1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

عقیدہ حیا ت مسیحؑ اور حضرت مسیح موعودؑ

'وفات مسیح ناصری علیہ السلام' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    عقیدہ حیا ت مسیحؑ اور حضرت مسیح موعودؑ

    بعض غیر احمدی خصوصیت سے براہین احمدیہ کی وہ عبارت پیش کیا کرتے ہیں جس میں حضرت اقدسؑ نے مسیح ناصری ؑکو زندہ تسلیم کیا ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ کیا براہین احمدیہ کی تحریر کے وقت اﷲ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید کا علم صحیح نہیں دیا تھا ؟ توا س کا جواب یہ ہے کہ دیا تھا۔ چنانچہ براہین احمدیہ کی محولہ عبارت نکال کر دیکھ لو۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ دربارہ حیات مسیح درج فرمایا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی جو علم آپ کو اﷲ کی طر ف سے اس بارے میں دیا گیا تھا وہ بھی درج فرما دیا ہے۔ اس جگہ ہم وہ عبارت درج کرتے ہیں:۔

    ’’ جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔ اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اﷲ علیہ وسلم۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کررکھا ہے۔ ‘‘

    (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۵۹۳، ۵۹۴ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)

    اب دیکھ لوکہ حضرت اقد سؑ نے کس صفائی سے اپنے خیال کو جو دوسرے مسلمانوں کے رسمی عقیدہ پر مبنی تھا، نہایت سادگی سے بیان فرمادیا ہے، لیکن جو علم اس کے خلاف اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا اس کو بھی نہایت صفائی سے بیان فرمادیا ہے۔ منقولہ بالا عبارت میں ’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے۔ ‘‘کے الفاظ خصو صیت سے قابل غور ہیں، کیونکہ ’’لیکن ‘‘کا لفظ بتاتا ہے کہ اس سے پہلے جو لکھا گیا اس کے خلاف اب کچھ لکھا جانے لگا ہے۔ ’’ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘کے الفاظ بتاتے ہیں کہ جو اس سے پہلے لکھا گیا وہ اﷲ تعالیٰ کے بتائے ہوئے علم کی بنا ء پر نہیں، بلکہ عام انسانی خیال کی بناء پر ہے۔ لیکن ما بعد جس مشابہت تامہ اور پیشگوئی مسیح موعود کا مصداق ہونے کا جو مذکور ہے وہ صحیح علم ہے جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دیاگیا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام ’’کشتی نوح ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:۔

    ’’اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو وہ…… لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں ۔ ‘‘ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۵۰)

    پس براہین احمدیہ کے حوالے حیاتِ مسیح کی سند میں پیش کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہودی اپنے قبلہ کی تائید میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا بطور سند کے پیش کرے، حالانکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ فعل محض رسمی تھا۔ کیونکہ سنتِ انبیاء یہی ہے کہ وہ پہلے نبی کی امت کے عام عقائد اور اصولی اعمال پر گامزن رہتے ہیں جب تک کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خاص حکم کے ذریعہ ان کو روکا نہ جائے۔ یہی حال یہاں ہے۔ (خادم ؔ)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں