کی طرف سے الگ الگ اختلافی نوٹ بھی موصول ہوئے ہیں ۔ مکرم عمران صاحب کا نوٹ تو غیر واضح ہے ۔ پہلی ہی دلیل میں وہ اپنے اوپر کہی ہو ئی بات کے بر عکس بات آخر پر کہہ رہے ہیں ۔ اور نہایت واضح سفارشات میں خواہ مخواہ الجھا و پیدا کر رہے ہیں ۔
    جہاں تک مکرم چو ہدری مبارک احمد صاحب بیرسڑ کے اختلافی نوٹ پر تبصرہ کا معاملہ ہے ان کی یہ دلیل ہی نا قابل قبول ہے کہ ’’۔۔۔اس پا بندی کا بنیا دی مقصد غر باء کو تکلیف ما لا یطاق سے بچانا ہے ۔انہو ں نے پہلے بھی مشاورت میں تقریر کی تھی ۔ اسمیں بھی اسی قسم کا استدلال تھا جس کی کو ئی بنیا د نہیں ۔صرف خلطِ مبحث ہے ۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ آنحضرت ﷺکے زما نہ میں با قاعدہ رخصتانہ کے موقعہ پر تقریب منائی جا تی تھی اس وقت تک یہ کہنا کہ کچھ کھانا وغیر ہ پیش نہیں کیا جا تا تھا ایک با لکل بے محل بات ہے ۔مہمانوں کی عزت اور تکریم اور ان کی خدمت میں کچھ ما کو لات پیش کر نا ،اس کو غیر شرعی قرار دینا درست نہیں ۔چوہدری مبارک احمد صاحب کی سوچ کا رخ بالکل اور نتائج پیدا کریگا۔جو انہوں نے بات سمجھنے کے با وجود نظر انداز کر دئیے ہیں ۔یہ استدلا ل صرف اس حد تک محدود رہے گا کہ اگر آنحضر ت ﷺکے زمانہ میں بعض دفعہ لڑکی کے والد ہی لڑکی کو خود چھوڑ آیا کر تے تھے ۔اور دعوت پر لو گوں کا عمل ثابت نہیں تو پھر رخصتانہ کی تقریب ہی نا جائز ہے ۔ او ر اسپر پا بندی ہو جا نی چاہئے۔ لیکن اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دینا کہ مو جو دہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ہے اور پھر یہ دلیل دینا کہ آنحضر ت ﷺکے زمانہ میں کسی قسم کی تقریب یا ماکو لا ت وغیر ہ پیش نہیں کئے جا تے تھے۔ایک ایسی بات ہے جس کی بنیا د پہلے قدموں کے نیچے سے نکا ل دی گئی اور پھر نتیجہ نکا لا گیا ۔
    پس ایک دفعہ پھر یہ ثابت کر دینا چاہتا ہو ں کہ اگر اس بات کے قطعی شواہد مل جائیں کہ آنحضرت ﷺکے زمانہ میں اسی طرح تقریب ہو ا کر تی تھی جیسی اب عالم اسلام میں رائج ہو چکی ہے اور (دوسری بعض قومو ں میں نہیں ) اس کے باوجوود مہما نو ں کو کچھ مشروبات یا ما کو لا ت پیش کر نا مکر و ہ یا ممنو ع سمجھا جا تا تھا تو پھر یہ اجا زت دینا نظام جماعت کے اختیا ر میں ہی نہیں اور ایک مضبوط شرعی مانع ہما رے سامنے آجائے گا ۔ میر ے علم میں ایسی کو ئی شہا دت نہیں ملتی بلکہ رواج ہی مختلف تھا پس اگر اس بات کو محل نظر بنایا گیا کہ چونکہ اس زمانہ میں رخصتانے کی تقریب کا کو ئی رواج بھی نہیں تھا۔اس لئے اس کو غیر شرعی ٹھہرایا جائے تو بات یہیں نہیں ٹھہرے گی ۔بلکہ حجۃاللہ حضرت اقدس مسیح مو عو د ؑ اور آپ کے صحابہ ؓ کے مؤقف کو بھی نعوذ با للہ غیر شرعی قرار دینا پڑے گا پس جب تک شریعت کے معاملا ت پر گہر ی نظر نہ ہو تو بلا وجہ شرعی دلا ئل تلا ش کر نا اور یہ نہ سوچنا کہ اس کے کیسے کیسے خطر نا ک نتائج نکل سکتے ہیں ۔ ایک محفوظ انداز فکر نہیں ۔آنحضرتﷺکے زمانہ میںتو غرباء اپنی توفیق کے مطابق خدمت کر تے تھے۔اور انہیں کوئی احساس کمتری نہ تھا ۔یہ کس نے کہا کہ غریب آدمی امیر و ں کی برابری کرتے ہو ئے ویسی ہی مہماندار ی کر ے ۔ غریبوں کی ہزاروں شادیاں ایسی ہو تی ہیں جن کے متعلق امیروں کو ہوا بھی نہیں لگتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔اور یہ لوگ کن مشکلات میں مبتلا ہیں ۔اس لیے یا تو رخصتانہ کے رواج کو ہی کلیۃََ ختم کر دیا جائے ورنہ اکرام ضیف کو اسلامی معاشرے میں جو ایک مستقل شرعی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کو تکلفات اور دکھاوے سے پاک رکھنا ہما را کا م ہے ۔ کا لعدم کر دینا ہما را کا م نہیں ۔پھر یہ کیو ں نہیں سوچتے کہ امیر لوگ اپنی بچیو ں کو اسی طرح دو جوڑے دیں ۔ اور معمولی جہیز جس طرح غر یب دیتے ہیں ۔اسی طرح کی سوچوں سے تو پھر دلیل بہت لمبی ہو تی چلی جائے گی ۔اسلا م صرف عجزو انکسار اور فروتنی ہی نہیں سکھاتا بلکہ استغناء ، قنا عت اور صبرو رضا بھی عطا فرما تا ہے بہر حا ل اس قسم کی سوچیں بھی جماعت میں ہیں ۔ ان کو سننا اور غور کر نا ہمارا فرض ہے ۔لیکن ساتھ ہی ان کی غلط فہمیوں کی نشاندہی کرنا بھی ضرور ہے ۔بہر حال کمیٹی غوروفکر کے بعد جس نتیجہ پر پہنچتی ہے اس سے مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے ۔بعینہ یہی میرا منشاء تھا جو میں آپ سے سننا چاہتا تھا کمیٹی کی سار ی سفارشات ہی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تعجب ہے کہ ان میں مذکو ر دوسر ی باتوں سے تو صرف ِنظر ہو رہا ہے ۔ اوردیکھنے والو ں کو صرف کھانا نظر آرہا ہے۔کمیٹی کی سفارشات میرے اس تبصرہ کے تابع اور اس کی حدود میں منظور ہیں ۔ ان پر عمل در آمد کے سلسلہ میں باقاعدہ ایک مہم چلا نی چاہئے ، بہتر ہو کہ شادی بیا ہ سے کچھ عرصہ پہلے ان مختصر سی نصائح کو چھپوا کر رشتہ شادی میں منسلک ہونے والے خاندانو ں کو بھجوا دیا جا ئے ۔
    جزاکم اللہ احسن الجزا ء
    اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور قدم قدم پر رہنمائی اور نصر ت فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ آ پ کو اسلام کے اعلیٰ اخلاق کی سچی روح کی حفاظت اور بقا ء کے لئے مقبول خدمت کی توفیق بخشے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفۃالمسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:ـانسانی اعضاء کی پیوندکاری اور خون دینا۔
    رجسٹرنمبر1فیصلہ نمبر55۔فیصلہ مجلس افتاء مؤرخہ9-6-83 جسے حضر ت خلیفتہ المسیح الرابع ؒنے 22-6-83کو منظو ر فر ما یا۔
    مسئلہ : علاج کے سلسلہ میں انسانی اعضاء کی پیو ند کاری یا مریض کو انسانی خون دینے کے بارے میںشر عی پوزیشن کیا ہے؟
    فیصلہ: 1پیوند کاری کا عمل بصو ر ت علاج جائز ہے ۔
    2 اس عمل کے لئے اعضاء کا لینا اور دینا جائزہے۔
    3 اعضاء کے دینے کی وصیت کرنا ایک کار ثوا ب اور صد قہ جاریہ ہے ۔
    4 اس طرح کے عمل کے لیے انسان کے مردہ جسم کے کسی عضو کے کاٹنے سے مردہ کے جسم کی تذلیل نہیں ہوتی۔
    5 پیوند کاری میں بعض امور کی احتیاط ضروری ہے ۔اور ان امور کی سب کمیٹی کی رپور ٹ میں نشان دہی کی گئی ہے مثلا یہ کہ موت کب واقع ہوئی ہے۔موت کے پہلے اور بعداعضاء کس طرح دوسرے کے فائدہ کے لئے دیئے جا سکتے ہیں یا مثلا موت اس وقت واقع ہوتی ہے جب دماغ کی کار کردگی معطل ہو جائے ۔اسی طرح اعضاء کی قطع وبرید اس کے سائنسی ثبوت کے بعد ہی کی جا سکتی ہے ۔اور اس میںتقوی کو مّد نظر رکھنا ضروری ہے ۔
    6 زندگی میں وہی عضو ایثا ر کے طور پر دیئے جا سکتے ہیں جن کے بغیر دینے والے کی تندرست زندگی کا امکان غالب ہو ۔
    ارشاد حضور : حضور نے فرمایا۔
    ’’ منظور ہے ۔‘‘
    دستخط و مہر خلیفتہ المسیح الرابع
    22.6.83
    مہر سیکریٹری مجلس افتاء
    صدر مجلس افتاء۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :ـخطبہ جمعہ کی بجائے کیسٹ سنانا۔
    رجسٹر نمبر 1 فیصلہ نمبر 56
    مسئلہ: حضرت خلیفۃ المسیح ؒ کے خطبہ کے کیسٹ دوسری جگہوںمیں خطبہ کے دوران سنانا جا ئز ھے یا نہیں ؟
    فیصلہ: ۱۔کیسٹ خطبہ جمعہ کا بدل نہیںہو سکتا۔خطبہ خطیب کی زبان سے پڑھا جانا لازم ھے۔
    ۲۔مجلس ھذا کے نزدیک ایسی کیسٹ سنانے کی بہترین صورت یہ ھے کہ امام مختصر خطبہ دے اور پھر نماز جمعہ کے بعد کیسٹ سنانے کا انتظام کیا جائے۔خطبہ جمعہ سے پہلے کیسٹ نہ سنایا جائے کیونکہ اس وقت سنتیں بھی پڑ ھنی ہوتی ہیں ۔
    ارشادحضور: ’’ٹھیک ہے لیکن پہلے نہ سنانے کی پابندی درست نہیں ۔جب خطبات سے پہلے بکثرت اعلانات ہو سکتے ہیںتو خطبہ کیوں نہیں سنایا جا سکتااور پہلے کی طرح کیا بعد میں سنتیں ادانہیں ہوتیں۔اگر وقت مقرر ہو تو سنتیں پڑھنے والے اسکے مطابق سنتیں پڑ ھیں گے۔‘‘
    دستخط ومہرحضرت خلیفتہ المسیح الربع
    22.06.1983
    مہرسکیر ٹری مجلس افتاء۔مہر صدر مجلس افتاء۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹرنمبر2 کا صفحہ نمبر 36 حوالہ نمبر 18-11-92/31
    مکرم امیر صا حب )سر کلر(
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکا تہ،
    خود کشی کرنے والے کے بارے میں اب تک جماعت میں یہ رجحان رہا ہے کہ اس کی نماز جنا زہ ہر گز ادا نہیں ہو گی لیکن اس بارہ میں دار الا فتا ء سے حاصل ہونے والی ایک رپو رٹ میں بزرگان سلف کے فتا و یٰ پڑھ کر میں سمجھتا ہوںکہ سابقہ رجحان کلیۃً درست نہیں ۔ اس میں ہر گز کوئی شک نہیں کہ یہ ایک حرام موت ہے اور ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی قاتل ہو ۔اسلئے جرم کا بھیا نک ہونا اپنی جگہ لیکن یہ بات کہ اس کا جنا زہ شر عا حرام ہے درست نہیں اس لیے خدا نخو ستہ کوئی احمدی اس جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اسکی نماز جنازہ کے لئے تمام حالات لکھ کر مرکز سے باقاعدہ اجازت حاصل کر لیا کریں پھر بے شک احمدی اس کا جنازہ پڑھیں اسمیں کوئی حرج نہیں ۔حضرت ملک سیف الرحمان صاحب مرحوم مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا فتویٰ مصدرہ 24-6-75 بھی یہی ہے کہ
    ’’ عام اصول یہی ہے کہ جو شخص خود کشی کرے اسکی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے ۔تا ہم ۔۔۔یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس میں حالات کے لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔حالا ت کے لحاظ سے خلیفہ وقت نماز جنازہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا حکم دے سکتے ہیں ۔۔۔‘‘
    و السلام
    نوٹ: مندرجہ بالا مضمون مقالہ ہذا کے صفحہ نمبر۲۲۴ خاکسار
    پر بھی موجود ہے۔مقالہ نگار دستخط
    خلیفۃ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: ایک احمدی لڑکی جس نے ایک ہندو سے شادی کی اس کی وفات پرچنداحمدی جنازہ پڑھ لیں۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹرنمبر2 کا صفحہ نمبر36 حوالہ نمبر 32/12-12-92
    مکرم صد ر صا حب جما عت احمدیہ۔ میامی امریکہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ،
    آپ کا خط مرسلہ 12-11-92بذریعہ فیکس حضرت خلیفۃ المسیح الربع ایدہ اللہ تعا لیٰ بنصر ہ العز یز کی خدمت میں پیش ہوا جس میں آپ نے عفت صا حبہ بنت ڈاکٹر مہتہ صاحبہ کی وفات کی اطلاع کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ انہوں نے ایک ہندو سے شادی کی تھی اور وفات تک اسی حالت میں رہیں نیز آ پ نے انکی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بارہ میں استفسا ر فرمایا ہے ۔
    حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ ’’ جہاں تک اس کا ہندو سے شادی کرنے کا تعلق ہے اس نے اسلام کی واضح نا فرمانی کی ہے لیکن اسلام سے عقید ۃ ًانحراف اور بت پرستی کا قطعی ثبوت نہ ہو تو اسے ایک فاسقانہ زندگی تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے ارتداد نہیں کہہ سکتے ۔ ایسی صورت میں چاہے وہ کیسی بھی مسلمان ہو اس کا جنازہ پڑھا جانا اس کا حق ہے لیکن ایسے مو قعو ں پر فرض کی ادئیگی کی حد تک کاروائی ہو نی چاہئے اور ایسی طر ز نہیں ہونی چاہئے کہ تعلیم اسلام سے اسکا باغیانہ طرز عمل Condme ہو ۔ پس چند احمدیو ں کو جو اسکی نماز جنازہ مقرر کر دیں لیکن ایک ادئیگی فرض کے طور پر ایسے جنازے پڑھے جائیں ۔
    مرحومہ کی بہن وغیرہ سے دلی ہمدردی کا اظہا رکریں کیونکہ فوت ہونے والی خود ہمدردی کے لائق تھی۔میری طرف سے بھی ان سے اظہار ہمدردی کر دیں ۔جزاکم اللہ ۔انکے حالات زندگی بہت درد ناک ہیں اور انکی اس غلطی میں وہ درد ناک حالات جن کا ذکر یہاں مناسب نہیں بہت حد تک ذمہ دار ہیں۔ اللہ مغفرت فرمائے۔
    والسلام
    خا کسار
    دستخط
    ہادی علی صا حب
    ایڈیشنل وکیل ا لتبشیر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان:ـ عورت کی گواہی قبول ہے
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 کا صفحہ نمبر 37 حوالہ نمبر 34/25-1-93
    پیا رے محمد احمد صاحب جلیل
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ،
    عورت کی شہادت سے متعلق حوالہ جات آپکی طرف سے موصول ہوئے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
    میرے نزدیک تو جس مسئلے پر قرآن و حدیث کا کوئی حوالہ نہیں اس میں لوگوں کے اقوا ل کی کو ئی اہمیت نہیں ۔خدا تعالیٰ نے عورت اور مرد کو جو حقوق دئیے ہیں وہ قرآن کریم میں کھول کر بیان فرما دئیے ہیں ۔اس میں کہاں ذکر ہے کہ عور ت کی گواہی قبول نہیںہوگی یا فلاں فلاں امور میں قبول نہیں ہو گی کہاں کوئی ایسی حدیث ہے جس میں ذکر ہو کہ آنحضرت ﷺ نے عورت کی گوا ئی کو قبو ل نہیں کیا ۔اس کے بر عکس بعض روایات آپکو ایسی ضرور ملیں گی جن میں عورت کی شہادت قبول فرمانے کا ذکر ہے۔باقی ظاہر بات ہے کہ اگر مرد گواہ میّسر ہو تو اسلامی معا شرے کا تقا ضا یہ ہے کہ عو رت کو بلا وجہ مکلف نہ کیا جائے لیکن اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ عو رت کی گواہی قابل قبول ہی نہیں ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخظ
    خلیفتہ المسیح الربع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان:جبری اسقاط کرانے پر جرمانہ کی سزا پر مجلس کی رپورٹ۔ ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 38 حوالہ نمبر 38/17-5-93
    مکرم سیکر ٹری صاحب مجلس افتاء ۔ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ جبری اسقا ط کرا نے پر جرمانہ کی سزا کے مسئلہ پر سب کمیٹی کی رپو رٹ مجلس افتاء کی سفارش کیساتھ زیرنمبر 283-L/26-4-93آ پ نے بھجوائی ہے لیکن یہ سفارش با لکل نا قابل قبول ہے مجھے حیرت ہے کہ مجلس نے اس صو رت حال کا تجز یہ کیوں نہیں کیا مجلس اس مسئلہ پر حسب ذیل امور کی روشنی میں از سر نو غور کرے کوئی شخص کسی اور کا بچہ گرانے کا مو جب بنے اور اگر حرجانہ پڑے تو ولی مستحق ہو تا ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنا بچہ گراتا ہے تو وہ خود اس کا ولی ہے ۔خاوند اور بیوی کی مثال پر آپ نے ان احا دیث کو کس طرح ان پر چسپاں کر لیا ؟دیت تو ولی کے حق میں ہو تی ہے ۔اس میں قطعاًشک نہیں کہ حضرت اقدس مسیح مو عود علیہ الصلو ۃ و السلام کا جو حوالہ آپ نے پیش کیا ہے اسمیں فیملی پلا ننگ کے خلاف فتو یٰ ملتا ہے لیکن مضمون بھی اپنی ذات میں بڑی وسیع نظر سے دیکھنے کے لائق ہے ۔ کچھ وجو ہات بہر حال ایسی ہیں جو فیملی پلاننگ کا شرعی جواز پیدا کرتی ہیں ۔ سوا ل یہ ہے کہ یہ فیصلہ خاوند کرے گا یا بیوی کرے گی مزید براں اگر کوئی فیملی پلاننگ کرتا ہے اور وضع حمل کے بعد بچہ گراتا ہے تو خواہ اس نے بیوی کی مرضی سے ایسا کیا ہو وہ اس جرم کا سزا وار ہے۔ کیا اس کو دنیا میں کوئی سزا دی جائی گی یا اس کا معاملہ خدا کے سپرد کیا جائے گا ۔ اگر دنیا میں سزا دی جائے گی تو یہ ایک فوجداری نوعیت کا جرم بنتا ہے جسکی سزا ملکی قوانین کے تابع عدا لتیں دے سکتی ہیں ۔شرعی طور پر ایسی سزا کی کوئی سند ہے تو بتائیں کہ خاوند اور بیوی نے مشترکہ فیصلہ سے وضع حمل کرایا ہو اور ان پر کوئی شرعی سزا اس دنیا میں لاگو ہوئی ہو ۔
    اس نہج پر غور کرتے ہوئے آخر پر یہ سوال اٹھے گا کہ اگر بیوی خاوند سے اتفاق نہ کرے اور خاوند مجبو ر کرے وضع حمل پر تو فیصلے پر کس کا حق فائق ہے اور اگر فیصلے پر کسی کا بھی حق نہ ہو تو مشکل یہ بنے گی کہ ہونے والے بچے کے ولی نے ایک اخلاقی جرم کیا ہے اور یہ جرم اسنے دراصل اپنے خلاف یا خدا کے خلاف کیا ہے ۔ایسی صورت میں بیوی کو فریق ثا نی بنا کر جرمانہ ادا کرنے کا مسئلہ کہاں سے نکالا گیا ہے۔مجھے تو قطعا ًــاس بات کی سمجھ نہیں آئی ۔
    ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ دیت موجودہ حالات میں کیا ہو گی آپ نے جو دیت کا مسئلہ اٹھایا ہے وہ قتل ناحق کی َََِِِِِِِِِِِِِِدیت ہے لیکن مذ کورہ بالا صورت حال پر اس کا کس حد تک اطلاق ہوتا ہے اور کیسے ہو گا ۔یہ طے ہو نے والا مسئلہ ہے اور یہ بھی طے ہونے والا مسئلہ ہے کہ ان احادیث کی روشنی میں فی زمانہ دیت کس طرح طے ہوا کرے گی ۔ کیا مو جودہ زمانہ میں اتنے اونٹوں یا اتنی بھیڑ بکریوں کی قیمت ہر قاضی الگ الگ طے کرے گا جتنے اونٹوں یا بھیڑ بکریوں کی قیمت ہر قا ضی الگ الگ طے کرے گا جتنے اونٹوں یا بھیڑ بکریوں کا ذکر روایات میں ملتا ہے ۔یا اس بارہ میں کوئی الگ رہنما اصول بنانا ہو گا ۔پھر یہ بھی دیکھنا ہو گاکہ اس زمانہ میں بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کی قیمت اور موجودہ زمانہ میں ان کی قیمتوں کے تناسب میں کوئی نمایا ں فرق تو نہیں پڑ چکا ۔مثلاً ایک معا شرہ جو بھیر بکریوں اور اونٹو ں پر پل رہا ہے اور بہت قدیم کا معاشرہ ہے وہاں بھیڑ بکریاں وغیرہ بہت سستی بھی ہو سکتی ہیں بہ نسبت آجکل کے ما حو ل کے جب کہ ان جانوروں کے فقدان کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔پس قیمتوں کے تناسب بھی بدل سکتے ہیں ۔
    پھر قیمتوں کے اعتبار سے ہی نہیں جگہوں کے تفا وت سے بھی فرق پڑ جاتا ہے ۔دیکھنا یہ ہو گا کہ راجپو تانہ کی بکریوں کی قیمت ہو یا ملکانہ یا دوسرے علاقوںکی قیمت۔قیمتوں کے ذکر میں ایک یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جن حدیثو ں کا آپ نے حوالہ دیا ہے ان سے لگتا ہے کہ اتنے اونٹ یا بھیڑ بکریاں دینا اس زمانہ میں با لعموم لوگوں کی حیثیت کی بات تھی لیکن قضاء کے سامنے جو جھگڑے آئیں گے ان میں اکثریت تو ایسے غریبوں کی ہو گی جو اتنی بھیڑ بکریوںیا اونٹوں کی قیمت ادا کر ہی نہیںسکتے۔اگر اکثریت نہیں تو بے شک دس بیس فی صد ہی ایسے لوگ سمجھ لیں ان کے لئے اس صو ر ت میں آپکی تجویز کیا ہے ۔کیونکہ اسکی عملی شکل تو یہ بنے گی کہ ایک شخص نے جبراًاسقاط کرا دیا اور وہ آدمی معمو لی کلرک ہے اتنے اونٹ یا بکریاںدینے کی تو اسکی استطاعت ہی نہیں جتنے آپ بیان کر رہے ہیں ۔پس یہ مسئلہ جو آپ چھیڑ بیٹھے ہیں یہ اتنا سیدھا سادھا نہیںجتنا آپ نے سمجھ لیا ہے ۔اگر اس کو اسی طرح قبول کر لیا جائے تو ہر وہ گھر جہاںبیوی طلاق لینے کی نیت کر لے اور اس سے پہلے اس قسم کا الزام لگا کر چلی جائے تو ایسے جھگڑوں کو اس کی روشنی میں آپ کیسے نبیڑیں گے۔
    قرآن کریم نے تو ہر جگہ متبادل سزا کا اصول بیان فرمایا ہے اور کفارے کے طور پر روزوں وغیرہ کی قسم کی متبادل سزائوںکا بھی ذکر فرمایا ہے ۔اس مسئلہ میں اسلام کیا متبادل سزا تجویز کرتا ہے اور اگر ایسی کوئی متبادل سزا ہے مثلاًوہ سزا روزے ہوںتو اس کا ثوا ب بیوی کو پہنچے گا یا اس کے لئے صرف یہ باعث تسکین ہو گا کہ خاوند روزے رکھ رہا ہے یہ سارے امور ہیں اور اتنا الجھا ہوا مسئلہ ہے لیکن آپ نے اس کااتناآسان جواب دے دیا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے یہ کیا جواب دے دیا ہے ۔ان امور کی روشنی کی میں اس مسئلہ پراز سر نو غور کرکے ا ور اس مسئلہ کی گہرائی میں اتر کر مکمل جائزہ لے کر معین سفا رشات کریں ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    نوٹ:تفصیل کے لئے صفحہ نمبر۳۷۵ملاحظہ فرمائیں۔
    مقالہ نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان : نماز تراویح ۔ اور ترا ویح میں قران کھول کر پڑھنا کی رپورٹ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 39 حوالہ نمبر 39/19-5-93
    رجسٹر نمبر 3 صفحہ نمبر 22 حوالہ نمبر 7/19-5-93
    پیارے مکرم سیکرٹری صاحب مجلس افتاء ۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
    آپ کی مرسلہ رپورٹ 279-L/ 24-2-93بابت مسائل ۔ نماز تراویح سنت ہے یا نہیں اور نماز میں قر آن کھول کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں ۔موصول ہوئی ِ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء
    پہلی بات تو یہ ہے کہ صفحہ نمبر2 اور نمبر3پر درج حدیث میں لفظ جوف اللیل کاجو ترجمہ کیا گیا ہے وہ غلط ہے ۔دوسرے تہجد کے وقت جو چند دن اصحابہ ؓ آنحضرت ﷺکے ساتھ ملکر پڑھتے رہے ہیں ۔اس سے سنت سے لیکر اگر عشاء کے بعد بھی یہ نوافل پڑھ لئے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
    جہاں تک قاری یا سامع کا نماز کے دوران قرآن کریم سے دیکھ کر پڑھنے اور سامع کا پڑھ کے لقمہ دینے کا مسئلہ ہے۔میرے نزدیک تو امام ابو حنیفہ ؒ کا مو قف ہی درست ہے یہ جو مثا لیںدی گئی ہیں کہ مثلاً حضرت عا ئشہؓ کے غلام ذ کوان قرآن کریم سے پڑھ کر ان کی امامت کرواتے تھے یہ حدیث نہیں بلکہ اثر ہے اور ایسا اثر نہیں جس کی اجازت حضرت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو۔ ایسے اہم دینی معاملات میں اثر کی وہ حیثیت نہیں جو حدیث کی ہے ۔
    نوٹ:مقالہ ہذا کاصفحہ نمبر۳۲۷ اورصفحہ نمبر۷۵۔۲۷۴ والسلام
    بھی ملاحظہ فرما لیں۔ مقالہ نگار خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:نماز تراویح میں قرآن کھول کر پڑھنا۔
    رجسٹرنمبر 2 صفحہ نمبر 63 حوالہ نمبر 77/13-1-98
    سیّدنا وامامنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکا تہ
    فقہ احمدیہ میں نما ز تراویح میں قرآن کریم کھول کر تلاوت کرنے یا مقتدی کے قرآن سے دیکھ کر لقمہ دینے سے متعلق فقہ احمدیہ میں درج آثا رِ صحابہ کے متعلق حضور انور اید ہ اللہ کا درج ذیل ارشا د موصول ہوا ۔
    ’’ فقہ احمدیہ کا یہ صفحہ ربوہ بجھو ا دیں کہ یہ روایا ت قا بل قبول کیسے ہو گئیں یہ تو ساری لغوباتیں ہیں اس زمانہ میں تو قرا ٓن اس شکل میں مو جو د ہی نہیں تھا جس میں آج ہما رے سامنے ہے ۔اس وقت تو پتھرو ں ، کھالو ں اور درختوں کے پتوں اور چھا لوں پر لکھا ہو تا تھا ۔ غلطی پرکیا لقمہ دینے کیلئے وہ پتھر اور کھالیں وغیرہ مسجد میں رکھتے تھے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جو کسی صورت بھی قبول نہیں کی جا سکتیں۔ ہما ری فقہ میں جو ایسی اوٹ پٹا نگ باتیں راہ پا چکی ہیں ان کا از سر نو جا ئزہ لینا ضروری ہے ۔‘‘ (فیکس از لندن مؤرخہ 6-1-98 )
    حضور انور کا ارشاد بجا ہے ۔ حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا بھی یہی مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ قبل ازیں بھی جب یہ معاملہ مجلس افتاء میں زیر غور آیا تو مجلس افتاء کی رپورٹ پر حضور انور یہ فیصلہ فرما چکے ہیں ۔
    ’’جہاں تک قاری یا سامع کا نماز کے دوران قرآن کریم سے دیکھ کر پڑھنے اور سامع کا پڑھ کے لقمہ دینے کا مسئلہ ہے۔میرے نزدیک تو امام ابو حنیفہ ؒ کا مو قف ہی درست ہے (یعنی ایسا کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔(ناقل) یہ جو مثا لیںدی گئی ہیں کہ مثلاً حضرت عا ئشہؓ کے غلام ذ کوان قرآن کریم سے پڑھ کر ان کی امامت کرواتے تھے یہ حدیث نہیں بلکہ اثر ہے اور ایسا اثر نہیں جس کی اجازت حضرت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو۔ ایسے اہم دینی معاملات میں اثر کی وہ حیثیت نہیں جو حدیث کی ہے۔‘‘
    (مکتوب حضور انور بنام سیکر ٹری صاحب مجلس افتا ء مؤرخہ 11-5-93 )
    اس فیصلہ کے مطا بق فقہ احمدیہ میں یہ ترا میم پہلے ہی طے ہو چکی ہے ۔ انشا ء اللہ فقہ احمدیہ کی اشا عت نو میں اس کی اصلاح کر دی جائے گی ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط قائم مقام سیکر ٹری مجلس افتاء
    ارشاد حضور انور اید ہ اللہ بنصرہ العزیز۔
    فرمایا ’’اس کا تو مجھے پتہ ہے لیکن میں نے جن روایات کا ذکر کیا تھا انکی حقیقت پر آپ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ فقہ احمدیہ میںدرج ساری روایات نا قا بل فہم ہیں ۔ دوسرے وہاں تو اس وقت تعلیم آج کی طرح عام تھی بھی نہیں ۔ ان روایا ت پر تبصرہ کریں ۔‘‘
    دستخط پرا ئیو یٹ سیکرٹری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجسٹرنمبر 2 صفحہ نمبر 64 حوالہ نمبر 78/8-1-98

    ’’از فقہ احمدیہ حنفیہ صفحہ نمبر 209 ‘‘
    عنوان:
    سوال :اگر کسی مقام پر حافظ قرآن میسر نہ آئے تو کیا نماز تراویح میں امام کا قرآن مجید ہا تھ میں پکڑ کر دیکھ دیکھ کر تلاوت کرنا اور اس طرح نماز پڑھانا درست ہے ؟
    جواب:
    ترا ویح میں قرآن کریم سے دیکھ کر تلا وت کرنا یا کسی مقتدی کا قرآن دیکھ کر امام کے بولنے پر لقمہ دینا عام حالات میں مناسب نہیں اس سے قرآن کریم حفظ کرنے کا شوق کم ہو گا ۔
    امام ابوحنیفہ کے نزدیک تو ایسا کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔ہاں اگر مجبوری ہے اورحالات کا تقاضہ ہے کہ تراویح کی سنت کا احیا ء کیا جائے تواس شاذ صورت میںاس کی اجازت مرکز سے لی جا سکتی ہے ۔چنانچہ ایسے ہی حالات کے پیش نظرسابقہ آئمہ میںسے مندرجہ ذیل نے اس طریق کے اختیار کرنے کی اجازت دی ہے ۔
    امام مالکؒ،امام شافعی ؒ اور امام احمدؒ۔
    بعض آثار میں آتا ہے کہ حضرت عثمانؓ جب نفل پڑھتے تواپنے پاس ایک آدمی کو بٹھا لیتے جب پڑھتے پڑھتے بھول جاتے تو وہ آدمی آپ کو صحیح آیت بتلا دیتا ۔ اسی طرح حضرت انس ؓ نوافل پڑھتے ہوئے اپنے غلام کو قرآن کریم دے کر اپنے پہلو میں بٹھا لیتے جب بھولتے تو وہ غلام آپکو بتاتا جاتا ۔
    اسی طرح حضرت عائشہ ؓ کے غلا م زکوان قرآن کریم سامنے رکھ کر نفل نماز پڑھاتے اور حضرت عا ئشہ ؓ مقتدی ہو تیں ۔
    پس مجبو ری کے حالات میں قرآن سے دیکھ کر نفل نماز میں قر ات جائز ہے اسی طرح قرآن کریم کے ورق الٹنا اور اس کیلئے ہاتھ سینہ سے ہٹا نا بھی جائز ہے ۔
    ارشاد حضور ایدہ اللہ تعا لیٰ بنصرہ العزیز :
    ’’ فقہ احمدیہ کا یہ صفحہ ربوہ بجھو ا دیں کہ یہ روایا ت قا بل قبول کیسے ہو گئیں یہ تو ساری لغوباتیں ہیں اس زمانہ میں تو قرا ٓن اس شکل میں مو جو د ہی نہیں تھا جس میں آج ہما رے سامنے ہے ۔اس وقت تو پتھرو ں ، کھالو ں اور درختوں کے پتوں اور چھا لوں پر لکھا ہو تا تھا ۔ غلطی پرکیا لقمہ دینے کیلئے وہ پتھر اور کھالیں وغیرہ مسجد میں رکھتے تھے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جو کسی صورت بھی قبول نہیں کی جا سکتیں۔ ہما ری فقہ میں جو ایسی اوٹ پٹا نگ باتیں راہ پا چکی ہیں ان کا از سر نو جا ئزہ لینا ضروری ہے ۔‘‘
    دستخط
    پرائیویٹ سیکر ٹری
    نوٹ:مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۳۲۷ اور۲۷۳ تا ۲۷۷ بھی ملاحظہ فرما لیں۔
    مقالہ نگار۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: بینک سے ملنے والا INTREST(سود)انسان از خود خرچ نہیں کر سکتا۔
    ارشاد حضور ایدہ اللہ تعا لیٰ بنصرہ العزیز :
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 45 حوالہ نمبر47/ 8-12-93
    مکرم نائب ناظر صاحب نشر و ا شا عت ۔ قا دیان
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ
    مکرم سیکر ٹری صاحب تحریک جدید ۔۔۔۔۔نے بینک سے ملنے والے INTREST کوانفرادی طور پر ڈش انٹینا کے لئے بطور اشاعت خرچ کرنے کے سلسلہ میں جو استفسار کیا ہے اس پر آپ کی رپو رٹ ملی ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
    بینک سے ملنے والے INTREST کو اس طرح انفرادی طور پر خرچ کرنے کی اجا زت نہیں دی جا سکتی ۔ورنہ کسی کا نفس کو ئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس کے غلط استعما ل کرنے کا موجب بن سکتا ہے ۔ایسی رقم مرکز کو ادا کرنی چاہیے مرکز خود اسے اشا عت اسلام کے لئے استعمال کرے گا۔اگر کوئی ایسی رقم بطو ر چندہ اشاعت اسلام مرکز کو ادا نہیں کرنا چاہتا تو بے شک نہ کرے لیکن اس طرح انفرادی طور پر استعمال کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرا بع
    ََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:میاں بیوی کااپنے نطفے کسی اور عورت کے رحم میں رکھنا گنا ہ ہے ۔
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 46 حوالہ نمبر 49/6-6-94
    (بخد مت اقدس)
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکتہ
    ٍ
    ‏Brother ……inquired about the birth of my son …….. I would like to explain to you how this birth came about. My wife and I had been trying to have a child naturally for about four years, but were unsuccessful. We than sought medical help in 1987.We must still unsuccessful twice using a method technique known as invitro fertilization. It was then determined that my wife could not carry a child due to miscarrying. In 1989,again with the aid of medical technology and under the direction of a licensed physician, we used a surrogate mother. This method was successful and my son was born 9-18-90.
    ‏ If our method to conceive a child is not acceptable by Islam, I humbly seek forgiveness by Allah. If my desire to have a child has brought about embarrassment to the Ahmadiyya movement in Islam. I will certainly voluntarily relinquish my position as president of the…. Jamaat. I in no way want to defame Islam and particularly, our community.
    ‏ Brother……,I trust that you will keep this information in utmost confidence.
    ‏ I look forward to hearing from you soon.
    ‏ Your Brother in Islam.
    ‏ Name…………………..
    ارشاد حضور انور اید ہ اللہ تعا لیٰ بنصر ہ العزیزبابت مندرجہ بالا خط
    ’’اللہ معاف فرمائے او ر آ ئندہ غلطیوں سے بچائے ‘‘
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :(۱)عاق کرنے سے متعلق فتویٰ پر حضور انو ر کا ارشاد۔ ٍٍ
    (۲)طلاق دینے سے متعلق فتویٰ پر حضور انور کا ارشاد۔
    (۳)قضاء میں کیس چل رہا ہوتو فتویٰ نہ دیں (ارشاد حضور)
    (۴)تحریک جدید کا چندہ صدقہ و خیرات کے مترادف ہے پر حضور انور کا اظہار نارا ضگی نیز
    (۵)تجارت پر زکوٰۃ کی ادئیگی۔
    ارشاد حضور :
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 47 حوالہ نمبر 50/ 6-7-94
    مکرم صدر صاحب مجلس افتاء ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
    مکرم مفتی صاحب سلسلہ کی طرف سے لوگو ں کے استفسا ر پر جاری کئے گئے بعض فتا وٰی کی نقو ل مو صو ل ہوئی ہیں ان میں سے ترکہ کے متعلق فتویٰ پر تو میں الگ روشنی ڈالوں گا ۔اس خط میں ان کے بعض دوسرے فتا وٰی میرے پیش نظر ہیں ۔
    کسی کے استفسار پر کہ مرحومین کی طرف سے چندہ تحریک جدید یا وقف جدید کی ادئیگی مسا کین کی صدقہ و خیرات کے مترادف ہے یا نہیں ؟جو جواب دیا گیا ہے اس میں حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کے ارشا دکوبے محل استعمال کیا گیا ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون
    افتاء میں اس قسم کی کھینچا تانی مجھے ہر گز قبول نہیں ۔صدقہ و خیرات بالکل اور چیز ہے جبکہ حضرت مسیح مو عو د علیہ السلام کا جو ارشاد ہے وہ اس روپیہ سے متعلق ہے جو اس کی ملکیت ہی نہیں ۔ان دو با تو ں کا آپس میں کوئی جوڑ ہی نہیں ۔اس لئے اس فتویٰ کو درست کرائیں
    () ایک فتویٰ بچوں کو عاق کرنے کے متعلق استفتاء پر بھی دیا گیا ہے ۔یہ بحث پہلے بھی ایک دفعہ مجلس افتاء میں اٹھائی گئی تھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے فعل کے حوالہ سے یہ مسئلہ کھڑا ہوا ہے حالانکہ آپ کا فعل خاص الہٰی منشاء کے تابع تھا اس سے عمومی فتوٰی لیکر لو گو ں کو یہ کھلی چھٹی دے دینا جب کہ بد اخلاق اور دینی لحاظ سے کمزور والدین بھی بہانہ بنا کر یہ قدم اٹھا سکتے ہیں اس لئے اس مسئلہ کو بھی پوری صراحت کے ساتھ نکھر کر سامنے آنا چاہئے۔یہ بھی مجلس افتاء میں رکھیں ۔قرآن کریم تو کہتا ہے کہ ہم نے جو قوا نین بنائے ہیں ان میں کوئی تصرف کرتا ہے تو معاشرے کو حق ہے کہ اسکو ٹھیک کر دیں اس ضمن میں قرآن کریم کی وہ آیت ملا حظہ فرما لیں جس میں وصیت میں کسی غلط قدم کے اٹھائے جانے پر اس کی درستگی کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔
    (نوٹ مندرجہ بالا مضمون کی تفصیل کیلئے صفحہ۳۹۹ ملاحظہ فرمائیں۔مقالہ نگار)
    () سامان تجارت پر زکوٰۃ کے وجوب یا عدم وجو ب سے متعلق استفتاء پر فقہ احمدیہ سے جو عبارت پیش کی گئی ہے یہ تو بے حد خوف نا ک عبارت ہے ۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ عبارت کیسے منظور ہوئی تھی کہ ’’جتنا جتنا روپیہ جتنے جتنے ماہ تک تجارت میں لگایا جائے اتنے اتنے مہینوں میں ضرب دے کر تمام حا صل ضربو ں کو جمع کر لیا جائے۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔
    ایسے شخص کا دماغ تجارت کی طرف رہے گا یا حساب کی طرف ۔بڑی گنجلک کی عبا رت ہے اللہ رحم کرے۔حنفی مسلک با لکل صاف تھا ۔اس پر اکتفا ء کر لیتے تو کافی تھا کہ سال کے آخر پر مال تجا رت کی قیمت کا تخمینہ کیا جائے اور اگر نصاب زکوٰۃ پورا ہوتا ہو تو اس کے مطابق نقد زکوٰۃ ادا کی جائے ۔
    () طلاق کے مؤثر ہونے سے متعلق مسئلہ پر بھی غیر محتاط فتوٰی دیا گیا ہے ۔طلاق دینے والے نے جب بیوی کے ماموں کو طلاق نامہ بھیجا تو فتوٰی دیتے وقت اس سے کیو ں نہیں پو چھا گیا کہ تم نے طلاق نامہ بیوی کو کیوں نہیں بھیجا اس کے ماموں کو کیوں بھیجا ہے ؟بعض لوگ قضاء کو پریشان کرنے کے لئے افتاء سے فتوٰی لے لیتے ہیں۔ایسے قضائی جھگڑوں میں صاف کہنا چاہیے کہ قضا ء میں جائیں ۔ہم آپ کو فتوٰی نہیں دیں گے ہاں اگر قضاء نے رہنمائی چاہی تو اسے اصل مسئلہ بتا دیں گے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان:نرینہ اولاد کی عدم موجودگی میں تقسیم ترکہ ۔
    ارشاد حضور :
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 48 حوالہ نمبر 51/6-7-94
    پیا رے مکرم صدر صا حب مجلس افتاء
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکا تہ
    نرینہ اولاد نہ ہونے کہ صورت میں متوفی کے ترکہ میں بیوی اور بیٹیوں کی شراکت کے مسئلہ میں مکرم مفتی صاحب کی طرف سے ایک تو فتوٰی بنام ۔۔۔۔۔۔مجریہ 26-1-94 ملا ہے ۔دوسرے سب کمیٹی کی رپورٹ ہے جو مجلس افتاء کے 27-1-94 کے اجلاس میں پیش ہوئی ۔ اس میں مجلس افتاء میں ہونے والی کسی بحث کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ہے اور خامو شی سے سب کمیٹی کی ایک رپورٹ مجلس افتاء کے نام پر پیش کر دی گئی ہے اور پھر اس تحقیق میں بھی دوسر ے مسالک کے کوئی دلائل بیان نہیں کیے گئے جو عموماً پہلے دستور ہو ا کرتا تھا ۔میںبھی مجلس کا ممبر رہا ہوں پہلے تو یہی طریق ہوا کرتا تھا کہ دوسرے مسالک بھی زیر غور لائے جاتے تھے ۔ لیکن اس میں ان کی آراء کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اور یہ کہ کیا وہ سب بھی آپ کے اسی فتوٰی پر متفق ہیں یا نہیں اور ان کے مثبت یا منفی دلائل کیا کیا ہیں ۔
    اس ضمن میں میں نے مکرم ۔۔۔۔۔کے خط پر ہدایت بھی دی تھی کہ اسے پہلے افتاء میں رکھیں اور بلا وجہ اس بارہ میں فتوٰی جا ری نہ کریں لیکن مفتی صا حب نے مجلس افتاء کے اجلاس سے صرف ایک روز قبل مکرم ۔۔۔۔۔کو اس بارہ میں فتوٰی دے دیا ۔ اس سے جو نقصان پہنچے گا اس کا ذمہ دار کون ہو گا ۔کیونکہ میرے نزدیک اس فتوٰی کی رو سے بات یہ بنتی ہے کہ جسکا قرآن کریم میں بطور اصل وارث کے ذکر ہے اسے کم مل رہا ہے اور جسکا ذکر ہی نہیں اس کو زیاد ہ مل رہا ہے ۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعود ؓ کے ترجمہ سے جو استنباط کیا گیا ہے وہ تو میرے نزدیک اس آیت سے ہو ہی نہیں رہا ۔حضرت مصلح موعود ؓ نے ’’ولد‘‘ سے اولاد مراد لی ہے جبکہ آپکے استنباط کی رو سے اِخوہ بھی اس میں آ رہے ہیں ۔حالانکہ وہاں اِخوہ کا کوئی ذکر ہی نہیں ۔’’ فاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗ وِ لَدٌ ،، سے مراد تو بے اولاد ہونا ہے ــ۔بس اب سوال یہ نہیں کہ مکرم ۔۔۔۔۔کے مؤقف پر افتاء کی سب کمیٹی نے کیا رائے دی یا مفتی صاحب نے کیا فتوٰی دیا ۔ میرے لئے مشکل یہ پڑ گئی ہے کہ میری بھی بیٹیاں ہیں اور بیٹا کوئی نہیں ہے اسلئے میں قطعی طور پر قرآن کریم سے جو استنباط اب تک کر تا رہا ہوںاور جو ان آیا ت کا مفہوم سمجھتا ہوں اس پر اب میں مضبو طی سے آپ کے دلائل کو رد کرنے میں ہچکچا ہٹ محسوس کر رہا ہوں مبا دا میرے نفس کی ملونی بیچ میں شامل نہ ہو جائے لیکن میرے یہ استنباط ساری مجلس افتاء کے سامنے کھول کر رکھنا چاہیں۔قرآن کریم کی جو آیات ورثہ کے متعلق نازل ہو ئی ہیں ان میں کسی تضا د کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔آنکھیں بند کر کے بعد کے علماء کے پیچھے چلنا اور انکے بنائے ہوئے قوانین کو شرعی حیثیت دینا کئی قسم کے ایسے نتائج پر آپ کو پہنچا سکتا ہے جن کو عقل سلیم اس بنیاد پر رد کرتی ہے کہ قرآن کریم کی طر ف انہیں منسوب کرنا فطرت کے خلاف معلوم ہوتا ہے ۔اس سے پہلے میں آپ کے سامنے مثال دے چکا ہوں کہ ایک شخص کی بیٹیاں ہوں اور وہ زندگی بھر انکی دیکھ بھال کا نگران رہے انکی بیاہ شادیوں پر وہ جتنا چاہے خرچ کرے مگر کسی کو یہ حق نہیں کہ یہ کہے کہ چونکہ تمہارے مرنے کے بعد ورثہ میں ہمارا بھی حق ہو سکتا ہے اسلیے تم ان پر اتنا خرچ نہ کرو کہ ہمارے حق پر زد پڑے ۔جبکہ ان میں سے ہر ایک بچی یہ حق رکھتی ہے کہ کسی کو زیادہ دیا جائے تو اس پر وہ اپنے اعتراض کو ریکارڈ پرلائے اور قضاء کے ذریعہ اپنا حق حا صل کرے۔
    آپ کے استنباط کو قبول کرنے کی بنا ء پر تو یہ عجیب بات بھی پھر ممکن ہے کہ 3/2 میں اگر کسی کی 6یا 7 بیٹیاں شامل ہوں تو اسکی ایک بہن، بچیوں کے والدین کی وفات کے بعد اکیلی بقیہ 3/1 کی وارث بن جائیں لیکن اپنی اولاد جسکی نگہداشت خدا نے اس کے سپرد کی ہے وہ3/2 کے اند ر باہمی تقسیم پر مجبور ہو اس لئے جو نتائج اس قسم کے خود ساختہ قوانین کے نتیجہ میں ظاہر ہوں جو با لبداہت غلط دکھائی دیتے ہیں تو ان سے یہ نتیجہ تو نہیںنکل سکتا کہ نعو ذ با للہ کہ قرآن کریم کے مفہوم کو صحیح سمجھا نہیں گیا ۔ میں ان آیا ت سے جب تک مکرم۔۔۔۔۔صاحب کی طرف سے مجھے آپکے اس فتوٰی کا علم نہیں ہوا میں ان آیا ت سے ہمیشہ یہی مطلب سمجھتا رہا اور ان سے تعلق رکھنے والی دیگر آیات سے بھی یہی مطلب بنیادی طور پر مجھے سمجھ آیا کہ قرآن جب مرکزی قسم کے ورثاء کے لئے کوئی حد بندی مقرر فرماتا ہے تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ
    اول کسی صورت میں بھی ثانوی حیثیت کے ورثاء مرکزی حیثیت کے ورثاء سے زیادہ حصہ لے جائیں۔
    دوسرے میں یہ سمجھتا رہا کہ مرکزی حیثیت کے ورثاء جن کو آپ چاہے ذوی الفروض کہیں یا کوئی اور نام دیں جو بھی انکا نام ہو ان میں سے بعض کو اولیت حا صل ہے اس لئے ان کے حصے کی تعیین کم سے کم کے اصول پر کی گئی ہے نہ کہ زیا دہ سے زیادہ کے اصول پر جسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ مرکزی حیثیت کے ورثاء میں بھی اولیت اور ثانویت پائی جاتی ہے اور ثانوی حیثیت کے ورثا ء کے لئے ایک حصہ امکا ناً چھو ڑا گیا ہے ۔ اگر مو جو د ہوں تو ان کو ملے گا اگر نہ ہوں تو پہلوں کی طرف تمام تر یا اس کا بڑا حصہ لوٹ سکتا ہے ۔ پھر اس امکان کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے کہ مرنے والا اگر وصیت کے ذریعہ کسی کو کچھ دینا چاہے تو زیادہ سے زیا دہ اس حصہ میں سے دے ۔یہ مراد نہیں کہ اگر وہ وصیت کرے اور 3/1 کسی کو دے تو کل میں سے 3/1کسی کو دیا جائے گا اور پھر جو 3/2 بچ جائے گا ۔ا س میں سے 3/2 بچیوں کو ملے گا اور پھر اسکا 3/1آپکے اصول کے مطا بق ہو سکتا ہے کہ ایک سوتیلی بہن کو مل جائے جبکہ 6 یا 7 بیٹیاں 3/ 2 کے 3/2 میں محدود کر دی جائیں ۔ اس قسم کے جو عجیب و غریب نتائج نکل سکتے ہیں ان پر کھلے دل سے غور کرنا چاہیے اور پرانے محققین کے بنائے ہوئے اصولو ں کی پیروی جو قرآن کریم کی حکمتوں پر حرف رکھنے والی ہو مناسب نہیں ہے۔
    اسی طرح جیساکہ میں نے پہلے بیان کیا ہے دیگر فقہا کی وراثت سے متعلق آراء کو بھی دیکھنا چا ہیے اگر وہ ان سے مختلف ہوں تو وہ بھی کم سے کم تحقیق کے دائرہ میں ضرور شامل کر لینی چاہیں ۔ آپکی اس تحقیق سے تو لگتا ہے کہ اپنی تائید میں تو مواد جمع کر لیا گیا ہے لیکن اسکے بر عکس مواد پر غور نہیں کیا گیا اور یہ بھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف سطحی سی تحقیق کی گئی ہے اور مسئلہ کی گہرائی میں اترکر ٹھو س تحقیق نہیں کی گئی ۔ پس جو بحث فقہا ء میں نقطہ بہ نقطہ چلتی چلے گئی وہی قبول کر لی گئی ہے حالانکہ اس میںانسانی سوچ نے دخل دے کر سار ے مسئلے کو قر آن کریم کے منطوق کے بر عکس مفا ہیم میں ا لجھا رکھا ہے ضمناً یہ وضاحت بھی کر دیں کہ صفحہ نمبر 6 پر سوال نمبر 5کے تحت حضرت ابن عباس ؓ جو روایت آپ نے بیان کی ہے میرے نزدیک تو وہ اس سے متضاد ہے جو آپ نتیجہ نکال رہے ہیں ۔ اس سے آپ یہ استنباط کیسے کرتے ہیں کیونکہ وہاں تو بہنوں اور بھائیوں کو برابر ملنا تھا ۔نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر کسی کے سگے یا سو تیلے بھائی نہ ہوں تو کیا عم زاد کو ملے گا ؟بہرحال اب اس مسئلہ میں آخری فیصلہ میں خود نہیں کرو ں گا ۔کیونکہ میری اپنی حیثیت کی وجہ سے میر ے ہاتھ اس معاملہ میں بندھے ہوئے ہیں ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:اختلاف مذہب کوئی عمل نہیں دکھاتا۔
    ارشاد حضور :
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 50 حوالہ نمبر 32/24-8-94
    مکرم سیکرٹری صاحب تدوین فقہ کمیٹی ۔ربوہ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکتہ
    آپ کی طرف سے مبشر احمدصاحب کاہلو ں کا مضمون ملا۔ ما شا ء اللہ مضمون بہت عمدہ اور مسکت دلائل پر مشتمل ہے بعینہٖ یہی میرا مسلک ہے کہ ورا ثت میں محض اختلاف مہذب کوئی عمل نہیں دکھا تا ۔
    جز اھم اللہ تعا لیٰ احسن الجزاء۔لیکن احا دیث کی رو سے پرانے فقہا ء کے مسلک ،احادیث کی رو سے ہی مزید توڑنے اور نا کا رہ دکھانے کی ضرورت ہے بظا ہر انکی تائید میں جو احا دیث سے ان پر گہر ی تنقیدی نظر اور ایسی حدیثوں کی تلاش جو ابھی زیر نظر نہ آئی ہوں و اضح اور قرآ نی تعلیم کی تا ئید میں ہیں ۔
    ’’ لا یُقتَلُ مُسلِم بِکافِرِِ ‘‘ والی حدیث انہوں نے پیش کی ہے اس کے بر عکس حوالے کیوں پیش نہیں کرتے ۔کیا حدیثوں میں کہیں ایسا ذکر نہیںملتا کہ یہو دی مقتول ہو تو اس کے ور ثاء کو مسلما ن سے بدلہ لینے کا کو ئی حق ملتا تھا یا نہیں۔ دوسرے یہ بھی تو دیکھیں کہ اس قسم کی حدیثوں کی بنیاد قرآنِ کریم میں کہا ں ہے اس پہلو سے ان حدیثو ں کی چھان بین ضرو ری ہے ۔ورنہ حقیقت واضح نہیں ہو گی۔ صفحہ نمبر 11پر ابو دائود کے حوالہ سے
    ’’ لا یَتَوَارَ ثُ اھلَ مِلَّتَینِ شتیّٰ ‘‘ کے الفا ظ میں جو حدیث پیش کی گئی ہے یہ بھی محلِ نظر ہے۔ سا بقہ فتو یٰ کی تغلیط کے لئے یہ کا فی ہے کہ اس کی رو سے تو مسلما ن بھی ہر گز کا فر کا وارث نہیں ہو سکتا ۔ اس ضمن میں انہوں نے فقہا ء اربعہ کے جو مسالک پیش کئے ہیں انکی بنیا د کیا ہے ۔ کیا قرآن کریم سے کوئی تا ئید ہوتی ہے یا نہیں۔ ان پہلؤوں سے ابھی مزید غور کی ضرو رت ہے ۔
    و السلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرا بع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنوان :خلع کے مسئلہ پر ایک اعتر ض۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 50 حوالہ نمبر 53/ 24-8-94

    مکرم سیکر ٹری صاحب مجلس افتاء ۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
    مسئلہ خلع سے متعلق فقہ احمدیہ کی دفعہ نمبر 35پر مکرم ۔۔۔۔۔۔صاحب کے اعتراض کا افتاء کی سب کمیٹی کی رپو رٹ آ پکی طرف سے ملی ۔ جز اکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء ۔
    میرا رجحان بھی اسی طرف ہے لیکن یہ معا ملہ چونکہ ابھی افتاء میں زیر غور تھا اس لئے میں نے ا س پر کوئی رائے دینی مناسب نہیں سمجھی اب سب کمیٹی کی رپو رٹ ملی ہے تو اپنے مؤقف کا اظہار کر رہا ہوں کہ سب کمیٹی کی رپورٹ سے مجھے مکمل اتفاق ہے ۔ مکرم ۔۔۔۔۔صاحب (صدر قضاء بورڈ ) جو کہ اس سب کمیٹی کے ایک ممبر ہیں انھیں بھی میرا خط پڑھا دیں کہ وہ اپنے ان قا ضیوںکو پکڑیں جو اپنی مرضی سے نئی فقہ مرتب کر نے میں مشغول ہیں اور عورت کے اس واضح حق کے باوجود ایسے فیصلے کرتے ہیں جن میں عورتو ں کو زبر دستی خاوندوں سے صلح پر مجبور کیا جاتا ہے قضا ء کے ایسے فیصلو ں کے خلاف عورتو ں کی طرف سے مجھے بار بار شکایتیں ملتی ہیں تو حیرت ہو تی ہے کہ اس شرعی حق کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ فیصلے اس کے خلاف ہوتے ہیں اور اسے اپنی مرضی کے خلاف زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: نماز جمعہ نصف النہار سے قبل پڑ ھنا ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 51 حوالہ نمبر 54/ 27-10-94
    مکرم محترم مفتی صاحب سلسلہ عا لیہ احمدیہ ۔ ربوہ
    (بذ ریعہ تبشیر لندن ) السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکا تہ
    نماز جمعہ نصف النہا ر سے قبل پڑھنے کے بارہ میں آپ کا فتوٰی موصول ہو گیا تھا ۔ آپ کا خط خا کسار نے حضور انور کوپیش کر دیا تھا ۔اس پر حضور نے فرمایا تھا کہ ان دلائل سے تو تسلی نہیں ہو تی اور جہاں یہ ذکر ہے کہ صحابہ جمعہ کے بعد قیلو لہ کر تے تھے تو وہ گرمیوں کی لمبی دو پہر میں جمعہ کے بعد بھی ممکن ہے ۔ جس دن خیال تھا کہ جمعہ نصف النہار سے قبل پڑھا جائے اس دن بعض کا موں کی تاخیر کی وجہ سے اس کی ضرورت بھی پیش نہ آئی لیکن حضور نے فرمایا کہ اگر ہم پہلے پہنچ بھی جاتے تو بہتر یہی تھا کہ ہم وقت پر ہی جمعہ پڑھیں ۔
    چنا نچہ وقت پر ہی حضور نے جمعہ پڑ ھا یا ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخظ
    نسیم مہدی صاحب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : لقیط کے مسئلہ پر مکرم ۔۔۔۔۔۔صاحب کا اعتراض بلا جواز ہے۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 51 حوالہ نمبر 56/8-12-94
    مکرم ۔۔۔۔۔۔۔صاحب
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
    آ پ نے لقیط کی ولایت کے مسئلہ پر فقہ احمدیہ کی دفعہ نمبر 30پرجو اعتراض اٹھایا تھا اس پر مجلس افتاء نے ایک سب کمیٹی مقرر کر کے غور کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کی اس میں کسی ردّ و بدل کی ضرورت نہیں یہ اپنی تشریح کیساتھ جامع و مانع ہے ۔
    والسلام
    نوٹ: مقالہ ہذا کا صفحہ نمبر۳۵۱ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ خاکسار
    مقالہ نگار دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :اموال تجا رت پر زکوۃ کی ادئیگی پر سب کمیٹی مجلس کی رپو رٹ۔
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 53 حوالہ نمبر 50/2-2-95
    ارشاد حضور:
    مکرم سیکر ٹری صاحب مجلس افتاء۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
    آپکی چٹھی نمبر 129-L/3-1-95 بابت مسئلہ ما لِ تجارت پر زکوٰۃ کی ادئیگی موصول ہوئی۔آپکی تجویز سے اتفاق ہے ۔ اس مسئلہ کو تفصیلی غور کے لئے بے شک زکوٰۃ کمیٹی میں پیش کر دیں لیکن کمیٹی سے کہیں کہ وہ اس سلسلہ میں قا دیا ن میں جا ری تعامل کو بھی دیکھیں وہا ںعو رتیں جوزیور رکھا کرتی تھیں صرف انہی پر زکوٰۃ ہوا کرتی تھی۔ عام روز مرہ کے بڑے تاجر یا تو حکومت کو ٹیکس ادا کرتے تھے یا پھر چندہ دیتے تھے ۔ان سے نہ کبھی اصرار سے زکوٰۃ مانگی گئی نہ انھوں نے کبھی ادا کی ۔ اس لئے اس تعا مل کو دیکھنا بھی ضروری ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں مال تجا رت پر زکوٰۃ کی شر ح کہا ں مذکور ہے ۔ اللہ تعا لیٰ آپ سب کوا حسن رنگ میں کا م کرنے کی توفیق دے ۔
    والسلام
    خاکسا ر
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:مشروط طلاق۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 53 حوالہ نمبر 51/2-2-95
    مکرم سیکرٹری صاحب مجلس افتاء۔ ربوہ
    آپکی طرف سے مشروط طلاق کے جواز کے مسئلہ پر مجلس افتاء کی سب کمیٹی کی رپورٹ زیر نمبر 127-L/3-1-95موصول ہوئی ۔ جزاکم اللہ تعا لیٰ احسن الجزاء
    اس ضمن میں حدیث ثلاث جِدُّھُنَّ جِدٌ۔۔۔۔اور حضرت علی ؓ کے قول کُلُّ الطلاق جا ئِزٌ ۔۔۔۔ میں تو میرے نزدیک کسی شرط کاکوئی ذکر مو جود نہیں ہے ۔جِدُ ھُنَّ جِدٌ والی روایت سے تو یہ مراد ہے کہ مذاق سے بھی دو گے تو طلاق ہی کہلائے گی ۔ اس میں کسی شرط کا کہاں ذکر ہے ؟مجھے تو نظرنہیں آیا ۔باقی کمیٹی نے صحا بہ اور دیگر فقہاء کے جو اقوال درج کئے ہیں انکی وجہ سے روز مرہ کی زندگی کے اہم بنیا دی معا ملات میں کوئی شرعی مسئلہ بنانا جائز نہیں ہے ۔ کسی کمزور یا دور کی گواہی پر شریعت میں مستقل طورپر کسی فیصلے کا اجراء کیسے مناسب ہے ؟ اصول یہ ہے کہ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَ اْلحَرَا مُ بیِّنٌ اس کے بعد اس قسم کے اقوال و آراء کو بطور قابل تسلیم اسناد کے لینا میر ے نزدیک بجا ئے خود محلِ نظر ہے اس لئے سوچ کے طرز بدلیں ۔ کسی ز ھری یا دوسرے فقیہ کے حوا لوں کی ضرورت نہیں یہ ثا بت ہونے کی ضرورت سے کہ کسی شخص نے طلاق کا عندیہ ظا ہر کیا تھا کہ نہیں وہ مشروط ہو یا نہ ہو اس بحث میں پڑ نے کی کیا ضرورت ہے ۔ پھر اگر شرط کو بیچ میں لانا ہے تو اس کی معقو لیت اور عدم معقولیت کو لاز ماً دیکھنا پڑے گا۔مثال کے طور پر اگر بیوی کی اپنے خا وند کے حق میں بد عہدی کو شرط بنا لیا جائے تو اس کا ایک مقام اور مر تبہ ہو گا ۔ لیکن اگر یہ شرط ہو کہ تم گھر سے باہر نکلی یا تم نے فلاں چیز کھائی تو تمھیں طلاق ہے ایک بے معنی اور لغو بات ہو گی۔ پس اس قسم کے مسئلہ پر اایک اصولی فتوٰی دے کر پیچھا چھڑا لینا مناسب نہیں ۔کسی شخص کو جب وا قعتا اس کا حق ملتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے فتوٰی سے ثا بت ہے تو پھر مشروط یا غیر مشروط کی کیا بحث رہ جاتی ہے اور اس بحث کی وجہ سے اس فتوٰی سے انحراف کیسے ممکن ہے ۔ سر دست اتنا تبصرہ کافی ہے کیونکہ یہ معاملہ تسلی بخش نہیں ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : خلع کے مسئلہ پر بعض حوالہ جات۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 53 حوالہ نمبر 52/2-2-95
    پیارے مکرم محمد احمد صاحب جلیل (دارالافتاء ۔ربوہ)
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ
    خلع کے مسئلہ پر آپ کی طرف سے حوالے ملے ہیں۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء ۔
    علماء نے آیت کریمہ ’’ فَلاَ جُنَا حَ عَلیھِماَ فِماَ افتَدَتْ بِِہٖ ‘‘ سے خلع کا جو استنباط کیا ہے وہ تو ہو ہی نہیں سکتا اس ضمن میں ثابت بن قیس والی جو حدیث ہے وہی واضح ہے اور اس مسئلہ کے ہر پہلو کو خوب کھول دیتی ہے ۔ گو یا عورت اگر مرد کا قصور بتا کر مجبو راً خلع لیتی ہے حتیٰ کہ اپنا حق بھی چھو ڑ دینے پر تیار ہو جا تی ہے تو پھر اسے اقدا م سے نہیں روکا جاسکتا لیکن اس بارہ میں جو بات میں پتہ کرنا چا ہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجبو ر اور دکھوں کی شکایت کر کے خلع لینے والی کو حقوق سے محروم کرنے کی گواہی یا ثبوت شریعت میں موجو د ہو تو وہ بتا ئیں ۔
    جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء
    والسلام

    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: حائضہ کا تلاوت قرآن کریم کرنا۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 54 حوالہ نمبر 53/2-2-95
    مکرم سیکر ٹری صاحب مجلس افتاء ۔ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
    آپکی طرف سے حائضہ کے تلاوت قرآن کے جواز سے متعلق مسئلہ پر سب کمیٹی کی رپو رٹ نمبر 128-L/3-1-95 موصول ہوئی۔ جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔
    اس سلسلہ میں آپ نے 1986؁ء کی سب کمیٹی کی جس رپورٹ کا ذکر کیا ہے وہ تو معلوم ہوتا ہے میرے سامنے پیش ہی نہیں ہوئی ورنہ میں کوئی رائے ضرور دیتا تا ہم آپکی زیر نظر رپورٹ پڑھ کر تو میرا مؤقف حضرت امام بخا ری رحمۃ للہ علیہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الا وّل رضی اللہ عنہ والا ہے۔ اگر کوئی شوق سے قرآن کریم پڑھنا چاہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا مگر جملہ احتیاطیں ضروری ہیںاور گندگی کی وجہ سے چونکہ عمو ماً کراہت پائی جا تی ہے ۔ اس لئے اسے مستند نہ سمجھا جائے اور عام رواج نہ دیا جائے لیکن انفرادی فتوٰی یہی ہے کہ اگر کوئی تلاوت کرتی ہے تو منع نہیں۔ یہی حال جنبی کا بھی ہے ۔ وہ اس دوران ذکر الٰہی سے محروم نہیں رہ سکتا ۔ اس مسئلہ پر مرسلہ تمام احادیث اور اقوا ل پر نظر ڈالنے سے ایک بات تو یقینی ہے کہ قرآ ن کریم اور مسجد کی پاکیز گی کو مد نظر رکھاگیا ہے ۔ورنہ جنبی کو یا حائضہ فی ذاتہِ وہ پلید نہیں ہیں ۔ اگر حائضہ نا پاک ہو تو خدا کا رسول ﷺ حیض کے ایام میں اپنی ازواج سے خلاملا نہ کرتے ۔ پس HYGIENE کے امور اور ظاہری پاکیزگی کے معاملات کو پیش نظر رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور طَھِّراَبَیتِیَ لِلطا ئفِین۔۔۔۔۔کا جو معنی ہے وہی اس کا معنی ہے ۔ لیکن پبلک میں اس پر زور مناسب ہے تا کہ بے احتیا طی سے کوئی گندگی پھیلانے کا موجب نہ بن جائے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:حلف لینے کے بعد معاملہ ختم نیز جرمانے کی سزا کا اسلام میں کوئی تصور نہیں
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 54 حوالہ نمبر55/28-2-95
    مکرم صدر صاحب قضاء بورڈ ۔ ربوہ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکا تہ
    ٓٓآپ کی طرف سے قضاء بورڈکے اختلافی فیصلہ مکرمہ عا ئشہ (فرضی نام )بنا م مکرم بکر(فرضی نام) کیس پر مکر مہ عا ئشہ صا حبہ کی اپیل پر رپورٹ موصول ہوئی۔جزاکم اللہ احسن الجزاء
    مکرم بکر صاحب کی طرف سے حلف اٹھائے جانے کے بعد عا ئشہ صاحبہ کی طرف سے اس معاملہ کو از سر نو کھو لنے کا کوئی جواز نہیں ۔ قرآن کریم میں لعان میں جہاں حلف کی اجا زت دی ہے وہاں منشاء یہی ہے کہ موقع پر ہی حلف اٹھوانے چاہئیںاس سے آگے بڑھ کر نہیں اٹھوانے چاہئیں اگر ایسے کاروائی ہو تو بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد الزام کا نہ کوئی فائد ہ ہے اور نہ کوئی نقصان ۔ دنیا کے لحاظ سے تو معاملہ جوں کا توں ہو جاتا ہے اس لئے اب اس اپیل کا کوئی جواز نہیں۔رد کرتا ہوں ۔
    جہاںتک ہرجانے کا معاملہ ہے اس کا سوال تو تب ہو جب یہ ثابت ہو جائے کہ الزام جھوٹے ہیں علاوہ یہ اس بارے میں میرا تا ئثر یہ ہے کہ اس قسم کے ہرجا نے کاکوئی تصور اسلام میں ثابت نہیں ۔ مکرم ۔۔۔۔۔صا حب نے جو استنباط کیا ہے وہ ہر گز درست نہیں ۔اس کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ ویسے بھی انکا یہ کا م ہی نہیں کہ ایسے معالات میں خود بہ خود استنباط کریں ۔ایسے معالات قضا ء کو افتاء کے سپرد کرنے چا ہیں ۔قضاء کو خود ہی مفتی کا رول ادا نہیں کرنا چاہیے ۔ کیونکہ قضاء کوئی قانون ساز ادارہ نہیں ہے بلکہ وہ قانون رائج ہو چکے ہیں ان سے استنباط کرنا قضاء کا کام ہے ۔
    اسلام نے عورت کی عزت اورحرمت پر جو زور دیا ہے اس کی روشنی میں ایسے الزاما ت لگانے والوں کو الزام ثابت ہو نے پر عبرت ناک سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔اس لئے قضاء کو تو نہیں مگر افتاء کو غور کرنا چاہئے کہ عورت کی عصمت کی حفا ظت کے لئے قرآنی ارشادات کی روح کے مطابق ہم کیا قا نون سازی کر سکتے ہیں تا کہ لو گو ں کو مقدمات کے بہا نے ایسی الزام تراشیوں کی جرات ہی پیدا نہ ہو ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : بیوہ کا عدت کے دوران اضطرار کی حالت میں با ہر جانا۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 56 حوالہ نمبر58/9-1-96
    مکرم ناظم صاحب دارالا فتاء ۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ
    آپکی طرف سے مکرمہ عا ئشہ (فرضی نام ) صاحبہ کے استفتاء پر جو ابی خط کی نقل بذریعہ خط 47-L/ 30-10-95 موصول ہوئی ۔ آپ نے ایام عدت میں بیوہ کے گھر سے نکلنے کے متعلق جو کھلا فتوٰی دیا ہے یہ تو فتنے کا دروازہ کھولنے والی بات ہے اس مسئلہ پر کسی کو نہ اپنی سمجھ سے کام لینے کی اجازت ہے اور نہ لجنہ کے کام ایسے ہیں کہ کسی کو دوڑ نے پھرنے کی عام اجازت دی جائے ۔ ورنہ تو عدت کھیل تماشہ بن جائے گی ۔ انگلستان میں بعض عورتوںکے خاندان کا گزارہ انکی نو کری پر ہے اس لئے انتہا ئی مجبوری کی وجہ سے میں نے ان کو مشروط اجازت دی کہ سیدھے کا م پر جاؤ اور واپس گھر آ کر بیٹھو ۔ کسی قسم کی سو شل مجالس یا پر و گرامو ںمیں شرکت کی اجاز ت نہیں مجبوری اور ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی بس اتنی ہی حد ہے اس سے زیا دہ کو چھٹی دیں گے تو سارا نظام بگڑ جائے گا اس لئے مجھے آپ کو اس عمو می فتوٰی سے اتفاق نہیں ایسے معاملات میں احتیاط کی ضرورت ہو تی ہے۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : جبری اسقاط کرانے پر مکمل تحقیقا تی رپو رٹ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 58 حوالہ نمبر62/14-12- 96
    مکرم و محتر م صدر صاحب مجلس افتا ء ۔ ربوہ
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    آپکی طرف سے مجلس افتا ء کی جبری اسقاط کے مسئلہ پر تحقیق کرنے والی سب کمیٹی کی رپور ٹ ملی ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
    شکر ہے کہ یہ پوری رپورٹ ایسی ہے جس نے مجھے مطمئن کیا ہے ۔ بہت متوازن اور مدلّل رپورٹ ہے ۔ اور اس سے مجھے مکمل اتفاق ہے لیکن ایک یہ سوال غالباًممبران کمیٹی کی نظر سے رہ گیا ہے کہ اگر خاوند بیوی کو اسقاط کے لئے کہتا ہے اور اس پر وہ اسی وقت احتجاج نہیں کرتی ، نہ کسی سے شکایت کر تی ہے ،نہ اسے ریکارڈ پر لاتی ہے مگر بعد ازاں وہ طلاق میں اس کو درج کر ادے تو کیا وہ قا بل شنوا ئی ہے کہ نہیں مگر یہ معا ملہ چونکہ قضائی زیادہ اور افتاء سے کم تعلق رکھتا ہے اس لئے شاید افتاء کمیٹی نے اس کو نظر انداز کر دیا ہے ۔ بہرحال بہت عمدہ ۔ درست اور متوازن رپو رٹ ہے تا ہم یہ رجحان کہ بعض مسائل کے اثبات کے لئے نظیریں ڈھونڈ کر ان کو دائرے کھینچ کر استدلال کرناجائز نہیں ۔ اس کی حوصہ افزائی نہیں ہونی چاہیے مثلاً قتل خطا کا جو مسئلہ اس میں چھیڑا گیا ہے اس کا جبری اسقاط کے مسئلہ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں اس کا ذکر اس رپورٹ میں کرناہی نہیں چاہئے تھا ۔
    (نوٹ: تفصیل کے لئے صفحہ نمبر۳۷۵ملاحظہ فرمائیں۔ مقالہ نگار) والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : ثلث تک کی وصیت درست ہے۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 58 حوالہ نمبر 63/14-12-96
    مکرم و محترم صدر صاحب مجلس افتاء ۔ربوہ
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکا تہ
    آپ کی طرف سے ثلث تک کی وصیت کے بارہ میں مجلس افتاء کی رائے موصول ہو ئی ہے آپ نے جس رائے کا اظہار کیا ہے وہ غلط ہے اور مجھے اس سے اتفاق نہیں ۔ اپنی طرف سے نئی شریعت بنائی ہے ۔ اس مسئلہ پر ساری بحث پہلے سے تسلیم شدہ ہے ۔ آنحضور ﷺ نے دینی معاملات اور صدقہ و خیرات میں 3/1تک کی وصیت کو ہی پسند فرمایا اور اس پر ہمارے سارے نظام کی بنیا د ہے لیکن جو دوسرا پہلو ہے اعزّہ اور اقربا ء کے حق میں وصیت والا ا س کو آپ کی رپو رٹ میں چھیڑا ہی نہیں گیا وہ تو صدقہ و خیرات کی مد میں نہیں آتے ۔تیسری بات جو محلِ نظر ہے وہ یہ کہ زندگی میں ایک شخص اپنے ورثاء سے اجازت لینے کا پا بند کس طرح ہو گیا ۔وارث ،مورث کی زندگی میں اس کی جائیداد وغیرہ کا حق دار ہوتا ہی نہیں ورنہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد پر تصرف میں کیا حق رکھتا ہے ۔ کیا وہ ورثاء سے پوچھ کر کرے گا ۔ لوگ اپنے اوپر اخراجات کر تے ہیں ۔ شریعت کا کون سا کام ان کو روکتا ہے ۔ کیا آج تک کبھی روکا گیا ہے ۔ زندگی کے تصرفات میں آپ لوگ دخل نہیں دے سکتے ورنہ نئی شریعت بنانے والی بات ہو گی ۔
    باقی جماعتی نظام و صیت میں 10/1سے لیکر 3/1تک کی جو وصیت ہوتی ہے وہ جما عت کے حق میں ہو تی ہے اور دینی اغراض اور خد مت کے لئے ہو تی ہے مگر اس کے با وجود ساتھ ہی یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے ۔ کہ دوسروں کا حق بھی رہے لیکن یہ کبھی نہیں ہو ا کہ مو صی کو اس کیلئے اپنے ورثا ء سے اجا زت لینے پر پا بند کیا جائے ۔ان پہلو ؤں سے آپکی رپو رٹ ابھی تشنہ ہے اور مزید غور و خوض کی متقا ضی ہے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان: ثلث سے متعلق مجلس افتاء کی رپو رٹ ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 61 حوالہ نمبر 73 / 10-8-97
    مکرم صدر صاحب مجلس افتاء ۔ ربوہ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ
    آپکی طرف سے ثلث تک وصیت کے بارے میں کمیٹی کی رپو رٹ مو صو ل ہوئی ۔ رپو رٹ کے آخر پر جو یہ لکھا گیا ہے کہ ’’سب کمیٹی کی رائے میں بظا ہر یہی معلو م ہوتاہے کہ ایک ثلث کی تحدید مجمو عی طور پر دینی اغرا ض اور غیر وارث ا عزّہ و اقا رب دونوں پر حا وی ہے ۔‘‘
    اس کو ثابت کرنے کے لئے پہلے تحدید کی کوئی سند تو ڈھو نڈیں جو قطعی ہو اور قرآ ن کریم سے ثا بت ہو ، کیونکہ حقو ق کے معا ملہ میں قرآن کریم خا مو ش نہیں رہ سکتا ۔ با قی ثلث تک کی وصیت کے متعلق حضرت سعد والی روایت سے صحا بہ کے جس دستور کا ذ کر کیا ہے وہ ایک تسلیم شدہ بات صحیح لیکن بعض مو ا قع پر آنحضرت ﷺ نے اس سے زائد بھی تولیا ہے مثلاً حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے انکا سارا مال لیا ۔ ان مثا لوں کی مو جو دگی میں 3/1 کی تحدیدوالی بات تو درست ثابت نہیں ہو تی ۔ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ 3/1 پر زو ر ایک ثا بت شدہ امرہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے ایسی بات محض عمو می نصیحت کے طور پر ہی فرمائی ہو گی ۔ اس پہلو سے اسے سنت مؤ کدہ بھی نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنا سب کچھ بھی تو دے دیا تھا ۔ پس اگر شریعت میں کہیں 3/1 کی تعین کی گئی ہے تو پھر اس پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں کو ئی تحدید یا کسی سزا کی وعید بھی تو ملنی چاہئے جو شر یعت یا نظا م نے رکھی ہو اس کا ذکر کہا ں ملتا ہے ۔مجھے اس کی کوئی قطعی الثبوت دلیل بتا ئیں میں یہ نقطہ بار بار اٹھا رہا ہوں مگر آپ لو گو ں کو اس کی سمجھ نہیں آرہی ۔
    والسلام
    خاکسا ر
    دستخظ
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:فقہ احمدیہ کی دفعہ 37سے متعلق ایک رائے پر حضور انور کا تبصرہ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 59 حوالہ نمبر64/2-2-97
    مکرم و محترم ۔۔۔۔۔۔۔صاحب
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ
    آپ نے فقہ احمدیہ کی دفعہ 37پر تبصرہ کرتے ہوئے جن آیتو ں کا حوالہ دیا ہے وہ مجلس افتاء کو بھجوائیں۔آپ کا دینی علم اتنا نہیں کہ قرآن کریم کے گہرے مطا لب کو سمجھ سکیں۔ جب کہ مجلس کے جو ممبران ہیں وہ خدا کے فضل سے سب ان علو م کے ماہر اور گہرا ٹھوس علم رکھتے ہیں۔ اس لئے آپ یہ آیتیں انھیں بھجوا دیں وہ غور کر لیں گے ۔ساری جما عت کو آپ کا علم قبول کرنے پر پا بند نہیںکیا جا سکتا۔
    اللہ تعالیٰ رحم اور فضل فرمائے ۔
    والسلا م
    خاکسار
    دستخط
    حضرت خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:جنین کے ضیاع سے متعلق بخاری کی روایت شامل کریں۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2صفحہ نمبر 59 حوالہ نمبر68/31-3-97
    مکرم صدر صاحب مجلس افتاء۔ ربوہ
    ’’کچھ عرصہ قبل آپ نے جنین کے ضیاع کے مسئلہ پر اپنی رپورٹ بھجوائی تھی ۔ آپ نے بہت عمدہ دلائل دئیے مگریہ حدیث اس میں نہیںتھی ۔ فرما یا ہے کہ یہ بخا ری کی روایت ہے اور مستند ہے یہ آپ کو کیوں نظر نہیں آئی ۔ دوسرے اس میں کسی جرمانہ وغیرہ کا ذکر نہیں بلکہ دیت میں بھی غلام یا لو نڈی کی آزادی کو شامل فرمایا ۔‘‘
    والسلام
    دستخط
    منیر احمدجاوید
    پرائیوٹ سیکر ٹری
    ’’ حَدَّ ثَناَ مُو سٰی بنُ اِ سمَا عیلَ حَدَّ ثَناَ وَ ھَیبٌ حَدَّ ثَناَ ھِشاَ مٌ عَن اٗ بِیہِ عَنِ المُغیرۃ بِن شعبۃَ عَن عمرَ رَ ضِی اللہ عَنہ اَ نَّہ اِستشا رَ ھُم فِی اقلا ص ا لمر اٗ ۃ فَقَا ل المغیرۃُ قَضَی النَّبیُ ﷺ بِا لغُر ۃِ عَبد اٗ و اَٗ مَۃ فَشَہدَ مُحمدُ بنُ مَسلَمۃَ اٗ نَّہ شَہِدَ ا لنبی ﷺ قضَی بِہِ۔‘‘
    (صیح بخا ری ،کتا ب الدیات ۔باب جنین المراۃ)
    ترجمہ:
    مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے صحابہ سے عورت کے املاص (جنین کے ضائع ہونے کی دیت ) کے بارہ میں مشورہ طلب فرمایا ۔مغیرہ نے عرض کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ایسے جرم کے مرتکب کے لئے ایک غلام یا لو نڈی آ زاد کر نے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ محمد بن مسلمہ نے بھی گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہی فیصلہ فرمایا تھا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رجسٹر نمبر2صفحہ نمبر60 حوالہ نمبر70/28-6-97
    سیّدنا و اِمامنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدکم اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ
    جنین کے اسقاط کے بارہ میں مغیرہ بن شعبہ ؓ کی روایت پر حضور انور کا حسب ذیل ارشاد محتر م پرا ئیو یٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے موصو ل ہو ا ۔
    ’’کچھ عرصہ قبل آپ نے جنین کے ضیاع کے مسئلہ پر اپنی رپورٹ بھجوائی تھی ۔ آپ نے بہت عمدہ دلائل دئیے مگریہ حدیث اس میں نہیںتھی ۔ فرما یا ہے کہ یہ بخا ری کی روایت ہے اور مستند ہے یہ آپ کو کیوں نظر نہیں آئی ۔ دوسرے اس میں کسی جرمانہ وغیرہ کا ذکر نہیں بلکہ دیت میں بھی غلام یا لو نڈی کی آزادی کو شامل فرمایا ۔‘‘
    ( نوٹ محترم پر ا ئیوٹ سیکر ٹری صا حب لنڈن بنام صدر مجلس افتاء مورخہ 30-7-97 )
    اس بارہ میں عرض ہے کہ یہ روایت تحقیق کے دوران سامنے آئی تھی اور مجلس افتا ء کی پہلی رپورٹ میں درج بھی کی گئی تھی۔ مگر اس رپو رٹ میں اس حدیث سے غلا م یا لو نڈی کو دیت تصو ر کر کے اس کی قیمت پانچ اونٹ یا پانچ صد درہم قرار دے کر جنین کی دیت کا استنباط کیا گیا تھا ۔ اس استنباط پر حضور نے گرفت اور جرح فرمائی تھی ۔
    دوبارہ غور کے بعد جب آخری رپو رٹ حضور انور کی خدمت میں پیش ہوئی تو وہ یہ تھی کہ دیت کی مقدار قرآن حکیم نے مقرر نہیں کی اور وہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ دیت زمانہ کے حالات کے مطابق متعین ہو گی ۔
    اب حضور ایدکم اللہ کے ارشاد سے اس حدیث کا یہ نہایت لطیف مضمو ن سامنے آیا ہے کہ حضور ﷺ نے غلام یا لونڈی بطور دیت دینے کا فیصلہ نہیں فرمایا تھا بلکہ غلام یا لونڈی آزاد کرنیکا فیصلہ فرمایا تھا ۔ یہ لطیف مضمون مجلس کے پیش نظر نہیں تھا۔ لہذا اس حدیث کو دوسری رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ حضور انور کے ارشاد سے اس مسئلہ پر ایک نئے زاویہ سے روشنی پڑی ہے ۔ حضور کے ارشاد کی روشنی میں اب اس حدیث کو رپورٹ کیساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخظ
    صدر مجلس افتاء
    ارشاد حضور انور اید ہ اللہ تعا لیٰ:
    ’’ اپنے استنباط کے حق میں جب دوسری دلیلیں رکھی تھیں تو ا س کو کیوں نہ رکھا۔ اس سے جو غلط بات نکلتی تھی وہ اپنے حق میںاستنباط کر تے وقت نکال لی گئی حا لا نکہ اس میں دیت کا ذکر تک نہیں ملتا بلکہ غلام یا لو نڈی کو آزاد کرنے کا ذکر ہے ۔ وہ مسئلہ تو آپکا اپنا بنایا ہوا فرضی مسئلہ تھا جو اس سے نکلتا ہی نہیں ۔ یہ تو واضح طور پر علمی بد دیانتی ہے۔ ‘‘
    دستخط
    مینر جا ویدصاحب
    پرا ئیویٹ سیکر ٹری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :ایک وقت میں ایک سے زیادہ مفتی ہو سکتے ہیں ۔
    رجسٹر نمبر2صفحہ نمبر60 حوالہ نمبر69/6-5-97
    سیّدی ۔ایدکم اللہ تعا لیٰ بنصر ہ العزیز
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کا تہ
    عرض ہے کہ خاکسا ر کی ربوہ سے غیر حا ضری میں عمو ماً مکرم مبشر احمد صا حب کا ہلوں اور انکی عدم مو جو دگی میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب قائم مقام ناظم دارالا فتاء مقرر ہو تے ہیں ۔اس دوران دارالا فتا ء سے جاری ہو نے والے فتا ویٰ مفتی کی بجائے ناظم دارالافتاء کی مہر سے جاری ہو تے ہیں ۔
    اس سُقم کو دور کرنے کے لئے مناسب ہو گا کہ مکرم مبشر احمد صا حب کو یا اگر حضو ر اید کم اللہ پسند فرمائیں تو دونوں صا حبان کو مفتی مقرر کر دیا جائے ۔
    ایک وقت میں ایک سے زیا دہ مفتی ہو سکتے ہیں ۔حضرت خلیفتہ المسیح ثا نی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے زمانہ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولوی محمد ا سما عیل صا حب ، حضرت مو لاناسید محمد سرور شاہ صاحب کے علاوہ مفتی تھے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    ناظم دارا لا فتاء
    ارشا د حضور اید ہ اللہ:
    ’’ منظور ہے‘‘
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : عا ق سے متعلق مجلس افتا ء کی رپو رٹ ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر61 حوالہ نمبر72/ 10-8-97
    مکرم صدر صاحب مجلس افتاء ۔ربوہ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ
    آ پکی طرف سے عا ق کے مسئلہ سے متعلق مجلس افتاء کی رپو رٹ زیر نمبر 263-L/23-6-97 موصول ہوئی۔ جزا کم اللہ تعا لیٰ احسن الجزاء ۔
    عا ق کے متعلق حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کا جو فعل تھا وہ الٰہی منشا ء کے تابع تھا اور درست تھا ۔ مگر شر یعت کے خلا ف نہیں تھا ۔ کیو نکہ خداکے معمو ر شریعت کے منشاء کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے۔
    اس مسئلہ کی عمو میت کا جہا ں تک تعلق ہے اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا بھی یہی مطلب ہے اور خود میرا بھی یہی مؤقف ہے کہ ایسی صورت میں باپ خدا کے حضور جواب دہ ہو گا ۔ بیٹا باپ کے خلاف کسی قا نونی چارہ جوئی کا کوئی حق نہیں رکھتا ۔ ایسے مو ا قع پر جماعت کا صرف اتنا کام ہے کہ باپ کو زبا نی سمجھایا جائے اور اخلاقی دباؤ ڈالا جائے لیکن اس کے با وجو د اگر وہ با لبد اہت ایسی حرکت کر رہا ہے تو پھر اس کے خلاف تعزیری کاروائی ہو سکتی ہے لیکن اولاد کو باپ کے مقا بلہ پر کھڑے ہو نیکی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرا بع
    (نوٹ: مزید تفصیل کیلئے مقالہ ہذا کا صفحہ۳۹۹
    ملاحظہ فرمائیں۔مقالہ نگار)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:ھبہ تفصیلی سے متعلق مجلس افتا ء کی رپور ٹ ۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 62 حوالہ نمبر74/10-8-98
    مکرم محتر م صدر صا حب مجلس افتاء
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکا تہ
    آپکی طرف سے جو ھبہ تفصیلی کے متعلق مجلس افتاء کی رپورٹ مو صو ل ہوئی ۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
    یہ ٹھیک ہے کہ باقیوں کو محروم کر کے کسی ایک کے حق میں ہبہ کرنا جائز نہیں ۔ لیکن اولاد پر مقدمہ کر کے اسے ختم کر ا سکتی ہے کہ نہیں ؟یہ ایک الگ بحث ہے ۔ میرے نزدیک تو اولاد باپ پر قضا ئی حملہ نہیں کر سکتی ۔ باپ اگر شر یعت کے خلا ف کوئی کام کر تا ہے یا کسی بچے کا حق مار تا ہے تو وہ گناہ گار ہے اور نظام جماعت کو اسے اس سے منع کرنا چا ہئے ۔ اگر وہ بازنہ آئے تو نظام جما عت یعنی امور عا مہ یا اصلا ح و ارشاد ایسے شخص کے متعلق جو بالبداہت طور پر شریعت کی خلاف ورزی کر رہا ہو ، اخراج کی سفارش کر سکتے ہیں لیکن قضاء کو کوئی حق نہیں کہ وہ باپ کے خلاف کسی ایسے مقدمہ کی سما عت کرے ۔ کیو نکہ اس طرح تو کسی کو اپنے مال پر تصرف کا جو حق ہے وہ آپ اس سے چھین رہے ہیں ۔اپنی زندگی میں وہ مالک ہے جس طرح چاہے تصرف کرے ۔ اولاد کو قا نو نی راہیں اختیا ر کرتے ہوئے باپ کے مقا بل کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ ایسے موا قع پر تر بیت اور نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے جو نظام جماعت کو کرنی چا ہئے ۔
    پس اس رپو رٹ کے آخر پر سب کمیٹی کی جو رائے درج کی گئی ہے مجھے اس پر اعترا ض ہے۔ باپ اگر اپنی زندگی میں بقا ئمی ہو ش و حواس کچھ ہبہ کر تا ہے ۔ اگر وہ نا جا ئز ہے تو ایسا شخص خدا کے سامنے جواب دہ ہے ۔ قضا ء میں جا نے کا کسی کو کوئی حق نہیں ۔ نہ قضا کو حق ہے کہ وہ اس کی سما عت کرے ۔ حضرت مصلح موعو درضی اللہ تعا لیٰ عنہ کا فتویٰ بھی اس کے مطا بق ہے اوراس فتو یٰ میں میں بھی ان کے سا تھ ہوں ۔ باقی حضرت مسیح مو عود علیہ السلام نے جو عاق کیا تو اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ اس فعل پر آپ خدا کے سامنے جواب دہ ہیں اور چو نکہ جائز طور پر کر رہے تھے اس لئے کسی کا کوئی حق نہیںکہ آپ کے ا س فعل کو چیلنج کرے۔
    والسلام
    خاکسا ر
    دستخط
    خلیفتہ المسیح الرابع
    (نوٹ: مزید تفصیل کیلئے مقالہ ہذا کا صفحہ۳۸۹
    ملاحظہ فرمائیں۔مقالہ نگار)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان:عرفات میں نماز عید ادا کرنا۔
    ارشاد حضور:
    رجسٹرنمبر2 صفحہ نمبر65 حوالہ نمبر79/27-2-97
    مکرم نوید احمد صاحب (فرضی نام )
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکا تہ
    عرفات میں عید سے متعلق OFF HAND میں نے جو جواب دیا تھا ۔ا س پر آپ نے جو تبصرہ کیا تھا وہ پڑھ کر حیرت ہوئی ہے ۔جن لو گوں کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ کو نسے اتھا رٹی ہیں ۔ یہ تو ایک شرعی مسئلہ ہے ۔ تا خیر سے پڑھ لینا اور بات ہے اور نہ پڑھنا با لکل اور بات ہے مگر تحدی سے یہ لکھ دینا کہ وہا ں عید پڑھنے کا کوئی جواز نہیں یہ کیسی بات ہے کہ جسے لکھنے کا آپ کے لئے کوئی جواز نہیں بنتا ۔ کیونکہ یہ مسئلہ مفتی سلسلہ سے پو چھنے والا ہے۔ مجلس افتاء سے پوچھنا چاہئے ۔اللہ توفیق دے ۔
    والسلام
    خاکسار
    دستخط خلیفتہ المسیح الرابع
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 65 حوالہ نمبر 80/27-2-97
    میرے پیا رے آقا!
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ
    (خلاصہ) نماز جمعہ کے بعد 10 جنوری کی سوال و جواب کی محفل میں آپ نے حج کے متعلق یہ سوال پوچھنے پر کہ ’’حاجی عرفات وغیرہ کے میدان میں حج کر رہے ہوتے ہیں تو وہ نماز عید کیسے ادا کریں ۔ اس پر آپ نے فرما یا تھا کہ تاخیر کر کے پڑھ لیا کریں۔ ‘‘
    ہمارے ایک عزیز جو یہ پرو گرا م دیکھ رہے تھے انہوں نے بتایا کہ حج تو فرض ہے اور نماز نفل ۔ نفل سے زیادہ فرض ضروری ہے ۔ خاکسار نے اور لوگوں سے بھی کنفرم کیا ہے سب نے یہی جواب دیا ہے نماز عید پڑھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ۔ نیز اہل خانہ کے لیے دعا کی درخواست۔
    والسلام
    خاکسار
    نوید احمد (فرضی نام )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :۱۔جگہ کی کمی کی وجہ سے دو چار منزلہ قبو ر کی تعمیر کرنا ۔
    ۲۔وفات کے بعد عورت کے جہیز کی تقسیم:
    رجسٹر نمبر3 صفحہ نمبر 11 حوالہ نمبر 1/16-10-90 بسم اللہ الرحما ن الرحیم
    سیّدی و حبیبی !
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کا تہ
    مجلس افتاء کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا کہ اگر کہیں جگہ کی کمی ہو تو کیا شرعی لحاظ سے دو چا ر منز لہ قبور تعمیر ہو سکتی ہیں ؟
    اس پر مجلس افتاء احا دیث اور حضرت مصلح مو عو د رضی اللہ عنہ کے ارشاد کی روشنی میں حضور ایدہ اللہ کی خدمت میں با لا تفاق یہ مشورہ پیش کر تی ہے کہ حسب ضرورت قبور اوپر نیچے بنائی جاسکتی ہیں ۔
    سیّدی! ایک مسئلہ یہ پیش ہوا کہ اگر کوئی عو رت فوت ہو جائے (خوا ہ موت کسی بھی شکل میں ہو)تو کیا اس کا جہیز وغیرہ والدین کو ملنا چا ہئے؟
    اس سوال کے بارہ میں مجلس افتاء متفقہ طور پر حضور انور ایدہ اللہ کی خدمت میں یہ رائے عرض کرتی ہے کہ دلہن کا جہیز اس کی وفات کے بعد حسب ارشاد قرآنی اس کے ورثا ء میں تقسیم ہو نا چا ہیے ۔ اور اس کے ورثا ء میں قرآن کریم نے بعض صو رتو ں میں خاوند کو بیوی کے تر کہ کا 2/1 اور بعض صو رتو ں میں 4/1 کا وارث قرار دیا ہے۔
    سیّدی!حضور ایدہ اللہ سے درخو است ہے کہ دو نو ں سفا رشات کے بارے میں فیصلہ فرمائیں ۔ دونو ں مسائل سے متعلق مجلس افتاء کی مقررہ سب کمیٹی نے جو دلائل پیش کئے اور جن سے مجلس افتاء کے جملہ حا ضر ممبران نے اتفاق کیا وہ رپو رٹ بھی اس عریضہ کیساتھ منسلک ہے۔ البتہ حضرت مصلح مو عو د رضی اللہ عنہ کا ایک حوالہ جو اس رپو رٹ میں درج نہیں وہ حضو ر کی خدمت میں پیش ہے ۔
    فرمایا ۔ ’’انجینئروںسے یہ بھی مشو رہ کر کے انتظام کیا جائے کہ ایک قبر میں ایک کی بجائے تین قبریں ہوں۔ تہ خانہ کی صورت میں اس کے حصے بنے ہوئے ہوں اور ایک SLATE پر سب نام لکھ دیئے جائیں ۔ یہ چیز جذ باتی لحاظ سے بھی لو گوں پر زیادہ اثر کرے گی کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دی ہوئی جگہ میں آ گئے ہیں۔‘‘ (تا ریخ احمدیت جلد نمبر 11صفحہ 24 )
    والسلام
    خاکسار
    دستخط
    مبشر احمد کاہلوں
    قائم مقام ناظم افتاء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ’’رپورٹ سب کمیٹی بابت مسئلہ جہیز ‘‘
    ’’کیا دو چار منزلہ قبو ر کی تعمیر ہو سکتی ہے ؟ ‘‘
    مکرم سیکرٹری صا حب مجلس کا ر پر داز ربوہ کی طرف سے ناظم صا حب دارلا فتاء کو لکھا گیا کہ اگر جگہ کی کمی ہو تو شر عی لحاظ سے کس حد تک جائز ہے کہ دو چار منزلہ قبور کی تعمیر ہو ۔
    نیز ہندو ستا ن میںجہیز کی وجہ سے جو وا قعا ت رو نما ہو رہے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے مکر م نویداحمد صاحب(فرضی نام ) نے گرداسپور (فرضی نام )سے حضرت خلیفتہ المسیح الرا بع ایدہ اللہ بنصر ہ العزیز کی خدمت میں ایک خط تحریر کیا جس میں وہا ں کے پیش آمدہ وا قعا ت کو لکھنے کے بعد حضور سے استدعا کی کہ آپ جماعت احمدیہ میں جہیز کے متعلق یہ فیصلہ فرمائیں کہ جہیز کا سارا سامان خوا ہ وہ کسی نو عیت کا ہو دلہن کی ذاتی ملکیت ہے ۔
    ساس سسر کو اسی طرح دوسر ے سسرالی رشتہ داروں کو قطعی اجازت نہیں کہ وہ کسی حیلے بہانے سے اپنے قبضہ میں لے لیں، حفا ظت کا بہانہ کیو ں نہ ہو ۔ اگر کسی کے پاس ایسا مال منقولہ ہو یا غیر منقولہ ۔ دلہن کے مطالبہ پر یا اس کی وفات کے بعد خوا ہ کسی طرح وفات ہو ئی ہو۔ اس کے والدین یا دوسرے خونی رشتہ داروں کو واپس کر دیا جائے ۔ سسرال کے کسی فرد کو یہ حق نہیں ہو گاکہ دلہن کی کوئی چیز خواہ وہ ایک سو ئی کیوں نہ ہو اس کو روک لے ۔ یہ قانون موت کی ہر صورت میں نافذ ہو گا۔
    یہ ہر دو امور مجلس افتاء کے اجلاس منعقدہ 20-7-89 میں برا ئے غورپیش ہوئے ۔ مجلس افتاء نے اس بارہ میں رپور ٹ پیش کر نے کے لئے مندرجہ ذیل اراکین پر مشتمل کمیٹی تجویز کی ۔
    1 ۔ محترم مرزا غلام احمد صاحب ۔(کنوینر)
    2 ۔ محترم ابو المنیر نور الحق صا حب۔
    3 ۔ محترم سید عبد الحی شاہ صاحب ۔
    4 ۔ محتر م محمد دین صاحب ناز۔
    مجوزہ کمیٹی کا اجلاس 27-11-89 کو دفتر اصلا ح و ارشاد مقامی میں منعقد ہو ا۔ کمیٹی کے سامنے پہلا مسئلہ یہ رکھا گیا کہ اگر جگہ کی کمی ہو تو شرعی لحاظ سے کس حد تک جائز ہے کہ دو چار منزلہ قبور کی تعمیر ہو ۔
    چنانچہ اس امر بحث تمحیص ہوئی اور بحث کے دوران احا دیث کے درج ذیل حوالہ جات سامنے آئے
    (۱) عَن عَبد الّرحماَ نِ بن کَعبٍ اَ نَّ جَا بِر بنَ عَبد اللہِ اَخبَرَ ہ اَ نَّ النَّبیَّ ﷺ کَا نَ یَجمَعُ بَینَ الرَّ جُلیَن مِن قَتلیٰ اُحُدٍ۔
    (بخاری کتاب الجنائز باب دفن الرجلین او ثلٰثۃ فی قبر واحدٍ)
    یعنی حضرت عبد الرحما ن بن کعب بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے انہیں بتایا کہ حضور ﷺ نے جنگ اُحد کے شہیدوں میں سے دو دو افراد کو ایک ساتھ دفن کرنے کا ارشاد فرمایا ۔
    (۲) عَن عبد الر حمان بن کعب بِن مالک اَنَّ جَا بِرَ بن عبد اللہ اَخبَرَ ہ ا نَّ رَ سو ل اللہ ﷺ کَا نَ یَجمَعُ بَینَ الرَّجُلینِ مِن قتلیٰ اُحُدٍ فیِ ثَو ب وَاحِدٍ ثُمَّ یَقُو لُ اَ یُھُم اَ کثَرُاَخذً اللِقُر اٰنِِ فاِذَا اُشِیرَ لَہ اِ لیٰ اَ حَدٍ قدَّ مہ فَی اللَّحدِ۔
    (بخاری کتاب المغازی باب من قتل من المسلمین یو م احدٍ)
    یعنی حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ کہ جابر بن عبداللہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد میں شہیدہونے والوں کے متعلق بو قت دفن یہ ارشاد فرمایاکہ دو دو شہیدوں کو ایک کفن میں لپیٹا جائے ۔ بعد ازاں حضور نے دریافت فرمایا کہ ان میں سے قرآن کریم کو زیا دہ جاننے والا کون ہے ۔ جب حضور کو یہ بتایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے لحد میں پہلے اتا رنے کا ارشاد فرمایا جو زیادہ قرآن مجید جانتا تھا ۔
    (۳) عَن جَا بر بِن عبد اللہ اَنَّ رسو ل اللہ ﷺ کَا نَ یَجمَعُ بَینَ الرّ جُلَینِ مِن قَتلیٰ اُ حُدٍ فِی ثَو بٍ وَا حِدٍ فَکُفِّنَ اَ بِی وَ عَمّی فَی نَمرَۃٍوَاحِدَۃٍ ۔
    (بخاری کتاب الجنائز باب من یُقَدَّمُ فِی اللَّحدِ)
    یعنی حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنگ احد کے شہیدوں میں سے دو دو کو اکٹھا کر کے ایک کفن میں لپیٹ کر دفن کرنے کا ارشاد فرمایا ۔
    (۴) عَن اَنسٍ بن مالکٍ قَالَ اَ تَی رسولَ اللہِ ﷺ عَلیٰ حَمزَۃٍ یَوم۔ اُحُدٍفَوَ قَفَ عَلَیہِ فَرَ اٰہُ فقدمَُثِّلَ بِِہٖ فَقَالَ لَولَا اَن تَجِدَ صَفِیَّۃَ فِی نَفسِھَا لَتَر َکتُہ حَتّٰی تَا کُلَہُ العَا فیۃُ ۔۔۔۔۔قَالَ فکثر القَتلٰی وَ قَلَّت الثیاب قَال فَکُفِّنَ الر جل والرجلان و الثلثۃ فی الثوب الو احد ثمَّ یدفنون فِی قَبر وَا حِدٍ قال فَجعل رسول اللہ ﷺ یسئَلُ عنھم ایھم اکثر قُر اٰ نََا فیقدمہ اِلَی القِبلَۃ قَال فَدَفَنَھُم رسول اللہ ﷺ۔
    (ترمذی ابواب الجنا ئز باب ما جآ ئَ فِی قَتلیَ احدٍ وََذکرحمزۃ۔صفحہ 1/121)
    اس حوالہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جنگ احد کے مو قع پر کفن کم تھا اور شہید زیا دہ تھے۔ حضور ﷺ نے دو د و ، تین تین شہیدوں کو ایک کفن میں لپیٹ کر ایک قبر میں دفن کرنے کی ہد ایت فرمائی ۔
    (۵) عَن ہِشَامِ بنِ عَا مرٍ قَال لَمَّا کَا نَ یو م اُحدٍ اَصَابَ النَّاسَ جُھدٌ شَدِیدٌ فَقَالَ النبیُّ ﷺ اِحفِرُو ا و اَ و سِعُو ا و ا دفِنُو ا لا ثنینِ وَ الثلٰثۃَ فِی قَبرٍٍ فَقَا لُو یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَمَن نقّدم قَالَ قَدِّ مُو اکثَر ھُم قُر اٰ ناً ۔
    (نسائی کتاب الجنا ئز باب دفن الجماعۃ فی القبر الواحد صفحہ 1/230 )
    حضرت ہشام بن عا مر ؓ بیان کر تے ہیں کہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہونے والوں کے متعلق حضور ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ ان کے لئے قبر گہری اور کشا دہ کھو دو اور اس میں دو دو ، تین تین افراد کو دفن کرو ۔صحا بہ نے عرض کیا کہ لحد میں اتارنے کے لئے کس کو مقدم کیا جائے ۔حضور ﷺ نے فرمایا جو قر آن کریم
    زیادہ جانتا ہو۔
    (۶) فقہ السنۃ میں لکھا ہے ۔
    ’’ القصد من الدفن اَن یَوَا رَی المیّت فی حفرۃ تحجب رائحمۃ و تمتع السباع و الطیور عنہ و علی ا یّ ۔ وجہ تحقق ہذا المقصود تاٗ دی بہ الغرض و تسمّ بہ الوا جب الا انّہ ینبغی تعمیق القبر قدر قا مۃ لما روا ہ النسا ئی و التر مذی و صححہ ھشام بن عامر قال شکو نا الیٰ رسو ل ﷺ یوم اُحد فقلنا یا رسول اللہ الحضر علینا لکل انسا ن شدید ۔ فقا ل رسو ل اللہ ﷺ احفرو ا عمقو و احسنو وا د فنوا الا ثنین و ا لثلا ثۃ فی قبرٍ وا حد ۔

    ( ۱۔ فقہ السنۃ ۔الجنا ئز استحباب اعما ق القبر صفحہ ۵۴۴ جلد ۱)
    ( ۲۔ المحلی لا بن حزم صفحہ ۱۱۶ جلد ۵)
    یعنی مردہ کو دفن کرنے کا مقصد یہ کہ میت کا جسم جانورو ں اور پرندوں سے محفوظ رہے اور بد بو نہ پھیلے ۔ اس غرض کے لئے قبر کم از کم کمر تک گہر ی ہو ۔
    ہشام بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے مو قع پر ہم نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ہر شہید کے لئے الگ الگ قبر کھو دنا ہما رے لئے بہت مشکل ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا قبر گہر ی کھو دو اور ایک قبر میں دو دو ، تین تین افراد کو دفن کر دیں ۔
    ان حوالہ جا ت سے یہ بات وا ضح طور پر سامنے آتی ہے کہ متو فیان میں سے دو دو یا تین تین کو ایک قبر میں دفن کیا جانا شرعی لحاظ سے درست ہے ۔اور آنحضرت ﷺ نے خو د اسکی جنگ احد کے ختم ہونے پر ہدایت فرمائی۔ علاوہ ازیں مکرم ابو المنیرنو ر الحق صاحب نے بیان کیا کہ جب قا دیا ن سے ہجرت ہوئی اور عارضی طور پر لاہور میں قیا م ہوا تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی صدا رت میں رتن باغ میں روزانہ ناظروں اور وکلاء کی میٹنگ ہوتی تھی اور حضور کی خدمت میں ناظر صاحبان اور وکلا ء صاحبا ن اپنی کار کر دگی کی رپورٹ پیش کر تے تھے۔ایک دن میٹنگ میں مختلف اغرا ض کے لئے مختص کئے گئے قطعا ت کا ذکر ہو رہا تھا تو خاکسار نے عرض کیا کہ بہشتی مقبرہ کیلئے مخصوص قطعہ چھو ٹا ہے جس پر حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا گو مخصوص قطعہ چھوٹا ہے لیکن ایک قبر میں دو دو اور تین تین موصی بھی دفن ہو سکتے ہیں اس لئے فی الحا ل بہشتی مقبرہ کا قطع مجو زہ کا فی ہے ۔ سیّدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کے پیش نظر بھی ایک قبر میں دو دو ، تین تین مو صیا ن کو اوپر تلے اکٹھے دفن کیا جا سکتا ہے ۔
    احا دیث میں واضح طور پر ایسے ارشادات مو جو د ہیں جن سے معلو م ہوتا ہے کہ متو فیا ن میں سے دو دو ،تین تین کو عند الضرورت ایک قبر میں اکٹھے دفن کرنا جائز اور درست ہے ۔ او ر شرعی لحاظ سے اس پر عمل کرنے میں کو ئی روک نہیں ۔ سید نا حضرت مصلح موعود ؓ نے بھی اس امر کو جائز قرار دیا ہے ۔
    سب کمیٹی میں جو دوسرا مسئلہ زیر بحث آیا وہ جہیز کے با رے میں تھا ۔ جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے کہ مکر م نوید احمد صا حب (فرضی نا م ) گرداسپور(فرضی نام ) نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اید ہ اللہ بنصر ہ العز یز کی خدمت میں لکھا۔
    آپ جما عت احمدیہ میں جہیز کے متعلق یہ فیصلہ فرمائیں کہ جہیز کا سارا سامان خوا ہ وہ کسی نو عیت کا ہو دلہن کی ذاتی ملکیت ہے ۔
    ساس سسر کو اسی طرح دوسر ے سسرالی رشتہ داروں کو قطعی اجازت نہیں کہ وہ کسی حیلے بہانے سے اپنے قبضہ میں لے لیں، حفا ظت کا بہانہ کیو ں نہ ہو ۔ اگر کسی کے پاس ایسا مال منقولہ ہو یا غیر منقولہ ۔ دلہن کے مطالبہ پر یا اس کی وفات کے بعد خوا ہ کسی طرح وفات ہو ئی ہو۔ اس کے والدین یا دوسرے خونی رشتہ داروں کو واپس کر دیا جائے ۔ سسرال کے کسی فرد کو یہ حق نہیں ہو گاکہ دلہن کی کوئی چیز خواہ وہ ایک سو ئی کیوں نہ ہو اس کو روک لے ۔ یہ قانون موت کی ہر صورت میں نافذ ہو گا۔
    مذکو رہ بالا تجویزپر بحث کرتے ہوئے اراکین کمیٹی کے سامنے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت وراثت آئی جس میں متوفّیٰ کے ترکہ کے حق دار وارثو ں اور ان کو ملنے والے حصص کا ذکر ہے ۔
    اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے۔
    یُو صِیکُم اللّٰہٗ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِِِِِِِِ مِثْلُ حَظِّ اْلاُ نْثَیَیْنِِ ۔ فَاِ نْ کُنَّ نِسَآ ئً فَوْ قَ اثْنَتَیْنِِِِ فَلَھُنَّ ثُلُثاَ مَا تَرَکَ وَاِنْ کَا نَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النّصفُ وَ لِاَ بَوَ یہِ لِکُلِّ وَ احدٍ منھُماَالسُّدُسُ مِمَّا تَرَ کَ اِن کَا نَ لَہُ وَ لَدٌ ۔فاَِنْ لَم یَکُنْ لَّہٗ وَ لَدٌ وَّ وَ رِِِِِِِ ثَہٗ اَ بَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الّثُلُثُ فَاِنْ کَانَ لَہٗ اِخْوَۃٌفَلِا مِّہِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِوَصِِیَّۃٍ یُّو صِیْ بِِِِِِھَآ اَوْ دَیْنٍِِ اٰبآ ؤُ کُمْ وَ اَبْنَآ ؤُکُمْ لَا تَدْرُُوُْْْ نَ اَیُّھُمْ اَقْرَ بُ لَکُمْ نَفْعاً فَرِِِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیماً حَکِیْماً(۱۲) وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّ بُعُ مِِمَّا تَرَ کْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِِِھَااَوْ دَیْنٍِِِِ وَلَھُنَّ الرُّ بُعُ مِمَّا تَرَ کْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَا نَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍتُوْ صُوْ نَ بِِھَا اَوْ دَیْنٍِِ وَ اِنْ کَا نَ رَجُلٌ یُّوْ رَ ثُ کَلٰلَۃً اَوِِِا مْرَاَ ۃٌ وَّ لَہٗ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِِّ وَا حِدٍ مِّنھُمَا السُّدُسُ فَاِنْ کَا نُوٓ ا اَ کْثَرَ مِنْ ذٰ لِکَ فَھُمْ شُرَکَآ ئُ فِی الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَ صِیَّۃٍ یُّوْ صٰی بِِھَآ آوْ دَیْنٍٍٍٍٍٍٍٍِِِِ غَیْرَ مُضَآ رٍّ وَصِِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ(۱۳)
    (سورۃ النساء آیت 12 تا 13 )
    ان آیات کا ترجمہ یوں ہے ۔
    اللہ تمھا ری اولاد کے متعلق تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتو ں کے حصہ کے برابر ہے اور اگر اولاد عورتیں ہی عورتیں ہوں جو دو سے اوپر ہو ں تو انکے لئے جو کچھ مرنے والوں نے چھوڑا ہے اسکا دو تہائی مقرر ہے۔ اور اگر ایک ہی عورت ہو تو اسکے لئے ترکہ کا آدھا ہے اور اگر مرنے والے کے اولاد ہو تو اس کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ مقرر ہے اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وار ث ہوں تو اس کی ماںکا تیسرا حصہ مقرر ہے ۔ لیکن اگر اسکے بھائی بہن مو جو د ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ مقرر ہے یہ سب حصے اس کی وصیت اور اس کے قرض کی ادائیگی کے بعد ادا ہوں گے۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ دادوں اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہارے لئے زیادہ نفع رساں ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض مقرر کیا گیا ہے ۔ اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ جائیں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو انکے ترکہ کا آدھا حصہ تمھار ا ہے ۔ اور اگر انکی اولادموجود ہو تو جو کچھ انہو ں نے چھوڑا ہو اس کا چو تھا حصہ تمہا راہے ۔ یہ حصے وصیت اور انکے قرض کی ادائیگی کے بعد بچے ہو ئے مال میں سے ہوں گے ۔ اور اگر تمہارے ہاں اولاد نہ ہو تو جو کچھ تم چھوڑ جا ؤاس میں سے چوتھا حصہ ان بیویوںکا ہے اور اگر تمہارے ہاں اولاد ہو تو جو کچھ تم چھوڑجاؤ اس میں سے آٹھواں حصہ انکا ہے۔
    مذکو رہ بالا آیا ت قرآنیہ میں سب وارثو ں کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیئے ہیں اور یہ کہا ہے اگر تمہا ری بیویا ں فو ت ہو جا ئیں اور وہ کوئی تر کہ چھوڑیں تو خاو ندوں کو نصف تر کہ ملے گا بشر طیکہ اولاد نہ ہو ۔ لیکن اگر اولاد موجودہو تو خاو ندوںکو ترکہ کا چوتھا حصہ ملے گا ۔اسی طرح خاوندوں کے ترکہ سے بھی بیوی کا حصہ بیان کردیا گیا ہے۔ نیز مرنے والے کے ماں باپ کا بھی حصہ بیا ن کیا گیا ہے ۔ اس واضح ارشاد قرآنی کے بعد اگر کوئی یہ مطالبہ کرے کہ بیویوں کا سارے کا سارا ترکہ اس کے ماں باپ کو مل جائے اور خاو ند کو نہ ملے تو یہ بھی کسی طرح درست نہیں ہو سکتا اور کوئی مسلمان اس واضح ارشاد قرآنی کی خلاف ورزی کیلئے تیار نہیں ہو گا۔
    علاوہ ازیں اللہ تعا لیٰ قرآن مجید سو رۃ نساء کی آیت نمبر 21 میں فرماتا ہے ۔
    ؎وَ اِنْ اَرَ دْ تُّمُ ا سَْتِبْدَالَ زَوْجٍٍِِ مَّکَانَ زَوْجٍٍِِ وَّ اٰ تَیْتُمْ اِحْدٰ ھُنَّ قِنْطَا راً فَلَا تَاْخَُذُوْ ا مِنْہُ شَیْاً اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُھْتَا ناً وَّ اِثْماً مُبِِیْناً۔
    لیکن اگر تم ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی کرنا چاہتے ہو اور تم پہلی بیوی کو ایک ڈھیر مال دے چکے ہو تو بھی اس مال سے کچھ واپس نہ لو ۔کیا تم اسے بہتا ن اور کھلے کھلے گناہ کے ذریعہ سے لو گے ۔
    اس آیت میں واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو دیا ہوا مال بیوی کی ملکیت ہو جاتا ہے ۔اور خاوند اسے واپس نہیں لوٹاسکتا ۔
    الغرض جہیز کادیا ہو ا مال ہو یا خاوند کی طرف سے دیا ہوا مال ،دونو ں طرح کا مال عورت کی ملکیت ہو جا تا ہے ۔اور اس مال میں سے وفات کے بعد جو مال وہ چھوڑے گی ۔وہ قرآن مجید میں بیان کردہ وارثوں کو ملے گا نہ کہ جہیز والدین کو لوٹ جائے اور خاوند کا دیا ہوا مال وہ واپس لے لے ۔
    پس سمیع اللہ صاحب کا یہ خیال کہ دلہن کا جہیز اس کی وفات کے بعد اس کے سسرال والوں کو نہ ملے بلکہ دلہن کے والدین کو واپس جانا چاہیے ۔ یہ ارشاد درست نہیں اور ارشاد خدا وندی کے خلاف ہے اس لئے سب کمیٹی اس کی تائید نہیں کر سکتی ۔کیونکہ عمل وہی درست ہو سکتا ہے جو ارشاد خداوندی کے مطابق ہو۔
    دستخط
    (۱) سید عبد الحی شاہ
    (۲) مرزا غلام احمد
    (۳) مرزا محمد الدین
    ارشاد حضور انور اید اللہ بنصرہ العزیز۔
    ’’منظور ہے میں تو پہلے ہی اس طرف مائل تھا ‘‘
    دستخط
    حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان :عرصہ حضا نت کے دوران والد اوروالدہ کے حقوق ۔
    رجسٹر نمبر 3 صفحہ نمبر 14 حوالہ نمبر2/24-2-92
    مکرمی و محترمی صدر صاحب دارالا فتاء۔
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا تہ
    عرصہ حضا نت کے دوران فریقین یعنی نا با لغ کے والد اور والدہ کے حقوق کے بارہ میں حضرت خلیفتہ المسیح اید ہ اللہ کی خدمت میں ایک معا ملہ پیش ہونے پر ارشاد ہو ا کہ ان امو ر کے با رہ میں تنقیحا ت وضع کر کے دارالا فتا ء سے استصواب کریں ۔
    خاکسار کی رائے میں تنقیحات کی صورت بصورت ذیل ہو گی ۔
    ۱۔ حضانت کے عرصہ کے دورا ن نا با لغ کی پرورش اور نگہداشت کے تعلق میں نابالغ کا والد کس نو عیت کی اور کس حد تک ہد ایا ت دے سکتا ہے ۔
    ۲۔ کیا نا بالغ کا والد مطالبہ کر سکتا ہے کہ حا ضنہ نا بالغ کو لیکر کسی خاص آدمی کے گھر جا ئے یا نہ جائے ۔
    ۳۔ نا بالغ کی پر ورش کے سلسلہ میں والد کی کسی خواہش کو حا ضنہ از خود اس بناء پر نظر انداز کر سکتی ہے کہ وہ غیر مناسب ، غیر معروف اور اس کے حقوق میں بے جا مداخلت کے مترادف ہے ۔
    ۴۔ کیا اس امر کو ثا بت کرنا کہ والد کی خواہش غیر مناسب ، غیر معروف اور بے جا مداخلت کے مترادف نہیں والد کی ذمہ داری ہے ۔
    ۵۔ سو رۃ بقرہ کی آیت نمبر 234 کے حوالہ سے نابا لغ کی پرورش کے سلسلہ میں مذکور کے والد اور والدہ کے کیاحقوق اور ذمہ داریا ںہیں۔
    قضاء کے رو برو حضانت کے ضمن میں بعض معاملات اس نو عیت کے آتے ہیں جن کے بارہ میں اراکین بو رڈ کی رائے ہے کہ ان امور کے متعلق بھی دار الا فتاء سے استصواب کیا جا نا منا سب ہو گا ۔ ان امور کی شکل تنقیحات کی صور ت میں بصور ت ذیل ہوں گی ۔
    الف )حاضنہ نا با لغ اور نا بالغہ کو انکی کس عمر کو پہنچنے تک اپنے پاس رکھنے کی حق دار ہے ۔
    ب) حضا نت کا عرصہ ختم ہونے کے بعد نا بالغ کی خو اہش کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے کو کس حد تک اہمیت دی جانی چاہئے ۔
    ج)حضانت کا عرصہ ختم ہو جانے کے بعد قضا ء اگر فیصلہ کرے کہ نا با لغ ماں کے پاس رہے تو اس صو رت میں کیا نابالغ کا والد اسکے اخراجا ت ادا کرنے کا ذمہ دار ہے ۔
    د)باہمی رضا مندی سے اگر والد نے اس شر ط کے تابع حق ولایت ترک کر دیا ہو کہ وہ نا با لغ کا خرچہ ادا کر نے کا ذمہ دار نہیں ہو گا تو حضا نت کا عرصہ ختم ہوجا نے کے بعد والد اپنے بچہ کو واپس حاصل کرنے کا مجاز ہے۔( ایسے معاہدہ کی شرعی حیثیت کیا ہو گی )
    س) دوران حضا نت نا با لغ کے والد سے ملاقات کے ضمن میں حاضنہ کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے ۔اگر وہ ملاقات میں ممداور معا ون نہ ہوتو اس امر کا اس کے حق حضا نت پر کیا اثر ہو گا ۔
    ص)دوران حضا نت ملا قا ت کے مو قع پر اگر نابا لغ اپنے والد کے پا س نہ جانا چاہے تو کیا اسے زبردستی والد کے حوالہ کیا جا سکتا ہے ۔
    ع)کیا دوران حضانت والد کا حق ولایت سا قط ہو سکتا ہے ۔اگر ہو سکتا ہے تو کن وجوہا ت کی بناپر۔
    والسلام
    خاکسار
    عبد الرحمان
    صدر قضا بورڈ ۔ربوہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں