1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

شریعت بابیہ نے شریعت محمدؐیّہ کو منسوخ کردیا

'بابی یا بہائی مذہب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    شریعت بابیہ نے شریعت محمدؐیّہ کو منسوخ کردیا

    اہل بہاء کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید میں جو وعدہ قیامت کا دیا گیا ہے وہ وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ان کے نزدیک قیامت صغریٰ سے مراد علی محمد باب کا زمانہ ہے جو ۱۲۶۶ء میں مارا گیا۔اور قیامت کبریٰ سے مراد بہاء اﷲ (مرزا حسین علی ایرانی) کا زمانہ ہے جو ۱۳۰۹ھ میں فوت ہوا۔چنانچہ بہائیوں کی مسلمہ کتاب بحرالعرفان کے صفحہ ۲۲ میں لکھا ہے۔’’قیامت صغریٰ ظہور حضرت اعلیٰ روح ماسوای فداہ بودہ کہ در سنِّ ستّین ظاہر شدہ و قیامت ِ کبریٰ ایں ایام است کہ دریں قیامت جمال قدم جل ذکر ما الاعظم ظاہر گردیدہ‘‘ ۔ اسی طرح کتاب نقطہ الکاف صفحہ ۲۹میں جو بابیوں اور بہائیوں کی معتبر کتاب ہے۔ لکھا ہے کہ ’’مراد از قیامت قیام و ظہور اُوست ۔‘‘کہ قیامت سے علی محمد باب کا ظاہر ہونا مراد ہے۔تو اب یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم کی مقرر کردہ قیامت باب اور بہا ء اﷲ کی آمد پر آگئی تو اب جہاں کہیں بھی قیامت کا لفظ قرآن میں ہے اس سے باب اور بہاء اﷲ مراد ہے۔اس سے آگے نیا دور ہوگا۔

    اب وہ حوالے پیش کئے جاتے ہیں کہ جن سے باب اور بہاء اﷲ کے آنے سے شریعت محمدؐیہ منسوخ ہوگئی۔

    ۱۔بحر العرفان صفحہ ۱۱۵:۔’’حَلَالُ مُحَمَّدٍ حَلَالٌ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِوَحَرَامُُ مُحَمَّدٍ حَرَامٌاِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔‘‘ یعنی آنحضرتؐ کے حرام حلال کئے ہوئے قیامت یعنی آمد باب اور بہاء اﷲ تک حرام حلال تھے۔اب نیا دور ہے۔

    ۲۔بحر العرفان صفحہ ۱۱۷:۔’’میگویند قائم کہ ظاہر مے شود ۔بشریعت مقدسہ نبوی رفتار مے فرمایند و احکام را تغیر و تبدّل نمے دہد و برہم نمے زند پس ظاہر مے شود از برائے چہ و شغلش چیست۔‘‘یعنی شیعہ جو کہتے ہیں کہ جب قائم آل محمد ظاہر ہوگا تو آنحضرت صلعم کی مقدس شریعت کا پیرو ہوگا اور احکام شریعت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا تو ہم اہل بہاء کہتے ہیں کہ اگر قائم نے آکر شریعت میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی تھی تو اس کا آنا کس لئے اور اس کے آنے سے کیا مطلب؟

    مدعا یہ کہ قائم آل محمد (علی محمد باب) کے آنے کی تو غرض ہی یہ ہے کہ وہ شریعت اسلامی کو منسوخ کر کے ایک نئی شریعت کو قائم کرے۔

    ۳۔بحر العرفان صفحہ ۱۱۸:۔’’البتہ شکے نیست کہ بدیں و آئین جدید ظاہر مے شود۔‘‘کہ اس میں ذرا شک نہیں کہ قائم آل محمد نیا دین اور نیا طریقہ لے کر آئے گا۔

    ۴۔بحر العرفان صفحہ ۱۲۶:۔’’اینکہ جمع ادیان را یکے مے فرمائید یعنی نسخ مے فرمائید شریعت قبل را۔‘‘ یعنی وہ قائم آل محمد تمام دینوں کو ایک یعنی پہلی شریعت (شریعت محمدؐیّہ) کو منسوخ کردے گا۔

    ۵۔بحرالعرفان صفحہ ۱۴۶میں لکھا ہے کہ نماز کا حکم جو قرآن میں ہے وہ ۱۲۶۱ھ تک ہے۔اس کے بعد اسلامی نماز کا حکم منسوخ ہو گا اور اس وقت نئی شریعت اور نئے احکام جاری ہوں گے۔

    ۶۔اسی طرح بحرالعرفان صفحہ ۱۳۵و کتاب الفرائد صفحہ ۲۸۲و صفحہ ۳۰۲ از شیخ عبدالسلام علی اصل الایقان و نقطہ الکاف صفحہ ۱۵۰ سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلامی منسوخ اور نئی شریعت بابیہ قابل عمل ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں