1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

سیرت حضرت اماں جان ۔ سیدۃ النساء حضرت نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    سیرت حضرت اماں جان ۔ سیدۃ النساء حضرت نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا


    سیرۃ حضرت سیّدۃُ النساء اُمُّ المؤمنِین
    نصرت جہان بیگم صاحبہ

    مصنف
    محمود احمد عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان

    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    الحمدللّٰہ
    عزیزم مکرم محمود احمد عرفانی نے حضرت اُمُّ المومنین متعنا اللہ بطول حیاتہا یہ سیرۃ جن حالات میں لکھی ہے اکثر احباب اس سے واقف ہیں وہ کئی سال سے مریض چلا آتا ہے اور مختلف اوقات میں مرض کے خطرناک حملے ہوئے طبی مشورہ کامل آرام کا تھا اور ہے مگر اس نے خدا کے فضل پر بھروسہ کرکے عزم کیا تھا کہ اس بابرکت کتاب کی تالیف کی سعادت حاصل کرے اللہ تعالیٰ نے اِسے توفیق دی الحمدللّٰہ علی ذالک۔ بیماری کا پھر حملہ ہوا تو میں نے حکمًا اسے روک دیا اورکتاب کی ضخامت بھی بڑھ رہی تھی۔ اس لئے دو حصے کر دینا ضروری ہوا۔ یہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کتاب کی قبولیت کا نشان ہے کہ طبع ہونے سے پہلے تین ہزار کتاب فروخت ہو گئی جن احباب کو ابھی تک موقعہ نہیں ملا وہ ابھی سے درخواستیں دے دیں تا کہ دوسرا ایڈیشن شائع ہوتے ہی مل جاوے۔ یہ تین ہزار خریدار دوسرے حصہ کے مستقل خریدار متصور ہونگے۔ اس لئے جو احباب نئے خریدار ہوں وہ جلد اطلاع دیں تا کہ دوسرے حصہ اور دوسرے ایڈیشن کو اس تعداد میں چھاپا جاوے مجھے اعتراف ہے کہ بہت ممکن ہے چھاپہ کی بعض غلطیاں رہ گئی ہوں مگر دوسرے ایڈیشن میں انشاء اللہ اصلاح ہو جائے گی۔ دوسرا ایڈیشن پانچ ہزار چھاپنے کاارادہ ہے نیز یہ بھی افسوس ہے کہ وقت پر بلاکس تیار نہ ہونے کی وجہ سے وجہ تصاویر نہیں دی جا سکیں میں اُن تمام احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے عزیز مکرم محمود احمد عرفانی کی اس خدمت کی قدر فرمائی۔ تفصیلی اظہار تشکر اور معاونین کی فہرست اس حصہ کے آخر میں انشاء اللہ وہ خود لکھیں گے میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ عزیز مکرم کی صحت و توانائی توفیق تکمیل کیلئے دعا فرمائیں۔
    خاکسار
    یعقوب علی عرفانی کبیر

    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھــــــــــوالنــــــــاصـــــــــــــــــر
    انتساب
    مَیں اِس قیمتی اور مبارک کتاب کو جو میری زندگی کا مایۂ ناز کام ہے اورجس کی برکتوں کو مَیں نے ایک ملموس حقیقت کی طرح دیکھا اور پایا کسی ایسے بے نفس بزرگ کے نام سے منسوب کرنی چاہتا تھا جس کی محبت اور وفاداری کی روح خود بخود اپنے لئے کوئی مقام بلند تیار کرلے۔
    چنانچہ مَیں نے کتاب کی مکمل اشاعت تک انتظار کیااور خریداران یوسف کے ہر سرمایہ اور پونجی پر نظر ڈالی۔ مَیں نے ان کی رُوحِ مسابقت اور عشق و محبت کے ہر نشیب و فراز اور وادی کو خوب دیکھا جن کا ذکر بجائے خود لذیذاور دلچسپ ہے مگر یہاں اس کی گنجائش نہیں۔ بہت سے جو محبت کے کوچے میں مجھے آگے نظر آتے تھے بہت پیچھے نظر آئے اور بہت سے تھے جو بہت پیچھے نظر آتے تھے، مجھے بہت آگے نظر آئے اور ان آگے نظر آنے والوں میں سب سے آگے اور سب کے سالار الحاج حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین آف سکندر آباد نکلے۔ جنہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر کتاب پانچ ہزار چھپے گی تو وہ پانچ سو کتاب خرید لیں گے۔ نیز یہ بھی وعدہ فرمایا تھا کہ اس کی اشاعت میں ہر قسم کی مالی سہولت مہیا فرمائیں گے۔ حضرت سیٹھ صاحب نے جو کہا اسے پورا فرما دیا۔ میری محنت اور کوشش کبھی پروان نہ چڑھتی اگر حضرت سیٹھ صاحب کی یہ معاونت مجھے میسر نہ آتی۔
    وہ خود، ان کی بیگم صاحبہ، ان کے بچے، سب اسی رنگ میں رنگین مجھے نظر آئے اس لئے میں ان کی محبت اور وفا کی تسجیل اس کتاب کو حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مدّظلّہ العالی کے نام نامی سے منتسب کرنے سے کرتا ہوں۔
    سیٹھ صاحب کی ذاتِ گرامی ان چیزوں سے بالکل بالا ہے اور ان کا قلب نمود و نمائش سے بالکل خالی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی بھی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے پاکباز بندوں کے نام اور کام کو دنیا میں زندہ رکھا کرتا ہے اس لئے میرا یہ فعل سنتِ الٰہیہ سے باہر نہیں۔
    حضرت سیٹھ صاحب کی ایک مناسبت
    ہمارے سلسلہ کو نور کے ساتھ ایک بڑی مناسبت ہے۔ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحبؒ جو حضرت خواجہ میر دردؒ کے والد بزرگوار تھے، ان کو ایک پیشگوئی میں بتلایا گیا، کہ جو روشنی ان کو دی گئی ہے، یہ مسیح موعود ؑ کی روشنی میں گم ہو جائے گی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے متعلق یہی پیشگوئی تھی کہ وہ منار پر اُتریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کو نوروںکی تخم ریزی کرنے والے ٹھہرایا گیا۔ الغرض نور اور روشنی کو اس سلسلہ سے بڑی مناسبت ہے۔
    حضرت سیٹھ صاحب کے متعلق حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ایک رئویا دیکھاتھا کہ وہ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ملائکہ اُن پر نور کی بارش کر رہے ہیں۔
    پس اُن کے وجود کو اس نور سے جو مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے دنیا کو ملا، ایک مناسبت ہے۔ اس لئے میرے نزدیک وہی ان فدا کاروں میں سے پہلے مستحق ہیں کہ اس مبارک کتاب کو اُن کے نامِ نامی سے منسوب کروں۔
    اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ وہ حضرت سیٹھ صاحب کی اس پاکیزہ قربانی اور دیگر تمام قربانیوں کو قبولیت کے ہاتھوں سے لے اور ان سب کا اجرعظیم دے۔ آمین
    اسی سلسلہ میں مَیں حضرت سیٹھ صاحب سے یہ عرض کروں گا کہ عشق و محبت اور وفا کا مقام اتنا ہی آگے بڑھتا ہے جتنا کہ عاشقِ جانباز آگے بڑھتا جاتا ہے۔ پس
    نِرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز!
    محمود احمد عرفانی
    مصنف کتاب سیرۃ حضرت اُمُّ المومنین نصرت جہان بیگم
    قادیان۔ دارالامان
    ۲۵۔ نومبر ۱۹۴۳؁ء



    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھــــــــــوالنــــــــاصـــــــــــــــــر
    تمہید
    گذشتہ سال ۱۹۴۲؁ء میں مَیں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے ایک کتاب ’’مرکز احمدیت قادیان‘‘ نامی تصنیف کی۔ جب مَیں یہ کتاب لکھ رہا تھا اُنہی ایام میں میرے قلب میں ایک زبردست لہر پیدا ہوتی تھی کہ مَیں دنیا کی اس ممتاز ترین خاتون کی سیرت و سوانح لکھوں جسے تیرہ صدیاں گذرنے کے بعد مومنوں کی ماں بننے کا شرف حاصل ہوا اور جس کے وجود سے وہ نور پیدا ہوئے جن کے ذریعے سے آئندہ دنیا کی آبیاری کی جائے گی۔ مگر قدرت کی نیرنگیاں ہیں کہ مَیں جلسہ سالانہ کے بعد کھانسی کی تکلیف میں مبتلا ہو گیا۔ میرا ارادہ تو یہ تھا کہ مَیں جنوری ۱۹۴۳؁ء کے آغاز میں ہی اس کام کو شروع کر سکوں گا مگر مشیّتِ الٰہی کچھ اور چاہتی تھی۔ اس لئے میری کھانسی کی یہ حالت ہوئی کہ۔ع
    مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواء کی
    مرض نے بڑھتے بڑھتے مجھے اس حد تک لاچار کر دیا کہ مَیں بالکل چلنے پھرنے اور اُٹھنے بیٹھنے سے مجبور ہو گیا حتیّٰ کہ ڈاکٹروں کی رائے میں مَیں تپ دق کا بیمار قرار دیا گیا مجھے ان گھڑیوں میں جب کہ مَیں مرض کے شدید پنجے میں گرفتار تھا۔ جن امور کا رنج اور خیال تھا اُن میں سے ایک یہ امر بھی تھا کہ مَیں جو کام کرنا چاہتا تھا اس سے محروم رہتا ہوا نظر آتا ہوں۔ اِن امور کی وجہ سے میرے اندر ایک کرب کی کیفیت پیدا ہوتی تھی اور مَیں بیقرار ہو کر خدا سے دعا مانگتا تھا کہ وہ مجھے اپنے فضل سے صحت یاب کر دے۔ میرے بزرگ اور میرے احباب اور بھائی بھی بکثرت دعائوں میں مشغول تھے۔ اسی حالت میں مادرِ مہربان حضرت اُمُّ المؤمنین اطال اللہ عمر ہا نے بھی اپنی خادمہ کے ذریعے دو دفعہ میری حالت دریافت فرمائی اور اپنی شفقت کے اظہار کے لئے کہلوایا کہ آپ میرے لئے دعا فرما رہی ہیں۔ اِن الفاظ میں ایک بڑی برکت اور تسلی تھی جس نے میرے قلب کو ڈھارس دی اور مَیں روز بروز اپنی بیماری میںکمی اور اپنی صحت میں ترقی محسوس کرنے لگا۔ حتیّٰ کہ آج ۱۹/ مارچ ۱۹۴۳؁ء بروز جمعۃ المبارک اس قابل ہو گیا کہ مَیں اپنا قلم اُٹھا سکوں۔
    سو میں نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس مبارک خاتون کی سیرت و سوانح کا آغاز کر دیا ہے۔ میرے معالج اگرچہ مجھے ابھی تک لکھنے کے کام کی اجازت نہیں دیتے مگر مَیں یقین کرتا ہوں کہ تھوڑا تھوڑا کام میرے لئے غذائے روح کا کام دے گا اور ایک بابرکت وجود کا ذکر میرے لئے بھی برکت کا باعث ہوگا۔ اس لئے باوجود بیماری اور کمزوری کے مَیں اس کام کو شروع کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ خود اس کی تکمیل کے سامان مہیا فرما دے گا کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کی معیت اور نصرت ہے اور خدا تعالیٰ نے بارہا اپنی وحی میں جو اپنے بندے، اس زمانہ کے راستباز مامور مرسل ؑپر نازل فرمائی اس معیّت اور نصرت کا وعدہ فرمایا ہے اور فرمایا کہ اِنِّیْ مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ اور پھر فرمایا کہ اِنّیْ مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ ھٰذِہٖ۔ اس قسم کی صد ہا بشارتیں اور نصرتیں آپ کے وجود باجود کے لئے ازل سے مقدر ہیں۔ اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ اس تصنیف کے ساتھ مجھے بھی برکت دی جائے گی اور کیا عجب کہ مَیں تنومند اور صحت مند کیا جائوں۔
    میں اس قدر اس تمہید کو لکھ چکا تھا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ بنصرہ العزیز کی خادمہ میرے نیچے کے کمرے کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی اور اس نے مجھے کہا کہ میں اماں جان کی طرف سے آپ کے لئے تبرک لے کر آئی ہوں۔ میرا سر نیاز مندی اور احسان کی روح سے جھک گیا۔
    اِس تبرک کے بھیجے جانیکی وجہ یہ تھی کہ مَیں نے اپنی بیماری کے ایام میں ایک خواب دیکھا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ نے مجھے اور مرزا سلیم بیگ صاحب کو ایک برتن میںکھانا دیا جو ہم دونوں نے کھایا۔ اِدھر میں نے یہ خواب دیکھا اُدھر حضرت والد صاحب نے سکندر آباد سے مجھے لکھا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ بنصرہ العزیز کا تبرک منگوا کر کھائو کہ اس میں برکت اور شفاء ہوگی۔ اس خواب اور اس ارشاد کی تعمیل میں میری رفیقہ حیات حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے دعا کی درخواست کے بعد تبرک کی درخواست کی جو آپ نے بڑی خوشی سے منظور فرمائی۔ ان دنوں میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سندھ میںتشریف فرما ہیں۔ اس لئے حضرت اُمُّ المؤمنین ایدھا اللہ بنصرہ ِالعزیز اکثر وقت اپنے برادر محترم یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کے ہاں گذارا کرتی ہیں۔ آپ نے درخواست سن کر فرمایا کہ ہاں بہت اچھا، مگر جب کہ میں گھر یعنی الدار میں آ جائوں گی اُس وقت بھیجوں گی۔ چنانچہ اس بات پر تقریباً ۵،۶ دن گذر چکے تھے کہ حضرت ممدوحہ نے اپنے اس ناچیز خادم کی درخواست کو یاد رکھااور خود بخود ہی کھانا بھجوا دیا۔
    یہ بات اگرچہ معمولی ہے مگر اس کے اندر جو روح اور جو شفقت کام کر رہی ہے وہ بہت بڑی ہے۔ حضرت ممدوحہ کی روح تو فیاضیوں سے بھری ہوئی ہے۔ آپ کے احسانات ہزار ہا لوگوں پر ہیں۔ اُن کاذکر بھی اصل کتاب میں اپنی جگہ آ جائے گا۔ وباللہ التوفیق۔ اور وہ جو کچھ ہوگا آپ کے جودو کرم کے سمندر سے ایک قطرہ ہی ہوگا۔
    میری بچپن کی زندگی کا ایک واقعہ
    میری پیدائش اکتوبر ۱۸۹۷؁ء میں ہوئی۔ ۱۸۹۸؁ء میں والد صاحب قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔ اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ اخبار کے کام امرتسر جاتے رہتے تھے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدمات کے سلسلہ میں گورداسپور جایا کرتے تھے۔ گھر میں مَیں ایک ننھا بچہ اور والدہ صاحبہ ہوتی تھیں۔ اس لئے تنہائی سے بچنے کے لئے حضرت والدہ صاحبہ مجھ کو لے کر حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ کے پاس چلی جایا کرتی تھیں۔ میری والدہ صاحبہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت اُمُّ المومنین اُن کو محبت سے ’’بہو ‘‘ کے لقب سے پکارا کرتی ہیں۔
    مَیں اگرچہ دو اڑھائی سال کا بچہ تھا۔ مگر گوشت کو بہت پسند کرتا تھا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ کے باورچی خانے میںگوشت بھونا جا رہا تھا۔ مَیں یہ دیکھ کر رونے لگا اور ضد کرنے لگا۔ میری والدہ صاحبہ جنہوںنے بارہا ہنستے ہوئے مجھے یہ کہانی سنائی، فرمایا کرتی ہیں کہ مَیں تم کو اندر ہی اندر روکنے کی کوشش کرتی تھی کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی نظر پڑ گئی۔ فرمایا بہو! بچہ کیوں روتا ہے؟ والدہ نے کہا۔ نہیں جی کچھ نہیں۔
    فرمایا۔ نہیں۔ کچھ تو ہے۔ بتلائو۔ تب والدہ نے ندامت کے رنگ میں دبی زبان سے کہا کہ بوٹی مانگتا ہے۔ یہ سن کر پکانے والی کو حکم دیا کہ جلدی دو اور اپنے سامنے ایک برتن میں کچھ بوٹیاں نکلوا کر دے دیں۔ میری والدہ صاحبہ بتلایا کرتی ہیں کہ مَیں وہ گرم گرم بوٹیاں کھاتا جاتا تھا اور منہ سے رال سی ٹپکتی تھی۔ اس واقعہ کا مجھے بارہا لطف آیا اور مَیں نے اِس واقعہ کے اندر بارہا اس سیر چشمی اور کرم کو دیکھا جو آپ کی فیاضی طبیعت میں موجود تھا۔
    عام طور پر ہم اپنے گھروں میں دیکھتے ہیں کہ گھر میں آنے والی مستورات کے بچوں کی ایسی خواہشوں کی طرف کبھی توجہ نہیں دی جاتی۔ مگر آپ کا ایک دو اڑھائی سال کے بچے کی خواہش کااس طرح کرید کر معلوم کرنا اور پھر اس کو سیر چشمی سے پورا کرنا۔ یہ آپ کی فیاضی فطرت کا ایک ادنیٰ نمونہ تھا۔ چنانچہ آج بھی جب تبرک آیا تو مجھے حضرت اماں جان کا وہ لطف و احسان جو مجھے آج سے چوالیس سال قبل ہوا تھا، یاد آیا اور پھر آج کا لطف و احسان بھی۔ تو میرے دل میں ان کے لئے شکرگذاری کے جذبات پیدا ہوئے اور مَیں نے شکر گذاری کے ساتھ اسی واقعہ کو اس کتاب کی تمہید میں درج کر دیا۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت ممدوحہ موصوفہ کی عمر اور صحت میں برکت دے اور ان کو ہر قسم کے انعاماتِ الٰہی سے دائمی ابدی طور پر مالا مال رکھے۔ آمین
    ۱۹/مارچ ۱۹۴۳؁ء محمود احمدعرفانی

    ء…ء…ء














    رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلُ الْبَیْتِ
    اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    مکرم و محترم جناب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی زبانِ قلم سے
    اے خاندانِ حضرتِ مہدی امامِ حق

    تم سے ہوا بلند زمانے میں نامِ حق
    تم ہی تو ہو کہ جن کے مبارک وجود سے

    پہنچاتے ہیں ملائکۃ اللہ۔ سلامِ حق
    پھیلی تمہارے دم سے زمانے میں روشنی

    پھوٹا ہے ایک چشمۂ نورِ کلامِ حق
    تم ہو خدا کے ساتھ خدا ہے تمہارے ساتھ

    ہم نے ہزار بار سنا یہ پیامِ حق
    تم پر خدا کی رحمتِ خاصہ کا ہے نزول

    قائم ہوا تمہیں سے یہ سارا نظامِ حق
    لاریب تم ہو فارسی الاصل وہ رجال

    وابستہ جن کی ذات سے ہوگا قیامِ حق
    ایمان لانے والے ثریا سے تم ہی ہو

    ہاں ہاں تمہیں نے آ کے دکھایا مقامِ حق
    تم ہو امانِ اہل زمیں جانِ علمِ و دیں

    تم سے ملے گا جس کو ملے گا مرامِ حق
    تم ہو نجوم جن سے ہدایت کی رَہ ملی

    محمود کا وجود ہے، ماہِ تمامِ حق
    تطہیر پر تمہاری ہے شاہد خدائے پاک

    تقویٰ سے بن گئے ہو، آئمّہ کرامِ حق
    ہر رِجس سے ہو پاک سراپا ہی نور ہو

    روشن تمہارے نام سے ہوتا ہے نامِ حق
    بدگو وہی ہے جس کو برائی سے پیار ہے

    جو نیک ہے کرے گا ضرور احترامِ حق
    ازواج و اُمہات و بنات و بنینِ بیت

    واللہ! سب کے سب ہیں مجسّم نظامِ حق
    اے اُمِّ مومنین! تری شان ہے بلند

    پہلو میں تیرے اُترا کیا ہے پیامِ حق
    کیا وصف لکھ سکے۔ یہ حقیر و فقیرِ قوم

    تو خَلق و خُلق میں ہے نشانِ دوامِ حق
    روزِ ازل سے تابہ اَبَد کائنات میں

    مخصوص ہے ترے لئے دارالسّلامِ حق
    قوموںکی ماں ہے اُن کی ترقی کی جاں ہے تو

    جاری رہے گا تجھ سے یہ فیضانِ عامِ حق
    آئندہ آنے والی خواتین مبارکہ

    اور ہونے والے سارے اَئمہّ عظامِ حق
    تیرے ہی دم قدم سے ہیں وابستہ سب کے سب

    بھیجا کریں گے تجھ پہ درُود و سلامِ حق
    اُمید ہے کہ دل سے بھلایا نہ جائے گا

    عاصی گناہ گار یہ اکمل غلامِ حق
    اندھے نہیں ہیں، دیکھتے ہیں، عقل رکھتے ہیں

    یہ گھر زمانے بھر میں ہے بیت الحرامِ حق
    دامن تمہارا پاک ہے ہر نقص و عیب سے

    وہ مُشک ہو کہ جس سے مُعَنبر مشّامِ حق
    مدّاحِ اہل بیتِ مسیحؑ محمدی

    اکمل تمہارا خادم و سرمستِ جامِ حق

    ٭…٭…٭














    حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت و سوانح لکھنے سے قبل کچھ
    (۱)
    اللہ تعالیٰ کی قدرتیں ایسی عجیب ہوتی ہیں کہ انسان ان کو دیکھ کر محوِ حیرت ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے گھرانے کا نجات دہندہ خدا کا پیارا نبی موسٰیؑ فرعون کے گھر میں پرورش پاتا ہے اور جب اُس کی ماں بنی اسرائیل کے دیگر بچوں کے انجام کو دیکھتی ہوئی گھبرائی تو الٰہی دستگیری سے اُسے دریائیِ نیل میں بہا دیتی ہے۔ جسے فرعونی خاندان کی ایک عورت بچا لیتی ہے اور باوجود فرعون کے فرمان کی موجودگی کے وہ اسرائیل جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ اس فرعونی سلطنت کا خاتمہ کر دے گا، قصرِ فرعونی میں پرورش پاتا ہے۔
    پھر دوسرے دَور میں وہ ایک کسمپرس انسان کی طرح مصر سے بھاگتا ہے۔ حضرت شعیبؑ کی بکریاں چراتا ہے کون جانتا تھا کہ یہ شخص جو آج سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں پاتا وہ کل سارے بنی اسرائیل کا بادشاہ قرار دیا جائے گا اور اس کا وجود اسرائیل کے لئے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھنے کا باعث قرار پایا جائے گا۔
    (۲)
    وادیٔ فلسطین میں زیتون کی جھاڑیوں کے پاس بیت المقدس کی پہاڑی پر ایک عورت کا بیٹا جو منشاء الٰہی سے پیدا ہوا تا کہ دنیا پر خدا تعالیٰ کی ایک خاص قدرت نمائی کا اظہار کرے۔ جب چلتا پھرتا نظر آتا تھا تو لوگ اس پر طعنہ زن ہوتے تھے۔ اس کی ہنسی اڑائی جاتی تھی۔ اس پر مذاق کیا جاتا تھا۔ بالآخر اس پر مقدمات بنائے گئے۔ عدالتوں میں کھینچا گیا۔ خدا کی وسیع زمین باوجود بڑی وسعت کے اس پر اس حد تک تنگ ہوئی کہ اس نے کہا:
    ’’پرندوں کیلئے بسیرے اور لومڑیوں کیلئے بھَٹ ہیں۔ مگر ابن آدم کے لئے سرچھپانے کی جگہ نہیں‘‘۔
    اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا گیا۔ ا سکے منہ پر طمانچے مارے گئے۔ اس کی پیٹھ پر لکڑی کی بھاری صلیب لادی گئی۔ اور بالآخر صلیب پر لٹکا دیا گیا۔ گو خدا کے ہاتھ نے اسے موت سے بچا لیا مگر مارنے والوں نے اسے مردہ جان کر پھینک دیا۔لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ یہ انسان جس پر آج زمین تنگ کی جارہی ہے۔ جو لوگوں کی نگاہ میں ذلیل اور حقیر ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس کی *** ایک آگ ہے جو یہودی قوم کو دنیا و آخرت میں جہنم کی بھٹیوں میں بھسم کر دے گی اور اس کے ماننے والوں کو دنیا کی ایک ایسی سیادت اور حکومت دی جائے گی کہ صدیوں تک قوموں پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔
    افسوس ! ان مصیبتوں کے طوفان میں تھپیڑے کھانے والا مسیح عیسیٰ ابن مریم کسی کو اپنی درخشاں شان میں نظر نہ آتا تھا۔
    (۳)
    پھر ایک تیسرا نظارہ وادیٔ بطحا میں ہم دیکھتے ہیں۔ قوموں‘ ملکوں بلکہ دنیا کا نجات دہندہ شاہنشاہِ رسالت ہم کو کبھی بکریوں کے چرواہے کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اور کبھی شام کے تاجروں میں خدیجہؓ کا مال تجارت لیکر بیٹھا ہوا۔ کبھی مکہ کی گلیوں میں آپؐ کی ایسی مخالفت ہوتی ہے کہ آپؐ کو اپنے دروازے بند کر کے محصور ہونا پڑتا ہے۔ آپؐ کے سرمبارک کی قیمتیں ڈالی جاتی ہیں اور ہر قسم کے مظالم کا آپؐ کو نشانہ ٗبننا پڑتا ہے۔ حتی کہ آپؐ مجبور ہوتے ہیں کہ وطن کو خیرباد کہہ دیں۔ یہ یتیم‘ غریب‘ فاقہ زدہ‘ غریب الوطن‘ مہاجر اور بظاہر مصیبتوں کے پہاڑ سر پر اٹھانے والا انسان لوگوں کو نظر نہ آتا تھا کہ یہ ہی نبیوں کا چاند ہے۔ اسی پر دنیا کی رستگاری کا انحصار ہے یہی ہے وہ جس کا مقام اس قدر بلند ہے کہ لولاک لماخلقت الافلاک کہا گیا ہے مگر ظاہربین آنکھوں کو یہ سب نورنظر نہ آئے۔ نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ان کے لئے یہ مشکلات ایک حجاب اکبر بن کر رہ گئے۔
    (۴)
    خود اس زمانے کا راستباز احمد ؑنبی بھی لوگوں کو نظر نہ آیا۔ ان کے لئے آپؑ کی زمینداری‘ آپؑ کی اطاعت والدین کے سلسلہ میں باوجود شدید کراہت نفس کے کچھ عرصہ کی ملازمت۔ آپؑ کی ابتدائی زمانہ کی تنگی روک بنکر رہ گئی اور انہوں نے بلند وبالاآواز سے کہا کہ قادیان کے مغلوں میں سے جو کل ایک معمولی اہلکار تھا‘کیسے خدا کا نبی اور رسول ہو سکتا ہے۔
    وہ بھُول گئے کہ نمرودیوں کی شریعت اور قانون کی رُو سے آگ میں جلایا جانے والا مجرم اگر اپنے زمانے کا سب سے بڑا نبی اور ابوالانبیاء بن سکتا۔ شعیبؑ کی بکریاں چرانے والا نوجوان جو قانونِ فرعونی کا مجرم سمجھا گیا تھا‘ اپنے زمانے کا سب سے بڑا نبی ہو سکتا ہے‘ اور بنی اسرائیل کا نجات دہندہ بن سکتا ہے۔
    بنی اسرائیل کے طمانچے کھانے والا مسیح جس کے منہ پر تھوکا بھی گیا تھا اور جسے ذلیل کرنے کیلئے کانٹوں کا تاج پہنایا گیا تھا۔ وہ سچ مچ کا بادشاہ بن جائے گا اور اس کی سلطنت کو لوگ قیامت تک مانتے چلے جائیں گے۔تو کیوں اس زمانے کا مُرسَل اور نبی ان ظاہری ناموافق حالات کا اس زمانہ کا نجات دہندہ نہیں بن سکتا؟
    ہاں تو ان نظائر اور امثلہ کے لکھنے سے میری غرض یہ ہے کہ خداتعالیٰ جب اپنی کسی خاص قدرت کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ اس اظہارِ قدرت کے لئے بالکل ناموافق حالات کا ظہور عمل میں لایا کرتا ہے۔ خداتعالیٰ کی یہ قدرت خواہ کسی خاص مرد کو عالمِ وجود میں لانے والی ہو‘ یا کسی خاص عورت کویا کسی اور انقلاب کو۔ تو ان ناموافق حالات میں سے ایک چیز پیدا ہوجاتی ہے۔ جوعدم بصیرت رکھنے والوں کے لئے ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہے اور اہل بصیرت کے لئے باعث نجات۔ اس زمانہ کی سب سے بڑی خاتون یعنی حضرت اُمُّ المؤمنین‘ جن کا مقام حضرت مریمؑ یا حضرت خدیجہؓ یا حضرت عائشہؓ یا ان عورتوں کی طرح ہے۔جن کو خداتعالیٰ نے دو جہانوں میںفضیلتِ عظمیٰ عطا فرمائی ہے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین اگرچہ بہت بڑے صحیح النسب سادات کے خاندان میں پیدا ہوئیں۔ مگر قدرت نے آپ کے خاندان کو ایسے حالات سے گذارا کہ کبھی کوئی یہ باور نہیں کر سکتا تھا کہ جو لڑکی ایسے خاندان میں پیدا ہوئی ہے جس کی تفصیل میں آگے چل کر بیان کروں گا وہ ایک دن اس زمانہ کے نبی اور رسول کی بیوی بن کر قیامت تک کیلئے مومنوں کی ماں بن جائے گی۔
    حالات بالکل غیرسازگار تھے۔ صدہاحجاب اور پردے اس راستے میں حائل تھے۔ اگر نواب روشن الدولہ‘ رستمِ جنگ اگر نواب خانِ دوران منصور جنگ‘ نواب قمرالدین خان وزیراعظم سلطنت ِمغلیہ‘ نواب احتشام خان داروغہ محلات شاہی زندہ ہوتے‘ جن کے محلات پر ہاتھی کھڑے رہتے تھے۔ نوکرچاکر‘ خدم حشم‘ دولت و ثروت کے دریا بہتے تھے وہ شاید حضرت اُمُّ المومنین کا رشتہ حضرت مسیح موعود ؑ سے کرنے کیلئے تیار ہی نہ ہوتے۔
    پھر غدّر کے پراگندہ اور پریشان حالات میں سے گذرنے والے ایک خاندان کی لڑکی جس کا باپ اپنے عقائد کے لحاظ سے کٹروہابی تھا اور پھر ایک خاندان دلی میں رہنے والا اور دوسرا پنجاب کے ایک ایسے گاؤں میں بستا تھا‘ جسے دور کا رہنے والا تو ایک طرف رہا‘ قریب کے علاقے میں رہنے والا انسان بھی نہیں جانتا تھا مگر قدرتِ الٰہی کے خوارق اور خاص نشانات اس تعلق میں بالکل اسی طرح نظر آتے ہیں۔ جیسے دیگر انبیاء ؑ کے حالات میں نظر آتے ہیں۔ اس لئے اس کتاب کو پڑھنے والے مرد اور عورتیں‘ بوڑھے اور بچے اس کو پڑہنے سے پہلے اپنے ذہن میں اس امر کو مستحضر کر لیں کہ یہ ایک ایسی باخدا خاتون کی سیرت و سوانح ہے جو اس زمانے کے نبی اور رسول کی بیوی بنی اور خدا تعالیٰ کی مشیّت خاص نے اسے خاص حالات میں پیدا کیا۔ اس کے خاندان پر غدر میں ایک تباہی آئی۔ وہ تباہی ایک خاص الٰہی نصرت کا ہی نتیجہ تھی۔ اس لڑکی کا باپ خاص حالات کے ماتحت پنجاب میں آیا اور پنجاب میں بھی اس علاقے میں جہاں آئندہ ہونے والے حالات کا شدید تعلق تھا۔
    اس طرح بالکل عجیب طور پر اس خاندان کے اس زمانے کے ہونے والے نبی اور رسول کے خاندان سے یہاں تعلقات قائم ہو گئے اور بالآخر بالکل ناموافق حالات میں سے موافق صورت پیدا ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص اس لڑکی کو دلہن بنا کر اس گھر میں لے آئی۔ جو گھر آج بنی اسرائیل‘ بنی اسماعیل اور آنحضرت ﷺ کی نعمتوں کا وارث ہو رہا تھا۔ اس کے سر پر تاج نوعروسی سجایا گیا اور اسے اس دنیا کے آخری حصہ میں سب سے بڑے راستباز کی دلہن بنایا گیا اس کے بطن سے الٰہی نور پیدا ہوئے۔ کہ آئندہ دنیا کی نجات‘ امن اور روحانی اور دنیاوی ترقیوں کا انحصار ان کی ذات پر رکھا گیا۔ وہ الٰہی برکتوں کی آغوش میں بڑھی اس کو معیتِ الٰہی کا وعدہ دیا گیا۔ وہ نور ہی نور ہے وہ سراپا برکت ہی برکت ہے۔ وہ خدا کے نشانوں میں سے ایک زبردست نشان اور وہ تجلیاتِ الٰہیہ کا ایک مرکز قرار دی گئی اس کے وجود سے دین الٰہی کو بڑی قوت اور طاقت حاصل ہوئی اور ہوتی چلی جائے گی۔ کسی کو معلوم بھی نہ تھا کہ میرناصرنواب کے گھر میں پیدا ہونے والی لڑکی ایک دن قیامت تک کیلئے اُمُّ المؤمنین بن جائے گی۔ خداتعالیٰ نے حضرت اُمُّ المؤمنین کے وجود سے بہت سی برکتیں عطا کرنے کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ ایک اشتہار میں جو آپؑ نے ۲۰فروری ۱۸۸۶؁ء کو شائع فرمایا۔ لکھا:
    ’’تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہو گی اور میں تیری ذرّیت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہونگے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر یک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے اُن کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہو گا۔ لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہؤا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔ تیری ذُرّیت منقطع نہیں ہو گی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔ خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے۔ عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔ میں تجھے اٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلاؤں گا پر تیرا نام صفحۂ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا اور ایسا ہو گا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور ترے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامُرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلّی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مُرادیںتجھے دے گا۔ میں تیرے خالص اور دلی محبّوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس واموال میں برکت دوں گا اَور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تابروزقیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔ خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا۔اور وہ علیٰ حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی ظِلّی طور پر ان سے مشابہت رکھتا ہے) تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا۔ یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اے منکرو اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندے پر کیا تو ا س نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو۔ اگر تم سچے ہو اور اگر تم بھی پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو کہ جونافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کیلئے تیار ہے۔ فقط۔‘‘
    سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین پڑھنے والے ان پیشگوئیوں کی روشنی میں سیرت کو پڑھیں اور دیکھیں کہ خدا کی نصرت کس کے شاملِ حال رہی اور کسے خدا نے اپنی نصرتوں‘ نعمتوں‘ برکتوں سے نوازا۔
    زندہ باد! اماں جان نصرت جہاں بیگم
    ۲۸/اپریل ۱۹۴۳؁ء


























    ’’بخارا سے ایک امانت ہندوستان لائی گئی‘‘










    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھــــــــــوالنــــــــاصـــــــــــــــــر
    ’’بخارا سے ایک امانت ہندوستان لائی گئی‘‘
    اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں ایک نظام اور ایک ترتیب پائی جاتی ہے اور وہ ایک باقاعدہ پروگرام کے مطابق ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ نظام اور ترتیب کی مثال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا- ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَائِ فَسَوٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَھُوَبِکُلِّ شَیْیٍٔ عَلِیْمٌo
    یعنی پہلے زمین اور زمین میں جو کچھ ہے وہ پیدا کیا۔ اس لئے کہ انسان کے رہنے کے قابل بن سکے۔ پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات بلندیاں بنا دیں۔ یہی ترتیب تعمیر مکان میں ہوا کرتی ہے۔ اوّل زمین ہموار ہوتی ہے۔ پھر دیواریں اٹھتی ہیں۔ پھر چھت بنتی ہے۔ مجھے ا س جگہ یہ بحث نہیں کرنی کہ زمین کو کن ادوار میں سے گزرنا پڑا۔ لیکن یہ ہر صاحب علم انسان کو معلوم ہے کہ زمین کو قابلِ رہائش بننے کیلئے ہزارہا سال خرچ ہوئے۔ تب وہ آتشین کرہ سرد ہوا۔اور اس قابل ہوا کہ اس میں روئیدگی پیدا ہو۔اور ایسے جانور پیدا ہوں جو زہریلی ہواؤں اور بادِسموم کے جھونکوں اور تپتے ہوئے پہاڑوں یا زمین کے غیرموافق میدانوں میں سانس لے سکیں۔ ہزار ہا سال کے لمبے عرصے کے بعد یہ زمین اس قابل ہوئی کہ اس پر انسان پیدا ہو کر زندگی بسر کر سکے۔ یہ مثال نظام اور ترتیب کی ہے۔
    پروگرام یا لائحہ عمل کی یہ مثال ہے کہ فرمایا :
    وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ اِنّی جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃٌ
    خداتعالیٰ نے ملائکہ سے ذکر کیا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں خلیفہ سے مراد انسان ہی تھا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک پروگرام تھا۔ اس پروگرام کے ماتحت اس نے زمین اور آسمان کی تخلیق کی اور اس ساری کائنات کو ترتیب دیا۔ اب غور کیجیئے کہ انسانی ضرورت کو مدنظر رکھ کر زمین اور آسمان‘ لوہا‘پتھر‘ صدہاقسم کی دھاتیں‘ کوئلہ‘نباتات‘ حیوانات‘ سورج‘ چاند‘ ستارے‘ اجرام فلکی‘ زہریں اور ان کے تریاق ‘ ہوائیں اور مختلف قسم کی گیسیں ‘پانی اور بجلی الغرض لاکھوں‘ کروڑوں چیزیں جن کو اگر گنتے چلے جائیں تو کئی ضخیم جلدوں کی کتاب بن جائے۔ یہ سب کچھ کیوں بنایا اور کیوں ان کی تخلیق کی۔ صرف اور صرف اس لئے کہ انسان کو پیدا کیا جائے۔پس تخلیقِ انسان غرض تھی اس تمام کائنات کے پیدا کرنے کی ۔ پھر صرف انسان بھی اصل غرض نہ تھا۔ بلکہ اصل غرض وہ انسان کامل تھا جو انسان کی پیدائش سے ہزارہا سال بعد پیدا ہوا۔ جو محمد رسول اللہ ﷺ کے نام سے مبعوث ہوا اور جس کے لئے کہا گیا لولاک لما خلقت الافلاک جن کے لئے حدیث قدسی میں آیا ہے کہ آپؐ کا نور اُ س وقت سے بھی پہلے موجود تھا۔جبکہ آدم ابھی بینَ الطِّیْن وَالمَاء ہی تھا۔ تو اس سے بھی یہی امر ثابت ہوتا ہے کہ ابوالبشر کے پیدا کرنے سے بھی قبل آنحضرت ﷺ کے وجود باجود کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہو چکا تھا۔ اسی کا نام ہے پروگرام۔پس خداتعالیٰ نے ازل سے ابد تک کا ایک پروگرام تیار فرما کر یہ کَون پیدا کیا۔ اس میں بہت سی پیدائشیں تو ا سطرح ہوئی ہیں جیسے زمین جو مقصود بالذات تھی اس کی تخلیق اور قیام کے لئے ذرّے پیدا ہوتے ہیں۔ ذرّے پیدا بھی ہوتے ہیں اور ذرّے مٹتے بھی رہتے ہیں۔ ذرّہ جو باعث ہے زمین کے قیام کا اس کی طرف کسی کو دھیان بھی نہیں ہوتا۔ نہ اس کے بننے کی طرف توجہ ہوتی ہے اور نہ اس کے مٹنے کی طرف۔ اسی طرح انسانوں میں لاکھوں‘ کروڑوں انسان ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ نہ ان کے پیدا ہونے سے کسی کو خاص توجہ ہوتی ہے اور نہ ان کے فنا ہونے سے لیکن ان میں سے بعض لوگ مقصود ہوتے ہیں اور ان کا وجود دنیا میں ایک عالمگیر انقلاب لانے کا باعث ہوتا ہے۔ یہ لوگ کبھی وہ ہوتے ہیں جو علمی دنیا میں انقلاب پیدا کرتے ہیں۔ کبھی وہ ہوتے ہیں جو سیاسی دنیا میں انقلاب کرتے ہیں کبھی وہ ہوتے ہیں جو ذہنی دنیا میں انقلاب پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ اگرچہ مقصود تو ہوتے ہیں مگر مقصود بالذات نہیں ہوتے۔
    مقصود بالذات صرف انبیاء ؑ کا وجود ہوتا ہے۔ جو روحانی دنیا میں انقلاب پیدا کرتے ہیں اور وہ باطل پرست دنیا میں انقلاب پیدا کر کے مخلوق کو خدا پرست بنا دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ خدا میں شامل کر دیتے ہیں۔ وہ لوگ جن کا میں نے ابھی مقصود کے تحت میں ذکر کیا ہے۔ وہ انبیاؑء سے قبل دنیا میں آتے ہیں تاکہ بیداری پیدا کریں بیداری اپنی ذات میں ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ جس کے ساتھ ہزارہا منافع وابستہ ہیں۔ جیسے بادل اور بارش سے قبل ٹھنڈی ہوا ایک دلیل ہوتی ہے کہ بارش آئے گی اور جیسے ٹھنڈی ہوا سے قبل گرمی اور تلخی بندش ہوا دلیل ہوتی ہے کہ بادل آئیں گے۔
    جیسے زمین میں مختلف جگہ پر زلزلوں کا پیدا ہونا دلیل ہوتا ہے کہ زمین اب اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثقَالھَا کی مصداق بن جائے گی۔ اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کا وجود جو ذہنی بیداری کا باعث ہوں دلیل ہوتا ہے اس امر کی کہ اَب روحانی انقلاب لانے والا بھی کوئی شخص پیدا ہوا چاہتا ہے اور یہی لوگ مقصود بالذات ہوا کرتے ہیں ان لوگوں کی خاطر کبھی دنیا کے بعض حصے مٹا دیئے جاتے ہیں۔ کبھی بعض قومیں تباہ کر دی جاتی ہیںاور کبھی ایک قوم کو ایک ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں جن کو ظاہری آنکھ نہیں سمجھ سکتی۔ مگر کبھی اس واقعہ سے صدیوں بعد اور کبھی ہزار ہا سال بعد وہ ہستی جو مقصود بالذات ہے پیدا ہو جاتی ہے۔
    دنیا کے تاریخ دان انقلاب امم کو محض قوموں کے قواء کی کمزوری اور مضبوطی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقتِ حال سے ناواقف ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ ان قواء کی کمزوری اور مضبوطی تو ایک طَے شدہ چیز ہے۔ وہ ایک گھڑی کے پُرزوں کی طرح گارنٹی کی مدت مقررہ میں چلتے اور ختم ہو جاتے ہیں۔ دراصل ان کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہوا ہوتا ہے۔
    وادی غیر ذی زرع میں حضرت ابراہیمؑ کا اپنی بیوی ہاجرہؑ اور اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو چھوڑنا کیا نتیجہ تھا ان خانگی جھگڑوں کا جو دو سَوتوں کے درمیان اکثر اوقات ہو جایا کرتا تھا۔ مؤرخ یہی کہے گا مگر اسرار الٰہیہ کا جاننے والا کہے گا کہ یہ دن یوم الفارق تھا بنی اسماعیل اور بنی اسحق دو قوموں کے درمیان۔ الٰہی تجویز کے ماتحت بنی اسحق کی عارضی ترقی اور بنی اسماعیل کو نشوونما دے کر ارض بطحا سے قوموں اور تمام بنی نوع کا شاہنشاہ پیدا کرنا مطلوب تھا ٹھیک اسی طرح ہم حضرت اُمُّ المؤمنین کے خاندان کے انقلابات دیکھتے ہیں کہ اس خاندان کے بزرگ بخارا سے ہندوستان ہجرت کر کے آئے۔ قوموں کی تاریخ لکھنے والا مُؤرخ اس کے اسباب وعِلل معلوم نہیں کیا بتلائے۔ وہ ممکن ہے کہ فراخی رزق کی تلاش اس کا سبب بتلائے یا ممکن ہے خانگی خانہ جنگی سمجھے یا ممکن ہے ملک کی سیاسی پیچیدگیاں اس کی وجہ قرار دے لیکن مَیں ان سب وجوہات کو غلط قرار دے کر ایک یہی وجہ قرار دوں گا کہ اس خاندان کے بزرگوں کی صُلب میں ایک امانت تھی جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ سے تقریباً ۴۰ بزرگوں کی پشت میں منتقل ہوئی اور حضرت میر ناصر نواب کے ذریعہ عالم وجود میں آئی اور اس کا نام نامی و اسمِ گرامی نصرت جہاں بیگم رکھا گیا۔
    مَیں ان وجوہات پر بحث نہیں کرتا جن کی بناء پر یہ خاندان عرب سے نکل کر بخارا میں چلا گیا مگر بخارا سے ہندوستان آنے کی وجہ یہ تھی کہ اس خاندان کے بزرگوں کو یہ امانت حضرت مسیح موعود و مہدیٔ مسعود کے حوالے کرنی تھی اور مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ازل کے پروگرام کے مطابق یہ مقدر تھا کہ وہ ہندوستان میں پیدا ہو اور یہی وجہ تھی کہ مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ بھی اس امانت کا بار اُٹھائے ہوئے جس کا نام مسیح موعود تھا سمرقندسے کچھ عرصہ پہلے بابر کے زمانہ میں ہندوستان آگئے تھے اور تھوڑا عرصہ بعد نصرت جہاں بیگم کے بزرگ اس دوسری امانت کا بار اُٹھائے ہوئے ہندوستان چلے آئے۔
    یہ کیوں ہوا؟ خدا تعالیٰ نے روز اوّل سے مقدر کر دیا تھا کہ جب اُمت محمدیہ اپنے زوال کی انتہاء کو پہنچ جائے گی اُس وقت ایک مسیح محمدی پیدا کیا جائے گا۔ وہ ایک خاص خاتون سے شادی کرے گا اور اس خاتون کے بطن سے اولاد پیدا ہوگی۔ یہ اولاد ساری کی ساری مبشر ہوگی۔ وہ ایسے نور ہوں گے جن سے قومیں راہ دیکھیں گی اور دنیا کے امن کی بنیاد اُن پر رکھی جائے گی۔ پس مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی سمرقند سے ہجرت کا اصلی سبب مسیح موعود علیہ السلام کا ہندوستان میں پیدا ہونا تھا اور نصرت جہاں بیگم کے خاندان کی بخارا سے ہجرت کا اصل باعث ان کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں آنا تھا اور اس نکاح کی غرض ایک جدید قوم کو پیدا کرنا تھا جو دنیا کے آئندہ تمدن کو بدل کر چٹانِ امن پر لا کر کھڑا کر دے گی۔ اس غرض کو پورا کرنے کیلئے اُمُّ المؤمنین کے بزرگ ہجرت کر کے ہندوستان میں آئے۔

    ء…ء…ء
















    حضرت اُمُّ المؤمنین کا آبائی خاندان










    حضرت اُمُّ المؤمنین کا آبائی خاندان

    ۱۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    ۲۔ حضرت خواجہ سیّد محمدطاہر صاحب
    ۳۔ خواجہ نواب فتح اللہ خان صاحب
    ۴۔ روشن الدولہ۔ رستم جنگ خواجہ سیّد نواب محمد ظفراللہ خان یارِ وفادار ہفت ہزاری
    ۵۔ خواجہ سیّد محمد ناصر صاحب عندلیب
    ۶۔ حضرت خواجہ میر درد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
    ۷۔ خواجہ صاحب میر صاحب ضیاء النّاصر
    ۸۔ خواجہ محمد نصیر صاحب محمدی












    حضرت اُمُّ المؤمنین کے آبائی بزرگوں کا اجمالی تذکرہ

    حضرت اُمُّ المؤمنین نصرت جہاں بیگم کے بزرگوں کی ابتداء خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک سے ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نورِ نظر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں اور آپؓ کے لختِ جگر حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے۔ حضرت امام حسینؓ شہید کربلا کے لختِ جگر حضرت امام سیّد زین العابدین تھے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین کا خاندان حسینی سادات کا خاندان تھا۔ اس طرح اس خاندان کے مورثِ اعلیٰ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
    حضرت امام حسینؓ کو جو نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے تھے۔ ان کی نیکی، تقویٰ، بزرگی، عَلُوِّمرتبت کو تمام مسلمان جانتے ہیں۔ میدانِ کربلا میں آپؓ نے جو ایثار اور قربانی کا نمونہ دکھایا اُس کی مثال دنیا میں کہیں نظر نہ آئے گی۔ خاندان کے بیشتر افراد ایک ایک کر کے اپنی آنکھوں کے سامنے کٹوا دیئے۔ مگر ظلم اور خلافِ حق کے سامنے اپنی گردن خم نہ کی۔ اس پر اکتفا نہ ہوا بلکہ اپنی عزیز جان بھی طرح طرح کے مصائب اور مظالم کو برداشت کرتے ہوئے قربان کر دی اور ایک فاسق فاجر انسان کی اطاعت کو قبول نہ کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کوجنت کے سرداروں میں سے قرار دیا۔ انہوں نے دنیا کی تمام تلخیوں، شرارتوں اور بظاہر ناکامیوں کو قبول کر کے دنیا کو ایک سبق دیا کہ سچائی زندگی اور جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اس قربانی کا جو انہوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے دی یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اسلام کی خدمت کرنے والی جماعتیں آپؓ کی نسل میں پیدا کر دیں اور متقین کا امام بنا دیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اس سے قبل اس خاندان کے مورثِ اعلیٰ تھے۔ ان کو بھی اپنے ایک بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور بیوی کی خداتعالیٰ کی رضاء کے لئے ایک قربانی دینی پڑی تھی۔ چنانچہ قرآن کریم نے ان کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ فرماتا ہے:
    رَبَّنَآ انِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ المُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَا جعَل اَفْئِدَۃً مِّنَ الناسِ تَھْوِیْ اِلَیْھِم وَارْزُقْھُمْ مِنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ-۱؎
    اس وادی غیر ذی زرع میں جہاں انسانی رہائش بالکل ناممکن تھی ان کا اپنی اولاد کوخدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کے لئے چھوڑ دینا اِس امر کا باعث ہوگیا کہ اسماعیل ؑ کو ایک قوم کا باپ بنا دیا گیا اور اس قوم سے وہ انسان پیدا ہوا جو فخر انسانیت، فخر الانبیاء، جامع جمیع کمالات انسانی تھا۔ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر حضرت اسماعیل ؑ جیسی قربانی کی تو ضروری تھا کہ ان کو بھی اس کا ویسا ہی بدلہ دیا جاتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک صلحاء اور راستبازوں کی ایک بڑی جماعت آپؓ کی نسل میں پیدا کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ چنانچہ حضرت امام زین العابدین، امام محمد باقر، امام جعفر، امام موسیٰ کاظم، امام موسیٰ رضا، امام علی نقی، امام علی تقی ، امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسے برگزیدہ اور باخدا اور پاکباز لوگ نسل حسینؓ سے پیدا ہوئے اور باوجود اس کے کہ حادثہ کربلا میں دنیا آلِ حسینؓ پر تنگ ہوگئی تھی اور دشمن نے اس نسل کو مٹا دینے کا عملی فیصلہ کر لیا تھا مگر نسلِ حسینؓ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونوں میں پھیل گئی اور دنیا کی راہنمائی اور اصلاح کا کام ہر جگہ ان کے ذریعہ سے مختلف زمانوں اور مختلف مکانوں میںہوتا رہا۔ اسی اصل کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے نسلِ حسینؓ کی ایک شاخ کو بخارا کی طرف منتقل کر دیا۔ چنانچہ سیّد کمال الدین بخاری جو امام حسن عسکری کے دسویں پشت میں پوتے ہیں بخارے میں ہجرت کر گئے۔
    تاریخ ان اسباب کو بیان نہیںکرتی جو ان کی ہجرت کے اسباب ہیں لیکن جیسے کہ مَیں لکھ چکا ہوں کہ ان تمام حرکتوں کے پیچھے الٰہی منشاء کام کر رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ سیّد کمال الدین بخاری کے خانوادہ میں ایک ایسا باکمال اور روشن ستارہ پیدا ہوا جس نے اپنے روحانی کمال سے ایک دفعہ دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا اور دراصل اسی ستارہ کو بخارا کی زمین سے پیدا کرانے کے لئے یہ ہجرت کرائی گئی تھی اور یہ تھے حضرت سیّد بہاء الدین نقشبند۔
    حضرت سیّد بہاء الدین نقشبند اپنے زمانہ کے بہت بڑے رہبر کامل تھے۔ ان کے ذریعے ایک خاص صوفی فرقہ کی بنیاد رکھی گئی جو لوگ اس فرقہ میں شامل ہوتے تھے وہ نقشبندی کہلاتے تھے۔ نقشبندی طریقہ آہستہ آہستہ بخارا سے نکل کر ہندوستان، افغانستان، ایران، عراق، شام، مصر تک پھیل گیا۔ اس طریقہ کے ماننے والے لوگوں میںبڑے بڑے باخدا اور ولی اللہ لوگ پیدا ہوئے۔ چنانچہ خواجہ علاء الدین عطار، حضرت مولانا یعقوب چرخی، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار، حضرت خواجہ مولانامحمد زاہد، حضرت خواجہ محمد درویش، حضرت خواجہ ا مکنکی، حضرت خواجہ محمد باقی، حضرت مجدد الف ثانی،حضرت خواجہ محمد معصوم، حضرت خواجہ حجۃ اللہ نقشبندثانی، حضرت خواجہ محمد زبیر اور اس قسم کے بہت سے بزرگ مختلف ملکوں میں اس سلسلہ نقشبندیہ کے ذریعے پیدا ہوئے اور انہوں نے درویشانہ طریق پر اسلام کی بڑی بڑی خدمتیں کیں۔ یہ سب لوگ مجاہدین اسلام تھے اور ان کی عمریںبے ریا خدمت میں گذر گئیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنے فضلوںکی بڑی بڑی بارشیں برسائے۔ آمین
    اسی نقشبندی طریق کے حاملین میں سے گیارہویں صدی میں حضرت مجدد الف ثانی ایک ایسے بزرگ پیدا ہوئے جو اپنے زمانے کے مجدد تھے اور اسلام کے دورِ خزاں میں بہار پیدا کرنے کا باعث ہوئے۔ مگر حضرت مجدد الف ثانی حضرت خواجہ سیّد بہاء الدین نقشبندی کے صلبی بیٹے نہ تھے۔ ان کا تعلق صرف روحانی فیض سے وابستہ تھا۔ ہاں سیّد بہاء الدین نقشبند کی جسمانی اولاد بھی اس فیض روحانی سے محروم نہ تھی۔ پہلے بھی ان کی جسمانی اولاد میں سے اکثر باخدا لوگ پیدا ہوئے تھے مگر بارہویں صدی میں حضرت خواجہ محمد ناصر دہلوی پر پھر روحانی پرتوہ پڑا اور وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے ولی کامل مانے گئے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ ایسے پاکباز بزرگ تھے کہ اگر مَیں ان کو تیرہویں صدی کا ایک باکمال ولی کہوں تو بیجا نہ ہوگا۔
    ان بزرگوں کے مختصر اوصاف تو الگ الگ میں لکھوں گا لیکن یہاں مَیں اس قدر لکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ حضرت خواجہ میر درد بچپن سے فیض روحانی سے مالا مال ہو چکے تھے۔ پندرہ برس کی عمر میں انہوں نے ایک رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام ’’اسرار الصلوٰۃ‘‘ رکھا۔ جب اس مختصر سے رسالہ کو حضرت مولانا فخر الدین چشتی نظامی دہلوی اور حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے ملاحظہ فرمایا تو دونو بزرگ اصحاب نے فرمایا ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیہِ مَنْ یَّشَائُ یہ وہبی دولت ہے۔
    الغرض حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب سے ایک نئے سلسلہ کی بنیاد پڑی جو سلسلہ محمدیہ کہلایا۔اس سلسلہ کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ یہ سلسلہ محمدیہ امام مہدیؑ کے آنے تک جاری رہے گا اور اس کے بعد امام مہدیؑ کے آنے کے بعد اس کی روشنی اس کے نور میں گم ہو جائے گی۔ چنانچہ جیسے پیشگوئی میں لکھا تھا بالکل اس کے مطابق ہوا۔ اس سلسلہ کے آخری خلیفہ حضرت میر ناصر امیر ہوئے۔ جو ۱۶/ ذوالحجہ ۱۲۷۰ـھ؁ مطابق ۱۰/ستمبر ۱۸۵۴ء؁ کو فوت ہوگئے۔
    یہ وہ زمانہ تھا جس میں حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود ؑ پیدا ہو چکے تھے اور آپؑ کی عمر ۲۰ سال کی ہو چکی تھی کیونکہ آپؑ کی پیدائش ۱۸۳۵ء ؁میں ہوئی تھی اور آپ کے ظہور کا زمانہ قریب تھا اور وہ وقت بھی نزدیک تھا جب کہ فرقہ محمدیہ کی روشنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں گم ہو جانے والی تھی۔ چنانچہ ۱۸۶۵ء ؁میں حضرت میر ناصر امیر کے لختِ جگر حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشکوے معلی میں نصرت جہاں بیگم کی ولادت باسعادت ہوئی اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض حضرت فاطمہ علیہا السلام کے ذریعے اُن کی اولاد میں منتقل ہوا بالکل اسی طرح خاندان محمدیہ کی روشنی حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے ذریعے ۱۸۸۴ء ؁میں حضرت مسیح موعود اور مہدیؑ مسعود کی روشنی میں گم ہوگئی اور آپ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے نکاح میں اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت لائی گئیں اور اس طرح ایک نئی اور پاکیزہ آسمانی روشنی میں مل کر یہ پہلی روشنی جلوہ گر ہوئی۔ حقیقت میں شمع وہی تھی فانوس دوسرا تھا۔ آفتاب وہی تھا مگر مطلع نیا تھا۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا ایک نئی نسل کا آغاز ہوجو قیامت تک اپنے نور سے دنیا کو منور رکھے گی اور اس طرح حضرت امام حسینؓ کو اس قربانی کا پھل مل گیا اور راستباز اور نیک خادمان دین الٰہی کی ایک بڑی جماعت بذریعہ نسل اور بذریعہ روح دی گئی اور اس آخری زمانہ میں جب کہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اسلام کی تکمیل اشاعت کے لئے ایک بروز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تو مشابہتِ تامہ کیلئے نسلِ حسینؓ سے ایک دوسری خدیجہؓ کو پیدا کیا تا کہ اس کی نسل سے پھر دوسرا دور شروع ہو اور تکمیل اشاعت دین کیلئے یہ لوگ جو ایک طرف نسلِ حسین سے بھی ہوں گے معلوم نہیں کہ کس قدر دکھ اُٹھائیں گے اور کتنی قربانیاں کریں گے اور ان کو حضرت امام حسینؓ سے کتنی قرب کی نسبتیں ہوں گی کہ مسیح موعود نے فرمایا:
    کربلا ایست سَیر ہر آنم
    صد حسین است در گریبانم
    نادانوں نے اسے حضرت امام حسینؓ کی توہین قرار دیا ہے جو شخص خود امام حسینؓ سے ایک نسبت خاص رکھتا ہو جو خود بروزِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو وہ امام حسین علیہ السلام کی توہین نہیں کر سکتا۔ میرے ذوق میںتو اس میں ایک پیشگوئی مخفی ہے جو ان تکالیف اور مشقتوں اور قربانیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اس بروز محمدؐ اور اس بروز خدیجہؓ کی اولاد اور نسل کو اشاعت دین کے راستے میں اٹھانی پڑیں گی۔ کتنی عظمت ہے اس خاتون کی جسے خدا تعالیٰ نے تیرہ سَو سال کے بعد پھر خدیجہؓ ثانیہ بنا کر بروز محمد کی بیوی بنا دیا اور کتنی عظمت ہے اس نسل کو جو تکمیل اشاعتِ دین کی غرض کیلئے دنیا کی آخری ہدایت اور نور قرار دی گئی۔ یہ نتیجہ تھا امام حسین کی قربانی کا۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالیٰ عَنْہُ
    حضرت سَیّد محمد طاہر
    دَورِ اوّل
    بخارا سے پہلا قافلہ
    ہندوستان میں سب سے اوّل حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ کی نسل سے خواجہ محمد نصیر نقشبندی شاہجہان شہنشاہ ہند کے زمانہ میں بخارا
    سے ہندوستان آئے۔ گویا یہ بخارا کے اس خاندان کا پہلا قافلہ تھا۔ شاہنشاہِ ہند نے ان کو بڑے اعزاز سے اپنے دربار میں بلا لیا اور ان کو ہر قسم کے اعزاز اور مناصب سے سرفراز فرمایا اور اپنے لختِ جگر شاہزادہ شجاع کے ساتھ جو اس زمانہ میں بنگال کے ناظم یعنی وائسرائے تھے وزیر کے منصب پر فائز کر کے بھیج دیا۔ جب تک شاہجہان بادشاہ برسرِ اقتدار رہا شجاع ناظم بنگال رہے اور جب اورنگ زیب کا دور آیا اور خاندانی جنگ کا آغاز ہوا تو شاہ شجاع بنگال سے اورنگ زیب کے مقابلہ کیلئے روانہ ہوا۔ شاہ شجاع کے ساتھ ۲۵ ہزار فوج اور توپخانہ تھا۔ بنگال سے چل کر اس فوج نے بنارس آ کر دم لیا اور بنارس سے کہجوہ پہنچ کر۔ اُدھر سے اورنگ زیب بڑھا آ رہا تھا۔ الہ آباد اور اٹاوہ کے بیچ دونو بھائیوں کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی نتیجہ یہ ہوا کہ شاہ شجاع کی فوج کو شکست ہوئی اورنگ زیب کی فوج نے حملے کے جوش میں اندھے ہو کر زنانے خیموں کی طرف رُخ کیا۔ خواجہ محمد نصیر صاحب کو یہ امر سخت ناگوار گذرا اور وہ تلوار لے کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور خوب دل کھول کر دادِ شجاعت دی۔ بالآخر مستورات کے کیمپ کے باہر شہید ہوگئے۔ ۲؎
    اس مختصر سے واقعہ سے مندرجہ ذیل امور منتج ہوتے ہیں:
    اوّل: خاندانِ نقشبند کا پہلا قافلہ زیر قیادت خواجہ محمد نصیر صاحب دہلی آیا۔
    دوم: یہ زمانہ شاہنشاہِ شاہجہان کا تھا جو مغلیہ سلطنت کے عین عروج کا زمانہ تھا۔
    سوم: شاہنشاہِ ہند نے فوراً خواجہ محمد نصیر کو دربار میں اعزاز اور منصب سے سرفراز کیا جو اس امر کی دلیل ہے کہ یہ خاندان بخارا میں کوئی غیر معروف نہ تھا بلکہ ان کی بزرگی، علمی قابلیت، وجاہت، عالی نسبی کا اس سے بسہولت پتہ چلتا ہے۔
    چہارم:ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حصولِ ملازمت کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ شاہجہان کے ایماء پر ہی آئے تھے۔ بخارا اُن ایام میں علومِ اسلامیہ ہی کا مرکز نہ تھا بلکہ وہاں خدا رسیدہ بزرگوں کی بھی جماعت تھی اور شاہجہان وہاں سے علوم دینیہ کے ماہر اور اہل دل لوگوں کو بلانے کے لئے خاص شوق رکھتا تھا اور عالی نسب، ذی علم، خدا پرست لوگوں کی جماعت جمع کرنا چاہتا تھا۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے خواجہ محمد نصیر کو بلایا تھا۔ تبھی بغیر کسی تردّد کے ان کو اتنی جلدی فی الفور منصبِ وزارت جیسے وقیع منصب پر فائز کر دیا گیا۔
    پنجم: وہ صرف صاحبِ سیاست ہی نہ تھے بلکہ صاحب السَیف بھی تھے۔ گویا کہ بیک وقت ایک اعلیٰ درجہ کے سیاستدان اور ایک عمدہ جرنیل تھے۔
    اس سے اس خاندان کی عزت، عظمت کا بآسانی اندازہ لگ سکتا ہے خواجہ محمد نصیر صاحب وزیر صوبہ بنگال کے بعد اُن کے صاحبزادے سیّد عبدالقادر بالکل دنیا سے الگ ہو گئے۔ خواجہ محمد نصیر کا ذکر تو صرف اس قدر بتانے کے لئے کیا گیا کہ بخاری سادات نقشبندیہ کا پہلا قافلہ آپ کی قیادت میں آیا اور آپ بھی اپنے زمانے کے بہت بڑے سیاست دان اور بہت بڑے جرنیل تھے۔ مگر جس خاندان کا ذکر مقصود بالذات ہے وہ حضرت خواجہ سیّد محمد طاہر صاحب کا خاندان ہے۔ یہ بزرگ بھی حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کے خاندان سے تھے اور یہ حضرت اُمُّ المؤمنین علیہا السلام کے خاندان کے مورثِ اعلیٰ تھے۔
    حضرت خواجہ سیّد محمد طاہر صاحب اس دوسرے قافلہ کے سردار تھے جو بخارا سے واردِ ہندوستان ہوا۔ یہ زمانہ شاہنشاہ اورنگ زیب کا زمانہ تھا۔ واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قافلہ کی آمد پر پہلے ہی سے اورنگ زیب کی آنکھیں لگی ہوئی تھیںکیونکہ اورنگ زیب خود خواجہ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ نقشبندیہ میں بیعت تھا اس لئے اورنگ زیب بادشاہ ہند نے ان کے فوراً ورودِ ہند ہونے پر ان کو دہلی کی مشہور تاریخی یادگار میں جو اس زمانہ میں دنیا کا بہت بڑا پُر رعب و جلال قلعہ تھا دعوت دی۔
    لال قلعہ میں دعوت
    میں یہاں لال قلعہ کی رونق اور شوکت اور عظمت و جلال کی تاریخ نہیں لکھنی چاہتا مگر ہر شخص جسے اسلامی ہند کی تاریخ سے ذرا بھی مس ہو وہ لال قلعہ کی عظمت سے بخوبی واقف ہوگا۔ لال قلعہ اُس وقت دنیا میں سب سے بڑا قصرِ شاہی تھا اس وقت مغلیہ سلطنت کا ڈنکہ چار دانگ عالم میں بج رہا تھا۔ اورنگ زیب کی فوج ظفر موج کے سامنے اس وقت ہندوستان کی کوئی فوج ٹھہر نہ سکتی تھی۔ تمام ہندوستان پر اس کا چتر حکومت چھا رہا تھا۔ لال قلعہ اس زمانہ میں ایک نو عروس کی طرح سے سجا ہوا تھا۔ فوجوں کے پرے افسران کی بھڑکیلی وردیاں، درباریوں کا مؤدّب اور باوقار ہونا ہر شخص کے قلب میں ایک ہیبت طاری کرتا تھا۔ نوکر چاکر، لونڈیاںغلام اِدھر سے اُدھر بھاگے پھرتے تھے۔ شاہزادوں اور شاہزادیوں بیگمات اور خواصوں کے معطّر لباسوں سے قلعہ کی فضاء دنیا کی دیگر فضاء سے بالکل الگ معلوم ہوتی تھی۔ ایسے مقام عالی میں جہاں سے شاہنشاہِ ہند حکومت کرتا ہو جب کسی کی دعوت کرتا ہوگا تو اس وقت قلعہ معلّٰے کی کیا حالت ہوتی ہوگی اور کیسی گہما گہمی ہوتی ہوگی۔
    الغرض بادشاہِ ہند شہنشاہِ اورنگ زیب نے اس اخلاص کی وجہ سے جو اُن کو اپنے پیرومرشد حضرت سیّد بہاء الدین نقشبند سے تھا حضرت سیّد محمدطاہر صاحب کی لال قلعہ میں دعوت کی۔
    شاہنشاہ درویش کے قدموں میں
    شاہنشاہ نے بنفس نفیس اُن کا استقبال کیا اور بڑی تواضع اور ادب سے اُن کو مسند پر بٹھایا۔ چونکہ اورنگ زیب خود طریقہ نقشبندیہ میں مرید تھا اس لئے سیّد محمد طاہر کا وجود اس کے لئے اپنے پیرومرشد کے ہی قائم مقام تھا۔ کھانا کھا چکنے کے بعد بادشاہ نے بہت کچھ نقد جنس حسبِ دستور شاہانِ مغلیہ اپنے مرشد زادہ کو پیش کرنا چاہا۔ مگر اُن کی نگاہ میں یہ زر و جواہر اور یہ دنیا کے مال و منال کوئی حقیقت نہ رکھتے تھے۔ انہوں نے آنکھ اٹھا کر بھی اُن کی طرف نہ دیکھا اور اُن کو قبول نہ کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاتے ہیں اُن کی نگاہ میں دنیا کی ان قیمتی اشیاء کی قیمت ایک جیفہ ( مُردار) سے زیادہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
    مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا
    مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار
    خلاصہ یہ کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اُن کو اس دنیا کی کسی چیز سے اُلفت نہیں ہوتی اور وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ الدنیا جِیْفَۃٌ وَطَالِبُھَا کلاب
    الغرض حضرت خواجہ سیّد محمدطاہر صاحب نے شاہی عطاء کو قبول نہ کیا۔ اورنگ زیب نے کیا کچھ پیش کیا ہو گا اس کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں مگر اس امر سے بخوبی اندازہ لگ سکتا ہے کہ اورنگ زیب خود شاہنشاہِ ہند تھا اور جس کو وہ پیشکش کر رہا تھا وہ اس کا مرشدزادہ بلکہ ایک رنگ میں مرشد ہی تھا کیونکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اورنگ زیب کو انہی کی دعا سے تاج و تخت ملا تھا۔ اس لئے اس نے جو کچھ پیش کیا ہو گا اس کا تصور بآسانی ہو سکتا ہے۔
    حضرت خواجہ کے اس استغناء اور سیر چشمی نے اور بھی جادو کا سااثر کیا اور وہ ہمیشہ کے لئے ان کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا اور اس طرح شاہنشاہِ ہند ایک درویش کے قدموں میں آ گیا۔اس کی عقید تمندی کی یہ حالت تھی کہ وہ خود بنفسِ نفیس درِخواجہ پر حاضری دیا کرتا تھا۔ ۳؎
    خواجہ سَیّد محمدطاہر کے بیٹوں کے نکاح میں مغل شاہزادیاں
    کچھ عرصہ کے بعد خواجہ سیّد محمد طاہر صاحب نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ حرمین کو جانا چاہتے ہیں۔ اورنگ زیب ان کو اس پاک مقصد سے روک نہ سکتا تھا اور ان برکات سے بھی محروم نہ ہونا چاہتا تھا جو اس بزرگ خاندان کے قدموں کی برکت سے حاصل ہو رہی تھیں۔ اس لئے اس نے بصد اخلاص وارادت عرض کی کہ آپ اپنے تینوں صاحبزادے اور اپنے بھتیجہ کو میرے پاس چھوڑ جائیے تا کہ ان کی برکت سے لال قلعہ معمور رہے۔ شاہنشاہِ ہند کی یہ درخواست منظور ہوئی اور انہوں نے اپنے تین صاحبزادے خواجہ سیّد محمد صالح اور خواجہ سیّد محمدیعقو ب اور خواجہ سیّد فتح اللہ صاحب کو معہ اپنے ایک بھتیجہ کو جن کا نام معلوم نہیں ہو سکا حسبِ استدعا اورنگ زیب بادشاہِ ہند دہلی میں چھوڑا۔
    بادشاہ نے ان چاروں کو بڑے بڑے عہدے اور بڑے بڑے منصب دے کر اورنگ زیبی دربار کے رُکن بنا لیا۔ اسی پر بس نہیں کی بلکہ خواجہ محمدصالح اور خواجہ محمد یعقوب کو جو کنوارے تھے اپنے حقیقی بھائی شہزادہ مراد کی دو خوبصورت حسینہ و جمیلہ بیٹیاں بیاہ دیں اور اس طرح اس خاندان سے نہ صرف اپنی عقیدت مندی کی تکمیل کی بلکہ اس خیال سے کہ لوگ ان کو محض درویش ہی خیال نہ کرتے رہیں اپنے برابر کر لیا۔
    اس طرح اس خاندان درویش کو درویشی اور حکومت کی دونوں نعمتوں سے مالا مال کر دیا۔ اسی خاندان سے ایک بزرگ خواجہ سیّد محمد یعقوب بھی اس دوسرے قافلہ میں آئے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ سیّد موسیٰ کو اپنے پوتے شہزادہ معزالدین کی بیٹی فرخندہ اختر سے بیاہ دیا۔
    مرشد زادے
    اب یہ ایک قدرتی بات تھی کہ خیال پیدا ہو کہ جو بچے ان جوڑوں سے پیدا ہوں گے مغل شہزادوں کی نگاہ میں ان کا کیا مقام ہو گا کہیں وہ ان کو کم درجے کا خیال نہ
    کرنے لگیں۔ اس لئے جو بچے ان سے پیدا ہوئے وہ قلعہ معلّٰے والوں کی اصطلاح میں مرشدزادے کہلاتے تھے اور ان کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔
    نواب سیّد فتح اللہ خان
    میں بتلا چکا ہوں کہ خواجہ سیّد محمد طاہر صاحب نے دنیا کے مال و منال کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا اور بالآخر وہ حرمین الشریفین کی زیارت کے لئے چلے گئے اور یہ سفران کا ہندوستان سے دیارمحبوب میں ہجرت کا سفر تھا۔
    ان کے صاحبزادوں کے متعلق بھی میں لکھ چکا ہوں کہ ان کو نہ صرف منصب اور مقام عالی نصیب ہوا بلکہ اورنگ زیب نے ان کو شاہی خاندان میں داخل کر لیا تھا اور یہ عزت سوائے اس خاندان کے کسی اور خاندان کو نصیب نہیں ہوئی۔ حضرت خواجہ سیّد محمد طاہر صاحب کے تیسرے لختِ جگر سیّد فتح اللہ صاحب تھے۔ شاہنشاہ نے ان کو ’’نواب‘‘ اور ’’خان‘‘ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ اس طرح آپ نواب فتح اللہ خان کہلائے اور اس عہد میں خانی کا خطاب بہت بڑا درجہ اور اعزاز تھا۔ خطاب کے سوا منصب بھی دیا گیا اور یہ چاہا کہ ان کے بھائیوں کی طرح ان کی شادی بھی کسی شہزادی سے کر دی جائے مگر آپ نے شاہنشاہ سے کہہ دیا کہ اگرچہ شریعت غرّا میں اس امر کی اجازت ہے کہ ایک مغل یا پٹھان کو ایک سیّدزادی بیاہ دی جائے یا ایک سیّد کو ایک مغلانی یا پٹھانی بیاہ دی جائے مگر میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا کہ میری بیوی مغلانی یا پٹھانی ہو۔ شاہنشاہ نے ان کی اس بات کو پسند کیا۔
    اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیّد فتح اللہ بھی ان بزرگوں میں سے تھے جو اپنے اندر باوجود بلند منصبی کے درویشی کا رنگ رکھتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاہنشاہِ اورنگ زیب کو ان کا کس قدر پاس تھا کہ باوجود اس کے کہ ان کا انکار نہ صرف منشاء شاہی کے خلاف تھا بلکہ اگر کوئی بُرا مفہوم لینے والا ہوتا تو شاید اسے خاندانِ شاہی کی ہتک بھی خیال کر لیتا مگر چونکہ اورنگ زیب اس خاندان کی بے نفسی اور درویشی پر پورا یقین رکھتا تھا اس لئے اس نے ان کے منشاء کو مقدم کر لیا۔اگر یہ لوگ وجاہت طلبی کی تلاش میں ہندوستان آئے ہوتے تو ایسے موقعہ کو بسا غنیمت جان لیتے اور بلکہ وہ خود اس تلاش میں رہتے کہ کوئی ایسا موقعہ میسّر آئے لیکن ان کی حالت بالکل اس کے خلاف تھی کہ موقعہ میسّر آنے پر بھی انکار کر دیتے تھے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کا خاندان
    یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ذکر کا تو کوئی موقعہ نہیں مگر ایک مناسبت سے میں ان کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں۔ قدرتِ الٰہی نے چونکہ آگے چل کر دونوں خاندانوں کو ایک کر دینا تھا اس لئے ان دو نوں خاندانوں میں ایک مناسبت چلی آتی ہے۔
    حضرت مسیح موعودؑ کے مورثِ اعلیٰ بڑی شان و شوکت سے بابری عہد میں واردِ ہندوستان ہوئے۔ بابر تیموری خاندان کا بادشاہ تھا اور خاندان مسیح موعود ؑ اوپر چل کر تیمور کے چچازاد بھائیوں کا خاندان تھا۔ اس لئے میرزا ہادی بیگ نسل کے لحاظ سے ایک ہی درخت کی دوسری شاخ تھا اور بابر سے ان کو نسبتِ اخوت تھی لیکن انہوں نے دِلّی کی رہائش کی بجائے دِلّی سے پانچ سو میل دُور پنجاب میں دریائے بیاس کے کنارے پر بالکل ایک گمنام اور اُجاڑ گوشہ میں رہائش اختیار کر لی اور دِلّی کی شان وشوکت سے ذرا بھی حصہ نہ لینا چاہا اور ان مناصب جلیلہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ورنہ بہت ممکن تھا کہ بابری تخت کے قُرب میں یہ خاندان نہ صرف یہ کہ مناصب جلیلہ پر فائز ہوتا بلکہ کسی کمزوری کے وقت خود برسرِاقتدار ہو کر تختِ دہلی پر جلوہ افروز ہوتا۔ الغرض یہ ایک مناسبت تھی کہ خاندانِ مسیح موعودؑ بھی باوجود شاہی خاندان ہونے کے درویشی اور عزلت نشینی کو مقدم کرتا رہا۔
    قصہ مختصر نواب سیّد فتح اللہ خان صاحب کے اس انکار پر شاہنشاہِ اورنگ زیب نے ان کی شادی نواب سربلند خان میر بخشی (کمانڈرانچیف افواج) کی حقیقی ہمشیرہ سے کروادی۔ نواب سربلند خاں صاحب صحیح النسب سَیّد تھے اور خواجہ سیّد بہاء الدین صاحب نقشبند کی اولاد میں ہی سے تھے۔ الغرض خواجہ نواب سیّد فتح اللہ خان صاحب نے پسند کیا کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنا تعلق دامادی شاہی محل سے پیدا کریں وہ اپنے خاندان سے باہر نہ جائیں۔
    نواب سربلند خان میربخشی کا وجود بتلاتا ہے کہ اس خاندان پر اورنگ زیب کو انتہائی اعتماد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت کے سول اور فوج کے بڑے بڑے عہدے اس خاندان کے اراکین کے سپرد تھے اور اس طرح دہلی ہی نہیں بلکہ ہندوستان بھر کی سیاست میں اس خاندان کا وقیع اثر تھا۔
    نواب فتح اللہ خان سیّد محمد طاہر صاحب کے خاندان میں پہلے شخص تھے جو اس قدر بلند منصب پر فائز ہوئے اور ’’نوابی‘‘ اور ’’خانی‘‘ کے خطاب سے مفتخر کئے گئے۔
    نواب ظفراللہ خان
    روشن الدّولہ رُستمِ جنگ
    نواب فتح اللہ خان صاحب کے مشکوئے معلّٰی میں اور نواب سربلند خان میربخشی کی ہمشیرہ کے بطن سے ایک نونہال پیدا ہوئے۔ جن کا نام خواجہ سیّد محمد ظفراللہ خان رکھا گیا۔ سیّد محمدظفراللہ خان اس خاندان میں پہلا شخص تھا جس کاباپ نواب تھا اور حکومت اورنگ زیب میں بہت بڑا دخل اور رسوخ رکھتا تھا اور اس کا ماموں بھی نوابی کے بلند و بالا خطاب سے مفتخر تھا اور کمانڈرانچیف افواجِ شاہنشاہی تھا اور نسبی عظمت کے لحاظ سے ددہیال اور ننھیال کی طرف سے ایک ہی خاندان کا نونہال تھا۔ یعنی حضرت سیّد بہاء الدین نقشبند کے خاندان اور نسل سے سیّد محمد ظفراللہ خان نے رفیع الشان بن شاہ بن شہنشاہ اورنگ زیب کی سرکار سے معزز عہدے پائے اور جلد ترقی کر کے پانچصد سوار کا منصب حاصل کیا اور نواب ظفراللہ خان کا خطاب حاصل کیا۔ نواب ظفراللہ خان کو خاندان شاہی میں بہت اعتماد حاصل تھا اور وہ شاہی خاندان کے ساتھ ہمیشہ وفادارانہ طور پر رہے۔
    نواب ظفراللہ خان تارِکُ الدُّنیا بن گئے
    رفیع الشان اور جہان شاہ کے خلاف لاہور میں بغاوت ہوئی۔ عظیم الشان جہاندار شاہ کی افواج نے لاہور میں رفیع الشان اور جہان شاہ اور ان کی خوبصورت اولادوں کو خاک و خون میں ملا دیا۔ نواب ظفراللہ خان بھی اپنے خاندانی دستور کے مطابق اُن کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق دادِ شجاعت دی۔ مگر قدرتِ الٰہی کو کچھ اور منظور تھا۔ رفیع الشان اور جہان شاہ بمع اپنی اولادوں کے مٹ گئے۔ اس نظارے نے نواب ظفراللہ خان کے قلب کی حالت کو بالکل بدل دیا۔ دنیا کی ناپائیداری نے دل کو بالکل سرد کر دیا اور سب جاہ و حشم پر لات مار دی اور پھر نوابی پر درویشی کو مقدم کر لیا۔
    حضرت میران شاہ بھیک صاحب
    اس زمانہ کے درویش کامل حضرت میران شاہ بھیک صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے درویش بن گئے۔ حضرت میران شاہ بھیک سلسلہ چشتیہ صابریہ کے ایک بڑے کامل درویش تھے اور اس زمانہ میں مرجع خلائق بنے ہوئے تھے اور حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی صابری جن کا مزار اب تک لاہور میں ایک خاص عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کے جانشین اور خلیفہ تھے۔ حضرت شاہ ابوالمعالی شیخ محمددائود گنگوہی کے مرید تھے جو شیخ محمد صادق صاحب گنگوہی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ یہ سلسلہ درویشی و تصوف حضرت مخدوم علاء الدین صابر کلیری تک پہنچ جاتا ہے۔الغرض آپ سلسلہ چشتیہ صابریہ میں حضرت میران شاہ بھیک کے ہاتھ پر بیعت کر کے درویش ہو گئے۔ حضرت شاہ میران بھیک کھرے سیّد تھے۔ اور ہندی زبان کے خوش بیان شاعر بھی تھے۔ چنانچہ آپ نے بہت سے ہندی زبان میں دوہڑے موزون کئے تھے جن میں توحید اور اسرارِ معرفت و تصوّف بھرے ہوئے تھے،اور اہل دل ان کو سن کر یاد کر لیا کرتے تھے۔۴؎
    درویش سے پھر میدان عمل میں
    فرّخ سیر شاہنشاہِ ہند نے رفیع الشان اور جہان شاہ اور ان کی اولاد کی قتل کی خبر کو نہایت دردمند ی سے سُنا۔ اُس نے تہیّہ کر لیا۔ کہ وہ عظیم الشان جہاندار شاہ سے جو پنجاب پر حکومت کر رہا تھا ٗبدلہ لے گا۔ یاد رہے ۔ کہ خود فرّخ سیر عظیم الشان جہاندار شاہ کا بیٹا تھا۔ اور عظیم الشان جہاندارشاہ عالم بہادر شاہ کا بیٹاتھا۔اور بہادر شاہ خود شاہنشاہ اورنگ زیب کا بیٹا تھا۔ فرخ سیر نے اِس خونِ ناحق کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ہمرکاب سیّد حسین علی گورنر بہار۔سیّد عبداللہ گورنرالٰہ باد بھی تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بادشاہ گر کہلاتے تھے۔ سیّد میران بھیک جو اس وقت عالمِ درویشی میں فرد کامل تھے ،انہوں نے درویش ظفراللہ خان سے کہا۔ کہ ’’بھائی سیّد! اب تم بھی پھر اپنی کمر باندھ لو۔ اور فرّخ سیرکے پاس پہنچ جائو‘‘انہوں نے پیرومرشد سے عرض کی ’’میرا دل اِن جھگڑوں سے بیزار ہو گیاہے۔ میں اب اس عالمِ فانی کے دھندوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔درویشی کی لذت کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت کو بھی بے حقیقت جانتا ہوں‘‘مگر میران بھیک صاحب نے فرمایا:
    ’’اللہ کی یہی مرضی ہے۔ تم دل با یار اور دست باکار ہوگے ربّ العزت کو یہی منظورہے۔ کہ تم بادشاہی عہدہ دار بنکر اس کی مخلوق کو آرام پہنچائو۔ مگر تمہارا خاتمہ بالخیر ہے۔ تم کو جو باطنی دولت ہم نے بخشی ہے۔ اسے دُنیا کی دولت نہ مٹاسکے گی۔‘‘نواب ظفر اللہ خان نے پھر عرض کی۔’’ کہ یہ زمانہ طوائف الملوکی کا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ فرّخ سیر کے پاس جائوں اور اُسے مجھ سے کچھ بد گمانی ہو، اور لینے کے دینے پڑجائیں۔ کیونکہ سلاطین کی نگاہ میںآجکل امیروں وزیروں کا کچھ اعتبار نہیں رہا۔ اس پر حضرت میران بھیک صاحب نے فرمایا۔ کہ۔’’ افسوس ہے تم کو اب تک فقیروںکی بات پر بھروسہ نہیں پیدا ہوا مَیں کہتا ہوں کہ تو بے کھٹکے فرّخ سیر کے پاس چلا جا تیری ہر طرح ترقی اور عروج ہے‘‘۔ ۵؎
    نواب صاحب کو اب مرشد کے حکم کے سامنے سرجھکاتے ہی بنی۔ کھلی ہوئی کمر کس لی اور اُتری ہوئی تلوار پھر حمائل کر لی اور اس طرح یہ درویش سپاہی پھر میدانِ جنگ کے لئے تیار ہو کر فرّخ سیر کے پاس پہنچا۔ سیّد عبداللہ خان اور سیّد حسین علی خان گورنران یو۔پی و بہار نے ان کی بڑی تعریف کی اور فرّخ سیر سے کہا کہ یہ خود معرکہ لاہور میں شریک تھے۔ فرّخ سیر بھی ان تعلقات سے ناواقف نہ تھاجو شاہنشاہِ اورنگ زیب کے عہد سے اب تک خاندانِ شاہی سے چلے آتے تھے۔ ۶؎
    نواب ظفر اللہ خان بخشی سوم
    شاہنشاہِ فرّخ سیر نے بھی آپ کی خدماتِ سابقہ اور اس وفاداری کو جو اَب ان سے ظاہر ہوئی سامنے رکھتے ہوئے از راہِ قدر دانی فوراً نواب ظفراللہ خان کو اپنی افواج کا بخشی سوم کر دیا۔ یعنی کمانڈر انچیف درجہ سوم۔
    منصب پنج ہزاری
    بخشی سوم کے لئے جن لوازمات اور اعزازات کی ضرورت تھی اُن کو بھی نظر انداز نہ کیا اور آپ کو پنج ہزاری کا منصب جلیلہ عطا فرما کر ان کی قدر افزائی کو چار چاند لگا دیئے۔ اِسی پر بس نہ کی نواب ظفر خان رستمِ جنگ کا خطاب بھی مرحمت فرمایا۔
    الغرض فرّخ سیر کی جہاندار شاہ کی افواج سے جنگ ہوئی۔ نواب ظفر خان رستمِ جنگ نے نہایت بہادری، وفاداری اور شجاعت سے اس جنگ میں فرّخ سیر کا ساتھ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرّخ سیر کی فوج ظفر موج فتح و کامرانی کا پھریرا اُڑاتی ہوئی پنجاب پر قابض ہو گئی۔
    روشن الدولہ نواب ظفراللہ خان کی خدمات کا صلہ فتح کے بعد مزید انعامات اور اعزازات کے رنگ میں ظہور پذیر ہوا اور نواب ظفر خان رستمِ جنگ روشن الدولہ کے عالی قدر خطاب اور منصب ہفت ہزاری پر فائز ہوئے۔ اس طرح حضرت میران بھیک کے حجرہ درویشی میں بیٹھا ہوا خلوت نشین درویش سلطنتِ مغلیہ کا ایک آزمودہ کار جرنیل اور ایک مدبر اور دانشمند مشیر ثابت ہوا اور اب اُس کا پورا نام پورے القابات سے یوں لکھا اور پڑھا جانے لگا۔ نواب ظفر اللہ خان رستمِ جنگ، روشن الدولہ ہفت ہزاری۔ اس سارے قصے سے مجھے اس خاندان کے افراد کے متعلق یہ بتلانا ہے کہ وہ کس طرح اپنے جسم پر دیباوحریر کی عبائیں پہنے ہوئے ہوتے تھے مگر اندر ان کے جسم پر قباء درویشی ہوا کرتا تھا۔ وہ بیک وقت صاحبِ سیف و قلم ہی نہیں صاحبِ دل بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے زمانے کے ان لوگوں میں سے تھے جن پر ہندوستان کے امن کا قصر کھڑا تھا۔
    سیر کی وفات
    آخر وہ وقت آ گیا کہ فرّخ سیر اس جہان سے کوچ کر گیا اور محمد شاہ رنگیلا تخت نشین ہو گیا۔ محمد شاہ رنگیلا اگرچہ ایک رنگین مزاج بادشاہ تھا مگر اس نے بوڑھے جرنیل کو خوب سمجھا۔ اُسے ان کی وفاداری پر پورا بھروسہ تھا۔ اس لئے جو یہ کہتے وہی بادشاہ کرتے۔ اس سے بہت سے ارکانِ سلطنت ان سے جلنے لگے اور حسد کرنے لگے۔ بادشاہ فرّخ سیر نے ان کے سابقہ اعزازات میں یاروفادار کا اضافہ فرمایا۔آج یار وفادار وہ خطاب ہے جو برٹش سرکار میں صرف اعلیٰ حضرت حضور نظام دکن کو حاصل ہے۔ تو گویا مَیں کہہ سکتا ہوں کہ نواب ظفر اللہ خان کو آج کے لحاظ سے ہزایگزالٹڈ ہائی نس کا خطاب تھا اور اس طرح نواب ظفر اللہ خان نے اس وقت کا ہی نہیں بلکہ آج کے لحاظ سے بھی بڑے سے بڑا لقب اور بڑے سے بڑا منصب حاصل کیا۔ نواب ظفر اللہ خان کے متعلق مؤرخین نے لکھا ہے کہ اُن کی سواری بڑی شان سے نکلتی تھی۔ ان کے آگے سوار اشرفیاں بانٹتے چلا کرتے تھے۔ اُن کے سر پر کئی مرصّع جواہر طُرّے ہوا کرتے تھے۔ اُن کی سخاوت کی بڑی دھوم تھی۔۷؎
    ان حالات سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ نواب ظفر اللہ خان اپنے زمانہ کے ایسے امیر کبیر تھے جو بادشاہ کے بعد امورِ سلطنت کے مدار المہام تھے اور جن کے گھر میں سونا چاندی اور زر و جواہر کا کوئی شمار نہ تھا۔
    سُنہری مسجد
    نواب ظفر اللہ خان کو اپنے مرشد سے بڑی عقیدت تھی اور وہ اپنی ساری ترقیوں کو ان کی دعا اور برکت کا نتیجہ یقین کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے ۱۱۳۴ھ؁ میں حضرت میران بھیک کی وفات پر اُن کی یاد میں دہلی میں ایک مسجد چاندنی چوک میں کوتوالی کے قریب بنوائی اور اسے سر سے پائوں تک سونے میں غوطہ دے دیا کہتے ہیں کہ جب بادشاہ کی سواری چاندنی چوک سے گذرتی تو اس مسجد کو دیکھ کر بادشاہ خوش ہوتے تھے۔
    اس مسجد کی تاریخی حیثیت
    نادر شاہ ایران نے جب دہلی میں قتل عام کروایا تو وہ اس مسجد میں تلوار کھینچ کر آ بیٹھا تھا اور جب تک تلوار بے نیام کئے بیٹھا رہا قتل عام ہوتا رہا۔ اس واقعہ کی تفصیل کسی دوسری جگہ آئے گی۔ مگر یہاں اس قدر ذکر کرنا ضروری تھا کہ نادری قتلِ عام چونکہ ایک تاریخی واقعہ تھا۔ اس لئے تمام مؤرخین نے اس مسجد کا ذکر کیا ہے اور اب تک دنیا بھر سے آنے والے سیّاح اس مسجد کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس خوبصورت سنہری مسجد کی پیشانی پر یہ تاریخ کندہ ہے۔
    بہ عہد بادشاہ ہفت کشور

    سلیمان فر محمد شاہ داور
    بہ نذر شاہ بھیک آن قطب آفاق

    شد ایں مسجد بہ زینت در جہاں طاق
    خدا ربّانی است لیک از روئے احسان

    بنام روشن الدولہ ظفر خان
    بہ تاریخش ز ہجرت تا شمار است
    ہزار و یکصد و سی و چہار است
    (۱۱۳۴ھ؁)
    ایک اور سنہری مسجد
    پہلی سنہری مسجد سے ۲۳ برس بعد رفاہِ عام کے لئے فیض بازار میں عین سڑک پر دوسری سنہری مسجد تعمیر کروائی۔ یہ مسجد اب پوشیدہ ہو گئی ہے اور غلط العام کی وجہ سے اب قاضیوںکی مسجد کہلاتی ہے۔ اس مسجد کی تاریخ یہ ہے:
    روشن الدولہ ظفر خان صاحبِ جود و کرم

    کرد تعمیر طلائی مسجد عرش اشتباہ
    مسجدے کاندر فضائے قدریں آسمان

    کرد از خط شعاعی مہر جاروبی پگاہ
    حوض صاف اونشان از چشمۂ کوثر دہد

    ہر کہ از آیش وضو ساز و شود پاک از گناہ
    سال تاریخش رسائی یافت از الہامِ غیب
    مسجد چوں بیت اقصیٰ مہبطِ نورِ الہ
    (۱۱۵۷ھ؁)
    لاہور کی سنہری مسجد
    جہاں تک ہم کو معلوم ہو سکا ہے کہ لاہور ڈبی بازار کی مشہورسُنہری مسجد بھی روشن الدولہ نواب ظفر اللہ خان کی بنوائی ہوئی ہے۔ اس سے اس شوق کا پتہ چلتا ہے جو ان کے قلب میںموجزن تھا۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ بکثرت مسجدیں بنوائیںاور مسجدیں بھی ایسی ہوں جو اپنی خوبصورتی میں یکتا ہوں۔ جو شخص مساجد کیلئے اس قدر شوق اور محبت رکھتا ہو اس کے دل میںنماز کی پابندی اور باقاعدگی کا کس قدر شوق ہوگا یہ ظاہر ہے اس سے بآسانی معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ بھی وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی بھی دنیا کو دین پر مقدم نہ کیا تھا۔ آپ نے چورانوے سال پانچ ماہ کی عمر پائی اور دسویں ذالحجہ ۱۲۶۱؁ھ طلوع آفتاب کے وقت تکبیر تحریمہ پڑھتے ہوئے مرض سرطان سے وفات پائی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون- آپ کا مزار قدم شریف دہلی کے احاطہ میں ہے۔ سیر المتاخرین کے مصنف نے بوجہ متعصب شیعہ ہونے کے بہت کچھ ان کے خلاف لکھا ہے مگر اس کی کچھ حقیقت نہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے ایک مناسبت
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بہت سی باتیں حضرت اُمُّ المؤمنین کے خاندان سے ملتی ہیں جیسے کہ مَیں پہلے ایک مثال کا ذکر کر آیا ہوں۔
    حضرت مسیح موعودؑ کے خاندان کی درویشی
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ اگرچہ شاہی خاندان کے لوگ تھے۔ ہندوستان میں ورود سے قبل بھی وہ صاحبِ حشمت تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے درویشی کو اپنا شعار رکھا۔
    حضرت مرزا ہادی بیگ مورثِ اعلیٰ نے سلطنت کے جھمیلوں سے دور پنجاب کے ایک جنگل میں ایک بستی بسائی۔ اس کا نام اسلام پور رکھا۔ اس میں حفاظ اور علماء کا ایک جمگھٹا رہتا تھا۔ قال اللہ اور قال الرسول کے ہر وقت چرچے رہتے تھے۔۸؎
    یہ تھی ان کی امیری میں درویشی اور یہی حال حضرت اُمُّ المؤمنین کے بزرگوں کا رہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے مناصب سے حصہ وافر دیا تو اس وقت بھی یادِ الٰہی ان کے قلب سے محو نہ ہوئی۔
    تیسری مناسبت
    نواب ظفر اللہ خان روشن الدولہ رستمِ جنگ ہفت ہزاری شاہنشاہِ ہند فرّخ سیر کے زمانہ میں ہوئے ہیں۔ یہ حضرت اُمُّ المؤمنین کے خاندان کے
    مورثانِ اعلیٰ میں سے ایک تھے اور اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مورثانِ اعلیٰ میں عضد الدولہ میرزا فیض محمد خان صاحب ہفت ہزاری تھے۔ نواب ظفر اللہ خان نے بادشاہ کی مدد کے لئے تلوار اُٹھائی۔ مگر عضدالدولہ میرزا فیض محمد خان نے دو کام کئے۔ ایک تو یہ کہ اس خانہ جنگی سے فائدہ اُٹھا کر اپنی ایک خود مختار سلطنت کی بنیاد رکھنے کی کوشش نہیں کی باوجود اس کے کہ ۸۴ گائوں پر آپ کی حکومت تھی۔ علاقہ پر آپ کا اثر تھا آپ کے پاس باقاعدہ فوج تھی اور مال و دولت سے حصہ وافر تھا۔ الغرض وہ تمام چیزیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کوئی صاحب اثر خاندان طوائف الملوکی کے وقت اپنی سلطنت و حکومت قائم کرے۔ مگر اس خاندان کی شرافت و نجابت اور بزرگی نے بادشاہانِ وقت سے غداری نہ کرنی چاہی اور نہ کی۔
    دوسرے عضدالدولہ میرزا فیض محمد خان صاحب ہفت ہزاری جو سلکِ امراء میں اوّل درجہ کے امیر تھے انہوں نے فرّخ سیر شاہنشاہِ ہند کے حکم کے ماتحت لشکرِ فیروزی میں حاضر ہو کر مناسب خدمات سرانجام دیں جیسے فرمانِ شاہی سے واضح ہوتا ہے:
    ترجمہ منشور محمد فرّخ سیر غازی شہنشاہ ہندوستان۔
    محمد فرّخ سیر
    بادشاہ غازی دسہ
    حاجی علیخان
    بزرگوں و ہمسروں میں برگزیدہ میرزا فیض محمد خان شاہی دلجوئی یافتہ ہو کر جان لیں کہ اس وقت حضور فیض گنجور عرش آشیانی ظل سبحانی آپ کی وفا کیشی اور خیر اندیشی اور جان نثاری سے نہایت خوش ہوئے ہیں۔ اس لئے حکم جہان مطاع عالم مطیع نے صدور کا شرف حاصل کیا ہے کہ اس اخلاص نشان کو ہفت ہزاری امراء کی سلک میں منضبط کر کے اور جگہ دے کر عضدالدولہ کے خطاب سے مفتخر اور ممتاز کیا جاتا ہے۔چاہئے کہ اب لشکر فیروزی اثر میں اپنے آپ کو موجود اور حاضر کریں اور ہمیشہ عرش آشیانی کی درگاہ کے بندوںکی وفاکیشی اور خیر اندیشی میں مصروف اور ساعی رہیں۔۹؎
    اس جگہ مَیں مناسب خیال کرتا ہوں کہ عضد الدولہ اور ہفت ہزاری کی اس تشریح کو بھی درج کروں جو جناب مولوی عبید اللہ صاحب بسمل مرحوم نے سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ۱۵۲ اور صفحہ۱۵۳ کے آخر تک لکھی ہے۔
    ’’شہنشاہ ہند محمد فرّخ سیر کے منشور میں جو غفران مآب میرزا فیض محمد خان صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے نام ہے تین لفظ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
    ’’پہلا لفظ ہفت ہزاری کا ہے۔ دربارِ اکبری میں اراکین سلطنت کے مناصب کی تقسیم اس طرح سے شروع ہوئی تھی کہ ہشت ہزاری کا منصب ولی عہد اور خاندان شاہی کے شہزادوں کے لئے خاص تھا اور اراکین دربار و وزراء سلطنت ہفت ہزاری منصب سے ممتاز ہوتے تھے۔ شش ہزاری منصب بھی امراء کو بہت جاں نثاری کے بعد ملتا تھا۔ جس وقت گولکنڈہ کے فرمانروا ابوالحسن تانا شاہ کی سرکوبی پر شہنشاہ اورنگ زیب محمد عالمگیر نے تمام افواج ہندوستان کے سپہ سالار نواب غازی الدین خان بہادر فیروز جنگ کو دکن کی مہم سر کرنے کے لئے مامور فرمایا تو ان کوشَش ہزاری کا عہدہ دیا۔ چنانچہ اُس وقت کا نامہ نگار نعمت خان متخلص بہ عالی اپنی مشہور کتاب وقائع نعمت خاں میں لکھتا ہے:
    ’’دو ششے کہ آں شش ہزاری شش ہزار سوار زدہ بود‘‘
    ’’اس فقرہ میں شش ہزاری کے لفظ سے مطلب ہے کہ فیروز جنگ کو عالمگیر نے یہ منصب دیا ہوا تھا جو ہفت ہزاری سے بہت ہی کم تھا۔ ہفت ہزاری منصب کی نسبت شاہانِ مغلیہ کے عہد میں ایک ضرب المثل مشہور تھی۔ ’’ ہفت ہزاری شووہرچہ خواہی بکن‘‘۔ یعنی ہفت ہزاری کا منصب ایسا عالی ہے کہ اگر تجھ کو حاصل ہو جائے تو تیرے کام میں کوئی دخل دینے والا نہیں رہے گا۔ الحاصل ہفت ہزاری کا منصب شاہانِ مغلیہ کے عہد میں بہت وقیع و رفیع سمجھا جاتا تھا۔ تاریخ شاہد ہے۔
    ’’دوسرا لفظ عضد الدولہ کا خطاب ہے۔
    ’’تاریخ کی ورق گردانی سے ثابت ہوتا ہے کہ جب ہارون و مامون و معتصم کے بعد بنی عباس کی خلافت میں ضعف آ گیا اور اسلامی دنیا کے بعض حصوں میں متفرق خاندانوں میں حکومتیں برپا ہو گئیں تو ان میں سے دیالمہ کا خاندان بھی تھا جس کے چمکتے ہوئے فرمانروائوں کو استمالتِ قلوب کی وجہ سے خلافتِ بغداد کے دربار نے عضد الدولہ اور اس کے بیٹے کو رکن الدولہ کا خطاب دیا تھا۔ غالباً اسلامی تاریخ میں عضدالدولہ دیلمی ہی پہلا شخص ہے جس نے یہ معزز خطاب حاصل کیا ہے۔ اس کے بعد سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کو خلیفہ بغداد نے یمین الدولہ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ ایرانی سلطنتیں بھی خلفائے بنی عباس کی اتباع سے اپنے امراء دربار کو اعتضاد الدولہ، احتشام الدولہ وغیرہ کے خطابات دیتی رہی ہیں۔ہندوستان کی افغانی کنگڈم بھی علاء الملک، عماد الملک، خان جہان، خان دوران کے خطابات سے اپنے اپنے امراء و رئوسا کی دلجوئی کرتی رہی ہیں۔
    ’’مغل ایمپائر کے زریں عہد میں فرمانروایانِ اودھ کو شاہ عالم ثانی کی سرکار سے شجاع الدولہ اور آصف الدولہ کا خطاب ملا ہے۔ شاہ اکبر ثانی نے سرسیّد کو جواد الدولہ عارف جنگ کا خطاب دیا تھاجس کو سرسیّد کے ارادتمند آج تک ان کے نام کے ساتھ لکھتے چلے آئے ہیں۔
    ’’سرکار کمپنی نے بھی بغرض تالیفِ قلوب باتباع شاہانِ مغلیہ والیانِ ٹونک کو امیر الدولہ اور ان کے بیٹے کو وزیر الدولہ کا خطاب دیا تھا۔
    ’’اس داستان باستان کو طول دینے سے خاکسار کی غرض صرف یہ ہے کہ شہنشاہ فرّخ سیر کا منشور جو غفران مآب میرزا فیض محمد خان صاحب طاب اللہ ثراہ کے نام ہے۔ جس میں ان کو عضد الدولہ کے خطاب سے مخاطب کیا گیا ہے وہ والیانِ اودھ شجاع الدولہ اور آصف الدولہ اور والیانِ ریاست ٹونک کے خطابات امیر الدولہ و وزیر الدولہ اور نواب بنگالہ سراج الدولہ کے خطاب سے اور سرسیّد کے خطاب جواد الدولہ سے زیادہ قدیم اور زیادہ وقیع ہے کیونکہ فرّخ سیر شاہنشاہ ہندوستان تھا۔ اس کے بیٹے محمد شاہ کے بعد سلاطین مغلیہ شاہ عالم ثانی و اکبر شاہ ثانی نام کے بادشاہ رہ گئے تھے۔ خطاب دینے والے بادشاہوں کے لحاظ سے غفران مآب کا خطاب ایک ذی شان شہنشاہ کی طرف سے ہے‘‘۔
    الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین کے خاندان کے حالات پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔ ایک خاندان سمر قند (بخارا) سے آیا تو دوسرا خاندان بھی بخارا کے کسی دوسرے حصے سے آیا۔ ایک دہلی میں بادشاہ کی خواہش کے مطابق آباد ہوا مگر عملی طور پر دہلی سے دور رہا۔ تو دوسرا دہلی سے ویسے ہی دور جا کر مقیم ہو گیا۔ ایک خاندان نے اولیاء پیدا کئے اور بالآخر اُمُّ المؤمنین جیسی عصر حاضر کی سب سے بڑی باخدا خاتون پیدا کی تو دوسرے خاندان نے اس زمانہ کے راستباز اور پاکباز حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود کو پیدا کیا اور بالآخر نئی اور پرانی پیشگوئیوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ان دونوں خاندانوں کو ایک جگہ پر جمع کر دیا جس کی تفصیل اپنی جگہ پر آ سکے گی۔
    یہ حیرت کا مقام ہے۔ کسی انسان کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ اس طرح دو الگ الگ خاندانوں کو ایک دور دراز ملک سے لا کر ہندوستان میں جمع کر دے اور پھر دونوں کو مختلف حالات میں سے گذار کر ایک کر دے تا کہ پرانے اور نئے نوشتے پورے ہوں۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ ایک طرف تو خواجہ محمد ناصر صاحب کو بتلایا جاتا ہے کہ :
    ’’یہ روشنی مسیح موعود کے نور میں گم ہو جائے گی‘‘۔
    دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس رشتہ کی تحریک کی گئی اور اس تحریک کے متعلق مندرجہ ذیل امور سے آگاہی دی۔
    ۱۔ مَیں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔
    ۲۔ یہ سب سامان مَیں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی۔
    ۳۔ وہ قوم کے شریف اور عالی نسب ہونگے۔
    ۴۔ اس شہر کا نام بھی بتلایا گیا جو دہلی ہے۔
    ۵۔ یہ بیوی ایک مبارک نسل کی ماں ہوگی۔
    ۶۔ اللہ تعالیٰ اس نسل سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا۔
    ۷۔ اور اس نسل سے ایک وہ شخص بھی پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔
    ۸۔ وہ بیوی کنواری شادی میں آئے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی عرصہ دراز تک زندہ رہے گی۔
    ۹۔ تیری نسل ملکوں میں پھیل جائے گی اور یہ ذریت منقطع نہ ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔
    ۱۰۔ اس نسل کو خاندان کے دوسرے افراد پر یہ امتیاز ہوگا کہ یہی بڑھیں گے اور جدی بھائیوں کی ہر ایک شاخ کاٹ دی جائے گی۔ ہاں جو توبہ کریں گے بچا لئے جائیں گے۔
    یہ دس قسم کے نشانات جن کا ذکر تذکرہ میںموجود ہے جو اس شادی کے ساتھ وابستہ تھے اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت لفظ بلفظ اور حرف بحرف پورے ہو کر رہے۔ اس پیشگوئی کے اخیر میں فرمایا:
    ’’اے منکرو اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو۔ اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندے پر کیا تو اس نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم بھی پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے‘‘۔۱۰؎
    یہ آخری حصہ قرآن کریم کی اس تحدی کو پیش کر رہا ہے جو ان الفاظ میں ہے:
    وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُواْ شُہَدَائَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن- فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْافَا تَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ- ۱۱؎
    یہ تحدی قرآن کریم کے متعلق تھی اور آج تک کوئی دشمنِ اسلام اس تحدی کے خلاف کھڑا نہ ہو سکا۔ بالکل اسی تحدی کا جلوہ اس آخری دور میں ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس شادی کو ایک نشانِ خاص بنایا اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد کیلئے وعدے دیئے۔ ان کی کثرت نسل کی شہادت دی ان کے بڑھنے اور پھلنے، پھولنے اور پھیلنے کی بشارت دی۔
    پھر ایک موعود لڑکے کی بھی بشارت دی۔ یہ تحدی اس امر کی دلیل ہے کہ اس خاندان کا عالم وجود میں لانا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ یہ نشان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک ابدی دلیل ہے بشرطیکہ کوئی دیدۂ بینا ہو۔ پس یہ خاندان شعائر اللہ میں سے ہے جس طرح دیگر شعائر اسلام کا احترام قیامِ ایمان کیلئے ضروری ہے اسی طرح ان کا احترام، اِن کی محبت، ہمارے ایمان کا ایک جزوِ لاینفک۔
    حوالہ جات
    ۱؎ ابراہیم: ۳۸
    ۲؎ ماثر الامراء
    ۳؎ رسالہ ہوش افزاء مصنفہ حضرت خواجہ میر دردرحمۃ اللہ علیہ
    ۴؎ اقتباس الانوار مصنّفہ مولانا محمد اکرام صاحب براسوی، حدیقۃ الاولیاء
    ۵؎ میخانہ درد صفحہ۱۳
    ۶؎ تاریخ ہند دکاء اللہ خان
    ۷؎ ماثر الامراء
    ۸؎ ملاحظہ ہو حیات النبی حصہ اوّل
    ۹؎ ۱۹/ماہ شوال ۴ جلوس۔ سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ۱۴۸
    ۱۰؎ تذکرہ صفحہ۱۲۴
    ۱۱؎ البقرۃ: ۲۴،۲۵











    حضرت خوا جہ سیّد محمدناصر صاحب عندلیب





    حضرت خوا جہ محمد ناصر صاحب عندلیب
    دور ثانی
    نواب روشن الدولہ کی شادی سیّد لطف اللہ صاحب ابن سیّد شیر محمد صاحب قادری نبیرہ حضرت تاج الدین ابوبکر بن عبدالرزاق بن حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی دختر سے ہوئی تھی۔ اس نیک اور صاحبِ عصمت خاتون کے بطن سے حضرت خواجہ سیّد محمد ناصر صاحب عندلیب پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش ۱۱۰۵؁ھ میں ہوئی۔ آپ کی تاریخ پیدائش شاہ بیدل نے یوں لکھی:
    در وجود آمد چو ذاتِ آن ولی

    شد کمالاتِ امامت از جلی
    سال تاریخش مرا الہام شد

    وارثِ علم امامین و علی
    ۱۱۰۵؁ھ
    خواجہ محمد ناصر کی زندگی کا دَورِ اوّل
    حضرت خواجہ محمد ناصر کی زندگی پر دو دور آئے۔
    دورِ اوّل: پہلا دور تو یہ تھا کہ آپ ایک امیر ابن امیر اور نواب ابن نواب کے گھر میں گویا منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے۔ گھر میں زر و جواہر کے ڈھیر لگے ہوئے تھے چونکہ ایک طرف سے بلند مرتبہ سادات میں سے تھے اور دوسری طرف بلند مرتبہ ارکان حکومت میں سے اس لئے دنیا کی ہر قسم کی وجاہت حاصل تھی۔ گھر میں نوکر، چاکر، لونڈی، غلام موجود تھے اور دینی اعتبار سے عوام تو عوام شاہی خاندان کے دل میں بھی ادب تھا۔ ایسی صورت میں آپ کی شان و شوکت کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    آپ خوبصورت بھی تھے۔ جب آپ کی سواری نکلتی تو تماشائیوں اورمشتاقان کا ہجوم جمع ہو جاتا اور عوام تو عوام بڑے رئیس بھی سلام کے لئے ٹھہر جاتے۔ یہ میرا ذوقی امر ہے کہ ان کے چہرہ پر روشنی و درخشانی اس امانت کی وجہ سے تھی جو وہ اپنے صلب میں حضرت اُمُّ المونین نصرت جہان بیگم کے نام سے لئے ہوئے تھے۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو ایک نازو نعم میں پلے ہوئے انسان کو دنیا کا گرویدہ بنا دیتی ہیں اور وہ ایسا جکڑا جاتا ہے کہ اس کا ہر قدم خدا سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
    تعلیم
    اس زمانہ میں شُرفاء کی اولاد کی تعلیم گھروں پر ہی ہوتی تھی۔ اس دستور کے مطابق آپ نے علوم و فنون عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے دادا نواب فتح اللہ خان سے حاصل کی تھی۔ چونکہ
    باپ دادا بڑے بڑے مناصب پر فائز تھے اس لئے سپہ گری کے فن کو بھی کمال خوبی سے سیکھا۔
    فوج کی سرداری
    بیس برس کی عمر میں آپ شاہی فوج کے سردار بنائے گئے۔ عرصہ تک آپ یہ خدمت سرانجام دیتے رہے اور ان خدمات کے صلے میں آپ نے ان مناصب کے برابر مناصب حاصل کر لئے تھے جو آپ کے دادا نواب فتح اللہ خان صاحب کو حاصل تھے۔ لیکن یہ تمام مناصب اوریہ وجاہت اور یہ عزت اُن کے قلب کو مطمئن نہ کر سکتی تھی اور وہ اس دنیاوی ترقی اور وجاہت سے سخت متنفر تھے مگر صرف اپنے بزرگوں کی خاطر اور حکم سے محض براً بالوالدین اس غیر مرغوب خدمت کو بجا لاتے رہے۔
    حضرت خواجہ محمد ناصر کی اس بات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ بات بہت ملتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری بزرگوں نے جب اپنی مختصر سی حکومت ضائع کر دی یا منشاء الٰہی سے ضائع ہو گئی تو آپؑ کے والد حضرت میرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے اپنی ساری عمر اس جائیداد کے حصول اور دنیاوی ترقی کے لئے صرف کر دی۔ ان کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر صاحب ان کی منشاء کے مطابق دنیاوی کاروبار میں لگے ہوئے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کاموں سے سخت نفرت تھی وہ اپنی ایک الگ دنیا بنانی چاہتے تھے۔ جس میں سوائے خدا کے نام کے اور کچھ نہ ہو۔ مگر والد کی رضاء بھی ضروری تھی۔ وہ اس غیر مرغوب اور ناپسندیدہ کام کو ایک لمبے عرصے تک، کبھی ملازمت کی شکل میں، کبھی زمینداری کی شکل میں اور کبھی پیروی مقدمات کی شکل میں کرتے چلے گئے۔ مگر ان کادل کبھی نہ خوش ہوا اور نہ مطمئن۔ بالآخر مشیت الٰہی نے آپؑ کے والد کو اپنے حضور بلا لیا اب آپؑ آزاد تھے۔ آپؑ نے فوراً ہی خدمت دین کا کام جو اصل کام اور مقصدِ حیات ہے شروع کر دیا۔
    حضرت اقدسؑ کا ایک عجیب مکتوب
    ذیل میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا جو ایک گرامی قدر مکتوب درج کیا جاتا ہے۔ اس مکتوب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور علیہ السلام کس طرح اوّل عمر میں ہی سے اس دنیا سے متنفر اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ یہ مکتوب آپؑ نے اپنے والد ماجد میرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کی خدمت میں ایسے وقت میں لکھا تھا جب آپؑ بدوشباب میں تھے۔ یہ مکتوب بھی آپؑ کی پاکیزہ فطرتی اور مطہر سیرۃ کا ایک جزو ہے اور وہ یہ ہے:
    ’’حضرت والد مخدومِ من سلامت! مراسمِ غلامانہ و قواعدِ فدویانہ بجا آوردہ معروض حضرت والا میکند۔ چونکہ دریں ایّام برای العین می بینم و بچشمِ سرمشاہدہ میکنم کہ درہمہ ممالک و بلاد ہر سال چناں وبائے می اُفتد۔ کہ دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشاں جُدا میکند۔ وہیچ سالے نہ می بینم کہ ایں نائرہ عظیم و چنیں حادثہ ٔالیم در آن سال شورِ قیامت نیگفند۔ نظر برآن دل از دُنیا سرد شدہ ۔ و رُو از خوفِ جان زر د و اکثر ایں دو مصرع مصلح الدین سعدی شیرازی بیادمی آیندو اشکِ حسرت ریختہ می شود:
    مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار

    مباش ایمن از بازیٔ روزگار
    ونیز ایں دو مصرعہ از دیوانِ فرخ قادیانی نمک پاش جراحتِ دل میشود:
    بدنیائے دون دل مبند اے جواں

    کہ وقتِ اجل میرسید ناگہان
    لہذامی خواہم کہ بقیہ عمر درگوشہ تنہائی نشینم و دامن از صحبتِ مردم بچینم و بیادِ اوسبحانہ مشغول شوم۔ مگر گذشتہ را عذرے و مافات را تدار کے شود
    عمر بگذشت و نماند است جز از گامے چند

    بہ کہ دَر یاد کسے صبح کنم شامے چند
    کہ دُنیا را اساسے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے
    وائیس منخاف علٰی نفسہ من افت غیرہ والسلام‘‘
    اس خط کو غور سے پڑھنے پر عجیب معرفت ہوتی ہے کہ آپؑ کو آخری الہام جو اپنی وفات کے متعلق ہوا وہ بھی یہی تھا۔
    مکن تکیہ بر عمرِ ناپائیدار

    مباش ایمن از بازیٔ روزگار
    اور آپؑ نے یادِ الٰہی میں مصروف ہونے کے لئے جس طرح پر والد مکرم سے اجازت چاہی، اس میں بھی اسی سے استدلال فرمایا۔
    جلوت پر خلوت کو پسند کروں!
    اِس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی شہرت و عظمت کے طلبگار نہ تھے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق صافی رکھتے تھے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ آپؑ کو گوشہ گزینی سے اس قدر محبت تھی کہ آپؑ کبھی جلوت میں نہ آتے اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل مدنظر نہ ہوتی چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا:
    ’’اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے۔ کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے۔ تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ مَیں خلوت کو اختیار کروں۔ مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عالم میں انہوں نے نکالا ہے۔ جو لذت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے۔ مَیں قریباً ۲۵ سال تک خلوت میں بیٹھا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا۔ کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔ مجھے طبعاً اس سے کراہت رہی۔ کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں۔ مگر امرِ آمر سے مجبور ہوں۔ فرمایا مَیں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سَیر کرنے کو جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے امر کی تعمیل کی بناء پر ہے‘‘۔۱؎
    بالکل اسی طرح جب نواب فتح اللہ خان اور روشن الدولہ نواب ظفر خان فوت ہوگئے خواجہ محمد ناصر صاحب نے وجاہتِ دنیا کو لات مار دی فوراً بادشاہ محمد شاہ کے پاس جا کر استعفیٰ دے دیا۔ بادشاہ نے بہت منع کیا اور سمجھایا۔ مگر آپ نے یہی کہا کہ مجھے معاف کیا جائے مَیں اب یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتا۔
    الغرض اس نام و نمود اس منصب و جاہ اس دولت و حشمت کو۔ اس سلام و قلق کو، ان حکومت کی رنگینیوں کو یکدم چھوڑ کر نواب خواجہ محمد ناصر گھر کو آئے۔
    دوسرا دَور
    اب پھر اس خاندان کی زندگی پیچھے کی طرف لوٹی۔ درویشی کو حکومت پر فتح ہوئی۔ خواجہ سیّد محمد ناصر صاحب نے گھر میں جو کچھ زر و جواہر تھا سب خدا کے راستے پر لٹا دیا اور فقیر ہو گئے۔ محلّات کو چھوڑا اور بیوی بچوںکو لے کر ایک کھنڈر میں آ کر عزلت گزین ہو گئے۔
    میر عمدہ کا نالہ
    دہلی سے جو اس وقت شاہجہان آباد کے نام سے مشہور تھی پہاڑ گنج سے جانبِ غرب ایک قصبہ تھا جس میں میر عمدہ رہا کرتے تھے۔ یہاں ایک نالہ بھی بہا کرتا تھا۔ اس لئے مَرُورِ ایام سے اس جگہ کا نام بِگڑ کر برمدہ کا نالہ ہو گیا تھا اس میں تمام سادات خوافیہ رہتے تھے۔ میر عمدہ کا اصل نام سیّد محمد صاحب قادری تھا جو خواجہ محمد ناصر صاحب کے خسر تھے۔ اس جگہ نواب روشن الدولہ کا فیل خانہ تھا۔ شتر خانہ اور طویلہ تھانیز اس جگہ ان کا دیوانِ خانہ اور زنانہ محل بھی تھے۔ خواجہ محمد ناصر صاحب اور ان کی اولاد کی پیدائش بھی اس جگہ ہوئی تھی۔
    خواجہ محمد ناصر صاحب نے جب امارت اور دولت پر لات مار دی تو وہ پھر میر عمدہ کے نالہ پر آرہے جو شاہجہان آباد کے مقابل میں ایک کھنڈر سے زیادہ حقیقت نہ رکھتا تھا۔ ان بزرگوں کا یہاں ایک خاندانی قبرستان بھی تھا جہاں سب بزرگ دفن تھے۔الغرض اس قدیم خاندانی مقام پر آپ اپنے بیوی بچوں کو لے کر آگئے۔ اُن کے ساتھ اُن کے خاندان کے سب چھوٹے بڑوں نے جو شاہزادوں اور شاہزادیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے، درویشی کو اختیار کر لیا اور الفقر فخری کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔خواجہ محمد ناصر نے تلافی مافات کے لئے دن رات عبادت وریاضت کو اپنا معمول بنالیا۔
    خواجہ محمد ناصر کی دُعا
    خواجہ محمد ناصر نے مال و دولت اور منتعمانہ زندگی کو دین کے راستے میں سب سے بڑی ٹھوکر جانا۔ لِکھاہے۔کہ انہوں نے دعاکی کہ ’’ اے خدا! اگر میں سچ مچ بنی فاطمہؓ ہوں تو مجھے اتنا رزق نہ دے کہ میں لگاتار دو وقت کھانا کھائوں‘‘ چنانچہ بیا ن کرنے والے بیان کرتے ہیں۔ کہ ان کی یہ دعاقبول ہوئی۔اور تمام عمر آپ کے ہاں ایک وقت فاقہ ضرور ہوا کرتا تھا۔ کبھی کبھی دو دو دن تک بھی فاقہ رہتا۔ آپ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔ اور بکثرت چلّے کیا کرتے تھے۔جو پُرانے زمانے میں صوفیا کا طریق تھا۔ عبادت الٰہی کا یہ حال،کہ سردی کی لمبی راتیں اور گرمی کے پہاڑ سے دن عبادت میں گزار دیا کرتے تھے۔
    اپنی جان پر سختی
    حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب حصولِ عرفان اور تلافی مافات کے لئے اپنی جان پر بڑی سختیاں کیا کرتے تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد اپنے حجرہ میں داخل ہو جاتے تھے۔ اور حجرہ کا دروازہ بند کر لیتے اور دوزانو بیٹھ جاتے اور اپنے دونوں پائوں کو بالوں کی رسی سے مضبوط باندھ لیتے ۔ تاکہ جس جگہ بیٹھے ہیں وہاں سے جنبش نہ کر سکیں ۔یادِالٰہی میں ساری ساری رات جاگتے رہتے۔ اس پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے ایک لکڑی کا رول پاس رکھ لیتے۔ اگر کبھی نیند کا جھونکا آئے تو رول سے اپنے نفس کو خوب مارتے۔ اور مارتے مارتے نفس کو کہتے۔ کہ ’’ اے خطاکار! کیوں سو گیا تھا۔ آنکھ کیوں لگی اور خدا کی یاد سے کیوں غافل ہوا‘‘۔
    محویّت اور استغراق
    یہ حالت بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی ۔ کہ آپ پر کبھی محویّت اور استغراق کی حالت طاری ہو جاتی تھی۔ اور یہ حالت کئی کئی دن تک رہتی۔ مسجد کے نمازی اور گھر کے لوگ حجرہ سے جھانک کر دیکھا کرتے تھے۔ کہ کہیں فوت تو نہیں ہو گئے۔ مگر آپ کو یا تو وہ نماز میں اور یا مراقبے میں پاتے اسی قسم کی شدید ریاضت میں آپ کو بر سوں گزر گئے ۔
    وقت آپہنچا
    اسی طرح ایک دفعہ حجرہ میں بیٹھے بیٹھے سات دن اور چھ راتیں گذرگئیں۔ ساتویں رات بھی آدھی گذر چکی تھی ۔ موسم سخت گرم تھا۔ بُھوک اور پیاس کی سختی سے آپ پر ضعف کی حالت طاری تھی۔ طاقت ایک حدتک جواب دے چکی تھی۔ اسی کمزوری کی وجہ سے آپ کی آنکھ لگ گئی۔ کہ آپ نے رول اٹھا کر اپنے آپ کو مارنا شروع کر دیا۔ اسی وقت آزمائش کی گھڑی ختم ہوگئی۔ تاریک کمرہ یکدم غیر معمولی روشنی سے منور ہوگیا۔ اور ایک خوب صورت نوجوان جس کے سر پر ایک جواہر نگار تاج تھا۔ سامنے آیا اور آگے بڑھ کر آپ کا ہاتھ پکڑلیا۔ اور فرمایا۔ ’’اے محمد ناصر !یہ کیا جبر وستم ہے۔ جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے۔ تجھے معلوم نہیں ہے۔ کہ تو ہمارا لخت جگر ہے۔ اور تیرے بدن کی چوٹیں ہمارے دل پر پڑتی ہیں۔ اور تیری تکلیف ہمارے جدّ علیہ التحیۃ والثناء کو تکلیف دیتی ہے۔ اس لئے ہر گز ہر گز ایسا نہ کرنا‘‘۔خواجہ محمد ناصر یہ جلوہ دیکھ کر تھرّا گئے ۔ آپ نے عرض کی۔ کہ یہ سب تکلیف حصولِ عرفان الٰہی کے لئے میں اُٹھا رہا ہوں۔
    اس مکاشفہ میں انہوں نے دیکھا کہ اس بزرگ نے ان کو اپنے سینہ سے لگا کر علوم معرفت کو ان کے سینہ میں بھر دیا اور ان کی عالمِ روحانی میںبیعت بھی لی مگر اب تک خواجہ محمد ناصر صاحب کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ بزرگ کون ہیں۔ تب انہوں نے دریافت کیا کہ آپ اپنے اسم مبارک سے مجھے آگاہ فرمائیں اس پر انہوں نے فرمایا کہ:
    ’’میں حسنؓ مجتبیٰ بن علیؓ مرتضیٰ ہوں اور میں آنحضرت ﷺ کے منشاء کے ماتحت تمہارے پاس آیا ہوں تا تجھے ولایت اور معرفت سے مالا مال کروں۔‘‘
    ایک عظیم الشان پیشگوئی
    اس کے بعد حضرت امام حسنؓ نے فرمایا کہ:
    ’’ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔ اس کی ابتداء تجھ پر ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہو گا۔ ہم خوشی سے تجھے اجازت دیتے ہیں کہ اس نعمت سے جہان کو سیراب کر اور جو تجھ سے طالب ہو اس کو فیض پہنچا تا یہ سلسلہ پھیلے اور یہ ساعت جو ابھی کچھ دیر باقی رہے گی نہایت ہی مبارک ہے۔ اِس وقت تو جس شخص کو اپنے ہاتھ پر بیعت کر یگا اسے بقا باللہ کا مرتبہ حاصل ہو گا اور قیامت تک اس کا نام آفتاب کی طرح چمکتا رہے گا‘‘۔
    خواجہ محمد ناصر صاحب نے حضرت امام حسنؓ سے دریافت کیا کہ اس طریقہ کا نام کیا رکھا جائے تو انہوں نے اس کا نام طریقہ محمدیہ رکھا اور فرمایا:
    ’’ہمارا نام محمد ہے۔ ہمارا نشان محمد ہے۔ ہماری ذات ذاتِ محمد ہے اور ہماری صفات صفاتِ محمد ہیں۔ اس لئے اس طریقہ کا نام محمدیہ طریقہ ہے۔‘‘
    پھر یہ بھی فرمایا:
    ’’کہ اگرچہ تم اپنی مراد کو پہنچ گئے ہو مگر چونکہ دنیاوی زندگی میں بیعت بھی سنت محمدیہ ہے۔ اس لئے عالمِ ظاہر میں بھی کسی بزرگ سے بیعت کر لینا۔ ‘‘
    اس کے بعد وہ کشفی حالت جاتی رہی میں اس کشف کے متعلق پھر بحث کروں گا۔ اس وقت واقعات کا لکھنا مطلوب ہے۔
    پہلا مُرید
    حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو اس وقت یہ خواہش ہوئی کہ اگر اس وقت میرا منجھلا بیٹا ہو تو اسے میں اپنا مرید کر لوں تاکہ بقاباللہ کا مقام اس کو حاصل ہو۔ اس وقت حضرت خواجہ میردرد کی عمر ۱۳ سال کی تھی ان کو خیال آیا کہ وہ اپنی ماں کے پاس سو رہا ہو گا تاہم انہوں نے ارادہ کیا کہ خواجہ میر درد کو لا کر اپنی بیعت میں شامل کرلوں۔ حجرہ کا دروازہ کھولا باہر اندھیرا گُھپ تھا۔ نیچے پاؤں رکھا تو محسوس ہوا کہ حجرہ کی سیڑھی پر کوئی سو رہا ہے۔ دریافت کیا کون ہے؟ جواب آیا حضور میں ہوں خواجہ میر۔ خواجہ میر اپنے باپ کو زندہ دیکھ کر خوشی کے جوش میں رونے لگے۔ حضرت خواجہ محمد ناصر نے فرمایا کہ بیٹا روتے کیوں ہو۔ خداتعالیٰ نے ہم کو اپنی عنایت خاص سے عزت بخشی ہے۔ میرے ساتھ حجرہ میں آؤ۔ چنانچہ سارا واقعہ سنا کر اپنے تیرہ سالہ بچے خواجہ میر کو جو بعد میں میردرد کہلائے بقاباللہ کے مرتبہ پر روحانی طور پرتیرہ سال کی عمر میں بیعت کر کے فائز کر دیا۔
    حضرت خواجہ میردرد نے اپنی کتاب علم الکتاب میں لکھا ہے کہ حضرت حسنؓ کی روح ان کے ساتھ حجرہ میں سات دن تک رہی۔
    طریقہ محمدیہّ
    اس دن سے دنیا میں عالمِ تصوّف میں ایک جدید طریقہ طریقہ محمدیہّ کے نام سے جاری ہوا جسے براہِ راست رسول اللہ ﷺ کے فیض سے حضرت امام حسنؓ کی روح مبارک کے ذریعے حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو عطا کیا اور حضرت خواجہ میردرد اس سلسلہ محمدیہ میں مرید اوّل ہوئے۔
    اس واقعہ کا ذکر خواجہ میر اثر صاحب نے جو حضرت خواجہ میر ناصر عندلیب کے چھوٹے صاحبزادے تھے نے اپنی ایک کتاب بیان واقع میں اس مندرجہ بالا واقعہ کو فارسی نظم میں لکھا ہے۔ جس میں سے چند اشعار میں بطور نمونہ درج کر دیتا ہوں۔ فرماتے ہیں ؎
    فیض خاصے یافت از روحِ حسنؓ

    تخمِ آن را کشت اندر این چمن
    ہفت روزوشب میانِ حُجرہ بود

    پیش چشمش عالمے دیگر کشور
    گشت نازل عالمِ روحانیان

    در شہادت خارج از وہم وگمان
    ہمچنان بر یک عبادت باوضو

    اندریں مدت نشستہ قیدِاو
    جُز برائے پنج مکتوبی نماز

    کہ در حُجرہ نمیِ فرمود باز
    گوش چون صوتِ اقامت می شنود

    آمدہ بیرون امامت می نمود
    چون صلوٰۃِ فرض را دادے سلام

    می شد اندر حجرہ نے حرف و کلام
    آشنائے خواب و خور اصلا نشد

    ملتفت سوئے دگر اشیاء نشد
    گوئیا او قیدِ جسمانی نبود

    جُز ظہورِ نور رحمانی نبود
    روزِ ہفتم چونکہ دررا باز کرد

    پسر خود را وقفِ ایں راز کرد
    صادق آمد راست بروئے ایں خبر

    آنکہ می باشد پسر بہ پدر
    کائے سعادت مند بشنو ایں سخن

    داشت تشریف شریف این حسنؓ
    ایں سبب پیوستہ بودم در نماز

    حسبِ حکمِ عالیش کردم نماز
    نسبتِ خاصے عنایت کردہ است

    راہِ پیغمبر ہدایت کردہ است
    امرشد تا دعوتِ اُمّت کنم

    خلق را بر امر حق دعوت کنم
    دینِ ما دینِ محمدؐ ہست و بس

    خالص آئینِ محمدؐ ہست و بس
    ۲؎
    اس واقعہ کشف پر ایک نظر
    متصوفین ہندو دیگر بلا دوامصارکا یہ طریق رہا ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے لمبے مجاہدے اور بڑی بڑی محنتیں اور مشقتیں اپنے نفس پر وارد کر لی تھیں۔ وہ کم خوردن،کم گفتن،کم خفتن پر عمل کیا کرتے تھے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ روح جو ایک نورانی چیز ہے جسم کی دبیز اور موٹی چاردیواری میں قید ہے۔ انسان جو کچھ دیکھتا ہے وہ جسم کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور جو سنتا ہے وہ جسم کے کان سے سنتا ہے اور جو حظِّ نفس اُٹھاتا ہے وہ جسم کے نفس سے اُٹھاتا ہے۔ اسے اِس کوچہ کی خبر بھی نہیں ہوتی جس میں روح کی لطافتیں جاگزیں ہوتی ہیں۔
    رُوح کو خلود حاصل ہے اور جسم کو فنا۔ روح دنیا اور اس کے آخری کونوں تک دیکھ سکتی ہے اور سُن سکتی ہے۔ اس کی رَسائی دنیا کے کناروں اور آسمانوں تک ہو سکتی ہے۔ مگر انسان نے اسے کبھی چھوا تک نہیں اور اس کی طرف کبھی توجہ تک نہیں کی ۔ الاماشاء اللہ۔ لیکن صوفیائے کرام نے مختلف طریقوں سے جسم کو کمزور کیا اور روح کو نشونما دی تا کہ وہ ان بندھنوں سے آزاد ہو کر اپنا کام کر سکے۔ وہ ایک طرف تو جسم کو کم کھانے اور روزوں کے ذریعے کمزور کرتے۔ دوسری طرف عبادت و ریاضت سے روح کو قوت پہنچاتے تھے۔ چنانچہ اس اصل کے ماتحت حضرت خواجہ میرناصر نے اس جسم کو جس کا گوشت پوست سلطنت وحکومت کے نشہ اور مال و دولت سے پرورش شدہ تھا۔ خوب ہی عبادتوں و ریاضتوں کے ذریعے سے ہلاک و فنا کر دیا۔ تب الٰہی تجلی کا ظہور حضرت امام حسنؓ کے رنگ میں ان پر ہوا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے جمال کا پرتوہ انہی کے بزرگوں کے رنگ میں ڈالا کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کو اپنے والد کی صورت پر دیکھا۔ اس لئے حضرت امام حسنؓ کی شکل و صورت پر تجلی الٰہی کا ہونا کوئی بعیداز قیاس امر نہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا سے منقطع ہو جاتے ہیں۔ ان کو عالمِ بالا کے صدہا عجائبات دکھائے جاتے ہیں۔ جن کو وہ لوگ جو اہل بصیرت نہیں ہوتے نہیںسمجھ سکتے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے ان کو اپنے کلامِ پاک میں اعمیٰ قرار دیا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی وہ آنکھ نہیں ہوتی جس سے وہ اس نُور میں دیکھ سکیں ان کی تمام حِسیّں مردہ ہوتی ہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے:
    صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَایَرْجِعُوْنَ
    جو حواسِ خمسہ سے بے بہرہ ہو، اسے دنیا کی حقیقت کیا معلوم وہ ایک مُردہ لاش ہے جو گڑھے میں پھینک دی جائے گی۔ بالکل اسی طرح وہ لوگ جن کی روحانی حِسیّں مفقود ہو جاتی ہیں ۔ وہ عالمِ روحانیت میں مُردہ لاش کی طرح تصور کئے جاتے ہیں۔ کروڑوں کروڑ انسان ایسے ہیں۔ جن کو ماؤں نے تو جَن دیا مگر وہ عالمِ روحانیت میں کبھی پیدا نہیں ہوئے اور وہ اسی طرح مُردہ کے مُردہ ہی اس جہان سے اُٹھ جاتے ہیں۔
    انبیاء کا وجود
    اس لئے دنیا میں آتا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک دوسری دنیا سے آگاہ کریں۔ جو عالمِ روحانیت کی دنیا ہے اور وہ ان قواء کو نشوونما دینے کے طریقے بتلائیں جن سے انسان عالمِ روحانیت میں جاگزین ہو سکنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
    افسوس! کہ دنیا کو اس کوچہ کی خبر بھی نہیں اور اس حُسنُ و جمال سے آگاہ ہی نہیں جس کا تعلق روحانیت سے ہے اور جب انسان اس عالم میں پہنچ جاتا ہے تو وہ بے اختیار پکار اُٹھتا ہے
    کِس قدر ظاہر ہے نور اُس مبداء الانوار کا
    بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا
    چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا
    کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا
    اُس بہارِ حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
    مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا
    ہے عجب جلوہ تیری قدرت کا پیارے ہر طرف
    جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے تیرے دیدار کا
    چشمہ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
    ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا
    یعنی وہ اس دنیا میں کسی چیز کو سوائے اس نئی دنیا کے کچھ اور دیکھ ہی نہیں سکتا۔ ہر چیز اسے خدا کی طرف بلاتی ہے اور اسے ہر جگہ سے ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے۔ خدا ۔خدا۔خدا۔ وہ نئے نئے نظارے دیکھا کرتا ہے جو روحانی آنکھ کے اندھوں کو نظر ہی نہیں آ سکتے۔
    اس قریب کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں ان نظاروں کو ہم بکثرت دیکھتے ہیں۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی تجلی ان کو اپنے والد کی شکل میں نظر آتی ہے اور کبھی حضرت فاطمہ اور حضرت علی اور حضرت امام حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اپنے مکان میں دیکھتے ہیں۔ ۳؎
    کبھی رسول اللہ ﷺ سے بیداری میں ملاقاتیں ہوتی ہیں اور کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے اور ایک ہی برتن میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔کبھی حضرت نانکؒ سے باتیں ہوتی ہیں اور اپنے اسلام کا آپؑ پر اظہار کرتے ہیں۔ کبھی کرشن جی مہاراجؑ سے ملاقات ہوتی ہے۔پس جو اس کوچے کا واقف نہیں۔ اسے یہ باتیں ہنسی اور کھیل سے زیادہ نہ معلوم ہوں گی وہ ان لوگوں کی دماغی کیفیت کو ایک مجنون کی دماغی کیفیت سے ملانے میں دریغ نہ کرے گا۔ لیکن اسے کیا معلوم۔ کہ اس رنگین دنیا کے سوا ایک اور دنیا بھی ہے جو اسی دنیا میں پوشیدہ ہے اور اس جسم میں ایک اور جسم بھی ہے۔ جو اسی جسم میں پوشیدہ ہے۔ اس جسم کی آنکھیں بھی ہیں۔ جو اس وقت دیکھتی ہیں۔ جب یہ آنکھیںبند ہو جاتی ہیں اس کے کان بھی ہیں جو اس وقت سنتے ہیں۔ جب یہ کان بند ہو جاتے ہیں۔ اِسی لئے متصوفین کے نزدیک ایک اصطلاح یہ بھی ہے لب بندوگوش بندوہوش بند۔
    میں اپنے ذوق کی لہروں میںکہاں سے کہاں چلا گیا میں تو یہ لکھ رہا تھا کہ اس روحانی عالم میں امام حسنؓ کی روح کا ظہور بھی ایک حقیقت ہے۔
    روشنی سے کمرہ منور ہو گیا
    یہ بھی ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کِس سے پوشیدہ ہے۔ جب وہ جنگل میں اپنے اہل کو لیکر آ رہے تھے انہوں نے پہاڑ پر ایک آگ کو دیکھا۔ تو فرمایا۔
    فَقَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْا اِنِّیْ اٰنَسْتُ نَارً الَّعَلِّیْ اٰتِیْکُمْ مِّنْھَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ھُدًیO
    تم لوگ یہاں ٹھہر جاؤ۔ مجھے آگ نظر پڑی ہے۔ مَیں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی چنگاری لا سکوں۔ یا مجھے وہاں سے آگ کا ہی کچھ پتہ مل سکے۔
    پس یہ حقیقت ہے کہ عالمِ بالا کا روشنی کے ساتھ ایک بڑا تعلق ہے اور وہ اس سورج یا چاند یا ستاروں یا دوسری قسم کی روشنیوں کی مدد کا محتاج نہیں جب کسی انسان کو اس عالم میں لے جایا جاتا ہے۔ تو اسے روشنی ہی روشنی نظر آتی ہے۔ کیونکہ وہاں تاریکی کا کوئی مقام نہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کشف
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ایسے بہت سے پاکیزہ مکاشفات دکھائے گئے۔ چنانچہ ایک واقعہ جو آپؑ نے تحریر فرمایا یوں ہے:
    ’’حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جب کہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمرّ پاک سیرت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کیلئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجا لاؤں۔ سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا… اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے……اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبزو سرخ ایسے دلکش اور دلستان طور پر نظر آتے تھے۔ جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے۔ جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے۔ ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہو گی۔ جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔ یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہو گئی۔ یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔
    نوٹ: ’’یہ وقعہ اوائل ۱۸۷۶ء ؁کا ہے۔‘‘ ۴؎
    اس کشف میں ایک اور چیز جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو اسرارِ روحانی بغیر کسی ظاہری مُرشد کے سکھا دیئے گئے۔ بہت سے ظاہر پرست اس امر کی شدید مخالفت کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتامگریہ حقیقت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت ہمیشہ سے زندہ تھی۔ زندہ ہے اور زندہ رہے گی اس لئے وہ لوگ جو آپؐ کی ذات سے ایک تعلق پیدا کرتے رہے۔ یا کرتے ہیں یا کرتے رہیں گے۔ ان کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے حصہ ملتا رہا ہے۔ ملتا ہے اور ملتا رہے گا اس کی ہزار ہا مثالیں موجود ہیں۔
    میں ایک وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ اس کے منکر ہیں ان کو حضرت رسول اللہ ﷺ کے فیوض پر ایمان ہی نہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ مومنوں کو آنحضرتؐ پر درود بھیجنے کیلئے کیوں فرماتا۔
    یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً
    جب ہم درود شریف کے پاکیزہ تحفے حضور پُرنورؐ کی بارگاہ میں بھیجتے ہیں تو ہم کو بھی آپؐ کی بارگاہ سے ہمارے اخلاص‘ قلب کی صفائی‘ نورایمان کے مطابق برکات سے حصہ ملتا ہے۔ اس زمانہ میں سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ایک ہی انسان تھا جسے خدا تعالیٰ نے ان برکات سے اس قدر مالا مال کیا کہ اسے بروز محمد ﷺ بنا دیا۔ چنانچہ آپؑ تحریر فرماتے ہیں:
    ’’اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطّر ہو گیا۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ آبِ زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد ؐ کی طرف بھیجے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
    ’’ ایک مرتبہ الہام ہوا۔ جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔ یعنی ارادہ الٰہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔ لیکن ہنوز ملائِ اعلیٰ پر شخص مُحیٖ کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اس اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحیٖ کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے یہ کہا
    ھٰذَارَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوْلُ اللّٰہِ-
    یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اَور اس قول سے مطلب یہ تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسولؐ ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔‘‘ ۵؎
    پس آنحضرت ﷺ جو ایک زندہ نبی ہیں کے وجود سے اگر فیض نہ پہنچ سکتا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ درود شریف کی بھی ضرورت نہ رہتی۔
    ایک عظیم الشان پیشگوئی
    اس مکاشفہ میں ایک عظیم الشان پیشگوئی بھی فرمائی گئی کہ:
    ’’یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔ اس کی ابتداء تجھ پر ہوئی اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہو گا۔‘‘ ۶؎
    اس پیشگوئی کے الفاظ پر غور کرنے سے بآسانی معلوم ہو سکے گا:
    ۱۔ ’یہ ایک خاص نعمت تھی۔‘
    ۲ ۔ ’جو اس خاندان کے لئے محفوظ چلی آتی تھی‘۔
    ۳۔ ’اس کی ابتداء حضرت خواجہ محمد ناصر سے ہوئی‘۔
    ۴۔ اور اس ’نعمت‘ کا انجام مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہو گا۔
    اس پیشگوئی میں اس خاندان کی برکات کی مدت کو محدود کر دیا گیا کہ یہ برکت جو اَب تمہارے وجود سے شروع ہوتی ہے۔ ظہور حضرت مہدی ؑ تک رہے گی پھر یہ نعمت تمہارے خاندان سے ختم ہو جائے گی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظہور مہدی ؑ کا وقت اس پیشگوئی کے بعد جلد ہونے کا اظہار کیا گیا۔
    یہ پیشگوئی مکمل نہیں سمجھی جائے گی۔ جب تک میں حضرت خواجہ میردرد ؒ کی ایک تحریر کو اس کے ساتھ شامل نہ کر دوں۔ جو اس پہلی پیشگوئی کی تائید مزید اور تشریح مکمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
    ’’اور یہ نسبت محمدیہ الخاصہ حضرت امام موعود علیہ السلام کی ذات پر ختم ہو گی اور تمام جہان ایک نُور سے روشن ہو گا اور اس نّیراعظم کے انوار میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گُم ہو جائے گی۔‘‘ ۷؎
    اب دونوں پیشگوئیوں کو ملا کر پڑھنے سے یہ نتیجہ نکلے گا:
    جو نعمت حضرت خواجہ محمد ناصر پر نازل ہوئی اس کا انجام حضرت مہدی موعودؑ کے ظہور کے وقت ہو گا۔ مہدی موعود ایک نّیراعظم ہو گا جس کے انوار میں باقی تمام فرقوں کی ’’روشنی گم ہو جائے گی۔‘‘
    اللہ، اللہ کتنی واضح پیشگوئی تھی۔ جس میں یہ بھی بتلایا گیا کہ یہ طریقے، اور صوفیائے کرام کے طریقے ستاروں کا حکم رکھتے ہیں اور ستارے اِسی وقت اپنی روشنی سے منور کر سکتے ہیں جبکہ نیراعظم مطلعِ شہود پر نہ ہو۔ لیکن جب روشنی کا بادشاہ مطلعِ شہود پر جلوہ فگن ہوتا ہے۔ تو ستاروں کی روشنی پھر کسی کونظر نہیں آتی۔ بلکہ اس کی روشنی میں گُم ہو جاتی ہے۔ کیسی صاف اور واضح مثال سے اس پیشگوئی کو واضح کیا گیا۔
    ایک خاص نتیجہ
    اس پیشگوئی سے یہ بھی نکلتا ہے کہ محمدیّینّ کا حضرت مہدی موعود علیہ السلام سے کوئی خاص تعلق ہوگا کیونکہ محمدیّینّ پر اُتری ہوئی نعمت جہاں ایک طرف ختم ہو رہی ہوگی وہاں ایک دوسری نعمت کا آغاز ہو رہا ہوگا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پہلی نعمت کا آخری سرا مہدی موعود علیہ السلام کی نعمت کے ابتدائی سرے سے مل کر پھر نئی صورت میں اس کا آغاز ہو جائے گا۔
    چنانچہ بالکل ایسا ہی ہوا۔ حضرت خواجہ محمد امیر صاحب اس سلسلہ محمدیہ میں آخری خلیفہ تھے۔ جو ۱۰/ستمبر ۱۸۰۴ء؁ کو فوت ہو گئے اور ان کے بعد کوئی حقیقی جانشین نہ ہو سکا۔ اگرچہ خانہ پُری کے طور پر حضرت محمد امیر صاحب کے بیٹے خواجہ ناصر وزیر کو گدی نشین کر دیا گیا۔ مگر اُن کے بعد خانہ پُری بھی نہ ہو سکی۔ اب اِس خلافت کے اصل وارث حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ تھے جو مہدی موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی نصرت جہان بیگم کو جو ان تمام برکات اور نوروں کی حامل تھیں جو حضرت امام حسنؓ اور حسینؓ سے اُس وقت چلے آتے تھے۔ حضرت مسیح موعود مہدیٔ مسعود ؑ کے نکاح میں دے دیا۔ اس طرح وہ روشنی اس نیرِّ اعظم میں گم ہو گئی اور اس طرح اس خاندان کی روشنی کا آخری سرا جو خاتمہ کا سرا تھا مہدی موعودؑ کے ابتدائی سرے سے مل کر نئے روپ، نئی شان، نئے رنگ میں ظہور پذیر ہوا۔
    جن کی آنکھیں ہیں دیکھیں اور جن کے کان ہیں سن لیں اور جن کو دل و دماغ میسّر ہیں وہ سوچیں کہ کیا یہ انسانی تدابیر ہیں۔ کیا یہ سوچا ہوا منصوبہ ہے۔ کیا کوئی اس طرح انسانی تدابیر سے خدا کی مقرر شدہ تقدیروں کو بدل سکتا ہے۔ ہر گز نہیں۔ پس دیکھو آفتابِ صداقت چڑھ آیا ہے اس کو دیکھ کر تمہاری آنکھیں کیوں چندھیا گئیں اور کیوں تم قبولِ حق کے لئے آگے نہیں بڑھتے۔ یہ پیشگوئی جو بڑی وضاحت سے پوری ہوئی ایک اتمامِ حجت ہے۔ جس کے بعد کوئی جائے فرار نہ رہے گی۔
    اب صوفیوں کا کوئی فرقہ خدا تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس لئے کہ اب اُن کی روشنی اس نَیرِّ اعظم کی روشنی میں گم ہو چکی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے صوفیوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:
    وہ جو کہلاتے تھے صوفی کیں میںسب سے بڑھ گئے
    کیا یہی عادت تھی شیخِ غزنوی کی یادگار
    کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابرار ہیں
    پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحی رحماں کی پھوار
    پھر وہی نافہم ملہم اوّل الاعداء ہوئے
    ہو گیا تیرِ تعصّب اُن کے دل میں وار پار
    دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اس ستّار کی
    گو سناویں ان کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار
    صوفیا اب ہیچ ہے تیری طرح تیری تراہ
    آسماں سے آگئی میری شہادت بار بار
    پھر فرمایا:
    آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر
    دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار
    سلسلہ محمدیہّ
    اس سلسلہ کا نام کشفی حالت میں سلسلہ محمدیہّ خالصہ رکھا گیا۔ دراصل یہ لوگ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے لئے راستہ صاف کرنے والے تھے۔ اس نسبت محمدی کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایک بڑی نسبت تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔
    بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے قبل ہی لوگ تبلیغ دین اور خدمتِ اسلام کا کام کر رہے تھے۔ اس لئے اس خدمت کا یہ صلہ تو نہیں تھا کہ ان کو مٹا دیا جاتا بلکہ یہ تھا کہ ان کو اور مضبوط و مستحکم کیا جاتا۔ اسی کی طرف اس الہام الٰہی میں اشارہ تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام میں ہو کر ان محمدیان کا پائوں اور بھی بلند و محکم ہو گیا۔
    روشنی اور منار
    حضرت خواجہ سیّد محمد ناصر صاحب کو کشف میں روشنی دکھائی گئی۔ روشنی دی گئی۔ مسیح موعود ؑ کا نام نَیرِّ اعظم (خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات میں آپ کو شمس و قمر کے نام سے بھی پکارا گیا) رکھا جو روشنی کا منبع اور مصدر ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں جو لفظ منار رکھا گیا تھا اس کو اس روشنی سے نہ صرف ایک نسبت ہی تھی بلکہ اس روشنی کا مقام اونچا کر کے بھی دکھایا گیا۔ یہ باتیں اس کشف میں غور طلب ہیں اس لئے مَیں نے ایک لمبی اور مفصل بحث اس پر کی۔ ابھی اس کشف کے بعض دوسرے غوامِض بھی ہیں جو اپنی جگہ پر واضح کئے جائیںگے۔ وباللّٰہ التوفیق
    یہ امر بھی یاد رہے کہ دنیا میں تصوف کے بہت سے طریقے ہیں۔ شادلی، رفاعی، چشتی، صابری، سہروردی، نظامی وغیرہ وغیرہ۔ مگر فرقہ محمدیہ صرف اور صرف ایک یہی تھا۔
    حضرت شیخ سعداللہ صاحب عرف شاہ گلشن صاحب مجددی نقشبندی کی صُحبت
    حضرت خواجہ میر محمد ناصر صاحب کو اس ارشاد کے ماتحت جو حضرت امام حسنؓ کے ذریعے حاصل ہوا تھا کہ ظاہری طور پر بھی کسی کی بیعت کر لینا۔ کسی بزرگ کی جستجو ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے یہ پسند کیا کہ وہ حضرت شاہ گلشن صاحب نقشبندی کی طرف رجوع کریں جو حضرت بہاء الدین نقشبند کے سلسلہ نقشبندیہ میں اس وقت دہلی میں شہرت کامل رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب نے ان کے پاس حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا۔ انہوں نے ان کی عظمت اور نیکی کے مقام کو جانتے ہوئے بیعت لینے سے عذر کیا۔ البتہ یہ کہا کہ آپ کبھی کبھی میرے فقیر خانہ پر تشریف لایا کریں۔ ۸؎
    ’’جو کچھ مجھے آتا ہے بغیر بیعت کے آپ کو بتا دونگا۔نیز چونکہ آپ صاحبِ مذاق شعر و شاعری کے بھی ہیں اور فقیر بھی موزون طبع ہے۔ اس لئے نظم و نثر کی بھی مشق رہے گی‘‘۔
    اس زمانے میں تمام امراء کے بچے اور شاہزادے اور شعراء اور علماء فضلاء، ادباء، حکماء سب آپ کی مجلس میں حاضر ہواکرتے تھے اور بڑی علمی مجلسیں قائم ہوا کرتی تھیں۔ میرزا عبدالقادر صاحب بیدل جو اس زمانہ کے مشہور شعراء میں سے تھے، آپ کی مجلس میں مؤدّب بیٹھاکرتے تھے اور شمس ولی اللہ ولی جن کو مصنف آبِ حیات نے صفحہ۸۸ پر نظم اُردو کا آدم لکھا ہے۔ آپ کے مرید اور شاگرد تھے۔
    ولی کے متعلق مولانا آزاد نے لکھا ہے:
    کہ ولی اللہ کی برکت نے اُسے وہ زور بخشا کہ آج ہند کی شاعری نظم فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں۔ تمام بحریں فارسی کی اُردو میں لائے۔ شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا۔ ردیف وار دیوان بنایا۔ ساتھ اس کے رباعی، قطعہ مخمس اور مثنوی کا ستہ بھی نکالا۔ انہیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی نظم میں چاسر شاعر کو اور فارسی میں رودکی کو اور عربی میں مہلہل کو۔ ۹؎
    ان کی وجہ سے اُردو زبان میں بڑی ترقی ہوئی تھی۔ وہ احمد آباد گجرات کے رہنے والے تھے۔ مگر دلّی میں سکونت پذیرہوگئے تھے۔ ایک شعر میں کہتے ہیں۔
    دل ولی کا لے لیا دلّی نے چھین
    جا کہو کوئی محمد شاہ سون۱۰؎
    الغرض شاہ گلشن کی صحبت میں ہر قسم کے باکمال علم و ادب جمع ہوا کرتے تھے۔ شاہ گلشن صاحب کے کہا جاتا ہے کہ دو لاکھ کے قریب شعر تھے مگر اب ان کا کوئی دیوان موجود نہیں۔ بعض اشعار ادھر اُدھر سے دستیاب ہوتے ہیں۔ آب حیات میں بھی دو شعر لکھے ہیں:
    گشتم شہید تیغِ تغافل کشیدنت

    جانم زدست بُرد غزالانہ دیدنت
    بدقت میتوانی فہمد معنی ہائے نازِ او

    کہ شرح حکمت العین است مژگانِ داز او
    ۱۱؎
    ایسے علامہ اور فاضل اجل اور ادیب کبیر کی صحبت میں حضرت خواجہ محمد ناصر آنے جانے لگے۔
    خواجہ محمد ناصر صاحب کی بیعت ظاہری
    کچھ دنوں کے بعد جناب شاہ گلشن صاحب آپ کو اپنے مرشد زادہ خواجہ محمد زبیر صاحب کے پاس لے گئے۔ انہوں نے آپ کو دیکھ کر خندہ پیشانی سے اپنا مرید کر لیا۔ خواجہ محمد زبیر صاحب کا سلسلہ درویشی بھی سیّد خواجہ بہاء الدین صاحب نقشبند رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چلتا ہے۔ خواجہ محمد زبیر صاحب نے بیعت لے کر اسی وقت ان کو بھی بیعت لینے کی اجازت دے دی۔ ۱۲؎
    ان کا یہ خاندان حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان تھا۔ وہ اورنگ زیب کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور ۴/ ذیقعدہ ۱۱۵۲ھ؁ کو محمد شاہ کے زمانہ میں دلّی میں فوت ہوئے اور سرہند میں دفن کئے گئے۔ اس طرح سے آپ کی ظاہری تکمیل بھی ہوگئی۔ مَیں لِکھ چکا ہوں کہ خواجہ محمد ناصر صاحب شاہجہان آباد کو چھوڑ کر میر عمدہ کے نالہ پر آ رہے تھے جو شاہجہان آباد کے مقابلہ میں ایک اُجاڑ اور قصبہ تھا۔ مگر ان کے خاندان کے قدیم مکانات اسی جگہ تھے۔ جب ان کی درویشی کا چرچہ اور شہرہ ہونے لگا تو بادشاہِ وقت نے برمدہ کے نالہ پر بنفسِ نفیس پہنچ کر خواجہ محمد ناصر اور خواجہ میر درد کی زیارت کی اور چاہا کہ وہ اس ویران مقام کو چھوڑ دیں۔ مگر آپ نے اسے پسند نہ فرمایا۔ اس وقت مشائخ و سادات عام طور پر شاہجہان آباد دلّی کو ایک چھائونی خیال کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ شرفاء کی بہو بیٹیوں کو چھائونیوں میں نہیں رہنا چاہئے۔ لیکن رفتہ رفتہ ہندو مسلم شرفاء پُرانی دلّی سے نکل کر شاہجہان آباد میں آباد ہونے لگے اور پرانی دلّی اُجڑتی چلی گئی حتیّٰ کہ پانی لانے کے لئے سقّے اور صفائی کے لئے حلال خوری تک نہ ملتی تھی۔ بنئے، بقال، کنجڑے، قصائی سب پرانی دلّی سے منتقل ہو کر شاہجہان آباد میں آ گئے مگر یہ گھرانا پھر بھی نہ اُٹھا۔ خواجہ محمد ناصر صاحب نے متعدد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ مگر افسوس کہ وہ سب کتابیں غدر کے ایام میں مفقود ہو گئیں کیونکہ قلمی نسخے تھے۔ ایک کتاب نالۂ عندلیب جو ایک ہزار آٹھ سو صفحہ کی بڑی تقطیع پر لکھی تھی جسے نواب شاہجہان بیگم صاحبہ بیگم بھوپال نے طبع کرایا تھا اور اب یہ کتاب پھر تقریباً نایاب ہو گئی ہے۔ مگر ہمارے سلسلہ کی لائبریری جو احمدیہ جوبلی ہال میں ہے۔ وہاں حضرت مولانا ابوالحمید صاحب آزاد مرحوم وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد کی وقف شدہ کتابوں میں ایک نسخہ موجود ہے۔ کتاب فارسی زبان میں ہے۔ نالہ عندلیب تصوف کی کتاب ہے۔ مثنوی مولانا روم کی طرح بہت سی باتیں کہانیوں کے رنگ میں لکھی ہیں۔ جگہ جگہ فارسی اشعار سے اسے مزین کیا ہے۔ یہ اشعار ان کے اپنے ہی ہیں۔ انہوں نے کلام کو اور بھی جاذبِ نظر اور ملیح بنا دیا ہے۔ مثنوی مولانا روم تو نظم میں ہے۔ مگر یہ کتاب نثر میں ہے اور خوب ہے۔ اس مختصر کتاب میں ہم ان کی اس کتاب سے بہت کچھ لکھ نہیں سکتے تا ہم مختصر طور پر چند باتیں اس کتاب میں مَیں دوسری جگہ درج کر دوں گا تا کہ اُن کے خیالات اور فرقہ محمدیہّ کے حالات پر ایک نظر پڑ سکے۔ اس لئے بھی کہ اُن کے خیالات ہمارے سلسلہ کے خیالات سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں اور پڑھنے والوں کو ایک بڑی حد تک موازنہ اور مقارنہ کرنے کا موقع مل سکے گا۔ یہاں اس قدر درج کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسرارِ تصوف میں یہ ایک بے نظیر کتاب ہے۔ مصنف نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے:
    ’’کہ عرش سے فَرش تک جو کچھ کون و مکان میں ہے اس کی امثال اور نمونے اس کتاب میں بہم کئے ہیں‘‘۔ ۱۳؎
    اور یہ بھی لکھا ہے:
    ’’کہ میری یہ کتاب الہامی کتا ب ہے اور مَیں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ مکاشفہ اور معائنہ سے کیا ہے اور خوبی یہ ہے کہ تمام مکاشفے اور الہام قرآن پاک اور حدیث صاحبِ لولاک کے مطابق اور موافق ہیں اور مرکز شریعت سے بال برابر اِدھر اُدھر نہیں ہیں‘‘۔ ۱۴؎
    اس بیان کے پڑھنے سے مندرجہ ذیل امور کی وضاحت ہوتی ہے۔
    ۱۔ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب الہامِ الٰہی کا دروازہ بند نہیں سمجھتے تھے۔
    ۲۔ نیز ان کے نزدیک کشف اور معائنہ کا دروازہ بھی کھلا تھا۔
    ۳۔ الہامات الٰہیہ کے جاننے کے لئے معیار قرآن کریم اور حدیث نبوی کو ہی ٹھہرایا گیا تھا جو الہامات قرآن کریم اور احادیث یا مرکز شریعت کے خلاف ہوں وہ کبھی بھی آسمانی کلام نہیں ہو سکتے۔
    لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی اصل کو پیش فرمایا تو اس زمانے کے علمائِ سُوء نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ وہ الہام کے قطعی منکر ہو گئے۔ ان کے نزدیک مکالمہ اور مکاشفہ الٰہیہ اب کسی کو حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ باتیں درست ہوتیں تو اس زمانہ کے بزرگ اور مقتدر علماء جن میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی اور حضرت مولانا محمد فخر الدین صاحب جیسے بزرگ جو ان کے معاصرین میں سے تھے اور انہی کے محلے میں رہتے تھے، کیوں خاموش رہتے۔ ان بزرگ علماء کی طرف سے یہ سننے کے بعد کہ خواجہ محمد ناصر مدعی الہام و مکاشفہ ہیں اور اپنی کتاب کو الہامی کتاب قرار دیتے ہیں خاموش رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک ایسا دعویٰ کرنا شریعت الٰہیہ کے خلاف نہ تھا۔ پس یہ ایک حجت ہے کہ اس زمانے کے علماء اور صوفی اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اسلام ایک ایسا زندہ مذہب ہے کہ جو خدا دانی اورخدا نمائی کا ذریعہ ہے اور انسان اس مذہب کے ذریعے مکالمہ الٰہیہ اور مکاشفہ الٰہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے۔ لیکن آج کل کے علمائِ سُوء جادۂ صواب سے منحرف ہو گئے جنہوں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ان دَعاوی کی مخالفت کی اور ان کو شریعتِ الٰہیہ کے خلاف قرار دیا۔
    حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جو کچھ لکھا اور کہا وہ مکالمہ الٰہیہ اور مکاشفہ الٰہیہ اور ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کے بعد لکھا اور کہا۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:
    ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
    نُور ہے نُور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے
    آج ان نُوروں کا اِک زور ہے اس عاجز میں
    دل کو ان نُوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے
    جب سے یہ نُور ملا نُورِ پیمبرؐ سے ہمیں
    ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے
    مصطفیؐ پر تیرا بیحد ہو سلام اور رحمت
    اُسؐ سے یہ نُور لیا بار خدایا ہم نے
    ربط ہے جانِ محمدؐ سے میری جاں کو مدام
    دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
    اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس زمانے کے علماء اس زمانے کی نسبت زیادہ سیاہ دل ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو آسمان کی آواز سنائی نہ دی۔نالۂ عندلیب بڑی مقبول ہوئی۔ شاہان دہلی اور امرائے دہلی اور صوفیائے کرام نے اس کتاب کی نقلیں کروائیں اور سنہری اور لاجور دی جدولوں کے ساتھ ان کے اوراق سجائے گئے اور کتب خانوں میں رکھی گئیں۔
    آپ کا ایک الہام
    ایک دفعہ آپ کو یہ الہام ہوا:
    ’’ہم نے تمہارے نام کو پسند اور مقبول فرمالیا اور تمہاری اولاد، اور تمہارے معتقدین اور مُریدوں کے لئے اس میں دونوں جہان کی برکات داخل فرما دیں۔ جو شخص ازراہِ عقیدت لفظ ناصر کو اپنی یا اپنی اولاد کے نام میں شامل کرے گا۔ اس کی برکت سے ہمیشہ مظفر و منصور رہے گا اور آتش دوزخ اس پر حرام کر دی جائے گی اور جو شخص اپنی کتاب یا خط کی پیشانی پر ’’ھُوَالنَّاصِر‘‘ تحریر کرے گا۔ اس کتاب اور خط کے مطالب کو کامیابی ہو گی۔‘‘ ۱۵؎
    اس بناء پر آپ نے یعنی حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب نے اپنا نام دلیل الناصر رکھا اور اس کے بعد آپ کی تمام اولاد ذکورواناث کے ناموں میں لفظ ناصر ایک جزو قرار دیا گیا۔ یہاں تک اپنے غلاموں کے نام بھی ناصر قلی اور ناصر بخش وغیرہ رکھے گئے۔ حتی کہ جس چیز پر وہ بیٹھ کر سہارا لیتے تھے اس کا نام بھی ناصری رکھ دیا گیا۔
    ایک عجیب اتفاق
    جیسے کہ پیشگوئی تھی کہ ’’یہ نسبت حضرت امام موعود علیہ السلام کی ذات پاک پر ختم ہو جائے گی اور تمام جہان ایک نور سے روشن ہو گا اور اس نَیرِّاعظم کے انوار میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گم ہو جائے گی۔‘‘
    بالکل اس پیشگوئی کے مطابق سب فرقوں کی روشنی گم ہو گئی اور فرقہ محمدیہّ خالصہ بھی ختم ہو گیا اب ان کے ناموں میں بھی وہ بات نہ رہی۔ مگر حضرت اُمُّ المؤمنین نصرت جہان بیگم کے ذریعے کسی خاص قصد سے نہیں بلکہ خود بخود یہ چیز سلسلہ احمدیہ اور خاندان نبوت میں منتقل ہو گئی۔ صاحبزادگان میں سے میرزا ناصر احمد صاحب، میرزا منصور احمد صاحب، صاحبزادیوں میں سے صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ، منصورہ بیگم صاحبہ۔ لفظ ناصر کے حامِل ہیں۔ ناصر آباد ایک محلہ کا نام رکھا گیا۔ نصرت گرلز سکول ایک مدرسہ کانام رکھا گیا۔ النصرت حضرت میرزا ناصر احمد صاحب کی کوٹھی کا نام رکھا گیا اور اس طرح وہ لفظ ناصر بھی سلسلہ محمدیہّ سے منتقل ہو کر سلسلہ احمدیہ میں آ گیا۔ جماعت میں ہزارہا افراد کے نام کے ساتھ ناصر کا لفظ استعمال ہونے لگا۔
    عبداللہ ناصر مجھے یاد ہے کہ میرا ایک عزیز بھائی تھا۔ جس کا نام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے عبداللہ رکھا تھا۔ حضرت میرناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ازراہِ شفقت و محبت حضرت والد صاحب کے پاس اکثر تشریف لایا کرتے تھے نے دریافت فرمایا۔ بچے کا کیا نام رکھا ہے۔ حضرت والد صاحب نے فرمایا کہ حضرت نے عبداللہ نام تجویز فرمایا ہے۔ اس پر حضرت میر صاحب نے فرمایا کہ اس کے ساتھ ناصر کا اضافہ کر دو۔ چنانچہ ان کے فرمانے پر اس کا نام عبداللہ ناصر کر دیا گیا۔ خدا کی قدرت اس کی زندگی تھوڑی تھی وہ ڈوب کر فوت ہو گیا۔ ہمارے خاندان میں لفظ ناصر بہت پسند کیا گیا۔ چنانچہ عزیزم شیخ ابراہیم علی عرفانی میرے چھوٹے بھائی کے لڑکی ہوئی تو اس کا نام ناصرہ رکھا گیا۔ خدا کی قدرت یہ بچی بھی پندرہ سولہ سال کی ہو کر فوت ہو گئی۔ تب یہ دونوں نام عزیزم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی کے بچوں کی طرف منتقل ہو گئے چنانچہ ان کے ایک لڑکے کا نام محمد زکریا ناصر رکھا گیا اور بچی کا نام صدیقہ ناصرہ۔
    الغرض اس طرح سلسلہ احمدیہ میں لفظ ناصر بکثرت پھیل گیا اور مکانوں ،محلوں اور مدرسوں تک کے ناموں میں لفظ ناصر کا استعمال ہونے لگا۔
    خطوں اور کتابوں کی پیشانی پرھُوَ النَّاصِر
    محمدیہّ الخاصہ تو اب اپنے خطوں اور کتابوں پر اس پیشگوئی کے مطابق الناصر نہیں لکھتے مگر یہ چیز بھی سلسلہ احمدیہ میں منتقل ہو گئی۔حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اپنی تمام تحریروں پر اپنی ایک رؤیا مبارکہ کی بناء پر (اس رؤیا کا تفصیلی ذکر خود ان کی سوانح میں آئے گا) ہمیشہ یہ عبارت لکھا کرتے ہیں:
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھُوَالنَّاصِرُ
    آپ کی ہر کتاب پر اور تصنیف پر یہ عبارت کنندہ ملے گی۔ چنانچہ جماعت احمدیہ کے مضمون نگار اور مصنف بھی جب کوئی اہم تحریر لکھتے ہیں تو اس عبارت کا استعمال کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ قادیان کے محلہ جات میں پھرنے والے انسان کو بہت سے مکانوں کی پیشانی پر یہی عبارت لکھی ہوئی نظر آئے گی۔ مثال کے طور پر میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے مکان کی پیشانی کا ذکر کر سکتا ہوں اور خود ہمارے گھر میں عزیز مکرم یوسف علی عرفانی کے مکان پر ھُوَالنَّاصِرْ لکھا ہوا موجود ہے اور اسی طرح اور بہت سے احباب کے مکانوں پر بھی یہ لکھا ہوا ہے۔اس طرح خواجہ محمد ناصر کے گھرانہ کی ہرچیز اُمُّ المؤمنین کے وجود کے ساتھ ہی سلسلہ احمدیہ میں منتقل ہو آئی۔ ہر وہ شخص جسے ایک ذرہ بھی ایمان اور بصیرت سے حصہ ملا ہے وہ اس مقارنہ اور موازنہ سے اپنے ایمان میں ایک نئی لذت محسوس کرے گا۔یہ قدرت الٰہی کے نوشتے ہیں جو پورے ہو کر رہے۔ کس انسان کی طاقت تھی کہ وہ ان چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق بنا لے۔ اگر یہ انسانی تدابیراور ہوشیاریوں کا نتیجہ ہے تو چاہئے کہ کوئی اور شخص بھی اس میدان میں قدم رکھ کر دنیا کو محوِ حیرت بنائے۔ مگر نہیں! نہیں!! ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ انسانی مکرو دجل کا کام نہیں یہ خدا کی عین منشاء کے ماتحت ہونے والے امور ہیں جو پورے ہوئے۔اے سچائی کے طالبو! آؤ دیکھو کہ ہم تمہارے سامنے ایک سچائی کا چمکتا ہوا سورج رکھتے ہیںاگر تم روشنی سے پیار کرتے ہو تو دیکھو کہ نیّربیضا اپنی پوری تجلی سے چمک رہا ہے۔
    خواجہ محمد ناصر صاحب کی روشن ضمیری
    ایک قصہ جو خاندانِ خواجہ محمدناصر صاحب میں مشہور ہے۔اس کا بھی تذکرہ کر دینا کوئی بیجا نہ ہو گا۔ کہتے ہیں کہ ایک سیاح صاحب آئے اور وہ مولانا محمد فخرالدین صاحب کے ہاں مہمان ہوئے اُس سیاح نے کہا کہ یا حضرت آپ کو تو میں نے چشتیہ نظامیہ طریقہ کا آفتاب پایا ہے ۔ کیا یہاں کوئی نقشبند یہ طریقہ کا بھی کوئی کامل فقیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ہے ان کا نام خواجہ محمد ناصر ہے اور وہ اس طریقہ کے یکتادرویش ہیں۔ سیاح نے آپ سے ملنے کی خواہش کی۔ مولانا نے ساتھ چل کر ملانا منظور فرما لیا۔ وہ وقت دوپہر کا تھا۔ اس وقت حضرت خواجہ صاحب کا دسترخوان بچھا کرتا تھا اور جو مہمان آتا اسے الگ دستر خوان بچھا کر کھانا کھلایا کرتے تھے۔ اپنے ساتھ نہیں کھلایا کرتے تھے۔ مولانا فخرالدین نے فرمایا کہ ان کا یہ معمول ہے۔ کہیں آپ کو برا نہ معلوم ہو۔ سیاح نے کہا کہ میں ان کی روشن ضمیری کے امتحان کے لئے جا رہا ہوں۔ میں نے اپنے دل میں دو خواہشیں سوچ رکھی ہیں اگر وہ صاحب باطن ہوں گے تو دونوں خواہشوں کو پورا کر دیں گے۔مولانا فخرالدین صاحب نے پوچھا کہ وہ کیا خواہشات ہیں؟ سیاح نے کہا کہ ایک تو یہ کہ وہ مجھے اپنے ساتھ کھلائیں اور دوسرے مجھے ایک تربوز بھی کھلائیں۔
    چنانچہ جب حضرت مولانا فخر الدین صاحب سیاح کو لیکرآپ کی بارہ دری میں آئے۔ تو آپ کھانا کھا رہے تھے۔ خواجہ صاحب نے مولانا فخر الدین صاحب کے لئے اپنے کندھے کی چادر اُتار کر بچھا دی کہ اس پر تشریف رکھیں اور سیاح صاحب کو زبردستی اپنے ساتھ کھانے میں شریک کر لیا اور ایک خادم سے کہا۔ بازار سے تربوز لاؤ۔ ہمارے مہمان گرمی میں آئے ہیں اس سے کچھ تسکین ہو گی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے مہمانوں کو ساتھ لیکر کھانا کھایا کرتے تھے۔ آپؑ کے قلب کی صفائی کا حال تھا کہ آپؑ کے پاس بیٹھنے والے مریدین مخلصین کے دل میں کوئی بات آتی آپؑ فوراً اسے پورا کر دیتے۔ مثلاً کھانا کھاتے ہوئے کسی کے دل میں یہ خیال آتا کہ فلاں چیزمل جائے تو حضرت فوراً ہی بغیر سوال کے لا دیتے۔
    مثلاً منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری جو ہمارے ہمسائے ہیں اور حضورؑ کے پرانے صحابی کی ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ میرے دل میں شہتوت کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ حضرتؑ اس دن سیر کو اپنے باغ میں تشریف لے گئے ۔ باغ میں سے شہتوت تڑوا کر ٹوکرے بھروائے۔ دوستوں کو کھانے کے لئے فرمایا۔ خود بھی کھانے لگے اور مجھے بار بار فرماتے۔ منشی صاحب! اچھی طرح کھاؤ۔منشی صاحب کا بیان ہے کہ مجھے کچھ شرمندگی سی ہونے لگی کہ کہیں حضرتؑ کو میری خواہش کا علم تو نہیں ہو گیا۔اسی طرح انہی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدسؑ ایک مقدمہ کے دوران میں گورداسپور گئے ہوئے تھے۔ حضرت کو کسی نے دودھ پیش کیا۔ بہت سے لوگ اردگرد تھے اور میں فاصلے پر تھا میرے دل میں آپؑ کا تبرک پینے کا خیال آیا۔ مگر ساتھ ہی خیال آیا کہ مجھے کیسے مل سکتا ہے۔ حضرتؑ نے دودھ پی کر باقی برتن میری طرف بڑھا کر کہا کہ لو منشی صاحب پی لو۔ اس طرح میں آپؑ کے تبرک کی نعمت سے مالا مال ہو گیا۔ایسے صدہاواقعات ہیں۔ ایک دوست نے ایک روایت میں لکھا کہ ایک دفعہ کھانے میں بیٹرے پک کر آئے۔ حضرتؑ نے بعض دوستوں کو کھانے کو دیئے۔ میرے دل میں بھی بٹیر کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ خیال کا آنا تھا کہ حضرتؑ نے اپنی تھالی سے بیٹر اُٹھا کر میری تھالی میں رکھ دیا۔*

    *نوٹ: یہ روایات میں نے اپنے حافظہ کی بناء پر لکھی ہیں۔ اس لئے مفہوم تو درست ہے۔ الفاظ میرے اپنے ہی ہیں۔ اصل الفاظ نہیں ہیں۔ (محمود احمد عرفانی)
    یہی حال سائل کا تھا کہ ایک سوال کسی کے دل میں پیدا ہوا اور حضور ؑ نے فوراً ہی اس کا جواب خود بخود اپنی تقریر میں دے دیا۔ سچ ہے کہ حضور اقدسؑ اس زمانے کے نیّراعظم تھے۔ جن میں سب ستاروں کی روشنیاں گم تھیں۔
    حضرت خواجہ محمد ناصر کی وفات
    آپ کی وفات ۲ شعبان ۱۱۷۲ ؁ہجری کو ہفتہ کے دن ہوئی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ کی لاش کو قبرستان میں لایا گیا۔ حضرت خواجہ میردرد صاحب نے کشفی حالت میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ بھی تشریف فرما ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم خواجہ محمد ناصر کے جنازہ کے انتظار میں ہیں اور جب تک خواجہ صاحب کو دفن نہیں کیا گیا حضور کھڑے رہے۔ حضرت خواجہ میردرد نے جس جگہ حضورؐ پُرنور کو دیکھا تھا وہاں ایک سنگِ سرخ کا نشان لگوا دیا تھا۔ اس پتھر پر یہ رباعی کنندہ تھی۔
    ایں ارضِ مقدس است بس پاک بود
    رشکِ عرش و نجوم و افلاک بود
    از بس زکرم داشتہ تشریف شریف
    نقشِ قدم صاحبِ لولاک بود
    آپ کے مزار کا کتبہ
    آپ کے مزار پر حسبِ ذیل کتبہ لگا ہوا ہے:
    محبوبِ خدا خواجہ محمد ناصر
    حق راہ نما خواجہ محمد ناصر
    ہادی و شفیع و دستگیرہمہ است
    درد ہر دوسرا خواجہ محمد ناصر
    ناصرالملت والدین امیرالمُحمدّیین الخالصین محمدی المتخلص بہ عندلیب۔ علیہ التحیات
    ولادت ۲۵ شعبان۔ ع۔ وارثِ علمِ امامینؓ و علیؓ
    رحلت۔ یوم شنبہ بعدالعصر۔ قرب شام
    دوم ماہِ شعبان ۱۱۷۲ ؁ہجری ۔ عمر شریف ۶۶ سال
    آپ کی وفات کے بعد بادشاہِ دہلی نے آپ کا مقبرہ سنگ مرمر کا بنوانا چاہا مگر حضرت خواجہ میردرد صاحب نے منظور نہ کیا اور فرمایا:
    ’’اِن تکلفات سے فقیروں کو کیا سروکار‘‘
    خواجہ میر اثر صاحب جو خواجہ محمد ناصر صاحب کے چھوٹے صاحزادے تھے۱۶؎ نے اپنے والد بزرگوار کے حالات ایک منظوم کتاب میں لکھے ہیں۔ جس کا نام بیان واقع ہے اس منظوم کلام کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ مندرجہ بالا حالات کا ماخذ بیان واقع اور بعض دوسری کتابیں ہیں۔جس میں خود نالہ عندلیبؔ اور بیانِ درد، سوزِدرد، شمع محفل وغیرہ رسائل شامل ہیں۔
    خواجہ میر درد کے نزدیک خواجہ محمد ناصر کا مقام
    خواجہ میر درد صاحب نے اپنی کتاب علم الکتاب میں خواجہ محمد ناصر صاحب کے مقام کا اظہار اِن الفاظ میں کیا ہے:
    ’’نسبت خالصِ محمدیہّ کہ درزمان آن سرور علیہ السلام بود۔ تا حضرت امام حسنؓ عسکری علیؓ جدہ علیہ السلام بطناً بعد بطنٍ رسیدہ می آمد۔ و بعد ازیں او باختفا آوردہ بود۔ باز از بعد یک ہزارویک صدوچند سال ہجری ازیں فیض خاص از متبع باطن سیّد بحق و مقتدائے احق آفتاب عالم تاب فلک سیادت نیّراعظم پسرولایت وارثِ منصبِ کمالاتِ نبوت خلیفہ مرتبہ الوہیت صاحب سجادہ قرب امامت مظہر انوارِ محمدیہّ صاحب شریعت واصلِ حقیقت واقفِ طریقت۔ کاشفِ معرفت خداوند حکمت الٰہیہ۔ حامی ملتِ مصطفویہ۔ اولوالعزم عالی جاہ بے نیاز کبریاء۔ دستگاہ سلالہ ورودجان نقشبندیہ وقادریہ۔ قدر افزائے طریقہ محمدیہّ۔ ناصرِ دینِ نبوی حضرت خواجہ محمد ناصررضی اللہ عنہ ظہور فرمود‘‘۔
    خواجہ محمد ناصر کی تصانیف
    خواجہ محمد ناصر صاحب کی کئی ایک تصانیف تھیں مگر افسوس غدر میں اکثر تلف ہو گئیں۔ آپ نے ایک رسالہ ہوش افزا تصنیف کیا تھا۔ یہ رسالہ صوفیانہ شطرنج بازی میں تھا۔ کہتے ہیں آپ کے خاندان کے بعض نوجوان اور بعض مرید شطرنج کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ آپ نے ان کو منع کیا مگر وہ نہ رُکے۔ اس لئے آپ نے ایک صوفیانہ شطرنج ایجاد کیا۔ جس میں بڑی پُرعبرت بازیاں رکھی گئیں تھیں۔ ان بچوں اور مُریدوں کو جب یہ رسالہ دیا گیا کہ شطرنج کھیلتے ہوئے ان امور کو ملحوظ رکھ لینا۔ جب انہوں نے پڑھا تو انہوں نے شطرنج سے توبہ کر لی۔ افسوس کہ غدرمیں یہ چیز بھی ضائع ہو گئی۔سنتا ہوں کہ اس کی ایک کاپی حضرت میرناصر نواب صاحب کے سوتیلے بھائی سیّدناصروزیر کے پاس تھی معلوم نہیں کہ اب تک ہے یا نہیں۔ ان کے ایک پوتے زندہ ہیں۔ جن کا نام سیّد ناصر جلیل ولد سیّد ناصر خلیل ولدسیّد ناصر وزیر ہے اور گلبرگہ میں ملازم ہیں۔ افسوس کہ ان کے ہاں بھی اس رسالہ کا پتہ نہیں مل سکا۔
    ایجادات
    خواجہ محمدناصر صاحب نے بہت سی چیزیں بھی ایجاد کی تھیں۔مثلاً خیمہ روان، خانہ روان، حمام ہر مقام، پلنگ سفری شمع بید مع چراغ ظلمت، سوزفانوس بے افسوس، حربہ لوائے محمدی، نصرت بخش کبیر، نصرت بخش صغیر وغیرہ۔ ان چیزوں کے نام و نشان کا پتہ کتاب نالہ عندلیب سے بخوبی ملتا ہے۔ ان سے بہت سی کرامات اور خارق عادت باتیں بطورنشان کے ظاہر ہوئیں تاکہ لوگوں کے لئے از دیادِ ایمان کا باعث ہوں۔ آپ کا تخلص عندلیب ؔتھا اور آپ فارسی زبان کے بڑے شاعر تھے۔
    حضرت خواجہ میر درد
    اس خاندان میں حضرت خواجہ میر درد ایک خاص بزرگ تھے۔ خواجہ محمد ناصر صاحب کی دوبیویاں تھیں۔ پہلی شادی حضرت شاہ میربن سیّد لطف اللہ صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی۔ ان کے بطن سے ایک صاحبزادے محمد محفوظ صاحب پیدا ہوئے اور انیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے ان کی والدہ محمد محفوظ سے قبل ان کو بچہ چھوڑ کر فوت ہو گئی تھیں۔
    آپ نے دوسری شادی سیّدالعارفین سیّد محمد قادری بن نواب عظیم القدر میراحمد خان شہید کی صاحبزادی سے کی تھی۔ ان کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے۔ پہلے سیّد میرمحمدی تھے۔ دوسرے خواجہ میر درد۔ تیسرے خواجہ محمد میر اثر۔ سیّد میر محمدی صاحب نے بھی ۱۹ سال کی عمر میں وفات پائی۔ دوسرے درمیانی خواجہ میردرد اور خواجہ محمدمیراثر باقی رہے۔ان کی والدہ صاحبہ کا نامی بخش بیگم عرف منگا بیگم تھا۔
    حضرت خواجہ میر درد کی ولادت نوز دہم ذیقعدہ ۱۱۳۳ ؁ہجری بروز سہ شنبہ دہلی میں میرعمدہ کے نالہ پر ہوئی۔ آپ نے دو سال کی عمر میں باتیں کرنی شروع کر دی تھیں۔ آپ بڑی لطیف باتیں بچپن ہی سے کرتے تھے سننے والے بڑا لطف اُٹھاتے اور محظوظ ہوتے تھے۔ بچپن میں آپ کو رونے کی بڑی عادت تھی۔ گھر والوں کو پتہ نہ لگتا تھا کہ کیا تکلیف ہے۔ ہر ممکن ذریعے سے اُن کو چپ کرایا جاتا مگر چپ نہ ہوتے۔ جب ہر ممکن ذریعے سے چپ نہ کرتے تو اُن کے ابا جان کو بلایا جاتا تو آپ اُن کے سینے سے چمٹ جاتے اور کبھی کبھی اس امر کا اظہار کرتے کہ مَیں بعض ایسے نظارے دیکھتا ہوں جن کو مَیں برداشت نہیں کر سکتا۔ اُن کے والد صاحب اُن کو سینے سے لگاتے اور کچھ تسلی آمیز کلمات کہتے جس سے تسلی ہو جاتی۔
    تعلیم
    خاندان کے سب بچوںکی تعلیم دس برس کے بعد ہوتی تھی مگر خواجہ میر درد صاحب کی تعلیم کا خلافِ معمول بچپن ہی میں آغاز ہو گیا تھا۔ چنانچہ آپ نے تیرہ برس کی عمر میں علوم و فنون عربیہ کی تکمیل کر لی تھی اور یہ تکمیل اپنے والد صاحب سے ہی حاصل کی تھی۔ مگر فارسی کے علم ادب کے واسطے آپ نے خان آرزو سے فخر تلمذ حاصل کیا اور مثنوی مولانا روم، مفتی دولت صاحب سے پڑھی تھی۔
    خواجہ میر درد کو اپنے والد سے بڑی محبت تھی اور اُن کے رنگ میں رنگین تھے۔ جب خواجہ محمد ناصر صاحب مجاہدات کیا کرتے تھے اور اپنے حجرہ میں بھوکے پیاسے بیٹھے رہا کرتے تھے۔ خواجہ میر درد جن کی عمر اُس وقت تیرہ سال کی تھی حجرہ کے دروازہ پر بھوکے پیاسے بیٹھے رہا کرتے تھے۔ اُن کا جذبہ یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ابا جان کسی ضرورت سے پکاریں اور مَیں پڑا سوتا رہوں۔ اِسی محبت اور جوش میں اکثر فاقے بھی ہو جایا کرتے تھے۔ اُن کی والدہ کو ان کی اس حالت سے بہت صدمہ ہوتا تھا وہ اس حالت کو دیکھ کر اکثر رو دیا کرتی تھیں کبھی کھانے کے وقت اُن کو پکڑ کر بلوا بھیجتیں اور اپنے سامنے کھانا کھلاتیں۔ خواجہ میر درد اکثر رو دیا کرتے اور کہہ دیتے کہ اماں جان! مجھ سے بغیر ابا جان کے ایک نوالہ نہیں کھایا جاتا۔ اُن کی اِس محبت کا اُن کے والد صاحب کے قلب پر بھی اثر تھا۔
    خواجہ میر درد کی بیعت
    جب خواجہ محمد ناصر صاحب کو محمدیہ فرقہ کی بناء رکھنے کا حکم ہوا تو اُس وقت اُن کو یہ بھی بشارت دی گئی کہ اِس وقت جس شخص کو تو بیعت کرے گا اُسے بقا باللہ کا مقام حاصل ہوگا۔ اس محبت کی وجہ سے اور ان آثار رشدو ہدایت کی وجہ سے جو خواجہ میر درد کے اندر ظہور پذیر تھے، خواجہ محمد ناصر کو خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنے لخت جگر کو اپنا مرید بنا کر بقا باللہ کا درجہ دلا دیں۔ چنانچہ ان کو خیال ہوا کہ وہ گھر میں اپنی والدہ کے پاس سو رہا ہوگا وہیں سے اس کو جگا کر لے آتا ہوں انہوں نے اپنے حجرہ کا دروازہ کھولا چونکہ اندھیرا تھا کچھ پتہ نہ لگتا تھا۔اِدھر خواجہ میر درد کی یہ حالت تھی کہ وہ حجرہ کی سیڑھی سے جدا نہ ہوتے۔ چنانچہ وہیں سو رہے تھے۔ خواجہ میر محمد ناصر صاحب نے دروازہ کھولا تو اُن کا پائوں بیٹے کے جسم پر پڑا۔ حیران ہو کر پوچھا کون سوتا ہے؟ خواجہ میر درد نے فوراً عرض کی۔ حضور مَیں ہوں۔ اور سا تھ ہی اپنے باپ کو زندہ دیکھ کر فرطِ محبت سے رونے لگے۔ خواجہ محمد ناصر صاحب نے اُن کو تسلی دی اور کہا کہ خدا نے ہم کو ایک عزت سے مشرف کیا ہے اور حجرہ میں لے جا کر سب حالات بتلا کر ان کی بیعت لے لی۔ اس طرح تیرہ سال کی عمر میں نہ صرف ظاہری علوم سے حصہ وافر حاصل کر لیا بلکہ روحانی فیض سے بھی فیض یاب ہوگئے۔
    خواجہ میر درد کی دُعا کا اثر
    جس روز خواجہ میر درد صاحب نے اپنے والد صاحب کی بیعت کی اُس کی صبح کو برمدہ کے نالہ میں ایک شخص آیا۔ اس کے ساتھ ایک زنانی ڈولی تھی۔ اُس نے لوگوں سے خواجہ میر درد کا گھر پوچھا۔ لوگوں کی توجہ اس طرف نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی خواجہ میر درد نہیں رہتا ایک لڑکا ۱۳،۱۴ سال کا ہے۔ اُس شخص نے کہا کہ ہاں وہی ہیں چنانچہ خواجہ محمد ناصر صاحب کے مکان کا پتہ دیا گیا۔ وہ خواجہ محمد ناصر صاحب کے مکان پر آیا اور عرض کی کہ میری بیوی سِل دق میں مبتلا ہے۔ مَیں روزانہ اس کی صحت کیلئے دعا کرتا تھا آج مجھے خواب میں کہا گیا کہ وہ خواجہ میر درد کی دعا سے اچھی ہوگی۔ چنانچہ وہ مریضہ خواجہ میر درد کی دعا سے اچھی ہوگئی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دعویٰ سے قبل بہت سے ایسے واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ مثلاً لالہ ملاوامل جس کو تپ دق ہو گیا تھا وہ آپؑ کی دعا سے اچھے ہو گئے۔ ۱۷؎
    اسی طرح جناب میرزا غلام قادر صاحب جو بالکل مُردہ ہوچکے تھے آپؑ کی دعا سے اچھے ہوگئے۔۱۸؎
    پہلی تصنیف
    حضرت خواجہ میر درد صاحب نے ۱۵ سال کی عمر میں پہلی تصنیف کی۔ یہ ایک چند اوراق کا رسالہ تھا جس کا نام اسرار الصلوٰۃ تھا۔ اس رسالہ کی لطافت اور عمدگی کا یہ عالم تھا کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی اور مولانا فخر الدین صاحب چشتی نظامی دہلوی نے دیکھ کر بہت پسند فرمایا۔ اور فرمایا۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔ اس کے بعد انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن کے حسب ذیل نام ہیں۔
    رسالہ حرمت غنا، وارداتِ درد، علم الکتاب، آہِ سرد، نالہ درد، درد ِدل، شمع محفل، سوزدل۸، واقعاتِ درد، دیوانِ درد اُردو، دیوانِ درد فارسی۔ ممکن ہے اور بھی تصانیف ہوں کیونکہ ان کی بہت سی تحریریں غدر میں تلف ہو گئیں۔ اس طرح ۱۵ سال کی عمر میں انہوں نے قلم کو ہاتھ میں لیا اور ۶۸ سال کی عمر تک قلم کے ذریعے خدمتِ دین کرتے رہے۔
    خواجہ میر درد کی شہرت
    خواجہ میر درد کی شہرت بہت جلد دہلی میں پھیل گئی۔ چنانچہ خود بادشاہ دہلی بنفسِ نفیس برمدہ کے نالے پر تشریف لائے اور دونوں باپ بیٹے کی زیارت کی اور ان سے درخواست کی کہ آپ شاہجہان آباد میں چل کر رہئے مگر ان دونوں نے اسے منظور نہ کیا اور اسی اجاڑ جنگل میںجہاں صرف چند خال خال ہستیاں رہا کرتی تھیں رہنا پسند کیا۔ شہنشاہ اورنگ زیب کی بہو جس کا نام مہر پرور بیگم تھا خواجہ میر درد صاحب کی بہت معتقد تھی۔ اس نے بار بار خواہش ظاہر کی کہ آپ شہر چلے چلیں۔ مگر آپ ایک عرصہ تک اُسے ردّ ہی کرتے رہے اور ۱۸۳۸؁ء تک وہیں مقیم رہے۔
    نادری قتل عام
    حتیّٰ کہ وہ زمانہ بھی آ گیا جب کہ نادر شاہ ایران نے دہلی میں قتل عام کروایااُس وقت پھر شاہزادی مہر پرور بیگم نے بڑے ادب سے اپنے ایک خاص ایلچی کو بھیجا اور عرض کی کہ:
    ’’حضرت یوں تو سب جگہ خدا ہی حافظ و ناصر ہے مگر برمدے کا نالہ شاہجہان آباد کی شہر پناہ سے باہر ہے اور ایرانی فوجیں بے تمیز ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ حضرت کے دشمنوں کو کوئی گزند پہنچائیں اس لئے آپ مع اہل بیت کے شاہجہان آباد کے اندر چلے آئیں مَیں نے دو محل آپ کیلئے خالی کرا دیئے ہیں‘‘۔
    حضرت خواجہ محمد ناصر اور خواجہ میر درد کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ:
    ’’جس خدا نے میدانِ کربلا میں اہلبیت کی حفاظت کی تھی وہی اب بھی اِن سیّدانیوں کے ناموس کی حفاظت کرے گا۔ یہ بھی انہیں کی ذریّت ہیں‘‘۔
    اس واقعہ سے ان کی اس ایمانی قوت کا پتہ چلتا ہے جو اُن کے قلب میں موجزن تھی اور یہ کہ وہ ایک زندہ خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ چنانچہ جیسے انہوں نے خدا پر بھروسہ رکھا تھا ویسا ہی ہوا۔ نادر شاہ نے دہلی میں قتل عام کیا اور صد ہا گھرانے زیر و زبر ہو گئے۔ مگر خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے ہاتھوں سے ایک ایسی مضبوط دیواربرمدہ کے نالہ کے گرد کھینچوائی کہ کسی نے بھی اُدھر کا رخ نہ کیا اور یہ خاندان معجزانہ طور پر محفوظ رہا اور محفوظ کیوں نہ رہتا جب کہ وہ ابھی اُمُّ المؤمنین جیسی عظیم الشان امانت کو اپنے اندر سنبھالے ہوئے تھا جو اپنے وقت پر مہدی ؑ موعود کی طرف منتقل ہونے والی تھی۔
    الغرض یہ وقت تو نکل گیا لیکن شاہزادی مہر پرور کا مطالبہ روز بروز بڑھنے لگا اور اس نے کہنا شروع کیا کہ آپ اس ویران محلہ کو چھوڑ دیجیئے۔ مہر پرور کے زور دینے پر بالآخر آپ نے دہلی کے اندر رہنا منظور کر لیا مگر ایک شرط پر کہ مَیں کسی محل میں نہیں رہوں گا بلکہ جیسے ہمارے یہ مکان ہیں ویسے ہی مکان بنوائے جائیں۔ شہزادی مہر پرور بیگم نے بخوشی اس شرط کو منظور کر لیا اور کوچہ چِیلوں میں ایک قطعہ لے کرنو مکان چھوٹے بڑے بنوائے اور ایک بارہ دری جس کا ایک بڑا صحن تھا اور ایک مسجد تیار کروائی۔ آٹھ مکانوں میں آپ کے اہل و عیال اور عزیز واقارب رہنے لگے۔ نویں حویلی حُجرہ بن گئی۔ بارہ دری میں مختلف قسم کی بزم آرائیاں ہوا کرتی تھیں اور کبھی کبھی مشاعرے بھی ہوا کرتے تھے۔ اس واقعہ سے خواجہ میر درد کی قناعت اور درویشی پر بخوبی روشنی پڑتی ہے۔ اُن کے دل میں اگر دنیا اور جاہ طلبی کی خواہش ہوتی وہ محلات میں چلے جاتے۔ مگر انہوں نے نادری قتل عام کے وقت بھی لال قلعہ کی مضبوط دیواروں کی طرف نہ دیکھا اور مہر پرور بیگم کے مجبور کرنے پر اگر قبول کیا تو یہ کہ جیسے ہمارے فقیرانہ مکان ہیں ویسے بنوا دو۔
    محمد شاہ بادشاہ
    اُس وقت دہلی کے تخت پر محمد شاہ بیٹھا ہوا تھا جب اُس نے حضرت میر درد کی شہرت سنی تو اُس نے چاہا کہ آپ قلعہ میں تشریف لائیں۔ مگر اُسے معلوم ہو گیا کہ آپ بادشاہوں کی مجلس اور صحبت سے بہت دور رہتے ہیں۔ اس لئے ایک دن بغیر اطلاع دیئے ہوئے ہاتھی پر سوار ہو کر خواجہ صاحب کی بارہ دری میں تشریف لے آیا۔ مگر آپ نے بادشاہ سے کسی قسم کا تملق نہیں کیا۔ بادشاہ آپ کی زیارت سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ کوئی خدمت میرے لائق ہو تو اس سے سرفراز فرمایا جائے۔ حضرت خواجہ میر درد نے ارشاد شاہی سن کر فرمایا:
    ’’آپ کے لائق یہی خدمت ہے کہ اب کبھی فقیر خانہ پر تشریف نہ لائیے گا کیونکہ آپ کے آنے سے فقیر کا نفس موٹا ہوتا ہے‘‘۔
    محمد شاہ اُٹھ کر خاموشی سے چلے گئے اور بارہ دری سے نکل کر کہا بیشک یہ آلِ رسول ہیں حضرت خواجہ میر درد کا یہ استغناء قابلِ رشک ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے مقام کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    آن کس کہ بتو رسد شہاں راچہ کند
    حضرت خواجہ میر درد نے اپنی عُمر فاقوں میں بسر کی اور بعض اوقات کئی کئی دن تک یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ خود ہی غیب سے سامان مہیا فرما دیا کرتا۔ خواجہ میر درد نے تمام عمر کسی امیر، وزیر اور شاہزادے کے پاس جانا پسند نہ کیا۔ ہاں اپنے والد خواجہ محمد ناصر کے مزار پر روزانہ بلا ناغہ جایا کرتے تھے۔ حتیّٰ کہ جس دن نادر شاہ دہلی تک آیا دہلی کے چاروں طرف قتل اور لوٹ کا بازار گرم تھا۔ اُس دن بھی باوجود گھر والوں کے روکنے کے آپ نادر شاہ کے سپاہیوں میں سے ہو کر گذر گئے اور اپنے معمول میں فرق نہ آنے دیا۔ وہاں آپ نے یہ رباعی پڑھی:
    در کوئے تو اے مُونسِ جان می آیم
    تاجان باقی ست بے گمان می آیم
    گرم شام کشان کشان برندم زینجا
    چون صبح شود باز ہمان می آیم
    آپ اپنے زمانے کے ولی کامل تھے
    آپ نے مقامِ ولایت کے متعلق خود لکھا ہے کہ:
    ’’برکت جامعیّتِ محمدیہ کی تمام نسبتیں فقر کی خدا تعالیٰ نے میری ذات میں جمع فرمائی ہیں اور مجھے حق و باطل میں ، فقر میں فارق بنایا ہے… اور مجھے نجابتِ طرفین اور سیادتِ والدین کی طرف سے مشرف فرمایا تا کہ مَیں محمدیہ خالص کے طریقہ کو رواج دوں اور مجھے جہان کیلئے صفی اور خلیفہ تجویز فرمایا اور آدم علیہ السلام کا مقامِ ولایت عطا کیا اور مکا یٔدِ نفس و شیطان سے نجات دی‘‘۔
    پھر فرمایا:
    ’’مجھے حضرت دائود علیہ السلام کی ولایت کا مقام بخشا۔…… حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقامِ ولایت مجھے دیا۔ ……حضرت ابراہیم علیہ السلام کامقامِ ولایت مجھے دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقامِ ولایت مرحمت فرمایا۔ پھر…… حضرت یوسف علیہ السلام کا بھی مقامِ ولایت عطا فرمایا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقامِ ولایت بھی عنایت کیا اور پھر اس جامعیّت کا کمال اور اختتام کے لئے ولایت ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف فرمایا اور محمدیت خالص کی رِدا میں مجھے چھپا لیا اور رسول پاکؐ کی ذات میں مجھے فنا کر دیا۔ پس نہ مَیں رہا اور نہ میرا نام و نشان‘‘۔
    پھر فرمایا:
    ’’مجھے خدا تعالیٰ نے عقل کامل و نفس کامل اور روح کامل اور جسد کامل کے ساتھ مظہر اپنے تمام اسماء کا پیدا کیا تا کہ مَیں مومنین کو طریقہ خالصہ محمدیہ کی دعوت دوں‘‘۔
    پھر فرمایا:
    ’’ ہر فرد انسان بقدرِ عقل و فہم و استعدادِ شخصی کے علومِ کلیّہ اضافیہ کو اخذ کرتا ہے اور طاقتِ بشریہ کے موافق ہر امر کا ادراک کرتا ہے اور ہر شخص واحد کو معانی اور مراد میں بہت سے اختلاف مثل اُن کی اشکال مختلفہ بایک دِگر کے لاحق ہوتے ہیں اور اس حیثیت سے فرقہ فرقہ اور گروہ گروہ جداگانہ قائم ہو جاتے ہیں اور ملّتِ واحدہ میں اگرچہ باعتبار نوعیت کے ایک ہوتے ہیں مگر صور استعدادی کے اختلاف کی وجہ سے آدمیوں اور رنگوں کی طرح اسے رنگا رنگ کر ڈالتے ہیں اور اصلی دین کو قیود اضافی میں مقید کر کے وحدت پر قائم نہیں رکھتے اور انتزاجات نفسانی کے ساتھ اسے ممتزج کر کے اسے متفرق کر دیتے ہیں اور وہ ایک مِلّت جس پر ربانی مِلّت کے عہد میں سب متفق باقی نہیں رہتے۔ اس لئے ضرور ہے، کہ ہر زمانہ میں خدا کی طرف سے ایک فرد اکمل آتا رہتا ہے تا کہ مِلّتِ حقیقی کی نوعیت اور اصلیت کو سنوارتا رہے۔ اس لئے اُمتِ محمدیہ میں ایک ولی کامل کا وقت مقررہ پر آنا جو دینِ متین کو از سرِ نو زندہ کر دیتا ہے اور اس کی تجدید ہو جاتی تھی۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے حضرت امیر المحمدیّین خواجہ محمد ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارہویں صدی کے آغاز میں اس خدمت کے لئے مامور فرمایا اور آپ نے اس دین مبین کے آفتاب کو نصف النہار میں پہنچا دیا اور محمدیہ خالصہ کے انوار سے جہان کو منور کر دیا… یہی فرقہ ناجیہ ہے۔ اسی اصل نسبت سے تعلق رکھتا ہے جو جناب سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جاری تھا اور زمانہ اسے فراموش کر چکا تھا اور مَیں کہ اوّل المحمدیّین ہوں اسی نسبت خاصہ خالصہ کا دروازہ ہوں……فیاقوم لا تکونوا کالّذی فرّقوا دین اللّٰہ الذی لہ الدّین الخالص وماثلثۃ و سبعین فرقۃ واختلفوا بالاختلاف المنکرۃ المبتدعۃ۔
    ’’اور یہ نسبت محمدیہ الخاصہ حضرت امام موعودعلیہ السلام کی ذات پاک پر ختم ہو گئی اور تمام جہان ایک نور سے روشن ہوگا اور اس نیرِ اعظم کے انوار میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گُم ہو جائے گی‘‘۔ ۱۹؎
    اس بیان کو پڑھ جانے سے یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کو سب انبیاء کا مقامِ ولایت دیا گیا اور بالآخر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامقامِ ولایت بھی دیا گیا اور آپ کو رسول کریمؐ کی ذات سے ایک ایسی نسبت تھی کہ آپ پر ردأ محمدی ڈال دی گئی اور آپ وجودِ محمدی میں فنا ہو گئے۔
    دوسرے: آپ اس حدیث کے ماتحت یاتی علی کل رأس مائۃ سنۃ من یجدّدنا دینھا۔ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کی آمد کو تسلیم کرتے تھے۔ بلکہ بارہویں صدی کے مجدد حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو اعتقاد کرتے تھے۔
    تیسرے: اور ان کا یہی اعتقاد تھا کہ جو لوگ وقت کے مجدد کو نہیں مانتے وہ ناجی نہیں ہیں جیسے کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیّۃ۔
    چوتھے: اُن کا یہ مذہب تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ ایک نیرِّ اعظم ہیں جن کی آمد پر سب فرقوں کی روشنی گُم ہو جائے گی اور یہ نسبت محمدیہ الخاصہ بھی ختم ہو جائے گی۔
    یہ وہ اعتقادات ہیں جو بالکل سلسلہ احمدیہ کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ آج ہم بھی اس امر کو مانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اُمت محمدیہ میں فیض کے بڑے بڑے دروازے کھلے ہیں اور ولایت ہی کا نہیںبلکہ نبوت کا مقام بھی آپؐ کی برکت اور فیض سے حاصل ہو سکتا ہے۔ جب حضرت خواجہ میر درد کو تمام انبیاء کا مقامِ ولایت حاصل تھا جو آسمانِ مجددیت پر ایک ستارہ تھا۔ اس نیرِ اعظم کو جسے وہ خود نیرِ اعظم کہتے ہیں جس میں سب ستاروں کی روشنی گم ہونے والی تھی کیا کہا جائے گا؟ کیا اس کے لئے نبوت کے سوا اور کوئی مقام باقی رہ جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی اس مسئلہ کو حل فرما دیا۔
    غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے
    وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار
    مَیں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
    اک شجر ہوں جس کو دائودی صفت کے پھل لگے
    مَیں ہوا دائود اور جالوت ہے میرا شکار
    پر مسیحا بن کے مَیں بھی دیکھتا روئے صلیب
    گر نہ ہوتا نام احمدؐ جس پہ میرا سب مدار
    سر سے میرے پائوں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں
    اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کرکے مجھ پہ وار ۲۰؎
    اس مسئلہ پر حضرت مسیح موعود علیہالسلام نے بہت بڑی روشنی اپنی کتب میں ڈالی ہے۔ مگر افسوس! کہ کاغذ کی نایابی اور حصولِ اشیاء کی دِقت مجھے مجبور کرتی ہے کہ مَیں اس موضوع پر زیادہ نہ لکھوں۔
    الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سارے انبیاء کا مقامِ نبوت عطا کیا گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں آپؑ کو جری اللہ فی حلل الانبیاء کا خطاب دیا اور اپنی وحی میں آپ کو شمس و قمر بھی فرمایا جو حضرت خواجہ میر درد رضی اللہ عنہ کو نیرِّ اعظم دکھایا گیا۔
    حضرت خواجہ میر درد فنافی الرسول کے مقام پر اپنے آپ کو بیان کرتے ہیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کے دونوں مقاموں پر فائز تھے۔ آپؑ اپنی محبت رسول کا ذکر اپنی کتابوں میں صدہا جگہ فرما چکے ہیں۔ مگر مختصر طور پر آپؑ فرماتے ہیں:
    بعد از خدا بعشقِ محمد مخمرم
    گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
    ……
    نقشِ ہستی تیری اُلفت سے مٹایا ہم نے
    اپنا ہر ذرہ تری راہ میں اُڑایا ہم نے
    ……
    دلبرا مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی
    آپ کو تیری محبت میںبُھلایا ہم نے
    ……
    بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش
    جب سے دل میں یہ تیرا نقش جمایا ہم نے
    دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا
    نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے
    اس طرح بہت سا کلام آپؑ کے عربی، فارسی، اُردو اشعار میں اور اس کے علاوہ عربی، اُردو، فارسی نثر میں موجود ہے۔ جس سے اس عشق و محبت کا پتہ چلتا ہے۔ جو آپؑ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا اور اس خصوص میں آپؑ کا مقام اس قدر بلند ہوا کہ آپؑ کامل طور پر بروز محمدہوگئے اور خدا سے علم پا کر آپ نے فرمایا۔’’من فرّق بینی و بین المصطفی فما عرفنی وما اری‘‘ یعنی اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی ؐمیں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا۔ ۲۱؎
    آپ فنا فی اللہ کے مقام پر
    آپؑ تحریر فرماتے ہیں:
    ’’مَیں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ مَیں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور مَیں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثناء میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک میرا کوئی ذرّہ بھی باقی نہ رہا۔ اور مَیں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان، اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا۔ کہ مَیں بالکل اس میں محو ہو گیا اور مَیں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے۔ اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرتِ عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے۔ اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گِر گئی اور رب العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور مَیں سر کے بالوں سے ناخن پا تک اس کی طرف کھینچا گیا۔ پھر میں ہمہ مغز ہو گیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا جس میں کوئی مَیل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس مَیں اُس شے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی۔ یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں جا ملے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپا لے۔ اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا۔ کہ اس سے پہلے مَیں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیّت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی۔ اور مَیںبالکل اپنے آپ سے کھویا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضاء اپنے کام میں لگائے۔ اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے مَیں بالکل معدوم ہو گیا اور مَیں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں اور مَیں خیال کرتاتھا کہ مَیں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویّت سے قطعًا نکل چکا ہوں اب کوئی شریک اور منازع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا۔ اور اس حالت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو مَیں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر مَیں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی۔ اور مَیں دیکھتا تھا کہ مَیں اُس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر مَیں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا کہ اِنَّا زَیّنَا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ پھر مَیں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالتِ کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلَفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم‘‘۲۲؎
    اس کشف کی عظمت سے معلوم ہوتا ہے کہ کس مقام پر حضرت مسیح موعود ؑ فائز تھے اور کتنا فرق تھا اُس ستارہ میں اور اِس نیرِّ اعظم میں۔ خدا تعالیٰ نے خود آپؑ کی وحی میں بھی آپؑ کا نام یاشمس یا قمر بھی رکھا۔ یعنی نیرِّ اعظم ۔ اور یہ بھی فرمایا۔ انت منی بمنزلۃِ توحیدی و تفریدی۔ ۲۳؎
    مسئلہ کفر اسلام
    حضرت خواجہ میر درد صاحب نے اس فرقہ کو جو مجدّدِ وقت کو مانے، ناجی فرقہ قرار دیا ہے اور حدیث نبوی بھی یہی کہتی ہے۔ من لم یعرف امام زمانہ فقدمات میتۃ الجاھلیّۃ اس ایک بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو اس نیرِّ اعظم کا انکار کرے گا اس کا ناجی ہونا کیسے یقین کیا جا سکتا ہے؟
    حضرت خواجہ میردرد صاحب فرماتے ہیں:
    ’’درویشی فقط قُربِ الٰہی کا نام ہے اور فقیری شعبدہ بازی اور بھنڈیلہ پن کا نام۔‘‘
    وہ تمام ان امور کو جو شریعت کے خلاف تھے ناجائز قرار دیتے تھے۔ حضرت خواجہ میردرد کو موسیقی میں کمال دستگاہ حاصل تھی۔ ان کے پاس بڑے بڑے موسیقار جمع ہوا کرتے تھے۔ اس زمانہ کا مشہور موسیقار فیروز خان آپ کے فنِ موسیقی کا بڑا مداح تھا۔ ہر ماہ کی دوسری تاریخ کو بارہ دری میں خواجہ محمد ناصر صاحب کی یاد میں محفلِ موسیقی ہوا کرتی تھی اور اس کا بڑا شاندار انتظام کیا جاتا تھا۔ ہزارہا لوگوں کا مجمع ہو جاتا۔ خواجہ میردرد بھی تشریف لے آتے۔آپ کی مجلس میں سب لوگ دوزانو ہو کر بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ شاہ عالم بادشاہ دہلی آپ کی مجلس میں آئے اور دوزانونہ بیٹھے آپ نے بادشاہ سے کہا کہ اگر آپ فقیروں کی محفل میں آیا کریں تو دوزانو ہو کر بیٹھا کریں۔ بادشاہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے پاؤں میں درد تھا اس وجہ سے بیٹھ نہ سکا۔اس سے اس جرأت اور شجاعت کا پتہ لگتا ہے جو حضرت میر درد میں تھی اور یہ شرفِ سعادت اس خاندان میں چلی آئی۔ حضرت میرناصر نواب رضی اللہ عنہ کی جرأت و صاف گوئی مشہور اور زبان زد ہے۔ وہ حق گو تھے اور اِس کے کہنے میں دلیر۔
    آپ کا مقولہ تھا کہ میں نغمہ و سرود کو عالموں فاضلوں کی طرح سنتا ہوں۔ جو علم ریاضی و طبیعی پڑھتے پڑھاتے ہیں اور اس کے دقائق کو خوب جانتے ہیں مگر حکماء کی طرح اس کا اعتقاد نہیں رکھتے اسی طرح میں بھی موسیقی کے ساتھ تو غسل کیا کرتا ہوں کیونکہ موسیقی ریاضی کی ایک پُرمیوہ شاخ ہے۔ وہ اسے علمی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ نہ کہ ذریعہ حظِّ نفس۔ پھر فرمایا:
    ’’میں نے نہ آج تک اپنے کسی مرید کو راگ سننے کی اجازت دی نہ اپنی اولاد کو کیونکہ جو چیز ہماری شریعت میں ممنوع اور ہمارے طریقہ میں مکروہ ہو اس کیلئے میں کب کسی کو اجازت دے سکتا ہوں۔ میں اپنے تئیں گناہگار جانتا ہوں اور ہمیشہ اسی دھیان میں ہوں کہ راگ سننے سے توبہ کروں جو لوگ راگ نہیں سنتے ہیں میں انہیں اپنے سے اچھا جانتا ہوں۔‘‘۲۴؎
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو کبھی موسیقی نہیں سنی۔ البتہ آپؑ کی مجلس میں کبھی کبھی کوئی شاعر اپنے اشعار خوش گلوئی سے سنا دیتا تھا۔ آپؑ کے ایک مرید شیخ محمد اسمٰعیل صاحب سرساوی جو صوفیانہ طرز کے آدمی ہیں کی ایک روایت ہے کہ میں چونکہ قوالی سن لیا کرتا تھا ایک دفعہ حضو ؑر نے مجھے فرمایا۔ میاں اسمٰعیل! قوالی کی لذت کتنی دیر رہتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ بھی نہیں جب تک سنتے رہو۔ فرمایا۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ وہ لذت ہو جو ہمیشہ قائم رہے۔ اس طرح حضو ؑر نے موسیقی کی اس کمی کا اظہار فرمایا جسے صوفی کمال سمجھ رہے تھے۔
    اُردو علم ادب پر آپ کا احسان
    حضرت خواجہ میر درد کو عربی،اُردو، فارسی میں کامل دستگاہ تھی۔ اُردو زبان پر آپ کا بڑا احسان تھا کہ آپ نے اس زبان کو صاف کیا۔ آپ فرماتے ہیں:
    ’’اے اُردو گھبرانا نہیں تو فقیروں کا لگایا ہوا پودا ہے خوب پھلے پھولے گی۔ تو پروان چڑھے گی۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قرآن حدیث تیری آغوش میں آ کر آرام کریں گے۔ بادشاہی قانون اور حکیموں کی طباعت تجھ میں آ جائے گی اور تو سارے ہندوستان کی زبان مانی جائے گی۔‘‘ ۲۵؎
    یہ ایک پیشگوئی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہوئی جبکہ قرآن و حدیث نے آ کر آرام حاصل کیا۔
    بارہ دری میں مہینہ میں ایک دو دفعہ مشاعرہ ضرور ہو جایا کرتا تھا۔ میر حسن دہلوی، جھمن لال، شاہ محمدی، شیخ محمد قیام، حکیم ثناء اللہ خان، لطیف علی، میرزا اسمٰعیل، شیخ محمد بقا، محمد پناہ خان، لالہ مکند لال، میرزا محمد جان، لالہ نرائین داس، علی نقی وغیرہ شاعری میں اُن کے شاگرد تھے۔
    وفات
    حضرت خواجہ میردرد صاحب اپنی پیشگوئی کے مطابق ۱۱۹۹؁ہجری میں صفر ۲۴ کو صبح صادق کے وقت ۶۸ برس کی عمر میں عالم قدسی کی طرف رحلت فرما گئے۔ آپ کو آپ کے والد کے داہنے پہلو میں دفن کیا گیا۔
    آپ کی اولاد
    آپ کا ایک ہی فرزند تھا جس کا نام خواجہ صاحب میر اور لقب ضیاء الناصر اور المؔ تخلص تھا اور آپ کی دوصاحبزادیاں تھیں۔ ایک براتی بیگم صاحبہ تھیں اور دوسری زینت النساء بیگم صاحبہ تھیں۔
    خواجہ میر درد صاحب کی وفات کے بعد ان کے بھائی خواجہ ظہورالناصر سیّد میر اثر صاحب ان کے خلیفہ اور جانشین ہوئے اور صفر ۱۲۰۹؁ہجری میں وفات پائی۔
    ان کی ایک ہی دختر تھیں جس کا نام بیگما جان تھا۔ جس کی شادی نواب سیّد اسد اللہ خان بن نواب سیّد جعفر علی خان صاحب سے ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد خواجہ سیّد ضیاء النّاصر المعروف بہ سیّد صاحب میر۔ متخلص بہ المؔ آپ کے خلیفہ ہوئے۔ آپ کی وفات ۲۱ جمادی ا لآخر ۱۲۱۵؁ہجری کو ہوئی۔ خواجہ میردرد صاحب کے پائیں میں دفن ہوئے۔
    ان کی اولاد
    ان کے ایک صاحبزادے میر محمد بخش نام اور ایک صاحبزادی بی امانی بیگم تھیں۔
    میرمحمد بخش
    میر محمد بخش صاحب جو حضرت خواجہ میر درد کے پوتے تھے۔ بڑینچ نامی جگہ میں کمپنی کی حکومت کی طرف سے حاکم تھے۔ ان کے پاس ایک نوکر تھا جس نے چوری کی اور گرفتا ر ہوا اسے خیال تھا کہ میرا مالک میری مدد کرے گا مگر آپ نے فرمایا کہ میں چور کا حامی نہیں ہوں اسے سزا ہو گئی وہ قید سے جب آزاد ہوا اس نے آپ کو آپ ہی کی تلوار سے سوتے میں قتل کر دیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر کل تیس برس کی تھی۔ ان کی لاش دہلی لائی گی اور خاندانی قبرستان میں دفن ہوئی۔
    امانی بیگم صاحبہ
    امانی بیگم صاحبہ خواجہ صاحب میر کی بیٹی تھیں مگر ان کی والدہ میر محمد بخش صاحب کی والدہ نہ تھیں بلکہ بی عزت النساء صاحبہ جو اُمّ سلمہ کر کے مشہور تھیں اور خواجہ صاحب میر صاحب کی دوسری بیوی تھیں کے بطن سے تھیں۔اٹھوانسی پیدا ہوئی تھیں مگر لمبی عمر پائی۔ ۱۲۰۳ ؁ہجری کو پیدا ہوئیں اور ۱۲۷۲؁ہجری میں ۱۱ربیع الاوّل کو وفات پائی۔
    خواجہ محمد نصیر صاحب
    خواجہ میر درد کے بعد ان کے بھائی صاحب ان کے جانشین ہوئے پھر خواجہ میردرد کے بیٹے جانشین ہوئے۔خواجہ میردرد کے پوتے میر محمد بخش صاحب اپنے باپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے اس کے بعد ان کے ہاں اولاد نرینہ نہ ہوئی اور نہ میرمحمد بخش صاحب ہی کی کوئی اولاد تھی۔ اس لئے خلافت کا مسئلہ کچھ الجھن میں پڑ گیا مگر اس کا حل یہ پیدا ہوا کہ خلافت خواجہ میر درد صاحب کی لڑکی کی اولاد میں منتقل کی جائے چنانچہ خواجہ صاحب کی دو لڑکیاں تھیں بڑی کا نام براتی بیگم تھا جن کی شادی مولوی عبدالحی صاحب سے ہوئی تھی جو خواجہ میردرد صاحب کے چچازاد بھائی تھے۔ مولوی عبدالحی صاحب کلکتہ میں سرکار کمپنی کے مجلس واضع قوانین کے رُکن تھے۔ بڑی آمدنی تھی۔ آپ نے بنارس کے قریب ایک تعلقہ بھی خریدا تھا۔
    ناصری گنج
    ایک قصبہ خواجہ محمد ناصر صاحب کی یادگار کے طور پر آباد کیا تھا جس کا نام ناصری گنج رکھا۔ جب تک وہ زندہ رہے اپنی بیوی کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ بھیجا کرتے تھے وہ ایک ہی دن میں اسے بانٹ کر ختم کر دیتیں۔ چاندی کے روپے تقسیم کرتے کرتے ہاتھ کالے ہو جاتے تو آپ فرماتیں:
    ’’خدا اس سفید ڈائن کی محبت کسی مسلمان کو نہ دے۔ جس طرح اس کے چھونے سے ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اس کی محبت سے آدمی کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔‘‘
    مولوی عبدالحی صاحب لا ولد فوت ہو گئے۔ ناصری گنج کا علاقہ از روئے وصیت اپنے ورثاء میں تقسیم کر گئے۔ جس میں سے اب تک ایک گاؤں کا بڑا حصہ حضرت میرناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کے پاس موجود ہے اور کچھ تھوڑا سا بِک بھی گیا ہے۔
    زینت النساء بیگم
    زینت النساء بیگم دوسری صاحبزادی کی شادی میرکلّو صاحب سے ہوئی تھی۔ جو میرنعمان بدخشانی کی اولاد میں سے تھے۔ میرنعمان صاحب بڑے مرتبہ کے درویش تھے۔ ان کا ذکر شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی چشتی صابری کے مکتوبات میں بکثرت ملتا ہے۔ ان کا مقبرہ بھی آگرہ میں اب تک موجود ہے۔ خواجہ شاہ محمد نصیر صاحب زینت النساء بنت خواجہ میردرد رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔ ۱۱۹۹ ؁ہجری میں پیدا ہوئے تھے خواجہ محمد نصیر صاحب اپنے ماموں کے لاولد رہ جانے کی وجہ سے خلیفہ بنائے گئے۔ خواجہ محمد نصیر صاحب بھی شاعر تھے اور رنج تخلص کیا کرتے تھے۔
    خواجہ رنج صاحب کو بھی فنِ موسیقی میں بڑا کمال حاصل تھا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ہمت خان گویّا جو دہلی کا ممتاز ترین گویہ تھا اپنا گانا بغرض اصلاح حضرت رنج کو سنایا کرتا تھا۔
    خواجہ محمد نصیر صاحب نے خواجہ میردرد صاحب کے خاندان کے مفصل حالات پر ایک کتاب لکھی تھی جو افسوس ہے غدر ۱۸۵۷؁ء میں تلف ہو گئی۔
    خواجہ محمد نصیر کی وفات ۲ شوال کو ۱۲۶۱ ؁ہجری میں ہوئی۔ ان کی وفات پر مومن خان نے یہ تاریخ لکھی۔
    شیخِ زمان شد ز دہر روزپئے سال وفات
    فکر بلندم رہ جنت ماویٰ گرفت
    گفت بمومن ملک خواجہ محمد نصیر
    در قدم ناصر و درد نِکوجا گرفت
    ان کی عمر بہتر۷۲ سال کی ہوئی۔ آپ خواجہ صاحب میر اپنے ماموں کے پہلو میں دفن ہوئے۔ ان کے اشعار میں سے ایک شعر بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔
    خط دیکھ کر ادھر تو میرا دم اُلٹ گیا
    قاصد ادھر بدیدہ پرنم اُلٹ گیا
    خواجہ سیّد محمد نصیر صاحب کی اولاد
    آپ کی دو بیویاں تھیں پہلی بیوی سے ایک لڑکا خواجہ سیّد ناصر جان اور دختر بی نصیرہ بیگم صاحبہ دو ہی اولادیں ہوئیں۔ دوسری بیوی سے دو صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ایک کا نام اشرف النساء بیگم صاحبہ اور دوسری کا انجمن النساء بیگم صاحبہ تھا ۔
    خواجہ سیّد ناصر جان
    خواجہ سیّد ناصر جان جو آپ کے صاحبزادے تھے کی شادی خواجہ میر درد صاحب کی پوتی امانی بیگم صاحبہ سے ہوئی تھی۔ میر ناصر جان بھی شاعر تھے اور اپنا تخلص محزون ؔ کرتے تھے۔ آپ کو فنِ ریاضی میں بڑا کمال حاصل تھا۔ یہ علم آپ نے نواب فرید الدین احمد خان صاحب ہمدانی دہلوی سے حاصل کیاتھا۔ آپ اسی فن ریاضی کی وجہ سے سرکار کمپنی کے بعض حکام کی نظروں میں بہت معزز تھے اور انہوں نے آپ کو گڑینی میں منصف مقرر کرا دیا تھا۔ جہاں وہ ۱۳ جنوری ۱۸۴۶؁ء مطابق ۲رمضان ۱۲۴۹؁ھ میں فوت ہو گئے۔
    ان کا خیال تھا کہ میں اپنے بزرگوں کی سب کتابیں خود شائع کروں گا چنانچہ آپ نے اس غرض کے لئے ایک مطبع بھی خرید لیا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی۔ ان کی شاعری کے نمونہ کے لئے ایک شعر یہاں درج کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔
    نہ تو نامہ ہی نہ پیغام زبانی آیا
    حیف محزونؔ تجھے یارانِ وطن بھول گئے۔
    آپ کی لاش وہاں سے دہلی لائی گئی اور خاندانی قبرستان میں دفن کی گئی۔
    صاحبزادی بی نصیرہ بیگم صاحبہ
    صاحبزادی بی نصیرہ بیگم صاحبہ کی شادی نواب خان دوران خان صاحب کے پوتے میرہاشم علی صاحب کے ساتھ ہوئی جو ایک صحیح النسب سیّد تھے۔
    خواجہ میر ناصر امیر صاحب
    ان کے بطن سے ایک صاحبزادے خواجہ ناصر امیر صاحب پیدا ہوئے اور ایک دختر فرحت النساء بیگم پیدا ہوئیں۔ میر ناصر امیر صاحب کی شادی میربھکاری صاحب کی دختر بلند اختر سے ہوئی۔ جن کا نام سعیدہ بیگم صاحبہ تھا۔ ان کے بطن سے ایک صاحبزادہ پیدا ہوئے۔ جن کا نام سیّد ناصر وزیر تھا۔ خواجہ ناصر امیر صاحب نے ایک اور شادی بھی کی تھی جو میر شفیع احمد صاحب ساکن فراشخانہ کی دختر بلند اختر سے ہوئی۔ ان محترمہ کا نام بی بی روشن آراء بیگم صاحبہ تھا۔ ان کے بطن سے وہ عظیم الشان بزرگ پیدا ہوا جو اس مقدس امانت کو جو بخارا سے لائی گئی تھی۔ اپنی صُلب میں اٹھائے ہوئے تھا اور سلسلہ بسلسلہ یہ امانت منتقل ہوتی آئی تھی اور انقلاب آفرین زمانہ میں شاید خدا نے اس کے طفیل سے اس خاندان کو محفوظ رکھا۔ یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،آپ کی دو ہمشیرگان بھی تھیں۔ جن کے نام رفعت النساء بیگم صاحبہ اور انجمن آراء بیگم صاحبہ تھے۔ پہلی کی شادی قصبہ جلیسر میں پیرجی بشیرالدین صاحب سے ہوئی اور دوسری کی شادی مولوی محمد یوسف صاحب ولد مولوی عبدالقیوم صاحب دہلوی سے ہوئی جو شاہ اسحاق صاحب محدث دہلوی کے نواسے تھے اور بھوپال میں رہتے تھے۔
    سیّد محمد نصیر کی وفات کے بعد پھر خلافت کا مسئلہ اٹھا کیونکہ ان کے بیٹے تو پہلے ہی فوت ہو چکے تھے اس لئے مشورہ کے بعد یہ قرار پایا کہ بی امانی بیگم سے پوچھا جائے جو خواجہ میر درد صاحب کی پوتی تھیں۔ تما م مشایخ ڈیوڑھی پر جمع ہوئے اور یہ سوال کیا۔ آپ نے فرمایا:
    ’’جس رتبہ کے بزرگ خواجہ میردرد صاحب اور میراثر صاحب اور میرے والد خواجہ صاحب میر تھے۔ ویسا تو اب خاندان میں کوئی نظر نہیں آتا۔ اگر تھے تو میرے شوہر مولوی ناصر جان مگر وہ رحلت فرما چکے ہیں۔ اب رسمی سجادہ نشین باقی رہ گئے ہیں۔ وہ میں اپنے داماد کو دلوانی نہیں چاہتی۔ میرے نزدیک میاں ناصر امیر خواجہ محمد نصیر صاحب کے نواسہ گدی پر بٹھا دیئے جائیں۔‘‘
    چنانچہ بی امانی بیگم کے اِس ارشاد کو سب نے قبول کیا اور خواجہ ناصر امیر خلیفہ منتخب ہو گئے اور یہاں سے خلافت اور درویشی اور طریقہ محمدیہ کا سلسلہ منتقل ہو کر بالکل ایک دوسرے خاندان میں آ گیا جو ماں کی طرف سے حضرت خواجہ میردرد کا خاندان تھا اور باپ کی طرف سے نواب خانِ دوران کا خاندان تھا۔
    حضرت خواجہ میر درد کی پوتی بی امانی بیگم کا ارشاد قابل غور ہے کہ انہوں نے کس اخلاص سے امرِ خلافت کا فیصلہ فرمایا اور جو حقدار تھا اسی کا نام لیا یعنی جس میںاہلیت تھی اور یہ منشاء الٰہی کے ماتحت ہوا کیونکہ آخر یہ خلافت محمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روشنی میں ختم ہو جانے والی تھی اس کا ظہور ابتدائی اس رنگ میںہوا۔ پہلا انتقالِ خلافتِ محمدیہ باپ کے سلسلہ میں منقطع ہو کر بیٹی کے خاندان میں چلا گیا اور حضرت ناصر امیر پر ختم ہو گیا اس سلسلہ میں وہی آخری خلیفہ تھے۔
    اس لئے قبل اس کے کہ ہم نواب خانِ دوران کے خاندان کا ذکر کریں ہم خواجہ میردرد کے خاندان کے ذکر کو ختم کر دیتے ہیں اور مختصر سا شجرہ نسب شامل کر دیتے ہیں تاکہ یکجائی طور پر نظر ڈالی جا سکے۔
    اگرچہ ایک رنگ کی خلافت بعد میں بھی جاری رہی اور ہے مگر یہ صرف عرس وغیرہ کرانے کے لئے ہے چنانچہ خواجہ ناصر امیر کے بعد ان کے بیٹے ناصر وزیر خلیفہ ہوئے اور اب بھی ناصر عزیز خلیفہ ہیں۔

    ء…ء…ء













    شجرہ نسب حضرت خواجہ میر درد صاحب
    و حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب
    نمبر۱

    ۱
    خواجہ میر درد

    بن
    ۲
    خواجہ محمد ناصر

    بن
    ۳
    نواب روشن الدولہ

    بن
    ۴
    خواجہ فتح اللہ خان

    بن
    ۵
    خواجہ محمد طاہر

    بن
    ۶
    خواجہ عوض بخاری

    بن

    خواجہ سلطان احمد

    بن
    ۸
    خواجہ میرک

    بن
    ۹
    سلطان احمد ثانی

    بن
    ۱۰
    خواجہ قاسم

    بن
    ۱۱
    خواجہ شعبان

    بن
    ۱۲
    خواجہ عبداللہ

    بن
    ۱۳
    خواجہ زین العابدین

    بن
    ۱۴
    حضرت بہائوالدین نقشبند

    بن
    ۱۵
    خواجہ عبداللہ بخاری

    بن
    ۱۶
    خواجہ جلال الدین بخاری

    بن
    ۱۷
    سید کمال الدین بخاری

    بن
    ۱۸
    سید حسین ملقب بہ محبوب

    بن
    ۱۹
    سید حسین اکبر

    بن
    ۲۰
    سید عبداللہ

    بن
    ۲۱
    سید فخر الدین

    بن
    ۲۲
    سید یلاق

    بن
    ۲۳
    سید محمود اعلیٰ

    بن
    ۲۴
    سید حسین مقبول

    بن
    ۲۵
    سید حسین محمد تقی

    بن
    ۲۶
    سید حسین محمدنقی

    بن
    ۲۷
    سید عبداللہ

    بن
    ۲۸
    سید جامع

    بن
    ۲۹
    سید علی اکبر

    بن
    ۳۰
    امام حسن عسکری

    بن
    ۳۱
    امام علی تقیؓ

    بن
    ۳۲
    امام علی نقیؓ

    بن
    ۳۳
    امام موسیٰ رضا

    بن
    ۳۴
    امام موسیٰ کاظم

    بن
    ۳۵
    امام جعفرؓ

    بن
    ۳۶
    امام باقرؓ

    بن
    ۳۷
    امام زین العابدین

    بن
    ۳۸
    امام حسینؓ

    بن
    ۳۹
    حضرت علیؓ

    بن
    ۴۰
    ابوطالبؓ

    اس طرح انتالیسویں پشت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ یہ شجرہ تفصیلات کا حامل نہیں ہے۔

    شجرہ نمبر۲
    حضرت خواجہ محمد ناصر عندلیب

















    نوٹ: حضرت میر ناصر نواب صاحب سے جو نسل چلی اس کا نقشہ دوسری جگہ دیا جائے گا۔

    توضیح
    ۱۔ بی بی زینت النساء بیگم صاحبہ جو حضرت خواجہ میردرد کی دوسری بیٹی تھیں وہ شاہ محمد نصیر کی والدہ تھیں اور شاہ محمد نصیر کے نواسہ ناصر امیر تھے جن کے دو بیٹے ہوئے ایک ناصر وزیر اور دوسرے حضرت میرناصر نواب صاحب جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خسر اور آپؑ کی اولاد کے نانا ہونے کا فخر حاصل ہوا اور جن کے وجود باجود کے ذریعہ حضرت اُمُّ المؤمنین علیھا السلام کا وجود دنیا میں ظہور پذیر ہوا اور جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں خُدَیْجَتِیْ فرمایا اور آپ کو نعمت عظمیٰ قرار دیا جس کی تصریحات اپنے مقام پر آئیں گی۔
    ۲۔ خواجہ میردرد کا جو خاندان کہلاتا ہے وہ ان کی بیٹیوں سے ہی چلا ہے کیونکہ خواجہ میر درد کے بیٹے ضیاء الناصر سے کوئی نرینہ اولاد نہیں چلی۔
    ۳۔ حضرت اُمُّ المؤمنین کے دُدھیال کے خاندان کا جو شجرہ ہم کو دستیاب ہو سکا وہ نواب خانِ دورانِ خان منصور جنگ سے شروع ہوتا ہے اوپر مورثانِ اعلیٰ حضرت علاؤ الدین عطارؒ نقشبندی ہیں۔
    ۴۔ نواب خانِ دوران منصور جنگ کے ناناعزیز میرزا گوکلتاش تھے جو افواجِ مغلیّہ میں شاہنشاہ اکبر کے زمانہ سے افواج مغلیّہ کے کمانڈرانچیف تھے اور ان کو خانِ زمان کا خطاب بھی تھا اور تاریخ ہند میں ان کے ذکر سے صفحات کے صفحات پُر ہیں۔
    ۵۔ نواب خانِ زمان کے چھوٹے بھائی نواب اعظم خان تھے جو خود بھی افواج مغلیّہ کے ارکان حرب میں سے تھے اور تاریخ ان کے ذکر کو بھی محفوظ رکھنے پر مجبور ہے۔
    ۶۔ نواب خانِ دوران کے دو بھائی تھے۔ ایک کا نام مظفر خان تھا۔ جو صوبہ دار گجرات بھی رہ چکے تھے۔ اور بعد میں افسر بارودخانہ مقرر ہو گئے تھے۔ ان کے عہدہ کا نام میرآتش تھا۔ دوسرے بھائی خواجہ جعفر تھے جو درویشی کے رنگ میں تھے۔ تاریخ ہند مصنفہ مولوی ذکاء اللہ صاحب میں ان کا تذکرہ بھی موجود ہے۔
    ۷۔ نواب خانِ دوران کے زمانہ میں ارکان حرب حسب ذیل تھے۔
    الف ۔ صمصام الدّولہ امیرالامراء نواب خانِ دَوران۔ منصور جنگ بخشی اوّل
    ب۔ نواب اعتماد الدّولہ معزالدین خان۔ بخشی دوم
    ج۔ نواب روشن الدّولہ رستم جنگ۔ بخشی سوم
    د۔ سیّد صلابت خان۔ بخشی چہارم
    حوالہ جات

    ۱؎ حیات النبی حصہ اوّل صفحہ۷۲،۷۳
    ۲؎ بیانِ واقع
    ۳؎ تذکرہ صفحہ ۲۱،۲۲ بحوالہ براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۰۳ حاشیہ در حاشیہ
    ۴؎ تذکرہ صفحہ ۲۲،۲۳ کتاب البریہ صفحہ ۱۶۴تا ۱۶۷
    ۵؎ تذکرہ صفحہ۷۶،۷۷ و براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ۵۰۲،۵۰۳
    ۶؎ میخانہ درد صفحہ۱۲۸
    ۷؎ میخانہ دردصفحہ ۱۲۸
    ۸؎ نالہ عندلیب صفحہ۲
    ۹؎ آب حیات صفحہ۸۸
    ۱۰؎ آب حیات صفحہ۹۳
    ۱۱؎ حاشیہ آب حیات صفحہ۹۰
    ۱۲؎ نالہ عندلیب صفحہ۳
    ۱۳؎ نالہ عندلیب صفحہ۶
    ۱۴؎ نالہ عندلیب صفحہ۶،۷
    ۱۵؎ میخانہ درد صفحہ ۹۲
    ۱۶؎ دیکھو تذکرہ شعرائے ہند مصنفہ میر حسن دہلوی (مصنفہ مولوی حبیب الرحمن شروانی انجمن ترقی اردو
    ۱۷؎ تذکرہ صفحہ۳۸
    ۱۸؎ تذکرہ ایڈیشن اوّل صفحہ۷
    ۱۹؎ میخانہ درد صفحہ ۱۲۵ تا صفحہ۱۲۸
    ۲۰؎ درثمین
    ۲۱؎ خطبہ الہامیہ صفحہ۱۷۱
    ۲۲؎ تذکرہ صفحہ۱۹۴ و صفحہ۱۹۶ و آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ۵۶۴ تا ۵۶۶
    ۲۳؎ تذکرہ صفحہ۶۴
    ۲۴؎ میخانہ درد صفحہ۱۵۰
    ۲۵؎ میخانہ درد صفحہ ۱۵۳




















    امیر الامراء صمصام الدّولہ نواب خانِ دَوران بہادر میر بخشی منصور جنگ کمانڈرانچیف افواج مغلیّہ








    حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کا جدّی خاندان
    اس وقت تک ہم نے حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ننھیال کے خاندان کا ذکر کیا تھا اب ہم آپ کے ددھیال کا مختصر ذکر کریں گے۔
    نواب خانِ دَوران
    حضرت میر ناصرنواب صاحب کے جدی بزرگوں کا سلسلہ خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔ اس سلسلہ کی درمیانی کڑیوں کی مَیں تلاش نہیں کر سکا۔ مگر اس سلسلہ میں سب سے قریب کے زمانے میں جس نامور بزرگ کا پتہ چلتا ہے وہ نواب خانِ دَوران ہیں۔ نواب خانِ دَوران کا اصلی نام خواجہ محمد عاصم تھا اور ان کے والد کا نام خواجہ محمد قاسم تھا مگر تاریخ ہند مصنفہ مولوی ذکاء اللہ صاحب جلد دہم مطبوعہ ۱۸۹۸؁ء کے صفحہ ۹۵ پر ان کا اصلی نام خواجہ حسن خان لکھا ہے مگر میرا خیال ہے کہ خواجہ محمد عاصم زیادہ درست اور صحیح نام معلوم ہوتا ہے اور سیرالمتاخرین جلد۲ صفحہ۱۱ پر خواجہ عاصم ہی نام لکھا ہے۔ مغلیّہ سلطنت میں سادات کرام کو فوج میں بڑے مناصب بآسانی مل جایا کرتے تھے۔ تاریخی کاغذات اور قلمی وثائق کے غدر ۱۸۵۷ء؁ میں گم ہو جانے سے بہت سی قیمتی اور تاریخی معلومات دنیا سے ناپید ہو گئیں۔
    اس لئے ہمارے لئے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہوگا کہ یہ خاندان جو حضرت علاء الدین عطارؒ کا خاندان تھا، کب واردِ ہند ہوا۔ مگر قرائن اس قدر بتلاتے ہیں کہ سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت علائو الدین عطار خواجہ محمد ناصر سے گیارہ پشت اُوپر کے بزرگوں میں سے ہیں۔ اس طرح خواجہ میر درد کے خاندان کو حضرت عطارؒ سے تعلق ارادت تھا۔ پھر سلسلہ نسب میں دونوں خاندانِ سادات میں سے تھے۔ اس لئے قیاس یہی ہے کہ کچھ نہ کچھ تعلق رشتہ داری پہلے سے چلا آتا ہوگا۔ لیکن تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ نواب خانِ دَوران کے نانا جو پہلے اکبر پھر بہادر شاہ اور پھر عزیز میرزا گوکلتاش معزالدین جہاندار شاہ کے زمانے میں فوج کے اعلیٰ عہدے دار تھے۔ معز الدین جہاندار شاہ کے مزاج میں اُن کو بڑا دخل تھا اور جو چاہتے تھے کرتے تھے اور جو چاہتے تھے بادشاہ سے کراتے تھے۔ گوکلتاش خان اُن کا خطاب تھا اور وہ اسی نام سے مشہور تھے۔ چنانچہ مولوی ذکاء اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ ’’بادشاہ کا ایمان تھا کہ وہ گوکلتاش خان کی خاطر داری کرے۔ اس لئے وہ ذوالفقار خان کی کچھ نہ سنتا تھا‘‘۔ ۱؎
    اسی طرح سیر المتاخرین نے بھی لکھا ہے کہ معز الدین جہاندار شاہ نے گوکلتاش کو خانِ جہان کا خطاب دیا تھا اور اس پر جو اعتماد تھا اس میں روز بروز اضافہ کرتا جاتا تھا۔ ۲؎
    خان جہان گوکلتاش کو بادشاہ کسی وقت اپنے سے الگ نہیں کرتا تھا اس لئے جب فرخ سیر جہاندار شاہ سے لڑنے کے لئے آیا تو اس وقت ۱۲/ ذیقعدہ ۱۱۲۴؁ھ دوشنبہ کی شب کے دو بجے جہاندار شاہ شاہجہان آباد سے لڑنے کے لئے اکبر آباد کی طرف روانہ ہوا۔ ہراول کی فوج کا افسر ذوالفقار خان تھا۔ گوکلتاش خان جہاندار کے ساتھ تھا۔ ستر اسّی ہزار فوج ساتھ تھی۔ ۳؎
    فرخ سیر اور جہاندار شاہ کی جنگ
    ۱۴/ ذی الحج کو میدانِ جنگ میں دونو طرف کی فوجیں جم گئیں۔ خانِ جہان بمع اعظم خان و جانی خان ہمراہیان کے دستِ راست پر تھے۔ اُن کے مقابل پر خانِ زمان اور جھیلہ رام ٹھاکر صف آرا ہوئے۔ ۴؎
    جنگ نے نازک صورت اختیار کر لی خانِ جہان جہاندار شاہ کی طرف جا رہے تھے کہ خان زمان اور جھیلہ رام کمین گاہ سے نکل کر حملہ آور ہوئے اور خانِ جہان کو مجروح اَور بے دست وپا کر دیا۔ ۵؎
    چونکہ تاریخ میں اس واقعہ کے بعد خانِ جہان کا ذکر نہیں آتا۔ اس لئے اغلب خیال ہے کہ وہ زخموں سے چور ہو کر مر گئے۔ مَیں لکھ چکا ہوں کہ خانِ جہان کے ساتھ جو افسرانِ فوج اعظم خان اور جانی خان تھے۔ اعظم خان کے متعلق سیرالمتاخرین کے مصنف نے لکھا ہے کہ وہ گوکلتاش خان کے بھائی تھے۔ ۶؎ وہ بھی اِس جنگ میں زخمی ہو کر مارے گئے۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نواب خانِ دَوران کے دیگر عزیز رشتہ دار اکبر و بہادر شاہ کے زمانے یا اس سے بھی پہلے سے حکومت کے مناصبِ جلیلہ پر فائز تھے۔ بادشاہانِ وقت کو ان پر پورا پورا اعتماد تھا اور باوجود اس کے کہ وہ زمانہ وساوسں اور فتنہ سازی کا زمانہ تھا۔ مگر ان لوگوںکا مقام اس قدر مضبوط تھا کہ ان کو کسی قسم کا خطرہ کبھی دامن گیر نہ ہوا۔
    خانِ دَوران خان
    اغلباً بہادر شاہ کے زمانہ میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اُن کے ابتدائی مناصب کا علم نہیں۔ جب فرخ سیر جہاندار شاہ سے لڑنے آیا۔ اُس وقت خانِ دَوران کا منصب پنج ہزاری تھا۔ معز الدین جہاندار شاہ نے اُس وقت خانِ دَوران کا منصب بڑھا کر ہفت ہزاری بنا دیا نیز جب تک وہ پنج ہزاری تھے۔ اُس وقت تک وہ اپنے اصلی نام ہی سے یاد کئے جاتے تھے۔ مگر ہفت ہزاری ہونے کے ساتھ ہی اُن کو خانِ دَوران کا خطاب دیا گیا۔
    میرا خیال یہ ہے کہ چونکہ اُن کے نانا جو ابھی زندہ تھے اور ان کو خانِ جہان کا خطاب تھا اس لئے اسی مناسبت سے اُن کو خانِ دَوران کا خطاب دیا گیا اور اپنے شاہزادے کا بھی اُن کو مربی تجویز کیا اور تمام فوج اور توپ خانے کا اختیار دیا گیا۔ ۷؎
    اگرچہ خان جہان مر گیا۔ مگر خانِ دَوران کا ڈنکہ بدستور بجتا رہا۔ خانِ دَوران خان متعدد لڑائیوں میں لڑتا رہا۔ مگر جہاندار شاہ کو شکست ہوئی اور اس شکست کا اصل سبب بدنظمی اور افسران کی بد اعتمادی تھی۔ اس کے نتیجہ میں فرخ سیر بادشاہ ہو گیا۔فرخ سیر نے اپنے وفاداروں کو نئے منصب اور خطابات دیئے۔ چنانچہ سیّد عبداللہ خان قطب الملک یار وفادار ظفر جنگ کا خطاب ملا۔ ہفت ہزاری ہفت ہزار سوار، دواسپہ سہ اسپہ کا منصب اور وزارت عظمیٰ دی گئی۔ سیّد حسین علی خان کو امیر الامراء بہادر فیروز جنگ ہفت ہزاری ہفت ہزار سوار کا منصب اور میر بخشی محمد امین خان کو اعتماد الدولہ کا خطاب ہزاری ہزار کا منصب نظام الملک فتح جنگ کا خطاب اور دکن کا صوبہ دار مقرر کیا۔
    قاضی عبد اللہ تورانی کو خانخاناں میر جملہ کا خطاب، ہفت ہزاری اور ہفت ہزار سوار کا منصب ملا۔ ۸؎
    اس سلسلہ میں جہاندار شاہ کے مقربین نے بھی کسی نہ کسی طرح عذر معذرت کر کے رسوخ حاصل کیا۔ چنانچہ نواب خانِ دَوران کو صمصام الدولہ خانِ دَوران کا خطاب عطا ہوا اور منصب ہفت ہزار شش ہزار سوار عطا ہوا۔ ۹؎
    فرخ سیر کے زمانے میں بھی صمصام الدولہ نواب خانِ دَوران خان کا ستارہ عروج پر چڑھتا چلا گیا۔ بادشاہ کے مزاج میں اُن کو بڑا دخل ہوا۔ ۱۱۴۹؁ہجری ۸/ذیقعدہ بروز یک شنبہ کا تقرر باجی رائو مرہٹہ کی سرکوبی کیلئے ہوا اس وقت ان کے خطابات میں مزید اضافہ ہو چکا تھا اور وہ امیرالامراء اور منصور جنگ کے گراں قدر خطابات کے حامل ہو چکے تھے اور اب ان کا نامِ نامی اس طرح لکھا جاتا تھا۔ امیر الامراء صمصام الدولہ خانِ دَوران خان بہادر، منصور جنگ اس وقت نواب خانِ دَوران کی یہ عظمت تھی کہ وہ بادشاہ کے علم کے بغیر گورنروں تک کے عزل و نصب کے احکام جاری کر دیتے تھے۔ ۱۰؎
    امیر الامراء کے معاصرین
    امیر الامراء کا لقب معمولی لقب نہ تھا اور یہ ہر کس و ناکس کو نہیں دیا جاتا تھا۔ قطب الملک، نظام الملک، آصف جاہ اوّل جیسے بڑے بڑے عمائدین نواب خانِ دَوران کے معاصرین میں سے تھے۔ اس زمانہ میں نواب روشن الدولہ رستم جنگ بھی ان کے معاصرین میں تھے جو خواجہ میر درد کے بزرگوں میں سے تھے۔ نواب روشن الدولہ کا تذکرہ مَیں پہلے کر چکا ہوں۔ مگر یہاں صمصام الدولہ کے ذکر کے ساتھ اس قدر ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ نواب روشن الدولہ افسر خزانہ تھے۔ کابل کے محاصیل جو بارہ لاکھ سالانہ تھے اُنہی کے پاس آتے تھے۔نواب روشن الدولہ کے گرانے کیلئے ان کے دشمن سازشیں کرتے رہتے تھے۔ آخر فرخ سیر کے دل میں بھی شک پیدا ہوا تو اس نے روشن الدولہ سے چارج لینے کا کام بھی صمصام الدولہ کے سپرد کیا اور اس طرح روشن الدولہ کے بعد اُن کو افسر خزانہ اور افسر محاصیل افغانستان بھی مقرر کر دیا گیا۔ ۱۱؎
    فخر الدولہ صوبہ دار عظیم آباد پٹنہ
    فخر الدولہ جو نواب روشن الدولہ رستم جنگ کا حقیقی بھائی تھا، بھی حکومت مغلیّہ میں بڑا بااثر شخص تھا۔ وہ صوبہ عظیم آباد پٹنہ کا گورنر تھا۔ اس زمانہ کی گورنری ایک مطلق العنان بادشاہ سے کم نہ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ جب کہ وہ اپنے علاقہ حکومت سے آیا ہوا تھا اس نے خواجہ معتصم سے کوئی ایسا سلوک کیا جو اُسے ناگوار گزرا۔ خواجہ معتصم ایک باشان و شوکت انسان تھا۔ مگر وہ فقراء اور مشائخ کے رنگ میں رنگین تھا۔ یہ نواب صمصام الدولہ کا بھائی تھا۔ اس نے اپنے بھائی صمصام الدولہ سے اس بے ادبی کا ذکر کیا جسے سن کر صمصام الدولہ اس قدر برہم ہوا کہ فخر الدولہ کو وہاں سے بدل دیا گیا۔ ۱۲؎
    اس سے بآسانی اِس امر کا پتہ چل سکتا ہے کہ اُس وقت صمصام الدولہ کی کیا طاقت تھی اور اُسے بادشاہ کی طبیعت میں کس قدر دخل تھا۔
    مظفر خان میر آتشی
    ۱۱۳۸؁ ہجری میں مظفر خان صاحب جو نواب خانِ دَوران کے بھائی تھے کو میر آتشی یعنی بارود خانہ کی افسری کا عہدہ سرفراز کیا گیا۔ ۱۳؎ ۱۱۴۶ ؁ہجری میں مرہٹوں نے گجرات اور مالوہ کے صوبوں کو تسخیر کر لیا تھا۔ اُن کی سرکوبی کیلئے مظفر خان میر آتشی کو بھیجا گیا۔ بائیس امیر مع سپاہ کے ساتھ تھے۔ مگر مرہٹوں نے کسی جگہ مظفر خان کے لشکر سے جنگ نہ کی۔ ۱۴؎ بالآخر اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے ۷/ذیقعدہ ۱۱۴۹؁ہجری میں صمصام الدولہ خود تیس چالیس ہزار سوار مع توپ خانہ کے گئے اور ہندوستان کے بعض عمدہ راجے بھی ہمراہ تھے۔ بادشاہ کے حضور صمصام الدولہ کی اس قدر عزت تھی کہ اس کی مرضی کے خلاف کسی کی بات نہ سنتا تھا اور جو بادشاہ کے دل میں آتا، اُسے لکھ بھیجا کرتا تھا۔ ۱۵؎
    محمد شاہ کا زمانہ
    فرخ سیر کا زمانہ بھی گذر گیا۔ اب محمد شاہ کا زمانہ آ گیا۔ مگر نواب خانِ دَوران ابھی تک بدستور کمانڈر انچیف افواجِ مغلیّہ تھا۔ محمد شاہ بھی اُن کی ہر ایک بات مانتا تھا۔ حتیّٰ کہ نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ تاریخ کی عام کتابوں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نادر شاہ کا مقابلہ کرنال کے قریب خانِ دَوران خان سے ہوا مگر ایک کتاب جس کا نام ہی نادر شاہ ہے اور ۱۷۴۳؁ء میں لنڈن میں طبع ہوئی تھی اور اب بالکل نادر ہے اس کا ایک نسخہ مَیں نے جناب مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ حیدرآباد دکن کی لائبریری میں دیکھاتھا جس میں لکھا ہوا ہے کہ خانِ دَوران نے نادر شاہ کا دو دفعہ مقابلہ کیا۔ ایک تو جب کہ وہ کابل سے گزر کر ہندوستان میں داخل ہو رہا تھا۔ اٹک میں اس سے جنگ ہوئی مگر خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔
    دوسرے جب نادر خان دہلی کے قریب آ گیا تو خانِ دَوران خان اپنے دو بیٹوں سمیت کرنال کے قریب اس سے لڑنے کیلئے نکلا۔ دہلی کے تمام عمائدین اُس وقت اپنے حوصلے ہار چکے تھے۔ اطلاع آئی کہ چند قزلباش برہان الملک کے ڈیروں پر ہاتھ مار گئے۔ یہ سن کر برہان الملک تلوار ٹیک کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ:
    ’’صاحب اب کونسی بات باقی ہے جس کا انتظار کیا جائے‘‘
    اُسی وقت فوج لے کر لڑنے کو روانہ ہوا۔ نواب خانِ دَوران نے اس واقعہ کی اطلاع بادشاہ کو دی۔ انہوں نے آصف جاہ اوّل کو خبر کی۔ آصف جاہ نے کہا پہر دن باقی ہے۔ اس لئے برہان الملک کو روکنا چاہئے کیونکہ اُن کا لشکر منزلیں مارتا ہوا آیا ہے۔ اس وقت بے موقع جرأت کرنی مناسب نہیں۔ کل توپخانہ سامنے رکھ کر اور سب لشکر کو ترتیب دے کر بندوبست سے لڑیں۔ بادشاہ نے یہی بات خانِ دَوران کو کہلا بھیجی۔ خانِ دَوران سنتے ہی بِگڑ کر اُٹھ بیٹھا اور کہا کہ بڑے حیف کی بات ہے۔ ایسا جوانمرد سردار آقا کے نمک پر نثار ہونے جائے اور ہم پہلو میں بیٹھے اس کے مرنے کا تماشا دیکھا کریں۔ اُسی وقت ہاتھی پر سوار ہو کر فوج لے کر روانہ ہوا۔ نادر خان کی فوج سے جنگ ہوئی۔ خانِ دَوران زخمی ہو گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں تمام ڈیرے خیمے لٹ گئے۔ بادشاہ کو خبر ہوئی تو بادشاہ کی طرف سے خواجہ سراء آئے اور آصف جاہ وغیرہ امراء عیادت کو آئے۔ خانِ دَوران خان نے آنکھ کھولی اور کہا:
    ’’ہم نے تو اپنا کام کر لیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام۔ مگر کہتے ہیں کہ بادشاہ کو نادر کے پاس اور نادر کو شہر میں نہ لے جانا‘‘۔ ۱۶؎
    سیرالمتاخرین کے مصنف نے اس سارے واقعہ پر اس قدر اضافہ کیا ہے کہ اُس کا بھائی مظفر خان اور اُس کا بڑا لڑکا بھی اس جنگ میں تھا۔ ملاحظہ ہو صفحہ۱۰۷ جلد۲ نادر شاہ مطبوعہ لنڈن میں خانِ دَوران خان کے دو لڑکوں کا ذکر ہے۔
    تاریخ اسلام مصنفہ ذاکر حسین جعفر مطبوعہ ۱۳۴۴ ؁ہجری نے صفحہ۱۴۹ میں لکھا ہے کہ نادر شاہ سے صمصام الدولہ کی فوجوں کی جنگ ۱۷۳۹؁ء میں کرنال پر ہوئی۔ یہ مختصر سے واقعات اُن لمبے واقعات سے لئے گئے ہیں تا کہ یہ بتلایا جا سکے کہ نواب خانِ دَوران اپنے زمانہ میںکس پایہ کے آدمی تھے۔ وہ فوج کے افسر اعلیٰ تھے۔ وہ خزانہ کے افسر اعلیٰ تھے۔ ان کا سارا خاندان نانا، بھائی، بیٹے وغیرہ فوج میں سربرآوردہ عہدوں پر فائز تھے۔ وہ ہر وقت حکومت وقت کے لئے فدا کارانہ جذبہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر سلطنت کی مضبوطی کی کوشش کی۔ اُن کے دروازوں پر ہاتھی جھومتے تھے۔ سونے چاندی کی نہریں اُن کے محلات میں بہا کرتی تھیں۔ نوکر چاکر، خدم حشم سب کچھ موجود تھا اور کسی چیز کی کمی نہ تھی۔
    معلوم ہوتا ہے کہ نواب خانِ دَوران کے دو ہی بیٹے تھے۔ بڑے کا نام قمر الدین خان تھا جو محمد شاہ کا وزیر اعظم تھا اور چھوٹے کا نام احتشام علی خان تھا جو شاہی محلات کا داروغہ تھا۔ احتشام علی خان کا ذکر مسٹر جیمس فریزر نے اپنی کتاب موسومہ نادر شاہ میں احتشام خان کے نام سے کیا ہے اور امیر الامراء کا خطاب جو اُس وقت سلطنت کے سب سے بڑے آدمی کو حاصل تھا، اس خاندان سے نکل کر نواب آصف جاہ اوّل کی طرف منتقل ہو گیا اور بالآخر یہ خطاب ہی سلطنت کی تباہی کا باعث ہوا۔ بُرہان الملک کو امید تھی کہ یہ خطاب مجھے ملے گا۔ مگر جب آصف جاہ اوّل کو مل گیا تو برہان الملک نے وہ کچھ کیا جو غدّاری کے مفہوم میں داخل ہو گیا۔
    آخری واقعہ نواب خانِ دَوران کا اس شجاعت اور بہادری کا ثبوت دیتا ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اس کی غیرت نے پسند نہ کیا کہ وہ برہان الملک کی فوج کو موت کے منہ میں جھونک دے۔ وہ خود مٹ گیا مگر اپنے خون سے تاریخ میں یہ ثبت کر گیا۔
    ثبت است برجریدۂ عالَم دوامِ ما
    صمصام الدولہ دن کو ایک بہادر سپاہی تھا اور رات کو اس کی مجلس میں علماء حکماء، شعراء جمع ہوا کرتے تھے۔ وہ خود بھی شعر و شاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ ایک دفعہ فرخ سیر بادشاہ کے سامنے آئینہ تھا اور وہ بار بار آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھتے تھے۔ نواب خانِ دَوران خان نے فی البدیہہ ایک غزل کہی جس کا مطلع ہے۔
    سحر خورشید لرزاں برسہ کوئے تو می آید
    دلِ آئینہ را نازم کہ بر روئے تو می آید
    الغرض اس طرح امیر الامراء صمصام الدولہ نواب خانِ دَوران بہادر میر بخشی منصور جنگ ایک لمبی مدت تک اپنی حکومت، اپنی صولت و جاہ اپنی شوکت و طاقت و حکومت کا چار دانگِ عالم میں دُہل بجوا کر ۱۱۵۰؁ہجری راہے ملکِ بقا ہوئے۔ دہلی میں اُن کی یادگا ایک شاندار مسجد ہے۔ اُسی کے ایک پہلو میں اُن کا مرقد بنا ہوا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔
    میر ہاشم علی صاحب
    مَیں لکھ چکا ہوں کہ نواب خانِ دَوران نادر شاہ کی جنگ میں مار ے گئے اُن کے ساتھ اُن کے بھائی مظفر خان اور اُن کے دو بیٹے بھی اس جنگ میں لڑ رہے تھے۔ جن میں سے بڑے کا نام قمر الدین خان اور چھوٹے کا نام احتشام علی خان تھا۔ احتشام علی خان کے بیٹے میر ہاشم علی خان تھے… میر ہاشم علی صاحب غالباً کسی سرکاری منصب پر نہ تھے۔ باپ دادا کی جائیداد اُن کے گزارے کیلئے کافی ہوئی۔ غدر ۵۷ء؁ میں اُن کی عمر اسّی سال کی ہو چکی تھی اور حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ:
    ’’دادا اسّی سالہ ضعیف تھے اور کچھ جائیداد بھی نہ رکھتے تھے اور جو جائیداد تھی وہ ہمارے خاندان سے جا چکی تھی‘‘۔ ۱۷؎
    میر ہاشم علی صاحب کی اولاد
    میر ہاشم علی صاحب کے ایک صاحبزادے تھے جن کا نام خواجہ سیّد ناصر امیر صاحب تھا۔ خواجہ سیّد ناصر امیر کی والدہ بی نصیرہ بیگم صاحبہ تھیں جو شاہ محمد نصیر صاحب رنج کی بیٹی تھیں۔ بی نصیرہ بیگم کے بطن اور میر ہاشم علی صاحب کی صُلب سے ایک صاحبزادی فرحت النساء بیگم اور ایک صاحبزادے یعنی سیّد ناصر امیر صاحب پیدا ہوئے۔ فرحت النساء بیگم کی شادی حافظ منیرالدین صاحب سے ہوئی جو قصبہ جلیسر میں رہتے تھے۔ اُن کے بطن سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ جن کا نام حاجی کبیر الدین احمد صاحب اور پیر جی بشیر الدین احمد صاحب ہے۔ یہ پیری مریدی کا سلسلہ رکھتے ہیں۔ اِن دونو حضرات کا بفضلہ سلسلہ نسل چل رہا ہے۔
    سیّد ناصر امیر صاحب
    سیّد ناصر امیر صاحب بن میر ہاشم علی صاحب کے جوان ہونے پر اُن کی پہلی شادی میر بھکاری صاحب کی دختر سعیدہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔ یہ سعیدہ بیگم صاحبہ خواجہ محمد نصیر صاحب رنج کے نواسہ کی بیٹی تھیں۔ اُن کے بطن سے ایک لڑکا سیّد ناصر وزیر پیدا ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے دوسری شادی میر شفیع احمد صاحب ساکن فراشخانہ کی دختر بلند اختر سے کی۔ اُن کا نام بی روشن آراء بیگم صاحبہ تھا۔ بی روشن آراء بیگم کے متعلق خاندان کے تمام افراد یہی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے نام کی طرح روشن آراء ہی تھیں۔ وہ بڑی بزرگ اور مقدسہ خاتون تھیں۔ بڑی نیک بخت اور عبادت گذار تھیں۔ اُن کے بطن سے ایک صاحبزادے جو ہمارے واجب الاحترام بزرگ ہوئے، پیدا ہوئے۔ یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ۔ ان کی دو ہمشیرگان بھی تھیں۔ ایک کا نام رفعت النساء بیگم صاحبہ تھا جن کی شادی حافظ منیر الدین صاحب کے صاحبزادے پیر جی بشیر الدین صاحب سے قصبہ جلیسر میں ہوئی اور دوسری صاحبزادی کا نام بی انجمن آراء بیگم صاحبہ تھا۔ اُن کی شادی مولوی محمد یوسف صاحب بن مولوی عبدالقیوم صاحب سے ہوئی جو شاہ محمد اسحاق صاحب محدث کے نواسے تھے اور بھوپال میں سکونت پذیر تھے۔
    خواجہ ناصر امیر صاحب کی سجادہ نشینی
    جب خواجہ سیّد محمد نصیر صاحب کی وفات ہوگئی تو مسئلہ سجادہ نشینی بہت پیچیدہ ہو گیا۔ خواجہ سیّد محمد نصیر صاحب کے بیٹے مولوی سیّد ناصر جان اُن کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھے۔ بالآخر تمام مشائخ بارہ دری میں جمع ہوئے اور مشورے کے بعد طَے ہوا کہ بی امانی بیگم صاحبہ کیونکہ امانی بیگم صاحبہ خواجہ صاحب میر کی بیٹی اورخواجہ میر درد صاحب کی پوتی تھیں۔ ان سے استصواب کیا گیا۔ یہ مولوی سیّد ناصر جان کی بیوہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ :
    ’’جس رُتبہ کے بزرگ خواجہ میر درد صاحب، خواجہ میر اثر صاحب اور میرے والد خواجہ صاحب میر صاحب تھے۔ ویسا تو اب خاندان میں مجھے کوئی نظر نہیں آتا۔ میرے شوہر تھے وہ تو رحلت کر گئے ہیں۔ اس لئے میرے نزدیک میاں ناصر امیر خواجہ محمد نصیر صاحب کے نواسہ کو گدی پر بٹھا دیا جائے‘‘۔
    چنانچہ اس مشورے کے ماتحت سب مشائخ نے سیّد ناصر امیر صاحب کو سجادہ نشین تسلیم کر لیا۔ اس طرح خواجہ محمد ناصر کے گھر میں جو نور آیا تھا وہ منتقل ہو کر منشاء الٰہی کے ماتحت سیّد ناصر امیر صاحب کے گھر میں آ گیا۔
    سیّد ناصر امیر صاحب کی گدی نشینی کی مخالفت
    شاہ محمد نصیر صاحب کی ایک اور بیوی تھیں۔ جن کے بطن سے دو لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کا نام تھا انجمن النساء اور اشرف النساء۔ انجمن النساء صاحبہ کی شادی حکیم مومن خان صاحب مشہور شاعر سے ہوئی۔ چونکہ حکیم مومن صاحب شاہ محمد نصیر صاحب کے داماد تھے اس لئے اُن کو سیّد ناصر امیر صاحب کی سجادہ نشینی سخت ناگوار گزری۔ ان کاخیال تھا کہ وہ شاہ محمد نصیر صاحب کی جگہ گدی نشین ہوتے۔ مگر وہ خود بھی اپنے آپ کو اس کا اہل خیال نہ کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے ہم زلف مولوی سیّد یوسف علی صاحب مدراسی کو آمادہ کیا۔ جمعہ کے دن ان کے گلے میں کفنی ڈالی اور ایک ناصری اُن کے کندھے پر رکھی جو خواجہ میر درد کے خاندان کی خاص علامت ہے اور اُن کو جامعہ مسجد میں لے گئے۔ جمہور مسلمانوں سے کہا گیا کہ یہ خواجہ محمد نصیر صاحب کی جگہ گدی نشین ہوئے ہیں۔ مگر دلی کے لوگ ان کی طرف ذرا بھی متوجہ نہ ہوئے اور یہ جادو بھی نہ چل سکا۔ ۱۸؎
    اس ناکامی کے بعد حکیم مومن نے اپنی بیوی اور سالی کی طرف سے یہ دعویٰ کر دیا کہ بارہ دری اور اس کے متعلق تمام جائیداد ہماری ہے۔ اس مقدمہ بازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بارہ دری اور حجرہ یعنی خواجہ میر درد کا عبادت خانہ تو وقف ہو کر دعویٰ سے مستثنیٰ ہو گیا اور باقی جائیداد کا دعویٰ خارج ہو گیا کہ یہ تمام جائیداد خواجہ محمد نصیر کی نہیں بلکہ خواجہ میر درد کی متروکہ ہے البتہ خواجہ محمد نصیر صاحب کا چوتھائی حصہ تسلیم کیا گیا۔ اس مقدمہ بازی کا یہ نتیجہ ہوا کہ حکیم مومن کی بیوی اور سالی کے مکانات مصارف مقدمہ میں بِک گئے۔
    اب چوتھائی حصہ کے لئے پھر دعویٰ ہوا۔ اس میں مومن خان کو کامیابی ہوئی۔ خاندان کی جائیداد اِس مقدمہ میں تباہ ہو گئی۔ کئی مکانات نیلام ہو گئے اور اس طرح اس جائیداد کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔
    ناصری گنج کی طرف نظر
    اب ان کی آنکھوں کے سامنے صرف ناصری گنج کی جائیداد تھی اس کے لئے مومن خان صاحب نے مولوی یوسف علی صاحب کو ناصری گنج بھیجا تا کہ میر عبدالناصر صاحب پر نالش کر کے وہاں چوتھا حصہ وصول کیا جائے۔ مگر میر عبدالناصر صاحب نے پہلے ہی بائیس کے بائیس گائوں اپنی بیوی کے نام مہر پر لکھ دیئے تھے۔ اس لئے وہاں جانا سوائے زیر باری کے اور کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکا۔ ہاں اس چھیڑ چھاڑ کا یہ نتیجہ ہوا کہ میر عبدالناصر صاحب جو روپیہ بی امانی بیگم صاحبہ اور دیگر حقداروں کو بھیجا کرتے تھے وہ بھی بندکر دیا اس لئے ان سب متعلقین کو تکلیف ہو گئی۔ اسی سلسلہ میں خواجہ ناصر امیر صاحب بھی ناصری گنج تشریف لے گئے تا کہ نالش کر کے اپنے حقوق حاصل کریں۔ مگر قضاء الٰہی کے ماتحت وہ ۱۶/ذوالحجہ ۱۲۷۰؁ ہجری مطابق ۱۰/ستمبر ۱۸۵۴؁ء کو مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے۔
    خواجہ سیّد ناصر وزیر صاحب
    خواجہ سیّد ناصر امیر صاحب کی وفات کے بعد بی امانی بیگم کے مشورے سے سیّد ناصر امیر کے بڑے بیٹے ناصر وزیر صاحب کو گدی نشین کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنے طریقہ محمدیہ کے علاوہ طریقہ مجددیہ نقشبندیہ اور سہروردیہ اور قادریہ کو بھی حاصل کیا۔ فقہ حدیث بھی پڑھی۔ خط نسخ، نستعلیق، شفیعہ، شکستہ و خط ناخن وغیرہ میں کمال حاصل کیا۔ مسجد میر درد کی تجدید کرائی۔ آپ نے عرسوں وغیرہ کو خوب ترقی دی۔ آپ ۱۲۹۸ ؁ہجری ماہ شعبان میں حج سے واپس آ کر مرض اسہال کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ سیّد ناصر وزیر کی شادی نواب امین الدین خان صاحب جاگیر دار لوہارو کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔
    آپ کی اولاد
    آپ کے تین لڑکے پیدا ہوئے۔ جن کے حسب ذیل نام ہیں۔
    سیّد ناصر خلیل عرف کلن، سیّد ناصر سعید عرف ابن، چھوٹے کا نام سیّد ناصر وحید تھا۔ یہ تینوں اصحاب بھی فوت ہوچکے ہیں۔ البتہ سیّد ناصر خلیل صاحب کے بیٹے سیّد ناصر جلیل صاحب گلبرگہ دکن میں ملازم ہیں اور صاحب اولاد ہیں۔
    سیّد ناصر وزیر صاحب کی تین صاحبزادیاں تھیں۔ بڑی لڑکی جناب محی الدین صاحب کو بیاہی گئیں۔ وہ خود فوت ہو گئی ہیں۔ اُن کی اولاد موجود ہے۔ دوسری لڑکی مومن خان کے نواسہ سے بیاہی گئیں۔ یہ بھی صاحبِ اولاد ہیں۔ تیسری لڑکی کی شادی میرزا محمد سعید بیگ صاحب بن میرزا مہر علی بیگ صاحب ساکن کوچہ پنڈت دہلی سے ہوئی۔ ان کے بطن سے ایک لڑکی اور دو لڑکے پیدا ہوئے۔
    آخری انجام
    خواجہ ناصر وزیر کی وفات کے بعد خواجہ ناصر خلیل اور ناصر سعید میں جھگڑا ہو گیا۔ اس جھگڑے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواجہ میر درد صاحب کا عبادتخانہ جسے حجرہ کہتے تھے بِک گیا اور بارہ دری جو عبادت خانہ کے ساتھ وقف تھی مکان مسکونہ بنا لی گئی اور اس طرح مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کے ساتھ ہی وہ ظاہری آثار بھی گم ہو گئے اور اب اس بارہ دری میں ناصر سعید صاحب کی اولاد رہتی ہے۔ یہ حالات دیدۂ بینا کے لئے بہت کچھ حقائق اور بصیرت افروز امور اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ کس شان و شوکت سے جس چیز کا آغاز ہوا تھا کیسا بھیانک اس کا انجام ہوا۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس خاندان کے لئے یہی مقدر تھا کہ اس کی روشنی اس نیر اعظم میں جس کا نام مسیح موعود علیہ السلام ہے گم ہو جائے گی۔ کاش! دنیا سمجھے اور سوچے اور عبرت پکڑے۔ خواجہ میر درد صاحب کی درگاہ کے ساتھ ایک بڑی شاندار باغیچی تھی یہیں اُن کا قبرستان بھی تھا اور عید گاہ بھی تھی۔ خواجہ میر درد اسی جگہ عید پڑھنے جایا کرتے تھے۔ قبرستان میں عام مسلمانوںکے مُردے بھی دفن ہوتے تھے۔ باغیچی سَو سال تک خوب بہار اور رونق پر رہی۔ ایک چلّہ خانہ بھی یہاں تھا جہاں صوفی لوگ چلّہ کشی کرتے تھے۔ اسی چلّہ خانہ کے اوپر بارہ دری بنی ہوئی تھی اس ساری زمین کو بڑی رونق تھی۔ لاکھوں بندگانِ خدا آتے تھے۔ ذکرِ الٰہی ہوتا تھا بادشاہ، امراء حاضر ہوتے تھے۔ مگر آج یہ سب کچھ ویران ہے۔ درخت کلہاڑوں اور آروں کی نظر ہوگئے۔ قبروں پر گائے، بیل چرنے لگے اور وہاں نہ کوئی عمارت رہی اور نہ کوئی رونق اور نہ درخت۔ وحشت اور ویرانگی چھا گئی۔ وہ محفلیں جو کل نظر آتی تھیں۔ آج اُن کی خاک اُڑتی بھی نظر نہیں آتی۔ یہ سب کیوں ہوا؟ تا کہ الٰہی نوشتے پورے ہوں۔ حضرت میر درد کا اپنا ایک شعر ہے جو اس ساری حالت پر گویا بطور پیشگوئی کہا گیا تھا خوب صادق آتا ہے۔ فرماتے ہیں۔
    گُزروں ہوں جس خرابہ پہ کہتے ہیں واں کے لوگ
    ہے کوئی دِن کی بات یہ گھر تھا وہ باغ تھا ۱۹؎
    حوالہ جات
    ۱؎ تاریخ ہند صفحہ۹۹، سیر المتاخرین صفحہ ۵۵
    ۲؎ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ ۳۸
    ۳؎ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ۴۹
    ۴؎ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ۵۱
    ۵؎ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ۵۲
    ۶؎ تسیر المتاخرین صفحہ۵۳
    ۷؎ تاریخ ہند صفحہ۹۴، ۹۵ مصنفہ ذکاء اللہ، سیر المتاخرین صفحہ۳۸
    ۸؎ تاریخ ہند صفحہ۱۰۸ مصنفہ ذکاء اللہ جلد دہم۔ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ۵۵
    ۹؎ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ۵۵
    ۱۰؎ سیر المتاخرین صفحہ ۱۶ جلد۲
    ۱۱؎ تاریخ ہند جلد دہم مصنفہ ذکاء اللہ صفحہ۲۲۵
    ۱۲؎ سیر المتاخرین صفحہ۱۲ جلد۲
    ۱۳؎ تاریخ ہند جلد دہم مصنفہ ذکاء اللہ صفحہ۳۵
    ۱۴؎ تاریخ ہند صفحہ ۲۳۶
    ۱۵؎ تاریخ ہند صفحہ ۲۴۱
    ۱۶؎ سیر المتاخرین صفحہ۲۴۳۔ تاریخ ہند جلد دہم صفحہ۲۵۴
    ۱۷؎ حیات ناصر صفحہ۳
    ۱۸؎ میخانہ درد صفحہ۲۰۶
    ۱۹؎ میخانہ درد صفحہ۲۴۲



















    حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ










    حضرت میر ناصر نواب صاحب
    اب ہم اس بزرگ انسان کا ذکر کرتے ہیں جس کا وجود ان تمام برکتوں کا جامع تھا جو ایک طرف خواجہ میردرد کے گھرانے کو حاصل تھیںاور دوسری طرف خواجہ علائو الدین عطارؒ نقشبندی کے گھرانے کو حاصل تھیں یہ وہی بزرگ انسان تھا جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جری اللہ فی حلل الانبیاء کا خسر کہلائے اور جس کی بیٹی کے لئے مقدر تھا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی بعثتِ ثانیہ میں مومنوں کی ماں کہلائے۔ یہی وہ خاتون تھی جسے میں نے بخارا سے آنے والی امانت قرار دیا تھا۔ جس کو ہندوستان میں لانے کے لئے جہاں مسیح موعود ؑ نے پیدا ہونا تھا یہ خاندان جو محمدیین کا خاندان کہلایا ہندوستان ہجرت کر کے آیا تھا۔
    حضرت میر ناصر نواب میر ناصر امیر صاحب کے دوسرے بیٹے تھے اور دوسری بیوی محترمہ روشن آراء بیگم کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت میرناصر نواب صاحب کے سن پیدائش کا صحیح علم نہیں ۔ البتہ ایک قیاسی حساب کی رو سے ۱۸۴۶؁ء آپ کا سن پیدائش بنتا ہے اور وہ قیاسی حساب یہ ہے کہ غدر ۱۸۵۷؁ء حضرت میر صاحب نے دیکھا تھا غدر کے بعد جب آپ کی عمر ۱۶ سال کی ہوئی تو اس وقت آپ کی شادی ہوئی۔ اس لحاظ سے اگر غدر کا زمانہ چار سال قبل کا رکھا جائے تو ان کو ۱۴ سال کی عمر میں غدر کا حادثہ پیش آیا اور دو سال بعد شادی قرار دی جائے تو سولہ سال کی عمر بن جاتی ہے۔ اس لحاظ سے ۱۸۴۵؁ء یا ۱۸۴۶؁ء کے قریب کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
    ایک دوسرا قرینہ حضرت میر صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے:
    ’’ایک زمانہ آیا کہ میں پیدا ہوا اور دہلی شہر میں جنم لیا۔ خواجہ میردرد صاحب علیہ الرحمۃ کے گھرانے میں پیدا ہو کر نشوونما پایا اور ان کی بارہ دری میں کھیل کود کر بڑا ہوا ۔ان کی مسجد میں پڑھا کرتا تھا۔ ماں باپ کے سایہ میں پرورش پا رہا تھا۔ کوئی فکرواندیشہ دامن گیر نہ تھا کہ ناگہان میرے حال میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی۔ جس کا بظاہر کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اتفاقاً میرے والد ماجد کسی کام کے لئے بنارس تشریف لے گئے اور شاہ آباد آرہ میں ہیضہ سے ان کا انتقال ہو گیا اور میں مع اپنی دو ہمشیرہ کے یتیم رہ گیا۔‘‘ ۱؎
    خواجہ سیّد ناصر امیر صاحب کی وفات ۱۰ ستمبر ۱۸۵۴؁ء میں ہوئی۔ زمانہ تعلیم کا آغاز چونکہ پانچ چھ سال سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہی قیاس لگایا جا سکتا ہے کہ والد کی وفات کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی ہو گی۔ ان کی وفات سے دو اڑھائی سال بعد غدر ہوا اور غدر کے سال ڈیڑھ سال بعد آپ کی شادی ہوئی تو قرین قیاس یہی ہے کہ ۱۸۴۵؁ء یا ۱۸۴۶؁ء کے اندر آپ کی پیدائش ہوئی ہو گی۔ آپ کی پیدائش کے وقت آپ کے گھر میں سجاد گی تھی۔ آپ کے والد صاحب خواجہ میردرد کی گدی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ وہ شان و شوکت تو نہ تھی جو نواب خانِ دوران منصور جنگ کے زمانہ میں تھی۔ مگر تاہم شریفانہ طور پر گھر کا کام چل رہا تھا کیونکہ حضرت میر صاحب لکھتے ہیں کہ:
    ’’سامانِ معیشت بظاہر کچھ نہ رہا۔ فقط اللہ ہی کا آسرا تھا۔ دادا صاحب اگرچہ موجود تھے مگر وہ اسی سالہ ضعیف تھے اور کچھ جائیداد بھی نہ رکھتے تھے اور جو جائیداد تھی وہ ہمارے خاندان سے جا چکی تھی اور مفلس محض رہ گئے تھے۔ اس پر ظاہر آراستہ رکھنا بھی ضروری تھا۔‘‘ ۲؎
    یہ آخری فقرہ اس وقت کی حالت پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔ باوجود دولت و شوکت کے چلے جانے کے بعد خاندان کا رویہ ایسا تھا کہ دیکھنے والے جانتے تھے کہ جس طرح شرفاء اور باحیاء اپنی تکلیف کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے بالکل اسی طرح کسی کو معلوم نہ تھا کہ خاندان کی مالی حالت کیسی ہے۔ایسی حالت میں حضرت میر صاحب کے کنبہ کی کفالت کا بوجھ نانا صاحب میرشفیع احمد صاحب ساکن فراشخانہ نے اُٹھایا۔ حضرت میرصاحب کے دو ماموں تھے بڑے ماموں ڈپٹی کلکٹر انہار تھے اور دوسرے جن کا نام میر ناصر حسین صاحب تھا وہ بھی مادھوپور ضلع گورداسپور میں محکمہ نہر ہی میں ملازم تھے۔ ماموں صاحبان نے اس وقت مدد کی۔
    غدر کی مصیبت
    ابھی داغ یتیمی کا اثر دور نہیں ہوا تھا کہ ۱۸۵۷؁ء میں دہلی میں غدر ہو گیا۔ غدر کی داستان بہت طویل ہے وہ اس مختصر کتاب میں نہیں آ سکتی۔ مگر مختصرکیفیت اور وہ بھی حضرت میر صاحب کی زبانی یوں ہے کہ دلّی غدرمیں اُجڑ گئی اور تو اور شاہی خاندان بھی تباہ وبرباد ہو گیا۔ شہزادوں تک کو برسرِعام قتل کر دیا گیا ہر شخص کو اپنی جان و مال کا دغدغہ لگا ہوا تھا۔ دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہو گیا تھا۔ جوں جوں محاصرہ تنگ ہوتا جاتا تھا۔ تو ں توں شہر کی آفت بڑھتی جاتی تھی۔ شہر پر اس قدر گولے پڑتے تھے کہ فصیل اور متصلہ مکانات چھلنی ہو گئے تھے۔ بعض لوگ گولوں سے ہلاک بھی ہوتے جاتے تھے۔ چند ماہ کے محاصرہ کے بعد دلّی انگریزوں نے فتح کر لی اور باغی فوج وہاں سے بھاگ گئی۔ دلّی والوں کی شامت آ گئی۔ کر گیا ڈاڑھی والا۔ پکڑا گیا مونچھوں والا۔ نانی نے خصم کیا اور نواسہ پر جرمانہ ہوا۔ فتح مندوں نے شہر کو برباد کر دیا اور فتح کے شکریہ میں صدہا آدمیوں کو پھانسی چڑھا دیا۔ مجرم اور غیرمجرم میں تمیز نہ تھی چھوٹا بڑا ادنیٰ اعلیٰ برباد ہو گیا سوائے چوہڑے ،چماروں، سقوں وغیرہ کے یا ہندوؤں کے خاص محلوں کے کوئی لوٹ مار سے نہیں بچا۔ ایک طوفان تھا کہ جس میں کچھ نظر نہیں آتا تھا غرضیکہ گہیوں کے ساتھ جَو کا گھن بھی پس گیا۔ شہر کے لوگ ڈر کے مارے شہر سے نکل گئے اور جو نہ نکلے تھے وہ جبراً نکالے گئے اور قتل کئے گئے۔
    اس حالت سے یہ معزز خاندان بھی بچ نہ سکا چنانچہ حضرت میر صاحب خود لکھتے ہیں کہ:
    ’’یہ عاجز بھی ہمراہ اپنے کنبہ کے دلّی دروازہ کی راہ سے باہر گیا چلتے وقت لوگوں نے اپنی عزیز چیزیں جن کو اٹھا سکے ہمراہ لے لیں۔ میری والدہ صاحبہ نے اللہ ان کو جنت نصیب کرے میرے والد کا قرآن شریف جو اب تک میرے پاس ان کی نشانی موجود ہے اٹھا لیا۔ شہر سے نکل کر ہمارا قافلہ سربصحرا چل نکلا اور رفتہ رفتہ قطب صاحب تک جو دلّی سے گیارہ میل پر ایک مشہور خانقاہ ہے جا پہنچا۔ وہاں پہنچ کر ایک دو روز ایک حویلی میں آرام سے بیٹھے رہتے تھے کہ دنیا نے ایک اور نقشہ بدلا۔ یکایک ہڈسن صاحب افسر رسالہ مع مختصر اردل کے قضاء کی طرح ہمارے سر پر آ پہنچے اور دروازہ کھلوا کر ہمارے مَردوں پر بندوقوں کی ایک باڑ ماری اور جس کو گولی نہ لگی اس کو تلوار سے قتل کیا یہ نہیں پوچھا کہ تم کون ہو ہماری طرف کے ہو یا دشمنوں کے طرفدار ہو۔ اسی یک طرفہ لڑائی میں میرے چند عزیز راہی ملک عدم ہو گئے۔ پھر حکم ملا کہ فوراً یہاں سے نکل جاؤ حکم حاکم مرگِ مفاجات ہم سب زن ومرد و بچہ اپنے مُردوں کو بے گوروکفن چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں حیران وپریشان وہاں سے روانہ ہوئے لیکن بہ سبب رات کے اندھیرے اور سخت واژگون کی تیرگی کے رات بھر قطب صاحب کی لاٹ کے گرد طواف کرتے رہے۔ صبح کو معلوم ہوا کہ تیلی کے بَیل کی طرح وہیں کے وہیں ہیں۔ ایک کوس بھی سفر طے نہیں ہوا۔
    صبح کو نظام الدین اولیاءؒ کی بستی میں پہنچے اور وہاں رہ کر چند روز اپنے مقتولوں کو روتے رہے۔ زیادہ دقت یہ پیش آئی کہ اب بعض کے پاس کچھ کھانے کو بھی نہ رہا تھاکہ ناگہاں رحمت الٰہی نے دستگیری فرمائی۔ ایک میرے ماموں صاحب محکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے ان کا کنبہ ہم سے پہلے پانی پت میں پہنچ چکا تھا۔ جب ان کو ہماری پریشانی کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو چند چھکڑے دے کر ہمارے لینے کیلئے بھیجا وہ ہم سب کو ان چھکڑوں میں بٹھا کر پانی پت لے گئے وہاں پہنچ کر ذرا ہمیں آرام و اطمینان ملا۔‘‘ ۳؎
    اس دردناک واقعہ سے اس کیفیت اور حالات کا اندازہ بخوبی ہو سکتا ہے۔ جس میں سے حضرت میر صاحب کو گذرنا پڑا پہلے یتیمی،پھر غدر کے مصائب، آنکھوں کے سامنے عزیزواقارب کا قتل، بھوک پیاس کی شدت، صحرا کی خانہ بدوشی وہ کیا کچھ مصائب نہ تھے جو چھوٹی اور ننھی عمر میں آپ کو برداشت نہ کرنے پڑے۔
    ان کی والدہ صاحبہ حضرت روشن آراء بیگم کی نیکی، عفت، پاکیزگی اور خدا سے محبت کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے آباد گھر میں سے اگر کوئی چیز اٹھائی تو وہ خدا تعالیٰ کا کلام پاک تھا اس کے سوا ان کو ہر ایک چیز اس محشرستان میں ہیچ نظر آئی۔ یہ تھی وہ ماں جس کا نورِ نظر تھا یہ بزرگ جس کی پشت سے وہ خاتون اعظم پیدا ہونے والی تھی جس کے ذریعہ سے دنیا کے نجات دہندے اور تاریکی کو دور کرنے والے نور پیدا ہونے والے تھے۔ ان حالات میں آپ کی زندگی کا آغاز ہوا۔
    تعلیم
    تعلیم کا آغاز تو والد صاحب کی زندگی میں گھریلو مکتب میں ہی ہوا۔جب غدر وغیرہ کی طوفانی حالت سے سکون ہوا اور لوگ دلّی واپس آئے تو اس وقت حالت یہ تھی کہ لوگوں نے گھروں کی چوکھٹیں تک اُتار لی تھیں حضرت میر صاحب کے ایک ارشاد کے ماتحت اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی ۔ تو اس لحاظ سے غدر کا واقعہ دس سال کی عمر میں ہوا ہو گا دو اڑھائی سال میں پھر دلی آباد ہوئی اس طرح واپسی کے وقت آپ کی عمر بارہ سال کی ہو جاتی ہے۔ دہلی سے آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو آپ کے ماموں میر ناصر حسین صاحب کے پاس صوبہ پنجاب میں ضلع گورداسپور کے مقام مادھوپور میں بھیج دیا۔ یہاں حضرت میر صاحب نے کس قدر تعلیمی ترقی کی اس کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ان کو خود اعتراف ہے کہ کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ آپ کے ماموں رتر چھتر والوں کے مرید تھے اور آپ کے سوتیلے بھائی خود گدی نشین تھے اور ان کی حالت مذہبی ایسی ہو گئی تھی کہ حضرت میر صاحب کا نور ایمان اس کا نام ’’بدعت‘‘ رکھتا تھا اور اس میں شک بھی نہیں کہ وہ طرح طرح کی بدعتوں میں مبتلا ہو چکے تھے اور وہاں بھی وہی قوالیاں اور عرس اور دین سے دور لے جانے والی باتیں ہو رہی تھیں۔ حضرت میر صاحب کا قلب ان بدعتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس لئے آپ نے اس چھوٹی سی عمر میں سب امور کا موازنہ کیا اور آپ اہلحدیث ہو گئے اور یہ سب سولہ سال کی عمر سے قبل ہی ہو گا۔
    شادی خانہ آبادی
    ۱۶ سال کی عمر میں آپ کی والدہ محترمہ نے ایک شریف سادات کے خاندان میں آپ کی شادی کر دی۔ حضرت میر صاحب اپنی بیوی سے ہمیشہ خوش رہے۔ اس کا ہم الگ ذکر کریں گے۔ شادی کے بعد آپ نے مولوی عبداللہ غزنوی کی بیعت کر لی اور آپ کے ساتھ ہی آپ کی حرم محترم نے بھی ان کی بیعت کر لی۔
    اُس وقت آمدنی کا کوئی خاص انتظام نہ تھا مگر ناصری گنج کے علاقے سے ایک پانچ ہزار کی جائیداد ان کو مل گئی تھی جس کی آمدنی پندرہ روپیہ ماہوار تھی۔
    ملازمت
    ۲۱سال کی عمر میں یعنی ۱۸۶۵؁ء کے قریب آپ کی والدہ نے آپ کو پھر آپ کے ماموں ناصر حسین صاحب کے پاس بغرض کارآموزی بھیجا۔ وہ اب لاہور میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کو نقشہ نویسی اور نہر کا کام سکھلا کر آپ کو ۱۸۶۶؁ء میں محکمہ نہر میں بعہدہ اوورسیر ملازم کر دیا اور آپ کی تعیناتی امرتسر میں ہوئی۔ اسی سلسلہ ملازمت میں آپ کی تبدیلی موضع سٹھیالی اورکاہنووان اور موضع تتلہ میں ہوئی جو متصل قادیان دیہات تھے۔ حضرت میر صاحب محکمہ نہر میں ملازم تھے اور یہ محکمہ جس قدر اپنی رشوت ستانی کی وجہ سے بدنام ہے اسے ہر شخص جانتا ہے۔ مگر حضرت میر صاحب جن پر پچپن ہی سے وہابیت کا رنگ چڑھ گیا تھا۔ وہ کب اس قسم کی حرام دولت کو لے سکتے تھے۔
    حضرت عرفانی کبیر نے ان کی سوانح حیاتِ ناصر میں ان کی پاکیزہ زندگی پر لکھتے ہوئے ایک واقعہ لکھا ہے۔ جو ان کی دیانت داری اور پاکیزگی کی شان کو دوبالا کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے:
    ’’وہ محکمہ نہر میں ملازم تھے۔ افسران نہر نے ایک قاعدہ کے ماتحت ان سے سَو روپیہ نقد کی ضمانت طلب کی۔ ان کے معاصرین نے زرِضمانت داخل کر دیا مگر میر صاحب نے کہا کہ میرے پاس روپیہ نہیں ہے اور فی الحقیقت نہیں تھا۔جو کام ان کے سپرد تھا (اوورسیری کا) وہ اس میں ہزاروں روپے پیدا کر سکتے تھے اور لوگ کرتے تھے۔ مگر وہ حلال اور حرام میں خدا کے فضل سے امتیاز کرتے تھے اور ان کی ملازمت کا عہد رشوت ستانی کے داغ سے بالکل پاک رہا اور اکل حلال ان کا عام شیوہ تھا۔ غرض انہوں نے صاف کہا کہ میرے پاس روپیہ نہیں دوستوں نے، افسروں نے ہر چند کہا۔ کہ آپ روپیہ کسی سے قرض لیکر داخل کر دیں۔ آپ یہی کہتے رہے کہ میں قرض ادا کہاں سے کروں گا۔ میری ذاتی آمدنی سے قرض ادا نہیں ہو سکتا اور رشوت میں لیتا نہیں۔ آخر ان کو نوٹس دیا گیا کہ یا تو روپیہ داخل کرو ورنہ علیحدہ کئے جاؤ گے۔ انہوں نے عزم کر لیا کہ علیحدگی منظور ہے مگر معاملہ چیف انجنیئرتک پہنچا۔ جب اس نے کاغذات کو دیکھا تو اسے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اس کے محکمہ میں ایسا امین موجود ہے۔ وہ جانتا تھا کہ سب اوورسیر ہزاروں روپیہ کما لیتے ہیں۔ جو شخص ایک سَو روپیہ داخل نہیں کر سکتا اور اسے علم ہے کہ اس عدم ادخال کا نتیجہ ملازمت سے علیحدگی ہے قرض بھی نہیں لیتا کہ اس کے ادا کرنے کا ذریعہ اس کے پاس نہیں۔ وہ یقینا امین ہے اور میر صاحب کو ادخالِ ضمانت سے اس نے مثتثنیٰ کر دیا۔ یہ تھا اثر ان کی دیانتداری اور راستبازی کا تمام محکمہ کو اس پر حیرت تھی۔‘‘ ۴؎
    اس واقعہ سے حضرت میر صاحب کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کی راستبازی،دیانت،ادائے فرض کا فکر، عہدکی پابندی، یہ سب امور اس واقعہ سے ظاہر ہوتے ہیں اور یہی ہیں جن حالات میں سے حضرت میر صاحب گزرے تھے۔ ان کا عام تقاضا یہی تھا کہ وہ ایک تکلیف کی حالت میں سے گزرے ہوئے شخص کی طرح دولت جمع کرنے کے درپے ہو جاتے۔ مگر ان کا کیریکٹر اس قدر مضبوط تھا کہ انہوں نے اپنے لئے کبھی یہ پسند نہ کیا کہ وہ اکلِ حرام کا تر لقمہ قبول کریں۔ ان کی زندگی میں جس قدر غذا اُن کے جسم میں داخل ہوئی وہ سب حلال اور طیب تھی اور اس سے جس قدر خون پیدا ہوا وہ صالح تھا اور اسی حلال، طیب زرق سے انہوں نے اپنے بال بچوں کی پرورش کی۔
    ایک ایسا شخص جس کے گردوپیش ادنیٰ و اعلیٰ سب رشوت ستانی میں مبتلا ہوں اور وہ اس فعل میں اپنے ساتھیوں کا شریک نہ ہو اس کے لئے کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ان حالات میںحضرت میر صاحب کو جن دشوار گذار گھاٹیوں سے گزرنا پڑا ہو گا وہ ظاہر ہی ہے مگر انہوں نے دنیا کی زندگی کو مالی تنگی میں گزارنے کو اس فراوانی ء رزق پر ترجیح دی اس سے ان کے اس مقام تقویٰ کا پتہ چل سکتا ہے۔ جس پر وہ ابتداء سے ہی گامزن تھے۔ ایسے متقی شخص کیلئے جس نے باوجود آسانی سے ملنے کے ناجائز روپیہ پیدا نہ کیا اور ساری عمر تنخواہ پر بسر کی۔ اس کے متعلق اگر کبھی کوئی شخص زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے یہ کہے کہ اس نے سلسلہ کا روپیہ تباہ کیا تو یہ اس کی اپنی سیاہ باطنی کی ایک کھلی تصویر ہو گا اور سوائے اس کے کہ یہ اس کی اپنی سیاہ بختی کی تصویر ہو اور کیا ہو سکتا ہے۔
    رسول کریم ﷺ جو اپنی قوم میں راستباز اور امین مشہور تھے انہوں نے یہی چیز بطور دلیل کے پیش فرمائی۔ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کہ جو شخص ساری عمر تم میں امین اور راستباز مشہور رہا۔ وہ یک بیک خدا پر کیسے افتراء کر سکتا ہے۔
    پس بالکل یہی دلیل حضرت میر صاحب قبلہ کی نیکی اور پارسائی اور دیانت و امانت پر دلیل ہے کہ جس نے باوجود ضرورت کے باوجود تکلیف کے کبھی ایک پیسہ اپنی زندگی میں ناجائز قبول نہ کیا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری حصہ میں سلسلہ کے روپیہ میں کیسے تصرف کر سکتا ہے۔
    اصل بات یہ ہے کہ تیرہ قلب لوگوں کو خود بخود اپنی ہی ایسی تصویریں نظر آتی ہیں ورنہ یہ پاک لوگ تو پاک ہی ہوتے ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی پیدائش
    ۱۸۶۵؁ء میں حضرت میر صاحب کی شادی کے تین سال بعد وہ بااقبال لڑکی پیدا ہوئی جس کی پیدائش کی صدیوں سے انتظار تھی اور جس کی پیدائش کا فیصلہ روزِ ازل سے ہی الٰہی پروگرام کے ماتحت مقدر ہو چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تخلیق میں اس کی اصلاح کے لئے انبیاء ؑ اور مرسلین مبعوث فرمائے۔ اس نے سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ قائم کیا۔ سلسلہ موسویہ کی اصلاح کیلئے ایک مسیح کو مبعوث فرمایا جو احیائِ دین موسوی کے لئے مبعوث ہوا پھر سلسلہ محمدیہ قائم کیا اور اس سلسلہ کو سلسلہ موسویہ کے بالکل متوازی قائم کیا اور اس کے لئے یہ مقدر کیا کہ جب یہ سلسلہ بنی اسرائیل کی طرح بِگڑ جائے گا تب ایک مسیح بروزِ محمدؐ بنا کر بھیجا جائے گا جو اتباع محمد ﷺ میں اس قدر محو ہو گا کہ اس میں اور اس کے متبوع میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ حتی کہ وہ خود پکار اُٹھے گا کہ: مَنْ فَرَّقَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ الْمُصْطَفٰی فَمَا عَرَفَنِیْ وَمَا رَاٰی اس پر محمدیت کی چادر ڈال دی جائے گی۔ اور وہ اس قدر اس میں محو ہو گا کہ وہ زندگی تو زندگی مرنے کے بعد بھی رسول کریم ﷺ کی قبر میں ہی مدفون ہو گا۔
    اس کے لئے مقدر تھا کہ وہ ایک شادی کرے گا اور اس شادی سے ایسی اولاد پیدا ہو گی جن کے وجود سے اسلام کو بڑی تقویت ملے گی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا: یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ اسی شادی کی طرف خواجہ محمد ناصر صاحب کو پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ اس نور کی روشنی جو تم کو دی گی مسیح موعود ؑ کے نور میں گم ہو جائے گی اور اس کی طرف نعمت اللہ ولی ؒ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
    پسرش یاد گار مے بینم
    اور اسی کی طرف خود خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا: اُشْکُزنِعْمَتِیْ رَأَیْتُ خَدِیْجَتِیْ ۵؎ ان تمام پیشگوئیوں سے اس عظمت اور شان کا بآسانی پتہ لگ سکتا ہے جو اس خاتون اعظم کو اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور راستبازوں کی دنیا میں حاصل ہونے والی تھی وہ ایک خاص مقصد کے لئے دنیا میں لائی جا رہی تھی وہ ایک نئی نسل کی بنیاد رکھنے کے لئے پیدا کی جا رہی تھی۔
    وہ ان ذمہ واریوں کو برداشت کرنے کے لئے لائی جا رہی تھی جو ذمہ واریاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بروزِ محمد ﷺ کی ذاتِ گرامی کے ذریعہ آپ کے وجود پر اصلاح خلق کیلئے عائد ہونیوالی تھیں۔ جس طرح مسیح موعود ؑ کی طرف روحانی دنیا کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں بالکل اسی طرح اس پاک خاتون کی طرف بھی لگی ہوئی تھیں جس نے ایک طرف ان ذمہ واریوں کا بوجھ اُٹھانا تھا اور دوسری طرف اس پاک نسل کو عالمِ وجود میں لانا تھا۔
    قدرت الٰہی نے اس امر کا فیصلہ کر رکھا تھا کہ ایسی خاتون خود محمد الرسول اللہ ﷺ کی اپنی نسل ہی سے ہو۔ وہ فاطمہؓ کی بیٹی ہو اور ان تمام اَئمۃ اور اولیاء کے ساتھ اس کو خون کا رشتہ ہو تاکہ نیک اور پاک خون کا ایک مسلسل تعلق چلتا ہوا آنحضرت ﷺ تک پہنچ جائے اور اس سے اعلیٰ اور بہتر اور کوئی رشتہ خدا کے مسیح کے لئے نہیں ہو سکتا تھا۔ جس طرح حضرت علی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے تعلق کی وجہ سے اہل بیت میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح سَلْمَانَ مِنْ اَھْلِ الْبَیْتِفارسی النسل مسیح موعود اس خاتون کے تعلق کے ساتھ جسمانی طور پر بھی اہلبیت میں داخل ہو گئے۔ اتنی بڑی شان کی خاتون ۱۸۶۵؁ء میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر میں پیدا ہوئی۔
    آپ کی پیدائش کی پہلی برکت
    حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد صاحب خواجہ سیّد ناصر امیر صاحب ناصری گنج کی جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کے لئے گئے۔ مگر ان کو وہاں نہ صرف یہ کہ کامیابی نہ ہوئی بلکہ وہ وہیں فوت ہوگئے مگر اس پیدائش کے بعد پہلی برکت یہ نازل ہوئی کہ حضرت میر صاحب کو پانچ ہزار کی جائیداد بغیر کسی قسم کی سعی کے مل گئی جس کی آمدنی پندرہ روپے ماہوار تھی۔ ۵؎
    اس کے بعد حضرت میر صاحب کی بیکاری کا زمانہ ختم ہوا۔ اور ملازمت کا دور شروع ہوگیا۔ اس طرح سے آپ کا وجود خاندان کے لئے خیرو برکت کا باعث ہوا۔
    آپ کا نام
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا نام حضرت میر صاحب نے نصرت جہان بیگم رکھا۔ یہ نام اپنے اندر خود بھی بہت سی برکات رکھتا تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تریاق القلوب صفحہ ۶۴،۶۵ میں تحریر فرمایا ہے:
    ’’ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔ اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔ اس کا نام نصرت جہان بیگم ہے۔ یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خداتعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔‘‘ ۷؎
    قارئین کرام سے میں توقع رکھتا ہوں کہ وہ ان پیشگوئیوں کو اپنے ذہن میں رکھیں گے۔ جو حضرت اُمُّ المؤمنین کی ذات کے متعلق وقتاً فوقتاً درج کی جاری ہیں۔ اِن پیشگوئیوں پر بحث اور ان سے استدلال تو اپنی جگہ پر ہو گا یہاں صرف اس قدر بتلانا مطلوب تھا کہ آپ کے نام میں حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک پیشگوئی کو مستور پایا۔ اور وہ پیشگوئی یہ تھی کہ جو خاندان نصرت جہان بیگم کے ذریعے چلے گا اس خاندان کے ذریعے تمام جہان کی مدد کی جائے گی۔
    پس اس شان اور عظمت کی خاتون حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر میں ۱۸۶۵؁ء میںپیدا ہوئی اور اس فضل کے لئے خدا تعالیٰ نے اس انسان کو چُنا جو آنکھ کھلنے کے ساتھ ہی یتیم ہو گیا تھا اور بچپن ہی میں صدہا قسم کی تکلیفوں کو عبور کر چکا تھا۔
    حضرت میر ناصر نواب صاحب کی آزمائش
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:
    وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثََّمَرٰتِ
    اس آیت شریفہ کے ماتحت والد کی وفات سے خوف، غدر کے وجود سے جوع اور نقص من الاموال کی آزمائشوں میں سے آپ کو گذرنا پڑا۔ مگر اب ایک اور آخری آزمائش بھی آپ کے سامنے کھڑی تھی اور وہ ثمرات کا نقصان تھا۔
    حضرت میرناصر نواب صاحب کے ہاں سیّدہ نصرت جہان بیگم کے بعد پانچ بچے پیدا ہوئے اور سب ہی مشیت الٰہی نے اپنے پاس بلا لئے مگر پانچ بچوں کا داغ جدائی کھا کر بھی ثابت قدم ناصر نواب اپنے رب کا عبدشکور رہا اور اس کے اخلاص اور ثبات میں کوئی کمی نہ آئی۔ تب خدا تعالیٰ نے ۱۸۸۱ء؁ میں اپنے فضل اور رحم کے ساتھ ایک زندہ رہنے والا اور نافع الناس بچہ عطا فرمایا جس کا نام محمد اسماعیل رکھا گیا جو بعد میں اپنے وقت کا ایک خاص آدمی ثابت ہوا اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر کے ترقی کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کہلایا۔ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کا ذکر ہم الگ کسی جگہ تفصیل سے کریں گے اس لئے صرف اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا نکاح
    ۱۸۸۴؁ء میں حضرت میر صاحب نے حضرت اُمُّ المؤمنین کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نکاح کر دیا اس نکاح کی تفصیلات بھی الگ ایک باب میں آئیں گی۔
    حضرت میر محمد اسحق صاحب کی پیدائش
    حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی پیدائش کے بعد بھی حضرت میر صاحب کے پانچ بچے اور پیدا ہوئے جو سب کے سب اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُوْنَ۔حضرت میر صاحب نے ان سب کی وفات پر رضاء بالقضاء کا ثبوت دیا۔ تب ۱۸۹۰ء؁ میں اللہ تعالیٰ نے بمقام لدھیانہ ایک اور بچہ عطا فرمایا۔ اس کا نام حضرت میر صاحب نے محمد اسحق رکھا۔
    وجہ تسمیہ
    حضرت میر صاحب کو مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی سے بڑی محبت تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مولوی نذیر حسین صاحب حضرت میر صاحب کے استاد بھی تھے اور دہلی کے اہلحدیث کے سرگروہ بھی تھے۔ ایک دفعہ مولوی نذیر حسین صاحب لدھیانہ میںحضرت میر صاحب سے ملنے آئے جہاں وہ بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔
    حضرت میر صاحب میر محمد اسماعیل صاحب کو جو ابھی بچے ہی تھے ملانے کیلئے لے گئے۔ مولوی سیّد نذیر حسین صاحب نے ازراہِ شفقت سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
    برائے کردن تنبیہ فُسّاق
    دوبارہ آمدِ اسماعیل و اسحاق
    اس بناء پر جب حضرت میر محمد اسحق صاحب پیدا ہوئے تو حضرت میر صاحب نے ان کا نام محمد اسحق رکھا اور خدا کی قدرت کہ وہ شعر جو اس وقت اتفاقی طور پر ان کے منہ سے نکلا وہ ایک حقیقت بن کر عالم وجود میں آ گیا۔
    سلسلہ ملازمت میںتبدیلیاں
    حضرت میر صاحب سلسلہ ملازمت میں بہت جگہ رہے۔ ضلع گورداسپور میں سٹھیالی، کاہنووان، تَتلہ وغیرہ میں رہے۔ پھر آپ کی تبدیلی ضلع لاہور میں ہو گئی اور وہاں سے انبالہ چھاؤنی میں ہو گئی۔ وہاں سے لدھیانہ ، لدھیانہ سے پٹیالہ اور پٹیالہ سے پھر لدھیانہ اور وہاں سے پھر پٹیالہ میںتبدیلی ہو گئی۔ پٹیالہ سے پھر فیروز پور تبدیلی ہوئی۔ یہ ۱۸۹۳ء؁ کا زمانہ تھا۔ فیروزپور سے آپ کی تبدیلی آتھم کے رشتہ داروں نے ہوتی مردان میں کرا دی۔ حضرت میر صاحب کو مردان پسند نہ آیا۔ طبعیت اُچاٹ رہتی تھی اس لئے فَرلو لے لی اور قادیان آ گئے اور اسی فَرلو کے بعد آپ کی پنشن ہو گئی اور آپ ہمیشہ کیلئے قادیان کے ہو گئے۔
    یہ مختصر حالات ان کی ملازمت کے ایام کے ہیں۔ تفصیل کے لئے حضرت عرفانی کبیر کی کتاب ’’حیاتِ ناصر‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلقات کا آغاز
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے میں بالکل لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل تھے مگر میرزا غلام قادر صاحب جو ابتداء میں محکمہ نہر میں ملازم تھے اور بعد میں بعض دیگر ملازمتوں میں بھی رہے۔ بحیثیت ایک اہلکار ہونے کے ضلع کے تمام اہلکاروں سے میل جول اور تعلق رکھتے تھے۔ میر ناصر حسین صاحب سے جو حضرت میر صاحب کے ماموں تھے مراسم دوستی رکھتے تھے۔ ان کی وجہ ہی سے حضرت میر صاحب کی بھی ان سے واقفیت ہو چکی تھی۔ میر صاحب جب موضع تَتلہ میں نہر کی کُھدوائی کروارہے تھے ان دنوں حضرت نانی اماں یعنی حضرت اُمُّ المؤمنین کی والدہ کچھ بیمار ہو گئیں تو میرزا غلام قادر صاحب نے جو اکثر گورداسپور سے آتے ہوئے ادھر سے گزرا کرتے تھے۔ میر صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو بغرض طبّی مشورہ قادیان حضرت میرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے پاس لے جائیں۔ چنانچہ بغرض طبّی مشورہ آپ قادیان آئے۔
    یہ قادیان میں پہلی آمد اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے تعارف کے سلسلہ میں ایک مزید قدم تھا مگر دراصل یہ بیماری تو ایک بہانہ تھی ورنہ مشیت ایزدی اس کے پیچھے کھڑی ہنس رہی تھی۔
    خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے
    اس واقعہ کو حضرت نانی اماں صاحبہ مرحومہ نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے یوں بیان کیا جسے انہوں نے اپنی قیمتی تصنیف سیرۃ المہدی حصہ دوم کے صفحہ ۱۰۹ پر درج فرمایا ہے:
    ’’خاکسار کی نانی اماں نے مجھ سے بیان کیا کہ جب تمہارے ناناجان کی اس نہر کے بنوانے پر ڈیوٹی لگی جو قادیان سے غرب کی طرف دو ڈھائی میل کے فاصلہ پر سے گزرتی ہے (یعنی موضع تَتلہ کی نہر) تو اس وقت تمہارے تایا میرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ ان کا کچھ تعارف ہو گیا اور اتفاق سے ان دنوں میں کچھ بیمار ہوئی تو تمہارے تایا نے میر صاحب سے کہا کہ میرے والد صاحب بہت ماہر طبیب ہیں آپ ان سے علاج کرائیں۔ چنانچہ تمہارے نانا مجھے ڈولے میں بٹھا کر قادیان لائے۔
    جب میں یہاں آئی تو نیچے کی منزل میں تمہارے تایا مجلس لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور کچھ لوگ اُن کے آپس پاس ایک نیچے کی کوٹھڑی میں تمہارے ابا (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ایک کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے قرآنِ شریف پڑھ رہے تھے اور اوپر کی منزل میں تمہارے دادا صاحب تھے۔ تمہارے دادا نے میری نبض دیکھی اور ایک نسخہ لکھ دیا اور پھر میر صاحب کے ساتھ اپنے دلّی جانے اور وہاں حکیم محمد شریف صاحب سے علم طب سیکھنے کا ذکر کرتے رہے۔ (یہ واقعہ ۱۸۷۶؁ء کا ہے) اس کے بعد جب میں دوسری دفعہ قادیان آئی تو تمہارے دادا فوت ہو چکے تھے اور ان کی برسی کا دن تھا جو قدیم رسوم کے مطابق منائی جا رہی تھی۔ چنانچہ ہمارے گھر بھی بہت سا کھانا وغیرہ آیا تھا۔ اس دفعہ تمہارے تایا نے میر صاحب سے کہا کہ آپ تَتلہ میں رہتے ہیں وہاں آپ کو تکلیف ہوتی ہو گی اور وہ گاؤں بھی بدمعاش لوگوں کا گاؤں ہے۔ بہتر ہے آپ یہاں ہمارے مکان میں آجائیں۔ میں گورداسپور رہتا ہوں۔ غلام احمد (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بھی گھر میں کم آتا ہے۔ اس لئے آپ کو پردہ وغیرہ کی تکلیف نہ ہو گی۔ چنانچہ میر صاحب نے مان لیا اور ہم یہاں آ کر رہنے لگے۔ ۸؎
    ان دنوں حضرت اُمُّ المؤمنین کی عمر تیرہ سال کی تھی۔
    اس واقعہ سے جہاں اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت میر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح قادیان تک پہنچایا۔ وہاں حضرت میر صاحب کی سادہ زندگی اور شرافتِ نفس کا پتہ بھی چلتا ہے۔ کیونکہ موضع تَتلہ آج پون صدی گزر جانے کے بعد بھی اس قابل نہیں کہ کوئی پڑھا لکھا آدمی وہاں رہ سکے۔ تمدن کی ہر منزل سے دور وہاں کے لوگ آج بھی بالکل گنوار اور اُجڈ ہیں ان کے مکان بالکل دیہاتی وضع قطع کے ہیں۔ چہ جائیکہ ایک دہلی کا معزز انسان جو نہ صرف اپنے حسب و نسب کی وجہ سے ہی بڑا آدمی تھا۔ بلکہ اس شان و شوکت کے لحاظ سے جس کا نقشہ ہم پچھلے اوراق میں دکھا چکے ہیں ایک بڑے خاندان کا ایک فرد تھا۔ ان کے گھر کے لوگ اس قسم کی دیہاتی زندگی کے قطعاً عادی نہ تھے مگر حضرت میر صاحب نے ان گنواروں میں ہی ایک مدت گزار دی۔
    جناب میرزا غلام قادر صاحب جو ان ایام میں ضلع کے افسروں میں سے ہونے کے علاوہ اپنے علاقہ کے رئیس تھے ان کا اس گاؤں کے لوگوں کو بدمعاش کہنا اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا تھا مگر یہ ان لوگوں کا کمال نہ تھا کہ انہوں نے حضرت میر صاحب کو کوئی گزنذ نہیں پہنچایا۔ بلکہ حضرت میر صاحب کا کمال اور ان کی شرافت ذاتی کا نتیجہ تھا کہ اس قسم کے لوگ بھی ان کے سامنے مسخر ہو کر رہتے۔
    الغرض حضرت میر صاحب کو اللہ تعالیٰ ملازمت کے سلسلہ میں قادیان سے دو میل کے فاصلہ پر لے آیا اور پھر نانی اماں کی بیماری کے سلسلہ میں ان کو قادیان لے آیا۔ اور پھر حالات نے ذرا اور صورت بدل لی اور حضرت میر صاحب قادیان میں ہی آ رہے اور نہ صرف قادیان میں ہی آ رہے بلکہ خود حضرت مسیح موعود ؑ کے گھرمیں اور یہ اس لئے ہوا کہ حضرت میر صاحب اور ان کی حرم محترم قریب سے ہو کر اس برگزیدہ انسان کو دیکھ سکیں جو کل کو حضرت میر صاحب سے نسبت ِدامادی حاصل کرنے والا تھا۔ چنانچہ نانی اماں فرماتی ہیں:
    ’’ان دنوں میں جب بھی تمہارے تایا گورداسپور سے قادیان آتے تھے تو ہمارے لئے پان لایا کرتے تھے اور میں ان کے واسطے کوئی اچھا سا کھانا وغیرہ تیار کر کے بھیجا کرتی تھی۔ ایک دفعہ جو میں نے شامی کباب ان کے لئے تیار کئے اور بھیجنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ گورداسپور واپس چلے گئے ہیں۔ جس پر مجھے خیال آیا کہ کباب تو تیار ہی ہیں۔ میں ان کے چھوٹے بھائی کو بھجوا دیتی ہوں۔ چنانچہ میں نے نائن کے ہاتھ تمہارے ابا کو کباب بھجوا دیئے اور نائن نے مجھے آ کر کہا کہ وہ بہت ہی شکر گزار ہوئے اور انہوں نے بڑی خوشی سے کباب کھائے اور اس دن انہوں نے گھر سے آیا ہوا کھانا نہیں کھایا۔ اس کے بعد میں ہر دوسرے تیسرے دن کو کچھ کھانا بنا کر بھیج دیا کرتی اور وہ بڑی خوشی سے کھاتے تھے لیکن جب اس بات کی اطلاع تمہاری تائی کو ہوئی تو انہوں نے بہت بُرا منایا کہ میں کیوں ان کو کھانا بھیجتی ہوں۔ کیونکہ وہ اس زمانہ میں تمہارے ابا کی سخت مخالف تھیں اور چونکہ گھر کا سارا انتظام ان کے ہاتھ میں تھا وہ ہر بات میں ان کو تکلیف پہنچاتی تھیں۔ مگر تمہارے ابا صبر کے ساتھ ہر بات کو برداشت کرتے تھے۔
    ان دنوں میں گو میر صاحب کا زیادہ تعلق تمہارے تایا سے تھا مگر وہ کبھی کبھی گھر میں آکر کہا کرتے تھے کہ میرزا غلام قادر کا چھوٹا بھائی بہت نیک اور متقی آدمی ہے۔ اس کے بعد ہم رخصت پر دہلی گئے۔‘‘ ۹؎
    روایت کے اس ٹکڑے سے بھی بہت سے امور کا استدلال ہوتا ہے قبل اس کے کہ ہم اس استدلال کو لکھیں۔ یہاں اس قدر توضیح کی ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نانی اماں نے اپنی روایت میں جو یہ لکھا ہے کہ ہم قادیان سے رخصت پر دہلی گئے۔ یہ ان کو ذہول ہوا ہے۔ کیونکہ حضرت نانا جان نے اپنی خود نوشت سوانح میں لکھا ہے کہ:
    ’’چند ماہ کے بعد اس عاجز کی بدلی قادیان سے لاہور کے ضلع میں ہو گئی۔ اس وقت چند روز کے لئے بندہ اپنے اہل و عیال کو حضرت میرزا صاحبؑ کے مشورے سے ان کے دولت خانہ چھوڑ گیا تھا اور جب وہاں مکان کا بندوبست ہو گیا تو آ کر لے گیا۔ میں نے اپنے گھر والوں سے سنا کہ جب تک میرے گھر کے لوگ میرزا صاحبؑ کے گھر میں رہے میرزا صاحبؑ کبھی گھر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ باہر کے مکان میں رہے۔ اس قدر ان کو میری عزت کا خیال تھا۔ وہ بھی عجب وقت تھا۔ حضرت صاحبؑ گوشہ نشین تھے عبادت اور تصنیف میں مشغول رہتے تھے۔‘‘ ۱۰؎
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب کی تبدیلی قادیان سے ضلع لاہور میں ہوئی تھی اور حضرت میر صاحب قادیان سے لاہور ہی کو تشریف لے گئے تھے نہ کہ دہلی کو۔الغرض اس طرح حضرت میر صاحب ایک نہایت عجیب طریق سے الٰہی منشاء کے ماتحت حضرت صاحب کے گھر میں آئے۔ یہاں اُن پر اور اُن کی حرم محترم پر جو اثر پڑا اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔
    ۱۔ ایک بہت نیک اور بزرگ انسان تھے۔
    ۲۔ گھر کے لوگ اُن سے شدید نقار رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ کوئی دوسرا بھی اُن سے کسی قسم کا نیک سلوک کرے۔
    ۳۔ وہ ان تکالیف کے مقابل میں کسی قسم کی بدسلوکی نہ کرتے تھے بلکہ صبر سے سب کچھ برداشت کرتے تھے۔
    ۴۔ میر صاحب قبلہ اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی بڑا تعلق نہ رکھتے تھے مگر اس کے باوجود اُن پر یہی اثر تھا کہ آپؑ بہت نیک اور متقی ہیں۔
    ۵۔ جب میر صاحب قبلہ باہر چلے گئے تو آپؑ کی نیکی نے یہاں تک تقاضا کیا کہ گھر میں قدم تک نہ رکھا تا کہ مستورات کو اجنبی مرد کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو۔
    ۶۔ اُس زمانہ میں حضرت صاحبؑ کا وقت عبادت اور تصنیف میں گذرتا تھا۔
    یہ تأثرات جو قدرتی طور پر اس واقعہ سے نکلتے ہیں وہ اس رشتہ کیلئے اندر ہی اندر مؤید ہوگئے تھے۔ جن کی تشریح و توضیح حضرت اُمُّ المؤمنین کی شادی کے تذکرے میں آ سکے گی۔ یہ واقعات ۱۸۷۷؁ء کے ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا نکاح
    یہاں تفصیلی حالات لکھنے مقصود نہیں ہیں مگر اس قدر بطور تاریخی واقعہ کے لکھتا ہوں کہ:
    حضرت میر صاحب کا یہاں سے جانے کے بعد کوئی خاص تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہ رہا۔ مگر جب براہین احمدیہ طبع ہوئی تو حضرت میر صاحب نے براہین احمدیہ کا ایک نسخہ منگوایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت میر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض امور کیلئے دعا منگوانے کیلئے خط لکھاجن میں سے ایک امر یہ تھا۔
    ’’دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے‘‘۔
    خدا تعالیٰ کا یہ عجیب کام تھا کہ اس نے حضرت میر صاحب کے دل میں یہ تحریک ڈالی کہ وہ حضرت اقدس ؑ کو دعا کے لئے تحریک کریں اور اُدھر حضرت اقدس ؑ کو نئی شادی کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے تحریکیں ہو رہی تھیں اور خدا تعالیٰ اپنے عرش سے فرما رہا تھا۔
    ۱۔ الحمدللّٰہ الذی جعل لکم الصھروالنسب ۱۱؎
    ۲۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔ یہ سب سامان مَیں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی۔ اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔
    ۳۔ ہرچہ باید نو عروسی راہمہ سامان کنم وآنچہ مطلوبِ شماباشد عطائے آں کنم ۱۲؎
    اِس پر حضرت اقدس ؑ نے اپنی طرف سے تحریک کر دی اور یہ تحریک بہت کچھ تردّد کے بعد منظور ہوگئی۔
    اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی دعویٰ نہ تھا البتہ آپؑ تائید اسلام کے کام میں پورے زور سے منہمک تھے۔ براہین احمدیہ لکھی جا رہی تھی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ
    ۱۸۸۹؁ء میں آپؑ نے لدھیانہ میں بیعتِ اُولیٰ لی۔ اُس وقت اگرچہ حضرت میر صاحب کو حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام سے قلبی عقیدت تھی اور وہ آپؑ کو بڑا راستباز سمجھتے تھے مگر انہوں نے آپؑ کے دعویٰ کو قبول نہیں کیا۔
    حضرت میر صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کو قبول نہ کرنا اُن کی نیکی اور صفائی قلب کی ایک دلیل تھا کیونکہ حضرت میر صاحب اپنے پرانے عقاید کی وجہ سے یہ سمجھے ہوئے تھے کہ مسیح غالباً آسمان سے اُترے گا۔
    قدیم اعتقادات جو لوگوں کے قلوب میں ایک فولادی میخ کی طرح جمے ہوئے تھے اور لوگوں کا ان قدیم اعتقادات کے خلاف فوراً نئی تبدیلی پیدا کر لینا بہت مشکل تھا۔ بالکل اسی خیال کے مطابق حضرت میر صاحب اپنے خیالات پر جمے رہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے نہایت سختی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خیالات کی مخالفت کی اور اس پر مضمون بھی لکھے اور نظمیں بھی لکھیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جس چیز کو سچائی سمجھا، اس کے لئے کسی چیز کی پرواہ نہ کی حتیّٰ کہ اس امر کی بھی پرواہ نہ کی کہ حضرت صاحب سے میرے کیا تعلقات ہیں۔ اگر کوئی دنیا دار آدمی ہوتا تو وہ اپنے گرد و پیش کے حالات کو دیکھ کر اگر حضرت صاحب کے دعویٰ کو قبول نہ کرتا تو اس کی مخالفت پر کمر بستہ بھی نہ ہوتا۔
    ممکن ہے کسی شخص کو حضرت میر صاحب کی یہ مخالفت ایک بُرا فعل نظر آئے۔ مگر اس واقعہ نے میرے دل میں تو اُن کی بڑی عزت پیدا کر دی اور مَیں اس امر کو ان کی صفائی قلب کی ایک بڑی دلیل سمجھتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ میر صاحب کا طُرۂ امتیاز اَلْحُبُّ لِلّٰہِ وَالْبُغْضُ لِلّٰہِ تھا۔ انہوں نے جس چیز کو سچائی جانا اُسے بہادری سے قبول کیا اور جس چیز کو غلط سجھا اُسے پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کی اور یہی اُن کی زندگی بھر کا کیریکٹر تھا۔ سلسلہ کے اندر آ کر جس کسی شخص کے فعل کو انہوں نے سلسلہ کے مفاد کے خلاف جانا یا منافقت پر مبنی سمجھا اس کی پوری شدت سے مخالفت کی اور کبھی اس امر کی پرواہ نہیں کی کہ یہ فعل کس شخص سے سرزد ہوا ہے۔ انہوں نے غلطی کو غلطی جانا خواہ وہ بڑے سے بڑے آدمی سے سرزد ہو۔ اُن کا یہ وصف جو اُن کی زندگی کا عین کمال تھا لوگوں کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹکا کرتا تھا۔ اس لئے اُن کا نظریہ حضرت میر صاحب کی نسبت ایسا غلط ٹھہر گیا کہ انہوں نے ان کی نسبت طرح طرح کی غلط فہمیوں میں لوگوں کو مبتلا کرنا چاہا مگر ایک مؤرخ جو واقعات کی چھان بین کرنے کا عادی ہوتا ہے وہ سرسری نگاہ سے دیکھ کر لوگوں کے نظریے قبول نہیں کر سکتا۔ حضرت میر صاحب نے خود بھی اس حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:
    ’’۱۸۸۹؁ء میں سلسلہ بیعت (یہ بیعت اولیٰ تھی جو حضرت منشی احمد جان صاحب کے مکان پر ہوئی) لدھیانہ میں شروع ہوا۔ اُس وقت مَیں احمدی نہیں ہوا تھا اور نہ مَیں حضرت صاحبؑ کو مسیح و مہدی مانتا تھا۔ لہٰذامَیں نے بیعت نہیں کی تھی۔ مَیں منافق نہیں تھا کہ بظاہر بیعت کر لیتا اور دل میں مرزا صاحبؑ کو سچا نہ سمجھتا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے راستباز اور صاف گو بنایا ہے۔ یہ بھی مجھ پر اللہ تعالیٰ کے افضال میں سے ایک بڑا فضل ہے‘‘۔ ۱۳؎
    الغرض حضرت میر صاحب نے اُس وقت بیعت نہیں کی۔
    حضرت میر صاحبؓ کی بیعت
    ۱۸۹۲؁ء ٭؎ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے پہلے سالانہ جلسہ کی بنیاد قادیان میں رکھی گئی۔ اس جلسہ پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے حضرت میر صاحب کو مکرر، سہ کرر لکھ کر سالانہ جلسہ پر آنے کی دعوت دی۔

    ٭ دراصل پہلا جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا۔ (عرفانی کبیر)
    حضرت میر صاحب نے اس سارے واقعہ کو خود لکھا ہے۔ چونکہ یہ تحریر بہت ہی بصیرت افروز ہے اور ممکن ہے کہ بہتوں کی راہنمائی کا باعث ہو اس لئے مَیں باوجود اس کے طویل ہونے کے شائع کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔
    ’’مرزا صاحب نے مجھے بھی باوجود یہ کہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مَیں ان کا مخالف ہوں۔ نہ صرف مخالف بلکہ بدگو بھی اور یہ مکرر سہ کرر مجھ سے وقوع میں آ چکا ہے۔ جلسہ پر بلایا اور چند خطوط جن میں ایک رجسٹری بھی تھا بھیجے۔ اگرچہ پیشتر بسبب جہالت اور مخالفت کے میرا ارادہ جانے کا نہ تھا لیکن مرزا صاحب کے بار بار لکھنے سے میرے دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی۔ اگر مرزا صاحب اس قدر شفقت سے نہ لکھتے تو مَیں ہر گز نہ جاتا اور محروم رہتا۔ مگر یہ انہیں کا حوصلہ تھا۔ آج کل کے مولوی تو اپنے سگے باپ سے بھی اِس شفقت اور عزت سے پیش نہیں آتے۔ مَیں ۲۷/تاریخ کو دوپہر سے پہلے قادیان میں پہنچا۔ اُس وقت مولوی حکیم نور الدین صاحب مرزا صاحبؑ کی تائید میں بیان کر رہے تھے اور قریب ختم کے تھے۔ افسوس کہ مَیں نے پورا نہ سنا۔ لوگوں سے سنا کہ بہت عمدہ بیان تھا۔ پھر حامد شاہ صاحبؓ نے اپنے اشعار مرزا صاحبؑ کی صداقت اور تعریف میں پڑھے لیکن چونکہ مجھے ہنوز رغبت نہیں تھی اور میرا دل غبار آلودہ تھا۔ کچھ شوق اور محبت سے نہیںسنا لیکن اشعار عمدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عنایت فرماوے۔
    ’’جب مَیں مرزا صاحبؑ سے ملا اور وہ اخلاق سے پیش آئے تو میرا دل نرم ہوا۔ گویا مرزا صاحب کی نظر سرمہ کی سلائی تھی جس سے غبارِ کدورت میرے دل کی آنکھوں سے دُور ہو گیا اور غیظ و غضب کے نزلہ کا پانی خشک ہونے لگا اور کچھ کچھ دھندلا سا مجھے حق نظر آنا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ باطنی بینائی درست ہوئی مرزا صاحبؑ کے سوا اور کئی بھائی اس جلسہ میں ایسے تھے کہ جن کو مَیں حقارت اور عداوت سے دیکھتا تھا۔ اب ان کو محبت اور الفت سے دیکھنے لگا اور یہ حال ہوا کہ کل اہل جلسہ میں جو مرزا صاحب کے زیادہ محب تھے وہ مجھے بھی زیادہ عزیز معلوم ہونے لگے۔ بعد عصر مرزا صاحبؑ نے کچھ بیان فرمایا جس کے سننے سے میرے تمام شبہات رفع ہو گئے اور آنکھیں کھل گئیں۔ دوسرے روز صبح کے وقت ایک امرتسری وکیل صاحب (یہ بابو محکم الدین صاحب وکیل سے مراد ہے۔ عرفانی) نے اپنا عجیب قصہ سنایا۔ جس سے مرزا صاحبؑ کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ثابت ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکیل صاحب پہلے سنت جماعت مسلمان تھے۔ جب جوان ہوئے رسمی علم پڑھا تو دل میں بسبب مذہبی علم سے ناواقفیت اور علمائے وقت و پیرانِ زمانہ کے باعمل نہ ہونے کے شبہات پیدا ہوئے اور تسلی بخش جواب کہیں سے نہ ملنے کے باعث سے چند بار مذہب تبدیل کیا۔ سنی سے شیعہ بنے۔ وہاں بجز تبرّا بازی اور تعزیہ سازی کچھ نظر نہ آیا۔ آریہ ہوئے چند روز وہاں کا بھی مزہ چکھا مگر لطف نہ آیا۔ برہمو سماج میں شامل ہوئے ان کا طریق اختیار کیا لیکن وہاں بھی مزا نہ پایا۔ نیچری بنے لیکن اندرونی صفائی یا خدا کی محبت، کچھ نورانیت کہیں بھی نظر نہ آئی۔ آخر مرزا صاحبؑ سے ملے اور بہت بیباکانہ پیش آئے مگر مرزا صاحبؑ نے لطف سے مہربانی سے کلام کیا اور ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ آخر کار اسلام پر پورے پورے جم گئے اور نمازی بھی ہوگئے۔ اللہ اور رسولؐ کے تابعدار بن گئے اب مرزا صاحبؑ کے بڑے معتقد ہیں۔
    ’’رات کو مرزا صاحبؑ نے نواب صاحب (نواب صاحب مالیر کوٹلہ جو اس وقت مع چند اپنے ہمراہیوں کے شریک جلسہ تھے۱۲) کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے۔ چند لوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جن کے روبرو وہ الہام پورے ہوئے۔ ایک صاحب نے صبح کو بعدنماز فجر عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا جب کہ عبداللہ صاحب خَیْردِیْ گائوں میں تشریف رکھتے تھے۔ عبداللہ صاحب نے فرمایا ہم نے محمدحسین بٹالوی کو ایک لمبا کرتہ پہنے دیکھا اور وہ کرتہ پارہ پارہ ہو گیا۔ یہ بھی عبداللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ کرتے سے مراد علم ہے۔ آگے پارہ پارہ ہونے سے عقلمند خود سمجھ سکتا ہے کہ گویاعلم کی پردہ دری مراد ہے جو آج کل ہو رہی ہے اور معلوم نہیں کہاں تک ہوگی۔ جو اللہ تعالیٰ کے ولی کو ستاتا ہے گویا اللہ تعالیٰ سے لڑتا ہے آخر پچھڑے گا۔
    ’’اب مجھے بخوبی ثابت ہوا کہ وہ لوگ بڑے بے انصاف ہیں۔ جو بغیر ملاقات اور گفتگو کے مرزا صاحب کو دور سے بیٹھے دجال، کذاب بنا رہے ہیں اور ان کے کلام کے غلط معنی گھڑ رہے ہیں یا کسی دوسرے کی تعلیم کو بغیر تفتیش مان لیتے ہیں اور مرزا صاحب سے اس کی بابت تحقیق نہیں کرتے۔ مرزا صاحب جو آسمانی شہد اُگل رہے ہیں اس کو وہ شیطانی زہر بتاتے ہیں اور بسبب سخت قلبی اور حجابِ عداوت کے دور ہی سے گلاب کو پیشاب کہتے ہیں اور عوام اپنے خواص کے تابع ہو کر اس کے کھانے پینے سے باز رہتے ہیں اور اپنا سراسر نقصان کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس عاجز کے قدیمی دوست یا پرانے مقتداء مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لوگوں کو مرزا صاحب سے ہٹانے اور نفرت دلانے میں مصروف ہیں جن کو پہلے پہل مرزا صاحب سے بندہ نے بدظن کیا تھا۔ جس کے عوض مِیں اس دفعہ انہوں نے مجھے بہکایا اور صراطِ مستقیم سے جدا کر دیا۔ چلو برابر ہوگئے۔ مگر مولوی صاحب ابھی درپے ہیں۔ اب جو جلسہ پر مرزا صاحب نے مجھے طلب کیا تو مولوی صاحب کو بھی ایک مخبر نے خبر کر دی۔ انہوں نے اپنے وکیل کی معرفت مجھے ایک خط لکھا جس میں ناصح مشفق نے مرزا صاحب کو اس قدر بُرا بھلا لکھا اور ناشائستہ الفاظ قلم سے نکالے کہ جن کا اعادہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مولوی صاحب نے یہ بھی لحاظ نہ کیا کہ علاوہ بزرگ ہونے کے مرزا صاحب میرے کس قدر قریبی رشتہ دار ہیں۔ پھر دعویٰ محبت ہے۔ افسوس!
    ’’اس جلسہ پر تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے جن کے چہروں سے مسلمانی نور ٹپک رہا تھا۔ امیر، غریب، نواب، انجنیئر، تھانہ دار، تحصیلدار، زمیندار، سوداگر، حکیم غرض ہر قسم کے لوگ تھے۔ ہاں چند مولوی بھی تھے مگر مسکین مولوی۔ مولوی کے ساتھ مسکین اور منکسر کا لفظ، یہ مرزا صاحب کی کرامت ہے کہ مرزا صاحبؑ سے مل کر مولوی بھی مسکین بن جاتے ہیں۔ ورنہ آج کل مسکین مولوی اور بِدعات سے بچنے والا صوفی، کبریت احمر اور کیمیائے سعادت کا حکم رکھتا ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب اپنے دل میں غور فرما کر دیکھیں کہ وہ کہاں تک مسکینی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اُن میں اگر مسکینی ہوتی تو اس قدر فساد ہی کیوں ہوتا یہ نوبت بھی کیوں گذرتی۔ اس قدر ان کے متبعین کو ان سے عداوت اور نفرت کیوں ہوتی۔ اہلحدیث اکثر ان سے بیزار کیوں ہو جاتے۔ اگر مولوی صاحب اس میرے بیان کو غلط خیال فرماویں تو مَیں انہیں پر حوالہ کرتا ہوں۔ انصافًا و ایمانًا اپنے احباب کی فہرست تو لکھ کر چھپوا دیں کہ جو ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسا کہ مرزا صاحبؑ کے مرید مرزا صاحبؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ مجھے قیافہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو عنقریب ہے کہ جناب مرزا صاحب کی خاکِ پا کو اہل بصیرت آنکھوں میں جگہ دیں اور اکسیر سے بہتر سمجھیں اور تبرک خیال کریں۔ مرزا صاحبؑ کے سینکڑوں ایسے صادق دوست ہیں جو مرزا صاحبؑ پر دل و جان سے قربان ہیں۔ اختلاف کا تو کیا ذکر ہے۔ رُوبرو اُف تک نہیں کرتے۔
    سرِ تسلیم خم ہے، جو مزاجِ یار میں آئے
    مولوی محمد حسین صاحب زیادہ نہیں چار پانچ آدمی تو ایسے اپنے شاگرد یا دوست بتاویں جو پوری پوری (خدا کے واسطے) مولوی صاحب سے محبت رکھتے ہوں اور دل و جان سے فدا ہوں اور اپنے مال کو مولوی صاحب پر قربان کر دیں اور اپنی عزت کو مولوی صاحب کی عزت پر نثار کرنے کے لئے مستعد ہوں۔ اگر مولوی صاحب یہ فرماویں کہ سچوں اور نیکوں سے لوگوں کو محبت نہیں ہوتی بلکہ جھوٹوں اور مکاّروں سے لوگوں کو اُلفت ہوتی ہے تو مَیں پوچھتا ہوں کہ اصحاب و اہلبیت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی یا نہیں؟ وہ حضرتؐ کے پورے پورے تابع تھے یا ان کو اختلاف تھا۔ بہت نزدیک کی ایک بات یاد دلاتا ہوں کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جو میرے اور نیز محمد حسین صاحب کے پیرو مرشد تھے۔ اُن کے مرید اُن سے کس قدر محبت رکھتے تھے اور کس قدر اُن کے تابع فرمان تھے۔ سنا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک خاص مرید کو کہا کہ تم نجد واقعہ مُلک عرب میں جا کر رسائل توحید مصنفہ محمد عبدالوہاب نقل کرلائو۔ وہ مرید فوراً رخصت ہوا۔ ایک دم کا بھی توقف نہ کیا۔ حالانکہ خرچ راہ و سواری بھی اُس کے پاس نہ تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب اگر اپنے کسی دوست کو بازار سے پیسہ دے کر دہی لانے کو فرماویں تو شاید منظور نہ کرے اور اگر منظور کرے تو ناراض ہو کر اور شاید غیبت میں لوگوں سے گلہ بھی کرے۔ع
    ببیں تفاوتِ راہ از کجا است تا بکُجا
    ’’یہ نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہر صدی میں ہزاروں اولیاء (جن پر اُن کے زمانہ میں کفر کے فتوے بھی ہوتے رہے ہیں) گذرے ہیں اور کم و بیش اُن کے مرید اُن کے فرمانبردار اور جان نثار ہوئے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے نیکوں کی خدا کے ساتھ دلی محبت کا۔
    ’’مرزا صاحبؑ کو چونکہ سچی محبت اپنے مولا سے ہے۔ اس لئے آسمان سے قبولیت اُتری ہے اور رفتہ رفتہ باوجود مولویوںکی سخت مخالفت کے سعید لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی اُلفت ترقی کرتی جا رہی ہے۔ (اگرچہ ابوسعید صاحب خفا ہی کیوں نہ ہوں) اب اس کے مقابل میں مولوی صاحب جو آج ماشاء اللہ آفتابِ پنجاب بنے ہوئے ہیں۔ اپنے حال میں غور فرماویں کہ کس قدر سچے محب اُن کے ہیں اور اُن کے سچے دوستوں کا اندرونی کیا حال ہے؟ شروع شروع میں کہتے ہیں مولوی صاحب کبھی اچھے شخص تھے۔ مگر اب تو انہیں حبِّ جاہ اور علم و فضل کے فخر نے عرشِ عزت سے خاکِ مذلّت پر گرا دیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    ’’اب مولوی صاحب غور فرماویں کہ یہ کیا پتھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سرآمد علمائِ پنجاب (بزعمِ خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑنا پڑا۔ موحّدین کی جامع مسجد میں اگر اتفاقًا لاہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے اور مرزا صاحبؑ کے پاس (جو بزعم مولوی صاحب کافر بلکہ اکفر اور دجال ہیں)گھر بیٹھے لاہور، امرتسر، پشاور، کشمیر، جموں، سیالکوٹ، کپور تھلہ، لدھیانہ، بمبئی، ممالک شمال و مغرب، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلاد سے لوگ گھر سے بوریا بندھنا باندھے چلے آتے ہیں۔ پھر آنے والے بدعتی نہیں، مشرک نہیں، جاہل نہیں، کنگال نہیں، بلکہ مؤحد، اہلحدیث، مولوی، مفتی، پیرزادے، شریف، امیر، نواب، وکیل۔ اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمد حسین صاحب کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مہریں لگوانے کے اللہ جلشانہٗ نے مرزا صاحبؑ کو کس قدر چڑھایا اور کس قدر خلقِ خدا کے دلوں کو متوجہ کر دیا کہ اپنا آرام چھوڑ کر، وطن سے جدا ہو کر، روپیہ خرچ کر کے قادیان میں آ کر زمین پر سوتے، بلکہ ریل میں ایک دو رات جاگتے بھی ضرور ہونگے اور کئی پیادہ چل کر بھی حاضر ہوئے۔ مَیں نے ایک شخص کے بھی منہ سے کسی قسم کی شکایت نہیں سنی۔ مرزا صاحب کے گرد ایسے جمع ہوتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانے۔ جب مرزا صاحب کچھ فرماتے تھے تو ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے۔ قریباً چالیس پچاس شخص اس جلسہ پر مُرید ہوئے۔ مرزا احمد بیگ کے انتقال کی پیشگوئی کے پوری ہونے کا ذکر بھی مرزا صاحبؑ نے ساری خلقت کے رُوبرو سنایا جس کے بارے میں نور افشاں نے مرزا صاحبؑ کو بہت کچھ بُرا بھلا کہا تھا۔
    ’’اب نور افشاں خیال کرے کہ پیشگوئیاں اس طرح پوری ہوتی ہیں۔ یہ بات بجز اہل اسلام کے کسی دین والے کو آج کل حاصل نہیں اور مسلمان خصوصًا مخالفین سوچیں کہ یہ خوب بات ہے کہ کافر، اکفر، دجال، مکار کی پیشگوئیاں باوجود یکہ اللہ تعالیٰ پر افترائوں کے طومار باندھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ پوری کر دے اور رسول اللہ صلعم کے (بزعمِ خود) نائبین کی باتوں میں خاک بھی اثر نہ دے اور ان کو ایسا ذلیل کرے کہ لاہور چھوڑ کر بٹالہ میں آنا پڑے۔ افسوس، صدافسوس، آج کل کے ان مولویوں کی نابینائی پر جو العلم حجاب الاکبر کے نیچے دبے پڑے ہیں اور بایں وجہ ایک ایسے برگزیدہ بندہ کا نام دجال و کافر رکھتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ کو ایسی محبت ہے کہ دین کی خدمت پر مقرر کر رکھا ہے اور وہ بندۂ خدا آریہ، برہمو، عیسائیوں، نیچریوں سے لڑ رہا ہے۔ کوئی کافر تابِ مقابلہ نہیں لا سکتا۔ نہ کوئی مولوی باوجود کافر، ملعون، دجال بنانے کے خلقت کے دلوں کو اُن کی طرف سے ہٹا سکتا ہے۔ معاذ اللہ
    ’’عصاء موسیٰ و یدِ بیضاء کو بزعمِ مولویان پسپا اور رسوا کر رہا ہے۔ نائبین رسول مقبول میں کوئی برکت کچھ نورانیت نہیں رہی اتنا بھی سلیقہ نہیں کہ اپنے چند شاگردوں کو بھی قابو میں رکھ سکیں اور خُلقِ محمدی کا نمونہ دکھا کر اپنا شیفتہ بنا لیں۔ کسی ملک میں ہدایت پھیلانا اور مخالفینِ اسلام کو زیر کرنا تو درکنار ایک شہر بلکہ ایک محلہ کو بھی درست نہیں کر سکتے۔ برخلاف اس کے مرزا صاحبؑ نے شرقًا غربًا مخالفینِ اسلام کو دعوتِ اسلام کی اور ایسا نیچا دکھایا کہ کوئی مقابل آنے جوگا نہیں رہا۔ اکثر نیچریوں کو جو مولوی صاحبان سے ہرگز اصلاح پر نہیں آ سکتے۔ توبہ کرائی اور پنجاب سے نیچریت کا اثر بہت کم کر دیا۔ اب وہی نیچری ہیں جو مسلمان صورت بھی نہیں تھے۔ مرزا صاحبؑ کے ملنے سے مومن سیرت ہو گئے۔ اہلکاروں، تھانہ داروں نے رشوتیں لینی چھوڑ دیں۔ نشہ بازوں نے نشے ترک کر دیئے۔ کئی لوگوں نے حُقّہ تک ترک کر دیا۔ مرزا صاحب کے شیعہ مریدوں نے (یعنی چند مرید مرزا صاحبؑ کے ایسے بھی ہیں جو پہلے شیعہ مذہب رکھتے تھے) تبرّا ترک کر دیا صحابہؓ سے محبت کرنے لگے۔ تعزیہ داری، مرثیہ خوانی موقوف کر دی۔ بعض پیرزادے جو مولوی محمد حسین بٹالوی بلکہ محمد اسماعیل شہید کو بھی کافر سمجھتے تھے مرزا صاحبؑ کے معتقد ہونے کے بعد مولانا اسماعیل شہید کو اپنا پیشوا اور بزرگ سمجھنے لگے۔ اگر یہ تاثیریں، دجّالین، کذابین میں ہوتی ہیں اور نائبین رسول مقبولؐ نیک تاثیروں سے محروم ہیں تو بصد خوشی ہمیں دجّالی ہونا منظور ہے۔
    ’’پھلوں ہی سے تو درخت پہچانا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بھی لوگوں نے صفات سے پہچانا۔ ورنہ اس کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔ کسی تندرست ہٹے کٹے کا نام اگر بیمار رکھ لیں تو واقعی وہ بیمار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن پاکباز ہے اور جس کے دل میں اللہ اور رسولؐ کی محبت ہے اس کو کوئی منافق کافر، دجال وغیرہ لقب دے تو کیا حرج ہے۔ سفید کسی کے کالا کہنے سے کالا نہیں ہو سکتا اور چمگادڑ کی دشمنی سے آفتاب لائق مذمت نہیں۔ یزیدی عملداری سے حسینی گروہ اگرچہ تکالیف تو پا سکتا ہے مگر نابود نہیں ہو سکتا۔ رفتہ رفتہ تکالیف برداشت کر کے ترقی کرے گا اور کرتا جاتا ہے۔ یعنی مولویوں کے سدِّ راہ ہونے سے مرزا صاحبؑ کا گروہ مٹ نہیں سکتا۔ بلکہ ایسا حال ہے جیسا دریا میں بند باندھنے سے دریارُک نہیں سکتا لیکن چند روز رُکا معلوم ہوتا ہے۔ آخر بند ٹوٹے گا اور نہایت زور سے دریا بہہ نکلے گا اور آس پاس کے مخالفین کی بستیوں کو بھی بہا لے جاوے گا۔ آندھی اور ابر سورج کو چھپا نہیں سکتے۔ خود ہی چند روز میں گم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح چند روز میں یہ غُل غپاڑہ فرو ہو جائے گا اور مرزا صاحبؑ کی صداقت کا سورج چمکتا ہوا نکل آوے گا۔ پھر نیک بخت تو افسوس کر کے مرزا صاحبؑ سے موافق ہو جاویں گے اور پچھلی غلطی پر پچھتاویں گے اور مرزا صاحبؑ کی کشتی میں جو مثل سفینہ نوح علیہ السلام کے ہے سوار ہو جائیں گے۔ لیکن بدنصیب اپنے مولویوں کے مکر او رغلط بیانی کے پہاڑوں پر چڑھ کر جان بچانا چاہیں گے۔ مگر ایک ہی موج میں غرق بحرِ ضلالت ہو کر فنا ہو جاویں گے۔
    ’’یا الٰہی ہمیں اپنی پناہ میں رکھ اور فہمِ کامل عنایت فرما۔ اُمّتِ محمدی کا تو ہی نگہبان ہے۔ حجابوں کو اُٹھا دے۔ صداقت کو ظاہر فرما دے۔ مسلمانوں کو اختلاف سے راہِ راست پر لگا دے۔ آمین یا رب العلمین۔
    ’’العلم حجاب الاکبر جو مشہور قول ہے اس کی صداقت آج کل بخوبی ظاہر ہو رہی ہے۔ پہلے اس قول سے مجھے اتفاق نہ تھا لیکن اب اس پر پورا یقین ہوگیا۔ جس قدر مرزا صاحبؑ کے مخالف مولوی ہیں اس قدر اور کوئی نہیں بلکہ اوروں کو عالموں ہی نے بہکایا ہے۔ ورنہ آج تک ہزاروں بیعت کر لیتے اور ایک جم غفیر مرزا صاحبؑ کے ساتھ ہو جاتا۔ لیکن مخالفت کا ہونا کچھ تعجب نہیں کیونکہ اگر ایسا زمانہ جس میں اس قسم کے فساد ہیں جس کی نظیر پچھلی صدیوں میں نامعلوم ہے۔ نہ آتا۔ تو ایسا مصلح بھی کیوں پیدا ہوتا۔ دجال ہی کے قتل کو عیسیٰ تشریف لائے ہیں۔ اگر دجال نہ ہوتا تو عیسیٰ کا آنا محال تھا اور دنیا گمراہ نہ ہو جاتی تو مہدی کی کیا ضرورت تھی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کام کو اس کے وقت پر کرتا ہے۔
    ’’یا اللہ! تو ہمیں اپنے رسولؐ کی، اپنے اولیاء کی محبت عنایت کر اور بے یقینی اور تردّدات سے امان بخش، صادقین کے ساتھ ہمیں اُلفت دے، کاذبوں سے پناہ میں رکھ۔ ہماری انانیت دُور کر دے اور حرص و حواس سے نجات بخش۔ آمین یا رب العلمین‘‘۔ ۱۴؎
    حضرت میر صاحب سلسلہ کی خدمت میں
    حضرت میر صاحب قادیان آ کر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے تھے۔ جیسے انہوں نے خود تحریر فرمایا ہے کہ:
    ’’گویا مَیں اُن کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔ خدمتگار تھا، انجنیئرتھا، مالی تھا، زمین کا مختار تھا، معاملہ وصول کیا کرتا تھا‘‘۔ ۱۴؎
    گویا کہ تمام وہ کام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی انہماک کی وجہ سے یونہی پڑے ہوئے تھے، وہ حضرت میر صاحب نے سنبھال لئے تھے۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت میر صاحب کی توجہ سے ایک زمانہ میں حضرت اقدس ؑ کا باغ گلزار بنا ہوا تھا۔ ہزار ہا گملوں میں لگے ہوئے پھولوں کے پودے مختلف قسم کے خوشبو دار پھول، دیواروں اور دروازوں پر چڑھنے والی پھولوںکی بیلیں، انگوروں کی بیلیں، ہر قسم کے پھل دار درخت، رنگا رنگ کے آم، لوکاٹ، شہتوت، امرود وغیرہ باغ میں بڑی محنت سے لگوائے گئے۔
    ایام زلزلہ میں جو ۱۹۰۵ء ؁کے دن تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں اصحابؓ کے ساتھ مقیم تھے۔ اُس وقت باغ کی رونق کے کیا کہنے تھے۔ باغ پورے جوبن پر تھا۔ مدرسہ وہیں لگا کرتا تھا۔ خدا تعالیٰ کا محبوب اس زمانے کا ہادی اور راہنما اپنے عشّاق کے حلقے میں وہاں جلوہ افروز ہوا کرتا تھا۔ باغ کی ٹھنڈک اور سایہ۔ پتوں میں سے دھوپ کا چھن چھن کر آنا۔ پھولوں کی مہک اور اُن کا پورا جوبن ایک پُرکیف صورت پیدا کرتا تھا۔ باغ کی یہ کیفیت حضرت میر صاحب کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔ آپ کو باغ کی صفائی اور ترقی کا اس حد تک خیال تھا کہ ایک دفعہ آپ کو الہام ہوا۔
    ’’کہاں تک کرے گا صفائیے باغ‘‘
    گویا کہ اس صفائی کے انہماک کا ذکر خود خدا تعالیٰ کو بھی اپنے عرش سے کرنا پڑا۔ کھیتوں میں سبزی ترکاری کا سلسلہ بھی حضرت میر صاحب نے شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ باغ کے علاوہ بھی جہاں جہاں زمین اس غرض کے لئے مل سکی حضرت میر صاحب نے کارآمد بنا ڈالی۔ مدرسہ احمدیہ کے متّصل جہاں اب جناب قاضی اکمل صاحب کا مکان اور تشحیذالاذہان کا دفتر تھا، وہاں بھی مدتوں سبزی وغیرہ پیدا کی جاتی رہی۔ یہ کھیت حضرت میر صاحب کی ’’پَیلی‘‘ یعنی کھیت کے نام سے زبان زد تھا۔
    حضرت صاحب کے الدار میں کوئی تعمیر ہوتی، تو حضرت میر صاحب قبلہ سارا سارا دن کھڑے تعمیر کا کام کراتے رہتے تھے۔ عمالیق جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے محض خدا واسطے کا بغض رکھتے تھے۔ اُن کی فہمائش بھی کبھی کبھی حضرت میر صاحب کے ذریعے ہو جایا کرتی تھی۔ وہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی ہر ایک چیز کی حفاظت اپنا فرض خیال کرتے تھے۔ وہ یہ سب کام ایک عشق کے ساتھ کرتے تھے اور مَیں پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک فضل تھا کہ اُس نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی خدمت کے لئے حضرت میر صاحب جیسا ایک انسان بھیج دیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر ایک چیز کو اپنی جان کر ان کی نگہداشت کرتا تھا۔ ان کی ترقی کے لئے کوشاں تھا۔ دشمنوں سے ان کی حفاظت کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی زندگی تو بالکل ایک ایسے انسان کی تھی جو بالکل ہی یتیم ہو۔ انہوں نے خود لکھا ہے۔
    لَفَاظَاتِ الْموَائِدِ کَانَ اُکْلِیْ
    گھر کی بچی کھچی چیزیں میرے کھانے کیلے آتی تھیں۔
    ان کو خود ان زمینوں اور جائیدادوں کی طرف توجہ نہ تھی اور وہ اس مخمصہ میں پڑ کر دین کے کاموں میں روک نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔
    ان کی جائیداد ان بچوں کے خزانہ کی طرح پڑی تھی جس پر گرنے والی دیوار تھی اور خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑاور خضر ؑ کو بھیج کر اس کی اصلاح کرا دی اور اس طرح اس خزانہ کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو بھیج دیا کہ وہ ان چیزوں کی حفاظت کریں جو کسی وقت سلسلہ کے لئے ایک شاندار جائیداد بننے والی تھیں۔ گویا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دنیاوی چیزوں کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لی اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے پاس کوئی آدمی ایسا موجود نہ تھا جو ایک درد اور ایک عشق سے ان کاموں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیتا تو خدا تعالیٰ نے خود حضرت میر صاحب کو بھیج دیا جو جوانوں سے بڑھ کر باہمت تھے، جو بڑے تجربہ کار تھے۔ بڑے امین تھے۔ جن کے لئے یہ گھر اب اپنا گھر ہو گیا تھا۔ اُن سے بڑھ کر اور کون درد خواہ ہو سکتا تھا۔
    حضرت میر صاحب حضرت اقدس ؑ کواور سلسلہ کو دو الگ وجود خیال نہ کرتے تھے اور یہ تھی بھی ایک حقیقت۔ اس لئے حضرت میر صاحب حضرت صاحب کے خدمتگاروں کو لنگر سے کبھی روٹی وغیرہ دے دیاکرتے تھے۔
    ہمیشہ ہر جگہ کچھ طبائع ایسی آ جاتی ہیں جو صرف اپنی ترقی کے سوا کسی دوسرے کی ترقی کو دیکھ نہیں سکتیں۔ حضرت میر صاحب سادہ زندگی بسر کرنے والے درویشانہ رنگ کے بزرگ تھے۔ وہ ایسے لوگوں کو کب پسند آ سکتے تھے۔ ان کو حضرت میر صاحب کی ہر کام میں پیش قدمی ناگوار معلوم ہوتی۔ چنانچہ ہم کو سلسلہ کے لٹریچر سے سب سے پہلا اعتراض یہ نظر آتا ہے کہ اصحابِ نمود اندر ہی اندر اس امر سے جلا کرتے تھے کہ سلسلہ کے اموال کا خرچ ہمارے ہاتھ میں کیوں نہیں دے دیا جاتا ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ابتداء میں جرأت نہ ہوتی تھی اس لئے تبر کا نشانہ پہلے حضرت میر صاحب کو بنایا گیا اور ان لوگوں کے ایک لیڈر نے جو بعد میں کھل نکلے۔ یہ اعتراض کیا:
    ’’کہ میر صاحب مالیوں کو یوں روٹیاں دیتے ہیں اور باغ کے کتے کو یوں گوشت دیا جاتا ہے‘‘۔ ۱۶؎
    یہ اعتراض بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ تھا۔ اس کی تہہ میں مالی اعتراض چھپا ہوا تھا۔ گویا کہ وہ رقوم جو چندے کے طور پر آتی ہیں وہ ناجائز طور پر صَرف کی جاتی ہیں (العیاذ باللہ) ورنہ لنگر خانہ تو نہ صرف مہمانوں کے لئے ہی تھا بلکہ اس سے بہت سے غریب لوگ بھی پرورش پاتے تھے اور حضرت اقدس ؑ پسند کرتے تھے کہ لنگر پر آنے والے سائلوں کو بھی رد نہ کیا جائے۔ چنانچہ مَیں نے جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی سے بارہا سنا کہ وہ ایک زمانہ میں مہمانوں کے کھانا کھلانے پر مامور تھے۔ اس زمانہ میں مارواڑ میں سخت قحط پڑا۔ بہت سے لوگ یہاں بھی آ گئے اور وہ مانگنے کے لئے لنگر پر آ جایا کرتے تھے۔ شیخ صاحب ان کو کچھ نہ کچھ دے دیا کرتے تھے۔ اس امر کی کسی نے شکایت کر دی تو حضرت صاحبؑ سن کر خاموش ہو رہے۔ مگر شیخ صاحب کو جب شکایت کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت سے عرض کیا کہ حضور! اس کام پر کسی اور کو مقرر کر دیا جائے۔ حضرت نے فرمایا کیوں میاں اسماعیل! تھک گئے! انہوں نے کہا۔ نہیں حضرت۔ اس طرح لوگ آتے ہیں تو مَیں پسند نہیں کرتا کہ حضور کے لنگر سے کوئی محروم جائے۔ اس لئے کسی کو چوتھا حصہ کسی کو نصف کسی کو پوری روٹی دے دیا کرتا ہوں اور اس کی پھر شکایت ہوتی ہے۔ حضور نے فرمایا:
    ’’ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ فی کس ایک روٹی دے دیا کرو اور فرمایا کہ میاں! یہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے کسی کو خالی نہ جانے دیا کرو‘‘۔
    اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لنگر کی عطاء بہت وسیع تھی اور مَیں نے خود ایام جلسہ میں کام کر کے دیکھا ہے کہ مزدور اور محنت کرنے والے لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو خواہ مزدوری کم دی جائے مگر ان کو کھانا دیا جائے۔ ابتدائی ایام میں جب کہ قادیان کے لوگ غربت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ اُن کے لئے لنگر سے روٹی مل جانی ایک نعمتِ غیر مترقبہ تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ میں کام کرنے والے مالی کو اس کی درخواست پر اگر روٹی لنگر سے مل گئی تو یہ ایسی چیز نہ تھی کہ جو حضرت میر صاحب کیلئے باعثِ اعتراض بن سکتی۔ حضرت میر صاحب کا اگر الگ کوئی کاروبار ہوتا۔ اُن کا ذاتی کوئی باغ ہوتا تو جو مقام اُن کو صہری ابوت کا حاصل تھا اس لحاظ سے بھی میرے نزدیک اُن کا اپنے نوکروں کیلئے روٹی لے لینا بھی ناجائز نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نوکر کو یا ان کے کسی کتے کو لنگر سے روٹی لے کر ڈال دینے پر اعتراض کرنا تو محض شقاوت قلبی ہے اور یہ ایسی ہی بات تھی جیسے مدینہ کے چند نوجوانوں نے فتح مکہ کے بعد یہ اعتراض کر دیا کہ:
    ’’خون تو ہماری تلواروں سے ٹپکتا ہے اور مالِ غنیمت مکے والے لے گئے‘‘۔
    اِن اعتراض کرنے والوں کے اعتراض میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل و انصاف پر ایک اعتراض پوشیدہ تھا۔ اگرچہ مدینہ کے مخلص صحابہؓ نے اس کی ہر طرح تردید کی اور معذرت کی۔ مگر دنیا میں اس کا اجر لینے سے محروم ہوگئے۔
    پس یہ اعتراض بظاہر ایک معمولی بات تھی مگر اس اعتراض کا وار دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تھا اور یہ اعتراض پہلا کیڑا تھا جو ان کے قلب کے اندر گھن کے کیڑے کی طرح داخل ہوا اور جس نے اندر ہی اندر اُن کے سارے قلب کی حالت کو بدل دیا اور کھا لیا۔
    لنگر کا انتظام ابتداء میں ایسا تھا کہ حضرت اقدس ؑ یہ چاہتے تھے کہ ہر احمدی لنگر خانہ سے ہی کھائے۔ چنانچہ سلسلہ کے سب عمائدین حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ، حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ، حضرت مولوی محمد احسن صاحبؓ، حضرت مولوی فضل دین صاحبؓ وغیرہ وغیرہ ابتداء میں سب کے ہاں لنگر سے ہی کھانا جاتا تھا۔ ایسی حالت میں لنگر کی وسعت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ جب کہ سینکڑوں آدمی لنگر سے کھانا کھا رہے تھے۔ حضرتؑ کے باغ کے مالی کی روٹی کو اعتراض کا ذریعہ بنا لینا ان کی اندرونی اور نفسی حالت کا آئینہ دار ہو سکتا ہے۔ الغرض اس طرح حضرت میر صاحب بعض لوگوں کی نگاہ میں بلاوجہ کھٹکے اور ان کو حضرت اقدس ؑ پر اعتراض کرنے کا پہلا زینہ بنایا گیا۔
    دوسرا قدم
    حضرت میر صاحب پر یہ اعتراض سن کر سننے والے نے کہا:
    ’’پھر آپ لوگ اس کو روکتے نہیں۔ تو خواجہ صاحب نے ماتھا پیٹ کر کہا کہ اگر ہم کہیں تو پھر کچھ بھی کام نہیں کر سکتے اور اگر کہہ سکتے تو بات ہی کیا تھی۔ یہ تو آپ جیسے بزرگوں کا کام ہے اور اسی وجہ سے آپ سے ذکر کیا ہے۔ تب اُس نے وعدہ کیا کہ اچھا، پھر مَیں اس کا ذکر کروں گا‘‘۔ ۱۷؎
    اِس بالائی عبارت کا مفہوم بھی بالکل واضح ہے کہ اس طریق پر لوگوں کو تیار کیا جاتا تھا کہ وہ حضرت میر صاحب کے خلاف آواز اٹھائیں۔ گویا حاسد لوگوں نے سلسلہ کے اموال کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے حضرت میر صاحب کو زینہ بنایا اور یہ طریق عام انسانی اخلاق کی حد سے بھی گرا ہوا تھا۔ چہ جائیکہ اس کا کوئی تعلق تقویٰ کی کسی راہ سے ہو۔
    چنانچہ انسانی فطرت اپنی عادت کے مطابق کام کرتی ہے اور جب ایک قدم اُٹھ جاتا ہے تو پھر دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اُٹھتا چلا جاتا ہے اور انسان یہ نہیں معلوم کر سکتا کہ وہ ہلاکت کے گڑھے کی طرف جا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح معترض لیڈر کا دوسرا قدم اُٹھا اور یہ قدم حضرت اُمُّ المؤمنین علیہا السلام اور حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کے خلاف براہِ راست تھا۔ ۱۹۰۶ء؁ میں مسجد مبارک کی توسیع ہو رہی تھی اس غرض کے لئے ایک وفد تین اصحاب پر مشتمل گجرات اور کڑیانوالہ کی طرف بغرض حصول چندہ جا رہا تھا تو وفد کے لیڈر نے ایک لمبا سوال شروع کیا۔ جو ۳۶ میل کے سفر میں طَے ہوا اس سوال کا خلاصہ یہ تھا۔
    ’’پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہؓ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دے دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جُھوٹے ہو۔ ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہؓ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اورتعیّش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے‘‘۔
    بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا۔۱۸؎
    اس اعتراض کو پڑھیئے اور پھر خط کشیدہ عبارت کوغور سے ملاحظہ فرمائیے اور پھر سوچئے کہ جس دماغ کے یہ خیالات ہوں کیا اس کے قلب میں اپنے مرشد پر کوئی ایمان معلوم ہوتا ہے؟
    ۱۔ خاندانِ مسیح موعود ؑکی زندگی پرتعیّش کا اعتراض۔
    ۲۔ صحابہؓ کی زندگی سے بالکل مختلف زندگی بسر کرنے کا نقشہ پیش کرنے والے۔
    ۳۔ قومی روپیہ کو کھا جانے والے۔
    ۴۔ قومی روپیہ سے زیوارت اور کپڑے بنانے والے۔
    یہ کن کو قرار دیا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اُن کی مقدس بیوی کو۔ کسی مذہب کے آدمی سے دریافت کرو۔ وہ جس شخص کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرتا ہوگا۔ اس کے کسی فعل پر اعتراض نہیں کرے گا اور اگر کوئی شخص اس کے فعل پر اعتراض کرتا ہوگا تو وہ اس کو یقینا مسلوب الایمان سمجھے گا۔ اس امر کی حقیقت سے تو مَیں حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت کے باب میں پردہ اُٹھائوں گا۔ مگر یہاں صرف اس قدر کہنا کافی ہوگا کہ یہ دوسرا قدم تھا جو حضرت میر صاحب کے بعد ان گم گشتہ طریق لوگوں نے اُٹھایا اور اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب پر اعتراض ہی اُن کو اس نتیجہ کی طرف لے گیا کہ وہ سلسلہ سے کٹ گئے۔ عبرت! عبرت! عبرت!!!
    مدرسہ تعلیم الاسلام کے پہلے ناظم
    سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضرورت دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدرسہ تعلیم الاسلام کی بنیاد رکھنے کا ۱۸۹۷؁ء میں فیصلہ فرمایا اور ۱۸۹۸؁ء میں اس مدرسہ کا آغاز فرمایا۔ مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعمیر کیلئے جو لوگ بنیادی پتھر قرار دیئے گئے ان میں سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ تھے جو مدرسہ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ تھے جو مدرسہ کے ناظم مقرر ہوئے اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ بنیادی تعمیر میں حصہ لینے والے لوگوں کو کس قدر محنت کرنی پڑتی ہے وہ ایک واضح امر ہے۔
    ڈھابوں کی بھرتی کا کام
    مدرسہ احمدیہ جس جگہ واقع ہے۔ یہ سب جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور یہاں بہت بڑی ڈھاب تھی۔ حضرت میر صاحبؓ کی دُور رس نگاہ نے اس جگہ کی قدرکو جانا اور سلسلہ کی ترقی اور ضرورت کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے سلسلہ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر اس ڈھاب میں جہاں ہاتھی غرق ہوتا تھا مٹی ڈلوانے کاانتظام کیا۔ چنانچہ بھرتی پڑنے لگ گئی۔ بھرتی پڑرہی تھی کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور اُن کے رفقاء لاہور سے آئے انہوں نے ان بھرتیوں کو دیکھ کر کہنا شروع کیا کہ:
    ’’میر صاحب سلسلہ کا روپیہ غرق کر رہے ہیں‘‘۔
    یہ اعتراض بھی اسی پہلے اعتراض کی ہی کڑی تھا۔ ورنہ میر صاحب کا مقام تو ان تمام اعتراضوں سے بہت بالا تھا۔ میر صاحب نے جب سنا تو فرمایا:
    ’’میں غرق کرتا ہوں تو تم سے لے کر نہیں۔ حضرت صاحب کا روپیہ ہے تم کون ہو جو مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔ جائو حضرت صاحب کو کہو‘‘۔ ۱۹؎
    بالآخر حضرت اقدس ؑ سے اس امر کا ذکر کیا گیا۔ حضور ؑ نے فرمایا:
    ’’کہ میر صاحب کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہئے‘‘۔
    بعد کے واقعات نے بتلایا کہ اگر حضرت میر صاحب نے ان زمینوںکو پانی سے نکال کر سلسلہ کے لئے ایک قیمتی جائیداد نہ بنا لیاہوتا تو مرکزِ سلسلہ میں بہت مشکلات کا اضافہ ہو جاتا۔ آج وہ زمین سلسلہ کے مرکزی کاموں کے لئے کام آئی اور آج علوم عربیہ اور دینیہ کے پھیلانے کیلئے ایک ایسا مرکز بنی ہوئی ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں سے علم اور معرفت کی نہریں بَہہ رہی ہیں۔ جب تک دنیا رہے گی اور جب تک دنیا کو اس زمین سے فیض پہنچتا رہے گا۔ اُس وقت تک خدا کے نیک بندے حضرت میر صاحب کی اس خدمت کو یاد کر کے ان کے لئے دعا کرتے رہیں گے اور ان معترضین کے اس قول کو نفرت سے دیکھتے رہیں گے کہ میر صاحب قوم کا روپیہ غرق کر رہے ہیں۔
    سلسلہ کی عمارات
    جہاں تک میرا علم ہے۔ مہمانخانہ، مدرسہ وغیرہ کی عمارتوں کا کام بھی حضرت میر صاحب کی نگرانی میں ہوا۔ گول کمرے کے سامنے کا صحن کھلا پڑا تھا۔ حضرت میر صاحب نے کچھ پرانی اینٹیں جو زمین میں مدفون تھیں کھدوا کر نکلوائیں اور گول کمرے کے سامنے دیوار بنوا دی۔ حضرت میر صاحب جب زمین سے یہ مدفون اینٹیں نکلوا رہے تھے۔ اُس وقت بعض کوتاہ اندیشوںنے کہا کہ میر صاحب لغو کام کر رہے ہیں۔ مگر بعد میں دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ لغو کام کس قدر مفید اور بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت عرفانی کبیر نے حیاتِ ناصر کے صفحہ۳۰ پر لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں وہی تعمیراتِ سلسلہ کے ناظم تھے اور اس کام کو انہوں نے نہایت دیانت اور درد اور اخلاص سے سرانجام دیا۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں بھی کبھی عار نہ ہوتا تھا اور نہ پیدل سفر کرنے سے پرہیز، نہایت کفایت شعاری سے وہ سلسلہ کے اموال کو جو اُن کے ہاتھ میں ہوتے خرچ کرتے تھے۔ ایک دنیا دار کی نظر میں اسے بے حیثیت کہا جائے مگر سچ یہ ہے کہ وہ ان اموال کے امین تھے۔
    حضرت نانا جان نے جس دیانت اور امانت کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو اداکیا وہ ہمیشہ آنے والی نسلیں عزت سے یاد کریں گی۔ انہوں نے کبھی اپنے آرام کی پرواہ نہ کی۔ کڑکتی دھوپ میں نگرانی کر رہے ہیں۔ پسینہ سر سے لے کر پائوں تک جا رہا ہے۔ برستی بارش میں اگر کوئی خطرہ ہوا ہے تو کھڑے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ ان کی یہ ہمت اور یہ فرض شناسی اور اموالِ سلسلہ کی دیانت سے خرچ کرنے کی مثال ہمارے لئے سبق ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ یہ تمام کام وہ آنریری طور پر کرتے تھے۔ کوئی معاوضہ ان کاموں کا دنیا کے کسی سکہ کی شکل میں نہ لیا اور نہ خواہش کی۔
    حضرت میر صاحبؓ کی شاعری
    حضرت میر صاحبؓ شاعر بھی تھے۔ اُن کے اشعار بہت آسان اور سلیس زبان میں ہوتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا کہ گوندھی ہوئی مٹی ان کے سامنے پڑی ہے اور وہ اس سے حسبِ منشاء جو چاہتے ہیں بناتے جاتے ہیں۔ سلسلہ کی تائید میں حمد الٰہی، نعت نبیؐ اور اپنے سفر نامے اور بعض تحریکیں انہوں نے شعر میں لکھے۔ یہ بجائے خود ایک طویل مضمون ہے۔ وہ اپنی شاعری میں خیالی باتوں کی طرف نہ جاتے تھے۔ دشمنانِ سلسلہ کے خلاف منہ توڑ اشعار بھی لکھا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دشمن کے متعلق لکھا:
    اک سگِ٭ دیوانہ لدھیانہ میں ہے
    آج کل وہ خر شتر خانہ میں ہے
    الغرض اس طرح اُن کے دن اور رات خدمتِ سلسلہ میں لگے ہوئے تھے اور وہ بے غرض خدمت میں منہمک تھے کہ ان کی دنیا میں ایک نئی تبدیلی ہوئی اور ۱۹۰۸ء ؁کا زمانہ آ گیا۔
    ۲۶/ مئی ۱۹۰۸ء؁ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون اور حضرت میر صاحبؓ کے کاموں کی نوعیت بدل گئی۔ حضرت میر صاحب نے خود لکھا ہے کہ:
    ’’اب میرے متعلق کوئی کام نہ رہا کیونکہ وہ کام لینے والا ہی نہ رہا۔ دنیا سے اُٹھ گیا۔ میرصاحب، میر صاحب کی صدائیں اب مدھم پڑ گئیں بلکہ کئی اور میر صاحب پیدا ہو گئے۔ شکر ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا غرور مجھ سے دور ہوا اور ناز جاتا رہا کیونکہ کوئی ناز بردار نہ رہا۔ حضرت صاحب کی جدائی کے غم اور آپ کے سلسلہ کے کاموں سے سبکدوشی نے مجھے پریشان کر دیا‘‘۔ ۲۰؎
    مسجد مبارک کی توسیع
    اگرچہ مجھے اس امر کا ذکر پہلے کرنا چاہئے تھا مگر مَیں بھول گیا اور اس امر کا ذکر رہ گیا کہ مسجد مبارک کی توسیع جو ۱۹۰۶ء؁ سے ۱۹۰۷ء؁ تک جاری رہی۔ اُن معترضین کو جو میر صاحب کی مسابقت فی الدین کو بُری نگاہ سے دیکھتے تھے یہ چیز بھی تکلیف دے رہی تھی۔ مگر بے بس تھے۔ بعض کھڑکیوں وغیرہ کے متعلق جھگڑا ہوا۔ حضرتؑ تک معاملہ گیا۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ میر صاحبؓ نے ’’جہاں کھڑکیاں دروازے رکھ دیئے ہیں وہیں رہنے دیئے جائیں‘‘۔
    اس سے اُس مقام کا پتہ چل سکتا ہے جو حضرت کے دل میں حضرت میر صاحبؓ کا تھا۔
    بھرتیوں کے معاملہ میں فرمایا:
    ’’میر صاحب کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہئے‘‘۔

    ٭ بہ سگِ دیوانہ لودھانہ کے ایک محلہ شتر خانہ میں رہتا تھا۔ (عرفانی کبیر)
    اور اس موقعہ پر فرمایا:
    کہ جو کھڑکی وغیرہ میر صاحب نے جہاں رکھ دی ہے وہیں رہنے دی جائے۔
    کاش! وہ معترضین اس امر سے اس پاک نفس بزرگ کے مقام کو سمجھ لیتے اور ٹھوکر سے بچ جاتے۔یہ تھی شان حضرت میر صاحبؓ کی اور اس مقام کا تھا وہ انسان۔
    ایک اور موقعہ
    حضرت میر صاحبؓ نے ایک دفعہ ایک کوٹ جو مستعمل تھا۔ اپنے ایک عزیز کو بھیجا مگر اس عزیز نے مستعمل کوٹ لینے سے انکار کر دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے نبی اور مامور کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے وہ کوٹ محض اس لئے رکھ لیا کہ کہیں میر صاحبؓ کو اس واپسی سے رنج نہ ہو۔ یہ تھا حضرت میر صاحب کا احترام اور اُن کے جذبات کا احساس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب میں۔
    عہد خلافت اولیٰ اور حضرت میر صاحبؓ
    خلافتِ اولیٰ کے ایام میں حضرت میر صاحبؓ نے قادیان کے غرباء کی حالت کا اندازہ لگا کر یہ چاہا کہ ان کی بہتری کی کوئی تجویز کی جائے۔ چنانچہ اس غرض کے ماتحت حضرت میر صاحب نے مسجد نور، ناصر وارڈ، ہسپتال مردانہ، زنانہ، دارالفعفاء کو مدنظر رکھ کر سارے ملک میں پھر کر چندہ جمع کرنا شروع کیا۔ حضرت میر صاحب نے اس کام کے لئے شب و روز ایک کر دیا اور پیدل چل چل کر یہ کام کیا۔ چنانچہ آپ نے دو حصوں میں اپنا سفر نامہ تصنیف فرمایا جو نظم میں ہے۔ اس کے چند ٹکڑے نمونے کے طور پر یہاں درج کرتا ہوں۔ جن سے ان کی محنت، سعی اور تکلیف کا بخوبی پتہ لگ سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔
    قصبۂ قادیان کو کیوں چھوڑا

    کیوں عزیزوں سے اپنا منہ موڑا
    کیوں سفر اختیار تو نے کیا

    کیوں انہیں دلفگار تو نے کیا
    دین کے کام کے لئے مَیں چلا

    تا جماعت سے لائوں میں چندا
    احمدی بھائیوں سے لائوں مال

    دینی کاموں پہ وہ لگائوں مال
    چار کاموں کا ہے خیال مجھے

    واسطے ان کے ہے ملال مجھے
    مسجد و ہسپتال مردانہ

    اک زنانہ بھی ہے شفاخانہ
    کچھ غریبوں کے واسطے ہیں مکاں

    امن و آرام سے بسیں وہ جہاں
    مَیں نے کی ہے یہ اس لئے تکلیف

    میرا مالک قوی ہے مَیں ہوں ضعیف
    میرے دکھ کو خدا کرے آسان

    غیب سے بخشے وہ مجھے سامان

    …………

    پانچ تاریخ تھی ستمبر کی

    مجھ کو توفیق جب خدا نے دی
    قادیان سے چلا بسوئے سفر

    کی سواری سے میں نے قطع نظر
    پاپیادہ چلا بٹالہ کو

    اس سے مقصد تھے میرے دل میں دو
    اپنی قوت کو آزمائوں مَیں

    ریل تک پا پیادہ جائوں مَیں
    دوسرے کچھ کرایہ بچ جائے

    راہِ مولیٰ میں وہ بھی کام آئے
    مجھ کو دُکھ ہووے قوم سُکھ پائے

    میری خدمت یہ اس کو یاد آئے
    لاہور کی طرف روانگی
    فرمایا:
    تیسرے درجہ کا ٹکٹ لے کر

    فضل حق سے چلا مَیں بسوئے سفر
    پہلے لاہور تک کا قصد کیا

    ابر و باراں نے میرا ساتھ دیا
    خوف آتا تھا سخت بارش سے

    دل ڈراتے ہوا کے دھکے تھے
    اسی بارش میں پہنچے ہم لاہور

    نظر آتے تھے طَور کچھ بے طَور
    اسی کیچڑ میں مَیں گیا لاہور

    میری ہمت پہ آپ کیجئے غور
    سفر میں گرمی کی تکلیف
    فرمایا:
    وہاں سے بھلوال میں مَیں جا اُترا

    سخت گرمی تھی اُس جگہ بخدا
    انسپکٹر کے ڈیرے پر جو گیا

    نہ ملا مجھ کو کچھ بھی اُن کا پتا
    اسی گرمی میں پہنچا چک پنیار

    گرمی اور ماندگی سے تھا ناچار
    ایک چک میں مَیں ہو گیا داخل

    ہوا آرام نہ کچھ وہاں حاصل
    کیونکہ احباب تھے گئے باہر

    عورتیں بس گھروں کے تھیں اندر
    ایک مسجد میں ایک مکتب تھا

    اس جگہ مَیں غریب بیٹھ گیا
    پانی مانگا تو وہاں ملی لسی

    ہو کے ناچار مَیں نے پی لسّی
    اس سفر کی تکالیف کا ذکر
    آخرش جنڈ میں مَیں جب پہنچا

    بے خبر ریل سے جو مَیں اُترا
    مَیں گرا اپنے ہی ٹرنک پہ جب

    پڑ گیا میری پسلیوں پہ غضب
    دَ ہنی جانب کو سخت چوٹ آئی

    دَرد سے ہو گیا مَیں سودائی
    یار تھا اور نہ کوئی یاور تھا

    ساتھ بس اک خدائے برتر تھا
    فضل سے اس کے بچ گئی میری جان

    بچ گیا مَیں یہ اس کا ہے احسان
    میرے ہمراہ اک سوار ہوا

    میرے صدمہ میں غمگسار ہوا
    اس نے ہاتھوں سے میری خدمت کی

    اور زباں سے مجھے تسلّی دی
    پانچ گھنٹے وہاں رہا ناچار

    خاک پر پڑ گیا بحالتِ زار
    تھا نہ بستر نہ چار پائی تھی

    مَیں نے تکلیف سخت پائی تھی
    رمضان اور عید کیسے گذرے
    آج ہے عید بس گیا رمضان

    ہائے افسوس! چل دیا مہمان
    سارا رمضان مَیں سفر میں رہا

    اسی چندہ کے درد سر میں رہا
    صبح سے شام تک رہا چلتا

    ایبٹ آباد رات کو پہنچا
    ایک جگہ فرماتے ہیں:


    میرے مولیٰ نے مجھ پہ فضل کیا

    تَن دیا اور وہ تندرست دیا
    شکر حق پر تواں ہوا ہوں مَیں
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    شصت سالہ جواں ہوا ہوں مَیں
    یہ نمونہ ہے، اس محنت، ہمت اور استقلال کا جو آپ نے اس سفر میں دکھایا۔
    مسجد نور
    اِن مساعی کے سلسلہ میں ۱۹۱۰ء؁ میں آپ نے مسجد نور کے لئے رقم جمع کرکے دی اور وہ تیار ہو گئی۔
    ہسپتال
    پھر تین ہزار روپیہ کی رقم جمع کر کے نور ہسپتال بنوایا۔
    دَارُالضُّعَفأ
    بہشتی مقبرہ کے قریب حضرت میر صاحب کی تحریک پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے بیس مکانوں کے لئے زمین دے دی اور آپ نے وہاں
    غرباء کیلئے ایک محلہ آباد کر دیا۔ اس جگہ ایک کنؤان اور مسجد بھی بنوائی۔ بعد میں اِس جگہ کا نام ناصر آباد رکھا گیا اور اب اِسی نام سے مشہور ہے۔ جہاں اب تک غرباء کی ایک جماعت آرام کرتی ہے۔ اُن کے اندر رفاہِ عام کا بڑا جذبہ تھا۔ احمدیہ چوک میں انہوں نے پختہ اینٹوں کا فرش لگوایا اور وہاں کی نالیوںکی درستی کا کام کروایا۔ وہ غرباء کے لئے کپڑوں اور بستروں، رضائیوں وغیرہ کا بھی انتظام کرتے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس ایسی بنائی تھی جس میں لوگ مل کر دعائیں کیا کرتے تھے۔ ہفتہ میں ایک دفعہ لوگ اپنے گھروں سے کھانا لا کر اکٹھے بیٹھ کر کھاتے تھے۔ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اپنے دوستوں کی ایک جماعت لے کر اس کی عیادت کو جاتے اور کبھی غریب اور معذور دوستوں کے کپڑے تک دھونے سے گریز نہ کرتے۔ وہ افسر مقبرہ بہشتی بھی رہے۔
    الغرض انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں ہی کام کئے اور اُن کی تفصیل حیاتِ ناصر میں مل سکتی ہے۔ حضرت میر صاحب کی طبیعت میں غصہ تھا وہ جلد ناراض ہو جاتے تھے۔ مگر فوراً ہی صلح کر لیتے تھے۔ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کی اشاعت کے لئے بڑا جوش تھا۔ یہ ہے مختصر سی تصویر اس مرد کامل کی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کا بڑا اداب کرتے تھے۔ ایک دفعہ ۱۹۰۵ء؁ میں جبکہ حضرت اقدس ؑ دہلی تشریف لے گئے تھے۔ حضرت میر صاحبؑ بھی وہاں ہی تھے۔ وہ وہاں بیمار ہو گئے تو فوراً حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کو بذریعہ تار طلب کیا اور لکھا کہ بلا توقف چلے آئو۔ ان کا بھی کمال تھا کہ تار ملتے ہی بغیر گھر میں اطلاع دیئے اور بغیر سامانِ سفر لئے کے روانہ ہو پڑے۔ ۲۱؎
    خلافتِ اولیٰ کیلئے حضرت میر صاحبؓ کا نام
    جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوگئے تو حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل نے اپنی تقریر میں جن لوگوں کو منصب خلافت کا اہل قرار دیا ان میں حضرت میر صاحب بھی ایک تھے۔ آپ نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا:
    ’’حضرت صاحب کے اقارب میں سے اس وقت تین آدمی موجود ہیں۔ اوّل میاں محمود احمد وہ میرا بھائی بھی ہے۔ میرا بیٹا بھی ہے۔ اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔ قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں۔ تیسرے قریبی نواب محمد علی خان صاحب ہیں‘‘۔ ۲۲؎
    اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب کا مقام حضرت خلیفہ اوّل کی نگاہ میں کیا تھا۔ گویا وہ ان کو اس مقام کے لوگوں میں سمجھتے تھے جو منصب خلافت پر فائز ہونے کے قابل تھے۔
    اس مقام کا بزرگ، بے نفس خدمت کرنے والا انسان، سچ کہنے والا، غریبوں سے محبت کرنے والا، خدا کے دین کیلئے ذلیل سے ذلیل کام سے بھی پرہیز نہ کرنے والا۔ یہ تھا میر ناصر نواب حضرت اُمُّ المؤمنین کا باپ۔ مگر یہ بزرگ انسان ایک غدار گروہ کی آنکھوں میں بُری طرح سے کھٹکا کرتا تھا۔ اُن کو اس کی سچائی اور خدا لگتی بات پسند نہ آتی تھی کیونکہ یہ بزرگ نفاق سے سخت نفرت کرنے والا تھا اور منافقوں کو سخت حقارت سے دیکھا کرتا تھا ان کو بھی معلوم تھا کہ یہ لوگ جو اپنے اندر کئی قسم کی روحانی امراض رکھتے ہیں مجھے اچھا نہیں جانتے۔ چنانچہ وہ اکثر کہا کرتے تھے: ’’سچی بات سعد اللہ کہے سب کے منہ سے اُترا رہے‘‘ اُن کی سچائی ہی اُن لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خاندان مسیح موعو دعلیہ السلام کے ابتداء سے دشمن تھے۔ اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد سے اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے اہل بیت سے انتہا درجے کی دشمنی تھی۔ وہ ان لوگوں کو خدا کے نشانات اور آیات میں سے نہیں سمجھتے تھے۔ اور ان لوگوں کے وجود کو ان برکات کا حامل نہیں سمجھتے تھے جن کا حامل ان کو خدا نے بنایا تھا اور ان مبارک وجودوں کو اپنی آزادیوں کے راستے میں روک خیال کرتے تھے اس لئے اُن کے دل بغض و حسد سے جل رہے تھے۔
    یہ ایک حقیقت ہے کہ عشاق کی دنیا اس دنیا سے بالکل الگ ہوتی ہے۔ وہ لیلیٰ کے کتے سے بھی پیار کرتے ہیں کیونکہ وہ محبوب کی گلی سے پھر کر آیا کرتا ہے مگر منافقوں کی دنیا بھی تو بالکل الگ ہوتی ہے وہ محبوب کی اولاد تو ایک طرف رہی اس کے کتے کے منہ کے لقمے پر بھی اعتراض کیا کرتے ہیں اور یہی اُن کے منافق ہونے کی نشانی ہے۔
    چنانچہ باغ کی حفاظت کرنے والے کتے کی ہڈیوں پر اعتراض کرنے والے منافق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد، اہلبیت اور دیگر قرابت والوں کو ہمیشہ ٹیڑھی نگاہ سے دیکھاکرتے تھے اور یہی اُن کی سلسلہ سے دشمنی کی ایک کھلی دلیل تھی۔ چنانچہ وہ انسان جسے خدا تعالیٰ نے حضرت اُمُّ المؤمنین کا باپ بنایا جسے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی صہری ابوت کا فخر حاصل ہوا جسے حضرت خلیفۃالمسیح اپنے ادب کا مقام قرار دیتے تھے اور منصب خلافت کا اہل قرار دیتے تھے۔ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی آنکھیں بند ہوتے ہی ان کے عتاب کا مورد بن گیا۔ چنانچہ خلافتِ اولیٰ کے خلاف سازشوں کا ایک جال ان لوگوں نے بچھایا اور اُن کی بُزدلی کا یہ عالم تھا کہ وہ خفیہ ہی خفیہ کارروائیاں کیا کرتے تھے۔ خفیہ مجلس اور خفیہ تجویزیںاور خفیہ ٹریکٹ شائع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک ٹریکٹ خفیہ اور گمنام لاہور کی احمدیہ بلڈنگس سے اظہار الحق نمبر۲ کے نام سے شائع ہوا جس میں انہوں نے حضرت میر صاحب ؓ کے متعلق یوں لکھا:
    ’’اصل بات یہ ہے کہ جماعت میں سب سے بڑا فتنہ بپا کرنے والا میر ناصر نواب ہے جس کی زبان سے کوئی بزرگ سلسلہ بچا ہو تو بچا ہو۔ ورنہ اس نے جماعت میں وہ فتور مچا رکھا ہے کہ الامان والحفیظ۔ عوام تو اس کی اس لئے عزت کرتے ہیں کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رشتہ دار ی ہے مگر یہ شخص اس تعلق کو قوم میں فتنہ ڈالنے کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ اور جہاں جہاںجاتا ہے اس کی زبان سے کبھی انجمن یا اس کے سرکردگان خصوصاً مولوی غلام حسن صاحب،میر حامد شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سیّد محمد حسین صاحب کی نسبت کلمہ خیر نہیں نکلا بلکہ ان لوگوں کی برائی کرنا اس نے اپنی تبلیغ کا ایک فرض سمجھ رکھا ہے۔
    ’’اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کا اپنا ایک الہام یاد آتا ہے جو اس نے قادیان میں سب کو سنایا تھا اور وہ یہ ہے کہ
    ناصر تیری درندگی اب تک نہیں گئی
    اور تو نے خداکی بندگی اب تک نہیں کری
    ’’غالباً میر صاحب موصوف کو ساری عمرمیں یہی ایک الہام ہوا ہے اور یہ جیسا کہ ان کی حالت پر صادق آتا ہے اور جاننے والے بخوبی جاتے ہیں اس شخص نے پیغام صلح کے بند کرانے کیلئے ناخنوں تک زور لگایا ہے اور ڈانٹ ڈپٹ سے ،گالی گلوچ سے پیغام صلح کے خریداروں کی خبر لی ہے۔
    ’’اگرمیرزا محمود صاحب یا مسیح موعود صاحبؑ کے دیگر رشتہ دار میر ناصر نواب اور ایڈیٹر الحکم کی زبان اور قلم کے طفیل بدنام ہوں تو ان کو برا نہ ماننا چاہئے کیونکہ ان کے داعیوں کے اخلاق ہی اس قسم کے ہیں۔
    ’’اللہ تعالیٰ پناہ دے تعجب آتا ہے کہ اس بوڑھے کو سوائے لوگوں کی برائی کرنے کے اور کوئی کام ہی نہیں رہا۔ جب اس کی زبان اور دلی کدورت کا یہ حال ہے جو روپیہ یہ لوگوں سے قومی کاموں کے ناموں پر بٹورتا ہے اور جس کا اس نے آج تک کبھی حساب آمد و خرچ شائع نہیں کیا ان میں یہ کیسے اخلاص سے کام لیتا ہو گا۔ ساری قوم کو ایسے آدمیوں نے اُلّو بنا رکھا ہے اور کن کن طریقوں سے یہ لوگوں کے دلوں میں زہر پھیلا رہے ہیں۔ قوم کے سرکردہ لوگ ہیں کہ قوم کی خبر تک نہیں لیتے ہیں۔ مولوی نورالدین صاحب نے ذرا ہنس کر میر صاحب کا نام لیا تو ساری قوم واہ واہ کرنے لگ پڑی اگر یہ شخص اس قسم کا فتور حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ڈالتا تو اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا مگر اب پیر پرستی کا زور ہو رہا ہے۔
    ’’یہ شخص پہلے خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب اور ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار کے فوٹو لئے پھرتا رہا اور جماعت کو یہ بتاتا رہا کہ دیکھو خواجہ اور اس کا دوست عباد اللہ ڈاڑھی منڈوائے انگریزی فیشن میں بیٹھے ہیں۔ اپنے آدمیوں کی برائی کر کے ایڈیٹر زمیندار کی تعریف کرتا رہا کہ اس نے فیشن نہیں بدلا۔ یہی باعث ہے کہ خواجہ صاحب کی ڈاڑھی کی نسبت اس قدر بدگمانی جماعت میں پھیلی۔ جب اپنوں کا یہ حال ہے تو بیگانوں پر کیا الزام۔
    ’’جب تک ہماری جماعت میں اخلاقی جرأت پیدا ہو کر پیر پرستی کی بنیاد نہ اُکھڑے گی ایسے لوگوں کی زبانیں کبھی بند نہ ہوں گی اور جماعت سے ایسے فاسد خیال کبھی دور نہ ہوں گے۔ اب وقت ہے کہ بزرگانِ سلسلہ مل کر قومی مصائب سے چھٹکارے کا کوئی علاج تلاش کریں۔ یہ سلسلہ مولوی نورالدین صاحب یا میرزا محمود صاحب کا ذاتی نہیں بلکہ جملہ احمدیوں کا ہے۔ ہماری جماعت میں میر ناصر نواب کا یا رِغار یعقوب علی ایڈیٹر الحکم فتنہ پھیلانے میں بڑا حصہ لے رہا ہے‘‘۔ ۲۳؎
    اس عبارت میں حضرت میر صاحبؓ پر مندرجہ ذیل الزامات لگائے گئے ہیں:
    ۱۔ مولوی غلام حسن صاحب،میر حامد شاہ صاحب ، مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سیّد محمد حسین شاہ صاحب کی نسبت کبھی کلمہ خیر نہیں نکلا۔ ان کی برائی اپنی تبلیغ کا ایک فرض خیال کر رکھا ہے۔
    ۲۔ حضرت میر صاحبؒ کو ایک الہام ہوا تھا۔
    ناصر تیری درندگی اب تک نہیں گئی
    اور تو نے خدا کی بندگی اب تک نہیں کری
    غالباً یہ اُن کو ساری عمر میں ایک ہی الہام ہوا ہے۔
    ۳۔ انہوں نے پیغام صلح کے بند کرانے کے لئے ناخنوں تک کا زور لگایا اور اس کے خریداروں کی گالی گلوچ سے خبر لی۔
    ۴۔ اگر (حضرت) میرزا محمود (احمد) صاحب یا مسیح موعود ؑکے دیگر رشتہ دار میر صاحب اور ایڈیٹر الحکم کی قلم کی وجہ سے بدنام ہوں۔
    ۵۔ جب ان کی دلی کدورت کا یہ حال ہے تو جو روپیہ وہ قومی کاموں کے نام سے بٹورتا ہے جس کا اس نے کبھی حساب نہیں دیا اس میں کس اخلاص سے کام لیتا ہو گا۔
    ۶۔ انہوں نے ساری قوم کو اُلّو بنا رکھا ہے۔
    ۷۔ لوگوں میںپیر پرستی کا زور بڑھ رہا ہے۔
    ۸۔ یہ شخض خواجہ صاحب اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب کی ڈاڑھی منڈی ہوئی اور انگریزی فیشن میں ملبوس ہونے کے فوٹو لئے پھرتا رہا۔
    ۹۔ جماعت میں سے پیر پرستی کی بنیاد اُکھاڑنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ایسے لوگوں کی زبانیں بند ہو سکیں۔
    ۱۰۔ سلسلہ مولوی نورالدین صاحب یا میرزا محمود صاحب کا نہیں بلکہ جملہ احمدیوں کا ہے۔
    یہ دس باتیں اس تحریر سے نکلتی ہیں۔ اظہار الحق ٹریکٹ ایک خفیہ انجمن کا سرکلر تھا جس کا مرکز احمدیہ بلڈنگس لاہور میں تھا۔ اگر ان دس باتوں کی تردید پر پورے زور سے لکھا جائے تو یہ بجائے خود ایک کتاب کا مضمون ہے اور اس کتاب میں اس کی گنجائش نہیں۔ تاہم میں سرسری نگاہ سے ان اعتراضات پر کچھ لکھ دینا چاہتا ہوں۔
    (۱)
    حضرت میر صاحبؓ کا معمول یہ تھا کہ وہ حق کو حق کہتے تھے اور باطل کو باطل۔ چنانچہ جب تک ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر یقین نہ آیا انہوں نے پوری طاقت سے مقابلہ کیا اور جب ان پر حق کھل گیا تو پھر اس کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔
    جب ان کا یہ اصول تھا اور اسی اصول کے ماتحت ایک وقت انہوں نے اپنے عزیز ترین عزیز کی بھی مخالفت کی تو ان سے یہ توقع رکھنی کہ وہ ان لوگوں کی ناجائز باتیں دیکھتے ہوئے بھی ان کی طرف داری کریں گے۔
    ایں خیال است و محال است و جنوں
    کیا خواجہ صاحب یا مولوی محمد علی صاحب یا کوئی اور صاحب محض اس لئے کہ وہ بظاہر بڑے سمجھے جاتے تھے۔ ہرحد اور قانون سے باہر ہو گئے تھے۔ شریعت کا قانون تو ایک مزدور اور گداگر اور ایک بادشاہ کے لئے یکساں ہوتا ہے۔ کیا تاریخ اسلام جبلہ کے ارتداد کو بھول سکتی ہے جو غسّانیوں کا بادشاہ تھا۔ مگر قانونِ شریعت کی زد سے بچنے کے لئے مرتد ہو گیا تھا۔
    پس جب قانونِ شریعت کسی کو نہیں چھوڑتا تو خواجہ صاحب جو مبلغ اسلام کے لباس میں تھے ان کے ڈاڑھی منڈوانے کے فعل کے متعلق میر صاحبؓ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اس کی تعریف کریں گے خود اس امر کی دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کے قلب میں شعائر اسلام کی کوئی عزت نہیں تھی۔
    معترض چاہتا ہے کہ حضرت میر صاحبؓ ان لوگوں کی جاوبیجا تعریف کریں اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیتا ہے۔
    ان لوگوں کی حالت اس حد تک مسخ ہو چکی تھی کہ یہ چاہتے تھے کہ خواجہ صاحب مبلغ اسلام ہو کر بھی اگر ڈاڑھی منڈوادیں تو ان کی مذمت نہیں تعریف کرنی چاہئے اور اہلِ بیت اگر لوگوں کی نیکی کی طرف بلائیں اَور لوگ ان کی بات مان لیں تو پیر پرست بن جائیں۔ العجب!
    انہوں نے لکھا ہے کہ میر صاحب کبھی ان کی تعریف نہیں کرتے تھے یہ بھی غلط ہے۔ چنانچہ میر صاحب کی تحریریں ان کی اس بات کی تردید کرتی ہیں۔ حضرت میر صاحب حضرت مولوی غلام حسن صاحب کی نسبت فرماتے ہیں:
    ہیں یہاں مولوی غلام حسن

    خَلق میں خوب خُلق میں احسن
    ہیں جماعت کے وہ یہاں سردار

    کل جماعت ہے ان کی تابعدار
    پائی مَیں نے وہاں بہت راحت

    سنے ان سے کلام پُر اُلفت
    ۲۴؎
    حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ کی نسبت فرماتے ہیں:
    ملے مسجد میں مجھ کو حامد شاہ
    ان سے راضی رہے سدا اللہ
    خواجہ کمال الدین صاحب کے لیکچر کی نسبت فرماتے ہیں:
    خواجہ صاحب کا تھا وہاں لیکچر

    پر نہ مسرور مَیں ہوا سن کر
    ہمراہی کو نہ مجھ کو کوئی ملا

    جو جوانوں میں مجھ کو لے جاتا
    لوگ کہتے تھے خوب لیکچر تھا

    خوب بولا مرا سخنور تھا
    بھائیوں کو خوشی ہوئی سن کر

    خواجہ لاتے تھے بات کو چن کر
    خیر سے وعظ تمام ہوا

    خواجہ صاحب کا خوب نام ہوا
    یہ چھپی ہوئی شہادت موجود ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحبؓ اچھی بات کو اچھا کہتے تھے اور بُری کو بُرا۔
    اس طرح جب انہوں نے ان لوگوں کی نیتوں میں فتور ان کے اخلاص میں کمی۔ سلسلہ کے اموال کو اپنے ہاتھ میں لینے کا شوق، لوگوں پر حکومت کرنے کا جذبہ محسوس کیا تو ان کو ان لوگوں سے نفرت ہو گئی اور یہ چاہتے تھے کہ کوئی ان کو روکنے والا نہ رہے اور کوئی ان کی حرکات سے سلسلہ کے افراد کو آگاہ اور مطلع نہ کرے۔ مگر فداکارانِ سلسلہ سے کب ایسی توقع ہو سکتی تھی اور یہی چیز ان کی نگاہ میں کھٹکتی تھی۔
    (۲)
    حضرت میر صاحبؓ کی طرف ایک الہام انہوں نے منسوب کیا ہے۔ جو ان لوگوں کے خلاف ہمیشہ ایک حُجت رہے گا کہ یہ لوگ افتراء علی اللہ سے بھی پرہیز نہیں کرتے تھے۔ حضرت میر صاحبؓ کے گھرانے کو خداتعالیٰ کا حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے انتخاب کرنا اور پھر خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ لَکم الصِّھْرَوَالنَّسْبَ
    بذاتِ خود حضرت میر صاحبؓ کی نیکی، تقویٰ، پاکیزگی، شرافت ذاتی، شرافت نسبی کی ایک کھلی کھلی دلیل ہے۔ خدا کی اس شہادت کے بعد یہ مصنوعی الہام ان لوگوں کے منہ پر ایک تھپڑ ہے جو ہر نیک اور صاحبِ بصیرت کی اس طرح راہنمائی کرے گا کہ ان لوگوں کے قلوب کی حالت کس قدر خراب ہو چکی تھی کہ وہ لوگوں کو حق بات سے ہٹانے کے لئے افتراء تک سے پرہیز نہ کرتے تھے۔ اگر ان سے کوئی دریافت کرے کہ تم بتلاؤ کہ یہ الہام کہاں درج ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت میر صاحبؓ کو یہ الہام ہوا تھا؟
    سوال نمبر ۳ کی بھی ایسی ہی نوعیت ہے یہ بھی ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔
    (۴)
    اہلبیت اگر حضرت میر صاحبؓ اور ایڈیٹر الحکم کی وجہ سے بدنام ہوں تو ان کا برا نہیں ماننا چاہئے۔
    بدنامی کا سبب حضرت میر صاحبؓ یا حضرت ایڈیٹر صاحب الحکم نہ تھے بلکہ خفیہ سازشیں، خفیہ ٹریکٹ، خفیہ منصوبے، خفیہ انجمنیں تھیں جو ان لوگوں نے بنا رکھی تھیں اور بعد کے واقعات نے سب کچھ طشت ازبام کر دیا تھا۔
    (۵)
    حضرت میر صاحبؓ کے جمع شدہ چندہ پراعتراض۔ یہ بھی ایک لغو اور فضول اعتراض تھا۔ مزہ تو تب تھا کہ تم دو چار ایسے آدمیوں کو کھڑا کرتے جو مؤکدبعذاب قسم کھا کر کہتے کہ ہم نے حضرت میر صاحبؓ کو اتنی اتنی رقوم دی تھیں اور وہ انہوںنے کھا لیں۔ حضرت میر صاحبؓ جو روپیہ لاتے تھے وہ صدرانجمن احمدیہ کے خزانہ میں جمع کروا دیا کرتے تھے۔ ان کی بنی ہوئی عمارتیں زبانِ حال سے آج پھر حضرت میر صاحبؓ کی خدمات کا اعتراف کر رہی ہیں۔
    مسجد نور صدرانجمن کی نگرانی میں بنی۔ نور ہسپتال کا روپیہ دو سال سے زائد مولوی محمد علی صاحب کے پاس امانت پڑا رہااور بالآخر انہوں نے ہی اسے بنوایا۔ ان کا دامن تو ان واقعات کے لحاظ سے پاک نظر آتا ہے اور پھر ان کی پاکیزگی پر دوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ زندگی بھر حضرت مسیح موعود ؑ کے دامن سے وابستہ رہے۔ خلافت اولیٰ اور ثانیہ میں اپنی اطاعت کا یکرنگ ثبوت دیا اور آج وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں بہشتی مقبرہ کے اس حصہ میںمیٹھی نیند سو رہے ہیں جس پر باوجود انتہائی دشمنی کے تمہارے عمائدین اعتراض نہیں کر سکتے اور وہ جن کو یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ سلسلہ کے اصل بہی خواہ ہیں۔ آج ان کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہیں اس دنیا میں بھی وہ الگ ہو گئے اور موت نے ان کی قبروں کو بھی دور کی زمین میں منتقل کر دیا۔ ان کے عقائد بھی بدل گئے ان کے خیالات بھی بدل گئے ان کو مسیح موعود علیہ السلام کی ہر ایک چیز سے دشمنی ہو گئی۔ یہی ایک چیز بطور حدِ فاصِل اور سنگِ میل کے دنیا کو نظر آتی رہے گی۔
    بالکل یہی صورت دوسرے اعتراضوں کی ہے۔ ان کی قلم اور زبان خلافتِ اولیٰ، خاندانِ مسیح موعود علیہ السلام اورجماعت احمدیہ کے خلاف یکساں چلی اور کوئی بزرگ اور نیک نفس ان کی فتنہ سازی سے بچ نہ سکا۔
    پس حضرت میر صاحبؓ کی مخالفت کا محوری نقطہ یہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ دار تھے۔ وہ ان لوگوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے تھے۔ وہ ان سے مرعوب نہ ہوتے تھے۔ قوم ان کی بات سنتی تھی اور ان کا اثر قوم میں تھا۔ حتی کہ خلیفہ وقت بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ یہ تھا اصل جرم اور یہی چیز تھی جس سے ان کو ڈر آتا تھا اور ان کو خیال پیدا ہوتا تھا کہ یہ چیز ہمارے لئے کسی وقت ایک پہاڑ بن جائے گی اور ان کا خوف بھی سچا تھا۔ بالآخر سچائی کا یہ پہاڑ ان کے راستہ میں کھڑا ہو کر رہا۔
    (۴۔۵)
    قوم کو اُلّو بنا رکھا ہے۔ پیر پرستی کا زور بڑھ رہا ہے۔ یہ الفاظ سلسلہ کے افراد کی کھلی کھلی توہین تھے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ قوموں کی سائیکالوجی جاننے والے جانتے ہیں کہ الفاظ کے پیچھے بھی ایک قوت ہوتی ہے۔ حکومتیں ،اصطلاحات اور الفاظ کی طاقت سے کی جاتی ہیں۔ اس جنگ میں وکٹری ایک لفظ ہے یا ایک اصطلاح جس کا کتنا گہرا اثر ہے۔ غدّاری ایک لفظ ہے اس کا کس قدر شدید اثر ہے۔ اتحادی،دوست،ساتھی ان سب الفاظ کا ایک اثر ہے۔ اسی طرح کانگرس کے زور کے زمانے میں ٹوڈی بچہ،جھولی چُک، طاعونی کیڑے وغیرہ الفاظ وضع کئے گئے تھے اور ان کا کس قدر گہرا اثر تھا۔ عدم تشدّد سوراج، اکھنڈہند، پاکستان۔ اِن سب الفاظ کے پیچھے بہت بڑے مطالب پوشیدہ اور پنہاں ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ مذہبی خیال کے لوگوں کی مذمت دقیانوسی اور اولڈ فیشن کے الفاظ سے کی جاتی تھی۔
    بالکل اسی سائیکالوجی کے ماتحت ان لوگوں نے جنہوں نے سلسلہ میں ایک فتنہ کی بنیاد رکھی۔ ہر اس شخص کی بھیانک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جو ان کے خیالات کے راستے میں روک تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ پر بھی ڈھنگ ڈھنگ سے اعتراض کئے۔ انہوں نے حضرت اُمُّ المؤمنین علیہا السلام پر بھی اعتراض کئے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد پاک پر بھی اعتراض کئے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خُسر پر اعتراض کئے۔ انہوں نے خلافتِ اولیٰ پر بھی اعتراض کئے اور مجھے فخر ہے کہ ان پاکبازوں کی جماعت کے ساتھ میرے والد بزرگوار حضرت عرفانی کبیر پر بھی اعتراض کئے۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے جماعت کے لوگوں کی ذہنیت کو بدلنے کیلئے اُلّو اور پیر پرست کے خطابات وضع کئے تھے۔ یہ ایسے ہی خطابات تھے جیسے ٹوڈی بچہ، دقیانوسی غدّار وغیرہ خطابات وضع کئے گئے تھے تاکہ لوگ ان الفاظ کی تاثیراور شناخت سے متاثر ہو کر دامن خلافت سے،سچائی سے، اہلِ بیت کی محبت سے الگ ہو جائیں مگر خدائی قلعہ میں رہنے والی جماعت اس قسم کے سحر سامری سے متاثر نہیں ہوا کرتی۔ وہ ایک بنیانِ مرصوص کی طرح آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
    حضرت میر صاحبؓ خلافت ثانیہ میں
    حضرت میر صاحبؓ کو اللہ تعالیٰ نے خلافت ثانیہ کا زمانہ بھی دکھایا۔ انہوں نے جیسی اطاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں دکھائی۔ جس فرمانبرداری کا ثبوت خلافتِ اولیٰ میں دیا اسی اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت خلافتِ ثانیہ میں دیا۔ ابتدائے خلافتِ ثانیہ میں وہ دبا ہوا فتنہ کھڑا ہو گیا۔ ایک فریق نے جو ان لوگوں سے متاثر تھا اس بغاوت میںحصہ لیا اور وہ خلافت کے مقابل میں دشمن بن کر کھڑے ہو گئے۔ حضرت میر صاحبؓ کو اس فتنہ کو دبانے کی بھی توفیق ملی۔
    میر صاحبؓ کی زندگی کے چند اور واقعات
    میں نے لکھا ہے کہ حضرت میر صاحب قبلہ کی طبیعت میں سختی تھی۔ قرآن کریم نے مومنوں کی صفت یہ بیان کی ہے۔
    اَشِدَّآ ئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ
    ان میں ایک سختی بھی ہوتی ہے۔ جو سختی غیرت دینی کے ماتحت ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل تعریف ہوتی ہے۔ حضرت میر صاحبؓ کی سختی بھی غیرت دینی کے ماتحت ہی تھی اور جن لوگوں کو وہ نیک دل مومن یقین کرتے تھے ان کی ہر خدمت کرنے کے لئے تیار تھے۔ بعض اوقات نانا جان عرف عام کے لحاظ سے نہایت ہی غریب طبقہ کے لوگوں کو مگر جن کے سینے نورایمان سے معمور ہوتے تھے ساتھ ساتھ لئے پھرتے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے۔ محبت کی باتیں کرتے اور اپنے ساتھ بڑے بڑے آدمیوں کی مجلسوں میں لے جاتے تھے۔ یہ شان ان کی بے نفسی، محبت صلحاء کی ایک کھلی کھلی دلیل ہے۔ وہ غریب لوگوں کی حالت پر رقیق القلب بھی تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ وہ جب کسی بھائی سے ناراض ہوتے تو فوراً صلح میں بھی پیش دستی فرمایا کرتے تھے۔
    عرفانی کبیر سے ناراضگی اور صلح
    ابتدائی ایام میں ۱۸۹۸ء؁ کی بات ہے۔ جبکہ عرفانی کبیر مدرسہ تعلیم الاسلام کے ہیڈماسٹر تھے اور حضرت میر صاحب ناظم تھے۔ کسی بات پر دونوں میں ناراضگی ہو گئی حضرت عرفانی کبیر نے چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے شکایت کریں۔ حضرت اقدس ؑ متوجہ ہوئے ہی تھے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے انہیں ڈانٹ دیا اور حضرت اقدس ؑکے دریافت کرنے پر عرض کی کہ میں سمجھا دوں گا۔ دوسرے دن حضرت مخدوم الملت نے حضرت میر صاحبؓ کے مناقب بیان فرمائے۔ فرمایا:
    ’’یہ وہ شخص ہے جو حضرت اُمُّ المؤمنین کا باپ ہے وہ طبیعت میں بیشک تیز ہوں۔ مگر بہت صاف باطن اور خیرخواہ ہیں۔ تم ان سے صلح کر لو‘‘
    عرفانی کبیر نے ان کی بات مان لی اورچاہا کہ جا کر ان سے معذرت کریں۔ مگر دیکھا کہ حضرت میر صاحبؓ خود تشریف لا رہے ہیں۔ آتے ہی بآواز بلند السلام علیکم کہا اور عرفانی کبیر کو پکڑ لیا اور اظہار محبت فرمایا۔
    ایک اور واقعہ
    جناب شیخ محمد اسمٰعیل صاحب سرساوی جو خود بھی تیز طبیعت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت میرصاحب سے کسی بات پر ناراض ہو گئے۔ یہ ۱۳ء ؁کی بات ہے۔ حضرت میر صاحبؓ جب حج سے واپس آئے۔ تو شیخ صاحب کی دکان پر آئے ان سے ملاطفت کی باتیں کیں اور فرمایا کہ:
    ’’یہ دیگچی اور رکابی ہے۔ اس میں ہم مکہ مکرمہ میں کھانا پکاتے اور کھاتے تھے۔ میں نے وہیں ایام حج میں ہی نیت کر لی تھی کہ واپس آ کر آپ کو دوں گا۔ اگر آپ خوشی سے لے لیں۔‘‘
    اس طرح شیخ صاحب کی دلداری بھی کی اور ان سے صلح بھی کر لی۔ الغرض حضرت میر صاحب صلح کرنے میں بھی بہت پیش پیش تھے۔
    آپؓ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟
    حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے مجھے حضرت میر صاحبؓ کی سیرت کا ایک عجیب واقعہ سنایا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک زمانہ میں مَیں دکان کیا کرتا تھا۔ جس میںناشتہ وغیرہ کیک‘ پیسٹری‘ سوڈا برف‘ دودھ وغیرہ ہوا کرتا تھا۔ کبھی کبھی حضرت میر صاحب میری دکان میں تشریف لایا کرتے اور جس چیز کی خواہش کرتے وہ پیش کر دی جاتی۔ بھائی جی کا مذہب تو دراصل مذہب عشق تھا۔ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سچا عشق تھا۔ اس عشق کی وجہ سے خاندانِ مسیح موعود ؑ کے ہر فرد سے عشق تھا اور ہے ۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہ بعض اوقات خاندانِ مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے چھوٹے نونہالوں کے ہاتھوں کو بوسہ دے دیا کرتے ہیں کیونکہ ان کو یہ اس درخت کے پھول اور پھل نظر آتے ہیں جو ہمیشہ ان کی محبت کا نقطہ مرکز یہ رہا۔ الغرض اسی محبت کی وجہ سے ان کو حضرت میر صاحبؓ کا بڑا ادب اور پاس تھا اور محبت تھی۔ وہ خوشی سے لبریز ہو جایا کرتے تھے۔ جب کبھی حضرت میر صاحبؓ دوکان میں آتے اور اس خوشی میں ہر اچھی سے اچھی چیز اٹھا کر آگے رکھتے چلے جاتے۔ حضرت میر صاحبؓ ؓخود کھاتے اور کبھی اپنے دوستوں کو بھی کھلاتے اور کبھی کبھی موج میں آ کر فرما دیا کرتے کہ:
    ’’میاں عبدالرحمن! ہم اپنا حق سمجھ کر کھاتے ہیں اور یہ اس لئے کہ ہمارا اور آپ کا تعلق بڑھے۔‘‘
    بھائی جی فرماتے تھے کہ اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت میر صاحب ؓمفت کھاتے تھے۔ بیشک وہ اس وقت عام خریداروں کی طرح قیمت ادا نہ کرتے تھے۔ مگر جب تک وہ دگنی تگنی خدمت دوسرے رنگ میں نہیں کر لیتے تھے وہ مطمئن نہ ہوتے تھے۔
    بھائی جی کے دل میں ایک سوال ہمیشہ گدگدی کیا کرتا تھا۔ وہ موقع کی تلاش میں تھے ایک دن دکان میں تنہا ہی تھے۔ حضرت میر صاحبؓ تشریف لے آئے۔ ان کی طبیعت اس وقت بہت خوش تھی۔ بھائی جی جو موقع کی تلاش میں تھے نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر سوال کر دیا۔ حضرت! یہ مقام جو آپ کو حاصل ہوا اس میں کیا راز ہے۔ وہ کونسی بات تھی جو آپ کو اس جگہ پر لے آئی؟ حضرت میر صاحبؓ کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔ رقت ان کے گلے میں گلوگیر ہو گئی مگر اس بھرائی آواز میں فرمایا:
    ’’میرے ہاں جب یہ بلند اقبال لڑکی پیدا ہوئی۔ اس وقت میرا دل مرغِ مذبوح کی طرح تڑپا اور میں پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الٰہی پر گر گیا میں نے اُس وقت بہت درد اور سوز سے دعائیںکی۔ کہ اے خدا! تو ہی اس کے لئے سب کام بنائیو۔ معلوم نہیں اس وقت کیساتھ قبولیت کا وقت تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے صدقے میں مجھے یہاں لے آیا۔‘‘
    یہ روح ہے۔ اس جواب کی ممکن ہے الفاظ میں مُرور ایام سے کچھ فرق پڑ گیا ہو۔
    بھائی جی جب مجھے یہ واقعہ سنا رہے تھے ان کے چہرے کی ایسی حالت تھی۔ گویا کہ وہ میر صاحبؓ کو سامنے بیٹھے دیکھ رہے ہیں اور ان کی رقتِ قلب ان کے قلب پر اثر کر رہی تھی اور خود بھائی جی کی بھی اس وقت آواز بھرا آئی اور رقت سے آنکھیں لبریز تھیں۔
    اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی پیدائش کا واقعہ ایک غیرمعمولی واقعہ تھا۔ اس وقت کوئی خاص گھڑی تھی۔ دعا کی قبولیت کا خاص وقت تھا ۔ کیونکہ ایک بڑی پاکیزہ روح آسمان سے لائی جا رہی تھی۔ ملائکہ زمین پر اُترے ہوئے تھے۔ جو زمین کو اپنی برکتوںسے مالا مال کر رہے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب قبلہ حضرت اُمُّ المؤمنین کے متعلق متواتر دعاؤں میں لگے رہے۔ کیونکہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی شادی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہی لکھا کہ:
    ’’دعا کرو کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے۔‘‘
    دعاؤں کی یہ کثرت اور حضرت میر صاحبؓ جیسے باخدا انسان کی دن رات کی گریہ وزاری جہاںحضرت میر صاحب کی ذاتی سیرت پر ایک بڑا بیّن اثر ڈالتی ہے۔ وہاں حضرت اُمُّ المؤمنین کے مقام کا بھی پتہ دے رہی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک رؤیا
    ۱۳ مارچ ۱۹۰۶ء؁ کو حضور ؑ نے ایک رؤیا دیکھی کہ ’’میر ناصر نواب صاحب اپنے ہاتھ پر ایک درخت رکھ کر لائے ہیں جو پھلدار ہے اور جب مجھ کو دیا تو وہ ایک بڑا درخت ہو گیا جو بیدانہ توت کے درخت کے مشابہ تھا اور نہایت سبز تھا اور پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور پھل اس کے نہایت شیریں تھے اور عجیب تر یہ کہ پھول بھی شریں تھے مگر معمولی درختوں میں سے نہیںتھا۔ ایک ایسا درخت تھا کہ کبھی دنیا میں دیکھا نہیں گیا میں اس درخت کے پھل اور پھول کھا رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی‘‘۔ ۲۵؎
    یہ رؤیا بالکل واضح ہے وہ درخت جو حضرت میر صاحب کی معرفت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا وہ حضرت اُمُّ المؤمنین کا وجود مبارک ہی تھا جو ایک بڑا درخت بن گیا۔ جس کے پھل اور پھول سب شریں ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اس زمانہ میں تو ایسے پاکیزہ درخت کی مثال نہیں مل سکتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگرپیشگوئیاں جو اس بابرکت خاندان کے متعلق ہیں۔ وہ اس رؤیا کی کھلی کھلی تفسیر ہیں۔
    الغرض حضرت میر صاحبؓ کا مبارک وجود بذاتِ خود ایسا قیمتی وجود تھا کہ جن کو اتنی بڑی سعادت و دولت نصیب ہوئی کہ حضرت اُمُّ المؤمنین جیسی بیٹی ملی۔ یہ مرد کامل اپنی زندگی کے ایام نیکی،تقویٰ، بھلائی، مخلوق کی ہمدردی میں گزار کر ۱۹۔ستمبر ۱۹۲۴؁ء کو بروز جمعہ ۹ بجے صبح اپنے مولیٰ حقیقی سے جا ملا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
    نماز جنازہ
    جماعت کے ساتھ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ نے پڑھائی کیونکہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اس وقت سفر یورپ میں تھے۔
    خطبہ جمعہ میں حضرت مولوی صاحب نے فرمایا:
    ’’مجھے ضرورت نہیں کہ میں ان کے اوصاف آپ لوگوں کے سامنے بیان کروں کیونکہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان کو خداتعالیٰ نے ہم میں سے یہ خاص امتیاز اور سعادت بخشی تھی کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خُسر تھے۔ آپ نے اپنی زندگی مومنانہ اور متقیانہ طور پر بسر کی ہے۔ ہمیشہ قال اللہ اور قال الرسول پر کاربند رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ایسے عہدے کی ملازمت میں گزارا جس میں رشوتیں لی جاتی ہیں اور پھر انواع واقسام کے لالچوں کا بھی موقع تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ بچائے رکھا اور کبھی کوئی ناجائز چیز نہ لی۔ آپ بہت عرصہ حضرت مسیح موعود ؑ کے قُرب میں رہے اور اپنی زندگی سلسلہ کے لئے وقف کر دی اور بنی نوع کی خبر گیری اور بہتری کے لئے کوشاں رہے باوجود بوڑھے اور کمزور ہونے کے دین کی خدمت، غریبوں اور ضعیفوں کی مدد کرتے رہے۔ دین کے لئے چندہ وصول کرنے کے لئے ایسی ایسی جگہیں گئے جہاں ابھی تک ہمارے مبلغ بھی نہیں گئے۔ آپ نے چندہ سے مسجد نوربنوائی۔ جو آپ کی یادگار ہے۔ پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے نور ہسپتال بنوایا جو آپ کے نام کو ہمیشہ کیلئے روشن کرتا رہے گا۔ دُورالضعفاء کا محلہ آباد کیا۔ ہرممکن صورت سے غریبوں کی امداد کرتے رہے اور اسی کام میں انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔یہاں تک کہ آپ کو موت آ گئی۔ جس سے چارہ نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ جس طرح انہوں نے ہماری خبر گیری اور امداد میں زندگی گزاری ہے ہم بھی ان کے لئے بہت بہت دعائیںکریں کہ خدا تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں داخل کرے۔‘‘ ۲۶؎
    حضرت امیرالمومنین کی سفر یورپ سے واپسی
    ۲۴۔ نومبر ۱۹۲۴؁ء کی صبح کو حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اپنے قافلہ سمیت واپس تشریف لے آئے۔ آپ نے تمام خدام سے ملاقات کے بعد فرمایا:
    ’’میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب میں پیدل ہی قادیان جاؤں گا۔ لیکن قادیان میں داخل ہونے سے پہلے میرا منشاء ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جاؤں کیونکہ وہاں جا کر دعا کرنی ہے اور میر صاحب (یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب) کا جنازہ بھی پڑھنا ہے مگر وہاں صرف میں اور میرے ہمراہی ہی جائیں گے جو میرے ساتھ سفر سے آئے ہیں۔ وہاں سے لَوٹ کر ہم مسجد مبارک میں نماز پڑھیں گے۔‘‘ ۲۷؎
    چنانچہ اسی پروگرام کے ماتحت مقبرہ بہشتی میںتشریف لے گئے۔ مقبرہ کے کنوئیں پر وضو کر کے پہلے اکیلے حضرتؑ کے مزار پر جا کر دعا کی۔ پھر اپنے رفقائے سفر کو بھی بلا لیا۔ پھر سب نے مل کر دعا کی۔ دعا کے بعد حضور نے حضرت میر ناصر نواب صاحب کی قبر پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھی۔
    یہ ہے مختصر تاریخ اس باخدا انسان کی جو آج اپنے محبوب کے قدموں میں بہشتی مقبرہ کی چاردیواری کے اندر ابدی نیند سو رہا ہے اور اس کا یہ قرب اس تعلق کو خوب ظاہر کرتا ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ع
    غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے
    آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا
    یہ قرب اور یہ زندگی میں اور پھر موت کے بعد یہ دائمی قرب ان تمام اعتراضات کا خداتعالیٰ کی طرف سے منہ توڑ جواب ہے۔ جو معترضین نے حضرت میر صاحبؓ کی ذات پر کئے اور یہ ہے خداتعالیٰ کی فعلی شہادت ۔ اے دیدہ بینا! دیکھ اور سبق لے!
    نقشہ قطعہ نمر۲


    سیّدہ سارہ بیگم صاحبہؓ
    مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام

    سیّدہ امۃ الحی صاحبہؓ
    مزار حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ

    حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ


    سیّدہ بیگم صاحبہؓ۔ نانی اماں







    حضرت نانی اماںؓ
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی والدہ محترمہ کا اسم مبارک سیّد بیگم تھا۔ نانی اماں کے بزرگوں میں سے میرزا فولاد بیگ ایران سے آئے تھے۔ میرزا فولاد بیگ کے بیٹے میرزا نیاز بیگ صاحب تھے۔ آگے میرزا نیاز بیگ صاحب کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ یعنی ۱۔میرزا محمد بیگ صاحب ۲۔نذر محمد بیگ المعروف کپتان صاحب ۳۔علی محمد بیگ۔ ۴۔بیگم جان صاحبہ منسوب بہ نواب احمد بخش خان صاحب لوہارو ۵۔ شہزادہ بیگم صاحبہ۔ نذر محمد بیگ صاحب عرف کپتان صاحب کی نو اولادیں تھیں۔ جن میں سے چھ لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں۔ جن کے اسماء میں ترتیب وار لکھتا ہوں۔
    ۱۔قادری بیگم صاحبہ۔ ۲۔عبدالقادر بیگ۔ ۳۔سکینہ بیگم۔ ۴۔عبدالحکیم بیگ۔ ۵۔عبدالعزیز بیگ۔ ۶۔عبدالرزاق بیگ۔ ۷۔سردار بیگ۔ ۸۔عبدالرحمن بیگ۔ ۹۔عبدالرحیم بیگ۔
    ان میں سب سے بڑی قادری بیگم تھیں۔ جو حضرت نانی اماں سیّد بیگم صاحبہ کی والدہ تھیں۔ نانی اماں کی ایک چھوٹی ہمشیرہ تھیں جن کا نام معظم بیگم تھا۔
    قادری بیگم صاحبہ کی شادی سیّد عبدالکریم صاحب سے ہوئی۔ جو کپتان نذر محمد صاحب کے ماموں زاد بھائی تھے۔ سیّد بیگم صاحبہ کی شادی حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ سے ہوئی تھی اور معظم بیگم صاحبہ کی شادی سیّد ابراہیم صاحب سے ہوئی تھی۔
    عبدالقادر بیگ جو قادری بیگم کے بھائی تھے۔ ان کی اولاد چار لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ جن کے حسب ذیل اسماء ہیں:
    ۱۔عبدالقدیر بیگ۔ ۲۔عبدالرشید بیگ۔ ۳۔عبدالجلیل بیگ۔ ۴۔جمیل بیگ۔ ۵۔مشرف جہان بیگم۔
    ان میں سے نمبر ۱ اور نمبر۵ کے سوا باقی ۲،۳،۴ لاولد رہے۔ نمبر ایک کی اولاد میں سے میرزا سلیم بیگ صاحب، میرزا رفیق بیگ صاحب، بلقیس بیگم صاحبہ زوجہ حکیم ظفر احمد صاحب دہلوی اور میرزا سلام اللہ بیگ صاحب اور ان کی اولادیں ہیں اور مشرف جہان بیگم صاحبہ کی اولاد سے میرزا فرحت اللہ بیگ صاحب ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ حیدرآباد دکن ہیں۔ یہ کنبے اب حیدرآباد میں آباد ہیں۔
    الغرض نانی اماں کی والدہ کا نام قادری بیگم اور والد کا نام سیّد عبدالکریم صاحب تھا۔ سیّد عبدالکریم صاحب سرکار انگریزی کے خیرخواہوں میں تھے۔ مگر افسوس کہ دہلی کے غدر ۱۸۵۷؁ء میں بلاتحقیق ان کو بھی پھانسی دے دی گئی تھی۔ بعد میں یہ حقیقت کھلی مگر اب اس کا کیا علاج کیا جا سکتا تھا۔
    نانی اماں کا خاندان بہت پھیلا ہوا ہے۔ لوہارو والوں سے بھی رشتہ داری پرانی چلی آتی ہے۔ باقی عزیز دہلی،بھوپال، بہار، جلیسر، حیدر آباد دکن، جدہ، اجمیر اور قادیان وغیرہ مقامات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بقول میرزا سلیم بیگ صاحب ہندوستان کے چاروں کھونٹوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور سب تعلیم یافتہ معزز عہدوں پر فائز ہیں۔ جن کی کلی تفصیل اس جگہ نہیں آ سکتی۔
    ایک عجیب اتفاق
    ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب سے یہ خاندان ہندوستان میں آیا ان کا تعلق مغلوں سے کچھ ایسا رہا کہ خاندان کے آدھے افراد مغل اور آدھے سیّد نظر آتے ہیں۔ کہں میاں مغل ہے تو بیوی سیّدانی اور کہیں میاں سیّد ہے تو بیوی مغلانی اور یہ بھی اس لئے ہوا تھا تاکہ حضرت مسیح موعود ؑ سے رشتہ کرنے میں مسئلہ قومیت روک نہ بن سکے۔
    شادی
    حضرت سیّد بیگم صاحبہ کی شادی حضرت میرناصر نواب صاحبؓ کے ساتھ ۱۶ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اس وقت حضرت میر صاحبؓ کے والد فوت ہو چکے تھے۔ حضرت میر صاحب ؓ کا سنِ پیدائش ۱۸۴۶؁ء بنتا ہے۔ قیاس یہ کہتا ہے کہ نانی اماں سیّد بیگم صاحبہ کی عمر بھی قریب قریب حضرت میر صاحبؓ سے ۳،۴ سال کم ہو گی۔ کیونکہ شادی سے تین سال بعد حضرت اُمُّ المؤمنین نصرت جہان بیگم پیدا ہوئیں تو اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت سیّد بیگم شادی کے وقت بالغ تھیں نیز حضرت میر صاحب کے یہ الفاظ کہ:
    ’’۱۶ سال کی عمر میں میری فہمیدہ اور دانا اماں نے نشیب و فراز زمانہ کو مدنظر رکھ کر میری شادی ایک شریف اور سادات کے خاندان میں کر دی اور میرے پانْوں میں بخیال خود ایک بیڑی پہنا دی تاکہ میں آوارہ نہ ہوں۔ اس باعث سے میں بہت سی بلاؤں اور ابتلاؤں سے محفوظ رہا‘‘۔ ۲۸؎
    ان فقرات اور بعد کے اس علم سے کہ تین سال بعد حضرت اُمُّ المؤمنین پیدا ہوئیں۔ یہی یقین کرنا پڑتا ہے کہ حضرت سیّد بیگم صاحبہ کی عمر پیدائش کے لحاظ سے حضرت میر صاحبؓ کے برابر یا ۳،۴ سال کم تھی۔ اس لئے ان کا سنِ پیدائش بھی ۱۸۴۸؁ ء یا ۱۸۴۹؁ء کے قریب ہی بنتا ہے اور شادی کا سَن اور شادی کا سال ۱۸۶۱ء؁ کے آخیر یا ۱۸۶۲؁ء کا شروع بنتا ہے۔
    حضرت میر صاحب اور نانی اماں کی شادی سے قبل حضرت میر صاحب کے والد فوت ہو چکے تھے اور وہ یتیم رہ گئے تھے مگر ایک واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب کی نسبت اس جگہ ان کے والد صاحب کی زندگی ہی میں ہو چکی تھی یہ واقعہ مجھے جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرسادی مہاجر نے سنایا کہ جب حضرت میر صاحبؓ کے بڑے بھائی سیّد ناصر وزیر صاحب کی شادی لوہارو والوں کے ہوئی اس وقت ان کی عمر چھوٹی ہی تھی (میرا خیال ہے کہ اس وقت ۸ یا ۹ سال کی عمر ہو گی۔ محمود عرفانی) برات لوہارو میں گئی۔ حضرت میر صاحب کے والد صاحب بھی ساتھ تھے۔ رات کو لوہارو والوں کی طرف سے (کیونکہ وہ نواب لوگ تھے) کنچنی کے ناچ کا انتظام تھا۔ سب لوگ اس ناچ کو دیکھنے میں مشغول تھے۔ مگر حضرت میر صاحب ؓنے بیان فرمایا کہ مجھے اس قدر شرم آئی کہ میں نے ایک دفعہ بھی نظر اُٹھا کر نہ دیکھا۔ میرا سر جھکا رہا۔
    میر صاحب ؓکے بچپن کا زمانہ اور اس خورد سالی کے زمانہ میں ان کی حیا اور نیکی دیکھ کر سیّد عبدالکریم صاحب کے دل میں بڑا خیال پیدا ہوا۔ انہوں نے اسی وقت حضرت میر صاحب کے والد صاحب کو کہہ دیا کہ یہ لڑکا میرا ہوا۔ اس سے سیّد عبدالکریم صاحب کی نیکی اور دوربین نگاہ کا بھی پتہ چلتا ہے اور پھر میر ہاشم علی صاحب کی وفات کے بعد جبکہ گھر میں سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہ رہا تھا۔ان کا ایک یتیم بے یارومدد گار لڑکے کو جس کا کوئی مستقبل نہ تھا۔اپنی لڑکی دے دینا یہ ان کا اور بھی کمال تھا۔
    نانی اماں کی تعلیم
    میرے پاس وہ حالات نہیں ہیں کہ جن سے میں نانی اماں کی ابتدائی زندگی پر کچھ روشنی ڈال سکوں۔ مگر اس سلسلہ میں میری مدد قرائین بھی کر سکتے ہیں۔ اول تو خاندان میردرد اور ان کے ساتھ ملے ہوئے ایسے خاندان جن کی قرابت داریاں اس خاندان سے تھیں اس کا عام رواج یہ تھا کہ لڑکیوں کو قرآن کریم اور معمولی دینیات کی کتابیں پڑھاتے تھے اور بعض تو ان میں سے عربی اور فارسی اور اردو میں پوری دستگاہ رکھتی تھیں۔ مغلیّہ سلطنت کا زمانہ اور پھر قرب تھا اور شاہی گھروں میں تعلیم عام تھی۔ شہزادیاں فارسی،اردو میں مہارت تامہ رکھتی تھیں۔ شعروشاعری کے مشغلے تھے۔ اس کا اثر شرفاء کے تمام خاندانوں پر تھا۔
    اسی اصل کے ماتحت سیّد بیگم صاحبہ نانی اماں بھی قرآن شریف اور اردو زبان کی تعلیم رکھتی تھیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت نانی اماں اردو زبان کی کتابیں اکثر مطالعہ میںرکھتی تھیں۔ دہلی میںایسی تعلیم بہت آسان تھی اس لئے پانچ چھ سال کا زمانہ کھیل کود کا نکال کر تھوڑ اتھوڑا سبق رکھ کر ۹،۱۰ سال کی عمر تک قرآن کریم کی تعلیم اور پھر دو تین سال میں اردو کی تعلیم مکمل ہو جاتی تھی اور میرا قیاس ہے کہ نانی اماں کی تعلیم بھی اسی نہج پر ہوئی ہو گئی۔
    نانی اماں اور حضرت میر صاحب کی طبیعت میں بہت فرق تھا۔ میر صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی اور پھر اس پر وہابیت کا رنگ تھا اگر نانی اماں کی طبیعت میں بھی تیزی ہوتی تو بڑی مشکل پڑ جاتی مگر ان کی طبیعت اس کے مقابل میں بالکل ٹھنڈی واقع ہوئی تھی۔ حضرت میر صاحب ؓنے ان کے اخلاص اور کیریکٹر کو اپنی سوانح میں اِن الفاظ میں بیان فرمایا:
    ’’اس بابرکت بیوی نے جس سے میرا پالا پڑاتھا مجھے بہت ہی آرام دیا اور نہایت ہی وفاداری سے میرے ساتھ اوقات بسری کی اور ہمیشہ مجھے نیک صلاح دیتی رہی اور کبھی بے جا مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا۔ نہ مجھ کو میری طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی۔ میرے بچوں کو بہت ہی شفقت اور جانفشانی سے پالا نہ کبھی بچوں کو کوسا نہ مارا۔ اللہ تعالیٰ اسے دین و دنیا میں سرخرو رکھے اور بعد انتقال جنت الفردوس عنایت فرماوے۔ بہرحال عُسرویُسر میں میرا ساتھ دیا جس کو میں نے مانا اس کو اس نے مانا۔ جس کو میں نے پیر بنایا اس نے بھی اس سے بلا تأمل بیعت کی۔ چنانچہ عبداللہ صاحب ؓ غزنوی کی میرے ساتھ بیعت کی نیز میرزا صاحبؓ کو جب میں نے تسلیم کیا تو اس نے بھی مان لیا۔ ایسی بیویاں بھی دنیا میں کم میسر آتی ہیں یہ بھی میری ایک خوشی نصیبی ہے جس کا میں شکرگزار ہوں۔ کئی لوگ بسبب دینی اور دینوی اختلاف کے بیویوں کے ہاتھ سے نالاں پائے جاتے ہیں۔ جو گویا کہ دنیا میں دوزخ میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ میں تو اپنی بیوی کے نیک سلوک سے دنیا میں ہی جنت میں ہوں۔
    ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیمِ‘‘o ۲۹؎
    یہ مختصر عبارت اپنے اندر بہت وسیع سیرت کا مضمون لئے ہوئے ہے۔ ایک دفعہ آپؓ نے نظم میں بھی آپ کی سیرت پر بڑی روشنی ڈالی تھی جس کا عنوان تھا ’’حرم محترم‘‘
    حرم محترم
    اے میرے دل کی راحت میںہوں تیرا فدائی
    تکلیف میں نے ہرگز تجھ سے کبھی نہ پائی
    صورت سے تیری بڑھ کر سیرت میں دل ربائی
    میں ہوں شکستہ خاطر اور تو ہے مومیائی
    مجھکو نہ چین تجھ بن، بے میرے سُکھ نہ تجھ کو
    میں تیرے غم کا دارو تو میری ہے دوائی
    شرمندہ ہوں میں تجھ سے مجھ سے نہیں خجل تو
    مجھ میں رہی کدورت تجھ میں رہی صفائی
    تو نے کرم کیا ہے میرے ستم کے بدلے
    دیکھی نہ میں نے تجھ سے اک ذرہ بے وفائی
    تو لعلِ بے بہا ہے انمول ہے تو موتی
    ہے نقش میرے دل پر بس تیری پارسائی
    میں نے نہ قدر تیری پہچانی ایک ذرّہ
    ہیرے کو میں ہوں سمجھا افسوس ایک پائی
    خاطر سے تو نے میری کنبہ کو اپنے چھوڑا
    جنگل میں ساتھ میرے پیارے وطن سے آئی
    تھی نازکی پلی تو اور میں غریب گھر کا
    تو نے ہر اِک مصیبت گھر میں میرے اٹھائی
    محنت کا تیری ثمرہ اللہ تجھ کو بخشے
    چُولھے میں سرکھپایا بچوں پہ جاں کھپائی
    دُکھ سُکھ میںساتھ میرا تو نے کبھی نہ چھوڑا
    خود ہو گئی مقابل جب غم کی فوج آئی
    دنیا کے رنج و غم کو ہنس ہنس کے تونے کاٹا
    اللہ رے تیری ہمت بل بے تیری سمائی
    بچوں کو تو سُلاتی اور آپ جاگتی تھی
    سَو بار مُوت گُو میں تو رات کو نہائی
    بچوںکے پالنے میں لاکھوں اٹھائے صدمے
    جب تک یہ سلسلہ تھا راحت نہ تو نے پائی
    ہوتا تھا ایک پیدا اور دوسرا گزرتا
    تھی صابرہ تو ایسی ہرگز نہ بلبلائی
    صدمہ کو اپنے دل کے لاتی نہ تو زباں پر
    جہاں کی طرح سے دیتی ہرگز نہ تو دہائی
    تنگی میں عمر کاٹی بچوں کو خوب پالا
    شکوہ نہ سختیوں کا لب پر کبھی تو لائی
    دکھ درد اپنے دل کا تو نے کیا نہ افشا
    غیروں سے تو چھپاتی ہوتی اگر لڑائی
    جو میں نے تجھ کو بخشا تو نے لیا خوشی سے
    مانگی نہ تو نے مجھ سے ساری کبھی کمائی
    دھوکہ دیا نہ ہرگز بولی نہ جھوٹ گاہے
    مجھ سے نہ بات کوئی تو نے کبھی چھپائی
    تھی جتنی تجھ میں طاقت کی تو نے میری خدمت
    خود کھایا روکھا سوکھانعمت مجھے کھلائی
    عیبوں کو تو نے میرے اغیار سے چھپایا
    تھا تیرے بس میں جتنا عزت میری بنائی
    صدمہ سے میرے صدمہ تجھ کو ہوا ہمیشہ
    جب شاد مجھ کو پایا تو نے خوشی منائی
    تھی میرے دشمنوں کی تو جان و دل سے دشمن
    اور میرے دوستوں سے تیری رہی صفائی
    جو کچھ تھا میرا مذہب تھا وہی تیرامشرب
    تھی تیرے دل میں الفت ایسی میری سمائی
    مجھ پر کیا تصدق جو تیرے پاس تھا زر
    یاں تک کہ پاس تیرے باقی رہی نہ پائی
    کرتا ہوں شکر حق کا جس نے تجھے ملایا
    اور میری تیری قسمت آپس میں یوں ملائی
    ہو تجھ پہ حق کی رحمت تجھ کو عطا ہو جنت
    اور میری تیری اک دم ہووے نہ واں جدائی
    آرام تجھ کو دیوے فضل و کرم سے مولیٰ
    ہررنج و غم سے بخشے مالک تجھے رہائی
    ہرگز نہ تو دکھی ہو ہر وقت تو سُکھی ہو
    بچوں کا عیش دیکھے تو اور تیری جائی
    فضل خدا کی بارش دن رات تجھ پہ برسے
    پانی میں مغفرت کے ہر دم رہے نہائی
    دولت ہو تجھ سے ہمدم عزت ہو ساتھ تیرے
    اولاد میں ہو برکت کہلائے سب کی مائی
    تیرا نہیں ہے ثانی لاکھوں کی تو ہے نانی
    عیسیٰ سے کر کے رشتہ دولت یہ تو نے پائی
    اسلام پر جئیں ہم ایمان سے مریں ہم
    ہر دم خدا کے در کی حاصل ہو جبہ سائی
    جب وقت موت آوے بے خوف ہم سدہاریں
    دل پر نہ ہو ہمارے اندوہ ایک رائی
    مہدی کے مقبرہ میں ہم پاس پاس سوئیں
    دنیا کی کشمکش سے ہم کو ملے رہائی
    حضرت نانی اماں اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر جو حضرت اُمُّ المؤمنین اور حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحق صاحب کے وجودوں کے ذریعہ سے ہوا خدا کی شکرگزار تھیں۔
    حضرت نانی اماںؓ کی شفت علی الاولاد کا ایک واقعہ
    ایک دفعہ حضرت میر محمد اسحق صاحب سخت بیمار ہو گئے۔ ان کی طبیعت زیادہ بیمار تھی۔ ان ایام میںحضرت میر صاحبؓ حضرت عرفانی کبیر سے کچھ ناراض ہو گئے تھے اور دونوں الگ الگ تھے۔ کسی نے اس واقعہ کا ذکر حضرت نانی اماں سے کر دیا۔ ان کو خیال گزرا کہ کہیں شخ صاحب نے کوئی بددعا ہی نہ کر دی ہو جس کی وجہ سے میرا لختِ جگر میرا بچہ بیمار ہو گیا اور اس قدر تکلیف اٹھا رہا ہے۔ وہ فوراً ہمارے مکان پر آئیںاورگلی میں ڈیوڑھی کے دروازے پر آ کر بیٹھ گئیں اور کسی کو کہا۔ شیخ صاحب کو اطلاع کر دو کہ نانی اماں آئی ہیں۔
    والد صاحب اسی وقت دوڑے ہوئے آئے۔ نانی اماں کو یوں دروازے پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر گھبرائے۔ قبل اس کے کہ ان کی سنیں انہوں نے نانی اماں کی اس حالت کو دیکھ کر اپنی پریشانی اور معذرت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا۔ آپ نے یہ تکلیف کیوںکی آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں اس قسم کی بہت سی باتیںکہہ ڈالیں۔ نانی اماں نے میر صاحبؓ کی طرف سے معذرت کی اور میر محمد اسحق صاحب کی تکلیف کا رقت آمیز لہجے میں ذکر کر کے کہا کہ آپ کا دل دُکھا۔ مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں آپ نے کوئی بددعا نہ کی ہو۔
    والد صاحب نے ان کو یقین دلایا کہ میں تو ان کی ناراضگی کا کبھی خیال نہیں کرتا وہ ہمارے فائدے کے لئے کہتے ہیں اور میں آپ کی اولاد کے لئے کیوں بددعا کرنے لگا۔ جب ان کو یقین آیا اور تسلی ہوئی تو واپس ہوئیں اس واقعہ سے ان کی شفقت علی الاولاد کا پتہ چلتا ہے۔
    حضرت نانی اماںؓ حضرت میر صاحب ؓ کی وفات کے بعد تقریباً آٹھ سال زندہ رہیں۔ اخیر وقت تک وہ چلتی پھرتی رہتی تھیں اور عینک لگا کر پڑھ بھی لیتی تھیں۔
    حضرت میر صاحبؓ کے ساتھ ان کا تعلق بہت وفادارانہ تھا۔ حتی کہ ایام ملازمت میں معمولی معمولی دیہات میں بھی وقت گزار لیا اور کوئی شکوہ نہ کیا۔ اس قسم کے صبر ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت نانی اماںؓ نے اپنی اولاد کے عروج کو دیکھا۔ بیٹی ملی تو ایسی جو اُمُّ المؤمنین کہلائی۔ داماد ملا تو ایسا جو جری اللہ فی حلل الانبیاء تھا۔ خاوند ملا تو وہ اپنی شان میں بینظیر۔ بیٹے ملے تو ایسے عارف باللہ اور خادم دین۔ انہوں نے سلسلہ کی ابتدائی حالت بھی دیکھی اور ترقی اور عروج بھی دیکھا۔ انہوں نے صدہا نشانات اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔ قادیان کی ابتدائی حالت بھی دیکھی اور عروج بھی دیکھا۔ بہرحال انہوں نے بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا یہ سب کچھ دیکھ کر وہ ۲۳، ۲۴ نومبر ۱۹۳۲ء؁ کی درمیانی رات کو تقریباً ۸۵ سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ-
    انہوں نے اپنی زندگی تقویٰ ،طہارت اور پاکیزگی سے گزاری اور وفات سے قبل ایک بڑی جماعت اپنی نسل در نسل لوگوں کی چھوڑی جو سب کے سب باخدا اور متقی اور پرہیز گار ہیں۔ ایک بڑی جماعت نے آپ کا جنازہ پڑھا اور آپ مقبرہ بہشتی میں چاردیواری کے اندر حضرت مسیح موعود ؑ کے قدموں کی طرف حضرت میر صاحبؓ کے پہلو میں دفن ہوئیں۔
    حضرت میر صاحبؓ قبلہ نے نظم ’’حرم محترم‘‘ میں تین اشعار ایسے کہے جو لفظ بلفظ پورے ہو کر رہے۔
    اسلام پر جئیںہم ایمان سے مریں ہم

    ہر دم خدا کے در کی حاصل ہو جبہ سائی
    جب وقت موت آوے بے خوف ہم سدھاریں

    دل پر نہ ہو ہمارے اندوہ ایک رائی
    مہدی کے مقبرہ میں ہم پاس پاس سوئیں

    دنیا کی کشمکش سے ہم کو ملے رہائی
    یہ دعا ایسی پوری ہوئی کہ اب دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ یہ خوش قسمت جوڑا جس طرح دنیا میںاکٹھا رہا اسی طرح مرنے کے بعد بھی اکٹھا نظر آرہا ہے۔
    حضرت اُمّ المومنین کے دَدھیال
    شجرہ نمبر۳
    نواب دوراں خان کمانڈز انچیف افواج مغلیہ

    قمر الدین خان وزیر اعظم
    احتشام خان داروغہ محلات شاہی

    ان کی اولاد کی نسبت کچھ پتہ نہیں چلا۔ خود نادر شاہ ایرانی کی جنگ میں مارے گئے

    میر ہاشم علی صاحب

    سید ناصر امیر صاحب (زوجہ روشن آرا بیگم)
    سید ناصر وزیر صاحب (ان کی شادی نواب صاحب لوہارو کے ہاں ہوئی)

    حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ
    سید ناصر خلیل
    سید ناصر سعید
    سید ناصر وحید
    نصیرہ بیگم
    ناصر سلطان
    ناصرہ بیگم
    ناصر جلیل
    ناصر سعید
    یہ اور ان کی اولاد دہلی میں ہے
    یہ خود اور ان کی اولاد دکن میں ہے




    حضرت نصرت جہاں بیگم اُمّ المومنین
    حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب
    حضرت میر محمد اسحاق صاحب

    حضرت اُمّ المومنین اَور اُن کے بھائیوں کی اولاد کا شجرہ الگ طور پر شائع کیا جائے گا۔
    خاندانی حالات میں کچھ اور
    میں جب کہ نواب خانِ دوران کے متعلق لکھ رہا تھا۔ اس وقت بعض معلومات جن کے بروقت پہنچنے کی توقع تھی وہ مجھ تک نہ پہنچ سکیں۔ اس لئے بعض اہم معلومات درج ہونے سے رہ گئیں۔ مگر بعد میں جبکہ وہ حصہ لکھا گیا تو وہ معلومات بھی مجھ تک پہنچ گئیں۔ چونکہ یہ معلومات بہت اہم ہیں۔ اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ان کو کتاب میں ہر حالت میں شائع کر دوں۔ ا س لئے اس زائد عنوان سے ان معلومات کو لکھ رہا ہوں۔
    یہ معلومات دو ذرائع سے مجھے ملی ہیں۔ اول جناب میرزا فرحت اللہ بیگ صاحب ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ حیدر آباد دکن کے ذریعے مسٹر جیمس فریزر ایک انگریز مصنف تھا جو نادرشاہ ایرانی کا ہمعصر تھا۔ اس نے ۱۷۴۳؁ء میں ایک کتاب موسومہ نادر شاہ لنڈن میں شائع کی۔ یہ کتاب تاریخ میں بہت مستند خیال کی جاتی ہے کیونکہ اس میںمسٹر فریزر نے چشم دیدہ حالات دیکھنے والوں سے دریافت کر کے لکھے ہیں۔ میں بہت ممنون ہوں کہ جناب میرزا فرحت اللہ بیگ صاحب نے اپنے اوقات گرامی میں سے وقت نکال کر مجھے اس پرانی کتاب کا ترجمہ کر کے ارسال فرمایا اور اس طرح مجھے یہ قیمتی معلومات شائع کرنے کاموقع میسر آیا۔ دوسرے مجھے مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کی راہنمائی سے ایک کتاب کا علم ہوا جو میں نے دفتر پیسہ اخبار لاہور سے منگوائی۔ اس کتاب کا نام ہے’’ہندوستان پر حملے‘‘ یہ کتاب ایک روسی میجر جنرل سیولوف نے ابتداء میں روسی زبان میں لکھی۔ جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں لیفٹیننٹ کرنل ڈبلیو۔ ای گووان پنشنر بنگال نے کیا اور پھر انگریزی سے میرزا علی حسین صاحب نے اُردو میں ترجمہ کر دیا اور دفتر پیسہ اخبار نے ۱۹۰۹ء؁ میں اسے شائع کیا۔
    میجر جنرل سیولوف نے اپنی کتاب میںمسٹر فریزر کی کتاب سے بھی استشہاد کیا ہے۔ اس لحاظ سے مسٹر فریزر کی کتاب کا مستند ہونا اور بھی قوی ہو جاتا ہے۔
    نادرشاہ اور نواب خانِ دوران
    نادر شاہ نے جب پشاور فتح کر لیا اور اس کی اطلاع دہلی میں یکم رمضان ۱۱۵۱ھ؁کو موصول ہوئی۔ تو ۳ دسمبر ۱۷۳۸؁ء کو محمد شاہ شاہنشاہ دہلی نے خان دوران ،نظام الملک اور قمر الدین خان کو نادر خان کے خلاف مہم پر روانہ کیا۔ نواب خانِ دوران خان کی اپنی آمدنی جاگیر کے علاوہ شاہنشاہ نے ایک کروڑ روپیہ اپنے خزانہ سے فوج جمع کرنے کے لئے دیا۔ ۷۰۰ توپیں اور ۳۰۰۰ بندوقیں دیں اور دیگر امراء کو حکم دیا کہ وہ بھی امراء بالا کے ہمراہ رہیں۔ اس حکم کی بناء پر یہ سب امراء اسی روز دہلی سے روانہ ہو پڑے۔ شہر سے کچھ فاصلہ پر خیمے لگا کر فوج جمع کرنے لگے۔ ۳۰؎
    نوٹ: اس جگہ خانِ دوران نمبر اول کے امراء میں شمار کئے گئے ہیں۔ نظام الملک سے مراد آصف جاہ اوّل بانی سلطنت آصفیہ حیدرآباد ہیں اور قمرالدین خان جو وزیراعظم تھے۔ نواب خان دوران خان کے بڑے بیٹے تھے۔ یہ لوگ فوج جمع کرنے میں مصروف ہی تھے کہ لاہور فتح ہونے کی خبر آ گئی ۔تب ۹ جنوری ۱۷۳۹؁ء کو خانِ دوران نظام الملک اور قمرالدین خان دہلی سے دس کوس آگے بڑھے اور دوسرے دن بھی دس کوس چلے اور سونی پت پہنچ گئے۔ یہ تفصیل ایک خط سے لی گئی۔ جو سربلند خان کے سیکریٹری نے میرزا مغل ولد علی محمد خاں کو ۱۵/شوال ۱۱۵۱ھ؁ کو احمد آباد میں لکھا تھا۔
    ۱۲/ذی قعدہ ۱۱۵۱ھ؁ کوبمطابق ۱۱ فروری ۱۷۳۹؁ء کو شاہی کیمپ کرنال میں ہوا۔ لشکر گاہ کا نقشہ یوں تھا:
    وسط میں خود بادشاہ کا خیمہ تھا۔ اس کے سامنے نظام الملک اور قمر الدین کے مورچے تھے۔ ان مورچوں پر شاہی توپ خانہ قائم کیا گیا تھا یہ سیدھی طرف خان دوران خان،مظفر خان، علی احمد خان، میرگلو اور شہ داد خان کے خیمے تھے۔
    ۱۵/ ذیعقدہ کو نادر خان کے کیمپ میں پانی کی کمی ہو گئی تو وہ تلاوڑی کی طرف گیا۔ اس نے خانِ دوران کے کیمپ کی پشت پر جا کر چار کوس کے فاصلہ پر قیام کیا۔
    یہاں اس امر کو بھی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب فوج دہلی سے روانہ ہو رہی تھی۔ اس وقت بادشاہ نے چاہا تھا کہ اسے دہلی میں رہنے دیا جائے مگر وزراء اور امراء سلطنت نے یہی مشورہ دیا کہ نہیںبادشاہ کا ساتھ رہنا از حد ضروری ہے۔ اس لئے بادشاہ بھی ساتھ ہی تھا۔
    ۱۶ /ذیقعدہ کو سعادت خان شاہی کیمپ پر حاضر ہوا۔ ۹ بجے اطلاع آئی کہ نادر شاہ کے ہمراہیوں نے سامان پر پچھلی طرف سے حملہ کر دیا۔ جس سے بہت سے آدمی مارے گئے اور بہت سامان لوٹ لیا گیا۔ یہ سن کر سعادت خاں دربار سے رخصت ہوا اور جلدی سے اپنے آدمیوں کی مدد کو پہنچا۔
    خانِ دوران بھی قریب تھا وہ بھی اپنے دو لڑکوں اور اپنی فوج کے ساتھ سعادت خاں سے مل گیا اور اس کے ساتھ ہی مظفر خان،سیّد حسین خان ،خان زمان خان میر گلو،شہ داد خان وغیرہ جملہ رؤساء اور امراء اپنے ہمراہیوں کے ساتھ ہو گئے۔
    نادرشاہ تلاوڑی میںتھا۔ اسے خبر ہوئی تو وہ بھی آگے بڑھا۔ اس کے ساتھ اس وقت ایک ہزار کرد ،ایک ہزار قاچاری،ایک ہزار بختاری، ایک ہزار بندوقچی تھے۔ یہ چار ہزار سوار فوج سے علیحدہ کر کے بڑھا۔ تین ہزار سوار تو چھپا دیئے اور ۵۰۰ سوار بندوقچی سعادت خان کی طرف اور ۵۰۰ سَو خان دوران خان کی طرف بڑھے تاکہ ان کو باہر میدان میں لائیں۔ اس تجویز میں نادرشاہ کو کامیابی ہوئی وہ دو نوں باہر نکلے۔ ان کے نکلتے ہی تین ہزار سوار جو چھپے ہوئے تھے انہوں نے یکدم حملہ کر دیا۔ سخت خونریز لڑائی ہوئی۔ نادرشاہ ایک ہزار افشار سواروں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ کر فوج کا دل بڑھا رہا تھا۔باقی فوج الگ کھڑی رہی تا اشارہ ملنے پر آگے بڑھے۔ شام تک بڑی شدت کی جنگ جاری رہی۔ سعادت خاں،شیر جنگ اور خانِ دوران کا چھوٹا لڑکا قید ہو گئے۔ خان دوران خان کو مہلک زخم آئے اور اسے اس کے خیمہ میں لے آئے۔ ایک گولی اس کے ہاتھ میں لگی اور دوسری اس کے پہلو میں اور اس کا بڑا لڑکا مارا گیا۔ نادرشاہ نے حکم دیا کہ سعادت خان،شیر جنگ اور خان دوران کے لڑکے کیلئے ایک خیمہ اس کے کیمپ میں نصب کیا جائے۔
    ۱۸/ذیعقدہ کو خان دوران کا انتقال زخموں کی وجہ سے ہو گیا۔ ۲۰ تاریخ کو خانِ دوران کی نعش کیمپ سے کرنال لے گئے۔
    نادرشاہ جب دلّی میںآیا تو اس کے قزلباشوں کا قیام خان دوران کے محل میں تھا۔ نادرشاہ نے خان دوران اور مظفر خان کے ہاں کے جواہرات اور خزانہ اور سارا سامان ضبط کر لیا جو مال خان دوران خان کے ہاں سے ملا اس کی قیمت ایک کروڑ روپیہ سے کم نہ تھی۔
    ۱۳ /مئی ۱۷۳۹؁ء کو محمد شاہ بادشاہ دلّی نے خان دوران کے لڑکے احتشام خان کو خلعت سراپا عطا کر کے داروغہ خاص (داروغہ محلات) مقرر کیا۔ یہ نادرشاہ کے اس روزنامچہ کا اقتباس ہے جو سربلند خاں میرزا زماں نے دہلی میں لکھا تھا ۔ ۳۱؎
    اس اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے کہ خان دوران اول درجہ کے امراء میں سے تھا۔ اس کا بیٹا وزیراعظم تھا۔ نظام الملک اور دیگر اراکین دربار بھی اس کے بعد شمار کئے جاتے تھے۔
    مظفر خان ا س کا بھائی تھا اور ان کی مالی حالت کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ صرف خان دوران خان کے گھر سے ایک کروڑ روپیہ کا مال برآمد ہوا۔
    روسی میجر جنرل سیولوف لکھتا ہے:
    ’’محمد شاہ سرتاپا عیش و عشرت میں غرق ہو گیا۔ خان دوران میر بخشی یعنی پے ماسٹر جنرل مقرر ہوا اور امیرالامراء کے خطاب سے مخاطب ہوا۔ اس طرح تمام اراکین دولت سے رتبہ میں بڑھ گیا۔ امیرالامراء ذمہ داری کے عہدوں پر اپنے آدمیوں کو مامور کر کے محمد شاہ پر بخوبی حاوی ہو گیا۔ بادشاہ کو اس پر کامل اعتماد تھا ۔تھوڑے ہی دنوں میں یہ سابق مقتول امیرالامراء حسین علی خان کی طرح خود مختاری سے حکومت کرنے لگا۔ جب محمد امین خان وزیراعظم کا انتقال ہوا۔ تو اس کا نوجوان لڑکا قمرالدین خان اس منصبِ جلیلہ پر سرفراز ہوا۔‘‘۳۲؎
    ’’میدان جنگ میں جب نادرشاہ سے جنگ ہو رہی تھی۔ اس وقت سعادت خان نے اپنی فوج سمیت اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کر دیا اور خان دوران تن تنہا نادر شاہ کے مقابلہ کے لئے رہ گیا۔ تاہم خان موصوف نے دشمن کو خوفناک طور پر شکست دی…مگر وہ خود بھی مہلک طور سے زخمی ہو گیا تھا۔ خان دوران جب محمد شاہ کے حضور لایا گیا تو اس نے بادشاہ سے گزارش کی کہ وہ باقی ماندہ ۳۸ ہزار سپاہ اور دو سَواتواپ سے دشمن کا مقابلہ کرے اور اسے ہرگز دم نہ لینے دے مگر بدقسمتی سے بادشاہ مذبذب رہا۔
    خان دوران کے سپاہ اس کے بہادر بھائی مظفر خان کی ماتحتی میں نادری سپاہ کے مقابلہ میں بدستور ڈٹی رہیں۔ رات کو خان دوران نے پھر شاہنشاہ سے ملاقات کی اور قرار پایا کہ صبح کو از سر نوجنگ شروع کی جائے۔ مگر بدقسمتی سے خان موصوف اس مہلک زخم کی وجہ سے جو میدان جنگ میں لگا تھا۔ جانبر نہ ہو سکا۔ ۳۳؎
    خان دوران کی وفات کے بعد نظام الملک آصف جاہ اوّل کمانڈر انچیف افواج ہند اور خطاب امیرالامراء سے سرفراز ہوا۔‘‘ ۳۴؎
    ان دونوجوانوں سے خان دوران کے اثر رسوخ، سلطنت دہلی پر اقتدار اور ان کے خاندان کا بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونا معلوم ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ خانِ دوران وہ فرد وحید تھا۔ جس نے نادرشاہ کی افواج سے ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ مر گیا مگر اس نے سلطنت سے وفاداری نہ چھوڑی۔ اس کی شجاعت اور بہادری تاریخ کے سنہری اوراق کا جزو بن کر رہ گئی۔ جب کہ حکومت کے اراکین خود بادشاہ عیش و عشرت میں محو تھا۔ اس وقت خانِ دوران ایک چوکس محافظ کی طرح سلطنت کو سنبھالے ہوئے تھا۔ گویا کہ وہ ہی محمد شاہ کے پردے میں ہندوستان پر حکومت کر رہا تھا۔
    میں نے یہ سب کچھ کیوں لکھا؟
    حضرت اُمُّ المؤمنین کے خاندان کے متعلق میں نے بہت زیادہ لکھا ہے۔ حتی کہ نصف سے بھی زیادہ کتاب اسی موضوع پر بھر گئی۔ دیکھنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا مضمون زیادہ سے زیادہ پچاس صفحات میں آسکتا تھا مگر مصنف کے دماغ کے اندر کئی مخفی خیالات کام کر رہے ہوتے ہیں جن کو کبھی وہ پبلک کیلئے کھولنا ضروری نہیں سمجھتا اور پبلک ان امور کو کبھی محل اعتراض بنا لیتی ہے اور کبھی مقام مدح۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں پبلک کو کسی خلجان میں ڈالے بغیر اس حقیقت کو بھی کھول دوں۔ دراصل یہ سارا بیان تفسیر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند فقروں کی۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:
    ’’اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے۔ چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی کا تعلق بخشا……بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خداتعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی۔ یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب اور بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہو ا ‘‘۔۳۵؎
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس خاندان کی نجابت،شرافت، عالی نسبی اور بزرگواری کی کوئی تفصیل نہیں دی۔ البتہ اس قدر لکھا ہے کہ یہ خاندان خواجہ میر درد صاحب مرحوم دہلوی کے روشن خاندان کی یادگار ہیں جن کی علوخاندانی کو دیکھ کر بعض نوابوں نے انہیں اپنی لڑکیاں دی تھیں۔
    ’’جیسے نواب امین الدین خان والد بزرگوار نواب علاؤ الدین خان والئے ریاست لوہارو کی لڑکی میر ناصر نواب صاحب خُسر اس عاجز کے بڑے بھائی کو بیاہی گئی ایسے بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا‘‘۔ اس سے زیادہ تشریح نہیں فرمائی۔ مگر میں نے اس خاندانی تذکرے میں یہ بتلایا ہے کہ کس طرح مغل بادشاہ خواجہ میر دردؒ کے بزرگوں کی عزت کرتے تھے کس طرح قلعہ دہلی میں ان کو دعوتیں ہوئی تھیں۔
    مغلیّہ بادشاہوں نے اپنی لڑکیاں ان کے لڑکوں کو دیں اور پھر بڑے بڑے عہدے ان کو دیئے۔ ان میں سے بعض بڑے خطاب یافتہ تھے۔ ان میں سے نواب بھی تھے۔ ہفت ہزاری تھے۔ فوج اور سول کے عہدہ دار تھے۔ پھر یہی نہیں کہ خواجہ میر درد کے گھرانے کا یہ حال تھا۔ بلکہ نواب خانِ دوران جو حضرت میرناصر نواب صاحب ؓکے پردادا تھے وہ اتنی شخصیت کے آدمی تھے کہ روسی میجر جنرل سیولوف ان کے متعلق لکھتا ہے کہ:
    ’’وہ ہندوستان کے خود مختار حاکم تھے۔‘‘
    ان کا ایک بیٹا وزیر اعظم تھا۔ دوسرا بیٹا بھی فوج میں افسر تھا۔ بھائی بھی فوج میں میر آتش یعنی افسر بارودخانہ تھا۔ ان کے ماموں امیر الامراء عزیز میرزا گوکلتاش کمانڈر انچیف افواج ہند تھے۔ وہ لوگ صاحبِ جاگیر بھی تھے۔ ان کے پاس اپنی ذاتی فوجیں بھی تھیں۔ دولت، شوکت، حکومت سب کچھ تھا اور وہ اپنے حسب نسب کے لحاظ سے اور اپنے تقویٰ طہارت کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ وہ مرجعِ خلائق بنے ہوئے تھے۔ بادشاہ، امراء، وزراء، ادباء، شعراء، علماء سب ان کی مجلسوں میں مؤدّب بیٹھا کرتے تھے۔ ہندوستان میں ان میں سے بعض اپنے وقت میں ایسے تھے کہ بادشاہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے، اگر چاہتے تو آخری زمانہ میں اپنی سلطنتیں قائم کر لیتے۔ الغرض مَیں نے اِس خاندان کی ساری اور مفصل تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ کی تشریح کے لئے لکھی۔ تا خدا کے مامور و مرسل اور نبی ؑکے ہاتھ کے لکھے ہوئے نوشتے واقعات سے سچے ثابت ہوں۔
    سیرت اور سوانح
    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سیرت اور سوانح میں فرق نہیں کرتے۔
    سوانح سے مراد وہ واقعات و حالات ہوتے ہیں جو کسی انسان کی زندگی میں اچھے یا بُرے، خوشگوار یا بدمزہ پیش آتے رہتے ہیں۔ مگر سیرت سے مراد ایسا موضوع ہوتا ہے جو اس کی عملی زندگی اور اس کی اخلاقی قوتوں اور اس کے مخفی جذبات کو اُبھار کر اور بڑا کر کے لوگوں کو دکھا سکے تا کہ لوگ اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔
    زندگی کے وہ پہلو جو کسی نہ کسی رنگ میں مشعلِ ہدایت بن سکتے ہیں اور جن سے ہماری تربیتِ ناقصِ کامل ہو جاتی ہے جو ہماری اخلاقی، تمدنی، معاشرتی، روحانی، علمی الغرض کسی قسم کی تکوین میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں موضوع سیرت کے زرّیں پہلو ہیں۔ اسی غرض کے ماتحت دنیا کے کسی شعبہ میں ترقی یافتہ انسان کی زندگی ہمارے لئے مفید ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ وہ ہمارے لئے ایک اسوۂ حسنہ ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ اور یہی آیت اس زمانہ میں جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا ظہور ہوا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ پس انبیاء اور مصلحین امّت اور ہر وہ انسان جو بطور نمونہ کے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے واقعاتِ زندگی کو اس کے ضابطۂ عمل کو اس کے اخلاق و کیریکٹر کو پڑہتے ہی یہ جذبہ جب تک پیدا نہ ہو کہ ہم بھی ایسے ہی ہو جائیں اُس وقت تک ہم کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور یہی چیز ہم کو اس کتاب میں بھی تلاش کرنی ہوگی۔
    حوالہ جات
    ۱؎ حیاتِ ناصر صفحہ۲
    ۲؎ حیاتِ ناصر صفحہ۳
    ۳؎ حیاتِ ناصر صفحہ۲۰۔۲۱
    ۴؎ حیاتِ ناصر صفحہ۲۱
    ۵؎ تذکرہ صفحہ ۳۵
    ۶؎ حیات ناصر صفحہ۷
    ۷؎ تذکرہ صفحہ۳۷
    ۸؎ سیرۃ المہدی صفحہ۱۰۹ حصہ دوم
    ۹؎ سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ۱۱۰
    ۱۰؎ حیاتِ ناصر صفحہ۶،۷
    ۱۱؎ تذکرہ صفحہ۳۶
    ۱۲؎ تذکرہ صفحہ۳۶
    ۱۳؎ حیاتِ ناصر صفحہ۹
    ۱۴؎ راقم ناصر نواب، تاریخ ۲/جنوری ۱۸۹۳ء
    ۱۵؎ خود نوشت سوانح
    ۱۶؎ کشف الاختلاف صفحہ۱۶
    ۱۷؎ کشف الاختلاف صفحہ۱۶
    ۱۸؎ کشف الاختلاف صفحہ۱۴
    ۱۹؎ حیاتِ ناصر صفحہ۲۹
    ۲۰؎ حیاتِ ناصر صفحہ۱۵
    ۲۱؎ سلسلہ احمدیہ صفحہ۳۴۴
    ۲۲؎ الحکم ۶/جون ۱۹۰۸ء صفحہ۷
    ۲۳؎ ٹریکٹ اظہار الحق صفحہ۶،۷
    ۲۴؎ سفر نامہ صفحہ۱۵
    ۲۵؎ بدر جلد۲ نمبر۱۱، الحکم جلد۱۰ نمبر۹۔ الفضل جلد۱۹ نمبر۳۶ تذکرہ صفحہ۶۰۲،۶۰۳
    ۲۶؎ الفضل ۱۹ ستمبر ۱۹۲۴ء
    ۲۷؎ الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۲۴ء صفحہ۲
    ۲۸؎ حیاتِ ناصر صفحہ۵
    ۲۹؎ حیاتِ ناصر صفحہ۵
    ۳۰؎ نادر شاہ صفحہ۱۴۵
    ۳۱؎ نادر شاہ صفحہ ۱۵۳ تا ۲۴۳ مصنفہ مسٹر جیمس فریزر
    ۳۲؎ ہندوستان پر حملے صفحہ۱۳۲
    ۳۳؎ ہندوستان پر حملے صفحہ۱۴۴،۱۴۵
    ۳۴؎ صفحہ۱۴۵
    ۳۵؎ شحنہ حق صفحہ۵۷،۵۸ تذکرہ صفحہ ۳۶







    سیّدۃ النّساء حضرت اُمُّ المؤمنین
    نصرت جہاں بیگم




    حضرت اُمُّ المؤمنین کی شان
    جس عظیم الشان خاتون کی سیرت لکھنے کیلئے مَیں یہ کتاب لکھ رہا ہوں وہ ایک طرف سے حضرت خواجہ میر دردؒ کے خاندان کی ایک روشن چراغ ہیں اور دوسری طرف دَدہیال کے رشتہ سے نواب خانِ دَوران خان امیر الامراء کمانڈر انچیف افواجِ ہند اور ننہیال کی طرف سے ان کامیرزا فولاد بیگ ایرانی تک سلسلہ جا ملتا ہے۔ الغرض وہ ہر طرح سے عریق فی النسب ہیں اور یہ درمیانی کڑیاں باوجود اس کے کہ وہ سب درست، مضبوط اور اعلیٰ درجے کی ہیں۔ مگر مَیں ان کو نظر انداز کرتا ہوا کہتا ہوںکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیّدۃ النساء فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ہیں اور اس تعلق کی وجہ سے آپ محمدی بیگم ہیں۔ آپ کی شان و عظمت کے کیا کہنے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے وجود کو عالم روحانی میں دیکھا اور اس تعلق کو محسوس کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فارسی النسل کو جسمانی طور پر اہل بیت میں شامل کرنے کا باعث ہوگا۔ اسی تعلق اور نسب کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا سلمان منا اھل البیت اور ان ہی الٰہی مقدرات کو مدِّنظر رکھ کر فرمایا لوکان الایمان معلّقا بالثریا لنالہ رجل من ابناء الفارس۔ اِسی رجل فارسی کے لئے فرمایا کہ وہ ایک طرف ایمان آسمان سے لائے گا دوسری طرف وہ دجّال کو قتل کرے گا۔ صلیب کو توڑے گا اَور وہ میرا بروز ہوگا۔ وہ مسیح بھی ہوگا۔ ’’یَتَزَوَّجُ وَ یُوْلَدُلَہٗ‘‘ وہ شادی بھی کرے گا اور اس کے اولاد بھی ہوگی اور اس کی اولاد بھی خاص ہوگی۔ یہ سب پیشگوئیاں مستند اور مسلّمہ ہیں۔
    وہ خاتون جو موعود امام اور بروزِ محمدؐ اور مثیلِ مسیحؑ کی بیوی بننے والی تھی اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی وقت دکھائی گئی تھی۔ وہ عظیم الشان خاتون خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی بیٹی تھی۔
    الغرض جیسے خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات مقدر تھی کہ ایک زمانہ اسلام پر ایسا آئے گا کہ یَأْتِیْ عَلَی الـنّاسِ زَمَانٌلَمْ یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلاَّ اسْمُہٗ ایسے زمانے میں جب کہ اسلام ایک اسمی اور رسمی چیز رہ جائے گا۔ اُس وقت ایک شخص کا اسلام کی حفاظت و صیانت کیلئے مبعوث ہونا بھی مقدر تھا۔ جو اِن فتنوںکو مٹا کر شیطان سے آخری جنگ کر کے اسلام کا بول بالا کرے گا۔ پھر دشمنوںکے اس اعتراض کا رد کرنے کے لئے جو انہوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا کہ ان کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی مقدر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ حضرت احمدؑ کی شکل میں ہو اور پھر اس کی اولاد نرینہ بھی ہو اور وہ اولاد ایسی ہو جو موعود ہو۔ اُسے برکت پر برکت دی جائے اور اسے قوت پر قوت دی جائے اور ان کو اس زمانے کے یزیدوں پر فتح اور نصرت اور غلبہ دیا جائے۔ اس لئے ایسی عظیم الشان اولاد کی ماں بننے کے لئے جس خاتون کو چناگیا اس ماں کی عظمت اور اس خاتون کی شان تو خود ہی واضح اور عیاں ہے۔ پھر یہی نہیں مختلف اوقات میں، مختلف زمانوں اور مکانوں میں اس موعود ؑ کی پیشگوئیاں اہل اللہ نے دنیا کو سنائیں تو انہوں نے اس موعود ؑکے ساتھ موعود بیٹے کی بشارت ضرور دی جس کے معنی یہ تھے کہ وہ ایک عظیم الشان خاتون کی بھی پیشگوئی کر رہے ہیں۔ یعنی وہ خاتون ایسی عظیم الشان ہو گی جو ان نوروں کی ماں ہوگی جو دنیا کی راہنمائی اور ہدایت کیلئے پیداکئے جائیں گے۔
    چنانچہ نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی بھی اسی قسم کی پیشگوئی تھی اور خواجہ میر دردؒ کے گھرانے کے لئے بھی یہی پیشگوئی مقدر کی گئی کہ جو روشنی اور نور ان کو دیا گیا ہے وہ مسیح موعود ؑ میں جا کر گُم ہو جائے گی۔
    الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام راستباز اس خاتون کی عظمت اور شان کے قائل تھے جو مسیح موعود علیہ السلام کی حرم بننے والی تھی۔
    کیا صرف مسیح موعود ؑ کی بیوی بننا کوئی فضلیت ہے؟
    بعض نادان جن کو بصیرت سے کوئی حصہ نہیں ملا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف حضرت مسیح موعود ؑ کی بیوی بننا کوئی فضلیت نہیں۔ مَیں ان اندھوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم پر لگے ہوئے کپڑے بابرکت ہو سکتے ہیں ، اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رہنے کی وجہ سے الدار بابرکت اور طاعون کی پناہ گاہ ہو سکتا ہے اور اگر آپؑ کے وجود سے ایک غیر آباد کو ردیہہ بستی تختِ گاہ رسول بن سکتی ہے اور اگر حضرت ہاجرہؓ کے صفا مروہ پر دَوڑنے سے وہ پہاڑ شعائر اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں تو مسیح موعود علیہ السلام سے اس قدر قُرب رکھنا کیوں باعثِ فضیلت نہیں ہو سکتا؟ مگر یہاں تو صرف تعلق نہیں بلکہ یہ تعلق اُس وقت آسمان پر جوڑا گیا جب کہ حضرت مسیح موعود ؑ اور حضرت اُمُّ المؤمنین کو اس دنیا میں آنے میں ابھی صدیوں انتظار کرنا باقی تھا۔ پھر اس تعلق کی صلحاء اُمت تصدیق کرتے چلے آئے۔ حتیّٰ کہ خواجہ محمد ناصر پر یہ راز پھر ایک دفعہ کھولا گیا اور بتلایا گیا کہ تم کو جو کچھ دیا گیا ہے وہ مسیح موعود ؑ پر جا کر ختم ہو جائے گا اور پھر جب مسیح موعود ؑ پیدا ہوئے اور ان کے ظہور کا وقت قریب آیا تو ان کوآسمان سے کہا گیا۔ اشکر نعمتی رأیت خد یجتی اس پیشگوئی میں دو چیزیں قابلِ غور ہیں۔ اوّل: نعمت۔ دوسرے: خدیجہؓ۔ جس چیز کا نام اللہ تعالیٰ نعمت رکھے۔ اس کے پیچھے جو برکات ہو سکتے ہیں وہ ظاہر ہے۔
    ۱۔ پھر خدیجہ کا نام اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ جس طرح پہلی خدیجہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنحضرت کے دعویٰ سے قبل دی گئی۔ اسی طرح یہ خدیجہؓ بھی حضرت مسیح موعود ؑ کے دعویٰ سے قبل دی جائے گی۔
    ۲۔ جس طرح اس خدیجہؓ کے وجود سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بڑا آرام، بہت بڑی راحت ملی۔ ویسے ہی اس خدیجہ سے بھی آپؑ کو آرام اور راحت ملے گی۔
    ۳۔ جس طرح اُس خدیجہؓ کا مال خدمتِ اسلام کے لئے صرف ہوا۔ اِس خدیجہؓ کا مال بھی اسلام کے لئے صرف ہوگا۔
    ۴۔ جس طرح اُس خدیجہؓ کے بطن سے خادمِ اسلام اولاد پیدا ہوئی۔ اسی طرح اس خدیجہؓ کے بطن سے بھی خادمِ اسلام اولاد پیداہوگی۔
    ۵۔ جس طرح اُس خدیجہؓ کی اولاد کے لئے کچھ یزیدی کھڑے ہوئے تھے اس کی اولاد کے لئے بھی کچھ یزیدی کھڑے ہوں گے۔ مگر ناکام کئے جائیں گے۔
    پس خدیجہ کے لفظ میں وہ سب کچھ پوشیدہ تھا جو پہلی خدیجہؓ کی زندگی میں ظہور پذیر ہوا۔ اس لئے شدید مناسبت اور شدید تعلق کی وجہ سے اس زمانہ کی نصرت جہاں بیگم آسمان پر خدیجۃ اللہ کہلائی۔
    ۶۔ اس میں یہ راز بھی پوشیدہ تھا کہ جس طرح یہ بروزِ خدیجہ ہے اسی طرح اس کا شوہر بروزِ محمدؐ ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
    پس خدیجہ کے نام میں بہت سی پیشگوئیاں تھیں جو پوری ہو کر رہیں۔ ان پیشگوئیوں میں ایسی نسل کو بھی عالم وجود میں لانا مقصود تھا۔ جن کے ذریعے سے اسلام کو بڑی تقویت ملے گی۔ چنانچہ ان پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی یہ تھی:
    ’’سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔ اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلادے‘‘۔ ۱؎
    اس طرح اس پیشگوئی میں مندرجہ ذیل اُمور پوشیدہ تھے:
    اوّل: خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سے حمایتِ اسلام کی بڑی بنیاد ڈالے گا۔
    دوم: ایک خاص شخص پیداہوگا جو آسمانی رُوح اپنے اندر رکھے گا۔
    سوم: اللہ تعالیٰ ایسی اولاد پیدا کرے گا جن کا یہ کام ہو گا کہ وہ ان نوروں کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں پھیلا وے جن کی تخمریزی حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمائی۔
    ان تینوں باتوں کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں لائے۔
    سوچو! اور غور کرو!! کہ کیا یہ انسانی کام تھا؟ خدا تعالیٰ کی پسندیدگی کیا انسانی تصرف کے ماتحت ہو سکتی ہے؟ کیا کوئی اپنی اولاد کے متعلق اس قسم کے دعوے کر سکتا ہے؟ کہ ایک لڑکا خاص امتیاز کا مالک ہوگا باقی کی ساری اولاد اس مقصد کی حمایت اور اشاعت میں ہمہ تن لگ جائے گی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لے کر آئے۔ کون قبل از وقت کہہ سکتا ہے کہ اس کے اولاد ہوگی اور پھر اگر ہوگی تو وہ اِس مقصد کے پورا کرنے والی ہوگی جس کے لئے وہ مامور ہوا ہے۔ یہ سب کچھ سوائے منشاء الٰہی کے نہیں ہوسکتا۔ اسی پر بس نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تعلق پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
    ’’یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔ اُسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاںبیگم ہے۔ یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے‘‘۔ ۲؎
    ان عبارتوں سے مندرجہ ذیل امور خوب واضح ہوتے ہیں:
    ۱۔ نصرت جہاں بیگم کے ذریعے ایک خاندان بنے گا۔
    ۲۔ اس خاندان میں ایک آسمانی روح والا لڑکا ہوگا۔
    ۳۔ باقی اولاد بھی حضرت مسیح موعود ؑکے مشن کو تمام دنیا میں پھیلا دے گی۔
    ۴۔ اس خاندان کے ذریعے تمام جہان کی مدد کی جائے گی۔
    یہ امور تھے جن کے لئے خدا تعالیٰ نے خود اپنی مرضی سے اپنے ہاتھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعلق حضرت اُمُّ المؤمنین سے جوڑا۔ اِس مقصد اور غرض کو دیکھ کر بآسانی یہ اندازہ لگ سکتا ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین نصرت جہاں بیگم کس شان کی خاتون ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی پیدائش
    ۱۸۶۵؁ء میں آپ کی پیدائش حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کے مشکوئے معلّٰی میں حضرت نانی اماں سیّد بیگم صاحبہؓ کے بطن مبارک سے دہلی میں ہوئی۔ حضرت میر صاحبؓ عنفوانِ جوانی میں تھے۔ اُن کے سر پر سے والد کا سایہ اُٹھ چکا تھا۔ کئی قسم کے مشکلات تھے اور بیکاری کا زمانہ تھا۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی پیدائش کی برکات
    جس طرح اہل اللہ کی پیدائش بہت سی برکات کا موجب ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت اُمُّ المؤمنین کی پیدائش بھی بہت سی برکات لے کر آئی۔ تنگی فراخی سے بدل گئی۔ ناکامیاں کامیابیوں میںتبدیل ہوگئیں۔ چنانچہ غدر کا یہ لُٹا ہوا گھرانہ پھر نسیمِ رحمت کی آماجگاہ بن گیا۔ حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کی بیکاری جاتی رہی اور ان کو کام مل گیا۔ ناصری گنج کی جائیداد جس کے حصول کے لئے جناب خواجہ میر ناصر امیر صاحب حضرت اُمُّ المؤمنین کے دادا ناصری گنج کی طرف گئے تھے اور اسے حاصل کئے بغیر فوت ہوگئے تھے اس جائیداد کا ایک حصہ خود بخود بغیر کسی سعی کے مل گیا۔ اس طرح برکات سماوی کا دروازہ کھل گیا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مناسبت
    اس سلسلہ میں حضرت اُمُّ المؤمنین کے خاندان کی حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کے خاندان سے ایک بڑی مناسبت ہے۔
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ایک شاہی خاندان تھا۔ ہندوستان سے باہر جب کہ وہ سمر قند میں آباد تھے وہ سلطنت اور جاگیر کے مالک تھے اور ہندوستان میں آ کر پھر دریائے بیاس کے کنارے ایک بڑی جاگیر کے مالک ہوئے جو بعد میں ایک خود مختار حکومت کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش سے قبل یہ حکومت سلطنت، شوکت، دولت سب ختم ہو گئی تھی اور آپؑ کے والد صاحب نے بڑے مصائب کا زمانہ دیکھا۔ ایک دفعہ سکھوں نے ان کو بسراواں کے قلعہ میں قید بھی کر دیا تھا وہ قادیان سے نکالے بھی گئے۔ ان کے والد صاحب کو پیادہ پا ہندوستان کا سفر بھی کرنا پڑا۔ مگر یہ سب مشکلات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے ساتھ ہی دور ہوگئیں اور خاندان مسیح موعود ؑعنایاتِ الٰہی کا مورد بن گیا۔
    چلنے لگی نسیم عنایاتِ یار سے‘‘۳؎
    بالکل اسی طرح خواجہ میر درد کا گھرانہ اپنی دولت و ثروت ختم کر چکا تھا۔ نواب خانِ دَوران کی حکومت، دولت لُٹ کر ایران جا چکی تھی۔ رہی سہی کسر غدر نے نکال دی۔ دہلی سے یہ خاندان پیادہ پا نکلنے پر مجبور ہوا۔ گھروں میں جو کچھ تھا وہیں چھوڑنا پڑا۔ ملک سے بے ملک ہوئے۔ گھر سے بے گھر ہوئے اور جس طرح خاندانِ مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۳۵؁ء میں نسیم رحمت کو حضرت مسیح موعود ؑ کی پیدائش سے قبل چلتے دیکھا اور انہوں نے اطمینان کا سانس لیا، اور اُجڑے ہوئے گھر میں خاندان واپس آ گیا۔ بالکل اسی طرح اس بابرکت رُوح کی پیدائش کے ساتھ ہی اس خاندان کی حالت بدل گئی اور خاندان کے دن فارغ البالی کی طرف عود کر آئے اور اس برکت کو والدین نے پہلے ہی محسوس کر لیا تھا اور یہ تاریخ کا ایک اہم واقعہ جو دونوں خاندانوں کی یکساں کیفیت کو بیان کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
    الغرض یہ خاتون اسی طرح اپنے باپ کے خاندان کے لئے بچپن سے ہی اور اپنے بطن سے پیدا ہونے والے خاندان کے لئے ہمیشہ بابرکت ثابت ہوئیں۔ حضرت اُمُّ المؤمنین کی بچپن کی عمر تمام ان مقامات پر گذری جہاں جہاںحضرت میر صاحبؓ کو ملازمت کے سلسلہ میں رہنا پڑا۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی پرورش رزقِ حلال سے ہوئی
    اسلام نے جہاں کھانے پینے کے مسائل بیان فرمائے ہیں وہاں یہ حکم دیا ہے۔ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّبًا کہ تمہارا کھانا اور پینا حلال اور طیب ہو۔ غذائوں کا جسم پر جو اثر ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ ہم جس قسم کی غذائیں کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم پر اسی قسم کا اثر ڈالتی ہیں اورجس قسم کا اثر ہمارے جسم پر پڑتا ہے۔ اسی قسم کا اثر ہمارے اخلاق اور روح پر پڑتا ہے۔ اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ہماری غذا عام نہیں رہتی بلکہ اسے لطیف بنا دیا جاتا ہے وہ ٹھوس نہیں ہوتی اسے سیّال کر دیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں بھنا ہوا گوشت، بٹیر، مرغ، پلائو، زردہ ثقیل اور دیر ہضم غذائیں ہمارے لئے مہلک ثابت ہو جاتی ہیں۔ لیکن یخنی، دودھ، سوڈا، پھلوں کے رس ہمارے لئے زندگی بخش ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح مُردار یا سڑی گلی کچی غذائیں ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوتی ہیں۔ ایسے ہی وہ غذائیں جو ناجائز مال سے تیار کی جائیں وہ مُردار اور سڑی گلی اور ناقص غذائوں کی ذیل میں ہی آتی ہیں۔ ایسی غذائوں سے جو جسم بنتا ہے اس کو روحانیت سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدبودار چیز کھا کر مسجد میں نہ آئو۔ جس چیز سے مومنوں کو تکلیف ہوتی ہے اس سے ملائکہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اس قول نبویؐ کے ذریعے کتنا لطیف سبق ہم کو دیا گیا۔ ہمارا مذاق کس قدر پاکیزہ ہونا چاہئے کہ پبلک مقامات پر کسی بدبو والی چیز کا اثر لے کر نہ جائیں بلکہ جمعہ کے دن خوشبو استعمال کرنے کا حکم دیا۔ جو مذہب اس قدر اعلیٰ تعلیم دے وہ کب اس امر کو پسند کر سکتا ہے کہ ایسی غذائیں جو کسب حرام سے میسر ہوں ان کو کھائو۔ اس کا یہی فلسفہ ہے کہ انسان کے اندر ایسا خون صالح بنے کہ جس کے اثرات رُوح پر نہایت پاکیزہ ہوں۔ اس فلسفہ کے ماتحت جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی پرورش ایسے رنگ میں ہوئی کہ کبھی زندگی بھر ان کے منہ میں ایک نوالہ نہیں گیا جو ایسے مال سے بنایا گیا ہو جو ناجائز ہو تو کتنی عظمت معلوم ہوتی ہے آپ کے وجود کی کہ سارا جسم ان پاکیزہ غذائوں سے تیار ہوا جن میں کبھی کسی قسم کی حرام کی ملونی نہ تھی۔ اس سے جو خون پیدا ہوتا تھا وہ بھی صالح تھا۔ اس لئے اس وجود کا تعلق غذائوں کے فلسفے کے ماتحت قدرتی طور پر روحانی عالم کے ساتھ تھا اور بے شک ایسی پاکیزہ ہستی جو حسب و نسب کے لحاظ سے اعلیٰ تھی اور اپنی ذاتی پاکیزگی کی وجہ سے بھی اعلیٰ اور ارفع تھی۔ اس قابل تھی کہ وہ اس زمانہ کے نبی ؑ کی بیوی بنے اور اُن نوروں کی ماں بنے جن پر آئندہ دنیا کے امن کا انحصار ہے۔
    آپ کی تعلیم
    پانچ چھ سال کی عمر میں گھر کی چاردیواری میں قرآن کریم، اُردو نوشت و خواند کی تعلیم شروع ہوئی جو حضرت میر صاحبؓ نے خود ہی کرائی۔ حضرت اُمُّ المؤمنین بچپن ہی سے زیرک، فہیم اور سلیقہ شعار تھیں۔ حضرت میر صاحبؓ کی زندگی کچھ ملازمت کے سلسلہ میں اور پھر قادیان میںہجرت کی صورت میں پنجاب ہی میں گذری۔ مگر حضرت میر صاحبؓ کے گھر کا طور و طریق بالکل دلّی کی قدیم تہذیب کے مطابق رہا۔ اس لئے حضرت اُمُّ المؤمنین کے باوجود پنجاب میں پرورش پانے کے دہلی کی طرز زندگی، بود ماند کے طریقے وہی رہے۔ باوجود اس کے کہ پنجابی زبان پر ان کو ایک قدرت حاصل ہے۔ مگر اُردو زبان پر آپ کو آج بھی ایسا اقتدار ہے گویا کہ وہ دہلی سے کبھی جدا ہوئیں ہی نہیں۔ جہاں جہاں حضرت میر صاحبؓ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں رہے، حضرت اُمُّ المؤمنین اپنے کنوار پنے میں وہاں رہیں اور شادی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ان مقامات پر ان کے والدین سے ملانے لے جایا کرتے تھے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا نام
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا اصلی نام نصرت جہاں بیگم تھا۔ مگر بعد میں حضرت میر صاحبؓ نے وہابیّت کے اثر کے ماتحت آپ کا نام عائشہ بھی رکھا اور خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کا نام خدیجہؓ رکھا۔ اس لئے آپ کے تین نام ہوئے یعنی نصرت جہاں بیگم، عائشہ بیگم، خدیجہ بیگم۔ خاندان کی بوڑھی بیگمات آپ کو نصیرالجہان کے نام سے بلایا کرتی تھیں۔ چنانچہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن نے میری درخواست پر جو مضمون تحریر فرمایا۔ اس میں آپ کے نام کے متعلق لکھا ہے:
    ’’والد صاحب حضرت میر صاحبؓ نے آپ کا نام بسبب وہابیت کے اثر کے عائشہ بیگم تبدیل کر دیا تھا گو اصلی نام نصرت جہاں تھا جسے بعض بوڑھی عورتیں خاندان کی اب بھی نصیر الجہان کے لفظ سے ادا کرتی ہیں۔ مگر حضرت والد صاحبؓ عائشہ بیگم کے نام سے ہی پکارا کرتے تھے۔جب تک کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریروں کی وجہ سے اصلی نام مشہور عالم نہ ہو گیا‘‘۔
    یہ تینوں نام ایک حقیقت پر مشتمل ہیں۔ نصرت جہاں بیگم نام کے معنی تو حضرت مسیح موعود ؑ ؑنے خود فرمائے ہیں کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔ ۴؎
    اگرچہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے لکھا ہے کہ وہابیت کے اثر کے ماتحت آپ کا نام حضرت نانا جانؓ نے عائشہ بیگم کر دیا تھا۔ مگر مَیں تو اسے الٰہی تقدیر سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ اِس نصرت جہاں بیگم کو اس زمانہ کی خدیجہؓ اور عائشہؓ بنانا چاہتا تھا۔ اس لئے کسی بھی اثر کے ماتحت اُن کے والد کی زبان سے بچپن ہی میں اُن کا نام عائشہ بھی رکھوا دیا تھا۔ اُن کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ لڑکی کل کو ایسے شخص کی بیوی بنے گی جسے خدا تعالیٰ نے بروز محمدؐ ٹھہرایا ہے اور اس طرح وہ اس زمانے کی عائشہ بھی کہلائے گی۔ اُمّ المومینن آپ کا خطاب ہے۔ اُمّ محمود آپ کی کنیت ہے۔ آپ نے اپنے بعض اعلانات میں جو الفضل اور الحکم اور دیگر سلسلہ کے اخبارات یا رسالہ جات میں شائع کرائے اپنی کنیت اُمّ محمود کو استعمال کیا ہے۔
    اُمُّ المؤمنین آپ کا خطاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شادی کے بعد ہوا۔ اس خطاب پر آج بھی بعض لوگ چڑتے ہیں اور وہ مائی صاحبہ یا بیوی صاحبہ کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح آپ کے ناموں نصرت جہاں بیگم، عائشہ بیگم، خدیجہ بیگم میں ایک سرّ مخفی تھا جو اپنے وقت پر آ کر کھولا گیا۔ اسی طرح اُمُّ المؤمنین کا خطاب بھی اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا تھا۔ چنانچہ ۱۹۰۱ء ؁کی بات ہے ایک روز مغرب کی نماز کے وقت خدا تعالیٰ کا فرستادہ نبی ؑ اپنے خدام کے حلقے میں جلوہ افروز تھا کسی نے عرض کی کہ:
    ’’اُمُّ المؤمنین کا لفظ جو مسیح موعود ؑ کی بیوی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں‘‘۔
    حضرت اقدس ؑ نے سن کر فرمایا:
    ’’اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غور کرتے اور اس قسم کے اعتراضات صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بناء پر کئے جاتے ہیں۔ورنہ اگر نبیوں یا ان کے اظلال کی بیویاں اگر اُمہاتُ المومنین نہیں ہوتیں ہیں تو کیا ہوتی ہیں؟ خداتعالیٰ کی سنت اور قانونِ قدرت کا اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین کیوں کہتے ہو پوچھنا چاہیئے کہ تم بتاؤ جو مسیح موعود ؑ تمہارے ذہن میں ہے اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آ کر نکاح بھی کرے گا کیا اس کی بیوی کو تم اُمُّ المؤمنین کہو گے یا نہیں؟ مسلم میں تو مسیح موعود ؑ کو نبی ہی کہا گیا ہے اور قرآن شریف میں انبیاء علیھم السلام کی بیویوں کو مومنوںکی مائیں قرار دیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت اور بُغض میں ایسا تجاوز کرتے ہیں کہ منہ سے بات کرتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہو گا۔
    جن لوگوں نے مسیح موعود ؑ کو شناخت کر لیا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے فرمودہ کے مطابق اس کی شان کو مان لیا ہے۔ ان کا ایمان تو خود بخود انہیں اس بات کے ماننے پر مجبور کرے گا اور جو آج اعتراض کرتے ہیںیہ اگر رسول اللہ ﷺ کے وقت میں بھی ہوتے تب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آتے۔
    ’’یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ خدا کا مامور جو ہدایت کرتا ہے اور روحانی علاج کا موجب ہوتا ہے۔ وہ درحقیقت باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔ افلاطون حکیم لکھتا ہے کہ باپ تو روح کو آسمان سے زمین پر لاتا ہے مگر استاد زمین سے پھر آسمان پر پہنچاتا ہے۔ باپ کا تعلق تو صرف فانی جسم کے ہی ساتھ ہوتا ہے۔ مُرشد اور مُرشد بھی وہ جو خدا کی طرف سے ہدایت کے لئے مامور ہوا ہو اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے۔ جس کو فنا نہیں ہے۔ پھر جب وہ روح کی تربیت کرتا ہے اور اس کی روحانی تولید کا باعث ہوتا ہے تو وہ اگر باپ نہ کہلائے گا تو کیا کہلائے گا۔ اصل یہی ہے کہ یہ لوگ رسول کریم ﷺ کی باتوں پر بھی کچھ توجہ نہیں کرتے ورنہ اگر ان کو سوچتے اور قرآن کو پڑھتے تو یہ منکرین میں نہ رہتے۔‘‘ ۵؎
    یہ بحث کسی مزید توضیح یا تشریح کی محتاج نہیں بلکہ اس سے نبوت مسیح موعودؑ کا مسئلہ بھی کلّی طور پر حل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انبیاء کی بیویوں کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ وہ اُمّہات المومنین کہلاتی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ آنے والے مسیح موعود ؑ کے متعلق تو جمہور مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ اس کی بیوی اُمُّ المؤمنین ہی کہلائے گی اور ایسے معترضین کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ اگر رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو بھی یہ اعتراض کرتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے اعتراض کرنے والے ایک اندرونی جذام میں مبتلا تھے۔ ایک کوڑھ تھا جو ان کو اندر ہی اندر کھاتا جاتا تھا۔جس نے ان کے ایمان کی عمارت کو جڑوں تک کھوکھلا کر دیا تھا۔
    پس اُمُّ المؤمنین اس لئے اُمُّ المؤمنین ہے کہ وہ ایک نبی کی بیوی ہے۔ اور وہ اس لئے اُمُّ المؤمنین ہے کہ مسیح موعود ؑ کی بیوی ہے۔ وہ اس لئے اُمُّ المؤمنین ہیں کہ وہ ہمارے ایسے باپ کی زوجہ ہیں جو انسانی روح کی تولید کرتا ہے۔ اس لئے یہ حتمی فیصلہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے اعتراضات کرتے تھے یا کرتے ہیں یا کریں گے ان کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کو نہ معرفت حاصل ہے اور نہ قرآن اور نہ حضرت رسول کریمؐ کی احادیث پر کوئی ایمان ہے۔ پس اس سے حضرت اُمُّ المؤمنین کے مقام اور شان کا بآسانی پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ کیوں اور کیسے اُمُّ المؤمنین کہلائیں۔
    اُمُّ المؤمنین کہلانے کا حق صرف اماں جان ہی کو ہے!
    دسمبر ۱۹۲۴ء؁ میں حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سیّدہ امۃ الحی مرحومہ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا تھا۔ کہ ’’وہ بھی ایک رنگ میں آپ کی والدہ ہیں۔‘‘ اس پر بعض دوستوں کو غلط فہمی ہوئی اور انہوں نے حضرت امیرالمومنین کی بیویوںکو بھی اُمُّ المؤمنین لکھنا شروع کر دیا۔ اس پر آپ نے ۱۹ دسمبر کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
    ’’بعض دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ انہوں نے میری بیویوں کی نسبت اُمُّ المؤمنین کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس خیال سے کہ کسی کے لئے یہ امر ٹھوکر کا موجب نہ بن جائے۔ میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُمُّ المؤمنین کا خطاب صرف انبیاء ؑ کی بیویوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ بعض محاورے خاص ہوتے ہیں۔ جن کو عام نہیں کیا جا سکتا۔…… پس بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیںکہ وہ ایک خاص مقام پر جا کر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کا استعمال جائز نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ایک شخص جس کے پاس ایک پیسہ یا پانچ سات روپے ہوں ہم کہتے ہیں کہ اس کے پاس مال ہے لیکن ہم اس کو مالدار نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ ایک ایسا محاورہ ہو گیا ہے جو ایک خاص مقدار پر پہنچ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اُمُّ المؤمنین کا لفظ انبیاء کی بیویوں کے ساتھ ہی خصوصیت رکھتا ہے اور یہ مرتبہ انبیاء سے قُرب اور تعلق کی وجہ سے ان کو دیا جاتا ہے کیونکہ جب خاوند ایک عزت اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو ساتھ ہی اس کے بیوی بچے بھی عزت اور احترام کے لحاظ سے اس مرتبہ کو حاصل کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ۔
    ’’پس جس روز سے ایک شخص بادشاہ ہو جاتا ہے۔اس روز سے اس کی بیوی بھی ملکہ ہو جاتی ہے۔ کوئی یہ نہیںکہہ سکتا کہ وہ ملکہ کیوں ہو گئی۔
    ’’اس مسئلہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے شیعوںنے ٹھوکر کھائی ہے۔ ایک طرف تو اتنی افراط سے کام لیا کہ اولاد کو نبوت میں شریک سمجھ لیا اور دوسری طرف اتنی تفریط کی کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج کی کچھ شان ہی نہیں سمجھی۔ انبیاء کی عظمت ایسی بلند ہوتی ہے جیسا کہ زمین کے لوگ ستاروں کو دیکھیں۔ مگر تعلق کی وجہ سے اور ان کے غم اور خوشی میں شریک ہونے کے باعث قُرب کے لحاظ سے ان کے بیوی بچے بھی بلند کئے جاتے ہیں۔ ان کے اس حق کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔
    ’’پس نسبتی طور پر تو ہو سکتا ہے کہ کوئی عورت کسی نسبت کے لحاظ سے ماں کہلائے جیسا کہ خلیفہ ایک رنگ میں روحانی تربیت،محبت اور ہمدردی کے باعث ایک باپ ہوتا ہے اور اس کی بیویاں اس کی وجہ سے مائیں کہلا سکتی ہیں مگر اُمُّ المؤمنین کے نام کی صرف نبیوں کی بیویاں مستحق ہیںکیونکہ ان پر وہی احکام جاری ہوتے ہیں جو ماؤں کے متعلق ہیں۔ نبی کی وفات کے بعد نبی کی بیوی سے نکاح اسی طرح حرام ہوتا ہے۔ جس طرح کہ سگی ماں سے۔ لیکن استاد یا خلیفہ کی بیوی سے نکاح جائز ہے اور خلفاء کی بیویوں کا خلفاء کی وفات کے بعد نکاح کرنا ثابت ہے۔
    ’’پس اُمُّ المؤمنین کی اصطلاح انبیاء ؑ کی بیویوں کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہے۔ ہاں استاد کی بیوی کو خلیفہ کی بیوی کو والدہ کہہ سکتے ہیں مگر اُمُّ المؤمنین نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کسی اور کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کرنا شریعت کے خلاف ہے۔‘‘ ۶؎
    اس ساری بحث سے میری غرض حضرت اُمُّ المؤمنین کے صحیح مقام کو پیش کرنا ہے۔ حضرت امیرالمومنین کے ارشاد کے بموجب اُمُّ المؤمنین ایک خطاب ہے۔ جو صرف نبی کی بیوی کے لئے مختص ہے۔
    پس حضرت اُمُّ المؤمنین کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجود گی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم میں قوم کا ان کو اُمُّ المؤمنین کہنا۔ پھر معترضین کا اعتراض کرنا اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ان معترضین کو منہ توڑ جواب دینا۔ پھر حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح کا اس امر کو واضح کر دینا کہ یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو صرف نبی کی بیوی کے لئے مختص ہے۔ ایک طرف مسئلہ نبوت پر کھلی روشنی ڈال رہی ہے۔ دوسری طرف ان تمام بدگمانیوں اور شکوک کا ازالہ کر رہی ہے۔ جو حضرت اُمُّ المؤمنین کی شان کو کم کرنے کے لئے پیدا کئے جاتے رہے۔
    قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِکِ النَّاسِo اِلٰہِ النَّاسِo مِنْ شَرِّالْوَاسْوَاسِ الْخَنَّاسِo الَّذِی یُوَسْوِسُ فِی صُدُوْرِالنَّاسِo مِنَ الجِنَّۃِ وَالنَّاسِo
    الٰہی! تو ہم کو اپنی پناہ میں لیلے۔ تاہم خناسوں کے وساوس سے محفوظ رہیں جواندر ہی اندر سینہ بسینہ پھونکنے کی کوشش کرتے رہے یا اب بھی کرتے ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی شادی
    میں لکھ چکا ہوں کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی پیدائش ۱۸۶۵ء؁ میں ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش ۱۸۳۵ء؁ میں ہوئی۔ اس طرح حضرت اُمُّ المؤمنین کی عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تیس سال کم تھی اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شادی آپ سے ہوئی اس وقت حضرت مسیح موعودؑ کی عمر انچاس سال تھی اور حضرت اُمُّ المؤمنین کی عمر ۱۸ سال یا ۱۹ سال کی تھی۔ اس شادی کی تقریب کیسے پیدا ہوئی؟حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی ۱۸۴۹ء؁ میں ہوئی تھی۔ اورغالباً ۱۸۵۰ء؁ میں میرزا سلطان احمدصاحب پیدا ہوئے تھے اور پھر میرزا فضل احمد صاحب پیدا ہوئے تھے۔ اس کے بعد حالات کچھ ایسے پیدا ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعلق پہلی بیوی سے رسمی طور پر رہ گیا اور عرصہ بیس سال سے اولاد ہونی بند ہو چکی تھی۔ اس حالت میں آپ کو ایک الہام ہوا۔ اِنَّانُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَسِیْنِ ۷؎ یہ سب سے پہلی بشارت تھی۔ جو اس حالت میں جبکہ آپؑ کی موجودہ بیوی سے عرصہ بیس سال سے اولاد ہونی بند ہو چکی تھی۔ یہ الہام اپنے اندر شادی کی بشارت لئے ہوئے تھا۔ مگر اس وقت سننے والوں کو تعجب ہوا۔ اس کے بعد پھر الہام ہوا۔ اُشْکُرْ نِعْمَتِیْ رَأَیْتَ خَدِیْجَتِیْ ۸؎
    اس الہام میں اس دلہن کا نام خدیجہ رکھا گیا۔ نزول المسیح کے صفحہ ۱۴۷ میں تحریر فرمایا:
    ’’یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا۔… اور خدیجہ اسلئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے۔ جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم سے ہوگی۔
    پھر الہام ہوا۔ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ الصِّھْرَوَالنَّسْبَ- یعنی وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سیّد تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا ۔ جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے۔‘‘ ۹؎
    پھر بوقت عصر الہام ہوا:
    ’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔ یہ سب سامان میں خود ہی کرونگا۔ اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔
    ہرچہ باید نوعروسے را ہماں ساماں کنم
    وآنچہ مطلوب شماباشد عطائے آں کنم۱۰؎
    اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے دوسری شادی کے متعلق خود اپنے ارادے کا اظہار فرمایا۔اس میں سب سے پہلا لفظ جو قابل غور ہے وہ ’میں نے ارادہ کیا ہے‘ کا لفظ ہے۔ ارادہ عربی لفظ ہے۔ قرآن کریم میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔مثلًاقرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اِنَّمَا اَمْرُہٗ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُo فَسُبْحَانَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَo۱۱؎
    یعنی جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ہے۔ تو اس کا حکم یہی ہوتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ پاک ہے وہ خدا جس کے قبضہ میںہر چیزکی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پس خدا تعالیٰ جو خالق الاسباب ہے اور ساری کائنات کا مالک و حاکم ہے اس کے ارادے میں کون روک ہو سکتا ہے۔ پس اس کا ارادہ ایک تقدیر مبرم اور اٹل ہے۔ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر اس کاارداہ ٹل نہیں سکتا۔
    خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور بھی ایک اٹل تقدیر تھی جو انسانی منصوبوں سے ٹل نہیں سکتی تھی۔ اس ظہور کی بڑی غرض یہ تھی کہ خداتعالیٰ جس نے دنیا سے اپنا چہرہ چُھپا لیا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر اپنا روئے منور دنیا پر ظاہر کرے۔وہ چاہتا تھا کہ ایک سورج کی طرح اپنی کرنیں ایک دفعہ پھر تاریک دنیا پر ڈال کر زندگی،روشنی،نور اور معرفت و حیات کا عالم پیدا کرے۔ وہ دنیا کو اس مادی اور دہریت کے زمانہ میں ایک دفعہ پھر اپنے کلام سے مست و دیوانہ بنانا چاہتا تھا۔ اس نے ایک دفعہ پھر چاہا کہ وادیٔ غیر ذی زرع کی روحانیت کو دنیا پر آشکارا کرے۔
    ا س نے ایک دفعہ پھر چاہا کہ وہ ابراہیم ؑ و موسیٰؑ و عیسیٰؑ کے نظارہ سے زمین کو آسمان کی ہم پلّہ بنادے اس نے چاہا کہ ایک دفعہ پھر گنگا کی وادی میں محبت کی بنسری بجانے والا کرشن بھیج کر دنیا کو مست وبیخود بنادے۔ یہ اٹل اور بالکل اٹل ارادہ تھا۔ جس نے اس محبوب و دلر باودلنواز کو دنیا میں بھیجا۔ بالکل وہی اٹل تقدیر تھی اور اس مالک الکل کی تقدیر تھی کہ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اپنے اس محبوب اور پیارے کے لئے ایک اور شادی کا انتظام کرے۔
    اس الہام میں دوسرا فقرہ ’ایک اور شادی کروں‘ کا ہے۔ جو قابل غور ہے۔ ’’ایک اور‘‘ کا لفظ اسی جگہ بولا جاتا ہے۔ جہاں پہلی چیز کافی نہ ہو یا اس ضرورت کو پوری نہ کرتی ہو۔ جس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کوئی چیز وضع کی گئی تھی یہی دنیا کا دستور ہے۔ الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں ’ایک اور‘ کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے۔ جبکہ پہلی چیز کافی نہ ہو۔ بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بیوی پہلے سے موجود تھیں مگر جن اغراض و مقاصد کو لیکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں مبعوث کئے گئے تھے۔ ان مقاصد کے بوجھ اور ان ذمہ داریوں کی وہ بیوی متحمل نہ ہو سکتی تھیں۔ جیسے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ منشاء الٰہی تھا کہ:
    ۱۔ایک آسمانی روح والا لڑکا پیدا کیا جائے۔
    ۲۔ اور ایسی اولاد پیدا کرے۔ جو ان نوروں کو تمام دنیا میں پھیلا دے۔
    ۳۔ اور اس خاندان کے ذریعہ تمام دنیا کی مدد کی جائے۔
    ان امور کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بیّن فرق رکھ دیا اور وہ فرق وحی الٰہی نے یوں بیان فرمایا:
    ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی زاَدَمَجَدَکَ یَنْقَطِعُ اٰبَاؤُکَ وَیَبْدَأَمِنْکَ- ۱۲؎
    ’’سب پاکیاں خدا تعالیٰ کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے۔ اس نے تیرے مجد کو زیادہ کیا۔ تیرے آباء کا نام اور ذکر منقِطع ہو جائے گا۔ یعنی بطور مستقل ان کا نام نہیں رہے گا اور خدا تجھ سے ابتداء شرف اور مجد کا کرے گا۔‘‘
    اس وحی سے معلوم ہؤا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ پہلے خاندان کو ختم کر دے اور آپؑ کے وجود مبارک سے نئے خاندان کی بنیاد رکھے۔ اس نئے خاندان کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ’’تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہو گی اور میں تیری ذرّیت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔ مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر یک شاخ تیرے جدّی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی ۔ اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے ان کا گھر بیوائوں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہو گا۔ لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں ارد گِرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈرائونا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔ تیری ذرّیت منقطع نہیں ہو گی اور آخری دنوںتک سرسبز رہے گی۔ خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے۔ عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچادے گا۔‘‘۱۳؎
    اس وحی کا یہ مطلب تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نئے خاندان کی بنیاد رکھنے کے لئے پرانے خاندان کو ختم کر دیا جائے گا اور نئے خاندان کی بنیاد رکھی جائے گی۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جب کسی عظیم الشان قصر کی تعمیر مقصود ہوتی ہے تو تمام بوسیدہ عمارتوں کو گرا کر زمین کو صاف کر دیا جاتا ہے اور پرانی عمارت کی ایک اینٹ بھی نئی عمارت میں نہیں لگائی جاتی۔ بالکل اسی طرح خداتعالیٰ نے اس نئے خاندان کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے خاندان کو ختم کر دیا جائے گا اور نئے خاندان کو بڑھایا جائے گا۔ وہ کثرت سے ملکوں میں پھیل جائیں گے اور ان کو کبھی منقطع نہیں کیا جائے گا اور وہ آخری دنوں تک سرسبز رہیں گے اور وہ اس مقصد وحید میں لگے رہیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے مقصود تھا۔
    ان الہامات سے اس نئے خاندان کی شان و عظمت کا پتہ چلتا ہے اور اس کی غرض و غایت معلوم ہوتی ہے۔ یہ غرض اور یہ غایت اور یہ مقصد چونکہ پہلی بیوی سے پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ پہلی بیوی سے صرف دو لڑکے تھے۔ یعنی حضرت میرزا سلطان احمد صاحب اور میرزا فضل احمد صاحب۔ اوّل الذکر محکمہ مال میں ملازم تھے اور آخر الذکر محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور وہ اپنے دنیاوی کاروبار میں اس قدر منہمک تھے کہ اس مقصد کے لئے جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے کوئی وقت نہ دے سکتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ میرزا فضل احمد صاحب کو تو بیعت کرنے تک کا موقع نہ ملا اور حضرت میرزا سلطان احمد صاحب بھی حضرت مسیح موعود کی ساری زندگی میں بیعت نہ کر سکے۔ اس لئے چونکہ پہلی بیوی اور اس کی اولاد سے وہ مقصد پورا نہ ہو سکتا تھا اس لئے ایک اور کی طرف توجہ ہونی قدرتی امر تھا۔ اس لئے جس قدر اہم مقصد تھا اسی قدر اہم خاندان کی لڑکی کا انتخاب ضروری تھا ۔ سو ایسا ہی ہوا ۔ اس الہام میں تیسرا فقرہ یہ تھا کہ: ’سب کا م میں خود ہی کروں گا‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ تو ایسا تھا کہ کسی کو آپؑ کا علم ہی نہ تھا۔ آپؑ خود فرماتے ہیں:
    اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا
    ایسی گمنامی کی حالت میں رہنے والے انسان کے لئے نئی شادی کا انتظام کرنا کئی وجوہ سے بڑا مشکل تھا۔
    اوّل۔ خاندان کے افراد جو موجود تھے وہ تو سب آپؑ کے دشمن تھے۔ گھر کی مستورات کا یہ حال تھا کہ وہ اس قدر بھی پسند نہ کرتی تھیں کہ حضرت صاحبؑ کو کوئی کھانے کی چیز ہی تحفہ کے طور پر پیش کر دے۔ جیسے کہ نانی اماںؓ کی روایت میں قبل ازیں آ چکا ہے۔ چہ جائیکہ کوئی ان کو پہلی بیوی کی موجودگی میں اپنی بیٹی کا رشتہ دے۔
    دوم ۔رشتہ داروں سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ اس وقت دنیا کے کاموں میں انہماک تھا۔ جس سے حضرت اقدس کو دور کا بھی تعلق نہ تھا۔
    سوم ۔حضرت اقدس ؑ کی جسمانی حالت کسی شادی کی طرف راغب نہ تھی۔
    چہارم ۔عمر کا تفاوت بھی روک تھا۔
    پنجم۔ ایک بیوی کی موجودگی بھی روک تھی۔
    ششم۔ حضرت صاحبؑ اپنے رشتہ داروں میں تحریک کر ہی نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اس مقصد عظیم کے پورا کرنے کے لئے آپؑ کے خاندان میں کوئی بھی گھرانہ ایسا نہ تھا جس میں دینداری کی روح پیدا ہوتی۔
    ان حالات اور وجوہ کی موجودگی میں آپؑ کا شادی کے لئے کوئی تحریک کرنا اور پھر اس کا کامیاب ہو جانا بہت مشکل تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں سب سامان خود ہی کروں گا۔ اس الہام کا آخری فقرہ تھا: ’تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی‘ یعنی رشتہ کا انتخاب،شادی کے لئے ضروریات کا مہیا کرنا سب کچھ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ چنانچہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ویسے ہی ہوا۔ ادھر آسمان سے یہ تحریک ہو رہی تھی اُدھر حضرت میرناصر نواب صاحبؓ کو اپنی بلند اقبال صاحبزادی کے لئے رشتہ کی فکر تھی۔ حضرت میر صاحب جو پہلے ہی دن سے دعاؤں میں لگے ہوئے تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی بیٹی کے لئے صالح داماد ملنے کی دعا کے لئے لکھا ۔ حضرت مسیح موعود کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی شادی کیلئے تحریکیں ہو رہی تھیں۔ یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ رشتہ سادات میں ہو گا اور یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ وہ خاندان دہلی میں سکونت پذیر ہے۔ جب حضرت میر صاحبؓ کی طرف سے دعا کی تحریک ہوئی۔ تو آپؑ نے ایک خط حضرت میرصاحبؓ کو لکھا اگرچہ اصل خط محفوظ نہیں۔ مگر حضرت میر صاحبؓ کا بیان ہے:
    ’’اس کے جواب میں مجھے حضرت میرزا صاحبؑ نے تحریر فرمایا کہ میرا تعلق میری بیوی سے گویا نہ ہونے کے برابر ہے اور میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے۔ ایسا ہی تم کو سادات کے عالی شان خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا اور ا س نکاح میں برکت ہو گی اور اس کا سب سامان میں خود بہم پہنچاؤں گا۔ تمہیں کچھ تکلیف نہ ہو گی۔ یہ آپؑ کے خط کا خلاصہ ہے۔ اور یہ بھی لکھا کہ آپ مجھ پر نیک ظنی کر کے اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دیں اور تاتصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔‘‘ ۱۴؎
    حضرت نانی اماںؓ اس سلسلہ میں سیرۃ المہدی حصہ دوم میں بیان فرماتی ہیں:
    ’’ایک خط میر صاحبؓ نے تمہارے ابا کے نام لکھاکہ مجھے اپنی لڑکی کے واسطے بہت فکر ہے۔ آپ دعا کریں کہ خدا کسی نیک آدمی کے ساتھ تعلق کی صورت پیدا کر دے۔ تمہارے ابا نے جواب میں لکھا ۔ اگر آپ پسند کریں تو میں خود شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ کو معلوم ہے کہ گومیری پہلی بیوی موجود ہے اور بچے بھی ہیں ۔ مگر آج کل میں عملاً مجرد ہی ہوں۔ وغیرہ ذالک ۔میر صاحب نے اس ڈر کی وجہ سے کہ میں بُرا مانوں گی مجھ سے اس خط کا ذکر نہیں کیا اور اس عرصہ میں اور بھی کئی جگہ سے تمہاری اماں کے لئے پیغام آئے لیکن میری کسی جگہ تسلی نہ ہوئی۔ حالانکہ پیغام دینے والوں میں سے بعض اچھے اچھے متموّل آدمی بھی تھے اور بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے تھے۔
    ’’مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ تمہارے نانا کے بہت تعلقات تھے۔ انہوں نے کئی دفعہ تمہارے ابا کے لئے سفارشی خط لکھا اور بہت زور دیا کہ میرزا صاحبؑ بڑے نیک اور شریف اور خاندانی آدمی ہیں۔ مگر میری یہاں بھی تسلی نہ ہوئی کیونکہ ایک تو عمر کا بہت فرق تھا۔ دوسرے ان دنوں میں دہلی والوں میں پنجابیوں کے خلاف بہت تعصب ہوتا تھا۔ بالآخر ایک دن میر صاحبؓ نے ایک لدھیانہ کے باشندے کے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار کی درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی اسے رشتہ دے دو۔ میں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی تو مجھے شرح صدر نہ ہوا اور میں نے انکار کیا۔ جس پر میر صاحبؓ نے کچھ ناراض ہو کر کہا کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے۔ کیا ساری عمر اسے یونہی بٹھا چھوڑو گی۔ میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ؑہی ہزار درجہ اچھا ہے۔ میر صاحبؓ نے جھٹ ایک خط نکال کر میرے سامنے رکھ دیا کہ لو پھر میرزا غلام احمد ؑکا بھی خط آیا ہوا ہے جو کچھ ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔ میں نے کہا اچھا پھر غلام احمد کو لکھ دو۔ چنانچہ تمہارے نانا جانؓ نے اسی وقت قلم دوات لے کر خط لکھ دیا۔‘‘۱۵؎
    نانی اماںؓ کے بیان کے ساتھ حضرت نانا جان کے بیان کا بقیہ حصّہ دے دینا بھی ضروری ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں:
    ’’پہلے تو میں نے کچھ تأمل کیا۔ کیونکہ میرزا صاحب کی عمر کچھ زیادہ تھی اور بیوی بچہ موجود تھے اور ہماری قوم کے بھی نہ تھے۔ مگر پھر حضرت میرزا صاحب کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے جس کا میں دل سے خواہاں تھا۔ میں نے اپنے دل میں مقرر کر لیا کہ اسی نیک مرد سے اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کر دوں۔ نیز مجھے دلّی کے لوگ اور وہاں کی عادات و اطوار بالکل ناپسند تھے اور وہاں کے رسم و رواج سے سخت بیزار تھا۔‘‘ ۱۶؎
    ان دونوں بیانوں سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین کی اماں اور ابا کے دلوں میں الگ الگ قسم کے خیالات تھے اور الگ الگ قسم کے موانع۔
    حضرت میر صاحبؓ کے دل میں تین روکیںتھیں۔
    ۱۔عمر کا فرق
    ۲۔ پہلی شادی اور اولاد
    ۳۔ قوم کا فرق
    نانی اماںؓ کو پہلی روک یہ تھی کہ اول تو ان کا دل نہیں مانتا تھا۔ دوسرے عمر کا بہت فرق تھا۔ تیسرے دلّی والوں میں پنجابیوں کے خلاف سخت تعصب تھا۔
    ان موانع کے باوجود ایک چیز تھی جو اندر ہی اندر کام کر رہی تھی اور وہ حضرت میر صاحب کا یہ جذبہ تھا کہ ان کا داماد نیک اور صالح ہو۔ یہ ایک اعلیٰ مقصد تھا جس کے پیمانہ پر کوئی پورا نہ اُترتا تھا۔ درخواستیں کرنے والے لوگ اچھے متموّل تھے۔ مگر نیک اور صالح نہ تھے۔ حضرت میر صاحب کو دلّی کے لوگوں کے عادات اور اطوار سے سخت نفرت تھی۔ اس لئے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ میرا مربی و محسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرمائے۔ یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی اور آخر قبول ہوئی۔ آنحضرت ﷺ نے بیوی کے متعلق فرمایا کہ لوگ مال اور حسن کے لئے شادی کرتے ہیں۔ مگر آپ نے فرمایا۔ خُذْبِذَاتِ الدِّیْن۔تم دیندار عورت سے شادی کرو۔ بالکل اسی اصل کے ماتحت حضرت میر صاحبؓ اپنی صاحبزادی کے لئے دیندارخاوند کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے تھے اور خدا تعالیٰ سے رشتہ مانگا کرتے تھے۔ سو ان دعاؤں کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت میر صاحبؓ کو وہ کچھ دے دیا جو انہوں نے مانگا۔
    یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس وقت روئے زمین پر ایک ہی انسان تھا جو نیکوںکا سردار اور راستبازوں کا راستباز تھا۔ یعنی حضرت مسیح موعود ؑ اور اس وقت دنیا میں ایک ہی شخص تھا جو خدا کے حضور اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ہمیشہ خدا کے آگے رویا کرتا تھا اور گڑ گڑایا کرتا تھا اور وہ تھا میر ناصر نوابؓ۔ خدا نے اس کی دعاؤں کو سنا اور قبول کیا اور خود حضرت مسیح موعود ؑ کو تحریک کی اور خود حضرت میر صاحبؓ اور ان کی حرم کے دل میں باقی سب رشتوں سے نفرت پیدا کر کے صرف اور صرف حضرت مسیح موعود ؑ کیلئے انشراح پیدا کر دیا۔ اس طرح سے یہ ابتدائی مراحل طے ہو کر اس مبارک اور مقدس جوڑے کی نسبت قرار پا گئی جس سے ایک نئی دنیا ،ایک نیا خاندان،ایک نیا قصرِامن تعمیر ہونے والا تھا۔ جس رشتہ کے ذریعہ بننے والی دلہن خدیجہ ثانیہ بننے والی تھی اور خدیجہ ثانیہ کا شوہر بروز محمدؐبن کر جلوہ افروز ہونے والا تھا۔ جس جوڑے کے عالمِ وجود میں لانے کی ایک غرض ایک موعود بیٹا جس کی خبر آنحضرت ﷺ نے یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ کی بشارت سے دی تھی پیدا کرنا تھا اور ایک پاک نسل پیدا کرنی تھی جن کی مخالفت مخالفوں کو یزیدی اور جن کی محبت سعادت اور خداتعالیٰ کی رضا کا موجب بنانے والی ہے۔
    پس یہ مبارک جوڑا باوجود روکوں اور حالات کی ناموافقت کے خدا کی منشاء کے ماتحت نامزد ہو گیا۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَعَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَ خُلَفَائِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔ آمین
    تقریب نکاح اور اس کی کیفیت
    جس تاریخ کو خط لکھا اس تاریخ سے آٹھ دن بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلّی پہنچ گئے۔ حافظ حامد علی صاحبؓ بطور خادم کے ساتھ تھے۔ اور لالہ ملاوامل صاحب اور ایک دو اور آدمی ساتھ تھے۔ حضرت میر صاحبؓ کی برادری کے لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے کہ ایک بوڑھے شخص کو اور پھر پنجابی کو رشتہ دے دیا اور کئی لوگ اس ناراضگی کی وجہ سے شامل بھی نہ ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ساتھ کوئی زیور اور کپڑا نہ لے گئے تھے۔ صر ف ڈھائی سو روپیہ نقد تھا۔ اس پر بھی رشتہ داروں نے بہت طعن کئے کہ اچھا نکاح کیا ہے کہ نہ کوئی زیور ہے نہ کپڑا۔ حضرت میر صاحبؓ اور ان کے گھر کے لوگ لوگوں کو یہ جواب دیتے تھے کہ میرزا صاحبؑ کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ تعلقات نہیں ہیں۔ گھر کی عورتیں ان کی مخالف ہیں پھر وہ جلدی میں آئے ہیں۔ اس حالت میں وہ زیور کپڑاکہاں سے بنوا لاتے۔ مگر برادری کے لوگوں کا طعن و تشنیع کم نہ ہوا۔ ۱۷؎
    حضرت اُمُّ المؤمنین نے خود بھی اپنی شادی کے متعلق سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۴۴ پر ایک روایت بیان فرمائی جس کے بعض ضروری فقرات یہ ہیں:
    ’’پھر حضرت صاحبؑ مجھے بیاہنے دلّی گئے۔ آپؑ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملاوامل بھی تھے۔ نکاح مولوی نذیر حسین نے پڑھا تھا۔ یہ ۲۷ محرم ۱۳۰۲؁ ہجری بروز پیر کی بات ہے۔ اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی۔ حضرت صاحبؑ نے نکاح کے بعد مولوی نذیرحسین کو پانچ روپے اور ایک مصلّٰی نذر دیا تھا۔‘‘
    حضرت میر صاحبؓ نے لکھا ہے کہ نکاح ۱۸۸۵؁ء میں ہوا۔ مگر صحیح یہ ہے کہ نکاح نومبر ۱۸۸۳؁ء٭ میں ہوا تھا۔ حضرت میر صاحبؓ کو سن کے متعلق غلطی لگی وہ لکھتے ہیں:
    ’’اس نکاح کے متعلق سوائے ان کی رفیق بیوی کے کسی کو علم نہ تھا۔ حضرت صاحبؑ کو چپکے سے بلا بھیجا تھا۔‘‘
    خواجہ میر درد کی مسجد میں بین العصر والمغرب مولوی نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے نکاح پڑھا۔ وہ ڈولی میں بیٹھ کر آئے تھے کیونکہ بوجہ ضعف اور بڑھاپے کے وہ چل پھر نہیں سکتے تھے۔
    گیارہ سَو روپیہ مہر مقرر ہوا۔ حضرت میر صاحبؓ نے عین وقت پر اپنے اور اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو بلا بھیجا۔ اس لئے وہ کچھ نہ کر سکے۔ بعض رشتہ داروں نے گالیاں بھی دیں اور بعض دانت پیس کررہ گئے۔
    رسم و رسوم
    جانبین کی طرف سے کوئی رسم و رسوم کا نام تک نہ لیا گیا۔ ہر ایک کام سیدھا سادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاکؐ کے حکم وارشاد کے مطابق ہوا۔ جہیز کا سامان ایک صندوق میں بند کر کے کنجی حضرت صاحبؑ کو دے دی گئی اور چپ چپاتے حضرت اُمُّ المؤمنین کو رخصت کر دیا۔۱۸؎
    الغرض اس طرح سے نہایت سادگی کے ساتھ شریعت حقہ کے ارشاد کے مطابق اس پاک جوڑے
    ٭ میری تحقیق میں شادی کا سال ۱۸۸۴؁ء ہے۔ عرفانی کبیر۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی نکاح اور شادی نومبر ۱۸۸۴؁ء ہی لکھاہے۔ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ۵۸)
    کاتعلق مسجد خواجہ میر دردؒ میں بین العصر و المغرب باندھا گیا۔ حضرت میر صاحبؓ کے رشتہ دار برا بھلا کہہ رہے تھے۔ مگر آسمان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ برکات نازل فرما رہے تھے۔ کیونکہ اس وقت عالم روحانیت میں ایک تعمیر نو کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔
    اس زمانے میں بٹالے تک ریل بن چکی تھی۔ حضرت صاحبؑ رخصتانہ کرا کے حضرت اُمُّ المؤمنین کو لیکر قادیان آ گئے۔
    ایک اور روایت
    سیّد غلام حسین صاحب انیمل ہز بنیڈری٭ وٹرنری آفیسر بھوپال برادرحضرت قاضی سیّد امیر حسین صاحب نے مجھے بھوپال سے ایک روایت لکھی ہے:
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ نے مجھ سے فرمایا کہ ہم نے میرناصر نواب صاحب سے ایک دن یہ دریافت کیا کہ کیا آپ کوئی ایسی نیکی بتا سکتے ہیں۔ جس کے باعث آپ کی صاحبزادی حضرت مسیح موعود ؑ کے نکاح میں آئی۔ اس پر میر صاحب نے فرمایا کہ اور تو مجھے کچھ یاد نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ جب سے یہ پیدا ہوئی اس دن سے لیکر جس دن میں نے ان کو ڈولی میں ڈالا یہی دعا روزانہ کرتا رہا ہوں کہ اے خدا تو اس کو کسی بہت نیک کے پلے باندھیو۔‘‘
    میکے سے سُسرال میں
    حضرت اُمُّ المؤمنین دلّی سے رخصت ہو کر قادیان آئیں۔ نئی دلہنوں کی سُسرال میں بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے۔ چاؤ اور لاڈ ہوتے ہیں مگر حضرت اُمُّ المؤمنین ایک ایسی جگہ تشریف لائیں۔ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب رشتہ دار آپ کے مخالف تھے اور ان کو آپ سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کو یہاں کی تنہائی سے بڑی تکلیف ہوئی ان کے ساتھ دلّی سے ایک خادمہ فاطمہ بیگم ساتھ آئی تھیں۔ان کی بھی یہ حالت تھی کہ نہ ان کی کوئی سمجھتا تھا اور نہ وہ کسی

    ٭ Animal Husbandary
    کی سمجھتی تھیں۔ اس عالم تنہائی میںحضرت اُمُّ المؤمنین بہت گھبرائیں۔ انہوں نے خط لکھا کہ میں سخت گھبرائی ہوئی ہوںاور شاید میںاس غم اور گھبراہٹ سے مر جاؤں گی۔
    رخصتانہ سے ایک ماہ بعد حضرت میر صاحبؓ قادیان آ کر حضرت اُمُّ المؤمنین کو لے آئے۔ فاطمہ بیگم سے حضرت نانی اماں نے پوچھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ تو اس نے حضرت مسیح موعود ؑ کی بڑی تعریف کی اور کہا:
    ’’لڑکی یونہی شروع شروع میں اجنبیت کی وجہ سے گھبرا گئی ہو گی۔ ورنہ میرزا صاحبؑ نے تو ان کو بہت ہی اچھی طرح سے رکھا ہے اور وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔‘‘
    نانی اماںؓ نے حضرت اُمُّ المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا:
    ’’مجھے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ رکھا۔ مگر میں یونہی گھبرا گئی تھی۔‘‘ ۱۹؎
    ان بیانات سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کن حالات میں پہلی مرتبہ قادیان میں رہیں۔ گھر کے عام افراد سے تو میل جول نہ تھا۔ البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عَاشِرُوْا ھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کا کامل نمونہ تھے۔
    حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان
    میری درخواست پر حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک قیمتی مضمون لکھ کر شملہ سے بھجوایا۔ میں ان کی کرم فرمائی اور اس احسان کا ازحد شکر گزار ہوں۔ انہوں نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی زبانی ایک روایت تحریر فرمائی ہے:
    ’’اماں جان نے ایک دفعہ ذکر فرمایا۔ جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں سب کنبہ سخت مخالف تھا (اس وقت تک شادی کی ہی وجہ سے غالباً )۔ دو چار خادم مرد تھے اور پیچھے سے ان بچاروں کی بھی گھر والوں نے روٹی بند کر رکھی تھی۔ گھر میں عورت کوئی نہ تھی۔ صرف میرے ساتھ’فاطمہ بیگم‘ تھیں۔ وہ کسی کی زبان نہ سمجھتی تھیں نہ ان کی کوئی سمجھے۔ شام کا وقت بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے۔ تنہائی کا عالم،بیگانہ وطن، میرے دل کی عجیب حالت تھی اور روتے روتے میرا بُرا حال ہو گیا تھا نہ کوئی اپنا تسلّی دینے والا۔ نہ منہ دُھلانے والا،نہ کھانے پلانے والا، کنبہ نہ ناطہ، اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اُتری، کمرے میں ایک کھرّی چارپائی پڑی تھی۔ جس کی پائینتی ایک کپڑا پڑا تھا اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہو گئی۔
    ’’یہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہان کا بستر عروسی تھا اور سُسرال کے گھر میں پہلی رات تھی مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اے کھرّی چار پائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن! دیکھ تو سہی دو جہان کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہو گی بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے خادموں سے لگے ہوں گے انشاء اللہ۔
    ’’اگلی صبح حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک خادمہ کو بلوا دیااور گھر میں آرام کا سب بندوبست کر دیا۔‘‘
    یہ ہے شادی کی تفصیل۔ اس طرح وہ دُلہن جسے خدا نے نوعروسے کہا تھااور جس کو ’’خدیجتی‘‘ اپنی خدیجہ فرمایا تھا۔ اپنے عظیم الشان شوہر کے گھر میں آ گئی۔
    میرے عزیز دوست ثاقب صاحب زیروی جو ایک مخلص اور نوجوان شاعر ہیں۔ انہوں نے اس مبارک تقریب کے ذکر پر ایک نظم لکھ کر اس کتاب میں شائع کرنے کے لئے میرے پاس بھیجی ہے۔ میں ان کے اخلاص اور محبت کو مدنظر رکھ کر خوشی سے ان کی نظم کو جگہ دے رہا ہوں۔ (محمود عرفانی)
    ’’اُمُّ المؤمنین‘‘ کی شان
    معیّن وقت پر خالق نے مضرابِ حسین چھیڑا

    محبت اور اخوت کے ہوئے نغمات پھر پیدا
    چَھٹے ظلمت کے بادل مہر حق بالائے بام آیا

    زمیں والوں کو پھر سے نور و رحمت کا پیام آیا
    ندا آئی جہاں میں پھر ہمارا پہلواں جائے

    جہاں والوںکو جو اسلام کے آداب سکھلائے
    مٹائے جا کے ہر گلکاریٔ شرک و توہم کو

    بدل دے زہر خنداں سے جو تثلیثی تبسم کو
    جہاں کو خوابِ غفلت سے جگانا کام ہو جس کا

    ہر اک شے کو مٹا کر پھر بنانا کام ہو جس کا
    چناؤ میں محمد کا جواں٭؎ سب سے پسندآیا

    یقینا ایسے آڑے وقت میں تھا چاہئے ایسا
    جمالی سناں کے ہر ہتھیار سے آراستہ کر کے

    نگاہوں میں، جگر میں، دل میں نورِایزدی بھر کے
    فرشتوں کو دیا یہ حکم بس اک بار پھر جاؤ

    رفیق ایسا ہمارے پہلواں کے واسطے ڈھونڈو
    جو یکتائے زمانہ ہو رحیمی اور کریمی میں

    جہاں بھر میں بدل نہ مل سکے جس کا حلیمی میں
    ہو دل معمور جس کا درد جذبِ غمگساری سے

    کہ اُس کو کھیلنا ہے دنیا بھر کی بیقراری سے
    ہمارے دین پر جو جان تک دینا رَوا جانے

    برے کا جو بھلا چاہے بُرے کو جو بھلا جانے
    زمانے کے مصائب کو دعا و صبر سے جھیلے

    فلک کی گردشوں کی یورشوں سے شُکر سے کھیلے
    ہم اس کو اپنی شفقت سے بھراساغر پلائیںگے

    ہم اس کو اس زمانے کیلئے رحمت بنائیں گے
    خدیجہ کے مقدس نام سے اس کو ضیاء دیں گے

    اُسے اِس دَور کے سب مومنوں کی ماں بنا دیں گے
    فرشتے سن کے اس ارشاد کی تعمیل کو دوڑے

    جھپک میں آنکھ کی دنیا سے خوش اور شادماں لوٹے
    سروں کو خم کیا اور التجاکی! ملجا و ماویٰ!

    ترے لطف و کرم سے مل گیا ہے وہ دُرِّ یکتا!
    ہے جس کے حال پر تیرے کرم کی بارشِ پہیم

    وہ تیری بہتریں مخلوق ہے نصرت جہاں بیگم
    خدا کو یہ چناؤ بھی فرشتوں کا پسند آیا

    بنا کر پھر جہاں میں اس کو اُمُّ المؤمنیں بھیجا
    خدا اس ماں کو ہم سب سے زیادہ زندگی بخشے

    جہاں جس سے مزّین ہے اسے وہ ہر خوشی بخشے
    کہ اس کے بطن سے محمود سا گوہر ہوا پیدا

    مرا ہادی، مرا رہبر، مرا آقا، مرا پیارا
    ۲۰؎
    اُن پرانی مستورات میں سے جہنوں نے حضرت اُمُّ المؤمنین کو دُلہن بنے ہوئے دیکھا اب کوئی موجود نہیں۔ البتہ میرے محترم بھائی مولوی جلال الدین شمس صاحب کی پھوپھی جو مائی کاکو صاحبہ کے نام سے مشہور ہیں اور جو حضرت اُمُّ المؤمنین کی خادمہ ہیں اور ایک عشق و شوق سے خدمت کرتی ہیں نے مجھے سنایا کہ جب حضرت اُمُّ المؤمنین نئی نئی بیاہی ہوئی آئیں۔ یعنی ۱۸۸۳؁ء ٭کے نومبر یا دسمبر کے ابتدائی دنوں میں ہم بھی ایک دفعہ قادیان آئی ہوئی تھیں۔ تو ہم نے سنا کہ میرزا صاحب ’ووہٹی‘ بیاہ کر لائے ہیں۔ اس لئے ہم دیکھنے کے لئے چلی گئیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین ۱۸،۱۹ سال کی لڑکی تھیں۔ بالکل پتلی دبلی اور نحیف سی تھیں۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ پنجاب کے رواج کے بالکل خلاف،رنگین یا سرخ جوڑا نہ تھا۔ اس وقت کھلے پائچے کا غرارہ پہنے ہوئے تھیں۔ حضرت اُمُّ المؤمنین ہم کو دیکھ کر کمرے سے باہر آ گئیں اور ہم کو جب ایک دُبلی
    ٭ ۱۸۸۴؁ء
    سی کم عمر لڑکی سفید لباس میں نظر آئی تو ہم کو تعجب ہوا۔ اور ہم نے کہا کہ ’’اے کس طرح دی ووہٹی اے‘‘ اس کے بعد مائی کاکو صاحبہ بیان کرتیں ہیں کہ ہم نے پھر حضرت اُمُّ المؤمنین کی جو شان دیکھی اسے مَیں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔
    سب سے بڑی چیز جو انسان کو ہر ایک جاندار سے ممیز کرتی ہے نہ صرف ہر ایک جاندار سے ممیز کرتی ہے بلکہ انسانوں میں بھی ممتاز بناتی ہے وہ انسانی اخلاق ہیں۔ اس مختصر سی کتاب میں مَیں فلسفۂ اخلاق پر بحث نہیں کر سکتا۔ مگر اخلاق روحانیت کے لئے پہلا زینہ ہیں۔ ہمارے گھروںکی اندرونی زندگی کے خراب ہونے کے بڑے اسباب میں ایک اخلاقی تفاوت بھی ہے۔ میاں بیوی کی زندگی کی گاڑی اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک ان دونوں کا نقطہ نگاہ ایک نہ ہو۔ مثلاً فرض کر لو ایک گھر کا مالک مہمان نواز واقع ہوا ہے مگر بیوی کسی مہمان کو پانی پلانا بھی پسند نہ کرتی ہو تو اس کانتیجہ ظاہر ہے اس گھر میں ہر روز جنگ ہوتی رہے گی۔ بیوی کہے گی کہ مَیں تمہاری خدمت تو کر سکتی ہوں مگر یہ ہر آئے گئے کی خدمت مجھ سے نہیں ہو سکتی۔ مَیں ان لوگوں کی نوکر نہیں لگی ہوئی مَیں اپنا گھر لوگوں کیلئے لٹا نہیں سکتی۔
    الغرض اس قسم کی سینکڑوں ایسی باتیں پیدا ہوتی رہیں گی جن سے گھر خانہ جنگی کا مرکز بنا رہے گا۔ اسی طرح اگر میاں دیندار ہو اور بیوی دیندار نہ ہو، میاں فیاض ہو بیوی بخیل ہو، میاں تعلیم یافتہ ہو، بیوی جاہل ہو، میاں ہمدردِ خلائق ہو بیوی لوگوں کو دیکھ کر گھبراتی ہو۔ توان حالات میں مزاجوں میں چِڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے میاں بیوی خود اپنے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور ایسے گھر ہر وقت کی لڑائی کی آما جگاہ بنے رہتے ہیں۔ ان سے برکت، آرام اور چین چلا جاتا ہے۔ اس لئے صرف مرد کے اخلاق پر گھر کی عافیت مبنی نہیں بلکہ گھر کو جنت بنانے میں عورت کا بہت بڑا دخل ہے۔ عورت گھر کی ملکہ ہے، جہاں اس کی کلی حکومت ہوتی ہے وہ اگر چاہے تو اسے جنت بنا دے اور چاہے تو اسے جہنم بنا دے۔ اس لئے عورت کے اخلاق پر گھر کی بہتری اور بہبودی کا بڑا انحصار ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی اصلاح،تربیت،درستی کیلئے مبعوث ہوئے، ان کو وَسّع مکانک- یاتیک من کلّ فجّ عمیق ویاتون من کلّ فجّ عمیق کی بشارتیں ہو رہی تھیں۔ ایسی حالت میں اگر خدانخواستہ آپ کو ایسی بیوی ملتی جو ان ذمہ واریوں کا احساس نہ کر سکتی جو بحیثیت ایک نبی کی بیوی ہونے کے اس پر عائد ہوتی ہیں تو وہ کام جس کی تکمیل کے لئے آپؑ مبعوث ہوئے تھے بالکل ادھورا رہ جاتا۔ اس لئے اس کام کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ آپؑ کے بیوی بچے اس ذمہ واری کے بوجھ کو برابر کااُٹھائیں اور وہ اخلاق اور اعمال میں دوسروں کے لئے نمونہ ہوں۔ اس اصل کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ پاکیزہ خصائِل عورتیں پاکیزہ خصائِل مردوںکے لئے ہیں اور پاکیزہ خصائِل مرد پاکیزہ خصائِل عورتوں کے لئے ہیں۔
    اس اصل کے ماتحت اس زمانے کے نبی کی بیوی کا دنیا میں سب سے بڑی نیک اور پاکیزہ خاتون ہونا یقینی امر تھا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گھر اس دنیا میں جنت کا نمونہ تھا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین جب اس گھر میں تشریف لائیں تو ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو باوجود رشتہ دار ہونے کے بالکل الگ تھلگ تھے اور حضرت اقدس ؑ سے ایک دشمنی کا رنگ رکھتے تھے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کو اس وقت دلّی والی کے نام سے رشتہ دار لوگ پکارتے تھے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین اور سَوت
    میں لکھ چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پہلی بیوی بھی تھیں جن سے ایک عرصہ سے عملی رنگ میں علیحدگی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دوسری شادی کر لی تو آپ نے پہلی بیوی کو کہلا کر بھیجا کہ:
    ’’اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو مَیں گنہگار ہوں گا۔ اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ مَیں تم کو خرچ دوں گا۔ تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ مَیں اب بڑھاپے میں طلاق کیا لوں گی مجھے خرچ ملتا رہے مَیں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔‘‘
    یہ روایت حضرت اُمُّ المؤمنین کی زبانِ مبارک سے بیان ہو کر سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ۳۳ مصنفہ حضرت میرزا بشیر احمد صاحب میں مفصل طور پر شائع ہو چکی ہے۔
    اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی بیوی سے الگ ہی تھے مگر حضرت اُمُّ المؤمنین باوجود اس کے کہ یہ جانتی تھیں کہ وہ سَوت ہیں ان سے کوئی رنج،بُغض یا نقار نہ رکھتی تھیں بلکہ کبھی کبھی ان سے مل بھی لیا کرتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ان کو بھی کوئی روک اور ممانعت نہ تھی۔ چنانچہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی روایت ہے کہ:
    ’’ایک دفعہ میرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی ۔ مَیں ان کو دیکھنے کے لئے گئی۔ واپس آ کر مَیںنے حضرت صاحبؑ سے ذکر کیا کہ پھجے کی ماں بیمار ہے اور یہ یہ تکلیف ہے۔ آپؑ خاموش رہے۔ مَیں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا۔ مَیں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحبؑ نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحبؑ کا نام نہ آئے اپنی طرف سے کچھ مدد کروں سو مَیں کرد یا کرتی تھیں۔‘‘ ۲۱؎
    اس روایت سے حضرت اُمُّ المؤمنین کے قلب کی گہرائی پر ایک وسیع نظر پڑتی ہے گویا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسا صاف اور مصفّاقلب دیا تھا جو ہر شخص کی محبت،ہمدردی اور خیرخواہی سے لبریز تھا۔ میرزا فضل احمد صاحب کی والدہ کی بیماری کی اطلاع پا کر آپ ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئیں۔
    عورت کا کیریکٹر یہ ہے کہ وہ دنیا کی ہرچیز کی قربانی کر سکتی ہے۔ مگر اس کے قلب میں سَوت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ مٹی کی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی طبیعت میںسَوت کے لئے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا۔ مگر حضرت اُمُّ المؤمنین کا اپنی سَوت کے پاس جانااور ان کی عیادت کرنا اور نہ صرف عیادت کرنا بلکہ بیماری کی تفصیل دریافت کرنی اور پھر اس حد تک اس معاملہ کو ختم نہ کر دیا بلکہ ان کی تکلیف سے متاثر ہوئیں اور وہاں سے آ کر حضرت اقدس ؑ کو ساری تکلیف بتلائی اور باوجود حضرتؑ کی خاموشی کے پھر دوسری دفعہ توجہ دلا کر دوائی حاصل کر لی اور پھر دوبارہ جا کر ان کو دوائی دی۔ مَیں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ واقعہ اگر کسی اور کے گھر میں ہوتا خواہ حالات یہی ہوتے کہ پہلی بیوی نے اپنے حقوق چھوڑ دیئے ہوں۔ مگر دوسری بیوی یقینا یہ کہتی کہ مجھے کیا اگر کل مرتی ہے تو آج ہی مرے۔ پھر اس پر اکتفاء نہیں بلکہ فرماتی ہیںکہ وقتاً فوقتاً ان کی مدد بھی کر دیا کرتی تھی۔
    یہ پاک نمونہ ہے آپ کے اخلاقِ کریمانہ کا جو آپ نے اپنی ایک سَوت کے متعلق دکھایا۔ ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ مسلمان عورتیں اسلام کے صاف اور صریح حکم کی موجودگی میں کہ ایک سے زائد عورتوں سے شادی کی جا سکتی ہے۔سَوت سے اس قسم کی عداوت کرتی ہیںکہ الامان! والحفیظ!! لوگوں نے اس قسم کی بدمزگی کے قصے اور کہانیاں لکھ ڈالیں جن میں دو بیویوں والے خاوند کی دُرگت کے نقشے کھینچے گئے۔ اس طرح ان لوگوں نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرنے کی سعی باطل کی کہ اسلام کا یہ مسئلہ ناقابل عمل، غیرمفید اور مضر ہے۔
    دراصل یہ بات عدم تربیت اور جہالت سے پیدا ہوئی ۔ ورنہ اگر سچا اور کامل ایمان کسی کے قلب میں پیدا ہو جائے تو پھر اس قسم کے لغو اور بودے وساوس اس کے اندر پیدا نہیں ہو سکتے۔ اس زمانہ میں جبکہ اسلام کی ساری خوبیاں مفقود ہو چکی تھیں۔ مسلمان بالکل مذہب کو چھوڑ چکے تھے۔ ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا واقعہ بھی پیش آتا جس کے رونما ہونے سے یہ بات صاف ہو جاتی کہ مسلمان باخدا عورت سَوت کے جھگڑے اور ناراضگی کو کچھ چیز نہیں خیال کرتی۔ اصل چیز تو خدا اور اس کی رضا ہے۔
    ایک اور واقعہ
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی فرمائی تو حضرت اُمُّ المؤمنین نے بار ہا اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب سیرت مسیح موعود علیہ السلام میںتحریر فرمایا ہے اور پھر حضرت عرفانی کبیر نے اپنی سیرت مسیح موعود ؑ حصہ سوم کے صفحہ ۳۷۴ میں بھی اس واقعہ کو درج کیا ہے:
    ’’کہ آپ نے بارہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ گو میری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے۔ مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور جھوٹ کا زوال و ابطال ہو۔‘‘
    ’’ایک روز آپ دعا مانگ رہی تھیں‘ حضرت نے پوچھا آپ کیا دعا مانگتی ہیں؟ آپ نے یہ بات سنائی کہ یہ مانگ رہی ہوں حضرت نے فرمایا۔ سَوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے؟ آپ نے فرمایا ۔ کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ کی نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں۔ خواہ مَیں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں۔‘‘
    اس واقعہ کی تَہ میں بہت سی باتیں پوشیدہ ہیں:
    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر اور آپؑ کے دعویٰ پر آپؓ کا ایمان
    ۲۔ شوہر کی سچی محبت
    ۳۔اسلام سے سچا پیار
    ۴۔دعاؤں پر ایمان
    ۵۔اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت و سچائی کیلئے ہر تکلیف کو برداشت کرنے کی قوت کا اپنے اندر پانا۔
    پہلا اور پھر یہ دوسرا واقعہ اس سچی محبت اور اس سچی وفاداری کا ببانگِ دُہل اعلان کر رہا ہے جو آپ کو اپنے مقدس شوہر سے تھی۔ آپ ان کی اطاعت میں اس قدر مخلص اور وفا شعار تھیں کہ ایک سَوت کو قبول کرنے اور ایک سَوت سے حسنِ سلوک کرنے میں دریغ نہ کرتی تھیں۔ اس کی مثال ذرا ڈھونڈو کہیں نظر آتی ہے؟
    کیاحضرت سارہؓ اور حضرت ہاجرہؓ کا واقعہ ہزارہا سال سے بندگانِ خدا کے سامنے نہیں آرہا؟ ہاجرہؓ کی ہجرت میں الٰہی قدرت کے کیا کیا راز تھے مگر بادیٔ النظر میں تو یہی نظر آرہا ہے کہ وہ دو سوتوں کا جھگڑا تھا۔
    رام چندر جی ہندو مذہب کے مقدس ہادیوں میںسے تھے۔ ان کے بن باس کاواقعہ کیا ہے؟ وہ دوسَوتوں کا جھگڑا تھا جس نے اس قدر بھیانک صورت اختیار کر لی کہ رام چندر جی مہاراج کو تو بارہ برس کے لئے بن باس جانا پڑا۔ ان کے باپ راجہ دسرتھ کی موت واقعہ ہو گئی اور حالات کچھ کے کچھ ہو گئے۔ رانی کیکئی جو بھرت کی ماں تھی اس نے خاوند کی موت،سلطنت کی تباہی، ان سب امور کو قبول کر لیا مگر اس امر کو پسند نہ کیا کہ سَوت کا لڑکا تخت نشین ہو ۔
    مگر حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت کا یہ سنہری اورزریں واقعہ ایسا ہے کہ جس نے مسلمان عورتوں کی شوہر پرستی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ گویا کہ اس دل کو پہلو سے نکال کر پھینک دیا۔ جس دل میں سَوت کیلئے نفرت کے جذبات موجزن ہوتے ہیں۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے اس واقعہ پر حسبِ ذیل نوٹ لکھا ہے:
    ’’برادران! یہ ایمان تو مَیں مسلمانوں کے مردوں میں بھی نہیں دیکھتا کیا ہی مبارک ہے وہ مرد اور مبارک ہے وہ عورت، جن کا تعلق باہم ایسا سچا اور مصفّا ہے اور کیا بہشت کا نمونہ وہ گھر ہے جس کا ایسا مالک اور ایسے اہلِ بیت ہیں۔ میرا اعتقاد ہے کہ شوہر کے نیک وبد اور اس کے مکاراور فریبی یا راستباز اور متقی ہونے سے عورت خوب آگاہ ہوتی ہے۔ حقیقت میں ایسے خلا ملا کے رفیق سے کون سی بات مخفی رہ سکتی ہے۔ مَیں ہمیشہ سے رسول کریم ﷺ کی نبوت کی بڑی محکم دلیل سمجھا اور مانا کرتا ہوں۔ آپ کے ہم عمر اور محرمِ راز دوستوں اور ازواج مطہرات کے آپؐ پر صدق دل سے ایمان لانے اور اس پر آپؐ کی زندگی میں اور موت کے بعد پورے ثبات اور وفاداری سے قائم رہنے کو صحابہ کو ایسی شامہ اور کامل زیر کی بخشی گئی تھی کہ وہ اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جو اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کہتا اور اس محمد ﷺ میں جو اِنَّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا کہتا صاف تمیز کرتے۔ وہ بے غش اخوان الصفاء اور آپؐ کی بیبیاں جیسے اس محمدؐ سے جو بشر محض ہے۔ایک وقت انبساط اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے اور کبھی کبھی معمولی کاروبار کے معاملات میں پس و پیش اور ردّوقدح بھی کرتے ہیں اور ایک وقت ایسے اختلاط اور موانست کی باتیں کر رہی ہیں کہ کوئی حجاب حشمت اور پردۂ تکلف درمیان نہیں وہی دوسرے وقت محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابل یوں سرنگوں اور متادب بیٹھے ہیں۔ گویا لٹھے ہیں جن پر پرندے بھی بیباکی سے گھونسلا بنا لیتے ہیں اور تقدم اور رفع صوت کو آپؐ کے حضور میں حبط اعمال کا موجب جانتے ہیں اور ایسے مطیع و منقاد ہیں کہ اپنا ارادہ اور اپنا علم اور اپنی رسم اور اپنی ہوا امر رسول کے مقابل یوں ترک کر دیتے ہیں۔کہ گویا وہ بے عقل اور بے ارادہ کٹھ پتلیاں ہیں۔ ایسی مخلصانہ اطاعت اور خودی اور خودرائی کی کینچلی سے صاف نکل آنا ممکن نہیں۔ جب تک دلوں کو کسی کے سچے بَیریا منجانب اللہ زندگی کا زندہ یقین پیدا نہ ہو جائے۔
    ’’اسی طرح مَیں دیکھتا ہوں حضرت اقدس ؑ کو آپ کی بی بیؓ صاحبہ صدقِ دل سے مسیح موعود مانتی ہیں اور آپؑ کی تبشیرات سے خوش ہوتی اور انذارات سے ڈرتی ہیں۔ غرض اس برگزیدہ ساتھی کو برگزیدۂ خدا سے سچا تعلق اور پورا اتفاق ہے‘‘۔ ۲۲؎
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ جس نتیجہ پر پہنچے ہیں وہ ایک عارفانہ نتیجہ ہے اور حق یہی ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کا یہ ایمان عارفوں کی معرفت میں بہت بڑا اضافہ کرنے کا باعث ہوا۔
    بڑے بڑے باخدا بزرگ دنیا میں ہوئے۔ اُن کی بیویوں نے ان سے بڑی بڑی وفاداریاں کیں۔ مگر اس امر کی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی عورت نے یہ دعا کی ہو کہ اس کے پاکباز خاوند کے منہ کی بات پوری ہو اور بے شک اس کے گھر میں سَوت آ جائے۔ اس کی مثال تاریخ میں کوئی نہیں۔
    دوسری شادی
    میں اس جگہ یہ بحث نہیں کروں گا کہ دوسری شادی ضروری ہے یا نہیں؟ لیکن یہ ایک مسلّمہ بات ہے کہ اسلام نے اس چیز کو بعض حالات میںنہایت ضروری قرار دیا ہے۔ قوموں کی زندگی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے ایک کثرت بھی ہوتی ہے اور کثرت دو طرح سے واقع ہوتی ہے۔
    اوّل: بذریعہ نسل۔
    دوم: بذریعہ اشاعتِ مذہب
    اسلام نے ان دونوں چیزوں پر زور دیا ہے۔ جس طرح اشاعتِ مذہب ضروری ہے۔ اسی طرح اکتثارِ نسل بھی ضروری ہے۔ ایسی صورت میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ دینی قومیت کا ایک سپاہی ہوتا ہے اور وہ شوکت اسلام کو قریب کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ اس لئے ایسے حالات میں عند الضرورت جو لوگ زیادہ شادیاں کر کے تقویت دین کا باعث نہیں بننا چاہتے وہ قوم ،ملت اور مذہب کے دشمن گردانے جائیں گے۔
    پس کبھی ایک سے زیادہ شادیاں ایک قومی،ملی اور مذہبی مقدس فریضہ بن جاتا ہے۔اس لئے اس کے خلاف جذبہ خواہ مردوں کی طرف سے ہو یا عورتوں کی طرف سے ہو ایک قومی جرم ہے۔
    اس زمانہ میں مسلمانوں نے یورپ کے اعتراضوں سے مرعوب ہو کر اس امر کو تسلیم کر لیا کہ دوسری شادی وحشت ہے،ظلم ہے،بربریت ہے۔ بعض اسلامی ملکوں میں ایسے قوانین وضع کئے گئے کہ وہاں کے مسلمان باشندے ایک سے زیادہ شادیاں نہ کریں۔ انہوں نے عورتوں کی آواز سے اپنی آواز ملائی اور اس پر صدائے احتجاج بلند کی۔ اخبارات اور رسالوں میں مضمون لکھے۔ زنانہ مردانہ انجمنوں میں لیکچر دیئے اور جن لوگوں نے اسلام کے اس رکن کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کو انہوں نے اپنا لیڈر راہنما اور ہادی تسلیم کیا۔ حالانکہ ان کو ا س قدر معلوم نہ تھا کہ یورپ وامریکہ نے تو مذہب کا گلا گھونٹ کر اور اس کی لاش پر کھڑے ہو کر اباحت اور بدکاری کا دروازہ کھول کر مردوں عورتوں کو جامۂ انسانی سے باہر نکال کر محض بہائم کی زندگی میں داخل کر دیا اور یہ وہ زندگی ہے۔ جس کے لئے نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی شریعت مگر یہ عقل کے اندھے بھی ان بہائم طبیعت لوگوں کے پیچھے لگ گئے۔ یہ سب لوگ اسلام کے دشمن ہیں اور اس اسلام دشمنی نے مسئلہ تعدّد ازدواج کو ایسی بھیانک صورت دے دی کہ یورپ کے لوگوں نے تُرک یعنی مسلمان کو دنیا کا وحشی ترین انسان قرار دے دیا۔
    حرم یعنی عرب سرداروں کے محلات جن کی ان کے خیال میں سربفلک دیواریں ہر وقت آسمان سے باتیں کرتی رہتی ہیں تاکہ حرم کے اندر محبوس عورتوں کو ہوا نہ لگ سکے۔ اس کے اندر ایسے قیدی رہتے ہیں جن کے پاس کبھی ہوا بھی نہیں گزرتی۔ جہاں وہ عورتیں اندر ہی اندر سڑتی رہتی ہیں۔ دِق اور سِل کے جراثیم اندر ہی اندر ان عورتوں کو ہلاک کرتے رہتے ہیں۔ اس قسم کی بھیانک تصویران لوگوں نے جو دشمنانِ اسلام تھے اسلام کی بنائی۔ ان کو پڑھ کر یورپ کی لڑکیاں مشرق کے دوردراز کے شہروں کو عالم تصور میں دیکھتیں اور کانپ کر رہ جاتیں۔
    اگر خدانخواستہ کبھی کسی مسلم کا ذکر سن پاتیں تو ان کو ہسٹیریا کا دورہ شروع ہو جاتا۔ اس پراپیگنڈہ سے خود مسلمان ملکوں کے مرد اور عورتیں بھی متاثر ہو کر رہیں اور انہوں نے بھی ایسے احکام کو جہالت اور وحشت قرار دیا۔ اللہ اکبر! حالت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ اس وقت اس زمانہ میںکوئی عورت نہ تھی جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔ تب خدا نے اس ظلم کے خلاف عملی آواز اٹھانے کے لئے نصرت جہاں بیگم کو پیدا کیا۔ جس نے اپنے عمل سے اور اپنی دعاؤں سے اسلام کے اس حکم کی سچائی اور بزرگی کو ظاہر کیا اور فرمایا:
    ’’میں صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہو اور جھوٹ کا زوال اور ابطال ہو۔‘‘
    یہ الفاظ مرقع ہیں اس قلبِ مطہر کے۔ یہ الفاظ آئینہ ہیں ایک سچی مسلم عورت کے خیالات کے۔ اور یہ فعل ماٹو ہے۔ اُسوہ حسنہ ہے ہر مسلمان عورت کے لئے اگر اسلام کے لئے کسی ایسے کام کی ضرورت پڑے جس سے وہ عورت ہویا مرد ہلاک ہو جاتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ہلاک ہو جائے مگر اس چیز کو خوشی اور مسرت سے صدق دل اور شرح صدر سے قبول کرے۔ جیسے حضرت اُمُّ المؤمنین نے اپنے نمونہ سے ثابت کر دیا۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں
    قبل اس کے کہ مَیں یہ لکھوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس نگاہ سے حضرت اُمُّ المؤمنین کو دیکھتے تھے۔ پہلے میں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ گذشتہ صدی ہندوستان پر ہر لحاظ سے جہالت کی صدی تھی۔ عورتوں کے ساتھ ہندوستان میں سلوک کرنا ایک قسم کا جُرم سمجھا جاتا تھا۔ اچھا مرد وہ سمجھا جاتا تھا جو گھر میں جب داخل ہو تو چہرے پر شِکن ڈال لے اور ڈانٹ ڈپٹ، گالی گلوچ اور عندالضرورت مار پیٹ کرتا رہے۔ ایسے مرد کو مرد سمجھا جاتا تھا اور جو شخص اپنی بیوی سے ذرا سلوک کرے اُسے زن مُرید خیال کیا جاتا تھا۔
    عورتیں صاف ستھری نہ رہ سکتی تھیں۔ ان کو تعلیم نہ دی جاتی تھی اور اسے پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح عورت جو دنیا کی نصف آبادی ہے وہ ذلیل اور مقہور ہو رہی تھی۔ بلکہ عربوں کے زمانہ جاہلیت کے بہت سے اطوار اس زمانہ میں واپس آ چکے تھے۔ چونکہ انبیاء کی آمد کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر مظلوم کی حمایت کریں اور ہر اس شخص کو اس کا حق دلائیں جو اپنے حق سے محروم کر دیا گیا ہو۔
    اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد جو دراصل رسول کریم ﷺ کی ہی بعثت ثانیہ تھی عورتوں کے لئے بھی باعث رحمت ہوتی اور ان کو ان کے حقوق دلانے کا باعث ہوتی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ خیرکم خیر کم لاھلہٖ- اس لئے اگر آپؑ حضرت اُمُّ المؤمنین سے شادی نہ کرتے تو یقینایہ حصۂ عمل لوگوں کے سامنے نہ آتا اور عورتیں شاید اس حق سے محروم ہی رہ جاتیں مگر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس مخلوق کو چھوڑ دیتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین کے اس مبارک تعلق کی برکت اور پاکیزہ نمونہ کی وجہ سے ہزارہا گھروں کو اپنی برکتوں سے بھر دیا اور ہزار ہا گھر جنت کا نمونہ بن گئے۔
    میاں بیوی کے جھگڑوں میں سے ایک جھگڑا
    سب سے پہلی چیز جو میاں بیوی کے درمیان جھگڑا پیدا کرتی ہے وہ میاں کا یہ شعور ہے کہ اسے اپنی بیوی پر کوئی غیرمعمولی حکومت حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے اسے حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے اس سے سلوک کرے۔ اس شعور کے ماتحت اس قسم کی باتیں پیدا ہو جاتیں ہیں کہ کھانے میں نمک کیوں تیز ہو گیا۔ چاول سخت کیوں رہ گئے۔ یہ برتن یہاں کیوں پڑا ہے۔ الغرض چھوٹی چھوٹی باتیں مرد کو جوش میں لاتیں اور غصہ دلاتی ہیں ان ساری چیزوں کے پیچھے ایک چیز کام کرتی ہے اور وہ یہ کہ مرد کو گھر پر رعب رکھنا چاہئے اور قطعاً اس امر کی پرواہ نہ کی جاتی کہ یہ کوئی میری غلام تو نہیں۔ یہ دائرہ انسانی سے خارج تو نہیں۔ مجھے کیا حق ہے کہ مَیں اس طرح اس سے بدسلوکی سے پیش آؤں۔ مگر یہی حالت تھی جس نے عام گھروں کی حالت بہت بُری بنا رکھی تھی اور عورتیں مردوں کے ہاتھوں سخت نالاں تھیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے گھر میں اسلامی گھر کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھا دیا۔
    محترمہ استانی سکینۃ النساء بیگم صاحبہ جو مکرم قاضی اکمل صاحب کی حرم محترم ہیں اور تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور جن کو حضرت اقدس ؑ کے گھر میں بہت قریب سے حالات دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔ اپنی ایک روایت میں جو انہوں نے مجھے لکھ کر دی لکھا:
    ’’ایک دفعہ حضرت اُمُّ المؤمنین فرماتی تھیں کہ میں پہلے پہل جب دلّی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گُڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے بہت شوق اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔ تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گُنا گڑ ڈال دیا۔ سو وہ بالکل راب سی بن گئی۔ جب پتیلی چولہے سے اُتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ حیران تھی کہ اب کیا کروں۔ اتنے میں حضرت صاحبؑ آ گئے۔ میرے چہرہ کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔ آپؑ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا۔ نہیں! یہ تو بہت اچھے ہیں۔ میرے مذاق کے مطابق پکے ہیں۔ ایسے زیادہ گڑ والے ہی تو مجھے پسندیدہ ہیں۔ یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کہیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا۔‘‘
    اس واقعہ سے سبق
    یہ واقعہ ہمارے گھروں کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین دلّی کی رہنے والی تھیں۔ وہاں گڑ کے چاولوں کا کوئی رواج نہیں تھا۔ مگر حضرت اُمُّ المؤمنین نے بحیثیت بیوی کے سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ میرے شوہر کو کون کونسی چیز پسند ہے۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت میں کیسی دور رسی تھی۔ ہر عقل مند اور سلیقہ شعار عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے میاں کے گھر میں جا کر پہلے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ میرے میاں کی طبیعت کا کیا رنگ ہے۔ وہ کون سے کھانے پسند کرتا ہے۔ وہ کس کس چیز کو اور کس کس عادت کو پسند کرتا ہے۔ جو بیوی نئے گھر میں آکر شوہر کی پسند کی چیزوں کو معلوم کرنے کی کوشش کرے گی اس کی زندگی بحیثیت بیوی کے کامیاب زندگی ہو گی۔
    اس واقعہ میں جہاں حضرت اماں جان کی طبیعت کا یہ رنگ معلوم ہوا وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت کا رنگ بھی معلوم ہوا۔ آپؑ نے کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ شور اور غل سے مکان سر پر نہیںاٹھایا۔ جیسے مغلوب الغضب شوہر کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی نادم اور پریشان بیوی کو اپنی نیکی اور خوش خُلقی سے اور بھی موہ لیا۔
    ایسے موقعوںپر شوروغل کرنے والے شوہر بھی یا تو کھپ کھپا کر اسی غذا کو کھایا کرتے ہیں اور یا خود بھی بھوکے رہتے ہیں اور بیوی کو بھی بھوکا رکھتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ ہمارے لئے ایک ایسا سبق ہے کہ اگر ا س پر عمل کیا جائے تو کبھی بدمزگی کی صورت پیدا ہی نہ ہو۔
    اس واقعہ کی تائید میں ایک اور واقعہ:
    مئی ۱۸۹۳؁ء میں ڈپٹی عبداللہ آتھم سے امرتسر میں مباحثہ تھا۔ ایک رات جبکہ خان محمد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر بڑا مجمع تھا۔ اطراف سے بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ حضرت اس روز سر درد سے بیمار تھے۔ شام کو مشتاقانِ زیارت ہمہ تن چشم انتظار بنے ہوئے تھے۔ حضرتؑ مجمع میں تشریف لائے۔ منشی عبدالحق صاحب لاہوری پنشنر نے جو پہلے آپؑ سے بڑی محبت اور حسن ظنی رکھتے تھے۔ مگر بعد میں الگ ہو گئے۔ آپؑ سے آپؑ کی بیماری کی تکلیف پوچھی۔ اور پھر کہا:
    ’’آپؑ کا کام بہت نازک اور آپؑ کے سر پر بھاری فرائض کا بوجھ ہے۔ آپؑ کو چاہئے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال رکھا کریں اور ایک خاص مقوی غذا لازماً آپ کے لئے ہر روز تیار ہونی چاہئے۔‘‘ اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا:
    ’’ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں ایسی مصروف رہتی ہیں کہ اور باتوں کی چنداں پرواہ نہیں کرتیں۔‘‘
    اس پر منشی عبدالحق صاحب نے کہا کہ:
    ’’اجی حضرت آپؑ ڈانٹ ڈپٹ کر نہیں کہتے اور رُعب پیدا نہیں کرتے۔ میرا یہ حال ہے کہ مَیں کھانے کے لئے خاص اہتمام کیا کرتا ہوں اور ممکن ہے کہ میرا حکم کبھی ٹل جائے اور میرے کھانے کے اہتمامِ خاص میں سرِمو فرق آ جائے ورنہ ہم دوسری طرح خبر لیں۔‘‘
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے خیال کیا کہ یہ بات میرے محبوب آقا کے حق میں مفید ہے۔ اس لئے بغیر سوچے سمجھے اس کی تائید کر دی۔ حضرت اقدس ؑ نے حضرت مولانا کی طرف دیکھا اور تبسم سے فرمایا:
    ’’ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پرہیز کرنا چاہئے‘‘۔
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ بڑے زکی الحِسّ آدمی تھے وہ فرماتے ہیں:
    ’’بس خدا ہی جانتا ہے کہ میں اس مجمع میں کس قدر شرمندہ ہوا اور مجھے سخت افسوس ہوا۔‘‘ ۲۳؎
    اس ایک واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بعض ایسے لوگ بھی آتے تھے جو بظاہر محبت سے ایک بات کہتے تھے مگر ان کی بات پر عمل کرنا اہلی زندگی کو خراب کرنے کے برابر ہوتا اور پھر اللہ تعالیٰ کے ان اوامر کے بھی خلاف جو بیوی کے ساتھ بھلائی،خیر اور حسنِ سلوک کے متعلق نازل ہوئے ہیں۔ منشی عبدالحق صاحب کا یہ قول:
    ’’اگر میرے کھانے کے اہتمام خاص میںکوئی سرموفرق آ جائے تو ہم دوسری طرح خبر لیں۔‘‘
    اس بداخلاقی کا پتہ دیتا ہے۔ جو بڑے بڑے گھروں میں اور تعلیم یافتہ لوگوں کے گھروں میںرائج تھی کہ وہ محض کھانے کے اہتمام میں نقص آنے کی وجہ سے کیا صورت پیدا کر دیتے تھے اور حضرت کا یہ فرمانا کہ:
    ’’ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پرہیز کرنا چاہئے۔‘‘
    اس مقام بلند کا پتہ دیتا ہے جو چشم پوشی اور لطف و کرم کا پہلو لئے ہوئے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین پر ناراض ہونا جانتے ہی نہ تھے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اُمُّ المؤمنین کو شعائر اللہ میں سے سمجھتے تھے
    حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے جو مضمون لکھ کر بھیجا اس میں ایک روایت لکھی ہے کہ:
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندرونِ خانہ جس دالان میں عموماً سکونت رکھتے تھے۔ جس کی ایک کھڑکی کوچہ بندی کی طرف کھلتی ہے اور جس میں سے ہو کر بیت الدعا کو جاتے ہیں۔ اس کمرے کی لمبائی کے برابر اس کے آگے جنوبی جانب ایک فراخ صحن ہوا کرتا تھا۔ گرمی کی راتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؑ کے اہل و عیال سب اس صحن میں سویا کرتے تھے۔ لیکن برسات میں یہ دقت ہوتی تھی کہ اگر رات کو بارش آ جائے تو چار پائیاںیا تو دالان کے اندر لے جانی پڑتی تھیں یا نیچے کے کمروں میں۔ اس واسطے حضرت اُمُّ المؤمنین نے یہ تجویز کی کہ اس صحن کے ایک حصہ پر چھت ڈال دی جائے تاکہ برسات کے واسطے چار پائیاں اس کے اندر کی جا سکیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تبدیلی کے واسطے حکم صادر فرما دیا۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ مرحوم کو جب اس تبدیلی کا حال معلوم ہوا تو وہ اس تجویز کی مخالفت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
    حضرت مولوی صاحبؓ نے عرض کی کہ ایسا کرنے سے صحن تنگ ہو جائے گا ،ہوا نہ آئے گی ،صحن کی خوبصورتی جاتی رہے گی وغیرہ وغیرہ۔ دیگر احباب نے بھی مولوی صاحبؓ کی بات کی تائید کی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی باتوں کا جواب دیا۔ مگر آخری بات جو حضور ؑ نے فرمائی اور جس پر سب خاموش ہوئے وہ یہ تھی:
    ’’کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدوں کے فرزند اس بی بی سے عطا کئے ہیں۔ جو شعائر اللہ میں سے ہیں۔ اس واسطے اس کی خاطر داری ضروری ہے اور ایسے امور میں اس کا کہنا ماننا لازمی ہے۔‘‘
    یہی روایت حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؒ نے اپنی سیرت اور حضرت عرفانی کبیر نے اپنی سیرت حصہ سوم کے صفحہ ۳۶۸ پر لکھی ہے۔ مگر اس میں کچھ لفظی تغیر ہے ۔جو یوں ہے:
    فرمایا:
    ’’خداتعالیٰ نے مجھے لڑکوں کی بشارت دی اور وہ اس بی بی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس لئے مَیں اسے شعائر اللہ سے سمجھ کر اس کی خاطر داری رکھتا ہوں اور جو وہ کہے مان لیتاہوں‘‘۔
    نفِس روایت یا موضوع کی روح میں کوئی فرق نہیں۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ اس وفد کی پرواہ کی نہ ان دلائل کو وزنی قرار دیا ۔ بلکہ ان سب چیزوں کے مقابل میں عملی طور پر حضرت اُمُّ المؤمنین کی بات اور منشاء کو ترجیح دی۔
    جاننے والے جانتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ سے بڑی محبت تھی۔ مگر حضرت اُمُّ المؤمنین کے معاملہ میں ان کی بات بھی گِر ہی گئی۔
    مولوی سیّد محمد احسن صاحب کا واقعہ
    ایک دفعہ حضرت اُمُّ المؤمنین نے اس سیڑھی کے بدلنے کی ضرورت محسوس کی جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کے مکان کی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اسے اس بالاخانہ کے ساتھ رکھنا تھا جس میںمولوی محمد علی صاحب رہتے تھے اور نیچے مولوی سیّد محمد احسن صاحب رہتے تھے۔ مولوی محمد احسن صاحب نے اس سیڑھی کے وہاں رکھنے کی مخالفت کی کہ میرے حجرہ کو اندھیرا ہو جائے گا۔حضرت اُمُّ المؤمنین نے حکم دیا کہ سیڑھی وہیں ہی رکھی جائے۔
    حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ انتظام کر رہے تھے اور ان کو اس کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑی۔ آخر ان کے مزاج میں گرمی تھی اور جہیرالصوت تھے۔ انہوں نے زور زور سے بولنا شروع کیا کہ یہ سیڑھی یہاں ہی رہے گی۔ مولوی محمد احسن صاحب بھی اونچی آواز سے انکار اور تکرار کرتے رہے۔ اتنے میں حضرت صاحبؑ باہر سے تشریف لے آئے۔ اور پوچھا کیا ہے؟ میر صاحبؓ نے کہاکہ مجھ کو اندر سیّدانی (مراد اُمُّ المؤمنین) آرام نہیں لینے دیتی اور باہر سیّد سے پالا پڑ گیا ہے۔ نہ یہ مانتے ہیں نہ وہ مانتی ہیں میں کیا کروں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسکرا کر فرمایا:
    ’’مولوی صاحب! آپ کیوں جھگڑتے ہیں۔ میر صاحبؓ کو جو حکم دیا گیا ہے ان کوکرنے دیجئے۔ روشنی کا انتظام کر دیا جائے گا ۔ آپ کو تکلیف نہیں ہو گی‘‘۔
    اس طرح پر حضرت اُمُّ المؤمنین کے ارشاد کی تعمیل ہو گئی۔
    الغرض کبھی بھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا جس میں حضرت اقدس ؑ کی طرف سے حضرت اُمُّ المؤمنین کی دل شکنی ہوئی ہو۔ ۲۴؎
    حضرت اُمُّ المؤمنین کے احترام کے متعلق ایک اور روایت
    حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے میری اس کتاب کیلئے ایک اور روایت تحریر فرمائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کا اس قدر اکرام و اعزاز کرتے تھے آپ کی خاطرداری اس قدر ملحوظ رکھتے تھے کہ عورتوں میں اس بات کا چرچا رہتا تھا۔ جب میں لاہور میں ملازم تھا۔ ۱۸۹۷؁ء یا اس کے قریب کا واقعہ ہے۔ لاہور کا ایک معزز خاندان قادیان آیا۔ ان میں سے بعض نے بیعت کی اور سب حسنِ عقیدت کے ساتھ واپس گئے۔ واپسی پر اس خاندان کی ایک بوڑھیا نے ایک مجلس میں یہ ذکر کیا کہ میرزا صاحب اپنی بیوی کی کس قدر خاطر اور خدمت کرتے ہیں۔ اتقاقاً اس مجلس میں ایک پرانے طرز کے صوفی بزرگ بھی بیٹھے تھے۔ وہ فرمانے لگے ہر سالک کا ایک معشوق مجازی بھی ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میرزا صاحبؑ کا معشوق ان کی بیوی ہے۔
    ’’یہ خیال تو ان صوفی بزرگ کا تھا مگر اصل بات یہ ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کا احترام ان خوبیوں اور نیکیوں کے سبب سے تھا جو ان میں پائی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کے باعث تھا جو ہمیشہ ان پر ہوتے رہے۔‘‘
    حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب کا عینی مشاہدہ
    حضرت میر صاحب نے میرے لئے لکھی روایات میںتحریر فرمایا:
    ’’میں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضور علیہ السلام کو حضرت اُمُّ المؤمنین سے ناراض دیکھا نہ سنا۔ بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک Ideal آئیڈیل جوڑے کی ہونی چاہئے۔بہت کم خاوند اپنی بیویوں کی وہ دلداری کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام حضرت اُمُّ المؤمنین کی فرمایا کرتے تھے اور آپ کو لفظ تم سے مخاطب فرمایا کرتے تھے اور ہندوستانی میںہی اکثر کلام کرتے تھے۔ مگر شاذونادر پنجابی میںبھی۔ حالانکہ بچوں سے اکثر پنجابی بولا کرتے تھے۔‘‘
    حضرت میر صاحب کا علم ذاتی اور عینی مشاہدے پر مبنی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام شادی کے بعد ۲۵ سال تک اپنی حرم محترم کے ساتھ رہے اور اس ۲۵ سال کے عرصے میں حضرت میر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے نہ کبھی آپؑ کو ناراض ہوتے دیکھا اور نہ سنا۔
    ہمارے ملک میں ایک ضرب المثل ہے۔ اکٹھے برتن بھی پڑے پڑے کبھی ایک دوسرے سے ٹکڑا جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناممکن ہے کہ دو آدمی اکٹھے رہیں اور وہ جھگڑیں نہیں۔ پھر ہم اس جوڑے کو کیا کہیں گے جو چوتھائی صدی تک اکٹھے رہے مگر ان میں کبھی ناراضگی پیدا نہ ہوئی۔ میںمجبور ہوں کہ ان کو ملائکۃ اللہ کہوں ۔ جن کے سینے ہر قسم کے جھگڑوں، رنجشوں اور ناراضگیوں سے پاک ہیں۔
    غالباً ۱۹۳۱؁ء کی بات ہے۔ کہ آنریبل سر عبدالقادر اور لیڈی سرعبدالقادر لنڈن سے واپسی پر قاہرہ میں اُترے۔ میں ان کو لے کر زاغلول پاشا جو مصریوں کے ایک بہت بلند پایہ لیڈر تھے کی لیڈی صاحبہ کے پاس گیا۔ لیڈی زاغلول جن کو مصری اُمُّ المصریین کہتے ہیں اپنے شوہر کی سیرت کے متعلق گفتگو کر رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرا شوہر اتنے اعلیٰ اخلاق کا انسان تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی نوکر کو جھِڑکا نہیں اور شدید سے شدید غصہ کی حالت میں بھی اگر کچھ کہا تو یہ کہ دیکھو تم کو ہمارے ساتھ رہتے ہوئی اتنی مدت ہو گئی ہے۔ مگر تم کو اب تک اس بات کی عقل نہ آئی جس کا افسوس ہے۔
    لیڈی زاغلول پاشا نے کہا کہ یہ تھا سعد پاشا کا بڑے سے بڑا غصہ اور یہ ہے سعد زاغلول پاشا کی سیرت کا سب سے بڑاواقعہ جو اس کی قابل بیوی نے بیان کیا ہے۔
    پس یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے اخلاق کا یہ کمال ہے کہ اسے اپنے عواطِف اور اپنی غضب یا غصے کی مخفی طاقتوں پر اس قدر کنٹرول ہو ۔ گویا کہ وہ اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ اس سے سرمُوانحراف نہیں کر سکتیں۔
    الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ حضرت اُمُّ المؤمنین کا بڑا احترام کرتے تھے اور عام طور پر عورتوں کی زبان زد تھا:
    کہ مرجا بیوی دی بڑی گل مندا ہے
    بیوی کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نگاہ میں
    حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی پہلی بیگم صاحبہ ۱۸۹۸؁ء میں فوت ہو گئی تھیں۔ حضرت اقدس ؑ نے ان کو ایک تعزیت کا خط لکھا۔ جس میں بیوی کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ یہ خط آئینہ ہے ان خیالات کا جو آپؑ کے اندر موجزن تھے اور اس آئینہ میں ہم کو آپؑ کی اہلی زندگی کا پتہ ملتا ہے۔ آپؑ نے تحریر فرمایا:
    ’’درحقیقت اگرچہ بیٹے بھی پیارے ہوتے ہیں۔ بھائی اور بہنیں بھی عزیز ہوتی ہیں۔ لیکن میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اسرار ہوتے ہیں۔ میاں بیوی ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتے ہیں۔ ان کو صدہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔ بسااوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس محبت اور باہم اُنس پکڑنے کے زمانہ کو یاد کر کے کون دل ہے جو پُرآب نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کر آخر فی الفور یاد آتا ہے۔ اسی تعلق کا خدا نے بار بار ذکر کیا ہے کہ باہم محبت اور اُنس پکڑنے کا یہی تعلق ہے۔ بسااوقات اس تعلق کی برکت سے دنیوی تلخیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ انبیاء علیہ السلام بھی اس تعلق کے محتاج تھے۔ جب سرورِکائنات ﷺ بہت ہی غمگین ہوتے تھے۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے ارحنا یا عائشۃ- یعنی اے عائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی۔ پیارا رفیق اور انیس عزیز ہے۔ جو اولاد کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دُور کرنے والی اور خانہ داری کے معاملات کی متولی ہوتی ہے۔‘‘ ۲۵؎
    اگرچہ یہ خط حضرت نواب صاحب کے نام ہے۔ مگر اس میں بیوی کی حقیقت اور اس کے تعلق کی مٹھاس اور شیرینی پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور بتلایا ہے کہ انبیاء علیہ السلام اور خود آنحضرت ﷺ بھی اس تعلق کے محتاج تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انبیاء ؑ پر بعض اوقات غم اور فکر کے ایسے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں کہ اگر ان کو فوق القوۃ طاقت نہ ملی ہوتو شاید وہ ان مصائب کو اُٹھا نہ سکیں۔
    ایک طرف وہ اپنے فرض منصبی کی نزاکت کو دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ قوم کی پستی، ذلّت، ادبار، نکبت، بداخلاقی، عداوت، دشمنی کو دیکھتے ہیں۔ ان کا دل اس حالت کو دیکھ کر خون ہو جاتا ہے۔ ان کو خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ بالکل ناکام ہو جائیں گے۔
    اس حالت میں ان کے اندر سے عجیب عجیب قسم کے نعرے نکلتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں۔ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی۔ اے خدا تو ان مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا اور کبھی کہتے ہیں۔ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ۔ اے خدا! تیری نصرت کب آئے گی اور کبھی کہتے ہیں:
    دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے
    اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار
    اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرّہ مِرا
    پھیر دے میری طرف اے سارباںجگ کی مُہار
    کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے
    خاک میں ہو گا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار
    فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد
    کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفان سے پار
    ایسے وقت میں جبکہ دنیا خداتعالیٰ کے انبیاء کو قتل و غارت کرنے کی فکر میں لگی ہوئی ہوتی ہے منصوبے اور دسائیس، مکر اور مکاید کے جال ہر سو پھیلے ہوتے ہیں۔ کبھی وہ تیغ و تفنگ سے اور کبھی فتنوں کی بھڑکتی آگ سے وہ اندر اور باہر ہر قسم کے حیلوں بہانوں سے نقصان پہنچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اگر کوئی انسانی ہستی ان پاک وجودوں کی راحت کا باعث بن سکتی ہے اور ان کے غم کے بوجھ کو ہلکا کر سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف پاک بیوی ہی ہو سکتی ہے۔
    اس سے انبیاء ؑ کی پاکیزہ بیویوں کا مقام سمجھ میں آ سکتا ہے وہ ان کی رفیق اور انیس ہوتی ہیں۔ وہ ان کی اولاد کی تربیت اور پرورش کی شریکِ غالب ہوتی ہیں۔ وہ ان کے غموں کے بوجھ کو ہلکا کرنے والی ہوتی ہیں اور ان کے خانہ داری کے تمام معاملات کی متولّی ہوتی ہیں۔ بلکہ میں کہوں گا کہ وہ اس تبلیغ و اشاعت کے کام میں جو اس نبی کو سونپی جاتی ہے سب سے بڑی مؤیّد و مبلغ ہوتی ہیں۔
    وہ اصلاحِ مخلوق، تبلیغ دین، استحکامِ شریعت، درسِ اخلاق، ہمدردیٔ خلائق، الغرض نبی کی زندگی کے ہر شعبہ میں شریک ہو جاتی ہیں۔ جیسے میں حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ پیش کروں گا۔
    جب یہ مقام کسی عورت کو حاصل ہو تو وہ کیوں سیّدۃ النساء نہ کہلائے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایسی خاتون کو عورتیں تو عورتیں مردوں پر بھی ایک عظیم الشان فضیلت ہوتی ہے تو اس میں کوئی غلطی نہ ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ وہ اُمُّ المؤمنین کہلاتی ہے۔ اس لئے کہ قوموں کو اس کے روحانی وجود سے بالکل اسی طرح روحانی غذا میسر آتی ہے جس طرح ماں کے جسمانی وجود سے بچوں کو جسمانی غذا میسر آتی ہے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی تو روحانی پاکیزگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ خداتعالیٰ بہت سی باتیں آپ پر بھی اسی طرح کھول دیتا تھا۔ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کھولا کرتا تھا۔ اس سے اس مناسبت کا پتہ چلتا ہے جو آپ کی روح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح کے ساتھ تھی۔ نیز اس روحانیت اور اس قلب کی طہارت کا پتہ چلتا ہے۔ جس کی وجہ سے آسمانی طاقتوں کا وقتاً فوقتاً انعکاس ہوا کرتا تھا۔
    الغرض اُمُّ المؤمنین کے وجود کو ایک پاکیزہ نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہے۔ جس کے وجود سے آپ کو آرام ملتا تھا۔ آپ کے غموں کا بوجھ ہلکا ہوتا تھا۔ یہ وہ اِس زمانہ کی عائشہؓ ہے جسے بروز محمد اَرِحْنَا یَاعَائیشہ کہا کرتا تھا۔
    اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوعُودِ
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی مبشر اولاد
    اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم اور کرم کے ساتھ حضرت اُمُّ المؤمنین کو وہی خاتون ٹھہرایا تھا جس کے متعلق پہلے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اطلاع دی تھی کہ مسیحؑ اس سے شادی کرے گا اور اس سے اولاد پیدا ہوگی۔ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ
    پس آپ وہ خاتون ہیں جس کے بطن مبارک سے مسیح موعود ؑکے لئے اولاد پیدا کرنا مقدر تھا۔ نیز آپ اُن عورتوں میں سے تھیں جن کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خیر النساء ولود۔ عورتوں میں سے بہترین عورتیں وہی ہیں جو جننے والی ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے حضرت اُمُّ المؤمنین کو اس لحاظ سے بھی خیر النساء بنا دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بطن سے دس اولادیں دیں۔
    آپ کی اولاد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایک اصل بیان فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا:
    ’’تیری نسل بہت ہوگی۔ مَیں تیری ذریّت کو بہت بڑھائوں گا اور برکت دونگا۔ مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہونگے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی‘‘۔ ۲۶؎
    اس پیشگوئی میں بتلایا گیا کہ:
    ۱۔ نسل بہت ہوگی۔
    ۲۔ اسے بہت بڑھایا جائے گا۔
    ۳۔ وہ کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی۔
    ۴۔ اُن میں سے بعض کم عمری میں فوت ہو جائیں گے۔
    گویا کہ جو زندہ رہیں گے وہ بہت ہوں گے۔ وہ بہت بڑھیں گے۔ وہ بہت پھیلیں گے اور جو فوت ہوں گے وہ کم عمری میں ہی فوت ہو جائیں گے۔ اس سلسلہ میں آپ نے ایک پیشگوئی کا اعلان فرمایا۔ یہ پیشگوئی ایک خاص لڑکے کے متعلق تھی اور یہ پیشگوئی ہوشیار پور کی چالیس روزہ خلوت اور لمبی دعائوں کے بعد عطا کی گئی تھی۔ چنانچہ فرمایا:
    ’’مَیں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرّعات کو سنا اور تیری دعائوں کو اپنی رحمت سے بہ پایۂ قبولیت جگہ دی۔ اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدہیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا‘‘۔ ۲۷؎
    پس یہ پیشگوئی، یہ نشان ان دعائوں کی قبولیت پر ایک کھلی کھلی صداقت کی مہر تھا۔ اس الہام میں اس پیشگوئی کی عظمت کا تذکرہ یوںفرمایا:
    ’’سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح و ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام‘‘۔
    گویا کہ یہ نشانِ قدرت، رحمت اور قربت، فضل و احسان کا نشان قرار دیا گیا اور فتح و ظفر کی کلید اور اس نشان کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی درگاہ میں مظفر قرار دئے گئے۔
    یہ نشان کیوں دیا گیا؟ اس لئے کہ:
    ’’خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۱ موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ ۲ جو قبروں میںدبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ۳ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہرہو اور تاحق ۴ اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل۵ اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور۶ تا لوگ سمجھیںکہ مَیں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ۷ یقین لائیںکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور ۸ خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے‘‘۔ ۲۸؎
    یہ آٹھ عظیم الشان امور ہیں جن کی بناء پر اس پیشگوئی کا ظہور میں لانا ضروری قرار دیا گیا۔ ان عظیم الشان امور کے ظہور میں لانے کے لئے جس انسان کا پیدا کیا جانا مقدر تھا۔ وہ کون تھا؟ وہ وہی شخص تھا جس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
    یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ
    مسیح موعود ؑ کی سچائی کی دلیل قدیم پیشگوئیوںکے مطابق ایک موعود لڑکے کا عالم وجود میں آنا بھی تھا جو لازم اور ملزوم کی طرح سے تھے۔ اس امر کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس وحی میںاشارہ تھا:
    ’’اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے‘‘۔
    یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو راستبازی کے ساتھ ان تمام پیشگوئیوں پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مسلمانوں کو عطا کی گئیں۔ ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے خدا تعالیٰ کے وجود پر ایک کامل ایمان پیدا ہو اور اس کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر بھی کامل ایمان پیدا ہو تا جب وہ اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے تو ان کا دل خود بخود ایمانِ کامل سے لبریز ہو جائے گا۔
    دوسرے وہ لوگ ہیں جو منکرین ہیں۔ اُن کے نزدیک نہ کوئی مسیح موعود ؑآنے والا تھا اور نہ اس کے ہاں کوئی موعود لڑکا پیدا ہونے والا تھا۔ ان کے نزدیک یہ ساری باتیں یونہی خیالی اور وہمی ہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا کہ اس موعود لڑکے کی پیدائش سے صدیوں کے پُرانے نوشتے پورے ہو جائیں گے۔ منکروں اور مکذبوں پر اتمام حُجت ہو جائے گی۔ خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر ایک عظیم الشان حجت مل سکے گی اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ مَیں اِنِّیْ مَعَکَ، اِنِّیْ مَعَکَ کہنے والا خدا تیرے ساتھ ہوں۔
    اس لحاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی کتنی شان اور کتنی عظمت کی تھی۔ اگر خدانخواستہ یہ پوری نہ ہوتی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت تو ایک طرف رہی اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور خدا تعالیٰ کی قدرت سب مشکوک ٹھہر جاتی۔ اس لئے اس کا ٹلنا ناممکن تھا کیونکہ یہی وہ چیز تھی جسے حاصل کر کے خدا کا برگزیدہ نبی مظفر و منصور ٹھہرا۔ یہی وہ چیز تھی جو مانگی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے دے دی تھی۔ پھر کیسے ہو سکتا تھا، کہ وہ دی ہوئی عطاء جس پر خدا تعالیٰ کی اپنی سچائی اور اس کے دین، کتاب اور سیّد الانبیاء اور مسیح موعود ؑکی سچائی کا انحصار ہو، وہ ہی ٹل جائے اور یہ دیکھ کر کئی کمزور دماغ انسان اپنے آپ کو ان عظیم الشان پیشگوئیوں کا مصداق سمجھنے لگ جائیں۔ ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کئی دیوانے مٹی اور پتھر کے کنکر لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ ان کو جواہرات کا ڈھیر سمجھ لیتے ہیں۔ کیا حقیقت میں وہ جواہرات کا ڈھیر ہوتے ہیں؟ یا اُن کے دماغ کا نقص ہوتا ہے۔ اور ایسے ہی ہم نے دیکھا ہے کہ کبھی بسنے والے اور آباد گھر جب اُجڑ جاتے ہیں تو جنگلوں سے آ کر گیدڑ اور بھیڑیئے اُن میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں اور کئی ایسے اُجڑے ہوئے مکانوں میں اُلّو اور چمگادڑ اپنی سلطنت قائم کر لیتے ہیں۔
    کیا کوئی صحیح الدماغ انسان گیدڑوں اور بھیڑیوں کی وجہ سے ان مکانوں کو آباد کہہ سکتا ہے؟ کیا اُلّوئوں اور چمگادڑوں کی آمد و رفت اور آوازوں سے کوئی عقلمند یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ وہاں بڑی گہما گہمی ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہ چیزیں تو ویرانی اور بربادی کی ایک کھلی اور بیّن دلیل ہیں۔
    پس وہ لوگ جو آج یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے گھر میں وہ لڑکا پیدا نہیں ہوا اور وہ جو کہتے ہیں کہ وہ اس مادرِ مہربان کے بطن سے پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ سب درپردہ اس خدائی سلسلہ کے دشمن ہیں۔
    اگرچہ ان کی زبانیں اور منہ اس امر کو تسلیم نہ کریں۔ لیکن ان کے اعمال ان کی قلمیں، ان کے اخبار اور ان کی ساری کوششیں اس امر پر مبنی ہیں کہ وہ یہ ثابت کریں کہ یہ سارا سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی نہیں۔انہی کی ان کوششوں سے تاریکی کے پردے اسلام کے اس قصر کو خالی سمجھ کر اپنا گھونسلا بنانے کی فکر میں ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کا سورج آج پوری شان کے ساتھ چمک رہا ہے اور کوئی تیرہ پرست اس جگہ اپنا سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں پا سکتا۔
    یاد رہے! کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کی سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لڑکا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ظاہر کیا گیا تھا جسے صلحائِ اُمت اپنی پیشگوئیوں میںہمیشہ ظاہر کرتے رہے اور جس کے لئے خدا تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان الفاظ میں فرمایا:
    ’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت سے ہوگا‘‘۔ ۲۹؎
    اس پیشگوئی میں لفظ تیرے ہی تخم اور تیری ہی ذریّت نے ایسی حد بندی کر دی ہے کہ کسی مدعی کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ اس پیشگوئی میں ایک اور پیشگوئی بھی تھی جو پیشگوئی میںبالکل اس طرح مل کر آئی تھی کہ عام طور پر اس کی طرف توجہ نہ گئی اور یہی خیال کیا گیا کہ یہ پہلی پیشگوئی کی ہی جزو ہے اور وہ پیشگوئی یہ تھی۔
    ’’خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتاہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رِجس سے پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے‘‘۔ ۳۰؎
    اس پیشگوئی کو پہلی پیشگوئی کا حصہ ہی سمجھا گیا۔ حالانکہ یہ پیشگوئی اس پیشگوئی کا حصہ تھی جو ۱۸۸۱ء؁ میں اِن الفاظ میں کی گئی تھی۔ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَسِیْنٍ۔ ہم تجھے ایک حسین لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عظیم الشان لڑکے کی پیشگوئی بذریعہ اشتہار شائع فرما دی اور اسی اشتہار میں ایک اور لڑکے کی بھی پیشگوئی تھی جس کو مہمان کے نام سے ظاہر کیا گیا۔ مگر سب کی توجہ اس عظیم الشان لڑکے کی طرف تو گئی مگر مہمان کی طرف نہ گئی۔
    صاحبزادی عصمت کی پیدائش
    جن ایام میں یہ پیشگوئی شائع ہوئی۔ اُن ایام میں حضرت اُمُّ المؤمنین کے مشکوئے معلّٰے میں امیدواری تھی۔ چنانچہ مئی ۱۸۸۶؁ء میں اس امیدواری سے ایک صاحبزادی پیدا ہوئی۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بیوی سے پہلی اولاد تھی۔ چونکہ ۲۰/ فروری ۱۸۸۶؁ء کو آپؑ نے اس عظیم الشان لڑکے کی پیشگوئی شائع فرمائی تھی۔ اس لئے جب مئی ۱۸۸۶؁ء یعنی اشتہار کے تیسرے مہینے میں لڑکی پیدا ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک مخالفت کا طوفانِ بے تمیزی کھڑا ہو گیا۔ ابھی تک حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے دعویٰ نہیں کیا تھا مگر عقیدت مندوں کی ایک جماعت موجود تھی۔ اس لڑکی کی پیدائش پر جو ہوا، اسے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ۱۰۵ روایت نمبر۱۱۶ میں یوں لکھا ہے:
    ’’جب شروع ۱۸۸۶؁ء میں حضرت مسیح موعود ؑنے خدائی حکم کے ماتحت ہوشیار پور جا کر وہاں چالیس دن خلوت کی اور ذکرِ خدا میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپؑ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی۔ جس نے اپنے مسیحی نفس سے مصلح عالم بن کر دنیا کے چاروں کونوں میں شہرت پانی تھی۔ یہ الہام اس قدر جلالی اور شان و شوکت کے ساتھ ہوا کہ جب حضور ؑ نے ۲۰/ فروری ۱۸۸۶؁ء کے اشتہار میں اس کا اعلان فرمایا تو اس کی وجہ سے ملک میں ایک شور برپا ہو گیا اور لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسرِ موعود کی راہ دیکھنے لگے۔ اور سب نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس پسرِ موعود کے متعلق امیدیں جما لیں۔ بعض نے اس پسر موعود کو مہدی معہود سمجھا۔ جس کا اسلام میں وعدہ دیا گیا تھا اور جس نے دنیا میں مبعوث ہو کر اسلام کے دشمنوں کو ناپَید اور مسلمانوں کو ہر میدان میں غالب کرنا تھا۔ بعض نے اور اِسی قسم کی امیدیں قائم کیں اور بعض تماشائی کے طور پر پیشگوئی کے جلال اور شان و شوکت کو دیکھ کر ہی حیرت میں پڑ گئے تھے اور بغیر کوئی امید قائم کئے اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے پردۂ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔
    ’’غیر مذاہب والوں کو بھی اس خبر نے چونکا دیا تھا۔ غرض وحی الٰہی کی اشاعت رجوعِ عام کا باعث ہوئی۔ ان دنوں حضورؑ کے ہاںبچہ پیدا ہونے والا تھا۔ مگر اللہ نے بھی ایمان کے راستہ میں ابتلاء رکھے ہوتے ہیں۔ سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد مئی ۱۸۸۶؁ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی۔ اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بداعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک لَہر اُٹھی۔ کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔ اس وقت تک بیعت کا سلسلہ تو تھا ہی نہیں کہ مریدین الگ نظر آتے۔ پس عام لوگوں میں چہ میگوئی ہو رہی تھی کہ یہ کیا ہوا۔ کوئی کچھ کہتا تھا کوئی کچھ۔ حضور علیہ السلام نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الٰہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امید واری ہے تو یہی وہ پسرِ موعود ہوگا اَور اس طرح لوگوں کی تسلّی کی کوشش کی۔ چنانچہ اس پر اکثر لوگ سنبھل گئے‘‘۔ ۳۱؎
    اس طرح مئی ۱۸۸۶؁ء میں ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین کے گھر میں ایک بچی کی پیدائش پر خوشیاں ہو رہی تھیں اور دوسری طرف اس کی ولادت نے ملک بھر میں ایک طوفانِ بے تمیزی پیدا کر دیا اور اپنوں اور غیروںنے زبانِ طعن دراز کی اور اس قدر بدگوئی سے کام لیا کہ دلوں کو چھلنی کر دیا۔ مَیں اس چھوٹی سی کتاب میں اُن عبارتوں اور تحریروں کے کٹنگ نہیں دے سکتا۔ مگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا یہ تحریر فرمانا کہ:
    ’’دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک ایسی لہر اُٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا‘‘۔ کافی ہے۔
    یہ معصوم صاحبزادی ۱۸۹۱ء؁ تک زندہ رہیں۔ گویا تقریباً ۵ سال تک زندہ رہیں۔ ان کی نسبت حضرت اقدس ؑکا الہام تھا۔ ’’کَرَمُ الْجَنَّۃِ دوحۃ الجنَّۃِ‘‘ یعنی انگور کی جنتی بیل۔ جنت کا بڑا درخت۔
    اس لڑکی کا وجود مومنوں کے علاوہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین کے ایمانوں کی مضبوطی، قوت، خدا تعالیٰ کی محبت، اور خدا کی محبت میں سب کچھ برداشت کرنے کی قوت کا مظاہرہ کرانے کے لئے آیا تھا۔ لوگ ہنستے تھے، استہزاء کرتے تھے، ٹھٹھے اُڑاتے تھے، گالیاں دیتے تھے۔ مگر خدا کے یہ پاک بندے ایک مضبوط چٹان کی طرح جمے کھڑے تھے۔ ۱۸۹۱ء؁ میں حضرت اقدس ؑ لودہیانہ بمع اہل و عیال کے تشریف لے گئے وہاں صاحبزادی صاحبہ بیمار ہو گئیں۔ انہیں ہیضہ ہوا۔
    ’’حضرت اقدس ؑ اس کے علاج میں اس قدر مصروف تھے کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہوگی…… عصمت کے بیمار ہونے پر آپ اس کے علاج میں یوں دوا کرتے کہ گویا اس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف و اصطلاح میں اولاد کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکاہی نہیں کر سکتا۔ مگر جب وہ مر گئی آپ یوں الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔ یہ مصالحت اور مسالمت خدا کی قضاء و قدر سے بجز منجانبِ اللہ لوگوں کے اور سے ممکن نہیں۔
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صاحبزادی عصمت کی وفات سے جہاں تک بشیریت کا تعلق ہے، گو نہ صدمہ ہوا جو اسی حد تک تھا۔ مگر خدا تعالیٰ کی مقادیر سے کامل صلح اور مسالمت تھی اورآپ خدا کے اس فعل پر خوش و خرم تھے‘‘۔ ۳۲؎
    اس کی وفات پر بھی بہت کچھ شور و شر ہوا کہ لو وہ لڑکی بھی زندہ نہ رہی۔ اس طرح یہ معصوم جنتی انگور کی بیل اس دنیا میں پانچ سال تک رہ کر جنت میں جہاں سے آئی تھی واپس چلی گئی۔ وہ لوگوں کے ایمان کو صیقل کرنے کے لئے، ان کے اندر قوتِ ایمان پیدا کرنے کیلئے آئی تھی، اس کا کام جلد پورا ہو گیا اور وہ جلد اپنے رب کے حضور چلی گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین نے اِس بچی کی پیدائش پر سارے شور و غوغا کو نہایت حوصلہ سے سنا اور ان کے ایمان میں ذرا جنبش پیدا نہ ہوئی اور جب وہ خدا کے پاس بلائی گئی تو آپ نے نہ کوئی گھبراہٹ کا اظہار کیا اور نہ جزع فزع کیا بلکہ بالکل حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی طرح رضا بالقضأ کا ثبوت دیا۔ جیسے مَیں واقعات سے ثابت کروں گا۔
    جس خوشی سے اُسے لیاتھا۔ اسی خوشی سے اپنے مولا کو واپس کر دی۔
    پہلی اولاد
    صاحبزادی عصمت
    تاریخ پیدائش مئی ۱۸۸۶؁ء
    تاریخ وفات جولائی ۱۸۹۱ء؁
    کل عمر پانچ سال دو ماہ
    اس کی شان
    کَرَمُ الجنَّۃِ دوحۃ الجنَّۃِ
    بشیر اوّل
    حضرت اُمُّ المؤمنین کے بطن سے دوسرا بچہ بشیر اوّل پیدا ہوا۔ بشیر اوّل کی پیدائش ۷/اگست ۱۸۸۷؁ء کی رات کو ڈیڑھ بجے کے قریب ہوئی یعنی اس وقت یکشنبہ کے دن کا آغاز ہو رہا تھا۔ اس بچہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہی موعود لڑکا خیال کیا۔ چنانچہ آپ نے ۷/اگست ۱۸۸۷؁ء کو ایک دو ورقہ اشتہار بعنوان خوشخبری شائع فرمایا۔ اس میں تحریر فرمایا:
    ’’اے ناظرین! مَیں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولّد کے لئے مَیں نے اشتہار ۸/ اپریل ۱۸۸۶؁ء میں پیشگوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں، جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ۱۶/ ذیقعدہ ۱۳۰۴ہجری مطابق ۷/اگست ۱۸۸۷؁ء میں ۱۲ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہوا۔ فالحمدللّٰہ علی ذٰلک‘‘۔
    اس لڑکے کی نسبت پیشگوئی تھی۔
    ’’خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے‘‘۔
    اس لڑکے کا اصل نام بشیر احمد تھا۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے الہامات میں اور بھی نام رکھے تھے۔ جیسے مبشر اور بشیر اور نور اللہ۔ صَیِّب اور چراغ دین وغیرہ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفۃالمسیح اوّل کو ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرمایا کہ:
    (ب) ’’خدا تعالیٰ نے پسر متوفّٰے کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے ان میں سے ایک بشیر اور ایک عنموائیل اور ایک خدابا ماست اور رحمت حق باماست اور ایک ید اللہ بجلالٍ و جمالٍ ہے‘‘۔ ۳۳ ؎
    ایک الہام اس کے متعلق یہ ہوا تھا:
    ’’جَائَ کَ النُّوْرُ وَھُوَاَفْضَلُ مِنْکَ‘‘ ۳۴؎
    اس بچے کی پیدائش پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔ حضرت اقدس ؑ نے اس کے عقیقہ کی تقریب پر بہت سے دوستوں کو اس خوشی میں مدعو بھی کیا تھا۔ یہ خوشی کی تقریب عام دنیا داروں کی طرح نہ تھی جو بچوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں بلکہ آپؑ کی غرض یہ تھی کہ آپ اس بچے کی پیدائش پر جس کی روحانی استعداد کا علم قبل از وقت دیا گیا تھا۔ جس کا وجود اسلام کی سچائی کے لئے ایک چمکتے ہوئے نشان کی طرح تھا۔ خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کریں۔
    پس یہ خوشی دراصل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اظہار کے لئے تھی۔ آپ نے اپنے دوستوں کو خط لکھ کر اس تقریب پر بلایا۔ چنانچہ حضرت منشی رستم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ نے ایک مکتوب تحریر فرمایا جو حسبِ ذیل ہے۔
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
    مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب
    السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
    آج سولہویں ذیقعدہ ۱۳۰۴ ؁ہجری بفضلہ تعالیٰ و کرمہٗ اس عاجز کے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ ۲۲/ذیقعدہ مطابق ۱۳/ اگست روزِ عقیقہ ہے۔ اگر کچھ موجبِ تکلیف و حرج نہ ہو تو آپ بھی تشریف لا کر ممنونِ احسان فرماویں۔ فقط۔ ۷/ اگست ۱۸۸۷؁ء
    خاکسار مرزا غلام احمد
    از قادیان ضلع گورداسپور ۳۵؎
    پھر ۱۰/ اگست کو ایک کارڈ تحریر فرمایا کہ دو شطرنجی کلاں بھی دو روز کے لئے ساتھ لائیں۔
    پھر ایک دوسرا کارڈ اسی روز تحریر فرمایا کہ ایک سائیبان بھی درکار ہے۔جو خیمہ کی طرز کا ہو کیونکہ مکان کی تنگی ہے۔
    پھر ایک مکتوب ملفوف تحریر فرمایا۔ جس پر تاریخ نہیں۔ مگر اغلباً وہ بھی اسی روز کا لکھا ہوا ہے۔ اس میں تحریر فرمایا کہ تین روز کی رخصت لے کر حسب ذیل اشیاء عقیقہ کے لئے ساتھ لائیں۔
    روغن زرد عمدہ ڈیڑھ من خام۔ ۳۰؎ نقد۔ تین بوتل عمدہ چٹنی۔ بیس ثار آلو پختہ۔ چار ثار اربی پختہ۔ کسی قدر میتھی پالک وغیرہ ترکاری۔ پان بھی طلب فرمائے تھے۔
    پھر ایک اور ملفوف تحریر فرمایا۔ جس میں پھر خیمہ سائیبان کی ضرورت پر تحریر فرمایا:
    ’’مہمان عقیقہ کے روز اس قدر آئیں گے کہ مکان میں گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ آپ کیلئے ثواب حاصل کرنے کا نہایت عمدہ موقع ہے‘‘۔
    ان خطوط سے اس انہماک کا پتہ لگ سکتا ہے جو حضور ؑ کو صاحبزادہ بشیر احمد اوّل کی پیدائش پر عقیقہ کے متعلق تھا۔ الغرض سب سامان ہو گئے۔ بکثرت احباب قادیان میں جمع ہوئے اور خدا تعالیٰ کے اس فضل کا شکر ادا کرتے رہے۔
    اس طرح حضرت اُمُّ المؤمنین کے بطن مبارک سے جو لڑکی پیدا ہوئی تھی وہ اپنی ذات میں مومنوں کے ایمان میں ایک نئی قوت پیدا کرنے کیلئے آئی تھی اور یہ مبارک لڑکا جو بہت بڑی استعدادوں کے ساتھ اس دنیا میں آیا تھا۔ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا ہوا تھا۔ کیسی مبارک ہے وہ ماںجس کی بچی کی یہ شان تھی کہ خدا نے اسے کَرَمُ الجنَّۃِ دوحۃ الجنَّۃِ کہا اورجس کے بیٹے کی یہ شان کہ خدا تعالیٰ اسے اپنے عرش سے مبشر،بشیر، نوراللہ، چراغ دین وغیرہ اسماء سے یاد فرما رہا تھا۔ یہ کھلی کھلی دلیل تھی کہ یہی وہ خاتون تھی کہ جس میں اس قدر پاکیزہ استعداد تھی کہ وہ مسیحی صفت بچے پیدا کر سکے۔ ایسی ماں کی عظمت میں کیا شک ہو سکتا ہے۔
    الغرض بشیر احمد اوّل اپنے مقدس اور بزرگ باپ اور عظیم الشان ماں کی آغوش میں شفقت کے ساتھ بڑھنے لگا۔ حضرت اقدس ؑ اور حضرت اُمُّ المؤمنین کو اس کے آرام کا بہت بڑا خیال تھا۔ چنانچہ خاص اس بچہ کی خدمت کے لئے ایک نوکر کی تلاش ہوئی۔ حضرت اقدس ؑ نے ۲۱/ اگست ۸۷ء ؁کو چوہدری رستم علی صاحبؓ کی خدمت میں لکھا کہ:
    ’’ہمارا یہ منشاء ہے کہ کوئی باہر سے خادم آوے جو طفل نوزاد کی خدمت میں مشغول رہے۔ آپ اس میں نہایت درجہ سعی فرماویں کہ کوئی نیک طبیعت اور دیندار خادم کہ جو کسی قدر جوان ہو مل جائے‘‘۔
    پھر ایک پوسٹ کارڈ ۶/ستمبرکو تحریر فرمایا جس میں خادمہ کی ضرورت کے متعلق لکھا:
    ’’صرف نیک بخت اور ہوشیار اور بچہ رکھنے کے لائق ہو… گھر میں تین عورتیں خدمت کرنے والی تو اس جگہ موجود ہیں‘‘۔
    پھر ۲۱/ ستمبر کو تحریر فرمایا:
    ’’اب ایک خادمہ، محنت کش، ہوشیار، دانا، دیانتدار کی اشد ضرورت ہے اور اس کا کام یہی ہوگا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کی خدمت میں مشغول رہے‘‘۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ گھر میں تین خادمائیں موجود تھیں۔ مگر اس بچے اور پہلی بچی کی خدمت کے لئے ایک الگ خادمہ کی تلاش کی جا رہی تھی تا کہ ان بچوں کو زیادہ سے زیادہ آرام مل سکے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ آپ نوکرانی بھی ایسی چاہتے تھے جو نیک اور دیانتدار اور تمام اچھی صفات سے متصف ہو۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان بچوں کے متعلق کس قدر اہتمام تھا اور یہ بچے کیسے بابرکت تھے، جو ایسے والدین کے زیر سایہ پرورش پا رہے تھے۔
    بشیر احمد کی علالت
    جب بشیر احمد کی عمر ایک سال کے قریب ہوئی تو وہ سخت بیمار ہو گیا۔ حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بعد میں خلیفۃ المسیح اوّل ہوئے کو جموں میں مکتوبِ گرامی تحریر فرمایا:
    ’’بشیر احمد عرصہ تین ماہ تک برابر بیمار رہا۔ تین چار دفعہ ایسی نازک حالت تک پہنچ گیا ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید دو چار دم باقی ہیں۔ مگر عجیب قدرت قادر ہے کہ ان سخت خطرناک حالتوں تک پہنچا کر پھر ان سے رہائی بخشتارہا ہے۔ اب بھی کسی قدر علالت باقی ہے۔ مگر بفضلہ تعالیٰ آثار خطرناک نہیں ہیں…… اور ایسے وقتوں کی دعا بھی عجیب قسم کی دعا ہوتی ہے۔ سو الحمدللہ والمنتہ کہ آپ ایسے وقتوں میں یاد آجاتے ہیں‘‘۔
    اس کے بعد پھر ایک خط تحریر فرمایا جس میں تحریر فرمایا:
    ’’ایک خط روانہ خدمت کر چکا ہوں۔ اب باعثِ تکلیف دہی یہ ہے کہ بشیر احمد میرا لڑکا جس کی عمر قریب برس کے ہوچلی ہے۔ نہایت ہی لاغر اندام ہو رہا ہے۔ پہلے سخت تپ محرقہ کی قسم بخار چڑھا تھا۔ اس سے خدا تعالیٰ نے شفا بخشی۔ پھر بعد کسی قدر خفّت تپ کے یہ حالت ہوگئی کہ لڑکا اس قدر لاغر ہو گیا ہے کہ استخواں ہی استخواں رہ گیا۔ سقوطِ قوت اس قدر ہے کہ ہاتھ پَیر بیکار کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ یا تو وہ جسم قوی ہیکل معلوم ہوتا تھا اور یا اب ایک تنکے کی طرح ہے۔ پیاس بشدت ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ حرارت کا اندر موجود ہے۔ آپ براہِ مہربانی غور کر کے کوئی ایسی تجویز لکھ بھیجیں جس سے اگر خدا چاہے بدن میں قوت ہو اور بدن تازہ ہو۔ اس قدر لاغری اور سقوطِ قوت ہو گیا ہے کہ وجود میں کچھ باقی نہیں رہا۔ آواز بھی نہایت ضعیف ہوگئی ہے۔ یہ بھی واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ دانت بھی اس کے نکل رہے ہیں۔ چار دانت نکل چکے تھے کہ یہ بیماری شیر کی طرح حملہ آور ہوئی۔ اب بباعث غایت درجہ ضعفِ قوت اور لاغری اور خشکی بدن کے دانت نکلنے موقوف ہوگئے ہیں اور یہ حالت ہے، جو مَیں نے بیان کی ہے۔ براہِ مہربانی بہت جلد جواب سے مسرور فرماویں۔
    والسلام‘‘
    اس سے اس توجہ اور شفقت اور محبت کا پتہ چل سکتا ہے کہ جو حضرت اقدس ؑ کو بشیر کی بیماری کے متعلق تھی۔ نیز اس حالت میں آپ کس قدر دعائیں فرما رہے تھے۔
    حضرت اماں جان کی جو حالت ہوگی وہ خود بخود ہی واضح ہو جاتی ہے وہ ماں جس کا پہلا بچہ ہو اور جو خوبصورت بھی ہو اس کی ذات کے متعلق بڑی بڑی امیدیں وابستہ ہوں۔ وہ ایسا سخت بیمار ہو تو اس ماں کے قلب کی کیا کیفیت ہوگی۔ یہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔
    صاحبزادہ بشیر احمد اوّل اس شدید بیماری سے بالکل اچھا ہو گیا۔ چنانچہ ۱۸/ اگست ۱۸۸۸؁ء کو ایک خط میں حضرت مولوی صاحب کو لکھا کہ آپ کے آنے کی اب ضرورت نہیں۔ اب بشیر احمد خدا کے فضل سے اچھا ہے۔
    اس طرح خدا تعالیٰ نے ان دعائوں کو جو کی گئیں۔ شرفِ قبولیت بخشا اور صاحبزادہ بشیر اوّل اچھا ہو گیا۔ مگر اصل تقدیر جو ’’مہمان‘‘ کے الہام میں پوشیدہ تھی، ابھی پوری ہونے والی تھی۔ چنانچہ بشیر اوّل پھر بیمار ہوا اور ۴/ نومبر ۱۸۸۸؁ء کو تئیس دن بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    آپ نے حضرت مولوی صاحبؓ کو جموں خط لکھا اور اس میں بشیر اوّل کی وفات کی اطلاع دی۔ چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا:
    ’’میرا لڑکا بشیر احمد تئیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اِس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہونگی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ وانّا راضون برضائہٖ وصابرون علٰی بلائہٖ یرضٰی عنّا مولیٰنا فی الدنیا والاْخرۃ وھوارحم الرّاحمین۔ والسلام ۴۔ نومبر ۱۸۸۸؁ء
    حضرت حکیم الامّتؓ کو آپ نے جو مختصر خط لکھا۔ اس میں دو امور کی طرف اشارہ فرمایا:
    ۱۔ اب مخالفوں کی زبانیں دراز ہونگی۔
    ۲۔ موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے۔
    سو ایسا ہی ہوا۔ ایک بڑا زلزلہ آیا۔ مخالفت کا طوفان بے تمیزی اُٹھا سیرۃ المہدی حصہ اوّل مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے صفحہ۸۸ پر لکھا ہے:
    ’’مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ملک میں طوفانِ عظیم برپا ہوا اور سخت زلزلہ آیا۔ حتیّٰ کہ میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کیلئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا نہ اس کے بعد آیا۔ گویا وہ دعویٔ مسیحیت پر جو زلزلہ آیا تھا۔ اسے بھی عامۃ الناس کیلئے اس سے کم قرار دیتے ہیں۔ مگر بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اُٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکہ لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے… حضرت صاحبؑ نے لوگوں کو سنبھالنے کیلئے اشتہاروں اور خطوط کی بھرمار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ مَیں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ ہاں یہ مَیں نے کہا تھا کہ چونکہ خاص اس لڑکے کے متعلق بھی مجھے بہت سے الہام ہوئے ہیں جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتائی گئی تھی۔ اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود لڑکا ہو۔ مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اصل اتباع کے قابل ہے، ہرگز کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی۔ غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا۔ چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے۔ لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا اور مخالفین میں پرلے درجہ کے استہزاء کا جوش تھا‘‘۔
    یہ ایسا وقت تھا کہ دشمن تو دشمن اپنے بھی بہت خطرے میں پڑ گئے تھے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے جو اس وقت رضأ بالقضاء کا نمونہ دکھایا اس کی یہ حالت تھی کہ آپ نے جب دیکھا کہ بچے کے اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو آپ نے فرمایا کہ مَیں پھر اپنی نماز کیوں قضاء کروں۔ چنانچہ آپ نے وضو کر کے نماز شروع کر دی اور نہایت اطمینان کے ساتھ نماز ادا کر کے دریافت فرمایا کہ بچے کا کیا حال ہے تو اس کے جواب میں بتلایا گیا کہ بچہ فوت ہو گیا ہے تو آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ کر خاموش ہو گئیں۔
    یہ واقعہ الحکم میں شائع شدہ موجود ہے۔ اس وقت جب کہ چاروں طرف شور بے تمیزی مچ رہا تھا۔ ایک زلزلہ آیا ہوا تھا۔ ایک ماں کے ایمان کی پختگی کی ایسی مثال کم ملے گی کہ اپنے لختِ جگر کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے سکونِ قلب کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ جائو ڈھونڈو! دیکھو کہ اس کی مثال کہیں نظر آتی ہے؟ ان کی زبان سے کوئی شکوہ، کوئی کلمہ قابلِ اعتراض نہیں نکلا۔ انہوں نے اپنے خاوند سے یہ نہیں پوچھا کہ آپؑ تو اس لڑکے کے متعلق ایسا خیال کرتے تھے اب یہ کیاہوا۔
    پورا اطمینان، پورا سکون، قلب میں موجود تھا۔ اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ کر خاموش ہوگئیں۔ یہ شان ہے حضرت اُمُّ المؤمنین کے ایمان کی پختگی کی اور رضاء بالقضاء کی اور یہی ایک مسلمان عورت کی شان ہے۔
    حضرت اقدس ؑ نے اپنے مخلص مریدوں کو اس پیشگوئی کی وضاحت پر مفصل خط لکھے جو سلسلہ کے لٹریچر میں موجود ہیں۔ الغرض صاحبزادہ بشیر اوّل خدا کے ان الہاموں کے ماتحت فوت ہوگیا۔ آپؑ نے ایک اشتہار لکھا جس پر یہ شعر لکھا۔ع
    ہم نے اُلفت میں تری بار اُٹھایا کیا کیا
    تجھ کو دِکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا
    اور تحریر فرمایا:
    ’’غرض جو اس کی نگاہ میں راستباز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اُٹھاتے چلے آئے ہیں۔ سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے۔ اس لئے اگر ہم بھی خویش و بیگانہ سے کچھ آزار اُٹھائیں تو ہمیں شکر بجا لانا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دُکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں‘‘۔ ۳۶؎
    پھر آپؑ نے ایک مفصّل اشتہار بنام ’’حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر‘‘ شائع کیا۔ اس میں آپؑ نے بتلایا کہ یہ الہامی طور پر تصفیہ نہیں ہوا تھا کہ یہی وہ مصلح موعود لڑکا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ اگرچہ بشیر اوّل اپنی ذاتی استعدادوں کے لحاظ سے بڑی عظمت اور شان والا لڑکا تھا اور یہ استعدادیں اس کے اندر اسی طرح موجود تھیں، جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کے اندر نبوت کی استعداد موجود تھی۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا۔’’ لو عاش ابراہم لکان صدّیقا نبیّا‘‘۔ ایسی ہی استعدادوں کے ساتھ یہ بشیر بھی آیا۔
    وہ کیوں فوت ہوا؟
    اس کی وفات کی یہی وجہ تھی کہ وہ خود مصلح موعود نہ تھا بلکہ جیسے حضرت اقدس ؑ نے سبز اشتہار کے حاشیہ صفحہ۲۱ پر لکھا ہے۔
    ’’بشیر اوّل جو فوت ہو گیا ہے۔ بشیر ثانی کے لئے بطور ارہاص تھا‘‘۔
    وہ مصلح موعود کی پیشگوئی کی عظمت ظاہر کرنے کیلئے آیا تھا۔ اگر بشیر اوّل زندہ رہتا تو لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہوتی اور یہ قدرتی بات تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ مصلح موعود نہ تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی مشیّتِ خاص نے اسے مصلح موعود کے لئے راستہ صاف کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ یہ مختصر حالات ہیں بشیر اوّل کے۔ اس طرح وہ ۱۷/ اگست ۱۸۸۷؁ء کورات کے ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہوا اور ۱۴ نومبر ۱۸۸۸؁ء بروز یکشنبہ اپنی عمر کے سولہویں مہینہ میں فوت ہو گیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ -
    بشیر اوّل
    تاریخ پیدائش ۱۷/ اگست ۱۸۸۷؁ء
    تاریخ وفات ۱۴/ نومبر ۱۸۸۸؁ء
    عمر ۱۶ماہ
    اس کی شان! مبشر ، بشیر، نور اللہ، صیّب، چراغ دین، عنموائیل وغیرہ وغیرہ
    حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
    جب بشیر اوّل اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت واپس بلا لیا گیا تو جیسے کہ میں لکھ چکا ہوں بہت بڑازلزلہ نموادر ہوا۔ خود حضرت اقدس ؑ نے ’’حقانی تقریر‘‘ میں لکھا کہ:
    ’’عجیب طور کا شوروغوغا خام خیال لوگوں میں اُٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔ مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت و افتراء ہے۔ انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع و اقسام کے افتراء گھڑنے شروع کئے۔‘‘ ۳۷؎
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال دیگر انبیاء ؑ کے ساتھ
    یہ واقعہ ایساتھا کہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگر انبیاء ؑ سے ایک بڑی مماثلت قائم کر دی۔ چنانچہ آپؑ ’’حقانی تقریر‘‘ میں فرماتے ہیں:
    ’’ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سا کر کے ان کو دکھاتا ہے۔ یہ ابتلاء اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام و نشان مٹا دیوے۔ کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عزوجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے عاشقوں کو ذلّت کے ساتھ وہ ہلاک کر ڈالے۔ بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر بَبر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولت کے بلند مینار تک پہنچا دے۔ اور الٰہی معارف کے باریک دقیقے ان کو سکھا دے۔ یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔
    ’’زبور میںحضرت داؤد کی ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تضرعّات اسی عادت اللہ پردال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخرالرسلؐ کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانونِ قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔ اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء ان مدارجِ عالیہ کو ہرگز نہ پا سکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پا لئے۔ ابتلاء نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے ائور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے سچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اَور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مددوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربّیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیاکہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میںچھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت موردِ غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں۔ بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا۔ غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے۔ ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں۔ پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا بار ان پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا‘ ان کی ہمت بلند اَور شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔ بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اوّل درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت و حُرمت کا تاج ان کے سر پر رکھا گیا۔‘‘ ۳۸؎
    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو کچھ حکایتِ دیگراں کی صورت میں تحریر فرمایا ہے وہ دراصل ان کی اپنی سیرت،ان کی اپنی وفاشعاری ،ان کے اپنے عشق و محبت،ان کی اپنی مشکلات اور مصائب کی داستان ہے۔ میری اس کتاب کو پڑھنے والے ان الفاظ کو پڑھیں اور پھر پڑھیں اور وہاں وہ غائب کی ضمیروں کو حاضر کی ضمیروں میں تبدیل کریں اور اپنی آنکھوں کے سامنے حضرت مسیح موعود ؑ کو دیکھیں کہ وہ خدا کا فرستادہ اپنی اس حالت کو کن الفاظ میں بیان فرما رہا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
    ۱۔ یہ ابتلا شیر بَبر کی طرح تھا۔
    ۲۔ یہ ابتلاء سخت تاریکی کی مانند تھا۔
    ۳۔ ان ابتلاؤں نے طول کھینچ لیا تھا۔
    ۴۔ اس کی مثال ایسی تھی جیسے سخت تاریک رات میں شدت کی بارش ہوتی ہے۔
    ۵۔ یہ ابتلاء آندھی کی طرح تھا۔ سخت تاریکی کے مانند تھا۔ بڑے بڑے زلزلوں کی مانند تھا۔
    ۶۔ اس چیز نے ان کو بظاہر ذلیل کیا اور دشمنوں نے ان کو جھوٹوں ،مکاروں، بے عزتوں میں شمار کر لیا۔
    ۷۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ تنہا چھوڑ دیئے گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نصرت ان سے جاتی رہی۔
    تصور کرو! ہاں! اچھی طرح تصور کرو!! کہ اس نبی یا مامور و مرسل کے قلب کی کیا حالت ہو سکتی ہے۔ جس کے متعلق ایسی حالت پیدا کر دی گئی ہو۔ آپ نے حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ اور آنحضرت ﷺ کی مماثلت کا اس میں ذکر فرمایا۔ تاکہ ہم ان کی مشکلات سے بھری ہوئی زندگی پر نظر ڈال سکیں اور پھر یہ جان سکیں کہ یہ مشکلات تو سنت انبیاء ہیں۔ مگر اس کیفیت کو بیان کرنے کیلئے آپ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی عبارت سے واضح کر کے اور بھی اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ حضرت داؤد فرماتے ہیں:
    ’’اے خدا! تو مجھ کو بچا لے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔ میں گہری کیچ میں دھس چلا۔ جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں میں چلاتے چلاتے میری آنکھیںدُھند ہو گئیں۔ وہ جو بے سبب میرا کینہ رکھتے ہیں شمار میں میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔اے خداوند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔ وہ جو تجھ کو ڈھونڈتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اُٹھاویں۔ وے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے میری بابت بکتے ہیں اور نشے باز میرے حق میں گاتے ہیں تو میری ملامت کشی اور میری رسوائی اور میری بے حرمتی سے آگاہ ہے۔ میں نے تاکا کہ کیا کوئی میرا ہمدرد ہے کوئی نہیں۔‘‘ ۳۹؎
    یہ کلام جو پہلے داؤد نے کہاتھا۔ اسی حالت کا نقشہ کھینچ رہا ہے جو اس زمانہ میں ان ابتلاؤں کی وجہ سے ہوئی اور یہ دعا جو اس قلبی کیفیت کی آئینہ دار ہے۔ اِس زمانہ کے داؤد نے دوبارہ درج کر کے یہ ثابت کر دیا کہ میری حالت پہلے داؤدؑ سے ذرہ بھی کم نہیں۔
    یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اور کیوں ہوتا ہے! اس لئے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستبازوں کی اس لاانتہاء قوت کو دنیا پر ظاہر کرے ۔ جو وہ خداتعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا اور اس کی تبلیغ کے پہنچانے کے لئے اپنے اندر رکھتے ہیں۔ یہ چیز انبیاء کی سیرت کا ایک باب ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس پر ان کے سوا کوئی پہنچ نہیں سکتا۔
    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بالآخر تمام امتحانات سے اوّل درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلتے ہیںاور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو جاتے ہیں اور عزت و حرمت کا تاج ان کے سر پر رکھا جاتا ہے۔بالکل اسی اصل کے مطابق خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر وہ تاج عزت و حرمت رکھ دیا۔ ان آزمایشوں کی تمام تاریکیوں کو تار تار کر دیا۔
    ایک سوال یہاں پیدا ہو سکتا ہے کہ تم سیرت تو اُمُّ المؤمنین کی لکھ رہے ہو اور یہاں یہ ساری بحث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے متعلق کی جا رہی ہے؟ اس کے جواب میں اس قدر کہناکافی ہو گا کہ بعض چیزیںایسی ہوتی ہیں جو میاں بیوی میں مشترک ہوتی ہیں۔ کوئی مصیبت اور کوئی تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو میاں کو آئے اور بیوی اس سے متاثر نہ ہو یا بیوی کو تکلیف ہو اور میاں اس سے حصہ نہ لے میدانِ جنگ میں ایک گھرانا جو توپوں،گولوں، بموں کا ہدف بن رہا ہے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس گھر کا مالک اس مصیبت کا شکار ہے ۔ اصل تو یہی ہے کہ وہ سارا خاندان،وہ سارا کنبہ، وہ سارے افراد جو ایک سِلک میں منسلک ہوتے ہیں شکار ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب ایک نبی کسی ابتلاء میں ڈالا جاتا ہے۔ جب اس کی روح خدا کے حضور عاجزی کر رہی ہوتی ہے۔ جب وہ پانی کی طرح اس کے آستانہ پر بہہ رہا ہوتا ہے۔ تو اس کے بیوی بچے بشرطیکہ وہ اس سے راستبازی کا تعلق رکھتے ہوں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ وہی نہیں بلکہ وہ لوگ جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ بھی برابر کے دکھ اور سکھ میں شریک ہوتے ہیں جیسے حضرت داؤد کہتے ہیں:
    ’’اے خدا وند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں۔ میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔ وہ جو تجھ کو ڈھونڈتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اُٹھائیں۔‘‘
    پس یہ ایک اصل الاصول ہے کہ جب کسی ایسی تکلیف کا اظہار کیاجائے جس میں حضرت اقدس ؑ تکلیف میں مبتلا ہوں تو جان لینا چاہئے کہ ان کی وفا شعار بیوی جو خدا نے خود بطور ایک نعمت کے دی تھی جس کی وفاشعاری خدیجہؓ کی طرح تھی جس کے بطن سے موعود اور مبشر اولاد دیئے جانے کے وعدے دیئے گئے تھے۔ جس کے بطن سے ایسا عظیم الشان بچہ پیدا ہوا جیسے بشیر اوّل تھا پھر اس کی وفات ہو گئی اور بظاہر یہ معلوم ہوا کہ خدا کے وعدے ٹل گئے۔ اندر اور باہر لوگ بیٹھے ہوئے پھبھتیاں اُڑاتے ہوں اور اس کے پیارے اور نہایت ہی پیارے خاوند کے قلب پر غم واندوہ کے پہاڑ لوگوں کی تباہی کے خوف سے ٹوٹ پڑے ہوں۔ اس وفا شعار بزرگ خاتون کے قلب اور رنج کی کیا حالت ہو سکتی ہے ظاہر ہے۔
    پس حضرت اُمُّ المؤمنین کادکھ بالکل وہی صورت لئے ہوئے تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دکھ لئے ہوئے تھا۔ اس لئے یہ سارا واقعہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ثبات، استقلال،بے پناہ عشقِ الٰہی، وفاداری کا ثبوت ہے۔ وہاں حضرت اُمُّ المؤمنین کی مومنانہ شان اور عُسر و یُسر کی گھڑیوں میں خاوند کا مکمل ساتھ اور رضاء بالقضاء کے علاوہ خداتعالیٰ سے سچی وفاداری کا ثبوت ہے۔ اس استقلال،اس نیکی، اس تقویٰ کا نتیجہ یہ تھا کہ خداتعالیٰ نے اپنا اٹل فیصلہ صادر فرمایا کہ ایسی بہادر ماں کے بطن سے اور ایسے عظیم الشان باپ کے صلب سے وہ عظیم الشان بیٹا پیدا ہو جو مصلح موعود ہو اور اس کے سوا اور بھی بیٹے پیدا کئے جائیں جو ان نوروں کی تخمریزی کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا۔
    اس لئے بشیر اوّل کا جیسے آنا بابرکت تھا اسی طرح اس کا جانا بھی دنیا کے لئے بڑا ضروری تھا۔ یہ سب کچھ جو ملا وہ اسی لئے ملا کہ مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین اور مومنوں کے صبر کا اجر ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی قرآن کریم میں یہ اصول درج فرما دیا تھا کہ:
    وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَا اَصَابَتْھُمْ مُصِیْبَۃٌ قَالُوْا اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اُوْلٰئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ-
    یہ قانون الٰہی ہے کہ مصیبت پر صبر کرنے والوں پر رحمت اور فضل کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدس نے تقریر حقانی میں لکھا:
    ’’خدا تعالیٰ کی انزالِ رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کیلئے بڑے عظیم الشان دو طریقے ہیں۔
    ۱۔ اوّل یہ کہ کوئی مصیبت اور غم و اندوہ نازل کر کے صبر کرنے والوں پر بخشش اور رحمت کے دروازے کھولے۔……
    ۲۔ دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسالِ مرسلین و نبیین و ائمّہ و اولیاء و خلفاء ہے۔ تاان کی اقتداء و ہدایت سے لوگ راہِ راست پر آ جائیں اور ان کے نمونے پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں۔ سو خداتعالیٰ نے چاہاکہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعے سے یہ دو نوںشق ظہور میں آ جائیں‘‘۔
    آپ نے تحریر فرمایا کہ:
    قسم اوّل کے انزالِ رحمت کے لئے بشیر کو بھیجا تا بَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ کا سامان مومنوں کے لئے تیار کر کے اپنی بشیریت کا مفہوم پورا کرے……۔ اور دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا……اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔ جس کا نام محمود بھی ہے وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہو گا یخلق اللّٰہ مایشاء‘‘ ۴۰؎
    اس طرح ایسے بیٹے کی نسبت جو اس قدر ابتلاؤں کے بعد آنے والا تھا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:
    ’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذرّیت و نسل سے ہوگا۔…
    ’’اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیورّی نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مظہر الاوّل و الاٰخر- مظہر الحق والعلاء کانّ اللّٰہ نزل من السّماء- جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خداتعالیٰ نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔ اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رُستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔‘‘ ۴۱؎
    پھر دوسری جگہ فرمایا:
    ’’ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔ سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا۔ اولاد بھی عطاء کی اور ان میں سے وہ لڑکابھی جو دین کا چراغ ہو گا۔ بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا۔ جس کانام محمود احمد ہو گا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔‘‘ ۴۲؎
    پھر تحریر فرمایا:
    ’’میرا پہلا لڑکا زندہ موجود ہے۔ جس کا نام محمود ہے۔ ابھی وہ پیدا نہیں ہواتھا۔ جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کانام لکھا ہوا پایا۔ محمود ۔ ۴۳؎
    پھر تحریر فرمایا:
    ’’دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔ وہ اگرچہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸؁ء ہے پیدا نہیں ہوا۔ مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی معیاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں۔ پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اَور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے۔ کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے پوشید ہے۔ اور انجامِ کار اس کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ ۴۴؎
    پھر تحریر فرمایا:
    ’’جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دے گی۔‘‘
    پھر فرمایا:
    ’’اے وے لوگو جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو۔ بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلوکہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔ ۴۵؎
    پھرتحریر فرمایا:
    ’’اور یہ دھو کہ کھانا نہیں چاہئے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے۔ کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیااور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرض التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہو کر پھر واپس اُٹھایا جاتا۔ کیونکہ یہ سب امور حکمتِ الٰہیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے اور بشیر اوّل جو فوت ہو گیا ہے۔ بشیر ثانی کے لئے بطور ارہاص تھا۔ اس لئے دونوں کاایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔‘‘ ۴۶؎
    پھر تحریر فرمایا:
    ’’ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسرا نام محمود ہے۔ جس کی نسبت فرمایا کہ وہ اولوالعزم ہو گا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا یخلق اللّٰہ مایشاء۔‘‘ ۴۷؎
    پھر تحریر فرمایا:
    ’’وہ اولوالعزم ہو گا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے‘‘۔ ۴۸؎
    پھر تحریر فرمایا:
    ’’مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا۔
    اے فخر رسل قُربِ تو معلومم شد
    دیر آمدہٖ ز رہِ دُور آمدہٖ۴۹؎
    یہ تمام حوالہ جات جو میں نے ایک جگہ کر دیئے ہیں۔ اس بیٹے کی عظمت کو واضح کرتے ہیں۔ جو بشیر اوّل کے بعد آنے والا تھا۔ چنانچہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹؁ء بمطابق۹جمادی الاوّل ۱۳۰۶؁ ہجری بروز شنبہ وہ عظیم الشان موعود بیٹا جو اصلاح خلق کے لئے مصلح موعود بنا کر بھیجا جانا مقصود تھا پیدا ہو گیا۔ یہ وہ شخص تھا جو فضل تھا،عمر تھا، محمود تھا،بشیر تھا، حُسن و احسان میں مسیح موعود کی نظیر تھا۔ یہ وہی انسان تھا جس کا نام روشنی رکھا گیا۔ اس کی آمد پر خوشی سے اچھلنے کے لئے کہا گیا۔ یہ ہی وہ شخص تھا جس کے آنے سے پہلے شدید زلزلے آئے اور دنیا ہلائی گئی۔ یہی وہ شخص تھا جو فخر رسل کہلایا اور اس کی آمد پر کہا گیا
    دیر آمدہٖ ز رہِ دَور آمدہٖ
    یہ وہی شخص تھا جو مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی ایک دلیل تھا اور آپؑ کے تخم اور آپؑ کی ذرّیت سے تھا۔ یہی وہ شخص تھا جس کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی تھی اور یہی وہ شخص تھا جس کی آمد کی خبر صلحاء امّت دیتے چلے آئے تھے۔ یہی وہ شخص تھا جس کی آمد ایسی اٹل تھی کہ زمین و آسمان ٹل سکتے تھے مگر اس کی آمد ٹل نہیں سکتی تھی۔ اتنی شان، اتنی عظمت، اتنی خوبیوں کا انسان ۱۲/ جنوری ۱۸۸۹؁ء کو پیدا ہو گیا۔ یہ سب اس لئے ہوا۔ ’’تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔ تا لوگ سمجھیں کہ مَیں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ مَیں تیرے ساتھ ہوں‘‘۔ ۵۰؎
    پس یہ اسلام کی صداقت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، قرآن کریم کی صداقت اور خود خدا تعالیٰ کی صداقت کے لئے ضروری تھا۔
    مصلح موعود کی جس قدر علامتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی تھیں وہ سب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح ثانی میں پائی گئیں۔ ان کی تفصیل مَیں اس جگہ نہیں دے سکتا۔ یہ تفصیلی بحث خود سیرۃ امیرالمومنین میں آ جائے گی۔ مگر یہاں ایک شک کا ازالہ کر دینا ضروری ہے۔ حضرت اقدس ؑ نے ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرمایا:
    ’’ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر و الباطن تم کو عطا کیا جائے گا‘‘۔
    یہاں تک تو پیشگوئی کے الفاظ ہیں۔ اس کے آگے حضرت اقدس ؑ تحریر فرماتے ہیں کہ:
    ’’اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزندِ مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جنابِ الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحبِ اولاد ہوگی‘‘۔ ۵۱؎
    اس خط سے جو حضرت اقدس ؑنے ایک اور نکاح کا ذکر فرمایا تو یہ بات کمزور ایمان لوگوں کے لئے ٹھوکر کا پتھر بن گئی۔ ان کی طبیعت میں جو کجی تھی وہ سامنے پہاڑ بن کر کھڑی ہوگئی اور ان لوگوں نے شور مچانا شروع کیا کہ دیکھئے واضح ہو گیا کہ اس بی بی کے بطن سے تو وہ مصلح موعود پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ شیطانی وسوسہ تھا۔ خدا تعالیٰ نے جس چیز کو اٹل قرار دیا تھا وہ کیسے ٹل سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو ایک نور بھیجنے کا فیصلہ کیا اور یہ لوگ اپنی اپنی بولیاں بول کر اس نور کے راستے میں روک بننا چاہتے ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ مہِ نور مے فشاندوسگاں بانگ مے زنند۔
    حالانکہ انہوں نے کہا کہ دیکھئے! اس بیوی کے متعلق حضرت لکھتے ہیں:
    ’’کہ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا‘‘۔
    مگر جب قدرت الٰہی نے وہ دوسری بیوی جس کے متعلق ان لوگوں نے امیدیں لگائی ہوئی تھیں حضور کے نکاح میں لانی پسند نہ کی خواہ اس کے اسباب کچھ ہی ہوں تو کیا اس کے معنی یہ ہونگے؟ کہ اب مصلح موعود کا ظہور میں آنا ہی جاتا رہا اور وہ ساری پیشگوئیاں منسوخ ہو گئیں۔ اگر ایسا تسلیم کر لیا جائے تو پھر بتلائو کہ وہ تحدّیاں کہاں جائیں گی اور پھر خدا تعالیٰ کا روشن چہرہ لوگوں کو نظر آنے کی بجائے لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ ہو جائے گا؟
    جس طرح بشیر اوّل جس کے متعلق خیال کیا گیا تھا کہ وہ مصلح موعود ہوگا، مصلح موعود نہ تھا۔ اسی طرح کسی اور بیوی کا جب وجود ہی ظہور میں نہیں آیا تو اب کونسی بات حجاب کی رہی۔ یہ چمکدار نشان خود بخود پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آنے لگتا۔ خدا نے سب روکوں کو خود دور کر دیا۔ بشیر اوّل کے متعلق شبہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے اس شبہ کو دور کرنے کیلئے اُسے واپس بلا لیا۔ پھر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحبؓ کے متعلق بھی ایسا ہی خیال پیدا ہوا۔ مگر خدا تعالیٰ نے صاحبزادہ مبارک احمد کو بھی واپس بلا لیا۔ پھر ایک شبہ یہ پیدا ہوا کہ شاید کسی اور بیوی سے پیدا ہوگا۔ وہ بیوی ہی حضور ؑکے گھر میں نہ آئی۔ اب اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ اسی بیوی کے بطن سے اس کے زندہ رہنے والے بچوں میں اس مصلح موعود کو تلاش کریں۔ یہ بالکل ایسی بات ہے کہ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کی نسبت فرمایا کہ اسے رمضان میںتلاش کرو۔ پھر فرمایا۔ آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر فرمایا۔ آخری تین دنوں میںتلاش کرو۔ بالکل اسی طرح مصلح موعود کے ساتھ جو مشتبہات لگے ہوئے ہیں۔ وہ اس لئے کہ مومنوں کے ایمان کی پرکھ ہو سکے۔ ورنہ بشیر اوّل کے بعد دیا جانے والا لڑکا جس کا نام محمود رکھا گیا جو مقامِ خلافت پر فائز ہوا۔ جیسے آپؑ نے دوسرے طریقِ انزالِ رحمت میں تحریر فرمایا تھا جو حسن و احسان میں آپ کی نظیر ہے جو روشنی ہے جس کی وجہ سے ظلمتیں دور ہو گئیں۔ حجاب پھٹ گیا اور اسلام کا نیرّ اعظم چمکتا ہوا ہمارے سروں پر آ گیا جو آپؑ کی نسل، آپؑ کی ذرّیت اور آپؑ کے تخم سے ہے۔ اس کے بعد جس قدر تاویلیں کی جا رہی ہیں سب غلط، جھوٹی اور بودی ہیں۔ اب دنیا میں کوئی محمدی بیگم نہیں مگر نصرت جہاں بیگم۔ اب دنیا میں کوئی ایسی عورت نہیں جو مصلح موعود کی ماں کہلائے مگر اُمُّ المؤمنین۔ اب کسی عورت کو یہ فخر حاصل نہ ہوگا کہ وہ مسیح موعود کے لئے نوروںکی تخمریزی کرنے والی اولاد پیدا کرے سوائے حضرت اُمُّ المؤمنین کے۔ اب کوئی عورت خدیجہ ثانیہ نہیں کہلائے گی۔ مگر یہی مومنوں کی ماں۔ پس کون ہے، اس کی شان کی مزاحمت کرنے والا! یہی وہ خاتون تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے بطور ایک نعمت کے بھیجی تھی اور اس نعمت کا شکر کرنے کا حکم دیا تھا۔
    اس طرح میرے نزدیک مصلح موعود کا مسئلہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ الغرض آپ ان تمام صفات کے ساتھ ۱۲/ جنوری ۱۸۸۹؁ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت ہفتہ سے پہلی رات کو دس بارہ بجے ہوئی ۵۲؎ اور ماں اور باپ کی آنکھوں کا نور بن کر پروان چڑھتے رہے اور بالآخر اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ ۱۴/ مارچ ۱۹۱۴ء؁ کو جماعت احمدیہ کے امام منتخب ہوئے اور خلیفۃ المسیح ثانی مقرر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ حضور کی زندگی میں بڑی برکت عطا فرمائے اور سلسلہ کو آپ کے ہاتھ پر تمام برکتوں کا وارث بنائے۔ آمین
    صاحبزادی شوکت
    (۴)
    حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح ثانی کی پیدائش کے بعد ۱۸۹۱ء؁ میں صاحبزادی شوکت پیدا ہوئی۔ اس صاحبزادی کی پیدائش بروز پیر ۴ بجے شام کے وقت ہوئی اور ۱۸۹۲ء؁ میں فوت ہوگئی۔ یہ معصوم صاحبزادی اس پیشگوئی کے موافق کہ ’’بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے‘‘۔۵۳؎ کم عمری میں فوت ہوگئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے
    (۵)
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی پانچویں اولاد حضرت صاحبزادہ مرزابشیر احمد صاحب ایم۔ اے ہیں آپ کی ولادت باسعادت ۱۲/ اپریل ۱۸۹۳؁ء جمعرات کی صبح کو بعد طلوع آفتاب ہوئی۔ آپ کی پیدائش اس پیشگوئی کے ماتحت ہوئی کہ:
    ’’اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلائے‘‘۔۵۴؎
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی پیدائش سے قبل آپ نے کتابِ آئینہ کمالات اسلام میںایک پیشگوئی شائع کی تھی جو یوں ہے۔
    یَوْمَ یَجِیْ ئُ الْحَقُّ وَیُکْشَفُ الصِّدْقُ وَیَخْسَرُ الْخَاسِرُوْنَ- اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ وَلَا یَعْلَمُھَا اِلاَّ الْمُسْتَرْشِدُوْنَ نَرُدُّ اِلَیْکَ الْکَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ وَنُبَدِّلَنَّکَ مِنْ بَعْدِ خَوْفِکَ اَمْنًا- یَاْتِیْ قَمَرُ الْاَنْبِیَائِ وَاَمْرُکَ یَتَاتّٰی- یَسُرُّ اللّٰہُ وَجْھَکَ وَیُنِیْرُ بُرْھَانَکَ سَیُوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ وَیُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ- اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ- وَقَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ- وَلَا تـیْئَسْ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ- اُنْظُرْ اِلٰی یُوْسُفَ وَاِقْبَالِہٖ- قَدْ جَائَ وَقْتُ الْفَتْحِ والْفَتْحُ اَقْرَبُ- یَخِرُّوْنَ عَلٰی الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِئِیْنَ- لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیُوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ- اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ- نَجِّیُّ الْاسْرَارِ اِنَّا خَلَقْنَا الاِنْسَانَ فِیْ یَوْمٍ مَوْعُودٍ-
    ’’یعنی اس دن حق آئے گا اور صدق کھل جائے گا اور جو لوگ خسارہ میں ہیں وہ خسارہ میں پڑیں گے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جو رُشد رکھتے ہیں۔ ہم پھر تجھ کو غالب کریںگے اور خوف کے بعد امن کی حالت عطا کر دیں گے نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا خدا تیرے منہ کو بشاش کرے گا اور تیرے بُرہان کو روشن کر دے گا۔ اور تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا۔ اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا۔ اور میرا نور نزدیک ہے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں؟ ان کو کہہ کہ وہ خدا عجیب خدا ہے۔ اس کے ایسے ہی کام ہیں۔ جس کو چاہتا ہے اپنے مقربوں میں جگہ دیتا ہے اور میرے فضل سے نااُمید مت ہو۔ یوسف کو دیکھ اور اس کے اقبال کو۔ فتح کا وقت آ رہا ہے اور فتح قریب ہے۔ مخالف یعنی جن کے لئے توبہ مقدر ہے اپنی سجدہ گاہوں میںگریںگے کہ ہمارے خدا! ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ مَیں نے ارادہ کیا کہ ایک اپنا خلیفہ زمین پر مقرر کروں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔ جو نجیّ ُالاسرار ہے۔ ہم نے ایسے دن اس کو پیدا کیا جو وعدہ کا دن تھا‘‘۔۵۵؎
    مذکورہ بالا وحی الٰہی دسمبر ۱۸۹۲ء؁ کی ہے۔ اس کے بعد جب ۲۰/ اپریل ۱۸۹۳؁ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پیدا ہوئے تو اسی تاریخ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار میں مندرجہ بالا پیشگوئی کے پورا ہونے کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں:
    ’’۲۰/ اپریل ۱۸۹۳؁ء سے چار مہینے پہلے صفحہ۲۶۶ آئینہ کمالاتِ اسلام میں بقیدِ تاریخ شائع ہو چکاہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور بیٹے کا اس عاجز سے وعدہ کیا ہے جو عنقریب پیدا ہوگا…… سو آج ۲۰/ اپریل ۱۸۹۳؁ء کو وہ پیشگوئی پوری ہوگئی‘‘۔ ۵۶؎
    اس پیشگوئی میں قمر الانبیاء سے مراد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہیں۔ علاوہ اس پیشگوئی کے قمر الانبیاء کے متعلق ۱۰/دسمبر ۱۸۹۲ء؁ کو دوسری مرتبہ پیشگوئی فرمائی جو تذکرہ صفحہ۲۱۵ پر موجود ہے اور تیسری مرتبہ تذکرہ صفحہ۲۸۰ پر درج ہے۔
    حقیقۃ الوحی صفحہ۲۱۷ پر اس پیشگوئی کے پورا ہونے کو حضرت اقدس ؑ نے اپنا پینتیسواں نشان قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضور ؑ تحریر فرماتے ہیں:
    ’’پینتیسواں نشان یہ ہے کہ پہلا لڑکا محمود احمد پیدا ہونے کے بعد میرے گھر میںایک اور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی اور اس کا اشتہار بھی لوگوں میں شائع کیا گیا چنانچہ دوسرا لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا‘‘۔
    علاوہ ازیں مندرجہ ذیل رئویا اور الہام میں بھی آپ کا ذکر ہے۔ حضور ؑ نے ایک رئویا میں دیکھا کہ:
    ’’بشیر احمد کھڑا ہے وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا‘‘۔ ۵۷؎
    اس رئویا کے مطابق جنوری ۱۹۳۴؁ء میںایک زبردست زلزلہ علاقہ بہار (ہندوستان) میں آیا اور اس نشان کے ظہور کی اشاعت کا شرف بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو ہی حاصل ہوا۔ چنانچہ آپ نے ایک رسالہ ’’ایک اور تازہ نشان‘‘ کے عنوان سے تصنیف کر کے شائع فرمایا:
    حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی بچپن میں آنکھیں دکھتی رہتی تھیں۔ پلکیں گر گئی تھیں اور پانی بہتا رہتا تھا۔ حضرت اقدس ؑ نے آپ کے لئے دعا کی تو الہام ہوا۔
    ’’بَرَّقَ طِفْلِیْ بَشِیْرٌ‘‘
    یعنی میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔ اس سے قبل کئی سال انگریزی اور یونانی علاج کئے گئے تھے مگر فائدہ نہ ہوتاتھا‘‘۔ ۵۸؎
    ان الہامات سے آپ کی عظمت اور آپ کے مقام کا بآسانی پتہ چل سکتا ہے۔ آپ کا وجود سلسلہ کیلئے بڑا بابرکت ہے۔ سلسلہ کی اہم ترین نظارت تعلیم و تربیت کی نگرانی کا کام آپ کے سپرد سالہا سال رہا۔ آپ نے متعدد و اہم ترین کتابیں تصنیف فرمائیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی خلافت کے بعد اخبار الفضل کی ایڈیٹری کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ مدرسہ تعلیم الاسلام میں ابتدائی زمانہ میں بچوں کی اعلیٰ تعلیم، ورزش اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کیلئے جانفشانی سے کام کرتے رہے۔ مدرسہ احمدیہ کی ہیڈ ماسٹری، سالانہ جلسہ کی افسری اور اس طرح کی بے شمار خدمات آپ کے ذریعہ سے سرانجام ہوئیں۔ انگریزی ریویو کی ایڈیٹری کی خدمت بھی ایک عرصہ تک آپ کے سپرد رہی۔ الغرض آپ کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک منٹ خدمتِ سلسلہ کے لئے نہایت سرشاری سے لگا ہوا ہے۔ آپ نہایت معاملہ فہم، مدبر اور حکیم انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی میں برکت پر برکت ڈالے۔ آمین
    حضرت مرزا شریف احمد صاحب
    آپ کی پیدائش کی خبر آپؑ کو بذریعہ وحی الٰہی قبل از وقت دی گئی۔ اس پیشگوئی کے موافق آپ ۲۴/ مئی ۱۸۹۵؁ء مطابق ۲۷/ذیقعدہ ۱۳۱۲ ؁ہجری کو پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش کا دن جمعرات تھا اور آپ بعد طلوع آفتاب پیدا ہوئے۔
    (جنتری کی رُو سے یہ تاریخ ۲۴/ نہیں بنتی بلکہ ۲۳/ بنتی ہے کیونکہ جمعرات اور ۲۷/ ذیقعدہ ۲۳/ تاریخ کو ہی واقع ہوا تھا۔ محمود احمد عرفانی)
    حضرت مرزا شریف احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے لخت جگر ہیں۔ ان کی نسبت حضرت اقدس ؑنے حقیقۃ الوحی میں یوں تحریر فرمایا:
    ’’چھتیسواں نشان یہ ہے کہ بشیر احمد کے بعد ایک اور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی۔ چنانچہ وہ بشارت بھی بذریعہ اشتہار لوگوںمیں شائع کی گئی۔ بعد اس کے تیسرا لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام شریف احمد رکھا گیا‘‘۔
    حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی نسبت بھی متعدد الہامات حضور ؑ شائع فرما چکے ہیں۔ جن میں سے بعض الہامات درج کرتا ہوں۔
    اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُـلَامٍ
    ’’یعنی ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں‘‘ ۵۹؎
    پھر دوسری جگہ تحریر فرمایا:
    ’’ہمیں خدا تعالیٰ نے عبدالحق کی یا وہ گوئی کے جواب میں بشارت دی تھی کہ تجھے ایک لڑکا دیا جائے گا جیسا کہ ہم اُسی رسالہ انوار الاسلام میں اس بشارت کو شائع بھی کر چکے ہیں۔ سو الحمدللہ والمنتہ کہ اس الہام کے مطابق ۲۷/ذیقعدہ ۱۳۱۲؁ہجری میں مطابق ۲۴/ مئی ۱۸۹۵؁ء میں میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جس کانام شریف احمد رکھا گیا‘‘۔ ۶۰؎
    ’’جب یہ پیدا ہوا تھا اس وقت عالم کشف میں ایک ستارہ دیکھا تھا جس پر لکھا تھا۔ مُعَمَّرُ اللّٰہِ‘‘ ۶۱؎
    حضرت اقدس ؑ فرماتے ہیں کہ:
    ’’شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کر کے کہا وہ بادشاہ آیا دوسرے نے کہا کہ ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے‘‘۔ ۶۲؎
    فرمایا:
    ’’قاضی کو حَکم بھی کہتے ہیں۔ قاضی وہ ہے جو تائیدِ حق کرے اور باطل کو رد کرے‘‘۔
    ایک کشف
    فرمایا: ۔
    ’’چند سال ہوئے ایک دفعہ ہم نے عالم کشف میں اسی لڑکے شریف احمد کے متعلق کہا تھا کہ اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں‘‘۔ ۶۳؎
    ایک دفعہ صاحبزادہ مرزا شریف احمد کی بیماری کی حالت میں حضرت اقدس ؑ کو حسب ذیل الہام ہوئے۔
    ۱۔ عَمَّرَہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُّعِ
    ۲۔ اَمَّرُہُ اللّٰہُ عَلٰی خِلَافِ التَّوَقُعِ
    ۳۔ مُرَادُکَ حَاصِلٌ
    ۴۔ اَللّٰہُ خَیْرٌ حَافِظًا وَّھُوَاَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن ۶۴؎
    ان الہامات سے حضرت میاں شریف احمد صاحب کے متعلق پوری روشنی پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنا بڑا مقامِ عزت دیا ہوا ہے۔
    نواب مبارکہ بیگم صاحبہ
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی ساتویںاولاد حضرتہ علیا صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم دام اقبالہا ہیں۔ آپ کی پیدائش ۱۸۹۷؁ء میں ہوئی۔ آپ منگل سے پہلی رات کے نصف اوّل میں پیدا ہوئی تھیں۔
    حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی شادی حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس آف مالیر کوٹلہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود فرمائی تھی۔ نواب صاحب موصوف کی اس قربانی کی وجہ سے جو انہوں نے احمدیت کے قبول کرنے میں پیش کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو حُجّۃ اللّٰہ کا معزز خطاب عطا فرمایا۔
    نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حسب ذیل الہامات ہیں:
    ’’سینتیسواں نشان یہ ہے کہ بعد اس کے حمل کے ایام میں ایک لڑکی کی بشارت دی اور اس کی نسبت فرمایا تُنَشَّائُ فِیْ الْحِلْیَۃِ یعنی زیور میں نشوونما پائے گی، نہ خورد سالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔ اس کی پیدائش سے جب سات روز گذرے تو عین عقیقہ کے دن یہ خبر آئی کہ پنڈت لیکھرام پیشگوئی کے مطابق کسی کے ہاتھ سے مارا گیا۔ تب ایک ہی وقت میں دو نشان پورے ہوئے‘‘۔۶۵؎
    فرمایا:
    ’’مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مبارکہ سلمھا پنجابی زبان میں بول رہی ہے۔ کہ مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ ایسی آئی جس نے ایہہ مصیبت پائی‘‘۔ ۶۶؎
    حضرت مبارکہ بیگم کے متعلق الہام ہوا:
    ’’نواب مبارکہ بیگم‘‘۶۷؎
    صاحبزادہ مبارک احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    آپؓ آٹھویں بچے تھے جو حضرت اُمُّ المؤمنین کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ آپ ؓ کی پیدائش ۱۸۹۹ء؁ میں ہوئی اور آپؓ ۱۹۰۷ء؁ میں فوت ہوگئے۔ آپؓ کے متعلق بھی حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کا خیال تھا کہ ممکن ہے کہ یہی وہ خاص لڑکا ہو کیونکہ ان کی پیدائش سے تین چار ہوگئے۔ آپؓ بدھ کے دن سہ پہر کو پیدا ہوئے۔ صاحبزادہ مبارک احمد کے متعلق ایک الہام یہ بھی تھا:
    اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَاُصِیْبُہٗ
    اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے اور جلد خدا کی طرف چلا جائے گا۔ پھر یہ بھی الہام ہوا تھا اِنِّیْ مَعَ اللّٰہِ فِیْ کُلِّ حَالٍ-
    صاحبزادہ مبارک احمد کی بیماری میں حضرت اقدس ؑ کی ساری توجہ اس کے علاج اور اس کی تیمار داری کی طرف لگی ہوئی تھی۔ مگر اس کی وفات پر حضرت اقدس ؑنے اور حضرت اُمُّ المؤمنین نے جو نمونہ صبر اور رضاء بالقضاء کا دکھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
    ایک الہام تھا:
    ’’ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر‘‘۔ ۶۸؎
    پھر کئی دفعہ الہام ہوا:
    ’’اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَ کَمْ تَطْھِیْرًا‘‘ ۶۹؎
    پھر اہل بیت کو مخاطب کر کے الہام ہوا:
    یـٰاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ۷۰؎
    یہ الہامات جو صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات سے قبل ہو رہے تھے ان کی دو غرضیں تھیں:
    اوّل:اہلِ بیت کو اس حادثہ فاجعہ کیلئے تیار کرنا تھا۔ اور ان سے ایک قسم کی ہمدردی اور تعزیت کرنا مقصود تھا۔
    دوسرے: اس واقعہ سے اہل بیت کے مدارج بلند کرنا مقصود تھا۔
    یہ ایسی بات تھی کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد کی وفات سے قبل الطارق و ما الطارق کا الہام نازل ہوا اور اس میں اس حادثہ کی طرف اشارہ کر کے آپؑ سے تعزیت کی گئی تھی۔
    انما یرید عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا کا الہام چار مرتبہ ہوا۔ حضرت اقدس ؑ نے جو اس وقت تقریر فرمائی اس میں اس الہام کا ذکر فرمایا اور فرمایا:
    ’’کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے یہ بڑا تطہیر کا موقعہ ہے۔ انکو بڑے بڑے تعلقات ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے رنج بہت ہوتا ہے‘‘۔
    بعض ایسے لوگوں نے جن کی طبائع میں مَیل اور کجی تھی، انہوں نے اس الہام کے یہ معنی کئے کہ خدا تعالیٰ تو تم کو رجس سے پاک کرنا چاہتا ہے مگر تم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ تم اس کے اہل نہیں۔ کس قدر ظلم ہے کس قدر بددیانتی ہے۔ کس قدر بے حیائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے وہ معنی کئے جائیں جو محض خدا کی مخلوق کو دھوکہ دینے کا باعث ہوں اور دین الٰہی سے دور لے جانے کا باعث ہوں۔ خدا کا رسول ؑ تو یہ معنی کرے کہ ماں کے قلب میں جو بچوں کی محبت ہوتی ہے وہ اس مقام کے لحاظ سے جو خدا تعالیٰ سے صفائی، عشق، طہارت، پاکیزگی کی وجہ سے انبیاء اور ان کے اہلبیت کو حاصل ہوتا ہے کہ اس میں اولاد کی محبت کا غلبہ بھی رجس ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ حضرت اُمُّ المؤمنین کو اپنے اس مقامِ رضاء پر دیکھے جس مقام پر حضرت مسیح موعود ؑ خود کھڑے تھے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام تو یہ تھا کہ مبارک احمد فوت ہوتا ہے، لوگ روتے ہیں، غمگین ہوتے ہیں، آپ ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:
    ’’مَیں اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی‘‘
    یہ تھا اس زمانے کا راستباز نبی ؑ، جو بیٹے کے مرنے پر اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بڑاخوش ہوںکہ خدا کی بات پوری ہوئی۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین اس امتحان میں پوری اُتریں
    مبارک احمد کی بیماری میں ماں کا دل تھا کہ گھبرا اُٹھا کرتا تھا۔ تو حضرت اقدس ؑ فرمایا کرتے تھے کہ آخر نتیجہ موت ہی ہونا ہے یا کچھ اور، اور فرماتے کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْ ئٍ مِّنَ الْخَوْفِ امتحان بھی آیا کرتے ہیں۔
    جب مبارک احمد کی وفات ہوئی تو حضرت اُمُّ المؤمنین کی زبان سے پہلا کلمہ یہ نکلا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ کوئی نعرہ نہیں مارا، کوئی چیخیں نہیں ماریں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
    ’’اس بات کی مجھے بڑی خوشی ہوئی‘‘۔
    یہ رضاء بالقضاء کا مقام تھا۔ جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کی خدیجہ فائز تھے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے اس وقت فرمایا:
    ’’مَیں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں‘‘۔
    جب اس طرح آپؑ نے اس امتحان کو قبول کر لیا تو آسمان پر حضرت اُمُّ المؤمنین کے اس امتحان کا ریزلٹ بذریعہ وحی الٰہی نازل ہوا۔
    ’’خدا خوش ہو گیا!‘‘
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ الہام جب حضرت اُمُّ المؤمنین کو سنایا تو آپ نے فرمایا:
    ’’مجھے اس الہام سے اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ دو ہزار مبارک احمد بھی مر جاتا تو مَیں پرواہ نہ کرتی‘‘۔
    لوگو! اٹھو اپنے ہاتھ میں چراغ لے لو۔ بجلی کی بیٹریاں پکڑ لو اور اگر ممکن ہو تو بجلی کا کوئی سورج چڑھا لو اور دنیا کاکونہ کونہ چھان مارو اور ڈھونڈو، اس ماں کو جو اپنے دو ہزار فرزند کی موت کو خدا کی رضاء کے مقابل بالکل ہیچ جاننے والی ہو کیا ہر گھر میں عورتیں نہیں؟ اور کیا ہر گھر میں مائیں نہیں؟ کیا ہم میں سے ہر شخص عورت کی اس فطرت کو جو اُم الحنون اور شفقتِ مادری کے پیچھے چھپی ہوئی ہے، نہیں جانتے؟ کیا ہم نے بارہا نہیں دیکھا کہ ایک عورت ایسے بچے کو جو بالکل لنگور یا بندر سے ملتا جلتا ہوتا ہے اور جسے سوکے یعنی سوکھ جانے کی بیماری ہو، جس پر مکھیاں بھنبھناتی ہوں لئے پھرتی ہے اور اس کی شفقت اور محبت میں ذرا فرق نہیں آتا۔
    کیا اپنے بچوں کے غم میں عورتیں صدہا قسم کے دکھوں اور مرضوں میں مبتلا نہیں ہو جاتیں؟ کیا بعض ان میں سے پاگل نہیں ہو جاتیں؟ یہ سب محبت مادری کے کرشمے ہیں۔
    مگر اُمُّ المؤمنین نصرت جہاں بیگم کے قلب میں تو ہر جگہ، ہر کونہ اور ہر گوشہ میں خدا ہی خدا بستا تھا۔ اس نے خدا کی رضاء کو ہر چیز پر قبول کر لیا۔ یہ تھی وہ حسینی رُوح جو آپ کے اندر موجود تھی اور یہ تھی وہ صفائیِ قلب جو آپ کو حاصل تھی۔ اس لحاظ سے اُمُّ المؤمنین نصرت جہاں بیگم عصرِ حاضر کی سب سے بڑی باخدا خاتون ہیں! اور یہی وہ خاتون ہیں جن کے قلب سے ہر قسم کے غیر اللہ کی محبت سلب کر لی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے ان کو خاص طور پر مطہر کر دیاتھا اور یہی تھیں وہ خدیجہ عصرِ حاضر جسے خدا نے فرمایا کہ مَیں خوش ہو گیا! اب بتلائو، ان ظالموں کیلئے کوئی جگہ باقی رہ جاتی ہے جو حضرت اُمُّ المؤمنین کی ان فطری استعدادوں پر اعتراض کرتے ہیں، جو آپ کے اندر موعود اولاد کے لئے ودیعت کی گئی تھیں؟ یہ خدا تعالیٰ کا قولی جواب ہے اور آپ کی اولاد کا ان تمام برکات کا وارث ہو جانا جو خدا نے اپنی پاک وحی کے ذریعے دیئے جانے کا وعدہ کیا تھا خدا تعالیٰ کا فعلی جواب ہے۔ اس کے باوجود جو شخص کسی قسم کی جرأت و جسارت کرتا ہے یا کرے گا وہ اپنے انجام کا خود ذمہ وار ہے۔
    حضرت اقدس ؑ نے مبارک احمد کی وفات پر یہ تین شعر لکھے تھے جو اب تک لوحِ مزار بنے ہوئے ہیں۔
    جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا
    وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر
    کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن
    کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر
    برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا
    بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر
    صاحبزادی امۃ النصیر
    صاحبزادی امۃ النصیر آپ کی نویں اولاد تھیں۔ آپ ۱۹۰۳؁ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی پیدائش پر آپؑ کو الہام ہوا تھا۔ ’’غَاسِقُ اللّٰہِ‘‘
    چنانچہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کی روایت ہے کہ:
    ’’جس رات امۃ النصیر پیدا ہوئی ہے حضرت صاحبؑ خود مولوی محمد احسن صاحبؑ کے کمرے کے دروازے پر آئے اور دستک دی۔ مولوی محمد احسن نے پوچھا کون ہے؟ حضرت نے فرمایا ’’غلام احمد‘‘ (علیہ السلام) مولوی صاحب نے جھٹ اُٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت نے جواب دیا کہ میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اس کے متعلق مجھے الہام ہوا ہے کہ غاسق اللّٰہ۔… غاسق اللّٰہ سے مراد یہ ہے کہ جلد فوت ہو جانے والا‘‘۔۷۱؎
    چنانچہ چند ماہ بعد یہ صاحبزادی فوت ہوگئی۔
    صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ
    صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ۱۹۰۴ء؁ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی پیدائش پیر سے پہلی رات کو عشاء کے بعد ہوئی۔ آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا۔ ’’دُختِ کرام‘‘۔ یہ الہام الحکم اور بدر میں چھپا ہوا موجود ہے۔ حقیقۃ الوحی میں آپؑ نے اس نشان کو چالیسواں نشان قرار دیا ہے۔ ۷۲؎
    صاحبزادی صاحبہ کی شادی خان محمد عبداللہ خان صاحب آف مالیر کوٹلہ سے ہوئی اور آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صاحبِ اولاد ہیں اور ہر طرح سے فارغ البال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی اور عمر میں برکت دے۔ آمین
    اس طرح سے کل دس اولادیں ہوئیں جن میں سے پانچ اللہ تعالیٰ نے چھوٹی عمر میں حسب پیشگوئی واپس بلا لیں۔ جن کے نام حسب ذیل ہیں۔
    عصمت، بشیر اوّل، شوکت، مبارک احمد، امۃ النصیر اور جن پانچ کو خدا تعالیٰ نے ان نوروں کی تخمریزی کے لئے لمبی عمریں عطا فرمائیں ان کے اسماء حسبِ ذیل ہیں۔
    حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت نواب سیّدہ مبارکہ بیگم صاحبہ، حضرت سیّدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ۔ ان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔
    یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہیں
    یہی ہیں پنج تن جن پر بناء ہے
    عام طور پر لوگوں میں اس شعر کے متعلق یہی مشہور ہے کہ اس شعر کی مصداق موجودہ پانچوں اولادیں ہیں۔ مگر حضرت میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن جنہوں نے از راہِ شفقت و کرم بڑی توجہ سے میری اس کتاب کو دیکھا اور مناسب اصلاح فرمائی ہے، نے اس تاریخی غلطی کی اصلاح فرمائی ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا کہ یہ شعر صاحبزادی امۃ الحفیظ کی پیدائش سے پہلے کا ہے۔ یعنی ۱۹۰۴ء؁ کا ہے۔ اس میں پانچویں ممبر صاحبزادہ مبارک احمد صاحب ہیں۔
    چنانچہ مَیں اس تاریخی غلطی کی اصلاح کرتا ہوں کہ چونکہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی وفات ہوگئی اور اس کے بعد بھی پانچ اولادیںرہیں اس لئے اس تاریخی حقیقت کے باوجود بھی اگر اس شعر کو آج بھی استعمال کر لیا جائے تو کوئی حرج نہ ہوگا۔ جب تک صاحبزادہ مبارک احمد زندہ رہے وہ اس پنج تن میں شامل رہے۔ اور ان کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے پانچ کا وجود قائم رکھا اس لئے ہم اس مفہوم کیلئے اس شعر کو استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ سب کے سب خدا کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی خدمت اور تائید کے لئے پیدا کئے گئے اور یہ سب اور ان کی اولادیں اس کام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین اور تربیت اولاد
    یہ ایک نہایت اہم مضمون ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین تربیت کس طرح فرماتی تھیں۔ ہر شخص کو اپنے گھر میں تربیتِ اولاد کی ضرورت پیش آتی ہے اور وہ اس کتاب میں اس موضوع کی ضرور تلاش کرے گا۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بیان حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا ہے جو آپ نے اس کتاب کے لئے لکھ کر مجھے مرحمت فرمایا۔ آپ تحریر فرماتی ہیں:
    ’’اصولی تربیت میں مَیں نے اس عمر تک بہت مطالعہ عام و خاص لوگوں کا کر کے بھی حضرت والدہ صاحبہ سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ آپ نے دنیوی تعلیم نہیں پائی (بجز معمولی اُردو خواندگی کے) مگر جو آپ کے اصولِ اخلاق و تربیت ہیںان کو دیکھ کر مَیں نے یہی سمجھا ہے کہ خاص خدا کا فضل اور خدا کے مسیحؑ کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا؟
    ’’۱۔ بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار ظاہر کر کے اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصولِ تربیت ہے۔
    ’’۲۔ جھوٹ سے نفرت اور غیرت و غنا آپ کا اوّل سبق ہوتا تھا۔ ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ بچہ میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔ پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔ جس وقت بھی روکا جائے گا باز آ جائیگا اور اصلاح ہو جائے گی۔ فرماتیں کہ اگر ایک بار تم نے کہنا ماننے کی پختہ عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید ہے۔ یہی آپ نے ہم لوگوں کو سکھا رکھا تھا اور کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ ہم والدین کی عدم موجودگی کی حالت میں بھی ان کے منشاء کے خلاف کر سکتے ہیں۔
    ’’حضرت اُمُّ المؤمنین ہمیشہ فرماتی تھیں کہ ’’میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے‘‘ اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچاتا بلکہ زیادہ متنفر کرتا تھا۔
    ’’مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں۔ پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔ اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس ؑکے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد محبت و قدر کرنے کی وجہ سے آپؑ کی قدر میرے دل میں اور بھی بڑھا کرتی تھی۔ بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ ’’پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگائو دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے‘‘۔
    یہ کیسے زرّیں اصول ہیں جن پر عمل کرنے سے واقعی بچوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ اب گنجائش نہیں کہ ان زرّیں اصولوںکی کوئی مزید تشریح کی جائے۔ احباب خود اپنی اپنی جگہ فائدہ اٹھا لیں۔
    استانی سکینۃ النساء بیگم تحریر فرماتی ہیں:
    ’’تربیت اولاد کا حضرت اُمُّ المؤمنین کو خاص ملکہ ہے۔ آپ کی اولاد میں سے ایک تو روشن چاند خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہیں۔ مجھ ایسی ناچیز کو کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ دنیا جہان پر روشن ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے، حضرت مرزا شریف احمد صاحب نہایت صالح نہایت نیک اخلاق، سارے جہان پر ان کے علم و فضل اور حسن و احسان کا شہرہ ہے۔ ماشاء اللہ نواب مبارکہ بیگم اور صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم دونوں باوقار، صالحہ، بے حد متقی، عالمہ، فاضلہ، باعزت، باعصمت، خوش اخلاق، سچائی پسند، برائیوں سے دور لوگوں سے بھلائی کرنے والی ہیں۔ یعنی اگر مجموعہ حسن و خوبی دیکھنا ہو تو اماں جان کی اولاد کو دیکھو۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے نرمی اور سختی سے بھی بارہا یہ بات بیان فرمائی ہے کہ جھوٹ بولنا اور مبالغہ آمیز بات کرنا کبیرہ گناہ ہے‘‘۔
    تربیت اولاد کے سلسلہ میں چوہدری غلام قادر صاحب نمبردار اوکاڑہ نے ایک روایت لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے وصال کے بعد غالباً ۱۹۰۹ء ؁میں حضرت اُمُّ المؤمنین سارے کنبہ سمیت دہلی تشریف لے گئی تھیں۔ اس سال حضرت خلیفۃ المسیح ثانی جو اس وقت ابھی صاحبزادہ صاحب ہی کہلاتے تھے، کا لیکچر بھی دہلی میں جامع مسجد کے پاس ہوا تھا جس کی صدارت خواجہ حسن نظامی صاحب نے کی تھی۔ اس وقت چوہدری صاحب محکمہ بندوبست کے انگریزی دفتر میں سیکنڈ کلرک تھے اور حضرت میر قاسم علی صاحب مرحوم بھی نائب ناظر تھے اور یہ دونوں صاحب دریا گنج کے مکان میں اکٹھے رہا کرتے تھے۔ وہیں خاندان مسیح موعود علیہ السلام ان ایام میں قیام پذیر ہوا تو حضرت میر صاحبؓ کی زبانی یہ امر معلوم ہوا کہ:
    ’’حضرت اُمُّ المؤمنین اپنے بچوں، بہو، بیٹیوں کی عبادات وغیرہ کے متعلق پوری توجہ سے نگرانی فرماتی ہیں۔ نماز تہجدکا خاص اہتمام فرماتی ہیں اور ہمیشہ خاندان کے افراد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید فرماتی رہتی ہیں‘‘۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی شفقت اپنے خدام سے
    یہاں مَیں چند روایات بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔ یہ روایات میری درخواست پر سلسلہ کے مردوں، عورتوں کی طرف سے موصول ہوئی ہیں۔ان روایات کو مَیں نمبر دے کر درج کرتا ہوں تا کہ ان بہت سی روایات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ جو میرے پاس درج کرنے کیلئے موصول ہو چکی ہیں۔
    (۱)
    بیگم صاحبہ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی شفقت کے متعلق لکھا کہ:
    ’’۱۹۱۷ء؁ کے جلسہ میں مَیں سیٹھ صاحب کے ہمراہ قادیان گئی۔ اُس وقت میری پیاری بچی … زینب گود میں تھی۔ ہم کو وہاں اماں جان کی زیارت نصیب ہوئی۔ حضرت اماں جان نے ہمارے ساتھ نہایت شفقت کا سلوک فرمایا جسے مَیں کبھی بھول نہیں سکتی۔ آپ نے ہمارے لئے حضرت مریم صدیقہ صاحبہ کے کمرے کے ساتھ جنوبی جانب کا کمرہ خالی کرا دیا۔ میری بچی کی آیا بیمار ہوگئی تھی۔ اماں جان کو جب یہ معلوم ہوا تو فوراً دو لڑکیوں کو میرے پاس کام کیلئے بھیج دیا۔ اماں جان ہمارا، ہمارے زمانہ قیام میں ہر طرح خیال رکھتی رہیں اور ہماری ہر طرح دلداری فرماتی رہیں۔ ہم اپنی مخدومہ کے ان اخلاق پر بڑے حیران ہو رہے تھے‘‘۔
    (۲)
    محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ بنت سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب لکھتی ہیں:
    ’’۱۹۴۲ء؁ کے سالانہ جلسہ پر مَیں بھی اپنے والدین کے ساتھ قادیان گئی۔ ہم اماں جان کے مہمان ہوئے۔ آپ ان ایام میں بہت مصروف الوقت ہوتی ہیں۔ ہزار ہا عورتیں آپ کی زیارت کے لئے آتی ہیں۔ اس مصروفیت کے علاوہ اماں جان کی اپنی طبیعت بھی ناساز تھی مگر ان دونوں باتوںکے باوجود اماں جان ہمارا پورا پورا خیال رکھتی تھیں۔
    ’’میری والدہ صاحبہ تھکان سے بیمار ہو گئیں تو اماں جان نے اُن کے لئے دوا کا انتظام فرمایا اور بار بار ان کی صحت کا حال دریافت فرماتیں۔ کھانے کے وقت اماں جان ہم کو اپنے پاس بلا بھیجتیں۔ ہم کو کھانے میں شریک فرماتیں اور ساتھ ساتھ اپنے بچپن کے زمانے کی باتیں سناتیں۔ آپ کے اندر بڑا جذب اور بڑی کشش ہے۔ آپ جب بلاتیں تو مجھے ’’پیاری بٹیا‘‘ کہہ کر بلاتیں۔ آپ کی محبت اور شفقت تو ایسی ہے کہ مَیں نے کہیں دیکھی ہی نہیں۔ اپنے پیارے اور متبرک ہاتھوں سے کھانا ڈال کر دیتیں۔ گرم گرم روٹی میں گھی اور گڑ ڈال کر اس کو مَل کو نوالہ بنا کر دیتیں۔ سبحان اللہ! یہ اخلاق تو سوائے اماں جان کے اور کسی کے نہ ہونگے۔ اماں جان خود بہت ہی کم خوراک تناول فرماتی ہیں۔
    ’’اس سفر میں ہمارا سامان ریل میں دہلی کے سٹیشن پر رہ گیا۔ اس لئے ہم کو بڑی تکلیف ہوگئی۔ کپڑے بہت میلے کچیلے ہو گئے۔ اس لئے میں شرم کے مارے ہر وقت برقع پہنے رہتی تو اماں جان نے وجہ دریافت فرمائی جب ان کو سامان پیچھے رہ جانے کا علم ہوا تو بہت رنج ہوا اور سامان ملنے کے لئے دعا فرمانے لگیں۔
    ’’دو دن بعد سامان آ گیا اور ہم نے کپڑے بدلے تو اماں جان نے ہم کو مبارکباد دی۔ میری پیٹھ پر تھپکی دے کر فرمایا۔
    ’میں اپنی پیاری بیٹی کے لئے اُٹھتی بیٹھتی دعاکرتی تھی‘۔
    ’’جلسہ کے دوسرے دن اماں جان کے سردرد ہو رہی تھی ھم کچھ عورتیں حلقہ بناکراماں جان کے گرد بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک خادمہ نے آ کر کہا کہ اماں جان! باہر صحن میں بہت سی بیبیاںزیارت کے لئے بیٹھی ہیں۔ آپ اسی وقت ان کو ملنے کے لئے باہر تشریف لے گئیں ہر ایک سے بات کی اس کی حالت دریافت کی۔ شرفِ مصافحہ بخشا۔
    اماں جان نے ہمارے ساتھ اس قدر شفقت کا برتاؤ کیا کہ واپسی پر ہمارے لئے اپنے ہاتھ سے توشہ تیار کر کے دیا۔ ہمارے سامان کی گنِتی فرمائی اور اپنی دعاؤں کے ساتھ ہم کو رخصت کیا۔ ہم یہ تبرک سکندر آباد تک ساتھ لائے‘‘۔
    (۳)
    سیٹھ یوسف الہ دین صاحب لکھتے ہیں:
    ’’کہ جب میں قادیان میں تعلیم حاصل کر رہاتھا تو میں بچہ ہی تھا۔ حضرت اماں جان کے پاس میں زیارت کے لئے جایا کرتا تھا۔ حضرت اماں جان مجھ سے اس طرح سلوک فرماتیں‘ جس طرح ایک حقیقی ماں اپنے بچے سے سلوک کرتی ہے۔ آپ گھنٹوں مجھے اپنے پاس بٹھائے رکھتیں کھانے کا وقت ہوتا تو کھانا کھلاتیں۔ آپ ایسے طرز اور شفقت سے باتیں فرماتیںکہ جس سے میری گھر اور والدین سے دوری کی وجہ سے گھبراہٹ اور بے چینی دور ہو جاتی اور گھر اور والدین کی یاد بھول جاتی۔ میرے ساتھ ایک اور لڑکا محمد اسحاق جو منٹگمری کا تھا جایا کرتا تھا۔ اماں جان کا اس سے بھی یہی سلوک تھا‘‘۔
    (۴)
    محترمہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر بی۔اے واقفِ تحریک جدید و بنت حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب حیدرآباد تحریر فرماتی ہیں:
    ۱۔’’دو سال قبل میں سخت بیمار ہو گئی تھی۔ مگر حضرت امیرالمومنین اور خاندان مسیح موعود کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دے دی۔ صحت کے بعد میں جب سالانہ جلسہ پر آئی اور حضرت اماں جان سے ملنے گئی تو اس وقت حضرت اماں جان پلنگ پر آرام فرما رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر ہمہ شفقت اماں اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ مسرت سے آپ کا چہرہ مبارک چمک اُٹھا اور فرمانے لگیںکہ:
    ’خدایا شکر ہے میں نے حفیظ کو زندہ دیکھ لیا‘۔
    یہ ہے اس شفقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ جو اپنے خدام سے ہمیشہ روا رکھتی ہیں‘‘۔
    ۲۔’’میں نے ایک دفعہ حضرت اماں جان سے عرض کی کہ اماں جان میری انگوٹھی پر دعا کر دیں۔ آپ نے میری اس درخواست پر نہایت شفقت سے اس انگوٹھی کو لے لیا اور فرمایا کہ میں رات کو اچھی طرح اس پر دعا کروں گی یہ کہہ کر انگوٹھی اپنی انگلی مبارک میں پہن لی اور رات کو دعا فرما کر صبح کو ملازمہ کے ہاتھ میرے مکان پر بھیج دی‘‘۔
    (۵)
    والدہ صاحبہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب قادیان جو جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی حرم محترم ہیں نے تحریر فرمایا:
    ’’حضرت اُمُّ المؤمنین مدظلّہا العالی کے مبارک قدموں میں رہتے ہوئے اس عاجزہ کو ۲۵ سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اس عرصہ میں مَیں نے ہمیشہ ہی ان کو ماؤں کی طرح شفقت کرتے ہوئے پایا۔ شروع شروع میں وطن چھوڑنے کی وجہ سے میری طبیعت بہت اُداس رہتی تھی۔ پریشانی کی حالت میں حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میںحاضر ہو جایاکرتی اور جب میں وہاں جاتی تو مجھے ایسا معلوم ہوتا کہ میں نئی دنیا میں آ گئی ہوں اور مجھے وہ نعمت حاصل ہو گئی جس کے آگے تمام نعمتیں ہیچ ہیں کچھ عرصہ بیٹھ کر گھر واپس آ جاتی اور دلی سکون و اطمینان حاصل ہو جانے کی وجہ سے اپنے کام میں مشغول ہو جاتی۔ کبھی میرا چہرہ دیکھ کر اماں جان پہچان لیتیں اور فرماتیں کیوں پریشان کیوں ہو‘‘۔
    (۶)
    محترمہ امۃ الحی صاحبہ بنت جناب سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آباد دکن لکھتی ہیں:
    ’’میں پہلی مرتبہ ۱۹۳۳؁ء کے سالانہ جلسہ پر قادیان آئی اور یہی میرا پہلا قادیان کا سفر تھا اور اس موقع پر میں نے حضرت اماں جان کی پہلی مرتبہ زیارت کی۔ اس سال ہم اپنی والدہ مرحومہ کا جنازہ بھی لے کر گئے تھے۔
    ’’دوسرے دن ہم حضرت اماں جان سے ملنے گئیں۔ شام کا وقت تھا سردی کافی تھی۔ حیدرآباد دکن میں سردی کم پڑتی ہے۔ اس لئے عام طور پر ٹھنڈے کپڑے استعمال ہوتے ہیں۔ اماں جان نے مجھے جالی کاکرتہ پہنے ہوئے دیکھ کر فرمایا:
    ’لڑکی! تم کم از کم انگیٹھی کے پاس ہی بیٹھ جاؤ۔ ان دنوں نمونیہ ہونے کا بہت خطرہ ہوتا ہے خوب گرم رہا کرو‘۔
    ’’۱۹۳۹؁ء کے جلسہ سالانہ پر ہم پھر قادیان گئے۔ ان ایام میں صاحبزادی امۃ القیوم کی شادی کی تقریب ہونے والی تھی۔ اس لئے میںاور میری باجی امۃ الحفیظ بیگم وہاں چھ ماہ تک حضرت اُم طاہر احمد صاحب کے مکان میں مقیم رہیں۔ اس لئے ہم کو خاندان کے ہر فرد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
    ’’وہ دن ہمارے لئے بڑے ہی ایمان پرور اور روح افزاء تھے۔ ہم ہر روز حضرت اماںجان کی خدمت میںحاضر ہوتے تھے۔ آپ ہم سے حیدرآباد کے تمدن، وہاں کے لوگوں کے اخلاق، عادات، دینی حالات، رسم و رواج کے متعلق پوچھا کرتی تھیں۔ آپ اکثر مغرب کے وقت تشریف لایا کرتیں۔ گرمیوں کے دن تھے۔ پھولوں کے ہار گلے میں ہوتے اور ایک دو اپنے ہاتھ میں وہ ہار آپ باجی قیوم کو پہناتیں۔
    ’’ایک دن حضرت آپا جان (اُم طاہر) نے اماں جان سے آپ کے گلے کا ہار تبرکاً مانگا۔ اس وقت میں بھی وہاں کھڑی تھی۔ آپ نے مجھے دیکھ کر ازراہِ شفقت ایک ہار مجھے بھی مرحمت فرما دیا۔ وہ ہار! وہ انمول ہار!! جس کی قیمت کا اندازہ نہیں وہ آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔ یہ ہے اماں جان کی شفقت اپنے خدام کے ساتھ۔
    ’’آپ کی شفقت کی باتیں تو گنی نہیں جا سکتیں۔ جب میں قادیان سے آنے لگی۔ تو میں آپ سے ملنے گئی۔ آپ نے دعا دی فرمایا:
    ’اچھا جاؤ۔ خداتمہارا حافظ و ناصر ہو۔ خدا تمہیں خیریت سے اپنے گھر پہنچائے۔ اپنے ابا کو میرا سلام کہنا‘۔
    ’’پھر جب میں چلنے لگی تو فرمایا کہ ۔ ’کیا گلے نہیں ملو گی‘ آپ اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھیں۔ آپ کے اس فقرے نے میرے اندر رقت بھر دی اور میں چشم پُرآب ہو کر آپ کے گلے سے لپٹ گئی۔ آپ نے بڑی دیر تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ میں اس وقت دنیا کی تمام راحتوں سے ہم آغوش تھی۔ مجھے سارے دکھ اور درد بھول گئے۔ اور بارہ سال کے بعد مجھے پھر ایک بار اپنی ماں کی کھوئی ہوئی محبت اور شفت آپ کے سینے سے لگ کر محسوس ہو رہی تھی۔‘‘
    (۷)
    مولوی محمد الدین صاحب امیر جماعت احمدیہ تہال گجرات لکھتے ہیں:
    ’’میری پہلی بیوی جو ڈاکٹر محمد احمد و سلطان احمد سلمھا اللہ تعالیٰ آف عدن کی والدہ تھیں بڑی ہی نیک خاتون تھیں۔ ان کے بطن سے میرے دو بچے جن میں سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھے ایک ہی دن میں بخار اور خسرہ سے فوت ہو گئے۔ اس نیک بی بی نے نہایت ہی قابلِ تقلید نمونہ دکھلایا اور قطعاً جزع فزع نہ کی۔ بلکہ تسبیح و تحمید میں لگی رہی۔ ایک طر ف تو اس کی یہ حالت تھی دوسری طرف وہ بیعت بھی نہ کرتی تھیں۔
    ’’بالآخر میں نے آخری علاج یہ سوچا کہ اسے قادیان لے آیا۔ دارالمسیح میں ٹھہرایا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے جب میری بیوی کے دو عزیز بچوں کے ایک وقت انتقال کا سنا تو آپ نے اس قدر شفقت اور محبت کا برتاؤ کیا اور اس قدر تسلی دی کہ جس سے اس کو بہت اطمینان حاصل ہوا اور وہ اپنے گھر جا کر بھی حضرت اُمُّ المؤمنین کے محبت بھرے کلمات اور پُر از محبت ملفوظات کا ذکر کرتی تھیں۔
    ’’انہوں نے بارہا کہا کہ حضرت اماں جان تو سگی والدہ سے بھی بڑھ کر سلوک کرتی ہیں۔ آپ کی اس صحبت نے اور اس احسان اور شفقت نے ان کی طبیعت کو بدل دیا اور انہوں نے احمدیت کو قبول کر لیا۔ یہ اماں جان کی شفقت اور ہمدردی کا ہی نتیجہ تھا‘‘۔
    (۸)
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی قیدیوں پر شفقت
    محترم جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:
    ۱۔’’غالباً ۱۹۱۶ء؁ کا واقعہ ہے کہ حضرت ممدوحہ پٹیالہ تشریف لے گئیں۔ حضور کی آمد سے ہر احمدی فرد مرد ہو یا عورت دلی مسرت سے پُر ہو گیا اور اکثر مردوزن حضور کی خدمت کے لئے کمربستہ نظر آتے تھے۔ حضور کے چند روزہ قیام سے جماعت کو بے حد خوشی حاصل ہوئی۔
    ’’انہی دنوں میں حضرت ممدوحہ نے خاکسار سے دریافت فرمایا کہ کیا یہاں کی جیل کے قیدیوں کو ہماری طرف سے عمدہ قسم کا کھانا کھلانے کی اجازت مل سکتی ہے؟ خاکسار نے سول سرجن صاحب کے ذریعہ جو میرے افسر تھے اور جیل کے بھی بڑے ڈاکٹر تھے کوشش کی اور کھانا کھلانے کی اجازت حاصل کر کے عرض کی کہ مل سکتی ہے۔ تب حضور نے پچاس روپے کی رقم مجھے دی۔اس طرح پر قیدیوں کو عمدہ قسم کا کھانا کھلوایا گیا۔
    ’’اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ممدوحہ کا قلب مخلوق خدا کی محبت اور ہمدردی سے پُر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کا ہر چھوٹا بڑا حضور کی آمد سے خوش ہوا اور حضرت ممدوحہ نے ہمدردی خلق کے جذبہ کو پورا کرنے کے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک معقول رقم قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے عطا کی۔ اور یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْناً وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا پر عمل کرتے ہوئے محبت الٰہی کا ثبوت بھی بہم پہنچایا۔‘‘
    ۲۔’’حضور کے قرب میں رہتے ہوئے ۲۵ سال کا عرصہ خاکسار کو گذر گیا ہے۔ حضورکو ہمیشہ خدا ترس،خدا پرست اور خداکے حضور دعائیں کرنے والا پایا۔‘‘
    ۳۔’’ حضور کی یہ صفت خاص دیکھنے میں آئی کہ اگر کبھی کوئی کھانے کی چیز خواہ کتنی ہی چھوٹی سے چھوٹی ہو حضور کی خدمت میں پیش کی گئی تو نہایت خندہ پیشانی اور تشکر کے رنگ میں اسے قبول کیا اور بسااوقات اسی برتن میں اپنی طرف سے کوئی دوسری چیز بطور تحفہ ڈال دی۔ برتن کو بحفاظت واپس بھجوانے کی خاص صفت حضور کے اندر پائی گئی۔‘‘
    ۴۔’’ میری معرفت کئی بار حضرت ممدوحہ نے دوائیں یا اور چیزیںقیمتاً منگوائیں میں نے ہمیشہ دیکھا کہ ان کی قیمت بلا توقف حضور نے ادا فرما دی اور ایسامعلوم ہوتا تھا کہ گویا قیمت ادا کرنے کی تاک میں بیٹھی ہیں۔‘‘
    ۵۔ ’’بطور خادم قُرب میں رہتے کئی دفعہ ایسے مواقع آئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ حضرت ممدوحہ مجھ سے ناراض نہ ہو گئی ہوں اور دل فکر مند ہوا۔ لیکن میرا یہ خیال ہمیشہ ہی غلط نکلا اور حضور کو ہمیشہ ہی مشفق اور محسن پایا‘‘۔
    اللہ تعالیٰ حضور کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے اور دین اور دنیا کے بہترین حسنات نصیب کرے اور حضور کی اولاد اور دَر اولاد اور دَراولادکو بھی دین اور دنیا کے حسنات نصیب فرمائے اور ہم عاجزوں کو بھی حضور کا ایسا قُرب میسر رکھے کہ کوئی جدائی اس میں نہ ہو۔ جس طرح وہ پیارے محمود کی پیاری والدہ ہیں ہماری بھی پیاری والدہ بنی رہیں‘‘۔
    (۹)
    محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ بنت جناب سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آباد (دکن) سے اماں جان کی شفقت کے متعلق روایت بیان کرتی ہیں کہ:
    یہ عاجزہ راقمہ اپنے بچپن سے حضرت اُمُّ المؤمنین مدّظلہا العالی کو حضرت اماں جان کے نام سے موسوم سنا کرتی تھی۔ ۱۹۱۸ء؁ کے جلسہ سالانہ پر حضرت اماں جان سے مجھے شرف نیاز حاصل ہوا ۔ میں نے فی الحقیقت حضرت اماں جان کو کیا بلحاظ شفقت و محبت اور کیا بلحاظ ہمدردی ، خلوصِ دل و عنایات و احسان سے اسم بامسمّٰی پایا۔ آپ کو ہر نیک سے نیک اور پیاری سے پیاری صفت سے متصف پایا۔
    ’’میری والدہ مرحومہ کو فوت ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مگر اس دوران میں ہر دو تین سال کے بعد اماں جان کی شفقت مادرانہ نے میرے غمگین دل کو ماں جیسی خوشیوں اور راحتوں سے بھر دیا۔ جب کبھی بھی اماں جان سے شرف ملاقات نصیب ہوا۔ آپ نے ہر بڑے چھوٹے کا حال دریافت فرمایا اور معمولی سے معمولی باتیں اس طرح دریافت فرمائیں۔ گویا ایک شفیق ماں مدتوں کی بچھڑی ہوئی بیٹی سے حال پوچھتی ہے۔ یہ آپ کی شفقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔
    (۱) ’’۱۹۳۶؁ء یا ۱۹۳۷؁ء میں جلسہ سالانہ پر ایک دفعہ حاضر ہوئی۔ اس وقت اماں جان کی خدمت میں خاندان کی بیگمات کے سوا دوسری عورتیں بھی موجود تھیں۔ میرا پہلا لڑکا پیدائشی طور پر بصارت اور سماعت اور چلنے پھرنے سے معذور تھا۔ اس کے بعد متواتر پانچ لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جب حضرت اماں جان کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کے دل میں میرے لئے شفقت پیدا ہوئی۔ آپ نے اس بچے کا حال دریافت فرمایا اور پھر فرمایا:
    ’اللہ تعالیٰ تم کو اب کی دفعہ خادمِ دین لڑکا عطا فرمائے‘۔
    پھر جو خواتین موجود تھیں ان سے فرمایا:
    ’اس بیچاری کے لئے دعا کریں کہ اللہ اس کو لڑکا دے‘۔
    چنانچہ آپ کی دعاؤں کے طفیل چھ ماہ کے بعد ہی میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس کا نام منور احمد تجویز فرمایا: یہ تھی حضرت اُمُّ المؤمنین کی شفقت اور یہ تھا حضرت اُمُّ المؤمنین کی دعا کا اثر۔ جس نے میرے دل کو روشن اور منور کر دیا۔‘‘
    (۲) ’’۱۹۴۲؁ء میںمیری بڑی لڑکی امۃ الرشید بعارضہ ٹائیفائڈ سخت بیمار ہو گئی۔ حالت خطرناک تھی۔ یہ بیماری مسلسل چارہ ماہ تک رہی ۔ حضرت اُمُّ المؤمنین کی اپنی طبیعت بھی ان دنوں ناساز رہتی تھی۔ لیکن باوجود اپنی ناسازی طبیعت کے آپ ہفتہ دو ہفتہ بعد برابر میری لڑکی کی عیادت کو تشریف لایا کرتی تھیں۔ بچی کے نزدیک بیٹھ کر بہت تسلی دیتیں۔ تیمارداری کی ہدایات فرماتیں۔ ہر آنے والی بہن سے دعاکی تحریک کرتے ہوئے فرماتیں:
    ’’اللہ تعالیٰ پردیسی جوان لڑکی کو صحت و عمر عطا فرمائے۔ محض دوبارہ جلسہ سالانہ اور نماز عید کی خاطر دس ماہ ماں باپ سے جدا رہی‘‘۔
    اللہ نے اُمُّ المؤمنین کی دعائوں کو سنا اور میری لڑکی کو دوبارہ زندگی عطا فرما دی۔ اس واقعہ سے نہ صرف آپ کی عیادت اور تیمارداری کی صفت کا پتہ چلتا ہے بلکہ ہر احمدی کے ساتھ جو قادیان میں آتا ہے۔ آپ کو جو لگائو، جو محبت، جو اُنس اور جو شفقت ہے۔ اس کا بھی پتہ چلتا ہے‘‘۔
    ۳۔ ’’مَیں ایک دفعہ حضرت اماں جان کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ آپ بیماری کی وجہ سے پلنگ پر لیٹی ہوئی تھیں۔ اُس وقت ایک دوسری خاتون بھی موجود تھیں۔ اماں جان نے بیماری کی وجہ سے مجھ خادمہ کو پان بنانے کیلئے کہا۔ اس پر اُس خاتون نے کہا۔ کہ اماں جان! مَیں تو آپ کے ہاتھ کا پان کھانے آئی تھی۔ آپ اسی تکلیف کی حالت میں اُٹھ کر بیٹھ گئیں اور اپنے ہاتھ سے اُس خاتون کو پان بنا کر دے دیا اور خود میرے ہاتھ کا لگا ہوا پان لے لیا۔ یہ واقعہ اماں جان کی اس اندرونی کیفیت کا پتہ دیتا ہے کہ باوجود شدید سے شدید تکلیف کے دوسروں کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہتی ہیں‘‘۔
    (۱۰)
    محترمہ سیّدہ فضیلت بیگم صاحبہ سیالکوٹ سے لکھتی ہیں کہ:
    ’’۱۹۴۰؁ء یا ۱۹۴۱؁ء کا واقعہ ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین مدظلہا العالی کی طبیعت بہت علیل تھی اس لئے ہجوم خلائق کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں ادھر ہر جلسے پر جانے والی خاتون مادرِ مہربان کی ملاقات سے محرومی کو ناقابل برداشت خیال کرتی ہے۔ چنانچہ لجنہ اماء اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت اماں جان کی ملاقات کا ایک وقت مقرر کر دیا جائے اور احتیاط سے ملاقات کروا دی جائے تا عورتوں کاہجوم نہ ہو اور اماں جان کو تکلیف نہ ہو۔
    ’’یہ ڈیوٹی مجھے دی گئی۔ وقت مقررہ پر عورتوں کا تانتا لگ جاتا تھا اس لئے میری یہ کوشش ہوتی تھی کہ عورتیں صرف مصافحہ پر اکتفا کریں تا اماں جان کو تکلیف نہ ہو مگر اماں جان کی شفقت و محبت کے کیا کہنے اماں جان باوجود ضعف و نقاہت کے ہر ملنے والی کی خیریت خود دریافت فرماتیں بلکہ اکثر ان کے متعلقین کی خیریت بھی دریافت فرماتیں۔ مثلاً تمہاری والدہ یا بہن یا بچے کیسے ہیں؟ اتنا عرصہ ہوا نہیں آئے۔ کسی سے فرماتیں کہ تم گذشتہ سال نہیں آئیں یا دیر بعد آئی ہو۔
    ’’ان اخلاقِ کریمانہ کو دیکھ کر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔ ہزاروں عورتوں میں سے شاید ہی آپ نے کسی سے تعارف چاہا ہو۔ ہر ایک کو آپ اچھی طرح جانتی پہچانتی تھیں۔ اپنی تکلیف کے باوجود آپ کے ان اخلاق کا جو آپ نے ہر عورت سے ظاہر کئے مجھ پر ایک گہرا اثر ہوا۔ نہ صرف یہ بلکہ آپ کا حافظہ بھی میرے لئے حیرت کا باعث بنا ہوا تھا‘‘۔
    (۱۱)
    حضرت مولوی شیر علی صاحب قبلہ اپنی ایک روایت میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
    (۱) ’’ایک احمدی دوست جو کچھ عرصہ کیلئے اپنے روز گار کے سلسلہ میں ولایت گئے ہوئے تھے۔ مَیں نے ان کی واپسی پر حضرت اُمُّ المؤمنین کو اُن سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’کوئی نماز ایسی نہ تھی جس میں مَیں نے تمہارے لئے دعا نہ کی ہو‘۔
    ’’اُس احمدی سے حضرت اُمُّ المؤمنین کا کوئی رشتہ داری کا تعلق نہ تھا اور نہ وہ کوئی مال و دولت رکھتا تھا۔ صرف اُس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے اخلاص و محبت تھا۔ جس کی وجہ سے آپ کے دل میں اس کے لئے اس قدر شفقت تھی کہ اس کی غیر حاضری میں تین ماہ کے لمبے عرصے تک بالالتزام ہر نماز میں اس کے لئے دعا فرماتی رہیں۔ اس احمدی دوست کا نام شیخ احمد اللہ صاحب ہے‘‘۔
    (۲) ’’اپنے خدام سے آپ کی محبت و شفقت کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے خدام کی خوشی اورغمی کے موقعوں پر اب تک شرکت فرماتی رہتی ہیں۔ چنانچہ جب بندے کی اہلیہ فوت ہو ئیں تو آپ بذات خود معہ دیگر خواتین خاندان تشریف لائیں اور نہایت شفقت سے میری اہلیہ مرحومہ کے سر پر دستِ شفقت پھیرتی رہیں‘‘۔ جزاھا اللّٰہ احسن الجزاء
    (۳) ’’اسی طرح جب عزیزم عبدالرحیم کا لڑکا فضل الرحیم یعنی میرا پوتا پیدا ہوا تو آپ بندے کے غریب خانے پر تشریف لے گئیں اور بڑی دیر بچے کو مادرِ مہربان کی طرح اپنے ہاتھوں میں اٹھائے رکھا۔ یہ آپ کی خدام سے شفقت اور مہربانیوں کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ یہ شفقت کسی خاص طبقہ سے مخصوص نہیں بلکہ غرباء بھی اس سے اسی طرح مستفیض ہوتے رہتے ہیں جس طرح کہ دوسرے‘‘۔
    (۱۲)
    آپ کی جانوروں پر شفقت!!
    خان صاحب حکیم عبدالعزیز صاحب مالک طبیہ عجائب گھر نے اپنی روایات میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    ’’مجھے بندوق کے شکار کا بہت شوق تھا۔ صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کے ساتھ میں شکار کو نکل جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ جب کہ ماہ مئی کا مہینہ تھا مَیں نے صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کو کہا کہ میاں! بندوق لائو۔ شکار کو چلیں۔ ان دنوں میاں صاحب چھٹی جماعت میں پڑھا کرتے تھے۔ میاں صاحب شوق سے بندوق لینے چلے گئے اور جلد واپس آئے اور کہنے لگے کہ اماں جان بندوق نہیں دیتیں اس پر مَیں نے خود کہلا بھیجا کہ تھوڑی دیر کیلئے بندوق بھیج دیں۔ فرمایا: ’آج کل پرندے انڈوں پر ہوتے ہیں۔ مَیں بھی بچوں والی ہوں۔ مَیں آج کل بندوق ہر گز نہیں دوں گی‘‘۔ یہ واقعہ اپنی شان کا ایک عجیب واقعہ ہے۔ جس سے حضرت اُمُّ المؤمنین کی اس شفقت کا پتہ چلتا ہے جو انسانوں سے اُتر کر پرندوں کے لئے پائی جاتی ہے۔
    (۱۳)
    محترمہ امۃ الرحمن صاحبہ بنت حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے حضرت اُمُّ المؤمنین کے اخلاق کریمانہ کے متعلق ایک عجیب روایت قلمبند کی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ:
    (۱) ’’مَیں حضرت اُمُّ المؤمنین کے پاس ابتدائی زمانہ میں پانچ سال رہی۔ ایک دفعہ حضرت اُمُّ المؤمنین موسم گرما میں بیت الدعاء میں نماز پڑھ رہی تھیں اور امۃ الرحمن صاحبہ حضرت اُمُّ المؤمنین کو حالتِ نماز میں پنکھا کرتی رہیں۔ جب حضرت اُمُّ المؤمنین نماز سے فارغ ہوگئیں تو امۃ الرحمن صاحبہ نے وہیں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ ان کو نماز پڑھتے دیکھ کر حضرت اماں جان نے پنکھا ہاتھ میں لے لیا اور پنکھا کرنے لگیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ مَیں نے گھبرا کر جلدی سے نماز ختم کر دی تا کہ کہیں بے ادبی نہ ہو اور مَیں توبہ توبہ کرنے لگی۔ حضرت اماں جان نے سن کر فرمایا کہ: ’کیا مَیں ثواب حاصل نہ کروں؟‘ جائو پیر خانوں میں ڈھونڈو! کہیں تم کو ان اخلاق کریمانہ کا نظارہ نظر نہ آئے گا‘‘۔
    یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واقعہ سے ملتا جلتا ہے جو مفتی فضل الرحمن صاحب کی روایات میں چھپا ہوا موجود ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی کام سے گورداسپور سے ہو کر آئے۔ گرمی کا موسم تھا۔ گول کمرے میں حضرت اقدس ؑکو اس کام کے نتیجہ سے اطلاع دی۔ حضور ؑنے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ ذرا ٹھہریں مَیں آپ کیلئے شربت بنا کر لاتا ہوں۔ مفتی صاحب تھکے ہوئے تھے چارپائی پر لیٹ گئے اور لیٹتے ہی سو گئے۔ کچھ دیر کے بعد جب آنکھ کھلی تو دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے پنکھا کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب اسی طرح سے گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور توبہ توبہ کرنے لگے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت پر جس قدر گہری نظر ڈالی جائے گی ہم کو یہی نظر آئے گا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر رنگ میں رنگین ہیں۔
    (۲) ’’حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں لوگ باہر سے بکثرت تحفے اور پھل لایا کرتے تھے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین سب خادمائوں کو حصہ رسدی ان میں سے دیا کرتی تھیں۔ آپ جب اس طرح پھل دینے لگتیں تو مَیں اکثر بیچ میں سے چلی جایا کرتی اور میرا حصہ جہاں مَیں ہوتی وہیں روانہ کر دیتیں۔
    ایک دفعہ مَیں نے ایسا ہی کیا اور چلی گئی۔ باقی خادمائیں اپنا اپنا حصہ لے کر چلی گئیں۔ تھوڑی دیر بعد مَیں واپس آئی تو آپ نے فرمایا: ’امۃ الرحمن! آج ہم نے تمہارا حصہ نہیں رکھا کیونکہ تم ہمیشہ چلی جاتی ہو‘ اور بطور مزاح فرمایا۔ ’اور تیرا مکلاوہ پیچھے روانہ کرنا پڑتا ہے‘۔
    مَیں نے کہا بیوی جی! کوئی بات نہیں۔ مگر اسی وقت میرا حصہ مجھ کو دے دیا تا کہ میرے دل میں کوئی رنج نہ رہے۔ یہ آپ کی شفقت اور محبت کی ایک ادنیٰ مثال ہے‘‘۔
    (۱۴)
    حضرت اماں جی صغریٰ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ المسیح اوّلؓ حضرت اُمُّ المؤمنین کی شفقت و محبت کا تذکرہ یوں کرتی ہیں:
    ’’میری شادی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے ساتھ برات میں گئے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی عمر اس وقت تقریباً چھ ماہ کی ہوگی۔ شادی کے دو تین دن کے بعد حضرت اُمُّ المؤمنین کی موجودگی میں مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت ہوئی۔ میری بیعت شہزادہ حیدر کے مکان میں ہوئی تھی۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے میری بیعت پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور مٹھائی بھی تقسیم کی۔
    ’’مَیں اپنے شوہر حضرت خلیفہ اوّلؓ کے ساتھ جموں چلی گئی اور حضرت اُمُّ المؤمنین کچھ دنوں لدھیانہ میں ہی ٹھہری رہیں کیونکہ حضرت میر ناصر نواب ان دنوں لدھیانہ میں ملازم تھے۔ مَیں جب جموں سے واپس آئی تو قادیان بھی آئی۔ اماں جان نے مجھے اپنے گھر اُتارا۔ اپنا سارا زیور اور لباس مجھے پہنایا۔ مجھے ان کا یہ حسن اخلاق کبھی اور کسی وقت نہیں بھولتا۔
    ’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُمُّ المؤمنین سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ میر حسام الدین صاحب کے مکان پر اُترے ہوئے تھے اور مَیں ان دنوں مولوی صاحبؓ کے پاس جموں میں تھی۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے بھاگ بھری نائن کو میرے لئے بہت سے تحفے اور کپڑے دے کر جموں بھیجا کہ مجھے وہاں سے بلا لائے۔ مگر حضرت خلیفہ اوّلؓ اُن ایام میں کشمیر گئے ہوئے تھے اس لئے مَیں حاضر نہ ہو سکی۔
    ’’حضرت اُمُّ المؤمنین نے جس نگاہ سے مجھ کو پہلے دن دیکھا اسی نگاہ سے آج تک دیکھتی ہیں اور ہمیشہ بڑی بہو کے لقب سے پکارا۔ نیک اور مادرانہ سلوک فرمایا۔ مجھے ہر تنگی اور ترشی میں اپنے پاس رکھا کبھی اپنے سے جدا نہیں کیا۔ چنانچہ اب تک حضرت اماں جان میرے پاس خود تشریف لاتی ہیں اور باوجود بیماری کے میرا احساس رکھتی ہیں‘‘۔
    (۱۵)
    مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی شفقت کا ایک واقعہ یوںتحریر فرمایا ہے:
    ’’۱۹۱۶ء؁ کا واقعہ ہے کہ میری بیوی چند دنوں کے لئے قادیان میں حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ کے پاس ٹھہری۔ جب خاکسار اپنی بیوی کو واپس لانے کے لئے بٹالہ اسٹیشن سے اُتر کر منڈی میں آیا۔ حضرت میاں بشیر احمد صاحب منشی عبدالکریم صاحب کے مکان پر اُترے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ اماں جان آپ کو بلاتی ہیں مجھے دیکھ کر اماں جان نے فرمایا: ’کہ مَیں مالیر کوٹلہ چند دن کے لئے جا رہی ہوں اور اپنے مکان مَیں تمہاری بیوی امۃ الحفیظ کے پاس چھوڑ آئی ہوں اگر تم خوشی سے رہنے دو تو رہے گی ورنہ تم مالک ہو خوشی سے اپنی بیوی کو لے آئو‘۔ مَیں نے عرض کیا۔ ’’حضور! خاکسار بمعہ اپنی بیوی بچوں کے آپ کا غلام ہے۔ یہ تو میری خوش قسمتی ہے کہ میری بیوی کو اللہ تعالیٰ نے حضور کے قدموں میں رہنے کا موقعہ عطاء فرمایا ہے۔ مَیں یہاں سے ہی چلا جاتا ہوں اس پر فرمایا: ’ایک رات جا کر حضرت صاحب کی زیارت کر آئو‘۔
    ’’اتنے میں اسٹیشن پر لے جانے کے لئے تانگہ آ گیا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین بیٹھ گئیں۔ حضرت قبلہ میاں صاحب جو آپ کے ہمراہ جا رہے تھے مجھ سے مصافحہ کرنے لگے۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضور کو گاڑی پر سوار کرا کر قادیان جائوں گا۔ اس پر حضرت قبلہ میاں صاحب میرے ہمراہ پیدل چل پڑے یہ دیکھ کر حضرت اُمُّ المؤمنین نے فرمایا۔ ٹھہرو مَیں بھی تمہارے ساتھ پیدل چلتی ہوں اور تانگے سے اُتر کر پیدل روانہ ہو پڑیں۔
    ’’جب خاکسار قادیان آیا۔ تو مجھے حضرت ممدوحہ کی ذرّہ نوازی کا ایک اور واقعہ دیکھنے کا موقع ملا۔ میرے کھانے اور رات کے رہنے کا انتظام حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے گھر میں تھا۔ جس سے مَیں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی حضرت اُمُّ المؤمنین نے ہی کروایا ہوگا‘‘۔
    یہ پندرہ واقعات جو مختلف راویوں کی زبان سے میں نے آپ کی شفقت کے متعلق تحریر کئے ہیں۔ پڑھنے والوں کو بہت کچھ سبق دیں گے۔ مَیں اِس وقت کتاب کے اس حصے میں ان واقعات پر کوئی توضیحی نوٹ نہیں لکھ سکتا۔ آپ کی شفقت کے اور سیرت کے دیگر سینکڑوں واقعات راویوں کی زبان سے جمع ہو کر میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔ جنہیں مَیں زیادہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کتاب کے دوسرے حصے میں شائع کر سکوں گا۔ وَبِاللّٰہِ التّوفِیْقُ۔
    یہ محض ایک مختصر سا نمونہ ہے اُس خلقِ عظیم کا جو آپ کو دیا گیا۔ اُس صبر و تحمل کا جو باوجود بیماری، ضعف اور نقاہت کے نہایت قوتِ برداشت کے ساتھ اپنے خدام سے آپ ملتی ہیں۔ ان کی باتوں کو سنتی ہیں ان کی ہمدردی اور غمخواری کرتی ہیں۔ ان کی درخواستوں پر توجہ دیتی ہیں آپ کی سیرت کے دیگر بیسیوں ابواب پر مجھے ابھی بہت کچھ لکھنا ہے جو میں دوسری جلد میں لکھ سکوں گا۔ مَیں یہاں اب چند صفحات کے اندر آپ کی زندگی کے بعض اور واقعات پر مختصر نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا علمی اور ادبی ذوق
    حضرت اُمُّ المؤمنین کے علمی اور ادبی ذوق کے متعلق میرے پاس کوئی زیادہ مواد جمع نہیں لیکن اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کا علمی اور ادبی ذوق نہایت ہی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے بچوں میں سے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اپنے علمی کارناموں کی وجہ سے ممتاز تریں ہستیاں ہیں۔ صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ کے متعلق سنتا ہوں کہ وہ بھی علمی و ادبی ذوق سے حصہ وافر رکھتی ہیں۔ اگرچہ میری نظر میں ان کی کوئی تحریر یا نظم نہیں آئی۔ لیکن مجھے بتلانے والوں نے بتلایا ہے کہ اُن کا ذوقِ علمی بھی اپنے خاندان کے کسی فرد سے کم نہیں۔ جب آپ کی اولاد کا ذوقِ علم اس قدر بڑھا ہوا ہو تو نہایت آسانی سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ آپ کا ذوقِ علم کس بلند پائے کا ہونا چاہئے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب کسی اُردو لفظ کی بابت تفتیش کرنا ہوتی تھی تو سب سے پہلے حضرت اُمُّ المؤمنین ہی سے سوال کیا کرتے تھے اور پھر اگر کچھ شبہ رہ جاتا تو حضرت نانی اماںؓ صاحبہ یا حضرت میر صاحب سے دریافت فرمایا کرتے تھے۔ اس سے بھی آپ کے ادبی ذوق کا پتہ چلتا ہے۔
    حضرت میرمحمد اسماعیل صاحبہ قبلہ کے ذریعے مجھ کو یہ علم حاصل ہوا ہے کہ کسی زمانہ میں حضرتہ عُلیا کبھی کبھی ذوقِ شعر بھی فرمایا کرتی تھیں۔ افسوس! کہ وہ اشعار محفوظ نہ رہ سکے۔ ایک دفعہ آپ نے ایک بکری اور اس کے دو بچوں کے مرنے کا مرثیہ لکھ کر غالباً ۱۸۹۲؁ء یا ۱۸۹۳؁ء میں حضرت میر صاحب کو بھیجا تھا۔ مگر افسوس کہ وہ بھی محفوظ نہ رہ سکا۔
    حضرت میر صاحب قبلہ کے ذریعہ سے تین شعر مجھے میسر آئے ہیں۔ جو مَیں بصد مسرت شائع کرتا ہوں۔ یہ اشعار بطور عید مبارک نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو مالیر کوٹلہ میں لکھے تھے۔ تحریر فرمایا:
    عید مبارک
    تم تو اپنے گھر میں بیٹھی خرم و دِلشاد ہو
    ہر طرح کے فکر و غم سے دُور ہو آزاد ہو
    دیکھ کر بچوں کو اپنے گرد ہنستے، کھیلتے
    فضل مولیٰ سے مناتی عید کیا، اعیاد٭؎ ہو
    حال کیا اُس٭٭؎ کا بتائوں جس کی بچی ہے جدا
    تم بُھلا بیٹھی ہو اُس کو، پر اُسے تم یاد ہو
    منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک روایت حضرت اُمُّ المؤمنین کے ادبی ذوق کے متعلق میرے پاس بیان فرمائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ:
    ابتدائی زمانہ میں اس امر کا ذکر حضرت خلیفہ اوّلؓ کے بعض طالب علموں میں ہوا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین شعر لکھ سکتی ہیں۔ چنانچہ اس امر کا اندازہ لگانے کے لئے ایک طالب علم مولوی نظام الدین صاحب نے ایک کاغذ پر اُس روٹی کی شکایت لکھ کر بھیجی جو اندر سے پک کر آتی تھی۔ لکھا:
    اگر روٹی یہی بڑھیا پکاوے
    کرو رخصت کہ پھر سب گھر کو جاویں
    ٭ یعنی کئی عیدیں ٭٭ یعنی اپنا
    واِلاّ عرض کرنا ہے ضروری
    کہ ہو روٹی مصفّا اور تنوری
    مولوی نظام الدین صاحب نے جو رباعی لکھی وہ تو نری تک بندی ہی تھی۔ مگر چونکہ اُن کو حضرت اُمُّ المؤمنین کا امتحان کرنا مقصود تھا اس لئے وہ جو کچھ بھی لکھ سکے انہوں نے لکھ دیا اور ایک لڑکے کے ہاتھ اندر بھیج دیا۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین نے اُسی کاغذ کی پشت پر اسی وقت پنسل سے حسب ذیل رباعی لکھ دی۔
    ہمیں تو ہے یہی بڑھیا غنیمت
    جو روٹی کو پکا دیتی ہے بروقت
    جسے بڑھیا کے ہاتھوں کی نہ بھاوے
    تو لا دے اس کو جو اچھی پکاوے
    یہ فی البدیہ رباعی جو آپ نے لکھی اپنے اندر وہی روح رکھتی ہے۔ جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے اس واقعہ میں ہے جو ایک نانبائی کی شکایت کے متعلق آپ کی سیرت میں موجود ہے۔
    ایک نظم کے متعلق اظہارِ پسندیدگی
    ۱۹۳۹؁ء کے اوائل میں محلہ دارالرحمت میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت اُمُّ المؤمنین بھی تشریف فرما تھیں۔ اُس میں عزیز مکرم میاں عبدالستار صاحب قمر اجنالوی نے اپنی ایک نظم پڑھی جس کا مطلع یہ تھا۔
    کس شان سے مسلم آئے تھے، اے ہند! تیرے میدانو ں میں
    شمشیر بکف قرآن بلب، تھا جوش عجب، دیوانوں میں
    حضرت اُمُّ المؤمنین نے اس نظم کو بہت پسند فرمایا اور ملک عبدالعزیز صاحب مولوی فاضل کے ذریعے اس نظم کو لکھوا کر منگوایا۔ اس نظم کی وجہ سے پھر بھی کبھی کبھی قمر صاحب کو اپنی نظمیں سنانے کا اتفاق ہوا۔ جنہیں سن کر حضرتہ عُلیا پسندیدگی کا اظہار فرمایا کرتیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا ہمیشہ یہ معمول ہے کہ آپ کوئی نہ کوئی کتاب پڑھوا کر سنتی رہتی ہیں جس سے آپ کے علمی اور ادبی ذوق کا بآسانی پتہ لگ سکتا ہے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا جود و کرم
    حضرت اُمُّ المؤمنین کے جود و کرم کی اتنی روایات موجود ہیں کہ ان کو جمع کرنے سے بذاتِ خود ایک کتاب بن جاتی ہے مگر مَیں حضرت اُمُّ المؤمنین کے جودو کرم کی یہاں چند روایات بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔ تفصیل آئندہ جلد میں دی جا سکے گی۔
    عزیز مکرم ملک مبارک احمد صاحب ایمن آبادی نے دو روایتیں حضرت اُمُّ المؤمنین کے جود و کرم کے متعلق لکھی ہیں۔ پہلی روایت انہوں نے جناب مولوی محمد الدین صاحب سابق مبلغ امریکہ کی زبانی لکھی ہے جو انہوں نے کسی گفتگو کے دَوران میں بیان کی۔
    (۱) کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت اُمُّ المؤمنین موسم سرما کے شروع ہوتے ہی اپنے خرچ سے بہت سی نئی رضائیاں تیار کروا کر غرباء میں تقسیم فرمایا کرتی تھیں۔
    (۲) دوسرا واقعہ انہوں نے اپنی ہمشیرہ کے متعلق لکھا ہے جو حضرت اماں جان کے پاس رہا کرتی تھیں۔ ۱۹۲۶ء؁ میں جب اُن کی شادی ہوئی تو حضرت اُمُّ المؤمنین علیہا السلام نے مبلغ ساٹھ (۶۰) روپے کا طلائی گلوبند جو غالبًا ۳ تولے خالص سونے کا تھا۔ اسے تحفۃً عطا فرمایا۔
    مولوی سیّد عبدالحلیم صاحب کٹکی کی بیوی محترمہ مسرت النساء عرف روضہ بی بی نے سونگڑا (اڑیسہ) نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی ایسی ہی عطا کا ذکر کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ:
    ۱۹۳۸؁ء میں مَیں پہلی بار قادیان گئی۔ اڑیسہ میں چونکہ برقعے کا رواج نہیں۔اس لئے مَیں مونگھیر کی ایک بہن سے ایک برقع مستعار لے کر آئی جو غلاف کی طرح سے تھا اور دامن کی طرف سے اوڑھا جاتا تھا اور اسی طرف سے نکالا جاتا تھا۔ مجھے اوّل تو برقعے کی عادت نہ تھی اور کچھ برقعہ غلاف کی طرح تھا۔ اسے پہن کر مَیں راستہ میں چل نہ سکتی تھی۔ مائی کاکو صاحبہ مجھے مہمان خانے سے اس طرح لے گئیں جیسے کوئی اندھے کو لے کر جاتا ہے اور اسی طرح لے جا کر مجھے اماں جان کے دربار میں کھڑا کر دیا۔ حاضرات مجلس نے قہقہہ مارا۔ برقعہ اُتارا تو میری ساڑھی کا پلّو اور بال سب اُلٹ گئے اور اُلجھ گئے۔
    اماں جان نے بعد جواب سلام و پُرسش احوال پہلا سوال برقعے کا کیا۔ مَیں نے حال سنایا تو آپ نے حکم دیا۔ ہمارا وہ برقعہ لائو۔ برقعہ ہلکے زرد رنگ کا تھا اور مصری طرز کا۔ جس کے دو حصے تھے۔ ایک کوٹ کی طرح اور ایک سر پر چادر کی طرح۔ فرمایا۔ اس کو پہن کر دیکھو۔ مَیں کھڑی ہوگئی اور پہن کر بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔ اماں جان! اب تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ آپ ہنس پڑیں اور فرمایا اس کو پہن کر قادیان میں آنا جانا کیا کرو۔
    واپسی پر جب مَیں حاضر ہوئی تو برقعہ واپس دینے کو مَیں نے پوچھا فرمایا۔ تمہاری طرف تو استعمال نہیں ہوتا تم لے کر کیا کرو گی۔ مَیں نے عرض کیا کہ اب جب کہ آپ نے عنایت کیا ہے تو ضرور استعمال کروں گی۔ اور اس عطاء کے بعد مَیں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔ مسکرا کر فرمایا۔ اچھا لے جائو۔ غالباً یہ پہلا ہی برقعہ ہے جو صرف اور صرف مجھے حاصل ہوا۔
    مکان کیلئے زمین
    (۱) محترمہ استانی سکینۃ النساء بیگم لکھتی ہیں کہ:
    جب عزیزہ محترمہ صاحبزادی امۃ الحفیظ صاحبہ ۵۔۶ سال کی ہوئیں تو اماں جان نے فرمایا کہ امۃ الحفیظ کو پڑھائو۔ سو اس عاجزہ نے صاحبزادی صاحبہ کو اُردو لکھنا، پڑھنا سکھانا شروع کیا۔ اس اثناء میں اماں جان نے ایسی ایسی مرحمتیں عطا فرمائیں کہ مجھے کسی قسم کا فکر و اندیشہ اپنی ضروریات زندگی کا نہ تھا اور جب محترمہ صاحبزادی صاحبہ کی شادی ہوئی تو اپنی شفقتِ خاص سے اپنے قدموں میں زمین عطا کی کہ اس پر مکان بنا لو۔ جہاں یہ واقعہ ایک طرف علمی قدردانی کا ایک ثبوت پیش کرتا ہے۔ وہاں آپ کی فیاضی طبع کا بھی۔
    (۲) ایک دفعہ ایک ملتان کی فقیرنی کمبل اوڑھے ، گلے میں لمبی تسبیح ڈالے گھر میں آ گئی اور لگی اپنی غیر معمولی کرامات کی بڑیں مارنے۔ ہم سب عورتیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ کر بیٹھی تھیں کہ وہ باہر شہ نشین پر بیٹھ گئی۔ عورتیں اس کو حیرت، تعجب اور تماشے کے طور پر دیکھ رہی تھیں اور وہ منتظر تھی کہ میں ابھی ایک دو عورتوں کا ہاتھ دیکھ کر قسمت کا حال بتاؤں گی۔ اتنے میں اماں جان نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلیں اور اس کی مٹھی میں ایک روپیہ دے دیا ۔ اماں جان تو اندر جا کر قرآن کریم پڑھنے بیٹھ گئیں اوروہ روپیہ لے کر یوں بھاگی کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
    (۳) آپ نے کئی یتیم لڑکیوںکو پرورش کیا۔ ان کی عمدہ اور بہترین تربیت کر کے پھر اپنی عنایت و مہربانی سے اچھے اچھے رشتے تلاش کر کے ان کو گھر والیاں بنا دیا۔ کئی یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں کو ضروری امداد بہم پہنچائی۔ ان کو کھانا ،پہننا اور ہر طرح کا سامانِ ضروریات زندگی عطا فرمایا۔ کئی غریب عورتوں کو آپ خفیہ خفیہ رقمیں دیتی رہتی ہیں اور یہ بارہا دیکھا گیا ہے۔‘‘
    آپ کی فیاضی کی ایک اور مثال
    حافظ مولوی غلام رسول صاحب وزیر آبادی حضرت اُمُّ المؤمنین کی فیاضی کے متعلق اپنے ذاتی واقعات کو یوں تحریر کرتے ہیں:
    ۱۹۱۶ء؁ یا ۱۹۱۷ء؁ میں جب میں مولوی عبید اللہ صاحب مرحوم شہید ماریشس کے بال بچوںکو لانے کے لئے ماریشس جانے والا تھا تو میں بغرضِ حصولِ پاسپورٹ گورداسپور گیا۔
    (۱) ملک مولا بخش صاحب کلرک آف دی کورٹ حال پریذیڈنٹ ٹاؤن کمیٹی قادیان وہاں تھے میں جب ان کے مکان پر گیا تو معلوم ہوا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین ایدہا اللہ بھی آپ کے مکان پر ہیں۔ آپ کو جب میرے ماریشس جانے کا علم ہوا تو آپ نے مجھے دس دس روپے کے دو نوٹ مرحمت فرمائے جو آپ کی فیاضی اور دینی امور میں اعانت کاایک ثبوت تھے۔
    (۲) میں عرصہ بارہ سال سے ہجرت کر کے قادیان آ گیا ہوں اور تقریباً سات سال سے مرض فالج میں مبتلا ہوں۔ اس لمبے عرصے میںحضرت اُمُّ المؤمنین ہمیشہ وقتاً فوقتاً مجھے اپنے عطیہ جات سے مستفیض فرماتی رہیں۔
    ایک دن ایک عورت جو غریبانہ طرز کی تھی میرے پاس آئی اور اس نے کھڑے کھڑے یہ کہہ کر ایک لفافہ مجھے دیا کہ یہ کاغذ اُمُّ المؤمنین نے دیا ہے۔ اس کے بعد جب میںنے اسے کھولا تو اس میں پانچ پانچ روپے کے چار نوٹ تھے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی فیاضی کی ایک اور مثال
    حکیم محبوب الرحمن صاحب بنارسی کی اہلیہ صاحبہ اپنی ایک روایت میں مجھے لکھتی ہیں کہ:
    ایک سال میں اپنا چندہ تحریک جدید ادا نہ کر سکی۔ میرے پاس میرا ایک زیور تھا۔ جو میں نے گروی رکھ کر روپیہ نکلوایا اور تحریک جدید کو بھیج دیا ۔ اب مجھے اس زیور کے چُھڑانے کی فکر پیدا ہوئی تو میں نے حضرت اماں جان کو لکھا کہ مجھے بیس روپے درکار ہیں۔ مجھے منی آرڈر کردیں۔ حضرت اماں جان نے بیس روپے مجھے بذریعہ منی آرڈر فوراً بھیج دیئے اور میںنے وہ زیور چُھڑا لیا۔
    میںان واقعات پر بھی کوئی تشریحی یا توضیحی نوٹ نہیں لکھ رہا۔ احباب خود اندازہ لگا لیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین اور سلسلہ کیلئے آپ کی مالی قربانیاں
    حضرت اُمُّ المؤمنین نے سلسلہ کے ہر کام میں بے دریغ روپیہ صرف کیا اور آپ کی ان مالی قربانیوں کے متعلق میں ایک نہایت تفصیلی بحث سیرت کی دوسری جلد میں لکھنے والا ہوں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
    سلسلہ کی کوئی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اور پھر آپ کے بعد ایسی نہیںاٹھی جس میں آپ نے مالی قربانی کا حصہ نہ لیا ہو۔ سلسلہ کی مساجد، سلسلہ کے تبلیغی مشن، لنگر خانہ، لجنہ اماء اللہ، لنڈن مسجد، برلن مسجد، لنگر کیلئے دیگوں کی ضرورتوںکا مہیا کرنا، اخبار الفضل کے قیام میںحصہ لینا، منارۃ المسیح ، تحریک جدید۔ الغرض سلسلہ کی کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی جس میںحضرت اُمُّ المؤمنین نے نہایت فیاضی اور فراخ دلی سے حصہ نہ لیا ہو۔ یہاں اس حصے میں مَیں صرف آپ کی اس مالی قربانی کو جو آپ نے تحریک جدید کے دس سالہ سلسلہ میں کی ہے کا ذکر کروں گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس عظیم الشان تحریک میں اُمُّ المؤمنین اور آپ کے خاندان نے شاندار اور قابلِ تعریف قربانی کی ہے۔
    حضرت اماں جان
    از محترمہ امۃ اللہ بشیرہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ حیدر آباد (دکن) اہلیہ مولوی سیّد بشارت احمد صاحب امیر جماعت حیدر آباد (دکن)
    دامانِ نگہ تنگ و گلِ حُسن تو بسیار
    گلچین بہار تو زِدامان گِلہ دارد
    ایک مدت سے مجھے خیال تھا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کے شمائل پر میںاپنے دیرینہ ذاتی مشاہدات میں سے کچھ لکھوں۔ مگر یہ دیکھ کر کہ سلسلہ کے سارے زبردست اہل قلم کبھی بھی آپ کی سیرت پر کوئی خامہ فرسائی نہیں کرتے اور میں نے یہ خیال کیا کہ غالباً حضرتہ عُلیا اماں جان کی ناپسندیدگی کے مدنظر کوئی نہیں لکھتا ہو گا۔ اس لئے میں بھی اپنی جگہ دم گھونٹ کر خاموش ہو رہی۔
    مگر اب جبکہ ہمارے قابل قدر بھائی جناب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی (اللہ تعالیٰ آپ کی صحت و عمر میںبرکت دیوے) نے اس مبار ک کام کیلئے اخباری دنیا میں غلغلہ مچا دیا تو میں بھی اپنے دیرینہ شوق کے مدنظر چند واقعات سپرد قلم کرتی ہوئی ڈر رہی ہوں کہ کہیں میرے اس مقالہ کو ناظرین و ناظرات حضرتہ علیا کا ایک مکمل خاکہ زندگی ہی تصورنہ فرما لیں۔ اس لئے میں نے ایک فارسی شعر زیبِ عنوان کیا ہے۔ جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ میری ممدوحہ کی سیرت و حسنِ اخلاق کے تذکرے بہت کثیر ہیں۔ میں ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ مجھے خود اپنی تنگ نگاہی صاف طور پر محسوس ہوتی ہے۔ البتہ ممدوحہ کے شمائل میں سے کچھ وہ بھی اپنے ذوق و نقطہ نگاہ سے پیش کرنا چاہتی ہوں۔
    یوں تو عاجزہ کو اب تک قادیان شریف میں ۸۔۱۰ مرتبہ سے زیادہ بار حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ لیکن غالباً دو مواقع ایسے آئے کہ خاندان سمیت کافی طویل عرصہ تک مجھے قادیان جنت نشان میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک تو ۱۹۲۰ء؁ میں جبکہ حیدرآباد میں میری خوشدامن سردار بیگم صاحبہ مرحومہ کے اصرار پر سیّد صاحب میرے شوہر (سیّد بشارت احمد صاحب) نے ہم تمام کو لیکر تقریباً ۴ ماہ قادیان شریف میںحضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ کے قدموں میں گزارے تھے۔
    پھر دوبارہ ۱۹۳۵؁ء یا ۱۹۳۶؁ء میں تقریباً ایک سال میں معہ اپنے جملہ متعلقین کے قادیان شریف میں رہی۔ ان ہر دو موقعوں پر عاجزہ کو حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ اور خاندان کی تمام محترم و قابل عزت ہستیوں کو دیکھنے کی عزت حاصل رہی۔
    میں بوجہ ایسے خاندان سے قریبی ربط رکھنے کے جو کہ مرشدی گھرانہ کہلاتا ہے اس امر سے زیادہ واقف اور باخبر تھی کہ عموماً مشائخین و سجادہ نشینوں کے گھروں کی معاشرت و طرزِ معیشت و طریق تہذیب و تمدن و لباس کا رنگ ڈھنگ بات چیت کا طور و طریق کیسا ہوتا ہے۔ میرے والد مرحوم حضرت مولانا میر محمد سعید صاحب قادری خداتعالیٰ انہیںغریقِ رحمت فرمائے ایک جید مشائخ مولانا حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کشمیری مرحوم و مغفور کے واحد فرزند تھے۔ جن کا مریدین کا حلقہ ۲۔۳ لاکھ سے کم نہ تھا۔ اسی طرح میرے ننہیالی قریبی رشتہ کے نانا حضرت مسکین شاہ صاحب نقشبندی مرحوم جو اعلیٰ حضرت نظام دکن اور حیدرآباد کے ملک کے ۵ لاکھ مریدین کے مرشد تھے۔ نیز میرے سُسرالی وغیرہ رشتہ داروں میں مولوی سیّد عمر علی شاہ صاحب و یکی میاں صاحب وغیرہ جو میرے چچا خُسر ہوتے تھے بڑے مرشد تھے۔ اس لئے فطرتاً میں اس ماحول کو جس سے میں بہت حد تک مانوس اور واقف تھی خاندان میں قیاس کرنے پر مجبور تھی۔ مگر میرے ذاتی مشاہدات نے میری تمام قیاس آرائیوںپر پانی پھیر دیا مجھے نہ اُمُّ المؤمنین میں اور نہ خاندان کی کسی خاتون میں یہ بات نظر آئی کہ وہ گفتگو و ملاقات میںکسی قسم کا تکلف کرتی ہیں یا بناوٹ کا پہلو اختیار کرتی ہیں۔ یا کوئی خاص قسم کا مشائخانہ یا صوفیانہ لباس زیب تن فرماتی ہیں یا دنیاوی آرائش و زینت کی اشیاء سے اس قدر متنفر ہیں کہ گویا رہبانیت اختیار کر رہی ہیں بلکہ حضرت اُمُّ المؤمنین اور خاندان کے اس پاکیزہ و بے ریا عمل کا اس قدر گہرا اثر ہر غائر نظر سے دیکھنے والے پر پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان پاک قلوب کے آئینہ میں ریا و بناوٹ میں خود کو ملوث دیکھتا ہے۔
    مجھے خوب یاد ہے اور میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جبکہ میں نے اپنی خوشدامن صاحبہ مرحومہ کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم محض حضرت اُمُّ المؤمنین کے فیض صحبت کی وجہ سے دیکھا وہ یہ کہ میری خوشدامن صاحبہ ایک بڑے امیر کبیر گھرانے کی خاتون تھیں ۔ جو ۲۷ سال میں ہی ۳ لڑکے اور ایک لڑکی کی ماں ہو کر بھرپور جوانی میں بیوہ ہو گئیں تو انہوں نے اپنی جوانی اور بیوگی کو اس قدر سادگی اور صوفیانہ رنگ میں گزارا کہ جب میری شادی ہوئی اور ان کے خاندانی طمطراق اور خدم و حشم اور امارت کے مدنظر ان کو معمولی لباس میں ملبوس دیکھا تو مجھے سخت حیرت ہوئی۔ مگر جبکہ میری یہی خوشدامن صاحبہ مرحومہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی صحبت میں چند ماہ رہیں تو یہ دیکھاکہ کوئی روزناغہ نہ ہوتا کہ وہ اس ضعیفی میںکنگھی چوٹی کر کے پاک و صاف لباس اور خوشبوئوں وغیرہ کا استعمال کر کے حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میں روزانہ نہ جایا کرتیں اور اس کے بعد سے انتقال تک میں نے مرحومہ کو دیکھا کہ سابقہ اس دنیا دارانہ و صوفیانہ طرزِ زندگی کو بالکل خیرباد کر کے متقیانہ رنگ میں اَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ کے ماتحت حسب ضرورت عمدہ لباس پہنا کرتیں۔ چنانچہ جب حضرت اُمُّ المؤمنین پر بھی یہ امر ظاہر ہوا تو وہ بہت مسرور ہوئیں۔ چنانچہ جب ہماری خوشدامن صاحبہ کا انتقال ہوا تو حضرت اُمُّ المؤمنین نے ان کی اولاد کے نام ایک تعزیت نامہ اپنی انتہائی کرم فرمائی سے جو تحریر فرمایا۔ اتفاقاً وہ میرے پاس محفوظ رہ گیا تھا۔ وہ درج ذیل کرتی ہوں۔
    حضرت میرے شوہر مولوی سیّد بشارت احمد صاحب و میرے دیور مولوی حکیم میر سعادت علی صاحب مرحوم کو تحریر فرماتی ہیں کہ:
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    از قادیان دارالامان
    ۱۵ دسمبر ۱۹۲۳؁ء
    عزیزانِ من سلامت رہیں!
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے عزیز نامہ سے یہ سن کر از حد رنج و تاسف ہوا کہ آپ کی والدہ صاحبہ اور ہماری مخلص اخلاص مند خاتون نے داغ جدائی دیا۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ- مرحومہ بہت اخلاص مند احمدی خاتون تھیں۔ ان کی علالت کی حالت میں بھی دعائیںکیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے ہر طرح آرام و راحت میں رکھنے پسندیدہ ہیں۔ گو ہمارے لئے وہ جدا اور نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر بیٹوںکے ہاتھوں سپردخاک ہو کر مقامِ اعلیٰ کو پہنچ گئیں۔
    خدائے ذوالجلال نیکوں کو ضائع نہیںکرتا اور آخر جو ملا ہے وہ بچھڑے گا۔ چند روز بعد ہم بھی ان سے ملاقاتی ہونے والے ہیں۔
    مرحومہ مغفورہ اپنے اخلاقِ حسنہ اور نیکی و تقوی کے باعث ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کے باعث اجر ِعظیم عنایت کرے گا اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے گا۔ باقی رہا اولاد کے لئے جدائی کا صدمہ سو جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارارکھتے ہیں وہ کبھی غمزدہ نہ ہونے چاہئیں۔ اس پیارے پر سب پیارے قربان ہیں۔
    اب دعا ہے کہ خداوند کریم مغفورہ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیوے۔ اور جنت کے اعلیٰ مقامات کا وارث کرے۔ ہم کو جملہ متعلقین سے دلی ہمدردی ہے۔ والسلام
    آپ کی ہمشیرہ اور بہوؤں سے خاص اظہار ہمدردی ہے۔ سب کو مرحومہ کی نیکیوں کا وارث بناوے۔ اور صبر جمیل کی توفیق عطا فرماوئے۔
    والدہ میرزا محمود احمد
    خلیفۃ المسیح علیہ السلام از قادیان
    درحقیقت میری خوشدامن نے جب سے حضرت اُمُّ المؤمنین کو دیکھا ۔ ان کے اخلاص ویکرنگی میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی عاشق وفدائی تھیں۔ چنانچہ ایک واقعہ اسی ضمن میں درج کرتی ہوں۔ اگرچہ حضرت ممدوحہ کا وہ مکتوب اس وقت دستیاب نہیں ہوا مگر اس کا مفہوم مجھے یاد ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ:
    حضرتہ خوشدامن صاحبہ کی مرض الموت میں جو دس ماہ کی طویل علالت کا زمانہ تھا حیدر آباد کے ایک محترم احمدی نواب اکبر یار جنگ بہادر نے میری نند مسماۃ حاجی بیگم مرحومہ کے لئے اپنا پیغام دیا۔ تو حضرت خوشدامن صاحبہ محض اس وجہ سے متامل ہو گئیں کہ نواب صاحب ایک تو پٹھان ہیں دو سرے غیر ملکی ہیں۔ ممکن ہے بعد وظیفہ حسنِ خدمت یہ اپنے وطن فرخ آباد کو میری لڑکی کو نہ لے جائیں۔ تب سیّد صاحب نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میں عریضہ لکھا۔ جس پر حضرت اُمُّ المؤمنین نے خوشدامن صاحبہ کو خط تحریر فرمایا۔ اس کا مفہوم یہی تھا کہ :
    ’’میں یہ مناسب سمجھتی ہوں کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں یہ کام کر دیں تاکہ آپ کو اطمینان نصیب ہو۔‘‘
    پس جونہی حضرت اُمُّ المؤمنین کا یہ مکتوب بستر علالت پر سنایا گیا بلا کسی پس و پیش کے فوراً اسی ہفتہ میںرُخصتانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی مرحومہ کے اخلاص اور حضرت اُمُّ المؤمنین کے اس ارشاد پر عمل کے نتیجہ میںایک عمدہ پھل یہ عنایت فرمایا کہ میری نند مرحومہ کو ایک اولادِ نرینہ پیدا ہوئی جو کہ اس وقت بفضلہ تعالیٰ سردار محمود رشید الدین خان طولعمرہ ایک ۱۹ سالہ نوجوان ہے۔ جو علی گڑھ میں ایف۔اے کلاس کا طالب علم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو صالح مبلغ اسلام و خادم اسلام بنائے۔ آمین
    تحریک جدید فنڈ میں خاندانِ نبوت کی قربانیاں!
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس شادی کے متعلق بتایا گیا تھا کہ یہ شادی اس غرض کے لئے جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے بہت بابرکت ثابت ہو گی۔ چنانچہ اسے نعمت قرار دیا تھا۔ حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی اپنے ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
    ’’حضرت اُمُّ المؤمنین کے متعلق خدا تعالیٰ نے تذکرہ میں اس قدر مدح اور بشارات نازل فرمائی ہیں کہ اس طرح کی شان اور فضیلت کسی نبی کی بیوی کو حاصل نہیں ہوئی۔ قرآن کریم میں پارہ۷ میںحضرت مسیحؑ کی نسبت فرمایا اُذْکُرْنِعْمَتِی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اُمُّ المؤمنین عطا کیں تو فرمایا اُذْکُرُنِعْمَتِیْ‘‘
    آپ کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ جو اولاد آپ کے بطن سے پیدا ہو گی اور پھر جو اولاد ان سے پیدا ہو گی۔ وہ سب کے سب اس نور کی تخمریزی میں لگ جائیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا۔ گویا کہ وہ احمدیت کی اشاعت،احمدیت کی تبلیغ، احمدیت کی حفاظت و صیانت اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے ہوں گے۔ سلسلہ کی اشاعت و قیام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد مدات صدرانجمن کے ماتحت قائم کیں۔ جنہیںمخلص احمدی ہر قسم کی قربانیاںکر کے حصہ لیتے ہیں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین اور آپ کی اولاد ان تمام فداکاروں سے بڑھ چڑھ کر نہایت باقاعدگی کے ساتھ ان مدات میںحصہ لے رہی ہے اور اس پر نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔
    میں نے چاہا تھا کہ صدرانجمن کے ناظر صاحب بیت المال مجھے خاندانِ نبوت کی مالی قربانیوں کا ایک گوشوارہ بنا دیں مگر ان کے لئے اس قسم کا حساب قلیل مدت میں تیار کرنا مشکل تھا اس لئے وہ تیار نہ ہو سکا۔
    ۱۹۳۴؁ء میںحضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے دشمنانِ احمدیت کی بڑھتی ہوئی کوششوں کو دیکھ کر ایک تحریک کی جس کا نام تحریک جدید رکھا۔ اس تحریک جدید میں جس طرح سلسلہ کے دیگر مردوں عوروتوں نے فداکارانہ رنگ میںحصہ لیا۔ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر حضرت اُمُّ المؤمنین اور آپ کے خاندان نے حصہ لیا۔ جس کی تفصیل میں آگے پیش کروں گا۔
    ۱۹۳۵؁ء سے لے کر ۱۹۴۳ء؁ تک خاندان کی مجموعی قربانی بہتر ہزار چھ سو ستاون روپے ہے۔ ۱۹۴۴ء؁ کی قربانی جو دسویں سال کی قربانی ہے ملا کر یہ رقم یقینا ایک لاکھ کی گرانقدر رقم بن جاتی ہے۔ دس سال میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صرف ایک مَد میں ایک لاکھ کی قربانی ان تمام دیگر مالی قربانیوں پر ہمارے لئے ایک وسیع نظر ڈالنے کا موقعہ پیدا کر دیتی ہے اور ہم کو بتلاتی ہے کہ کس طرح خاندان کا ہر چھوٹا بڑا فرد سلسلہ کی حفاظت ، سلسلہ کی اشاعت میں لگا ہوا ہے اور کس قدر شان کے ساتھ حضور ؑ کی وہ پیشگوئی جو اس مبشر اولاد کی دینی خدمات کے متعلق تھی پوری ہوئی۔
    میں از حد ممنون ہوں چوہدری برکت علی خان صاحب فنانشل سیکرٹری تحریک جدید کا جہنوں نے نہایت محنت کے ساتھ مجھے یہ دس سالہ فہرست تیار کرا کے دی۔ اس فہرست کے ساتھ انہوں نے تحریک جدید کے متعلق ایک مفصل تقریر بھی لکھ کر دی ہے۔ اگرچہ اس تقریر کا اصل کتاب یا نفِس موضوع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ مگر اس کے پڑھنے سے تحریک جدید کی تحریک پر ایک جستہ نظر پڑ جاتی ہے اور اس تحریک کی عظمت معلوم ہو جاتی ہے۔ میں فنانشل سیکرٹری صاحب کی اس تحریر کے کچھ حصہ کو اس نیت سے کہ ممکن ہے کہ اس سے خداتعالیٰ کے بندوں میں سے کسی کی راہنمائی ہو اور اس طرح میں بھی تحریک جدید کے مقصد عظیم کی خدمت میں شریک ہو سکوں۔ باوجود کاغذ کی گرانی اور کتاب کے حجم کے بڑھ جانے کے زائد صفات لگا کر شائع کر رہا ہوں کہ شاید میری یہ ادنیٰ خدمت بارہ گاہِ الٰہی میں قبول ہو۔
    رَبَّناَتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
    خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریک جدید کے
    جہاد میں شاندار اور قابلِ تعریف قربانیاں!
    اسماء گرامی
    اوّل
    دوم
    سوم
    چہارم
    پنجم
    ششم
    ہفتم
    ہشتم
    نہم
    میزان
    سیّدہ اُمُّ المؤمنین مدظلہا اللہ تعالیٰ
    ۳۰۰
    ۳۰۰
    ۵۰۰
    ۳۰۰
    ۳۰۵
    ۳۵۰
    ۳۶۰
    ۳۶۲
    ۳۶۵
    ۳۱۴۲
    سیّدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
    ۷۲۰
    ۱۰۳۴
    ۱۷۴۰
    ۲۰۰۰
    ۲۰۸۸
    ۲۲۶۲
    ۲۴۳۶
    ۲۶۱۰
    ۲۷۸۴
    ۱۷۶۷۴
    حضرت اقدس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی نوسالہ رقوم کی اسم وار تفصیل حسبِ ذیل ہے
    حضرت اقدس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز از خود
    ۳۰۰
    ۳۰۱
    ۵۰۰
    ۵۷۵
    ۶۰۰
    ۶۵۰
    ۷۰۰
    ۷۵۰
    ۸۰۰

    دس نادار احمدیوںکی طرف سے
    ۳۰۰
    ۳۰۱
    ۵۰۰
    ۵۷۵
    ۶۰۰
    ۶۵۰
    ۷۰۰
    ۷۵۰
    ۸۰۰

    از سیّدہ امۃ الحی صاحبہ مرحومہ
    ۶۰
    ۶۱
    ۷۰
    ۸۰
    ۸۴
    ۹۱
    ۹۳
    ۹۵
    ۹۷

    از سیّدہ سارہ بیگم صاحبہ مرحومہ
    ۶۰
    ۶۱
    ۷۰
    ۸۰
    ۸۴
    ۹۱
    ۹۳
    ۹۵
    ۹۷

    از حضرت نبی کریم ﷺ و حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    ۸۰
    ۳۰۱
    ۵۰۰
    ۵۷۵
    ۶۰۰
    ۶۵۰
    ۷۰۰
    ۷۵۰
    ۸۰۰

    ان روحوں کی طرف سے جو صداقت کیلئے تڑپ رہی ہیں
    ۱۰
    ۱۱
    ۱۰۰
    ۱۱۵
    ۱۲۰
    ۱۳۰
    ۱۵۰
    ۱۷۰
    ۱۹۰

    سیّدہ اُم ناصر احمد صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۰۰
    ۱۳۰
    ۱۵
    ۱۵۱
    ۱۵۲
    ۱۵۳
    ۱۵۴
    ۱۶۰
    ۱۶۱
    ۱۳۱۱
    سیّدہ اُم طاہر احمد صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۷۵
    ۸۲/ ۱۸۸
    ۸/ ۲۲۲
    ۴/ ۲۲۴
    ۲۲۵
    ۱۲/ ۲۲۵
    ۸/ ۲۲۷
    ۲۳۴
    ۲۳۵
    ۱۲/ ۱۹۵۷
    صاحبزادی امۃ الحکیم صاحبہ سلمہا اللہ
    ۵
    ۴/ ۵
    ۸ / ۵
    ۱۲/۵
    ۶
    ۴/ ۶
    ۸/۶
    ۸
    ۱۵
    ۴/ ۶۳
    صاحبزادہ طاہر احمد صاحب
    ۵
    ۴/۵
    ۸/۵
    ۱۲/ ۵
    ۶
    ۴/ ۶
    ۸/۶
    ۸
    ۱۰
    ۴/ ۵۸
    صاحبزادی امۃ الجمیل صاحبہ سلمہا اللہ
    ۵
    ۴/۵
    ۸/۵
    ۱۲/۵
    ۶
    ۴/ ۶
    ۸/ ۶
    ۸
    ۱۰
    ۴/ ۵۸
    صاحبزادی امۃ الباسط صاحبہ سلمہا اللہ
    ۵
    ۴ / ۵
    ۸/ ۵
    ۱۲/ ۵
    ۶
    ۴/ ۶
    ۸/ ۶
    ۸
    ۱۵
    ۴/ ۶۳
    صاحبزادہ میرزا خیل احمد صاحب
    ۵
    ۴ / ۵
    ۸/ ۵
    ۱۲/ ۵
    ۶
    ۴/ ۶
    ۸/ ۶
    ۸
    ۲۰
    ۴/۶۸
    صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ
    ۵
    ۸/۵
    ۶
    ۸/۶
    ۷
    ۸/ ۷
    ۸
    ۸/۸
    ۹
    ۶۳
    سیّدہ اُم وسیم احمد صاحبہ
    ۶۰
    ۹۰
    ۱۲۰
    ۸۰
    ۶۰
    ۶۱
    ۶۲
    ۶۴

    ۵۹۷
    سیّدہ مریم صدیقہ صاحبہ
    ۱۰
    ۹۰
    ۹۵
    ۵۰
    ۶۱
    ۶۳
    ۶۵
    ۶۷
    ۷۰
    ۵۷۱
    صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ
    ۵
    ۸/۵
    ۶
    ۸/۶
    ۷
    ۸/۷
    ۸
    ۸/۸
    ۱۰
    ۶۴
    صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب
    ۶۰
    ۹۰
    ۱۵۰
    ۱۶۰
    ۷۰
    ۱۰۰
    ۱۰۱
    ۱۰۲
    ۱۰۳
    ۹۳۶
    سیّدہ منصورہ بیگم صاحبہ
    ۱۰۰
    ۵۰
    ۱۲۵
    ۱۵۰
    ۱۰۰
    ۷۱
    ۸۰
    ۸۱
    ۹۰
    ۸۴۷
    صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب
    ۳۰
    ۵۰
    ۶۱
    ۷۱
    ۷۳
    ۷۵
    ۷۶
    ۷۷
    ۱۰۰
    ۶۱۳
    صاحبزادی طیبہ بیگم صاحبہ
    ۱۰
    ۱۵
    ۲۰
    ۲۵
    ۳۰
    ۴۰
    ۴۱
    ۴۲
    ۵۵
    ۲۷۸
    صاحبزادہ مرزا مجیب احمد صاحب
    ۵
    ۱ / ۵
    ۲/ ۵
    ۳/ ۵
    ۴/ ۵
    ۵/ ۵
    ۶/ ۵
    ۷/ ۵
    ۸/ ۵
    ۴/ ۴۷
    صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب
    ۳۰
    ۵۰
    ۶۱
    ۶۵
    ۶۷
    ۶۹
    ۷۱
    ۷۵
    ۸۰
    ۳۶۸
    سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ
    ۱۰
    ۱۵
    ۲۰
    ۲۵
    ۳۰
    ۳۵
    ۴۰
    ۴۵
    ۵۰
    ۲۷۰
    میاں عبدالرحیم احمد صاحب
    ۵
    ۸
    ۲۰
    ۲۱
    ۲۲
    ۲۳
    ۴۲
    ۶۱
    ۷۰
    ۲۷۲
    سیّدہ امۃ الرشید صاحبہ
    ۵
    ۲۰
    ۳۰
    ۳۱
    ۳۲
    ۳۳
    ۶۰
    ۶۱
    ۷۰
    ۳۴۲
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
    ۳۰۰
    ۴۰۰
    ۴۸۰
    ۳۱۲
    ۳۱۵
    ۳۱۸
    ۳۲۱
    ۳۲۴
    ۳۳۰
    ۳۱۰۰
    سیّدہ اُم مظفر صاحبہ سلمہا اللہ
    ۳۰
    ۵۰
    ۷۰
    ۱۰۰
    ۵۰
    ۵۱
    ۵۲
    ۵۴
    ۵۵
    ۵۱۲
    صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۳۰
    ۶۰
    ۷۵
    ۱۵۰
    ۱۶۵
    ۲۵۰
    ۲۷۵
    ۲۷۰
    ۴۰۰
    ۱۶۷۵
    سیّدہ امۃ القیوم صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۰
    ۲۰
    ۳۱
    ۵۰
    ۶۰
    ۱۲۰
    ۱۳۰
    ۱۳۵
    ۱۴۰
    ۶۹۶
    صاحبزادہ میرزا حمیداحمد صاحب سلمہ اللہ
    ۹
    ۱۰
    ۲۵
    ۲۶
    ۲۵
    ۱۵
    ۲۵
    ۳۰
    ۵۰
    ۲۱۵
    سیّدہ امۃ العزیز صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۰
    ۲۰
    ۲۵
    ۲۶
    ۳۰
    ۴۰
    ۴۵
    ۴۶
    ۵۰
    ۲۹۲
    صاحبزادہ میرزا منیر احمد صاحب سلمہ اللہ


    ۲۵
    ۲۵
    ۳۰
    ۱۵
    ۱۷
    ۲۱
    ۱۲۱
    ۲۵۴
    سیّدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۰
    ۱۵
    ۲۰
    ۲۵
    ۳۰
    ۴۰
    ۴۵
    ۵۰
    ۶۱
    ۲۹۶
    صاحبزادہ میززا مبشر احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۵
    ۶
    ۷
    ۸
    ۹
    ۱۴
    ۱۵
    ۱۶
    ۱۷
    ۹۷
    صاحبزادہ میرزا مجید احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۵
    ۶
    ۷
    ۸
    ۹
    ۱۲
    ۸/ ۱۲
    ۱۵
    ۲۴
    ۸/ ۹۸
    حضرت میرزا شریف احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۱۰۰
    ۱۵۰
    ۱۵۰
    ۱۰۰
    ۱۰۱
    ۱۰۲
    ۱۰۳
    ۱۵۰
    ۲۵۰
    ۱۲۰۶
    حضرت صاحبہ بیگم
    ۶۰
    ۹۰
    ۱۱۵
    ۲۰۰
    ۱۵۰
    ۱۰۰
    ۱۰۱
    ۱۰۵
    ۱۰۷
    ۱۰۶۸
    صاحبزادہ میرزا منصور احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۵
    ۱۵۰
    ۲۰۰
    ۲۱۰
    ۲۱۱
    ۳۵
    ۴۵
    ۵۰
    ۱۲۰
    ۱۰۲۶
    صاحبزادی سیّدہ ناصرہ بیگم صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۰۰
    ۱۵۰
    ۲۰۰
    ۲۱۰
    ۲۱۰
    ۵۰
    ۵۵
    ۶۰
    ۱۵۰
    ۱۱۵۸
    صاحبزادہ میرزا داؤد احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۵
    ۳۰
    ۳۱
    ۳۲
    ۳۳
    ۳۴
    ۴۰
    ۵۰
    ۲۰۰
    ۴۵۵
    بیگم صاحبہ………
    ۱۰
    ۱۵
    ۲۰
    ۲۵
    ۲۵
    ۴۰
    ۴۵
    ۵۰
    ۱۰۰
    ۳۳۰
    حضرت نواب خان محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ
    ۳۰۰
    ۵۰۰
    ۷۰۰
    ۵۰۰
    ۵۵۰
    ۲۰۰
    ۲۰۱
    ۱۰۰
    ۱۰۰
    ۳۱۵۱
    حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سلمہااللہ
    ۳۰۰
    ۵۰۰
    ۶۲۵
    ۷۱۰
    ۷۲۵
    ۷۴۰
    ۷۵۵
    ۷۷۰
    ۸۰۰
    ۵۹۲۵
    میاں محمد احمد خان صاحب سلمہ اللہ
    ۳۰
    ۳۱
    ۵۰
    ۵۵
    ۵۶
    ۳۰
    ۳۱
    ۷۰
    ۱۰۰
    ۴۵۳
    بیگم صاحبہ میاں محمد احمد صاحب
    ۱۰
    ۱۵
    ۲۰
    ۲۵
    ۳۰
    ۳۰
    ۳۱
    ۵۰
    ۸۰
    ۲۹۱
    حامد احمد خان صاحب پسر
    ۵
    ۶
    ۷
    ۱۰
    ۱۱
    ۱۰
    ۱۲
    ۲۵
    ۴۵
    ۱۳۱
    صاحبزادی راشدہ بیگم صاحبہ
    ۵
    ۵
    ۵
    ۵
    ۵
    ۵
    ۶
    ۱۵
    ۳۵
    ۸۶
    میاں مسعود احمد خان صاحب
    ۳۰
    ۳۱
    ۳۱
    ۴۰
    ۴۵
    ۵۰
    ۵۵
    ۵۸
    ۶۰
    ۴۰۰
    بیگم صاحبہ میاں مسعود احمد خان صاحب
    ۱۰
    ۱۵
    ۲۰
    ۲۵
    ۳۰
    ۳۵
    ۴۰
    ۴۱
    ۴۵
    ۲۶۱
    حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب سلمہ اللہ
    ۵۰۰
    ۶۵۰
    ۷۵۰
    ۵۵۰
    ۶۰۰
    ۶۰۱
    ۶۲۶
    ۶۳۱
    ۱۱۰۰
    ۶۰۰۸
    حضرت سیّدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سلمہا اللہ
    ۲۰۰
    ۳۵۰
    ۴۵۰
    ۳۰۰
    ۳۵۰
    ۳۵۱
    ۳۷۶
    ۳۰۱
    ۴۰۰
    ۳۰۷۸
    صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ سلمہا اللہ
    ۵
    ۶
    ۷
    ۸
    ۹
    ۱۰
    ۱۲
    ۲۰
    ۲۵
    ۱۰۲
    میاں عباس احمد خان صاحب سلمہ اللہ
    ۱۰۰
    ۵۰
    ۶۵
    ۷۰
    ۷۵
    ۷۶
    ۷۷
    ۷۸
    ۸۰
    ۶۷۱
    میرزا عزیز احمد صاحب بمعہ اہل و عیال و اہلیہ مرحومہ سعید احمد صاحب مرحوم و مبارک احمد صاحب مرحوم
    ۳۱۰
    ۴۶۵
    ۶۰۰
    ۳۱۰
    ۳۰۵
    ۴۰۸
    ۴۱۵
    ۴۲۰
    ۵۷۵
    ۳۸۰۸
    میرزا رشید احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۳۰۰
    ۶۰۰
    ۹۰۰
    ۴۰۰
    ۴۲۵
    ۴۵۰
    ۴۵۵
    ۵۰۰
    ۵۲۵
    ۴۵۵۵
    سیّدہ امۃ السلام صاحبہ سلمہا اللہ
    ۱۰۰
    ۱۵۰
    ۲۰۰
    ۲۰۱
    ۲۰۵
    ۲۰۶
    ۲۰۶
    ۲۰۷
    ۲۰۸
    ۱۶۸۳
    بیوہ مرحومہ میرزا فضل احمد صاحب مرحوم
    ۵
    ۱/۵
    ۲/۵
    ۳/۵
    ۴/۵
    ۵/۵
    ۶/۵
    ۷/۵
    ۵/۸
    ۱/۵۰
    میرزا سعید احمد صاحب مرحوم ابن میرزا عزیز احمد صاحب سلمہ اللہ
    ۳۰
    ۶۰
    فوت ہو گئے۔ انا اللّٰہ و انا الیہ راجعون۔مرحوم اپنے والد کے ساتھ شامل ہیں۔
    ۹۰
    مبارک احمد صاحب مرحوم ابن میرزاعزیزاحمد صاحب سلمہ اللہ
    اپنے والد صاحب میرزا عزیز احمد صاحب سلمہ اللہ کے ساتھ شامل ہیں
    ۱۳
    ۱۵
    فوت ہو گئے
    ۲۸
    سیّدہ امۃ الودود صاحبہ مرحومہ دختر حضرت میرزا شریف احمد صاحب
    ۵
    ۶
    ۷
    ۸
    ۹
    ۱۵
    فوت ہو گئیں۔ انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون
    ۵۰
    کل میزان
    ۴۲/۷۲۹۶۳
    تیار کنندہ: طالب دعا عبدالرحیم عفا اللہ عنہ عاد ل گڑھی محلہ دارالبرکات قادیان۔
    خاکسار برکت علی خان۔ فنانشل سیکرٹری تحریک جدید جماعت احمدیہ قادیان دارالامان
    تحریک جدید کے دس سالہ جہاد میں خاندان حضرت مسیح موعود ؑ کی شاندار اور قابلِ تعریف قربانیاں
    حمد و ثناء اسی کو جو ذات جاودانی
    ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی
    تمام قسم کی تعریفیں اس ذات پاک کیلئے ثابت ہیں جو تمام جہانوں کے پالنے والا ہے۔ بے انت درود و سلام ہو اس نبیوں کے سردار پر جو اس کے دوستوں میں سے سب سے برگزیدہ اور سب سے زیادہ پیارا ہے اور اس کی تمام مخلوق اور ہر ایک پیدائش سے پسندیدہ اور خاتم الانبیاء اور فخراولیاء ہے۔ وہ ہمارا سیّد ہمارا امام ہمارا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو زمین کے باشندوں کے دل خوش کرنے کے لئے خدائے وحدہٗ لاشریک کا آفتاب ہے۔
    بے شمار اور ان گنت سلام اور درود نازل ہوں خدائے پاک کے اس برگزیدہ بندے پر جسے اس نے اس زمانہ کیلئے مسیح موعود ؑ اور مہدی معہود ؑ کر کے بھیجا۔ سلام اور درود ہوں اس کی آل و اصحاب پر اور اس کے نیک بندوں پر سلام ہوں۔ سلام ودرود ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اصحاب و صدیقین پر جو اپنے امام پاک۔ امام کی ہدایات پر عمل کرتے اور خدا کی راہ میں قربانیاں کرتے ہوئے اپنے مولا کو خوش کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
    الٰہی تو اپنے رحم سے احمدیہ جماعت کو توفیق بخش کہ وہ اپنے امام سیّدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے ماتحت تیری راہ میں وہ شاندار قربانیاں کرے جس سے ان تمام کو تیری رضا حاصل ہو جائے۔ تو جماعت کی تمام کمزوریوں، سُستیوں اور غفلتوں سے درگذر فرما کہ تیرا نام ستاروغفّار ہے۔ تو اپنے بندے محمود جو تیرے نام اور تیرے اسلام کا جھنڈا ہر ایک ملک ہر ایک جگہ اور ہر مقام پر گاڑنے کے لئے رات دن کو شاں ہے اپنے فضل و رحم سے کامیاب فرمااور اسے وہ صحت کاملہ عطا فرما جس سے رہتی دنیا تک اس کا فیض جاری رہے۔
    اس کے بعد واضح ہو کہ تمام دنیا کو یہ بات معلوم ہے کہ آج سے نو سال قبل اسلام اور احمدیت کا دشمن اپنے سارے لاؤ لشکر سمیت اسلام اور احمدیت پر حملہ آور ہوا ۔ احمدیت کے اولوالعزم جرنیل، پہلوانِ جلیل نے جو خدا کا ’’موعود خلیفہ‘‘ ہے اس دشمن کو شکست دینے کے لئے میدانِ عمل میں آیا اور اس نے احمدیت کے ہر ایک سپاہی سے یہ چاہا کہ وہ مقابلہ کے لئے آوے۔ چنانچہ آپ نے احمدیت کے ہر ایک سپاہی سے انیس مطالبات کئے۔ ان انیس مطالبات کا نام ’’تحریک جدید‘‘رکھا گیا۔
    ان مطالبات میں سے پہلا مطالبہ یہ تھا اور ہے کہ ہر ایک احمدی عورت ہو یا مرد سادہ زندگی بسر کرے۔
    دین کی خاطر خاص قربانیاں کرنے کیلئے ماحول پیدا کرنے کی ضرورت۔ مخلصین جماعت احمدیہ سے جانی اور مالی قربانیوں کے مطالبات
    ’’میں کہتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب کہ اس کے لئے مال پیدا نہ کیا جائے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ ہمارا مال سلسلہ کا ہے۔ مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرایہ پر کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے پاس کچھ نہیں بچتا تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے۔ اس قسم کی قربانی نہ قربانی کرنے والے کو کچھ نفع دے سکتی ہے اور نہ سلسلہ کو ہی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سلسلہ ان کے الفاظ کو کہ میرا سب مال حاضر ہے کیا کرے۔ جبکہ سارے مال کے معنے صفر کے ہیں۔ جس شخص کی آمد سو روپیہ اور خرچ بھی سو روپیہ ہے وہ اس قربانی سے سلسلہ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ جب تک کہ پہلے خرچ کو نوے پر نہیں لاتا۔ تب بیشک اس کی قربانی کے معنی دس فیصدی قربانی کے ہوں گے۔ پس ضروری ہے کہ قربانی کرنے سے پیشتر اس کے ماحول کو پیدا کیا جائے۔
    ’’اصل بات یہ ہے کہ قربانی کرنا مشکل نہیں ایمان لانا مشکل ہے۔ جس کے دل میں ایمان پیدا ہو جائے اس کے لئے کوئی بھی قربانی مشکل نہیں ہوتی اور میں امید کرتا ہوں کہ جن مردوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ عورتوں کی اور جن بچوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ اپنے ماں باپ کی مدد کریں گے اور آئندہ قربانیوں کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘
    پس جماعت سے قربانی کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ کھانے میں سادگی پیدا کی جائے یعنی ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے۔
    تحریک جدید امانت فنڈ اور احرار کی خطرناک شکست
    ’’دوسرا مطالبہ یہ کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک ایسی جماعت نکلے جو اپنی آمد کا ۵/۱ سے ۳/۱ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تحریک جدید میں جمع کرائے۔ اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں وہ سب رقم اس حصہ میں سے لوٹا لیں۔ باقی رقم اس تحریک کی امانت میں جمع کرا دیں۔ بہرحال یہ قربانی مالی لحاظ سے بھی مفید ہو گی۔ انشاء اللہ‘‘
    اس میں فائدہ یہ ہے کہ احتیاط اور کفایت کے ساتھ دوست خرچ کریں گے اور بچت کر سکیں گے۔ تین سال کے بعد تمام کی تمام رقم بصورت نقدی یا بصورت جائیداد انہیں واپس مل جائے گی۔ یہ چیز چندہ تحریک جدید سے کم اہمیت نہیں رکھتی اور پھر اس میں یہ سہولت ہے کہ اس طرح تم پس انداز کر سکو گے۔ اگر کوئی شخص اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ اس کے پاس جائیداد ہے۔ اتنی ہی قربانی کی روح اس کے اندر موجود ہے تو اس کا جائیداد پیدا کرنا بھی دین کی خدمت ہے۔ اس کا دنیا کمانے میں وقت لگانا بھی نماز سے کم نہیں۔
    امانت فنڈ تحریک جدید کے ذریعہ احرار کو خطرناک شکست ہوئی ہے۔ اتنی بڑی شکست کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی شکست میں کم از کم ۲۵ فیصدی حصہ امانت فنڈ تحریک جدید کا ہے۔ باوجود اس قدر فوائد ہونے کے دوستوں کا تمام روپیہ محفوظ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے دوست اپنے نفسوں پر زور ڈال کر امانت فنڈ تحریک جدید میں روپیہ جمع کراتے رہیں اور اس دوران میں جس کو ضرورت ہو وہ روپیہ لیتا رہے تو خدا کے فضل سے قادیان اور اس کے گردو نواح میں ہماری جماعت کی مخالفت ۹۵ فیصدی کم ہو جائے۔
    تحریک جدید کا امانت فنڈ الہامی تحریک ہے!
    غرض یہ تحریک ایسی اہم ہے کہ میں تو جب بھی تحریک جدید کے مطالبات کے متعلق غور کرتا ہوں۔ ان سب میں سے امانت فنڈ تحریک جدید کو دیکھ کر خود حیران ہو جایا کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ امانت فنڈ تحریک جدید کی تحریک الہامی ہے کیونکہ بغیر کسی قسم کے بوجھ اور غیر معمولی چندہ کے اس فنڈ سے ایسے ایسے کام ہوئے ہیں جو جاننے والے جانتے ہیں وہ ان کی عقل کو حیرت میں ڈال دینے والے ہیں۔ اب جو نیا فتنہ اٹھا تھا اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو درحقیقت اس میں بہت حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا تھا۔ پس جو دوست اس میں شامل نہیں ہوئے وہ اس وقت شامل ہو جائیں۔
    پس اب اس امانت فنڈ کے بارے میںحضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ جب چاہے واپس لے لے۔ لہذا جو دوست اب تک ایسے اہم امانت فنڈ میں شامل نہیںہوئے وہ اب شامل ہو جائیں۔
    سال اوّل میں چندہ تحریک جدید کی قربانیوں کا مطالبہ
    امانت فنڈ تحریک جدید کے مطالبہ کے بعد تیسرا مطالبہ ’دشمن کے گندے لٹریچر کا جواب‘۔ چوتھا ’تبلیغ بیرون ہند‘۔ پانچواں ’تبلیغ خاص‘ اور چھٹا مطالبہ ’سروے سکیم‘ بطور چندہ کے تھا۔ پہلے سال میں ان چاروں مدّات کے لئے حضور ایدہ اللہ نے مخلصین جماعت سے ساڑھے ستائیس ہزار کا مطالبہ فرمایا۔ مگر خدا کے فضل اور اس کی ہی دی ہوئی توفیق سے احمدیہ جماعت نے اپنے امام کے حضور وہ شاندار او رقابل تعریف نمونہ پیش کیا جو ایک مخلص مومن کا فرض ہے اور ان مومنوں کے اس نمونہ کی مثال سوائے رسول کریم ﷺ کے صحابہؓ کے اور کہیںنہیں ملتی۔ چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک لاکھ دس ہزار روپیہ نقد قدموں میں لاڈھیر کیا۔ جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اصل مطالبہ سے چار گنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں مدات مذکورہ بالا کی تقسیم نہیں رہ سکی اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے منظوری عطا فرما دی تھی کہ بجائے مدات کے اس کا نام چندہ تحریک جدید رکھا جائے۔ احباب کو یاد رہے کہ :
    ’’یہ غفلت کا زمانہ نہیں ہے۔ یہ خیال مت کرو کہ آج نہیں تو کل ثواب کا موقعہ مل جائے گا۔ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہ مسیح موعود ؑ کے زمانے کے متعلق ہی ہے۔ پس ڈرو اس دن سے کہ جب تم کہو کہ ہم جان و مال دینا چاہتے ہیں۔ مگر جواب ملے گا کہ اب قبول نہیں کیا جا سکتاہے۔‘‘
    پس احباب کوتحریک جدید کے جہاد میں جلد سے جلد اپنے آپ کو شامل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشے۔
    تحریک جدید سال دوم کا مطالبہ
    حقیقی قربانی کا ثبوت
    ’’میں جماعت کو بتا چکا ہوں کہ ابتلاؤں کا ایک لمبا سلسلہ ان کے سامنے ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ان کے سامنے ہے۔ جسے خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہی ختم کرے گا۔ گذشتہ قوموں سے زیادہ قربانیوں کی اُمید ان سے کی جاتی ہے۔ چونکہ ان کے سپرد دنیا کی جنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پس یاد رکھو کہ جو اس وقت کی حقیر قربانی نہیں کر سکتا کہ یہ جو مطالبات میں کر رہاہوں آئندہ کے مقابلہ پر بالکل حقیر ہیں۔ اسے اس سے بڑی قربانیوں کی توفیق نہیں مل سکتی جو آج چھوٹی کلاس کا سبق یاد نہیں کرتا وہ کل کے بڑے امتحان میں ضرور فیل ہو گا۔ جو آج قربانی کی مشق نہیں کرتا وہ کل ضرور میدانِ کا رزار سے بھاگے گا۔ منافق یہی کہتے ہوئے مر جائیں گے کہ ہائے چندہ،ہائے چندہ۔ مگر ان کاٹھکانا خدا کے پاس نہیں ہو گا۔ ان کی باتوں میں نہ آؤ۔ پس میں دوسرے سال کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ دوست پہلے سے زیادہ اس سال حصہ لیں گے۔ اور حقیقی قربانی کا ثبوت دیں گے تا ایمان کی قیمت میں اضافہ کا ثبوت مل سکے۔
    ’’میں اللہ تعالیٰ پر اس تحریک کی تکمیل کو چھوڑتا ہوں کہ یہ کام اسی کا ہے اور میں صرف ایک حقیر خادم ہوں۔ لفظ میرے ہیں مگر حکم اس کا ہے۔ وہ غیر محدود خزانوں والا ہے اسے میرے دل کی تڑپ کا علم ہے اور اس کام کی اہمیت کو جو ہمارے سپرد ہے وہ ہم سے بہتر سمجھتا ہے۔ پس میں اُسی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے سینوں کو کھولے اور ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرے تا وہ ایک مخلص اور باوفا عاشق کی طرح اس کے دین کی خدمت کیلئے آگے بڑھیںاور دیوانہ وار اپنی بڑی اور چھوٹی قربانی کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالیں اور اپنے ایمان کا ایک کھلا ثبوت دے کر دشمن کو شرمندہ کریں اور اس کی ہنسی کو رونے سے بدل دیں اور نہ صرف یہ قربانی کریں بلکہ دوسرے مطالبات جو جانی اور وقتی قربانیوں سے تعلق رکھتے ہیںان میں دل کھول کر حصہ لیں۔ اللھم آمین یا رب العلمین۔‘‘
    ہر جگہ قول اثر نہیں کرتا بلکہ اکثر جگہ نمونہ کا بہت اثر ہوتا ہے
    مندرجہ بالا تحریک جدید کے نو سالہ جہاد کا نہایت مختصر خلاصہ سیّدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں دیا گیا ہے۔ اس غرض سے کہ سیّدہ حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی سیرت پاک کے پڑھنے والے کو تحریک جدید کی اہمیت اور ضرورت اور اس کے اعلیٰ شیریں ثمرات کا علم ہو جائے۔ اگر وہ اب تک اس جہاد میں شامل نہیں ہوا اور اب اسے اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے تو وہ بھی سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پانچ ہزاری فوج میں شامل ہو کر رضا ء الٰہی حاصل کر سکے۔
    مکرمی مخدومی شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم نے سکندر آباد سے ایک خط لکھا کہ میں اس سیرۃ میں سیّدہ حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی مالی قربانیوں کا نقشہ دینا چاہتا ہوں۔ اس لئے آپ سیّدہ حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی تحریک جدید کی مالی قربانیوں کا نقشہ بنا دیں اور ساتھ ہی اس کے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہر ایک ممبر کا نقشہ بھی بنا دیا جائے تا خاندان کے ہر ایک فرد کی تحریک جدید کے جہاد میں مالی قربانیوں کاحصہ شائع کیا جاسکے۔
    میں نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قربانیوں کا نقشہ تیار کرنے سے پہلے ضروری سمجھا کہ اس کی سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اجازت حاصل کروں۔ چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور جب یہ معاملہ پیش کیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ:
    ’’بے شک دے دیں‘‘۔
    سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت کے بعد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تحریک جدید کے نو سالہ جہاد کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک ذیل کے ارشاد کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
    ’’انجیل میں کہا گیا ہے کہ تم اپنے نیک کاموں کو لوگوں کے سامنے دکھلانے کیلئے نہ کرو۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ تم ایسا مت کرو کہ اپنے سارے کام لوگوں سے چھپاؤ بلکہ تم حسب مصلحت بعض اپنے نیک اعمال پوشیدہ طور پر بجا لاؤ۔ جبکہ تم دیکھو کہ پوشیدہ کرنا تمہارے نفس کیلئے بہتر ہے اور بعض اعمال دکھلا کر بھی کرو جبکہ تم دیکھو کہ دکھلانے میں عام لوگوں کی بھلائی ہے۔ تا تمہیں دو بدلے ملیں اور تا کمزور لوگ جو کہ ایک نیکی کے کام پر جرأت نہیں کر سکتے وہ بھی تمہاری پیروی سے اس نیک کام کو کر لیں۔ غرض خدا نے جو اپنے کلام میں فرمایا۔ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً- یعنی پوشیدہ بھی خیرات کرو اور دکھلا دکھلا کر بھی ان احکام کی حکمت اس نے خود فرما دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف قول سے لوگوں کو سمجھاؤ بلکہ فعل سے بھی تحریک کرو کیونکہ ہر ایک جگہ قول اثر نہیں کرتا۔ بلکہ اکثر جگہ نمونہ کا بہت اثر ہوتا ہے۔‘‘
    خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قربانیوںکی فہرست اسی غرض سے شائع ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے خاندان کے ہر ایک ممبر کی قربانی ایسی شاندار اور قابلِ تعریف ہے کہ وہ خود بخود ہر ایک احمدی کو اپیل کرتی ہے کہ وہ بھی اسی طرح اشاعت اسلام اور اشاعت احمدیت کے لئے قربانیاں کرے۔ تااللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو۔ فہرست کے پڑھنے سے آپ پر واضح ہو گیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاندان کے اکثر ممبروں کا چندہ ہر سال پہلے سال سے اضافہ کے ساتھ ہے اور خاندان کی طرف سے نوسالہ قربانی میں بہتّر ہزار چھ سو ستاون روپیہ ادا ہوا ہے۔ علاوہ ان چندوں کے جو معمولی چندے حصہ آمد یا عام چندہ یا صدقات و خیرات میں دیئے جاتے ہیں۔ صرف خاندان کی تحریک جدید کی رقم ہی باقی جماعت کے چندہ کا ۱۶/۱ حصہ ہے۔ فَجَزَاھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْجَزَائَ فِی الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ-
    پس احمدیہ جماعت کے ہر فرد کو اسی جذبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتے ہوئے ثواب حاصل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَااَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ-
    خاکسار
    برکت علی خان
    فنانشل سیکرٹری تحریک جدید جماعت احمدیہ قادیان دارالامان۱۵ نومبر ۱۹۴۳؁ء
    سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین کی پہلی جلد کی تکمیل اور داستانِ تصنیف
    گذشتہ سال کے سالانہ جلسہ کے بعد تین کتابوںکی تصنیف و اشاعت کا میں نے اعلان کیا تھا ۔ جن میں سے پہلی تصنیف سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین تھی۔ کتاب کے اعلان کے بعد میں سخت بیمار ہو گیا۔ میری زندگی ایسے لمحات میں سے گذرنے لگی جو نہ صرف مرض کی وجہ سے شدید تھے بلکہ اپنی شدت تکلیف کی وجہ سے بھی بڑے خطرناک تھے۔ صحت کو ایسا دھکا لگا کہ مبصرین صحت کے نزدیک ایک لمبے عرصہ تک مجھے ہر قسم کے کاروبار سے الگ ہو کر محض سیروسیاحت اور تبدیلی آب و ہوا میں لگ جانا چاہئے تھا۔ چنانچہ میں قادیان سے سکندر آباد دکن چلا گیا۔ کچھ دن والد صاحب قبلہ کے ظلِ عاطفت میں اور کچھ دن وارنگل میں برادر عزیز شیخ دائود احمد عرفانی کے پاس اور کچھ دن عزیز مکرم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی کے پاس بمبئی میں گزارے۔ اس تبدیلی مکانی سے میری صحت پر اچھا اثر پڑا اور میری صحت پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو گئی۔
    اس حالت میں پھر قلب میں وہ وارفتگی پیدا ہوئی اور دماغی جنون نے قلم ہاتھ میں پکڑنے کے لئے پکارنا شروع کیا۔ لکھنا پڑھنا بذاتِ خود ایک مرض ہے جن کو یہ مینیا ہو جاتا ہے وہ کسی حالت میں بھی کتاب اور کاغذ سے الگ نہیں ہو سکتے۔
    میری اپنی یہ حالت ہے کہ میں شدید سے شدید بیماری میں بھی اخبارکو ہاتھ میں لینے اس کی سطروں پر نظر ڈالنے سے تسکین پایا کرتا ہوں۔ کتابوں پر صرف ہاتھ پھیر لینے سے بھی ایک قسم کی تسلی ہو جاتی ہے۔ جن لوگوں کا یہ جنون اور بھی بڑھ جاتا ہے وہ تو سکرات ِ موت میں بھی ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ ایک مشہور اخبار نویس کا لکھا ہے کہ مرنے سے پہلے وہ حالت بے ہوشی میں بار بار کہتا تھا:
    اس ٹکڑے کو محفوظ کر لو۔ یہ بہت کار آمد ہے۔ اور اپنے گریبان کو انگلیوں سے کاٹ کر کہتا کہ یہ لوکٹنگ سنبھال کر رکھو یہ کام کا جنون ہے۔
    مجھے سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین لکھنے کے لئے ایساہی جنون تھا۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے میرے دماغ پر یہ دُھن سوار تھی۔ چنانچہ میں نے اپنی صحت اور طاقت کا اندازہ کئے بغیر اپنے آپ کو میدانِ عمل میں پھینک دیا۔
    سیرت اُمُّ المؤمنین کا مواد
    سیرت اُمُّ المؤمنین کا مواد میری نگاہ میں بہت کم تھا۔ اس لئے مجھے تلاش و جستجو میں بہت کچھ سرگردان ہونا پڑا۔ میں نے بلا مبالغہ ہزارہا صفحے اس غرض و غایت کے ماتحت پڑھ ڈالے۔ کئی نوٹ اور یادداشتیں لکھیں۔ چند دن کی محنت نے مجھے بتلا دیا کہ جسم اس قدر محنت کو برداشت نہیں کر رہا۔ ریت کی دیوار کھسِکتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مگر اب کتاب کا اعلان ہو چکا تھا۔ جماعت کی طرف سے اس کا ویلکم ہو رہا تھا۔ میں نے جو مانگا وہ مجھے مل رہا تھا۔ اب میں نے دونوں حالتوں کا پورا پورا موازنہ کیا۔ ایک طرف اپنی صحت اور دوسری طرف اس ذمہ واری کا جسے میں نے اپنے اوپر لے لیا تھا اور میں نے پورے غوروفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ میں اس کام کو جاری رکھوں گا اور ہر قیمت پر جاری رکھوں گا۔ خواہ مجھے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے پہنچاتے اپنی زندگی کا کھیل ختم کر دینا پڑے۔ مجھے اس ذمہ واری کو نبھانا ہو گا اور ہر قیمت پر نبھانا ہو گا۔ چنانچہ میں ایک تندرست آدمی سے بھی زیادہ مشقت کا بار اٹھاتارہا اور دن اور رات کام کرتا چلا گیا۔
    اس محنت نے مجھے بخار میں مبتلا کر دیا اور کھانسی کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ بعض راتیں تو میں نے کھانستے کھانستے ختم کر دیں۔ مگر میں نے کئی کئی دن اپنے بخار کا کسی سے ذکر نہ کیا کہ مبادا یہ میرے عزیز مجھے کام کرنے سے روک دیں۔ چنانچہ جب ان کو پتہ لگا تو انہوں نے میرے کام کو روکنے کی ہر ممکن صورت اختیار کی مگر میں نے کسی بات پر بھی توجہ نہ کی۔ انہوں نے ڈاکٹر کو بُلانا چاہا میں نے اس کو بھی پسند نہ کیا۔ کیونکہ ڈاکٹر کے آنے کے یہی معنی تھے کہ کام بند۔ جسے میں کسی قیمت پر بند کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ بالآخر مرض نے مجھ پر اس قدر غلبہ کر لیا کہ ایک دن جبکہ میں لکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرا دماغ کچھ سوچ رہا ہے اور میرا قلم کچھ لکھ رہا ہے۔ ہردفعہ مجھے اپنے لکھے ہوئے فقرے کاٹنے پڑتے تھے۔ اس طرح چند صفحات خراب ہو گئے۔
    تب مجھے مایوسی ہوئی۔ یہ میری زندگی کا بالکل پہلا واقعہ تھا۔ میں لکھ کر کاٹنے کا عادی نہیں دماغ ہر فقرے کو مکمل اور درست طور پر وضع کرتا ہے اور پھر اس پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن آج کی کیفیت نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا۔ میں نے سمجھا کہ ا ب میرے اعصاب میرا ساتھ چھوڑ رہے ہیں اور دماغ اور دوسرے پٹھوں کا تعاون نہیں رہا۔ تب میں نے ان لکھے ہوئے صفحات کو پھاڑ کر پھینک دیا اور میںایک تھکے ہوئے اور بہت تھکے ہوئے بیمار کی طرح چار پائی پر لیٹ گیا۔
    کتاب حیدر آباد میں چھپ رہی تھی مضمون میرے دماغ میں تھا وقت بہت تنگ تھا ان حالا ت نے میرے اندر ایک مایوسی کی لہر پیدا کی اور میں مایوس ہو کر بستر علالت پر لیٹ گیا۔ چند یوم کام چھوڑنا پڑا۔ ڈاکٹر کا مشورہ تو مجھے معلوم ہی تھا۔ ذرا آرام ملنے پر باوجود سخت کمزوری اور نقاہت کے اس کتاب کے کام کو مکمل کرنے کی توفیق پا لی اور وہ کتاب جسے میں چار سو صفحے پر ختم کرنا چاہتا تھا ۴۶۴ صفحات تک بڑھ گئی۔
    یہ جو کچھ ہوا میری طاقت اور ہمت سے بالکل بڑھ کر ہوا۔ میرے وہم و گمان سے بالکل باہر ہوا۔ میرے جیسا بیمار ایسے کام کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ سب کام اپنے فضل سے ایسے رنگ میں کرا دیئے کہ میں خود محوِحیرت ہوں۔
    میرا پہلا مطالبہ پانچ ہزار کتاب شائع کرنے کا تھا۔ کاغذ کی مشکلات کی وجہ سے میں خود اس مطالبہ پر قائم نہ رہ سکا اور میں خود اس سے نیچے اُتر کر تین ہزار پر آ گیا۔ میرے دل میں یہ شوق تھا کہ کتاب زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کے ہاتھوں میں جائے اور یہ کتاب چھپنے سے قبل بِک جائے تا ہماری محبت کا ایک مظاہرہ ہو سکے۔
    میں نے اپنی طرف سے یہ ہی قربانی نہیں کی کہ کتاب کے لکھنے کا ایسے وقت عزم کیا جبکہ میری صحت اس کی اجازت نہ دیتی تھی بلکہ یہ بھی قربانی تھی کہ میں نے اس کی قیمت اتنی کم رکھی جو آج اس زمانہ میں کوئی رکھ نہیں سکتا۔ سوائے چند کاپیوں کے ساری کی ساری کتاب دو روپے فی جلد کے حساب سے دے دی۔ میں اپنی اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے تحریکات کرنے، اعلانات کرنے، خطوط لکھنے، روپیہ جمع کرنے کا کام بھی خود ہی کر رہا تھا۔ خدا تعالیٰ کا شُکر ہے کہ قوم نے میری آواز کو سنا اور اپنی محبت اور شوق اور عشق کا ٹھیک ویسا ہی مظاہرہ کیا جس کی مجھے خواہش تھی۔
    تین ہزار کتاب ریزرو ہو گئی۔ بیشتر حصہ کی قیمت نقد وصول ہو گئی۔ مجھ سے بہت سے بزرگ احباب اور خواتین نے کتاب کے کم از کم چار ہزار چھاپنے کا مطالبہ کیا۔ مگر افسوس! کہ میں ان کی اس خواہش کو پورا نہ کر سکا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ کتاب کے خریدار اور خواہشمند آج بھی اس کے خریدنے کے لئے بے قرار ہیں۔ مگر کتاب مل نہیں رہی۔ یہی وہ نظارہ تھا جس کے دیکھنے کے لئے میری آنکھیں بے قرار تھیں۔
    کتاب کا دوسرا حصہ
    جب میں نے سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین کے کام کو شروع کیا اس وقت میرا خیال تھا کہ اگر میں تین سو صفحے کی کتاب بھی لکھ دوں گا تو یہ میرا ایک بڑا کارنامہ ہو جائے گا۔ مگر جب میں لکھنے بیٹھا تو اس قدر مواد سامنے آیا کہ ۴۶۴ صفحے لکھ کر بھی کتاب مکمل نہ ہوئی۔ اگر سو صفحے میں بھی باقی مضمون آ جاتا تو میں ایک ہی حصہ میں اس کتاب کو ختم کر دیتا مگر جو مواد سامنے ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ چار سو صفحے سے کم میں ختم نہ ہو گا۔ اس لئے میں مجبور ہوا کہ اس کتاب کو جلد اوّل بنا کر جلد ہی دوسری جلد شائع کرنے کا اہتمام کروں۔
    میری طبیعت کی کمزوری
    میری طبیعت کی ایک یہ کمزوری ہے کہ میں بعض قسم کے اعتراضوں سے ڈرتا ہوں۔ چنانچہ مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں ایسے لوگ نہ پیدا ہوں جو یہ اعتراض کر دیں کہ محض روپیہ کمانے کی خاطر شاید دوسرا حصہ بنانے کی تجویز کی ہے۔ سو میں ایسے احباب کی خدمت میں عرض کروں گا کہ میری اس محنت کو وہ کسی مبصر کے سامنے پیش کر کے دریافت کر لیں کہ میں نے اس کتاب میں کس قدر کما لیا ہو گا۔ ہر شخص یہی کہے گا کہ ایسی کتاب کی قیمت دو روپے بہت کم ہے۔ پس جب میں نے پہلے حصے میںحصولِ زر کو مقدم نہیں کیا تو دوسرا حصہ شائع کرنے کے خیال میں بھی کسبِ زر کا خیال جاگزیں نہیں۔
    میری غرض ان حقائق کو پبلک میں لانا ہے جو اس زمانہ کی خدیجہ کی ذات سے وابستہ ہیں اور جماعت جن حقائق سے ناواقفِ محض ہے اور چونکہ جماعت ان حقائق سے واقف نہیں اس لئے ان برکات سے بھی پورے طور پر حصہ نہیں لے سکتی۔ ان واقعات کے اظہار کے بعد اگر کسی کے دل میں ایسا خیال باقی رہے تو میں اسے اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دیکر کہوں گا کہ وہ اس کتاب کے دوسرے حصے کی خرید میںحصہ نہ لے۔
    دوسرا حصہ کب شائع ہو گا
    میں اب حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ سیرت اُمُّ المؤمنین کا دوسرا حصہ کب شائع ہو گا۔ مگر سال کے اندر کسی وقت بھی شائع ہو سکے گا۔ اس کتاب کی آئندہ مستقل قیمت تین روپے ہو گی۔ پہلے حصہ کی بھی اور دوسرے کی بھی۔ میں چاہتا ہوں کہ اگلا حصہ پورا پانچ ہزار شائع ہو اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پانچ ہزار خریداروں کا مہیا ہو جانا بہت آسان ہے۔ جن احباب اور خواتین کو اس کتاب کے پڑھنے میں کوئی لذت محسوس ہو اور وہ اسے اپنے ایمان میں اضافہ کا باعث خیال کریں وہ اپنی خریداری کو اگلی کتاب کیلئے ابھی سے رجسٹر کرا دیں اور قیمت بھی بطور پیشگی حضرت سیٹھ صاحب کے پاس جمع کرا دیں۔ تاکہ جس وقت کتاب تیار ہو جائے اسی وقت سال کے کسی بھی حصہ میں پریس میں دے دی جائے۔
    اس کتاب کی اشاعت میں حصہ
    جن احباب نے اس کتاب کی اشاعت میںحصہ لیا ہے میں ان کا از حد شکر گزار ہوں اور ان معاونین کرام کا جنہوں نے ۵ نسخوں سے لیکر ۳۰۰ نسخوں تک خرید کر میرا ہاتھ بٹایا اور سیرت کے عالم وجود میں لانے کا باعث ہوئے۔ میں ان کے اسماء گرامی بطور ایک تاریخی واقعہ کے اس کتاب میں شائع کرتا ہوں۔ جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔ اور احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان سب احباب کیلئے دعا کریں جو اس کتاب کی خرید میں شریک ہوئے۔ حتیّٰ کہ جن کے اسماء میں شائع نہیں کر سکا ان کیلئے بھی دعا کریں اور میں نہایت ادب سے سیّدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور حضرت سیّدۃ النساء اُمُّ المؤمنین سیّدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی خدمت میں اِن تمام مشترکین کرام کیلئے درخواست دعا کرتا ہوں۔
    خاکسار
    محمود احمد عرفانی
    مصنّف سیرۃ حضرت اُمُّ المؤمنین
    ۳ دسمبر ۱۹۴۳؁ء مطابق ۵ ذی الحجہ ۱۳۶۲؁ھ

    اسم مشترک
    تعداد جلد
    اسم مشترک
    تعداد جلد
    حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مع خاندان
    ۳۰۰
    جناب مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر قادیان
    ۵۰
    حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب
    مع بیگم صاحبہ
    ۱۰۰
    جناب مولوی محمد اسماعیل صاحب وکیل
    یادگیر دکن

    جناب ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ
    ۱۰۰
    جناب میرزا برکت علی صاحب آباد ان بمعہ فیملی
    ۴۰
    آ لِ عرفانی
    ۱۶۵
    جماعت احمدیہ لنڈن بذریعہ مولانا شمس صاحب
    ۴۰
    جناب حکیم عبداللطیف صاحب شہید قادیان
    ۱۰۰
    آنریبل سر محمد ظفراللہ خان صاحب
    ۳۳
    جناب میاں غلام محمد صاحب اختر کنٹرولر آف ریلوئے سپلائی لاہور
    ۶۱
    مولوی بشیر الدین خان صاحب مڈرانجھا
    حضرت نواب سیّدہ مبارکہ بیگم صاحبہ
    ۳۰
    ۲۵
    جناب میرزا ارشد بیگ صاحب آف پٹی
    ۵۱
    صاحبزادہ میرزا ظفر احمد صاحب
    ۲۵
    حضرت میرزا شریف احمد صاحب
    ۵۰
    جناب مہتہ عبدالقادر صاحب (قادیانی) کلکتہ
    ۲۵
    جناب میرزا رشید احمد صاحب رئیس قادیان
    ۵۰
    مکرم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی
    ۲۱
    جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآباد دکن
    ۵۰
    جناب نواب اکبر یار جنگ بہادر حیدرآباد دکن
    ۲۵
    جناب سیٹھ پیارا لال صاحب صراف قادیان
    ۵۰
    عزیز نسیم احمد خان بمبئی
    ۲۱
    حضرت عرفانی کبیر صاحب
    ۵۰
    چوہدری غلام احمد صاحب آوان بمبئی
    ۲۰
    عزیز مکرم محمود علی حسین ابن حضرت بابو فیروز علی صاحب مرحوم
    ۵۰
    جناب شیخ مظفرالدین صاحب امپریل الیکٹرک سٹور پشاور
    ۲۰
    محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحب و استانیاںنصرت گرلز ہائی سکول
    ۵۰
    جناب احمد اللہ خان صاحب کوئٹہ
    ۳۰
    جناب سیّد بشارت احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ حیدرآباد دکن
    ۵۰
    جناب صوفی غلام محمد صاحب بی ایس سی کی معرفت بورڈران تحریک جدید
    ۲۰
    حضرت میر محمد اسماعیل صاحب
    ۱۶
    جناب شیخ عبدالرحمن صاحب ہیڈ کلرک نوشہرہ
    ۲۰
    جناب بابو عبدالرحمن صاحب امیر جماعت انبالہ
    ۱۶
    جناب چوہدری مشتاق احمد صاحب بی اے ایل ایل بی۔ باجوہ قادیان
    ۱۰
    جناب جمعدار شیر محمد خان صاحب ۱۵/۸ پنجاب رجمنٹ لنڈی کوتل
    ۱۵
    جناب سردار مصباح الدین صاحب قادیان
    ۱۰
    جناب جمعدار محمد اشرف خان صاحب ۱۵/ ۸ پنجاب رجمنٹ لنڈی کوتل
    ۱۵
    صاحبزادہ میرزا منیر احمد صاحب دہلی
    ۱۰
    جناب سیّد ارتضیٰ علی صاحب گورنمنٹ کنٹریکٹر دہلی
    ۱۵
    حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے
    ۱۰
    طالبات مدرسہ دینیات قادیان
    ۱۵
    حضرت میر محمد اسحق صاحب قادیان
    ۱۰
    لجنہ اماء اللہ محلہ دارالرحمت قادیان
    ۱۴
    جناب حافظ بشیر احمد صاحب قادیان
    ۱۰
    جناب مطیع اللہ صاحب قریشی قادیان
    ۱۲
    جناب مرزا فتح محمد صاحب عراق
    ۱۰
    جناب عبدالغفار صاحب کانپور
    ۱۲
    جناب شیخ فضل الرحمن صاحب اختر ملتان
    ۱۰
    واقفین تحریک جدید بذریعہ مولانا انور صاحب
    ۱۱
    جناب میرزا اجمل بیگ صاحب قادیان
    ۱۰
    حوالدار محمد عبداللہ خان صاحب ۱۵/ ۷ ۔انبالہ چھاؤنی
    ۱۰
    محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ بنت سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آباد دکن
    ۱۵
    جمعدار کواٹر ماسٹر عبداللہ خان انبالہ چھاؤنی
    ۱۰
    جناب ملک بشیر احمد صاحب کنجاہی ٹھیکیدار (دکن)
    ۱۰
    جناب میاں عباس احمد خان صاحب قادیان
    ۱۰
    محترمہ مجیدہ بیگم صاحبہ گلبرگ
    ۱۰
    جناب میرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ گورداسپور
    ۱۰
    جناب خلیفہ ناصر الدین صدیقی صاحب تحصیلدار چونیاں
    ۱۰
    عزیز مکرم مہتہ عبدالرزاق صاحب قادیان
    ۱۰
    لائبریری تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان
    ۱۰
    جناب ڈاکٹر محمد احمد صاحب
    ۱۰
    محترمہ سیّدہ فضیلت بیگم صاحبہ سیالکوٹ
    ۱۰
    جماعت احمدیہ محبوب نگر دکن
    ۱۰
    صاحبزادہ میرزا حمید احمد صاحب قادیان
    ۱۰
    جناب قاضی عبدالرشید صاحب ہیڈکلرک سکندر آباد (دکن)
    ۱۰
    حضرت مفتی محمد صادق صاحب قادیان
    ۴
    جناب پیر نیاز احمد صاحب نصراللہ
    ۱۰
    جناب میاں محمد یوسف صاحب سپرنٹنڈنٹ لاہور
    ۵
    ملک عمر علی صاحب رئیس ملتان قادیان
    ۶
    محترمہ اہلیہ صاحبہ چوہدری احمد جان صاحب
    ۵
    جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی اور ان کی صاحبزادی امۃ السلام بیگم صاحبہ
    ۶
    جناب منشی فضل الدین صاحب مدرس بنگہ
    ۵
    مولوی عبدالواحد صاحب مبلغ کشمیر
    ۵
    جناب حاجی اسماعیل صاحب ریٹائرڈ قادیان
    ۵
    جناب چوہدری ابوالہاشم صاحب ایم۔اے
    ۵
    جناب مولوی ارجمند خان صاحب قادیان
    ۵
    جناب سیّد عبدالحی صاحب (منصوری)
    ۵
    شیخ نیاز احمد صاحب ریٹائرڈ انسپکڑ پولیس قادیان
    ۵
    جناب صاحبزادہ مجید احمد صاحب قادیان
    ۵
    جناب محمد عمر بشیر احمد صاحب
    ۵
    جناب سیّد حیدر علی صاحب حیدرآباد
    ۵
    جناب سردار احمد خان صاحب
    ۵
    حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی
    ۵
    جناب نذیر احمد خان صاحب بنگلور
    ۵
    حضرت منشی عبدالعزیز صاحب قادیان
    ۵
    محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب کنٹرولر سپلائی دہلی
    ۵
    جناب ڈاکٹر عبدالمجید خان صاحب قلات
    ۵
    محترمہ احمدہ بیگم صاحبہ
    ۵
    جماعت احمدیہ جبل پور معرفت محمد عثمان صاحب بھیروی
    ۵
    جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب
    بیرسٹرایٹ لا لاہور
    ۵
    جناب چوہدری غلام حسین صاحب اوورسیر جنرل سروس کمپنی قادیان
    ۵
    نورالدین خوشنویس کاتب سیرت حضرت اُمُّالمؤمنین کاتب الحکم و ریویو اُردو قادیان
    ۵
    اشاعت سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین میں خاندان عرفانی کا حصہ
    تحدیث بالنّعمت کے طور پر میں افراد خاندان عرفانی کے اشتراک کی فہرست بھی تفصیلی طور پر دینی چاہتا ہوں۔
    اسم مشترک
    تعداد جلد
    اسم مشترک
    تعداد جلد
    حضرت عرفانی کبیر صاحب
    ۵۰
    والدہ صاحبہ شیخ محمود احمد عرفانی
    ۱۰
    اہلیہ صاحبہ شیخ محمود احمد عرفانی
    ۱۰
    شیخ محمد ابراہیم علی صاحب عرفانی
    ۱۰
    اہلیہ صاحبہ شیخ محمد ابراہیم علی صاحب عرفانی
    ۵
    شیخ یوسف علی صاحب عرفانی
    ۲۱
    اہلیہ صاحبہ شیخ یوسف علی صاحب عرفانی
    ۵
    شیخ داؤد احمد صاحب عرفانی بمعہ بچگان عزیزہ سلطان فیروز بخت عرفانی‘ عزیزہ سلیمہ سلطانہ‘ عزیزہ سعیدہ درشاہوار
    ۱۵
    اہلیہ صاحبہ شیخ داؤد احمدصاحب عرفانی
    ۱۰
    اہلیہ صاحبہ شیخ عبدالرب صاحب عرفانی
    ۵
    عزیز محمد سلیمان صاحب عرفانی
    ۵
    اہلیہ صاحبہ محمد سلیمان صاحب عرفانی
    ۵
    عزیز محمد عثمان عرفانی صاحب
    ۵
    عزیز مبارک یحیٰ عرفانی صاب
    ۲
    عزیزہ جمیلہ خاتون،عزیزہ نسیمہ خاتون، عزیزہ زکیہ خاتون، عزیزہ طاہرہ خاتون، عزیز رفیق احمد مظفر عرفانی اولاد شیخ محمود احمد عرفانی ہر ایک کی طرف سے ایک ایک۔
    ۵
    عزیزہ صدیقہ ناصرہ بنت شیخ محمد یوسف صاحب عرفانی
    ۱
    عزیزہ صداقت خاتون بنت بابو فیروز علی صاحب مرحوم
    ۱
    میزان
    ۱۶۵
    اس میں اگر عزیز مکرم محمود علی حسین اور عزیز مکرم حوالدار محمد عبداللہ صاحبان جو دونوں میرے نسبتی بھائی ہیں کی تعداد شامل کر لی جائے تو ساری تعداد ۲۲۵ ہو جاتی ہے۔
    ضروری اعلان
    میرا لخت جگر عزیز محبوب احمد عرفانی مرحوم و مغفور بھی اپنے قلب میں اپنی خاندانی روایات کے مطابق خاندان کی بڑی محبت رکھتا تھا۔ وہ آج اگر زندہ ہوتا تو اس کتاب کے اشاعت پذیر ہونے پر بڑی خوشی اور مسرت محسوس کرتا مگر مشیت الٰہی اسے اپنے پاس لے گئی اور میں آج اس کی عدم موجودگی کی کمی کو محسوس کر رہا ہوں۔ اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اس کی روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے دس کتابیں مدرسہ احمدیہ کے نادار اور نیک لڑکوں کو مفت اس شرط پر دوں گا کہ وہ عزیز محبوب احمد عرفانی کے لئے دعا کیا کریں گے۔ (محمود احمد عرفانی)
    جذباتِ امتنان!
    ۱۔ سب سے اوّل تو اللہ کی بے حد حمدوشکر ہے کہ جس نے باوجود شدید حالاتِ مرض کے مجھے توفیق دی کہ میں اس کتاب کو ایک حد تک پایہ تکمیل کو پہنچا سکوں۔ پھر اس نے اپنے فضل سے اس کی قبولیت کیلئے احباب کے قلوب میں تحریک کی اور اس کی قبولیت اس کی اشاعت سے قبل ہی قائم کر دی۔ پس سب شکر و حمد اسی کو ہے۔ الحمد للّٰہ اوّلاً واٰخرًا وظاھراًوباطنًا ولہ الحمد-
    ۲۔ پھر میں خاندان کے افراد کا شکر گذار ہوں جن میں سے اکثر افراد نے میری ہر رنگ میں حوصلہ افزائی فرمائی۔ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جن کو میں نے ان کی علالت طبع کے پیش نظر کسی قسم کی تکلیف دینی پسند نہ کی تھی۔ ان کے متعلق مجھے متعدد مرتبہ معلوم ہوا کہ ان کی ذات گرامی کی عنایات ہر وقت میرے شامل حال رہیں۔ حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ اوّلؓ کو بمبئی سے بعض روایات کے متعلق لکھا وہ اس وقت ڈلہوزی میں تھیں انہوں نے حضرت سے میری خواہش کا ذکر کیا۔ حضور نے ان سے میری سفارش فرمائی کہ وہ ضرور اپنی روایات مجھے لکھ دیں یا لکھوا دیں۔فنانشل سیکرٹری صاحب تحریک جدید سے جب میں نے نوسالہ حسابات مانگے اور انہوں نے حضرت سے اجازت چاہی تو حضور نے بخوشی اجازت مرحمت فرما دی۔ اسی طرح کتاب کے نام کے متعلق بھی آپ نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی معرفت بعض اہم ہدایات مرحمت فرمائیں۔ ان سب امور سے حضور کی عنایت و شفقت کا بآسانی پتہ چل سکتا ہے۔
    آپ کے بعد حضرت میرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میرزا شریف احمد صاحب، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، نواب محمد عبداللہ خان صاحب، حضرت میر محمد اسحق صاحب، جناب میرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے، جناب میرزا رشید احمد صاحب، صاحبزادہ میرزا ظفر احمد صاحب ان سب کی طرف سے میری ہر رنگ میںحوصلہ افزائی ہوئی۔ جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔
    ۳۔ ان بزرگوں کے ذکر کے بعد میں سب سے زیادہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے باوجود اپنی علالت طبع کے پوری توجہ سے کتاب کو ملاحظہ فرمایا۔ ضروری ضروری غلطیوں کی اصلاح فرمائی۔ ہر قسم کے مشورے اور علمی امورمیں میری راہنمائی فرمائی۔ میں حضرت میر صاحب قبلہ کی ا س قیمتی اعانت کے بغیر ہرگز اس کتاب کے شائع کرنے کے قابل نہ تھا۔
    ۴۔ حضرت میر صاحب کے بعد حضرت عرفانی کبیر قبلہ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اس کتاب کیلئے ہر قسم کی دوڑ دھوپ اور اس کی طباعت کا سارا بار اپنے اوپر لے لیا۔ روزانہ ڈاک میں قیمتی مشورے،اَن تھک دعائیں اور ہر قسم کی حوصلہ افزائی ان کا معمول رہا۔ یہ چیز میرے لئے بڑی بابرکت اور مفید ثابت ہوئی۔
    ۵۔ ان کے سواء حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی مجھے ہر قسم کی مدد حاصل رہی۔ مہاشہ فضل حسین صاحب نے خاندان کے تاریخی حالات کے متعلق بعض مفید کتابوں کی طرف راہنمائی کی جن کے ذریعے مجھے اچھی مدد ملی۔ جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے دعاؤںکے ذریعہ میری بڑی مدد فرمائی۔ شیخ محمود احمد صاحب ٹی سنڈیکیٹ حیدرآباد دکن نے روایات کے حصول اور خریداروں کے مہیا کرنے میں بہت سرگرم امداد مجھے بہم پہنچائی۔ اس کے علاوہ مولوی ظہور حسین صاحب مولوی فاضل، خواجہ خورشید احمد صاحب مجاہد ،مولوی محمد نذیر صاحب ،مولوی فاضل وغیرہ دوستوں نے حصہ رسدی میری مدد کی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو میری طرف سے خود جزائے خیر دے۔
    ۶۔ اخیر میں مَیں اسی سلسلہ میں اپنی بیوی کا بھی ذکر کروںگا جس نے میری دیکھ بھال اور غذا اور دوا وغیرہ کا نہایت محنت اور توجہ سے خیال رکھا اورا س کے سوا روزانہ بڑے اہتمام سے دعائیں جاری رکھیں۔ اس کی اس کوشش سے مجھے آرام ملا جس کی وجہ سے میں کام کرنے کے قابل ہو سکا اور دعاؤںسے بھی طاقت و قوت ملی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو میری طرف سے بہترین جزا دے۔
    اس کے سوا ہر وہ شخص جس نے ذرا بھی میری اس سلسلہ میں کوئی خدمت کی میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔ جزاہم اللہ احسن الجزاء۔ (محمود احمد عرفانی)
    اگلی تصنیفات!
    میںاللہ تعالیٰ کے فضل و رحم پر بھروسہ کر کے اعلان کرتا ہوںکہ آئندہ سالوں میں مندرجہ ذیل کتابیں شائع کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے میری صحت کو درست کر دے اور ان خدمات کی سرانجام دہی کی توفیق دے۔ آمین
    ۱۔سیرت حضرت اُمُّ المؤمنین حصہ دوم
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت کا دوسراحصہ جس میں بہت سے تاریخی واقعات، سیرت و شمائل پر سیرکن بحث، حضرت اُمُّ المؤمنین کی دینی خدمات، حضرت اُمُّ المؤمنین کے مکتوبات کے فوٹو، پیغامی اعتراضات کے جوابات، حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت پر صحابہ اور صحابیات کی روایات، حضرت اُ م المومنین کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے متعلق بیان کردہ روایات، حضرت اُمُّ المؤمنین کی تبلیغی مساعی وغیرہ وغیرہ نہایت قیمتی معلومات کم ازکم چار سو صفحات قیمت تین روپے بغیر محصول ڈاک۔
    ۲۔ تعارف
    یہ کتاب صحابہ مسیح موعود علیہ السلام کے حالات پر مبنی ہو گی۔ یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی ایک خواہش کو پورا کرنے کے لئے شائع کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ اس کتاب کی متعدد جلدیں ہوں گی۔ حتی کہ سلسلہ کے تمام بزرگ اور قابل ِذکر ہستیوں کا ذکر آ جائے۔
    ۳۔ سیرت حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی
    یہ کتاب بھی میرے بچپن کے زمانے سے میرے دماغ پر حاوی ہے۔ میں نے حضرت امیرالمومنین کی سیرت کو ایک ایسے مصلح کی سیرت میں دیکھا جو دنیا کے نہایت خطرناک دور میں دنیا کی نجات کیلئے خدا کی نہاں در نہاں مصلحتوں نے دنیا کو عطا فرمایا۔ جو نئی دنیا ،نئی زمین، نئے آسمان کی تکوین کے وقت خلیفۃ اللہ فی الارض قرار دیا گیا۔ اس کی زندگی کی ہر حرکت،ہر سکون، دنیا کی نئی تخلیق میں راہنما ثابت ہوئی۔ جس کی خلافت پر بہت شور ہوا۔ مگر ملائکہ کو فتح ہوئی۔
    شیطان سے آخری جنگ میں اس عظیم انسان نے اپنی ساری طاقت ملائکہ کی فوج ساتھ لے کر لڑائی اور فتح پائی۔
    یہ کتاب کیسی ہو گی صرف اور صرف پڑھنے سے اس کا اندازہ لگ سکے گا۔ کم از کم دوہزار صفحات کا چار جلدوں کا مجموعہ ہو گا۔ یہ کتاب مصورہو گی۔
    وَبِاللّٰہِ التَّوفِیْقُ
    طالب دعا
    محمود احمد عرفانی

    (خاکسار نور الدین خوشنویس کاتب قادیان دارالامان کو اس مبارک کتاب کے لکھنے کا شرف ملا۔ الحمدللّٰہ علی ذالک۔ ۵ دسمبر ۱۹۴۳؁ء)

    حوالہ جات
    ۱؎ تریاق القلوب صفحہ۶۴،۶۵۔ تذکرہ صفحہ۳۷
    ۲؎ تذکرہ صفحہ۳۷
    ۳؎ تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو حیاۃ النبیؐ حصہ اوّل صفہ۴۹ (ملحض)
    ۴؎ تذکرہ صفحہ۳۹
    ۵؎ الحکم جلد ۵ صفحہ نمبر۳۹۔۴۰ پرچہ ۱،۲: ۲۴ اکتوبر و ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۱ء
    ۶؎ الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ۷،۸
    ۷؎ تذکرہ صفحہ۳۶ تریاق القلوب صفحہ۳۴
    ۸؎ براہین احمدیہ صفحہ۵۵۸ تذکرہ صفحہ۳۵
    ۹؎ تریاق القلوب صفحہ۶۴۔ تذکرہ ۳۶
    ۱۰؎ شحنہ حق صفحہ۵۷،۵۸ تذکرہ صفحہ۳۶
    ۱۱؎ سورۃ یسین: ۸۳۔۸۴
    ۱۲؎ تذکرہ صفحہ ۶۵
    ۱۳؎ تذکرہ صفحہ ۱۴۲۔ ۱۴۳ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ۵۸،۶۳
    ۱۴؎ حیاتِ ناصر صفحہ ۷
    ۱۵؎ سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ۱۱۰،۱۱۱
    ۱۶؎ حیاتِ ناصر صفحہ۷،۸
    ۱۷؎ سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ۱۱۱
    ۱۸؎ حیاتِ ناصر صفحہ۸
    ۱۹؎ سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ۱۱۲
    ۲۰؎ ثاقب زیروی ۲۹۔ اکتوبر ۱۹۴۳؁ء
    ۲۱؎ سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ۳۴ روایت نمبر۴۰
    ۲۲؎ سیرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ صفحہ۳۱،۳۲
    ۲۳؎ سیرت حضرت مسیح موعود ؑمصنفہ عرفانی کبیر حصہ اوّل صفحہ۵۲،۵۳
    ۲۴؎ سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی کبیر صفحہ۳۷۶
    ۲۵؎ سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی کبیر حصہ دوم صفحہ۲۱۰
    ۲۶؎ تذکرہ صفحہ ۱۴۳: اشتہار ۲۲/ مارچ ۱۸۸۶؁ء
    ۲۷؎ تذکرہ صفحہ ۱۳۹: تبلیغ رسالت صفحہ۵۹ جلد اوّل
    ۲۸؎ تذکرہ صفحہ۱۳۹، ۱۴۰
    ۲۹؎ تذکرہ صفحہ ۱۴۰
    ۳۰؎ تذکرہ صفحہ۱۴۰
    ۳۱؎ سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ۸۷،۸۸
    ۳۲؎ سیرۃ حضرت مسیح موعود حصہ دوم صفحہ۲۱۵،۲۱۶ مصنفہ عرفانی کبیر
    ۳۳؎ تذکرہ صفحہ ۱۶۵
    ۳۴؎ تذکرہ صفحہ۱۶۵
    ۳۵؎ مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم نمبر سوم
    ۳۶؎ تبلیغ رسالت صفحہ۸۳
    ۳۷؎ حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر اوّل مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۴۷
    ۳۸؎ حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر اوّل مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۱۷۴تا۱۷۶
    ۳۹؎ حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر اوّل مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۱۷۴۔ ۱۷۵ حاشیہ
    ۴۰؎ حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر اوّل مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۷۸،۱۷۹
    ۴۱؎ تذکرہ صفحہ۱۴۱،۱۴۲
    ۴۲؎ تتمہ اشتہار دھم جولائی ۱۸۸۸ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۱۶۱،۱۶۲
    ۴۳؎ تذکرہ صفحہ۱۶۴
    ۴۴؎ سبز اشتہار صفحہ۷ حاشیہ
    ۴۵؎ سبز اشتہار صفحہ۱۷
    ۴۶؎ سبز اشتہار صفحہ۲۱ حاشیہ
    ۴۷؎ مکتوب احمد بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ۴۔دسمبر : تذکرہ صفحہ ۱۶۸
    ۴۸؎ اشتہار تکمیل تبلیغ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹؁ء۔ تذکرہ صفحہ ۱۷۱
    ۴۹؎ تذکرہ صفحہ ۱۷۱
    ۵۰؎ تذکرہ صفحہ۱۳۹،۱۴۰
    ۵۱؎ تذکرہ صفحہ ۱۴۸،۱۴۹
    ۵۲؎ سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ۵۰
    ۵۳؎ تذکرہ صفحہ۱۴۳
    ۵۴؎ تذکرہ صفحہ۳۷
    ۵۵؎ تذکرہ صفحہ۲۱۱
    ۵۶؎ اشتہار ۲۰/ اپریل ۱۸۹۲؁ء
    ۵۷؎ تذکرہ صفحہ۶۶۲
    ۵۸؎ تذکرہ صفحہ۳۱۸
    ۵۹؎ انوار الاسلام صفحہ ۳۲ حاشیہ ۔ تذکرہ صفحہ ۲۵۶
    ۶۰؎
    ۶۱؎ تذکرہ صفحہ ۲۶۱
    ۶۲؎ تذکرہ صفحہ ۶۳۹
    ۶۳؎ تذکرہ صفحہ ۶۳۹
    ۶۴؎ تذکرہ صفحہ ۶۶۷
    ۶۵؎ حقیقۃ الوحی صفحہ۲۱۷
    ۶۶؎ تذکرہ صفحہ ۳۲۵
    ۶۷؎ الحکم جلد۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ۳ و تذکرہ صفحہ ۳۸۸
    ۶۸؎ تذکرہ صفحہ ۷۰۰
    ۶۹؎ تذکرہ صفحہ ۶۵۱
    ۷۰؎ تذکرہ صفحہ ۶۴۸
    ۷۱؎ سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ۲۳۴ مصنفہ صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب
    ۷۲؎ تذکرہ صفحہ۴۷۵
















    حصہ دوم










    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

    عرض حال
    سیرۃ اُمُّ المؤمنین کے دوسرے حصہ کی اشاعت کا اعلان میں فطرتی جذبات کے اُمڈتے ہوئے سیلاب میں کر رہا ہوں اس کے مصنف شیخ محمود احمد عرفانی رحمۃ اللہ علیہ نے جن حالات میں اس کتاب کی تالیف شروع کی وہ احباب سے مخفی نہیں۔ سالہا سال کے ایک مریض نے اپنی ساری طاقتوں کو اس کی تکمیل میں لگا دیا۔ بیماری کے شدید حملے ایک طرف اور باوجود طبی مشوروں کے اس کی محنت ایک طرف آخر اسی معرکہ قلم میں وہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔
    کتاب کی تالیف کی داستان وہ خود حصہ اوّل میں لکھ چکا ہے دوسرا حصہ اس کے نوٹوں اور یادداشتوں کو لے کر مرتب کر دیا گیا ہے جہاں میرا نوٹ ہے وہاں امتیاز کیلئے (عرفانی کبیر) لکھ دیا ہے۔ میں نے اس کتاب کے لئے تشہیر کی ضرورت نہیں سمجھی۔ مرحوم کی خواہش کی تکمیل ہی میرے لئے خوشی کا موجب ہے کہ اس سے اس کی روح کو سُرور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے اور جس مقصد کے لئے اسے لکھا گیا ہے وہ پورا ہو۔ آمین
    میں نے خود بھی اسے بیماری کی حالت میں مکمل کیا جس کی وجہ سے طباعت میں غلطیاں ممکن ہیں جس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
    میری بیماری کی وجہ سے فوٹو نہیں دیئے جا سکے۔
    خاکسار
    یعقوب علی عرفانی کبیر
    ۲۵/جولائی ۱۹۴۵؁ء










    حضرت امَّاں جان سلمہا اللہ الرّحمن










    ھــــــــــوالنّـــــــاصـــــــــــــــــر
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ

    ابتدائی کلمہ
    سیرۃ اُمُّ المؤمنین (متعناللّٰہ بطول حیاتہا) مرحوم محمود احمد عرفانی نور اللہ مرقدہٗ نے بستر علالت نہیں بستر مرگ میں لکھی اور اس نے مجھے لکھا کہ ابا جی میں نے اس کتاب کی تالیف کے لئے جان کی بازی لگا دی ہے آخر وہ کتاب لکھ گیا اور جان قربان کر گیا جو تبویب اس کے زیر نظر تھی وہ اس کو بھی بوجہ غلبہ مرض پورے طور پر ملحوظ نہ رکھ سکا۔ بہرحال اس نے بہت قابل قدر کام کیا مجھے یقین ہے خدا تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا۔ کتاب کی پہلی جلد میں حضرت اماں جان کا مضمون تاثرات صحابہ اور صحابیات کے سلسلہ میں آنا چاہئے تھا لیکن چونکہ وہ شروع ہو چکا ہے اس لئے دوسری جلد کا آغاز اسی کی تکمیل سے کیا جاتا ہے تا کہ سلسلہ قائم رہے احباب جلد اوّل میں اس مضمون کا ابتدائی حصہ صفحہ……… سے …… تک پڑھ لیں اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے میں مرحوم کے مرتب کردہ نوٹس کی بناء پر اس جلد کی تکمیل کرتا ہوں۔ اللّٰہ الموفق والمستعان-
    عرفانی کبیر یکم اکتوبر ۱۹۴۴ء؁








    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    حضرت امَّاں جان
    از محترمہ امۃ اللہ بشیرہ بیگم صدر لجنہ اماء اللہ حیدر آباد دکن اہلیہ مولوی سیّد بشارت احمد صاحب
    امیر جماعت حیدر آباد دکن
    دامان نگہ تنگ و گلِ حسن تو بِسیار
    گلچیں بہار تو ز داماں گلہ دارد
    ایک مدت سے مجھے خیال تھاکہ حضرتہ اُمُّ المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کے شمائل پر میں اپنے دیرینہ ذاتی مشاہدات میں سے لکھوں مگر یہ دیکھ کر کہ سلسلہ کے سارے زبردست اہل قلم کبھی بھی آپ کی سیرت پر کوئی خامہ فرسائی نہیں کرتے ہیں اور میں نے یہ خیال کر لیا کہ غالباً حضرتہ علیا اماں جان کی ناپسندیدگی کے مدنظر کوئی نہیں لکھتا ہوگا اس لئے میں بھی اپنی جگہ دم گھونٹ کر خاموش ہو رہی مگر اب جب کہ ہمارے قابل قدر بھائی مولوی محمود احمد صاحب عرفانی (اللہ تعالیٰ آپ کی صحت و عمر میں برکت دیوے) نے اس مبارک کام کیلئے اخباری دنیا میں غلغلہ مچا دیا تو میں بھی اپنے دیرینہ شوق کے مدنظر چند واقعات سپرد قلم کرتے ہوئے ڈر رہی ہوں کہ کہیں میرے اس مقالہ کو ناظرین و ناظرات حضرت عالیہ کا ایک مکمل خاکہ زندگی ہی تصور نہ فرما لیں اس لئے میں نے ایک فارسی شعر زیب عنوان لکھا ہے۔جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ میری ممدوحہ کی سیرت و حسن اخلاق کے تذکرے بہت کثیر ہیںمیں ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ مجھے خود اپنی تنگ نظری صاف طور پر محسوس ہوتی ہے البتہ ممدوحہ کے شمائل میں سے کچھ وہ بھی اپنے ذوق و نقطۂ نگاہ سے پیش کرنا چاہتی ہوں۔ یوں تو عاجزہ کو اب تک قادیان شریف میں ۸۔۱۰ مرتبہ سے زیادہ مرتبہ حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی لیکن غالباً دو مواقع ایسے آئے کہ خاندان سمیت کافی طویل عرصہ تک مجھے قادیان جنت نشان میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ایک تو ۱۹۲۰؁ء میں جب کہ حیدر آباد میں میری خوشدامن سردار بیگم صاحبہ مرحومہ کے اصرار پر سیّد صاحب میرے شوہر نے (سیّد بشارت احمد صاحب) ہم تماموں کو لے کر تقریباً ۴ ماہ قادیان شریف میں حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا کے قدموں میں گزارے تھے۔ پھر دوبارہ ۱۹۳۵؁ء ۱۹۳۶؁ء میں تقریباً ایک سال میں نے معہ اپنے جملہ متعلقین کے قادیان شریف میں گزارا ان ہر دو موقعوں پر عاجزہ کو قریب سے حضرت اُمُّ المؤمنین سلمہا اور خاندانِ نبوت کی تمام محترم و قابلِ عزت ہستیوں کو دیکھنے کی عزت حاصل رہی۔ میں بوجہ ایسے خاندان سے قریبی ربط رکھنے کے جو کہ مرشدی گھرانہ کہلاتا ہے اس امر سے زیادہ واقف اور باخبر تھی کہ عموماً مشایخین سجادہ نشینوں کے گھروں کی معاشرت و طرز معیشت و طریق تہذیب و تمدن و لباس کا رنگ ڈھنگ بات چیت کا طور و طریق کیسا ہوتا ہے۔ میرے والد مرحوم حضرت مولانا میر محمد سعید صاحب قادری احمدی مرحوم (خدا تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے) ایک جید مشائخ مولانا حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کشمیری مرحوم و مغفور کے واحد فرزند تھے جن کے مریدین کا حلقہ دو تین لاکھ سے کم نہ تھا اسی طرح میرے ننھیالی قریبی رشتہ کے نانا حضرت مسکین شاہ صاحب نقشبندی جو مرحوم اعلیٰ حضرت نظام دکن اور حیدر آباد ملک کے پانچ لاکھ مریدین کے مرشد تھے۔ نیز میرے سسرالی رشتہ داروں میں مولوی سیّد عمر علی شاہ صاحب مکی میاں صاحب وغیرہ جو میرے چچا خسر ہوتے تھے بڑے مرشد تھے اس لئے فطرتًا اس ماحول کو جس سے میں بہت حد تک مانوس و واقف تھی خاندان نبوت میں قیاس کرنے پر مجبور تھی مگر میرے ذاتی مشاہدات نے میری تمام قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا مجھے نہ اُمُّ المؤمنین میں اور نہ خاندان نبوت کی کسی خاتون میں یہ بات نظر آئی کہ وہ گفتگو و ملاقات میں کسی قسم کا تکَلُّف کرتی ہیں یا بناوٹ کا پہلو اختیار کرتی ہیں یا کوئی خاص قسم کا مشائخانہ یاصوفیانہ لباس زیب تن فرماتی ہیں یا دنیاوی زیب و زینت و اشیاء سے اس قدر متنفر ہیں کہ گویا رہبانیت اختیار کر رہی ہیں بلکہ حضرت اُمُّ المؤمنین اور خاندان نبوت کے اس پاکیزہ و بے ریا عمل کا اس قدر گہرا اثر ہر غائر نظر سے دیکھنے والے پر پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان پاک قلوب کے آئینہ میں ریا و بناوٹ میں خود کو ملوث دیکھتا ہے مجھے خوب یاد ہے اور میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کہ میں اپنی خوشدامن صاحبہ مرحومہ کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم محض حضرت اُمُّ المؤمنین کے فیض صحبت کی وجہ سے دیکھا وہ یہ کہ میری خوشدامن صاحبہ ایک بڑے امیر کبیر گھرانے کی خاتون تھیں جو ۲۷ سال میں ہی تین لڑکے اور ایک لڑکی کی ماں ہو کر بھرپور جوانی میں بیوہ ہوگئیں تو انہوںنے اپنی جوانی اور بیوگی کو اس قدر سادگی اور صوفیانہ رنگ میں گزارا کہ جب میری شادی ہوئی اور ان کے خاندانی طمطراق اور خدم و حشم اور امارت کے مدنظر ان کو معمولی لباس میں ملبوس دیکھا تو مجھے سخت حیرت ہوئی مگر جبکہ میری یہی خوشدامن صاحبہ مرحومہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی صحبت میں چند ماہ رہیں تو یہ دیکھا کہ کوئی روز ناغہ ہوتا تھا کہ وہ اس ضعیفی میںکنگھی چوٹی کر کے پاک و صاف لباس اور خوشبوئی وغیرہ کا استعمال کر کے حضرت اُمّ المومین کی خدمت میں روزانہ جایا کرتی ہوں اور اس کے بعد سے انتقال تک میںنے مرحومہ کو دیکھا سابقہ اس دنیا دارانہ و صوفیانہ طرزِ زندگی کو بالکل خیر باد کر کے متقیانہ رنگ میں وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّکَ فَحَدِّث کے ماتحت حسب ضرورت عمدہ لباس وغیرہ پہنا کرتیں چنانچہ حضرت اُمُّ المؤمنین پر بھی یہ امر جب کہ ظاہر ہوا تو وہ بہت مسرور ہوئیں چنانچہ جب کہ ہماری خوشدامن صاحبہ کا انتقال ہوا تو حضرت اُمُّ المؤمنین نے ان کی اولاد کے نام ایک تعزیت نامہ اپنی انتہائی کرم فرمائی سے جو تحریر فرمایا اتفاقًا وہ میرے شوہر (مولوی سیّد بشارت احمد صاحب و میرے دیور مولوی حکیم میر سعادت علی صاحب مرحوم) کے پاس موجود ہے کو تحریر فرماتی ہیں کہ:
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    از قادیان دارالامان
    ۱۵۔ دسمبر ۱۹۲۳؁ء
    عزیزانِ من سلامت رہیں!
    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے عزیز نامہ سے یہ سن کر از حد تأسف ہوا کہ آپ کی والدہ صاحبہ اور ہماری مخلص اور اخلاص مند خاتون نے داغ جدائی دیا۔ الَلَّھُمَّ اغْفِرْ مرحومہ بہت اخلاص مند احمدی خاتون تھیں۔ ان کی علالت کی حالت میں بھی دعائیں کیں مگر اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے ہر طرح آرام و راحت میں رکھنے پسندیدہ ہیں گو ہمارے لئے وہ جدا اور نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر بیٹوں کے ہاتھوں سپرد خاک ہو کر مقامِ اعلیٰ کو پہنچ گئیں۔
    خدائے ذوالجلال نیکیوں کو ضائع نہیں کرتا اور آخر جو ملا ہے وہ بچھڑے گا۔ چند روز بعد ہم بھی ان سے ملاقی ہونے والے ہیں۔ مرحومہ مغفورہ اپنے اخلاق حسنہ اور نیکی و تقویٰ کے باعث ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کے باعث اجر عظیم عنایت کرے گا اور اپنے جوار رحمت میں جگہ دے گا باقی رہا اولاد کیلئے جدائی کا صدمہ ہو جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا رکھتے ہیں وہ کبھی غمزدہ نہ ہونے چاہئے اس پیارے پر سب پیارے قربان ہیں۔
    اب دعا ہے کہ خدا وند کریم مغفورہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دیوے اور جنت کے اعلیٰ مقامات کا وارث کرے ہم کو جملہ متعلقین سے دلی ہمدردی ہے۔ والسلام
    آپ کی ہمشیرہ٭؎ اور بہوئوں سے خاص اظہار ہمدردی ہے اللہ تعالیٰ سب کو مرحومہ کی نیکیوں کا
    ٭؎ حاجی بیگم صاحبہ اور عاجزہ اور شرف النساء بیگم صاحبہ اہلیہ حکیم صاحب مرحوم
    وارث بنادے اور صبر جمیل کی توفیق عطا فرماوے۔
    والدہ مرزا محمود احمد
    خلیفۃ المسیح علیہ السلام (از قادیان)
    درحقیقت میری خوشدامن نے جب سے حضرت اُمُّ المؤمنین کو دیکھا ان کے اخلاص ایک رنگی میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ وہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی عاشق و فدائی تھیں۔ چنانچہ ایک واقعہ اسی ضمن میں درج کرتی ہوں اگرچہ حضرت ممدوحہ کا وہ مکتوب اس وقت دستیاب نہیں ہوا مگر اس کا مفہوم یاد ہے واقعہ یہ ہے کہ حضرت خوشدامن صاحبہ کے مرض الموت میں جو دس ماہ کی طویل علالت کا زمانہ تھا حیدر آباد کے ایک محترم احمدی نواب اکبر یار جنگ بہادر نے میری نند مسماۃ حاجی بیگم مرحومہ کیلئے اپنا پیغام دیا تو حضرت خوشدامن صاحبہ محض اس وجہ سے متاء مّل ہوگئیں کہ چونکہ نواب صاحب ایک تو پٹھان ہیں دوسرے غیر ملکی ہیں ممکن ہے بعد وظیفہ حسن خدمت اپنے وطن فرخ آباد کو میری لڑکی کو نہ لے جائیں۔ تب سیّد صاحب نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میں عریضہ لکھا جس پر حضرت اُمُّ المؤمنین نے خوشدامن صاحبہ کو خط تحریر فرمایا۔ اس کا مفہوم یہی تھا کہ مَیں یہ مناسب سمجھتی ہوں کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں یہ کام کر دیں تا کہ آپ کو اطمینان نصیب ہو۔ پس جونہی حضرت اُمُّ المؤمنین کا یہ مکتوب بستر علالت پر سنایا گیا بلا کسی پس و پیش کے فوراً اسی ہفتہ میں رخصتانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی مرحومہ کے اخلاص اور حضرت اُمُّ المؤمنین کے اس ارشاد پر عمل کے نتیجہ میں ایک عمدہ پھل یہ عنایت فرمایا کہ میری نند مرحومہ کو ایک اولاد نرینہ پیدا ہوئی جو کہ اس وقت بفضلہ تعالیٰ سردار محمود رشید الدین خاں طول عمرہٗ ایک ۱۹ سالہ نوجوان ہے جو علی گڑھ میں ایف، اے٭؎ کلاس کا طالب علم ہے اللہ تعالیٰ اس کو صالح مبلغ اسلام و خادم اسلام بنائے۔ آمین
    طَعام و لِباس کے متعلق
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی معاشرت بہ خلاف گدی نشینوں اور مشائخین کے ٹھیٹھ اسلامی سادگی پر مبنی ہے آپ کے ہاں جو ہر وقت مخلصین تحائف پیش کرتے ہیں اور آپ انہیں قبول فرماتی ہیں اگر تحفہ کھانے
    ٭؎ اب بی۔اے میں ہے۔ ماشاء اللہ (عرفانی کبیر)
    کی قسم سے ہے تو کھا لیتی ہیں اگر کپڑے کی قسم سے ہے تو انہیں پہن لیتی ہیں اگر زیور کی قسم ہو تو زیب تن فرماتی ہیں یہاں تک کہ اس عمر میں اگر پیش کرنے والے مخلصین رنگین و شوخ کپڑے بھی پیش کریں تو بھی آپ قبول فرما لیتی ہیں محض پیش کرنے والے مخلصین کے اخلاص و محبت کے پیش نظر وہ اپنے آپ کو ایک مجاہدہ میں ڈال لیتی ہیں تا کہ کسی کی دل شکنی نہ ہو ۔ ریا و نام و نمود سے کوسوں دور ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کبھی وہ فاخرہ لباس زیب تن فرماتی ہیں اور کبھی تھوڑی دیر بعد ہی بالکل سادہ لباس میں آ جاتی ہیں کبھی معمولی زیور پہن لیتی ہیں کبھی نہیں بھی پہنتیں اور کبھی دیکھا کہ وہ غرباء کے ہاں کھانوں کے حصے بھیج رہی ہیں اور مسکینوں اور حاجت مندوں کی حاجت روائی فرما رہی ہیں یہاں تک کہ اپنی عزیز سے عزیز چیز کو دوسروں کے فائدہ کیلئے قربان کرتی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔ اس معاشرہ پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نہ آپ کی طبیعت میں رہبانیت کا میلان ہے اور نہ ہی تکلّف، ریاکاری کی جھلک ہے جیسا کہ عام طور پر مشائخوں کے گھرانوں میں ہوتا ہے کہ محض ریا و عوام کی نکتہ چینی کے مدنظر وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے بھی مستفید نہیں ہوتیں۔
    مُلاقات
    ملاقات کے وقت بالعموم مشائخین کی جانب سے یہ عمل ہوتا ہے کہ ریاکاری کی وجہ سے منہ سے بہت سے غیر ضروری بناوٹی الفاظ نکال دیں گے کہ بیٹا تم کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور بہت دنوں کی آرزو پوری ہوئی وغیرہ یا پھر یہ ہوتا ہے کہ بے رخی و بے مُروتی سے بات کریں گے یہ دونوں طریق افراط و تفریط کے پہلو لئے ہوئے ہیں اور حضرت اُمُّ المؤمنین ملاقات کے وقت حفظ مراتب کا خیال فرماتی ہیں اور جیسا اخلاص ملنے والے میں محسوس فرماتی ہیں اسی مناسبت سے ملاطفت کے ساتھ اس سے ملاقات فرماتی ہیں نہ تو ظاہرداری کے الفاظ فرماتی ہیں اور نہ کسی سے بے مُروتی سے پیش آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا رعب عطاء فرمایا ہے کہ ملاقاتی اس کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور جائز تعظیم و ادب کرنا اس کا حق ہو جاتا ہے۔
    قوتِ احساس اور شفقت
    حضرت اُمُّ المؤمنین ایک بہت بڑے کنبہ کی سرپرست اعلیٰ ہونے کی حیثیت میں ایک بڑی مشغول زندگی گزارتی ہیں باوجود اس کے آپ بڑی ذکی الحس واقع ہوئی ہیں۔ ملاقاتی کے بشرے سے جان لیتی ہیں کہ وہ کس حالت میں ہیں کہ وہ کس حال میں ہے چنانچہ اس بارے میں مَیں ہی اپنے آپ ایک مثال ہوں۔ میری والدہ ماجدہ مرحومہ جن دنوں قادیان میں سخت علیل تھیں۔ زیست کی امید کم ہوتی جا رہی تھی۔ میں عالم بدحواسی میں حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوتی تو وہ فوراً پہچان لیتیں اور مجھے اپنے ہاں سے کھانا کھلا کر روانہ کرتیں۔
    ہَمدردِی
    میری والدہ جب علیل تھیں تو بوجہ مسافرت انہیں بان کی چارپائی پر لٹایا گیا تھا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین جب عیادت کیلئے تشریف لائیں تو دیکھا کہ چارپائی بان کی ہے اپنے گھر پہنچیں تو فوراً ایک سوت کی بنی ہوئی نفیس چارپائی روانہ فرمائی یہ ذرہ نوازی کا اعلیٰ نمونہ ہے اور ممدوحہ کی درازی عمر کے لئے بے اختیار دعائیں نکلوانے کا موجب۔
    بیکاری سے بیزاری
    حضرت اُمُّ المؤمنین عورتوں میں بیکاری کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ ان کا یہ مسلک رہا ہے کہ کبھی بیکار نہ رہیں اور نہ کسی اور کو بیکار رہنے دیں۔ چنانچہ مجھ سے بھی حضرت ممدوحہ نے کارچوبی بٹوے بہت سارے سلوائے تھے۔ غرض آدمی جو کام جانتا ہو اس کام پر اس کو لگا دینا وہ بہت ضروری خیال کرتی ہیں٭؎۔ صاحبزادی امۃ الحمید بیگم صاحبہ کی شادی کے موقعہ پر یہ روح عملاً کام کرتی ہوئی دکھائی دی صاحبزادی موصوفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی لڑکی ہیں جو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے صاحبزادے میاں محمد احمد خاں صاحب سے بیاہی گئی ہیں۔

    ٭؎ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ عورتیں بیکاری میں اکثر غیبت و بیجا شکایات میں مبتلا رہتی ہیں تو کچھ نہ کچھ کام میں لگ جانے سے بدعادت جاتی رہتی ہے۔
    دُعاء
    ایک دفعہ حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کی صاحبزادی غالباً حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی سالی صا حبہ نے حضرت اُمُّ المؤمنین سے عرض کیا کہ امتحان کی کامیابی کیلئے دعا فرما دیں آپ نے جواب دیا کہ ہمارے لئے ایک تکیہ کا غلاف تیار کر کے روانہ کرو یہ طریق تعلق کی زیادتی کیلئے بزرگانِ دین کرتے رہے ہیں آپ نے بھی ایسا ہی فرمایا۔
    تہذیب و شائستگی
    ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں آپ کی خدمت میں بیٹھی ہوئی تھی ایسا اتفاق ہوا کہ ایک خاندان نبوت کی خاتون میری طرف سے گزریں اور چلتے چلتے نادانستہ طور پر ان کی اوڑھنی مجھے لگ گئی حضرت اُمُّ المؤمنین نے اس کو دیکھ لیا اور اس معمولی فروگذاشت پر ہی کافی چشم نمائی فرمائی میں ندامت سے عرق عرق ہوئی کہ میری وجہ سے اس محترمہ خاتون کو یہ باتیں سننی پڑیں اور جب کہ یہ واقعہ قلمبند کر رہی ہوں تو بھی میری پشیمانی کی کوئی حد نہیں اس سے جہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لڑکیوں کی تربیت کا خیال حضرت کو کس درجہ ہے وہاں آپ کی تہذیب و شائستگی کے خلق اتم کا پتہ چلتا ہے ہمارے ہاں تو عام طور پر مجلسوں میں شانہ کو شانہ اور مونڈھے کو مونڈھا ٹکراتا ہے مگر کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور اس کو سادگی پر محمول کیا جاتا ہے۔
    ایفائے عہد
    میرے شوہر مولوی سیّد بشارت احمد صاحب جب مجھے قادیان میں چھوڑ کر حیدر آباد واپس ہونے لگے تو حضرت اُمُّ المؤمنین سے یہ التماس کی کہ وہ عاجزہ کو اپنی نگرانی میں رکھیں اور عرض کیا کہ سوائے آپ کی اجازت کے عاجزہ نہ کسی دعوت میں شریک ہو اور نہ کہیں مہمان جائے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے اس کو قبول فرما لیا اور بہت پسند فرمایا جتنے دنوں میں وہاں رہی میرا وہ خاص خیال فرماتیں کئی مواقع ایسے آئے کہ انہوں نے بعض جگہ دعوتوں میں شریک ہونے سے روکا اور بعض میں شرکت کی اجازت عطا فرمائی تو اکثر ایسا ہوا کہ مجھے پہلے روانہ کر دیتیں۔ تھوڑی دیر بعد دیکھتی کہ وہ خود بھی تشریف لاتیں ہیں۔ ایک دفعہ حضرت نے دریافت فرمایا کہ فلاں جگہ تم کیوں گئیں تھیںعاجزہ کے عرض کرنے پر کہ کہیں نہیں گئی تھی فرمایا کہ برقعہ تو تمہارا یا تمہارے جیسا تھا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ جس کام کو وہ اپنے ذمہ لیتیں ہیں اس کو وہ کس خوبی سے نباہنے کی عادی ہیں۔
    تاگہ کاتنا
    ایک دفعہ دیکھا کہ چرخہ لے کر تاگا کات رہی ہیں۔ میں جب حاضر ہوئی تو فرمایا کہ کیا تمہیں چرخہ کاتنا آتا ہے مَیں نے عرض کیا نہیں تو پھر آپ نے مجھے اپنے آغوش میں لے کر مجھے سکھلایا اس میں آئندہ نسلوں کو یہ سبق ہے کہ بیکار نہ رہیں اور کوئی نہ کوئی مفید کام کرتے رہیں یا ممکن ہے کہ زمانہ ایسا پلٹا کھائے کہ ہم میں سے اکثروں کو چرخہ کاتنا پڑے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ اور آپؑ کے خلفاء پر راسخ ایمان
    باوجود اس کے کہ آپ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی چہیتی بیوی اور حرم محترم ہیں لیکن اس تعلق زوجیت سے بڑھ کر حضرت اُمُّ المؤمنین اپنے تعلقِ روحانیت کو زیادہ عزیز رکھتی ہیں۔ جیسا کہ ہم وابستگانِ دامن مسیح موعود علیہ السلام جس طرح اور جن القاب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی ادب سے یاد فرماتی ہیں جب کبھی بھی وہ حضرت صاحب کا ذکر فرمائیں گیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت صاحب یا حضرت اقدس فرمائیں گیں۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کو بھی یا تو میاں صاحب کہیں گیں یا خلیفۃ المسیح فرمائیں گیں۔
    ظِل عَاطفت
    آپ بالعموم جب سیر کو تشریف لے جاتیں ہیں تو جاتے جاتے یا آتے آتے احمدی اصحاب کے گھروں میں ایک ایک دو دو منٹ کے لئے تشریف لے جاتیں ہیں اور ہر گھر کو ان کے مناسب حال ضروری ہدایات دے آتی ہیں۔ مثلاً گھروں کی صفائی، لباس کی صفائی، بچوں کی دیکھ بھال یا علاج معالجہ کے متعلق مشورہ دے دیتیں ہیں۔ اس طرح آپ جماعت کے حالات سے باخبر رہنے کی کوشش فرماتی ہیں اور حسبِ ضرورت و جائز و ضروری امداد و ہمدردی میں مصروف رہتی ہیں۔
    اِسراف سے اجتناب
    میں نے دیکھا ہے کہ آپ کی طبیعت باوجود بے انتہا سخی ہونے کے پھر بھی ذرہ سے اسراف سے اجتناب کرتی ہیں ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ کسی کپڑے کے رنگنے کے لئے نمک شریک کرنے کی ضرورت ہوئی۔ نمک منگوایا اور رنگ میں شریک کرنے کے بعد جو بچ رہا وہ ایک چٹکی ہوگا جس کو ہم یونہی پھینک دیتے ہیں مگر نہیں آپ نے اپنے دستِ مبارک سے وہ چٹکی بھر نمک نمک دانی میں ڈال کر محفوظ کر دیا اور ضائع نہ ہونے دیا۔ اس کا میرے دل پر خاص اثر ہوا۔
    جزاکم اللہ کہنا
    یہ ایک عجیب بات مشاہدہ میں آئی کہ حضرت اُمُّ المؤمنین جس کسی مخلص کو جزاکم اللہ فرما دیتیں تو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب و بامراد ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فیض کو تمام جماعت احمدیہ کے لئے عام کرے اور اس عاجزہ کو بھی اس سے خاص حصہ ملے۔ آمین
    عیدین کا اِحترام
    میرے زمانہ قیام میں عیدالضحیٰ و عید الفطر کے موقع پر میں نے دیکھا کہ حضرت اُمُّ المؤمنین ہمہ تن مصروفِ انتظام ہیں۔ خود بھی کام کر رہی ہیں اوروں سے بھی کام لے رہی ہیں۔ گھر کے ایک ایک حصہ کو التزام کے ساتھ صاف کر رہی ہیں۔ تمام اشیاء کو جھٹکوا رہی ہیں یہاں تک کہ مَیں نے دیکھا کہ مٹی کے برتنوں کو بھی لال گیرو کے رنگ سے رنگ دے رہی ہیں۔ عیدین کے مواقع پر بڑی خوشی کا اظہار فرماتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عید اسی لئے بنائی ہے کہ مومنین خوش ہوں۔
    خوشبوئوں سے محبت
    حضرت اُمُّ المؤمنین کو خوشبوئوں سے بڑی الفت و رغبت ہے دکن کی اگربتی و برمکھی شوق سے استعمال فرماتی ہیں یہ آپ کے طہارت نفس کی کافی دلیل ہے جتنے نیک و پاک بندگانِ خدا ہوتے ہیں ان سب کو بہ ابتاع سنت یہی طریق عمل اختیار کرنا پڑتا ہے۔
    مہمان نوازی
    باوجود اس کے کہ مَیں ایک طویل زمانے تک خدمت میں حاضر رہی لیکن مجھے وہ اپنا مہمان ہی خیال فرماتی رہیں اور ہر طرح کی تواضع و اکرام کا اظہار فرماتی رہیں اور جب سالانہ جلسہ کے موقعہ پر مجھے جلسہ گاہ جانا ہوتا تو آپ موٹر میں مجھے بھجوا دیتیں۔
    میرے باغ کا پھلنا پھولنا
    مَیں نے حضرت اُمُّ المؤمنین کی خدمت میں ایک مرتبہ اپنے باغ کے پپیتے٭؎ اور لال موز٭٭؎ بطورتحفہ پیش کیا تھا آپ نے قبول فرمایا اور اسی وقت تناول فرمایا اور دعا دی اور مَیں دیکھتی ہوں کہ اس کے بعد سے میرا باغ اتنا ثمر ور ہوا کہ پہلے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا تھا بالخصوص پپیتے کے درخت اب مختلف قسم کے صد ہا کی تعداد میں نصب ہوگئے ہیں۔ پہلے سے دُگنی تگنی آمدنی ہونے لگی میرا ایمان ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی دعا کی ہی برکت ہے خدائے تعالیٰ مجھے حضرت کی دعائیں لینے کے مواقع عطا فرمائے۔ آمین
    اپنے پوتے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سے محبت
    یوں تو خاندان کے بنیادی فرد ہونے کی حیثیت میں آپ ہر فردِ خاندان سے محبت و الفت سے پیش آتی ہیں لیکن صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اپنے بڑے پوتے سے خاص اُلفت ہے۔ ایک مرتبہ عاجزہ کو صاحبزادہ صاحب کا مکان لے جا کر بتلایا جو کہ حضرت نے تعمیر کروایا ہے آپ نے اس مکان کے بالائی حصہ پر بیت الدعاء بتلا کر فرمایا کہ میں نے تبرکًا حضرت مسیح موعود کے گھر کی ایک اینٹ مکان کے بالائی حصہ میں لگوا دی ہے۔ حضرت کا یہ جذبۂ عقیدت حضرت مسیح موعود کی صداقت کی ہزار دلیلوں سے بڑھ کر ایک دلیل ہے۔
    شادی و غمی کے نظارے
    میرے قادیان کے قیام کے دوران میں کئی مواقع ایسے آئے جن میں مجھے حضرت اُمُّ المؤمنین کی

    ٭؎ ارنڈ خربوزہ ٭٭؎ لال کیلا
    وساطت سے شادی و غمی کے نظارے دیکھنے نصیب ہوئے حضرت صاحبزادی امۃ الحمید بیگم صاحبہ کی شادی کی تقریب جو نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ کے صاحبزادہ سے ہوئی ساری کی ساری میرے سامنے عمل میں آئی مَیں ٭؎سچ کہتی ہوں کہ جس انتہائی سادگی و بُردباری کے ساتھ تقریب عمل میں آئی اس کا نشان کچھ تیرہ سو سال پہلے میں ہی ملتا ہے اسی طرح کئی دفعہ تعزیت کی تقریبیں آئیں یہاں بھی اسی حد تک رنج و غم جتنا کہ خدا کے احکام اجازت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں علم اور عمل میں بڑا فرق ہوتا ہے لیکن میں یہاں یہ مشاہدہ کرتی ہوں کہ علم اور عمل میں مطابقت پیدا کی جا رہی ہے۔
    خاوند کی آمد پر مُبارک باد
    اگرچہ ذاتی طور پر مجھے حیا آتی ہے کہ میں ظاہر کروں کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کے ایک خلق کا اظہار اس حیا پر غالب آ رہا ہے اس لئے عرض کرتی ہوں جس وقت حیدر آباد سے میرے شوہر قادیان شریف تشریف لائے اور حضرت اُمُّ المؤمنین کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے مبارک باد دی کہ تمہارے شوہر آگئے۔اس سے آپ کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بیویوں پر خاوندوں کی عظمت ظاہر ہو۔
    سادگی و صداقت
    جس وقت کوئی مخلص خاتون یہ عرض کرتی کہ میں آپ کی خدمت میں فلاں تحفہ بھیجنا چاہتی تو آپ قبول کرتے ہوئے سادگی سے کبھی فرما دیتی ہیں کہ فلاں وقت تک جو بھیجنا ہو بھیج دو۔
    اچھے ناموں سے یاد کرنا
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی یہ عادت شریف ہے کہ آپ اپنے ملنے والوں کو خواہ وہ چھوٹی ہیں یا بڑی عمر کی ان کے اچھے ناموں سے یاد فرماتی ہیں۔ بُرے مختصر ناموں سے نہیں یاد فرماتیں۔ مثلاً میری خوشدامن صاحبہ مرحومہ مجھے دلہن پاشاہ کے نام سے بلاتی تھیں اور حضرت اُمُّ المؤمنین نے اسے سن لیا تو خود بھی اپنی شفقت سے دلہن پاشاہ ہی فرمایا کرتی ہیں۔

    ٭؎ آپ نے خصوصیت سے اس مبارک شادی کی شرکت کے لئے کئی ماہ روک لیا تھا۔
    ماں کی اطاعت
    حضرت نانی جان مرحومہ کی زندگی کا واقعہ ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین ایک دفعہ حضرت نانی صاحبہ کے ہاں تشریف لے گئیں اور ہم سب حضرت میر ناصر نواب صاحب کو جو اُمُّ المؤمنین کے والد بزرگوار تھے۔ اُمت کے نانا جان تصور کرتے تھے ان کے مکان پر گئے۔ پس کہ ہم مہمان کی خدمت اور خاطر و تواضع کیلئے حضرت نانی جان صاحبہ نے حضرت اُمُّ المؤمنین کو ارشاد فرمایا کہ بیٹا ان مہمانوں کی تم خاطر کرو تو میں نے دیکھا کہ اس خدمت میں اُمُّ المؤمنین ایسی مصروف ہوگئیں گویا کہ آپ اس گھر کی منتظمہ ہیں۔ ایک ایک مہمان کے آگے پان سیپاری نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش فرماتی رہیں اور مہمانوں کو خوش کرتی رہیں۔ ماں کی اطاعت کا یہ جذبہ کس قدر خُلقِ عظیم ہے۔
    عبادات
    حضرت اُمُّ المؤمنین عبادت کے بروقت ادا کرنے کی سختی سے پابندی فرماتی ہیں۔ میں نے متعدد مرتبہ دیکھا کہ مغرب کی نماز کے بعد دیر تک عبادت میں مشغول رہتی ہیں یا تو کوئی نوافل آپ اس وقت پڑھتی ہیں یا بوجہ خرابی صحت جو عام طو رپر آپ کی صحت درست نہیں رہتی۔ عشاء کی نماز ملا لیتی ہیں میں جرأت نہ کر سکی دریافت کی۔
    شرعی پردہ
    حضرت اُمُّ المؤمنین شرعی پردہ کی سختی سے پابند ہیں۔ آپ کبھی بے نقاب نہیں ہوتیں۔ چہرہ کو حتی الامکان چھپاتی ہیں۔ اگر کوئی خاص نقاب وغیرہ نہ ہو تو کم از کم چہرہ کے آگے پنکھا رکھ لیتی ہیں یا کسی اور چیز کی اوٹ لے لیتی ہیں۔
    التماس دُعا
    حضرت اُمُّ المؤمنین ہم میں خدا تعالیٰ کی ایک برکت ایک زبردست انعام اور اس کا فضل ہیں جو مقام اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے وہ آپ کے پردہ کرنے کے بعد دنیا پھر کبھی نہ دیکھے گی۔ وہ نبی وقت کی حرم محترم صفاتِ الٰہی کی جلوہ گری کی محل رہی ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان اندھیری رات کی گھڑیوں کی شاہد ہیں جہاں تکلف و تصنع کام نہیں آتا۔ اس نبی کی صحبت میں جو کچھ حاصل ہوا وہ دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے۔ اے مادر مہربان تجھ پر ہزاروں صلوٰۃ السلام ہم غریبوں پر بھی نظر کرم رکھو۔ گناہ گارو کمزور ہونے کی وجہ سے ساتھ رہنے کے قابل نہیں۔ میرے اللہ اپنے فضل و کرم سے اور اپنے عاجز بندوں پر رحم کر کے اس وجود باجود کو ہمارے سروں پر دیر تک سلامت رکھیو۔ آمین


    ء……ء……ء




















    حضرت اُمُّ المؤمنین نصرت جہاں بیگم کی سیرت
    پر
    صحابہ اور صحابیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
    کے
    تاء ثرات اور روایات






    صحابہ اور صحابیات کی روایات اور تاثرات
    اس باب میں مَیں ان بزرگ صحابیات اور صحابہ کے تاثرات اور روایات بیان کروں گا جہنوں نے حضرت اُمُّ المؤمنین (متعنا اللّٰہ بطول حیاتہا) کی مادرانہ شفقت وعطوفت سے سعادت حاصل کی ہے میرے پاس روایات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اس خصوص میں ہے مگر میں ان سب کو درج کرنے سے قاصر ہوں اس لئے کہ کتاب کا حجم اس کی اجازت نہیں دیتا۔ خصوصاً ان ایام میں جبکہ کاغذ کی گرانی اور کمیابی کی عالمگیر شکایت ہے۔ اس لئے میں ان تمام محترم بزرگوں اور صحابیات سے معذرت خواہ ہوں کہ جن کی روایات کو میں درج نہ کر سکوں۔ میں یہ بھی عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض جگہ میں ایک طویل بیان کا صرف اس قدر خلاصہ دینے پر مجبور ہوں گا جو سیرت کے کسی پہلو سے متعلق ہو سکتا ہے۔ (عرفانی)
    حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب قبلہ کے تاثرات
    جیسا کہ میں جلد اوّل میں بیان کر آیا ہوں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ حضرت اُمُّ المؤمنین کے حقیقی بھائی ہیں اور حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ کی ذکور زندہ رہنے والی اولاد میں بڑے بیٹے ہیں۔
    بھائی اور بہن کی محبت یوں تو فطرتی طور پر ایک مسلّم چیز ہے مگر دنیا جانتی ہے کہ کتنے بھائی اپنی بہنوں کے حقوق کا اور کتنی بہنیں (خصوصاً جبکہ ان کو ایک مقام رفیع حاصل ہو) اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں محبت اور شفقت کے مراتب کو کبھی نظرانداز نہیں ہونے دیتیں۔ لیکن حضرت اُمُّ المؤمنین سیّدہ نصرت جہاں بیگم کی زندگی بہ حیثیت ایک بہن کے ایک نمونہ کی زندگی ہے۔
    حضرت میر ناصر نواب صاحب کی زندہ رہنے والی اولاد میں حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ اور حضرت سیّد محمد اسمٰعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب دو بھائی اور ایک بہن تھے۔ آہ! حضرت میر محمد اسحاق صاحب اس جلد کی اشاعت کے وقت واصل باللہ ہو چکے ہیں اور ان کا مختصر تذکرہ بطور ضمیمہ لکھا گیا ہے اور مؤلف سیرت عرفانی صغیر بھی اپنے مولا سے جا ملا۔
    (عرفانی کبیر)
    حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو تو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین نے ان کو اپنا دودھ بھی پلایا۔ اس لئے کہ حضرت نانی اماں رضی اللہ عنہا دودھ نہیں پلا سکتی تھیں۔ انَّا رکھی جا سکتی تھی مگر شفیق بہن بڑی بہن نے اپنے دودھ کو بھائی کیلئے قربان کر دیااور اس طرح بڑی بہن تو خدا نے ان کو بنایا ہی تھا۔ انہیں یہ شرف بھی عطا ہوء ا کہ اگرچہ وہ حضرت مسیح موعود نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زوجہ مطہرہ ہو کر اُمُّ المؤمنین روحانی طور پر تو ہیں مگر حضرت میر محمد اسحاق کے حصہ میں یہ شرف بھی آیا کہ وہ اُمُّ المؤمنین اور حضرت مسیح موعود ؑکے رضاعی بیٹے ہوں ۔
    غرض حضرت اُمُّ المؤمنین کی اس شفقت اور محبت کی جو ایک بہن کو اپنے بھائیوں سے ہونی چاہئے یہ ایک جھلک ہے۔ حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب قبلہ کے تاثرات کو ان کی اپنی زبان سے سنو۔ میں نے اس خاندان کے حالات میں ایک بات کو نمایاں کیا ہے کہ یہ لوگ حق گو اور حق پسند تھے۔
    حضرت میر ناصر نوابؓ کی صداقت پسندی اور دلیری الم نشرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ریاء اور نفاق، خوشامد و خود غرضی سے ہمیشہ انہیں محفوظ رکھا اور یہ خصوصیات ان کی اولاد میں بھی موجود ہیں۔ حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب کا بیان کسی امر کے متعلق ہو بالکل ایک حقیقت اور کھلی ہوئی صداقت ہوتا ہے جس میں غلو، خوشامد یا ظاہرداری کو کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ ایک بے ریا صادق مسلم ہیں۔
    اس لئے ان کا بیان بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ میں یہاں ایک وہم کا ازالہ کر دینا نہایت ضروری سمجھتا ہوں بعض نادان گھر والوں کے تاثرات کو یہ کہہ کر مشکوک کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ یہ ذاتی تعلق یا رشتہ کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ گھر والوں سے بہتر حالات کا واقف کون ہو سکتا ہے! حضرت نبی کریم ﷺ کی صداقت کے بے انتہا دلائل میں سے یہ دلیل سب سے زیادہ قوی اور موء ثر ہے کہ ازواج مطہرات بھی آپ پر ایمان رکھتی ہیں۔
    یہ ایک فلسفہ ہے جس کے نہ سمجھنے سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور خود مسلمانوں کے اندرونی جھگڑوں میںایسی روایات پر جرح کی گئی۔ پس حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب کے تاثرات حضرت اُمُّ المؤمنین سیّدہ نصرت جہاں بیگم کی سیرت کے اس حصہ پر جو بہن اور بھائی کے تعلقات سے وابستہ ہے ایکموء ثر حقیقت ہے۔ اب میں بغیر کسی مزید تمہید کے ان کے اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔ حضرت میر صاحب نے اپنے متعلق صرف ایک واقعہ بیان کیا ہے اور یہ ہے بھی سچ کہ وہ اپنی زندگی کے بے شمار واقعات لطف و کرم کو بیان ہی کب کر سکتے ہیں۔ حضرت میر صاحب نے اپنے بیان کے آخر میں ایک نہایت ہی قابل قدر اور آب زر سے لکھنے کے قابل بات لکھی ہے گویا اس ایک فقرہ میں دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے۔
    میری آپا
    ۱۹۰۰؁ء میں مَیں ایف۔اے کا امتحان دے کر جب قادیان آ گیا تو آتے ہی پہلے تو نتیجہ کا انتظار رہا پھر اس کے بعد یہ کہ اب تعلیم کا رخ کس طرف پھیرا جاوے۔ دو ماہ کے بعد نتیجہ نکلا تو میں فسٹ ڈویژن میں پاس تھا۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے تتبع میں سب کا مشورہ یہی تھا کہ ڈاکٹری کی تعلیم شروع کی جاوے۔ لیکن مشکل یہ آ کر پڑی کہ والد صاحب صرف دس روپے ماہوار خرچ دے سکتے تھے۔ کیونکہ ان کی پنشن کل تیس روپے ماہوار تھی۔ مزید براں تقریباً دو سَو بیس روپے سالانہ گاؤں کی آمد کا آتا تھا۔ مشورہ تو ہو گیا مگر تعلیم کا خرچ ان کی مقدرت اور حیثیت سے بہت زیادہ تھا۔ یعنی تیس روپے ماہوار عام اخراجات کیلئے اور پچاس روپے سالانہ فیس کالج کی اور قریباً سات سَو روپے کی کتابیں و آلات جو مختلف اوقات میں تعلیم کے دوران میں خریدے جاتے تھے۔ آخر ایک دن والد صاحب نے گھر میں ذکر کر دیا کہ اس تعلیم کا خرچ میری طاقت سے بڑھ کر ہے۔ میں گاؤں کاسارا روپیہ یعنی دس روپے ماہوار تو اسے دے سکتا ہوں مگر اس سے زیادہ کی طاقت نہیں رکھتا۔ خیر بات گئی آئی ہوئی مگر اکتوبر کا مہینہ نزدیک آ رہا تھا۔ جب میڈیکل کالج کا داخلہ ہوناتھا اور میرا اضطراب بڑھتا چلا جا رہا تھا کہ دیکھئے اب دفتر اگزامینر ریلوے کی کلرکی کرنی پڑتی ہے یا اور کوئی نوکری۔ کہ اتنے میں ایک دن گھر کی کسی خادمہ نے میرے ہاتھ میں ایک ملفوف خط دیا۔ افسوس وہ خط میرے پاس محفوظ نہیں رہا مگر اس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ تم اپنی ڈاکٹری تعلیم کے لئے تردّد نہ کرو۔ انشا ء اللہ جو خرچ مزید درکار ہو گا وہ میں پورا کروں گی اور یہ مت خیال کرو کہ حضرت صاحب سے لیکر دوں گی بلکہ جو میرا ذاتی خرچ ہے اسی سے دیا کروں گی بلکہ انشاء اللہ حضرت صاحب کو بھی اس کی اطلاع نہ ہو گی۔ آخر میں’’نصرت جہاں‘‘ لکھا تھا۔
    اس کے بعد جب داخلہ کا وقت قریب آیا تو میں نے حضرت والد صاحب سے کہا کہ آپا صاحبہ کا اس مضمون کا خط مجھے ملا ہے اور اب داخلہ قریب ہے آپ تیاری کریں۔ انہوں نے آپا صاحبہ سے ذکر کیا کہ فلاں تاریخ کو داخلہ ہے اور محمد اسمٰعیل لاہور ڈاکٹری میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ خیر میں لاہور گیا۔ وہاں معلوم ہوا کہ میرا نمبر سب سے اُوپر ہے اور بہ سبب فسٹ ڈویژن کے مجھے بارہ روپے ماہوار وظیفہ بھی ملے گا۔ غرض نام داخل کرا کر میں آ گیا یہاں آ کرماہوار خرچ کا یہ انتظام ہوا کہ بارہ روپے ماہوار وظیفہ سرکاری، دس روپے حضرت والد صاحب کی طرف سے اور دس روپے حضرت اُمُّ المؤمنین صاحبہ کی طرف سے۔ اس طرح ماہوار خرچ بآسانی پورا ہو گیا۔ جو ان دنوں کے مطابق کافی تھا۔ اب رہی فیس اور کتابیں ان کے لئے پہلے سال تقریباً تین سَو روپے داخل کرنا پڑے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں میں قریباً سَو روپے اور چوتھے سال پھر قریباً تین سَو پچاس روپے۔ آپا صاحبہ نے ان دس روپے ماہوار اور فیسوں اور کتابوں کے لئے تمام رقم جمع کرنے کی یہ تجویز ہوئی کہ حضرت اُمُّ المؤمنین نے ایک صندوقچی مقفل جس میں روپے ڈالنے کا سوراخ بنا ہوا تھا۔ حضرت والدہ صاحبہ کے پاس بطور امانت رکھوا دی اس صندوقچی میں قفل لگا رہتا تھا اور دوسرے تیسرے روز حضرت اُمُّ المؤمنین جو روپیہ ان کے پاس ذاتی خرچ کا ہوتا تھا اس صندوقچی میں ڈال دیا کرتی تھیں جس میں سے دس روپیہ ماہوار والد صاحب کے دس روپیوں کے ساتھ مجھے لاہور پہنچ جایا کرتے تھے تو پچاس روپے فیس کے اور چار سَو روپے نئی کتابوں کی قیمت دستی لے جایا کرتا تھا۔ ان دنوں لاہور کے اخراجات بمقابل آج کل کے کم ہوا کرتے تھے۔ میں اپنے تیس پنتیس روپے ماہوار میں سے ایک مکان کرایہ پر لے کر رہا کرتا تھا اور ایک ملازم لڑکا بھی جو باورچی کا کام کر سکتا ہو رکھا کرتا تھا اور ہم دونوں کا کھانا،سقّہ خاکروب، نائی وھوبی اور بالائی اخراجات سب اس میں پورے ہو جاتے تھے۔
    کپڑے رخصتوں کے ایام میں قادیان میں بن جایا کرتے تھے۔ ساتھ ہی خدا نے یہ فضل بھی فرمایا کہ مجھے پانچوں سال برابر سرکاری وظیفہ ملتا رہا۔ اس طرح میری میڈیکل کالج کی تعلیم اس طرح ختم ہوئی۔ جس میں بیشتر حصہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی طرف سے اور کچھ میرے وظیفہ کا اور دس روپے ماہوار حضرت والد صاحب کی طرف سے حصہ تھا۔ میرا یقین ہے کہ حضرت اُمُّ المؤمنین نے نہ صرف اپنی شفقت کو نباہا بلکہ وہ وعدہ بھی پورا کیا کہ اس بات کا علم سوائے میرے اور حضرت والدہ صاحبہ کے اور کسی کو بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی نہیں ہوا اور جو روپیہ ان کو اپنے ذاتی جیب خرچ کیلئے ملتا تھا اس میں مسلسل اتنے سال اپنے پر تنگی ترشی گوارا فرما کر انہوں نے میرے پر اتنا بڑا احسان فرمایا جس کے اظہار کا موقعہ اس سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ان کی سیرت میں اسے درج کر کے ان کا ایِتَائِ ذَوِالقُربیٰ ان کی لمبی اور مسلسل قربانی اور مجھ پر ان کی خاص شفقت اور محبت۔ کے اخلاق فاضلہ کو آئندہ نسلوں کے لئے بطور سبق کے پیش کروں۔ یہ تو صرف ایک خاص واقعہ ہے جس کا علم چونکہ عام لوگوں کو نہیں ہے اس لئے لکھ دیا ورنہ جو جواِن کے احسانات مجھ پرہیں ان کا بیان نہیں ہو سکتا۔اور سب سے بڑھ کر یہ احسان کہ ان کے تعلق کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایک ایسے عظیم الشان انسان سے ہمارا پیوند کرا دیا کہ اس کے شکر سے ہماری زبانیں بالکل قاصر ہیں۔
    (نوٹ) اس تحریر کو جو شخص بھی ٹھنڈے دل سے پڑھے گا وہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت کے متعدد پہلوؤں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    اوّل: حضرت اُمُّ المؤمنین نے یہ پسند نہ فرمایا کہ اپنے اس ایثار مُوّدۃ فِی الْقُرِبیٰ کا اعلان کریں حتیّٰ کہ خود حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب کو بھی زبانی نہیں فرمایا بلکہ لکھ کر دیا تھا کہ ان کی طبیعت پر کوئی بوجھ نہ معلوم ہو۔
    دوم: آپ اس امر کی منتظر نہیں رہیں کہ حضرت نانا جان رضی اللہ عنہ یا نانی اماں رضی اللہ عنہا یا خود میر محمد اسمٰعیل صاحب اپنی تعلیم کی آئندہ مشکلات یا ضروریات کا ذکر کریں بلکہ حضرت اُمُّ المؤمنین نے خود ایک ضرورت کا احساس فرما کر بغیر کسی قسم کی خارجی تحریک کے اپنا فرض ادا کیا۔
    سوم: اس نیکی کے اخفا کی اس قدر کوشش فرمائی کہ اگر حضرت میر اسمٰعیل صاحب اس واقعہ کا اظہار نہ فرماتے تو دنیا اس سے بے خبر رہتی۔
    یہ حضرت اُمُّ المؤمنین کے مخلص فی الدین اور آپ کے ایثاروقربانی کا نظارہ ہے حضرت اُمُّ المؤمنین ان ایام میں جوان تھیںاور بالطبع مستورات کو اپنے لباس اور ذاتی ضروریات کا خصوصاً خیال رہتا ہے مگر حضرت اُمُّ المؤمنین نے اپنی ذاتی ضروریات کو بھائی کی تعلیم کے لئے قربان کر دیا۔
    چہارم: حضرت اُمُّ المؤمنین کی اقتصادی اور انتظامی قابلیت بھی اس سے ظاہر ہے کہ کس طرح کفایت شعاری سے پس انداز کرنے کے لئے ایک تجویز فرمائی۔ اگر ہماری خواتین اس طرح اپنی زندگی کو بسر کریں تو ذاتی یا دینی ضروریات کے لئے وہ بہت آسانی سے روپیہ جمع کر سکتی ہیں۔
    سب سے آخر میں حضرت میر صاحب نے جو بات فرمائی ہے وہ نہایت پُرمعنی ہے اور اس سے خود حضرت میر صاحب کی سیرت پر بھی روشنی پڑتی ہے اور وہ یہ کہ حضرت اُمُّ المؤمنین کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نکاح میں آ جانے سے اس خاندان پر وہ انعام ہوا کہ اسے دنیا میں بھی غیرفانی زندگی مل گئی۔
    بیشک وہ ایک بڑے جلیل القدر انسان امیرالامراء صمصام الدولہ نواب خانِ دَوراں میر بخشی منصور جنگ کمانڈر انچیف عساکر مغلیہ کے خاندان سے ہیں مگر تاریخ اب ان کو بھی بھول چکی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام اور سلسلہ کو زمانہ مٹا نہیں سکتا بلکہ خدا نے خود بشارت دے دی۔
    ثبتْ اَستَ بر جریدۂ عالم دوامِ مَا
    اس لئے یہ ایک تاریخی اور دائمی حیات ہے مگر اتنا ہی نہیںبلکہ حضرت اُمُّ المؤمنین کے ذریعہ فی الحقیقت بے انتہا برکات نازل ہوئیں۔ والحمدللّٰہ علیٰ ذالک۔ (محمود احمد عرفانی)
    حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب کی تحریکِ شادی
    محترم بہن نے بھائی کی تعلیم کے لئے مُودۃ فی القُربیٰ کا جو عملی نمونہ پیش کیا وہ آپ نے ابھی پڑھا ہے اور اس سے اس شفقت اور محبت کا پتہ لگتا ہے کہ جو ایک سعادت مند، ذی حوصلہ بہن کو اپنے بھائی سے ہونی چاہئے۔ اپنے گھروں میں اس روح کو پیدا کرو۔ سعادت مند بہنیں اس رنگ میں اپنے آپ کو رنگین کریں۔ اب میں ایک اور شان حضرت اُمُّ المؤمنین کے فہم و فراست اور اہلی زندگی کے نشیب و فراز سے واقفیت کی دکھاتا ہوں۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کی شادی کی تحریک ہوئی اور یہ تحریک اپنے ہی خاندان میں ڈاکٹر صاحب کی پھوپی صاحبہ کی لڑکی سے تھی۔
    مذہبی اختلافات نے بھی ایک خلیج حائل کر رکھی تھی۔ حضرت میر صاحب قبلہ اور نانی اماں اور حضرت اُمُّ المؤمنین اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی چاہتے تھے کہ یہ رشتہ قبول کر لیا جائے مگر شادی کے معاملہ میں خود لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی نہایت اہم ہے اور حضرت ڈاکٹر صاحب بعض وجوہ سے آمادہ نہ تھے اور اپنی رضا مندی کا اظہار نہ کرتے تھے۔ اس لئے خاندان کے بزرگ باوجود اپنی خواہش کے ان پر جبر بھی نہ کرنا چاہتے تھے۔ البتہ تحریک کر سکتے تھے اور مشورہ دے سکتے تھے۔ بہن بھائی کے تعلقات میں ایک خصوصیت ہوتی ہے اور خصوصاً وہ بہن جس نے عمل سے بھائی کے کردار کو بنایا ہو اور اس کی تعمیر سیرت میں ایک قربانی کی ہو۔ ایسے موقعہ پر وہ بہن کب خاموش رہ سکتی تھی۔اس نے نہایت غمگساری کے ساتھ اس رشتہ کے متعلق اپنا اظہار خیال کیا اور بھائی کے خیال کو صحیح رنگ میں تبدیل کرنے کیلئے ایک طریق تفہیم اختیار کیا اور نہایت اخلاص اور محبت سے مشورہ دیا۔ چنانچہ حضرت ڈاکٹر صاحب کو انہوں نے ایک خط لکھا اس خط کا عکس میں دوسری جگہ دوں گا (انشاء اللہ العزیز) یہاں اصل خط کا مضمون درج کرتا ہوں۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کا خط
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ ونصلی
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تمہارا خط میں نے پڑھا میرے نزدیک اس موقعہ کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ تم ابھی بچہ ہو تمہیں معلوم نہیں کہ رشتہ ناطہ کے وقت کیسی کیسی مشکلیںپیش آتی ہیں اور ایسا خاندان جو کسی طور سے کوئی عیب نہ رکھتا ہو۔ کس طرح مشکل سے ملتا ہے اور نئی جگہ میں کیسی کیسی خرابیاں نکل آیا کرتی ہیں ۔ اب خدا نے بشیرالدین کو دوسری طرف سے روک کر تمہاری طرف توجہ دی ہے یہ خدا کا کام ہے اس کی قدر کرنی چاہئے اگر اس وقت انکار کرو گے تو یہ خدا کے کام کی بے قدری اور ناشکری ہے۔ بلکہ مجھے ڈر ہے کہ اس ناشکری کی شامت سے مدت تک کوئی دوسرا موقعہ پیش نہ آوے۔ اس لئے میں تمہیں صلاح دیتی ہوں کہ اپنے دل کو سمجھاؤ اور جو حضرت صاحب نے لکھا ہے ضرور اس پر عمل کر لو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ بہت سی ایسی باتیں ہیں کہ تم ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور وہ باتیں تمہارے لئے بہتر ہوتی ہیں۔ اسی غرض سے میں نے یہ خط لکھا ہے اور مجھے بہت خوشی ہو گی جب میں تمہارا یہ خط پڑھوں گی کہ لو میں نے تمہاری بات مان لی اور اپنی ضد چھوڑ دی اور اس کا جواب مجھے جلدی لکھو کہ سکندرہ جانے کیلئے ہم تیار بیٹھے ہیں والدعا۔ از قادیان والدہ محمود احمد
    میں ہر سلیم الفطرت انسان کے ضمیر سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مکتوب کو پڑھے اور پھر پڑھے یہ خط حضرت اُمُّ المؤمنین کی سیرت کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ سب سے اوّل یہ کہ اس بلند پایہ خاتون کے قلب مُطّہرپر اللہ تعالیٰ کی عظمت غالب ہے۔ آپ نے بھائی کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ خداتعالیٰ کی نعمت کی ناشکری خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوتی ہے اور اس طرح چھوٹے بھائی کی تربیت دینی کے فرض کو ادا کیا ہے۔ کتنی بہنیں ہیں جو ایسے مواقع پر اپنے بھائیوں کی اصلاح کاخیال رکھتی ہیں اور پھر اس پُر حکمت طریق پر اصلاح کرتی ہوں۔ آپ نے یہ تو نہیں کیا کہ بھائی کو حکم دے دیا کہ نہیں تم کو یہ رشتہ منظور کرنا ہو گا۔ میرا یقین ہے کہ اگر حضرت میرمحمد اسمٰعیل صاحب کو ایسا حکم دیا جاتا تو خواہ وہ ان کی اپنی طبیعت کے خلاف ہوتا مگر وہ اس حکم کی تعمیل اپنی سعادت مندی قرار دیتے۔ مگر شادی بیاہ کے معاملہ میں ایک گونہ آزادیء رائے ہونی چاہئے حضرت اُمُّ المؤمنین نے اسے مدنظر رکھا۔ ہاں صحیح مشورہ دیا اور ان کے خیالات میں اصلاح کی سعی کی اور اس کے لئے عقلی دلائل پر حصر نہیں کیا بلکہ ایک ایسی بات کہی جو ایک دیندار اور صادق الیقین مسلمان پر موء ثر ہو سکتی ہے۔
    اس کے سامنے قرآن مجید کا مبشر حکم پیش کیا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہو سکتا ہے ایک امر تم کو مکروہ معلوم ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اسی میں بہتری رکھی ہو۔ قرآن مجید کے اس حکم کو سن کرایک نیک اور متقی نوجوان کا سرادب سے جھک جاتا ہے اور حضرت میراسمٰعیل نے بھی اسے قبول کیا۔ پھر اس خط میں بھائی کو اپنے مشورہ پر کاربند ہونے کے لئے ایسے رنگ میں اپیل کی ہے کہ بے اختیار ہر سلیم الفطرت انسان اس کی داد دے گا۔ بڑی بہن کی اطاعت اور اس کی بات کو ماننا جو محض اس کے ہی فائدہ اور نفع کے لئے ہو۔ ہر سعادت مند بھائی کا فرض ہے اس لئے آپ نے اپنے بھائی کی فطرت اور نیک خصلت پر غور کر کے یہ لکھا کہ تم میری بات مان لو گے تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔ غرض جس جس قدر انسان اس خط پر غور کرتا ہے اور اس آئینہ میں حضرت اُمُّ المؤمنین نصرت جہاں بیگم کے اخلاقِ حمیدہ کو دیکھتا ہے تو اسے آپ کی مُطّہر زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا ہی کے لئے ہر کام کرنے کی روح نظر آتی ہے۔
    حضرت اُمُّ المؤمنین کی تربیت ظاہر ہے کہ ایک نہایت دیندار اور متقی خاندان میں ہوئی تھی اور خداتعالیٰ نے اپنی مشیت میں انہیں ایسے جلیل القدر انسان کے حبالہ نکاح میں لانے کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔ جسے آنحضرت ﷺ نے اپنا سلام کہا اور جس کو اپنی امت کو ہلاکت سے بچانے والا قرار دیا۔ پھر ایسے گھر میں آ کر وہ تمام جوہر جو تقویٰ و طہارت کریم النفسی اور خداترسی کے تھے اجاگر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت اور اس کی مخلوق پر شفقت و ہمدردی نمایاں ہو گئی۔ اس لئے ان کی ہر بات اور ہر تحریر میں خداتعالیٰ پر توکل اور اس کی محبت و عظمت کا غلبہ نظر آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قرب نے سونے پر سُہاگہ کا کام کیااور یہ ایک بیّن ثبوت خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پاک زندگی کا بھی ہے۔
    غرض بالآخر حضرت اُمُّ المؤمنین کے مشورہ کو حضرت ڈاکٹر صاحب نے باانشراحِ صدر قبول کر لیا الحمد للّٰہ علیٰ ذالک
    یہ خط حضرت اُمُّ المؤمنین نے اپنے قلم سے لکھا تھا اس کا چربہ کسی دوسری جگہ آپ کے خط کے نمونہ کے اظہار کے لئے دیا گیا ہے اور یہ خط ۱۹۰۶؁ء کا ہے۔ جبکہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی پہلی شادی کی تجویز ہو رہی تھی۔ اس خصوص میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی خط لکھا تھا۔ (عرفانی)
    بہن کی محبت و شفقت کا نمونہ ابھی میں نے حضرت میر اسمٰعیل صاحب کی زبان سے بیان کیا اور حضرت میر محمد اسحاق رضی اللہ عنہ پر جو شفقت تھی وہ تو اس سے ظاہر ہے کہ حضرت سیّدہ نے اسے اپنا دودھ پلایا بھائی اپنی بہن کی عزت و تکریم محض اس وجہ سے نہ کرتے تھے کہ وہ ان کی آپا جان ہے بلکہ ان کی ذاتی خوبیاں ان کے احسانات ان کی ہمدردی و خیرخواہی کی عملی صورتیں ایسی تھیں کہ ہر آن وہ اپنے ادب اور محبت کے مقام میں بڑھتے جاتے تھے۔ حضرت سیّدہ کے دامنِ شفقت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تربیت نے دونوں بھائیوں میںایک خاص رنگ روحانیت کا پیدا کر دیا تھا۔ میں اسی اثر کے دکھانے کے لئے ذیل میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب کا ایک خط درج کرتا ہوں۔ جو انہوںنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات پر تعزیت کے طور پر حضرت اُمُّ المؤمنین اپنی بہن کو لکھا ۔ اس خط سے روحِ رضا بالقضا نمایاں ہے۔
    از روجھان
    ۳۰ مئی ۱۹۰۸؁ء
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ ونصلی
    مکرمہ مخدومہ جناب ہمشیرہ صاحبہ۔ سلامت باشد!
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کی خبر وحشت اثر معلوم ہو کر جو صدمہ ہوا اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔ پر ساتھ ہی میرا تو یہ حال ہے کہ میں لکھتا جاتا ہوں اور اعتبار نہیں آتا کہ یہ واقعہ سچ ہے۔ دل کو یقین ہی نہیں آتا یا یہ کہو کہ دل یقین کرنا نہیں چاہتا۔ مگر جو امر ہونا تھا اور خدا تعالیٰ کے ہاں سے مقدر تھا وہ ہوا۔ اس میں کسی انسان اور فرشتے کا دخل نہیں۔ آج تک نہ کوئی انسان موت سے بچا نہ بچے گا۔ تمام پیمبر،انبیاء، اولیاء، بزرگ،پیر، صاحب کرامات خدا کے پیارے۔ غرض بڑے بڑے رتبے والے حتیّٰ کہ سب کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ تک نے چند روزہ زندگی بسر کر کے اس جہان سے رحلت کی۔ ہزاروں روئے، لاکھوں نے اپنی جان ان پر کرنی چاہی۔ نہایت تضرع اور سچے دل سے ہر شخص نے دعا کی کہ یہ پیالہ ٹل جائے مگر نہ ٹل سکا اور آخر سب کو پینا ہی پڑا۔خدا کے نبی، رسول، اللہ کے پیارے دوست ہوتے ہیں وہ ان کو کچھ مدت کیلئے دنیا میں ہدایت کے لئے بھیجتا ہے جب وہ اپنا کام کر چکتے ہیں تو پھر دنیا میں ان کی ضرورت نہیں رہتی۔ جب تک وہ یہاں رہتے ہیں لوگ ان کے مخالف اور درپے آزار رہتے ہیں۔ ہر طرح کے دکھ دیتے اور سب وشتم کرتے ہیں۔ غرض ہرانداز اور ہر طور سے ان کو تکلیف اور ایذا دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ پس خداتعالیٰ بھی جب ان کا کام ہو چکتا ہے تو فوراً ہی ان کو اپنے پاس دائمی آرام اور ہمیشہ کی راحت میں بلا لیتا ہے اور نہیں چاہتا کہ ضرورت سے زیادہ وہ دنیا میں رہ کر تکلیف اٹھاویں۔ غرض انبیاء اور اولیاء کی موت ایسی نہیں ہوتی کہ مرتے وقت ان کو کوئی کاوش یا ہم وحزن ہو بلکہ وہ ان کو دنیا سے بشارت اور دائمی برکت اور رحمت کے ساتھ لے جاتی ہے اور وہ لوگ جس طرح ایک بھوکا بچہ دیر کے بعد اپنی ماں کی گود میں ہُمک کر جاتا ہے اسی طرح اپنے رب سے وصال پاتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کے طرح طرح کے افضال اور الطاف کے مورد بنتے ہیں۔ پس موت کا وارد ہونا اس شخص کے لئے تو موجب فکر وتشویش ہو سکتا ہے جسے اگلے جہاں میں اپنے اعمال کا فکر ہو مگر جو شخص معصوم خدا کی درگاہ میں واپس جاتا ہے۔ نہیں۔ بلکہ اسکا عزیز مہمان اور پیارا دوست بن کر جاتا ہے تو اس کے انتقال پر ہم کو رشک کرنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ جس طرح یہ مرنے والا تیرا مقرب اور پسندیدہء درگاہ تھا۔ اسی طرح تُو ہم کو بھی توفیق دے کہ تیرے فضل سے ہم بھی جب مریں تو تیرے نیک اور پیارے بندے ہو کر مریں اور آخرت میں ہم اس کے ساتھ ایسے ہی وابستہ رہیں جس طرح دنیا میں تھے۔
    دوسری بات جو ہم کو اس واقعہ پر پیش آئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا صبر اور ہماری استقامت اس ابتلاء کے موقعہ پر آزمانی چاہتا ہے۔ ایک ہمارا سب سے پیار اس جہان سے رحلت فرما ہوا۔ اگر ایسی حالت اور ناگہانی صدمہ کے وقت انسان شدتِ غم میں خداتعالیٰ کی حدود سے باہر نہ جاوے اور جو کچھ سر پر گزرا اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر اسی سے صبر بھی مانگے اور ہر حال میں جیسا کہ ہم نے بیعت کے وقت منہ سے اقرار کیا تھا۔اپنے عملوں سے بھی کر دکھاوے کہ خدا کی رضا پر ہر طرح راضی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے دل کو صبرو قرار اور تسکین سے بھر دیتا ہے اور اس کے ایمان میں ترقی دیتا ہے۔ دل پر جو رنج گزرتا ہے وہ فطرتی ہے مگر کثرت ہموم کے وقت کسی ایسی بات کا ہو جانا ممکن ہے جو خدا کی نظر میں ناپسندیدہ ہو۔ حضرت عائشہ ۱۸ سال کی تھیں جب رسول خدا صلعم نے وفات پائی۔ انہوں نے اور آپؐ کی اور ازدواج نے جو نمونہ آپؐ کی وفات کے وقت دکھایا وہ قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ تم بھی اس فرقہ کی عورتوں کیلئے نمونہ ہو۔ احتیاط رکھنی چاہئے کہ ایسے موقعہ پر جبکہ مَردوں کے چھکے چُھوٹے ہوئے ہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جس کی تقلید کر کے آئندہ امت کی عورتیں کوئی بُری رسم اختیار کر لیں۔ تمہارے افعال،تمہارے اقوال، تمہاری باتیں آئندہ کے لوگ سند پکڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی رضا میں تمہاری ہر بات ہو اور کوئی نمونہ ایسا نہ چھوڑ جاؤ جس پر قیامت تک کسی کی حرف گیری ہو سکے۔
    عورت کے لئے خاوند کا مرنا سب سے بڑھ کر صدمہ اور غم ہے۔ مگر ہمیشہ کیلئے نہیں۔ اگر کوئی مر جاتا اور کوئی ہمیشہ کے لئے زندہ رہ جاتا تو واقعی یہ صدمہ سخت صدمہ تھا۔ مگر جب سب ایک راہ چل رہے ہیں اور آگے پیچھے سب کو مرنا ہے تو اگر یہی سمجھ لیا جائے کہ مرنے والا سفر پر گیا ہے یا چند دن کے لئے غائب ہے اور پھر ہم اس کو ضرور ملیں گے اور یہ ملاقات ایسیہو گی کہ پھر اس میں جدائی نہ ہو گی تو کیا یہ خوش آئند خیال نہیں ہے؟ ہاں اور لوگوں کو تو ڈر ہو سکتا ہے کہ بیوی شائد وہاں اپنے میاں سے یا میاں اپنی بیوی سے وہاں نہ مل سکے کیونکہ ہر ایک کو اپنے اعمال کے سبب اجردیا جاوے گا اور انجام کی کس کو خبر ہے مگر یہاں تو یہ بات نہیں ہے ایمان لانے والی بی بی جو خداتعالیٰ کی بشارت اور خوشخبری سے دنیا میں اس کے ساتھ رہی ہو وہ اگلے جہاں میں بھی اپنے میاں کے ساتھ ہو گی اور ضرور ہو گی۔
    جماعت احمدیہ کے لئے یہ ایک سخت ابتلا ہے۔ پہلے وہ ایک بے فکر کی طرح تھے اور نام کے مددگار تھے۔ اب ان کو معلوم ہو گا کہ کتنا بڑا کام وہ شخص اکیلا کرتا رہا۔
    میرا ایمان ہے کہ اگر یہ فرقہ سچ ہے اور یقینا سچ پر ہے تو خدا اس کو ہر طرح کی ہلاکت سے بچا لے گا اور ہر دشمن کی دشمنی سے محفوظ رکھے گا اور اسے دنیا کے اطراف میں پھیلا دے گا۔ وہ شخص تو اپنا کام پورا کر گیا بلکہ وصیت بھی ایک چھوڑ دو دفعہ چھپوا دی تھی اور لوگوں پر تبلیغ پوری ہو چکی تھی اور یہ ایک دن آنے والا باقی تھا سو آ گیا مگر وہ دن بھی خدا کا نشان ہو کر آیا اور دوپیشین گوئیوں کو پورا کر گیا۔ یعنی ایک تو الہام انتقال کے متعلق الرّحیل ثم الرّحیل والا اور ’’مباش،ایمن از بازی ٔروزگار‘‘ اور دوسرے وہ پرانا اور بار بار ہونے والا الہام ’’داغ ہجرت‘‘ یعنی ہجرت اور وطن کی جدائیگی میں رحلت ہو گی۔ غرض خدا ک