1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی توہین

'صحابہ کی توہین ۔ غیر احمدی' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 14, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی توہین

    مسجد نبوی ؐ میں (آیت حجاب کے نازل ہونے سے پہلے) ایک خوبصورت سفید رنگ کی عورت نماز پڑھنے کے لئے آئی۔ تو صحابی بے اختیار ہو کر اس کو تاڑنے لگے۔ جوپچھلی صف میں تھے ان کی خواہش تھی کہ آگے آجائیں۔ اور جو اگلی صف میں تھے وہ اس صف میں ملنے کے لئے پیچھے آنا چاہتے تھے پھر نماز شروع ہوئی۔ تو اگلی صف والے صحابی جب رکوع میں جاتے تھے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے تھے اس پر سورۃ حجر رکوع ۲ کی یہ آیت نازل ہوئی کہ کہ ہم اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور پچھلوں کوبھی۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے اور اس کے آگے لکھا ہے۔ ھٰذَا حَدِیْثُ صَحِیْحِ الْاَسْنَادِ (مستدرک حاکم جلد ۲ صفحہ ۳۵۳ مطبوعہ حیدر آباد) راوی نوح بن قیس قَالَ الذَّھْبِیُّ صَحِیْحٌ ھُوَ صُدُوْقٌ خَرَجَ لَہٗ مُسْلِمٌ۔ کہ راوی نوح بن قیس ثقہ اور سچا ہے اور اس سے مسلم نے روایت لی ہے۔

    ب۔ عمر بن عذبہ رضی اﷲ عنہ خرمے بیچتے تھے۔ ایک عورت خوبصورت خرمے مول لینے آئی۔ توا س سے کہا کہ میرے گھر کے اندر بہت خوب خرمے ہیں۔ جب وہ عورت گھر کے اندر آئی تو عمر بن عذبہ نے اس کا بوسہ لے لیا اور فوراً نادم ہو کر حضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس شریف میں حاضر ہوئے اور رو کر گذرا ہوا حال عرض کیا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (سورہ ہود: ۱۱۵ نیز دیکھو تفسیر قادری موسومہ بہ تفسیر حسینی مترجم اردو )

    ج:۔ پھر لکھا ہے۔

    ’’قریش کا قافلہ بہت اسباب لئے ہوئے شام سے پھرا اور ابو سفیان اور بعض رؤسائے عرب اس قافلے کے سردار تھے۔ جبرئیل علیہ السلام آئے اور حضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر دی اور آپ نے مسلمانوں سے یہ حال بیان کیا۔ قافلہ میں بہت مال اور تھوڑے آدمی ہونے کے سبب سے مسلمان مائل ہوئے کہ راہ پر چل کر قافلہ مار لیں۔ پھر اسی قصد پر مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔

    (تفسیر حسینی زیر آیت الخ سورۃ انفال: ـ۶)

    د۔ جنگ بدر کے ذکر میں سورۃ انفال رکوع ۲ کی پہلی آیت (الانفال:۱۲) کی تفسیر میں لکھا ہے:۔

    ’’حق تعالیٰ نے صحابہ ؓ پر اونگھ غالب کر دی…… اور اس نیند میں اکثر صحابہ ؓ کو احتلام ہو گیا۔ صبح ہی شیطان ملعون نے وسوسہ دینا شروع کیا کہ تم لوگوں کو نماز پڑھنا چاہیے اور بعضے بے وضو ہو بعضے نجس اور پانی تمہارے پاس ہے نہیں …… حق تعالیٰ نے برمحل پانی برسا دیا۔ چنانچہ فرماتا ہے ‘‘ الانفال:۱۲ (ایضاً تفسیر حسینی زیر آیت الانفال:۱۲)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں