1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

شمائل النبی ۔ یونی کوڈ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    شمائل النبی ۔ یونی کوڈ

    س
    بَابُ مَا جَائَ فِیْ خَلْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے حلیہ مبارک کا بیان 1
    1: ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نہ نمایاں طور پربہت زیادہ لمبے تھے نہ ہی پستہ قامت، نہ تو بالکل سفید2تھے اور نہ گندم گوں،اور (آپؐ کے بال)نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو چالیس سال کے سر پر مبعوث فرمایا۔ آپؐ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا3اور مدینہ میں دس سال۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ساٹھ سال کے سر پر وفات دی۔اس وقت آپؐ کے سر اور ریشِ مبارک میںبیس بال بھی سفید نہ تھے۔
    2:حضرت انس بن ما لکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺمیانہ قد کے تھے۔نہ تو آپؐ بہت لمبے تھے نہ
    1۔ خَلق ظاہری پیدائش کو کہتے ہیں اور خُلْق روحانی پیدائش کو ۔خَلق میں ظاہری اعضاء اور حلیہ وغیرہ آتا ہے اورخُلق میںاخلاقِ فاضلہ ۔
    2۔ اَلْاَمْھَقُ: اَلْاَبْیَضُ شَدِیْدُالْبَیَاضِ لَا یُخَالِطُہٗ حُمْرَۃٌ (اقرب الموارد تالیف علامہ سعید الخوری الشرتونی اللبنانی) خوب سفید رنگ جس میں سرخی نہ ملی ہو۔
    3۔ آنحضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عمر مبارک کے بارے میں امام ترمذی نے الگ باب باندھا ہے جو حدیث نمبر362سے شروع ہو رہا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ثقہ اور پختہ روایات کے مطابق حضور صلّی اللہ علیہ وسلّمنے 63سال عمر پائی اوردعوٰی نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام فرمایا۔اس جگہ معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے کسر بیان نہیں کی اوربطور راؤنڈ فگر(Round Figure)دس سال کا ذکر کر دیا ،یا پھر علانیہ دعوٰی سے قبل تین سال کا عرصہ شمار نہیں کیا۔
    چھوٹے قد کے تھے۔آپؐ خوبصورت جسم والے تھے۔آپؐ کے بال نہ گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے، آپؐ گندمی رنگ کے تھے٭ جب آپؐ چلتے تو قدرے آگے کو جھکے ہوئے چلتے۔
    3 : ابو اسحاق سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ میں نے حضرت براء بن عازبؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے بال گھنگریالے اور سیدھے کے درمیان تھے۔ آپؐ میانہ قدکے تھے۔آپؐکے دونوں شانوںکے درمیان فاصلہ تھا (یعنی سینہ چوڑا تھا) گھنے بالوں والے تھے جو کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ آپؐ سرخ رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے تھے میں نے آپؐ سے زیادہ حسین کبھی کوئی چیز نہیں دیکھی۔
    4 : حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی زلفوں والا سرخ جوڑے میںرسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا۔ آپؐ کے بال کندھوں پرپڑتے تھے۔آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان فاصلہ تھا(یعنی چوڑے سینے والے تھے)۔نہ آپؐ پستہ قد کے تھے اور نہ ہی لمبے تھے۔
    5 : حضرت علی بن ابوطالبؓسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺنہ طویل القامت تھے نہ چھوٹے قدکے، ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر، سر بڑا،جوڑ مضبوط اور بڑے بڑے ،سینے سے ناف تک بالوں کی باریک لمبی
    ٭ ثقہ روایات سے معلوم ہوتا ہے حضور ؐ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا۔
    دھاری تھی٭۔ جب آپؐ چلتے توذرا آگے کوجھکے ہوتے گویا آپؐ بلندی سے اتر رہے ہوں۔میں نے آپؐ جیسا نہ آپؐ سے پہلے کسی کودیکھا ،نہ آپؐکے بعد۔

    6 : ابراہیم بن محمد جو حضرت علی ؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ رسول اللہ ﷺکا حلیہ بیان کرتے تو فرماتے نہ رسول اللہ ﷺ بہت ہی زیادہ لمبے تھے نہ ہی بہت پستہ قد کے تھے کہ اعضاء ایک دوسرے میں پیوست ہوںبلکہ میانہ قد کے تھے۔ نہ آپؐ کے بال بہت گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے ۔کسی قدر خمدار تھے۔ نہ ہی آپؐ فربہ تھے اور نہ ہی نحیف الجسم۔نہ ہی گال پھولے ہوئے تھے بلکہ آپؐ کا چہرہ کسی قدر گول تھا۔رنگ سرخی مائل سفید تھا۔آنکھیں نہایت سیاہ پلکیں دراز، جوڑوں کی ہڈیاں مضبوط اور کندھے فراخ تھے۔ بدن پر بال نہ تھے (صرف)سینے سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی۔ دونوں ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے۔جب چلتے تو مضبوطی سے پاؤں اُٹھا کر چلتے گویا کہ آپؐ ڈھلوان سے اتر رہے ہوں۔جب (کسی طرف) رُخ فرماتے تو پوری طرح فرماتے۔ آپؐ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپؐ خاتم النبیین ہیں۔آپؐ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی

    ٭ طَوِیْلُ الْمَسْرُبَۃِ کے معنے بعض لوگوں نے ’’آنکھوں کے کوئے باریک اور لمبے ‘‘بھی کئے ہیں۔
    دل تھے اور سب لوگوں سے زیادہ سچ بولنے والے تھے اورسب سے زیادہ نرم طبیعت تھے اور معاشرت میں سب سے زیادہ باوقار تھے۔ جوآپؐ کوکسی تعارف کے بغیردیکھتا مرعوب ہو جاتااور جان پہچان کے بعد آپؐسے ملتا تو آپؐ سے محبت کرنے لگتا۔آپؐ کی تعریف کرنے والا کہتاہے کہ میں نے نہ آپؐ سے پہلے نہ آپؐ کے بعد کسی کو آپ ﷺ جیسا دیکھا۔
    ابو عیسیٰ (امام ترمذی) کہتے ہیں میں نے ابو جعفر محمد بن حسین سے سناانہوںنے کہا کہ میں نے اصمعی سے سنا۔ وہ نبی کریم ﷺکے حلیہ کی روایت کی یوں تفسیر کرتے تھے کہ اَلمُمَغِّطُ کے معنے ہیں بہت زیادہ لمبا ۔ انہوں نے کہا میں نے ایک اعرابی کو گفتگو میں یہ کہتے ہوئے سنا تَمَغَّطَ فِی نَشَّابَتِہٖیعنی اس نے اپنے تیر کو خوب کھینچا اور اَلْمُتَرَدِّدُ سے مراد ایسا جسم جس کے اعضاء ایک دوسرے میں گھس گئے ہوں اور قد چھوٹا رہ گیا ہو اورقَطَطُکے معنے ہیں سخت گھنگریالے بال اور الرَّجِلُکے معنی ہیںخمدار بال فِیْ شَعْرِہٖ حُجُونَۃٌ اَیْ تَثَنٍّ قَلِیْلًاآپؐ کے بال ہلکے سے گھنگریالے تھے یعنی کچھ خمدار اوراَلْمُطَہَّمُسے مرادبھاری بدن ،زیادہ گوشت والاہونا ہے اور اَلْمُکَلْثَمُ کے معنی گول چہرے والا اور اَلْمُشْرَبُ کے معنی ایسی سفیدی جس میں سرخی کی آمیزش ہو اور اَدْعَجُ کے معنی ہیں بہت زیادہ سیاہ آنکھیں اور اَھْدَبُ کے معنی پلکوں کا لمبا ہونااور اَلْکَتَدکے معنی ہیں وہ جگہ جہاں دونوں کندھے ملتے ہیںاور اسی کو کاہل کہتے ہیں اور اَلْمَسْرُبَۃُ وہ بالوں کی باریک دھاری جو سینے سے ناف تک جاتی ہے۔ اَلْشَّثِنُکے معنی ہیںجس کے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں موٹی ہوں اور تَقَلُّعکے معنی ہیں پوری قوت سے چلنا اَلصَّبَبُکے معنی ہیں ڈھلوان جیسے آپ کہتے ہیں اِنْحَدَرْنَا فِیْ صَبُوْبٍ وَ صَبَبٍ ہم ڈھلوان میں اترے۔ اورجَلِیْلُ الْمُشَاشِ کے معنی ہیں کندھے کے اوپر کے سرے اور بدن کے باقی اعضاء مضبوط اور بڑے ہونااور اَلْعَشِیْرۃُکے معنی معاشرت اور صحبت کے ہیں اور اَلْعَشِیْرُ ساتھی کو کہتے ہیں۔ اوراَلْبَدِیْھَۃُکے معنی ناگہاں کے ہیں جیسے کہا جائے بَدَھْتُہٗ بِاَمْرٍاَی فَجَأْتُہٗیعنی میں نے اسے اچانک یا ناگہاں ایسا کیا۔
    7 : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے اپنے ماموں حضرت ھندؓ بن ابی ھالہ سے نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ نبی ﷺکاحلیہ خوب بیان کرتے تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے بھی اُن (خدّوخال) کا کچھ ذکر کریں جس سے میں چمٹ جاؤں توانہوں نے بتایاکہ رسول اللہ ﷺبارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔آپؐ کا چہرہ مبارک یوں چمکتاجیسے چودھویں کا چاند۔آپؐ میانہ قد سے کسی قدر دراز اور طویل القامت سے کسی قدر چھوٹے تھے۔سر بڑا تھا ، بال خمدار(یاکسی قدر لہر دار)اگر مانگ سہولت سے نکل آتی تو نکال لیتے ورنہ نہ نکالتے۔جب بال زیادہ ہوتے توکانوں کی لو سے بڑھ جاتے۔پھول سا رنگ، کشادہ پیشانی، ابرو لمبے باریک اور بھرے ہوئے،باہم ملے ہوئے نہ تھے ان کے درمیان ایک رگ تھی جوجلال میں نمایاںہو جاتی، ناک ستواںجس پر نور جھلکتا تھا، سرسری دیکھنے والے کو اُٹھی ہوئی نظر آتی تھی، ریش مبارک گھنی رخسار نرم، دہن کشادہ، دانت ریخدار آنکھوں کے کوئے باریک، آپؐ کی گردن خوبصورت اور لمبی صراحی دار٭ جس پر سرخی جھلکتی تھی۔صفائی میں چاندی کی مانند۔اعضاء متوازن تھے۔ بدن کچھ بھاری مگر نہایت موزوں اور مضبوط ۔شکم و سینہ ہموار۔ چوڑے سینے والے۔ دونوںکندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔جوڑمضبوط اور بھرے ہوئے۔جسم چمکتاہوا اور بالوں سے خالی،سینہ اور پیٹ بالوںسے صاف سوائے ایک باریک دھاری کے جو سینے سے ناف تک ایک خط کی طرح جاتی تھی۔ دونوں بازوؤں اورکندھوں اور سینے کے بالائی حصّہ پر بال تھے۔ کلائیاں دراز،ہتھیلی چوڑی،ہاتھ اور پاؤں گوشت سے پر اور نرم، انگلیاں دراز،تلوے قدرے گہرے ، قدم نرم اور چکنے کہ پانی ان پر نہ ٹھہرے۔جب چلتے تو قوت سے قدم اُٹھاتے۔ قدرے آگے جھکتے ہوئے قدم اُٹھاتے آپؐ فروتنی کے ساتھ چلتے،تیز رفتار تھے جب چلتے تو یوںلگتا جیسے بلندی سے اتر رہے ہوںجب کسی طرف رخ فرماتے تو پوری طرح فرماتے۔ نظر جھکائے رکھتے،اوپر آسمان کی طرف نظر کے بجائے آپؐ کی نظر زمین پرزیادہ پڑتی۔ اکثر آپؐ کی نظریں نیم وا ہوتیں۔اکثر آپ ؐ کی نظر (ایک لمحہ میں) ملاحظہ کر لیتی تھی۔ اپنے صحابہ ؓ (کا خیال رکھنے

    ٭ دُمْیَۃٌ : پُتلی ، خون کی طرح سرخ (منجد اردو) وہ پُتلی جو منقّش اور مزیّن ہواور اس میں خون کی طرح سرخی ہو۔
    کے لئے ان )کے پیچھے چلتے۔ ہر ملنے والے کو سلام کرنے میں پہل کرتے۔
    8: شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ رسول اللہ ﷺ فراخ دہن تھے۔ آنکھوں کی سفیدی میں سرخی جھلکتی تھی۔ ایڑی پر گوشت کم تھا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے سماک سے پوچھا : ضَلِیْعُ الْفَمِ کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے کہا: کشادہ دہن ۔ میں نے پوچھا: اَشْکَلَ الْعَیْنِ کیا ہے؟انہوں نے بتایا: فراخ چشم ۔ میں نے اَلْمَنْہُوْسُ الْعَقِبِ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:جس کی ایڑیوں پر کم گوشت ہو۔
    9 : حضرت جابر بن سمرہ ؓسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو چاندنی رات میں دیکھا۔آپؐ سرخ جوڑے میں ملبوس تھے۔ میں کبھی آپؐ کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف دیکھتا۔ آپؐ میرے نزدیک چاند سے زیادہ حسین تھے۔
    10 : ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت براء بن عازب ؓسے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺکا چہرہ تلوار کی طرح تھا ؟انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا۔

    11 : حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سفید رنگ تھے گویا کہ آپؐ کو چاندی سے بنایا گیا ہے۔ بال قدرے خمدار تھے۔

    12 : حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے سامنے انبیاء پیش کیے گئے ۔موسیٰ علیہ السلام تو ایسے لوگوں میں سے تھے جیسے گویا (قبیلہ ) شنوء ہ کے لوگوں میں سے ہیں اور میں نے عیسٰی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا تو ان لوگوں میں سے جن کو میں نے دیکھا ہے وہ عروہ بن مسعودؓسے زیادہ مشابہ تھے اور میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے تمہارا صاحب یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان سے زیادہ مشابہ ہیں اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے وہ دِحیہؓ سے زیادہ مشابہ ہیں ۔
    13 : سعید جریری کہتے ہیں میں نے حضرت ابو الطفیلؓ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دیکھا ہے اور آپؐ کو دیکھنے والوں میں سے اب روئے زمین پر میرے سوا کوئی نہیں رہا۔میں نے کہا میرے لئے حضور ؐ کا حلیہ بیان کیجئے ۔ انہوں نے کہا: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سفید رنگ کے تھے۔خوبصورت اور معتدل القامت تھے ۔
    14 : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    رسول اللہ ﷺ کے سامنے والے دانت ریخدار تھے۔ جب آپؐ کلام فرماتے تو سامنے کے دانتوںکے درمیان سے ایک نور سا ظاہر ہوتا تھا ۔








    بَابُ مَاجَائَ فِیْ خَاتَمِ النُّبُوَّۃِ
    نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی مہر نبوت کا بیان
    15 : سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئیں اور عرض کی یا رسولؐ اللہ! میرا بھانجا بیمار ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔پھر وضو فرمایا تو میں نے آپؐ کے وضو سے بچا ہوا پانی پیا اور آپؐ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تومیں نے آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر(نبوت) دیکھی جو چکور کے انڈے کی طرح تھی1۔

    16 : حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ (نبوت) دیکھی2 جو سرخ غدود اور کبوتری کے انڈے جیسی تھی۔

    1 اَلْحَجَلَۃ ُ : کے معنے چھپر کھٹ یعنی مسہری کے ہیں جس پر بٹن لگے ہوں(نہایہ) دلہن کی مسہری (منجد) یہ ایک پرندے کا بھی نام ہے جسے Partridge یعنی چکور ، تیتر،کبک اور دجاجِ اکبر بھی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے بعض نے چھپرکھٹ کی گھنڈی اور بعض نے تیتر یا چکور یا کبوتر کے انڈے کے معنی کئے ہیں۔ واللہ اعلم (دیکھئے : اقرب،منجد، مختارالصحاح،نہایہ،المورد)
    2 مہر نبوت دراصل ایک سرخی مائل ابھراہوا مسّہ تھاجو کبوتری کے انڈے کے برابر تھا اور گول بٹن کی مانند تھا ۔ اس پر کچھ بال تھے۔ اور اس کے گرد اگرد تل تھے۔ یہ علامت ا ہلِ کتاب کی پیشگوئیوں میں آپؐ کے حلیہ کے متعلق بطور نشان مذکور تھی۔ (از ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ )
    17 : عاصم بن عمر بن قتادہ اپنی دادی حضرت رُمَیْثہؓ سے روایت کرتے ہیںکہ انہوں نے بیان کیا :میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت سعد بن معاذؓ کے بارے میں جس دن وہ فوت ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ان کے لئے رحمن کا عرش بھی لرز گیا۔(اس وقت) اگرمیں چاہتی کہ آپؐ کے قریب ہونے کی وجہ سے مُہر کو چوم لوںجو آپؐ کے کندھوں کے درمیان تھی توایسا کر سکتی تھی۔
    18 : ابراہیم بن محمد جو حضرت علی بن ابی طالب کرّم اللّٰہوجھَہ کی اولاد میں سے تھے نے کہا کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کرتے تھے۔پھرراوی نے حدیث پوری تفصیل کے ساتھ بیان کی اور کہا آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپؐ خاتم النبیین ہیں ۔

    19 : علباء بن احمر کہتے ہیں کہ حضرت ابو زید عمروبن اخطب انصاریؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے ابو زید! میرے قریب آؤ اور میری پشت پر ہاتھ پھیرو تو میں نے آپؐ کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو میری انگلیاں مہر پر جا پڑیں۔ میں (علباء بن احمر) نے کہا :وہ مہر کیا تھی ؟ انہوں نے بتایا:بالوں کا گُچھاتھا۔

    20 : حضرت ابو بریدہؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت سلمان فارسیؓ دسترخوان لے کر جس پر تازہ کھجوریں تھیں حضور کے پاس حاضر ہوئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپؐ نے فرمایا اے سلمان! یہ کیا ہے؟انہوںنے عرض کی یہ آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کے لیے صدقہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے اُٹھا لو ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے وہ اُٹھا لیا۔اگلے روز اسی طرح وہ حاضر خدمت ہوئے اور دستر خوان رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا۔ آپؐ نے فرمایا: اے سلمان! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی آپؐ کے لیے ہدیہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: اپنے ہاتھ بڑھاؤ (اور کھاؤ)۔ پھر انہوں (یعنی حضرت سلمان فارسیؓ)نے رسول اللہ ﷺ کی پشت پر مہر دیکھی تو آپؐؐ پرایمان لے آئے۔حضرت سلمان فارسیؓیہود کے غلام تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کچھ درہموں میں خرید لیا (یہود کی) اس شرط پر کہ وہ ان کے لیے کھجور کے درخت لگائیں گے اور ان پر پھل آنے تک کام کریں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ درخت لگائے سوائے ایک درخت کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا۔ تمام کھجور کے درخت اسی سال پھل لائے سوائے ایک درخت کے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس درخت کے بارے میں دریافت فرمایا: اس کو کیا ہوا ؟تو حضرت عمر ؓنے عرض کی: یارسولؐ اللہ! اسے میں نے لگایا تھا۔رسول اللہ ﷺنے اسے اکھیڑ کر دوبارہ لگا دیا تو وہ بھی سال میں پھل لے آیا 1۔
    21 : ابو نضرہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے رسول اللہ ﷺکی مہر یعنی مہرِنبوت کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے کہا : وہ آپؐ کی پشت مبارک پر گوشت کا ابھراہوا ایک حصّہ تھا۔
    22 : حضرت عبد اللہ بن سَرجِسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپؐ اپنے کچھ صحابہؓ کے ساتھ تشریف فرماتھے۔ میں نے آپؐکے پیچھے اس طرح چکر لگا یا ۔ حضور ﷺمیری منشا سمجھ گئے اور اپنی پشت سے چادر ہٹا دی۔میں نے آپؐکے کندھوں کے درمیان بند مٹھی کی طرح مہر کی جگہ دیکھی2۔ جس کے اردگرد تل تھے جو مَسُّوں جیسے تھے۔پھر میںلوٹا اور حضورؐ کے سامنے آیا اور عرض کی: یا رسولؐ اللہ! اللہ آپؐ کی

    1۔ حضرت سلمان فار سی رضی اللہ عنہ نے اہلِ کتاب سے آنے والے موعود نبی کی تین علامتیں سن رکھی تھیں (1) وہ صدقہ نہ کھائے گا (2) وہ تحفہ قبول کرے گا (3)اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہو گی ۔جب انہوں نے یہ تینوںعلامتیں دیکھ لیں تو بیعت کرلی ۔وہ یہود کے غلام تھے۔حضورصلّی اللہ علیہ وسلّم نے انہیںمکاتبت کرنے کا ارشاد فرمایا یعنی اپنے مالکوں سے یہ طے کرلیں کہ اتنی رقم ادا کر دیں گے تو وہ آزاد ہو جائیں گے۔ یہود نے علاوہ ازیں یہ شرط بھی لگائی کہ وہ ان کے لیے 300کھجور کے درخت لگائیں اور ان کی نگہداشت کریں یہاں تک کہ وہ پھل لانے لگیں ۔درخت لگانے میں آنحضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے خود جا کر حضرت سلمانؓ کی مدد کی۔ حضرت سلمانؓ گڑھے کھودتے جاتے اور آنحضور صلّی اللہ علیہ وسلّم اپنے ہاتھ سے پودے لگاتے جاتے۔ آپؐ کی برکت سے تمام پودے نشوونما پانے لگے اور اسی سال پھل لے آئے ۔
    2۔ اس سے مراد ہاتھ بند کر کے مٹھی بنانا ہے (جمع الوسائل فی شرح الشمائل جلد 1صفحہ88تالیف علی بن سلطان محمد القاری طبعۃ الاولیٰ سنۃ1317ھ)
    مغفرت فرما چکا ہے۔ آپؐنے فرمایااور تمہیں بھی۔ لوگوں نے مجھے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے تیرے لیے دعائے مغفرت کی تھی؟ میں نے کہا ہاں اور تمہارے لیے بھی دعاکی ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: اور اپنی لغزش کی بخشش طلب کر نیز مومنوں اورمومنات کے لیے بھی٭۔
    ٭ (محمدؐ : 20 )








    بَابُ مَا جَائَ فِیْ شَعْرِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے بالوں کے متعلق بیان
    23 : حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکے بال کانوں کے نصف تک آتے تھے۔

    24 : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔آپؐکے سر کے بال کانوں کی لو سے قدرے زیادہ اور کندھوں سے اوپر تھے ۔

    25 : حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺمیانہ قد کے تھے۔آپؐ کے دونوں کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا (یعنی سینہ مبارک کشادہ تھا) اور آپؐ کے بال کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔

    26 : قتادہ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ میں نے حضرت انس ــؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکے بال مبارک کیسے تھے؟ انہوں نے کہا: نہ تو وہ گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے(بلکہ قدرے خمدارتھے۔)آپؐ کے بال کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
    27 : حضرت ام ھانی ؓبنت ابی طالب کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار مکہ میںتشریف لائے اور آپؐ کے بال چار حصوں میں بٹے ہوئے تھے ۔

    28 : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے بال مبارک کانوںکے نصف تک ہوتے تھے ۔

    29 :حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ
    اپنے بال پیشانی پر لٹکا دیتے تھے جبکہ مشرک اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالا کر تے تھے اور اہلِ کتاب کھلے چھوڑ تے تھے۔اور حضور ﷺان امور میںاہلِ کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے جن میں کوئی حکم نازل نہ ہوا ہوتا۔ پھر (بعد میں)رسول اللہ ﷺبھی مانگ نکالنے لگے۔

    30 : حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے انہو ں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا۔آپؐ کے بال چار حصوں میں بٹے ہوئے تھے ۔

    بَابُ مَا جََائَ فِیْ تَرَجُّلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے کنگھی کرنے کا بیان
    31 : حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مَیں
    رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میں کنگھی کیا کرتی تھی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

    32 : حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺاکثر سر پر تیل لگایا کرتے تھے اور اپنی داڑھی٭سنوارا کرتے تھے اور اکثر (اپنے سر پرپگڑی کے نیچے)کپڑا رکھتے تھے جو (تیل لگنے کی وجہ سے )ایسا لگتاتھا جیسے تیل بیچنے والے کا کپڑا ہو۔
    33 : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ
    رسول اللہ ﷺوضو کرنے میںجب آپؐ وضو کرتے اور کنگھی کرنے میں جب آپؐ کنگھی کرتے اور جوتا پہننے میں جب آپؐ جوتا پہنتے دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے۔
    34 : حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ(کثرت سے ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا
    ٭ تسریح کے معنے تمشیط یعنی کنگھی کرنا ہے۔(جمع الوسائل جلد نمبر1صفحہ102)
    کرتے تھے مگر گاہے بگاہے کرنے سے نہیں1۔
    35 : حُمَید بن عبد الرحمن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺوقتًا فوقتًا 2کنگھی کیا کرتے تھے۔


    1۔اس ممانعت سے مرادہر وقت تصنّع اور غلط فیشن کے تتبّع میں کنگھی کرنا ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پراگندہ بالوں والے شخص کو ارشاد فرمایا تھا کہ جاؤ کنگھی کر کے آؤ۔
    2۔ وَقْتًا بَعْدَ وَقْتٍ (جمع الوسائل جلد1 صفحہ 107)





    بَابُ مَا جَائَ فِیْ شَیْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سفید بال آجانے کا بیان
    36 : قتادہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا:کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب کا استعمال فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپؐ کو اس کی ضرورت پیش نہ آئی تھی۔آپؐ کی صرف کنپٹیوں پر کچھ بال سفید تھے۔ہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مہندی اوروسمہ کا خضاب لگایا کرتے تھے۔
    37 : حضرت انس ؓسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک اور ریشِ مبارک میں چودہ سے زائد سفیدبال نہیں شمار کیے۔

    38 : سماک بن حرب کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے سنا۔ان سے رسول اللہ ﷺ کے بالوں کی سفیدی کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا جب آپؐ اپنے سر میں تیل لگاتے تو سفید بال دکھائی نہ دیتے۔جب تیل نہ لگاتے توکچھ دکھائی دیتے۔
    39 : حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے سفید بال گنتی کے بیس تھے۔

    40 : حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا : یا رسولؐ اللہ ! آپؐکے بالوں میں سفیدی در آئی ہے؟آپؐ نے فرمایا: سورہ ھود،الواقعہ، المرسلات، عم یتساء لون اوراِذا الشمس کوِّرت نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔
    41 : حضرت ابوجُحَیفہ ؓسے روایت ہے انہوںنے کہاکہ صحابہؓنے عرض کیا: یا رسول ؐاللہ ! ہم دیکھتے ہیںکہ آپؐ کے بال سفید ہو رہے ہیں ؟آپؐ نے فرمایا:مجھے سورہ ھود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کر دیا ہے۔
    42 : حضرت ابو رمثہ التیمیؓ تیم الرباب سے روایت ہے انہوںنے کہاکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔مجھے آپؐ کا بتایاگیا۔میں نے جب آپؐ کو دیکھا تو کہا :یہ اللہ کے نبیؐ ہیں۔ آپؐ دو سبزکپڑوں میں ملبوس تھے۔اور آپؐ کے کچھ بالوں پر سفیدی آگئی تھی اور آپؐکے وہ بال سرخی مائل تھے۔
    43 : سماک بن حرب سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ حضرت جابر بن سمرہؓ سے کہا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میںسفید بال تھے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے سر میں سفید بال نہ تھے سوائے مانگ میں چندسفید بالوں کے۔ جب آپؐ تیل لگاتے تو چکنائی ان کو چھپادیتی۔
    بَابُ مَا جَائَ فِیْ خِضَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّمکے خضاب لگانے کا بیان
    44 : حضرت ابو رمثہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں اپنے ایک بیٹے کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں! میں گواہی دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: نہ وہ تم پر زیادتی کرے گا نہ تم اس پر زیادتی کرو گے۔ حضرت ابو رمثہؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے کچھ سرخی مائل بال دیکھے۔ ابوعیسیٰ کہتے ہیں خضاب کے بارہ میں یہ روایت سب سے زیادہ صحیح اورواضح ہے۔کیوںکہ صحیح روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ سفید بالوں کی عمر تک نہیں پہنچے تھے۔ اور حضرت ابو رمثہؓ کا نام رفاعہؓ بن یثربی التیمی ہے۔
    45 : عثمان بن موھب سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے سوال ہوا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

    46 : بشر بن خصاصیہ کی بیوی جہذمہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھر سے باہر تشریف لاتے ہوئے دیکھا۔آپؐ اپنے سر پر (ہاتھ) پھیر رہے تھے۔آپ ؐنے غسل فرمایا تھااور آپؐ کے سر پر مہندی کا نشان تھا۔ (راوی کے استاد کو شک تھا) کہ نشان کے لئے لفظ ردع بولا گیا تھا یا ردغ۔
    47 : حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے بال کوخضاب لگے ہوئے دیکھا۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے بیان کیا۔وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال حضرت انس بن مالکؓ کے پاس دیکھے جن کو خضاب لگا ہوا تھا۔







    بَابُ مَا جَائَ فِیْ کَحْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّمکے سرمہ لگانے کا بیان
    48 : حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: اِثمد (سرمہ) لگایا کرو٭ کیونکہ یہ بصارت کو جلا بخشتا ہے، بال اُگاتاہے۔
    حضرت ابن عباسؓ کا کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک سرمہ دانی تھی۔ جس میں سے آپؐ ہر رات ایک آنکھ میں تین دفعہ سرمہ لگایا کرتے تھے۔پھر دوسری آنکھ میںبھی تین دفعہ سرمہ لگاتے۔
    49 : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    نبی کریم ﷺسونے سے قبل آنکھوں میںتین بار اِثمد (سرمہ) لگاتے اور یزید بن ہارون ایک روایت میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺکے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپؐ سونے سے قبل آنکھوں میں تین بار سرمہ لگاتے۔


    50 : حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے سے قبل اثمد (سرمہ) لگایاکرو کیونکہ یہ بصارت
    ٭ اثمد ایک پتھر ہے جو سیاہ سرخی مائل ہوتا ہے۔(لغات الحدیث از علامہ وحید الزمان)
    کو جلا بخشتا ہے اور بال اگاتا ہے۔

    51 : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :تمہارے سب سرموں میں بہتر اثمد ہے یہ نظرکو جلا بخشتاہے اور بال اگاتا ہے۔

    52 : حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اثمد سرمہ لگایا کرو کیونکہ یہ نظر کو جلا بخشتا ہے اور بال اگاتا ہے۔








    بَابُ مَا جَائَ فِیْ لِبَاسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لباس کا بیان
    53 : حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو کپڑوں میںسے سب سے زیادہ پسندیدہ قمیص تھی ۔

    54 : حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ قمیص رسول اللہ ﷺکاسب سے زیادہ پسندیدہ لباس تھا۔

    55 : حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو کپڑوں میںجو آپؐ پہنتے تھے سب سے زیادہ پسندیدہ قمیص تھی۔



    56 : حضرت اسماء بنت یزیدؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی قمیص کی آستین کلائی اور ہاتھ کے جوڑتک ہوتی تھی۔

    57 : معاویہ بن قُرَّۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میںقبیلہ مزینہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ حاضر ہواتاکہ ہم آپؐ کی بیعت کریں اور آپؐ کی قمیص کھلی ہوئی تھی یا یہ کہا کہ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔تو میں نے اپنا ہاتھ آپؐ کی قمیص کے گریبان میں ڈالا اور مہر کو چھؤا۔
    58 : حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت اسامہ بن زیدؓ کا سہارا لئے ہوئے باہر تشریف لائے۔ آپؐ نے قِطری چادر٭ اوڑھی ہوئی تھی۔ آپؐ نے وہ کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی۔پھر آپؐنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ عبداللہ بن حمید نے کہا کہ محمد بن فضل نے بتایا کہ مجھ سے یحییٰ بن مَعین نے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جونہی وہ میرے پاس بیٹھے تو میں حدیث سنانے لگا کہ

    ٭ قطری چادر کی ایک قسم کا نام ہے جس میں سرخ دھاریاں ہوتی ہیں اور اس میں نقش بھی ہوتے ہیں اور کپڑاذراکھردرا ہوتا ہے ۔لیکن بعض شارحین کے مطابق بحرین کی طرف سے آنے والے عمدہ جوڑوں کو قطری کہتے ہیں۔ازہری کے مطابق بحرین میں ایک بستی تھی جس کا نام قطر تھا۔ وہاں سے یہ چادریں آتی تھیں۔(نہایہ ابن اثیر)
    ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ۔اس پر انہوں نے کہا کاش آپ (زبانی بتانے کی بجائے)اپنی کتاب سے سناتے۔پس میں کھڑا ہوا تاکہ اپنی کتاب نکال کر لاؤں۔تو انہوں نے میرا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: یہ تو مجھے لکھواتے جاؤکیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ سے پھر ملاقات نہ ہو (تو اس حدیث سے محروم رہ جاؤں گا)چنانچہ میں نے انہیںوہ لکھوادی۔پھرمیں نے اپنی کتاب نکالی اور ان کے سامنے پڑھا۔
    59 : حضرت ابو سعید خدری ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیا لباس زیب تن فرماتے تو اس کانام لیتے مثلًا عمامہ یا قمیص یا چادرپھر دعا کرتے کہ اے اللہ! تو ہی تمام تعریف کا مستحق ہے کیوںکہ تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا ۔میں تجھ سے اس کی خیر چاہتا ہوںاوروہ خیر جس کے لئے یہ بنایاگیا ہے اور میں تجھ سے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اوراس شر سے بھی جس کے لئے یہ بنایا گیاہے۔
    60 : حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکو تمام کپڑوں سے جو آپؐ زیب تن فرماتے تھے زیادہ پسندیدہ دھاری دار یمنی چادر تھی٭ ۔


    ٭ اَلْحِبَرَۃُ: دھاری دار یمنی چادر کا نام ہے۔ (نہایہ لابن اثیر)
    61 : حضرت ابو جُحَیفۃ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺکو سرخ لباس زیب تن فرمائے ہوئے دیکھا اور آپؐ کی پنڈلیوں کی چمک گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ سفیان کہتے ہیں میرا خیال ہے وہ دھاری دارچادرتھی۔
    62 : حضرت براء بن عازبؓؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے لوگوں میں کبھی بھی کسی کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ بڑھ کر حسین نہیں دیکھا۔ آپؐ کے بال کندھوں کے قریب پہنچ رہے تھے۔

    63 : حضرت ابو رمثہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺکو دو سبز چادروں میں ملبوس دیکھا۔

    64 : حضرت قیلہ بنت مخرمہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺکو دو پرانی چادروں میں ملبوس دیکھاجو زعفران میں رنگی ہوئی تھیں مگر وہ چادریں زعفران کا رنگ چھوڑ بیٹھی تھیں۔ حدیث میں لمبا واقعہ بیان ہوا ہے۔

    65 : حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    رسول اللہ ﷺنے فرمایا:سفید لباس پہنا کرو۔تمہارے زندہ بھی یہ پہنیںاور اپنے مُردوں کو بھی اسی میں کفناؤکیونکہ یہ تمہارا بہترین لباس ہے۔

    66 : حضرت سمرہ بن جند ب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ زیادہ پاک و صاف ہوتا ہے۔اور اِس میں اپنے مُردوں کو کفنایا کرو۔

    67 : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح باہر تشریف لے گئے ۔آپؐ نے سیاہ بالوں کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔

    68 : عروہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ایک رومی جبہ زیب تن فرمایاجس کی آستینیں تنگ تھیں۔


    بَابُ مَا جَائَ فِیْ عَیْشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے رہن سہن کا بیان
    69 :محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔آپؓ کتّان٭کے دوسرخ رنگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک سے انہوں نے ناک صاف کیا اور کہنے لگے۔واہ ،واہ ابو ہریرہ کتّان کے کپڑے سے ناک صاف کر رہا ہے۔مجھے وہ نظارہ یاد ہے جب میرا یہ حال ہوتا کہ میں منبر رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ کے درمیان غش کھا کر گر جاتا۔ کوئی آنے والا آکرمیری گردن پر پاؤں رکھ دیتا اور سمجھا جاتا کہ مجھے جنون ہے ۔حالانکہ مجھے کوئی جنون نہ تھا۔ وہ تو صرف بھوک تھی۔
    70 : حضرت مالک بن دینارؒ روایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی پیٹ بھر کرروٹی اور گوشت تناول نہیں فرمایا۔ سوائے ضَفَفْ کے وقت۔مالک کہتے ہیں: میں نے ایک بدوی سے ضَفَفْ کے معنی پوچھے تو اس نے بتایا لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا۔

    ٭ کَتَّان : ایک عمدہ قسم کے کپڑے کا نام ہے۔ یہ ایک قسم کا کپڑا ہے جو flax سے بنتا ہے ۔


    بَابُ مَا جَائَ فِیْ خُفِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے موزوں کے بارے میں بیان
    71 : ابن بُرَیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نجاشی نے نبی کریم ﷺکی خدمت میں دو سیاہ رنگ کے سادہ موزوں کا تحفہ پیش کیا۔ آپؐنے انہیں پہناپھر وضوکیا اور ان پر مسح فرمایا۔
    72 : مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت دحیہؓ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دو موزوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آپؐ نے انہیں پہنا۔ اسرائیل جابر سے اور وہ عامر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک جبّہ بھی پیش کیاتھا۔ آپؐ ان دونوں کو استعمال فرماتے رہے یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے۔نبی کریم ﷺ کو علم نہ تھا کہ وہ (موزے) جس جانور کی کھال کے تھے اسے ذبح کیا گیا تھا یا نہیں۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ نَعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے جوتے کا بیان
    73 : قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکے جوتے کیسے تھے؟ آپؓنے فرمایا: ان کے دو فیتے(strap) تھے ٭۔
    74 : حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے جوتوں کے دو فیتے تھے اور ان کے تسمے دوہرے تھے ۔

    75 : عیسیٰ بن طہمان کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے ہمیں دو جوتے نکال کر دکھائے جن پر بال نہیں تھے۔اور ان دونوں کے دو فیتے تھے۔مجھے بعد میں ثابت نے حضرت انسؓ سے بتایاکہ وہ نبی کریم ﷺکے جوتے تھے۔
    76 : عبید بن جریج نے حضرت( عبداللہ) بن عمرؓ سے پوچھا: میں نے دیکھاہے کہ آپؓ بغیر بالوں والے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو
    ٭ عربوں میں عمومًا جوتے سادہ ہوتے تھے ۔چمڑے سے جوتے کا تلا بنا کراس پرفیتے (strap) لگا دیتے۔ایسے جوتے کو نعل کہتے ہیں۔ جبکہ خف چمڑے کے موزوں کو کہتے ہیں جو ٹخنوں تک یا اس سے بھی اوپر ہوتے جیسے جرابیں ہوتی ہیں۔نہایہ میں ہے قبال وہ فیتہ strapہے جو جوتے میں دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے۔
    ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے ۔جن پر بال نہیں تھے۔ آپؐ انہی میں وضوء فرماتے تھے اس لئے میں پسند کرتا ہوںکہ ان جیسے (جوتے) پہنوں۔
    77 : حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    رسول اللہ ﷺکے جوتوں کے دو فیتے تھے۔

    78 : حضرت عمر وبن حریث فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ جن میں چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے۔
    79 : حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایک جوتے میں نہ چلے۔یا دونوں جوتے پہنے یا دونوں اتار دے۔

    80 : حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بائیں ہاتھ سے کھانے اور ایک جوتے میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔
    81 : حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے۔پس پہنتے وقت دایاں پہلے ہونا چاہیے اور اتارتے وقت دایاں بعد میں ہونا چاہیے۔
    82 : حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حتی الوسع ہر کام دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے۔ اپنی کنگھی کرنے میں اور اپنا جوتا پہننے میں اور وضو کرنے میں۔

    83 : حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    رسول اللہ ﷺ کے جوتوں کے دو دو فیتے تھے اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے بھی۔ایک فیتہ کی ابتداء حضرت عثمان ؓ نے فرمائی تھی۔





    بَاب: مَا جَائَ فِیْ ذِکْرِخَاتَمِ 1 رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی انگوٹھی کا ذکر
    84 : حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی2 تھا۔
    85 : حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس سے آپؐ مہر لگاتے تھے اور اسے پہنتے نہ تھے۔

    86 : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا ۔

    87 : حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اہلِ عجم کے نام خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپؐ کو بتایا گیا کہ عجمی صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جس پر مہر ہو۔ چنانچہ حضورؐنے مہر بنوائی جس کی سفیدی
    1۔ خاتم مہر کو کہتے ہیں اور انگوٹھی کو بھی کیونکہ انگوٹھی سے مہر کا کام بھی لیا جاتا تھا ۔
    2۔ اس کا نگینہ حبشہ کے علاقہ کا تھا۔
    گویااب بھی میں آپؐ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں ۔
    88 : حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺکی انگوٹھی کا نقش اس طرح تھاایک سطر میں مُحَمَّدٌ ایک سطر میں رَسُوْلُ اور ایک سطرمیں اللّٰہِ تھا۔
    89 : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے کسرٰی اور قیصر اور نجاشی٭ کی طرف خطوط لکھے توآپؐ سے عرض کی گئی کہ وہ بغیر مہر کے خط قبول نہیں کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک مہر بنوائی جس کا حلقہ چاندی کا تھا۔اور اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ نقش تھے۔

    90 : حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی اُتار دیتے۔


    ٭ کسرٰی ملک فارس کے بادشاہ کا لقب تھا ۔قیصر ملک شام اور نجاشی حبشہ کے ملک کابادشاہ تھا۔
    91 : حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی وہ آپؐ کے ہاتھ میں رہی ۔پھرحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنوئیں میں گر گئی۔اس پر’’ محمدرسول اللہ‘‘ کے الفاظ نقش تھے۔









    بَابُ مَا جَائَ فِیْ تَخَتُّمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے انگوٹھی پہننے کا بیان
    92 : حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺاپنی انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔



    93 : حماد بن سلمہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ابورافع کے بیٹے کو دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا ۔میں نے اس بارے میں اُن سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کودیکھا ہے کہ وہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے اور حضرت عبداللہ بن جعفر ؓنے فرمایا کہ نبی کریم ﷺانگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہناکرتے تھے۔
    94 : حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔
    95 : حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔

    96 : صلت بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے اور جہاں تک میرا خیال ہے یہ یعنی حضرت ابن عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ
    اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے ۔

    97 : حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔آپؐ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔اُس میں آپؐ نے ’’ محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ نقش کروائے اور لوگوں کو منع فرمایا کہ کوئی شخص ایسے الفاظ (انگوٹھی)پر کندہ کروائے۔یہ وہی انگوٹھی تھی جو معیقیب ؓ سے اریس کے کنوئیںمیں گر گئی تھی۔
    98 : جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کر تے ہیں انہوں نے بتایا کہ حضرت حسنؓ اورحضرت حسین رضی اللہ عنہمااپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہناکرتے تھے۔

    99: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

    100: حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔آپ ؐ اسے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے ۔اس پر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں۔ پھرآپؐنے اسے پھینک دیا اورفرمایا: میںاس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔تولوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ سَیْفِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
    101 : حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ کے اوپر کاحصّہ چاندی کاتھا ۔


    102 : سعید بن ابو الحسن سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ کے اوپر کاحصہ چاندی کاتھا۔


    103 : عبد اللہ بن سعیدالعبدی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے۔ آپؐ کی تلوار پر سونا اور چاندی لگاہواتھا۔ (راوی) طالب کہتے ہیں میں نے چاندی کے متعلق ان سے استفسار کیا تو انہوںنے بتایا کہ تلوار کے قبضہ کے اوپر کا حصہ چاندی کاتھا۔

    104 : ابن سیرین کہتے ہیں میںنے اپنی تلوارحضرت سمرہ بن جندبؓ کی تلوار کے نمونے پر بنوائی اورحضرت سمرہؓ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے نمونے پر بنوائی تھی۔ وہ احنف بن قیس کی تلوار کے طرز پر تھی۔

    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ دِرْعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زرہ کا بیان
    105 : حضرت زبیرؓ بن العوام سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ احد کے دن نبی کریم ﷺ نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔
    حضور ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے مگر چڑھ نہ سکے تو آپؐ نے حضرت طلحہؓ کو اپنے نیچے بٹھایا اور آپؐ چٹان پر چڑھ گئے۔ حضرت زبیر ؓ کہتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ طلحہ ؓ نے(جنت) واجب کر لی ہے۔



    106 : حضرت سائب بن یزیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن دو زرہیں اوپر نیچے پہنی ہوئی تھیں ۔



    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ مِغْفَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے خَود کا بیان
    107 : حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپؐ نے خَود پہنا ہوا تھا۔ آپؐ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے قتل کر دو٭۔
    108 : حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپؐ نے سر مبارک پر خود پہنی ہوئی تھی ۔ جب آپؐ نے وہ اُتاری تو ایک شخص آپؐ کے پاس آیا اور عرض کی کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ ابن شھاب بیان کرتے ہیں کہ یہ بات مجھ تک پہنچی کہ اس روز رسول اللہ ﷺ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔

    ٭ فتح مکہ کے موقعہ پر حضور ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا تھا سوائے ان معدودے چند مجرموں کے جو لائق سزا تھے۔ انہیں قتل کر دینے کا حکم فرمایا ۔ ان میں سے ایک ابن خطل تھاجو علاوہ دیگر جرائم کے ایک انصاری مسلمان کے ناحق قتل کے باعث بطور قصاص قتل کیا گیا۔ (سیرت الحلبیہ)اس کے کعبہ کے پردوں سے لٹکنے کا فعل بتاتاہے کہ وہ مکہ فتح ہونے کے باوجود surrender کرنے کے لئے تیارنہیں تھا۔

    بَابُ مَا جَائَ فِیْ عِمَامَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے عمامہ کا بیان
    109 : حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺنے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا ۔


    110 : جعفر بن عمرو ؓبن حریث اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سیاہ عمامے میں دیکھا۔
    111 : جعفر بن عمروبن حریث اپنے والد سے روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم ﷺنے لوگوں سے خطاب فرمایا اور آپؐ نے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا ۔

    112 : حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ جب عمامہ باندھتے تو عمامہ (کا شملہ) دونوں شانوں کے درمیان لٹکا لیتے ۔ نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔ اورعبیداللہ کہتے ہیں میں نے قاسم بن محمد اور سالم کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا۔


    113 : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایااور آپؐ سیاہ رنگ کی پٹی باندھے ہوئے تھے٭۔

    ٭ متن میں لفظ دسماء ہے جس کے معنے سیاہ بھی ہو سکتے ہیں اور oily بھی۔


    بَاب : مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ اِزَارِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ازار کا ذکر
    114 : حضرت ابوبردہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے ہمارے سامنے ایک پیوند لگی چادر اور ایک موٹی ازار نکالی اور فرمایا: رسول اللہ ﷺنے ان دو میں وفات پائی ۔

    115 : اشعث بن سُلَیم اپنی پھوپھی سے اور وہ اپنے چچا (عبید بن خالدؓ) سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ میں مدینے میں چلا جا رہا تھا کہ اس اثناء میں ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کہا: اپنا ازار اوپر کرلو۔ کیونکہ یہ تقوٰی کے زیادہ قریب ہے۔ اور کپڑا زیادہ محفوظ رہتا ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ! یہ تو حاشیے والی چادر ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے لئے مجھ میںاسوہ نہیں؟ میں نے دیکھا تو آپؐ کا ازار آپؐ کی نصف پنڈلیوں تک تھا۔
    116 : سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفّان ؓ اپنی پنڈلیوں کے نصف تک ازارباندھتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے دوست یعنی نبی کریم ﷺکے ازارباندھنے کا یہ انداز تھا۔

    ٭کِسَائً : جسم کے اوپر والے حصہ کا کپڑا۔٭اِزَارًا: جسم کے نیچے والے حصہ کاکپڑا۔

    117 : حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے میری پنڈلی کا گوشت پکڑا یا اپنی پنڈلی کااور فرمایا ازاریہاں تک ہونی چاہیے ۔ اگر تم نہ مانو تو پھر اس سے (کچھ)نیچے، اگر پھر بھی نہ مانو تو ازارکا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔




    بَاب : مَا جَائَ فِيْ مِشْیَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے کا انداز
    118 : حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے کوئی چیز رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیںدیکھی گویا آفتاب کی چمک آپؐ کے چہرے پر بہہ رہی ہوتی تھی اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تیز چلنے والا کوئی نہیں دیکھا گویا زمین آپؐ کے لئے سمٹتی چلی جاتی تھی ۔ ہم بڑی جدوجہد کرتے ہوئے آپؐکے ساتھ چلتے اور آپؐ بڑے اطمینان سے چل رہے ہوتے ۔
    119 : حضرت علی ؓ جب رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کرتے تو فرماتے جب آپؐ چلتے تو مضبوطی سے پاؤں اٹھا کر چلتے گویا کہ آپ ؐ ڈھلوان سے اتر رہے ہوں ۔




    120 :حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب چلتے تو قدرے جھک کر چلتے گویا کہ آپؐ ڈھلوان سے اتر رہے ہوں۔




    بَابُ مَاجَائَ فِیْ تَقَنُّعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سر مبارک کے ڈھانپنے کا ذکر
    121: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ اکثر سر مبارک پر کپڑا٭رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ( چکناہٹ کی وجہ سے ) آپ ؐ کا کپڑا تیل بیچنے والے کا کپڑامحسوس ہوتا تھا ۔

    ٭ اَلْقِنَاعُ سے یہاں وہ کپڑا مراد ہے جو سر پر عمامہ کے نیچے رکھتے ہیں تاکہ عمامہ کو تیل نہ لگ جائے۔ (جمع الوسائل)


    بَابُ مَاجَائَ فِیْ جِلْسَتِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بیٹھنے کے انداز کا ذکر
    122: حضرت قیلہؓ بنت مخرمہ روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتی ہیں جب میں نے رسول اللہ ﷺکو اس عاجزی سے بیٹھے دیکھا تو میں رعب کی وجہ سے کانپنے لگی۔



    123: عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺکو مسجد میںپشت کے بل سیدھے لیٹے ہوئے دیکھا آپؐ نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔
    124: حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو اپنے ہاتھوں سے گوٹھ مار کر بیٹھتے۔



    بَابُ مَا جَائَ فِیْ تَکْأَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ٹیک لگانے کا بیان
    125: حضرت جابر بن سمرہ ؓسے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ؐ تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے جو آپؐ کے بائیں طرف تھا۔



    126:حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ!آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپؐ بیٹھ گئے اور فرمایا: جھوٹی گواہی دینا یافرمایاجھوٹ بولنا۔ راوی کہتے ہیںرسول اللہ ﷺ بار بار یہ فقرہ دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش حضور ؐخاموش ہو جائیں۔

    126: حضرت ابو جُحَیْفہ ؓسے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :میں تو ٹیک لگا کر نہیں کھاتا٭۔

    ٭ گریکو رومن دنیا میں اونچا طبقہ reclining پوزیشن میںیعنی نیم دراز ہوکر کھاناکھاتا تھااور اس کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔
    128: علی بن اقمر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو جُحَیْفہ ؓ کوکہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگاکر نہیں کھاتا۔

    129: حضرت جابر بن سمرۃ ؓسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ وکیع کی روایت میں’’بائیں طرف‘‘ کاذکر نہیں ہے۔ اسی طرح بعض اور راویوں نے اسرائیل سے وکیع کی طرح روایت کی ہے ۔مگر ہم نہیں جانتے کہ کسی نے بھی بائیں طرف کا ذکر کیا ہو۔سوائے اُس روایت کے جس میں اسحاق بن منصور اسرائیل سے روایت کرتے ہیں۔



    بَاب : مَا جَائَ فِیْ اتِّکَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہارا لینا

    130: حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺبیمار تھے۔ آپ حضرت اسامہ ؓ کا سہارا لئے ہوئے باہر تشریف لائے اور آپؐ یمنی منقش چادراوڑھے ہوئے تھے۔اور آپؐ نے انہیں (صحابہ کو) نماز پڑھائی۔
    131: حضرت فضلؓ بن عباس سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپؐ کی اس بیماری میں حاضر ہوا جس میں آپؐ کی وفات ہوئی۔ آپؐ کے سر مبارک پر زرد رنگ کی پٹی بندھی ہوئی تھی میں نے سلام کیا۔آپؐنے فرمایا اے فضل! میں نے کہا لبیک یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا: اس پٹی سے میرے سر کو اچھی طرح باندھ دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؐ بیٹھ گئے اور آپؐ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور کھڑے ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے۔ اس حدیث میں(دوسری جگہ) پورا واقعہ بیان ہوا ہے۔



    باب: مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ اَکْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانا تناول فرمانے کا طریق
    132: حضرت کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (کھانے کے بعد) اپنی انگلیاںتین دفعہ چاٹ لیا کرتے تھے٭۔
    ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ محمد بن بشار کے علاوہ راویوں نے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپؐ اپنی تینوں انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔


    133: حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیاں (یعنی ان کے پورے) چاٹ لیتے۔
    134: حضرت ابو جُحَیفہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں تک میرا تعلق ہے میں تکیہ لگاکر نہیں کھاتا۔




    ٭ انگلیوں سے مراد اُن کے پورے بھی ہوتے ہیں۔

    135: حضرت کعب بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے اور انہیں چاٹ لیتے تھے۔

    136: مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺکے پاس کچھ کھجوریں لائی گئیں۔ میں نے دیکھا آپؐ تناول فرما رہے ہیں اور بھوک کی وجہ سے گوٹھ٭ مار کر تشریف فرما ہیں۔

    ٭ مُقْع : وَھُوَ الْاِحْتِبَائُ الَّذِی ھُوَ جِلْسَۃُ الْاَنْبِیَائِ (جمع الوسائل جلد1صفحہ236)


    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ خُبْزِِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روٹی کا بیان
    137: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ آل محمد ﷺ نے متواتر دو دن پیٹ بھر کے جَو کی روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺکا وصال ہو گیا۔


    138: حضرت ابو امامہ باھلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اھل بیت میں جَو کی روٹی کبھی نہیں بچتی تھی٭۔

    139: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے گھر والے مسلسل کئی راتیں خالی پیٹ گزار دیتے تھے اور رات کھانے کے لئے کچھ نہ پاتے تھے اور اکثر آپ کی روٹی جَو کی ہوتی تھی۔

    ٭ یہ اس بات کا کنایہ ہے کہ ا ہلِ بیت کم ہی سیر ہوکر کھاتے تھے۔(جمع الوسائل جلد1صفحہ238)
    140: حضرت سہل بن سعدؓ سے کہاگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا کبھی سفید میدے ٭ کی روٹی کھائی تھی؟ حضرت سہل ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺنے کبھی میدہ نہ دیکھا تھایہاں تک کہ آپؐ اللہ عزّ وجل سے جا ملے۔ان سے کہا گیا کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تم لوگوں کے پاس چھلنیاں تھیں؟توانہوں نے کہاکہ ہمارے پاس چھلنیاں نہیں تھیں۔ ان سے کہا گیا پھر تم جَو (کے آٹے) کو کیسے استعمال کیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا ہم اسے پھٹکا کرتے تو (چھلکے، تنکے وغیرہ) اڑ جاتے پھر ہم اسے گوند ھ لیا کرتے تھے۔




    141: حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی میزپر کھانا تناول نہیں فرمایا۔ نہ ہی طشتری میں نہ ہی آپؐ کے لیے میدے کی چپاتی بنائی گئی۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قتادہ ؓ سے پوچھا: پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر تناول فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: چمڑے کے دسترخوانوں پر۔



    142: مسروق کہتے ہیں میںحضرت عائشہ ؓ کے پاس گیا۔ انہوں نے میرے لیے کھانا منگوایا اور فرمایا جب بھی میں
    ٭ اَلْحُوَّارَی: آٹاجو کئی بار چھانا جائے(نہایہ) میدہ (مختار الصحاح)
    (ایک دن میں)دو مرتبہ سیر ہو کر کھاتی ہوں مجھے رونا آ جاتا ہے اور میں رو پڑتی ہوں۔ میں نے کہا کیوں؟انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺکی وہ حالت یاد آ جاتی ہے جس میں آپ ﷺ نے دنیا چھوڑی۔ خدا کی قسم حضور ﷺنے کبھی بھی ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور گوشت پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔
    143: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات تک کبھی بھی متواتر دو دن جو کی روٹی (بھی)سیر ہو کرتناول نہیں فرمائی۔




    144: حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی میز پر کھانا تناول نہیں فرمایا۔ نہ ہی آپؐنے نرم چپاتی کھائی یہاں تک کہ آپؐ فوت ہو گئے۔






    بَاب: مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ اِدَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا ذکر
    145: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔


    146: حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ کیا تم لوگ جو چاہتے ہو وہ کھاتے پیتے نہیں ہو ؟ میں نے توتمہارے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپؐکے پاس معمولی قسم کی کھجوریں بھی اتنی نہ ہوتیں جو آپؐ کاپیٹ بھر سکیں ۔
    147: حضرت جابربن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔

    148: زَہدَم الجَرْمیکہتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے پاس تھے۔ آپ کے پاس مرغی کا گوشت لایا گیا۔ لوگوں میں سے ایک شخص ایک طرف ہو گیا۔ انہوںنے اس سے
    پوچھا تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا میں نے اسے کچھ( گند) کھاتے دیکھا تھا اس لیے میں نے قسم کھائی ہے کہ اسے نہ کھاؤں گا۔انہوں نے کہا قریب آ جاؤ (اور کھانا کھاؤ) کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو مرغی کاگوشت کھاتے دیکھا ہے۔
    149: حضرت سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حباریٰ٭کا گوشت کھایا ہے ۔

    150: زَہدَم الجَرْمیکہتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ ؓکے پاس تھے وہ کہتے ہیںکہ آپ کا کھانالایا گیا۔کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا گیا۔ لوگوں میں بنو تیم اللہ کا ایک سرخ فام شخص تھا جو آزاد کردہ غلام معلوم ہوتا تھا۔راوی کہتے ہیں کہ وہ کھانے کے قریب نہ گیاتوحضرت ابوموسیٰ ؓنے اسے کہا قریب آؤ ، میں نے رسول اللہ ﷺ کواس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا میں نے اسے ایسی چیز کھاتے دیکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ اس لیے میں نے قسم کھائی ہے کہ اسے کبھی نہ کھاؤں گا۔
    151: حضرت ابو اَسِیدکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے استعمال کروکیونکہ یہ بابرکت درخت کا تیل ہے۔

    ٭ حبارٰی کا لفظ مختلف قسم کے پرندوں پر بولا گیا ہے جیسے بٹیر ، سرخاب، چکور، وغیرہ ۔ قاموس العصری میں Bustard کے معنی کیے گئے ہیں۔

    152: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤاور اس کی چکنائی استعمال کیا کرو کیونکہ یہ مبارک درخت میں سے ہے۔




    153: حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کدو پسند تھا۔ (ایک مرتبہ) حضور ﷺکے پاس کھانا لایاگیا یا آپؐ کواس کے لئے مدعو کیا گیا تومیں کدو چن چن کر حضور ﷺ کے سامنے رکھنے لگا کیونکہ میں جانتا تھا کہ حضور ﷺ کو یہ پسند ہیں۔
    154: حکیم بن جابر اپنے والد (حضرت جابرؓ)سے روایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ایک مرتبہ میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپؐ کے پاس کدو دیکھا جس کے ٹکڑے کیے جا رہے تھے۔میں نے عرض کی یہ کیا ہے؟ فرمایا: اس سے ہم اپناکھانازیادہ کریں گے۔

    155: حضرت انس بن مالک ؓ بیان کر تے ہیں کہ ایک درزی نے کھانے کے لئے جو اس نے تیار کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کومدعو کیا۔حضرت انس ؓ کہتے ہیں :میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس دعو ت میں گیا۔اُس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربا پیش کیا۔جس میںکدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔حضرت انسؓ کہتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ پیالے کے اطراف سے کدو چن چن کر تناول فرمارہے ہیں۔پس اُس دن سے میںبھی کدو پسند کرنے لگا۔
    156: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میٹھا اور شہد پسند فرماتے تھے۔

    157: عطاء بن یسار کو حضرت ام سلمہؓ نے بتایاکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں پہلو کابھنا ہوا گوشت پیش کیا۔ آپؐ نے اُس میں سے تناول فرمایا۔پھر نماز کے لئے تشریف لے گئے اور وضوء نہیں کیا۔

    158: حضرت عبداللہ بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا۔

    159: حضرت مغیرہؓ بن شعبہ روایت کر تے ہیں کہ ایک رات میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ مہمان تھا۔ حضور ﷺ کو پہلو کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا ۔آپؐ نے چھری پکڑی اور اُس سے کاٹ کاٹ کر مجھے دینے لگے۔اتنے میں حضرت بلال ؓ آپؐ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے آ گئے ۔آپؐ نے چھری رکھ دی اور فرمایا ا س کو کیا ہوا ؟اللہ اس کا بھلا کرے۔حضرت مغیرہؓبیان کرتے ہیں کہ ان کی مونچھیں بہت بڑھ گئی تھیں۔ حضور ﷺنے انہیں فرمایا: میں مسواک پر(رکھ کر) کاٹ دوں یا یہ فرمایاکہ انہیں مسواک پر(رکھ کر) کاٹ لو۔
    160: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور(اس میں سے) آپؐ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی۔اس کا گوشت آپؐ کو پسند تھا۔ آپؐ نے اسے دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔
    161: حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ؐ کو دستی کے گوشت میںہی زہر دیا گیا تھا ۔اور گمان کیا جاتا تھا کہ آپؐ کویہود نے زہر دیا تھا۔

    162: حضرت ابو عُبَیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے ہنڈیا پکائی۔ آپ ؐ کو دستی کا گوشت پسند تھا ۔میں نے آپؐ کی خدمت میں دستی پیش کی ۔حضور ﷺ نے فرمایا: مجھے اور دستی دو۔ میں نے وہ پیش کی۔ آپؐ نے پھر فرمایاکہ مجھے دستی دو، میں نے عرض کیا :یا رسول ؐاللہ ! ایک بکری کی کتنی دستیاںہوتی ہیں؟آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خاموش رہتے تو جب تک میں دستی مانگتا رہتا تم مجھے دستی دیتے جاتے۔
    163: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ دستی کا گوشت رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ تو پسندنہ تھابلکہ اس لیے کہ چونکہ کبھی کبھار گوشت آتا تھااور یہ جلدی پک جاتا ہے۔اس لئے آپ ؐ اسے پسند فرماتے تھے۔




    164: حضرت عبداللہ بن جعفر ؓبیا ن کرتے ہیں کہ میں نے
    رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین گوشت پشت کا گوشت ہے۔



    165: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی خوب سالن ہے۔

    166: حضرت ام ھانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: کیا آپ کے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں سوائے خشک روٹی اور سرکہ کے۔ فرمایا: لے آؤ! وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو ۔
    167: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ ؓ کو دوسری عورتوں پروہی فضیلت ہے جو ثریدکوباقی کھانوں پر ہے ۔



    168: حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ ؓ کو دوسری عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثرید کو باقی کھانوں پر۔



    169: حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپؐ نے پنیر کا ٹکڑا تناول فرماکر وضوء کیا۔پھر ایک دفعہ دیکھاکہ آپؐ نے بکری کا شانہ تناول فرمایا اور نماز پڑھی مگر وضوء نہیں کیا ۔
    170: حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہؓ سے شادی پر ولیمہ کھجور اور ستو سے کیا تھا۔

    171: حضرت عبیداللہ بن علی اپنی دادی حضرت سلمیٰ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ اورحضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابن جعفر ؓ ان کے پاس آئے اور کہا ہمارے لیے کوئی کھانا تیار کریں جسے رسول اللہ ﷺ بہت پسند فرماتے تھے اور اچھی طرح کھاتے تھے۔ توانہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اب ہمیں وہ کھانا پسند نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ آپؐ ہمارے لیے ایسا کھانا تیار کریں۔راوی کہتے ہیں:چنانچہ وہ اٹھیں اور کچھ جَو لے کر پیسے پھر اسے ہنڈیا میں ڈالا۔ اس پر تھوڑا سا زیتون کاتیل ڈالا اور کچھ مرچیں اور گرم مصالحہ پیس کر ڈالا اور ان کے سامنے پیش کیا۔اور فرمایا یہ وہ کھانا ہے جو نبی ﷺکو بہت پسند تھا اور اس کا کھاناآپؐ کو مرغوب تھا۔

    172: حضرت جابربن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ۔ہم نے آپؐ کے لئے ایک بکری ذبح کی توآپ ﷺنے فرمایا: گویا انہیں علم ہے کہ ہمیں گوشت پسند ہے۔ اور اس بارہ میں حدیث میں ایک واقعہ بیان ہے۔
    173: حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اورمیں آپؐ کے ساتھ تھا۔ پھر آپؐ ایک انصاری خاتون کے ہاں گئے۔ اُس نے آپؐ کے لئے بکری ذبح کی۔ آپؐنے اُس میں سے کچھ تناول فرمایا۔پھر اس نے طشتری میں تازہ کھجوریں پیش کیں۔آپؐ نے کچھ تناول فرمائیں۔ پھر ظہر کی نماز کے لئے وضوء کیا اور نماز ادا کی۔ پھر واپس تشریف لائے۔انہوں نے بکری کا بچا ہوا گوشت پیش کیا۔آپؐ نے تناول فرمایا پھر نماز عصر ادا کی اور (دوبارہ) وضوء نہیں کیا ۔
    174: حضرت ام منذر ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت علیرضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اس میں سے تناول فرمانے لگے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت علیؓ بھی تناول فرمانے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا: اے علیؓ! ٹھہرو۔ تم ابھی بیماری سے اُٹھے ہو۔ (تم مت کھاؤ) حضرت ام منذرؓ کہتی ہیں اس پر حضرت علیؓ بیٹھ گئے۔ اور نبی کریم ﷺتناول فرماتے رہے۔وہ بتاتی ہیں پھر میں نے چقندر اور جَو کا کھانا آپؐ کے لئے تیار کیا۔نبی ﷺنے فرمایا۔ اے علیؓ اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔

    175: حضرت ام المومنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لاتے اور فرماتے کیا تمہارے پاس صبح کے کھانے کے لئے کچھ ہے؟میں عرض کرتی نہیں تو آپؐ فرماتے: میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔اسی طرح ایک روزآپؐ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! ہمیں ایک تحفہ آیاہے۔آپؐ نے فرمایا: کیا ہے؟ میں نے عرض کی حیس1 ہے۔ آپؐ نے فرمایا:میںنے تو صبح روزہ رکھا تھا۔وہ کہتی ہیں پھر آپؐ نے کھانا تناول فرمایا2۔

    176: حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ آپؐ نے جَو کی روٹی کا ٹکڑا لیا۔اس پرایک کھجور رکھی پھر فرمایا :یہ اس کاسالن ہے اور تناول فرمایا۔



    1۔ ایک قسم کا کھاناجوکھجور ، گھی اور پنیر وغیرہ سے بنانا جاتا ہے۔
    2۔ مدّنظر رہے کہ یہ نفلی روزہ تھا۔

    177: حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بچا ہوا کھانا پسند تھا ۔




    بَاب :مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ وُضُوْئِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَالطَّعَامِ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے کھانے کے وقت وضوء کرنے کا ذکر
    178: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے۔ آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیااور عرض کیا۔کیا ہم آپؐکے لئے وضوء کا پانی لائیں؟ آپؐنے فرمایا:مجھے وضوء کا اس وقت حکم ہے جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوں ٭۔
    :179 حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے باہر آئے۔ آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا اور عرض کی گئی کہ کیا آپؐ وضوء فرمائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا:نماز پڑھوں گا تو وضوء کروں گا۔

    180: حضرت سلمان (فارسی ؓ )کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کے بعد وُضوء کرنا(ہاتھ منہ دھونا)کھانے میں برکت کاموجب بنتاہے۔میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا اور جو تورات میں پڑھا تھا آپ ؐ کو بتایا تورسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ کھانے سے قبل اور اس کے بعد وضوء کرنا(یعنی ہاتھ منہ دھونا)کھانے میں برکت کا موجب ہے۔


    ٭ وضوء کا لفظ نماز کے لئے اصطلاحی وضوء پر بھی بولا جاتاہے اور محض ہاتھ منہ دھو کر صاف کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔
    بَابُ مَا جَائَ فِیْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَ مَا یَفْرَغُ مِنْہُ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اُن دعاؤں کا بیان جوآپؐ
    کھانے سے قبل اور کھانے کے بعد کیا کرتے تھے۔
    181: حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز ہم نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھے۔ آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا میں نے ایسا کھانا کبھی نہیں دیکھا کہ جب ہم نے کھانا شروع کیا اس میں اس قدر برکت ہو اورجس کے آخر میں اس قدرکم برکت ہو۔ ہم نے عرض کی یا رسولؐ اللہ !یہ کیسے ہوا ؟ فرمایاجب ہم نے کھانا شروع کیا ہم نے بسم اللہ پڑھی تھی پھر ایک شخص آکر بیٹھا اور کھانے میں شامل ہوا اور اُس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اس لئے اس کے ساتھ شیطان کھانے لگا۔
    182: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے اور کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یہ کہے بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ اللہ کے نام کے ساتھ اس کے شروع میں اور آخر میں۔
    183: حضرت عمربن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ کے پاس کھاناپڑا تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا:میرے بیٹے! قر یب آجاؤاللہ کا نام لو اوردائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
    184: حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو کہتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجََعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں مسلمانوں میں سے بنایا۔

    185: حضرت ابو امامہ باھلیؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے دسترخوان اُٹھا دیا جاتا تو آپؐ کہتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ غَیْرَمُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا۔تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے بہت زیادہ اورپاکیزہ حمدجس میں برکت رکھی گئی ہے۔ جسے اے ہمارے رب ! نہ چھوڑا جا سکتاہے اور نہ اس سے استغنا ء کیا جا سکتا ہے۔
    186: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے چھ صحابہؓ کے ساتھ کھاناتناول فرما رہے تھے۔ اتنے میں ایک بدو آیا اور دو لقموں میں ہی کھانا ختم کر دیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو کھاناتم سب کے لئے کافی ہو جاتا۔




    187: حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے راضی ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھاتایاکچھ پیتا ہے تو اس پر (خدا) کی حمد کرتا ہے۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ قَدَحِِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پیالے کا ذکر
    188: ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے ہمیں لکڑی کا ایک موٹا پیالہ نکال کر دکھایا جس پر لوہے کے پترے لگے ہوئے تھے۔ جس کا دستہ لوہے کا تھا اور کہا:اے ثابت! یہ رسول اللہ ﷺکا پیالہ ہے۔

    189: حضرت انس ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس پیالہ میں تمام مشروبات ، پانی اور نبیذ(پھلوں کا شربت) اور شہد اور دودھ پلایا ہے ۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ فَاکِہَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّمکے پھل (کھانے) کا بیان
    190:حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ ککڑی تازہ کھجور کے ساتھ تناول فرماتے تھے۔

    191: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺتربوز تازہ کھجورکے ساتھ تناول فرماتے تھے۔

    192:حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو خربوزہ اور تازہ کھجور اکٹھے (کھاتے) دیکھاہے۔

    193: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تربوزتازہ کھجور کے ساتھ تناول فرمایا۔


    194: حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ جب لوگ موسم کے پہلے پھل کو دیکھتے تو رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لاکر پیش کرتے اورجب رسول اللہ ﷺ اسے لیتے تو یہ دعا کرتے : اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيْ اَثْمَارِنَا وَبَارِکْ لَناَ فِيْمَدِ یْنَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِيْْ صَاعِنَا وَفِيْمُدِّنَا اللّٰہُمَّ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ عَبْدُکَ وَخَلِیْلُکَ وَ نَبِیُّکَ وَ اِنِّیْ عَبْدُکَ وَ نَبِیُّکَ وَ اِنَّہٗ دَعَاکَ لِمَکَّۃَ وَاِنِّیْ اَدْعُوْکَ لِلْمَدِیْنَۃِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ بِہٖ لِمَکَّۃَ وَمِثْلِہٖ مَعَہٗ: اے اللہ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے شہر میں برکت نازل کر۔اور ہمارے صاع ٭اور مُدّ میں بھی برکت ڈال اے اللہ! ابراہیم تیرا بندہ اورتیرا دوست اورتیرا نبی تھا۔ میں بھی تیرا بندہ اورتیرا نبی ہوں اور اس نے مکہ کے لئے تیرے حضور دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تیرے حضور ویسی ہی دعا کرتا ہوںجیسی انہوں نے تیرے حضور مکے کے لئے کی تھی اور اتنی ہی مزید اس جیسی اور پھر جوسب سے چھوٹا بچہ دیکھتے اسے بلاتے اور وہ پھل اسے عطا فرماتے۔

    195: حضرت رُبَیِّع ؓبنت مُعَوَّذ ؓ بن عَفراء کہتی ہیں کہ حضرت معاذ ؓ بن عفراء نے مجھے ایک تازہ کھجوروںکی طشتری
    .2٭ صاع اور مد مشہور پیمانوں کے نام ہیں ۔مد ،صاع سے چھوٹا ہوتا ہے ۔جو آدھ سیر سے کچھ زائد وزن کاہوتا ہے۔ اہل حجاز اور اہل عراق کے پیمانوں میں فرق تھا ۔امام شافعی کے نزدیک اہل حجاز کا مد ایک رطل اور اہل عراق کا مد تہائی رطل کا تھا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مد دو2 رطل کا تھا۔ایک صاع میں چار مد ہوتے ہیں کہتے ہیں یہ نام اس لیے پڑا کہ ایک شخص اپنا ہاتھ پھیلا کر جتنا کھانا ہاتھوں میں تھام سکتا ہے وہ قریبًا مد کے برابر بنتا ہے (نہایہ)۔منجد کے مطابق صاع دوسیر چودہ چھٹانک چار تولہ کے برابر ہوتا ہے۔رطل قریبًا نصف سیر ہوتا ہے۔
    دے کر جن پرچھوٹی چھوٹی روئیں دار ککڑیاں بھی تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور نبی کریم ﷺ ککڑیاں پسند فرماتے تھے۔ پس میں وہ آپؐ کے پاس لائی اور آپؐ کے پاس کچھ زیور پڑا تھا جو بحرین سے بھیجا گیا تھا۔ آپؐ نے اس میں سے ہاتھ بھرلیا اور مجھے عطا فرمایا۔
    196: حضرت رُبَیِّع ؓبنت مُعَوَّذ ؓبن عفراء کہتی ہیں کہ میں تازہ کھجوروں کی ایک بڑی طشتری لے کر جس پر چھوٹی چھوٹی روئیں دار ککڑیاں تھیں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی توآپؐ نے ایک مُٹھی بھرزیوریاکہا سونا مجھے عطا فرمایا۔



    بَابٌ فِیْ صِفَۃِ شَرَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے مشروب کا بیان
    197: حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا جو ٹھنڈا اور میٹھا ہو۔

    198: حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولیدؓ رسول اللہ ﷺکے ہمراہ حضرت میمونہؓ کے گھر گئے۔ وہ ایک برتن میں ہمارے لئے دودھ لیکر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے نوش فرمایا۔ میں آپؐ کے دائیں طرف تھا اور حضرت خالد بن ولید ؓ بائیں طرف تھے۔آپؐ نے مجھے فرمایا: اب پینے کا تمہارا حق ہے لیکن اگر تم چاہو تو خالدؓ کو ترجیح دے دو ۔میں نے عرض کی میں آپؐکے پس خوردہ (تبرک) پر کسی اور کو ترجیح دینے والا نہیں ۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جسے اللہ تعالیٰ کھانا کھلائے تو چاہیے کہ وہ یہ دعا کرے : اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًامِّنْہا۔ اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت نازل فرما اور اس سے بہتر ہمیں کھلا۔اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ۔ اے اللہ!ہمارے لئے اس میںبرکت رکھ دے اور ہمیں یہ اورزیادہ دے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دودھ کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو کھانے اور پینے کا بدل بن سکے۔










    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ شُرْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پینے کے طریق کا بیان
    199: حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ
    نے زمزم سے پانی پیا اور آپؐ کھڑے تھے۔

    200: عمر و بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺکو کھڑے ہوکر اور بیٹھے ہوئے بھی پانی پیتے دیکھا ہے ۔
    201: حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ
    کو زمزم کا پانی پلایا۔ آپؐ نے کھڑے کھڑے پانی پیا۔

    202: نزال بن سَبرہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے پاس ایک پانی کا کوزہ لایا گیا ۔آپ (کوفے کی مسجد کے )کھلے میدان ٭ میں تھے۔ آپ نے اس میں سے ایک چلّوپانی لے کر اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالااور اپنے چہرے اور دونوبازو اور سر پرہاتھ پھیرا۔پھر پانی پیاجب کہ آپ کھڑے تھے پھر فرمایا: یہ اس شخص کا وضوء ہے جو بے وضوء نہ
    ٭ اَلرَّحْبَۃُ : رحبہ کھلی جگہ کو کہتے ہیں۔(صحاح ) کوفہ کی مسجد میں کھلی جگہ تھی۔حضرت علیؓ وہاں بیٹھا کرتے اور وعظ و نصیحت فرماتے۔
    ہو۔ میںنے رسول اللہ ﷺکواس طرح کرتے دیکھا ہے۔

    203: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ پانی پیتے ہوئے تین بار سانس لیا کرتے تھے۔اور فرماتے کہ ایسا کرنا زیادہ خوشگوار اور پیاس بجھانے والا ہے۔
    204: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ پانی پیتے تو دوبار سانس لیتے۔

    205: حضرت کبشہؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺمیرے پاس تشریف لائے اور کھڑے ہو کر لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے پانی پیا ۔ میں نے اس( مشکیزے) کے منہ کے پاس جاکر اس کو کاٹ لیا۔( کیونکہ اس پر رسول اللہ ﷺ کے مبارک ہونٹ لگے تھے اس لئے بطور تبرک کاٹ کر محفوظ کر لیا)
    206 : حضرت انس بن مالک ؓبرتن سے پانی پیتے ہوئے تین بار سانس لیتے تھے اور حضرت انس ؓ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی برتن سے(پانی پیتے ہوئے) تین بارسانس لیتے تھے۔

    207: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت ام سلیم ؓکے گھر تشریف لائے۔وہاں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا توآپؐ نے کھڑے کھڑے اس مشکیزہ کے منہ سے پانی پیا۔حضرت ام سلیم ؓ اُٹھ کر گئیں اور مشکیزہ کے منہ کو کتر لیا۔

    208: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے کھڑے پانی نوش فرما لیا کرتے تھے۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ تَعَطُّرِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوشبو لگانے کا ذکر
    209: حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک عطر کی ڈبیہ (کُپی) تھی ٭جس میں سے آپ ؐ خوشبو لگایاکرتے تھے۔

    210: ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ خوشبو کو ردّ نہیں فرماتے تھے اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خوشبو (کا تحفہ) ردّ نہیں فرماتے تھے۔

    211: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ ر سول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں ردّ نہیں کی جاتیں تکیے اور چکنائی یعنی خوشبو اور دودھ۔

    212: حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ر سول اللہ ﷺنے فرمایا: مَردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو زیادہ ہو اور اس کا رنگ ہلکا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ زیادہ ہو اور اس کی خوشبوہلکی ہو۔
    ٭ سکَّۃٌ: سُکّہ خوشبو کی ایک مشہور قسم کو بھی کہتے ہیں۔ (نہایہ)



    213: حضرت ابو عثمانؓ نہدی سے روایت ہے انہوںنے کہاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :جب تم میں سے کسی کو پھول (تحفۃً) دیا جائے تو وہ اسے رد نہ کرے کیونکہ وہ جنت سے آیا ہے۔

    214:حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب ؓکے سامنے پیش کیاگیا٭حضرت جریرؓ نے اپنی اوپر کی چادراتار دی اورازارمیں ہی چل کر دکھایاتوآپؓنے
    ٭ حضرت عمرؓ جنگ میں شرکت کرنے والے مجاہدوں کا معائنہ فرماتے تھے۔کسی ایسے ہی معائنہ کے موقعہ پر حضرت جریرؓ بھی پیش ہوئے تھے۔
    کہا: اپنی چادر لے لو، پھرحضرت عمرؓ نے لوگوں سے فرمایا:میں نے جریرؓ سے زیادہ خوبصورت کوئی شخص نہیں دیکھاسوائے حضرت یوسف علیہ السلام کے کہ جن کی صورت کے متعلق ہمیں خبرپہنچی ہے۔

    بَاب: کَیْفَ کَانَ کَلَامُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی گفتگو کا انداز
    215: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺتمہاری طرح جلدی جلدی بات نہیں کرتے تھے۔بلکہ آپؐ ایسا کلام فرماتے جو واضح اور (ہر لفظ) الگ الگ ہوتا کہ آپؐ کے پاس بیٹھنے والا اُسے یاد کر سکتا تھا۔
    216: حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے۔ انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک بات کو تین دفعہ دہراتے تاکہ آپؐ کی بات اچھی طرح سمجھی جا سکے۔

    217: حضرت حسن بن علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ھالہؓ سے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے انداز گفتگو کے متعلق بتائیں اور وہ حضور ﷺکے اوصاف بیان کرنے میں بڑے ماہر تھے۔انہوں نے بتایا ر سول اللہ ﷺ پر مسلسل غم آتے اورآپؐ کسی مسلسل اور گہری سوچ میں رہتے۔ آپؐ کو آرام کا موقع کم ہی ملتا تھا۔ اکثر خاموش رہتے۔بغیر ضرورت کے بات نہ کرتے۔ آپؐ اللہ کے نام سے کلام شروع کرتے اور(اللہ کے نام پر ہی) اختتام فرماتے۔ آپؐ ایسا کلام فرماتے جو وسیع مطالب و معانی پر مشتمل ہوتا۔ آپؐ کے کلام کے الفاظ علیحدہ علیحدہ اور واضح ہوتے۔ اس میں کوئی زائد بات نہ ہوتی اور نہ ہی اس میں کوئی کمی ہوتی تھی۔ نہ تو آپؐ سخت مزاج تھے نہ ہی کمزور اور بے حیثیت۔ آپؐ ہر نعمت کی تعظیم فرماتے خواہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو ۔کسی نعمت کی ذرا بھی مذمت نہ کرتے۔ہاں کھانے پینے کی چیزوں کی نہ مذمت کرتے نہ تعریفیں کرتے۔نہ دنیا آپؐ کو غصہ دلاتی نہ ہی جو اس سے متعلق ہے۔لیکن اگر کوئی حق سے تجاوز کیا جاتایا حق غصب کر لیا جاتا تو پھرآپؐ کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہرسکتی تھی جب تک آپؐ اس کی دادرسی نہ کروا دیتے۔ اپنی ذات کے لئے کبھی غصے نہ ہوتے اور نہ اُس کے لئے بدلہ لیتے۔ جب آپؐ اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے کرتے۔ جب آپؐ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ اُلٹا دیتے اور جب آپؐ بات کرتے تو ہاتھ کو اس کے مطابق حرکت دیتے اور دائیں ہتھیلی کوبائیںانگوٹھے کے اندرونی حصہ پر لگاتے۔ جب آپؐ ناراض ہوتے تو اعراض کرتے اورناپسندیدگی کا اظہار فرماتے۔ جب خوش ہوتے تو آنکھیں نیچی کر لیتے۔ آپؐ کی زیادہ سے زیادہ ہنسی تبسم کی حد تک ہوتی(یعنی زورکا قہقہہ نہ لگاتے) آپؐ کے دندان مبارک ایسے لگتے جیسے بادل سے گرنے والے اولے ہوتے ہیں ۔

    ٭ بیروت میں طبع شدہ نسخہ میں یہ فقرہ موجود نہیں ہے۔

    بَابُ مَا جَائَ فِیْ ضِحْکِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ہنسنے کا بیان
    218: حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی پنڈلیا ں کسی قدر دبلی تھیں۔آپؐ کا ہنسنا تبسم ہی تھا۔جب میں آپؐ کی طرف دیکھتا تھا تو کہتا آپؐ سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ آپؐ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا۔

    219: حضرت عبداللہ بن حارث ؓ بن جَزْء بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے زیادہ مسکرانے والا کسی کو نہیں دیکھا۔
    220: حضرت عبداللہ بن حارثؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺکا ہنسناصرف تبسم ہی ہوتا تھا۔


    221: حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں اُس شخص کو خوب جانتا ہوں جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔اور اُس شخص کو بھی جو سب سے آخر میں آگ سے باہر آئے گا۔قیامت کے روز اس شخص کولایا جائے گا کہا جائے گا کہ اُس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اس سے مخفی رکھے جائیں۔ پھر اس سے کہا جائے گا جانتے ہو کہ تم نے فلاں فلاں دن یہ گناہ کیے تھے۔ وہ اقرار کرے گا اور انکار نہ کرے گا اور وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا پھر کہا جائے گا کہ اُسے ہر گناہ کے بدلے جو اُس نے کیا ایک نیکی اُسے دے دو تو وہ شخص کہے گا میرے اور بھی گناہ ہیںجو مجھے یہاں نظر نہیں آرہے۔ حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ پھرمیں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپؐ ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپؐ کی داڑھیں نظر آنے لگیں٭۔

    222: حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا مجھے کبھی رسول اللہ ﷺنے (ملاقات سے) نہیں روکا اور ہمیشہ مجھے دیکھ کرخوشی کا اظہار فرماتے ۔

    223: حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا مجھے کبھی رسول اللہ ﷺ نے (ملاقات سے) نہیں روکا۔ آپؐ جب بھی مجھے دیکھتے تبسم فرماتے۔

    ٭ فَالْوَجْہُ فِیْہِ اَنْ یُرَادَمُبَالَغَۃً مِنْہُ فِيْ ضِحْکِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یُرَادَ ظُہُوْرُ نَوَاجِذِہٖ مِنَ الضِّحْکِ (جمع الوسائل فی
    شرحِ الشمائل جلد2 صفحہ21)اوراس بیان کا مقصدآپؐ کے ہنسنے میں مبالغہ کا ذکر کرنا ہے نہ کہ ہنسنے کی وجہ سے داڑھوںکے نظر آنے کا ذکر۔
    224:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اُسے خوب جانتا ہوں جو سب سے آخر میںدوزخ سے نکلے گاوہ شخص دوزخ سے گھسٹتا ہوا نکلے گا اُسے کہا جائے گا کہ جا اور جنت میں داخل ہو جا۔فرمایا وہ جائے گا تاکہ جنت میں داخل ہو تووہ دیکھے گا کہ لوگوں نے تمام جگہیں لے لی ہوئی ہیں ۔تو وہ لوٹ آئے گا اور کہے گا اے میرے رب! لوگوں نے تمام جگہیں لے لی ہیں۔ پھر اسے کہا جائے گا کہ تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا ؟وہ کہے گا ہاں۔پھر اسے کہا جائے گاخواہش کر۔تووہ خواہش کرے گا پھر اُسے کہا جائے گا جو تو نے خواہش کی وہ تجھے دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ دنیا سے دس گنا دیا جاتا ہے۔ آپؐؐ نے فرمایا: اس پر وہ کہے گا کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے اور تُوتو بادشاہ ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا۔ آپؐؐ ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپؐ کی داڑھیں نظر آنے لگیں (مراد یہ ہے کہ خوب کھل کر ہنسے)۔
    225: علی بن ربیعہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ کے پاس ایک جانور لایا گیا تاکہ آپؓ اُس پر سوار ہوں جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھاتوبسم اللہ پڑھی جب اس کی پشت پر اچھی طرح بیٹھ چکے تو الحمد للہ کہا پھرکہا : سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ: پاک ہے وہ جس نے اِسے ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اسے زیر نگیں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں٭
    ٭ (الزخرف : 14 )
    پھر تین دفعہ الحمد للہ اورتین بار اللہ اکبر، اور سُبْحَانَکَ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْلِيْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُنُوْبَ اِلَّا اَنْتَکہا ۔ تُو پاک ہے یقینا میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس تو مجھے بخش دے کیونکہ بات یہ ہے کہ تیرے سوا اور کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں پھر آپ ہنسنے لگے۔ (ابن ربیعہ کہتے ہیں) میں نے کہا اے امیرالمومنین!آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺکو اس طرح کرتے دیکھا تھا جس طرح میں نے کیاپھر آپؐ ہنسے تھے تو میں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ! آپؐ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا یقینا تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور وہ جانتا ہے کہ میرے سوا اور کوئی گناہ نہیںبخشتا۔
    226: عامر بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ نے بیان کیاوہ کہتے ہیں کہ میں نے جنگ خندق کے دن نبی کریم ﷺ کو ہنستے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپؐ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ عامر کہتے ہیں: میں نے حضرت سعد ؓ سے پوچھا (حضور ﷺ کا یہ ہنسنا) کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا: ایک شخص کے پاس ڈھال تھی اور حضرت سعدؓ اچھے تیر انداز تھے ۔وہ شخص ڈھال کو ادھر ادھر کر لیتا اور اپنی پیشانی کو ڈھانپ لیتا۔پس حضرت سعدؓ نے اُس کے لئے ایک تیر ( کمان میں ڈال کر) کھینچا جونہی اُ س نے اپنا سر اونچا کیا انہوں نے تیرچلا دیا اور وہ نشانہ پر بیٹھا یعنی اس کی پیشانی پراور وہ پلٹ کر گر گیا اور اس کی ٹانگیں اوپر اُٹھ گئیں۔نبی ﷺ اس پر ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپ ؐ کی داڑھیں تک نظر آنے لگیں۔ راوی محمد نے کہا میں نے پوچھا: آپؐ کس با ت پر ہنسے تھے؟ تو انہوں (عامر) نے کہا: اُس پر جو حضرت سعدؓ نے اس آدمی سے کیا ٭۔
    ٭ گویا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اظہار حضرت سعدؓ کی حکمت اور بصیرت پر تھا نہ کہ اس شخص کے گرنے پر۔


    بَابُ مَاجَائَ فِیْ صِفَۃِ مِزَاحِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے مزاح کا بیان
    227: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار نبی کریم ﷺ نے انہیںفرمایا:اے دو کانوں والے! محمود کہتے ہیں کہ ابواسامہ نے کہا کہ آپؐ اس سے یہ مزاحًا فرمارہے تھے۔
    228: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺہم سے خوب گھل مل جایا کرتے تھے حتّٰی کہ آپؐ میرے چھوٹے بھائی کو کبھی فرماتے:اے ابو عمیر! تیرے نغیر (سرخ چڑیا) نے کیا کیا؟
    ابو عیسیٰ (امام ترمذی) کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے اور یہ بھی کہ آپؐ نے ایک چھوٹے بچے کی کنیت رکھی۔ اور اسے کہا اے ابو عمیر! اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ بچے کو پرندہ دینے میں کوئی حرج نہیں جس سے وہ کھیلے ۔ابو عمیر نے ایک پرندہ نغیر پال رکھا تھا وہ مر گیاوہ اداس بیٹھا تھا۔اس پر نبی ﷺنے اُس سے مزاح کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ اے ابو عمیر! نغیر نے کیا کیا!
    229: حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ لوگوں نے عرض کی یا رسول ؐاللہ! آپؐ بھی ہم سے مزاح کر لیتے ہیں۔ آپؐنے فرمایا : میں سچ کے سوا کچھ نہیں کہتا ۔



    230: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سواری مانگی تو آپؐ نے فرمایا: میں سواری کے لئے تجھے اونٹنی کا بچہ دوں گا ۔ اس پر اُس نے کہا یا رسولؐ اللہ ! میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروںگا ؟اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اونٹ، اونٹنیوں ہی کے بچے نہیں ہوتے؟
    231: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادیہ نشین شخص جس کا نام زاہر تھا ۔وہ حضور ﷺکے لئے صحراء سے تحفے لایاکرتا تھا جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتا تو حضور ﷺ اس کے لئے (کچھ) سامان تیار کرواتے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: زاہر ہمارا بدوی دوست ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں اور رسول اللہ ﷺ اُس سے محبت کرتے تھے اور وہ معمولی شکل و صورت آدمی تھے۔ایک دن نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ اپنا سامان بیچ رہا تھا اور آپؐ نے پیچھے سے آکر اس کی کمر میں اپنے بازو ڈال دئیے اور وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکتا تھا ۔ اُ س نے کہایہ کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔ پھر جب اس نے توجہ کی تو نبی کریم ﷺ کو پہچان لیا۔ جب وہ آپؐ کو پہچان گیا تو اپنی پشت کو نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر خوب خوب چمٹانے لگا پھرنبی ﷺ فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدے گا؟ اُس نے کہا: یا رسولؐ اللہ ! اللہ کی قسم اس طرح تو آپؐمجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایالیکن اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہے یا یہ فرمایا اللہ کے نزدیک تُو بیش قیمت ہے۔
    232: حضرت حسنؓ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھی عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اُ س نے عرض کی یا رسولؐ اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کرے۔ آپؐ نے فرمایا: اے فلاں کی ماں ! جنت میں تو کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ روتی ہوئی واپس ہوئی اس پر آپؐؐ نے فرمایااُسے بتا دو کہ وہ بوڑھی ہونے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہوگی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّا اَنْشَاْنَاہُنَّ اِنْشَائً فَجَعَلْنَاہُنَّ اَبْکَارًا۔٭
    ترجمہ: یقینا ہم نے ان(کے ازواج) کو نہایت اعلیٰ طریق پر پیدا کیا۔ پس ہم نے انہیں کنواری بنایا۔
    ٭(الواقعہ :36-35 )



    بَابُ مَا جَائَ فِيْ صِفَۃِ کَلَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ الشِّعْرِ
    اشعار کے متعلق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ارشادات
    233:شریح سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سے کہا گیا:کیا نبی کریم ﷺ کبھی کوئی شعر بطور مثال پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا حضور ﷺعبداللہ بن رواحہؓ کے شعر پڑھا کرتے تھے اور یہ بھی پڑھتے تھے۔
    وَیَاتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ تیرے پاس وہ شخص خبریں لاتا ہے جسے تو نے کوئی زاد راہ نہیں دیا ہوتا۔

    234: حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کی یہ بات ہے :
    اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلٌ
    سنو!اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے اور قریب تھا کہ امیّہ بن ابی صلت اسلام لے آتا ۔
    235: حضرت جندب بن سفیان بَجَلیؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک پتھر رسول اللہ ﷺکی انگلی پر لگا جس سے وہ زخمی ہو گئی آپ ﷺنے فرمایا:
    تُو تو محض ایک انگلی ہے تجھ سے خون بہہ رہا ہے
    جو تجھے تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کے رستے میں ہے


    236: حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ ایک شخص نے ان سے کہا اے ابو عمارہ! ( یہ ان کی کنیت تھی) کیا تم رسول اللہ ﷺکو چھوڑ کر ( جنگ حنین کے دن) بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺہر گز پیچھے نہیں ہٹے بلکہ جلد باز لوگ جب کہ اُن پر ہوازن نے تیر برسائے واپس پلٹ گئے اور رسول اللہ ﷺ اپنی خچر پرسوار تھے اور ابو سفیان بن حارثؓ بن عبدالمطلب اس خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺفرما رہے تھے۔
    میں نبی ہوں یہ ہر گز جھوٹ نہیں
    میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں
    237: حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ عمرۃ القضاء کے موقعہ پر نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ کے آگے ابن رواحہؓ چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
    ’’ اے کفار کے بیٹو! آپؐ کا رستہ چھوڑ دو ورنہ آج ہم تمہیں خدا کے کلام کے اترنے کی بناء پر ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو اس کی جگہ سے جدا کر دے گی اور ایک دوست کو اس کا دوست بھلا دے گی‘‘۔
    اس پرحضرت عمرؓ نے انہیں کہا: اے ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اوراللہ کے حرم میں تم شعر کہہ رہے ہو؟اس پر نبی کریم ﷺنے فرمایا: اے عمرؓ! اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ ان پر تیر پھینکنے سے زیادہ تیز اثر کرتے ہیں۔




    238: حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ میں رسول اللہ ﷺکی مجلس میں سو مرتبہ سے زیادہ بیٹھا ہوں۔ آپؐ کے صحابہؓ اشعار پڑھتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں بیان کرتے اور حضور ﷺخاموش رہتے اور بسا اوقات ان کے ساتھ مسکرا دیتے۔
    239: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سب سے اچھا شعر جو کسی عرب نے کہا وہ لبید کا یہ کلمہ ہے ’’غور سے سنو !اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے‘‘۔

    240: عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا توآپؐ نے فرمایا: کیا امیہ بن صلت کے شعروں میں سے تمہیں کچھ یاد ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: سناؤ میں نے ایک شعر سنایا۔ آپؐ نے فرمایا اور سناؤ۔ پھر فرمایا اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کو امیہ بن ابی کے ایک سو شعر سنائے۔ میں جب بھی کوئی شعر سناتا نبی کریم ﷺ مجھے فرماتے اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے سو شعرسنائے۔پھرنبی کریم ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ وہ اسلام لے آتا۔

    241: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حسان بن ثابتؓ کے لئے مسجد میں منبر رکھواتے جس پروہ کھڑے ہوکر اللہ کے رسول ﷺ کی عظمت کا بیان کرتے یا یہ کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺکی مدافعت میں شعر کہتے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے: اللہ تعالیٰ روح القدس کے ساتھ حسّان کی تائید فرماتا ہے اس میں جو وہ اللہ کے رسول ﷺکی اشعار کے ذریعہ مدافعت کرتا ہے یا آپ ؐ کی عظمت بیان کرتا ہے۔

    بَابُ مَا جَائَ فِیْ کَلَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی السَّمْرِ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کو باتیں کرنے کا بیان
    242: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺنے اپنی ازواج کو ایک بات سنائی توان میں سے ایک بیوی نے کہا: یہ توگویا خرافہ جیسی کہانی ہے ۔حضور ﷺنے فرمایا:کیا تم جانتی ہو کہ خرافہ کون تھا؟ خرافہ بنو عُذرہ کا ایک شخص تھا۔ زمانہ جاہلیت میں اسے جنّ قید کر کے لے گئے۔ وہ ایک عر صہ تک ان میں رہا ۔پھر انہوںنے اُسے انسانوں کی طرف واپس لوٹا دیا اس نے جنّوں میں جو عجیب باتیں دیکھیں وہ لوگوں کو سنایا کرتا تھاتو لوگ کہنے لگے یہ تو خرافہ کی کہانی ہے ۔



    أأأ
    اُمِّ زَرْعٍ
    ام زرع کا قصّہ
    243: حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) گیارہ عورتیں بیٹھیں۔ انہوں نے باہم عہد وپیمان کیا کہ وہ اپنے خاوندوں کے حالات میں سے کچھ نہ چھپائیں گی۔

    پہلی نے کہا میرا خاوندتو لاغر اونٹ کا گوشت ہے جو دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر ہو نہ وہ (پہاڑ ) ہموار ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے جسے لایا جائے۔
    دوسری نے کہا میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلاؤں گی۔مجھے ڈر ہے کہ اگر میں ا س کا ذکر کروں تو (اُس کے عیوب کے) ذکر سے باز نہ رہ سکوں گی ذکر کروں تو اس کے ظاہر ی و باطنی سب عیوب بیان کردوں گی۔
    تیسری نے کہا میرا خاوند غیر معمولی طور پرلمبا ہے اگر میں (اس کے خلاف) بولوں تومجھے طلاق ہو جائے اور اگر چپ رہوں تو یوں ہی لٹکتی رہوں ۔
    چوتھی نے کہا میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح نہ گرم ہے نہ ٹھنڈا نہ اس سے کوئی خوف ہے نہ اکتاہٹ ۔
    پانچویں نے کہا میرا خاوند گھر داخل ہوتو چیتا ہے باہر نکلے تو
    شیر ہے اور جودیکھتا ہے اس کے بارہ میں پوچھ گچھ نہیں کرتا۔
    چھٹی نے کہا میرا خاوند کھانے لگے تو سب کچھ سمیٹ جائے اور اگر پینے لگے تو سب کچھ چڑھا جائے اور اگرسوئے تو الگ کپڑے میں لپٹ جاتا ہے ہاتھ بھی نہیں بڑھاتا تا وہ میرے ہم وغم کو جانے۔
    ساتویں نے کہا میرا خاوند نامرد یا (کہا) بھٹکا ہوا ہے، احمق ہے۔ ہر قسم کی مرض کا مارا ہوا ہے اور (اخلاق ایسے ہیں کہ کبھی) تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ پاؤں توڑے یا دونوں کام کرے۔
    آٹھویں نے کہا: میرا خاوند چھوؤ توخرگوش کی طرح (نرم) اور(اس کی)خوشبو زعفران کی خوشبو ۔
    نویں نے کہا میرا خاوند بلند عمارت والا ہے اور بہت مہمان نواز ہے اور قد آور بہادر ہے مجلس مشورہ کے قریب ہی اس کا گھر ہے۔
    د سوِیں نے کہا میرا خاوند مالک ہے اور کیسا مالک ہے! مالک اس سے کہیں بہتر ہے (جو تم نے بیان کیا)۔ اس کے اونٹ (مہمانوں کیلئے) بیٹھنے کی جگہ پر تو بکثرت ہوتے ہیں چرنے کی جگہ میں کم ملتے ہیں۔ جب وہ باجے کی آواز سنتے ہیں ( جو مہمانوں کی آمد کا اعلان ہے) تو یقین کر لیتے ہیں کہ اب وہ ذبح ہونے والے ہیں۔

    گیارہویں نے کہا میرا خاوند ابو زرع ہے۔اور کیا ہی خوب ابوزرع ہے ۔ اُس نے زیورات سے میرے کان جھکا دئیے اور گوشت سے میرے بازو موٹے کر دئیے اُ س نے مجھے خوش رکھا تو میں خوش ہو کر اپنے آپ پر فخر کرنے لگی۔ اُس نے مجھے چند بکریوں والوں کے پاس پایاجو سخت زندگی گزار رہے تھے اور مجھے گھوڑوں اور اونٹوں والوں میں اور اناج گاہنے والوںاور اسے صاف کرنے والوں میں لے آیا میں اس کے سامنے بولتی ہوں تومجھے برا نہیں کہا جاتا۔ میں سوتی ہوں تو صبح کر دیتی ہوں اور پیتی ہوں تو سیر ہوجاتی ہوں۔ ابوزرع کی ماں! کیا ہی خوب ابو زرع کی ماں ہے ۔اس کے غلہ کے تھیلے بڑے بڑے اور بھاری ہیں اور اس کاگھر کشادہ ہے ابوزرع کا بیٹا! ابوزرع کا کیا ہی اچھا بیٹا ہے اس کا بستر ایسا ہے جیسے کھجور کی باریک ہری ڈالی اور بکری کے بچے کی ایک دستی بھی اسے سیر کر دیتی ہے۔ ابو زرع کی بیٹی! اور ابوزرع کی بیٹی کیا ہی خوب ہے۔ اپنے ما ں باپ کی فرمانبردار۔ ایسی موٹی تازی کہ اپنی چادر کو بھر دے جو ہمسائی کے لئے باعث رشک ہے۔ ابو زرع کی لونڈی! ابو زرع کی لونڈی بھی کیا خوب ہے۔ نہ ہماری باتوں کی تشہیر کرتی نہ ہمارا کھانا چراتی ہے اور ہمارے گھر خیانت اور چغل خوروں سے نہیں بھرتی۔ اُس نے کہا :ایک دن ابوزرع (گھر سے) نکلا جب کہ دودھ کے برتن بلوئے جا رہے تھے۔ وہ ایک عورت سے ملا جس کے ساتھ اس کے دو لڑکے تھے جیسے دو چیتے۔ وہ اس کے پہلو کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ۔پس ابوزرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے بھی ایک شریف آدمی سے نکاح کر لیا جو بہترین گھڑسوار اور نیزہ باز تھا۔اُس نے مجھے بہت سی نعمتیں دیں اور ہر قسم کے مویشیوں میں سے جوڑا جوڑا مجھے عطا کیا۔ اور کہا اے ام زرع !خود بھی کھائو اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلاؤ۔اگر میں اس کی ہر چیز جمع کر لوں جو اُس نے مجھے دی ہے تو بھی ابو زرع کا سب سے چھوٹا برتن بھی اس سے نہ بھرے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں تیرے لئے ایسا ہی ہوں جیسا ام زرع کے لئے ابو زرع تھا‘‘۔





    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صِفَۃِ نَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نیند کا بیان
    244: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺجب اپنے بستر پر جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے اور کہتے اے میرے رب! مجھے اُس دن اپنے عذاب سے بچانا جب تو اپنے بندوں کو اُٹھائے گا ۔ایک دوسری روایت میں ہے جس دن تو اپنے بندوںکو جمع کرے گا ۔


    245: حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺجب اپنے بستر پر جاتے تو کہتے اے میرے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے تما م تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔

    246: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔انہوںنے فرمایا: کہ ہر رات رسول اللہ ﷺجب اپنے بستر پر لیٹتے اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا لیتے اور ان میں پھونک مارتے اور قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اورقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس (آخری تین سورتیں) پڑھتے۔ پھر جس قدر ممکن ہوتا اپنے جسم پر دونوں ہاتھ پھیرتے اور اپنے سر سے شروع کرتے اور بدن کے اگلے حصہ پر پھیرتے۔آپؐ تین بارایسا کرتے۔

    247: حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سوئے یہاں تک کہ آپؐ کی سانس کی آواز آنے لگی اور جب آپؐ سوتے تھے تو آپؐ کی سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ پھر بلالؓ آپؐ کے پاس آئے اورنماز کی اطلاع دی۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی مگر (دوبارہ) وضوء نہیں کیا۔ اس پوری حدیث میں لمبا واقعہ بیان ہوا ہے۔
    248 : حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو کہتے: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا ،ہمیں پلایا اور ہمارے لئے کافی ہوا ہمیں پناہ دی۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنکے لئے نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے ۔
    249 : حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ رات کے وقت آرام فرماتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح کے قریب آرام فرماتے تو بازو کھڑا کر لیتے اور اپنے ہاتھ پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے۔





    بَابُ مَا جَائَ فِیْ عِبَادَۃِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عبادت کا بیان
    250: حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپؐ کے پاؤں متورم ہو گئے۔آپؐ سے عرض کی گئی کیا آپؐ اس قدر مشقت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے متعلق کئے گئے وہ گناہ بھی ڈھانک دئیے ہیں جو پہلے گزر گئے اور جو اَب تک نہیں ہوئے۔ آپؐنے فرمایا: توکیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
    251: حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپؐ کے پاؤں مبارک متورم ہو جاتے ۔راوی کہتے ہیں کہ آپؐ سے عرض کی گئی کہ آپؐ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپؐ کے بارہ میں یہ آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے متعلق کئے گئے وہ گناہ بھی ڈھانک دئیے ہیں جو پہلے گزر گئے اور جو اَب تک نہیں ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
    252: حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپؐ کے پاؤں مبارک متورم ہو جاتے۔آپؐ سے کہا جاتا یا رسولؐ اللہ! آپؐ ایسا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے متعلق کئے گئے وہ گناہ بھی ڈھانک دئیے ہیں جو پہلے گزر گئے اور جو اَب تک نہیں ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا:کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
    253: اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺکی رات کی نماز(تہجد) کے بارے میں پوچھا۔ آپؓ نے فرمایا حضور ﷺ رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے پھر کھڑے ہو جاتے اور جب سحری کا وقت ہوتا تو وتر ادا کرتے، پھر اپنے بستر پر تشریف لے آتے۔ اگر آپؐ کو حاجت ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس جاتے۔ پھر جب اذان کی آواز سنتے تو فورًا کھڑے ہو جاتے۔اگر آپؐ جنبی ہوتے تو اپنے اوپر پانی ڈالتے (یعنی غسل فرماتے) ورنہ وضوء فرماتے اور نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
    254:حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات حضرت میمونہؓ کے پاس گزاری اور وہ آپ کی خالہ تھیں وہ کہتے ہیں میں بستر کی چوڑائی کے رخ لیٹ گیااور رسول اللہ ﷺ لمبائی کے رُخ لیٹے۔ رسول اللہ ﷺ سوئے رہے، یہاں تک کہ جب نصف رات گزر گئی یا اس سے کچھ پہلے یا کچھ بعد تو رسول اللہ ﷺبیدار ہوئے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند دور کرنے لگے پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے وضوء کیا اور بہت ہی اچھی طرح وضوء کیا پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں میں بھی آکر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہو گیاتو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھاا ور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مروڑا،(میں بائیں طرف کھڑا ہو گیا تھامجھے دائیں طرف لے آئے)۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں ادا کیں پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیںپڑھیں، پھر دو رکعتیںپڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں حدیث کے راوی معن نے چھ بار دو رکعتوں کا ذکر کیا ۔پھر آپؐ نے وتر پڑھے، پھر لیٹ گئے، پھر مؤذِّن آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ کھڑے ہو گئے اورآپؐ نے دو مختصررکعتیں پڑھیں ۔پھر باہر تشریف لے گئے اور فجر کی نماز ادا کی ۔


    255: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
    نبی کریم ﷺ رات کو تیرہ رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے۔

    256: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اگرکبھی رات کے وقت(تہجد کی) نماز نہ پڑھ سکے نیند کی وجہ سے یا یہ کہا کہ آنکھوں پر (نیند کے) غلبہ کی وجہ سے تو دن کے وقت بارہ رکعت پڑھ لیتے۔

    257: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو تہجد کے لئے کھڑا ہو تو دو ہلکی رکعتوں سے نماز شروع کرے۔

    258:حضرت زید بن خالد الجہنیؓ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺکی نماز مشاہدہ کروں گا ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں آپؐ کی چوکھٹ یا خیمہ پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔حضور ﷺ نے دو ہلکی رکعتیںادا کیں ۔ پھر دو لمبی رکعتیں ادا کیں جو بہت لمبی،بہت لمبی تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیںجو اس سے پہلی دو رکعتوںسے کچھ کم لمبی تھیں۔ پھر دو رکعتیں ادا کیںجو اس سے پہلی دو رکعتوںسے کم لمبی تھیں ۔پھر دو رکعتیں ادا کیںجو اس سے پہلی دو رکعتوںسے کم لمبی تھیں۔پھر دو رکعتیں ادا کیںجو اس سے پہلی دو رکعتوںسے کم لمبی تھیں ۔پھرایک رکعت کے ذریعہ ان کو وترکیا۔یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں۔


    259: ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھاکہ رمضان میں رسول اللہ ﷺکی نماز کیسی ہوتی تھی ؟انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ رمضان میں اور رمضان کے علاوہ کبھی گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپؐ چار رکعتیں پڑھتے ۔یہ نہ پوچھو کہ وہ کتنی حسین اور طویل ہوتی تھیں پھر آپؐ چار رکعتیں پڑھتے ان کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپؐ تین رکعت ادا کرتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیںمیں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ! آپؐ وتر ادا کرنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ آپ ؐنے فرمایا اے عائشہؓ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں مگرمیرا دل نہیں سوتا۔
    260: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ ان میں سے ایک رکعت کے ذریعہ وتر کرتے۔جب آپؐ نمازسے فارغ ہوتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔


    261: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ(کبھی)رات کونو (۹)رکعتیں پڑھتے تھے۔

    262:حضرت حذیفہؓ بن یمان سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ رات کی نماز ادا کی ۔ وہ کہتے ہیں جب آپؐنے نماز شروع کی تو فرمایا اللہ سب سے بڑا ہے ،وہ بڑی بادشاہت والا ، بڑے غلبہ والا ، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ پھر آپؐ نے سورہ بقرہ کی تلاوت فرمائی اور رکوع کیا آپؐ کا رکوع آپؐ کے قیام کے قریبًا برابر تھا جس میں آپؐ کہتے پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے۔پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے پھر آپؐ نے سر مبارک اُٹھایا اور آپؐ کا قیام تقریبًاآپؐ کے رکوع جیسا ہی تھا۔جس میں آپؐ کہتے سبحان ربی العظیم، سبحان ربی العظیم پھر آپؐنے سجدہ کیا۔آپؐ کاسجدہ آپؐ کے قیام کے برابرہی تھا۔ اس میں آپؐ کہتے پاک ہے میرا رب جو بڑی شان والا ہے پھر آپؐ نے سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیان آپؐ کا بیٹھنا سجدے جیسا ہی تھا۔آپؐ یہ دعا کرتے اے میرے رب! مجھے بخش دے اے میرے رب! مجھے بخش دے۔اس طرح آپؐنے (ان رکعات میں) سورہ بقرہ، آل عمران، النسائ،المائدہ یا الانعام کی تلاوت فرمائی شعبہ راوی کو شک ہے کہ سورۃ المائدہ تھی یا سورۃالانعام۔
    263: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک رات (عبادت میں) رسول اللہ ﷺصرف ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے۔

    264: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ )کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز ادا کی۔آپؐنے اتنا لمبا قیام فرمایا کہ میں نے ایک بُرے کام کا ارادہ کر لیا ۔ اُن سے کہا گیا آپ نے کیا ارادہ کیا ؟ انہوں نے کہا میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤںاورنبی کریم ﷺکو(کھڑے ہوئے) چھوڑ دوں۔

    265: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (آخری عمر میں) بیٹھ کر(نماز تہجد ) ادا کرتے تھے۔بیٹھ کر ہی تلاوت فرماتے اور جب قرأت میں سے تیس یاچالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپؐ کھڑے ہو کر تلاوت فرماتے۔ پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے۔ پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے۔
    266: حضرت عبد اللہ بن شقیق ؓ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺکی نفل نماز کے بارے میں پوچھا۔آپؓ نے فرمایا حضور ﷺرات کو کھڑے ہو کر لمبی نماز پڑھتے اور کبھی رات کو بیٹھ کر لمبی نماز ادا کرتے ، جب آپ ؐ کھڑے ہو کر تلاوت فرماتے تو کھڑے ہونے کے بعد رکوع اور سجدہ کرتے اورجب بیٹھ کر تلاوت فرماتے تو بیٹھ کر ہی رکوع اور سجدہ کرتے۔
    267: نبی کریم ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺبیٹھ کر نوافل ادا کرتے۔ آپؐ جو سورت تلاوت فرماتے اس قدرٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ اپنے سے زیادہ طویل سورۃ سے بھی طویل ہو جاتی ۔

    268:حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ وفات کے قریب زیادہ تر بیٹھ کر نماز ادا کرتے۔


    269: حضرت ابن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مَیںنے نبی کریم ﷺکے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے قبل اور دو ظہر کے بعد اور دو مغرب کے بعد اپنے گھر میں ادا کیں۔اور دو رکعتیں عشاء کے بعد گھر میں ادا کیں۔

    270: حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت حفصہ ؓ نے بتایا جب فجر طلوع ہو جاتی اور اذان دینے والا اذان دیتاتو رسول اللہ ﷺدو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ایوب کہتے ہیں میرا خیال ہے حضرت ابن عمرؓ نے ان رکعتوں کے ہلکا ہونے کا بھی ذکر کیا تھا۔
    271: حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺکا آٹھ رکعتیں پڑھنا یاد ہے۔ظہر سے پہلے دو رکعتیںاور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دو رکعتیںاور عشاء کے بعد دو رکعتیں۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں حضرت حفصہؓ نے مجھے صبح کی دو رکعتوں کے بارے میں بھی بتایا مگر میں نے نبی کریم ﷺ کو انہیں پڑھتے نہیں دیکھا۔ کیونکہ آپؐ یہ گھر میں ادا کرتے تھے۔

    272: حضرت عبد اللہ بن شقیق ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺکی نماز کے بارے میں پوچھا۔آپؓ نے فرمایا حضور ﷺظہر سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔اور مغرب کے بعد دو رکعتیںاور عشاء کے بعددو رکعتیںپڑھتے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
    273: عاصم بن ضَمْرہ کہتے ہیں ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺکی (نفل)نماز کے بارے میں پوچھا جو آپؐ دن کے وقت ادا کرتے تھے۔راوی کہتے ہیںکہ آپؓنے فرمایا: تم اُس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کہا جو ہم میں سے اس کی طاقت رکھتا ہوگا پڑھ لے گا۔ حضرت علیؓ نے فرمایاجب سورج ضحی کے وقت (مشرق کی طرف) اتنا اوپر ہوتا ہے جتنا اوپر عصر کے وقت (مغرب کی طرف)ہوتا ہے اس وقت آپؐ دو رکعات پڑھتے اور جب سورج زوال آفتاب سے پہلے اس قدر اوپر ہو جاتاجس قدر ظہر کی نماز کے وقت ڈھلتے ہوئے ہوتا ہے تو آپؐ چار رکعتیں پڑھتے تھے اورظہر سے پہلے چار رکعتیں اور

    اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ اور عصر سے پہلے چار رکعتیں ادا کرتے اورہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں اور انبیاء اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور فرمانبرداروں پر سلام بھیج کر فاصلہ ڈالتے۔



    بَاب: صَلٰوۃُ الضُّحٰی
    ضحی کی نماز
    274: معاذہ کہتی ہیں میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کیا
    نبی کریم ﷺ ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ آپؓ نے فرمایا ہاں،آپؐ چار رکعتیں ادا کرتے اور اس سے زائد بھی جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ۔




    275: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (کبھی )ضحی کی چھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔


    276:عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سوائے حضرت ام ھانی ؓ کے مجھے کسی اور نے نہیں بتایا کہ اس نے نبی ﷺ کو ضحی کی نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺان کے گھر تشریف لائے اور غسل فرمایا اور آٹھ رکعات نوافل ادا کئے ۔ میں نے حضور ﷺ کو اس سے زیادہ ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا باوجود اس کے آپؐ رکوع اور سجود پوری طرح ادا فرماتے۔

    277: حضرت عبد اللہ بن شقیق ؓ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ ضحی کی نماز پڑھتے تھے؟ آپؓ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ آپؐ سفر سے لوٹے ہوں ۔
    278: حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کبھی ضحی کی نماز (باقاعدگی سے ) پڑھنے لگتے یہاںتک کہ ہم کہتے کہ آپؐ اسے کبھی نہ چھوڑیں گے پھر کبھی اسے ترک فرما دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپؐ اسے کبھی نہیں پڑھیں گے۔
    279 : حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیشہ زوال آفتاب کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔میں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ!آپؐ ہمیشہ زوال آفتاب کے بعد چار رکعتیں پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: آسمان کے دروازے زوال آفتاب کے وقت کھولے جاتے ہیں اور ظہر کی نماز پڑھی جا نے تک بند نہیں ہوتے۔اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ اس گھڑی میری کوئی نیکی آسمان کی طرف جائے میں نے عرض کی کیا ہر رکعت میں قراء ت کی جائے ۔ فرمایا: ہاںمیں نے عرض کیا دور کعت پرفاصلہ ڈالنے کے لئے سلام پھیرا جائے؟ فرمایا نہیں ۔



    280:حضرت عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ زوال آفتاب کے بعد اور ظہر سے کچھ پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور آپ ؐنے فرمایا : یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اس لئے میں پسند کرتاہوں کہ اس میں میرا کوئی نیک عمل اوپر جائے ۔

    281: حضرت علی کرّم اللہ وجھَہُ کے بارہ میں روایت ہے کہ وہ ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے اورفرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ یہ (چار رکعات ) زوال کے وقت پڑھتے تھے اور ان کو لمبا کرتے ۔



    بَاب :صَلٰوۃُ التَّطَوُّعِ فِی الْبَیْتِ
    نفل نماز گھر میں ادا کرنا
    282: حضرت عبد اللہ بن سعدؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے مگر پھر بھی مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے ۔سوائے اس کے کہ فرض نماز ہو۔






    بَابُ مَا جَائَ فِیْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے روزے کا بیان
    283: حضرت عبد اللہ بن شقیق ؓ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺکے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ ؓنے فرمایا آپ ﷺ کبھی (مسلسل) روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے آپؐ روزہ رکھتے چلے جائیں گے اور کبھی روزہ نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے آپؐ روزہ نہیں رکھیں گے۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سے مدینہ تشریف لائے سوائے رمضان کے کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔
    284: حضرت انس بن مالکؓ سے نبی کریم ﷺکے روزوں کے متعلق پوچھا گیا۔آپؓ نے فرمایا حضور ﷺ کسی ماہ مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم سمجھتے کہ آپؐ اس ماہ روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کسی ماہ روزے نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم خیال کرتے کہ اس ماہ آپؐ روزہ رکھنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔اور اگر تم چاہو کہ آپؐ کورات کے وقت نماز پڑھتے ہوئے دیکھو تو تم نماز پڑھتے ہوئے دیکھ سکتے تھے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہو تو سوتے ہوئے دیکھ سکتے تھے۔
    285: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (مسلسل) روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے آپؐ اس ماہ روزہ چھوڑنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے اور کبھی آپؐ (مسلسل) روزہ نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپؐ روزہ رکھنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے اور جب سے آپؐ مدینہ تشریف لائے آپؐ نے سوائے رمضان کے کسی پورے مہینے میں روزے نہیں رکھے۔
    286: حضرت ام سَلَمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مسلسل دو ماہ روزے رکھتے نہیں دیکھاسوائے شعبان اور رمضان کے۔




    287: حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میںاللہ کی خاطر(یعنی نفلی) روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔آپ ﷺشعبان کے اکثر حصہ میں روزہ رکھتے بلکہ قریبًا سارا ماہ روزہ رکھتے۔
    288: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ )سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر ماہ کی چاندنی راتوں میں تین دن روزہ

    رکھتے تھے اور آپؐ جمعہ کے دن کم ہی بغیر روزے کے ہوتے تھے۔٭



    289: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ خاص طورپرسوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔



    290: حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوموار اور جمعرات کو اعمال(خدا کے حضور) پیش کیے جاتے ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ اس حال میں میرے اعمال پیش ہوں کہ میں روزے دار ہوں۔


    291: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ نبی کریم ﷺ کسی ماہ ہفتہ اتوار اور سوموار کو روزہ رکھتے اور کسی ماہ منگل، بدھ اور جمعرات کو روزہ رکھتے۔


    ٭ صَوْمُ الْاَیَّامِ الْغُرّ:یعنی چاندنی راتیں جو 13،14اور 15تاریخ کو ہوتی ہیں۔ ( نہایہ)
    292: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایا کہ
    رسول اللہ ﷺشعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔

    293: مُعاذہ کہتی ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟انہوںنے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اس کے کس حصے میں آپؐ روزہ رکھتے تھے ؟آپؓنے فرمایا: حضور ﷺاس بات کی پرواہ نہ کرتے کہ کس حصے میں روزہ رکھ رہے ہیں۔



    294: حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیںکہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی (اس دن) روزہ رکھ لیتے تھے ۔ پھر جب آپؐ مدینہ تشریف لائے، آپ ﷺنے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا۔ پھر جب رمضان فرض ہوا تو رمضان کے روزے فرض ہو گئے اور عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا گیا پس جس نے چاہا اسے رکھا اور جس نے چاہا اسے ترک کر دیا۔
    295: علقمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ بعض ایام کو ( عبادت کے لئے) مخصوص فرمالیا کرتے تھے؟ آپؓ نے فرمایا حضور ﷺکے اعمال تودائمی تھے اور کون تم میں اس کی طاقت رکھتا ہے جس کی طاقت رسول اللہ ﷺ کوحاصل تھی۔

    296: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے۔ میرے پاس ایک عورت تھی۔ آپؐ نے فرمایا یہ کون ہے؟ میں نے کہا:فلاں عورت ہے جورات بھر نہیں سوتی۔ حضور ﷺنے فرمایا: چاہیے کہ تم اُسی قدر اعمال بجا لائو جس کی تمہیں طاقت ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ نہیں تھکتا ہاں تم تھک جاتے ہو۔ (حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں) رسول اللہ ﷺ کو وہ عمل زیادہ پسند تھے جس پر عمل کرنے والا باقاعدگی اختیار کرے۔
    297: ابو صالح کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سَلَمہ ؓ سے پوچھاکونسا عمل رسول اللہ ﷺ کو زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے بتایا جس پر مداومت اختیار کی جائے خواہ وہ تھوڑا ہو۔
    298: حضرت عوف بن مالکؓ کہتے ہیں ایک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپؐ نے مسواک کی پھر وضوء کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ آپؐنے نماز شروع کی اور سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے لگے۔ آپؐ جب کسی رحمت والی آیت پر سے گزرتے وہاں رک جاتے اور اُس (رحمت) کے طالب ہوتے اور جب عذاب کی آیت پر سے گزرتے وہاں رک جاتے اور(اُس سے) پناہ مانگتے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور رکوع میں رہے جتنا قیام میں رہے تھے ۔ آپؐ رکوع میںکہتے پاک ہے اللہ جوبڑے غلبے والا اوربڑی حکومت والا اور کبریائی والا اور عظمت والا ہے ۔پھر آپؐنے رکوع کے برابر سجدہ کیا اور اپنے سجدوں میں کہا پاک ہے اللہ جو بڑے غلبے والا اور بڑی حکومت والااور کبریائی اور عظمت والا ہے۔ پھر آپؐنے آل عمران کی تلاوت فرمائی پھر (ہر رکعت میں)ایک ایک سورت اسی طرح تلاوت فرماتے رہے۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی قرا ء ت کا بیان
    299: یعلیٰ بن مَمَلک سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے رسول اللہ ﷺکی قراء ت کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ام سلمہؓ نے بتایا کہ آپ ﷺکی قراء ت واضح ہوتی آپؐ ایک ایک حرف (الگ، الگ) ادا کرتے ۔
    300: قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہا رسول اللہ ﷺکی قراء ت کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا آپ ﷺ لمبا کر کے پڑھا کرتے تھے ۔
    301: حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے ۔ آپؐ الحمد للہ رب العالمین پڑھ کر ٹھہر جاتے ، پھر الرحمن الرحیم پڑھ کر ٹھہر جاتے ۔ پھر مالک یو م الدین پڑھتے۔

    302: عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی قراء ت کے متعلق پوچھا کہ کیا آپؐ خاموشی سے تلاوت کرتے یا اونچی آواز میں؟ آپؓ نے فرمایا حضور ﷺ کا دونوں طرح معمول تھا کبھی خاموشی سے اور کبھی اونچی آواز سے قراء ت کرتے۔ میں نے کہا شکر ہے اللہ کاجس نے اس معاملہ میں وسعت عطا فرمائی۔
    303: حضرت ام ھانی ؓ سے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایا: میں رات کے وقت نبی کریم ﷺکی تلاوت کی آواز سنا کرتی تھی جبکہ میں( اپنے گھرمیں)اپنی چارپائی پر ہوتی تھی۔
    304: حضرت عبداللہ بن مغفّلؓ کہتے ہیں میں نے فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺکو اونٹنی پر سوار دیکھا جبکہ آپ تلاوت فرما رہے تھے: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ۔ ترجمہ: یقینا ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے تاکہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہرآئندہ ہونے والی لغزش بخش دے۔1 راوی کہتے ہیں کہ آپؐ نے یہ پڑھا اور الفاظ کو لمبا کر کے ادا کیا2۔ معاویہ بن قرّہ کہتے تھے کہ اگر لوگ اکٹھے نہ ہوجائیں تو میں اس آواز یا لحن میںپڑھ کر سناؤں۔
    305: قتادہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر وہ خوش شکل اور خوبصورت آواز والا تھا اور تمہارے نبی ﷺبھی حسین چہرے والے اور خوبصورت آواز والے ہیں۔ آپؐ عام طرز کے الفاظ کو بہت لمبا کر کے ادا نہیں کرتے تھے۔
    1 (الفتح : 2 ، 3 )
    2۔حضور ﷺنے فتحِ مکّہ کے موقعہ پر آیت:اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ترجیع کر کے پڑھی ۔گو یہ حضور ؐ کا عام طریق نہیں تھا۔
    306: حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺکی قراء ت بسااوقات جب آپؐ گھر میں ہوتے تو جوکمرے میں ہوتا وہ آپ ؐ کی آواز سن لیتا۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ بُکَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے گریہ کا بیان
    307: عبداللہ بن شِخِّیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہواجبکہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے تو رونے کی وجہ سے آپؐکے سینے سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسے ہنڈیا ابلنے کی آواز ہو۔

    308: حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایاکہ مجھے (قرآن پڑھ کر) سناؤ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا میں آپ ﷺکو سناؤں حالانکہ آپؐ پر یہ نازل ہوا ہے؟ آپؐ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے سے یہ سنوں پس میں نے سورۃ النساء پڑھ کر سنائی یہانتک کہ جب میں آیت: وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَائِ شَہِیْدًا ٭ پر پہنچا۔( ترجمہ : پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے ) تو راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔
    309: حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دن سورج کوگرہن ہو ا ۔ رسول اللہ ﷺ نماز کسوف پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے ( اور اتنا لمبا قیام فرمایاکہ ) گویا رکوع نہیں کریں گے۔ پھر
    ٭ (النساء :42 )
    رکوع کیا(اتنا لمبا ) کہ گویا رکوع سے سر نہیں اُٹھائیں گے۔پھر آپؐ نے سر اٹھایا (اور اتنالمبا قیام کیا) گویا آپؐ سجدہ نہیں کریں گے پھر (اتنا لمبا) سجدہ کیا کہ گویا سجدے سے سر نہیں اُٹھائیں گے ، پھر سر اُٹھایا اور (اتنی دیربیٹھے کہ)گویا کہ (دوسرا)سجدہ نہیں کریں گے۔ پھر آپؐ نے ( اتنا لمبا) سجدہ کیا کہ گویا (سجدے سے) سر نہیں اُٹھائیں گے۔ نماز میں ( شدت گریہ سے)آپؐ کی سانس کی آواز آ رہی تھی۔آپؐ روتے ہوئے کہہ رہے تھے اے میرے رب ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گاجب تک میں ان میں موجود ہوں۔ اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھاکہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔اورہم تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ جب آپؐ دو رکعت پڑھ چکے تو سورج صاف اور روشن ہوچکا تھا۔پھر آپؐ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایایقینًا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے دو نشان ہیں ۔ یہ کسی کی موت کی وجہ سے نہیںگہناتے نہ کسی کی پیدائش سے۔ جب یہ گہنا جائیں تو ڈرتے ہوئے خداکا ذکر کرو۔

    310: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی بیٹی کو اُٹھایا جو نزع کی حالت میں تھی اُسے گود میں لیااور اپنے سامنے رکھا۔حضور ﷺکی آنکھوں کے سامنے ان کا وصال ہو گیا اور حضرت ام ایمنؓ چلّانے لگیں تو آپ یعنی نبی ﷺنے فرمایاکیا تو اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے روتی ہے؟ اس نے کہا کیا میں دیکھ نہیں رہی کہ آپؐ بھی رو رہے ہیں؟آپؐنے فرمایا: میں رونہیں رہا یہ تو رحمت (کے آنسو) ہیں ۔ ایک مومن تو ہر حال میں بھلائی اور خیر پرہی ہوتا ہے ۔ جب اس کی جان نکل رہی ہوتی ہے توبھی وہ خدا تعالیٰ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے ۔
    311: حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کی وفات پر ان کو بوسہ دیا ۔ اس وقت آپؐ رو رہے تھے یا راوی نے یہ کہا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

    312: حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ ہم رسول اللہ ﷺکی بیٹی (کی تدفین) پر موجود تھے جبکہ رسول اللہ ﷺقبر کے پاس بیٹھے تھے تو میں نے دیکھا کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ آپ ؐنے فرمایا:کیا تم میں سے ایسا کوئی شخص ہے جس نے آج رات کسی لغزش (یاغلطی )کا ارتکاب نہ کیا ہو ٭ حضرت ابو طلحہؓ نے عرض کی:میں ہوں ۔ آپؐ نے فرمایا: اترو۔چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔

    ٭ لَمْ یُقَارِفْ اَی لَمْ یَذْنِبْ ذَنْبًا ( جمع الوسائل فی شرح الشمائل جلد 2صفحہ154زیرِ روایت نمبر312)

    بَابُ مَا جَائَ فِیْ فِرَاشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بستر کا بیان
    313: حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپؐ سوتے تھے چمڑے کا تھا۔ اس میں کچھ کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔

    314:جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیاکہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کا بستر کیسا ہوتا تھا ؟ آپؓ نے فرمایا وہ چمڑے کا تھاجس میں کھجور کے ریشے بھرے تھے۔حضرت حفصہؓ سے پوچھاگیا کہ آپؓ کے گھر میں رسول اللہ ﷺکا بسترکیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا وہ پشم کا تھا میں اس کی دو تہیںلگا دیتی ۔حضور ﷺاس پر سوتے تھے ۔ ایک رات میں نے سوچا کیوں نہ اس کی چار تہیں لگا دو ں تو وہ آپؐ کے لئے زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔چنانچہ ہم نے اس کی چار تہیں لگا دیں۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایاتم نے رات میرے لئے کیا بچھایا تھا؟ حضرت حفصہؓ کہتی ہیں میں نے عرض کی وہ آپؐ کا ہی بستر تھا۔ صرف ہم نے اس کی چار تہیں لگا دی تھیں تاکہ وہ آپؐ کے لئے زیادہ آرام دہ ہو جائے۔آپؐ نے فرمایا: اُسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی نرمی میرے لئے رات نماز میں روک بن رہی تھی٭۔
    ٭ بستر پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا کچھ دقت پیدا کرتا ہے۔
    بَابُ مَا جَائَ فِیْ تَوَاضُعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تواضع و انکساری کا بیان
    315: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میری تعریف میں مبالغہ سے کام نہ لو جیسے نصارٰی نے عیسیٰ بن مریم ؑکی تعریف میں مبالغہ سے کام لیا۔ میں تو اللہ کا ایک بندہ ہوں ۔ اس لئے (مجھے) اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔

    316: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی مجھے آپؐؐ سے ایک کام ہے۔آپؐؐ نے فرمایا: تم مدینہ کے جس رستے میں چاہو بیٹھ جائو میں وہیں تمہاری خاطربیٹھ جاؤں گا۔
    317: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار کی عیادت فرماتے، جنازوں میں شامل ہوتے ،گدھے پر سواری کر لیا کرتے، غلام کی دعوت قبول فرماتے اور بنو قریظہ سے مقابلہ کے دن آپؐ ایک گدھے پر سوار تھے ۔ جس کی لگام کھجور کی چھال کی تھی۔ خطام اس کو کہتے ہیں کہ اس رسّی کے ایک طرف حلقہ ہو اور اس میں اس کا دوسرا کنارہ پرویا ہوا ہو ، اس طرح وہ ایک دائرہ بن جائے ۔پھر اس کو اس کے ذریعہ چلایا جائے۔ اس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا۔
    318: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جَو کی روٹی اور چربی جو پرانی ہو چکی ہو٭کی بھی دعوت دی جاتی توآپ ؐ قبول فرماتے۔آپؐ کی ایک زرہ یہودی کے پاس (بطور رہن) تھی ۔ آپؐکے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ اُسے چھڑوا سکتے یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی۔
    319:حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک پرانے پالان پر ( سوار ہوکے) حج کیا۔ اس پر معمولی سی چادر تھی جو چار درہم کی بھی نہیں تھی۔ آپؐ کہہ رہے تھے ۔ کہ اے میرے اللہ! اسے ایسا حج بنا دے جس میں نہ کوئی ریا ہو نہ کوئی شہرت کی طلب ہو۔

    320: حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ صحابہ کو رسول اللہ ﷺسے بڑھ کر کوئی اور شخص محبوب نہ تھا۔راوی کہتے ہیں کہ جب وہ آپ ﷺکو دیکھتے توکھڑے نہ ہوتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ نا پسند ہے۔

    ٭ اِھَالَۃٌ: وہ چیز جو چکناہٹ والی ہو جس سے سالن بنایا جاتا ہے اھالہ کہلاتا ہے پگھلائی ہوئی چربی اور منجمد گھی کو بھی کہا جاتا ہے۔ (نہایہ)
    321: حضرت حسن بن علیؓ کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ھالہ سے رسول اللہ ﷺکا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ نبی کریم ﷺ کا حلیہ خوب بیان کرتے تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے اس کا کچھ تذکرہ کریں۔اس پر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ بارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔ آپؐ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا جیسے چودھویں رات کا چاند، پھر انہوں نے یہ مکمل حدیث بیان کی۔ حضرت حسن ؓ کہتے ہیں میں نے یہ روایت حضرت حسینؓ سے ایک عرصہ تک چھپائے رکھی ۔ پھراُن سے بیان کی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس بارہ میں مجھ پر سبقت لے جا چکے ہیں اور مجھ سے پہلے ہی اُن سے وہ کچھ پوچھ چکے ہیں جو میں نے ان سے پوچھا تھابلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے والد سے بھی آنحضور ﷺ کے گھر میں آنے اور جانے اور آپؐ کی شکل و صورت کے بارے میں دریافت کر چکے ہیں اور کوئی بات بھی باقی نہیں چھوڑی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے رسول اللہ ﷺکے گھر میں داخل ہونے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب حضور ﷺاپنے گھر تشریف لاتے تو گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ اللہ جلّشانہ کے لئے وقف فرماتے ایک حصہ اپنے اہل کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے ۔ پھر اپنے حصہ کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان بانٹ لیتے اور اس میں خاص صحابہؓ کے ذریعہ عام لوگوں تک (دین کی باتیں) پہنچاتے اوران سے کوئی بات بچا نہ رکھتے اور آپؐ کی سیرت میں امت کے حصّہ کی تقسیم کاطریق کار یہ تھا کہ ملاقات کے لئے اجازت دینے میں امت کے اہلِ فضل لوگوں کو ترجیح دیتے اور دین میں فضیلت کے لحاظ سے ان کی تقسیم ہوتی تھی۔اُن میں سے بعض کو ایک حاجت ہوتی بعض کو دو اور بعض کو کئی حاجتیں ہوتیں ۔ آپؐ اُن کی حاجت روائی میں اُن کے ساتھ مصروف رہتے اور ان کے سوالات پر انہیں ایسے کاموں میں مصروف کرتے جو ان کی اور امت کی اصلاح کریں اور ایسی باتوں سے آگاہ کرتے جو اُن کے لئے مفید ہوتیں۔ اور فرماتے جو تم میں سے حاضر ہیں وہ غیر حاضروں تک یہ باتیں پہنچائیں اورمجھ تک اُس شخص کی حاجت پہنچاؤ جو اپنی حاجت پہنچا نہیں سکتا کیونکہ جو کسی ایسے شخص کی حاجت حاکم تک پہنچائے جسے وہ خود پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ثبات قدم بخشے گا ۔ آپؐ کے پاس ایسی ہی باتوں کا تذکرہ ہوتا۔ اور اُن کے سوا کسی سے کوئی (بات) قبول نہ فرماتے۔ لوگ آپؐؐ کے پاس طالب بن کر آتے اور بغیر کچھ حاصل کئے واپس نہ جاتے اور خیر کی طرف ہدایت کرنے والے بن کر نکلتے۔ وہ (حضرت امام حسینؓ) کہتے ہیں پھر میں نے(اپنے والد سے) آنحضور ﷺ کے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں پوچھا کہ اس دوران کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ بامقصد بات کے سوا کلام نہ فرماتے۔ آ پؐ صحابہ کی تالیف قلب فرماتے اور انہیں متنفر نہ کرتے۔ ہر قوم کے معزز فرد کی عزت کرتے اور اُسے اُن پر والی بنا دیتے۔ لوگوں کو ہوشیار کرتے اور اُن سے محتاط رہتے بغیر اس کے ان سے آپؐ کی خندہ پیشانی اور خوش خلقی میں کوئی فرق آئے۔آپؐ اپنے صحابہؓ پر نظر رکھتے اور لوگوں سے لوگوں کے احوال دریافت فرماتے۔ اچھی بات کی تعریف کرتے اور اُسے تقویت دیتے اور بُری بات کی بُرائی بیان کرتے اور اُس کا زور توڑتے۔ آپؐ ہر امر میں میانہ رو تھے۔ تضاد سے پاک تھے۔آپؐ غافل نہ ہوتے مبادا لوگ غافل ہو جائیںیا تھک جائیں۔ آپؐ صورت حال کے لئے تیار رہتے۔ آپؐ نہ حق سے پیچھے رہتے نہ اس سے آگے بڑھتے۔ لوگوں میں سے آپؐکے قریب وہ ہوتے جو سب سے بہترین ہوتے۔ آپؐکے نزدیک سب سے افضل وہ ہوتا جو سب سے زیادہ خیر خواہی میں بڑھا ہوا ہوتا اور آپؐ کے نزدیک درجہ میں سب سے بڑا وہ ہوتاجو ہمدردی اور معاونت میں دوسروں سے سب سے اچھا ہوتا۔ اور(حضرت امام حسینؓ )کہتے ہیں پھر میں نے آنحضور ﷺکی مجلس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔ آپؐ اُٹھتے وقت بھی ذکرِ الٰہی کرتے اور بیٹھتے وقت بھی ذکر الٰہی کرتے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں تشریف رکھتے اور یہی ارشاد فرماتے۔ آپؐ ہر ہم نشین کو اس کا حق دیتے کوئی یہ گمان نہ کرتا کہ کوئی دوسرا اُس سے زیادہ معزز ہے۔ جو آپؐ کے پاس بیٹھتا حضور کے پاس اپنی کوئی ضرورت بیان کرتاتو آپؐ سب کے ساتھ اس کے ساتھ رہتے یہاں تک کہ وہ خود اُٹھ کر چلاجاتا اور جو آپؐ سے اپنی حاجت طلب کرتا آپؐ اُسے بغیر دئیے یا نرمی سے بات کے بغیرواپس نہ کرتے۔ آپؐ کی خندہ پیشانی، سخاوت اور حسن خلق سب کے لئے تھی آپؐ اُن کے لئے باپ ہو گئے تھے۔ حقوق کے لحاظ سے آپؐکے نزدیک سب برابر تھے۔ آپؐ کی مجلس علم اور حیاء اور صبر اور امانت کی مجلس ہوتی ۔ نہ اُس میں آوازیں بلند ہوتیں نہ قابلِ احترام چیزوں کی بے حرمتی ہوتی نہ کسی کی کمزوریوں کو بیان کیا جاتا ۔سب آپس میں برابر ہوتے اور تقوٰی کے سبب وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے۔ ایک دوسرے سے انکساری سے پیش آتے۔ بڑے کی عزت کرتے اور چھوٹے پر رحم کرتے اور ضرورت مند کو ترجیح دیتے اور اجنبی کا خیال رکھتے۔

    322: حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر مجھے بکری کا ایک پایہ بھی تحفہ دیا جائے تو میں قبول کرلوں گااور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں ضرور جائوں گا۔
    323: حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ نہ تو آپؐ خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر( بلکہ پا پیادہ تھے)۔
    324: حضرت یوسفؓ بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ میرا نام رسول اللہ ﷺ نے یوسف رکھا اور مجھے اپنی گود میں بٹھایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔

    325: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک پرانے پالان پراور ایک چادر پر(بیٹھ کر) حج کیا ہمارے خیال میں اس کی قیمت چار درہم ہو گی ۔ جب آپؐ کی سواری آپؐ کو لے کراچھی طرح کھڑی ہو گئی تو فرمایا :لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ لَا سُمْعَۃَ فِیْہَا وَلَا رِیَآئَ:میں حج کے لئے حاضر ہوتا ہوںجس میں نہ کوئی شہرت کی خواہش ہے نہ دکھاواہے۔
    326: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جودرزی تھا رسول اللہ ﷺکی دعوت کی ۔ اس نے ثرید ( کا کھانا) پیش کیا جس میں کدو( بھی) تھے۔حضور ﷺ کدو تناول فرمانے لگے اور آپ ﷺکو کدو پسند تھے۔ راوی ثابت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کے بعد جب بھی میرے لئے کھانا تیار کیا جاتا اور مجھے اس میں کدو ڈالے جانے کی توفیق ہوتی تو وہ ڈال دئیے جاتے۔

    327: عمرہ کہتی ہیں حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:حضور ﷺ بھی دوسروں کی طرح ایک بشر تھے آپؐ اپنا کپڑا خود صاف کرلیتے اور اپنی بکری کا دودھ دھو لیتے اور اپنے کام خود ہی کر لیتے۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اخلاق کا بیان
    328: خارجہ بن زید ؓبن ثابت بیان کرتے ہیں کہ چند لوگ حضرت زید بن ثابتؓ کے پا س آئے اور ان سے کہا ہمیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث سناؤ۔ انہوں نے کہامیں تمہیں کیا کیا بتاؤں ۔ میں حضور ﷺکا ہمسایہ تھا جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو مجھے بلا بھیجتے اور میں وہ آپؐ کے لئے لکھ دیتا۔ پھر جب ہم دنیوی امور کے متعلق گفتگو کرتے تو آپؐ ہمارے ساتھ اس کی باتیں کرتے۔جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپؐ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکرفرماتے اور جب ہم کھانے پینے کا ذکر کرتے تو آپؐ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے ۔ یہ سب کچھ جو میں تم سے بیان کر رہا ہوں یہ نبی کریم ﷺکی باتیں ہیں ۔

    329:حضرت عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قوم کے بہت برے شخص کی طرف بھی توجہ فرماتے اور اُس سے گفتگوکرتے اور اس طرح اُن (لوگوں)کی تالیف قلب فرماتے اور میری طرف بھی رسول اللہ ﷺمتوجہ ہوتے اور اپنی باتیں کرتے۔یہاں تک کہ مجھے خیال ہو ا کہ میں قوم کا بہترین فرد ہوں چنانچہ میں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ! کیا میں بہتر ہوں یا ابو بکرؓ ؟آپؐ نے فرمایا ابو بکرؓ۔ پھر میں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! کیا میں افضل ہوں یا عمرؓ ؟ آپ ؐ نے فرمایا:عمرؓ پھر میں نے کہا یارسولؐ اللہ ! کیا میں بہترہوں یا عثمانؓ؟آپؐ نے فرمایا: عثمانؓ۔ جب میںنے رسول اللہ ﷺسے پوچھا تو آپؐ نے سچ سچ فرمادیا۔اس پر میں نے چاہاکہ کاش میں نے یہ نہ پوچھاہوتا۔
    330: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺکی خدمت کی توفیق پائی آپؐنے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا ۔ اور نہ ہی کسی کام کے کرنے پر فرمایا تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اور نہ ہی کسی کام کے چھوڑنے پر فرمایا کہ تو نے اسے کیوں چھوڑا؟ اور رسول اللہ ﷺلوگوں میں سب سے زیادہ حسین اخلاق کے مالک تھے اور میں نے کوئی ریشم مِلا کپڑا یا کوئی خالص ریشم یا کوئی بھی چیز ایسی نہیں چھوئی جورسول اللہ ﷺکی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو۔ اورنہ ہی میں نے کبھی کوئی مُشک یاعطرسونگھا جو رسول اللہ ﷺکے پسینے کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہو۔
    331: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی چادر پر زرد رنگ کا نشان تھا۔(حضرت انسؓ) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا یہ طریق تھا کہ آپؐ کسی شخص کے سامنے کوئی ایسی بات نہ فرماتے جو اس کو نا پسند ہوتی۔پس جب وہ اٹھ کر چلا گیا تو آپؐنے صحابہؓ سے فرمایا: تم اس کو کہدیتے کہ وہ یہ زردی چھوڑ دے ۔
    332: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نہ بد خلق تھے نہ بد گو ،نہ بازاروں میں شور کرنے والے تھے نہ بدی کا بدلہ بدی سے دیتے بلکہ آپؐ معاف فرما دیتے تھے اور در گزر فرماتے تھے۔

    333: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہیں مارا۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اور آپؐنے کسی خادم کو نہیںمارا نہ ہی کسی عورت کو۔
    334: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو اپنے پر کسی ہونے والے ظلم کا بدلہ لیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی محارم کی کچھ ہتک نہ کی جاتی۔جب اللہ تعالیٰ کی محارم کی ہتک کی جاتی تو آپ ﷺاس بات پر سب لوگوں سے زیادہ غصّہ ہوتے اور آپؐ کو کسی دو باتوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپؐ اسے اختیار فرماتے جو ان میں زیادہ آسان ہوتی اگر اس میں گناہ کی بات نہ ہوتی۔
    335: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے (اندر آنے کی)اجازت طلب کی۔ میں آپؐ کے پاس تھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ (اپنے) قبیلے کا بُرا شخص ہے پھر آپ ﷺ نے اسے اجازت مرحمت فرمائی اور اس کے ساتھ نہایت نرمی سے گفتگو فرمائی۔ جب وہ واپس چلا گیا تو میں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ ! آپؐ نے تو کچھ فرمایا تھا پھر آپؐ نے ا س سے اس قدر نرمی سے بات کی ہے؟ آپؐنے فرمایا اے عائشہ ؓ !یقینًا لوگوں میں سے بد ترین وہ شخص ہے جسے دوسرے لوگ اس کی بدگوئی سے بچنے کے لئے اُس سے قطع تعلق کریں۔
    336: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے رسول اللہ ﷺکے اپنے ہم نشینوں سے طرز عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ آپؐ خوش خلق اور نرم مزاج تھے۔ نہ تند خو اور نہ ہی سخت دل تھے۔نہ شور کرنے والے تھے نہ ہی بد گوئی کرنے والے نہ ہی عیب لگانے والے تھے اور نہ ہی بخیل و حریص تھے۔جس چیز کی آپؐ کو رغبت ہوتی اس سے بھی تغافل فرماتے مگر (دوسروں کو) اس سے مایوس نہ کرتے اور نہ ہی اس کو اس سے محروم رکھتے۔ تین باتوں سے اپنے آپؐ کوبچا کر رکھتے۔ لڑائی جھگڑے سے اور تکبر سے اور جن باتوں سے آپؐ کا تعلق نہ ہوتااور تین باتوں سے لوگوں کو بچا رکھا تھا یعنی آپؐ کسی کی مذمت نہ فرماتے نہ ہی اس کے عیب نکالتے نہ اس کی پوشیدہ کمزوریوں کو تلاش کرتے آپؐ ایسی گفتگو فرماتے جس میں ثواب کی امید ہو۔ جب آپؐ گفتگو فرماتے تو حاضرین مجلس یوں خامو ش ہو کر نگاہیں جھکا لیتے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ جب آپؐ خاموش ہوتے تو وہ گفتگو کرتے ۔ آپؐ کے پاس وہ کسی بات پر آپس میںتکرار نہ کرتے اور جوکوئی بھی آپؐ کے سامنے بات کرتاتو باقی سب خاموش ہو جاتے یہاں تک کہ وہ اپنی بات مکمل کر لیتا ۔آپؐ کی مجلس میں ہر ایک کی گفتگو اس طرح ہوتی جیسے پہلے شخص کی گفتگو ہو۔(یعنی ہر شخص کو بات کرنے کا پورا موقعہ ملتا)آپؐ ان باتوں پر خوشی کا اظہارفرماتے جن پر صحابہؓ خوش ہوتے اور آپؐ پسند فرماتے جن کو وہ پسند فرماتے۔ آپؐاجنبی شخص کے گفتگو اور سوال میں تلخی پر صبر فرماتے یہانتک کہ آپؐ کے صحابہ ؓ ایسے لوگوں کے آنے کی تمنا کرتے تھے۔ آپؐ فرمایا کرتے کہ جب تم کسی حاجت مند کو دیکھو کہ وہ سوال کر رہا ہے تو اس کی مدد کرو۔ آپؐ تعریف قبول نہ فرماتے سوائے اس کے جو (تعریف میں) مبالغہ آرائی نہ کرنے والا ہواور آپ ؐ کسی کی بات نہ کاٹتے جب تک کہ وہ حد سے تجاوز نہ کرے تب منع کر کے اس بات سے روک دیتے یا اُٹھ کھڑے ہوتے۔
    337:حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کبھی کچھ طلب نہیں کیا گیا جس کے جواب میں آپؐ نے ’’نہ ‘‘ فرمایا ہو۔

    338:حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ
    رسول اللہ ﷺخیر اور بھلائی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپؐ ماہ رمضان میں پہلے سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا۔ اس میں جبرائیل ؑ آپؐ کے پاس آتے اور آپؐ کو قرآن کا دورکرتے پس جب جبرائیل آپؐ سے ملاقات کرتے رسول اللہ ﷺ خیر خواہی میںتیز آندھی سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔

    339:حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیںکہ نبی کریم ﷺکل کے لئے کوئی چیز بچا نہ رکھتے تھے۔

    340: حضرت عمر بن خطاب ؓسے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے کچھ مانگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس(اس وقت) توکچھ نہیں ہے تم میرے نام سے(ضرورت کی چیز) خرید لو،جب میرے پاس کچھ آئے گا تو میں ادا کر دوں گا۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ! آپؐ اُسے (پہلے) دے چکے ہیں اور جو آپؐ کی استطاعت میں نہیں اس کا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کومکلف نہیں ٹھہرایا۔ نبی ﷺ نے حضرت عمر ؓ کی بات ناپسند فرمائی تو انصارؓ میں سے ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ! آپؐ خرچ کریں اور خدائے ذوالعرش کی طرف سے فقر سے نہ ڈریں ۔ انصاریؓ کی اس بات پر رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا اور خوشی آپؐ کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگی۔پھر فرمایا اسی کا مجھے حکم دیا گیاہے۔
    341: حضرت رُبَیِّع بنت معوذؓ کہتی ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تازہ کھجوروں اور چھوٹی چھوٹی نرم نرم ککڑیوں کی ایک طشتری لے کر حاضر ہوئی تو حضور ﷺ نے اپنی مٹھی بھر کرزیور اور سونامجھے عطا فرمایا۔
    342: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺتحفہ قبول فرما لیتے تھے اور (بڑھ کر) اس کا بدلہ عطا فرماتے۔




    بَابُ مَا جَائَ فِیْ حَیَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی حیا ء کا ذکر
    343: حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺایک پردہ نشین دوشیزہ سے بھی زیادہ حیا دار تھے اورجب آپؐ کسی بات کو ناپسند فرماتے تو ہمیںاس کا آپؐ کے چہرے سے پتہ لگ جاتا تھا۔

    344:حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو عریاں کبھی نہیں دیکھا۔





    بَابُ مَا جَائَ فِیْ حِجَامَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سینگی لگوانے کا بیان1
    345: حضرت انس بن مالکؓ سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال کیا گیا (کہ وہ جائز ہے کہ نہیں؟)تو حضرت انسؓ نے فرمایاکہ رسول اللہ ﷺنے سینگی لگوائی۔ آپؐ کو ابو طیبہ2 نے سینگی لگائی تھی۔حضور ﷺ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا ارشاد فرمایااور اس کے مالک سے بات کی۔چنانچہ انہوں نے اس کے خراج میں کمی کر دی۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا سب سے بہتر طریق جس سے تم علاج کرتے ہو سینگی لگانا ہے۔
    346: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سینگی لگوائی اور مجھے حکم دیا تو میں نے سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی۔

    1۔ حجم چوسنے کو کہتے ہیں ۔حجامت ایک طریق علاج کا نام ہے جس سے مریض کے جسم کے کسی حصہ سے خون نکالا جاتا ہے۔سینگ کی طرز کے آلہ کی مدد سے (متعلقہ حصہ کو چھید کر) خون کھینچا جاتا تھا اس کے لئے جونک کا بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے اسے سینگی لگوانا یا پچھنے لگوانا کہتے ہیں۔ انگریزی میں cuppingکہتے ہیں۔
    2۔ ابو طیبہ غلام تھے انہوں نے اپنی آزادی کے لئے فدیہ دینے کا فیصلہ کیا ۔اور تین صاع روزانہ ادا کرتے۔آنحضورصلّی اللہ علیہ وسلّم کے ارشاد پر ان کے مالک نے ایک صاع چھوڑ دیا۔(جمع الوسائل)

    347:حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گردن کی دونوں جانب کی رگوں میں اوردونوں شانوں کے درمیان سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت بھی عطا فرمائی اگر یہ حرام ہوتی تو آپ ﷺاسے نہ دیتے ۔
    348:حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا۔اس نے آپ ﷺکو سینگی لگائی۔آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا کہ (مالکوں کو آزادی کے لئے) کتنی رقم دیتے ہو۔اس نے عرض کی تین صاع۔آپ ؐنے اس کا ایک صاع کم کروا دیا اور اسے اس کی اجرت عطا فرمائی۔
    349: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺگردن کی دونوں طرف کی رگوں1اور کندھے میں سینگی لگوایا کرتے تھے اور آپؐ (عمومًا) سترہ یا انیس یا اکیس تاریخ کو سینگی لگواتے۔

    350:حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں مَلَل مقام پر اپنے پاؤں کی پشت پر سینگی لگوائی2۔
    1۔ اَلْاَخْدَعَیْنِ: گردن کی جانب کی رگیں۔( نہایہ) 2 ۔ مَلَل ٌ: مدینہ سے مکہ کی طرف 17میل دور ایک جگہ کا نام ہے۔( نہایہ)
    بَابُ مَاجَائَ فِیْ اَسْمَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اسماء کا بیان
    351: حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے ۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :میرے کئی نام ہیں میں محمدؐ ہوں (جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے)،اور میں احمدؐ ہوں (بہت زیادہ تعریف کرنے والا ) ، اور میں ماحی ؐ ہوں (مٹانے والا) میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دے گا۔ اور میں حاشرؐ ہوں(جمع کرنے والا یا اٹھانے والا) میرے قدموں میں لوگوں کا حشر ہوگا۔اور میں عاقبؐ ہوں (بعد میں آنے والا) اورعاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    352: حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے ایک رستے پر نبی کریم ﷺسے ملا۔آپ ؐنے فرمایا: میں محمدؐ ہوں ،اور میں احمدؐ ہوں اور میں نبی الرحمۃؐ ہوں (رحمت کا نبی) اور میں نبی التوبۃؐ ہوں(توبہ کانبی) اور میں مُقَفّٰی ہوں (وہ جس کی پیروی کی جائے)اور میں نبی الملاحمؐ ہوں (جس سے جنگیں کی گئیں)



    بَابُ مَاجَائَ فِیْ عَیْشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی معیشت کا ذکر
    353: حضرت نعمان بن بشیرؓ ( لوگوں کو مخاطب ہو کر) کہتے ہیں کیا تمہیں اپنی پسند کا کھاناپینا میسر نہیں؟ یقینا میں نے تمہارے نبی کریم ﷺکو ایسے حال میں بھی دیکھا ہے کہ آپؐ معمولی قسم کی کھجوریں بھی نہ پاتے تھے جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں ۔
    354: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ یقینا ہم آلِ محمدؐ ایک ماہ گزار دیتے اور (چولہے میں)آگ نہ جلا پاتے، صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
    355: حضرت ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بھوک کی شکایت کی۔اور ہم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھاکر پتھر (بندھا ہوا)دکھایا اس پر رسول اللہ ﷺنے اپنے بطن مبارک سے کپڑا ٹھاکردو پتھر (بندھے ہوئے) دکھائے۔
    ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ اس فقرہ کا مطلب وَرَفَعْنَا عَنْ بُطُوْنِنَا عَنْ حَجَرٍحَجَرٍکہ لوگ بھوک کی کمزوری اور تکلیف کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتے تھے۔

    356:حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ایک ایسی گھڑی میں باہر نکلے جس میںآپؐ (عمومًا) نہیں نکلا کرتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی آپؐسے ملنے آتا، پھر حضرت ابوبکر ؓ آپؐ کے پاس آن پہنچے۔آپؐ نے فرمایااے ابو بکر ؓ ! کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے عر ض کی میں نکلا ہوں تاکہ رسول اللہ ﷺسے ملوں، آپؐ کے چہرے کا دیدار کروں اور آپؐ کو سلام کروں۔ کچھ دیر بعد حضرت عمر ؓ آگئے۔ آپؐ نے فرمایا اے عمرؓ! کیسے آنا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی یارسولؐاللہ! بھوک لے آئی ہے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں بھی کچھ ایسا ہی پا رہا ہوں۔ پھر وہ (تینوں) حضرت ابوہیثم بن تیہان انصاری ؓ کے گھر گئے۔ جن کے بکثرت کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں ان کے پاس کوئی خادم نہ تھامگر ان کو (گھر میں) نہ پایا۔ اس پرانہوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ تمہارا خاوندکہاں ہے؟ اس نے عرض کی وہ میٹھا پانی لینے کے لئے گئے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ابوہیثم ؓ ایک بھرا ہوا مشکیزہ بمشکل اٹھائے ہوئے آئے٭۔ انہوں نے اسے نیچے رکھا اور نبی کریم ﷺ سے چمٹ گئے اور عرض کرنے لگے کہ میرے ماں باپ آپؐ پہ قربان ہوں۔ پھر وہ انہیں ساتھ لے کر اپنے باغ کی طرف چل پڑے۔ (وہاں) ان کے لئے فرش بچھایا اور کھجور کے ایک درخت کی طرف گئے اور کھجور کا خوشہ لائے اور پیش کیا۔

    ٭۔ یَزْعَبُ : بھرا ہوا مشکیزہ اٹھانا، ایسا بوجھ اٹھانا جو ادھر ادھر ہو رہا ہو۔( منجد)
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم چن کر صرف پکی ہوئی تازہ کھجوریں کیوں نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کی یارسول ؐاللہ! میں نے چاہاکہ آپؐ پکی ہوئی اور گدری کھجوروںمیں سے جو چاہیں لے لیں۔پس آپؐ نے کھجوریں تناول فرمائیں اور اُس پانی میں سے کچھ نوش فرمایا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا ۔ ٹھنڈا سایہ ، تازہ پکی ہوئی عمدہ کھجور اور ٹھنڈا پانی ۔ پھر ابوہیثم ؓ ان کے لئے کھانا تیار کرنے کے لئے جانے لگے تو نبی کریم ﷺنے فرمایا ہمارے لئے دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا توانہوں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اورپھر وہ (پکا کر) انہیں پیش کیا ۔ انہوں نے کھانا تناول فرمایا۔پھر نبی کریم ﷺنے فرمایاکیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں ۔ فرمایا جب ہمارے پا س قیدی آئیںتو ہمارے پاس آنا۔ جب نبی ﷺکے پاس دو غلام لائے گئے۔ ان کے ساتھ تیسرا نہ تھا۔ ابوہیثم ؓ حاضر ہوئے ۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا ان دونوں میں سے ایک چن لو۔ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے نبی! آپؐ میرے لئے پسند فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے،یہ لے لو کیونکہ اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ابو ہیثمؓ اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ ﷺ کی ساری بات بیان کی ۔ ان کی بیوی نے کہا جو نبی کریم ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا ہے تم پوری طرح اس کا حق ادا نہیں کرسکو گے سوائے اس کے کہ تم اُسے آزاد کردو۔ انہوں نے کہاپس وہ آزاد ہے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی یا خلیفہ نہیں بھیجا مگر اس کے دو رازدان ہوتے ہیں ایک رازدان اُسے نیکی کا مشورہ دیتا ہے اوراسے برائی سے روکتا ہے اور دوسرا رازدان اسے ناکام کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتااور جو بُرے رازدان سے بچایا گیا وہی محفوظ رہا۔



    357: حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کہتے ہیں میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کے رستہ میں خون بہایا۔اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کے رستہ میں تیر چلایا۔ میں نے اپنے آپؐ کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب محمد ﷺ کے صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ غزوہ میں شامل تھا ۔ (ہمارے پاس کچھ نہ تھا) ہم صرف درختوں کے پتے اور کیکر کی پھلیاں کھاتے تھے یہاں تک حالت پہنچی کہ ہم بکری اور اونٹ کی طرح مینگنیاں کرنے لگے۔(اورآج) بنو اسد مجھ پر دین کے معاملے میں ملامت کرتے ہیں اگر یہ سچ ہے تب تو میں ناکام رہا اور میرے عمل ضائع ہو گئے٭ ۔
    ٭ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص حضرت عمرؓ کے دور میں کوفہ کے امیر تھے ۔ وہاں کے بعض شر پسندوں نے ان کی شکایات کیں۔ یہ کہ یہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے ۔حضرت عمرؓ نے جب انہیں بلا کر پوچھا تو انہوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرتے ہوئے یہ باتیں بتائیں۔
    358: خالد بن عُمیراور شُوَیس ابو رقادکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے عتبہ بن غزوان کو بھیجا اور فرمایا تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ جاؤ یہاں تک کہ تم ایسی جگہ پر پہنچو جو سر زمین عرب کی دور ترین جگہ ہو اور سر زمین عجم کے قریب ترین ہو (تو وہاں ٹھہرو)۔ چنانچہ وہ چلے ، یہاں تک کہ وہ مربدمقام پر پہنچے توانہوں نے وہاں نرم سفید پتھر دیکھے انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ بصرہ ہے۔ پھر و ہ چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ چھوٹے پل کے سامنے پہنچے تو انہوںنے کہا یہی وہ جگہ ہے جس کا تمہیں حکم دیا گیا تھا۔ چنانچہ وہ وہاںاترے۔ ( راویوں نے یہاں تفصیل سے روایت بیان کی ہے) ہر ایک نے بیان کیا کہ عتبہ بن غزوان نے کہا :میں نے اپنی وہ حالت دیکھی ہے جب میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں میں سے ایک تھا۔ ہمارے لئے کھانا نہیں ہوتا تھا سوائے درخت کے پتوں کے (جنہیں کھانے سے) ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں ۔ مجھے ایک چادر زمین پر سے ملی جسے میں نے اپنے اور حضرت سعد ؓ کے درمیان تقسیم کر لیا ۔ہم اِن سات آدمیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو آج کسی شہر کا امیر نہ ہواور عنقریب تم اُن امراء کا بھی تجربہ کر لو گے جو ہمارے بعد آئیں گے۔
    359:حضرت انسؓ سے روایت ہے ۔انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ کے راستے میں اس قدر ڈرایا گیا جتنا میرے علاوہ کوئی اور نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کی راہ میں مجھے اس قدر ایذاء دی گئی جو کسی اور کو نہیں دی گئی۔ مجھ پرتیس شب و روز ایسے بھی آئے کہ میرے اور بلالؓ کے کھانے کے لئے کوئی ایسا کھانابھی نہ ہوتا تھا جسے کوئی جاندار کھا سکے بجز اس تھوڑی سی مقدار کے جو بلالؓ نے اپنے پہلو میںچھپا رکھی ہوتی تھی۔
    360: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس صبح کے کھانے میں یا شام کے کھانے میں روٹی اور گوشت (دونوں) اکٹھے نہیںہوئے۔ مگر ضفف ٭کی حالت میں۔ بعض لوگوں کے مطابق ضفف کے معنی زیادہ ہاتھوں کے ہیں( یعنی جب زیادہ لوگ کھانے پر بیٹھے ہوں) ۔
    361: نوفل بن ایاس الہُذَلِیّ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمنؓ بن عوف ہمارے ہم نشین تھے اور وہ کیا ہی اچھے ہم نشین تھے۔ ایک دن وہ ہمارے ساتھ کسی جگہ سے لوٹے اور جب ہم ان کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ بھی اندر آئے اور انہوں نے غسل کیا پھرباہر تشریف لائے اور ہمارے پاس کھانے کی بڑی طشتری لائی گئی جس میں گوشت اور روٹی تھی۔ جب وہ طشتری رکھی گئی تو حضرت عبد الرحمن ؓ رونے لگے ۔ میں نے ان سے کہا اے ابو محمد!آپؐ کیوں روتے ہیں ؟ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺنے وفات پائی مگر آپؐ
    1۔ ضَفَف: ضفف کے معنے لوگوں کا اکٹھے ہونا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ چشمے پر لوگ اکٹھے ہوئے ۔(نہایہ)
    اور آپؐ کے گھر والوں نے پیٹ بھر کر جَو کی روٹی نہیں کھائی۔ میر اخیال نہیں کہ ہمیں جو مہلت ملی ہے وہ ہمارے لئے بہتر ہے۔



    بَابُ مَاجَائَ فِیْ سِنِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عمر مبارک کا بیان
    362: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم ﷺپر وحی کا نزول ہو ا ۔ آپؐ نے مکہ میں تیرہ سال قیام فرمایا اور آپؐ پر وحی ہوتی رہی اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ ؐ کا وصال ہوا۔
    363: جریر سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ ؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺنے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اور میں بھی اب تریسٹھ سال کا ہوں۔

    364: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔

    365: حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پینسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔

    366: حضرت دغفلؓ بن حنظلہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وفات پینسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ حضرت دغفلؓ کا نبی کریم ﷺسے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ ہاں وہ نبی کریم ﷺکے زمانے میں موجود تھے۔

    367: ربیعہ بن ابو عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نہ نمایاں طور پربہت زیادہ لمبے تھے اور نہ ہی پستہ قامت ، نہ تو بہت زیادہ سفید تھے اور نہ گندم گوں ، اور (آپؐ کے بال)نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا۔ آپؐ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور مدینہ میں دس سال۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی۔اس وقت آپؐ کے سر اور ریشِ مبارک میںبیس بال بھی سفید نہ تھے۔




    بَاب: مَاجَائَ فِیْ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی وفات
    368: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آخری نظر رسول اللہ ﷺ پر اس وقت ڈالی جب حضور ﷺ نے سوموار کو (اپنے حجرے کا) پردہ اٹھایا۔ تو میں نے آپؐکے رُوئے مبارک کی طرف دیکھا وہ یوں تھاجیسے مصحف (شریف) کا ایک ورق ہو۔ لوگ حضرت ابو بکرؓ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور قریب تھا کہ لوگ نماز میں مضطرب ہو جائیں۔ حضور ﷺ نے لوگوں کو اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔حضرت ابوبکر ؓ ان کی امامت کروا رہے تھے ۔ پھر آپؐ نے پردہ گرا دیا اور اسی دن کے آخری حصہ میں آپ ؐ کا وصال ہو گیا۔
    369: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایا (وصال کے وقت) میں نے نبی کریم ﷺکو اپنے سینہ پر سہارا دے رکھا تھا یا یہ فرمایا کہ اپنی گود میں سہارا دے رکھا تھا۔آپ ؐنے پیشاب کرنے کے لئے برتن منگوایا اورپیشا ب کیا ۔ پھر آپؐ کا وصال ہو گیا۔
    370:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ۔انہوں نے فرمایاکہ میں نے مرض الموت میں رسول اللہ ﷺکو دیکھا۔ آپؐ کے پاس پانی کا پیالہ تھا آپؐ اپنا ہاتھ اس میں ڈالتے پھر اپنے چہرے پر پانی ملتے اور کہتے اے میرے اللہ ! موت کی تکالیف میں میری مدد فرما یا یہ کہتے موت کی سختیوں میں میری مدد فرما۔

    371:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کی وفات کی تکلیف کو دیکھ کر آپؐ کے بعد کسی اور شخص کی آرام دہ موت پر مجھے رشک نہیں ہوا۔


    372:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوںنے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا توآپؐ کی تدفین کے بارے میں صحابہؓ میں اختلاف ہو گیاتو حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا میںنے رسول اللہ ﷺسے ایک بات سنی ہے جو میں نہیں بھولا۔ حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ اُس جگہ پر نبی کو وفات دیتا ہے جس جگہ وہ دفن ہونا پسند کرتا ہے۔ اس لئے حضور ﷺکو آپؐ کے بستر کی جگہ پر ہی دفن کرو۔


    373: حضرت ابن عباسؓ اورحضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے نبی کریم ﷺکا وفات کے بعد بوسہ لیا۔

    374: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺکی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ آپؐ کے پاس آئے ۔اپنے ہونٹ آپؐ کی پیشانی مبارک پر رکھے اور بوسہ لیا ۔اور آپؐ کے دونوں بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر کہا: آہ اے نبیؐ! آہ اے صفیؐ ! آہ اے خلیلؐ!

    375:حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس دن مدینہ تشریف لائے اُس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپؐ فوت ہوئے ۔ مدینہ کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ہم نے اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑی نہیں تھی، ہم ابھی آپؐ کی تدفین میں مصروف تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کو مختلف حال میں پایا۔

    376: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے پیر کے دن وفات پائی۔

    377: جعفر بن محمد اپنے والد( امام باقر ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکا وصال پیر کے دن ہوا۔ آپؐ وہ دن اور منگل کی رات (اور دن)رہے اورآپؐ کی تدفین (بدھ کی ) رات کو ہوئی۔سفیان کہتے ہیں کہ امام باقر کے علاوہ کسی اور نے روایت کی ہے کہ بیلچوں کی آوازرات کے آخری حصے میں سنائی دیتی تھی۔
    378: ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوفؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے پیر کے روز وفات پائی اور آپؐ کی تدفین منگل کے دن ہوئی۔

    379:حضرت سالم بن عبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مرض الموت میں غشی طاری ہوئی ۔ پھر افاقہ ہوا توآپؐ نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ صحابہؓ نے عرض کی جی حضور! آپؐ نے فرمایا: بلالؓ سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابو بکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔پھرآپؐ پر غشی طاری ہو گئی۔ پھر افاقہ ہوا توآپؐ نے فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کی جی ہاں ! آپؐنے فرمایا بلالؓ سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابو بکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی میرے والد نرم دل
    ہیں ۔ جب وہ آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور وہ نمازنہ پڑھا سکیں گے ۔ اس لئے آپؐ کسی اور کو ارشاد فرمائیں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ پر غشی طاری ہو گئی ۔ پھر افاقہ ہوا توآپؐ نے فرمایا :بلالؓ سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابو بکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ یقینًا تم تو یوسف والی ہو۔راوی کہتے ہیںکہ پھربلال ؓ سے کہا گیا انہوں نے اذان دی اور حضرت ابو بکر ؓ سے کہا گیا تو انہوں نے نماز پڑھائی۔ پھر رسول اللہ ﷺنے بیماری میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپؐ نے فرمایادیکھو کوئی ہے جس کا میں سہارا لوں (اور مسجد میں جاؤں )اس پرحضرت بریرہؓ اور ایک اور شخص آیاتو حضور ﷺنے ان پر سہارا لیااور (مسجد میں تشریف لائے) جب حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے آپؐ نے اشارہ سے فرمایاکہ اپنی جگہ ٹھہریں یہاں تک کہ حضرت ابو بکر ؓ نے نماز مکمل کی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ (کا اسی مرض الموت میں ) وصال ہو گیاتو حضرت عمرؓ کہنے لگے اللہ کی قسم جس کومیں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں تومیں اُسے اپنی اِس تلوار سے قتل کر دوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگ تو ان پڑھ تھے ان میں حضور ﷺ سے پہلے کوئی نبی نہ آیا تھا اس لئے وہ رک گئے بعض صحابہ ؓ نے کہا اے سالم! رسول اللہ ﷺ کے ساتھی کی طرف جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔ چنانچہ میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آیا وہ مسجد میں تھے۔ میں روتا ہوا اور گھبرایا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا کیا رسول اللہ ﷺکا وصال ہو گیا ہے ؟ میں نے
    کہا عمرؓ کہہ رہے ہیں کہ جس کسی سے بھی میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو گیا ہے تو مَیںاسے اپنی اس تلوار سے قتل کر دوں گا۔ انہوںنے مجھے کہا چلو میں ان کے ساتھ چل پڑا۔جب ابو بکرؓ آئے تو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اکٹھے ہو چکے تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا اے لوگو ! مجھے رستہ دو تو لوگوں نے انہیں راستہ دے دیا۔پھروہ حضور ﷺ کے پاس پہنچے اور آپؐ پر جھک گئے ،اپنے بازو کے بل اور آپؐ کو مَس کیا اور کہا اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ ٭ یقینًا آپؐ بھی فوت ہونے والے ہیں اور وہ(سب لوگ) بھی فوت ہونے والے ہیں ۔ پھر صحابہؓ نے کہا اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! کیا رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو گیا ہے؟آپؐنے کہا ہاں، تب ان کو یقین ہو گیا کہ آپؓ نے سچ کہا ہے۔ پھر انہوں نے کہا اے صاحب رسول !کیا رسول اللہ ﷺ کا جنازہ پڑھا جائے گا؟آپؓ نے فرمایا ہاں، انہوں نے پوچھا کیسے؟ آپؐنے فرمایا ایک جماعت اندر (حجرے میں ) داخل ہوگی اور تکبیر کہے گی اور دعا کرے گی اور نماز پڑھے گی پھر باہر آ جائے گی۔ پھر اور لوگ داخل ہوں گے ،تکبیر کہیں گے دعا کریں گے اور نماز پڑھیں گے پھر باہر آجائیں گے یہاں تک کہ سب لوگ اندر داخل ہوجائیں۔ پھر صحابہؓ نے پوچھا اے صاحب رسول ! کیا رسول اللہ ﷺ کو دفن کیا جائے گا ؟ انہوں نے کہا :ہاں انہوں نے کہا کہاں؟ انہوںنے فرمایا: اسی جگہ جہاں حضور ﷺ کی وفات ہوئی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُسی جگہ آپؐ کو وفات دی
    ٭ (الزمر : 31 )
    ہے جو پاکیزہ جگہ ہے ۔ صحابہؓ جان گئے کہ ابو بکر ؓ نے سچ کہا ہے۔پھر آپؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ آپؐکے والد کے بیٹے (والد کی طرف سے رشتہ دار) آپؐ کو غسل دیں ( راوی یہ بھی بیان کرتے ہیںکہ ) مہاجرین جمع ہو کر ( خلافت کے معاملے میں ) باہم مشورہ کرنے لگے اور انہوں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا ہمارے ساتھ اپنے انصار بھائیوں کی طرف چلیں اور ان کو اس معاملہ میں اپنے ساتھ شامل کریں ۔ انصار نے کہا ہم میں سے ایک امیر ہو اور تم میں سے بھی ایک امیرہو۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا :کون ہے جسے یہ تین فضیلتیں حاصل ہیں ۔ پھر یہ آیت پڑھی : ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِیْ الْغَارِاِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا٭(ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا د کرو)جب وہ دو میں سے ایک تھا ۔ جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا وہ دو کون ہیں ؟ راوی کہتے ہیں پھر عمرؓ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت کی اور تمام لوگوں نے آپؓ کی بیعت کی اور یہ بیعت برضا ورغبت اور بہت عمدگی اور خوبصورتی سے ہوئی۔
    ٭ ( التوبۃ : 40 )
    380: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مرض الموت کی تکلیف برداشت فرما رہے تھے تو حضرت فاطمہؓ نے کہا ہا ئے( ابّا کی) تکلیف! نبی ﷺ نے فرمایاآج کے بعد تیرے باپ پر کوئی تکلیف نہیں ہو گی آج تیرے باپ کو وہ چیز درپیش ہے جس سے کوئی شخص بھی قیامت تک بچنے والا نہیں یعنی وفات۔
    381: حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے جس کے دو بچے ( وفات پا کر ) اُس کے لئے پیش خیمہ بن جائیں تو اللہ اُن کی وجہ سے اُسے جنت میں داخل فرمادئے گا ۔ اس پرحضرت عائشہ ؓ نے عرض کی : امت میں سے جس کاایک بچہ پیش رو بنے وہ بھی؟ آپؐ نے فرمایا ہاں جس کا ایک بچہ بھی پیش رو ہو وہ بھی۔ اے نیکیوں کی توفیق پانے والی۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی اور آپ کی امت میں سے جس کاکوئی بچہ بھی پیش رونہ بنے؟ آپؐ نے فرمایا تو میں اپنی امت کا پیش رو ہوں گاکیونکہ انہیں میری وفات کے غم جیسا اور کوئی غم نہیں پہنچے گا۔



    بَابُ مَاجَائَ فِیْ مِیْرَاثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
    رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ورثہ کا بیان
    382: حضرت عمر و بن الحارث ؓ جو حضرت جویریہ ؓ کے بھائی اور صحابی تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے پیچھے اپنے ہتھیار اور اپنا خچر اور زمین جس کو صدقہ قرار دے دیا تھا کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔

    383: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہؓ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئیں اور عرض کیاکہ آپؓ کا وارث کون ہوگا آپؓنے فرمایا : میرے اہل وعیال ۔ انہوں نے کہا پھر میں کیوں اپنے والدکی وارث نہیں بنی۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا ورثہ نہیں چلے گا لیکن میں اُس کی کفالت کروں گا جس کی کفالت رسول اللہ ﷺفرمایا کرتے تھے اور اس پر خرچ کروں گاجس پر رسول اللہ ﷺخرچ کیا کرتے تھے ۔


    384:ابو البختری سے روایت ہے کہ حضرت عباسؓ اور حضرت علی ؓ حضرت عمرؓ کے پاس بحث کرتے ہوئے آئے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اور دونوں ایک دوسرے سے اختلاف رائے کر رہے تھے۔ اس پرحضرت عمرؓ نے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ اور حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ )سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کا ہر مال صدقہ ہوتا ہے سوائے اس کے جو وہ (اپنے اہل وعیال ) کو کھلائے اور ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا۔اس حدیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے

    385: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارا کوئی ورثہ نہیں چلے گا ہم جو ترکہ چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا۔



    386: حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے ورثاء دینار اور درہم تقسیم نہ کریں۔جو میں اپنی ازواج کے نفقے اور میرے عامل کے گزارہ کے بعد پیچھے چھوڑوں وہ صدقہ ہے۔


    387: مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور طلحہؓ اور سعدؓ آپ کے پاس آئے ۔ پھر حضرت علیؓ اور عباس ؓ بحث کرتے ہوئے آئے۔حضرت عمرؓ نے انہیں فرمایامیں تم سے اُس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہمارا ورثہ نہیں چلے گا ہم جوکچھ چھوڑ یں گے وہ صدقہ ہو
    گا؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کو گواہ ٹھہراکر کہتے ہیں کہ ہاں اس حدیث میں ایک لمبی روایت بیان ہوئی ہے۔
    388: حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے(ترکہ میں) کوئی دینار یا درہم نہیں چھوڑا نہ ہی کوئی بھیڑ بکری نہ کوئی اونٹ ۔ راوی کہتے ہیں غلام اور لونڈی کے بارے میں مجھے شک ہے۔








    بَابُ مَا جَائَ فِیْ رُؤْیَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَنَامِ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان
    389:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقینا اُس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل میں متمثل نہیں ہو سکتا۔

    390: حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے ۔انہوں نے کہاکہ
    رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقینااُس نے مجھے ہی دیکھاکیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا یا یہ فرمایا کہ میری مشابہت اختیار نہیں کر سکتا۔
    391: خلف بن خلیفہ نے ابو مالک اشجعی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقینااُس نے مجھے ہی دیکھا۔
    خلف بن خلیفہ نے کہا مَیں نے حضرت عمروؓ بن حریث کو جو نبی ﷺ کے صحابی تھے دیکھا تھا اور مَیں چھوٹا لڑکا تھا۔

    392:حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تواُس نے یقینا مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میرا تمثّل اختیار نہیں کر سکتا۔ راوی کہتے ہیں میرے والد بتاتے تھے کہ میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کی اور کہا میں نے خواب میںحضور ﷺ کو دیکھا ہے اور حضرت حسن بن علی ؓ کا ذکر کیا کہ میں نے اُن کے مشابہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔ اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا یقینا حضرت حسن ؓ آپؐ کے بہت مشابہ تھے۔
    393: یزید فارسی جو قرآن کریم کی کتابت کیا کرتے تھے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھاتومیں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ شیطان میری صورت اختیارکرنے کی طاقت نہیں رکھتا پس جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا۔ کیا تم اُس وجود کا حلیہ بیان کر سکتے ہو جسے تم نے خواب میں دیکھا۔انہوں نے کہا جی ہاں میں اس شخص کا حلیہ بیان کرتا ہوںوہ دو آدمیوںکے درمیان درمیان تھے آپ کا جسم اور آپ کا قد کاٹھ معتدل تھا (یعنی موٹے اور پتلے اور پستہ قد اور لمبے قد کے درمیان) آپ سفیدی مائل گندمی رنگ، سرمگیں آنکھیں ، خوبصورت ہنسنے والے ، خندہ دہن اور خوبصورت گول چہرے والے تھے ۔ ریش مبارک گھنی جو اس طرف سے اس طرف تھی٭اور اس نے گردن کو بھرا ہوا تھا۔ عوف کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ یزید نے اس کے علاوہ اور کیا صفات بیان کی تھیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اگر تم حضور ﷺکو بیداری میں بھی دیکھتے تو اس حلیے سے زیادہ بیان نہ کر سکتے۔





    394: حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے سچ دیکھا۔

    395: حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقینااُس نے مجھے
    ٭ معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے ہاتھ سے اشارہ کیا ہے۔
    ہی دیکھاکیونکہ شیطان میرا تمثّل اختیار نہیں کر سکتا ۔ اور فرمایا مومن کی رویا ء نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے ۔

    ٭ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب قضاء کے ذریعہ تیری آزمائش ہو تو احادیث پڑھا کرو۔
    ٭ ابنِ سیرین کہتے ہیں کہ یہ احادیث تو دین ہیں پس تم دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں سے تم اپنادین حاصل کرتے ہو۔


    ئئء
     

اس صفحے کو مشتہر کریں