1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ ازروئے سناتن دھرم

'اسلام اور ویدک دھرم' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 5, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    سناتن دھرم

    حضرت کرشن علیہ السلام کی آمدکی نشانیاں

    (۱) شری کرشن جی خود فرماتے ہیں کہ:۔

    ’’ہے بھارت !جب دھرم کی نیستی اور ادھرم کا دور دورہ ہو جاتا ہے تب میں اوتار لیتا ہوں۔‘‘

    (۲) پھر فرماتے ہیں:۔

    ’’کہ نیک لوگوں کی حفاظت اور بدوں کو نیست و نابود کرنے اور صراط مستقیم یعنی دین خدا کو قائم کرنے کے لئے ہر ایک یُگ پر میرا اوتا رہوتا ہے۔‘‘ (گیتا ادھیائے ۴شلوک ۷،۸)

    (۳) شری و یاس جی پہلی نشانی مہا بھارت کے مصنّف مقدس رشی بیان فرماتے ہیں کہ کلجگ کے دورے میں اندھا دھند ادھرمی (بیدینی)کی علمداری رہتی ہے۔جھوٹ، فریب،ہتیا (ایذاء رسانی) غصّہ، لالچ کا دور دورہ ہوتا ہے۔انسان کو خراب افعال سے رغبت اور نیک اعمال سے نفرت ہو جاتی ہے۔جپ تپ (عبادت،ریاضت)پوجا پاٹ، برت، ہون ایسے ایسے تمام نیک کام براہمن تک چھوڑ دیتے ہیں اوروں کا کیا ذکر ۔خوردنی اور نا خوردنی چیزوں کا امتیاز نہیں رہتا۔چھوت چھات کو واہیات سمجھتے ہیں۔کھشتریوں کو رعیّت پروری سے تنفّر ہوتا ہے۔جرأت اور بہادری کھو بیٹھتے ہیں۔ سَنْتَوْں کی خدمت گزاری سے کچھ کام نہیں رہتا ۔دولت ہی کی فکر میں اندھے رہتے ہیں۔غلّہ بے مزہ۔پھل بے ذائقہ ہوجاتے ہیں۔کم عمر صاحب اولاد ہوجاتی ہیں۔آٹھ برس کی عمر میں حمل ٹھہر جاتا ہے۔درختوں کی بارآوری کم ہوجاتی ہے۔گائیوں کا دودھ گھٹ جاتا ہے۔اوقات مناسب پر پانی نہیں برستا۔امساک کے بارہ سے قحط عالمگیر ہوتے ہیں۔ناخن اور بال بڑھا کر لوگ مہاتما بن جاتے ہیں۔برہمچاری مال خوب مارتے ہیں۔عورتوں کا چلن بگڑ جاتا ہے۔خاوندوں کے ہوتے ہوئے نوکروں سے ملتفت ہوتی ہیں۔مرد حسین بی بی سے محبت نہیں کرتے ۔زنانے بازاری کو گلے کا ہار بناتے ہیں۔شراب خانے آباد رہتے ہیں۔عبادت خانے سنسان ۔جہاں پہلے دھرم تھے وہاں بدفعلیاں اور بد عملیوں کی گرم بازاری رہتی ہے۔‘‘ (مہابھارت بن پرب صفحہ ۸۹،۶۸۶،۶۸۷)

    (۴) جس وقت کلجگ آگیا سمجھ لیجئے کہ دنیا کی ہوا پلٹ گئی ۔وہ وہ پاپ، وہ وہ گناہ ہوں گے کہ زمین کانپ اٹھے گی۔لڑکے والدین کو بیوقوف سمجھیں گے۔رضا جوئی فرمانبرداری کیسی؟عورتیں لڑائی جھگڑے بکھیڑے سے خاوندوں کے ناک میں دم لائیں گی۔جب اس طرح سے دھرم کا پیالہ چھلکنے کو ہوگا تو بھگوان جی کو تکلیف کرنی پڑے گی کہ کلجگی اوتارمیں جلوہ دکھائیں گے۔ پاپ کی ناؤ ڈوبے گی۔دھرم کی بیل ہری بھری ہوگی۔ (مہابھارت بن پرب صفحہ ۶۸۹)

    (۵) نہہ کلنکی کی طاقتیں غیبی ہوں گی۔ طاقت میں بے نظیر، عقلمندی میں یکتائے روزگار۔ یوں تو نہ کوئی ہتھیار پاس ہوگا(لڑائی کا اوزار)مگر ایک اشارے میں سب کچھ موجود ہوجائے گا۔ذات مبارک دھرم کو از سر نو زندہ کرے گی۔بد کردار راجے لقمۂ تیغ اجل ہوجائیں گے۔دھرم کی خلاف ورزی عذاب میں سمجھی جائے گی۔ (ایضاً صفحہ ۶۰و۶۹۰)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں