1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

سیرت خاتم النبیین ۔ مرزا بشیر احمد ایم اے رض ۔ یونی کوڈ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    سیرت خاتم النبیین ۔ مرزا بشیر احمد ایم اے رض ۔ یونی کوڈ

    بیاد گار مقدس
    حضرت اقدس حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود جری اﷲ فی حلل الانبیاء علیہ و علی مطاعہ محمد الصلٰوۃ والسلام جن کی بعثت کے ذریعہ اس زمانہ میں اﷲ کے حکم کے ساتھ دوبارہ جمال محمدی کا ظہور ہوا۔
    از طرف احقر الخدام
    خاکسار
    مرزا بشیر احمد
    قادیان مورخہ ۱۴ شوال ۱۳۳۸ ھ
    مطابق یکم جولائی ۱۹۲۰ء

    آغازِ رسالت
    طلُوعِ آفتاب
    صبح کی سفیدی اُفقِ مشرق میں نمودار ہو رہی تھی اور آفتاب عالمتاب طلوع کرنے کو تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حسب معمول غار حرا میں تشریف لے جاتے اور اپنے
    رنگ میں عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ رؤیا صالحہ کا آغاز ہو چکا تھا۔ اسی حالت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھ ماہ گذارے۔ ۱؎
    اب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی عُمر چالیس سال کی تھی اور طبیعت نبوت و رسالت کی پختگی کو پہنچ چکی تھی۔ رمضان کا مبارک مہینہ تھا اور اس کے آخری عشرہ کے ایّام تھے اور پیر کا دن تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حسب معمول غارِ حرا میں عبادتِ الٰہی میں مصروف تھے کہ یکلخت آپؐ کے سامنے ایک غیر مانوس ہستی نمودار ہوئی۔ اُس ربّانی رسُول نے جو خدائی فرشتہ جبرائیل تھا آپؐ سے مخاطب ہو کر کہا۔’’ اِقْرَأْ‘‘ ’’پڑھ‘‘ یعنی مُنہ سے بول یا لوگوں تک پہنچا۔ ۲؎ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ مَا انَا بِقَارِیٍ ٔ ‘‘۔ ’’میں تو نہیں پڑھ سکتا۔‘‘یعنی مَیں تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ ۳؎ فرشتہ نے یہ جواب سُنا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر بھینچا اور پھر چھوڑکر کہا اِقْرَأ مگر آنحضرت کی طرف سے پھر وہی جواب تھا۔ فرشتہ نے پھر پکڑا اور زور سے بھینچا اور پھر چھوڑ کر کہا اِقْرَأ ۔ مگر ادھر سے پھر وہی تأمل تھا۔ اس پر اُس ربّانی رسُول نے آپؐ کو تیسری دفعہ پکڑا اور نہایت زور سے بھینچا گویا اپنی انتہائی کوشش سے اس معانقہ کے ساتھ آپؐ کے قلب پر اثر ڈالتا تھا اور پھر اس تسلی کے بعد کہ اب آپؐ کی طبیعت اس پیغام کے لینے کے لیے آمادہ ہو چکی ہے اس نے آپؐ کو چھوڑکر کہا:
    ۱؎
    ’’پڑھ یعنی مُنہ سے بول یا لوگوں تک پہنچا اپنے رب کا نام۔ ۲؎ جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے۔ ہاں پڑھ۔ تیرا ربّ بہت عزّت و شان والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ سکھایا اس نے انسان کو وہ کچھ جو وُہ جانتا نہ تھا۔‘‘ ۳؎
    یہ کہہ کر فرشتہ غائب ہو گیا مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حالت سخت گھبراہٹ اور اضطراب کی تھی اور دل دھڑک رہا تھا کہ خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کیا ہونے والا ہے۔ اسی حالت میں آپؐ جلدی جلدی غارِ حرا سے نِکل کر گھر کی طرف لوٹے اور خدیجہ ؓ سے فرمایا۔ ’’زَمِّلُوْ نِیْ۔ زَمِّلُوْنِیْ۔‘‘ مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو۔ مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو۔ حضرت خدیجہ ؓ اپنے محبوب خاوند کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا گئیں اور جلدی سے آپ ؐ کو کپڑا اوڑھا دیا۔ جب ذرا اطمینان ہوا اور گھبراہٹ کچھ کم ہوئی تو آپؐ نے سارا ماجرا حضرت خدیجہ ؓ کو سُنایا اور آخر میں فرمایا۔ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ۔ ’’مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ مگر حضرت خدیجہ ؓ جو آپؐ کی حالت سے خوب واقف تھیں بولیں:
    کَلَّااَبْشِرْفَوَاﷲِ لَا یُخْزِیْکَ اﷲُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرِّ حْمَ وَتَصْدِقُ الْحَدِیْث وَتحْمِلُ الْکَلَّ و تکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نوََائِبِ الْحَقَّ۔
    ’’نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ آپ خوش ہوں۔ خُدا کی قسم اﷲ آپ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیںاور صادق القول ہیں اور لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور معدُوم اخلاق کو آپ نے اپنے اندر جمع کیا ہے اور آپ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی باتوں میں لوگوں کے مدد گار بنتے ہیں۔‘‘
    اِس کے بعد حضرت خدیجہ ؓ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہؔ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو شِرک کا تارک ہو کر عیسائی مذہب کا پَیرو ہو چکا تھا اور گذشتہ صحفِ انبیاء سے کسی قدر واقف تھا اور اب بوڑھا تھا حتیٰ کہ اس کی آنکھوں کی بینائی تک بھی جاچکی تھی۔ اس کے پاس آپؐ کو لے جاکر حضرت خدیجہ ؓ نے کہا۔ ’’بھائی ذرا اپنے اس بھتیجے کی بات تو سُن لو۔‘‘ اُس نے کہا۔ ’’ہاں کیا معاملہ ہے؟‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے سب ماجرا سُنادیا۔ جب وَرقہ ساری کیفیت سُن چکا تو بولا۔ ’’یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ ؑپر وحی لاتا تھا۔ اے کاش ! مجھ میں طاقت ہوتی۔ اے کاش! مَیں اس وقت تک زندہ رہوں جب تیری قوم تجھے وطن سے نکال دے گی۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حیران ہو کر پوچھا۔ اَوَمُخْرِجِیَّ ھُمْ ’’کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟‘‘ وَرقہ نے کہا۔ ’’ہاں کوئی رسُول نہیں آیا کہ اس کے ساتھ اس کی قوم نے عداوت نہ کی ہو۔ اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو مَیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ تیری مدد کروں گا۔‘‘ مگر وَرقہ کو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوئے کیونکہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی اس کا انتقال ہو گیا۔ ۱؎
    فترۃِ وحی
    اس کے بعد وحی کا سلسلہ رُک گیا۔ ۲؎ اور ایک عرصہ تک جس کا اندازہ ابنِ عباس ؓ کی ایک روایت کے مطابق چالیس یوم بیان ہوا ہے۔ ۳؎ یہ سلسلہ رُکا رہا۔ اس زمانہ کو فترۃ کا زمانہ
    کہتے ہیں۔ گویا آفتابِ رسالت کی روشنی ایک دفعہ نظر آئی اور پھر غائب ہو گئی۔ آپؐ کے لبہائے تشنہ پر بارش کا ایک چھینٹا پڑا اور پھر بادل پھٹ گئے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ ایّام سخت گھبراہٹ اور بے چینی کی حالت میں گذارے۔ دن رات اُٹھتے بیٹھتے یہی خیال تھا کہ خُدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کیا ہونے والا ہے اور اس غیر مانوس غیبی رسُول کا آنا کیا معنے رکھتا ہے اور کیا یہ پیام و سلام خُدا کی طرف سے ہے یا میرے اپنے نفس کا ہی کوئی مخفی پر تَو ہے؟ ان سوالات نے آپؐ کو سخت بے چین کر رکھا تھا حتّٰی کہ حدیث میں آتا ہے کہ ان ایّام میں آپؐ کو اتنی گھبراہٹ تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آپؐ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ارادہ کیا کہ وہاں سے اپنے آپ کو گِرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیں مگر ہر ایسے موقع پر الٰہی فرشتہ آواز دیتا۔ ’’دیکھو محمد ؐ ایسا نہ کرو تم واقعی اﷲ کے رسُول ہو۔‘‘ یہ آواز سُن کر آپؐ رُک جاتے مگر پھر بے چینی اور اضطراب کی حالت پیدا ہوتی تو بے اختیار ہو کر پھر اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کے لیے تیار ہوجاتے۔ ۴؎
    یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مندرجہ بالا حدیث کے الفاظ میں ظاہری معنے مُراد نہ ہوں اور اپنے آپ کو بلندی سے گِرا کر زندگی کا خاتمہ کر دینے کا یہ مطلب ہو کہ چونکہ آپؐ کو یہ ڈر تھا کہ کہیں اس غیبی فرشتہ کا نظر آنا نفس ہی کا پَر تو نہ ہو۔ یا یہ سب نظارہ خدا کی طرف سے بطور امتحان کے ہو، اس لیے آپؐ نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے نفس کو مزید گِرا کر اور پست و مغلوب کر کے گویا خدا کی راہ میں اسے بالکل ہی مار دیں۔ اس صورت میں پہاڑ پر سے اپنے آپ کو گِرا دینے کے الفاظ گویا بطور استعارہ کے سمجھے جائیں گے۔ بہرحال خواہ کوئی بھی معنے ہوں آپؐ کے لیے یہ دن بڑی کش مکش کے دن تھے اور اسی کش مکش کی حالت میں آپؐ ایک دن غارِ حرا سے گھر کی طرف واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک آواز آئی۔ گویا کوئی شخص آپؐ کومخاطب کررہا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے آگے پیچھے، دائیں بائیں سب طرف دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا۔ آخر آپؐ نے اُوپر نظر اُٹھائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک عظیم الشان کُرسی پر وہی فرشتہ بیٹھا ہے جو غارِ حرا میں آپؐ کو نظر آیا تھا۔ آپؐ نے یہ نظارہ دیکھا تو سہم گئے اور گھبرائے ہوئے جلدی جلدی گھر آئے اور حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا: دَثِّرُوْ نِیْ ! دَثِّرُوْنِیْ ! ’’مجھ پر کوئی کپڑا ڈھانک دو۔‘‘ خدیجہ ؓ نے جلدی سے کپڑا اوڑھا دیا اور آپؐ لیٹ گئے۔ آپؐ کا لیٹنا تھا کہ ایک پُر جلال آواز آپؐ کے کانوں میں آئی:

    ’’یعنی اے چادر میں لپٹے ہوئے شخص! اُٹھ کھڑاہو۔ اور لوگوں کو خُدا کے نام پر بیدار کر۔ اُٹھ اور اپنے ربّ کی بڑائی کے گیت گا اور اپنے نفس کو پاک و صاف کر اور ہر قسم کے شِرک سے پرہیز کر۔‘‘
    اس کے بعد وحی کا سلسلہ برابر جاری ہو گیا۔ ۱؎
    آغازِ تبلیغ
    اب آپؐ کی طبیعت میں یکسوئی اور اطمینان تھا؛ چنانچہ آپؐ نے لوگوں کو توحیدِ باری تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا اور شِرک کے خلاف تعلیم دینے لگے مگر شروع شروع میں آپؐ نے
    اپنے مشن کا کھُلّم کھُلا اظہار نہیں فرمایا۔ بلکہ نہایت خاموشی کے ساتھ کارروائی شروع کی اور صرف اپنے ملنے والوں کے حلقہ تک اپنی تعلیم کو محدود رکھا۔ ۲؎
    اسلام کا پیغام
    گو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کا ڈھانچہ بیان کرنے کے لیے اصل موقع آگے آئے گا، لیکن ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ بھی ایک مختصر سا خاکہ اسلام
    کا درج کر دیا جائے تاکہ ہمارے ناظرین کو معلوم ہو سکے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا مشن کیا تھا اور اس کے اصول کیا تھے۔ سو جاننا چاہئے کہ جو مذہب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا اس کا نام اسلام ہے جس کے معنے اپنے آپ کو خُدا کے سُپرد کر دینے کے ہیں اور یہی آپؐ کی لائی ہوئی تعلیم کا حقیقی خلاصہ ہے۔ آپؐ کے مذہب کا پہلا اور سب سے بڑا اصول توحید باری تعالیٰ ہے۔ یعنی یہ کہ اس دنیا کا خالق و مالک ایک خُدا ہے جو اپنی ذات و صفات میں واحد لاشریک ہے اور وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی پیدا کردہ اور اسی کے سہارے سے قائم ہے، اس لیے اس کے سِوا کِسی کی پرستش جائز نہیں اور وہ تمام معبود جو خُدا کے سوا لوگوں نے بنا رکھے ہیں وہ سب فرضی اور باطل ہیں۔ یہ وہ سب سے پہلا اور سب سے بڑا اصول ہے جو آپؐ نے اہلِ مکّہ کے سامنے پیش کیا۔ دوسرا اصول آپؐ نے یہ بیان کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے دنیا کو ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا ہے اور وہ یہ کہ لوگ اُسے پہچان کر اس کے رنگ میں رنگین ہوں اور اپنے لیے ابدی ترقی کا سامان پیدا کریں اور اس غرض کے لیے اُس نے انسانی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک دنیا کی زندگی جو کہ دارالعمل ہے اور ایک آخرت کی زندگی جو کہ دارالجزاء ہے اور ان ہر دو زندگیوں کے درمیان موت کو حدّ فاصِل مقرر کیا گیا ہے۔ تیسرا اصول آپؐ نے یہ پیش کیا کہ اﷲ تعالیٰ دُنیا کی ہدایت کے لیے اپنی طرف سے رسُول اور نبی مبعوث کرتا رہتا ہے جو خدا سے علم پا کر دُنیا کی ہدایت کا انتظام کرتے ہیں۔ایسے رسُول اور نبی ہر قوم اور ہر مُلک اور ہر زمانہ میں گذرے ہیں اور انہیں میں سے آپؐ بھی خُدا کے ایک رسُول ہیں۔ یہ وُہ تین اصل الاصول ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ابتدائی مشن کی بنیاد تھے۔ مگر جوں جوں زمانہ گذرتا گیا بعض مزید اصول اور ان اصول کی مزید فروع اور مزید تفصیلات نازل ہوتی گئیں حتّٰی کہ آپؐ کی لائی ہوئی تعلیم موجودہ قرآن کریم کی صورت میں اپنی تکمیل کو پہنچ گئی اور آپؐ سب اوّلین و آخرین کے سردار اور خاتم النّبیین اور آخری اور کامل شریعت لانے والے قرار دیئے گئے۔
    سب سے پہلا مسلمان
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب اپنے مشن کی تبلیغ شروع کی تو سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ ؓ تھیں جنہوں نے ایک لمحہ کے
    لیے بھی تَردّد نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد مَردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔ بعض حضرت ابو بکر ؓ عبداﷲ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔ بعض حضرت علی ؓ کا جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید ؓ بن حارثہ کا۔ مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔ حضرت علی ؓ اور زیدؓ بن حارثہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے گھر کے آدمی تھے اور آپؐ کے بچوں کی طرح آپؐ کے ساتھ رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا۔ بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کِسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔ پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابو بکر ؓ مسلّمہ طور پر مقدّم اور سابق بالایمان تھے؛ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے درباری شاعر حسّانؓ بن ثابت انصاری حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق کہتے ہیں۔ ؎
    اِذَا تَذَکَّرْتَ شَجْوًا مِنْ اَخِیْ ثِقَۃٍ
    خَیْرَ الْبَرِ یَّۃِ اَتْقَا ھَاوَاَ عَدَّلَھَا
    اَلثَّانِیّ اَلتَّالِیَّ الْمَحْمُوْدَ مَشْھَدَہٗ
    فَاذْکُرْ اَخَاکَ اَبَا بَکْرٍ بِمَا فَعَلَا
    بَعْدَا النَّبِیِّ وَاَوْفَاھَا بِمَا حَمَلَا
    وَاَوَّلَ النَّاسِ مِنْھُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا
    یعنی ’’ جب تمہارے دل میں کبھی کوئی درد آمیز یاد تمہارے کسی اچھے بھائی کے متعلق پیدا ہو تو اس وقت اپنے بھائی ابو بکر ؓ کو بھی یاد کر لیا کرو۔ اس کی ان خوبیوں کی وجہ سے جو یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں میں سے زیادہ متقی اور سب سے زیادہ منصف مزاج تھا اور وہ سب سے زیادہ پورا کرنے والا تھا اپنی اُن ذمہ داریوں کو جو اس نے اٹھائیں۔ ہاں ابو بکر ؓ وہی تو ہے جو غارِ ثور میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو آپؐ کی اِتّباع میں بالکل محو کر رکھا تھا اور وہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا تھا اسے خوبصورت بنا دیتا تھا اور وہ ان سب لوگوں میں سے پہلا تھا جو رسول پر ایمان لائے۔ ۱؎
    حضرت ابو بکر ؓ اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قریش میں بہت مکرّم و معزز تھے اور اسلام میں تو ان کو وہ رتبہ حاصل ہوا جو کسی اور صحابی کو حاصل نہیں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے ایک لمحہ کے لیے بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دعویٰ میں شک نہیں کیا بلکہ سُنتے ہی قبول کیا اور پھر انہوں نے اپنی ساری توجہ اور اپنی جان اورمال کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی خدمت میں وقف کر دیا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں ابو بکر ؓکوزیادہ عزیز رکھتے تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد وُہ آپؐ کے پہلے خلیفہ ہوئے۔ اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی انہوں نے بے نظیر قابلیت کا ثبوت دیا۔ حضرت ابو بکر ؓ کے متعلق یورپ کا مشہور مستشرق سپرؔنگر لکھتا ہے کہ:
    ’’ابو بکر ؓکا آغازِ اسلام میں محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) پر ایمان لانا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) خواہ دھوکا کھانے والے ہوں مگر دھوکا دینے والے ہر گز نہیںتھے۔ بلکہ صدقِ دل سے اپنے آپ کو خدا کا رسُول یقین کرتے تھے۔‘‘
    اور سروؔلیم میور کو بھی سپرؔنگر کی اس رائے سے کلی اتفاق ہے۔ ۱؎
    سابقین
    حضرت خدیجہ ؓ ، حضرت ابو بکر ؓ ، حضرت علی ؓ اور زیدؓ بن حارثہ کے بعد اسلام لانے والوں میں پانچ اشخاص تھے جو حضرت ابو بکر ؓ کی تبلیغ سے ایمان لائے اور یہ سب کے سب اسلام میں
    ایسے جلیل القدر اور عالی مرتبہ اصحاب نکلے کہ چوٹی کے صحابہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں:
    اوّلحضرت عثمان ؓ بن عفان جو خاندان بنو امیّہ میں سے تھے۔ اسلام لانے کے وقت اُن کی عمر قریباً تیس سال کی تھی۔ حضرت عمر ؓ کے بعد وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے تیسرے خلیفہ ہوئے۔ حضرت عثمان ؓ نہایت باحیا، باوفا، نرم دل، فیّاض اور دولتمند آدمی تھے۔ چنانچہ کئی موقعوں پر انہوں نے اسلام کی بہت بہت مالی خدمات کیں۔حضرت عثمان ؓ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ ؐ نے انہیں پے در پے اپنی دو لڑکیاں شادی میں دیں جس کی وجہ سے انہیں ذوالنّورین کہتے ہیں۔
    دوسرے عبدالرحمن بن عوف ؓ تھے جو خاندان بنو زہرہ سے تھے جس خاندان سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ تھیں۔ نہایت سمجھدار اور بہت سُلجھی ہوئی طبیعت کے آدمی تھے۔ حضرت عثمان ؓ کی خلافت کا سوال انہی کے ہاتھ سے طے ہوا تھا۔ اسلام لانے کے وقت اِن کی عمر قریباً تیس سال کی تھی۔ عہدِ عثمانی میں فوت ہوئے۔
    تیسرے سعد بن ابی وقاص ؓ تھے جو اس وقت بالکل نوجوان تھے یعنی اس وقت اُن کی عمر انیس سال کی تھی۔ یہ بھی بنوزہرہؔ میں سے تھے اور نہایت دلیر اور بہادر تھے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں عراق انہی کے ہاتھ پر فتح ہوا۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔
    چوتھے زبیر بن العوام ؓ تھے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ یعنی صفیہ بنت عبدالمطلب کے صاحبزادے تھے اور بعد میں حضرت ابو بکر ؓ کے داماد ہوئے۔ یہ بنو اسد میں سے تھے اور اسلام لانے کے وقت ان کی عمر صرف پندرہ سال کی تھی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے زبیرؔ کو غزوئہ خندق کے موقع پر ایک خاص خدمت سرانجام دینے کی وجہ سے حواری کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ زبیر ؓ حضرت علی ؓ کے عہدِ حکومت میں جنگِ جمل کے بعد شہید ہوئے۔
    پانچویں طلحہ بن عبیداﷲ تھے جو حضرت ابو بکر ؓ کے خاندان یعنی قبیلہ بنو تیم میں سے تھے اور اس وقت بالکل نوجوان تھے۔ طلحہ بھی اسلام کے خاص فدایان میں سے تھے۔ حضرت علی ؓ کے عہد میں جنگِ جمل میں شہید ہوئے۔
    یہ پانچوںاصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں یعنی اُن دس اصحاب میں داخل ہیں جن کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے خاص طور پر جنت کی بشارت دی تھی اور جو آپؐ کے نہایت مقر ّب صحابی اور مشیر شمار ہوتے تھے۔ ۱؎
    ان لوگوں کے بعد اور لوگ جو شروع شروع میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ بعض تو قریش میں سے تھے اور بعض دوسرے قبائل میں سے تھے ۔ ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
    ابو عبیدہ بن عبداﷲ بن الجراح ؓ جن کے ہاتھ پر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں شام فتح ہوا۔ یہ نہایت نیک اور صوفی مزاج آدمی تھے جنہیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے امین الملّۃ کا خطاب عطا ہوا تھا۔ ابو عبیدہ قریش کے قبیلہ بنو خلج میں سے تھے جنہیں بعض اوقات فہر بن مالک کی طرف منسوب کر کے فہری بھی کہہ لیتے تھے۔ حضرت عائشہ کی نظر میں ابو عبیدہ کی اتنی قدر و منزلت تھی کہ وہ کہا کرتی تھیں کہ اگر حضرت عمر ؓ کی وفات پر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو وہی خلیفہ ہوتے۔ حضرت ابو بکر ؓ بھی ابو عبیدہ ؓ کی بہت قدر کرتے تھے؛ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات پر جن لوگوں کو حضرت ابو بکر ؓ نے خلافت کا اہل قرار دیا تھا، اُن میں سے ابو عبیدہ ؓ بھی تھے۔ ابو عبیدہ ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں وبائے طاعون سے شہید ہوئے۔
    پھر عبیدۃ ؓ بن الحارث تھے جو بنو مطلب میں سے تھے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے ۔ پھر ابو سلمہ ؓ بن عبدالاسد تھے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے اور بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کی وفات پر اُن کی بیوہ امّ سلمہ ؓ کے ساتھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شادی ہوئی۔ ابوحذیفہ ؓ بن عتبہ تھے جو بنو امیّہ میں سے تھے۔ ان کا باپ عتبہ بن ربیعہ سردارانِ قریش میں سے تھا۔ ابوحذیفہ ؓ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے جو حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ ٔ خلافت میں مسیلمہ کذّاب کے ساتھ ہوئی تھی۔ سعیدؔ بن زید ؓ تھے جو بنو عدی میں سے تھے اور حضرت عمر کے بہنوئی تھے۔ یہ زید بن عمرو بن نفیل کے صاحبزادے تھے جنہوں نے زمانہ ٔ جاہلیت میں ہی شِرک ترک کر رکھا تھا۔ سعید ؓ بھی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔ عثمان بن مظعون ؓ تھے جو بنو جمح میں سے تھے۔ نہایت صوفی مزاج آدمی تھے۔ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی شراب ترک کر رکھی تھی اور اسلا م میں بھی تارکِ دنیا ہونا چاہتے تھے مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے کہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں ہے اس کی اجازت نہیں دی۔ ارقم بن ابی ارقم ؓ جن کے مکان کو جو کوہِ صفا کے دامن میں تھا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بعد میں اپنا تبلیغی مرکز بنایا۔ ارقم ؓ بنو مخزوم میں سے تھے۔ پھر عبداﷲ ؓ بن جحش اور عبید اﷲ ؓ بن جحش تھے۔ یہ دونوں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے مگر قبیلہ قریش سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ زینب ؓ بنت جحش جو بعد میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں انہی کی بہن تھیں۔ عبید اﷲ بن جحش ان لوگوں میں سے تھا۔ جنہوں نے زمانہ جاہلیّت میں ہی بُت پرستی ترک کر رکھی تھی۔ اسلام آیا تو وہ مسلمان ہو گیا، لیکن جب وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے گیا تو کسی وجہ سے وہاں اسلام سے منحرف ہو کر عیسائی ہو گیا۔ اس کی بیوہ اُمِّ حبیبہؓ جو قریش کے مشہور رئیس ابو سفیان کی لڑکی تھی بعد میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عقد میں آئی۔ ۱؎
    ان لوگوں کے علاوہ عبداﷲ بن مسعود ؓ تھے جو غیر قریشی تھے اور قبیلہ ھذیل سے تعلق رکھتے تھے۔ عبداﷲ ایک بہت غریب آدمی تھے اور عقبہ بن ابی معیط رئیس قریش کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور آپؐ کی صُحبت سے بالآخر نہایت عالم و فاضل بن گئے۔ فقہ حنفی کی بنیاد زیادہ تر انہی کے اقوال و اجتہادات پر مبنی ہے۔ پھر بلال ؓ بن رباح تھے جو امیّہ بن خلف کے حبشی غلام تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اذان دینے کا کام انہی کے سُپرد تھا۔ مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے اذان کہنا چھوڑ دیا تھا لیکن جب حضرت عمرؓ کے زمانہ ٔ خلافت میں شام فتح ہوا تو ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کے اصرار پر انہوں نے پھر اذان کہی جس پر سب کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آگیا؛ چنانچہ وہ خود اور حضرت عمرؓ اور دوسرے اصحاب جو اس وقت موجود تھے اتنے روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔حضرت عمر ؓ کو بلال ؓ سے اتنی محبت تھی کہ جب وہ فوت ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا۔ ’’آج مسلمانوں کا سردار گذر گیا۔‘‘ یہ ایک غریب حبشی غلام کے متعلق بادشاہ وقت کا قول تھا۔ پھر عامر بن فہیرہ تھے جن کو حضرت ابو بکر ؓ نے غلامی سے آزاد کر کے خود اپنے پاس نوکر رکھ لیا تھا۔ پھر خباب ؓ بن الارت تھے جو ایک آزاد شدہ غلام تھے اور اُن دنوں مکّہ میں لوہار کا کام کیا کرتے تھے۔ پھر ابوذر ؓ تھے جو قبیلہ غفار سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا دعویٰ سُنا تو تحقیقات کے لیے اپنے بھائی کو مکّہ بھیجا۔ چنانچہ وہ مکّہ آیا اور واپس جاکر ابو ذرؓ کو حالات سے اطلاع دی، مگر اس سے ابو ذر ؓ کی تسلی نہیں ہوئی اس لیے اس کے بعد وہ خود مکّہ میں آئے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے مِل کر مسلمان ہو گئے۔ ان کے اسلام لانے کا قصّہ بخاری میں مفصّل درج ہے اور بہت دلچسپ ہے۔ ۱؎ ابو ذر ؓ نہایت زاہد و صوفی مزاج آدمی تھے۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ کسی صورت میں بھی مال جمع کرنا جائز نہیں ہے۔ اس بناء پر بعض اوقات بعض دوسرے صحابہ سے ان کا جھگڑا ہو جاتا تھا۔ ۲؎
    یہ وہ چند لوگ ہیں جو ابتدائی تین چار سال میں اسلام لائے۔ ان میں سے شادی شدہ لوگوں کے بیوی بچے بھی عموماً ان کے ساتھ تھے؛چنانچہ اس زمانہ میں مسلمان ہونے والی عورتوں میں مؤرخین نے حضرت خدیجہ ؓ کے بعد اسماء بنت ابی بکر ؓ اور فاطمہ ؓ بنت خطاب زوجہ سعید بن زید کا نام خاص طور پر لیا ہے۔ ان کے علاوہ عورتوں میں عباس ؓ بن عبدالمطلب کی بیوی اُمّ فضل بھی ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں مگر یہ عجیب بات ہے کہ اس وقت تک عباس ؓ خود اسلام نہیں لائے تھے۔ بہرحال آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تین چار سالہ تبلیغی جِدّوجُہد کا نتیجہ یہی چند گنتی کی جانیں تھیں۔ مگر ان سابقین الاوّلین میں سے سوائے حضرت ابو بکرؓ کے ایک بھی ایسا نہ تھا جو قریش میں کوئی خاص اثر یا وجاہت رکھتا ہو۔ بعض غلام تھے اور اکثر لوگ غریب اور کمزور تھے۔ بعض البتہ قریش کے اعلیٰ گھرانوں سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ مگر ان میں سے بھی زیادہ تر نوجوان تھے۔ بلکہ بعض کو تو گویا بچے ہی کہنا چاہئے اس لیے وہ ابھی اس حالت کو نہ پہنچے تھے کہ اپنے قبیلے میں کوئی اثر پیدا کر سکیں اور جو معمر تھے وہ غربت یا کسی اور وجہ سے کوئی اثر نہ رکھتے تھے۔ اس وجہ سے قریش میں یہ عام خیال تھا کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو صرف چھوٹے اور کمزور لوگوں نے مانا ہے؛ چنانچہ جب کئی سال بعد ہرؔقل شہنشاہ روم نے رئیس مکّہ ابو سفیان سے دریافت کیا کہ کیا ’’محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو بڑے لوگ مانتے ہیں یا کہ کمزور اور چھوٹے لوگ؟‘‘ تو ابو سفیان نے یہی جواب دیا کہ ’’کمزور اور چھوٹے لوگ مانتے ہیں۔ جس پر ہرؔقل نے کہا اور خوب کہا کہ‘‘ اﷲ کے رسولوں کو شروع شروع میں چھوٹے لوگ ہی مانا کرتے ہیں۔ ۱؎
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بیعت لینے کا طریق
    اس موقع پر یہ ذکر نامناسب نہ ہو گا کہ جب کوئی شخص مسلمان ہونے کے لئے
    آتا تھا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ آپؐ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر مقررہ الفاظ میں اسلام کا اقرار کرواتے تھے اور یہ عہد لیتے تھے کہ آئندہ وہ ہر معروف امر میں آپؐ کی فرمانبرداری کرے گا۔اسلام کے اقرار میں اصولی باتوں کا صراحت کے ساتھ ذکر کروا کے اقرار لیا جاتا تھا مثلاً یہ کہ خدا کو ایک واحد لاشریک یقین کروں گا اور کسی قسم کا شِرک نہیں کروں گا اور ہر قسم کے اعمالِ شنیعہ مثلاًچوری، زنا، قتل، جھوٹ وغیرہ سے پرہیز کروں گا وغیرہ وغیرہ۔ عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے آپ اقرار تو یہی لیتے تھے جو مردوں سے لیا جاتا تھا ، مگر آپؐ عورتوں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے تھے بلکہ صرف زبانی اقرار لے لیا جاتا تھا۔ بعد میں جب جہاد بالسیف کے متعلق احکام نازل ہوئے تو آپؐ نے بیعت میں جہاد کے متعلق بھی الفاظ زیادہ فرمادیئے، لیکن عورتوں کی بیعت آخر تک اسی ابتدائی صورت میں قائم رہی۔۲؎ بیعت کے علاوہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ آپؐ غیر محرم عورتوں کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتے تھے۔ ۳؎ اور پَردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد تو شرعاً غیر محرم مردوعورت کا ایک دوسرے پر اپنی زینت کا اظہار خواہ وہ نظر کے ذریعہ ہو یا لمس وغیرہ کے ذریعہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ۴؎
    ابتدائی اِخفأ اور قریش کا رویہ
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابتداء میں قریباً تین برس تک اسلام کی تبلیغ کو عموماً خفیہ رکھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں مسلمانوں کا کوئی
    خاص مرکز بھی نہ تھا جہاں وہ جمع ہو سکتے۔ بلکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور دیگر مسلمانوں کی تبلیغ سے جو متلاشیانِ حق آتے تھے اُن سے آپؐ عموماً اپنے مکان کے اندر ہی ملتے تھے یا شہر سے باہر کسی جگہ ملاقات فرماتے تھے۔ اس اخفاء کا یہاں تک اثر تھا کہ بعض اوقات خود مسلمانوں کو ایک دوسرے کے اسلام کا پتہ نہ لگتا تھا جس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانہ میں مسلمان اپنے اسلام کو عام طور پر چھپاتے تھے اور سردارانِ قریش کے کانوں تک تو بہت ہی کم خبر پہنچتی تھی لیکن اگر کبھی خبر پہنچ بھی جاتی تو بھی ان کی طرف سے ان ایام میں عموماً مسلمانوں سے کوئی تعارض نہ ہوتا تھا بلکہ اُن کی مخالفت عملاً ہنسی مذاق تک ہی محدود رہتی تھی کیونکہ وہ اس تمام کارروائی کو ایک بچوں کا کھیل سمجھتے تھے۔ یا اگر کبھی کوئی شخص زیادہ سختی سے مخالفت کرتا بھی تھا تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوتا تھا اور اسلام کے خلاف قریش کی طرف سے اس وقت کوئی متحدہ مخالفانہ کوشش نہ تھی۔
    ابتدائی زمانہ کے ارکانِ اسلام
    اصول اسلام کا ذکر اُوپر گذر چکا ہے یعنی یہ کہ اس ابتدائی زمانہ میں جب کہ شریعتِ اسلامی کے نزول کی ابتداء تھی ارکان اسلام
    میں سے صرف ایمان باﷲ اور توحید پر اصل زور تھا۔ اس کے بعد ایمان بالرسل، بعث بعد الموت اور جزاسزا کا عقیدہ تھا اور گو درحقیقت یہ وہ بنیادی اصول ہیں کہ اگر غور سے دیکھو تو سب کچھ ان کے اندر آجاتا ہے لیکن جس طرح بعد میں یہ اور دوسری اصولی باتیں تدوینی رنگ میں ارکانِ ایمان قرار دی گئیں یہ حال اوائل میں نہ تھا۔ اسی طرح ارکانِ اعمال کا حال تھا۔ بلکہ اعمال میں تو موجودہ ارکان یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں سے کوئی رکن بھی اس وقت تک باقاعدہ طور پر قائم نہ ہوا تھا۔ البتہ احادیث سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء میں جبرائیل نے آپؐ کو نماز اور وضو کا طریق سکھا دیا تھا مگر باقاعدہ پانچ وقت کی نماز بہت بعد میں شروع ہوئی اور روزہ وغیرہ تو اس سے بھی بہت عرصہ بعد میں شروع ہوئے۔ ابتداء میں صرف نماز تھی اور وہ بھی ایک نفلی رنگ رکھتی تھی۔ یعنی ان ابتدائی ایّام میں مسلمان اپنے طور پرگھروں میں یا مکّہ کے پاس کی گھاٹیوں میں دو دو چار چار مل کر جب موقع ملا ایک عام عبادت کے رنگ میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے؛ چنانچہ اس ابتدائی زمانہ کے متعلق مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی مکہّ کی کسی گھاٹی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک اس طرف سے ابو طالب کا گذر ہوا۔ ابوطالب کو ابھی تک اسلام کی کوئی خبر نہ تھی اس لیے وہ کھڑا ہو کر نہایت حیرت سے یہ نظارہ دیکھتا رہا۔ جب آپؐ نماز ختم کر چکے تو اس نے پوچھا ’’بھتیجے یہ کیا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’چچا ! یہ دین الٰہی اور دینِ ابراہیم ہے۔‘‘ اور آپؐ نے ابوطالب کو مختصر طور پر اسلام کی دعوت دی، لیکن ابو طالب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’مَیں اپنے باپ دادا کا مذہب نہیں چھوڑ سکتا۔ مگر ساتھ ہی اپنے بیٹے حضرت علی ؓ کی طرف مخاطب ہو کر بولا۔’’ ہاں بیٹا تم بے شک محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کا ساتھ دو کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ تم کو سوائے نیکی کے اور کسی طرف نہیں بلائے گا۔ ۱؎ غالباً اسی زمانہ کے قریب کا ایک اور واقعہ ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور چند اور مسلمان مل کر کسی گھاٹی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک چند مشرکین وہاں آنکلے اور انہوں نے مسلمانوں کو ایک نئے رنگ کی عبادت کرتے دیکھ کر ڈانٹا۔ جس پر باہم کچھ تکرار بھی ہو گئی۔ ۲؎
    کھلی تبلیغ کا آغاز
    یہ ابتدائی زمانہ اسی طرح خاموش اور خفیہ تبلیغ میں گذر رہا تھا اور بعثتِ نبوی ؐ پر قریباً تین سال گذر چکے تھے اور اب چوتھا سال شروع تھا کہ الٰہی حکم نازل ہوا کہ
    ’’۔‘‘
    ’’یعنی اے رسُول ! جو حکم تجھے دیا گیا ہے وہ کھول کھول کر لوگوں کو سُنا دے۔‘‘ ۳؎
    اور اس کے قریب ہی یہ آیت اُتری کہ :۔ ’’یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار و بیدار کر۔‘‘ ۴؎
    جب یہ احکام اُترے تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پُکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔۵؎ جب سب لوگ جمع ہو گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے قریش ! اگر مَیں تم کو یہ خبر دُوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے؟‘‘ بظاہر یہ ایک بالکل ناقابلِ قبول بات تھی مگر سب نے کہا۔ ’’ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’تو پھر سنو! مَیں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اﷲ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔ خُدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ۔ ‘‘ جب قریش نے یہ الفاظ سُنے تو کھل کھلا کر ہنس پڑے اور آپؐ کے چچا ابو لہب نے آپؐ سے مخاطب ہو کر کہا۔ ’’تبًّا لَکَ اَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا۔‘‘ محمد تو ہلاک ہو۔ کیا اس غرض سے تو نے ہم کو جمع کیا تھا؟‘‘ پھر سب لوگ ہنسی مذاق کرتے ہوئے منتشر ہو گئے۔ ۶؎
    اقرباء کی دعوت
    انہی دنوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ سے ارشاد فرمایا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو اور اس میں بنو عبدالمطلب کو بلاؤ تاکہ اس ذریعہ سے اُن تک
    پیغامِ حق پہنچایا جاوے؛ چنانچہ حضرت علی ؓ نے دعوت کا انتظام کیا اور آپؐ نے اپنے سب قریبی رشتہ داروں کو جو اس وقت کم و بیش چالیس نفوس تھے اس دعوت میں بُلایا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو آپؐ نے کچھ تقریر شروع کرنی چاہی مگر بد بخت ابو لہب نے کچھ ایسی بات کہہ دی جس سے سب لوگ منتشر ہو گئے۔ اس پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ ’’یہ موقع تو جاتا رہا اب پھر دعوت کا انتظام کرو۔‘‘ چنانچہ آپؐ کے رشتہ دار پھر جمع ہوئے اور آپؐ نے انہیں یوں مخاطب کیا کہ ’’اے بنو عبدالمطلب! دیکھو مَیں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اچھی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔ میں تمہیں خُدا کی طرف بُلاتا ہوں۔ اگر تم میری بات مانو تو تم دین و دُنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے۔ اب بتاؤ اس کام میں میرا کون مدد گار ہو گا؟‘‘ سب خاموش تھے اور ہر طرف مجلس میں ایک سنّاٹا تھا کہ یکلخت ایک طرف سے ایک تیرہ سال کا دُبلا پتلا بچہ جس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اُٹھا اور یوں گویا ہوا۔ ’’گو مَیں سب میں کمزور ہوں اور سب میں چھوٹا ہوں مگر مَیں آپؐ کا ساتھ دوں گا۔‘‘ یہ حضرت علی ؓ کی آواز تھی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کے یہ الفاظ سُنے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ ’’اگر تم جانو تو اس بچے کی بات سُنو اور اسے مانو۔‘‘ حاضرین نے یہ نظارہ دیکھا تو بجائے عبرت حاصل کرنے کے سب کھل کھلا کر ہنس پڑے اور ابو لہب اپنے بڑے بھائی ابو طالب سے کہنے لگا ’’لو اَب محمد تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی پَیروی اختیار کرو۔‘‘ اور پھر یہ لوگ اسلام اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی کمزوری پر ہنسی اُڑاتے ہوئے رُخصت ہو گئے۔ ‘‘ ۱؎
    دارارقم میں پہلا تبلیغی مرکز
    غالباً انہی ایّام میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مکّہ میں ایک تبلیغی مرکز قائم کیا جاوے۔ جہاں مُسلمان نماز وغیرہ کے لیے
    بے روک ٹوک جمع ہو سکیں اور امن و اطمینان اور خاموشی کے ساتھ باقاعدہ اسلام کی تبلیغ کی جاسکے۔ اس غرض کے لیے ایک ایسے مکان کی ضرورت تھی جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔ چنانچہ آپؐ نے ایک نو مسلم ارقم بن ابی ارقم کا مکان پسند فرمایا۔ جو کوہِ صفا کے دامن میں واقع تھا۔ اس کے بعد تمام مسلمان یہیں جمع ہوتے۔ یہیں نماز پڑھتے۔ یہیں متلاشیانِ حق آتے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان کو اسلام کی تبلیغ فرماتے۔ اسی وجہ سے یہ مکان تاریخ میں خاص شہرت رکھتا ہے اور ’دار الاسلام ‘کے نام سے مشہور ہے۔
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قریباً تین سال تک دارِ ارقم میں کام کیا۔ یعنی بعثت کے چوتھے سال آپؐ نے اسے اپنا مرکز بنایا اور چھٹے سال کے آخر تک آپؐ نے اُس میں اپنا کام کیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ دارارقم میں اسلام لانے والوں میں آخری شخص حضرت عمرؓ تھے جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور وہ دارارقم سے نکل کر برملا تبلیغ کرنے لگ گئے۔ ۱؎
    دارِ ارقم میں جو اشخاص ایمان لائے وہ بھی سابقین میں شمارہوتے ہیں۔ اُن میں سے زیادہ مشہور یہ ہیں۔ اوّل مصعب ؓ بن عمیر جو بنو عبدالدار میں سے تھے اور بہت شکیل اور حسین تھے اور اپنے خاندان میں نہایت عزیز و محبوب سمجھے جاتے تھے یہ وہی نوجوان بزرگ ہیں جو ہجرت سے قبل یثرب میں پہلے اسلامی مبلّغ بنا کر بھیجے گئے اور جن کے ذریعہ مدینہ میں اسلام پھیلا۔ پھر زیدؓ بن الخطاب تھے جو حضرت عمر ؓ کے بڑے بھائی تھے۔ یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ حضرت عمر ؓ کو ان کی وفات کا بہت صدمہ ہوا؛ چنانچہ جب اُن کے عہد خلافت میں کسی شخص نے اُن کے سامنے اپنے بھائی کا مرثیہ پڑھا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ ’’اگر مَیں ایسے شعر کہہ سکتا تو مَیں بھی اپنے بھائی کا ایسا مرثیہ کہتا۔ ‘‘ اُس شخص نے جواب دیا۔ ’’ اے امیر المؤمنین ! جس قسم کی مبارک موت آپ کے بھائی کو نصیب ہوئی ہے وہ اگر میرے بھائی کو نصیب ہوتی تو مَیں کبھی بھی اُس کا نوحہ نہ کرتا اور مرثیہ نہ کہتا۔‘‘ حضرت عمر ؓ کی طبیعت بڑی نکتہ شناس تھی۔ فرمایا۔ خُدا کی قسم جس طرح آج تم نے اس قول سے مجھے تسلی دی ہے ایسی کبھی کسی نے نہیں دی اور اس کے بعد پھر کبھی اپنے بھائی کی وفات پر اس طرح غم کااظہار نہیں کیا۔ ۲؎
    پھر اس زمانہ میں ایمان لانے والوں میں سے ایک عبداﷲ ابن امِّ مکتوم ؓ تھے جو نابینا تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کے عزیزوں میں سے تھے۔ اُن کے متعلق ایک دلچسپ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ کو جو قریش کا ایک بہت معزّز رئیس تھا نہایت شوق اور سرگرمی سے تبلیغ فرما رہے تھے ابن امّ مکتوم ؓ جلدی جلدی آئے اور کِسی دینی مسئلہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے کچھ دریافت کرنا چاہا لیکن اپنے شوق میں انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ یہاں کن لوگوں کا مجمع ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کس کام میں مصروف ہیں اور آدابِ مجلسِ رسُول کے ماتحت ان کو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیئے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو موقع کے لحاظ سے اُن کا یہ فعل پسند نہ آیا اور آپؐ کے چہرہ پر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے مگر آپؐ کے اخلاق کریمانہ کا یہ تقاضا تھا کہ آپؐ نے اُن کو زبان سے کچھ نہیں فرمایا بلکہ صرف آپؐ نے یہ کیا کہ اُن کی طرف سے بے التفاتی کر کے ولید سے اپنی بات جاری رکھی۔ عبداﷲ ابن امّ مکتوم کو اپنی غلطی کی طرف تو خیال نہیں گیا مگر آپؐکی اس بے التفاتی پر ملال ہوا اور اُنہوں نے یہ خیال کیا کہ چونکہ ولید ایک بڑا آدمی ہے اس لیے آپؐ نے شاید اس کے مقابلہ میں مجھ غریب کی پروا نہیں کی۔ حالانکہ یہ خیال بالکل غلط اور بے بنیاد تھا کیونکہ اس وقت غریب امیر کا کوئی سوال نہ تھا بلکہ آپؐ ایک ایسے شخص کو تبلیغ فرمانے میں مصروف تھے جس کو ان باتوں کے سُننے کا بہت کم موقع ملتا تھا اور ابنِ امِّ مکتوم کے لیے یہ موقع ہروقت میّسر تھا اس لیے آپؐ نے اس موقع کو ہاتھ سے دینا پسند نہ فرمایا اور ابنِ امِّ مکتوم کے قطعِ کلام کو بُرا مانا جو حقیقت میں تھا بھی آدابِ مجلس کے خلاف۔ مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کا یہ عالم تھا کہ جب آپؐ کو ابنِ اُمّ مکتوم کے دلی ملال پر اطلاع ہوئی اور ایک قرآنی وحی بھی اس بارے میں نازل ہوئی تو آپؐ نے اُن کی بڑی دلداری کی اور عرب کے طریق کے مطابق اپنی چادر مبارک بچھا کر اس پر ان کو بٹھایا۔۱؎
    پھر اس زمانہ میں مسلمان ہونے والوں میں ایک جعفر بن ابی طالب تھے جو حضرت علی ؓ کے حقیقی بھائی تھے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریبی عزیز تھے۔ جعفر ؓ کے متعلق مؤرخین لکھتے ہیں کہ خَلق اور خُلق میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت ملتے تھے۔ پھر عمار ؓ بن یاسر تھے جو قبیلہ مذ حج سے تھے اور اپنے باپ یاسرؔ اور والدہ سمیّہکے ساتھ مکّہ میں رہتے تھے۔ پھر صہیبؓ بن سنان تھے جو عام طور پر صہیب ؓ رومی کے نام سے مشہور ہیں مگر دراصل وہ رُومی نہ تھے بلکہ کسی زمانہ میں جبکہ ان کا باپ ایرانی حکومت کی طرف سے کسی جگہ کا عامل تھا رُومیوں کے ہاتھ قید ہو کر غلام بنا لیے گئے تھے اور پھر کچھ مدت تک اُن میں بطور غلام مقیم رہے بالآخر عبداﷲ بن جدعان قرشی نے جو مکّہ کا ایک رئیس تھا انہیں خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ صہیب ؓ جب مسلمان ہوئے تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نیک فال کے طور پر فرمایا کہ یہ ہمارا پہلا رُومی پھل ہے۔ صہیب ؓ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صُحبت کے اتنے دلدادہ تھے کہ جب یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد مکّہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو قریش نے ان کو روکا کہ تو ہمارے اندر ایک غریب غلام کی حیثیت میں آیا تھا اور اب تو ہم میں رہ کر امیر ہو گیا ہے اس لیے ہم تجھے نہیں جانے دیتے۔ انہوں نے کہا۔ تم میری ساری دولت لے لو اور مجھے جانے دو۔ اس شرط پر قریش نے انہیں جانے دیا۔ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر پہنچی تو آپؐ نے خوشی کے ساتھ فرمایا کہ:
    ’’صہیب ؓ نے بہت نفع والی تجارت کی ہے۔‘‘ جب حضرت عمر ؓ اپنے عہدِ خلافت میں مہلک طور پر زخمی ہوئے تو انہوں نے اپنی جگہ صُہیب ؓ کو ہی جو اس وقت پاس موجود تھے امام الصلوٰۃ مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ کا جنازہ بھی صہیب ؓ نے پڑھا تھا۔ ابو موسیٰ ؓ اشعری بھی غالباً اُسی زمانہ میں یا اس کے قریب مسلمان ہوئے تھے۔ ابو موسیٰ ؓ یمن کے رہنے والے تھے اور نہایت خوش الحان تھے۔ حتّٰی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق ایک دفعہ فرمایا کہ ’’ابو موسیٰ کو تو لحنِ داؤدی سے حصہ ملا ہے۔‘‘ یہ وہی ابو موسیٰ ہیں جو حضرت علی ؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ کے درمیان ثالث مقرر ہوئے تھے۔
    قریش کی مخالفت کا آغاز اور اس کے اسباب
    جیسا کہ اُوپربیان کیا جاچکا ہے دارارقم میں داخل ہونے کے زمانہ سے کچھ پہلے ہی کھلم
    کھلی تبلیغ شروع ہو گئی تھی اور مکّہ کے گلی کوچوں میں اسلام کا چرچا ہونے لگا تھا۔ قریش اب تک تو ایک حد تک خاموش تھے لیکن اب ان کو بھی فکر شروع ہوا کہ کہیں یہ ’’مرض‘‘ زیادہ نہ پھیل جاوے اور اسلام کا پودا مکّہ کی زمین میں جڑ نہ پکڑ جاوے۔ اس لیے اب انہوں نے بھی اس کی طرف توجہ شروع کی اور اسلام کی اشاعت کو بزور روکنا چاہا۔ اس مخالفت کے کیا اسباب تھے؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر نیا الٰہی سلسلہ جو دنیا میں قائم ہوتا ہے دُنیا کی طرف سے ضرور اس کی مخالفت ہوتی ہے کیونکہ وہ لازماً اپنے اندر ایسی باتیں رکھتا ہے جس سے اس وقت کی دُنیا محض ناآشنا ہوتی ہے بلکہ یہ وُہ باتیں ہوتی ہیں جن کو دُنیا اپنی موجودہ عادات اور موجودہ عقائد و خیالات کے واسطے ایک یقینی موت سمجھتی ہے۔ درحقیقت انبیاء کی بعثت ہی ایسے وقت میں ہوتی ہے کہ جب دُنیا کے لوگ اس راستہ کو چھوڑچکے ہوتے ہیں جس پر اﷲ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ وہ چلیں اور وہ اپنے موجودہ غلط راستہ کو ہی صحیح راستہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پس جب بھی کبھی کوئی نیا نبی آتا اور دُنیا کو سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے تو دُنیا اس کی باتوں کو غلط خیال کرتی اور اس کے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتی ہے؛ چنانچہ قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۱؎
    ’’یعنی وائے حسرت لوگوں پر کہ کوئی بھی رسُول اُن کی طرف ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے ہنسی اور ٹھٹھا نہ کیا ہو۔‘‘
    اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ بڑے سمجھے جاتے ہیں وہی عموماً مخالفت میں بھی بڑھے ہوئے ہوتے ہیں؛ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۔ ۱؎
    ’’یعنی سنت اﷲ اسی طرح پر جاری ہے کہ ہر جگہ رسُول کے مقابلہ پر بڑے لوگ ہی خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے والے اور فتنہ و فساد کے بانی بن جاتے ہیں۔‘‘
    چنانچہ دیکھ لو حضرت ابراہیم ؑ مبعوث ہوئے تو اُن کی قوم کے بڑے بڑے لوگوں نے اُن کو پکڑ کر آگ میں جھونک دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ آئے تو ان کو بھی اکابر قوم کی طرف سے جنگ و جدل کے مصائب دیکھنے پڑے۔ حضرت مسیح ؑکی باری آئی تو اُن کی قوم کے علماء اور فریسیوں نے مل ملا کر اُن کو دار پر کھچوا دیا۔ ہندوستان میں کرشن مبعوث ہوئے تو اُن کی قوم ان کو ہلاک کرنے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ تو کیا سرورِ انبیاء ؐ اس سنّتِ رسل سے باہر رہتا؟ نہیں بلکہ جتنا عظیم الشان مشن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اُتنی ہی شدید آپؐ کی مخالفت ہونی چاہئے تھی کیونکہ آپؐ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تاریکی کا خاص زور تھا اور ضروری تھا کہ نور کے آنے پر تاریکی کی فوجیں اپنی انتہائی طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سارے گذشتہ انبیاء کی نسبت آپؐ کی مخالفت سب سے زیادہ ہوئی۔ اوراس مخالفت کے موٹے موٹے ظاہری اسباب یہ تھے:
    (۱) قریش ایک پرلے درجہ کی بُت پرست قوم تھی اور بُتوں کی عزّت و محبت ان کے دلوں میں اس قدر جمی ہوئی تھی کہ اُن کے خلاف ایک لفظ بھی سُننا اُنہیں گوارا نہ تھا۔ خانہ کعبہ جو محض اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے واسطے بنایا گیا تھا اس میں بھی ان ظالموں نے سینکڑوں بُت جمع کر رکھے تھے اور اپنی تمام ضروریات کے لیے انہی بتوں کا مُنہ تکتے تھے۔ اب اسلام آیا تو اس کا بنیادی اصول ہی توحید باری تعالیٰ تھا اور صاف حکم تھا کہ کسی انسان یا درخت یا پتھر یا ستارے وغیرہ کے سامنے سرمت جھکاؤ بلکہ:
    ۔ ۲؎
    ’’صرف اسی ذات کے سامنے جھکو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘
    پھر یہی نہیں بلکہ قریش کے بتوں کو اُن کے خیال میں ہتک آمیز لفظوں میں یاد کیا جاتا تھا اور ان کو جہنم کا ایندھن قرار دیا جاتا تھا۔ جیسے مثلاً فرمایا:
    ۔ ۱؎
    ’’یعنی اے لوگو! تم اور تمہارے وہ بُت جن کو تم پوجتے ہو دوزخ کا ایندھن ہیں۔‘‘
    ان باتوں نے قریش کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی اور وہ ایک جان ہو کر اسلام کو مٹانے کے واسطے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
    (۲) بُت پرستی کے علاوہ عرب میں عادات اور اخلاق کا جو حال تھا وہ اس کتاب کے شروع میں بیان ہو چکا ہے۔ زنا، شراب، قمار بازی، غارت گری، قتل، حرام خوری کا بازار ہر وقت گرم رہتا تھا، مگر اسلام ان سب باتوں سے روکتا تھا۔ گویا اسلام لانے سے ان کو ایک نئی زندگی اختیار کرنی پڑتی تھی اور قریش اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھے ۔ یہی حال رسُوم پرستی کا تھا جو گویا عربوں کے دین و مذہب کا جُز و بن چکی تھیں، مگر اسلام سب گندی اور خلافِ اخلاق اور خلافِ مذہب رسوم کو پاؤں کے نیچے مَسلتا تھا۔
    (۳) اپنے آباؤ اجداد کی عزّت اور ہر بات میں خواہ وُہ دُرست ہو یا غلط ان کی پیروی اختیار کرنا عربوں کے دین و مذہب کا جُزو تھا۔ اسی وجہ سے اُن کو اصرار تھا کہ:
    ۔ ۲؎
    ’’یعنی ہم تو بہرحال اُسی بات کی اِتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایاہے۔‘‘
    مگر اسلام خدا داد عقل کو سچ اور جھوٹ کے درمیان حَکَمْ قرار دیتا تھا اور اُن کے مُشرک آباء کے متعلق صاف کہتا تھا:
    ۳؎
    ’’کیا وُہ اپنے آباؤ اجداد ہی کی اِتباع کریں گے خواہ ان کے آباء گمراہ اور بیوقوف ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘
    (۴) قریش ایک نہایت متکبّر قوم تھی۔ یہ لوگ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھتے تھے اور غلاموں کو تو خصوصیت سے ذلیل اور زیر رکھنا چاہتے تھے۔ مگر اسلام حقوق کے معاملہ میں ان سب امتیازات کو مٹا کر ایک عالمگیر اخوت قائم کرتا اور آقا اور غلام کو خدا تعالیٰ کے حضور میں ایک صف میں کھڑا کرتا تھا اور یہ بات رؤسائے قریش کے واسطے موت کے پیالہ سے کم نہ تھی۔
    (۵) قریش میں بڑے بڑے صاحبِ اثر اور مالدار لوگ موجود تھے۔ مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم باوجود ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھنے کے ان دونوں باتوں سے خالی تھے۔ یعنی نہ تو آپؐ اپنی خلوت پسند طبیعت کی وجہ سے لیڈرانِ قریش میں سے تھے اور نہ مال و دولت کے لحاظ سے کوئی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں سردارانِ مکّہ کے لیے آپؐ کی اِتباع اختیار کرنا ایک ایسی بڑی قربانی تھی جس کے لیے یہ لوگ ہر گز تیار نہیں تھے اور اسی وجہ سے وہ کہتے تھے کہ:
    ۱؎
    ’’کیوں نہ یہ قُرآن مکّہ یا طائف کے کِسی بڑے آدمی پر نازل ہوا۔‘‘
    (۶) ان اسباب کے علاوہ ایک باعث یہ بھی تھا کہ قریش کے مختلف قبائل کے درمیان سخت رقابت اور دشمنی رہتی تھی اس لیے باقی قبائل کو ہر گز یہ گوارا نہ تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا قبیلہ اُن پر کِسی قسم کا امتیاز لے جاوے اور قبائل بنو امیّہ اور بنو مخزوم کو تو خصوصیت سے بنو ہاشم کے ساتھ سخت عداوت تھی۔ اسی لیے سب قبائل سے بڑھ کر ان دو قبائل نے اسلام کی مخالفت میں حصہ لیا۔
    ائمۃ الکفر
    قریش میں سے جن لوگوں نے اسلام کی زیادہ مخالفت کی اور اس تحریک میں وہ دوسروں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے وہ سب ایک قسم کے نہ تھے بعض میں ذاتی شرافت تھی اور وہ اپنے
    رنگ میں بالعموم شرافت ہی کا معاملہ کرنا چاہتے تھے مگر کچھ تو اپنی بڑائی کی وجہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت قبول نہ کر سکتے تھے اور کچھ انہیں یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی تھی کہ اس طرح بعض ’’خام خیالوں‘‘ کے ہاتھ سے اُن کے دینِ آبائی کی بربادی ہو رہی ہے اُن میں زیادہ ممتاز یہ لوگ نظر آتے ہیں۔ اوّل مطعم بن عدی جو قبیلہ بنونوفل سے تھا اور رؤساء قریش میں سے تھا۔ مطعمؔ پکّا مشرک تھا مگر معاملات میں حتّی الوسع شرافت کا طریق اختیار کرتا تھا؛ چنانچہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف قریش کے معاہدئہ بائیکاٹ کو توڑنے اور سفرِ طائف سے واپسی پر آپؐ کو اپنی پناہ میں مکّہ میں داخل کرنے میں مطعمؔ نے خاص شرافت اور خاص جرأت سے کام لیا تھا۔ دُوسرے ابو البخترؔی تھا جو قبیلہ بنو اسد سے تھا۔ ابوالبخترؔی بھی مخالفت میں حتّی الوسع شرافت کو ہاتھ سے نہیں دیتا تھا۔ اسی ذیل میں ایک شخص زبیربن ابو امیّہ تھا جو حضرت اُمّ سلمہ ؓ کا بھائی تھا اور باوجود مخالفت کے عموماً شرافت کا پہلو اختیارکرتا تھا۔
    دوسری قسم کے وہ لوگ تھے جن کی مخالفت کچھ شرارت کا پہلو بھی لیے ہوئے تھی ۔ ان میں یہ لوگ ممتاز تھے۔ اوّل عتبہ بن ربیعہ جو بنو عبد شمس میں سے تھا اور بہت مالدار اور صاحب اثر تھا۔ جنگِ بدرؔ کے موقع پر جب عتبہ اپنے سُرخ اُونٹ پر سوار ہو کر اسلامی لشکر کے سامنے آیا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسے دیکھ کر فرمایا کہ اگر اس گروہ میں کِسی میں کچھ شرافت ہے ، تو اس سُرخ اُونٹ کے سوار میں ہے۔ عتبہ کا بھائی شیبہ بھی اسی کے زیرِ اثر تھا۔ یہ دونوں جنگِ بدرؔ میں حضرت حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے ہاتھ سے قتل ہوئے۔ دُوسرے ولید بن مغیرہ تھا جو حضرت خالد ؓ بن ولید کا والد اور قریش کا رئیسِ اعظم تھا۔ حتّٰی کہ قریش اسے اپنا باپ سمجھتے تھے۔ ولیدؔ ہجرتِ نبوی کے تین ماہ بعد اتفاقی طور پر تیر چُبھ جانے سے ہلاک ہوا۔ تیسرے عاصؔ بن وائل سہمی تھا۔ جو حضرت عمرو ؓ بن عاص کا باپ تھا۔ یہ بھی نہایت دولت مند اور بڑا صاحبِ اثر تھا۔ عاصؔ ہجرت کے دُوسرے ماہ پاؤں سُوج جانے سے نہایت تکلیف اُٹھا کر مکّہ میں مر گیا۔
    تیسری قِسم کے گروہ کی حالت بالکل مختلف تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت میں بالکل اندھے ہو رہے تھے اور ہر جائز و ناجائز طریق سے کوشش کرتے تھے کہ اسلام اور بانیٔ اسلام کو صفحۂ دُنیا سے مِٹا دیں اور مسلمانوں کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل ڈالیں اور قریش میں انہی لوگوں کا زیادہ زور تھا اور انہی لوگوں کی کثرت تھی۔ اُن میں خاص طور پر ممتاز یہ لوگ نظر آتے ہیں۔ اوّل عمرو بن ہشام جو بنومخزوم میں سے تھا۔ یہ وہ شخص ہے جسے گویا رأس المعاندین سمجھنا چاہئے۔ قریش میں یہ نہایت ممتاز حیثیت رکھتا تھا اور وہ اسے ابو الحکم یعنی ’’دانائی کا باپ‘‘ کہتے تھے۔ مگر مسلمانوں نے اس کا نام ابو جہل رکھا۔ یہ جنگِ بدرؔ میں دو انصار لڑکوں کے ہاتھ سے واصل جہنم ہوا۔ دُوسرے ابو لہب بن عبدالمطلب جو بنو ہاشم میں سے تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا۔ ابو لہب مخالفت اور ایذاء رسانی میں ابو جہل کا ہم پلّہ تھا اور اسے یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ معاندین اسلام میں سے صرف اس کا نام قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ مذکور ہوا ہے۔ ابولہب جنگِ بدر سے تھوڑا عرصہ بعد مکّہ میں بیمار پڑ کر ہلاک ہوا۔ تیسرے عقبہ بن ابی معیط تھا جو بنو امیّہ میں سے تھا اور پَرلے درجہ کا شریر اور بد باطن شخص تھا۔ یہ جنگِ بدر میں شریک ہوا اور مارا گیا۔ پھر امیّہ بن خلف تھا جو بنو جمح میں سے تھا۔ شرارت اور عداوت میں یہ ابو جہل کا مثل تھا۔ جنگ بدر میں قتل ہوا۔ امیّہ کا بھائی اُبیّ بن خلف بھی اسی قماش کا آدمی تھا۔ یہ جنگِ اُحد میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ سے زخمی ہوا اور اسی زخم سے اپنی کیفر کردار کو پہنچا۔ پھر النضر بن الحارث تھا جو بنو عبدالدار میں سے تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو سخت دُکھ دیا کرتا تھا۔ یہ جنگِ بدرؔ میں قید ہوا اور اپنے جُرموں کی پاداش میں مارا گیا۔ پھر اسودؔ بن عبدیغوث ، حارثؔ بن قیس، اسودؔ بن مطلب، ابو قیسؔ بن فاکہد، منبّہ ؔبن الحجاج، نبیّہ ؔ بن الحجاج ، مالکؔ بن طلاطلہ، حکم ؔبن ابی العاص، رُکانہؔ بن یزید وغیرہ بھی شرارت اور عداوت میں کم و بیش بہت حصہ لیتے تھے۔ ۱؎
    ان کے علاوہ بعض اور لوگ بھی تھے جو عداوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے لیکن چونکہ وہ بعد میں مسلمان ہو گئے اس لئے ان کا اس جگہ اس فہرست میں ذکر کرنا شاید دُرست نہ ہو البتہ اپنے اپنے موقع پر اُن کا ذکر خود آجائے گا۔
    اسلام اور بانی ٔ اسلام کے خلاف کفّارِ مکہ کی عداوت
    اسلام کے خلاف جب قریش کی مخالفت شروع ہوئی تو پھر وُہ دن بدن
    بڑھتی گئی اور خطرناک صورت اختیار کرتی گئی؛ چنانچہ سرولیم میور لکھتا ہے کہ قریش نے فیصلہ کر لیا تھا کہ:
    ’’یہ نیا مذہب صفحہ ٔ دُنیا سے ملیامیٹ کر دیا جاوے اور اس کے متبعین اس سے بزور روک دیئے جاویں اور قریش کی طرف سے جب ایک دفعہ مخالفت شروع ہوئی تو پھر دن بدن اُن کی ایذاء رسانی بڑھتی اور آتشِ غضب تیز ہوتی گئی۔ ‘‘ ۲؎
    در حقیقت جو فتنہ مخالفینِ اسلام نے اسلام کے خلاف برپا کیا اور اس کے مٹانے کے واسطے جو جو تدابیر کیں وہ ایک لمبی اور درد ناک کہانی ہے جس کا سلسلہ ہجرت کے آٹھویں سال تک پہنچتا ہے۔
    ابو طالب کے پاس قریش کا پہلا وفد
    سب سے پہلی کوشش قریش کی یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ابو طالب کی ہمدردی اور
    حفاظت سے محروم کر دیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک ابو طالب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اس وقت تک وہ بین القبائل تعلقات کو خراب کئے بغیر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف ہاتھ نہیں اُٹھا سکتے۔ ابو طالب قبیلہ بنو ہاشم کے رئیس تھے اور باوجود مُشرک ہونے کے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مربی اور محافظ تھے اس لیے ان کے ہوتے ہوئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف ہاتھ اُٹھانا بین القبائل سیاست کی رُو سے بنو ہاشم کے ساتھ جنگ چھیڑنے کے مترادف تھا جس کے لیے دُوسرے قبائلِ قریش ابھی تک تیار نہ تھے۔ لہذا پہلی تجویز اُنہوں نے یہ کی کہ ابو طالب کے پاس دوستانہ رنگ میں ایک وفد بھیجا کہ وہ اپنے بھتیجے کو اشاعتِ اسلام سے روک دیں؛ چنانچہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، ابو سفیان وغیرہ جو سب رؤساء قریش میں سے تھے ابو طالب کے پاس آئے اور نرمی کے طریق پر کہا کہ ’’آپ ہماری قوم میں معزّز ہیں۔ اس لیے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے بھتیجے کو اس نئے دین کی اشاعت سے روک دیں اور یا پھر اس کی حمایت سے دستبردار ہوجاویں اور ہمیں اور اس کو چھوڑ دیں کہ ہم آپس میں فیصلہ کر لیں۔‘‘ ابو طالب نے اُن کے ساتھ بہت نرمی کی باتیں کیں اور اُن کے غصّہ کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بالآخر انہیں ٹھنڈا کر کے واپس کردیا۔ ۱؎
    دوسرا وفد
    لیکن چونکہ اُن کی ناراضگی کا سبب موجود تھا بلکہ دن بدن ترقی کرتا جاتا تھا اور قرآن شریف میں بڑی سختی سے شِرک کے ردّ میں آیات نازل ہو رہی تھیں۔ اس لیے کوئی لمبا عرصہ نہ
    گذرا تھا کہ یہ لوگ پھر ابوطالب کے پاس جمع ہوئے اور ان سے کہا کہ ’’اب معاملہ حد کو پہنچ گیا ہے اور ہم کو رجس اور پلید اور شرّالبریہّ اور سہفہاء اور شیطان کی ذریّت کہا جاتا ہے اور ہمارے معبودوں کو جہنّم کا ایندھن قرار دیا جاتا ہے اور ہمارے بزرگوں کو لا یعقل کہہ کر پُکارا جاتا ہے۔ اس لیے اب ہم صبر نہیں کرسکتے اور اگر تم اس کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو سکتے تو پھر ہم بھی مجبور ہیں۔ ہم پھر تم سب کے ساتھ مقابلہ کریں گے حتّٰی کہ دونوں فریقوں میں سے ایک ہلاک ہو جاوے ۔‘‘ ابو طالب کے لیے اب نہایت نازک موقع تھا اور وہ سخت ڈر گئے اور اُسی وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بُلایا۔ جب آپؐ آئے تو اُن سے کہا کہ ’’اے میرے بھتیجے ! اب تیری باتوں کی وجہ سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کر دیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔ تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا۔ اُن کے بزرگوں کو شرّ البریہّ کہا۔ ان کے قابلِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزمِ جہنم اور وقود النّار رکھا اور خود اُنہیں رجس اور پلید ٹھہرایا۔ مَیں تجھے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اس دُشنام دہی سے اپنی زبان کو تھام لو اور اس کام سے باز آجاؤ؛ ورنہ مَیں تمام قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ اب ابو طالب کا پائے ثبات بھی لغزش میں ہے اور دنیاوی اسباب میں سے سب سے بڑا سہارا مخالفت کے بوجھ کے نیچے دَب کرٹوٹا چاہتا ہے۔ مگر آپؐ کے ماتھے پر بل تک نہ تھا۔ نہایت اطمینان سے فرمایا۔ ’’چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو وُہ کام ہے جس کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں کی خرابیاں اُن پر ظاہر کر کے اُنہیں سیدھے رستے کی طرف بلاؤں اور اگر اس راہ میں مجھے مرنا درپیش ہے تو مَیں بخوشی اپنے لیے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اِس راہ میں وقف ہے اور مَیں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا۔ اور اے چچا! اگر آپ کو اپنی کمزوری اور تکلیف کا خیال ہے تو آپ بے شک مجھے اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جاویں۔ مگر مَیں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رُکوں گا اور خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سُورج اور دُوسرے ہاتھ پر چاند بھی لا کر دے دیں تب بھی مَیں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور مَیں اپنے کام میں لگا رہوں گا حتّٰی کہ خُدا اسے پورا کرے یا مَیں اس کوشش میں ہلاک ہوجاؤں۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم یہ تقریر فرما رہے تھے اور آپؐ کے چہرہ پر سچائی اور نورانیّت سے بھری ہوئی رقّت نمایاں تھی اور جب آپؐ تقریر ختم کر چکے تو آپؐ یکلخت چل پڑے اور وہاں سے رُخصت ہونا چاہا مگر ابو طالب نے پیچھے سے آواز دی۔ جب آپؐ لوٹے تو آپؐ نے دیکھا کہ ابو طالب کے آنسو جاری تھے۔ اس وقت ابوطالب نے بڑی رِقت کی آواز میں آپؐ سے مخاطب ہو کرکہا۔’’ بھتیجے جا اور اپنے کام میں لگا رہ جب تک مَیں زندہ ہوں اور جہاں تک میری طاقت ہے مَیں تیرا ساتھ دُوں گا۔‘‘ ۱؎
    تیسرا وفد
    جب اس دفعہ بھی قریش ناکام رہے تو اُنہوں نے ایک اور چال چلی اور وہ یہ کہ قریش کے ایک اعلیٰ خاندان سے ایک ہونہار نوجوان عمارہؔ بن ولید کو ساتھ لے کر ابو طالب کے پاس
    گئے اور کہنے لگے کہ ’’ہم عمارہؔ بن ولید کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور تم جانتے ہو کہ یہ قریش کے بہترین نوجوانوں میں سے ہے۔ پس تم ایسا کرو کہ محمد کے عوِض میں تم اِس لڑکے کو لے لو اور اس سے جس طرح چاہو فائدہ اُٹھاؤ اور چاہو تو اسے اپنا بیٹا بنا لو۔ ہم اس کے حقوق سے کلیۃً دستبردار ہوتے ہیں اور اس کے عوض تم محمد کو ہمارے سُپرد کر دو جس نے ہمارے آبائی دین میں رخنہ پیدا کر کے ہماری قوم میں ایک فتنہ کھڑا کر رکھا ہے۔ اس طرح جان کے بدلے جان کا قانون پورا ہو جائے گا اور تمہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘ ابو طالبؔ نے کہا۔ ’’یہ عجیب انصاف ہے کہ میں تمہارے بیٹے کو لے کر اپنا بیٹا بناؤں اور اسے کھلاؤں اور پلاؤں اور اپنا بیٹا تمہیں دے دُوں کہ تم اسے قتل کردو۔ واﷲ یہ کبھی نہیں ہو گا۔‘‘ قریش کی طرف سے مطعمؔ بن عدی نے کہا کہ ’’پھر اے ابوطالب! تمہاری قوم نے تو تم پر ہر رنگ میں حجت پوری کر دی ہے اور اب تک جھگڑے سے اپنے آپ کو بچایا ہے مگر تم ان کی کوئی بات بھی مانتے نظر نہیں آئے۔‘‘ ابوطالب نے کہا۔ ’’واﷲ میرے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا اور مطعم میں دیکھتا ہوں کہ تم بھی اپنی قوم کی پیٹھ ٹھونکنے میں میرے ساتھ بے وفائی کرنے پر آمادہ ہو۔ پس اگر تمہارے تیور بدلے ہوئے ہیں تو مَیں کیا کہہ سکتا ہوں۔ تم نے جو کرنا ہو وہ کرو۔‘‘ ۱ ؎
    مسلمانوں کے متعلق قریش کا فیصلہ
    رؤساء قریش ابو طالب کی طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہاتھ ڈالنے سے
    پہلے یہ تجویز کی کہ جس جس قبیلہ میں سے کوئی شخص مسلمان ہو چکا تھا وہ قبیلہ اپنے اپنے آدمی پر دباؤ ڈال کر اسے اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش کرے؛ چنانچہ سب نے مِل کر باہم مشورہ سے یہ فیصلہ کیا کہ نومسلموں پر ان کے اپنے اپنے قبیلہ کی طرف سے زور ڈالا جائے تاکہ کسی قِسم کی بین القبائل پیچیدگی نہ پیدا ہو اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ جب خود مسلمان آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو چھوڑ دیں گے تو آپؐ اکیلے کچھ نہیں کر سکیں گے اور یہ سارا کھیل بگڑ جائے گا۔ اس فیصلہ میں یہ بھی قرار پایا کہ صرف زبانی دباؤ تک نہ رہا جائے بلکہ ہر رنگ میں تنگ کر کے اور تکلیف میں ڈال کر نو مسلموں کو واپس لانے کی کوشش کی جائے۔ جب ابو طالب کو اس مشورہ سے اطلاع ہوئی تو انہوں نے بھی ایک جوابی تدبیر کے طور پر بنوہاشم اور بنو مطلب کو ایک جگہ جمع کیا اور حالات بتا کر تحریک کی کہ اس عداوت کے طوفان میں ہمیں محمد کی حفاظت کرنی چاہئے چنانچہ ابو لہب کے سوا جو اسلام کی عداوت میں اندھا ہو رہا تھا باقی سب نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور قومی غیرت میں آکر دُوسروں کے مقابلہ پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اعانت کے لئے تیار ہو گئے۔ ۲؎ ان حالات نے مکّہ کی فضا میں ایک آتشی مادہ پیدا کر دیا تھا۔ مگر چونکہ ابھی تک مسلمانوں کی ایذارسانی کا فیصلہ ہر قبیلہ کی حدود کے اندر محدود تھا، اس لئے کوئی بین القبائل پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ ہاں مسلمانوں کے لئے انفرادی طور پر سخت مصائب و آلام کا دروازہ کھُل گیا اور اس وقت سے لے کر ہجرتِ یثرب تک کی داستان ایک خُون کے آنسو رُلانے والی داستان ہے۔
    مسلمانوں کی تکالیف کا نمونہ
    ان ایّام میں جو جو تکالیف مسلمانوں کو پہنچیں اُن کو وہی جانتے تھے جن کو یہ مصائب جھیلنے پڑے۔ مگر ہاں تاریخ نے جہاں تک ان
    واقعات کو محفوظ رکھا ہے اور وُہ یقینا اصل واقعات سے بہت کم ہیں۔ ان کا نمونہ درج ذیل ہے:
    حضرت عثمان ؓ بنو اُمیّہ میں سے تھے اور ایک نسبتاً پختہ عمر کے اور مرفہ الحال آدمی تھے، لیکن قریش کے مذکورہ بالا فیصلہ کے بعد اُن کے چچا حکم بن ابی العاص نے ان کو رسیّوں سے باندھ کر پیٹااور ان بیچاروں نے سامنے سے اُف تک نہیں کی۔۱؎ زبیر ؓ بن العوام قبیلہ اسد سے تھے اور ایک جوانمرد آدمی تھے مگر ان کا ظالم چچا اُن کو چٹائی میں لپیٹ کر اُن کے ناک میں آگ کا دُھوآں دیا کرتا تھا کہ اسلام سے باز آجاویں مگر وُہ بڑی خوشی کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کرتے اور کہتے کہ مَیں صداقت کوپہچان کر پھر انکار نہیں کر سکتا۔ ۲؎ سعیدؓ بن زید جو حضرت عمر ؓ کے بہنوئی تھے بنو عدی سے تھے اور اپنے حلقہ میں معزز تھے ، لیکن جب عمر بن الخطاب کو ان کے اسلام کا علم ہوا تو وُہ انہیں گرا کر ان کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور اسی کش مکش میں اپنی بہن کو بھی زخمی کر دیا۔۳؎ عبداﷲ بن مسعود جو قبیلہ ھذیل میں سے تھے انہیں قریش نے عین صحنِ کعبہ میں مار مار کر ہلکان کر دیا۔۴؎ ابو ذر غفاری کو قریش نے اتنا پیٹا کہ مارتے مارتے زمین پر بچھا دیا اور قریب تھا کہ جان سے مار ڈالتے، مگر عباس بن عبدالمطلب نے یہ کہہ کر ان کو قریش سے چھڑایا کہ ’’جانتے ہو کہ یہ شخص بنو غفار میں سے ہے جو تمہارے شامی تجارت کے راستہ پر آباد ہیں۔ اگر اُن کو علم ہوا تو تمہارا راستہ روک دیں گے۔‘‘۵؎ یہ سختیاں اُن لوگوں پر تھیں جو طاقتور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے، مگر جو حال غلاموں اور دُوسرے کمزور لوگوں کا تھا وہ پڑھ کر تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ذیل کی چند مثالیں قریش کے مظالم کا صرف ایک معمولی نمونہ ہیں۔
    بلال بن رباح اُمیّہ بن خلف کے ایک حبشی غلام تھے۔ اُمیّہ ان کو دوپہر کے وقت جبکہ اُوپر سے آگ برستی تھی اور مکّہ کا پتھریلا میدان بھٹی کی طرح تپتا تھا، باہر لے جاتا اور ننگا کر کے زمین پر لِٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینے پر رکھ کر کہتا لات اور عُزّیٰ کی پرستش کر اور محمد سے علیحدہ ہو جا وَرنہ اسی طرح عذاب دے کر مار دُوں گا۔ بلال ؓ زیادہ عربی نہ جانتے تھے۔ بس صرف اتنا کہتے اَحد اَحد یعنی اﷲ ایک ہی ہے۔ اﷲ ایک ہی ہے۔ اور یہ جواب سُن کر اُمیّہ اور تیز ہو جاتا اور ان کے گلے میں رسّہ ڈال کر انہیں شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وُہ ان کو مکّہ کی پتھریلے گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے اُن کا بدن خون سے تَر بتر ہو جاتا۔ مگر اُن کی زبان پر سوائے اَحد اَحد کے اور کوئی لفظ نہ آتا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے اُن پر یہ جو روستم دیکھے تو ایک بڑی قیمت پر خرید کر انہیں آزاد کر دیا۔
    ابو فکیہ ؓ صفوان بن اُمیّہ کے غلام تھے۔ ان کو بھی یہ لوگ اسی طرح گرم زمین پر لٹا دیتے اور سینے پر اتنے بھاری پتھّر رکھتے کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی۔
    عامرؓ بن فہیرہ بھی ایک غلام تھے انہیں بھی اسلام کی وجہ سے سخت تکالیف دی جاتی تھیں۔ ان کو حضرت ابو بکر ؓ نے خرید کر اپنے پاس بکریاں چرانے پر نوکر رکھ لیا۔
    لبینہ ؓ بنو عدی کی لونڈی تھی۔ اسلام لانے سے پہلے عمر ؓ اس کو اتنا مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے، لیکن جب ذرا دَم لے لیتے تو پھر اُسی طرح مارنا شروع کر دیتے وُہ سامنے سے صرف اتناکہتی کہ عمر اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو خُدا اس ظلم کو بے انتقام نہیں چھوڑے گا۔
    زنیرہ ؓ بنو مخزوم کی لونڈی تھی۔ ابو جہل نے اُسے اس بے دردی سے پیٹا کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ ابو جہل اس کی طرف اشارہ کر کے طنزاً کہا کرتا تھا کہ ’’اگر اسلام سچا ہوتا تو کیا بھلا اسے مِل جاتا اور ہم محروم رہتے۔‘‘
    صہیب ؓ بن سنان رُومی ہر چند کہ اب غلام نہ تھے اور تھے بھی نسبتاً خوشحال لیکن قریش ان کو اتنا پیٹتے کہ اُن کے حواس مختل ہو جاتے۔ یہ وہی صہیب ؓ ہیں جن کو حضرت عمر ؓ نے زخمی ہونے پر امام الصلوٰۃ مقرر کیا تھا اور انہوں نے ہی حضرت عمر ؓ کا جنازہ پڑھایا تھا۔ ۱؎
    خبّاب ؓ بن الارت بھی اب غلام نہ تھے بلکہ آزاد تھے اور لوہار کا کام کرتے تھے، مگر ایک دفعہ قریش نے اُن کو پکڑ کر اُنہی کی بھٹی کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر اُلٹا لِٹا دیا اور ایک شخص اُن کی چھاتی پر چڑھ گیا، تاکہ کروٹ نہ بدل سکیں؛ چنانچہ وہ کوئلے اُسی طرح جل جل کر اُن کے نیچے ٹھنڈے ہو گئے۔ خباب ؓ نے مدّتوں کے بعد حضرت عمر ؓ سے یہ واقعہ بیان کیا اور اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی جو زخموں کے داغوں سے بالکل سفید تھی۔ خبابؓ کے متعلق یہ روایت بھی آتی ہے کہ ایک دفعہ مکّہ کے ایک رئیس عاص بن وائل نے اُن سے کچھ تلواریں بنوائیں اور جب خبابؓ نے قیمت کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگا تم لوگ یہ دعویٰ کرتے ہو کہ جنت میں انسان کو ہر قسم کی نعمت سونا اور چاندی وغیرہ سب حسب خواہش ملے گی۔ سو تم اپنی تلواروں کی قیمت مجھ سے جنت میں آکر لے لینا۔ کیونکہ و اﷲ اگر تمہیں جنت میں جانے کی توقع ہے تو مجھے تو بدرجہ اولیٰ ہونی چاہئے اور یہ کہہ کر قیمت دینے سے انکار کر دیا۔ ۲؎
    عمارؓ اور ان کے والد یاسرؓ اور ان کی والدہ سُمیّہکو بنی مخزوم جن کی غلامی میں سمیّہ کسی وقت رہ چکی تھیں اتنی تکالیف دیتے تھے کہ ان کا حال پڑھ کر بدن پر لَرزہ پڑنے لگتا ہے۔ ایک دفعہ جب ان فدائیانِ اسلام کی جماعت کسی جسمانی عذاب میں مبتلا تھی اتفاقاً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اس طرف آنکلے۔ آپؐ نے اُن کی طرف دیکھا اور درد مندانہ لہجہ میں فرمایا: صَبْرًا اٰلَ یَاسِرْ فَاِنَّ مَوَعِدُکُمُ الْجَنَّۃَ۔ ’’اے آلِ یاسر صبر کا دامن نہ چھوڑنا کہ خدانے تمہاری انہی تکلیفوں کے بدلے میں تمہارے لئے جنّت تیار کر رکھی ہے۔‘‘ آخر یاسرؔ تو اسی عذاب کی حالت میں جاں بحق ہو گئے اور بوڑھی سمیّہؔ کی ران میں ظالم ابوجہل نے اس بے دردی سے نیزہ مارا کہ وُہ اس کے جسم کو کاٹتا ہوا ان کی شرمگاہ تک جانکلا اور اس بے گناہ خاتون نے اسی جگہ تڑپتے ہوئے جان دے دی۔ اب صرف عمارؔ باقی رہ گئے۔ ان کو بھی ان لوگوں نے انتہائی عذاب اور دُکھ میں مبتلا کیا اور ان سے کہا کہ ’’جب تک محمدؐ کا کفر نہ کرو گے اسی طرح عذاب دیتے رہیں گے۔‘‘ چنانچہ آخر عمارؔ نے سخت تنگ آکر کوئی نازیبا الفاظ مُنہ سے کہہ دیئے جس پر کفّار نے انہیں چھوڑ دیا۔ لیکن اس کے بعد عمارؔ فوراً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زار زار رونے لگے۔ آپؐ نے پوچھا ’’کیوں عمار کیا بات ہے؟‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’یا رسول اﷲ مَیں ہلاک ہو گیا۔ مجھے ظالموں نے اتنا دُکھ دیا کہ مَیں نے آپؐ کے متعلق کچھ ناگفتنی الفاظ مُنہ سے کہہ دیئے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تُم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو؟‘‘ اُس نے عرض کیا۔ ’’یا رسُول اﷲ میرا دل تو اُسی طرح مومن ہے اور اﷲ اور اس کے رسُول کی محبت میں اُسی طرح سرشار۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ تو پھر خیر ہے خدا تمہاری اس لغزش کو معاف کرے۔
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتی تکالیف
    مسلمانوں کی ان تکالیف کے مقابلہ پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتی حالت بھی
    مخالفت کے اِس طوفان بے تمیزی میں چنداں تسلی بخش نہ تھی۔ بے شک بنو ہاشم اور بنو مطلب کے اس فیصلہ کے بعد جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے آپؐ کو اپنے اعزّہ و اقارب کی عمومی حمایت حاصل تھی اور قریش کی بین القبائل سیاست میں یہ حمایت خاصہ وزن رکھتی تھی، لیکن اوّل تو آپؐ کے چچا ابو لہب کی بیوفائی اور غدّاری نے اس فیصلہ کی طاقت کو ایک حد تک کمزور کر دیا تھا۔ دوسرے خود قریش بھی یہ دھمکی دے چکے تھے کہ اگر بنو ہاشم اور بنو مطلب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پشت و پناہ بننے سے باز نہیں آئیں گے تو پھر ہم ان سب کا مقابلہ کریں گے اور گو ابھی تک انہوں نے اس دھمکی کو پورے طور پر عملی جامہ نہیں پہنایا تھا ، لیکن وہ اس کی تیاری میں مصروف تھے اور طعن وتشنیع اور نوک جھونک سے گذر کر کبھی کبھی اپنا بچاؤ رکھ کر عملی چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے تھے؛ چنانچہ سب سے پہلے تو انہوں نے ایک مجلس کر کے اس سوال پر غور کیا کہ اب جو حج کا موسم آئے گا تو اس موقع پر لازماً باہر سے آنے والے حاجیوں میں اسلام کے متعلق چرچا ہو گا اور لوگ آآکر ہم سے پوچھیں گے کہ یہ نیا نبی کون ہے اور کیا کہتا ہے اس لیے ہمیں باہم مشورہ سے کوئی جواب سوچ رکھنا چاہئے تاکہ ہمارا آپس کا اختلاف کوئی بُرا اثر پیدا نہ کرے ؛ چنانچہ سب روساء قریش ولیدؔ بن مغیرہ کے مکان پر جمع ہوئے اور ولیدؔ نے ان کے سامنے ایک افتتاحی تقریر کر کے ساری بات سمجھائی اور بتایا کہ اب حج کا وقت آرہا ہے اور محمد کے اس دعویٰ کی خبر باہر پہنچ چکی ہے اور لازماً حج پر آنے والے لوگ ہمیں اس کے متعلق پوچھیں گے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم باہم مشورہ سے کوئی ایک پختہ جواب سوچ رکھیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم ایک دُوسرے کے خلاف باتیں کہہ کر خود اپنے اثر کو مٹالیں۔ اس پر ایک شخص بولا کہ ہمارا جواب صاف ہے کہ یہ شخص ایک کاہن ہے اور کاہنوں کی سی باتیں کر کے اس نے چند لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ ولیدؔ نے کہا کہ ہم اسے کاہن کس طرح کہہ سکتے ہیں جب کہ اس میں کاہنوں کی کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔ نہ کاہنوں کا سا ترنم ہے اور نہ کاہنوں کا سا مخصوص اندازِ بیان۔ دوسرے نے کہا کہ پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد مجنون ہے اور اپنے جنون کے جوش میں باتیں کرتا رہتا ہے۔ ولیدؔ نے کہا۔ ہماری یہ بات کون مانے گا۔ اور جنون کی وہ کونسی علامتیں ہیں جو ہم محمد میں دکھا سکیں گے۔ نہ ا س میں وہ وحشت ہے اور نہ وہ اضطراب اور نہ ہی وہ وسوسہ جو ایک مجنون میں لازماً پائے جاتے ہیں۔ پھر ہمارے جنون کے ادّعا کو کون سُنے گا۔ تیسرا بولا کہ پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے اور اپنے جادُو اثر اشعار سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ ولیدؔ نے کہا ہم اسے شاعر کہہ کر اس کے کلام میں شعر کے خصائصِ از قِسم رجزؔ اور ہزجؔ اور قریضؔ اور مقبوضؔ اور مبسوطؔ ۱؎ کہاں سے دکھائیں گے۔ اس پر ایک چوتھا شخص بولا کہ اسے ایک ساحرؔ کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔ولیدؔ نے کہا پھر ہم اس میں ساحروں کی سی پھُونکیں مارنا اور گرہیں ڈالنا اور گرہیں کھولنا کس طرح دکھائیں گے۔ لوگوں نے کہا تو پھر اے عبدشمس تم ہی بتاؤ کہ پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے۔ ولیدؔ نے کہا اس معاملہ میں مَیں خود حیران ہوںکہ کیا کیا جائے۔ جو بات بھی سوچتا ہوں وہ محمد پر چسپاں ہوتی نظر نہیں آتی اور ایسی بات کہنا جس سے لوگوں کو تسلی نہ ہو خود اپنے آپ کو ہنسی کا نشانہ بنانا ہے۔ اس طرح اس مجلس میں کچھ عرصہ باتیں ہوتی رہیں۔ آخر یہ مشورہ قرار پایا کہ اور کوئی بات تو خیال میں آتی نہیں اور جو باتیں پیش کی گئی ہیں ان میں ساحر والی زیادہ وزن دار ہے۔ پس یہ فیصلہ ہوا کہ حج کے موقع پر باہر سے آنیوالے لوگوں کے سامنے محمد کے متعلق سب لوگ یہی کہیں کہ یہ ایک ساحر ہے جو اپنی مخفی سحر کاری سے باپ کو بیٹے سے ،بھائی کو بھائی سے ، خاوند کو بیوی سے جُدا کرتا چلا جا رہا ہے؛ چنانچہ جب حج کا موقع آیا تو قریش کے بچہ بچہ کی زبان پر یہی فقرہ تھا کہ محمد تو ایک ساحر ہے جو جس گھر میں داخل ہوتا ہے انشقاق و اختلاف کا بیج بو کر نکلتا ہے اور ان کے اس پروپیگنڈا نے تمام قبائل عرب میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف ایک خطرناک ہیجان پیدا کر دیا۔۱؎
    قریش نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ مکّہ کے اوباشوں اور خود سرلوگوں کو اکسایا کہ وہ جس طرح بھی ہو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو تنگ کرتے رہیں؛ چنانچہ اس انگیخت میں آکر شہر کے آوارہ مزاج لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق آپؐ کے سامنے بھی اور پیچھے بھی طرح طرح کی بکواس کرتے رہتے تھے جس کی غرض سوائے دل دُکھانے اور اشتعال پیدا کرکے فساد برپا کرنے کے اور کچھ نہ تھی۔ جو لوگ آپؐ کے پڑوس میں رہتے تھے ان کا یہ معمول تھا کہ آپؐ کے گھر میں پتھر پھینکتے ۔ دروازے پر کانٹے بچھاتے۔ گھر کے اندر گندی اور بد بو دار چیزیں لا کر ڈال دیتے اور جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان چیزوں کی وجہ سے عملاً کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ خوش ہو کر ہنستے اور قہقے لگاتے۔ ایک دفعہ کسی شخص نے ایک نہایت گندی اور متعفن چیز آپؐ کے گھر میں پھینک دی۔ آپؐ خود اُسے اُٹھا کر باہر لائے اور فرمایا۔ ’’اے بنو عبدمناف! یہ تم اچھا ہمسائیگی کا حق ادا کرتے ہو۔‘‘ ۲؎ مگر جن کانوں تک یہ آواز پہنچتی وہ شرافت کی اپیل کے لئے بالکل بہرے تھے۔ انہی دنوں میں قریش نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بجائے محمد کے مُذَمَّم یعنی بد نام اور مذمّت شدہ کہہ کر پکارا جاوے؛ چنانچہ کچھ عرصہ تک مکّہ میں اس نام کا چرچا رہا اور قریش کو اتنی بھی شرم نہ آئی کہ یہ وہی شخص ہے جسے ہم اس کے دعویٰ سے پہلے امین کہہ کر پکارتے رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان کے اس فعل سے اطلاع ہوئی تو آپؐ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میرا نام تو محمد ہے اور جو محمد ہو وہ مُذَمَّم کیسے ہو سکتا ہے۔ دیکھو خُدا مجھے ان کی گالیوں سے کس طرح محفوظ رکھتا ہے۔ ۳؎
    مگر اس زمانہ میں بھی قریش کی ایذاء رسانی صرف زبانی باتوں تک محدود نہ تھی بلکہ وہ بعض اوقات جوش میں آکر یا موقع نکال کر آپؐ کو عملی نقصان پہنچانے اور جسمانی تکلیف میں مبتلا کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ چنانچہ غالباً یہ اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ جب آپؐ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے عقبہ بن ابی معیط غصّہ میں اُٹھا اور آپؐ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اس زور کے ساتھ بھینچا کہ آپؐ کا دَم رُکنے لگ گیا۔ حضرت ابو بکر ؓکو علم ہوا تووہ دوڑے آئے اور آپؐ کو اس بد بخت کے شر سے بچایا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہا:
    اَتَقْتُلُوْ نَ رَجَلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اﷲُ
    ’’کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب خدا ہے۔‘‘ ۱؎
    ایک اور موقع پر آپؐ نے صحنِ کعبہ میں توحید کا اعلان کیا تو قریش جوش میں آکر آپؐ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ آپؐ کے ربیب یعنی حضرت خدیجہؓ کے فرزند حارثؔ بن ابی ہالہ کو اطلاع ہوئی تو وہ بھاگے آئے اور خطرہ کی صورت پاکر آپؐ کو قریش کی شرارت سے بچانا چاہا۔ مگر اس وقت بعض نوجوانان قریش کے اشتعال کی یہ کیفیت تھی کہ کسی بد باطن نے تلوار چلا کر حارثؔ کو وہیں ڈھیر کر دیا۔ ۲؎ اور اس وقت کے شور و شغب میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تلوار چلانے والا کون تھا۔
    ان مصائب پر مسلمانوں کو صبر کی تلقین
    الغرض یہ وقت اسلام اور اہلِ اسلام کے لئے سخت نازک وقت تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی کسی
    ذاتی تکلیف کی تو پَروا نہیں تھی مگر مسلمانوں اور خصوصاً کمزور مسلمانوں کے مصائب کی وجہ سے آپؐ ضرور فکرمند تھے، مگر دُوسری طرف آپؐ اس بات کو بھی خوب جانتے اور سمجھتے تھے کہ قومیں مصائب میں سے گذر کر ہی بنا کرتی ہیں۔ اس لئے آپؐ ایک جہت سے ان مصائب کو مسلمانوں کی تربیت کا بھی ذریعہ سمجھتے تھے اور اپنے صحابہ کو صبر و تحمل کی تعلیم دیتے اور گذشتہ انبیاء کے متبعین کی تکالیف کا ذکر کر کے ان کو بتاتے تھے کہ قدیم سے یہی سُنّت چلی آئی ہے کہ اﷲ کے رسُولوں اور اُن کے متبعین کو دُکھ دیئے جاتے ہیں، لیکن آخر کار مومنوں کی فتح ہوتی ہے؛ چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس ٹیک لگائے بیٹھے تھے خباب بن الارت اور بعض دوسرے صحابہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ’’یارسول اﷲ! مسلمانوں کو قریش کے ہاتھ سے اتنی تکالیف پہنچ رہی ہیں آپؐ ان کے لئے بددُعا کیوں نہیں کرتے؟‘‘ آپؐ یہ الفاظ سُنتے ہی اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپؐ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور آپؐ نے فرمایا:
    ’’دیکھو تم سے پہلے وُہ لوگ گذرے ہیں جن کا گوشت لوہے کے کانٹوں سے نوچ نوچ کر ہڈیوں تک صاف کر دیا گیا مگر وہ اپنے دین سے متزلزل نہیں ہوئے اور وہ لوگ گذرے ہین جن کے سروں پر آرے چلا کر ان کو دو ٹکڑے کر دیا گیا مگر ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔ دیکھو خدا اس کام کو ضرور پُورا کرے گا۔ حتیٰ کہ ایک شُتر سوار صنعا (شام) سے لے کے حضر موت تک کا سفر کرے گا۔ اور اس کو سوائے خدا کے اور کسی کا ڈر نہ ہو گا۔ مگر تم تو جلدی کرتے ہو۔‘‘ ۱؎
    ایک اور موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف مع چند دوسرے اصحاب کے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ’’یا رسُول اﷲ ہم مُشرک تھے تو ہم معزّز تھے۔ اور کوئی ہماری طرف آنکھ تک نہیں اُٹھا سکتا تھا، لیکن جب سے مسلمان ہوئے ہیں کمزور اور ناتواں ہو گئے ہیں اور ہم کو ذلیل ہو کر کفّار کے مظالم سہنے پڑتے ہیں۔ پس یا رسُول اﷲ ؐ! آپؐ ہم کو اجازت دیں کہ ہم ان کفّار کا مقابلہ کریں۔‘‘ آپ نے فرمایا:
    اِنِّیْ اُمِرْتُ بِالْعَفْوِ ۔ فَلَا تُقَا تِلُوْا۔ ۲؎
    یعنی ’’مجھے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عفو کا حکم ہے۔ پس میں تم کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘
    صحابہ ؓ کا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہر قول کے سامنے سر تسلیم خم تھا۔ انہوں نے صبر اور برداشت کا وہ نمونہ دکھایا کہ تاریخ اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔

    ایّامِ کش مکش
    ہجرتِ حبشہ
    جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایذاء رسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں
    اور فرمایا کہ ’’حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔ اس کی حکومت میں کسی پر ظُلم نہیں ہوتا۔‘‘ ۱؎ حبشہ کا مُلک جو انگریزی میں ایتھوپیاؔ یا ابیؔ سینیا کہلاتا ہے، برِّ اعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل مقابل پر ہے اور درمیان میں بحیرہ احمر کے سِوا کوئی اور مُلک حائل نہیں۔ اس زمانہ میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشیؔ کہلاتا تھا۔ بلکہ ابتک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پُکارا جاتا ہے۔ حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔ ۲؎ اور ان ایّام میں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں حبشہ کا دارالسلطنت اکسومؔ (Axsum) تھا جو موجودہ شہر عدوا (Adowa) کے قریب واقع ہے اور اب تک ایک مقدس شہر کی صورت میں آباد چلا آتا ہے۔ اکسومؔ ان دنوں میں ایک بڑی طاقتور حکومت کا مرکز تھا۔ ۳؎ اور اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اصحمہؔ تھا۔ ۴؎ جو ایک عادل بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔ بہرحال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمانے پر ماہ رجب ۵نبوی ۵؎ میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اُن میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہؔ بنت رسُول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ، عبدالرحمن بن عوف، زبیر ابن العوام، ابو حذیفہ بن عتبہ، عثمان بن مظعون، مصعب بن عمیر، ابو سلمہ بن عبدالاسد اور ان کی زوجہ اُمِّ سلمہ۔ ۶؎ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتا چلتا ہے۔ اوّل یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔ دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام وغیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔
    جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شعیبہؔ پہنچے جو اُس زمانہ میں عرب کا ایک بندرگاہ تھا تو اﷲ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا؛ چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔ قریشِ مکّہ کو اُن کی ہجرت کا عِلم ہوا تو سخت برہم ہوئے کہ یہ شکار مفت میں ہاتھ سے نِکل گیا۔ چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کا پیچھا کیا مگر جب ان کے آدمی ساحل پر پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا، اس لئے خائب و خاسر واپس لوٹے۔ ۱؎ حبشہ میں پہنچ کر مُسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خُدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکارا ملا۔
    قریش کے اسلام کی جھوٹی افواہ اور بعض مہاجرین حبشہ کی واپسی
    لیکن جیسا کہ بعض مؤرخین نے بیان کیا
    ہے ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ ایک اُڑتی ہوئی افواہ ان تک پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں مکّہ میں اب بالکل اَمن و امان ہے۔ اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بلا سوچے سمجھے واپس آگئے۔ جب یہ لوگ مکّہ کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔ اب ان کے لئے بڑی مصیبت کا سامنا تھا۔ بالآخر بعض تو راستہ میں سے ہی واپس لوٹ گئے اور بعض چھپ چھپ کر یا کسی ذی اثر اور طاقتور شخص کی حمایت میں ہو کر مکّہ میں آگئے۔ ۲؎ یہ شوال ۵ نبوی کا واقعہ ہے ۳؎ یعنی آغاز ، ہجرت اور مہاجرین کی واپسی کے درمیان صرف ڈھائی تین ماہ کا فاصلہ تھا۔ کیونکہ جیسا کہ ہم اُوپر بیان کر چکے ہیں حبشہ کی ہجرت رجب کے مہینہ میں ہوئی تھی اور مہاجرین کی مزعومہ واپسی کی تاریخ شوال بیان کی گئی ہے۔
    گو حقیقۃً یہ افواہ بالکل جھوٹی اور بے بنیاد تھی جو مہاجرینِ حبشہ کو واپس لانے اور ان کو تکلیف میں ڈالنے کی غرض سے قریش نے مشہور کر دی ہو گی۔ بلکہ زیادہ غور سے دیکھا جاوے تو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کا قصّہ ہی بے بنیاد نظر آتا ہے لیکن اگر اسے صحیح سمجھا جاوے تو ممکن ہے کہ اس کی تہ میں وہ واقعہ ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے اور وہ جیسا کہ بخاری میں آتا ہے یہ ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحنِ کعبہ میں سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرمائیں۔ اس وقت وہاں کئی ایک رؤسائِ کفّار بھی موجود تھے اور بعض مُسلمان بھی تھے۔ جب آپؐ نے سُورۃ ختم کی تو آپؐ نے سجدہ کیا اور آپؐ کے ساتھ ہی تمام مسلمان اور کافر بھی سجدہ میں گِر گئے۔‘‘ ۱؎ کفّار کے سجدہ کی وجہ حدیث میں بیان نہیں ہوئی، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہایت پُر اثر آواز میں آیات الٰہی کی تلاوت فرمائی اور وہ آیات بھی ایسی تھیں جن میں خصوصیت کے ساتھ خدا کی واحدانیت اور اس کی قدرت و جبروت کا نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں نقشہ کھینچا گیا تھا اور اس کے احسانات یاد دلائے گئے تھے اور پھر ایک نہایت پُر رعب و پُر جلال کلام میں قریش کو ڈرایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کا وہی حال ہو گا جو اُن سے پہلے اُن قوموں کا ہوا جنہوں نے خُدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور پھر آخر میں ان آیات میں حکم دیا گیا تھا کہ آؤ اور اﷲ کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ۔ ۲؎ اور ان آیات کی تلاوت کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور سب مسلمان یکلخت سجدہ میں گِر گئے تو اس کلام اور اس نظّارہ کا ایسا ساحرانہ اثر قریش پر ہوا کہ وہ بھی بے اختیار ہو کر مُسلمانوں کے ساتھ سجدہ میں گر گئے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ ایسے موقعوں پر ایسے حالات کے ماتحت جو اُوپر بیان ہوئے ہیں بسا اوقات انسان کا قلب مرعوب ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو دراصل اس کے اصول و مذہب کے خلاف ہوتی ہے؛ چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات ایک سخت اور نا گہانی آفت کے وقت ایک دہریہ بھی ’’اﷲ اﷲ‘‘ یا ’’رام رام‘ پکار اُٹھتا ہے اور قریش تو دہریہ نہ تھے بلکہ بہرحال خدا کی ہستی کے قائل تھے۔ پس جب اس پُر رعب و پُر جلال کلام کی تلاوت کے بعد مُسلمانوں کی جماعت یکلخت سجدہ میں گر گئی تو اس کا ایسا ساحرانہ اثر ہوا کہ ان کے ساتھ قریش بھی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گِر گئے۔ لیکن ایسا اثر عموماً وقتی ہوتا ہے اور انسان پھر جلد ہی اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے؛ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور سجدہ سے اُٹھ کر قریش پھر وہی بُت پرست کے بُت پرست تھے۔
    بہرحال یہ ایک واقعہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ پس اگر مہاجرینِ حبشہ کی واپسی کی خبر دُرست ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد قریش نے جو مہاجرینِ حبشہ کے واپس لانے کے لیے بیتاب ہو رہے تھے اپنے اس فعل کو آڑ بنا کر خود ہی یہ افواہ مشہور کر دی ہو گی کہ قریشِ مکّہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب مکّہ میں مُسلمانوں کے لئے بالکل اَمن ہے اور جب یہ افواہ مہاجرین حبشہ تک پہنچی تو وُہ طبعاً اُسے سُن کر بہت خوش ہوئے اور سُنتے ہی خوشی کے جوش میں واپس آگئے لیکن جب وہ مکّہ کے پاس پہنچے تو حقیقت امر سے آگاہی ہو ئی جس پر بعض تو چھپ چھپ کر اور بعض کسی طاقتور اور صاحبِ اثر رئیس قریش کی حفاظت میں ہو کر مکّہ میں آگئے اور بعض واپس چلے گئے۔ پس اگر قریش کے مُسلمان ہو جانے کی افواہ میں کوئی حقیقت تھی تو وہ صرف اسی قدر تھی جو سورۃ نجم کی تلاوت پر سجدہ کرنے والے واقعہ میں بیان ہوئی ہے۔ واﷲ اعلم۔
    بہرحال اگر مہاجرین حبشہ واپس آئے بھی تھے تو اُن میں سے اکثر پھر واپس چلے گئے اور چونکہ قریش دن بدن اپنی ایذاء رسانی میں ترقی کرتے جاتے تھے اور ان کے مظالم روز بروز بڑھ رہے تھے۔ اس لئے آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد پر دُوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پاکر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔ یہ ہجرت کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر ان مہاجرین حبشہ کی تعداد ایک سو ایک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں بھی تھیں۔ ۱؎ اور مکہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بہت ہی تھوڑے مسلمان رہ گئے۔ اس ہجرت کو بعض مؤرخین ہجرت حبشہ ثانیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
    ایک جھوٹا واقعہ
    ہجرتِ حبشہ کے تعلق میں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کفارِ قریش کے سجدہ کرنے اور مہاجرین حبشہ کے واپس چلے آنے کے متعلق بعض مؤرخین ایک عجیب قصہ نقل
    کرتے ہیں جو یہ ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس بات کا از حد شوق رہتا تھا کہ اﷲ کی طرف سے کوئی ایسی بات نازل ہو جو قریش کو اسلام کی طرف کھینچنے والی اور ان کی منافرت کو دُور کرنے والی ہو۔ لہٰذا جب آپؐ سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرماتے ہوئے ان آیات پر پہنچے کہ:
    ۲؎
    ’’یعنی کیا تم نے مشرکین کے بتوں لات اور عزٰی اور منات کی طرف دیکھا ہے؟‘‘
    تو شیطان نے آپؐ کے اس شوق سے فائدہ اُٹھایا اور آپؐ کی زبان پر یہ الفاظ جاری کر دیئے کہ:
    تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلیٰ وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْتَجیٰ
    ’’یعنی لات اور عزّیٰ اور منات بڑے جلیل القدر بُت ہیں اور ان کی شفاعت کی اُمید رکھنی چاہئے۔‘‘
    جب قریش نے یہ الفاظ سُنے تو وہ خاموش ہو گئے کہ ان کے بتوں کی عظمت اور قوت کو مان لیا گیا ہے۔ لہٰذا جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ نے سُورۃ نجم ختم کرنے پر سجدہ کیا تو قریش نے بھی آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا اور اس طرح گویا صلح صفائی ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد جلد ہی جبرائیل آپؐ کے پاس آئے اور آپؐ کو اس غلطی سے آگاہ کیا اور شیطان کی القاء کردہ آیت کی جگہ وہ الٰہی کلام آپؐ پر وحی کیا جو اب قرآن شریف میں موجود ہے اور اس طرح قریش پھر ناراض ہو گئے۔ لیکن چونکہ قریش کے ساتھ صلح صفائی ہو جانے کی خبر شائع ہو چکی تھی اس لئے پیشتر اس کے کہ اس کی تردید ہوتی وہ حبشہ بھی پہنچ گئی اور اس طرح بعض مہاجرین واپس آگئے۔
    یہ وُہ قصّہ ہے جو اس موقع پر بعض مؤرخین لکھتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قِصّہ سراسر جھوٹ ہے اور ہر معقول رنگ میں اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہے؛ چنانچہ کبار محدّثین اور ائمہ حدیث مثلاً علّامہ عینی۔ قاضی عیاض اور علّامہ نووی نے کھول کھول کر اور دلائل دے دے کر اس کو غلط اور موضوع ثابت کیا ہے۔ چنانچہ علّامہ عینی اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    لَاصِحَۃَ لَہٗ نَقلْاً وَّلَا عَقلْاً۔ ۱؎
    یعنی’’ نقل اور عقل دونوں سے یہ قصّہ غلط ثابت ہوتا ہے۔‘‘
    اور قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ:
    لَمْ یَخْرُجْہُ اَھْلُ الصِّحَۃِ وَلَا رَوَاہُ ثِقَۃٌ بِسَنَدٍ سَلِیْمٍ مَعَ ضُعْفِ نَقْلَتِہٖ وَاضْطِرَابِ رِوَایَاتِہٖ وَانْقِطَاعِ اَسَانِیْدِہٖ وَاَکْثَرُالطُّرُقِ فِیْہَا ضَعِیْفَۃٌ وَاھِیَۃٌ لَمْ یَسْنِدَ ھَا اَحَدٌ مِنْھُمْ وَلاَرَفَعَھَا اِلٰی صَاحِبٍ۔ ۲؎
    یعنی ’’ محتاط اور ثقہ لوگوں نے اس کی روایت نہیں کی، کیونکہ اس قصّہ میں روایت کا اضطراب اور سند کی کمزوری بہت پائی جاتی ہے۔ اور اس کے طریقے بہت کمزور اور بودے ہیں۔ اور کسی راوی نے اس کی سند کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تک یا آپؐ کے کِسی صحابی تک نہیں پہنچایا۔‘‘
    اور علامہ نووی لکھتے ہیں:
    لا یَصِحُّ فِیْہِ شَیْ ئٌ لَا مِنْ جِھَۃِ النَّقْلِ وَلَا مِنْ جِھَۃِ الْعَقْلِ۔ ۳؎
    یعنی’’ اس قصّہ میں کوئی بات بھی دُرست نہیں نہ نقل کے طریق پر اور نہ عقل کے طریق پر۔‘‘
    دُوسری طرف اکثر ائمۃ الحدیث نے اس قصّہ کا ذکر تک نہیں کیا۔ مثلاً صحاح ستّہ میں اس کی طرف اشارہ تک نہیں؛ حالانکہ صحاحِ ستہ میں سورۃ نجم کی تلاوت اور قریش کے سجدہ کا ذکر موجود ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان محدّثین کے سامنے یہ روایت آئی۔ لیکن انہوں نے اسے غلط اور ناقابلِ اعتبار سمجھ کر ردّ کر دیا۔
    اِسی طرح کبار مفسّرین مثلاً امام رازیؔ نے اس قِصّہ کو لغو اور جھوٹا قرار دیا ہے۔۱؎ اور صوفیاء میں سے ابنِ عربیؔ جیسے باریک بین انسان نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ: ’’لَا اَصْلَ لَھَا۔‘‘ یعنی اس قصّہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔۲؎ ویسے بھی اگر صرف سورۃ نجم کی آیات پر ہی جو شروع سے لے کر آخر تک شِرک کے خلاف بھری پڑی ہیں نظر ڈالی جاوے تو اُسی سے اس کا بطلان ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ یہ ہر گز خیال نہیں کیا جاسکتا کہ اس قِسم کے مواحدانہ کلام میں جس میں توحیدِ باری تعالیٰ پر اس قدر زور دیا گیا ہے ایک صریح طور پر مشرکانہ فقرہ داخل کیا جاسکتا تھا اور ایک ہی وقت میں ایک ہی زبان پر دو انتہائی طور پر متضاد باتیں جاری ہو سکتی تھیں۔ پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات زندگی کے لحاظ سے بھی عقلِ انسانی اس قصّہ کو دُور سے دھکّے دیتی ہے۔ بھلا جس شخص نے اپنی بعثت سے پہلے بھی ساری عمر بُت پرستی نہ کی ہو حالانکہ اس کی ساری قوم بُت پرست ہو تو کیا عقل اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ اس وقت جب کہ اس کے پاس اﷲ تعالیٰ کا صریح حکم آگیا ہو کہ بُت پرستی کے خلاف آواز اُٹھا اور صرف خدائے واحد کی پرستش کا لوگوں کو حکم دے اور اس کے مذہب کا بنیادی پتھر ہی توحیدِ باری تعالیٰ ہو جس کی وجہ سے وہ دن رات لوگوں کے ساتھ جھگڑتا ہو تو کیا اس وقت وہ قریش کو خوش کرنے کے لئے بُت پرستی کی طرف جھُک جائے گا؟ آخر عقل بھی کوئی چیز ہے؟ ذرا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالو۔ کیا کبھی آپؐ نے کفار کو خوش کرنے کی غرض سے اپنے مذہب کے کسی اصول کو چھوڑا؟ کیا کبھی آپؐ نے کفار کو اپنے ساتھ ملانے کی غرض سے مداہنت اختیار کی؟ قرآن تو صریح کہتا ہے:
    ۳؎
    یعنی ’’کفّار کو ہمیشہ یہ حسرت ہی رہی کہ تُو مداہنت کر کے ان کی ہاں میں ہاں ملاوے تو وُہ بھی مداہنت اختیار کر لیں اور اس طرح ظاہری صورت میل ملاپ کی ہو جاوے۔‘‘
    کیا ایسے شخص کی نسبت یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُس نے کبھی قریش کی خاطر توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کیا ہو گا؟ البتہ ایک توجیہہ اس قصّہ کی ممکن ہے اور جیسا کہ علّامہ قسطلانی اور زرقانی نے لکھا ہے اور بہت سے محققین نے اس کی تائید کی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ توجیہہ دُرست ہو اور وہ یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بخاری کی روایت کے مطابق صحنِ کعبہ میں سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرمائی ہوں تو ممکن ہے کہ شیاطینِ قریش میں سے کسی نے آپؐ کی آواز میں آواز ملا کر تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلیٰ کا فقرہ ملا دیا ہو جس کی وجہ سے اس وقت بعض لوگوں میں اشتباہ واقع ہو گیا ہو کہ شاید یہ الفاظ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کہے ہیں۔ کیونکہ یہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کی تلاوت کے وقت قریش کی یہ عام عادت تھی کہ وُہ اس کے اثر کو مٹانے کے لئے شور کیا کرتے تھے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی ان کے یہ الفاظ آتے ہیں کہ:
    ۱؎
    یعنی قریش کہا کرتے تھے کہ ’’جب تمہارے سامنے قرآن پڑھا جاوے تو اُس میں شور کرکے گڑ بڑ پیدا کر دیا کرو۔ شاید اس طرح تم غالب آسکو۔‘‘
    اِس توجیہہ کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں قریش کی یہ عادت تھی کہ وہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہی فقرہ تِلْکَ الْغَرَانِیْقْ الْعُلیٰ والا پڑھا کرتے تھے۔ ۲؎ پس تعجب نہیں کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرمائی ہوں تو اُن میں سے کسی نے حسب عادت یہاں بھی اس فقرہ کو داخل کردیا ہو۔ اور اس طرح بعض لوگوں کو عارضی طور پر یہ اشتباہ واقع ہو گیا ہو کہ شاید یہ الفاظ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلے ہیں۔ اس توجیہہ کی تائید ابن عربیؔ۔ قاضی عیاضؔ ، ابن جریرؔ ، امام رازیؔ اور حافظؔ ابن حجر نے بھی کی ہے۔ ۳؎ لیکن ایک اور بات ہے جو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کے قِصّہ کو سِرے سے ہی مشتبہ کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ تاریخ میں ہجرت حبشہ کے آغاز کی تاریخ رجب پانچ نبوی اور سجدہ کی اریخ رمضان پانچ نبوی بیان ہوئی ہے اور پھر تاریخ میں ہی یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ اس افواہ کے نتیجہ میں مہاجرین حبشہ کی واپسی شوال ۵ نبوی میں ہوئی تھی۔ ۴؎ گویا آغاز ہجرت اور واپسی مہاجرین کے زمانوں میں صرف دو سے لے کر تین ماہ کا فاصلہ تھا اور اگر سجدہ کی تاریخ سے زمانہ کا شمار کریں تو یہ عرصہ صرف ایک ہی ماہ کا بنتا ہے۔ اب اُس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ قطعی طور پر ناممکن ہے کہ مکہ اور حبشہ کے درمیان اس قلیل عرصہ میں تین سفر مکمل ہو سکے ہوں۔ یعنی سب سے پہلے مسلمان مکّہ سے حبشہ پہنچے۔ اس کے بعد کوئی شخص قریش کے اسلام کی خبر لے کر مکّہ سے حبشہ گیا اور پھر مسلمان حبشہ سے روانہ ہو کر مکّہ میں واپس آئے۔ ان تین سفروں کی تکمیل قطع نظر اس عرصہ کے جو زائد امور میں صرف ہو جاتا ہے اس قلیل عرصہ میں قطعًا ناممکن تھی۔ اور اس سے بھی زیادہ یہ بات ناممکن تھی کہ سجدہ کے زمانہ سے لے کر مہاجرین حبشہ کی مذعومہ واپسی تک دو سفر مکمل ہو سکے ہوں کیونکہ اس زمانہ میں مکّہ سے حبشہ جانے کے لئے پہلے جنوب میں آنا پڑتا تھا اور پھر وہاں سے کشتی لے کر جوہر وقت موجود نہیں ملتی تھی بحرِ احمر کو عبور کرکے افریقہ کے ساحل تک جانا ہوتا تھا اور پھر ساحل سے لے کر حبشہ کے دارالسلطنت اکسوم تک جو ساحل سے کافی فاصلہ پر ہے پہنچنا پڑتا تھا۔ اور اس زمانہ کے آہستہ سفروں کے لحاظ سے اِس قسم کا ایک سفر بھی ڈیڑھ دو ماہ سے کم عرصہ میں ہر گز مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اِس جہت سے گویا یہ قصّہ سرے سے ہی غلط اور بے بنیاد قرار پاتا ہے لیکن اگر بالفرض اِس میں کوئی حقیقت تھی بھی تو وہ یقینا اس سے زیادہ نہیں تھی جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ واﷲ اعلم
    نجاشی کے دربار میں قریش کا ناکام وفد
    بہرحال قریش نے جب مسلمانوں کو اس طرح اپنے ہاتھوں سے صحیح سلامت نکلے جاتے دیکھا اور حبشہ
    میں ان کو امن و امان کی زندگی بسر کرتے پایا تو ان کے غضب کی آگ اور بھڑک اٹھی اور بالآخر اُنہوں نے اپنے دو ممتاز ممبر یعنی ایک عمروؔ ابن العاص اور دُوسرے عبداﷲؔ بن ربیعہ کو حبشہ کی طرف روانہ کرنے کی تجویز کی اور اس وفد کے ساتھ نہ صرف نجاشی کے واسطے گراں قیمت تحفے تیار کئے بلکہ اس کے تمام درباریوں کے واسطے بھی تحائف تیار کئے گئے جو زیادہ تر چمڑے کے سامان کے تھے جس کے لئے ان دنوں میں عرب خاص شہرت رکھتا تھا اور اس طرح بڑے ٹھاٹھ کے ساتھ یہ وفد روانہ ہوا۔ اس وفد کی غرض یہ تھی کہ مسلمانوں کو حبشہ سے واپس لا کر پھر ان کو اپنے مظالم کا تختہ مشق بنائیں؛ چنانچہ حبشہ میں پہنچ کر عمروؔ بن العاص اور ان کے ساتھی نے پہلے نجاشی کے درباریوں کے ساتھ ملاقات کی اور اُن کے سامنے تحائف پیش کئے اور پھر ان کے ذریعہ سے نجاشی کے دربار تک رسائی حاصل کی اور تحفے تحائف پیش کرنے کے بعد نجاشی سے اِن الفاظ میں درخواست کی کہ : ’’اے بادشاہ سلامت ہمارے چند بیوقوف لوگوں نے اپنا آبائی مذہب ترک کردیا ہے اور ایک نیا دین نکالا ہے جو آپ کے دین کے بھی مخالف ہے اور ان لوگوں نے ملک میں فساد ڈال دیا ہے اور اب ان میں سے بعض لوگ وہاں سے بھاگ کر یہاں آگئے ہیں۔ پس ہماری یہ درخواست ہے کہ آپ ان کو ہمارے ساتھ واپس بھجوادیں۔‘‘ درباریوں نے ان کی تائید کی لیکن نجاشی نے جو ایک بیدار مغز حکمران تھا یکطرفہ فیصلہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’یہ لوگ میری پناہ میں آئے ہیں۔ پس جب تک مَیں خود ان کا اپنا بیان نہ سُن لوں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘ چنانچہ مسلمان مہاجرین دربار میں بلائے گئے اور اُن سے مخاطب ہو کر نجاشی نے پوچھا کہ: ’’یہ کیا معاملہ ہے اور یہ کیا دین ہے جو تم نے نکالا ہے؟‘‘ حضرت جعفر بن ابی طالب نے مسلمانوں کی طرف سے جواب دیا کہ ’’اے بادشاہ! ہم جاہل لوگ تھے۔ بُت پرستی کرتے تھے۔ مُردار کھاتے تھے۔ بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ قطع رحمی کرتے تھے۔ ہمسایوں سے بدمعاملگی کرتے تھے اور ہم میں سے مضبوط کمزور کا حق دبا لیتا تھا۔ اس حالت میں اﷲ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا جس کی نجابت اور صدق اور امانت کو ہم سب جانتے تھے۔ اُس نے ہم کو توحید سکھائی اور بُت پرستی سے روکا اور راست گفتاری اور امانت اور صلہ رحمی کا حکم دیا اور ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دی اور بدکاری اور جھوٹ اور یتیموں کا مال کھانے سے منع کیا اور خونریزی سے روکا اور ہم کو عبادتِ الٰہی کا حکم دیا۔ ہم اس پر ایمان لائے اور اس کی اِتباع کی۔ لیکن اس وجہ سے ہماری قوم ہم سے ناراض ہو گئی اور اُس نے ہم کو دکھوں اور مصیبتوں میں ڈالا اور ہم کو طرح طرح کے عذاب دیئے اور ہم کو اس دین سے جبراً روکنا چاہا۔ حتّٰی کہ ہم تنگ آکر اپنے وطن سے نِکل آئے اور آپ کے مُلک میں آکر پناہ لی۔ پس اے بادشاہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے ماتحت ہم پر ظلم نہ ہو گا۔‘‘ نجاشی اس تقریر سے بہت متاثر ہوا اور حضرت جعفر سے کہنے لگا کہ ’’جو کلام تم پر اُترا ہے وُہ مجھے سُناؤ۔‘‘ اس پر حضرت جعفر نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ سورۃ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر سُنائیں۔ یہ آیات سُن کر نجاشی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور اس نے رقّت کے لہجہ میں کہا: خُدا کی قسم یہ کلام اور ہمارے مسیح کا کلام ایک ہی منبعٔ نور کی کرنیں معلوم ہوتی ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر نجاشی نے قریش کے وفد سے کہا۔ ’’ تم واپس چلے جاؤ۔ مَیں ان لوگوں کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔‘‘ اور نجاشی نے ان کے تحفے بھی واپس کر دیئے۔
    لیکن قریش کے خونی سفیر اس طرح آسانی کے ساتھ خاموش نہیں کئے جاسکتے تھے۔ دوسرے دن عمرو بن العاص نے دربار میں پھر رسائی حاصل کی اور نجاشی سے عرض کیا کہ ’’حضور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ مسیح کے متعلق کیا کہتے ہیں؟‘‘ نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بُلا بھیجا۔ مسلمان فکر مند ہوئے کہ چونکہ ہم مسیح کے ابن اﷲ ہونے کے مُنکر ہیں اس لئے کہیں عمرو بن العاص کی یہ چال چل نہ جاوے۔ مگر یہ لوگ تلوار کے سایہ کے نیچے بھی حق بات کہنے سے رکنے والے نہ تھے؛ چنانچہ جب نجاشی نے پوچھا کہ ’’تم مسیح کے متعلق کیا اعتقاد رکھتے ہو؟‘‘ تو جعفر نے صاف عر ض کیا کہ ’’اے بادشاہ! ہمارے اعتقاد کی رُو سے مسیح اﷲ کا ایک بندہ ہے خدا نہیں ہے مگر وہ اس کا ایک بہت مقرب رسول ہے اور اس کے اُس کلام سے عالمِ ہستی میں آیا ہے جو اُس نے مریم پر ڈالا۔‘‘ نجاشی نے فرش پر سے ایک تِنکا اٹھایا اور کہا۔ ’’واﷲ جو تم نے بیان کیا ہے مَیں اس سے مسیح کو اس تِنکے کے برابر بھی بڑا نہیں سمجھتا۔ نجاشی کے اس کلام پر دربار کے پادری سخت بَرہم ہوئے مگر نجاشی نے ان کی کچھ پروا نہ کی اور قریش کا وفد بے نیلِ مرام واپس آگیا۔
    اس کے بعد مہاجرین حبشہ ایک عرصہ تک بڑے امن کے ساتھ حبشہ میں رہے لیکن اُن میں سے اکثر تو ہجرتِ یثرب کے قریب مکّہ میں واپس آگئے اور بعض حبشہ میں ہی مقیم رہے حتّٰی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جنگِ بدرؔ اور اُحدؔ اور احزابؔ تمام ہو چکیں تب یہ لوگ عرب میں واپس آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جنگِخیبر سے واپس آرہے تھے۔
    ابتداء میں جبکہ ابھی اکثر مہاجرین حبشہ میں ہی تھے نجاشی کو اپنے ایک حریف سے جنگ پیش آگئی۔ اس پر صحابہ نے باہم مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو ہمیں بھی نجاشی کی امداد کرنی چاہئے چنانچہ انہوں نے زبیر ابن العوام کو دریائے نیل کے پار میدانِ جنگ میں بھیجا کہ حالات سے اطلاع دیں اور پیچھے صحابہ خُدا سے دُعائیں کرتے رہے کہ نجاشی کو فتح ہو۔ چنانچہ چند دن کے بعد حضرت زبیر نے واپس آکر اطلاع دی کہ نجاشی نے خدا کے فضل سے فتح پائی ہے۔ ۱؎
    حضرت ابو بکر ؓکا ہجرت کے ارادے سے نِکلنا
    حدیث میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت آتی ہے کہ جب مُسلمان حبشہ کی طرف ہجرت
    کر گئے تو ایک دفعہ حضرت ابو بکر ؓبھی ہجرت کے ارادہ سے مکّہ سے نکلے مگر جب جنوب کی طرف جاتے ہوئے برک الغماد میں پہنچے تو وہاں اتفاقاً قبیلہ قارہؔ کے رئیس ابن الدغنہ سے ملاقات ہو گئی۔ ابن الدغنہؔ نے اس سفر کا سبب پوچھا تو حضرت ابو بکر ؓ نے جواب دیا کہ ’’میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، اس لیے مَیں نے اب ارادہ کیا ہے کہ اﷲ کی زمین میں کہیں نِکل جاؤں اور آزاد ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کروں۔‘‘ ابن الدغنہؔ نے کہا۔’’ تمہارے جیسے شخص کو تو نہ خود مکّہ سے نکلنا چاہئے اور نہ لوگوں کو چاہئے کہ اسے نکالیں … آؤ میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ واپس لَوٹ چلو اور مکّہ میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرو۔‘‘ چنانچہ ابو بکرؓ ان کے کہنے پر واپس چلے آئے۔ مکّہ پہنچ کر ابن الدغنہؔ نے رؤساء قریش کو ملامت کی اور کہا کہ: کیا تم ایسی ایسی نیک صفات والے شخص کو نکالتے ہو؟ ‘‘ اس کے بعد حضرت ابو بکر ؓ نے اپنے گھر کے صِحن میں ایک چھوٹی سی مسجد بنالی جس میں وہ نماز اور قرآن شریف پڑھا کرتے تھے اور چونکہ وہ نہایت رقیق القلب تھے۔ اس لیے جب وہ قرآن شریف پڑھتے تو بسا اوقات ساتھ ساتھ روتے بھی جاتے۔ قریش کی عورتیں اور بچے جو نسبتاً سادہ طبع اور تعصبات مذہبی سے آزاد تھے یہ نظارہ دیکھتے تو ان کے قلوب پر اس کا ایک خاص اثر ہوتا اور چونکہ ویسے بھی حضرت ابو بکر ؓ قریش میں بہت معزز تھے اس لیے ان کی یہ والہانہ عبادت لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرتی تھی۔ اس پر قریش نے ابن الدغنہ کے پاس شکایت کی کہ ابو بکر ؓ اونچی آواز سے قرآن پڑھتا ہے اور اس سے ہماری عورتیں اور بچے اور کمزور لوگ فتنہ میں پڑتے ہیں۔ لہٰذا تم اسے روک دو۔ اس نے حضرت ابو بکر ؓ کو روکنا چاہا۔ مگر اُنہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ : ’’مَیں یہ کام ہر گز نہیں چھوڑ سکتا۔ ہاں اگر تمہیں کوئی ڈر ہے تو مَیں تمہاری پناہ سے نِکلتا ہوں مجھے اپنے مولیٰ کی پناہ بس ہے۔‘‘ ۱؎ اس کے بعد قریش نے حضرت ابوبکرؓ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں مگر وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہے۔
    اسلام حمزہؓ
    ہجرتِ حبشہ کے متعلق سلسلہ واقعات کو ایک جگہ بیان کرنے کی وجہ سے ہم نے بعض درمیانی واقعات کا ذکر چھوڑ دیا تھا۔ وہ اب بیان کرتے ہیں۔ اب تک مسلمانوں کی ظاہری حالت
    نہایت کمزور تھی۔ کیونکہ مُسلمان ہونے والوں میں سے سوائے حضرت ابو بکر ؓ کے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو قریش میں کوئی اثر رکھتا ہو یا کم از کم جس سے قریش کچھ دَبتے ہوں مگر اب خدا کے فضل سے دو ایسے شخص اسلام میں داخل ہوئے جو اپنی وجاہت اور رعب کی وجہ سے اسلام کی ظاہری شان کو ایک حد تک مضبوط کرنے والے ثابت ہوئے۔ ہماری مراد حضرت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر ؓ بن الخطاب سے ہے جو دونوں ایک دُوسرے کے آگے پیچھے ۶ نبوی میں مسلمان ہوئے۔
    حمزہ ؓ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حقیقی چچا تھے اور اُن کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت محبت تھی، لیکن ابھی تک مشرک تھے۔ ان کا یہ معمول تھا کہ ہرروز صبح سویرے تیر کمان لے کر باہر نِکل جاتے تھے اور سارا دن شکار کھیلتے رہتے تھے۔ شام کو واپس آکر پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور پھر قریش کی ان مجلسوں میں دورہ لگاتے جو وہ صحنِ کعبہ میں دو دو چار چار کی ٹولیوں میں جما کر بیٹھا کرتے تھے اور یہاں سے فارغ ہونے کے بعد گھر جاتے تھے۔ ایک دن حمزہ اسی طرح شکار سے واپس آئے تو ایک خادمہ نے اُن سے کہا۔ ’’کیا آپ نے سُنا کہ ابھی ابھی ابو الحکم (یعنی ابو جہل) آپ کے بھتیجے کو سخت بُرا بھلا کہتا گیا ہے اور بہت گندی گندی گالیاں دی ہیں۔ مگر مُحمد نے سامنے سے کچھ جواب نہیں دیا۔ یہ سُن کر حمزہؔ کی آنکھوں میں خُون اُتر آیا اور خاندانی غیرت جوش زن ہوئی۔ فوراً کعبہ کی طرف گئے اور پہلے طواف کیا۔ طواف کرنے کے بعد اس مجلس کی طرف بڑھے جس میں ابوجہلؔ بیٹھا تھا اور جاتے ہی بڑے زور کے ساتھ ابو جہل کے سر پر اپنی کمان ماری اور کہا۔ ’’مَیں سُنتا ہوں کہ تو نے مُحمد کو گالیاں دی ہیں۔ سُن مَیں بھی محمد کے دین پر ہُوں اور مَیں بھی وہی کہتا ہوں جو وُہ کہتا ہے۔ پس اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔‘‘ ابو جہل کے ساتھی ابو جہل کی حمایت میں اُٹھے اور قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی مگر ابو جہل حمزہؔ کی دلیری اور جرأت کو دیکھ کر مرعوب ہو گیا اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ حمزہ حق بجانب ہے واقعی مُجھ سے زیادتی ہو گئی تھی اور اس طرح معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ ۱؎
    حمزہؔ جوش میں یہ الفاظ تو کہہ بیٹھے تھے کہ ’’مَیں بھی محمدؐ کے دین پر ہوں۔‘‘ لیکن جب گھر آئے اور غصّہ کم ہوا تو کچھ گھبرائے اور سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیئے آخردل نے یہی فیصلہ کیا کہ اب شِرک چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ ۲؎ یہ بعثت نبوی کے چھٹے سال کا واقعہ ہے جب کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ابھی دارارقم میں ہی مقیم تھے۔ ۳؎ حضرت حمزہ ؓ کے مُسلمان ہونے کی خوشی میں یا ویسے ہی اپنے اخلاص کے جوش میں مگر بہرحال اُسی دن جس دن حمزہ مُسلمان ہوئے حضرت ابوبکرؓ نے صحنِ کعبہ میں برملا توحید کا اعلان کیا۔ اس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور بعض دُوسرے مسلمان بھی وہاں موجود تھے۔ قریش نے حضرت ابوبکرؓ کی اس جسارت کو دیکھا تو جوش میں آکر اُن پر ٹوٹ پڑے اور اس بے دردی سے مارا کہ لکھا ہے کہ جب اُن کے قبیلہ کے لوگ انہیں اُٹھا کر اُن کے گھر لے گئے تو وہ بالکل بے ہوش تھے اور ضربات کی وجہ سے ان کا ناک مُنہ ایک ہو رہا تھا۔ جب انہیں ہوش آیا تو ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا کیا حال ہے اور جب تک آپؐ کی خیریت کی خبر نہیں سُنی حضرت ابوبکرؓ کو چین نہیں آیا۔ ۴؎
    اسلام عمر ؓ
    ابھی حضرت حمزہ ؓ کو اسلام لائے صرف چند دن ہی گذرے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے مُسلمانوں کو ایک اور خوشی کا موقع دکھایا یعنی حضرت عمر ؓ جو ابھی تک اشد مخالفین میں سے تھے مُسلمان
    ہوگئے۔ ان کے اسلام لانے کا قصّہ نہایت دلچسپ ہے۔ حضرت عمرؓ کی طبیعت میں سختی کا مادہ تو زیادہ تھا ہی مگر اسلام کی عداوت نے اسے دور بھی زیادہ کر دیا تھا، چنانچہ اسلام سے قبل عمرؓ غریب اور کمزور مُسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے بہت سخت تکلیف دیا کرتے تھے، لیکن جب وُہ انہیں تکلیف دیتے دیتے تھک گئے اور اُن کے واپس آنے کی کوئی صورت نہ دیکھی تو خیال آیا کہ کیوں نہ اس ’’فتنہ‘‘ کے بانی کا ہی کام تمام کر دیا جاوے۔ یہ خیال آنا تھا کہ تلوار لے کر گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش شروع کی۔ راستہ میں ایک شخص نے اُنہیں ننگی تلوار ہاتھ میں لیے جاتے دیکھا تو پُوچھا۔’’عُمر! کہاں جاتے ہو؟‘‘ عمر نے جواب دیا۔’’محمد کا کام تمام کرنے جاتا ہوں۔‘‘ اُس نے کہا ’’کیا تم محمد کو قتل کرکے بنو عبدمناف سے محفوظ رہ سکو گے؟‘‘ ذرا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی مُسلمان ہو چکے ہیں۔‘‘ حضرت عمرؓ جھٹ پلٹے اور اپنی بہن فاطمہ کے گھر کا راستہ لیا۔ جب گھر کے قریب پہنچے تو اندر سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آئی۔ جو خبابؔ بن الارت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سُنا رہے تھے۔ عمر نے یہ آواز سُنی تو غصّہ اور بھی بڑھ گیا۔ جلدی سے گھر میں داخل ہوئے لیکن ان کی آہٹ سنتے ہی خباب تو جھٹ کہیں چھُپ گئے اور فاطمہ نے قرآن شریف کے اوراق بھی اِدھر اُدھر چھُپا دیئے۔ ۱؎ حضرت عمرؓ اندر آئے تو للکار کر کہا! ’’میں نے سُنا ہے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو۔‘‘ یہ کہہ کر اپنے بہنوئی سعیدؔ بن زیدؔ سے لِپٹ گئے۔ فاطمہ اپنے خاوند کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو وہ بھی زخمی ہوئیں۔ مگر فاطمہ نے دلیری کے ساتھ کہا۔ ’’ہاں عمر! ہم مُسلمان ہو چکے ہیں اور تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو ہم اسلام کو نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘ حضرت عمرؓ نہایت سخت آدمی تھے لیکن اس سختی کے پَردہ کے نیچے محبت اور نرمی کی بھی ایک جھلک تھی جو بعض اوقات اپنا رنگ دکھاتی تھی۔ بہن کا یہ دلیرانہ کلام سُنا تو آنکھ اُوپر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا وُہ خُون میں تربہ تر تھی۔ اس نظّارہ کا عمرؓ کے قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ کچھ دیر خاموش رہ کر بہن سے کہنے لگے ’’مجھے وُہ کلام تو دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے؟‘‘ فاطمہ نے کہا ۔ ’’مَیں نہیں دکھاؤں گی کیونکہ تم ان اوراق کو ضائع کر دو گے۔‘‘ عمر ؓ نے جواب دیا۔ ’’نہیں نہیں تم مجھے دکھادو۔ مَیں ضرور واپس کر دوں گا۔‘‘ فاطمہ نے کہا۔ ’’مگر تم نجس ہو اور قرآن کو پاکیزگی کی حالت میں ہاتھ لگانا چاہیئے۔ پس تم پہلے غسل کر لو اور پھر دیکھنا۔‘‘ غالباً ان کا منشاء یہ بھی ہو گا کہ غسل کرنے سے عمرؔ کا غصّہ بالکل فرو ہو جائے گا اور وہ ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ جب عمرؔ غسل سے فارغ ہوئے تو فاطمہ نے قرآن کے اوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔ اُنہوں نے اُٹھا کر دیکھا تو سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات تھیں۔ حضرت عمرؓ نے ایک مرعوب دل کے ساتھ انہیں پڑھنا شروع کیا اور ایک ایک لفظ اس سعید فطرت کے اندر گھر کئے جاتا تھا۔ پڑھتے پڑھتے حضرت عمرؓ اس آیت پر پہنچے کہ:
    ۱؎
    یعنی مَیں ہی اس دُنیا کا واحد خالق و مالک ہُوں میرے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور میری ہی یاد کے لئے انپی دعاؤں کو وقف کر دو۔ دیکھو موعود گھڑی جلد آنے والی ہے مگر ہم اس کے وقت کو مخفی رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہر شخص اپنے کئے کا سچا سچا بدلہ پاسکے۔‘‘
    جب حضرت عمرؓ نے یہ آیت پڑھی تو گویا ان کی آنکھ کھل گئی اور سوئی ہوئی فطرت چونک کر بیدار ہو گئی بے اختیار ہو کر بولے۔’’ یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے‘‘!
    خبابؔ نے یہ الفاظ سُنے تو فوراً باہر نکل آئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور کہا۔’’یہ رسُول اﷲ کی دُعا کا نتیجہ ہے کیونکہ خدا کی قسم ابھی کل ہی مَیں نے آپؐ کو یہ دُعا کرتے سنا تھا کہ یا اﷲ تو عُمر ابن الخطاب یا عمرو بن ہشام (یعنی ابوجہل) میں سے کوئی ایک ضرور اسلام کو عطا کر دے۔‘‘ حضرت عمرؓ کو اب ایک ایک پل گراں تھی۔ خبابؔ سے کہا۔’’مجھے ابھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا راستہ بتاؤ۔‘‘ مگر کچھ ایسے آپے سے باہر ہو رہے تھے کہ تلوار اُسی طرح ننگی کھینچ رکھی تھی۔ اس زمانہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دارارقم میں مقیم تھے؛ چنانچہ خبابؓ نے انہیں وہاں کا پتہ بتادیا۔ عمرؔ گئے اور دروازہ پر پہنچ کر زور سے دستک دی۔ صحابہ نے دروازے کی دراڑ میں سے عمرؔ کو ننگی تلوار تھامے ہوئے دیکھ کر دروازہ کھولنے میں تأمل کیا۔ مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’دروازہ کھول دو۔‘‘ اور حضرت حمزہ ؓ نے بھی کہا۔ دروازہ کھول دو۔ اگر نیک ارادہ سے آیا ہے تو بہتر: ورنہ اگر نیّت بَد ہے تو واﷲ اسی کی تلوار سے اُس کا سَر اُڑادوں گا۔‘‘ دروازہ کھولا گیا۔ عمر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوئے۔ اُن کو دیکھ کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم آگے بڑھے اور عمر کا دامن پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور کہا: ’’عمرؔ کس ارادہ سے آئے ہو؟ واﷲ مَیں دیکھتا ہوں کہ تم خدا کے عذاب کے لئے نہیں بنائے گئے۔ ’’عمرؔ نے عرض کیا۔ ’’یارسول اﷲ! مَیں مسلمان ہونے آیا ہوں۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سُنے تو خوشی کے جوش میں اﷲ اکبر کہا اور ساتھ ہی صحابہ نے اس زور سے اﷲ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکّہ کی پہاڑیاں گونج اُٹھیں۔ ۱؎
    حضرت عمرؓ کی عمر اس وقت ۳۳سال کی تھی اور آپ اپنے قبیلہ بنو عدی کے رئیس تھے۔ قریش میں سفارت کا عہدہ بھی انہی کے سُپرد تھا اور ویسے بھی نہایت بارُعب اور جَری اور دلیر تھے۔ ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور اُنہوں نے دارارقم سے نکل کر بَرملا مسجدِ حرام میں نماز ادا کی۔ حضرت عمرؓ آخری صحابی تھے جو دارارقم میں ایمان لائے اور یہ بعثتِ نبوی کے چھٹے سال کے آخری ماہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت مکّہ میں مُسلمان مَردوں کی تعداد چالیس تھی۔ ۲؎
    جب حضرت عمرؓ کے اسلام کی خبر قریش میں پھیلی تو وہ سخت جوش میں آگئے اور اسی جوش کی حالت میں اُنہوں نے حضرت عمرؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت عمرؓ باہر نِکلے تو ان کے ارد گرد لوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جو شیلے لوگ اُن پر حملہ آور ہو جائیں لیکن حضرت عمرؓ بھی نہایت دلیری کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹے رہے۔ آخر اُسی حالت میں مکّہ کا رئیس اعظم عاصؔ بن وائل اُوپر سے آگیا اور اس ہجوم کو دیکھ کر اس نے اپنے سردارانہ انداز میں آگے بڑھ کر پوچھا۔ ’’یہ کیا معاملہ ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا۔’’عمرؔ صابی ہو گیا ہے۔‘‘ اُس نے موقع شناسی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ ’’تو خیر پھر بھی اس ہنگامہ کی ضرورت نہیں۔ مَیں عمرؔ کو پناہ دیتا ہوں۔‘‘ اس آواز کے سامنے عربی دستور کے مطابق لوگوں کو خاموش ہونا پڑا اور وُہ آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ چند دن تک امن میں رہے کیونکہ عاص بن وائل کی پناہ کی وجہ سے کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا تھا، لیکن اس حالت کو حضرت عمرؓ کی غیرت نے زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا؛ چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ انہوں نے عاصؔ بن وائل سے جاکر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ سے نکلتا ہوں۔ حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد مَیں مکّہ کی گلیوں میں بس پِٹتا پٹیتاہی رہتا تھا۔۲؎ مگر حضرت عمر ؓ نے کبھی کسی کے سامنے آنکھ نیچی نہیں کی۔
    حضرت عمر ؓ کے مسلمان ہونے کے قریب ہی ان کے صاحبزادے عبداﷲ بن عمر بھی مسلمان ہوئے۔ عبداﷲ اس وقت بالکل بچہ تھے مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اُنہوں نے بہت بڑا رُتبہ حاصل کیا اور اسلام کے چوٹی کے علماء میں سے سمجھے جانے لگے۔
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی قریش کے ایک وفد سے ملاقات
    جب قریش نے دیکھا کہ حضرت حمزہ ؓ اور
    حضرت عمرؓ جیسے ذی مقدرت لوگ بھی اسلام میں داخل ہوتے جاتے ہیں تو انہیں بہت فِکر دامنگیر ہوا اور اُنہوں نے باہم مشورہ کر کے پہلے تو عتبہ بن ربیعہ کو آپؐ کے پاس بھیجا تاکہ وہ کسی طرح آپؐ کو راضی کر کے اشاعتِ اسلام سے باز رکھنے کی کوشش کرے لیکن جب عتبہ کو اس مشن میں ناکامی ہوئی بلکہ قریش نے دیکھا کہ اُلٹا عتبہؔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے متاثر اور مرعوب ہو کر واپس آیا ہے۔ ۱؎ تو انہوں نے ایک دن کعبہ کے پاس جمع ہو کر باہم مشورہ کیا اور یہ تجویز کی کہ چند رؤسا اکٹھے ہو کر آپؐ کے ساتھ بات کریں؛ چنانچہ اس تجویز کے مطابق ولیدؔ بن مغیرہ اور عاصؔ بن وائل اور ابوجہلؔ اور امیّہؔ بن خلف اور عتبہؔ اور شیبہؔ اور ابوسفیانؔ اور اسودؔ بن مطلب اور نضرؔ بن حارث اور ابولبختریؔ وغیرہ صحن کعبہ میں مجلس جما کر بیٹھ گئے اور ایک آدمی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف پیغام دے کر روانہ کیا گیا کہ تمہاری قوم کے رؤساء تم سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ تم ذرا صحنِ کعبہ میں آکر اُن کی بات سُن جاؤ۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو ایسے موقعوں کی تلاش میں خود رہتے تھے، فوراً تشریف لے گئے اور رسمی علیک سلیک کے بعد قریش نے یوں گفتگو شروع کی کہ … ’’اے محمد! دیکھو تمہاری وجہ سے قوم میں کتنا اختلاف و انشقاق پیدا ہو رہا ہے۔تم نے اپنے آباؤ اجداد کے مذہب میں رخنہ ڈال کر اپنی قوم کے بزرگوں کو بُرا بھلا کہا۔ ان کے قابلِ تکریم معبودوں کو گالیاں دیں اور ان کے ذی عزّت بزرگوں کو لایعقل قرار دیا۔ اس سے بڑھ کر کسی قوم کی ہتک اور ذلّت کیا ہو سکتی ہے جو تم نے کی ہے اور کر رہے ہو۔ مگر ہم تمہارے معاملہ میں حیران ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ اگر تو تمہاری یہ ساری جِدّوجہد اس غرض سے ہے کہ تم اس ذریعہ سے مال جمع کر کے مالدار بن جاؤ تو ہم تمہیں اتنا مال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم ہم سب سے زیادہ دولتمند کہلاسکو۔ اگر جاہ و عزّت کی طلب ہے تو ہم تہیں اپنا سردار اور رئیس بنا لینے کے لئے تیار ہیں۔ اگر حکومت کی حِرص ہے تو ہمیں اس میں بھی تأمل نہیں کہ تمہیں اپنا بادشاہ قرار دے لیں اور اگر تمہارا یہ شورو شغب کسی بیماری یا آسیب کا نتیجہ ہے تو ہم اپنے پاس سے خرچ کر کے تمہارے علاج کا انتظام کر سکتے ہیں اور اگر تم کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کر کے خوش ہو سکتے ہو تو تمہیں عرب کی بہترین لڑکی تلاش کر کے پیش کیے دیتے ہیں۔‘‘
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہایت خاموشی کے ساتھ رؤسائے قریش کی اس تقریر کو سُنا اور جب وہ اپنی بات ختم کر چکے تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے معشرِقریش! مجھے ان چیزوں میں سے کسی کی تمنا نہیں ہے اور نہ مجھے کوئی آسیب یا بیماری لاحق ہے۔ مَیں تو خُدا کی طرف سے ایک رسول ہوں اور خدا کا یہ پیغام لے کر تمہاری طرف آیا ہوں اور میرا دل تمہاری ہمدردی سے معمور ہے۔ اگر تم میری بات سنو اور مانو تو دین و دُنیا میں تمہارا فائدہ ہے اور اگر تم اسے رَدّ کر دو تو مَیں اس صورت میں صبر و تحمل کے ساتھ اپنے ربّ کے فیصلہ کا انتظار کروں گا۔‘‘ قریش نے کہا۔ ’’تو اے محمد! گویا تم ہماری اس تجویز کو منظور نہیں کرتے۔ اچھا! اگر تم نے اپنی رسالت ہی منوانی ہے تو آؤ اسی کے متعلق فیصلہ کر لو۔ تم دیکھتے ہو کہ ہمارا یہ ملک کس قدر بے آب و گیاہ ہے اور خشک پتھروں اور چٹانوں یا ریت کے بے پناہ تودوں کے سوا یہاں کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر تم واقعی خدا کے رسُول ہو تو اپنے خدا سے کہہ کر اس ملک میں بھی شام و عراق کی طرح نہریں جاری کرو ا دو اور ان پہاڑوں کو اڑا کر زرخیز میدان بنوا دو۔ پھر ہم ضرور تمہاری رسالت کے قائل ہو جائیں گے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’مَیں تو خدا کی طرف سے ایک پیغامبر ہوں اور میرا کام صرف یہ ہے کہ تمہیں حق و باطل کا راستہ دکھادوں اور تمہارے نفع نقصان کی بات تمہیں سمجھا دوں۔ ہاں مَیں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر خدا کی آواز پر لبیک کہو گے تو خدا اپنے وقت پر ضرور تمہیں دین و دُنیا کے انعامات کا وارث بنائے گا۔‘‘ قریش نے کہا اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم تمہارے ساتھ خدا کا کوئی فرشتہ ہی اُترتا نظر آتا اور محلّات میں تمہارا بسیرا ہوتا اور تمہارے ہاتھ میں سونے چاندی کے ڈھیر ہوتے مگر ان میں سے کوئی چیز بھی تو تمہیں میسّر نہیں ہے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہماری طرح بازاروں میں پھرتے اور ہماری طرح اپنی روزی کے متلاشی ہوتے ہو۔ پھر وہ کونسی علامت ہے جس سے ہم تمہیں خدا کا بھیجا ہوا سمجھ لیں۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’مَیں ان باتوں کا اس رنگ میں مدّعی نہیں ہوں جو تم ڈھونڈتے ہو۔ ہاں یہ مَیں نے کہا ہے اور پھر کہتا ہوں کہ اگر تم مجھے مانو گے تو خدائی سُنت کے مطابق دین و دُنیا کی حسنات سے ضرور حِصّہ پاؤ گے۔‘‘ قریش نے بگڑ کر کہا کہ ’’اگر یہ بھی نہیں تو پھر وہ عذاب ہی لاؤ، جس کا تُم وعدہ دیتے ہو۔ آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر آگرے۔ یا فرشتوں کی کوئی فوج ہی خدائی جھنڈے کے نیچے ہمارے سامنے آدھمکے۔ خدا کی قسم ہمیں تو اب بس یہی نظر آرہا ہے کہ یا ہم زندہ رہیں گے یا تو رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے غصّہ کو دباتے ہوئے خاموش ہو گئے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ایک مغموم دل کے ساتھ وہاں سے اُٹھ کر واپس تشریف لے آئے۔ جب آپ واپس چلے آئے تو ابوجہل نہایت غضبناک ہو کر بولا کہ ’’اے معشرِ قریش! تم نے دیکھ لیا کہ محمد نے تمہاری ساری باتوں کو ٹھکرا دیا ہے اور وہ اپنی اس فتنہ انگیزی سے کبھی باز نہیں آئے گا۔ اب واﷲ مَیں بھی اس وقت تک چَین نہیں لوں گا کہ جب تک محمد کا سر کچل کر نہ رکھ دُوں اور پھر بنوعبدمناف میرے ساتھ جو کرنا چاہیں کر گذریں۔‘‘ بنو عبدمناف کے جو لوگ وہاں موجود تھے اور وہ وہی تھے جو بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ماسوا تھے۔ ان سب نے بیک آواز کہا۔ ’’ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تم محمد کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو بے شک کرو۔‘‘ دُوسرے دن ابو جہل ایک بڑا سا پتھر لے کر صحنِ کعبہ کے ایک طرف کھڑا ہو گیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔ مگر جب آپؐ تشریف لائے تو اس کے دل پر کچھ ایسا رُعب طاری ہوا کہ وہیں بُت بن کر کھڑا رہا اور آگے بڑھ کر وار کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔ ۱؎
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا خدا داد رُعب
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے ابو جہل کے مرعوب ہونے کے متعلق ایک اور روایت بھی
    آتی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ خدائی سنّت اسی طرح پر ہے کہ جو لوگ خدا کے مرسلین کے سامنے زیادہ بیباک ہوتے ہیں عموماً انہیں پر خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کا رعب زیادہ مسلّط کرتا ہے؛ چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ اراشہؔ نامی شخص مکہ میں کچھ اونٹ بیچنے آیا اور ابو جہل نے اُس سے یہ اُونٹ خریدلیے مگر اُونٹوں پر قبضہ کر لینے کے بعد قیمت ادا کرنے میں حیل و حجت کرنے لگا۔ اس پر اراشہؔ جو مکّہ میں ایک اجنبی اور بے یارومددگار تھا بہت پریشان ہوا اور چند دن تک ابو جہل کی منّت و سماجت کرنے کے بعد وہ آخر ایک دن جبکہ بعض رؤسا قریش کعبۃ اﷲ کے پاس مجلس جمائے بیٹھے تھے، ان لوگوں کے پاس گیا اور کہنے لگا اے معززین قریش آپ میں سے ایک شخص ابوالحکم نے میرے اُونٹوں کی قیمت دبارکھی ہے آپ مہربانی کرکے مجھے یہ قیمت دلوادیں۔ قریش کو شرارت جو سوجھی تو کہنے لگے ایک شخص یہاں محمد بن عبداﷲ نامی رہتا ہے تم اس کے پاس جاؤ۔ وہ تمہیں قیمت دلا دے گا اور اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو بہرحال انکار ہی کریں گے اور اس طرح باہر کے لوگوں میں آپؐ کی سُبکی اور ہنسی ہوگی۔جب اراشہؔ وہاں سے لوٹا تو قریش نے اس کے پیچھے پیچھے ایک آدمی کر دیا کہ دیکھو کیا تماشا بنتا ہے؛ چنانچہ اراشہؔ اپنی سادگی میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مَیں ایک مسافر آدمی ہُوں اور آپ کے شہر کے ایک رئیس ابوالحکمؔ نے میری رقم دبا رکھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ مجھے یہ رقم دلوا سکتے ہیں۔ پس آپ مہربانی کر کے مجھے میری رقم دلوا دیں۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے کہ چلو مَیں تمہارے ساتھ چلتا ہوں؛ چنانچہ آپؐ اُسے لے کر ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازہ پر دستک دی۔ ابوجہل باہر آیا تو آپؐ کو دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گیا اور خاموشی کے ساتھ آپؐ کا مُنہ دیکھنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’’یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پیسے آپ کی طرف نکلتے ہیں۔ یہ ایک مسافر ہے آپ اس کا حق کیوں نہیں دیتے؟‘‘ اس وقت ابوجہل کا رنگ فق ہو رہا تھا۔ کہنے لگا۔ ’’محمد ٹھہرو! مَیں ابھی اس کی رقم لاتا ہوں۔‘‘ چنانچہ وہ اندر گیا اور اراشہؔ کی رقم لاکر اسی وقت اس کے حوالے کر دی۔ اراشہؔ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بہت شکریہ ادا کیا اور واپس آکر قریش کی اسی مجلس میں پھر گیا اور وہاں جاکر ان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے مجھے ایک بہت ہی اچھے آدمی کا پتہ بتایا۔ خُدا اُسے جزاء خیر دے اُس نے اُسی وقت میری رقم دِلادی۔ رؤساء قریش کے مُنہ میں زبان بند تھی اور وہ ایک دوسرے کی طرف حیران ہو کر دیکھ رہے تھے۔ جب اراشہؔ چلا گیا تو انہوں نے اس آدمی سے دریافت کیا جو اراشہؔ کے پیچھے پیچھے ابوجہل کے مکان تک گیا تھا کہ کیا قصّہ ہوا ہے۔ اُس نے کہا۔ واﷲ ! ’’مَیں نے تو ایک عجیب نظّارہ دیکھا ہے اور وہ یہ کہ جب محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے جاکر ابوالحکم کے دروازہ پر دستک دی اور ابو الحکم نے باہر آکر محمد کو دیکھا تو اسوقت اس کی حالت ایسی تھی کہ گویا ایک قالب بے رُوح ہے اور جونہی کہ اسے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے کہا کہ اس کی رقم ادا کر دو، اُسی وقت اُس نے اندر سے پائی پائی لاکر سامنے رکھ دی۔‘‘ تھوڑی دیر کے بعد ابوجہل بھی اس مجلس میں آپہنچا۔ اسے دیکھتے ہی سب لوگ اس کے پیچھے ہو لیے کہ اے ابو الحکم تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ محمد سے اس قدر ڈر گئے۔ اُس نے کہا۔ خُدا کی قسم! جب مَیں نے محمد کو اپنے دروازے پر دیکھا، تو مجھے یوں نظر آیا کہ اُس کے ساتھ لگا ہوا ایک مَست اور غضبناک اُونٹ کھڑا ہے اور مَیں سمجھتا تھا کہ اگر ذرا بھی چون و چرا کروں گا تو وہ مجھے چبا جائے گا۔ ۱؎
    ایک عیسائی غلام سے تعلیم حاصل کرنے کا الزام
    جو الزامات قریش مکّہ کی طرف سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف
    لگائے جاتے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپؐ بعض عیسائیوں سے باتیں سیکھتے ہیں اور پھر انہیں اپنا رنگ دے کر اپنی تعلیم کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں خاص طور پر ایک جبرؔ نامی عیسائی کا نام لیا جاتا تھا جو مکّہ کے ایک مشرک رئیس ابن حضرمی کا غلام تھا۔ یہ شخص چونکہ عیسائی تھا اور عیسائیت کی تعلیم بُت پرستی کی نسبت اسلام کے زیادہ قریب تھی اور مکّہ کے مناظر میں جبرؔ کو شِرک اور بُت پرستی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا، اس لیے وہ کبھی کبھی اپنے مذہبی شوق میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملتا رہتا تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اس کے شوق کو دیکھ کر کبھی کبھی اس کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرماتے تھے۔ قریش نے یہ نظارہ دیکھا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی غرض سے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ’’محمد تو جبرؔ سے تعلیم حاصل کرتا ہے۔‘‘ ۱؎ اسلام اور مسیحیت کی تعلیم کے اختلاف اور جبرؔ کی علمی حیثیت کو دیکھتے ہوئے یہ ایک نہایت فضول اور لغو اعتراض تھا، مگر قریش کو تو صرف اعتراض کی ضرورت تھی۔ معقول یا غیرمعقول ہونے سے سروکار نہ تھا۔ اس لیے وُہ بڑے شوق سے اس اعتراض کو دوہراتے رہے۔ قرآن شریف نے اس اعتراض کا خوب جواب دیا ہے کہ جس شخص کی طرف تم محمد رسول اﷲ کی تعلیم کو منسوب کرتے ہو اس کی زبان تو ظاہری اور معنوی ہر دو رنگ میں گنگ ہے، پھر وُہ قرآن جیسی کتاب میں محمد رسول اﷲ کا استاد کس طرح ہو سکتا ہے۔ ۲؎ یعنی یہ شخص غیر عربی ہونے کی وجہ سے اس فصیح اور بلیغ عربی کلام کا معلّم کس طرح سمجھا جاسکتا ہے جو قرآن شریف میں استعمال ہوا ہے اور دُوسری طرف معنوی رنگ میں اس شخص کی جہالت معارفِ قرآنی کا سرچشمہ کس طرح قرار دی جاسکتی ہے۔
    قرآنی آیات محولہ بالا میں جو عجمی یعنی غیر عربی کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ تک ابھی اناجیل کا عربی ترجمہ نہیں ہوا تھا۔۳؎ اس لیے اگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو جبرؔ اناجیل کے کوئی حصّے سُناتا ہو گا تو وہ لازماً عبرانی یا یونانی میں ہوں گے ۔ پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم انہیں کس طرح سمجھتے اور کس طرح عربی کے قالب میں ڈھالتے ہوں گے۔
    بعض روایتوں میں جبرؔ کے سوا بعض اور لوگوں کے نام بھی اس تعلّق میں بیان ہوئے ہیں جن کے متعلق قریش اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو سکھاتے ہیں۔ مگر لطیفہ یہ ہے کہ یہ سب لوگ غلاموں کے طبقہ میں سے تھے ۔۴؎ بہرحال قریشِ مکّہ نے کچھ دن اس اعتراض کو شہرت دے کر بھی اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر جو آگ نہ بجھنے والی تھی وہ کیسے بجھتی؟
    اَبتر ہونے کا الزام
    انہی ایّام میں بعض قریش نے یہ کہہ کر بھی اپنے دل کو تسلّی دینے کی کوشش کی کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) تو لاوارث اور بے نسل ہے۔ چند دن تک اس کا سِلسِلہ
    خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس پر یہ وحی نازل ہوئی کہ:
    ۱؎
    یعنی ’’اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ! ہم نے تیری نسل اور تیری برکات و فیض کے سلسلہ کو بہت لمبا بنایا ہے۔ پس تو خدا کے لیے اپنے نفس کی طاقتوں اور اپنی نسل و اموال کو بیشک بے دریغ خرچ کر۔ کیونکہ یہ خزانہ ختم ہونے والا نہیں ہے؛ البتّہ تیرے بدخواہ دشمنوں کے سارے سِلسلے مٹا دیئے جائیں گے۔‘‘
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے جس شاندار اور آپؐ کے معاندین کے لیے جس ہیبت ناک طریق پر آپؐ کا یہ الہام پورا ہوا ہے وہ تاریخ کا ایک کھلا وَرق ہے جسے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔ انہی اعتراض کرنے والوں کی اولاد نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو کر اس بات پر مہر لگا دی کہ نہ صرف قریش بلکہ تمام قبائلِ عرب میں سے اگر کسی شخص کی نسل حقیقتاً قائم رہی ہے تو وہ صرف محمد رسول اﷲ ہیں۔
    قریش کی طرف سے مصالحت کی تجویز
    جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ان ایّام میں قریش سخت پیچ و تاب کھا رہے تھے اور ہر شخص اس سوچ میں پڑا ہوا
    تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ اس ادھیڑ بُن میں ایک دن روسائے قریش میں سے ولیدؔ بن مغیرہ اور عاصؔ بن وائل اور اُمیّہ بن خلف وغیرہ آپس میں بات کر کے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہنے لگے۔ ’اے محمد! یہ اختلاف تو بہت بڑھتا جاتا ہے اور ہمارا قومی شیرازہ بکھر رہا ہے۔ کیا کوئی باہم مصالحت کی تدبیر نہیں ہو سکتی‘‘؟ آپؐ نے دریافت فرمایا۔ ’’وہ کیسے؟‘ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اور تم اپنی عبادت کو مشترک کر لیتے ہیں۔ یعنی تم اپنے خُدا کے ساتھ ہمارے بتوں کو بھی پُوج لیا کرو اور ہم اپنے بتوں کی عبادت میں تمہارے خُدا کو بھی شریک کر لیا کریں گے۔ اس طرح مصالحت سے ایک یہ فائدہ بھی ہو گا کہ ہم میں سے جو فریق حق اور راستی پر ہے اس کا فائدہ دُوسرے کو بھی پہنچتا رہے گا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا۔ ذرا غور تو کرو یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ مَیں اپنے خُدا کو مانتے ہوئے تمہارے بتوں کو کس طرح پوج سکتا ہوں اور تم بُت پرستی پر قائم رہتے ہوئے میرے خُدا کی پرستش کس طرح کر سکتے ہو؟ یہ دونوں باتیں تو ایک دُسرے کے اس قدر مخالف اور متضاد واقع ہوئی ہیںکہ کسی طرح ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں؛۱؎ چنانچہ انہی ایّام میں قرآن شریف کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ:
    ۲؎
    ’’یعنی اے کفّار کے گروہ! جن بتوں کو تم پُوجتے ہو مَیں انہیں قابل پرستش نہیں سمجھتا۔ اور نہ تم اپنے بتوں کو پُوجتے ہوئے میرے خدا کی پرستش کر سکتے ہو۔ پس یہ نا ممکن ہے کہ مَیں کبھی تمہارے بتوں کی پرستش کروں جس طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ تم اپنے بتوں پر ایمان لاتے ہوئے میرے واحدہٗ لاشریک خُدا کے سامنے جھکو۔ میرا دین اور ہے اور تمہارا دین اور ہے اور یہ دونوں کبھی بھی ایک جگہ مِل نہیں سکتے۔‘‘
    اس جواب سے قریش نے سمجھ لیا کہ ان کے اس ہوائی قلعہ کے کوئی پاؤں نہیں ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف قریش کا معاہدہ اور مسلمانوں کا بائیکاٹ
    قریش کو ان کی اُوپر تلے کی ناکامی نے سخت
    مشتعل کر دیا تھا۔ سب سے اوّل ابوطالب کے معاملہ میں اُنہیں ذلّت کا مُنہ دیکھنا پڑا اور وہ بنو ہاشم کو مُسلمانوں سے جُدا نہ کر سکے۔ اس کے بعد اُنہوں نے مُسلمانوں کو ہر طرح کے مصائب و آلام میں مبتلا کرکے دیکھ لیا کہ یہ چٹان اپنی جگہ سے ہلنے والی نہیں ہے۔ بعدہٗ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے اسلام نے ان کی آنکھیں اس حقیقت کے دیکھنے کے لیے کھول دیں کہ شروع شروع میں مخالف رہنے کے بعد بھی ان کے بڑے سے بڑے لوگ اسلام کی رَو میں بہہ جانے سے محفوظ نہیں ہیں۔ زاں بعد حبشہ کا وفد نجاشی کے دربار سے خائب و خاسر ہو کر لوٹا اور قریش کو اس معاملہ میں سخت ذلّت نصیب ہوئی اور اب اُنہوں نے خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ سلسلہ جنبانی کر کے ایسی مُنہ کی کھائی کہ بایٔد و شایٔد ۔ اِن پے در پے ناکامیوں اور ذلتوں نے قریش کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی؛ چنانچہ اُنہوں نے ایک عملی اقدام کے طور پر باہم مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور تمام افراد بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات قطع کر دیئے جاویں اور اگر وُہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت سے دستبردار نہ ہوں تو ان کو ایک جگہ محصور کر کے تباہ کر دیا جاوے؛ چنانچہ محرّم ۷ نبوی میں ۱؎ ایک باقاعدہ معاہدہ لکھا گیا کہ کوئی شخص خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب سے رشتہ نہیں کرے گا اور نہ ان کے پاس کوئی چیز فروخت کرے گا۔ نہ اُن سے کچھ خریدے گا اور نہ اُن کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دے گا اور نہ اُن سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا۔ جب تک کہ وہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے الگ ہو کر آپ کو ان کے حوالے نہ کر دیں۔ ۲؎ یہ معاہدہ جس میں قریش کے ساتھ قبائل بنو کنانہ بھی شامل تھے۔ ۳؎ باقاعدہ لکھا گیا اور تمام بڑے بڑے رؤساء کے اُس پر دستخط ہوئے اور پھر وہ ایک اہم قومی عہد نامہ کے طور پر کعبہ کی دیوار کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا؛ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور تمام بنو ہاشم اور بنو مطلب کیا مسلم اور کیا کافر (سوائے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا ابو لہب کے جس نے اپنی عداوت کے جوش میں قریش کا ساتھ دیا ) شعب ابی طالب میں جو ایک پہاڑی دَرَہ کی صورت میں تھا، محصور ہو گئے اور اس طرح گویا قریش کے دو بڑے قبیلے مکّہ کی تمدّنی زندگی سے عملاً بالکل منقطع ہو گئے اور شعبِ ابی طالب میں جو گویا بنو ہاشم کا خاندانی دَرہ تھا قیدیوں کی طرح نظر بند کر دیئے گئے۔ ۴؎ چند گنتی کے دُوسرے مُسلمان جو اس وقت مکّہ میں موجود تھے وہ بھی آپؐ کے ساتھ تھے۔
    جو جو مصائب اور سختیاں ان ایّام میں ان محصورین کو اُٹھانی پڑیں اُن کا حال پڑھ کر بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ صحابہ کا بیان ہے کہ بعض اوقات اُنہوں نے جانوروں کی طرح جنگلی درختوں کے پتّے کھا کھا کر گذارہ کیا۔ ۵؎ سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت ان کا پاؤں کسی ایسی چیز پر جا پڑا جو تر اور نرم معلوم ہوئی تھی (غالباً کوئی کھجور کا ٹکڑا ہو گا)۔ اس وقت ان کی بھوک کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے فوراً اُسے اٹھا کر نِگل لیا اور وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آج تک پتہ نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ ایک دوسرے موقع پر بھوک کی وجہ سے ان کا یہ حال تھا کہ اُنہیں ایک سو کھا ہوا چمڑا زمین پر پڑا ہوا مِل گیا تو اُسی کو اُنہوں نے پانی میں نرم اور صاف کیا اور پھر بھُون کر کھا یا اور تین دن اسی غیبی ضیافت میں بسر کئے۔ ۶؎ بچوں کی یہ حالت تھی کہ محلّہ سے باہر ان کے رونے اور چلّانے کی آواز جاتی تھی جسے سُن سُن کر قریش خوش ہوتے ۔ ۷؎ لیکن مخالفین اسلام سب ایک سے نہ تھے۔ بعض یہ درد ناک نظارے دیکھتے تھے تو ان کے دل میں رحم پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ حکیم بن حزام کبھی کبھی اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کے لیے خفیہ خفیہ کھانا لے جاتے تھے۔ مگر ایک دفعہ ابو جہل کو کسی طرح اس کا عِلم ہو گیا تو اس کمبخت نے راستہ میں بڑی سختی کے ساتھ روکا اور باہم ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی۔ ۱؎ یہ مصیبت برا بر اڑھائی تین سال تک جاری رہی اور اس عرصہ میں مُسلمان سوائے حج وغیرہ کے موسم کے جب کہ اشہر حرم کی وجہ سے امن ہوتا تھا باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ۲؎
    اس ظلم سے مُسلمانوں کی رہائی
    جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے قریش میں بعض نرم دل اور شریف مزاج لوگ بھی تھے۔ یہ لوگ ان مظالم کو دیکھتے تو دل میں
    کُڑھتے مگر قوم کے متفقہ فیصلہ کے مقابلہ کی تاب نہ رکھتے تھے، اس لیے دل، ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر رہ جاتے آخر خُدا کی طرف سے ایسا سامان پیدا ہو گیا کہ انہیں اس معاملہ میں جرأت کے ساتھ قدم اُٹھانے کی ہمت پڑ گئی۔ اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ جب اس بائیکاٹ پر قریباً تین سال کا عرصہ گذر گیا، تو ایک دن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا کہ مجھے خُدا نے بتایا ہے کہ ہمارے خلاف جو معاہدہ لکھا گیا تھا اس میں سوائے خدا کے نام کے ساری تحریر مِٹ چکی ہے اور کاغذ کھایا جاچکا ہے۔ ابو طالب فوراً اٹھ کر خانہ کعبہ میں پہنچے جہاں بہت سے رؤسائے قریش مجلس لگائے بیٹھے تھے اور ان کو مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ تمہارا یہ ظالمانہ معاہدہ کب تک چلے گا۔ میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے کہ خدا نے اس معاہدہ کی ساری تحریر سوائے اپنے نام کے محو کر دی ہے۔ ۳؎ تم ذرا یہ معاہدہ نکالو تاکہ دیکھیں کہ میرے بھتیجے کی یہ بات کہاں تک دُرست ہے بعض دُوسرے لوگوں نے کہا کہ ہاں ہاں! ضرور دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ معاہدہ منگا کر دیکھا گیا تو واقعی وہ سب کِرم خوردہ ہو چکا تھا اور سوائے شروع میں خُدا کے نام کے کوئی لفظ پڑھا نہیں جاتا تھا۔ اس پر بعض قریش تو اور بھی زیادہ چمک اُٹھے لیکن وہ جن کے دل میں پہلے سے انصاف اور رحم اور قرابت داری کے جذبات پیدا ہو رہے تھے ان کو اس معاہدہ کے خلاف آواز اٹھانے کا ایک عمدہ موقع ہاتھ آگیا۔ ۴؎ چنانچہ رؤسائے قریش میں سے ہشامؔ بن عمرو۔زہیرؔ بن ابی امیّہ ۔ مطعمؔ بن عدی۔ ابوؔالبختری اورزمعہؔ بن اسود نے باہم مل کر یہ تجویز کی کہ اس ظالمانہ اور قطع رحمی کرنے والے معاہدہ کو اب ختم کر دینا چاہئے۔ یہ تجویز کر کے یہ لوگ دوسرے رؤسائِ قریش کی مجلس میں گئے اور ان میں سے ایک نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا ’’اے قریش کیا یہ مناسب ہے کہ تم تو مزے کے ساتھ زندگی بسر کرو اور تمہارے بھائی اس طرح مصیبت میں دن کاٹیں۔ یہ معاہدہ ظالمانہ ہے اسے اب منسوخ کر دینا چاہیئے۔‘‘اس کے دُوسرے ساتھیوں نے اس کی تائید کی۔ لیکن ابو جہل بولا: ’’ہر گز نہیں یہ معاہدہ قائم رہے گا اسے کوئی شحص ہاتھ نہیں لگا سکتا۔‘‘ کِسی نے جواب دیا۔ ’’نہیں اب یہ قائم نہیں رہ سکتا۔ جب یہ لکھا گیا تھا اس وقت بھی ہم راضی نہ تھے۔‘‘ اسی حیل و حجت میں مطعم بن عدی نے ہاتھ بڑھا کر یہ بوسیدہ دستاویز چاک کر دی اور ابو جہل اور اس کے ساتھی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔
    صحیفہ چاک کرنے کے بعد یہ لوگ ہتھیار لگا کر شعبِ ابی طالب کے دروازہ پر گئے اور تلواروں کے سایہ کے نیچے محصورین کو باہر نکال لائے۔ یہ واقعہ بعثتِ نبوی کے دسویں سال کا ہے۔ ۱؎ گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اڑھائی تین سال تک محصور رہے کیونکہ جیسا کہ اُوپر بیان ہوا ہے۔ آپؐ بعثت کے ساتویں سال ماہ محرم میں محصور ہوئے تھے۔
    شق القمر کا معجزہ
    غالباً ابھی آپؐ شعب ابی طالب میں ہی تھے کہ شق القمر کا مشہور معجزہ ظاہر ہوا یعنی بعض کفارِ مکّہ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ طلب کیا اور آپؐ نے
    اُنہیں چاند کے دو ٹکڑے ہو جانے کا معجزہ دکھایا۔ اس واقعہ کا قرآن شریف میں اس طرح ذکر آتا ہے:
    ۲؎
    ’’موعود گھڑی قریب آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا۔ اگر یہ لوگ کوئی نشان دیکھیں تو مُنہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک جادُو ہے اور ایسا جادو ہوتا ہی چلا آیا ہے۔ اُنہوں نے ہمارے رسول کی تکذیب کی اور اپنی حرص و آز کے پیچھے پڑے رہے؛ حالانکہ ہر بات کا وقت مقرر ہوتا ہے ۔ بہرحال ہم نے انہیں ایک ایسی خبر پہنچا دی ہے جس میں ان کے لیے ایک تنبیہہ اور بیداری کا سامان موجود ہے۔‘‘
    اور حدیث میں اس معجزہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے:
    اِنَّ اَھْلَ مَکَّۃَ سَأَ لُوْا رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ اَنْ یُّرِیَھُمْ اٰیَۃً فَاَرَاھُمْ الْقَمَرَ شَقَّتَیْنِ حَتّٰی رَأَوْ حَرَا أَبَیْنَھُمَا۔۱؎
    ’’یعنی کفّارِ مکّہ نے آپؐ سے کوئی معجزہ طلب کیا جس پر آپؐ نے انہیں چاند کو دو ٹکڑوں میں دکھایا۔ حتّٰی کہ انہیں چاند کا ایک ٹکڑا حراء پہاڑی کے ایک طرف نظر آتا تھا اور دُوسرا دُوسری طرف۔‘‘
    اور ایک دُوسری روایت میں جو عبداﷲ بن مسعود سے مروی ہے یہ الفاظ ہیں:
    اِنْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِیّ ﷺ بِمَنیٰ فَقَالَ اشْھِدُوْا … فِرْ قَۃٌ فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْ قَۃٌ دُوْنَہٗ۔ ۲؎
    ’’یعنی ہم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ جس پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اور گواہ رہو۔ ایک ٹکڑا پہاڑی کے اُوپر کی جانب تھا اور دُوسرا نیچے کی طرف۔‘‘
    اس کے علاوہ حدیث اور کتبِ سیرۃ میں شق القمر کے متعلق اور بھی بہت سی روایات ہیں جن میں بعض مزید تفصیلات بھی دی گئی ہیں مگر زیادہ معتبر روایات وہی ہیں جو اُوپر دَرج کر دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں چونکہ ہمیں اس جگہ اس مسئلے کے متعلق مناظرانہ رنگ میں کوئی بحث کرنا مقصود نہیں اس لیے اس موقع پر صرف مندرجہ بالا روایات کا اندراج کافی ہے؛ البتہ ایک مختصر تشریحی نوٹ اس بات کے متعلق درج کرنا ضروری ہے کہ اس معجزہ کی حقیقت کیا تھی۔ آیا واقعی چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا یا یہ کہ صرف دیکھنے والوں کی نظروں پر ایسا تصرّف ہوا کہ چاند انہیں دو ٹکڑوں میں نظر آیا۔ نیز یہ کہ اس معجزہ کی غرض و غایت کیا تھی؟
    سو اس کے متعلق جاننا چاہیئے کہ گو خدا کی قدرت کے آگے کوئی بات بھی اَنہونی نہیں اور جو شخص یہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ سارا عالم خُدا کے دستِ قدرت سے عالمِ وجود میں آیا ہے وہ اس بات کے ماننے میں ایک لمحہ کے لیے بھی تأمل نہیں کر سکتا کہ اگر خدا چاہے تو اپنے ایک اشارہ سے اس کے سارے تارو پود کو ملیامیٹ کر کے رکھ دے مگر جہاں تک واقعہ کا تعلق ہے ثابت شدہ بات یہی ہے کہ چاند حقیقتاً دو ٹکڑے نہیں ہوا بلکہ خدائی تصرّف کے ماتحت صرف دیکھنے والوں کو دو ٹکڑوں میں نظر آیا تھا اور یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں کیونکہ جب کہ ایک مشّاق انسان اپنی قوت ارادی یعنی ہپنوٹزم کے زور سے دوسروں کو ایک مرئی چیز اپنی غیر اصلی صور ت میں دکھا سکتا ہے تو خدا کی قدرت اور اس کے رسول کی رُوحانی طاقت کے آگے تو یہ بات کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی کہ اس وقت دیکھنے والوں کی آنکھوں پر ایسا تصرّف ہوا ہو کہ انہیں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹتا نظر آیا ہو۔ بہرحال ہمارے نزدیک اصل حقیقت یہی ہے کہ چاند حقیقۃً دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا بلکہ صرف دیکھنے والوں کو دو ٹکڑوں میں نظر آیا تھا اور اگر غور کیا جاوے تو حدیث کے الفاظ بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک تصرّفِ الٰہی تھا جو دیکھنے والوں کی نظروں پر کیا گیا اور اکثر محققین نے اسی تشریح کو صحیح قرار دیا ہے لیکن اگر بالفرض اس معجزہ کو اس کی ظاہری صورت میں بھی قبول کیا جائے تو پھر بھی ہر گز جائے اعتراض نہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی قُدرتیں لامحدود ہیں جن کی معمولی وسعت تک بھی انسان کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔ ابھی ۱۹۲۸ء کا واقعہ ہے کہ جنوبی امریکہ کے ملک لاپلاٹا میں ایک ستارہ دو ٹکڑے ہوتا دیکھا گیا۔ اس ستارے کا نام نووا پکٹورس (Nova Pictoris) تھا جنوبی امریکہ کی سب سے بڑی رصد گاہ واقع جونس برگ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور سائنسدان کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی آسمانی ستارہ دو ٹکڑے ہو گیا ہو۔ ۱؎ پس کوئی تعجب نہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں خدائی تصرّف کے ماتحت چاند میں سے کوئی ٹکڑا الگ ہو گیا ہو یا چاند دو ٹکڑے ہو کر پھر مِل گیا ہو اور کوئی سائنسدان اس پر اعتراض نہیں کر سکتا لیکن حقیقت وہی ہے جو اُوپر بیان کی گئی ہے۔ واﷲ اعلم
    اب رہا دُوسرا سوال کہ اس معجزہ کی غرض و غایت کیا تھی اور دراصل اس بحث میں یہی اصل اور اہم سوال ہے کیونکہ اسی سے اس معجزہ کی حقیقت اور شان ظاہر ہو سکتی ہے۔ سو اس کے متعلق جاننا چاہئے کہ دراصل علم تعبیرِ رؤیا میں چاند سے حکومت و بادشاہ مُراد ہوتے ہیں۔ خواہ وُہ عادل و انصاف پسند ہوں یا کہ ظالم و جابر۔ ۲؎ اور اس تاویل کی متعدد مثالیں تاریخ میں مِلتی ہیں؛ چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ جب خیبر کے یہودی رئیس حُیَیّؔ بن اخطب کی لڑکی صفیہؔ نے یہ خواب دیکھا کہ چاند اس کی گود میں آگِرا ہے تو اس کے باپ نے اس کی یہی تعبیر کی تھی کہ صفیہؔ کسی دن عربوں کے بادشاہ کے عقد میں آئے گی؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فتح خیبر کے بعد صفیہؔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عقد میں آئی۔ ۳؎ اسی طرح جب حضرت عائشہ نے خواب دیکھا کہ ان کے حجرے میں تین چاند آگرے ہیں تو واقعات نے اس خواب کی یہی تعبیر ثابت کی کہ اس سے اُن کے حجرے میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کا دفن ہونا مراد ہے۔۱؎ اس صورت میں گویا کفار مکّہ کو چاند کے دو ٹکڑے ہو جانے کا معجزہ دکھانے میں یہ اشارہ تھا کہ اب تمہاری حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے اور اس کی جگہ اسلامی حکومت قائم ہو گی۔ گویا جب کفّار قریش نے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو خدا تعالیٰ نے ان کی نظروں میں چاند کو دو ٹکڑے کر کے زبانِ حال سے بتا دیا کہ تم معجزہ مانگتے ہو اور یہاں تمہاری موت کی گھنٹی بج رہی ہے۔چنانچہ قرآن شریف نے اس معجزہ کے بیان کے ساتھ جو اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ (یعنی تمہاری قیامت قریب آگئی ہے) کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ گویا جب کفّار نے معجزہ مانگا تو انہیں جواب میں شق القمر کا معجزہ دکھا کر یہ بتایا گیا کہ اب تمہاری حکومت کا خاتمہ ہو کر محمد رسول اﷲ کی حکومت کا دَور دَورہ شروع ہونے والا ہے جو آپؐ کے منجانب اﷲ ہونے کی دلیل ہو گا اور چونکہ کفار اپنی روایات کی بنا پر اس اشارے کو سمجھتے تھے وہ بے اختیار ہو کر بول اُٹھے کہ سِحْرٌ مُّسْتَمِّرٌ یعنی اے محمد! اگر تمہاری موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ایسا ہو گیا تو پھر یہ ایک بڑا پکّا جادو ہو گا۔ الغرض شق القمر کے معجزہ میں اصل غرض و غایت یہی تھی کہ کفّارِ مکّہ کو بتایا جائے کہ اب تمہاری حکومت کا خاتمہ ہے۔ اسی تشریح کے ساتھ شق ایک عظیم الشان معجزہ قرار پاتا ہے؛ ورنہ محض ظاہر میں بے نتیجہ طور پر چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا گو علمِ ہیٔت کی رُو سے ایک عجوبہ ہو مگر رُوحانی رنگ میں اس کا کوئی وزن نہیں۔ اسی لیے گذشتہ علماء میں سے بھی امام غزالی اور شاہ ولی اﷲ صاحب محدّث دہلوی جیسے محققین نے یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ صرف ایک خدائی تصّرف تھا جس کے ماتحت کفّار کو چاند دو ٹکڑوں میں ہو کر نظر آیا؛ وَرنہ حقیقت میں چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا۔۲؎ اور جب حقیقۃً چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا بلکہ صرف دیکھنے والوں کو ایسا دکھائی دیا تو لامحالہ اس میں کوئی خاص حکمت ہو گی اور وہ حکمت وہی تھی جو ہم نے اُوپر بیان کی ہے۔ واﷲ اعلم۔ ۳؎ شق القمر کا معجزہ ہجرت سے قریباً پانچ سال قبل ۹ نبوی میں ہوا تھا۔ ۴؎
    حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات
    جب آپؐ شعب ابی طالب سے نِکلے تو آپؐ کو پے دَر پے دو نہایت شدید صدمے پہنچے۔ یعنی حضرت خدیجہؓ اور
    ابو طالب یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے۔ یہ دونوں عمر رسیدہ تھے اور وفات ہر انسان کے لئے مقدّر ہے لیکن ان دونوں کا شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے زمانہ کے اس قدر قریب فوت ہونا اس بات کا قوی شُبہ پیدا کرتا ہے کہ محصور ہونے کی غیر معمولی سختی کا ان کی وفات میں بہت کچھ دخل تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل سختی کے اثر کے نیچے اُن کی صحتیں بالکل شکستہ ہو گئی تھیں لیکن جب تک تو وہ محصور رہے ان کی طبیعتوں کو مقابلہ کے خیال نے سنبھالے رکھا مگر جونہی کہ وہ باہر آئے محاصرہ کی لمبی سختی نے اپنا اثر ظاہر کر دیا اور دونوں ایک دُوسرے کے آگے پیچھے موت کا شکار ہو گئے۔ ان پے در پے صدموں کی وجہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سال یعنی ۱۰ نبوی کا نام عامُ الحُزن یعنی غموں کا سال رکھا۔ ۱؎ ابوطالب گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے بطور باپ کے تھے اور آپؐ سے بہت محبت کرتے تھے اور آپؐ کو بھی ان سے بہت محبت تھی۔ جب ابو طالب مرض الموت میں تھے تو آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم باقاعدہ ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے؛ چنانچہ ایک دفعہ جب ان کی وفات قریب تھی۔ آپؐ اُن کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں ابو جہل وغیرہ مشرکین بھی بیٹھے تھے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابو طالب کی وفات قریب دیکھ کر فرمایا۔ ’’چچا! آپ صرف کلمۂ شہادت پڑھ دیں۔ مَیں قیامت کے دن خُدا کے حضور آپ کے متعلق عرض کروں گا۔‘‘ یہ سُن کر ابو جہل وغیرہ گھبرائے اور ابو طالب سے کہنے لگے کہ کیا آپ اپنے والد عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے؟ اور مختلف صورتوں میں ابو طالب کو سمجھاتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو طالب کی زبان سے جو آخری الفاظ سُنے گئے وہ یہ تھے کہ ’’مَیں عبدالمطلب کے دین پر مرتا ہوں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سُنے تو درد مند ہو کر فرمایا۔ ’’اچھا مَیں بھی اپنے رب سے آپ کے واسطے مغفرت چاہتا رہوں گا سوائے اس کے کہ مَیں اس سے روک دیا جاؤں۔‘‘ مگر ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ آپؐ اس سے روک دیئے گئے اور شرک اور کفر پر مرنے والوں کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ اُن کے لیے مغفرت کی دُعا کرنا جائز نہیں بلکہ ان کا معاملہ خدا پر چھوڑنا چاہیئے۔ ۲؎
    ایک روایت یہ بھی آتی ہے جو بعید نہیں کہ دُرست ہو کہ ابو طالب نے مرتے ہوئے رؤسا قریش سے یہ الفاظ کہے کہ : ’’اے قریش کے گروہ! تم خدا کی خلق میں ایک برگزیدہ قوم ہو اور خُدا نے تمہیں بڑی عزت دی ہے۔ مَیں تمہیں محمد کے متعلق نصیحت کرتا ہوں کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ وہ تم میں ایک اعلیٰ اخلاق کا انسان ہے اور عربوں میں اپنے صدق اور سداد کی وجہ سے امتیاز رکھتا ہے اور سچ پوچھو تو وہ ہماری طرف وہ پیغام لایاہے جس سے خواہ زبان انکار کرتی ہے، مگر دل اُسے مانتا ہے۔ مَیں نے عمر بھر محمد کا ساتھ دیا ہے اور ہر تکلیف کے موقع پراس کی حفاظت کے لیے آگے بڑھا ہوں اور اگر مجھے اور مہلت ملی تو آئندہ بھی ایسا ہی کروں گااور اے قریش! میری تمہیں بھی یہ نصیحت ہے کہ اسے دُکھ دینے کے دَر پے نہ ہو بلکہ اس کی نصرت اور اعانت کرو کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ ۱؎ اس کے بعد ابو طالب کی جلد ہی وفات ہو گئی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان کی وفات پر سخت صدمہ ہوا اور چونکہ ابو طالب ہمیشہ قریش کے مقابل میں آپؐ کے حامی اور محافظ رہے تھے، اس لیے ان کی وفات سے آپؐ کی پوزیشن اور بھی زیادہ نازک ہو گئی۔ وفات کے وقت جو ۱۰نبوی میں واقع ہوئی ابوطالب کی عمر اسّی سال سے اُوپر تھی۔ ۲؎ ابو طالب گو زندگی بھر شِرک پر قائم رہے اور اسی حالت میں ان کی وفات ہوئی مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیشہ انہیں اپنے باپ کی طرح سمجھا اور ان کی محبت و وفاداری اور خدمت و اطاعت اور عزت و احترام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھایا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ دُوسری طرف ابو طالب نے بھی آپؐ کے ساتھ ہمیشہ نہایت درجہ مربّیانہ اور وفادارانہ سلوک رکھا اور اپنے آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں ڈالنا گوارا کیا مگر آپؐ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ان کا یہ سلوک جہاں اُن کی اپنی شرافت و وفاداری کا ثبوت ہے وہاں اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ خواہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے مشرکانہ خیالات کے ماتحت غلطی خوردہ خیال کرتے ہوں، مگر جھوٹا اور دھوکا دینے والا ہر گز نہیں سمجھتے تھے اور آپؐ کے اعلیٰ اخلاق اور راست گفتاری اور اخلاص کے دل سے قائل تھے؛ چنانچہ اس موقع پر میورؔ صاحب لکھتے ہیں:
    ’’ابو طالب نے باوجود اپنے بھتیجے کے مِشن پر ایمان نہ لانے کے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خاطر جس رنگ میں ہر قسم کی تکلیف برداشت کی اور جس طرح اپنی ذات اور اپنے خاندان کو اپنے بھتیجے کی خاطر قربانی کے لیے پیش کیا، اس سے ابوطالبؔ کی ذاتی شرافت و نجابت پر ایک نمایاں روشنی پڑتی ہے۔ دُوسری طرف ابوطالب کی یہ قُربانیاں اس بات کا بھی قطعی ثبوت ہیں کہ وُہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے دعویٰ میں مخلص خیال کرتا تھا۔ یقینا ابو طالب ایک خود غرض اور دھوکے باز انسان کے واسطے اس قدر قربانی کے لیے تیار نہیں ہو سکتا تھا اور اُسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق وعادات کو دیکھنے اور پڑتال کرنے کے لیے بھی غیر معمولی مواقع حاصل تھے۔‘‘ ۳؎
    ابو طالبؔ کی وفات سے چند دن بعد حضرت خدیجہ ؓ نے بھی انتقال کیا۔ ۴؎ خدیجہؓ نے بڑی بڑی دُکھ اور تکلیف کی گھڑیوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا اور اُن کوآپؐ سے اور آپؐ کو ان سے بہت محبت تھی۔ اس لیے طبعاً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اُن کی وفات کا سخت صدمہ ہوا۔ وفات کے بعد جب کبھی ان کا ذکر آتا تو آپؐ کی آنکھیں ڈبڈبا آتیں اور آپؐ اکثر اُن کی تعریف فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ خدیجہؓ اپنے زمانہ کی بہترین عورتوں میں سے تھی اور حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آپؐ حضرت خدیجہ ؓ کا اس کثرت سے ذکرِ خیر کیا کرتے تھے کہ مجھے اُن پر غیرت آنے لگتی تھی اور مَیں کہتی تھی کہ آپؐ تو اس طرح خدیجہؓ کا ذکر فرماتے ہیں کہ گویا دُنیا میں بس وہی ایک عورت پیدا ہوئی ہے۔ آپؐ فرماتے تھے ’’عائشہؓ! اس میں بڑی بڑی خوبیاں تھیں اور خدا نے مجھے اولاد بھی اسی سے دی۔‘‘ غرض آپؐ ہمیشہ نہایت محبت کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کا ذکر فرماتے تھے۔ اگر گھر میں کبھی کوئی جانور وغیرہ ذبح ہوتا تو آپؐ حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلیوں کو ضرور حصّہ بھیجتے۔ ایک دفعہ آپؐ حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہؔ بنت خویلد آپؐ سے ملنے کے لیے آئیں اور دروازہ پر آکر اجازت چاہی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپؐ بیتاب ہو کر اُٹھے کہ خدیجہؓ کی سی آواز ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بہن ہالہ آئی ہے۔ ۱؎ جنگِ بدرؔ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے داماد ابوؔالعاص جو ابھی تک اسلام نہ لائے تھے قید ہو کرآئے تو ان کی زوجہ یعنی آپؐ کی صاحبزادی زینبؓ نے جو ابھی تک مکّہ ہی میں تھیں۔ ان کے فدیّہ کے طور پر اپنے گلے کا ہار اُتار کر بھیجا۔ یہ وُہ ہار تھا جو حضرت خدیجہؓ نے زینبؓ کو جہیز میں دیا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس ہار کو دیکھا تو مرحومہ خدیجہؓ یاد آگئی اور آپؐ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ صحابہ سے فرمایا: ’’اگرچاہو تو خدیجہؓ کی یہ یاد گار اس کی بیٹی کو واپس کر دو۔‘‘ انہیں اشارہ کی دیر تھی فوراً ہار واپس کر دیا۔ ۲؎ وفات کے وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر ۶۵ سال کی تھی۔ مکّہ کے مقام جحون میں دفن کی گئیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اُترے مگر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ کیونکہ ابھی تک جنازہ کی نماز مقرر نہ ہوئی تھی۔ ۳؎
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکالیف میں اضافہ
    حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات کے بعد قریش مکّہ آپؐ کی ذات کے
    متعلق بہت دلیر ہو گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو سخت تکالیف پہنچانی شروع کیں۔ ۴؎ ایک دفعہ آپؐ ایک راستہ پر چلے جاتے تھے کہ ایک شریر نے برسرِ عام آپؐ کے سَر پر خاک ڈال دی۔ ایسی حالت میں آپؐ گھر تشریف لائے۔ آپؐ کی ایک صاحبزادی نے یہ دیکھا تو جلدی سے پانی لے کر آئیں اور آپؐ کا سَر دھویا اور زار زار رونے لگیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو تسلّی دی اور فرمایا۔ ’’بیٹی رو نہیں۔ اﷲ تیرے باپ کی خود حفاظت کرے گا اور یہ سب تکلیفیں دُور ہو جائیں گی۔ ۱؎ پھر ایک دفعہ آپؐ صحنِ کعبہ میں خداتعالیٰ کے سامنے سربسجود تھے اور چند رؤسائِ قریش بھی وہاں مجلس لگائے بیٹھے تھے کہ ابوجہل نے کہا۔ ’’اس وقت کوئی شخص ہمّت کرے تو کِسی اُونٹنی کا بچہ دان لا کر محمد کے اوپر ڈال دے۔‘‘ چنانچہ عقبہ بن ابی معیط اُٹھا اور ایک ذبح شدہ اُونٹنی کا بچہ دان لا کر جو خون اور گندی آلائش سے بھرا ہوا تھا آپؐ کی پُشت پر ڈال دیا اور پھر سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ فاطمۃ الزہراؓ کو اس کا عِلم ہوا تو وہ دوڑی آئیں اور اپنے باپ کے کندھوں سے یہ بوجھ اُتارا۔ تب جاکر آپؐ نے سجدہ سے سَر اٹھایا۔ روایت آتی ہے کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے ان رؤسائِ قریش کے نام لے لے کر جو اس طرح اسلام کو ذلیل کرنے اور مٹانے کے دَر پے تھے بَد دُعا کی اور خدا سے فیصلہ چاہا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر مَیں نے دیکھا کہ یہ سب لوگ بدرؔ کے دن مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہو کر داویٔ بدرؔ کی ہوا کو متعفن کر رہے تھے۔ ۲؎
    حضرت عائشہ ؓ اور سودہ ؓ کی شادی
    نکاح کرنا اسلام میں ضروری قرار دیا گیا ہے اور سوائے معذوری کی صورت کے تجرّد سے روکا گیا ہے؛ چنانچہ
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ ۳؎
    ’’یعنی شادی کرنا میری سُنّت میں داخل ہے اور جو میری سُنّت پر عمل نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے۔‘‘
    اور خصوصاً ایک نبی اور شارع نبی کے واسطے تو شادی کرنا از بس ضروری ہے نہ صرف اس لیے کہ تا اس ذریعہ سے وُہ حُسنِ معاشرت کا نمونہ اپنی اُمّت کے واسطے قائم کر سکے بلکہ اس لیے بھی کہ تبلیغ احکام کے کام میں اس کی بیوی اس کی مددگار ہو۔ کیونکہ عورتوں کے متعلق جو مسائل ہوتے ہیں اُن کی تبلیغ و تعلیم جس خُوبی کے ساتھ ایک عورت کر سکتی ہے مرد نہیں کر سکتا بلکہ درحقیقت انبیاء کے واسطے تو مناسب یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو وہ حتّیالوسع ایک سے زیادہ بیویاں کریں تا ان کے لیے تبلیغ و تعلیم کا کام اور بھی زیادہ آسان ہو جاوے؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر گذشتہ انبیاء علیہم السلام تعدّد از دواج کے مسئلہ پر کار بند تھے۔ انبیائے بنی اسرائیل میں سے بھی کثرت ایسے ہی نبیوں کی تھی جن کی ایک سے زائد بیویاں تھیں۔ ۱؎ اور تعجب ہے کہ عیسائی لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر اس مسئلہ کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں مگر اپنے ان بزرگوں کی طرف نہیں دیکھتے جن کو وُہ خدا کے مقرب اور برگزیدہ رسُول یقین کرتے ہیں۔ اسی طرح دوسری قوموں کے بھی اکثر نبی تعدّد از دواج پر عامل تھے۔ ۲؎ غرضیکہ شادی کرنا بلکہ حتّی الوسع ایک سے زیادہ شادیاں کرنا انبیاء علیہم السلام کی سُنّت ہے۔ لہٰذا حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں جلد ہی دُوسری شادی کا خیال آنا آپؐ کے منصبِ نبوت کے لحاظ سے ایک طبعی امر تھا، مگر ایسے حالات میں ایک نبی کے واسطے بیوی کا انتخاب بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ کئی باتوں کو دیکھنا اور کئی امور کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے لہٰذا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ کے حضور دُعائیں کیں کہ وہ اس معاملہ میں آپ کا ہادی اور رہنما ہو۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کی دُعا کو سُنا اور آپؐ کو ایک رؤیا کے ذریعہ اپنے انتخاب سے اطلاع دی؛ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ انہی ایّام میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور آپؐ کے سامنے ایک سبز رنگ کا ریشمی رومال پیش کر کے عرض کیا کہ ’’یہ آپؐ کی بیوی ہے دُنیا اور آخرت میں۔‘‘ آپؐ نے رومال لے کر دیکھا تو اس پر حضرت عائشہ ؓ بنت ابو بکرؓ کی تصویر تھی۔ ۳؎
    اس کے کچھ عرصہ بعد خولہ بنت حکیم زوجہ عثمان ؓ بن مظعون آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپؐ سے عرض کیا کہ ’’یا رسول اﷲ آپؐ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’کِس سے کروں؟‘‘ اس نے عرض کیا کہ۔’’آپؐ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور بیوہ عورت بھی۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’کون‘‘ خولہ نے عرض کیا۔ ’’کنواری تو آپؐ کے عزیز دوست ابو بکرؓ صدیق کی لڑکی عائشہ ہے اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہے جو آپؐ کے خادم سکران بن عمرو مرحوم کی بیوہ ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اچھا تو پھر تم ان دونوں کے متعلق بات کرو؛ چنانچہ خولہ نے پہلے حضرت ابو بکرؓ اور اُن کی اہلیہ اُمّ رومان سے ذکر کیا۔ وہ پہلے بہت حیران ہوئے اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو ہمارے بھائی ہیں۔ ۱؎ مگر جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ کہلا بھیجا کہ دین کی اخوت سے رشتہ پر اثر نہیں پڑتا تو پھر انہیں کیا عذر ہو سکتا تھا بلکہ ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی تھی کہ اُن کی بیٹی رسولِؐ خدا کی بیوی بنے۔ اس کے بعد خولہؓ حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ کے پاس گئیں۔ وہ اور ان کے عزیز بھی راضی تھے۔ لہٰذا شوال ۱۰ نبوی میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ان ہر دو کے ساتھ چار چار سو درہم مہر پر نکاح پڑھا گیا اور حضرت سودہؓ کا تو نکاح کے ساتھ ہی رُخصتانہ بھی ہو گیا۔ لیکن چونکہ عائشہ ؓ کی عمر اس وقت صرف سات سال کی تھی اس لیے ان کا رخصتانہ ہجرت کے بعد تک ملتوی رہا۔ ۲؎
    اس موقع پر یاد رکھنا چاہیئے کہ جو جگہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حرم میں خدیجۃ الکبریؓ کی وفات سے خالی ہوئی تھی وہ دراصل حضرت عائشہ ؓ سے ہی پُر ہوئی۔ کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اصل تجویز حضرت عائشہؓ ہی کے متعلق تھی اور وہی آپؐ کو خواب میں بھی دکھائی گئی تھیں لیکن حضرت سودہؓ کا نکاح ایک خاص مصلحت اور خاص ضرورت کے ماتحت تھا اور وہ یہ کہ چونکہ یہ زمانہ مسلمانوں کے واسطے ایک سخت تکلیف اور مصیبت کا زمانہ تھا اور ظالم قریش کی طرف سے سب مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں پر جوروجفا کے تبر چل رہے تھے اور خصوصاً بے یارومددگار غرباء کے لیے تو یہ انتہائی مصائب کے دن تھے اس لیے ایسی حالت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ صدمہ خوردہ اور غم رسیدہ بیوہ بغیر کسی انتظام کے چھوڑ دی جاوے اور اسلام کی وجہ سے مصیبت کے دن کاٹے اس لیے اور نیز اس لیے بھی کہ آپؐ نے مسلمانوں کو آپس میں محبت رکھنے اور ایک دُوسرے کی ہمدردی اور مدد کرنے کا عملی سبق بھی دینا تھا۔ جب آپؐ کے سامنے سودہ ؓ کا ذکر آگیا تو آپؐ نے بلا تأمل یہی فیصلہ کیا کہ آپؐ انہیں خود اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیں اور یہ آپؐ کی طرف سے ایک قربانی تھی جو حالات پیش آمدہ کے ماتحت کی گئی۔ کیونکہ اوّل تو سودہؓ ایک بیوہ تھیں۔ دُوسرے وہ اچھی عمر رسیدہ تھیں۔ حتّٰی کہ شادی سے تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ مباشرت کے بالکل ناقابل ہو گئیں۔ تیسرے اُن میں آپؐ کی زوجیت کے واسطے کوئی امتیازی قابلیت بھی نہ تھی اور نہ کوئی خاص وجہ کشش تھی۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اُن کا آپؐ کے حرم میں آنا یہ معنے رکھتا تھا کہ آپؐ اپنی اس بیوی پر ایک سوت لا رہے ہیں جو خدائی اِنتخاب کے ماتحت آپؐ کی زوجہ بنی تھی اور اس وجہ سے آپؐ کو بہت محبوب تھی اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اپنی محبوب بیوی پر کوئی شخص یونہی بلا خاص وجہ کے سوت نہیں لایا کرتا۔ پس حضرت عائشہ ؓ کے ہوتے ہوئے آپؐ کا حضرت سودہؓ جیسی عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ نکاح کرنا صاف بتا رہا ہے کہ نعوذ باﷲ یہ کوئی عیش و عشرت کا سامان نہ تھا جو آپؐ اپنے گھر لا رہے تھے بلکہ یہ ایک قربانی تھی جو آپؐ کو حالاتِ پیش آمدہ کے ماتحت کرنی پڑی تھی۔
    پس آپؐ کی اصل اور مستقل تجویز حضرت عائشہ ؓ ہی کے لیے تھی جن کے متعلق خود اﷲ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوا تھا اور وہی دراصل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے واسطے مناسب بھی تھیں کیونکہ:
    اوّل :- وہ بالکل نو عمر لڑکی تھیں اور اس لیے پوری طرح اس قابل تھیں کہ اسلامی تعلیمات کو جلد، بآسانی اور بخوبی سیکھ کر ایک دینی معلمہ بن سکیں جو ایک شارع نبی کی بیوی کے واسطے ضروری ہے۔
    دوسرے:- وُہ نہایت درجہ ذہین اور ذکی تھیں جس کی وجہ سے دینی مسائل کے سیکھنے اور تفقّہ فی الدین کے لیے نہایت مناسب تھیں۔
    تیسرے:- بوجہ کم عمر ہونے کے ان کے متعلق بظاہر توقع تھی جو پوری بھی ہوئی کہ وہ ابھی بہت لمبی عمر پائیں گی اور اس طرح انہیں مُسلمان عورتوں میں تعلیم و تربیت اور تبلیغ کا زیادہ موقع مِل سکے گا۔
    چوتھے:- اسلام ہی میں اُن کی پیدائش ہوئی تھی جس کی وجہ سے اسلامی تعلیم گویا اُن کی گھٹی میں پڑی تھی اور بچپن سے ہی اُنہوں نے اسلامی عادات و اطوار اچھی طرح سیکھ لیے تھے اور تعلیمِ اسلامی کا ایک بہت عمدہ نمونہ تھیں۔
    پانچویں :- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد وہ اوّل المومنین اور افضل المسلمین کی صاحبزادی تھیں جس کی وجہ سے ان کی تربیت نہایت اعلیٰ اور کامل اور شعارِ اسلامی کے عین مطابق ہوئی تھی اور اس لیے وہ عورتوں میں نمونہ بننے کے خاص طور پر قابل تھیں۔
    ان وجوہات سے حضرت عائشہؓ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زوجہ بننے کے واسطے سب سے بڑھ کر مناسب تھیں اور انہی وجو ہ کی بناء پر اﷲ تعالیٰ نے آپؐ کے واسطے ان کو پسند فرمایا؛ چنانچہ یہ باتیں اپنا پھل لائیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کے وجود سے امّتِ محمدیہ کو بڑے بڑے فائدے پہنچے ہیں۔ احادیث کا وہ حصہ جو عورتوں کے مسائل سے تعلق رکھتا ہے زیادہ تر حضرت عائشہؓ ہی کے اقوال و روایات پر مبنی ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ عام دینی مسائل میں بھی ان کو ایک خاص مرتبہ حاصل ہے؛ چنانچہ روایت آتی ہے کہ:
    کَانَ الْاَکَابِرُ مِنْ صَحَابَۃِ النَّبِّیِ صَلّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْجِعُوْنَ اِلٰی قَوْ لِھَا یَسْتَفْتُوْنَھَا۔ ۱؎
    ’’یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ بھی حضرت عائشہ ؓ کے قول کی طرف رجوع کرتے اور ان سے فتویٰ پوچھتے تھے۔‘‘
    غرض اصل اور مستقل تجویز آپؐ کی حضرت عائشہؓ سے تھی اور وہی اس منصبِ عالی کے لائق تھیں۔ باقی رہی حضرت سودہؓ بنت زمعہ کی شادی۔ سو جیسا کہ ہم اُوپر بیان کر چکے ہیں وُہ ایک قربانی تھی جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی۔ کیونکہ یہ شادی ایک خاص مربّیانہ اصول کے ماتحت تھی جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس دلی محبت اور قلبی توجہ اور حقیقی مہربانی کا ایک بیّن ثبوت ہے جو آپؐ ان مصائب کے زمانہ میں اپنے خدّام اور ان کے پسماندگان کے حال پر فرماتے تھے اور یہ بات حضرت سودہ ؓ کی ہی شادی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جیسا کہ آگے چل کر اپنے اپنے موقع پر ظاہر ہو جائے گا حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد حضرت عائشہؓ کے نکاح کے سوا جو کہ خود بالذّات مقصود تھا باقی جتنے بھی نکاح آپؐ نے کیے وہ سب خاص حالات ، خاص ضروریات اور خاص مصالح کے ماتحت کئے گئے؛ چنانچہ آپؐ کا خواب بھی یہی ظاہر کرتا ہے جس میں آپؐ کو صرف حضرت عائشہ ؓ کی تصویر دکھائی گئی تھی اور یہ الفاظ کہے گئے تھے کہ ’’اب تیری یہ بیوی ہے دُنیا اور آخرت میں۔‘‘ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو حضرت عائشہؓ سے خاص محبت تھی۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپؐ سے دریافت کیا۔ ’’اَیُّ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَیْکَ۔‘‘ یعنی ’’یارسُول اﷲ ! لوگوں میں سے آپؐ کو کس سے زیادہ محبت ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’عائشہ سے‘‘۔ اس نے پوچھا ’’یا رسول اﷲ مردوں میں سے کس سے زیادہ ہے؟‘‘ فرمایا: اَبُوْھا۔ ’’عائشہؓ کے باپ سے۔‘‘ ۲؎
    حضرت عائشہ ؓ اور حضرت سودہؓ کا نکاح شوال ۱۰ نبوی میں ہوا تھا اور عام روایات کے مطابق حضرت سودہؓ کے نکاح کی رسم حضرت عائشہ ؓ کے نکاح سے چند روز پہلے وقوع میں آئی تھی۔ اس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی عمر پچاس سال سے اُوپر تھی۔
    تعدّد ازدواج پر ایک مختصر نوٹ
    حضرت عائشہ ؓ اور حضرت سودہ ؓ کی شادی کے ذکر میں ہمارے غیر مُسلم ناظرین کے دل میں تعدّدِ ازدواج کا مسئلہ ضرور کھٹکا
    ہوگا۔ اس مسئلہ کے متعلق مفصّل بحث تو انشاء اﷲ کتاب کے حصّہ دوم میں آئے گی، مگر اس جگہ بھی ایک مختصر سا نوٹ لکھنا خالی از فائدہ نہ ہو گا۔ سو جاننا چاہیئے کہ اسلام کے کئی ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق مخالفین نے یک طرفہ خیالات کے ماتحت اعتراض کر دیئے ہیں اور کبھی ٹھنڈے دل سے اُن پر غور نہیں کیا اور نہ تجربہ اور مشاہدہ کی روشنی میں ان کی حقیقت کو پَرکھا ہے۔ انہی میں سے ایک تعدّد ازدواج کا مسئلہ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔ سو اس بارہ میں پہلے تو یہ جاننا چاہیئے کہ فطرت بے شک ایک نور ہے جو اﷲ تعالیٰ نے انسان کے اندر اس کی ہدایت کے واسطے و دیعت کیا ہے لیکن یہ نُور بعض اوقات مخالف عناصر کے نیچے دب کر کمزور یا مُردہ بھی ہو جاتا ہے اور ایسے حالات میں اس کا فتویٰ قابلِ قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو پھر تعصّبات سے پاک نہ کیا جاوے؛ چنانچہ دیکھ لو مسئلہ طلاق کے متعلق عیسائی فطرت صدیوں سے مخالف عناصر کے نیچے دَب کر کمزور ہو گئی تھی اس لیے اس کا آج تک یہی فتویٰ چلا آیا ہے کہ عورت کی طرف سے زنا سرزد ہونے کے سوا اسے طلاق دینا ہر گز جائز نہیں ہے؛ چنانچہ اسی کے مطابق مسیحیوں نے اپنے قوانین بھی وضع کر لئے لیکن اب مشاہدہ اور تجربہ کے دھکّے کھا کر ان کی سوئی ہوئی فطرت کچھ بیدار ہوئی ہے اور وہ اس طرف آرہے ہیں کہ زنا ہی نہیں بلکہ دُنیا میں اور بھی ایسے حالات ہو سکتے ہیں جن کے ماتحت میاں بیوی کا حسنِ معاشرت کے ساتھ اکٹھا رہنا محال ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اب عیسائی ممالک میں اسلامی تعلیم کے مطابق طلاق کے متعلق قانون پاس ہو رہے ہیں۔
    بات یہ ہے کہ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کان کو بھلی معلوم ہوتی ہیں اور دل اُن کی طرف پسندیدگی کا میلان محسوس کرتا ہے مگر دراصل یہ ایک دھوکا ہوتا ہے۔ کیونکہ عملی زندگی میں آکر ان کی حقیقت کا راز کھل جاتا ہے۔ انہی میں سے مسئلہ طلاق ہے جس کا ہم نے اُوپر ذکر کیا ہے اور انہی میں سے تعدّدِ ازدواج کا مسئلہ ہے جس کے متعلق یہ مختصر نوٹ سپرد قلم کیا جا رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک بڑی اچھی تعلیم ہے کہ انسان ہر حالت میں ایک بیوی رکھے اور کسی حالت میں بھی اسے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا اختیار نہ ہونا چاہیئے لیکن اگر ہم غور سے کام لیں اور بنی نوع انسان کی مختلف ضروریات پر نظر ڈالیں تو ماننا پڑتا ہے کہ بعض اوقات انسان پر ضرور ایسے حالات آتے ہیں کہ جب نہ صرف خود اس کی بلکہ سوسائٹی کی فلاح و بہبودی اس بات کی مُقتضی ہوتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ مثلاً (۱) کوئی ایسا شخص ہے جس کی ایک بیوی موجود ہے مگر بیوی کے کسی نقص کی وجہ سے اُس سے اولاد نہیں ہوتی یا (۲) ہوتی تو ہے مگر ماں کے کسی نقص کی وجہ سے مَرمَر جاتی ہے یا (۳) کوئی ایسا شخص ہے جس کی بیوی ایسے مرض میں مبتلا ہو گئی ہے کہ جس کی وجہ سے وُہ خاوند کی خاص ہمدردی اور توجہ کی تو ضرور حق دار ہے مگر وہ صحیح اہلی مباشرت کے قابل نہیں رہی یا (۴) کوئی شخص بوجہ اپنے مخصوص حالات کے ایک بیوی کے ساتھ اپنے تقویٰ اور اخلاق کو قائم نہیں رکھ سکتا یا (۵) کسی شخص کو دُوسری شادی کے ساتھ کوئی اہم ملکی یا قومی مفاد وابستہ ہیں یا (۶) کسی زمانہ میں کسی ملک اور قوم کی حالت اس بات کی مُقتضی ہے کہ نسل کی ترقی یا قومی اخلاق کی حفاظت کے واسطے لوگ عام طور پر ایک سے زیادہ شادیاں کریں یا (۷) دُوسری شادی کے واسطے کوئی اور ایسی وجوہ ہیں جن کو عقل جائز قرار دیتی ہے تو ایسے حالات میں ہر اک صحیح الدماغ شخص کا ضمیر بشرطیکہ وُہ تعصبات کے نیچے دَب کر مَر نہ گیا ہو تعدّد از دواج کو نہ صرف جائز بلکہ ضروری قرار دے گا اور اس قِسم کے حالات میں مرد اور عورت دونوں سے توقع رکھی جائے گی کہ وہ زیادہ اہم اغراض کے حصول کے لیے اپنے جذبات کی قربانی کرنے کے واسطے تیار ہو جائیں۔
    اسلام ایک عملی مذہب ہے اور بنی نوع انسان کی تمام جائز ضروریات کو پورا کرنے والا ہے اور شکر کا مقام ہے کہ صدیوں کی ٹھوکروں کے بعد اب عیسائی دنیا بھیآہستہ آہستہ اسلامی تعلیم کی طرف آرہی ہے اور وہ دن دُور نہیں کہ دُنیا جان لے گی کہ جو پاک اور کامل تعلیم تعصباتِ مذہبی و سیاسی کے سبب صدیوں سے اعتراضات کا تختۂ مشق بنی رہی ہے وہی اس قابل ہے کہ بنی نوع انسان کی تمام جائز ضروریات کو پورا کرکے دُنیا میں حقیقی امن کی بنیاد قائم کر سکے۔
    افسوس معترضین نے بغیر سوچے سمجھے اسلامی مسئلۂ تعدّدِ ازدواج کے متعلق یہ خیال کر لیا ہے کہ نعوذباﷲ یہ ایک عیش و عشرت کا راستہ ہے جو اسلام اپنے متبعین کے واسطے کھولتا ہے؛ حالانکہ اگر ان قیود کو جن کے ساتھ اسلام نے تعدّدِ از دواج کی اجازت دی ہے نظرِ غور سے دیکھا جاوے تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ ایک سچّے مُسلمان کے واسطے دوسری شادی ہر گز عیش و عشرت کا سامان نہیں ہو سکتی۔ بلکہ سچ پوچھو تو یہ ایک قربانی ہے جو اسے خاص حالات اور خاص ضروریات کے ماتحت کرنی پڑتی ہے اور اگر کوئی مسلمان اِن قیود کو توڑ کر عیش و عشرت کی غرض سے ایک سے زیادہ شادیاں کرتاہے تو یہ اس کا ایک ذاتی فعل ہو گا جو کسی صورت میں بھی اسلامی شعار نہیں کہلا سکتا۔ وہ ایک ایسا ہی کام کرتا ہے جیسا کہ بعض دُوسرے مذاہب کے آزاد طبع لوگ جن کا مذہب کسی صورت میں بھی تعدّدِ ازدواج کی اجازت نہیں دیتا گھر میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے اِدھر اُدھر مُنہ کالا کرتے پھرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ اسلام میں تعدّدِ ازدواج کا حکم نہیں دیا گیا۔ یعنی یہ لازمی نہیں قرار دیا گیا کہ ہر مسلمان ایک سے زیادہ شادیاں کرے۔ بلکہ صرف یہ ایک استثناء ہے جو خاص حالات کے پیش آجانے کی صورت میں جائز رکھی گئی ہے اور عملاً بیشتر مسلمان ایک ہی شادی پر اکتفا کرتے ہیں۔
    توسیع اشاعت
    قبائل کا دورہ
    حج کے ایّام میں ہر دُور دراز کے علاقہ سے مکّہ میں لوگ جمع ہوتے تھے اور اَشہرِ حرم میں عکّاظ۔ مجنہ اور ذوالمجاز میں بڑی بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماع ہوتا تھا۔ آنحضرت
    صلی اﷲ علیہ وسلم کا ابتداء سے ہی یہ طریق تھا کہ ان موقعوں سے فائدہ اُٹھاتے تھے اور مختلف قبائلِ عرب کی فرودگاہوں پر جاجا کر اُنہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔۱؎ مگر طبعاً اب تک آپؐ کی زیادہ توجہ قریشِ مکّہ کی طرف تھی، لیکن جن ایّام میں قریشِ مکّہ نے مُسلمانوں کو شعبِ ابی طالب میں محصور کر کے ان کے ساتھ تعلقات قطع کر دیئے اور ان کے ساتھ میل ملاپ بند ہو گیا تو ان دنوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دیگر قبائلِ عرب کی طرف زیادہ توجہ شروع کی؛ چنانچہ محصور ہونے کے زمانہ میں آپؐ اَشہرِ حرم میں جب کہ سب طرف اَمن ہوتا تھا حج میں آنے والے قبائل کا خاص طور پر دورہ کیا کرتے تھے اور عکاظ وغیرہ کے اجتماعات میں بھی باقاعدہ جاتے اور اسلام کی تبلیغ فرماتے تھے لیکن قریشِ مکّہ نے اس تبلیغ میں بھی روک تھام شروع کر دی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قبائل کا مُسلمان ہو جانا ان کے لیے قریباً قریباً ویسا ہی خطرناک ہے جیسا کہ خود مکّہ والوں کا اسلام لے آنا؛ چنانچہ یہ قریش ہی کی مخالفت کا نتیجہ تھا کہ باوجود اس کے کہ آپؐ نے کئی دفعہ قبائل کا دورہ کیا اور ہر کیمپ میں جاجا کر اسلام کی دعوت دی لیکن کہیں بھی کامیابی کی اُمّید نہ بندھی۔ ۲؎
    طائف کا سفر
    جب محاصرہ اُٹھ گیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اپنی حرکات و سکنات میں ایک گونہ آزادی نصیب ہوئی تو آپؐ نے ارادہ فرمایا کہ طائف میں جاکر وہاں کے
    لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ طائف ایک مشہور مقام ہے جو مکّہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس زمانہ میں قبیلہ بنو ثقیف سے آباد تھا۔ کعبہ کی خصوصیت کو الگ رکھ کر طائف گویا مکّہ کا ہم پلّہ تھا اور اس میں بڑے بڑے صاحبِ اثر اور دولتمند لوگ آباد تھے اور طائف کی اس اہمیت کا خود مکّہ والوں کو بھی اقرار تھا چنانچہ یہ مکّہ والوں کا ہی قول ہے کہ:
    ۱؎
    ’’یعنی اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے تو مکّہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا۔‘‘
    غرض شوال ۱۰ نبوی میں ۲؎ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم طائف اکیلے تشریف لے گئے۔ ۳؎ یا بعض روایتوں کی رُو سے زید بن حارثہ ؓ بھی ساتھ تھے۔۴؎ وہاں پہنچ کر آپؐ نے دس دن قیام کیا اور شہر کے بہت سے رؤساء سے یکے بعد دیگرے ملاقات کی، مگر اس شہر کی قِسمت میں بھی مکہ کی طرح اس وقت اسلام لانا مقدّرنہ تھا۔ چنانچہ سب نے انکار کیا بلکہ ہنسی اڑائی۔ آخر آپؐ نے طائف کے رئیسِ اعظم عبدیالیل ۵؎ کے پاس جاکر اسلام کی دعوت دی مگر اس نے بھی صاف انکار کیا بلکہ تمسخر کے رنگ میں کہا کہ ’’اگر آپؐ سچے ہیں تو مجھے آپؐ کے ساتھ گفتگو کی مجال نہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو گفتگو لا حاصل ہے، اور پھر اس خیال سے کہ کہیں آپؐ کی باتوں کا شہر کے نوجوانوں پر اثر نہ ہو جائے، آپؐ سے کہنے لگا بہتر ہو گا کہ آپؐ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہاں کوئی شخص آپؐ کی بات سُننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کے بعد اس بد بخت نے شہر کے آوارہ آدمی آپؐ کے پیچھے لگا دیئے۔ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم شہر سے نِکلے تو یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپؐ کے پیچھے ہو لئے اور آپؐ پر پتھر برسانے شروع کئے جس سے آپؐ کا سارا بدن خُون سے تَر بتر ہو گیا۔ برابر تین میل تک یہ لوگ آپؐ کے ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور پتھّر برساتے چلے آئے۔
    طائف سے تین میل کے فاصلہ پر مکّہ کے رئیس عتبہ بن ربیعہ کا ایک باغ تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس میں آکر پناہ لی اور ظالم لوگ تھک کر واپس لوٹ گئے۔ یہاں ایک سایہ میں کھڑے ہو کر آپؐ نے اﷲ کے حضور یوں دُعا کی:
    اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّ تِیْ وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَا نِیْ عَلَی النَّاسِ اَللّٰھُمَّ یَااَرْحَمَ الرَّحِمِیْنَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَانْتَ رَبِّیْ۔ الخ
    یعنی ’’اے میرے ربّ مَیں اپنے ضعفِ قوت اور قلّتِ تدبیر اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کی شکایت تیرے ہی پاس کرتا ہوں۔ اے میرے خدا تُو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اور کمزوروں اور بیکسوں کا تُو ہی نگہبان و محافظ ہے اور تُو ہی میرا پروردگار ہے … مَیںتیرے ہی مُنہ کی روشنی میں پناہ کا خواستگار ہوتا ہوں کیونکہ تُو ہی ہے جو ظلمتوں کو دُور کرتا اور انسان کو دُنیا و آخرت کے حسنات کا وارث بناتا ہے۔‘‘
    عتبہ و شیبہ اس وقت اپنے اس باغ میں موجود تھے۔ جب اُنہوں نے آپؐ کو اس حالت میں دیکھا تو دُور و نزدیک کی رشتہ داری یا قومی احساس یا نہ معلوم کس خیال سے اپنے عیسائی غلام عدّاسؔ نامی کے ہاتھ ایک کشتی میں کچھ انگور لگا کر آپؐ کے پاس بھجوائے۔ آپؐ نے لے لیے اور عدّاس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اور کس مذہب کے پابند؟‘‘ اس نے کہا۔ ’’مَیں نینوا کا ہُوں اور مذہباً عیسائی ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’کیا وہی نینوا جو خُدا کے صالح بندے یونس بن متی کا مسکن تھا۔‘‘ عدّاس نے کہا۔ ’’ہاں۔ مگر آپؐ کو یونس کا حال کیسے معلوم ہوا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’وہ میرا بھائی تھا۔ کیونکہ وہ بھی اﷲ کا نبی تھا اور مَیں بھی اﷲ کا نبی ہوں۔‘‘ پھر آپؐ نے اُسے اسلام کی تبلیغ فرمائی جس کا اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے آگے بڑھ کر جوشِ اخلاص میں آپؐ کے ہاتھ چُوم لیے۔ اس نظارہ کو دُور سے کھڑے کھڑے عتبہ اور شیبہ نے بھی دیکھ لیا؛ چنانچہ جب عدّاس ان کے پاس واپس گیا۔ تو اُنہوں نے کہا عدّاس! ’’یہ تجھے کیا ہوا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ چومنے لگا۔ یہ شخص تو تیرے دین کو خراب کر دے گا حالانکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔‘‘ ۱؎
    تھوڑی دیر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس باغ میں آرام فرمایا اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے اور نخلہؔ میں پہنچے جو مکّہ سے ایک منزل کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں کچھ دن قیام کیا۔ اس کے بعد نخلہ سے روانہ ہو کر آپ کوہ حرا پر آئے۔ اور چونکہ سفرِ طائف کی بظاہر ناکامی کی وجہ سے مکّہ والوں کے زیادہ دلیر ہو جانے کا اندیشہ تھا اس لیے یہاں سے آپؐ نے کسی شخص کی زبانی مطعم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ مَیں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں، کیا تم مجھے اس کام میں مدد دے سکتے ہو؟ مطعم پکّا کافر تھا مگر طبیعت میں شرافت تھی اور ایسے حالات میں اِنکار کرنا شرفاء عرب کی فطرت کے خلاف تھا، اس لیے اُس نے اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور سب مسلّح ہو کر کعبہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور آپؐ کو کہلا بھیجا کہ آجائیں۔ آپؐ آئے اور کعبہ کا طواف کیا اور وہاں سے مطعم اور اس کی اولاد کے ساتھ تلواروں کے سایہ میں اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ راستہ میں ابو جہل نے مطعم کو اس حالت میں دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگا۔ ’’اَمُجِیْرًاَمْ تَابِعٌ۔‘‘ یعنی کیا تم نے محمد کو صرف پنا ہ دی ہے یا اس کے تابع ہو گئے ہو۔‘‘؟ مطعم نے کہا۔ ’’مَیں صرف پنا ہ دینے والا ہُوں تابع نہیں ہوں۔‘‘ اس پر ابو جہل نے کہا۔ ’’اچھا پھر کوئی حرج نہیں۔‘‘ مطعم کفر کی حالت میں ہی فوت ہوا مگر مُسلمان ناقدر شناس نہیں تھے۔ حضرت حسان بن ثابت انصاری نے جو گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے درباری شاعر تھے مطعم کے اس شریفانہ بَرتاؤ پر اس کی مَدح میں زور دار اشعار کہے جو ان کے دیوان میں اب تک محفوظ ہیں۔ ۱؎ طائف کا سفر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک خاص واقعہ ہے۔ اس سفر کے حالات سے آپؐ کی ارفع شان اور بلند ہمتی اور بے نظیر صبرواستقلال کا پتہ چلتا ہے ؛ چنانچہ سرولیم میور لکھتا ہے:
    ’’محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کے سفرِ طائف میں عظمت اور شجاعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ایک تنہا شخص جسے اُس کی قوم نے حقارت کی نظر سے دیکھا اور رَدّ کر دیا۔ وہ خُدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نِکلتا ہے اور جس طرح یونس بن متی نینوا کو گیا، اسی طرح وہ ایک بُت پرست شہر میں جاکر اُن کو توحید کی طرف بلاتا اور توبہ کا وعظ کرتا ہے۔ اس واقعہ سے یقینا اس بات پر بہت روشنی پڑتی ہے کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو اپنے صدقِ دعویٰ پر کس درجہ ایمان تھا۔‘‘
    حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپؐ کو کبھی جنگ اُحد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپؐ نے فرمایا۔ ’’عائشہ تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں۔‘‘ پھر آپؐ نے سفر طائف کے حالات سُنائے اور فرمایا کہ اس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ مجھے خدا نے آپؐ کے پاس بھیجا ہے تا اگر ارشاد ہو تو مَیں یہ پہلو کے دونوں پہاڑ اِن لوگوں پر پیوست کر کے ان کا خاتمہ کر دُوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’نہیں نہیں۔ مجھے امّید ہے کہ اﷲ تعالیٰ اِنہی لوگوں میں سے وہ لوگ پیدا کر دے گا جو خدائے واحد کی پرستش کریں گے۔‘‘
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں جنّات کا وفد
    طائف کے سفر کے متعلق یہ بھی روایت آئی ہے کہ جب آپؐ
    اس سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو نخلہ میں رات کے وقت جب کہ آپؐ قرآن شریف کی تلاوت میں مصروف تھے جنّات کا ایک گروہ جو سات نفوس پر مشتمل تھا اور شام کے ایک شہر نصیبین * سے آیا تھا آپؐکے پاس سے گذرا اور اُس نے آپؐ کی تلاوت کو سُنا اور اس سے متأثر ہوا اور جب یہ جِنّ اپنی قوم کی طرف واپس گئے تو اُنہوں نے اپنی قوم سے آپؐ کی بعثت اور قرآن شریف کا ذکر کیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے ۱؎ اور دونوں جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان جنوں کے آنے کا خود براہ راست عِلم نہیں ہوا بلکہ ان کے چلے جانے کے بعد خدائی وحی کے ذریعہ اس بات کی اطلاع دی گئی کہ ایک جنوں کا گروہ آپؐ کی تلاوت کو سُن گیا ہے۔ حدیث میں بھی متفرق جگہ اس واقعہ کا ذکر آتا ہے اور گو تاریخی بیان سے حدیث کا بیان بعض تفصیلات میں مختلف ہے مگر مآل ایک ہی ہے کہ جنّات کے ایک وفد نے ایک سفر کی حالت میں آپؐ کی تلاوتِ قرآنِ کریم کو سُنا اور پھر اس سے متأثر ہوکراپنی قوم کی طرف واپس لَوٹ گیا۔ ۲؎ یہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ دفعہ ہوا ہو جس کی وجہ سے روایات میں باہمی اختلاف ہو گیا ہے لیکن اس جگہ ہمیں اس واقعہ کی ظاہری تفصیلات سے زیادہ سروکارنہیں ہے بلکہ مختصر طور پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس جگہ جنّات سے کیا مراد ہے اور ان کا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلنا اور پھر کلامِ مجید کی تلاوت سُن کر واپس لوٹ جانا کس غرض و غایت کے ماتحت تھا۔
    سو جاننا چاہیئے کہ جنوں کی ہستی کا عقیدہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کم و بیش دُنیا کی ہر قوم میں پایا جاتا ہے اور مذہبی اور غیر مذہبی ہر دو قسم کے لٹریچر میں اس کا وجود ملتا ہے مگر اس کی تفصیلات میں بہت اختلاف ہے بعض قوموں کے لٹریچر میں جنّات کے اندر ایک قسم کی خدائی طاقت تسلیم کی گئی ہے اور انہیں قابلِ پرستش مانا جاتا ہے۔ بعض میں ان کو بلا استثناء ایک ناپاک مخلوق قرار دیا گیا ہے اور گویا شیطان اور ابلیس کی طرح خیال کیا جاتا ہے ، مگر اسلام ان ہر دو قسم کے خیالات کو ردّ کرتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے کہ جنّ اﷲ تعالیٰ کی ایک مخفی مخلوق ہے جس میں انسانوں کی طرح اچھے اور بُرے دونوں قِسم کے افراد پائے جاتے ہیں لیکن اس مخلوق کا دائرہ انسانوں سے بالکل جُدا ہے اور ایک علیحدہ عالم سے تعلق رکھتا ہے۔ البتہ کہیں کہیں اﷲ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت تمثیلی رنگ میں جنوں کے وجود کا خاص خاص انسانوں کو نظارہ کرا دیا جاتا ہے۔ مگر ظاہر حالات میں یہ ہر دو مخلوق ایک دُوسرے سے بالکل جُدا ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تعلق اور واسطہ نہیں۔ قرآن شریف میں جنوں کا ذکر چھبیس مختلف مقامات پر آتا ہے۔ ۱؎ ان سب مقامات میں جنّ کے لفظ سے ایک ہی معنے مُراد نہیں ہیں، کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کریں گے یہ لفظ عربی زبان میں مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن ان ۲۶ مقامات کے مجموعی مطالعہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ جنّ خدا تعالیٰ کی ایک مخفی مخلوق ہے جو انسانوں کی طرح (گو اپنی تفصیلات میں یقینا اس سے بہت مختلف) ترقی اور تنزّل دونوں کا مادہ رکھتی ہے اور اپنے اعمال میں اچھے اور بُرے رستے کے اختیار کرنے کے لیے اپنی حدودِ مقررّہ کے اندر اندر صاحبِ اختیار ہے مگر جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے جنّ کا لفظ قرآن کریم میں ہر جگہ اس مخفی مخلوق کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ بعض جگہ یہ لفظ غیر اصطلاحی معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔
    دراصل جنّ ایک عربی لفظ ہے جس کے روٹ میں چھپنے یا چھپانے یا نظروں سے پوشیدہ ہونے یا پردہ میں رہنے یا آڑ میں آجانے یا سایہ یا اندھیرا کرنے کے معنے ہیں۔ چنانچہ عربی میں جنت باغ کو کہتے ہیں۔ کیونکہ اس کے درخت زمین پر سایہ کر کے اُسے چھپالیتے ہیں۔ جنین اس بچہ کو کہتے ہیں جو ابھی رحم مادر میں ہے کیونکہ وہ رحم کے پَردوں میں مخفی ہوتا ہے۔ مجنّہ ڈھال کو کہتے ہیں ، کیونکہ اس کے پیچھے ایک جنگجو سپاہی لڑائی کے وقت میں آڑ لیتا ہے۔ جنون دیوانگی کو کہتے ہیں کیونکہ وہ عقل پر پَردہ ڈال دیتی ہے۔ جَنان دل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ سینہ میں مخفی ہوتا ہے۔ اسی طرح جنانؔ رات یا لباس کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ اندھیرا کرنے یا ڈھانکنے کا ذریعہ ہیں۔ جَنَن قبر یا کفن کو کہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں مُردے کو اپنے اندر چھپا لیتے ہیں۔ جَانؔ سانپ کو کہتے ہیں کیونکہ وہ عموماً زمین کے مخفی سوراخوں میں زندگی گذارتا ہے۔ جُنّہ اوڑھنی کو کہتے ہیں کیونکہ وہ سر اور چھاتی کو ڈھانکتی ہے وغیرہ ذالک۔ ۲؎ اس اصل کے ماتحت بعض اوقات عربی محاورہ میں جِنّ کا لفظ ایسے اُمراء و رؤساء کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے جو بوجہ امارت اور عُلّوِ منزلت اور استکبار کے عام لوگوں کی سوسائٹی میں میل جول نہیں رکھتے اور علیحدگی میں زندگی گذارتے ہیں؛ چنانچہ بسا اوقات قرآن شریف میں جنّ کا لفظ اِنْس یعنی عامۃّالناس کے مقابلہ میں امراء کے طبقہ کے لئے استعمال ہوا ہے اور ان معنوں میں یہ لفظ عموماً بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ایسی قوموں پر بھی جنّ کا لفظ بول دیتے ہیں جو کسی ایسی علیحدہ اور منقطع جگہ میں آباد ہوں کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا زیادہ میل ملاپ ممکن نہ ہو اور انہی دو معنوں کے پیش نظر بعض محققین نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں جنوں کے وفد کے حاضر ہونے سے یہ مراد لیا ہے کہ یہ لوگ یا تو خاص امراء کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں گے جنہوں نے برملا طور پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پرہیز کیا اور علیحدگی میں آپؐ کا کلام سُن کر واپس چلے گئے اور یا وہ کسی دُور افتادہ قوم کے افراد ہوں گے جو اپنے ماحول کی وجہ سے دُوسرے لوگوں سے بالکل جُدا اور علیحدہ رہتی ہو گی۔ ہمیں ان معنوں کے قبول کرنے میں کوئی تأمل نہیں ہے اور اگر نخلہ میں جنوں کے وفد کے حاضر ہونے سے مراد اُمراء کے کسی وفد کا حاضر ہونا یا کسی دُور افتادہ منقطع قوم کے افراد کا پیش ہونا مراد ہے تو پھر اس میں خدا تعالیٰ کا یہ اشارہ ہو گا کہ اے رسُول! مکّہ اور طائف میں بظاہر اپنی ناکامیوں کو دیکھ کر پریشان اور دلگیر نہ ہو کیونکہ اب وقت آتا ہے کہ عوام النّاس تو کیا بڑے بڑے امیر و کبیر لوگ تیرے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں گے اور دُنیا کی دُور افتادہ قومیں تیری غلامی کا جوا اپنی گردنوں پر رکھیں گی۔
    لیکن اگر جنّ سے وہ مخفی مخلوق مراد ہے جس کی تفصیلات کا ہم کو علم نہیں ، لیکن اس کا وجود نصوصِ قرآنی کے ساتھ ثابت ہے تو اس میں بھی کسی عقلمند انسان کو شُبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی خلق کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ کسی مخلوق کی نظر اس کی انتہاء کو نہیں پاسکتی جہاں انسان کے سوا اس مَرئی دنیا میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں قسم کی دوسری مخلوق موجود ہے جن میں سے بعض قسم کی مخلوق مرئی ہونے کے باوجود ہماری کوتاہ نظر سے پوشیدہ رہتی ہے اور اس مخلوق کے وجود پر عِلم طب اور سائنس کے دُوسرے شعبے یقینی قطعی شاہد ہیں تو پھر اس بات کے ماننے میں کیا تأمل ہو سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی کوئی مخلوق جنّ کی قِسم کی بھی موجود ہو گی جو باوجود انسانی نظر سے پوشیدہ ہونے کے اسی طرح زندہ اور قائم ہو گی جس طرح انسان اپنے دائرہ کے اندر زندہ اور قائم ہے۔ بے شک اسلام ہمیں اس رنگ میں جنّات کی تعلیم نہیں دیتا کہ ہم موہومہ بھوتوں وغیرہ کی صورت میں کسی ایسی مخلوق کے قائل ہوں جس کے افراد انسانی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہوئے انسان کے لیے ایک تماشہ بنتے پھریں اور انسان کے سامنے مختلف صورتیں بدل بدل کر اُس کی تفریح یا تخویف کا سامان بہم پہنچائیں۔ یہ خیالات جاہلانہ توہّم پر مبنی ہیں۔ جن کا کوئی ثبوت اسلامی تاریخ یا حدیث یا قرآن کریم میں نہیں ملتا مگر یہ کہ جس طرح دُنیا میں اﷲ تعالیٰ کی بیشمار دُوسری مخلوق ہے جس میں بڑی چھوٹی کثیف لطیف مَرئی وغیر مَرئی ہر قسم کی چیزیں شامل ہیں اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی ایک مخلوق جنّ بھی ہے جو جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے، انسان کی نظروں سے مخفی ہے اور ایک جداگانہ عالم سے تعلق رکھتی ہے اور عام حالات میں انسان کے ساتھ اس کا کوئی سروکار نہیں۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس پر کوئی عقلمند اعتراض نہیں کر سکتا۔
    باقی رہا یہ سوال کہ ان معنوں کی رُو سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں جنّات کے وفد آنے سے کیا مراد ہے سو اس صورت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ نظارہ ایک کشفی نظارہ سمجھا جائے گا اور اس سے مراد یہ ہو گی کہ اس انتہائی درجہ پریشانی اور بے بسی کے زمانہ میں اﷲ تعالیٰ نے آپ کو یہ نظارہ دکھا کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اے رسُول گو ویسے ہر وقت ہی ہماری نصرت تیرے ساتھ ہے لیکن جس طرح گرمی کی شدّت خاص طور پر بادل کو کھینچتی ہے اسی طرح اب وقت آگیا ہے کہ ہماری مخفی طاقتیں تیری رسالت کی تائید میں خصوصیّت کے ساتھ مصروفِ کار ہو جائیں؛ چنانچہ اس کے بعد جلد ہی حالات نے پلٹا کھایا اور ہجرت یثرب کا پردہ اُٹھتے ہی خدا کی مخفی تجلّیات اسلام کے جھنڈے کو اٹھا کر کہیں کا کہیں لے گئیں۔ اور روایات میں جو سات کا لفظ آتا ہے سو اس سے مخفی طاقتوں کا کامل ظہور مراد ہے کیونکہ عربی میں سات کا عدد کمال کے اظہار کے لیے آتا ہے اور شام کے شہر نصیبین میں یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فتوحات کی رَو عرب کے بعد شام کے مُلک سے شروع ہو گی۔ واﷲ اعلم
    قبیلہ دَوس میں اسلام
    ابتدائی ایام میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اپنی کوششوں کے علاوہ اشاعتِ اسلام کا بڑا ذریعہ یہی تھا کہ کسی قبیلہ کا کوئی شخص اسلام لے آیا تو
    پھر اس کے ذریعہ سے اس قبیلہ میں آہستہ آہستہ اسلام پھیلنے لگا۔ یا مُسلمان مکّہ سے نکل کر کہیں گئے تو اپنے ساتھ اِس نور کی شعاعوں کو بھی لیتے گئے۔ مثلاً قبیلہ بنو غفار میں ابوذرؓ غفاری کے واسطے سے اور حبشہ میں مہاجرین حبشہ کے ذریعہ سے اور یمن کے قبیلہ اشعر میں ابو موسیٰ اشعری کے مُسلمان ہونے سے اسلام داخل ہو چکا تھا۔ اب خُدا کے فضل سے ایک اور قبیلہ میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا اور وہ یوں ہوا کہ طفیلؔ بن عمرو قبیلہ دوس کا ایک معزّز رئیس تھا اور شاعر بھی تھا۔ وہ کسی تقریب پر مکّہ آنکلا۔ قریش نے اُسے دیکھا تو فکر پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملے اور مُسلمان ہو جاوے۔ اس لیے وہ اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ ’’تم ہمارے شہر میں ایسی حالت میں آئے ہو کہ یہاں ایک شخص نے ہم میں سخت فِتنہ اورتفرقہ ڈال رکھا ہے۔ اس کی باتیں باپ کو بیٹے سے ، بھائی کو بھائی سے اور خاوند کو بیوی سے جُدا کر دیتی ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ تم اس کی ساحرانہ باتیں سُنو اور متاثر ہو جاؤ۔ لہٰذا ہم تمہیں بروقت ہو شیار کرتے ہیں کہ دیکھنا کہیں اس کی باتوں میں نہ آجانا۔ طفیل کہتے ہیں کہ مجھے قریش نے اِس معاملہ میں اس طرح بار بار تاکید کی کہ میں ان کی بات کو سچا سمجھ کر بہت خائف ہو گیا حتّٰی کہ میں نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے کان میں اچانک اس ساحر کی کوئی آواز پڑ جاوے اور میں کسی فتنہ میں مبتلا ہو جاؤں۔ میں ایک دن اسی حالت میں صبح کے وقت مسجد حرام میں گیا تو وہاں میں نے ایک کونہ میں آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ مجھے یہ نظارہ بھلا معلوم ہوا اور میں آہستہ آہستہ آپؐ کے قریب چلا گیا۔ خدا کی قدرت باوجودیکہ میرے کان بند تھے پھر بھی کچھ کچھ آواز مجھے سُنائی دینے لگی اور میں نے دل میں کہا۔ ’’میری ماں مجھے کھوئے۔ ۱؎ میں ایک سمجھدار شخص ہوں اور نیکی بدی کی تمیز رکھتا ہوں۔ پس کیا حَرج ہے کہ میں اس شخص کی بات سُن لوں۔ اگر وہ اچھی ہوئی تو مان لوں گا اور اگر بُری ہوئی تو انکار کر دوں گا۔‘‘ یہ خیال دل میں آنا تھا کہ میں نے کانوں سے روئی نکال پھینکی اور قرآن کی تلاوت سُنتا رہا اور جب رسول اﷲ نماز ختم کر چکے اور گھر کی طرف لوٹے تو میں ساتھ ہو لیا اور آپؐ سے عرض کیا کہ مجھے آپؐ اپنی باتیں سُنائیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے کلام الٰہی سنایا اورتوحید کی تبلیغ فرمائی۔ جس کا یہ اثر ہوا کہ میں وہیں مسلمان ہو گیا۔ پھر میں نے آپؐ سے عرض کیا۔ یارسُول اﷲ! مَیں اپنے قبیلے میں ممتاز حیثیت رکھتا ہوں اور لوگ میری بات مانتے ہیں۔ پس آپؐ دُعا کریں کہ میرے ذریعہ اﷲ تعالیٰ ان کو اسلام کی ہدایت دے۔ آپؐ نے اجازت دی اور دُعا فرمائی۔ جب طفیل اپنے قبیلہ میں پہنچے تو اُنہوں نے سب سے پہلے اپنے والد اور بیوی کو تبلیغ کی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ پھر قبیلہ والوں کی طرف رُخ کیا اور ان کو اسلام کی طرف بلایا، مگر اُنہوں نے انکار کیا اور نہ مانا بلکہ نفرت و مخالفت میں بڑھتے گئے۔ یہ حالت دیکھ کر طفیل پھر آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ’’یا رسُول اﷲ! میری قوم نے تکذیب کی ہے اور مخالفت میں بڑھ گئی ہے۔ پس اب آپ اُن کے واسطے بد دُعا کریں۔ آپؐ نے ہاتھ اُٹھاے مگر بجائے بد دُعا کرنے کے یہ الفاظ فرمائے کہ ’’اَللّٰھُمَّ اِھْدِدَوْسًا‘‘ یعنی ’’اے میرے اﷲ تُو قببلہ دَوس کو ہدایت دے۔‘‘اور پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے جاؤ اور نرمی اور محبت سے تبلیغ میں لگے رہو۔ طفیل کہتے ہیں کہ میں پھر اپنے قبیلہ کی طرف واپس آیا اور ان میں تبلیغ کرتا رہا۔ حتّٰی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکّہ سے ہجرت کی اور جنگِ بدرؔ اور اُحد اور اَحزابؔ ہو چکیں تب جاکر میری قوم نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد میں اُن میں سے ستّر خاندانوں کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کر آیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جنگِ خیبر میں مصروف تھے۔ ۱؎ حضرت ابوہریرہؓ جو احادیث کے ایک مشہور راوی ہیں قبیلہ دَوس سے تھے اور انہی لوگوں میں مدینہ آئے تھے۔
    طفیلؓ بن عمرو دَوسی کے متعلق یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش مکّہ نے بہت زیادہ تنگ کرنا شروع کیا تو انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسُول اﷲ! آپؐ میرے پاس چل کر قیام فرماویں۔ اس پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’یہ معاملہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب ہجرت کا حکم دے گا، تبھی میرا نِکلناہو گا اور پھر جہاں کا ارشاد ہو گا وہیں جانا ہو گا۔‘‘
    معراج اور اسراء
    معراج اور اسراء کے مسئلہ کو اسلامی لٹریچر میں جو پوزیشن حاصل ہے اور جو لمبی لمبی بحثیں اس بارے میں کی گئی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یہ بحثیں آنحضرت
    صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے تھوڑا عرصہ بعد سے لے کر آج تک کے لٹریچر میں پائی جاتی ہیں، مگر ہمیں ایک مؤرخ ہونے کی حیثیت میں ان بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے لیے صرف اس قدر کافی ہے کہ معراج اور اسراء کے متعلق تاریخی لحاظ سے جو بات ثابت ہے اسے مختصر طور پر اپنے ناظرین کے سامنے رکھ دیں مگر پیشتر اس کے کہ اصل واقعات بیان کیے جائیں بعض ان اصولی غلطیوں کا ذکر ضروری ہے جو اس بحث میں عام طور پر واقع ہوئی ہیں جن میں بد قسمتی سے خود مسلمانوں کا ایک طبقہ بھی مبتلا ہو گیا ہے۔
    پہلی غلطی یہ ہوئی ہے کہ مُسلمانوں کے ایک حِصّہ نے اور ان کی پیروی میں بیشتر غیر مسلم مؤرخین نے یہ سمجھ لیا ہے کہ معراج اور اسراء ایک ہی واقعہ کے دو مختلف نام ہیں یا کم از کم یہ کہ وہ ایک ہی واقعہ کے دو مختلف حصوں کے نام ہیں حالانکہ قرآن شریف اور صحیح احادیث اور مستند تاریخی روایات کے مطالعہ سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دراصل معراج اور اسراء دو مختلف چیزیں ہیں جو خواہ ایک دُوسرے کے قریب قریب واقع ہوئی ہوں اور خواہ ان کا آپس میں رُوحانی رنگ میں کوئی جوڑ اور رابطہ بھی ہو مگر حقیقۃً وہ ایک دوسرے سے جُدا اور مختلف ہیں یعنی معراج تو اس رُوحانی سفر کا نام ہے جس میں آپؐ کو مکّہ سے اُٹھا کر آسمان تک پہنچایا گیا جہاں بالآخر آپؐ خداوندِ عالمیان کے دربار میں پیش ہوئے اور اسراء ایک دوسرا سفر ہے جو آپ کو بعض مصالح کے ماتحت مکّہ سے لے کر بیت المقدس تک کرایا گیا۔ قرآن شریف نے ان ہر دو سفروں کو علیحدہ علیحدہ سورتوں میں علیحدہ علیحدہ کیفیات اور تفاصیل کے ساتھ بیان کیا ہے؛ چنانچہ سورۃ نجم ۱؎ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی جس رُوحانی پرواز کا ذکر آتا ہے وہ معراج ہے۔ جیسا کہ بخاری میں بھی سورۃ نجم کی آیات کو معراج کے واقعہ پر چسپاں کر کے اشارہ کیا گیا ہے۔ ۲؎ اور سورۃ بنی اسرائیل میں ۳؎ جس سفر کا ذکر ہے وہ اسراء ہے اور ان دونوں کی تفصیلات اور کیفیات ایک دُوسرے سے بالکل جدا ہیں ۔ مثلاً سورۃ بنی اسرائیل میں اسراء کا واقعہ بیان کرتے ہوئے قرآن شریف نے آسمان کا ذکر تک نہیں کیا اور سورۃ نجم کے بیان میں بیت المقدس کا کوئی ذکر نہیں آتا۔
    اسی طرح احادیث کے بغور مطالعہ سے بھی معراج اور اسراء کا جُدا جُدا ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ بخاری میں جو قرآن شریف کے بعد اسلامی لٹریچر میں صحیح ترین کتاب مانی جاتی ہے۔ اسراء اور معراج کے علیحدہ علیحدہ باب باندھ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ۴؎ اور دونوں سفروں کی جُدا جُدا ابتداء بیان کرنے میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ ہر دو سفر ایک دوسرے سے جُدا تھے۔ یعنی جہاں اسراء کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو مکّہ سے لے کر بیت المقدس تک کی سیر کرائی گئی وہاں معراج کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپؐ کو مکّہ سے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ گویا ہر دو سفروں کی ابتداء علیحدہ علیحدہ طور پر مکّہ سے ہی ہوئی جس سے ان کا ایک دوسرے سے جُدا اور متغائر ہونا ظاہر و عیاں ہے۔۵؎ علاوہ ازیں باوجود اس کے کہ معراج کی حدیث بخاری میں چھ مختلف جگہوں میں بیان ہوئی ہے اور اسی طرح اِسراء کی حدیث بھی متعدد جگہ آئی ہے اور بعض جگہ راویوں کی بے احتیاطی سے جزوی طور پر اسراء اور معراج کے بیان میں کسی قدر خلط بھی ہو گیا ہے لیکن کہیں بھی معراج کے بیان میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بیت المقدس کی طرف جانا مذکور نہیں ہوا بلکہ ساری کی ساری روایات میں مکّہ سے سیدھا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا بیان کیا گیا ہے۔ ۱؎ جس سے معراج کا اسراء سے جُدا ہونا یقینی طور پر ثابت ہے۔ اسی طرح سیرتِ ابن ہشام میں جو سیرۃ کی کتابوں میں سب سے زیادہ متداول کتاب ہے۔ معراج اور اسراء کو بالکل علیحدہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور یہ تصریح ہے کہ مکّہ سے لے کر بیت المقدس تک کے سفر کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ میں واپس تشریف لے آئے تھے اور معراج کا واقعہ علیحدہ طور پر ہوا تھا۔ ۲؎ اسی طرح مشہور مؤرخ ابنِ سعد نے بھی معراج اور اسراء کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں میں علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ۳؎ ان شہادتوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ خواہ معراج اور اسراء کا روحانی طور پر آپس مین کوئی تعلق اور رابطہ ہو مگر واقعہ کے لحاظ سے وہ ایک دُوسرے سے بالکل مختلف اور متغائر چیزیں تھیں جو جُدا جُدا طور پر علیحدہ علیحدہ کوائف کے ساتھ وقوع پذیر ہوئیں؛ چنانچہ متقدین میں سے بھی ایک معتدبہ حصّہ نے معراج اور اسراء کو علیحدہ علیحدہ قرار دیا ہے۔ ۴؎
    دُوسری غلطی اس بحث میں یہ ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ان سفروں کو ظاہری سفر قرار دے دیا گیا ہے جو گویا اس مادی جسم کے ساتھ وقوع پذیر ہوئے؛ حالانکہ مذکورہ بالا تینوں شہادتین اس خیال کو بھی سختی سے ردّ کرتی ہیں؛ چنانچہ قرآن شریف میں معراج کے متعلق جو بیان آتا ہے۔ اس میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ۵؎ یعنی اس موقع پر جو کچھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل نے دیکھا وہ بالکل ٹھیک ٹھیک اور سچ تھا اور آپؐ کے قلبِ صافی نے اس نظّارہ کے دیکھنے اور سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ ایک قلبی نظارہ تھا نہ کہ ایک جسمانی اور مادی سفر۔ اسی طرح حدیث میں بھی یہ واضح اشارہ پایا جاتا ہے کہ معراج ایک روحانی امر تھا۔ چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ جس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو آسمان پر اُٹھائے جانے کا نظارہ دکھایا گیا۔ اس وقت آپؐ سو رہے تھے مگر یہ کہ آپؐ کا یہ سونا عام لوگوں کی طرح کا سونا نہ تھا بلکہ اس خاص شانِ نبوت سے تعلق رکھتا تھا جس میں آپؐ کی آنکھ تو سوتی تھی مگر دل بیدار رہتا تھا۔۱؎ اور ایک دوسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ معراج کا نظارہ آپؐ کو نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں دکھایا گیا۔ ۲؎ اور ایک تیسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ معراج کے نظارہ کے بعد آپؐ بیدار ہو گئے۔ ۳؎ اور ایک چوتھی روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اگر کوئی شخص تم میں سے یہ کہے کہ معراج میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان جسمانی آنکھوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کو دیکھا تو وہ جھوٹا ہے۔ اس کی بات ہر گز نہ مانو اور فرماتی ہیں کہ میرے تو اس خیال سے ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں کہ آپؐ نے ان جسمانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو دیکھا تھا۔ ۴؎ پھر کتب سیرۃ میں بھی ایسی روایات کی کمی نہیں ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معراج ایک روحانی امر تھا نہ کہ ظاہری اور جسمانی سفر۔ چنانچہ مشہور اسلامی مؤرخ ابن اسحاق نے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ مَافَقَدَ جَسَدَہٗ یعنی معراج کی رات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا جسم مبارک غائب نہیں ہوا بلکہ تمام وقت اِسی مادی دُنیا میں موجود رہا۔۵؎ اس سے بڑھ کر معراج کے روحانی ہونے کے متعلق کیا شہادت ہو گی؟
    اسی طرح اسراء کے متعلق قرآن شریف اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ وہ ایک رُوحانی امر تھا جو خاص مصالح کے ماتحت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھایا گیا؛ چنانچہ قرآن شریف نے اس کے متعلق تین باتیں بیان کی ہیں۔ اوّلؔ یہ کہ سفر رات کے وقت ہوا جیسا کہ اَسْرٰی کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ دومؔ یہ کہ وہ ایک ہی رات کے دوران میں مکمل ہو کر ختم ہو گیا جیسا کہلَیْلاً کے لفظ سے پایا جاتا ہے۔ اور سومؔ یہ کہ اس سفر کی غرض و غایت یہ تھی کہ ہم اپنے رسول کو اپنے بعض نشانات دکھائیں۔ ۶؎ اب جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ تینوں باتیں اسراء کو ایک رُوحانی سیر ثابت کرتی ہیں نہ کہ ایک ظاہری اور جسمانی سفر۔ کیونکہ اوّل تو عام حالات میں ظاہری سفر کا وقت دن ہے اور رات کے وقت سفر کرنا ایک استثنائی صورت رکھتا ہے اور اس کے مقابل پر روحانی سَیر یعنی رؤیا وغیرہ کے لئے اصل وقت رات ہے اور دن کے وقت اس کا واقع ہونا ایک گو نہ استثنائی رنگ رکھتا ہے۔ پس اﷲ تعالیٰ نے رات کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ یہ ایک روحانی سفر تھا جو بصورت رؤیا وقوع پذیر ہوا۔ ورنہ رات کے ذکر میں کوئی خاص حکمت نظر نہیں آتی۔ دُوسرے اس سفر کے متعلق ان الفاظ کا استعمال کیا جانا کہ وہ ایک رات کے دوران میں مکمل ہو کر ختم ہو گیا سوائے اس کے اور کسی غرض و غایت کے لیے نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے رُوحانی ہونے کی طرف اشارہ کیا جائے۔ کیونکہ عام حالات میں مادی اسباب کے ماتحت مکّہ سے لے کر بیت المقدس تک کا سفر ایک رات کے اندر اندر پورا ہونا بالکل ممکن نہ تھا۔ تیسرے اس سفر کی غرض و غایت کے متعلق جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے اپنے بندے کو یہ سفر اس لیے کرایا ہے کہ اُسے اپنے بعض نشانات دکھائیں، یہ بھی اسے ایک رُوحانی امر ثابت کرتا ہے کیونکہ مکّہ سے لے کر بیت المقدس کا ظاہری اور جسمانی سفر خواہ وہ ایک رات کے قلیل عرصہ میں ہی تکمیل کو پہنچ جائے ایک عجوبہ نمائی کے سوا اپنے اندر کوئی خاص شان کا پہلو نہیں رکھتا جِسے مقامِ نبوت کے مناسب حال سمجھا جاسکے؛ البتّہ اگر اس سفر کو کشفی رنگ میں ایک روحانی امر سمجھا جائے جس سے تصویری زبان میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور مُسلمانوں کی آئندہ ترقیات اور فتوحات مراد ہوں تو تب بیشک وہ ایک مقتدرانہ پیشگوئی کی صورت میں ایک بہت بڑا نشان قرار پاتا ہے جس کے مقابل پر ظاہری سفر کو کچھ بھی حیثیت حاصل نہیں۔ علاوہ ازیں قرآن شریف نے اسی سورۃ بنی اسرائیل میں جس کے ابتداء میں اسراء کا ذکر آتا ہے ، اسراء کے متعلق رؤیا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ۱؎ جس سے اس بات میں کوئی شُبہ نہیں رہتا کہ سفر ایک رؤیا کے رنگ میں تھا نہ کہ ایک ظاہری اور جسمانی سفر۔ مگر اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ عربی میں رؤیا کے معنے صرف خواب کے نہیں ہوتے بلکہ عربی محاورہ کے مطابق رؤیا کا لفظ ہر اس رُوحانی نظارہ پر بولا جاتا ہے جو کسی انسان کو بطریق خواب یا کشف وغیرہ دکھایا جائے اور ہر قِسم کے رُوحانی مناظر اس کے اندر شامل ہیں۔ پس جہاں اسراء یا معراج کے متعلق رؤیا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس سے اُردو محاورہ کے مطابق خواب مُراد نہیں ہوتی بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کا رُوحانی کشف مُراد ہوتا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو آپؐ کی اَرفع اور اَعلیٰ شان کے مطابق خاص مصالحِ الٰہی کے ماتحت دکھایا گیا ۔ بہرحال قُرآن شریف نے واضح ارشادات کے ذریعہ اس بات کو کھول کر جتا دیا ہے کہ اسراء کوئی مادی امر نہیں تھا بلکہ وہ روحانی سفر تھا جس کی غرض و غایت خدا کے بعض مقتدرانہ نشانات دکھانا ہی تھی۔
    اسی طرح حدیث میں بھی اسراء کے متعلق صاف اشارہ آتا ہے کہ وہ ایک رُوحانی امر تھا نہ کہ جسمانی اور ظاہری سفر۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے مکّہ کی مسجد حرام سے لے کر بیت المقدس کی مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی تو اس پر کفّارِ مکّہ نے جن میں سے بعض بیت المقدس کو دیکھ چکے تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کبھی بیت المقدس نہیں گئے۔ یہ اعتراض کیا کہ اگر آپؐ کا یہ دعویٰ دُرست ہے تو آپؐ بیت المقدس کا کوئی نظارہ بیان کریں۔ اس پر آنحضرت کی طبیعت میں بے چینی پیدا ہوئی۔ کیونکہ گو آپؐ رؤیا میں بیت المقدس کو دیکھ چکے تھے مگر آپ جانتے تھے کہ یہ ایک رؤیا کا معاملہ ہے جس میں ممکن ہے کہ آپؐ کے ذہن کا نقشہ ظاہر کے ساتھ بالکل مطابقت نہ کھاتا ہو اور آپؐ کو رؤیا کے مخصوص مناظر کے سوا بیت المقدس کے عام مناظر کا علم بھی نہیں تھا اس لیے طبعاً آپؐ کو کفّار کے اس اعتراض پر لوگوں کی ٹھوکر کے خیال سے فکر پیدا ہوا مگر اﷲ تعالیٰ نے فوراً کشفی رنگ میں بیت المقدس کا ظاہری نقشہ آپؐ کی آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا اور آپؐ نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرماتے ہوئے کفّارکو بتایا کہ بیت المقدس کی یہ یہ نشانیاں ہیں۔ ۱؎ اس پر کفّار شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔ اب اگر اسراء اس ظاہری جسم کے ساتھ ہوا تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بیت المقدس کے مناظر کو واقعی اپنی ان جسمانی آنکھوں کے ساتھ ملاحظہ فرما چکے تھے۔ تو کفّار کے اعتراض پر آپؐ کو فکر مند ہونے اور اﷲ تعالیٰ کو بیت المقدس کا دوبارہ نظارہ کروانے کی کیا ضرورت تھی؟ کفار کے اعتراض پر آپؐ کا فکر مند ہونا اور خدا تعالیٰ کا دوبارہ نظارہ دکھانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے قبل بیت المقدس کو حقیقی طور پر نہیں دیکھا تھا اور صرف اعتراض ہونے پر اس کا حقیقی نظارہ دکھایا گیا اور پہلا نظارہ جو اسراء کے موقع پر ہوا تھا، اس میں بیت المقدس کا نقشہ صرف عالمِ رؤیا کا ایک اجمالی نقشہ تھا جس کی بنا پر آپؐ اس بستی کی تفصیلات نہیں بتا سکتے تھے۔
    الغرض قرآن شریف اور احادیث اور تاریخ تینوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ معراج اور اسراء خالصۃً رُوحانی امور تھے جو بعض خاص مصالح کے ماتحت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھائے گئے اور جن لوگوں نے اس کے خلاف ادّعا کیا ہے ان کے ہاتھ میں سوائے کمزور اور بودے استدلالات کے اور کچھ نہیں۔ ہاں جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ہماری مراد معراج اور اسراء کے رُوحانی ہونے سے ہر گز یہ نہیں ہے کہ یہ نظارے معمولی خواب کے نظارے تھے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو نیند کی حالت میں دکھائے گئے۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے اس نے اسراء اور معراج کی حقیقت کو ہر گز نہیں سمجھا اور یقینا وہ ان لوگوں سے بڑھ کر غلطی خوردہ ہے جو ان مناظر کو جسمانی اور ظاہری حالت کے ساتھ وابستہ قرار دیتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ جس طرح ہر شخص کے روحانی مقام کے لحاظ سے اس کے رُوحانی قویٰ تیز اور لطیف ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کے مقابل پر اسی نسبت سے اﷲ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کے لیے اُن کے مقامِ قرب کے لحاظ سے روحانی بلندیوں کے دروازے کھولتا ہے۔ اسی لیے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے یہ روحانی مناظر آپؐ کے اَرفع و اَعلیٰ مقام کے لحاظ سے دوسروں کے لطیف ترین کشوف سے بھی آگے نکلے ہوئے تھے جن میں آپؐ کو ایک سراسر نورانی جسم کے ساتھ ان بلند ترین رُوحانی چوٹیوں کی سیر کرائی گئی جہاں آج تک کسی بشر کا قدم نہیں پہنچا تھا اور ظاہر ہے کہ اس کے مقابل پر محض ایک خواب کو کچھ بھی حیثیت حاصل نہیں اور نہ ہی اس کے سامنے محض ایک ظاہری اور جسمانی پرواز کو جو ایک عجوبہ نمائی سے بڑھ کر نہیں کوئی حقیقت حاصل ہے۔
    ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ نعوذ باﷲ خدا تعالیٰ کسی بشر کو اس جسمِ عنصری کے ساتھ آسمان پر لے جانے کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ غرض صرف یہ ہے کہ قرآن شریف اور صحیح احادیث اور مستند تاریخی روایات سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اسراء یا معراج میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس جسمِ عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے ہوں بلکہ اس کے برعکس جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ قسم کی رُوحانی پرواز تھی جو بطریق رؤیا آپؐ کو کرائی گئی اور تصویری اور تعبیری زبان میں اس پرواز کے اندر بہت سے حقائق اور اشارات مخفی تھے جو ایک عظیم الشان نشان کے طور پر اپنے وقت پر پورے ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ دُوسری طرف اس جگہ اس بات کے بیان کر دینے میں کوئی حرج نہیںہے کہ گو خدائی قدرت کے لحاظ سے سبھی کچھ ممکن ہے مگر خدا تعالیٰ نے بعض امور کو خود اپنی سنّت کے خلاف قرار دیدیا ہے اور انہی میں کسی بشر کا اس جسمِ عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر آتا ہے کہ جب ایک موقع پر کفّارِ مکّہ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپؐ ہمیں آسمان پر چڑھ کر دکھلاویں تو آپؐ نے انہیں خدائی منشاء کے ماتحت یہ جواب دیا کہ سُبْحَانَ اﷲ! مَیں تو صرف ایک انسان رسول ہُوں اور ایک انسان رسُول کا اس طرح آسمان پر جانا خدائی سُنّت کے خلاف ہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ واقعہ قرآن شریف نے اسی سورۃ میں بیان فرمایا ہے جس میں اسراء کا ذکر آتا ہے۔ ۱؎ اسی طرح بعض دوسری آیات میں بھی یہ صاف مذکور ہے کہ ایک انسان اس دنیوی زندگی میں عالمِ مادی کی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ۲؎
    اسراء اور معراج کے بارے میں دو اصولی غلطیوں کے ازالہ کے بعد ہم اصل واقعہ کو لیتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ان کشوف کی تفصیلات کیا تھیں۔ وہ کِس جہت سے آیاتِ الٰہی کے حامل تھے اور وہ کب وقوع پذیر ہوئے۔ پہلے ہم معراج کو لیتے ہیں۔ سو جاننا چاہیئے کہ معراج ایک عربی لفظ ہے جو عَرَجَ سے نِکلا ہے جس کے معنے اُوپر چڑھنے کے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے عربی میں معراج سیڑھی کو بھی کہتے ہیںجو گویا اوپر چڑھنے کا آلہ اور واسطہ ہے۔ معراج کی تفصیل قرآن شریف میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ:
    ۱؎
    ’’یعنی خدا نے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو خود تعلیم دی ہے۔ وہی خُدا جو بڑی طاقتوںکا مالک اور صاحبِ قوّت وسطوَت ہے سو (اس تعلیم کے نتیجہ میں) یہ رسول ایستادہ ہو کر بلند ہوا حتّٰی کہ وہ بلند ہوتا ہوتا افقِ اعلیٰ تک جا پہنچا۔ پھر وہ خدا سے قریب ہوا اور خدا بھی اس کی طرف جھُکا حتّٰی کہ وہ دونوں یوں ہو گئے جیسے دو کمانوں کے ملنے سے اُن کا چلّہ ایک ہو جاتا ہے (یعنی کمانیں تو الگ الگ رہتی ہیں مگر تیر چلانے کی جگہ ایک ہو جاتی ہے اور مقصد و مَرْمیٰ کے لحاظ سے کوئی دوئی نہیں رہتی) اس حالت میں خدا نے اپنے اس رسول کو وہ وحی کی جو اُسے کرنا تھی اور رسول کے قلبِ صافی نے اس نظارہ کے دیکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی بلکہ جو کچھ دیکھا ٹھیک ٹھیک دیکھا۔ کیا اے لوگو تم ہمارے رسول کے اِن رُوحانی مناظر کو شک کی نظر سے دیکھتے ہو؟ حالانکہ اس نے تو اس وقت(اس سے بھی بڑھ کر) ایک اور نظارہ بھی دیکھا تھا۔ وہی جو اُس نے اس انتہائی بیری کے قریب دیکھا۔ وہ بیری جو اَبدی رہائش والی جنت کے پاس ہے جبکہ اس بیری پر ایک خاص تجلی کا ظہور ہو رہا تھا۔ یقینا اس وقت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنکھ غلط راستہ پر نہیں پڑی اور نہ ہی وہ حدِّ مقررہ سے آگے نکلی اور آپؐ نے اس نظارہ میں خدائے ذوالجلال کے بڑے بڑے نشان ملاحظہ کئے۔‘‘
    اِس قرآنی بیان کی تشریح و تفصیل میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں اُن میں بد قسمتی سے کسی قدر اختلاف پایا جاتا ہے اور جیسا کہ قاعدہ ہے جوں جوں کوئی روایت اعتبار کے اعلیٰ مقام سے نیچے گِرتی گئی ہے توں توں اس میں کمزور حِصّہ کا دخل زیادہ ہوتا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس جگہ صرف مضبوط اور معتبر روایتوں تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے۔ اور اُن میں سے بھی صرف اِس حصہ پر اکتفا کریں گے جو ہماری تحقیق میں اختلاف و اختلاط سے پاک ہے۔ سو جاننا چاہیئے کہ معراج کے متعلق صحیح روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
    ایک رات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مسجد حرام کے اس حِصہ میں جو حطیم کہلاتا ہے لیٹے ہوئے تھے اور یقظہ اور نوم کی درمیانی حالت تھی۔ یعنی آپؐ کی آنکھ تو سوتی تھی مگر دل بیدار تھا کہ آپؐ نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوئے ہیں۔ حضرت جبرائیل ؑ نے آپؐ کے قریب آکر آپؐ کو اُٹھایا اور چاہِ زمزم کے پاس لاکر آپؐ کا سینہ چاک کیا اور آپؐ کے دل کو زمزم کے مصفّا پانی سے اچھی طرح دھویا۔ اس کے بعد ایک سونے کی طشتری لائی گئی جو ایمان و حکمت سے لبریز تھی اور حضرت جبرائیل ؑ نے آپؐ کے دل میں حِکمت و ایمان کا خزانہ بھر کر آپؐ کے سینہ کو پھر اُسی طرح بند کر دیا۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام آپؐ کو اپنے ساتھ لے کر آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور پہلے آسمان کے دروازہ پر پہنچ کر دستک دی۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ جبرائیل ؑ نے جواب دیا مَیں جبرائیل ہُوں اور میرے ساتھ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ دربان نے پوچھا۔ کیا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو بُلایا گیا ہے؟ جبرائیل ؑنے کہا۔ ہاں ۔ اس پر دربان نے دروازہ کھول کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ اندر داخل ہو کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک بزرگ انسان کو دیکھا۔ جس نے آپؐ کو مخاطب ہو کر کہا۔ ’’مَرحبا اے صالح نبی اور اے صالح فرزند۔‘‘ اور آپؐ نے بھی اُسے سلام کیا۔ اس شخص کے دائیں اور بائیں ایک بہت بڑی تعداد میں رُوحوں کا سایہ پڑ رہا تھا۔ جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا تھا تو اس کا چہرہ خوشی سے تمتما اُٹھتا تھا اور جب بائیں طرف دیکھتا تھا تو غم سے اس کا مُنہ اُتر جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جبرائیل ؑ سے پوچھا ! یہ صاحب کون ہیں؟ جبرائیل ؑ نے کہا یہ آدم ؑ ہیں اور ان کے دائیں طرف ان کی نسل میں سے اہلِ جنّت کا سایہ پڑ رہا ہے، جسے دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں اور بائیں طرف اہلِ نار کا سایہ ہے جسے دیکھ کر وہ غم محسوس کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت جبرائیل آپؐ کو لے کر آگے چلے اور دُوسرے آسمان کے دروازہ پر بھی آپؐ کو وہی واقعہ پیش آیا۔ اور اس کے اندر داخل ہو کر آپؐ نے دو شخصوں کو دیکھا جنہوں نے ان الفاظ میں آپؐ کو خیر مقدم کیا کہ ’’مَرحبا اے صالح نبی اور صالح بھائی۔‘‘ اور آپؐ نے بھی انہیں سلام کہا۔ اور جبرائیل ؑ نے آپؐ کو بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحیٰ ؑہیں۔ جو خالہ زاد بھائی تھے۔ اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آپؐ کو اپنے ساتھ لے کر تیسرے اور چوتھے اور پانچویں آسمان میں سے گذرے جن میں آپؐ نے علی الترتیب حضرت یوسف ؑ اور حضرت ادریس ؑ اور حضرت ہارون ؑ کو پایا۔ چھٹے آسمان پر آپؐ کی ملاقات حضرت موسیٰ ؑسے ہوئی اور حضرت موسیٰ ؑنے بھی آپؐ کو اسی طرح مرحبا کہا اور آپؐ نے سلام کیا۔ جب آپؐ ان سے آگے گذرنے لگے تو حضرت موسیٰ ؑرو پڑے جس پر آواز آئی۔ اے موسیٰ ؑ! کیوں روتے ہو؟ حضرت موسیٰ ؑنے کہا۔ اے میرے اﷲ! یہ نوجوان میرے پیچھے آیا مگر اس کی اُمّت میری امّت کی نسبت جنت میں زیادہ داخل ہو گی۔ اے میرے اﷲ! میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص میرے پیچھے آکر مجھ سے آگے نِکل جائے گا۔ ۱؎ اس کے بعد آپؐ ساتویں آسمان میں داخل ہوئے جہاں آپؐ کی حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی جو بیتِ معمور کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ یہ بیتِ معمور آسمانی عبادت گاہ کا مرکز تھا (جس کے گویا ظِل کے طور پر دُنیا میں کعبۃ اﷲ تعمیر ہوا تھا) حضرت ابراہیم ؑنے بھی آپؐ کو دیکھ کر اُسی طرح مرحبا کہا جس طرح حضرت آدمؑ نے کہا تھا۔ (کیونکہ وہ بھی حضرت آدمؑ کی طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جدِّامجد تھے) اور آپؐ نے بھی اسی طرح اُن کو سلام کہا۔
    اس کے بعد آپؐ اور آگے بڑھے اور وہاں پہنچے جہاں اس وقت تک کسی بشر کا قدم نہیں پہنچا تھا۔ یہاں آپؐ نے اپنے اُوپر سے بہت سی قلموں کے چلنے کی آواز سُنی (جو گویا قضا و قدر کی قلمیں تھیں) اس کے بعد آپؐ کو اپنے سامنے ایک بیری کا درخت نظر آیا جو گویا زمینی تعلقات کے لیے آسمان کا آخری نقطہ تھا اور اس کے ساتھ سے جنت ماوٰی شروع ہوتی تھی۔ اس بیری کے درخت کے پھَل اور پتے بڑے بڑے اور عجیب وغریب قسم کے تھے۔ جب آپؐ نے اس درخت کو دیکھا تو اس پر ایک فوق البیان اور گونا گوں تجلّی کا ظہور ہوا جس کے متعلق آپؐ فرماتے ہیں کہ الفاظ میں یہ طاقت نہیں کہ انہیں بیان کر سکیں۔ اس بیری کے نیچے چار دریا بہہ رہے تھے جن کے متعلق جبرائیل ؑ نے آپؐ کو بتایا کہ ان میں سے دو دریا تو دنیا کے ظاہری دریا نیل و فرات ہیں اور دو باطنی دریا ہیں جو جنت کی طرف کو بہتے ہیں۔ اس موقع پر آپؐ کو حضرت جبرائیل اپنی اصلی شکل و صورت میں نظر آئے اور آپؐ نے دیکھا کہ وہ چھ سو پَروں سے آراستہ ہیں۔ اس کے بعد آپؐ کو جنت کی سیر کرائی گئی اور بالآخر آپؐ نے دیکھا کہ آپؐ خدائے ذوالجلال کے دربار میں پیش ہوئے ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے آپؐ سے بلاواسطہ کلام فرمایا اور بعض بشارات دیں اور آخر کار خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع ملی کہ آپؐ کی اُمّت کے لیے رات دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ آپؐ یہ حکم لے کر واپس آئے تو راستہ میں حضرت موسیٰ ؑنے آپ کو روک کر پوچھا کہ آپؐ کو کیا احکام ملے ہیں؟ آپؐ نے پچاس نمازوں کا حکم بیان کیا۔ حضرت موسیٰ ؑیہ حکم سن کر چونک پڑے اور کہا کہ مَیں بنی اسرائیل کے ساتھ واسطہ پڑنے کی وجہ سے صاحب تجربہ ہوں۔ آپؐ کی امّت کو اتنی نمازوں کی ہر گز برداشت نہ ہو گی پس آپ واپس جائیں اور خدا سے اس حکم میں تخفیف کی درخواست کریں۔ آپؐ گئے اور اﷲ تعالیٰ نے پچاس میں دس کی کمی کر کے چالیس نمازوں کا حکم دیا۔ مگر واپسی پر حضرت موسیٰ نے پھر روکا اور کہا کہ یہ بھی بہت زیادہ ہیں آپ واپس جاکر مزید رعایت مانگیں۔ اس پر آپؐ پھر گئے اور دس کی مزید رعایت منظور ہوئی۔ غرض اس طرح حضرت موسیٰ ؑکے مشورہ پر آپؐ بار بار خدا کے دربار میں گئے اور بالآخر اﷲ تعالیٰ نے پانچ نمازوں کا حکم دیا۔ اس پر حضرت موسیٰ ؑ نے آپؐ کو پھر روکا اور مزید رعایت کے لیے واپس جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مَیں بنی اسرائیل کو دیکھ چکا ہوں اور وہ اس سے بھی کم عبادت کو نباہ نہیں سکے، مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اب مجھے واپس جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اس پر غیب سے آواز آئی۔ ’’اے محمد! یہ پانچ نمازیں بھی ہیں اور پچاس بھی کیونکہ ہم نے ایک نماز کے بدلے میں دس کا اَجر مقرر کر دیا ہے۔ اس طرح ہمارے بندوں سے تخفیف بھی ہو گئی اور ہمارا اصل حکم بھی قائم رہا۔ اس کے بعد جب آپؐ مختلف آسمانوں میں سے ہوتے ہوئے نیچے اُترے تو آپؐ کی آنکھ کھل گئی۔ (یعنی یہ کشف کی حالت جاتی رہی) اور آپؐ نے دیکھا کہ آپؐ اسی طرح مسجدِ حرام میں لیٹے ہوئے ہیں۔ ۱؎
    بعض روایتوں میں معراج ہی کے ذکر میں ایک گھوڑے کی قسم کی سواری براق نامی کا لایا جانا اور آپؐ کا اس پر سوار ہو کر یہ سفر طے کرنا اور آپؐ کے سامنے دو یا تین دُودھ اور شراب وغیرہ کے پیالوں کا پیش کیا جانا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظارے دراصل اسراء کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور جیسا کہ بعض متقدمین کی بھی رائے ہے۔ ۲؎ راویوں کی غلطی سے معراج کے ذکر میں مخلوط ہو گئے ہیں۔ واﷲ اعلم
    دوسرا واقعہ اسراء کا ہے۔ اسراء بھی ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے کسی کو رات کے وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے یا سفر کرانے کے ہیں۔ چونکہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کو یہ روحانی سیر رات کے وقت کرائی گئی تھی، اس لیے اس کا نام اسراء رکھا گیا ۔ اسراء کے متعلق جو ذکر قرآنِ شریف میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ:
    ۱؎ ۲؎
    ’’یعنی پاک ہے وہ خدا جو اپنے بندے کو ایک رات کے دوران میں مسجدِ حرام سے لے کر مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے تاکہ ہم اپنے اس بندے کو اپنے بعض نشانات دکھاویں۔ بے شک خدا بہت سُننے والا اور دیکھنے والا ہے … یہ وہی موقع تھا جب اے رسول ہم نے تجھے یہ کہا کہ تیرے ربّ نے اب لوگوں کو گھیر لیا ہے اور جو رؤیا ہم نے تجھے دکھائی وہ لوگوں کے لیے ایک آزمائش تھی۔‘‘
    اور حدیث میں جو تفصیلات اسراء کے واقعہ کی بیان ہوئی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
    ’’ایک رات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک خدائی فرشتہ آپؐ کے پاس آیا اور ایک گدھے سے بڑا مگر خچر سے چھوٹا جانور بُرَاق نامی جو نہایت خوبصور ت سفید رنگ لمبے جسم کا تھا آپؐ کے سامنے پیش کر کے اس پر آپؐ کو سوار کیا اور پھر آپؐ کو ساتھ لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس جانور کا قدم اس تیزی کے ساتھ اٹھتا تھا کہ ہر قدم نظر کی انتہائی حد تک لے جاتا تھا اور آپؐ بہت جلد بیت المقدس میں پہنچ گئے۔ یہاں آپؐ نے اس جانور کو اس حلقہ میں باندھ دیا جہاں گذشتہ انبیاء اسے باندھا کرتے تھے اور پھر آپؐ مسجد میں تشریف لے گئے۔ یہاں گذشتہ انبیاء کی ایک جماعت جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السّلام خاص طور پر مذکور ہوئے ہیں، پہلے سے موجودتھی۔ آپؐ نے ان انبیاء کے ساتھ مل کر نماز پڑھی جس میں آپؐ امام ہوئے اور باقی انبیاء مقتدی بنے۔ اس کے بعد جبرائیل نے (کیونکہ یہ فرشتہ جبرائیل تھا) آپؐ کے سامنے دو پیالے پیش کئے۔ ان میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی۔ آپؐ نے دُودھ کا پیالہ لے لیا اور شراب ردّ کر دی۔ جس پر جبرائیل نے کہا آپ نے فطرت کی بات پہچان لی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی اُمّت بھٹکتی پھرتی۔ ۱؎
    اور بعض دُوسری روایتوں میں اس کی مزید تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ:
    ’’جب حضرت جبرائیل ؑ آپؐ کے سامنے بُرَاق لائے اور آپؐ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ کچھ چمکا جس پر جبرائیل ؑ نے بُرَّاق سے کہا۔ بُرَاق ٹھہرو ٹھہرو۔ واﷲ آج تک تم پر کوئی اس شان کا شخص سوار نہیں ہوا۔ اس پر بُرَاق شرم سے پسینہ پسینہ ہو کر خاموش کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد آپّ اس پر سوار ہو کر حضرت جبرائیل کے ساتھ بیت المقدس کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستہ میں آپؐ کو ایک بڑھیا ملی جسے دیکھ کر آپؐ نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا آگے چلئے آگے چلئے۔ جب آپؐ آگے روانہ ہوئے تو تھوڑی دیر کے بعد آپؐ کو راستہ کے ایک طرف سے کسی نے آواز دے کر بلایا کہ محمد ادھر آؤ۔ مگر جبرائیل نے آپؐ سے پھر کہا۔ چلئے آگے چلئے۔ جب آپؐ آگے آئے تو کچھ دیر کے بعد آپؐ کو راستہ میں چند آدمیوں کی ایک جماعت ملی جنہوں نے ان الفاظ میں آپؐ کو سلام کہا کہ ’’اے اوّل تجھ پر خدا کا سلام ہو۔ اے آخر تجھ پر خدا کا سلام ہو۔ اے حاشر (یعنی جمع کرنے والے) تجھ پر خدا کا سلام ہو۔‘‘ جبرائیل نے کہا آپؐ بھی ان کے سلام کا جواب دیں؛ چنانچہ آپؐ نے بھی انہیں سلام کہا اور پھر آگے روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر یہی جماعت آپؐ کو راستہ میں ملی اور پھر انہی الفاظ میں سلام کہا اور کچھ وقفہ کے بعد پھر تیسری دفعہ یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد آپؐ بیت المقدس میں پہنچ گئے۔ یہاں جبرائیل نے آپؐ کے سامنے تین پیالے پیش کئے۔ ایک میں پانی تھا۔ دوسرے میں شراب تھی اور تیسرے میں دُودھ تھا۔ آپؐ نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور باقی دونوں ردّ کر دیئے۔ جبرائیل نے کہا۔ آپ نے فطرت کی بات اختیار کی ہے۔ اگر آپ پانی لیتے تو آپ کی اُمّت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی امت بھٹکتی پھرتی۔ پھر آپؐ کے سامنے حضرت آدم ؑ اور ان کے بعد کے انبیاء لائے گئے اور آپؐ نے ان کا امام بن کر انہیں نماز پڑھائی۔ اس کے بعد جبرائیل نے آپ سے کہا کہ وہ جو آپ نے راستہ میں بڑھیا دیکھی تھی وہ دنیا تھی اور دنیا کی عمر میں اب صرف اسی قدر وقت باقی رہ گیا ہے جو اس بڑھیا کی عمر میں باقی رہتا ہے اور وہ جو آپ کو کوئی شخص راستہ کے ایک طرف بُلاتا تھا وہ شیطان تھا جو آپ کو راستہ سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا اور وہ جو آپ کو آخر میں ایک جماعت ملی تھی اور اُنہوں نے آپ کو سلام کہا تھا وہ خدا کے رسُول حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام تھے۔ اس کے بعد آپؐ مکّہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔ ۱؎
    یہ وہ واقعات ہیں جو معراج اور اسراء میں آنحضرت صلی ا ﷲعلیہ وسلم کو پیش آئے اور جو شخص ان واقعات کو غور سے مطالعہ کرے گا وہ ان کی غرض و غایت کے متعلق کبھی بھی شک و شُبہ میں نہیں رہ سکتا۔ خصوصاً جب کہ اس بات کو مدِّ نظر رکھا جائے کہ یہ واقعات ظاہر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ نہایت اعلیٰ قسم کے کشوف تھے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خدائی تصرّف کے ماتحت دکھائے گئے۔ یہ بات تو ادنیٰ مطالعہ سے بھی ظاہر ہے کہ معراج اور اسراء دونوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ارفع شان اور آپؐ کی اُمّت کے مرتبہ کی بلندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ علاوہ اَور اشارات کے دونوں کشوف میں آپؐ کا گذشتہ انبیاء سے ملنا اور اُن سے آگے نِکل جانا یا نماز میں ان کا امام بننا اسی حقیقت کا حامل ہے۔ ان کشوف میں بعض انبیاء کا خاص طور پر آپؐ کی ملاقات کے لیے منتخب کیا جانا بھی اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے۔ دراصل یہ انبیاء وہی ہیں جن کی اُمتوں سے یا تو آپؐ کی اُمّت کو خاص طور پر واسطہ پڑنے والا تھا اور یا یہ انبیاء بعض خاص صفات کے حامل تھے اور ان کشوف میں اس حقیقت کا اظہار مقصود تھا کہ آپؐ کا وجود ان انبیاء کی مخصوص صفات میں بھی ان سے بالا و ارفع ہے۔ اُمتوں کے تعلق کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ اور ایک جہت سے حضرت ابراہیم اور حضرت آدم علیہم السلام خاص امتیاز رکھتے ہیں اور اسی لیے اسراء اور معراج دونوں میں ان انبیاء کو خاص طور پر نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑتو مسیحی اقوام کے مرکزی نقطہ تھے جو اُس زمانہ میں بھی ایک نمایاں حیثیت حاصل کر چکی تھیں۔ حضرت موسیٰ ؑنہ صرف یہودیت کے بانی مبانی تھے جن کے ساتھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو عنقریب واسطہ پڑنے والا تھا بلکہ وہ ایک ایسی شریعت کے لانے والے تھے جو اپنی تدوین اور تعیین اور الہامی نوعیت کی وجہ سے اسلامی شریعت کے ساتھ بہت قریب کی مشابہت رکھتی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ وسیع شامی اقوام کے جدِّ امجد ہونے کے علاوہ مسیحیت اور یہودیت اور حنیفیت اور اسلام کے لیے ایک مشترک واجب الاحترام ہستی تھے اور بالآخر حضرت آدم کا وجود تھا جو گویا تمام بنی نوع آدم کا اجتماعی نقطہ تھا۔ اس جہت سے معراج اور اسراء میں ان انبیاء کا مخصوص طور پر چُنا جانا صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے وجود باجود میں وہ عظیم الشان ہستی مبعوث ہوئی ہے جو سیّدِ وُلدِ آدم اور فخر اوّلین و آخرین ہے اور خُدا کی طرف سے یہ مقدّر ہو چکا ہے کہ آپؐ کی اُمّت کا قدم ان سب اُمتوں پر بالا و ارفع رہے۔ حضرت موسیٰ ؑچونکہ ایک خاص سلسلہ کے بانی ہونے کی وجہ سے ان رموز سے زیادہ آشنا تھے۔ اُنہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس پروازِ رُوحانی کی حقیقت کو فوراً سمجھ لیا اور اِس طبعی رشک کی وجہ سے جو فطرتِ انسانی کا خاصہ ہے (نہ کہ کسی حَسد کی بنا پر) اِس انکشاف نے انہیں وقتی طور پر غم میں ڈال دیا کہ ایک پیچھے آنے والا نوجوان اُن سے آگے نِکلا جارہا ہے۔ اسراء میں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا راستہ پر کھڑے ہو کر آپؐ کو اوّلؔ اور آخرؔ اور حاشرؔ کہہ کر پُکارنا اور سلام کرنا بھی اپنے اندر یہی لطیف اشارہ رکھتا ہے کہ ’’اے نبیوں کے سرتاج ہم پہچان گئے ہیں کہ گو آپؐ سب انبیاء کے آخر میں مبعوث ہوئے ہیں مگر رُتبہ کے لحاظ سے آپؐ ہی سب سے اوّل ہیں اور آپؐ ہی نسلِ آدم کا وہ مرکزی نقطہ ہیں جس کے قدموں میں مختلف اقوامِ عالم کا جمع ہونا مقدّر کیا گیا ہے۔ ۱؎ پس لیجئے ہماری طرف سے سلام اور دُعا کی پیش کش حاضر ہے اسے قبول کیجئے۔‘‘
    مندرجہ بالا غرض و غایت کے اظہار کے علاوہ جو معراج اور اسراء ہر دو میں مقصود ہے ان رُوحانی سفروں کی علیحدہ علیحدہ غرض اور علیحدہ علیحدہ تشریح بھی ہے اور جہاں تک ہم نے غور کیا ہے وہ یہ ہے کہ معراج تو زیادہ تر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے رُوحانی کمالات کے اظہار کے لیے ہے اور اسراء آپؐ کی ظاہری اور دنیوی ترقی کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے۔ اسی لیے جہاں معراج کے واسطے آسمان کو چُنا گیا اسراء کا آخری نقطہ زمین رکھی گئی ہے۔ اسی طرح جہاں معراج میں آپؐ کا بغیر کسی سواری اور بغیر کسی ظاہری اور مادی واسطہ کے اُوپر اُٹھایا جانا بیان ہوا ہے وہاں اسراء میں بُراق کی سواری کا واسطہ رکھا گیا ہے تاکہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ آپؐ کی اور آپؐ کے اتباع کی دنیوی اور ظاہری ترقی میں مادی اسباب کا بھی دخل ہو گا گو جیسا کہ بُراق کی غیر معمولی رفتار میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ مادی اسباب محض ایک پَردہ کے طور پر ہوں گے اور اصل سبب وہ غیبی تائید ہو گی جو ہر قدم پر آپؐ کے ساتھ رہے گی۔ معراج میں آپؐ کا سب نبیوں سے آگے نِکل جانا اس بات کی طرف اشارہ رکھتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپؐ اپنے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بالا اور اَرفع ہیں اور نہ صرف یہ کہ آپؐ کی لائی ہوئی شریعت اپنے رُوحانی کمالات میں سب شریعتوں سے فائق و برتر ہے بلکہ آپؐ کے فیضانِ روحانی میں وہ خصوصیت رکھی گئی ہے جو پہلے کِسی بشر کو حاصل نہیں ہوئی یعنی آپؐ کی سچی اور کامل پیروی انسان کو بلند ترین رُوحانی مدارج تک پہنچا سکتی ہے اور کوئی رُوحانی مرتبہ ایسا نہیں ہے جہاں تک آپؐ کی پیروی کی برکت سے انسان نہ پہنچ سکتا ہو۔ آپؐ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے وہ بیشک اپنے متبعین کے لیے سراسر رحمت و برکت بن کر آئے اور بیشک اُنہوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں کے لیے خدائی انعامات کے دروازے کھولے ، لیکن آپؐ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس کی پیروی انسان کو انتہائی کمالات تک پہنچانے کے لیے کافی ہو اور اسی لیے پہلی اُمّتوں میں اﷲ تعالیٰ کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی شخص کسی نبی کی کامل پیری کے نتیجہ میں ترقی کر کے اس انتہائی رُوحانی حد تک پہنچ جاتا تھا جہاں تک یہ پیروی اُسے لے جاسکتی تھی تو اس کے بعد اگر یہ شخص اپنی استعداد اور شوق اور کوشش کے لحاظ سے مزید رُوحانی ترقی کے قابل ہوتا تھا تو خدا تعالیٰ اُسے براہِ راست مَوہبَت اور انعام کے رنگ میں اُوپر اُٹھا لیتا تھا جس میں اس کے نبیٔ متبوع کی پیروی کا کوئی دخل نہیں ہوتاتھا، لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ اعلیٰ اور اَرفع مقام ہے کہ ایک انسان آپؐ کی اتّباع میں ہی جُملہ قسم کے رُوحانی مقامات تک پہنچ سکتا ہے اور یہی وہ خصوصیت ہے کہ جس کی طرف آپؐ کی اس رُوحانی پرواز میں اشارہ کیا گیا ہے جو معراج کے سفر میں آپؐ کو کرائی گئی اور اسی حقیقت کی طرف قرآن شریف کی اس آیت میں اشارہ ہے کہ:
    ۔ ۱؎
    ’’یعنی ’’محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) صرف ایک رسول ہی نہیں بلکہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ ‘‘ جن کی مُہرِ تصدیق سے انسان کو ہر قسم کے اعلیٰ ترین رُوحانی انعامات مِل سکتے ہیں اور کوئی رُوحانی مرتبہ آپؐ کے اَتْباع کی رسائی سے باہر نہیں ہے۔
    معراج میں جن نبیوں کے ساتھ آپؐ کی ملاقات ہوئی وہ یہ ہیں:
    حضرت آدم ، حضرت عیسیٰ ، حضرت یحیٰ ؔ ، حضرت یوسفؔ، حضرت ادریسؔ ، حضرت ہارونؔ ، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السّلام۔
    ان آٹھ نبیوں میں سے دو تو صرف ایک ضمنی تعلق کی وجہ سے اس نظارہ میں آئے ہیں۔ یہ دو نبی حضرت یحییٰ ؑاور حضرت ہارون ؑہیں جن میں سے مقدّم الذکر نبی حضرت عیسیٰ کے خالہ زاد بھائی ہونے کے علاوہ اُن کے لیے بطور ارہاص کے بھی تھے اور مؤخر الذکر نبی حضرت موسیٰ ؑکے نائب تھے اور بھائی بھی تھے۔ پس اس جسمانی اور روحانی تعلق کی وجہ سے یہ دو نبی اس نظارہ میں شامل کئے گئے۔ لیکن ایک لطیف بات یہ ہے کہ جہاں حضرت یحییٰ کو بوجہ جُدا اور علیحدہ حیثیت رکھنے کے حضرت عیسیٰ کے ساتھ رکھا گیا وہاں حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ ؑکی ماتحتی کی وجہ سے ان سے نیچے کے مگر متصل آسمان میں دکھایا گیا۔ باقی جو چھ انبیاء ہیں اُن میں سے حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت آدم ؑکی خصوصیت اوپر بیان ہو چکی ہیں کہ وہ اپنی اپنی نسل اور اپنی اپنی اُمّت کے نمائندوں کی حیثیت میں دکھائے گئے ہیں اور بقیہ دو انبیاء یعنی حضرت یوسف ؑ اور حضرت ادریس ؑ کی خصوصیت خود حدیث میں اس طرح مذکور ہے کہ حضرت یوسف اپنے خداداد حُسنِ ذاتی کی وجہ سے اور حضرت ادریس ؑ اپنے مخصوص علّوِ مکانی کی وجہ سے ممتاز تھے۔۱؎ اور انہیں اس نظارہ میں لا کر یہ اظہار مقصود تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا قدم ان امتیازی خصائص رکھنے والے نبیوں سے بھی ان کے امتیازی خصائص میں بالا اور اَرفع ہے۔ واﷲ اعلم
    معراج کا ایک نظارہ اس خاص تجلی سے تعلق رکھتا ہے جو سِدرۃ المنتہیٰ پر ہوئی جس کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کے بیان کی الفاظ میں طاقت نہیں ہے سو اس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قربِ الٰہی کی طرف اشارہ تھا جس میں محب و محبوب میں جلوہ ہائے خاص کی نیر نگیوں کا ظہور ہوا جس کے بیان کی کوشِش تو درکنار اس کے علم کی کوشش بھی بے سُود ہے؛ البتہ یہ ظاہر ہے کہ اس نظارہ میں آپؐ نے خُدا کی ان خاص اور ممتاز تجلیات کا مشاہدہ کیا جن کے دیکھنے کی طاقت صرف اس مقام پر پہنچ کر ہی حاصل ہو سکتی ہے جو آپؐ کو حاصل ہوا۔ سِدرہ کے نیچے چار دریاؤں کو بہتے دیکھنا جن میں دو ظاہری دریا تھے اور دو باطنی، اس غرض کے اظہار کے لیے تھا کہ خدا کی یہ تجلیات ہر دو صورتوں میں اثر انداز ہوں گی۔ ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔ رُوحانی طور پر بھی اور دنیوی رنگ میں بھی۔ اور چار کے عدد میں یہ اشارہ تھا کہ آپؐ کی اُمت پر ظاہری اور رُوحانی ترقی کے دو۲ دو۲ دور آئیں گے۔ ایک دَور ان ہر دو قسم کی تجلیات کا خود آپّ کے وجودِ باجود سے شروع ہو گا اور ایک بعد کے زمانہ میں آئے گا۔ جب کہ مسلمان اپنے درمیانی زمانہ میں گِر کر پھر دوبارہ اُٹھیں گے اور اس طرح ہر دور میں دو۲ دو۲ تجلیات کا ظہور ہو کر چار نہریں مکمل ہو جائیں گی۔
    بالآخر پنجگانہ نماز کے فرض کئے جانے کا نظارہ ہے۔ اس کا ایک حِصّہ تو ظاہر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تعبیر سے خارج ہے، لیکن پچاس سے پانچ تک کی کمی کا منظور ہونا ایک نہایت لطیف رُوحانی نظارہ ہے جس میں اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ اصل تعداد جو فرض کی جانیوالی تھی وہ پانچ ہی تھی مگر ساتھ ہی یہ مقدّر تھا کہ ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ، کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا یہ منشا تھا کہ اُمّتِ محمدیہ کو ان کی نیکیوں کا بدلہ بڑھ چڑھ کر عطا کیا جائے، اس لیے یہ نمازیں ابتداء میں پچاس کی صُورت میں فرض کی گئیںاور پھر ایک لطیف رنگ میں جس میں ضمنی طور پر اﷲ تعالیٰ کی شفقت اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رأفت کا اظہار بھی مقصود ہے یہ تعداد گھٹا کر پانچ کر دی گئی اور باتوں باتوں میں مُسلمانوں کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ تمہارے متعلق یہ اندیشہ کیا گیا ہے کہ تم ان پانچ نمازوں کی ادائیگی میں بھی سُستی نہ دکھاؤ۔ اس لیے دیکھنا تم اس میں سُست نہ ہونا۔ ان حقائق کے علاوہ معراج میں اور بھی بہت سے اشارات تھے مگر ایک تاریخی مضمون میں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں نکالی جاسکتی۔
    اسراء کا واقعہ جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے اس تعلق کی طرف اشارہ کرنے والا تھا جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپّ کی اُمّت کو عنقریب دُوسری اُمتوں کے ساتھ پڑنے والا تھا۔ نیز اس میں اُن آزمائشوں پر متنبہّ کرنا مقصود تھا جو آپؐ کے متبعین کو ان کی ترقی کے زمانہ میں پیش آنے والی تھیں۔ اس واقعہ میں سب سے پہلا اشارہ یہ تھا کہ اب جو اسلام پر ایک تنگی کا زمانہ ہے اسے ہم عنقریب دُور کر دیں گے اور مصائب کی موجودہ تاریکی دن کی روشنی میں بدل جائے گی۔ چنانچہ آیت اسراء میں ’’رات‘‘ کا لفظ استعمال کیاجانا اسی حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کیونکہ تصویری زبان میں تنگی اور مصیبت کا زمانہ رات کے وقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر اس سفر کی ابتداء اور انتہا کے لیے مسجدِ حرام اور مسجدِ اقصیٰ کے الفاظ کا بیان کیا جانا اس غرض سے ہے کہ اے مُسلمانو! اب تک تمہارا واسطہ صرف قدیم عربی مذہب و تمدّن کے ساتھ رہا ہے جس کا مرکز مسجدِ حرام ہے لیکن اب وقت آتا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ بھی تمہارا واسطہ پڑے گا اور تمہاری توجہ کا مرکز مسجدِ حرام سے وسیع ہو کر یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی مرکز بیت المقدس تک جاپہنچے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہجرت کے بعد اسلام کا محاذ غیر معمولی طور پر وسیع ہو کر یہودیت اور مسیحیت کے مقابل پر آگیا اور اسراء میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ لفظ بلفظ پوری ہوئی۔
    اس کے بعد بُرَاق کی سواری کا منظر ہے جس کے متعلق اوپر اشارہ کیا جاچکا ہے کہ اس سے یہ مُراد تھی کہ جو مقابلہ دُوسری قوموں کے ساتھ مُسلمانوں کو پیش آنیوالا ہے اس میں بیشک مُسلمانوں کی کامیابی بظاہر مادی اسباب کے ماتحت نظر آئے گی مگر ان اسباب میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک غیر معمولی طاقت ودیعت کی جائے گی جس مین ان نتائج کو جو خدا پیدا کرے گا ان کے ظاہری اسباب سے کوئی نسبت نہیں ہوگی اور مُسلمانوں کی سواری گویا بجلی کی طرح اُڑتی ہوئی آگے نِکل جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تیسرے اس رُوحانی نظارہ میں یہ اشارہ تھا کہ مُسلمانوں کے لیے جس نئے ماحول کا دروازہ کھولا جارہا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس میں اسلام کے لیے ہر قسم کی برکات رکھی ہیں۔ جیسا کہ فرمایا۔۔ ۱؎ یعنی ہم نے اس نئے میدان کے ماحول کو تمہارے لیے بابرکت بنایا ہے۔‘‘ اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا کہ عرب اور اہلِ عرب کی حدود سے باہر نکل کر اسلام نے ایسا محسوس کیا کہ گویا یہ ماحول پہلے سے ہی انہی کے لیے تیار کیا جا چکا تھا اور اس محاذ میں اسلام کی غیر معمولی فتوحات پہلے سے مقدّر تھیں۔ دورانِ سفر میں جو نظارے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھائے گئے ان کی تشریح تو خود کشف کے اندر موجود ہے کہ ان فتوحات کے زمانہ میں مُسلمانوں کو دُنیا کے اموال و اَمْتِعَہ اپنی طرف کھینچیں گے مگر گو یہ دُنیا کی نعمتوں کا پانی پینے کی حد تک بے شک استعمال کیا جائے لیکن چونکہ اس کی کثرت غرق کر دینے کا سامان بھی اپنے ساتھ رکھتی ہے اس لیے مُسلمانوں کو اس کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ابلیس کا نظارہ عقیدہ کی گمراہیوں اور ضلالتوں کا مجسمہ ہے اور مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی فاتحانہ یلغار میں انہیں شیطانی طاقتیں جاوۂ صواب سے منحرف نہ کر دیں۔ پھر نبیوں کی ملاقات ہے جو اپنے اندر برکت اور سلام کے پیغام کے علاوہ یہ معنی بھی رکھتی ہے کہ آئندہ فتوحات میں دُنیا کی قومیں اسلامی برکات سے مُتمتّع ہو کر اس کی برتری کا سکّہ مانیں گی۔ چنانچہ یہ ایک تاریخ کا کھلا ہوا وَرق ہے کہ یورپ و امریکہ کی موجودہ بیداری اسلام ہی کے ساتھ واسطہ پڑنے کے نتیجہ میں ہے۔ ورنہ اسلام سے قبل یہ سب قومیں جہالت کی نیند سو رہی تھیں اور یورپ کے غیر متعصّب محققین نے اسلام کے اس فیض وبرکت کو کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے اوراس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مغرب نے علومِ جدیدہ کا پہلا سبق اسلام ہی سے سیکھا ہے۔۲؎ بالآخر بیت المقدس میں پہنچ کر آپّ کی اقتداء میں گذشتہ نبیوں کے نماز پڑھنے کا نظارہ ہے۔ مگر یہ نظارہ ایسا ہے جو خود اپنی آپ تفسیر ہے جس کے لیے کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اسراء میں بعض اور حقائق بھی ہیں مگر ہم اختصار کے خیال سے صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
    الغرض معراج اور اسراء آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دو نہایت اعلیٰ درجہ کے کشوف تھے جن میں آپ کو آپؐ کی اور آپؐ کی اُمّت کی آئندہ فتوحات اور ترقیوں کے نظارے دکھائے گئے اور بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ کشوف خدا کی طرف سے تھے کیونکہ ان میں آپؐ کو جو کچھ دکھایا گیا اسی طرح وقوع پذیر ہوا اور اب تک ہو رہا ہے اور آئندہ ہو گا۔ اب دیکھو کہ اس عظیم الشان پہلو کے مقابلہ پر محض ظاہری اور جسمانی سفر کو کیا حقیقت حاصل ہے۔ اگر ان سفروں کو ظاہری جسمانی سفر قرار دیا جائے تو اس سے زیادہ اس کے معنے نہیں بنتے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ماتحت آپؐ کو ایک خارقِ عادت رنگ میں جسمانی طور پر مکّہ سے اُٹھا کر بیت المقدس تک پہنچا دیا اور زمین سے اُٹھا کر آسمانوں کی سیر کرادی۔ یہ بیشک ایک بہت پُر لطف اور مقتدرانہ نظارہ سمجھا جاسکتا ہے مگر اسے اس عظیم الشان حقیقت سے جو ان رُوحانی مناظر میں مخفی ہے جس کا دامن ہجرتِ یثرب سے لے کر گویا قیامت تک پھیلا ہوا ہے کچھ دُور کی بھی نسبت نہیں۔ مگرافسوس ہے کہ خود مُسلمان کہلانے والوں کا ایک طبقہ بھی اسے ایک عجوبہ نمائی سے زیادہ حیثیت نہیں دینا چاہتا؛ حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان روحانی مناظر میں اس کے بڑے بڑے نشانات مخفی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اس قسم کے کشوف کم و بیش سبھی انبیاء کو ہوتے آئے ہیں اور سارے نبیوں کو ہی اُن کی اُمتوں کے آئندہ حالات کافی الجملہ نظارہ کرایا جاتا رہا ہے اور اسی لئے بعض صُوفیا نے لکھا ہے کہ معراج بھی ہر نبی کو ہوا ہے اور حضرت موسیٰ ؑکے کشفِ رُوحانی کا ذکر تو خود قرآن شریف ۱؎ میں بھی آتا ہے مگر ’’فکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اوست۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو جو نظارہ دکھایا گیا اور جو معراج آپؐ کو نصیب ہوا وہ اپنی بلندی اور اپنی وسعت اور اپنے گوناگوں کوائف میں ایک ایسی اَرفع شان رکھتا ہے جو کسی دُوسرے کو حاصل نہیں۔اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ
    معراج اور اسراء کے وقوع کی تاریخ کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے مگر روایات کا کثیر حِصّہ اِس طرف گیا ہے کہ یہ نظارے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہجرتِ یثرب سے کچھ عرصہ پہلے دکھلائے گئے تھے اور کم از کم اسراء کے کشف کی جو تشریح ثابت ہوتی ہے وہ اسی خیال کی مؤید ہے کہ اسراء کا کشف ہجرت کے قریب ہی ہوا تھا اور امام بخاری نے بھی جن کا پایہ روایت میں بہت بلند مانا گیا ہے اسراء اور معراج کو ہجرت کے واقعات سے معاً پہلے لکھا ہے۔ ۲؎ پس اکثر مؤرخین کا یہ خیال دُرست معلوم ہوتا ہے کہ اسراء اور معراج ہجرت سے کم و بیش ایک سال پہلے وقوع پذیر ہوئے اس طرح ان کا زمانہ ۱۲ نبوی یا ابتداء ۱۳ قرار پاتا ہے۔ اور اسراء کے متعلق تو یقینا یہی صحیح ہے گو معراج کا واقعہ غالباً اس سے پہلے کا ہے۔ ان کی آپس کی ترتیب کے متعلق بھی مؤرخین میں اختلاف ہے۔ جو لوگ ان دونوں سفروں کو ایک ہی سفر یا ایک ہی سفر کے دو حصے قرار دیتے ہیں اُنہوں نے بالعموم اسراء کو پہلے اور معراج کو بعد میں رکھا ہے کیونکہ ان کا یہ خیال ہے کہ پہلے آپ مکّہ سے بیت المقدس تک گئے اور پھر وہاں سے آسمانوں کی طرف اُٹھائے گئے لیکن ہم ثابت کر چکے ہیںکہ یہ خیال دُرست نہیں ہے بلکہ اسراء اور معراج جُدا جُدا چیزیں ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کو جُدا گانہ چیزیں ماننے والوں کے درمیان بھی ان کی ترتیب کے متعلق اختلاف ہے۔ ابنِ اسحاق نے اسراء کو پہلے رکھا ہے اور معراج کو بعد میں ۱؎ اور اس خیال کی تائید بخاری سے بھی ہوتی ہے جس میں اسراء اور معراج کے الگ الگ باب باندھ کر اسراء کو معراج سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ ۲؎ مگر ابنِ سعد نے صراحت کے ساتھ اس کے خلاف رائے ظاہر کی ہے اور معیّن تاریخیں بیان کر کے معراج کو اسراء سے پہلے رکھا ہے؛ چنانچہ ابنِ سعد نے معراج کی تاریخ رمضان ۱۲ نبوی بیان کی ہے اور اسراء کی ربیع الاوّل ۱۳ ۳؎ اور طبری کا بھی اسی طرف میلان نظر آتا ہے کہ معراج کا واقعہ اسراء سے پہلے کا ہے کیونکہ طبری نے معراج کو ابتداء دعویٰ میں رکھا ہے۔ ۴؎ ہم ان تاریخوں کی تحقیق میں تو نہیں گئے مگر واقعات کے تفصیلی مطالعہ سے ہم اس طرف ضرور مائل ہیں کہ معراج کا واقعہ اسراء سے پہلے ہوا تھا۔ واﷲ اعلم۔
    پنجگانہ نماز کا فرض ہونا
    معراج سے پہلے اسلام میں نماز کا آغاز تو ہو چکا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں ہی آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم اور آپؐ کے
    اصحاب مکّہ کی گھاٹیوں میں اکیلے اکیلے یا ایک ایک یا دو دو مل کر نماز پڑھا کرتے تھے مگر باقاعدہ صورت میں پانچ وقت کی نماز کا آغاز معراج میں ہوا اور اس وقت سے اسلامی عبادات کا پہلا اور سب سے بڑا رکن اپنی موجودہ صورت میں قائم ہو گیا۔ یعنی اوّل پَوپھٹنے کے بعد مگر سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز۔ دُوسرے سورج ڈھلنے کے بعد مگر اس کے زیادہ نیچے ہونے سے پہلے ظہر کی نماز۔ تیسرے سورج کے نیچے ہو جانے کے بعد مگر روشنی دھیمی پڑنے سے پہلے عصر کی نماز۔ چوتھے سورج کے ڈوبنے کے بعد مگر شفق غائب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز۔ پانچویں شفق غائب ہونے کے بعد مگر نصف شب سے پہلے عشاء کی نماز۔ ان پانچوں فرض نمازوں کے اوقات کے متعلق گو قرآن شریف نے صرف ایک اجمالی اشارہ کیا ہے۔ ۵؎ مگر حدیث میں صراحت کے ساتھ ان کی تعیین بیان ہوئی ہے۔ جہاں یہ مذکور ہے کہ معراج کے بعد حضرت جبرائیل ؑ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آکر پانچوں نمازوں کے اوقات بالتفصیل سمجھائے۔ ۶؎
    اسلامی نماز کی ظاہری شکل و صورت جو خدائی حکم کے ماتحت قائم کی گئی ہے یہ ہے کہ نماز کی ابتداء قیام کی حالت سے ہوتی ہے۔ جبکہ نماز پڑھنے والا اپنے سینہ پر ہاتھ باندھ کر خُدا کے سامنے مؤدّبانہ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد رکوعؔ کی حالت ہے جو گویا خُدا کی تعظیم اور بندے کے تذلُّل کا دُسرا درجہ ہے جبکہ نماز پڑھنے والا قیامؔ کی حالت کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک کے سامنے دوہرا ہو کر جھُک جاتا ہے۔ تیسریؔ حالت سجدہؔ کی ہے جو ایک درمیانی قیام کے بعد آتی ہے جبکہ نماز پڑھنے والا انتہائی عاجزی اور تذلّل کی صورت میں خدا کے سامنے زمین پر گِر کر اپنی جبینِ نیاز اس کے آگے رکھ دیتا ہے اور چونکہ یہ حالت انتہائی تذلّل اور تعبّد کی حالت ہے، اس لیے اسے ایک درمیانی وقفہ کے ساتھ دو دفعہ دہرایا جاتا ہے اور اس طرح نماز کی ایک رکعت پوری ہو جاتی ہے۔ جس کے بعد اسی صورت میں دُوسری اور تیسری اور چوتھی رکعت پڑھی جاتی ہے اور آخر میں نماز پڑھنے والا قعدہؔ میں دوزانو بیٹھ کر جو گویا ایک مقرب اور تسکین یافتہ درباری کی کیفیت ہے، اپنی نماز کو تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ نماو کی ہر حالت یعنی قیامؔ اور رکوعؔ اور سجدہ اور قعدہ کے لیے علیحدہ علیحدہ کلمات جو ہر حالت کے مناسبِ حال دُعا اور تحمید اور تسبیح وغیرہ پر مشتمل ہیں مقرر کر دیئے گئے ہیں، مگر ساتھ ہی اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ علاوہ مقررہ کلمات کے نماز پڑھنے والا اپنی زبان میں بھی جس طرح مناسب خیال کرے نماز کے اندر دُعا اور تحمید اور تسبیح وغیرہ سے کام لے سکتا ہے۔ ۱؎ نماز میں اتحاد فی الصورت کی غرض سے یہ پابندی بھی لگائی گئی ہے کہ خواہ کوئی مسلمان کسی جگہ ہو وہ کعبہ کی طرف مُنہ کر کے نماز ادا کرے۔ ۲؎ اور سوائے کسی ناگزیر مجبوری کے یہ بھی لازمی ہے کہ ایک محلہ یا گاؤں یا قصبہ کے سب مسلمان مقررہ اوقات میں مسجد میں جمع ہو کر یا اگر مسجد نہ ہو تو کسی دوسری جگہ میں اکٹھے ہو کر ایک امام کی اقتداء میںنماز ادا کیا کریں تاکہ ان کی اجتماعی زندگی کا شیرازہ بجائے منتشر ہونے کے دن بدن مضبوط ہوتا چلا جاوے۔ نماز میں نشاط کی کیفیت پیدا کرنے اور خدا کے دربار میں صفائی کی حالت میں پیش ہونے کی غرض سے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ نماز سے پہلے ہر مُسلمان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی ہر سہ اطراف کو یعنی مُنہ ہاتھ اور پاؤں کو پانی سے دھو لیا کرے۔۳؎ اس عمل کو اسلامی اصطلاح میں وضو کہتے ہیں جو گویا نماز کی اغراض کے لیے غسل کا قائم مقام ہے۔
    الغرض معراج کے ساتھ اسلامی عبادات کے سب سے بڑے رُکن کا قیام عمل میں آیا اور پانچ وقت کی باقاعدہ نماز کا آغاز ہو گیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے جس میں وہ خدا کے حضور میں حاضر ہو کر اس سے باتیں کرتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ اگر نماز کو اس کے جُملہ شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے اور دِل کی توجہ بھی اس کے ساتھ ہو تو وہ ذاتِ باری تعالیٰ کے قُرب کے حصول کے لیے ایک بہترین کیفیت کی حامل ہے۔ انسانی جسم اور رُوح میں فطری طور پر ایک ایسا رابطہ اور اتحاد رکھا گیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا چھوٹے سے چھوٹا تغیر بھی دُوسرے پر ایک گہرا اثر پیدا کرتا ہے۔ مثلاً جسم کو اگر کوئی تکلیف پہنچے تو فوراً روح بھی بے قرار ہونے لگتی ہے اور اگر رُوح کو کوئی صدمہ پہنچے تو اس کا فوری اثر جسم پر پڑتا ہے اور جسم میں بھی ساری کیفیات پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں جو خود جسم کو تکلیف پہنچنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ رُوح خوش ہو تو جسم پر بھی خوشی کے آثار تبسّم وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اگر روح مغموم ہو تو انسان کا چہرہ فوراً غم کا نقشہ پیش کرنے لگ جاتا ہے۔ الغرض جسم اور روح کے درمیان ایک فطری رابطہ اور اتحاد ہے جس کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے سے گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس لیے اسلامی شریعت میں کمال حکمت سے عبادت کا جسمانی نقشہ ایسا تجویز کیا گیا ہے جو انسانی رُوح میں تعبّد اور تذلّل کی کیفیات پیدا کرنے کے لیے اپنے اندر ایک طبعی خاصیّت رکھتا ہے؛ چنانچہ نماز میں قیامؔ اور رکوعؔ اور سجدہؔ اور قعدہؔ کی حالتیں اسی غرض و غایت کے ماتحت رکھی گئی ہیں کہ تا انسانی رُوح کے اندر ان جسمانی کیفیات کے مناسب حال رُوحانی کیفیات پیدا کی جائیں اور ہر حالت کے لیے جو دُعایا تحمید یا تسبیح کے الفاظ مقرر کیے گئے ہیں وہ بھی اس رُوحانی کیفیت کے مناسبِ حال تجویز کئے گئے ہیں جو ہر جسمانی کیفیت کے مقابلہ میں رُوح کے اندر پیدا کرنی مقصود ہے۔ مثلاً نماز میں سجدہ کی حالت میں جس میں انسان اپنا ماتھا زمین پر رکھ دیتا ہے انتہائی تعبّد اور تذلّل کی حالت ہے۔ اس لیے جو الفاظ سجدہ کی حالت میں پڑھنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی (میرا رب جو سب سے بالا و بلند ہے وہ عیبوں سے پاک اور سب کمزوریوں سے منزّہ ہے) وہ بھی خدا تعالیٰ کی بڑائی اور بزرگی کے سب سے زیادہ حامل ہیں تاکہ انسانی رُوح یہ محسوس کرے کہ میں جس ہستی کے سامنے سجدہ کر رہی ہوں وہ ایک ایسی برتر و بالا ہستی ہے کہ اس کے سامنے میرا یہی منصب ہے کہ انتہائی تعبدّ و تذلّل کے ساتھ اس کے آگے گِری رہوں۔ اس حساس کے پیدا ہوتے ہی انسانی رُوح قربِ الٰہی کی طرف بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ناممکن ہے کہ سجدہ کی حالت میں ایک انسان اپنی توجہ کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دل میں کوئی روحانی تغیر محسوس نہ کرے۔ البتہ جو لوگ نماز کو محض ایک رسم کے طور پر ادا کرتے ہیں اور دل کی توجہ ان کے ساتھ نہیں ہوتی ان کی رُوح بے شک نماز کے اعمال میں سے گذر کر بھی خالی کی خالی نکل آتی ہے کیونکہ ان کے عمل میں کوئی جان نہیں ہوتی اور بے جان عمل کوئی تغیر پیدا نہیں کر سکتا۔
    الغرض اس میں قطعاً کوئی شک نہیں ہے کہ نماز حقیقی معنوں میں مومن کی معراج ہے اور مسلمان اس مبارک عبادت پر جتنا بھی فخر کریں وہ تھوڑا ہے۔ یقینا نماز کے مقابلہ پر کسی مذہب کی کوئی عبادت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ جس طرح نماز میں جسم اور رُوح کی ان باریک درباریک کیفیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے جو تعبّد کے لیے ضروری ہیں وہ کسی اور جگہ نظر نہیں آتا۔ پھر نماز میں ان مختلف کیفیات کو جس ترتیب کے ساتھ رکھا گیا ہے وہ بھی فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ سب سے پہلے درجہ پر قیامؔ ہے اور یہ وہ کیفیت ہے جس میں سینہ پر ہاتھ باندھے ہوئے ایک مومن خُدا کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ اس کے بعد رکوعؔ ہے جو قیام اور سجدہ کے بین بین تعبّد و تذلّل کا ایک درمیانی مرتبہ ہے۔ اس کے بعد سجدہؔ ہے جس میں گویا انسانی رُوح اپنے خالق و مالک کی اعلیٰ اور کامل صفات کا مطالعہ کر کے اس کے سامنے بیتاب ہو کر زمین پر گر جاتی ہے سب سے آخر میں قعدہ ہے جو سجدہ کے بعد ایک سکون کی کیفیت ہے جس میں انسان تعبّد و تذلّل کے مراحل میں سے گذرکر گویا خدا کے تسلی یافتہ بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد نماز پڑھنے والا دونوں طرف مُنہ پھیر کر سلام کہتا ہے اور نماز سے فارغ ہو جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب اسے دنیا میں واپس جاکر دوسرے لوگوں تک بھی اس سلامتی کے پیغام کو پہنچانا چاہیئے جو اُس نے اپنے خُدا سے حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ نماز کی کوئی حالت بھی خاموشی کی حالت نہیں بلکہ ہر حالت کے ساتھ اس حالت کے مناسبِ حال دُعا اور تحمید اور تسبیح وغیرہ کے کلمات مقرر کر دیئے گئے ہیں تاکہ یہ مبارک کلمات جسم کی ظاہری حالت اور دل کی باطنی توجہ کے ساتھ مل کر ایک پورا اور حقیقی نقشہ تعبّد اور تذلّل اور سوال کا پیدا کر دیں۔ بھلا اس کامل و مکمل عبادت کے مقابلہ پر دُوسرے مذاہب کا گانا یا بجانا یا کسی غیر فطری حالت میں محض کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر کوئی الفاظ مُنہ سے کہہ دینا کیا حقیقت رکھتا ہے؟ اور پھر اسلام نے نماز کی عبادت کو ایک اجتماعی صورت دینے کے لیے ایک ضروری شرط یہ بھی قراردے دی ہے کہ ایک حلقہ کے سب مسلمان باہم مل کر ایک امام کے پیچھے باترتیب صفوں میں قبلہ رُخ کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کریں۔ اور ضمنی طور پر اس روزانہ پنجوقتہ اجتماع میں بہت سے دوسرے اجتماعی مفاد کا دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے۔ غرض وضو سے لے کر اپنے اختتام تک نماز ایک نہایت ہی بابرکت عبادت ہے جس سے بڑھ کر قربِ الٰہی کے حصول اور دل کی طہارت کے لیے کوئی دُوسری عبادت تصور میں نہیں آسکتی اور دن رات کے مختلف وقتوں میں پانچ نمازوں کا مقرر کیا جانا بھی اپنے اندر روحانی حفاظت اور روحانی تقویت کا ایک ایسا غیر معمولی سامان رکھتا ہے جویقینا کسی اور مذہب میںپایا نہیں جاتا۔
    کیا اسلامی عبادتوں میں ظاہری شکل و صورت پر زیادہ زور دیا گیا ہے
    بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے اپنی عبادتوں میں ظاہری فارم یعنی شکل و صورت پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور اس کے بغیر انہیں ناقص سمجھا ہے
    اور اصل چیز جو دل کی کیفیت سے تعلق رکھتی ہے اور جو گویا عبادت کی رُوح سمجھی جانی چاہیئے اس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ بلکہ بعض لوگ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ عبادت میں اصل چیز اس کی رُوح ہے اس لیے اس کے واسطے کسی ظاہری شکل و صورت کے مقرر کرنے کی ضرورت ہی نہیں صرف دل کی توجہ کافی ہونی چاہیئے اور یہ کہ اسلام نے عبادت کی ایک فارم مقرر کر کے اور پھر اس پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر اس کی اصل رُوح کو مٹا دیا ہے۔ یہ وہ اعتراض ہے جو آجکل اسلامی عبادتوں کے متعلق کیا جاتا ہے، لیکن غور کیا جائے تو یہ اعتراض بالکل فضول اور بودا ہے۔ یعنی نہ تو یہ خیال دُرست ہے کہ عبادت چونکہ دل کی توجہ کا نام ہے اس لیے عبادتوں میں کسی فارم یعنی ظاہری شکل و صورت کے مقرر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ یہ دُرست ہے کہ اسلام نے عبادت کی ظاہری شکل و صورت پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور اس کی اصل حقیقت کی طرف توجہ نہیں کی۔ یہ دونوں خیال اسلامی تعلیم کی رُو سے قطعاً غلط اور بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔
    پہلے ہم اس اعتراض کو لیتے ہیں کہ کیا عبادت میں کسی ظاہری شکل و صورت کے مقرر کئے جانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ سو جاننا چاہیئے کہ یہ خیال کہ چونکہ عبادت کا حقیقی تعلق انسان کی قلبی کیفیت سے ہے اس لیے اس کے واسطے کسی ظاہری فارم یعنی شکل و صورت کی ضرورت نہیں ایک بالکل جہالت اور نادانی کا خیال ہے کیونکہ اوّل تو جب جسم بھی خدا کا پیدا کردہ ہے تو اس کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی خدا کی عبادت میں حصّہ لے اور اسے اپنے خالق و مالک کی عبودیت سے خارج یا آزاد قرار دے دینا کسی طرح بھی جائز نہیں سمجھا جاسکتا۔ انسان کا جسم اور اس کے سارے اعضاء اور ان اعضاء کی ساری طاقتیں خدا کی پیدا کردہ ہیں۔ پس اگر رُوح پر خُدا کی مخلوق ہونے کی وجہ سے عبادت کا فرض عائد ہوتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جسم اس فرض کی ادائیگی سے باہر رہے۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ:
    ۔ ۱؎
    یعنی’’ سچا مُسلمان وہ ہے کہ جو ان سب چیزوں اور سب طاقتوں کو جو خدا نے اُسے عطا کی ہیں خواہ وہ جسمانی ہیں یا رُوحانی۔ مادی ہیں یا غیر مادی ہمارے رستے میں خرچ کرتا ہے اور ہر ایک چیز میں سے جو ہم نے اُسے دی ہے ہمارا حق نکالتا ہے۔‘‘
    پس اسلام ہر گز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ عبادت کا حق صرف رُوح کے ذمہ ہے اور جسم اس سے آزاد ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رُو سے روح اور جسم دونوں اس بوجھ کے نیچے ہیں اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا ہو۔
    دوسرے یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ہر رُوح یعنی سپرٹ کے لیے کسی نہ کسی جسم یعنی ظاہری فارم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ کوئی رُوح بغیر جسم کے زندہ نہیں رہ سکتی اور جو شخص کسی روح کو جسم کے بغیر زندہ رکھنے کی سعی کرتا ہے وہ یقینا بہت جلد رُوح کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ مثلاً بزرگوں اور افسروں کا ادب و احترام ایک سراسر روحانی کیفیت ہے مگر کیا کوئی شخص اس جذبہ کی رُوح کو بغیر کسی ظاہری اور جسمانی پابندی کے زندہ رکھ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ یقینا اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اپنے بزرگوں اور افسروں کے سامنے بھی اسی طرح آزادی اور بے پروائی کے ساتھ رہتے ہوئے جس طرح میں اپنے ہم عمر دوستوں یا اپنے عزیزوں وغیرہ کے ساتھ رہتا ہوں ان کے ادب و احترام کے جذبہ کو اپنے دل میں قائم رکھ سکتا ہوں تو اس کا یہ دعویٰ غلط اور باطل ہو گا اور ایسا شخص بہت جلد ادب و احترام کی رُوح کو ضائع کر کے خالی ہاتھ رہ جائے گا۔ دراصل فطرتِ انسانی کے ماتحت رُوح اور جسم کے درمیان ایک ایسا گہرا رابطہ اور عمیق تعلق ہے کہ کبھی بھی ایک دُوسرے سے جُدا نہیں کیا جاسکتا اور یہ دونوں چیزیں ہر وقت ایک غیر معلوم مگر حکیمانہ قانون کے ماتحت ایک دُوسرے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ مثلاً اگر ایک انسان تکلّف کے ساتھ رونے کی شکل بنائے تو وہ محسوس کرے گا کہ اس ظاہری تبدیلی کے ساتھ ہی اس کے دل کے اندر بھی غم و اَلم کی کیفیت پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کا دل مغموم ہے مگر کسی وجہ سے اس کے ظاہری جسم میں ہنسی کی صورت پیدا کر دی جاوے تو اس کے ساتھ ہی اس کے دل کا غم خوشی میںمبدّل ہونا شروع ہو جائے گا۔ پس عبادات میں جسم یعنی ظاہری فارم اور شکل و صورت کا تجویز کیا جانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جسم اور رُوح ایک دوسرے کے ساتھ غیر منفک صورت میں پیوست ہیں اور جسم کو شامل کرنے کے بغیر عبادت کی روح ہر گز زندہ نہیں رہ سکتی اور لحظہ بہ لحظہ کمزور ہو کر بہت جلد مر جاتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا کے ہر نظام میں ہر رُوح کے لیے کوئی نہ کوئی جسم مقرر کیا جاتا ہے اور تعجب ہے کہ جو لوگ اسلامی عبادات پر زیادہ معترض ہیں وہی اس مزعومہ ’’ظاہر پرستی‘‘ میں دُوسروں سے آگے نکلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ و امریکہ کے سارے نظام اور سارے تہذیب و تمدّن کی بنیاد ظاہری فارم اور ضابطہ پر مبنی ہے اور یقینا جتنا زور مغربی ممالک میں ہر چیز کی فارم پر دیا جاتا ہے اتنا کسی اور جگہ نظر نہیں آتا۔ مثلاً ایک ماتحت کے لیے افسر کا ادب لازمی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے ادب محض ایک قلبی کیفیت کا نام ہے لیکن کوئی مغربی حکومت اس بات پر تسلی نہیں پاتی کہ اس کے افراد صرف اپنے دل میں اپنے افسروں کا ادب محسوس کر لیا کریں اور بس۔ بلکہ اس کے لیے یورپ و امریکہ کی ہر حکومت میں بے شمار ضوابطہ مقرر ہیں اور افسروں کے احترام کی غرض سے ماتحتوں کو سینکڑوں ظاہری پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے کیونکہ دنیاوی معاملات میں ان لوگوں کے دل دُوسروں کی نسبت اس بات کو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی جذبہ کی رُوح کو بغیر ظاہری فارم کے زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ دینی معاملات میں اس فطری قانون کو نظر انداز کیا جاوے۔ الغرض جسم کو عبادت میں شامل کرنا نہ صرف اس لیے ضروری ہے کہ جسم بھی خدا کی مخلوق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی پرستش میں حِصّہ لے بلکہ اس لیے بھی کہ ظاہری اور جسمانی پابندی کے بغیر اندرونی رُوح کا بقا ممکن نہیں۔
    دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے اپنی عبادات میں ظاہری شکل و صورت پر زیادہ زور دیا ہے اور عبادت کی رُوح کی طرف جو اصل چیز ہے پوری توجہ نہیں دی۔ سو یہ اعتراض بھی بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے گو اسلام نے جسم کو عبادت میں شامل کر کے ہر عبادت کے لیے ایک ظاہری صورت تجویز کی ہے لیکن چونکہ بہرحال رُوح جسم پر مقدّم ہے اس لیے اسلام نے اصل زور عبادت کی رُوح پر دیا ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس قدر زور عبادت کی رُوح پر اسلام میں پایا جاتا ہے وہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔ چنانچہ نماز جو اسلام میں ساری عبادتوں سے افضل قرار دی گئی ہے اس کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۱؎
    یعنی ’’تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنی نماز کی اصل حقیقت سے غافل ہیں۔ وہ ایک ایسا کام کرتے ہیں جو لوگوں کو تو نظر آتا ہے مگر اس کے اندر کوئی رُوح نہیں ہے۔ اُنہوں نے صرف برتن کو روک رکھا ہے اور اصل رُوح جس کے لیے یہ برتن مقرر ہے اُن کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔‘‘
    اِس قرآنی آیت میں جس وضاحت اور زور کے ساتھ اور جس مؤثر انداز میں اسلامی عبادات کے فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ کوئی دوسرا مذہب اس سے بہتر تعلیم نہیں پیش کر سکتا۔ ان مختصر اور سادہ الفاظ میں اس غایت درجہ اہم اور نہایت وسیع مسئلہ کا ایسا نچوڑ آجاتا ہے کہ جس کے بعد حقیقتاً کسی اور تشریح کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ آیت ہم نے صرف مثال کے طور پر دی ہے ورنہ اسلامی شریعت اس قسم کی تعلیم سے بھری پڑی ہے کہ عبادات میں گو فطرتِ انسانی کے ازلی قانون کے ماتحت جسم کا ہونا بھی ضروری ہے مگر اصل چیز رُوح ہے جس کے بغیر کسی جسم کو زندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مثلاً قربانی کے مسئلہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۱؎
    یعنی ’’ ہم نے قربانی کے جانوروں کو تمہارے لیے خُدا کی شناخت کا ایک ذریعہ بنایا ہے اور ان میں تمہارے لیے بہت خیر و برکت رکھی گئی ہے۔ پس جب تم انہیں ذبح کرنے کے لیے باندھو تو اُن پر خدا کا نام پڑھ لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر کر جاں بحق ہو جائیں تو تم ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور حاجت مندوں اور فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو اس غرض سے تمہارے قابو میں دے رکھا ہے تاکہ تم خُدا کے شکر گذار بندے بنو۔ مگر یاد رکھو کہ ان جانوروں کا گوشت اور خُون خدا کو نہیں پہنچتا بلکہ جو چیز خدا کو پہنچتی ہے وہ اس تقویٰ کی رُوح ہے جس سے تم یہ کام کرتے ہواور ہم نے اسی تقویٰ کی رُوح کو تمہارے قابو میں رکھنے کے لیے یہ طریق مقرر کیا ہے تاکہ تم اس رنگ میں جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے اس کی بڑائی بیان کر سکو اور اے رسول بشارت دے ان لوگوں کو جو اس رنگ میں خدا کی عبادت بجا لاتے ہیں۔‘‘
    اسی طرح حدیث میں بھی کثرت کے ساتھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اقوال وارد ہوئے ہیں جن میں آپؐ نے اسلامی عبادات کے متعلق یہ تشریح فرمائی ہے کہ ان میں اصل اور حقیقی مقصود عبادت کی رُوح ہے۔ چنانجہ روزہ کے متعلق آپؐ فرماتے ہیں:
    مَنْ لَمْ یَدَعَ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بہٖ فَلَیْسَ ِﷲِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ ۔ ۱؎
    یعنی ’’ جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ اور ریا کاری کو ترک نہیں کرتا اور اسی پر عامل رہتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ خُدا کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ یعنی اس صورت میں اس کا روزہ کوئی روزہ نہیں بلکہ وہ بلا وجہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے جس کا اسے کوئی بھی ثواب نہیں۔‘‘
    پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اسلام نے اپنی مختلف عبادات میں ایسی تعلیم دی ہے کہ جس میں اس اصول کو کہ عبادت میں اصل چیز اُس کی رُوح ہے عملاً ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً نماز کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ وہ قبلہ رُخ ہو کر ادا ہونی چاہیئے لیکن ایسے حالات میں جب کہ کسی مجبوری سے قبلہ رُخ ہونا مشکل ہو جائے۔ مثلاً انسان جب کسی سواری پر سوار ہو اور سواری کا رُخ اس کے قابو میں نہ ہو یا کسی وقت بادل وغیرہ کی وجہ سے قبلہ کا رُخ معلوم نہ ہو سکے تو اس قسم کی صورتوں میں اسلام کا یہ حکم ہے کہ پھر جدھر سواری کا رُخ ہو یا جس طرف انسان قیاس کرے کہ ادھر قبلہ ہے اُدھر ہی مُنہ کر کے نماز ادا کر لی جاوے۔ یا مثلاً نماز کے لیے قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ کی حالتیں لازمی قرار دی گئی ہیں، لیکن بایں ہمہ اگر بیماری کی وجہ سے کوئی شخص کھڑا نہ ہو سکے یا کوئی اور معذوری ہو تو اس کے لیے اجازت ہے کہ بیٹھ کر ہی نماز ادا کر لے اور اگر بیٹھ بھی نہ سکے تو لیٹے لیٹے ہی نماز پڑھ لے۔ یہی اصول دوسری عبادتوں پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔ گویا جہاں کہیں بھی عبادت کی رُوح اور اس کا جسم وقتی حالات کی مجبوری کی وجہ سے آپس میں ٹکرانے لگتے ہیں اور دونوں کو ایک وقت میں اختیار نہیں کیا جاسکتا تو وہاں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جسم کو چھوڑ دو اور رُوح کو اختیار کر لو۔ جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اسلام میں اصل مقصود عبادت کی رُوح کو قرار دیا گیا ہے اور جسم کو محض جسم کی ظاہری شرکت اور رُوح کے بقا کے لیے رکھا گیا ہے۔ وھوالمراد۔ پس یہ الزام کہ اسلام نے اپنی عبادات میں جسم کو شامل کر کے رُوح کو مٹا دیا ہے یا یہ کہ جسم پر زیادہ زور دے کر رُوح کو کمزور کر دیا ہے بالکل غلط اور بے بنیاد ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس معاملہ میں اسلامی تعلیم ایک ایسا اعلیٰ اور وسطی اور دلکش نمونہ پیش کرتی ہے جو نہ صرف ہر اعتراض سے بالا ہے بلکہ دُنیا کا کوئی دوسرا مذہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ اور پھر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اسلام نے اپنی عبادات کے لیے جسم بھی ایسے تجویز کئے ہیں کہ ان سے بڑھ کر عبادت کی رُوح کو زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے کوئی صورت خیال میں نہیں آسکتی۔
    سلطنت ہائے روم و فارس کی باہمی جنگ اوراس کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی
    اسلام سے قبل اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تمام متمدّن دُنیا میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ وسیع
    سلطنتیں دو تھیں۔ سلطنتِ فارس اور سلطنت روم اور یہ دونوں سلطنتیں عرب کے قریب واقع تھیں۔ سلطنت فارس عرب کے شمال مشرق میں تھی اور سلطنتِ روم شمال مغرب میں۔ چونکہ ان سلطنتوں کی سرحد ملتی تھی اس لیے بعض اوقات ان کا آپس میں جنگ و جدل بھی ہو جاتا تھا۔ اس زمانہ میں بھی جس کا اب ہم ذکر کر رہے ہیں یہ سلطنتیں برسرِ پیکار تھیں اور سلطنت فارس نے سلطنت روم کو زیر کیا ہوا تھا اور اس کے کئی قیمتی علاقے چھین لیے تھے اور اُسے برابر دباتی چلی جاتی تھی۔ ۱؎ قریش چونکہ بُت پرست تھے اور فارس کا بھی قریباً قریباً یہی مذہب تھا۔ اس لیے قریشِ مکّہ فارس کی ان فتوحات پر بہت خوش تھے۔ مگر مسلمانوں کی سلطنتِ روم سے ہمدردی تھی کیونکہ رومی سلطنت عیسائی تھی اور عیسائی بوجہ اہلِ کتاب ہونے اور حضرت مسیحؑناصری سے نسبت رکھنے کے بُت پرست اور مجوس اقوام کی نسبت مسلمانوں کے بہت قریب تھے۔ ایسے حالات میں آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ سے علم پاکر پیشگوئی فرمائی کہ گو اس وقت رُوم فارس سے مغلوب ہو رہا ہے مگر چند سال کے عرصہ میں وہ فارس پر غالب آجائے گا اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ ۲؎ یہ پیشگوئی سُن کر مسلمانوں نے جن میں حضرت ابوبکرؓ کا نام خاص طور پر مذکور ہوا ہے مکّہ میں عام اعلان کر نا شروع کیا کہ ہمارے خدا نے یہ بتایا ہے کہ عنقریب رُوم فارس پر غالب آئے گا۔ قریش نے جواب دیا کہ اگر یہ پیشگوئی سچی ہے تو آؤ شرط لگا لو۔ چونکہ اس وقت تک اسلام میں شرط لگانا ممنوع نہیں ہوا تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے اسے منظور کر لیا اور رؤسائِ قریش اور حضرت ابوبکرؓ کے درمیان چند اُونٹوں کی ہارجیت پر شرط قرار پا گئی اور چھ سال کی معیاد مقرر ہوئی مگر جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپؐ نے فرمایا۔ ’’چھ سال کی میعاد مقرر کرنا غلطی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے تو میعاد کے متعلق بِضْعِ سِنِیْنَ کے الفاظ فرمائے ہیں جو عربی محاورہ کی رُو سے تین سے لے کے نو تک کے لیے بولے جاتے ہیں۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ آپؐ مکہّ میں ہی مقیم تھے اور ہجرت نہیں ہوئی تھی اس کے بعد مقررہ میعاد کے اندر اندر ہی جنگ نے اچانک پلٹا کھایا اور رُوم نے فارس کو زیر کر کے تھوڑے عرصہ میں ہی اپنا تمام علاقہ واپس چھین لیا۔ یہ ہجرت کے بعد کی بات ہے۔ ۱؎ اس واقعہ کا سرولیمؔ میور نے اپنی کتاب میں یوں ذکر کیا ہے کہ:
    ’’جب فارس کی فتوحات کا سیلاب ابھی تک برابر بڑھا چلا جاتا تھا۔ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے اپنی تیسویں سورۃ میں یہ پیشگوئی کی کہ عنقریب رُوم فارس پر غالب آئے گا اور جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں واقعات نے اس پیشگوئی کو سچا ثابت کیا۔‘‘ ۲؎
    قبائلِ عرب کو تبلیغِ اسلام
    قبائل کے دَورہ کے متعلق مختصراً اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔ انبیاء تو کبھی بھی مایوس نہیں ہوتے مگر ظاہری حالات کے لحاظ سے مکّہ کی حالت اس
    وقت سخت مایوس کُن تھی۔قریش عداوت اور ایذا رسانی میں دن بدن ترقی کرتے جاتے تھے اور موجودہ صورت میں اُن کے مُسلمان ہونے کی بظاہر بہت ہی کم اُمید تھی۔ دُوسری طرف آپؐ کے طائف کے سفر نے اس شہر کے متعلق بھی فی الحال کوئی اُمید پیدا نہیں کی تھی۔ انہیں حالات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم دن بدن اپنی توجہ کو دیگر قبائل عرب کی طرف زیادہ پھیرتے جاتے تھے اور چونکہ قبائل کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ یہ تھا کہ حج کے موقع پر مکّہ اور منیٰ میں اوراشھرحرم کے دیگر ایّام میں عکاظ ، مجنّہؔ اور ذوالمجازؔ کے میلوں کے موقع پر ان کے پاس جاکر تبلیغ کی جاوے، اس لیے آپؐ نے ان موقعوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا شروع کیا اور کثرت کے ساتھ قبائل کا دَورہ شروع کر دیا۔ بعض اوقات حضرت ابو بکرؓ اور حضرت علی ؓ یا زیدؓ بن حارثہ بھی آپؐ کے ساتھ ہوتے تھے۔ مگر جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے قریش نے اس میں بھی روک ٹوک شروع کر دی۔ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے حقیقی چچا ابولہبؔ نے تو گویا اپنا یہ معمول کر لیا تھا کہ جہاں آپؐ تشریف لے جاتے وہ آپؐ کے پیچھے پیچھے جاتا اور جب آپؐ اپنی تقریر شروع فرماتے تو وہ شور کرنے لگتا اور لوگوں سے کہتا کہ اس کی بات نہ مانو کیونکہ یہ اپنے دین سے پھر گیا ہے اور تمہار ا دین بھی بگاڑنا چاہتا ہے۔ ۳؎ لوگ جب دیکھتے کہ آپؐ کے اپنے رشتہ دار ہی آپؐ کو جھٹلا رہے ہیں تو وہ بھی تکذیب کرتے۔ ۴؎ اور بعض وقت ہنسی اور مذاق بھی اڑاتے۔ ابولہب کے علاوہ ابو جہل نے بھی کئی دفعہ آپؐ کے پیچھے جاکر لوگوں کو آپؐ سے بدظن کرنے کی کوشش کی؛ چنانچہ ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب مَیں ابھی مُسلمان نہیں ہوا تھا، مَیں نے آپؐ کو ذوالمجازؔ میں دیکھا کہ آپؐ لوگوں کے مجمعوں میں گھس کر توحید کا وعظ فرماتے پھرتے تھے۔ اُس وقت ابو جہل آپؐ کے پیچھے پیچھے تھا اور آپؐ پر خاک پھینکتا جاتا تھا اور کہتا تھا۔ ’’اے لوگو! اس کے فریب میں نہ آنا۔ یہ چاہتا ہے کہ تم کو لات و عزیٰ کی پرستش سے پھیر دے۔‘‘ ۱؎
    ایک دفعہ آپؐ بنو عامر بن صعصہ کے ڈیرے میں تشریف لے گئے۔ خوش قسمتی سے اس وقت کوئی قریش آپؐ کے ساتھ نہ تھا۔ آپؐ نے انہیں توحید کا وعظ فرمایا اور اسلام کی تائید میں اُن سے مدد چاہی۔ جب آپؐ تقریر ختم کر چکے تو اُن میں سے بیحرہؔ بن فراس نامی ایک شخص بولا۔ ’’واﷲ اگر یہ شخص میرے ہاتھ آجاوے تو میں سارے عرب کو زیر کرلوں۔‘‘ اور پھر آپؐ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ ’’اچھا یہ بتاؤ کہ اگر ہم نے تمہارا ساتھ دیا اور تم اپنے مخالفوں پر غالب آگئے۔ تو تمہارے بعد حکومت میں ہمارا حصہ ہو گا یا نہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ حکومت کا معاملہ تو اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔‘‘ اُس نے کہا۔ ’’خوب! تمام عرب کے سامنے سینہ سپر ہم ہوں اور حکومت غیر کے ہاتھ میں جاوے! جاؤ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں۔‘‘ ۲؎ غرض آپ نے مختلف قبآئل کا دورہ فرمایا اور بنو عامرؔ بن صعصہ ، بنو محاربؔ ، فزارہؔ ، غسانؔ ، مرّہؔ ، حنیفہؔ، سلیمؔ ، عبسؔ ، کندہؔ ، کلبؔ، حارثؔ ، عذرہؔ ، حضارمہؔ، وغیرہ سب کو باری باری اسلام کی دعوت دی، مگر سب نے انکار کیا۔۳؎ اور سب سے زیادہ سختی کے ساتھ انکار کرنے والے بنو حنیفہ تھے جو یمامہ کے رہنے والے تھے۔ ۴؎ مسلیمہ کذاب جس نے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے آخر عہد میں نبوت کا دعویٰ کیا اسی قبیلہ کا رئیس تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا قبائل کا دورہ بھی ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ ہر دو جہان کا بادشاہ جس کا نام لینے پر بعد کے مُسلمان شہنشاہ جن کے نام سے دُنیا کانپتی تھی اپنے تختوں سے نیجے اُترآتے تھے ، قبائلِ عرب کے بدوی رئیسوں کے خیموں میں جاتا ہے اور ایک ایک رئیس کے خیمہ پر دستک دے کر خالقِ کونین کا پیغام پیش کرتا ہے اور پیچھے پڑ پڑ کر استدعا کرتا ہے کہ یہ تمہارے بھَلے کی چیز ہے اسے لے لو۔ مگر ہر دروازہ اس کے لیے بند کیا جاتا ہے اور ہر خیمہ سے اس کو یہ آواز آتی ہے کہ جاؤ یہاں تمہارا کوئی کام نہیں اور خدا کا یہ بندہ اپنے مقدس مال کی گٹھڑی اٹھا کر اگلے خیمے کا راستہ لیتا ہے۔
    بہر حال اب اسلامی منظر چاروں طرف تاریک و تار تھا۔ مکّہ میں قریش اسلام کے جانی دشمن تھے اور ہر وقت اُسے نیست و نابود کر دینے کی فکر میں رہتے تھے۔ طائف والوں نے اسلام کا نام لینے پر آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم پر پتھر برسادیئے تھے۔ دیگر قبائلِ عرب آپؐ کو صاف صاف جواب دے چکے تھے۔ گویا ظاہری اسباب کے لحاظ سے اب اسلام کے لیے ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔‘‘ کی حالت تھی، مگر اسلام خدا کا بھیجا ہوا دین تھا اور اُسی نے اسے قائم کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اور اس زمانہ میں بھی اس کی تائید و نصرت کے وعدے ہو رہے تھے بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ اس زمانہ کی وحیٔ الٰہی میں خصوصیت کے ساتھ بڑے پُر شوکت اور پُر رُعب الفاظ میں اسلام کی آئندہ ترقی اور فتوحات کے نقشے کھینچے جارہے تھے اور مخالفینِ اسلام کی آئندہ ناکامیاں اور ان کی ہلاکت کی پیشگوئیاں دُنیا کو سُنائی جارہی تھیں۔ قریش ان باتوں کو سُنتے اور بے اختیار ہنس دیتے۔ مگر خداوندِ عالمیان اپنی قدرت کے زور سے یہ سب نظارے دکھانے والا تھا اور پردۂ غیب سے عنقریب کچھ ظاہر ہونے والا تھا؛ چنانچہ ناگاہ یثرب کی جانب کا کنارہ ٹوٹ کر گِرا اور اسلامی چشمہ کا پانی جو چاروں طرف راستہ بند ہونے کی وجہ سے اب تک اپنے کناروں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر رہ جاتا تھا بڑے زور کے ساتھ اس راستہ سے بہ نِکلا۔ مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کی کیفیت بیان کریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یثرب اور اہلِ یثرب کا مختصر سا حال تحریر کر دیں تاکہ ان واقعات کا سمجھنا آسان ہو جاوے۔

    وطن سے بے وطن
    یثرب اور اہلِ یثرب
    مکّہ کے شمال کی طرف قریباً اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ایک شہر ہے جس کا نام مدینہؔ ہے۔ اب تو اس کے نام سے ساری دنیا واقف ہے کیونکہ ہمارے
    آقا انحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری دس سال یہیں گذارے اور یہیں فوت ہوئے اور یہیں آپؐ کا مزارِ مبارک ہے اور یہی ابتداء میں خلافتِ اسلامی کا مرکز رہا ہے۔ مگر اسلام سے پہلے یہ شہر ایک گمنامی کی حالت میں تھا اور اس کا نام یثربؔ تھا۔ ہجرت کے بعد رسولِ خدا کامسکن ہو جانے کی وجہ سے اس کا نام مدینۃ الرسُول مشہور ہو گیا اور پھر آہستہ آہستہ صرف مدینہ رہ گیا۔ اسلام سے پہلے یثرب کی آبادی مذہباً دو حصوں میں تقسیم تھی۔ یعنی یہود اور بُت پرست ۔ یہود پھر آگے تین قبائل میں منقسم شدہ تھے یعنی بنوقینقاع بنو نضیرؔ اور بنو قریضہؔ اور بُت پرستوں کی بھی دو شاخیں تھیں جن کا نام اوسؔ اور خزرجؔ تھا۔ یہی اوسؔ اور خزرجؔ بعد میں اسلام لا کر اور آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کو پناہ دے کر انصار کے لقب سے ملقّب ہوئے۔ اسلام سے پہلے اوس و خزرج عموماً آپس میں برسرِ پیکار رہتے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں ان کے درمیان ایک خطرناک لڑائی ہوئی جو جنگِ بُعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی میں اوسؔ و خزرجؔ کے بڑے بڑے نامور سردار کٹ کر ہلاک ہو گئے۔
    چونکہ یہودی لوگ علمی اور مذہبی لحاظ سے ان بُت پرستوں پر فوقیت رکھتے تھے اور دولت و اقتدار میں بھی عموماً بڑھے ہوئے تھے ، اس لیے یہود کا اُن پر خاص اثر تھا۔ حتیٰ کہ اگر کسی مُشرک کے اولاد نرینہ نہ ہوتی تھی تو وہ منّت مانتا تھا کہ اگر میرے اولاد نرینہ ہوئی تو میں اپنے پہلے لڑکے کو یہودی بنادوں گا۔ ۱؎ یہود کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اوسؔ و خزرجؔ بھی کتب سماوی اور سلسلہ رسالت سے کچھ کچھ آشنا ہو گئے تھے اور چونکہ یہود میں الٰہی نوشتوں کی رُو سے ان دنوں ایک نبی کا انتظار تھا، اس لیے یہ بات اوسؔ اور خزرجؔ کے کانوں تک بھی پہنچ چکی تھی۔ کیونکہ یہود اُن سے کہا کرتے تھے کہ اب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے۔ وہ جب آئے گا تو ہم اس کا ساتھ دے کر بُت پرستوں اور کافروں کو نیست و نابود کردیں گے اور وہ ایک بڑی سلطنت قائم کرے گا اور ہم اُسے مان کر دُنیا میں طاقتور ہو جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۱؎
    یثرب میں اسلام
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حسب دستور مکّہ میں اَشْھر حرم کے اندر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ آپؐ کو معلوم ہوا کہ یثرب کا ایک مشہور شخص سویدؔ بن صامت مکّہ میں
    آیا ہوا ہے۔ سویدؔ مدینہؔ کا ایک مشہور شخص تھا اور اپنی بہادری اور نجابت اور دُوسری خوبیوں کی وجہ سے کاملؔ کہلاتا تھا اور شاعر بھی تھا۔ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم اس کا پتہ لیتے ہوئے اس کے ڈیرے پر پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ اُس نے کہا میرے پاس بھی ایک خاص کلام ہے، جس کا نام مجلہ لقمان ہے۔ آپؐ نے کہا مجھے بھی اس کا کوئی حصہ سناؤ۔ جس پر سویدؔ نے اس صحیفہ کا ایک حصہ آپ کو سُنایا۔ آپ نے اس کی تعریف فرمائی کہ اس میں اچھی باتیں ہیں، مگر فرمایا کہ میرے پاس جو کلام ہے وہ بہت بالا اور اَرفع ہے چنانچہ پھر آپؐ نے اُسے قرآن شریف کا ایک حصہ سُنایا۔ جب آپ ختم کر چکے تو اُس نے کہا۔ ہاں واقعی یہ بہت اچھا کلام ہے اور گو وہ مسلمان نہیں ہوا مگر اس نے فی الجملہ آپؐ کی تصدیق کی اور آپؐ کو جھٹلایا نہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مدینہ میں واپس جاکر اُسے زیادہ مہلت نہیں ملی اور وہ جلد ہی کسی ہنگامہ میں قتل ہو گیا۔ یہ جنگِ بُعاث سے پہلے کی بات ہے۔ ۲؎ اس کے بعد اسی زمانہ کے قریب یعنی جنگِ بُعاث سے قبل آپؐ پھر ایک دفعہ حج کے موقع پر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ اچانک آپؐ کی نظر چند اجنبی آدمیوں پر پڑی۔ یہ قبیلہ اوسؔ سے تھے اور اپنے بُت پرست رقیبوں یعنی خزرج کے خلاف قریش سے مدد طلب کرنے آئے تھے۔ یہ بھی جنگِ بعاث سے پہلے کا واقعہ ہے۔ گویا یہ طلبِ مدد اسی جنگ کی تیاری کا ایک حصہ تھی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔ آپؐ کی تقریر سُن کر ایک نوجوان شخص جس کا نام ایاسؔ تھا بے اختیار بول اُٹھا۔ ’’خُدا کی قسم جس طرف یہ شخص (محمد صلی اﷲعلیہ وسلم) ہم کو بُلاتا ہے وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں۔‘‘ مگر اس گروہ کے سردار نے ایک کنکروں کی مُٹھی اٹھا کر اس کے مُنہ پر ماری اور کہا ’’چُپ رہو۔ ہم اس کام کے لیے یہاں نہیں آئے اور اس طرح اس وقت یہ معاملہ یونہی دب کر رہ گیا۔ مگر لکھا ہے کہ ایاسؔ جب واپس وطن جاکر فوت ہونے لگا، تو اس کی زبان پر کلمۂ توحید جاری تھا۔ ۳؎
    اس کے کچھ عرصہ بعد جب جنگِ بُعاث ہو چکی تو ۱۱ نبوی کے ماہ رجب میں ۴؎ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مکّہ میں یثرب والوں سے پھر ملاقات ہو گئی۔ آپؐ نے حسب و نسب پوچھا تو معلوم ہوا کہ قبیلہ خزرجؔ کے لوگ ہیں اور یثرب سے آئے ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہایت محبت کے لہجہ میں کہا ’’کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں؟‘‘ اُنہوں نے کہا ’’ہاں! آپ کیا کہتے ہیں۔‘‘ آپؐ بیٹھ گئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن شریف کی چند آیات سُنا کر اپنے مِشن سے آگاہ کیا۔ ان لوگوں نے ایک دُوسرے کی طرف دیکھا اور کہا ’’یہ موقع ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہود ہم سے سبقت لے جاویں۔‘‘ یہ کہہ کر سب مسلمان ہو گئے۔ یہ چھ اشخاص تھے جن کے نام یہ ہیں:
    ۱- ابو امامہ اسعد بن زرارہ جو بنو نجارؔ سے تھے اور تصدیق کرنے میں سب سے اوّل تھے۔
    ۲- عوف بن حارث یہ بھی بنو نجار سے تھے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کے ننھیال کا قبیلہ تھا۔
    ۳- رافع بن مالک جو بنوزؔریق سے تھے۔ اب تک جو قرآن شریف نازل ہو چکا تھا۔ وہ اس موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو عطا فرمایا۔ ۱؎
    ۴- قطبہ بن عامر جو بنی سلمہ سے تھے۔
    ۵- عقبہ بن عامر جو بنی حرام سے تھے اور
    ۶- جابر بن عبداﷲ بن رِئاب جو بنی عبید سے تھے۔
    اس کے بعد یہ لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے رُخصت ہوئے اور جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر رکھا ہے اور ہم میں آپس میں بہت نااتفاقیاں ہیں۔ ہم یثرب میں جاکر اپنے بھائیوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے۔ کیا عجب کہ اﷲ تعالیٰ آپؐ کے ذریعہ ہم کو پھر جمع کر دے پھر ہم ہر طرح آپؐ کی مدد کے لیے تیار ہوں گے؛ چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ ۲؎
    ُْبیعتِ عقبہ اولیٰ ۱۲ نبوی
    یہ سال آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکّہ میں یثرب والوں کی طرف سے ظاہری اسباب کے لحاظ سے ایک بیم ورجاکی حالت میں گذارا۔ آپؐ اکثر
    یہ خیال کیا کرتے تھے کہ دیکھیں ان چھ مصدّقین کا کیا انجام ہوتا ہے اور آیا یثرب میں کامیابی کی کوئی امید بندھتی ہے یا نہیں۔ مُسلمانوں کے لیے بھی یہ زمانہ ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بیم ورجا کا زمانہ تھا۔ وہ دیکھتے تھے کہ سردارانِ مکّہ اور رؤسائِ طائف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مشن کو سختی کے ساتھ رَدّ کر چکے ہیں دیگر قبائل عرب بھی ایک ایک کر کے اپنے انکار پر مُہر لگا چکے تھے۔ مدینہ میں اُمید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی، مگر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کرن مصائب و آلام کے طوفان اور شدائد کی آندھیوں میں قائم رہ سکے گی۔ دوسری طرف مکّہ والوں کے مظالم دن بدن زیادہ ہو رہے تھے اور انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اسلام کو مٹانے کا بس یہی وقت ہے مگر اس نازک وقت میں بھی جس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے مخلص صحابی ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم تھے اور آپؐ کا یہ عزم و استقلال بعض اوقات آپؐ کے مخالفین کو بھی حیرت میں ڈال دیتا تھا کہ یہ شخص کس قلبی طاقت کا مالک ہے کہ کوئی چیز اسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔ بلکہ اس زمانہ میں آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے الفاظ میں خاص طور پر ایک رُعب اور جلال کی کیفیت پائی جاتی تھی اور مصائب کے ان تُند طوفانوں میں آپؐ کا سَر اور بھی بلند ہوتا جاتا تھا۔ یہ نظارہ اگر ایک طرف قریش مکّہ کو حیران کرتا تھا تو دُوسری طرف ان کے دلوں پر کبھی کبھی لَرزہ بھی ڈال دیتا تھا۔ ان ایّام کے متعلق سرولیم میور لکھتا ہے:
    ’’ان ایّام میں محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اپنی قوم کے سامنے اس طرح سینہ سپر تھا کہ انہیں بعض اوقات حرکت کی تاب نہیں ہوتی تھی۔ اپنی بالآخر فتح کے یقین سے معمور مگر بظاہر بے بس اور بے یارومددگار وہ اور اس کا چھوٹا سا گروہ اس زمانہ میں گویا ایک شیر کے مُنہ میں تھے مگر اس خُدا کی نُصرت کے وعدوں پر کامل اعتماد رکھتے ہوئے جس نے اسے رسُول بنا کر بھیجا تھا۔ محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) ایک ایسے عزم کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا تھا جسے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی تھی۔ یہ نظارہ ایک ایسا شاندار منظر پیش کرتا ہے جس کی مثال سوائے اسرائیل کی اس حالت کے اور کہیں نظر نہیں آتی کہ جب اس نے مصائب و آلام میں گھِر کر خُدا کے سامنے یہ الفاظ کہے تھے کہ اے میرے آقا! اب تو میں۔ ہاں صرف مَیں ہی اکیلا رہ گیا ہوں۔ نہیں بلکہ محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کا یہ نظارہ اسرائیلی نبیوں سے بھی ایک رنگ میں بڑھ کر تھا … محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے یہ الفاظ اسی موقع پر کہے گئے تھے کہ اے میری قوم کے صنادید تم نے جو کچھ کرنا ہے کر لو۔ مَیں بھی کسی اُمید پر کھڑا ہوں۔‘‘
    الغرض اسلام کے لیے یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔ مکّہ والوں کی طرف سے تو ایک گونہ ناامیدی ہو چکی تھی ، مگر مدینہ میں اُمید کی کِرن پیدا ہو رہی تھی اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بڑی توجہ کے ساتھ اس طرف نظر لگائے ہوئے تھے کہ آیا مدینہ بھی مکّہ اور طائف کی طرح آپؐ کو رَدّ کرتا ہے یا کہ اس کی قسمت دُوسرے رنگ میں لکھی ہے؛ چنانچہ جب حج کا موقع آیا تو آپؐ بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور منیٰ ، کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ ناگاہ آپؐ کی نظر اہلِ یثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپؐ کو دیکھ کر فوراً پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپؐ کو ملے۔ اب کے یہ بارہ اشخاص تھے جن میں سے پانچ تو وہی گذشتہ سال کے مصدّقین تھے اور سات نئے تھے اور اوسؔ اور خزرجؔ دونوں قبیلوں میں سے تھے۔
    ان کے نام یہ ہیں:
    ۱- ابو امامہ اسعد بن زرارہ
    ۲- عوف بن حارث
    ۳- رافع بن مالک
    ۴- قطبہ بن عامر
    ۵- عقبہ بن عامر
    ۶- معاذ بن حارث از قبیلہ بنی نجار (خزرج)
    ۷- ذکوان بن عبدقیس از قبیلہ بنو زریق (خزرج)
    ۸- ابو عبدالرحمن یزید بن ثعلبہ از بنی بلی (حلیف خزرج)
    ۹- عبادہ بن صامت از بنی عوف (خزرج)
    ۱۰- عباس بن عبادہ بن نضلہ از بنی سالم (خزرج)
    ۱۱- ابو الہیشم بن تیّہان از بنی عبدالاشہل (اوس)
    ۱۲- عویم بن ساعدہ از بنی عمرو بن عوف (اوس)
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھاٹی میں ان سے ملے۔ اُنہوں نے یثرب کے حالات سے اطلاع دی اور اب کی دفعہ سب نے باقاعدہ آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت مدینہ میں اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھی۔ چونکہ اب تک جہاد بالسیف فرض نہیں ہوا تھا، اس لیے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے صرف اِن الفاظ میں بیعت لی جن میں آپؐ جہاد فرض ہونے کے بعد عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔ یعنی یہ کہ ہم خُدا کو ایک جانیں گے۔ شِرک نہیں کریں گے۔ چوری نہیں کریں گے۔ زنا کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ قتل سے باز رہیں گے۔ کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپؐ کی اطاعت کریں گے۔ بیعت کے بعد آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اگر تم صِدق و ثبات کے ساتھ اِس عہد پر قائم رہے تو تمہیںجنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ جس طرح چاہے گا کرے گا۔‘‘
    یہ بیعت تاریخ میں بیعتِ عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ کیونکہ وہ جگہ جہاں بیعت لی گئی تھی عقبہ کہلاتی ہے جو مکّہ اور منیٰ کے درمیان واقع ہے عقبہ کے لفظی معنی بلند پہاڑی رستے کے ہیں۔
    مکّہ سے رُخصت ہوتے ہوئے ان بارہ نو مسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلّم ہمارے ساتھ بھیجا جاوے جو ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مُشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔ آپؐ نے مصعب بن عمیر ؓکو جو قبیلہ عبدالدار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔ اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مقریٔ کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سُنانا تھا، کیونکہ یہی تبلیغِ اسلام کا بہترین ذریعہ تھا۔ چنانچہ مصعبؓ بھی یثرب میں مقریٔ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ۱؎
    یثرب میں اسلام کا چرچا
    مصعبؓ بن عمیر نے مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا جو مدینہ میں سب سے پہلے مسلمان تھے اور ویسے بھی ایک نہایت مخلص اور
    بااثر بزرگ تھے اور اسی مکان کو اپنا تبلیغی مرکز بنایا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے اور چونکہ مدینہ میں مُسلمانووں کو اجتماعی زندگی نصیب تھی اور تھی بھی نسبتاً امن کی زندگی، اس لیے اسعد بن زرارہ کی تجویز پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مصعبؓ بن عمیر کو جمعہ کی نماز کی ہدایت فرمائی اور اس طرح مسلمانوں کی اشتراکی زندگی کا آغاز ہو گیا اور اﷲ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے لگااور اوسؔ اور خزرج بڑی سُرعت کے ساتھ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔ بعض صورتوں میں تو ایک قبیلے کا قبیلہ ایک دن میں ہی سب کا سب مسلمان ہو گیا؛ چنانچہ بنو عبدالاشہل کا قبیلہ بھی اسی طرح ایک ہی وقت میں اکٹھا مسلمان ہوا تھا۔ یہ قبیلہ انصار کے مشہور قبیلہ اوس کا ایک ممتاز حصہّ تھا اور اس کے رئیس کا نام سعد بن معاذ تھا جو صرف قبیلہ بنوعبدالاشھل کے ہی رئیس اعظم نہ تھے بلکہ تمام قبیلہ اوسؔ کے سردار تھے۔ جب مدینہ میں اسلام کا چرچا ہوا تو سعد بن معاذ کو یہ بُرا معلوم ہوا اور انہوں نے اسے روکنا چاہا۔ مگر چونکہ اَسعد بن زرارہ سے ان کی بہت قریب کی رشتہ داری تھی یعنی وہ ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے اور اَسعد مسلمان ہو چکے تھے، اس لیے سعد بن معاذ خود براہِ راست دخل دیتے ہوئے رُکتے تھے کہ کوئی بد مزگی پیدا نہ ہو جائے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے ایک دوسرے رشتہ دار اُسید بن الحضیر سے کہاکہ اسعد بن زرارہ کی وجہ سے مجھے تو کچھ حجاب ہے مگر تم جاکر مصعبؓ کو روک دو کہ ہمارے لوگوں میں یہ بے دینی نہ پھیلائیں اور اسعد سے بھی کہہ دو کہ یہ طریق اچھا نہیں ہے۔ اُسَیدؔ قبیلہ عبدالاشھل کے ممتاز رؤساء میں سے تھے۔ حتیّٰ کہ ان کا والد جنگِ بعاث میں تمام اوس کا سردار رہ چکا تھا اور سعد بن معاذ کے بعد اُسَید بن الحضیر کا بھی اپنے قبیلہ پر بہت اثر تھا۔ چنانچہ سعد کے کہنے پر وہ مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کے پاس گئے اور مصعب سے مخاطب ہو کر غصّہ کے لہجہ میں کہا۔ ’’تم کیوں ہمارے آدمیوں کو بے دین کرتے پھرتے ہو اُس سے باز آجاؤ؛ ورنہ اچھا نہ ہو گا۔ پیشتر اس کے کہ مصعب کچھ جواب دیتے اسعد نے آہستگی سے مصعب سے کہا کہ یہ اپنے قبیلہ کے ایک بااثر رئیس ہیں ان سے بہت نرمی اور محبت سے بات کرنا؛ چنانچہ مصعب نے بڑے ادب اور محبت کے رنگ میں اُسَیدؔ سے کہا کہ ’’آپ ناراض نہ ہوں بلکہ مہربانی فرما کر تھوڑی دیر تشریف رکھیں اور ٹھنڈے دل سے ہماری بات سُن لیں اور اُس کے بعد کوئی رائے قائم کریں۔‘‘ اُسَید اس بات کو معقول سمجھ کر بیٹھ گئے اور مصعب نے انہیں قرآن شریف سُنایا اور بڑی محبت کے پیرایہ میں اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا۔ اُسَید پر اتنا اثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گئے اور پھر کہنے لگے کہ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے کہ جو اگر ایمان لے آیا تو ہمارا سارا قبیلہ مُسلمان ہو جائے گا۔ تم ٹھہرو میں اسے ابھی یہاں بھیجتا ہوں ۔ یہ کہہ کر اُسَید اُٹھ کر چلے گئے اور کسی بہانہ سے سعد بن معاذ کو مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کی طرف بھجوا دیا۔ سعد بن معاذ آئے اور بڑے غضبناک ہو کر اسعد بن زرارہ سے کہنے لگے کہ ’’دیکھو اسعد تم اپنی قرابت داری کا ناجائز فائدہ اُٹھارہے ہو اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ اس پر مصعبؓ نے اسی طرح نرمی اور محبت کے ساتھ ان کو ٹھنڈا کیا اور کہا کہ آپ ذرا تھوڑی دیر تشریف رکھ کر میری بات سُن لیں اور پھرا گر اس میں کوئی چیز قابل اعتراض ہو تو بے شکر ردّ کردیں۔ سعدؔ نے کہا۔ ہاں یہ مطالبہ تو معقول ہے اور اپنا نیزہ ٹیک کر بیٹھ گئے اور مصعبؓ نے اسی طرح پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی اور پھر اپنے دلکش رنگ میں اسلامی اصول کی تشریح کی۔ ابھی زیادہ دیرنہ گذری تھی کہ یہ بُت بھی رام تھا۔ چنانچہ سعد نے مسنون طریق پر غسل کر کے کلمۂ شہادت پڑھ دیا اور پھر اس کے بعد سعد بن معاذ اور اُسَید بن الحضیر دونوں مل کر اپنے قبیلہ والوں کی طرف گئے اور سعدؓ نے اُن سے مخصوص عربی انداز میں پوچھا کہ ’’اے بنی عبدالاشھل تم مجھے کیسا جانتے ہو‘‘؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ ’’آپ ہمارے سردار اور سردار ابن سردار ہیں اور آپ کی بات پر ہمیں کامل اعتماد ہے۔‘‘ سعد نے کہا۔ ’’تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جب تک تم اﷲ اور اس کے رسُول پر ایمان نہ لاؤ۔‘‘ اس کے بعد سعد نے انہیں اسلام کے اصول سمجھائے اور ابھی اس دن پر شام نہیں آئی تھی کہ تمام قبیلہ مُسلمان ہو گیا اور سعدؓ اور اُسَید ؓ نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کے بُت نکال کر توڑے۔ ۱؎
    سعد بن معاذ اور اُسَید بن الحضیرؓ جو اس دن مسلمان ہوئے دونوں چوٹی کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور انصار میں تو لاریب ان کا بہت ہی بلند پایہ تھا۔ بالخصوص سعد بن معاذؓ کو تو انصارِ مدینہ میں وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو مہاجرین مکّہ میں حضرت ابو بکرؓ کو حاصل تھی۔ یہ نوجوان نہایت درجہ مخلص، نہایت درجہ وفادار اور اسلام اور بانیٔ اسلام کا ایک نہایت جاں نثار عاشِق نِکلا اور چونکہ وہ اپنے قبیلہ کا رئیس اعظم بھی تھا اور نہایت ذہین تھا۔ اسلام میں اُسے وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو صرف خاص بلکہ اَخَص صحابہ کو حاصل تھی اور لاریب اس کی جوانی کی موت پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’سعدؓ کی موت پر تو رحمن کا عرش بھی حرکت میں آگیا ہے۔‘‘ ایک گہری صداقت پر مبنی تھا۔ ۲؎
    غرض اس طرح سُرعت کے ساتھ اوسؔ اور خزرجؔ میں اسلام پھیلتا گیا ۔ یہود خوف بھری آنکھوں کے ساتھ یہ نظارے دیکھتے تھے اور دل ہی دل میں یہ کہتے تھے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔
    یہ تو مدینہ کے خوش کن واقعات ہیں۔ جو بیعت عقبہ اُولیٰ کے بعد پیش آئے مگر ادھر مکّہ میں یہ سال آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے واسطے نہایت تنگی اور سختی کا گذرا۔ قریش دن بدن اپنے مظالم میں ترقی کرتے جاتے تھے خصوصاً جب ان کو مدینہ کے حالات سے اطلاع ہوئی تو ان کی دشمنی کی آگ بہت ہی بھڑک اُٹھی اور اُنہوں نے آگے سے بھی بڑھ کر مظالم شروع کر دیئے اور بے چارے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو گیا۔
    بیعت عقبہ ثانیہ ۱۳ نبوی
    اگلے سال یعنی ۱۳ نبوی کے ماہ ذی الحجہ میں حج کے موقع پر اوسؔ اور خزرجؔ کے کئی سو آدمی مکّہ میں آئے۔ اُن میں ستّر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو
    مسلمان ہو چکے تھے اور یا اب مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے مکّہ آئے تھے۔ مصعبؓ بن عمیر بھی ان کے ساتھ تھے۔ مصعبؓ کی ماں زندہ تھی اور گو مُشرکہ تھی، مگر ان سے بہت محبت کرتی تھی۔ جب اسے ان کے آنے کی خبر ملی تو اس نے ان کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھ سے آکر مل جاؤ پھر کہیں دوسری جگہ جانا۔ مصعبؓ نے جواب دیا کہ ’’میں ابھی تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نہیں مِلا آپؐ سے مِل کر پھر تمہارے پاس آؤں گا۔‘‘ چنانچہ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ آپؐ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر اپنی ماںکے پاس گئے۔ وہ بہت جلی بھُنی بیٹھی تھی۔ ان کو دیکھ کر بہت روئی اور بڑا شکوہ کیا۔ مصعبؓ نے کہا ’’ماں! مَیں تم سے ایک بڑی اچھی بات کہتا ہوں جو تمہارے واسطے بہت ہی مفید ہے اور سارے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔‘‘ اس نے کہا وہ کیا ہے؟ مصعبؓ نے آہستہ سے جواب دیا۔’’بس یہی کہ بُت پرستی ترک کر کے مُسلمان ہو جاؤاور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔‘‘ وہ پکی مُشرکہ تھی، سُنتے ہی شور مچادیا کہ ’’مجھے ستاروں کی قسم ہے مَیں تمہارے دین میں کبھی داخل نہ ہوں گی۔‘‘ اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مصعبؓ کو پکڑ کر قید کر لیں۔ مگر وہ بھاگ کر نکل گئے۔ ۱؎
    آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کو مصعبؓ سے انصار کی آمد کی اطلاع مِل چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپؐ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے۔ مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات کی ضرورت تھی، اس لئے مراسِم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گذشتہ سال والی گھاٹی میں آپؐ کو آکر ملیں تاکہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ علیحدگی میں بات چیت ہو سکے اور آپؐ نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک دو دو کر کے وقتِ مقررہ پر گھاٹی میں پہنچ جائیں اور سوتے کو نہ جگائیں اور نہ غیر حاضر کا انتظار کریں۔۲؎ چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جاچکی تھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اکیلے گھر سے نکلے اور راستہ میں اپنے چچا عباسؔ کو ساتھ لیا جو ابھی تک مُشرک تھے، مگر آپؐ سے محبت رکھتے تھے اور خاندان ہاشم کے رئیس تھے اور پھر دونوں مل کر اس گھاٹی میں پہنچے۔ ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے۔ یہ ستّر اشخاص تھے اور اوسؔ و خزرج دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔ سب سے پہلے عباسؔ نے گفتگو شروع کی کہ ’’اے خزرجؔ کے گروہ! ۳؎ (محمد صلی اﷲ علیہ وسلم) اپنے خاندان میں معزز و محبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرہ کے وقت میں اس کے لیے سینہ سپر ہوا ہے مگر اب محمد کا ارادہ اپنا وطن چھوڑکر تمہارے پاس چلے آنے کا ہے۔ سو اگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے ساتھ سینہ سپر ہونا پڑے گا۔ اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔‘‘ البرائؔ بن معرور جو انصار کے قبیلہ کے ایک معمرّ اور بااثر بزرگ تھے نے کہا’’عباسؔ!ٖ ہم نے تمہاری بات سُن لی ہے۔ مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسُول اﷲ خود بھی اپنی زبان مبارک سے کچھ فرماویں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرماویں۔‘‘ اس پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصر سی تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اورحقوق اﷲ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو۔ اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کرو۔ جب آپؐ تقریر ختم کر چکے تو البرائؔ بن معرور نے عرب کے دستور کے مطابق آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ’’یا رسُول اﷲ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق و صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپؐ کی حفاظت کریں گے ہم لوگ تلواروں کے سایہ میں پلے ہیں اور … مگر ابھی وہ بات ختم کرنے نہ پائے تھے کہ ابوالہیشم بن تیہّان نے جن کا ذکر اُوپر گذر چکا ہے ان کی بات کاٹ کر کہا ’’یارسول اﷲ! یثرب کے یہود کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ آپؐ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ جب اﷲ آپؐ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن میں واپس تشریف لے آویں اور ہم نہ ادھر کے رہیں اور نہ اُدھر کے۔‘‘ آپؐ نے ہنس کر فرمایا ’’نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ تمہارا خون میرا خون ہو گا۔ تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے دشمن۔‘‘ اس پر عباس بن عبادہ انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈال کر کہا۔ لوگو کیا تم سمجھتے ہوکہ اس عہد و پیمان کے کیا معنے ہیں؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب تمہیں ہر اَسوَد و اَحمرَ کے مقابلہ کے لیے تیار ہونا چاہیئے اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیئے۔‘‘لوگوں نے کہا’’ہاں ہم جانتے ہیں۔ مگر یا رسول اﷲ ! اس کے بدلہ میں ہمیں کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تمہیں خدا کی جنت ملے گی، جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔‘‘ سب نے کہا ’’ہمیں یہ سودا منظور ۔ یا رسول اﷲ! اپنا ہاتھ آگے کریں۔‘‘ آپؐ نے اپنا دستِ مبارک آگے بڑھادیا اور یہ ستّر جاں نثاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدہ میں آپؐ کے ہاتھ پر بِک گئی۔۱؎ اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔
    جب بیعت ہو چکی تو آپؐ نے اُن سے فرمایا کہ موسیٰ ؑنے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے، جو موسیٰ ؑکی طرف سے اُن کے نگران اور محافظ تھے۔ مَیں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسیٰ کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جوابدہ ہوں گے۔ پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ بارہ آدمی تجویز کئے گئے جنہیں آپؐ نے منظور فرمایا۔ ۲؎ اور انہیں ایک ایک قبیلہ کا نگران مقرر کر کے اُن کے فرائض سمجھا دیئے اور بعض قبائل کے لیے آپؐ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔ بہرحال ان بارہ نقیبوں کے نام یہ ہیں:
    ۱- اسعد بن زرارہ
    ان کا ذکر اُوپر گذر چکا ہے۔ قبیلہ خزرجؔ کے خاندان بنو نجار میں سے تھے۔ جن سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رشتہ داری تھی۔ یثرب میں نمازِ جمعہ کی ابتداء انہی کے ہاتھوں سے ہوئی۔ اوّل درجہ کے مخلصوں میں سے تھے۔ ہجرت کے بعد جنگِ بدر سے پہلے فوت ہو گئے۔
    ۲- اُسَید بن الحضیر
    ان کا ذکر بھی گذر چکا ہے۔ قبیلہ اوسؔ کے خاندان بنو عبدالاشھل سے تھے اور اکابر صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا والد جنگِ بُعاث میں قبیلہ اوسؔ کا قائدِ اعظم تھا۔ اُسَید نہایت مخلص اور نہایت سمجھدار تھے۔ حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں کہ انصار میں سے تین اشخاص اپنی افضلیت میں جواب نہیں رکھتے تھے یعنی اُسَید بن الحضیر۔ سعد بن معاذ اور عباد بن بشر اور اس میں شُبہ نہیں کہ اُسید بڑے پائے کے صحابی تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ اُسَید کی بڑی عزت کرتے تھے۔ عہدِفاروقی میں وفات پائی۔
    ۳-ابو الھیثم مالک بن تیہّان
    ان کا ذکر بھی اُوپر گذر چکا ہے۔ حلفاء بنی عبدالاشھل سے تھے۔ جنگِ صفین میں حضرت علی ؓ کی طرف سے ہو کر لڑے اور شہادت پائی۔
    ۴- سعد بن عبادہ
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور تمام قبیلہ خزرج کے رئیس تھے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہدِمبارک میں ممتاز ترین انصار میں شمار ہوتے تھے۔ حتیّٰ کہ آنحضرت ؐ کی وفات پر بعض انصار نے انہی کو خلافت کے لیے پیش کیا تھا جس کی وجہ سے وہ خلافتِ ابو بکرؓ کے سوال پر متزلزل ہو گئے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔
    ۵- البراء بن معرور
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو سلمہ سے تھے اور بڑے معمر اور بزرگ آدمی تھے۔ ہجرت سے پہلے ہی وفات پاگئے۔
    ۶- عبداﷲ بن رواحہ
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو حارث سے تھے اور مدینہ کے مشہور شاعر اور اوّل درجہ کے مخلصین میں سے تھے۔ جنگِ موتہ میں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوئی تھی حضرت جعفر بن ابی طالب کی شہادت کے بعد یہ امیر العسکر ہوئے اور لڑتے لڑتے شہادت پائی۔
    ۷- عبادہ بن صامت
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو عوف میں سے تھے اور علماء صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ ان سے کئی احادیث مروی ہیں۔ حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں فوت ہوئے۔
    ۸- سعد بن الربیع
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ثعلبہ میں سے تھے۔ بڑے مخلص اور ممتاز صحابی تھے۔ حضرت ابو بکرؓ انہیں بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جنگِ اُحد میں شہید ہوئے۔
    ۹- رافع بن مالک
    ان کا ذکر اُوپر گذر چکا ہے۔ قبیلہ خزرج کے خاندان بنی زریق میں سے تھے۔ جب یہ اسلام لائے تو آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم نے ان کو وہ قرآنی سورتیں عطا فرمائیں جو اس وقت تک نازل ہو چکی تھیں۔ جنگِ احد میں شہید ہوئے۔
    ۱۰- عبداﷲ بن عمرو
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو سلمہ سے تھے جنگِ اُخد میں شہید ہوئے ان کی وفات پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے صاحبزادہ جابر بن عبداﷲ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے والد سے اﷲ تعالیٰ نے بالمشافہ کلام کیا اور ان سے خوش ہو کر کہا کہ ’’اے میرے بندے! تم نے جو مانگنا ہو مانگو۔‘‘ تمہارے والد نے عرض کیا۔ اَے میرے خالق و مالک میری بس یہی خواہش ہے کہ پھر زندہ کیا جاؤں تا پھر اسلام کے راستہ میں جان دُوں۔‘‘ ارشاد ہوا ’’ہم ایسا ضرور کر دیتے، مگر ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ کوئی بَشر اس دُنیا سے گذر کر پھر اس دُنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ عبداﷲ بن عمرو کے متعلق یہ روایت بھی آتی ہے کہ ایک دفعہ جنگِ اُحد کے چھیالیس سال بعد کسی سیلاب کی وجہ سے خطرہ پیدا ہوا تو اُن کی قبر کھود کر ان کو دُوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز کی گئی۔ اس وقت معلوم ہوا کہ ان کی نعش اسی طرح صحیح و سلامت تھی جس حالت میں کہ انہیں دفن کیا گیا تھا۔
    ۱۱- سعد بن خیثمہ
    قبیلہ اوس کے خاندان بنو حارثہ میں سے تھے۔ جنگِ بدر میں شہید ہوئے۔ جب یہ جنگِ بدر کے لیے مدینہ سے نکلنے لگے تو ان کے والد نے کہا کہ ہم میں سے ایک کو گھر پر ٹھہرنا چاہیئے اور چونکہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ جانا چاہتا ہوں ، تم گھر پر ٹھہرو۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور آخر یہ تجویز ہوئی کہ اس غرض کے لئے قرعہ ڈالا جائے؛ چنانچہ قرعہ میں ان کا نام نکلا اور وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نکل آئے اور اُسی جنگ میں شہید ہوئے۔
    ۱۲- منذر بن عمرو
    قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور ایک صوفی مزاج آدمی تھے۔’’بئر معونہ‘‘ میں شہید ہوئے۔ ۱؎
    جب نقیبوں کا تقرر ہو چکا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب نے انصار سے تاکید کی کہ انہیں بڑی ہوشیاری اور احتیاط سے کام لینا چاہیئے کیونکہ قریش کے جاسوس سب طرف نظر لگائے بیٹھے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس قول و اقرار کی خبر نِکل جائے اور مشکلات پیدا ہو جائیں۔ ابھی غالباً وہ یہ تاکید کر ہی رہے تھے کہ گھاٹی کے اُوپر سے رات کی تاریکی میں کسی شیطان کی آواز آئی کہ ’’اے قریش! تمہیں بھی کچھ خبر ہے کہ یہاں (نعوذ باﷲ) مُذَمَّم اور اس کے ساتھ کے مرتدین تمہارے خلاف کیا عہدوپیمان کر رہے ہیں۔‘‘ اس آواز نے سب کو چونکا دیا مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بالکل مطمئن رہے اور فرمایا کہ اب آپ لوگ جس طرح آئے تھے اُسی طرح ایک ایک دو دو ہو کر اپنی قیام گاہوں میں واپس چلے جائیں۔ عباس بن نضلہ انصاری نے کہا۔ ’’یارسُول اﷲ! ہمیں کسی کا ڈر نہیں ہے۔ اگر حکم ہو تو ہم آج صبح ہی ان قریش پر حملہ کر کے اُنہیں ان کے مظالم کا مزہ چکھادیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ نہیں نہیں مجھے ابھی تک اس کی اجازت نہیں ہے۔ بس تم صرف یہ کرو کہ خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے خیموں میں واپس چلے جاؤ۔‘‘ جس پر تمام لوگ ایک ایک دو دو کر کے دبے پاؤں گھاٹی سے نِکل گئے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اپنے چچا عباس کے ساتھ مکّہ میں واپس تشریف لے آئے۔ قریش کے کانوں میں چونکہ بھِنک پڑ چکی تھی کہ اس طرح رات کوکوئی خفیہ اجتماع ہوا ہے۔ وہ صُبح ہوتے ہی اہلِ یثرب کے ڈیرہ میں گئے اور ان سے کہا کہ ’’آپ کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ ان تعلّقات کو خراب کریں، مگر ہم نے سُنا ہے کہ گذشتہ رات محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے ساتھ آپ کا کوئی خفیہ سمجھوتہ ہوا ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ اوسؔ اور خزرجؔ میں سے جو لوگ بُت پرست تھے ان کو چونکہ اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہ تھی، وہ سخت حیران ہوئے اور صاف انکار کیا کہ قطعاً کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ عبداﷲ بن اُبی بن سلول بھی جو بعد میں منافقینِ مدینہ کا سردار بنا۔ اس گروہ میں تھا۔ اس نے کہا۔ ’’ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔ بھلا یہ ممکن ہے کہ اہلِ یثرب کوئی اہم معاملہ طے کریں اور مجھے اس کی اطلاع نہ ہو؟‘‘ غرض اس طرح قریش کا شک رَفع ہوا اور وہ واپس چلے آئے۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد انصار واپس یثرب کی طرف کوچ کر گئے، لیکن ان کے کوچ کر جانے کے بعد قریش کو کسی طرح اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ واقعی اہلِ یثرب نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہدوپیمان کیا ہے جس پر ان میں سے بعض آدمیوں نے اہل یثرب کا پیچھا کیا۔ قافلہ تو نِکل گیا تھا، مگر سعد بن عبادہ کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے اُن کو یہ لوگ پکڑ لائے اور مکّہ کے پتھریلے میدان میں لاکر خوب زدوکوب کیا اور سرکے بالوں سے پکڑ کر ادھر اُدھر گھسیٹا۔ آخر جبیرؔبن مطعم اور حارثؔ بن حرب کو جو سعدؔ کے واقف تھے اطلاع ہوئی تو انہوں نے ان کو ظالم قریش کے ہاتھ سے چھڑا دیا۔۱؎
    ہجرتِ یَثرب
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایک دفعہ رؤیا میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپؐ کو ایک دن مکّہ سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ جانا ہو گا اور ساتھ ہی آپؐ کو ہجرت کی جگہ دکھائی گئی
    جو ایک باغوں اور چشموں والی جگہ تھی۔ چونکہ ابھی تک اس کی تشریح آپؐ پر نہیں کھلی تھی اور تشریح سے قبل ایک نبی بھی بعض اوقات اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے، اس لیے آپؐ فرماتے ہیں کہ:
    ذَھَبَ وَھْلِیْ اِلٰی اَنَّھَا الْیَمَامَۃُ اَوْحَجَرُفَاِذَا ھِیَ مَدِیْنَۃُ یَثْرِبَ۔۲؎
    یعنی ’’میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہؔ یا حجرؔ ہے (جو نجد میں دو شاداب جگہیں ہیں) مگر وہ یثرب نِکل آیا۔‘‘
    چنانچہ جب یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا تو تب آپؐ پر یہ منکشف ہوا کہ ہجرت کی جگہ یثرب ہے نہ کہ یمامہؔ یا حجرؔ۔ اس کے بعد جب انصار کے ساتھ سب قول و قرار ہو چکا اور وہ ایک دفاعی عہدوپیمان کی بیعت کر کے واپس چلے گئے تو آپؐ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اب جو لوگ جاسکیں وہ سب یثرب کی طرف ہجرت کر جائیں۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں باوجود قریش کی طرف سے کئی قسم کی روکوں کے اکثر مسلمان ہجرت کر گئے اور مکّہ کے بہت سے مکانات خالی ہو گئے اور بالآخر صرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علی ؓ اور ان کے اہل و عیال اور ایسے کمزور لوگ جو ہجرت کی طاقت نہ رکھتے تھے یا جنہیں قریش ہجرت کے لیے نکلنے نہ دیتے تھے باقی رہ گئے۔ یہ سب مہاجرین مدینہ اور انصار کے مکانات میں متفرق طور پر بطور مہمان کے ٹھہرے اور اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے اور مہاجرین کے واسطے آہستہ آہستہ الگ مکانات کا انتظام ہو گیا۔ مدینہ والوں نے جن کو مہاجرین آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نصرت کرنے اور پناہ دینے کی وجہ سے انصار کہتے ہیں نہایت گرمجوشی کے ساتھ مہاجرین کا استقبال کیا اور اپنے حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر اُن کے ساتھ سلوک کیا۔ چنانچہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپؐ نے سب مہاجرین کو انصار کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔ ۳؎
    خدا تعالیٰ کا نبی مہاجر کے لباس میں
    اب ہم اس عظیم الشان واقعہ کے قریب پہنچ گئے ہیں جس سے اسلام میں ایک نئے دَور کا آغاز ہوتا ہے یعنی
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا اپنے وطنِ مالوف کو چھوڑ کر یثرب کی طرف ہجرت کر جانا۔ اسلامی سنہ جو سن ہجری کہلاتا ہے اسی انقلابی تاریخ سے شمار کیا جاتا ہے۔
    جب تمام مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو قریش کو اپنی سابقہ کارروائیوں کی وجہ سے اندیشہ ہوا کہ اس طرح تمام مسلمانوں کا وطن سے بے وطن ہو جانا ضرور کوئی رنگ لائے گا۔ علاوہ ازیں ان کو یہ بھی غصّہ تھا کہ ان کا شکار اُن کے ہاتھ سے نکلا جاتاہے، اس لیے انہوں نے اپنی جگہ سوچا کہ کوئی ایسی تدبیر کریں جس سے یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے مِٹ جائے اور اُن کے مظالم کی پاداش کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ابھی مکّہ میں ہی تھے اور اﷲ تعالی کی طرف سے ہجرت کے متعلق اجازت کے منتظر تھے۔ مکّہ والوں نے دیکھا کہ یہ موقع بہت اچھا ہے۔ مُسلمان سب جاچکے ہیں اور محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اب گویا اکیلا تن تنہا ہے۔ اس لیے اس کے متعلق کوئی ایسی تدبیر ہو کہ بس اس کا خاتمہ ہی ہو جائے؛ چنانچہ وہ اس خیال سے اپنے قومی مشورہ گاہ یعنی دارالنّدوہ میں جمع ہوئے اور باہم مشورہ کرنے لگے کہ کیا کیا جاوے۔ اس مشورہ میں قریباً ایک سو قریش شامل تھے اور ایک ابلیس صفت معمر نجدی شیخ بھی شریک تھا۔ پیش آمدہ صورتِ حال پر گفت و شنید ہونے کے بعد مشورہ کے آخری مراحل میں یوں گفتگو ہوئی:
    ایک شخص: محمد کو آہنی زنجیروں سے جکڑ کر ایک کمرہ میں بند کر دو کہ وہیں پڑا پڑا ہلاک ہو جائے۔
    شیخ نجدی: یہ رائے دُرست نہیں کیونکہ جب محمد کے رشتہ داروں اور متبعین کو علم ہو گا تو وہ ضرور حملہ کرکے آئیں گے اور اس کو چھڑا لیں گے اور پھر فساد آگے سے بھی بڑھ جائے گا۔
    دوسرا شخص: محمد کو مکّہ سے جلا وطن کر دو۔ جب وہ ہماری آنکھوں سے دُور ہو گیا اور ہمارے شہر سے نکل گیا تو ہمیں کیا کہ وہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ ہمارے شہر کو اس فتنہ سے نجات مِل جائے گی۔
    شیخ نجدی: کیا تم نے محمد کی شیریں زبانی اور طلاقتِ لسانی اور سحر بیانی نہیں دیکھی۔اگر وہ یہاں سے یونہی سلامت نِکل گیا تو یقین جانو کہ اس کے بہکائے میں آکر کوئی نہ کوئی قبیلۂ عرب تمہارے خلاف اُمڈ آئے گا اور پھر تم اس کے خلاف کچھ نہ کر سکو گے۔
    غرض اسی طرح تھوری دیر تک باہم گفتگو ہوتی رہی۔ کسی نے کچھ رائے دی اور کسی نے کچھ۔ آخر ابوجہل بن ہشام بولا:
    ابوجہل: میری رائے تو یہ ہے کہ قریش کے ہر اک قبیلہ سے ایک ایک جوان چُنا جائے اور اُن کے ہاتھ میں تلواریں دے دی جاویں۔ پھر یہ لوگ ایک آدمی کی طرح اکٹھے ہو کر محمد پر حملہ کریں اور اُسے قتل کر دیں۔ ایسا کرنے سے اس کا خون سب قبائلِ قریش پر پھیل جائے گا اور بنو عبدمناف کو اتنی جرأت ہر گز نہیں ہو گی کہ ساری قوم کے ساتھ لڑیں۔ پس لامحالہ ان کو اس خون کے بدلے میں دیت قبول کرنی ہو گی۔ سو وہ ہم دے دیں گے۔
    شیخ نجدی: رائے ہے تو بس اس شخص کی۔ باقی سب فضول باتیں ہیں۔ پس اگر کچھ کرنا ہے تو جو یہ کہتا ہے وہ کرو۔
    غرض اس رائے پر سب کا اتفاق ہو گیا۔ ۱؎
    قرآن شریف میں ان کے اس مشورہ کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے:
    ۲؎
    ’’اور یاد کر جبکہ کفّار تیرے متعلق منصوبے کرتے تھے تاکہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر دیں یا وطن سے نکال دیں۔ ۳؎ اور وہ اپنی طرف سے خوب پختہ منصوبے گانٹھ رہے تھے مگر اﷲ نے بھی اپنی جگہ تدبیر کر لی تھی اور اﷲ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘
    ادھر یہ لوگ مشورہ کر کے نکلے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خون سے اپنے پلید ہاتھ رنگیں اور اُدھر اﷲ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے اپنے نبی کو ان کے اس بداراوے سے اطلاع دے دی اور اجازت عطا فرمائی کہ یثرب کی طرف ہجرت کر جائیں اور آنے والی رات مکّہ میں نہ گذاریں۔ ۴؎
    یہ اطلاع پاکر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم گھر سے نکلے۔ گرمیوں کے دن تھے اور دوپہر کا وقت تھا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ صبح یا شام آپؐ ہمارے مکان پر حضرت ابوبکرؓ سے ملنے تشریف لایا کرتے تھے۔ ۵؎ اُس دن جو بے وقت آئے اور آئے بھی اس طرح کہ آپؐ نے اپنا سَر ایک کپڑے سے ڈھانکا ہوا تھا۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ آج کوئی خاص بات ہے۔ آپؐ اجازت لے کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور فرمایا۔ ’’اگر یہاں کوئی غیر شخص ہو تو اُسے ذرا باہر بھیج دیں۔‘‘ ابو بکرؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اﷲ! آپؐ ہی کے گھر کے لوگ ہیں۔‘‘ فرمایا ’’مجھے ہجرت کی اجازت مِل گئی ہے۔‘‘ حضرت ابو بکرؓ دن رات اس خبر کے انتظار میں تھے۔فوراً بولے اَلصُّحْبَۃُ یَارَسُوْلَ اﷲِ۔ یعنی ’’یارسول اﷲ! مجھے بھی ساتھ رکھیئے گا؟‘‘ ارشاد ہوا ’’ہاں۔‘‘ ۱؎ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے اس وقت تک کسی شخص کو خوشی میں روتے نہیں دیکھا تھا۔ مگر اب دیکھا کہ جونہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں‘‘ حضرت ابوبکر ؓ کے آنسو جاری ہو گئے۔ ۲؎ پھر اُنہوں نے آپؐ سے عرض کیا۔ یارسول اﷲ! میں نے ہجرت کی تیاری میں دو اونٹنیاں ببول کی پتیاں کھِلا کھِلا کر پال رکھی ہیں۔ ان میں سے ایک آپؐ قبول فرماویں۔‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’ہاں، مگر قیمتاً لوں گا۔‘‘ ابوبکر ؓ نے ناچار قبول کیا اور ہجرت کی تیاری شروع ہوئی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نے جلدی جلدی ضروری سامان تیار کیا اور کھانا تیار کر کے ایک چمڑہ کے برتن میں بند کیا اور پھر میری بہن اسمائؔ نے اپنے نطاق یعنی کمر پر باندھنے والے پٹکے کے دو ٹکڑے کر کے ایک ٹکڑا کھانے کے برتن پر باندھ دیا اور ایک پانی کے برتن پر۔ اس سبب سے اُن کو ذَاتُ النِّطَاقَیْنِ یعنی دو نطاقوں والی کہتے ہیں۔ ۳؎ اس کے بعد آپؐ حضرت ابوبکر ؓ سے اسی رات مکّہ سے نِکل جانے اور غارِ ثور میں پناہ لیٹے کی قرار داد کر کے اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔
    آغازِ سفرِ ہجرت اور قریش کا تعاقب
    رات کا تاریک وقت تھا اور ظالم قریش جو مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اپنے خُونی ارادے کے ساتھ آپؐ کے
    مکان کے ارد گرد جمع ہو کر آپؐ کے مکان کا محاصرہ کر چکے تھے اور انتظار تھا کہ صُبح ہو یا آپؐ اپنے گھر سے نِکلیں تو آپؐ پر ایک دم حملہ کر کے قتل کر دیا جاوے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بعض کفّار کی اَمانتیں پڑی تھیں۔ کیونکہ باوجود شدید مخالفت کے اکثر لوگ اپنی امانتیں آپؐ کے صِدق و امانت کی وجہ سے آپؐ کے پاس رکھوا دیا کرتے تھے۔ ۴؎ لہٰذا آپؐ نے حضرت علیؓ کو ان امانتوں کا حساب کتاب سمجھا دیا اور تاکید کی کہ بغیر امانتیں واپس کئے مکّہ سے نہ نِکلنا۔ اس کے بعد آپؐ نے ان سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور تسلّی دی کہ انہیں خُدا کے فضل سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ وہ لیٹ گئے اور آپؐ نے اپنی چادر جو سُرخ رنگ کی تھی اُن کے اُوپر اُڑھا دی۔ اس کے بعد آپؐ اﷲ کا نام لے کر اپنے گھر سے نکلے اُس وقت محاصرین آپؐ کے دروازے کے سامنے موجود تھے مگر چونکہ انہیں یہ خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس قدر اوّل شب میں ہی گھر سے نِکل آئیں گے۔ وہ اُس وقت اس قدر غفلت میں تھے کہ آپؐ اُن کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے اُن کے درمیان سے نِکل گئے اور اُن کو خبر تک نہ ہوئی۔ اب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ مگر جلد جلد مکّہ کی گلیوں میں سے گذررہے تھے اور تھوڑی ہی دیرمیں آبادی سے باہر نکل گئے اور غارِ ثور کی راہ لی۔ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ پہلے سے تمام بات طے ہو چکی تھی وہ بھی راستہ میں مل گئے۔ غارِ ثور جو اسی واقعہ کی وجہ سے اسلام میں ایک مقدس یادگار سمجھی جاتی ہے مکّہ سے جانب جنوب یعنی مدینہ سے مختلف جانب تین میل کے فاصلہ پر ایک بنجر اور ویران پہاڑی کے اُوپر خاصی بلندی پر واقع ہے اور اس کا راستہ بھی بہت دشوار گذار ہے وہاں پہنچ کر پہلے حضرت ابوبکرؓ نے اندر گھُس کر جگہ صاف کی اور پھر آپؐ بھی اندر تشریف لے گئے۔
    دوسری طرف وہ قریش جو آپؐ کے گھر کا محاصرہ کئے ہوتے تھے وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپؐ کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھتے تھے، تو حضرت علی ؓ کو آپؐ کی جگہ پر لیٹا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے تھے لیکن صبح ہوئی تو انہیں علم ہوا کہ ان کا شکار اُن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اس پر وہ اِدھر اُدھر بھاگے۔ مکّہ کی گلیوں میں صحابہ کے مکانات پر تلاش کیا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔ اس غصّہ میں انہوں نے حضرت علیؓ کو پکڑا اور کچھ مارا پیٹا۔ حضرت ابوبکرؓ کے مکان پر جاکر شور کیا اور ان کی صاحبزادی کو ڈانٹا ڈپٹا مگر ان باتوں سے کیا بنتا تھا۔
    آخر اُنہوں نے عام اعلان کیا کہ جو کوئی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو زندہ یا مُردہ پکڑ کر لائے گا، اس کو ایک سو اُونٹ انعام دیئے جاویں گے؛ چنانچہ کئی لوگ انعام کی طمع میں مکّہ کے چاروں طرف اِدھر اُدھر نکل گئے۔ خود رؤساء قریش بھی سُراغ لیتے لیتے آپؐ کے پیچھے نِکلے اورعین غارِ ثور کے مُنہ پر جاپہنچے۔ یہاں پہنچ کر اُن کے سُراغ رسان نے کہا کہ ’’بس سُراغ اس سے آگے نہیں چلتا۔ اس لیے یا تو محمد یہیں کہیں پاس ہی چھپا ہوا ہے یا پھر آسمان پر اُڑ گیا ہے۔‘‘ کسی نے کہا۔’’ کوئی شخص ذرا اس غار کے اندر جاکر بھی دیکھ آئے۔‘‘ مگر ایک اور شخص بولا کہ ’’واہ یہ بھی کوئی عقل کی بات ہے۔ بھلا کوئی شخص اس غار میں جاکر چھپ سکتا ہے۔ یہ ایک نہایت تاریک و تاراور خطرناک جگہ ہے اور ہم ہمیشہ سے اسے اسی طرح دیکھتے آئے ہیں۔‘‘ یہ بھی روایت آتی ہے کہ غار کے مُنہ پر جو درخت تھا۔ اُس پر آپؐ کے اندر تشریف لے جانے کے بعد مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور عین مُنہ کے سامنے کی شاخ پر ایک کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے تھے۔ یہ روایت تو کمزور ہے لیکن اگر ایسا ہوا ہو تو ہر گز تعجب کی بات نہیں۔ مکڑی بعض اوقات چند منٹ میں ایک وسیع جگہ پر جالا تن دیتی ہے اورکبوتری کو بھی گھونسلا تیار کرنے اور انڈے دینے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ اس لیے اگر خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی حفاظت کے لیے ایسا تصرف فرمایا تو ہر گز بعید نہیں ہے بلکہ اس وقت کے لحاظ سے ایسا ہونا بالکل قرین قیاس ہے۔ بہرحال قریش میں سے کوئی شخص آگے نہیں بڑھا اور یہیں سے سب لوگ واپس چلے گئے۔ ۱؎
    روایت آتی ہے کہ قریش اس قدر قریب پہنچ گئے تھے کہ اُن کے پاؤں غار کے اندر سے نظر آتے تھے اور ان کی آواز سُنائی دیتی تھی۔ اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے گھبرا کر مگر آہستہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’یارسول اﷲ! قریش اتنے قریب ہیں کہ اُن کے پاؤں نظر آرہے ہیں اور اگر وہ ذرا آگے ہو کر جھانکیں تو ہم کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا:
    لَاتَخْزَنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا
    یعنی ’’ہرگز کوئی فکر نہ کرو۔ اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
    پھر فرمایا:
    وَمَاظَنُّکَ یَااَبَابَکْرٍ بِاِثْنَیْنِ اَﷲُ ثَالِثُھُمَا
    یعنی ’’اے ابوبکرؓ! تم ان دو شخصوں کے متعلق کیا گمان کرتے ہو جن کے ساتھ تیسرا خُدا ہے۔‘‘ ۲؎
    ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب قریش غار کے مُنہ کے پاس پہنچے، تو حضرت ابوبکرؓ سخت گھبرا گئے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی گھبراہٹ کو دیکھا تو تسلّی دی کہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے رِقّت بھری آواز میں کہا:
    اِنْ قُتِلْتُ فَاَنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَاِنْ قُتِلْتَ اَنْتَ ھَلَکَتِ الْاُمَّۃُ۔ ۳؎
    یعنی ’’یا رسول اﷲ! اگر میں مارا جاؤں تو میں تو بس ایک اکیلی جان ہوں لیکن اگر خدانخواستہ آپؐ پر کوئی آنچ آئے تو پھر تو گویا ساری اُمّت کی اُمّت مِٹ گئی۔‘‘
    اس پر آپؐ نے خدا سے الہام پاکر یہ الفاظ فرمائے کہ:
    ’’لَا تَحْزَنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا‘‘ ۴؎
    یعنی ’’اے ابوبکرؓ! ہر گز کوئی فکر نہ کرو کیونکہ خُدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم دونوں اس کی حفاظت میں ہیں۔‘‘یعنی تم تو میری وجہ سے فکر مند ہو اور تمہیں اپنے جوش اخلاص میں اپنی جان کا کوئی غم نہیں۔ مگر خداتعالیٰ اس وقت نہ صرف میرا محافظ ہے بلکہ تمہارا بھی اور وہ ہم دونوں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔۱؎
    سفر ہجرت اور تعاقب سراقہ بن مالک
    حضرت ابو بکرؓ نے گھر سے نکلتے ہوئے اپنے بیٹے عبداﷲ کو جو ایک بہت زِیرک اور ہوشیار نوجوان تھے ہدایت
    کی تھی کہ قریش کی حرکات کا خیال رکھیں اور روزانہ غارِ ثور میں اِطلّاع دے جایا کریں۔ چنانچہ وہ ایسا کرتے تھے کہ رات کو اندھیرا ہوتے ہی غارِ ثور میں پہنچ جایا کرتے تھے اور رات وہیں گذار کر صبح سویرے ہی واپس آجایا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے خادم عامرؔ بن فہیرہ کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا کہ دن بھر بکریاں چرائیں اور رات کو اُن کے پاس دُودھ پہنچا جایا کریں۔ اس طرح آپؐ تین رات تک غارِ ثور میں ٹھہرے اور اس عرصہ تک یہی انتظام جاری رہا۔ پھر جب قریش کے تعاقب کی کوشش میں کمی آگئی تو تیسرے دن صُبح کے وقت آپؐ غار سے نِکلے۔ ۲؎ یہ پیر کا دن تھا اور چار ربیع الاوّل یا بعض مؤرخین کی تحقیق کے مطابق یکم ربیع الاوّل ۱۴ نبوی مطابق ۱۲؍ستمبر ۶۲۲ء کی تاریخ تھی۔۳؎ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرؓ نے پہلے سے ایک شخص عبداﷲ بن اریقط کو جو قبیلہ بنی الدیل سے تھا اور باوجود عاص بن وائل رئیس مکّہ کے ساتھ تعلق رکھنے کے قابلِ اعتماد تھا معقول اُجرت دینی کر کے بطور رہنما کے ساتھ چلنے کے لیے مقررکر رکھا تھا۔ یہ شخص اپنے فن کا خُوب ماہر تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ نے اسے پہلے سے اپنی اُونٹنیاں سُپرد کر رکھی تھیں اور سمجھا رکھا تھا کہ تین رات کے بعد تیسرے دن کی صُبح کو اُونٹنیاں لے کر غارِ ثور میں پہنچ جائے۔ ۴؎ چنانچہ وہ حسبِ قرار داد پہنچ گیا۔ یہ بخاری کی مشہور روایت ہے، مگر مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم رات کو روانہ ہوئے تھے اور خود بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں اس کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ ۱؎ اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آپؐ رات کو روانہ ہوئے ہوں۔ بہرحال غارِ ثور سے نِکل کر آپ ایک اُونٹنی پر جس کا نام بعض روایات میں اَلقصوا بیان ہوا ہے، سوار ہو گئے اور دُوسری پر حضرت ابو بکر ؓ اور اُن کا خادم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے۔ ۲؎ روانہ ہوتے ہوئے آپؐ نے مکّہ کی طرف آخری نظر ڈالی اور حسرت کے الفاظ میں فرمایا۔ ’’اے مکّہ کی بستی تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔‘‘ ۳؎ اس وقت حضرت ابو بکر ؓ نے کہا۔ ’’اِن لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے۔ اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔ ۴؎
    چونکہ ابھی تک تعاقب کا ڈر تھا، اس لیے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھی اصل راستہ چھوڑ کر ساحل سمندر کے قریب قریب یثرب کی طرف روانہ ہوئے اور برابر ایک رات اور دُوسرے دن کا کچھ حِصّہ چلتے رہے۔ دوسرے دن دوپہر کے قریب جب سُورج کی گرمی تیز ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ کے عرض کرنے پر آپؐ ایک بڑے پتھر کے سایہ میں آرام فرمانے کے لیے اُترے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے آگے بڑھ کر آپؐ کے واسطے جگہ تیار کی اور آپؐ ذرا لیٹ کر سو گئے اور حضرت ابو بکر ؓ اِدھر اُدھر نظر دَوڑا کر دیکھنے لگے کہ کوئی تعاقب کرنے والا تو نہیں آرہا۔ اتنے میں حضرت ابو بکرؓ کو ایک چرواہا نظر آیا جس کے ساتھ چند بکریاں تھیں۔ جنہیں وہ اُسی پتھر کی طرف سایہ کی غرض سے لارہا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سے دودھ کی اجازت لے کر اس کے ہاتھ اور بکری کے تھن خوب اچھی طرح صاف کروائے اور پھر اسے دُودھ دُوہنے کو کہا۔ چنانچہ اس نے ایک برتن میں دُودھ دوہا اور پھر حضرت ابوبکرؓ اُسے پانی میں ٹھنڈا کر کے آپؐ کے پاس لائے۔ اس وقت تک آپؐ نیند سے جاگ چکے تھے؛ چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کے سامنے دودھ کا برتن پیش کیا اور آپ نے اسے نوش فرمایا اور حضرت ابوبکر ؓ روایت کرتے ہیں کہ اس سے میری طبیعت خوش ہو گئی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے آپؐ سے عرض کیا ’’یا رسول اﷲ کوچ کا وقت ہو گیا ہے‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’ہاں چلو‘‘۔
    چنانچہ آپؐ آگے روانہ ہو گئے لیکن ابھی آپؐ تھوڑی ہی دُور گئے تھے کہ حضرت ابو بکرؓ نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑا دوڑائے ان کے پیچھے آرہا ہے۔ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے گھبرا کر کہا۔ ’’یارسُول اﷲ! کوئی شخص ہمارے تعاقب میں آرہا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’کوئی فکر نہ کرو۔ اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ ۵؎
    یہ تعاقب کرنے والا سراقہ بن مالک تھا جو اپنے تعاقب کا قصّہ خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ سے نکل گئے تو کفّارِ قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو کوئی بھی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) یا ابو بکرؓ کو زندہ یا مُردہ پکڑ کر لائے گا اسے اس اس قدر انعام دیا جائے گا اور اس اعلان کی انہوں نے اپنے پیغام رسانوں کے ذریعہ سے ہمیں بھی اطلاع دی۔ اس کے بعد ایک دن مَیں اپنی قوم بنو مدلج ۱؎ کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ قریش کے ان آدمیوں میں سے ایک شخص ہمارے پاس آیا اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا کہ مَیں نے ابھی ابھی ساحلِ سمندر کی سمت میں دُور سے کچھ شکلیں دیکھی ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ شاید وہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اور اس کے ساتھی ہوں گے۔ سراقہؔ کہتا ہے کہ مَیں فوراً سمجھ گیا کہ یہ ضرور وہی ہوں گے مگر مَیں نے اُسے ٹالنے کے لیے (اور یہ فخر خود حاصل کرنے کی غرض سے) کہا کہ یہ تو فلاں فلاں لوگ ہیں جو ابھی ہمارے سامنے سے گذرے ہیں۔ اس کے تھوڑی دیر کے بعد مَیں اس مجلس سے اُٹھا اور اپنے گھر آکر اپنی خادمہ سے کہا کہ میرا گھوڑا تیار کر کے گھر کے پچھواڑے میں کھڑا کر دے اور پھر مَیں نے ایک نیزہ لیا اور گھر کی پشت کی طرف سے ہو کر چپکے سے نکل گیا اور گھوڑے کو تیز کر کے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور مَیں زمین پر گِر گیا، لیکن مَیں جلدی سے اُٹھا اور اپنا ترکش نکال کر مَیں نے (ملک کے دستور کے مطابق) تیروں سے فال لی۔ فال میرے منشاء کے خلاف نکلی۔ مگر (اسلام کی عداوت کا جوش اور انعام کا لالچ تھا) مَیں نے فال کی پرواہ نہ کی اور پھر سوار ہو کر تعاقب میں ہو لیا اور اس دفعہ اس قدر قریب پہنچ گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی (جو اس وقت قرآن شریف کی تلاوت کرتے جارہے تھے) قرأت کی آواز مجھے سنائی دیتی تھی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تو ایک دفعہ بھی مُنہ موڑ کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔ لیکن ابو بکر ؓ (آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فکر کی وجہ سے) بار بار دیکھتے تھے۔ مَیں جب ذرا آگے بڑھا تو میرے گھوڑے نے پھر ٹھوکر کھائی اور اس دفعہ اس کے پاؤں ریت کے اندر دھنس گئے اور مَیں پھر زمین پر آرہا۔ میں نے اُٹھ کر گھوڑے کو جو دیکھا تو اس کے پاؤں زمین میں اس قدر دھنس چکے تھے کہ وہ انہیں زمین سے نکال نہیں سکتا تھا۔ آخر بڑی مشکل سے وہ اُٹھا اور اس کی اس کوشش سے میرے ارد گرد سب غبار ہی غبار ہو گیا۔ اس وقت میں نے پھر فال لی اور پھر وہی فال نکلی۔ جس پر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کو صلح کی آواز دی۔ اس آواز پر وہ ٹھہر گئے اور مَیں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اُن کے پاس پہنچا۔ اس سرگذشت کی وجہ سے جو میرے ساتھ گذری تھی مَیں نے یہ سمجھا کہ اس شخص کا ستارہ اقبال پر ہے اور یہ کہ بالآخر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم غالب رہیں گے؛ چنانچہ مَیں نے صُلح کے رنگ میں ان سے کہا کہ آپؐ کی قوم نے آپؐ کو قتل کرنے یا پکڑ لانے کے لیے اس اس قدر انعام مقرر کر رکھا ہے اور لوگ آپؐ کے متعلق یہ یہ ارادہ رکھتے ہیں اور مَیں بھی اسی ارادے سے آیا تھا مگر اب مَیں واپس جاتا ہوں۔ اس کے بعد مَیں نے انہیں کچھ زادِ راہ پیش کیا مگر انہوں نے نہیں لیا اور نہ ہی مجھ سے کوئی اور سوال کیا۔ صرف اس قدر کہا کہ ہمارے متعلق کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اس کے بعد مَیں نے (یہ یقین کرتے ہوئے کہ کسی دن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ملک میں غلبہ حاصل ہو کر رہے گا) آپؐ سے عرض کیا کہ مجھے ایک اَمن کی تحریر لکھ دیں۔ جس پر آپؐ نے عامر بن فہیرہ کو ارشاد فرمایا اور اُس نے مجھے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر امن کی تحریر لکھ دی۔ ۱؎ اس کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھی آگے روانہ ہو گئے۔ ۲؎
    جب سراقہ واپس لوٹنے لگا تو آپؐ نے اُسے فرمایا۔ ’’سراقہ اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا۔ جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے ؟ ‘‘ ۳؎ سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ ’’کسریٰ بن ہرمز شہنشاہِ ایران‘‘؟ آپؐ نے فرمایا ’’ہاں۔‘‘ سراقہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کہاں عرب کے صحرا کا ایک بدوی اور کہاں کسریٰ شہنشاہِ ایران کے کنگن! مگر قدرتِ حق کا تماشا دیکھو کہ جب حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کا خزانہ غنیمت میں مُسلمانوں کے ہاتھ آیا تو کسریٰ کے کنگن بھی غنیمت کے مال کے ساتھ مدینہ میں آئے۔ حضرت عمر ؓ نے سراقہ کو بُلایا جو فتح مکہ کے بعد مُسلمان ہو چکا تھا اور اپنے سامنے اس کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن جو بیش قیمت جواہرات سے لدے ہوئے تھے پہنائے۔ ۴؎
    سراقہ کے تعاقب سے رہائی ہوئی تو آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم آگے بڑھے ۔ راستہ میں زبیر بن العوام ؓ سے ملاقات ہو گئی جو شام سے تجارت کر کے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ مکّہ کو واپس جارہے تھے۔ زبیرؔ نے ایک جوڑا سفید کپڑوں کا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اور ایک حضرت ابوبکرؓ کی نذر کیا۔ ۵؎ اور کہا مَیں بھی مکّہ سے ہو کر بہت جلد آپؐ سے مدینہ میں آمِلوں گا۔ اَور بھی کئی لوگ راستہ میں ملتے تھے اور چونکہ حضرت ابو بکر ؓ بوجہ تجارت پیشہ ہونے کے اس راستہ سے بارہا آتے جاتے رہتے تھے اس لئے اکثر لوگ ان کو پہچانتے تھے مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہیں پہچانتے تھے۔ لہٰذا وہ ابو بکرؓ سے پوچھتے تھے کہ یہ تمہارے آکے آگے کون ہے۔ حضرت ابو بکرؓ فرماتے۔ ھٰذا یَھْدِیْنِیَ السَّبِیْلَ۔ ’’یہ میرا ہادی ہے۔‘‘ وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ کوئی دلیل یعنی گائیڈ ہے جو راستہ دکھانے کے لئے حضرت ابوبکرؓ نے ساتھ لے لیا ہے۔ مگر حضرت ابو بکرؓ کا مطلب کچھ اور ہوتا تھا۔ ۱؎
    اختتام سفر اور تکمیلِ ہجرت
    آٹھ روز کے سفر کے بعد راستہ میں مختلف جگہ ٹھہرتے ہوئے بارہ ربیع الاوّل ۱۴ نبوی مطابق ۲۰؍ ستمبر ۶۲۲ء کو آپؐ مدینہ کے پاس پہنچے۔ ۲؎
    اہلِ یثرب کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مکّہ سے روانگی کے متعلق خبر پہنچ چکی تھی، اس لیے وہ ہر روز مدینہ سے باہر آپؐ کے استقبال کے لیے آتے اور دیر دیر تک انتظار کرتے رہتے تھے، مگر جب دُھوپ تیڑ ہونے لگتی تھی تو مایوس ہو کر واپس لَوٹ جاتے تھے۔ اُس دن بھی وہ آپؐ کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے، مگر چونکہ دن بہت چڑھ آیا تھا اس لیے آج بھی مایوس ہو کر واپس چلے گئے تھے کہ اچانک جبکہ وہ ابھی اپنے گھروں میں پہنچے ہی تھے ایک یہودی نے جو اپنی گڑھی میں ایک بلند مقام پر کسی اپنی غرض سے کھڑا تھا دُور سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کو سفید لباس میں چمکتے ہوئے دیکھا اور زور سے پُکار کر کہا۔ ’’اے اہلِ عرب! جس کا تم راہ دیکھتے ہو وہ یہ آتا ہے۔‘‘ مخلص جماعت کے کان میں یہ آواز پہنچی اور مسلمان خوشی کے جوش میں دیوانے ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور جلدی جلدی ہتھیار سنبھال کر دوڑتے بھاگتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے۔ ۳؎

    مکّی زندگی پر ایک سرسری نظر
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کے پہلے دور یعنی قبل از بعثت زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے جو قلّتِ واقعات کی شکایت ہم نے بیان کی تھی وہ آپؐ کی زندگی کے دُوسرے دَور میں بھی پوری طرح دُور نہیں ہوئی۔ یہ دُرست ہے کہ ماموریّت کے دعویٰ کے بعد ایسے لوگ موجود تھے جن کے واسطے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی ایک نمونہ کا حکم رکھتی تھی اور جو آپؐ کی تمام حرکات و سکنات کو غور کی نظر سے مطالعہ کرتے تھے اور ہر وقت آپؐ کی صحبت میں رہنے کے خواہشمند تھے مگر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں قریش کے مظالم نے مکّہ میں مسلمانوں کو کبھی بھی اکٹھا نہیں ہونے دیا اور کبھی بھی ان کو اتنی فرصت اور موقع نہیں دیا کہ وہ اپنے آقا کی صحبت میں رہ کر اس کی زندگی کے تمام حالات کو آنے والی نسلوں کے لیے بالتفصیل محفوظ کردیں۔ باایں ہمہ بعثت سے قبل اور بعد کی زندگی کے حالات میںایک بہت نمایاں فرق نظر آتا ہے اور انشاء اﷲ تعالیٰ مدنی زندگی کے حالات میں یہ فرق بہت ہی نمایاں ہو جائے گا۔ کیونکہ مدینہ میں صحابہ کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے اور آپؐ کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کرنے کا ہر وقت موقع ملتا تھا اور انہوں نے بھی جس تفصیل اور بسط کے ساتھ اس زمانہ کے متعلق آپؐ کے سوانح کو ہم تک پہنچایا ہے وہ انہی کا حِصّہ ہے۔ دُنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں انبیاء گذرے ہوں گے مگر جس تفصیل اور بسط کے ساتھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات تاریخ و حدیث میں محفوظ ہیں اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے نبی کے متعلق میسّر نہیں۔ خدا ہزار ہزار رحمتیں نازل فرمائے صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کی مقدس جماعت پر جس کے طفیل آج بھی جب کہ ساڑھے تیرہ سو سال کا عرصہ آپؐ کی وفات پر گذر چکا ہے آپؐ کی جیتی جاگتی تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہر قدم پر آپؐ کے پاک نمونہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
    قیامِ مکّہ اور سنین نبوی و ہجری
    بعثت کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ میں قریباً تیرہ سال ٹھہرے۔ بعض روایات میں دس سال بیان کئے گئے ہیں۔ یہ بھی
    ایک لحاظ سے دُرست ہے کیونکہ ابتدائِ وحی کے بعد آپؐ نے تین سال تک اپنے مشن کو مخفی رکھا تھا۔ پس اگر ان تین سالوں کو نکال دیں تو باقی دس سال ہی رہ جاتے ہیں۔ بہرحال یہ مسلّم ہے کہ ہجرت کے وقت آپؐ کی عمر ترپن سال کی تھی۔
    ظہور اسلام سے پہلے قریش میں سنہ تاریخ عموماً عام الفیل کے حساب سے شمار ہوتا تھا؛ چنانچہ مؤرخین بھی بعثتِ نبوی سے پہلے کے واقعات کی تاریخ بتانے کے لیے عموماً عام الفیل کا حوالہ دیتے ہیں لیکن بعثت سے بعد کے واقعات کا سنہ بعثتِ نبوی سے شمار کیا جاتا ہے مگر یہ سنہ بھی صرف تیرہ سال یعنی ہجرت تک چلتا ہے۔ اس کے بعد سے مستقل طور پر سنہ ہجری شروع ہوتا ہے۔ جس کی تجویز اور تعیین ابتدائً حضرت عمرؓ کے عہد میں ہوئی تھی۔ ۱؎
    یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ بعثتِ نبوی عام الفیل کے چالیسویں سال ماہِ رمضان میں ہوئی تھی اور چونکہ رمضان عربی مہینوں میں نواں مہینہ ہے اس لیے بعثتِ نبوی کا پہلا سال صرف چند ایّام اور تین ماہ یعنی بقیہ رمضان اور شوال۔ ذیقعد اور ذی الحجہ کا شمار ہوتا ہے اور چونکہ ہجرتِ نبوی ۱۴ نبوی ابتداء ماہ ربیع الاوّل میں ہوئی تھی۔ ۲؎ اس لیے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بعد از بعثت مکّی قیام دراصل صرف بارہ سال پانچ ماہ اور چند ایام کا بنتا ہے۔ ہاں اگر رؤیا صالحہ کازمانہ یعنی ابتدائی چند ماہ بھی زمانۂ نبوت میں شمار کر لیے جاویں تو یہ کل عرصہ قریباً تیرہ سال کا ہو جاتا ہے۔
    نزولِ وحی کی کیفیت
    کلامِ الٰہی کے نزول کی کیفیت اور اس کے نزول کے وقت مُنْزَل عَلَیْہ کے قلب کی حالت کو حقیقی طور پر سمجھنا تو صرف اسی شخص کا کام ہے جو اس کوچہ سے آشنا
    ہو۔ تاہم جو اجمالی نقشہ قرآن شریف اور حدیث میں بیان ہوا ہے۔ وہ درج ذیل کیا جاتا ہے:
    قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۳؎
    یعنی ’’نہیں کلام کرتا اﷲ کسی بندے سے مگر وحی کے طریق پر یا کسی پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیجتا ہے جو القاء کرتا ہے بندہ پر اﷲ کے اذن سے۔ بیشک اﷲ تعالیٰ بہت بلند اور حکمت والا ہے۔‘‘
    اس آیت کریمہ میں اﷲ تعالیٰ نے کلام الٰہی کے تین طریق بتائے ہیں:
    اوّل۔ وحی یعنی براہِ راست لفظی کلام جس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
    (الف) یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الفاظ براہِ راست انسان کے کانوں میں پہنچیں۔ وحی کی یہ صورت عموماً سب سے زیادہ بارُعب اور شاندار ہوتی ہے۔
    (ب) یہ کہ اس کی زبان پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الفاظ جاری کیے جائیں۔ ان دونوں طریقوں کو اسلامی اصطلاح میں وحیؔ کہتے ہیں۔
    دوسرے۔ مِنْ وَّ رَآیِٔٓ حِجَابٍ یعنی کسی تحریر کے سامنے آجانے یا کشف یا خواب یا قلبی القاء وغیرہ کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی امر بندہ پر ظاہر ہو۔
    تیسرے۔ یُرْ سِلَ رَسُوْلًا۔ یعنی اﷲ تعالیٰ کا کوئی فرشتہ وغیرہ بندہ کے پاس آوے اور خدا کی طرف سے اس کے ساتھ کلام کرے۔
    اسی کے مطابق حدیث میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسُول اﷲ آپؐ کے پاس وحی کِس طرح آتی ہے؟ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ:
    اَحْیَانًا یَأْ تِیْنِیْ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرْسِ وَھُوَاَشَدُّہٗ عَلَیَّ فَیَفْصِمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعِیْتُ عَنْہُ مَاقَالَ وَاَحْیَانًا یَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلِکُ رَجُلًا فَیُکَلِّمُنِیْ فَاَعِی مَایَقُوْلُ۔ ۱؎
    یعنی ’’کبھی تو میرے پاس وحی آتی ہے گھنٹی کی چھنکار کی طرح (تاکہ ٹیلیفون کی طرح پہلے الارم بجا کر ہوشیار اور متوجہ کیا جائے) اور یہ طرز وحی کی (بوجہ خدائی کلام کی براہِ راست حامِل ہونے کے) مجھ پر سخت ترین ہوتی ہے۔ پھر بعد اس کے کہ مَیں اس کا کلام خوب محفوظ کر چکا ہوتا ہوں یہ آواز مجھ سے جُدا ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی فرشتہ میرے پاس انسان کی صُورت اختیار کرکے آتا ہے اور مُجھ سے کلام کرتا ہے سو میں اس کی بات کو بھی محفوظ کر لیتا ہوں۔‘‘
    اس حدیث میں مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ والی صورت نہیں بیان کی گئی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت جو رؤیا وغیرہ سے تعلق رکھتی ہے ایک نسبتاً عام صورت ہے اور اکثر لوگ علیٰ قدرِ مراتب اس کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں بمقابلہ باقی دو صورتوں کے جن کا حلقہ صرف رسولوں اور خاص خاص لوگوں تک محدود ہوتا ہے۔
    مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ الٰہی کی بڑی اقسام تین ہیں مگر یہ کہ یہ تینوں قسمیں پھر آگے بہت سی ماتحت اقسام میں منقسم ہیں جن کا موٹا نقشہ حسب ذیل صورت میں سمجھا جاسکتا ہے۔
    اوّل: کلام بصورت وحی یعنی براہِ راست لفظی کلام۔ جس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔
    (الف) کلامِ الٰہی کا براہِ راست انسانی کانوں تک پہنچنا جو کئی طریق پر ہو سکتا ہے۔
    (ب) خدائی تصرّف کے ماتحت خود انسان کی زبان پر کوئی کلام جاری ہونا۔ یہ ہر دو صورتیں یقظہ اور نوم ہر دو حالتوں میں ممکن ہیں۔
    دوم: کلام بواسطہ ارسالِ رُسل یعنی خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ وغیرہ انسان کے سامنے نمودار ہو کر اس کے ساتھ خدائی منشاء کے ماتحت کلام کرے۔ یہ بھی کئی صورتوں میں ہو سکتا ہے اور یقظہ اورنوم ہر دو حالتوں میں ممکن ہے۔
    سوم: کلام پس پردہ یعنی نہ تو خدا کا براہِ راست کلام ہو اور نہ ہی کسی فرشتہ کا براہ راست واسطہ اختیار کیا جائے بلکہ اﷲ تعالیٰ کسی پَردے کے پیجھے رہ کر کسی رنگ میں اپنے منشاء کا اظہار فرماوے۔ اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً
    (الف) کشف یعنی عین بیداری یا نیم بیداری میں خدائی تصرف کے ماتحت کوئی نقشہ دکھایا جانا۔خواہ وہ نقشہ اصل حالت کا مظہر ہو یا قابلِ تعبیر ہو۔ یہ حالت یقظہ کی صورت میں ہوتی ہے۔ اور حواس ظاہری کے تعطّل اور عدم تعطّل ہر دو حالتوں میں ممکن ہے یعنی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ ظاہری حواس بھی کام کر رہے ہوتے ہیں اور اسی حالت میں باطنی حواس میں ایک بیداری پیدا ہو کر کوئی نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے اور بعض اوقات ایک آنِ واحد کے لیے ظاہری حواس معطل ہو کر حواس باطنی کو جگہ دے دیتے ہیں۔
    (ب) رؤیا یا خواب جس کی کیفیت سے اکثر لوگ واقف ہیں جو نیند کی حالت میں دکھائی جاتی ہے اور بالعموم تعبیر طلب ہوتی ہے۔
    (ج) کسی تحریر کا آنکھوں کے سامنے پھر جانا۔ جو یقظہ اور نوم ہر دو حالتوں میں ممکن ہے۔
    مندرجہ بالا صورتوں کے علاوہ ایک وحی خفی بھی ہوتی ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات انسان کے دل میں ڈالا جانا مگر اس کا پہچاننا خاص مشق چاہتا ہے۔
    یہ صرف ایک موٹا اور سرسری نقشہ ہے ورنہ درحقیقت کلام الٰہی کی صورتیں بہت ہیں اور بسا اوقات ایک سے زیادہ قسمیں ایک ہی وقت میں جمع بھی ہو جاتی ہیں۔ ۱؎
    نزولِ وحی کے وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی جو حالت ہوتی تھی اس کے متعلق حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ:
    لَقَدْ رَأُیْتُہٗ یَنْزِلُ عَلَیْہِ الْوَحْیُ فِی الْیَوْمِ الشَّدِیْدِ الْبَرْدِ فَیَفْصِمُ عَنْہُ وَاِنَّ جَبِیْنَہٗ لَیَتَفَصَّدُ عَرْقًا۔ ۱؎
    ’’یعنی میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات سخت سردی کا دن ہوتا تھا ، لیکن جب آپؐ پر وحی اُترتی تھی تو پسینہ آپؐ کی پیشانی سے پھُوٹ پھُوٹ کر بہتا تھا۔‘‘
    پھر زید بن ثابت ؓ جو آپؐ کے کاتبِ وحی تھے روایت کرتے ہیں کہ:
    اَنْزَلَ اﷲُ عَلٰی رَسُولِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفَخْذُہٗ عَلٰی فَخْذِیْ فَثَقُلَتْ عَلیَّ حَتّٰی خِفْتُ اَنْ قَرَضَ فَخْذِیْ ثُمَّ سُرِیَ عَنْہٗ۔ ۲؎
    ’’یعنی ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ران میری ران پر تھی کہ آپؐ پر وحی کی حالت طاری ہوئی اس وقت آپؐ کی ران مجھے اس قدر بوجھل محسوس ہوتی تھی کہ میں ڈر گیا کہ کہیں میری ران بوجھ سے ٹوٹ نہ جاوے۔ پھراس کے بعد آپؐ کی یہ حالت جاتی رہی۔‘‘
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کے نزول کے وقت چونکہ رُوحانی حِسّیں بیدار ہو کر بہت تیز ہو جاتی ہیں۔ اس لیے عموماً انسان کی جسمانی طاقت معطّل ہو جاتی ہے اور جسم مُردہ کی طرح بے سہارا ہو کر گرجاتا ہے۔
    اِس جگہ اس شبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے جو بعض ناواقف اور سادہ مزاج لوگوں کے دل میں پیدا ہوا کرتا ہے کہ خُدا بولتا کس طرح ہے؟ یعنی کیا خدا کی کوئی زبان ہے جس سے وہ کلام کرتا ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر ہستی کے حالات اور صفات کے مطابق اس کی طاقتوں کا اظہار ہوا کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ہستی چونکہ نہایت لطیف اور غیر مادی اور غیر محدود اور وراء الوراء ہستی ہے اس لیے انسان کے حالات پر جو مادی بھی ہے اور مخلوق بھی اور محدود بھی اس کا قیاس ہر گز نہیں ہو سکتا۔ پس یہ ایک انتہائی درجہ جہالت کا خیال ہو گا اگر یہ سمجھا جاوے کہ چونکہ انسان کو کلام کرنے کے لیے ایک گوشت کے لوتھڑے کی ضرورت ہے اس لیے خدا کی بھی کوئی ایسی زبان ہونی چاہیئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدا اپنی دوسری لاتعداد طاقتوں کو کام میں لاتا ہے۔ اسی طرح وہ بولتا بھی ہے مگر بغیر ظاہری زبان کے اور سُنتا بھی ہے مگر بغیر ظاہری کانوں کے اور دیکھتا بھی ہے مگر بغیر ظاہری آنکھوں کے۔ بے شک اس کی ہستی کو محسوس کرنا انسانی عقل سے بالا نہیں مگر اس کی ہستی کی کُنہ کو سمجھنا یقینا عقلِ انسانی سے بالا وبرتر ہے۔ ایک گرامو فون کو ہی دیکھو۔ کیا انسان کی طرح اس کی بھی کوئی زبان ہے جس سے وہ بولتا ہے؟ پس جب مخلوق اور ادنیٰ چیزوں میں اس قدر اختلاف موجود ہے تو خدا جیسی خالق و مالک ، اوّل و آخر، ازلی و ابدی ، لطیف و غیر محدود قادرِ مطلق ہستی کو انسان پر قیاس کرنا کِس قدر جہالت کا فعل ہو گا۔
    جمعِ قرآن
    جمعِ قرآن کے متعلق اصل بحث تو کتاب کے حِصّہ دوم میں آئے گی مگر اس جگہ ایک مختصر نوٹ میں ہم یہ بتانا چاہتے ہیںکہ قرآن شریف جو ہم مسلمانوں کی مذہبی کتاب ہے اور
    جسے ہم اﷲ کا کلام سمجھتے ہیں جو اُس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر اتارا یکلخت نازل نہیں ہوا، بلکہ آہستہ آہستہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہوا تھا اور اس تدریجی نززل میں کئی حکمتیں ہیں۔ جن کے بیان کی اس جگہ ضرورت نہیں۔ جو سورتیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہیں وہ مکّی سُورتیں کہلاتی ہیں اور بعد کی مدنی۔ قرآن شریف کا جو جو حِصّہ نازل ہوتا جاتا تھا وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم صحابہ کو سُنا دیتے تھے اور بعض کو یاد کروا دیتے تھے اور اس کے مختلف نسخے لکھوا بھی دیتے تھے۔ جس کے لیے آپؐ نے اپنے خواندہ صحابیوں میں سے متعدد کاتبِ وحی مقرر کیے ہوئے تھے؛ چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب زمانہ جاہلیت میں حضرت عمرؓ غصّہ کی حالت میں اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو اس وقت ان کے پاس لکھا ہوا قرآن شریف موجو دتھا جس پر سے خباب بن الارت تلاوت کر کے حضرت عمر ؓ کی بہن اور بہنوئی کو سُنا رہے تھے۔
    قرآنی سورتیں قرآن شریف میں اسی ترتیب سے نہیں رکھی گئیں جس ترتیب سے ان کا نزول ہوا بلکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود الٰہی حکم کے ماتحت اُن کی ایک خاص ترتیب مقرر فرما دی۔ چنانچہ ہر سُورۃ کے ختم ہونے پر آپؐ ہدایت فرماتے تھے کہ اسے فلاں موقع پر رکھو۔ اسی طرح ہر آیت کے نزول پر بھی خود فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں جگہ ڈالو۔ ۱؎ جو ترتیب قرآنی آیات اور سورتوں کی آپؐ نے خدائی تفہیم کے ماتحت مقرر فرمائی وہی اب تک موجود ہے اور غور و تدبر کرنے والوں پر اس ترتیب کی خوبی مخفی نہیں رہ سکتی۔
    مکّی سُورتیں
    چونکہ مکّہ میں نزولِ شریعت کی ابتداء تھی اس لیے زیادہ تر عقائد کی اصولی باتوں پر ہی اکتفاء کی گئی ہے۔ ویسے بھی چونکہ مکّہ میں صرف مشرکین اور بُت پرست بستے تھے اس
    لیے مکّی آیات میں زیادہ تر شرک اور بُت پرستی ہی کی تردید کی گئی ہے اور ہستی باری تعالیٰ اور توحید کے دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد سِلسلۂ رسالت کی حقانیت اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کا ثبوت اور اس پر کفار کے اعتراضوں کے جوابات اور گذشتہ انبیاء کے حالات مذکور ہیں۔ پھر ملائکہ کے وجود، قیامت، جزا سزا، جنت و دوزخ، تقدیر وغیرہ کے مسائل پر دلچسپ بحثیں ہیں۔اس کے علاوہ جاہلانہ رسُوم اور بدعات سے روکا گیا ہے اور نیک عادات و اخلاقِ حسنہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور پھر اس سے اعلیٰ مقام یعنی عرفانِ الٰہی کی راہوں اور اﷲ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے طریقوں کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔
    عبادات میں مکّی سورتیں سوائے نماز کے حکم کے باقی سب احکام سے خالی ہیں؛ چنانچہ حج، روزہ، زکوٰۃ کا کہیں ذکر نہیں آتا، کیونکہ یہ سب مدینہ میں فرض ہوئے تھے۔ جہاد بالسیف کا ذکر بھی مکّی آیات ہیں نہیں ملتا، کیونکہ مکّہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو عفو کا حکم تھا اور کفار پر اتمام حجت کیا جارہا تھا۔ پھر جب اتمامِ حجت ہو چکا اور کفّار اپنے مظالم سے باز نہ آئے بلکہ دن بدن ترقی کرتے گئے۔ حتّٰی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کو اپنے وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور پھر ہجرت کے بعد بھی قریش نے مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا تب جاکر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جہاد بالسیف کی اجازت نازل ہوئی۔
    اِسی طرح چونکہ مکّہ میں اسلامی سوسائٹی کی بالکل ابتدائی حالت تھی بلکہ حق تو یہ ہے کہ مکّہ میں کوئی اسلامی سوسائٹی تھی ہی نہیں کیونکہ قریش کے بیدروانہ مظالم نے سب کو منتشر کر رکھا تھا اس لیے مکّی سورتوں میں تمدنی احکام بھی نظر نہیں آتے۔ اسی طرح سیاسی احکام بھی مکی سُورتوں میں مفقود ہیں۔ گویا فقہی مسائل سے مکّی سُورتیں قریباً قریباً خالی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکّی سورتیں عام طور پر بہت چھوٹی ہیں اور ان کی زبان بھی زیادہ زور دار، جوش والی اور موزوں ہے بمقابلہ مدنی سورتوں کے جن میں احکام کی کثرت اور فقہی مسائل کی پیچیدگیوں کی وجہ سے طرزِ بیان میں مناسب تبدیلی آگئی ہے اور یہ تبدیلی نہایت موززں اور بر محل ہے کیونکہ بلاغت اسی میں ہے کہ طرزِ کلام واقعات کے مناسبِ حال ہو۔
    ارتقائِ نبوی
    مسئلہ ارتقاء یعنی درجہ بدرجہ ترقی کرنا ایک مسلّم مسئلہ ہے اور گو اس کی وہ صورت جو اہلِ مغرب پیش کرتے ہیں دُرست نہ ہو مگر جہاں تک اصول کا تعلق ہے اس میں شُبہ نہیں کہ
    دن بدن اس کی حقانیت پر زیادہ سے زیادہ روشنی پڑتی جارہی ہے۔ درحقیقت اﷲ تعالیٰ نے خود اس مسئلہ کو قرآن شریف میں متعددموقعوں پر بیان کیا ہے اور اس کی طرف توجہ دلائی ہے اور انسانی پیدائش کے بیان میں تو خلقِ آدم کے ارتقائی مراحل بھی صراحت کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ ۱؎ دراصل اﷲ تعالیٰ کے تمام کاموں میں تدریجی ترقی کا اصول نمایاں طور پر کام کرتا نظر آتا ہے اور اگر غور کیا جائے تو یہی اصول انبیاء علیہم السلام کے حالاتِ زندگی میں پایا جاتا ہے۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء کا وجود کسی فوری انقلاب کا نتیجہ ہوتا ہے وہ بالکل غلط سمجھا ہے اور اس نے نبوت کی حقیقت پر بالکل غور نہیں کیا۔ کیونکہ جس طرح صحیفۂ قدرت پر ہر اک چیز تدریجاً بنتی ہے اسی طرح انبیاء بھی اپنی نبوت میں تدریجاً نشوونما پاتے ہیں اور قطعاً کسی فوری انقلاب کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ کئی درمیانی حالتوں میں سے گذرنے کے بعد اُس آخری مقام کو حاصل کرتے ہیں جس پر ان کے مراتب سلوک ختم ہوتے ہیں۔تمام انبیاء جس طرح جسمانی لحاظ سے مراحلِ خلق میں سے گذرتے ہوئے پیدا ہوئے پھر اُنہوں نے اپنے بچپن کے دن گذارے۔ پھر وہ نوجوان ہوئے اور پھر اپنی پختگی کو پہنچے۔ اسی طرح رُوحانی لحاظ سے بھی وہ پہلے پیداہوتے ہیں اور پھر درجہ بدرجہ آہستہ آہستہ اپنی پختگی کو پہنچتے ہیں اور پھر مقامِ نبوت میں بھی وہ ایک جگہ نہیں ٹھہرتے بلکہ دن بدن شاہراہ ترقی پر آگے قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تدریجی نشوونما قانونِ فطرت کے عین مطابق ہے اور فوری انقلاب کے بداثرات سے محفوظ رکھتا ہے نیز اَور بھی کئی طرح سے مفید بلکہ ضروری ہوتا ہے مگر اس جگہ اس مسئلہ کی تفصیلات کی گنجائش نہیں اس جگہ ہمیں مختصر طور پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی میں یہ تدریجی نشوونما کس طریق پر کام کرتا نظر آتا ہے۔ سو اختصار کی غرض سے ہم آپؐ کی ابتدائی زندگی سے قطع نظر کر کے صرف دعویٰ اور اس کے مقدمات سے آپؐ کی زندگی کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔
    سب سے اوّل ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تلاشِ حق میں ترکِ دنیا کا طریق اختیار کیا اور خلوت میں رہنا شروع کیا۔ اس پر ایک عرصہ گذرا تو آپؐ پر رؤیا صادقہ کا دروازہ کھولا گیا اور آپ کو سچے خواب آنے شروع ہوئے جو اپنے وقت پر پورے ہو ہو کر آپؐ کی پختگی کا موجب ہوتے رہے اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ جب آپؐ اس کوچے سے ایک حد تک آشنا ہو گئے اور طبیعت نبوت کے مناسب حال پختگی کو پہنچ گئی تو غارِ حرا میں آپؐ کے پاس الٰہی فرشتہ آیا اور اُس نے اﷲ کی طرف سے آپ کے ساتھ کلام کیا اور رؤیا صادقہ سے اُوپر کا مقام آپؐ پر کھولا گیا، لیکن باوجود اس کے کہ آپؐ اس کوچہ سے آشنا ہو چکے تھے آپؐ کی طبیعت اس تبدیلی کو پہلی دفعہ پوری طرح برداشت نہیں کر سکی اور آپؐ سخت خوفزدہ ہو گئے اور یہ خوف و اضطراب آپؐ کو ایک عرصہ تک تکلیف دیتا رہا۔ حتیّٰ کہ اس ربّانی رسول کے بار بار آپؐ کے پاس آنے اور آپؐ کو تسلی دینے کے بعد آپؐ کو پورا پورا سکون حاصل ہوا۔
    اس اطمینان کے بعد آپؐ نے اپنا کام شروع فرمایا۔ مگر اس میں بھی تدریجی ترقی کا پہلو موجود تھا۔ پہلے پہل آپؐ نے عام تبلیغ شروع نہیں کی۔ بلکہ صرف اپنے دوستوں اور عزیزوں تک تبلیغ کا کام محدود رکھا اور اڑھائی تین سال تک صرف خفیہ طور پر فرض تبلیغ ادا فرماتے رہے اس کے بعد آپؐ نے الٰہی حکم کے تحت کھلی تبلیغ کا سِلسلہ شروع کیا۔ مگر اس زمانہ میں بھی آپؐ کے کام کا دائرہ عموماً مکّہ والوں تک محدود رہا۔ بے شک باہر سے آنے والوں کے لیے بھی پیغامِ حق کا دروازہ کھلا تھا اور مسیح ناصری کی طرح متلاشیانِ حق سے یہ نہیں کہا جاتا تھاکہ ’’میں بچوں کا کھانا کُتّوں کے آگے کیونکر ڈال دُوں۔‘ ‘ مگر اوائل میں آپؐ کا اصل رُوئے سخن قریش مکّہ کی طرف تھا اور وہی اصل زیرِ تبلیغ تھے اور یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ لیکن جب مکّہ والوں نے نہ صرف انکار پر اصرار کیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو سخت سے سخت مظالم کا تختۂ مشق بنایا بلکہ اس بات کا بھی عہد کر لیا کہ مُسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھا جائے اور عملاً اپنے اوپر تبلیغِ اسلام کا دروازہ بند کر لیا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اپنی توجہ مکہ والوں سے ہٹا کر دیگر قبائلِ عرب کی طرف پھیر لی۔ طائف کا سفر اسی تبدیلی کا نتیجہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں قریش مکّہ میں سے ایمان لانے والوں کی تعداد بہت ہی کم نظر آتی ہے اور ان کی جگہ دیگر قبائل عرب میں اسلام زیادہ پھیلتا نظر آتا ہے۔ یثرب کے قبائل اوسؔ اور خزرج اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ ہجرت کے بعد یہود اور نصاریٰ کے ساتھ معاملہ پڑا اور زینۂ تبلیغ کی آخری سیڑھی اس وقت ختم ہوئی جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے سلاطین عجم کے نام تبلیغی مراسلات بھیجے اور اَسوَد و اَحمَر کو پیغام شروع ہوا۔
    اپنے مقام کے متعلق بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر تدریجاً انکشاف ہوا چنانچہ شروع شروع میں تو آپؐ کی وحی میں آپؐ کے متعلق نبی اور رسول کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔ صرف ایک عمومی رنگ میں تبلیغِ حق کا حکم تھا اور جب نبوت اور رسالت کے مقام کا اظہار ہوا تو اس کے بعد بھی آپؐ ایک عرصہ تک اپنے آپ کو صرف یکے از انبیاء خیال فرماتے رہے اور بس۔ اپنی فضیلت اور ختمِ نبوت کے متعلق قطعاً کوئی دعویٰ نہ تھا۔ بلکہ ہجرت کے بعد تک یہ حال تھا کہ اگر کوئی صحابی اپنے جوشِ عقیدت میں آپؐ کو دیگر انبیاء پر افضل قرار دیتا تھا تو آپؐ اسے سختی کے ساتھ روک دیتے تھے؛ چنانچہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ مدینہ میں ایک دفعہ ایک صحابی نے ایک یہودی کے سامنے حضرت موسیٰ ؑ پر آپؐ کی فضیلت بیان کی تو آپؐ اس صحابی پر بہت ناراض ہوئے اور حضرت موسیٰ ؑکی ایک فضیلت بیان کر کے اس یہودی کی دلداری فرمائی۔ ۱؎ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ آپؐ نے خود فرمایا کہ:
    لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَعِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ۔۲؎
    ’’یعنی اگر اس وقت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السّلام زندہ ہوتے تو اُن کو بھی بجُز میری پیروی کے چارہ نہ تھا۔‘‘
    پھر اوائل میں جب کسی صحابی نے آپؐ کو خیر البریّہ یعنی افضل الخلق کہہ کر پکارا تو آپؐ نے اُسے روکا اور فرمایا ’’ذَالِکَ اِبْرَاھِیْمُ‘‘ یعنی افضل الخلق تو ابراہیم ؑ تھے۔ ۳؎ نیز فرمایا۔ ’’مجھے یونس بن متیّٰ پر فضلیت مت دو۔‘‘ ۴؎ لیکن پھر خود فرمایا کہ اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ وَلَا فَخْرَ۔ ۵؎ یعنی مَیں تمام بنی آدم کا سردار ہوں۔ مگر اس وجہ سے مَیں اپنے اندر کوئی تکبّر نہیں پاتا۔‘‘ یہ گویا ارتقائِ علمی تھا کیونکہ آپؐ افضل الرّسل اور سیّد ولد آدم تو اوائل سے ہی تھے مگر اس کا انکشاف آپؐ پر آہستہ آہستہ ہوا اور یہ بھی دُرست ہے کہ آپؐ کے مدارج میں بھی آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی تھی۔
    مکّی زندگی میں اشاعتِ اسلام
    بعثت کے بعد جو قریباً تیرہ سال آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکّہ میں گذارے اُن میں اسلام سر زمینِ عرب میں گوجڑ پکڑ چکا
    تھا اور قریشِ مکّہ سے باہر بھی اس کا اثر پہنچ چکا تھا؛ چنانچہ ابوذرغفاری، عبداﷲ بن مسعود ھذیلی ، ضماد بن ثعلبہ ازدی، ابو موسیٰ اشعری، طفیل بن عمرو دوسی، سعد بن معاذ اَوسی، سعد بن عبادہ خزرجی وغیرہ کئی غیر قبائل کی مثالیں موجود ہیںجو اس زمانہ میں اسلام لائے ، مگر اس میں شک نہیں کہ ابھی تک اسلام ایک نہایت کمزور حالت میں تھا اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے ان مخالف عناصر کے مقابلہ میں جن کا اسے سامنا تھا اس کی زندگی خطرہ سے باہر نہیں تھی۔
    قریش مکّہ میں سے ہجرتِ نبوی تک اسلام لانے والوں کی تعداد صحیح طور پر معلوم نہیں ہے اور نہ کسی روایت میں بیان ہوئی ہے لیکن قرائن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قریش اور ان کے متعلقین میں سے ہجرت تک مسلمان ہونے والوں کی تعداد تین سو نفوس سے کسی صورت میں زیادہ نہیں ہو گی۔ اس تعداد میں عورتیں اور بچے سب شامل ہیں۔ گویا قریشِ مکّہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ کوششوں کا نتیجہ یہی تین سو جانیں تھیں اور یہ بھی بتایا جاچکا ہے کہ ان میں سے کثیر تعداد ان لوگوں کی تھی جو اپنی کم سِنی یا مفلسی یا کسی اور وجہ سے قریش میں کوئی اثر و رسوخ نہیں رکھتے تھے۔
    قریش کے علاوہ دیگر قبائل عرب میں سے مُسلمان ہونے والوں کی تعداد اہلِ یثرب کو الگ رکھتے ہوئے بہت ہی کم نظر آتی ہے۔ ہاں یثرب میں البتّہ جلد جلد اسلام پھیلا اور قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ہجرت نبوی سے پہلے مدینہ والوں میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد بشمولیت زن و فرزند کئی سو تک ضرور پہنچ چکی ہو گی۔ اس طرح گویا ہجرت تک کل مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ قریباً ایک ہزار بنتی ہے۔ جن میں اگر عورتوں اور بچوںکو الگ الگ رکھیں تو بالغ مرد شاید تین چار سو ہوں گے لیکن یہ بھی ہجرت کے بعد سب کے سب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں موجود نہیں تھے بلکہ کچھ متفرق طور پر اپنے اپنے قبائل میں تھے۔ کچھ حبشہ میں تھے اور کچھ ہجرت کی طاقت نہ رکھنے والے ابھی تک مکّہ میں ہی قریش کے مظالم کا تختۂ مشق بنے ہوئے تھے۔ اس قلیل نفری کے ساتھ اسلام مذاہبِ عالم کی جو لانگاہ میں بازی لے جانے کا دعویٰ بھرتا ہوا قدم زن ہو رہا تھا۔
    قریش کی ایذا رسانیوں کا اثر مسلمانوں پر
    قریش کے مظالم کی مختصر کیفیت اُوپر بیان ہو چکی ہے۔ ان مصائب پر مسلمانوں نے صبر اور
    برداشت کا جو اعلیٰ نمونہ دکھایا وہ اپنی نطیر آپ ہی ہے۔ صحیح روایات سے ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی شخص نے ان مصائب سے ڈر کر ارتداد کی راہ اختیار کی ہو۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متبعین میں بلاشبہ ہم کو بعض مرتدین نظر آتے ہیں اور دراصل ارتداد کا سلسلہ ایک حد تک ہر نبی کے زمانہ میں پایا جاتا ہے لیکن آپؐ کی مکّی زندگی میں محض مصائب کے ڈر کی وجہ سے کسی مسلمان کے حقیقی ارتداد کا ذکر کم از کم مجھے کسی صحیح روایت میں نہیں ملا۔ اس کی یہ وجہ تھی کہ چونکہ قریش کے یہ مظالم برملا ہوتے تھے اور ہر شخص مسلمانوں کے مصائب و آلام سے آگاہ تھا اس لئے اس زمانہ میں جو بھی ایمان لاتا تھا وہ اس بات کے فیصلہ کے بعد اسلام لاتا تھا کہ مجھے حق کی راہ میں جتنی بھی تکالیف سہنی پڑیں وہ مَیں برداشت کروں گا۔ اس لیے مسلمان ہونے کے بعد یہ مصائب کسی شخص کو اسلام سے پھیر نہیں سکتے تھے مگر وقتی طور پر ان مصائب کا ایک ضرر رساں اثر ضرور تھا اور وہ یہ کہ بہت سے ایسے لوگ تھے جو ان مصائب کی وجہ سے اسلام لانے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔ ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کا اثر پہنچتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ شِرک و بُت پرستی کی تاریکیوں سے نِکل کر اسلام کی روشنی میں آجائیں مگر ان مصائب کے طوفان کے سامنے ایمان کی چنگاری ان کے قلوب میں چمک چمک کر بُجھ بُجھ جاتی تھی۔ پھر بہتیرے ایسے بھی تھے جن کو ان مصائب کے منظر نے اسلام کی طرف توجہ کرنے سے ہی روک رکھا تھا۔ علاوہ ازیں قریش کے مظالم کا ایک یہ بھی اثر تھا کہ مسلمان پوری طرح اپنے عقائد کی تبلیغ نہیں کر سکتے تھے اور چونکہ جتنی تبلیغ زیادہ ہو اسی نسبت سے پیغامِ حق زیادہ لوگوں تک پہنچتا ہے اور پھر اسی نسبت سے ماننے والے بھی زیادہ نِکل آتے ہیں۔ اس لیے بھی مکّہ میں مُسلمانوں کی تعداد جلد جلد ترقی نہیں کر سکی۔ مُسلمان ان رُکاوٹوں کو محسوس کرتے تھے اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر رہ جاتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عبدالرحمن بن عوف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ’’یا رسُول اﷲ! جب ہم مشرک تھے تو ہم معزّز تھے اور کوئی شخص ہماری طرف آنکھ تک نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ لیکن مسلمان ہو کر ہم کمزور و ناتواں ہو گئے ہیں اور ہمیں ذلیل ہو کر رہنا پڑتا ہے۔ پس آپؐ ہمیں ظالموں کے مقابلہ کی اجازت دیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا:
    اِنِّیْ اُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَاتُقَاتِلُوْا۔ ۱؎
    ’’مجھے ابھی تک عفو کا حکم ہے۔ اس لیے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘
    اپنے آقا کے اس حکم پر مسلمانوں نے ہاں انہی شیر دل مسلمانوں نے جنہوں نے اس کے چند سال بعد قیصرو کسریٰ کے تخت اُلٹ کر رکھ دیئے جس صبرو رضا کے ساتھ ان مظالم کو برداشت کیا اس کی کسی قدر تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مکّہ میں مسلمانوں کا کفّار کے مقابلہ میں تلوار نہ اٹھانا اور خاموشی اور صبر کے ساتھ ان مظالم کو برداشت کرنا اس وجہ سے نہیں تھا جیسا کہ بعض مخالفین نے سمجھا ہے کہ وہ کمزور تھے اور مقابلہ کی طاقت نہ رکھتے تھے بلکہ اس لیے تھا کہ ابھی تک انحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو عفو کا حکم تھا اور صحابہ کو مقابلہ کی اجازت نہیں تھی، لیکن جب اتمام حجت ہو چکا اور کفّار اپنے مظالم سے باز نہ آئے بلکہ دن بدن زیادہ شوخ اور زیادہ متمرّد ہوتے گئے اور انہوں نے اسلام کے پودے کو جڑ سے اکھیڑ پھینکنے کی ٹھان لی اور ہجرت کے بعد بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا تو باوجود اس کے کہ اس وقت بھی آپؐ کے پاس عرب کے مقابلہ کے لیے قطعاً کوئی جمعیت نہ تھی آپؐ نے وہی مٹھی بھر جماعت لے کر ان کا مقابلہ کیا اور چونکہ اﷲ کی نصرت آپؐ کے شاملِ حال تھی آپؐ اس مقابلہ میں کامیاب ہوئے۔
    ہجرت نبویؐ اور اس کی علّت
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کی ہجرت کوئی خوشی کا سفر نہ تھا جو سیرو سیاحت کی غرض سے کیا گیا ہو بلکہ یہ سفر قریش کے
    ان بیدردانہ مظالم کا نتیجہ تھا جن کا مُسلمان سالہاسال سے تختۂ مشق بنے ہوئے تھے۔ حتیّٰ کہ آخر تنگ آکر مُسلمانوں اور ان کے محبوب آقا ؐکو وطن سے بے وطن ہونا پڑا۔ جو جو مظالم ان ابتدائی تیرہ سالوں میں مسلمانوں نے قریش مکہ اور ان کے ہم خیالوں کے ہاتھوں برداشت کئے ان کا صحیح صحیح اندازہ کرنا محال ہے۔ صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ عرب جیسے جاہل اور آزاد ملک میں قریش جیسی وحشی اور متکبّر قوم اپنی عداوت کے جوش و خروش میں جو جو مظالم کمزور و بے بس مسلمانوں پر کر سکتی تھی وہ سب اس نے کئے۔ مسلمانوں کی تذلیل کے لیے ان پر ہنسی اور مذاق اڑایا گیا۔ ان کے خلاف دلآزار طعن و تشنیع اور گندی گالی گلوچ سے کام لیا گیا۔ ان کو خُدا کی عبادت سے روکا گیا اور توحید کے اعلان سے جبراً منع کیا گیا۔ ان کو اُن کے پیارے اور محبوب آقا سے الگ کر دینے کی کوشش کی گئی۔ اُن کو نہایت بے دردانہ طور پر مارا اور پیٹا گیا۔ ان میں سے بعض کو نہایت وحشیانہ طور پر قتل کیا گیا۔ ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ ان کا بائیکاٹ کر کے اُن کو بھوک اور پیاس سے ہلاک کرنے کی ٹھانی گئی۔ ان کے مال و متاع چھین لیے گئے۔ حتیّٰ کہ ان کو اپنے وطن سے نکل کر بھاگنا پڑا اور جو ٹھہرے وہ سینے پر پتھر رکھ کر ٹھہرے ۔ پھر ان کے آقا اور سردار کو جو انہیں اُن کی جانوں سے زیادہ عزیز تھا سخت سے سخت دُکھ دیئے گئے اور برملا بدنی تکالیف پہنچائی گئیںاور اس پر پتھر برسائے گئے حتّٰی کہ اس کا بدن خون سے تر بتر ہو گیا اور آخر اس کے قتل کا منصوبہ کیا گیا اور منصوبہ بھی ایسا کہ جس میں سب قبائلِ قریش شریک تھے اور ہر قبیلہ اس کے مقدس خون سے اپنے ناپاک ہاتھ رنگنے کے واسطے تیار ہو گیا اور اسلام کے پودہ کو جڑ سے اکھیڑ پھینکنے کی ٹھان لی گئی۔ تو کیا ان مظالم کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ ؓ کی ہجرت کوئی معمولی سفر تھا کہ یونہی رائیگاں جاتا اور خدائے غیّور کی غیرت جوش میں نہ آتی؟ نہیں بلکہ ہجرت میں خدا کی طرف سے یہ صاف اشارہ تھا کہ اب قریش کے مظالم کا پیالہ لبریز ہو چکا ہے اور وقت آگیا ہے کہ ظالم اپنی کیفرِ کردار کو پہنچے۔


    خاتمہ
    اَلْحَمْدُ ِﷲِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ ِﷲِ کہ سیرۃ خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم کا پہلا حصہ ختم ہوا۔ خاکسار راقم الحروف خدا تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجالاتا ہے کہ اُس نے اپنے فضل و کرم سے مجھے اس کے پورا کرنے کی توفیق دی۔ اب اے اﷲ! تو اپنے فضل سے ایسا کر کہ تیرے بندے اِسے پڑھیں اور اس سے فائدہ اٹھاویں اور تیرے برگزیدہ رسول ؐ کے پاک نمونہ پر چل کر تیری رضا حاصل کریں اور اے میرے مولا! تو مجھے بھی توفیق عطا کر کہ میں تیری رضا کے ماتحت اس کتاب کے باقی حصوں کی تکمیل کر سکوں اور اپنے فضل کو میرے شامل حال رکھ۔
    وَاٰخِرُدَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اٰمِیْن
    راقم آثم
    مرزا بشیر احمد

    سیرتِ خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم

    حصہ دوم

    بسم اﷲ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود
    عرض حال
    جلد دوم
    سیرۃ خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم کا اصل دیباچہ تو تکمیل تصنیف کے وقت ہی لکھا جاسکے گا مگر اس جگہ چند الفاظ حصہ دوم کے متعلق مخصوص طور پر عرض کرنے ضروری ہیں۔ ابتدائً ۱۹۱۹ء میں جب میں نے بطورخود رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان کے لئے سیرۃ کی تصنیف کا کام شروع کیا تو اس وقت اس کی غرض و غایت بہت محدود تھی۔ چنانچہ سیرۃ کا حصہ اوّل جو۱۹۲۰ء میں کتابی صورت میں شائع ہوا وہ اسی محدود غرض و غایت کے ماتحت تھا جو صرف یہ تھی کہ ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایک سادہ اور مختصر سوانح عمری میسر آجاوے۔ کوئی علمی تحقیق یا محققانہ تبصرے اس وقت میرے مد نظر نہ تھے۔ چنانچہ اسی غرض سے حصہ اوّل میں حوالے تک درج نہیں کئے گئے۔
    اس کے کچھ عرصہ بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ قادیان کو اس کام کی تکمیل کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور آپ نے ۱۹۲۹ء کے اوائل میں مجھے سیرت کے حصہ دوم کی تیاری کے متعلق ارشاد فرمایا تو ساتھ ہی یہ ہدایت فرمائی کہ ہر قسم کے طبقہ کو مدنظر رکھ کر اس حصہ میں حصہ اوّل کی نسبت زیادہ مستقل تحقیق و تدقیق سے کام لیا جاوے لیکن یہ کوشش کی جاوے کہ کتاب کا حجم حتی الوسع زیادہ نہ ہونے پائے۔
    جس حد تک میں اس ہدایت کی تعمیل کر سکا ہوں وہ اب سیرۃ خاتم النبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم حصہ دوم کی صورت میں ناظرین کے سامنے ہے۔ اگر اس کے بعض حصوں میں میں نے حد مناسب سے زیادہ طوالت سے کام لیا ہے تو وہ غالباً میرے اس طبعی نقص کی وجہ سے ہے کہ میں تحریر میں اختصار پر زیادہ قابو نہیں رکھ سکتااور میں ڈرتا ہوں کہ شاید اس جہت سے میں حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اﷲ بنصرہ کی ہدایت پر پوری طرح عمل نہیں کر سکا۔
    تحقیق و تدقیق کی جہت سے مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ میدان اس قدر وسیع ہے کہ اگر اسے ایک نہ ختم ہونے والا میدان کہہ سکیں تو بے جانہ ہو گا۔ میرے اپنے احساس کا یہ حال ہے کہ جب بھی میں نے سیرت کے مسودے کی نظر ثانی کی ہے مجھے اس میں قریباً ہمیشہ ہی تحقیق کے لئے ایک نیا دروازہ نظر آیا ہے اور بعض حصے تو یقینا ایسے ہیں کہ ان میں مزید تحقیق کی ضرورت عیاں ہے مگر فی الحال جو کچھ بھی ہے وہ ہدیہ ناظرین ہے اور خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اسے قبولیت کا شرف عطا کرے اور اس کے ذریعہ سے اس مقصد کو پورا فرمائے جو اس کی تصنیف کی اصل غرض و غایت ہے۔ اللھم آمین۔
    حصہ دوم کے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہو گی کہ حصہ اوّل کی نسبت اس حصہ میں چار زائد خصوصیات ہیں: اوّل زیادہ تحقیق و تدقیق۔ دوم زیادہ تفصیل و تشریح۔ سوم بہت سے شکمی اور ضمنی مسائل کی بحث۔ چہارم حوالہ جات کا اندراج۔ ان خصوصیات کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اگر اور جب حصہ اوّل کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو اسے ان مزید خصوصیات کی روشنی میں نظر ثانی کرنے کے بعد شائع کیا جاوے ورنہ یہ دونوں حصے بالکل غیر مربوط نظر آئیں گے۔
    جن کتب سے میں نے حصہ دوم کی تیاری میں استفادہ کیا ہے ان کا اندازہ صرف ان اسماء سے نہیں لگ سکتا جو حوالہ کی صورت میں حاشیہ میں درج ہوئے ہیں۔ بالعموم متاخرین کی کتب کے حوالے درج نہیں کئے گئے کیونکہ جب بھی مجھے ان کتب میں کوئی نئی یا مفید بات ملی ہے تو میں نے بجائے ان کتب کا حوالہ دینے کے ان کے ماخذ کی طرف رجوع کر کے اصل کتاب کا حوالہ درج کر دیا ہے مگر ظاہر ہے کہ اس وجہ سے متاخرین کی کتب کی طرف سے میرے جذبہ تشکر میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔
    ممکن ہے کہ بعض طبائع میں یہ سوال پیدا ہو کہ مولانا شبلی کی سیرت کے ہوتے ہوئے اس تصنیف کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال کا اصل جواب تو ہر دو کتب کے مطالعہ سے ہی مل سکتا ہے، لیکن میں اس قدر عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے سیرۃ النبیؐ کی خوبیوں کا اعتراف ہے اور میں نے بعض جگہ اس سے اور دارالمصنفین کی دوسری تصنیفات سے فائدہ بھی اٹھایا ہے مگر تحقیق کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے اور پھر ہر شخص کا نقطۂ نظر اور اسلوب بیان بھی جدا ہوتا ہے اس لئے میری یہ ناچیز کوشش کسی کے ناگوار خاطر نہیں ہونی چاہئے بلکہ اگر کل کو کوئی اور شخص اپنی کوئی جدید تحقیق یا کوئی جدید نقطۂ نظر اور جدید اسلوب بیان دنیا کے سامنے پیش کرے تو یقینا اسلامی لٹریچر کی یہ ایک مزید خوش قسمتی ہو گی۔ ولکل امرء مانوی و انما الاعمال بالنیات۔
    میرے لئے اس جگہ ان بزرگان و احباب کرام کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے اس کتاب کی تیاری میں کسی نہ کسی رنگ میں امداد فرمائی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ ایدہ اﷲ بنصرہ العزیز نے کمال مہربانی سے اپنا نہایت قیمتی وقت خرچ کر کے حصہ دوم کے مسودے کا بیشتر حصہ ملاحظہ فرمایا اور وقتاً فوقتاً اپنے بیش قیمت ارشادات سے مستفیض ہونے کا موقع عطا کیا۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب بی۔اے ناظر تالیف و تصنیف جماعت احمدیہ قادیان نے قریباً ساری کاپیاں ملاحظہ کیں اور مجھے ان کی تصحیح میں امداد دینے کے علاوہ بعض جگہ مفید مشورے بھی دئے۔ مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے سابق مبلغ اسلام لنڈن نے مسودے کے بعض خاص خاص حصے دیکھے اور مجھے اپنی قیمتی رائے سے مستفید کیا۔ مولوی ارجمند خان صاحب مولوی فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے کاپیوں کی درستی میں بہت قابل قدر امداد دی۔ فجزاھم اﷲ خیرا۔ اسی طرح مینجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان اور مینجر الہ بخش سٹیم پریس قادیان اور کاتب کتاب ہذا بھی اپنی ہمدردانہ توجہ کی وجہ سے قابل شکر ہیں۔
    خاکسار
    مرزا بشیر احمد
    کارکن نظارت تالیف و تصنیف جماعت احمدیہ قادیان
    ۳۰؍مارچ ۱۹۳۱ء


    بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
    مدینہ کاابتدائی قیام اورحکومت اسلامی کی تاسیس
    مدینہ کے حالات
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپ ؐکے اصحاب کی ہجرت کا بیان کتاب کے حصہ اوّل میں گزر چکا ہے۔ اب ہجرت کے بعدسے آپؐکی مدنی زندگی کاآغاز ہوتا
    ہے۔لیکن پیشتر اس کے کہ ہم آپؐ کی مدنی زندگی کابیان شروع کریں یہ ضروری معلوم ہوتاہے کہ خود مدینہ اوراس کی آبادی کامختصر حال بیان کردیا جاوے،کیونکہ اس کے بغیر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے بعض حالات کاپوری طرح سمجھنا مشکل ہے۔یہ بتایا جاچکا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل مدینہ کا شہریثرب کے نام سے مشہور تھا لیکن آپؐ کی ہجرت کے بعد لوگ اسے مدینۃ الرسولؐ (یعنی خدا کے رسول کا شہر)کہہ کر پکارنے لگے اورپھر آہستہ آہستہ اس کانام صرف مدینہ مشہور ہوگیا۔ مدینہ عرب کے علاقہ حجاز کا قدیم شہر ہے جو مکہ سے شمال کی طرف دواڑھائی سومیل کے فاصلہ پربحراحمر کے مشرقی ساحل سے قریباًپچاس میل مشرق کی طرف ہٹ کر واقع ہے۔گویا مدینہ اس قدیم مگرصحرائی تجارتی راستے کے قرب میں آباد ہے جو مکہ سے شام کی طرف جاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مکہ اور شام کے درمیان آنے جانے والے تاجر بعض اوقات راستے سے کچھ ہٹ کر مدینہ میں بھی قیام کرتے جاتے تھے اور اس لئے مکہ اور مدینہ کے بہت سے لوگ آپس میں روشناس تھے اور بعض تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی رکھتے تھے۔
    جگہ کے لحاظ سے مدینہ کو ایک وادی کہنا چاہئے جوچھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے گھری ہوئی تھی اور انہی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی اُحد تھی جہاں بعد میں مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان ایک نہایت خطرناک جنگ وقوع میں آئی۔عرب کے دوسرے مقامات کے مقابلہ میں مدینہ میں بارش عموماًخاصی ہوجاتی ہے اور زمین بھی ویسی رتیلی اورناقص نہیں جو عموماًعرب کے دوسرے حصوں میں پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے باشندے قدیم زمانہ سے عموماًزراعت پیشہ رہے ہیں۔مدینہ میں گرمی شدت کی پڑتی ہے اورسرما میں سردی بھی بہت تیزہوتی ہے اورجس زمانہ کا ہم ذکر کررہے ہیںاس میں مدینہ میں ملیریا وغیرہ کی وبا بھی بہت پڑتی تھی اورلوگ بخار سے سخت تکلیف اُٹھاتے تھے۔چنانچہ جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے اصحاب مدینہ میں ہجرت کرکے آئے توبوجہ آب وہواکی تبدیلی کے انہوں نے بہت تکلیف اُٹھائی اوربہت سے مسلمان بخار میں مبتلا ہوگئے اور ان کی صحتوں کوبہت نقصان پہنچا۔چنانچہ احادیث میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وہ دعا مروی ہے جوآپؐنے مسلمانوں کی اس تکلیف کودیکھ کر خدا کے حضورکی اور جس کے نتیجہ میںخدا نے مسلمانوں کو اس تکلیف سے نجات دی اور مدینہ کی فضا ایک بڑی حد تک وبائی جراثیم سے پاک ہوگئی۔ ۱؎
    اس زمانہ میں مدینہ کی آبادی اکٹھی نہیں تھی بلکہ کسی قدر پھیلی ہوئی تھی اورہر قوم الگ الگ حصوں میں آباد تھی اور خود حفاظتی کے لئے سب نے اپنے اپنے واسطے چھوٹے چھوٹے قلعے سے بنا رکھے تھے۔پُرانی روایات سے پتہ لگتا ہے کہ یثرب میں سب سے پہلے آباد ہونے والے لوگ عمالیق قوم کے آدمی تھے جنہوں نے وہاں کھجوروں کے باغات لگائے اورچھوٹے چھوٹے قلعے تیار کئے۔ان کے بعد یہودی لوگ آباد ہوئے۔ان یہود کے متعلق روایات میں اختلاف ہے کہ وہ نسلاًعرب تھے یا کہ باہر سے آئے تھے۔مگرعام مؤرخین کی رائے یہی ہے کہ وہ زیادہ تربنی اسرائیل تھے جو اپنے وطن سے نکل کر عرب میں آکر آباد ہوگئے تھے اورپھر بعد میں آہستہ آہستہ عرب کے بعض اصلی باشندے بھی ان کا مذہب اختیار کرکے ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔بہرحال عمالیق کے بعد مدینہ میں یہود آکر آباد ہوئے اورانہوں نے آہستہ آہستہ عمالیق کو نیست ونابودیاجلاوطن کرکے ان کی جگہ خود لے لی۔یہ یہود تین بڑے قبائل میں منقسم تھے یعنی بنوقینقاع،بنونضیراور بنوقریظہ۔یہ تینوں قبائل شروع میں عموماًبہت اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہتے تھے۔ان یہود نے بھی اس زمانہ کے دستور کے مطابق اپنی رہائش کے لئے چھوٹے چھوٹے قلعے تیار کئے جوایک دوسرے سے ملحق نہ تھے بلکہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر مدینہ کے آس پاس پھیلے ہوئے تھے۔یہود کا پیشہ عموماًتجارت تھا،ان میں سے بعض زراعت کاشغل بھی رکھتے تھے۔بنوقینقاع زیادہ ترصناعی کا کام کرتے تھے۔یہود چونکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی نسبت زیادہ مہذب ومتمدن تھے اور تعلیم میں بھی آگے تھے۔اس لئے انہوں نے مدینہ کے گردونواح میں اپنا اثر پیدا کرنا شروع کیااور جلد ہی بہت اقتدار حاصل کرلیا۔وہ اسی اقتدار کی حالت میں تھے کہ یمن کی طرف سے بنوقحطان کے دو قبیلے جواوس اور خزرج کے نام سے پکارے جاتے تھے مدینہ میں آکر آباد ہوئے۔یہ قبائل ایک شخص حارثہ بن ثعلبہ کے دو بیٹوں اوس اور خزرج کی اولاد تھے اورآپس میں بہت اتفاق ومحبت کے ساتھ رہتے تھے۔شروع شروع میں تو وہ یہود سے بالکل الگ تھلگ رہے لیکن آخر یہود کے زوراقتدار کی وجہ سے اُن کے حلیف بن گئے۔
    اس کے بعد آہستہ آہستہ اوس وخزرج نے بھی پھیلنا اورزور پکڑنا شروع کیااورکچھ کچھ یہود کی ہمسری کادم بھرنے لگے،لیکن چونکہ یہودی لوگ زیادہ ہوشیار اور زیادہ متمدن اور زیادہ بااثر ہونے کے علاوہ تعلیم اوراُمور مذہبی میں بھی زیادہ دخل رکھتے تھے اوراوس وخزرج محض بت پرست اورعموماً جاہل تھے اس لئے اوس وخزرج پر یہود کا ایک گہرا اثر تھا حتّٰیکہ جب کبھی کسی اوسی یاخزرجی شخص کے کوئی نرینہ اولادنہ ہوتی تو وہ یہ منت مانتا تھاکہ اگر میرے گھر لڑکا پیدا ہواتو میں اُسے یہودی بنائوں گا۔چنانچہ اسی طرح کئی لوگ یہودی بن گئے اوران کا زور دن بدن بڑھتا گیا۔ حتّٰی کہ یہودیوں نے اپنی طاقت کے گھمنڈمیں اوس وخزرج پر طرح طرح کے مظالم شروع کردئے جس کے نتیجہ میں یہود اور اوس وخزرج کے تعلقات بہت خراب ہوگئے اور بالآخر مؤخر الذکرقبائل نے تنگ آکر ریاست غسان کے فرمانرواکی امداد سے یہود کے تمام سربرآوردہ لوگوں کو ہوشیاری سے قتل کروادیا۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کا زور ٹوٹ گیااور اوس وخزرج شہر میں طاقت پکڑ گئے،لیکن یہود کے کمزور ہوجانے کاآہستہ آہستہ یہ اثر بھی ظاہر ہونے لگا کہ اوس وخزرج جو اس وقت تک یہود کے مقابلہ کی وجہ سے آپس میں اتحاد واتفاق کے ساتھ رہتے تھے اب آپس میں لڑنے اور جھگڑنے لگ گئے اور بالآخر یہ خانہ جنگیاں ایسی وسیع اور خطرناک صورت پکڑ گئیں کہ دونوں قومیں آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھ سے کٹ کٹ کر بہت کمزور ہوگئیں اور یہود کو جوغالباًاس خانہ جنگی کی آگ کو بھڑکانے والے تھے پھر طاقت پکڑ جا نے کا موقع مل گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اوس وخزرج نے پھر یہودی قبائل کی امداد کا سہارا ڈھونڈا اورایک دوسرے کے خلاف ان کی مدد چاہی۔چنانچہ بنوقینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بن گئے اور بنونضیر اور بنوقریظہ قبیلہ اوس کے ،اوراس طرح سارا شہر ایک خطرناک خانہ جنگی کی آگ سے شعلہ بارہوگیا۔
    اہل یثرب اسی خانہ جنگی کی حالت میں تھے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خدا سے حکم پاکر مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔چنانچہ اوس وخزرج کے درمیان آخری جنگ جوتاریخ عرب میں جنگ بعاثؔ کے نام سے مشہور ہے وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں ہی ہوئی تھی جب کہ آپؐ مکہ میں مقیم تھے۔اس لڑائی میں اس قدر خونریزی ہوئی اور فریقین کے اتنے آدمی مارے گئے کہ اوس اورخزرج ناچارآپس میں صلح کرنے پر مجبور ہوگئے۔چنانچہ دونوں قبیلوں نے آپس میں مشورہ کرکے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ چند شرائط کے ماتحت عبداللہ بن ابیّ بن سلول کوجو قبیلہ خزرج کا ایک نامور اور ہوشیار رئیس تھااپنا متحدہ سردار تسلیم کرلیا جاوے اور عبداللہ کی باقاعدہ تاجپوشی کی تیاری ہونے لگی۔مگرعبداللہ کاسرہنوزقبائل اوس وخزرج کی سرداری کے تاج سے مزین نہ ہونے پایا تھاکہ اسلام کی آواز مدینہ تک پہنچ گئی اورحالات نے ایک نیا رُخ اختیار کرلیا۔یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن ابیّ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کو ایک ایسے رقیب کی آمد سمجھا جس نے اس سے اوس اورخزرج کی سرداری کا مجوزہ تاج چھین لیا۔چنانچہ اس کے دل میں حسدوعداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اورچونکہ وہ اتنی جرأت نہیں رکھتا تھاکہ اپنے قبیلہ والوں کے خلاف ہوکر کھلم کھلا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کھڑا ہوسکے اس لئے اُس نے برملا طورپر مخالفت کرنے کی بجائے خفیہ عداوت اور ریشہ دوانی کاطریق شروع کردیااورجنگ بدر کے بعد اس نے بظاہراسلام بھی قبول کرلیا،مگراس کے دل کایہ مرض کم نہ ہوا اورآخر اسی حالت میں اس نے جان دی۔۱؎
    نزول قباء ،۲۰ستمبر۶۲۲ء
    مدینہ اوراس کی آبادی کے یہ مختصر حالات بیان کرنے کے بعد ہم اپنے اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جب
    انصار کے کانوں میںآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد کی آواز پہنچی تومدینہ کا میدان تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا اورلوگ جلدی جلدی اپنے ہتھیاروں کو درست کرکے نہایت شوق کے ساتھ اس سمت میںلپکے جدھر سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لارہے تھے۔یہ وقت بھی ایک عجیب وقت تھا۔سرورِعالم یعنی خدا کا وہ مقدس فرستادہ جس کے وجود میں نبوت ورسالت کے پیغام نے اپنے کمال کو پہنچنا تھا اپنے عزیزواقارب کے مظالم سے تنگ آکر اپنے وطن سے نکلتا ہے اورایک ایسی بستی کی طرف آتا ہے جو دنیوی رشتہ کے لحاظ سے گویاایک غیروں کی بستی ہے مگر خدا انہی غیروں کے دلوں میں وہ محبت ڈال دیتا ہے کہ جس کے سامنے خون کے رشتے کی محبت بالکل ہیچ نظر آتی ہے اورآج سے مدینہ کے اوس وخزرج کی قسمت اسلام کے نوشتۂ تقدیر کے ساتھ اس طرح مخلوط طورپربُن دی جاتی ہے کہ ناممکن ہے کہ دنیا کا کوئی مؤرخ ایک کے ذکر سے دوسرے کے ذکر کو جدا کرسکے۔بیشک اسلام نے عرب کے ان بادیہ نشینوں کو جن کے بیشتر اوقات شراب اورزنا اور جوئے اورآپس کی لڑائی میں گزرتے تھے ایک تاریک ترین قعرمذلت سے اٹھایااورایک روشن ترین اوج سعادت پر پہنچا دیااوراسلام پرکسی کا احسان نہیں ہے بلکہ ہراک مسلمان کی گردن اسلام کے احسان کے نیچے ہے،لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان ابتدائی فدایان اسلام نے جس جاں نثارانہ قربانی اورجس والہانہ عشق ومحبت سے اسلام کے نازک اور کم سن پودے کو اپنے خون کے پانی سے سینچا اس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔مگر مجھے اپنے مضمون کی طرف لوٹنا چاہئے۔انصار کی نظریں جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پرپڑیں تو ان کے چہرے خوشی سے تمتمااٹھے اورانہوں نے ایسا محسوس کیاکہ گویا دنیاوآخرت کے سارے انعامات انہیں آپؐ کے وجود میں حاصل ہوگئے ہیں۔چنانچہ بخاری میں براء بن عازب کی روایت ہے کہ جو خوشی انصار کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے وقت پہنچی ویسی خوشی کی حالت میں مَیں نے انہیں کبھی کسی اور موقع پر نہیں دیکھا۔ترمذی اور ابن ماجہ نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے یوں محسوس کیا کہ ہمارے لئے مدینہ روشن ہوگیا اور جب آپؐ فوت ہوئے تو اس دن سے زیادہ تاریک ہمیں مدینہ کا شہر کبھی نظر نہیں آیا۔ ۱؎
    استقبال کرنے والوں کی ملاقات کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر تاریخ میں نہیں آیا سیدھے شہر کے اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ دائیں طرف ہٹ کر مدینہ کی بالائی آبادی میں جو اصل شہر سے دواڑھائی میل کے فاصلہ پر تھی اورجس کانام قباء تھاتشریف لے گئے۔ اس جگہ انصار کے بعض خاندان آباد تھے جن میں زیادہ ممتاز عمروبن عوف کا خاندان تھا اوراس زمانہ میں اس خاندان کے رئیس کلثوم بن الہدم تھے۔قباء کے انصار نے آپؐکا نہایت پُرتپاک استقبال کیا اورآپؐ کلثوم بن الہدم کے مکان پرفروکش ہوگئے۔وہ مہاجرین جوآپؐ سے پہلے مدینہ پہنچ گئے ہوئے تھے وہ بھی اس وقت تک زیادہ ترقباء میں کلثوم بن الہدم اوردوسرے معززین انصار کے پاس مقیم تھے اورشاید یہی وجہ تھی کہ آپؐنے سب سے پہلے قباء میں قیام کرنا پسند فرمایا۔ایک آن کی آن میں سارے مدینہ میں آپؐ کی آمد کی خبر پھیل گئی اور تمام مسلمان جوشِ مسرت میں بیتاب ہوکر جوق در جوق آپؐکی فرودگاہ پر جمع ہونے شروع ہوگئے۔اس وقت ایک عجیب لطیفہ ہوا جس سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلس کی سادگی کاپتہ چلتا ہے اوروہ یہ کہ جن اہالیان مدینہ نے آپؐ کواس سے پہلے نہیں دیکھا ہوا تھاان میں سے بعض اپنے خیال میں حضرت ابوبکرؓکوہی رسول اللہ سمجھتے رہے مگر جب مجلس میں دھوپ آگئی اورحضرت ابوبکرؓ نے اپنی چادرسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر سایہ کیااس وقت ان کی یہ غلط فہمی دور ہوئی۔۱؎ اس غلط فہمی کی وجہ یہ تھی کہ باوجود عمر میںچھوٹا ہونے کے حضرت ابوبکرؓآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت زیادہ بوڑھے نظرآتے تھے اور بمقابلہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ان کے بہت سے بال سفید ہوچکے تھے اورچونکہ مجلس میں نشست کی کوئی خاص ترتیب بھی نہیں تھی اورنہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے کوئی ممتاز جگہ معین تھی اس لئے ناواقف لوگوں کو دھوکا لگ گیا۔
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نزول قباء یعنی تکمیل سفر ہجرت کی تاریخ کے متعلق روایات میں کسی قدر اختلاف ہے۔عام مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ پیرکادن اورربیع الاول۱۴ نبوی کی بارہ تاریخ تھی۔مگر بعض محققین نے آٹھ تاریخ لکھی ہے۔عیسوی سن کے شمار سے یہ تاریخ بعض حساب دانوں کے خیال کے مطابق۲۰؍ستمبر۶۲۲ء تھی۔۲؎ اسلامی سن کاشمار اسی واقعہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے مگر سال کی ابتداء ربیع الاول سے نہیں ہوتی جو کہ ہجرت کا مہینہ ہے بلکہ محرم سے ہوتی ہے جوکہ قمری مہینوں کاپہلا ماہ سمجھا جاتا ہے اوراس طرح پہلا سال ہجرت کا دراصل بارہ ماہ کا نہیں تھابلکہ نو ماہ اور کچھ دن کا تھا۔اس بارہ میں مؤرخین میں اختلاف ہے کہ اسلام میں ہجرت کے سن کا حساب ابتدائً کس کے عہد میںشروع ہوا۔حاکم نے اکلیل میں روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود ہجرت کے بعد اس کا حکم دیا تھا۔۳؎ لیکن دوسری روایات کی بنا پر جمہورمؤرخین کایہ خیال ہے اوریہی درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ حساب حضرت عمرؓ کے عہدخلافت میں شروع ہوا تھا۔۴؎ واللہ اعلم
    مؤرخین لکھتے ہیں کہ پہلا کام جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قباء میں کیا وہ ایک مسجد کی تعمیر تھی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس مسجد کی بنیاد رکھی اور صحابہ نے مل کر مزدوروں اور معماروں کا کام کیا۔اورچند دن کی محنت سے یہ مسجد تیار ہوگئی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس مسجد سے آخر وقت تک بہت محبت رہی۔چنانچہ مدینہ میں چلے جانے کے بعد آپؐہر ہفتہ قباء تشریف لے جاتے اور اس مسجد میں نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔بعض علماء کاخیال ہے کہ قرآن شریف میں جس مسجد کے متعلق ۵؎ کے الفاظ بیان ہوئے ہیں وہ یہی مسجد قباء ہے۔اوراس میں شک نہیں ہے کہ گو اس سے پہلے بھی بعض مسجدیں مسلمانوں نے بنائی تھیں،لیکن یقینا قباء کی مسجد اسلام میں وہ پہلی مسجدتھی جس کی بناء آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے تکمیل ہجرت کے بعد پہلے دن رکھی گئی اورجسے مسلمانوں نے گویا ایک قومی عبادت گاہ کے طورپر تعمیر کیا۔
    یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرتے ہوئے اپنی جگہ حضرت علیؓ کو چھوڑ آئے تھے اوران کو تاکید فرماآئے تھے کہ امانتیں وغیرہ واپس کرکے بہت جلد مدینہ پہنچ جائیں۔چنانچہ ابھی آپؐ کو قباء میںتشریف لائے صرف تین دن ہی ہوئے تھے کہ حضرت علیؓ بھی مع الخیر قباء میں پہنچ گئے لیکن ابھی تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت مکہ میں ہی تھے۔
    ورودمدینہ اورجمعہ کی پہلی نماز
    غالباًابھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قباء میں ہی مقیم تھے کہ مسلمانان مدینہ میں اس بات کے متعلق گفتگو شروع ہوئی کہ مدینہ
    میں آپؐ کس کے ہاں قیام فرما ہوں گے۔ہرایک خاندان یہ چاہتا تھاکہ اسے آپؐ کی میزبانی کافخر حاصل ہو۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تک یہ اختلاف پہنچا تو آپؐ نے فرمایا کہ میںعبدالمطلب کے ننھیال بنونجار کے ہاں ٹھہروں گا۔ ۱؎ یہ ایک نہایت حکیمانہ فیصلہ تھاجس سے آپؐنے انصار کے مختلف قبائل میں ناواجب جذبات رقابت کے پیدا ہونے کا سدباب فرمادیا اورآپؐ کے اس ارشاد پر سب کی تسلی ہوگئی۔کیونکہ گوایمان واخلاص میں سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھے لیکن بنونجارکویہ ایک مزیداورمسلّم خصوصیت حاصل تھی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی والدہ سلمیٰ اسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
    قباء میں زائد از دس دن ۲؎ کے قیام کے بعد جمعہ کے روز آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ کے اندرونی حصہ کی طرف روانہ ہوئے۔انصارومہاجرین کی ایک بڑی جماعت آپؐ کے ساتھ تھی۔آپؐ ایک اونٹنی پر سوار تھے اورحضرت ابوبکرؓ آپؐ کے پیچھے تھے۔یہ قافلہ آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔راستہ میں ہی نماز جمعہ کا وقت آگیا۔اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو سالم بن عوف کے محلہ میں ٹھہر کر صحابہ کے سامنے خطبہ دیااور جمعہ کی نماز ادا کی۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ گو اس سے پہلے جمعہ کا آغاز ہوچکا تھا۔۳؎ مگر یہ پہلا جمعہ تھاجوآپؐ نے خود ادا کیا۔۴؎ اوراس کے بعد سے جمعہ کی نماز کا طریق باقاعدہ جاری ہوگیا۔دراصل جمعہ نمازوں کی عید ہے جیسا کہ روزوں کی عید عیدالفطر اور حج کی عید عیدالاضحی ہے اور اسی لئے شریعت اسلامی میں جمعہ کی نماز کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔اس نماز میں امام ایک خطبہ دیتا ہے جس میں حاضر الوقت مسائل پر تقریر ہوتی ہے اورحاضرین کوایمان واعمال کے متعلق مناسب نصائح کی جاتی ہیں اوراس کے بعد دورکعت نماز فرض ادا کی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ بھی حکم ہے کہ حتّی الوسع ہر مسلمان کو چاہئے کہ جمعہ کے دن غسل کرے اورکپڑے بدلے اور خوشبو لگائے اورخطبہ شروع ہونے سے قبل مسجد میں پہنچ جاوے۔ جس جگہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ پہلا جمعہ ادا کیا۔اس جگہ اب ایک مسجد ہے جسے اس جمعہ کی یادگار میں مسجد الجمعہ کہتے ہیں۔
    جمعہ سے فارغ ہوکر آپؐ کاقافلہ پھر آہستہ آہستہ آگے روانہ ہوا۔راستہ میں آپؐ مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ جوش محبت میںبڑھ بڑھ کر عرض کرتے تھے’’یارسول اللہ! یہ ہمارا گھر یہ ہمارا مال وجان حاضر ہے اورہمارے پاس حفاظت کاسامان بھی ہے آپؐ ہمارے پاس تشریف فرما ہوں۔‘‘ آپؐ ان کے لئے دعائے خیر فرماتے اورآہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھتے جاتے تھے۔مسلمان عورتوں اور لڑکیوں نے خوشی کے جوش میں اپنے گھروں کی چھتوں پرچڑھ چڑھ کر گانا شروع کیا
    طَلَعَ البَدْرُ عَلَیْنَا
    وَجَبَ الشُّکْرُعَلَیْنَا
    مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ
    مَادَعیٰ لِلّٰہِ دَاعِ ۱ ؎
    یعنی آج ہم پر کوہ وداع ۲؎کی گھاٹیوں سے چودھویں کے چاند نے طلوع کیا ہے۔اس لئے اب ہم پر ہمیشہ کے لئے خدا کا شکر واجب ہوگیا ہے۔‘‘مسلمانوں کے بچے مدینہ کی گلی کوچوں میں گاتے پھرتے تھے کہ ’’محمد صلی اﷲ علیہ وسلم آگئے۔خدا کے رسولؐ آگئے۔‘‘اورمدینہ کے حبشی غلام آپؐ کی تشریف آوری کی خوشی میںتلوار کے کرتب دکھاتے پھرتے تھے۔جب آپؐ شہر کے اندر داخل ہوئے تو ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپؐ اس کے پاس قیام فرمائیں اور ہرشخص بڑھ بڑھ کراپنی خدمت پیش کرتا تھا۔آپؐ سب کے ساتھ محبت کاکلام فرماتے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ حتّٰی کہ آپؐ کی ناقہ بنونجار کے محلہ میں پہنچی اس جگہ بنونجار کے لوگ ہتھیاروں سے سجے ہوئے صف بند ہوکر آپؐ کے استقبال کے لئے کھڑے تھے اورقبیلہ کی لڑکیاں دَفیں بجا بجا کر یہ شعر گارہی تھیں۔
    نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِی نَجَّارِ
    یَاحَبَّذَا مُحَمَّداً مِنْ جَارِ
    یعنی ہم قبیلہ بنونجار کی لڑکیاں ہیں اورہم کیا ہی خوش قسمت ہیں کہ محمدرسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمارے محلہ میں ٹھہرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔‘‘بنونجار میں پہنچ کرپھر یہ سوال درپیش تھا کہ آپؐ کس شخص کے ہاں مہمان ٹھہریں۔قبیلہ کاہر شخص خواہشمند تھا کہ اسی کو یہ فخر حاصل ہو،بلکہ بعض لوگ تو جوش محبت میںآپؐ کی اونٹنی کی باگوں پرہاتھ ڈال دیتے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر آپؐ نے فرمایا۔’’میری اونٹنی کوچھوڑ دو کہ یہ اس وقت مامور ہے۔‘‘یعنی جہاںخدا کا منشاء ہوگاوہاں یہ خود بیٹھ جائے گی۔اوریہ کہتے ہوئے آپؐ نے بھی اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔اونٹنی آگے بڑھی اور تھوڑی دور خراماں خراماں چلتی ہوئی جب اس جگہ میں پہنچی جہاں بعد میں مسجد نبویؐ اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حجرات تعمیرہوئے اورجو اس وقت مدینہ کے دو بچوں کی افتادہ زمین تھی تو بیٹھ گئی، لیکن فوراً ہی پھراٹھی اورآگے کی طرف چلنے لگی۔ مگرچند قدم چل کرپھرلوٹ آئی اوراسی جگہ جہاں پہلے بیٹھی تھی دوبارہ بیٹھ گئی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاھٰذَا اِنْ شَائَ اللّٰہُ الْمَنْزِلُ یعنی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی منشاء میںیہی ہماری مقام گاہ ہے۔ ۱؎ اورپھر خدا سے دعا مانگتے ہوئے اونٹنی سے نیچے اتر آئے اوردریافت فرمایا کہ اپنے آدمیوں میں سے یہاں سے قریب ترین گھر کس کا ہے ابوایوب انصاری فوراًلپک کرآگے ہوگئے اورعرض کیا۔’’یارسول اللہ!میرا گھر ہے اوریہ میرا دروازہ ہے۔ تشریف لے چلئے۔‘‘آپؐ نے فرمایا۔’’اچھاجائو اورہمارے لئے کوئی ٹھہرنے کی جگہ تیار کرو۔‘‘ ۲؎
    قیام دارِاَبی اَیُّوب
    ابوایوب انصاری فوراًاپنے مکان کو ٹھیک ٹھاک کرکے آگئے اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے ساتھ اندر تشریف لے گئے۔یہ مکان دومنزلہ تھا۔ابوایوب
    چاہتے تھے کہ آپؐ اوپر کی منزل میں قیام فرمائیں،لیکن آپؐ نے اس خیال سے کہ ملاقات کے لئے آنے والے لوگوں کو آسانی رہے نچلی منزل کو پسندفرمایااوروہاں فروکش ہوگئے۔رات ہوئی تو ابوایوب اوران کی بیوی کوساری رات اس خیال سے نیند نہیںآئی کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نیچے ہیں اورہم آپؐ کے اوپر ہیں اور مزید اتفاق یہ ہوگیا کہ رات کوچھت پرایک پانی کابرتن ٹوٹ گیااورابوایوب نے اس ڈر سے کہ پانی کاکوئی قطرہ نیچے نہ ٹپک جاوے،جلدی سے اپنا لحاف پانی پر گراکراسے خشک کردیا۔صبح ہوئی تو وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بکمال اصرار آپؐ کی خدمت میںاوپر کی منزل میں تشریف لے چلنے کی درخواست کی۔ آپؐ نے پہلے توتامل کیا،لیکن بالآخرابوایوب کے اصرار کودیکھ کررضامند ہوگئے۔اس مکان میں آپؐ نے سات ماہ تک یاابن اسحاق کی روایت کی رو سے ماہ صفر۲ ہجری تک قیام فرمایا۔گویاجب تک مسجد نبوی اوراس کے ساتھ والے حجرے تیار نہیں ہوگئے آپؐ اسی جگہ مقیم رہے۔ابوایوب آپؐ کی خدمت میں کھانابھجواتے تھے اورپھر جو کھانا بچ کر آتاتھاوہ خود کھاتے تھے اورمحبت واخلاص کی وجہ سے اُسی جگہ انگلیاں ڈالتے تھے جہاں سے آپؐ نے کھایا ہوتا تھا۔ ۱؎ دوسرے اصحاب بھی عموماًآپؐ کی خدمت میں کھانا بھیجا کرتے تھے۔چنانچہ ان لوگوںمیں سعد بن عبادہ رئیس قبیلہ خزرج کانام تاریخ میں خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔انس بن مالک مدینہ کے ایک دس سالہ یتیم بچے تھے۔ان کی والدہ جن کا نام اُم سلیم تھااورجو بہت مخلص تھیں ان کو اپنے ساتھ لے کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اورعرض کیا کہ یارسول اللہ میںانس کوآپؐ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں آپؐ اس کے لئے دعا فرماویں اوراپنی خدمت کے لئے اسے قبول فرماویں۔آپؐ نے ان کے لئے دعائے خیر کی اوراپنی خدمت میں انہیں منظورفرمایا اور اس کے بعدسے انس بن مالک ہمیشہ آپؐ کی خدمت میں رہنے لگ گئے اورآپؐ کی وفات تک اس خدمت سے جدا نہیں ہوئے۔یہ وہی انس ہیں جن سے بہت سی احادیث کتب حدیث میں مروی ہوئی ہیںاورجو خاص صحابہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔انس نے بڑی لمبی عمرپائی اور۹۱ہجری یا۹۳ہجری میں بصرہ میں فوت ہوئے جبکہ ان کے سواغالباًایک یا دو صحابی اور زندہ تھے۔اپنی آخری عمر میں انس اکثر کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا سے میرے مال اور میری اولاد میں اتنی برکت ہوئی ہے جو میرے وہم وگمان میںبھی نہیں تھی اور اب مجھے صرف جنت کی دعا کے پورا ہونے کا انتظار ہے۔
    مدینہ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے زیدبن حارثہ کوکچھ روپیہ دے کر مکہ روانہ فرمایا جو چند دن میں آپؐ کے اوراپنے اہل وعیال کوساتھ لے کر مع الخیر مدینہ میں پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ عبداللہ بن ابی بکر حضرت ابوبکرؓ کے اہل وعیال کوبھی ساتھ لے کر مدینہ پہنچ گئے۔
    تعمیرمسجد نبویؐ
    مدینہ کے قیام کا سب سے پہلاکام مسجد نبویؐ کی تعمیر تھا۔جس جگہ آپؐ کی اونٹنی آکر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعدبن زرارہ
    کی نگرانی میں رہتے تھے۔یہ ایک افتادہ جگہ تھی جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے اور دوسرے حصہ میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسے مسجد اوراپنے حجرات کی تعمیر کے لئے پسند فرمایااور دس دینار یعنی قریب نوے۹۰ روپے میں یہ زمین خرید لی گئی اور جگہ کوہموار کرکے اور درختوں کوکاٹ کر مسجد نبویؐ کی تعمیر شروع ہوگئی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود دعامانگتے ہوئے سنگِ بنیاد رکھا اور جیسا کہ قباء کی مسجد میں ہواتھا صحابہ نے معماروں اورمزدوروں کاکام کیا جس میں کبھی کبھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خود بھی شرکت فرماتے تھے۔بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے ہوئے صحابہ حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری کایہ شعر پڑھتے تھے۔
    ھٰذَا الْحِمَالُ لَاحِمَالَ خَیْبَرَ ھٰذَا اَبَرُّ رَبَّنَا وَاَطْھَرٗ
    یعنی’’یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جوجانوروں پرلَد کرآیا کرتا ہے بلکہ اے ہمارے مولیٰ!یہ بوجھ تقویٰ اورطہارت کا بوجھ ہے جوہم تیری رضا کے لئے اٹھاتے ہیں۔‘‘
    اورکبھی کبھی صحابہ کام کرتے ہوئے عبداللہ بن رواحہ کایہ شعر پڑھتے تھے
    اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْاَجْرَ اَجْرُ الْاٰخِرَۃْ فَارْحَمِ الْاَنْصَارَوَ الْمُھَاجِرَہ
    یعنی’’اے ہمارے اللہ!اصل اجرتوصرف آخرت کا اجر ہے۔پس تواپنے فضل سے انصار ومہاجرین پراپنی رحمت نازل فرما۔‘‘
    جب صحابہؓیہ اشعار پڑھتے تھے توبعض اوقات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملادیتے تھے اوراس طرح ایک لمبے عرصہ کی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوئی۔ ۱؎ مسجد کی عمارت پتھروں کی سلوں اور اینٹوں کی تھی جولکڑی کے کھمبوں کے درمیان چن دی گئی تھیں اور چھت پر کھجور کے تنے اورشاخیں ڈالی گئی تھیں۔مسجد کے اندرچھت کے سہارے کے لئے کھجورکے ستون تھے اورجب تک منبر کی تجویز نہیں ہوئی انہی ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خطبہ کے وقت ٹیک لگاکرکھڑے ہوجاتے تھے۔مسجدکا فرش کچاتھااورچونکہ زیادہ بارش کے وقت چھت ٹپکنے لگ جاتی تھی اس لئے ایسے اوقات میں فرش پر کیچڑہوجاتاتھا۔ چنانچہ اس تکلیف کودیکھ کر بعد میں کنکریوں کافرش بنوادیاگیا۔شروع شروع میں مسجد کا رخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا تھا،لیکن تحویل قبلہ کے وقت یہ رخ بدل دیا گیا۔مسجد کی بلندی اس وقت دس فٹ اورطول ایک سو پانچ فٹ اور عرض نوے فٹ کے قریب تھا،لیکن بعد میں اس میں توسیع کردی گئی۔
    مسجد کے ایک گوشے میں ایک چھت دارچبوترہ بنایاگیاتھاجسے صُفَّہکہتے تھے۔یہ ان غریب مہاجرین کے لئے تھا جو بے گھر بار تھے۔یہ لوگ یہیں رہتے تھے اور اصحاب الصفہ کہلاتے تھے۔ان کا کام گویا دن رات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنا،عبادت کرنا اور قرآن شریف کی تلاوت کرنا تھا۔ان لوگوں کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خود ان کی خبرگیری فرماتے تھے اورجب کبھی آپؐ کے پاس کوئی ھدیہ وغیرہ آتاتھایاگھر میں کچھ ہوتا تھا تواُن کا حصہ ضرور نکالتے تھے۔بلکہ بعض اوقات خود فاقہ کرتے اورجو کچھ گھر میں ہوتا تھاوہ اصحاب الصُفَّہ کو بھجوادیتے تھے۔انصار بھی ان کی مہمانی میں حتّی المقدور مصروف رہتے تھے اوران کے لئے کھجوروں کے خوشے لالا کر مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے۔ ۱؎ لیکن بایںہمہ ان کی حالت تنگ رہتی تھی اور بسا اوقات فاقہ تک نوبت پہنچ جاتی تھی اوریہ حالت کئی سال تک جاری رہی حتّٰی کہ کچھ تومدینہ کی آبادی کی وسعت کے نتیجہ میں ان لوگوں کے لئے کام نکل آیا۔اورکچھ قومی بیت المال سے امداد کی صورت پیدا ہوگئی۔
    مسجد کے ساتھ ملحق طورپرآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے رہائشی مکان تیار کیا گیا تھا۔ مکان کیا تھاایک دس پندرہ فٹ کاچھوٹا ساحجرہ تھا اوراس حجرہ اورمسجد کے درمیان ایک دروازہ رکھا گیا تھاجس میںسے گزر کرآپؐ نماز وغیرہ کے لئے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔جب آپؐ نے اور شادیاں کیں تواسی حجرہ کے ساتھ ساتھ دوسرے حجرات تیار ہوتے گئے۔مسجد کے آس پاس بعض اور صحابہ کے مکانات بھی تیار ہوگئے۔
    یہ تھی مسجد نبویؐ جومدینہ میں تیار ہوئی اوراس زمانہ میں چونکہ اورکوئی پبلک عمارت ایسی نہ تھی جہاں قومی کام سرانجام دئے جاتے اس لئے ایوان حکومت کا کام بھی یہی مسجد دیتی تھی۔یہیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلس لگتی تھی۔یہیںتمام قسم کے مشورے ہوتے تھے۔یہیں مقدمات کا فیصلہ کیا جاتا۔یہیں سے احکامات صادر ہوتے تھے۔ یہی قومی مہمان خانہ تھا اورضرورت ہوتی تھی تواسی سے جنگی قیدیوں کی حبس گاہ کا کام بھی لے لیا جاتا تھا۔
    سرولیم میوراس مسجد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    ’’گویہ مسجد سامان تعمیر کے لحاظ سے نہایت سادہ اور معمولی تھی،لیکن محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی یہ مسجد اسلامی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتی ہے۔رسول خدا اوران کے اصحاب اسی مسجد میںاپنے وقت کابیشتر حصہ گزارتے تھے۔ یہیںاسلامی نماز کا باقاعدہ باجماعت صورت میں آغاز ہوا۔یہیں تمام مسلمان جمعہ کے دن خدا کی تازہ وحی کو سننے کے لئے مؤدبانہ اورمرعوب حالت میں جمع ہوتے تھے۔یہیں محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) اپنی فتوحات کی تجاویز پختہ کیاکرتے تھے۔یہی وہ ایوان تھا جہاں مفتوح اورتائب قبائل کے وفود ان کے سامنے پیش ہوتے تھے۔یہی وہ دربار تھاجہاں سے وہ شاہی احکام جاری کئے جاتے تھے جو عرب کے دور دراز کونوں تک باغیوں کوخوف سے لرزا دیتے تھے اور بالآخر اسی مسجد کے پاس اپنی بیوی عائشہؓ کے حجرے میں محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے اپنی جان دی اور اسی جگہ اپنے دو خلیفوں کے پہلو بہ پہلو وہ مدفون ہیں۔‘‘ ۱؎
    یہ مسجد اوراس کے ساتھ کے حجرے کم وبیش سات ماہ کے عرصہ میں تیار ہوگئے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے نئے مکان میں اپنی بیوی حضرت سودہؓ کے ساتھ تشریف لے گئے۔ بعض دوسرے مہاجرین نے بھی انصار سے زمین حاصل کرکے مسجد کے آس پاس مکانات تیار کرلئے اور جنہیں مسجد کے قریب زمین نہیں مل سکی انہوں نے دور دور مکان بنا لئے اوربعض کوانصار کی طرف سے بنے بنائے مکان مل گئے تھے۔
    ابتدائے اذان
    ابھی تک نماز کے لئے اعلان یااذان وغیرہ کا انتظام نہیں تھا۔صحابہ عموماًوقت کااندازہ کرکے خود نماز کے لئے جمع ہوجاتے تھے،لیکن یہ صورت کوئی قابل اطمینان
    نہیں تھی۔اب مسجد نبویؐ کے تیار ہوجانے پر یہ سوال زیادہ محسوس طورپرپیدا ہوا کہ کس طرح مسلمانوں کووقت پر جمع کیا جاوے۔کسی صحابی نے نصاریٰ کی طرح ناقوس کی رائے دی۔کسی نے یہود کی مثال میں بوق کی تجویز پیش کی۔ کسی نے کچھ کہا مگر حضرت عمرؓنے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کومقرر کردیاجاوے کہ وہ نماز کے وقت یہ اعلان کردیا کرے کہ نماز کاوقت ہوگیا ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس رائے کوپسند فرمایااور حضرت بلالؓ کوحکم دیا کہ وہ اس فرض کو اداکیا کریں۔ ۲؎ چنانچہ اس کے بعد جب نماز کا وقت آتا تھا بلالؓ بلندآواز سے اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ کہہ کر پکارا کرتے تھے اورلوگ جمع ہوجاتے تھے بلکہ اگر نماز کے علاوہ بھی کسی غرض کے لئے مسلمانوں کو مسجد میں جمع کرنا مقصود ہوتاتھا تویہی ندادی جاتی تھی۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد ایک صحابی عبداللہ بن زیدانصاری کوخواب میں موجودہ اذان کے الفاظ سکھائے گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکراپنے اس خواب کاذکر کیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں ایک شخص کواذان کے طریق پریہ یہ الفاظ پکارتے سنا ہے۔آپؐ نے فرمایایہ خواب خدا کی طرف سے ہے اور عبداللہؓکو حکم دیا کہ بلالؓ کو یہ الفاظ سکھادیں۔عجیب اتفاق یہ ہوا کہ جب بلالؓ نے الفاظ میں پہلی دفعہ اذان دی تو حضرت عمرؓاسے سن کرجلدی جلدی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ!آج جن الفاظ میں بلالؓ نے اذان دی ہے بعینہٖ یہی الفاظ میں نے بھی خواب میں دیکھے ہیں۔ ۱؎ اورایک روایت میں یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اذان کے الفاظ سنے توفرمایا کہ اسی کے مطابق وحی بھی ہوچکی ہے۔ ۲؎ الغرض اس طرح موجودہ اذان کاطریق جاری ہوگیا اورجوطریق اس طرح جاری ہواوہ ایسا مبارک اور دلکش ہے کہ کوئی دوسرا طریق اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔گویا ہرروز پانچ وقت اسلامی دنیا کے ہر شہر اورہرگائوں میں ہر مسجد سے خدا کی توحید اورمحمدؐ رسول اللہ کی رسالت کی آواز بلند ہوتی ہے اوراسلامی تعلیمات کاخلاصہ نہایت خوبصورت اورجامع الفاظ میں لوگوں تک پہنچا دیاجاتا ہے۔
    رکعات نماز میں ایزادی
    یہ بیان کیاجاچکا ہے کہ نماز جواسلامی عبادات میں سب سے افضل عبادت سمجھی گئی ہے مکہ میں ہی فرض ہوچکی تھی،لیکن اب تک سوائے نماز
    مغرب کے جس میں تین رکعات تھیں باقی تمام فرض نمازوںمیں صرف دودورکعات تھیں،لیکن ہجرت کے کچھ عرصہ بعدآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خداسے حکم پاکر سفر کے لئے تووہی دودورکعات نماز رہنے دی لیکن حضر کے لئے سوائے نمازفجر اور مغرب کے جواپنی پہلی صورت میں قائم رہیں باقی نمازوں میںچار چاررکعات فرض کردیں اور اس طرح سفروحضر کا امتیاز قائم ہو گیا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم میں یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ اس کے تمام احکام میں میانہ روی کو اختیارکیاگیا ہے اوران عملی مشکلات کا پورا پورالحاظ رکھا گیا ہے جوانسان کو اس کی زندگی میں پیش آتی رہتی ہیں۔چنانچہ نماز کے مسائل میں ہی بہت سے احکام ایسے پائے جاتے ہیںجوحالات کے اختلاف سے بدل جاتے ہیں مثلاًسفروحضر کی نمازکے امتیاز کے علاوہ جس کا ذکر ابھی کیا گیا ہے نماز کی ظاہری شکل وصورت کا ملحوظ رکھنا عام حالات میں ضروری ہے،لیکن جو شخص بیماری وغیرہ کی وجہ سے نماز کواس کی مقررہ صورت میں ادا نہ کرسکتا ہواس کے لئے اجازت ہے کہ ظاہری صورت کو ترک کرکے بیٹھے بیٹھے یااگریہ بھی مشکل ہوتو لیٹے لیٹے ہی نماز ادا کرلے۔اسی طرح نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرنا واجبات میںسے ہے لیکن جب کوئی شخص سفرمیں ہواورسواری پربیٹھے ہوئے اسے جہت کا پتہ نہ لگ سکے یاوہ جہت کوقائم نہ رکھ سکے تو اسلام اسے اختیار دیتا ہے کہ جدھر اس کی سواری کارخ ہوادھر منہ کرکے نمازاداکرلے۔اسی طرح نمازکے لئے مقررہ طریق پروضو کرنا ضروری ہے،لیکن ایسا شخص جسے پانی نہ ملے یا جسے وضو کرنے سے بیماری کااندیشہ ہووہ وضو ترک کرسکتا ہے۔وغیر ذالک
    اسی طرح دوسرے امور میںبھی جہاں کہیں کوئی معقول عملی دقت پیدا ہوجاتی ہے اسلام اپنے احکام کی صورت کو مناسب طورپر بدل کراس کی جگہ کوئی دوسری صورت پیش کردیتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اول تواسلام کا پیغام ایک عالمگیر وسعت رکھتا ہے جس میں حالات کے اختلاف کاپورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اوردوسرے یہ کہ شریعت اسلامی میں اصل مقصود عبادات کی روح ہے اور عبادات کا جسم صرف اس روح کے بقا اور حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا ہے اوراسی لئے جہاں کہیں بھی حالات کے بدل جانے سے جسم کااختیار کرنا مشکل ہوجاتا ہے وہاں جسم کوترک کرکے روح کواختیار کرلیا جاتا ہے۔
    اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسلام کی جملہ عبادات میں سب سے زیادہ زورنماز پر دیا ہے۔آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نیز فرماتے تھے کہ نماز ایسی عبادت ہے جس میں بندہ اپنے خدا سے ہمکلام ہوتا اورگویااس کی مجلس میںپہنچ جاتا ہے اورآپؐ کو نماز سے اس قدر محبت تھی کہ نماز پنجگانہ توخیر فرض ہی ہے دوسری نوافل نمازیںبھی آپؐ نہایت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے اورنماز تہجدیعنی نصف شب کی نماز سے تو آپؐ کو اتنا شغف تھا کہ آپؐ نہایت التزام کے ساتھ بلاناغہ اس نماز کے لئے اٹھا کرتے تھے اور روایت آتی ہے کہ آپؐ اس قدر دیر تک نماز تہجد میں کھڑے رہتے تھے کہ بعض اوقات آپؐ کے پائوں متورم ہوجاتے تھے اورآپؐ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جُعِلَتْ قُرَّۃَ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃِ یعنی نماز تو میری آنکھ کی ٹھنڈک ہے اور آپؐ اپنے صحابہ کونماز کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر لوگوں کو یہ علم ہوکہ نماز باجماعت میں کیا خوبی ہے تو خواہ انہیں اپنے گھٹنے گھسیٹتے ہوئے مسجد میںآنا پڑے وہ ضرور آئیں۔اپنی آخری بیماری میں جبکہ آپؐ کو غشی پر غشی آتی تھی اورسخت بے چینی کی حالت تھی آپؐ نے ایک دفعہ صبح کے وقت اپنے دروازے کاپردہ اٹھا کر دیکھا تومسجد میں صحابہ نماز پڑھ رہے تھے۔یہ نظارہ دیکھ کرآپؐ کاچہرہ اس قدر خوشی سے تمتمااٹھاجیسے کوئی مرجھایا ہوا پھول یکلخت شگفتہ ہوجاوے کہ اوربعض روایات میں ہے آخری فقرہ جوآپؐ کی زبان سے سناگیا وہ اَلصَّلوٰۃُ وَمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ تھا۔ یعنی میری امت کے لوگو! نماز اورغلاموں کے متعلق میری تعلیم کوفراموش نہ کرنا۔ ۱؎
    یہودیوں میں پہلا مسلمان
    اب تک مسلمان ہونے والے لوگوں میں غالباًبعض مسیحی توشامل ہوچکے تھے،مگریہودی کوئی نہیں تھا،لیکن اب ہجرت کے بعد یہ سلسلہ
    بھی شروع ہوااورگویہودیوں میں سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت ہی تھوڑے لوگ ایمان لائے لیکن یہ قوم بھی بالکل محروم نہیں رہی۔ سب سے پہلا یہودی جو مشرف بہ اسلام ہوا اس کانام حصین بن سلام تھا۔یہ شخص مدینہ کا رہنے والا تھا اوریہودیوںمیں اپنے علم وفضل کی وجہ سے بہت اثر رکھتا تھا۔ابھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ میں ہی تھے کہ یہ شخص آپؐ کے دعویٰ کوسن کر کچھ کچھ اسلام کی طرف مائل ہوچکا تھا،مگرابھی تک اس نے اپنی اس حالت کاکسی سے اظہار نہیں کیا تھا۔جب آپؐ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ شخص خفیہ طور پر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوااورچونکہ طبیعت میں سعادت تھی پہلی ملاقات میں ہی مسلمان ہوگیا۔ مسلمان ہونے کے بعداسے یہ شوق ہوا کہ اس کی قوم کے لوگ بھی اس نور سے محروم نہ رہیںجس سے خدا نے اس کے سینے کو منور کیا تھا۔چنانچہ اس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپؐ یہودیوں کے سربرآوردہ لوگوں کو اپنے پاس بلائیں اورانہیں اسلام کی تبلیغ کریں اوران سے میرے متعلق رائے دریافت فرمائیںکہ میںان میںکیسا آدمی سمجھا جاتا ہوں تاکہ اگر وہ میرے متعلق اچھی رائے کااظہار کریں تو شاید میرے اسلام لانے کی خبر ہی ان کی ہدایت کا موجب ہو جاوے۔ چنانچہ حصین بن سلام ایک طرف ہوکر چھپ گئے اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہودی عمائد کو اپنے پاس بلاکر اسلام کی تبلیغ کی مگرانہوں نے نہ مانا۔اس کے بعد آپؐ نے حصین بن سلام کے متعلق رائے دریافت کی۔جس پر انہوں نے حصین کے علم وفضل کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہمارا سرداراورابن سردار ہے وغیر ذالک۔آپؐ نے کہا دیکھو اگر وہ مسلمان ہوجائے توپھر تم بھی مسلمان ہونے کے لئے تیار ہوگے؟ انہوں نے کہا نعوذ باللہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتاکہ حصین مسلمان ہو جاوے۔آپؐ نے حصین کو آواز دی۔اوروہ اپنے چھپنے کی جگہ سے باہرآگئے اور یہودی عمائد سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ اے میری قوم کے لوگو!خدا کا تقویٰ اختیار کرواوراس کے عذاب کواپنے اوپر مت لو۔تم جانتے ہو کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کاذکر تمہاری کتاب میں موجود ہے اور وہ وہی نبی ہیں جس کا تمہیں وعدہ دیاگیا تھا۔پس خداسے ڈرواورانکار کی طرف قدم نہ بڑھائو۔یہ سن کر پہلے تو یہودی لوگ سخت مبہوت ہوگئے اورپھر کہنے لگے کہ ہم حصین کی بات نہیں مانتے یہ جھوٹا اورکذاب ہے اورپھر حصین بن سلام کوگالیاں دیتے ہوئے آپؐ کی مجلس سے اٹھ گئے۔
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمان ہونے پر حصین کانام بدل کر عبداللہ کردیا اور اسی نام سے وہ تاریخ وحدیث میں معروف ہیں۔دراصل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ طریق تھا کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تھاتوعام طورپر اس کا وہی نام رہنے دیتے تھے جو پہلے ہوتا تھا ہاں اگر کسی شخص کانام مشرکانہ ہوتا تھا توآپؐ اسے بدل دیتے تھے۔حصین بن سلام کانام مشرکانہ تونہیں تھا،لیکن غالباًآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ یہ شخص یہود میں سے پہلا نومسلم ہے اس کے نام کو خالص اسلامی رنگ میںبدلنا مناسب خیال فرمایا۔
    اہل فارس میں پہلا مسلمان
    اسی زمانہ کے قریب قریب سلمان فارسیؓ مسلما ن ہوئے۔سلمان ملک فارس کے بسنے والے تھے اورابتدائً زرتشتی مذہب کے پیرو تھے،
    لیکن فطری سعادت نے اس مذہب کی اس وقت کی حالت پر تسلی نہ پائی اوروہ کسی بہتر مذہب کی تلاش میں وطن سے نکلے اوربالآخر شام میں آکر عیسائی ہوگئے۔ اسی زمانہ میں کسی لوٹ مار میں وہ غلام بنالئے گئے۔مگر یہی غلامی ان کے اسلام کاباعث بن گئی۔ کیونکہ کئی آقائوں کے تبادلہ کے بعد بالآخر مدینہ کے ایک شخص نے انہیں خرید کر اپنے پاس رکھ لیا۔ چنانچہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میںتشریف لائے توسلمان آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے پھرانہوں نے آہستہ آہستہ روپے کا انتظام کرکے اپنے آقا سے آزادی حاصل کرلی اورسب سے پہلی مرتبہ وہ غزوۂ خندق میں شریک جہاد ہوئے اورانہی کے مشورے سے خندق کھودی گئی۔سلمان نہایت پارسااورمتقی آدمی تھے اوربالکل درویشانہ زندگی گزارتے تھے۔ان سے ایک دفعہ کسی شخص نے دریافت کیا کہ آپ ؑ کے باپ کاکیا نام ہے توانہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ میں ابن سلام ہوں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ان کے متعلق فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ۔ ۱؎ کہ سلمان ہم اہلبیت میں سے ہیں۔اورایک دفعہ جب کہ یہ قرآنی آیت نازل ہوئی کہ آئندہ ایک زمانہ میں ایک جماعت صحابہ کی مانند اورانہیں کی تعلیم کی حامل پیدا ہوگی توصحابہؓ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ!یہ کون لوگ ہوں گے۔اس پر آپؐنے سلمان فارسی پراپنا ہاتھ رکھ کر فرمایاکہ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَا لَہٗ رِجَالٌ اَوْرَجُلٌ مِنْ ھٰٓؤُلآَئِ۔۱؎ یعنی اگر ایمان ثریاتک بھی اٹھ جائے گاتوان فارسی الاصل لوگوں میںسے ایک شخص اسے دنیا میں پھر قائم کردے گا۔
    قبیلہ اوس وخزرج کے غیر مسلم رئوساء
    یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ مدینہ میں ابھی تک اوس وخزرج کے بہت سے لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ بدستور
    اپنے مذہب پر قائم تھے۔ان میں سے دوشخص خاص طورپر ممتاز اورمعزز سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ عبداللہ بن ابیّ بن سلول رئیس خزرج کاذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وہ کس طرح شروع میں تو اسلام سے الگ الگ رہا مگر بعد میں بظاہر مسلمان ہوگیا،لیکن درپردہ وہ اسلام کا دشمن رہا اور منافقین مدینہ کا سردار بن گیا۔دوسرا شخص ابوعامر تھاجوقبیلہ اوس کا رئیس تھا۔یہ شخص اپنی زندگی کے ابتدائی حصہ میں ایک سیاح رہ چکا تھااوربہت سے ممالک میں سفر کرنے کے بعد اب گویا تارک الدنیا ہوکر راہب کہلاتاتھا۔ابوعامر کچھ کچھ نصرانیت کی طرف مائل تھا اورایک آزاد مذہبی معلم ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد پراس نے آپؐ کی مخالفت شروع کی اوربالآخر اپنے بغض وحسد میں جلتا ہوا مدینہ چھوڑ کر مکہ کی طرف چلاگیااوراس کے ساتھ وہ چند لوگ بھی جواس کے زیراثر تھے مدینہ چھوڑ گئے۔جنگ اُحد میں ابوعامر مکہ والوں کی طرف سے ہوکر میدان جنگ میں آیا اورقدرت حق کاعجیب نظارہ ہے کہ اسی جنگ میں اس کا لڑکا حنظلہ جو ایک نہایت مخلص مسلمان تھا، مسلمانوں کی طرف سے لڑتا ہوا شہیدہوا۔ابوعامر فتح مکہ تک مکہ میں ہی مقیم رہا اورفتح مکہ کے بعد طائف چلا گیا اورجب طائف بھی صحابہؓ کے ہاتھ پرفتح ہوگیا تو وہ مسلمانوں کے خلاف رومی سلطنت کے ساتھ سازش کرنے کی نیت سے شام کی طرف نکل گیا،لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ابوعامرجب مدینہ میںتھاتوطعن وتحقیرکے طورپر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوطریدووحید(یعنی وطن سے نکالا ہوااکیلا چھوڑاہوا شخص )کہہ کرپکاراکرتاتھا،لیکن آخر خود اس کا یہ انجام ہوا کہ بالآخر وہیں شام میںوہ بے وطنی اوربے کسی وبے بسی کی حالت میں بھٹکتا ہوامرگیا۔ ۲؎
    مواخاتِ انصارومہاجرین
    اس وقت مدینہ کے مسلمان دوحصوں میں منقسم تھے۔ایک تو وہ تھے جو مدینہ کے باشندے نہ تھے بلکہ مکہ یا کسی اورجگہ سے ہجرت کرکے مدینہ
    میں آباد ہوگئے تھے۔یہ لوگ بوجہ اپنی ہجرت کے مہاجرین کہلاتے تھے۔دوسرے وہ لوگ تھے جومدینہ کے رہنے والے تھے اور چونکہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اوردوسرے مہاجرین کوپناہ دی تھی اوران کی اعانت کا بیڑا اٹھایا تھا اس لئے وہ انصار کے نام سے موسوم ہوتے تھے ۔مہاجرین عام طورپرمدینہ میں بالکل بے سروسامان تھے کیونکہ غریب توغریب تھے ہی متمول مہاجرین بھی عموماًاپنا سب مال ومتاع وطن میں چھوڑ کر نکل آئے تھے۔انصار نے ان کے ساتھ حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر سلوک کیا اورکوئی دقیقہ ان کی مہمان نوازی کااٹھا نہیںرکھا۔لیکن اس رشتہ اخوت کواوربھی مضبوط کرنے کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ تجویز فرمائی کہ انس بن مالک کے مکان پر انصارومہاجرین کوجمع فرمایااورباہم مناسبت کوملحوظ رکھتے ہوئے دودو کاجوڑا بناکر انصارومہاجرین کے کم وبیش نوے اشخاص کے درمیان باقاعدہ رشتہ اخوت قائم کردیا۔اس سلسلۂ مواخاۃ پرطرفین کی طرف سے جس محبت اوراخلاص اوروفاداری کے ساتھ عملدرآمد ہوا وہ آجکل کی حقیقی اخوت کو بھی شرماتا ہے۔انصارومہاجرین بھائی بھائی کیا بنے گویا ایک جان دوقالب ہوگئے۔پہلی تجویز انصار نے اس رشتہ اخوت کے بعد یہ کی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ درخواست پیش کی کہ آپؐ ہمارے باغات کو ہم میں اور ہمارے بھائیوں میں تقسیم فرمادیں۔لیکن چونکہ مہاجرین عموماًتجارت پیشہ تھے اورکھیتی باڑی کے کام سے قطعاً ناواقف تھے بلکہ مکہ والے تو اس کام کو پسند بھی نہیں کرتے تھے، اس لئے پھر انصار نے خود ہی یہ تجویز پیش کی کہ باغات کاانتظام اورمحنت ہم کریں گے،مگر ماحصل میںسے مہاجرین کوحصہ مل جایا کرے۔ ۱ ؎ چنانچہ اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا حتّٰی کہ آہستہ آہستہ مہاجرین کی تجارتیں جن میںوہ مدینہ میںآکر مشغول ہوگئے تھے چل نکلیں اوران کی اپنی جائیدادیں بھی بن گئیں اورانصار کی طرف سے امداد کی ضرورت نہ رہی۔۲؎ لکھا ہے کہ جب مہاجرین نے انصار کی طرف سے اس غیر معمولی لطف و شفقت کودیکھا توانہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر انصار کے اس سلوک کی بہت تعریف کی اور کہا کہ یارسول اللہ انصار کی اس نیکی کو دیکھ کر ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں خدا سے سارااجر وہی نہ لے جائیں۔آپؐ نے فر مایا۔نہیں نہیںایسا نہیں ہوگاجب تک تم ان کی نیکی کے شکر گزاراورخدا کے حضوران کے لئے دست بدعا رہوگے تم اجر سے محروم نہیں ہوسکتے۔ ۱؎ حضرت عبدالرحمن بن عوف سعد بن الربیع انصاری کے بھائی بنے تھے سعد نے اپنا سارا مال ومتاع نصف گن گن کر عبدالرحمن بن عوف کے سامنے رکھ دیا اورجوش محبت میں یہاں تک کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں۔میں ان میں سے ایک کو طلاق دئے دیتا ہوںاورپھر اس کی عدت گزرنے پر تم اس کے ساتھ شادی کرلینا۔یہ سعد کی طرف سے جوش محبت کاایک بے اختیاری اظہارتھا۔ورنہ وہ اورعبدالرحمن دونوں جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ خدا یہ سب کچھ تمہیں مبارک کرے۔مجھے بازار کا رستہ بتادو۔چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے تجارت شروع کی اور چونکہ وہ نہایت ہوشیاراورسمجھ دار آدمی تھے۔آہستہ آہستہ ان کی تجارت چمک اٹھی اوربالآخر وہ ایک نہایت امیرکبیر آدمی بن گئے۔ابھی ان کی تجارت ابتدائی حالت میں ہی تھی اورانہیں مدینہ میں آئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ انہوں نے مدینہ کی ایک انصاری لڑکی سے شادی کرلی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے کپڑوں پرزعفران کا رنگ دیکھا جو عرب دستور کے مطابق شادی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔تومسکراتے ہوئے دریافت فرمایا۔ ’’ابن عوف یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘عبدالرحمن نے عرض کیا۔’’یارسول اللہ!میں نے ایک لڑکی سے شادی کرلی ہے۔‘‘آپؐ نے پوچھا۔’’مہرکیا دیا ہے؟‘‘عبدالرحمن نے جواب دیا۔’’یارسول اللہ!کھجور کی ایک گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے۔‘‘آپؐ نے فرمایا۔اَوْلِمْ وَلَوْبِشَاۃٍ تواب پھر ولیمہ کی دعوت کرنی ہوگی خواہ صرف ایک بکری کے گوشت کی کیوں نہ ہو۔‘‘یعنی اب تمہاری حیثیت ایسی نہیں ہے کہ ایک دو دوستوں کوکھانا کھلا کرسمجھو کہ بس ولیمہ ہوگیا بلکہ کم از کم ایک بکری کے اندازہ کاگوشت تودعوت میں پکنا چاہئے۔‘‘ ۲؎ اس سلسلہ مواخات کااثر وراثت تک پر تھا۔چنانچہ یہ فیصلہ تھا کہ اگر کوئی انصاری فوت ہوتو اس کا ترکہ بحصہ رسدی اس کے بھائی مہاجر کو بھی ملے۔یہ سمجھوتہ جنگ بدر تک قائم رہا جس کے بعد یہ طریق وراثت خدا کی وحی کے ماتحت منسوخ ہوگیا اورصرف حقیقی رشتہ داروارث قرار دئے گئے۔۳؎ اس سلسلہ مواخات میں حضرت ابوبکر خارجہ بن زید کے بھائی بنے،حضرت عمرعتبان بن مالک کے، حضرت عثمان اوس بن ثابت کے،ابوعبیدۃ بن الجراح سعد بن معاذ کے،سعیدبن زید ابیّ بن کعب کے،سلمان فارسی ابودرداء کے،مصعب بن عمیرابوایوب انصاری کے،عماربن یاسرحذیفہ بن یمان کے۔وغیر ذالک
    مواخات کایہ سلسلہ کئی لحاظ سے مفید اوربابرکت ہوا۔
    اوّل: جوپریشانی اوربے اطمینانی مہاجرین کے دلوں میں اس بے وطنی وبے سروسامانی کی حالت میں پیدا ہوسکتی تھی وہ اس سے بڑی حد تک محفوظ ہوگئے۔
    دوم: رشتہ داروں اورعزیزوں سے علیحدگی کے نتیجہ میں جس تکلیف کے پیدا ہونے کا احتمال تھا۔ وہ ان نئے روحانی رشتہ داروں کے مل جانے سے جو جسمانی رشتہ داروں کی نسبت بھی زیادہ محبت کرنے والے اورزیادہ وفادارتھے پیدا نہ ہوئی۔
    سوم: انصارومہاجرین کے درمیان جو محبت واتحاد مذہبی اورسیاسی اورتمدنی لحاظ سے ان ایام میں ضروری تھا وہ مضبوط ہوگیا۔
    چہارم:بعض غریب اور بے کار مہاجرین کے لئے ایک سہارا اورذریعہ معاش پیدا ہوگیا۔
    مدینہ کی سوسائٹی کی تقسیم اوریہود کے ساتھ معاہدہ
    یہ بتایا جاچکا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مدینہ کی آبادی
    دوحصوں میںمنقسم تھی۔ایک تو بت پرست تھے جوقبائل اوس وخزرج میں منقسم تھے۔اوردوسرے یہود تھے جن کے تین قبائل کا ذکر اوپر گزرچکا ہے۔اسلام کی آمد نے ایک تیسری جماعت مسلمانوں کی پیدا کردی اور جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس وقت مدینہ کی آبادی میں ایک اور فرقہ کااضافہ ہوگیا جو منافقین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاوجود مبارک ایک آسمانی بارش کے طور پر تھا۔جس کے نتیجہ میںزمین سے ہرقسم کی اچھی بُری روئیدگی نمودار ہونی شروع ہوجاتی ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مدینہ کی مسلمان آبادی بھی دوشاخوں میں منقسم ہوگئی اور مہاجرین وانصار کی اصطلاح کاآغاز ہوگیا۔اب گویا مدینہ میں مندرجہ ذیل فرقوں کا وجود پایا جاتاہے۔
    اوّل: مسلمان جو دو شاخوں میں منقسم تھے۔
    (الف)مہاجرین جوعموماًمکہ کے رہنے والے تھے اور جو کفارکے مظالم سے تنگ آکراپنے وطن سے نکل آئے تھے۔
    (ب)انصار جو مدینہ کے باشندے تھے اور جنہوں نے اسلام اوربانی ٔاسلام کی مدد اور حفاظت کابیڑا اٹھایاتھا۔یہ لوگ قریباًسب کے سب اوس وخزرج کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔
    دوم: منافقین یعنی اوس وخزرج کے وہ لوگ جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے مگر دل میں کافر تھے اور اسلام اوربانی ٔاسلام کے خلاف خفیہ کارروائیاں کرتے رہتے تھے نیز ایسے لوگ بھی اسی گروہ میں شامل سمجھے جاتے تھے جو ویسے تو ایمان لے آئے تھے مگران کی عملی حالت عموماًغیرمومنانہ تھی اورغیروں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی اسی طرح قائم تھے۔
    سوم: بت پرست یعنی اوس وخزرج کے وہ لوگ جوابھی تک شرک پر قائم تھے۔
    چہارم:یہود جو قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ میں منقسم تھے۔
    ان چارفرقوں میں سے پہلے فرقہ کی دونوں شاخیں پورے طور پر ایک نقطہ پر جمع تھیں کیونکہ ہر امرمیں ان کی آنکھیں ایک ہی وجود کی طرف اٹھتی تھیں اورگوعادات واطوارمیں ان کا رنگ ڈھنگ مختلف تھا اور عرب کے قدیم دستور اوررسم ورواج کے مطابق ان کا ایک نقطہ پرجمع ہونا آسان کام نہ تھا، لیکن اسلام کی تعلیم اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مقناطیسی شخصیت نے دوسرے سب جذبات کو دبادیاتھا۔دوسرا گروہ جو منافقین کا تھا وہ ایک نہایت خطرناک گروہ تھا۔یہ لوگ ظاہر میں مسلمان تھے مگر دل میں اسلام کے سخت دشمن تھے اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف بُغض اورحسد کی آگ سے جلے جاتے تھے۔ان کی خفیہ ریشہ دوانیوں اورمخفی شرارتوں نے اسلام اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے کئی موقعوں پرنہایت خطرناک حالات پیدا کردئے مگر چونکہ یہ لوگ بظاہر مسلمان کہلاتے تھے اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متبعین میں اپنے آپ کو شمار کرتے تھے، اس لئے انہیں بہرحال مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا پڑتا تھا۔اوروہ اس بات پر مجبور تھے کہ کم از کم ظاہری طور پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حکومت کو اپنے اوپر تسلیم کریں۔تیسرا گروہ،بت پرستوں کاتھا۔یہ لوگ ہجرت کے وقت تک تو کافی تعداد میں تھے مگر اس کے بعد ان کی تعداد جلد جلد کم ہوتی گئی اورتھوڑے عرصہ میں ہی مدینہ کاشہر شرک کے عنصر سے بالکل پاک ہوگیا۔یہ لوگ گو مذہباًمسلمان نہ تھے لیکن عرب کے تمدن کے ماتحت وہ اس بات کی ضرورت محسوس کرتے تھے کہ اپنے کثیر التعدادمسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر رہیں۔پس سیاسی طور پر یہ گروہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے تھا اورآپؐ کی حکومت کوتسلیم کرتا تھا۔مگرچوتھاگروہ جو یہود پر مشتمل تھاوہ ہر طرح آزاد اورخود مختار تھااورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی دوراندیش طبیعت سے یہ بعیدتھا کہ آپؐ ایسے حالات میں جبکہ شہر کا امن اورمسلمانوں کے جان ومال معرض خطر میں تھے اور پھر قریش کی عداوت کی وجہ سے اسلام کی موت اور زندگی کا سوال سامنے تھاان یہود کو مدینہ میں بغیر کسی معاہدہ کے چھوڑ دیتے۔چنانچہ ابھی ہجرت پربہت تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھاکہ آپؐ نے ایک طرف مہاجرین اوراوس وخزرج اوردوسری طرف یہود کے عمائد کو جمع کرکے ان کے سامنے اس ضرورت کو بیان کیا کہ مدینہ کی مختلف اقوام کے درمیان ایک باہمی معاہدہ ہوجانا چاہئے جس کے ماتحت آئندہ شہر کے امن اوراس کے مختلف الاقوام باشندوں کی حفاظت اوربہبودی کاانتظام ہوسکے اور کوئی صورت جھگڑے اورامن شکنی کی پیدا نہ ہو۔چنانچہ پہلے توآپؐ نے مسلمانوں اوس اورخزرج کے اندرونی نظم ونسق کے متعلق چند قواعد فیصلہ فرمائے اورپھراتفاق رائے سے یہود کے ساتھ ایک معاہدہ طے فرمایاجوباضابطہ ضبط تحریر میں لایاگیا۔یہ معاہدہ جس کی طرف احادیث اورقرآن شریف میں بھی اشارہ آتا ہے پوری تفصیل کے ساتھ تاریخ میں درج ہے اوراس جگہ ہم اس کی موٹی موٹی شرطیں اپنے الفاظ میں ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔
    ا- مسلمان اوریہودی آپس میں ہمدردی اوراخلاص کے ساتھ رہیںگے اورایک دوسرے کے خلاف زیادتی یا ظلم سے کام نہیں لیںگے۔
    ۲- ہرقوم کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔
    ۳- تمام باشندگان کی جانیں اوراموال محفوظ ہوں گے اوران کا احترام کیاجائے گا۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص ظلم یاجرم کا مرتکب ہو۔
    ۴- ہرقسم کے اختلاف اورتنازعات رسول اللہ کے سامنے فیصلہ کے لئے پیش ہوں گے اور ہر فیصلہ خدائی حکم(یعنی ہر قوم کی اپنی شریعت)کے مطابق کیا جائے گا۔
    ۵- کوئی فریق بغیر اجازت رسول اللہ جنگ کے لئے نہیں نکلے گا۔
    ۶- اگریہودیوں یا مسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تووہ ایک دوسرے کی امداد میں کھڑے ہوں گے۔
    ۷- اسی طرح اگر مدینہ پرکوئی حملہ ہوگاتوسب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔
    ۸- قریش مکہ اوران کے معاونین کویہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یاپناہ نہیں دی جائے گی۔
    ۹- ہرقوم اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔
    ۱۰- اس معاہدہ کی رُو سے کوئی ظالم یاآثم یامفسداس بات سے محفوظ نہیں ہوگاکہ اسے سزادی جاوے یااس سے انتقام لیا جاوے۔ ۱؎
    اس معاہدہ کی رُوسے مسلمانوں اوریہودیوں کے باہمی تعلقات منضبط ہوگئے اورمدینہ میں ایک قسم کی منظم حکومت کی بنیادقائم ہوگئی جس کے ماتحت ہرقوم باوجود اپنے مذہب اوراپنے اندرونی معاملات میں آزاد ہونے کے ایک اجتماعی قانون اورمرکزی حکومت کے ماتحت آگئی اوراس مرکزی حکومت کے صدر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قرار پائے۔
    مشرکین مدینہ کے نام قریش مکہ کاتہدیدی خط
    ابھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کومدینہ میں تشریف لائے زیادہ عرصہ نہیںگزراتھا کہ
    قریش مکہ کی طرف سے عبداللہ بن ابیّ بن سلول رئیس قبیلہ خزرج اوراس کے مشرک رفقاء کے نام ایک تہدیدی خط آیا کہ تم لوگ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی پناہ سے دستبردار ہوجائو ورنہ تمہاری خیر نہیں ہے۔چنانچہ اس خط کے الفاظ یہ تھے۔
    اِنَّکُمْ اٰوَیْتُمْ صَاحِبَنَا وَاِنَّا نَقْسِمُ بِاللّٰہِ لَتُقَاتِلُنَّہٗ اَوْتُخْرِجَنَّہٗ اَوْلَنَسِیْرَنَّ اِلَیْکُمْ بِاَجْمَعِنَا حَتّٰی نَقْتُلَ مَقَاتِلَتَکُمْ وَنَستَبِیْحَ نِسَائَ کُمْ۔ ۱؎
    یعنی’’ تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کوپناہ دی ہے اورہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یاتو تم اس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے خلاف جنگ کرویاکم از کم اسے اپنے شہرسے نکال دو ورنہ ہم اپنا سارا لائو لشکر لے کر تم پر حملہ آور ہوجائیں گے اورتمہارے سارے مردوں کو تہ تیغ کردیں گے اور تمہاری عورتوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنے لئے جائز کرلیں گے۔‘‘
    جب یہ خط مدینہ میں پہنچا توعبداللہ اوراس کے ساتھی جو پہلے سے ہی دل میں اسلام کے سخت دشمن ہورہے تھے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔آپؐ کو اطلاع ملی توآپؐ فوراًان لوگوں سے ملے اوران کو سمجھایا کہ میرے ساتھ جنگ کرنے میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے۔کیونکہ تمہارے ہی بھائی بند تمہارے مقابلہ میں ہوں گے۔یعنی اوس اورخزرج کے مسلمانوں نے بہرحال میرا ساتھ دینا ہے۔پس میرے ساتھ جنگ کرنے کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ تم لوگ اپنے ہی بیٹوں اوربھائیوں اورباپوںکے خلاف تلواراٹھائو۔اب تم خود سوچ لو۔‘‘ عبداللہ اوراس کے ساتھیوں کو جن کے دلوں میں ابھی تک جنگ بعاث کی تباہی کی یاد تازہ تھی یہ بات سمجھ آگئی اوروہ اس ارادے سے باز آگئے۔ ۲؎ جب قریش کو اس تدبیر میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے کچھ عرصہ کے بعد اوراسی قسم کا ایک خط مدینہ کے یہود کے نام ارسال کیا۔مگراس کا ذکر آگے چل کر اپنے وقت پر آئے گا۔دراصل کفار مکہ کی غرض یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو اسلام کے نام ونشان کو صفحۂ دنیا سے مٹادیا جاوے۔مسلمان ان کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ گئے تو وہاں انہوں نے ان کا پیچھا کیااوراس بات کی کوشش میں اپنی انتہائی طاقت صرف کردی کہ نیک دل نجاشی ان مظلوم غریب الوطنوںکو مکہ والوں کے حوالے کردے۔پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے توقریش نے آپ کا تعاقب کرکے آپؐ کوگرفتار کرلینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اوراب جب انہیں یہ علم ہوا کہ آپؐ اورآپؐ کے اصحاب مدینہ پہنچ گئے ہیں اور وہاں اسلام سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے توانہوں نے یہ تہدیدی خط بھیج کر مدینہ والوں کوآپ کے ساتھ جنگ کرکے اسلام کو ملیامیٹ کردینے یاآپؐ کی پناہ سے دستبردار ہوکرآپ کومدینہ سے نکال دینے کی تحریک کی۔ قریش کے اس خط سے عرب کی اس رسم پربھی روشنی پڑتی ہے کہ وہ جنگوں میں اپنے دشمنوں کے سارے مردوںکو قتل کرکے ان کی عورتوں پر قبضہ کرلیا کرتے تھے اورپھر ان کو اپنے لئے جائز سمجھتے تھے اورنیز یہ کہ مسلمانوں کے متعلق ان کے ارادے اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے۔کیونکہ جب یہ سزا انہوں نے مسلمانوں کے پناہ دینے والوں کے لئے تجویز کی تھی توخود مسلمانوں کے لئے تو یقینا وہ اس سے بھی زیادہ سخت ارادے رکھتے ہوں گے۔
    ابوجہل کی دھمکی
    قریش مکہ کا یہ خط ان کے کسی عارضی جوش کا نتیجہ نہ تھا۔بلکہ وہ مستقل طورپر اس بات کاتہیہ کر چکے تھے کہ مسلمانوں کو چین نہیں لینے دیں گے اوراسلام کو دنیا سے مٹا کر
    چھوڑیں گے۔چنانچہ ذیل کا تاریخی واقعہ قریش مکہ کے خونی ارادوں کا پتہ دے رہا ہے۔
    بخاری میںروایت آتی ہے کہ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد سعد بن معاذ جو قبیلہ اوس کے رئیس اعظم تھے اورمسلمان ہوچکے تھے عمرہ کے خیال سے مکہ گئے اوراپنے زمانۂ جاہلیت کے دوست امیہ بن خلف رئیس مکہ کے پاس مقیم ہوئے۔چونکہ وہ جانتے تھے کہ مکہ والے ان کے ساتھ ضرور چھیڑ چھاڑ کریں گے اس لئے انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لئے امیہ سے کہا کہ میں کعبۃ اللہ کاطواف کرنا چاہتاہوںتم میرے ساتھ ہوکرایسے وقت میں مجھے طواف کرادو جبکہ میں علیحدگی میںامن کے ساتھ اس کام سے فارغ ہوکر اپنے وطن واپس چلاجائوں۔‘‘چنانچہ امیہ بن خلف دوپہر کے وقت جبکہ لوگ عموماً اپنے اپنے گھروں میںہوتے ہیں سعدکو لے کر کعبہ کے پاس پہنچا،لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ عین اسی وقت ابوجہل بھی وہاں آنکلااورجونہی اس کی نظر سعد پر پڑی اس کی آنکھوں میں خون اترآیامگراپنے غصہ کو دبا کروہ امیہ سے یوں مخاطب ہوا کہ’’اے ابوصفوان یہ تمہارے ساتھ کون شخص ہے‘‘امیہ نے کہا۔ ’’یہ سعد بن معاذ رئیس اوس ہے۔‘‘اس پر ابوجہل نہایت غضبناک ہوکر سعد سے مخاطب ہواکہ’’کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہوکہ اس مرتد محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کوپناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کرسکو گے اورتم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اس کی حفاظت اورامداد کی طاقت رکھتے ہو؟خدا کی قسم اگراس وقت تیرے ساتھ ابوصفوان نہ ہوتا تو تواپنے گھروالوں کے پاس بچ کر نہ جاسکتا؟سعد بن معاذ فتنہ سے بچتے تھے مگران کی رگوں میںبھی ریاست کا خون تھا اوردل میں ایمانی غیرت جوش زن تھی۔کڑک کربولے’’واللہ اگرتم نے ہم کو کعبہ سے روکاتو یاد رکھو کہ پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستے پرامن نہیں مل سکے گا۔‘‘امیہ نے کہا’’سعد!دیکھو ابوالحکم سیداہل وادی کے مقابلہ میں یوں آواز بلندنہ کرو۔‘‘سعد نے جواب دیا’’جانے دو امیہ!تم اس بات میں نہ آئو۔واللہ مجھے رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی نہیں بھولتی کہ تم کسی دن مسلمان کے ہاتھ سے قتل ہوگے۔‘‘یہ خبر سن کر امیہ بن خلف سخت گھبراگیااورگھر میں آکر اس نے اپنی بیوی کو سعد کی اس بات سے اطلاع دی اور کہا کہ خدا کی قسم میں تواب مسلمانوں کے خلاف مکہ سے نہیں نکلوں گا۔ ۱؎ مگرتقدیر کے نوشتے پورے ہونے تھے۔بدر کے موقع پر امیہ کومجبوراًمکہ سے نکلنا پڑااوروہیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوکر اپنے کیفرکردار کوپہنچا۔یہ امیہ وہی تھا جوحضرت بلالؓ پراسلام کی وجہ سے نہایت سخت مظالم کیا کرتا تھا۔
    ولید بن مغیرہ کی موت اورقریش کے خونی ارادے
    پھر اسی زمانہ کی بات ہے کہ خالدبن ولید کاوالد ولید بن مغیرہ جومکہ کا ایک نہایت
    بااثراورمعزز رئیس تھا بیمار ہوگیااورجب اس نے دیکھا کہ اب اس کی موت قریب ہے تووہ بے اختیار سا ہوکر رونے لگ گیا اس وقت مکہ کے بعض بڑے بڑے رئیس اس کے پاس بیٹھے تھے۔انہوں نے حیران ہوکراس کے رونے کا سبب پوچھاتوولید نے کہا’’کیاتم سمجھتے ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں۔واللہ ایسا ہرگز نہیں۔مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کادین پھیل جائے اورمکہ بھی اس کے قبضہ میں چلاجائے۔‘‘ابوسفیان بن حرب نے جواب دیا کہ’’اس بات کا غم نہ کرو۔جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا،ہم اس بات کے ضامن ہوتے ہیں۔‘‘ ۲؎
    مدینہ میں خوف کی راتیں
    یہ تمام باتیں قریش مکہ کے ان خونی ارادوں کاپتہ دے رہی ہیں جووہ ہجرت کے بعد اسلام کے متعلق رکھتے تھے اورمسلمان ان ارادوں سے
    ناواقف نہ تھے بلکہ خوب سمجھتے تھے کہ مکہ والوں کے یہ بدلے ہوئے تیورعنقریب کوئی رنگ لائیں گے اورگوان کو خدا کے وعدوں پرپورابھروسہ تھا،لیکن فطرتاً وہ سخت خوفزدہ اورپریشان بھی تھے کہ دیکھئے ہمیں کن کن مصائب کا سامنا کرنا پڑتاہے۔شروع شروع میں تو یہ خوف ایسا غالب تھاکہ صحابہ کو مدینہ میں رات کے وقت نیند نہیں آتی تھی کہ نہ معلوم کس وقت ان پر کوئی حملہ ہوجاوے اوریہ خطرات طبعاًدوسرے مسلمانوں کی نسبت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے زیادہ تھے اورچونکہ ویسے بھی آپؐ کو سب کی نسبت مسلمانوں کی حفاظت کا زیادہ فکر تھا اس لئے آپؐسب سے زیادہ محتاط تھے۔چنانچہ نسائی ۱؎ میں ایک روایت آتی ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوَّلُ مَاقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ یَسْھَرُ مِنَ اللَّیْلِ۔’’یعنی جب شروع شروع میںآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے توآپؐ عموماًراتوںکو جاگتے رہتے تھے۔‘‘اوراسی مضمون کی ایک روایت بخاری ۲؎ اور مسلم ۳؎ میں ہے کہ اَرِقَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ثُمَّ قَالَ لَیْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ اَصْحَابِیْ یَحْرِسُنِی اللَّیْلَۃَ اِذَا سَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ ھٰذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ جِئْتُ اَحْرسَکَ فَنَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ یعنی ’’ایک رات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بہت دیر تک جاگتے رہے اورپھر فرمایاکہ اگر اس وقت ہمارے دوستوں میں سے کوئی مناسب آدمی پہرہ دیتا تو میں ذرا سولیتا۔اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔آپؐ نے پوچھا کون ہے؟آواز آئی۔یارسول اللہ!میںسعد بن ابی وقاص ہوں۔میں اس لئے حاضر ہوا ہوںکہ پہرہ دوں۔اس اطمینان کے بعد آپ تھوڑی دیر کے لئے سو گئے۔‘‘اورمسلم کے اسی باب کی دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابتدائے ہجرت کا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ فکر اپنی ذات کے متعلق نہ تھابلکہ اسلام اورمسلمانوں کی حفاظت کا فکر تھااوران خوف کے ایام میں آپؐ یہ ضروری خیال فرماتے تھے کہ مدینہ میں رات کے وقت پہرہ کاانتظام رہے چنانچہ اس غرض سے بسااوقات آپؐ خود رات کو جاگا کرتے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ہوشیاروچوکس رہنے کی تاکید فرماتے تھے اورآپؐ کا یہ فکرڈرنا یا بزدلی کی وجہ سے نہیں تھابلکہ احتیاط اور بیدار مغزی کی بناء پر تھا۔ورنہ آپؐ کی ذاتی شجاعت اورمردانگی تو دوست ودشمن میں مسلم ہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک رات مدینہ میں کچھ شور ہوا اور لوگ گھبرا کر گھروں سے نکل آئے اور جس طرف سے شور کی آواز آئی تھی ادھر کا رُخ کیا۔ابھی وہ تھوڑی دُور ہی گئے تھے کہ سامنے سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تلوار حمائل کئے ابوطلحہؓکے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار واپس تشریف لارہے تھے۔جب آپؐ قریب آئے تو آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا۔’’میں دیکھ آیا ہوں کوئی فکر کی بات نہیں،کوئی فکرکی بات نہیں۔‘‘ ۱؎ جس پر لوگ واپس لوٹ آئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات بھی آپ جاگ رہے تھے اور جونہی آپؐ نے شور کی آواز سنی آپؐ جھٹ ابوطلحہ والے گھوڑے پرسوار ہوکر اس طرف نکل گئے اور لوگوں کے روانہ ہوتے ہوتے پتہ لے کر واپس بھی آگئے۔
    قبائل عرب کی متحدہ مخالفت اورمسلمانوں کی نازک حالت
    قریش مکہ کے جن خونی ارادوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے
    وہ صرف انہی تک محدودنہ تھے بلکہ ہجرت کے بعد سے انہوں نے قبائل عرب میںمسلمانوں کے خلاف ایک باقاعدہ پراپیگنڈہ جاری کررکھا تھا اورچونکہ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے ان کا سارے عرب پر ایک گہرا اثر تھا،اس لئے ان کی اس انگیخت سے تمام عرب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورمسلمانوں کا سخت دشمن ہورہا تھا۔قریش کے قافلوں نے تو گویا اپنا یہ فرض قرار دے رکھا تھا کہ جہاں بھی جاتے تھے راستہ میں قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف ۲؎ میں قریش کے ان اشتعال انگیز دوروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔بیچارے مسلمان جو اس وقت تک صرف قریش کے خیال سے ہی سہمے جاتے تھے اب بالکل ہی سراسیمہ ہونے لگے۔چنانچہ حاکم اورطبرانی کی مندرجہ ذیل روایت ان کی اس وقت کی مضطربانہ حالت کاپتہ دیتی ہے۔
    لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُہٗ الْمَدِیْنَۃَ وَاٰوَتْھُمُ الْاَنْصَارُ رَمَتْھُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَۃٍ وَکَانُوْا لاَ یُبِیْتُوْنَ اِلاَّ بِالسِّلَاحِ وَلَا یَصْبَحُوْنَ اِلاَّ فِیْہِ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ اَلاَ تَرَوْنَ اَنَّا نَعِیْشُ حَتّٰی نَبِیْتُ اٰمِنِیْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَانَخَافُ اِلاَّ اللّٰہَ۔ ۳؎
    ’’یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ ؓ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے اورانصار نے انہیں پناہ دی توتمام عرب ایک جان ہوکر ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔اس وقت مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ رات کو بھی ہتھیار لگا کر سوتے تھے اوردن کو بھی ہتھیار لگائے رہتے تھے کہ کہیں کوئی اچانک حملہ نہ ہو جاوے اوروہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ دیکھئے ہم اس وقت تک زندہ بھی رہتے ہیں یا نہیں جب ہم رات کو امن کی نیند سوسکیں گے اورسوائے خدا کے ہمیں اورکسی کاڈر نہ ہوگا۔‘‘
    قرآن شریف نے جو مخالفین اسلام کے نزدیک بھی اسلامی تاریخ کاسب سے زیادہ مستند ریکارڈ ہے مسلمانوں کی اس حالت کامندرجہ ذیل الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے۔
    ۱؎
    ’’یعنی اے مسلمانو!وہ وقت یاد رکھو جبکہ تم ملک میں بہت تھوڑے اورکمزور تھے اورتمہیں ہروقت یہ خوف لگا رہتا تھاکہ لوگ تمہیں اُچک کرلے جائیں یعنی اچانک حملہ کرکے تمہیں تباہ نہ کردیں مگر خدا نے تمہیں پناہ دی اوراپنی نصرت سے تمہاری مدد فرمائی اورتمہارے لئے پاکیزہ نعمتوں کے دروازے کھولے۔ پس تمہیں اب شکرگزار بندے بن کر رہنا چاہئے۔‘‘
    سچ ہے اگراللہ کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تواس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت واقعی ایسی نازک ہورہی تھی کہ ظاہری اسباب کے ماتحت ان کی زندگی کے دن بہت محدود نظر آتے تھے۔بیشک مکہ میں بھی ان کے لئے مصائب تھے اور سخت مصائب تھے اورانہیں دن رات قریش کے بے دردانہ مظالم کاتختۂ مشق بن کر رہنا پڑتا تھا،لیکن مدینہ میںان کی حالت شروع شروع میں کئی لحاظ سے زیادہ نازک اورزیادہ خطرناک ہوگئی تھی،کیونکہ مکہ میں صرف قریش کی طرف سے اندیشہ تھااورقریش کے متعلق مسلمانوں کو ایک حد تک یہ اطمینان تھا کہ خواہ ان کی مخالفت کیسی بھی سخت صورت اختیار کرے جب تک مسلمان مکہ میں ہیں قبائل کے باہمی تعلقات کاخیال قریش کواس بات سے باز رکھے گاکہ وہ ایک جتھے کی صورت میں مسلمانوں پرحملہ آور ہوکر بلاتمیز سب کو تہ تیغ کردیں۔مختلف قبائل کی باہمی رقابتیں رشتہ داری کے احساسات وغیرہ کئی اس قسم کی باتیں تھیں جوعموماً قریش کو مسلمانوں کے خلاف ہاں کم از کم معززخاندانوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے خلاف انتہائی کاروائی کرنے سے باز رکھتی تھیں۔چنانچہ یاد ہوگا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کافیصلہ کس قدر طویل بحث وتامّل کے بعداورپھر کتنی احتیاطوں کے ساتھ اختیار کیا تھا،لیکن اب ہجرت کے بعدنہ صرف یہ کہ قریش مکہ کی مخالفت بہت زیادہ چمک گئی تھی اوراس خیال نے کہ مسلمان ان کے ہاتھ سے بچ کر نکل گئے ہیں اورغیروں کے ہاں پناہ گزیں ہوئے ہیںان کے بغض وعداوت کی آگ کوخطرناک طورپر بھڑکادیاتھا۔بلکہ عرب کے دوسرے قبائل بھی ایک جان ہوکرمسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اورخود مدینہ کے شہر میں ایسے منافقین موجود تھے جومخالفین کے ہاتھ میں مسلمانوں کے خلاف ایک نہایت کارگرہتھیار کاکام دے سکتے تھے اوریہود کا وجودمزید براں خطرے کے احتمالات پیدا کررہا تھااوران خطرات کے مقابلہ میں انصار کی جمعیت کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔ان حالات میں گومسلمانوں کوخدا کے وعدوں پر بھروسہ تھا،لیکن اس ظاہری حالت کو دیکھ کران میں سے بہتوں کے دل اندر ہی اندر بیٹھے جاتے تھے اورخوف اوربے چینی کاایسا غلبہ تھاکہ ان بے چاروں کورات کے وقت نیند نہیں آتی تھی۔ناظرین کوچاہئے کہ ان باتوں کواچھی طرح یاد رکھیں کیونکہ آگے چل کر انہیں باتوں نے اس جنگ عظیم کی بنیاد بننا ہے جو مسلمانوں اورکفارعرب کے درمیان وقوع میں آئی اورجس نے عرب کی وسیع سرزمین میں خون کی ندیاں بہادیں۔
    ہجرت کے بعد مہاجرین کاپہلا بچہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت
    ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں جو پہلا بچہ مدینہ میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر تھے اور اسی لئے ان کی پیدائش پر مہاجرین کو بہت خوشی ہوئی۔عبداللہ بن زبیر
    تاریخ اسلامی میں ایک بہت مشہور ومعروف آدمی ہیں۔ان کے والد زبیرابن العوام کاحال کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے۔زبیر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے اورکبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔حضرت ابوبکرؓنے اپنی لڑکی اسماء کوجوحضرت عائشہؓ کی بڑی بہن تھیں زبیر کے عقد میں دیا تھااورانہی اسماء کے بطن سے ہجرت کے پہلے سال میں عبداللہ بن زبیرپیدا ہوئے۔جس وقت عبداللہ کواٹھا کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے لایاگیاتوآپؐ نے ایک کھجور کواپنے منہ میں نرم کرکے اس کا لعاب عبداللہ کے منہ میں ڈالا اوران کے لئے دعائے خیرفرمائی اوریہی اس کی پہلی خوراک تھی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میںتو عبداللہ بالکل بچہ تھے،لیکن بعد میں بڑے ہوکرانہوں نے اپنے علم وفضل سے بڑا رتبہ حاصل کیا۔شاہان بنوامیہ کے قابل اعتراض مسلک کودیکھ کر انہوں نے اپنی علیحدہ حکومت قائم کرلی تھی،لیکن بالآخر عبدالملک بن مروان کے عہدحکومت میں شہید ہوئے۔حضرت عائشہؓ انہیں اپنے بچے کے طورپرسمجھتی تھیں اوراسی لئے ان کی کنیت عبداللہ کے نام پر ام عبداللہ مشہور ہوگئی تھی۔
    انصار کے دورئیسوں کی وفات
    ہجرت کے پہلے سال میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کواپنے دومخلص اصحاب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑایعنی کلثوم بن الہدم
    جن کے مکان پرآپؐقباء میں قیام فرما ہوئے تھے اورجو ایک معمر آدمی تھے فوت ہوگئے اوراسی زمانہ میں اسعد بن زرارۃ کا بھی انتقال ہوا۔اسعدان ابتدائی چھ اشخاص میں سے تھے جنہوں نے مکہ میںبیعت عقبہ اولیٰ سے بھی ایک سال قبل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی اورجن کے مکان پر اسلام کے سب سے پہلے مبلغ مصعب بن عمیرنے مدینہ میں قیام کیا تھااورجو ہجرت سے قبل مدینہ میں نماز باجماعت اورجمعہ کاالتزام کیا کرتے تھے۔ نیزاسعدان بارہ نقیبوںمیں سے ایک تھے جو بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پرآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے انصارمیں مقرر فرمائے تھے۔چنانچہ ان کی وفات پربنونجار نے جن کے وہ نقیب تھے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی کہ اسعد بن زرارۃ کا کوئی قائم مقام مقرر فرمایا جاوے،لیکن چونکہ اب اس کی ضرورت نہیں تھی آپؐ نے فرمایااب میں خود تمہارا نقیب ہوں کسی اور نقیب کی ضرورت نہیں۔ ۱؎
    دومعاندین اسلام کی ہلاکت
    اسی سال اسلام کے دو نہایت ذی اثر مخالفین کی موت بھی وقوع میں آئی،چنانچہ ولید بن مغیرہ کی موت کاذکر اوپرگزرچکا ہے۔اسی
    کے قریب مکہ میں عاص بن وائل کی موت واقع ہوئی۔ ۲؎ یہ دونوں شخص اسلام کے سخت مخالف تھے اور مکہ میں نہایت عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے مگر یہ ایک عجیب منظر ہے کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ان مرنے والوں کی اولادآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہوکر فدایان اسلام کی صف اول میں کھڑی نظر آتی ہے۔چنانچہ خالد بن ولید اورعمروبن العاص کے کارنامے تاریخ اسلام میں کسی معر ّفی کے محتاج نہیں۔

    جہاد بالسیف کا آغاز
    اور
    جہاد کے متعلق اصولی بحث
    جہاد بالسیف کا آغاز
    اب ہم ہجرت کے دوسرے سال اوراسلامی تاریخ کے اس حصہ میںداخل ہوتے ہیں جس میں کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کاآغاز ہوا۔جہاد بالسیف
    کا مسئلہ جس کے ماتحت مسلمانوں کی تلوار نیام سے باہر آئی باوجود درحقیقت ایک بہت صاف اورسادہ مسئلہ ہونے کے ان متضادخیالات کی وجہ سے جو بدقسمتی سے خودبعض مسلمانوں کی طرف سے اس کے متعلق ظاہر کئے گئے ہیں اورنیز بعض غیر مسلم مؤرخین کی تحریرات کی وجہ سے جوانہوں نے مؤرخ کی حیثیت سے ہٹ کرایک متعصب مذہبی مناظرکی حیثیت میں لکھی ہیں ایک نہایت پیچ دار مسئلہ بن گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسلام نے ابتداء ً تلوارکے سایہ کے نیچے پرورش پائی جوہراس شخص کے سرپراٹھتی تھی جواسلام لانے سے انکار کرتا تھا اورمسلمانوں کایہ مذہبی فرض مقرر کیاگیا تھا کہ وہ تلوار کے زور سے لوگوں کومسلمان بنائیں۔یہ خیال حقیقت سے کس قدر دوراورصحیح تاریخی واقعات کے کس قدرخلاف ہے؟اس کا جواب ذیل کے اوراق میں ملے گا۔حقیقت حال یہ ہے اوراس حقیقت کے شواہد ابھی ظاہر ہوجائیںگے کہ اس ابتدائی زمانہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہؓ نے ابتداء ًجوکچھ کیا وہ دفاع اور خود حفاظتی میں کیا اوروہ بھی اس وقت کیا جبکہ قریش مکہ اوران کی انگیخت پردوسرے قبائل عرب کی معاندانہ کارروائیاں اس حد کوپہنچ چکی تھیں کہ ان سے مقابلہ میں مسلمانوں کاخاموش رہنااوراپنی حفاظت کے لئے ہاتھ نہ اٹھاناخود کشی کے ہم معنی تھاجسے کوئی عقل مند نظراستحسان سے نہیں دیکھ سکتا اورپھرآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس دفاعی جنگ کے دوران جوجوکارروائیاں فرمائیں وہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت نہ صرف بالکل جائز اوردرست تھیں بلکہ جنگی ضابطہ اخلاق کاجو معیار آپؐنے قائم فرمایاوہ آج بھی دنیا کے واسطے ایک بہترین نمونہ ہے جس سے زیادہ سختی اورسزا کی طرف مائل ہونا عدل اوررحم کے منافی ہے اورجس سے زیادہ نرمی اوررعایت کاطریق اختیار کرنا دنیا کے امن کے لئے سم قاتل۔درحقیقت اسلام کادعویٰ ہے کہ وہ فطرت کامذہب ہے اس لئے نہ تو وہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہرصورت میں ہرگناہ اورہرجرم کی سزا ہونی چاہئے اورنہ وہ یہ سکھاتا ہے کہ کسی حالت میںبھی بدی کامقابلہ نہیںکرنا چاہئے کیونکہ یہ ہر دو تعلیمات افراط وتفریط کی راہیں ہیںاوران پر عمل کرنے سے کبھی بھی امن قائم نہیں رہ سکتااورنہ اقوام وافراد کے اخلاق کی اصلاح ہوسکتی ہے اورصحیح اورسچی تعلیم یہی ہے کہ ۔ ۱؎ یعنی ’’بدی اور جرم کی سزا اس کے مناسب حال ہونی چاہئے،لیکن اگر عفو کرنے سے اصلاح ہوتی ہو توعفو کرنا چاہئے اوراس رنگ میں عفو کرنے والا شخص خدا کے نزدیک اجر کا مستحق ہوگا۔‘‘یہ قرآنی آیت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جنگی ضابطۂ اخلاق کا خلاصہ ہے اورآپؐ کی تمام جنگی کارروائیاں اسی آیت کی تفسیر ہیں۔
    کیا اسلام میں مذہب کے معاملہ میں جبر کرناجائز ہے؟
    ابتدائی اسلامی لڑائیوں پر نظرڈالنے سے پیشتر ہمارا فرض
    ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اسلام مذہبی معاملات میں جبرکرنے کے متعلق کیا تعلیم دیتا ہے ۔یعنی کیا اسلامی تعلیم کی رو سے یہ جائز ہے کہ لوگوں کوجبراًاسلام میں داخل کیاجاوے اور تلوارکے ذریعہ اسلام پھیلایا جاوے۔ اگراسلام جبر کی اجازت دیتاہے توپھربیشک معاملہ مشتبہ ہوجائے گا۔کیونکہ اس صورت میں اس بات کا امکان ہوگا کہ شاید ابتدائی اسلامی جنگیں بھی لوگوں کوبزور مسلمان بنانے کی غرض سے کی گئی ہوں،لیکن اگریہ ثابت ہوکہ اسلامی تعلیم کی رو سے مذہب میں جبر ممنوع ہے توپھر یہ ایک قومی ثبوت اس بات کا ہوگا کہ یہ ابتدائی اسلامی لڑائیاں لوگوں کو جبراًمسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں بلکہ ان کی وجوہات کوئی اور تھیں۔کیونکہ یہ ہرگز ممکن نہیں اورکوئی عقل منداسے قبول نہیں کرسکتا کہ خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ نے ایسے برملاطور پراس تعلیم کے خلاف قدم مارا ہوجووہ خدا کی طرف منسوب کرکے لوگوں کوسناتے تھے اورجس پر ان کی قومی ہستی کادارومدار تھا۔
    اب ہم قرآن شریف پرنظر ڈالتے ہیں تووہاںصریح طورپر جبری اشاعت کے خلاف احکام پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
    ۔ ۱؎
    ’’اے رسول!توکہہ دے لوگوں سے کہ یہ اسلام حق ہے تمہارے رب کی طرف سے پھراس کے بعد جو چاہے اس پر ایمان لے آئے اورجو چاہے انکار کردے۔‘‘
    پھرفرماتاہے:
    ۲؎
    یعنی’’اے رسول!تولوگوں سے کہہ دے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آتا ہے پس اب جو شخص ہدایت کو قبول کرے گا تو اس کا فائدہ خود اسی کے نفس کو ہوگا اورجو غلط راستہ پر چلے گا اس کا وبال بھی خود اسی کی جان پر ہے اورمیں کوئی تمہاری ہدایت کاذمہ دار نہیںہوں۔‘‘
    پھرفرماتا ہے:
    ۳؎
    یعنی’’دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہونا چاہئے۔ہدایت اور گمراہی کامعاملہ پوری طرح کھل چکا ہے۔پس اب جو شخص گمراہی کوچھوڑ کر اللہ پرایمان لے آئے گا۔وہ گویا ایک نہایت مضبوط کڑے کوپکڑلے گاجوکبھی نہیں ٹوٹ سکتا اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
    اس قرآنی آیت کی عملی تشریح میں ایک حدیث آتی ہے کہ فَلَمَّا اُجْلِیَتْ بَنُو نَضِیْرٍ کَانَ فِیْھُمْ مِنْ اَبْنَائِ الْاَنْصَارِ فَقَالُوْا لَانَدَعُ اَبْنَائَ نَا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی لاَاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْتَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِیْ۔ ۴؎ یعنے جب بنونضیرمدینہ سے جلاوطن کئے گئے توان میںوہ لوگ بھی تھے جوانصار کی اولاد تھے۔ ۵؎ انصار نے انہیں روک لینا چاہا؟مگرآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس قرآنی آیت کے ماتحت کہ دین کے معاملہ میں جبر نہ ہونا چاہئے انصار کو منع فرمایا کہ ایسا نہ کریں۔‘‘ پھرحضرت عمرؓکے زمانۂ خلافت کے متعلق وثیق رومی کی ایک روایت آتی ہے کہ کُنْتُ مَمْلُوْکًا لِعُمَرَ فَکَانَ یَقُولُ اَسْلِمْ…قَالَ فَاَبَیْتُ فَقَال لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ اِعْتَقَنِی فَقَالَ اِذْھَبْ حَیْثُ شِئْتَ۔ ۱؎ یعنی وثیق رومی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں میں ان کا غلام ہوتا تھا۔آپؓ مجھ سے فرماتے رہتے تھے کہ مسلمان ہوجائو مگر میں انکار کرتا تھا اورحضرت عمرؓ یہ کہہ کرخاموش ہوجاتے تھے کہ اچھا لاَاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ یعنی دین کے معاملہ میں جبر جائز نہیں ہے۔‘‘پھرجب ان کی وفات کاوقت قریب آیاتوانہوں نے مجھے خود بخود آزاد کردیا اور فرمایا اب جہاں چاہتے ہو چلے جائو۔
    پھرخدا تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۲؎
    ’’یعنی اے رسول!کہہ دے اہل کتاب اورمشرکین سے کہ کیا تم اسلام کو قبول کرتے ہو؟یعنی ان کو اسلام کا پیغام پہنچادے۔پھراگروہ اسلام کوقبول کرلیں توجانو کہ وہ ہدایت پاگئے،لیکن اگروہ تیری دعوت کورد کردیں توتیرا کام توصرف پیغام کاپہنچا دینا ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے بندوں کوخود دیکھ رہا ہے۔‘‘
    قرآن شریف کی یہ آیات جن کو میں نے ان کے نازل ہونے کی تاریخ کے مطابق ترتیب کے ساتھ درج کیا ہے اس بات کا ایک قطعی ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیم کی رو سے دین کے معاملہ میں جبر کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اسلام نے دین کے معاملہ کوہرشخص کے ضمیرپرچھوڑ دیا ہے کہ جس مذہب کو کوئی شخص اپنے لئے پسند کرے اختیار کرے۔ ان آیات میں سے سورۃ کہف کی آیت مکی زمانہ کی ہے۔سورۃ یونس کی آیت بعض محققین کے نزدیک مکی زمانہ کے آخری ایام کی ہے اوربعض کے نزدیک مدنی ہے۔ سورۃ بقرۃ کی آیت مدینہ کے ابتدائی سالوں کی ہے جبکہ اسلامی جنگوں کا آغاز ہوا تھا اورسورۃ آل عمران کی آیت مدینہ کے آخری زمانہ کی ہے جبکہ مکہ اور طائف وغیرہ فتح ہوچکے تھے اور عرب کی جنگوں کاقریباً خاتمہ تھا۔گویا یہ مختلف آیات آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف زمانوں میں نازل ہوئی تھیں اورآخری آیت آپؐکی وفات کے قریب نازل ہوئی تھی اوریہ ساری آیات قطعی اور یقینی طورپر جبری اشاعت کوممنوع قراددیتی ہیں اوررسول کاصرف یہ کام بتاتی ہیںکہ وہ اپنی تعلیم کو کھول کھول کر لوگوں کوسنادے۔آگے ماننا نہ ماننالوگوں کا اپنا کام ہے۔اب کیا یہ ممکن ہے کہ اس صریح اورواضح تعلیم کے ہوتے ہوئے جوببانگ بلند دن رات لوگوں کو سنائی جاتی تھی اورجس کی طرف کفار کو بلایا جاتا تھا۔خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ لوگوں کوجبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار ہاتھ میں لے کر نکلتے۔اورپھر کیا اس صورت میں کفاریہ اعتراض نہ کرتے کہ تم اپنے خداکاکلام توجبرکے خلاف سناتے ہواورخود جبرکرتے ہو،مگرتاریخ سے ثابت ہے کہ کفار کی طرف سے کبھی یہ اعتراض نہیں ہوا۔حالانکہ ان کی عادت تھی کہ خوب جی کھول کھول کر آپؐکے خلاف اعتراض کیا کرتے تھے اوران کے اعتراضات قرآن کریم اورکتب حدیث وتاریخ میں کثرت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
    آغازِ جہادکے وقت مسلمانوں کی حالت جبر کے خیال کی مُکذِّب ہے
    پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت
    مسلمانوں کی طرف سے جہاد کا آغاز ہوااس وقت ان کی جو حالت تھی وہ بھی جبر کے خیال کو جھٹلاتی ہے۔بھلاگنتی کے چند لوگ جن کے خلاف گویا سارا ملک ہتھیار بند تھااور جن کا یہ حال تھاکہ خوف کے مارے ان کو رات نیند نہیں آتی تھی وہ جبر کے خیال سے جنگ شروع کرسکتے ہیں؟ایسی حالت میں تو صرف وہی شخص لڑائی کے لئے نکل سکتا ہے جویا تویہ سمجھتا ہو کہ اب موت سے بچنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو یہی ہے کہ خود حفاظتی کے لئے تلوار نکال لی جاوے اور یاوہ یہ خیال کرتا ہو کہ اب مرنا تو ہے ہی کیوں نہ مردوں کی طرح میدان جنگ میں جان دی جاوے۔ان دوغرضوں کے سوا کسی اور غرض کے لئے کوئی شخص جومجنون نہیں ہے اس حالت میں لڑائی کے لئے نہیں نکل سکتاجواس وقت مسلمانوں کی تھی۔اور یہ اس بات کاثبوت ہے کہ مسلمانوں کی ابتدائی لڑائیاں دفاع اورخود حفاظتی کے لئے تھیں نہ کہ جبراورتشددکی غرض سے۔
    کبھی کوئی شخص جبراًمسلمان نہیں بنایا گیا
    پھریہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگرآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً
    مسلمان بنانے کی غرض سے تھیںتوتاریخ سے ہمیں ایسے لوگوں کی مثالیں نظر آنی چاہئیں جوبزورمسلمان بنائے گئے آخر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ کے ہزاروں مسلمانوں اور کافروںکے نام تاریخ میں محفوظ ہیں کوئی ایک مثال توایسے شخص کی ملنی چاہئے جسے تلوار کے زور سے مسلمان بنایاگیا ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی جبری تبلیغ کی نظر نہیں آتی۔ ہاں دوسری طرف ایسی مثالیں تاریخ سے ثابت ہیں کہ عین لڑائی کے دوران میں کسی مشرک نے اسلام کااظہار کیا،لیکن مسلمانوں نے اس خیال سے کہ یہ شخص ڈرکراسلام کااعلان کررہا ہے اوراس کے اسلام کے اظہار کے ساتھ دل کی تصدیق شامل نہیں ہے اس کے اسلام کواسلام نہیں سمجھا اوراسے تلوار کی گھاٹ اتاردیا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک لڑائی میں اسامہ بن زید جوآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے آزادکردہ غلام زیدبن حارثہ کے صاحبزادے تھے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بہت عزیز تھے ایک کافرکے سامنے ہوئے۔ جب اس کافر نے دیکھا کہ اسامہ نے اس پر غلبہ پالیا ہے توکہنے لگاکہ میں مسلمان ہوتا ہوں،لیکن اسامہ نے اس کی پروا نہ کی اوراپنا نیزہ چلادیا۔جب لڑائی کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے اس واقعہ کاذکر ہواتوآپؐ اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب وہ شخص اسلام کااظہار کرتا تھا توتم نے اسے کیوں مارا؟اسامہ نے عرض کیا یارسول اللہ!وہ ڈر کے مارے ایسا کہتا تھا اوردل میں مسلمان نہیں تھا۔آپؐ نے فرمایا’’کیا تم نے اس کا دل چیر کردیکھ لیا تھا؟‘‘یعنی بالکل ممکن ہے کہ اسی وقت اس پر اسلام کی صداقت کھل گئی ہو اوروہ دل سے مسلمان ہوگیا ہو۔مثلاًایسا ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کایہ میعار رکھا ہوکہ اگر میں لڑائی میں غالب آگیاتومعلوم ہوگا کہ ہمارے بت جن کے لئے لڑ رہا ہوں سچے ہیں لیکن اگر میں مغلوب ہوگیاتوثابت ہوگا کہ خدا ایک ہے۔بہرحال اس کا میدان جنگ میں مسلمان ہونا اس بات کا یقینی ثبوت نہیں تھا کہ وہ ڈر کر مسلمان ہوتا ہے۔پس جب اس بات کا امکان تھا کہ وہ دل سے مسلمان ہوتا ہے تواسامہ کواپنا ہاتھ روک لینا چاہئے تھااوراسی لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے اور اسامہ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے کہ میں نے یہ تمنا کی کہ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا اوراب اس کے بعد مسلمان ہوتا تا کہ آپؐ کی یہ ناراضگی میرے حصہ میں نہ آتی۔۱؎
    پھر تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیںکہ اگر کسی وجہ سے خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوکسی شخص کے متعلق یہ علم ہوگیا ہے کہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہوا بلکہ محض ڈریاطمع کی وجہ سے ایسا کررہا ہے توآپؐ نے اس کا اسلام قبول نہیں فرمایا۔چنانچہ صحیح مسلم میں ایک روایت آتی ہے کہ کسی لڑائی میں صحابہ نے ایک ایسے کافر کو قید کیا جو بنوثقیف کے حلیفوں میں سے تھا۔جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس قیدی کے پاس سے گزرے تو اس نے قید سے رہائی پانے کے خیال سے کہا کہ’’اے محمدؐ!مجھے کیوں قید میں رکھا جاتا ہے میں تومسلمان ہوتا ہوں۔‘‘آپؐ نے فرمایا۔’’اگرتم اس حالت سے پہلے اسلام لاتے توخدا کے حضور یہ اسلام مقبول ہوتااورتم نجات پاجاتے مگراب نہیں۔‘‘اس کے بعد آپؐ نے اس کے بدلے میں دو مسلمان قیدی بنوثقیف سے چھڑوالئے اوراسے کفار کو واپس کردیا۔ ۱؎ الغرض تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ صحابہ نے کسی شخص کو تلوار سے ڈرا کر مسلمان بنایا ہوبلکہ جو مثال ملتی ہے اس کے خلاف ملتی ہے اوریہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں۔
    اس جگہ اگرکسی کو یہ شبہ پیدا ہو کہ لڑائی میں کسی کافر کی طرف سے اسلام کے اظہارپر اسے چھوڑ دینا یہ بھی توایک رنگ کا جبر ہے تو یہ ایک جہالت کااعتراض ہوگا۔وجہ مخاصمت کے دور ہوجانے پر لڑائی سے ہاتھ کھینچ لینا حسن اخلاق اوراحسان ہے نہ کہ جبروظلم۔کفارعرب کے خلاف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاجنگ کرنا صرف اس بناء پر تھا کہ انہوں نے آپؐ کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اسلام کی پُرامن تبلیغ کوبزور روکنا چاہتے تھے اوراس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ملک میںامن اورمذہبی آزادی قائم کرنا چاہتے تھے۔اب اگر کوئی شخص مسلمان ہوجاتا ہے توقطع نظر اس کے کہ اسے گھر میں بیٹھے ہوئے اسلام پرشرح صدرپیدا ہوتا ہے یامیدان جنگ میں۔ جب بھی وہ اسلام کااظہار کرے گا تو اس کے اس اظہار کے کم از کم یہ معنے ضرور ہوں گے کہ اب اس کی طرف سے وہ خطرہ دورہوگیا ہے جن کی بناء پر یہ جنگ ہورہی تھی تواس صورت میں لازماًاس کے خلاف کارروائی بندکردی جاوے گی۔درحقیقت جیسا کہ ابھی ظاہر ہوجائے گا جنگ کی ابتداء توکفار کی طرف سے تھی۔پس جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تھا تو طبعاًاس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ اب وہ جنگ کو ترک کرکے صلح کی طرف مائل ہوتا ہے۔پس اس کے خلاف لڑائی روک دی جاتی تھی۔یہی مفہوم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس حدیث کاہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ۔ ۲؎ یعنی’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کفار سے جنگ کروں جو اسلام کے خلاف میدان جنگ میں نکلے ہیںسوائے اس کے کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔‘‘ مگرغلطی سے بعض لوگوں نے اس حدیث کے یہ معنے سمجھ لئے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کودنیا کے تمام کافروں کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ حالانکہ یہ معنے قرآنی تعلیم اورتاریخی واقعات کے صریح خلاف ہیں اوریہ ایک سراسر خلاف دیانت فعل ہوگا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے کسی قول کے وہ معنے چھوڑ کر جو قرآن وتاریخ کے مطابق ہیںاور لغت عرب کی رو سے بھی ان پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا وہ معنے کئے جاویں جوواضح قرآنی تعلیم اور صریح تاریخی واقعات کے بالکل خلاف ہیں۔پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس قول کا یہی مطلب ہے کہ جن کفار نے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائی ہے اورملک میں نقض امن کا موجب ہو رہے ہیںمجھے ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے،لیکن اگروہ مسلمان ہوجائیں اوران کی طرف سے یہ خطرہ جاتا رہے تومجھے لڑائی بندکردینے کاحکم ہے۔گویامراد یہ ہے کہ مجھے ان کفار کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ یا تو جنگ کا طبعی نتیجہ ظاہر ہوجاوے یعنی یہ لوگ جو اسلام کے خلاف اٹھے ہوئے ہیں مفتوح ہوجائیں اورجنگ کا خاتمہ ہوجاوے اوریا وہ اسلام کی صداقت کے قائل ہوکرمسلمان ہوجائیں اوران کی طرف سے امن شکنی کاکوئی اندیشہ نہ رہے۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ صرف اسلام کے اظہار پرہی لڑائی بند نہیں ہوتی تھی بلکہ اگرکوئی قبیلہ مسلمانوں کے خلاف جنگ ترک کردیتا تھااورمسلمانوں کی سیاسی حکومت کوقبول کرلیتا تھا توخواہ وہ کفروشرک پرہی قائم رہتا تھا اس کے خلاف بھی جنگ کی کارروائی روک دی جاتی تھی ۔چنانچہ اس کی بہت سی مثالیں تاریخ میں مذکور ہیں جو اپنے موقع پربیان ہوںگی۔الغرض اسلام کے اظہار پر لڑائی بندکردینے کے حکم کا قطعاً کوئی تعلق جبرسے نہیں ہے بلکہ یہ ایک حسن سیاست کا فعل ہے جو ہر عقل مند کے نزدیک قابل تعریف سمجھاجانا چاہئے۔یہ تشریح جواس حدیث کی کی گئی ہے یہ محض عقلی تشریح نہیں بلکہ خود قرآن کریم کمال صراحت کے ساتھ اس تعلیم کوپیش کرتا ہے کہ اگر کفار اپنے مظالم سے باز آجائیں اورملک میں فساد اورامن شکنی کا موجب نہ بنیں تو اس صورت میں مسلمانوں کوان کے خلاف فوراًکارروائی روک دینی چاہئے۔ چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:
    ۱؎
    یعنی’’اے مسلمانو!تم جنگ کرو ان کفار سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اورہر شخص اپنے خدا کے لئے(نہ کسی ڈر اور تشددکی وجہ سے)جودین بھی چاہے رکھ سکے اوراگر یہ کفار اپنے ظلموں سے باز آجائیں توتم بھی رک جائو کیونکہ تمہیں ظالموں کے سوا کسی کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے۔‘‘
    اس آیت کی تفسیرحدیث میں اس طرح آتی ہے کہ عَنِ ابْنِ عُمَرَاَنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ۔قَالَ ابْنُ عُمَرَقَدْ فَعَلْنَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْکَانَ الْاِسْلَامُ قَلِیْلاً فَکَانَ الرَّجْلُ یُفْتَنُ فِی دِیْنِہٖ اِمَّا یَقْتُلُوْہُ وَاِمَّا یُوثِقُوْہُ حَتّٰی کَثُرَ الْاِسْلَامُ فَلَمْ تَکُنْ فِتْنَۃٌ۔ ۱؎ یعنی’’یہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لڑوان کفار سے جوتم سے لڑتے ہیں اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اس کے متعلق ابن عمر کہتے ہیں کہ ہم نے اس الہٰی حکم کی تعمیل یوں کی کہ جبکہ رسول اللہ کے زمانہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اورجو شخص اسلام لاتا تھا اسے کفار کی طرف سے دین کے راستے میں دکھ دیا جاتا تھا اوربعض کو قتل کردیا جاتا تھااوربعض کوقید کردیا جاتا تھا۔پس ہم نے جنگ کیا اس وقت تک کہ مسلمانوں کی تعداد اورطاقت زیادہ ہوگئی اور نومسلموںکے لئے فتنہ نہ رہا۔‘‘اس واضح اوربین آیت اوراس واضح اوربین حدیث کے ہوتے ہوئے ذومعنیین حدیث سے جبری اشاعت کی تعلیم ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہرگز دیانت داری کا فعل نہیں سمجھا جاسکتا۔
    صحابہ کی زندگیاں جبر کے خیال کی مکذب ہیں
    پھر سچے ایمان کی بعض علامات ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے اورجوکبھی بھی اس شخص میں
    پیدا نہیں ہوسکتیں جوتلوار کے زور سے مسلمان بنایاگیا ہو۔مثلاًسچے ایمان میں محبت ہوتی ہے۔اخلاص ہوتا ہے،قربانی ہوتی ہے غیرت ہوتی ہے اورناممکن ہے کہ یہ باتیں اس شخص میںپائی جائیں جس کا ایمان محض دکھادے کاایمان ہے اورجو صرف خوف کی وجہ سے کسی عقیدہ کااظہار کرتا ہے مگر اس کا دل اس ایمان سے خالی ہوتا ہے۔پس ہمیں صحابہؓ کی زندگیوں کامطالعہ کرنا چاہئے اورپھر دیکھنا چاہئے کہ کیا ان کا حال ان لوگوں کاسا نظر آتا ہے جن کا مذہب تلوار کے زور سے تبدیل کیاگیا ہو؟کیا ان کے ایمان میں محبت کی بونہیں؟کیا ان کے دل اخلاص سے خالی نظر آتے ہیں؟ کیا ان میںقربانی کی روح نہیں پائی جاتی؟کیا ان میں غیرت کی کمی محسوس ہوتی ہے؟ اگریہ نہیں اورہرگز نہیں۔اوریہ سب علامات صحابہ میں موجود ہیں اورنہ صرف موجود ہیں بلکہ بدرجہ کمال پائی جاتی ہیں اوران کی زندگیوں کاہر کارنامہ ان کے ایمان ان کے اخلاص اوراسلام کے لئے ان کی محبت اورقربانی اورغیرت پرشاہد ہے تویہ کس قدرظلم ہوگا کہ ان کے ایمان کی سچائی پرشبہ کیا جاوے۔دور نہ جائو عکرمہ بن ابوجہل کی ہی مثال لے لو۔باپ ابوجہل ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خون کاپیاسا تھا اوراسی کوشش میں ہلاک ہوا۔خود عکرمہ کایہ حال تھا کہ ہرلڑائی میں وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف لڑا اوراسلام کو مٹانے کے لئے اس نے اپنی تمام کوشش صرف کردی اوربالآخر جب مکہ فتح ہوا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ماتحتی کواپنے لئے موجب ذلت سمجھ کر مکہ سے بھاگ گیا اور مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھاجن کے قتل کاآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا،لیکن بالآخر جب وہ مسلمان ہوا تواس کے ایمان واخلاص کا یہ حال تھا کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانۂ خلافت میں اس نے باغیوں کے قلع قمع کرنے میں بے نظیر جان نثاریاں دکھلائیں اورجب ایک جنگ میں سخت گھمسان کارن پڑا اورلوگ اس طرح کٹ کٹ کر گررہے تھے جیسے درانتی کے سامنے گھاس گرتا ہے اس وقت عکرمہ چند ساتھیوں کو لے کر عین قلب لشکر میں جاکودا۔بعض لوگوں نے منع کیاکہ اس وقت لڑائی کی حالت سخت خطرناک ہورہی ہے اس طرح دشمن کی فوج میں گھسنا ٹھیک نہیں ہے لیکن عکرمہ نہ مانا اوریہی کہتا ہوا آگے بڑھتا گیا کہ ’’میں لات وعزی کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لڑا ہوں۔آج خدا کے رستے میں لڑتے ہوئے پیچھے نہیں رہوںگا۔‘‘لڑائی کے خاتمہ پردیکھا گیا تو اس کی لاش نیزوں، تلوار کے زخموں سے چھلنی تھی۔مالی قربانی کایہ حال تھا کہ جب غنائم میں سے عکرمہ کوکوئی حصہ ملتا تو وہ اسے صدقہ وخیرات اورخدمت دین میں بے دریغ خرچ کردیتاتھا اورکہا کرتا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ میں خدا کے دین کے خلاف خرچ کیا کرتا تھا اب جب تک خدا کی راہ میں خرچ نہ کرلوں مجھے چین نہیں آتا۔ ۱؎ کیا یہ وہ لوگ ہیں جوتلوار کے ڈر سے مسلمان ہوئے تھے؟
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صلح کی خواہش جبر کے خیال کوجھٹلاتی ہے
    ایک اورثبوت اس بات کا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں یہ ہے کہ آپؐ صلح کے خواہش مند رہتے تھے۔اورآپؐ کی
    یہ انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح یہ لڑائیاں بند ہوجاویں اورملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش نے سخت سے سخت شرطیں پیش کیں۔حتیٰ کہ اکثر مسلمانوں نے ان شرطوں کے قبول کرنے کواپنے لئے موجب ذلت سمجھا،لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی بات کی پروا نہ کی اورجس طرح قریش نے کہااسی طرح ان کی شرطیں مان کر صلح کرلی۔اب غور کا مقام ہے کہ اگر ان لڑائیوں میں آپؐ کی غرض یہ تھی کہ کفارکوتلوار کے زور سے مسلمان بنایاجاوے توصورت حال یہ ہونی چاہئے تھی کہ قریش صلح پر زور دیتے اورایسی نرم شرطیں پیش کرتے جنہیں مسلمان بخوشی مان لینے کو تیا ہوجاتے مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے مقابلہ میں سختی کا پہلواختیار کرتے اورصلح کی تجویز کو آنوں بانوں سے ٹال کر جنگ چھیڑے رکھتے تا کہ کفار کے جبراًمسلمان بنانے کا موقع میسر رہتا،لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظرآتا ہے جواس بات کا ایک یقینی ثبوت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی دلی خواہش یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو یہ جنگ رک جاوے اورملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو۔پھراسی موقع پر جوقرآنی آیت نازل ہوئی وہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لڑائیوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی غرض جبری تبلیغ نہ تھی بلکہ قیام امن تھی۔چنانچہ بخاری ۱؎ میں روایت آتی ہے کہ یہ آیت قرآنی کہ ۔ ۲؎ یعنی ہم نے تجھے یہ ایک بڑی کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔صلح حدیبیہ ہی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صلح اور قیام امن کانام مسلمانوں کے لئے ایک کھلی کھلی فتح رکھا ہے اورحق بھی یہ ہے کہ صلح حدیبیہ ایک نہایت عظیم الشان فتح تھی جس کے مقابل میں ایک طرح سے بدرؔوخندقؔ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔کیونکہ گوبدرؔوخندقؔ میں کفار کوہزیمت ہوئی اور وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں پسپا ہوکر لوٹے لیکن ان جنگوں میں مسلمانوں کوان کے جہاد کامقصد حاصل نہیں ہوا۔کیونکہ کفار ابھی تک اسی طرح برسرپیکار تھے اور جنگ جاری تھی،لیکن حدیبیہ میں گو کوئی کشت وخون نہیں ہوااوربظاہر مسلمانوں کو دب کر صلح کرنی پڑی،لیکن ان کے جہاد کا مقصد حاصل ہوگیایعنی جنگ رک گئی اورملک میں امن قائم ہوگیا۔پس حقیقی فتح صلح حدیبیہ ہی تھی اوراسی لئے خدا نے اس کا نام فتح مبین رکھا اور یہ ایک نہایت زبردست ثبوت اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کی لڑائیاں دفاع یاقیام امن کے لئے تھیں نہ کہ اسلام کوبزورپھیلانے کی غرض سے۔
    صلح کے زما نہ میں مسلمانوں کوغیر معمولی ترقی نصیب ہوئی
    ایک اورجہت سے بھی اس سوال پرغور ہوسکتا ہے اوروہ
    یہ ہے کہ یہ دیکھا جاوے کہ آیاصلح کے زمانہ میں اسلام کوزیادہ ترقی حاصل ہوئی یاکہ جنگ کے زمانہ میں۔اگر یہ ثابت ہوجاوے کہ صلح کے زمانہ میں اسلام نے جنگ کے زمانہ کی نسبت غیر معمولی سرعت کے ساتھ ترقی کی تھی تویہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہوگا کہ یہ لڑائیاں اسلام کی جبری اشاعت کی غرض سے نہ تھیں۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال سے عملی جنگ کا آغاز ہوگیا تھااورصلح حدیبیہ ہجرت کے چھٹے سال میں وقوع میں آئی ۔گویا صلح حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں پرقریباًپانچ سال جنگ کی حالت میں گزرے تھے۔ان پانچ سالوں میں مسلمانوں کی تعداد کااندازہ ان سپاہیوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے جو اسلامی فوج میں شامل ہوکرشریک جنگ ہوتے تھے۔اعلان جنگ ماہ صفر۲ہجری میں ہوا اور قریش کے ساتھ مسلمانوں کی پہلی لڑائی رمضان۲ہجری میں بدر کے موقع پر ہوئی جہاں مسلمان کچھ اوپر تین سوتھے۔دوسری لڑائی شوال۳ہجری میں احد کے موقع پر ہوئی جہاں مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی۔تیسری لڑائی شوال ۵ہجری میں ہوئی جوغزوہ احزاب یاغزوہ خندق کے نام سے مشہور ہے اس میں مسلمانوں کی تعدادتین ہزار تھی۔مگریہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لڑائی چونکہ مدینہ میں ہوئی تھی اس لئے اس میںمسلمان زیادہ کثرت کے ساتھ شامل ہوسکے تھے وَاِلَّا اگردور کا سفر ہوتا تو غالباًاس زمانہ میں اس کثرت کے ساتھ مسلمان شامل نہ ہوسکتے کیونکہ کمزور اور ضعیف اورغریب لوگ کثرت سے رہ جاتے۔بہرحال اس جنگ میں تین ہزار مسلمان شریک ہوئے۔اس کے بعد ذوقعدہ ۶ہجری میں غزوہ صلح حدیبیہ وقوع میں آیااوراس میں ڈیڑھ ہزارمسلمان شامل ہوئے۔گویا اس چار پانچ سالہ جنگی زمانہ کے آخری غزوہ میں مسلمانوں کی تعداد تین سو سے لے کر ڈیڑھ ہزار تک پہنچی تھی اوراگر غزوہ خندق کی تعداد پربنیاد رکھیںتوکہہ سکتے ہیں کہ یہ تعداد تین ہزار تک پہنچی تھی۔اس کے بعد صلح کا زمانہ شروع ہوااورقریباًپونے دوسال تک صلح رہی،لیکن اس صلح کے زمانہ میں جس غیر معمولی سرعت سے اسلام کی ترقی ہوئی وہ اس تعداد سے معلوم کی جاسکتی ہے جوغزوہ فتح مکہ کے موقع پر جو رمضان ۸ہجری میں ہوا مسلمانوں کی تھی۔مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس غزوہ میں اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔گویا چار پانچ سالہ جنگ کے زمانہ میں قابل جہاد مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار یا زیادہ سے زیادہ تین ہزار تک پہنچی تھی اورپونے دو سالہ امن کے زمانہ میں یہ تعداد دس ہزار کو پہنچ گئی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لڑائیاں اسلام کی جبری اشاعت کی غرض سے نہ تھیں بلکہ دراصل یہ جنگ اسلام کی ترقی میں ایک روک تھی کیونکہ جونہی یہ جنگ ختم ہوئی اسلام سرعت کے ساتھ پھیلنا شروع ہوگیا۔دراصل جنگ کی حالت میں کئی لوگ اسلام کی طرف توجہ نہیں کرسکتے تھے اورکئی کمزور طبیعت لوگ کفار کی مخالفت سے بھی ڈرتے تھے اورمسلمانوں کوبھی جنگ کی مصروفیت کی وجہ سے اصل تبلیغ کا موقع بہت کم ملتا تھا،لیکن جب جنگ رک گئی تو ایک طرف لوگوں کو اسلام کے متعلق غور کرنے کا موقع مل گیااورکمزور طبائع کا خوف جاتارہا اور دوسری طرف تبلیغ کی سرگرمی زیادہ ہوگئی اور اس کانتیجہ جوکچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔
    فتح مکہ کے موقع پر سینکڑوںکفاراسلام سے منکر رہے
    ایک اوردلیل اس بات کی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ
    لڑائیاں اسلام کی جبری اشاعت کے لئے نہیں تھیں یہ ہے کہ غزوہ مکہ کے موقع پر جب مکہ مسلمانوں کے ہاتھ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے اصحاب ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میں داخل ہوئے اس وقت گوبعض لوگ قریش مکہ میں سے اپنی مرضی سے مسلمان ہوگئے تھے،لیکن بہت سے قریش کفر پر قائم رہے اوران سے قطعاً کوئی تعرض نہیں کیاگیا۔اورپھر آہستہ آہستہ جوں جوں ان لوگوں کواسلام کے متعلق شرح صدر ہوتا گیا اوروہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوتے گئے ایسے لوگوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں تھی۔چنانچہ صفوان بن امیہ جوکہ مکہ کے رئیس امیہ بن خلف کالڑکاتھا اوراسلام کا سخت دشمن تھاوہ بھی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان نہیںہوا اورکفر کی حالت میں ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہوکرغزوہ حنین میں شریک ہواجس میں اوربھی بہت سے مشرک شریک ہوئے تھے لیکن پھرآہستہ آہستہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق سے اس پر اسلام کی حقانیت کھلتی گئی اوربالآخر وہ خودبشرح صدر مسلمان ہوگیا۔ ۱؎ اب سوال یہ ہے کہ اگرآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہؓلوگوں کو جبراًمسلمان بناتے تھے توفتح مکہ کے بعد جبکہ قریش کی طاقت بالکل ٹوٹ چکی تھی اوراسلامی لشکر مکہ پر قابض تھااس وقت مکہ والوں کو کیوں نہ جبراًاسلام میں داخل کیا گیا۔فتح مکہ سے بہتر مسلمانوں کے لئے اسلام کی جبری اشاعت کاکون سا موقع ہوسکتا تھا۔جبکہ تلوار کے ذرا سے اشارے سے ایک بہت بڑی جماعت اسلام میں داخل کی جاسکتی تھی،لیکن چونکہ اسلام مذہبی آزادی کا پیغام لے کر آیا تھا اورحکم تھا کہ دین کے معاملہ میں قطعاًکوئی جبر نہیں ہونا چاہئے۔اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے اصحاب نے کمال دیانت داری کے ساتھ ہرایک شخص کواس کے ضمیر پرآزاد چھوڑ دیا کہ جس مذہب پر کوئی چاہے رہے۔لیکن اسلام کوئی ایسا مذہب نہیں تھا کہ مشرکین عرب اس کے متعلق ٹھنڈے طورپر غورکرنے کاموقع پاتے اورپھراپنے مذہب کے مقابلہ میں اس کی خوبیوں کے قائل نہ ہوتے۔چنانچہ لوہے کی تلوار نے نہیںبلکہ براہین وآیات کی تلوار نے اپنا کام کیا اورایک نہایت قلیل عرصہ میں مکہ کی سرزمین شرک کے عنصر سے پاک تھی۔
    وجوہات جنگ
    اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کوکن حالات میں اور کن لوگوں کے خلاف جہاد بالسیف کی اجازت دی گئی اوراس کی کیا وجوہات تھیں اس سوال کے جواب میں ہمیں
    اپنے پاس سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے،تاریخ کے واقعات واضح ہیںاورایک ادنیٰ عقل کا آدمی بھی ان کے مطالعہ سے صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی آنکھوںپرتعصب کی پٹی نہ ہو۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں جوجو مظالم قریش نے مسلمانوں پرکئے اورجوجو تدابیر اسلام کو مٹانے کی انہوں نے اختیار کیں وہ ہرزمانہ میں ہرقسم کے حالات کے ماتحت کسی دو قوموں میں جنگ چھڑ جانے کا کافی باعث ہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سخت تحقیرآمیزاستہزاء اور نہایت دلآزارطعن وتشنیع کے علاوہ کفارمکہ نے مسلمانوں کو خدائے واحد کی عبادت اورتوحید کے اعلان سے جبراً روکا۔ان کو نہایت بے دردانہ طورپر مارااورپیٹا۔ان کے اموال کوناجائزطورپر غصب کیا۔ان کا بائیکاٹ کرکے ان کو ہلاک وبرباد کرنے کی کوشش کی۔ان میں سے بعض کو ظالمانہ طور پر قتل کیا۔ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی۔حتیٰ کہ ان مظالم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے،لیکن قریش نے اس پر بھی صبر نہ کیا اورنجاشی کے دربار میں اپنا ایک وفد بھیج کر یہ کوشش کی کہ کسی طرح یہ مہاجرین پھر مکہ میں واپس آجائیں اورقریش انہیں اسلام سے منحرف کرنے میں کامیاب ہوجائیں اوریا ان کا خاتمہ کردیا جاوے۔ پھرمسلمانوں کے آقا اور سردار کوجسے وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے سخت تکالیف پہنچائی گئیںاورہرقسم کے دکھوں میں مبتلا کیا گیا اورقریش کے بھائی بندوں نے طائف میں خدا کا نام لینے پرآپؐپرپتھربرسادئیے حتّٰی کہ آپؐ کابدن خون سے تربترہوگیااوربالآخر مکہ کی قومی پارلیمنٹ میں سارے قبائل قریش کے نمائندوں کے اتفاق سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ محمدرسول اللہ کوقتل کردیاجاوے تاکہ اسلام کانام ونشان مٹ جاوے اور توحید کاہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو اورپھر اس خونی قرارداد کوعملی جامہ پہنانے کے لئے نوجوانانِ مکہ جو مختلف قبائل قریش سے تعلق رکھتے تھے رات کے وقت ایک جتھہ بناکرآپؐ کے مکان پر حملہ آور ہوئے لیکن خدا نے آپؐ کی حفاظت فرمائی اور آپؐ ان کی آنکھوں پرخاک ڈالتے ہوئے اپنے مکان سے نکل آئے اور غارِ ثور میں پناہ لی۔کیا یہ مظالم اوریہ خونی قراردادیں قریش کی طرف سے اعلان جنگ کا حکم نہیں رکھتیں؟کیا ان مناظرکے ہوتے ہوئے کوئی عقل مند یہ خیال کرسکتا ہے کہ قریش مکہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف برسرپیکار نہ تھے؟پھرکیا قریش کے یہ مظالم مسلمانوں کی طرف سے دفاعی جنگ کی کافی بنیاد نہیں ہوسکتے تھے؟کیا دنیا میں کوئی باغیرت قوم جوخودکشی کاارادہ نہ کرچکی ہو ان حالات کے ہوتے ہوئے اس قسم کے الٹی میٹم کے قبول کرنے سے پیچھے رہ سکتی ہے جو قریش نے مسلمانوں کودیا؟یقینایقینااگرمسلمانوں کی جگہ کوئی اور قوم ہوتی تووہ اس سے بہت پہلے قریش کے خلاف میدان جنگ میں اترآتی۔مگرمسلمانوں کوان کے آقا کی طرف سے صبراورعفو کاحکم تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب مکہ میں قریش کے مظالم بہت بڑھ گئے توعبدالرحمن بن عوف اوردوسرے صحابہؓ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر قریش کے مقابلہ کی اجازت چاہی۔مگر آپؐ نے فرمایا اِنِّیْ اُمِرْتُ بِالْعَفْوِفَلاَ تُقَاتِلُوا۔ ۱؎ یعنی’’مجھے ابھی تک عفو کا حکم ہے اس لئے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘چنانچہ صحابہؓ نے دین کی راہ میں ہرقسم کی تکلیف اورذلت برداشت کی مگر صبر کے دامن کونہ چھوڑا حتّٰی کہ قریش کے مظالم کاپیالہ لبریز ہوکر چھلکنے لگ گیا اور خداوند عالم کی نظر میں اتمام حجت کی میعاد پوری ہوگئی۔تب خدا نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ تواس بستی سے نکل جاکہ اب معاملہ عفو کی حد سے گزر چکا ہے اوروقت آگیا ہے کہ ظالم اپنے کیفرکردار کوپہنچے۔ پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ ہجرت قریش کے الٹی میٹم کے قبول کئے جانے کی علامت تھی اور اس میں خدا کی طرف سے اعلان جنگ کاایک مخفی اشارہ تھا جسے مسلمان اورکفار دونوں سمجھتے تھے چنانچہ دارالندوہ کے مشورہ کے وقت جب کسی شخص نے یہ تجویز پیش کی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کومکہ سے نکال دیا جاوے تورئوساء قریش نے اس تجویز کواسی بناء پر رد کردیا تھا کہ اگر محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) مکہ سے نکل گیا توپھرضرور مسلمان ہمارے الٹی میٹم کوقبول کرکے ہمارے خلاف میدان میں نکل آئیں گے اور مدینہ کے انصار کے سامنے بھی جب بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت کاسوال آیا تو انہوں نے فوراًکہا کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں تمام عرب کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوجانا چاہئے اورخود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب مکہ سے نکلے اورآپؐ نے مکہ کے درودیوار پرحسرت بھری نگاہیں ڈال کرفرمایاکہ اے مکہ تومجھے ساری بستیوں سے زیادہ عزیزتھا مگرتیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے تواس پر حضرت ابوبکرؓنے بھی یہی کہا کہ انہوں نے خدا کے رسول کواس کے وطن سے نکالا ہے اب یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے۔ ۲؎ خلاصہ کلام یہ کہ جب تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ میں مقیم رہے آپؐ نے ہرقسم کے مظالم برداشت کئے،لیکن قریش کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی۔کیونکہ اول تو پیشتر اس کے کہ قریش کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی سنت اللہ کے مطابق ان پر اتمام حجت ضروری تھا اوراس کے لئے مہلت درکار تھی۔دوسرے خدا کایہ بھی منشاء تھا کہ مسلمان اس آخری حد تک عفواورصبر کانمونہ دکھلائیں کہ جس کے بعد خاموش رہناخودکشی کے ہم معنے ہوجاوے جو کسی عقل مند کے نزدیک مستحن فعل نہیںسمجھا جاسکتا۔ تیسرے مکہ میں قریش کی ایک قسم کی جمہوری حکومت قائم تھی اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس کے شہریوں میں سے ایک شہری تھے۔پس حسن سیاست کاتقاضا تھا کہ جب تک آپؐ مکہ میں رہیں آپؐ اس حکومت کااحترام فرمائیں اور خود کوئی امن شکن بات نہ ہونے دیں اورجب معاملہ عفو کی حد سے گزر جاوے توآپؐ وہاں سے ہجرت کرجائیں۔چوتھے یہ بھی ضروری تھا کہ جب تک خدا کی نظر میں آپؐکی قوم اپنی کارروائیوں کی وجہ سے عذاب کی مستحق نہ ہوجاوے اوران کو ہلاک کرنے کاوقت نہ آجاوے آپؐ ان میں مقیم رہیں اورجب وہ وقت آجاوے توآپ وہاں سے ہجرت فرماجائیں۔ کیونکہ سنت اللہ کے مطابق نبی جب تک اپنی قوم میں موجود ہو ان پر ہلاک کردینے والا عذاب نہیں آتا۔ ۱؎ اورجب ہلاکت کاعذاب آنے والا ہوتو نبی کووہاںسے چلے جانے کا حکم ہوتا ہے۔ان وجوہات سے آپؐ کی ہجرت اپنے اندر خاص اشارات رکھتی تھی مگرافسوس کہ ظالم قوم نے نہ پہنچانا اور ظلم وتعدی میں بڑھتی گئی ورنہ اگراب بھی قریش باز آجاتے اوردین کے معاملہ میں جبر سے کام لینا چھوڑ دیتے اورمسلمانوں کوامن کی زندگی بسر کرنے دیتے تو خدا ارحم الراحمین ہے اوراس کا رسول بھی رحمتہ للعالمین تھا یقینا اب بھی انہیں معاف کردیا جاتااور عرب کو وہ کشت وخون کے نظارے نہ دیکھنے پڑتے جواس نے دیکھے،مگرتقدیر کے نوشتے پورے ہونے تھے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت نے قریش کی عداوت کی آگ پر تیل کا کام دیااوروہ آگے سے بھی زیادہ جوش وخروش کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    ان غریب اور کمزور مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانے کے علاوہ جوابھی تک مکہ میں ہی تھے سب سے پہلا کام جوقریش نے کیا وہ یہ تھا کہ جونہی کہ ان کو یہ علم ہوا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ سے بچ کر نکل گئے ہیں وہ آپؐ کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اوروادی بکّہ کی چپہّ چپہّ زمین آپؐ کی تلاش میں چھان ماری اورخاص غارِثور کے منہ تک بھی جاپہنچے مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی نصرت فرمائی اورقریش کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ عین منزلِ مقصود تک پہنچ کر خائب وخاسر واپس لوٹ گئے۔جب وہ اس تلاش میں مایوس ہوئے توانہوں نے عام اعلان کیا کہ جو شخص بھی محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کوزندہ یامردہ پکڑ کر لائے گا اسے ایک سو اونٹ جوآج کل کی قیمت کے حساب سے قریباًبیس ہزارروپیہ بنتا ہے انعام دیا جائے گااوراس انعام کے لالچ میں مختلف قبائل کے بیسیوں نوجوان آپؐ کی تلاش میں چاروں طرف نکل کھڑے ہوئے۔چنانچہ سراقہ بن مالک کاتعاقب جس کا ذکر کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے اسی انعامی اعلان کا نتیجہ تھا مگر اس تدبیر میں بھی قریش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔غور کیا جاوے تودوقوموں میں جنگ چھڑ جانے کے لئے صرف یہی ایک وجہ کافی ہے کہ کسی قوم کے آقا وسردارکے متعلق دوسری قوم اس طرح انعام مقررکرے۔بہرحال یہ تجویزبھی کارگر نہ ہوئی اورقریش کو علم ہوگیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم امن وعافیت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے ہیں تو جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے رئوسائے قریش نے مدینہ کے رئیس اعظم عبداللہ بن ابیّ بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے نام ایک خطرناک تہدیدی خط ارسال کیاجس میں لکھا کہ:
    اِنَّکُمْ اَوَیْتُمْ صَاحِبَنَا وَاِنَّا نَقْسِمُ بِاللّٰہِ لَتُقَاتِلُنَّہٗ اَوْتُخْرِجُنَّہٗ اَوْلَنَسِیْرَنَّ اِلَیْکُمْ بِاَجْمَعِنَا حَتّٰی نَقْتُلَ مَقَاتِلَتَکُمْ وَنَسْتَبِیْحَ نِسَائَ کُمْ۔ ۱؎
    ’’یعنی تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کوپناہ دی ہے اورہمیں خدا کی قسم ہے کہ یاتو تم اس کا ساتھ چھوڑ کراس کے خلاف جنگ کرو یا کم سے کم اسے اپنے شہر سے نکال دوورنہ ہم ضرور بالضروراپنا سارا لائولشکر لے کر تم پر حملہ آور ہوجائیں گے اورتمہارے مردوں کوقتل کرڈالیں گے اور تمہاری عورتوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنے لئے جائز کرلیں گے۔
    اس خط سے جو تشویش بے چارے مہاجرین کودامن گیر ہوسکتی تھی وہ توظاہر ہی ہے لیکن انصار میں بھی اس نے ایک خطرناک سنسنی پیداکردی۔جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپؐ خود عبداللہ بن ابیّ کے پاس تشریف لے گئے اوراسے یہ سمجھا کرٹھنڈا کیا کہ تمہارے اپنے عزیزواقارب میرے ساتھ ہیں کیاتم اپنے جگر گوشوں سے جنگ کرو گے؟انہی ایام کے قریب سعد بن معاذرئیس اوس عمرہ کی غرض سے مکہ آئے توانہیںدیکھ کر ابوجہل کی آنکھوں میں خون اتر آیااوراس نے بگڑ کرکہا کہ ’’تم نے (نعوذ باللہ) اس مرتد محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کوپناہ دی ہے کیا تمہارا خیال ہے کہ تم اس کی حفاظت کرسکو گے۔‘‘ ۲؎ اس زمانہ میں قریش کواسلام کے استیصال کااتناخیال تھا کہ ولید بن مغیرہ رئیس مکہ جب مرنے لگاتوبے اختیار ہوکر رونے لگ گیا۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا تکلیف ہے۔ اس نے جواب دیا۔میں ڈرتا ہوں کہ میرے بعد محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم )کادین نہ پھیل جاوے۔رئوساء قریش نے کہاتم فکرمند نہ ہو۔’’ہم اس بات کے ضامن ہیں کہ اس کے دین کو نہیں پھیلنے دیںگے۔‘‘ ۳؎ یہ سب ہجرت کے بعد کی باتیں ہیں جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قریش کے مظالم سے تنگ آکر مکہ کوچھوڑ چکے تھے اورخیال کیا جاسکتا تھا کہ اب قریش مسلمانوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں گے۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ جب قریش نے دیکھا کہ اوس وخزرج مسلمانوں کی پناہ سے دستبردار نہیں ہوتے اوراندیشہ ہے کہ اسلام مدینہ میں جڑ نہ پکڑ جاوے توانہوں نے دوسرے قبائل عرب کادورہ کرکرکے ان کو مسلمانوں کے خلاف اکساناشروع کردیا اور چونکہ بوجہ خانہ کعبہ کے متولی ہونے کے قریش کا سارے قبائل عرب پر ایک خاص اثر تھا اس لئے قریش کی انگیخت سے کئی قبائل مسلمانوں کے جانی دشمن بن گئے اورمدینہ کایہ حال ہوگیا کہ گویا اس کے چاروں طرف آگ ہی آگ ہے۔چنانچہ یہ روایت اوپر گزرچکی ہے کہ:
    لَمَّاقَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَیّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُہٗ الْمَدِیْنَۃَ وَاٰوَتْھُمُ الْاَنْصَارُ رَمَتْھُمُ العَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَۃٍ فَکَانُوا لَایُبِیْتُوْنَ اِلاَّ بِالسِّلَاحِ وَلَا یَصْبَحُوْنَ اِلاَّفِیْہِ وَقَالُوا اَتَرَوْنَ اَنَّانَعِیْشُ حَتّٰی نَبِیْتُ اٰمِنِیْنَ لَانَخَافُ اِلاَّ اللّٰہَ۔ ۱؎
    یعنی ’’ ابی بن کعب جوکبار صحابہ میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے اصحاب مدینہ میں تشریف لائے اور انصار نے انہیں پناہ دی توتمام عرب ایک جان ہوکران کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔چنانچہ ان دنوں مسلمانوں کایہ حال تھا کہ خوف کی وجہ سے وہ راتوں کوبھی ہتھیار لگالگا کرسوتے تھے اوردن کو بھی ہتھیار لگائے پھرتے تھے کہ کہیں کوئی اچانک حملہ نہ ہوجاوے اوروہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ دیکھئے ہم اس وقت تک بچتے بھی ہیں یانہیں کہ ہمیں امن کی راتیں گزارنے کا موقع ملے گا اور خدا کے سوا کسی کاڈر نہ رہے گا۔‘‘
    خود سرورکائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ حال تھا کہ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَیْ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوَّلُ مَاقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ یَسْھَرُمِنَ اللَّیْلِ۔ ۲؎ ’’جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے،تو دشمن کے حملہ کے خوف سے آپؐ عموماًراتوں کوجاگا کرتے تھے۔‘‘
    اسی زمانے کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے:
    ۳؎
    ’’مسلمانو!وہ زمانہ یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اورملک میں بہت کمزور سمجھے جاتے تھے اورتمہیں یہ خوف لگا رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک کر تباہ کردیں۔ پھر خدانے تمہیں پناہ دی اوراپنی نصرت سے تمہاری تائید فرمائی اورتمہارے لئے پاکیزہ رزق کے دروازے کھولے۔پس تمہیں شکرگزارہوکر رہنا چاہئے۔‘‘
    یہ بیرونی خطرات کا حال تھااورخود مدینہ کے اندر یہ حالت تھی کہ ابھی تک ایک معتدبہ حصہ اوس وخزرج کاشرک پرقائم تھا اورگووہ بظاہر اپنے بھائی بندوں کے ساتھ تھے،لیکن ان حالات میں ایک مشرک کاکیا اعتماد کیا جاسکتا تھا۔پھر دوسرے نمبر پر منافقین تھے جو بظاہر اسلام لے آئے تھے مگر درپردہ وہ اسلام کے دشمن تھے اورمدینہ کے اندر ان کا وجود خطرناک احتمالات پیدا کرتا تھا۔تیسرے درجہ پر یہود تھے جن کے ساتھ گو ایک معاہدہ ہوچکا تھامگران یہود کے نزدیک معاہدہ کی کوئی قیمت نہ تھی۔غرض اس طرح خود مدینہ کے اندر ایسا مواد موجود تھا جومسلمانوں کے خلاف ایک مخفی ذخیرۂ بارود سے کم نہ تھااورقبائل عرب کی ذرا سی چنگاری اس بارود کو آگ لگانے اورمسلمانانِ مدینہ کو بھک سے اڑا دینے کے لئے کافی تھی۔ اس نازک وقت میں جس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیاآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پرخدا کی وحی نازل ہوئی کہ اب تمہیں بھی ان کفار کے مقابلہ میں تلوار استعمال کرنی چاہئے جوتمہارے خلاف تلوار لے کر سراسرظلم وتعدی سے میدان میں نکلے ہوئے ہیں اورجہاد بالسیف کااعلان ہوگیا۔
    اس وقت لڑائی کے قابل مسلمانوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی اوران چند سو نفوس میں بھی کثرت ان لوگوں کی تھی جو سخت درجہ کمزوری اورغربت کی حالت میں تھے اور بعض کوتو آئے دن فاقے کی نوبت رہتی تھی اوران میں سے بہت کم ایسے تھے جواپنے لئے لڑائی کامعمولی سامان تک مہیا کرسکتے تھے۔دوسری طرف فریق مقابل کایہ حال تھا کہ مذہبی لحاظ سے تو بلااستثناء سارا ملک دشمن تھا۔عملاًبھی قریش کے علاوہ جن کی تعداد ہزارہا نفوس پرمشتمل تھی اورجو دولت وثروت اورسامانِ حرب میں مسلمانوں سے کئی درجہ زیادہ مضبوط تھے بہت سے دوسرے قبائل عرب قریش کے پشت پناہ بن گئے تھے اوران خطرات کی وجہ سے مسلمانوں کوراتوں کونیند نہیں آتی تھی۔ایسی نازک حالت میں خدا کایہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو!اب تم بھی ان کفار کے مقابلہ میں تلوار لے کر اٹھ کھڑے ہو۔اس جہاد کی غرض وغایت کے متعلق کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔کیونکہ ایسی حالت میں صرف وہی شخص میدان میں نکل سکتا ہے جودوباتوں میں سے ایک کا ارادہ کرچکا ہو یا یہ کہ اب میں نے مرنا تو ہے ہی کیوں نہ مردوں کی طرح میدان میںجان دوں اوریا یہ کہ اب مرنے سے بچنے کا اگر کوئی امکانی ذریعہ ہوسکتا ہے توصرف یہ کہ تلوار لے کر میدان میں نکل جائوںاورپھر’’ہرچہ باداباد‘‘۔مسلمانوں کی ابتدائی لڑائیاں اسی آخر الذکر عزم کے ماتحت تھیں مگر باوجوداس خدائی حکم اور مسلمانوں کے اس اضطراری عزم کے اس وقت بہت سے کمزوردل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ لڑائی کے خیال سے ان کے دل بیٹھے جاتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:
    ۱؎
    یعنی جب مسلمانوں پر جہاد فرض کیا گیاتوان میں سے ایک گروہ کفار سے اتنا ڈرتا تھا کہ خدا کے ڈر سے بھی ان کا ڈر بڑھا ہوا تھا اوریہ لوگ کہتے تھے کہ اے رب ہمارے تو نے ابھی سے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا اور کیوں ہمیں تھوڑی دیر اور مہلت نہ دی۔‘‘
    پھر فرماتا ہے:
    ۲؎
    ’’یعنی اے مسلمانو! ہم جانتے ہیں کہ جہاد بالسیف تم پر ایسے وقت میں فرض کیا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے ایک مشکل اورتکلیف دہ کام ہے مگر یاد رکھو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اپنے لئے موجب تکلیف سمجھو مگر دراصل وہ اچھی ہو۔ یاتم ایک چیز کو اپنے لئے اچھا سمجھو مگر دراصل وہ بُری ہواوربیشک اللہ اس بات کو جانتا ہے مگر تم نہیں جانتے۔‘‘
    جہاد کے متعلق پہلی قرآنی آیت
    مؤرخین لکھتے ہیں کہ جہاد بالسیف کے متعلق سب سے پہلی آیت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ۱۲صفر۲ہجری۳؎ مطابق
    ۱۵؍ اگست ۶۲۳ء ۴؎ کونازل ہوئی جبکہ آپؐ کو مدینہ میں تشریف لائے قریباًایک سال کاعرصہ گزرا تھا اوروہ یہ آیت ہے:
    ۵؎
    ’’اجازت دی جاتی ہے لڑنے کی مسلمانوں کو جن کے خلاف کفار نے تلوار اٹھائی ہے۔کیونکہ وہ (مسلمان) مظلوم ہیں اورضرور اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پرقادر ہے۔وہ ظلم کے ساتھ اپنے گھروں سے نکالے گئے صرف اس بناء پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اوراگر اللہ تعالیٰ نہ روکے (دفاعی جنگ کی اجازت دے کر)ایک قوم کو دوسری قوم کے خلاف تویقینا راہبوں کے صومعے اور عیسائیوں کے گرجے اوریہود کے معابداورمسلمانوں کی مسجدیں جن میں کثرت کے ساتھ خدا کا نام لیا جاتا ہے ایک دوسرے کے ہاتھ سے تباہ وبرباد کردی جاویں اوراللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ قوی اور غالب خدا ہے۔‘‘
    اس آیت کے الفاظ جس وضاحت اورصفائی کے ساتھ ابتدائی اسلامی جنگوں کی غرض وغایت اور اس وقت کے مسلمانوں کی حالت کوظاہر کررہے ہیں وہ کسی تفسیر کی محتاج نہیں ہے اوراگر غور سے دیکھا جاوے تواس آیت سے چار باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ اوّل یہ کہ اس جنگ میں ابتداء کفار کی طرف سے تھی جیسا کہ ’’ یُقَاتَلُوْنَ‘‘کے لفظ سے ظاہر ہے۔دوسرے یہ کہ کفار مسلمانوںپر سخت ظلم کیا کرتے تھے اوران کے یہی مظالم جنگ کاباعث تھے جیسا کہ ’’بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔تیسرے یہ کہ کفار کی غرض یہ تھی کہ دین اسلام کو تلوار کے زور سے نیست ونابودکردیں جیسا کہ ’’لَھُدِّمَتْ‘‘کے لفظ میں اشارہ ہے۔چوتھے یہ کہ مسلمانوں کے اعلان جنگ کی غرض خود حفاظتی اور دفاع تھی جیسا کہ ’’لَوْلَادَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ‘‘کے لفظ سے پایا جاتا ہے۔الغرض یہ آیت کریمہ جو جہاد بالسیف کے متعلق سب سے پہلی آیت ہے کمال صفائی کے ساتھ یہ بتار ہی ہے کہ ان جنگوں میں ابتداء کفار کی طرف سے تھی جو اسلام کوبزورمٹانا چاہتے تھے اورمسلمان مظلوم تھے اورانہوں نے محض خود حفاظتی اوردفاع میں تلوار اٹھائی تھی۔میںسمجھتا ہوں کہ مخالفین اسلام کی طرف سے جہاد بالسیف کے متعلق جتنے بھی اعتراض ہوئے ہیں ان کے جواب کے لئے یہی ایک آیت کافی ہے اگر کوئی سمجھے۔
    قرآن سب سے زیادہ صحیح تاریخی شہادت ہے
    اس جگہ ممکن ہے کسی کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ قرآن توخود مسلمانوں کی اپنی
    مذہبی کتاب ہے اس کی شہادت کوکس طرح یہ رتبہ دیا جاسکتا ہے کہ اس پر ایک اہم تاریخی واقعہ کی بنیاد رکھی جاوے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا شبہ صرف اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے جوفن تاریخ اوراسلامی لٹریچر سے قطعاًناواقف ہو۔قرآن کریم کاتو وہ مرتبہ ہے کہ جس کے مقابل میں اسلامی تاریخ کاکوئی دوسرا ریکارڈ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔بھلا حدیث وتاریخ کی روایت کوباوجود محدثین اورمؤرخین کی اتنی چھان بین کے قرآن کے مقابلہ میں کیا وزن حاصل ہوسکتا ہے؟یہ صرف خوش عقیدگی کادعویٰ نہیں ہے بلکہ ایک بیّن صداقت ہے،جس کو دوست ودشمن نے تسلیم کیا ہے۔بات یہ ہے کہ یہاں کسی مذہبی مسئلہ کا سوال نہیں ہے کہ کوئی غیر مسلم یہ کہہ کر قرآن کے خیال کورد کردے کہ میںقرآنی تعلیم کوخدا کی طرف سے نہیں مانتا۔بلکہ یہاں تاریخی شہادت کاسوال ہے اوریہ مسلّم ہے کہ تاریخی شہادت سب سے زیادہ صحیح اورسب سے زیادہ مستند وہی ہوتی ہے جواس وقت کی ہو جبکہ کوئی واقعہ ہوا ہے اوران لوگوں کی ہو جن کے سامنے وہ واقع ہوا ہے اوروہ اسی وقت ضبط تحریرمیں آجاوے اورپھر اس کے بعدبھی ہرقسم کی تحریف سے پاک رہے اوراس جہت سے جو مرتبہ قرآن کریم کوحاصل ہے وہ ہرگز کسی اورکتاب کو حاصل نہیں ہے۔قرآن کریم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی نہ صرف ضبط تحریر میں آگیاتھابلکہ بہت سے حفّاظ نے اس کو اپنے ذہنوں میں لفظ بلفظ محفوظ بھی کرلیا تھا اوراس کے بعد وہ آج تک ہرقسم کی تحریف سے پاک رہا ہے اوراب بھی بعینہٖ اسی شکل وصورت میں ہے جیسا کہ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورصحابہؓ کے زمانہ میںتھا۔چونکہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے،میں اس بحث میں زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہتا۔ورنہ میں بتاتا کہ قرآن کی صحت کامرتبہ کیسا عالی شان ہے اوراس کے مقابلہ میں کسی اورسند کولاناصداقت کی ہتک کرنا ہے۔صرف بطورمثال کے دو شہادتیں پیش کرتا ہوں اوروہ بھی ان لوگوں کی جو مخالفین اسلام میںسے ہیں۔وَالْفَضْلُ مَاشَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَائُ۔
    سرولیم میور جو ایک بہت مشہور انگریز مؤرخ گزرے ہیں اورجن کی کتاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سوانح میںغالباًسب مغربی کتب سے زیادہ متداول ہے وہ اپنی کتاب’’لائف آف محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)‘‘ میں لکھتے ہیں:
    ’’اس بات کی مضبوط ترین شہادت موجود ہے کہ مسلمانوں کاقرآن محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے وقت سے لے کر آج تک غیرمحرّف ومبدّل رہا ہے۔‘‘
    پھرلکھتے ہیں:
    مسلمانوں کے قرآن کا ہماری اناجیل کے ساتھ مقابلہ کرنا جو بدقسمتی سے بہت کچھ محرّف ومبدّل ہوچکی ہیں دو ایسی چیزوں کامقابلہ کرنا جن کوایک دوسرے سے کوئی بھی مناسبت نہیں۔‘‘
    پھر لکھتے ہیں:
    اس بات کی پوری پوری اندرونی اوربیرونی ضمانت موجود ہے کہ قرآن اب بھی اسی صورت وشکل میں ہے جیسا کہ وہ محمد( صلی اﷲ علیہ وسلم) کے وقت میں تھا۔‘‘ ۱؎
    یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سرولیم میور اسلام کے دوستوں میں سے نہیں ہیںبلکہ انہوں نے اپنی کتاب میں جابجا اسلام اوربانی ٔاسلام پرسخت حملے کئے ہیں مگر قرآن کی وہ ارفع شان ہے جسے کسی کا تعصب گرد آلود نہیں کرسکتا۔پھر نولڈیکی جوجرمنی کاایک نہایت مشہورعیسائی مستشرق گزرا ہے اور جو اس فن میں گویا استاد مانا گیا ہے قرآن کے متعلق لکھتا ہے کہ:
    ’’آج کا قرآن بعینہٖ وہی ہے جوصحابہؓ کے وقت میں تھا۔‘‘
    پھرلکھتا ہے کہ:
    ’’یوروپین علماء کی یہ کوشش کہ قرآن میں کوئی تحریف ثابت ہوسکے قطعاً ناکام رہی ہے۔‘‘ ۲؎
    یہ تو قرآن کی عام صحت کے متعلق اہل مغرب کی شہادت ہے۔ پھر خاص تاریخی نقطہ نگاہ سے سرولیم میور لکھتے ہیں کہ:
    ’’اسلام اور بانی ٔاسلام کے متعلق تاریخی تحقیقات کرنے کے لئے قرآن ایک بنیادی پتھر ہے جس سے ہرواقعہ کی صحت جانچی جاسکتی ہے‘‘
    پھرلکھتے ہیں:
    ’’نبی ٔاسلام کے سوانح کے لئے قرآن ایک یقینی کلید ہے۔‘‘ ۳؎
    پھر پروفیسر نکلسن جوانگلستان کاایک مسیحی مستشرق ہے اورجس کی تصنیف’’عرب کی ادبی تاریخ‘‘بہت شائع اور متعارف ہے،اپنی اس کتاب میں لکھتا ہے:
    ’’اسلام کی ابتدائی تاریخ کاعلم حاصل کرنے کے لئے قرآن ایک بے نظیر اورہرقسم کے شک وشبہ سے بالاکتاب ہے اوریقینا بدھ مذہب اورمسیحیت یاکسی قدیم مذہب کواس قسم کا مستند تاریخی ریکارڈ حاصل نہیں ہے جیسا کہ قرآن میں اسلام کوحاصل ہے۔‘‘ ۴؎
    الغرض قرآن کریم ابتدائی اسلامی تاریخ کابالکل سچا اورسب سے زیادہ مستند ریکارڈ ہے اوراس کو وہ مرتبہ حاصل ہے جوحدیث یاسیرت یاتاریخ کوحاصل نہیںہے۔پس جب قرآن کریم اپنی اس آیت میں جو سب سے پہلے جہاد بالسیف کی اجازت میں نازل ہوئی نہایت واضح اورغیر مشکوک الفاظ میںیہ شہادت دے رہا ہے کہ ابتداء کفار کی طرف سے تھی اورمسلمانوں نے محض دفاع میں تلوار اٹھائی تھی تورکیک اوربودے استدلالات کرکے مسلمانوں کی طرف سے ابتداء ہونے کا ثبوت تلاش کرنا ہرگز دیانت داری کافعل نہیں سمجھا جاسکتا۔
    جہاد کے متعلق بعض دوسری قرآنی آیات
    اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی بعض دوسری آیات بھی درج کردی جاویں جو
    وقتاًفوقتاًجہاد بالسیف کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں کیونکہ ان سے ابتدائی اسلامی جنگوں کے حالات پر ایک ایسی روشنی پڑتی ہے جوکسی دوسری جگہ میسر نہیں آسکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ۱؎
    اے مسلمانو!لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیںمگر دیکھنا زیادتی نہ کرنا کیونکہ زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔اورلڑو ان کفار سے جو تم سے لڑتے ہیں جہاں بھی ان کا اورتمہارا سامنا ہو۔اورنکالو ان کو اس جگہ سے جہاں سے وہ تمہیں نکالیں۔یعنی جہاں بھی وہ تمہارے اثر کو بزور مٹانا چاہیں تم ان کا مقابلہ کرو۔اوربیشک وہ فتنہ جس کے یہ لوگ مرتکب ہورہے ہیں وہ قتل سے بھی سخت تر ہے مگر ہاں لڑائی مت کرو حرم کے علاقہ میں لیکن اگر یہ کفار خود تم سے حرم میں لڑائی کی ابتداء کریں توپھر بے شک تم بھی ان کا مقابلہ کرو۔کیونکہ ناشکرگزاروں کی یہی سزا ہے اوراگر کفار اس سے باز آجائیں تو جانو کہ اللہ بھی غفورورحیم ہے اوراے مسلمانو!تم لڑو ان کفار سے اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اوردین خدا ہی کے لئے ہوجاوے۔یعنی دین کے معاملہ میں سوائے خدا کے اور کسی کاخوف نہ رہے اورہر شخص آزادی سے اپنی ضمیر کے مطابق جودین پسند کرے وہ رکھ سکے اوراگر یہ کفار جنگ سے باز آجائیں توتم بھی فوراًرک جائو۔کیونکہ کسی کو جنگ کشی کا حق نہیں ہے مگر صرف ظالموں کے خلاف۔‘‘
    یہ آیت بھی اپنے معانی میں نہایت واضح ہے اوراس سے صاف طورپر پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کاحکم صرف ان لوگوں کے خلاف دیا گیا تھا جوان سے دین کے معاملہ میں جنگ کرتے تھے اور ان کو تلوار کے زور سے ان کے دین سے پھیرنا چاہتے تھے اورنیز یہ کہ مسلمانوں کویہ بھی حکم تھا کہ اگر یہ کفار جنگ سے باز آجائیں تو تمہیں بھی چاہئے کہ فوراًرک جائواوراس آیت میں جنگ کی حکمت بھی بیان کی گئی ہے اوروہ یہ کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور مذہبی آزادی قائم ہوجاوے۔
    پھرفرماتا ہے:
    ۱؎
    ’’اوراگر یہ کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو اے نبی تمہیں چاہئے کہ تم بھی صلح کی طرف جھک جائو اور اللہ پر توکل کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
    پھرفرماتا ہے:
    ۔ ۲؎
    ’’اوراگر کوئی مشرک تمہاری پناہ میں داخل ہوکر تمہارے پاس تحقیق دین کے لئے آنا چاہے تو اسے آنے دو اورپھر اپنی حفاظت میںاسے اس کی امن کی جگہ میں واپس پہنچا دو۔‘‘
    پھرفرماتا ہے:
    ۳؎
    ’’اوروہ لوگ جوایمان تو لے آئے ہیں مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی۔یعنی وہ تمہارے مصائب میں تمہارا ہاتھ نہیں بٹاتے وہ تمہاری سیاسی دوستی کے حقدار نہیں ہیں۔البتہ اگروہ کسی دینی معاملہ میں تم سے مددمانگیں توتمہارا فرض ہے کہ تم ان کو مدد دو،لیکن ان کفار کے خلاف تمہیں مدد دینے کی اجازت نہیں ہے جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو، اور اے مومنو! ہوشیارہوکہ خداتعالیٰ تمہارے اعمال کودیکھ رہا ہے۔‘‘
    ۱؎
    ’’اور پوراکرو اپنے عہد کو کیونکہ یقینا تمہیں اپنے عہد کے متعلق خدا کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘‘
    پھرفرماتا ہے:
    ۔ ۲؎
    ’’نہیں منع کرتا اللہ تم کو ان لوگوں سے جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں لڑائی نہیں کی اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یہ کہ تم ان سے مہربانی کاسلوک کرواور ان سے عدل اوراحسان سے پیش آئو۔بیشک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے تم کو کہ دوست بنائو ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارے خلاف دین کے معاملہ میں لڑائی کی اورتمہارے گھروں سے تمہیں نکالا یا تمہارے نکالے جانے میں اعانت کی۔ اورجو کوئی دوستی لگائے گا ایسے دشمنوں کے ساتھ تو ایسے لوگ ظالموں میں سے سمجھے جائیں گے۔‘‘
    پھرفرمایا:
    ۳؎
    ’’اے مومنو!چاہئے کہ تم دنیا میں خدا کے لئے عدل وانصاف کوقائم کرو اور چاہئے کہ ہرگز نہ آمادہ کرے تم کو کسی قوم کی دشمنی اس بات پرکہ تم اس کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش نہ آئو۔بلکہ تمہیں چاہئے کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل وانصاف کامعاملہ کرو کیونکہ عدل وانصاف کرنا تقویٰ کاتقاضا ہے۔پس تم متقی بنو اوریاد رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
    جہاد بالسیف کے متعلق بعض اصولی روایات
    یہ قرآن شریف کا بیان گزرا ہے اورگوقرآن کے بیان کے بعد کسی اور بیان کی حاجت نہیں
    رہتی، لیکن اس خیال سے کہ کسی شخص کویہ شبہ نہ گزرے کہ شاید عام تاریخی روایات قرآن کے مخالف ہوں اس جگہ بعض روایات بھی درج کردینی مناسب ہیں جن سے اسلام کی ابتدائی لڑائیوں پرایک اصولی روشنی پڑتی ہے۔سوروایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ:
    یٰاَیُّھَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَاسْئَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا۔ ۱؎ ’’اے مسلمانو!تمہیں چاہئے کہ دشمن کے مقابلہ کی خواہش نہ کیا کرو اورخدا سے امن وعافیت کے خواہاں رہو اوراگرتمہاری خواہش کے بغیر حالات کی مجبوری سے کسی دشمن کے ساتھ تمہارا مقابلہ ہوجائے توپھر ثابت قدمی دکھائو۔‘‘
    اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ کفار کی طرف سے اعلان جنگ ہوچکا تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی ان کا چیلنج قبول کرلیا تھا اورجنگ کاآغاز ہوچکا تھا پھر بھی مسلمانوں کویہی حکم تھا کہ وہ اس جنگ کے جزوی مقابلوں میں بھی لڑائی کی خواہش نہ کیا کریں۔ہاں البتہ اگردشمن سے مقابلہ ہوجاوے توپھر جم کر لڑیں۔
    پھرروایت آتی ہے کہ:
    سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ رِیَائً اَیُّ ذٰلِکَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ ۲؎
    ’’یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص ہے کہ وہ اپنی بہادری کے اظہار کے لئے جنگ کرتا ہے اورایک شخص ہے کہ وہ خاندانی یاقومی غیرت کی وجہ سے لڑتا ہے اورایک شخص ہے کہ وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے لڑائی کرتا ہے۔ان میں سے کون سا شخص فی سبیل اللہ لڑنے والا سمجھا جاسکتا ہے۔آپؐ نے فرمایاکوئی بھی نہیں بلکہ خداکے رستے میں وہ شخص لڑنے والا سمجھا جائے گا جو اس لئے لڑتا ہے کہ جو کوشش کفار کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے دین کومغلوب کرنے کی جاری ہے اس کا قلع قمع ہواورخدا کادین کفار کی ان کوششوں کے مقابل پر غالب آجاوے۔‘‘
    عَنْ بَرِیْدَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا لَقِیْتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ فَادْعُھُمْ اِلٰی ثَلٰثِ خِلَالٍ فَاِنْ اَجَابُوْکَ فَاقْبِلْ مِنْھُمْ وَکَفَّ عَنْھُمْ اُدْعُھُمْ اِلٰی الْاِسْلَامِ فَاِنْ اَجَابُوْکَ فَاقْبِلْ مِنْھُمْ وَکَفَّ عَنْھُمْ ثُمَّ ادْعُھُمْ اِلَی التَّحُوُلِ مِنْ دَارِھِمْ اِلٰی دَارِالْمُھَاجِرِیْنَ وَاخْبِرْھُمْ اَنَّھُمْ اِنْ فَعَلُوْا ذَالِکَ فَلَھُمْ مَالِلْمُھَاجِرِیْنَ وَعَلَیْھِمْ مَاعَلَیْھِمْ فَاِنْ اَبَوا اَنْ یَتَحَوَّلُوْا مِنْھَا فَاخْبِرْھُمْ اَنَّھُمْ یَکُوْنُوْنَ کَاَعْرَابِ الْمُسْلِمِیْنَ یَجْرِیْ عَلَیْھِمْ حُکْمُ اللّٰہِ تَعَالٰی الَّذِیْ یَجْرِیْ عَلٰی الْمُوْمِنِیْنَ وَلاَ یَکُوْنُ لَھُمْ فِی الْغَنِیْمَۃِ وَالْفَیئِ شَیٌٔ اِلاَّ اَنْ یُجَاھِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِنْ ھُمْ اَبَوْا فَسَلْھُمُ الْجِزْیَۃَ فَاِنْ ھُمْ اَجَابُوْکَ فَاقْبِلْ مِنْھُمْ وَکَفَّ عَنْھُمْ فَاِنْ اَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَقَاتِلْھُمْ۔ ۱؎
    ’’یعنی بریدۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیںکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب کوئی فوجی دستہ روانہ کرتے تھے تواس کے امیر کویہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ جب تم اپنے دشمنوں کے سامنے ہو یعنی اس قوم سے تمہاری مٹھ بھیڑ ہو جاوے جن سے تمہاری لڑائی چھڑی ہوئی ہے تو لڑائی شروع کرنے سے پہلے انہیں تین باتوں کی دعوت دیا کرو۔اگران تینوں میں سے وہ کوئی ایک بھی مان لیں تو پھران سے مت لڑو۔سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو۔اگر وہ مان لیں توان کے اسلام کو قبول کرو اوران سے اپنا ہاتھ کھینچ لو۔ پھر اس کے بعد تم ان کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی تحریک کرواوران سے کہو کہ اگر وہ ہجرت کریںگے توان کو مہاجرین کے حقوق دئے جائیںگے اورمہاجرین والی ذمہ داری بھی ان پر ہوگی۔ اگر وہ ہجرت پر رضامند نہ ہوں تو پھر ان سے کہہ دو کہ وہ اسلام میں تو داخل ہوجائیں گے لیکن مہاجرین کے حقوق ان کونہیں ملیں گے کیونکہ وہ صرف جہاد فی سبیل اللہ سے حاصل ہوتے ہیں۔اوراگر وہ تمہاری دعوت اسلام کوہی رد کردیں توپھر ان سے کہو کہ ٹیکس دینا قبول کرکے اسلامی حکومت کے ماتحت آجائو۔اگروہ یہ صورت مان لیں تو پھربھی ان سے لڑائی مت کرو،لیکن اگر وہ انکار کریں تو پھر خدا کانام لے کر ان سے لڑو۔‘‘
    پھرروایت آتی ہے کہ:
    عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَرْیَۃٍ فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَغَارَ اِسْتَحْثَثْتُ فَرَسِیْ فَسَبِقْتُ اَصْحَابِیْ فَتَلَقَّانِیْ اَھْلُ الْحَیِّ بِالرَّنِیْنَ فَقُلْتُ لَھُمْ قُوْلُوْا لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ فَقَالُوْھَا فَلاَ مَنِیْ اَصْحَابِیْ فَقَالُوْا حَرَّمْتَنَا الْغَنِیْمَۃَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبَرُوْہُ بِالَّذِیْ صَنَعْتُ فَدَعَانِیْ فَحَسَنَ لِیْ مَا صَنَعْتُ ثُمَّ قَالَ لِیْ اَمَا اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْکَتَبَ لَکَ بِکُلِّ اِنْسَانٍ مِنْھُمْ کَذَا وَکَذَا مِنَ الْاَجْرِ وَقَالَ اَمَا اِنِّی سَاَکْتُبُ لَکَ الْوِصَائَۃَ بَعْدِیْ فَفَعَلَ وَخَتَمَ عَلَیْہِ وَدَفَعَہٗ اِلَیَّ۔ ۱؎
    ’’یعنی حارث بن مسلم بن حارث اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میںبھیجا۔جب ہم منزل مقصود پرپہنچے تو میں نے اپنے گھوڑے کوایڑ لگا کراپنے آپ کو ساتھیوں سے آگے کرلیا۔جب قبیلہ کے لوگ مجھے ملے تووہ اچانک حملہ کی وجہ سے ڈر کر عاجزی کرنے لگ گئے۔جس پر میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگئے۔اس پر میرے بعض کمزور ساتھیوں نے مجھے ملامت کی کہ تم نے ہمیں غنیمت سے محروم کردیا ہے۔پھر جب ہم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو لوگوں نے اس واقعہ کی آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐنے مجھے بلایا اورمیرے فعل کی تعریف کی اورفرمایا کہ تم نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے اورپھر کہا کہ خدا نے تمہارے لئے اس قبیلہ کے ہر آدمی کے بدلنے میں اتنا اجرمقرر کیا ہے اورجوشِ مسرت میںفرمایا کہ آئو میں تمہیں ایک پروانہ خوشنودی لکھ دیتا ہوں تاکہ ہمیشہ کے لئے میری یہ خوشنودی تمہارے پاس رہے۔ چنانچہ آپؐ نے مجھے ایک پروانہ لکھ دیا اوراس پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔‘‘
    پھرروایت آتی ہے کہ:
    عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَاَصَابَ النَّاسُ حَاجَۃً شَدِیْدَۃً وَجَھْدًا فَاَصَابُوْا غَنَمًا فَانْتَھَبُوْھَا فَاِنَّ قُدُوْرُنَا لَتُغْلِیْ اِذْجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْشِیْ بِاِکْفَائِ الْقُدُوْرِ بِقَوْسِہٖ ثُمَّ جَعَلَ یَرْمِلُ اللَّحْمَ بِالتُّرَابِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ النَّھْبَۃَ لَیْسَتْ بِاَحَلَّ مِنَ الْمَیْتَۃِ۔ ۲؎
    یعنی’’ عاصم بن کلیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے توایک موقع پر لوگوں کو خطرناک بھوک لگی اوروہ سخت مصیبت میں مبتلا ہوگئے اور(ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا)جس پر انہوں نے ایک بکریوں کے گلہ میں سے چند بکریاں پکڑ لیں اورانہیں ذبح کرکے پکانا شروع کردیا۔ہماری ہنڈیاں اس گوشت سے ابل رہی تھیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اوپر سے تشریف لے آئے اورآپؐ نے آتے ہی اپنی کمان سے ہماری ہنڈیوں کوالٹ دیااورغصہ میںگوشت کے ٹکڑوں کومٹی میں مسلنے لگ گئے اور فرمایا کہ لوٹ کا مال مردار سے بہتر نہیں ہے۔‘‘
    یہ ان لوگوں کا قصہ ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ان کو لوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی۔ میںسمجھتا ہوں کہ اگر آج کسی یورپین فوج کواس طرح کی حالت پیش آئے کہ ان کے پاس زادراہ ختم ہوگیا ہواورفوجی لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہوں توکسی چرتے ہوئے گلہ کی بکریوں پرقبضہ کرلینا تو معمولی بات ہے وہ نہ معلوم کیا کچھ جائز قرار دے لیں۔
    پھر روایت آتی ہے کہ:
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَجُلاً قَالَ یَارَسُوْْلَ اللّٰہِ رَجُلٌ یُرِیْدُالجِھَادَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَھُوَ یَبْتَغِیْ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا فَقَالَ لَااَجْرَلَہٗ فَاَعَارَلَہٗ ثَلاَ ثًا کُلُّ ذَالِکَ یَقُوْلُ لَااَجْرَلَہٗ۔ ۱؎
    ’’یعنی ابوہرہرہؓروایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ایک شخص ہے کہ اس کی اصل نیت توجہاد فی سبیل اللہ کی ہے،لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ جنگ میں کچھ مال ومتاع بھی مل رہے گا تواس میں کوئی حرج تونہیں ہے۔ آپؐنے فرمایا۔ایسے شخص کے لئے ہرگز کوئی ثواب نہیں ہے۔اس شخص نے حیران ہوکر تین دفعہ اپنا سوال دوہرایا۔مگر ہر دفعہ آپؐ نے یہی جواب دیا کہ اس کے لئے ہرگز کوئی ثواب نہیں۔‘‘
    اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد کرنے والے کی نیت خالصۃً دینی ہونی چاہئے اوراگر حفاظت دین کے علاوہ کوئی ذراساخیال بھی اس کے دل میں پیدا ہوتو وہ ثواب سے محروم ہوجاتا ہے اور غنیمت اوردنیوی مال ومتاع کی امید رکھنا مجاہد کے لئے قطعی حرام ہے۔
    پھر روایت آتی ہے کہ:
    مَامِنْ غَازِیَۃٍ تَغْزُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُصِیْبُوْنَ غَنِیْمَۃً اِلاَّ تَعَجَّلُوْا ثُلَثَی اَجْرِھِمْ مِنَ الْاٰخِرَۃِ وَیَبْقٰی لَھُمُ الثُّلُثُ وَاِنْ لَمْ یُصِیْبُوْا غَنِیْمَۃً تَمَّ لَھُمْ اَجْرُھُمْ۔ ۱؎
    یعنی’’ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جومجاہدین خدا کی راہ میں لڑنے کے لئے نکلتے ہیں اوران کو لڑائی میں غنیمت کامال ہاتھ آجاتا ہے توان کا دوتہائی ثواب آخرت کاکم ہوجائے گا اورصرف ایک تہائی ثواب ملے گا۔لیکن اگر انہیں کوئی غنیمت ہاتھ نہ آئے توان کو پورا پوراثواب ملے گا۔‘‘
    یہ حدیث گزشتہ حدیث کی نسبت زیادہ واضح ہے کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی لڑائی میں خالصۃًجہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے شامل ہوتا ہے اوراس میں کوئی ملونی دنیا کی نہیں ہوتی اورپھر اسے بغیرخیال اورامیدکے غنیمت کامال بھی مل جاتا ہے توپھر بھی چونکہ اسے دنیا کے اموال سے حصہ مل گیا ہے اس لئے اس کا آخرت کااجرکم ہوجائے گا۔لیکن جو شخص خالص جہادکی نیت سے نکلتا ہے اوراسے غنیمت کامال مطلقاًنہیں ملتا وہ پورے پورے ثواب کاحق دار ہوگا۔گویا جہاں گزشتہ حدیث صحابہ کے دل میں دنیا کے اموال سے محض عدم رغبت پیدا کرتی تھی وہاں یہ حدیث دوری اور ایک قسم کی نفرت پیدا کرتی ہے اوراس تعلیم کے ہوتے ہوئے ایک سچا مسلمان نہ صرف یہ کہ غنیمت وغیرہ کاخیال تک دل میں نہیں لائے گا بلکہ غنیمت کے مواقع سے بھی حتی الوسع پرہیزکرے گا اور اس کی یہی خواہش اورکوشش ہوگی کہ جس طرح بھی ہو غنیمت اسے نہ ملے تاکہ جہاد کے ثواب میں کمی نہ آئے۔چنانچہ کمزور لوگوں کوالگ رکھ کر جس کا وجود کم وبیش ہرقوم میں پایا جاتا ہے مگر جو یقینا صحابہ کی جماعت میںدنیا کی ہر قوم سے کمتر تعداد میںتھے صحابہ اس حقیقت کوخوب سمجھتے تھے اوراس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ ابودائودکی روایت میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح مسلم بن حارث نے ایک دشمن قبیلہ پر حملہ کرکے غنیمت حاصل کرنے کی بجائے اسلام کی تحریک کرکے مسلمان بنالیا اورخود غنیمت سے محروم ہوگیا اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے فعل کی بہت تعریف فرمائی اوراسے اپنی طرف سے ایک پروانہ خوشنودی عطا فرمایا۔
    پھرابودائود ہی کی روایت ہے کہ جب ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ایک غزوہ میں مدینہ سے نکلنے لگے توایک بوڑھے انصاری نے ۱؎ ایک غریب صحابی واثلہ بن اسقع کواپنی طرف سے سواری وغیرہ کاانتظام کردیا۔جہاد کے بعدواثلہ بن اسقع،کعب بن عجرۃکے پاس آئے اورکہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ یہ اونٹنیاں غنیمت میں دی ہیں تم اپنا حصہ لے لو۔کعب نے کہا۔بھتیجے!خدا تمہیں یہ مال مبارک کرے۔میری نیت غنیمت کی نہ تھی بلکہ ثواب کی تھی اورحصہ لینے سے انکار کردیا۔ ۲؎
    پھرنسائی میں ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پرایک اعرابی ایمان لایا اور ایک غزوہ میں ساتھ ہولیا۔جب کچھ مال غنیمت ملاتوآپ نے اس کا حصہ بھی نکالا۔اسے معلوم ہوا تو وہ آپ کی خدمت میں حاضرہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ!آپؐ نے میراحصہ نکالا ہے۔خدا کی قسم میں تو اس خیال سے مسلمان نہیں ہوا تھا ۔میری تو یہ نیت تھی کہ مجھے خدا کی راہ میں(حلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)اس جگہ تیرلگے اورمیں جنت میں جائوں۔آپؐ نے فرمایا۔اگریہ شخص سچی خواہش کا اظہار کرتا ہے توخدااسے پورا کرے گا۔تھوڑی دیربعد لڑائی ہوئی تو وہ شخص وہیں حلق میں تیرکھا کر شہیدہوا۔جب صحابہؓ اسے آپؐکے سامنے اٹھا کرلائے توآپؐ نے پوچھا کیا یہ وہی ہے۔صحابہ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔آپ ؐ نے فرمایا!’’خدا نے اس کی آرزو کوپوراکردیا‘‘۔پھرآپؐ نے اس کے کفن کے لئے اپنا جبہ عطا کیا اوراس کے لئے خاص طورپر دعا فرمائی۔ ۳؎
    افسوس۔صدافسوس! ان شہادتوں کے ہوتے ہوئے بعض لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ پر یہ الزام لگاتے ہوئے خدا کا خوف نہیں کرتے کہ ان لڑائیوں میں ان کی غرض لوٹ ماراوردنیا کمانا تھی۔ ۴؎
    عرب میں جنگ کاطریق
    کفار اورمسلمانوں کی لڑائیوں کواچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ عرب میں جنگوں کاطریق دورنگ رکھتا تھا،جسے انگریزی
    میں فیوڈ(FEUD )کہتے ہیں۔یعنی جب کسی وجہ سے عرب کے دو قبائل میں جنگ چھڑتی تھی تو پھرجب تک ان میں باقاعدہ صلح نہ ہوجاتی تھی وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں سمجھے جاتے تھے اورموقع پاکر وقفہ وقفہ سے آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ حتّٰی کہ بعض اوقات یہ جنگیں بڑے بڑے لمبے عرصہ تک جاری رہتی تھیں۔چنانچہ جنگ بسوس جس کا ذکر کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے اسی طرح وقفہ وقفہ سے چالیس سال تک جاری رہی تھی اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض جنگیں سو سو سال تک بھی جاری رہیں مگر مسلسل لڑتے رہنے کاعرب میں دستور نہیں تھاجس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اول توچونکہ قبیلہ کا ہر شخص سپاہی ہوتا تھااورکوئی باقاعدہ الگ فوج نہیں ہوتی تھی اس لئے قبائل عرب اپنی جنگوں کو مسلسل طورپر جاری نہیں رکھ سکتے تھے اوراپنے دوسرے کاروبار کی وجہ سے اس بات پر مجبور تھے کہ وقفہ دے کر لڑائی کریں۔دوسرے چونکہ جنگ میں ہرشخص اپنا اپنا خرچ خود برداشت کرتا تھااوراس غرض کے لئے عموماًکوئی قومی خزانہ نہیں ہوتا تھااس لئے یہ انفرادی مالی بوجھ بھی عربوں کو مجبور کرتا تھا کہ دم لے لے کر میدان میں آئیں۔اس غیر مسلسل جنگ کوجاری رکھنے کے لئے بعض اوقات یہ طریق بھی اختیار کیا جاتا تھا کہ جب ایک لڑائی ہوتی تھی تواسی میں آئندہ کے لئے وعدہ ہوجاتا تھا کہ اب فلاں وقت فلاں جگہ پھر ملیں گے اوراس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا تھا۔چنانچہ احد کے موقع پر ابوسفیان نے اسی قسم کا وعدہ مسلمانوں سے کیا تھاجس کے نتیجہ میں غزوہ بدرالموعدہ وقوع میں آیا۔الغرض عربوں میں مسلسل لڑتے رہنے کا طریق نہیں تھابلکہ وہ وقفہ ڈال ڈال کر لڑتے تھے اوردرمیانی وقفوں کولڑائی کی تیاری اوراپنے دوسرے کاروبار میں صرف کرتے تھے اوران کی یہ ساری لڑائیاں ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہوتی تھیں۔یہ ایک بڑا عجیب نکتہ ہے جسے نظر انداز کردینے کی وجہ سے بعض مؤرخین نے ٹھوکر کھائی ہے۔کیونکہ انہوں نے قریش اورمسلمانوں کی باہمی لڑائیوں میں سے ہر لڑائی کے لئے الگ الگ وجوہات تلاش کرنی چاہی ہیں۔حالانکہ حق یہ ہے کہ جب قریش اورمسلمانوں کے درمیان ایک دفعہ جنگ شروع ہوگیا تو پھراس وقت تک کہ ایک باقاعدہ معاہدہ کے ذریعہ سے ان کے درمیان صلح نہیں ہوگئی۔یعنی صلح حدیبیہ تک جو ہجرت کے چھٹے سال ہوئی یہ دونوں قومیں حالت جنگ میں تھیں اوراس عرصہ میں ان کے درمیان جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں وہ اسی جنگ کے مختلف کارنامے تھے اوران کے لئے الگ الگ وجوہات تلاش کرنا سخت غلطی ہے۔ہاں بعض اوقات بے شک ایسا ہوا ہے کہ کسی درمیانی لڑائی کے لئے کوئی الگ تحریکی باعث بھی پیدا ہوگیا ہے،لیکن اصل سبب وہی مستقل پہلا جھگڑا رہا ہے۔
    اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بعض اوقات عرب کے جنگوں میں یہ بھی ہوتا تھا (اوردراصل یہ بات توآج کل کے جنگوں میں بھی پائی جاتی ہے)کہ جنگ کرنے والے قبائل کے ساتھ دوسرے قبائل بھی اپنے اپنے قومی مصالح کے ماتحت جنگ میں شامل ہوجاتے تھے مثلاًاگر الف اورب میں جنگ شروع ہوئی توعلاوہ اس کے الف کے حلیف الف کے ساتھ شامل ہوجاتے تھے اورب کے حلیف ب کے ساتھ۔ایسا بھی ہوتا تھا کہ دوران جنگ میں کوئی قبیلہ کسی وجہ سے الف کے ساتھ مل جاتا تھا اورکوئی دوسرا قبیلہ ب کے ساتھ ہوجاتا تھا اوراس طرح جنگ کادائرہ وسیع ہوتا چلاجاتا تھا۔قریباًقریباًیہی صورت اسلامی جنگوں میں پیش آئی۔یعنی ابتدائً مسلمانوںکوقریش مکہ کی طرف سے جنگ کاالٹی میٹم ملا جسے بالآخر انہوں نے مجبور ہوکر قبول کیا،لیکن بعد میں آہستہ آہستہ بہت سے دوسرے قبائل بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آتے گئے۔مثلاً قریش مکہ نے کسی دوسرے قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف اپنے ساتھ گانٹھ لیا تو مسلمانوں کی اس کے ساتھ بھی جنگ چھڑ گئی یاقریش کے نمونہ کودیکھ کر کسی دوسرے قبیلہ نے خود بخود مسلمانوں کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کردی تواس سے بھی جنگ کاآغاز ہوگیا یا قریش کی ساز باز سے کسی حلیف قوم نے مسلمانوں سے دغا بازی کی تو اس طرح اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کی لڑائی ہوگئی۔وغیر ذالک۔الغرض جب جنگ کی آگ ایک دفعہ مشتعل ہوگئی تو اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلاگیا۔ حتّٰی کہ ایک تھوڑے عرصہ میں ہی عرب کی سرزمین کے بیشتر حصہ سے اس آگ کے شعلے بلند ہونے لگ گئے۔
    اسلامی جنگوں کے اقسام
    ابتدائی اسلامی جنگوں کے متعلق پوری بصیرت حاصل کرنے کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ مندرجہ بالاقرآنی آیات اوردیگر تاریخی
    روایات میںبھی اشارے کئے گئے ہیں یہ اسلامی جنگیں سب ایک قسم کی نہ تھیں بلکہ مختلف قسم کے اسباب کے ماتحت وقوع میں آئی تھیں مثلاًبعض لڑائیاں دفاع اورخود حفاظتی کی غرض سے تھیں یعنی ان میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کامنشاء یہ تھا کہ اسلام اورمسلمانوں کوکفار کے مظالم اورتباہی سے بچایا جاوے۔بعض قیام امن کے لئے تھیںیعنی ان کا مقصد ملک میں فتنہ کودور کرنااورامن کوقائم کرنا تھا۔بعض مذہبی آزادی کے قائم کرنے کی غرض سے تھیں۔بعض تعزیری رنگ رکھتی تھیںیعنی ان کی غرض وغایت کسی قوم یاقبیلہ یاگروہ کوان کے کسی خطرناک جرم یاظلم وستم یادغابازی کی سزادینا تھی۔بعض سیاسی تھیں یعنی ان کا مقصد کسی معاہد قبیلہ کی اعانت یااس قسم کاکوئی اورسیاسی تقاضا تھا اوربعض ایسی بھی تھیںجن میںان اغراض ومقاصد میںسے ایک سے زیادہ اغراض مدّنظر تھیں مثلاًوہ دفاعی بھی تھیں اورتعزیری بھی یاسیاسی بھی تھیں اور قیام امن کی غرض بھی رکھتی تھیں۔وغیرذالک۔یہ ایک بڑا ضروری علم ہے جس کے نہ جاننے کی وجہ سے بعض مؤرخین نے ساری لڑائیوں کوایک ہی غرض کے ماتحت لانے کی کوشش کی ہے اور پھر ٹھوکر کھائی ہے۔اس جگہ یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ اوپر کی بحث میں ہم نے عام طورپر صرف دفاع اور خود حفاظتی کی غرض کاذکر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کی ابتداء زیادہ تراسی غرض کے ماتحت ہوئی تھی جیسا کہ ابتدائی قرآنی آیت سے ظاہر ہے اورباقی اغراض بعد میں آہستہ آہستہ حالات کے ماتحت پیدا ہوتی گئیں۔
    اسلامی آداب جہاد
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مغازی کابیان شروع کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ مختصر طورپر وہ آداب بھی بیان کردئے جائیں جو
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عموماً جہاد میںملحوظ رکھتے تھے اورجن کی صحابہ کوتاکید کی جاتی تھی۔یہ آداب عموماًصحاح ستہ کی کتب الجہاد والیسرو المغازی سے ماخوذ ہیں۔اوراس لئے میںنے صرف ان باتوں کاحوالہ درج کیا ہے جویاتو بہت اہم ہیںاوریانسبتاًکم معروف ہیں اورباقی کے حوالے کی ضرورت نہیںسمجھی ۔سوجاننا چاہئے کہ:
    ا- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے سفروں کو حتّی الوسع جمعرات کے دن شروع کرنا پسند فرماتے تھے اورگھر سے عموماًصبح کے وقت نکلتے تھے۔
    ۲- روانگی سے قبل دعاکرنا آپؐ کی سنت تھی۔
    ۳- دشمن کی حرکات وسکنات کاعلم حاصل کرنے کے لئے آپؐ خبررسانی کاپختہ انتظام رکھتے تھے اور عام طورپر خبررسانوں کویہ ہدایت ہوتی تھی کہ جب کوئی خبر لائیں توعام مجلس میں اس کا ذکر نہ کریںاوراگرکوئی تشویشناک خبرہوتی تھی توآپؐ پھرخود بھی اس کا عام اظہار نہیں فرماتے تھے۔البتہ خاص خاص صحابہ کواس کی اطلاع دے دیتے تھے۔ ۱؎
    ۴- جب آپؐکسی جنگی غرض سے نکلتے تھے توآپؐ کایہ عام طریق تھاکہ اپنی منزل مقصودکاعلم نہیں دیتے تھے اوربعض اوقات ایسا بھی کرتے تھے کہ اگر مثلاًجنوب کی طرف جانا ہوتا تھاتوچند میل شمال کی طرف جاکر پھر چکر کاٹ کرجنوب کی طرف گھوم جاتے تھے۔ ۲؎
    ۵- آپؐکی عادت تھی کہ شہر سے تھوڑی دورنکل کر فوج کاجائزہ لیا کرتے تھے اورسب انتظام ٹھیک ٹھاک کرنے کے بعد آگے روانہ ہوتے تھے۔
    ۶- جب کوئی اہم مہم پیش آتی تھی توآپؐ اس کے لئے صحابہؓ میں تحریک فرماتے تھے پھرجو لوگ اس کے لئے تیار ہوتے تھے وہ اپنا اپنا سامان جنگ اورسواری وغیرہ کاانتظام خود کرتے تھے۔البتہ کسی ذی ثروت صحابی کومقدرت ہوتی تھی تووہ دوسروں کی امداد بھی کردیتاتھااور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عموماًاس قسم کی امداد کی تحریک فرمایا کرتے تھے اوربعض اوقات جب گنجائش ہوتی تھی توخود بھی امداد فرماتے تھے۔
    ۷- چھوٹے بچے یعنی پندرہ سال سے کم عمر کے بچے عموماًجنگ میںساتھ نہیں لئے جاتے تھے اور جو بچے اس شوق میںساتھ ہولیتے تھے انہیں جائزہ کے وقت جوعموماًشہر سے باہرنکل کرلیا جاتا تھاواپس کردیا جاتا تھا۔
    ۸- جنگ میں عموماًچند ایک عورتیں بھی ساتھ جاتی تھیں جوکھانے پینے کا انتظام کرنے کے علاوہ تیمارداری اور زخمیوں کی مرہم پٹی کاکام بھی کرتی تھیں اورلڑائی کے وقت فوجیوں کوپانی بھی لاکر دیتی تھیں۔بعض خاص خاص موقعوں پر مسلمان عورتوں نے کفار کے خلاف تلوار بھی چلائی ہے۔
    ۹- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ طریق تھا کہ سفر میں اپنی ازواج میں سے کسی ایک کویا ایک سے زیادہ کوجیسا کہ موقع ہواپنے ساتھ رکھتے تھے اوراس کے لئے آپؐ قرعہ ڈالا کرتے تھے اور جس کا نام قرعہ میں نکلتا تھااسے ساتھ لے جاتے تھے۔
    ۱۰- جنگ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ عام طریق تھا کہ جب کبھی آپ کو کسی دشمن قبیلہ کے متعلق یہ اطلاع ملتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے توآپؐ پیش دستی کرکے اس کے حملہ کوروکنے کی کوشش فرماتے تھے اورایسا نہیں کرتے تھے کہ دشمن کوپوری طرح تیاری کرلینے کاموقع دیں اور اس کے حملہ کاانتظار کرتے رہیں اورجب وہ عملاًحملہ کردے توپھراس کا مقابلہ کریں۔نیز آپؐکی یہ کوشش ہوتی تھی کہ اسلامی لشکر دشمن تک اچانک پہنچ جائے اوراسے اطلاع نہ ہو۔ ان تدابیر سے آپؐ نے مسلمانوں کوبہت سے مصائب سے بچا لیا۔
    ۱۱- جب آپؐکوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تھے توانہیں چلتے ہوئے یہ نصیحت فرماتے تھے کہ جب تم دشمن کے سامنے ہوتو اسے تین باتوں کی طرف دعوت دو۔اوراگر ان باتوں میں سے وہ کوئی ایک بات بھی مان لے تواسے قبول کرلواورلڑائی سے رک جائو۔سب سے پہلے اسے اسلام کی دعوت دو اگروہ لوگ مسلمان ہونا پسند کریں تو پھر انہیں ہجرت کرنے کی تحریک کرو۔ اگروہ ہجرت کرنا قبول نہ کریں،توان سے کہو کہ اچھاتم مسلمان رہواوراپنے گھروں میں ٹھہرو،لیکن اگروہ مسلمان ہونا ہی پسند نہ کریں توپھر ان سے کہو کہ اپنے مذہب پررہو،لیکن مسلمانوں کی عداوت اوران سے جنگ کرنا چھوڑدواوراسلامی حکومت کے ماتحت آجائو۔ اگر وہ لوگ یہ بھی نہ مانیں توپھر اس کے بعد تمہیں ان سے لڑنے کی اجازت ہے۔ ۱؎
    ۱۲- نیز جب آپ کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تھے تواسے نصیحت فرماتے تھے کہ اُغْزُوْا بِسْمِ اللّٰہِ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ تُغْلُوْا وَلاَ تُغْدِرُوْا وَلاَ تُمَثِّلُوْا وَلاَ تَقْتُلُوْا وَلِیْداً وَلاَاِمْرَأۃً۲؎ وَلاَ تَقْتُلُوْا اَصْحَابَ الصَّوَامِعِ۳؎ وَلاَ تَقْتُلُوْا شَیْخًا فَانِیًا وَلاَطِفْلاً وَلَا صَغِیْراً وَلاَ اِمْرَأۃً وَاصْلِحُوْا وَاحْسِنُوا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔ ۴؎ یعنی اے مسلمانو!نکلو اللہ کانام لے کر اورجہاد کروحفاظت دین کی نیت سے۔مگر خبردارمال غنیمت میں بددیانتی نہ کرنا اورنہ کسی قوم سے دھوکہ کرنا۔اورنہ دشمنوں کے مقتولوں کامثلہ کرنا اور نہ بچوں اور عورتوں اورمذہبی عبادت گاہوں کے لوگوں کو قتل کرنااورنہ بہت بوڑھوں کوقتل کرنا اور ملک میں اصلاح کرنا۔اورلوگوں کے ساتھ احسان کامعاملہ کرنا۔کیونکہ تحقیق خداتعالیٰ احسان کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔‘‘اورحضرت ابوبکرؓ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب کسی فوج کوروانہ فرماتے تھے تو اس کے امیر کویہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ اَلَّذِیْنَ زَعَمُوْا اَنَّھُمْ حَبَسُوْا اَنْفُسَھُمْ لِلّٰہِ فَذَرْھُمْ وَمَا زَعَمُوْا اَنَّھُمْ حَبَسُوْا اَنْفُسَھُمْ لَہٗ…وَلاَ تَقْطَعُنَّ شَجَراً مُثْمِراً وَلاَ تَخْرِبُنَّ عَامِراً۔ ۵؎ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے خیال میں اپنے آپ کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کررکھا ہے ان کو کچھ نہ کہنا اوراسی طرح جس چیز کو وہ مقدس سمجھتے ہوں اسے بھی کچھ نہ کہنا اورپھل داردرخت کونہ کاٹنا اورنہ کسی آبادی کوویران کرنا۔‘‘
    یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عرب میں یہ دستور تھا کہ بعض اوقات لڑائی میں دشمن کے بچوں اوربوڑھوں اورعورتوں کو قتل کردیتے تھے اوربعض اوقات نہایت بے رحمی کے ساتھ دشمن کے مقتولوں کے ہاتھ پائوں اور ناک کان وغیرہ کاٹ ڈالتے تھے جسے مُثلہ کرنا کہتے تھے اوردشمن کے اموال واَمْتِعہ اوران کی آبادی کوتباہ وبرباد کردیتے تھے اورعہدوپیمان کی تو کوئی قیمت ہی نہ تھی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سب باتوں سے روک دیا۔مذہبی لوگوں اورمذہبی چیزوں کی حفاظت کے طریق میں بھی اسلام نے ایک نمایاں امتیاز پیدا کیا۔بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپؐ جب کسی جماعت کو روانہ فرماتے تھے تواسے نصیحت فرماتے تھے کہ بَشِّرُوْا وَلاَ تُنَفِّرُوْا وَیَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا۔۱ ؎ یعنی’’لوگوں کوخوشخبریاں دویعنی ان کوخوش رکھنے کی کوشش کرواورایسا طریق اختیار نہ کروجس سے ان کے دلوں میں نفرت پیداہواوران کے لئے آسانیاں پیداکرواورانہیں مشکلوں میں مت ڈالو۔‘‘
    ۱۳- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ لازمی طریق تھاکہ جب کسی پارٹی یادستہ یافوج کوروانہ فرماتے تھے توان میں سے کسی شخص کوان کا امیر مقررفرمادیتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ اگر تین آدمی بھی ہوں توانہیں چاہئے کہ اپنے میں سے کسی کواپنا امیربنالیاکریں اورآپؐ امیر کی اطاعت کی سخت تاکید فرماتے تھے۔ حتّٰی کہ فرمایاکہ اگرکوئی تم پر ایک بیوقوف حبشی غلام بھی امیر مقرر کردیاجاوے تواس کی پوری پوری اطاعت کرو۔مگر ساتھ ہی یہ حکم تھا کہ اگر امیر کوئی ایسا حکم دے جوخدا اوراس کے رسول کے حکم کے صریح خلاف ہوتواس معاملہ میں اس کی اطاعت نہ کرو مگر اس حال میں بھی اس کاادب ضرورملحوظ رکھو۔
    ۱۴- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ جب کسی غزوہ میں کسی چڑھائی پرچڑھتے تھے توتکبیر کہتے جاتے تھے یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرتے تھے اورجب کسی بلندی سے نیچے اترتے تھے توتسبیح کہتے تھے یعنی اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے تھے۔
    ۱۵- سفر میں صحابہ کوحکم ہوتا تھا کہ اس طرح پرپڑائو نہ ڈالا کریں کہ لوگوں کے لئے موجب تکلیف ہو۔نیز حکم تھا کہ کوچ کے وقت اس طرح نہ چلاکرو کہ راستہ رک جاوے اوراس میں یہاں تک سختی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ اعلان فرمایاکہ جوشخص پڑائواوررستے میں دوسروں کاخیال نہیں رکھے گاوہ جہاد کے ثواب سے محروم رہے گا۔۲؎
    ۱۶- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب دشمن کے سامنے ہوتے تھے توپہلے ہمیشہ دعا فرمایا کرتے تھے۔
    ۱۷- لڑائی کے لئے آپؐ صبح کا وقت پسند فرمایا کرتے تھے اورجب دھوپ تیز ہوجاتی تھی تورک جاتے تھے اورپھردوپہر گزارکرلڑائی کاحکم دیتے تھے۔ ۳؎
    ۱۸- لڑائی سے قبل آپؐ خود صحابہ ؓکی صف آرائی فرمایا کرتے تھے اورصفوں میں بے ترتیبی کوبہت ناپسند فرماتے تھے۔
    ۱۹- اسلامی لشکر کے ساتھ عموماًدو قسم کے جھنڈے ہوتے تھے ایک سفید ہوتا تھاجوکسی لکڑی وغیرہ پر لپٹاہوتاتھا اسے لواء کہتے تھے۔دوسراعموماًسیاہ ہوتا تھاجس کی ایک طرف کسی لکڑی وغیرہ سے بندھی ہوتی تھی اور وہ ہوا میں لہراتا تھااسے رایہ کہتے تھے۔یہ دونوں قسم کے جھنڈے لڑائی کے وقت خاص خاص آدمیوں کے سپرد کردئے جاتے تھے۔
    ۲۰- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عموماًہرلڑائی میں اپنی فوج کاکوئی لفظی شعار ۱؎ مقرر فرمادیا کرتے تھے جس سے اپنا بیگانہ پہچانا جاتا تھا۔
    ۲۱- فوج میں شوروشغب کوناپسند کیا جاتا تھا اورنہایت خاموشی کے ساتھ کام کرنے کا حکم تھا۔ ۲؎
    ۲۲- لڑائی سے پہلے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اسلامی فوج کے مختلف دستوں پرمختلف صحابیوں کوامیر مقرر کرکے ان کی جگہیں متعین فرما دیتے تھے اورفرائض سمجھا دیتے تھے۔ ان کمانڈروں کے تقررمیں عموماًاس اصول کومدنظررکھا جاتا تھا کہ کسی دستہ پر اس شخص کوامیر بنایا جاوے جوان میں صاحب اثر ہو۔
    ۲۳- بعض خاص خاص موقعوں پرآپؐ کایہ بھی طریق تھا کہ صحابہ سے خاص بیعت لیتے تھے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت لینے کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔
    ۲۴- میدان جنگ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاحکم ہوتاتھاکہ جب تک میں حکم نہ دوں لڑائی شروع نہ کی جاوے۔
    ۲۵- لڑائی کے دوران میں بھی آپؐ خاص خاص احکام جاری فرماتے رہتے تھے اورخود یاکسی بلند آواز صحابی کے واسطے سے پکارپکار کرضروری ہدایات کااعلان فرماتے تھے۔
    ۲۶- مسلمانوں کوبھاگنے یا ہتھیار ڈالنے کی قطعاًاجازت نہیں تھی۔حکم تھا کہ یا غالب آئو یا شہید ہوجائو۔ہاں جنگی اغراض کے لئے وقتی طور پر پیچھے ہٹ آنے کی اجازت تھی۔ ۳؎ لیکن اگر کبھی کسی بشری کمزوری کے ماتحت بعض لوگ بھاگ جاتے تھے تو آپؐ ان سے زیادہ ناراض نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں آئندہ کے لئے ہمت دلاتے تھے اورفرماتے تھے کہ شاید تم لوگ جنگی تدبیر کے طورپر دوبارہ حملہ کرنے کے لئے پیچھے ہٹ آئے ہوگے۔
    ۲۷- صحابہ کو حکم تھاکہ لڑائی میں کسی کے منہ پرضرب نہ لگائیں۔ ۱؎
    ۲۸- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ضرب لگانے میں سب لوگوں سے زیادہ نرم مسلمان کو ہونا چاہئے۔ ۲؎
    ۲۹- تاکیدی حکم تھاکہ جب تک عملاًلڑائی نہ ہولے۔قیدی نہ پکڑے جائیں۔یہ نہیں کہ دشمن کو دیکھااورکمزور پاکر قیدی پکڑنے شروع کردئے۔ ۳؎
    ۳۰- حکم تھا کہ جو قیدی پکڑے جائیں انہیں بعد میں حسب حالات یاتوبطوراحسان کے یونہی چھوڑ دیا جاوے یاضروری ہوتو قید میں رکھا جاوے،مگریہ قیدصرف اس وقت رہ سکتی ہے کہ جب تک جنگ جاری رہے یا جنگ کی وجہ سے جوبوجھ پڑے ہوں وہ دور نہ ہوجائیں،اس کے بعد نہیں۔ ۴؎
    ۳۱- قیدیوں کے ساتھ نہایت درجہ نرمی اورشفقت کے سلوک کا حکم تھا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے صحابہ کوخود اپنے آرام کی نسبت بھی قیدیوں کے آرام کاخیال زیادہ رہتا تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ بھی حکم تھا کہ جو قیدی آپس میں قریبی رشتہ دارہوں ان کو ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ کیا جاوے۔ ۵؎
    ۳۲- قیدیوں کا فدیہ صرف نقدی کی صورت میں لینے پراصرار نہ کیا جاتا تھا۔چنانچہ بدر کے بعض خواندہ قیدیوں سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ سمجھوتہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کو نوشت وخواند سکھادیں توانہیں چھوڑ دیاجاوے گا۔بعض اوقات کفار قیدیوں کومسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں بھی چھوڑ دیا جاتا تھا۔نقد فدیہ کی صورت میں بھی مکاتبت کے طریق کی اجازت تھی۔
    ۳۳- مسلمانوں کو لوٹ مار اورغارت گری سے نہایت سختی سے روکا جاتاتھا۔چنانچہ اس کے متعلق کسی قدر مفصل بحث اوپر گزر چکی ہے۔
    ۳۴- حکم تھاکہ اگر لڑائی کے وقت بھی کوئی دشمن اسلام کا اظہار کرے توخواہ اس نے مسلمانوں کا کتنا ہی نقصان کیا ہو فوراً اس سے ہاتھ کھینچ لو۔کیونکہ اب اس سے خطرہ کااحتمال نہیں رہا۔ چنانچہ اس ضمن میں اسامہ بن زید کاواقعہ اوپر گزرا ہے۔
    ۳۵- عہدوپیمان کے پورا کرنے کی نہایت سختی سے تاکید کی جاتی تھی ۱؎ اورخود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوعہد کااس قدر پاس تھا کہ جب حذیفہ بن یمان مکہ سے ہجرت کرکے بدر کے موقعہ پرآپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے توانہوں نے آپؐ سے عرض کیا کہ میں جب مکہ سے نکلا تھا توقریش نے یہ شبہ کرکے کہ شاید میں آپؐ کی مدد کے لئے جارہاہوں مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں آپؐ کی طرف سے نہ لڑوں گا۔توآپؐ نے فرمایاتوپھر تم جائواوراپنا عہد پورا کروہمیں خدا کی امداد بس ہے۔ ۲؎ (یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی کمال احتیاط تھی۔حالانکہ فتویٰ کے طورپرایسا عہدجوجبر کے طور پر حاصل کیا جاوے واجب الایفاء نہیں)اورحضرت عمرؓنے اپنے عہدخلافت میں تویہاں تک اعلان کیا تھا کہ جو مسلمان دشمن کے ساتھ دھوکا یابدعہدی کرے گا میںاس کی گردن اڑادوں گا۔ ۳؎
    ۳۶- میدان جنگ میں جو مسلمان شہید ہوتے تھے انہیں غسل نہیںدیا جاتا تھااورنہ ہی خاص طور پر کفنایاجاتاتھا۔
    ۳۷- مجبوری کے وقت ایک ہی قبر میںکئی کئی شہداء کواکٹھا دفن کردیا جاتاتھااورایسے موقعوں پر ان لوگوں کوقبرمیںپہلے اتارا جاتاتھا جوقرآن شریف زیادہ جانتے تھے۔نیز شہداء کے متعلق حکم تھاکہ انہیں میدان جنگ میں ہی دفنا دیاجاوے۔
    ۳۸- شہداء کا جنازہ بعض اوقات تولڑائی کے فوراًبعد پڑھ دیاجاتا تھا اوربعض اوقات جب امن کی صورت نہ ہوتو بعد میں کسی اورموقع پرپڑھادیا جاتاتھا۔
    ۳۹- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ طریق تھا کہ حتّی الوسع دشمن کے مقتولوں کوبھی اپنے انتظام میں دفن کروادیتے تھے۔ ۴؎
    ۴۰- اسلامی جنگوں میں لڑنے والے تنخواہ دار نہیں ہوتے تھے۔
    ۴۱- مال غنیمت کی تقسیم کایہ اصول تھاکہ سب سے پہلے امیر لشکر غنیمت کے مال میںسے کوئی ایک چیزاپنے لئے چن لیتا تھاجسے صفیہ کہتے تھے۔پھرسارے اموال کا پانچواں حصہ خدا اوراس کے رسول کے لئے الگ کردیا جاتاتھا۔اوراس کے بعد بقیہ مال فوج میں بحصہ برابرتقسیم کردیا جاتا تھااس طرح پر کہ سوار کو پیدل کی نسبت دوحصے زیادہ دیا جاتاتھا اورنیز مقتول کافر کاذاتی سامان جو اس کے جسم پر ہووہ بھی مسلمان قاتل کاحق سمجھا جاتا تھا۔
    ۴۲- جوخمس خدا اوراس کے رسول کے لئے الگ کیا جاتا تھااس میں کچھ تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے اہل وعیال اوراقرباء میں تقسیم فرمادیتے تھے اوربیشترحصہ اس کا مسلمانوں کی اجتماعی دینی اورقومی اغراض میںصرف ہوتا تھااور اسی لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایاکہ مال غنیمت میں سے مجھے خمس کے علاوہ ایک اونٹ کے بال کے برابر بھی لینا حرام ہے وَالْخُمْسُ مَرْدُوْدٌ عَلَیْکُمْ۔ ۱؎ اورپھر یہ خمس بھی تمہارے ہی کام آتا ہے۔
    ۴۳- لڑائی کے میدان میںعام طورپر نماز کی ادائیگی کایہ طریق تھا کہ امام توایک ہی رہتا تھا لیکن فوج کے آدمی مختلف حصوں میں باری باری آکر امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے اوربقیہ فوج دشمن کے سامنے رہتی تھی اسے صلوٰۃ خوف کہتے ہیں اور مختلف حالات کے ماتحت اس کی مختلف صورتیں تھیں۔
    ۴۴- شروع شروع میں بعض صحابہ سفروں میں روزے رکھتے تھے اوربعض افطار کرتے تھے،لیکن آخری ایام میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھاکہ سفر میں روزہ نہ رکھا جاوے اورفرمایا تھا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔ جن صحابہ نے آپؐ کے اس حکم کومحض ایک سفارش سمجھ کر روزہ رکھ لیاان کے متعلق آپ نے فرمایا:اُولٓئِکَ العُصَاۃُ۔ ۲؎ یعنی یہ لوگ نافرمانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
    ۴۵- جاسوس کے قتل کاعرب میں دستورتھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔
    ۴۶- دشمن کے قاصد کو روک لینے یا کسی قسم کا نقصان پہنچانے یاقتل کرنے سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سختی سے منع فرماتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ بعض لوگ کفار کے قاصد ہوکر آئے اورانہوںنے آپؐ کے سامنے گستاخانہ طریق سے باتیں کیں۔آپؐ نے فرمایا تم قاصد ہو اس لئے میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ایک اورموقع پرایک قاصد آیا اورآپؐ سے مل کر مسلمان ہوگیا اورپھر اس نے آپؐ سے عرض کیا کہ میں اب واپس جانا نہیں چاہتا۔آپؐ نے فرمایا۔ میںبدعہدی کامرتکب نہیں ہوسکتا۔تم قاصد ہو تمہیں بہرحال واپس جانا چاہئے۔ہاں اگرپھر آنا چاہو توآجانا۔چنانچہ وہ گیااورکچھ عرصہ کے بعد موقع پاکر پھر واپس آگیا۔ ۳؎
    ۴۷- جب مکہ اورمدینہ کی سرزمین شرک کے عنصر سے پاک ہوگئی اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ اگر اب بھی کوئی بیرونی مشرک مذہبی تحقیق کے لئے حجازمیں آنا چاہے توبخوشی آسکتا ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ اس کی حفاظت اورپُرامن واپسی کے ہم ذمہ وار ہوں گے۔ ۱؎
    ۴۸- کفار میں سے جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کرلیتے تھے ان کی حفاظت اورحقوق کاآپؐ کوخاص خیال رہتا تھا۔چنانچہ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ مَنْ قَتَلَ مُعَاھِداً لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ۔۲ ؎ یعنی جو مسلمان کسی معاہدکافر کوقتل کرے گے،اسے جنت کی ہوا تک نہیں پہنچے گی۔
    نیز آپؐنے یہ حکم جاری فرمایا تھا کہ جو مسلمان کسی معاہد کافر کو یونہی غلطی سے بلاارادے کے قتل کردے اس کا فرض ہوگا کہ اس کے رشتہ داروں کواس کی پوری پوری دیت ادا کرنے کے علاوہ ایک غلام آزاد کرے۔ ۳؎
    ۴۹- معاہد کافر کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِداً اَوِنْتَقَصَہٗ اَوْکَلَّفَہُ فَوْقَ الطَّاقَۃِ اَوْاَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسِہٖ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ۴؎ یعنی جو مسلمان کسی معاہد کافرپرکسی قسم کا ظلم کرے گایااسے نقصان پہنچائے گایااس پر کوئی ایسی ذمہ داری یا ایسا کام ڈالے گاجو اس کی طاقت سے باہر ہے یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی خوشی اور مرضی کے لے گاتواے مسلمانو!سن لو میں قیامت کے دن اس معاہد کافر کی طرف سے ہوکر اس مسلمان کے خلاف انصاف چاہوں گا۔‘‘
    ۵۰- آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب کسی قوم کے خلاف جنگ کرنے کو نکلتے تھے تو فتح حاصل ہونے کے بعد عموماً تین دن سے زیادہ وہاں نہیں ٹھہرتے تھے اوریہ غالباًاس لئے کرتے تھے کہ وہاں کے لوگوں کے لئے اسلامی لشکر کا قیام موجب تکلیف اورپریشانی نہ ہو۔ ۵؎
    ۵۱- سب سے آخر میں مگر غالباًسب سے بڑھ کر یہ کہ جہاد میں دین کی حفاظت اورفتنہ کے سدباب کے سواکسی اور نیت کوسخت ناجائز سمجھا جاتا تھااورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا عام اعلان تھا کہ جو شخص غنیمت کے لالچ میں یا لڑائی کے اظہار کے لئے یا کسی اوردنیاوی غرض سے نکلتا ہے وہ جہاد کے ثواب سے قطعی محروم ہے۔اس ضمن میں کسی قدر مفصل بحث اوپر گزر چکی ہے۔
    اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ اس زمانہ میں عرب میں لڑنے کا طریق یہ ہوتا تھا کہ جب فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوجاتیں تھیں توخاص خاص لوگ انفرادی مقابلوں کے لئے نکل کر مبارزطلبی کرتے تھے اوران انفرادی مقابلوں کے بعد عام حملہ کیا جاتاتھا۔جنگ میں پیدل اور گھوڑے پرسوار ہوکردونوں طرح لڑنے کا دستور تھامگرگھوڑے پرسوار ہو کرلڑنا بہترسمجھا جاتا تھا۔ اونٹ عموماً صرف سفر کاٹنے یااسباب اٹھانے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔آلات حرب حملہ کے لئے تلوار، نیزہ اورتیر کمان تک محدود تھے اور دفاع کے لئے ڈھال اورزرہ اورخود استعمال کئے جاتے تھے۔عرب کے بعض قبائل میں دشمن پرپتھر کی بارش برسانے کے لئے ایک قسم کی مشین بھی استعمال ہوتی تھی جسے منجنیق کہتے تھے۔اس مشین کاخیال غالباًایران سے عرب میں آیا تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کا استعمال محاصرہ طائف کے موقع پرفرمایا تھا۔
    آغاز جہاد اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی احتیاطی تدابیر
    یہ بتایا جاچکا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت میں پہلی
    قرآنی آیت بارہ صفر۲ہجری کو نازل ہوئی تھی۔یعنی دفاعی جنگ کے اعلان کا جو خدائی اشارہ ہجرت میں کیا گیا تھا اس کا باضابطہ اعلان صفر۲ہجری میں کیاگیا جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قیام مدینہ کی ابتدائی کارروائیوں سے فارغ ہوچکے تھے اوراس طرح جہاد کا آغاز ہوگیا۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ کفار کے شرسے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابتداء ًچار تدابیراختیار کیں جوآپؐ کی اعلیٰ سیاسی قابلیت اورجنگی دوربینی کی ایک بیّن دلیل ہیں۔
    یہ تدابیر مندرجہ ذیل تھیں۔
    اوّل آپؐنے خود سفر کرکے آس پاس کے قبائل کے ساتھ باہمی امن وامان کے معاہدے کرنے شروع کئے تاکہ مدینہ کے اردگرد کاعلاقہ خطرہ سے محفوظ ہوجائے۔ اس امر میں آپؐ نے خصوصیت کے ساتھ ان قبائل کومدنظر رکھا جو قریش کے شامی رستے کے قرب وجوار میں آباد تھے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے یہی وہ قبائل تھے جن سے قریش مکہ مسلمانوں کے خلاف زیادہ مدد لے سکتے تھے اور جن کی دشمنی مسلمانوں کے واسطے سخت خطرات پیدا کرسکتی تھی۔
    دوم آپؐ نے چھوٹی چھوٹی خبر رساں پارٹیاں مدینہ کے مختلف جہات میں روانہ کرنی شروع فرمائیںتاکہ آپؐ کوقریش اوران کے حُلفاء کی حرکات وسکنات کاعلم ہوتارہے اورقریش کوبھی یہ خیال رہے کہ مسلمان بے خبر نہیں ہیں اوراس طرح مدینہ اچانک حملوں کے خطرات سے محفوظ ہوجائے۔
    سوم ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ تااس ذریعہ سے مکہ اوراس کے گردونواح کے کمزوراورغریب مسلمانوں کو مدینہ کے مسلمانوں میں آملنے کاموقع مل جاوے۔ابھی تک مکہ کے علاقہ میں کئی لوگ ایسے موجود تھے جودل سے مسلمان تھے مگرقریش کے مظالم کی وجہ سے اپنے اسلام کابرملا طورپراظہار نہیں کرسکتے تھے اورنہ اپنی غربت اورکمزوری کی وجہ سے ان میں ہجرت کی طاقت تھی کیونکہ قریش ایسے لوگوں کوہجرت سے جبراً روکتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف میں خداتعالیٰ فرماتا ہے: ۱؎ یعنی’’اے مومنو!کوئی وجہ نہیں کہ تم لڑائی نہ کرواللہ کے دین کی حفاظت کے لئے اوران مردوں اورعورتوں اوربچوں کی خاطر جوکمزوری کی حالت میں پڑے ہیں اوردعائیں کررہے ہیںکہ اے ہمارے رب!نکال ہم کو اس شہر سے جس کے باشندے ظالم ہیں اورہم ناتوانوںکے لئے اپنی طرف سے کوئی دوست ومددگار عطا فرما۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میںایک یہ مصلحت بھی تھی کہ تاایسے لوگوں کو ظالم قوم سے چھٹکاراپانے کاموقع مل جاوے۔یعنی ایسے لوگ قریش کے قافلوں کے ساتھ ملے ملائے مدینہ کے قریب پہنچ جائیں اور پھر مسلمانوں کے دستے کی طرف بھاگ کرمسلمانوں میں آملیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا دستہ ہی جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے عبیدہ بن الحارث کی سرداری میں روانہ فرمایاتھا اورجس کا عکرمہ بن ابوجہل کے ایک گروہ سے سامنا ہوگیا تھا اس میں مکہ کے دوکمزور مسلمان جوقریش کے ساتھ ملے ملائے آگئے تھے،قریش کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ:
    فَرَّمِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ المِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍوحَلِیْفُ بْنِ زَھْرَۃَ وَعُتْبَۃُ بْنَ غَزْوَانَ حَلِیْفُ بَنِی نَوْفَلَ وَکَانَا مُسْلِمَیْنِ وَلٰکِنَّھُمَا خَرَجَایَتَوَصَّلاَنِ بِالْکُفَّارِ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔ ۲؎ یعنی’’اس مہم میں جب مسلمانوں کی پارٹی لشکرِ قریش کے سامنے آئی تودو شخص مقداد بن عمراور عتبہ بن غزوان جو بنوزہرہ اور بنو نوفل کے حلیف تھے مشرکین میں سے بھاگ کر مسلمانوں میں آملے اوریہ دونوں شخص مسلمان تھے اورصرف کفار کی آڑ لے کرمسلمانوں میں آملنے کے لئے نکلے تھے۔‘‘پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک غرض آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ بھی تھی کہ تاایسے لوگوں کو ظالم قریش سے چھٹکارا پانے اور مسلمانوں میں آملنے کا موقع ملتا رہے۔
    چہارم: چوتھی تدبیر آپؐنے یہ اختیار فرمائی کہ آپؐ نے قریش کے ان تجارتی قافلوں کی روک تھام شروع فرمادی جومکہ سے شام کی طرف آتے جاتے ہوئے مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے۔ کیونکہ(الف)یہ قافلے جہاں جہاںسے گزرتے تھے مسلمانوں کے خلاف عداوت کی آگ لگاتے جاتے تھے اورظاہر ہے کہ مدینہ کے گردونواح میںاسلام کی عداوت کا تخم بویا جانا مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک تھا۔(ب)یہ قافلے ہمیشہ مسلح ہوتے تھے اورہرشخص سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے قافلوں کامدینہ سے اس قدر قریب ہو کر گزرناہرگز خطرہ سے خالی نہیں تھا۔(ج)قریش کا گزارہ زیادہ تر تجارت پر تھااوراندریں حالات قریش کو زیرکرنے اوران کو ان کی ظالمانہ کارروائیوں سے روکنے اور صلح پرمجبور کرنے کا یہ سب سے زیادہ یقینی اورسریع الاثر ذریعہ تھاکہ ان کی تجارت کا راستہ بندکردیا جاوے۔چنانچہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جن باتوں نے بالآخرقریش کو صلح کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا ان میں ان کے تجارتی قافلوں کی روک تھام کابہت بڑا دخل تھا۔پس یہ ایک نہایت دانشمندانہ تدبیر تھی جواپنے وقت پر کامیابی کا پھل لائی۔(د)قریش کے ان قافلوں کا نفع بسااوقات اسلام کو مٹانے کی کوشش میں صرف ہوتا تھابلکہ بعض قافلے توخصوصیت کے ساتھ اسی غرض سے بھیجے جاتے تھے کہ ان کا سارا نفع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔اس صورت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان قافلوں کی روک تھام خود اپنی ذات میں بھی ایک بالکل جائز مقصود تھی۔
    بعض متعصب عیسائی مؤرخین نے جن کو اسلام کی خوبیاں بھی بدی کی شکل میں نظر آتی ہیں یہ اعتراض کیا ہے کہ نعوذباللہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہؓ قریش کے قافلوں کو لوٹنے کی غرض سے نکلتے تھے۔ہم ان عدل وانصاف کے مجسموں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا تمہاری قومیں جنہیں تم تہذیب وشرافت کے معراج کوپہنچا ہواسمجھتے ہوجنگ کے زمانہ میں دشمن قوموں کے تجارتی رستے نہیں روکتیں؟اورکیا انہیں جب یہ خبر پہنچتی ہے کہ فلاں دشمن قوم کا کوئی تجارتی جہاز فلاں جگہ سے گزررہا ہے تووہ فوراًاس کے پیچھے ایک بحری دستہ روانہ کرکے اس کو تباہ وبرباد کردینے یا اسے مغلوب کرکے اس کے اموال پرقبضہ کرلینے کی تدابیر نہیں اختیار کرتیں؟توپھر کیا اس وجہ سے تمہارے فرمانرواوںکانام ڈاکو اورلیٹرے اورغارت گررکھا جاسکتا ہے؟یقینا اگر مسلمانوں نے قریش کے قافلوں کی روک تھام کی تو اس غرض سے نہیں کی کہ ان کے قافلوں کے اموال پرقبضہ کریں بلکہ اس لئے کی کہ تدابیر جنگ کا تقاضا تھاکہ قریش کی تجارت کارستہ بند کردیاجاوے کیونکہ اس سے بہتر ان کو ہوش میں لانے اورصلح کی طرف مائل کرنے کا اورکوئی ذریعہ نہ تھا۔باقی اگرقریش کا کوئی قافلہ مغلوب ہوگیااوراس غلبہ کے نتیجہ میں اس کا مال ومتاع مسلمانوں کے ہاتھ آیاتووہ جنگ کی فتوحات کاحصہ تھا جس کا ہرقوم اورہر زمانہ میں فاتح کوحق دار سمجھا گیا ہے۔ کیا معترضین کایہ مطلب ہے کہ مسلمان کفار کے قافلوں کو توبیشک روکتے اوران کے آدمیوں کو مارتے،لیکن قافلوں کے اموال کو اپنے تصرت میں نہ لاتے بلکہ اپنے خرچ پراپنی فوج کی حفاظت میں نہایت احتیاط کے ساتھ مکہ بھجوا دیا کرتے تاکہ ان اموال کی مددسے قریش دوچاراورجرار لشکر تیار کرکے مسلمانوں کے خلاف مدینہ پر چڑھالاتے؟اگران کا یہی خیال ہے توانہیں یہ خیال مبارک ہو۔ہمیں اعتراف ہے کہ اسلام کادامن اس قسم کی بے وقوفی اوربے غیرتی اورخودکشی کی تعلیم سے پاک ہے اوریہ کہنا کہ ان قافلوں کی روک تھام میں مسلمانوں کولوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی کس قدر ظلم، کس قدر انصاف سے بعید ہے۔کیا اس قوم کو لوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی جن میں سے بعض نے ایک جہاد کے سفر میں بھوک سے سخت تنگ آکر اور گویاموت کے منہ پر پہنچ کرکسی کے ایک گلہ میںسے دوچار بکریاں پکڑ کرذبح کرلیں مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تشریف لاکر غصہ میں ہنڈیوں کوالٹ دیااورگوشت کومٹی میں مسلتے ہوئے فرمایاکہ’’یہ لوٹ کا مال تمہارے لئے کس نے حلال کیا ہے؟یہ تو ایک مردار سے بڑھ کر نہیں؟‘‘پھر کیا اس قوم کو لوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی جن میں سے نومسلم لوگ جہاد پر جاتے ہوئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے آآکر پوچھتے تھے کہ یارسول اللہ!اگرلڑائی میں ایک شخص کی اصل نیت تو حفاظت دین ہو لیکن اسے کچھ یہ بھی خیال ہوکہ شاید غنیمت کامال بھی مل جائے گا،توکیا ایسے شخص کو جہادکاثواب ہوگا؟اورآپؐ فرماتے تھے ’’ہرگز نہیں ہرگز نہیں ایسے شخص کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے‘‘کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے قافلوں کی روک تھام کو لوٹ مار کی تعلیم سمجھا جاسکتا ہے؟ پھر یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کوسمجھاتے رہتے تھے کہ جہاد میں دنیا کے خیالات کی ملونی نہیں ہونی چاہئے بلکہ صحابہ پرآپؐکی اس تعلیم کا اثر بھی تھا اوریہ اثراس قدر غالب تھا کہ وہ نہ صرف اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ان کے دلوں میں دنیا طلبی کے خیالات جاگزیں نہ ہوں بلکہ بعض اوقات وہ ایسے جائز موقعوں سے بھی بچتے تھے جن میں کمزور طبیعتوں کے لئے اس قسم کے خیالات پیدا ہونے کااندیشہ ہوسکتا تھا۔چنانچہ غزوہ بدر کے متعلق روایت آتی ہے کہ کئی صحابہ اس غزوہ میں اس لئے شریک نہیں ہوئے تھے کہ ان کا یہ خیال تھا کہ یہ مہم صرف قافلہ کی روک تھام کے لئے اختیار کی جارہی ہے وَاِلاَّ اگران کو یہ علم ہوتا کہ قریش کے لشکر کے ساتھ جنگ ہوگا تو وہ ضرور شامل ہوتے۔ ۱؎ اوریہ اس بات کاایک عملی ثبوت ہے کہ صحابہ کوقافلوں کی روک تھام میں ان کے اموال واَمِّتعہ کی وجہ سے کوئی شغف نہیں تھا۔کیونکہ اگرایساہوتا تو صورت حال یہ ہونی چاہئے تھی کہ کسی قافلہ کی روک تھام کے موقع پر صحابہ زیادہ کثرت کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آگے بڑھتے،مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس نظر آتاہے۔میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ سارے صحابہ ایک جیسے تھے۔بیشک ان میں بعض کمزور بھی تھے اورطبعاً یہ کمزوری ابتداء میں نسبتاً زیادہ تھی۔مگر جو تبدیلی صحابہ کی جماعت نے آپؐ کی تربیت کے ماتحت دکھائی وہ فی الجملہ نہایت محیرالعقول اورحقیقتاً بے نظیر تھی۔

    پیش لفظ
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح پر آج تک ہزاروں کتب لکھی گئی ہیں لیکن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اﷲ عنہ کی تصنیف سیرت خاتم النّییّن صلی اﷲ علیہ وسلم اس لحاظ سے منفرد اور ممتاز ہے کہ اس میں تمام واقعات کی صحت کا مدار سب سے اوّل قرآن کریم اور دوسرے نمبر پر صحاح ستہ پر رکھا گیا ہے اور کتب تاریخ میں متأخرین کی بجاہے ابتدائی مؤرخین اور سیرت نگاروں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ غیر مستند مواد سے پاک ہے اور اس کی صحت اور مستند ہونے پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
    حضرت میاں صاحب نے اپنی اس تصنیف میں اس امر کا خاص طور پر اہتمام فرمایا ہے کہ مغرب کے متعصب مستشرقین نے جن مقامات پر تاریخ اسلام کے بعض واقعات کو قابل اعتراض ٹھہرایا ہے یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کردار کشی کی کوشش کی ہے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی روشنی میں ان کا ردّ فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی اس کتاب میں علاوہ تاریخی مواد کے آج کل زیر بحث آنے والے بہت سے علمی مسائل مثلاً جمع و ترتیب قرآن کریم، معجزہ کی حقیقت، جہاد بالسیف، غیر مسلموں سے رواداری، جزیہ، غلامی، عورتوں کے حقوق، تعدّد ازدواج، شادی اور طلاق کے متعلق اسلامی قوانین اور اسلام کی عادلانہ جمہوری طرز حکومت پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔
    حضرت میاں صاحب نے کمال عشق اور محبت سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شخصیت اور کردار کو موجودہ دور کے ذوق کے مطابق انتہائی دلنشین رنگ میں پیش فرمایا ہے اور فرط عقیدت کے باوجود سند اور درایت کے لحاظ سے ضعیف روایات کو اس مجموعہ میں راہ نہیں پانے دی اور واقعات کو مستند ماخذ سے ان کے صحیح تناظر میں پیش فرمایا ہے۔
    انہی خصوصیات کی بنا پر یہ تصنیف بہت مقبول ہوئی۔ حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اﷲ عنہ نے اس کے متعلق فرمایا:
    ’’میں سمجھتا ہوں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جتنی سیرتیں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے۔ اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پرتَو ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئے۔ اس کے ذریعہ انشاء اﷲ اسلام کی تبلیغ میں بہت آسانی پیدا ہو جائے گی‘‘۔
    سیرت خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم کا موجودہ ایڈیشن ان تین جلدوں پر مشتمل ہے جو ۱۹۲۰ء ، ۱۹۳۱ء اور ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی تھیں (پہلی جلد پر حضرت میاں صاحب نے بعد میں نظر ثانی بھی فرمائی تھی)۔ اس طرح یہ مجموعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر ۷ ہجری تک کے حالات پر مشتمل ہے۔ افسوس ہے کہ حضرت میاں صاحب رضی اﷲ عنہ باوجود انتہائی خواہش کے اپنی زندگی میں اس مہتم بالشان علمی شاہکار کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ حضرت میاں صاحب نے سیرت خاتم النّبییّن صلی اﷲ علیہ وسلم کے آخری حصّہ کے لئے مجوزہ عنوانات بھی اپنے مخصوص انداز میں مرتب فرما کر شائع کر دیئے تھے۔ یہ عنوانات بھی موجودہ ایڈیشن میں شامل کر دئے گئے ہیں۔ اس کام کی تکمیل جماعت کے تعلیم یافتہ طبقہ پر ایک قرض ہے۔ خدا تعالیٰ کرے کہ ہم اس کو ادا کر سکیں۔
    حضرت میاں صاحب ؓ نے اس گرانقدر تصنیف کو محض ایک تاریخ کی حیثیت سے نہیں لکھا بلکہ آپ کااوّل ترین مقصد اس سے یہ تھا کہ قوم کے نوجوان آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے لئے مشعلِ راہ قرار دیں۔ آپ اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ’’اے اﷲ! تو اپنے فضل سے ایسا کر کہ تیرے بندے اسے پڑھیں اور اس سے فائدہ اُٹھائیں اور تیرے برگزیدہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاک نمونہ پر چل کر تیری رضا حاصل کریں‘‘۔
    جماعت کے ہر فرد کو یہ کتاب پڑھ کر حضرت میاں صاحب رضی اﷲ عنہ کی اس نیک خواہش کو پورا کرنے کی حتّی الامکان کوشش کرنی چاہئے اور دوسروں کو اسے تحفہ میں دینا چاہئے کیونکہ یہ تصنیف ایک مثبت دلیل ہے اس عقیدہ و ارادت کی جو جماعت احمدیہ کا ہر فرد حضرت خاتم النّبییّن محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم سے رکھتا ہے۔
    آخر میں ان واقف زندگی کا ذکر ضروری ہے جنہوں نے اس ایڈیشن کی تیاری میں مختلف خدمات سرانجام دی ہیں۔ سلطان احمد شاہداور مقصود احمد قمر ۔احباب انہیں بھی اور خاکسار کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
    والسلام
    سیّد عبدالحی
    بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    عرض حال
    جلد اوّل
    آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سوانح عمری جو ’’ہمارا آقا‘‘ کے نام سے رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان کے اردو ایڈیشن میں ۱۹۱۹ء کے ابتدا سے شائع ہو رہی ہے اس وقت اس کا پہلا حصّہ جو آپ کی مکی زندگی کے حالات پر مشتمل ہے بعد نظر ثانی کتابی صورت میں ہدیہ ناطرین کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں صرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سوانح تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھا بلکہ اس زمانہ کے عام تاریخ اور صحابہ کرام ؓ کے حالات پر بھی ہر مناسب موقع پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ گویا مضمون کے لحاظ سے اس کتاب کا نام دراصل تاریخ اسلام حصّہ اوّل سمجھنا چاہئے۔
    میرا ارادہ ہے واﷲ الموفق کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سوانح عمری کو تین حصّوں میں تقسیم کروں۔
    پہلا حصّہ وہ ہے جو بعض ابتدائی امور، جغرافیہ عرب، بعثت نبوی ؐ کے وقت قبائل عرب کی تقسیم اور ان کی مذہبی ، تمدنی اور سیاسی حالت، تاریخ کعبہ و مکّہ ، تاریخ قریش، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے قبیلہ کے حالات، آپ کی پیدائش و حالات زندگی تا بعثت، دعویٰ نبوت و اشاعت اسلام اور حالات زندگی بعد بعثت تا ہجرت تحریر کئے گئے ہیں۔ یہ وہ حصّہ ہے جو بعد نظر ثانی و مناسب تغیر و تبدل اب ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔
    دوسرا حصّہ جو ابھی معرض تحریر میں ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے حالات اور اس زمانے کی اسلامی تاریخ پر مشتمل ہو گا۔
    اور تیسرا حصّہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت کے متعلق ہو گا انشاء اﷲ تعالیٰ ۔ وھو الموفق۔
    اس کتاب کی تصنیف سے میری یہ غرض ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو جو عموماً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات زندگی اور ابتدائی اسلامی تاریخ سے بالکل بے خبر ہیں مختصر طور پر عام فہم اور سادہ مگر دلچسپ پیرایہ میں صحیح حالات سے واقف کیا جاوے اور نیز یہ بھی کہ تا اس ذریعہ سے خدا چاہے تو میرے لئے سعادت اخروی کا سامان پیدا ہو۔
    یہ ایک نہایت تکلیف دہ منظر ہے کہ ہمارے نوجوان دیگر اقوام و مذاہب کے بادشاہوں، جرنیلوں اور مدبروں کے حالات سے تو واقف ہیں اور ان کی سوانح عمریاں پڑھتے ہیں مگر اپنے آقا اور مقتدا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے قطعاً نا واقف ہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں مگر ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک اُردو زبان میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی کوئی بھی ایسی سوانح عمری نہیں لکھی گئی جو اس زمانہ کی طبائع کو اپنی طرف کھینچ سکے۔
    مولانا شبلی کی تصنیف جس کے بعض حصّے ابھی تک معرض طبع میں نہیں آئے میرے اس ریمارک سے مستثنیٰ ہے مگر بعض وجوہات سے وہ بھی عام اسلامی پبلک کے دائرہ تمتمع میں نہیں آ سکتی۔ بہرحال میری طبیعت نے اردو لٹریچر میں ایک کمی کو محسوس کیا ہے جسے پورا کرنے کی میں نے حتّی الوسع کوشش کی ہے۔ اگر میں اس کوشش میں کامیاب ہو گیا ہوں تو زہے قسمت اور اگر نہیں تو خدا سے دعا ہے کہ میری یہ ادھوری اور ناقص کوشش کسی ایسے نیک دل میں تحریک کرے کہ جو اس کمی کو پورا کر سکے۔
    میں نے اس کتاب کی تیاری کے لئے کسی ایک کتاب پر بھروسہ نہیں کیا خصوصاً متأخرین کی تصنیفات کو بغیر اپنی مستقل تحقیق کے ہر گز قابل اعتماد نہیں سمجھا۔ متقدمین میں سے چار کتب تاریخی طور پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سوانح کے لئے اصل مآخذ سمجھی گئی ہیں۔ اعنی اوّل سیرۃ ابن ہشام جو سیرۃ ابن اسحاق سے ماخوذ ہے۔ دوسرے طبقات ابن سعد۔ تیسرے طبری اور چوتھے واقدی۔ ان سب کا میں نے حتّی الوسع باقاعدہ مطالعہ کیا ہے اور سب سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ ان کتب کے بیان کردہ واقعات کی چھان بین اور تحقیق کے واسطے میں نے قرآن شریف اور کتب احادیث خصوصاً صحاح ستہ کو حتّی الوسع ہمیشہ اپنے سامنے رکھا ہے۔ متأ خرین کی کتب میں سے زرقانی، شرح مواہب اللدنیہ، تاریخ الکامل ابن اثیر، اسد الغابہ اور اصابہ فی معرفۃ الصحابہ اور سیرۃ النبی مصنفہ مولانا شبلی سے میں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔ یورپ کے اعتراضات اور طرز تحریر کو مدّ نظر رکھنے کے واسطے میں نے لائف آف محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) مصنفہ سر ولیم میور، محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) مصنفہ پروفیسر مارگولیس اور بعض دیگر تصنیفات کو زیر مطالعہ رکھا ہے۔ جغرافیہ عرب کے واسطے معجم البلدان کو میں نے نہایت کار آمد اور قابلِ اعتبار رفیق پایا ہے۔ جامعیت کے لحاظ سے تاریخ خمیس اور سیرۃ الحلبیہ کا میں نے جواب نہیں دیکھا مگر افسوس تحقیق سے خالی ہیں۔
    غرض میں نے اپنی طرف سے پوری تحقیق اور چھان بین سے کام لیا ہے مگر الانسان مرکب من الخطاء و النسیان فارجوممن طالع کتابی ھذا ان یسامحنی اذا وقف علی خطاء اوسھو فیہ و یدعوا اﷲ ان یھدینی الی الصراط المستقیم فانہ لا مضل لمن ھداہ و لا ھادی لمن اضلہ بیدہ الخیر کلہ و ھوالمستعان۔
    اس کتاب کی تیاری میں جن احباب کی طرف سے مجھے کسی قسم کی مدد پہنچی ہے ان سب کا میں دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خصوصاً استاذی المکرم حضرت مولوی شیر علی صاحب بی اے ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز قادیان کا جن کے مفید مشورہ سے میں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہے اور مکرمی جناب مولوی فضل دین صاحب وکیل قادیان کا جنہوں نے مسودوں کے مطالعہ کے علاوہ مجھے ضروری حوالجات کی تلاش میں بہت مدد دی اور مکرمی ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی ثم قادیانی کا جنہوں نے ادبی لحاظ سے مضمون میں مناسب اصلاح کی۔
    خاکسار
    مرزا بشیر احمد
    ۱۴؍شوال ۱۳۳۸ ھ مطابق یکم جولائی ۱۹۲۰ء

    ابتدائی لڑائیاں،روزہ کی ابتدائ،تحویل قبلہ
    اور
    جنگ بدر کے متعلق ابتدائی بحث
    غزوات وسرایا کاآغاز اورغزوہ ودّان صفر۲ہجری
    اب مغازی کاعملی آغاز ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاطریق تھا
    کہ کبھی تو خود صحابہ کوساتھ لے کر نکلتے تھے اور کبھی کسی صحابی کی امارت میں کوئی دستہ روانہ فرماتے تھے۔ مؤرخین نے ہردوقسم کی مہموں کوالگ الگ نام دئے ہیں ۔چنانچہ جس مہم میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خود بنفس نفیس شامل ہوئے ہوں اس کا نام مؤرخین غزوہ رکھتے ہیں اورجس میں آپؐ خود شامل نہ ہوئے ہوں اس کا نام سریہؔ یابعثؔ رکھا جاتا ہے ۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ غزوہ اورسریہ دونوں میں مخصوص طورپر جہادبالسیف کی غرض سے نکلنا ضروری نہیں بلکہ ہروہ سفر جس میں آپؐ جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں غزوہ کہلاتا ہے خواہ وہ خصوصیت کے ساتھ لڑنے کی غرض سے نہ کیا گیا ہواور اسی طرح ہروہ سفر جوآپؐ کے حکم سے کسی جماعت نے کیا ہو مؤرخین کی اصطلاح میں سریہؔ یابعث کہلاتا ہے خواہ اس کی غرض وغایت لڑائی نہ ہو،لیکن بعض لوگ ناواقفیت سے ہرغزوہ اورسریہؔ کولڑائی کی مہم سمجھنے لگ جاتے ہیں جودرست نہیں۔
    یہ بیان کیا جاچکاہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔چونکہ قریش کے خونی ارادوں اوران کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کومحفوظ رکھنے کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لئے آپؐ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کانام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔روانگی سے قبل آپؐ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادہ رئیس خزرج کوامیر مقررفرمایا اور مدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پرروانہ ہوگئے اوربالآخر مقام ودّان تک پہنچے۔اس علاقہ میں قبیلہ بنوضمرۃ کے لوگ آباد تھے۔یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اوراس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چچا زاد بھائی تھے۔یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبیلہ بنوضمرۃ کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اورباہم رضامندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہوگیا۔جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بنوضمرۃ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضر ت صلی اﷲ علیہ وسلم ان کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بلائیں گے،تو وہ فوراً آجائیں گے۔دوسری طرف آپؐ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ مسلمان قبیلہ بنوضمرۃ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ باقاعدہ لکھا گیااورفریقین کے اس پر دستخط ہوئے اورپندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ ۱؎ غزوہ ودّان کادوسرا نام غزوہ ابوابھی ہے کیونکہ ودّان کے قریب ہی ابواکی بستی بھی ہے اور یہ مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کواس غزوہ میں بنوضمرۃ کے ساتھ قریش مکہ کابھی خیال تھا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپؐ کی یہ مہم قریش کی خطرناک کارروائیوں کے سدباب کے لئے تھی اور اس میں زہریلے اورخطرناک اثرکاازالہ مقصودتھا جوقریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں پیدا کررہے تھے اورجس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔
    سریہ عبیدۃ بن الحارث ربیع الاول ۲ہجری
    غزوہ ودّان سے واپس آنے پر ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپؐ نے اپنے ایک قریبی رشتہ
    دارعبیدۃ بن الحارث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شترسوارمہاجرین کاایک دستہ روانہ فرمایا۔ اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔چنانچہ جب عبیدۃ بن الحارث اوران کے ساتھی کچھ مسافت طے کرکے ثنیۃ المرّۃ کے پاس پہنچے توناگاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دوسو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابوجہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اورایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیراندازی بھی ہوئی ۲؎ ،لیکن پھر مشرکین کاگروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہوگی ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔ ۳؎ البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمرو اور عتبہ بن غزوان، عکرمہ بن ابوجہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقع پاکر مسلمانوں میں آملیں۔ ۱؎ کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کرسکتے تھے اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کوبددل کردیا ہو اور انہوں نے اسے بدفال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کرلیاہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کایہ لشکر جویقینا کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھااورجس کے متعلق ابن اسحاق نے جمع عظیم(یعنی ایک بڑا لشکر)کے الفاظ استعمال کئے ہیںکسی خاص ارادہ سے اس طرف آیا تھا،لیکن یہ یقینی ہے کہ ان کی نیت بخیر نہیں تھی اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کوچوکس پاکراوراپنے آدمیوں میںسے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اوروہ واپس لوٹ گئے۔اورصحابہ کواس مہم کایہ عملی فائدہ ہوگیاکہ دو مسلمان روحیں قریش کے ظلم سے نجات پاگئیں۔
    سریہ حمزہ بن عبدالمطلب ربیع الاول ۲ہجری
    اسی ماہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تیس شترسوار مہاجرین کے ایک اوردستہ کواپنے حقیقی
    چچاحمزہ بن عبدالمطلب کی سرداری میں مدینہ سے مشرقی جانب سیف البحر علاقہ عیص کی طرف روانہ فرمایا۔حمزہ اور ان کے ساتھی جلدی جلدی وہاں پہنچے تو کیادیکھتے ہیں کہ مکہ کارئیس اعظم ابوجہل تین سوسواروں کاایک لشکر لئے ان کے استقبال کو موجود ہے۔مسلمانوں کی تعداد سے یہ تعداد دس گنے زیادہ تھی،مگر مسلمان خدااوراس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں گھر سے نکلے تھے اورموت کا ڈرانہیں پیچھے نہیں ہٹاسکتا تھا۔دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل میں صف آرائی کرنے لگ گئیں اورلڑائی شروع ہونے والی ہی تھی کہ اس علاقہ کے رئیس مجددی بن عمروالجہنی نے جو دونوں فریق کے ساتھ تعلقات رکھتا تھادرمیان میں پڑکربیچ بچائو کروایااور لڑائی ہوتے ہوتے رک گئی۔ ۲؎ ابن سعد نے جوعموماًاپنے استاد واقدی کی اتباع کرتا ہے لکھا ہے کہ یہ قریش کا ایک قافلہ تھا جس سے مسلمانوں کاسامنا ہواتھا،لیکن ابن اسحاق نے بروایت ابن ہشام قافلہ کاکوئی ذکر نہیںکیا،بلکہ صرف یہ لکھا ہے کہ قریش کے تین سو سواروں سے سامنا ہواتھا جوابوجہل کے زیر کمان تھے اورکفار کی تعداد اوردوسرے قرائن سے ابن اسحاق کی روایت صحیح ثابت ہوتی ہے اور یہ یقینی ہے کہ کفار کایہ دستہ مسلمانوں کے خلاف نکلا تھا۔چنانچہ کرزبن جابرفہری کاحملہ بھی جس کا ذکر آگے آتا ہے اس خیال کامؤید ہے۔
    غزوہ بواط ربیع الآخر۴ہجری
    اسی مہینہ کے آخری ایام یاربیع الآخر کے شروع میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوپھر قریش کی طرف سے کوئی خبر موصول ہوئی جس پرآپؐ
    مہاجرین کی ایک جماعت کوساتھ لے کر خود مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے سائب بن عثمان بن مظعون کومدینہ کاامیر مقررفرمایا لیکن قریش کاپتہ نہیں چل سکااورآپؐبواط تک پہنچ کر واپس تشریف لے آئے۔ ۱؎
    غزوہ عشیرۃ اور سریہ سعد بن ابی وقاص جمادی الاولیٰ ۲ہجری
    اس کے بعدجمادی الاولیٰ میں پھر قریش مکہ کی طرف سے کوئی
    خبرپا کر آپؐمہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکلے اوراپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابوسلمہ بن عبدالاسد کو امیر مقررفرمایا۔اس غزوہ میں آپؐکئی چکرکاٹتے ہوئے بالآخر ساحل سمندر کے قریب ینبع کے پاس مقام عشیرۃ تک پہنچے اورگوقریش کامقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپ ؐ نے قبیلہ بنومدلج کے ساتھ انہیں شرائط پر جو بنوضمرۃ کے ساتھ قرار پائی تھیںایک معاہدہ طے فرمایااورپھرواپس تشریف لے آئے۔اسی سفر کے دوران میں آپؐ نے سعدبن ابی وقاص کو آٹھ مہاجرین کے ایک دستہ پر امیر مقرر کرکے قریش کی خبررسانی کے لئے خراء کی طرف روانہ فرمایا۔ ۲؎
    کرزبن جابرکاحملہ اورغزوہ سفوان جمادی الآخر ۲ہجری
    مگر باوجود صحابہؓ کی اس قدر بیدارمغزی اورمسلمان پارٹیوں کے
    مدینہ کے گردونواح میں اس طرح ہوشیاری کے ساتھ چکر لگاتے رہنے کے قریش کی شرارت نے اپنے لئے راستہ پیدا کرہی لیا۔چنانچہ ابھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کومدینہ میں تشریف لائے دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مکہ کے ایک رئیس کرزبن جابرفہری نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پرجوشہر سے صرف تین میل پر تھی اچانک حملہ کیا اورمسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کر چلتا ہوا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کویہ اطلاع ہوئی توآپؐ فوراًزید بن حارثہ کواپنے پیچھے امیر مقرر کرکے اور مہاجرین کی ایک جماعت کوساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سفوان تک جوبدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا،مگر وہ بچ کر نکل گیا۔اس غزوہ کو غزوہ بدرالاولیٰ بھی کہتے ہیں۔ ۳؎
    کرزبن جابرکایہ حملہ ایک معمولی بدویانہ غارت گری نہیں تھی بلکہ یقینا وہ قریش کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف خاص ارادے سے آیاتھا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ اس کی نیت خاص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات کونقصان پہنچانے کی ہو،مگر مسلمانوں کو ہوشیار پاکران کے اونٹوں پرہاتھ صاف کرتا ہوا نکل گیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے یہ ارادہ کرلیاتھا کہ مدینہ پرچھاپے مار مار کر مسلمانوں کوتباہ وبرباد کیا جاوے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گواس سے پہلے مسلمانوں کو جہاد بالسیف کی اجازت ہوچکی تھی اور انہوں نے خود حفاظتی کے خیال سے اس کے متعلق ابتدائی کارروائی بھی شروع کردی تھی،لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کفار کوعملاًکسی قسم کامالی یاجانی نقصان نہیں پہنچا تھا،لیکن کرزبن جابر کے حملہ سے مسلمانوں کو عملاًنقصان پہنچا۔گویا مسلمانوں کی طرف سے قریش کاچیلنج قبول کرلئے جانے کے بعد بھی عملی جنگ میں کفار ہی کی پہل رہی۔
    سریہ عبداللہ بن جحش بطرف نخلہ
    کرزبن جابر کے اچانک حملہ نے طبعاً مسلمانوں کو بہت متوحش کردیا تھا اورچونکہ رئوساء قریش کی یہ دھمکی پہلے سے
    موجود تھی کہ ہم مدینہ پرحملہ آور ہوکر مسلمانوں کوتباہ وبرباد کردیں گے،مسلمان سخت فکرمند ہوئے اورانہی خطرات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات وسکنات کازیادہ قریب سے ہوکر علم حاصل کیا جاوے تاکہ ان کے متعلق ہرقسم کی ضروری اطلاع بروقت میسر ہوجاوے اورمدینہ ہرقسم کے اچانک حملوں سے محفوظ رہے۔چنانچہ اس غرض سے آپؐ نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی۔ ۱؎ اورمصلحتاً اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جوقریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔۲؎ تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہواوراس پارٹی پرآپؐ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن جحش کوامیر مقررفرمایا۔اوراس خیال سے کہ اس پارٹی کی غرض وغایت عامۃ المسلمین سے بھی مخفی رہے آپؐ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کوبھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اورکس غرض سے بھیجا جارہا ہے بلکہ چلتے ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک سربمہر خط دے دیا اورفرمایا کہ اس خط میں تمہارے لئے ہدایات درج ہیں۔جب تم مدینہ سے دودن کا سفر طے کرلو توپھراس خط کوکھول کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا۔چنانچہ عبداللہ اوران کے ساتھی اپنے آقا کے حکم کے ماتحت روانہ ہوگئے اورجب دودن کا سفرطے کرچکے تو عبداللہ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے۔اِمْضِ حَتّٰی تُنْزِلَ نَخْلَۃً بَیْنَ مَکَّۃَ وَالطَّائِفِ فَتَرْصِدُبِھَا قُرَیْشًا وَتَعْلَمُ لَنَامِنْ اَخْبَارِھِمْ۔ ۳؎ یعنی’’تم مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں جائو اوروہاں جاکر قریش کے حالات کاعلم لواورپھر ہمیں اطلاع لاکردو۔‘‘اور چونکہ مکہ سے اس قدر قریب ہو کر خبر رسانی کرنے کا کام بڑا نازک تھا۔آپؐ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھی تھی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگرتمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہواور واپس چلاآنا چاہے،تو اسے واپس آنے کی اجازت دے دو۔عبداللہ نے آپؐ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کوسنا دی اورسب نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لئے حاضر ہیں۔۱؎ اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں سعد بن ابی وقاص اورعتبہ بن غزوان کا اونٹ کھویاگیااوروہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے اوراب یہ پارٹی صرف چھ کس کی رہ گئی۔مسٹر مارگولیس اس موقع پر لکھتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ نے جان بوجھ کراپنا اونٹ چھوڑدیا تھا اوراس بہانہ سے پیچھے رہ گئے۔ان جاں نثاران اسلام پر جن کی زندگی کاایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اورجن میں سے ایک غزوہ بئر معؤنہ میں کفار کے ہاتھوں شہیدہوا اوردوسرا کئی خطرناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کربالآخر عراق کافاتح بنا اس قسم کا شبہ کرنا اور شبہ بھی محض اپنے من گھڑت خیالات کی بناء پر کرنا مسٹر مارگولیس ہی کا حصہ ہے اورپھرلطف یہ ہے کہ مارگولیس صاحب اپنی کتاب میں دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب ہرقسم کے تعصب سے پاک ہوکر لکھی ہے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اوراپنے کام میں مصروف ہوگئی اوران میں سے بعض نے اخفاء راز کے خیال سے اپنے سر کے بال منڈوادئے تاکہ راہگیر وغیرہ ان کو عمرہ کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں،لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کاایک چھوٹا سا قافلہ بھی آن پہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھااورہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہوگئیں۔مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لئے بھیجا تھا،لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہوچکی تھی اوراب دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے اور پھرطبعاًیہ اندیشہ بھی تھاکہ اب جو قریش کے ان قافلہ والوں نے مسلمانوں کودیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی کاراز بھی مخفی نہ رہ سکے گا۔ایک دقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھاکہ شاید یہ دن رجب یعنی شہرحرام کاآخری ہے جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہئے تھی۔اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزرچکا ہے اور شعبان شروع ہے۔ ۲؎ اوربعض روایات میں ہے کہ یہ سریہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جمادی کا ہے یارجب کا۔ ۱؎ لیکن دوسری طرف نخلہ کی وادی عین حرم کے علاقہ کی حد پر واقع تھی اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کویہ قافلہ حرم کے علاقہ میں داخل ہوجائے گا جس کی حرمت یقینی ہوگی۔غرض ان سب باتوں کو سوچ کرمسلمانوں نے آخر یہی فیصلہ کیا کہ قافلہ پرحملہ کرکے یاتو قافلہ والوں کو قید کرلیاجاوے اور یا ماردیاجاوے۔چنانچہ انہوں نے اللہ کانام لے کر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں کفار کاایک آدمی جس کا نام عمروبن الحضرمی تھا مارا گیا اور دو آدمی قید ہوگئے، لیکن بد قسمتی سے چوتھاآدمی بھاگ کرنکل گیااورمسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلہ کے سامان پر قبضہ کرلیا اور چونکہ قریش کاایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی عبداللہ بن جحش اوران کے ساتھی سامان غنیمت لے کر جلد جلد مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔
    مسٹر مارگولیس اس موقع پرلکھتے ہیں کہ دراصل محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)نے یہ دستہ دیدہ دانستہ اس نیت سے شہرحرام میں بھیجاتھا کہ چونکہ اس مہینہ میں قریش طبعاًغافل ہوں گے۔ مسلمانوں کوان کے قافلہ کے لوٹنے کاآسان اوریقینی موقع مل جائے گا،لیکن ہرعقل مند سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مختصر پارٹی کو اتنے دوردراز علاقہ میں کسی قافلہ کی غارت گری کے لئے نہیں بھیجا جاسکتاخصوصاًجبکہ دشمن کا ہیڈ کوارٹر اتنا قریب ہو اور پھر یہ بات تاریخ سے قطعی طورپر ثابت ہے کہ یہ پارٹی محض خبر رسانی کی غرض سے بھیجی گئی تھی اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلہ پر حملہ کیا تھا توآپؐ سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ روایت ہے کہ جب یہ جماعت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورآپؐ کو سارے ماجرا کی اطلاع ہوئی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا مَااَمَرْتُکُمْ بِقِتَالٍ فِی الشَّھْرِ الْحَرَامِ۔ ۲؎ ’’میں نے تمہیں شَہرِ حرام میں لڑنے کی اجازت نہیںدی ہوئی۔‘‘ وَاَبٰی اَنْ یَاخُذَ مِنْ ذَالِکَ شَیْئًا۔ ۳؎ اورآپؐ نے مال غنیمت لینے سے انکار کردیا۔‘‘اس پر عبداللہ اوران کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے۔وَظَنُّوْاانَّھُمْ قَدْھَلَکُوْا۔ ۴؎ اورانہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔‘‘صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی اور کہا صَنَعْتُمْ مَالَمْ تُؤْمَرُوْا وَقَاتَلْتُمْ فِی الشَّھْرِالْحَرَامِ وَلَمْ تُؤْمَرُوْا بِقِتَالٍ۔ ۱؎ یعنی ’’تم نے وہ کام کیا جس کا تم کو حکم نہیں دیا گیا تھا اورتم نے شَہرِ حرام میں لڑائی کی حالانکہ اس مہم میں تو تم کومطلقاً لڑائی کاحکم نہیں تھا۔‘‘ دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شَہرِ حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص ماراگیا تھا یعنی عمروبن الحضرمی وہ ایک رئیس آدمی تھا اورپھروہ عتبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کاحلیف بھی تھااس لئے بھی اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کوبہت بھڑکا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش وخروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کردی ۔چنانچہ جنگ بدر جس کا ذکر آگے آتا ہے زیادہ ترقریش کی اسی تیاری اورجوش عداوت کانتیجہ تھا۔الغرض اس واقعہ پر مسلمانوں اور کفارہردو میں بہت چہ میگوئی ہوئی اور بالآخر ذیل کی قرآنی وحی نازل ہوکر مسلمانوں کی تشفی کاموجب ہوئی۔۲؎ یعنی’’لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شَہرِحرام میں لڑنا کیسا ہے؟تو ان کو جواب دے کہ بے شک شَہرِحرام میں لڑنا بہت بری بات ہے ،لیکن شَہرِحرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبراًروکنا بلکہ شَہرِحرام اور مسجد حرام دونوں کاکفرکرنا یعنی ان کی حرمت کوتوڑنااورپھرحرم کے علاقہ سے اس کے رہنے والوں کو بزورنکالنا جیسا کہ اے مشرکو تم لوگ کررہے ہو یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شَہرِحرام میں لڑنے کی نسبت بھی زیادہ بری ہیں اوریقینا شَہرِحرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بدتر ہے جو فتنہ کوروکنے لے لئے کیا جاوے۔اور اے مسلمانو! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہورہے ہیں کہ کسی وقت اورکسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اوروہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیںگے حتّٰی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیںبشرطیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔‘‘ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رئوسائے قریش اپنے خونی پراپیگنڈا کواشَہرِحرام میں بھی برابر جاری رکھتے تھے بلکہ اشَہرِحرم کے اجتماعوںاورسفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اوربھی زیادہ تیز ہوجاتے تھے اورپھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لئے وہ عزت کے مہینوں کواپنی جگہ سے ادھرادھرمنتقل بھی کردیاکرتے تھے جسے وہ نسئی کے نام سے پکارتے تھے اورپھرآگے چل کر تو انہوں نے غضب ہی کردیا کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں باوجود پختہ عہدوپیمان کے کفار مکہ اوران کے ساتھیوں نے حرم کے علاقہ میںمسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف تلوار چلائی اورپھر جب مسلمان اس قبیلہ کی حمایت میںنکلے توان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اس جواب سے مسلمانوں کی تو تسلی ہونی ہی تھی قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اوراس دوران میں ان کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کوچھڑوانے کے لئے مدینہ پہنچ گئے،لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور عتبہ واپس نہیں آئے تھے۔اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوان کے متعلق سخت خدشہ تھا کہ اگروہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیںگے۔اس لئے آپؐ نے ان کی واپسی تک قیدیوں کوچھوڑنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیںگے تو پھر میںتمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوںگا۔چنانچہ جب وہ دونوں واپس پہنچ گئے،تو آپؐ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا،لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اوراسلامی تعلیم کی صداقت کااس قدر گہرا اثر ہوچکا تھا کہ اس نے آزاد ہوکر بھی واپس جانے سے انکار کردیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوکرآپؐ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہوگیا اور بالآخر بئر معؤنہ میں شہیدہوا۔اس کا نام حکم بن کیان تھا۔ ۱؎
    تحویل قبلہ
    باوجود جنگ وجدال کی بے انتہا مصروفیت کے تکمیل وتاسیس مذہب کا کام نہیں رک سکتا تھاکیونکہ بعثت نبویؐ کی یہی علت اولیٰ تھی۔پنجگانہ نماز مکہ میں ہی شروع ہوچکی تھی۔
    مدینہ میں باجماعت نماز کے التزام نے اذان کی ضرورت محسوس کرائی اوراس کا انتظام کیا گیا۔مگر مسلمانوںکاقبلہ ابھی تک بیت المقدس تھا اورمکہ میںبھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اورمدینہ کے ابتدائی زمانہ میںبھی یہی طریق جاری رہا،لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ مکہ کے کعبہ کوقرار دیا جاوے،کیونکہ وہ خدا کی عبادت کاپہلا گھرتھاجو دنیا میں تعمیر ہوا اورابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ اورعربوں کے جدِّاعظم اسماعیل ذبیح اللہ کی یاد گار بھی اسی گھر سے وابستہ تھی اورپھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کامولدومسکن اوراسلام کامبداء ومنبع ہونے کی حیثیت میں بھی کعبہ ہی مسلمانوں کاقبلہ بننے کاحق دار تھا،لیکن چونکہ ابھی تک کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز اداکرنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھااس لئے آپؐ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور یہ سلسلہ ہجرت کے سولہ سترہ ماہ بعد تک جاری رہا،لیکن اب وقت آگیا تھا کہ مسلمانوں کوان کے اصل قبلہ پر قائم کردیا جاوے۔چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال شعبان کے مہینہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی توجہ حکم الہٰی کے نزول کی محرک ہوئی اوریکلخت مسلمانوں کارخ بیت المقدس کی طرف سے کعبہ کی طرف پھرگیا۔ قرآن شریف میں جو آیات اس بارہ میں نازل ہوئیں۔وہ یہ ہیں۔
    ۱؎ … ۲؎
    ’’ضرور بیوقوف لوگ اعتراض کریں گے کہ مسلمانوں کوان کے اس قبلہ سے کس بات نے پھیردیا جس پر کہ وہ تھے۔توکہہ دے کہ مشرق ومغرب اللہ ہی کے لئے ہے وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف راستہ دکھادیتا ہے اوراے رسول!ہم نے تیرے پہلے قبلہ کوتوصرف اس امتحان کے طورپررکھاتھا کہ یہ ظاہر ہوجاوے کہ کون خدا کے رسول کی سچی اتباع اختیار کرتا ہے اورکون اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاتا ہے اوربے شک پہلا قبلہ طبائع پرایک بوجھ رہا ہے سوائے ان لوگوں کے جواللہ کی طرف سے ہدایت پرقائم ہیں اوراے رسول! ہم دیکھتے ہیں کہ تیری توجہ قبلہ کے معاملہ میں آسمان کی طرف لگی ہوئی ہے کہ کب کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم اترتا ہے۔لہذا ا ب ہم پھیر دیتے ہیں تجھے اس قبلہ کی طرف جو تجھے پسند ہے۔پس اے رسول اپنے رخ کومسجد حرام کی طرف پھیر لے اوراے مسلمانو!جہاں کہیں بھی تم ہواپنا رخ مسجدحرام کی طرف رکھاکرواورجانو کہ ہر قوم کے لئے توجہ کی ایک خاص سمت ہوتی ہے اورگو ہم نے تمہاری ظاہری سمت کعبہ کومقرر کیاہے لیکن یاد رکھو تمہاری باطنی سمت نیکیوں کی طرف بڑھنا ہونی چاہئے اوراس ظاہر وباطن کی یکجہتی سے یہ فائدہ ہوگا کہ تم خواہ دنیا کے کسی حصہ میں پھیلے ہوئے ہوگے تم میں اتحاد رہے گا۔بے شک اللہ جو چاہتا ہے اس پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘
    ان آیات قرآنی میں جہاں تحویل قبلہ کا حکم ہے وہاں قبلہ کی حکمت اورضرورت بھی بیان کی گئی ہے کہ اس سے قوم میںظاہری یکجہتی اوراتحاد فی الصورت قائم رہتے ہیں اوریہ بھی بتایا گیا ہے کہ شروع شروع میں اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ تک مسلمانوں کو بیت المقدس کے قبلہ پراس مصلحت سے قائم رکھا تھا کہ وہ مشرکین عرب کے لئے جن کی ساری توجہ کا مرکز کعبہ تھا بطورایک امتحان کے رہے اوروہ اپنے اندر ایمان کی خاطر قربانی کرنے کی روح پیدا کریں،لیکن جب آزمائش کا مناسب زمانہ گزر گیا تواصل قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔اس موقع پر سرولیم میور نے اعتراض کیا ہے کہ شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے اس لئے نماز پڑھتے تھے تا کہ اس طرح مدینہ کے یہودیوں کواپنی طرف مائل کریں، لیکن جب دیکھا کہ وہ اس دائو میں نہیں آتے تورخ بدل کرکعبہ کی طرف کرلیا گیا تاکہ مشرکین عرب کو خوش کرنے کی کوشش کی جاوے۔تعصب بے شک انسان کو اندھا کردیتا ہے لیکن اگر سرولیم جیسا قابل شخص جو ہندوستان کے ایک بہت بڑے صوبے کاکامیاب حاکم رہ چکا ہے اسلام کے متعلق ایسی بے بنیاد باتیں کرے توجائے تعجب ضرور ہے،مگرحقیقت ایسی واضح ہے کہ کسی کے چھپائے چھپ نہیںسکتی۔جوطریق عمل ہجرت سے کئی سال پہلے مکہ میں جاری ہوا ہو اور مدینہ جانے پر چند ماہ کے بعد منسوخ کردیا ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ وہ یہود مدینہ کو خوش کرنے کے لئے جاری کیا گیا تھا اوراس کی منسوخی کے متعلق یہ کہنا کہ وہ مشرکین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقوع میں آئی تھی کسی عقل مند کو دھوکے میں نہیں ڈال سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلا قبلہ مشرکین کے لئے بطور ایک امتحان کے تھا اوراس امتحان کاوقت ہجرت سے پہلے ہی مناسب تھا،لیکن چونکہ مدینہ میں بھی مشرکین بستے تھے اس لئے مدینہ کے ابتدائی ایام میں بھی وہ امتحان جاری رہا۔مگر جب مشرکین مدینہ قریباًمفقود ہوگئے تو اس امتحان کی ضرورت نہ رہی اورتحویل قبلہ کا حکم نازل ہوگیا اوراس حکم میں دو مصلحتیں تھیں۔ایک یہ کہ مسلمان اپنے اصل قبلہ پرقائم ہوگئے اوردوسرے یہ کہ نیا قبلہ یہود کے لئے ایک امتحان بن گیا جیسا کہ پہلا قبلہ مشرکین کے لئے امتحان تھا۔پس حقیقت وہ نہیں جو میور صاحب کے خامۂ تعصب نے خلق کی ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے اور قرآن جس کی شہادت کی تاریخی حیثیت کو میور صاحب نے سب شہادتوں سے بڑھ کر قرار دیا ہے اس کا شاہد ہے۔
    صیامِ رمضان
    نماز سے اتر کر اسلامی عبادات کادوسرا بڑارکن روزہ ہے۔دراصل اسلام نے مختلف قسم کی عبادات مختلف قسم کے تزکیۂ نفس کومدنظر رکھ کر شروع کی ہیں۔یعنی اگرنماز ایک رنگ
    میں انسان کی آلائشوں اورکمزوریوں کو دور کرتی ہے اوراسے خدا کا مقرب بننے کے قابل بناتی ہے تو روزے کسی دوسرے رنگ میں یہ کام سرانجام دیتے ہیں اورزکوٰۃ ایک تیسرے میدان کے لئے مقرر ہے اور حج ان تینوں کے علاوہ ایک چوتھا مقصد ہے اوراس طرح مختلف عبادتیں مختلف مقاصد کوپورا کرتی ہیں اور مختلف جہات سے انسان کی اصلاح اورترقی کے کام میںممد ہوتی ہیں اور اگر غور کیا جاوے تو یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس ترتیب سے اسلامی عبادات کے مختلف ارکان شروع ہوئے ہیں وہی ان کی اہمیت کی ترتیب بھی ہے۔یعنی سب سے زیادہ اہم اورسب سے زیادہ وسیع طورپرانسانی اخلاق اورروحانیت پراثر ڈالنے والی عبادت وہ ہے جو سب سے پہلے قائم کی گئی اوراس کے بعد اس سے کم درجہ کی قائم کی گئی اوراس کے بعد اس سے کم کی وعلیٰ ھذاالقیاس۔اورجولوگ عبادات کو محض ایک رسم کے طور پر ادا نہیں کرتے اوران کے اثر کو اپنے نفوس میں مطالعہ کرنے کے عادی ہیں وہ یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ عبادات میں اول نمبر نماز کا ہے اورپھراس سے اتر کر روزہ کا۔اورپھردوسری عبادات کا۔ بہرحال اس وقت تک صرف نماز مشروع ہوئی تھی اوراب ہجرت کے دوسرے سال رمضان کی آمد پرروزوںکابھی آغاز ہوا۔ ۱؎ یعنی یہ حکم نازل ہوا کہ رمضان کے مہینہ میںتمام بالغ مسلمان مردوعورت باستثناء بیماروں اورناتوانوں کے اور باستثناء مسافروں کے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک ہر قسم کے کھانے پینے سے پرہیز کریں اوران اوقات میں خاوند بیوی کے مخصوص تعلقات سے بھی پرہیز کیا جاوے اورروزوں کے ایام کوخصوصیت کے ساتھ ذکر الہٰی اور قرآن خوانی اورصدقہ وخیرات میں گزاراجاوے اورروزوں کی راتوں میں مخصوص طورپر نماز تہجد کاالتزام کیا جاوے وغیرذالک۔ ۲؎ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق لکھا ہے کہ آپؐ کارمضان گویاایک مجسم عبادت کا رنگ رکھتا تھااورگویوں توآپؐ کی ساری زندگی ہی عبادت تھی،مگر روزوں میں آپؐ خصوصیت سے بیشتر حصہ وقت کا نوافل اورذکر الہٰی میں گزارتے تھے اورراتوں کو کثر ت کے ساتھ جاگتے تھے اوررمضان میں آپؐ اتنا صدقہ وخیرات کرتے تھے کہ صحابہؓ نے اس کو ایک تیز ہوا کے ساتھ تشبیہہ دی ہے جوکسی روک کوخیال میں نہ لائے۔ ۳؎ نیز روزہ کی روح کوزندہ رکھنے کے لئے آپؐ ہمیشہ صحابہ کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ یہ نہ سمجھو کہ بس کھانا پینا چھوڑنے کی رسم ادا کرکے تم خدا کے نزدیک روزہ دار شمار ہوجائو گے بلکہ تمہیں روزہ کی اصل روح کوملحوظ رکھنا چاہئے تاکہ اس سے تمہارے اندر طہارت نفس اورضبط خواہشات اورمادۂ قربانی اورغرباء کی امدادکااحساس پیداہواورفرماتے تھے کہ وہ شخص بہت بدقسمت ہے جس کو کوئی رمضان میسرآئے اورپھراس کے گزشتہ گناہ معاف نہ ہوں۔آپؐ نوافل کے طورپر بھی روزہ کی تحریک فرمایا کرتے تھے مگرآپؐکی یہ سنت تھی کہ آپؐ ہر بات میں میانہ روی کا حکم دیتے تھے ۔چنانچہ آپؐ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص مسلسل روزے رکھتا چلاجاوے اورفرماتے تھے کہ انسان پرخدا نے اس کے نفس کا بھی حق رکھا ہے اوراس کی بیوی کا بھی حق رکھا ہے اوراس کے بچوں کا بھی حق رکھا ہے اوراس کے دوستوں کا بھی حق رکھا ہے اور ہمسایوں کا بھی حق رکھا ہے اوراسی طرح دوسرے حقوق ہیں اوران میں سے ہرحق کو خدا کی شریعت اورمنشاء کے ماتحت ادا کرنا عبادت میںداخل ہے۔پس ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی شخص ایک خاص عبادت پرزور دے کر دوسرے حقوق کو نظر انداز کردے۔ غرض اس طرح اس سال رمضان کے روزے فرض ہوگئے اوراسلامی عبادات میںدوسرے رکن کا اضافہ ہوا،لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح پنجگانہ نماز فرض ہونے سے قبل بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رنگ میں نفلی نماز پڑھا کرتے تھے اورصحابہ کو بھی اس کی تلقین فرماتے تھے۔اسی طرح رمضان کے روزے فرض کئے جانے سے پہلے آپؐ نفلی روزے بھی رکھتے تھے،مگر وہ اس طرح باقاعدہ اورمعیّن اورموّقت صورت میں مشروع نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل آپؐ یوم عاشورہ یعنی محرم کی دسویں تاریخ کاروزہ رکھا کرتے تھے اورصحابہ کوبھی اس کی تحریک فرماتے تھے۔
    عیدالفطر
    رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد رمضان کاآخرآیا توآپؐ نے خدا سے حکم پاکر صدقۃ الفطر کاحکم جاری فرمایا کہ ہرمسلمان جسے اس کی طاقت ہو اپنی طرف سے اور اپنے
    اہل عیال اورتوابع کی طرف سے فی کس ایک صاع ۱؎ کے حساب سے کھجور یاانگور یاجَو یاگندم وغیرہ بطورصدقہ عید سے پہلے ادا کرے اور یہ صدقہ غرباء اور مساکین اوریتامیٰ اوربیوگان وغیرہ میں تقسیم کردیا جاوے تاکہ ذی استطاعت لوگوں کی طرف سے عبادت صوم کی کمزوریوں کا کفارہ ہوجاوے اور غرباء کے لئے عید کے موقع پرایک امداد کی صورت نکل آئے۔چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم سے ہر عید رمضان سے پہلے صدقتہ الفطر باقاعدہ طورپر ہرچھوٹے بڑے مردعورت مسلمان سے وصول کیا جاتا تھا اوریتامیٰ اورغرباء اورمساکین میں تقسیم کردیا جاتا تھا۔
    عیدالفطر بھی اسی سال شروع ہوئی یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ رمضان کامہینہ ختم ہوجانے پر شوال کی پہلی تاریخ کومسلمان عید منایا کریں۔یہ عید اس بات کی خوشی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی عبادت ادا کرنے کی توفیق عطافرمائی ہے۔مگر کیا شان دلربائی ہے کہ آپؐ نے اس خوشی کے اظہار کے لئے بھی ایک عبادت ہی مقرر فرمائی۔ چنانچہ حکم دیا کہ عید کے دن تمام مسلمان کسی کھلی جگہ جمع ہو کر پہلے دو رکعت نماز ادا کیا کریں اورپھر اس نماز کے بعد بے شک جائز طورپر ظاہری خوشی بھی منائیں کیونکہ روح کی خوشی کے وقت جسم کا بھی حق ہے کہ وہ خوشی میں حصہ لے۔دراصل اسلام نے ان تمام بڑی بڑی عبادتوں کے اختتام پر جواجتماعی طورپرادا کی جاتی ہیںعیدیں رکھی ہیں۔چنانچہ نمازوں کی عید جمعہ ہے جوگویا ہرہفتہ کی نمازوں کے بعد آتا ہے اور جسے اسلام میں ساری عیدوں سے افضل قرار دیا گیا ہے پھرروزوں کی عید عید الفطر ہے جو رمضان کے بعد آتی ہے۔اورحج کی عید عیدالالضحیٰ ہے جو حج کے دوسرے دن منائی جاتی ہے اوریہ ساری عیدیں پھر خود اپنے اندر ایک عبادت ہیں۔ الغرض اسلام کی عیدیں اپنے اندر ایک عجیب شان رکھتی ہیں اوران سے اسلام کی حقیقت پربڑی روشنی پڑتی ہے اوریہ اندازہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ کس طرح اسلام مسلمانوں کے ہر کام کو ذکر الہٰی کے ساتھ پیوند کرنا چاہتا ہے۔مجھے تاریخ سے ہٹنا پڑتا ہے ،ورنہ میں بتاتا کہ کس طرح اسلام نے ایک مسلمان کی ہرحرکت وسکون اورہرقول وفعل کو خدا کی یاد کا خمیر دیا ہے۔ حتّٰی کہ روزمرہ کے معمولی اٹھنے بیٹھنے،چلنے پھرنے،سونے جاگنے،کھانے پینے،نہانے دھونے،کپڑے بدلنے، جوتاپہننے،گھر سے باہر جانے،گھرکے اندر آنے،سفر پر جانے،سفر سے واپس آنے،کوئی چیز بیچنے،کوئی چیز خریدنے،بلندی پرچڑھنے،بلندی سے اترنے،مسجد میں داخل ہونے، مسجد سے باہرآنے،دوست سے ملنے،دشمن کے سامنے ہونے،نیا چاند دیکھنے،بیوی کے پاس جانے غرض ہرکام کے شروع کرنے اور ختم کرنے حتّٰی کہ چھینک اوراباسی تک لینے کو ۱؎ کسی نہ کسی طرح خدا کے ذکر کے ساتھ وابستہ کردیا ہے۔اس حالت میں اگر مشرکین عرب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق جو دراصل اس تعلیم کے لانے والے،لیکن کفار کے خیال میں اس تعلیم کے بنانے والے تھے یہ کہتے ہوں کہ محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کوخدا کا جنون ہوگیا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔واقعی ایک دنیادار کویہ باتیں جنون کے سوا اورکچھ نظر نہیں آسکتیں،مگر جس نے اپنی ہستی کی حقیقت کو سمجھا ہے وہ جانتا ہے کہ زندگی اسی کا نام ہے۔
    جنگ بدر کے متعلق ایک ابتدائی بحث
    اسی سال رمضان کے مہینہ میں بدر کی جنگ وقوع میں آئی۔یہ جنگ چونکہ کئی لحاظ سے تاریخ اسلام کاایک
    نہایت اہم واقعہ ہے،اس لئے ضروری ہے کہ اس کے متعلق کسی قدر زیادہ تفصیلی نظر ڈالی جاوے۔بدر وہ پہلی باقاعدہ لڑائی ہے جوکفار اورمسلمانوں کے درمیان ہوئی اوراس کے اثرات بھی ہردو فریق کے لئے نہایت وسیع اورگہرے ثابت ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے اس کانام’’یوم الفرقان‘‘یعنی حق وباطل کے درمیان فیصلہ کا دن رکھا ہے اور اس کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کی خبر رسول خدا کے ذریعہ قریش مکہ کو ہجرت سے پہلے دی گئی تھی۔جنگ بدر کے تحریکی سبب کے متعلق زمانہ حال میں بعض محققین نے اختلاف کیا ہے اوراسی اختلاف کے متعلق ہم اس ابتدائی نوٹ میں کچھ بحث کرنا چاہتے ہیں۔ عام مؤرخین کایہ خیال ہے اورمتقدمین میں سے تو اس بارہ میں کسی ایک مؤرخ نے بھی اختلاف نہیں کیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوقریش کے ایک تجارتی قافلہ کی اطلاع ملی تھی جوابوسفیان کی سرداری میں شام کی طرف سے مکہ کوواپس آرہاتھا اورآپؐ اسی قافلہ کی روک تھام کے لئے مدینہ سے نکلے تھے،لیکن جب آپؐ بدر کے قریب پہنچے تواس وقت آپؐ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کاایک بڑا لشکرمکہ سے آیا ہے اورپھر قافلہ توبچ کرنکل گیا اورقریش کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کی مٹھ بھیڑ ہوگئی۔دوسری طرف زمانہ حال میں جماعت احمدیہ قادیان کے ایک معزز فرد مولوی شیرعلی صاحب بی۔اے نے رسالہ ریویوآف ریلیجنزقادیان بابت سال ۱۹۱۰ء میں اور ہندوستان کے مشہور مؤرخ مولانا شبلی نعمانی نے سیرۃ النبیؐ میں بعض قرآنی آیات اوردیگر شہادات سے استدلال کرکے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ مسلمانوں کومدینہ میں ہی قریش کے لشکر کی اطلاع مل گئی تھی۔اوروہ مدینہ سے ہی لشکر کے مقابلہ کے خیال سے نکلے تھے اور قافلہ کے ارادے سے نکلنے کاخیال غلط ہے۔چنانچہ مولاناشبلی اپنی رائے کا خلاصہ یہ لکھتے ہیں کہ
    ’’مدینہ میں یہ مشہور ہوا کہ قریش ایک جمعیت عظیم لے کر مدینہ آرہے ہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدافعت کاقصد کیا اوربدر کا معرکہ پیش آیا۔‘‘ ۱؎
    جہاں تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذاتی خلق اور مسلمانوں کے قومی اخلاق پرروشنی پڑنے کاسوال ہے یہ اختلاف چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔صحابہ قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلے تھے یا لشکر قریش کے مقابلہ کی غرض سے یا یہ کہ انہیں دونوں کی اطلاع اوردونوں کاخیال تھا ان میں سے کوئی بھی مقصد ہووہ مقصد جیسا کہ ہم جہاد کی اصولی بحث میں ثابت کرچکے ہیں بالکل درست اورجائز تھا اورکوئی معقول اورغیرمتعصب شخص اس پر اعتراض نہیں کرسکتا،لیکن تاریخی اورعلمی نکتہ نگاہ سے یہ اختلاف ایک دلچسپ بحث کا رنگ اختیار کرگیا ہے اورکوئی علم دوست مؤرخ اس کی طرف سے بے توجہی نہیں برت سکتا اورپھرصحتِ واقعات کی تحقیق کی ذمہ داری مزید برآں ہے ،لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کی پوری پوری بحث اورمکمل چھان بین کے لئے ایک طویل مقالہ کی ضرورت ہے جس کی گنجائش ایک خالص تاریخ کی کتاب میںنہیں نکالی جاسکتی اورحق یہ ہے کہ میں نے اس بحث میں ایک مفصل مضمون لکھا بھی تھا،لیکن پھر اسے اس خیال سے خارج کردیا کہ اس قسم کامضمون حقیقتاً علم کلام میں داخل ہے اورعام تاریخ کاحصہ نہیں بننا چاہئے۔ سواب میں نہایت مختصر طورپر اس معاملہ میں اپنی تحقیق کاذکر کرکے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔
    میں نے ہر دوقسم کے خیالات کے متعلق کافی غور کیا ہے لیکن جہاں میں مولوی شیرعلی صاحب اور مولانا شبلی کی تحقیق کوقدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں وہاں میں افسوس کے ساتھ بعض باتوں میں ان بزرگوں سے اختلاف بھی رکھتا ہوںاور میری رائے میں اصل حقیقت ان ہردوقسم کے خیالات کے بین بین ہے۔یعنی میری تحقیق یہ ہے کہ ایک طرف توجدید تحقیق کایہ حصہ ٹھیک ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کومدینہ میںہی لشکرقریش کی آمد کی اطلاع ہوگئی تھی اوردوسری طرف عام مؤرخین کایہ خیال بھی ہرگز غلط نہیں ہے کہ صحابہ(یعنی اکثرصحابہ جیسا کہ ابھی ظاہر ہوجائے گا)صرف قافلہ ہی کی روک تھام کے خیال سے نکلے تھے اور لشکر قریش کا علم انہیں بدر کے قریب پہنچ کر ہوا تھااورجہاں تک میں نے غور کیا ہے قرآن شریف اور تاریخ وحدیث دونوں میرے اس خیال کے مؤید ہیں۔دراصل ہمارے ان جدیدمحققین نے قرآن شریف کے سارے بیان کواپنے مد نظر نہیں رکھا اورصرف اس کے ایک حصہ کو لے کر(جوبظاہر تاریخی بیان کے مخالف نظر آتا ہے حالانکہ دراصل وہ بھی تاریخی روایات کے مخالف نہیں ہے بلکہ تاریخ سے ایک زائد بات بتاتا ہے)اس بحث میں ساری تاریخی روایات کو عملاًردی کی طرح پھینک دیا ہے۔ حالانکہ خود قرآن شریف کے دوسرے حصے ان تاریخی روایات کی تصدیق کرتے ہیں اورسوائے ایک زائد بات کے جس کی طرف قرآن شریف اشارہ کرتا ہے باقی ساری باتوں میں قرآنی بیان اور تاریخی بیان ایک دوسرے کے مطابق ہیںاورہرگز کوئی اختلاف نہیں۔تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے تاریخی بیان کا ماحصل جومضبوط روایات سے ثابت ہے اورجس کی تائید میں صحیح احادیث بھی پائی جاتی ہیں یہ ہے کہ بدر کے موقع پرمسلمان صرف قافلہ کی روک تھام کے خیال سے مدینہ سے نکلے تھے اورلشکر قریش کاعلم انہیں بدر کے پاس پہنچ کر ہوا تھا او راس طرح گویا لشکر قریش اورمسلمانوں کا مقابلہ اچانک ہوگیا تھا۔اب اس تاریخی بیان کے مقابلہ میں ہم قرآن شریف پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتا ہے سوسورۃ انفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ۱؎ … ۲؎ … ۳؎
    یعنی’’اے رسول!جس طرح نکالا تجھے تیرے رب نے تیرے گھر (مدینہ)سے حق کے ساتھ اس حال میں کہ مومنوں میںسے بعض لوگ تیرے اس نکلنے کوایک سخت مشکل اورنازک کام سمجھتے تھے۔ اسی طرح نکلے تیرے دشمن تجھ سے لڑتے ہوئے حق کے رستہ میںبعد اس کے کہ وہ حق ان کے لئے ظاہر ہوچکا تھا۔(یعنی ان پر خدائی سنت کے مطابق اتمام حجت ہوچکا تھا)اورحق کو قبول کرنا ان کے لئے ایسا تھا کہ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جارہے ہوں اورموت بھی وہ جو سامنے نظر آرہی ہو۔اوریاد کرو اے مسلمانو!جبکہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ وعدہ دیتاتھا کہ کفار کے دو گروہوں(یعنی لشکر اور قافلہ)میں سے کسی ایک گروہ پر ضرور تمہیں غلبہ حاصل ہو گا اور تمہارا حال یہ تھا کہ تم خواہش کر رہے تھے کہ ان گروہوں میں سے کم تکلیف اور کم مشقّت والے گروہ(یعنی قافلہ)سے تمہارا سامنا ہو،لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ(لشکر سے تمہارا مقابلہ کراکے)اپنی پیشگوئی کے مطابق حق کو قائم کر دے اور ان کفّار مکّہ کی جڑ کاٹ ڈالے (یعنی ائمۃ الکفر ہلاک کر دئیے جائیں)…جبکہ تم بدر کی وادی کے ورلے کنارے پر پہنچے تھے اور قریش کا لشکر پرلے کنارے پر تھا (یعنی تم ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو گئے تھے)اور قافلہ تمہارے نیچے(مکّہ کی طرف کو)نکل چکا تھا (یعنی قافلہ تو بچ کر نکل گیا اور تم اچانک لشکر کے سامنے آگئے اور یہ سب کچھ خدائی تصرف کے ماتحت ہوا ورنہ)اگر لڑائی کے وقت کی تعیین تم پر چھوڑ دی جاتی تو(اس وقت ظاہری اسباب کے لحاظ سے تمہاری حالت ایسی کمزور تھی کہ)تم ضرور اس میں اختلاف کرتے(یعنی گو تم میں سے بعض یہ کہتے کہ ہم ہر حالت میں لڑنے کو تیار ہیں،لیکن ضرور اس بات پر زور دیتے کہ لڑائی کے وقت کو پیچھے ڈال دیا جاوے تا کہ وہ کفار کے مقابلہ کے لیے اچھی طرح مضبوط ہو جائیں تو پھر لڑائی کے لیے ان کے سامنے آئیں)لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ(تمہیں لشکر قریش کے مقابلہ پر لا کر )وہ کام کر گزرے جس کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا(یعنی وہ پیشگوئی پوری کرے جو خدائی نشان کے طور پر ائمۃ الکفر کی ہلاکت کے متعلق کی گئی تھی)…پھر وہ وقت بھی یاد کرو جب میدان جنگ میں اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں میں کفار کو تھوڑا کر کے دکھاتا تھا(تا کہ تم بد دل نہ ہو)اور تمہیں کفار کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا (تا کہ وہ بھی مقابلہ سے پیچھے نہ ہٹ جائیں)یہ بھی خدا نے اس لیے کیا کہ وہ اس بات کو کر گزرے جس کا پہلے سے فیصلہ ہو چکا تھا اور بیشک اللہ ہی کی طرف ہر کام کا مآل ہے(یعنی تمام کاموں کا انتہائی تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ جس طرح چاہے واقعات کو چلا سکتا ہے‘‘۔)
    ان قرآنی آیات سے جو مسلمہ طور پر جنگ بدر کے متعلق تسلیم کی گئی ہیں اور جن کے ترجمہ کی تشریح کیلئے میں نے بعض الفاظ زائد کر ئیے ہیں مندرجہ ذیل یقینی نتائج پیدا ہوتے ہیں۔
    اوّل۔ جس وقت آپؐ مدینہ سے نکلے اس وقت مومنوں میں سے بعض لوگ آپؐ کے نکلنے کو ایک مشکل اورنازک کام سمجھتے تھے۔
    دوم۔مومنوں کی(مگریہ نہیں کہہ سکتے کہ سب کی یااکثر کی۔مگرغالباً اکثر کی) یہ خواہش تھی کہ قافلہ کے ساتھ مقابلہ ہو۔
    سوم۔یہ خواہش اس لئے نہیں تھی کہ انہیں قافلہ کے اموال واَمتعہ کا خیال تھا بلکہ اس لئے تھی کہ قافلہ والوں کی تعداد تھوڑی تھی اوران کا سامانِ حرب بھی کم تھااس لئے اس کے مقابلہ میں کم تکلیف اور کم مشکل پیش آنے کا احتمال تھا۔
    چہارم۔مگر اللہ تعالیٰ کا شروع سے ہی یہ ارادہ تھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ لشکر قریش کے ساتھ ہو۔تا کہ وہ اَئمۃ الکفرجواپنے مظالم اورسرکشیوں اورخونی کارروائیوں کی وجہ سے ہلاک کئے جانے کے سزاوار ہوچکے تھے ایک خدائی نشان کے طور پر کمزور لوگوں کے ہاتھوں سے ہلاک کردیئے جائیں اور وہ پیشگوئی پوری ہو جو ان کی ہلاکت کے متعلق پہلے سے کی جاچکی ہیں۔
    پنجم۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کا میلان قافلہ کے مقابلہ کی طرف تھا قافلہ توبچ کر نکل گیااورلشکر قریش سے ان کا اچانک سامنا ہوگیا۔
    ششم۔یہ تصرف اس لئے کیا گیا کہ مسلمانوں کی حالت اس وقت ظاہری اسباب کے ماتحت اتنی کمزور تھی کہ اگر خود ان پر اس لڑائی کے وقت تعیین چھوڑدی جاتی توان میں سے ایک فریق ضرور اس مقابلہ کے وقت کو پیچھے ڈالنے کی کوشش کرتا حالانکہ اللہ کا منشاء یہ تھا کہ ابھی مقابلہ ہواورفیصلہ ہوجائے۔
    ہفتم۔یہ خدائی تصرف لشکرقریش اورمسلمانوں کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوجانے کے وقت تک بھی جاری رہا۔چنانچہ خدائی تصرف کے ماتحت دونوں فوجیں ایسے طور پر ایک دوسرے کے سامنے آئیں کہ دونوں ایک دوسرے کوان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتے تھے اوریہ اس لئے کیا گیا کہ تا مسلمانوں میں بددلی نہ پیدا ہواورقریش بھی جرأت کے ساتھ آگے بڑھیں اور مقابلہ ہوجاوے۔
    یہ وہ سات باتیں ہیں جوامرزیربحث کے متعلق قرآن شریف سے یقینی طورپر پتہ لگتی ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے نمبراول کے یہ ساری باتیں تاریخی بیان کے عین مطابق ہیں اوران میں وہی حالات بیان کئے گئے ہیں جوصحیح تاریخی روایات اوراحادیث میں مذکور ہوئے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم تاریخی بیان کو رد کردیں کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ قرآنی بیان کے مخالف نہیں ہے بلکہ اس کے رد کرنے سے قرآنی بیان کارد لازم آتا ہے۔غور کا مقام ہے کہ تاریخی روایات سوائے اس کے اورکیا کہتی ہیں کہ مسلمانوں کا لشکر قافلہ کے خیال سے نکلا تھا،مگر اچانک اس کا مقابلہ لشکر قریش سے ہوگیا۔ مگر کیا قرآن شریف بھی یہی نہیں کہتا کہ مسلمانوں کو قافلہ کی خواہش تھی،مگر خداتعالیٰ نے اس کا مقابلہ اچانک لشکرقریش سے کرادیا؟اور قرآن شریف اس کی وجہ بھی بتاتا ہے کہ خدا نے یہ کام اپنے خاص تصرف کے ماتحت اس لئے کیا کہ تابطورایک خدائی نشان کے اَئمۃ الکفر مسلمانوں کے ہاتھ سے ہلاک کروا دیئے جائیںاوروہ پیشگوئی پوری ہوجوان کی ہلاکت کے متعلق پہلے سے کی جاچکی تھی۔ اندریں حالات اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ مسلمان مدینہ سے ہی لشکر قریش کے مقابلہ کے لئے نکلے تھے اس بات کے ہم معنی ہے کہ نہ صرف یہ کہ تاریخ واحادیث کی کثیرالتعداد مضبوط اور صحیح روایات کو بالکل ردی کی طرح پھینک دیا جاوے ،بلکہ اس قرآنی بیان کو بھی غلط قراردیاجاوے جسے خداتعالیٰ نے بدر کے قصہ میں بطور مرکزی نقطہ کے رکھا ہے۔
    پس حق یہی ہے کہ مسلمان قافلہ ہی کی روک تھام کے خیال سے نکلے لیکن جب بدرکے پاس پہنچے تو اچانک یعنی علیٰ غیرمیعاد لشکر قریش کاسامنا ہوگیا اور جیسا کہ ہم اوپر ثابت کرچکے ہیں قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلنا ہرگز قابل اعتراض نہیں تھا۔کیونکہ اول تویہ مخصوص قافلہ جس کے لئے مسلمان نکلے تھے ایک غیر معمولی قافلہ تھا جس میں قریش کے ہر مردوعورت کاتجارتی حصہ تھا۔ ۱؎ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق روساء قریش کی یہ نیت تھی کہ اس کا منافع مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہی منافع جنگ اُحد کی تیاری میں صرف کیا گیا ۔ ۲؎ پس اس قافلہ کی روک تھام تدابیر جنگ کا ضروری حصہ تھی۔دوسرےؔ عام طور پر بھی قریش کے قافلوں کی روک تھام اس لئے ضروری تھی کہ چونکہ یہ قافلے مسلح ہوتے تھے اور مدینہ سے بہت قریب ہوکرگزرتے تھے ان سے مسلمانوں کوہروقت خطرہ رہتا تھاجس کا سدباب ضروری تھا۔تیسرےؔ یہ قافلے جہاں جہاں سے بھی گزرتے تھے مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں سخت اشتعال انگیزی کرتے پھرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت نازک ہورہی تھی۔پس ان کا راستہ بند کرنادفاع اورخود حفاظتی کے پروگرام کا حصہ تھا۔چوتھےؔ قریش کا گزارہ زیادہ ترتجارت پر تھااس لئے ان قافلوں کی روک تھام ظالم قریش کوہوش میں لانے اوران کو ان کی جنگی کارروائیوں سے باز رکھنے اورصلح اورقیامِ امن کے لئے مجبور کرنے کا ایک بہت عمدہ ذریعہ تھی اور پھران قافلوں کی روک تھام کی غرض لوٹ مار نہیں تھی بلکہ جیسا کہ قرآن شریف صراحتاً بیان کرتا ہے خود اس خاص مہم میں مسلمانوں کوقافلہ کی خواہش اس کے اموال کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس وجہ سے تھی کہ اس کے مقابلہ میں کم تکلیف اورکم مشقت کا اندیشہ تھا۔
    اب رہی وہ بات جوقرآن شریف میں تاریخی بیان سے زائد پائی جاتی ہے سووہ بھی تاریخ کے مخالف نہیں کہلا سکتی کیونکہ تاریخی بیان میں کوئی ایسی بات نہیں جو اس کے خلاف ہوالبتہ یہ ایک زائد علم ہے جو ہمیں قرآن شریف سے حاصل ہوتا ہے اوربعض تاریخی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے مگر بہرحال یہی ایک بات ہے جو تاریخی نکتہ نگاہ سے قابل تشریح سمجھی جاسکتی ہے اوریہ بات قرآنی بیان کے مطابق یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ سے نکلے تو اس وقت بعض مسلمان آپؐ کی اس مہم کو ایک مشکل اورنازک کام سمجھتے تھے۔ اس پر طبعاًیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے صحابہ کے دل میں یہ احساس تھا۔ اگر محض قافلہ کی روک تھام کا خیال ہوتا تو تین سوجانثاروں سے زائد کی جمعیت کے ہوتے ہوئے یہ احساس ہرگز نہیں ہونا چاہئے تھا۔پس معلوم ہوا کہ قافلہ کی خبر کے ساتھ ساتھ کوئی اورخیال بھی تھا جوبعض مسلمانوں کو فکر مندکررہا تھا۔یہ خیال کیا تھا؟اس سوال کا جواب تاریخ سے واضح طور پر نہیںملتا اورنہ ہی قرآن شریف نے اسے صراحتاً بیان کیا ہے۔پس اس کے متعلق لازماًقیاس کرنا ہو گااورخوش قسمتی سے یہ قیاس مشکل نہیں ہے کیونکہ تاریخ وقرآن شریف ہردو میں قافلہ کے ساتھ ساتھ لشکر قریش کا ذکر بھی چلتا ہے اوراس سارے قصہ میں اگر کوئی ایسی بات نظر آتی ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں فکر پیدا کرسکتی تھی تووہ لشکر قریش کی اطلاع ہے۔پس ماننا پڑے گا کہ مدینہ میں ہی لشکر قریش کی خبر بھی پہنچ گئی ہوگی۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کویہ فکر دامن گیر ہواہوگا کہ اگر لشکر سے مقابلہ ہوگیا توسخت مشکل کا سامنا ہوگا۔یہ وہ استدلال ہے جو اس آیت سے کیا گیا ہے اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ استدلال ایک عمدہ استدلال ہے جواس آیت کی روشنی میں یہ واقعی ماننا پڑتا ہے کہ قریش کی آمد آمد کی اطلاع مدینہ میں ہی پہنچ گئی ہوگی لیکن جو وسعت اس استدلال میں پیدا کرلی گئی ہے وہ ہرگز درست نہیں۔یعنی اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مدینہ میں ہی سارے یااکثر مسلمانوں کویہ اطلاع پہنچ گئی تھی اوروہ سب کے سب یاان میں سے اکثر اسی علم کے ماتحت مدینہ سے نکلے تھے۔یہ یقینا غلط ہے کیونکہ علاوہ اس کے قرآن شریف کا بقیہ بیان اورکثیر التعداد تاریخی روایات اسے قطعی طورپر غلط ثابت کرتی ہیں۔خود آیت زیربحث بھی اس وسعت کوقبول نہیں کرتی کیونکہ آیت میں یہ صاف طور پر موجود ہے کہ یہ احساس صرف بعض صحابہ کوتھا جیسا کہ فریقاً کے لفظ سے پایاجاتا ہے ۔یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نکلنے کے متعلق صرف بعض صحابہ فکر مند تھے سب یااکثر صحابہ فکر مند نہ تھے۔پس ثابت ہوا کہ قرآن شریف کی رو سے مدینہ میں لشکر قریش کی خبر صرف بعض صحابہ کو پہنچی تھی اوراکثر اس سے بے خبر تھے اور یہ وہ صورت ہے جو قرآن شریف کے بقیہ بیان اور تاریخی روایات کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ جب لشکر قریش کی خبر مدینہ میں پہنچی ہوتوآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی مصلحت سے اس کی اطلاع صرف بعض خاص خاص صحابہ کو دی ہو اوراکثر مسلمان اس سے بے خبر رہے ہوں اور وہ اسی بے خبری کی حالت میں صرف قافلہ کے خیال سے مدینہ سے نکلے ہوں اورپھر بدر کے پاس پہنچ کر قریش سے اچانک ان کا سامنا ہوگیا ہو۔اور یہی صورت درست معلوم ہوتی ہے،کیونکہ قرآن شریف کا بقیہ بیان اس کی تائید میں ہے اورتاریخ وحدیث میں بھی اس کے متعلق اشارات پائے جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کامدینہ سے نکلنے سے قبل خاص طور پر صحابہ سے مشورہ کرنا اوراس مشورہ کو ایسے رنگ میں چلاناکہ انصار بھی آپؐ کے ساتھ چلنے کوتیار ہوجائیں تاکہ آپؐ کے ساتھ زیادہ جمعیت ہو۔ ۱؎ حالانکہ انصار اس سے پہلے کسی مہم میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ۲؎ اورپھر جب بدر کے پاس پہنچ کر قریش کے ایک حبشی غلام کے ذریعہ لشکر قریش کی اطلاع ہوئی توصحابہ کا اس کے متعلق شک کرنا اوراسے جھوٹا سمجھنا مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا فوراًبلاتأمّل مان لینا اور فرمانا کہ یہ غلام سچ کہتا ہے۔۱؎ وغیرذالک۔یہ سب اس بات کی شہادتیں ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوپہلے سے ہی لشکر قریش کی آمدکی اطلاع تھی مگر صحابہ اس سے بے خبر تھے۔سوائے ان خاص خاص صحابہ کے جنہیں قرآنی بیان کے مطابق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس خبر کی اطلاع ہوگئی ہوگی۔
    اب صرف یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ کیا یہ ممکن تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کولشکر قریش کی خبر مدینہ میں ہی مل جاتی اورپھر یہ کہ اگر آپؐکویہ خبر مل گئی تھی توآپؐنے کیوں صرف بعض صحابہ کو اطلاع دی اوراکثر مسلمان اس سے بے خبر رہے؟سواس کا پہلاجواب تو یہ ہے کہ ہاں ایسا ممکن تھاکیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی اوررسول تھے اورآپؐپرخدا کا کلام نازل ہوتا تھااورتاریخ سے ثابت ہے کہ بسااوقات آپؐکوآئندہ ہونے والے واقعات یاغیب کی خبروں سے خدائی وحی کے ذریعہ اطلاع دی جاتی تھی۔پس اگر اس موقع پر بھی آپؐ کو خدائی الہام کے ذریعہ یہ اطلاع مل گئی ہو کہ قریش کاایک لشکر آرہا ہے تواس میں کوئی تعجب کی بات نہیں اورآپؐ کی زندگی کے واقعات کے لحاظ سے یہ ایک نہایت معمولی واقعہ سمجھا جائے گا۔اورچونکہ ایسا الہام جو کسی پیشگوئی کا حامل ہو بعض اوقات تاویل طلب ہوتا ہے اوراس کی پوری تفہیم بعض اوقات خود ملہم کوبھی واقعہ سے قبل نہیں ہوتی ۔اس لئے ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے احتیاطاًاس الہٰی خبر کی اطلاع صرف خاص خاص صحابہ کو دی ہواوراکثر مسلمانوں کواس کی اطلاع نہ دی گئی ہوتاکہ ان میں اس خبر سے کسی قسم کی بددلی نہ پھیلے جیسا کہ قرآن شریف سے بھی پتہ لگتا ہے کہ اسی جنگ میں دوسرے موقع پر بددلی کے سدباب کے لئے خدانے یہ تصرف فرمایا تھا کہ مسلمانوں کی نظروں میں کفار کا لشکران کی اصلی تعداد سے کم نظر آتا تھا۔دوسرؔا جواب اس کا یہ ہے کہ ظاہری حالات کے لحاظ سے بھی یہ بات بالکل ممکن تھی کہ آپؐ کو مدینہ میں ہی لشکر قریش کی اطلاع موصول ہوجاتی ۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ جب ابوسفیان کا قاصد مکہ میں پہنچا توقریش نے تین دن تیاری میں صرف کئے۔ ۲؎ اورپھر بدر تک پہنچنے میں آٹھ یانودن مزید لگ گئے۔ ۳؎ یہ کل گیارہ یابارہ دن ہوئے۔ باوجود اس کے جب اسلامی لشکربدر میں پہنچا تولشکر قریش پہلے وہاں پہنچا ہواتھا اورچونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بدر میں سولہ رمضان کوپہنچے تھے اس لئے یہ مانناپڑے گاکہ قریش کالشکر غالباً پندرہ تاریخ کو وہاں پہنچ گیا ہوگا اب ان پندرہ دنوں میں سے گیارہ یابارہ دن تیاری اورسفر کے نکال دیں تو یہ یقینی نتیجہ نکلتا ہے کہ قریش نے تین یاچار رمضان کومکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تھا۔دوسری طرف اسلامی لشکر کے مدینہ سے نکلنے کی تاریخ عقلاًبھی اورروایتہ بھی بارہ رمضان ثابت ہوتی ہے۔ ۱؎ گویا قریش کی تیاری اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خروج از مدینہ کے درمیان پورے آٹھ یانودن کا وقفہ تھا۔اس عرصہ میں لشکر قریش کی اطلاع بڑی آسانی کے ساتھ مدینہ میں پہنچ سکتی تھی بلکہ یہ عرصہ ایک شخص کے مکہ سے مدینہ جانے اور مدینہ سے پھر مکہ واپس آجانے کے لئے بھی کافی تھا۔کیونکہ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ ایک تیزروسوار جوہرقسم کے بوجھوں سے آزاد ہوتیسرے چوتھے دن مکہ سے مدینہ پہنچ جاتا تھا۔۲؎
    اوراگر یہ سوال ہوکہ مکہ سے اطلاع دینے والا کون تھا؟تواس کا جواب یہ ہے کہ علاوہ اس کے کہ ابھی تک مکہ میں بعض کمزور اورغریب مسلمان موجود تھے جواس قسم کے خطرات کی حالت میں خبر رسانی کاانتظام کرسکتے تھے۔ابھی تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حقیقی چچاعباس بن عبدالمطلب بھی مکہ میںہی تھے اورتاریخ سے ثابت ہے کہ وہ ہرقسم کی ضروری خبریں مکہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کوبھجوایاکرتے تھے۔۳؎ چنانچہ غزوہ احد کے متعلق توخاص طورپر یہ ذکر آتا ہے کہ عباس نے اس موقع پر لشکر قریش کی خبر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو مخفی طورپربھجوائی تھی اورقاصد سے یہ شرط کی تھی کہ وہ تین دن کے اندر اندر یہ خبر مدینہ پہنچا دے گا۔چنانچہ یہ قاصد واقعی تین دن میں مدینہ پہنچ گیا تھا اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو لشکر قریش کی بروقت اطلاع ہوگئی اورآپؐ نے شروع شروع میں یہ خبر صرف خاص خاص صحابہ پرظاہر فرمائی اور بعد میں اعلان کیا۔۴؎ ان حالات میں کیایہ قرین قیاس نہیں بلکہ میں کہوں گا کہ یہ اغلب نہیں ہے کہ بدر کے موقع پر بھی عباس کی کوئی مخفی تحریر آپؐکوپہنچ گئی ہواورآپؐنے اس خیال سے کہ مسلمانوں میں بددلی نہ پیدا ہواس کا ذکر صرف خاص خاص صحابہ سے فرمایااورعامۃ المسلمین سے اس خبر کو مخفی رکھا ہو؟بلکہ ان حالات کی وجہ سے جواوپر بیان ہوچکے ہیں بدرؔ کے موقع پر اس قسم کاپردہ رکھنا زیادہ ضروری تھا اورپھر یہ راز داری بدر میں اُحد کی نسبت آسان بھی زیادہ تھی کیونکہ اس موقع پرقافلہ کی آمد کی خبر بھی ساتھ موجود تھی جس کی وجہ سے لشکر قریش کی خبر آسانی کے ساتھ اورآخر وقت تک پردہ میں رکھی جاسکتی تھی۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں اُحد کے موقع پر عباس کی چٹھی کی خبر ظاہرہوگئی۔کیونکہ گوشروع میں راز رکھا جاسکتا تھا،لیکن بالآخر اس کے اظہار کے بغیر چارہ نہیں تھا۔بدر کے موقع پر یہ خبر آخروقت تک بالکل پردہ میں رہی اورممکن ہے بلکہ اغلب ہے کہ خدائی منشاء کے ماتحت جس کا قرآن شریف میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے آخری وقت تک یہ پردہ رکھنا ضروری خیال کیا ہو۔
    خلاصہ کلام یہ کہ قرآن شریف اورتاریخ وحدیث کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو عام مؤرخین کایہ خیال درست ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورسارے کے سارے مسلمان محض قافلہ کے خیال سے مدینہ سے نکلے تھے اورلشکر قریش کی ا طلاع سے وہ سب قطعی طورپر بے خبر تھے اور نہ ہمارے جدیدمحققین کی یہ رائے درست ہے کہ مدینہ میں ہی سارے مسلمانوں کو لشکر قریش کی آمد کی اطلاع ہوگئی تھی اوروہ اس اطلاع کے بعد مدینہ سے نکلے تھے بلکہ حق یہ ہے کہ پیشتر اس کے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ سے نکلتے لشکر اورقافلہ دونوں کی اطلاع آپؐ کوپہنچ چکی تھی۔مگر لشکر کی آمدمصلحتاً بصیغہ راز رکھی گئی اورسوائے بعض خاص خاص صحابہ کے جو غالباًصرف اکابرمہاجرین میں سے تھے باقی سارے مسلمان اس سے بالکل بے خبر رہے اوراسی بے خبری کی حالت میں وہ مدینہ سے نکلے حتّٰی کہ بدر کے پاس پہنچ کر لشکر قریش سے ان کا اچانک سامنا ہوگیا۔واللہ اعلم۔
    یہ سوال کہ کفار کی طرف سے جنگ بدر کا سبب کیا تھا ۔یعنی لشکر قریش مکہ سے کس غرض وغایت کے ماتحت نکلا تھا۔ اس کے متعلق قرآن شریف مندرجہ ذیل صداقت پیش کرتا ہے۔
    ۱؎ ’’یعنی اے مسلمانو!تم ان کفار کی طرح مت بنوجواپنے گھروںسے تکبر اورنمائش کا اظہار کرتے ہوئے نکلے تھے اوران کی غرض یہ تھی کہ اللہ کے دین کے رستے میں جبری طور پر روکیں پیدا کریں۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی کارروائیوں کامحاصرہ کرکے انہیں خائب وخاسر کردیا۔‘‘
    اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ خواہ تحریکی سبب کوئی ہواہو اس مہم میں قریش مکہ کی اصل غرض وغایت ان کے ان خونی ارادوں پرمبنی تھی جو وہ شروع سے اسلام اوربانی ٔاسلام کے متعلق رکھتے تھے اور قافلہ کی حفاظت یا عمروبن حضرمی کے قتل کے انتقام کاخیال محض ایک آلہ تھاجس سے وہ عوام کو اشتعال دلانے اوران کے جوشوں کوقائم رکھنے کا کام لیتے تھے اورتاریخ سے بھی اسی کی تصدیق ہوتی ہے۔چنانچہ قافلہ کے خطرے کی اطلاع آنے پربجائے اس کے کہ قریش جلدی سے نکل کھڑے ہوتے ان کا پورے سازوسامان اورپوری تیاری کے ساتھ تین دن کے بعد نکلنااورراستہ میں قافلہ کے بچ کرنکل جانے کی اطلاع آجانے پربھی بڑی رعونت کے ساتھ آگے بڑھنے پراصرارکرنا اورپھر عین میدان جنگ میں پہنچ کر جب کہ بعض لوگو ں کی طرف سے جنگ کے روک دیئے جانے کی تحریک ہوئی ابوجہل وغیرہ کا نہایت سختی کے ساتھ لڑنے پراصرار کرنا اورسارے لوگوں کااسی کی تائید میں ہونا یہ سب اس بات کی یقینی شہادتیں ہیں کہ دراصل قافلہ کی حفاظت اورعمرو بن حضرمی کے قتل کے انتقام کاخیال ایک محض بہانہ تھا اوراصل غرض اسلام کو مٹانا اورمسلمانوں کونیست ونابود کرناتھی۔
    اس اصولی بحث کے بعد ہم جنگ بدر کے حالات کابیان شروع کرتے ہیں۔مگر ہم ناظرین سے استدعا کریں گے کہ ہماری اس اصولی بحث کوبدر کے حالات کے مطالعہ کے بعد ایک دفعہ پھر ملاحظہ فرمائیں۔کیونکہ جنگ بدر کے حالات معلوم ہونے پر یہ بحث زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ آسکتی ہے۔

    جنگ بدر
    اسلامی سلطنت کااستحکام
    اور
    رئوسا قریش کی تباہی
    جنگ بدر۔رمضان ۲ہجری مطابق مارچ ۶۲۳ء
    اب ہم جنگ بدر کے حالات کاذکر شروع کرتے ہیں۔یہ بیان کیاجاچکا ہے کہ ہجرت نبوی کے
    بعد قریش مکہ نے مدینہ پر حملہ آور ہوکر مسلمانوں کوتباہ وبرباد کردینے کی تیاری شروع کردی تھی اور اس دوران میں سریہ وادیٔ نخلہ میں جو عمروبن حضرمی کے قتل کا واقعہ ہوا تھا اس سے رئوسا قریش نے ناجائزفائدہ اٹھا کر عامۃ الکفار کے دلوں میں مسلمانوں کی عداوت کی آگ کواوربھی زیادہ خطرناک طورپر شعلہ زن کردیا تھا اوراس شخص کی طرح جسے اپنے وہ مظالم تو بھول جاتے ہیں جووہ خود دوسروں پرکرتا رہا ہے لیکن اگرکسی دوسرے کی طرف سے اسے ذرا سی بھی تکلیف پہنچ جاوے تووہ اسے ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔خواہ وہ جوابی رنگ ہی رکھتی ہو۔قریش مکہ مسلمانوں پرحملہ کرکے ان کو تباہ وبرباد کردینے کی تیاری میں پہلے سے بھی زیادہ جوش وخروش کے ساتھ منہمک ہوگئے تھے۔اسی اثناء میں مدینہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کویہ اطلاع موصول ہوئی کہ قریش مکہ کاایک تجارتی قافلہ جس کے ساتھ تیس چالیس یابعض روایات کی رو سے ستر آدمی تھے ابوسفیان کی سرداری میں شام کی طرف سے مکہ کوواپس آرہا ہے۔ ۱؎ اس قافلہ میں غیرمعمولی طورپر قریش کے ہرمرد عورت کاحصہ تھا بلکہ لکھا ہے کہ جو چیز اورجو رقم بھی وہ تجارت میں لگا سکتے تھے وہ اس موقع پر انہوں نے لگا دی تھی۔ ۲؎ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباًاس تجارت کے منافع کے متعلق قریش کایہ فیصلہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگی مصارف میں خرچ ہوگا۔چونکہ قافلوں کی روک تھام ،ظالم قریش کو ہوش میں لانے اورانہیں ان کی خطرناک کارروائیوں سے روکنے کاایک بہترین ذریعہ تھی اوردوسرے ان قافلوں کامدینہ سے اس قدر قریب ہوکر گزرنا ویسے بھی مسلمانوں کے لئے کئی طرح سے خطرے کے احتمالات رکھتا تھااورپھر اس قافلہ کے خاص حالات ایسے تھے کہ اس کا بچ کر نکل جانا بظاہر حالات مسلمانوں کی تباہی کاپیش خیمہ سمجھا جاسکتا تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ خبر پاکراپنے دومہاجرصحابی طلحہ بن عبیداللہ اورسعید بن زید کوخبر رسانی کے لئے روانہ فرمایااوردوسرے صحابہ کوبھی اطلاع دے دی کہ وہ اس قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلنے کوتیار رہیں مگر اتفاق ایسا ہوا کہ کسی طرح ابوسفیان کوبھی آپؐ کے اس ارادے کی اطلاع ہوگئی یایہ بھی ممکن ہے کہ اس نے ویسے ہی بطور خود اندیشہ محسوس کیا ہو۔ بہرحال اس نے ایک سوار ضمضم نامی مکہ کی طرف بھگا دیااوراسے تاکید کی کہ بڑی تیزی کے ساتھ سفر کرتا ہوا مکہ میں پہنچے اوروہاں سے قریش کالشکر قافلہ کی حفاظت اورمسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے نکال لائے اورخود ابوسفیان نے یہ احتیاط اختیار کی کہ اصل راستے کو چھوڑ کر سمندر کے کنارے کی طرف ہٹ گیا اورچھپ چھپ کرمگر تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔جب ابوسفیان کا یہ قاصد مکہ پہنچا تواس نے عرب کے دستور کے مطابق ایک نہایت وحشت زدہ حالت بناکر زور زور سے چلانا شروع کیا کہ اے اہل مکہ تمہارے قافلہ پر محمد اوراس کے اصحاب حملہ کرنے کے لئے نکلے ہیں چلواوراسے بچالو۔ ۱؎ یہ خبرسن کر مکہ کے لوگ گھبراکر کعبۃ اللہ کے گرد جمع ہوگئے اور رئوساء قریش نے پھر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نہایت درجہ اشتعال انگیز تقریریں کیں جس سے لوگوں کے سینے اسلام کی عداوت کے جوش سے بھر گئے اور انہوں نے مسلمانوں پر حملہ آور ہوکر تباہ وبرباد کردینے کاپختہ عزم کرلیا۔اس وقت قریش کے جوش کایہ عالم تھا کہ انہوں نے بالاتفاق یہ فیصلہ کیا کہ ایک بڑاجرار لشکرتیار کرکے مسلمانوں کے خلاف نکلیں اوراس مہم میںہروہ شخص جو لڑنے کے قابل ہے شامل ہو جو شخص کسی مجبوری کی وجہ سے خود شامل نہ ہوسکتا ہو وہ اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کوبھیجنے کاانتظام کرے۔ اور رئوساء قریش اس تحریک میں خود سب سے آگے آگے تھے۔صرف دوشخص تھے جنہوں نے اس مہم میں شمولیت سے تامّل کیا اور وہ ابولہب اورامیہ بن خلف تھے مگر ان کے تامّل کی وجہ مسلمانوں کی ہمدردی نہیں تھی بلکہ ابولہب تواپنی بہن عاتکہ بنت عبدالمطلب کے خواب سے ڈرتا تھاجواس نے ضمضم کے آنے سے صرف تین دن پہلے قریش کی تباہی کے متعلق دیکھا تھا اورامیہ بن خلف اس پیشگوئی کی وجہ سے خائف تھا جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے قتل ہونے کے متعلق فرمائی تھی اورجس کا علم اسے سعد بن معاذ کے ذریعہ مکہ میں ہوچکا تھا،لیکن چونکہ ان دو نامی رئوساء کے پیچھے رہنے سے عامۃ الکفار پربرااثر پڑنے کا اندیشہ تھا اس لئے دوسرے رئوساء قریش نے جوش اورغیرت دلادلاکر آخر ان دونوںکو رضامند کرلیا۔یعنی امیہ توخود تیار ہوگیا اور ابولہب نے ایک دوسرے شخص کوکافی روپیہ دیناکرکے اپنی جگہ کھڑا کردیا اوراس طرح تین دن کی تیاری کے بعد ۱؎ ایک ہزار سے زائد جانباز سپاہیوں کالشکر مکہ سے نکلنے کوتیار ہوگیا۔
    ابھی یہ لشکرمکہ میں ہی تھا کہ بعض رئوساء قریش کویہ خیال آیا کہ چونکہ بنوکنانہ کی شاخ بنو بکر کے ساتھ اہل مکہ کے تعلقات خراب ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر وہ ان کے پیچھے مکہ پرحملہ کردیں اور اس خیال کی وجہ سے بعض قریش کچھ متزلزل ہونے لگے۔مگر بنوکنانہ کے ایک رئیس سراقہ بن مالک بن جعشم نے جو اس وقت مکہ میں تھاان کو اطمینان دلایا اورکہا کہ میں اس بات کا ضامن ہوتا ہوں کہ مکہ پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔بلکہ سراقہ کو مسلمانوں کی مخالفت کاایسا جوش تھا کہ قریش کی اعانت میں وہ خود بھی بدر تک گیا،لیکن وہاں مسلمانوں کودیکھ کر اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ جنگ سے پہلے ہی اپنے ساتھیوں کوچھوڑ کربھاگ آیا۔اسی واقعہ کی طرف قرآن شریف کی اس آیت میں اشارہ سمجھا گیا ہے کہ…۔ ۲؎ ’’جبکہ شیطان قریش مکہ کومسلمانوں کے خلاف حق بجانب قرار دیتا تھا اور انہیں ابھارتا تھا۔‘‘الخ
    مکہ سے نکلنے سے پہلے قریش نے کعبہ میں جاکردعا کی کہ’’اے خدا ہم دونوں فریقوںمیں سے جو گروہ حق پر قائم ہے اور تیری نظروں میں زیادہ شریف اورزیادہ افضل ہے تو اس کی نصرت فرما اور دوسرے کوذلیل ورسواکر۔‘‘ ۳؎ اس کے بعد کفار کالشکر بڑے جاہ وحشم کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوا۔تمام رئوساء قریش ساتھ تھے اورگانے بجانے والی عورتیں بھی جواپنے اشعار کے ساتھ دفیں بجاتی ہوئی غیرت اورجوش دلاتی تھیںہمراہ تھیں۔راستہ میں رئوساء قریش نے اس مہم کوایک خاص قومی کارنامہ خیال کرتے ہوئے اپنے خرچ سے لشکر کی خوراک کاانتظام کیا۔چنانچہ ان کی طرف سے ہرروز باری باری نونو دس دس اونٹ سپاہیوں کی ضیافت کے لئے ذبح کئے جاتے تھے۔۴؎ جب یہ لشکر جحفہ میں پہنچا جومکہ اوربدرکے درمیان مگر بدر کے قریب ترایک مقام ہے تو ابوسفیان کے ایک قاصد کے ذریعے انہیں یہ خبر موصول ہوئی کہ ان کا قافلہ خطرہ کی جگہ سے بچ کر نکل گیا ہے اوراس لئے اب لشکر کوآگے جانے کی ضرورت نہیں۔اس خبرپربعض لوگ واپس جانے کوتیار ہوگئے،لیکن ابوجہل اوراس کی پارٹی کے اثر کے ماتحت اکثر اہل لشکر نے جن کی نیتیں کچھ اور تھیں بلکہ ایک روایت کی رو سے سب نے ۱؎ بڑی سختی سے انکار کیا اور کہا کہ’’خدا کی قسم ہم بدر تک ضرور جائیںگے اوروہاں جاکر تین دن تک جشن منائیںگے تاکہ ہمیشہ کے لئے ملک میں ہمارا رعب بیٹھ جاوے اور لوگ ہم سے ڈرنے لگ جائیں۔‘‘ ۲؎ چنانچہ سوائے چندآدمیوں کے جو واپس لوٹ گئے۔۳؎ باقی سارا لشکر بڑے کروفرکے ساتھ آگے بڑھا اورمکہ سے نکلنے کی تاریخ سے نویں دن(ایک دن درمیان میں راستہ کھوئے جانے کی وجہ سے ضائع ہوگیا تھا۔۴؎ )یعنی ضمضم کی اطلاع پہنچنے کے گیارہ یابارہ دن کے بعد بدر کی وادی کے ورلے کنارے پرپہنچا اوروہاں ڈیرے ڈال دئے۔اس وقت لشکر قریش کی تعداد ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور یہ لوگ رائج الوقت سامان حرب سے خوب آراستہ تھے۔چنانچہ فوج میں سواری کے سات سواونٹ اورایک سوگھوڑے تھے اور سب سوار اوراکثر پیادہ زرہ پوش تھے اور دیگر سامان جنگ بھی مثلاًنیزہ اورتلوار اور تیر کمان وغیرہ کافی تعداد میں موجود تھا۔
    اب ہم تھوڑی دیر کے لئے لشکر قریش سے جدا ہوکر مدینہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے قافلہ کی خبر پاکر اپنے دو صحابی اطلاع حالات کے لئے روانہ فرمادئے تھے لیکن ابھی وہ واپس نہیں لوٹے تھے کہ آپؐ کوکسی ذریعہ سے مخفی طورپر یہ اطلاع بھی پہنچ گئی کہ قریش کاایک جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔اس وقت جو کمزورحالت مسلمانوں کی تھی اسے ملحوظ رکھتے ہوئے نیز جنگی تدابیر کے عام اصول کے مطابق آپؐ نے اس خبر کو مشتہر نہیں ہونے دیا تاکہ عامۃ المسلمین میں اس کی وجہ سے کسی قسم کی بددلی نہ پیدا ہو،لیکن ایک بیدار مغز جرنیل کی طرح آپؐ نے بغیر اس خبر کے اظہار کے ایسے رنگ میں صحابہ میں تحریک فرمائی کہ بہت سے صحابہ باوجود یہ خیال رکھنے کے کہ یہ مہم قافلہ کی روک تھام کی غرض سے اختیار کی جارہی ہے آپؐ کے ساتھ چلنے کوتیار ہوگئے حتّٰی کہ انصار بھی جو بیعت عقبہ ثانیہ کے معاہدے کے موافق صرف مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں آپؐ کی حفاظت کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے اورجو اس وقت تک کسی غزوہ یاسریہ میںشامل نہیں ہوئے تھے۔ ۱؎ شریک جہاد ہونے کے لئے آمادہ ہوگئے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ آپؐ نے مدینہ میں ایک مجلس قائم کی اور صحابہ سے مشورہ دریافت فرمایا۔حضرت ابوبکروعمرنے جان نثارانہ تقریریں کیں مگر آپؐ نے ان کی طرف کچھ التفات نہ کیا جس پر رئوساء انصار سمجھ گئے کہ آپؐ کاروئے سخن ان کی طرف ہے۔چنانچہ ان میں سے سعد بن عبادۃ رئیس خزرج نے جان نثارانہ تقریر کی اور عرض کیا یارسول اللہ!انصار ہرخدمت کے لئے حاضر ہیں اورجہاں بھی آپ ارشاد فرمائیں جانے کے لئے تیار ہیں۔اس کے بعد آپؐ نے صحابہ میں عام تحریک فرمائی اور انصارومہاجرین کی ایک جمعیت آپؐ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہوگئی۔ ۲؎ لیکن پھر بھی چونکہ عام خیال قافلہ کے مقابلہ کا تھا بہت سے صحابہ یہ خیال کرکے کہ محض قافلہ کی روک تھام کا معاملہ ہے جس کے لئے زیادہ لوگوں کاشامل ہونا ضروری نہیں ہے شامل نہیں ہوئے۔ ۳؎ دوسری طرف وہ بعض خاص صحابہ جن کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے لشکر قریش کی آمد کاعلم ہوگیا تھا مگر جن کو اخفاء راز کاحکم تھا وہ اپنی جگہ فکرمند تھے کہ دیکھئے اس موقع پر جبکہ لشکر قریش سے بھی مٹھ بھیڑ ہوجانے کا احتمال ہے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت کی اہم ذمہ داری سے عہدہ براہوسکتے ہیں یا نہیں۔چنانچہ انہی لوگوں کومدنظر رکھتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے ۴؎ یعنی مدینہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نکلنے کو مومنوں کاایک فریق(اپنی ظاہری طاقت کا خیال کرتے ہوئے)پسند نہیں کرتا تھااوراسے ایک مشکل اورنازک کام سمجھتا تھا۔‘‘ مگرچونکہ ان کے آقا کا یہی منشاء تھاوہ دلی جوش کے ساتھ لبیک لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس وقت تک گو وہ دوصحابی جن کو آپؐ نے خبر رسانی کے واسطے بھیجا تھا واپس نہیں لوٹے تھے مگر چونکہ لشکر قریش کی اطلاع آچکی تھی آپؐ نے مزید توقف کرنا مناسب خیال نہ کیا۔اوربارہ رمضان کوبروز اتوار مدینہ سے انصار ومہاجرین کی ایک جمعیت کے ساتھ اللہ کانام لیتے ہوئے روانہ ہوگئے۔ ۵؎ اکابر صحابہ میں سے جولوگ اس غزوہ میںشامل نہیںہوسکے ان میں سے حضرت عثمان بن عفان کانام خاص طورپر ذکر کیا گیا ہے۔ان ایام میں چونکہ ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سخت بیمار تھیں۔اس لیے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو خود حکم دیا تھا کہ وہ ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں ہی ٹھہریں ۔اسی طرح قبیلہ خزرج کے رئیس اعظم سعد بن عبادۃ بھی عین وقت پر بیمار ہو جانے کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے۔۱؎ قبیلہ اوس کے رئیس اسید بن الحضیر بھی کسی مجبوری کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔طلحہ بن عبید اللہ اور سعید بن زید چونکہ ابھی تک خبر رسانی کی مہم سے واپس نہیں آئے تھے اس لیے وہ بھی لڑائی کی عملی شرکت سے محروم رہ گئے باقی اکثر اکابر صحابہ آپؐ کے ہمرکاب تھے۔
    مدینہ سے تھوڑی دور نکل کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور فوج کا جائزہ لیا۔کم عمربچے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہمرکابی کے شوق میں ساتھ چلے آئے تھے،واپس کئے گئے۔سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی عمیر بھی کم سن تھے۔انہوں نے جب بچوں کی واپسی کاحکم سنا تو لشکر میں اِدھراُدھر چھپ گئے لیکن آخران کی باری آئی اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی واپسی کا حکم دیا۔یہ حکم سن کر عمیر رونے لگ گئے اور آپؐ نے ان کے غیرمعمولی شوق کو دیکھ کر انہیں اجازت دے دی۔۲ ؎ اب لشکر اسلامی کی تعداد کچھ اوپرتین سودس تھی۔ جن میںمہاجرین کچھ اوپرساٹھ تھے اورباقی سب انصار تھے۔۳؎ مگربے سروسامانی کا یہ عالم تھاکہ ساری فوج میں صرف ستراونٹ اوردوگھوڑے تھے اورانہی پرمسلمان باری باری سوار ہوتے تھے حتیٰ کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے بھی کوئی الگ سواری نہیں تھی یعنی آپؐ کو بھی دوسروں کے ساتھ باری باری سے چڑھنا اوراترنا پڑتا تھا۔آپؐ کے ساتھیوں نے بڑے اصرار سے عرض کیا کہ ہم پیدل چلتے ہیں حضور سوار رہیں،مگر آپؐ نے نہ مانا اورمسکراتے ہوئے فرمایا کہ میں تم سے چلنے میں کمزور نہیں ہوں اور ثواب کی خواہش بھی مجھے کسی سے کم نہیں پھر میں کیوں نہ باری میں حصہ لوں۔۴؎ لشکر میں زرہ پوش صرف چھ سات تھے اورباقی سامانِ حرب بھی بہت تھوڑا اورناقص تھا۔الغرض جائزہ وغیرہ کے کام سے فارغ ہوکر آپؐ آگے روانہ ہوئے ۔ابھی تھوڑی دورہی گئے تھے کہ ایک شخص نے جو مشرک تھاآپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میں آپؐ کے ساتھ چل کر جنگ میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔صحابہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ شخص اپنی بہادری اورشجاعت میں شہرت رکھتا تھا۔مگرآپؐ نے یہ فرماکر اسے ردّ کردیا کہ میں اس موقع پر ایک مشرک سے مدد نہیں لینا چاہتا۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص پھرآیا،لیکن اِدھرسے پھروہی جواب تھا۔تیسری دفعہ وہ پھر حاضر ہوا اور اپنی خدمات پیش کیں اورساتھ ہی عرض کیا کہ میں اللہ اوراس کے رسول پرایمان لاتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا۔ہاںاب بڑی خوشی سے ہمارے ساتھ چلو۔ ۱؎
    مدینہ سے نکلتے ہوئے آپؐ نے اپنے پیچھے عبداللہ بن ام مکتوم کومدینہ کاامیر مقرر کیا تھا۔مگر جب آپؐ روحاء کے قریب پہنچے جومدینہ سے۳۶میل کے فاصلہ پر ہے تو غالباً اس خیال سے کہ عبداللہ ایک نابینا آدمی ہیں اورلشکرقریش کی آمد آمد کی خبر کاتقاضا ہے کہ آپؐ کے پیچھے مدینہ کاانتظام مضبوط رہے آپؐنے ابولبابہ بن منذر کومدینہ کاامیر مقرر کر کے واپس بھجوادیا اور عبداللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام صلوٰۃ رہیں،مگر انتظامی کام ابولبابہ سرانجام دیں۔مدینہ کی بالائی آبادی یعنی قباء کے لئے آپؐ نے عاصم بن عدی کوالگ امیر مقرر فرمایا۔اسی مقام سے آپؐ نے بسیس اور عدی نامی دو صحابیوں کو دشمن کی حرکات وسکنات کاعلم حاصل کرنے کے لئے بدر کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ بہت جلد خبر لے کر واپس آئیں۔۲؎ روحاء سے آگے روانہ ہوکر جب مسلمان وادیٔ صفراء کے ایک پہلو سے گزرتے ہوئے زفران میں پہنچے جو بدر سے صرف ایک منزل ورے ہے تو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قافلہ کی حفاظت کے لئے قریش کاایک بڑا جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔اب چونکہ اخفاء راز کا موقع گزرچکا تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو جمع کرکے انہیں اس خبر سے اطلاع دی اورپھران سے مشورہ پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ظاہری اسباب کاخیال کرتے ہوئے تو یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ قافلہ سے سامنا ہوکیونکہ لشکر کے مقابلہ کے لئے ہم ابھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔مگر آپؐ نے اس رائے کوپسند نہ فرمایا۔۳ ؎ دوسری طرف اکابر صحابہ نے یہ مشورہ سنا تواٹھ اٹھ کرجاں نثارانہ تقریریں کیں اور عرض کیا ہمارے جان ومال سب خدا کے ہیں۔ہم ہر میدان میں ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں ۔چنانچہ مقداد بن اسود نے جن کا دوسرا نام مقداد بن عمرو بھی تھا کہا’’یارسول اللہ!ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپؐ کو یہ جواب دیں کہ جاتُو اورتیراخدا جاکر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیںبلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپؐ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپؐ کے ساتھ ہیں اور ہم آپؐ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہوکر لڑیں گے۔‘‘آپؐ نے یہ تقریر سنی تو آپؐ کاچہرہ مبارک خوشی سے تمتمانے لگ گیا۔ ۴؎ مگر اس موقع پر بھی آپؐ انصار کے جواب کے منتظرتھے اورچاہتے تھے کہ وہ بھی کچھ بولیں۔کیونکہ آپؐ کویہ خیال تھا کہ شاید انصار یہ سمجھتے ہوں کہ بیعت عقبہ کے ماتحت ہمارا فرض صرف اس قدر ہے کہ اگرعین مدینہ پر کوئی حملہ ہوتو اس کا دفاع کریں۔چنانچہ باوجود اس قسم کی جاں نثارانہ تقریروں کے آپؐ یہی فرماتے گئے کہ اچھا پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے۔سعد بن معاذ رئیس اوس نے آپؐ کا منشاء سمجھا اورانصار کی طرف سے عرض کیا’’یارسول اللہ!شاید آپؐ ہماری رائے پوچھتے ہیں۔خداکی قسم جب ہم آپؐ کو سچا سمجھ کر آپؐ پرایمان لے آئے ہیں اورہم نے اپنا ہاتھ آپؐ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ہے توپھر اب آپؐ جہاں چاہیں چلیں ہم آپؐ کے ساتھ ہیں اوراس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے،اگرآپؐ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں توہم کود جائیں گے اورہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا اورآپؐ انشاء اللہ ہم کو لڑائی میں صابر پائیں گے اورہم سے وہ بات دیکھیں گے جوآپؐ کی آنکھوں کوٹھنڈا کرے گی۔‘‘آپؐ نے یہ تقریر سنی تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔سِیْرُوْا وَابْشِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ وَعَدَنِی اِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ وَاللّٰہِ لَکَاَنِّیْ اَنْظُرُاِلٰی مَصَارِعَ الْقَوْمِ۔ یعنی توپھر’’اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو اور خوش ہوکیونکہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کفار کے ان دوگروہوں (یعنی لشکر اور قافلہ) میںسے کسی ایک گروہ پروہ ہم کو ضرور غلبہ دے گا۔اورخدا کی قسم میں گویا اس وقت وہ جگہیں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہوہوکر گریں گے۔‘‘ ۱؎ آپؐ کے یہ الفاظ سن کر صحابہ خوش ہوئے مگر ساتھ ہی انہوں نے حیران ہوکر عرض کیاھَلَّا ذَکَرْتَ لَنَاالْقِتَالَ فَنَسْتَعِدَ۔۲؎ یعنی ’’یارسول اللہ!اگرآپؐ کو پہلے سے لشکر قریش کی اطلاع تھی توآپؐ نے ہم سے مدینہ میں ہی جنگ کے احتمال کاذکر کیوں نہ فرمادیاکہ ہم کچھ تیاری توکر کے نکلتے۔‘‘مگر باوجود اس خبر اور اس مشورہ کے اور باوجود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے اس خدائی بشارت کے کہ ان دوگروہوں میں سے کسی ایک پر مسلمانوں کوضرور فتح حاصل ہوگی ابھی تک مسلمانوں کو معین طور پر یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ ان کا مقابلہ کس گروہ سے ہوگا اور وہ ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک گروہ کے ساتھ مٹھ بھیڑ ہوجانے کا امکان سمجھتے تھے اور وہ طبعاً کمزور گروہ یعنی قافلہ کے مقابلہ کے زیادہ خواہش مند تھے۔
    اس مشورہ کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ بدر کی طرف بڑھنے شروع ہوئے اورجب آپؐ بدرؔ کے قریب پہنچے توکسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر روایات میں نہیں ہے آپؐ حضرت ابوبکرؓ صدیق کو اپنے پیچھے سوارکرکے اسلامی لشکر سے کچھ آگے نکل گئے۔ اس وقت آپؐ کو ایک بوڑھا بدوی ملاجس سے آپ کو باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ اس وقت قریش کا لشکر بدر کے بالکل پاس پہنچا ہوا ہے۔آپؐ یہ خبر سن کر واپس تشریف لے آئے اورحضرت علی اورزبیر بن العوام اور سعد بن وقاص وغیرہ کودریافت حالات کے لئے آگے روانہ فرمایا۔جب یہ لوگ بدر کی وادی میں گئے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کے چند لوگ ایک چشمہ سے پانی بھررہے ہیں۔ان صحابیوں نے اس جماعت پرحملہ کرکے ان میں سے ایک حبشی غلام کو پکڑ لیا اور اسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ ۱؎ اس وقت آپؐ نماز میں مصروف تھے۔صحابہ نے یہ دیکھ کر کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو نمازمیں مصروف ہیں،خود اس غلام سے پوچھنا شروع کیا کہ ابو سفیان کاقافلہ کہاں ہے۔ ۲؎ یہ حبشی غلام چونکہ لشکر کے ہمراہ آیا تھا اورقافلہ سے بے خبر تھا اس نے جواب میں کہا کہ ابو سفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے،البتہ ابوالحکم یعنی ابو جہل اورعتبہ اورشیبہ اورامیہ وغیرہ اس وادی کے دوسرے کنارے ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔ صحابہ نے جن کا میلان قافلہ کی طرف زیادہ تھا سمجھا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے اوردیدہ دانستہ قافلہ کی خبر کو چھپانا چاہتا ہے۔ جس پر بعض لوگوں نے اسے کچھ زدوکوب کیا،لیکن جب وہ اسے مارتے تھے تووہ ڈر کے مارے کہہ دیتا تھا کہ اچھا میں بتاتا ہوں اورجب اسے چھوڑ دیتے تھے تو پھر وہی پہلا جواب دیتا تھا کہ مجھے ابوسفیان کا توکوئی علم نہیں ہے البتہ ابوجہل وغیرہ یہ پاس ہی موجود ہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز میں یہ باتیں سنیں تو آپؐ نے جلدی سے نماز سے فارغ ہوکر صحابہ کو مارنے سے روکا اور فرمایا۔’’جب وہ سچی بات بتاتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اورجھوٹ کہنے لگتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘۳؎پھرآپؐ نے خود نرمی کے ساتھ اس سے دریافت فرمایا کہ لشکر اس وقت کہاں ہے۔اس نے جواب دیا اس سامنے والے ٹیلے کے پیچھے ہے۔ آپؐ نے پوچھاکہ لشکر میں کتنے آدمی ہیں۔اس نے جواب دیاکہ بہت ہیں مگر پوری پوری تعداد مجھے معلوم نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایااچھا یہ بتائوکہ ان کے لئے ہر روز کتنے اونٹ ذبح ہوتے ہیں۔اس نے کہا کہ دس ہوتے ہیں۔آپؐ نے صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایاکہ ایک ہزارآدمی معلوم ہوتے ہیں۔ ۴؎ اور حقیقۃً وہ اتنے ہی تھے۔ ۵؎ پھرآپؐ نے اس غلام سے پوچھا کہ رئوساء قریش میں سے کون کون لوگ ہیں۔اس نے کہا۔ عتبہ، شیبہ،ابوجہل،ابوالبختری،عقبہ بن ابی معیط،حکیم بن حزام،نضربن حارث، امیہ بن خلف،سہیل بن عمرو،نوفل بن خویلد،طعیمہ بن عدی،زمعہ بن اسود وغیرہ وغیرہ سب ساتھ ہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے مخاطب ہوکرفرمایاھٰذَا مَکَّۃَ قَدْ اَلْقَتْ اِلَیْکُمْ اَفْلاَ ذَکَبِدِھَا۔یعنی’’لومکہ نے تمہارے سامنے اپنے جگر گوشے نکال کرڈال دئیے ہیں۔‘‘ ۱؎ یہ نہایت دانشمندانہ اورحکیمانہ الفاظ تھے جوآپؐ کی زبان مبارک سے بے ساختہ طورپر نکلے۔کیونکہ بجائے اس کے کہ قریش کے اتنے نامور رئوساء کاذکر آنے سے کمزور طبیعت مسلمان بے دل ہوتے ان الفاظ نے ان کی قوت متخیلہکو اس طرف مائل کردیاکہ گویا ان سردارانِ قریش کوتو خدا نے مسلمانوں کا شکار بننے کے لئے بھیجا ہے۔
    جس جگہ اسلامی لشکر نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہ تھی ۔اس پر حباب بن منذر نے آپؐ سے دریافت کیا کہ آیا خدائی الہام کے ماتحت آپؐ نے یہ جگہ پسند کی ہے یا محض فوجی تدبیر کے طور پر اسے اختیار کیا ہے؟آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اس بارہ میں کوئی خدائی حکم نہیں ہے ،تم کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو توبتائو؟حباب نے عرض کیاتو پھر میرے خیال میں یہ جگہ اچھی نہیں ہے۔بہتر ہوگا کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمہ پرقبضہ کرلیا جاوے۔میں اس چشمہ کو جانتا ہوں۔اس کا پانی اچھا ہے اورعموماًہوتا بھی کافی ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اورچونکہ ابھی تک قریش ٹیلہ کے پرے ڈیرہ ڈالے پڑے تھے اور یہ چشمہ خالی تھا،مسلمان آگے بڑھ کر اس چشمہ پر قابض ہوگئے لیکن جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ پایا جاتا ہے اس وقت اس چشمہ میں بھی پانی زیادہ نہیں تھا اورمسلمانوں کوپانی کی قلت محسوس ہوتی تھی ۔پھر یہ بھی تھا کہ وادی کے جس طرف مسلمان تھے وہ ایسی اچھی نہ تھی کیونکہ اس طرف ریت بہت تھی جس کی وجہ سے پائوں اچھی طرح جمتے نہیں تھے۔
    جگہ کے انتخاب کے بعد سعد بن معاذ رئیس اوس کی تجویز سے صحابہ نے میدان کے ایک حصہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے واسطے ایک سائبان ساتیار کردیا اورسعد نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سواری سائبان کے پاس باندھ کر عرض کیا کہ’’یارسول اللہ!آپؐ اس سائبان میں تشریف رکھیںاورہم اللہ کا نام لے کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو یہی ہماری آرزو ہے،لیکن اگرخدانخواستہ معاملہ دگرگوں ہوا توآپؐ اپنی سواری پرسوار ہوکر جس طرح بھی ہو مدینہ پہنچ جائیں۔وہاں ہمارے ایسے بھائی بند موجود ہیں جو محبت واخلاص میں ہم سے کم نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ ان کو یہ خیال نہیں تھا کہ اس مہم میں جنگ پیش آجائے گی اس لئے وہ ہمارے ساتھ نہیں آئے ورنہ ہرگز پیچھے نہ رہتے لیکن جب انہیں حالات کاعلم ہوگا ،تووہ آپؐ کی حفاظت میں جان تک لڑا دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔‘‘ ۲؎ یہ سعد کا جوشِ اخلاص تھا جو ہر حالت میں قابلِ تعریف ہے، ورنہ بھلا خدا کا رسول اورمیدان سے بھاگے۔چنانچہ حنین کے میدان میں بارہ ہزار فوج نے پیٹھ دکھائی،مگر یہ مرکز توحید اپنی جگہ سے متزلزل نہیں ہوا۔بہرحال سائبان تیار کیا گیا اور سعداوربعض دوسرے انصار اس کے گرد پہرہ دینے کے لئے کھڑے ہوگئے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے اسی سائبان میں رات بسر کی۔اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے رات بھر خدا کے حضور گریہ وزاری سے دعائیں کیں اورلکھا ہے کہ سارے لشکر میں صرف آپؐ ہی تھے جو رات بھر جاگے ،باقی سب لوگ باری باری اپنی نیند سولئے۔اورچونکہ نیند کا آنا بھی ایک اطمینان کی علامت سمجھا جاتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔پھر خدا کامزید فضل یہ ہوا کہ کچھ بارش بھی ہوگئی جس سے مسلمانوں کویہ موقع مل گیا کہ حوض بنابناکر پانی جمع کرلیں۔اور یہ بھی فائدہ ہوگیا کہ ریت جم گئی اورپائوں زمین میں دھسنے سے رک گئے۔دوسری طرف قریش والی جگہ میں کیچڑ کی سی صورت ہوگئی اوراس طرف کاپانی بھی کچھ گدلا ہوکر میلا ہوگیا۔اس واقعہ کابھی قرآن شریف نے ذکر کیا ہے۔ ۱؎
    اب رمضان ۲ہجری کی سترہ تاریخ اور جمعہ کا دن تھا۔ ۲؎ اورعیسوی حساب سے ۱۴؍مارچ۶۲۳ء تھی۔ ۳؎ صبح اٹھ کر سب سے پہلے نماز ادا کی گئی اور پرستارانِ احدیت کھلے میدان میں خدائے واحد کے حضور سربسجود ہوئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جہاد پرایک خطبہ فرمایااور پھر جب ذرا روشنی ہوئی تو آپؐ نے ایک تیر کے اشارہ سے مسلمانوں کی صفوں کودرست کرنا شروع کیا۔ایک صحابی سوادؓ نامی صف سے کچھ آگے نکلا کھڑا تھا آپؐ نے اسے تیر کے اشارہ سے پیچھے ہٹنے کو کہا،مگر اتفاق سے آپؐ کے تیر کی لکڑی اس کے سینہ پر جا لگی۔اس نے جرأت کے انداز سے عرض کیا۔’’ یارسول اللہ!آپؐ کوخدا نے حق وانصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔مگرآپؐ نے مجھے ناحق تیر مارا ہے واللہ میں تو اس کا بدلہ لوں گا۔‘‘صحابہ انگشت بدنداں تھے کہ سواد کوکیا ہوگیا ہے ،مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ اچھا سواد تم بھی مجھے تیر مارلو‘‘اورآپؐ نے اپنے سینہ سے کپڑا اٹھادیا۔سواد نے فرطِ محبت سے آگے بڑھ کرآپؐ کاسینہ چوم لیا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔’’سواد یہ تمہیں کیا سوجھی۔‘‘اس نے رقت بھری آواز میں عرض کیا۔’’یارسول اللہ!دشمن سامنے ہے کچھ خبر نہیں کہ یہاں سے بچ کر جانا ملتا ہے یا نہیں ۔میں نے چاہا کہ شہادت سے پہلے آپؐ کے جسم مبارک سے اپنا جسم چھوجائوں۔‘‘ ۴؎ غالباً اسی وقت کے قریب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حذیفہ بن یمان اورابوجَبَل حاضرہوئے اور عرض کیاہم ابھی ابھی مکہ سے آرہے ہیں۔جب ہم وہاں سے نکلے تھے تو قریش نے ہم کو روک دیا تھا اورپھر یہ عہد لے کر چھوڑا تھاکہ ہم آپؐ کے ساتھ ہوکر ان کے خلاف جنگ نہیں کریں گے۔گویہ عہد قابلِ ایفاء نہیں تھا کیونکہ جبراًلیا گیا تھامگرآپؐنے فرمایا۔’’توپھر تم جائو اوراپنے عہد کو پوراکرو۔ہم اللہ ہی سے مدد چاہتے ہیں اوراسی کی نصرت پر ہمارابھروسہ ہے ۔‘‘ ۱؎
    ابھی آپ صفوں کی درستی میں ہی مصروف تھے کہ قریش کے لشکر میں حرکت پیدا ہوئی اورلشکر کفار میدان قتال کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔یہ وہ موقع تھا جبکہ کفار کو مسلمان اصلی تعداد سے کم نظر آتے تھے۔ ۲؎ اس لئے وہ جرأت کے ساتھ بڑھتے آئے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں دور سے دیکھا تو فرمایا ’’اے میرے مولا!یہ لوگ تکبروغرور سے بھرے ہوئے تیرے دین کے مٹانے کے لئے آئے ہیں تو اپنے وعدہ کے مطابق اپنے دین کی نصرت فرما۔‘‘ ۳؎ اسی اثناء میں قریش کے چند آدمی مسلمانوں کے چشمہ کی طرف بڑھے۔صحابہ نے روکنا چاہا مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمایا اورحکم دیا کہ ان کو پانی پی لینے دیا جاوے۔چنانچہ انہوں نے امن کے ساتھ پانی پیااوراپنے لشکر کوواپس لوٹ گئے۔ ۴؎ دشمن کے ساتھ اس عدل واحسان کامعاملہ کرنا عرب کے ضابطۂ اخلاق میں مفقود تھا اوریہ اسلام کی ایک خصوصیت ہے کہ اس نے خود حفاظتی قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے دشمن سے بھی نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
    اب فوجیں بالکل ایک دوسرے کے سامنے تھیں ۔مگر قدرت الہٰی کاعجیب تماشہ ہے کہ اس وقت لشکروں کے کھڑے ہونے کی ترتیب ایسی تھی کہ اسلامی لشکر قریش کو اصلی تعداد سے زیادہ بلکہ دوگنا نظرآتا تھا۔ ۵؎ جس کی وجہ سے کفار مرعوب ہوئے جاتے تھے اوردوسری طرف قریش کالشکر مسلمانوں کو ان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتا تھا۔ ۶؎ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے تھے۔ قریش کی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح اسلامی لشکر کی تعداد کا صحیح اندازہ پتہ لگ جاوے تاکہ وہ چھوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دے سکیں۔اس کے لئے رئوساء قریش نے عمیر بن وہب کو بھیجا کہ اسلامی لشکر کے چاروں طرف گھوڑا دوڑا کردیکھے کہ اس کی تعداد کتنی ہے اورآیا ان کے پیچھے کوئی کمک تو مخفی نہیں؟ چنانچہ عمیر نے گھوڑے پر سوار ہوکر مسلمانوں کاایک چکر کاٹا،مگر اسے مسلمانوں کی شکل وصورت سے ایسا جلال اورعزم اور موت سے ایسی بے پروائی نظر آئی کہ وہ سخت مرعوب ہوکر لوٹا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہنے لگا مَا رَأَیْتُ شَیْئًا وَلٰکِنِّی قَدْ رَأَیْتُ یَامَعْشَرَ الْقُرَیْشِ اَلبَلاَیَا تَحْمِلُ الْمَنَایَانَوَاضِحُ یَثْرَبَ تَحْمِلُ الْمَوْتَ النَّاقِعَ۔ ۱؎ یعنی’’مجھے کوئی مخفی کمک وغیرہ تو نظر نہیں آئی، لیکن اے معشرقریش!میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں گویا اونٹنیوں کے کجاوں نے اپنے اوپر آدمیوں کونہیں بلکہ موتوں کواٹھایا ہوا ہے اوریثرب کی سانڈنیوں پرگویا ہلاکتیں سوار ہیں۔‘‘قریش نے جب یہ بات سنی توان میں ایک بے چینی سی پیدا ہوگئی۔سراقہ جوان کا ضامن بن کر آیا تھا کچھ ایسا مرعوب ہواکہ الٹے پائوں بھاگ گیا۔اورجب لوگوں نے اسے روکا تو کہنے لگا ۲ ؎ ’’مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ تم نہیں دیکھتے۔‘‘حکیم بن حزام نے عمیرکی رائے سنی تو گھبرایاہوا عتبہ بن ربیعہ کے پاس آیا اورکہنے لگا۔اے عتبہ!تم محمد( صلی اﷲ علیہ وسلم) سے آخر عمروحضرمی کا بدلہ ہی چاہتے ہو۔۳؎ وہ تمہارا حلیف تھاکیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اس کی طرف سے خون بہاادا کردو اور قریش کو لے کر واپس لوٹ جائو اس میں ہمیشہ کے لئے تمہاری نیک نامی رہے گی۔‘‘عتبہ جو خود گھبرایا ہوا تھا اورکیا چاہئے تھا جھٹ بولا۔’’ہاں ہاں میں راضی ہوں اورپھر حکیم! دیکھو تو یہ مسلمان اور ہم آخر آپس میں رشتہ دار ہی تو ہیں۔کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ بھائی بھائی پرتلوار اٹھائے اورباپ بیٹے پر۔تم ایسا کرو کہ ابھی ابوالحکم (یعنی ابوجہل)کے پاس جائو اوراس کے سامنے یہ تجویز پیش کرو۔‘‘ ۴؎ اورادھر عتبہ نے خود اونٹ پر سوار ہوکر اپنی طرف سے لوگوں کو سمجھانا شروع کردیا کہ’’رشتہ داروں میں لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ہمیںواپس لوٹ جانا چاہئے اور محمدکو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ دوسرے قبائل عرب کے ساتھ نپٹتا رہے جو نتیجہ ہوگا دیکھا جائے گا۔اورپھر تم دیکھو کہ ان مسلمانوں کے ساتھ لڑنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔کیونکہ خواہ تم مجھے بزدل کہو حالانکہ میں بزدل نہیں ہوں اِنّی اَریٰ قَوْمًا مُسْتَمِیْتِیْنَ۔ ۵؎ یعنی’’مجھے تو یہ لوگ موت کے خریدار نظر آتے ہیں۔‘‘آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دور سے عتبہ کو دیکھا تو فرمایا۔’’اگر لشکرکفارمیں سے کسی میں شرافت ہے تو اس سرخ اونٹ کے سوار میں ضرورہے۔اگر یہ لوگ اس کی بات مان لیں توان کے لئے اچھا ہو۔‘‘لیکن جب حکیم بن حزام ابوجہل کے پاس آیا اوراس سے یہ تجویزبیان کی تو وہ فرعونِ امت بھلا ایسی باتوں میں کب آنے والا تھا چھٹتے ہی بولا۔’’اچھا اچھا اب عتبہ کواپنے سامنے اپنے رشتہ دار نظر آنے لگے ہیں۔‘‘اور پھر اس نے عمروحضرمی کے بھائی عامر حضرمی کوبلاکر کہا’’تم نے سنا تمہارا حلیف عتبہ کیا کہتا ہے اوروہ بھی اس وقت جبکہ تمہارے بھائی کا بدلہ گویا ہاتھ میں آیا ہوا ہے۔‘‘عامر کی آنکھوں میں خون اتر آیا اوراس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق اپنے کپڑے پھاڑ کر اور ننگا ہوکر چلانا شروع کیا ’’واعمراہ واعمراہ‘‘ہائے افسوس!میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے۔ہائے افسوس! میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے!!اس صحرائی آواز نے لشکر قریش کے سینوں میں عداوت کے شعلے بلند کردیئے اور جنگ کی بھٹی اپنے پورے زورسے دہکنے لگ گئی۔‘‘ ۱؎
    ابوجہل کے طعنے نے عتبہ کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔اس غصہ میں بھرا ہوا وہ اپنے بھائی شیبہ اوراپنے لڑکے ولید کوساتھ لے کر لشکر کفار سے آگے بڑھا اور عرب کے قدیم دستور کے مطابق انفرادی لڑائی کے لئے مبارزطلبی کی۔چند انصاران کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھنے لگے۔مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو روک دیااورفرمایا۔’’حمزہ تم اٹھو،علی تم اٹھو،عبیدہ تم اٹھو!‘‘یہ تینوں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نہایت قریبی رشتہ دار تھے اورآپؐ چاہتے تھے کہ خطرہ کی جگہ پر سب سے پہلے آپؐ کے عزیزواقارب آگے بڑھیں ۔دوسری طرف عتبہ وغیرہ نے بھی انصار کو دیکھ کر آوازدی کہ ’’ان لوگوں کو ہم کیا جانتے ہیں۔ہماری ٹکر کے ہمارے سامنے آئیں۔‘‘چنانچہ حمزہ اور علی اور عبیدہ آگے بڑھے۔عرب کے دستور کے مطابق پہلے روشناسی ہوئی۔پھرعبیدۃ بن مطلب ولید کے مقابل ہوگئے اور حمزہ عتبہ کے اورعلی شیبہ کے۔۲؎ حمزہ اورعلی نے تو ایک دو واروں میں ہی اپنے حریفوں کو خاک میں ملادیا،لیکن عبیدۃ اورولید میں دو چار اچھی ضربیں ہوئیں۔اوربالآخر دونوںایک دوسرے کے ہاتھ سے کاری زخم کھاکرگرے۔جس پر حمزہ اورعلی نے جلدی سے آگے بڑھ کر ولید کا تو خاتمہ کردیا اور عبیدۃ کواٹھا کر اپنے کیمپ میں لے آئے۔مگر عبیدہ اس صدمہ سے جانبر نہ ہوسکے اور بدر سے واپسی پر راستہ میں انتقال کیا۔
    ان انفرادی مقابلوں کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پھراپنے سائبان میں تشریف لے گئے اورجاتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ جب تک میں حکم نہ دوں عام دھاوا نہ کیا جائے اور فرمایا کہ’’اگر کفار فوری حملہ کرکے آئیں توپہلے تیروں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرو،لیکن دیکھو تیرذرا احتیاط سے چلانا۔ایسانہ ہو کہ یونہی بے فائدہ طورپر اپنے ترکش خالی کردواورتلوار صرف اس وقت نکالو کہ جب دونوں لشکرآپس میں مل جائیں۔‘‘غالباًاسی موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے مخاطب ہوکر یہ بھی فرمایا کہ لشکر کفار میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جواپنے دل کی خوشی سے اس مہم میں شامل نہیں ہوئے بلکہ رئوساء قریش کے دبائو کی وجہ سے شامل ہوگئے ہیں۔ورنہ وہ دل میں ہمارے مخالف نہیں۔اسی طرح بعض ایسے لوگ بھی اس لشکر میں شامل ہیں جنہوں نے مکہ میں ہماری مصیبت کے وقت میں ہم سے شریفانہ سلوک کیا تھا اورہمارا فرض ہے کہ ان کے احسان کا بدلہ اتاریں۔پس اگر کسی ایسے شخص پر کوئی مسلمان غلبہ پائے تواسے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائے۔اور آپؐ نے خصوصیت کے ساتھ قسم اول میں عباس بن عبدالمطلب اور قسم ثانی میں ابوالبختریکانام لیا اوران کے قتل سے منع فرمایا۔مگرحالات نے کچھ ایسی ناگریز صورت اختیار کی کہ ابوالبختری قتل سے بچ نہ سکاگواسے مرنے سے قبل اس بات کاعلم ہوگیا تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے قتل سے منع فرمایاہے۔ ۱؎ اس کے بعد آپؐ سائبان میں جاکر پھردعا میں مشغول ہوگئے۔حضرت ابوبکرؓبھی ساتھ تھے اورسائبان کے ارد گرد انصار کی ایک جماعت سعد بن معاذ کی زیرکمان پہرہ پر متعین تھی۔تھوڑی دیر کے بعد میدان میں سے ایک شور بلند ہوا اورمعلوم ہوا کہ قریش کے لشکر نے عام حملہ کردیا ہے۔اس وقت آنحضرت صلی ا للہ علیہ وسلم نہایت رقت کی حالت میں خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دعائیں کررہے تھے اورنہایت اضطراب کی حالت میں فرماتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَنْشُدُکَ عَھْدَکَ وَوَعْدَکَ اَللّٰھُمَّ اِنْ تُھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لاَ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ۔’’اے میرے خدااپنے وعدوں کو پورا کر۔اے میرے مالک!اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہوگئی تودنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘‘ ۲؎ اوراس وقت آپؐ اس قدر کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی آپؐ سجدہ میں گرجاتے تھے اور کبھی کھڑے ہوکر خداکو پکارتے تھے اور آپؐ کی چادرآپؐ کے کندھوں سے گر گر پڑتی تھی اورحضرت ابوبکر اسے اٹھا اٹھا کرآپؐ پر ڈال دیتے تھے۔ ۳؎ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ مجھے لڑتے ہوئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاخیال آتا تھا تومیں آپؐکے سائبان کی طرف بھاگ جاتا تھا،لیکن جب بھی میں گیامیں نے آپؐ کو سجدہ میں گڑگڑاتے ہوئے پایا۔اور میں نے سنا کہ آپؐ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ یَا حَیُّی یَاقَیُّومُ یَاحَیُّی یَاقَیُّومُ۔ ۴؎ یعنی’’اے میرے زندہ خدا!اے میرے زندگی بخش آقا!‘‘حضرت ابوبکر آپ کی اس حالت کودیکھ کر بے چین ہوئے جاتے تھے اورکبھی کبھی بے ساختہ عرض کرتے تھے ’’یارسول اللہ!میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں۔آپؐ گھبرائیں نہیں۔اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔ ۱؎ مگراس سچے مقولہ کے مطابق کہ ہر کہ عارف تراست ترساں تر۔‘‘آپؐ برابردعااورگریہ وزاری میں مصروف رہے۔
    دوسری طرف جب دونوں فوجیں ایک دوسرے سے بھڑ گئیں توابوجہل رئیس قریش نے بھی یوں دعا کی کہ ’’اے خدا!وہ فریق جس نے رشتو ں کو توڑ رکھا ہے اوردین میں ایک بدعت پیدا کی ہے توآج اسے اس میدان میں تباہ وبرباد کر۔‘‘ ۲؎ ایک دوسری روایت ۳؎ میں آتا ہے کہ اس موقع پریا اس سے قبل ابوجہل نے یہ دعا کی تھی کہ’’اے ہمارے رب اگر محمد کا لایا ہوا دین سچا ہے تو آسمان سے ہم پر پتھروں کی بارش برسایا کسی اوردردناک عذاب سے ہمیں تباہ وبرباد کر۔‘‘ ۴؎
    اب میدان کارزار میں کشت وخون کامیدان گرم تھا۔مسلمانوں کے سامنے ان سے سہ چند جماعت تھی جو ہرقسم کے سامانِ حرب سے آراستہ ہوکر اس عزم کے ساتھ میدان میں نکلی تھی کہ اسلام کا نام ونشان مٹا دیاجاوے۔اورمسلمان بیچارے تعداد میں تھوڑے، سامان میں تھوڑے،غربت اور بے وطنی کے صدمات کے مارے ہوئے ظاہری اسباب کے لحاظ سے اہل مکہ کے سامنے چند منٹوں کا شکار تھے،مگر توحید اوررسالت کی محبت نے انہیں متوالا بنارکھا تھا اوراس چیز نے جس سے زیادہ طاقتور دنیا میں کوئی چیز نہیں یعنی زندہ ایمان نے ان کے اندر ایک فوق العادت طاقت بھر دی تھی۔وہ اس وقت میدانِ جنگ میں خدمت دین کا وہ نمونہ دکھا رہے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ہراک شخص دوسرے سے بڑھ کر قدم مارتا تھا اورخدا کی راہ میں جان دینے کے لئے بے قرار نظر آتا تھا۔حمزہ اور علی اورزبیر نے دشمن کی صفوں کی صفیں کاٹ کر رکھ دیں۔انصار کے جوشِ اخلاص کا یہ عالم تھا کہ عبدالرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ جب عام جنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی۔مگر کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے میرے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں۔انہیںدیکھ کر میرا دل کچھ بیٹھ سا گیا کیونکہ ایسے جنگوں میں دائیں بائیں کے ساتھیوں پر لڑائی کابہت انحصار ہوتا تھا اوروہی شخص اچھی طرح لڑ سکتا ہے جس کے پہلو محفوظ ہوں۔مگر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں اس خیال میں ہی تھا کہ ان لڑکوں میں سے ایک نے مجھ سے آہستہ سے پوچھا کہ گویا وہ دوسرے سے اپنی یہ بات مخفی رکھنا چاہتا ہے کہ چچا وہ ابو جہل کہاں ہے جومکہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا تھا میں نے خدا سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں اسے قتل کروں گا یاقتل کرنے کی کوشش میں مارا جائوں گا۔میں نے ابھی اس کا جواب نہ دیا تھا کہ دوسری طرف سے دوسرے نے بھی اسی طرح آہستہ سے یہی سوال کیا۔میں ان کی یہ جرأت دیکھ کر حیران سا رہ گیا۔کیونکہ ابوجہل گویا سردارِلشکر تھا اور اس کے چاروں طرف آزمودہ کار سپاہی جمع تھے۔میں نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا کہ وہ ابوجہل ہے۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرا اشارہ کرنا تھا کہ وہ دونوں بچے باز کی طرح جھپٹے اور دشمن کی صفیں کاٹتے ہوئے ایک آن کی آن میں وہاں پہنچ گئے اوراس تیزی سے وار کیا کہ ابوجہل اوراس کے ساتھی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے اورابوجہل خاک پرتھا۔ ۱؎ عکرمہ بن ابوجہل بھی اپنے باپ کے ساتھ تھا۔وہ اپنے باپ کو تو نہ بچا سکا مگر اس نے پیچھے سے معاذ پرایسا وار کیا کہ ان کا بایاں بازو کٹ کرلٹکنے لگ گیا۔معاذ نے عکرمہ کا پیچھا کیا مگر وہ بچ کرنکل گیا۔چونکہ کٹا ہوا بازو لڑنے میں مزاہم ہوتا تھا۔معاذ نے اسے زور کے ساتھ کھینچ کراپنے جسم سے الگ کردیا اورپھر لڑنے لگ گئے۔ ۲؎ غرض کیا مہاجر اورکیا انصار سب مسلمان پورے زوروشور اوراخلاص کے ساتھ لڑے۔مگر دشمن کی کثرت اوراس کے سامان کی زیادتی کچھ پیش نہ جانے دیتی تھی اورنتیجہ ایک عرصہ تک مشتبہ رہا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم برابر دعا و ابتہال میں مصروف تھے اورآپ کا اضطراب لحظہ بلحظہ بڑھتا جاتا تھا مگر آخر ایک کافی لمبے عرصے کے بعد آپؐ سجدہ سے اٹھے اور خدائی بشارت سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔ کہتے ہوئے سائبان سے باہر نکل آئے۔ ۳؎
    باہر آکر آپؐ نے چاروں طرف نظر دوڑائی توکشت وخون کا میدان گرم پایا۔اس وقت آپؐ نے ریت اورکنکر کی ایک مٹھی اٹھائی اوراسے کفار کی طرف پھینکا۔۴؎ اورجوش کے ساتھ فرمایاشَاھَتِ الْوُجُوْہُ ’’دشمنوں کے منہ بگڑ جائیں۔‘‘ ۵؎ اورساتھ ہی آپؐ نے مسلمانوں سے پکار کر فرمایا یکدم حملہ کرو۔۶؎ مسلمانوں کے کانوں میں اپنے محبوب آقا کی آواز پہنچی اورانہوں نے تکبیر کا نعرہ لگا کر یکدم حملہ کردیا۔دوسری طرف ادھرآپؐ کا مٹھی بھر کر ریت پھینکنا تھا کہ ایسی آندھی کا جھونکا آیا کہ کفار کی آنکھیں اورمنہ اورناک ریت اورکنکر سے بھرنے شروع ہوگئے۔۱؎ آپؐ نے فرمایا۔یہ خدائی فرشتوں کی فوج ہے جو ہماری نصرت کوآئی ہے اورروایتوں میں مذکور ہے کہ اس وقت بعض لوگوں کویہ فرشتے نظر بھی آئے۔بہرحال عتبہ،شیبہ اورابوجہل جیسے رئوساء قریش توخاک میں مل ہی چکے تھے۔ مسلمانوںکے اس فوری دھاوے اورآندھی کے اچانک جھونکے کے نتیجہ میں قریش کے پائوں اکھڑنے شروع ہوگئے اور جلد ہی کفار کے لشکر میں بھاگڑ پڑگئی اورتھوڑی دیر میں میدان صاف تھا۔ مسلمانوںنے ستر قیدی پکڑے اور جب لڑائی کے بعد مقتولین کی دیکھ بھال کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہی تعداد قریش کے مقتولین کی تھی اورجب مقتولین کی شناخت ہوئی توقرآنی آیت وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِیْنَ۲؎ کی ہیبت ناک تفسیرآنکھوں کے سامنے تھی۔یعنی تمام بڑے بڑے رئوساء قریش خاک میں ملے پڑے تھے اورجو ایک دو رئیس بچے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ میں قیدی تھے۔البتہ شروع شروع میں ابو جہل کی لاش نظر نہ آتی تھی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی جاکر اچھی طرح دیکھے کہ ابوجہل کاکیا حال ہے۔عبداللہ بن مسعود گئے اور دیکھ بھال کے بعد اسے ایک جگہ جان توڑتے ہوئے پایاجبکہ وہ قریباًٹھنڈا ہوچکاتھا۔عبداللہ نے اس سے پوچھا توہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہاھَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوْہٗکیا تم نے مجھ سے بھی کوئی بڑا شخص قتل کیا ہے؟‘‘یعنی میں سب سے بڑا آدمی ہوںجو تم نے مارا ہے۔‘‘پھر کہنے لگا لَوْ غَیْرَ اِکَارٍقَتَلَنِیْ ۳؎ ’’کاش میں کسی کسان کے ہاتھ سے قتل نہ ہوتا۔‘‘۴؎ پھر اس نے پوچھا کہ میدان کس کے ہاتھ میں رہا ہے؟ عبداللہ نے جواب دیاخدا اوراس کے رسول کے ہاتھ۔‘‘اس کے بعد ابو جہل بالکل بے حس وحرکت ہو گیا اور جان دے دی۔ ۵؎ اور عبداللہ بن مسعود نے واپس آکر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کے قتل کی اطلاع دی۔امیہ بن خلف جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی وجہ سے مکہ سے نہیں نکلتا تھا، مگر جس کا دل عداوتِ اسلام اوربغضِ رسولؐ سے بھرا ہوا تھا اس کا انجام یوں ہوا کہ جس وقت لشکر قریش پسپا ہوا اس نے اپنے جاہلیت کے دوست عبدالرحمن بن عوف کے پاس پناہ ڈھونڈی جن کا اس کے ساتھ یہ معاہدہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی حفاظت کریں گے ،لیکن جونہی کہ بلالؓ کی نظر امیہ پرپڑی اس نے شور مچا دیا کہ دیکھو یہ رأس الکفر بچ کر نکلا جارہا ہے،جس پر چند انصاریوں نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے ساتھ لڑکر اسے مار کرگرا دیابلکہ اسے بچاتے بچاتے حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی کسی قدر زخمی ہوگئے۔۱؎
    جب دوسرے کاموں سے فراغت حاصل ہوئی تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رئوساء قریش کوایک جگہ جمع کر کے دفن کردیا جاوے۔چنانچہ ایک گڑھے میں چوبیس رئوساء کی لاشوں کو اکٹھا کرکے دفنا دیا گیا۔اور دوسرے لوگوں کو اپنی اپنی جگہ پردفن کردیا گیا کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ عام طریق تھا کہ حتّی الوسع کسی لاش کوکھلا نہیں رہنے دیتے تھے خواہ وہ دشمن ہی کی کیوں نہ ہو۔ ۲؎ واپسی سے قبل آپؐ اس گڑھے کے پاس تشریف لے گئے جس میں رئوساء قریش دفن کئے گئے تھے اورپھر ان میں سے ایک ایک کا نام لے کر پکارا اور فرمایا ھَلْ وَجَدْتُمْ مَاوَعَدَکُمُ اللّٰہُ حَقًافَاِنِّیْ وَجَدْتُ مَاوَعَدَنِیَ اللّٰہُ حَقًّا۔یعنی’’کیا تم نے اس وعدہ کو حق پایاجو خدا نے میرے ذریعہ تم سے کیا تھا۔تحقیق میں نے اس وعدہ کو حق پالیا ہے جو خدا نے مجھ سے کیا تھا۔۳؎ نیز فرمایا یَااَھلَ الْقَلِیْبِ بِئْسَ عَشِیْرَۃِ النَّبِّیِ کُنْتُمْ لِنَبِیِّکُمْ کَذَّبْتُمُوْنِیْ وَصَدَقَنِیَ النَّاسُ وَاَخْرَجْتُمُوْنِیْ وَآوَانِیَ النَّاسُ وَقَاتَلْتُمُوْنِیْ وَنَصَرَنِیَ النَّاسُ۔ ۴؎ یعنی’’اے گڑھے میں پڑے ہوئے لوگو!تم اپنے نبی کے بہت برے رشتہ داربنے۔تم نے مجھے جھٹلایا اوردوسرے لوگوں نے میری تصدیق کی۔تم نے مجھے میرے وطن سے نکالا اوردوسروں نے مجھے پناہ دی۔تم نے میرے خلاف جنگ کی۔اوردوسروں نے میری مدد کی۔‘‘حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔یارسول اللہ!وہ اب مردہ ہیں وہ کیا سنیں گے۔آپؐ نے فرمایا۔’’میری یہ بات وہ تم سے بھی بہتر سن رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس عالم میں پہنچ چکے ہیں جہاں ساری حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے اورکوئی پردہ نہیں رہتا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے یہ کلمات جواوپردرج کئے گئے ہیں اپنے اندر ایک عجیب درد واَلَم کی آمیزش رکھتے ہیں اوران سے اس قلبی کیفیت کاکچھ تھوڑا سااندازہ ہوسکتا ہے جواس وقت آپؐ پر طاری تھی۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش کی مخالفت کی گزشتہ تاریخ آپؐ کی آنکھوں کے سامنے تھی اور آپؐعالمِ تخیل میں اس کا ایک ایک ورق الٹاتے جاتے تھے اورآپؐ کادل ان اوراق کے مطالعہ سے بے چین تھا۔آپؐ کے یہ الفاظ اس بات کا بھی یقینی ثبوت ہیں کہ اس سلسلۂ جنگ کے آغاز کی ذمہ داری کلیتہً کفار مکہ پر تھی۔جیسا کہ آپؐ کے الفاظ قَاتَلْتُمُوْنِیْ وَنَصَرَنِیَ النَّاسُسے ظاہر ہے۔ یعنی’’اے میری قوم کے لوگو!تم نے مجھ سے جنگ کی اور دوسروں نے میری مدد کی۔اورکم از کم ان الفاظ سے یہ تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی جگہ یہی یقین رکھتے تھے کہ ان جنگوں میں ابتداء کفار کی طرف سے ہوئی ہے اورآپؐ نے مجبور ہوکر محض خود حفاظتی میں تلوار اٹھائی ہے۔
    اپنے مقتولین کی دیکھ بھال ہوئی تو معلوم ہواکہ کل چودہ آدمی شہید ہوئے ہیں۔جن میں سے چھ مہاجرین میں سے تھے اورباقی انصار تھے۔انہیں میں وہ مخلص بچہ عمیروقاص بھی تھا،جس نے رو کر ساتھ آنے کی اجازت حاصل کی تھی ۔اس کے علاوہ زخمی توبہت سے صحابہ ہوئے تھے،لیکن یہ نقصان ایسا نہیں تھا کہ اس عظیم الشان دینی فتح کی خوشی کو مکدر کرسکتا اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور جملہ مسلمان شکروامتنان کے جذبات سے معمور تھے۔تین دن تک آپؐ نے بدر کی وادی میں قیام فرمایا۔ اور یہ وقت اپنے شہداء کی تکفین وتدفین اوراپنے زخمیوں کی مرہم پٹی میں گزرا۔اورانہی دنوں میں غنیمت کے اموال کو جمع کرکے مرتب کیا گیا اور کفار کے قیدیوں کو جن کی تعداد ستر تھی محفوظ کرکے مختلف مسلمانوں کی سپردگی میں دے دیا گیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوتاکید کی کہ قیدیوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کاسلوک کریں اوران کے آرام کا خیال رکھیں۔صحابہؓ نے جن کو اپنے آقا کی ہر خواہش کے پورا کرنے کا عشق تھاآپؐ کی اس نصیحت پر اس خوبی کے ساتھ عمل کیا کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ خود ان قیدیوں میں سے ایک قیدی ابوعزیز بن عمیرکی زبانی روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے انصار مجھے تو پکی ہوئی روٹی دیتے تھے،لیکن خود کھجور وغیرہ کھا کرگزارہ کرلیتے تھے اور کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ ان کے پاس اگر روٹی کا چھوٹا ٹکڑا بھی ہوتا تھا تو وہ مجھے دے دیتے تھے اور خود نہیں کھاتے تھے اوراگر میں کبھی شرم کی وجہ سے واپس کردیتا تھاتووہ اصرار کے ساتھ پھرمجھی کو دے دیتے تھے۔ ۱؎ جن قیدیوں کے پاس لباس کافی نہیںتھاانہیں کپڑے مہیا کردیئے گئے تھے۔چنانچہ عباس کو عبداللہ بن ابیّ نے اپنی قیمص دی تھی۔ ۲؎
    سرولیم میور نے قیدیوں کے ساتھ اس مشفقانہ سلوک کا مندرجہ ذیل الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
    ’’محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی ہدایت کے ماتحت انصارومہاجرین نے کفار کے قیدیوں کے ساتھ بڑی محبت اورمہربانی کاسلوک کیا۔چنانچہ بعض قیدیوں کی اپنی شہادت تاریخ میں ان الفاظ میں مذکور ہے کہ ’’خدا بھلا کرے مدینہ والوں کاوہ ہم کوسوار کرتے تھے اور آپ پیدل چلتے تھے۔ہم کو گندم کی پکی ہوئی روٹی دیتے تھے اورآپ صرف کھجوریں کھا کر پڑ رہتے تھے۔اس لئے(میور صاحب لکھتے ہیں)ہم کویہ معلوم کرکے تعجب نہ کرنا چاہئے کہ بعض قیدی اس نیک سلوک کے اثر کے نیچے مسلمان ہوگئے اور ایسے لوگوں کو فوراًآزاد کردیا گیا…جوقیدی اسلام نہیں لائے ان پر بھی اس نیک سلوک کا بہت اچھااثر تھا۔‘‘
    یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب یہ قیدی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے توآپ نے فرمایاکہ اگر آج مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان لوگوں کی سفارش کرتا تو میں ان کو یونہی چھوڑ دیتا۔۲؎ مطعم پکا مشرک تھااوراسی حالت میں وہ مرا لیکن طبیعت میں شرافت کامادہ رکھتا تھا۔ چنانچہ قریش کا ظالمانہ صحیفہ جس کی وجہ سے مسلمان شعبِ ابی طالب میں محصور کردیئے گئے تھے اسے مطعم نے ہی چاک کیا تھا اور جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم طائف سے واپس آئے تھے تو اس وقت بھی مطعم نے ہی آپؐکواپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخل کیا تھا۔یہ اسی احسان کی یاد تھی جس سے متأثر ہو کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے۔دراصل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ ایک نمایاں خصوصیت تھی کہ جب کبھی کوئی شخص آپؐ کے ساتھ ذرا سابھی نیک سلوک کرتا تھاتوآپؐاس کے احسان کو کبھی نہیں بھولتے تھے اورآپؐ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپؐ کواس کے احسان کا عملی شکریہ ادا کرنے کا موقع ملتا رہے اور یہ نہیں تھاکہ دنیاداروں کی طرح جب آپؐ ایک دفعہ کسی کے احسان کے جواب میں نیک سلوک کرلیتے تھے تو پھر یہ کہنے لگ جاتے تھے کہ بس اب احسان کابدلہ اتر گیا ہے۔بلکہ جب کبھی کوئی شخص آپؐ کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھاتو پھر وہ ہمیشہ کے لئے آپؐ کواپنا خاص محسن بنا لیتا تھااورآپؐ کبھی بھی اس کے احسان کواترا ہوا نہیں سمجھتے تھے اور دراصل اعلیٰ اخلاق کایہی تقاضا ہے۔کیونکہ جس احسان کے نیچے انسان ایک دفعہ آجاوے پھر اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ کسی جوابی احسان سے اس کا بدلہ اتر سکتا ہے ایک تجارتی لین دین توکہلا سکتا ہے مگر ایک اخلاقی ذمہ داری سے عہدہ برآئی ہرگز نہیں سمجھا جاسکتا۔
    جولوگ قید ہوئے تھے ان میں سے بعض رئوساء قریش میںسے تھے۔چنانچہ النضربن الحارث اور سہیل بن عمرو مکہ کے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔بعض قیدی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نہایت قریبی رشتہ دارتھے مثلاًعباس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا تھے۔عقیل آپؐ کے چچازاد بھائی اور حضرت علی کے حقیقی بھائی تھے۔ابوالعاص بن ربیع تھے جو آپؐ کی صاحبزادی زینب کے خاوند یعنی آپؐ کے داماد تھے۔بعض مؤرخین نے قید ہونے والے رئوساء میں عقبہ بن ابی معیط کا نام بھی بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ بعد میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت حالت قیدمیں قتل کردیا گیا تھا۔مگر یہ درست نہیں ہے۔ حدیث ۱؎ اورتاریخ ۲؎ میںنہایت صراحت کے ساتھ یہ روایت آتی ہے کہ عقبہ بن ابی معیط میدانِ جنگ میں قتل ہوا تھااوران رئوساء مکہ میں سے تھا جن کی لاشیں ایک گڑھے میں دفن کی گئی تھیں۔البتہ نضر بن حارث کا حالت قید میں قتل کیا جانا اکثر روایات سے ظاہر ہوتا ہے اوراس کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جوان بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے براہ راست ذمہ دارتھے جومکہ میں کفار کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔ اور اغلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ربیب حار ث بن ابی ہالہ جوابتداء اسلام میں نہایت ظالمانہ طورپر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے گئے تھے۔ ۳؎ ان کے قتل کرنے والوں میں نضر بن حارث بھی شامل تھا۔لیکن یہ یقینی ہے کہ نضر کے سوا کوئی قیدی قتل نہیں کیا گیااورنہ ہی اسلام میں صرف دشمن ہونے اورجنگ میں خلاف حصہ لینے کی وجہ سے قیدیوں کے قتل کرنے کا دستور تھا۔چنانچہ اس کے متعلق بعد میں ایک معین حکم بھی قرآن شریف میں نازل ہوا۔ ۴؎ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گو بہت سی روایات میں نضر بن حارث کے قتل کئے جانے کاذکر آتا ہے لیکن بعض ایسی روایتیں بھی پائی جاتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قتل نہیں کیا گیاتھابلکہ بدر کے بعد مدت تک زندہ رہا اور بالآخر غزوہ حنین کے موقع پر مسلمان ہوکر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہوگیا تھا۔ ۵؎ مگر مقدم الذکر روایات کے مقابلہ میں یہ روایتیں عموماًکمزور سمجھی گئیں ہیں۔واللہ اعلم۔ بہرحال اگرقیدیوں میںسے کوئی شخص قتل کیا گیا تو وہ صرف نضر بن حارث تھا جو قصاص میں قتل کیا گیا تھااوراس کے متعلق بھی یہ روایت آتی ہے کہ جب اس کے قتل کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی بہن کے وہ دردناک اشعارسنے جن میں آپؐسے رحم کی اپیل کی گئی تھی توآپؐ نے فرمایا کہ اگریہ اشعارمجھے پہلے پہنچ جاتے تو میں نضرکو معاف کردیتا۔۶ ؎ بہرحال نضر کے سوا کوئی قیدی قتل نہیں کیا گیا۔بلکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تاکیدی حکم دیا تھا کہ قیدیوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جاوے۔
    بدرسے روانہ ہوتے وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کومدینہ کی طرف روانہ فرمایا تاکہ وہ آگے آگے جاکر اہلِ مدینہ کو فتح کی خوشخبری پہنچاویں۔چنانچہ انہوں نے آپؐ سے پہلے پہنچ کر مدینہ والوں کوفتح کی خبرپہنچائی۔جس سے مدینہ کے صحابہ کو اگر ایک طرف اسلام کی عظیم الشان فتح ہونے کے لحاظ سے کمال درجہ خوشی ہوئی تواس لحاظ سے کسی قدر افسوس بھی ہوا کہ اس عظیم الشان جہاد کے ثواب سے وہ خود محروم رہے۔اس خوشخبری نے اس غم کو بھی غلط کردیاجو زید بن حارثہ کی آمد سے تھوڑی دیر قبل مسلمانانِ مدینہ کوعموماًاورحضرت عثمانؓ کو خصوصاًرقیہ بنت رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات سے پہنچا تھا جن کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے پیچھے بیمار چھوڑ کر غزوہ بدر کے لئے تشریف لے گئے تھے اورجن کی وجہ سے حضرت عثمانؓ بھی شریک غزوہ نہیں ہوسکے۔
    مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔عرب میں بالعموم قیدیوں کو قتل کردینے یامستقل طورپر غلام بنالینے کا دستور تھا۔مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی۔اورپھر ابھی تک اس بارہ میں کوئی الہٰی احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابوبکرؓنے عرض کیا کہ میری رائے میں تو ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہئے۔کیونکہ آخر یہ لوگ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور کیا تعجب کہ کل کوانہی میں سے فدایانِ اسلام پیدا ہوجائیں۔مگر حضرت عمرؓنے اس رائے کی مخالفت کی اور کہاکہ دین کے معاملہ میں رشتہ داری کاکوئی پاس نہیں ہونا چاہئے اوریہ لوگ اپنے افعال سے قتل کے مستحق ہوچکے ہیں۔پس میری رائے میں ان سب کو قتل کردینا چاہئے بلکہ حکم دیا جاوے کہ مسلمان خود اپنے ہاتھ سے اپنے اپنے رشتہ داروں کوقتل کریں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے فطری رحم سے متاثر ہو کر حضرت ابوبکر کی رائے کوپسند فرمایااورقتل کے خلاف فیصلہ کیا اورحکم دیا کہ جو مشرکین اپنا فدیہ وغیرہ ادا کردیں انہیں چھوڑ دیا جاوے۔ ۱؎ چنانچہ بعد میں اسی کے مطابق الہٰی حکم نازل ہوا۔۲؎ چنانچہ ہر شخص کے مناسب حال ایک ہزار درہم سے لے کر چار ہزار درہم تک۳؎ اس کا فدیہ مقرر کردیا گیا۔ اس طرح سارے قیدی رہا ہوتے گئے۔ عباس جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حقیقی چچا تھے اور ان کو آپ سے اورآپ کو ان سے بہت محبت تھی ان کے متعلق انصار نے عرض کیا کہ یہ ہمارا بھانجہ ہے۔۴؎ ہم انہیں بغیر فدیہ کے چھوڑ دیتے ہیں،لیکن گوقیدی کو بطور احسان کے چھوڑ دینا اسلام میں جائز بلکہ پسندیدہ تھا مگر اس موقع پر عباس کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں مانااور فرمایا کہ عباس فدیہ ادا کریں توتب چھوڑے جائیں۔ ۱؎ عباس کے متعلق یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب وہ مسجد نبوی میں بندھے ہوئے پڑے تھے تو رات کے وقت ان کے کراہنے کی وجہ سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کونیند نہیں آتی تھی۔ انصار کو معلوم ہوا تو انہوں نے عباس کے بندھن ڈھیلے کردیئے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی توآپؐ نے فرمایااگر بندھن ڈھیلے کرتے ہو تو سب کے کرو۔عباس کی کوئی خصوصیت نہیں۔چنانچہ سارے قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کردیئے گئے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دامادابوالعاص بھی اسیرانِ بدر میں سے تھے۔ ان کے فدیہ میں ان کی زوجہ یعنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب نے جو ابھی تک مکہ میں تھیں کچھ چیزیں بھیجیں۔ان میں ان کا ایک ہار بھی تھا۔یہ ہار وہ تھاجوحضرت خدیجہ نے جہیز میں اپنی لڑکی زینب کو دیا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو مرحومہ خدیجہؓ کی یاد دل میں تازہ ہوگئی اورآپؐ چشم پُرآب ہوگئے اورصحابہ سے فرمایااگرتم پسند کروتوزینب کا مال اسے واپس کردو۔صحابہ کو اشارہ کی دیر تھی زینب کامال فوراًواپس کردیا گیا اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نقد فدیہ کے قائم مقام ابوالعاص کے ساتھ یہ شرط مقرر کی کہ وہ مکہ میں جاکر زینب کو مدینہ بھجوادیں اوراس طرح ایک مومن روح دارِکفر سے نجات پاگئی۔ کچھ عرصہ بعد ابوالعاص بھی مسلمان ہوکر مدینہ میں ہجرت کرآئے اوراس طرح خاوند بیوی پھراکٹھے ہو گئے۔ حضرت زینب کی ہجرت کے متعلق یہ روایت آتی ہے کہ جب وہ مدینہ کے لئے مکہ سے نکلیں تومکہ کے چند قریش نے ان کو بزور واپس لے جانا چاہا۔جب انہوں نے انکار کیا توایک بدبخت ھبار بن اسود نامی نے نہایت وحشیانہ طریق پران پرنیزے سے حملہ کیا جس کے ڈر اورصدمہ کے نتیجہ میں انہیں اسقاط ہوگیا۔۲؎ بلکہ اس موقع پر ان کو کچھ ایسا صدمہ پہنچ گیا کہ اس کے بعد ان کی صحت کبھی بھی پورے طورپر بحال نہیں ہوئی اور بالآخر انہوں نے اسی کمزوری اورضعف کی حالت میں بے وقت انتقال کیا۔ ۳؎
    قیدیوں میں جو غریب لوگ تھے اورفدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت یونہی بطور احسان رہا کردیئے گئے۔ ۴؎ مگر جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کی رہائی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس شرط کے ساتھ مشروط فرمائی کہ دس دس بچوں کو نوشت وخواند سکھادیں تورہا کئے جاویں۔چنانچہ زیدبن ثابت نے جوبعد میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے کاتبِ خاص کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔اسی طرح لکھنا پڑھنا سیکھا تھا۔۱؎
    قیدیوں میں سہیل بن عمروبھی تھا جورئوساء قریش میں سے تھا اورنہایت فصیح وبلیغ خطیب تھا اور عموماًآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف لیکچر دیتا رہتا تھا۔جب وہ بدر میں قید ہوا تو حضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ!سہیل بن عمروکے اگلے دانت نکلوا دیئے جاویں تاکہ وہ آپ کے خلاف زہر نہ پھیلاسکے۔مگرآپؐ نے اس تجویز کو بہت ناپسند کیااور ساتھ ہی فرمایا کہ عمر تمہیں کیا معلوم ہے کہ خدا آئندہ اسے ایسے مقام پر کھڑاکرے جو قابل تعریف ہو۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر سہیل مسلمان ہوگیا اورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات پر اس نے متزلزل لوگوں کو بچانے کے لئے اسلام کی تائید میں نہایت پراثرخطبے دئیے جس سے بہت سے ڈگمگاتے ہوئے لوگ بچ گئے اوراسی سہیل کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں وہ اورابوسفیان اوربعض دوسرے رئوساء مکہ جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے حضرت عمرؓ کوملنے کے لئے گئے۔اتفاق سے اسی وقت بلالؓ اورعمارؓ اورصہیبؓ وغیرہ بھی حضرت عمرؓ سے ملنے کے لئے آگئے۔یہ وہ لوگ تھے جو غلام رہ چکے تھے اوربہت غریب تھے مگر ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ابتداء میں اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عمرؓ کواطلاع دی گئی تو انہوں نے بلال وغیرہ کوپہلے ملاقات کے لئے بلایا۔ابوسفیان نے جس کے اندر غالباًابھی تک کسی قدر جاہلیت کی رگ باقی تھی یہ نظارہ دیکھا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔چنانچہ کہنے لگا ’’یہ ذلت بھی ہمیں دیکھنی تھی کہ ہم انتظار کریں اوران غلاموں کوشرفِ ملاقات بخشا جاوے۔‘‘ سہیل نے فوراًسامنے سے جواب دیا کہ’’پھر یہ کس کا قصور ہے؟محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم سب کو خدا کی طرف بلایا لیکن انہوں نے فوراًمان لیا اور ہم نے دیر کی۔ پھر ان کو ہم پر فضیلت حاصل ہویانہ ہو؟۲؎ قیدیوں میں ایک شخص ولید بن ولیدتھاجومکہ کے رئیس اعظم ولید بن مغیرہ کالڑکا اورخالد بن ولید کا بھائی تھا۔صحابہ نے اس سے چارہزار درہم فدیہ مانگا جواس کے بھائیوں نے ادا کردیا اورولید رہا ہوکر مکہ پہنچ گیا۔مکہ میں پہنچ کر ولیدنے اسلام کااظہار کردیا۔اس کے بھائی اس پر سخت ناراض ہوئے اورکہا کہ تو نے مسلمان ہی ہونا تھاتوفدیہ کیوں ادا کیا۔ولید نے جواب دیا کہ میں نے اس لئے فدیہ ادا کرنے کے بعد اسلام کا اظہار کیا ہے کہ تالوگ یہ خیال نہ کریں کہ میں فدیہ سے بچنے کے لئے مسلمان ہوا ہوں۔اس کے بعد مکہ والوں نے ولید کواپنے پاس قید کرلیا اور سخت تکالیف پہنچائیں مگر وہ ثابت قدم رہا اورآخر کچھ عرصہ کے بعد موقع پاکر مدینہ بھاگ آیا۔ ۱؎
    مکہ میں جب لشکر قریش کی شکست اوررئوساء قریش کی ہلاکت کی خبر پہنچی توایک کہرام مچ گیا اس حالت کودیکھ کر ابوسفیان اوربعض دوسرے ذی اثر قریش نے اعلان کروایا کہ کوئی شخص اس وقت تک مقتولین بدر پر نوحہ نہ کرے جب تک کہ ہم لوگ مسلمانوں سے بدر کا بدلہ نہ لے لیں اوراس طرح عامۃ الناس کے جوش نوحہ کوانتقام کی تیاری میں لگا دیا گیا،مگر بدر کا صدمہ ایسا نہ تھا کہ عرب کی فطرت اسے آسانی سے دبا سکتی۔چنددن کے صبر وخاموشی کے بعد پھر گھر گھر سے صدائے ماتم بلند ہونی شروع ہوئی اوربدر کے مقتول مکہ کی گلی کوچوں میں برملا طورپر پیٹے جانے لگے۔عرب کی سی آتشی فطرت اورپھربدر کی سی تباہی اس کے نتیجہ میں جو ماتم بھی ہوسکتا تھا وہ ہوااوربرابر ایک ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔شروع شروع میں جبکہ قریش اظہارِ ماتم سے رکے ہوئے تھے اورپھر جوشِ ماتم کودبا نہ سکنے کی وجہ سے پھوٹ پڑے اس وقت کی ایک مثال روایات میں خاص طورپر مذکور ہوئی ہے اور ناظرین کی بصیرت کے لئے ہم اسے یہاں درج کرتے ہیں۔اسود بن عبدیغوث مکہ کا ایک رئیس تھا۔ اس کے دو لڑکے اورایک پوتا جنگ بدر میں مارے گئے تھے مگر رئوساء قریش کے فیصلہ کی وجہ سے وہ خاموش تھا اور فرطِ غم سے اندر ہی اندرگھلا جاتا تھا۔ایک رات اس نے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے باہر گلی میںسے رونے چلانے کی آواز سنی۔اس آواز نے اسے بے چین کردیااوراس نے اپنے نوکرکوبلا کرکہادیکھو تویہ آواز کیسی ہے۔شاید رئوساء قریش نے ماتم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اگر یہ درست ہے تو میرے سینے میں ایک آگ لگ رہی ہے میں بھی جی کھول کر رولُوں کہ دل کا کچھ بخار تو نکل جاوے۔نوکر گیا اورخبرلایا کہ ایک عورت کااونٹ کھویا گیا ہے اوروہ اس پر نوحہ کررہی ہے۔ شاعری عرب کی فطرت میں تھی اسود کے منہ سے بے اختیار یہ شعر نکلے اوردَبے ہوئے جذبات پھوٹ کر باہرآگئے۔
    اَتَبْکِیْ اَنْ یُضِلَّ لَھَا بَعِیْرُ
    فَلاََ تْبکِیْ عَلٰی بَکْرٍوَلٰکِنْ
    وَبَکِّیْ اِنْ بَکَیْتِ عَلٰی عَقِیْلٍ
    وَیَمْنَعُھَا مِنَ النَّوْمِ السُّھُوْدُ
    عَلٰی بَدْرٍ تَقَاصَرَتِ الْجُدُوْدُ
    وَبَکِّیْ حَارِثًا اَسَدِ الْاُسُوْدِ
    یعنی’’کیا وہ عورت اس بات پر رورہی ہے کہ اس کا ایک اونٹ کھوگیاہے اوراس نقصان کا غم اسے رات کو سونے نہیںدیتا۔اے عورت!تواس اونٹ پر کیا روتی ہے۔روبدرپرجہاں کہ ہماری قسمت نے یاوری نہ کی۔ہاں!اگر تو نے رونا ہے تو رومیرے عقیل پراوررومیرے حارث پر جو شیروں کا شیر تھا۔‘‘ ۱؎
    غرض اس طرح ماتم کے رکے رہنے کا اعلان دھرے کا دھرا رہ گیا اورایک ایک کرکے سارے قریش ماتم کی رَو میں بہ گئے۔صرف ایک گھر تھا جوخاموش تھا اوروہ ابوسفیان کاگھر تھا۔ابوسفیان کی بیوی ہندؔ قریش کے رئیس اعظم عتبہ بن ربیعہ کی لڑکی تھی اوریہ بیان کیا جاچکا ہے کہ بدر کے میدان میں عتبہ اوراس کا لڑکا ولید اوراس کا بھائی شیبہ سب خاک میں مل چکے تھے،مگر مردانہ صفت ہندؔ نے ایک لفظ بھی نوحہ کااپنے منہ سے نکلنے نہیںدیا۔لوگ آآکر اس سے پوچھتے تھے کہ اے ہند!توکیوں خاموش ہے۔ہند جواب دیتی تھی کہ’’اگرآنسو میرے غم کی آگ کوبجھا سکتے تو میں بھی روتی لیکن میںجانتی ہوں کہ آنسو میری آگ کو نہیںبجھا سکتے۔ اب یہ آگ اس وقت بجھے گی کہ تم لوگ پھر محمد کے خلاف میدان میں نکلو اور بدر کا بدلہ لو۔ ۲؎
    جنگِ بدر کااثر کفار اورمسلمانوں ہردو کے لئے نہایت گہرا اوردیر پا ہوا اوراسی لئے تاریخِ اسلام میں اس جنگ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے حتّٰی کہ قرآن شریف میں اس جنگ کا نام یوم الفرقان رکھا گیا ہے۔یعنی وہ دن جبکہ اسلام اورکفر میں ایک کھلا کھلا فیصلہ ہوگیا ۔بے شک جنگِ بدر کے بعد بھی قریش اور مسلمانوں کی باہم لڑائیاں ہوئیں اور خوب سخت سخت لڑائیاں ہوئیں اور مسلمانوں پر بعض نازک نازک موقعے بھی آئے،لیکن جنگِ بدرمیں کفار مکہ کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی جسے بعد کا کوئی جراحی عمل مستقل طورپر درست نہیں کرسکا۔تعداد مقتولین کے لحاظ سے بے شک یہ کوئی بڑی شکست نہیں تھی۔قریش جیسی قوم میںستر بہتر سپاہیوں کامارا جانا ہرگز قومی تباہی نہیںکہلاسکتا۔جنگِ احد میں یہی تعداد مسلمان مقتولین کی تھی،لیکن یہ نقصان مسلمانوں کے فاتحانہ رستہ میں ایک عارضی روک بھی ثابت نہیںہوا۔پھروہ کیا بات تھی کہ جنگِ بدر یوم الفرقان کہلائی؟اس سوال کے جواب میں بہترین الفاظ وہ ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائے اور وہ یہ ہیں یَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِیْنَ۔ واقعی اس دن کفار کی جڑ کٹ گئی۔یعنی جنگِ بدر کی ضرب کفار کی جڑ پر لگی اوروہ دوٹکڑے ہوگئی۔اگر یہی ضرب بجائے جڑ کی شاخوں پر لگتی توخواہ اس سے کتنا زیادہ نقصان کرتی وہ نقصان اس نقصان کے مقابلہ میں ہیچ ہوتا،لیکن جڑکی ضرب نے ہرے بھرے درخت کو دیکھتے دیکھتے ایندھن کاڈھیر کردیا اورصرف وہی شاخیں بچیں،جو خشک ہونے سے پہلے دوسرے درخت سے پیوند ہوگئیں۔ پس بدر کے میدان میں قریش کے نقصان کا پیمانہ یہ نہیں تھا کہ کتنے آدمی مرے بلکہ یہ تھا کہ کون کون مرے اورجب ہم اس نقطۂ نگاہ سے قریش کے مقتولین پہ نظر ڈالتے ہیں تو اس بات میں ذرا بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ بدر میں فی الواقع قریش کی جڑ کٹ گئی۔عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف اور ابوجہل اورعقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث وغیرہ قریش کی قومی زندگی کی روح رواں تھے اوریہ روح بدر کی وادی میں قریش سے ہمیشہ کے لئے پرواز کرگئی اوروہ ایک قالب بے جان کی طرح رہ گئے۔یہ وہ تباہی تھی جس کی وجہ سے جنگِ بدر یوم فرقان کے نام سے موسوم ہوئی اورخود قریش بھی اس نقصان کے اندازہ کو خوب سمجھتے تھے۔چنانچہ قریش کا ایک معززشاعر بدر کے مقتولین کا نوحہ کرتا ہوا کہتا ہے اورکیا خوب کہتا ہے ؎
    اَلاَ قَدْسَادَبَعْدَھُمْ اُنَاسٌ
    وَلَوْلاَ یَوْمُ بَدْرٍلَمْ یَسُودُوْا
    ’’ان رئوساء قریش کے بعد کہ جو بدر کے دن مارے گئے ایسے لوگ قومی ریاست کے مسند پر بیٹھے ہیں کہ اگر بدر کادن نہ ہوتا تویہ لوگ ہرگزرئیس نہ بن سکتے۔ ۱ ؎ اللہ اللہ کیا تباہی تھی جو اس قوم پر آئی! بدر کی شکست کیا تھی کہ گویا قوم رانڈ ہوگئی۔بے شک رئوساء زادے اب بھی قریش میں کافی موجود تھے اوروہ لوگ بھی تھے جوریاست کی صف دوم میں شمار کئے جاسکتے تھے ،مگر وہ چوٹی کے سردار جو اسلام کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کی روح رواں تھے اورجن کے پیچھے ان کی قوم باوجود عرب کی فطری آزادی کے اس معاملہ میں گویا بھیڑوں کی طرح چلتی تھی،سب کے سب خاک میں مل گئے تھے اورمعلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں کوئی خاص تقدیر کام کررہی تھی کیونکہ ابولہب جوبدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا مگر جو مخالفین اسلام کی صف اول میں تھا وہ بھی ہلاکت سے نہیں بچا کیونکہ بدر کے چند دن بعد ہی وہ مکہ میں ایک مکروہ بیماری میںمبتلا ہوا اورنہایت ذلت کی موت مرکر اپنے ان ساتھیوں سے جاملا جوبدر میں مارے گئے تھے۔ ۲؎ اب لے دے کہ صرف ایک ابوسفیان رہ گیا تھا جسے شاید اس کی قسمت نے فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے کے لئے بچا لیا تھااوربدر کے بعد اسی کے سر پر قریش کی سرداری کا تاج رکھا گیا تھا۔بدر کے نتائج پربحث کرتے ہوئے سرولیم میور لکھتے ہیں:
    ’’بدر کے حالات میں ایسی باتوںکابہت کچھ عنصر نظر آتا ہے ،جس کی وجہ سے محمد صاحب اس فتح کو جائز طور پرخدائی تقدیرکاکرشمہ شمار کرسکتے تھے۔نہ صرف یہ کہ یہ فتح بہت نمایاں اورفیصلہ کن تھی بلکہ اس جنگ میں غیر معمولی طورپر محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کے اکثر بااثر دشمن خاک میں مل گئے تھے۔ان رئوساء مکہ کے علاوہ جوجنگ میں قتل کئے گئے یاقید کرلئے گئے تھے ابولہب جوجنگ میں شامل نہیں ہوا تھا وہ بھی قریش کی بھگوڑی فوج کے مکہ پہنچنے کے چند دن بعد ہی مکہ میں مر گیا۔گویا کہ وہ خدائی حکم جس کی ماررئوساء مکہ پر پڑی ایک اٹل تقدیر تھی۔‘‘ ۱؎
    دوسری طرف جنگِ بدر کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوزیشن نمایاں طورپر مضبوط ہوگئی تھی کیونکہ اول تواس عظیم الشان اورغیر متوقع فتح کی وجہ سے قبائلِ عرب پرمسلمانوں کاایک قسم کارعب بیٹھ گیا تھا۔دوسرے خود مسلمانوںکی ہمتیں بھی لازماً بلند ہوگئی تھیں اورایک جائز رنگ خود اعتمادی کاپیدا ہو گیا تھا۔اس فتح کایہ نتیجہ بھی ہوا کہ منافقین مدینہ مرعوب ہوکر دب گئے اور چونکہ یہ فتح بالکل غیر متوقع حالات میں حاصل ہوئی تھی اورفریقین کے لئے اپنے نتائج اوراثرات کے لحاظ سے ایک عظیم الشان قومی یادگار تھی اس لئے مسلمانوں میں جنگِ بدرایک خاص نظر سے دیکھی جانے لگی۔چنانچہ جن صحابہ نے اس جنگ میں حصہ لیا تھاوہ دوسروں سے ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ حتّٰی کہ ایک دفعہ ایک بدری صحابی سے کوئی سخت غلطی سرزد ہوگئی اور حضرت عمرؓنے اسے ایک قومی غدار سمجھ کر(حالانکہ دراصل وہ ایک مخلص صحابی تھا مگراس سے یہ غلطی ہوگئی تھی)اسے سزادینی چاہی توآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔اورفرمایا کہ’’عمر!تم جانتے نہیں ہوکہ یہ شخص بدری ہے اور بدریوں کی اس قسم کی غلطیاں اللہ کے نزدیک معاف ہیں۔‘‘ ۲؎ حضرت عمرؓ کے زمانہ میںبھی جب صحابہ کے وظیفے مقرر ہوئے توبدری صحابیوں کاوظیفہ ممتاز طورپر خاص مقرر کیا گیا۔ خود بدری صحابہؓ بھی جنگِ بدرکی شرکت پر خاص فخر کرتے تھے۔چنانچہ میور صاحب لکھتے ہیں:
    ’’بدری صحابی اسلامی سوسائٹی کے اعلیٰ ترین رکن سمجھے جاتے تھے۔سعد بن ابی وقاص جب اسّی سال کی عمر میں فوت ہونے لگے توانہوں نے کہا کہ مجھے وہ چوغہ لاکردوجومیںنے بدر کے دن پہنا تھااورجسے میں نے آج کے دن کے لئے سنبھال کررکھا ہوا ہے۔یہ وہی سعد تھے جو بدر کے زمانہ میں بالکل نوجوان تھے اورجن کے ہاتھ پر بعد میں ایران فتح ہوا اورجو کوفہ کے بانی اور عراق کے گورنر بنے مگر ان کی نظر میں یہ تمام عزتیں اورفخر جنگِ بدرمیں شرکت کے عزت وفخر کے مقابلے میںبالکل ہیچ تھیں اورجنگِ بدروالے دن کے لباس کووہ اپنے واسطے سب خلعتوں سے بڑھ کر خلعت سمجھتے تھے اوران کی آخری خواہش یہی تھی کہ اسی لباس میں لپیٹ کر ان کو قبر میں اتارا جاوے۔‘‘ ۳؎
    خدا نے بھی قرآن شریف میں جنگِ بدر کے تذکرہ کوخاص اہمیت دی ہے اور سورۃ انفال گویا ساری کی ساری اسی کے بیان میں ہے اور بدر کے متعلق جوپیشگوئی مکہ میں ہوئی تھی وہ بھی نمایاں طورپر قرآن شریف میں بیان ہوئی ہے۔چنانچہ سورۃ قمرمیں اس کاان الفاظ میں ذکر ہے۔ ۱؎ یعنی ’’کیایہ کفار کہتے ہیں کہ ہم انتقام لینے کے لئے جمع ہوئے ہیں؟یہ لشکر ضرور پسپا ہوگااورپیٹھ دکھائے گا بلکہ یہ گھڑی ان کے عذاب کی گھڑی ہوگی۔اوریہ وقت ان پر سخت کڑا اورکڑوا وقت ہوگا۔ مجرم لوگ گمراہی اور جلانے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس وقت یہ لوگ آگ یعنی جنگ میں اپنے منہ کے بل گھسیٹے جائیںگے اوران سے کہا جائے گا کہ لواب اس آگ کا عذاب چکھو۔‘‘کیا یہ پیشگوئی لفظ بلفظ پوری نہیں ہوئی؟پھرصحفِ گزشتہ میں بھی بدر کا تذکرہ مخصوص طور پرموجود ہے۔چنانچہ کتاب یسعیاہ ۲؎ میں’’عرب کے متعلق الہامی کلام‘‘کے عنوان کے نیچے یہ پیشگوئی درج ہے:
    ’’عرب کے صحرا میں تم رات کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کر پیاسے کااستقبال کرنے آئو۔اے تیما کی سرزمین کے باشندو!روٹی لے کر بھاگنے والے کے ملنے کونکلو۔کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھچی ہوئی کمان اورجنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔۳؎ کیونکہ خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس۔ ۴؎ قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اورتیراندازوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔‘‘
    الغرض یہ جنگ تاریخ اسلام کا ایک نہایت اہم اور عظیم الشان واقعہ ہے اوراس کے اثرات کفار اور مسلمانوں ہردو کے واسطے نہایت گہرے اوردیر پاثابت ہوئے اورجہاں کفارِ مکہ کی جڑ کٹ گئی وہاں ظاہری اسباب کے لحاظ سے مسلمانوں کی جڑ زمین میں قائم ہوگئی لیکن اگر ایک لحاظ سے جنگِ بدرکے یہ خوش کن ثمرات مسلمانوں کے لئے پیدا ہوئے تو دوسرے لحاظ سے وقتی طور پر مسلمانوں کے خطرات بھی بدر کے بعد زیادہ ہوگئے۔کیونکہ لازماًبدر کی تباہی کی وجہ سے کفارِ مکہ کے سینے جذبہ انتقام سے بھر گئے اورچونکہ اب قریش کے قومی کاموں کا حل وعقدزیادہ تر نوجوانوں کے ہاتھ میں تھا جو طبعاً زیادہ جوشیلے اورعواقب کی طرف سے بے پروا ہوتے ہیں اس لئے بدر کے بعد مدینہ پر کفار کے حملہ کا خطرہ زیادہ مہیب صورت اختیار کرگیا۔دوسری طرف دوسرے قبائل عرب جہاں جنگِ بدر سے مرعوب ہوئے وہاں مسلمانوں کی طرف سے ان کا فکرآگے سے بھی زیادہ بڑھ گیااورانہوں نے یہ خیال کرنا شروع کیاکہ اگر اسلام کو مٹانے اورمسلمانوں کوتباہ وبرباد کرنے کی کوئی صورت جلدی نہ ہوئی تو یہ قوم ملک میں اس قدر مضبوط ہوجائے گی کہ پھر اس کا مٹانا ناممکن ہوگا،اس لئے جنگِ بدر کے نتیجہ میں ان کی معاندانہ کوششیں زیادہ عملی اور خطرناک صورت اختیار کرگئیں اوریہودان مدینہ بھی چونک کر ہوشیار ہوگئے۔ایک اور خطرناک نتیجہ بدرؔکا یہ نکلا کہ کفار مکہ جو اب تک صرف ظاہری زور اور گھمنڈ پر لڑرہے تھے اب ایک کھلے میدان میں مسلمانوں سے زک اٹھا کر مخفی اوردَرپردہ سازشوں کی طرف بھی مائل ہونے لگ گئے۔چنانچہ ذیل کا تاریخی واقعہ جو جنگِ بدر کے صرف چند دن بعدوقوع میں آیا اس خطرہ کی ایک بین مثال ہے لکھا ہے کہ بدر کے چند دن بعد عمیربن وہب اور صفوان بن امیہ بن خلف جوذی اثر قریش میں سے تھے صحنِ کعبہ میں بیٹھے ہوئے مقتولین بدر کا ماتم کررہے تھے کہ اچانک صفوان نے عمیر سے مخاطب ہو کرکہا کہ’’اب تو جینے کا کوئی مزا نہیں رہا۔‘‘عمیر نے اشارہ تاڑا اور جواب دیا کہ’’میںتو اپنی جان خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں لیکن بچوں اور قرض کا خیال مجھے مانع ہوجاتا ہے۔ورنہ معمولی بات ہے مدینہ جاکر چپکے سے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)کا خاتمہ کرآئوں اور میرے لئے وہاں جانے کا یہ بہانہ بھی موجود ہے کہ میرا لڑکا ان کے پاس قید ہے۔‘‘ صفوان نے کہا۔’’تمہارے قرض اوربچوں کا میں ذمہ دار ہوتا ہوں تم ضرور جائو اورجس طرح بھی ہو یہ کام کرگزرو۔‘‘غرض تجویز پختہ ہوگئی اورصفوان سے رخصت ہوکر عمیراپنے گھر آیا اورایک تلوار زہر میں بجھا کر مکہ سے نکل کھڑا ہوا جب وہ مدینہ پہنچا تو حضرت عمرؓنے جو ان باتوں میں بہت ہوشیارتھے اسے دیکھ کرخوفزدہ ہوئے اور فوراًآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے جاکر عرض کیا کہ عمیرآیا ہے اور مجھے اس کے متعلق اطمینان نہیں ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے پاس لے آئو۔حضرت عمرؓ اسے لینے کے لئے گئے۔مگر جاتے ہوئے بعض صحابہ سے کہہ گئے کہ میں عمیر کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملانے کے لئے لاتا ہوں،مگر مجھے اس کی حالت مشتبہ معلوم ہوتی ہے تم لوگ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جاکر بیٹھ جائواورچوکس رہو۔اس کے بعد حضرت عمرؓعمیر کوساتھ لئے ہوئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐنے اسے نرمی کے ساتھ اپنے پاس بٹھا کر پوچھا’’کیوں عمیر کیسے آنا ہوا؟‘‘ عمیر نے کہا ’’میرا لڑکاآپؐ کے ہاتھ میں قید ہے اسے چھڑانے آیا ہوں۔‘‘آپؐ نے فرمایا’’توپھر یہ تلوار کیوں حمائل کررکھی ہے؟‘‘اس نے کہا’’آپؐ تلوار کاکیا کہتے ہیں۔بدر میں تلواروں نے کیا کام دیا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ نہیں ٹھیک ٹھیک بات بتائو کہ کیسے آئے ہو؟‘‘اس نے کہا بات وہی ہے جو میں کہہ چکا ہوں کہ بیٹے کو چھڑانے آیا ہوں۔آپؐ نے فرمایا’’اچھا تو گویا تم نے صفوان کے ساتھ مل کر صحن کعبہ میںکوئی سازش نہیں کی۔‘‘عمیرسناٹے میں آگیا۔مگر سنبھل کر بولا’’نہیں میں نے کوئی سازش نہیں کی۔‘‘آپؐ نے فرمایا’’کیا تم نے میرے قتل کا منصوبہ نہیں کیا؟مگر یاد رکھو خدا تمہیں مجھ تک پہنچنے کی توفیق نہیں دے گا۔‘‘عمی