1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

سلسلہء احمدیہ ۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ ۔ جلد 1 تا 3 مکمل ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    سلسلہء احمدیہ ۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ ۔ جلد 1 ۔ یونی کوڈ

    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    چند ابتدائی امور
    اس رسالہ کی ضرورت :۔سلسلہ احمدیہ کے متعلق اس وقت تک بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں سے بعض نہایت بلند پایہ رکھتی ہیں لیکن باوجود اس کے جماعت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر یہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے متعلق ایک ایسا رسالہ لکھ کر شائع کیا جائے جس میں اختصار اور وضاحت کے ساتھ بانیء سلسلہ کے مختصر حالات۔ سلسلہ کی مختصر تاریخ۔سلسلہ کے مخصوص مذہبی عقائد ۔ سلسلہ کا نظام ۔ سلسلہ کی موجودہ وسعت۔سلسلہ کے مستقبل کے متعلق امیدیں وغیرہ بیان کی جائیں تا کہ اگر خدا چاہے تو یہ رسالہ دو رنگ میں مفید ہو سکے۔
    اوّل :۔ وہ ان غیر احمدی اور غیر مسلم محققین کے کام آ سکے جو سلسلہ احمدیہ کے متعلق مذہبی اور علمی بحثوں میں پڑنے کے بغیر عام تاریخی رنگ میں مختصر مگر صحیح اور مستند معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    دوم :۔ وہ ان نو احمدیوں اور نو عمر پیدائشی احمدیوں کے لئے بھی مفید ہو سکے جو سلسلہ احمدیہ میں نئے نئے داخل ہونے کی وجہ سے یا اپنی کم عمری یا مطالعہ کی کمی کی وجہ سے ابھی تک سلسلہ کی اصل غرض و غایت اور اس کے مخصوص مذہبی عقاید اور اس کی تاریخ سے ناواقف ہیں۔
    اس رسالہ کی بس یہی دو غرضیں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کر دیا ہے میں اس رسالہ میں کسی لمبی چوڑی مذہبی بحث میں نہیں پڑوں گا بلکہ محض سادہ اور مختصر رنگ میں مذکورہ بالا عنوانوں کے ماتحت معروف اور مستند باتیں بیان کرنے پر اکتفا کی جائے گی تاکہ اگر خدا چاہے تو اس ذریعہ سے ایک غیر مسلم یا غیر احمدی یا ایک نو احمدی یا نو عمر ناواقف احمدی تحریک احمدیت کے سمجھنے اور اس کی حقیقت اور وسعت کا اندازہ کرنے میں مدد حاصل کر سکے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس رسالہ کے لکھنے میں صداقت اور راستی پر قائم رکھے۔ اور میری تحریر میں وہ اثر پیدا کرے جو اس نے ہمیشہ سے حق و صداقت کے لئے مقدر کر رکھا ہے۔ وَاَرْجُوْ مِنْہُ خَیْرًا وَ اَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ ـ
    سلسلہ احمدیہ کی غرض و غایت :۔ سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ احمدیت اس مذہبی تحریک کا نام
    ہے جس کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ایک باقاعدہ جماعت کی صورت میں ۱۸۸۹ء مطابق ۱۳۰۶ھ میں خدا کے حکم سے رکھی۔ یہ خدائی حکم اپنی نوعیت میں ایسا ہی تھا جیسا کہ آج سے ساڑھے انیس سو سال قبل موسوی سلسلہ میں حضرت مسیح ناصری کے ذریعہ نازل ہوا تھا۔ مگر جیسا کہ حقیقی مسیحیت کوئی نیا مذہب نہیں تھی بلکہ صرف موسویت کی تجدید کا دوسرا نام تھی اسی طرح احمدیت بھی کسی نئے مذہب کا نام نہیں ہے اور نہ ہی بانیء سلسلہ احمدیہ کا یہ دعویٰ تھا کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے ہیں بلکہ احمدیت کی غرض و غایت تجدید اسلام اور خدمت اسلام تک محدود ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کی بگڑی ہوئی حالت کی اصلاح اور اسلام کی خدمت کے لئے مامور کیا ہے اور اسلام کی خدمت کے مفہوم میں اسلام کے چہرہ کو گردو غبار سے صاف کرنا۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا انتظام کرنا۔ اسلام کو دوسرے مذاہب کے مقابل پر غالب کرنا اور اسلام میں ہو کر دنیا کے غلط عقائد و اعمال کی اصلاح کرنا شامل ہے ۔ چنانچہ آپ کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا کام چھ حصوں میں منقسم تھا۔
    اوّل :۔ خالق ہستی کے متعلق مخلوق میں زندہ ایمان اور حقیقی عرفان پیدا کرنا اور خدا اور انسان کے درمیان اس تعلق کو جوڑ دینا جو انسانی پیدائش کی اصل غرض و غایت اور اسلام کا اوّلین مقصد ہے۔
    دوم :۔ مخصوص طور پر مسلمانوں کی اعتقادی اور عملی اصلاح کا انتظام کرنا۔ یعنی مرور زمانہ کی وجہ سے جو جو اعتقادی اور عملی غلطیاں مسلمانوں کے اندر پیدا ہو چکی تھیں۔ انہیں خدائی منشاء کے ماتحت دُور کرنا۔
    سوم :۔ موجودہ زمانہ کی وسیع ضروریات کے پیش نظر قرآن شریف کے مخفی خزانوں کو باہر نکال کر ان کی اشاعت کا انتظام کرنا۔ اس ضمن میں یہ بات قابل نوٹ ہے کہ بانیء سلسلہ احمدیہ کا یہ دعویٰ تھا جس نے اسلامی علوم میں ایک بالکل نیا دروازہ کھول دیا کہ گو قرآن شریف کے نزول کے ساتھ شریعت اپنی تکمیل کو پہنچ چکی ہے اور اس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں مگر جس طرح اس مادی عالم میں سے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق نئے نئے خزانے نکلتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن شریف سے بھی جو گویا ایک روحانی عالم ہے، ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق نئے نئے خزانے نکلتے رہیں گے اور اس طرح تکمیل شریعت کے باوجود دین کے علمی حصہ میں نمو اور ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
    چہارم :۔ دنیا کے دوسرے مذاہب کے مقابل پر اسلام کو غالب کر دکھانا یعنی اسلام کے سوا دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں یا جو جو خیالات اسلام کے خلاف دنیا میں قائم ہیں انہیں غلط ثابت کر کے ان کے مقابل پر اسلام کو سچا ثابت کرنا اور خصوصیت کے ساتھ صلیبی مذہب کے زور کو توڑنا جو اس زمانہ میں مادیت اور دہریت کے انتشار کا سب سے بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔
    پنجم :۔ اقوام عالم کو اس ایمان پر جمع کرنا کہ جو خبر آخری زمانہ کے متعلق مختلف مذاہب میں ایک زبردست روحانی مصلح کی آمد کے بارے میں دی گئی تھی جس کے ذریعہ ہر قو م کو اس کی گری ہوئی حالت کے بعد پھر اٹھنے کی امید دلائی گئی تھی مگر جسے غلطی سے مختلف قوموں میں علیحدہ علیحدہ مصلحوں کی آمد سمجھ لیا گیا تھا وہ اسلام میں ہو کر بانیء احمدیت کے وجود میں پوری ہوئی ہے اس لئے سب قوموں کے موعود مصلح آپ ہی ہیں اور آپ کو سب نبیوں کا بروز بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ کا یہ دعویٰ تھا کہ میں مسلمانوں کے لئے مہدی ہوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح ہوں اور ہندوئوں کے لئے کرشن ہوں وغیر ذالک ۔
    ششم :۔ دنیا میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے ماتحت ایک ایسے جدید نظام کو قائم کرنا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے لحاظ سے بہترین بنیاد پر قائم ہو تا کہ یہ نظام آہستہ آہستہ وسیع ہو کر ساری دنیا پر چھا جاوے۔ یعنی ایک ایسی جماعت قائم کرنا جو ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے متعلق زندہ ایمان اور حقیقی عرفان پر قائم ہو اور دوسری طرف وہ افراد اور اقوام کے باہمی تعلقات کا بھی بہترین نمونہ ہو اور یہ جماعت اسلام کی طرح بین الاقوام بنیاد پر قائم ہو کر آہستہ آہستہ دنیا کی ساری جماعتوں اور سارے نظاموں پر غالب آجائے۔ مگر بایں ہمہ مختلف قوموں کے لئے ان کی اپنی اپنی مخصوص تہذیب میں بھی جہاں تک کہ وہ وسیع اسلامی تعلیم و تمدن کے ساتھ نہیں ٹکراتی نموّ اور ترقی کا رستہ کھلا رہے۔
    یہ وہ چھ اہم مقاصد تھے جو بانیء سلسلہ احمدیہ نے اپنی بعثت کی غرض و غایت کے متعلق بیان کئے ہیںاور احمدیت کی ساری تاریخ انہی چھ نکتوں کے اردگرد گھومتی ہے۔
    بانیء سلسلہ احمدیہ کے خاندانی حالات
    بانیئسلسلہ احمدیہ پنجاب کے ایک مشہور مغل خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو فارسی الاصل تھا اور شاہان مغلیہ سے لے کر اس وقت تک اپنے علاقہ میں اپنی وجاہت اور عزت اور اثر کی وجہ سے ممتاز رہا ہے۔ خاندان کی ابتداء یوں بیان کی جاتی ہے کہ ۱۵۳۰ء میں یا اس کے قریب جبکہ شاہنشاہ بابر کا زمانہ تھا ایک شخص مرزا ہادی بیگ نامی جو امیر تیمور کے چچا حاجی برلاس کی نسل میں سے تھا اور ایک با اثر اور علم دوست رئیس تھا اپنے چند عزیزوں اور خدمت گاروں کے ساتھ اپنے وطن سے نکل کر ہندوستان کی طرف آیا اور پنجاب میں لاہور سے قریباً ستر میل شمال مشرق کی طرف بڑھ کر دریائے بیاس کے قریب ایک جنگل میں اپنے کیمپ کی بنیاد رکھی۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مرزا ہادی بیگ کو دہلی کی شاہی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کا قاضی یعنی حاکم اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ چونکہ مرزاہادی بیگ نے اپنے کیمپ کا نام اسلام پور رکھا تھا اس لئے وہ آہستہ آہستہ ملک کے محاورہ کے مطابق اسلام پور قاضیاں کہلانے لگا۔ اور پھر مرور زمانہ اور کثرت استعمال سے اسلام پور کا لفظ گر گیا اور صرف قاضیاں رہ گیا جو بالآخر بگڑ کر قادیان بن گیا اور اب یہی اس قصبہ کا نام ہے جس میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب پیدا ہوئے۔
    مرزا ہادی بیگ کو قادیان کے ارد گرد بہت سے دیہات بطور جاگیر عطا ہوئے تھے جن پر ان کی ایک رنگ میں حکومت قائم تھی اور اس علاقہ کی قضا کے ساتھ مل کر انہیں ایک بہت وسیع اثر حاصل ہو گیا تھا۔ ان کے بعد ان کی اولاد بھی شاہی احکام کے ماتحت اس علاقہ کی رئیس اور حکمران رہی اور اس خاندان کے افراد دربار مغلیہ میں ہمیشہ عزت کی نظر سے دیکھے جاتے رہے۔ چنانچہ مرزا فیض محمد صاحب جو بانیئسلسلہ احمدیہکے والد کے پڑدادا تھے انہیں دہلی کے شاہنشاہ فرخ سیر نے ۱۷۱۶ء میں ہفت ہزاری کا عہدہ عطا کر کے عضدالدولہ کا خطاب دیا تھا۔ ہفت ہزاری کے عہدے کا یہ مطلب تھا کہ وہ خود اپنے طور پر سات ہزار نوجوانوں کی فوج رکھ سکتے تھے اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ یہ منصب ایسا تھا کہ اس زمانہ میں بہت ہی کم لوگوں کو عطا ہوتا تھا۔ اسی طرح مرزا فیض محمد صاحب کے فرزند مرزا گل محمد صاحب کے متعلق بھی خاندانی ریکارڈ سے پتہ لگتا ہے کہ دہلی کے دربار میں ان کی بہت عزت تھی اور بادشاہ وقت کے ساتھ ان کی خط و کتابت رہتی تھی اور ان کے عہد میں ایک دفعہ دربار دہلی کا وزیر غیاث الدولہ بھی قادیان آیا تھا اور ان کے مختصر مگر سنجیدہ اور بارعب دربار کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا۔ مرزا گل محمد صاحب ایک نہایت متقی اور پارسا انسان تھے اور اپنے علاقہ میں بطور ایک ولی کے شہرت رکھتے تھے اور اس نیکی اور ولایت کے ساتھ ساتھ وہ ایک اعلیٰ درجہ کے مدبر اور جرنیل بھی تھے۔
    مرزا گل محمد صاحب نے ایک لمبا زمانہ پایا۔ ان کے آخری ایام میں جبکہ مغلیہ سلطنت بہت کمزور ہو گئی پنجاب میں سکھوں نے طوائف الملوکی اختیار کر کے زور پکڑ لیا اور ان کا سب سے زیادہ زور پنجاب کے وسطی حصہ میں تھا جس میں قادیان واقع ہے۔ اس وقت بانیئسلسلہ احمدیہکے بزرگوں کو نہایت سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور قادیان کی چھوٹی سی ریاست جو اس وقت تک قریباً آزاد ہو کر خود مختار ہو چکی تھی چاروں طرف سے سکھوں کے حملہ کا شکار ہونے لگی اور گو مرزا گل محمد صاحب نے اپنی ہمت اور قابلیت کے ساتھ سکھوں کو غالب نہیں ہونے دیا مگر پھر بھی جدی ریاست کے بعض دیہات ان کے قبضہ سے نکل گئے۔ لیکن ان کے بعد ان کے لڑکے مرزا عطا محمد صاحب کے زمانہ میں سکھ بہت زور پکڑ گئے ۔ حتیّٰ کہ وہ دن آیا کہ اس خاندان کو مغلوب ہو کر قادیان سے نکلنا پڑا۔ یہ واقعہ غالباً ۱۸۰۲ء کا ہے جبکہ سکھوں کی ایک مشہور جنگجو پارٹی نے جو رام گڑھیہ مسل کہلاتی تھی قادیان پر جو اس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا قبضہ حاصل کیا۔ اس وقت اس خاندان پر سخت تباہی آئی اور وہ اسرائیلی قوم کی طرح اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کاسب مال و متاع لوٹ لیا گیا اور کئی مسجدیں اور مکانات مسمار کئے گئے اور باغات ویران کر دئیے گئے اور ایک قیمتی کتب خانہ بھی جلا دیا گیا اور مرزا عطا محمد صاحب کو جو بانیئسلسلہ احمدیہ کے دادا تھے کئی سال تک ایک قریب کی ریاست میں جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی اور آخر اسی غریب الوطنی کی حالت میں ان کی وفات ہوئی۔
    ان کے بعد بانیئسلسلہ احمدیہ کے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو بھی اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں بڑی تلخی کا سامنا رہا اور بالآخر جبکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے متفرق سکھ رئوساء کو زیر کر کے پنجاب میں ایک واحد سکھ حکومت قائم کی تو اس وقت مہاراجہ کی اجازت سے مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اپنے وطن قادیان میں واپس آگئے۔ مگر اس عرصہ میں جدی ریاست کے سب گائوں جو اس وقت بھی اسّی(۸۰) سے اوپر تھے قبضہ سے نکل چکے تھے اور صرف قادیان اور اس کے اردگرد کے چند دیہات پر حقوق تسلیم کئے گئے۔ قادیان میں واپس آنے کے بعد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے جو ایک نہایت ماہر طبیب ہونے کے علاوہ ایک بہت بارعب اور بہادراور خود دار انسان تھے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خواہش پر پنجاب کی سکھ حکومت کے ماتحت ایک فوجی عہدہ قبول کیا اور مہاراجہ کی زندگی میں اور اس کے کئی سال بعد تک نہایت نمایاں خدمات سر انجام دیں اور جب ۱۸۴۸ء میں مرکزی سکھ حکومت کے خلاف پنجاب کے بعض حصوں میں بغاوت کا جھنڈا بلند ہوا تو مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے حکومت وقت کا ساتھ دیا اور اس کی طرف سے ہو کر باغیوں کے قلع قمع میں حصہ لیا۔
    اس کے بعد پنجاب میں جلد ہی سکھوں کی حکومت کا خاتمہ ہوکر انگریزوں کا تسلط قائم ہو گیا حکومت کی اس تبدیلی کے نتیجہ میں اس خاندان کو پھر ایک سخت دھکا لگا یعنی نہ صرف خاندانی جاگیر کا باقیماندہ حصہ ضبط ہو گیا بلکہ بہت سے مالکانہ حقوق بھی ہاتھ سے جاتے رہے اور گو سرکار انگریزی نے ضبط شدہ جاگیر کے بدلے میں خفیف سی نقد پنشن منظور کی مگر اس پنشن کو اس جاگیر سے جو ضبط کی گئی تھی کوئی نسبت نہیں تھی۔ تاہم مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت کہ ملک کی قائم شدہ حکومت کے ساتھ بہر حال تعاون کرنا چاہئے اور کسی صورت میں امن کارستہ نہیں چھوڑنا چاہئے نئی حکومت کے ساتھ پوری طرح تعاون کیا اور جب ۱۸۵۷ء میں غدر کا مشہور واقعہ پیش آیا تو بانیء سلسلہ احمدیہ کے والد نے باوجود تنگ حالی کے اور باوجود حکومت انگریزی کی طرف سے زخم خوردہ ہونے کے اپنی گرہ سے پچاس سوار مع ان کے گھوڑوں اور سازوسامان کے حکومت کی امداد کے لئے پیش کئے جن میں بہت سے خود مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے عزیزوں میں سے تھے چنانچہ بانیء سلسلہ احمدیہ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب بھی جو ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے ان نوجوانوں میں شامل تھے ۔ ان بے لوث خدمات کو جنرل نکلسن اور کئی دوسرے ذمہ دار انگریز افسروں نے اپنی چٹھیوں میں شکر و امتنان کے جذبات کے ساتھ تسلیم کیا اور اس سلوک سے شرمندہ ہو کر جو الحاق کے وقت انگریزی حکومت اس خاندان سے کر چکی تھی اس بات کا بار بار وعدہ کیا کہ جلد ہی کوئی مناسب موقعہ آنے پر خاندان کی پا بحالی کا انتظام کیا جائے گا مگر یہ وعدے آج تک شرمندہ ایفاء نہیں ہوئے ۔ باوجود اس کے بانیئسلسلہ احمدیہنے جس زور دار رنگ میں حکومتِ وقت کے ساتھ وفاداری کی تعلیم دی ہے وہ آپ کی اس پاک ذہنیت کی بین دلیل ہے کہ اصول کے مقابلہ پر ذاتی مفاد کو خیال میں نہیں لانا چاہئے۔ علاوہ ازیں اس عرصہ میں بانیئسلسلہ احمدیہ کے اثر کے ماتحت آپ کا خاندان دنیا داری کے رستہ سے ہٹ کر اس دینی مسلک کو اختیار کر چکا ہے جس میں اس کی نظر سوائے خدا کے اور کسی طرف نہیں اٹھتی اور وہ کسی ایسے دنیوی مال و جاہ کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں جو اسے خدا کے رستہ کو چھوڑ کر حاصل ہو۔
    مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے جن کے ساتھ علاقہ کے بڑے بڑے انگریز افسروں کے ذاتی اور دوستانہ تعلقات تھے اور وہ ہمیشہ گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئوساء کے بلائے جاتے تھے قریباً اسّی سال کی عمر میں ۱۸۷۶ء میں وفات پائی اور فی الجملہ یہی وہ تاریخ ہے جس سے بانیئسلسلہ احمدیہ کی پبلک زندگی کا آغاز ہوتا ہے جسے ہم مختصر طور پر اگلے باب میں بیان کریں گے ۱ ؎
    بانیء سلسلہ احمدیہ کے ذاتی سوانح
    نام اور ولادت :۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے بانیء سلسلہ احمدیہ کا نام مرزا غلام احمد تھا یعنی آپ کا اصل نام غلام احمد تھا اور مرزا کا لفظ نسلی امتیاز کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا تھا جیسا کہ ہر شخص جو مغل قوم سے تعلق رکھتا ہے مرزا کہلاتا ہے۔ لیکن اختصار کے طور پر آپ بعض اوقات صرف احمد کا نام بھی استعمال فرما لیتے تھے چنانچہ لوگوں سے بیعت لیتے وقت آپ ہمیشہ احمد کا نام استعمال کرتے تھے اور ان خدائی الہاموں میں بھی جو آپ کو ہوئے آپ کو متعدد جگہ احمد کے نام سے پکارا گیا ہے۔
    آپ کی صحیح تاریخ پیدائش ایک عرصہ تک غیر معلوم رہی کیونکہ وہ سکھ حکومت کا زمانہ تھا جبکہ پیدائش وغیرہ کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا اور حالات کی پراگندگی کی وجہ سے خاندان میں بھی تاریخ ولادت محفوظ نہیں رہ سکی۔ لیکن حال ہی میں بعض تحریرات اور روایات کی بناء پر یہ اندازہ لگایا گیا ہے جو غالباً درست ہے کہ آپ ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء مطابق ۱۴؍ شوال ۱۲۵۰ھ بروز جمعہ بوقت نماز فجر پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح آپ کی ولادت اور خاندا ن کی نسبتی بحالی کا زمانہ قریباً مل جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کی پیدائش توام صورت میں ہوئی تھی مگر جو لڑکی آپ کے ساتھ پیدا ہوئی تھی وہ بہت جلد فوت ہو گئی ۔ اس وقعہ کی طرف اشارہ کر کے آپ بعض اوقات فرماتے تھے کہ اس طرح خداتعالیٰ نے مجھ سے مادہ انثیت کلی طور پر جُدا کر دیا اور آپ کے اعلیٰ مردانہ صفات اپنے کمال کو پہنچ گئے۔ آپ کے توام پیدا ہونے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ اس سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو بعض اسلامی نوشتوں میں کی گئی تھی کہ مہدی موعود توام صورت میں پیدا ہو گا۔ ۱؎
    بچپن اور ابتدائی تعلیم :۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب جنہیں میں اس رسالہ میں آپ کے
    دعویٰ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود کے نام سے یاد کروں گا بچپن سے ہی کسی قدر خلوت پسند اور سوچنے والی طبیعت رکھتے تھے اور دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر زیادہ کھیلنے کودنے کی عادت نہیں تھی تاہم اعتدال کے ساتھ اور مناسب حد تک آپ ورزش اور تفریح میں بھی حصہ لیتے تھے چنانچہ روایات سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے بچپن میں تیرنا سیکھا تھا اور کبھی کبھی قادیان کے کچے تالابوں میں تیرا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ نے اوائل عمر میں گھوڑے کی سواری بھی سیکھی تھی اور اس فن میں اچھے ماہر تھے کبھی کبھی غلیل سے شکار بھی کھیلا کرتے تھے ۔ مگر آپ کی زیادہ ورزش پیدل چلنا تھا جو آخری عمر تک قائم رہی۔ آپ کئی کئی میل تک سیر کے لئے جایا کرتے تھے اور خوب تیز چلا کرتے تھے۔ صحت کی درستی کے خیال سے کبھی کبھی موگریوں کی ورزش بھی کیا کرتے تھے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی کی روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ آپ کو آخر عمر میں بھی موگریاں پھیرتے دیکھا ہے۔ مگر یہ ساری باتیں صرف صحت کی درستی کی غرض سے تھیں ورنہ آپ نے کبھی بھی ان باتوں میں ایسے رنگ میں حصہ نہیں لیا جس سے انہماک کی صورت نظر آئے یا وقت ضائع ہو۔ بلکہ ایام طفولیت میں بھی آپ کی طبیعت دینی امور کی طرف بہت راغب تھی چنانچہ بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ آپ اپنے کھیل کود کے زمانہ میں بھی اپنے ساتھ کے بچوں سے کہا کرتے تھے کہ ’’دعا کرو کہ خدا مجھے نماز کا شوق نصیب کرے‘‘ اور دوسرے بچوں کو بھی نیکی کی نصیحت کیا کرتے تھے۔
    جب آپ تعلیم کی عمر کو پہنچے تو جیسا کہ اس زمانہ میں شرفاء میں دستور تھا آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لئے بعض اساتذہ کو گھر پر تعلیم دینے کے لئے مقرر فرمایا۔ مگر بہتر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سوانح کا یہ حصہ خود آپ کے الفاظ میں بیان کیا جائے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’ میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم میں خداتعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کوجہاں تک خدا نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔ اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ ۱؎
    شباب :۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے ابھی بچپن سے قدم باہر نکالا ہی تھا اور جوانی کا آغاز تھا کہ آپ کی شادی ہو گئی ۔مشرقی طریق کے مطابق اس عمر کی شادی میں زیادہ تر والدین کے انتخاب کا دخل ہوتا ہے اور موجودہ صورت میں بھی یہی ہوا اور گو بحیثیت مجموعی مشرقی ممالک کی شادیاں مغربی ممالک کی شادیوں کی نسبت حقیقۃً زیادہ کامیاب اور زیادہ خوشی کا باعث ہوتی ہیں مگر استثناء ہر جگہ چلتا ہے اور شاید موجودہ صورت میں خدا کا یہ بھی منشاء تھا کہ اس کے ہونے والے مسیح کی شادی خود اس کے اپنے انتخاب کے ماتحت ہو اس لئے یہ شادی کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ آپ کی یہ زوجہ جن کا نام حرمت بی بی تھا آپ کے اپنے عزیزوں میں سے تھیں اور ان کے بطن سے دو لڑکے بھی پیدا ہوئے مگر چونکہ خاوند بیوی کے مزاج اور میلانات میں انتہائی درجہ کی دوری تھی یعنی حضرت مسیح موعود ؑ دینی امور میں غرق اور دنیا سے بیزار تھے اور بیوی دین کی طرف سے غافل اور دنیا میں منہمک تھیں اس لئے باوجود اس کے کہ ظاہری حقوق کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود ؑ نے شوہری کا حق پوری طرح ادا کیا یہ رشتہ کامیاب ثابت نہیں ہوا اور ان دو بچوں کی ولادت کے بعد خاوند بیوی میں عملاً علیحدگی رہی اور بالآخر جدائی تک نوبت پہنچی۔
    حضرت مسیح موعود کی زندگی کا یہ زمانہ بھی مطالعہ کے انہماک میں گزرا ۔ آپ کے وقت کا اکثر حصہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا اور سب سے زیادہ انہماک آپ کو قرآن شریف کے مطالعہ میں تھا حتیّٰ کہ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں ہم نے آپ کو جب بھی دیکھا قرآن پڑھتے دیکھا ۔ آپ کا مطالعہ سرسری اور سطحی رنگ کا نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنے اندر ایسا انہماک رکھتا تھا کہ گویا آپ معانی کی گہرائیوں میں دھسے چلے جاتے ہیں۔ زمانۂ ماموریت کے متعلق جبکہ دوسرے کاموں کی کثرت کی وجہ سے مطالعہ کا شغل لازماً کم ہو گیا تھا ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ایک دفعہ آپ کو قادیان سے بٹالہ تک بیل گاڑی میں سفر کرتے دیکھا ۔ ۱؎ آپ نے قادیان سے نکلتے ہی قرآن شریف کھول کر سامنے رکھ لیا اور بٹالہ پہنچنے تک جس میں بیل گاڑی کے ذریعہ کم و بیش پانچ گھنٹے لگے ہوں گے آپ نے قرآن شریف کا ورق نہیں الٹا اور انہی سات آیتوں کے مطالعہ میں پانچ گھنٹے خرچ کر دئیے۔ اس سے آپ کے زمانۂ شباب کے مطالعہ کی محویت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ خود آپ کا اپنا بیان ہے کہ اس زمانہ میں مجھے مطالعہ میں اس قدر انہماک تھا کہ بسا اوقات میرے والد صاحب میری صحت کے متعلق فکرمند ہو کر مجھے مطالعہ سے روک دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میں شاید اس شغف میں اپنی جان کھو بیٹھوں گا۔
    آپ کے والد صاحب نے اس محویت کو دیکھا تو آپ کی صحت سے خائف ہو کر نیز آپ کے مستقبل کو دنیادارانہ رنگ میں اچھا بنانے کی غرض سے آپ پر زور دینا شروع کیا کہ یا تو کوئی ملازمت قبول کر لیں اور یا خاندانی زمینداری کے کام میں لگ جائیں۔ آپ نے بہت ٹالا اور ہر رنگ میں معذرت کی کہ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں مگر بالآخر والد کا دبائو غالب آیا اور آپ نے باپ کی فرمانبرداری کو فرض سمجھتے ہوئے زمینداری کام کی نگرانی میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا اور والد کی ہدایت کے مطابق ان مقدمات کی پیروی میں مصروف ہو گئے جو ان ایام میں خاندانی جائیداد کے متعلق کثرت سے پیش آرہے تھے ۔ یہ زمانہ آپ کے لئے بہت تلخ زمانہ تھا کیونکہ آپ کو اپنی خواہش اور اپنے طبعی میلان کے خلاف ایک ایسے دنیوی کام میں مصروف ہونا پڑا تھا جو بدقسمتی سے ہندوستان میں بہت مخرب اخلاق ہو رہا تھا۔
    اس کے بعد یعنی ۱۸۶۴ء میں یا اس کے قریب آپ کو اپنے والد کی خواہش کے مطابق کچھ عرصہ کے لئے سیالکوٹ کے دفتر ضلع میں سرکاری ملازمت بھی اختیار کرنی پڑی۔ یہ نیا ماحول خفیف تغیر کے ساتھ قریباً قریباً وہی ماحول تھا جو مقدمات کی پیروی میں گزر چکا تھا۔ مگر خدا کو اپنے ہونے والے مسیح کو یہ سب نظارے دکھانے منظور تھے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ دنیا کس رنگ میں بس رہی ہے۔ سیالکوٹ میں آپ کم و بیش چار سال ملازم رہے۔ اس زمانہ کے متعلق دوست و دشمن سب کی متفقہ شہادت ہے کہ آپ نے دینی اور اخلاقی لحاظ سے ہر رنگ میں اعلیٰ نمونہ دکھایا جس کی وجہ سے وہ سب لوگ جن کے ساتھ آپ کا واسطہ پڑا آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ چنانچہ ان ایام میں سیالکوٹ میں ایک انگریز پادری مسٹربٹلر ایم ۔ اے رہتے تھے وہ حضرت مسیح موعود ؑ سے مل کر اور آپ کے خیالات سن کر اور اخلاق دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ باوجود شدید مذہبی اختلاف کے وہ آپ کو خاص طور پرعزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ جب وہ واپس وطن جانے لگے تو حضرت مسیح موعود ؑ کی آخری ملاقات کے لئے خود چل کر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں آئے اور ڈپٹی کمشنر کے دریافت کرنے پر کہ کیسے تشریف لائے ہوکہنے لگے کہ وطن جا رہا ہوں اور مرزا صاحب سے آخری ملاقات کرنے آیا ہوں۔ چنانچہ سیدھے حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس چلے گئے اور تھوڑی دیر تک آپ کے پاس بیٹھ کر رخصت ہوئے۔ مگر جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے خود حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے یہ ملازمت کا زمانہ اور اس سے پہلے مقدمات کی پیروی کا زمانہ نہایت دو بھر تھا چنانچہ اس زمانہ کے متعلق آپ لکھتے ہیں :۔
    ’’ میرے والد صاحب اپنے بعض آبائو اجدا کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا ۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقتِ عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیاداروں کی طرح مجھے روبخلق بناویں او رمیری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی …… تاہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے بربالوالدین جانتے تھے …… ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی …… اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    والدہ کی وفات اور ان کی محبت بھری یاد :۔ آخر آپ کے اصرار پر آپ کے والد صاحب نے
    آپ کو سرکاری ملازمت سے مستعفی ہونے کی اجازت دے دی اور آپ اپنے والد کی خواہش کے مطابق قادیان واپس آکر پھر زمینداری کام کی نگرانی میں مصروف ہو گئے۔ یہ غالباً ۱۸۶۸ء یا اس کے قریب کا زمانہ تھا۔ اسی زمانہ کے قریب آپ کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہوا جن کی محبت بھری یاد آپ کو اپنی عمر کے آخری لمحات تک بے چین کر دیتی تھی۔ خاکسار راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی حضرت مسیح موعود ؑ اپنی والدہ کا ذکر فرماتے تھے یا آپ کے سامنے کوئی دوسرا شخص آپ کی والدہ کا ذکر کرتا تھا تو ہر ایسے موقعہ پر جذبات کے ہجوم سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے اور آواز میں بھی رقت کے آثار ظاہر ہونے لگتے تھے اور یوںمعلوم ہوتا تھا کہ اس وقت آپ کا دل جذبات کے تلاطم میں گھرا ہوا ہے اور آپ اسے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا اور وہ ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں اور سنا گیا ہے کہ آپ کی والدہ کو بھی آپ سے بہت محبت تھی اور سب گھر والے آپ کو ماں کا محبوب بیٹا سمجھتے تھے۔
    سایۂ پدری کے آخری ایام :۔ بہر حال ملازمت سے فارغ ہو کر آپ قادیان واپس آگئے اور
