1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

سیرت المہدی ۔ سیرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 1 تا 5 مکمل ۔ یونی کوڈ

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    سیرت المہدی ۔ سیرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 1 ۔ یونی کوڈ


    بِسْمِ اللّٰہ ِالرَّحْمٰنِ الرَّحیْـمْ
    نَحمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہِ الکَرِیْم
    وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود مع التسلیم
    عرض حال
    امام بخاری علیہ الرحمۃ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اعمال نیت سے ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنی نیت کے مطابق پھل پاتا ہے ۔
    خاکسار مرزا بشیر احمد ؐ ابن حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارادہ کیا ہے واللّٰہ الموفّقکہ جمع کروں ان لوگوں کے واسطے جنہو ں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نہیں اُٹھائی اورنہ آپ کو دیکھا ہے ،آپ کے کلمات و حالات و سوانح اور دیگر مفید باتیں متعلق آپ کی سیرت اور خُلق و عادات وغیرہ کے ۔پس شروع کرتا ہوں میں ا س کام کو آج بروز بدھ بتاریخ ۲۵؍شعبان ۱۳۳۹ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۲۱ء بعد نماز ظہر اس حال میں کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیت الدعا میں بیٹھا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ وہ مجھے صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اس کتاب کے پورا کرنے کی توفیق دے اللّٰہم آمین ۔
    میرا ارادہ ہے واللّٰہ الموفّق کہ جمع کروں اس کتاب میں تمام وہ ضروری باتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق خود تحریر فرمائی ہیں اور وہ جو دوسرے لوگوں نے لکھی ہیں نیز جمع کروں تمام وہ زبانی روایات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مجھے پہنچی ہیں یا جو آئندہ پہنچیں اور نیز وہ باتیں جو میرا ذاتی علم اور مشاہدہ ہیں اور میں انشا ء اللہ تعالیٰ صرف وہی روایات تحریر کروں گا جن کو میں صحیح سمجھتا ہوں مگر میں الفاظ ِ روایت کی صحت کا دعویدار نہیں ہوں اور نہ لفظی روایت کا کماحقہ التزام کر سکتا ہوں نیز میں بغرض سہولت تمام روایات اردو زبان میں بیان کروں گا خواہ دراصل وہ کسی اور زبان میں روایت کی گئی ہوںاور فی الحال تمام روایات عموماً بغیر لحاظ معنوی ترتیب کے صرف اسی ترتیب میں بیا ن کروں گا جس میں کہ وہ میرے سامنے آئیں پھر بعد میں خدا نے چاہا اور مجھے توفیق ملی تو انہیں معنوی ترتیب سے مرتب کر دیا جاویگا ۔
    اخذ روایات میں جن شرائط کو میں نے محفوظ رکھا ہے ان کا ذکر موجب تطویل سمجھ کر اس جگہ چھوڑتا ہوں۔ اللّٰھم وفق و اعن فا نک انت الموفق و المستعا ن -
    خاکسار راقم آثم
    مرزا بشیر احمد
    قادیان






    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    { 1} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ ان سے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہ مجھے معلوم ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرمایا کہ بتایا گیا ہے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم بہت پڑھنا چاہئیے ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس وجہ سے آپ اسے بہت کثرت سے پڑھتے تھے حتیّٰ کہ رات کو بستر پر کروٹ بدلتے ہوئے بھی یہی کلمہ آپ کی زبان پر ہوتا تھا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے جب یہ روایت مولوی شیر علی صاحب سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے بھی دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سبحا ن اللّٰہ بہت پڑھتے تھے اور مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو استغفار پڑھتے کبھی نہیں سُنا ۔نیز خاکسار اپنا مشاہدہ عرض کر تا ہے کہ میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سبحا ن اللّٰہ پڑھتے سنا ہے ۔آپ بہت آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر اور سکون اور اطمینان اور نرمی کے ساتھ یہ الفاظ زبان پر دہراتے تھے اس طرح کہ گویا ساتھ ساتھ صفات باری تعالیٰ پر بھی غور فرماتے جاتے ہیں ۔
    { 2} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر ہر وقت باوضو رہتے تھے جب کبھی رفع حاجت سے فارغ ہو کر آتے تھے وضو کر لیتے تھے سوائے اس کے کہ بیماری یا کسی اور وجہ سے آپ رُک جاویں ۔
    { 3} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیا ن کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پنجگانہ کے سوا عام طور پر دو قسم کے نوافل پڑھا کر تے تھے ایک نماز اشراق (دو یا چار رکعات )جو آپ کبھی کبھی پڑھتے تھے اور دوسرے نماز تہجد( آٹھ رکعات ) جو آپ ہمیشہ پڑھتے تھے سوائے اس کے کہ آپ زیادہ بیمار ہوں لیکن ایسی صورت میں بھی آپ تہجد کے وقت بستر پر لیٹے لیٹے ہی دعا مانگ لیتے تھے ۔ اور آخری عمر میں بوجہ کمزوری کے عموماً بیٹھ کر نماز تہجد ادا کر تے تھے ۔
    { 4} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر صبح کی نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے تھے کیونکہ رات کا زیادہ حصّہ آپ جاگ کر گزارتے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ اوّل تو آپ کو اکثر اوقات رات کے وقت بھی مضامین لکھنے پڑتے تھے جو آپ عموماًبہت دیر تک لکھتے تھے دوسرے آپ کو پیشاب کے لئے بھی کئی دفعہ اُٹھنا پڑتا تھا اس کے علاوہ نماز تہجد کے لئے بھی اُٹھتے تھے ۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب مٹی کے تیل کی روشنی کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا نا پسند کرتے تھے اور اس کی جگہ موم بتیاں استعمال کر تے تھے ۔ایک زمانہ میں کچھ عرصہ گیس کا لیمپ بھی استعمال کیا تھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ کئی کئی موم بتیاں جلا کر سامنے رکھوا لیتے تھے اگر کوئی بتی بجھ جاتی تھی تو اس کی جگہ اور جلا لیتے تھے اور گھر میں عموماً موم بتیوں کے بنڈل منگوا کر ذخیرہ رکھوا لیتے تھے ۔خاکسار کو یاد ہے کہ ایک دفعہ اس دالان میں جو بیت الفکر کے ساتھ ملحق شمال کی طرف ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام شمالی دیوار کے پاس پلنگ پر بیٹھے ہوئے شاید کسی کام میں مصروف تھے اور پاس موم کی بتیاں جلی رکھی تھیں ۔حضرت والدہ صاحبہ بتیوں کے پاس سے گزریں تو پشت کی جانب سے ان کی اوڑ ھنی کے کنارے کو آگ لگ گئی اور ان کو کچھ خبر نہ تھی ۔حضرت مسیح موعود نے دیکھا تو جلدی سے اُٹھ کر اپنے ہاتھ سے آگ بجھائی ۔اس وقت والدہ صاحبہ کچھ گھبرا گئی تھیں ۔
    { 5} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فریضہ نماز کی ابتدائی سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے اور بعد کی سنتیں بھی عموماً گھر میں اور کبھی کبھی مسجد میں پڑھتے تھے ۔ خاکسارنے دریافت کیا کہ حضرت صاحب نماز کو لمبا کر تے تھے یا خفیف؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ عموماً خفیف پڑھتے تھے۔
    { 6} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے باغ میں پھر رہے تھے جب آپ سنگترہ کے ایک درخت کے پاس سے گزرے تو میں نے (یعنی والدہ صاحبہ نے) یا کسی اور نے کہا کہ اس وقت تو سنگترہ کو دل چاہتا ہے ۔حضرت صاحب نے فرمایا کیا تم نے سنگترہ لینا ہے ؟ والدہ صاحبہ نے یا اس شخص نے کہا کہ ہاں لینا ہے ۔اس پر حضرت صاحب نے اس درخت کی شاخوں پر ہاتھ مارا اور جب آپ کا ہاتھ شاخوں سے الگ ہو ا تو آپ کے ہاتھ میں ایک سنگترہ تھا اور آپ نے فرمایا یہ لو۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ وہ سنگترہ کیسا تھا ؟ والدہ صاحبہ نے کہا زرد رنگ کا پکا ہوا سنگترہ تھا ۔ میںنے پوچھا۔ کیا پھر آپ نے اسے کھا یا ؟والدہ صاحبہ نے کہا یہ مجھے یاد نہیں۔میں نے دریافت کیا کہ حضرت صاحب نے کس طرح ہاتھ مارا تھا؟ اس پر والدہ صاحبہ نے اس طرح ہاتھ مار کر دکھایااور کہا کہ جس طرح پھل توڑ نے والے کا ہاتھ درخت پرٹھہرتا ہے اس طرح آپ کا ہاتھ شاخوں پر نہیں ٹھہرا بلکہ آپ نے ہاتھ مارا اور فوراً لوٹا لیا ۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا اس وقت سنگترہ کا موسم تھا ؟ والدہ صاحبہ نے فرما یا کہ نہیں اور وہ درخت بالکل پھل سے خالی تھا ۔خاکسار نے یہ روایت مولوی شیر علی صاحب کے پاس بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ روایت حضرت خلیفہ ثانی ؓسے بھی سنی ہے ۔آپ بیان کرتے تھے کہ حضرت صاحب نے میرے کہنے پر ہاتھ مارا اور سنگترہ دیا تھا ۔
    { 7} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں کسی سفر سے واپس قادیان آرہا تھا تو میں نے بٹالہ پہنچ کر قادیان کے لئے یکہ کرایہ پر کیا ۔اس یکہ میں ایک ہندو سواری بھی بیٹھنے والی تھی جب ہم سوار ہونے لگے تو وہ ہندو جلدی کر کے اُس طرف چڑھ گیا جو سورج کے رُخ سے دوسری جانب تھی اور مجھے سورج کے سامنے بیٹھنا پڑا ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب ہم شہر سے نکلے تو نا گاہ بادل کا ایک ٹکڑا اُٹھا اور میرے اور سورج کے درمیان آگیا اور ساتھ ساتھ آیا ۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیاوہ ہندو پھر کچھ بولا ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا یاد پڑتا ہے کہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ پھر اس ہندو نے بہت معذرت کی اور شرمندہ ہوا ۔والدہ صاحبہ نے فرما یا کہ وہ گرمی کے دن تھے ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہی روایت مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے بھی بیان کی ہے ۔انہوں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ واقعہ سنا تھا ۔صرف یہ اختلاف ہے کہ مولوی صاحب نے بٹالہ کی جگہ امرتسر کا نام لیا اور یقین ظاہر کیا اس بات پر کہ اس ہندو نے اس خارق عادت امر کو محسوس کیا تھا اور بہت شرمندہ ہوا تھا ۔
    { 8} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایاکہ ایک دفعہ کسی مقدمہ کے واسطے میں ڈلہوزی پہاڑ پر جا رہا تھا راستہ میں بارش آگئی مَیں اور میرا ساتھی یکہ سے اُترآئے اور ایک پہاڑی آدمی کے مکان کی طرف گئے جو راستہ کے پاس تھا ۔ میرے ساتھی نے آگے بڑھ کر مالک مکان سے اندر آنے کی اجازت چاہی مگر اس نے روکا اس پر ان کی باہم تکرار ہو گئی اور مالک مکان تیز ہو گیا اور گالیاں دینے لگا ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں یہ تکرار سن کر آگے بڑھا ۔جونہی میری اور مالک مکان کی آنکھیں ملیں تو پیشتر اسکے کہ میں کچھ بولوں اس نے اپنا سر نیچے ڈال لیا اور کہا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ میری ایک جوان لڑکی ہے اس لئے میں اجنبی آدمی کو گھر میں نہیں گھسنے دیتا مگر آپ بے شک اندر آجائیں ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ وہ ایک اجنبی آدمی تھا نہ میں اسے جانتا تھا اور نہ وہ مجھے جانتا تھا ۔
    { 9} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب میں کسی سفر میں تھا ۔رات کے وقت ہم کسی مکان میں دوسری منزل پر چوبارہ میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔اسی کمرے میں سات آٹھ اور آدمی بھی ٹھہرے ہوئے تھے ۔جب سب سو گئے اور رات کا ایک حصّہ گذر گیا تو مجھے کچھ ٹک ٹک کی آواز آئی اور میرے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اس کمرے کی چھت گرنے والی ہے ۔اس پر میں نے اپنے ساتھی مسیتا بیگ کو آواز دی کہ مجھے خدشہ ہے کہ چھت گرنے والی ہے ۔اس نے کہا میاں یہ تمہارا وہم ہے نیا مکان بنا ہوا ہے اور بالکل نئی چھت ہے آرام سے سو جائو ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں پھر لیٹ گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر وہی ڈر میرے دل پر غالب ہو ا میں نے پھر اپنے ساتھی کو جگا یا مگر اس نے پھر اسی قسم کا جواب دیا میں پھر ناچار لیٹ گیا مگر پھر میرے دل پر شدت کے ساتھ یہ خیال غالب ہو ااور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا شہتیر ٹوٹنے والا ہے ۔ میں پھر گھبرا کر اُٹھااور اس دفعہ سختی کے ساتھ اپنے ساتھی کو کہا کہ میں جو کہتا ہوں کہ چھت گرنے والی ہے اُٹھو ۔ تو تم اُٹھتے کیوں نہیں ۔اس پر ناچار وہ اُٹھااور باقی لوگوں کو بھی ہم نے جگا دیاپھر میں نے سب کو کہا کہ جلدی باہر نکل کر نیچے اُتر چلو۔دروازے کے ساتھ ہی سیڑھی تھی میں دروازے میں کھڑا ہوگیا اور وہ سب ایک ایک کر کے نکل کر اُترتے گئے ۔جب سب نکل گئے تو حضرت صاحب فرما تے تھے کہ پھر میں نے قدم اُٹھایا ابھی میرا قدم شاید آدھاباہر اور آدھا دہلیز پر تھا کہ یک لخت چھت گری اور اس زور سے گری کہ نیچے کی چھت بھی ساتھ ہی گر گئی حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ جن چارپائیوں پر ہم لیٹے ہوئے تھے وہ ریزہ ریزہ ہوگئیں ۔خاکسار نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ مسیتا بیگ کون تھا ؟ والد ہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہ تمہارے دادا کا ایک دور نزدیک سے رشتہ دار تھا اور کا رندہ بھی تھا۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے اس روایت کو ایک دفعہ اس طرح پر بیان کیا تھا کہ یہ واقعہ سیالکوٹ کا ہے جہاں آپ ملازم تھے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ چھت بس میرے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی ہے اور نیز حضرت خلیفۃالمسیح ثانی نے بیان کیا کہ اس کمرہ میں اس وقت چند ہندو بھی تھے جو اس واقعہ سے حضرت صاحب کے بہت معتقد ہو گئے ۔
    { 10} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمایا کہ جب بڑے مرزا صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود کے والد صاحب ) کشمیر میں ملازم تھے تو کئی دفعہ ایسا ہو ا کہ ہماری والدہ نے کہا کہ آج میرا دل کہتا ہے کہ کشمیر سے کچھ آئے گا تو اسی دن کشمیر سے آدمی آگیا اور بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ ادھر والدہ صاحبہ نے یہ کہا اور ادھر دروازہ پر کسی نے دستک دی ۔دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کشمیر سے آدمی آیا ہے ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیںکہ تمہارے دادا کشمیر سے اپنے آدمی کو چند ماہ کے بعد خط اور روپیہ دے کر بھیجا کر تے تھے ۔نقدی وغیرہ چاندی سونے کی صورت میں ایک گدڑی کی تہہ کے اندر سلی ہوئی ہوتی تھی جو وہ آدمی راستہ میں پہنے رکھتا تھا اور قادیان پہنچ کر اتار کر اندر گھر میں بھیج دیتا تھا ۔گھر والے کھول کر نقدی نکال لیتے تھے اور پھر گدڑی واپس کر دیتے تھے ۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا کشمیر میں صوبہ تھے ۔اس وقت حضرت خلیفۃالمسیح ثانی بھی اوپر سے تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ جس طرح انگریزوں میں آجکل ڈپٹی کمشنر اور کمشنر وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح کشمیر میں صوبے گورنر علاقہ ہوتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری دادی صاحبہ یعنی حضرت مسیح موعود کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا وہ دادا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گئی تھیں ۔ان کو حضرت صاحب سے بہت محبت تھی اور آپ کو ان سے بہت محبت تھی ۔میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جب آپ ان کا ذکر فرماتے تھے تو آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں ۔
    { 11} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنوں میں سے منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ۔نیز بیان کیا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے کہ جب مبارکہ بیگم (ہماری ہمشیرہ ) پید اہونے لگی تو منگل کا دن تھا اسلئے حضرت صاحب نے دعا کی کہ خدا اُسے منگل کے تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رکھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن توام پیدا ہوئے تھے اور فوت ہوئے منگل کے دن ۔اور جاننا چاہئے کہ زمانہ کی شمار صرف اہل دنیا کے واسطے ہے اور دنیا کے واسطے واقعی آپ کی وفات کا دن ایک مصیبت کا دن تھا ۔
    ( اس روایت سے یہ مراد نہیں ہے کہ منگل کا دن کوئی منحوس دن ہے بلکہ جیسا کہ حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۱۱،۳۲۲ و ۳۶۰میں تشریح کی جا چکی ہے۔ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ منگل کا دن بعض اجرام سماوی کے مخفی اثرات کے ماتحت اپنے اندر سختی اور تکلیف کا پہلو رکھتا ہے۔ چنانچہ منگل کے متعلق حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول آتا ہے کہ منگل وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ نے پتھریلے پہاڑ اور ضرر رساں چیزیں پیدا کی ہیں۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر آیت خلق الارض فی یومین الخ )
    { 12} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری بیماری بیمار ہوئے اور آپ کی حالت نازک ہوئی تو میں نے گھبرا کر کہا ’’اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے ‘‘ اس پر حضرت صاحب نے فرمایا ’’ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا ‘‘خاکسار مختصراً عر ض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے ۔میں اپنے بستر پر جاکر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آگئی ۔رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگا یا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آوازسے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور اِدھر اُدھرمعالج اور دوسرے لوگ کام میںلگے ہوئے ہیں ۔جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود ؑ کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے ۔اس وقت آپ بہت کمزور ہو چکے تھے ۔اتنے میں ڈاکٹر نے نبض دیکھی تو ندارد ۔سب سمجھے کہ وفات پاگئے اور یکدم سب پر ایک سناٹا چھا گیا مگر تھوڑی دیر کے بعد نبض میںپھر حرکت پید اہوئی مگر حالت بد ستور نازک تھی اتنے میں صبح ہوگئی اور حضرت مسیح موعود کی چارپائی کو باہر صحن سے اُٹھا کر اند ر کمرے میں لے آئے جب ذرا اچھی روشنی ہوگئی تو حضرت مسیح موعود ؑ نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ غالباً شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی نے عرض کیا کہ حضور ہو گیا ہے ۔آپ نے بستر پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کیا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی مگر آپ اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہوگئی اور نماز کو پورا نہ کر سکے ۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے عرض کیا گیا حضور ہو گیا ہے آپ نے پھر نیت باندھی مگر مجھے یا دنہیں کہ نماز پوری کر سکے یا نہیں ۔اس وقت آپ کی حالت سخت کرب اور گھبراہٹ کی تھی ۔غالبًا آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے ڈاکٹر نے پوچھا کہ حضور کو خاص طور پر کیا تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔مگر آپ جواب نہ دے سکتے اس لئے کاغذ قلم دوات منگوائی گئی اور آپ نے بائیں ہاتھ پر سہارا لے کر بستر سے کچھ اُٹھ کر لکھنا چاہا مگر بمشکل دوچار الفاظ لکھ سکے اور پھر بوجہ ضعف کے کاغذ کے اوپر قلم گھسٹتا ہو ا چلا گیا اور آپ پھر لیٹ گئے ۔یہ آخری تحریر جس میں غالباً زبان کی تکلیف کا اظہار تھا اور کچھ حصّہ پڑھا نہیں جاتا تھا جناب والدہ صاحبہ کو دے دی گئی ۔نو بجے کے بعد حضرت صاحب کی حالت زیادہ نازک ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد آپ کو غر غرہ شروع ہو گیا ۔غر غرہ میں کوئی آواز وغیر ہ نہیں تھی بلکہ صرف سانس لمبا لمبا اور کھچ کھچ کر آتا تھا خاکسار اس وقت آپ کے سرہانے کھڑا تھا ۔ یہ حالت دیکھ کر والدہ صاحبہ کو جو اس وقت ساتھ والے کمرے میں تھیں اطلاع دی گئی وہ مع چند گھر کی مستورات کے آپ کی چارپائی کے پاس آکر زمین پر بیٹھ گئیں ۔اس وقت ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب لاہوری نے آپ کی چھاتی میںپستان کے پاس انجکشن یعنی دوائی کی پچکاری کی جس سے وہ جگہ کچھ اُبھر آئی مگر کچھ افاقہ محسوس نہ ہوا بلکہ بعض لوگوں نے بُرا منایا کہ اس حالت میں آپ کو کیوں یہ تکلیف دی گئی ہے ۔ تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اورہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہو تا گیا حتّٰی کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا او ر آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی ۔ اللھم صل علیہ و علٰی مطاعہ محمد ؐ و بارک وسلم ۔
    خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی اور حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کا ذکر آیا تو والدہصاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پائوں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کرسو گئے ۔اور میں بھی سو گئی لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے ۔اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا ۔میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپکے پائوں دبانے کے لئے بیٹھ گئی ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سو جائو ۔میں نے کہا نہیں میں دباتی ہو ں ۔اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اسلئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اُٹھ کر لیٹ گئے اور میں پائوں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہوگیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی ۔جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگر گوں ہوگئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا ’’ اللہ یہ کیا ہو نے لگا ہے ‘‘ تو آپ نے فرمایا ’’ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا ‘‘خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کیا آپ سمجھ گئی تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشا ء ہے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ’’ہاں‘ ‘والدہ صاحبہ نے یہ بھی فرمایا کہ جب حالت خراب ہوئی اور ضعف بہت ہوگیا تو میں نے کہا مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب ) کو بلالیں ؟ آپ نے فرمایا بلا لو نیز فرمایا محمود کو جگا لو ۔پھر میں نے پوچھا محمد علی خان یعنی نواب صاحب کو بلا لوں؟ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ مجھے یا دنہیں کہ حضرت صاحب نے اس کا کچھ جواب دیا، یا نہیں اور دیا تو کیا دیا ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مرض موت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سخت کرب تھا اور نہایت درجہ بے چینی اور گھبراہٹ اور تکلیف کی حالت تھی اور ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا بھی بوقت وفات قریباً ایسا ہی حال تھا ۔یہ بات ناواقف لوگوں کے لئے موجب تعجب ہو گی کیونکہ دوسری طرف و ہ یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صوفیا اور اولیاء کی وفات نہایت اطمینان اور سکون کی حالت میں ہوتی ہے ۔سودراصل بات یہ ہے کہ نبی جب فوت ہونے لگتا ہے تو اپنی امت کے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں اس کے سامنے ہو تی ہیں اور ان کے مستقبل کا فکر مزید برآں اسکے دامن گیر ہو تا ہے ۔تمام دنیا سے بڑھ کر اس بات کو نبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے گذر کر انسان نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے پس موت کی آمد جہاں اس لحاظ سے اس کو مسرور کر تی ہے کہ وصال محبوب کا وقت قریب آن پہنچا ہے وہاں اس کی عظیم الشان ذمہ داریوں کا احساس اور اپنی امت کے متعلق آئندہ کا فکر اسے غیرمعمولی کر ب میں مبتلا کر دیتے ہیں مگر صوفیا اور اولیاء ان فکروں سے آزاد ہو تے ہیں ۔ان پر صرف ان کے نفس کا بار ہوتا ہے مگر نبیوں پر ہزاروں لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بار ۔پس فرق ظاہر ہے
    (اس روایت میں حضرت والدہ صا حبہ نے جو یہ بیان کیا ہے کہ ان کی گھبراہٹ کے اظہار پر حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ فرمایا کہ ’’ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ ‘‘ اس کے متعلق میں نے حضرت والدہ صا حبہ سے دریافت کیا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے جس پر انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب کی یہ مراد تھی کہ جیسا کہ میں کہا کرتا تھا کہ میری وفات کا وقت قریب ہے ۔ سو اب یہ وہی موعود وقت آگیا ہے اور والدہ صا حبہ نے فرمایا کہ ان الفاظ میں گویا حضرت صاحب نے مجھے ایک رنگ میں تسلی دی تھی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ وہی مقدر وقت ہے جس کے متعلق میں خدا سے علم پاکر ذکر کیا کرتا تھا اور جس طرح خدا کا یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ اسی طرح خدا کے دوسرے وعدے بھی جو میرے بعد خدائی نصرت وغیرہ کے متعلق ہیں۔ پورے ہوں گے اور خدا تم سب کا خود کفیل ہو گا ۔ نیز حضرت والدہ صا حبہ نے فرمایا۔ کہ حضرت صاحب کو اسہال کی شکایت اکثر ہو جایا کرتی تھی۔ جس سے بعض اوقات بہت کمزوری ہو جاتی تھی…… اور آپ اسی بیماری سے فوت ہوئے۔)
    { 13} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت لکھ رہے تھے ایک دفعہ جب آپ شریف (یعنی میرے چھوٹے بھائی عزیزم مرزا شریف احمد ؐ) کے مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے ۔آپ نے مجھ سے کہا کہ مولوی محمدؐ علی سے ایک انگریز نے دریافت کیا تھا کہ جس طرح بڑے آدمی اپنا جانشین مقرر کیا کرتے ہیں مرزا صاحب نے بھی کو ئی جانشین مقرر کیا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد آپ فرمانے لگے تمہارا کیا خیال ہے ۔کیا میں محمود ( خلیفۃ المسیح ثانی ) کو لکھ دوں یا فرمایا مقرر کر دوں ؟والدہ صاحبہ فرماتی ہیں میں نے کہا کہ جس طرح آپ مناسب سمجھیں کر یں ۔
    { 14} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جن کو دنیوی شان و شوکت کا خیال ہے کہ محکمے ہوں، دفاتر ہوں، بڑی بڑی عمارتیں ہوں وغیرہ وغیرہ ۔دوسرے وہ ہیں جو کسی بڑے آدمی مثلاً مولوی نورالدین صاحب کے اثر کے نیچے آکر جماعت میں داخل ہو گئے ہیں اور انہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیںجن کو خاص میری ذات سے تعلق ہے اور وہ ہر بات میں میری رضا اور میری خوشی کو مقدم رکھتے ہیں ۔
    { 15} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحب اس کمرہ میں موجود نہیں تھے جس میں آپ نے وفات پائی ۔ جب حضرت مولوی صاحب کو اطلاع ہو ئی تو آپ آئے اور حضرت صاحب کی پیشانی کو بو سہ دیا اور پھر جلد ہی اس کمرے سے باہر تشریف لے گئے ۔جب حضرت مولوی صاحب کا قدم دروازے کے باہر ہو ا اس وقت مولوی سیّد محمد ؐاحسن صاحب نے رقّت بھری آواز میں حضرت مولوی صاحب سے کہا ’’انت صدّیقی‘‘ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔مولوی صاحب یہاںاس سوال کو رہنے دیں قادیان جاکر فیصلہ ہوگا ۔خاکسار کا خیال ہے کہ اس مکالمہ کو میرے سوا کسی نے نہیںسنا ۔
    { 16} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاںتھیں۔ ایک اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی جس کا آپ نے کئی جگہ اپنی تحریر ات میں ذکر کیا ہے یہ سب سے پہلی انگوٹھی ہے جو دعویٰ سے بہت عرصہ پہلے تیار کرائی گئی تھی ۔دوسری وہ انگوٹھی جس پر آپ کا الہام غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ الخ درج ہے ۔یہ آپ نے دعویٰ کے بعد تیار کروائی تھی اور یہ بھی ایک عرصہ تک آپ کے ہاتھ میں رہی ۔ الہام کی عبارت نسبتاً لمبی ہونے کی وجہ سے اس کا نگینہ سب سے بڑا ہے ۔تیسری وہ جو آخری سالوں میںتیار ہوئی اور جو وفات کے وقت آپ کے ہاتھ میں تھی ۔یہ انگوٹھی آپ نے خود تیار نہیں کروائی بلکہ کسی نے آپ سے عرض کیا کہ میں حضور کے واسطے ایک انگوٹھی تیار کروانا چاہتا ہوںاس پر کیا لکھوائوںحضورنے جواب دیاـ’’ مولا بس ‘‘ چنانچہ اس شخص نے یہ الفاظ لکھوا کرانگوٹھی آپ کو پیش کر دی ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت ایک شخص نے یہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے اتار لی تھی پھر اس سے والدہ صاحبہ نے واپس لے لی ۔حضر ت مسیح موعود کی وفات کے ایک عرصہ بعد والد ہ صاحبہ نے ان تینوںانگوٹھیوں کے متعلق ہم تینوںبھا ئیوںکے لئے قرعہ ڈالا ۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی انگوٹھی بڑے بھائی صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے نام نکلی ۔ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ (تذکرہ صفحہ۴۲۸حاشیہ مطبوعہ۲۰۰۴ئ)والی خاکسارکے نام اور ’’مولا بس‘‘ والی عزیزم میاںشریف احمدصاحب کے نام نکلی ۔ہمشیرگان کے حصّہ میںدو اور اسی قسم کے تبرک آئے ۔
    { 17} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا کہ ایک دفعہ میںکسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا ۔عدالت میں اور اورمقدمے ہوتے رہے اور میںباہر ایک درخت کے نیچے انتظار کر تا رہا۔چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھااس لئے میںنے وہیں نماز پڑھنا شروع کر دی ۔ مگر نماز کے دوران میں ہی عدالت سے مجھے آوازیں پڑنی شروع ہوگئیں مگر میں نماز پڑھتا رہا۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس عدالت کا بہرا کھڑا ہے ۔سلام پھیرتے ہی اس نے مجھے کہا مرزا صاحب مبارک ہو آپ مقدمہ جیت گئے ہیں۔
    { 18} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جوانی کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میںمجھ کو معلوم ہوا یا فرمایا اشارہ ہوا کہ اس راہ میں ترقی کر نے کے لئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں ۔فرماتے تھے پھر میں نے چھ ماہ لگا تار روزے رکھے اور گھر میںیا باہر کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ میںروزہ رکھتا ہوں ۔صبح کا کھانا جب گھرسے آتا تھاتو میں کسی حاجتمند کو دے دیتا تھا اورشام کا خود کھا لیتا تھا۔میںنے حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ آخرعمر میںبھی آپ نفلی روزے رکھتے تھے یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ آخر عمر میںبھی آپ روزے رکھا کر تے تھے خصوصًاشوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دعا کرنا ہوتی تھی تو آپ روزہ رکھتے تھے ہاںمگر آخری دو تین سالوں میں بوجہ ضعف و کمزوری رمضان کے روزے بھی نہیںرکھ سکتے تھے ۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب البریہ میں حضرت صاحب نے روزوں کا زمانہ آٹھ نو ماہ بیان کیا ہے)
    { 19} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیراوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو۱۸۸۸ء میںفوت ہوگیاتھا ) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا ۔رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آ یا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔پھر اس کے کچھ عرصہ بعدآپ ایک دفعہ نماز کیلئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خرا ب ہے ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے مخلص خادم تھے اب فوت ہو چکے ہیں ) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میںسمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاںکی طبیعت کا کیا حال ہے ۔شیخ حامدعلی نے کہا کہ کچھ خراب ہوگئی ہے ۔میںپردہ کر اکے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے میںجب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب اِفاقہ ہے ۔میں نماز پڑھا رہاتھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اُٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے پھر میںچیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے ۔ خاکسارنے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا ۔والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پائوںٹھنڈے ہو جاتے تھے اوربدن کے پٹھے کھچ جاتے تھے خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میںچکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے ۔شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی ۔خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی ؟ والدہ صاحبہ نے فرما یا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہو ا کرتے تھے ۔خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاںمگر پھر دوروںکے بعد چھوڑ دی ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ یہ مسیحیت کے دعویٰ سے پہلے کی بات ہے ۔
    (اس روایت میں جو حضرت مسیح موعود ؑکے دوران سر کے دوروں کے متعلق حضرت والدہ صا حبہ نے ہسٹیریا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سے وہ بیماری مراد نہیں ہے جو علم طب کی رو سے ہسٹیریا کہلاتی ہے۔ بلکہ یہ لفظ اس جگہ ایک غیر طبی رنگ میں دوران سر اور ہسٹیریا کی جزوی مشابہت کی و جہ سے استعمال کیا گیا ہے۔ ورنہ جیسے کہ حصہ دوم کی روایت نمبر۳۶۵ و ۳۶۹میں تشریح کی جا چکی ہے۔ حضرت مسیح موعود کو حقیقتًا ہسٹیریا نہیں تھا چنانچہ خود حضرت مسیح موعود نے جہاں کہیں بھی اپنی تحریرات میں اپنی اس بیماری کا ذکر کیا ہے ۔ وہاں اس کے متعلق کبھی بھی ہسٹیریا وغیرہ کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی علم طب کی رو سے دوران سر کی بیماری کسی صورت میں ہسٹیریا یا مراق کہلا سکتی ہے۔ بلکہ دوران سر کی بیماری کے لئے انگریزی میں غالباً ورٹیگو کا لفظ ہے جو غالباً سردرد ہی کی ایک قسم ہے جس میں سر میں چکر آتا ہے اور گردن وغیرہ کے پٹھوں میں کھچاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ اور اس حالت میں بیمار کے لئے چلنا یا کھڑے ہونا مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن ہوش و حواس پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ خاکسار راقم الحروف نے متعدد دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کو دورے کی حالت میں دیکھا ہے اور کبھی بھی ایسی حالت نہیں دیکھی۔ جس میں ہوش و حواس پر کوئی اثر پڑا ہو اور حضرت مسیح موعود کی یہ بیماری بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھی۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ مسیح موعود دو زرد چادروں (یعنی دو بیماریوں) میں لپٹا ہوا نازل ہو گا۔ دیکھو مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ بحوالہ مسلم وغیرہ۔ اور روایت میں جو یہ لفظ آتے ہیں کہ پہلے دورے کے وقت آپ نے کوئی کالی کالی چیز آسمان کی طرف اٹھتی دیکھی۔ سو دوران سر کے عارضہ میں یہ ایک عام بات ہے کہ سر کے چکر کی وجہ سے اردگرد کی چیزیں گھومتی ہوئی اوپر کو اٹھتی نظر آتی ہیں اور بوجہ اس کے کہ ایسے دورے کے وقت مریض کا میلان آنکھیں بند کر لینے کی طرف ہوتا ہے۔ عموماً یہ چیزیں سیاہ رنگ اختیار کر لیتی ہیں اور دورے میں غشی کی سی حالت ہو جانے سے جیسا کہ خود الفاظ بھی اسی حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ حقیقی غشی مراد نہیں بلکہ بوجہ زیادہ کمزوری کے آنکھیں نہ کھول سکنا یا بول نہ سکنا مراد ہے۔ واللہ اعلم) مزید بصیرت کے لئے روایات نمبر ۸۱ ، ۲۹۳ اور ۴۵۹ بھی ملاحظہ کی جائیں جن سے اس سوال پر مزید روشنی پڑتی ہے۔
    { 20} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی بیعت لدھیانہ میں لی تھی ۔پہلے دن چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی پھر جب آپ گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بیعت کی ۔سب سے پہلے مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب ) نے بیعت کی تھی ۔خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ نے کب بیعت کی ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا میرے متعلق مشہور ہے کہ میں نے بیعت سے تو قف کیا اور کئی سال بعد بیعت کی ۔یہ غلط ہے بلکہ میں کبھی بھی آپ سے الگ نہیں ہو ئی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور شروع سے ہی اپنے آپ کو بیعت میں سمجھا اور اپنے لئے باقاعدہ الگ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیحیّت اور مہدویّت کا دعویٰ نہ تھا بلکہ عام مجددانہ طریق پر آپ بیعت لیتے تھے ۔خاکسار نے والد ہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت مولوی صاحب کے علاوہ اور کس کس نے پہلے دن بیعت کی تھی ؟ والدہ صاحبہ نے میاں عبداللہ صاحب سنوری اور شیخ حامد علی صاحب کا نام لیا۔
    { 21} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعویٰ مسیحیت شائع کر نے لگے تو اس وقت آپ قادیان میں تھے آپ نے اس کے متعلق ابتدائی رسالے یہیں لکھے پھر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے اوروہاں سے دعویٰ شائع کیا ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا دعویٰ شائع کرنے سے پہلے آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں ایسی بات کا اعلان کر نے لگاہوںجس سے ملک میں مخالفت کا بہت شور پید اہوگا ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا اس اعلان پر بعض ابتدائی بیعت کرنے والوں کو بھی ٹھوکر لگ گئی ۔
    { 22} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں میر حامد شاہ صاحب کے مکان پر تھے اور سور ہے تھے میں نے آپ کی زبان پر ایک فقرہ جاری ہوتے سنا ۔میں نے سمجھا کہ الہام ہوا ہے پھر آپ بیدار ہوگئے تو میں نے کہا کہ آپ کو یہ الہام ہو ا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تم کو کیسے معلوم ہو ا؟ میں نے کہا مجھے آواز سنائی دی تھی ۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ الہام کے وقت آپ کی کیا حالت ہو تی تھی ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور ماتھے پر پسینہ آجاتا تھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑاپنے مکان کے چھوٹے صحن میں (یعنی جو والدہ صاحبہ کا موجود ہ صحن ہے ) ایک لکڑی کے تخت پر تشریف رکھتے تھے غالباً صبح یا شام کا وقت تھا آپ کو کچھ غنودگی ہو ئی تو آپ لیٹ گئے پھر آپ کے ہونٹوں سے کچھ آواز سنی گئی جس کو ہم سمجھ نہیں سکے پھر آپ بیدار ہو ئے تو فرما یا مجھے اس وقت یہ الہام ہوا ہے ۔مگر خاکسار کو وہ الہام یاد نہیںرہا ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ جب آپ کو الہام ہوتا تھا تو اس کے بعد آپ غنودگی سے فوراً بیدار ہو جاتے تھے اور اسے تحریر کر لیتے تھے ۔اوائل میں اپنی کسی عام کتاب پر نوٹ کر لیا کرتے تھے ۔پھر آپ نے ایک بڑے سائز کی کاپی بنوالی اس کے بعد ایک چھوٹی مگر ضخیم نوٹ بک بنوالی تھی ۔خاکسار نے پوچھا کہ اب وہ نوٹ بک کہا ں ہے ؟والدہ صاحبہ نے فرمایا تمہارے بھائی (بھائی سے مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ ہیں) کے پاس ہے اور خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بھی بیان کر تے تھے کہ میں نے ایک دفعہ حضرت صاحب کو الہام ہو تے دیکھا تھا۔
    { 23} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر کا کام آخری زمانہ میں ٹیڑھے نب سے کیا کرتے تھے اور بغیر خطوط کا سفید کاغذ استعمال فرماتے تھے ۔آپ کی عادت تھی کہ کاغذ لے کر اس کی دو جانب شکن ڈال لیتے تھے تا کہ دونوں طرف سفید حاشیہ رہے اور آپ کالی روشنائی سے بھی لکھ لیتے تھے اور بلیو، بلیک سے بھی اور مٹی کا اُپلہ سا بنوا کر اپنی دوات اس میں نصب کروا لیتے تھے تا کہ گرنے کا خطرہ نہ رہے ۔آپ بالعموم لکھتے ہوئے ٹہلتے بھی جاتے تھے یعنی ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھتے بھی اور دوات ایک جگہ رکھ دیتے تھے جب اس کے پاس سے گزرتے نب کو تر کر لیتے ۔اور لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تحریر کو پڑھتے بھی جاتے تھے اور آپ کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے طور پر پڑھتے تھے تو آپ کے ہونٹوں سے گنگنانے کی آواز آتی تھی اور سننے والا الفاظ صاف نہیں سمجھ سکتا تھا ۔خاکسار نے مرزا سلطان احمد صاحب کو پڑھتے سنا ہے ان کا طریق حضرت صاحب کے طریق سے بہت ملتا ہے ۔آپ کی تحریر پختہ مگر شکستہ ہو تی تھی ۔جس کو عادت نہ ہو وہ صاف نہیں پڑھ سکتا تھا ۔لکھے ہوئے کو کاٹ کر بدل بھی دیتے تھے ۔ چنانچہ آ پ کی تحریر میں کئی جگہ کٹے ہوئے حصّے نظر آتے تھے اور آپکا خط بہت باریک ہوتا تھا ۔چنانچہ نمونہ درج ذیل ہے ۔
    نقل خط علاوہ اسکے مجھے اپنی اولاد کے لئے یہ خیال ہے کہ ان کی شادیاں ایسی لڑکیوں سے ہو ں کہ انہوں نے دینی علوم اور کسی قدر عربی اور فارسی اور انگریزی میں تعلیم پائی ہو اور بڑے گھروں کے انتظام کرنے کے لئے عقل اور دماغ رکھتی ہوں سو یہ سب باتیں کہ علاوہ اور خوبیوں کے یہ خوبی بھی ہو ۔خداتعالیٰ کے اختیار میں ہیں پنجاب کے شریف خاندانوں میں لڑکیوں کی تعلیم کی طرف اس قدر توجہ کم ہے کہ وہ بیچاریاں وحشیوں کی طرح نشوونما پاتی ہیں ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت ایک خط سے لی گئی ہے جو حضرت مسیح موعود ؑنے ۱۸۹۹ء میں مرزا محمود بیگ صاحب پٹی کو لکھا تھا ۔
    { 24} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب تمہارے تایا (مرزا غلام قادر صاحب یعنی حضرت صاحب کے بڑے بھائی ) لاولد فوت ہوگئے تو تمہاری تائی حضرت صاحب کے پاس روئیں اور کہا کہ اپنے بھائی کی جائیداد سلطان احمد ؐ کے نام بطور متبنّٰے کے کرا دو وہ ویسے بھی اب تمہاری ہے اور اس طرح بھی تمہاری رہے گی ۔چنانچہ حضرت صاحب نے تمہارے تایا کی تمام جائداد مرزا سلطا ن احمد ؐ کے نام کر ا دی ۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے متبنّٰی کی صور ت کس طرح منظور فرمالی ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا یہ تو یونہی ایک بات تھی ورنہ وفات کے بعد متبنّٰے کیسا ۔مطلب تو یہ تھا کہ تمہاری تائی کی خوشی کے لئے حضرت نے تمہارے تایا کی جائداد مرزا سلطان احمد کے نام داخل خارج کرا دی اور اپنے نام نہیں کرائی ۔کیونکہ اس وقت کے حالات کے ماتحت حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ ویسے بھی مرزا سلطان احمد ؐ کوآپ کی جائیداد سے نصف حصہ جانا ہے اور باقی نصف مرزا فضل احمد ؐ کو۔پس آپ نے سمجھ لیا کہ گویا آپ نے اپنی زندگی میں ہی مرزا سلطان احمد ؐ کا حصہ الگ کر دیا ۔
    { 25} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب مرزا فضل احمد ؐ فوت ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ تمہاری اولاد کے ساتھ جائیداد کا حصہ بٹانے والا ایک فضل احمدؐ ہی تھا سو وہ بے چارہ بھی گزر گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کے دولڑکے تھے ایک حضرت صاحب جن کا نام مرزا غلام احمد ؐ تھا اور دوسرے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب جو حضرت صاحب سے بڑے تھے ۔ ہمارے دادا نے قادیان کی زمین میں دو گائوں آباد کر کے ان کو اپنے بیٹوں کے نام موسوم کیا تھا چنانچہ ایک کا نام قادرآباد رکھا اور دوسرے کااحمد آباد ۔احمد آباد بعد میں کسی طرح ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل گیا اور صرف قادر آباد رہ گیا ۔چنانچہ قادر آباد حضر ت صاحب کی اولاد میں تقسیم ہوا اور اسی میں مرزاسلطان احمد ؐ صاحب کا حصہ آیا لیکن خدا کی قدرت اب قریباً چالیس سال کے عرصہ کے بعد احمد آباد جو ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل کر غیر خاندان میں جا چکا تھا واپس ہمارے پاس آگیا ہے اور اب وہ کلیتہً صرف ہم تین بھائیوں کے پاس ہے یعنی مرزا سلطان احمد صاحب کا اس میں حصہ نہیں ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادرآباد قادیان سے مشرق کی جانب واقع ہے اور احمد آباد جانب شمال ہے ۔
    { 26} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا ہم سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے (جوخاکسار کے حقیقی ماموں ہیں ) کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں دعویٰ مسیحیت شائع کیا تو مَیں ان دنوں چھوٹا بچہ تھا اور شاید تیسری جماعت میں پڑھتا تھا ۔مجھے اس دعویٰ سے کچھ اطلاع نہیں تھی ۔ایک دن میں مدرسہ گیا تو بعض لڑکوں نے مجھے کہا کہ وہ جو قادیان کے مرزا صاحب تمہارے گھر میں ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوگئے ہیں اور یہ کہ آنے والے مسیح وہ خود ہیں ۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ میں نے ان کی تردید کی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے حضرت عیسیٰ تو زندہ ہیں اور آسمان سے نازل ہو ں گے ۔خیر جب میں گھر آیا تو حضرت صاحب بیٹھے ہوئے تھے ۔میں نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ آپ مسیح ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ میرایہ سوال سن کر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ اُٹھے اور کمرے کے اندر الماری سے ایک نسخہ کتاب فتح اسلام ( جو آپ کی جدید تصنیف تھی ) لا کر مجھے دے دیا اور فرمایا اسے پڑھو ۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے کہ آپ نے ایک چھوٹے بچے کے معمولی سوال پر اس قدر سنجیدگی سے توجہ فرمائی ورنہ یونہی کو ئی بات کہہ کر ٹال دیتے ۔
    { 27} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ میں حدیث میں یہ پڑھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال صحابہ برکت کے لئے رکھتے تھے اس خیال سے میں نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور مجھے اپنے کچھ بال عنایت فرماویں ۔چنانچہ جب آپ نے حجامت کرائی تو مجھے اپنے بال بھجوادئیے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے پاس بھی حضرت صاحب کے کچھ بال رکھے ہیں ۔
    { 28} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایک دفعہ جب مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اوّل) قادیان سے باہر گئے ہوئے تھے میں مغرب کی نماز میں آیا تو دیکھا کہ آگے حضرت مسیح موعود ؑ خود نماز پڑھا رہے تھے ۔قاضی صاحب نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے چھوٹی چھوٹی دو سورتیں پڑھیں مگر سوزو درد سے لوگوں کی چیخیں نکل رہی تھیں ۔جب آپ نے نماز ختم کرائی تو میں آگے ہوا مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا قاضی صاحب میں نے آپ کو بہت تلاش کیا مگر آپ کو نہیں پایا ۔مجھے اس نماز میں سخت تکلیف ہوئی ہے ۔عشاء کی نماز آپ پڑھائیں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہوگی ۔
    { 29} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جن دنوں میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کرم دین سے گورداسپور میں مقدمہ تھا اور آپ گورداسپور گئے ہوئے تھے ۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ سب لوگ کچہری میں چلے گئے یااِدھر اُدھرہو گئے اور حضرت صاحب کے پاس صرف مَیں اور مفتی صادق صاحب رہ گئے ۔حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سو رہے ہیں ۔اسی حالت میں آپ نے سر اُٹھایا او ر کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے لکھ لو۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت وہاںکوئی قلم دوات یا پنسل موجود نہ تھی آخر ہم باورچی خانہ سے ایک کوئلہ لائے اور اس سے مفتی صاحب نے کاغذ پر لکھا ۔ آپ پھر اسی طرح لیٹ گئے تھوڑی دیر کے بعد پھر آپ نے الہام لکھایا ۔غرض اسی طرح آپ نے اس وقت چند الہامات لکھائے ۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک الہام مجھے یاد ہے اور وہ یہ ہے ’’یسئلونک عن شانک قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون‘‘ ۔ یعنی تیری شان کے متعلق سوال کریں گے تو ان سے کہہ دے ’’اللہ ‘‘ پھر چھوڑ دے ان کو ان کی بیہودہ گوئی میں ۔دوسرے دن جب آپ عدالت میں پیش ہوئے تو وکیل مستغیث نے آپ سے منجملہ اور سوالات کے یہ سوال بھی کیا کہ یہ جو آپ نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں اپنے متعلق لکھا ہے اور اس نے اس کتاب سے ایک عبارت پڑھ کر سنائی جس میں آپ نے بڑے زور دار الفاظ میںاپنے علومرتبت کے متعلق فقرات لکھے ہیں۔ کیا آپ واقعی ایسی ہی اپنی شان سمجھتے ہیں ؟ حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ہاںیہ اللہ کا فضل ہے یا کوئی ایسا ہی کلمہ بولا جس میں اللہ کی طرف بات کو منسوب کیا تھا ۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو اس وقت خیال نہیں آیا کہ یہ سوال و جواب آپ کے الہام کے مطابق تھا ۔پھر جب آپ گورداسپور سے واپس قادیان آنے لگے تو میں نے راستہ میںموڑپر آکر آپ سے عرض کیا کہ حضور میرا خیال ہے کہ حضور کا وہ الہام اس سوال و جواب میں پورا ہوا ہے ۔حضرت صاحب بہت خوش ہوئے کہ ہاں واقعی یہی ہے آپ نے بہت ٹھیک سمجھا ہے ۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ اس کے چند دن بعد مجھے شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب ایک اور موقعہ پر بھی ذکر فرماتے تھے کہ مولوی شیر علی نے اس الہام کی تطبیق خوب سمجھی ہے اور خوشی کا اظہار فرماتے تھے ۔
    (اس روایت میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کا ذکر آتا ہے اس کے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی میں تحفہ گولڑویہ کی بجائے تریاق القلوب کا نام لکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سہو ہوا ہے اور درست یہی ہے کہ عدالت میں جس کتاب کے متعلق پوچھا گیا تھا وہ تحفہ گولڑویہ تھی نہ کہ تریاق القلوب۔ جیسا کہ حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۸۹میں مسل عدالت کے حوالہ سے ثابت کیا جا چکا ہے۔)
    { 30} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ ہر شخص کی خواب توجہ سے سنتے تھے اور بسا اوقات نوٹ بھی فرمالیتے تھے ۔چنانچہ ایک دفعہ جب مرزا کمال الدین وغیرہ نے مسجد کے نیچے کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کر دیا تھا اور احمدیوں کو سخت تکلیف کا سامنا تھا او ر آپ کو مجبورًاقانونی چارہ جوئی کر نی پڑی تھی۔ ( اس موقعہ کے علاوہ کبھی آپ نے کسی کے خلاف خود مقدمہ دائر نہیں کیا ) مَیں نے خواب دیکھا کہ وہ دیوار گرائی جارہی ہے اور مَیں اس کے گرے ہوئے حصے کے اوپر سے گذر رہا ہوں ۔ مَیں نے آپ کے پاس بیان کیا آپ نے بڑی توجہ سے سنا اور نوٹ کر لیا ۔اس وقت میں بالکل بچہ تھا ۔
    { 31} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن دنوں۱۹۰۵ء کا بڑا زلزلہ آیا تھا اور آپ باغ میں رہائش کے لئے چلے گئے تھے۔ مفتی محمد صادق صاحب کے لڑکے محمد منظور نے جواِن دنوں میں بالکل بچہ تھا خواب میں دیکھا کہ بہت سے بکرے ذبح کئے جارہے ہیں ۔ حضرت صاحب کو اس کی اطلاع پہنچی تو کئی بکرے منگوا کر صدقہ کروا دیئے اور حضرت صاحب کی اتبا ع میں اور اکثر لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا ۔میرا خیال ہے اس وقت باغ میں ایک سو سے زیادہ بکرا ذبح ہو ا ہو گا ۔
    { 32} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا تو میں بچہ تھا اور نواب محمد علی خان صاحب کے شہر والے مکان کے ساتھ ملحق حضرت صاحب کے مکان کا جو حصہ ہے اس میں ہم دوسرے بچوں کے ساتھ چارپائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے ،جب زلزلہ آیا تو ہم سب ڈر کر بے تحاشا اُٹھے اور ہم کو کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے ۔ صحن میں آئے تو اوپر سے کنکر روڑے برس رہے تھے ہم بھاگتے ہوئے بڑے مکان کی طرف آئے وہاں حضرت مسیح موعود ؑ اور والدہ صاحبہ کمرے سے نکل رہے تھے۔ ہم نے جاتے ہی حضرت مسیح موعودؑ کو پکڑ لیا اور آپ سے لپٹ گئے ۔آپ اس وقت گھبرائے ہو ئے تھے اور بڑے صحن کی طرف جانا چاہتے تھے مگر چاروں طرف بچے چمٹے ہوئے تھے اور والدہ صاحبہ بھی۔ کوئی اِدھر کھینچتا تھا توکوئی اُدھر اور آپ سب کے درمیان میں تھے آخر بڑی مشکل سے آپ اور آپ کے ساتھ چمٹے ہوئے ہم سب بڑے صحن میں پہنچے ۔اس و قت تک زلزلے کے دھکے بھی کمزور ہو چکے تھے ۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ہم کو لے کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے ۔دوسرے احباب بھی اپنا ڈیرا ڈنڈا اُٹھا کر باغ میں پہنچ گئے ۔وہاں حسب ضرورت کچھ کچے مکان بھی تیار کروا لئے گئے اور کچھ خیمے منگوالئے گئے اور پھر ہم سب ایک لمباعرصہ باغ میں مقیم رہے ۔ان دنوں میں مدرسہ بھی وہیں لگتا تھا ۔گویا باغ میں ایک شہر آباد ہو گیا تھا ۔ اللہ اللہ کیا زمانہ تھا ۔
    { 33} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ مَیں اوائل میں اس بات کا قائل تھا کہ سفر میںقصر نماز عام حالات میںجائز نہیں بلکہ صرف جنگ کی حالت میں فتنہ کے خوف کے وقت جائزہے اور اس معاملہ میں مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اوّل ) کے ساتھ بہت بحث کیا کرتا تھا ۔ قاضی صاحب نے بیان کیا کہ جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گورداسپورمیں مقدمہ تھا ایک دفعہ میں بھی وہاں گیا ۔حضرت صاحب کے ساتھ وہاں مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اوّل) اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے مگر ظہر کی نمازکا وقت آیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ قاضی صاحب آپ نماز پڑھائیں ۔میں نے دل میں پختہ ارادہ کیا کہ آج مجھے موقعہ ملا ہے میں قصر نہیں کروں گابلکہ پوری پڑھوں گا تا اس مسٔلہ کا کچھ فیصلہ ہو ۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کر کے ہاتھ اٹھائے کہ قصر نہیںکروں گا حضرت صاحب میرے پیچھے دائیں طرف کھڑے تھے ۔ آپ نے فوراً قدم آگے بڑھاکر میرے کان کے پاس منہ کرکے فرمایا قاضی صاحب دوہی پڑھیں گے نا؟ میں نے عرض کیا حضور دو ہی پڑھوں گا ۔بس اس وقت سے ہمارا مسٔلہ حل ہوگیا اور میں نے اپناخیال ترک کردیا ۔
    { 34} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ میرا ایک لڑکا جو پہلی بیوی سے تھا۔ فوت ہو گیا۔اس کی ماںنے بڑا جزع فزع کیااور اس کی والدہ یعنی بچے کی نانی نے بھی اسی قسم کی حرکت کی ۔ مَیں نے ان کو بہت روکا مگر نہ باز آئیں ،جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس لڑکے کا جنازہ پڑھنے آئے تو جنازہ کے بعد آپ کھڑے ہو گئے اور بہت دیر تک وعظ فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا قاضی صاحب اپنے گھر میں بھی میری یہ نصیحت پہنچا دیں ۔میں نے گھر آکربیوی کو حضرت صاحب کا وعظ سنایا پھر اس کے بعد اس کے دوتین لڑکے فوت ہوئے مگر اس نے سوائے آنسو گرانے کے کوئی اور حرکت نہیںکی ۔
    { 35} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے گورداسپور جاتے ہوئے بٹالہ ٹھہر ے وہاں کو ئی مہمان جو آپ کی تلاش میں قادیان سے ہوتا ہو ا بٹالہ واپس آیا تھا آپ کے پاس کچھ پھل بطور تحفہ لایا ۔ پھلوں میں انگور بھی تھے ۔آپ نے انگور کھائے اور فرمایا انگور میں ترشی ہوتی ہے مگر یہ ترشی نزلہ کے لئے مضر نہیں ہوتی ۔ پھر آپ نے فرمایا ابھی میرا دل انگو ر کو چاہتا تھا سو خدا نے بھیج دیئے ۔فرمایا کئی دفعہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جس چیز کو دل چاہتا ہے اللہ اسے مہیا کر دیتا ہے۔ پھر ایک دفعہ سنایا کہ مَیں ایک سفر میں جارہا تھا کہ میرے دل میں پونڈے گنّے کی خواہش پید اہوئی مگر وہاں راستہ میں کو ئی گنامیسر نہیں تھا مگر اللہ کی قدرت کہ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص ہم کو مل گیا جس کے پاس پونڈے تھے ،اس سے ہم کو پونڈے مل گئے ۔
    { 36} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا ۔کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے ۔پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا ۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے ۔مگر مرزافضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اورایک رنگ جاتا تھا ۔اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی اُدھر ۔کبھی اپنی پگڑی اُتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پائو ں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے ۔
    { 37} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمد ی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہوگئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمد ی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ا ن سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے ۔ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کر نا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا ۔میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں میں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا ۔مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔حضرت صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی ) طلاق دے دو ۔ مرزافضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آکر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ ادھر جا ملا ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ فضل احمد بہت شرمیلا تھا ۔حضرت صاحب کے سامنے آنکھ نہیں اُٹھاتا تھا ۔حضرت صاحب اس کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ فضل احمد سیدھی طبیعت کا ہے اور اس میں محبت کا مادہ ہے مگر دوسروں کے پھسلانے سے اُدھر جا ملا ہے۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرما یا کہ جب فضل احمد کی وفات کی خبر آئی تواس رات حضرت صاحب قریباً ساری رات نہیں سوئے اور دو تین دن تک مغموم سے رہے۔ خاکسار نے پوچھا کہ کیا حضرت صاحب نے کچھ فرمایا بھی تھا ؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ صرف اس قدر فرمایا تھا کہ ہمارا اس کے ساتھ تعلق تونہیں تھا مگر مخالف اس کی موت کو بھی اعتراض کا نشانہ بنا لیں گے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ محمدی بیگم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چچا زاد بہن عمرا لنسا ء کی لڑکی ہے یعنی مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ کی حقیقی بھانجی ہے ۔ہماری تائی یعنی بیوہ مرزا غلام قادر صاحب محمدی بیگم کی سگی خالہ ہیں گویا مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیارپوری جو محمد ی بیگم کا والد تھا مرزا امام الدین وغیرہ کا بہنوئی تھااس کے علاوہ اور بھی خاندانی رشتہ داریاں تھیں مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی حقیقی ہمشیرہ مرزا احمد بیگ کے بڑے بھائی مرزا غلام غوث صاحب کے ساتھ بیاہی گئی تھیں ۔یہ بہت پُرانی بات ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ تمام رشتہ دار پر لے درجہ کے بے دین اور لامذہب تھے اور اسلام سے ان کو کوئی واسطہ نہیں تھا بلکہ شریعت کی ہتک کرتے تھے ۔حضرت صاحب نے ان کی یہ حالت دیکھ کر خدا کی طرف توجہ کی کہ ان کے لئے کوئی نشان ظاہر ہو تا کہ ان کی اصلاح ہو یا کوئی فیصلہ ہو ۔اس پر خدا نے الہام فرمایا کہ احمدبیگ کی لڑکی محمد ی بیگم کے لئے سلسلہ جنبانی کر ۔اگر انہوں نے منظور کر لیا اور اس لڑکی کی تیرے ساتھ شادی کردی تو پھر یہ لوگ برکتوں سے حصہ پائیںگے ۔اگر انہوں نے انکار کیا تو پھر ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا ۔اور ان کے گھربیوائوں سے بھر جائیں گے اور خاص لڑکی کے والد کے متعلق فرمایا کہ وہ تین سال کے اند ر بلکہ بہت جلدی مر جائے گا اور جس شخص کے ساتھ لڑکی کا نکاح ہو گا وہ بھی اڑھائی سال کے اند ر مرجائے گا ۔ا ن دو مؤخر الذکر شخصوں کے متعلق جس طرح اللہ کا نشان پورا ہو ا وہ حضرت مسیح موعود کی کتب میں متعدد جگہ درج ہے یعنی احمد بیگ اپنی لڑکی کے نکاح کے صرف چند ماہ بعد پیشگوئی کے مطابق اس جہاں سے رخصت ہو ا اور مرزا سلطا ن محمدجس سے ان لوگوں نے محمدی بیگم کی شادی کروا دی تھی خدا کے عذاب سے خوف زدہ ہوا اور اس کے کئی رشتہ داروں کی طرف سے حضرت صاحب کے پاس عجزو نیاز کے خطوط آئے چنانچہ ان کا اپنا خط بھی جس میں انہوں نے حضرت صاحب کے متعلق عقیدت کا اظہار کیا ہے رسالہ تشحیذالاذہان میں چھپ چکا ہے اس لئے سنت اللہ کے مطابق ان سے وہ عذاب ٹل گیا ۔باقی رشتہ داروں کے متعلق عام پیشگوئی تھی اس کا یہ اثر ہو ا کہ ان کے گھر جو پیشگوئی کے وقت آدمیوں سے بھرے ہوئے تھے بالکل خالی ہو گئے ۔اور اب اس تما م خاندان میں سوائے ایک بچہ کے اور کوئی مرد نہیں اور وہ بچہ بھی احمدی ہوچکا ہے ۔اسکے علاوہ مرزا امام الدین کی لڑکی بھی عرصہ ہو ا احمدی ہو چکی ہے ۔پھر محمدی بیگم کی ماں یعنی بیوہ مرزااحمد بیگ اور مرزا احمد بیگ کا پوتا اور ہماری تائی یعنی محمدی بیگم کی خالہ سب سلسلہ بیعت میں داخل ہو چکے ہیں نیز محمدی بیگم کی سگی ہمشیرہ بھی احمدی ہو گئی تھی مگرا ب فوت ہو چکی ہے ان کے علاوہ اور کئی رشتہ دار بھی احمدی ہو چکے ہیں اورجو ابھی تک سلسلہ میںداخل نہیں ہو ئے وہ بھی مخالفت تر ک کر چکے ہیں ۔اورحضرت مسیح موعود کا یہ الہام کہ ہم اس گھر میں کچھ حسنی طریق پر داخل ہو نگے اور کچھ حسینی طریق پر ۔اپنی پوری شان میں پورا ہو ا ہے ۔
    { 38} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس حجرہ میں کھڑے تھے جو عزیزم میاں شریف احمد کے مکان کے ساتھ ملحق ہے ۔والدہ صاحبہ بھی غالباً پاس تھیں ۔میں نے کوئی بات کرتے ہوئے مرزا نظام الدین کا نام لیا تو صرف نظام الدین کہا حضرت مسیح موعودنے فرما یامیاں آخر وہ تمہارا چچا ہے اس طرح نام نہیں لیا کرتے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین اور مرزاکمال الدین حضرت مسیح موعود کے حقیقی چچا مرزا غلام محی الدین صاحب کے لڑکے تھے اور ان کی سگی بہن جو ہماری تائی ہیں ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب کے عقد میں آئی تھیں مگر باوجود ایسی قریبی رشتہ داری کے حضرت صاحب سے ان کوسخت مخالفت تھی جس کی بنیاد زیادہ تر دینی تھی ۔ یہ لوگ سخت دنیا دار اور بے دین تھے بلکہ مرزا امام الدین جو سر گروہ مخالفت تھا اسلام سے ٹھٹھا کیا کرتا تھا ۔ اس وجہ سے ہمارا ان کے ساتھ کبھی راہ ورسم نہیں ہوا۔ اسی بے تعلقی کے اثر کے نیچے میں نے صرف نظام الدین کا لفظ بول دیا تھا مگر حضرت صاحب کے اخلاق فاضلہ نے یہ بات گوارا نہ کی ۔
    { 39} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ میں نے سنا کہ مرزا امام الدین اپنے مکان میںکسی کومخاطب کر کے بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ بھئی (یعنی بھائی ) لوگ (حضرت صاحب کی طرف اشارہ تھا)دکانیں چلاکر نفع اٹھا رہے ہیںہم بھی کوئی دوکان چلاتے ہیں ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ پھرا س نے چوہڑوں کی پیری کا سلسلہ جاری کیا ۔والدہ صاحبہ نے فرما یا اصل اور بڑا مخالف مرزا اما م الدین ہی تھا اس کے مرنے کے بعد مرزا نظام الدین وغیرہ کی طرف سے ویسی مخالفت نہیں رہی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا امام الدین کی لڑکی جو مرزا سلطان احمد صاحب کے عقد میں ہیں اب ایک عرصہ سے احمدی ہو چکی ہیں۔
    { 40} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایک دفعہ خوا جہ کمال الدین صاحب سے میرا کوئی جھگڑا ہو گیا ۔خوا جہ صاحب نے مجھے کہا قاضی صاحب کیا آپ جانتے نہیں کہ حضرت صاحب میری کتنی عزت کرتے ہیں ؟ میں نے کہا ہاں میں جانتا ہوں کہ بہت عزت کر تے ہیں مگر میں آپ کو ایک بات سناتا ہوں اور وہ یہ کہ میں ایک دفعہ امرتسر سے قادیان آیا اورحضرت صاحب کو اطلاع دے کر حضور سے ملا ۔ قاضی صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت تک ہم لوگوں نے تہذیب نہیں سیکھی تھی ۔جب ملاقات کر نی ہوتی تھی حضرت صاحب کو اطلاع دے کر اندر سے بلا لیا کرتے تھے یا حضرت صاحب خود سن کر باہر آجاتے تھے بعد میں یہ بات نہیں رہی اور ہم نے سمجھ لیا کہ رسول کو اس طرح نہیں بلانا چاہئیے ۔خیر میں حضور سے ملا ۔آپ نے شیخ حامد علی کو بلا کر حکم دیا کہ قاضی صاحب کے واسطے چائے بنا کرلائو ۔مگر میں اس وقت بہت ڈر ا کہ کہیں یہ خاطر تو اضع اس طریق پر نہ ہو جس طرح منافقوں اور کمزور ایمان والوں کی کی جاتی ہے ۔اور میں نے بہت استغفار پڑھا ۔ یہ قصہ سنا کر میں نے خوا جہ صاحب سے کہا کہ خوا جہ صاحب آپ کی عزت بھی کہیں اسی طریق کی نہ ہو ۔چنانچہ میں آپ کو سناتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ کمزور ایمان والوں اور منافقوں کی بہت خاطر تواضع کیا کرتے تھے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے کچھ مال تقسیم کیا مگر ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جس کے متعلق سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ وہ میرے خیال میں مومن تھا اور ان لوگوںکی نسبت زیادہ حقدار تھا جن کو آپ نے مال دیا چنانچہ سعد نے اس کی طرف آپ کو توجہ دلائی مگر آپ خاموش رہے ۔پھر توجہ دلائی مگر آپ خاموش رہے ۔ سعد نے پھر تیسر ی دفعہ آپ کوتوجہ دلائی اس پر آپ نے فرمایا سعد تو ہم سے جھگڑا کرتا ہے ۔خدا کی قسم بات یہ ہے کہ بعض وقت میں کسی شخص کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ غیرا س کا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے مگر میں اسے اس لئے دیتاہوں کہ کہیں وہ منہ کے بل آگ میں نہ جا پڑے۔یعنی تالیف قلب کے طور پر دیتا ہوں کہ کہیں اسے ابتلا نہ آجاوے ۔قاضی صاحب نے بیان کیا کہ جس کے ایمان کی حالت مطمئن ہو اسے اس ظاہری عزت اور خاطر مدارات کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے ساتھ اور طریق پر معاملہ ہو تا ہے ۔
    {41} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’’ پھجے دی ماں ‘‘ کہاکرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے مباشرت ترک کردی تھی ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھو ں گا تو میں گنہگار ہوں گا اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تُم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا ۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی بس مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا حتّٰی کہ محمد ی بیگم کا سوال اُٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمد ی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کر ا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہی تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے ۲؍مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا اور جس کی سرخی تھی ’’ اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین ‘‘ اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطا ن احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہوگئے تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوںگے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا ۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی ۔ واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ پھّجے کی ماںبیمار ہے اور یہ تکلیف ہے ۔ آپ خاموش رہے ۔ میں نے دوسری دفعہ کہاتو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آئو مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیںکہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کر دیا کرتی تھی۔
    { 42} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے ان دنوں میںآپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا اور اس کا بیٹا جواب موجود ہے وہ نامرد ہے گویا اس کی اولاد آگے نہیںچلے گی (خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کر تا تھا)مگرابھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی ۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے ۔ اس کا لڑکا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اس بات کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی نامر د ہے ۔ حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق پر جواب دیتے رہے مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے غصّے کے لہجے میں فرمایا ۔’’ جب نبی ہتھیا رلگا کر باہر آجاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا ۔‘‘
    { 43} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے والد صاحب اوائل میں تعلیم کے لئے باہر گئے تو شائد دلّی کی بات ہے کہ وہ ایک مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے چونکہ زاد ختم ہوگیا تھا کئی وقت فاقے گذر گئے تھے آخر کسی نے ان کو طالب علم سمجھ کر ایک چپاتی دی جو بو جہ باسی ہو جانے کے خشک ہو کر نہایت سخت ہوچکی تھی ۔والد صاحب نے لے لی مگرابھی کھا ئی نہ تھی کہ آپ کا ساتھی جوقادیان کا کوئی شخص تھا اور اس پر بھی اسی طرح فاقہ تھا بولا ۔’’مرزا جی ساڈا وی دھیان رکھنا ‘‘ یعنی مرزا صاحب ہمارا بھی خیال رہے ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس پر والد صاحب نے وہ چپاتی اس کی طرف پھینک دی جو اس کے ناک کے اوپر لگی اور لگتے ہی وہاں سے ایک خون کی نالی بہہ نکلی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ ساتھی بھی قادیان کا کوئی مغل تھامگر حضرت خلیفۃا لمسیح الثانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہے کہ وہ کو ئی نائی یا مراثی تھا چنانچہ حضرت صاحب لطیفہ کے طور پر بیان فرماتے تھے کہ ان لوگوں کو ایسے موقعہ پر بھی ہنسی کی بات ہی سوجھتی ہے۔
    { 44} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہارے دادا نے قادیان کی جائیداد پر حقوق مالکانہ برقرار رکھوانے کے لئے شروع شروع میں بہت مقدمات کئے اور جتنا کشمیر کی ملازمت میں اور اس کے بعد روپیہ جمع کیا تھااور وہ قریباً ایک لاکھ تھا سب ان مقدمات پر صرف کر دیا ۔ والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس زمانے میں اتنے روپے سے سو گنے بڑی جائیداد خریدی جا سکتی تھی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادا صاحب کو یہ خیال تھا کہ خواہ کچھ ہوقا دیان اور علاقہ کے پرانے جدّی حقوق ہاتھ سے نہ جائیں اور ہم نے سنا ہے کہ دادا صاحب کہا کرتے تھے کہ قادیان کی ملکیت مجھے ایک ریاست سے اچھی ہے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادیان ہمارے بزرگوں کا آباد کیا ہو ا ہے جو آخر عہد بابری میں ہندوستان آئے تھے ۔قادیان اور کئی میل تک اس کے ارد گر د کے دیہات ہمارے آباء کے پاس بطور ریاست یا جاگیر کے تھے ۔رام گڑھی سکھوں کے زمانہ میں ہمارے خاندان کو بہت مصائب دیکھنے پڑے اور سخت تباہی آئی لیکن پھر را جہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے عہد میں ہماری جاگیر کا کچھ حصہ ہمارے آباء کو واپس مل گیا تھا۔لیکن پھر ابتداء سلطنت انگریزی میں پچھلے کئی حقوق ضبط ہو گئے اور کئی مقدمات کے بعد جن پر دادا صاحب کا زَرِ کثیر صرف ہوا صرف قادیان اوراس کے اندر مشمولہ دو دیہات پر حقوق مالکانہ اور قادیان کے قریب کے تین دیہات پر حقوق تعلقہ داری ہمارے خاندان کے لئے تسلیم کئے گئے ۔یہ حقوق اب تک قائم ہیںہاں درمیان میں بعض اپنے ہی رشتہ داروں کی مقدمہ بازی کی وجہ سے ہمارے تایا صاحب کے زمانہ میں قادیان کی جائداد کا بڑا حصہ مرزا اعظم بیگ لاہوری کے خاندان کے پاس چلا گیا تھا اور قریباً پینتیس سال تک اسی خاندان میں رہا لیکن اب حال میں وہ حصہ بھی خدا کے فضل سے ہم کو واپس آگیا ہے ۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیںکہ جب تمہارے تایا کے زمانہ میں قادیان کی جائداد کا بڑا حصہ مرزا اعظم بیگ کو چلا گیا تو تمہارے تایا کو سخت صدمہ ہو ا جس سے وہ بیمارہو گئے اور قریباً دو سال بعد اسی بیماری میں فوت ہوئے مگر باوجود خلاف ڈگری ہوجانے کے انہوں نے اپنی زندگی میں فریق مخالف کو قبضہ نہیں دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی مقدمہ اور وہی ڈگری ہے جس کا حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کو روکا تھا کہ مقابلہ نہ کریں اور حق تسلیم کر لیں کیونکہ آپ کو خدا نے بتایا تھا کہ مقدمہ کا انجام خلاف ہے مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ بھائی صاحب نے عذر کر دیا اور نہ مانا ۔پھر جب ڈگری ہو جانے کی خبر آئی تواس وقت حضرت صاحب اپنے حجرے میں تھے ۔تایا صاحب باہر سے کانپتے ہوئے ڈگری کا پرچہ ہاتھ میں لئے اندر آئے اور حضرت صاحب کے سامنے وہ کاغذ ڈال دیا اور کہا ۔ ’’ لے غلام احمدؐ جو تو کہندا سی اوہوای ہو گیا اے ‘‘ ۔ یعنی لو غلام احمدؐجو تم کہتے تھے وہی ہوگیا ہے اور پھر غش کھا کر گر گئے والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ پھر تایا صاحب کی وفات کے بعد حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد صاحب کو بلا کر فرمایا کہ قبضہ دے دو۔چنانچہ مرزا سلطان احمد صاحب نے ڈگری کے مطابق قبضہ دے دیا اور جائداد کا کچھ حصہ اونے پونے فروخت کرکے خرچے کا روپیہ بھی اد اکر دیا ۔
    (اس روایت میں جو خاکسار کی طرف سے یہ فقرہ درج ہوا ہے کہ ’’قادیان اور اس کے اندر مشمولہ دو دیہات پر حقوق مالکانہ … تسلیم کئے گئے ‘‘ یہ درست نہیں ہے بلکہ سہو قلم سے یہ الفاظ درج ہو گئے ہیں کیونکہ حق یہ ہے کہ قادیان کے مشمولہ دو گائوں جن کا نام قادر آبادا ور احمد آباد ہے وہ دونوں دادا صاحب نے سلطنت انگریزی کے قیام کے بعد آباد کئے تھے اس لئے الفاظ ’’اور اس کے اندر مشمولہ دو دیہات ‘‘حذف سمجھے جانے چاہئیں۔)
    { 45} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مرزا غلام مرتضٰی صاحب نے ۱۸۷۶ء ماہ جون یا حضرت صاحب کی ایک تحریر کے مطابق ۲۰؍اگست ۱۸۷۵ء میں وفات پائی اور آپ کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے ۔دادا صاحب کی عمر وفات کے وقت اسّی سے اوپر تھی اور تایا صاحب کی عمر پچپن سال کے لگ بھگ تھی ۔حضرت مسیح موعود کی تاریخ پیدائش کے متعلق اختلاف ہے ۔خود آپ کی اپنی تحریرات بھی اس بارے میں مختلف ہیں ۔دراصل وہ سکھوں کا زمانہ تھا اور پیدائشوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا ۔حضرت مسیح موعود نے بعض جگہ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء بیان کیا ہے مگر آپ کی اپنی ہی دوسری تحریرات سے اس کی تردید ہوتی ہے۔درحقیقت آپ نے خود اپنی عمر کے متعلق اپنے اندازوں کو غیر یقینی قراد دیا ہے ۔دیکھو براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ۱۹۳۔ (اور صحیح تاریخ ۱۸۳۶ء معلوم ہوئی ہے)
    (نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی ایک دوسری تحریر سے دادا صاحب کی وفات کی تاریخ جون ۱۸۷۴ء ثابت ہوتی ہے ۔ مگر جہاں تک میری تحقیق ہے ۱۸۷۵ء اور ۱۸۷۴ء ہر دو غلط ہیں اور جیسا کہ سرکاری کاغذات سے پتہ لگتا ہے صحیح تاریخ ۱۸۷۶ء ہے۔ مگر حضرت صاحب کو یاد نہیں رہا۔ واللہ اعلم)
    { 46} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود پانچ بہن بھائی تھے ۔ سب سے بڑی حضرت صاحب کی وہ ہمشیرہ تھیں جن کی شادی مرزا غلام غوث ہوشیار پوری کے ساتھ ہوئی تھی ۔ حضرت صاحب کی یہ ہمشیرہ صاحب رویاء و کشف تھیں ان کا نام مراد بی بی تھا ۔ان سے چھوٹے مرزا غلام قادر صاحب تھے ۔ان سے چھوٹا ایک لڑکا تھا جو بچپن میں فوت ہو گیا ۔اس سے چھوٹی حضرت صاحب کی وہ ہمشیرہ تھیں جو آپ کے ساتھ توام پیدا ہوئی اور جلد فوت ہو گئی اس کا نام جنت تھا سب سے چھوٹے حضرت مسیح موعود تھے ۔ والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہماری بڑی ہمشیرہ کو ایک دفعہ کسی بزرگ نے خواب میں ایک تعویذ دیا تھا ۔بیدار ہوئیں تو ہاتھ میں بھوج پتر پر لکھی ہوئی سورۃ مریم تھی ۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ بھوج پتر دیکھا ہے جو اب تک ہماری بڑی بھاوج صاحبہ یعنی والدہ مرزا رشید احمد صاحب کے پاس محفوظ ہے)
    { 47} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یوں تو الہامات کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہو چکا تھا لیکن وہ الہام جس میں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے صریح طور پر مامور کیا گیا مارچ۱۸۸۲ ء میں ہواجب کہ آپ براہین احمدیہ حصہ سوئم تحریر فرما رہے تھے (دیکھو براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ۲۳۸)لیکن اس وقت آپ نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا بلکہ اس کے لئے مزید حکم تک توقف کیا چنانچہ جب فرمان الٰہی نازل ہوا تو آپ نے بیعت کے لئے دسمبر ۱۸۸۸ء میں اعلان فرمایا اور بذریعہ اشتہار لوگوں کو دعوت دی اور شروع ۱۸۸۹ء میں بیعت لینا شروع فرما دی لیکن اس وقت تک بھی آپ کو صرف مجدّد و مامور ہونے کا دعویٰ تھا او رگو شروع دعویٰ ماموریت سے ہی آپ کے الہامات میں آپ کے مسیح موعود ہو نے کی طرف صریح اشارات تھے لیکن قدرت الٰہی کہ ایک مدت تک آپ نے مسیح موعود ہو نے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف یہ فرماتے رہے کہ مجھے اصلاح خلق کے لئے مسیح ناصری کے رنگ میں قائم کیا گیا ہے اور مجھے مسیح سے مماثلت ہے ۔اس کے بعد شروع ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی موت کے عقیدہ کا اعلان فرمایا اور یہ دعویٰ فرمایاکہ جس مسیح کااس امت کے لئے وعدہ تھا وہ مَیں ہوں ۔آپ کی عام مخالفت کا اصل سلسلہ اسی دعویٰ سے شروع ہوتا ہے ۔ آپ کے نبی اور رسول ہونے کے متعلق بھی ابتدائی الہامات میں صریح اشارے پائے جاتے ہیں مگر اس دعویٰ سے بھی مشیت ایزدی نے آپ کو روکے رکھا حتّٰی کہ بیسویں صدی کا ظہور ہو گیا تب جا کر آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ صراحتًا استعمال فرمانے شروع کئے ۔اور خاص طور پر مثیل کرشن علیہ السلام ہونے کا دعویٰ توآپ نے اس کے بھی بہت بعد یعنی۱۹۰۴ء میں شائع کیا ۔اور یہ سب کچھ خدائی تصرف کے ماتحت ہو ا آپ کا اس میں ذرہ دخل نہیں تھا ۔آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی میں بھی یہی تدریجی ظہور نظر آتا ہے اور اس میں کئی حکمتیں ہیں جن کے بیان کی اس جگہ گنجائش نہیں ۔
    { 48} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کے دادا یعنی مرزا گُل محمد صاحب بڑے پارسا اور متقی اور علم دوست آدمی تھے ۔ان کے زمانہ میں قادیان باعمل علماء کا ایک مرکز تھا ۔مگر ان کے زمانہ میں سکھوںکی طرف سے ہماری جدّی ریاست پر حملے شروع ہو گئے تھے اور کئی گائوں چھن بھی گئے تھے مگر انہوں نے بڑا حصہ جاگیر کا بچا ئے رکھا ان کی وفات کے بعدجو غالباً ۱۸۰۰ء میں واقع ہوئی ان کے لڑکے مرزا عطا محمد صاحب خاندان کے رئیس ہوئے ا ن کے زمانہ میںرام گڑھی سکھوں نے ساری ریاست چھین لی اور ا ن کو قادیان میں جو ان دنوںمیں فصیل سے محفوظ تھا محصور ہونا پڑا ۔ آخر سکھوں نے دھوکے سے شہر پر قبضہ پالیا اور ہمارے کتب خانے کو جلا دیا اور مرزا عطا محمد صاحب کو مع اپنے عزیزوں کے قادیان سے نکل جاناپڑا ۔چنانچہ مرزا عطا محمد صاحب بیگو وال ریاست کپورتھلہ میں چلے گئے جہاں کے سکھ رئیس نے ان کو بڑی عزت سے جگہ دی اور مہمان رکھا ۔چند سال کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کو دشمنوں نے زہر دلوا دیا اور وہ فوت ہوگئے اس وقت ہمارے دادا صاحب کی عمر چھوٹی تھی مگر والدہ صاحبہ بیان کر تی ہیں کہ باوجود اس کے وہ اپنے والد صاحب کا جنازہ قادیان لائے تاخاندانی مقبرہ میں دفن کریں ۔یہاں کے سکھوں نے مزاحمت کی لیکن قادیان کی عام پبلک خصوصاً کمیں لوگوں نے دادا صاحب کا ساتھ دیا اور حالت یہاں تک پہنچی کہ سکھوں کو خوف پیدا ہو ا کہ بغاوت نہ ہو جاوے اس لئے انہوں نے اجازت دے دی ۔ اس کے بعد دادا صاحب واپس چلے گئے ۔اس زمانہ میں سکھوں نے ہماری تمام جائداد اور مکانات پر قبضہ کیا ہو اتھا اور بعض مسجدوںکو بھی دھرم سالہ بنالیا تھا ۔پھر را جہ رنجیت سنگھ کے عہد میں رام گڑھیوں کا زور ٹوٹ گیا اور سارا ملک را جہ رنجیت سنگھ کے ماتحت آگیا ۔اس وقت دادا صاحب نے را جہ سے اپنی جدّی جائداد کا کچھ حصہ واپس حاصل کیا اور قادیان واپس آگئے اس کے بعد دادا صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی مرزا غلام محی الدین صاحب نے مہارا جہ رنجیت سنگھ کے ماتحت کئی فوجی خدمات انجام دیں ۔چنانچہ یہ سب باتیں کتاب پنجاب چیفس مصنفہ سرلیپل گریفن میں مفصل درج ہیں ۔سکھ حکومت کے اختتا م پر پھر ملک میں بد امنی پھیلی اور ہمارے خاندان کو پھر مصائب کا سامنا ہوا چنانچہ ہمارے دادا صاحب اور ان کے بھائی مرزا غلام محی الدین صاحب کے قلعہ بسراواں میں قید کئے جانے کا واقعہ غالبًا اسی زمانہ کا ہے ۔اس کے بعد انگریز آئے تو انہوں نے ہماری خاندانی جاگیر ضبط کر لی ۔اور صرف سات سو روپیہ سالانہ کی ایک اعزازی پنشن نقدی کی صورت میں مقرر کر دی جو ہمارے دادا صاحب کی وفات پر صرف ایک سو اسّی رہ گئی اور پھر تایا صاحب کے بعد بالکل بند ہوگئی ،علاوہ ازیں ان تغیرات عظیمہ یعنی سکھوں کے آخر عہد کی بدامنی اور پھر سلطنت کی تبدیلی کے نتیجہ میں قادیان اور اس کے گرد و نواح کے متعلق ہمارے حقوق مالکانہ کے بارے میں بھی کئی سوال اور تنازعات پیداہوگئے چنانچہ اس زمانہ میں بعض دیہات کے متعلق ہمارے حقوق بالکل تلف ہو گئے اور صرف قادیا ن اور چند ملحقہ دیہات کے متعلق دادا صاحب نے زَرِ کثیر صرف کرکے کچھ حقوق واپس لئے ۔سناگیا ہے کہ مقدمات سے پہلے دادا صاحب نے تمام رشتہ داروں سے کہا کہ میں مقدمہ کر نا چاہتا ہوں اگر تم نے ساتھ شامل ہونا ہے تو ہو جائو لیکن چونکہ کامیابی کی امید کم تھی اس لئے سب نے انکار کیا اور کہا کہ آپ ہی مقدمہ کریں اور اگر کچھ ملتا ہے تو آپ ہی لے لیں ۔لیکن جب کچھ حقوق مل گئے تودادا صاحب کے مختار کی سادگی سے تمام رشتہ داروں کا نام خانہ ملکیت میں درج ہو گیا مگر قبضہ صرف دادا صاحب کا رہا اور باقیوں کو صرف آمد سے کچھ حصہ مل جاتا تھا ۔ہمارے خاندان کا ۱۸۶۵ء کے قریب کا شجرہ درج ذیل ہے ۔

    جن اسماء کے گرد چوکور خطوط دکھائے گئے ہیں وہ ان لوگوں کے نام ہیں جو۱۸۶۵ء میں قادیان میں حصہ دار درج تھے ۔قادیان کی کل ملکیت پانچ حصوں میںتقسیم کی گئی تھی ۔دو حصے اولاد مرزا تصدق جیلانی کو آئے تھے اور دو حصے اولاد مرزا گُل محمد صاحب کو اور ایک حصہ خاص مرزا غلام مرتضٰی صاحب کو بحیثیت منصرم کے آیا تھا جو بعد میں صرف ان کی اولاد میں تقسیم ہو ا۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کی وفات کے بعد غیر قابض شرکاء نے مرزا امام الدین وغیرہ کی فتنہ پردازی سے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب پر دخل یابی جائیدادکا دعوٰی دائر کر دیا اور با لآخر چیف کورٹ سے تا یا صاحب کے خلاف فیصلہ ہوا ۔اس کے بعد پسر ان مرزا تصدق جیلانی اور مرزا غلام غوث ولد مرزا قاسم بیگ کا حصہ تو اس سمجھوتے کے مطابق جو پہلے سے ہو چکا تھا مرزا ا عظم بیگ لاہوری نے خرید لیا جس نے مقدمہ کا سارا خرچ اسی غرض سے برداشت کیا تھا اور پسران غلام محی الدین صاحب اپنے اپنے حصہ پر خود قابض ہوگئے ۔مرزاغلام حسین کی چونکہ نسل نہیں چلی اس لئے ان کا حصہ پسران مرزا غلام مرتضٰی صاحب و پسران مرزا غلام محی الدین کو آگیا۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت مرزا تصدق جیلانی اور مرزا قاسم بیگ کی تمام شاخ معدوم ہو چکی ہے ۔ علی ھذا القیاس مرزا غلام حیدر کی بھی شاخ معدوم ہے ۔ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب اور مرزا امام الدین اور مرزا کمال الدین بھی لا ولد فوت ہوئے ۔ہاں مرزا نظام الدین کا ایک لڑکا مرزا گُل محمد موجود ہے مگر وہ احمدی ہو کر حضرت صاحب کی روحانی اولاد میں داخل ہو چکاہے ۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ’’ یَنْقَطِعُ اٰ بَاؤُکَ وَیُبْدَئُ مِنْکَ‘‘َ(تذکرہ صفحہ ۳۹۷مطبوعہ۲۰۰۴ئ) اور یہ الہام اس وقت کا ہے جب آپ کے شجرہ خاندانی کی یہ تمام شاخیں سر سبز تھیں۔
    { 49} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میںحضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا ۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کربجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا ۔اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا ۔پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلاگیا ۔حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیںآئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا ء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخوا ہ پر ملازم ہو گئے اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے ۔پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آجائو جس پر حضرت صاحب فوراً روانہ ہوگئے ۔امرتسر پہنچ کر قادیان آنے کے واسطے یکہ کرایہ پر لیا ۔اس موقعہ پر قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کے لینے کے لئے امرتسر پہنچ گیا ۔اس آدمی نے کہا یکہ جلدی چلائو کیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی ۔پھر تھوڑی دیر کے بعدکہنے لگا بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہو گئی ہوں۔والدہ صاحبہ بیان کر تی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں اسی وقت سمجھ گیا کہ دراصل والدہ فوت ہوچکی ہیں کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو وہ شخص ایسے الفاظ نہ بولتا ۔چنانچہ قادیان پہنچے تو پتہ لگا کہ واقعی وہ فوت ہو چکی تھیں ۔والدہ صاحبہ بیان کر تی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین اِدھر اُدھر پھر تا رہا ۔آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچالیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے۔
    (اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ میں ملازم ہونا اس وجہ سے تھا کہ آپ سے مرزا امام الدین نے دادا صاحب کی پنشن کا روپیہ دھوکا دے کر اڑا لیا تھا کیونکہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیفات میں تصریح کی ہے آپ کی ملازمت اختیار کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کے والد صاحب ملازمت کے لئے زور دیتے رہتے تھے ورنہ آپ کی اپنی رائے ملازمت کے خلاف تھی اسی طرح ملازمت چھوڑ دینے کی بھی اصل وجہ یہی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملازمت کو ناپسند فرماتے تھے اور اپنے والد صاحب کو ملازمت ترک کر دینے کی اجازت کے لئے لکھتے رہتے تھے لیکن دادا صاحب ترک ملازمت کی اجازت نہیں دیتے تھے مگر بالآخر جب دادی صاحبہ بیمار ہوئیں تو دادا صاحب نے اجازت بھجوا دی کہ ملازمت چھوڑ کر آجائو۔ )
    { 50} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے ۔ دادا صاحب نہایت ماہر اور مشہور حاذق طبیب تھے۔تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی ۔حضرت مسیح موعود ؑ بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے جس سے بیماروں کو دوا دیتے تھے۔ مرزا سلطان احمدصاحب نے بھی طب پڑھی تھی ۔ اور خاکسار سے حضرت خلیفہ ثانی نے ایک دفعہ بیان کیاتھا کہ مجھے بھی حضرت مسیح موعود ؑنے علم طب کے پڑھنے کے متعلق تاکید فرمائی تھی ۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ باوجود اس بات کے کہ علم طب ہمارے خاندان کی خصوصیت رہا ہے ۔ہمارے خاندان میں سے کبھی کسی نے اس علم کو اپنے روزگار کا ذریعہ نہیں بنایااور نہ ہی علاج کے بدلے میں کسی سے کبھی کچھ معاوضہ لیا ۔
    { 51} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والد ہ کیساتھ بچپن میںکئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سر کنڈے سے ذبح کر لیتے تھے ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیںتو انہوں نے باتوںباتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گائوںمیں چڑیاںپکڑا کرتا تھا۔والدہ صاحبہ نے فرمایاکہ میں نہ سمجھ سکی کہ سندھی سے کون مراد ہے ۔آخر معلوم ہو ا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے کہ کسی منت ماننے کے نتیجہ میں بعض لوگ خصوصاً عورتیںاپنے کسی بچے کا عرف سندھی رکھ دیتے ہیں چنانچہ اسی وجہ سے آپ کی والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بھی بچپن میںکبھی اس لفظ سے پکارلیتی تھیں ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ سندھی غالباً دسوندھی یا د سبندھی سے بگڑاہو اہے جو ایسے بچے کو کہتے ہیں جس پر کسی منت کے نتیجہ میںدس دفعہ کو ئی چیز باندھی جاوے اور بعض دفعہ منت کوئی نہیں ہوتی بلکہ یونہی پیارسے عورتیںاپنے کسی بچے پر یہ رسم اداکرکے اسے سندھی پکارنے لگ جاتی ہیں ۔
    (اس روایت میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ بچپن میں کبھی کبھی شکار کی ہوئی چڑیا کو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے اس کے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جگہ سرکنڈے سے پورا گول سرکنڈا مراد نہیں ہے بلکہ سرکنڈے کا کٹا ہوا ٹکڑا مراد ہے۔ جو بعض اوقات اتنا تیز ہوتا ہے کہ معمولی چاقو کی تیزی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ چنانچہ خود خاکسار راقم الحروف کو کئی دفعہ بچپن میں سرکنڈے سے اپنے ہاتھوں کو زخمی کرنے کا اتفاق ہوا ہے اور پھر ایک چڑیا جیسے جانور کا چمڑا تو اس قدر نرم ہوتا ہے کہ ذرا سے اشارے سے کٹ جاتا ہے۔
    دوسری بات جو اس روایت میں قابل نوٹ ہے وہ لفظ سندھی سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی یہ کہ اس لفظ سے کیا مراد ہے اور وہ عورتیں کون تھیں جنہوں نے حضرت والدہ صاحبہ کے سامنے حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ۔سو روایت کرنے والی عورتوں کے متعلق میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا ہے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون عورتیں تھیں۔ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ وہ باہر سے قادیان آئی تھیں۔ اور ایمہ ضلع ہوشیار پور سے اپنا آنا بیان کرتی تھیں۔ اس کے سوا مجھے ان کے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔ لفظ سندھی کے متعلق خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس لفظ کے متعلق مزید تحقیق کی ہے یہ لفظ ہندی الاصل ہے جس کے معنی مناسب وقت یا صلح یا جوڑ کے ہیں۔ پس اگر یہ روایت درست ہے تو بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس لفظ کے کبھی کبھی استعمال ہونے میں خدا کی طرف سے یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ شخص ہے جو عین وقت پر آنے والا ہے یا یہ کہ یہی وہ شخص ہے جو خدا کی طرف سے صلح اور امن کا پیغام لے کر آئے گا۔ (دیکھو حدیث یضع الحرب) یا یہ کہ یہ شخص لوگوں کو خدا کے ساتھ ملانے والا ہو گا۔ یا یہ کہ یہ خود اپنی پیدائش میں جوڑا یعنی توام پیدا ہونے والا ہو گا (مسیح موعود کے متعلق یہ بھی پیشگوئی تھی کہ وہ جوڑا پیدا ہو گا) پس اگر یہ روایت درست ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ انہیں اشارات کی غرض سے ہے۔ واللہ اعلم
    باقی رہا کسی معاند کا یہ مذاق اڑانا کہ گویا حضرت مسیح موعود ؑ کا نام ہی سندھی تھا۔ سو اصولاً اس کا یہ جواب ہے کہ جب تک کسی نام میں کوئی بات خلاف مذہب یا خلاف اخلاق نہیں ہے اس پر کوئی شریف زادہ اعتراض نہیں کر سکتا۔ گزشتہ انبیاء کے جو نام ہیں ۔ وہ بھی آخر کسی نہ کسی زبان کے لفظ ہیں۔ اور کم از کم بعض ناموں کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کے کیا کیا معنی ہیں۔ پھر اگر بالفرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی ہندی الاصل نام پا لیا۔ تو اس میں حرج کونسا ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بالکل بے بنیاد اور سراسر افترا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام سندھی تھا۔ اور اگر کسی مخالف یا معاند کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے تو وہ مرد میدان بن کر سامنے آئے اور اسے پیش کرے ورنہ اس خدائی وعید سے ڈرے۔ جو مفتریوں کے لئے *** کی صورت میں مقرر ہے۔ حقیقت یہ ہے جسے ساری دنیا جانتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام مرزا غلام احمد تھا۔ چنانچہ (۱) یہی نام آپ کے والدین نے رکھا اور (۲) اسی نام سے آپ کے والد صاحب آپ کو ہمیشہ پکارتے تھے اور (۳)اسی نام سے سب دوست و دشمن آپ کو یاد کرتے تھے اور (۴)میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ کی ملازمت (از۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء ) کے بعض سرکاری کاغذات دیکھے ہیں۔ جو اب تک محفوظ ہیں ان میں بھی یہی نام درج ہے اور (۵) اسی نام کی بناء پر دادا صاحب نے اپنے ایک آباد کردہ گائوں کا نام احمد آباد رکھا اور (۶) دادا صاحب کی وفات کے بعد جو حضرت صاحب کے دعویٰ مسیحیت سے چودہ سال پہلے ۱۸۷۶ء میں ہوئی۔ جب کاغذات مال میں ہمارے تایا اور حضرت صاحب کے نام جائداد کا انتقال درج ہوا۔ تو اس میں بھی غلام احمد نام ہی درج ہوا اور (۷) کتاب پنجاب چیفس میں بھی جو حکومت کی طرف سے شائع شدہ ہے یہی نام لکھا ہے اور (۸)دوسرے بھی سارے سرکاری کاغذات اور دستاویزات میں یہی نام درج ہوتا رہا ہے اور (۹)دوسرے عزیزوں اور قرابت داروں کے ناموں کا قیاس بھی اسی نام کا مؤیدہے اور (۱۰) خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ہمیشہ اپنے خطوط اور تحریرات اور تصانیف وغیرہ میں … یہی نام استعمال کیا اور (۱۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر عدالت ہائے انگریزی میں جتنے مقدمات ہوئے ان سب میں حکام اور مخالفین ہر دو کی طرف سے یہی نام استعمال ہوتا رہا اور (۱۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ سے پہلے جب اول المکفرین مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تو انہوں نے اس میں بھی یہی نام لکھا اور (۱۳) اشد المعاندین مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنی جملہ مخالفانہ تصنیفات میں ہمیشہ یہی نام استعمال کیا اور (۱۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جن بیسیوں ہندو ،سکھ ،عیسائی ،مسلمان اخباروں نے آپ کے متعلق نوٹ لکھے انہوں نے بھی اسی نام سے آپ کا ذکر کیا۔ اگر باوجود اس عظیم الشان شہادت کے کسی معاند کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام غلام احمد نہیں تھا۔ بلکہ سندھی یا کچھ اور تھا۔ تو اس کا ہمارے پاس اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ *** اللہ علی الکاذبین) اسی ضمن میں روایات نمبر ۲۵ ، ۴۴ ،۹۸ ،۱۲۹،۱۳۴،۴۱۲ اور ۴۳۸ بھی قابل ملاحظہ ہیں جن سے اس بحث پر مزید روشنی پڑتی ہے۔
    { 52} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کالہواں نے کہ میں بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا جایاکرتا تھا ۔ایک دفعہ مجھے بڑے مرزا صاحب نے کہا کہ جائو غلام احمدکو بلالائو ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میںآیا ہے اس کا منشاء ہو توکسی اچھے عہدہ پر نوکر کرا دوں ۔جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میںمرزا صاحب کے پاس گیا تو دیکھاچاروںطرف کتابوںکا ڈھیر لگا کر اس کے اند ر بیٹھے ہو ئے کچھ مطالعہ کررہے ہیں ۔میں نے بڑے مرزا صاحب کا پیغام پہنچا دیا ۔مرزا صاحب آئے اور جواب دیا ’’ میں تو نوکر ہو گیا ہوں‘‘بڑے مرزا صاحب کہنے لگے کہ اچھا کیا واقعی نوکر ہوگئے ہو ؟مرزا صاحب نے کہا ہاں ہو گیاہوں۔اس پر بڑے مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر نوکر ہو گئے ہوتو خیر ہے ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ کالہواں قادیان سے جنوب کی طرف دو میل کے فاصلہ پرا یک گائوں ہے او ر نوکر ہونے سے مراد خدا کی نوکری ہے۔نیز خاکسار عرض کرتاہے کہ جھنڈاسنگھ کئی دفعہ یہ روایت بیان کر چکا ہے اوروہ قادیان کی موجودہ ترقی کو دیکھ کرحضرت مسیح موعود ؑ کا بہت ذکر کیا کرتا ہے اور آپ سے بہت محبت رکھتا ہے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کو بوجہ خاندان میں سب سے بڑا اور معزز ہونے کے عام طور پر لوگ بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے چنانچہ خود حضرت مسیح موعود ؑ بھی عمومًا ان کے متعلق یہی الفاظ فرماتے تھے ۔
    { 53} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ؑصدقہ بہت دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے تھے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا ۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کتنا صدقہ دیا کرتے تھے ؟والدہ صاحبہ نے فرمایا بہت دیاکرتے تھے۔اور آخری ایام میں جتناروپیہ آتا تھا اس کا دسواں حصہ صدقے کے لئے الگ کردیتے تھے اور اس میں سے دیتے رہتے تھے۔والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ اس سے یہ مراد نہیںکہ دسویں حصہ سے زیادہ نہیںدیتے تھے بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات اخراجات کی زیادت ہوتی ہے تو آدمی صدقہ میںکوتاہی کرتا ہے لیکن اگر صدقہ کا روپیہ پہلے سے الگ کر دیاجاوے تو پھر کوتاہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ روپیہ پھر دوسرے مصرف میںنہیںآسکتا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا اسی غرض سے آپ دسواں حصہ تما م آمد کا الگ کر دیتے تھے ورنہ ویسے دینے کو تو اس سے زیادہ بھی دیتے تھے ۔خاکسار نے عرض کیا کہ کیا آپ صدقہ دینے میں احمدی غیر احمدی کا لحاظ رکھتے تھے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا نہیںبلکہ ہر حاجت مند کو دیتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میںقادیان میں ایسے احمدی حاجت مند بھی کم ہی ہوتے تھے ۔
    { 54} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ؑ جب کسی سے قرضہ لیتے تھے تو واپس کرتے ہوئے کچھ زیادہ دے دیتے تھے ۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی مثال یاد ہے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس وقت مثال تو یاد نہیں مگر آپ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا فرمایا ہے ۔اور والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب کو ئی نیکی کی بات نہیں بیان فرماتے تھے جب تک کہ خود اس پر عمل نہ ہو ۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا حضرت مسیح موعود ؑ نے کبھی کسی کو قرض بھی دیا ہے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں کئی دفعہ دیا ہے ۔چنانچہ ایک دفعہ مولوی صاحب (خلیفہ اول )اور حکیم فضل الدین صاحب بھیروی نے آپ سے قرض لیا ۔مولوی صاحب نے جب قرض کا روپیہ واپس بھیجا تو آپ نے واپس فرما دیا اور کہلا بھیجا کہ کیا آپ ہمارے روپے کو اپنے روپے سے الگ سمجھتے ہیں ۔مولوی صاحب نے اسی وقت حکیم فضل الدین صاحب کو کہلا بھیجا کہ میں یہ غلطی کر کے جھاڑ کھا چکا ہوں ۔دیکھنا تم روپیہ واپس نہ بھیجنا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ مولوی صاحب نے یہ بھی حکیم صاحب کو کہا تھاکہ اگر ضرور واپس دینا ہوا تو کسی او ر طرح دے دینا ۔
    { 55} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ آخری ایام میں حضرت مسیح موعود نے میرے سامنے حج کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔چنانچہ میں نے آپکی وفات کے بعد آپ کی طرف سے حج کروا دیا ۔ (حضرت والدہ صاحبہ نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو بھیج کر حضرت صاحب کی طرف سے حج بدل کروایا تھا) اور حافظ صاحب کے سارے اخراجات والدہ صاحبہ نے خود برداشت کئے تھے۔ حافظ صاحب پرانے صحابی تھے اور اب عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔
    { 56} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کھانوں میں سے پرندہ کا گوشت زیادہ پسند فرماتے تھے ۔شروع شروع میں بٹیر بھی کھا تے تھے لیکن جب طاعون کا سلسلہ شروع ہو ا تو آپ نے اس کاگوشت کھانا چھوڑدیا کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے ۔ مچھلی کا گوشت بھی حضرت صاحب کو پسند تھا۔ناشتہ باقاعدہ نہیں کرتے تھے ۔ہاں عمومًا صبح کو دودھ پی لیتے تھے ۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہو جاتاتھا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا مگر پی لیتے تھے ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ پکوڑے بھی حضرت صاحب کو پسند تھے ۔ایک زمانے میں سکنجبین کا شربت بہت استعمال فرمایا تھا مگر پھر چھوڑ دی ۔ایک دفعہ آپ نے ایک لمبے عرصہ تک کو ئی پکی ہوئی چیز نہیں کھائی صرف تھوڑے سے دہی کے ساتھ روٹی لگا کر کھا لیا کرتے تھے ۔کبھی کبھی مکی کی روٹی بھی پسند کرتے تھے ۔کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے جاتے تھے کچھ کھاتے تھے کچھ چھوڑ دیتے تھے ۔کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اُٹھتے تھے ۔ایک زمانہ میں آپ نے چائے کا بہت استعمال فرمایاتھامگر پھر چھوڑدی ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا حضرت صاحب کھانا بہت تھوڑا کھاتے تھے اور کھانے کا وقت بھی کو ئی خاص مقرر نہیں تھا۔صبح کا کھانا بعض اوقات بارہ بارہ ایک ایک بجے بھی کھاتے تھے ۔شام کاکھانا عموماً مغرب کے بعد مگر کبھی کبھی پہلے بھی کھالیتے تھے۔غرض کوئی وقت معین نہیںتھا ،بعض اوقات خود کھانا مانگ لیتے تھے کہ لائو کھانا تیار ہے تو دے د و پھر میںنے کام شروع کرنا ہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ کس وقت کام کرتے تھے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ بس سارا د ن کام میں ہی گزرتا تھا ۔ ۱۰بجے ڈاک آتی تھی تو ڈاک کا مطالعہ فرماتے تھے اور اس سے پہلے بعض اوقات تصنیف کا کام شروع نہیں فرماتے تھے تا کہ ڈاک کی وجہ سے درمیان میں سلسلہ منقطع نہ ہو ۔مگر کبھی پہلے بھی شروع کر دیتے تھے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ روزانہ اخبار عام لاہور منگواتے اور باقاعدہ پڑھتے تھے ۔اس کے علاوہ آخری ایام میں اور کوئی اخبار خود نہیں منگواتے تھے ۔ہاں کبھی کوئی بھیج دیتا تھا تو وہ بھی پڑھ لیتے تھے ۔
    { 57} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ پہلے لنگر کا انتظام ہمارے گھر میںہوتا تھا اور گھر سے سارا کھانا پک کر جاتا تھا مگر جب آخری سالوںمیںزیادہ کام ہو گیاتو میں نے کہہ کر باہر انتظام کروا دیا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیا حضرت صاحب کسی مہمان کے لئے خاص کھانا پکانے کیلئے بھی فرماتے تھے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں بعض اوقات فرماتے تھے کہ فلاںمہمان آئے ہیں ان کے لئے یہ کھانا تیار کر دو۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ شروع میں سب لوگ لنگر سے ہی کھا نا کھاتے تھے خواہ مہمان ہوں یا یہاں مقیم ہوچکے ہوں۔مقیم لوگ بعض اوقات اپنے پسند کی کوئی خاص چیز اپنے گھروںمیں بھی پکا لیتے تھے مگر حضرت صاحب کی یہ خواہش ہو تی تھی کہ اگر ہو سکے تو ایسی چیز یںبھی ان کے لئے آپ ہی کی طرف سے تیار ہو کر جاویں اور آپ کی خواہش رہتی تھی کہ جو شخص جس قسم کے کھانے کا عادی ہو اس کو اسی قسم کا کھانا دیا جاسکے ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میںلنگر کا انتظام خود آپ کے ہاتھ میںرہتاتھامگر آپ کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اوّل نے یہ انتظام صدر انجمن احمدیہ قادیان کے سپر د فرما دیا ۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیںکہ حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں بعض لوگ حضرت صاحب سے کہاکرتے تھے کہ حضور کو انتظام کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور حضورکا حرج بھی بہت ہوتا ہے اپنے خدام کے سپرد فرمادیں مگر آپ نے نہیں مانا کیونکہ آپ کو یہ اندیشہ رہتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے پاس انتظام جانے سے کسی مہمان کو تکلیف ہو ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوشش ان لوگوں کی طرف سے تھی جو آپ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ایسا نہیں کہتے تھے بلکہ ان کی نیتوںمیں فساد تھا اور جو منافقین مدینہ کی طرح آپ پر اخراجات لنگر خانہ کے متعلق شبہ کرتے تھے ۔ قال اللّٰہ تعالٰی ’’و منھم من یلمزک فی الصدقات ـ‘‘
    { 58} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیا ن فرمایا کہ تمہارے تایا کے ہاںایک لڑکی اور ایک لڑکا پیدا ہوئے تھے مگر دونوں بچپن میں فوت ہوگئے ۔لڑکی کا نام عصمت اور لڑکے کا نام عبدالقادر تھا ۔حضرت صاحب کو اپنے بھائی کی اولاد سے بہت محبت تھی چنانچہ آپ نے اپنی بڑی لڑکی کا نام اسی واسطے عصمت رکھا تھا ۔
    {59} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود ؑکے دو لڑکے پیدا ہوئے ۔ اعنی مرزا سلطان احمد صاحب اورمرزا فضل احمد۔حضرت صاحب ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزا سلطان احمدپیداہوگئے تھے ۔اور ہماری والدہ صاحبہ سے حضرت مسیح موعود ؑکی مندرجہ ذیل اولاد ہوئی ۔عصمت جو ۱۸۸۶ء میںپیدا ہوئی اور ۱۸۹۱ء میںفوت ہوگئی۔بشیر احمد اوّل جو ۱۸۸۷ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۸۸ء میںفوت ہوگیا۔حضرت خلیفہ ثانی مرزا بشیرالدین محمود احمدجو۱۸۸۹ء میںپیدا ہوئے ۔شوکت جو ۱۸۹۱ء میں پیدا ہوئی اور ۱۸۹۲ء میں فوت ہوگئی ۔خاکسار مرزا بشیر احمدجو ۱۸۹۳ء میں پیدا ہوا ۔مرزاشریف احمدجو۱۸۹۵ء میںپیدا ہوئے۔مبارکہ بیگم جو ۱۸۹۷ء میں پیدا ہوئیں۔مبارک احمدجو ۱۸۹۹ء میں پیدا ہوا اور ۱۹۰۷ء میں فوت ہوگیا۔امۃ النصیر جو۱۹۰۳ء میں پیداہوئی اور ۱۹۰۳ء میںہی فوت ہوگئی ۔امۃ الحفیظ بیگم جو ۱۹۰۴ء میں پیدا ہوئیں ۔سوائے امۃ الحفیظ بیگم کے جو حضرت صاحب کی وفات کے وقت صرف تین سال کی تھیں باقی سب بچوں کی حضرت صاحب نے اپنی زندگی میں شادی کر دی تھی ۔
    { 60} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب تم بچے تھے اور شاید دوسری جماعت میں ہو گے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ رفع حاجت سے فارغ ہوکر آئے توتم اس وقت ایک چارپائی پر الٹی سیدھی چھلانگیں مار رہے اور قلا بازیاں کھا رہے تھے آپ نے دیکھ کر تبسّم فرمایا اور کہا دیکھو یہ کیا کر رہا ہے پھرفرمایا اسے ایم ۔اے کرانا ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ فقرہ روزمرہ کی زبان میںبے ساختہ نکلا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر غورکریںتو اس میںدو تین پیشگوئیاںہیں ۔
    { 61} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہمیشہ رات کو سوتے ہوئے پاجامہ اتار کر تہ بند باندھ لیتے تھے اور عموماً کرتہ بھی اتار کر سوتے تھے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ جب رفع حاجت کے بعد طہارت سے فارغ ہوتے تھے تو اپنا ہاتھ مٹی سے ملکر پانی سے دھوتے تھے ۔
    { 62} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات گھر میں بچوں کو بعض کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے ۔چنانچہ ایک برے بھلے کی کہانی بھی آپ عموماً سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک برا آدمی تھا اور ایک اچھا آدمی تھا ۔ اور دونو نے اپنے رنگ میں کام کئے اور آخرکار بر ے آدمی کا انجام برا ہوا اور اچھے کا اچھا ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک بینگن کی کہانی بھی آپ سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھاکہ ایک آقا تھا اس نے اپنے نو کر کے سامنے بینگن کی تعریف کی تو اس نے بھی بہت تعریف کی چند دن کے بعد آقا نے مذمت کی تو نوکر بھی مذمت کر نے لگا ۔آقا نے پوچھا یہ کیا بات ہے کہ اس دن تو تُو تعریف کر تاتھا اور آج مذمت کرتا ہے ۔نوکر نے کہامیںتوحضور کا نوکر ہوںبینگن کا نوکر نہیں ہوں ۔
    { 63} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ہم تینوں بھائیوں نے مل کر ایک ہوائی بندوق کے منگانے کا ارادہ کیا مگر ہم فیصلہ نہ کر سکتے تھے کہ کونسی منگوائیں آخر ہم نے قرعہ لکھ کر حضرت صاحب سے قر عہ اُٹھوایا اور جو بندوق نکلی وہ ہم نے منگالی ۔اور پھر اس سے بہت شکار کیا۔ (یہ ۲۲ بور کی بی۔ایس اے ائیر رائفل تھی)
    { 64} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ہم گھر کے بچے مل کر حضرت صاحب کے سامنے میاں شریف احمد کو چھیڑ نے لگ گئے کہ ابّا کو تم سے محبت نہیں ہے اور ہم سے ہے۔ میاں شریف بہت چڑتے تھے ۔ حضرت صاحب نے ہمیں روکا بھی کہ زیادہ تنگ نہ کرو مگر ہم بچے تھے لگے رہے ۔آخر میاںشریف رونے لگ گئے اور ان کی عادت تھی کہ جب روتے تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی ۔ حضرت صاحب اُٹھے اور چاہاکہ ان کو گلے لگا لیں تاکہ ان کا شک دور ہو مگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا پرے پرے کھچتے تھے ۔ حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ شائد اسے تکلیف ہے اس لئے دور ہٹتا ہے۔ چنانچہ کافی دیر تک یہی ہو تا رہا کہ حضرت صاحب ان کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پرے پرے کھچتے تھے ۔اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے اس لئے ہم پاس کھڑے ہنستے جاتے تھے ۔
    { 65} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں یا کسی اور حالت میں ہو ں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے کہ ابّا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے ۔اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوںزیادہ تنگ نہ کرو ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے ۔اور چابیاںازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا ۔اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو ۔سوتی ازار بند میں آپ سے بعض دفعہ گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہو تی تھی ۔
    { 66} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہوگئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک طبیعت ہوگئی۔ حتّٰی کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے چچا آپ کے پاس آکر بیٹھے اور کہنے لگے کہ دنیا میںیہی حال ہے سبھی نے مرنا ہے کوئی آگے گذر جاتا ہے کوئی پیچھے جاتا ہے اس لئے اس پر ہراساں نہیں ہو نا چاہئیے ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کاشوربا کھلایاتھا ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ اس جگہ چچا سے مراد مرزا غلام محی الدین صاحب ہیں ۔
    { 67} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے ہماری پھوپھی صاحبہ یعنی مرزا امام الدین کی ہمشیرہ نے جو ہماری تائی کی چھوٹی بہن ہیں اور مرزا احمدبیگ ہوشیار پوری کی بیوہ ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے والد اور تایا کو سکھوںنے بسرا واںکے قلعہ میں بند کر دیا تھا اور قتل کا ارادہ رکھتے تھے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ غالباً سکھوں کے آخری عہد کی بات ہے جبکہ راجہ رنجیت سنگھ کے بعد ملک میں پھر بدامنی پھیل گئی تھی۔ اس وقت سنا ہے کہ ہمارے دادا اور ان کے بھائی مرزا غلام محی الدین صاحب کو سکھوں نے قلعہ میں بند کر دیا تھا اور سننے میں آیا ہے کہ جب مرزا غلام حیدر ان کے چھوٹے بھائی کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے لاہور سے کمک لا کر ان کو چھڑایا تھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے ۔ بسراواں قادیان سے قریباً اڑھائی میل مشرق کی طرف ایک گائوں ہے اس زمانہ میں وہاں ایک خام قلعہ ہوتا تھا جو اب مسمار ہو چکا ہے مگر اس کے آثار باقی ہیں ۔
    { 68} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب میں چھوٹی لڑکی تھی تو میرصاحب (یعنی خاکسار کے نانا جان) کی تبدیلی ایک دفعہ یہاں قادیان بھی ہوئی تھی اور ہم یہاں چھ سات ماہ ٹھہرے تھے پھر یہاں سے دوسری جگہ میر صاحب کی تبدیلی ہوئی تو وہ تمہارے تایا سے بات کر کے ہم کو تمہارے تایا کے مکان میں چھوڑ گئے تھے اور پھر ایک مہینہ کے بعد آکر لے گئے اس وقت تمہارے تایا قادیان سے باہر رہتے تھے اور آٹھ روز کے بعد یہاں آیا کرتے تھے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کو دیکھا ہے۔ خاکسار نے پوچھا کہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں آپ نے کبھی دیکھا تھا یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب رہتے تو اسی مکان میں تھے مگر میں نے آپ کو نہیں دیکھا اور والدہ صاحبہ نے مجھے وہ کمرہ دکھایا جس میں ان دنوں میں حضرت صاحب رہتے تھے۔ آج کل وہ کمرہ مرزا سلطان احمد صاحب کے قبضہ میں ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب ابتداء سے ہی گوشہ نشین تھے اس لئے والدہ صاحبہ کو دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا ہو گا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کب کی بات ہے ؟والدہ صاحبہ نے فرمایا مجھے تاریخ تو یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ جب ہم یہاں قادیان آئے تھے تو ان دنوں میں تمہارے دادا کی وفات کی ایک سالہ رسم ادا ہوئی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس حساب سے وہ زمانہ ۱۸۷۷ء کا بنتا ہے ۔ اس وقت والدہ صاحبہ کی عمر نو دس سال کی ہو گی اور حضرت صاحب کی عمر غالباً چالیس سال سے اوپر تھی۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ کتاب ہذا کی دوسری ایڈیشن زیر تیاری ہے وہ کمرہ جس میں حضرت صاحب ان ایام میں رہتے تھے ایک دوسرے کمرے کے تبادلہ میں ہمارے پاس آگیا ہے اور یہ وہ چوبارہ ہے جو حضرت والدہ صاحبہ کے موجودہ باورچی خانہ کے صحن کے ساتھ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان سے ملحق ہے ۔)
    { 69} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میری شادی سے پہلے حضرت صاحب کو معلوم ہوا تھا کہ آپ کی دوسری شادی دلّی میں ہو گی چنانچہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس اس کا ذکر کیا تو چونکہ اس وقت اس کے پاس تمام اہل حدیث لڑکیوں کی فہرست رہتی تھی اور میر صاحب بھی اہل حدیث تھے اور اس سے بہت میل ملاقات رکھتے تھے اس لئے اس نے حضرت صاحب کے پاس میر صاحب کا نام لیا آپ نے میر صاحب کو لکھا ۔ شروع میں میر صاحب نے اس تجویز کو بوجہ تفاوت عمر ناپسند کیا مگر آخر رضامند ہو گئے اور پھر حضرت صاحب مجھے بیاہنے دلّی گئے۔ آپ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملاوامل بھی تھے ۔ نکاح مولوی نذیر حسین نے پڑھا تھا ۔ یہ ۲۷؍ محرم ۱۳۰۲ھ بروز پیر کی بات ہے۔ اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی۔ حضرت صاحب نے نکاح کے بعد مولوی نذیر حسین کو پانچ روپے اور ایک مصلّٰی نذر دیا تھا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود کی عمر پچاس سال کے قریب ہو گی ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے تایا میرے نکاح سے ڈیڑھ دو سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ تایا صاحب ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے تھے جو کہ تصنیف براہین کا آخری زمانہ تھا اور والدہ صاحبہ کی شادی نومبر۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی اور مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ پہلے شادی کا دن اتوار مقرر ہوا تھا مگر حضرت صاحب نے کہہ کر پیر کروا دیا تھا۔
    { 70} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیاہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود کا زمانہ عجیب تھا قادیان میں دو دن گرمی نہیں پڑتی تھی کہ تیسرے دن بارش ہوجاتی تھی ۔جب گرمی پڑتی اور ہم حضرت صاحب سے کہتے کہ حضور بہت گرمی ہے تو دوسرے دن بارش ہو جاتی تھی ۔نیز مولوی سید سرور شاہ صاحب نے بیان کیا کہ اس ز مانہ میں فصلوں کے متعلق بھی کبھی شکایت نہیں ہو ئی ۔ خاکسار نے گھر آگر والدہ صاحبہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرما یا کہ حضرت صاحب جب فرماتے تھے کہ آج بہت گرمی ہے تو عموماً اسی دن یا دوسرے دن بارش ہو جاتی تھی ۔اور آپ کے بعد تو مہینوں آگ برستی ہے اور بارش نہیں ہوتی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں قادیان میں کبھی نماز استسقا نہیں پڑھی گئی اور آپ کے بعد کئی دفعہ پڑھی گئی ہے۔
    (اس روایت کے متعلق یہ بات قابل نوٹ ہے کہ میرا یہ خیال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کبھی استسقا کی نماز نہیں پڑھی گئی۔ درست نہیں نکلا۔ دیکھو حصہ دوم روایت نمبر ۴۱۵مگر یہ خیال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں بالعموم زیادہ دنوں تک مسلسل شدت کی گرمی نہیں پڑتی تھی۔ بہر حال درست ہے۔)
    { 71} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ ایک عام عادت تھی کہ صبح کے وقت باہر سیر کو تشریف لے جا یا کرتے تھے ۔اور خدّام آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور ایک ایک میل دو دو میل چلے جاتے تھے ۔اور آپ کی عادت تھی کہ بہت تیز چلتے تھے مگر بایں ہمہ آپ کی رفتا رمیں پورا پورا وقار ہوتا تھا ۔حضور سیر پر جاتے ہوئے حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اوّل) کو بھی ساتھ جانے کے لئے بلالیا کر تے تھے ۔لیکن چونکہ مولوی صاحب بہت آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے تھے اس لئے تھوڑی دور چل کر حضرت صاحب سے پیچھے رہ جاتے تھے ۔ جب حضور کو پتہ لگتا تھا تو مولوی صاحب کے انتظار کے لئے تھوڑی دیر سڑک پر ٹھہر جاتے تھے مگر مولوی صاحب پھر تھوڑی دور چل کر آپ سے پیچھے رہ جاتے تھے اور دو چار آدمی مولوی صاحب کے ساتھ ساتھ ہو جاتے تھے اور میںنے دیکھا ہے کہ حضرت صاحب سیر پر جاتے وقت نواب محمد علی خان صاحب کوبھی ساتھ لے جایا کرتے تھے اور کئی دفعہ آپ اپنے گھر سے باہر نکل کر چوک میں اپنے خدام کے ساتھ نواب صاحب کا انتظار کیا کرتے تھے اور بعض اوقات نواب صاحب کو آنے میں دیر ہوجاتی تھی تو آپ کئی کئی منٹ ان کے دروازہ کے سامنے چوک میں کھڑے رہتے تھے اور پھر ان کو ساتھ لے کر جاتے تھے اور سیر میں حضور کی اپنے خدام کے ساتھ گفتگو ہوا کرتی تھی اور حضور تقریر فرماتے جاتے تھے اور اخبار والے اپنے طور پر نوٹ کر تے جاتے تھے ۔
    حضرت مسیح موعود ؑ عموماً سیر کے لئے بسراواں کے راستہ یا بوٹر کے راستہ پر جایا کرتے تھے ۔بعض اوقات اپنے باغ کی طرف بھی چلے جاتے تھے اور شہتوت بیدانہ وغیرہ تڑوا کر خدام کے سامنے رکھوا دیتے تھے ۔اور خود بھی کھاتے تھے ۔سیر میں جب ایسا ہوتا کہ کسی شخص کا قدم بے احتیاطی سے حضور کے عصاپر پڑجاتا اور وہ آپ کے ہاتھ سے گر جاتا تو حضور کبھی منہ موڑ کر نہیںدیکھتے تھے کہ کس سے گر اہے اور بعض اوقات جب جلسوںوغیرہ کے موقعہ پر سیر میں کثرت کے ساتھ لوگ حضور کے ساتھ ہو جاتے تھے تو بعض خدام خود بخود ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر حضور کے تین طرف ایک چکر سابنا لیتے تھے تاکہ حضور کو تکلیف نہ ہو ۔مگر آخری جلسہ میں جو حضور کی زندگی میںہوا جب حضور بوٹر (شمال ) کی طرف سیر کے لئے نکلے توا س کثرت کے ساتھ لوگ حضور کے ساتھ ہوگئے کہ چلنا مشکل ہو گیا لہٰذا حضور تھوڑی دور جاکر واپس آگئے ۔خاکسار کو یاد ہے کہ حضور ایک دفعہ بسراواں (مشرق ) کے راستہ پر سیر کر کے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں قادیان سے جاتے ہوئے مرزا نظام الدین ملے جو حضور کے چچا زاد بھائی تھے مگر سخت مخالف تھے ۔وہ اس وقت گھوڑے پر سوار تھے حضور کوآتا دیکھ کر وہ گھوڑے سے اُترآئے اور راستہ سے ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔جب آپ پاس سے گذرے تو انہوں نے ادب کے ساتھ جھک کر سلام کیا ۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ حضور کو جب کوئی شخص ہاتھ اُٹھا کر پاس سے گذرتا ہوا سلام کرتا تھا تو حضور بھی اس کے جواب میں ہاتھ اٹھاتے تھے ۔
    { 72} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درمیانہ قد تھا ۔رنگ گندمی تھا چہرہ بھاری تھا ،بال سیدھے اور ملائم تھے ۔ہاتھ پائوںبھرے بھرے تھے ۔آخری عمر میں بدن کچھ بھاری ہو گیا تھا ۔آپ کے رنگ ڈھنگ اور خط و خال میں ایک خداداد رعب تھامگر آپ سے ملنے والوں کے دل آپ کے متعلق محبت سے بھر جاتے تھے اور کوئی مخفی طاقت لوگوں کو آپ کی طرف کھینچتی تھی ۔ سینکڑوںلوگ مخالفت کے جذبات لے کر آئے اور آپ کا چہرہ دیکھتے ہی رام ہو گئے ۔اور کوئی دلیل نہیںپوچھی ۔رعب کا یہ حال تھا کہ کئی شقی بد ارادوں کے ساتھ آپ کے سامنے آتے تھے مگر آپ کے سامنے آکر دم مارنے کی طاقت نہ ملتی تھی ۔
    { 73} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مردان کا کوئی آدمی میاں محمد یوسف صاحب مردانی کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے علاج کے واسطے یہاں قادیان آیا۔یہ شخص سلسلہ کا سخت دشمن تھا اور بصد مشکل قادیان آنے پر رضامند ہوا تھا مگر اس نے میاں محمد یوسف صاحب سے یہ شرط کر لی تھی کہ قادیان میں مجھے احمدیوں کے محلہ سے باہر کوئی مکان لے دینا اور میںکبھی اس محلہ میں داخل نہیں ہو ں گا ۔خیر وہ آیا اور احمدی محلہ سے باہر ٹھہر ا اور حضرت مولوی صاحب کا علاج ہوتا رہا ۔جب کچھ دنوں کے بعد اسے کچھ افاقہ ہوا تو وہ واپس جانے لگا ۔میا ں محمد یوسف صاحب نے اس سے کہا کہ تم قادیان آئے اور اب جاتے ہو ہماری مسجد تو دیکھتے جائو۔اس نے انکار کیا ،میاں صاحب نے اصرار سے اسے منایا تواس نے اس شرط پر مانا کہ ایسے وقت میں مجھے وہاں لے جائو کہ وہاں کوئی احمدی نہ ہوا ور نہ مرزا صاحب ہوں ۔چنانچہ میاں محمدیوسف صاحب ایسا وقت دیکھ کر اسے مسجد مبارک میں لائے مگر قدرت خدا کہ اِدھر اس نے مسجد میںقدم رکھا اور اُدھر حضرت مسیح موعود کے مکان کی کھڑکی کھلی اور حضور کسی کام کے لئے مسجد میںتشریف لے آئے ۔ اس شخص کی نظر حضور کی طرف اُٹھی اور وہ بیتا ب ہو کر حضور کے سامنے آگرا اوراسی وقت بیعت کر لی ۔
    { 74} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں ایک دفعہ میرے والد یہاں آئے اور وہ سخت مخالف اور بد گو تھے اور یہاں آکر بھی بڑی تیزی کی باتیں کرتے رہے اور وہ جب ملتان میں تھے تو کہتے تھے کہ میں اگر کبھی مرزا سے ملا تو (نعوذ باللہ ) اسکے منہ پر بھی لعنتیں ڈالوںگا یعنی سامنے بھی یہی کہو ں گا جو یہاں کہتاہوں۔ خیر میں انہیں حضرت صاحب کے پاس لے گیا ،حضور جب باہر تشریف لائے تو وہ ادب سے کھڑے ہوگئے اور پھر خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئے ۔اس وقت مجلس میں اور لوگ بھی تھے ۔حضور نے بیٹھے بیٹھے تقریر فرمانی شروع کی اور کئی دفعہ کہا کہ ہم توچاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس آئیں اور ہماری باتیں سنیں اور ہم سے سوال کریں اور ہم ان کے واسطے خرچ کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن اول تو لوگ آتے نہیں اور اگر آتے ہیں تو خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور پھر پیچھے جا کر باتیں کرتے ہیں ۔غرض حضور نے کھول کھول کر تقریر کی اور تبلیغ فرمائی اور انہیں بات کرنے پر کئی دفعہ ابھارا ۔میرا والد بڑا چرب زبان ہے مگر ان کے منہ پر گویا مہر لگ گئی اور وہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکے ۔وہاں سے اُٹھ کر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ وہاں بولے کیوں نہیں؟ انہوں نے کچھ کہہ کر ٹال دیا ۔ میاں فخر الدین صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب نے اس تقریر میں میرے والدکو مخاطب نہیں کیا تھا بلکہ عام تقریر فرمائی تھی ۔
    { 75} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا حضرت امیر المومنین خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ ایک ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھاقادیان کسی بارات کے ساتھ آیا ۔یہ شخص علم توجہ کا بڑا ماہر تھا چنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم لوگ قادیان آئے ہوئے ہیں چلو مرزا صاحب سے ملنے چلیں اور اس کا منشاء یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے حضرت صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈال کر آپ سے بھری مجلس میں کو ئی بیہودہ حرکات کرائے۔ جب وہ مسجد میں حضور سے ملا تو اس نے اپنے علم سے آپ پر اپنا اثر ڈالنا شروع کیا مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ یکلخت کانپ اُٹھا مگر سنبھل کر بیٹھ گیا اور اپنا کا م پھر شروع کردیا اور حضرت صاحب اپنی گفتگو میں لگے رہے مگر پھر اس کے بدن پر ایک سخت لرزہ آیا اور اس کی زبان سے بھی کچھ خوف کی آواز نکلی مگر وہ پھر سنبھل گیا ۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک چیخ ماری اور بے تحاشا مسجد سے بھاگ نکلا اور بغیر جو تا پہنے نیچے بھاگتا ہوا اتر گیا ۔اس کے ساتھی اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے بھاگے اور اس کو پکڑ کر سنبھالا ۔جب اس کے ہوش ٹھکا نے ہوئے تو اس نے بیان کیا کہ میں علم توجہ کا بڑا ماہر ہوں میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مرزا صاحب پر اپنی توجہ ڈالوں اور مجلس میںان سے کوئی لغو حرکات کرا دوں لیکن جب میںنے توجہ ڈالی تو میں نے دیکھا کہ میرے سامنے مگر ایک فاصلہ پر ایک شیر بیٹھاہے میں اسے دیکھ کر کانپ گیا لیکن میں نے جی میں ہی اپنے آپ کو ملامت کی کہ یہ میرا وہم ہے ۔چنانچہ میں نے پھر مرزا صاحب پر توجہ ڈالنی شروع کی تو میں نے دیکھا کہ پھر وہی شیر میرے سامنے ہے اور میرے قریب آگیا ہے اس پر پھر میرے بدن پر سخت لرزہ آیا مگر میں پھر سنبھل گیا اور میں نے جی میں اپنے آپ کو بہت ملامت کی کہ یونہی میرے دل میںوہم سے خوف پیدا ہوگیا ہے چنانچہ میں نے اپنا دل مضبوط کر کے اور اپنی طاقت کو جمع کر کے پھر مرزا صاحب پر اپنی توجہ کااثر ڈالا اور پورا زور لگا یا۔ اس پر نا گہاں میں نے دیکھاکہ وہی شیر میرے اوپر کود کر حملہ آور ہوا ہے اس وقت میںنے بے خود ہو کر چیخ ماری اور وہاں سے بھاگ اُٹھا ۔حضرت خلیفہ ثانی بیان فرماتے تھے کہ وہ شخص پھر حضرت صاحب کا بہت معتقد ہوگیا تھا اور ہمیشہ جب تک زندہ رہا آپ سے خط و کتابت رکھتا تھا ۔
    { 76} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی محمد اروڑا صاحب مرحوم کپورتھلوی حضرت مسیح موعود ؑ کے ذکر پر کہا کر تے تھے کہ ہم تو آپ کے منہ کے بھوکے تھے ۔بیمار بھی ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ دیکھنے سے اچھے ہو جاتے تھے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ منشی صاحب مرحوم پرانے مخلصوںمیں سے تھے اور عشاق مسیح موعود ؑ میں ان کا نمبر صف اوّل میں شمار ہونا چاہئیے ۔
    { 77} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیاحضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کسی سفر میں تھے ۔ سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پرٹہلنے لگے۔یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھرغیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے ۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں ۔ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔حضرت صاحب نے فرمایا جائو جی میں ایسے پردہ کا قائل نہیں ہوں ۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب ! جواب لے آئے ؟۔
    { 78} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن دنوں میں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار تھا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل کو اس کے دیکھنے کے لئے گھر میںبلایااس وقت آپ صحن میں ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے اور صحن میں کوئی فرش وغیرہ نہیں تھا ۔ مولوی صاحب آتے ہی آپ کی چارپائی کے پاس زمین پر بیٹھ گئے ۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب چار پائی پر بیٹھیں ۔مولوی صاحب نے عرض کیا حضورمیں بیٹھا ہوں اور کچھ اونچے ہو گئے اور ہاتھ چارپائی پر رکھ لیا ۔مگر حضرت صاحب نے دوبارہ کہا تو مولوی صاحب اُٹھ کر چارپائی کے ایک کنارہ پر پائنتی کے اوپر بیٹھ گئے ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت مولوی صاحب میں اطاعت اور ادب کا مادہ کمال درجہ پر تھا۔
    { 79} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جماعت احمدیہ کپورتھلہ اور غیر احمدیوں کا وہاں کی مسجد کے متعلق ایک مقدمہ ہوگیا ۔جس جج کے پاس یہ مقدمہ گیا وہ خود غیر احمدی تھا اور مخالف تھا ۔اس نے اس مقدمہ میں خلاف پہلو اختیار کرنا شروع کیا ۔ اس حالت میں جماعت کپور تھلہ نے گھبراکر حضرت مسیح موعود کو خطوط لکھے اور دعا کے لئے درخواست کی ۔ حضرت صاحب نے ان کو جواب لکھا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی ۔مگر جج نے بدستور مخالفانہ روش قائم رکھی ۔ آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھا ۔ جس دن اس نے فیصلہ سنانا تھا اس دن وہ صبح کے وقت کپڑے پہن کر اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں نکلا اور اپنے نوکر کو کہا کہ بوٹ پہنائے اور آپ ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔نوکر نے بوٹ پہنا کر فیتہ باندھنا شروع کیا کہ یکلخت اسے کھٹ کی سی آواز آئی اس نے اوپر نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ اس کا آقا بے سہارا ہو کر کرسی پر اوندھا پڑا تھا۔اس نے ہاتھ لگایا تو معلوم ہو امرا ہو ا ہے گویا یکلخت دل کی حرکت بند ہوکر اس کی جان نکل گئی ۔اس کا قائم مقام ایک ہندو مقرر ہو اجس نے اس کے لکھے ہوئے فیصلہ کو کاٹ کر احمدیوں کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے مولوی محمداسماعیل صاحب مولوی فاضل نے ذکر کیا کہ میں ایک دفعہ کپور تھلہ گیا تھا تو وہاں دیکھا کہ وہاں کی جماعت نے حضرت مسیح موعود ؑکی یہ عبارت کہ ’’ اگر میں سچاہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی ‘‘۔خوبصورت موٹی لکھوا کراسی مسجد میں نصب کرائی ہو ئی ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کپورتھلہ کی جماعت بہت پرانی جماعت ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے دیرینہ مخلصین میں سے ہے ۔میں نے سنا ہوا ہے کہ ان کے پاس حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک تحریر ہے جس میں لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح کپورتھلہ کی جماعت نے دنیامیں میرا ساتھ دیا ہے اسی طرح جنت میںبھی میرے ساتھ ہو گی ۔
    { 80} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔اے نے کہ میرا دادا جسے لوگ عام طور پر خلیفہ کہتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت مخالف تھا اور آپ کے حق میں بہت بدزبانی کیا کرتا تھا اور والد صاحب کو بہت تنگ کیا کرتا تھا۔ والد صاحب نے اس سے تنگ آکر حضرت مسیح موعود ؑ کو دعا کے لئے خط لکھا ۔ حضرت مسیح موعودؑ کا جواب گیا کہ ہم نے دعا کی ہے۔ والد صاحب نے یہ خط تمام محلہ والوں کو دکھا دیا اور کہا کہ حضرت صاحب نے دعا کی ہے اب دیکھ لینا خلیفہ گالیاں نہیں دے گا۔دوسرے تیسرے دن جمعہ تھا ۔ ہمارا دادا حسب دستور غیر احمدیوںکے ساتھ جمعہ پڑھنے گیا مگر وہاں سے واپس آکر غیرمعمولی طور پر حضرت مسیح موعودؑکے متعلق خاموش رہا حالانکہ اس کی عاد ت تھی کہ جمعہ کی نماز پڑھ کرگھر آنے کے بعد خصوصاً بہت گالیاںدیا کرتاتھا ۔ لوگوںنے اس سے پوچھا کہ تم آج مرزا صاحب کے متعلق خاموش کیوں ہو ؟ اس نے کہا کسی کے متعلق بدزبانی کرنے سے کیاحاصل ہے اور مولوی نے بھی آج جمعہ میں وعظ کیاہے کہ کوئی شخص اپنی جگہ کیسا ہی برا ہو ہمیںبد زبانی نہیںکرنی چاہئیے ۔لوگوںنے کہا اچھایہ بات ہے ؟ ہمیشہ تو تم گالیاں دیتے تھے اور آج تمہارا یہ خیال ہوگیا ہے ! بلکہ اصل میں بات یہ ہے کہ بابو( میرے والد کو لوگ بابو کہا کرتے تھے ) کل ہی ایک خط دکھا رہا تھا کہ قادیان سے آیا ہے اور کہتاتھا کہ اب خلیفہ گالی نہیں دے گا ۔مولوی رحیم بخش صاحب کہتے تھے کہ اس کے بعد باوجود کئی دفعہ مخالفوں کے بھڑکانے کے میرے دادا نے کبھی حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق بد زبانی نہیںکی اور کبھی میرے والد صاحب کو احمدیت کی وجہ سے تنگ نہیں کیا۔
    (اس روایت کے متعلق یہ بات قابل نوٹ ہے کہ اس کے راوی صاحب نے اب حضرت خلیفۃ المسیح کے منشاء کے ماتحت اپنا نام عبدالرحیم رکھ لیا ہے اور عموماً مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔)
    { 81} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود ؑ کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا ۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہو ا اس لئے باقی چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا ۔اس کے بعد جو رمضان آیا تواس میںآپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا ۔اسکے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اورباقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کردیا ۔اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادافرماتے رہے ۔خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداء دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضاء کیا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعو د ؑ کو دوران سر او ر برد ا طراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی اس لئے جب آپ روزے چھوڑتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھر دوسرے رمضان تک ان کے پورا کر نے کی طاقت نہ پاتے تھے مگر جب اگلا رمضان آتا تو پھر شوق عبادت میں روزے رکھنے شروع فرمادیتے تھے لیکن پھر دورہ پڑتا تھا تو ترک کر دیتے تھے اور بقیہ کا فدیہ اد اکر دیتے تھے ۔واللّٰہ اعلم ۔
    { 82} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ؑاوائل میںغرارے استعمال فرمایا کرتے تھے پھر میںنے کہہ کر وہ ترک کروا دئے ۔اس کے بعد آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگ گئے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ غرارہ بہت کھلے پائنچے کے پائجامے کو کہتے ہیں ۔ (پہلے اس کا ہندوستان میں بہت رواج تھا اب بہت کم ہوگیا ہے۔)
    { 83} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عمومًا دس گز لمبی ہو تی تھی ۔پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے۔اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے ۔بدن پر گرمیوںمیں عمومًا ململ کا کرتہ استعمال فرماتے تھے ۔اس کے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے ۔ پاجامہ بھی آپ کا گرم ہوتا تھا ۔نیز آپ عمومًا جراب بھی پہنے رہتے تھے بلکہ سردیوںمیںدو دو جوڑے اوپر تلے پہن لیتے تھے ۔پائوں میںآپ ہمیشہ دیسی جوتا پہنتے تھے ۔ نیز بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعو دؑ کو دورے پڑنے شروع ہوئے اس وقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرمادیا تھا ۔ان کپڑوں میںآپ کو گرمی بھی لگتی تھی اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیئے تو پھر آخر تک یہی استعمال فرماتے رہے ۔اور جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ثم لاہوری احمدی ہوئے وہ آپ کے لئے کپڑوںکے جوڑے بنوا کر باقاعدہ لاتے تھے اور حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے ۔ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گر گابی لے آیا ۔آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پائوں کا آپ کو پتہ نہیںلگتا تھا کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آ پ کا اُلٹاپائوںپڑ جاتا تو تنگ ہوکر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میںنے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پائوں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے تھے مگر باوجود اس کے آپ اُلٹا سیدھا پہن لیتے تھے اس لئے آپ نے اسے اتاردیا ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے بعض اوقات انگریزی طرز کی قمیص کے کفوںکے متعلق بھی اسی قسم کے ناپسندیدگی کے الفاظ فرمائے تھے ۔ خاکسارعرض کرتاہے کہ شیخ صاحب موصوف آپ کے لئے انگریزی طرز کی گرم قمیص بنوا کر لایا کرتے تھے ۔آپ انہیںاستعما ل تو فرماتے تھے مگر انگریزی طرز کی کفوں کو پسند نہیںفرماتے تھے ۔کیونکہ اول تو کفوںکے بٹن لگانے سے آپ گھبراتے تھے دوسرے بٹنوںکے کھولنے اور بند کرنے کا التزام آپ کے لئے مشکل تھا۔بعض اوقات فرماتے تھے کہ یہ کیا کان سے لٹکے رہتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لباس کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑکا عام اصول یہ تھا کہ جس قسم کا کپڑا مل جاتا تھا پہن لیتے تھے ۔مگر عمومًا انگریزی طریق لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو اسے اپنے لئے سادگی کے خلاف سمجھتے تھے دوسرے آپ ایسے لباس سے جو اعضاء کو جکڑا ہوا رکھے بہت گھبراتے تھے۔گھر میں آپ کے لئے صرف ململ کے کُرتے اور پگڑیاں تیار ہوتی تھیں۔باقی سب کپڑے عمومًا ہدیۃً آپ کو آجاتے تھے ۔شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری اس خدمت میں خاص امتیاز رکھتے تھے ۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ بعض اوقات کمر پر پٹکا بھی استعمال فرماتے تھے اور جب کبھی گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو کوٹ ضرور پہن کر آتے تھے۔اور ہاتھ میںعصارکھنا بھی آپ کی سنت ہے ۔والدہ صاحبہ بیان کر تی ہیں کہ میں حضرت صاحب کے واسطے ہر سال نصف تھان کے کُرتے تیار کیا کرتی تھی لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی تھی میں نے پورے تھا ن کے کُرتے تیار کئے ۔حضرت صاحب نے مجھے کہا بھی کہ اتنے کُرتے کیا کر نے ہیں مگر میں نے تیار کر لئے ان میں سے اب تک بہت سے کُرتے بے پہنے میرے پاس رکھے ہیں ۔
    { 84} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن خوشبو لگا تے اور کپڑے بدلتے تھے ۔
    { 85} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ؑ جب کبھی مغرب کی نماز گھر میں پڑھا تے تھے تو اکثر سورہ یوسف کی وہ آیات پڑھتے تھے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ ـ (یوسف:۸۷)خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی آواز میںبہت سوز اور درد تھا ۔ اور آپ کی قراء ت لہر دار ہوتی تھی ۔
    { 86} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعودؑ کو اعتکاف بیٹھتے نہیں دیکھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا ہے ۔
    { 87} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا ہم سے سید فضل شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہاں مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے ۔میں پاس بیٹھا تھا ۔بھائی عبدا للہ صاحب سنوری بھی پاس تھے اور بعض اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔حضرت صاحب سب کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے ۔مگر جب بھائی عبداللہ صاحب بولتے تھے تو حضرت صاحب دوسروںکی طرف سے توجہ ہٹا کر ان کی طرف توجہ کرلیتے تھے ۔مجھے اس کا ملال ہوا اور میں نے ان پر رشک کیا ۔حضرت صاحب میرے اس خیال کو سمجھ گئے اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے شاہ صاحب آپ جانتے ہیں یہ کون ہیں ؟ میں نے عرض کیاہاں حضرت میں بھائی عبداللہ صاحب کو جانتا ہوں ۔آپ نے فرمایا ہمارا یہ مذہب ہے کہ ’’قدیمان خود را بیفزائے قدر‘‘ یہ آپ سے بھی قدیم ہیں ۔سید فضل شاہ صاحب کہتے تھے کہ اس دن سے میں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ان سے مقابلہ نہیں یہ ہم سے آگے ہیں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت سید فضل شاہ صاحب نے یہ روایت بیان کی اس وقت میاں عبداللہ صاحب سنوری بھی پاس بیٹھے تھے اورمیں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیںپر نم تھیں ۔
    { 88} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب نے ۱۸۸۴ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ قادیان سے باہر جاکر کہیں چِلّہ کشی فرمائیں گے اور ہندوستان کی سیر بھی کریں گے ۔ چنانچہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ سو جان پور ضلع گورداسپور میں جاکر خلوت میں رہیں اور اس کے متعلق حضور نے ایک اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا پوسٹ کارڈبھی مجھے روانہ فرمایا ۔میں نے عرض کیا کہ مجھے بھی اس سفر اور ہندوستان کے سفر میں حضور ساتھ رکھیں ۔حضور نے منظور فرما لیا ۔مگر پھر حضور کو سفر سو جان پور کے متعلق الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔ چنانچہ آپ نے سوجان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا۔جب آپ ماہ جنوری ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جانے لگے تو مجھے خط لکھ کر حضور نے قادیان بلا لیا اور شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا کہ میں دو ماہ کے واسطے ہوشیا رپور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیںجو شہر کے ایک کنارے پر ہو اور اس میں بالا خانہ بھی ہو ۔شیخ مہر علی نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نا م سے مشہور تھا خالی کروا دیا ۔حضور بہلی میں بیٹھ کر دریا بیاس کے راستہ تشریف لے گئے ۔ میں اور شیخ حامد علی اور فتح خان ساتھ تھے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ فتح خاں رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا اور حضور کا بڑا معتقد تھامگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہوگیا ۔حضورجب دریا پر پہنچے تو چونکہ کشتی تک پہنچنے کے رستہ میںکچھ پانی تھا اس لئے ملاح نے حضور کو اُٹھا کر کشتی میں بٹھا یا جس پر حضور نے اسے ایک روپیہ انعام دیا ۔دریا میں جب کشتی چل رہی تھی حضور نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میاں عبداللہ کامل کی صحبت اس سفر دریا کی طرح ہے جس میں پار ہونے کی بھی امید ہے اور غرق ہو نے کا بھی اندیشہ ہے ۔میں نے حضور کی یہ بات سرسری طور پرسنی مگر جب فتح خان مرتد ہوا تو مجھے حضرت کی یہ بات یاد آئی ۔خیر ہم راستہ میں فتح خان کے گائوں میں قیام کرتے ہوئے دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے ۔وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالاخانہ میں قیام فرمایا اور اس غرض سے کہ ہمارا آپس میں کو ئی جھگڑا نہ ہو ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر فرمادیئے ۔چنانچہ میرے سپرد کھانا پکانے کا کام ہوا ۔فتح خان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سودا وغیرہ لایا کرے ۔شیخ حامد علی کا یہ کام مقرر ہوا کہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرے ۔اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے بذریعہ دستی اشتہارات اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آویں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لئے بلائیں ۔ان چالیس دن کے گذرنے کے بعد میں یہاں بیس دن اور ٹھہروں گا ۔ان بیس دنوں میں ملنے والے ملیں۔ دعوت کا ارادہ رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال و جواب کر نے والے سوال جواب کر لیں ۔ اور حضرت صاحب نے ہم کو بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اند ر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں بھی کوئی شخص مجھے نہ بلائے ۔میں اگر کسی کوبلائوں تو وہ اسی حد تک میری بات کا جواب دے جس حد تک کہ ضروری ہے اور نہ اوپر بالا خانہ میں کوئی میرے پاس آوے ۔ میرا کھانا اوپر پہنچا دیا جاوے مگر اس کا انتظا ر نہ کیا جاوے کہ میں کھانا کھالوں ۔خالی برتن پھر دوسرے وقت لے جا یا کریں ۔نماز میں اوپر الگ پڑھا کروں گا تم نیچے پڑھ لیا کرو ۔جمعہ کے لئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو جو شہر کے ایک طرف ہو جہاں ہم علیحدگی میںنماز ادا کر سکیں ۔چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ تھا اس میں ایک چھوٹی سی ویران مسجد تھی وہاں جمعہ کے دن حضور تشریف لے جایا کرتے تھے اور ہم کو نمازپڑھاتے تھے اور خطبہ بھی خود پڑھتے تھے ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں کھانا چھوڑ نے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیںکرتا تھا مگر کبھی حضور مجھ سے خود کوئی بات کرتے تھے تو جواب دے دیتا تھا ۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا۔ میاں عبداللہ !ان دنوںمیں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے ۔اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہوجاویں ۔ چنانچہ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیںکہ پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی چلّہ میں ہوئے تھے اور بعد چلّہ کے ہوشیار پور سے ہی آپ نے اس پیشگوئی کا اعلان فرمایا تھا (خاکسار عرض کرتا ہے ملاحظہ ہو اشتہار ۲۰فروری ۱۸۸۶ء ) جب چالیس دن گذر گئے تو پھر آپ حسب اعلان بیس دن اور وہاں ٹھہرے ۔ان دنوںمیں کئی لوگوں نے دعوتیں کیں اور کئی لوگ مذہبی تبادلہ خیالات کے لئے آئے اور باہر سے حضور کے پرانے ملنے والے لوگ بھی مہمان آئے۔ انہی دنوںمیں مرلی دھر سے آپ کا مباحثہ ہوا جو سرمہ چشم آریہ میںدرج ہے ۔جب دو مہینے کی مدت پوری ہوگئی تو حضرت صاحب واپس اسی راستہ سے قادیان روانہ ہوئے ۔ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے جہاں کچھ باغیچہ سالگا ہوا تھا ۔وہاں پہنچ کر حضور تھوڑی دیر کیلئے بہلی سے اُتر آئے اور فرمایا یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے یہاں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے بعد حضور قبر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی پیچھے پیچھے ساتھ ہوگیا اور شیخ حامد علی اور فتح خان بہلی کے پاس رہے ۔آپ مقبرہ پر پہنچ کر اس کا دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور تھوڑی دیر تک دعا فرماتے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’جب میںنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دوزانو ہو کر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہو تے تو میں ان سے باتیںبھی کرلیتا۔ان کی آنکھیں موٹی موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے‘‘ پھر کہا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تواس سے ان کے حالات پوچھیں ۔چنانچہ حضور نے مجاور سے دریافت کیا ۔اس نے کہا میں نے ان کو خود تو نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سو سال گذر گیا ہے۔ہاں اپنے باپ یا داداسے سنا ہے کہ یہ اس علاقہ کے بڑے بزرگ تھے اور اس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا ۔ حضور نے پوچھا ان کا حلیہ کیا تھا ؟ وہ کہنے لگاکہ سنا ہے سانولہ رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں ۔پھر ہم وہاں سے روانہ ہو کر قادیان پہنچ گئے ۔خاکسار نے میاں عبداللہ صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت صاحب اس خلوت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے اورکس طرح عبادت کرتے تھے ؟ میاں عبداللہ صاحب نے جواب دیا کہ یہ ہم کو معلوم نہیں کیونکہ آپ اوپر بالا خانہ میں رہتے تھے اور ہم کو اوپر جانے کا حکم نہیں تھا ۔ کھانے وغیرہ کے لئے جب ہم اوپر جاتے تھے تو اجازت لے کر جاتے تھے ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب میں کھانا رکھنے اوپر گیا تو حضور نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ بُوْرِکَ مَنْ فِیْھَا وَمَنْ حَوْلَھَا اورحضور نے تشریح فرمائی کہ مَنْ فِیْھَا سے میں مراد ہوں اور مَنْ حَوْلَھَا سے تم لوگ مراد ہو ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کر تے تھے کہ میںتو سارا دن گھر میں رہتا تھا صرف جمعہ کے دن حضور کے ساتھ ہی باہر جاتا تھا اور شیخ حامد علی بھی اکثر گھرمیں رہتا تھا لیکن فتح خان اکثر سارا دن ہی باہر رہتا تھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اغلب ہے کہ اس الہام کے وقت بھی وہ باہر ہی ہو ۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ فتح خان ان دنوں میں اتنا معتقد تھاکہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ حضرت صاحب کو تو میں نبی سمجھتا ہوں اور میںاس کی اس بات پر پرانے معروف عقیدہ کی بنا پر گھبرا تا تھا ۔ میاں عبداللہ صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑ نے گیا تو حضورنے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر میںان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروںتو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں ۔
    { 89} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ بیت الفکر میں (مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے ) لیٹے ہوئے تھے اور میںپائوں دبا رہا تھاکہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرم پت یا شاید لالہ ملا وامل نے دستک دی ۔میں اُٹھ کر کھڑکی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اُٹھ کر تیزی سے جاکر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ جاکر بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئیے ۔
    { 90} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ بشیراوّل کی پیدائش کے وقت میں قادیان میں تھا ۔قریباً آدھی رات کے وقت حضرت مسیح موعود ؑ مسجد میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا میاں عبداللہ اس وقت ہمارے گھر میں دردِ زِہ کی بہت تکلیف ہے ۔آپ یہاں یٰسین پڑھیں اور میں اندر جاکر پڑھتا ہوں اور فرمایا کہ یٰسین کا پڑھنا بیمار کی تکلیف کو کم کرتا ہے چنانچہ نزع کی حالت میں بھی اسی لئے یٰسین پڑھی جاتی ہے کہ مرنے والے کو تکلیف نہ ہو۔اور یٰسین کے ختم ہو نے سے پہلے تکلیف دور ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے اور میںیٰسین پڑھنے لگ گیا تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے ابھی یٰسین ختم نہیں کی تھی آپ مسکراتے ہو ئے پھر مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ہمارے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے ۔اسکے بعد حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے اور میںخوشی کے جوش میں مسجد کے اوپر چڑھ کر بلند آواز سے مبارک باد مبارک باد کہنے لگ گیا۔
    { 91} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب میری شادی ہوئی اور میں ایک مہینہ قادیان ٹھہر کر پھر واپس دہلی گئی توان ایام میں حضرت مسیح موعود ؑ نے مجھے ایک خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیںکہ مجھے دو یادتھے مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ نہیں میں نے تین دیکھے تھے اور تین ہی لکھے تھے ۔
    { 92} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی کیسا اخفا ہوتا ہے ۔پسر موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا مگر ہمارے موجودہ سارے لڑکے ہی کسی نہ کسی طرح تین کو چار کرنے والے ہیں ۔چنانچہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ میاں (حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ) کو تو حضرت صاحب نے اس طرح تین کو چار کرنے والا قراد دیا کہ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو بھی شمار کر لیا ۔اور بشیر اوّل متوفّی کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں (یعنی خاکسار راقم الحروف کو ) اس طرح پر کہ صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اوّل متوفی کوچھوڑ دیا ۔شریف احمد کواس طرح پر قرار دیا کہ اپنی پہلی بیوی کے لڑکے مرزا سلطان احمداور فضل احمد چھوڑدیئے اور میرے سارے لڑکے زندہ متوفّی شمار کر لئے اور مبارک کوا س طرح پر کہ میرے صرف زندہ لڑکے شمار کرلئے اور بشیر اوّل متوفّی کو چھوڑ دیا ۔
    { 93} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے قریب بڑی کثرت سے اپنی وفات کے متعلق الہامات اور خوابیں شروع ہوگئی تھیں ۔جب آپ لاہور تشریف لے گئے تو وہاں زیادہ کثرت سے ایسے الہام ہونے شروع ہوئے ۔اس وجہ سے اور کچھ ویسے بھی ۔ میں نے گھبرا کر ایک دن حضرت صاحب سے کہا کہ چلو اب قادیان واپس چلیں ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اب تو جب ہمیں خدا لے جائے گا تب ہی جائیں گے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی حضرت صاحب کی صداقت کی ایک دلیل ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ کو اس کثرت سے اپنی وفات کے متعلق الہامات ہو تے تھے اور وفات کے قریب تو کثرت کا یہ حال تھا کہ گویا موت بالکل سر پر کھڑی ہے آپ اپنے کام میں اسی تندہی سے لگے رہے بلکہ زیادہ ذوق شوق او ر محنت سے کا م شروع کر دیا ۔چنانچہ جس وقت آپ کی وفات ہوئی ان دنوںمیں بھی آپ رسالہ پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے اور تقاریر کا سلسلہ بھی برابر جاری تھا کوئی اور ہوتا تو قرب موت کی خبر سے اس کے ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑ جاتے اور کوئی مفتری ہوتا تو یہ وقت اس کے راز کے طشت ازبام ہونے کا وقت تھا ۔
    { 94} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ۲۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو عصر کی نماز کے بعد یعنی اپنی وفات سے صرف چند گھنٹے پیشتر حضور نے لاہور میں خوا جہ کمال الدین صاحب کے مکان پر جہاں نماز ہو ا کرتی تھی ایک بڑی پر جوش تقریر فرمائی جس کی وجہ یہ تھی کہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی کی طرف سے ایک شخص مباحثہ کا چیلنج لے کر آپ کے پاس آیا تھا۔آ پ نے مباحثہ کی شرائط کے لئے مولوی محمد احسن صاحب کو مقرر فرمایا اور پھراس شخص کی موجودگی میں ایک نہایت زبردست تقریر فرمائی اور جس طرح جوش کے وقت آپ کا چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا اسی طرح اس وقت بھی یہی حال تھا ۔اس تقریر کے بعض فقرے اب تک میرے کانوں میںگونجتے ہیں ۔ فرمایا تم عیسٰی کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے نیز فرمایا اب ہم تو اپنا کا م ختم کر چکے ہیں ۔
    { 95} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب لدھیانوی نے کہ ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے ۔میرے مکان میں ایک نیم کا درخت تھا چونکہ برسات کا موسم تھا اسکے پتے بڑے خوشنما طور پر سبز تھے ۔ حضور نے مجھے فرمایا حاجی صاحب اس درخت کے پتوں کی طرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں۔حاجی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسوئوںسے بھری ہوئی تھیں۔
    { 96} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شائع ہوئی ہے حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لئے تشریف لے گئے۔ میں اور حافظ حامدعلی ساتھ تھے ۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا شاید کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ ’’ سلطنت برطانیہ تاہشت سال بعد ازاںایام ضعف و اختلال ‘‘۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاںعبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے ۔حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے ۔’’سلطنت برطانیہ تا ہفت سال ۔ بعد ازاں باشد خلاف و اختلا ل ‘‘۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا ۔ اور ہفت کا لفظ بھی یاد ہے ۔جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تواس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیںتھا ۔شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا ۔پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کر نے کے لئے اپنے رسالہ میں شائع کیا کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شائع کیا ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے وہ اگر کسی صاحب کے ضعفِ حافظہ پر مبنی نہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قرا ء توں پر ہوا ہو ۔ واللہ اعلم ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی کئے گئے ہیں ۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے ۔بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریا کی وفات کے بعد سے اس کی میعاد شما ر ہوتی ہے ۔کیونکہ ملکہ کے لئے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں ۔بعض اور معنے کرتے ہیں۔میاںعبداللہ صاحب کہتے تھے کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اس کی میعاد شروع ہوتی ہے ۔چنانچہ وہ کہتے تھے کہ واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں او ر واقعات کے ظہور کے بعد ہی میں نے اس کے یہ معنی سمجھے ہیں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اس کی میعاد شمار کی جاوے کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لئے بطور حرز کے بیان کیا ہے پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں ۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتدا اور ہفت یاہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں ۔واللہ اعلم ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں ہمیں دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے ۔ (نیز اس روایت کی مزید تشریح کے لئے دیکھو حصہ دوم۔ روایت نمبر ۳۱۴)
    { 97} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت کا اعلان کیا تو بیعت لینے سے پہلے آپ شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کے بلانے پرا س کے لڑکے کی شادی پر ہوشیار پور تشریف لے گئے ۔میں اورمیر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔راستہ میں یکہ پر حضور نے ہم کو اپنے اس چلّہ کا حال سنایا جس میں آپ نے برابر چھ ماہ تک روزے رکھے تھے ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے ایک چھینکا رکھا ہوا تھا اسے میں اپنے چوبارے سے نیچے لٹکا دیتا تھا تو اس میں میری روٹی رکھدی جاتی تھی پھر اسے میں اوپر کھینچ لیتا تھا ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ شیخ مہر علی نے یہ انتظام کیا تھا کہ دعوت میں کھانے کے وقت رؤسا کے لئے الگ کمرہ تھا اور ان کے ساتھیوں اور خدام کے واسطے الگ تھا مگر حضرت صاحب کا یہ قاعدہ تھاکہ اپنے ساتھ والوںکو ہمیشہ اپنے ساتھ بٹھایا کرتے تھے چنانچہ اس موقعہ پر بھی آپ ہم تینوں کو اپنے داخل ہونے سے پہلے کمرہ میں داخل کرتے تھے اور پھر خود داخل ہوتے تھے اور اپنے دائیںبائیں ہم کو بٹھاتے تھے۔انہی دنوںمیں ہوشیار پور میں مولوی محمود شاہ چھچھ ہزاروی کا وعظ تھا جو نہایت مشہور اور نامور اور مقبول واعظ تھا ۔ حضرت صاحب نے میرے ہاتھ بیعت کا اشتہار دے کر انہیں کہلا بھیجا کہ آپ اپنے لیکچر کے وقت کسی مناسب موقع پر میرا یہ اشتہار بیعت پڑھ کر سنا دیں اور میں خود بھی آپ کے لیکچر میں آئوں گا ۔اس نے وعدہ کر لیا ۔چنانچہ حضرت صاحب اس کے وعظ میں تشریف لے گئے لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور حضور کا اشتہار نہ سنایا بلکہ جس وقت لوگ منتشر ہو نے لگے اس وقت سنایا مگر اکثر لوگ منتشر ہوگئے تھے ۔حضرت صاحب کو اس پر بہت رنج ہوا فرمایا ہم اس کے وعدہ کے خیال سے ہی اس کے لیکچر میں آئے تھے کہ ہماری تبلیغ ہوگی ورنہ ہمیں کیاضرورت تھی ۔اس نے وعدہ خلافی کی ہے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ پھر تھوڑے عرصہ کے اندر ہی وہ مولوی چوری کے الزام کے نیچے آکر سخت ذلیل ہوا ۔
    { 98} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت صاحب نے پہلے دن لدھیانہ میں بیعت لی تو اس وقت آپ ایک کمرہ میں بیٹھ گئے تھے اور دروازہ پر شیخ حامدعلی کو مقرر کر دیا تھا ۔اور شیخ حامد علی کو کہہ دیا تھا کہ جسے میں کہتا جائوں اسے کمرہ کے اندر بلاتے جائو چنانچہ آپ نے پہلے حضرت خلیفہ اوّل کو بلوایا ان کے بعد میر عباس علی کو پھر میاں محمد حسین مراد آبادی خوش نویس ۱ ؎ کو اور چوتھے نمبر پر مجھ کو اور پھر ایک یادو اور لوگوں کو نام لے کر اند ربلایا پھر اس کے بعد شیخ حامد علی کو کہہ دیا کہ خود ایک ایک آدمی کو اند ر داخل کرتے جائو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں حضور ایک ایک کی الگ الگ بیعت لیتے تھے لیکن پھربعد میں اکٹھی لینے لگ گئے ۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ پہلے دن جب آپ نے بیعت لی تو وہ تاریخ ۲۰؍رجب۱۳۰۶ ء ھجری مطابق ۲۳مارچ ۱۸۸۹ء تھی ۲ ؎ اور اس وقت بیعت کے الفاظ یہ تھے ۔’’آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے توبہ کرتا ہوں جن میں مَیں مبتلا تھا اور سچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت او ر سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کی لذات پر مقدم رکھونگا اور ۱۲؍جنوری کی دس شرطوں پر حتی الوسع کا ر بند رہوں گا اور اب بھی اپنے گذشتہ گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی چاہتا ہوں ۔’’ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ ـ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ ـ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ ۔اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّہٗ لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ ـ‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر مصافحہ کے طریق پر بیعت کنندگان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلیتے تھے لیکن بعض لوگوں سے آپ نے پنجہ کے اوپر کلائی پر سے بھی ہاتھ پکڑ کر بیعت لی ہے ۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ میری بیعت آپ نے اسی طرح لی تھی ۔نیز خاکسار عرض کرتاہے کہ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ بیعت اولیٰ کے دن مولوی عبدالکریم صاحب بھی وہیں موجود تھے مگر انہوں نے بیعت نہیں کی ۔ (مزید تشریح کے لئے دیکھو حصہ دوم۔ روایت نمبر ۳۰۹، ۳۱۵)
    {99} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ لدھیانہ میں پہلی دفعہ بیعت لے کر یعنی ابتدائ۱۸۸۹ء میں حضرت صاحب علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ میںاور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے ۔حضرت صاحب سیدتفضل حسین صاحب تحصیل دارکے مکان پر ٹھہرے جو ان دنوں دفتر ضلع میں سپر نٹنڈنٹ تھے۔ وہاں ایک تحصیل دار نے جو سید صاحب کا واقف تھا حضرت صاحب کی دعوت کی اور شہر کے دوسرے معز زین کو بھی مدعو کیا ۔حضورتشریف لے گئے اور ہم تینوںکو حسب عادت اپنے دائیںبائیںبٹھایا۔ تحصیلدار صاحب نے کھانے کے لئے چوکیوں یعنی چھوٹے چھوٹے تخت پوشوں کا انتظام کیا تھا جن پر کھانا رکھا گیا اور لوگ ان کے گرد بیٹھ گئے ۔چوکیوں پر کنچ کے گلاسوں میں گلدستے رکھے ہوئے تھے ۔جب کھانا شروع ہو ا تومیر عباس علی نے کھانا کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ خاموش بیٹھے رہے۔حضرت صاحب نے ان سے دریافت کیا میر صاحب آپ کیوںنہیں کھاتے؟ انہوں نے کہا یہ نیچریوںکے طریق کا کھانا ہے ۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں اس میںکوئی حرج نہیں یہ خلاف شرع نہیںہے۔میر صاحب نے کہا میرا تو دل نہیں چاہتا ۔ حضرت صاحب نے فرمایا میر صاحب !ہم جو کھاتے ہیں۔میر صاحب نے کہا حضرت آپ کھائیں میں تو نہیںکھاتا۔غرض میر عباس علی نے کھانا نہیں کھایا ۔ میاںعبداللہ صاحب کہتے تھے کہ جب عباس علی مرتد ہوا تو مجھے یہ بات یاد آئی کہ وہ تو دراصل اسی وقت سے کٹ چکا تھا ۔نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ علی گڑھ میں لوگوں نے حضرت صاحب سے عرض کر کے حضور کے ایک لیکچر کا انتظام کیا تھا اور حضور نے منظور کر لیا تھا۔جب اشتہار ہوگیا اور سب تیاری ہوگئی اور لیکچر کا وقت قریب آیاتو حضرت صاحب نے سّید تفضل حسین صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو ا ہے کہ میں لیکچر نہ دوںاس لئے میں اب لیکچر نہیں دوں گا ۔ انہوں نے کہا حضور اب توسب کچھ ہوچکا ہے لوگوں میں بڑی ہتک ہوگی ۔حضرت صاحب نے فرمایا خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کریں گے ۔ پھر اور لوگوں نے بھی حضرت صاحب سے بڑے اصرار سے عرض کیا مگر حضرت صاحب نے نہ مانا اور فرمایا یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں خدا کے حکم کو چھوڑ دوںاس کے حکم کے مقابل میں مَیں کسی ذلت کی پروا نہیں کرتا ۔غرض حضرت صاحب نے لیکچر نہیں دیا اور قریباً سات دن وہاں ٹھہر کر واپس لدھیانہ تشریف لے آئے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے جب پہلے پہل یہ روایت بیان کی تو یہ بیان کیا کہ یہ سفر حضرت صاحب نے ۱۸۸۴ء میں کیا تھا۔خاکسار نے والدہ صا حبہ سے عرض کیا تو انہوںنے اس کی تردیدکی اور کہا کہ یہ سفر میاں (یعنی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ) کی پیدائش بلکہ ابتدائی بیعت کے بعد ہوا تھا ۔ جب میں نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت میاں عبداللہ صاحب کے پاس بیان کی توانہوں نے پہلے تو اپنے خیال کی صحت پر اصرارکیا لیکن آخر ان کو یاد آگیا کہ یہی درست ہے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاںعبداللہ صاحب کہتے تھے کہ علی گڑھ کے سفر سے حضرت صاحب کا وہ ارادہ پورا ہوا جو حضور نے سفر ہندوستان کے متعلق کیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی سفر میں مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی نے حضور کی مخالفت کی اور آخر آپ کے خلاف ایک کتاب لکھی مگر جلد ہی اس جہاں سے گذر گیا ۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف فتح اسلام کے حاشیہ میں اس سفر کا مکمل ذکر کیا ہے)
    { 100} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ غالباً یہ ۱۸۸۴ء کی بات ہے کہ ایک دفعہ ماہ جیٹھ یعنی مئی جون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں نماز فجر پڑ ھ کر اس کے ساتھ والے غسل خانہ میں جو تا زہ پلستر ہونے کی وجہ سے ٹھنڈاتھا ایک چارپائی پر جو وہاں بچھی رہتی تھی جالیٹے ۔چارپائی پر بستر اور تکیہ وغیرہ کو ئی نہ تھا ۔حضرت کا سر قبلہ کی طرف اور منہ شمال کی طرف تھا ۔ایک کہنی آپ نے سر کے نیچے بطور تکیہ کے رکھ لی اور دوسری اسی صورت میں سر کے اوپر ڈھانک لی ۔میں پائوں دبانے بیٹھ گیا ۔وہ رمضان کا مہینہ تھا اور ستائیس تاریخ تھی اور جمعہ کا دن تھا اس لئے میں دل میں بہت مسرور تھا کہ میرے لئے ایسے مبارک موقعے جمع ہیں ۔یعنی حضرت صاحب جیسے مبارک انسان کی خدمت کر رہاہوں وقت فجر کا ہے جو مبارک وقت ہے مہینہ رمضان کا ہے جو مبارک مہینہ ہے ۔تاریخ ستائیس اور جمعہ کا دن ہے اور گزشتہ شب شَب قدر تھی کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہوا تھا کہ جب رمضان کی ستائیس تاریخ اور جمعہ مل جاویں تو وہ رات یقینا شب قدر ہوتی ہے ۔میں انہی باتوں کا خیال کر کے دل میں مسرور ہو رہا تھا کہ حضرت صاحب کا بدن یکلخت کانپا اور اس کے بعد حضور نے آہستہ سے اپنے اوپر کی کہنی ذرا ہٹاکر میری طرف دیکھا اس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میںآنسو بھرے ہوئے تھے ۱ ؎ اس کے بعد آپ نے پھر اسی طرح اپنی کہنی رکھ لی۔ میں دباتے دباتے حضرت صاحب کی پنڈلی پر آیا تو میں نے دیکھا کہ حضور کے پائوں پر ٹخنے کے نیچے ایک اٹن یعنی سخت سی جگہ تھی اس پر سرخی کا ایک قطرہ پڑا تھا جو ابھی تازہ گرے ہونے کی وجہ سے بستہ تھا ۔میں نے اسے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی لگا کر دیکھا کہ کیا ہے ۔اس پر وہ قطرہ ٹخنے پر بھی پھیل گیا اور میری انگلی پر بھی لگ گیا ،پھر میں نے اسے سونگھا کہ شاید اس میں کچھ خوشبو ہو مگر خوشبو نہیں تھی ۔میں نے اسے اس لئے سونگھا تھا کہ اسی وقت میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ یہ کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بات ہے اس لئے اس میں کوئی خوشبو ہوگی ۔پھر میں دباتا دباتا پسلیوں کے پاس پہنچا وہاں میںنے اسی سرخی کا ایک اور بڑا قطرہ کرتہ پر دیکھا ۔اس کو بھی میں نے ٹٹولا تو وہ بھی گیلا تھا ۔ ۲ ؎ اس وقت پھر مجھے حیرانی سی ہوئی کہ یہ سرخی کہاں سے آگئی ہے ۔پھر میں چارپائی سے آہستہ سے اُٹھا کہ حضرت صاحب جاگ نہ اُٹھیں اور پھر اس کا نشان تلاش کرنا چاہا کہ یہ سرخی کہاں سے گری ہے ۔ بہت چھوٹا سا حجرہ تھا ۔چھت میں اردگرد میں نے اس کی خوب تلاش کی مگر خارج میں مجھے اس کا کہیں پتہ نہیں چلاکہ کہاںسے گِری ہے ۔مجھے یہ بھی خیال آیا کہ کہیںچھت پر کسی چھپکلی کی دم کٹی ہو تو اس کا خون گرا ہواس لئے میں نے غور کے ساتھ چھت پر نظر ڈالی مگر اس کا کوئی نشان نہیں پایا ۔پھر آخرمیں تھک کر بیٹھ گیا اور بدستور دبانے لگ گیا ۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر حجرہ میں سے نکل کر مسجد میںجاکر بیٹھ گئے ۔میں وہاں پیچھے بیٹھ کر آپ کے مونڈھے دبانے لگ گیا۔اس وقت میں نے عرض کیا کہ حضوریہ آپ پر سرخی کہاںسے گری ہے ۔حضور نے بہت بے توجہی سے فرمایا کہ آموںکا رس ہوگا اور مجھے ٹال دیا ۔ میں نے دوبارہ عرض کیا کہ حضور یہ آموںکا رس نہیں یہ تو سرخی ہے ۔اس پر آپ نے سر مبارک کو تھوڑی سی حرکت دے کر فرمایا ’’ کتھّے ہے ‘‘؟ یعنی کہاں ہے ؟ میں نے کر تہ پر و ہ نشان دکھا کر کہا کہ یہ ہے اس پر حضور نے کُرتے کو سامنے کی طرف کھینچ کر اور اپنے سر کو ادھر پھیر کراس قطرہ کو دیکھا ۔پھر اس کے متعلق مجھ سے کچھ نہیں فرمایا بلکہ رؤیت باری اور امور کشوف کے خارج میںوجود پانے کے متعلق پہلے بزرگوںکے دو ایک واقعات مجھے سنائے اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء ہے اس کو یہ آنکھیں دنیامیں نہیں دیکھ سکتیں البتہ اس کی بعض صفات جمالی یا جلالی متمثل ہو کر بزرگوںکو دکھائی دے جاتے ہیں ۔ شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیںکہ مجھے کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی زیارت اپنے والد کی شکل میںہوئی ہے نیز شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ہلدی کی گٹھی دی کہ یہ میری معرفت ہے اسے سنبھال کر رکھنا جب وہ بیدار ہوئے تو ہلدی کی گٹھی ان کی مٹھی میںموجود تھی ۔ اور ایک بزرگ جن کا حضور نے نام نہیں بتایا تہجد کے وقت اپنے حجرہ کے اند ر بیٹھے مصلّٰی پرکچھ پڑ ھ رہے تھے کہ انہوں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی شخص باہر سے آیا ہے اور ان کے نیچے کا مصلّٰی نکال کر لے گیا ہے ۔ جب وہ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ فی الواقع مصلّٰی ان کے نیچے نہیںتھا ۔ جب دن نکلنے پر حجرہ سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مصلّٰی صحن میںپڑا ہے ۔یہ واقعات سنا کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ کشف کی باتیں تھیں مگر خداتعالیٰ نے ان بزرگوں کی کرامت ظاہر کر نے کیلئے خارج میںبھی ان کاوجود ظاہر کر دیا ۔اب ہمارا قصہ سنو ۔جس وقت تم حجرہ میں ہمارے پائوں دبا رہے تھے میں کیا دیکھتا ہوںکہ ایک نہایت وسیع اور مصفّٰی مکان ہے اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میںبیٹھاہے ۔میرے دل میںڈالا گیاکہ یہ احکم الحاکمین یعنی رب العالمین ہیں اورمیں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے حاکم کا کوئی سر رشتہ دار ہوتا ہے۔میں نے کچھ احکام قضا و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کر انے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں ۔جب میں پاس گیا تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔اس وقت میری ایسی حالت ہوگئی کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہو ا سالہاسال کے بعد ملتا ہے اور قدرتًا اس کا دل بھر آتا ہے یا شاید فرمایا اس کو رقت آجاتی ہے اور میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ احکم الحاکمین یا فرمایا رب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے ۔ اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے دستخط کرانے کی غرض سے پیش کئے ۔ انہوں نے قلم سرخی کی دوات میں جو پاس پڑی تھی ڈبویا اور میری طرف جھاڑ کردستخط کر دیئے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے قلم کے جھاڑ نے اور دستخط کرنے کی حرکتوں کو خود اپنے ہاتھ کی حرکت سے بتایا تھاکہ یوں کیا تھا ۔ پھر حضرت صاحب نے فرمایایہ وہ سرخی ہے جو اس قلم سے نکلی ہے ۔پھر فرما یا دیکھو کو ئی قطرہ تمہارے اوپربھی گرا۔میں نے اپنے کُرتے کو ادھر اُدھر سے دیکھ کر عرض کیا کہ حضور میرے پر تو کوئی نہیں گرا۔فرمایا کہ تم اپنی ٹوپی پر دیکھو ۔ان دنوں میں ململ کی سفید ٹوپی میرے سر پر ہوتی تھی میں نے وہ ٹوپی اتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا ۔مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے عرض کیا حضور میری ٹوپی پر بھی ایک قطرہ ہے ۔پھر میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ یہ کُرتہ بڑا مبارک ہے اس کو تبرکاً لے لینا چاہئیے ۔ پہلے میں نے اس خیال سے کہ کہیں حضور جلدی انکار نہ کر دیں حضور سے مسئلہ پوچھا کہ حضور کسی بزرگ کا کوئی تبرک کپڑے وغیرہ کالے کر رکھنا جائز ہے ؟ فرمایا ہاں جائز ہے ۔رسول اللہ ﷺ کے تبرکا ت صحابہ نے رکھے تھے ۔پھر میں نے عرض کیا کہ حضور خدا کے واسطے میرا ا یک سوال ہے ۔فرمایا کہو کیا ہے ؟ عرض کیا کہ حضور یہ کُرتہ تبرکاً مجھے دے دیں ۔فرمایا نہیں یہ تو ہم نہیں دیتے ۔میں نے عرض کیا حضور نے ابھی تو فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تبرکات صحابہ نے رکھے ۔اس پر فرمایا کہ یہ کُرتہ میں اس واسطے نہیں دیتا کہ میرے اور تیرے مرنے کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اس کی لوگ پوجا کر یں گے۔اس کو لوگ زیارت بنالیں گے ۔میں نے عرض کیا کہ حضور رسول اللہ ﷺ کے تبرکات سے شرک نہ پھیلا ۔فرمایا میاں عبداللہ دراصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تبرکات جن صحابہ کے پاس تھے وہ مرتے ہوئے وصیتیں کر گئے کہ ان تبرکات کو ہمارے کفن کے ساتھ دفن کر دینا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ جو تبرک جن صحابہ کے پاس تھا وہ ان کے کفن کے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں بھی مرتا ہوا وصیت کر جائو ں گا کہ یہ کُرتہ میرے کفن کے ساتھ دفن کر دیا جاوے۔فرمایا ہاں اگر یہ عہد کرتے ہو تو لے لو ۔چونکہ وہ جمعہ کا دن تھا تھوڑی دیر کے بعد حضورنے غسل کر کے کپڑے بدلے اور میں نے یہ کُرتہ سنبھال لیا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ابھی آپ نے یہ کُرتہ پہنا ہی ہوا تھا کہ دو تین مہمان جو اردگرد سے آئے ہوئے تھے ان سے میں نے اس نشان کا ذکر کیا۔وہ پھر حضرت صاحب کے پاس آئے او ر عرض کیا کہ میاں عبداللہ نے ہم سے ایسا بیان کیا ہے حضور نے فرمایا ۔ہاں ٹھیک ہے ۔پھر انہوںنے کہا کہ حضوریہ کُرتہ ہم کو دیدیں ہم سب تقسیم کر لیں گے کیونکہ ہم سب کا اس میں حق ہے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا ہاں لے لینا اور ان سے کوئی شرط اور عہد وغیرہ نہیں لیا ۔مجھے اس وقت بہت فکر ہوا کہ یہ نشان میرے ہاتھ سے گیا ۔اور میرے دل میں بہت گھبراہٹ پیدا ہوئی اس لئے میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضوراس کُرتہ پر آپ کا کوئی اختیار نہیں کیونکہ یہ میری مِلک ہوچکا ہے ۔میرا اختیار ہے میں ان کو دو ں یا نہ دوں کیونکہ میں حضور سے اس کو لے چکا ہوں ۔اس وقت حضورنے مسکراکر فرمایا کہ ہاں یہ تو میاں عبداللہ ہم سے لے چکے ہیںاب ان کا اختیار ہے یہ تمہیں دیں یا نہ دیں ۔پھر انہوں نے مجھ سے بڑے اصرار سے مانگا مگر میں نے انکار کر دیا ۔میاں عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ آج تک اس کُرتہ پر سرخی کے ویسے ہی داغ موجود ہیں کوئی تغیر نہیں ہوا۔اور اس کُرتہ کے کپڑے کو پنجابی میں نینو کہتے ہیں ۔یہ کُرتہ حضو ر نے سات دن سے پہنا ہوا تھا ۔میں یہ کُرتہ پہلے لوگوں کو نہیںدکھایا کر تا تھا کیونکہ حضور کے یہ الفاظ کہ یہ کُرتہ زیارت نہ بنا لیا جاوے مجھے یاد رہتے تھے ۔ لیکن لوگ بہت خواہش کیا کرتے تھے او ر لوگ اس کے دیکھنے کے لئے مجھے بہت تنگ کر نے لگے ۔میں نے حضر ت خلیفہ ثانی سے اس کا ذکر کیاکہ مجھے حضرت صاحب کے الفاظ کی وجہ سے اس کُرتہ کے دکھانے سے کراہت آتی ہے مگر لوگ تنگ کرتے ہیں کیا کیا جاوے؟ حضرت میاں صاحب نے فرمایا اسے بہت دکھایا کرو اورکثرت کے ساتھ دکھائو تاکہ اس کی رؤیت کے گواہ بہت پیدا ہو جاویں اور ہر شخص ہماری جماعت میں سے یہ کہے کہ میں نے بھی دیکھا ہے ۔ میں نے بھی دیکھا ہے ،میںنے بھی دیکھا ہے یا شاید میں نے کی جگہ ہم نے کے الفاظ کہے ۔اس کے بعد میںدکھانے لگ گیا ۔مگر اب بھی صرف اس کو دکھاتا ہوںجو خواہش کرتا ہے ۔اور ازخوددکھانے سے مجھے کراہت ہے کیونکہ حضرت صاحب کے الفاظ میرے دل پر نقش ہیں اور ہر سفر میں مَیں اسے پاس رکھتا ہوںاس خیال سے کہ کچھ معلوم نہیں کہ کہاں جان نکل جاوے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ کُرتہ دیکھا ہے سرخی کا رنگ ہلکا ہے یعنی گلابی سا ہے اور مجھے میاں عبداللہ صاحب سے معلوم ہو اہے کہ رنگ ابتدا سے ہی ایسا چلا آیا ہے ۔ (نیز دیکھو روایت نمبر ۴۳۶)
    { 101} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب میں ۱۸۸۲ء میں پہلے پہل قادیان آیا تو اس وقت میری عمر سترہ اٹھا رہ سال کی تھی اور میری ایک شادی ہوچکی تھی اور دوسری کا خیال تھاجس کے متعلق میں نے بعض خوابیں بھی دیکھی تھیں ۔میں نے ایک دن حضرت صاحب کے ساتھ ذکرکیا کہ مجھے ایسی ایسی خوابیں آئی ہیں حضر ت صاحب نے فرمایا یہ تمہاری دوسری شادی کے متعلق ہیں اور فرمایا مجھے بھی اپنی دوسری شادی کے متعلق الہام ہوئے ہیں۔دیکھئے تمہاری شادی پہلے ہو تی ہے کہ ہماری ۔میں نے ادب کے طور پر عرض کیا کہ حضور ہی کی پہلے ہوگی۔پھراس کے بعد مجھے اپنے ایک رشتہ کے ماموں محمد اسماعیل کی لڑکی کے ساتھ نکاح کا خیال ہوگیا ۔چنانچہ میں نے قادیان آکر حضرت صاحب کے ساتھ اس کا ذکر کیا ۔اس سے پہلے میرے ساتھ اسماعیل مذکور بھی ایک دفعہ قادیا ن ہو گیا تھا ۔ حضور نے مجھ سے فرمایا تم نے اس وقت کیوں نہ مجھ سے ذکر کیا جب اسماعیل یہاں آیا تھا ہم اسے یہیں تحریک کر تے ۔پھر آپ نے میرے ماموں محمد یوسف صاحب مرحوم کو جو حضرت صاحب کے بڑے معتقد تھے اور جن کے ذریعہ مجھے حضرت صاحب کی طرف رہنمائی ہوئی تھی خط لکھا اور اس میں اسماعیل کے نام بھی ایک خط ڈالا اور لکھا کہ اسماعیل کے نام کا خط اسکے پاس لے جائیں اور اسے تحریک کریں ۔اور اس خط میں میرے والداور دادا اور خسر کی طرف بھی حضور نے خطوط ڈال کر بھیجے اور ان سب خطوط کو اہم بنانے کیلئے ان پر اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی مہر لگائی اور میرے والد اور دادا اور خسر کے خط میں لکھا کہ میاں عبداللہ دینی غرض سے دوسری شادی کر نا چاہتے ہیں ان کو نہ روکیں اور ان پر راضی رہیں۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے ایسا اس لئے لکھا تھا کہ میں نے حضور کو کہا تھاکہ میں نے اپنے والد اور دادا سے اس امر کے متعلق کھل کر ذکر نہیں کیا مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں اس میں روک نہ ہوں کیونکہ اس زمانہ میں نکاح ثانی کو بُرا سمجھا جاتا تھا ۔حضرت صاحب نے ادھر یہ خطوط لکھے اور اُدھر میرے واسطے دعا شروع فرمائی۔ابھی میرے ماموں محمد یوسف صاحب کا جواب نہیں آیا تھا اور حضرت صاحب میری تحریک پراس امر کے واسطے دعا میں مصرو ف تھے کہ عین دعا کرتے کر تے حضرت صاحب کو الہام ہوا ’’ ناکامی ‘‘ پھر دعا کی تو الہام ہوا ’’ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ‘‘ پھر اس کے بعد ایک اور الہام ہوا ’’ فَصَبْرٌجَمِیْل ‘‘ ۔حضرت صاحب نے مجھے یہ الہام بتا دیئے ۔ان دنوں میں میر عباس علی بھی یہاں آئے ہوئے تھے ان سے حضرت صاحب نے ان الہامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ معلوم نہیں میاں عبداللہ صاحب کا ہمارے ساتھ کیسا تعلق ہے کہ ادھر دعا کرتا ہوں اور اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل جاتا ہے ۔چند دنوں کے بعد میاں محمد یوسف صاحب کا جواب آگیا کہ میاں عبداللہ کے والد اور دادا اور خسر تو راضی ہوگئے ہیں مگر اسماعیل انکار کرتا ہے ۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ اب ہم اسماعیل کو خود کہیں گے ۔میں نے عرض کیا کہ حضور اِدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناکامی کا الہام ہوا ہے اُدھر اسماعیل انکاری ہے اب اس معاملہ میں کیا کامیابی کی صورت ہوسکتی ہے ؟ فرمایا نہیں قرآن شریف میں ہے کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (الرَّحمٰن:۳۰) یعنی ہر دن اللہ تعالیٰ الگ شان میں ہوتا ہے پس کو شش نہیں چھوڑنی چاہیے ۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے الہامات کا یہ منشا ء ہو کہ جس طریق پر کوشش کی گئی ہے اس میں ناکامی ہے اور کسی اور طریق پر کامیابی مقدر ہو۔چنانچہ اس کے بعدبدستور میرا اس کی طرف خیال رہا اور میں حضور سے دعائیں بھی کراتا رہا ۔اسماعیل ان دنوں میں سر ہند کے پاس پٹواری تھا اور سرہند میں حشمت علی خان صاحب تحصیلدار تھے ۔جو ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے قریبی رشتہ دار تھے ۔انہوں نے حضرت صاحب سے وعدہ لیا ہوا تھا کہ کبھی حضور سر ہند تشریف لے چلیں گے ۔ چنانچہ جب آپ انبالہ جانے لگے تو مجھے کہا کہ حشمت علی خاں صاحب کو لکھ دو کہ ہم انبالہ جاتے ہوئے سر ہند آئیں گے اور مجھے حضرت صاحب نے فرمایا کہ سر ہند میں مجدّد صاحب کے روضہ پر بھی ہو آئیں گے ۔اور اسماعیل سے بھی تمہارے متعلق بات کرنے کا موقعہ مل جائے گا ۔چنانچہ آپ وہاں گئے اور تحصیل میں حشمت علی خاں صاحب کے پاس ٹھہرے ۔رات کو جب نماز اور کھانے سے فراغت ہو چکی تو حضورچارپائی پر لیٹ گئے اور حشمت علی خان صاحب سے فرمایا تحصیل دار صاحب اب آپ آرام کریں ہم نے میاں اسماعیل سے کچھ علیحدگی میںبات کرنی ہے اس پر وہ اور ان کے ساتھی اُٹھ گئے اور میں بھی اُٹھ آیا ۔اس وقت اسماعیل حضرت صاحب کے پائوں دبا رہا تھا ۔پھر حضرت صاحب نے اسماعیل کو میرے متعلق کہا مگر اس نے انکار کیا اور کئی عذر کر دیئے کہ دو بیویوں میںجھگڑے ہوا کرتے ہیں نیز یہ کہ عبداللہ کی تنخواہ بہت قلیل ہے (اس وقت میری تنخواہ ساڑھے چار روپے ماہوار تھی)گذارہ کس طرح ہوگا اور میاں عبداللہ کے خُسر میرے قریبی ہیں ان کو ملال ہوگا وغیرہ ۔حضرت صاحب نے فرمایا ان سب باتوںکا میں ذمہ لیتاہوں مگراس نے پھر بھی نہیں مانا اور عذر کیا کہ میری بیوی نہیں مانے گی ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے خدا اور اس کے رسول کا حکم پیش کیا اوراپنی طرف سے بھی کہا مگر اس نے انکار کیا گویا اس کا خدا اس کا رسول اور اس کا پیر سب اس کی بیوی ہے کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں تو جووہ کہے گی وہی کرونگا ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ابھی میں نے اسماعیل سے بات شروع نہیں کی تھی کہ مجھے کشف ہوا تھاکہ اس نے میرے بائیں ہاتھ پر دست پھر دیا ہے نیز میںنے کشف میںدیکھا تھا کہ اسکی شہادت کی انگلی کٹی ہوئی ہے ۔اس پر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ اس معاملہ میں مجھے نہایت گندے جواب دے گا ۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس کا جواب سن کر مجھے اس سے ایسی نفرت ہو ئی کہ دل چاہتا تھا کہ یہ ابھی اُٹھ جاوے اور پھر کبھی تازیست میرے سامنے نہ آوے ۔میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں اسکے بعد اسماعیل نے اپنی لڑکی کی دوسری جگہ شادی کردی جس پر مجھ کو سخت صدمہ پہنچا ۔میری اس حالت کی میرے والد صاحب نے حضرت صاحب کو بذریعہ خط اطلاع دی تو آپ نے مجھے خط لکھا کہ تم کچھ عرصہ کے واسطے تبدیل خیالات کے لئے یہاں میرے پاس آجائو ۔مگر اس شادی کے بعدا سماعیل پر بڑی مصیبت آئی ۔اس کے دو جوان لڑکے اور بیوی فوت ہو گئے ۔پھر جب میری دوسری شادی ماسٹر قادر بخش صاحب کی ہمشیرہ کے ساتھ ہوئی تو اسمٰعیل بہت پچھتایا اوراس نے مجھے کہا کہ حضرت سے مجھے معافی لے دو ۔میں نے حضرت صاحب کو لکھا حضورنے اس کی بیعت قبول فر مالی مگراس کے بعد بھی اسماعیل کو حضرت صاحب کی ملاقات نصیب نہیں ہوئی ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ میرے متعلق جو حضرت صاحب نے اپنے نشانات کے ذکر میں لکھاہے کہ مجھے دکھایا گیا تھاکہ میاں عبداللہ کو ایک معاملہ میں ناکامی ہوگی سو ایسا ہی ہوا وہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور نے اپنی تصنیف حقیقۃ الوحی نشان نمبر ۵۵ میں میاںعبداللہ صاحب کی اس ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میرے ماموں اسماعیل کی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ ہو گیاتو میں نے ایک اور جگہ تجویز کی اورسب باتوں کا تصفیہ کر کے حضرت صاحب کو خط لکھا کہ میں نے ایک جگہ شادی کی تجویز کر لی ہے اور سب باتوں کا فیصلہ ہو چکا ہے اورتاریخ نکاح بھی مقرر ہو چکی ہے ۔اب حضور سے تبرکاً مشورہ پوچھتا ہوں۔حضرت صاحب نے جواب دیا کہ اس معاملہ میںجلدی نہ کرو۔بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور تاکید فرمائی کہ ضرور پہلے لڑکی کو دیکھ لو ۔خط ختم کر نے کے بعد پھر لکھا کہ میری اس بات کو خوب یاد رکھنا ۔چنانچہ میں ارشاد کے مطابق لڑکی کو دیکھنے کے لئے اس کے گائوں گیا تو دیکھتے ہی میرے دل میںاتنی کراہت پیدا ہوئی کہ قریب تھا کہ قے ہو جاتی حالانکہ لڑکی شکل کی خراب نہیں تھی ۔اس کے بعد لدھیانہ کی ایک معلمہ کے ساتھ تجویز ہوئی مگر حضرت صاحب نے اسے بھی پسند نہیںفرمایا اس کے بعد میںنے ماسٹر قادر بخش صاحب کی ہمشیرہ کا ذکر کیا تو فرمایا یہ بہت اچھا موقعہ ہے یہاں کرلو۔چنانچہ حضورنے میری گزارش پر خود ماسٹر قادر بخش صاحب سے میرے متعلق کہا ۔انہوں نے بلا عذر قبول کر لیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ میری صرف ساڑھے چار روپے تنخواہ ہے اور بیوی بچے بھی ہیں ۔ قبول کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ حضور میراباپ بڑا مخالف ہے مگر وہ بغیر میری مرضی کے کچھ نہیں کر سکتا ۔ پس یا تو میں اُسے راضی کر لوں گا اور یا جب وہ مر جائے گا تو شادی کر دوں گا ۔حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور پھر مجھے باغ کی طرف لے گئے اور راستہ میں مجھے ان کا جواب سنایا اور باپ کے مرنے کے الفاظ سنا کر ہنسے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ اس کے بعد ماسٹر قادر بخش صاحب کو اپنے باپ کی طرف سے بہت تکلیفیں دیکھنی پڑیں مگر انہوں نے اپنی ہمشیرہ کی شادی دوسری جگہ نہیںہونے دی اور آخر میرے ساتھ اپنی بہن کی خفیہ شادی کر دی ۔نکاح کے وقت میں نے ان کو کہا کہ جو تحریر یا شرائط وغیرہ مجھ سے لکھانی ہو ں لکھا لو۔ انہوں نے کہا شرائط کیسی میری تحریر اور شرائط سب حضرت صاحب ہیں ۔ پھر مہر کے متعلق میں نے پوچھا تو انہوں نے کہاکہ سوا تیس روپے مہر ہوگا ۔ میں نے کہا نہیں بلکہ ایک سو روپیہ ہونا چاہئیے مگر انہوں نے اپنی رائے پر اصرار کیا اس پر میں نے ان کو کہا کہ مجھے خواب آیا تھا کہ میرا دوسرا نکاح ہوا ہے اور مہر ایک سو روپیہ رکھا گیا ہے اس پر انہوں نے مان لیا ۔پھر رخصتانہ بھی خفیہ ہوا۔لیکن آخر ماسٹر قادر بخش صاحب کا والد بھی راضی ہو گیا ۔نیز میاں عبداللہ صاحب بیا ن کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب سر ہند تشریف لے گئے تھے تو اسی سفر میں تھوڑی دیر کے لئے سنور بھی گئے تھے ۔
    { 102} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت خلیفہ اوّل بیان کیا کرتے تھے کہ جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو یہاں چھوٹی مسجد کے پاس جو چوک ہے اس میں یکہ پر سے اترا اور پھر میںنے یکہ والے سے یا شاید فرمایا کسی سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں ؟ اس وقت مرزا امام الدین اور مرزانظام الدین اپنے صحن میںچارپائیوں پر مجلس لگائے بیٹھے تھے اس نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ ہیں ۔میں نے ادھر دیکھا تو میرا دل بیٹھ گیا اور میں نے یکہ والے سے کہا ابھی نہ جائو ذرا ٹھہر جائو شاید مجھے ابھی واپس جانا پڑے۔پھر میں آگے بڑھ کر اس مجلس میںگیا لیکن میرے دل میںایسا اثرتھاکہ میں جاکر بغیر سلام کئے چارپائی پر بیٹھ گیا۔مرزا امام الدین یاشاید فرمایا مرزا نظام الدین نے میرا نام پوچھا میںنے بتا یا تو انہوں نے کہا کہ آپ شاید مرزا صاحب کوملنے آئے ہیں۔مولوی صاحب فرماتے تھے تب میری جان میں جان آئی کہ یہاں کوئی اور مرزا بھی ہے ۔پھر میرے ساتھ انہوںنے ایک آدمی کر دیا جو مجھے چھوٹی مسجد میں چھوڑگیا ۔اس وقت حضرت صاحب مکان کے اندر تشریف رکھتے تھے آپ کو اطلاع کرائی گئی تو فرمایا میں ظہر کی نماز کے وقت باہر آئوں گا ۔پھر حضورتشریف لائے تو میں ملا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب براہین احمدیہ کے زمانہ میںیہاں آئے تھے اور مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے تھے کہ حضرت صاحب نے کہیںلکھاہے کہ میں دعا کیا کرتا تھاکہ خدا مجھے موسیٰ کی طرح ہارون عطا کر ے پھر جب مولوی صاحب آئے تو میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ ھٰذا دعائی ۔
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے آئینہ کمالات اسلام میں اپنی اس دعا کا ذکر کیا ہے مگر حضرت موسیٰ اور ہارون کی مثال اس جگہ نہیں دی اور عجیب بات ہے کہ جیسا کہ حضرت مولوی صاحب کی تحریر مندرجہ کرامات الصادقین میں درج ہے ۔ حضرت مولوی صاحب کو بھی اپنی طرف کسی ایسے مرد کامل کی تلاش تھی جو اس پُر آشوب زمانہ کے فتنوں کا مقابلہ کر سکے اور اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کر کے دکھا سکے۔)
    { 103} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا کرتے تھے حضرت خلیفہ اوّل کہ جب میںجموںکی ملازمت سے فارغ ہو کر بھیرہ آیا تو میں نے بھیرہ میں ایک بڑا مکان تعمیر کرانا شروع کیااو ر اس کے واسطے کچھ سامان عمارت خریدنے کے لئے لاہور آیا ۔لاہور آکر مجھے خیال آیا کہ چلو قادیان بھی ایک دن ہوتے آویں ۔خیر میں یہاں آیا ۔حضرت صاحب سے ملا تو حضور نے فرمایا مولوی صاحب اب تو آپ ملازمت سے فارغ ہیں امید ہے کچھ دن یہاں ٹھہر یں گے ۔میں نے عرض کیا ہاں حضور ٹھہر وں گا ۔پھر چند دن کے بعد فرمانے لگے مولوی صاحب آپ کو اکیلے تکلیف ہوتی ہو گی اپنے گھروالوںکو بھی یہاںبلا لیں ۔میںنے گھر والوں کو بھیرہ خط لکھ دیا کہ عمارت بند کر ا دو اوریہاں چلے آئو ۔پھر ایک موقعہ پر حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ مولوی صاحب اب آپ اپنے پچھلے وطن بھیرہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں دل میں بہت ڈرا کہ یہ ہو سکتاہے کہ میںوہاںکبھی نہ جائوں مگر یہ کس طرح ہوگا کہ میرے دل میں بھی بھیرہ کا خیال نہ آوے مگر مولوی صاحب فرماتے تھے کہ خداکا ایسا فضل ہوا کہ آج تک میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ بھیرہ بھی میرا وطن ہوتا تھا۔
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب غالباً جموں کی ملازمت سے ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں فارغ ہوئے تھے اور ۱۸۹۲ ء یا ۱۸۹۳ء میں قادیان آگئے تھے۔)
    { 104} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہماری جتنی عربی تحریریںہیں یہ سب ایک رنگ کی الہام ہی ہیں کیونکہ سب خدا کی خاص تائید سے لکھی گئی ہیں ۔ فرماتے تھے بعض اوقات میں کئی الفاظ اور فقرے لکھ جاتا ہوں مگر مجھے ان کے معنے نہیں آتے پھر لکھنے کے بعد لغت دیکھتا ہوںتو پتہ لگتا ہے ۔نیز مولوی صاحب موصوف بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب عربی کتابوں کی کاپیاں اور پروف حضرت خلیفہ اوّل اور مولوی محمد احسن صاحب کے پاس بھی بھیجا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر کسی جگہ اصلاح ہو سکے تو کردیں ۔حضرت خلیفہ اوّل تو پڑ ھ کر اسی طرح واپس فرمادیتے تھے لیکن مولوی محمد احسن صاحب بڑی محنت کر کے اس میں بعض جگہ اصلاح کے طریق پر لفظ بدل دیتے تھے ۔مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک وقت فرمایا کہ مولوی محمداحسن صاحب اپنی طرف سے تو اصلاح کرتے ہیںمگر میں دیکھتا ہوں کہ میرا لکھا ہو الفظ زیادہ بر محل اور فصیح ہو تا ہے اور مولوی صاحب کا لفظ کمزور ہوتا ہے لیکن میں کہیں کہیں انکا لکھا ہوا لفظ بھی رہنے دیتا ہوں تا ان کی دل شکنی نہ ہو کہ ان کے لکھے ہو ئے سب الفاظ کا ٹ دیئے ہیں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا قاعدہ تھاکہ عربی کتب کی کاپیاں اور پروف سلسلہ کے علماء کے پاس یہ کہہ کر بھجوا دیتے تھے کہ دیکھو کوئی اصلاح ہو سکے تو کر دو۔اور اس کا رروائی سے ایک مطلب آپ کا یہ بھی ہوتا تھا کہ یہ لوگ اس طریق سے حضورکی تصانیف پڑ ھ لیں اور حضور کی تعلیم اور سلسلہ سے واقف رہیں۔ یہ خاکسارکا اپنا خیال ہے کسی روایت پر مبنی نہیں ۔
    { 105} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے جن دنوں میں اَیَا اَرْضَ مُدٍّ قَدْ دَفَاکِ مُدَمِّّرُ والا قصیدہ اعجاز احمدی میں لکھا تو اسے دوبارہ پڑھنے پر باہر آکر حضرت خلیفہ اوّل سے دریافت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کیا اَیَا بھی ندا کیلئے آتا ہے۔؟ عرض کیا گیاہاں حضور بہت مشہور ہے ۔فرمایا شعر میںلکھا گیا ہے ہمیں خیال نہیں تھا۔نیز حافظ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کئی دفعہ حضور فرماتے تھے کہ بعض الفاظ خود بخود ہمارے قلم سے لکھے جاتے ہیں اور ہمیں ان کے معنی معلوم نہیں ہو تے ۔حافظ صاحب کہتے ہیںکہ کئی دفعہ حضرت صاحب سے ایسا محاورہ لکھا جاتا تھا کہ جس کا عام لغت میں بھی استعمال نہ ملتا تھالیکن پھر بہت تلاش سے پتہ چل جاتا تھا۔
    { 106} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جب کرم دین کے مقدمہ کے لئے حضرت صاحب گورداسپور میں تھے تو وہاں آپ کے پاس الہ آباد کے تین غیر احمدی مہمان آئے جن میں سے ایک کا نام مولوی الٰہی بخش تھا ۔ان کی حضرت صاحب سے گفتگو ہو تی رہی آخر وہ قائل ہو گئے ۔ایک دفعہ جب حضرت صاحب مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے اور مولو ی الٰہی بخش صاحب بھی ساتھ ساتھ پھرتے تھے ۔مولوی الٰہی بخش صاحب نے حضرت صاحب سے کہا کہ اگر میںنے بیعت کر لی تو میرے ساتھ اور بہت سے لوگ بیعت کریں گے ۔حضر ت صاحب چلتے چلتے ٹھہر گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا مجھے کیا پروا ہے یہ خدا کا کام ہے وہ خود لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر میرے پائوں پر گرائے گا ۔اور گرا رہا ہے ۔خان صاحب کہتے تھے کہ مولوی الٰہی بخش صاحب نے یہ الفاظ ایسے طریق پر کہے تھے جس میں کچھ احسان پایا جاتا تھا ۔خان صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرے دن جب مولوی صاحب اور ان کے ساتھی واپس جانے لگے تو حضرت صاحب سے ملنے آئے۔میں بھی وہیں تھا میں نے مولوی صاحب سے پوچھا کہئے مولوی صاحب اب کو ئی اعتراض تو باقی نہیں رہا۔مولوی صاحب نے کہا نہیںمیری تسلی ہوگئی ہے ۔ میں نے کہا تو پھر بیعت ؟ حضرت صاحب نے فرمایا خان صاحب یہ کہنا آپ کا حق نہیں ہے ۔ہمارا کام پہنچا دینا ہے آگے ماننا یا نہ ماننا ان کا کام ہے ۔خیر وہ واپس چلے گئے۔تیسرے چوتھے دن حضرت صاحب قادیان آئے اور میں بھی آیا تو حضور نے مجھے بلا کر مسکراتے ہوئے اپنے رومال سے ایک پوسٹ کارڈ کھولا اور میر ی طرف پھینکا اور فرمایا تحصیل دار صاحب ! آپ جلدی کرتے تھے لیجئے ان کا خط آگیا ہے ۔میں نے خط دیکھا تو مولوی الٰہی بخش صاحب کا تھا اور پنسل سے لکھا ہوا تھا جو انہوں نے راستہ میں لکھنؤ سے بھیجا تھا ۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں نے ریل میں بیٹھے ہو ئے خیال کیا کہ اب جبکہ مجھ پر حق کھل گیا ہے تو اگر میں راستہ میں ہی مرجائوں تو خدا کو کیا جواب دوں گا اس لئے میں حضور کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہوں میری بیعت قبول فر مائی جاوے ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب آدمی الگ ہوتا ہے تو پھر اسے سوچنے کا اچھا موقعہ ملتا ہے اور گذشتہ باتوں پر غور کرکے وہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے ۔
    { 107} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا اور مجسٹریٹ نے تاریخ ڈالی ہوئی تھی اور حضرت صاحب قادیان آئے ہوئے تھے حضور نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا کہ میں جاکر وہاں بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں کیونکہ اگلی پیشی میں حوالے پیش ہونے تھے ۔میرے ساتھ شیخ حامد علی اور عبدالرحیم نائی باورچی کو بھی حضور نے گورداسپور بھیج دیا ۔جب ہم گورداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم کوآواز دی کہ وہ نیچے آویںاور دروازہ کھولیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف اس وقت مکان میں اوپر ٹھہر ے ہوئے تھے۔ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہوکررونا اور چلّا ناشروع کر دیا ۔ ہم نے کئی آوازیں دیںمگر وہ اسی طرح روتے رہے آخر تھوڑی دیر کے بعد وہ آنسو پونچھتے ہوئے نیچے آئے ۔ ہم نے سبب پوچھا تو انہوںنے کہا کہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ محمد حسین مذکور گورداسپور میں کسی کچہری میںمحرریا پیشکار تھااور سلسلہ کا سخت مخالف تھا۔اور مولو ی محمد حسین بٹالوی کے ملنے والوں میںسے تھا۔خیر ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا کہ محمدحسین منشی آیا اوراس نے مجھے کہا کہ آج کل یہاںآریوں کا جلسہ ہو ا ہے۔بعض آریے اپنے دوستوںکو بھی جلسہ میں لے گئے تھے چنانچہ اسی طرح میں بھی وہاںچلا گیا۔جلسہ کی عام کارروائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ اب جلسہ کی کارروائی ہو چکی ہے اب لوگ چلے جاویںکچھ ہم نے پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں چنانچہ سب غیر لوگ اُٹھ گئے میں بھی جانے لگا مگر میرے آریہ دوست نے کہا کہ اکٹھے چلیں گے آپ ایک طرف ہو کر بیٹھ جاویں یاباہر انتظار کریںچنانچہ میں وہاں ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا پھر ان آریوں میں سے ایک شخص اُٹھااور مجسٹریٹ کومرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے ۔اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظرآپ کی طرف ہے اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوںگے اوراسی قسم کی جوش دلانے کی باتیں کیں ۔اس پر مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمہ میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جہنم میں پہنچا دوںمگر کیا کیا جاوے کہ مقدمہ ایسا ہوشیاری سے چلایا جارہاہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی لیکن اب میں عہد کرتا ہوں کہ خواہ کچھ ہوا س پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آئوںگا ۔ مولوی صاحب کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ محمد حسین مجھ سے کہتا تھا کہ آپ یہ نہیںسمجھے ہوںگے کہ عدالتی کارروائی سے کیا مراد ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ شروع یا دوران مقدمہ میںجب چاہے ملزم کو بغیر ضمانت قبول کئے گرفتار کر کے حوالات میں دے دے ۔محمد حسین نے کہا ۔ڈاکٹر صاحب آپ جانتے ہیں کہ مَیں آپ کے سلسلہ کا سخت مخالف ہوں مگرمجھ میں یہ بات ہے کہ میں کسی معزز خاندان کو ذلیل و برباد ہوتے خصوصاً ہندوئو ں کے ہاتھ سے ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا اور میں جانتا ہوں کہ مرزا صاحب کا خاندان ضلع میں سب سے زیادہ معزز ہے ۔پس میں نے آپ کو یہ خبر پہنچادی ہے کہ آپ اس کا کوئی انتظام کر لیں ۔اور میرے خیال میں دو تجویزیں ہو سکتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ چیف کورٹ لاہور میں یہاں سے مقدمہ تبدیل کرانے کی کوشش کی جاوے اور دوسرے یہ کہ خواہ کسی طرح ہو مگر مرزا صاحب اس آئندہ پیشی میں حاضر عدالت نہ ہوں اور ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ پیش کردیں ۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو ہم سب بھی سخت خوف زدہ ہوگئے اور فیصلہ کیا کہ اسی وقت قادیان کوئی آدمی روانہ کر دیا جاوے جو حضرت صاحب کو یہ واقعات سناوے ۔را ت ہوچکی تھی ہم نے یکہ تلاش کیا اور گو کئی یکے موجود تھے مگر مخالفت کا اتنا جوش تھا کہ کوئی یّکہ نہ ملتا تھا ہم نے چارگنے کرایہ دینا کیا مگر کوئی یکہ والا راضی نہ ہوا آخر ہم نے شیخ حامد علی اور عبدالرحیم باورچی اور ایک تیسرے شخص کو قادیان پیدل روانہ کیا ۔وہ صبح کی نماز کے وقت قادیان پہنچے اور حضرت صاحب سے مختصراً عرض کیا حضور نے بے پروائی سے فرمایا خیر ہم بٹالہ چلتے ہیںخوا جہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے واپس آتے ہوئے وہاں ہم کو ملیںگے ان سے ذکر کریں گے اور وہاںپتہ لگ جائے گا کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کا کیا نتیجہ ہوا۔چنانچہ اسی دن حضور بٹالہ آگئے ۔گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خوا جہ صاحب بھی مل گئے انہوں نے خبر دی کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی ۔پھر حضرت صاحب گورداسپور چلے آئے اور راستہ میں خوا جہ صاحب اور مولوی صاحب کو اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیںدی ۔جب آپ گورداسپور مکان پر پہنچے تو حسب عادت الگ کمرے میں چارپائی پر جالیٹے مگراس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہوگا ۔ حضور نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا ۔میں گیا اس وقت حضرت صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوںکے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دیئے ہوئے تھے اور چت لیٹے ہوئے تھے۔میرے جانے پر ایک پہلو پر ہو کر کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سر کا سہارا دے کر لیٹ گئے اور مجھ سے فرمایا میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ کیاہے ۔اس وقت کمرے میں کوئی اور آدمی نہیں تھا صرف دروازے پر میاں شادی خان کھڑے تھے ۔ میں نے سارا قصہ سنایا کہ کس طرح ہم نے یہاں آکر ڈاکٹر اسماعیل خان صاحب کو روتے ہوئے پایا پھر کس طرح ڈاکٹر صاحب نے منشی محمد حسین کے آنے کا واقعہ سنایا اور پھر محمد حسین نے کیا واقعہ سنایا ۔حضور خاموشی سے سنتے رہے جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا تو یکلخت حضرت صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیںاور چہرہ سُرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا میں اس کا شکار ہوں ! میںشکار نہیںہوں میں شیرہوں اور شیر بھی خدا کا شیر ۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتاہے ؟ ایسا کر کے تو دیکھے ۔ یہ الفاظ کہتے ہوئے آپ کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اُٹھے اور حیرت کے ساتھ ادھر متوجہ ہوگئے مگر کمرے کے اندر کو ئی نہیں آیا ۔حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دہرائے اور اس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیںجاتا تھا ۔پھر آپ نے فرمایا میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پائوں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچائوں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا ۔پھر آپ محبت الٰہی پر تقریرفرمانے لگ گئے اور قریباً نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو اُبکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی جو خالص خون کی تھی جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا ۔ حضرت نے قے سے سر اُٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا ہے کیونکہ آپ نے یکلخت جھک کر قے کی اور پھر سر اُٹھالیا ۔مگر میں اس کے دیکھنے کے لئے جھکا تو حضور نے فرمایا کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا حضورقے میں خون نکلا ہے ۔تب حضور نے اس کی طرف دیکھا ۔پھر خوا جہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے سب لوگ کمرے میں آگئے اورڈاکٹر کو بلوایا گیا ۔ڈاکٹر انگریزتھا ۔وہ آیا اور قے دیکھ کر خوا جہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طر ح خون کی قے آنا خطر ناک ہے ۔پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیںکرتے؟ خوا جہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریںمجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاںڈال کر تنگ کرتے ہیںحالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یونہی طے ہوسکتا ہے۔ اس نے کہا اس وقت آرام ضروری ہے میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں ۔ کتنے عرصہ کیلئیسرٹیفکیٹچاہئیے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا میرے خیال میںدو مہینے آرام کرنا چاہئیے ۔خوا جہ صاحب نے کہا کہ فی الحال ایک مہینہ کا فی ہوگا ۔اس نے فوراً ایک مہینے کیلئیسرٹیفکیٹلکھ دیا اور لکھا کہ اس عرصہ میں مَیںان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیںسمجھتا ۔اس کے بعد حضرت صاحب نے واپسی کا حکم دیا ۔ مگر ہم سب ڈرتے تھے کہ اب کہیں کوئی نیا مقدمہ نہ شروع ہو جاوے ۔کیونکہ دوسرے دن پیشی تھی اور حضورگورداسپور آکر بغیر عدالت کی اجازت کے واپس جارہے تھے مگر حضرت صاحب کے چہرہ پربالکل اطمینان تھاچنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے۔بعد میںہم نے سنا کہ مجسٹریٹ نیسرٹیفکیٹپر بڑی جرح کی اور بہت تلملایااور ڈاکٹر کو شہادت کے لئے بلایا مگر اس انگریز ڈاکٹر نے کہا کہ میرا سر ٹیفکیٹ بالکل درست ہے اور میںاپنے فن کا ماہر ہوں اس پر میرے فن کی روسے کوئی اعتراض نہیں کر سکتااور میرا سرٹیفکیٹتمام اعلیٰ عدالتوں تک چلتا ہے ۔مجسٹریٹ بڑ بڑاتا رہا مگر کچھ پیش نہ گئی۔پھر اسی وقفہ میں اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہوگیا ۔اور نیز کسی ظاہراً نا معلوم وجہ سے اس کا تنزل بھی ہو گیایعنی وہ ای اے۔سی سے منصف کر دیا گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ غالباً اس مجسٹریٹ کا نام چندولال تھا اور وہ تاریخ جس پر اس موقعہ پر حضرت صاحب نے پیش ہو نا تھا غالباً ۱۶،فروری ۱۹۰۴ء تھی ۔
    { 108} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضور حدیث میں آتا ہے کہ سب نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں کیا کبھی حضور نے بھی چرائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ایک دفعہ باہر کھیتوں میں گیا وہاں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا اس نے کہا کہ میں ذرا ایک کام جاتا ہوں آپ میری بکریوں کا خیال رکھیںمگر وہ ایسا گیا کہ بس شام کو واپس آیا اور اس کے آنے تک ہمیں اس کی بکریاں چرانی پڑیں ۔
    { 109} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام ، توضیح مرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اورایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں ۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا صاحب سے علیحد ہ کئے دیتا ہوں ۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب ! کیا نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کر ے تو پھر ؟ میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں ۔اگر صادق ہے تو بہر حال اس کی بات کو قبول کریں گے ۔میرا یہ جواب سن کر وہ بولا ۔ واہ مولوی صاحب آپ قابو نہ ہی آئے ۔یہ قصہ سناکر حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہو نے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو پھر بھی مجھے انکا ر نہ ہو کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہوگا او رہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعویٰ میں چون و چرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرتا ہے ۔
    (مگر ویسے حضرت مولوی صاحب نے جو کچھ فرمایا ۔ وہ صرف ایک اصولی رنگ کی بات تھی۔ ورنہ ہمارا ایمان ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم ہے کہ قرآنی شریعت آخری شریعت ہے۔ پس حضرت مولوی صاحب کے یہ الفاظ اسی رنگ کے سمجھے جائیں گے۔جس رنگ میں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعَابِدِیْن ـ (الزخرف:۸۲)
    { 110} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پسر موعود کی پیشگوئی کے بعد حضرت صاحب ہم سے کبھی کبھی کہاکرتے تھے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہم کو جلد وہ موعود لڑکا عطا کرے ۔ ان دنوں میںحضرت کے گھر امید واری تھی ۔ایک دن بارش ہوئی تو میں نے مسجد مبارک کے اوپر صحن میں جاکر بڑی دعا کی کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہوا تھا کہ اگر بارش میں دعا کی جاوے توزیادہ قبول ہوتی ہے ۔پھر مجھے دعا کرتے کرتے خیال آیا کہ باہر جنگل میں جاکر دعا کروں کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے یہ بھی سنا ہوا تھا کہ باہر جنگل کی دعا بھی زیادہ قبول ہوتی ہے اور میں نے غنیمت سمجھا کہ یہ دو قبولیت کے موقعے میرے لئے میسر ہیں ۔ چنانچہ میں قادیان سے مشرق کی طرف چلا گیا اور باہر جنگل میں بارش کے اندر بڑی دیر تک سجدہ میں دعا کرتا رہا ۔ گویا وہ قریباً سارا دن میرا بارش میں ہی کٹا ۔اسی دن شام یا دوسرے دن صبح کو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ــ’’ ان کو کہہ دو انہوں نے رنج بہت اُٹھا یا ہے ثواب بہت ہوگا ‘‘ ۔میں نے عرض کیا حضور یہ الہام تو میرے متعلق معلوم ہوتا ہے حضور نے فرمایا کس طرح ؟ میں نے اپنی دعا کا سارا قصہ سنایا ۔حضورخوش ہوئے اور فرمایا ایسا ہی معلوم ہوتاہے پھر میں نے اس خوشی میں ایک آنہ کے پتاشے بانٹے ۔مگر اس وقت میں اس کے اصل معنے نہیںسمجھا ۔پھر جب عصمت پیدا ہوئی تو میں سمجھا کہ دراصل اس الہام میں یہ بتا یا گیا تھا کہ گودعا قبول نہیں ہوگی مگر مجھے ثواب پہنچ جائے گا ۔
    { 111} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا میں نے ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں ۔آپ نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کاسا کام ہے اسے اپنے ہاتھ سے مرید کے گندنکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے ۔میںنے عرض کیا حضور تو پھر کوئی تعلق تو ہونا چاہیے میں آتا ہوں اور اوپرا اوپرا چلاجاتا ہوں۔ حضور نے فرمایا اچھا تم ہمارے شاگرد بن جائو اور ہم سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑ ھ لیا کرو ۔پھر عید کے دن حضور نے فرمایا جائو ایک آنہ کے پتاشے لے آئو تا باقاعدہ شاگرد بن جائو ۔میں نے پتاشے لاکر سامنے رکھ دیئے جو حضور نے تقسیم فرمادیئے اور کچھ مجھے بھی دے دیئے ۔پھر حضور مجھے ایک ہفتہ کے بعد ایک آیت کے سادہ معنے پڑھا دیا کرتے تھے اور کبھی کسی آیت کی تھوڑی سی تفسیر بھی فرمادیتے تھے ۔ ایک دن فرمایا میاں عبداللہ میں تم کو قرآن شریف کے حقائق و معارف اس لئے نہیں بتا تا کہ میںتم میں ان کے برداشت کر نے کی طاقت نہیں دیکھتا ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ اس کامطلب میںیہ سمجھا ہوں کہ اگر مجھے اس وقت وہ بتائے جاتے تو میں مجنون ہو جاتا ۔مگر میں اس سادہ ترجمہ کا ہی جو میں نے آپ سے نصف پارہ کے قریب پڑھا ہوگا اب تک اپنے اندر فہم قرآن کے متعلق ایک خاص اثر دیکھتا ہوں نیز میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں نے ایک دفعہ حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور میں جب قادیان آتا ہوں تو اور تو کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوتی مگر میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہاں وقتاً فوقتاً یکلخت مجھ پر بعض آیات قرآنی کے معنے کھولے جاتے ہیں اور میں اس طرح محسوس کرتا ہوں کہ گویا میرے دل پر معانی کی ایک پوٹلی بندھی ہوئی گرادی جاتی ہے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں قرآن شریف کے معارف دے کر ہی مبعوث کیا گیا ہے اور اسی کی خدمت ہمارا فرض مقرر کی گئی ہے پس ہماری صحبت کا بھی یہی فائدہ ہونا چاہئیے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب لدھیانوی نے بھی بیان کیا کہ ہمارے پہلے پیر منشی احمد جان صاحب مرحوم نے بھی حضرت صاحب سے بیعت کی درخواست کی تھی مگر حضور نے فرمایا لَسْتُ بِمَأْمُوْرٍ یعنی مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل نے بھی جب حضور سے بیعت کی درخواست کی تھی تو حضور نے یہی جواب دیا تھا کہ مجھے اس کا حکم نہیں ملا پھر بعد میں جب حکم ہوا تو حضور نے بیعت کا سلسلہ شروع فرمایا ۔
    { 112} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں ٹہل رہے تھے ۔میں ایک کونہ میں قرآن شریف پڑھنے بیٹھ گیا ۔اس وقت اور کوئی شخص مسجد میں نہیں تھا ۔ حضور نے ٹہلتے ٹہلتے ایک دفعہ ٹھہر کر میری طرف دیکھا او ر میں نے بھی اسی وقت آپ کی طرف دیکھا تھا ۔جب میری اور حضور کی نظر ملی تو خبر نہیں اس وقت حضور کی نظر میں کیا تھا کہ میرا دل میرے سینہ کے اندر پگھل گیا اور میں نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھالئے اور بڑی دیر تک دعا کرتا رہا اور حضور ٹہلتے رہے پھر آخر حضور نے ہی مجھ سے فرمایا میاں عبداللہ دعا بہت ہوچکی اب بند کرو ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے میں نے اس دن سمجھا کہ یہ جو کہاجاتا ہے کہ بعض وقت کامل کی ایک نظر انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے اس کا کیامطلب ہے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ جب حضور کی محبت اور شفقت یاد آتی ہے تو میری جان گداز ہوجاتی ہے ۔
    { 113} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ میں شروع میں حُقَّہ بہت پیا کرتا تھا۔شیخ حامد علی بھی پیتا تھا ۔کسی دن شیخ حامد علی نے حضرت صاحب سے ذکر کر دیا کہ یہ حُقَّہ بہت پیتا ہے ۔اس کے بعد میں جو صبح کے وقت حضرت صاحب کے پاس گیا اور حضور کے پائوں دبانے بیٹھا تو آپ نے شیخ حامد علی سے کہا کہ کوئی حُقَّہ اچھی طرح تازہ کر کے لائو جب شیخ حامد علی حُقَّہ لایا تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ پیو ۔میں شرما یا مگر حضرت صاحب نے فرمایا جب تم پیتے ہو تو شرم کی کیا بات ہے ۔پیو کوئی حرج نہیں۔ میں نے بڑی مشکل سے رُک رُک کر ایک گھونٹ پیا ۔پھر حضور نے فرمایا میاں عبداللہ مجھے اس سے طبعی نفرت ہے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے بس میں نے اسی وقت سے حقہ ترک کر دیا اور اس ارشاد کے ساتھ ہی میرے دل میں اس کی نفرت پیدا ہوگئی ۔پھر ایک دفعہ میرے مسوڑھوں میں تکلیف ہوئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ جب میں حقہ پیتا تھا تو یہ درد ہٹ جاتا تھا ۔حضور نے جواب دیا کہ ’’ بیماری کیلئے حُقَّہ پینا معذوری میں داخل ہے اور جائز ہے جب تک معذوری باقی ہے ۔‘‘ چنانچہ میں نے تھوڑی دیر تک بطور دوا استعمال کر کے پھر چھوڑ دیا ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور کے گھر میں حُقَّہ استعمال ہوتا تھا ۔ایک دفعہ حضور نے مجھے گھر میں ایک توڑا ہوا حُقَّہ کیلی پر لٹکا ہوا دکھا یا اور مسکرا کر فرمایا ہم نے اسے توڑ کر پھانسی دیا ہوا ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گھر میں کوئی عورت شاید حُقَّہ استعمال کرتی ہوگی ۔
    { 114} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب قادیان کے شمالی جانب سیر کے لئے تشریف لے گئے۔میں اور شیخ حامد علی ساتھ تھے ۔راستہ کے اوپر ایک کھیت کے کنارے ایک چھوٹی سی بیری تھی اور اسے بیر لگے ہوئے تھے اور ایک بڑا عمدہ پکا ہوا لال بیر راستہ میں گرا ہوا تھا ۔ میں نے چلتے چلتے اسے اُٹھا لیا اور کھانے لگا ۔حضرت صاحب نے فرمایا نہ کھائو اور وہیں رکھ دو آخر یہ کسی کی ملکیت ہے ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے آج تک میں نے کسی بیری کے بیر بغیر اجازت مالک اراضی کے نہیں کھائے کیونکہ جب میں کسی بیری کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بات یاد آجاتی ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس ملک میں بیریاں عموماً خود رو ہوتی ہیں اور ان کے پھل کے متعلق کوئی پروا نہیںکی جاتی ۔
    { 115} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّل کے پاس کسی کا خط آیا کہ کیا نماز میں ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی ملتی ہے ؟ حضرت مولوی صاحب نے یہ خط حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا کہ اس بارہ میں جو حدیثیں ملتی ہیں وہ جرح سے خالی نہیں ۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی کیونکہ باوجود اس کے کہ شروع عمر میں بھی ہمارے اردگرد سب حنفی تھے مجھے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کبھی پسند نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ طبیعت کا میلان ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کی طرف رہا ہے اور ہم نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ جس بات کی طرف ہماری طبیعت کا میلا ن ہو وہ تلاش کر نے سے ضرور حدیث میںنکل آتی ہے ۔خواہ ہم کو پہلے اُس کا علم نہ ہو۔ پس آپ تلاش کر یں ضرور مل جائے گی ۔مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس پر حضرت مولوی صاحب گئے اور کوئی آدھا گھنٹہ بھی نہ گذرا تھا کہ خوش خوش ایک کتا ب ہاتھ میںلئے آئے اور حضرت صاحب کو اطلاع دی کہ حضور حدیث مل گئی ہے اور حدیث بھی ایسی کہ جو علی شرط الشیخین ہے جس پر کوئی جرح نہیں ۔پھر کہا کہ یہ حضور ہی کے ارشاد کی برکت ہے ۔
    { 116} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گوبراہین احمدیہ کی تالیف اور اسکے متعلق مواد جمع کرنے کا کام پہلے سے ہو رہا تھا مگر براہین احمدیہ کی اصل تصنیف اور اس کی اشاعت کی تجویز ۱۸۷۹ء سے شروع ہوئی اور اس کا آخری حصہ یعنی حصہ چہارم۱۸۸۴ء میں شائع ہوا ۔براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور گوشہ نشینی میں درویشانہ حالت تھی ۔گو براہین سے قبل بعض اخباروں میں مضامین شائع کر نے کا سلسلہ آپ نے شروع فرما دیا تھا اور اس قسم کے اشتہارات سے آپ کا نام ایک گونہ پبلک میں بھی آگیا تھا مگر بہت کم ۔ہاں اپنے ملنے والوں میں آپ کی تبلیغ و تعلیم کا دائرہ عالم شباب سے ہی شروع نظر آتا ہے چنانچہ ۶۵،۱۸۶۴ء میں جب آپ ابھی بالکل نوجوان تھے آپ نے اپنے تبلیغی کام کے متعلق ایک رؤیا دیکھا تھا پھر انہی دنوں میں جب کہ آپ سیالکوٹ ملازم ہوئے تواس وقت کے متعلق بھی یقینی شہادت موجود ہے کہ آپ نے تبلیغ و تعلیم کا کام شروع فرما دیا تھا اور غیرمذاہب والوں سے آپ کے زبانی مباحثے ہوتے رہتے تھے مگر یہ سب محض پرائیویٹ حیثیت رکھتے تھے ،پبلک میں آپ نے تصنیف براہین سے صرف کچھ قبل یعنی ۷۸،۱۸۷۷ء میں آنا شروع کیا اور مضامین شائع کر نے شروع فرمائے اور تبلیغی خطوط کا دائرہ بھی وسیع کیا ۔مگر دراصل مستقل طور پر براہین احمدیہ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگائو رکھنے والے طبقہ میں آپ کاانٹروڈکشن ہوا اور لوگوں کی نظریں اس دیہات کے رہنے والے گمنام شخص کی طرف حیرت کے ساتھ اُٹھنی شروع ہوئیں جس نے اس تحدّی اور اتنے بڑے انعام کے وعدہ کے ساتھ اسلا م کی حقانیت کے متعلق ایک عظیم الشان کتاب لکھنے کا اعلان کیا ۔اب گویا آفتاب ہدایت جو لاریب اس سے قبل طلوع کر چکا تھا اُفق سے بلند ہو نے لگا ۔اس کے بعد براہین احمدیہ کی اشاعت نے ملک کے مذہبی حلقہ میں ایک غیرمعمولی تموج پیدا کر دیا ۔مسلمانوں نے عام طور پر مصنف براہین کا ایک مجدّد ذی شان کے طور پر خیرمقدم کیا اور مخالفین اسلام کے کیمپ میں بھی اس گولہ باری سے ایک ہلچل مچ گئی ۔خود مصنف کے لئے بھی تصنیف براہین کا زمانہ ایک حالت میں نہیں گذرا بلکہ وہ جو شروع تصنیف میں ایک عام خادم اسلام کے طور پر اُٹھا تھا ۔دوران تصنیف میں تجلّی الٰہی کے خاص جلوے موسیٰ عمران کی طرح اسے کہیں سے کہیں لے گئے اور اختتام تصنیف براہین سے قبل ہی وہ ایک پرائیویٹ سپاہی کی طرح نہیں بلکہ شہنشاہ عالم کی طرف سے ایک مامور جرنیل کے طور پر میدان کا رزار میںھَلْ مِنْ مُّبَارِزٍ پکاررہا تھا۔خلاصہ یہ کہ براہین احمدیہ کی تصنیف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملک کے علم دوست اور مذہبی امور میں دلچسپی رکھنے والے طبقہ میں ایک بہت نمایاں حیثیت دے دی تھی اور خاص معتقدین کا ایک گروہ بھی قائم ہوگیاتھااور قادیان کا گمنام گائوں جو ریل اور سڑک سے دور پر دۂ پوشیدگی کے نیچے مستور تھا اب گاہے گاہے بیرونی مہمانوں کا منظر بننے لگا تھا اور مخالفین اسلام بھی اپنے منہ کی پھونکوں سے اس نور کوبجا نے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ براہین کی اشاعت کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ نے بیس ہزار اردو اور انگریزی اشتہاروں کے ذریعہ دنیاکے تمام ممالک میں اپنی ماموریت کا اعلان فرمایا ۔اس کے بعد جب شروع ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود ؑ نے خدائی حکم کے ماتحت ہوشیار پور جاکر وہاں چالیس دن خلوت کی اور ذکر خدا میںمشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی جس نے اپنے مسیحی نفس سے مصلح عالم بن کر دنیا کے چاروں کونوں میں شہرت پانی تھی ۔یہ الہام اس قدر جلال اور شان وشوکت کے ساتھ ہوا کہ جب حضور نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس کا اعلان فرمایا توا س کی وجہ سے ملک میں ایک شور بر پا ہوگیااور لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسر موعود کی راہ دیکھنے لگے ۔اور سب نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس پسر موعود کے متعلق امیدیں جمالیں ۔بعض نے اس پسر موعود کو مہدی معہود سمجھا جس کا اسلام میںوعد ہ دیا گیا تھا اور جس نے دنیا میں مبعوث ہو کر اسلام کے دشمنوں کو ناپید اور مسلمانوں کو ہر میدان میںغالب کرنا تھا ۔بعض نے اورا سی قسم کی امیدیںقائم کیںاور بعض تماشائی کے طور پر پیشگوئی کے جلال اور شان و شوکت کودیکھ کر ہی حیرت میں پڑ گئے تھے اوربغیر کوئی امید قائم کئے اس انتظارمیں تھے کہ دیکھئے پردۂ غیب سے کیا ظہور میںآتاہے ۔غیر مذاہب والوںکو بھی اس خبر نے چونکا دیا تھا۔غرض اس وحی الٰہی کی اشاعت رجوع عام کا باعث ہوئی۔ان دنوں حضور کے ہاں بچہ پیدا ہونیوالا تھامگر اللہ نے بھی ایمان کے راستہ میں ابتلا رکھے ہوتے ہیں۔سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد یعنی مئی ۱۸۸۶ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بداعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اوراستہزا کی ایک ایسی لہر اُٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کردیا اس وقت تک بیعت کا سلسلہ تو تھا ہی نہیںکہ مریدین الگ نظر آتے بس عام لوگوں میں چہ میگوئی ہورہی تھی کہ یہ کیا ہوا۔کوئی کچھ کہتا تھا کو ئی کچھ ۔حضور نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الٰہی میں یہ نہیں بتا یا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امید واری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہوگا اور اس طرح لوگوں کی تسلی کی کوشش کی چنانچہ اس پر اکثر لوگ سنبھل گئے اور پیشگوئی کے ظہور کے منتظر رہے ۔کچھ عرصہ بعد یعنی اگست ۱۸۸۷ء میں حضرت کے ہاں ایک لڑ کا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا ۔ اس لڑکے کی پیدائش پر بڑی خوشی منائی گئی اور کئی لوگ جو متزلزل ہوگئے تھے پھر سنبھل گئے اور لوگوں نے سمجھا کہ یہی وہ موعود لڑکا ہے اور خود حضرت صاحب کو بھی یہی خیال تھا ۔ گو آپ نے اس کے متعلق کبھی قطعی یقین ظاہر نہیں کیا مگر یہ ضرور فرماتے رہے کہ قرائن سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ لڑکا ہے ۔واللّٰہ اعلم ۔
    غرض بشیر اول کی پیدائش رجوع عام کا باعث ہوئی مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہوگیا ۔بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان ِ عظیم بر پا ہوا اور سخت زلزلہ آیا حتیّٰ کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا نہ اس کے بعد آیا گویا وہ دعویٰ مسیحیت پرجوزلزلہ آیا تھا اسے بھی عامۃ الناس کیلئے اس سے کم قرار دیتے ہیں ۔مگر بہر حال یہ یقینی با ت ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اُٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے ، مگر تعجب ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اس واقعہ کے بعد بھی خوش اعتقاد رہا ۔حضر ت صاحب نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے ہاںیہ میں نے کہا تھاکہ چونکہ خاص اس لڑکے کے متعلق بھی مجھے بہت سے الہام ہوئے ہیں جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتا ئی گئی تھی اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود لڑکا ہو مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اصل اتباع کے قابل ہے ہر گز کو ئی تعیین نہیں کی گئی تھی غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے لیکن اکثر وں پر مایوسی کا عالم تھا اورمخالفین میں پر لے درجہ کے استہزاء کا جوش تھا ۔اس کے بعد پھر عامۃ الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا اس شدو مد سے انتظار نہیں ہوا جو اس سے قبل تھا ۔اس کے بعد یکم دسمبر۱۸۸۸ء کو حضور نے خداکے اس حکم کے مطابق جو اس سے قریباً دس ماہ پہلے ہوچکا تھا سلسلہ بیعت کا اعلان فرمایا اور سب سے پہلے شروع ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت لی ۔ مگر اس وقت تک بھی مسلمانوں کا عام طور پر حضرت مسیح موعود ؑکی ذات کے متعلق خیال عموماً بہت اچھاتھا اور اکثر لوگ آپ کو ایک بے نظیر خاد م اسلام سمجھتے تھے ۔صرف اتنا اثرہوا تھاکہ لوگوں میں جو پسر موعود کی پیشگوئی پر ایک عام رجوع ہوا تھا اس کا جوش ان دو لگاتار مایوسیوں نے مدھم کر دیا تھا اور عامۃ الناس پیچھے ہٹ گئے تھے ہاں کہیں کہیں عملی مخالفت کی لہر بھی پیدا ہو نے لگی تھی ۔اس کے بعد آخر ۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود نے خدا سے حکم پا کر رسالہ فتح اسلام تصنیف فرمایا جو ابتداء ۱۸۹۱ء میں شائع ہوا۔ اس میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی وفات اور اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان فرمایا ۔اس پر ملک میںایک زلزلہ عظیم آیا جو پہلے سب زلزلوں سے بڑا تھا بلکہ ایک لحاظ سے پچھلے اور پہلے سب زلزلوں سے بڑا تھا۔ ملک کے ایک کونہ سے لیکر دوسرے کونے تک جوش و مخالفت کا ایک خطرناک طوفان بر پا ہوا اور علماء کی طرف سے حضرت صاحب پر کفر کے فتوے لگا ئے گئے اور آپ کو واجب القتل قرار دیا گیا اور چاروں طرف گویا ایک آگ لگ گئی ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی بھی جو اب تک بچا ہوا تھا اسی زلزلہ کا شکار ہوا اور یہ سب سے پہلا شخص تھا جو کفر کا استفتاء لے کر ملک میں ادھر اُدھر بھاگا ۔بعض بیعت کنندے بھی متزلزل ہو گئے۔اس کے بعد چوتھا زلزلہ آتھم کی پیشگوئی کی پندرہ ماہی میعاد گذر نے پر آیا ۔یہ دھکا بھی اس وقت کے لحاظ سے نہایت کڑا دھکا تھا مگر جماعت حضرت صاحب کی تربیت کے نیچے ایک حد تک مستحکم اورسنت اللہ سے واقف ہو چکی تھی اس لئے برداشت کر گئی لیکن مخالفوں میں سخت مخالفت و استہزاء کی لہر اُٹھی ۔اس کے بعد زلزلہ کے خفیف خفیف دھکے آتے رہے مگر وہ قابل ذکر نہیں لیکن سب کے آخر میں جماعت پر پانچواں زلزلہ آیا یہ حضرت مسیح موعود ؑکی وفات کازلزلہ تھا۔اس دھکے نے بھی اس وقت سلسلہ کی عمارت کو بنیاد تک ہلا دیا تھا اور یہ وہ زلزلہ عظیم تھاجسے زلزلۃ الساعۃ کہنا چاہئیے ،اور اسکو زیادہ خطر ناک اس بات نے کر دیا تھا کہ اس سے پہلے زلزلے خواہ کیسے بھی سخت تھے مگر حضرت مسیح موعود کا مقناطیسی وجود لوگوں کے اندر موجود تھا اورآپ کا ہاتھ ہر گرتے ہوئے کو سنبھالنے کیلئے فوراً آگے بڑھتا تھا مگر اب وہ بات نہ تھی ۔یہ وہ پانچ زلزلے تھے جو حضرت مسیح موعود کے متعلق آپ کی جماعت پر آئے ۔ان کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر بھی سخت زلزلہ آیا مگر وہ اور نوعیت کا تھا اور نیز وہ خاص جماعت احمدیہ کے متعلق تھا ۔یعنی یہ دھکا حضرت مسیح موعود کے متعلق نہیں تھایعنی ایسا واقعہ نہیں تھا جو آپ کے صدق دعویٰ کے متعلق کمزور دلوں میں عام طور پر کوئی اشتبا ہ پیداکر سکے اس کے بعد اور بھی آئندہ سنت اللہ کے موافق اور حضر ت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے مطابق مصائب کی آندھیاں آئیں گی مگر یہ پانچ زلزلے اپنی نوعیت میں اور ہی رنگ رکھتے ہیں اور یہ عبارت لکھتے لکھتے خاکسار کو خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود کو جو پانچ زلزلوں کی خبر دی گئی تھی اور آخری زلزلہ کو زلزلۃ الساعۃ کہا گیا تھا وہ گو دنیا کے واسطے الگ بھی مقدر ہوںمگر اس میں شک نہیں کہ ان پانچ زلزلوں پر بھی آپ کی اس پیشگوئی کے الفاظ صادق آتے ہیں ۔
    { 117} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضر ت صاحب کے پاس آیا ۔اسے اس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گذر چکا تھا بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا حضرت صاحب نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں اس نے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے اب کیا کھولنا ہے ۔حضور نے فرمایا آپ سینہ زوری سے خدا تعالیٰ کوراضی کرنا چاہتے ہیں ۔خدا تعالیٰ سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے۔جب اس نے فر ما دیا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو نہیںرکھنا چاہیے ۔اس پر اس نے روزہ کھول دیا ۔ خاکسار عرض کر تا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضر ت صاحب کے زمانہ میں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اعتکاف بیٹھے مگر اعتکاف کے دنوں میں ہی ان کو کسی مقدمہ میں پیشی کے واسطے با ہر جانا پڑگیا چنانچہ وہ اعتکاف توڑ کر عصرکے قریب یہاں سے جانے لگے تو حضرت صاحب نے مسکراتے ہو ئے فرمایا کہ اگر آپکو مقدمہ میں جانا تھا تو اعتکاف بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی ۔
    { 118} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیاہماری تائی صاحبہ نے کہ میرے تایا (یعنی خاکسار کے دادا صاحب ) کبھی کبھی مرزا غلام احمدیعنی حضر ت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسیتی یا مسیتڑکہا کرتے تھے۔ تائی صاحبہ نے کہا کہ میرے تایا کو کیا علم تھا کہ کسی دن ان کی خوش قسمتی کیا کیا پھل لائے گی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسیتی پنجابی میں اسے کہتے ہیں جو ہروقت مسجد میں بیٹھا رہے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سنا ہے کہ بعض دوسرے لوگ بھی حضرت صاحب کے متعلق یہ لفظ بعض اوقات استعمال کر دیتے تھے۔
    { 119} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ حضرت صاحب کا مقدمہ تھا تو ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ حضرت صاحب کو امرتسر میں سولی پر لٹکا یا جائے گاتا کہ قادیان والوں کوآسانی ہو۔میں نے یہ خواب حضرت صاحب سے بیان کیاتو حضرت صاحب خوش ہوئے اور کہا کہ یہ مبشر خواب ہے ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب سولی پر چڑھنے کی یہ تعبیر کیا کرتے تھے کہ عزت افزائی ہوگی ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ اس مقدمہ میں پھر اپیل ہو کر امرتسر میں ہی آپ کی بریت کا فیصلہ ہوا ۔نیز بیان کیا حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جن دنوںمیں یہ مقدمہ تھا ایک دفعہ حضرت صاحب نے گھر میں ذکر کیا کہ مجسٹریٹ کی نیت بہت خراب معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ مجسٹریٹ کی بیوی نے خواب دیکھاہے کہ اگر اس کا خاوند کوئی ایسی ویسی بات کرے گا توا س کے گھر پر وبال آئیگاچنانچہ اس نے اپنے خاوند کو یہ خواب سنا دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کر ے۔والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ جب مجسٹریٹ کا ایک لڑکامر گیا تواس کی بیوی نے اسے کہاکہ کیا تو نے گھر کو اجاڑکر چھوڑناہے ؟ نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ جس دن اس مقدمہ کا فیصلہ سنا یا جا نا تھااس دن کئی لوگ اپنی جیبوںمیں روپیہ بھر کر لے گئے تھے کہ اگر مجسٹریٹ جرمانہ کرے تو ادا کر دیں ۔اور نواب محمد علی خان صاحب بھی لاہور سے کئی ہزار روپیہ ساتھ لائے تھے ۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب بیان کر تے تھے کہ اس مقدمہ کے دنوں میں جہاںعدالت کے باہر درختوںکے نیچے حضرت صاحب بیٹھا کرتے تھے اس کے سامنے سے ہر روز ڈپٹی کمشنر گذر ا کرتا تھا کیونکہ یہی اس کا راستہ تھا ۔ایک دفعہ اس نے اپنے اردلی سے پوچھا کہ کیا یہ مقدمہ اب تک جاری ہے ؟ اس نے کہا ہاں ۔ڈپٹی کمشنر نے ہنس کر کہا اگر میرے پاس ہوتا تو میںایک دن میں فیصلہ کر دیتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر انگریز تھا ۔
    { 120} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ میں اور چند اورآدمی جن میں غالباً مولوی محمد علی صاحب اورخوا جہ کمال الدین صاحب بھی تھے حضرت صاحب سے ملنے کے لئے اندر آپ کے مکان میں گئے ۔اس وقت آپ نے ہم کو خربوزے کھانے کے لئے دیئے ۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ جو خربوزہ مجھے آپ نے دیا وہ زیادہ موٹا تھا چنانچہ آپ نے دیتے ہوئے فرمایا اسے کھا کر دیکھیں یہ کیسا ہے ؟ پھر خود ہی مسکرا کر فرمایا موٹا آدمی منافق ہوتا ہے ۔یہ پھیکا ہی ہوگا ۔ مولوی صاحب کہتے ہیں چنانچہ وہ پھیکا نکلا۔مولوی صاحب نے یہ روایت بیان کر کے ہنستے ہوئے کہا کہ اس وقت میں دبلا ہوتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ ہر موٹا آدمی منافق ہوتا ہے بلکہ حضرت صاحب کا منشاء یہ معلو م ہوتا ہے کہ جو آرام طلبی کے نتیجہ میں موٹا ہوگیا ہو وہ منافق ہوتا ہے ۔
    { 121} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے چوہدری غلام محمد صاحب بی اے نے کہ جب میں۱۹۰۵ء میں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے سبز پگڑی باندھی ہو ئی تھی ۔مجھے یہ دیکھ کر کچھ گراں گذرا کہ مسیح موعود ؑ کو رنگدار پگڑی سے کیا کام ۔پھر میں نے مقدمہ ابن خلدون میں پڑھا کہ آنحضرت ﷺ جب سبز لباس میں ہوتے تھے تو آپ کو وحی زیادہ ہوتی تھی۔
    { 122} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے ماسٹر محمد دین صاحب بی ۔اے نے کہ جب ہم حضرت مسیح موعودؑکی مجلس میں بیٹھتے تھے تو ہم خاص طور پر محسوس کر تے تھے کہ ہماری اندرونی بیماریاں دُھل رہی ہیںاور روحانیت ترقی کر رہی ہے لیکن جب آپ سے الگ ہوتے تھے تو پھر یہ بات نہ رہتی تھی ۔نیز بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب ہم حضرت صاحب کی مجلس میں ہوتے تھے تو خواہ اس سے پہلے کیسا ہی حال ہواس وقت طبیعت بہت ہی خوش رہتی تھی ۔
    { 123} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ۱۸۷۹ء میںبراہین کے متعلق اعلان شائع فرمایا تو اس وقت آپ براہین احمد یہ تصنیف فر ما چکے تھے اور کتا ب کا حجم قریباً دو اڑھائی ہزار صفحہ تک پہنچ گیا تھا اور اس میں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کئے تھے کہ جن کے متعلق آپ کا دعویٰ تھاکہ ان سے صداقت اسلام آفتاب کی طرح ظاہرہو جائے گی اور آپ کا ارادہ تھاکہ جب اس کے شائع ہو نے کا انتظام ہو تو کتا ب کو ساتھ ساتھ اور زیادہ مکمل فرماتے جاویں اور اس کے شروع میں ایک مقدمہ لگائیں اور بعض اور تمہید ی باتیں لکھیں اور ساتھ ساتھ ضروری حواشی بھی زائد کرتے جاویں ۔چنانچہ اب جو براہین احمدیہ کی چار جلدیں شائع شدہ موجود ہیں ان کا مقدمہ اور حواشی وغیر ہ سب دوران اشاعت کے زمانہ کے ہیں اور اس میں اصل ابتدائی تصنیف کا حصہ بہت ہی تھوڑا آیا ہے یعنی صرف چند صفحات سے زیادہ نہیں ۔اس کااندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے ان میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیا ن ہوئی ہے اور وہ بھی نا مکمل طورپر ۔ان چار حصوںکے طبع ہونے کے بعد اگلے حصص کی اشاعت خدائی تصرف کے ماتحت رک گئی اور سنا جاتاہے کہ بعد میں اس ابتدائی تصنیف کے مسودے بھی کسی وجہ سے جل کر تلف ہوگئے ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے براہین احمدیہ حصہ چہارم کے آخر میں جو اشتہار ’’ ہم اور ہماری کتاب ‘‘ کے عنوان کے نیچے دیا ہے اس میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ ابتدا میں جب براہین احمدیہ تصنیف کی گئی تو اور صورت تھی مگر بعد میں یعنی دوران اشاعت میں جب حواشی وغیرہ لکھے جارہے تھے اور کتاب طبع ہو کر شائع ہورہی تھی صورت بدل گئی یعنی جناب باری تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خلعت ماموریت عطا ہوا اور ایک اور عالم سے آپ کو اطلاع دی گئی اس پر آپ نے اپنے پہلے ارادوں کو ترک کر دیا اور سمجھ لیا کہ اب معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جس طرح چاہے گا آپ سے خدمت دین کا کام لے گا ۔چنانچہ یہ جو اس کے بعد اَسی کے قریب کتابیں اور سینکڑوں اشتہارات اور تقریریں آپ کی طرف سے خدمت دین کے راستہ میںشائع ہوئیںاور اب آپ کی وفات کے بعد بھی جو خدمت دین آپ کے متبعین کی طر ف سے ہورہی ہے یہ سب اسی کا نتیجہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کی جتنی صداقت ان تین سودلائل سے ثابت ہوتی جو آپ نے براہین احمدیہ میں تحریر فرمائے تھے اس سے کہیں بڑھ کر محض آپ کے وجود سے ہوئی جس کا ظہور بعد میں مہدویت اور مسیحیت کے رنگ میں ہوا ۔گویا قطع نظر ان عظیم الشان تحریرات کے جو بعد میں خدا وند تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے شائع کر وائیں محض آپ کا وجود با جود ہی ان تین سو دلائل سے بڑھ کر صداقت اسلام پر روشنی ڈالنے والا ہے کیونکہ یہ تین سو دلائل تو بہر حال زیادہ تر عام عالمانہ رنگ میں لکھے گئے ہونگے لیکن آپ کا وجود جو شان نبوت میں ظاہر ہوا اپنے اندر اور ہی جذب اور طاقت رکھتا ہے ۔
    { 124} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ لالہ ملاوامل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مرزا صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ۱ السلام نے مجھے ایک صندوقچی کھول کر دکھائی تھی جس میں ان کی ایک کتاب کا مسودہ رکھا ہوا تھا اور آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ بس میری جائیداد اور مال سب یہی ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ براہین احمدیہ کے مسودہ کا ذکر ہے ۔
    { 125} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ پیر سراج الحق صاحب کو روزہ تھا مگر ان کو یاد نہ رہا اور انہوں نے کسی شخص سے پینے کے واسطے پانی منگایا ۔ اس پر کسی نے کہا آپ کو روزہ نہیں ؟ پیر صاحب کو یاد آگیا کہ میرا روزہ ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس وقت وہاں موجود تھے آپ پیر صاحب سے فرمانے لگے کہ روزہ میں جب انسان بھول کر کوئی چیز کھا پی لیتا ہے تو یہ خداکی طرف سے اس کی مہمانی ہو تی ہے ۔ لیکن آپ نے جو پانی کے متعلق سوال کیا اور سوال کرنا ناپسند یدہ ہوتاہے تو اس سوال کی وجہ سے آپ اس نعمت سے محروم ہو گئے ۔
    { 126} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ میں جب پہلی دفعہ قادیان آیا تو حضرت صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارے والد صاحب کا کیا حال ہے ؟ میں نے کہا حضور آپ نے کس کا نام لے دیا میرا والد تو بہت بُرا آدمی ہے ۔شراب پیتا ہے اور بُری بُری عادتیں ہیں حضرت صاحب نے فرمایا تو بہ کر و اپنے والد کے متعلق ایسا نہیں کہنا چاہئیے ۔پھرآپ نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ بعض اوقات ایک آدمی برے اعمال کر تے کرتے دوزخ کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے لیکن پھر وہ وہاں سے واپس ہوتا ہے اور نیک اعمال شروع کرتا ہے اور آخر جنت میں داخل ہو جا تا ہے ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میرے والدصاحب کی حالت میں تغیر آیا اور پھر آخران کا انجام نہایت اچھا ہوا اور حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ ان کی عشق کی سی حالت ہو گئی تھی ۔
    { 127} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کر تا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حقیقی ہمشیرہ مرادبی بی مرزا غلام غوث ہوشیار پوری کے ساتھ بیاہی گئی تھی مگر مرزا محمد بیگ جلد فوت ہوگیا اور ہماری پھوپھی کو باقی ایام زندگی بیوگی کی حالت میں گذارنے پڑے ۔ہماری پھوپھی صاحبِ رؤیا و کشف تھیں ۔ مرزا محمد بیگ مذکور کے چھوٹے بھائی مرزا ا حمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام کے چچیرے بھائیوں یعنی مرزا نظا م الدین و غیرہ کی حقیقی بہن عمر النسا ء بیاہی گئی تھی ۔اس کے بطن سے محمد ی بیگم پیدا ہوئی ۔مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پر لے درجہ کے بے دین او ر دہریہ طبع لوگ تھے اور مرزا احمد بیگ مذکور ان کے سخت زیر اثر تھا اور انہیں کے رنگ میں رنگین رہتا تھا ۔یہ لوگ ایک عرصہ سے حضرت مسیح موعود ؑ سے نشان آسمانی کے طالب رہتے تھے کیونکہ اسلامی طریق سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور والد محمدی بیگم یعنی مرزا احمد بیگ ان کے اشارہ پر چلتا تھا ۔اب واقعہ یوں ہو اکہ حضرت مسیح موعود ؑ کا ایک اور چچا زاد بھائی مرزا غلام حسین تھاجو عرصہ سے مفقود الخبرہوچکا تھا او را س کی جائیداد اس کی بیوی امام بی بی کے نام ہو چکی تھی ۔یہ امام بی بی مرزا احمد بیگ مذکور کی بہن تھی ۔ اب مرزا احمد بیگ کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مسماۃ امام بی بی اپنی جائیداد اس کے لڑکے مرزا محمد بیگ برادر کلاں محمدی بیگم کے نام ہبہ کر دے لیکن قانوناً امام بی بی اس جائیداد کا ھبہ بنام محمد بیگ مذکور بلا رضا مندی حضرت مسیح موعود ؑ نہ کر سکتی تھی اس لئے مرزا احمدبیگ باتما م عجزو انکساری حضرت مسیح موعود کی طرف ملتجی ہوا کہ آپ ھبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ چنانچہ حضرت صاحب قریباً تیار ہوگئے لیکن پھر اس خیال سے رُک گئے کہ دریں بارہ مسنون استخارہ کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ آپ نے مرزا احمد بیگ کو یہی جواب دیا کہ میں استخارہ کر نے کے بعد دستخط کرنے ہوں گے تو کردوں گا چنانچہ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا ۔وہ استخارہ کیا تھاگویا آسمانی نشان کے دکھانے کا وقت آن پہنچا تھاجس کو خداتعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا ۔ چنانچہ استخارہ کے جواب میں خدا وند تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ سے یہ فرمایاکہ’’ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک او ر مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا ۔ اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کانشان ہوگا اور ان تمام بر کتو ں اور رحمتوںسے حصہ پائو گئے جو اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں ۔لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جاوے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے ۔ــ‘‘ اس وحی الہامی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نوٹ دیا کہ ’’ تین سال تک فوت ہونا روز نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کو ئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے ۔بلکہ مکاشفات کے رو سے مکتوب الیہ (یعنی مرزا احمد بیگ) کازمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں نزدیک پا یا جاتا ہے ۔واللّٰہ اعلم ‘‘ جب استخارہ کے جواب میں یہ وحی ہوئی تو حضرت مسیح موعود ؑ نے اسے شائع نہیں فرمایا بلکہ صرف ایک پرائیویٹ خط کے ذریعہ سے والد محمد ی بیگم کو اس سے اطلاع دے دی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ وہ اس کی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا لہٰذا آپ نے اشاعت کے لئے مصلحتاً دوسرے وقت کی انتظارکی ۔لیکن جلد ہی خود لڑکی کے ماموںمرزا نظام الدین نے شدت غضب میں آکر اس مضمون کو آپ ہی شائع کر دیا اور علاوہ زبانی اشاعت کے اخباروں میںبھی اس خط کی خوب اشاعت کی ۔تب پھر حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی اظہارکاعمدہ موقعہ مل گیا ۔
    { 128} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے آباء میں سے وہ بزرگ جو ابتداء ً ہندوستان میں آکرآباد ہوئے ان کا نام مرزا ہادی بیگ تھا۔ان کے ہندوستان میں آکرآباد ہو نے کا زمانہ ۱۵۳۰ء کے قریب کا معلوم ہوتا ہے یعنی ایسا پتہ چلتا ہے کہ یا تو وہ بابر بادشاہ کے ساتھ آئے تھے یا کچھ عرصہ بعد۔مرزا ہادی بیگ صاحب حاجی برلاس کی اولاد میں سے تھے جو تیمور کے چچا تھے ۔مرزا ہادی بیگ سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک کا شجرہ نسب مشمولہ ورق پر درج ہے ۔




    شجرئہ نسب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

    اس شجرہ میںجن ناموں کے سامنے سٹار’’ ‘‘ کا نشان دکھایا گیا ہے یہ ایسے لوگوں کے نام ہیں جن کی نسل آگے نہیں چلی۔
    { 129} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی جگہ اپنے قلم سے اپنے اور اپنے خاندان کے حالات لکھے ہیں مگر سب سے مفصل وہ بیان ہے جو کتاب البریہ میں درج ہے ۔یہ بیان ایسا تو نہیں ہے کہ اس میں سب ضروری باتیں آگئی ہوں اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حالات جو حضرت مسیح موعود نے خود دوسری جگہ تحریر فرمائے ہیں وہ سب اس میں آگئے ہیں ۔لیکن چونکہ یہ بیان سب سے زیادہ مفصل ہے اور حضرت صاحب نے ایک خاص تحریک کی بنا پر تحریر فرما یا تھا اس لئے اس کے خاص خاص حصے ہدیہ نا ظرین کر تا ہوں۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں ۔
    ’’ اب میرے سوانح اس طر ح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضٰی اور دادا صاحب کا نام عطا محمداور میرے پردادا صاحب کا نام گُل محمد تھا۔اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس زہے اور میرے بزرگوں کے پر انے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میںسے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہو ئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا ۔جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کو س بگوشہ ئِ شمال مشرق واقع ہے ۔فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پورہ رکھا جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نا م سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا ۔اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھراس سے بگڑ کرقادیان بن گیا ۔اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ قریباًساٹھ کوس ہے ۔ان دنوں میں سب کا سب ماجھ کہلاتا تھا ۔غالباً اس وجہ سے اس کا نام ماجھ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں اورچونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے اس تمام علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی ۔اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے ۔مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمر قند سے اس ملک میں آئے ۔مگر کاغذات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اُس ملک میں بھی وہ معزز امرا ء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔پھراس ملک میں آکر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیران کو ملے ۔چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست ان کی ہوگئی ۔
    سکھوںکے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا صاحب مرزا گُل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے ۔جن کے پا س اس وقت85گائوںتھے ۔اور بہت سے گائوں سکھوں کے متواترحملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے ۔تاہم ان کی جو انمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گائوں انہوں نے مروّت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دیدئے تھے ۔ جو اب تک ان کے پاس ہیں ۔غرض وہ اس طوائف الملوکی کے زمانہ میںاپنے نواح میں ایک خودمختاررئیس تھے ۔ہمیشہ قریب پانچ سو آدمی کے یعنی کبھی کم او رکبھی زیادہ ان کے دستر خوان پر روٹی کھاتے تھے اور ایک سو کے قریب علماء او ر صلحاء اور حافظ قرآنِ شریف کے ان کے پا س رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر قال اللّٰہ اور قال الرسول کا ذکربہت ہوتا تھا۔اور عجیب تر یہ کہ کئی کرامات ان کی ایسی مشہور ہیں جن کی نسبت ایک گروہ کثیر مخالفا ن دین کا بھی گواہی دیتارہا ہے ۔غرض وہ علاوہ ریاست اور امارت کے اپنی دیانت اور تقویٰ اور مردانہ ہمت اور اولو العزمی اور حمایت دین اور ہمدردیٔ مسلمانا ں کی صفت میں نہایت مشہور تھے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے اور فسق و فجور سے دور رہنے والے اور بہادر اور بارُعب آدمی تھے ۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ اس زمانہ میں ایک دفعہ ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا قادیا ن میں آیا ۔ جو غیاث الدولہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے مرزا گل محمد صاحب کے مد برانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولو العزمی اور استقلال اور فہم اور حمایت اسلام اور جوش نصرت دین اور تقویٰ اور طہارت اور دربار کے وقار کودیکھا اور ان کے اُس مختصر دربار کو نہایت متین اورعقلمند اور نیک چلن اور بہادروں سے پُر پایا تب وہ چشم پُر آب ہو کر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہو تی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایسا مرد موجود ہے جس میں صفات ضرور یہ سلطنت کے پائے جاتے ہیں ۔تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا کہ ایّام کسل اور نالیاقتی اور بد وضعی ملوک چغتائیہ میں اسی کو تخت دہلی پر بٹھا یا جائے ۔اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پڑ دادا صاحب موصوف یعنی مرزاگل محمدنے ہچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔ بیماری کے غلبہ کے وقت اطبا نے اتفاق کرکے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کر ایا جائے تو غالبًااس سے فائدہ ہوگا ۔مگر جرأت نہیںرکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں عرض کریں ۔آخر بعض نے ان میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تواس کی پیدا کردہ اور بہت سی دوائیں ہیں ۔میں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں ۔آخر چند روزکے بعد اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔موت تومقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یاد گاررہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پڑدادا صاحب فوت ہو ئے توبجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے ۔ا ن کے وقت میں خداتعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔ دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر جبکہ قضا و قدر ا ن کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے نا کام رہے ۔اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی ۔ اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے۔یہا ں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیان رہ گئی ۔اور قادیان اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا ۔اور اس کے چار برج تھے ۔اور برجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے ۔اور چند توپیں تھیںاور فصیل بائیس فٹ کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جاسکتے تھے ۔اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جورام گڑھیہ کہلاتا تھا اوّل فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیان میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا ۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طر ح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے ۔ اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی ۔کئی مسجدیں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا ۔اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنا یا گیا ۔اس دن ہمارے بزرگو ں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا ۔جس میں پانچ سو نسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا ۔ جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا ۔اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا ۔ چنانچہ تمام مر د و زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے ۔اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزیں ہوئے ۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے داد ا صاحب کو زہر دی گئی ۔پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیا ن میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گائوں واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنا لی تھی۔سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے ۔اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لدھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا ۔غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں ملکر آخر پانچ گائوں ہاتھ میں رہ گئے ۔پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے ۔گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے ۔۱۸۵۷ء میں انہو ں نے سر کارانگریزی کی خدمت گزاری میں پچاس گھوڑے مع پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کوا س قسم کی مدد کا عندا لضرورت وعدہ بھی دیا ۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجلدوے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیات خوشنودیٔ مزاج ان کو ملی تھیں ۔ چنانچہ سر لیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ ’’رئیسان پنجاب‘‘ میں ان کا تذکرہ کیا ہے ۔غرض وہ حکام کی نظرمیں بہت ہر دل عزیز تھے ۔اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کیلئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر ،کمشنر اُ ن کے مکان پر آکر اُن کی ملاقات کرتے تھے ۔یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے ۔میں ضروری نہیںدیکھتا کہ اس کو بہت طوالت دوں۔۔۔
    میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے ۔ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پاسیر بھی کیا ۔لیکن میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا ۔ اور یہ خداتعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا ۔اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصہ پا یا ۔
    بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا ۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں ۔اور اس بزرگ کا نا م فضل الٰہی تھا۔اور جب میری عمر قریباًدس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے ۔جن کا نام فضل احمدتھا ۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا ۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے ۔وہ بہت توجہ او ر محنت سے پڑھاتے رہے ۔اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قوا عد نحو اُن سے پڑھے ۔ اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ان کا نام گل علی شاہ تھا ۔ان کوبھی میرے والدصاحب نے نو کر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیاتھا ۔اور ان آخر الذکرمولوی صاحب سے میں نے نحو اورمنطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا او ربعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے ۔اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا ۔میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کر نا چاہئیے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے ۔اورنیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ ہو کر ان کے غموم و ہموم میں شریک ہو جائوں ۔آخر ایسا ہی ہوا ۔میرے والد صاحب اپنے بعض آباء واجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے ۔انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگا یا اور ایک زمانہ دراز تک میںان کاموں میں مشغول رہا ۔مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت ِعزیز میرا اِن بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا ۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا ۔اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا ۔ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی ۔مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیاداروں کی طرح مجھے روبخلق بناویں ۔اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی ۔ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیا ن میں آنا چاہا میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئیے ۔مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جاسکا ۔پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا ۔اور وہ چاہتے تھے کہ میںدنیوی امور میں ہردم غرق رہوں ۔جومجھ سے نہیں ہو سکتاتھا۔مگر تاہم میں خیال کرتا ہو ں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے کے لئے دعا میں مشغول رہتا تھا۔اور وہ مجھے دلی یقین بِرٌّبِالْوَالِدَیْن سے جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ ’’ میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوںورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے۔یعنی دین کی طرف صحیح اورسچ بات یہی ہے ۔ہم تواپنی عمر ضائع کر رہے ہیں ۔‘‘ ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہو نے کے ایّام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے سا تھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی ۔آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا ۔ اس لئے ان کے حکم سے جوعین میری منشا کے موافق تھا میں نے استعفٰی دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا ۔اور پھر والدصاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکوی پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں ۔اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا ۔تو بد ستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔مگراکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا۔اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا ۔اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا ۔جس کا انجام آخر ناکامی تھی ۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا ۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والدصاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کر تے تھے ۔اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی کر نے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا ۔ جو دنیوی کدورتوںسے پاک ہے ۔اگرچہ حضرت والد صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سرکا ر انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا ۔اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ ہیچ تھا۔اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے ۔اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شایدآ ج قطب یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ؎
    عمر بگذشت و نماند ست جزایّامے چند
    بہ کہ در یادِ کسے صبح کنم شامے چند
    اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنا یا ہوا شعر رقت کیساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے ۔ ؎
    ازدر تو اے کس ہر بے کسے
    نیست امیدم کہ رَوَم نا امید
    اور کبھی درددِل سے یہ شعر اپنا پڑھا کر تے تھے ؎
    بآب دیدۂ عشاق و خا کپائے کسے
    مرا د لیست کہ درخوں تپد بجائے کسے
    حضرت عزت جلّ شانہ‘ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کر تی گئی تھی ۔ بار ہا افسوس سے کہا کر تے تھے کہ دنیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی ۔ایک مرتبہ حضرت والدصاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں۔جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے ۔تومیں اُس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑ ا جب قریب پہنچا تو میںنے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئیے ۔یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے ۔یہ دیکھ کر میں چشم پُر آب ہوگیا ۔اور پھر آنکھ کھل گئی اور پھرآپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیاداری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی طرح ہے اور فرمایا کر تے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخر حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں گذرا اورجہاں ہاتھ ڈالاآخر ناکامی تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پڑدادا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کر تے تھے جس کا ایک مصرع راقم کو بھو ل گیا ہے اور دوسرایہ ہے کہ ۔ ع
    ’’کہ جب تدبیر کرتا ہوںتو پھر تقدیر ہنستی ہے ــ‘‘
    اور یہ غم اور درد ان کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا ۔اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والدصاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے ۔اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو ۔تا خدائے عزّوجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے ۔کیا عجب کہ یہی ذریعہ ٔ مغفرت ہو ۔ چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت بہمہ وجوہ مکمل ہوگئی اورشاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہوگئے ۔اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا دفن کئے گئے ۔ اللھم ارحمہ وادخلہ الجنۃ ۔اٰمین قریباً اَسّی یا پچاسی برس کی عمر پائی ۔
    ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیاکے لئے وقت عزیز کھویا ۔اب تک میرے دل پر درد ناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہو گا آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا ۔ جس نے سمجھنا ہو سمجھے ۔۔۔۔مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھاکہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے ۔ میں اس وقت لاہور میں تھاجب مجھے یہ خواب آیا تھاتب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور ان کو مرض زحیر میں مبتلاپایا ۔لیکن یہ امید ہر گز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے ۔دوسرے دن شدت دوپہر کے وقت ہم سب عزیزان کی خدمت میں حاضرتھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرا آرام کر لو کیونکہ جو ن کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی ۔میں آرام کیلئے ایک چوبارہ میں چلا گیا۔اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا۔ ’’ وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِق‘‘ یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہاراوالد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔ــ‘‘ سبحان اللہ کیا شان خدا وند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوتاہے اس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی عزا پُرسی کیا معنے رکھتی ہے۔ مگریاد رہے کہ حضرت عزوجل شانہٗ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا ہنسنا بھی جوحدیثوں میں آیا ہے ۔ان ہی معنوںکے لحاظ سے آیا ہے۔
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے توبشریّت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا ۔تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیںہے ؟ اوراس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا او ر فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا ۔پس مجھے اس خدائے عزّوجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلادیاکہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا ۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہر گز ایسا متکفل نہیں ہوگا ۔میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہو ئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کرسکوں اورمیرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہوگئے ۔یہ ایک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسارحمت کا نشان دیکھا جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو ۔ میں نے اس الہام کوا ن ہی دنوںمیں ایک نگینہ میں کھدوا کر اس کی انگشتری بنائی ۔ جو بڑی حفاظت سے اب تک رکھی ہوئی ہے ۔غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گذری ۔ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھااور ایک طرف بڑے زور شورسے سلسلہ مکالمات الٰہیہ کا مجھ سے شروع ہوا ۔میں کچھ بیان نہیں کر سکتاکہ میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الٰہی شامل حال ہوئی ۔صرف اپنے اندر یہ احساس کر تا ہوںکہ فطرتاً میرے دل کو خداتعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رُک نہیںسکتی۔سو یہ اسی کی عنایت ہے میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں ۔اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوںکی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلّہ کشی کی او ر نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو ۔ بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروںاور بدعت شعار لوگوںسے بیزار رہا جوانواع اقسام کے بدعات میں مبتلاہیں ۔ہاںحضرت والدصاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کازمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میںدکھائی دیا ۔اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے ۔‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنتِ اہلِ بیت ِرسالت کو بجا لائوں ۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجا لانا بہتر ہے ۔پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا ۔اور اس طرح تمام دن روزہ میں گذارتا ۔ اور بجز خداتعالیٰ کے، ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی ۔پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جوایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھا لیتا ہوںمجھے کچھ بھی تکلیف نہیں بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں ۔سو میں اس روزسے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ رات دن میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا ۔اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی ۔غالباً آٹھ یا نوما ہ تک میں نے ایسا ہی کیا ۔اور باوجوداس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیںکر سکتاخدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میںآئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میںمیرے پر کُھلے ۔چنانچہ بعض گزشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اورجو اعلیٰ طبقہ کے اولیا اس امت میں گذر چکے ہیںان سے ملاقات ہوئی ۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میںجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مع حسنین وعلی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
    غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے ۔ ایک اورفائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جاوے توقبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے ۔ اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کس حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے اور جب تک کسی کا جسم ایسا سختی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنّعم پسند روحانی منازل کے لائق نہیں ہو سکتا ۔ لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایساکرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا ۔۔۔۔۔بہتر ہے کہ انسان اپنے نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیار رکھے ۔آج کل کے اکثر نادان فقیرجو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا ۔پس ان سے پرہیز کرنا چاہیے ۔‘‘
    (منقول از کتاب البریہ صفحہ ۱۳۴تا۱۶۶حاشیہ)
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب البریہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مندرجہ ذیل تصانیف میں اپنے خاندانی حالات کا ذکر کیا ہے ۔ازالہ اوہام۔ آئینہ کمالات اسلام حصہ عربی۔ استفتاء عربی۔ لجۃ النور۔تریاق القلوب۔ کشف الغطا۔ شہادت القرآن۔ تحفہ قیصریہ۔ ستارہ قیصریہ۔ نجم الہدیٰ ۔ اشتہار ۱۸۹۴ء )
    { 130} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بندوبست مال۱۸۶۵ء کے کاغذات کے ساتھ جو ہمارے خاندان کا شجرہ نسب منسلک ہے اس میں قصبہ قادیان کی آبادی اور وجہ تسمیہ کے عنوان کے نیچے بثبت دستخط مرزا غلام مرتضٰی صاحب و مرزا غلام جیلانی و مرزا غلام محی الدین وغیرہ یہ نوٹ درج ہے کہ :’’ عرصہ چودہ پشت کا گزرا ۔کہ مرزا ہادی بیگ قوم مغل گوت بر لاس مورث اعلیٰ ہم مالکان دیہہ کا بعہد شاہان سلف ملک عرب سے بطریق نوکری ہمراہ بابر شاہ بادشاہ کے آکر حسب اجازت شاہی اس جنگل افتادہ میںگائوں آباد کیا ۔وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مورثان ہمارے کو جانب بادشاہ سے عہدہ قضا کا عطا ہوا تھا ۔بباعث لقب قاضیاں کے نام گائوں کا قاضیان اسلام پورہ رکھا پھر رفتہ رفتہ غلطی عوام الناس سے قصبہ قادیان مغلاںمشہور ہو گیا تب سے برابر آباد چلا آتا ہے ۔کبھی ویران نہیں ہوا۔‘‘ (اس روایت میں جو عرب سے آنا بیان ہوا ہے یہ غالباً سہو کتابت ہے)
    { 131} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کی تباہی پر پنجاب کا ملک خصوصاً اٹھارویں صدی عیسوی کے آخری نصف حصہ میںخطرناک طوائف الملوکی کا منظر رہا ہے۔شمال سے احمدشاہ ابدالی اور شاہ زمان کے حملے ایک عارضی تسلط سے زیادہ اثر نہیںرکھتے تھے اور دراصل سکھ قوم کا دور دورہ شروع ہو چکا تھا۔لیکن چونکہ ابھی تک سکھ قو م کے اندر اتحاد و انتظام کا مادہ مفقود تھا ۔اورنہ ہی ان کا اس وقت کوئی واحد لیڈر تھا۔اس لئے ان کا عروج بجائے امن پید ا کرنے کے آپس کے جنگ و جدال کی وجہ سے پرلے درجہ کا امن شکن ہورہا تھا ۔اس زمانہ میںسکھ بارہ مسلوں یعنی بارہ جتھوں اور گروہوںمیں منقسم تھے ۔ اور ہر مسل اپنے سردار یا سرداروں کے ماتحت ماردھاڑ کر کے اپنے واسطے خود مختارریاستیں بنا رہی تھی۔اس وجہ سے اس زمانہ میں پنجاب کے اندر ایک مستقل سلسلہ کشت و خون کا جاری تھا۔اور کسی کا مال و جان اور آبرو محفوظ نہ تھے ۔حتّٰی کہ وہ وقت آیا کہ راجہ رنجیت سنگھ نے سب کو زیر کر کے پنجاب میں ایک واحد مرکزی سکھ حکومت قائم کر دی ۔قادیان اوراس کے گردو نواح کا علاقہ چونکہ ہمارے بزرگوں کے زیر حکومت تھا ۔ اس لئے اس طوائف الملوکی کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو بھی سکھوں کے ساتھ بہت سے معرکے کر نے پڑے ۔جن سکھ مسلوں کے ساتھ ہمارے بزرگوں کا واسطہ پڑا وہ رام گڑھی مسل اورکنھیا مسل کے نام سے مشہور تھیں ۔کیونکہ قادیان کی ریاست کا علاقہ زیادہ تر انہی دو مسلوں کے علاقہ سے ملتا تھا ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑدادا مرز اگُل محمد صاحب نے ایک حد تک سکھوں کی دست برد سے اپنے علاقہ کو بچائے رکھا ۔لیکن پھر بھی بہت سے دیہات ان کے ہاتھ سے نکل گئے مگر ان کی وفات کے بعد جو غالبًا ۱۸۰۰ء میں ہوئی ان کے فرزند مرزا عطا محمد صاحب کے زمانہ میں جلد ہی قادیان کے گردونواح کا سارا علاقہ اور بالآخر خود قادیان سکھوںکے قبضہ میں چلے گئے اور مرزا عطا محمد صاحب اپنی جدّی ریاست سے نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ مرزا عطامحمدصاحب دریائے بیاس سے پار جا کر موضع بیگو وال میں سردار فتح سنگھ اہلووالیہ رئیس علاقہ کے مہمان ٹھہر ے۔سردار موصوف اہلووالیہ مسل کا سر گروہ تھااور اس زمانہ میںایک بڑا ذی اقتدار شخص تھا۔موجودہ راجہ صاحب کپورتھلہ اسی کے سلسلہ میں سے ہیں ۔بارہ سال کے بعد مرزا عطامحمد صاحب کو بیگووال میںہی دشمنوں کے ہاتھ سے زہر دیدیا گیا۔خاکسارعرض کرتاہے واللّٰہ اعلم کہ رام گڑھی مسل کے مشہور و معروف سرگروہ جسّا سنگھ نے خود یا اس کے متبعین نے غالباً۱۸۰۲ء کے قریب قریب قادیان پر قبضہ پایا ہے۔جسا سنگھ ۱۸۰۳ء میں مر گیا اوراس کے علاقہ کے بیشتر حصہ پر اس کے بھتیجے دیوان سنگھ نے قبضہ کر لیا ۔چنانچہ دیوان سنگھ کے ماتحت قریباًپندرہ سال رام گڑھی مسل قادیا ن پر قابض رہی۔ جس کے بعد راجہ رنجیت سنگھ نے رام گڑھیوں کو زیر کر کے ان کا تمام علاقہ اپنے قبضہ میں کر لیا۔ یہ ۱۸۱۶ء کے بعد کی بات ہے اس کے بعدغالباً۱۸۳۴ء یا ۱۸۳۵ء کے قریب راجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے ہمارے دادا مرزاغلام مرتضٰی صاحب کوقادیان کی جاگیر واپس مل گئی اس دوران میں ہمارے دادا صاحب کو بڑے بڑے مصائب کا سامنا کرناپڑا ۔
    { 132} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسارعرض کرتاہے کہ کتاب پنجاب چیفس یعنی تذکرہ روسائے پنجاب میں جسے اولاً سرلیپل گریفن نے زیر ہدایت پنجاب گورنمنٹ تالیف کرنا شروع کیا اور بعد میں مسٹر میسی اورمسٹر کریک نے (جو اب بوقت ایڈیشن ثانی کتاب ھٰذا سرہنری کریک کی صورت میں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم ممبر ہیں) علی الترتیب گورنمنٹ پنجاب کے حکم سے اسے مکمل کیااوراس پر نظر ثانی کی۔ ہمارے خاندان کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ درج ہے ۔
    ’’ شہنشاہ بابر کی عہد حکومت کے آخری سال یعنی۱۵۳۰ء میںایک مغل مسمی ہادی بیگ باشندہ سمر قند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میںآیا اور ضلع گورداسپور میں بود و باش اختیار کی ۔ یہ شخص کچھ عالم آدمی تھا اور قادیان کے گردو نواح کے ستر مواضعات کا قاضی یا حاکم مقرر کیا گیا ۔کہتے ہیں کہ قادیا ن اسی نے آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بگڑتے بگڑتے قادیان ہوگیا ۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی حکومت کے ماتحت معزز عہدو ں پر ممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہوگیا تھا ۔گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیہ اور کنھیامسلوں سے جن کے قبضے میں قادیان کے گردو نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے اور آخر کا ر اپنی تمام جاگیر کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور وہاںبارہ سال تک امن کی زندگی بسر کی ۔اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی جاگیر پر قابض ہو گیا تھا غلام مرتضٰی کو قادیان واپس بلا لیا اور اس کی جدّی جاگیر کا ایک معقول حصہ اسے واپس کر دیا ۔ اس پر غلام مرتضٰی اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گیا اور کشمیر کی سرحداور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات سر انجام دیں ۔
    نو نہال سنگھ شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دوراں میں غلام مرتضٰی ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔۱۸۴۱ء میں یہ جرنل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلّو کی طرف بھیجا گیا اور ۱۸۴۳ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیندار بنا کر پشاور روانہ کیا گیا ۔ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کارہائے نمایاں کئے اور جب ۱۸۴۸ء کی بغاوت ہوئی تو وہ اپنی سرکار کا وفادار رہا اور اس کی طرف سے لڑا ۔اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں ۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج کو لئے دیوان مولراج کی امداد کے واسطے ملتان جارہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیرداران لنگر خان ساہیوال اور صاحب خا ن ٹوانہ نے مسلمان آبادی کو برانگیختہ کیا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں پر حملہ کر کے ان کو شکست فاش دی اور دریائے چناب کی طرف دھکیل دیا جہاں چھ سو سے زیادہ باغی دریا میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے ۔
    انگریزی گورنمنٹ کی آمد پر اس خاندان کی جاگیر ضبط ہو گئی مگر سات سو کی ایک پنشن غلام مرتضٰی اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی اور قادیان اور اس کے گردو نواح پر ان کے حقوق مالکانہ قائم رہے ۔اس خاندان نے غدر۱۸۵۷ء میں نہایت عمدہ خدمات کیں ۔ غلام مرتضٰی نے بہت سے آدمی بھر تی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میںتھاجب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر۴۶ نیو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا تھا۔ جنرل نکلسن نے غلا م قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا کہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں خاندان قادیان نے ضلع کے دوسرے تمام خاندانوں سے زیادہ وفاداری دکھائی ہے ۔
    { 133} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ رسالہ کشف الغطا ء میں جو حکام گورنمنٹ کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھاحضرت مسیح موعود تحریرفرماتے ہیں کہ :۔
    ’’ میرا خاندان ایک خاندان ریاست ہے اور میرے بزرگ والیان ملک اور خودسر امیر تھے جو سکھوں کے وقت میں یکلخت تباہ ہوئے اورسرکار انگریزی کا اگرچہ سب پر احسان ہے مگر میرے بزرگوں پر سب سے زیادہ احسان ہے کہ انہوں نے اس گورنمنٹ کے سایۂ دولت میں آکر ایک آتشی تنورسے رہائی پائی اور خطرناک زندگی سے امن میں آگئے ۔میرا باپ مرزا غلام مرتضٰی اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھااور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پُر زور تحریروںکے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اوروفادار ہے اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگاہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفا دار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے 1857ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستا ن میں مردانہ لڑائی مفسدو ں سے کر کے اپنی جانیں دیں اورمیرا بھائی مرزا غلام قادر تمّون کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جانفشانی سے مدد دی۔غرض اسی طرح میرے بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتو ں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا ہے ۔سوا نہی خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کر ے گی جوبڑے فتنے کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے ۔سر لیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی مرزا غلام قادر کا ذکر کیا ہے اور میں ذیل میںان چند چٹھیات حکام بالادست کو درج کر تا ہوں جن میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی کی خدمات کا کچھ ذکرہے:۔
    نقل مراسلہ
    ولسن صاحب نمبر ۳۵۳
    تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ
    رئیس قادیان حفظہ
    عریضۂ شمامشعر بریاد دہانی خدمات و حقوقِ خود وخاندانِ خود بملاحظہ حضور اینجانب درآمد۔ ماخوب میدانیم کہ بلاشک شما و خاندانِ شما از ابتدائے دخل و حکومتِ سرکار انگریزی جاں نثار وفاکیش ثابت قدم ماندہ آید و حقوق شمادراصل قابل قدر اند۔ بہر نہج تسلی و تشفی دارید ۔سرکار انگریزی حقوق و خدمات خاندان شماہرگز فراموش نخواہد کرد ۔بموقعہ مناسب بر حقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ دریں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است۔فقط
    المرقوم ۱۱، جون ۱۸۴۹ء
    مقام لاہور انارکلی

    Translation of Certificate of J.M.Wilson.
    To,
    Mirza Ghulam Murtaza Khan chief of Qadian.
    I have perused your application reminding me your and your family`s past services and rights. I am well aware that since the introduction of the British Government you and your family have certainly remained devoted faithful and steady subjects and that your rights are really worthy of regard, In every respect you may rest assured and satisfied that the British Government will never forget your family`s rights and services which will receive due consideration when a favourable opportunity offers itself.
    you must continue to be faithful and devoted subjects as in it lies the satisfaction of the Government and your welfare.
    ‏11-06-1849 - Lahore
    نقل مراسلہ
    رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور
    تہورو شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند ۔از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ در باب نگہد اشت سواران وبہمر سانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی۔ اور شروع مفسدے سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بتعلق اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشا چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ۵۷۶ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۸۵۸ء پروانہ ھٰذا باظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی وفاداری بنام آپ لکھا جاتا ہے۔
    مرقومہ تاریخ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۵۸ء
    Translation of Mr. Robert Cast's Certificate
    Mirza Ghulam Murtaza Khan
    Chief of Qadian.
    As you rendered great help in enlisting sowars and supplyig horses to Government in the mutiny of 1857 and maintained loyalty since its beginning uptodate and thereby gained the favour of the Government a Khilat worth Rs.200/- is presented to you in recognition of good services and as a reward for you loyalty. More over in accordance with the wishes of chief commissioner as conveyed in his No.576 dated 10th August 1858. This parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Government for your fidelity and repute.
    20-09-1858 Lahore.
    نقل مراسلہ
    فنانشل کمشنر پنجاب مشفق مہربان دوستان مرزاغلام قادر رئیس قادیان حفظہ۔
    آپ کا خط ۲؍ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور اینجانب میں گزرا۔مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابحالی کا خیال رہے گا۔
    المرقوم۲۹؍ جون ۱۸۷۶ء
    الراقم سررابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر
    فنانشل کمشنر پنجاب
    Translation Sir Robert Egerton
    Financial Commissioner`s Letter
    Dated 29 June 1876.
    My dear friend Ghulam Qadir.
    I have perused your letter of the 2nd instant and deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful chief of Government.
    In consideration of your family services I will esteem you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will keep in mind the restoration and welfare of your family when a favourable opportunity occurs.
    { 134} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کر تا ہے کہ کتاب پنجاب چیفس میں ہمارے خاندا ن کے حالات ما بعد وفات مرزا غلام مرتضٰی صاحب کے متعلق ذیل کا نوٹ لکھا ہے:۔
    ’’مرزا غلا م مرتضیٰ جو ایک مشہور اور ماہر طبیب تھا ۱۸۷۶ء میںفوت ہوا ا ور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔مرزا غلام قادر لوکل افسران کی امداد کے واسطے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس ا ن افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھابہت سے سرٹیفکیٹ تھے ۔یہ کچھ عرصہ تک دفتر ضلع گورداسپور میں سپرنٹنڈنٹ رہا ہے ۔اس کا اکلوتا بیٹا صغر سنی میں فوت ہو گیاتھا اوراس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنّٰی بنا لیا تھا جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے ۔مرزا سلطان احمدنے نائب تحصیل داری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اب اکسٹرا ا سسٹنٹ کمشنر ہے ۔مرزا سلطا ن احمد قادیا ن کا نمبردار ہے مگر نمبر داری کا کام بجائے اس کے اس کا چچا زاد بھائی نظام دین جو غلام محی الدین کا سب سے بڑا لڑکا ہے کر تا ہے ۔نظام دین کا بھائی امام دین جو ۱۹۰۴ء میںفوت ہوا دہلی کے محاصرہ کے وقت ہاڈسن ہارس میں رسالدار تھا ۔اس کا باپ غلام محی الدین تحصیل دار تھا۔
    اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزا غلام احمدجوغلام مرتضٰی کا چھوٹا بیٹا تھا۔مسلمانوں کے ایک بڑے مشہورمذہبی سلسلہ کا بانی ہوا جو احمدیہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہے۔مرزا غلام احمد۱۸۳۹ء میںپیدا ہوا تھااور اس کو بہت اچھی تعلیم ملی ۔۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ؑ ہونے کا دعویٰ کیا ۔ چونکہ مرزا ایک قابل مذہبی عالم اور مناظر تھااس لئے جلد ہی بہت سے لوگوںکواس نے اپنا معتقد بنا لیا اور اب احمدیہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوںمیں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے ۔مرزا عربی ،فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھاجن میںاس نے مسئلہ جہاد کی تردید کی اور یقین کیا جاتاہے کہ ان کتابوںنے مسلمانوں پر معتدبہ اثرکیاہے ۔کئی سال تک مرزاغلام احمد نے بڑی مصیبت کی زندگی بسر کی کیونکہ اپنے مذہبی مخالفوںکے ساتھ وہ ہمیشہ مباحثوںاور جھگڑوں مقدموںمیں مبتلا رہالیکن اپنی وفات سے پہلے جو۱۹۰۸ء میں واقع ہو ئی اس نے ایسا رتبہ حاصل کر لیا تھاکہ اس کے مخالف بھی اسے عزت کی نظر سے دیکھنے لگے تھے ۔اس سلسلہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمدیہ نے ایک بڑاسکول کھولا ہے اور ایک مطبع جاری کیا ہے جس کے ذریعہ سے سلسلہ کی خبروںکی اشاعت کی جاتی ہے ۔ مرزا غلام احمدکا روحانی خلیفہ مولوی نورالدین ہوا ہے جو ایک مشہور طبیب ہے اور چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہ چکاہے۔مرزا غلام احمدکے اپنے رشتہ داروں میں سے اس کے مذہب کے پیرو بہت ہی کم ہیں ۔
    اس خاندان کو سالم موضع قادیان پر جو ایک بڑا موضع ہے حقوق مالکانہ حاصل ہیں اورنیز تین ملحقہ مواضعات پر بشرح پانچ فی صدی حقوق تعلقداری ہیں۔‘‘
    اقتباس مندرجہ بالا میں مصنف سے بعض غلطیاں واقعات کے متعلق ہو گئی ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے۔ اول یہ کہ لکھا ہے کہ ہمارے تایا صاحب نے مرزا سلطا ن احمد صاحب کو متبنّٰی بنا لیا تھا ۔ یہ درست نہیں ہے بلکہ امر واقع اس طرح پر ہے کہ تایا صاحب کی وفات کے بعد تائی صاحبہ کی خواہش پر ان کو کاغذات مال میں افسران متعلقہ نے بطور متبنّٰی درج کر دیا تھا ۔دوسرے مرزا سلطان احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی خاندان کا بزرگ لکھا ہے جو درست نہیں ۔تیسرے مرزا نظام الدین کو مرزا سلطان احمد صاحب کا چچازاد بھائی لکھا ہے یہ غلط ہے بلکہ مرزا نظا م الدین چچا تھے ۔چوتھے مرزا نظام الدین کو مرزاغلام محی الدین کاسب سے بڑا لڑکا لکھا ہے یہ غلط ہے۔سب سے بڑا لڑکا مرزا امام الدین تھا ۔پانچویں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کی پیدائش کی تاریخ ۱۸۳۹ء بیان کی ہے یہ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے تحقیقات سے صحیح ثابت نہیں ہوتی بلکہ صحیح تاریخ ۳۷-۱۸۳۶ء معلوم ہوتی ہے ۔چھٹے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے رشتہ داروں میں سے بہت ہی کم ان کے معتقد ہیں ۔یہ بات غلط ہے بلکہ امرواقعہ یہ ہے کہ شروع شروع میں بے شک بہت سے رشتہ دارو ں نے مخالفت کی تھی لیکن کچھ تو تباہ ہوگئے اور بعضوں کو ہدایت ہوگئی چنانچہ اب بہت ہی کم رشتہ دار آپ کے مخالف رہ گئے ہیں اور اکثر آپ پر ایمان لاتے اور آپ کے خدام میں داخل ہیں ۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود کی ترقی اور کامیابی کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ا ن کو بہت اچھی تعلیم ملی اور یہ کہ وہ ایک قابل مذہبی عالم اور مناظر تھے یہ غلط ہے کیونکہ ظاہری کسبی علوم کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ئی بڑے عالموں میں سے نہ تھے اور نہ ہی علم مناظرہ میںآپ کو کو ئی خاص دسترس تھی بلکہ شروع شروع میں تو آپ پبلک جلسوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرنے سے بھی گھبراتے تھے اور طبیعت میں حجاب تھا مگر جب آپ کو خدانے اس مقام پر کھڑا کیا تو پھر آپ کے اندر وہ طاقت آگئی کہ آپ کے ایک ایک وار سے دشمن کی کئی کئی صفیں کٹ کر گر جاتی تھیں اور آپ کا ایک ایک لفظ خصم کی گھنٹوں کی تقریروتحریر پر پانی پھیر دیتا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو منہاج نبوت پر ایک مقناطیسی جذب دیا گیا تھا جس سے سعید روحیں خود بخود آپ کی طرف کھچی چلی آتی تھیں اور خدا کی طرف سے آپ کو ایک رعب عطا ہوا تھا ۔جس کے سامنے دلیر سے دلیر دشمن بھی کانپنے لگ جاتا تھا ۔اور آپ ایک معجز نما حسن و احسان سے آراستہ کئے گئے تھے اور ہر قدم پر خدائی نصرت و تائید آپ کے ساتھ تھی ورنہ آپ سے زیادہ عالم و منطقی دنیا میں پیدا ہوئے اور حباب کی طرح اُٹھ کر بیٹھ گئے۔
    { 135} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ جب مرزا امام الدین و مرزا نظام الدین مسجدمبارک کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کرنے لگے تو حضرت صاحب نے چند آدمیوں کوجن میں مَیں بھی تھا فرمایا کہ ان کے پاس جائو اور بڑی نر می سے سمجھائو کہ یہ راستہ بند نہ کریں اس سے میرے مہمانوں کو بہت تکلیف ہو گی اور اگر چاہیں تو میری کوئی اور جگہ دیکھ کر بے شک قبضہ کر لیںاور حضرت صاحب نے تاکید کی کہ کوئی سخت لفظ استعمال نہ کیا جاوے ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم گئے تو آگے دونو مرزے مجلس لگائے بیٹھے تھے ۔اور حقّے کا دور چل رہا تھا ۔ہم نے جاکر حضرت صاحب کا پیغام دیا اور بڑی نرمی سے بات شروع کی لیکن مرزا امام الدین نے سنتے ہی غصہ سے کہا وہ (یعنی حضرت صاحب ) خود کیوں نہیں آیا اور میں تم لوگوں کو کیا جانتا ہوں ۔پھر طعن سے کہا کہ جب سے آسمانوں سے وحی آنی شروع ہو ئی ہے اس وقت سے اسے خبر نہیں کیا ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم لوگ اپنا سامنہ لے کر واپس آگئے ۔پھر حضرت صاحب نے ہمارے ساتھ اور بعض مہمانوں کو ملا دیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جائو اور اس سے جا کر ساری حالت بیان کرو اور کہو کہ ہم لوگ دور دراز سے دین کی خاطر یہاں آتے ہیں اور یہ ایک ایسا فعل کیا جارہا ہے جس سے ہم کو بہت تکلیف ہو گی کیونکہ مسجد کا راستہ بند ہو جائیگا ۔ان دنوں میں قادیان کے قریب ایک گائوں میں کوئی سخت واردات ہو گئی تھی اور ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس سب وہاں آئے ہوئے تھے۔چنانچہ ہم لوگ وہا ں گئے اور ذرا دور یّکے ٹھہرا کر آگے بڑھے ۔ڈپٹی کمشنر اس وقت باہر میدان میں کپتان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا ۔ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہا کہ ہم قادیا ن سے آئے ہیںاور اپنا حال بیان کرنا شروع کیا ۔مگر ڈپٹی کمشنر نے نہایت غصہ کے لہجہ میں کہا کہ تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو ۔میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوںاور میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے ۔اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں اب جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائے گا کہ کس طرح ایسی جماعت بنا یا کر تے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم ناچار وہاںسے بھی ناکام واپس آگئے اور حضرت صاحب کو سارا ماجرا سنایا ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ان دنو ں میں مخالفت کا سخت زور تھا اور انگریز حکام بھی جماعت پر بہت بدظن تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ کوئی سازش کے لئے سیاسی جماعت بن رہی ہے ۔اور بٹالہ میں ان دنوں پولیس کے افسر بھی سخت معاند و مخالف تھے اور طرح طرح سے تکلیف دیتے ر ہتے تھے اور قادیان کے اند ر بھی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین وغیرہ اور ان کی انگیخت سے قادیان کے ہندواور سکھ اور غیر احمدی سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے او ر قادیا ن میں احمدیوں کو سخت ذلت اورتکلیف سے رہنا پڑتا تھا اور ان دنوں میں قادیان میں احمدیوں کی تعداد بھی معمولی تھی اور احمدی سوائے حضرت کے خاندان کے قریباًسب ایسے تھے جو باہر سے دین کی خاطر ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے یا مہمان ہو تے تھے ۔حضرت صاحب نے یہ حالات دیکھے اور جماعت کی تکلیف کا مشاہد ہ کیا تو جماعت کے آدمیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور کہا کہ اب یہاں ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہم نے تو کا م کرنا ہے ۔یہاں نہیں تو کہیں اور سہی ۔اور ہجرت بھی انبیا ء کی سنت ہے ۔پس میرا ارادہ ہے کہ کہیں باہر چلے جائیں ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس پر پہلے حضرت خلیفہ اوّل نے عرض کیا کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں ۔وہاں میرے مکانات حاضر ہیں اور کسی طرح کی تکلیف نہیں ۔مولوی عبدا لکریم صاحب نے سیالکوٹ کی دعوت دی ،شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا لاہور میرے پاس تشریف لے چلیں ۔میرے دل میں بھی بار باراُٹھتا تھا کہ میں اپنا مکان پیش کر دوں مگر میں شرم سے رُک جاتا تھا آخر میں نے بھی کہا کہ حضور میرے گائوں میں تشریف لے چلیں ۔وہ سالم گائوں ہمارا ہے اور کسی کا دخل نہیں اور اپنے مکان موجود ہیں اور وہ ایک ایسی جگہ ہے کہ حکام کا بھی کم دخل ہے ۔اور زمیندارہ رنگ میں گویا حکومت بھی اپنی ہے ،حضرت صاحب نے پوچھا وہاں ضروریات مل جاتی ہیں۔ میں نے کہا ۔رسد وغیرہ سب گھر کی اپنی کافی ہو تی ہے ۔اور ویسے وہاں سے ایک قصبہ تھوڑے فاصلہ پر ہے جہا ں سے ہر قسم کی ضروریات مل سکتی ہیں ۔حضرت صاحب نے کہا ! اچھا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا ۔ جہاں اللہ لے جائے گا وہیں جائیںگے۔خاکسارعرض کرتاہے کہ ایک دفعہ ۱۸۸۷ء میںبھی حضرت صاحب نے قادیان چھوڑکر کہیں باہر جانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب شحنۂ حق میں اس کا تذکرہ لکھا ہے ۔
    { 136} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ مَیں نے میاں عبداللہ صاحب سنوری کی وہ نوٹ بک یعنی کاپی دیکھی ہے جس میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر ہوشیار پور کا حساب کتاب درج کیا کر تے تھے ۔یہ وہی سفر ہے جس میں حضرت صاحب نے چالیس دن کا چلہ کیا اور جس میں آپ کا ماسٹر مرلی دھر آریہ کے ساتھ مباحثہ ہو ا۔جس کا سرمہ چشم آریہ میں ذکر ہے ۔اس کاپی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود اس سفر سے ۱۷؍مارچ ۱۸۸۶ء کو واپس قادیان پہنچے تھے ۔حساب کتاب کی پہلی تاریخ کاپی میں یکم فروری ۱۸۸۶ء درج ہے ۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے حساب کتاب بعد میں لکھنا شروع کیا تھا اور حضرت صاحب ہوشیار پور جنوری کے تیسرے ہفتہ میں ہی پہنچ گئے تھے ۔ورنہ چالیس دن کا چلہ اور اس کے بعد بیس روز کا قیام تاریخ ہائے مذکورہ میں سما نہیں سکتے علاوہ ازیں میاں عبداللہ صاحب کویہ بھی یا د پڑتا ہے کہ ہوشیار پور میں حضرت صاحب نے دو ماہ قیام فر مایا تھا واللہ اعلم ۔
    کاپی مذکور میں ۳؍۱ ؎ مارچ ۱۸۸۶ء کا حساب حسب ذیل درج ہے ۔مربیٰ انبہ ،اچار ،شیر ،مصری ،چٹنی ،گوشت ، لفافہ ،پالک ،دال ماش ،نمک ،دھنیا ،پیاز ،تھوم ،آردگندم ،ٹکٹ،مرمت تھیلا ،ریوڑی ،میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کاپی میں صرف وہی چیزیں درج نہیں ہوتی تھیں جو حضرت کے لئے آئی ہوں بلکہ سب حساب درج ہوتا تھا خواہ کچھ ہمارے لئے منگایا گیا ہو یا کسی مہمان کے لئے ۔
    { 137} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیا ن کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ۱۳۰۳ء ماہ ذی الحجہ بروز جمعہ بوقت دس بجے حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا خوف ہو اوردل پر اس کے رعب پڑنے کا اندیشہ ہو تو آدمی صبح کی نماز کے بعد تین دفعہ یٰسین پڑھے اوراپنی پیشانی پر خشک انگلی سے یَاعَزِیْز ُ لکھ کر اس کے سامنے چلاجاوے انشاء اللہ اس کا رعب نہیں پڑے گا بلکہ خود اس پر رعب پڑ جائے گا ۔ اور ویسے بھی حضرت صاحب نے مجھے ہر روز کے واسطے بعد نماز فجر تین دفعہ یٰسین پڑھنے کاوظیفہ بتایا تھا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا یہ فرمان میاں عبداللہ صاحب نے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کیا ہوا تھااس لئے تاریخ وغیرہ پوری پوری محفوظ رہی اور خاکسار اپنی رائے سے عرض کرتا ہے کہ یا عزیزُ کے الفاظ میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان اپنے قلب پر خدا کی طاقت و جبروت اور قہر وغلبہ کی صفات کا نقشہ جمائے گا اور ان کا تصور کرے گا تو لازمی طور پر اس کا قلب غیر اللہ کے رعب سے آزاد ہو جائے گا اور بوجہ اس کے کہ وہ مومن ہے اس کو ان صفات کے مطالعہ سے ایک طاقت ملے گی جو دوسرے کو مرعوب کر دے گی اور انگلی سے لکھنا علم النفس کے مسئلہ کے ماتحت تصورکو مضبوط کر نے کے واسطے ہے ورنہ وظائف کوئی منتر جنتر نہیں ہوتے ۔واللہ اعلم
    { 138} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تو اس کے چند دن بعد ایک بڑا معمر شخص بھی یہاں آیا تھا ۔یہ شخص حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی کے مریدوں میں سے تھا اور بیان کر تا تھا کہ میں سیّد صاحب مرحوم کے ساتھ حج میں ہم رکاب تھا اور ان کے جنگوں میں بھی ان کے ساتھ رہا تھااور اپنی عمر قریباًسو ا سو سال کی بتاتا تھا قادیان میں آکر اس نے حضرت صاحب کی بیعت کی ۔یہ شخص دین دار تہجد گذار تھا اورباوجود اس پیرانہ سالی کے بڑا مستعد تھا ۔دو چار دن کے بعد وہ قادیان سے واپس جانے لگا اور حضرت صاحب سے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ آپ اتنی جلدی کیوں جاتے ہیںکچھ عرصہ اور قیام کر یںاس نے کہا میں حضور کے واسطے موجب تکلیف نہیں بننا چاہتا ۔حضرت صاحب نے فرمایا ہمیںخدا کے فضل سے کوئی تکلیف نہیںآپ ٹھہریں ہم سب انتظام کر سکتے ہیں۔چنانچہ وہ یہاں ڈیڑھ دو ماہ ٹھہرا او رپھر چلا گیا۔ایک دفعہ دو بارہ بھی وہ قادیان آیا تھااور پھر اس کے بعد فوت ہو گیا ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ میںنے جب یہ روایت سنی توا سے بہت عجیب سمجھا کیونکہ ایک شخص کا دو صدیوںکے سر کو پانا اور پھر دو اماموں کی ملاقات اور بیعت سے مشرف ہو نا کوئی معمولی بات نہیں چنانچہ میں نے اسی شوق میں یہ روایت مولو ی شیر علی صاحب کے پاس بیان کی تو انہوںنے کہا کہ میںنے بھی اس شخص کو دیکھا ہے ۔اس کا چھوٹا قد تھااور وہ بہت معمر آدمی تھااوراس کے بدن پر زخموںکے نشانات تھے اوراس نے حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل کو صلوٰۃ خوف کے عملی طریقے بتائے تھے اور بتایا تھا کہ کس طرح ہم سید صاحب کے ساتھ لڑائی کے وقت نماز پڑھا کرتے تھے۔ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل نے ایک دفعہ درس کے وقت فرمایا تھا کہ میںنے ان سے صلوٰۃ خوف کے عملی طریقے سیکھے ہیں۔خاکسار عرض کرتاہے کہ حافظ صاحب نے بیان کیا کہ یہ شخص چونڈہ ضلع امرتسر کا تھا ۔
    { 139} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے اس دعویٰ سے پنجاب میں بڑا شور پیدا کیا کہ میں جلتی ہوئی آگ میں گھس جاتا ہوں او ر مجھے کچھ نہیں ہوتا اور اس نے حضرت صاحب کا بھی نام لیا کہ یہ مسیح بنتا پھر تا ہے کو ئی ایسا معجزہ تو دکھائے ۔حضرت صاحب کے پاس اس کی یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ آگ میں داخل ہو تو پھر کبھی نہ نکلے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول مداریوں کی طرح تماشے نہیں دکھاتے پھر تے بلکہ جب اللہ تعالیٰ کو ئی حقیقی ضرورت محسوس کر تا ہے تو ان کے ذریعہ کوئی نشان ظاہر فرماتا ہے اور حضرت صاحب کا یہ فرمانا کہ اگر یہ شخص میرے سامنے آگ میں گھسے تو پھر کبھی نہ نکلے۔ اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ حق کے مقابلہ پر کھڑا ہونے کی وجہ سے آگ اسے جلا کر راکھ کر دے گی بلکہ اگلے جہاں میں بھی وہ آگ ہی کی خوراک رہے گا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ واقعی آگ میں جاتا تھا یا نہیں بہر حال حضرت صاحب تک اس کا یہ دعویٰ پہنچا تھا جس پر آپ نے یہ فرمایا۔
    { 140} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں خصوصاً ابتدائی ایام میں قادیان کے لوگوں کی طرف سے جماعت کو سخت تکلیف دی جاتی تھی ۔مرزا امام الدین ومرزا نظام الدین وغیرہ کی انگیخت سے قادیان کی پبلک خصوصاً سکھ سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے اور صرف باتوں تک ایذا رسانی محدود نہ تھی بلکہ دنگا فساد کرنے اور زدو کوب تک نو بت پہنچی ہوئی تھی ۔اگرکوئی احمدی مہاجر بھولے سے کسی زمیندار کے کھیت میں رفع حاجت کے واسطے چلا جاتا تھا تو وہ بدبخت اسے مجبور کرتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے اپنا پاخانہ وہاں سے اُٹھائے ۔کئی دفعہ معزز احمدی ان کے ہاتھ سے پٹ جاتے تھے اگر کوئی احمدی ڈھاب میں سے کچھ مٹی لینے لگتا تو یہ لوگ مزدوروں سے ٹوکریاں اورکدالیں چھین کر لے جاتے اور ان کو وہاں سے نکال دیتے تھے اور کوئی اگر سامنے سے کچھ بولتا تو گندی اور فحش گالیوں کے علاوہ اسے مارنے کے واسطے تیارہو جاتے ۔آئے دن یہ شکائتیں حضرت صاحب کے پاس پہنچتیں رہتی تھیں مگر آپ ہمیشہ یہی فرماتے کہ صبر کرو ۔بعض جوشیلے احمدی حضرت صاحب کے پاس آتے اور عرض کرتے کہ حضور ہم کو صرف ا ن کے مقابلہ کی اجازت دے دیں ۔اور بس پھر ہم ان کو خود سیدھا کر لیں گے ۔حضور فرماتے نہیں صبر کرو۔ایک دفعہ سیّداحمد نور مہاجر کابلی نے اپنی تکلیف کا اظہار کیا۔اور مقابلہ کی اجازت چاہی مگر حضرت صاحب نے فرمایا دیکھو اگر امن اور صبر کے ساتھ یہاں رہنا ہے تو یہاں رہو اور اگر لڑنا ہے اور صبر نہیں کر سکتے تو کابل چلے جائو ۔چنانچہ یہ اسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ بڑے بڑے معزز احمدی جو کسی دوسرے کی ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔وہ ذلیل و حقیر لوگو ں کے ہاتھ سے تکلیف اور ذلت اٹھا تے تھے اور دم نہ مارتے تھے ۱ ؎ مگر ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک غریب احمدی نے اپنے مکان کے واسطے ڈھاب سے کچھ بھرتی اٹھائی تو سکھ وغیرہ ایک بڑا جتھا بنا کر اور لاٹھیوں سے مسلح ہو کر اس کے مکان پر حملہ آور ہو گئے۔ پہلے تو احمدی بچتے رہے۔لیکن جب انہوں نے بے گناہ آدمیوں کو مارنا شروع کیا اور مکان کو بھی نقصان پہنچانے لگے تو بعض احمدیوں نے بھی مقابلہ کیا جس پر طرفین کے آدمی زخمی ہوئے اور بالآخر حملہ آوروں کو بھاگنا پڑا۔چنانچہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیان کے غیر احمدیوں کو عملاً پتہ لگا کہ احمدیوں کا ڈر ان سے نہیں بلکہ اپنے امام سے ہے ۔اس کے بعد پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کی۔ اور چونکہ احمدی سراسر مظلوم تھے اور غیر احمدی جتھا بنا کر ایک احمدی کے مکان پر جارحانہ طور پر لاٹھیوںسے مسلح ہو کر حملہ آور ہوئے تھے ۔اس لئے پولیس باوجود مخالف ہونے کے ان کا چالان کر نے پر مجبور تھی جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اب ہتھکڑی لگتی ہے تو ان کے آدمی حضرت صاحب کے پاس دوڑے آئے کہ ہم سے قصور ہوگیاہے۔حضور ہمیں معاف کر دیںحضرت صاحب نے معاف کردیا ۔یہ پہلا دھکا تھا جو قادیا ن کی غیر احمدی پبلک کو پہنچا ۔اور یہ غالباً ۱۹۰۶ء کی بات ہے ۔اس کے بعد ان کی شرارتیں تو بد ستور جاری رہیں اور اب تک جاری ہیں ۔مگر اب خدا کے فضل سے قادیان میں احمدیوں کی تعدا د بھی بہت زیادہ ہے جو طبعاً غیر احمدیوں کو ہمارے خلاف جرأت کر نے سے روکے رکھتی ہے ۔دوسرے حضرت صاحب کی وفات کے بعد بعض دفعہ غیر احمدیوں کی شرارت کی وجہ سے لڑائی کی صورت پیدا ہو چکی ہے ۔او ر ہر دفعہ غیر احمدیوں کو سخت ذلت اٹھا نی پڑی ہے ۔ لہٰذا اب ان کی شرارتیںگہری چال کی صورت میں بدل کر قانون کی آڑ میں آگئی ہیں ۔
    (خاکسار ایڈیشن ثانی کے موقعہ پر عرض کرتا ہے کہ میرے مندرجہ بالا ریمارک سے وہ حالت خارج ہے جو اب کچھ عرصہ سے احرار کی فتنہ انگیزی اور بعض حکام کی جنبہ داری سے قادیان میں جماعت احمدیہ کے خلاف پیدا ہو رہی ہے۔)
    { 141} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبدا للہ صاحب سنوری نے کہ جب حضور کو وَسِّعْ مَکَانَکَ (یعنی اپنا مکان وسیع کر) کا الہام ہوا ۔تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ مکانا ت بنوانے کے لئے تو ہمارے پاس روپیہ ہے نہیں اس حکم الہٰی کی اس طرح تعمیل کر دیتے ہیں کہ دو تین چھپر بنوا لیتے ہیں ۔چنانچہ حضور نے مجھے اس کام کے واسطے امرتسر حکیم محمد شریف صاحب کے پاس بھیجا جو حضور کے پرانے دوست تھے ۔اور جن کے پاس حضور اکثر امرتسرمیں ٹھہرا کر تے تھے ۔تاکہ میں ان کی معرفت چھپر باندھنے والے اور چھپر کا سامان لے آئوں ۔چنانچہ میں جاکر حکیم صاحب کی معرفت امرتسر سے آدمی ۱؎ اورچھپر کا سامان لے آیا ۔اور حضرت صاحب نے اپنے مکان میں تین چھپر تیار کر وائے یہ چھپر کئی سال تک رہے ۔پھر ٹوٹ پھوٹ گئے۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ بات دعویٰ مسیحیت سے پہلے کی ہے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ توسیع مکان سے مرادکثرت مہمانان و ترقی قادیان بھی ہے ۔
    { 142} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اعجازاحمدی کی تصنیف کے بعد مولوی ثنا ء اللہ قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اس کی دستی خط وکتابت ہوئی تو اس نے ایک دفعہ اپنا ایک آدمی کسی بات کے دریافت کر نے کے لئے حضرت صاحب کے پاس بھیجا ۔یہ شخص جب مسجد مبارک میں حضرت صاحب کے پاس آیا تو حضرت صاحب اس وقت اُٹھ کراندرون خانہ تشریف لے جارہے تھے۔اس نے حضرت صاحب سے کوئی بات پوچھی اورحضرت صاحب نے اس کا جواب دیا ۔ جس پر اس نے کوئی سوال کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ کام یا یہ بات کو ن کرے ۔مولوی صاحب کہتے ہیںکہ سوال مجھے یاد نہیں رہا مگر اس پر حضرت صاحب نے اسے فرمایا ’تو‘ مولوی صاحب فرماتے ہیںکہ میں نے اس دفعہ کے علاوہ کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے کسی شخص کو توُ کہتے نہیں سنا ۔موافق ہو یا مخالف۔غریب سے غریب اور چھوٹے سے چھوٹابھی ہو تا تھاتو حضرت صاحب اسے ہمیشہ آپ کے لفظ سے مخاطب کر تے تھے ۔مگر اس وقت اس شخص کو آپ نے خلاف عادت ’’تو‘‘ کا لفظ کہا ۔اور ہم سب نے اس بات کو عجیب سمجھ کر محسوس کیا ۔
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اس لفظ کے سننے میں غلطی نہیں لگی تو یہ لفظ حضرت صاحب نے کسی خاص مصلحت سے استعمال فرمایا ہو گا۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ جلدی میں سہواً نکل گیا ہو۔)
    { 143} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد محمد سرور شاہ صاحب نے کہ جب منشی احمدجان صاحب مرحوم لدھیانوی پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے تو حضرت صاحب نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے جس طریق کو اختیارکیا ہے اس میںخاص کیا کمال ہے۔ منشی صاحب نے کہامیں جس شخص پر توجہ ڈالوںتو وہ بے تاب ہو کر زمین پر گر جاتا ہے ۔حضرت صاحب نے فرمایا تو پھر نتیجہ کیاہوا ؟ منشی صاحب موصوف کی طبیعت بہت سعید اور ذہین واقع ہو ئی تھی بس اسی نکتہ سے ان پر سب حقیقت کھل گئی اور وہ اپنا طریق چھوڑ کرحضرت صاحب کے معتقد ہوگئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قرون اولی کے بعد اسلام میں صوفیوں کے اندر تو جہ کے علم کا بڑا چرچا ہو گیا تھا ۔اور اس کو روحانیت کا حصہ سمجھ لیا گیا تھا حالانکہ یہ علم دنیا کے علوم میں سے ایک علم ہے جسے روحانیت یا اسلام سے کو ئی خاص تعلق نہیںاور مشق سے ہر شخص کو خواہ مسلم ہو یا غیرمسلم اپنی استعداد کے مطابق حاصل ہو سکتا ہے اورتعلق با للہ اوراصلاح نفس کے ساتھ اسے کوئی واسطہ نہیں ۔لیکن چونکہ نیک لوگ اپنی قلبی توجہ سے دوسرے کے دل میںایک اثرپیدا کردیتے تھے جس سے بعض اوقات وقتی طور پر وہ ایک سرور محسوس کر تا تھا اس لئے اسے روحانیت سمجھ لیا گیا اورچونکہ فَیْجِ اَعْوَج کے زمانہ میں حقیقی تقویٰ و طہارت اوراصلاح نفس اور تعلق باللہ بالعموم معدو م ہو چکا تھااورعلمی طور پر توجہ کے فلسفہ کو بھی دنیا ابھی عام طور پر نہیں سمجھتی تھی اس لئے یہ باتیں طبقہ صوفیا میںرائج ہو گئیںاور پھرآہستہ آہستہ ان کا اثر اتنا وسیع ہوا کہ بس انہی کو روحانی کمال سمجھ لیا گیااور اصل روح جس کی بقا کے واسطے ڈوبتے کو تنکے کاسہارا سمجھ کر اس جسم کو ابتدا میںاختیارکیا گیا تھانظر سے اوجھل اوردل سے محوہوگئی لیکن مسیح موعود کے زمانہ میں جو آخَرِیْنَ مِنْہُمْ کا زمانہ ہے حقیقت حال منکشف کی گئی چنانچہ جب حضرت مسیح موعود ؑنے منشی صاحب کویہ فرمایا کہ اگر آپ نے کسی شخص کو اپنی توجہ سے گرا لیا تو اس کا نتیجہ یا فائدہ کیا ہوا یعنی دینی اور روحانی لحاظ سے اس توجہ نے کیا فائدہ دیا کیونکہ یہ بات تو مشق کے ساتھ ایک دہریہ بھی اپنے اندرپیدا کرسکتاہے تو منشی صاحب کی آنکھیںکھل گئیںاور ان کو پتہ لگ گیا کہ خواہ ہم علم توجہ میں کتنا بھی کمال حاصل کرلیںلیکن اگرلوگ حقیقی تقویٰ و طہارت اورتعلق باللہ کے مقام کو حاصل نہیں کرتے تو یہ بات روحانی طور پرکچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی ۔واقعی منہاج نبوت کے مقابلہ میں جس پر حضرت مسیح موعود ؑ کوقائم کیا گیااور جس نے روحانیت کا ایک سورج چڑھا دیا ۔ یہ دود آمیز مکدر اور عارضی روشنی جس سے بسا اوقات ایک چور بھی لوگوںکے قلوب سے ایمان و اسلام کا اثاثہ چرا نے کی نیت سے اپنی سیاہ کاری میںممد بنا سکتا ہے کب ٹھہر سکتی تھی ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی احمدجان صاحب لدھیانوی ایک بڑے صوفی مزاج آدمی تھے اور اپنے علاقہ کے ایک مشہور پیر سجادہ نشین تھے مگر افسوس کہ حضرت صاحب کے دعویٰ مسیحیت سے پہلے ہی فوت ہوگئے۔ان کو حضرت مسیح موعود ؑسے اس درجہ عقیدت تھی کہ ایک دفعہ انہوں نے آپ کومخاطب کر کے یہ شعر فرمایا ؎
    ہم مریضوںکی ہے تمہیںپہ نظر
    تم مسیحا بنو خداکے لئے
    منشی صاحب موصوف کی لڑکی سے حضرت خلیفہ اوّل کی شادی ہوئی او ر حضرت مولوی صاحب کی سب نرینہ اولاد انہی کے بطن سے ہے۔منشی صاحب کے دونوںصاحبزادے قادیان میں ہی ہجرت کر کے آگئے ہوئے ہیں اور منشی صاحب کے اکثر بلکہ قریباً سب متبعین احمدی ہیں۔نیز خاکسارعرض کرتاہے کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب منشی صاحب مرحوم سے خودنہیںملے لہٰذا انہوں نے کسی اور سے یہ واقعہ سنا ہوگا۔
    { 144} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی اور ان کے واسطے گھر میں کھانا تیار کر وایا مگر عین جس وقت کھانے کا وقت آیا اتنے ہی اور مہمان آگئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی ۔حضرت صاحب نے اندر کہلابھیجا کہ اور مہمان آگئے ہیں کھانا زیادہ بھجوائو ۔اس پر بیوی صاحبہ نے حضرت صاحب کو اندر بلوا بھیجا اور کہا کہ کھانا تو تھوڑا ہے ۔صرف ان چند مہمانوں کے مطابق پکایا گیا تھا ۔جن کے واسطے آپ نے کہا تھا مگر شاید باقی کھانے کا تو کچھ کھینچ تان کر انتظام ہو سکے گا لیکن زردہ تو بہت ہی تھوڑا ہے اس کا کیا کِیا جاوے ۔ میرا خیال ہے کہ زردہ بھجواتی ہی نہیں صرف باقی کھانا نکال دیتی ہوں ۔حضرت صاحب نے فر مایا نہیں یہ مناسب نہیں ۔تم زردہ کا برتن میرے پاس لائو چنانچہ حضرت صاحب نے اس برتن پر رومال ڈھانک دیا اور پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردہ میں داخل کر دیں اور پھر کہا اب تم سب کے واسطے کھانا نکالو خدا بر کت دے گا ۔چنانچہ میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ زردہ سب کے واسطے آیا اور سب نے کھایا اور پھر کچھ بچ بھی گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب میاں عبداللہ صاحب نے یہ روایت بیان کی تو مولوی عبدالمغنی صاحب بھی پاس تھے انہوں نے کہا کہ سید فضل شاہ صاحب نے بھی یہ روایت بیان کی تھی ۔ میاں عبداللہ صاحب نے کہا اچھا تب تو اس روایت کی تصدیق بھی ہوگئی ۔شاہ صاحب بھی اس وقت موجود ہوں گے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسرے دن میاں عبداللہ صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ میں نے سید فضل شاہ صاحب سے پوچھا ہے وہ بھی اس وقت موجو دتھے اور ان کو یہ روایت یا د ہے ۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ مجھ سے یہ گھر والی بات خود حضرت صاحب نے بیان فرمائی تھی ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ میں نے یہ روایت سن کر حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو یہ واقعہ یاد ہے انہوں نے کہا کہ خاص یہ واقعہ تو مجھے یاد نہیں لیکن ایسا ضرور ہوا ہو گا ۔کیونکہ ایسے واقعات بار ہا ہوئے ہیں ۔میں نے پو چھا کس طرح ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا یہی کہ تھوڑا کھانا تیا ر ہوا اور پھر مہمان زیادہ آگئے ۔مثلاً پچاس کا کھا نا ہوا توسو آگئے ۔لیکن وہی کھاناحضرت صاحب کے دم سے کافی ہو جاتا رہا۔پھر حضرت والدہ صاحبہ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ کو ئی شخص حضرت صاحب کے واسطے ایک مرغ لایا ۔میں نے حضرت صاحب کے واسطے اس کا پلائو تیا ر کر ایا او ر وہ پلائو اتنا ہی تھا کہ بس حضرت صاحب ہی کے واسطے تیار کروایا تھا مگر اسی دن اتفاق ایسا ہوا کہ نواب صاحب نے اپنے گھر میںدھونی دلوائی تو نواب صاحب کے بیوی بچے بھی ادھر ہمارے گھر آگئے اور حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ان کو بھی کھانا کھلائو ۔ میں نے کہا کہ چاول تو بالکل ہی تھوڑے ہیں صرف آپ کے واسطے تیار کروائے تھے ۔حضرت صاحب نے فرمایا چاول کہاں ہیں پھرحضرت صاحب نے چاولوں کے پاس آکر ان پر دم کیا اور کہا اب تقسیم کر دو۔والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ان چاولوں میں ایسی برکت ہوئی کہ نواب صاحب کے سارے گھر نے کھائے اور پھر بڑے مولوی صاحب (یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب)اور مولوی عبدالکریم صاحب کو بھی بھجوائے گئے اور قادیان میں اور بھی کئی لوگوں کو دئے گئے ۔اور چونکہ وہ برکت والے چاول مشہور ہوگئے تھے اس لئے کئی لوگوں نے آآکر ہم سے مانگے اور ہم نے سب کو تھوڑے تھوڑے تقسیم کئے اور وہ سب کے لئے کافی ہوگئے ۔
    { 145} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے شیخ کرم الہٰی صاحب پٹیالوی نے کہ ایک دفعہ جب ابھی حضرت صاحب نے مسیحیت کا دعویٰ نہیں کیا تھا میں نے پٹیالہ میں پٹیالہ کے ایک باشندہ محمد حسین کا وعظ سنا۔یہ شخص اب مر چکا ہے اور اس کا خاتمہ حضرت صاحب کی مخالفت پر ہوا تھا مگر میں نے سنا کہ وہ لوگوں کو یہ وعظ کر رہا تھا کہ لوگ جب آنحضرت ﷺ کے یہ معجزے سنتے ہیں کہ آپ کی برکت سے کھانا زیادہ ہو گیا یا تھوڑا سا پانی اتنا بڑھ گیا کہ بہت سے آدمی سیراب ہوگئے تو وہ حیران ہو تے ہیں اور ان باتوں کا یقین نہیں کر تے حالانکہ خد اکی قدرت سے یہ باتیں بالکل ممکن ہیں ۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی بزرگوں اور اولیا ء اللہ سے ایسے خوارق ظہور میں آجاتے ہیں ۔ پھر اس نے ایک واقعہ سنایا کہ میں ایک دفعہ انبالہ میں حضرت مرزا صاحب کی ملاقات کو گیا ۔وہاں اندر سے ان کے واسطے کھانا آیا جو صرف ایک دو آدمیوں کی مقدار کا کھانا تھا۔مگر ہم سب نے کھایا اور ہم سب سیر ہو گئے حالانکہ ہم دس بارہ آدمی تھے ۔شیخ کر م الہٰی صاحب بیان کرتے تھے کہ دعویٰ مسیحیت پر اس شخص کو ٹھوکر لگی اور وہ مخالف ہو گیا ۔ اور اب وہ مر چکا ہے ۔
    { 146} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ ان سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خاںصاحب مرحوم نے بیان کیا تھا کہ ایک دفعہ جب کوئی جلسہ وغیرہ کا موقعہ تھااور ہم لوگ حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے اور مہمانوں کے لئے باہر پلائوزردہ وغیرہ پک رہا تھا کہ حضرت صاحب کے واسطے اندر سے کھانا آگیا ۔ہم سمجھتے تھے کہ یہ بہت عمدہ کھانا ہو گا لیکن دیکھا تو تھوڑا سا خشکہ تھااور کچھ دال تھی اور صرف ایک آدمی کی مقدار کا کھانا تھا ۔حضرت صاحب نے ہم لوگوں سے فرمایا آپ بھی کھانا کھالیںچنانچہ ہم بھی ساتھ شامل ہو گئے ۔ حافظ صاحب کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بیان کر تے تھے کہ اس کھانے سے ہم سب سیر ہوگئے۔حالانکہ ہم بہت سے آدمی تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے تعجب آیا کرتا ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے کا دم بھرنے والے لوگ خوارق کے ظہور کے متعلق کیوںشک کر تے ہیں۔جب یہ بات مان لی گئی ہے کہ ایک قادر مطلق خدا موجود ہے جس کے قبضۂ تصّرف میں یہ سارا عالم ہے ۔اور جو اشیاء اور خواصِ اشیاء کا خالق و مالک ہے تو پھر خوارق کا وجود کس طرح مشتبہ ہو سکتاہے کیونکہ وہ خدا جس نے مثلاً کھانے میں یہ خاصیت ودیعت کی تھی کہ اس قدر کھانا ایک آدمی کے لئے کافی ہو ۔کیا وہ اپنی تقدیرخاص سے کسی مصلحت کی بنا پر اس میںوقتی طور پر یہ خاصیت نہیںرکھ سکتا کہ وہی کھانا مثلاً دس آدمی کا پیٹ بھر دے یا بیس آدمی کو سیر کر دے؟اگر اشیاء کے خواص خدا کی طرف سے قائم شدہ تسلیم کئے جاویں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ بعض مصالح کے ماتحت ان میںوقتی طور پر تغیر تبدل پر خداکیوں نہیں قادر ہو سکتا اگر وہ قادر مطلق ہے تو ہر اک امر جو قدرت کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے اس کے اندر تسلیم کرنا پڑے گا ۔اسی طرح باقی تمام صفات کا حال ہے اور یہ جو ہم کو تعلیم دی گئی ہے کہ تقدیر پر ایمان لائو تو اس سے مراد یہی ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ نہ صرف یہ کہ خواص الاشیاء تمام خد اکی طرف سے ہیںبلکہ خدا تعالیٰ اپنی تقدیر خاص سے ان میںتغیر تبدل بھی کرسکتا ہے گویا ہم تقدیر عام اور تقدیر خاص ہر دو پر ایمان لائیں یعنی اول ہم یہ ایمان لائیں کہ مثلاً آگ میں جو جلانے کی صفت ہے یہ خود بخودنہیں بلکہ خدائی حکم کے ماتحت ہے اور پھر ہم یہ ایما ن لائیں کہ خداتعالیٰ جب چاہے اس کی اس صفت کو مبدّل معطل یا منسوخ کر سکتا ہے اور پھر ہم یہ بھی ایمان لائیں کہ اپنی ہستی کو محسوس و مشہود کرانے کے لئے خداتعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ بعض اوقات ایسا کرتابھی ہے اور دنیا کو اپنی تقدیر خاص کے جلوے دکھاتا ہے کیونکہ ایمان باللہ اس کے بغیر مستحکم نہیںہو سکتا۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ خدا کا کوئی فعل عبث نہیں ہوتا بلکہ حکمتوں پر مبنی ہوتا ہے۔اس لئے جب خدائی مصلحت تقاضا کر تی ہے تب ہی کو ئی خارق عادت امر ظاہر ہوتا ہے اور پھر اسی طریق پر ظاہر ہو تا ہے جس طرح وہ چاہتا ہے یہ نہیں کہ نشان کا طالب جب چاہے اور جس طریق پر چاہے اسی طریق پر نشان ظاہر ہو ۔ خدا کسی کا محتاج نہیںبندے اس کے محتاج ہیں اور ضرورت کا فیصلہ کرنا بھی اسی کا کام ہے ۔
    { 147} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی ہندو نے اعتراض کیا کہ حضرت ابراہیم پر آگ کس طرح ٹھنڈی ہو گئی ۔اس اعتراض کا جواب حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے لکھا کہ آگ سے جنگ اور عداوت کی آگ مراد ہے ۔انہی ایام میں ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام چھوٹی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ آپ کے پائوں دبا رہے تھے اور حضرت مولوی صاحب بھی پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے حضرت صاحب کو یہ اعتراض اور اس کا جواب جو مولوی صاحب نے لکھا تھاسنایا ۔حضرت صاحب نے فرمایا اس تکلّف کی کیا ضرورت ہے ہم موجود ہیںہمیںکوئی آگ میںڈال کر دیکھ لے کہ آگ گلزار ہو جاتی ہے یا نہیں ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ اعتراض دھرم پال آریہ مُرتد از اسلام نے کیا تھا اورحضرت مولوی صاحب نے اس کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں نورالدین کتاب لکھی تھی ۔اس میں آپ نے یہ جواب دیا تھاکہ آگ سے مراد مخالفوں کی دشمنی کی آگ ہے مگر حضرت صاحب تک یہ بات پہنچی توآپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں اس زمانہ میںہم موجود ہیں ہمیں کوئی مخالف دشمنی سے آگ کے اندر ڈال کر دیکھ لے کہ خدا اس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ نہیں ۔چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک دوسرے موقعہ پر اس مفہوم کو اپنے ایک شعر میں بھی بیان فرما یا ہے ۔ ؎
    ترے مکروں سے اے جاہل مرانقصاں نہیں ہر گز
    کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے
    اور آپ کا ایک الہام بھی اس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے جس میں خداتعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے کہہ دے کہ’’ آگ سے ہمیں مت ڈرائوآگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ چوہدری حاکم علی صاحب نے اس ذکر میں یہ واقعہ بھی بیان کیاکہ ایک دفعہ کسی شخص نے یہ تماشا دکھاناشروع کیا کہ آگ میں گھس جاتا تھا اورآگ اسے ضرر نہ پہنچاتی تھی ۔اس شخص نے مخالفت کے طور پر حضرت صاحب کا نام لے کرکہا کہ ان کو مسیح ہو نے کا دعویٰ ہے اگر سچے ہیں تو یہاں آجاویںاور میرے ساتھ آگ میںداخل ہو ںکسی شخص نے یہ بات باہر سے خط میں مجھے لکھی اور میں نے وہ خط حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا ۔آپ نے فرمایا کہ یہ ایک شعبدہ ہے ہم تو وہاں جانہیں سکتے مگر آپ لکھ دیں کہ وہ یہاں آجاوے ۔پھر اگر میرے سامنے وہ آگ میں داخل ہو گا تو زندہ نہیں نکلے گا ۔ چنانچہ میںنے آپ کا یہ جواب لکھ دیا مگر وہ نہیں آیا ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ نادان لوگ بعض اوقات ایسی باتوں سے خدائی قدرت نمائیوں کے متعلق شکوک میں مبتلا ہو جاتے ہیں حالانکہ خدائی باتوں میں خدائی جلوے ہوتے ہیں جو خدا کے چہرہ کو ظاہر کر نے والے ہو تے ہیں مگر انسان خواہ اپنے علم سے کیا کچھ بنالے مگر پھر بھی حالات کا مطالعہ کرنے والوں کو انسانی کاموں میں انسان سے بڑھ کر کو ئی چہرہ نظر نہیں آسکتا چنانچہ بعض اوقات ایک ہی بات ہوتی ہے مگر جب وہ خدا کی طرف سے آتی ہے تو اور شان رکھتی ہے اور انسان کی طرف سے آتی ہے تو اور شان رکھتی ہے ۔اسی مثال میں ظاہر ہو رہا ہے کہ کس طرح خدائی قدرت نمائی کے سامنے انسانی طلسم پر پانی پھر گیا ۔معلوم ہوتا ہے یہ شخص بھی حضرت موسٰیؑ کے زمانہ کے شعبدہ بازوں کی طرح کو ئی شعبدہ دکھاتا ہوگا ۔ مگر مسیح موعود پر اس معاملہ میں خدا کا فضل موسٰی ؑ سے بڑھ کر معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہاں تو انسانی طلسم کو مٹانے کے لئے موسیٰ کو کچھ دکھانا پڑا اور یہاں صرف دکھانے کا نام لینے پر ہی طلسم پاش پاش ہو گیا اور دشمن کو سامنے آنے کی جرأت ہی نہ ہوئی فالحمد للہ علی ذالک۔
    { 148} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیا ن کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ جب منارۃ المسیح کے بننے کی تیاری ہو ئی تو قادیان کے لوگوں نے افسران گورنمنٹ کے پاس شکائتیں کیں کہ اس منارہ کے بننے سے ہمارے مکانوں کی پردہ دری ہوگی ۔چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک ڈپٹی قادیا ن آیا او ر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسجد مبارک کے ساتھ والے حجرہ میں ملا۔اس وقت قادیان کے بعض لوگ جو شکایت کر نے والے تھے وہ بھی اس کے ساتھ تھے ۔حضرت صاحب سے ڈپٹی کی باتیں ہوتی رہیں اور اسی گفتگو میں حضرت صاحب نے ڈپٹی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ بڈھامل بیٹھاہے آپ اس سے پوچھ لیں کہ بچپن سے لے کر آج تک کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اسے فائدہ پہنچانے کا مجھے کو ئی موقعہ ملا ہو اور میں نے فائدہ پہنچانے میں کو ئی کمی کی ہو اور پھر اسی سے پوچھیں کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے تکلیف دینے کا اسے کوئی موقعہ ملا ہو تو اس نے مجھے تکلیف پہنچانے میں کو ئی کسر چھوڑی ہو ۔حافظ صاحب نے بیان کیا کہ میں اس وقت بڈھامل کی طرف دیکھ رہا تھا اس نے شرم کے مارے اپنا سر نیچے اپنے زانوئوں میں دیا ہو اتھا ۔اور اس کے چہرہ کا رنگ سپید پڑگیا تھا اور وہ ایک لفظ بھی منہ سے نہیں بول سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بڈھامل قادیان کے آریوں کا ایک ممتاز رکن ہے اور اسلام اور اس سلسلہ کا سخت دشمن ہے اور آج تک زندہ اور یَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَا نِھِمْ کا مصداق ہے ۔
    { 149} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان فرمایا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے کہ لالہ بھیم سین صاحب سیالکوٹی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت اچھے تعلقات تھے حتّٰی کہ آخری ایام میں بھی مَیں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوکبھی کچھ روپے کی ضرورت ہو تی تھی تو ان سے بطور قرض منگا لیتے تھے چنانچہ وفات سے دو تین سال قبل ایک دفعہ حضرت صاحب نے لالہ بھیم سین صاحب سے چند سو روپیہ بطور قرض منگوایا تھا۔ حالانکہ اپنی جماعت میں بھی روپیہ دے سکنے والے بہت موجود تھے ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ لالہ بھیم سین صاحب سے ابتداء ً ملازمت سیالکوٹ کے زمانہ میں حضرت صاحب کے تعلقات پیدا ہوئے اور پھر یہ رشتہ ٔ محبت آخر دم تک قائم رہا ۔لالہ صاحب حضرت صاحب کے ساتھ بہت عقید ت رکھتے تھے ۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی روایت ہے کہ جن ایام میں جہلم کا مقدمہ دائر ہو ا تھا۔ لالہ بھیم سین صاحب نے حضرت صاحب کو تار دیا تھا کہ میرے لڑکے کو جو بیرسٹر ہے اجازت عنایت فرما ویںکہ وہ آپ کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرے مگر حضرت صاحب نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس لڑکے کی خدمات لالہ صاحب نے پیش کی تھیں ان کا نام لالہ کنور سین ہے جو ایک لائق بیرسٹر ہیں اور گذشتہ دنوں میںلاء کالج لاہور کے پرنسپل تھے اور آجکل کسی ریاست میں چیف جج کے معزز عہدہ پر ممتا ز ہیں ۔نیز حضرت خلیفۃ المسیح ثانی بیان فرماتے ہیں کہ جو چھت گر نے کا واقعہ ہے اس میں بھی غالباً لالہ بھیم سین صاحب شریک تھے۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ لالہ بھیم سین صاحب موصوف امتحان مختاری کی تیاری میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ شریک تھے ۔چنانچہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو کر مختا ر بن گئے ۔مگر آپ کے لئے چونکہ پردہ غیب میں اور کام مقدر تھا اس لئے آپ کو خدا نے اس راستہ سے ہٹا دیا ۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ لالہ بھیم سین صاحب کی کامیابی کے متعلق بھی حضرت صاحب نے خواب دیکھا تھاکہ جتنے لوگوں نے امتحان دیا ہے ان میںسے صرف لالہ بھیم سین صاحب پاس ہوئے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہو ا۔
    { 150} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے اپنی کتاب حیاۃ النبی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ ملازمت سیالکوٹ کے متعلق مولوی سید میر حسن صاحب سیالکوٹی کی ایک تحریر نقل کی ہے جو میں مولوی صاحب موصوف سے براہ راست تحریری روایت لے کر درج ذیل کرتا ہوں ۔مولوی صاحب موصوف سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی کے چچا ہیں اور سیالکوٹ کے ایک بڑے مشہور مولوی ہیں ۔ مولوی صاحب مذہباً احمدی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبع نہیںبلکہ وہ سر سید مرحوم کے خیالات کے دلدادہ ہیں ۔وہ لکھتے ہیں: ۔
    ’’ حضرت مرزا صاحب۱۸۶۴ء میں بتقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔چونکہ آپ عزلت پسند اور پارسا اور فضول ولغو سے مجتنب اور محترز تھے ۔اس واسطے عام لوگوں کی ملاقات جو اکثر تضیع اوقات کا باعث ہوتی ہے ۔آپ پسند نہیں فرماتے تھے ۔لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا ڈپٹی مٹھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھے ان کے بڑے رفیق تھے ۔اور چونکہ بٹالہ میں مرزا صاحب اور لالہ صاحب آپس میں تعارف رکھتے تھے اس لئے سیالکوٹ میں بھی ان سے اتحاد کامل رہا۔پس سب سے کامل دوست مرزا صاحب کے اگر اس شہر میں تھے تو لالہ صاحب ہی تھے ۔اور چونکہ لالہ صاحب طبع سلیم اور لیاقت زبان فارسی اور ذہن رسا رکھتے تھے اس سبب سے بھی مرزا صاحب کو علم دوست ہونے کے باعث ان سے بہت محبت تھی ۔مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچہری والے آگاہ تھے مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہ ہواتو ڈپٹی کمشنر صاحب نے (جن کا نام پرکسن تھا ۔اور پھر وہ آخر میں کمشنر راولپنڈی کی کمشنری کے ہوگئے تھے ) محمدصالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ترجمان کی ضرورت تھی ۔مرزا صاحب چونکہ عربی میں کامل استعداد رکھتے تھے اور عربی زبان میں تحریر و تقریر بخوبی کر سکتے تھے ۔ اس واسطے مرزا صاحب کو بلا کر حکم دیا کہ جو جو بات ہم کہیں عرب صاحب سے پوچھو۔اور جو جواب وہ دیں اردو میں ہمیں لکھو اتے جائو۔مرزا صاحب نے اس کام کو کماحقہ ادا کیا ۔اور آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہو ئی ۔
    اس زمانہ میں مولوی الہٰی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے ۔(اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے ) کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں ۔ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنر ہیںاستاد مقرر ہوئے ۔مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں ۔
    مرزا صاحب کو اس زمانہ میں بھی مذہبی مباحثہ کا بہت شوق تھا ۔چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا ۔ ایک دفعہ پادری الایشہ صاحب جو دیسی عیسائی پادری تھے اور حاجی پورہ سے جانب جنوب کی کوٹھیوں میں سے ایک کوٹھی میںرہا کرتے تھے مباحثہ ہوا۔ پادری صاحب نے کہا کہ عیسوی مذہب قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی ۔مرزا صاحب نے فرمایا نجات کی تعریف کیا ہے ؟ اور نجات سے آپ کیا مراد رکھتے ہیں ؟ مفصل بیان کیجئے ۔ پادری صاحب نے کچھ مفصل تقریر نہ کی اور مباحثہ ختم کر بیٹھے اور کہا ’’میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا ۔‘‘
    پادری بٹلر صاحب ایم ۔اے سے جو بڑے فاضل اور محقق تھے ۔مرزا صاحب کا مباحثہ بہت دفعہ ہو ا۔یہ صاحب موضع گوہد پور کے قریب رہتے تھے ۔ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میںیہ سرّ تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے ۔ اور آدم کی شرکت سے جوگنہگار تھا بری رہے ۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے ۔اور علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی ۔جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہگار ہوا ۔ پس چاہیے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے ۔اس پر پادری صاحب خاموش ہو گئے ۔
    پادری بٹلر صاحب مرزا صاحب کی بہت عزت کرتے تھے۔اور بڑے ادب سے ان سے گفتگو کیا کرتے تھے ۔ پادری صاحب کو مرزا صاحب سے بہت محبت تھی ۔چنانچہ جب پادری صاحب ولایت جانے لگے تو مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے کچہری تشریف لائے ۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے پادری صاحب سے تشریف آوری کا سبب پوچھا ۔تو پادری صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزا صاحب سے ملاقات کرنے کو آیا تھا ۔چونکہ میں وطن جانے والا ہوں اس واسطے ان سے آخری ملاقات کر وں گا ۔چنانچہ جہاں مرزا صاحب بیٹھے تھے وہیں چلے گئے اور فرش پر بیٹھے رہے ۔اور ملاقات کر کے چلے گئے ۔
    چونکہ مرزا صاحب پادریوں کے ساتھ مباحثہ کو بہت پسند کر تے تھے ۔اس واسطے مرزا شکستہ تخلص نے جو بعد ازاں موحد تخلص کیا کرتے تھے اور مراد بیگ نام جالندھر کے رہنے والے تھے ۔مرزا صاحب کو کہا کہ سید احمد خاں صاحب نے تورات و انجیل کی تفسیر لکھی ہے ۔آپ ان سے خط وکتابت کریں ۔اس معاملہ میں آپ کو بہت مدد ملے گی ۔چنانچہ مرزا صاحب نے سر سید کو عربی میں خط لکھا ۔
    کچہری کے منشیوں سے شیخ الہ داد صاحب مرحوم سابق محافظ دفتر سے بہت اُنس تھا ۔اور نہایت پکی اور سچی محبت تھی ۔شہر کے بزرگوں سے ایک مولوی صاحب محبوب عالم نام سے جو عزلت گزیں اور بڑے عابد اور پارسا اور نقشبندی طریق کے صوفی تھے ۔مرزاصاحب کو دلی محبت تھی۔
    چونکہ جس بیٹھک میں مرزا صاحب مع حکیم منصب علی کے جو اس زمانہ میں وثیقہ نویس تھے رہتے تھے اور وہ سربازار تھی اور اس دکان کے بہت قریب تھی جس میں حکیم حسام الدین صاحب مرحوم سامان دوا سازی اور دوا فروشی اور مطب رکھتے تھے اس سبب سے حکیم صاحب اور مرزا صاحب میں تعارف ہو گیا۔ چنانچہ حکیم صاحب نے مرزا صاحب سے قانونچہ اور موجز کا بھی کچھ حصہ پڑھا ۔
    چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی ۔ اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا ۔پر امتحان میں کامیاب نہ ہو ئے اور کیوں کر ہو تے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے ۔سچ ہے ع
    ہر کسے را بہر کارے ساختند
    ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہو ئی تھی ۔اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی ۔جس کی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی میں نے ان کی خدمت میں عرض کی کہ آپ درخواست بھیج دیں چونکہ آپ کی لیاقت عربی زباندانی کی نہایت کامل ہے ۔آپ ضرور اس عہدہ پر مقرر ہو جائیں گے ۔فرمایا:۔
    ـ’’ میں مدرسی کو پسند نہیں کر تا ۔کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں ۔اور علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا بناتے ہیں ۔میں اس آیت کے وعید سے بہت ڈرتا ہوں ۔ اُحْشُرُ وا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمْ ـ (الصافات :۲۳)اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے ۔
    ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے ۔اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے ۔اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا ۔
    ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہورہا تھا ،ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھاہوتا ہے ۔جیسا ہندوستانی اکثر پہنتے ہیں ۔ دوسرے نے کہا کہ تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا ہوتا ہے ۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ :۔
    ’’بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کاپاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے ۔اور اس میں پردہ زیادہ ہے ۔کیونکہ اس کی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے ۔سب نے اس کو پسند کیا ۔
    آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفیٰ دے کر۱۸۶۸ء میں یہاں سے تشریف لے گئے۔ ایک دفعہ ۱۸۷۷ء میں آپ تشریف لائے ۔اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام کیا اور بتقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے ۔
    اسی سال سرسید احمد خاں صاحب غفرلہ نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی ۔تین رکوع کی تفسیر یہاں میرے پاس آچکی تھی ۔ جب میں اور شیخ الہ داد صاحب مرزا صاحب کی ملاقات کیلئے لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر گئے تو اثناء گفتگو میں سرسید صاحب کا ذکر شروع ہوا۔اتنے میں تفسیر کا ذکر بھی آگیا ۔راقم نے کہا کہ تین رکوعوں کی تفسیر آگئی جس میں دعا اور نزول وحی کی بحث آگئی ہے ۔فرمایا :۔
    ’’ کل جب آپ آویں تو تفسیر لیتے آویں ‘‘
    جب دوسرے دن وہاں گئے تو تفسیر کے دونوں مقام آپ نے سنے اور سُن کر خوش نہ ہوئے اور تفسیر کو پسند نہ کیا ۔
    اس زمانہ میں مرزا صاحب کی عمرراقم کے قیاس میں تخمینًا ۲۴سے کم اور۲۸سے زیادہ نہ تھی ۔ غرضیکہ ۱۸۶۴ء میں آپ کی عمر ۲۸سے متجاوز نہ تھی ۔راقم میر حسن ‘‘
    خاکسارعرض کرتا ہے کہ اوّل مولوی میر حسن صاحب موصوف نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت صاحب نے سیالکوٹ میں ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھی تھیں اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ آپ انگریزی خواں تھے۔ ایک یادو کتابیں پڑھنے کا صرف یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ آپ کو حروف شناسی ہو گئی تھی کیونکہ پہلے ز مانہ میں جو انگریزی کی پہلی کتاب ہو تی تھی ۔ اس میں صرف انگریزی کے حروف تہجی کی شناخت کروا ئی جاتی تھی ۔اور دوسری کتاب میں حروف جوڑ کر بعض چھوٹے چھوٹے آسان الفاظ کی شناخت کروائی جاتی تھی۔اور آج کل بھی انگریزی کی ابتدائی ایک دو کتابوں میں قریباً اسی قدر استعداد مدنظر رکھی جاتی ہے۔خاکسار کو یاد ہے کہ جب میں غالباً ساتویں جماعت میں تھا تو ایک دفعہ میں گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کھڑا تھا اور میرے پاس ایک انگریزی طرز کا قلمدان تھا جس میں تین قسم کی سیاہی رکھی جاسکتی ہے ۔اس میں Red.Copying.Blue کے الفاظ لکھے ہو تے ہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے ہاتھ میں یہ قلم دان دیکھا تو اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یہ الفاظ پڑھنے چاہے۔مگر مجھے یاد ہے کہ پہلا اور تیسرا تو آپ نے غور کے بعد پڑھ لیا مگر درمیان کے لفظ کے متعلق پڑھنے کی کوشش کی مگر نہیں پڑھ سکے ۔چنانچہ پھر آپ نے مجھ سے وہ لفظ پوچھا اور اس کے معنے بھی دریافت فرمائے۔ غرض معلوم ہو تا ہے کہ چھوٹے مفرد اور آسان الفاظ آپ غور کرنے سے پڑھ سکتے تھے جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کو انگریزی حروف شنا سی ہوگئی بس اس سے زیادہ نہیں۔
    دوسرے :۔ مولوی میر حسن صاحب نے لکھا ہے کہ زمانہ قیام سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی میں کامل استعداد تھی اور آپ عربی میں تحریر و تقریر کر سکتے تھے۔ یہ ریمارک جس رنگ میں مولوی صاحب نے کیا ہے درست ہے۔ مگر یہ ایک نسبتی ریمارک ہے۔ جس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس وقت سیالکوٹ کے ایک خاص حلقہ میں حضرت صاحب کی عربی استعداد دوسروں کی نسبت اچھی تھی اور آپ ایک حد تک عربی میں اپنے ما فی الضمیر کو ادا کر سکتے تھے لیکن ویسے حقیقۃً دیکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکتسابی تعلیم عام مرو جہ حد سے ہرگز متجاوز نہیں تھی۔ اور وہ بھی اس حد تک محدود تھی جو اس وقت قادیان میں گھر پر استاد رکھنے سے میسر آسکتی تھی۔ کیونکہ آپ نے کسب علم کے لئے کبھی کسی بڑے مرکز یا شہر کا سفر اختیار نہیں کیا۔
    تیسرے:۔ مولوی میر حسن صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب نے سر سید کی تفسیر دیکھی مگر پسند نہیں فرمایا اس کی یہ وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سرسید مرحوم کو ایک لحاظ سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انہیں قوم کا ہمدرد اور بہی خواہ سمجھتے تھے لیکن سر سید کے مذہبی خیالات کے آپ سخت مخالف تھے ۔کیونکہ مذہبی معاملات میں سر سید کی یہ پالیسی تھی کہ نئے علوم اور نئی روشنی سے مرعوب ہو کر ان کے مناسب حال اسلامی مسائل کی تاویل کر دیتے تھے ۔چنانچہ یہ سلسلہ اتنا وسیع ہوا کہ کئی بنیادی اسلامی عقائد مثلاً دعا ،وحی والہام ، خوارق ومعجزات ،ملائک وغیرہ کے گویا ایک طرح منکر ہی ہو گئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سر سید کی یہ حالت دیکھ کر انہیں اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں نہایت درد مندانہ طریق پر مخاطب کر کے ان کی اس سخت ضرر رساں پالیسی پر متنبہ فر ما یا ہے ۔
    نیز خاکسار عرض کر تا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول بھی اوائل میں سر سید کے خیالات اور طریق سے بہت متاثر تھے ۔مگر حضرت صاحب کی صحبت سے یہ اثر آہستہ آہستہ دُھلتا گیا ۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور بھی ابتدا میں سر سید کے بہت دلدادہ تھے چنانچہ حضرت صاحب نے بھی اپنے ایک شعر میں ان کے متعلق اس کا ذکرفر ما یا ہے ۔ فرماتے ہیں ؎
    مدتے درآتش نیچر فرو افتادہ بود

    ایں کرامت بیں کہ از آتش بروں آمد سلیم
    (نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی میر حسن صاحب کی ایک دوسری روایت حضرت مسیح موعود کے زمانہ سیالکوٹ کے متعلق نمبر ۲۸۰ پر بھی درج ہے۔)
    { 151} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے کسی شخص سے ایک زراعتی کنواں ساڑھے تین ہزار روپیہ میں رہن لیا مگر میں نے اس سے نہ کوئی رسید لی اور نہ کوئی تحریر کروائی اور کنواں بھی اسی کے قبضے میں رہنے دیا کچھ عرصہ کے بعد میں نے اس سے کنوئیں کی آمد کا مطالبہ کیا تو وہ صاف منکر ہوگیا اور رہن کا ہی انکار کر بیٹھا ۔ حافظ صاحب کہتے تھے کہ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ کسی نے یہ خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچا دی اور مولوی صاحب کے نقصان پر افسوس کیا مگر حضرت صاحب نے فرمایا تمہیں ان کے نقصان کی فکر ہے مجھے ایمان کی فکر ہے مولوی صاحب نے کیوں دوسرے شخص کو ایسی حالت میںرکھا جس سے اس کو بد دیانتی کا موقعہ ملا اور کیوں اسلامی حکم کے مطابق اس سے کوئی تحریر نہ لی اورکیوںاس سے باقاعدہ قبضہ نہ حاصل کیا ؟
    { 152} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو قا دیان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدا سے ہی گوشہ تنہائی کی زندگی بسر کرتے رہے لیکن پھر بھی قادیان کے بعض ہندوئوں کی آپ سے اچھی ملاقات تھی چنانچہ لالہ شرم پت اور لالہ ملاوامل سلسلہ بیعت سے بہت پہلے کے ملاقاتی تھے ان سے حضرت صاحب کی اکثر مذہبی گفتگو ہو تی رہتی تھی اور باوجود متعصب آریہ ہونے کے یہ دونوں آپ سے عقیدت بھی رکھتے تھے اور آپ کے تقدس اور ذاتی طہارت کے قائل تھے ۔ابتداء ً لالہ ملاوامل کے تعلقات بہت زیادہ تھے چنانچہ ہماری والدہ صاحبہ کی شادی کے موقعہ پر لالہ ملا وامل حضرت صاحب کے ساتھ دہلی گئے تھے مگر بعد میں اس کا آنا جا نا کم ہوگیا کیونکہ یہ سخت متعصب آریہ تھا اور آریوں کو حضرت صاحب کے ساتھ سخت عداوت ہو گئی تھی چنانچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت صاحب کا الہام ’’ یہودا اسکر یوطی ‘‘ ملاوامل ہی کے متعلق ہے ۔مگر لالہ شرم پت کے تعلقات حضرت اقدس کے ساتھ آخر تک قریباً ویسے ہی رہے ۔ لالہ ملا وامل اب تک بقید حیات ہے مگر لالہ شرم پت کئی سال ہو ئے فوت ہو چکے ہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کئی تحریرات میں ان ہر دو کو اپنی بعض پیشگوئیوں کی تصدیق میں شہادت کے لئے مخاطب کیا ہے اور ان کو بار بار پوچھا ہے کہ اگر تم نے میری فلاں فلاں پیشگوئیاں پوری ہوتی مشاہد ہ نہیں کیں تو حلف اٹھا کر ایک اشتہار شائع کرو اور دوسرے آریوں کو بھی ابھارا ہے کہ ان سے حلفیہ بیان شائع کروائو مگر یہ دونوں خاموش رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی انگوٹھی تیار کروانی چاہی تو اس کے لئے بھی آپ نے لالہ ملاوامل کو روپیہ دے کر امرتسر بھیجا تھا ۔چنانچہ لالہ ملاوامل امرتسر سے یہ انگوٹھی قریباً پانچ روپے میں تیار کروا کر لائے تھے ۔حضرت صاحب نے اپنی کتابو ں میں لکھا ہے کہ میں نے ایسا اس لئے کیا تھا تاکہ لالہ ملاوامل اس الہام کا پوری طرح شاہد ہو جاوے چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی کتب میں اس پیشگوئی کی صداقت کے متعلق بھی لالہ ملا وامل کو شہادت کے لئے بلایا ہے۔
    { 153} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کے بعض شاگردوں کے متعلق بدکاری کا شبہ ہوا اور یہ خبر حضرت صاحب تک بھی جاپہنچی۔ حضور نے حکم دیا کہ وہ طالب علم فوراً قادیان سے چلے جاویں۔ مولوی صاحب نے حضرت صاحب کے سامنے بطور سفارش کہا کہ حضور صرف شبہ کیا گیا ہے کوئی بات ثابت تو نہیں ہوئی ۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب ہم بھی تو ان کو شرعی حد نہیں لگا رہے بلکہ جب ایسی افواہ ہے اور شبہ پیدا ہوا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ احتیاطاً ان کو قادیان سے رخصت کردینا چاہئیے ۔مگر ہم ان پر کوئی شرعی الزام نہیں رکھتے ۔
    { 154} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاںعبدا للہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں مَیں سخت غیر مقلد تھااور رفع یدین اور آمین بالجہر کا بہت پابند تھا اور حضرت صاحب کی ملاقات کے بعد بھی میں نے یہ طریق مدت تک جاری رکھا ۔عرصہ کے بعد ایک دفعہ جب میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی تو نماز کے بعد آپ نے مجھ سے مسکرا کر فرمایا میاں عبداللہ اب تو اس سنت پر بہت عمل ہو چکا ہے اور اشارہ رفع یدین کی طرف تھا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے میں نے رفع یدین کرنا ترک کر دیا بلکہ آمین بالجہر کہنا بھی چھوڑ دیا اور میاں عبدا للہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب کو کبھی رفع یدین کر تے یا آمین بالجہر کہتے نہیں سنا اور نہ کبھی بسم اللہ بالجہر پڑھتے سنا ہے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق عمل وہی تھا جو میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا لیکن ہم احمدیوںمیں حضرت صاحب کے زمانہ میں بھی اور آپ کے بعد بھی یہ طریق عمل رہا ہے کہ ان باتوں میں کوئی ایک دوسرے پر گرفت نہیں کرتا بعض آمینبالجہر کہتے ہیں بعض نہیں کہتے بعض رفع یدین کر تے ہیں اکثر نہیں کر تے بعض بسم اللہ بالجہرپڑھتے ہیں اکثر نہیں پڑھتے اور حضرت صاحب فرماتے تھے کہ دراصل یہ تمام طریق آنحضرت ﷺ سے ثابت ہیں مگر جس طریق پر آنحضرت ﷺ نے کثرت کے ساتھ عمل کیا وہ وہی طریق ہے جس پر خود حضرت صاحب کا عمل تھا ۔
    { 155} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبدا للہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ہی اذان کہا کرتے تھے اور خود ہی نماز میں امام ہو ا کرتے تھے۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ بعد میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب امام نماز مقرر ہوئے اور سنا گیا ہے کہ حضرت صاحب نے دراصل حضرت مولوی نور الدین صاحب کو امام مقرر کیا تھا لیکن مولوی صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کو کروا دیا ۔چنانچہ اپنی وفات تک جو ۱۹۰۵ء میں ہوئی مولوی عبدالکریم صاحب ہی امام رہے ۔ حضرت صاحب مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ دائیں طرف کھڑے ہوا کرتے تھے اور باقی مقتدی پیچھے ہو تے تھے ۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی غیر حاضری میں نیز ان کی وفات کے بعد مولوی نور الدین صاحب امام ہوتے تھے ۔جمعہ کے متعلق یہ طریق تھا کہ اوائل میں اور بعض اوقات آخری ایام میں بھی جب حضرت صاحب کی طبیعت اچھی ہوتی تھی جمعہ بڑی مسجد میں ہوتا تھا جس کوعموماً لوگ مسجد اقصیٰ کہتے ہیں اور مولوی عبدالکریم صاحب امام ہوتے تھے ۔بعد میں جب حضرت کی طبیعت عموماً نا ساز رہتی تھی مولوی عبدالکریم صاحب حضرت صاحب کے لئے مسجد مبارک میں جمعہ پڑھاتے تھے اور بڑی مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب جمعہ پڑھا تے تھے ۔مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد مسجد مبار ک میں مولوی محمد احسن صاحب اور ان کی غیر حا ضر ی میں مولو ی محمد سرور شاہ صاحب امام جمعہ ہوتے تھے اور بڑی مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے ۔حضرت صاحب کی وفات تک یہی طریق رہا ۔عید کی نماز میں عموماً مولوی عبدالکریم صاحب اور ان کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے ۔ جنازہ کی نماز حضرت مسیح موعو د ؑ جب آپ شریک نماز ہوں خود پڑھایا کرتے تھے ۔
    { 156} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعود ؑ نے عید الاضحی کے موقعہ پر خطبہ الہامیہ پڑھا تو میں قادیان میں ہی تھا ۔حضرت صاحب مسجد مبارک کی پرانی سیڑھیوں کے راستہ سے نیچے اُترے آگے میں انتظا ر میں موجود تھا ۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ بہت بشاش تھے اور چہرہ مسرت سے دمک رہا تھا پھر آپ بڑی مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں نماز کے بعد خطبہ شروع فرمایا ۔اور حضرت مولو ی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب کو خطبہ لکھنے پر مقرر کر دیا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب اس خیال سے کہ لکھنے والے پیچھے نہ رہ جائیں بہت تیز تیز نہیں بولتے تھے بلکہ بعض اوقات لکھنے والوں کی سہولت کے لئے ذرا رُک جاتے تھے اور اپنا فقرہ دہرا دیتے تھے ۔اور میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک وقت آپ نے لکھنے والوں سے یہ بھی فرمایا کہ جلدی لکھو ۔یہ وقت پھر نہیں رہے گا اور بعض اوقات آپ یہ بھی بتاتے تھے کہ مثلاً یہ لفظ ’’ص‘‘ سے لکھو یا ’’سین‘‘ سے لکھو ۔
    اور بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ خطبہ کے وقت حضرت صاحب کرسی کے اوپر بیٹھے تھے اور آپ کے بائیں طرف فرش پر حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل و مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تھے جن کو آپ نے خطبہ لکھنے کے لئے مقرر کیا تھا اور آپ کی آواز عام آواز سے ذرا متغیرتھی۔اور آواز کا آخری حصہ عجیب انداز سے باریک ہوجا تا تھا ۔اور دوران خطبہ میں آپ نے مولوی صاحبا ن سے یہ فرمایا تھا کہ جو لفظ لکھنے سے رہ جاوے وہ مجھ سے ابھی پوچھ لو کیوں کہ بعد میں ممکن ہے کہ وہ مجھے بھی معلوم رہے یا نہ رہے ۔ اور مولوی صاحب نے بیان کیا کہ بعد خطبہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ خطبہ میری طر ف سے نہ تھا بلکہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے الفاظ ڈالے جاتے تھے اور بعض اوقات کچھ لکھا ہوا میرے سامنے آجاتا تھا اور جب تک ایسا ہوتا رہا خطبہ جاری رہا ۔لیکن جب الفاظ آنے بند ہوگئے خطبہ بند ہو گیا ۔اور فرماتے تھے کہ یہ خطبہ بھی ہمارے دوستوں کو یاد کر لینا چاہئیے۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہم اُس وقت بچے تھے ۔صرف سات آٹھ سال کی عمر تھی لیکن مجھے بھی وہ نظارہ یادہے ۔ حضرت صاحب بڑی مسجد کے پرانے حصہ کے درمیانی در کے پاس صحن کی طرف منہ کئے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کے چہرہ پر ایک خاص رونق اور چمک تھی اور آپ کی آوازمیں ایک خاص درد اور رعب تھا اور آپ کی آنکھیں قریباً بند تھیں ۔یہ خطبہ ،خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ چکا ہے ۔لیکن اس خطبہ الہامیہ کے صرف پہلے اڑتیس صفحے جہاں باب اوّ ل ختم ہوتا ہے اصل خطبہ کے ہیں۔جو اس وقت حضرت نے فرمایا اور باقی حصہ بعد میں حضرت صاحب نے تحریراً زیادہ کیا تھا ۔نیز خاکسارعرض کرتا ہے کہ خطبہ الہامیہ اس عیدالاضحی میں دیا گیا تھا جو ۱۹۰۰ء میں آئی تھی مگر شائع بعد میں ۱۹۰۲ء میں ہوا۔
    { 157} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اصحاب کے متعلق اپنے اشعار میں لکھا ہے ۔ ؎
    مبار ک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
    وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی

    فسبحان الذی اخزی الاعادی
    یعنی مبارک ہے وہ شخص جو اب میری موجود گی میں ایمان لاتا ہے کیونکہ وہ میری صحبت میں آکر صحابہ کی جماعت میں داخل ہوجا تا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جو عرفان اور تقویٰ کی مے صحابہ کرام کو ملی تھی وہی میرے صحابہ کو بھی دی گئی ہے ۔پھر ایک اور موقع پر جب عبدا لحکیم خان مرتد نے آپ کی جماعت پر کچھ اعتراضات کئے تو آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ :۔’’ آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولو ی نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں ۔میں نہیں جانتا کہ آپ اس افترا کا کیا خدا تعالیٰ کو جواب دیں گے ۔میں حلفًا کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں ۔اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں ۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزارہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں ۔ ہاں شاذو نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ ونادرمیں داخل ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے ۔ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جائو تو وہ دست بردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں ۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا ۔مگر دل میں خوش ہو ں ۔‘‘
    اسی طرح بعض اور موقعوں پر بھی آپ نے اپنی جماعت کی بہت تعریف کی ہے لیکن بعض نادان اس میں شک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صحابہ کرام میں تو ہمیں سب کچھ نظر آتا ہے مگر یہاں بہت کم گویا مقابلۃً کچھ بھی نہیں ۔اس دھوکے کا ازالہ یہ ہے کہ بعض ایسی باتیں ہیں کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت کی حقیقی قدر پہچاننے کے رستہ میں روک ہو رہی ہیں ۔مگر صحابہ کرام کے متعلق وہ روک نہیںہے مثلاً
    اوّل ہم عصر یت ہے یعنی ایک ہی زمانہ میں ہونا ۔جس طرح ہم وطن ہونا ۔انسان کی حقیقی قدر کے پہچانے جانے کے رستہ میں روک ہوتا ہے جیسے کہ کہاگیا ہے کہ نبی ذلیل نہیں مگر اپنے وطن میں اسی طرح مثلاً پنجابی میں کہاوت ہے کہ ’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘ ٹھیک اسی طرح ہم عصر ہونا بھی حقیقی قدر کے پہچانے جانے کے رستہ میں ایک بہت بڑی روک ہوتا ہے ۔اور عموماً انسان اپنے زمانہ کے کسی آدمی کی بڑائی کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔اور یہ تعصب گویا طبعی طور پر انسان کے اندر کام کرتا ہے ۔پس چونکہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے صحابہ کی جماعت ایک دور دراز کی بات ہے لیکن مسیح موعود ؑ کی جماعت خود اپنے زمانہ کی ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے ہے اس لئے وہ بالعموم مسیح موعود کے صحابہ کی قدر پہچا ن نہیں سکتے ہاں جب یہ زمانہ گذر جائے گا اور حضرت مسیح موعود کی صحبت یافتہ جماعت ایک گزشتہ کی چیز ہو جائے گی توپھر دیکھنا کہ آئندہ نسلوں میں یہی جماعت کس نظر سے دیکھی جاتی ہے ۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ عموماً اسلامی تاریخ سے تفصیلی طور پر واقف نہیں مگر یہاں کی باتیں وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔صحابہ کی جماعت کے متعلق لوگوں کا عمل عموماً واعظوں کے وعظوں سے ماخوذ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ واعظ اپنی بات میں اثر پیدا کرنے کے لئے عموماً خاص خاص موقعوں کی خاص خاص باتوں کو سجا سجا کر بیان کرتا ہے مگر لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ گویا اس جماعت کے سارے افراد سارے حالات میں اسی رنگ میں رنگین تھے اور اسی کے مطابق وہ اپنے ذہن میں نقشہ جما لیتے ہیں ۔اور پھر وہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کو بھی اسی معیار سے ناپتے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے ۔اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام جیسا اعلیٰ نمونہ نہ پہلی کسی امت میں نظر آتا ہے نہ اب تک بعد میں کہیں ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔یعنی بحیثیت مجموعی ۔مگر احادیث سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ میں بھی کمزوریاں تھیں اور کمزوریاں بھی مختلف اقسام کی نظر آتی ہیں مگر اس سے صحابہ کے تقدس پر بحیثیت مجموعی کوئی حرف گیری نہیں ہوسکتی اور صحابہ کا بے نظیر ہونا بہر حال ثابت ہے (اے اللہ تو مجھے آنحضرت ﷺ اور مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس جماعتوں پر حرف گیری کرنے سے بچا اور مجھے ان کے پاک نمونہ پر چلنے کی توفیق دے )۔
    تیسری وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے حالات تو اجتماعی حیثیت میں منضبط اور مدون طور پر ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن باوجود ہمعصر ہونے کے حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ کے حالات ابھی تک ہمارے سامنے اس طرح موجود نہیں ورنہ میں سچ سچ کہتا ہوںکہ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ میں بھی بے شمار ایسے اعلیٰ نمونے موجود ہیں کہ جن کے مشاہدہ سے ایمان ترو تازہ ہوجاتا ہے ۔ جب اسلامی تاریخ کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کے حالات جمع ہو کر منضبط اور مدون ہوں گے اس و قت انشاء اللہ حقیقت حال منکشف ہوگی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو تفصیلی حالات آنحضرت ﷺ کے صحابہ کرام کے بحیثیت مجموعی ہم کو معلوم ہیں یا ہوسکتے ہیں وہ خود صحابہ کو بھی معلوم نہیں تھے ۔
    چوتھی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک زمانہ کی مختلف خصوصیات اور مختلف حالات ہوتے ہیں۔صحابہ کو مشیّت ایزدی سے ایسے جسمانی مواقع پیش آئے جن سے راسخ الایمان لوگوں کاایمان چمکا اور دنیا میں ظاہر ہوا ۔مگر حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کے لئے اس قسم کے ابتلا مقدر نہیں تھے ورنہ ہم اللہ سے امید رکھتے ہیں کہ ان کا ایمان بھی علیٰ قدر مراتب اسی طرح چمکتا اور ظاہر ہوتا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ میں سے صر ف دو آدمیوں زپر وہ وقت آیا کہ خدا کی راہ میں ان سے ان کی جان کی قر بانی مانگی گئی ۔اور دنیا دیکھ چکی ہے کہ انہوں نے کیا نمونہ دکھا یا ۔ (اس جگہ میری مراد کابل کے شہداء سے ہے)
    پانچویں وجہ یہ ہے جس کو لوگ عمومًا نظر انداز کردیتے ہیں کہ کسی قوم کے درجہ اصلاح کا اندازہ کرنے کے لئے ان مخالف طاقتوں کا اندازہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جو اس قوم کو ایمان کے راستہ میں پیش آتی ہیں ۔ اگر ایک قوم کے مقابل میں مخالف طاقتیں نہایت زبر دست اور خطرناک ہیں تو اس کا ایمان کے راستہ میں نسبتًا تھوڑی مسافت طے کر نا بھی بڑی قدرو منزلت رکھتا ہے ۔پس صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ فلاں قوم ایمان کے راستہ پر کس قدر ترقی یافتہ ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس نے یہ ترقی کن مخالف طاقتوں کے مقابل پر کی ہے ۔پس اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کی اصلاح واقعی معجزنما ہے ۔کیونکہ یہ مسلمات میں سے ہے کہ اس زمانہ میں جو مخالف طاقتیں ایمان کے مقابلہ میں کام کر رہی ہیں اس کی نظیر گزشتہ زمانوں میں نہیں پائی جاتی ۔حتیّٰ کہ خود سرور کائنات کے زمانہ سے بھی اس زمانے کے فتن بڑھ کر ہیں کیونکہ یہ دجال کا زمانہ ہے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ سب نبی اس سے ڈراتے آئے ہیں ۔اور خود آنحضرت ﷺ نے بھی اس سے اپنی امت کو بہت ڈرایا ہے اور اس بات پر اجما ع ہوا ہے کہ دجّالی فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کر ہے اور واقعی جو مادیت اور دہریت اور دنیاپرستی کی زہریلی ہوائیں اس زمانہ میں چلی ہیں ایسی پہلے کبھی نہیں چلیں اور مذاہب باطلہ و علوم مادی کا جو زور اس زمانہ میں ہوا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا ۔پس ایسے خطرناک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایسی جماعت تیار کرلینا جو واقعی زندہ اور حقیقی ایمان پر قائم ہے اور اعمال صالحہ بجا لاتی ہے اور تمام مخالف طاقتوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہے ایک بے نظیرکامیابی ہے۔ بے شک آنحضرت ﷺکے زمانہ میں ایمان کے راستہ پر شیطان کے شمشیر بردار سپاہی موجود تھے اور یہ ایک بہت بڑی روک تھی کیونکہ ایک مومن کو خون کی نہر میں سے گزر کرایمان کی نعمت حاصل کرنی پڑتی تھی مگر جہاں ایمان کے راستہ پر شیطان نے نہ صرف یہ کہ اپنی ساری فوجیں جمع کررکھی ہیں بلکہ اس نے ایسے سپاہی مہیا کئے ہیں جو نظر نہیں آتے مگر راہ گیروں سے ایمان کی پونجی لوٹتے چلے جارہے ہیں ۔اور سوائے روحانی طاقتوں کے کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ پس حضرت مسیح موعو د ؑ کی کامیابی ایک واقعی بے نظیر کامیابی ہے مگر یہ کامیابی بھی دراصل آنحضرت ﷺ ہی کی کامیابی ہے ۔کیونکہ شاگرد کی فتح استاد کی فتح ہے اور خادم کی فتح آقا کی فتح ۔لہٰذا ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت میں کوئی کمی بھی ہے تو وہ بحیثیت مجموعی جماعت کی شان کو کم نہیں کرسکتی ۔
    چھٹی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کا یہ بھی خاصہ ہے کہ جب تک کو ئی شخص زندہ ہے اس کا حسن مخفی رہتا ہے اور کمزوریاں زیادہ سامنے آتی ہیں ۔یعنی عموماً تصویر کا کمزور پہلو ہی زیادہ مستحضر رہتا ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد معاملہ بر عکس ہوجاتا ہے۔یعنی مرنے کے بعد مرنے والے کی خوبیاں زیادہ چمک اٹھتی ہیں اور زیادہ یاد رہتی ہیں اور کمزوریاں مدھم پڑ جاتی ہیں او ر یاد سے محو ہوجاتی ہیں ۔پس حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کا بھی یہی حال ہے جب وہ وقت آئے گا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ گزر جائیں گے تو پھر ان کا اخلاص اور ان کی قربانیاں چمکیں گی اور وہی یاد رہ جائیں گی اور کمزوریاں مٹ جائیں گی اور ہم خود اس بات کو عملاً محسو س کر رہے ہیں کیونکہ جو احباب ہمارے فوت ہو چکے ہیں ان کی خوبیاں ہمارے اندر زیادہ گہرا نقش پیدا کر رہی ہیں ۔بمقابلہ ان کے جو بقید حیات ہیں اسی طرح گزرے ہو ئے دوستوں کی کمزوریاں ہمارے ذہنوں میں کم نقش پیدا کرتی ہیں بمقابلہ ان کے جو ہم میں زندہ موجود ہیں ۔اور تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ صحابہ میں بھی یہی احساس تھا۔
    ساتویں وجہ یہ ہے کہ لوگ عموماً اس بات کو نہیں سمجھتے کہ انفرادی اصلاح اور جماعت کی اجتماعی اصلاح میں فرق ہے اور دونوں کا معیار جدا ہے ۔کسی جماعت کو اصلاح یافتہ قرار دینے کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے سارے افراد اصلاح یافتہ ہوں بلکہ جس قوم کے اکثر افراد نے اپنے اندرتبدیلی کی ہے اور اپنے اندر ایمان اور صلاحیت کا نور پیدا کیا ہے وہ اصلاح یافتہ کہلائے گی خواہ اس کے بعض افراد میں اصلاح نظر نہ آئے ۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ کسی جماعت کے اصلاح یافتہ افرادسب کے سب ایک درجہ صلاحیت پر قائم ہوں بلکہ مدارج کا ہونا بھی متحقق ہے ۔لہٰذا بحیثیت مجموعی جماعت کی حالت کو دیکھنا چاہئیے اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ مختلف افراد کے فطری قویٰ اور فطری استعدادیں الگ الگ ہوتی ہیں پس سب سے ایک جیسی اصلاح متوقع نہیں ہو سکتی اور نہ کسی جماعت میںہم کو اس کے سب افراد ایک جیسے نظر آتے ہیں ۔لہٰذا ہمارا معیار یہ ہونا چاہئیے ۔کہ ایک انسانی جماعت سے جس میںہر قسم کے لوگ شامل ہیں بحیثیت مجموعی کس درجہ کی اصلاح کی توقع رکھی جا سکتی ہے اور اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کا قدم بہت بلند نظر آتا ہے۔
    آٹھویںوجہ یہ ہے کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کمزور لوگ خواہ جماعت میں بہت ہی تھوڑے ہوں مگر زیادہ نظر آتے ہیں کیونکہ بدی آنکھ میں کھٹکتی ہے اور نیکی بوجہ لطافت کے سوائے لطیف حس کے عموماً محسوس نہیں ہوتی۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہزاروں میں اگر پانچ دس بھی شریر ہوں تو عموما ً لوگوں کو ایسا نظر آتا ہے کہ گویا اکثر شریر ہی ہیں اور بھلے مانس کم ہیں کیونکہ شریر اپنی شرارت کی وجہ سے نمایاں ہو جاتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کی نظر فوراً اُٹھتی ہے۔ دیکھ لو آنکھ میں ہوا ہر وقت بھری رہتی ہے مگر آنکھ اسے محسوس نہیں کرتی لیکن اگر اس میں ایک چھوٹا سا تنکا بھی پڑ جاوے تو قیامت برپا کر دیتا ہے لیکن جب وہ وقت گذر جاتا ہے یعنی وہ جماعت فوت ہوجاتی ہے تو پھر ایسا ہوتا ہے کہ گویا آنکھ کا تنکا نکل گیا اور صرف لطیف اور خنک ہوا آنکھ کو ٹھنڈاکرنے کے لئے باقی رہ گئی ۔مجھے یاد ہے کہ میرے سامنے ایک دفعہ ایک شخص نے اعتراض کیا کہ قادیان کے احمدیوں میں سے اکثر لوگ بُرے ہیں میں نے کہا کہ تم غلط کہتے ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خوب جانتا ہوں ۔میں نے اس سے کہا کہ اکثر کا بُرا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کم از کم ساٹھ ستر فی صدی تو برے ہوں گے۔ اس نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ ہیں میں نے اس سے کہا کہ منہ سے کہہ دینا آسان ہے مگر ثابت کرنا مشکل ، تم مجھے صرف دس فی صدی بتا دو چلو پانچ فی صدی بتا دو اور میں تمہیں یہ یہ انعام دوں گا مگر وہ ایک شرمندہ انسان کی طرح ہنس کر خاموش ہو گیا ۔اگر اس طرح منہ سے کہہ دینا ہی کافی ہو تو مشرکین اور یہود بھی صحابہ کرام کے متعلق کیا کچھ نہ کہتے ہوں گے ۔
    نویںوجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تو منافق ہوتے تھے لیکن احمدیوں میں منافق کوئی نہیں بلکہ جو بھی احمدی کہلاتا ہے وہ سچا مومن ہے ۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ۔بلکہ جس طرح صحابہ کے زمانہ میں منافق ہوتے تھے اسی طرح اب بھی ہیں اور یہ خیال کہ وہ تلوار کا زمانہ تھا اس لئے اس میں نفاق ممکن تھا لیکن اس آزادی کے زمانہ میں نفاق نہیں ہوسکتا ۔ ایک نادانی کا خیال ہے ۔کیونکہ اول توا س سے نعوذ با للہ یہ لازم آتا ہے کہ اس وقت گویا اسلام کے لئے اکراہ ہوتا تھا جو ایک با لکل غلط اور بے بنیاد بات ہے ۔دوسرے اگر بفرض محال تلوار کا ڈر ہو بھی تو پھر کیا دنیا میں بس صرف تلوار ہی ایسی چیز رہ گئی ہے جو طبائع پر دبائو ڈال سکے ۔کیا کوئی اور ایسی چیز نہیں جو کمزور انسان کو خلاف ضمیر کرنے پر آمادہ کردے ۔ہم تو دیکھتے ہیںکہ جتنا نفاق آج کل روز مرہ کی زندگی میں دیکھا جاتا ہے ایسا شاید ہی کسی گذشتہ زمانہ میں ہوا ہو ۔غرض یہ غلط ہے کہ آج کل منافق نہیں ہوتے اور ہم عملاً دیکھ رہے ہیں کہ احمدی کہلانے والوں میں بھی منافق پائے جاتے ہیں جن میں سے کسی نے کسی وجہ سے نفا ق اختیارکیا ہے تو کسی نے کسی وجہ سے ۔ تو اب جب کہ احمدیوں میں بھی منافق موجود ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسلما ن کہلانے والوں میں اگر ہم کو کو ئی برے نمونے نظر آویں تو ہم ان کومنافق کہہ کر صحابہ کو ان سے الگ کر لیں لیکن احمدی کہلانے والوں میں سے جو لوگ احمدیت کی تعلیم کے خلاف نمونہ رکھتے ہیں اور اپنی روش پرعملاً مصر ہیں ۔ان کو ہم منافق نہ سمجھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شمار کریں ۔اور اس طرح ظلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو بدنام کریں ۔میرا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص سے بھی کمزوری سر زد ہوتی ہے وہ منافق ہے ۔ حاشا وکلا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب جماعت میں منافق بھی موجو د ہیں تو ہر اس شخص کو جس کا طریق احمدیت کی تعلیم کے خلاف ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے خواہ نخواہ مومنین کی جماعت میں نہ سمجھنا چاہئیے لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم اس اصول کے ماتحت افراد کے متعلق کوئی حکم لگائیں کیونکہ یہ طریق فتنہ کا موجب ہے ۔مگر ہاں بحیثیت مجموعی جماعت کے متعلق رائے لگاتے ہو ئے اس اصول کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے ۔
    دسویں وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ تو دوسرے مسلمانوں سے صاف ممتاز نظر آرہے ہیں کیونکہ تدوین تاریخ سے ہم کو ابتدائی مسلمانوں کے متعلق یہ علم حاصل ہوچکا ہے کہ یہ صحابی ہے یا نہیں لیکن یہاں حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابی اور غیر صحابی سب ملے جلے ہیں اور سوائے خاص خاص لوگوں کے عام طور پر یہ پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں احمدی حضرت مسیح موعود ؑ کا صحبت یافتہ ہے یا نہیں اور اس میں دو طرح کا اشکال ہے یعنی اول تو عموماً لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں احمدی حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ کا احمدی ہے یا بعد کا پھر اگر یہ پتہ بھی ہو کہ وہ آپ کے زمانہ کا احمدی ہے تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ آپ کا صحبت یافتہ ہے یا نہیں اور ظاہر ہے کہ صحابی وہی کہلا سکتا ہے جو صحبت یافتہ ہو ۔ہر شخص جو نبی کے زما نہ میں ایمان لاتا ہے صحابی نہیں ہوتا چنانچہ دیکھ لو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں قریباً سارا عرب مسلمان ہو گیا تھا تو کیا سارے عرب صحابی بن گئے تھے ؟ ہرگز نہیں بلکہ صحابی صرف وہی لوگ سمجھے جاتے تھے جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی صحبت اٹھا ئی تھی اور اگر سب کو صحابی سمجھا جاوے تووہ رائے جو اَب ہم صحابہ کے متعلق رکھتے ہیں یقینا اس مقام پر نہیں رہ سکتی جس پر کہ وہ اب ہے ۔پس صحابی صرف وہی ہے جس نے صحبت اٹھائی ہو مگر یہاں نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے سب احمدی ملے جلے ہیں اور لوگوں کو ان کے درمیان کسی امتیاز کا علم نہیں بلکہ آپ کی وفات کے بعد احمدی ہونے والے بھی ان کے ساتھ مخلوط ہیں ۔اندریں حالات حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ کے متعلق جب تک ان کا الگ علم نہ ہو کس طرح کو ئی رائے لگا ئی جاسکتی ہے یا موجودہ جماعت کی عام حالات سے صحابہ مسیح موعود ؑ کے متعلق کس طرح استدلا ل ہو سکتا ہے ۔ہاں جب تاریخی رنگ میں حالات جمع ہوں گے اور صحابہ مسیح موعود ؑ کی جماعت ممتاز نظر آئے گی تو پھر حالت کا اندازہ ہو سکے گا۔
    گیارہویں وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ اس واسطے جماعت احمدیہ کے متعلق بد ظنی کے مرتکب ہو جاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے بعض اوقات جماعت کی کمزوریو ں کا اظہار کیا ہے ۔اور جماعت کو اس کی حالت پر زجرو توبیخ کی ہے مگر یہ بھی ایک دھوکہ ہے ۔ کیونکہ جس طرح وعظ کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ گذشتہ لوگوں کے خاص خاص کارنامے چن کر مؤثر پیرایہ میں لوگوں کو سنائے تا ان کو نیکی کی تحریک ہو ۔ اسی طرح اس کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبوں کی کمزوریوں کو کھول کھول کر بیان کرے تا ان کو اپنی کمزوری کا احساس ہو او ر وہ ترقی کی کوشش کریں ۔واعظ عموماًاپنے مخاطبین کی خوبیوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ کمزوریوں کو لیتا ہے اور ان کو بھی ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ابھی ان کی حالت بالکل ناقابل اطمینان ہے ۔تا وہ اپنی اصلاح کی بڑھ چڑھ کرکو شش کریں ۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خط عبدالحکیم خان مرتد کو لکھا اس میں آپ نے اس نقطہ کو بیان فرمایا ہے ۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کیلئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگر دل میں خوش ہوں ۔‘‘
    حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ عام طور پر آنحضرت ﷺ کا بھی یہی طریق تھا ۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت خلیفہ اول ،حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنھما یا بعض دیگر بزرگان سلسلہ کے بعض بیانوں سے جماعت کے متعلق کو ئی اس رنگ میں استدلال نہیں ہو سکتا جو جماعت کی شان کے منافی ہو ۔ہاں بعض بزرگوں کا میلان طبع جو اس طرف ہے کہ وہ ہمیشہ صرف کمزورپہلو پر ہی زور دیتے ہیں اوروہ بھی ضرورت سے زیادہ اور نا مناسب طریق پر ۔یہ بھی خاکسار کی رائے میں درست طریق نہیں کیونکہ اس طرح جماعت اپنی نظروں میں آپ ذلیل ہو جاتی ہے اور اس کی ہمتیںپست ہو جاتی ہیں ۔پس ان معاملات میں حکیمانہ طریق پر اعتدال کا راستہ اختیا ر کرنا چاہیے ۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا طریق تھا ۔ یا اب حضرت خلیفہ ثانی کا طریق ہے ۔ایمانی ترقی کے لئے بیم ورجاکی درمیانی حالت ہی مناسب رہتی ہے ۔
    بارہویں وجہ یہ ہے کہ لوگ صحابہ کے متعلق تو یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ نے اپنے کلام پاک میں ان کی تعریف فرمائی ہے ۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ کے متعلق ان کو بز عم خود کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی۔ مگر یہ بھی ایک دھوکہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑ کے الہامات کا مطالعہ کیا جاوے تو ان میں بھی آپ کے صحابہ کی بہت تعریف پائی جاتی ہے ۔مگر میں کہتا ہوں کہ کسی الگ تعریف کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں صحابہ کی تعریف پائی جاتی ہے وہاں بنص صریح ’’ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ‘‘(الجمعۃ:۴) یہ بھی تو بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں شامل ہیں ۔اور انہیں کا ایک حصہ ہیں ۔اور اس آیت کی تفسیر خود حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتب میں متعدد جگہ فرمائی ہے ۔چنانچہ تحفۂ گولڑویہ صفحہ ۱۵۲پر تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ ہمارے نبی ﷺ کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ‘‘(الجمعۃ:۴) ہے۔تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفصیل میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود ؑ کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔اور صحابہ رضی اللہ عنھم کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت ﷺ سے فیض اور ہدایت پائیں گے ۔پس جب کہ یہ امرنص صریح قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیر کسی امتیازاور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہو گا ۔توا س صورت میں آنحضرت ﷺ کا ایک اور بعث ماننا پڑا ۔جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا۔ ‘‘
    پھر حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ ۶۷پر فرماتے ہیں ’’ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظا ہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیںجو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں۔اور اس سے تعلیم و تربیت پاویں پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہو گا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہوگا ۔اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت ﷺ کے اصحاب کہلائیں گے ۔اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنھم نے اپنے رنگ میں خداتعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کر یں گے ۔‘‘
    پس جب خدا وند عالمیا ن جو عالم الکل ہے اور جس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کو آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں داخل کرتا ہے اور ان کی تعریف فرماتا ہے تو زیدو بکر کو اس میں چہ میگوئی کرنے کا کیا حق ہے ۔ اَللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔
    تیرہویں وجہ یہ ہے جسے لوگ عموماً نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جماعت کی ترقی کے لئے ایک خاص طریق مقرر کر رکھا ہے اور قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کی ترقی آہستہ آہستہ مقدر ہے ۔جیسا کہ فرمایا کہ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَہٗ الایۃ(الفتح:۳۰) یعنی حضرت مسیح موعو د ؑ کی جماعت کی ترقی اس پودے کی طرح ہے جو شروع شروع میں زمین سے اپنی کمزور کمزور پتیاں نکالتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے ۔چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ اپنی کتاب اعجاز المسیح صفحہ ۱۲۳پر تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ فا شا ر موسیٰ بقو لہ اشدا ء علے الکفار الی الصحابۃ ادرکوا صحبۃنبینا المختار واشار عیسیٰ بقولہ کزرع اخرج شطأ ہ الیٰ قوم اٰخرین منھم و امامھم المسیح بل ذکر اسمہ احمد بالتصر یح ۔یعنی موسیٰ علیہ السلام نے اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ کے الفاظ کہہ کر صحابہ کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ہمارے آنحضرت ﷺ کی صحبت پائی اور عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے قو ل کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَہٗ سے اس قوم کی طرف اشارہ کیا جو اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ ہے ۔اور نیز ان کے امام مسیح موعود ؑ کی طرف اشارہ کیا بلکہ اس کا تو نام احمد بھی صاف صاف بتلادیا ۔‘‘
    اس سے پتہ لگا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کی ترقی انقلابی رنگ میں مقدر نہیں بلکہ تدریجی رنگ میں مقدر ہے ۔اس کی یہ وجہ ہے کہ جس طرح جسمانی بیماریاں مختلف نو عیت کی ہوتی ہیں اسی طرح اخلاقی اور روحانی بیماریاں بھی مختلف نوعیت کی ہو تی ہیں ۔چنانچہ بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو سخت تکلیف دہ ہوتی ہیں اور بیمار کو نہایت بے تاب کر دیتی ہیں ۔مگر مناسب علاج سے وہ جلد ہی دور بھی ہو جاتی ہیں ۔اور وہ بیمار جو اس بیماری کی وجہ سے سخت مضطربانہ کرب میں مبتلا تھا جلد بھلا چنگا ہو کر چلنے پھرنے لگ جاتا ہے ۔لیکن اس کے مقابل میں بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جوا یک روگ کے طور پر انسان کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہیں اور گو بیما ر ان سے وہ مضطربانہ دکھ نہیں اٹھاتا مگر اند ر ہی اندر تحلیل ہو تا چلاجاتا ہے ۔اور ان میں کوئی فوری علاج بھی فائدہ نہیں دیتا بلکہ ایک بڑا لمبا باقاعدہ علاج ان کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔ مقدم الذکر کی مثال یوں سمجھنی چاہئیے جیسے ایک بڑا پھوڑا ہو جس میں پیپ پڑی ہو ئی ہو اور بیمار اس کے درد سے بے تاب ہومگر ڈاکٹر نے چیرہ دیا اور پیپ نکل گئی درد دور ہو گئی اور بیمار دو چار دن کی مرہم پٹی میں بھلا چنگا ہو کر چلنے پھرنے لگ گیا ۔اور مؤخر الذکر کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص کو سل کی بیماری ہو ۔یہ بیمار پھوڑے کے بیمار کی طرح کرب اور دکھ میں مبتلا نہیں بلکہ اندر ہی اندر گھلتا چلا جاتا ہے اور اس سے مقدم الذکر بیمار کی طرح کوئی فوری علاج بھی فائدہ نہیں دے سکتا ۔بلکہ ایک لمبا باقاعدہ علاج کا کورس درکار ہوتا ہے ۔پس چونکہ اس زمانہ کی اخلاقی اور روحانی بیماریاں سل کی بیماری کے مشابہ ہیں اس لئے اس زمانہ میں علاج کے نتیجے بھی فوراً ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وقت چاہتے ہیں اور یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ خدا تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابہ کے متعلق کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَہٗ فرمایا ہے تو اس سے صرف ان کی تعدادی ترقی کی حالت بتانا مقصود نہیں ۔ بلکہ ہر قسم کی ترقی کی کیفیت بتانا مقصود ہے ۔واللّٰہ اعلم ۔
    پس اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف جلد قدم نہیں اُٹھانا چاہیے ۔
    یہ تیرہ باتیں ہیں جو عموماً صحابہ حضرت مسیح موعود ؑ کی حقیقی قدر پہچانی جانے کے رستہ میں روک ہوتی ہیں ۔ میں نے ان کو صرف مختصراً بیان کیا ہے اور بعض کو تو دیدہ دانستہ نہایت ہی مختصر رکھا ہے اور خدا گواہ ہے کہ میں اس نازک مضمون میں ہر گز نہ پڑتا اور یہ تو غالباً اس کا ایسا موقع بھی نہ تھا مگر میں نے دیکھا ہے کہ یہ باتیں لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہی ہیں اور اس دھوکے کا اثر وسیع ہو رہا ہے ۔اس لئے میں خاموش نہیں رہ سکا۔ ہاں یہ بات نوٹ کرنی ضروری ہے کہ جس طرح ہم بفضلہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو سب اولین و آخرین سے افضل جانتے ہیں اسی طرح آپ کی جماعت کو بھی تمام جماعتوں سے افضل مانتے ہیں ۔اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد وبارک وسلم ۔
    { 158} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن رات اس کی تیما داری میں مصروف رہتے تھے اور بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ اس کے علاج میں مشغول رہتے تھے اور چونکہ حضرت صاحب کواس سے بہت محبت تھی اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر خدا نخواستہ وہ فوت ہو گیا تو حضرت صاحب کو بڑا سخت صدمہ گزرے گا ۔لیکن جب وہ صبح کے وقت فوت ہوا تو فوراً حضرت صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ بیرونی احباب کو خطوط لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک فوت ہو گیاہے اور ہم کو اللہ کی قضا پر راضی ہو نا چاہئیے ۔اور مجھے بعض الہاموں میں بھی بتا یا گیا تھاکہ یا یہ لڑکا بہت خدا رسیدہ ہو گا اور یا بچپن میں فوت ہو جائے گا ۔سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہو نا چاہیے کہ خد اکا کلام پورا ہوا ۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح ثانی بیان کر تے ہیں کہ جس وقت مبار ک احمد فوت ہونے لگا تو وہ سویا ہوا تھا ۔حضرت خلیفہ اول نے اس کی نبض دیکھی تو غیر معمولی کمزوری محسوس کی جس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور نبض میں بہت کمزوری ہے ۔کچھ کستوری دیں حضرت صاحب جلدی سے صندوق میں سے کستوری نکالنے لگے مگر مولوی صاحب نے پھر کہا کہ حضور نبض بہت ہی کمزور ہو گئی ہے ۔ حضرت صاحب نے کستوری نکالنے میں اور جلدی کی مگر پھر مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور نبض نہایت ہی کمزور ہے ۔ حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ اس وقت دراصل مبارک احمد فوت ہو چکا تھا ۔ مگر حضرت مولوی صاحب حضر ت مسیح موعود ؑ کی تکلیف کا خیال کر کے یہ کلمہ زبان پر نہ لا سکتے تھے ۔مگر حضرت صاحب سمجھ گئے اور خود آکر نبض پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ مبارک احمد فوت ہو چکا ہے ۔اس پر حضرت صاحب نے انا للہ و انا الیہ راجعون کہا اور بڑے اطمینان کے ساتھ بستہ کھولا اور مبارک احمد کی وفات کے متعلق دوستوں کو خطوط لکھنے بیٹھ گئے اور مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب مبارک احمد کو دفن کر نے کے لئے گئے تو ابھی قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی اس لئے حضرت صاحب قبر سے کچھ فاصلے پر باغ میں بیٹھ گئے ۔اصحاب بھی ارد گرد بیٹھ گئے ۔تھوڑی دیر خاموشی کے بعد حضرت صاحب نے مولوی صاحب خلیفہ اول کو مخاطب کر کے فرمایا ۔مولوی صاحب ایسے خوشی کے دن بھی انسان کو بہت کم میسر آتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستہ میں انسان کی ترقی کے لئے ایک قانون شریعت رکھاہے اور ایک قانون قضا ء و قدر ۔قانون شریعت کے نفاذ کو خدا نے بندے کے ہاتھ میں دے دیا ہے ۔پس بندہ اس میں اپنے لئے کئی قسم کے آرام اور سہولتیں پیدا کرلیتا ہے ۔وضو سے تکلیف نظر آتی ہے تو تیمم کرلیتا ہے ۔نمازکھڑے ہوکر پڑھنے میں تکلیف محسوس کر تا ہے تو بیٹھ کر یا اگر بیٹھنے میں بھی تکلیف ہو تو لیٹ کر پڑھ لیتا ہے ۔روزہ میں کوئی بیماری محسوس کر تا ہے تو کسی دوسرے وقت پر ٹال دیتا ہے اسی طرح چونکہ قانون شریعت کا نفاذ خود بندے کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے لئے بہت سی سہولتیں پیدا کر لیتا ہے اور اس طرح اس کی ظاہری تکلیف سے بچ جاتا ہے ۔لیکن قضا وقدر کا قانون خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور بندے کا اس میں کچھ اختیار نہیں رکھا ۔پس جب قضا وقدر کے قانون کی چوٹ بندے کو آکر لگتی ہے اور وہ اس کو خدا کے لئے برداشت کرتا ہے اور صبر سے کا م لیتا ہے اور خدا کی قضا پر راضی ہوتا ہے تو پھر و ہ اس ایک آن میں اتنی ترقی کرجاتا ہے جتنی کہ چالیس سال کے نماز روزے سے بھی نہیںکر سکتا تھا ۔پس مومن کے لئے ایسے دن درحقیقت ایک لحاظ سے بڑی خوشی کے دن ہیں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے بھی یہ روایت بیان کی تھی ۔
    { 159} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب بعض اوقات کسی بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ان کا کوئی لڑکا فوت ہوگیا اور لوگوں نے ان کو آکر اطلاع دی تو انہوں نے کہا ’’سگ بچہ مُرد د فن بکنید ‘‘۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ یہ خاص حالت کی باتیں ہیں ۔انبیاء جنھوں نے لوگوں کیلئے اسوۂ حسنہ بننا ہوتا ہے اور حقوق العباد کی بھی بہترین مثال قائم کرنی ہوتی ہے ۔ عموماً ایسا طریق اختیار نہیں کرتے ۔
    { 160} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعا د میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے ( مجھے تعداد یاد نہیںرہی کہ کتنے چنے آپ نے بتا ئے تھے ) لے لو اوران پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعدا د میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی )۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی ۔جیسے اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیْلِ(الفیل:۲) ہے الخ۔ اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا ۔وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے ۔اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دو ں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئیے ۔چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیااور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔
    (اس روایت میں جس طرح دانوں کے اوپر وظیفہ پڑھنے اور پھر ان دانوں کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر ہے۔ اس کی تشریح حصہ دوم کی روایت نمبر۳۱۲میں کی جا چکی ہے۔ جہاں پیر سراج الحق صاحب مرحوم کی روایت سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ کام ایک شخص کی خواب کو ظاہر میں پورا کرنے کے لئے کروایا گیا تھا۔ ورنہ ویسے اس قسم کا فعل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت اور سنت کے خلاف ہے اور دراصل اس خواب کے تصویری زبان میں ایک خاص معنی تھے۔ جو اپنے وقت پر پورے ہوئے۔)
    { 161} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ میں مسجد مبارک میں ظہر کی نماز سے پہلی سنتیں پڑھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیت الفکر کے اندر سے مجھے آواز دی ۔میں نماز توڑ کر حضرت کے پاس چلاگیا اور حضرت سے عرض کیا کہ حضور میں نماز توڑ کر حاضر ہوا ہوں ۔آپ نے فرمایا اچھا کیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیت الفکر اس حجرہ کا نام ہے جو حضرت کے مکان کا حصہ ہے اور مسجد مبارک کے ساتھ شمالی جانب متصل ہے ۔ابتدائی ایام میں حضرت عموماً ا س کمرہ میں نشست رکھتے تھے ۔ اور اسی کی کھڑکی میں سے نکل کر مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے ۔میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ رسول کی آواز پر نماز توڑ کر حاضر ہونا شرعی مسئلہ ہے ۔دراصل بات یہ ہے کہ عمل صالح کسی خاص عمل کا نام نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔
    { 162} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میںجب ابھی حضرت مولوی خلیفہ اول قادیان نہیں آئے تھے انہوں نے جموں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھا کہ اگر حضوریہاں تشریف لا سکیں تو مہاراج حضور کی ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ جواب لکھ دو بِئْسَ الْفَقِیْرُعَلٰی بَابِ الْاَمِیْرِ ۔
    { 163} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے میرے خاتمہ اور خاتمہ تک کے سب حالات بتا دیئے ہوئے ہیں ۔جو مجھ پر آنے والے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر اسی کے مطابق حالات آرہے ہیں ۔
    { 164} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں مَیںنو گائوں میں پٹواری ہوتا تھا۔اور میری پچپن سالانہ تنخواہ تھی مگر میں نے ایک اور پٹواری کے ساتھ مل کر جو تحصیل پائل میں ہوتا تھا اپنا تبادلہ تحصیل پائل میں کروا لیا۔لیکن وہاں جانے کے بعد میرا دل نہیں لگا اور میں بہت گھبرا یا کیونکہ وہ ہندو جاٹوں کا گائوں تھا اور وہاں کوئی مسجد نہ تھی اور نوگائوں میں جس کومیں چھوڑ آیا تھا مسجد تھی ۔ میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ یہاں میرا دل بالکل نہیں لگتا۔ حضور دعا فرماویں کہ میں پھر نوگائوں میں چلا جائوں اور بڑی بیقرار ی سے عرض کیا ۔حضور نے فرمایا جلدی نہیں کرنی چاہیے ۔اپنے وقت پر یہ خود بخود ہو جائیگا ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میرا تبادلہ غوث گڑھ میں ہو گیا جہاں میرا اتنا دل لگا کہ نو گائوں کی خواہش دل سے نکل گئی اور میں نے حضرت کے فرمان کی یہ تاویل کر لی کہ چونکہ غوث گڑھ بھی مسلمانوں کا گائوں ہے اور اس میں مسجد ہے اور یہاں میرا دل بھی خوب لگ گیا ہے اس لئے حضرت کے فرمان کے یہی معنی ہونگے جو پورے ہوگئے مگر کچھ عرصہ بعد نو گائوں کا حلقہ خالی ہوا اور تحصیل دار نے میری ترقی کی سفارش کی او ر لکھا کہ ترقی کی یہ صورت ہے کہ مجھے علاوہ غوث گڑھ کے نوگائوں کاحلقہ بھی جو وہ بھی پچپن سالانہ کا تھا دیدیا جاوے اور دونوں حلقوں کی تنخواہ یعنی ایک سو دس مجھے دی جاوے ۔ یہ سفارش مہاراج سے منظور ہو گئی اور اس طرح میرے پاس غوث گڑھ اور نو گائوں دونوں حلقے آگئے اور ترقی بھی ہوگئی ۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص اقتداری فعل تھا ورنہ نوگائوں غوث گڑھ سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر ہے اور درمیان میں کئی غیر حلقے ہیں ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ غوث گڑھ کا تمام گائوں میاں عبداللہ صاحب کی تبلیغ سے احمدی ہو چکا ہے ۔نیز خاکسارعرض کرتا ہے کہ یہ تمام دیہات ریاست پٹیالہ میں واقع ہیں ۔
    { 165} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی ۔حضرت صاحب اسکو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے زنجیر نہیں لگاتے تھے ۔اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک ہندسے یعنی عدد سے گِن کر وقت کا پتہ لگا تے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے ۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔
    { 166} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے بیان فرمایا کہ قرآن شریف کی جوآیات بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہیں اور ان پر بہت اعتراض ہوتے ہیں دراصل ان کے نیچے بڑے بڑے معارف اور حقائق کے خزانے ہو تے ہیں اور پھر مثال دے کر فرمایا کہ ان کی ایسی ہی صورت ہے جیسے خزانہ کی ہوتی ہے جس پر سنگین پہرہ ہوتا ہے اور جو بڑے مضبوط کمرے میں رکھا جاتاہے جس کی دیواریں بہت موٹی ہو تی ہیں اور دروازے بھی بڑے موٹے اور لوہے سے ڈھکے ہو ئے ہوتے ہیں اور بڑے بڑے موٹے اور مضبوط قفل اس پر لگے ہوتے ہیں۔اور اسکے اندر بھی مضبوط آ ہنی صندوق ہوتے ہیںجن میں خزانہ رکھا جاتا ہے اور پھر یہ صندوق بھی خزانہ کے اندر اندھیری کوٹھڑیوں اور تہ خانوں میں رکھے جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ہر شخص وہاں تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس سے آگاہ ہو سکتا ہے بمقابلہ نشست گاہ ہو نے کے جو کھلے کمرے ہوتے ہیں اور دروازوں پر بھی عموماً شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے باہر والا شخص بھی اندر نظر ڈال سکتا ہے اور جو اندر آنا چاہے بآسانی آسکتا ہے ۔
    { 167} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی مُنہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کی تازہ ٹِنڈیا تازہ آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا ۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھا یا کرتے تھے ۔اور سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا چنانچہ ہوشیار پور جاتے ہوئے ہم مُرغ پکوا کر ساتھ لے گئے تھے ۔مولی کی چٹنی اور گوشت میں مونگرے بھی آپ کو پسند تھے ۔گوشت کی خوب بھُنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں ۔چپاتی خوب سِکی ہوئی جو سِکنے سے سخت ہو جاتی ہے پسندتھی۔گوشت کا پتلا شوربہ بھی پسند کر تے تھے جو بہت دیر تک پکتا رہا ہو ۔حتیّٰ کہ اس کی بوٹیاں خوب گل کر شوربہ میں اس کا عرق پہنچ جاوے۔سکنجبین بھی پسند تھی۔ میاں جان محمد مرحوم آپکے واسطے سکنجبین تیا ر کیا کرتا تھا ۔نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ یہ بھی فرمایا تھا کہ گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہیے جو شخص چالیس دن لگا تار کثرت کے ساتھ صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے اسکا دل سیاہ ہوجاتا ہے ۔ دال ،سبزی ترکاری کے ساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہیے بھیڑکا گوشت نا پسند فرماتے تھے ۔میٹھے چاول گُڑ یعنی قند سیاہ میں پکے ہوئے پسند فرماتے تھے ۔ابتدا میں چائے میں دیسی شکر (جو گُڑ کی طرح ہوتی ہے ) ڈال کر استعمال فرماتے تھے ۔شوربہ کے متعلق فرماتے تھے کہ گاڑھا کیچڑ جیسا ہم کو پسند نہیں ۔ایسا پتلا کرنا چاہیے کہ ایک آنہ کا گوشت آٹھ آدمی کھائیں ۔اس وقت ایک آنہ کا سیر خام گوشت آتا تھا ۔
    { 168} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کو ئی شخص حضرت صاحب کیلئے ایک تسبیح تحفہ لایا۔ وہ تسبیح آپ نے مجھے دے دی اور فرمایا لوا س پر درود شریف پڑھا کرو۔وہ تسبیح بہت خوبصورت تھی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تسبیح کے استعمال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر پسند نہیں فرماتے تھے ۔
    { 169} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ قیامت کو ایک شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اور اللہ اس سے دریافت کرے گا کہ اگر تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہے تو بتا مگر وہ نہیں بتا سکے گا ، اس پر اللہ فرمائے گا اچھا تو کیا تو کبھی کسی بزرگ شخص سے ملا تھا ؟ وہ جواب دیگا نہیں ۔اس پر خدا فرمائے گا اچھی طرح یاد کر کے جواب دے اس پر وہ بولے گا۔ کہ ہاں ایک دفعہ میں ایک گلی میں سے گذر رہا تھا تو میرے پا س سے ایک شخص گذرا تھا جس کو لوگ بزرگ کہتے تھے ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔جا میں نے تجھے اسی وجہ سے بخش دیا ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے ایک وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کامل کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو پیشتر اس کے کہ وہ سجدہ سے اپنا سر اُٹھاوے ۔اللہ اسکے گناہ بخش دیتا ہے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ یہ کوئی منتر جنتر نہیں اخلاص اور صحتِ نیت شرط ہے ۔ (یہ روایت زیادہ تفصیل کے ساتھ حصہ دوم کی روایت نمبر 425میں بھی بیان ہوئی ہے۔)
    { 170} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ ایک شخص آیااور اس نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ واقعی مسیح اور مہدی ہیں ؟آپ نے فرمایا ہاں میں واقعی مسیح اور مہدی ہوں اور آپ نے ایسے انداز سے یہ جواب دیا کہ وہ شخص پھڑک گیا اور اسی وقت بیعت میں داخل ہوگیا اور میرے دل پر بھی حضرت صاحب کے اس جواب کا بہت اثر ہوا ۔
    { 171} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ دو بیویاں کر کے انسان درویش ہو جاتا ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی اگر ان شروط کو ملحوظ رکھا جاوے جو اسلام ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے کیلئے واجب قرار دیتا ہے تو دو یا اس سے زیادہ بیویاں عیش و عشرت کا ذریعہ ہر گز نہیں بن سکتیں بلکہ یہ ایک قربانی ہے جو خاص حالات میں انسان کو کرنی پڑتی ہے ۔
    { 172} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیامجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ یہ ذکر تھا کہ یہ جو چہلم کی رسم ہے یعنی مردے کے مرنے سے چالیسویں دن کھانا کھلا کر تقسیم کرتے ہیں غیر مقلد اس کے بہت مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کھانا کھلانا ہو تو کسی اور دن کھلا دیا جائے ۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ چالیسویں دن غربا میں کھانا تقسیم کر نے میں یہ حکمت ہے کہ یہ مردے کی روح کے رخصت ہو نے کا دن ہے۔ پس جس طرح لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ دیا جاتا ہے اسی طرح مردے کی روح کی رخصت پر بھی غرباء میں کھا نا دیاجاتا ہے ۔ تا اسے اس کا ثواب پہنچے ۔گویا روح کا تعلق اس دنیا سے پورے طور پر چالیس د ن میں قطع ہوتا ہے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ یہ صرف حضرت صاحب نے اس رسم کی حکمت بیان کی تھی ورنہ آپ خود ایسی رسوم کے پابند نہ تھے ۔
    { 173} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ جس سال پہلا جلسہ سالانہ ہوا تھا اس میں حضرت صاحب نے جو تقریر فرمائی تھی۔ اس سے پہلے حضرت صاحب نے میرے متعلق بھی یہ فرمایا تھا کہ میاں عبد اللہ سنوری ہمارے اس وقت کے دوست ہیں جبکہ ہم گو شۂِ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور یہ ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ تا آپ لوگ ان سے واقف ہو جاویں ۔پھر اس کے بعد تقریر شروع فرمائی۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ پہلا جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا۔)
    { 174} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے ۔
    خدا داری چہ غم داری
    { 175} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ جب میں ۱۹۱۰ء میں نور پور ضلع کانگڑہ میں تھا تو ضلع کانگڑہ کے کورٹ انسپکٹر آف پو لیس نے بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ میری بھی دعوت کی۔کورٹ انسپکٹرصاحب غیر احمدی تھے مگر شریف اور متین آدمی تھے اور نماز کے پابند تھے ۔ انہوں نے دوران گفتگو میں بیان کیا کہ جب آتھم کی پندرہ ماہی میعاد کا آخری دن تھا تو اس وقت ان کی کوٹھی کے پہرہ کا انتظام میرے سپرد تھا ۔کوٹھی کے اندر آتھم کے دوست پادری وغیرہ تھے اور باہر پولیس کا چاروں طرف پہرہ تھا ۔اس وقت آتھم کی حالت سخت گھبراہٹ کی تھی ۔اور بالکل مخبوط الحواسی کی سی صورت ہو رہی تھی۔باہر دور سے اتفاقاً کسی بندوق کے چلنے کی آواز آئی تو آتھم صاحب کی حالت دگر گوں ہو گئی ۔آخر جب ان کا کرب اور گھبراہٹ انتہا کو پہنچ گئے تو ان کے دوستوں نے ان کو بہت سی شراب پلا کر بے ہوش کر دیا ۔ آخری رات آتھم نے اسی حالت میں گذاری ۔ صبح ہوئی تو ان کے دوستوں نے ان کے گلے میں ہار پہنا کر اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر خوشی کا جلوس پھرا یا اور اس دن لوگوںمیں شور تھا کہ مرز ے کی پیشگوئی جھوٹی گئی ۔مگر کورٹ انسپکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ ہم سمجھتے تھے کہ جو حالت ہم نے آتھم صاحب کی دیکھی ہے اس سے تو وہ مرجاتے تو اچھا تھا ۔
    اورخاکسارعر ض کرتاہے کہ مجھ سے ماسٹرقادر بخش صاحب لدھیانوی نے بیان کیا کہ آتھم کی پندرہ ماہی میعاد کے دنوں میں لدھیانہ میں لوئیس صاحب ڈسٹرکٹ جج تھا ۔آتھم چونکہ لوئیس صاحب کا داماد تھا اس لئے لدھیانہ میں لوئیس صاحب کی کوٹھی پر آکر ٹھہرا کرتا تھا ۔ایک دفعہ دوران میعاد میں آتھم لدھیانہ میں آیا۔ان دنوں میں میرا ایک غریب غیر احمدی رشتہ دار لوئیس صاحب کے پاس نوکر تھا اور آتھم کے کمرے کا پنکھا کھینچا کرتا تھا ۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تم آتھم کا پنکھا کھینچا کرتے ہو ۔کبھی اس کے ساتھ کوئی بات بھی کی ہے ۔اس نے کہا صاحب (یعنی آتھم ) رات کو روتا رہتا ہے ۔چنانچہ اس پر میں نے ایک دفعہ صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ روتے کیوں رہتے ہیں تو صاحب نے کہا تھا کہ مجھے تلواروں والے نظر آتے ہیں ۔میں نے کہا تو پھر آپ ان کو پکڑوا کیوں نہیں دیتے ۔صاحب نے کہا وہ صرف مجھے ہی نظر آتے ہیں اور کسی کو نظر نہیں آتے ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ آتھم والی پیشگوئی کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف میں اکثر جگہ آچکا ہے ۔دراصل جس وقت حضرت مسیح موعود ؑ نے مباحثہ کے اختتام پر آتھم کے متعلق پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ میں گرائے جانے کی پیشگوئی کا اظہار کیا تھا ۔اس وقت سے ہی آتھم کے اوسان خطا ہونے شروع ہو گئے تھے ۔چنانچہ سب سے پہلے تو آتھم نے اسی مجلس میں جبکہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ آتھم نے اپنی کتاب میں آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ دجال کہا ہے ۔اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر اور ایک خوف زد ہ انسان کی طرح زبان باہر نکا ل کر کہا کہ نہیں میں نے تو نہیں کہا ۔ حالانکہ وہ اپنی کتاب اندر ونہ بائیبل میں دجّال کہہ چکاتھا ۔اس وقت مجلس میں قریباً ستر آدمی مختلف مذاہب کے پیر وموجود تھے ۔ا سکے بعد میعاد کے اندر آتھم نے جس طرح اپنے دلی خوف اور گھبراہٹ اور بے چینی کا اظہار کیا اس کی کیفیت حضرت مسیح موعود ؑ کی تصانیف میں مختصراً آچکی ہے ۔اس کا اپنا بیان ہے کہ کبھی اس کو سانپ نظر آتے جو اس کو ڈسنے کو بھاگتے ۔ کبھی اس پر کتے حملہ کرتے۔ کبھی ننگی تلواروں والے اس کو آآکر ڈراتے اور وہ ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھاگتا پھرتا تھا ۔اور عموماً پولیس کا خاص پہرہ اپنے ساتھ رکھتا تھا اور اسلام کے خلاف اس نے اپنی تحریرو تقریر کو روک دیا تھا ۔حتّٰی کہ جب میعاد ختم ہونے کے قریب آئی تو اس کا خوف اس قدر ترقی کر گیا کہ پادریوں کو اسے سخت شراب پلا پلا کر بدمست کرنا پڑا ۔کیا یہ باتیں اس بات کی علامت نہیں کہ خدائی پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر غالب ہو گیاتھا ۔اور وہ اپنے آپ کو اس عذاب سے بچانا چاہتا تھا۔پس خدا نے پیشگوئی کی شرط کے مطابق اسے عذاب موت سے بچا لیا۔اور ہمارے مخالف مولویوں کا یہ کہنا کہ آتھم کا ڈر پیشگوئی کے خوف کی وجہ سے نہ تھا ۔بلکہ اس لئے تھا کہ کہیں احمدی اسے قتل نہ کردیں اور اسی وجہ سے وہ اپنی جان کی حفاظت کرتا تھا ۔ ایک نہایت ابلہانہ خیال ہے ۔کیونکہ دشمن کی طرف سے کسی سازش وغیرہ کا خوف کرنا اور اس کے مقابل میں احتیاطی تجاویز عمل میں لانا ایک اور بات ہے۔ مگر جس قسم کا خوف آتھم نے ظاہرکیا وہ ایک بالکل ہی اور چیز ہے ۔ ہم کو دونوں قسم کے خوفوںکی نوعیت پر غور کرنا چاہیے اور پھر رائے لگانی چاہیے کہ جس قسم کا خوف اور بے چینی آتھم نے ظاہر کی آیا وہ دشمن کی شرارت سے خوف کر کے احتیاطی تجاویز عمل میں لانے والی قسم میںداخل ہے یا پیشگوئی سے مرعوب ہو کر بد حواس ہو جانے والے خوف میں داخل ہے ۔ہم یقین کر تے ہیں کہ جو شخص تعصب سے الگ ہو کر میعاد کے اندر آتھم کے حالات پر غور کرے گا وہ اس بات کو تسلیم کر نے پر مجبور ہوگا کہ جس قسم کے خوف کا آتھم نے اظہار کیا وہ دشمن سے بچنے والا خوف ہر گز نہیں تھا بلکہ اور قسم کا خوف تھا ۔پس جاہل لوگوں کی طرح صرف یہ پکارتے رہنا کہ ہر آدمی دشمن کی شرارت سے بچنے کیلئے خوف کرتا ہے اس لئے اگر آتھم نے خوف کا اظہار کیاتوکیا ہوا۔یا تو پر لے درجہ کی جہالت اور بے وقوفی ہے اور یا دیدہ دانستہ مخلوق خدا کو دھوکا دینا ہے ۔
    اور اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نظام عالم خد اکی دو صفات پر چل رہا ہے اور درحقیقت ہر ایک حکومت ان دو صفتوں پر ہی چلتی ہے ۔ایک صفت علم ہے اور ایک صفت قدرت۔ اور جتنی جتنی یہ صفات زیادہ ترقی یافتہ ہو تی ہیں انتظام حکومت بہتر ہو تا چلا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ خدا وند تعالیٰ کی یہ صفات اپنے انتہائی کمال میںہیںیعنی خدا کا علم بھی کامل ہے اور قدرت بھی کامل۔ یعنی نہ تو کوئی علم کی بات ہے جواس سے پوشیدہ ہے اور نہ کوئی قدرت کا امر ہے جوا س کی طاقت سے باہر ہے ۔یہ وہ دو ستون ہیں جن کے اوپر اس کا عرش قائم ہے۔ پس جب وہ اپنا کوئی رسول بھیجتا ہے تو اپنی تجلّی کیلئے اسکے ذریعہ اپنی ان صفات کی دو نہریں جاری کر دیتا ہے تا دنیا پر ظاہر کرے کہ سب حکومت میرے ہاتھ میں ہے اور میں نے ہی اسے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔بعض آیات وہ اپنے رسول کے ذریعہ ایسی ظاہر کرتا ہے جن سے اسے اپنے علم ازلی کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور بعض آیات ایسی ظاہر کر تا ہے جن سے اسے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار مقصود ہو تا ہے اور وہ ایسا نہیں کرتا کہ صرف ایک قسم کے نشان ظاہر کر ے کیونکہ حکومت کیلئے ہر د وصفات کا ہونا ضروری ہے ۔علم خواہ کتنا کامل ہو مگر بغیر قدرت کے ناقص ہے اور قدرت خواہ کتنی کامل ہو مگر بغیر علم کے ناقص ہے پس کمال تصرف کا اظہار نہیں ہوسکتا جب تک دو نو صفات کااظہار نہ ہو ۔اس لئے نبیوں کی پیشگوئیاں بھی جو آیات اللہ میں داخل ہیں دو قسم کی ہوتی ہیں ۔اوّل وہ جو خدا کی صفت علیم کے ماتحت ہوتی ہیں یعنی جن سے خد اکو اپنے علم ازلی کا اظہار مقصود ہوتا ہے ۔دوسری وہ جو خدا کی صفت قدیر کے ماتحت ہوتی ہیں یعنی جن سے خدا کو اپنی قدر ت کا ملہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہر قسم کی پیشگوئیوں کے الگ الگ حالات ہونگے جن سے وہ پہچانی جائیں گی اور ان کی صداقت کے پرکھنے کیلئے الگ الگ معیار ہونگے اور یہ ہماری سخت نادانی ہو گی کہ ان دونوں قسموں کو مخلوط کر کے ان پر ایک ہی حکم لگا ویں اور ایک ہی قسم کے معیاروں سے دونوں کو پرکھیں۔ بلکہ علم والی پیشگوئیوں کو علم کے معیار سے پرکھنا ہوگا کیونکہ وہ اظہار علم کے راستہ پر چلیں گی اور قدرت والی پیشگوئیوں کو قدرت کے معیار سے پرکھنا ہو گا کیونکہ وہ قدرت نمائی کے راستہ پر چلیں گی اور ممکن نہیں کہ وہ اپنا راستہ بدلیں ۔پس جب ہمارے سامنے کوئی پیشگوئی آئے تو سب سے پہلے ہمیں اس کے حالات پر غور کر کے اس کی قسم کی تشخیص کر نی ہوگی ۔اور پھر اس تشخیص کے بعد جس قسم میں سے وہ ثابت ہو اس کے معیاروں سے اس کی صداقت کو پرکھنا ہوگا ۔ہمارے مخالفوں کو یہ سخت دھوکا لگا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کی سب پیشگوئیوں کو خدا کے علم ازلی کے ماتحت سمجھتے ہیں اور اسی معیار سے انہیں ناپتے ہیں ۔کیونکہ ہمیشہ ان کی یہی دلیل ہو تی ہے کہ بس جو صورت اور الفاظ جو پیشگوئی میں بتائے گئے ہیں بعینہٖ وہی وقوع میں آنے چاہئیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ پیشگوئی غلط گئی۔حالانکہ یہ شرط اظہار علم والی پیشگوئیوں کی ہے ۔بلکہ ان میں مجاز کا دخل مانا جاوے تو ان کے لئے بھی ظاہری صور ت کا فرق ہو سکتا ہے۔گو تخلف اور نسخ ممکن نہیں ، کیونکہ تخلف اور نسخ علم ازلی کے منافی ہیں ۔لیکن اظہار قدرت والی پیشگوئیوں میں حالات کے بدل جانے سے تخلف ہو سکتا ہے ۔کیونکہ حالات بدل جانے کی صورت میں تخلف قدرت نمائی کے منافی نہیں ہوتا بلکہ مؤید ہو تا ہے ۔دونوں قسم کی پیشگوئیوں کی مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ مثلاً کسی ملہم کو کسی شخص کے متعلق الہام ہوتا ہے کہ وہ فلاں کا م کر ے گا ۔اور حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ الہام خدا کی صفت علیم کے ماتحت ہے ۔ صفت قدیر کے ماتحت نہیں ہے۔یعنی اس کے اس فعل کے کر لینے کو خد اکی قدرت کے اظہار سے کو ئی طبعی تعلق نہیں ، بلکہ محض اظہار علم مرا د ہے تو اب خواہ اس شخص میں کتنے تغیرات آویں وہ ضرور اس بتا ئے ہوئے کا م کو کرے گا ۔ورنہ خدا کا علم ازلی غلط جاتا ہے ،جو ناممکن ہے لیکن اگر کسی ملہم کو یہ بتا یا جاتا ہے کہ ہم تیرے فلاں دشمن کو جو تیری دشمنی میں کمر بستہ ہے ذلت کے عذاب میں مبتلا کر یں گے تو ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی صفت علیم کے ماتحت نہیں ۔بلکہ صفت قدیر کے ماتحت سمجھی جاوے گی۔لہٰذااگر وہ دشمن جس کے متعلق ذلت کی پیشگوئی ہے اپنے اندر تغیر پیدا کر تا ہے تو خوب سوچ لو کہ خدا کی وہی صفت قدیر جو پہلے اس دشمن کی ذلت کی پیشگوئی کی محر ک ہو ئی تھی اب اسے ذلت سے بچائے جانے کا موجب ہو گی ۔یعنی جس طرح ایسے شخص کے تغیر نہ کر نے کی صور ت میں اس کی ذلت خدا کی قدرت کے اظہار کا موجب تھی ۔اب اس کا ذلت سے بچایا جانا قدرت الہٰی کے اظہار کا موجب ہو گا ۔بلکہ اگر باوجود تغیر کے اسے ذلت کا عذاب آدبائے تو صفت قدرت جس کا اظہار مقصود تھا مشتبہ ہو کر پیشگوئی کی اصل غرض ہی فوت ہو جائے گی کیونکہ قدرت کاملہ اس کا نام نہیں کہ جب انجن چل گیا تو پھر جو اپنا بیگانہ سامنے آیا اُسے پیس ڈالا ۔بلکہ قدرت کاملہ کے یہ معنی ہیں کہ جب کوئی عذاب کا مستحق ہو تو اسے عذاب دے سکے اور کوئی چیز اسے عذاب سے بچا نہ سکے ۔ اور جب کوئی رحمت کا مستحق بنے تو اس پر رحمت نازل کر سکے اور پھر کوئی چیز بھی اسے عذاب نہ دے سکے یعنی قدیر وہ ہے جس کی قدرت کا اظہار موقعہ کے مطابق ہو ورنہ اگر موقعہ کے مطابق قدرت کا اظہار نہ ہو تو وہ قدیر نہیں بلکہ یاتو مشین کا ایک پہیہ ہے اور یا ظلم و ستم کا مجسمہ ۔
    تاریخی طور پر علم ازلی اور قدرت کاملہ والی پیشگوئیوں کی مثال چاہو تو یوں سمجھو کہ حضرت فاطمہ کی وفات کی پیشگوئی جو آنحضرت ﷺ نے اپنی مرض الموت میں فرمائی علم ازلی کے ماتحت تھی اور یونس نبی نے اپنی قوم پر عذاب آنے کی جو پیشگوئی کی وہ قدرت کاملہ کے اظہار کیلئے تھی ۔
    یہ باتیں ہمارے نزدیک بینات میں داخل ہیں ۔پس مخالفوں کے استہزاء سے ہم ان بینات کو کس طرح چھوڑ سکتے ہیں ۔ عوام کو دھو کادے لینا اور بات ہے اور حق کی پیروی اور بات۔
    اس جگہ ایک شبہ پیدا ہو تا ہے کہ جب خدا کو اپنی صفت علیم کے ماتحت یہ علم ہو تا ہے کہ صفت قدیر کے ماتحت جو فلاں پیشگوئی کی گئی ہے اس میںشخص موعود لہ کے فلاں تغیر کی وجہ سے اس اس رنگ کا تخلف ہو جائے گا تو پھر خدا وہی انتہائی بات ہی کیوں نہیں بتا دیتا جو بالآخر وقوع میں آنی ہوتی ہے یعنی وہ جو بالآخر واقعی ہو نا ہوتا ہے وہی لوگو ں کو بتا دیا جاوے تا لوگ ٹھو کر سے بچ جاویں ۔اس شبہ کا یہ جواب ہے کہ اگر ایسا کیا جاوے تو پھر اس کے یہ معنے ہو نگے کہ تمام پیشگوئیاں صفت علیم کے ماتحت ہوا کریں ۔صفت قدیر کے ماتحت کوئی بھی پیشگوئی نہ ہو ۔کیونکہ جب لازمی طور پر آخری بات بتائی جاوے گی تو لا محالہ وہ پیشگوئی صفت قدیر سے نکل کر صفت علیم کے ماتحت آجائے گی ۔ حالانکہ ترقی عرفان و ایمان کیلئے ہر دو قسم کی پیشگوئیوں کا ہونا ضروری ہے بلکہ اظہار قدرت والی پیشگوئیاں جہاں ایک طرف اپنے اندر ابتلا کا پہلو رکھتی ہیں وہاں ایمان و عرفا ن کو ترقی دینے والا مادہ بھی ان میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لئے خدا کی مصلحت نے چاہا کہ خدا کے نبیوں کے منہ سے ہر دو قسم کی پیشگوئیاں ظاہر ہو ں ۔
    اس جگہ ایک بات کا یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ خاکسارنے جو یہ لکھا ہے کہ بعض پیشگوئیاں علم ازلی کے اظہار کیلئے ہوتی ہیں اور بعض قدرت نمائی کیلئے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ قدرت نمائی والی پیشگوئیاں علم غیب کے عنصر سے خالی ہوتی ہیں ۔کیونکہ کوئی پیشگوئی خواہ وہ کسی غرض سے کی گئی ہو علم غیب کے عنصر سے خالی نہیں ہوتی ۔ اور دراصل پیشگوئی کا لفظ ہی علم غیب کو ظاہر کر رہا ہے ۔پس قدرت نمائی والی پیشگوئی سے مراد یہ ہے کہ عاقبۃ الامور والے علم کا اظہار اس میں مقصود نہیں ہوتا ورنہ درمیانی حالات اور ان کے تغیر ات اور ان کے نتائج کے متعلق جو علم غیب خدا کو ہے اس کا اظہار تو قدرت نمائی والی پیشگوئی میں بھی مقصود ہوتا ہے۔غرض جو علم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے عاقبۃ الامور والا علم مراد ہے نہ کہ مطلقاً علم غیب جو ہر پیشگوئی کا جز و غیر منفک ہے اور یہ خیال کہ اگر کوئی ایسی پیشگوئی ہو جو قدرت نمائی کی غرض سے کی گئی ہو مگر وہ ایسی ثابت ہو کہ جس شخص یا چیز کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی اس کے حالات تبدیل نہیں ہو ئے یعنی جس حالت کی بنا پر یہ پیشگوئی تھی وہ قائم رہی اور پیشگوئی بغیر کسی جگہ راستہ بدلنے کے سیدھی اپنے نشانہ پر جا لگی تو اس صورت میں اظہار علم والی پیشگوئی اور اس قسم کی اقتداری پیشگوئی کا راستہ ایک ہوجائے گا اور کوئی امتیاز نہ رہے گا ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک ایسا ہوسکتا ہے کہ دونوں کا راستہ عملاً ایک ہو جاوے مگر دونوں اپنے مقصود کے لحاظ سے ممتاز رہیں گی ۔یعنی حالات بتا رہے ہونگے کہ ایک میں مقصود اظہار علم ازلی ہے اور دوسری میں اظہار قدرت کاملہ ۔اور ہمیں اس سے بھی انکا ر نہیں کہ ایسی صورت میںاظہار قدرت اور اظہار علم ہر دو مقصود ہو سکتے ہیں ۔
    اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وعید کی پیشگوئی ٹل جاتی ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ وعید کی پیشگوئی کے اندر کو ئی خاص تخلف کا مادہ ہوتا ہے ۔بلکہ اس سے بھی یہی مراد ہے کہ وعید چونکہ اظہار قدرت کیلئے ہوتا ہے اس لئے اس میں تخلف ممکن ہو تا ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پیشگوئی کے ٹل جانے یا تخلف پیدا ہو جانے سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ پیشگوئی نعوذباللہ غلط گئی ۔کیونکہ خدائی پیشگوئی خواہ کسی قسم کی ہو غلط ہر گز نہیں جاسکتی بلکہ بہر حال پوری ہوتی ہے ۔پس جب ہم تخلف یا ٹل جانے وغیرہ کا لفظ بولتے ہیں تو مراد یہ ہو تی ہے کہ جو صورت قدرت الہٰی کے اظہار کیلئے بتائی گئی تھی وہ چونکہ حالات کے بدل جانے سے قدرت الہٰی کے اظہار کا موجب نہیں رہی اس لئے قدرت الہٰی کا اظہار دوسری صورت میں کر دیا گیا ۔پس پیشگوئی غلط نہ گئی کیونکہ اس کی اصل غرض اظہار قدرت تھی اور وہ غرض پوری ہوگئی ۔ہاں اگر حالات بدل جانے کے باوجود پیشگوئی پہلی صورت میں ہی ظاہر ہو تی توپھر بے شک پیشگوئی غلط جاتی ۔ کیونکہ اظہار قدرت الہٰی جو اصل مقصود تھا وقوع میں نہ آتا ۔
    آتھم کی پیشگوئی بھی اظہار قدرت الہٰی کیلئے تھی نہ کہ اظہار علم کیلئے جیسا کہ پیشگوئی کے حالات اور پیشگوئی کے الفاظ سے ظاہرہے خصوصاً یہ الفاظ کہ ’’ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کر ے‘‘ کیونکہ اگر اظہار علم مقصود ہوتا تو اس میں کو ئی شرط وغیرہ نہیں ہوسکتی تھی۔ پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ پیشگوئی اظہار قدرت کیلئے تھی تو پھر ماننا پڑیگا کہ پیشگوئی پوری ہوگئی کیونکہ اظہار قدرت ہو گیا کَمَا مَرَّـاور آتھم کی پیشگوئی تو عام اظہار قدرت والی پیشگوئیوں میں بھی ممتاز حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ پیشگوئی ایک مرکب پیشگوئی ہے ۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آتھم حق کی طرف رجوع کر ے گا تو پندرہ ماہ میں نہیں مرے گااور اگر رجوع نہ کر ے گا تو پندرہ ماہ کے اند ر اندر ہاویہ میںگرا یا جاوے گا ۔پس بوجہ مرکب پیشگوئی ہونے کے یہ پیشگوئی عام پیشگوئیوں سے اپنی شان میں ارفع ہے کیونکہ جو اظہار قدرت کی شان مرکب یعنی ایک سے زیادہ پہلو والی پیشگوئیوں میں ظاہر ہوتی ہے وہ مفرد پیشگوئیوں میں نہیں ہوتی ۔ جس کی آنکھیں ہو دیکھے ۔
    { 176} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاامرتسر میں آتھم کے ساتھ مباحثہ ہو ا تو دوران مباحثہ میں ایک دن عیسائیوں نے خفیہ طور پر ایک اندھااور ایک بہرہ اور ایک لنگڑا مباحثہ کی جگہ میں لا کر ایک طرف بٹھا دیئے اور پھر اپنی تقریر میں حضرت صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔لیجئے یہ اندھے اور بہرے اور لنگڑے آدمی موجود ہیں مسیح کی طرح ان کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجئے۔میرصاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم سب حیران تھے کہ دیکھئے اب حضرت صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں ۔پھر جب حضرت صاحب نے اپنا جواب لکھوانا شروع کیا تو فرمایا کہ میں تواسبات کو نہیں مانتا کہ مسیح اس طر ح ہاتھ لگا کر اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کو اچھا کر دیتا تھا ۔اس لئے مجھ پر یہ مطالبہ کوئی حجت نہیں ہو سکتا ۔ہاں البتہ آپ لوگ مسیح کے معجزے اس رنگ میں تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو وہ وہی کچھ دکھا سکتا ہے جو مسیح دکھا تا تھا ۔پس میں آپ کا بڑا مشکور ہو ں کہ آپ نے مجھے اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کی تلاش سے بچا لیا ۔ اب آپ ہی کا تحفہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اندھے بہرے لنگڑے حاضر ہیں اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی سنت پر آپ ان کو اچھا کر دیں ۔میر صاحب بیان کر تے ہیں کہ حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا تو پادریوں کی ہوائیاں اُڑ گئیںاور انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں … کو وہاںسے رخصت کروا دیا ۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ نظارہ بھی نہایت عجیب تھا کہ پہلے تو عیسائیوں نے اتنے شوق سے ان لوگوں کو پیش کیا اور پھر ان کو خود ہی ادھر اُدھر چھپانے لگ گئے۔
    { 177} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے خلیفہ نورالدین صاحب جمونی نے کہ آتھم کے مباحثہ میںمَیں بھی لکھنے والوں میں سے تھا ۔ آخری دن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کی پیشگوئی کا اعلان فرمایا تو آتھم نے خوفزدہ ہو کر کانوں کی طرف ہاتھ اُٹھائے اور دانتوں میں انگلی لی اور کہا کہ میں نے تو دجال نہیں کہا ۔
    { 178} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحب نے کہ ایک دفعہ میاں (یعنی خلیفۃ المسیح ثانی )دالان کے دروازے بند کرکے چڑیاںپکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کیلئے باہر جاتے ہو ئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کر تے۔ جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض باتیں چھوٹی ہو تی ہیں مگر ان سے کہنے والے کے اخلاق پر بڑی روشنی پڑتی ہے ۔
    { 179} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی ۔مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوںکی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا ۔محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیا ن یکہ میں آیا جایا کرتا تھا ۔اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا ۔اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا ۔خاکسارعر ض کرتاہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اُڑانا چاہتا تھا کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اسکے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہو ئے ۔مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہو ا کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہو ئی تھیں ۔والدہ صاحبہ نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کے ساتھ محمد ی بیگم کا بڑا بھائی بھی شریک تھا ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جب خدا کی طرف سے پیشگوئیاں تھیں تو حضرت صاحب خود ان کے پورا کر نے کی کیوں کوشش کیا کرتے تھے مگر یہ ایک محض جہالت کا اعتراض ہے ۔کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے باوجود خدائی وعدوں کے اپنی پیشگوئیوں کو پورا کر نے کیلئے ہر جائز طریق پر کوشش نہ کی ہو ۔درحقیقت خدا کے ارادوں کو پوراکر نے کی کوشش کر نے سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ نعوذ باللہ خدا انسان کی امداد کا محتاج ہے بلکہ اس سے بعض اور باتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ مثلاً
    اوّل ۔اگر انسان خود ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاوے اور یہ سمجھ لے کہ خدا کا وعدہ ہے وہ خود پورا کر ے گا اور باوجود طاقت رکھنے کے کوشش نہ کرے تو یہ بات خدا کے استغنائے ذاتی کو برانگیخت کر نے کا موجب ہوتی ہے ۔اور یہ وہ مقام ہے جس سے انبیا ء تک کانپتے ہیں ۔
    دوسرے یہ کہ یہ ایک محبت کا طبعی تقاضاہوتا ہے کہ انسان اپنے محبوب کے ارادوں کے پورا کرنے میں اپنی طرف سے کوشش کرے اور یہ محبت کا جذبہ اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ با وجود اس علم کے کہ خدا کو انسانی نصرت کی ضرورت نہیں عاشق انسان نچلا نہیں بیٹھ سکتا ۔
    تیسرے چونکہ خدا کے تمام ارادوں میں دین کا غلبہ مقصود ہوتا ہے ۔اس لئے نبی اپنے فرض منصبی کے لحاظ سے بھی اس میں ہاتھ پاؤں ہلانے سے باز نہیں رہ سکتا۔
    چوتھے ۔خدا کی یہ سنت ہے کہ سوائے بالکل استثنائی صورتوں کے اپنے کاموں میں اسباب کے سلسلہ کو ملحوظ رکھتا ہے پس نبی کی کوشش بھی ان اسباب میں سے ایک سبب ہوتی ہے ۔ وغیر ذالک (مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی کوشش صرف رحمت کی پیش گوئیوں میں ہوتی ہے عذاب کی پیش گوئیوں کے متعلق انبیاء کی یہی سنت ہے کہ ان میں سوائے خاص حالات کے معاملہ خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔ )
    نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی میں مخالفوں کی طرف سے بڑا طوفان بے تمیزی بر پا ہوا ہے ۔حالانکہ اگر وہ سنت اللہ کے طریق پر غور کرتے تو بات مشکل نہ تھی ۔دراصل سب سے پہلے ہم کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی کس غرض اور کن حالات کے ما تحت تھی ۔جب تک اس سوال کا فیصلہ نہ ہو پیشگوئی کا سمجھنا محال ہے ۔سو جاننا چاہیے کہ یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح موعودؑ اس شادی سے کسی قسم کی اپنی بڑائی چاہتے تھے ۔ایک مضحکہ خیز بات ہے ۔کیونکہ خدا کے فضل سے مرزا احمد بیگ کا خاندان کیابلحاظ حسب نسب ،کیا بلحاظ دنیاوی عز ت وجاہت ،کیا بلحاظ مال و دولت حضرت مسیح موعود ؑ کے خاندان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔اور یہ ایک ایسی بیّن بات ہے جس پر ہم کو کسی دلیل کے لانے کی ضرورت نہیں ۔ پس شادی کی یہ وجہ تو ہو نہیں سکتی تھی باقی رہا یہ خیال کہ محمدی بیگم میں خود کوئی خاص وجہ کشش موجود تھی جس کی وجہ سے حضرت کو یہ خیال ہوا۔ سو جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ بھی باطل ہے ۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی کو دیکھو۔ کیا انصاف کومدّنظر رکھتے ہوئے آپؑ کی طرف کوئی نفسانی خواہش منسوب کی جا سکتی ہے۔ عقل سے کورے دشمن اور اندھے معاند کاہمارے پاس کوئی علاج نہیں ۔مگر وہ شخص جو کچھ بھی عقل اور کچھ بھی انصاف کا مادہ رکھتاہے اس بات کو تسلیم کر نے پر مجبور ہو گا کہ کم از کم جہاں تک نفسانی خواہشات کا تعلق ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ کا عظیم الشان پر سنل کریکٹر یعنی سیر ت و خلق ذاتی ایسے خیال کو دور ہی سے دھکے دیتا ہے۔ تو پھر سوال ہو تا ہے کہ اس پیشگوئی کی اصل غرض کیا تھی؟سو اس کا یہ جواب ہے کہ اس کی غرض وہی تھی جو حضرت مسیح موعود نے اپنی تصانیف میں لکھی ہے ۔اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے قریبی رشتہ دار یعنی محمدی بیگم کے حقیقی ماموں اور خالہ اور پھوپھی اور والد وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین لوگ تھے اور دین داری سے ان کو کچھ بھی مس نہ تھا بلکہ دین کی باتوں پر تمسخر اُڑا تے تھے اور اس معاملہ میں لڑکی کے ماموں لیڈر تھے اور مرزا احمد بیگ ان کا تابع تھا اور با لکل ان کے زیر اثر ہو کر ان کے اشارہ پر چلتا تھا ۔اور جیسا کہ منکرین حق کا دستور ہے یہ لوگ ہمیشہ حضرت مسیح موعود ؑ سے کسی نشان کے طالب رہتے تھے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے دعویٰ الہام پر ہنسی اُڑایا کرتے تھے ۔ اس دوران میں اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت صاحب کا ایک چچا زاد بھائی غلام حسین مفقود الخبر ہو کر کالمیّت سمجھا گیا اور اسکے ترکہ کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا ۔ مرزا غلام حسین کی بیوہ مسماۃ امام بی بی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی بہن تھی۔اس لئے مرز ااحمد بیگ نے اپنی بہن امام بی بی اور مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ کے مشورہ سے یہ کوشش کی کہ غلام حسین مذکور کا ترکہ اپنے لڑکے یعنی محمدی بیگم کے بڑے بھائی محمد بیگ کے نام کر وا لے مگر یہ بغیر رضامندی حضرت مسیح موعود ؑ ہو نہیں سکتا تھا ۔اس لئے نا چار مرزا احمد بیگ حضرت صاحب کی طرف رجوع ہوا اوربڑی عاجزی اور اصرار کے ساتھ آپ سے درخواست کی کہ آپ اس معاملہ میں اپنی اجازت دے دیں ۔ قریب تھا کہ حضرت صاحب تیار ہو جاتے مگر پھر اس خیال سے کہ اس معاملہ میں استخارہ کر لینا ضروری ہے رُک گئے اور بعد استخارہ جواب دینے کا وعدہ فرمایا۔چنانچہ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کی با ر بار کی درخواست پر حضرت صاحب نے دریں بارہ استخارہ فرمایا تو جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے و ہ الہامات ہو ئے جو محمدی بیگم والی پیشگوئی کا بنیادی پتھر ہیں گویا ان لوگوں کو نشان دکھا نے کا وقت آگیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ احمد بیگ کی دختر کلاں محمدی بیگم کیلئے ان سے تحریک کر۔ اگر انہوں نے مان لیا تو ان کیلئے یہ ایک رحمت کانشان ہوگا اور یہ خدا کی طرف سے بے شمار رحمت و برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے انکار کیا تو پھر خدا ان کو عذاب کا نشان دکھا ئے گا اور ان پر مختلف قسم کی آفات اور مصیبتیں آئیں گی اور اس صورت میں والد اس لڑکی کا لڑکی کے کسی اور جگہ نکاح کئے جانے کی تاریخ سے تین سال کے اندر اندر ہلاک ہوجائے گا اور جس سے نکاح ہو گا وہ بھی ڈھائی سال میں مر جائے گا۔ (نیز دیکھو روایت نمبر ۱۲۷) یہ اصل پیشگوئی تھی جو اس وقت کی گئی اب اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی کی اصل غرض محمدی بیگم کے والد اور ماموؤں کی بار بار کی درخواست پر ایک نشان دکھانا تھی نہ کہ کچھ اور۔ نیزیہ بھی ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی اظہار قدرت الٰہی کے ماتحت تھی نہ کہ اظہار علم الٰہی کے لئے۔ کیونکہ پیشگوئی میں صاف موجود تھا کہ اگر مان لو گے تو یوں ہوگا اور اگر انکار کرو گے تو یوں ہوگا گویا خدا کو اپنا اقتدار دکھانا منظور تھا اور منشاء الہٰی میں یہ تھا کہ یہ دکھائے کہ حضرت مسیح موعود اور جو بھی آپ کے ساتھ عقیدت مندانہ تعلق رکھے گا وہ خدا سے رحمت اور برکت پائے گا اور جو آپ کی عداوت میں کھڑا ہوگا وہ خدا کے عذاب کا مورد ہوگا ۔چنانچہ اس پیشگوئی کا اعلان ہوگیا اور دنیا دیکھ چکی ہے کہ اس خاندان نے خدائی منشاء کے خلاف چل کر کیا کیا خدائی قہر و غضب کے نشان دیکھے ۔
    مرزااحمد بیگ تاریخ نکاح سے چند ماہ کے اندر اندر تپ محرقہ سے ہوشیار پور کے شفاخانہ میں رخصت ہوا اور محمدی بیگم کی والدہ اپنے پانچ چھ بچوںکے گراں بوجھ کے نیچے دبی ہوئی بیوہ رہ گئی اور ساری خوشیاں خاک میں مل گئیں اور علاوہ مرزا احمد بیگ کے اور بعض موتیں بھی اس خاندان میں ہوئیں اور بعض دوسرے مصائب بھی آئے ۔دوسری طرف محمدی بیگم کے ماموؤں پر جس طرح خدائی عذاب کی تجلی ظاہر ہوئی وہ ایک نہایت عبرت انگیز کہانی ہے ۔یہ تین بھائی تھے اور ان کا گھر اس وقت خانگی رونق اور چہل پہل کا ایک بہترین نمونہ تھا ۔مگر پھر اسکے بعد ان پر خدائی چکی چلی اور وہ مختلف قسم کی تنگیوں اور مصیبتوںمیں مبتلا ہوئے اور انکا گھر خالی ہوناشروع ہوا حتیّٰ کہ وہ وقت آیا کہ سارے گھر میں صرف ایک یتیم بچہ رہ گیا اور باقی سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی دن دگنی رات چوگنی ترقی اور اپنی تباہی دیکھتے ہوئے رخصت ہوئے ۔کیا یہ نظارے خدائی قدرت نمائیوں کی چمکتی ہو ئی تجلیاں نہیں ؟ پھر اور سنو وہ یتیم بچہ جو اپنے بڑے وسیع گھرانے میں اکیلا چھوڑا گیا تھا آج اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود ؑ کے حلقہ بگوشوں میں شمار کرتا ہے اور یہی وہ خدائی تعویذ ہے جس نے اسے تباہی سے بچا رکھا ہے ۔
    اب رہا یہ سوال کہ محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد کیوں میعاد کے اندر نہیں مرا اور اب تک بقید حیات ہے۔ سو جاننا چاہیے کہ وہی قدرت الہٰی جس نے مرزا احمد بیگ کو ہلاک کیا، مر زا سلطان محمد کے بچانے کا موجب ہوئی ۔محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے اور نکا ح کے وقت جو حالات تھے وہ اس بات کے مقتضی تھے کہ قدرت الہٰی عذاب کے رنگ میں ظاہر ہو ۔لیکن جب پیشگوئی کے نتیجہ میں مرزا احمد بیگ کی بے وقت موت نے مرزا سلطان محمد کے خاندان میں ایک تہلکہ مچا دیا اور یہ لوگ سخت خوف زدہ ہو کر حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف عجزو انکسار کے ساتھ جھکے اور آپ سے دعا کی درخواستیں کیں تو اب سنت اللہ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّ بَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال :۳۴)کے مطابق قدرت نمائی مرزا سلطان محمد کے ہلاک کئے جانے کے ساتھ نہیں بلکہ بچائے جانے کے ساتھ وابستہ ہو گئی ۔خود مرزا سلطان محمدؐ کا رویہ مرزا احمد بیگ کی موت سے لے کر آج تک حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ بہت مخلصانہ رہا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے کئی موقعوں پر اپنی عقیدت اور اخلاص کا اظہار کیا ہے اور با وجود حضرت مسیح موعود ؑ کے دشمنوں کی طرف سے رنگا رنگ میں طمع اور غیرت اور جوش دلائے جانے کے کبھی کوئی لفظ مرزا سلطان محمد کی زبان سے حضرت صاحب کے خلاف نہیں نکلا ۔بلکہ جب کبھی کوئی لفظ منہ سے نکلاہے۔ تو تا ئید اور تعریف میں ہی نکلا ہے تو کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ ایسے شخص کے متعلق خدا کی قدرت نمائی عذاب کی صورت میں ظاہر ہو گی ؟ایک ظالم سے ظالم انسان بھی اپنے گرے ہوئے دشمن پر وار نہیں کرتا تو کیا خدا جو ارحم الراحمین ہے اس شخص پر وار کرے گا جو اس کے سامنے گر کر اس کی پناہ میں آتا ہے ؟ اور اگر یہ کہو کہ جب خدا کو یہ معلوم تھا کہ مرزا سلطان محمد ؐ کے رشتہ دار نہایت عقیدت اور عاجزی کے ساتھ حضرت صاحب کی طرف جھکیں گے اور رحم اور دعا کے طالب ہو نگے اور خود مرزا سلطان محمد کا رویہ بھی حضرت مسیح موعود ؑ سے بڑا مخلصانہ ہو گاتو پھر کیوں اس کے متعلق ڈھائی سال میں ہلاک ہوجانے کی پیشگوئی کی گئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ اس لئے واقعہ ہو ا ہے کہ پیشگوئی کی غرض کو نہیں سمجھا گیا ۔پیشگوئی کی غرض جیسا کہ اوپربتا یا گیا ہے یہ نہ تھی کہ خدائے تعالیٰ اپنے علم ازلی کا اظہار کرے بلکہ پیشگوئی کی غرض یہ تھی کہ قدرت الہٰی کا اظہار کیا جاوے ۔جیسا کہ پیشگوئی کے الفاظ اور حالات سے بھی واضح ہوتا ہے کیونکہ اگر خدا کے علم ازلی کا اظہار مقصود ہوتا تو صرف ایک بات جوبالآخر وقوع میں آنی تھی بلا شرائط بتا دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ اگر یہ لوگ مان لیں گے تو ان کیلئے یہ ایک رحمت کا نشان ہوگا اور اگر انکار کریں گے تو یہ ایک عذاب کا نشان ہوگا جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ علم ازلی کا اظہارمقصود نہ تھا بلکہ قدرت نمائی مقصود تھی ۔اسکے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے متعلق امکاناً چار راستے کھلے تھے یعنی اوّل:۔ آخری حالت کے لحاظ سے مرزا سلطان محمد کے متعلق جو بات فی الواقع ہو نے والی تھی صرف وہ بتائی جاتی اور درمیانی حالات نظر انداز کر دیئے جاتے تا جب پیشگوئی کے مطابق وقوع میں آتا تو لوگوں کو پیشگوئی کے پورا ہو نے کا یقین ہوتا اور وہ فائدہ اُٹھاتے ۔ دوئم:۔ جب کہ مرزا سلطان محمد کے ڈھائی سال میں ہلاک ہو جانے کے متعلق پیشگوئی کر دی گئی تھی تو خواہ حالات کتنے بدلتے بہر حال اس کو پورا کیا جاتا یا خدائی تصرّف حالات کو بدلنے ہی نہ دیتا اور اس طرح لوگوں کو ٹھوکر سے بچایا جاتا۔ سوئم :۔ اگر حالات بدلنے سے پیشگوئی کا حکم بدل جانا تھا تو اس کے متعلق پہلے ہی اطلاع دے دی جاتی یعنی پیشگوئی میں ہی ایسے الفاظ رکھ دیئے جاتے کہ مثلا ً بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے یااس قسم کے کوئی اور الفاظ ہوتے تا لوگ پیشگوئی کو قطعی نہ سمجھتے ۔ چہارم:۔ موجودہ حالات پر حکم لگا دیا جاتا پھر اگر وہ حالات قائم رہتے تو وہی حکم وقوع میں آتا اور اگر حالات بدل جاتے تو نئے حالات کے مناسب حال حکم وقوع میں آتا ۔یہ وہ چار رستے تھے جو امکاناً اختیار کئے جاسکتے تھے لیکن ہر ایک عقل مند سوچ سکتا ہے کہ مقدم الذکر دو طریق قدرت نمائی کے منشاء کے منافی ہیں ۔کیونکہ پہلی صورت میں تو پیشگوئی قدرت نمائی کے دائرہ سے نکل کر اظہار علم ازلی کے دائرہ میں آجاتی ہے ۔کیونکہ جب پیشگوئی فریق مخالف کی خاص متمردانہ حالت پر مبنی تھی تو اس صورت میں حالات کو نظر انداز کرنااس کو قدرت نمائی کے دائرہ سے خارج کردیتا ہے ۔ہاں اگر اس کی بنیاد فریق متعلقہ کی کسی حالت پر نہ ہوتی تو پھر بے شک حالات اور ان کا تغیر نظر انداز کئے جاسکتے تھے مگراس صورت میں پیشگوئی اظہار قدرت کیلئے نہ رہتی بلکہ علم ازلی کے اظہار کے ماتحت آجاتی اور پیشگوئی کی اصل غرض ہی فوت ہو جاتی ۔اور اگر دوسرے طریق کو اختیار کیا جاتا تو یہ بات علاوہ کمال قدرت نمائی کے منافی اور سنت اللہ کے مخالف ہونے کے خدا کی مقدس ذات پر سخت اعتراض کا موجب ہوتی اور اس صورت میں بھی اصل غرض پیشگوئی کی باطل ہو جاتی ۔پس لا محالہ پیشگوئی کی غرض اظہار قدرت نمائی ثابت ہونے کے بعد ہم کو مؤخر الذکر دو طریقوں میں محدود ہونا پڑے گا اور یہ دونوں طریق ایسے ہیں کہ سنت اللہ سے ثابت ہیں ۔ تیسرے طریق پر تو کسی جرح کی گنجائش نہیں مگر ہاں چوتھے طریق پر بادی النظر میں یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی شرط کو تیسرے طریق کے طور پر واضح کیوں نہ کیا جاوے مخفی کیوں رکھا جائے ۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن مجید کے نص صریح سے یہ شرط بطور اصول کے بیان کر دی گئی ہے کہ حالات کے بدلنے سے اقتداری پیشگوئیوں میں قدرت نمائی کی صورت بدل جاتی ہے اور عقل انسانی کابھی یہی فتویٰ ہے کہ ایسا ہونا چاہیے کیونکہ اگر یہ نہ مانا جاوے تو اصل غرض فوت ہو کر خدا کی بعض صفات کا انکار کرنا پڑتا ہے تو پھر ہر گز ضروری نہیں کہ یہ شرط ہر پیشگوئی میں واضح طور پر بیان کی جاوے ۔خصوصاً جب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایمان کے راستے میں خدا کی یہ سنت ہے کہ بعض اخفا کے پردے بھی رکھے جاتے ہیں اور ایمان کے ابتدائی مدارج میں شہود کا رنگ نہیںپیدا کیا جاتا اور یہاں تو پیشگوئی کے الفاظ ہی اس کے شرطی ہونے کو ظاہر کر رہے ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ سارا اعتراض پیشگوئی کی غرض نہ سمجھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے کیونکہ بدقسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پیشگوئی کی غرض یہ تھی کہ علم الہٰی کے ماتحت محمد ی بیگم حضرت صاحب کے نکاح میں آجاوے اور بس ۔حالانکہ یہ غرض ہر گز نہ تھی بلکہ غرض یہ تھی کہ حضرت صاحب کے قریبی رشتہ داروں کو اقتداری نشان دکھایا جاوے اور مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد کا ہلاک ہونا اور محمدی بیگم کا حضرت صاحب کے عقد میں آنا اس وقت کے حالات کے ماتحت اس قدرت نمائی کیلئے بطور علامات کے تھے نہ کہ مقصود بالذّات ۔
    اگر اس جگہ یہ شبہ پیدا ہو کہ حضرت صاحب کے بعض الہامات میں ہے کہ محمد ی بیگم بالآخر تیری طرف لوٹائی جاوے گی اور تمام روکیں دور کی جاویں گی وغیر ہ وغیرہ ۔اور اس کو تقدیر مبرم کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا تواس کا یہ جواب ہے کہ اوّل تو یہ قطعی طور پرثابت کرنا چاہیے کہ یہ سب الہامات حضرت مسیح موعود ؑ اور محمدی بیگم کے ہی متعلق ہیں ۔دوسرے اگر یہ سب الہامات محمدی بیگم اور حضرت صاحب ہی کے متعلق ہوں تو پھر بھی ان کو الگ الگ مستقل الہامات سمجھنا سخت نادانی ہے ۔بلکہ یہ سارے الہامات ابتدائی الہامات کے ساتھ ملحق اور اس کے ماتحت سمجھے جاویں گے ۔اور ان سب کو یکجائی طورپر سامنے رکھ کر کوئی رائے قائم کرنی پڑے گی اور ابتدائی الہام کو اصل قرار دینا ہوگا اور باقی بعد کے سب الہامات گو اس اصل کی شاخیں سمجھنا ہوگا ۔اب اس اصول کو مدنظر رکھ کر تمام پیشگوئی پر غور کریں تو صاف پتہ لگ رہا ہے کہ حضرت صاحب کو یہ حکم تھا کہ محمدی بیگم کے متعلق سلسلہ جنبانی کر اگر انہوں نے مان لیا تو یہ ان کے واسطے ایک رحمت کا نشان ہوگا اور اگر لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکا ح کر دیا تو یہ انکے لئے ایک عذاب کا نشان ہوگا اور اس صورت میں لڑکی کا والد تین سال میں اور لڑکی کا خاوند ڈھائی سال میں مرجائیں گے ۔اور لڑکی بالآخر تیری طرف لوٹائی جاوے گی اور تما م روکیں دور کی جاویں گی وغیرہ وغیرہ ۔اب ظاہر ہے کہ لڑکی کے حضرت صاحب کی طرف لوٹائے جانے اور روکوں کے دور ہونے کو مرزا سلطان محمد کے ہلاک ہو نے سے تعلق ہے اور یہ باتیںاسکے ماتحت ہیں نہ کہ مستقل۔ یعنی جب اس وقت کے حالات کے ماتحت مرزا سلطان محمد کی ہلاکت کی پیشگوئی ہوئی اور قدرت نمائی کو اس کی ہلاکت کی صور ت کے ساتھ وابستہ کیا گیا تو اس کے نتیجہ میں جو باتیں ظہور میں آنی تھیں ان کا بھی اظہار کیا گیا ۔یعنی یہ کہ مرزا سلطان محمد کی وفات ہو گی اور ان کی زندگی کی وجہ سے جو روکیں ہیں اور نیز دوسری روکیںوہ دور ہونگی اور پھر لڑکی تیرے گھر آئے گی ۔گویا یہ سب باتیں مرزا سلطان محمد کی ہلاکت کی شق کو مدنظر رکھ کر بیان کی گئیں تھیں اور جس طرح ہلاکت کے مقابل کی شق یعنی بچائے جانے کو مخفی رکھا گیا ۔اسی طرح بچائے جانے کے بعد جو کچھ وقوع میں آناتھا اس کو بھی مخفی رکھا گیایعنی ہلاکت والا پہلو اور اس کے نتائج بیان کر دیئے گئے اور بچائے جانے والا پہلو اور اس کے نتائج مخفی رکھے گئے۔ اور یہ سراسر نادانی اور ظلم ہو گا اگر ہم یہ سمجھیں کہ لڑکی کے لوٹائے جانے کی جو پیشگوئی ہے وہ ہلاکت اور عدم ہلاکت دونوں پہلوئوں کا نتیجہ ہے ۔کیونکہ جب عدم ہلاکت کا پہلو ہی مذکور نہیں تو اس کا نتیجہ کیونکر مذکور ہو سکتا ہے ۔ مذکور نتیجہ لامحالہ مذکور شق کے ساتھ وابستہ سمجھا جائے گا کیونکہ وہ اسی لڑی میں پرویا ہوا ہے اور دوسری لڑی ساری کی ساری مخفی رکھی گئی ہے ۔ ہاں جب واقعات نے قدرت نمائی کیلئے مرزا سلطان محمد کے بچائے جانے والے پہلو کو ظاہر کیا (جو لفظاً مذکور نہیں تھا ) تو پھر اس پہلو کے وہ نتائج بھی ظاہرکئے گئے جو لفظاً مذکور نہیں تھے ۔ہاں اگر عذاب والا پہلو ظاہر ہوتا تو پھر اس پہلو کے نتائج بھی ظاہر ہوتے ۔ لیکن جب وہ پہلو ہی ظاہر نہیں ہوا تو اس کے نتائج کس طرح ظاہر ہوجاتے اِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوْطُ اور تقدیر مبرم کے بھی یہی معنی ہیں کہ صرف ہلاکت والے پہلو کا حضرت صاحب کو علم دیا گیا تھا اور حقیقی واقعہ کا علم صرف خدا کو تھا ۔پس حضرت صاحب کے لئے وہ تقدیر مبرم تھی اور ظاہر ہے کہ بعض اوقات مخاطِب ،مخاطَب کے علم کو مدنظر رکھ کر ایک لفظ بولتا ہے حالانکہ اس کے اپنے علم کے لحاظ سے وہ لفظ نہیں بولا جاسکتا ۔دوسرے یہ کہ تقدیر مبرم سے ان خاص حالات میں یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ جو شق مذکور ہے اس کے نتیجہ کے طور پر یہ تقدیر مبرم ہے نہ کہ مطلقا ً یعنی اگر ہلاکت والی شق ظہور میں آئے تو پھر یہ تقدیر مبر م ہے کہ وہ تیرے نکا ح میں آئے گی اور چونکہ دوسری شق کو بالکل مخفی رکھا گیا تھا اس لئے محض مذکور شق کو مدنظر رکھ کر تقدیر مبرم کا لفظ استعمال کرنا کوئی جائے اعتراض نہیں ہوسکتا۔
    خلاصہ کلام یہ کہ محمدی بیگم کے حضرت صاحب کے نکاح میں آنے کے متعلق جتنے بھی الہامات ہیں وہ سب ابتدائی الہام کی فرع ہیں۔مستقل پیشگوئیاں نہیں ہیں اور ان سب کی بنیاد مرزا سلطان محمد کے عذاب میں مبتلا ہوکر ہلاک ہونے پر ہے ۔پس جب مرزا سلطان محمد کی ہلاکت حالات کے بدل جانے سے قدرت نمائی کا ذریعہ نہ رہی بلکہ عذاب کا ٹل جانا قدرت نمائی کا ذریعہ ہو گیا تو پھر عذاب والی صورت پر جتنے نتائج مترتب ہونے تھے وہ بھی منسوخ ہوگئے اور عدم عذاب والا مخفی پہلو مع اپنے تمام مخفی نتائج کے ظاہر ہو گیا گویا مرزا سلطان محمد کے متعلق تصویر کے دو پہلو تھے اول ۔عذاب کے ماتحت موت اور اس کے نتائج یعنی محمدی بیگم کا بیوہ ہو کر حضرت صاحب کے نکا ح میں آنا وغیرہ۔ پیشگوئی میں صرف یہی پہلو ظاہر کیا گیا تھا ۔ دوسرے ۔حالات کے بدل جانے سے عذاب اور موت کے رک جانے کی صورت میں اظہار قدرت ہونا اور اس کے نتائج یعنی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد ہی کے پاس رہنا وغیرہ ۔یہ دوسرا پہلو مخفی رکھا گیا تھا۔ پس خدا نے سنت اللہ کے مطابق ظاہر پہلو کو منسوخ کر کے مخفی پہلو کو ظاہر کردیا ۔جو پہلو بیان کیا گیا تھا وہ سارے کا سارا بیان کیا گیا تھا اور جو مخفی رکھا گیا تھا وہ سارے کا سارا مخفی رکھا گیا تھا ۔در اصل سارا دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کو اصل غرض پیشگوئی کی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات واقعات کے بالکل خلاف ہے ۔بلکہ اصل غرض رشتہ داروں کی درخواست پر قدرت نمائی تھی اور مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد کامرنا اور محمدی بیگم کا حضر ت کے نکاح میں آنا وغیرہ یہ سب اس وقت کے حالات کے ماتحت اس قدرت نمائی کیلئے بطور علامات کے رکھے گئے تھے لیکن جب مرزا احمد بیگ کی اچانک موت نے حالات کی صورت بدل دی تو قدرت نمائی کے علامات بھی بدل گئے۔ حق یہی ہے چاہو تو قبول کرو ۔ہاں اگر حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں کسی وقت مرزا سلطان محمد کی طرف سے متمردانہ طریق اختیار کیا جاتا تو تصویر کا جو ظاہر پہلو تھا وہ بتمامہ وقوع میں آجاتا چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتب میں اپنے مخالفوں کو بار بار مخاطب کر کے لکھا ہے کہ اگر تمہیں اس پیشگوئی کے متعلق کوئی اعتراض ہے تو مرزا سلطان محمد کی طرف سے کو ئی مخالفت کا اشتہار دلوائو اور پھر دیکھو کہ خدا کیا دکھاتا ہے مگر باوجود ہمارے مخالفوں کی طرف سے سر توڑ کوشش اور بے حد غیرت اور طمع دلائے جانے کے مرزا سلطان محمد نے حضرت مسیح موعود کے متعلق جب کبھی بھی کوئی اظہار کیا تو عقیدت اور اخلاص کا ہی اظہار کیا۔ اندریں حالات مخالفت والے پہلو پر جو نتائج مترتب ہو نے تھے وہ کس طرح ظاہر ہو جاتے ۔خدا کی خدائی اندھیر نگر ی تو نہیں کہ کاشت کریں آم اور نکل آئے حنظل بلکہ وہاں کا تو یہ قاعدہ ہے کہ ’’ گندم ازگندم بَرَویَد جَو زِ جَو ۔ازمکافاتِ عمل غافل مشو ‘‘۔محمدی بیگم کے نکاح کا درخت مرزا سلطان محمد کی ہلاکت کی سرزمین سے نکلنا تھا اور ہلاکت کی سرزمین خدائی عذاب کے زلزلہ نے تیار کرنی تھی اور یہ عذاب کا زلزلہ مرزاسلطان محمد کے تمرّد نے پیدا کرنا تھا اب جب تمردنہ ہوا تو عذاب کا زلزلہ کیسا اور جب زلزلہ نہ آیا تو ہلاکت کیسی؟ اب محمدی بیگم کے نکاح کو بیٹھے روتے رہو۔خدانے تو اپنی قدرت نمائی کا جلوہ دکھادیا اور پیشگوئی پوری ہوگئی۔
    اب ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے اوروہ یہ کہ بے شک حالات کے تغیر سے قدرت نمائی کی صورت بدل جاتی ہے اور بدل جانی چاہیے مگر تغیر ایسا ہونا چاہیے جو کسی کام کا ہو مثلاً کسی غیر مسلم معاند کے عذاب کی خبر ہے تو وہ عذاب اس صورت میں ٹلنا چاہیے کہ وہ شخص تائب ہو کر مسلمان ہو جاوے یا غیر احمدی مسلمان ہو تو وہ احمدی ہو جاوے ورنہ اپنے مذہب پر رہ کر ہی کچھ تغیر کر لینا موجب رہائی کا نہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ معاملہ کو مشتبہ کر دیتا ہے ۔اس کا یہ جواب ہے کہ یہ شبہ نادانی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہی شخص ایسا شبہ کر سکتا ہے جو موجبات عذاب سے بے خبر ہو ۔دراصل بات یہ ہے کہ یہ مسلم حقیقت ہے کہ اس دنیا میں عذاب کسی نبی کے محض انکار کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ اس کے مقابل میں فساد اور سر کشی او ر تمّر د سے آتا ہے ۔محض انکا ر کیلئے آخرت کی جزا سزا مقرر ہے ،اس دنیا کا عذاب صرف سرکشی اور تمرد کے نتیجہ میں ہوتا ہے چنانچہ ہمارا مشاہدہ اس پر شاہد ہے اب جب یہ بات معلوم ہو گئی تو کوئی اعتراض نہ رہا ۔ایک شخص جو اپنی سرکشی اور تمرد کی وجہ سے اس دنیا میں عذاب کا مستحق بنا تھا وہ جب تمرد کی حالت کو بدل دے گا تو عذاب ٹل جائے گا ۔خواہ وہ منکر ہی رہے اور انکار کی پرسش آخر ت میں ہوگی۔ جو چیز اس دنیا میں عذاب کی موجب تھی وہ جب جاتی ر ہی تو اس دنیا کا عذاب بھی جاتا رہا ۔باقی رہا محض انکا ر اور علیحدگی سو اس کیلئے دنیا میں عذاب نہیں ہوتا بلکہ اس کی پرسش اگلے جہاں میں ہوگی۔ پس یہ کہنا کہ غیر مسلم کے مسلمان اور غیر احمدی کے احمدی ہو جانے پر عذاب ٹلنا چاہیے تھا ۔ایک جہالت کی بات ہے جب غیر مسلم کا محض غیر مسلم ہونا اور غیر احمدی کا محض غیر احمدی ہونا اس دنیا میں موجبات عذاب کے نہیں اور نہ اس وجہ سے ان کیلئے کوئی عذا ب کی پیشگوئی تھی تو یہ اعتراض بے ہودہ ہے ہاں اگر عذاب کی وجہ ان کا غیر مسلم یاغیر احمدی ہونا بتائی جاتی تو پھر بے شک جب تک وہ احمدی یا مسلمان نہ ہو جاتے عذاب نہیں ٹلنا چاہیے تھا ۔ لیکن جب عذاب کی یہ وجہ ہی نہیں اور نہ ہو سکتی ہے بلکہ عذاب کی وجہ فساد فی الارض اور تمرد ہے تو عذاب کے ٹلنے کیلئے ایمان لانے کی شرط ضروری قرار دینا محض جہالت ہے اور اگر یہ کہا جاوے کہ مرزا سلطان محمد نے گو بے شک اخلاق و عقیدت کا اظہار کیا اور تمرد نہیں دکھایا لیکن محمدی بیگم کو اپنے نکاح میں تو رکھا اور اس طرح گویا عملاً تمرد سے کام لیا ۔تو یہ بات گذشتہ اعتراض سے بھی بڑھ کر جہالت کی بات ہو گی کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ پیشگوئی کی غرض ہر گز محمدی بیگم کا نکا ح نہ تھی بلکہ متمرد رشتہ داروں کو اقتداری نشان دکھانا تھا تو پھر یہ کہنا کہ گو اس نے تمرد نہیں دکھا یا مگر چونکہ محمدی بیگم کو اپنے نکا ح میں رکھا اس لئے عذاب نہ ٹلنا چاہیے تھا ۔ایک ابلہانہ بات ہے ۔اگر غرض پیشگوئی کی یہ ہوتی کہ محمدی بیگم حضرت صاحب کے نکا ح میں آجاوے تو پھر بے شک مرزا سلطان محمد کا فقط تمرد نہ دکھانا کسی کام نہ آتا جب تک وہ محمدی بیگم کو الگ نہ کرتا لیکن جب پیشگوئی کی یہ غرض ہی ثابت نہیں ہوتی تو پھر عذاب کے ٹلنے کو مرزا سلطان محمدکے محمدی بیگم سے علیحدہ ہو جانے کے ساتھ مشروط قرار دینا ایک عجیب منطق ہے ۔جو ہماری سمجھ سے بالا ہے ۔دراصل یہ سارے اعتراضات پیشگوئی کی غرض پر غور نہ کرنے سے پیدا ہو ئے ہیں ورنہ بات کو ئی مشکل نہ تھی ۔
    اور یہ شبہ کہ اگر محض انکا ر سے اس دنیا میں عذاب نہیں آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ کے مختلف عذابوں کو اپنی وجہ سے کیوں قرار دیا ہے ایک دھوکے پر مبنی ہے۔ آج کل جو دنیا کے مختلف حصوں میں عذاب آرہے ہیں ان کو حضرت صاحب نے اپنی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ یہ لوگوں کوجگانے کیلئے ہیں ۔یعنی ان کی یہ غرض ہے کہ لوگ اپنی غفلتوں سے بیدار ہو جائیں اور حق کی تلاش میں لگ جاویں اور حق کے قبول کر نے کیلئے ان کے دل نرم ہو جاویں۔لہٰذا یہ عذاب اور نوعیت کا عذاب ہے جس کو اس دوسری قسم کے عذاب سے کو ئی واسطہ نہیں۔ یہ عام قومی عذاب تو صرف بیدار کر نے کیلئے آتے ہیں یعنی جب کبھی کوئی رسول آتا ہے تو خدا کی سنت ہے کہ اس کی قوم کو جن کی طرف وہ مبعوث ہو عذاب کے دھکوں سے بیدار کرتا ہے ۔اسی لئے یہ قومی عذاب رسول کی بعثت کی علامت رکھے گئے ہیں ورنہ یہ عذاب تو بسا اوقات ایسے لوگوں کو بھی پہنچتے رہتے ہیں جن تک رسول کی تبلیغ بھی نہیں پہنچی ہوتی ۔اور جن کی طرف سے رسول کے خلاف تمرّد تو درکنار محض انکا ر بھی نہیں ہوا ہوتا ۔پس ان عذابوں کو اس خاص عذاب کے ساتھ مخلوط کرنا نادانی ہے۔زیر بحث تو وہ خاص انفرادی عذاب ہیں جو ان لوگوں کو پہنچتے ہیں جو رسول کے مقابل پر کھڑے ہوتے ہیں ایسے عذاب محض انکار پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ فساد فی الارض اور سرکشی اور تمرد سے آتے ہیں ۔
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جو اس رشتہ کی کوشش میں اپنے بعض رشتہ داروں کو خط لکھے اور اس کے لئے بڑی جدو جہد کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی اصل غرض محمدی بیگم کا نکاح تھی مگر یہ ایک سراسر باطل بات ہے ۔جبکہ پیشگوئی کے الفاظ سے یہ غرض ثابت نہیں ہوتی اور جب کہ حضرت صاحب کی تحریرات میں یہ بات صاف طور پر لکھی ہو ئی موجود ہے کہ پیشگوئی کی غرض نکاح نہ تھی بلکہ قدرت نمائی تھی اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار حضرت صاحب نے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا اور محمدی بیگم کے مرزا سلطان محمد کے ساتھ بیاہے جانے سے پہلے بھی اور بیاہے جانے کے بعد بھی اس غرض کا اظہار کیا ۔یعنی برابر اس وقت سے جب کہ ابھی محمدی بیگم بیاہی بھی نہ گئی تھی اور اس پیشگوئی کے متعلق اعتراض وغیرہ نہ تھا ۔ حضرت صاحب ہمیشہ یہی بیان کر تے چلے آئے ہیں کہ اس کی غرض محمدی بیگم کو نکا ح میں لانا نہیں بلکہ قدرت الہٰی کا ایک نشان دکھانا ہے۔ تو نکاح کی کوشش کرنے اور اپنے بعض رشتہ داروںکوا س کوشش کے متعلق خطوط لکھنے سے یہ استنباط کس طرح ہو سکتا ہے کہ پیشگوئی کی غرض نکاح کرنا تھی ۔کیا ایسے رکیک استنباطوں سے نصوص صریح کا رد کرنا جائز ہے ۔رشتہ کی کوشش اور اس کیلئے رشتہ داروں کو تحریک تو فقط اس غرض سے تھی کہ اس وقت تک چونکہ محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے نکاح نہ ہوا تھا ۔ اس لئے حضرت صاحب کی خواہش اور کوشش تھی کہ محمدی بیگم کا نکاح آپ کے ساتھ ہو جاوے تا آپ کے رشتہ دار خدا کی رحمت اور برکت سے حصہ پاویں اور خدا کا نشان پورا ہو اور آپکی صداقت ظاہر ہو ۔اس سے پیشگوئی کی غرض کے متعلق کس طرح استدلال ہو سکتا ہے ۔اس جگہ اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد کے ساتھ نکاح نہیں ہوا تھا محمدی بیگم کا حضرت صاحب کے رشتہ میں آنا رشتہ داروں کیلئے ایک نشانِ رحمت تھا لیکن جب محمدی بیگم مرزا سلطان محمد کے عقد میں چلی گئی اور آپ کے رشتہ داروں نے تمرّد سے کام لیا تو اب محمدی بیگم کا حضرت صاحب کی طرف لوٹنا مرزا سلطان محمد کے عذاب میں مبتلا ہونے کے ساتھ مشروط ہو گیا یعنی مرزا سلطان محمد پر عذاب کی موت آئے اور پھر محمدی بیگم حضرت صاحب کی طرف لوٹے اسی لئے جب تک محمدی بیگم کا حضرت صاحب کے عقد میں آنا رشتہ داروں کیلئے ایک رحمت کا نشان تھا ۔آپ نے اس کیلئے کوشش کی اور پوری کوشش کی اور یہ کوشش آپکی صداقت اور اخلاق فاضلہ پر ایک زبردست دلیل ہے ۔لیکن جب محمدی بیگم کے دوسری جگہ نکاح ہوجانے کے بعد اُس کا آپکی طرف لوٹنا رشتہ داروں کے عذاب دیئے جانے کی علامت ہو گیا تو آپ نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ۔پس آپ کی کوششوں سے پیشگوئی کی غرض کے متعلق استدلال کر نا باطل ہے ۔یہ کوشش تو محض اس لئے تھی کہ اس وقت کے حالات کے ماتحت محمدی بیگم کا آپکے نکاح میں آنا اظہار قدرت کی ایک علامت تھا ۔پس آپ نے اس علامت کے پورا کرنے کی کوشش کی تا پیشگوئی کی اصل غرض یعنی قدرت نمائی وقوع میں آوے اور خصوصیت کے ساتھ کوشش اس لئے کی کہ اُس وقت کے حالات کے ماتحت محمدی بیگم کا آپ کے عقد میں آناآپ کے رشتہ داروں کے لئے موجب رحمت و برکت تھا ۔لہٰذا یہ کو شش تو آپ کی صداقت اور اخلاق فاضلہ اور رشتہ داروں پر رحم و شفقت کی ایک دلیل ہے نہ کہ آپ کے خلاف جائے اعتراض۔
    خلاصہ کلام یہ کہ یہ پیشگوئی خدا کے علم ازلی کے اظہار کے لئے نہ تھی تا بہر حال اپنی ظاہری صورت میں پوری ہوتی بلکہ اظہار قدرت کاملہ کے لئے تھی ۔پس پیشگوئی کے وقت حالات موجودہ جس قسم کی قدرت نمائی کے مقتضی تھے اُس کا اظہار کیا گیا اور بعد میں حالات کے تغیر سے جو جو رستہ قدرت نمائی کا متعیّن ہوتا گیا اس کے مطابق اظہار قدرت ہوتا گیا ۔تا یہ ثابت ہو کہ خدا کوئی مشین نہیں ہے کہ جب پہیہ چل گیا تو بس پھر جو اپنا بیگانہ سامنے آیا اُس کو پیس ڈالا کیونکہ یہ بات قدرت کاملہ کے منافی ہے ۔بلکہ خدا ایک قدیر ہستی ہے ۔جب کوئی شخص عذاب کا مستحق ہوتا ہے تو وہ اُسے عذاب میں گرفتار کرتا ہے اور پھر اسے کوئی نہیں بچا سکتا اور جب وہ موجبات عذاب کو دور کر دیتا ہے تو خدا بھی اُس سے اپنا عذاب کھینچ لیتا ہے اور پھر اُسے کو ئی عذاب میں نہیں ڈال سکتا اور یہی قدرت کاملہ ہے ۔باقی رہی یہ بات کہ محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق حضرت صاحب کو بہت سے الہامات ہوئے کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی سو اس کا جواب گذرچکا ہے ۔کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی کوئی مستقل پیشگوئی نہیں بلکہ رشتہ داروں کو جو نشان دکھلانا تھا اُس کا حصہ اور فرع ہے اور یہ بات حضرت صاحب کی تحریرات بلکہ خود الہامات سے اَظْہَرٌ مِّنَ الشَّمْس ہو جاتی ہے اور جو شخص اس کے خلاف دعویٰ کرتا ہے بار ثبوت اس کے ذمہ ہے ۔پس جب نکاح کی پیش گوئی مستقل پیشگوئی نہ ہوئی بلکہ تمام پیشگوئی کا حصہ اور فرع ہوئی تو اعتراض کوئی نہ رہا ۔کیونکہ پیشگوئی کا منشاء یہ قرار پایا کہ مرزا سلطان محمد عذاب موت میں گرفتار ہوگا اور پھر محمدی بیگم حضرت مسیح موعود ؑ کے عقد میں آئے گی۔اور مرزا سلطان محمد کے عذاب موت میں مبتلا ہونے کی صورت میں کوئی چیز محمدی بیگم کے حضرت صاحب کی طرف لوٹنے میں روک نہ ہو سکے گی لیکن جب حالات کے بدل جانے پر مصلحت الہٰی نے قدرت نمائی کا منشاء پورا کرنے کے لئے عذاب کی صورت کو بدل دیا تو نکاح بھی جو عذاب والی صورت کا نتیجہ تھا منسوخ ہو گیا ۔اصل غرض قدرت نمائی تھی اور باقی سب اُس وقت کے حالات کے ماتحت اُس کی علامات تھیں۔پس ہم کہتے ہیں کہ جب حالات کے بدل جانے سے اصل غرض اور علامات آپس میں ٹکرانے لگیں تو اصل غرض کو لے لیا گیا اور علامات کو چھوڑ دیا گیا اور یہی حکمت کی راہ ہے اور اگر کہو کہ ایسا کیوں نہ کیا گیا کہ وہی علامات مقرر کی جاتیں جو آخر تک ساتھ رہتیں تو اس کا جواب اوپر گذر چکا ہے کہ چونکہ یہ پیش گوئی علم ازلی کے اظہار کے لئے نہ تھی بلکہ قدرت نمائی کے لئے تھی ۔اس لئے حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا اور اگر حالات کو نظر انداز کیا جاتا تو پیشگوئی کی اصل غرض(یعنی قدرت نمائی)فوت ہو کر پیشگوئی اظہار علم ازلی کے ماتحت آجاتی اور یہ مقصود نہ تھا ۔خوب سوچ لو کہ قدرت کاملہ کا اظہا ر بغیر حالات کو مد نظررکھنے کے ناممکن ہے کیونکہ یہ صورت دو نتیجوں سے خالی نہیں یا تو خداکو بغیر ارادے کے ایک مشین کی طرح ماننا پڑے گا اور یا پھرظالم و سفاک قرار دینا ہوگا ۔اور یہ دونوں باتیں قدرت کاملہ کے مفہوم کے منافی ہیں ۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّاالْبَـلَاغ ـ
    اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خاکسار نے پیشگوئیوں کے جو اصول بیان کئے ہیں اُن پر پیشگوئیوں کے اصول کا حصر نہیں ہے ۔یعنی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ پیشگوئیوں کے بس صرف یہی اصول ہیں جو بیان ہو گئے بلکہ یہاں تو صرف اس جگہ کے مناسب حال اور وہ بھی صرف خاص خاص اُصول بیان کئے گئے ہیں ورنہ اُن کے علاوہ اور بھی بہت سے اصول ہیں بلکہ ان بیان شدہ اصول کے بھی بہت سے اور پہلو ہیں جو بیان نہیں کئے گئے کیونکہ یہ موقع پیشگوئیوں کے اصول بیان کر نیکا نہیں ہے بلکہ حضر ت مسیح موعود ؑ کی سیرت و سوانح کے بیان کرنے کا ہے ۔
    {180} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ جمال احمد صاحب جو سلسلہ کے ایک مبلّغ ہیںایک دفعہ پٹّی گئے اور مرزا سلطان محمد بیگ صاحب سے ملے تھے ۔ اس ملاقات کے متعلق وہ ۱۳؍۹جون ۱۹۲۱ء کے اخبار الفضل قادیان میں لکھتے ہیں کہ ’’ عندا لملاقات میں نے مرز اسلطان محمد صاحب سے سوال کیا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں حضرت مرزا صاحب کی نکاح والی پیشگوئی کے متعلق کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں جسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ بخوشی بڑی آزادی سے دریافت کریں اور کہا کہ میرے خُسر مرزا احمد بیگ صاحب واقعہ میں عین پیشگوئی کے مطابق فوت ہوئے ہیں مگر خدا تعالیٰ غفورالرحیم بھی ہے اپنے دوسرے بندوں کی بھی سنتا اور رحم کرتا ہے اس سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ خداتعالیٰ نے میری زاری و دعا کی وجہ سے وہ عذاب مجھ سے ٹال دیا ۔
    پھر میں نے ان سے سوال کیا ۔آپ کو حضرت مرزا صاحب کی اس پیشگوئی پر کو ئی اعتراض ہے ؟ یا یہ پیشگوئی آپ کیلئے کسی شک و شبہ کا باعث ہوئی ہے ؟ جسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ایمان سے کہتا ہوں کہ یہ پیشگوئی میرے لئے کسی شبہ کا باعث نہیں ہوئی ۔پھر میں نے سوال کیا کہ اگر پیشگوئی کی وجہ سے آپ کو حضرت مرزا صاحب پر کوئی اعتراض یا شک و شبہ نہیں تو کیا کوئی اور ان کے دعویٰ کے متعلق آپ کو اعتراض ہے ۔جس کی وجہ سے آپ ابھی تک بیعت کر نے سے رکے ہوئے ہیں ؟ اس پر بھی انہوں نے خداتعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر یہی جواب دیا کہ مجھے کسی قسم کا بھی اُن پر اعتراض نہیں بلکہ جب میں انبالہ چھائونی میں تھا تو ہمارے رشتہ داروں میں سے ایک احمدی نے مرزا صاحب کے متعلق میرے خیالات دریافت کئے تھے جس کا میں نے اس کو تحریری جواب دیدیا تھا ۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تحریر رسالہ تشحیذ میں چھپ چکی ہے ۔) اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر بیعت کیوں نہیں کر تے ؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے وجوہات اور ہیں جن کا اس وقت بیان کرنا میں مصلحت کے خلاف سمجھتا ہوں ۔میں بہت چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ قادیان جائوں کیونکہ مجھے حضرت میاں صاحب کی ملاقات کا بہت شوق ہے اورمیرا ارادہ ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام کیفیت بیان کروں پھر چاہے شائع بھی کر دیں تو مجھے کو ئی اعتراض نہیں ہوگا ۔باقی میرے دل کی حالت کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے متعلق آریوں نے لیکھرام کی وجہ سے اور عیسائیوں نے آتھم کی وجہ سے مجھے لاکھ لاکھ روپیہ تک دینا چاہا تا میں کسی طرح مرزا صاحب پر کوئی نالش کروں ۔اگر وہ روپیہ میں لے لیتا تو امیر کبیر بن سکتا تھا ۔مگر وہی اعتقاد اور ایمان تھا جس نے مجھے اس فعل سے روکا ۔
    پھر میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کے گھروالوں (محمدی بیگم صاحبہ ) نے کوئی رؤیا دیکھی ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا مجھ سے تو انہوں نے ذکر نہیں کیا مگر آپ احمد بیگ ( ہیڈکلرک احمدی ) کے ذریعہ میرے گھر سے خود دریافت کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ مرزا احمد بیگ صاحب نے ان کو اپنے گھر بلوایا اور دریافت کرنے پر انہوںنے کہا کہ جس وقت فرانس سے اُن کو ( یعنی مرزا سلطان محمد صاحب کو ) گولی لگنے کی اطلاع مجھے ملی تو میں سخت پریشان ہو ئی اور میرا دل گھبرا گیا ۔اسی تشویش میں مجھے رات کے وقت مرزا صاحب رؤیا میں نظر آئے اُن کے ہاتھ میں ایک دودھ کا پیالہ ہے اور وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ لے محمدی بیگم یہ دودھ پی لے اور تیرے سر کی چادر سلامت ہے فکر نہ کر ۔اس سے مجھے ان کی خیریت کے متعلق اطمینان ہو گیا۔‘‘
    خاکسارعرض کرتا ہے کہ میں نے مرزا احمد بیگ صاحب احمدی سے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تھا ۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پوری پوری تصدیق کی ۔
    { 181} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت یا سوانح کے متعلق جو تصنیفات احمدیوں کی طرف سے اس وقت تک شائع ہو چکی ہیں وہ یہ ہیں ۔
    (۱) سیرۃ مسیح موعودمصنفہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب
    مولوی صاحب مرحوم اکابر صحا بہ میں سے تھے اور حضرت مولوی صاحب یعنی خلیفہ اول کے بعد جماعت میں انہی کا مرتبہ سمجھا جاتا تھا ۔یہ تصنیف نہایت مختصر ہے لیکن چونکہ مولوی صاحب مرحوم کی طبیعت نہایت ذکی اور نکتہ سنج واقع ہو ئی تھی اس لئے بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور اچھے اچھے استدلال کئے ہیں عموماً خانگی اخلاق پر روشنی ڈالی ہے۔اورہر بات کی بنا اپنے ذاتی مشاہدہ پر رکھی ہے اور چونکہ مولوی صاحب مرحوم حضر ت مسیح موعود ؑ کے مکان کے ایک حصہ میں ہی رہتے تھے اس لئے ان کو حضرت صاحب کے اخلاق وعادات کے مطالعہ کا بہت اچھا موقعہ میّسر تھا اس پر خدانے تقریرو تحریر کی طاقت بھی خاص عطا کی تھی ۔یہ رسالہ نہایت دلچسپ اور قابل دید ہے ۔ روایات چونکہ سب حضرت مولوی صاحب مرحوم کی ذاتی ہیں اس لئے شک و شبہ کی گنجائش سے با لا ہیں ۔ہاں مولوی صاحب کے قلم کے زورنے ان کو بعض جگہ الفاظ کی پابندی سے آزاد کر دیا ہے یعنی معلوم ہوتا ہے کہ کہیں کہیں مفہوم لے کر واقعات کو اپنے طرز کلام میں بیان کر دیا ہے ۔تاریخ تصنیف جنوری ۱۹۰۰ء ہے ۔حضرت مولوی صاحب موصوف کی وفات ۱۹۰۵ء میں ہوئی تھی ۔کیا خوب ہوتا اگر مولوی صاحب اس رسالہ کو زیادہ مکمل و مبسوط کر جاتے ۔یہ رسالہ سوانح کے حصہ سے بالکل خالی ہے یعنی سیرت و خلق ذاتی پر روشنی ڈالنے کیلئے صرف جُستہ جُستہ واقعات لے لئے ہیں مگر ہر لفظ عشق و محبت میں ڈوبا ہو ا ہے۔ناظرین اس مختصر رسالہ کا ضرور مطالعہ کریں ۔
    (۲) احمد علیہ السلام بزبان انگریزی مصنفہ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔اے
    مولوی صاحب موصوف پرانے احمدی ہیں ۔غالباً ۱۸۹۷ء میں احمدی ہو ئے تھے ۔حضر ت مسیح موعود ؑ کی زندگی کے آخری چندسال قادیان ہجرت کر آئے تھے اور حضرت صاحب نے ان کو اپنے مکان کے ایک حصہ میں جگہ دی تھی اور ریویو کی ایڈیٹری ان کے سپرد کی تھی ۔ مولوی صاحب حضر ت صاحب کے زمانہ میں مقربین میں سمجھے جاتے تھے مگر افسوس اپنے بعض دوستوں اور نیز زمانہ کے اثر کے نیچے آکر فتنہ کی رومیں بہہ گئے ۔ ان کی انگریزی تصنیف ’’احمد علیہ السلام‘‘ مختصر طور پرحضر ت مسیح موعود ؑ کے سوانح اور سیر ت پر مشتمل ہے اور دلچسپ پیرایہ میں لکھی گئی ہے ،سوانح کے معاملے میں کوئی خاص تحقیق نہیں کی گئی بلکہ عام معروف باتوں کو لکھ دیا ہے ۔ سیرت کا حصہ عموماً اپنے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ہے اور عمدہ طور پر لکھا گیا ہے،تاریخ تصنیف ۱۹۰۶ء ہے ۔
    ( ۳) حضرت مسیح موعود کی زندگی کے مختصر حالات مصنفہ میاں معراج دین صاحب عمر لاہوری
    میاں صاحب موصوف پرانے احمدی ہیں ۔ہجرت نہیں کی لیکن حضر ت مسیح موعود ؑ کی صحبت کافی اٹھائی ہے اور ذہین اور منشی آدمی ہیں ۔یہ مضمون براہین احمدیہ کے ایک ایڈیشن کے ساتھ شامل ہوکر شائع ہوا ہے ۔اور آپ کے خاندانی حالات سوانح و سیرت پر مشتمل ہے جو عمدگی کے ساتھ مرتب کئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ واقعات میں کوئی مستقل تحقیق نہیں کی گئی ۔بلکہ عمو ماً معروف واقعات کو لے لیا ہے۔ تاریخ تصنیف ۱۹۰۶ء ہے ۔
    (۴)حیات النبی ۔مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی ۔شیخ صا حب موصوف پرانے احمدی ہیں ۔ اور سلسلہ کے خاص آدمیوں میں سے ہیں مہاجر ہیں اور کئی سال حضرت مسیح موعود کی صحبت اُٹھا ئی ہے ۔ ان کے اخبار الحکم میں سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے سوانح اور سیرت کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ شیخ صاحب کو شروع سے ہی تاریخ سلسلہ کے محفوظ رکھنے اور جمع کرنے کا شوق رہاہے اور در اصل صرف حیات النبی ہی وہ تصنیف ہے جو اس وقت تک حضرت مسیح موعود ؑ کے سوانح اور سیرت میں ایک مستقل اور مفصل تصنیف کے طور پر شروع کی گئی ہے ۔ اس کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور قابل دید ہیں ۔ تاریخ تصنیف ۱۹۱۵ء ہے ۔
    (۵)تذکرۃ المہدی ۔مصنفہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی جو بہت پرانے احمدی ہیں ۔غالباً ۸۲-۱۹۸۱ء سے اُن کی قادیان میں آمد ورفت شروع ہوئی تھی ۔حضرت صاحب کی صحبت بھی بہت اُٹھائی ہے ۔ بلکہ کئی سال قادیان آکر خدمت میں رہے ہیں ۔لکھنے اور بات کرنے کا پیرایہ پرانے انداز کا ہے مگر اپنے اندر کشش رکھتا ہے ۔اُن کی تصنیف تذکرۃ المہدی بہت دلچسپ ہے۔مسلسل سوانح نہیں بلکہ جستہ جستہ واقعات ہیں مگر خوب تفصیل اور بسط کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں اور سب چشم دید باتیں لکھی ہیں ۔گویا اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے ۔عموماً سفروں میں حضرت کے ہمرکاب رہے ہیں ۔اُن کی کتاب اپنے رنگ میںبہت دلچسپ اور قابل دید ہے ۔کتاب کے دو حصے شائع ہو چکے ہیں ۔تاریخ تصنیف ۱۹۱۴ء ہے ۔ ز
    (۶)سیرت مسیح موعود ؑ مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی ۔یہ ایک مختصر رسالہ ہے ۔ جس میں وفات تک کے معروف و مشہور واقعات درج ہیں ۔اس میں کوئی مستقل یا مفصل تاریخی تحقیق نہیں کی گئی ۔ بلکہ صرف عام معروف سوانح کو بیان کر دیا گیا ہے ۔اور دراصل اس کی اشاعت سے غرض بھی یہی تھی ۔اسلوب بیان اور عام طرز تحریر کے متعلق مصنف کے نام نامی سے قیاس ہو سکتا ہے ۔تاریخ تصنیف ۱۹۱۶ء ہے ۔
    ان کے علاوہ دو عیسائی امریکن پادریوں نے بھی انگریزی میں حضرت مسیح موعود کے حالات لکھے ہیں ۔یعنی (۱) ڈاکٹر گرس فولڈ پر وفیسر مشن کالج لاہو ر اور (۲) مسٹر والٹر سیکرٹری ینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن لاہور ۔ ان میں سے ڈاکٹر گرس فولڈ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا تھا ۔لیکن مسٹر والٹر نہیں ملا ۔مؤخر الذکر کی تصنیف کچھ مفصل ہے اور مقدم الذکر کی مختصر ہے ۔گو معلومات عموماً احمدیہ لٹریچر سے حاصل کی گئی ہیں مگر یہ کتابیں واقعات کی غلطی سے خالی نہیں مگر غلطی بالعموم غلط فہمی سے واقع ہوئی ہے ۔باقی استدلال و استنباط کا وہی حال ہے جو ایک عیسائی پادری سے متوقع ہوسکتا ہے یعنی کچھ تو سمجھے نہیں اور کچھ سمجھے تو اس کا اظہار مناسب نہیں سمجھا ۔تعصب بھی آگ کی ایک چنگاری کی طرح ہے کہ معلومات کے خرمن کو جلا کر خاک کر دیتا ہے ۔مگر خاکسار کی رائے میں تعصب کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جو واقعات کو سمجھنے اور صحیح نتائج پر پہنچنے کے رستے میں ایک بہت بڑی روک ہو جاتی ہے اور وہ اجنبیت اور غیر مذہب اور غیر قوم سے متعلق ہو نا ہے جس کی وجہ سے آدمی بسا اوقات بات کی تَہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔ مگر بہر حال یہ دو تصنیفات بھی قابل دید ہیں۔
    ان کے علاوہ سلسلہ کے اخبارات و رسالہ جات ہیں ۔یعنی الحکم ، البدر ۔ ریویو (انگریزی و اردو) اور تشحیذالاذہان ۔ جن میں وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود ؑ کے حا لات اور ڈائریاں چھپتی رہی ہیں ،ان میں بھی معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔
    پھر خود حضر ت مسیح موعود ؑ کی اپنی تصنیفات ہیں یعنی ۸۰کے قریب کتب و رسالجات ہیں ۔اور دوسو کے قریب اشتہارات ہیں ان میں بھی حضرت صاحب کی سیرت و سوانح کے متعلق ایک بہت بڑا حصہ آگیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ حصہ سب سے زیادہ معتبر اور یقینی ہے اور درحقیقت حضرت مسیح موعود ؑ کے سوانح کے متعلق جتنی کتب شائع ہوئی ہیں وہ سب سوائے حیات النبی کے زیادہ تر صرف حضرت صاحب کے خود اپنے بیان کردہ حالات پر ہی مشتمل ہیں مگر اس ضمن میں ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض اوقات واقعات کی تاریخ معیّن صورت میں یاد نہیں رہتی تھی درحقیقت حافظہ کی مختلف اقسام ہیں ۔ بعض لوگوں کا حافظہ عموماً پختہ ہوتا ہے مگر ایک خاص محدود میدان میں اچھا کا م نہیں کرتا اور دراصل تاریخوں کو یاد رکھنا خصوصاً جب وہ ایسے واقعات کے متعلق ہوں جو منفرد ہیں اور سلسلہ واقعات کی کسی لڑی میں منسلک نہیں ۔ایک ایسے شخص کیلئے خصوصاً مشکل ہو تا ہے جس کا دماغ کسی نہایت اعلیٰ کام کیلئے بنا یا گیا ہو۔ درحقیقت واقعات کی تاریخوں کو یاد رکھنے کے متعلق جو حافظہ کی طاقت ہے وہ انسانی دماغ کی دوسری طاقتوں کے مقابلہ میں ایک ادنیٰ طاقت ہے بلکہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کی یہ طاقت تیز ہوتی ہے وہ بالعموم دماغ کے اعلیٰ طاقتوں میں فروتر ہو تے ہیں ۔واللہ اعلم
    { 182} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب نے تم بچوں کی شادیاں تو چھوٹی عمر میں ہی کر دی تھیں مگر اُن کا منشا ء یہ تھا کہ زیادہ اختلا ط نہ ہو تاکہ نشوونما میں کسی قسم کا نقص پیدا نہ ہو ۔
    { 183} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کہ جب میں پہلے پہل قادیان آیا تو اُسی دن شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری بھی ایک عیسائی نوجوان کو مسلمان کر نے کیلئے ساتھ لائے تھے ۔ہم دونوں اکٹھے ہی حضرت مسیح موعود کے سامنے پیش ہوئے ۔لیکن حضرت مسیح موعود نے میری بیعت تو لے لی اور اسکو درخواست بیعت کے خط کے جواب میں لکھا کہ پھر بیعت لیں گے ابھی ٹھہر و حالانکہ اُس کو حضرت صاحب کے سامنے شیخ رحمت اللہ صاحب نے پیش کیا تھا جو ایک بڑے آدمی تھے اور حضرت صاحب کو اُن کا بہت خیال تھا ۔اس عیسائی نوجوان نے دوبارہ حضرت صاحب کو لکھا مگر اس دفعہ بھی حضرت صاحب نے یہی جواب دیا کہ پھر بیعت لیں گے ۔پھر اس نے تیسری دفعہ لکھا کہ کوئی دن مقرر کر دیا جائے ۔ اس دن غالباًمنگل یا بدھ تھا ۔حضرت صاحب نے کہا جمعرات کے دن بیعت لیں گے ۔یہ جواب لے کر وہ شخص نا راض ہو کر چلا گیا اور پھر عیسائی ہو گیا ۔اس کے بعد کسی نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ وہ لڑکا تو واپس جا کر عیسائی ہو گیا ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں بھی اسی لئے توقف کرتا تھا اور فرمایا کہ جو لوگ ہندوؤں سے مسلمان ہوتے ہیں وہ عموماً سچے دل سے ہوتے ہیں ۔اور ان میں ایمان کی محبت ہوتی ہے ۔ مگر عیسائیوں میں سے اسلام کی طرف آنے والے بالعموم قابل اعتبار نہیں ہوتے ۔ مجھے اس لڑکے پر اعتماد نہیں تھا اور میں چاہتا تھا کہ وہ کچھ عرصہ اور ٹھہرے۔
    { 184} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عزیزم مرزا رشید احمد صاحب (جو مرزا سلطان احمد صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے )کے ذریعے مرزا سلطان احمد صاحب سے دریافت کیا تھا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود ؑ کے سن ولادت کے متعلق کیا علم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے ۔ ۱۸۳۶ء میں آپ کی ولادت ہوئی تھی ۔
    { 185} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے افسر ڈاک (یعنی پرائیویٹ سیکرٹری ) کی معرفت مرزا سلطان احمد صاحب سے دریافت کیا تھا کہ آپ کی پیدائش کس سال کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اچھی طرح معلوم نہیں ۔بعض کاغذوں میں تو ۱۸۶۴ء لکھا ہے ۔ مگر ہندو پنڈت مجھے کہتا تھا کہ میری پیدائش۱۹۱۳ء بکرمی کی ہے اور میں نے سنا ہے کہ والد صاحب کی عمر میری ولادت کے وقت کم وبیش اٹھارہ سال کی تھی ۔خاکسار عرض کرتا ہے ۔۱۹۱۳ء بکرمی والی روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ دوسرے قرائن اس کے مؤید ہیں ۔نیز یہ بات بھی اس کے حق میں ہے کہ ہندو عموماً جنم پتری کی حفاظت میں بہت ماہر ہوتے ہیں ۔اس لحاظ سے مرزا سلطان احمد صاحب کی پیدائش ۱۸۵۶ء کے قریب کی بنتی ہے ۔اور اگر اس وقت حضرت صاحب کی عمر ۱۸یا ۱۹ سال سمجھی جاوے تو آپ کا سن ولادت وہی۳۷۔ ۱۸۳۶ء کے قریب پہنچتا ہے ۔پس ثابت ہوا کہ ۱۸۳۶ ء والی روایت صحیح ہے۔ اس کا ایک اوربھی ثبوت ہے اور وہ یہ کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے (دیکھو التبلیغ آئینہ کمالات اسلام)اور بیان بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہماری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے تھے اور فراخی میسّر آگئی تھی اور اسی لئے وہ میری پیدائش کو مبارک سمجھا کرتی تھیں۔اب یہ قطعی طور پر یقینی ہے کہ را جہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں ہی خاندان کے مصائب کے دن دور ہو کر فراخی شروع ہو گئی تھی اور قادیان اور اس کے ارد گرد کے بعض مواضعات دادا صاحب کو راجہ رنجیت سنگھ نے بحال کر دیئے تھے اور دادا صاحب کو اپنے ماتحت ایک معزز عہدہ فوجی بھی دیا تھا اور را جہ کے ماتحت دادا صاحب نے بعض فوجی خدمات بھی سرانجام دی تھیں ۔پس بہر حال حضرت صاحب کی پیدائش رنجیت سنگھ کی موت یعنی ۱۸۳۹ء سے کچھ عرصہ پہلے ماننی پڑے گی ۔لہٰذا اس طرح بھی ۱۸۳۶ء والی روایت کی تصدیق ہوتی ہے ۔ وھو المراد ۔اور حضرت صاحب نے جو۱۸۳۹ء لکھا ہے سو اس کو خود آپ کی دوسری تحریریں رد کرتی ہیں ۔ چنانچہ ایک جگہ آپ نے ۱۹۰۵ء میںاپنی عمر ۷۰ سال بیان کی ہے اور وہاں یہ بھی لکھا ہے یہ تمام اندازے ہیں ۔صحیح علم صرف خدا کو ہے ۔خاکسار عر ض کرتا ہے کہ میری تحقیق میں اوائل ۱۲۵۲ھ میں آپ کی ولادت ہوئی تھی اور وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی۔واللہ اعلم ۔
    { 186} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ۔کہ میں بچپن میںوالد صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تا ریخ فرشتہ ،نحو میر اور شائد گلستان ۔بوستان پڑھا کرتا تھا اور والدصاحب کبھی کبھی پچھلا پڑھا ہوا سبق بھی سنا کرتے تھے ۔مگر پڑھنے کے متعلق مجھ پر کبھی ناراض نہیں ہوئے ۔حالانکہ میں پڑھنے میں بے پرواہ تھا لیکن آخر دادا صاحب نے مجھے والدصاحب سے پڑھنے سے روک دیا اور کہا کہ میں نے سب کو ملّاں نہیں بنادینا ۔تم مجھ سے پڑھا کرو مگر ویسے داداصاحب والد صاحب کی بڑی قدر کرتے تھے ۔
    { 187} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چو بارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی چنانچہ آخری عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صا حبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اُترنے لگے تھے سامنے سٹول رکھا تھا وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا ۔اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جا سکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اُٹھا سکتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔
    { 188} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب تیرنا اور سواری خوب جانتے تھے ۔ اور سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بچپن میں مَیں ڈوب چلا تھا ۔تو ایک اجنبی بڈھے سے شخص نے مجھے نکالا تھا اس شخص کو میں نے اس سے قبل یا بعد کبھی نہیں دیکھا ۔نیز فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ ایک گھوڑے پر سوار ہوا ۔اس نے شوخی کی اور بے قابو ہو گیا ۔میں نے بہت روکنا چاہا مگر وہ شرارت پر آمادہ تھا نہ رکا ۔ چنانچہ وہ اپنے پورے زور میں ایک درخت یا دیوار کی طرف بھاگا ۔(اَلشَّکُّ مِنّی)اور پھر اس زور کے ساتھ اس سے ٹکرایا کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا ۔مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بہت نصیحت کیا کرتے تھے کہ سر کش اور شریر گھوڑے پر ہرگز نہیں چڑھنا چاہیے۔اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس گھوڑے کا مجھے مارنے کا ارادہ تھا ۔مگر میں ایک طرف گر کربچ گیا اور وہ مرگیا ۔
    { 189} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب باہر چوبارے میں رہتے تھے ۔وہیں اُن کے لئے کھانا جاتا تھا ۔اور جس قسم کا کھانا بھی ہوتا تھا کھالیتے تھے ۔کبھی کچھ نہیں کہتے تھے ۔
    { 190} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ والد صاحب تین کتابیں بہت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔یعنی قرآن مجید،مثنوی رومی اور دلائل الخیرات اور کچھ نوٹ بھی لیا کرتے تھے اور قرآن شریف بہت کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔
    { 191} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔اے کہ والد صاحب میاں عبد اللہ صاحب غزنوی اور سماں والے فقیر سے ملنے کے لئے کبھی کبھی جایا کرتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدا للہ صاحب غزنوی کی ملاقات کا ذکر حضرت صاحب نے اپنی تحریرات میں کیا ہے ۔اور سماں والے فقیرکے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ اُن کا نام میاں شرف دین صاحب تھا اور وہ موضع سُم نزد طالب پور ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔سُم میں پانی کا ایک چشمہ ہے اور غالباً اسی وجہ سے وہ سُم کہلاتا ہے ۔
    { 192} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ،کہ دادا صاحب ہمارے تا یا مرزا غلام قادر صاحب کو کرسی دیتے تھے ۔یعنی جب وہ دادا صاحب کے پاس جاتے تو وہ ان کو کرسی پر بٹھا تے تھے لیکن والد صاحب جا کر خود ہی نیچے صف کے اوپر بیٹھ جاتے تھے ۔کبھی دادا صاحب ان کو اوپر بیٹھنے کو کہتے تو والد صاحب کہتے کہ میں اچھا بیٹھا ہوں ۔
    { 193} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے، کہ والد صاحب کا دستور تھا کہ سارا دن الگ بیٹھے پڑھتے رہتے تھے ۔اور ارد گرد کتا بوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا ۔ شام کو پہاڑی در وازے یعنی شمال کی طرف یا مشرق کی طرف سیر کرنے جایا کرتے تھے ۔
    { 194} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ،کہ والد صاحب اردو اور فارسی کے شعر کہا کرتے تھے اور فرخ تخلص کرتے تھے ۔
    { 195} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ،کہ والد صاحب دادا صاحب کی کمال تابعداری کرتے تھے ۔افسروں وغیرہ کے ملنے کو خود طبیعت نا پسند کرتی تھی ۔لیکن دادا صاحب کے حکم سے کبھی کبھی چلے جاتے تھے ۔
    { 196} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔ اے نے، کہ میں نے مرزا سلطان احمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت صاحب کے ابتدائی حالات اور عا دات کے متعلق آپ کو جو علم ہو وہ بتائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ والد صاحب ہر وقت دین کے کا م میں لگے رہتے تھے ۔گھر والے اُن پر پورا عتماد کرتے تھے ۔گاؤں والوں کو بھی اُن پر پورا اعتبار تھا۔شریک جو ویسے مخالف تھے ۔ اُن کی نیکی کے اتنے قائل تھے کہ جھگڑوں میں کہہ دیتے تھے کہ جو کچھ یہ کہہ دیں گے ہم کو منظور ہے ۔ہر شخص اُن کو امین جانتا تھا ۔ مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ کچھ اور بتا ئیے ۔مرزا صاحب نے کہا اور بس یہی ہے کہ والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گزاری بلکہ فقیر کے طور پر گزاری ۔اور مرزا صاحب نے اسے باربار دہرایا ۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے دریافت کیا کہ کیا حضرت صاحب کبھی کسی پر ناراض بھی ہوتے تھے ؟ مرزا صاحب نے جواب دیا کہ اُن کی نا راضگی بھی صرف دینی معاملات میں ہوتی تھی ۔ بعض اوقات مجھے نماز کے لئے کہا کرتے تھے مگر میں نماز کے پاس تک نہ جاتا تھا ۔ہاں ایک بات میں نے خاص طور پر دیکھی ہے کہ حضرت صاحب (یعنی آنحضرت ﷺ )کے متعلق والد صاحب ذرا سی بات بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں ذرا سی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور آنکھیں متغیر ہو جاتی تھیں اور فوراً ایسی مجلس سے اُٹھ کر چلے جاتے تھے ۔ مولوی صاحب نے بیان کیا کہ مرزا صاحب نے اس مضمون کو باربار دہرایا اور کہا کہ حضرت صاحب سے تو بس والد صاحب کو عشق تھا ۔ ایسا عشق میں نے کبھی کسی شخص میں نہیں دیکھا ۔خاکسارعر ض کرتا ہے حضرت خلیفہ ثانی بیان کر تے تھے کہ جب دسمبر۱۹۰۷ء میں آریوں نے وچھو والی لاہور میں جلسہ کیا اور دوسروں کو بھی دعوت دی تو حضرت صاحب نے بھی ان کی درخواست پر ایک مضمون لکھ کر حضرت مولوی صاحب خلیفہ اوّل کی امارت میں اپنی جماعت کے چند آدمیوں کو لاہور شرکت کے لئے بھیجا ۔مگر آریوں نے خلاف وعدہ اپنے مضمون میں آنحضرت ﷺ کے متعلق سخت بدزبانی سے کام لیا۔ اس کی رپورٹ جب حضرت صاحب کو پہنچی تو حضرت صاحب اپنی جماعت پر سخت ناراض ہوئے کہ ہماری جماعت کے لوگ اس مجلس سے کیوں نہ اُٹھ آئے اور فرمایا کہ یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایک مجلس میں برا کہا جاوے اور ایک مسلمان وہاں بیٹھا رہے اور غصہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ سخت ناراض ہوئے کہ کیوں ہمارے آدمیوں نے غیر ت دینی سے کام نہ لیا۔ جب انہوں نے بد زبانی شروع کی تھی تو فوراً اس مجلس سے اُٹھ آنا چاہیے تھا۔اور حضرت خلیفہ ثانی بیان کر تے تھے کہ میں اس وقت اٹھنے بھی لگا تھا مگر پھر مولوی صاحب کی وجہ سے ٹھہر گیا اور حافظ روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت صاحب نارض ہو رہے تھے تو آپ نے مجھ سے کہا کہ حافظ صاحب و ہ کیا آیت ہے کہ جب خدا کی آیات سے ٹھٹھا ہو تو اس مجلس میں نہ بیٹھو اس پر میں نے حَتّٰی یَخُوْ ضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ (النّسائ:۱۴۱) والی آیت پڑھ کر سنائی اور حافظ صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت مولوی صاحب سر نیچے ڈالے بیٹھے تھے ۔
    { 197} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ میاں جان محمد والد صاحب کے ساتھ بہت رہتا تھا اور میاں جان محمد کا بھائی غفار ہ والدصاحب کے ساتھ سفروں میں بعض دفعہ بطور خدمت گار کے جایا کرتا تھا ۔اور بعض دفعہ کو ئی اور آدمی چلا جاتا تھا ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ میاں جان محمد قادیان کا ایک نیک مزاج مُلّا تھا اور حضرت صاحب کے ساتھ بہت تعلق رکھتا تھا ۔اوائل میں بڑی مسجد میں نماز وغیرہ بھی وہی پڑھایا کرتا تھا غالباً حضرت خلیفہ ثانی کو بھی بچپن میں اُس نے پڑھا یا تھا ۔غفار ا اُس کا بھائی تھا ،یہ شخص بالکل جاہل اور ان پڑھ تھا ۔اور بعض اوقات حضرت صاحب کی خدمت میں رہتا تھا ۔ بعد میں جب قادیان میں آمدو رفت کی ترقی ہوئی تو اس نے یّکے بنا کر یّکہ بانی شروع کر دی تھی ۔اس کے لڑکے اب بھی یہی کام کر تے ہیں بوجہ جاہل مطلق ہو نے کے غفارے کو دین سے کو ئی مس نہ تھا مگر اپنے آخری دنوں میں یعنی بعہد خلافت ثانیہ احمدی ہوگیا تھا ۔شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کی نصیحت سے غفارے نے اوائل میں جب وہ حضرت صاحب کی خدمت میں تھا نماز شروع کر دی تھی مگر پھر چھوڑ دی ۔اصل میں ایسے لوگ اعراب کے حکم میں ہوتے ہیں مگر جان محمد مرحوم نیک آدمی تھا اور کچھ پڑھا ہوا بھی تھا ۔ اُس کے لڑکے میاں دین محمد مرحوم عرف میاں بگا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہونگے ۔قوم کا کشمیری تھا ۔
    { 198} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے ،کہ ہمارے ساتھ والد صاحب کے بہت کم تعلقات تھے ۔یعنی میل جول کم تھا ۔وہ ہم سے ڈرتے تھے اور ہم اُن سے ڈرتے تھے (یعنی وہ ہم سے الگ الگ رہتے تھے اور ہم اُن سے الگ الگ رہتے تھے کیونکہ ہر دو کا طریق اور مسلک جدا تھا ) اور چونکہ تایا صاحب مجھے بیٹوں کی طرح رکھتے تھے اور جائداد وغیرہ بھی سب اُنہی کے انتظام میں تھی ۔والد صاحب کا کچھ دخل نہ تھا اس لئے بھی ہمیں اپنی ضروریات کے لئے تایاصاحب کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا تھا ۔
    { 199} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیا ن کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولو ی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے، کہ والد صاحب کی ایک بہن ہوتی تھیں ان کو بہت خواب اور کشف ہو تے تھے ۔مگر داد ا صاحب کی ان کے متعلق یہ رائے تھی کہ ان کے دماغ میں کو ئی نقص ہے ۔لیکن آخر انہوں نے بعض ایسی خوابیں دیکھیں کہ داد اصاحب کو یہ خیال بدلنا پڑا ۔ چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کوئی سفید ریش بڈھا شخص ان کو ایک کاغذ جس پر کچھ لکھا ہوا ہے بطور تعویذ کے دے گیا ہے ۔جب آنکھ کھلی تو ایک بھوج پتر کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا جس پر قرآن شریف کی بعض آیات لکھی ہو ئی تھیں ۔پھر انہوں نے ایک اور خواب دیکھا کہ وہ کسی دریا میں چل رہی ہیں جس پر انہوں نے ڈر کر پانی پانی کی آواز نکالی اور پھر آنکھ کھل گئی ۔دیکھا تو ان کی پنڈلیاںتر تھیں اور تازہ ریت کے نشان لگے ہو ئے تھے ۔ داداصاحب کہتے تھے کہ ان باتوں سے خلل دماغ کو کوئی تعلق نہیں ۔
    { 200} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیامجھ سے مرزا سلطا ن احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے ،کہ ایک دفعہ والد صاحب سخت بیمار ہو گئے اور حالت نازک ہو گئی اور حکیموں نے نا امیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہو گئی مگر زبان جاری رہی ۔والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو چنانچہ ایسا کیا گیا اور اس سے حالت روباصلا ح ہو گئی ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے لکھا ہے کہ یہ مرض قولنج زحیری کا تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھا یا تھا کہ پانی اور ریت منگوا کر بدن پر ملی جاوے ۔ سو ایسا کیا گیا تو حالت اچھی ہوگئی ۔مرزاسلطان احمد صاحب کو ریت کے متعلق ذہول ہو گیا ہے ۔
    { 201} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت صاحب ایک دفعہ غیر معمولی طور پر غرب کی طرف سیر کو گئے تو راستے سے ہٹ کر عید گاہ والے قبرستان میں تشریف لے گئے اور پھر آپ نے قبرستان کے جنوب کی طرف کھڑے ہو کر دیر تک دعا فرمائی ۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا آپ نے کوئی خاص قبر سامنے رکھی تھی ؟ مولوی صاحب نے کہا میں نے ایسا نہیں خیال کیا اور میں نے اس وقت دل میں یہ سمجھا تھا کہ چونکہ اس قبرستا ن میں حضرت صاحب کے رشتہ داروں کی قبریں ہیں اس لئے حضرت صاحب نے دعا کی ہے ۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ وہاں ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر دعا کی تھی ۔مولوی صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کی لڑکی امۃ النصیر فوت ہو ئی تو حضرت صاحب اسے اسی قبرستان میں دفنانے کیلئے لے گئے تھے اور آپ خود اسے اُٹھا کر قبر کے پاس لے گئے ۔ کسی نے آگے بڑ ھ کرحضور سے لڑکی کو لینا چاہا مگر آپ نے فرمایا کہ میں خود لے جائوں گا اور حافظ روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت صاحب نے وہاں اپنے کسی بزرگ کی قبر بھی دکھائی تھی ۔
    { 202} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ میرے چچا مولوی شیر محمد صاحب مرحوم بیان کرتے تھے کہ اوائل میں بعض اوقا ت حضرت مسیح موعودؑ بھی حضر ت مولوی نورالدین صاحب کے درس میں چلے جایا کرتے تھے ۔ایک دفعہ مولوی صاحب نے درس میں بدر کی جنگ کے موقع پرفرشتے نظر آنے کا واقعہ بیان کیا اور پھر اس کی کچھ تاویل کر نے لگے تو حضر ت صاحب نے فرمایا کہ نہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے دیکھنے میں نبی کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شریک ہو گئے ہوں ۔
    { 203} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا تھا اس دن میں نے حضرت صاحب کو باغ میں آٹھ نو بجے صبح کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تھا اور میں نے دیکھا کہ آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی تھی۔
    { 204} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دن حضرت صاحب شمال کی طرف سیر کو تشریف لے گئے۔ راستہ میں کسی نے حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا کہذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ(یوسف:۵۳) والی آیت کے متعلق مولوی نورالدین صاحب نے بیان کیا ہے کہ یہ زلیخا کا قول ہے ۔حضرت صاحب نے کہا کہ مجھے کو ئی قرآن شریف دکھائو چنانچہ ماسٹر عبدالرئوف صاحب نے حمائل پیش کی آپ نے آیت کا مطالعہ کر کے فرمایا کہ یہ تو زلیخا کا کلام نہیں ہو سکتا ۔یہ یوسف علیہ السلام کا کلام ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے دوسرے طریق پر سنا ہے کہ اس وقت وَمَا أُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَ مَّارَۃٌ بِا لسُّوئِ (یوسف:۵۴) کے الفاظ کا ذکر تھا اور یہ کہ حضر ت صاحب نے اس وقت فرمایا تھا کہ یہ الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ زلیخا کا کلام نہیں بلکہ نبی کا کلام ہے کیونکہ ایسا پاکیزہ،پر معنی کلام یوسف ہی کے شایا ن شان ہے ۔زلیخا کے منہ سے نہیں نکل سکتا تھا۔
    { 205} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے ، کہ والد صاحب عموماً غرارا پہنا کرتے تھے۔مگر سفروں میں بعض اوقات تنگ پاجامہ بھی پہنتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جیسا کہ ناظرین بھی سمجھتے ہوںگے۔مرزا سلطان احمد صاحب کی سب روایات حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ شباب یا کہولت کے متعلق سمجھنی چاہئیں۔طفولیت یا بڑھاپے کی عمر کے متعلق اگر ان کی کوئی روایت ہو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ عموماً انہوں نے وہ کسی اور سے سن کر بیان کی ہے۔ کیونکہ اس زمانہ میں انکا تعلق حضرت مسیح موعود سے نہیں رہا تھا ۔الا ماشاء اللہ۔
    { 206} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ میں نے مرزا سلطان احمد صاحب سے سوال کیا تھا کہ حضرت صاحب سے زیادہ تر قادیان میں کن لوگوں کی ملاقات تھی؟ مرزا صاحب نے کہا کہ ملاوامل اور شرم پت ہی زیادہ آتے جاتے تھے کسی اور سے ایسا راہ ورسم نہ تھا ۔
    { 207} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسٹر میکانکی ڈپٹی کمشنر گورداسپور قادیان دورہ پر آئے ۔راستے میں انہوں نے دادا صاحب سے کہا کہ آپکے خیال میں سکھ حکومت اچھی تھی یا انگریزی حکومت اچھی ہے ؟ دادا صاحب نے کہا کہ گائوں چل کر جواب دوں گا ۔جب قادیان پہنچے تو داد اصاحب نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے مکانات دکھا کر کہا کہ یہ سکھوں کے وقت کے بنے ہو ئے ہیں مجھے امید نہیں کہ آپ کے وقت میں میرے بیٹے ان کی مرمت بھی کر سکیں ۔
    خاکسارعرض کرتا ہے کہ سکھوں کی حکومت قدیم شاہی رنگ کے طرز پر تھی۔ اب اور رنگ ہے اور ہر رنگ اپنی خوبیاں رکھتا ہے ۔
    { 208} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطا ن احمد صاحب نے بیان کیا کہ میں نے تحصیلداری کا امتحان ۱۸۸۴ء میں دیا تھا اس وقت میں نے والد صاحب کودعا کیلئے ایک رقعہ لکھا تو انہوں نے رقعہ پھینک دیا اور فرمایا ’’ ہمیشہ دنیا داری ہی کے طالب ہوتے ہیں ‘‘۔ جو آدمی رقعہ لے کر گیا تھا اس نے آکر مجھے یہ واقعہ بتا یا ۔اس کے بعد والد صاحب نے ایک شخص سے ذکر کیا کہ ہم نے تو سلطا ن احمد کا رقعہ پھینک دیا تھا مگر خدا نے ہمیں القاء کیا ہے کہ ’’اس کو پاس کر دیا جاوے گا ‘‘۔اس شخص نے مجھے آکر بتا دیا چنانچہ میں امتحان میں پاس ہو گیا ۔
    { 209} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ ان سے مرزا سلطا ن احمد صاحب نے بیان کیا کہ داد اصاحب نے قریباًساٹھ سال طبابت کی ۔مگرکبھی کسی سے ایک پائی تک نہیں لی ۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ بڑے مرزا صاحب نے کبھی علاج کے معاوضہ میں کسی سے کچھ نہیں لیا یعنی اپنی طبابت کو ہمیشہ ایک خیراتی کام رکھا اور اس کو اپنی معاش کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ بعض دفعہ بعض لوگوں نے آپ کو بہت بہت کچھ دینا چاہا مگر آپ نے انکار کردیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ میاںمعراج دین صاحب عمر نے اپنے مضمون میں ہمارے دادا صاحب کے متعلق یہ کس طرح لکھ دیا کہ ’’ خوش قسمتی سے طبابت کا جوہر ہاتھ میں تھا اس کی بدولت گذارا چلتا گیا ۔‘‘ اور پھر یہ بات اس زمانہ کے متعلق لکھی ہے کہ جب پڑدادا صاحب کی وفات ہوئی تھی۔
    چہ خوش یک نہ شد دو شد
    { 210} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ والد صاحب رجب علی کا اخبار ’’سفیر امرتسر‘‘ اور اگنی ہوتری کا رسالہ ’’ہندو بندو‘‘ اور اخبار ’’منشور محمدی‘‘ منگا یا اور پڑھا کرتے تھے اور مؤخر الذکر میں کبھی کبھی کو ئی مضمون بھی بھیجا کر تے تھے ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ آخری عمر میں حضرت صاحب ’’اخبار عام‘‘ لاہور منگایا کرتے تھے ۔
    { 211} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جس دن میں قادیان بیاہی ہوئی پہنچی تھی اسی دن مجھ سے چند گھنٹے قبل مرزا سلطان احمد اپنی پہلی بیوی یعنی عزیز احمد کی والدہ کو لے کر قادیان پہنچے تھے ۔اور عزیز احمد کی والدہ مجھ سے کچھ بڑی معلوم ہوتی تھیں اور والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ فضل احمد کی شادی مرزا سلطان احمد سے بھی کئی سال پہلے ہو چکی تھی ۔
    { 212} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضر ت صاحب کے ایک حقیقی ماموں تھے (جن کا نام مرزا جمعیت بیگ تھا ) ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئے اور ان کے دماغ میں کچھ خلل آگیا تھا ۔ لڑکے کا نام مرزا علی شیر تھا اور لڑکی کا نام حرمت بی بی ۔لڑکی حضرت صاحب کے نکاح میں آئی اور اسی کے بطن سے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے ۔مرزا علی شیر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی بہن حرمت بی بی سے بیاہا گیا جس سے ایک لڑکی عزت بی بی پیدا ہو ئی ۔یہ عزت بی بی مرزا فضل احمد کے نکاح میں آئی ۔مرز ا احمد بیگ کی دوسری بہن امام بی بی مرزا غلام حسین کے عقد میں آئی تھی ۔ مرزا سلطان احمد کی پہلی بیوی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھی اور حضرت صاحب اس کو اچھا جانتے تھے ۔ مرزا سلطان احمد نے اسی بیوی کی زندگی میں ہی مرزا امام الدین کی لڑکی خورشید بیگم سے نکا ح ثانی کر لیا تھا اس کے بعد عزیز احمد کی والدہ جلد ہی فوت ہو گئی ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دادی یعنی تمہارے داد ا صاحب کی والدہ بہت عرصہ تک زندہ رہیں ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے ان کو دیکھا تھا مگر بوجہ درازیٔ عمر ان کے ہوش و حواس میں کچھ فرق آگیا تھا۔تمہارے دادا صاحب کے بھائی مرزا غلام محی الدین کی اولاد کی تفصیل یہ ہے اول حرمت بی بی جو تمہارے تایا صاحب مرزا غلام قادر صاحب کے عقد میں آئیں اور اب تائی کے نام سے معروف ہیں ان کے ہاں ایک لڑکی عصمت اور ایک لڑکا عبدالقادر پیدا ہوئے تھے مگر بچپن میں ہی فوت ہوگئے دوسرے مرزا امام الدین ۔تیسرے مرزا نظام الدین ۔چوتھے مرزا کمال ا لدین ۔پانچویں عمر النساء اور صفتاں جو توام پیدا ہوئیں ۔ان میں سے مقدم الذکر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے نکاح میں آئی اور مؤخر الذکر ہوشیار پور کے ضلع میں کسی جگہ بیاہی گئی تھی مگر بے اولاد فوت ہو گئی ۔چھٹے فضل النساء جو مرزا اعظم بیگ لاہوری کے لڑکے مرزا اکبر بیگ کے عقد میں آئی ۔مرزا احسن بیگ صاحب جو احمدی ہیں انہی کے بطن سے ہیں ۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیاکہ مرزا امام الدین حضرت صاحب سے بڑے تھے باقی سب باستثناء تمہاری تائی کے جو مرزا امام الدین سے بھی بڑی ہیں حضرت صاحب سے چھوٹے تھے ۔اور والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ تائی تمہارے تایا مرزا غلام قادر صاحب سے بھی کچھ بڑی ہیں نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ تمہارے تایا کے بعد تمہارے داد ا کے ہاں دو لڑکے پیدا ہو کر فوت ہوگئے تھے اسی لئے میں نے سنا ہے کہ حضرت صاحب کی ولادت پر آپ کے زندہ رہنے کے متعلق بڑی منتیں مانی گئی تھیں اور گویا ترس ترس کر حضرت صاحب کی پرورش ہو ئی تھی ۔ اگر تمہارے تایااورحضرت صاحب کے درمیان کو ئی غیر معمولی وقفہ نہ ہوتا یعنی بچے پیدا ہوکر فوت نہ ہو تے تو اس طرح منتیں ماننے اور ترسنے کی کوئی وجہ نہ تھی پس ضرور چند سال کا وقفہ ہوا ہوگا اور مرزا سلطان احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ شاید پانچ یا سات سال کا وقفہ تھا ۔اور والد ہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے جہاں تک یاد ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تمہارے داد ا کے ہاں ایک لڑکا ہوا جو فوت ہوگیا پھر تمہاری پھوپھی مراد بی بی ہوئیں پھر تمہارے تایا پیدا ہوئے پھر ایک دو بچے ہو ئے جو فوت ہو گئے پھر حضر ت صاحب اور جنت توام پیدا ہوئے اور جنت فوت ہوگئی اور والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ تمہاری تائی کہتی تھیں کہ تمہارے تایا اور حضرت صاحب اوپر تلے کے تھے مگر جب میں نے منتیں ماننے اور ترسنے کا واقعہ سنا یا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا مگر اصل امر کے متعلق خاموش رہیں ۔
    { 213} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ بٹالہ کے را جہ تیجا سنگھ کو ایک خطر نا ک قسم کا پھوڑا نکلا۔بہت علاج کئے گئے مگر کچھ فائدہ نہ ہوا آخر اس نے دادا صاحب کی خدمت میں آدمی بھیجا ۔ داداصاحب گئے اور ( خداکے فضل سے ) وہ اچھا ہو گیا ۔اس پر راجہ مذکور نے دادا صاحب کو ایک بڑی رقم اور خلعت اور دو گائوں شتاب کوٹ اور حسن پور یا حسن آباد جو آپکی قدیم ریاست کا ایک جزو تھے پیش کئے اور ان کے قبول کر نے پر اصرار کیا مگر داد اصاحب نے یہ کہہ کر صاف انکا رکر دیا کہ میں ان دیہات کو علاج کے بدلے میں لینا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے موجب ہتک سمجھتا ہوں ۔
    { 214} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ داد ا صاحب نہایت وسیع الاخلاق تھے اور دشمن تک سے نیک سلوک کر نے میں دریغ نہ کرتے تھے چنانچہ ایک دفعہ جُوتی ولددولہ برہمن جس نے ایک دفعہ ہمارے خلاف کو ئی شہادت دی تھی بیمار ہو گیا تو داد اصاحب نے اس کا بڑی ہمدردی سے علاج کیا اور بعض لوگوں نے جتلایا بھی کہ یہ وہی شخص ہے جس نے خلاف شہادت دی تھی ۔مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہیں کی ۔ایسی ایسی اور بھی کئی مثالیں ہیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ داد اصاحب کی بلند ہمتی اور وسعت حوصلہ مشہور ہے ۔
    { 215} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزاسلطان احمد صاحب نے کہ داد اصاحب شعر بھی کہا کرتے تھے اور تحسین تخلص کرتے تھے۔چنانچہ ان کے دو شعر مجھے یاد ہیں ۔ ؎
    اے وائے کہ مابہ ماچہ کردیم
    کردیم ناکردنی ہمہ عمر
    دردِسَر من مشو طبیبا
    ایں دردِ دل است دردِسر نیست
    خاکسارعر ض کرتا ہے کہ داد اصاحب کے بعض شعر حضرت صاحب نے بھی نقل کئے ہیں ۔اور مرزا سلطان احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اُن کا کلام جمع کر کے حافظ عمردراز صاحب ایڈیٹر پنجابی اخبار کو دیا تھا مگر وہ فوت ہو گئے ۔اور پھر نہ معلوم وہ کہاں گیا ۔نیز مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ تایا صاحب بھی شعر کہتے تھے انکا تخلص مفتون تھا ۔نیز بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک ایرانی قادیان میں آیا تھا وہ داداصاحب سے کہتا تھا کہ آپ کا فارسی کلام ایسا ہی فصیح ہے جیسا کہ ایرانی شاعروں کا ہوتا ہے ۔
    { 216} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ بٹالہ کے ایک ہندو حجام نے دا دا صاحب سے کہا کہ میری معافی ضبط ہو گئی ہے آپ ایجرٹن صاحب فنانشل کمشنر سے میری سفارش کریں ۔داد اصاحب اُسے اپنے ساتھ لاہور لے گئے ۔ اُس وقت لاہور کے شالا مار باغ میں ایک جلسہ ہو رہا تھا ۔دا دا صاحب نے وہاں جاکر جلسہ کی کارروائی ختم ہونے کے بعد ایجرٹن صاحب سے کہا کہ آپ اس شخص کا ہاتھ پکڑ لیں۔صاحب گھبرایا کہ کیا معاملہ ہے مگرداد اصاحب نے اصرار سے کہا تو اس نے ان کی خاطر اس حجام کا ہاتھ پکڑ لیا ۔اس کے بعد داد ا صاحب نے صاحب سے کہا کہ ہمارے ملک میں دستور ہے کہ جب کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں توپھر خواہ سر چلاجائے چھوڑتے نہیں ۔اب آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ ا ہے اس کی لاج رکھنا ۔پھر کہا کہ اس کی معافی ضبط ہو گئی ہے ۔ کیا معافیاں دیکر بھی ضبط کیا کرتے ہیں ؟ اس کی معافی بحال کر دیں ۔ایجرٹن صاحب نے اس کی مسل طلب کر کے معافی بحال کر دی ۔ یہی ایجرٹن صاحب بعد میں پنجاب کا لفٹیننٹ گورنر ہوگیا تھا ۔
    { 217} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ دا دا صاحب میں خود داری بہت تھی ۔ایک دفعہ رابرٹ کسٹ صاحب کمشنر سے ملاقات کیلئے گئے ۔باتوں باتوں میں ا س نے پوچھا کہ قادیان سے سری گوبند پور کتنی دور ہے ؟ دادا صاحب کو یہ سوال ناگوار ہوا ۔فوراً بولے میں ہر کارہ نہیں اور سلام کہہ کر رخصت ہونا چاہا۔صاحب نے کہا مرزا صاحب آپ ناراض ہو گئے ؟ دادا صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے اپنی باتیں کر نے آتے ہیں اور آپ اِدھر اُدھر کی باتیں پوچھتے ہیں جو آپ نے مجھ سے پوچھا ہے وہ میرا کام نہیں ہے ۔صاحب داد اصاحب کے اس جواب پر خوش ہوا ۔
    { 218} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ جب ڈیوس صاحب اس ضلع میں مہتمم بندوبست تھا اور ان کا عملہ بٹالہ میں کام کرتا تھا ۔قادیان کا ایک پٹواری جو قوم کا برہمن تھا اور محکمہ بندوبست مذکور میں کام کرتا تھا ۔تایا صاحب مرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ گستاخانہ رنگ میں پیش آیا ۔تایا صاحب نے وہیں اسکی مرمت کر دی۔ڈیوس صاحب کے پاس شکایت گئی ۔اُس نے تایا صاحب پر ایک سو روپیہ جر مانہ کر دیا ۔دا دا صاحب اُس وقت امرتسر میں تھے ان کو اطلاع ہوئی تو فوراً ایجرٹن صاحب کے پاس چلے گئے اور حالات سے اطلاع دی اس نے داد اصاحب کے بیان پر بلا طلب مسل جرمانہ معاف کر دیا ۔
    { 219} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ تایا صاحب پولیس میں ملازم تھے۔ نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع نے کسی بات پر اُن کو معطل کر دیا اس کے بعد جب نسبٹ صا حب قادیان آیا تو خود دادا صاحب سے ذکر کیا کہ میں نے آپ کے لڑکے کو معطل کر دیا ہے دادا صاحب نے کہا کہ اگر قصور ثابت ہے تو ایسی سخت سزا دینی چاہئے کہ آئندہ شریف زادے ایسا قصور نہ کریں ۔ صاحب نے کہا جس کا باپ ایسا ادب سکھانے والا ہو اس کو سزا دینے کی ضرورت نہیں ۔ اور تایا صاحب کو بحال کر دیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ تایا صاحب نے بھی بہت سے محکموں میں کام کیا ہے ۔پولیس میں بھی کام کیا ہے ۔ضلع کے سپرنٹنڈ نٹ بھی رہے ہیں ۔اور سُنا ہے نہر میں بھی کام کیا تھا اور بعض کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری کاموں کی ٹھیکہ داری بھی کی ہے ۔ چنانچہ میں نے ۱۸۶۰ء کے بعض کاغذات دیکھے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تایا صاحب نے چھینہ کے پاس کسی پل کا بھی ٹھیکہ لیا تھا ۔
    { 220} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ مہاراجہ شیر سنگھ کا ہنوو ان کے چھنب میں شکار کھیلنے کے لئے آیا ۔دادا صاحب بھی ساتھ تھے۔ مہاراجہ کے ایک ملازم کو جو قوم کا جولاہا تھا سخت زکام ہو گیا ۔دادا صاحب نے اس کو ایک نسخہ لکھ دیا اور وہ اچھا ہو گیا ۔ لیکن پھر یہی بیماری خود شیر سنگھ کو ہو گئی ۔اور اس نے علاج کے لئے دادا صاحب سے کہا ۔داداصاحب نے ایک بڑا قیمتی نسخہ لکھا ۔شیر سنگھ نے کہا کہ جولاہے کو دو ڈھائی پیسہ کا نسخہ اور مجھے اتنا قیمتی ؟دادا صاحب نے جواب دیا ۔شیر سنگھ اور جولاہا ایک نہیں ہو سکتے ۔شیر سنگھ اس جواب سے بہت خوش ہوا ۔اوراُس زمانہ کے دستور کے مطابق عزت افزائی کے لئے سونے کے کڑوں کی ایک جوڑی پیش کی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اس علاج کے بدلہ میں نہ تھی بلکہ مشرقی رؤساء اور بادشاہوں کا یہ دستورر ہا ہے کہ جب کسی بات پر خوش ہوتے ہیں تو ضرور کچھ چیز تقریب وانعام کے طور پرپیش کرتے ہیں ۔شیر سنگھ نے بھی جب ایسا برجستہ کلام سُناتو محظوظ ہو کر اس صورت میں اظہار خوشنودی کیا ۔
    { 221} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ مرزا امام الدین صاحب نے داداصاحب کے قتل کی سازش کی اور بھینی کے ایک سکھ سوچیت سنگھ کوا س کام کیلئے مقررکیا ۔مگر سوچیت سنگھ کا بیان ہے کہ میں کئی دفعہ دیوان خانہ کی دیوار پر اس نیت سے چڑھا مگر ہر دفعہ مجھے مرزا صاحب یعنی داد اصاحب کے ساتھ دو آدمی محافظ نظر آئے اس لئے میں جرأت نہ کر سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوئی تصرف الہٰی ہو گا ۔
    { 222} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ داد اصاحب حقہ بہت پیتے تھے مگرا ُس میں بھی اپنی شان دکھاتے تھے یعنی جو لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوں ان کو اپنا حقہ نہیں دیتے تھے لیکن غریبوں اور چھوٹے آدمیوں سے کو ئی روک نہ تھی ۔
    { 223} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ داد اصاحب کا تکیہ کلام ’’ ہے بات کہ نہیں ‘‘ تھا جو جلدی میں ’’ ہے باکہ نہیں ‘‘ سمجھا جاتا تھا ،خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے متعلق اور بھی کئی لوگوں سے سناگیا ہے ۔
    { 224} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا ۔دادا صاحب نے اُس کی بڑی خاطر ومدارات کی۔اس مولوی نے داد اصاحب سے کہا کہ مرزا صاحب ! آپ نماز نہیں پڑھتے ؟ داد اصاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بے شک میری غلطی ہے۔مولوی صا حب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے ۔آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے۔ اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا ۔اس پر داد اصاحب کو جوش آگیا اور کہا’’ تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا؟ ۔میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بد ظن نہیں ہوں میری امید وسیع ہے ۔خدا فرماتا ہے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ (الزّمر:۵۴) تم مایوس ہو گے۔ میں مایوس نہیں ہوں ۔ اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا ۔‘‘ پھر کہا ’’ا سوقت میری عمر ۷۵سال کی ہے ۔آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دیگا ۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے جس کے معنی دشمن کے مقابلہ میں ذلیل و رُسوا ہو نے کے ہیں۔ ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں ۔
    { 225} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب سے تمہاری دادی فوت ہوئیں تمہارے دادا نے اندر زنانہ میں آنا چھوڑ دیا تھا ۔ دن میں صرف ایک دفعہ تمہاری پھوپھی کو ملنے آتے تھے اور پھوپھی کے فوت ہو نے کے بعد تو بالکل نہیں آتے تھے ۔باہر مردا نے میں رہتے تھے ۔
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حضرت والدہ صا حبہ نے کسی اور سے سنی ہو گی کیونکہ یہ واقعہ حضرت اماں جان کے قادیان تشریف لانے سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔)
    { 226} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ داد اصاحب نے طب کا علم حافظ روح اللہ صاحب باغبانپورہ لاہور سے سیکھا تھا ۔اسکے بعد دہلی جاکر تکمیل کی تھی ۔
    { 227} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے پٹاروںمیں رہتی تھی ۔ اور اس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں ۔میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب کی کتابیں وغیرہ چوری نکال کر لے جایا کرتا تھا ۔چنانچہ والدصاحب اور دادا صاحب بعض وقت کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کو یہ ایک چوہا لگ گیا ہے۔
    {228 } بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہو تی ہے ۔غالباً نوجوانی کا کلام ہے ۔حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔ بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں ۔ ؎
    عشق کا روگ ہے کیاپوچھتے ہو اس کی دوا
    ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
    کچھ مزا پایا مرے دل ! ابھی کچھ پائو گے
    تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
    ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے
    مفت بیٹھے بٹھا ئے غم میں پڑے
    اسکے جانے سے صبر دل سے گیا
    ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
    سبب کوئی خداوندا بنا دے
    کسی صور ت سے وہ صورت دکھا دے
    کرم فرما کے آ او میرے جانی
    بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
    کبھی نکلے گا آخر تنگ ہوکر
    دلا اک بار شوروغل مچادے
    نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی
    سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
    مرے بت! اب سے پردہ میں رہوتم
    کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
    نہیں منظور تھی گر تم کو اُلفت
    تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
    مری دلسوزیوں سے بے خبر ہو
    مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
    دل اپنا اسکو دوں یا ہوش یا جاں
    کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
    کوئی راضی ہو یا ناراض ہو وے
    رضامندی خداکی مدعا کر
    اس کاپی میں کئی شعر ناقص ہیں یعنی بعض جگہ مصرع اول موجود ہے مگر دوسرا نہیں ہے اور بعض جگہ دوسرا ہے مگر پہلا ندارد۔بعض اشعار نظر ثانی کیلئے بھی چھوڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور کئی جگہ فرخ تخلص استعمال کیا ہے ۔
    { 229} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ تایا صاحب کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی اور کئی دن تک جشن رہا تھا اور ۲۲طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے مگر والد صاحب کی شادی نہایت سادہ ہو ئی تھی ۔اور کسی قسم کی خلاف شریعت رسوم نہیں ہوئیں ۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ یہ بھی تصرف الہٰی تھا ورنہ دادا صاحب کو دونوں بیٹے ایک سے تھے ۔(نیز یہ طائفے ان لوگوں کی وجہ سے آئے ہوں گے جو ایسے تماشوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ورنہ خود دادا صاحب کو ایسی باتوں میں شغف نہیں تھا۔)
    { 230} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ہماری دادی صاحبہ بڑی مہمان نواز ۔سخی اور غریب پرور تھیں ۔
    { 231} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ والد صاحب سیشن عدالت میں اسیسر مقرر ہوئے تھے مگر آپ نے انکار کردیا۔ (اس جگہ دیکھو روایت نمبر ۳۱۳)
    { 232} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ آخری عمر میں دادا صاحب نے ایک مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا اورا سکے لئے موجودہ بڑی مسجد (یعنی مسجد اقصیٰ) کی جگہ کو پسند کیا اس جگہ سکھ کارداروں کی حویلی تھی ۔جب یہ جگہ نیلام ہو نے لگی تو داد اصاحب نے اس کی بولی دی مگر دوسری طرف دوسرے باشندگان قصبہ نے بھی بولی دینی شروع کی اور اس طرح قیمت بہت چڑھ گئی ۔مگر دادا صاحب نے بھی پختہ قصد کر لیا تھا کہ میں اس جگہ میں ضرور مسجد بنائوں گا ۔ خواہ مجھے اپنی کچھ جائداد فروخت کر نی پڑے ۔چنانچہ سات سو روپیہ میں یہ جگہ خریدی اور اس پر مسجد بنوائی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے اس جگہ کی قیمت چند گنتی کے روپے سے زیادہ نہ تھی مگر مقابلہ سے بڑھ گئی ۔
    { 233} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری تائی کے سارے گھر میں صرف مرزا علی شیر کی ماں یعنی مرزا سلطان احمد کی نانی جو حضر ت صاحب کی ممانی تھی حضرت صاحب سے محبت رکھتی تھی اور ان کی وجہ سے مجھے بھی اچھا سمجھتی تھی باقی سب مخالف ہوگئے تھے ۔میں جب اُس طرف جاتی تھی تو وہ مجھے بڑی محبت سے ملتی تھی اور کہا کر تی تھی ۔ہائے افسوس !یہ لوگ اسے ( یعنی حضرت صاحب کو ) کیوں بد دعائیں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں ۔اسے میری چراغ بی بی نے کتنی منتوں سے تر س ترس کر پالا تھا اور کتنی محبت اور محنت سے پرورش کی تھی ۔والد ہ صاحبہ کہتی ہیں کہ وہ بہت بوڑھی ہو گئی تھی اور وقت گزارنے کے لئے چرخہ کا تتی رہتی تھی ۔حضرت صاحب کو بھی اس سے محبت تھی اور والد ہ صاحبہ نے بیان کیا کہ تمہاری تائی کہتی ہیں کہ حضرت صاحب کی ممانی کا نام بھی تمہاری دادی کی طرح چراغ بی بی تھا ۔
    { 234} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ اُن سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ جو عورت والد صاحب کو کھانا دینے جاتی تھی وہ بعض اوقات واپس آکر کہتی تھی ’’میاں اُن کو ( یعنی حضرت صاحب کو ) کیا ہوش ہے ۔یا کتابیں ہیں اور یا وہ ہیں ‘‘۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے تمہید میں یہ لکھا تھا کہ میں بغرض سہولت تمام روایات صرف اردو زبان میں بیان کرو ں گا ۔خواہ وہ کسی زبان میں کہی گئی ہوں ۔سو جاننا چاہیے کہ فقرہ مندرجہ بالا بھی دراصل پنجابی میں کہا گیا تھا ۔ یہ صرف بطور مثال کے عرض کیا گیا ہے نیز ایک اور عرض بھی ضروری ہے کہ جہاں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ ’’ بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے ‘‘ اس سے مطلب یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو میں نے کو ئی معیّن سوال دے کر مرزا صاحب موصوف کے پاس بھیجا اور اس کا جو جواب مرزاصاحب کی طرف سے دیا گیا وہ نقل کیا گیا اور جہاں مولوی صاحب کی طرف روایت کو منسوب کیا ہے وہاں میرے کسی معیّن سوال کا جواب نہیں بلکہ جو مرزا صاحب نے دوران گفتگو میں مولوی صاحب کو کوئی بات بتائی وہ نقل کی گئی ہے ۔
    { 235} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ہیضہ پھوٹا اور چوہڑوں کے محلہ میں کیس ہونے شروع ہوئے ۔ داد اصاحب اُس وقت بٹالہ میں تھے یہ خبر سن کر قادیان آگئے اور چوہڑوں کے محلہ کے پاس آکر ٹھہر گئے اور چوہڑوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔اور ان کو تسلی دی اور پھر حکم دیا کہ قادیان کے عطار آملہ ۔کشٹے ۔گُڑ (یعنی قند سیاہ ) لیتے آویں اور پھر اُن کو مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں ڈلوا دیا اور کہا کہ جو چاہے گڑوالا پیئے اور جو چاہے نمک والا پیئے ۔کہتے ہیں کہ دوسرے دن مرض کا نشان مٹ گیا ۔
    { 236} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا ۔ ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی ۔ سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہوگیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا ۔ اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوئوں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ اردگرد د یوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا تھا ۔بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جاکر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہوگیا ۔دیکھو وہی بجلی آگ تھی جس نے اسکو جلاد یا مگر ہم کو کچھ ضرر نہ دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی ۔
    ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات مَیں ایک مکان کی دوسری منزل پر سو یا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے ۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی ۔میں نے آدمیوں کو جگا یا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی چوہاہوگا خوف کی بات نہیں اور یہ کہہ کر سو گئے۔تھوڑی دیرکے بعد پھر ویسی آواز آئی تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروا نہ کی ۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہا ں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اوروہ دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جا پڑی اور سب بچ گئے ۔
    ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہواپایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا ۔مگر ہر دو بار خدا نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا ۔ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی مجھے خبر بھی نہ ہوئی ۔ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلایا اور آگ کو بجھا دیا ۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ یہ باتیں حضرت صاحب کی ڈائری سے لی گئی ہیں اور بچھو اور آگ لگنے کا واقعہ ضروری نہیں کہ سیالکوٹ سے متعلق ہو ۔
    { 237} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۴۸پر حضر ت مسیح موعود ؑ تحریر فرماتے ہیں ’’ اس احقر نے ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ء میں اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا ۔جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خودا س عاجز کی تصنیف معلو م ہوتی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے ،جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہو نے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کمال استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے ۔غرض آنحضرت ﷺ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی ۔اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا ۔مگر بقدر تربوز تھا ۔آنحضرت ؐ نے جب اس میوہ کو تقسیم کر نے کیلئے قاش قاش کر نا چاہا توا س قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مِرفق تک شہد سے بھر گیا ۔تب ایک مردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضر ت ؐ کے معجزے سے زند ہ ہو کراس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت ؐ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت ؐ بڑے جاہ و جلال اور بڑے حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوہ فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت ﷺنے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تامیں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہو ا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیںاور و ہ ایک قاش میںنے اس نئے زندہ کو دے دی۔اوراس نے وہیں کھا لی پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت ؐ کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اور اسلام کی تازگی اور ترقی کی اشارت تھی تب اسی نو رکا مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی ۔‘‘
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس رؤیا میں یہ اشارہ تھا کہ آگے چل کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدمتِ دین کا کوئی ایسا عظیم الشان کام لیا جائے گا کہ جس سے اسلام میں جو مردہ کی طرح ہو رہا ہے پھر زندگی کی روح عود کر آئے گی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ رؤیا غالباً ۱۸۶۴ء سے بھی پہلے کاہو گا۔ کیونکہ ۱۸۶۴ء میں تو آپ سیالکوٹ میں ملازم ہو چکے تھے۔)
    { 238} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۰پر لکھتے ہیں کہ ’’ اس برکت کے بارے میں ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میںہوا تھا جس کو اس جگہ لکھنا مناسب ہے اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعیدمحمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے ۔جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیو ں کو ان کے خیالات گراں گذرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس نا چیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اس کے کہنے کہانے پر یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو مع ان کے والدصاحب کے مسجد میں پایا ۔پھر خلاصہ یہ کہ اس ا حقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت کی تقریر کو سُن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا ۔ رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترکِ بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ’’تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس کے کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے ۔جو گھوڑوں پر سوار تھے ۔‘‘
    { 239} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میری نانی اماں صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جب تمہارے نانا کی بدلی کا ہنووان میں ہوئی تھی ۔میں بیمار ہو گئی تو تمہارے نانا مجھے ڈولی میں بٹھلا کر قادیان تمہارے دادا کے پاس علاج کے لئے لائے تھے۔اور اسی دن میں واپس چلی گئی تھی ۔تمہارے دادا نے میری نبض دیکھ کر نسخہ لکھ دیا تھا ۔اور تمہارے نانا کو یہاں اور ٹھہرنے کے لئے کہا تھا ۔مگر ہم نہیں ٹھہر سکے ۔کیونکہ پیچھے تمہاری اماں کو اکیلا چھوڑ آئے تھے۔نیز نانی امّاں نے بیان کیا کہ جس وقت میں گھر میں آئی تھی میں نے حضرت صاحب کو پیٹھ کی طرف سے دیکھا تھا کہ ایک کمرے میں الگ بیٹھے ہوئے رِحل پر قرآن شریف رکھ کر پڑھ رہے تھے ۔میں نے گھر والیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ مرزا صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے اور بالکل ولی آدمی ہے ۔قرآن ہی پڑھتا رہتا ہے ۔ نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ مجھے اپنی امّاں اور ابّا کا مجھے اکیلا چھوڑ کر قادیان آنے کے متعلق صرف اتنا یاد ہے کہ میں شا م کے قریب بہت روئی چلائی تھی کہ اتنے میں ابّا گھوڑا بھگاتے ہوئے گھر میں پہنچ گئے اورمجھے کہا کہ ہم آگئے ہیں۔
    { 240} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو حضرت صاحب کی ساری عمر جہاد کی صف اوّل میں ہی گذری ہے ۔لیکن با قاعدہ مناظرے آپ نے صرف پانچ کئے ہیں ۔
    اوّل۔ ماسٹر مرلی دھرآریہ کے ساتھ بمقام ہو شیار پو ر مارچ ۱۸۸۶ء میں۔اس کا ذکر آپ نے سر مۂ چشم آریہ میں کیا ہے ۔
    دوسرے ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ بمقام لدھیانہ ،جولائی ۱۸۹۱ء میں۔ اس کی کیفیت رسالہ الحق لدھیانہ میں چھپ چکی ہے ۔
    تیسرے ۔مولوی محمد بشیر بھوپالوی کے ساتھ بمقام دہلی اکتوبر ۱۸۹۱ء میں ۔اس کی کیفیت رسالہ الحق دہلی میں چھپ چکی ہے ۔
    چوتھے ۔ مولوی عبد الحکیم کلا نوری کے ساتھ بمقام لاہور جنوری و فروری۱۸۹۲ء میں۔ اس کی روئداد شائع نہیں ہوئی صرف حضرت صاحب کے اشتہار مورخہ ۳؍فروری ۱۸۹۲ء میں اس کا مختصر ذکر پایا جاتا ہے ۔
    پانچویں ۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم مسیحی کے ساتھ بمقام امرتسر مئی و جون ۱۸۹۳ء میں۔ اس کی کیفیت جنگ مقدس میں شائع ہو چکی ہے ۔
    ان کے علاوہ دو اور جگہ مباحثہ کی صورت پیدا ہو کر رہ گئی ۔اوّل مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ بمقام بٹالہ ۶۹یا۱۸۶۸ء میں ۔ اس کا ذکر حضرت صاحب نے براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ۵۲۰پر کیا ہے ۔دوسرے۔مولوی سید نذیر حسین صاحب شیخ الکل دہلوی کے ساتھ بمقام جامع مسجد دہلی بتاریخ ۲۰؍اکتوبر ۱۸۹۱ء ۔اس کا ذکر حضرت کے اشتہارات میں ہے ۔
    { 241} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے منشی عطا محمد صاحب پٹواری نے کہ جب میں غیر احمدی تھا اور ونجواں ضلع گورداسپور میں پٹواری ہوتا تھا تو قاضی نعمت اللہ صاحب خطیب بٹالوی جن کے ساتھ میرا ملنا جلنا تھا ۔ مجھے حضرت صاحب کے متعلق بہت تبلیغ کیا کرتے تھے ۔مگر میں پرواہ نہیں کرتا تھا ۔ایک دن انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا۔ میں نے کہا اچھا میں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کراتا ہوں اگر وہ کام ہو گیا تو میں سمجھ لوں گا کہ وہ سچے ہیں ۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب کو خط لکھا کہ آپ مسیح موعوداور ولی اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں سُنی جاتی ہیں ۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ خدا مجھے خوبصورت صاحب اقبال لڑکا جس بیوی سے میں چاہوں عطا کرے ۔اور نیچے میں نے لکھ دیا کہ میری تین بیویاں ہیں مگر کئی سا ل ہو گئے آج تک کسی کے اولاد نہیں ہوئی ۔میں چاہتا ہوں کہ بڑی بیوی کے بطن سے لڑکا ہو ۔حضرت صاحب کی طرف سے مجھے مولوی عبد الکریم صاحب مر حوم کا لکھا ہوا خط گیا کہ مولا کے حضور دعا کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ کو فرزند ارجمند صاحب اقبال خوبصوت لڑکا جس بیوی سے آپ چاہتے ہیں عطا کرے گا ۔مگر شرط یہ ہے کہ آپ زکریا والی توبہ کریں ۔منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ان دنوں سخت بے دین اور شرابی کبابی راشی مرتشی ہوتا تھا ۔ چنانچہ میں نے جب مسجد میں جا کر ملاّں سے پو چھا کہ زکریا والی توبہ کیسی ہوتی ہے؟تو لوگوں نے تعجب کیا کہ یہ شیطان مسجد میں کس طرح آگیا ہے۔ مگر وہ ملاں مجھے جواب نہ دے سکا ۔پھر میں نے دھرم کوٹ کے مولوی فتح دین صاحب مرحوم احمدی سے پوچھا انہوں نے کہا کہ زکریا والی توبہ بس یہی ہے کہ بے دینی چھوڑ دو ۔حلال کھاؤ۔ نماز روزہ کے پابند ہو جاؤاور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو۔یہ سُن کر میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ شراب وغیرہ چھوڑ دی اور رشوت بھی بالکل ترک کر دی اور صلوٰۃ و صوم کا پا بند ہو گیا۔چار پانچ ماہ کا عرصہ گذرا ہو گاکہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا ۔سبب پوچھا تو اس نے کہا پہلے مجھ پر یہ مصیبت تھی کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تھی آپ نے میرے اُوپر دو بیویاں کیں ۔اب یہ مصیبت آئی ہے کہ میرے حیض آنا بند ہو گیا ہے (گویا اولاد کی کوئی امید ہی نہیں رہی ) ان دنوں میں اس کا بھائی امرتسر میں تھا نہ دار تھا چنانچہ اس نے مجھے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے پاس بھیج دو کہ میں کچھ علاج کرواؤں ۔میں نے کہا وہاں کیا جاؤ گی یہیں دائی کو بلا کر دکھلاؤاور اس کا علاج کرواؤ ۔ چنانچہ اس نے دائی کو بلوایااور کہا کہ مجھے کچھ دوا وغیرہ دو ۔دائی نے سرسری دیکھ کر کہا میں تو دوا نہیں دیتی نہ ہاتھ لگاتی ہوں ۔کیوںکہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے (یعنی تُو تو بانجھ تھی مگر اب تیرے پیٹ میں بچہ معلوم ہوتا ہے ۔پس خدا نے تجھے (نعوذباللہ )بھول کر حمل کروا دیا ہے۔ مؤلف)اور اس نے گھر سے باہر آکر بھی یہی کہنا شروع کیا کہ خدا بھول گیا ہے مگر میں نے اسے کہا کہ ایسا نہ کہو بلکہ میںنے مرزا صاحب سے دعا کروائی تھی ۔ پھر منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ میں حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور میں نے ارد گرد سب کو کہنا شروع کیاکہ اب دیکھ لینا کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت مگر لوگ بڑا تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو واقعی بڑی کرامت ہے ۔آخر ایک دن رات کے وقت لڑکا پیدا ہوا اور خوبصورت ہوا ۔میں اسی وقت دھرم کوٹ بھاگا گیا ۔جہاں میرے کئی رشتہ دار تھے اور لوگوں کو اس کی پیدائش سے اطلاع دی چنانچہ کئی لوگ اسی وقت بیعت کے لئے قادیان روانہ ہو گئے مگر بعض نہیں گئے اور پھراس واقعہ پر ونجواں کے بھی بہت سے لوگوں نے بیعت کی اور میں نے بھی بیعت کرلی ۔اور لڑکے کا نام عبد الحق رکھا ۔منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری شادی کو بارہ سال سے زائد ہو گئے تھے۔اور کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی ۔نیز منشی صاحب نے بیان کیاکہ میں پھر جب قادیان آیا تو ان دنوں میں مسجد کا راستہ دیوار کھینچنے سے بند ہوا تھا ۔میں نے باغ میں حضرت صاحب کو اپنی ایک خواب سنائی کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک خر بوزہ ہے جسے میں نے کاٹ کر کھایا ہے اور وہ بڑا شیریں ہے لیکن جب میں نے اس کی ایک پھاڑی عبد الحق کو دی تو وہ خشک ہو گئی۔حضرت صاحب نے تعبیر بیان فرمائی کہ عبد الحق کی ماں سے آپ کے ہاں ایک اور لڑکا ہو گا مگر وہ فوت ہو جائے گا۔چنانچہ منشی صاحب کہتے ہیں کہ ایک اور لڑکا ہوا مگر وہ فوت ہو گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عبد الحق کو دیکھا ہے خوش شکل اور شریف مزاج لڑکا ہے اس وقت ۱۹۲۲ء میں اس کی عمر کوئی بیس سال کی ہو گی ۔
    { 242} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کو اپنے دشمنوں کی طرف سے چھ مقدمات پیش آئے ہیں ۔چار فوج داری۔ ایک دیوانی اور ایک مالی اور ان سب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بشارتوں کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کو دشمنوں پر فتح دی ہے ۔اور یہ مقدمات ان مقدمات کے علاوہ ہیں جو جائیداد وغیرہ کے متعلق دادا صاحب کی زندگی میں اور اُن کے بعد پیش آتے رہے۔
    اوّل ۔سب سے پہلا مقدمہ یہ ہے جو بابو رلیا رام مسیحی وکیل امرتسر کی مخبری پرمحکمہ ڈاک کی طرف سے آپ پر دائر کیا گیا تھا ۔یہ مقدمہ بہت پرانا ہے ۔یعنی براہین احمدیہ کی اشاعت سے بھی قبل کا ہے۔(غالباً۱۸۷۷ء کا) حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کا کئی جگہ ذکر کیا ہے ۔مگر سب سے مفصل ذکر اس کا اُس خط میں ہے جو حضرت صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو اس کے فتویٰ تکفیر کے بعد لکھا تھا ۔اور جو آئینہ کمالات اسلام میں شائع ہو چکا ہے۔
    دوسرے ۔وہ خطر ناک فوجداری مقدمہ جو مارٹن کلارک مسیحی پادری نے اقدام قتل کے الزام کے ماتحت حضرت کے خلاف دائر کیا تھا۔اس کی ابتدائی کارروائی یکم اگست ۱۸۹۷ء کو امرتسر میں بعدالت ای مارٹینو دپٹی کمشنر امرتسر شروع ہوئی اور بالآخر ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ء کو آپ ایم ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت سے بری کئے گئے۔اس مقدمہ کی مفصل کیفیت کتاب البریہ میں چھپ چکی ہے ۔
    تیسرے ۔ مقدمہ حفظ امن زیر دفعہ ۱۰۷ضابطہ فوجداری ۔جو بعد الت جے۔ایم ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور ۲۴؍ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصل ہوا ۔اور حضرت صاحب ضمانت کی ضرورت سے بری قرار دیئے گئے ۔یہ مقدمہ محمدبخش تھانہ دار بٹالہ کی رپورٹ مورخہ یکم دسمبر ۱۸۹۸ء و در خواست مولوی محمد حسین بٹالوی برائے اسلحہ خود حفاظتی مورخہ ۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء پر مبنی تھا۔اس کے متعلق حضرت صاحب نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۶؍ فروری ۱۸۹۹ء میں ذکر کیا ہے اور الحکم کے نمبرات ماہ مارچ ۱۸۹۹ء میں اس کی مفصل کیفیت درج ہے ۔
    چوتھے وہ لمبا اور تکلیف دہ فوجداری مقدمہ جو کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کی طرف سے اوّل اوّل جہلم میں اور پھر اس کے بعد گورداسپور میں چلایا گیا تھا اور بالآخر بعدالت اے۔ای ہری سیشن جج امرتسر ۷؍جنوری ۱۹۰۵ء کو فیصل ہوا ۔اور آپ بری کئے گئے۔ماتحت عدالت کا فیصلہ بعدالت آتما رام مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور۸؍اکتوبر۱۹۰۴ء کو ہوا تھا ۔اس مقدمہ کی کیفیت اخبار الحکم میں چھپتی رہی ہے یہ مقدمہ دراصل دو حصوں پر مشتمل تھا۔
    پانچویں۔وہ دیوانی مقدمہ جو حضرت صاحب کی طرف سے مرزا امام الدین ساکن قادیان کے خلاف دائر کیا گیا تھا ۔اس کی بنا یہ تھی کہ مرزا امام الدین نے مسجد مبارک کے راستہ کو ایک دیوا ر کھینچ کر ۷؍جنوری۱۹۰۰ء کو بند کر دیا تھا ۔یہ مقدمہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۱ء کو بعدالت شیخ خدابخش صاحب ڈسٹرکٹ جج گورداسپور حضرت صاحب کے حق میں فیصل ہوا ۔اور ۲۰؍اگست ۱۹۰۱ء کو دیوار گرائی گئی ۔ اس کی کیفیت اخبار الحکم اور کچھ حقیقۃ الوحی میں شائع ہو چکی ہے ۔
    چھٹے۔مقدمہ انکم ٹیکس جو ۱۷؍ دسمبر ۱۸۹۷ء کو بعدالت ٹی ۔ڈکسن ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور فیصل ہوا اور حضرت صاحب پر انکم ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ سمجھی گئی ۔اس کی کیفیت ضرورۃ الامام میں شائع ہو چکی ہے ۔
    { 243} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ مبارکہ(خاکسار کی ہمشیرہ)کا چلّہ نہانے کے دو تین دن بعد میں اوپر کے مکان میں چار پائی پر بیٹھی تھی اور تم میرے پاس کھڑے تھے اورپھجو(گھر کی ایک عورت کا نام ہے)بھی پاس تھی کہ تم نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہاکہ ’’امّاںاوپائی‘‘ میں نہ سمجھی۔ تم نے دو تین دفعہ دہرایا اور نیچے کی طرف اشارہ کیا جس پر پھجو نے نیچے دیکھا تو ڈیوڑھی کے دروازے میں ایک سپاہی کھڑا تھا ۔پھجو نے اسے ڈانٹا کہ یہ زنانہ مکان ہے تو کیوں دروازے میں آگیا ہے اتنے میں مسجد کی طرف کا دروازہ بڑے زور سے کھٹکا ۔ پتہ لگا کہ اس طرف سے بھی ایک سپاہی آیا ہے ۔ حضرت صاحب اندر دالان میں بیٹھے ہوئے کچھ کام کر رہے تھے۔ میں نے محمود (حضرت خلیفۃ المسیح ثانی)کو انکی طرف بھیجا کہ سپاہی آئے ہیں اور بلاتے ہیں ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہو کہ میں آتا ہوں ۔ پھر آپ نے بڑے اطمینان سے اپنا بستہ بند کیا اور اُٹھ کر مسجد کی طرف گئے وہاں مسجد میں انگریز کپتان پولیس کھڑا تھا اور اس کے ساتھ دوسرے پولیس کے آدمی تھے ۔کپتان نے حضرت صاحب سے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لیکھرام کے قتل کے متعلق آپ کے گھر کی تلاشی لوں ۔حضرت صاحب نے کہا آیئے اور کپتان کو مع دوسرے آدمیوں کے جن میں بعض دشمن بھی تھے مکان کے اندر لے آئے اور تلاشی شروع ہوئی ۔ پولیس نے مکان کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا تھا ہم عورتیںاور بچے ایک طرف ہوگئے ۔سب کمروں کی باری باری تلاشی ہوئی اور حضرت صاحب کے کاغذات وغیرہ دیکھے گئے ۔تلاش کرتے کر تے ایک خط نکلا جس میں کسی احمدی نے لیکھرام کے قتل پر حضرت صاحب کو مبارکباد لکھی تھی ۔دشمنوں نے اسے جھٹ کپتان کے سامنے پیش کیا کہ دیکھئے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ حضرت صاحب نے کہا کہ ایسے خطوں کا تو میرے پاس ایک تھیلا رکھا ہے ۔ اور پھر بہت سے خط کپتان کے سامنے رکھ دیئے ۔کپتان نے کہا نہیں کچھ نہیں ۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ جب کپتان نیچے سرد خانے میں جانے لگا تو چونکہ اس کا دروازہ چھوٹا تھا اور کپتان لمبے قد کا آدمی تھا اس زور کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ سے اسکا سر ٹکرایا کہ بیچارہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا ،حضرت صاحب نے اس سے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم دودھ یا کوئی اور چیز منگوائیں ؟ اس نے کہا نہیں کوئی بات نہیں ۔مگر بیچارے کو چوٹ سخت آئی تھی ۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب اسے خود ایک کمرے سے دوسرے کی طرف لیجاتے تھے ۔اور ایک ایک چیز دکھاتے تھے۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس خانہ تلاشی کا ذکر اپنے اشتہار مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۸۹۷ء میں کیا ہے جہاں لکھا ہے کہ خانہ تلاشی ۸اپریل ۱۸۹۷ء کو ہوئی تھی اور نیز یہ کہ مہمان خانہ مطبع وغیرہ کی بھی تلاشی ہوئی تھی ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ لیکھرام ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل ہو اتھا اور اسکے قتل پر آریوں کی طرف سے ملک میں ایک طوفان عظیم بر پا ہو گیا تھا ۔سنا گیا ہے کہ کئی جگہ مسلمان بچے دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک ہوئے اور حضرت صاحب کے قتل کے لئے بھی بہت سازشیں ہوئیں اور یہ خانہ تلاشی بھی غالباً آریوں ہی کی تحریک پر ہو ئی تھی ۔
    { 244} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جائو گھر سے میٹھا لائو میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی ۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوانمک تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیاکہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں کیونکہ حضر ت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلہ ہو اپایا ۔مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی اور والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے ؟ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا اس نے کہا میں نے تو میٹھا ڈالا تھا والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لے کر ڈالا تھا ؟ وہ برتن لائو ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی ۔دیکھا تو معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈال دی تھی ۔اس دن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا ۔
    { 245} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضر ت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتا یا کہ یہ لے لو۔حضرت نے کہا نہیں۔یہ میں نہیں لیتا انہوں نے کوئی اور چیزبتا ئی ۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا ۔وہ اسوقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں ۔سختی سے کہنے لگیں کہ جائو پھر راکھ سے روٹی کھا لو ۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہوگیا ۔یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے ۔مگر آپ خاموش رہے ۔
    { 246} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا۔ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسبِ معمول پہلے دعا کیلئے اس کمرہ میں گئے جوا س غرض کیلئے پہلے مخصو ص کر لیا تھا ۔مَیں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی ۔حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی ۔حضر ت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا۔ یہ کس کی چھڑی ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں ۔آپ نے فرمایا اچھا میں نے تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے ۔ خانصاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی مگر محویت کایہ عالم تھا کہ کبھی اس کی شکل کو غورسے دیکھا ہی نہیں تھا کہ پہچان سکیں ۔خانصاحب کہتے ہیں کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا اس وقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑ ھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اس وقت خوش نہ تھے کیونکہ وہ شخص افغانستا ن میں جاکر تبلیغ کر نے سے ڈرتا تھا ۔خیر میں جا کر حضور سے ملا اور حضور نے مجھ سے مصافحہ کیا اور پھر گھر تشریف لے گئے ۔میں اپنے کمرے میں آکر بہت رویا کہ معلوم نہیں حضرت صاحب نے مجھ میں کیا دیکھا ہے کہ معمول کے خلاف بشاشت کے ساتھ نہیں ملے ۔ پھر میں نماز کے وقت مسجد میں گیا تو کسی نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ ذوالفقا ر علی خان آیا ہے ۔ حضرت صاحب نے شوق سے پوچھا کہ تحصیل دار صاحب کب آئے ہیں ؟میں جھٹ حضور کے سامنے آگیا اور عرض کیا کہ میں تو حضور سے سیڑھیوں پر ملا تھا جب حضور ان افغان صاحب کو رخصت فر ما رہے تھے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ اچھا! میں نے خیال نہیں کیا اور پھر حسب معمول بڑی خوشی اور بشاشت کے ساتھ مجھ سے کلام فرمایا ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مہمانوں کے آنے پر بڑی خوشی ہوتی تھی اور رخصت کے وقت دل کو صدمہ ہوتا تھا ۔ چنانچہ جب حضرت خلیفہ ثانی کی آمین پر بعض مہمان قادیان آئے تو اس پر آپ نے آمین میں فرمایا
    احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے
    تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے
    یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے
    یہ روز کر مبار ک سبحان من یرانی
    مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
    دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
    پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
    یہ روز کر مبار ک سبحان من یرانی
    دنیا بھی ایک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے
    گو سو برس رہاہے آخر کو پھرجدا ہے
    شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے
    یہ روز کر مبار ک سبحان من یرانی
    { 247} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ جب کسی سے ملتے تھے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے اور ساتھ ہی ملنے والے کی ساری کلفتیں دور ہوجاتی تھیں ،ہر احمدی یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جاکر دل کے سارے غم دُھل جاتے ہیں۔ بس آپ کے مسکراتے ہو ئے چہرے پر نظر پڑی اور سارے جسم میں مسرت کی ا یک لہرجاری ہوگئی ۔آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے تھے۔ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو بس مجھی سے زیادہ محبت ہے۔ بعض وقت آداب مجلس رسول سے نا واقف ،عامی لوگ دیر دیر تک اپنے لاتعلق قصے سناتے رہتے تھے اور حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ بیٹھے سنتے رہتے اور کبھی کسی سے یہ نہ کہتے تھے کہ اب بس کرو۔ نمازوں کے بعد یا بعض اوقات دوسرے موقعوں پر بھی حضور مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور ارد گرد مشتاقین گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے تھے اور پھر مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہتی تھیں اورگویا تعلیم و تربیت کا سبق جاری ہوجاتا تھا ۔مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ محسوس کرتے تھے کہ علم ومعرفت کا چشمہ پھوٹ رہا ہے ۔جس سے ہر شخص اپنے مقدور کے موافق اپنا برتن بھر لیتا تھا ۔مجلس میں کوئی خاص ضابطہ نہ ہوتا تھا بلکہ جہاں کہیں کسی کو جگہ ملتی تھی بیٹھ جاتا تھا اور پھر کسی کو کوئی سوال پوچھنا ہوا تو اس نے پوچھ لیا اور حضرت صاحب نے جواب میں کوئی تقریر فرمادی یا کسی مخالف کا ذکر ہو گیا توا س پر گفتگو ہو گئی یا حضرت نے اپنا کوئی نیا الہام سنایا تو اس کے متعلق کچھ فرما دیا ، یا کسی فرد یا جماعت کی تکالیف کا ذکر ہوا تو اسی پر کلام کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ غرض آپ کی مجلس میں ہر قسم کی گفتگو ہو جاتی تھی اور ہر آدمی جو بولنا چاہتا تھا بول لیتا تھا ۔جب حضرت گفتگو فرماتے تھے تو سب حاضرین ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے ۔آپ کی عادت تھی کہ خواہ کوئی پبلک تقریر ہو یا مجلسی گفتگو ہو۔ ابتدا ء میں دھیمی آواز سے بولنا شروع کرتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ آواز بلند ہو جاتی تھی حتّٰی کہ دور سے دور بیٹھا ہو ا شخص بھی بخوبی سن سکتا تھا ۔اور آپ کی آواز میں ایک خاص قسم کا سوز ہو تا تھا ۔
    { 248} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ مارٹن کلارک کے مقدمہ میں ایک شخص مولوی فضل دین لاہوری حضور کی طرف سے وکیل تھا ۔یہ شخص غیر احمدی تھا اور شاید اب تک زندہ ہے اور غیر احمدی ہے۔جب مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت صاحب کے خلاف شہادت میں پیش ہوا تو مولوی فضل دین نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو میں مولوی محمد حسین صاحب کے حسب ونسب کے متعلق کو ئی سوال کروں ۔حضرت صاحب نے سختی سے منع فرما دیا کہ میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور فرمایا ’’ لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَھْرَ بِالسُّوْئِ‘‘ (النّسٓائ:۱۴۹) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ خود مولوی فضل دین نے باہر آکر ہم سے بیان کیا تھا اور اس پر اس بات کا بڑا اثر ہوا تھا۔چنانچہ وہ کہتا تھاکہ مرزا صاحب نہایت عجیب اخلاق کے آدمی ہیں۔ ایک پرلے درجے کا دشمن ہے اور وہ اقدام قتل کے مقدمہ میں آپ کے خلاف شہادت میں پیش ہو تا ہے اور میں اس کا حسب ونسب پوچھ کر اس کی حیثیت کو چھوٹا کر کے اس کی شہادت کو کمزور کرنا چاہتا ہوں اور اس سوال کی ذمہ داری بھی مرز اصاحب پر نہیں تھی بلکہ مجھ پر تھی ۔مگر میں نے جب پوچھا تو آپ نے بڑی سختی سے روک دیا کہ ایسے سوال کی میں ہر گز اجازت نہیں دیتا کیونکہ خدا ایسے طریق کو نا پسند کرتا ہے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے نسب میں بعض معیوب باتیں سمجھی جاتی تھیں۔واللّٰہ اعلم جن کو وکیل اپنے سوال سے ظاہر کرنا چاہتا تھا مگر حضرت صاحب نے روک دیا ۔دراصل حضرت صاحب اپنے ہاتھ سے کسی دشمن کی بھی ذلت نہیں چاہتے تھے ،ہاں جب خدا کی طرف سے کسی کی ذلت کا سامان پیدا ہوتا تھا تو وہ ایک نشان الہٰی ہوتا تھاجسے آپ ظاہر فرماتے تھے ۔
    { 249} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیرعلی صاحب نے کہ جب مولوی محمد حسین بٹالوی قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب کے خلاف پیش ہوا تو اس نے کمرے میں آکر دیکھا کہ حضرت صاحب ڈگلس کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر تشریف رکھتے ہیں اس پر حسد نے اسے بیقرارکر دیا ۔چنانچہ اس نے بھی حاکم سے کرسی مانگی اور چونکہ وہ کھڑا تھا اور اس کے اور حاکم کے درمیان پنکھا تھا جس کی وجہ سے وہ حاکم کے چہرہ کو دیکھ نہ سکتا تھا ۔اس لئے اس نے پنکھے کے نیچے سے جھک کر حاکم کو خطاب کیا ۔مگر ڈگلس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی ایسی فہرست نہیں ہے جس میں تمہارا نام کرسی نشینوں میں درج ہو ۔اس پر اس نے پھر اصرار کے ساتھ کہاتو حاکم نے ناراض ہو کر کہا کہ َبک َبک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔خاکسار عرض کر تا ہے کہ حضر ت صاحب کی بعض تحریروں میں ’’ سیدھا کھڑا ہو جا ‘‘ کے الفاظ آتے تھے اور ہم نہ سمجھتے تھے کہ اس سے کیا مراد ہے مگر اب پتہ لگا کہ مولوی محمد حسین چونکہ جھک کر پنکھے کے نیچے سے کلام کر رہا تھااس لئے اسے سیدھا ہو نے کیلئے کہا گیا ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد حسین کے دل وسینہ میں کیا کیا نہ چھریاں چل گئی ہونگی ۔ایک طرف اُسے اپنا یہ قول یاد آتا ہوگا کہ میں نے ہی اسے (یعنی حضرت صاحب کو ) اُٹھایا ہے اور اب میں ہی اسے گرائو نگا ۔اور دوسری طرف حضرت صاحب کا وہ الہام اس کی آنکھوں کے سامنے ہوگا کہ ’’ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ‘‘ یعنی جو تیری ذلت چاہتا ہے میں خود اسے ذلیل کرو نگا۔اللہ اکبر -
    { 250} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب نے ایک موقعہ پر کپتان ڈگلس کے سامنے فرمایا کہ مجھ پر قتل کا الزام لگا یا گیا ہے اور آگے بات کر نے لگے تو اس پر ڈگلس فورًا بولا کہ میں تو آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا اور جب اس نے فیصلہ سنایا تو اُس وقت بھی اُس نے یہ الفاظ کہے کہ مرزا صاحب! میں آپ کو مبارک دیتا ہوں کہ آپ بری ہیں ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ ڈگلس اُن دنوں میں ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اور فوجی عہدہ کے لحاظ سے کپتان تھا ۔اس کے بعد وہ ترقی کرتے کرتے جزائر انڈیمان کا چیف کمشنر ہو گیا ۔اور اب پنشن لے کر ولایت واپس جاچکا ہے ۔اس وقت اس کا فوجی عہدہ کر نیل کا ہے ۔آدمی غیر متعصب اور سمجھ دار اور شریف ہے ۔ولایت میں ہمارے مبلّغ مولوی مبارک علی صاحب بنگالی نے ۲۸؍جولائی ۱۹۲۲ء کو اس سے ملاقات کی تو اس نے خود بخود انکے ساتھ اس مقدمہ کا ذکر شروع کر دیا اور کہنے لگا ’’میں غلا م احمد ( مسیح موعود) کو جانتا تھا اور میرا یقین تھا کہ وہ نیک بخت اور دیانتدار آدمی ہیں اور یہ کہ وہ اسی بات کی تعلیم دیتے ہیں جس کا اُنہیں خود یقین ہے ۔ لیکن مجھے ان کی موت کی پیشگوئیاں پسند نہ تھیں کیونکہ وہ بڑی مشکلات پیدا کر تی تھیں ‘‘۔پھر اس نے مقدمہ کے حالات سنائے اور کہا کہ ’’وہ لڑکا نظام دین ( خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈگلس صاحب بھول گئے ہیں اس لڑکے کا نام عبد الحمید تھا)ہر روز کوئی نئی بات بیان کرتا تھا اور اس کی کہانی ہر دفعہ زیادہ مکمل و مبسوط ہوتی جاتی تھی اس لئے مجھے اس کے متعلق شبہ پیدا ہوا اور میں نے دریافت کیا کہ وہ کہاں رہتا ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ مشنریوں کے پاس ٹھہرا ہو ا ہے جوا سے سکھاتے رہتے ہیں ۔چنانچہ میں نے حکم دیا کہ وہ مشنریوں کی نگرا نی سے الگ کر کے پولیس کی نگرانی میں رکھا جاوے ۔اس سے میرا مطلب حل ہو گیا یعنی نظام دین آخر اقبالی ہو کر میرے قدموں پر گر گیا اور اس نے اقرار کیا کہ یہ ساری بات محض افتراء ہے ۔ڈگلس نے سلسلہ کی اس حیرت انگیز ترقی پر بڑا تعجب ظاہر کیااور کہاکہ مجھے گمان نہ تھا کہ مرزا غلام احمد کا قائم کیا ہوا سلسلہ اتنی ترقی کرجائے گا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی تو ؎
    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا
    نیز خاکسارعرض کرتا ہے کہ ڈگلس کے ساتھ اپنی اس ملاقات کا حال مولوی مبارک علی صاحب نے لنڈن سے لکھ کر بھیجا ہے اور بوقت ملاقات گفتگو انگریزی زبان میں ہو ئی تھی ۔جسے یہاں ترجمہ کر کے اردو میں لکھا گیا ہے۔
    { 251} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں بچپن میں گائوں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھا ہوا لا سا بنارہا تھا کہ اس وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی جو گھر سے لانی تھی میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا میں نے اسے کہا کہ مجھے یہ چیز لا دو ۔اس نے کہا ۔میاں میری بکریاں کون دیکھے گا ۔میں نے کہا تم جائو میں ان کی حفاظت کروں گا اور چرائوں گاچنانچہ اس کے بعد میں نے اسکی بکریوں کی نگرانی کی اور اس طرح خدا نے نبیوں کی سنت ہم سے پوری کرا دی ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ لاسا ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جو بعض درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کرتے ہیں ۔ اور جانور وغیرہ پکڑنے کے کام آتا ہے۔ نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہ ہوتا تھا تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے ۔
    { 252} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میںوالدہ کے ساتھ ہوشیار پور جاتے تھے تو ہوشیار پور کے چوہوں میں پھرا کرتے تھے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں کئی برساتی نالے ہیں جن میں بارش کے وقت پانی بہتا ہے اور ویسے وہ خشک رہتے ہیں ۔یہ نالے گہرے نہیں ہوتے قریباً اردگرد کے کھیتوں کے ساتھ ہموار ہی ہوتے ہیں ۔ ہوشیار پور کا سارا ضلع ان برساتی نالوں سے چھدا پڑا ہے ۔ان نالوں کو پنجابی میں چوہ کہتے ہیں ۔
    { 253} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ جب ہم استاد سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دفعہ ہمارے استاد نے بیان کیا کہ ایک شخص نے خواب دیکھا تھا کہ ایک مکا ن ہے جو دھواں دار ہے یعنی اس کے اندر باہر سب دھواں ہورہا ہے ۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر آنحضرت ﷺ ہیں اور چاروں طرف سے عیسائیوں نے اس کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور ہمارے استاد نے بیان کیا کہ ہم میں سے کسی کو اس کی تعبیر نہیں آئی۔ میں نے کہا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ شخص عیسائی ہو جائے گا ۔کیونکہ انبیاء کا وجود آئینہ کی طرح ہوتا ہے پس اس نے جو آپ کودیکھا تو گویا اپنی حالت کے عکس کو دیکھا ۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میرا یہ جواب سن کر میرے استاد بہت خوش ہوئے او ر متعجب بھی اور کہنے لگے کہ وہ شخص واقعی بعد میں عیسائی ہو گیا تھا اور کہنے لگے کہ کاش ہم اس کی تعبیر جانتے اور اسے وقت پر سمجھاتے تو شاید وہ بچ جاتا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوا کہ استاد سے کون استاد مراد ہیں ۔مولوی فضل الہٰی صاحب سے تعلیم پانے کے وقت آپکی عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے اغلب ہے کہ مولوی فضل احمد صاحب اور مولوی گل علی شاہ صاحب میں سے کوئی صاحب ہونگے ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی فضل الہٰی صاحب قادیان کے رہنے والے تھے اور مذہباً حنفی تھے ۔مولوی فضل احمد صاحب فیروز والا ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ تھے اور مذہباً اہل حدیث تھے ۔یہ صاحب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے والد تھے جنھوں نے ( مولوی مبارک علی صاحب نے) حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی مگر جو بعد وفات حضرت خلیفہ اول فتنہ کی رو میں بہہ گئے۔تیسرے استاد مولوی سید گل علی شاہ صاحب تھے جو بٹالہ کے رہنے والے تھے اور مذہباً شیعہ تھے ۔
    { 254} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ میرا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام محمدعظیم ہے اور جو پیر جماعت علی شاہ سیالکوٹی کا مرید ہے وہ مجھ سے بیان کرتا تھا کہ میرا بھائی کہا کرتا تھا کہ ایام جوانی میں جب مرزا صاحب کبھی کبھی امرتسرآتے تھے تو میں ان کو دیکھتا تھا کہ وہ پادریوں کے خلاف بڑا جوش رکھتے تھے ۔اس زمانہ میں عیسائی پادری بازاروں وغیرہ میں عیسائیت کا وعظ کیا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف زہر اگلتے تھے ۔مرزا صاحب ان کو دیکھ کر جوش سے بھر جاتے تھے اور ان کا مقابلہ کر تے تھے ۔مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ محمد عظیم اب بھی زندہ ہے اور غالباً وہ مولوی عبدالقادر صاحب احمدی مرحوم لدھیانوی کے تعلق داروں میں سے ہے۔
    { 255} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جس رات امۃ النصیر پیدا ہوئی ہے حضرت صاحب خود مولوی محمد احسن صاحب کے کمرے کے دروازے پر آئے اور دستک دی ۔ مولوی محمد احسن صاحب نے پوچھا کون ہے ؟حضرت صاحب نے فرمایا ’’غلام احمد‘‘ ۔مولوی صاحب نے جھٹ اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت نے جواب دیا کہ میرے ہاں لڑکی پیدا ہو ئی ہے اور اس کے متعلق مجھے الہام ہوا ہے کہ غاسق اللّٰہ ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ غاسق اللہ سے مراد یہ ہے کہ جلد فوت ہو جانیوالا ۔ چنانچہ وہ لڑکی جلد فوت ہو گئی ۔
    { 256} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک شخص گوجرانولہ کا باشندہ محمد بخش تھانہ دار ہوتا تھا جو سلسلہ کا پرلے درجہ کا معاند تھا اور ہر وقت عداوت پر کمر بستہ رہتا تھا ۔یہ شخص ۱۸۹۳ء سے بٹالہ کے تھانہ میں متعین ہوا اور پھر کئی سال تک اسی جگہ رہا ۔چونکہ قادیان بٹالہ کے تھانہ میں ہے اس لئے اسے شرارت کا بہت اچھا موقعہ میسر آگیا ۔چنانچہ اس نے اپنے زمانہ میں کوئی دقیقہ ایذا رسانی اور مخالفت کا اُٹھا نہیں رکھا ۔ حفظ امن کا مقدمہ جو ۱۸۹۹ء میں فیصلہ ہوا اسی کی رپورٹ پر ہوا تھا ۔آخر یہ شخص طاعون سے ہلاک ہوا اور خدا کی قدرت ہے کہ اب اس کا لڑکا بڑا مخلص احمدی ہے ۔ان کا نام میاں نیاز محمد صاحب ہے جو علاقہ سندھ میں تھانہ دار ہیں ۔
    (خاکسار بوقت ایڈیشن ثانی کتاب ھٰذا عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی ۔ ایم ۔ ایس نے جو میاں نیا زمحمد صاحب کے صاحبزادے ہیں ۔بیان کیا ہے کہ ان کے دادا دراصل ابتداء میں ایسے مخالف نہ تھے مگر بٹالہ آکر بعض لوگوں کے بہکانے میں آکر زیادہ مخالف ہو گئے۔ لیکن پھر آخری بیماری میں اپنی مخالفت پر کچھ نادم نظر آتے تھے۔ نیز ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے دادا کی وفات طاعون سے نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ ہاتھ کے کاربنکل سے ہوئی تھی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی میں طاعون سے مرنا بیان کیا ہے۔ سو اگر ڈاکٹر صاحب کی اطلاع درست ہے تو چونکہ ان دنوں میں طاعون کا زور تھا اس لئے ممکن ہے کہ کسی نے ہاتھ کے پھوڑے کی وجہ سے اس بیماری کو طاعون سے تعبیر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیان کر دیا ہو۔ واللّٰہ اعلم )
    { 257} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ اپنی جماعت کے افراد کی مذہبی حالت کا مطالعہ کرتے رہتے تھے مگر جب آپ کسی میں کوئی اعتقادی یا عملی یا اخلاقی نقص دیکھتے تھے تو عموماً اسے مخاطب فرما کر کچھ نہ کہتے تھے بلکہ موقعہ پا کر کسی پبلک تقریر یا گفتگو میں ایسی طرز کو اختیار فرماتے تھے جس سے اسکی اصلاح مقصود ہوتی تھی اور پھر اسے مناسب طریق پر کئی موقعوں پر با ربار بیان فرماتے تھے ۔اور جماعت کی اصلاح اندرونی کے متعلق آپ کو ازحد فکر رہتا تھا اور اس کے لئے آپ مختلف طریق اختیار فرماتے رہتے تھے اور زیادہ زور دعائوں پر دیتے تھے اور بعض اوقات فرماتے تھے کہ جو باپ اپنے بچے کو ہر حرکت و سکون پر ٹوکتا رہتا ہے اور ہر وقت پیچھے پڑ کر سمجھاتا رہتا ہے اور اس معاملہ میں حد سے بڑھ کر احتیاط کر تا ہے وہ بھی ایک گونہ شرک کر تا ہے کیونکہ وہ گویا اپنے بچہ کا خدا بنتا ہے اور ہدایت اور گمراہی کو اپنی نگرانی کے ساتھ وابستہ کرتا ہے حالانکہ دراصل ہدایت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسے چاہئیے کہ عام طور پر اپنے بچے کی حفاظت کرے اور زیادہ زور دعا پر دے ۔اور خدا سے اسکی ہدایت مانگے ۔نیز حضرت صاحب کا یہ دستور تھا کہ ہدایت کے معاملہ میں زیادہ فکر جڑ کی کرتے تھے اور شاخوں کا ایسا خیال نہ فر ماتے تھے کیونکہ حضور فرماتے تھے کہ اگر جڑ درست ہو جاوے تو شاخیں خودبخود درست ہو جاتی ہیں ۔ چنانچہ فرماتے تھے کہ اصل چیز تو دل کا ایمان ہے جب وہ قائم ہوجا تا ہے تو اعمال خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ کسی نے عرض کیا کہ حضور کے پاس بعض لوگ ایسے آتے جاتے ہیں جنکی داڑھیاں منڈھی ہوتی ہیں فرمایا تمہیں پہلے ڈاڑھی کی فکر ہے مجھے ایمان کی فکر ہے ۔نیز فرماتے تھے کہ جو شخص سچے دل سے ایمان لاتا ہے اور مجھ کو واقعی خدا کا بھیجا ہوا سمجھتا ہے وہ جب دیکھے گا کہ میں داڑھی رکھتا ہوں تواس کا ایمان اس سے خود داڑھی رکھوائے گا ۔اخلاق پر حضور بہت زور دیتے تھے اور اخلاق میں سے خصوصاً محبت، تواضع ،حلم و رفق ،صبر اور ہمدردی خلق اللہ پر آپ کا بہت زور ہوتا تھا اور تکبر ،سنگ دلی ، سخت گیری اور درشتی کو بہت بُرا سمجھتے تھے ۔ تنعم و تعیش سے سخت نفرت تھی اور سادگی اور محنت کشی کو پسند فرماتے تھے ۔
    { 258} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی کا م کے متعلق میر صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کا اختلاف ہو گیا ۔میر صاحب نے ناراض ہو کر اندر حضرت صاحب کو جا اطلاع دی۔ مولوی محمد علی صاحب کو اسکی اطلاع ہو ئی تو انہوں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ ہم لوگ یہاں حضور کی خاطر آئے ہیں کہ تا حضور کی خدمت میں رہ کر کوئی خدمت دین کا موقعہ مل سکے لیکن اگر حضور تک ہماری شکائتیں اس طرح پہنچیں گی تو حضور بھی انسان ہیں ممکن ہے کسی وقت حضور کے دل میں ہماری طرف سے کوئی بات پیدا ہو توا س صورت میںہمیں بجائے قادیان آنے کا فائدہ ہونے کے اُلٹا نقصان ہو جائیگا ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے مجھ سے کچھ کہا تو تھا مگر میں اس وقت اپنے فکروں میں اتنا محو تھا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلو م نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا ۔پھر آپ نے فرمایا کہ چند دن سے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے بس ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے ،میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے ۔وہ شخص سمجھتا ہو گا کہ میں اسکی بات سن رہا ہوں مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں ۔جب میں گھر جاتا ہوں تو وہا ں بھی وہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے ۔غرض ان دنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی ۔وہ خیال کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاوے جو سچی مومن ہو اور خدا پر حقیقی ایمان لائے اور اسکے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اسلام کو اپنا شعار بنائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر کاربند ہواوراصلاح و تقویٰ کے رستے پر چلے اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے تا پھر ایسی جماعت کے ذریعہ دنیا ہدایت پاوے اور خد اکا منشا ء پورا ہو۔ پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل و براہین سے ہم نے دشمن پر غلبہ بھی پالیا اور اس کو پوری طرح زیر بھی کر لیا تو پھر بھی ہماری فتح کوئی فتح نہیں کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام رائیگاں گیا مگر میں دیکھ رہاہوں کہ دلائل و براہین کی فتح کے تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کر نے لگا ہے لیکن جو ہماری بعثت کی اصل غرض ہے اسکے متعلق ابھی تک جماعت میں بہت کمی ہے اور بڑی توجہ کی ضرورت ہے پس یہ خیال ہے جو مجھے آجکل کھا رہا ہے اور یہ اس قدر غالب ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا ۔
    { 259} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ جب مولو ی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کی خبر آئی تو ایک طرف تو حضرت صاحب کو سخت صدمہ پہنچا کہ ایک مخلص دوست جدا ہو گیا اور دوسری طرف آپکو پرلے درجہ کی خوشی ہوئی کہ آپ کے متبعین میں سے ایک شخص نے ایمان و اخلاص کا یہ اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ سخت سے سخت دکھ اور مصائب جھیلے اور بالآخر جان دیدی مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
    { 260} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جس وقت مولوی عبداللطیف صاحب واپس کا بل جانے لگے تو وہ کہتے تھے کہ میرا دل یہ کہتا ہے کہ میں اب زندہ نہیں رہوں گا۔ میری موت آن پہنچی ہے اور وہ حضرت صاحب کی اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے تھے ۔جب رخصت ہونے لگے اور حضرت صاحب ان کو آگے چھوڑنے کیلئے کچھ دور تشریف لے گئے تو وہ رخصت ہوتے ہوئے حضرت صاحب کے قدموں پر گر گئے اور زار زار روئے۔حضرت صاحب نے ان کو اُٹھنے کیلئے کہا اور فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے مگر وہ آپ کے قدموں پر گرے رہے آخر آپ نے فرمایا اَ لْاَمْرُ فَوْقَ الْاَدَبِ اس پر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بڑی حسرت کے ساتھ حضرت صاحب سے رخصت ہوئے ۔
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان دنوں میں چونکہ قادیان میں ریل نہیں آئی تھی۔ آمد و رفت کے لئے بٹالہ اور قادیان کے درمیان کا کچا رستہ استعمال ہوتا تھا۔ اور حضرت صاحب بعض خاص خاص دوستوں کو رخصت کرنے کے لئے اسی راستہ کے موڑ تک یا بعض اوقات نہر تک پیدل چلے جاتے تھے۔)
    { 261} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنے والد صاحب کو مندرجہ ذیل خط لکھا تھا ۔
    ’’ حضرت والد مخدوم من سلامت ! مراسم غلامانہ وقواعد فدویا نہ بجا آوردہ معروض حضرت والا میکند چونکہ دریں ایام برأی العین می بینم و بچشم سر مشاہدہ میکنم کہ در ہمہ ممالک وبلاد ہر سال چناں وبائے مے افتدکہ دوستاں را از دوستاں و خویشاں را از خویشاںجدا میکند و ہیچ سالے نہ می بینم کہ ایں نائرہ عظیم و چنیں حادثہ الیم در آں سال شور قیامت نیگفند ۔ نظر برآں دل از دنیا سرد شدہ و رو از خوف جان زرد ۔و اکثر ایں دو مصرع مصلح الدین سعدیؒ شیر ازی بیادمی آیند و اشک حسرت ریختہ مے شود ؎
    مکن تکیہ بر عمرنا پا ئیدار
    مباش ایمن از بازیٔ روز گار
    و نیز ایں دو مصرع ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود ؎
    بدنیائے دوں دل مبنداے جواں
    کہ وقت ِاجل میر سد ناگہاں
    لہٰذا میخو اہم کہ بقیہ عمر در گوشۂ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم بچینم و بیاد ا و سبحانہ مشغول شوم مگر گذشتہ راعذرے و مافات ر ا تدا ر کے شود ؎
    عمر بگذشت و نماند است جز ا یامے چند
    بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند
    کہ دنیا رااساسے محکم نیست و زندگی را اعتبار ے نے وَاَیِسَ مَنْ خَافَ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ آفَتِ غَیْرِہٖ
    والسلام
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے شیخ صاحب سے دریافت کیا تھاکہ آپ نے یہ روایت کہاں سے لی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مرزا سلطان احمدؐ صاحب نے مجھے چند پرانے کا غذات دیئے تھے جن میں سے حضرت کی یہ تحریر نکلی تھی ۔لیکن خاکسار کی رائے میں اگر حضرت صاحب کی صرف تحریر ملی ہے تو اس سے یہ استدلال ضروری نہیں ہوتا کہ آپ نے یہ خط اپنے والد صاحب کے پیش بھی کیا تھا بلکہ خط کے نیچے دستخط اور تاریخ کا نہ ہونا اس شبہ کو قوی کرتا ہے ۔
    { 262} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب کی دائی کا نام لاڈو تھا اور وہ ہا کو نا کو بروالوں کی ماں تھی ۔جب میں نے اسے دیکھا تھا تو وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی ۔مرزا سلطان احمدؐبلکہ عزیز احمد کو بھی اسی نے جنایا تھا ۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس سے اپنی پیدائش کے متعلق کچھ شہادت بھی لی تھی ۔ اپنے فن میں وہ اچھی ہو شیار عورت تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ یہاں کسی عورت کے بچہ پھنس گیا اور پیدا نہ ہوتا تھاتو حضرت صاحب نے فرمایا تھاکہ لاڈو کو بلا کر دکھائو۔ہو شیار ہے چنانچہ اسے بلایا گیا تو اللہ کے فضل سے بچہ آسانی سے پیدا ہو گیا ۔مگر والدہ صاحبہ کہتی تھیں کہ تم میں سے کسی کی پیدائش کے وقت اسے نہیں بلایا گیا ۔کیونکہ بعض وجوہات سے اس پر کچھ شبہ پیدا ہو گیا تھا ۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ عزیز احمد کی پیدائش کے وقت جب لاڈو آئی تو ان دنو ں میں اسے خارش کی مرض تھی ۔چنانچہ اس سے عزیز احمد کو خارش ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ تمہارے تایا کے گھر میں اکثر لوگوں کو خارش ہو گئی اور آخر ادھر سے ہمارے گھر میں بھی خارش کا اثر پہنچا ۔چنانچہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں خارش کی تکلیف ہو گئی تھی ۔
    { 263} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب کی تجویز پر گیارہ سو روپیہ مقرر ہواتھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا جان صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے ۔میر صاحب خواجہ میر درد صاحب دہلوی کے خاندان سے ہیں ۔اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے ۔اور قریباً عرصہ پچیس سال سے پنشن پر ہیں ۔ شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی کچھ مخالفت کی تھی ۔لیکن جلد ہی تائب ہو کر بیعت میں شامل ہو گئے ۔
    { 264} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمدحسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملا قاتیوں میں ایک مولوی عبد العزیز صاحب ہوتے تھے ۔جو کرم ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے ۔ان کا ایک دوست تھا ۔ جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد تھا اور لاکھوں روپے کا مالک تھا ۔مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا ۔جو اُس کا وارث ہوتا۔ اس نے مولوی عبد العزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لئے دعا کرواؤ کہ میرے لڑکا ہو جاوے ۔مولوی عبد العزیز نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمہیں کرایہ دیتے ہیں ۔تم قادیان جاؤ اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لئے کہو ۔چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لئے کہا ۔آپ نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیداہوناضروری ہوتا ہے۔جب آدمی کسی کے لئے دعا کرتا ہے توا س کے لئے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے جو دعا کے لئے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لئے دعا نکلے ۔مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے ۔پس آپ جا کر اسے یہ کہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے ۔ پھر ہم اس کے لئے دعا کریں گے ۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دے دیگا ۔ میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دیا ۔مگر وہ خاموش ہو گئے ۔اور آخر وہ شخص لاولد ہی مر گیا ۔اور اس کی جائیداد اس کے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اورمقدموں کے بعد تقسیم ہو گئی۔
    { 265} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیامجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ ابھی حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر صرف دو تین ماہ ہی گذرے تھے کہ میں ایک دو اور دوستوں کے ساتھ بٹالہ میں مولوی محمدحسین بٹالوی سے ملنے گیا ۔میری غر ض یہ تھی کہ مولوی محمد حسین سے باتوں باتوں میںحضرت صاحب کی عمر کے متعلق سوال کروں کیونکہ ان دنوں میں آپ کی عمر کے متعلق بہت اعتراض تھا ۔خیر میں گیا اور مولوی صاحب کے دروازے پر آواز دی ۔ مولوی محمد حسین نیچے آئے اور مسجد میں آکر ملاقات کی ۔میرا ارادہ تھا کہ مولوی صاحب کو اپنا احمدی ہونا ظاہر نہ کروں گا ۔لیکن مولوی صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ کہاں جاتے ہو؟تو مجھے نا چار قادیان کا نام لینا پڑا ۔اور مولوی صاحب کو معلوم ہو گیا کہ میں احمدی ہوں ۔خیر میں نے مولوی صاحب سے گفتگو شروع کی اور کہا کہ مولوی صاحب اور نہیں تو آپ کم از کم وفات مسیح ناصری کے تو قائل ہو ہی گئے ہو نگے ۔مولوی صاحب نے سختی سے کہا کہ نہیں میں تو مسیح کو زندہ سمجھتا ہوں ۔خیر اس پر گفتگو ہوتی رہی ۔پھر میں نے مولوی محمد حسین سے پوچھا کہ آپ تو حضرت مرزا صاحب کے پرانے واقف ہونگے ۔ مولوی صاحب نے کہا ہاںمیں توجوانی سے جانتا ہوں اور میں اور مرزا صاحب بچپن میں ہم مکتب بھی تھے ۔ اور پھر اس کے بعد ہمیشہ ملاقات رہی ۔میں نے کہا آپ اور مرزا صاحب ہم عمر ہی ہوں گے ۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ نہیں مرزا صاحب مجھ سے تین چار سال بڑے تھے۔میں نے سادگی کا چہرہ بنا کر پو چھا کہ مولوی صاحب آپ کی اس وقت کیا عمر ہے؟ مولوی میرے داؤکو نہ سمجھا اور بولا کہ ۷۳۔۷۴سال کی ہے ۔ میں نے دل میں الحمدللہ کہا اور جلدی ہی گفتگو ختم کر کے اُٹھ آیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں فخرالدین صاحب مذکور نے خدا کی قسم کھا کر یہ روایت بیان کی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی محمدحسین نے اپنے اُس خط میں جس کی اشاعت آئینہ کمالات اسلام میں ہو چکی ہے اپنی پیدائش کی تاریخ ۱۷محرم ۱۲۵۶ھ بیان کی ہے ۔اس طرح اگر حضرت صاحب کو مولوی محمد حسین صاحب سے چار سال بڑا مانا جاوے تو آپ کی تاریخ پیدائش ۱۲۵۲ھ بنتی ہے ۔ اور ناظرین کو یاد ہوگا کہ اسی کتاب میں دوسری جگہ (دیکھو روایت نمبر ۱۸۵) خاکسار نے ایک اور جہت سے یہی تاریخ پیدائش ثا بت کی تھی سو الحمدللہ کہ اس کا ایک شاہد بھی مل گیا اور مجھے یہ یاد پڑتا ہے کہ حضرت صاحب بھی فر مایا کرتے تھے کہ مولوی محمد حسین سے میں تین چار سال بڑا ہوں ۔ایک اور بھی بات ہے کہ۱۸۹۴ء میں حضرت صاحب نے آتھم کے مقابلہ پر ایک اشتہار میں اپنی عمرساٹھ سال بیان کی تھی ۔اس سے بھی آپ کی عمر وفات کے وقت۷۴۔۷۵سال بنتی ہے۔
    { 266} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ مجھے وہ لوگ جو دنیا میں سادگی سے زندگی بسر کرتے ہیں بہت ہی پیارے لگتے ہیں ۔
    { 267} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاںعبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ’’مرضیٔ مولا از ہمہ اولیٰ ‘‘۔ (یعنی خدا کی رضا سب سے مقدم ہونی چاہئے)
    { 268} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاںعبد اللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے کہ جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اوراُن کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیا ں رہتی ہیں ان کو میں لاتا ہوں آپ اُن کو دیکھ لیں ۔پھر اُن میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے ۔چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کردیا ۔اور پھر اندر آکر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں ۔چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے اُن کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پو چھنے لگے کہ اب بتائو تمہیں کو ن سی لڑکی پسند ہے ۔وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے ۔اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے ۔پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہو تا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کو ئی شخص وہاں نہ تھا ۔اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے ۔اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا ،جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہو ا۔مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمدصاحب کا رشتہ نہیں ہوا ۔یہ مدت کی بات ہے ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبیوں میں خوبصورتی کا احساس بھی بہت ہوتا ہے۔ دراصل جو شخص حقیقی حُسن کو پہچانتا اور اس کی قدر کرتا ہے وہ مجازی حسن کو بھی ضرور پہچانے گا اور اس کے مرتبے کے اندر اندر اس کی قدر کر ے گا۔آنحضرت ﷺ کے متعلق احادیث میں روایت آتی ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار میں سے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کر نے کا ارادہ کیا اور آپ ؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ بغیر دیکھے کے شادی نہ کرنا ۔بلکہ پہلے لڑکی کو دیکھ لینا کیونکہ انصار لڑکیوں کی آنکھ میں عموماً نقص ہو تا ہے ۔ایک اور صحابی جابر ؓ سے جس نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی ۔مگر وہ خود ابھی نوجوان لڑکا تھا ۔آپ ؐ نے فرمایا ’’ میاں کسی باکرہ لڑ کی سے کیوں نہ شادی کی جو تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم اس کے ساتھ کھیلتے ‘‘ ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں کچھ کام کرنا ہوتا ہے ان کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کی خانگی زندگی میں ہر جہت سے ایسے سامان مہیا ہوں جواُن کیلئے راحت سکون اور اطمینان کا موجب ہوں تا کہ ان کے بیرونی کام کا بوجھ ہلکا کر نے میں یہ خانگی راحت و سکون کسی قدر سہارے کا کام دے سکے ۔
    { 269} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب میں نے ایک واقعی ضرورت پر نکاح ثانی کا قصد کیا۔تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ جب کہیں موقعہ ملے جلد اس قلعہ میںداخل ہو جانا چاہیے اور زیدو بکر کی پروا نہ کرنی چاہیے ۔
    { 270} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب ہر چیز میں خوبصورتی کو پسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے اَللّٰہُ جَمِیْلٌ وَیُحِبُّ الْجَمَال -
    {271} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے یہ اشتہار دیا کہ کوئی غیر مذہب کا پیرو یا مخالف اگر نشان دیکھنا چاہتا ہے تو میرے پاس آکر رہے ۔ پھر اگر نشان نہ دیکھے تو میں اسے اتنا انعام دونگا ۔تو ایک دن حضرت صاحب مجھے فرمانے لگے کہ ہم نے اشتہار دے دیکر بہت بلا یا ہے مگر کوئی نہیں آتا۔آجکل بٹالہ میں پادری وائٹ بریخٹ ہیں ۔ آپ اُن کے پاس جائیں اور ایک متلاشی ٔ حق کے طور پر اپنے آپ کو ظاہر کریں اور کہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسا ایسا اشتہار دیا ہے ،آپ ضرور چل کر اُن کا مقابلہ کر یں ۔آپ کیلئے کوئی مشکل بھی نہیں ہے ۔قادیان یہاں سے صرف چند میل کے فاصلہ پر ہے۔اگر مرزا صاحب اس مقابلہ میں ہار گئے ۔تو میں بلا عذر حق کو قبول کر لوں گا اور اور بھی بہت سے لوگ حق کو قبول کر لیں گے اور حضر ت صاحب نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی اُسے کہنا کہ جھوٹے کو اُس کے گھر تک پہنچانا چاہیے ۔یہ ایک بڑا نادر موقعہ ہے ۔مرزا صاحب نے بڑا شور مچا رکھا ہے ۔ آپ اگر ان کو شکست دیدیں گے اور ان سے انعام حاصل کر لیں گے تو یہ ایک عیسائیت کی نمایاں فتح ہو گی اور پھر کو ئی مسلمان سامنے نہیں بو ل سکے گا وغیرہ وغیرہ ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں جس وقت حضرت صاحب نے یہ مجھ سے فرمایا اس وقت شام کا وقت تھا اور بارش ہو رہی تھی اور سردیوں کے دن تھے ۔اس لئے میاں حامد علی نے مجھے روکا کہ صبح چلے جانا مگر میں نے کہا کہ جب حضرت صاحب نے فرمایا ہے تو خواہ کچھ ہو میں تو ابھی جائوں گا چنانچہ میں اسی وقت پیدل روانہ ہو گیا اور قریباً رات کے دس گیارہ بجے بارش سے تر بتر اور سردی سے کانپتا ہوا بٹا لہ پہنچا اور اسی وقت پادری مذکور کی کوٹھی پر گیا وہاں پادری کے خانسامہ نے میری بڑی خاطر کی اور مجھے سونے کیلئے جگہ دی اور کھانا دیا اور بہت آرام پہنچایا اور وعدہ کیا کہ صبح پادری صاحب سے ملاقات کرائو ں گا ۔چنانچہ صبح ہی اس نے مجھے پادری سے ملایا۔ اس وقت پادری کے پا س اس کی میم بھی بیٹھی تھی ۔میں نے اسی طریق پر جس طرح حضرت صاحب نے مجھے سمجھایا تھا ۔اس سے گفتگو کی مگر اس نے انکا رکیا اور کہا کہ ہم ان باتوں میں نہیں آتے ۔میں نے اسے بہت غیرت دلائی اور عیسائیت کی فتح ہو جانے کی صورت میں اپنے آپ کو حق کے قبول کر لینے کے لئے تیار ظاہر کیا مگروہ انکار ہی کرتا چلا گیا ۔ آخر مَیں مایوس ہو کر قادیان آگیا اور حضرت صاحب سے سارا قصہ عرض کردیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ غالباً سلسلہ بیعت سے پہلے کا ہے ۔
    { 272} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مر گئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کو کیا کروں؟حضرت صاحب ؑ نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میںخرچ ہو سکتا ہے اور پھر مثال دے کر بیان کیا کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگِ دیوانہ حملہ کرے اور اس کے پاس اس وقت کوئی چیزاپنے دفاع کیلئے نہ ہو نہ سوٹی نہ پتھر وغیرہ صرف چند نجاست میں پڑے ہو ئے پیسے اس کے قریب ہوں تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کیلئے ان پیسوں کو اٹھا کر اس کتے کو نہ دے مارے گا اور اس وجہ سے رک جاوے گا کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہو ئے ہیں ہر گز نہیں۔ پس اسی طرح اس زمانہ میں جو اسلام کی حالت ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس روپیہ کو خدمت اسلام میں لگا یا جاسکتا ہے ۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں جب کی یہ بات ہے آج کل والے انگریزی پیسے زیادہ رائج نہ تھے بلکہ موٹے موٹے بھدے سے پیسے چلتے تھے جن کو منصوری پیسے کہتے ہیں ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں خدمت اسلام کیلئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ کے خرچ کئے جانے کا فتویٰ بھی حضرت صاحب نے اسی اصول پر دیا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ فتویٰ وقتی ہے اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہے ۔ وَمَنِ اعْتَدٰی فَقَدْ ظَلَمَ وَحَارَبَ اللّٰہ ـ
    {273} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اَلاستقامۃ فوق الکرامۃِ -
    {274} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضر ت مسیح موعود ؑ فرماتے تھے کہ سؤر سے مسلمانوں کو سخت نفرت ہے ۔جو طبیعت کا ایک حصہ بن گئی ہے ۔اس میں یہ حکمت ہے کہ خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسان اگر چاہے تو تما م منہیّات سے ایسی ہی نفرت کر سکتا ہے اور اسے ایسی ہی نفرت کر نی چاہیے ۔
    { 275} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ آتھم کے مباحثہ میں مَیں بھی موجود تھا -جب حضرت صاحب نے اپنے آخری مضمون میں یہ بیان کیا کہ آتھم صاحب نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں آنحضرت ﷺکو(نعوذ باللہ ) دجّال کہا ہے۔ تو آتھم نے ایک خوف زدہ انسان کی طرح اپنا چہرہ بنایا ۔ اور اپنی زبان باہر نکال کر کانوں کیطرف ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ میں نے یہ کہا ں لکھا ہے یاکب لکھا ہے یعنی نہیں لکھا ۔
    { 276} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے لدھیانہ والے مباحثہ میں مَیں موجود تھا ۔حضرت صاحب الگ اپنے خادموں میں بیٹھ جاتے تھے اور مولوی محمد حسین الگ اپنے آدمیوں میں بیٹھ جاتا تھا اور پھر تحریری مباحثہ ہوتا تھا ۔میں نے دوران ِ مباحثہ میں کبھی حضرت صاحب اور مولوی محمد حسین کو آپس میں زبانی گفتگو کر تے نہیں سنا ۔ان دنوں میں لدھیانہ میں بڑا شور تھا ۔مولوی محمد حسین کے ملنے والوں میں ایک مولوی نظام الدین صاحب ہوتے تھے جو کئی حج کر چکے تھے ۔اور طبیعت ظریف رکھتے تھے وہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ ؑ نے خلاف ِ قرآن شریف وفات مسیح کا یہ کیا عقیدہ نکالا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ’’ میں نے قرآن شریف کے خلاف کچھ نہیں کہا۔بلکہ میں تو اب بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی شخص قرآن سے حیات مسیح ؑ ثابت کر دے ۔تو فوراً اپنے عقیدہ سے رجوع کر لوں گا ۔مولوی نظام الدین نے خوش ہو کر کہا کہ کیا واقعی آپ ؑ قرآن شریف کی آیات کے سامنے اپنے خیالات کو ترک کر دیں گے ؟ حضرت صاحب نے کہا۔ ہاںمیں ضرور ایسا کروں گا۔ مولوی نظام الدین نے کہا ۔اچھا پھر کیا ہے ۔میں ابھی مولوی محمد حسین کے پاس جاتا ہوں ۔اور پچاس آیتیں قرآن کریم کی حیات مسیح ؑ کے ثبوت میں لکھوا لاتا ہوں ۔ حضرت صاحب ؑ نے فرمایا پچاس کی ضرورت نہیں۔میں تو اگر ایک آیت بھی نکل آئے گی تو مان لونگا ۔اس پر مولوی نظام الدین خوشی خوشی اٹھ کر چلے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد سر نیچے ڈالے واپس آئے ۔حضرت صاحب نے فرمایا کیوں مولوی صاحب آپ آیتیںلے آئے ۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب سے جاکر یہ کہا تھا کہ مولوی صاحب !میں نے مرزا صاحب کو بالکل قابو کر لیا ہے اور یہ اقرار کر وا لیا ہے کہ اگر میں قرآن کر یم کی ایک آیت بھی ایسی پیش کر دوں جس میں حیات مسیح ؑ ثابت ہو تو وہ مان لیں گے اور اپنے عقائد سے توبہ کر لیں گے ۔مگر میں نے انہیں کہا تھا کہ ایک آیت کیا میں پچاس آیتیں لاتا ہوں۔سو آپ جلد آیتیں نکال دیں تا میں ابھی ان کے پاس جا کر اُن سے توبہ کر الوں ۔اس پر مولوی صاحب نے سخت برہم ہو کرکہا کہ اے اُلّو! تم نے یہ کیا کیا۔ ہم تو اسے قرآن سے نکال کرحدیثوں کی طرف لاتے ہیں اور تم اسے پھر قرآن کی طرف لے آئے ۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! تو کیا قرآن میں کو ئی آیت مسیح ؑ کی حیات ثابت نہیں کرتی ؟ مولوی صاحب نے کہا تم تو بے وقوف ہو ۔اسے حدیثوں کی طرف لانا تھا کیونکہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے ۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں نے کہا کہ ہم تو پھر قرآن کے ساتھ ہیں ۔جب قرآن سے مسیح ؑ کی وفات ثابت ہو تی ہے تو ہم اس کے مخالف حدیثوں کو کیا کریں ۔اس پر مولوی صاحب نے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ تو بے وقوف ہے تجھے سمجھ نہیں وغیرہ وغیرہ ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد مولوی نظام الدین صاحب نے حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر سراج الحق صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی حصہ اوّل میں یہ واقعہ بیان کر کے یہ بات زائد بیان کی ہے کہ مولوی نظام الدین صاحب نے یہ بھی سنایا کہ جب میں نے مولوی محمد حسین صاحب سے یہ کہا کہ ہم تو پھر قرآن کے ساتھ ہیں تو مولوی صاحب نے سخت برہم ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کی روٹی بند کر دو ۔( پیر صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی نظا م الدین صاحب کو مولوی محمد حسین کی طرف سے روٹی ملا کرتی تھی )اس پر میں نے ہاتھ باندھ کر مولوی محمد حسین سے (ظرافت کے طور پر )کہا کہ مولوی صاحب میں قرآن کو چھوڑ دیتا ہوں ۔خدا کے واسطے میری روٹی نہ بند کرنا ۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب سخت شرمندہ ہوئے ۔
    پیر صاحب نے لکھا ہے کہ جب مولوی نظام الدین نے عملاً اسی طرح ہاتھ باندھ کر اس مکالمہ کو حضرت صاحب کے سامنے دہرایا تو حضرت صاحب بہت ہنسے اور پھر فرمانے لگے کہ دیکھو ان مولویوں کی حالت کہاں تک گر چکی ہے نیز میاں عبداللہ صاحب سنوری بیان کرتے تھے کہ میں پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی کا بڑا معتقد ہو تا تھا اور اس کے پاس جاکر ٹھہر ا کرتا تھا پھر حضرت صاحب کی ملاقات کے بعد بھی جب کبھی مجھے حضرت صاحب مولوی محمد حسین کے پا س کو ئی خط وغیر ہ دے کر بھیجتے تھے تو میں اس سے اسی عقیدت کے ساتھ ملتا تھا ۔لیکن جب اس نے حضرت صاحب کی مخالفت کی تو مجھے اس سے نفرت ہو گئی ۔اور میں نے کبھی اس کی صورت تک دیکھنی پسند نہیں کی ۔
    خاکسارنے میاں عبداللہ صاحب سے دریافت کیا کہ مخالفت سے پہلے مولوی محمد حسین کا حضرت صاحب کے ساتھ کیسا تعلق تھا ۔آیا ایک عام برابری کا ساتعلق تھا یا وہ حضرت صاحب کے ساتھ عقیدت اور اخلاص رکھتا تھا ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ وہ حضرت صاحب سے عقیدت رکھتا تھا ۔چنانچہ جب کبھی کوئی حضرت صاحب کا کام ہوتا تو وہ شوق اور اخلاص سے کرتا تھا اور اس کی باتوں سے پتہ لگتا تھا کہ اس کے دل میں آپ کی محبت اور ادب ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ براہین احمدیہ پر جو مولوی محمد حسین نے ریویو لکھا تھا اس سے بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ مخالفت سے پہلے مولوی محمد حسین حضر ت مسیح موعود ؑ کے ساتھ کافی عقیدت رکھتا تھا ۔یہ ریویو بڑا مبسوط و مکمل ہے اور اپنے حجم کے لحاظ سے گویا ایک مستقل کتاب کہلانے کا حق دار ہے۔
    { 277} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنۃ نے حضر ت مسیح موعود ؑ کی تصنیف براہین احمدیہ پر جو ریویو لکھا تھا اس کے بعض فقرے درج ذیل کرتا ہوں ۔
    ’’ ہماری رائے میں یہ کتاب (یعنی براہین احمدیہ حصہ اوّل و دوم و سوم و چہارم مصنّفہ حضرت مسیح موعود ) اس زمانہ میں موجودہ حالا ت کی نظر سے ایسی کتا ب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہو ئی۔اور آئندہ کی خبر نہیں ۔ لَعَلَّ اللّٰہُ یُحدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا۔(یَقُوْلُ الْعَبْدُ الفقیرُ البشیرُ وَ قَدْ صَدَقَ اللّٰہُ قَوْلَ ھٰذَا الْمَوْلَوِی وَاَحْدَث بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا عَظِیمًا اِذْ جَعَلَ مُصَنِّفَ ھٰذَا الکِتٰبِ اَلْمَسِیْحَ الْمَوْعُوْدَ وَ الْمَھْدِیَّ الْمَعْھُوْدَ وَ جَعَلَہٗ اِمَاماً عَدْلًا اَلَّذِیْ مَلَاَئَ الْاَرْضَ قِسْطًا بَعْدَ مَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَّ اِثْمًا وَ نَالَ الْاِیْمَانَ مِنَ الثُّرَیَا وَ کَسَرَ الصَّلِیْبَ وَ حَارَبَ الدَّجَّالَ فَقَتَلَہٗ وَلٰکِنْ یٰحَسْرَۃً عَلٰی الْعِبَادِ مَا یَا تِیْھِمْ مِنْ رَسُولٍ اِلَّاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِؤُنَ) اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصر ت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم از کم کو ئی ایسی کتاب بتاوے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصو صاً فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایاجاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشاندہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیٹرا اُٹھا لیا ہو ۔اور مخالفین اسلام و منکرین الہام کے مقا بلہ میں مردانہ تحدّی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ و مشاہدہ کر ے اور اس تجربہ و مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔ مؤلّف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب ۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری رہی ہے ۔اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔ مؤلّف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے ،اور مخالفین اسلا م سے شرطیں لگا لگا کر تحدّی کی ہے ۔اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کردی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقّانیت میںشک ہو وہ ہمارے پاس آئے۔ اے خدا ! اپنے طالبوں کے رہنما!ان پر ان کی ذات سے ان کے ماں باپ سے تمام جہاں کے مشفقوں سے زیادہ رحم فرما (یعنی رحم فرمانے والے) تو اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کے برکات سے ان کو مالا مال کر دے اور کسی اپنے صالح بندے کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض اور انعامات اور اس کتاب کی اخص برکا ت سے فیضیاب کر ۔آمین وللارض من کاس الکرام نصیب’’یعنی بڑے لوگوں کے جام سے ان کی جام نوشی کے وقت زمین پر بھی کچھ شراب گر جاتا ہے ۔کیونکہ وہ بوجہ کثرت شراب کے بے پرواہی سے شراب پیتے ہیں اور اس کے تھوڑے بہت گر جانے اور ضائع ہو جانے کی ان کو پروا نہیں ہوتی ۔پس اے اللہ! ہم کو بھی حضر ت مرزا صاحب کی جام نوشی کے وقت تیری شراب سے جو تو نے انکو دی ہے او ر نہیں تو صرف اسی قدر حصہ مل جاوے جو بوقت مے نوشی زمین پر گر کر ضائع ہو جایا کرتا ہے ۔خاکسار مؤلف ‘‘
    دیکھو اشاعۃ السنہ جلد ۶
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعو دؑ نے مولوی محمدحسین کے اس ریویو کا اپنے عربی اشعار مندرجہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ذکر کیا ہے ۔آپ فرماتے ہیں۔
    ایا را شقی قد کنت تمدح منطقی
    وتثنی علیّ بالفۃٍ و تو قّر
    اے مجھ پرتیر چلانے والے کوئی زمانہ تھا کہ تو میرے کلام کی تعریف کرتا تھا اور محبت کے ساتھ میری ثنا کرتا تھا اور میری عزت کرتا تھا
    وللّٰہ درّک حین قرظت مخلصًا
    کتابی وصرت لکل ضال مخفّر
    اورکیا ہی اچھا تھا حال تیرا جبکہ تو نے اخلاص کے ساتھ میری کتاب کا ریویولکھااور تو گمراہوں کو ہدایت کی پناہ میں لانے والا تھا
    وانت الذی قد قال فی تقریظہ
    کمثل المولّف لیس فینا غضنفر
    کہ تُو وہی تو ہے جس نے اپنے ریویو میں کہا تھا کہ براہین احمدیہ کے مؤلف جیسا کوئی شیر بہادر ہم میں نہیں ہے
    عرفت مقامی ثم انکرت مدبراً
    فما الجھل بعد العلم ان کنت تشعر
    تو نے میرے مقام کو پہچانا مگر پھر انکار کر دیااور پیٹھ پھیر لی لیکن ذرا خیال تو کر کہ علم کے بعد جہالت کی کیا حقیقت ہوتی ہے
    کمثلک مع علم بحالی وفطنۃٍ
    عجبت لہ یبغی الھدیٰ ثم یا طر
    تیرے جیسا شخص جو میرے حالات کو خوب جانتا ہے تعجب ہے کہ وہ ہدایت پر آکرپھر راہ راست چھوڑ دے
    قطعت وداداً قد غر سناہ فی الصبا
    و لیس فوادی فی الوداد یقصّر
    تو نے محبت کے اس درخت کو کاٹ دیا جو ہم نے نو جوانی میں لگایا تھامگر میرے دل نے محبت میں کوئی کو تا ہی نہیں کی
    علی غیر شیئٍ قلتَ ماقلت عجلۃً
    وواللہ انی صادق لا ازوّر
    تو نے میرے متعلق جو جلد بازی سے کہا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے اور خدا کی قسم میں صادق ہوں جھوٹا نہیں ہوں
    { 278} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۸۹۰ء کے اواخر میں فتح اسلام تصنیف فرمائی تھی اور اس کی اشاعت شروع ۱۸۹۱ء میں لدھیانہ میں کی گئی۔ یہ وہ پہلا رسالہ ہے ۔ جس میں آپ ؑ نے اپنے مثیل مسیح ہونے اورمسیح ناصری کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ گویا مسیح موعودؑ کے دعویٰ کا یہ سب سے پہلا اعلان ہے ۔بعض لوگ جو بیان کرتے ہیںکہ حضرت صاحب نے مسیح موعودؑ کے دعوے کے متعلق سب سے پہلے ایک اشتہار دیا تھا ۔میری تحقیق میں یہ غلطی ہے۔ سب سے پہلا اعلان فتح اسلام کے ذریعے ہوا اور وہ اشتہار جس کی سرخی یہ ہے ۔ لِیھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَیَحْیَ مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍ فتح اسلام کی اشاعت کے بعد دیا گیا تھا۔بلکہ یہ اشتہار تو فتح اسلام کے دوسرے حصہ توضیح مرام کی اشاعت کے بھی بعدشائع کیا گیا تھا ۔جیسا کہ خود اس اشتہار کو پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے پس اشتہار کو دعویٰ مسیحیت کے متعلق ابتدائی اعلان سمجھنا جیسا کہ پیر سراج الحق صاحب نے اپنے رسالہ تذکرۃ المہدی میں اور غالباًاُن کی اتباع میں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے اپنے رسالہ سیرت مسیح موعودؑمیں شائع کیا ہے ایک صریح غلطی ہے ۔ حق یہ ہے کہ دعویٰ مسیحیت کے متعلق سب سے پہلا پبلک اعلان فتح اسلام کے ذریعہ ہوا ۔اس کے بعد توضیح مرام کی اشاعت ہوئی پھر بعض اشتہارات ہوئے اور پھر ازالہ اوہام کی اشاعت ہوئی ۔ایک اور بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ فتح اسلام میں مسیح موعودؑ ہونے کا دعویٰ اور وفات مسیح کا عقیدہ بہت صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئے ۔ اور نہ یہ اعلان ایسی صورت میں ہوا ہے کہ جو ایک انقلابی رنگ رکھتا ہو ۔جس سے ایسا سمجھا جاوے کہ گویا اب ایک نیا دور شروع ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔بلکہ محض سلسلہ کلام میں یہ باتیں بیان ہو گئی ہیں ۔ نہ پوری صراحت ہے نہ تحدّی ہے نہ ادلّہ ہیں ۔اس کے بعد توضیح مرام میں زیادہ وضاحت ہے اور پھر بالآخر ازالہ اوہام میں یہ باتیں نہایت زور شور کے ساتھ معہ ادلّہ بیان کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی بہت تلاش کی کہ کوئی ایسا ابتدائی اعلان ملے کہ جس میں مثلاً ایک نئے انکشاف کے طور پر حضرت صاحب نے یہ اعلان کیا ہو کہ مجھے اللہ نے بتایا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہوچکا ہے اور آنے والا موعود مسیح موعود میں ہوں ۔یعنی کوئی ایسا رنگ ہوجو یہ ظاہر کرے کہ اب ایک نئے دور کا اعلان ہوتا ہے ۔مگر مجھے ایسی صورت نظر نہیں آئی ۔بلکہ سب سے پہلا اعلان رسالہ فتح اسلام ثابت ہوا ۔مگر اسے دیکھا گیا ۔تو ایسے رنگ میں پایا گیا جو اوپر بیان ہوا ہے یعنی اس میں یہ باتیں ایسے طور پر بیان ہوئی ہیں کہ گویا کوئی نیا دور اور نیا اعلان نہیں ہے بلکہ اپنے خداداد منصب مجددیت کا بیان کرتے ہوئے یہ باتیں بھی سلسلہ کلام میں بیان ہو گئی ہیں ۔جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے مسیح موعودہونے کے متعلق الہامات تو شروع سے ہی ہو رہے تھے صرف ان کی تشریح اب ہوئی تھی۔
    {279} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ مسیحیت اور وفات مسیح ناصری کے عقیدہ کا اعلان کیا تو ملک میں ایک سخت طوفان بے تمیزی بر پا ہو گیا ۔اس سے پہلے بھی گو مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آپ کی مخالفت تھی لیکن اوّل تو وہ بہت محدود تھی ۔دوسرے وہ ایسی شدید اورپُر جوش نہ تھی لیکن اس دعویٰ کے بعد تو گویا ساری اسلامی دنیا میں ایک جوش عظیم پیدا ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعودؑ کو اوّل لدھیانہ میں پھر دہلی میں اورپھر لاہور میںپرزور مباحثات کرنے پڑے مگر جب مولویوں نے دیکھا ۔کہ حضرت مسیح موعودؑ اس طرح مولویوں کے رعب میں آنے والے نہیں اور لوگوں پر آپ کی باتوں کا اثر ہوتا جاتا ہے ۔تو سب سے پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک استفتاء تیار کیا ۔اور اس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق علماء سے فتویٰ کفر کا طالب ہوا ۔ چنانچہ سب سے پہلے اس نے اپنے استاد مولوی سیدنذیر حسین صاحب دہلوی سے فتویٰ کفر حاصل کیا ۔چونکہ مولوی نذیر حسین تمام ہندوستان میں مشہور و معروف مولوی تھے ۔اور اہل حدیث کے تو گویا امام تھے اور شیخ الکل کہلاتے تھے ۔اس لئے ان کے فتویٰ دینے سے اور پھر مولوی محمد حسین جیسا مشہور مولوی مستفتی تھا ۔باقی اکثر مولویوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کفر نامے پر اپنی مہریں ثبت کرنی شروع کیں ۔اور قریباً دو سو مولویوں کی مہر تصدیق سے یہ فتویٰ ۱۸۹۲ء میں شائع ہوا اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔کہ مسیح موعود ؑ پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا ۔
    { 280} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے عالم شباب کے زمانہ قیام سیالکوٹ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی کی تصنیف حیاۃ النبی سے مولوی میرحسن صاحب سیالکوٹی کی روایت دوسری جگہ (یعنی نمبر ۱۵۰پر)درج کی جا چکی ہے۔ اس روایت کے متعلق میں نے مولوی صاحب موصوف کو سیالکوٹ خط لکھا تھا ۔ مولوی صاحب نے اس کی تصدیق کی اور مجھے اپنی طرف سے اس کی روایت کی اجازت دی ۔اس کے علاوہ میری درخواست پر مولوی صاحب موصوف نے انہی ایام کے بعض مزید حالات بھی لکھ کر مجھے ارسال کئے ہیں۔جو میں درج ذیل کرتا ہوں ۔مولوی صاحب لکھتے ہیں ۔
    ’’حضرت مخدوم زادہ والا شان سمو المکان زادالطافکم‘‘۔
    بعد از سلام مسنون عرض خدمت والا یہ ہے کہ چند در چند عوائق و موانع کے باعث آپ کے ارشاد کی تعمیل میں دیر واقع ہوئی امید ہے آپ معاف فرمائیں گے ۔چونکہ عرصہ دراز گذر چکا ہے ۔اور اس وقت یہ باتیں چنداں قابل توجہ اور التفات نہیں خیال کی جاتی تھیں ۔اس واسطے اکثر فراموش ہو گئیں ۔جو یاد کرنے میں بھی یاد نہیں آتیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ ادنیٰ تامل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہو جاتا ہے۔کہ حضرت اپنے ہرقول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں ۔فقط
    راقم جناب کا ادنیٰ نیاز مند میر حسن ۔۲۶نومبر۱۹۲۲ء
    سیرت کی جلد اول تھوڑے دنوں میں روانہ خدمت کر دوں گا ۔فقط۔‘‘(اس سے مراد شیخ یعقوب علی صاحب کی تصنیف ہے ۔ جو میں نے مولوی صاحب کو بھجوائی تھی۔اور جس کی روایت کی اپنے دوسرے خط میں انہوں نے تصدیق کی ہے ۔خاکسار)حضرت مسیح موعود ؑ کے حالات کے متعلق مولوی صاحب اپنے اسی خط میں یوں رقمطراز ہیں ۔
    ’’حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میںجو اس عاصی پُر معاصی کے غریب خانہ کے بہت قریب ہے ۔عمرا نامی کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے ۔کچہری سے جب تشریف لاتے تھے ۔تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے ۔ بیٹھ کر ،کھڑے ہو کر، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے ۔اور زار زار رویا کرتے تھے ۔ایسی خشوع و خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔حسب عادت زمانہ صاحب ِ حاجات جیسے اہل کاروں کے پاس جاتے ہیں ۔ان کی خدمت میں بھی آجایا کرتے تھے ۔اسی عمرا مالک مکان کے بڑے بھائی فضل دین نام کو جو فی الجملہ محلہ میں موقر تھا ۔آپ بلا کر فرماتے ۔ میاں فضل دین ان لوگوں کو سمجھا دوکہ یہاں نہ آیا کریں ۔نہ اپنا وقت ضائع کیا کریں اور نہ میرے وقت کو بر باد کیا کریں ۔ میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ میں حاکم نہیں ہوں ۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے ۔کچہری میں ہی کر آتا ہوں ۔فضل دین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے ۔ مولوی عبد الکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقرّبین میں شمار کئے گئے ۔
    اس کے بعد وہ مسجد جامع کے سامنے ایک بیٹھک میں بمع منصب علی حکیم کے رہا کرتے تھے ۔وہ (یعنی منصب علی خاکسار مؤلف)وثیقہ نویسی کے عہدہ پر ممتاز تھے ۔بیٹھک کے قریب ایک شخص فضل دین نام بوڑھے دو کاندار تھے جو رات کو بھی دکان پر ہی رہا کرتے تھے ۔۔ان کے اکثر احباب شام کے بعد ان کی دکان پر آجاتے تھے ۔چونکہ شیخ صاحب پارسا آدمی تھے ۔اس لئے جو وہاں شام کے بعد آتے سب اچھے ہی آدمی ہوتے تھے ۔کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے اور گاہِ گاہِ نصر اللہ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ۔ آجایا کرتے تھے ۔مرزا صاحب اور ہیڈ ماسٹر کی اکثر بحث مذہبی امور میں ہو جاتی تھی۔ مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے ۔
    مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مر تاض شخص تھے۔مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔اور لالہ بھیم سین صاحب وکیل کو بھی تاکید فرماتے تھے ۔کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو ۔چنانچہ وہ بھی مولوی صاحب کی خدمت میں کبھی کبھی حاضر ہوا کرتے تھے۔
    جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا ۔تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے ۔کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنی چاہیے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰)۔مولوی محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے ۔ کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔
    دینیات میںمرزا صاحب کی سبقت اور پیشروی تو عیاں ہے ۔مگر ظاہری جسمانی دوڑ میں بھی آپ ؑ کی سبقت اس وقت کے حاضرین پر صاف ثابت ہو چکی تھی۔
    اس کا مفصل حال یوں ہے کہ ایک دفعہ کچہری برخاست ہونے کے بعد جب اہل کار گھروں کو واپس ہونے لگے ۔تو اتفاقاً تیز دوڑنے اور مسابقت کا ذکر شروع ہو گیا ۔ہر ایک نے دعویٰ کیا کہ میں بہت دوڑ سکتا ہوں ۔ آخر ایک شخص بلّا سنگھ نام نے کہا۔کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں ۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑو تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے ۔آخر شیخ الہ داد صاحب منصف مقرر ہوئے ۔اور یہ امر قرار پایاکہ یہاں سے شروع کر کے اس پُل تک جو کچہری کی سڑک اور شہر میں حدِّ فاصل ہے ۔ننگے پاؤں دوڑو۔جوتیاں ایک آدمی نے اُٹھا لیں اور پہلے ایک شخص اس پُل پر بھیجا گیا تا کہ وہ شہادت دے کہ کون سبقت لے گیا اور پہلے پُل پر پہنچا ۔مرزا صاحب اور بِلا سنگھ ایک ہی وقت میں دوڑے ۔اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے ۔جب پُل پر پہنچے ۔تو ثابت ہو ا کہ مرزا صاحب سبقت لے گئے اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا۔‘‘
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات دینی غیرت دنیاوی باتوں میں بھی رونما ہوتی ہے ۔چنانچہ مشہور ہے کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید کے پاس کسی نے یہ بات پہنچائی ۔کہ فلاں سکھ سپاہی اس بات کا دعویٰ رکھتا ہے کہ کوئی شخص تیرنے میں اس کا مقابلہ نہیںکر سکتا ۔اس پر شہید مرحوم کو غیرت آگئی اور اسی وقت سے انہوں نے تیرنے کی مشق شروع کر دی ۔اور بالا ٓخر اتنی مہارت پیداکرلی کہ پہروں پانی میں پڑے رہتے تھے ۔اور فرماتے تھے۔کہ اب وہ سکھ میرے ساتھ مقابلہ کر لے ۔گویا ان کو یہ گوارا نہ ہوا ۔کہ ایک غیر مسلم تیرنے کی صفت میں بھی مسلمانوں پر فوقیت رکھے ۔حالانکہ یہ ایک معمولی دنیاوی بات تھی ۔سو معلوم ہوتا ہے ۔کہ اس وقت بھی ایسے رنگ میں گفتگو ہوئی ہو گی ۔ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو بلا سنگھ کے مقابلہ میں غیرت آگئی اور پھر عالم بھی شباب کا تھا۔
    { 281} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سفر میں تھے اور لاہور کے ایک سٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فر مارہے تھے ۔اس وقت پنڈت لیکھرام حضور سے ملنے کے لئے آیا ۔اور آکر سلام کیا مگر حضرت صاحب نے کچھ جواب نہیںدیا اُس نے اس خیال سے کہ شائد آپ نے سُنا نہیں ۔دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کیا ۔ مگر آپؑ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا۔کہ حضور ؑ پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا ۔آپؑ نے فرمایا ۔ ’’ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے ۔اور ہمیں سلام کرتا ہے۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ وہ عشق تھا کہ جس کی مثال نظر نہیں آتی ۔
    { 282} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت حضرت مسیح موعودؑ فوت ہوئے۔تو بہت سے ہندو اور عیسائی اخباروں نے آپ ؑ کے متعلق نوٹ شائع کئے تھے ۔چنانچہ نمونۃً ہندوستان کے ایک نہایت مشہور و معروف انگریزی اخبار ’’پا ئنیر ‘‘الہ آباد کی رائے کا اقتباس درج ذیل کرتا ہوں ۔’’پائنیر‘ ‘ کے ایڈیٹر اور منیجر اور مالک سب انگریز عیسائی ہیں ۔’’پائنیر ‘‘نے لکھا کہ :۔
    ’’اگر گذشتہ زمانہ کے اسرائیلی نبیو ں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آکر اس زمانہ میں دنیا کے اندر تبلیغ کرے تو وہ بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں معلوم نہ ہوگا۔جیسا کہ مرزا غلام احمد خان قادیانی تھے ۔(یعنی مرزا صاحب کے حالات اسرائیلی نبیوں سے بہت مشابہت رکھتے تھے ۔ مؤلف)۔۔۔۔۔ ہم یہ قابلیت نہیں رکھتے کہ ان کی عالمانہ حیثیت کے متعلق کوئی رائے لگا سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا صاحب کو اپنے دعویٰ کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا ۔اور وہ کامل صداقت اور خلوص سے اس بات کا یقین رکھتے تھے۔کہ ان پر کلام الہٰی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ انہوں نے بشپ ویلڈن کو چیلنج دیا (جس نے اس کو حیران کر دیا)کہ وہ نشان نمائی میں ان کا مقابلہ کرے ۔یہ چیلنج اسی طریق پر تھا ۔جیسا کہ الیاس نبی نے بَعل کے پروہتوں کو چیلنج دیا تھا ۔اور مرزا صاحب نے اس مقابلہ کا یہ نتیجہ قرار دیا کہ یہ فیصلہ ہو جائیگا۔کہ سچا مذہب کون سا ہے اور مرزا صاحب اس بات کے لئے تیار تھے ۔کہ حالاتِ زمانہ کے ماتحت پادری صاحب جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں کہ نشان دکھانے میں کوئی دھوکہ اور فریب استعمال نہ ہو۔ وہ لوگ جنہوں نے مذہب کے رنگ میں دنیا کے اندر ایک حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں مرزا غلام احمدخان سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔بہ نسبت مثلاً ایسے شخص کے جیسا کہ اس زمانہ میں انگلستان کا لاٹ پادری ہوتا ہے ۔اگر ارنسٹ رین (فرانس کا ایک مشہور مصنف ہے ۔مؤلف)۔گذشتہ بیس سال میں ہندوستان میں ہوتا ۔تو وہ یقینا مرزا صاحب کے پاس جاتااور ان کے حالات کا مطالعہ کرتا ۔جس کے نتیجہ میں انبیا ء بنی اسرائیل کے عجیب و غریب حالات پر ایک نئی روشنی پڑتی ۔بہر حال قادیا ن کا نبی ان لوگوں میں سے تھا ۔جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔‘‘
    { 283} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا ۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عمر کے متعلق حضرت صاحب کے سب اندازے ہی ہیں ۔کوئی یقینی علم نہیں ہے ۔پس آپؑ کی تاریخ پیدائش اور عمر کے متعلق اگر کوئی قابل اعتماد ذریعہ ہے تو یہی ہے کہ مختلف جہات سے اس سوال پر غور کیا جاوے ۔ اور پھر اُن کے مجموعی نتیجہ سے کوئی رائے قائم کی جاوے کسی منفرد کڑی سے اس سوال کا حل مشکل ہے۔خود حضرت صاحب کی اپنی تحریرا ت اس معاملہ میںایک دوسرے کے مخالف پڑتی ہیں ۔کیونکہ وہ کسی قطعی علم پر مبنی نہیں ہیں ۔بلکہ محض اندازے ہیں ۔جو آپ ؑ نے لگائے ہیں جیسا کہ آپؑ نے خود براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بیان فرمادیا ہے ۔خاکسار کی تحقیق میں آپؑ کی تاریخ پیدائش ۱۲۵۲ھ کی نکلتی ہے۔واللّٰہ اعلم۔
    { 284} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا حضرت خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول ؓ کاا یک رشتہ دار جو ایک بھنگی ،چرسی اور بد معاش آدمی تھا ۔قادیان آیا۔اور اس کے متعلق کچھ شبہ ہوا ۔کہ وہ کسی بدارادے سے یہاں آیا ہے اور اس کی رپورٹ حضرت صاحب تک بھی پہنچی ۔آپ ؑ نے حضرت خلیفہ اول ؓ کو کہلا بھیجا ۔کہ اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں ۔لیکن جب حضرت خلیفہ اول ؓ نے اسے قادیان سے چلے جانے کو کہا ۔تو اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا ۔اور کہا ۔اگر مجھے اتنے روپے دے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ جتنے روپے وہ مانگتا تھا اس وقت اتنے روپے حضرت خلیفہ اولؓ کے پاس نہ تھے اس لئے آپؓ کچھ کم دیتے تھے ۔اسی جھگڑے میں کچھ دیر ہو گئی ۔چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی وہ ابھی تک نہیں گیا۔اور قادیان میں ہی ہے اس پر حضرت صاحب ؑ نے خلیفہ اول ؓ کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کردیں یا خود بھی چلے جاویں ۔حضرت مولوی صاحبؓ تک جب یہ الفاظ پہنچے ۔تو انہوں نے فوراً کسی سے قرض لے کر اُسے رخصت کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبی جہاں ایک طرف محبت اور احسان اور مروّت کا بے نظیر نمونہ ہوتے ہیں ۔وہاں دوسری طرف خدا کی صفت استغناء کے بھی پورے مظہر ہوتے ہیں ۔حضرت خلیفہ اوّلؓ کا یہ رشتہ دار آپ ؓ کا حقیقی بھتیجا تھا ۔اور اس کا نام عبد الرحمن تھا ۔ایک نہایت آوارہ گرد اور بد معاش آدمی تھا ۔اور اس کے متعلق اس وقت یہ شبہ کیا گیا تھا۔کہ ایسا نہ ہو کہ یہ شخص قادیان میں کسی فتنہ عظیمہ کے پیدا کرنے کا موجب ہو جائے۔
    { 285} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ راولپنڈی سے ایک غیراحمدی آیا ۔جو اچھا متموّل آدمی تھا۔اور اس نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ میرا فلاں عزیز بیمار ہے ۔ حضورؑ حضرت مولوی نور الدین ؓ صاحب (خلیفہ اوّل )کو اجازت دیں کہ وہ میرے ساتھ راولپنڈی تشریف لے چلیں اور اس کا علاج کریں ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر مولوی صاحب کو یہ بھی کہیں کہ آگ میں گھس جاؤیا پانی میں کود جاؤتو ان کو کوئی عذر نہیں ہو گا ۔لیکن ہمیں بھی مولوی صاحب کے آرام کا خیال چاہیے ۔ان کے گھر میں آج کل بچہ ہونے والا ہے ۔اس لئے میں ان کو راولپنڈی جانے کے لئے نہیں کہہ سکتا۔مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں ۔کہ مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحبؓ حضرت صاحب کا یہ فقرہ بیان کرتے تھے ۔اور اس بات پر بہت خوش ہوتے تھے ۔کہ حضرت ؑ صاحب نے مجھ پر اس درجہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔
    { 286} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چو ہدری حاکم علی صاحب نے۔ ایک دفعہ حضرت صاحبؑ بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے ۔کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور فحش گالیاں دینے لگا ۔ اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے ۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ اگر حضرت صاحب کی اجازت ہوتی۔تو اُس کی وہیں تکا بوٹی اُڑ جاتی ۔مگر آپ ؑ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس کی فحش زبانی حد کو پہنچ گئی ۔تو حضرت ؑصاحب نے فرمایا۔کہ دو آدمی اسے نرمی کے ساتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں ۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سرکار انگریزی کی طرف سے قادیان میں ایک پولیس کا سپاہی رہا کرتا ہے۔اور ان دنوں حاکم علی نامی ایک سپاہی ہوتا تھا۔
    { 287} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔کہ مجھے بعض اوقات غصّہ کی حالت تکلف سے بنانی پڑتی ہے ۔ورنہ خود طبیعت میں بہت کم غصّہ پیدا ہوتا ہے۔
    { 288} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب یہاں ڈھاب میں کنارے پر نہانے لگے ۔مگر پاؤں پھسل گیا۔اور وہ گہرے پانی میں چلے گئے ۔اور پھر لگے ڈوبنے کیونکہ تیرنا نہیں آتا تھا ۔کئی لوگ بچانے کے لئے پانی میں کودے مگر جب کوئی شخص مولوی صاحب کے پاس جاتاتھا ۔ تو وہ اسے ایسا پکڑتے تھے۔کہ وہ خود بھی ڈوبنے لگتا تھا۔اس طرح مولوی صاحب نے کئی غوطے کھائے ۔آخر شاید قاضی امیر حسین ؓصاحب نے پانی میںغوطے لگا لگا کر نیچے سے اُن کو کنارے کی طرف دھکیلا ۔تب وہ باہر آئے ۔جب مولوی صاحب حضرت صاحب ؑ سے اس واقعہ کے بعد ملے تو آپ ؑ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔مولوی صاحب آپ گھڑے کے پانی سے ہی نہا لیا کریں ۔ ڈھاب کی طرف نہ جائیں ۔پھر فرمایا کہ میں بچپن میں اتنا تیرتا تھاکہ ایک وقت میں ساری قادیان کے ارد گرد تیر جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے ارد گرد اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ سارا گاؤں ایک جزیرہ بن جاتا ہے ۔
    { 289} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جاننے کے لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم مغفور کی تصنیف سیرت مسیح موعودؑ کے مندرجہ ذیل فقرات ایک عمدہ ذریعہ ہیں ۔مولوی صاحب موصوف فر ماتے ہیں۔
    ’’عرصہ قریب پندرہ برس کا گذرتا ہے ۔جبکہ حضرت صاحب نے بارِ دیگر خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اُٹھایا ہے ۔اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔وہ ٹھنڈا دل اور بہشتی قلب قابل غور ہے ۔جسے اتنی مدت میں کسی قسم کے رنج اور تنغّص عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوئی ہو اس بات کو اندرون خانہ کی خدمت گار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں ۔اور فطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلّف اور تصنّع زیر کی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں بہت عمدہ طرح محسوس کرتی ہیں ۔وہ تعجب سے دیکھتی ہیں ۔اور زمانہ اور گردو پیش کے عام عرف اور برتاؤکے بالکل برخلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں ۔اور میں نے بار ہا انہیں خود حیر ت سے کہتے ہوئے سُنا ہے ۔ کہ’’مرجا بیوی دی گل بڑی مَن دا اے‘‘
    ……اس بد مزاج دوست کا واقعہ سن کر آپ معاشرت نسواں کے بارے میں دیر تک گفتگو فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا۔کہ میرا یہ حال ہے ۔کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھااور میں محسوس کرتا تھاکہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے ۔اور باینہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ میں نے منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہااور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیںاور کچھ صدقہ بھی دیا۔کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہٰی کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ حضرت صاحب کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے جو ایک نکاح کے متعلق ہے ۔حضرت صاحب کی بیوی صاحبہ مکرمہ نے بارہا رو رو کر دعائیں کی ہیں اور بار ہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ گو میری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے ۔مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں ۔کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں ۔ ایک روز دعا مانگ رہی تھیں ۔حضرت صاحبؑ نے پوچھا۔آپ کیا مانگتی ہیں ؟ آپ نے بات سنائی ۔کہ یہ مانگ رہی ہوں ۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے ۔آپ نے فرمایا۔کچھ ہی کیوں نہ ہو ۔مجھے اس کا پاس ہے کہ آپؑ کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں ۔‘‘
    { 290} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دینی مشاغل میں ایسی تندہی اور محویت سے مصروف رہتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔اس کی ایک نہایت ادنیٰ مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ جیسے ایک دکاندار ہو۔جو اکیلا اپنی دکان پر کام کرتا ہو۔اور اس کا مال اس کی وسیع دکان میں مختلف جگہ پھیلا ہوا ہو۔اور ایسا اتفاق ہو کہ بہت سے گاہک جو مختلف چیزیں خریدنے کے خیال سے آئے ہوں ۔اس کی دکان پرجمع ہوجائیں۔اور اپنے مطالبات پیش کریں ۔ایسے وقت میں ایک ہوشیار اور سمجھدار دکاندار جس مصروفیت کے ساتھ اپنے گاہکوں کے ساتھ مشغول ہو جائیگا اور اسے کسی بات کی ہوش نہیں رہے گی ۔بس یہی حال مگر ایک بڑے پیمانہ پر حضر ت مسیح موعود ؑ کا نظر آتا تھا ۔اور روز صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لیکر صبح تک آپ ؑ کا وقت اس محو کر دینے والی مصروفیت میں گذر جاتا تھا اور جس طرح ایک مسافر جس کے پاس وقت تھوڑا ہو اور اُس نے ایک بہت بڑی مسافت طے کر نی ہو ۔اپنی حرکات میں غیر معمولی سرعت سے کام لیتا ہے ۔اسی طرح آپ کا حال تھا ۔بسا اوقات ساری ساری رات تصنیف کے کام میں لگا دیتے تھے اور صبح کو پھر کمر کس کر ایک چوکس اور چست سپاہی کی طرح دین خدا کی خدمت میں ایستادہ کھڑے ہو جاتے تھے ۔کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ جو لوگ آپ ؑ کی مدد کیلئے آپؑ کے ساتھ کام کرتے تھے وہ گوباری باری آپ ؑ کے ساتھ لگتے تھے ۔مگر پھر بھی وہ ایک ایک کرکے ماندہ ہو کر بیٹھتے جاتے تھے ۔لیکن یہ خدا کا بندہ اپنے آقا کی خدمت میں نہ تھکتا تھا اور نہ ماندہ ہو تا تھا ۔
    { 291} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اپنی کتاب سیرتِ مسیح موعود ؑ میں لکھتے ہیں کہ :۔
    ’’ میں نے دیکھا ہے کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں ۔یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل فصیح کتابیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامۂ قیامت بر پا ہے ۔بے تمیز بچے اور سادہ عورتیں جھگڑ رہی ہیں ۔چیخ رہی ہیں ۔چلّا رہی ہیں ،یہاں تک کہ بعض آپس میں دست و گریبان ہو رہی ہیں ۔اور پوری زنانہ کر تو تیں کر رہی ہیں ۔مگر حضرت صاحب یوں لکھے جا رہے ہیں اور کام میں یوں مستغرق ہیں کہ گویا خلوت میں بیٹھے ہیں ۔یہ ساری لا نظیر اور عظیم الشان عربی ،اردو ،فارسی کی تصانیف ایسے ہی مکانوں میں لکھی ہیں ۔ میں نے ایک دفعہ پوچھا ۔اتنے شور میں حضور کو لکھنے میں یا سوچنے میں ذرا بھی تشویش نہیں ہوتی ؟ مسکرا کر فرمایا ’’ میں سُنتا ہی نہیں تشویش کیا ہو ‘‘۔
    { 292} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ :۔
    ’’ایک دفعہ اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت صاحب تبلیغ (یعنی آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ) لکھا کرتے تھے ۔مولوی نورالدین ؓ صاحب تشریف لائے۔حضرت صاحب نے ایک بڑا دو ورقہ مضمون لکھا اور اس کی فصاحت و بلاغت خداداد پرحضر ت صاحب کو ناز تھا اور وہ فارسی ترجمہ کیلئے مجھے دینا تھا مگر یاد نہ رہا اور جیب میں رکھ لیا اور باہر سیر کو چل دیئے ۔مولوی صاحب اور جماعت بھی ساتھ تھی ۔واپسی پر کہ ہنوز راستہ ہی میں تھے ۔مولو ی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ دیدیا کہ وہ پڑھ کر عاجز راقم کو دے دیں ۔مولوی صاحب کے ہاتھ سے وہ مضمون گِر گیا ۔واپس ڈیرہ میں آئے اور بیٹھ گئے۔ حضرت صاحب معمولاً اندر چلے گئے ۔میں نے کسی سے کہا کہ آج حضرت صاحب نے مضمون نہیں بھیجا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور ابھی مجھے ترجمہ بھی کرنا ہے ۔مولوی صاحب کو دیکھتا ہوں تو رنگ فق ہو رہا ہے ۔حضرت صاحب کو خبر ہوئی تو معمولی ہشاش بشاش چہرہ ،تبسم زیر لب تشریف لائے اور بڑا عذر کیا کہ ’’ مولوی صاحب کو کاغذ کے گم ہونے سے بڑی تشویش ہو ئی ۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر تگاپو کیوں کیا گیا ۔میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بہتر عطا فرماویگا۔‘‘
    { 293} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد سرور شاہ صاحب نے کہ جن دنوں میںحضرت صاحب نے شروع شروع میں مسیح موعود ؑ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ میں طالب علم تھااور لاہور میں پڑھتا تھا۔ان دنوں میں حضرت مولوی نور الدین صاحبؓحضرت صاحب کو ملنے کے لئے جموں سے آئے ۔ اور راستہ میں لاہور ٹھہرے ۔چونکہ مولوی صاحب کے ساتھ میرے والد صاحب کے بہت تعلقات تھے۔اور وہ مجھے تاکید فر ماتے رہتے تھے۔کہ مولوی صاحب سے ضرور ملتے رہا کرو ۔اس لئے میں مولوی صاحب سے ملنے کے لئے گیا۔مولوی صاحب ان دنوں نمازیں چو نیاں کی مسجد میں پڑھا کرتے تھے ۔ وہاں مولوی صاحب نماز پڑھنے گئے ۔اور حوض پر بیٹھ کر وضو کرنے لگے۔تو اُدھرسے مولوی محمد حسین بٹالوی بھی آگیا۔اور اس نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہی کہا۔کہ مولوی صاحب !تعجب ہے کہ آپ جیسا شخص بھی مرزا کے ساتھ ہو گیاہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ مولوی صاحب میں نے تو مرزا صاحب کو صادق اور منجانب اللہ پایا ہے ۔اور میں سچ کہتا ہوں ۔کہ میں نے ان کو یو نہی نہیں مانا۔بلکہ علیٰ وجہ البصیرت مانا ہے۔ اس پر باہم بات ہوتی رہی ۔آخر مولوی محمد حسین نے کہا ۔کہ اب میں آپ کو لاہور سے جانے نہیں دوں گا۔حتّٰی کہ آپ میرے ساتھ اس معاملہ میں بحث کر لیں ۔مولوی صاحب نے فرمایا۔کہ اچھا میں تیار ہوں۔اس پر اگلا دن بحث کے لئے مقرر ہوگیا۔چنانچہ دوسرے دن مولوی صاحب کی مولوی محمد حسین کے ساتھ بحث ہوئی ۔لیکن ابھی بحث ختم نہ ہونے پائی تھی۔کہ مولوی صاحب کو جموں سے مہا راج کا تار آگیا۔کہ فوراً چلے آؤ۔چنانچہ مولوی صاحب فوراً لاہور سے بطر ف لدھیانہ روانہ ہو گئے۔تاکہ حضرت صاحب سے ملاقات کر کے واپس تشریف لے جائیں ۔اس کے کچھ عرصہ بعد میںلاہور سے تعلیم کے لئے دیو بند جانے لگا تو راستہ میں اپنے ایک غیر احمدی دوست مولوی ابراہیم کے پاس لدھیانہ ٹھہرا ۔وہاںمجھے مولو ی ابراہیم نے بتا یا کہ آجکل مرزا صاحب قادیانی یہیں ہیں ۔میں نے اسے کہا کہ مرزا صاحب کی مخالفت بہت ہے اور میرے یہاں لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اس لئے میں تو نہیں جاسکتا لیکن آپ کے ساتھ اپنا ایک طالب علم بھیجے دیتا ہوں جو آپ کو مرزا صاحب کے مکان کا راستہ بتا دیگا ۔چنانچہ میں اکیلا حضرت صاحب کی ملاقات کیلئے گیا ۔جب میں اس مکان پر پہنچا جہاں حضرت صاحب قیام فر ما تھے تو اس وقت آپ اندر کے کمرہ سے نکل کر باہر نشست گاہ میں تشریف لا رہے تھے ۔میں نے مصافحہ کیا اور بیٹھ گیا ۔ اس وقت شاید حضرت صاحب کے پاس شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری اور کوئی اور صاحب تھے۔حضرت صاحب سر نیچا کر کے خاموش بیٹھ گئے ۔جیسے کوئی شخص مراقبہ میں بیٹھتا ہے ۔شیخ صاحب نے یا جو صاحب وہاں تھے انگریزی حکومت کا کچھ ذکر شروع کر دیا کہ یہ حکومت بہت اچھی ہے ۔ اور ایک لمباعرصہ ذکر کرتے رہے مگر حضرت صاحب اسی طرح سر نیچے ڈالے آگے کی طرف جھکے ہو ئے بیٹھے رہے اور کچھ نہیں بولے ۔ مگر ایسا معلوم ہو تا تھا کہ آپ سن رہے ہیں ۔ایک موقعہ پر آپ ؑ نے کسی بات پر صرف ہاں یا نہ کا لفظ بولا اور پھر اسی طرح خاموش ہو گئے ۔ مولوی صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ ؑ کا رنگ زرد تھا اور آپ ؑ اتنے کمزور تھے کہ کچھ حد نہیں ۔کچھ دیر کے بعد میں مصافحہ کرکے وہاں سے اُٹھ آیا ۔جب میں مولوی ابراہیم کے مکان پر پہنچا تو اس نے پوچھا کہ کہو مرزا صاحب سے مل آئے ؟ میں نے کہا ’’ ہاں ! مگر لوگوں نے یونہی مخالفت کا شور مچار کھا ہے ۔ مرزاصاحب تو صرف چند دن کے مہمان ہیں بچتے نظر نہیں آتے ‘‘۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اسوقت میرا یہی یقین تھا کہ ایسا کمزور شخص زیادہ عرصہ نہیں زندہ رہ سکتا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائے دعویٰ کے زمانہ میں چونکہ بیماری کے دوروں کی بھی ابتدا تھی ۔حضرت صاحب کی صحت سخت خراب ہو گئی تھی اور آپ ؑ ایسے کمزور ہو گئے تھے کہ ظاہری اسباب کے رُو سے واقعی صرف چند دن کے مہمان نظر آتے تھے ۔ غالباً انہی دنوں میں حضرت صاحب کو الہا م ہوا کہ تُرَدُّ عَلَیْکَ اَنْوَارَالشَّبَابِ (تذکرہ صفحہ ۵۲۹مطبوعہ ۲۰۰۴) یعنی اللہ فرماتا ہے کہ تیری طرف شباب کے انوار لوٹائے جائیں گے ۔ چنانچہ اس کے بعد گو جیسا کہ دوسرے الہامات میں ذکر ہے ۔یہ بیماری تو آپ کے ساتھ رہی لیکن دوروں کی سختی اتنی کم ہو گئی کہ آپ کے بدن میں پھر پہلے کی سی طاقت آگئی ۔ اور آپ اچھی طرح کا م کرنے کے قابل ہوگئے ۔
    { 294} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے پیر افتخار احمد صاحب نے کہ ایک دفعہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ مرزا نظام الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوچہ بندی میں کھڑے تھے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ڈیوڑھی سے نکلے اور آپ کے ہاتھ میں دو بند لفافے تھے ۔یہ لفافے آپ نے مرزا نظام الدین کے سامنے کر دیئے کہ ان میں سے ایک اٹھا لیں ۔انہوں نے ایک لفافہ اٹھالیا اور دوسرے کو لیکر حضرت صاحب فوراً اندر واپس چلے گئے ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ مجھے حضرت والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لفافے باغ کی تقسیم کے متعلق تھے چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ نے باغ کا نصف حصہ لینا اور نصف مرزا سلطان احمدکو جانا تھا ۔اس لئے حضرت صاحب نے اس تقسیم کیلئے قرعہ کی صورت اختیار کی تھی۔اور مرزا نظام الدین مرزا سلطا ن احمد کی طرف سے مختار کار تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس تقسیم کے مطابق باغ کا جنوبی نصف حصہ حضرت صاحب کو آیا اور شمالی نصف مرزا سلطا ن احمد صاحب کے حصہ میں چلا گیا اور حضرت والدہ صاحبہ نے خاکسار سے بیان کیا کہ اس تقسیم کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب کو کسی دینی غرض کیلئے کچھ روپے کی ضرورت پیش آئی تو آپ ؑ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے تم اپنا زیور دے دو۔میں تم کو اپنا باغ رہن دے دیتا ہوں ۔چنانچہ آپ نے سب رجسٹرار کو قادیان میں بلوا کر باقاعد ہ رہن نامہ میرے نام کروا دیا ۔اور پھر اندر آکر مجھ سے فرمایا کہ میں نے رہن کیلئے تیس سال کی میعاد لکھ دی ہے کہ اس عرصہ کے اندر یہ رہن فک نہیں کروایا جائیگا ۔
    خاکسارعر ض کرتا ہے کہ رہن کے متعلق میعاد کو عموماً فقہ والے جائز قرار نہیں دیتے ۔سو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول کی اہل فقہ کے قول سے تطبیق کی ضرورت سمجھی جاوے تو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ گو یا حضر ت صاحب نے میعاد کو رہن کی شرائط میں نہیں رکھا ۔بلکہ اپنی طرف سے یہ بات زائد بطور احسان و مروّت کے درج کرا دی ۔کیونکہ ہر شخص کو حق ہے کہ بطو ر احسان اپنی طرف سے جو چاہے دوسرے کو دیدے۔مثلاً یہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ اگر کو ئی شخص دوسرے کو کچھ قرض دے تو اصل سے زیادہ واپس نہ مانگے کیونکہ یہ سود ہو جاتا ہے ۔لیکن باینہمہ اس بات کو شریعت نے نہ صر ف جائز بلکہ پسندیدہ قرار دیا ہے کہ ہو سکے تو مقروض روپیہ واپس کرتے ہوئے اپنی خوشی سے قارض کو اصل رقم سے کچھ زیادہ دے دے ۔علاوہ ازیں خاکسار کو یہ بھی خیال آتا ہے کہ گو شریعت نے رہن میں اصل مقصود ضمانت کے پہلو کو رکھا ہے ۔اور اسی وجہ سے عموماً فقہ والے رہن میں میعاد کو تسلیم نہیں کر تے لیکن شریعت کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض اوقات ایک امر ایک خاص بات کو ملحوظ رکھ کر جاری کیا جاتا ہے ۔مگر بعد اس کے جائز ہو جانے کے اس کے جوازمیں دوسری جہات سے بھی وسعت پیدا ہو جاتی ہے ۔مثلاً سفرمیں نماز کا قصر کر نا دراصل مبنی ہے اس بات پر کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں سفروں میں نکلتے تھے تو چونکہ دشمن کی طرف سے خطرہ ہو تاتھا ۔ اس لئے نماز کو چھوٹا کر دیا گیا۔لیکن جب سفر میں ایک جہت سے نماز قصر ہوئی تو پھر اللہ نے مومنوں کیلئے اس قصر کو عام کردیا اور خوف کی شرط درمیان سے اٹھا لی گئی ۔پس گو رہن کی اصل بنیاد ضمانت کے اصول پر ہے لیکن جب اس کا دروازہ کھلا تو باری تعالیٰ نے اس کو عام کر دیا مگر یہ فقہ کی باتیں ہیں جس میں رائے دینا خاکسار کا کا م نہیں ۔
    { 295} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر کئی اخباروں نے آپ کے متعلق اپنی آراء کا اظہارکیا تھا ۔ان میں سے بعض کی رائے کا اقتباس درج ذیل کر تا ہوں
    (۱) اخبار’’ ٹائمز آف لنڈن‘‘ نے جو ایک عالمگیر شہرت رکھتا ہے لکھا کہ ’’مرزا صاحب شکل و شباہت میں صاحبِ عزّت و وقار۔وجود میںتاثیر جذبہ رکھنے والے اور خوب ذہین تھے۔ مرزاصاحب کے متبعین میں صرف عوام الناس ہی نہیں بلکہ بہت سے اعلیٰ اور عمدہ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں۔ یہ بات کہ یہ سلسلہ امن پسند اور پابند قانون ہے ۔ اس کے بانی کیلئے قابل فخر ہے۔ ہمیں ڈاکٹر گرسفولڈکی اس رائے سے اتفاق ہے کہ مرزا صاحب اپنے دعاوی میں دھوکا خوردہ تھے ۔دھوکا دینے والے ہر گز نہ تھے ‘‘۔
    (۲) ’’ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ‘‘ نے جو ایک غیر احمدی پرچہ ہے لکھا کہ ’’ مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا ‘‘۔
    (۳) ’’ دی یونیٹی کلکتہ ‘‘ یوں رقمطراز ہو اکہ ’’ مرحوم ایک بہت ہی دلچسپ شخص تھا۔ اپنے چال چلن اور ایمان کے زور سے اس نے بیس ہزار متبع پیدا کر لئے تھے۔ مرزا صاحب اپنے ہی مذہب سے پوری پوری واقفیت نہ رکھتے تھے بلکہ عیسائیت اور ہندو مذہب کے بھی خوب جاننے والے تھے۔ ایسے آدمی کی وفات قوم کیلئے افسوسناک ہے ۔‘‘
    (۴) ’’ صادق الاخبار ریواڑی ‘‘ نے جو ایک غیر احمدی پرچہ ہے ۔ان الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا کہ ’’ واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کماحقہ ادا کرکے خدمت دین اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم ،حامی ٔ اسلام اور معین المسلمین فاضل اجل عالم بے بدل کی ناگہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جاوے ‘‘۔
    (۵) ’’ تہذیب نسواں لاہور ‘‘ کے ایڈیٹر صاحب جو ہمارے سلسلہ سے موافقت نہیں رکھتے یوں گویا ہو ئے کہ ’’ مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دل کو تسخیر کر لیتی تھی ۔وہ نہایت باخبر عالم ،بلند ہمت ،مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے ۔ہم انہیں مذہباً مسیح موعود ؑ تو نہیں مانتے لیکن ان کی ہدایت اور رہنمائی مردہ روحوں کیلئے واقعی مسیحا ئی تھی ۔‘‘
    (۶) ’’ اخبار آریہ پتر کا لاہور ‘‘ نے جو ایک سخت معاند آریہ اخبار ہے لکھا کہ ’’ جو کچھ مرزاصاحب نے اسلام کی ترقی کیلئے کیا ہے اسے مسلمان ہی خوب جج کر سکتے ہیں مگر ایک قابل نوٹس بات جو ان کی تصانیف میں پائی جاتی ہے اور جو دوسروں کو بھی معلوم ہو سکتی ہے یہ ہے کہ عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اس کی نسبت مرزا صاحب کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے ۔ مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی بھی دوستا نہ نہیں ہوئے ۔اور جب ہم آریہ سماج کی گذشتہ تاریخ کو یا دکرتے ہیں تو اُن کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے ۔‘‘
    ( ۷) رسالہ ’’ اندر‘‘ لاہور جو آریوں کا ایک اخبار تھا یوں رقمطراز ہوا کہ ’’ اگر ہم غلطی نہیں کرتے تو مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب (ﷺ ) سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا ۔خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا ۔اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغز ش نہیں کھا ئی ۔ ‘‘
    (۸) اخبار ’’ برہمچارک ‘‘ لاہو رنے جو برہمو سماج کا ایک پر چہ ہے ۔مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ’’ ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مرزا صاحب کیا بلحاظ لیاقت اور کیا بلحاظ اخلاق و شرافت ایک بڑے پا یہ کے انسا ن تھے ۔‘‘
    (۹) ’’ امرتا بازار پترکا‘‘ نے جو کلکتہ کا ایک مشہور بنگالی اخبا رہے لکھا کہ ’’ مرزا صاحب درویشانہ زندگی بسر کرتے تھے اور سینکڑوں آدمی روزانہ ان کے لنگر سے کھانا کھاتے تھے ۔ان کے مریدوں میں ہر قسم کے لوگ فاضل مولوی با اثر رئیس تعلیم یافتہ امیر سوداگر پائے جاتے ہیں‘‘
    (۱۰) ’’ اسٹیٹسمین‘‘ کلکتہ نے جو ایک بڑا نامی انگریزی اخبار ہے لکھا کہ ’’ مرزا صاحب ایک نہایت مشہور اسلامی بزرگ تھے ۔‘‘
    {296} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اخبار ’’وکیل ‘‘ امرتسر میں جو ایک مشہور غیر احمدی اخبار ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ایڈیٹر کی طرف سے جو مضمون شائع ہوا تھا ۔اس کا مندرجہ ذیل اقتباس ناظرین کے لئے موجب دلچسپی ہو گا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ غیر احمدی مسلمان با وجود حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت کے آپؑ کو اور آپ ؑ کے کام کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔در اصل جو کام آپ ؑنے کیا۔ وہ اس پایہ کا تھاکہ سوائے اس کے کہ کوئی مخالف اپنی مخالفت میں اندھا ہو رہا ہو اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھااور گو وہ اپنے منہ سے آپؑ کو مسیح موعودؑ نہ مانیںلیکن ان کے دل بولتے تھے کہ آپ ؑ کا دم ان کیلئے مسیحائی کا حکم رکھتا ہے ۔غرض ’’وکیل ‘‘نے لکھا کہ۔
    ’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا۔اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی ۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیڑیاں تھیں ۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا ۔جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔خالی ہاتھ دنیا سے اُٹھ گیا ۔یہ تلخ موت یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنیوالے کی ہستی تہِ خاک پنہاں کی ۔ہزاروں لاکھوں زمانوں پر تلخ کا میاں بن کے رہے گی ۔اور قضا کے حملے نے ایک جیتی جان کے ساتھ جن آرزوؤں اور تمناؤں کا قتل عام کیا ہے ۔صدائے ماتم مدتوں اس کی یاد گار تازہ رکھے گی ۔
    مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیںکہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے ۔اور مٹانے کیلئے اسے امتداد زمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جاوے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہوہمیشہ دنیا میں نہیں آتے ۔یہ نازش فرزندانِ تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں ۔اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھاجاتے ہیں ۔
    مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جواس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہوگیا ۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کر تے رہے ۔ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پائمال بنائے رکھا ۔آئندہ بھی جاری رہے ۔
    مرز اصاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا ۔قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جبکہ وہ اپنا کا م پورا کر چکا ہے ۔ہمیں دل سے تسلیم کر نی پڑتی ہے اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اُڑادیئے ۔جو سلطنت کے سایہ میں ہو نے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اُڑ نے لگا غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنیوالی نسلوں کو گراں بار ِاحسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کر نے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کیطرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا کہ جو اس وقت تک کہ مسلمانو ں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعارقومی کا عنوان نظر آئے ،قائم رہے گا ۔
    اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزاصاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت سرانجام دی ہے ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑ تی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جاوے ،ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں ۔
    فطری ذہانت ،مشق و مہارت اور مسلسل بحث و مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحب میں ایک خاص شان پیدا کر دی تھی ۔اپنے مذہب کے علاوہ مذہب غیرپر ان کی نظر نہایت وسیع تھی اور وہ اپنی ان معلومات کو نہایت سلیقہ سے استعمال کر سکتے تھے۔تبلیغ و تلقین کا یہ ملکہ ان میں پیدا ہو گیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب و ملت کا ہو ان کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتاتھا۔ہندوستان آج مذاہب کا عجائب خانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں ۔ اس کی نظیر غالباً دنیا میں کسی او ر جگہ نہیں مل سکتی ۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کیلئے حکم وعدل ہوں ۔لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی ۔اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا ۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں اس طرح مذہب کے مطالعہ میںصرف کر دے ‘‘۔
    { 297} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ اپنی انگریزی کتاب ’’ احمدیہ موومنٹ ‘‘ میں پادری والٹر ایم ۔اے جو و ائی ایم سی اے کے سیکرٹری تھے ۔حضر ت مسیح موعود ؑ کے متعلق مندرجہ ذیل رائے کا اظہار کرتے ہیں ۔
    ’’ یہ بات ہر طرح ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے ۔ ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی ۔یقینا قابل تحسین ہے۔صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے جان دے دی ۔مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔میں نے بعض پُرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہو نیکی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور ان کے جذب اور کھینچ لینے والی شخصیت کو پیش کیا ۔‘‘
    { 298} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ جب حضر ت صاحب باہر سے اندرونِ خانہ تشریف لے جارہے تھے ۔کسی فقیر نے آپ سے کچھ سوال کیا مگر اس وقت لوگوں کی باتوں میں آپ فقیر کی آواز کو صاف طور پر سن نہیں سکے ۔تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کسی فقیر نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے اسے تلاش کیا مگر نہ پایا ۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ فقیر خود بخود آگیا اور آپ نے اسے کچھ نقدی دے دی اس وقت آپ محسوس کرتے تھے کہ گویا آپ کی طبیعت پر سے ایک بھاری بوجھ اُٹھ گیا ہے ۔اور آپ نے فرمایا کہ میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ا س فقیر کو واپس لائے ۔
    خاکسار عرض کر تا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لوگوں کی باتوں میںملکر فقیر کی آواز رہ گئی اور آپ نے اس طرف توجہ نہیں کی لیکن جب آپ اندر تشریف لے گئے اور لوگوں کی آوازوں سے الگ ہوئے تو اس فقیر کی آواز صاف طور پر الگ ہو کر آپ کے سامنے آئی اور آپ کو اس کی امداد کیلئے بے قرار کر دیا ۔
    { 299} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے کسی حوالہ وغیرہ کا کوئی کام میاں معراج دین صاحب عمر لاہوری اور دوسرے لوگوں کے سپرد کیا۔چنانچہ اس ضمن میں میاں معراج دین صاحب چھوٹی چھوٹی پر چیوں پر لکھ کر بار بار حضرت صاحب سے کچھ دریافت کرتے تھے اور حضرت صاحب جواب دیتے تھے کہ یہ تلاش کرو یا فلاں کتاب بھیجو ۔وغیرہ اسی دوران میں میاں معراج دین صاحب نے ایک پر چی حضرت صاحب کو بھیجی اور حضرت صاحب کو مخاطب کر کے بغیر السلام علیکم لکھے اپنی بات لکھ دی ۔اور چونکہ با ربار ایسی پر چیاں آتی جاتی تھیں ۔اس لئے جلدی میںان کی توجہ اس طرف نہ گئی کہ السلام علیکم بھی لکھنا چاہیے ۔حضرت صاحب نے جب اندر سے اس کا جواب بھیجا تو اس کے شروع میں لکھا کہ آپ کو السلام علیکم لکھنا چاہیے تھا۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات نظر آتی ہے مگر اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپکو اپنی جماعت کی تعلیم وتادیب کا کتنا خیال تھا ۔ اور نظر غور سے دیکھیں تو یہ بات معمولی بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ایک مسلّم سچائی ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں ادب و احترام اور آداب کا خیال نہ رکھا جاوے تو پھر آہستہ آہستہ بڑی باتوں تک اس کا اثر پہنچتا ہے اور دل پر ایک زنگ لگنا شروع ہو جا تا ہے ۔علاوہ ازیں ملاقات کے وقت السلا م علیکم کہنا اور خط لکھتے ہوئے السلام علیکم لکھنا شریعت کا حکم بھی ہے ۔‘‘
    نیز خاکسا رعر ض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ دستور تھا کہ آپ اپنے تمام خطوط میں بسم اللہ اور السلام علیکم لکھتے تھے ۔اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے ۔میں نے کو ئی خط آپ کا بغیر بسم اللہ اورسلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا۔اور آپ کو سلام لکھنے کی اتنی عادت تھی کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آپ ایک دفعہ کسی ہندو مخالف کو خط لکھنے لگے تو خود بخود السلام علیکم لکھا گیا ۔جسے آپ نے کا ٹ دیا ۔لیکن پھر لکھنے لگے تو پھر سلام لکھا گیا چنانچہ آپ نے دوسری دفعہ اُسے پھر کاٹا لیکن جب آپ تیسری دفعہ لکھنے لگے تو پھر ہاتھ اسی طرح چل گیا ۔ آخر آپ نے ایک اور کاغذ لے کر ٹھہر ٹھہر کر خط لکھا ۔یہ واقعہ مجھے یقینی طور پر یاد نہیں کہ کس کے ساتھ ہوا تھا لیکن میں نے کہیں ایسا دیکھا ضرور ہے اور غالب خیال پڑتا ہے کہ حضر ت مسیح موعود ؑ کو دیکھا تھا ۔
    واللّٰہ اعلم
    { 300} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے وقت پہلی صف میں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرتے تھے ۔ لیکن پھر بعض باتیں ایسی ہوئیں کہ آپ نے اندر حجرہ میں امام کے ساتھ کھڑا ہو نا شروع کر دیا اور جب حجرہ گرا کر تمام مسجد ایک کی گئی تو پھر بھی آپ بدستور امام کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے رہے ۔
    (خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں مسجد مبارک بہت چھوٹی ہوتی تھی اور لمبی قلمدان کی صورت میں تھی جس کے غربی حصہ میں ایک چھوٹا سا حجرہ تھا۔ جو مسجد کا حصہ ہی تھا لیکن درمیانی دیوار کی وجہ سے علیحدہ صورت میں تھا۔ امام اس حجرہ کے اندر کھڑا ہوتا تھا۔ اور مقتدی پیچھے بڑے حصہ میں ہوتے تھے۔ بعد میں جب مسجد کی توسیع کی گئی تو اس غربی حجرہ کی دیوار اڑا کر اسے مسجد کے ساتھ ایک کر دیا گیا)
    { 301} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے بیوہ مرحومہ مولوی عبدالکریم صاحب ؓ مرحوم نے کہ جب مولوی عبدالکریم صاحب ؓ بیمار ہو ئے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بعض اوقات شدت تکلیف کے وقت نیم غشی کی سی حالت میں وہ کہا کر تے تھے کہ سواری کا انتظام کرومیں حضرت صاحب سے ملنے کیلئے جائونگا ۔ گویا وہ سمجھتے تھے کہ میں کہیں باہر ہوں اور حضرت صاحب قادیان میں ہیں اور بعض اوقات کہتے تھے اور ساتھ ہی زارزار رو پڑتے تھے کہ دیکھو میں نے اتنے عرصہ سے حضرت صاحب کا چہرہ نہیں دیکھا ۔تم مجھے حضرت صاحب کے پاس کیوں نہیں لے جاتے ۔ابھی سواری منگائو اور مجھے لے چلو۔ایک دن جب ہو ش تھی کہنے لگے جائو حضرت صاحب سے کہو کہ میں مر چلا ہوں مجھے صرف دُور سے کھڑے ہو کر اپنی زیارت کراجائیں۔اور بڑے روئے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جائو میں نیچے حضرت صاحب کے پاس آئی کہ مولوی صاحب اس طر ح کہتے ہیں ۔حضرت صاحب فرمانے لگے کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا میرا دل مولوی صاحب کے ملنے کو نہیں چاہتا ! مگر بات یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔مولویا نی مرحومہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری والدہ پاس تھیں انہوں نے حضرت صاحب سے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں۔حضرت صاحب نے فر مایا کہ اچھا میں جاتا ہوں مگر تم دیکھ لینا کہ ان کی تکلیف کودیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا ۔خیر حضرت صاحب نے پگڑی منگا کر سر پر رکھی اور ادھر جانے لگے ۔میں جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر آگے چلی گئی تا کہ مولوی صاحب کو اطلاع دوں کہ حضرت صاحب تشریف لاتے ہیں ۔جب میں نے مولوی صاحب کو جاکر اطلاع دی تو انہوں نے الٹا مجھے ملامت کی کہ تم نے حضرت صاحب کو کیوں تکلیف دی ؟ کیامیں نہیں جانتا کہ وہ کیوں تشریف نہیں لاتے ؟ میں نے کہا کہ آپ نے خود تو کہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو میں نے دل کا دکھڑا رویا تھا ۔تم فوراً جائو اور حضرت صاحب سے عرض کرو کہ تکلیف نہ فرمائیں میں بھاگی گئی تو حضرت صاحب سیڑھیوں کے نیچے کھڑے اوپر آنے کی تیاری کررہے تھے۔میں نے عرض کر دیا کہ حضور آپ تکلیف نہ فرماویں۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے بہت محبت تھی اور یہ اسی محبت کا تقاضا تھا کہ آپ مولوی صاحب کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے چنانچہ باہر مسجد میں کئی دفعہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر میں ان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا ۔چنانچہ آخر مولوی صاحب اسی مرض میں فوت ہوگئے مگر حضرت صاحب ان کے پاس نہیں جاسکے ۔بلکہ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کی بیماری میں اپنی رہائش کا کمرہ بھی بدل لیا تھا کیونکہ جس کمرہ میں آپ رہتے تھے وہ چونکہ مولوی صاحب کے مکان کے بالکل نیچے تھا اس لئے وہاں مولوی صاحب کے کر اہنے کی آواز پہنچ جاتی تھی جو آپ کو بیتاب کر دیتی تھی ۔اور مولوی صاحب مرحوم چونکہ مرض کا ربنکل میںمبتلا تھے اس لئے ان کا بدن ڈاکٹروں کی چیرا پھاڑی سے چھلنی ہو گیا تھا اور وہ اس کے درد میں بے تاب ہو کر کر اہتے تھے ۔
    نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب ؓ مرحوم حضر ت صاحب ؑکے مکان کے اس حصہ میں رہتے تھے جو مسجد مبارک کے اوپر کے صحن کے ساتھ ملحق ہے اس مکان کے نیچے خود حضرت صاحب کا رہائشی کمرہ تھا ۔مولوی عبدالکریم صاحب کے علاوہ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی محمدعلی صاحب ایم۔اے بھی حضرت صاحب کے مکان کے مختلف حصوں میں رہتے تھے اور شروع شروع میں جب نواب محمد علی خان صاحب قادیان آئے تھے تو ان کو بھی حضرت صاحب نے اپنے مکان کا ایک حصہ خالی کر دیا تھا ۔ مگر بعد میں انہوں نے خود اپنا مکان تعمیر کروا لیا ۔اسی طرح شروع میں مفتی محمد صادق صاحب کو بھی آپ نے اپنے مکان میں جگہ دی تھی ۔مولوی محمد احسن صاحب بھی کئی دفعہ حضرت صاحب کے مکان پر ٹھہرتے تھے ۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب بھی جب فیملی کے ساتھ آتے تھے تو عموماً حضرت صاحب ان کو اپنے مکان کے کسی حصہ میں ٹھہراتے تھے ۔دراصل حضرت صاحب کی یہ خواہش رہتی تھی کہ اس قسم کے لوگ حتّٰی الوسع آپ کے قریب ٹھہریں ۔
    { 302} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامفتی محمد صادق صاحب نے کہ ایک دفعہ جب میں حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ کے کمرہ کا دروازہ زور سے کھٹکا اور سید آل محمد صاحب امروہوی نے آواز دی کہ حضور میں ایک نہایت عظیم الشان فتح کی خبر لا یا ہوں ۔ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ آپ جاکر ان کی بات سن لیں کہ کیا خبر ہے۔میں گیا اور سید آل محمدصاحب سے دریافت کیا انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی کا فلاں مولوی سے مباحثہ ہو ا تو مولوی صاحب نے اُسے بہت سخت شکست دی ۔ اور بڑا رگیدا۔اور وہ بہت ذلیل ہوا وغیرہ وغیرہ ۔اور مولوی صاحب نے مجھے حضر ت صاحب کے پاس روانہ کیا ہے کہ جاکر اس عظیم الشان فتح کی خبر دوں ۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ میں نے واپس آکر حضرت صاحب کے سامنے آل محمد صاحب کے الفاظ دہرادیئے ۔ حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا۔ (کہ ان کے اس طرح دروازہ کھٹکھٹانے اور فتح کا اعلان کرنے سے) ’’ میں سمجھا تھا کہ شاید یورپ مسلمان ہو گیا ہے‘‘ ۔ مفتی صاحب کہتے تھے کہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس ؑ کو یورپ میں اسلام قائم ہو جانے کا کتنا خیال تھا ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو تبلیغ کیلئے سب جگہیں برابر ہیں اور ہر غیر مسلم ایک سامستحق ہے کہ اس تک حق پہنچایا جاوے اور ہر غیر مسلم کا مسلمان ہونا ہمارے لئے ایک سی خوشی رکھتا ہے خواہ کوئی بادشاہ ہو یا ایک غریب بھنگی لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض اوقات ایک خاص قوم یا خاص مُلک کے متعلق حالات ایسے جمع ہو جاتے ہیں کہ اس کی تبلیغ خاص رنگ پید اکر لیتی ہے ۔آجکل یورپ مسیحیت اور مادیت کا گھر ہے ۔ پس لاریب اس کا مسلمان ہونا اسلام کی ایک عظیم الشان فتح ہے ۔
    { 303} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مفتی محمد صادق صاحب نے کہ ایک دفعہ ہم چند دوست مسجد میں بیٹھے ہوئے خوا جہ کمال الدین صاحب کی عادتِ نسیان کے متعلق باتیں کررہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اندر سے ہماری باتو ں کو سن لیا اور کھڑکی کھول کر مسجد میں تشریف لے آئے ۔اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ کیا باتیں کرتے ہیں ؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور خوا جہ صاحب کے حافظہ کا ذکر ہو رہا تھا ۔ آپ ہنسے اور فرمایا کہ ہاں خوا جہ صاحب کے حافظہ کا تو یہ حال ہے کہ ایک دفعہ یہ رفع حاجت کیلئے پاخانہ گئے اور لوٹا وہیں بھول آئے اور لوگ تلاش کرتے رہے کہ لوٹا کدھر گیا ۔آخر لوٹا پاخانہ میں ملا ۔
    مفتی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بالکل بے تکلف رہتے تھے اور ان کی ساری باتوں میں شریک ہو جاتے تھے ۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجموعہ کی کاپیاں لکھی جارہی تھیں کہ مفتی صاحب امریکہ سے جہاں وہ تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے ہوئے تھے واپس تشریف لے آئے اور اپنی بعض تقریروں میں انہوں نے یہ باتیں بیان کیں ۔خاکسار نے اس خیال سے کہ مفتی صاحب کا اس کتاب میں حصہ ہوجاوے ۔انہیں درج کر دیا ہے ۔
    نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ یوں تو حضرت صاحب اپنے سارے خدام سے ہی بہت محبت رکھتے تھے لیکن میں محسوس کرتا تھا کہ آپ کو مفتی صاحب سے خاص محبت ہے۔ جب کبھی آپ مفتی صاحب کا ذکر فرماتے تو فرماتے ’’ ہمارے مفتی صاحب ‘‘ او رجب مفتی صاحب لاہور سے قادیا ن آیا کرتے تھے تو حضرت صاحب ان کو دیکھ کر بہت خوش ہو تے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک محبت اور اس کے اظہار کے اقسام ہیں جنھیں نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض وقت لوگ غلط خیالات قائم کر لیتے ہیں ۔انسان کی محبت اپنی بیوی سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور والدین سے اور رنگ کی ۔ رشتہ داروں سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں سے اور رنگ کی ۔رشتہ داروں میں سے عمر کے لحاظ سے چھوٹوں سے اور رنگ کی محبت ہوتی ہے اور بڑوں سے اور رنگ کی ۔خادموں کیساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں کے ساتھ اور رنگ کی ۔دوستوں میں سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ محبت اور رنگ کی ہوتی ہے ۔ چھوٹوں کے ساتھ اور رنگ کی ۔اپنے جذباتِ محبت پر قابو رکھنے والوں کیساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے ،اور وہ جن کی بات بات سے محبت ٹپکے اور وہ اس جذبہ کو قابو میں نہ رکھ سکیں انکے ساتھ اور رنگ کی وغیرہ وغیرہ ۔ غرض محبت اور محبت کے اظہار کے بہت سے شعبے اور بہت سی صورتیں ہیں جن کے نظر انداز کر نے سے غلط نتائج پیدا ہو جاتے ہیں ۔ان باتوں کو نہ سمجھنے والے لوگوں نے فضیلت صحابہ ؓ کے متعلق بھی بعض غلط خیال قائم کئے ہیں مثلاً حضر ت ابو بکر ؓ اور حضرت علی ؓ اور حضرت زید ؓ اور حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ اور حضرت فاطمہؓ کی مقابلۃً فضیلت کے متعلق مسلمانوں میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ۔مگر خاکسار کے نزدیک اگر جہات اور نوعیت محبت کے اصولوں کو مدنظر رکھا جاوے اور اس علم کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے اُس طریق اور اُن اقوال پر غور کیا جاوے جن سے لوگ عموماً استدلال پکڑتے ہیں تو بات جلدفیصلہ ہو جاوے۔حضرت علی ؓ آنحضرت ﷺ کے عزیز تھے اور بالکل آپ کے بچوں کی طر ح آپ کے ساتھ رہتے تھے ۔ اس لئے ان کے متعلق آپ ؐ کا طریق اور آپ ؐ کے الفاظ اورقسم کی محبت کے حامل تھے ۔مگر حضرت ابوبکر ؓ آپؐ کے ہم عمر اور غیر خاندا ن سے تھے ۔اور سنجیدہ مزاج بزرگ آدمی تھے اسلئے ان کے ساتھ آپ کاطریق اور آپ ؐ کے الفاظ اور قسم کے ہوتے تھے ،ہر دو کو اپنے اپنے رنگ کے معیاروں سے ناپا جاوے تو پھر موازنہ ہو سکتا ہے ۔مفتی محمد صادق صاحب سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی ہی محبت تھی جیسے چھوٹے عزیزوں سے ہو تی ہے ۔اور اسی کے مطابق آپ کا ان کے ساتھ رویہ تھا ۔لہٰذا مولوی شیر علی صاحب کی روایت سے یہ مطلب نہ سمجھنا چاہیے اور نہ غالباً مولوی صاحب کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مفتی صاحب کے ساتھ مثلا ً حضرت مولوی نورالدین صاحب یا مولوی عبدالکریم صاحب جیسے بزرگوں کی نسبت بھی زیادہ محبت تھی ۔
    { 304} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ نے مجھ سے فرمایا کہ ایک بادشاہ نے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم اپنے ہنراور کمال کا مجھے نمونہ دکھائو اور نمونہ بھی ایسا نمونہ ہو کہ اس سے زیادہ تمہاری طاقت میں نہ ہو ۔ گو یا اپنے انتہائی کمال کا نمونہ ہمارے سامنے پیش کر و۔اورپھر اس بادشاہ نے ایک دوسرے اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم بھی اپنے کمال کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کرو۔اوران دونوں کے درمیان اس بادشاہ نے ایک حجاب حائل کر دیا ۔کاریگر نمبر اول نے ایک دیوار بنائی اور اس کو نقش ونگار سے اتنا آراستہ کیا کہ بس حد کردی ۔اور اعلیٰ ترین انسانی کمال کا نمونہ تیار کیا ۔ اور دوسرے کاریگر نے ایک دیوار بنائی مگر اس کے اوپر کوئی نقش و نگار نہیں کئے لیکن اس کو ایسا صاف کیا اور چمکایا کہ ایک مصفا شیشے سے بھی اپنے صیقل میںوہ بڑھ گئی۔پھر بادشاہ نے پہلے کاریگر سے کہا کہ اپنا نمونہ پیش کرو چنانچہ اس نے وہ نقش و نگار سے مزّین دیوار پیش کی اور سب دیکھنے والے اُسے دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔پھر بادشاہ نے دوسرے کاریگر سے کہا کہ اب تم اپنے کمال کا نمونہ پیش کرو اس نے عرض کیا کہ حضور یہ حجاب درمیان سے اٹھادیا جاوے ۔چنانچہ بادشاہ نے اُسے اٹھوا دیا تو لوگوں نے دیکھا کہ بعینہٖ اسی قسم کی دیوار جو پہلے کاریگر نے تیار کی تھی دوسری طرف بھی کھڑی ہے ۔کیونکہ درمیانی حجاب اُٹھ جانے سے دیوار کے سب نقش و نگار بغیر کسی فرق کے اس دوسری دیوار پر ظاہر ہو گئے ۔
    میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے مجھے یہ بات سنائی تو میں سمجھا کہ شاید کسی بادشاہ کا ذکر ہو گا او ر میں نے اس کے متعلق کو ئی زیادہ خیال نہ کیا لیکن جب حضرت مسیح موعودؑ نے ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تو تب میں سمجھا کہ یہ تو آپ نے اپنی ہی مثال سمجھائی تھی۔چنانچہ میں نے ظلی نبوت کا مسئلہ یہی مثال دیکر غوث گڑھ والوں کو سمجھایا اور وہ اچھی طرح سمجھ گئے ۔پھر جب لاہوریوں کی طرف سے مسئلہ نبوت میں اختلاف ہوا تو اس وقت غوث گڑھ کی جماعت کو کوئی تشویش پیدا نہیں ہوئی اورانہوں نے کہا کہ یہ بات تو آپ نے ہم کو پہلے سے سمجھائی ہوئی ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی حضرت مسیح موعو دؑ کا کمال اسی میں ہے کہ آپ نے اپنے لوح قلب کو ایسا صیقل کیا کہ اس نے سرور کائنات کے نقش ونگا ر کی پوری پوری تصویر اتارلی اور لَاریب جو کوئی بھی اپنے دل کو پاک و صاف کریگا وہ اپنی استعداد کے مطابق آپ کے نقش و نگا ر حاصل کر لے گا ۔محمد رسول اللہ ﷺ بخیل نہیں ہیں بلکہ بخل ہم میں ہے جو آپکی اتباع کو کمال تک نہیں پہنچاتے ۔ اللھم صل علیہ و علٰے اٰلہٖ وعلٰی اصحابہٖ و علٰی عبدک المسیح الموعود وبارک وسلم و اخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔
    تمام شُد
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    سیرت المہدی ۔ سیرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 2 ۔ یونی کوڈ

    بِسْمِ اللّٰہ ِالرَّحْمٰنِ الرَّحیْـمْ
    نَحمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہٖ الکَرِیْم
    وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود مع التسلیم
    عرضِ حال
    عن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَالِکُلِّ امْرِیٍٔ مَانَوٰی (رواہ البخاری)
    سیرۃ المہدی کا حصہ اوّل طبع ہو کر ہدیہ ناظرین ہو چکا ہے۔ اس میں بوجہ سہو کاتب نیز بوجہ اس کے کہ جلدی کی وجہ سے بعض روایات کی پوری طرح نظر ثانی نہیں ہو سکی۔ بعض خفیف خفیف غلطیاں رہ گئی ہیں جن کی اصلاح انشاء اللہ اس حصہ یعنی حصہ دوم میں کر دی جائے گی۔ اب آج بتاریخ ۲۷ رمضان ۱۳۴۳ھ مطابق ۲ مئی ۱۹۲۴ء بروز جمعہ یہ خاکسار سیرۃ المہدی کے حصہ دوم کو شروع کرتا ہے۔ تکمیل کی توفیق دینا باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان ضعیف البنیان کا ارادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ پس میری دعا اور التجا اسی ذات سے ہے کہ اے ضرورت زمانہ کے علیم اور میرے دل کے خبیر تجھے سب قدرت حاصل ہے۔ مجھے توفیق دے کہ تیرے مسیح و مہدی کے سوانح و سیرت و اقوال و احوال وغیرہ کو جمع کروں تا کہ اس ہدایت کے آفتاب سے لوگوں کے دل منور ہوں اور تا اس چشمہ صافی سے تیرے بندے اپنی پیاس بجھائیں اور تا تیرے اس مامور و مرسل کے نمونہ پر چل کر تیرے متلاشی تجھ تک راہ پائیں اور تا تیرے برگزیدہ رسول نبیوں کے سرتاج محمد مصطفی ﷺ کے اس ظل کامل او ر بروز اکمل کی بعثت کی غرض پوری ہو اور تیرے بندے بس تیرے ہی بندے ہو کرزندگی بسر کریں۔ اللھم امین
    خاکسار راقم آثم
    مرزا بشیر احمد
    قادیان

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    {305} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ جب میں لدھیانہ میں تھا اور چہل قدمی کے لئے باہر راستہ پر جا رہا تھا تو ایک انگریز میری طرف آیا اور سلام کہہ کر مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا آپ کے ساتھ کلام کرتا ہے۔ میں نے کہا ’’ ہاں‘‘ اس پر اس نے پوچھا کہ وہ کس طرح کلام کرتا ہے ؟ میں نے کہا اسی طرح جس طرح اس وقت آپ میرے ساتھ باتیں کر رہے ہیں۔ اس پر اس انگریز کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’سبحان اللہ ‘‘ اور پھر وہ ایک گہری فکر میں پڑ کر آہستہ آہستہ چلا گیا ۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ اُس کاا س طرح سبحان اللہ کہنا آپ کو بہت عجیب اور بھلا معلوم ہوا تھا ۔اسی لئے آپ نے یہ واقعہ بیان کیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں جب حضرت مسیح موعود ؑ کے دعویٰ کو دیکھتا ہوں تو دل سرور سے بھر جاتا ہے ۔بھلا جس طرح یہ شیر خدا کا مردِمیدان بن کر گرجا ہے کسی کی کیا مجال ہے کہ اس طرح اسی میدان میں بقائمی ہوش وحواس افتراکے طور پر قدم دھرے اورپھر لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَ خَذْ نَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَامِنْہُ الْوَتیِنْ َ (الحاقۃ :۴۵ تا۴۷)کے وعید کی آگ اسے جلا کر راکھ نہ کر دے ،مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدائی قانون میں ہر جرم کی الگ الگ سزا ہے اور لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا کے ماتحت صرف وہی شخص سزا پا سکتا ہے جو خدائے خالق و مالک کی طرف جسے وہ ذات وصفات ہر دو میں اپنی ذات وصفات بلکہ جمیع مخلوقات سے واضح طور پر غیر اور ممتاز و متباین یقین کرتا ہو ۔بطریق افترا بقائمی ہوش وحواس الفاظ معیّنہ کی صورت میںکوئی قول یا اقوال منسوب کر کے اس بات کا دعویٰ شائع کرے کہ یہ کلام خدا نے مجھے الہام کیا ہے اور وہ خدائی کلام کو خوداپنے کلام اور خیالات سے ہر طرح ممتاز و متباین قراردیتا ہو ۔یعنی کسی خاص مقام یا خا ص حالت یا خاص قسم کے دل کے خیالات کا نام الہام الہٰی رکھنے والا نہ ہو ۔ اور نہ خود خدائی کا دعوٰے دار بنتا ہو ۔ جیسا کہ نیچریوں یا برہم سماجیوں یا بہائیوں کا خیال ہے ۔اگر یہ شرائط جو آیت لَوْتَقَوَّلَ سے ثابت ہیں مفقود ہوں تو خواہ ایک شخص تیئس۲۳سال چھوڑ کر دو سو سال بھی زندگی پائے وہ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَاکے وعیدکے ماتحت سزا نہیں پائے گا ۔گو وہ اور طرح مجرم ہو اور دوسری سزائیں بھگتے جیسا کہ مثلاًوہ شخص جوخواہ ساری عمرچوری یا دھوکہ یا فریب یا اکل بالباطل وغیرہ کے جرائم میں ماخوذ ہو کر ان جرموں کی سزائیں پاتا رہا ہو ۔اگر وہ ڈاکہ زن نہیں ہے تو وہ کبھی بھی ڈاکہ کے جرم کی سزا نہیں پاسکتا ۔ فَافْہَم ۔
    { 306} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا اس وقت وہ حوالہ حضرت کو یاد نہیں تھا اور نہ آپ کے خادموں میں سے کسی اور کو یاد تھا لہٰذا شماتت کا اندیشہ پیدا ہوا مگر حضرت صاحب نے بخاری کا ایک نسخہ منگایا اور یو نہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد ایک ایک ورق اس کاا لٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہاکہ لو یہ لکھ لو۔دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔اورکسی نے حضرت صاحب سے دریافت بھی کیا ۔جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور ان پرکچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے میں ان کو جلد جلد الٹاتا گیا آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے ۔گویا اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ سوائے اس جگہ کے کہ جس پر حوالہ درج تھا باقی تمام جگہ آپ کو خالی نظر آئی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل سے اس روایت کے سننے کے بعد ایک دفعہ خاکسار نے ایک مجمع میں یہ روایت زیادہ تفصیلی طور پر مفتی محمد صادق صاحب سے بھی سنی تھی ۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے اور اس وقت حضرت صاحب کو غالبًا نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میںحوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔سو اوّل تو بخاری ہی نہیں ملتی تھی اور جب ملی تو حوالہ کی تلاش مشکل تھی اور اعتراض کر نے والے مولوی کے سامنے حوالہ کا جلد رکھا جانا از بس ضروری تھا۔اس پر آپ نے بخاری اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور چند چند صفحات کے بعد فرماتے تھے کہ یہ لکھ لو ۔اس جلدی کو دیکھ کر کسی خادم نے عرض کیا کہ حضور ذرااطمینان سے دیکھا جاوے تو شاید زیادہ حوالے مل جاویں ۔آپ نے فرمایا کہ نہیں بس یہی حوالے ہیںجو میں بتا رہاہوں۔ان کے علاوہ اس کتاب میں کوئی حوالہ نہیں کیونکہ سوائے حوالہ کی جگہ کے مجھے سب جگہ خالی نظر آتی ہے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آدمی اللہ کا ہو کر رہے پھر وہ خود حقیقی ضرورت کے وقت اسکے لئے غیب سے سامان پیدا کردیتا ہے اور اگر اس وقت تقدیر عام کے ماتحت اسباب میسر نہ آسکتے ہوں اور ضرورت حقیقی ہو تو تقدیر خاص کے ماتحت بغیر مادی اسباب کے اسکی دستگیری فرمائی جاتی ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو ۔مگر وہ شخص جس کی نظر عالم مادی سے آگے نہیںجاتی اس حقیقت سے ناآشنارہتا ہے ،مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے :۔
    فلسفی کو منکر حنانہ است
    از حواسِ انبیاء بیگانہ است
    اس واقعہ کے متعلق پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ’’ یہ واقعہ میرے سامنے پیش آیا تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ تھا اور مَیں اس میں کاتب تھا۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے پرچوں کی نقل کرتا تھا۔ مفتی محمد صادق صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ غالباً حضرت صاحب کو نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔ اس میں جناب مفتی صاحب کو غلطی لگی ہے۔ کیونکہ مفتی صاحب وہا ںنہیں تھے۔ نون خفیفہ و ثقیلہ کی بحث تو دہلی میں مولوی محمد بشیر سہسوانی ثم بھوپالوی کے ساتھ تھی۔ اور تلاش حوالہ بخاری کا واقعہ لدھیانہ کا ہے۔ بات یہ تھی کہ لدھیانہ کے مباحثہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی نے بخاری کا ایک حوالہ طلب کیا تھا۔ بخاری موجود تھی۔ لیکن اس وقت اس میں یہ حوالہ نہیں ملتا تھا۔ آخر کہیں سے تو ضیح تلویح منگا کر حوالہ نکال کر دیا گیا۔ صاحبِ توضیح نے لکھا ہے۔ کہ یہ حدیث بخاری میں ہے‘‘۔
    اور اسی واقعہ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ:۔ ’’روایت نمبر ۳۰۶ میں حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کی روایت سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے اور حضرت مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کی روایت سے اس کی مزید تصریح کی گئی ہے۔ مگر مفتی صاحب نے اُسے لدھیانہ کے متعلق بیان فرمایا ہے اور نونِ ثقیلہ والی بحث کے تعلق میں ذکر کیا ہے۔ جو درست نہیں ہے۔ مفتی صاحب کو اس میں غلطی لگی ہے۔ لدھیانہ میں نہ تو نونِ ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث ہوئی اور نہ اس قسم کے حوالہ جات پیش کرنے پڑے۔ نونِ ثقیلہ کی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر بھوپالوی والے مباحثہ کے دوران میں پیش آئی تھی۔ اور وہ نون ثقیلہ کی بحث میں اُلجھ کر رہ گئے تھے۔ اور جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے اس مقصد کے لئے بھی بخاری کا کوئی حوالہ پیش نہیں ہوا۔ الحق دہلی سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ دراصل یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا۔ مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کی ’’محدثیّت اور نبوّت‘‘ پر بحث ہوئی تھی۔ یہ مباحثہ محبوب رائیوں کے مکان متصل لنگے منڈی میں ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے محدثیّت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا۔ جس میں حضرت عمرؓ کی محدثیّت پر استدلال تھا۔ مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا۔ اور بخاری خود بھیج دی۔ مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود نکال کر پیش کیا۔ اور یہ حدیث صحیح بخاری پارہ ۱۴ حصہ اوّل باب مناقب عمرؓ میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ قال النَّبِیُّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم قد کان فِیْمَن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یُکَلَّمُونَ من غیران یکونوا انبیائَ فَاِنْ یَکُ مِنْ اُمَّتِی مِنْھُمْ اَحَدٌ فَعُمَر۔جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی۔ تو فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہو گئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اسی پر مباحثہ ختم کر دیا‘‘۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا روایتوں میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق خاکسار ذاتی طور پر کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ ہاں اس قدر درست ہے کہ نونِ ثقیلہ والی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر والے مباحثہ میں پیش آئی تھی۔ اور بظاہر اس سے بخاری والے حوالہ کا جوڑ نہیں ہے۔ پس اس حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دہلی والے مباحثہ کا نہیں ہے۔ آگے رہا لاہور اور لدھیانہ کا اختلاف، سو اس کے متعلق مَیں کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ نیز خاکسار افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ سیرۃ المہدی کا حصہ سوم زیرِ تصنیف ہے۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی فوت ہو چکے ہیں۔ پیر صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایات کا ایک عمدہ خزانہ تھے۔
    { 307} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار کے ماموںڈاکٹر میر محمدؐ اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا اس لئے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خودذبح کرنے لگے مگربجائے چوزہ کی گردن پرچھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی ۔جس سے بہت خون بہہ گیا ۔اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی چوٹ وغیرہ اچانک لگتی تھی تو جلدی جلدی توبہ توبہ کے الفاظ منہ سے فرمانے لگ جاتے تھے ۔دراصل جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ عموماً کسی قانون شکنی کا نتیجہ ہوتی ہے۔خواہ وہ قانون شریعت ہو یا قا نون نیچر یعنی قانون قضا ء وقدریا کوئی اور قانون ،پس ایک صحیح الفطرت آدمی کا یہی کام ہونا چاہیے کہ وہ ہر قسم کی تکلیف کے وقت توبہ کی طرف رجوع کرے۔اور یہی مفہوم اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنے کا ہے جس کی کہ قرآن شریف تعلیم دیتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کئے تھے ۔اس لئے بجائے چوزہ کی گردن کے اپنی انگلی پر چھری پھیر لی ۔ اور یہ نتیجہ تھااس بات کا کہ آپ قانون ذبح کے عملی پہلو سے واقف نہ تھے۔واللہ اعلم۔
    پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ :۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے۔بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی پانی میں بھیگی ہوئی باندھی ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس سے پوچھا۔ کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے؟ تب حضرت اقدس علیہ السَّلام نے ہنس کر فرمایا کہ ایک چوزہ ذبح کرنا تھا۔ ہماری اُنگلی پر چُھری پھر گئی۔ مولوی صاحب مرحوم بھی ہنسے اور عرض کیا کہ آپ نے ایسا کام کیوں کیا۔ حضرت نے فرمایا۔ کہ اس وقت اور کوئی نہ تھا۔
    { 308} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ چند احباب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ جو مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بادل کا سایہ رہتا تھا ۔یہ کیا بات ہے ؟آپ نے جواب میںفرمایا کہ ہر وقت تو بادل کا سایہ رہنا ثابت نہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو کوئی کافر کافر نہ رہتا۔سب لوگ فوراً یقین لے آتے کیونکہ ایسا معجزہ دیکھ کر کون انکار کر سکتا تھا دراصل سنت اللہ کے مطابق معجزہ تو وہ ہوتا ہے کہ جس میں ایک پہلو اخفاء کا بھی ہو اور فرمایا کہ ہر وقت بادل کاسایہ رہنا توموجب تکلیف بھی ہے علاوہ ازیں اگر ہر وقت بادل کا سایہ رہتا تو کیوں گرمی کے وقت حضرت ابو بکرؓ آپ پر چادر تان کر سایہ کرتے اور ہجرت کے سفر میں آپؐ کے لئے کیوں سایہ دار جگہ تلاش کرتے؟ہا ں کسی خاص وقت کسی حکمت کے ماتحت آپ کے سر پر بادل نے آکر سایہ کیا ہو تو تعجب نہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہوا تھا پھر آپ نے وہ واقعہ سنایا جوبٹالہ سے قادیان آتے ہوئے آپ کو پیش آیا تھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ حصہ اول میں درج ہو چکا ہے ۔
    { 309} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب پہلے دن لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو سب سے پہلے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے بیعت کی ۔ان کے بعد میرعباس علی نے اور پھر خواجہ علی صاحب مرحوم نے کی ۔اس دن میاں عبداللہ صاحب سنوری اور شیخ حامد علی صاحب مرحوم اور مولوی عبداللہ صاحب جو خوست کے رہنے والے تھے اور بعض اور آدمیوں نے بیعت کی ۔میں موجود تھا مگر میں نے اُس دن بیعت نہیں کی۔کیونکہ میرا منشاء قادیان کی مسجد مبار ک میں بیعت کرنے کا تھا جسے آپ نے منظورفرمایا ۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے مگر انہوں نے بھی اس وقت بیعت نہیںکی بلکہ کئی ماہ بعد بیعت کی ۔
    مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ روایت نمبر۳۰۹ میں مخدومی مکرمی صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نے پہلے دن کی بیعت میں مولوی عبداللہ صاحب کے ذکر میں فرمایا ہے کہ وہ خوست کے رہنے والے تھے۔ یہ درست نہیں۔ دراصل مولوی عبداللہ صاحب کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ خوست کے رہنے والے نہ تھے۔اس میں صاحبزادہ صاحب کو سہو ہوا ہے۔ مولوی عبداللہ صاحب اس سلسلہ کے سب سے پہلے شخص ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی طرف سے بیعت لینے کی اجازت دی تھی۔ آپ تنگئی علاقہ چارسدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے۔ مَیں نے حضرت مولوی عبداللہ صاحب کے نام حضرت اقدس کا مکتوب اور اجازت نامہ الحکم کے ایک خاص نمبر میں شائع کر دیا تھا۔
    { 310} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیاکہ حضرت صاحب کے سونے کی کیفیت یہ تھی کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد آپ جاگ اُٹھتے تھے اور منہ سے آہستہ آہستہ سبحان اللہ ،سبحان اللہ فرمانے لگ جاتے تھے اور پھر سو جاتے تھے۔
    { 311} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ سیرۃالمہدی کے حصہ اول میںبعض غلطیا ں واقع ہو گئی ہیں ۔جن کی اصلاح ضروری ہے۔
    (۱)صفحہ۷روایت نمبر۱۰(صحیح نمبر۱۱)میں الفاظ ’’پیدا ہونے لگی تو منگل کا دن تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے دُعا کی کہ منگل گذرنے کے بعد پیدا ہو چنانچہ وہ منگل گذرنے کے بعدبدھ کی رات کو پیدا ہوئی‘‘کی بجائے الفاظ ’’پیدا ہونے لگی تومنگل کا دن تھا اس لئے حضرت صاحب نے دُعا کی کہ خدا اسے منگل کے تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رکھے ‘‘سمجھے جاویں۔
    ّ(۲)صفحہ ۵۸۔روایت نمبر۸۷(صحیح نمبر ۸۹)میں الفاظ’’اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا‘‘کے بعد الفاظ ’’آپ ہمارے مہمان ہیں اور‘‘لکھنے سے رہ گئے ہیں زائد کئے جاویں۔
    (۳)صفحہ۶۶روایت نمبر ۹۸(صحیح نمبر۱۰۰)میں الفاظ’’پھر اسی طرح لیٹ گئے‘‘کی بجائے الفاظ’’نے پھراسی طرح اپنی کہنی رکھ لی‘‘سمجھے جاویں۔
    ّّّ(۴)صفحہ۶۶۔روایت نمبر۹۸(صحیح نمبر۱۰۰)میں ’’اسی سرخی کاایک اور بڑا قطرہ‘‘کے بعد’’کرتہ پر ‘‘کے الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں۔زائد کئے جاویں۔
    (۵)صفحہ۱۲۱۔روایت نمبر۱۳۳(صحیح نمبر ۱۳۶)میں ’’کاپی مذکور میں‘‘کے الفاظ کے بعد بجائے ’’۳۱مارچ‘‘ کے الفاظ’’۳مارچ‘‘سمجھے جاویں ۔نیز ’’مربی ام‘‘کی بجائے …الفاظـــ’’مربی انبہ‘‘۔اور دودھ کی بجائے لفظ ’’شیر‘‘سمجھے جاویں۔
    (۶)صفحہ۱۲۴روایت نمبر۱۳۷(صحیح نمبر ۱۴۰)میں’’مگرایک دفعہ جب حضرت صاحب کہیںقادیان سے باہر گئے ہوئے تھے......(تا)......پولیس نے اس بلوہ کی تحقیقات شروع کر دی تھی‘‘کے الفاظ کے بجائے مندرجہ ذیل عبارت سمجھی جاوے’’مگر ایک دفعہ ایسا اتفاق ہواکہ ایک غریب احمدی نے اپنے مکان کے واسطے ڈھاب سے کچھ بھرتی اُٹھائی تو سکھ وغیرہ ایک بڑا جتھ بنا کر اور لاٹھیوں سے مسلح ہو کراس کے مکان پر حملہ آور ہو گئے۔پہلے تو احمدی بچتے رہے۔لیکن جب اُنھوں نے بے گناہ آدمیوں کو مارنا شروع کیااور مکان کو بھی نقصان پہنچانے لگے تو بعض احمدیوں نے بھی مقابلہ کیا جس پر طرفین کے آدمی زخمی ہوئے اور بالآخر حملہ آوروں کوبھاگنا پڑا چنانچہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیان کے غیر احمدیوں کو عملاً پتالگا کہ احمدیوں کا ڈر اُن سے نہیںبلکہ اپنے امام سے ہے ۔اس کے بعد پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کی۔
    (۷)صفحہ۱۲۶روایت نمبر۱۳۸(صحیح نمبر۱۴۱)میں ’’امرتسرسے آدمی اور چھپر‘‘کے بعد الفاظ’’کا سامان‘‘ زائد کئے جاویں۔
    (۸)صفحہ۲۴۲روایت نمبر۲۶۶(صحیح نمبر۲۷۲)میں’’عیسائی ہو جاؤں گا اور اَور بھی بہت سے لوگ عیسائی ہوجائیں گے ‘‘کی بجائے الفاظ’’حق کوقبول کرلوں گااور اَور بھی بہت سے لوگ حق کوقبول کر لیں گے ‘‘سمجھے جاویں۔
    اس کے علاوہ روایات کے نمبر میں بھی غلطی ہو گئی ہے جو درج ذیل ہے:۔
    ّ(۱)صفحہ۳ پرروایت نمبر ۵کے بعد کی روایت بلانمبر لکھی گئی ہے اس کا نمبر ۶ سمجھا جانا چاہیے؛
    (۲)صفحہ۴۱ پرروایت نمبر۶۰کی بعد کی روایت کانمبرنہیںلکھا گیا،اس کانمبر ۱؍۶۰۔ اور صحیح نمبر ۶۲ سمجھا جانا چاہیے ۔
    (۳)صفحہ۱۴۲ روایت نمبر ۱۴۸کے بعد کی روایت کا نمبر درج نہیں اس کانمبر۱؍۱۴۸اور صحیح نمبر ۱۵۲سمجھا جانا چاہیے۔
    (۴)صفحہ۱۶۴پر روایت نمبر۱۶۵کی بعد کی روایت کا نمبر درج نہیںاس کا نمبر۱۶۶۔ اور صحیح نمبر۱۷۰ سمجھا جانا چاہیے ۔
    (۵)صفحہ ۱۹۶پر روایت نمبر۱۷۹کے بعد کی روایت کا نمبردوبارہ نمبر۱۷۹ لکھا گیا ہے اس کا نمبر۱؍۱۷۹ اور صحیح نمبر۱۸۴سمجھا جانا چاہیے۔
    ّ(۶)اس طرح سیرۃ المہدی حصہ اوّل کی کل روایت کا نمبر۲۹۹کی بجائے۳۰۴ بنتا ہے چنانچہ اسی کو ملحوظ رکھ کرحصہ دوئم کی پہلی روایت کو ۳۰۵ کا نمبر دیا گیا ہے۔ ز
    { 312} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب آتھم کی پیش گوئی کی میعاد قریب آئی تو اہلیہ صاحبہ مولوی نور الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہتا ہے کہ ایک ہزارماش کے دانے لے کر ان پر ایک ہزار دفعہ سورہ اَلَمْ تَرَکَیْفَ پڑ ھنی چاہیے اور پھر ان کو کسی کنوئیں میں ڈال دیا جاوے اور پھر واپس منہ پھیر کر نہ دیکھا جاوے۔یہ خواب حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔اس وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی موجود تھے اور عصر کا وقت تھاحضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایاکہ اس خواب کوظا ہر میں پورا کر دینا چاہیے ۔کیونکہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی خواب خود آپ یا احباب میں سے کوئی دیکھتے تو آپ اسے ظاہری شکل میں بھی پورا کرنے کی سعی فرماتے تھے ۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی اسی خیال سے حضرت نے ایسافرمایا۔اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے میرا اور میاں عبد اللہ صاحب سنوری کا نا م لیا اور حضرت نے پسند فرمایا اور ہم دونوں کو ماش کے دانوں پر ایک ہزار دفعہ سورہ اَلَمْ تَرَ کَیْفَپڑھنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ ہم نے عشاء کی نماز کے بعد سے شروع کر کے رات کے دو بجے تک یہ وظیفہ ختم کیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حصہ اوّل میں میاںعبد اللہ صاحب سنوری کی زبانی بھی درج ہو چکی ہے ۔اور مجھے میاں عبداللہ صاحب والی روایت سن کر تعجب ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فعل کس حکمت کے ما تحت کیا ہے۔کیونکہ اس قسم کی کارروائی بظاہر آپ کے طریق عمل کے خلاف ہے لیکن اب پیر صاحب کی روایت سے یہ عقدہ حل ہو گیا ہے کہ آپ کا یہ فعل در اصل ایک خواب کی بنا پر تھا جسے آپ نے ظا ہری صورت میں بھی پورا فرما دیا ۔ کیونکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ حتیٰ الوسع خوابوں کو ان کی ظاہری شکل میں بھی پوراکرنے کی کوشش فرماتے تھے ۔ بشرطیکہ ان کی ظا ہری صورت شریعت اسلامی کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو اور اس خواب میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اصحاب فیل(جو عیسائی تھے)کے حملہ سے خدانے کعبہ کومحفوظ رکھا اوراپنے پاس سے سامان پیدا کرکے ان کو ہلاک و پسپا کیااسی طرح آتھم کی پیش گوئی والے معاملہ میںبھی عیسائیوں کا اسلام پر حملہ ہو گا اور ان کو ظاہراً اسلام کے خلاف شور پیدا کرنے کا موقعہ مل جائے گا ۔لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ان کو شکست وہزیمت کا سا مان پیدا کر دے گا اور یہ کہ مومنوں کو چاہیے کہ اس معاملہ میں خدا پر بھروسہ کریں اور اسی سے مدد کے طالب ہوںاور اس وقت کو یاد رکھیں کہ جب مکہ والے کمزور تھے اور ان پر ابرہہ کا لشکر حملہ آور ہوا تھا اور پھر خدا نے ان کو بچایا ۔نیز خاکسار عرض کرتاہے کہ پیر صاحب اور میاں عبداللہ صاحب کی روایتوں میں بعض اختلافات ہیں جو دونوں میں سے کسی صاحب کے نسیان پر مبنی معلو م ہوتے ہیں۔مثلاًمیاں عبداللہ صاحب نے اپنی روایت میں بجائے ماش کے چنے کے دانے بیان کئے ہیں ۔مگر خواہ ان میں سے کوئی ہوماش اور چنے ہر دو کی تعبیر علم الرویاء کے مطابق غم واندوہ کی ہے۔جس میں یہ اشارہ ہے کہ آتھم والے معاملہ میں بظاہر کچھ غم پیش آئے گا ۔مگر یہ غم و اندوہ سورۃ الفیل کے اثرکے ماتحت بالآخر تاریک کنوئیں میںڈال دیا جاوے گا ۔واللہ اعلم۔
    { 313} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پیر سراج الحق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک خون کے مقدمہ میں مَیں اسیسرمقرر ہوا تھا چنانچہ آپ اسیسر بنے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب کی روایت سے پتہ لگتا ہے کہ آپ اسیسر نہیں بنے تھے بلکہ انکار کر دیا تھا۔ سو یا تو کسی صاحب کو ان میں سے نسیان ہو ا ہے یا ہر دو روایتیں دو مختلف واقعات کے متعلق ہیں ۔واللہ اعلم۔
    { 314} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ جو سیرۃالمہدی حصہ اوّل میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کی روایت سے حضرت کاا لہام درج ہوا ہے کہ
    سلطنت برطانیہ تا ہفت سال۔بعد از اں باشد خلاف واختلال۔
    اور حاجی عبدالمجید صاحب کی یہ روایت درج ہوئی ہے کہ
    سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایام ضعف واختلال۔
    یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے ۔میں نے حضرت صاحب سے یہ الہام اس طرح پر سُنا ہے ۔
    قوت برطانیہ تا ہشت سال ۔بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔
    میں نے اس کے متعلق حضرت سے عرض کیاکہ اس میں روحانی اور مذہبی طاقت کا ذکر معلوم ہوتا ہے ۔یعنی ہشت سال کے بعد سلطنت برطانیہ کی مذہبی طاقت یعنی عیسائیت میں ضعف رونما ہو جائیگا ۔اور سچے مذہب یعنی اسلام اور احمدیت کا غلبہ شروع ہو جائے گا ۔ حضرت نے فرمایا کہ جو ہوگا وہ ہو رہیگا ہم پیش از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ میری رائے میں الفاظ الہام کے متعلق پیرصا حب کی روایت درست معلوم ہوتی ہے ۔واللہ اعلم۔
    { 315} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی فضل دین صاحب پلیڈر قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے یہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ محکمہ ڈاک کی طرف سے میرے خلاف مقدمہ ہوا تھا ۔جس میں فیصلہ کا سارادارومدارمیرے بیان پر تھا یعنی اگر میں سچ بول کر صحیح صحیح واقعہ بتا دیتا تو قانون کی رو سے یقیناً میرے لئے سزا مقدر تھی اور اگر جھوٹ بول کر واقعہ سے انکا ر کر دیتا تو محکمہ ڈاک کسی اور ذریعہ سے میرے خلاف الزام ثابت نہیں کر سکتا تھا ۔ چنانچہ میرے وکیل نے بھی مجھے یہ مشورہ دیا کہ اگر بچنا چاہتے ہیں تو انکار کردیںمگر میں نے یہی جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو جاوے میں خلاف واقعہ بیان نہیں کروں گا اور جھوٹ بول کر اپنے آپ کو نہیں بچاؤں گا ۔وغیرہ وغیرہ۔مولوی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب کے اس بیان کے خلاف بعض غیر احمدیوں نے بڑے زور شور کے ساتھ یہ شائع کیا ہے کہ یہ ساری بات بناوٹی ہے ۔ڈاک خانہ کا کوئی ایسا قاعدہ نہیں ہے جو بیان کیا جاتا ہے اور گویا نعوذباللہ یہ سارا قصہ مقدمہ کا اپنی راست گفتاری ثابت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔وَاِلاَّ ڈاکخانہ کا وہ قاعدہ پیش کیا جائے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس اعتراض کی فکر تھی اور میںنے محکمہ ڈاک کے پرانے قوانین کی دیکھ بھال شروع کی تو ۱۸۶۶ء کے ایکٹ نمبر۱۴ دفعہ ۱۲ و ۵۶ اور نیزگورنمنٹ آف انڈیا کے نو ٹیفکیشن نمبر۲۴۴۲مورخہ۷ ؍دسمبر ۱۸۷۷ء دفعہ ۴۳میں صاف طور پر یہ حوالہ نکل آیا کہ فلاں فعل کا ارتکاب جرم ہے جس کی سزا یہ ہے یعنی وہی جو حضرت صاحب نے لکھی تھی اور اس پر مزید علم یہ حاصل ہوا کہ ایک عینی شہادت اس بات کی مل گئی کہ واقع میں حضرت صاحب کے خلاف محکمہ ڈاک کی طرف سے ایسامقدمہ ہوا تھااور وہ اس طرح پر کہ میں اس حوالہ کا ذکر گورداسپور میں ملک مولابخش صاحب احمدی کلرک آف دی کورٹ کے سا تھ کر رہا تھا کہ اوپر سے شیخ نبی بخش صاحب وکیل آگئے جو کہ گورداسپور کے ایک بہت پرانے وکیل ہیں اور سلسلہ احمدیہ کے مخالفین میں سے ہیں چنانچہ انہوںنے مولوی کرم دین جہلمی والے مقدمہ میںبڑی سر گرمی سے حضرت صاحب کے خلاف مقدمہ کی پیروی کی تھی۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ مقدمہ میرے سامنے گورداسپور میں ہوا تھا اور مرزا صا حب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل مرحوم نے پیروی کی تھی ۔چنانچہ مولوی فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے کہنے پر شیخ نبی بخش نے مجھے ایک تحریری شہادت لکھ دی جس کی عبارت یہ ہے:۔ ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرزا صاحب پر ڈاک خانہ والوں نے مقدمہ فوجداری دائر کیا تھا اور وہ پیروی کرتے تھے ۔مرزا صاحب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل پیروکار تھے ۔میں اور شیخ علی احمد کچہری میں اکٹھے کھڑے تھے جبکہ مرزا صاحب (ان کو ) اپنا مقدمہ بتا رہے تھے ۔خواہ مقدمہ کم محصول کا تھا یا لفا فہ (میں)مختلف مضامین کے کاغذات(ڈالنے) کا تھا ۔بہر حال اسی قسم (کا )تھا۔ چونکہ میں نے پیروی نہیں کی اس لئے دفعہ یا د نہیں رہی ۔فقط نبی بخش ۲۲؍ جنوری ۱۹۲۴ء ۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م نے اس مقدمہ کا ذکر ’’آئینہ کمالات اسلام ‘‘میں کیا ہے۔
    { 316} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیا ن کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کاحکم آیاتو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی ۔ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیا گیا جس کی پیشانی پر لکھا گیا ’’بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ و طہارت‘‘اورنام معہ ولدیت وسکونت لکھے جاتے تھے۔اوّل نمبرحضرت مولوی نورالدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے، دوئم میرعباس علی صاحب ،ان کے بعد شائد خاکسار ہی سوئم نمبر پر جاتا لیکن میر عباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لئے بھیج دیا کہ اُن کو بلا لاؤغرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہو گئے ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا پھر حضرت صاحب نے فرما یا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو اندر بھیج دیں ۔چنانچہ میں نے چوہدری رستم علی صاحب کواندر داخل کر دیا اور دسویںنمبر پر وہ بیعت ہو گئے ۔اس طرح ایک ایک آدمی باری باری اندر جاتا تھا ۔اور دروازہ بند کر دیا جاتا تھا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیعت اولیٰ میں بیعت کرنے والوں کی ترتیب کے متعلق روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے جویا تو کسی راوی کے نسیان کی وجہ سے ہے اور یا یہ بات ہے کہ جس نے جو حصہ دیکھا اس کے مطابق روایت بیان کردی ہے۔
    { 317} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری عمر تیس سال کی ہی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہو گئے تھے اور میرا خیال ہے کہ پچپن سال کی عمر تک آپ کے سارے بال سفید ہو چکے ہوں گے ۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی کے مطالعہ سے پتا لگتا ہے کہ وفات کے وقت آپ کے صرف چند بال سفید تھے ۔در اصل اس زمانہ میں مطالعہ اور تصنیف کے مشاغل انسان کی دماغی طاقت پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں ۔باینہمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عام قویٰ آخر عمر تک بہت اچھی حالت میں رہے اور آپ کے چلنے پھرنے اور کام کاج کی طاقت میں کسی قسم کی انحطاط کی صورت رونما نہیں ہوئی بلکہ میں نے بھائی شیخ عبد الرحیم صاحب سے سُنا ہے کہ گو درمیان میں آپ کا جسم کسی قدر ڈھیلاہو گیا تھا لیکن آخری سالوں میں پھر خوب سخت اور مضبوط معلوم ہوتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھائی عبد الرحیم صاحب کوجسم کے دبانے کا کافی موقع ملتا تھا۔
    { 318} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ اوائل زمانہ میں حضرت صاحب قادیان کے شمال کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے ۔میں اور شیخ حامد علی مرحوم ساتھ تھے ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ سنا ہوا ہے کہ یہ لوگ دل کی باتیں بتا دیتے ہیں ۔آؤ میں امتحان لوں ۔چنانچہ میں نے دل میں سوال رکھنے شروع کئے۔اورحضرت صاحب انہی کے مطابق جواب دیتے گئے ۔یعنی جو سوال میں دل میں رکھتا تھا اسی کے مطابق بغیر میرے اظہار کے آپ تقریر فرمانے لگ جاتے تھے ۔چنانچہ چار پانچ دفعہ لگا تار اسی طرح ہوا اس کے بعد میں نے حضرت صاحب سے عرض کر دیا کہ میں نے یہ تجربہ کیا ہے۔حضرت صاحب سُن کر ناراض ہوئے اور فرمایا تم شکر کرو تم پر اللہ کا فضل ہو گیا۔ اللہ کے مرسل اور اولیاء غیب دان نہیں ہوتے آئندہ ایسا نہ کرنا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے حضرت صاحب کو یہ نہیں بتایا تھا کہ میں دل میں کو ئی سوال رکھ رہا ہوں ۔بلکہ آپ کیساتھ جاتے جا تے خود بخوددل میں سوال رکھنے شروع کر دیئے تھے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سچے اور جھوٹے مدعیوں میں ایک یہ بھی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا ہر بات میں اپنی بڑائی ڈھونڈتااور بزرگی منوانا چاہتاہے اورسچے کا صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ راستی اور صداقت قائم ہو۔چنانچہ ایک جھوٹا شخص ہمیشہ ایسے موقع پرنا جائز فائدہ اُٹھا کر دوسروں کے دل میں اپنی بزرگی کا خیال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر سچا آدمی اپنی عزت اور بڑائی کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ راستی کو قائم کرتا ہے خواہ بظا ہر اس میں اس کی بزرگی کو صدمہ ہی پہنچتا ہو ۔
    { 319} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمدؐ یوسف صا حب پشاوری نے مجھے بذریعہ خط اطلاع دی کہ میں جب شروع میں قادیان گیاتو ایک شخص نے اپنے لڑکے کو حضرت صاحب کے سامنے ملاقات کے لئے پیش کیا۔جس وقت وہ لڑکا حضرت صاحب کے مصافحہ کیلئے آگے بڑھا تواظہار تعظیم کے لئے حضرت کے پاؤں کو ہا تھ لگانے لگا ۔ جس پر حضرت صاحب نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے ایسا کرنے سے روکااور میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے جوش میں فرمایا کہ انبیا ء دنیا میں شرک مٹانے آتے ہیںاور ہمارا کام بھی شرک مٹانا ہے نہ کہ شرک قائم کرنا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو اسلام کا لُبِّ لُبَاب ہی ادب و احترام ہے چنانچہ اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ کا بھی یہی منشاء ہے کہ ہر چیز کا اس کے مرتبہ کے مطابق ادب واحترام کیا جاوے نہ کم نہ زیادہ کیونکہ افراط وتفریط ہر دو ہلاکت کی راہیں ہیں ۔
    { 320} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۵ء میںمجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوااور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح اداکی ۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دودو رکعت کرکے آخر شب میں ادا فرماتے تھے ۔جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اَللّٰہُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوسے وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ تک اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قرأت فرماتے تھے اور رکوع اور سجود میں یَا حَیُّ یَا قَیُّوْ مُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث اکثر پڑھتے تھے اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سن سکتا تھانیز آپ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اوراس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اورآپ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ در اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب تک صبح صادق افق مشرق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھاناجائز ہے اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ صبح کی اذان کا وقت بھی صبح صادق کے ظاہر ہونے پر مقرر ہے اس لئے لوگ عموماً سحری کی حد اذان ہونے کو سمجھ لیتے ہیں قادیان میں چونکہ صبح اذان صبح صادق کے پھوٹتے ہی ہو جاتی ہو بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی اور بے احتیاطی سے اس سے بھی قبل ہو جاتی ہو۔اس لئے ایسے موقعوں پرحضرت مسیح موعودعلیہ السلام اذان کا چنداں خیال نہ فرماتے تھے اور صبح صادق کے تبیّن تک سحری کھاتے رہتے تھے اور در اصل شریعت کا منشاء بھی اس معاملہ میں یہ نہیں ہے کہ جب علمی اور حسابی طور پر صبح صادق کا آغاز ہو ا سکے ساتھ ہی کھانا ترک کر دیا جاوے بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب عام لوگوں کی نظر میں صبح کی سفیدی ظاہر ہو جاوے اس وقت کھانا چھوڑ دیا جاوے چنانچہ تبیّن کا لفظ اسی بات کو ظا ہر کر رہا ہے۔حدیث میں بھی آتاہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان تک بیشک کھاتے پیتے رہا کروکیونکہ ابن مکتوم نابینا تھے اور جب تک لوگوں میں شورنہ پڑ جاتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے،صبح ہو گئی ہے اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے ۔
    { 321} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیا ن کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام الٰہی کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ آپ اس صدی کے مجدّد ہیں (ابھی تک آپ کو مسیحیت و مہدیت کا دعوٰی نہ تھا) تو آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ جو اردو اور انگریزی ہر دو زبانوں میں شائع کیا گیا تھایہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اس زمانہ کا مجدّد مقرر فرمایا ہے اور مجھے اس کام کیلئے مامور فرمایا ہے کہ میںاسلام کی صداقت بمقابلہ دوسرے مذاہب کے ثابت وقائم کروںاور نیز اصلاح اورتجدید دین کا کام بھی میرے سپرد فرمایا گیا ہے اور نیز آپ نے یہ بھی لکھا کہ میرے اندر روحانی طور پر مسیح ابن مریم کے کمالات و دیعت کئے گئے ہیں۔اور آپ نے تمام دنیا کے مذاہب کے متبعین کو دعوت دی کہ وہ آپ کے سامنے آکر اسلام کی صداقت کا امتحان کریں اور اپنے روحانی امراض سے شفاء پائیں یہ اشتہار بیس ہزار کی تعداد میںشائع کیا گیا اور منشی عبداللہ صاحب سنوری بیان کرتے ہیںپھر بڑے اہتمام کے ساتھ تمام دنیا کے مختلف حصوں میں بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک اس کی اشاعت کی گئی ۔ چنانچہ تمام بادشاہوں وفرماں روایان دول و وزراء ومدبرین و مصنفین وعلماء دینی ونوابوں و راجوں وغیرہ وغیرہ کو یہ اشتہار ارسال کیا گیا اور اس کام کے لئے بڑی محنت کے ساتھ پتے حاصل کئے گئے اور حتیّٰ الوسع دنیا کا کوئی ایسا معروف آدمی نہ چھوڑا گیا جو کسی طرح کوئی اہمیت یا اثر یا شہرت رکھتا ہو اور پھر اسے یہ اشتہار نہ بھیجا گیا ہو کیونکہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ جہاں جہاں ہندوستان کی ڈاک پہنچ سکتی ہے وہاں وہاں ہم یہ اشتہار بھیجیں گے نیز میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کا اردو حصہ پہلے چھپ چکا تھا اور انگریزی بعد میں ترجمہ کراکے اس کی پشت پرچھاپا گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اشتہار ابتداء ً غالباً ۱۸۸۴ء میں شائع کیا گیا اور پھر بعد میں ’’شحنہ حق‘‘اور ’’آئینہ کمالات اسلام ‘‘اور ’’برکات الدُعا‘‘ کے ساتھ بھی اس کی اشاعت کی گئی۔ او ر میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے اس کے ترجمہ کے لئے مجھے میاں الہٰی بخش اکونٹنٹ لاہور کے پاس بھیجا تھا اور فرمایا تھا کہ وہیں لاہور میںاس کا ترجمہ کراکے چھپوالیا جاوے ۔
    { 322} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃ المہدی کے حصہ اول کی روایت نمبر ۶ میںجو سنگترہ کا واقعہ خاکسار نے لکھا ہے اس کے متعلق میرے ایک بزرگ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ روایت قابل توجیہہ ہے اور مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ چونکہ اس وقت حضرت میاںصاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ ابھی بالکل بچہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے اُن کو خوش کرنے کے لئے بطور مزاح کے ایسا کیا ہو گا کہ چپکے سے اپنی جیب میں سے سنگترہ نکال کر درخت پر ہاتھ مارا ہوگا اور پھر ان کو وہ سنگترہ دے دیا ہو گا ۔ ورنہ اگر واقعی ایسا خارق عادت امر پیش آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کسی تصنیف یا تقریر میں اس کا ذکر فرماتے جیسا کہ آپ نے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا ذکر فرمایا ہے ۔خاکسار اس رائے کو وقعت کی نظر سے دیکھتا ہے اور عقلاً اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور اسی لئے خاکسار نے جب یہ روایت لکھی تھی تو اسے بغیر نوٹ کے چھوڑ دیا تھا لیکن خاکسار اس واقعہ کے ظاہری پہلو کو بھی ہرگز نا ممکن الوقوع نہیں سمجھتا اور نہ میرے وہ بزرگ جنہوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے ایسا خیال فرماتے ہیں ۔اور میرے نزدیک حضرت صاحب کے اسے شائع نہ کرنے سے بھی یہ استدلال یقینی طور پر نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ حضرت کی طرف سے بچہ کو خوش کرنے کے لئے مزاحًا ظہور پذیر ہوا تھاجہاں تک میں نے غور کیا ہے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو نشانات وہ اپنے کسی نبی یا مامور کے ہاتھ پر ظا ہر کرتا ہے وہ عموماً دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ جو مخالفین کے لئے ظاہر کئے جا تے ہیں اور دوسرے وہ جو مؤمنین کے لئے ظہورپذیر ہوتے ہیں۔ اوّل الذکر قسم میں اخفاء کا پردہ زیادہ رکھا جاتا ہے۔اور احتمالات کے پہلو زیادہ کُھلے رہتے ہیں مگر ثانی الذکر قسم میں مقابلۃًاخفاء کم ہوتا ہے اورکچھ کچھ شہود کا پہلو غالب ہوتا جاتا ہے۔یہ اس لئے کہ خداوند تعالے ٰنے اپنے نہایت حکیمانہ فعل سے یہ مقدر کیا ہے کہ ایمان کی ابتدا غیب سے شروع ہو اور پھر جوں جوں ایک انسان ایمان کے راستہ پر قدم اُٹھاتا جاتا ہے اس کے لئے علیٰ قدر مراتب شہود کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔میں یقین رکھتا ہوں اور میرے اس یقین کے میرے پا س وجوہ ہیں کہ کئی نشانات انبیاء و مرسلین پر ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کا وہ کسی فرد بشر پر بھی اظہار نہیں کرتے ۔کیونکہ وہ محض انکی ذات کے لئے ہوتے ہیں اورایسے نشانات میں ان کے مقام قرب وعرفان کے مطابق پورا پورا شہود کا رنگ ہوتا ہے ۔پس اگر کوئی خارق عادت امر حضرت مسیح موعود پر ظا ہر ہوا ہو اور حضرت نے اس کو عام طور پر ظاہر نہ کیا ہو تو میرے نزدیک یہ بات ہرگز قابل تعجب نہیں ہے۔واللہ اعلم۔یہ حقیقت جو خاکسار نے بیان کی ہے آنحضرت ﷺ( فداہ نفسی)کے حالات زندگی میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تھوڑے کھانے سے زیادہ آدمیوں کے شکم سیر ہو جانے اور تھوڑے پانی سے ایک بڑی جماعت کے سیراب ہو جانے اور آپ کی انگلیوںسے پانی کے پھوٹ پھوٹ کر بہنے وغیرہ وغیرہ واقعات صرف صحابہ کی جماعت کیلئے ظاہر ہوئے اور مشرکین کو ( جن کو بظاہر ان باتوں کی زیادہ ضرورت تھی ) ان نشانات میں سے حصہ نہ ملا ۔جس کی یہی وجہ تھی کہ جو نشانات مشرکین کو دکھائے گئے۔ان میں زیادہ اخفاء مقصودتھا ۔ہاں اس موقعہ پر مجھے یہ بھی یاد آیا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر کھانے کے زیادہ ہوجانے کا خارق عادت امر ظاہر ہوا مگر اس کے دیکھنے والے صرف آپ کے خاص خاص صحابہ تھے اور آپ نے کبھی ان باتوں کا عام طور پر اظہا ر نہیں فرمایااور کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کوجو آپ نے ظا ہر فر مایا تو اوّل تو خود اس کے متعلق میاں عبد ا للہ صاحب کی روایت سے ظاہر ہے کہ ابتداء ً آپ نے اسے مخفی رکھنے کی کوشش فرمائی تھی اور پھر میاں عبد اللہ صا حب کے اصرار پر اسے بڑی لمبی چوڑی تمہید کے بعد ظاہر فرمایا تھا ۔علاوہ ازیں اس کے بیان کرنے میں خاص حکمت تھی اور یہ کہ مسئلہ قدامت روح ومادہ کی بحث میں خلق مادہ کے اثبات کے لئے اس کے اظہار کی ضرورت پیش آگئی تھی اور چونکہ کُرتہ جس پر چھینٹے پڑے تھے موجود تھا اور اس کے ساتھ ایک دوسرے شخص کی ( جو اس واقعہ کے وقت عاقل بالغ مرد تھا اور حضرت کیساتھ کوئی دنیاوی یا جسمانی تعلق نہ رکھتا تھا ) عینی شہادت بھی موجود تھی اس لئے آپ نے اس واقعہ کو خدمت اسلام اور جہادفی سبیل اللہ کی غرض سے ظاہر فرمایااور ایک آریہ معترض پر حجت پوری کی ۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ ۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس روایت میں حضرت والدہ صاحبہ بھی راویہ ہیں ۔
    { 323} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃالمہدی کے حصہ اوّل کی روایت نمبر ۱۰ (صحیح نمبر ۱۱) میں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس کا مطلب بعض لوگوں نے غلط سمجھا ہے ۔کیونکہ انہوں نے اس سے ایسا نتیجہ نکالا ہے کہ گویا منگل کا دن ایک منحوس دن ہے جس میں کسی کام کی ابتداء نہیں کرنی چاہیے ۔ایسا خیال کرنا درست نہیں اور نہ حضرت صاحب کا یہ مطلب تھا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے دن اپنی برکات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں ۔مثلاً جمعہ کا دن مسلمانوں میں مسلّمہ طور پر مبارک ترین دن سمجھا گیا ہے ۔اس سے اتر کر جمعرات کا دن اچھا سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ اپنے سفروں کی ابتدا ء اس دن میں فرماتے تھے ۔خلاصہ کلام یہ کہ دن اپنی برکات و تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں اور اس توازن اور مقابلہ میں منگل کا دن گویا سب سے پیچھے ہے ۔کیونکہ وہ شدائد اور سختی کا اثر رکھتا ہے جیسا کہ حدیث میں بھی مذکور ہے نہ یہ کہ نعوذ باللہ منگل کا دن کوئی منحوس دن ہے ۔پس حتیّٰ الوسع اپنے اہم کاموں کی ابتداء کے لئے سب سے زیادہ افضال و برکات کے اوقات کا انتخاب کرنا چا ہیے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کو ئی نقصان بر داشت کیا جاوے یا کسی ضروری اور اہم کام میں توقف کو راہ دیا جاوے ہر ایک بات کی ایک حد ہوتی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والا شخص نقصان اُٹھاتا ہے اورمیں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ دنوں وغیرہ کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔ ان پر بالآ خر توہم پرستی غالب آ جاتی ہے ۔’’گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘کا اصول جیسا کہ اشخاص کے معاملہ میں چسپاں ہوتا ہے۔ ویسا ہی دوسرے امور میں بھی صادق آتاہے اور یہ سوال کہ دنوں کی تا ثیرات میں تفاوت کیوں اور کس وجہ سے ہے ۔یہ ایک علمی سوال ہے جس کے اُٹھا نے کی اس جگہ ضرورت نہیں ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حصہ اوّل کی منگل والی روایت میں ایک غلطی واقع ہو گئی تھی جو اب حصہ دوئم کی روایت نمبر۳۱۱ میں درست کر دی گئی ہے۔
    { 324} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے اخلاق ذاتی کا مطالعہ کیا جاوے تو خدا اور اس کے رسول کی محبت ایک نہایت نمایاں حصہ لئے ہوئے نظر آتی ہے۔آپ کی ہر تقریر وتحریر ہر قول و فعل ہر حرکت و سکون اسی عشق و محبت کے جذبہ سے لبریز پا ئے جاتے ہیں ۔اور یہ عشق اس درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیںملتی۔ دشمن کی ہر سختی کو آپ اس طرح برداشت کرجاتے تھے کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں اور اس کی طرف سے کسی قسم کی ایذا رسانی اورتکلیف دہی اور بد زبانی آپ کے اندر جوش و غیظ وغضب کی حرکت نہ پیدا کر سکتی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کے خلاف ذرا سی بات بھی آپ کے خون میں وہ جوش اور ابال پیدا کر دیتی تھی کہ اس وقت آپ کے چہرہ پر جلال کیوجہ سے نظر نہ جم سکتی تھی ۔دشمن اور دوست ،اپنے اور بیگانے سب اس بات پر متفق ہیں کہ جو عشق و محبت آپ کو سرور کا ئنات کی ذات والاصفات سے تھااس کی نظیر کسی زمانہ میںکسی مسلمان میں نہیںپائی گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی زندگی کا ستون اور آپ کی روح کی غذا بس یہی محبت ہے۔جس طرح ایک عمدہ قسم کے اسفنج کا ٹکڑ ہ جب پا نی میں ڈال کر نکالا جاوے تو اس کا ہر رگ وریشہ اور ہر خانہ وگوشہ پانی سے بھر پور نکلتا ہے اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں رہتا کہ جس میں پانی کے سوا کوئی اور چیز ہو ، اسی طرح ہر دیکھنے وا لے کو نظر آتاتھا کہ آپ کے جسم اورروح مبارک کا ہر ذرّہ عشق الہٰی اور عشق رسول سے ایسا بھر پور ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی گنجائش نہیں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَعَلٰی مُطَاعِہٖ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّم۔واقعی جو ایمان محبت سے خالی ہے وہ ایک کوڑی کے مول کا نہیں ۔وہ ایک خشک فلسفیانہ عقیدہ ہے جس کا خدا کے دربار میںکچھ بھی وزن نہیں ۔ اعمال کا ایک پہاڑ جو عشق ومحبت سے معرّا ہے محبت کے ایک ذرّہ سے جو اعمال سے خالی ہو وزن میں کمتر ہے۔مجھے وہ وقت کبھی نہیں بھولتا ۔جب میں نے حدیث میں یہ پڑھا کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟آپؐ نے فرمایاکہ تم جو قیامت کا پوچھتے ہو تو اس کیلئے تم نے تیاری کیا کی ہے؟اس شخص نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ نماز،روزہ اور صدقہ وغیرہ کی تیاری تو زیادہ ہے نہیں ۔ مگر ہاں اللہ اور اس کے رسول کی محبت دل میں رکھتاہوں‘‘مجھے وہ وقت نہیں بھولا کہ جب میںنے اس شخص کا یہ قول پڑھا اور میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی اور میں اس خوشی کو کبھی نہیں بھولوں گا اور نہ بھول سکتا ہوں کہ جب میری نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی)کے اس جواب پر پڑی کہ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ یعنی ’’ تسلی رکھ تو وہیں رکھا جاویگا جہاں تیرے محبوب لوگ ہوں گے‘‘ایک اور دوسر ے موقع پر آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اَلْمَرْأُ مَعَ مَنْ اَحَبَّیعنی انسان کو اس کے محبوب لوگوں کے پاس رکھا جاوے گا ۔میرا یہ مطلب نہیںحاشا وکلا کہ اعمال کے پہلو کو کمزور کر کے دکھائوں ۔ قرآن شریف نے مومن کی شان میں جہاں جہاں بھی ایمان کا ذکر کیا ہے وہاں لازماً ساتھ ہی اعمال صالح کا بھی ذکر کیا ہے ۔اور یہ بات عقلاً بھی محال ہے کہ محبت اور ایمان تو ہو مگر اعمال صالح کے بجالانے کی خواہش اور کوشش نہ ہو ۔عملی کمزوری ہو جانا ایک علیحدہ امر ہے مگر سنت نبوی کی اتباع اور اعمال صالح کے بجالانے کی خواہش اور کوشش کبھی ایمان سے جدا نہیں ہو سکتے اور جو شخص محبت کا مدعی ہے اور اپنے محبوب کے احکام اور منشاء کے پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے ۔پس میرے اس بیان سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ اعمال کی ا ہمیت کو کم کر کے دکھائوں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اخلاص و محبت کی اہمیت کو واضح کروں اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کروں کہ خشک ملانوں کی طرح آنکھیں بند کرکے محض شریعت کے پوست پر چنگل مارے رکھنا ہر گز فلاح کا راستہ نہیں ہے ۔
    {325} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ تمہارے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بچپن کی بے پروائی میں قرآن شریف کی کوئی بے حرمتی ہو گئی اس پر حضرت مسیح موعود ؑ کو اتنا غصّہ آیا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے غصّہ میں مبارک احمد کے شانہ پر ایک طماچہ مارا جس سے اس کے نازک بدن پر آپ کی انگلیوں کا نشان اُٹھ آیا اور آپ نے اس غصّہ کی حالت میں فرمایا کہ اسکو اس وقت میرے سامنے سے لے جائو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم ہم سب بھائیوں میں سے عمر میں چھوٹا تھا اور حضرت صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا۔حضرت صاحب کو اس سے بہت محبت تھی چنانچہ اس کی وفات پر جو شعر آپ نے کتبہ پر لکھے جانے کیلئے کہے اس کا ایک شعر یہ ہے
    ؎ جگر کا ٹکڑا مبار ک احمد جو پا ک شکل اور پاک خُو تھا
    وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر
    مبارک احمد بہت نیک سیرت بچہ تھا اور وفات کے وقت اس کی عمر صرف کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی ۔لیکن حضرت صاحب نے قرآن شریف کی بے حرمتی دیکھ کر اس کی تادیب ضروری سمجھی ۔
    { 326} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں نبی بخش صاحب متوطن بن باجوہ ضلع سیالکوٹ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں میں نے عرض کیا کہ میں حضور کے واسطے ایک انگوٹھی بنا کر پیش کر نا چاہتا ہوں اسکے نگینہ پر کیا الفاظ لکھے جاویں ؟ حضرت صاحب نے فرمایا ’مولا بس ‘ کے الفاظ لکھ دیں ۔چنانچہ میں نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی انگوٹھی ہے جس کا سیرۃ المہدی حصّہ اول کی روایت نمبر۱۶ میں ذکر گزر چکا ہے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ’ ’مولا بس‘ ‘ کے الفاظ گو یا ایک طرح ’’ الیس اللّٰہ بکاف عبدہٗ ‘‘ کا ترجمہ ہیں اور اس حالت رضا وفنا کو ظاہر کر رہی ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑ کے قلب صافی پر ہر وقت طاری رہتی تھی ۔
    { 327} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے اُترے ہو ئے کپڑوں کو ناک کے ساتھ لگا کر سونگھا ہے ۔مجھے کبھی بھی ان میں پسینہ کی بو نہیں آئی ۔یہ خیال مجھے اس طرح آیا کہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ (خاکسارکی نانی اماں ) سے یہ سنا تھا کہ جس طرح اور لوگوں کے کپڑوں میں پسینہ کی بو ہو تی ہے اس طرح حضرت صاحب کے کپڑوں میں بالکل نہیں ہوتی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ظاہری صفائی کے متعلق اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ احکام پائے جاتے ہیں اور غسل کر نے اور کپڑے صاف رکھنے اور خوشبو لگا نے کی بہت تاکید آئی ہے ۔کیونکہ علاوہ طبی طو ر پر مفید ہونے کے ظاہری صفائی کا باطنی صفائی پر بھی اثر پڑتا ہے ۔اور روح کی شگفتگی اور بشاشت ، جسم کی طہارت اور پاکیزگی سے متا ثر ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے انبیاء اور مرسلین کو خصوصاً ظاہری صفائی کا بہت خیال رہتا ہے ۔اور وہ اپنے بدن اور کپڑوں کو نہایت پاک و صاف حالت میں رکھتے ہیں ۔اور کسی قسم کی عفونت اور بدبو کو اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دیتے ۔ کیونکہ ان کو ہر وقت خدا کے دربار میں کام پڑتا ہے اور فرشتوں سے ملاقات رہتی ہے جہاں کسی قسم کی بد بو دار چیز کو رسائی نہیں ہو سکتی ۔ نیز خاکسار عر ض کرتا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن نماز میں سجدہ کیا کرتے تھے وہاں سے کئی کئی دن تک بعد میں خوشبو آتی رہتی تھی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود بہت کثرت کے ساتھ خوشبو کا استعمال فرماتے تھے ۔ورنہ جیسا کہ بعض وقت عوام سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔یہ کوئی معجزہ نہیں ہوتااور نہ کوئی خارق عادت بات ہوتی ہے بلکہ غیر معمولی صفائی اور طہارت کے نتیجہ میں یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے ۔مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان جہاں اور خوبیوں کو کھو بیٹھے ہیں وہاں صفائی اور طہارت کی خوبی سے بھی اِلاَّ ما شاء اللہ معرا ہیں اور جن لوگوں کو کچھ تھوڑا بہت صفائی کاخیال رہتا ہے ان کی نظر بھی صرف سطحی صفائی تک محدود رہتی ہے ۔یعنی اوپر کے کپڑے جو نظر آتے ہیں وہ تو صاف رکھے جاتے ہیں۔لیکن بدن اور بدن کے ساتھ کے کپڑے نہایت درجہ میلے اور متعفن حالت میںرہتے ہیں۔
    { 328} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے بیان فرمایا کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے حدیث پڑھتا تھاتو ایک دفعہ گھر میں مجھ سے حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ میاں تم آج کل مولوی صاحب سے کیا پڑھا کرتے ہو ؟میں نے کہا بخاری پڑھتا ہوں ۔آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایاکہ مولوی صاحب سے یہ پوچھنا کہ بخاری میں نہانے کا ذکر بھی کہیں آتا ہے یا نہیں؟ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نہانے وغیرہ کے معاملہ میں کچھ بے پروائی فرماتے تھے اور کپڑوں کے صاف رکھنے اور جلدی جلدی بدلنے کا بھی چنداں خیال نہ رکھتے تھے ۔ اس لئے ان کو متوجہ کرنے کے لئے حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہوںگے ۔
    { 329} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے تو شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم لاہوری نے اپنے مکان پر حضرت صاحب کو دعوت دی چنانچہ حضرت صاحب ان کی کوٹھی پر تشریف لے گئے ۔اس موقعہ پر مستری محمد موسیٰ صاحب نے حضرت صاحب سے سوال کیا کہ حضور لوگوں میں مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بدن مبارک پر مکھی نہیں بیٹھتی تھی اور آپ جب پاخانہ کر تے تھے تو زمین اسے فوراً نگل لیتی تھی کیا یہ درست ہے ؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ فضول باتیں ہیں جو یونہی بعد میں لوگوں نے بنا لی ہیں اور پھر آپ نے چند منٹ تک اس قسم کے مسئلوں کے متعلق ایک مختصر سی اصولی تقریر فرمائی جس کا ماحصل یہ تھا کہ انبیاء اپنے جسمانی حالات میں دوسرے لوگوں کی طرح ہو تے ہیں ۔اور خدا کے عام قانون کے باہر ان کا طریق نہیں ہوتا ۔میں اسوقت بچہ تھا مگر یہ باتیں اور اس مجلس کا نقشہ اب تک میرے ذہن میں اسی طرح تازہ ہے ۔
    { 330} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زبان سے غصّہ کی حالت میں بھی گالی یا گالی کا ہمرنگ لفظ نہیں سُنا ۔زیادہ سے زیادہ بیوقوف یا جاہل یا احمق کا لفظ فرما دیا کر تے تھے اور وہ بھی کسی ادنیٰ طبقہ کے ملازم کی کسی سخت غلطی پر شاذ و نادر کے طور پر ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت صاحب کسی ملازم کی سخت غلطی یا بیوقوفی پر جانور کا لفظ استعمال فرماتے تھے ، جس سے منشاء یہ ہوتا تھا کہ تم نے جو یہ فعل کیا ہے یہ انسان کے شایانِ شان نہیں بلکہ جانوروں کا سا کام ہے۔
    { 331} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مجھے پچیس سال تک حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عادات و اطوار اور شمائل کو بغور دیکھنے کا موقعہ ملا ہے ۔گھر میں بھی اور باہر بھی میں نے اپنی ساری عمر میں آج تک کا مل طور پر تصنع سے خالی سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی کو نہیں دیکھا ۔حضور کے کسی قول یا فعل یا حرکت و سکون میں بناوٹ کا شائبہ تک بھی میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔
    332 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی اپنے بچوں کو پیا ر سے چھیڑا بھی کرتے تھے اور وہ اس طرح سے کہ کبھی کسی بچہ کا پہنچہ پکڑ لیا۔ اور کوئی بات نہ کی خاموش ہو رہے یا بچہ لیٹا ہوا ہو تو اس کا پائوں پکڑ کر اس کے تلوے کو سہلانے لگے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب کی اس روایت نے میرے دل میں ایک عجیب درد آمیز مسرت و امتنان کی یاد تازہ کی ہے کیونکہ یہ پہنچہ پکڑ کر خاموش ہو جانے کا واقعہ میرے ساتھ بھی ( ہاں اس خاکسار عاصی کے ساتھ جو خدا کے مقدس مسیح کی جوتیوں کی خاک جھاڑنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا) کئی دفعہ گذراہے ۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ورنہ ’’ ہم کہاں بزم شہر یار کہاں ۔‘‘
    { 333} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسما عیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ ابتدائی ایام کا ذکر ہے کہ والد بزرگ وار(یعنی خاکسار کے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم ) نے اپنا ایک بانات کا کوٹ جو مستعمل تھا ہمارے خالہ زاد بھائی سید محمد سعید کو جو ان دنوں میںقادیان میں تھا کسی خادمہ عورت کے ہاتھ بطور ہدیہ بھیجا ۔محمد سعید نے نہایت حقارت سے وہ کوٹ واپس کر دیا اور کہا کہ میں مستعمل کپڑا نہیں پہنتا ۔جب وہ خادمہ یہ کوٹ واپس لا رہی تھی تو راستہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس سے پو چھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرصاحب نے یہ کوٹ محمدؐسعید کو بھیجا تھا مگر اس نے واپس کر دیا ہے کہ میں اُترا ہوا کپڑا نہیں پہنتا ۔حضرت صاحب نے فرمایاکہ اس سے میر صاحب کی دل شکنی ہو گی ۔تم یہ کوٹ ہمیں دے جاؤہم پہنیں گے اور اُن سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے ۔
    { 334} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسما عیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ ایک دفعہ دوپہر کے وقت میں مسجد مبارک میں داخل ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعودؑ اکیلے گنگناتے ہوئے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کایہ شعر پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ٹہلتے بھی جاتے تھے۔
    کنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر
    من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر
    میری آہٹ سن کر حضرت صاحب نے چہرے پر سے رومال والا ہاتھ اُٹھالیا تو میںنے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔حضرت حسان ؓ آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور گویا آپ کے دربار ی شاعرتھے انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر یہ شعر کہا تھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ’’تو میری آنکھ کی پتلی تھا ۔پس تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہو گئی اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے پرواہ نہیںکیونکہ مجھے تو بس تیری ہی موت کا ڈر تھا جو واقع ہو چکی۔ اس شعر کہنے والے کی محبت کااندازہ کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔مگراس شخص کے سمندر عشق کی تہ کو کون پہنچے کہ جو اس واقعہ کے تیرہ سو سال بعد تنہائی میںجب کہ اسے خداکے سوا کوئی دیکھنے والانہیں ۔یہ شعر پڑھتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کاتاربہ نکلتا ہے اور وہ شخص ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن کی آنکھیں بات با ت پر آنسو بہانے لگ جاتی ہیں بلکہ وہ وہ شخص ہے کہ جس پراس کی زندگی میں مصائب کے پہاڑٹوٹے اور غم و الم کی آندھیاں چلیں مگر اس کی آنکھوں نے اس کے جذبات قلب کی کبھی غمازی نہیں کی۔
    پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ:۔ یہ شعر کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْالخ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سامنے پڑھا تھا۔ اور مجھے سُنا کر فرمایا۔ کہ کاش! حسّان کا یہ شعر میرا ہوتا اور میرے تمام شعر حسّان کے ہوتے۔ پھر آپ چشم پُرآب ہو گئے۔ اس وقت حضرت اقدس نے یہ شعر کئی بار پڑھا۔
    خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسّان بن ثابتؓ کے شعر کے متعلق پیرسراج الحق صاحب سے جو الفاظ فرمائے وہ ایک خاص قسم کی قلبی کیفیت کے مظہر ہیں۔ جو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل پر طاری ہو گی۔ ورنہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے کلام میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت جھلکتی ہے جس کی مثال کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ اور کسی دوسرے کے کلام میں عشق کا وہ بلند معیار نظر نہیں آتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں آنحضرت ﷺ کے متعلق نظر آتا ہے۔
    {335} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ماسٹرمحمدنذیراحمد خان صاحب متوطن نا دون ضلع کانگڑہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں امتحان انٹرنس پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ کیلئے دھرم سالہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں امید وارمحرر ہوا تھا ۔ ان دنوں کا واقعہ ہے کہ میں دفترمیں بیٹھا تھا اور میرے ہا تھ میں ریویوآف ریلیجنز کا پرچہ تھا کہ دھرم سالہ کے ڈسٹرکٹ بورڈ کا ہیڈ کلرک جس کا نام پنڈت مولا رام تھادفتر ضلع میں کسی کام کیلئے آیا ۔جب اس کی نظر ریویو آف ریلیجنز پر پڑی تو اس نے حیرا ن ہو کر مجھ سے پو چھا کہ کیا آپ بھی احمدی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں میں احمدی ہوں ۔اس نے کہا تو پھرمیں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوںجو حضرت مرزا صاحب کیساتھ میرا گذرا ہے چنانچہ اس نے بیان کیا کہ میں ایک مذہبی خیال کا آدمی ہوں اور چونکہ مرزا صاحب کی مذہبی امور میں بہت شہرت تھی میں نے ان کے ساتھ بعض مذہبی مسائل میںخط و کتابت شروع کی ۔ اس خط وکتابت کے دوران میں مَیں نے ان کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں بعض اعتراض تھے۔حضرت مرزا صاحب کا جو جواب میرے پاس اس خط کا آیا اس میںمیرے اعتراضات کے متعلق کچھ جوابات لکھ کرپھر مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا کہ پنڈت صاحب! آپ ان باتوں میںالجھے ہوئے ہیں حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا غضب آسمان پر بھڑک رہا ہے اور اس کا عذاب سالوں میں نہیں، مہینوں میں نہیں ،دنوں میں نہیں، گھنٹوں میں نہیں ،منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں زمین پر نازل ہونے والا ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھ کر مجھ پر بہت اثر ہوا اور میں نے دل میںکہا کہ خواہ کچھ بھی ہو مرزا صاحب ایک نیک آدمی ہیں ان کی بات یو نہی رائیگاں نہیںجا سکتی ۔چنانچہ میںہر لحظہ اسی انتظار میں تھا کہ دیکھئے اب کیاہوتا ہے اور میں نے اسی خیال میں اس رات کو سوتے ہوئے مرزا صاحب کایہ خط اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا ۔ صبح کو جب میںاُٹھا تو حسب عادت اشنان کی تیاری کرنے لگا اور اپنے ملازم کو میں نے بازارسے دہی لانے کیلئے بھیجا اور اپنے مکان میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگا ۔اس وقت اچانک زلزلے کاایک سخت دھکا آیا اور اس کے بعد پیہم اس طرح دھکوں کا سلسلہ شروع ہوا کہ میرے دیکھتے دیکھتے آناً فاناًدھرم سالہ کی تمام عمارتیں ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گئیں؛اس وقت حضرت مرزاصاحب کے اس خط کا مضمون میری آنکھوں کے سامنے پھررہا تھا اور میرے منہ سے بے اختیار نکل رہا تھا کہ واقعی یہ دنوں اور گھنٹوں اور منٹوں کا عذاب نہیںبلکہ سیکنڈوں کا عذاب ہے ۔جس نے ایک آن کی آن میں تمام شہر کو خاک میں ملا دیا ہے اور اس کے بعد میں حضرت مرزا صا حب کابہت معتقد ہو گیا اور میں اُن کو ایک واقعی خدا رسیدہ انسان اور مصلح سمجھتا ہوں ۔ماسٹرنذیرخان صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب وہ یہ قصّہ بیان کر چکا تو دفتر ضلع کے ایک ہندو کلرک نے بطور اعتراض کے کہا کہ مرزا صاحب پر ایک جرم کی سزا میں جرمانہ بھی تو ہوا تھا ۔ ابھی میں نے اس کا جواب نہیں دیا تھا کہ پنڈت مولا رام خود بخود بولا کہ ہاں ایک بیوقوف نے جرمانہ کردیا تھا مگر عدالت اپیل میں وہ بری ہو گئے تھے۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ وہی زلزلہ ہے جو ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھااور جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں متعدد جگہ ذکر کیا ہے ۔یہ زلزلہ ہندوستان کی تاریخ میں بے مثال تھاچنانچہ میں نے انسائیکلوپیڈیا میں پڑھا ہے کہ اس زلزلہ میں علاوہ لاکھوں کروڑوں روپیہ کے نقصان کے پندرہ ہزار جانوںکا بھی نقصان ہوا تھا۔
    { 336} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے اورکلام کے دوران میں کبھی کبھی جوش کی حالت میںاپنی ٹانگ پر ہاتھ بھی مارا کرتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب کی یہ روایت درست ہے مگر یہ لکنت صرف کبھی کبھی کسی خاص لفظ کے تلفظ میں ظاہر ہوتی تھی ورنہ ویسے عام طور پر آپ کی زبان بہت صاف چلتی تھی اور ٹانگ پر ہاتھ مارنے کے صرف یہ معنی ہیں کہ کبھی کبھی جوش تقریر میں آپ کا ہاتھ اُٹھ کر آپ کی ران پر گرتا تھا۔
    { 337} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور عبدالرحیم خان صاحب پسر مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری مسجد مبارک میں کھانا کھا رہے تھے جو حضرت کے گھر سے آیا تھا ۔ناگاہ میری نظر کھانے میںایک مکھی پر پڑی چونکہ مجھے مکھی سے طبعاً نفرت ہے میںنے کھاناترک کر دیا ۔اس پر حضرت کے گھر کی ایک خادمہ کھانا اُٹھا کر واپس لے گئی ۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت حضرت اقدس اندرون خانہ کھانا تناول فرما رہے تھے۔خادمہ حضرت کے پاس سے گذری تو اس نے حضرت سے یہ ماجرہ عرض کر دیا حضرت نے فوراً اپنے سامنے کا کھانا اُٹھا کر اس خادمہ کے حوالے کر دیا کہ یہ لے جاؤاور اپنے ہاتھ کا نوالہ بھی برتن میں ہی چھوڑ دیا ۔وہ خادمہ خوشی خوشی ہمارے پاس وہ کھانا لائی اور کہا کہ لو حضرت صاحب نے اپنا تبرک دیدیا ہے۔ اس وقت مسجد میں سیدعبدالجبارصاحب بھی جو گذشتہ ایام میں کچھ عر صہ با دشاہ سوات بھی رہے ہیں،موجود تھے چنانچہ وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گئے۔
    { 338} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں قیام پذیر تھے ایک دفعہ رات کو بارش ہونی شروع ہو گئی ۔اس وقت حضرت اقدس مکان کی چھت پر تھے جہاں پر کہ ایک برسا تی بھی تھی بارش کے اُتر آنے پرحضور اس برساتی میں داخل ہونے لگے مگر اس کے عین دروازے میں مولوی عبداللہ صاحب متوطن حضر و ضلع کیمبل پورنماز تہجد پڑھ رہے تھے۔انہیں دیکھ کر آپ دروازہ کے باہر کھڑے ہو گئے اور اسی طرح بارش میں کھڑے رہے حتیٰ کہ مولوی عبداللہ صاحب نے اپنی نماز ختم کر لی پھر آپ برساتی میں داخل ہوئے ۔
    { 339} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ اوّل ہی اوّل جب حضرت مسیح موعود علیہ السلا م زمانہ مجددیت میں لدھیانہ تشریف لے گئے اس وقت سوائے ایک شخص یعنی میر عباس علی صاحب جو اس عاجز کے خسر اور چچا تھے کوئی اور حضرت کی صورت سے آشنا نہ تھااس سفر میں تین آدمی حضرت صاحب کے ہمراہ تھے۔ مولوی جان محمد صا حب اورحافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملاوامل صاحب،میر عباس علی صاحب اور ان کے ساتھ کئی ایک اور آدمی پلیٹ فارم کا ٹکٹ لے کر حضرت صاحب کے استقبال کے لئے سٹیشن پر گئے اور گاڑی میں آپ کو اِدھر اُدھر تلاش کرنے لگے لیکن حضرت صاحب کہیں نظر نہ آئے ۔کیونکہ آپ گاڑی کے پہنچتے ہی نیچے اُتر کر سٹیشن سے باہر تشریف لے آئے تھے اور پھاٹک کے پاس کھڑے تھے۔خوش قسمتی سے میں بھی اس وقت وہیںکھڑا تھا کیونکہ مجھے خیال تھا کہ حضرت صاحب ضرور اسی راستہ سے آئیں گے۔ میں نے اس سے قبل حضرت صاحب کودیکھا ہوا نہیںتھا۔لیکن جونہی کہ میری نظر آپ کے نورانی چہرہ پر پڑی میرے دل نے کہا کہ یہی حضرت صا حب ہیں اور میں نے آگے بڑھ کر حضرت صاحب سے مصافحہ اور دست بوسی کر لی ۔اس کے بعد میرعباس علی صا حب وغیرہ بھی آ گئے اس وقت حضور کی زیارت کے لئے سٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا ۔جن میں نواب علی محمد صا حب رئیس جھجر بھی تھے۔نواب صاحب مذکور نے میر صاحب سے کہا کہ میر صاحب! میری کوٹھی قریب ہے اور اس کے گردباغ بھی ہے۔بہت لوگ حضرت مرزا صا حب کی ملاقات کیلئے آئیں گے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو حضرت صاحب کو یہیں ٹھہرا لیا جاوے ۔میر صا حب نے کہا کہ آج کی رات تو ان مبارک قدموں کو میرے غریب خانہ میں پڑنے دیںکل آپ کو اختیار ہے۔نواب صاحب نے کہا کہ ہا ں بہت اچھا ۔غرض حضرت صاحب کوقاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بٹھا کر ہمارے محلہ صوفیاںمیں ڈپٹی امیر علی صاحب کے مکان میں اتارا گیا ۔نماز عصر کا وقت آیا تو حضرت صاحب نے اپنی جرابوں پر مسح کیا ۔اس وقت مولوی محمدؐ موسیٰ صاحب اورمولوی عبد القادر صاحب دونوں باپ بیٹا موجود تھے ان کو مسح کرنے پر شک گذراتو حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت کیا یہ جائز ہے ؟آپ نے فرمایا ۔ہاں جائز ہے اس کے بعدمولوی محمدؐموسیٰ صاحب نے عرض کیا کہ حضور نماز پڑھائیں ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی عبدالقادر صاحب پڑھائیں پھراس کے بعدمولوی عبد القادرصاحب ہی نمازپڑ ھاتے رہے۔اس موقعہ پرحضرت صاحب غالباً تین دن لدھیانہ میں ٹھہرے ۔بہت لوگ ملاقات کے لئے آتے جاتے تھے اور حضرت صاحب جب چہل قدمی کے لئے باہر تشریف لے جاتے تھے تواس وقت بھی بڑا مجمع لوگوں کا ساتھ ہوتا تھا ۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ سفر غالباً ۱۸۸۴ء کے قریب کا ہو گامیر عباس علی صاحب جن کا اس روایت میں ذکرہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے ملنے والے تھے مگر افسوس کہ دعویٰ مسیحیت کے وقت ان کو ٹھوکر لگی اور وہ زمرہ مخالفین میں شامل ہوگئے اور پھر جلد ہی اس دنیا سے گذر گئے ۔ نواب علی محمدؐصاحب رئیس جھجر لدھیانہ میں رہتے تھے اورحضرت صاحب سے بہت اخلاص رکھتے تھے۔مگر افسوس کہ اوائل زمانہ میں ہی فوت ہو گئے۔قاضی خواجہ علی صاحب بھی بہت پرانے اور مخلص لوگوں میں سے تھے اوراب فوت ہو چکے ہیں ۔مولوی عبد القادر صاحب بھی جو حکیم محمدؐ عمر صاحب کے والدتھے کچھ عر صہ ہوا فوت ہو چکے ہیں اور ان کے والد مولوی محمدؐ موسیٰ صاحب تو اوائل زمانہ میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔مولوی جان محمدؐجو حضرت صاحب کے ہمراہ لدھیانہ گئے تھے قادیان کے رہنے والے تھے اور حضرت صا حب کے ایک مخلص خادم تھے۔ان کے لڑکے عرف میاں بگا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہوں گے میاں غفار ایکہ بان جو کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکا ہے۔مولوی جان محمدؐ کا بھائی تھا۔
    { 340} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مالیر کوٹلہ بھی تشریف لے گئے تھے۔ قریب آٹھ دس آدمی حضور کے ہمراہ تھے ۔اس وقت تک ابھی مالیر کوٹلہ کی ریل جاری نہیںہوئی تھی میں بھی حضور کے ہمر کاب تھا ۔حضرت صا حب نے یہ سفر اس لئے اختیارکیا تھاکہ بیگم صا حبہ یعنی والدہ نواب ابرہیم علی خان صا حب نے اپنے اہل کاروں کو لدھیانہ بھیج کر حضرت صاحب کو بلایا تھاکہ حضور مالیر کو ٹلہ تشریف لا کر میرے لڑکے کو دیکھیں اوردعا فرمائیں ۔کیونکہ نواب ابراہیم علی خان صاحب کوعرصہ سے خلل دماغ کا عارضہ ہو گیا تھا ۔حضرت صاحب لدھیانہ سے دن کے دس گیارہ بجے قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر تین بجے کے قریب ما لیر کوٹلہ پہنچے اور ریاست کے مہمان ہوئے جب صبح ہوئی تو بیگم صاحبہ نے اپنے اہل کاروں کو حکم دیا کہ حضرت صاحب کے لئے سواریاں لے جائیںتاکہ آپ باغ میںجا کرنواب صاحب کو دیکھیں۔مگر حضرت اقدس نے فرمایاکہ ہمیں سواری کی ضرورت نہیں ہم پیدل ہی چلیں گے چنانچہ آپ پیدل ہی گئے۔اس وقت ایک بڑا ہجوم لوگوںکا آپ کے ساتھ تھا ،جب آپ باغ میں پہنچے تو مع اپنے سا تھیوں کے ٹھہر گئے ۔ نواب صا حب کو ٹھی سے باہر آئے اور پہلی دفعہ حضرت صا حب کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے لیکن پھر آگے بڑھ کر آئے اور حضرت سے سلام علیکم کیا اور کہا کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں چھپا مگر انشاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔ اس کے بعد نواب صا حب نے کہا کہ آئیے اندر بیٹھیں چنانچہ حضرت صاحب اور نواب صا حب کوٹھی کے اندر چلے گئے اورقریباً آدھ گھنٹہ اندر رہے ۔چونکہ کوئی آدمی ساتھ نہ تھا اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ اندرکیا کیا باتیں ہوئیں۔اس کے بعدحضرت صاحب مع سب لوگوں کے پیدل ہی جامع مسجد کی طرف چلے آئے اور نواب صاحب بھی سیر کے لئے باہرچلے گئے ۔مسجد میںپہنچ کر حضرت صاحب نے فر مایا کہ سب لوگ پہلے وضوکریںاور پھردورکعت نمازپڑھ کر نواب صا حب کی صحت کے واسطے دعاکریں ۔کیونکہ یہ تمہارے شہر کے والی ہیں اور ہم بھی دعا کرتے ہیں ۔غرض حضرت اقدس نے مع سب لوگوں کے دُعا کی اور پھراس کے بعدفوراً ہی لدھیانہ واپس تشریف لے آئے اور باوجوداصرارکے مالیرکوٹلہ میں اور نہ ٹھہرے۔
    { 341} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمٰن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خ