    بدستور زمینداری کاموں کی نگرانی میں مصروف ہو گئے ۔ مگر ان ایام میں بھی آپ کے وقت کا اکثر حصہ قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں اور تصوف کی کتابوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات آپ یہ کتابیں اپنے والد صاحب کو بھی سنایا کرتے تھے اور اس میں آپ کو دو غرضیں مدنظر تھیں۔ ایک تو یہ کہ تا اس آخری عمر میں آپ کے والد صاحب کی توجہ دنیا کی طرف سے ہٹ کر دین کی طرف راغب ہو اور دوسرے یہ کہ تا وہ ان ہموم و غموم میں کسی قدر تسلی کا راہ پائیں جو اکثر مقدمات میں ناکام رہنے کی وجہ سے انہیں لاحق ہو رہے تھے۔ آپ کی یہ مخلصانہ کوشش کامیابی کا پھل لائی یعنی آپ کے والد صاحب کو اپنی عمر کے آخری ایام میں دنیا کی طرف سے بے رغبتی اور دین کی طرف توجہ پیدا ہو گئی۔ مگر یہ تبدیلی اس تلخ احساس کو بھی اپنے ساتھ لائی کہ میں نے اپنی عمر دنیا کے جھگڑوں میں ناحق ضائع کر دی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ لکھتے ہیں :۔
    ’’ حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گردابِ غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیا کی کدورتوں سے پاک ہے …… وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میںوہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطبِ وقت یا غوثِ وقت ہوتا …… یہ غم اور درد ان کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔ اسی خیال سے (اپنی وفات سے) قریباً چھ ماہ پہلے اس قصبہ کے وسط میں اس مسجد کی تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو۔ تا خدائے عزوجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے۔ کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔ ‘‘ ۱ ؎
    اسی زمانہ میں جبکہ آپ کے والد ماجد کی وفات کا زمانہ بہت قریب تھا آپ کو خواب میں بتایا گیا کہ دین کی راہ میں ترقی کرنے اور انوارِ سماوی کی پیشوائی کے لئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔ چنانچہ یہ خدائی اشارہ پا کر آپ نے نفلی روزے رکھنے شروع کئے اور آٹھ نو ماہ تک مسلسل روزے رکھے یہ روزے ان روزوں کے علاوہ تھے جو اسلام نے سال میں ایک مہینہ کے لئے فرض کئے ہیں۔ ان روزوں کے ایام میں آپ نے اپنی خوراک کو آہستہ آہستہ اس قدر کم کر دیا کہ بالآخر آپ دن رات میں صرف چند تولے خوراک پر اکتفا کرتے تھے۔ چنانچہ جیسا کہ آپ کو قبل از وقت بتایا گیا تھا ان ایام میں آپ پر بہت سے انوار سماوی کا انکشاف ہوا اور بعض گذشتہ انبیاء اور اولیاء سے بھی کشفی حالت میں ملاقات ہوئی۔ نیز اس طویل روزہ کشی اور خوراک کم کر دینے کے نتیجہ میں آپ کو یہ فائدہ بھی پہنچا کہ آپ کا جسم مشقت اور بھوک اور پیاس کا غیر معمولی طور پر عادی ہو گیا اور آپ کی روح کو اس کے سفلی علائق کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے ایک فوق العادت جلا حاصل ہو گئی ۔ تاہم آپ نے لکھا ہے کہ میں عوام الناس کے لئے سخت مجاہدات اور ریاضات کے طریق کو پسند نہیں کرتا کیونکہ ان باتوں سے بعض اوقات کمزور طبیعت کے لوگوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور ناقص قویٰ والے لوگ بسا اوقات خطرناک بیماریوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں پس آپ نے لکھا ہے کہ عام لوگوں کو اس طریق سے پرہیز کرنا چاہئے۔ ۲؎
    والد کی وفات اور خدائی کفالت :۔ آپ کے والد صاحب کی وفات ۱۸۷۶ ء میں ہوئی اور وہ
    اپنی وصیت کے مطابق اس مسجد کے ساتھ والی زمین مین دفن کئے گئے جو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں تعمیر کرائی تھی اور جو اب مسجد اقصیٰ کہلاتی ہے۔ ۳ ؎ جس دن آپ کے والد صاحب کی وفات ہونی تھی اسی دن آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ آج شام کے قریب آپ کے والد اس دنیا سے گزر جائیں گے۔ آپ لکھتے ہیں کہ اس خبر سے مجھے والد کی جدائی کے طبعی غم کے علاوہ ایک آنِ واحد کے لئے یہ خیال بھی دل میں آیا کہ معاش کے اکثر وجوہ والد کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کے بعد نہ معلوم کیا ہو گا ؟ یہ خیال دل میں گذرا ہی تھا کہ ایک نہایت پر جلال آواز میں دوسرا الہام ہوا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ـ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ اس کے بعد سے آپ گویا خدا کی کفالت میں آگئے اور آپ لکھتے ہیں کہ خدا نے میری ایسی کفالت فرمائی کہ جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔
    پبلک زندگی کا آغاز اور براہین احمدیہ کی تصنیف :۔ ۱۸۷۶ء تک جب کہ آپ کے والد
    صاحب کی وفات ہوئی آپ کی زندگی ایک بالکل پرائیویٹ رنگ رکھتی تھی۔ مگر اس کے بعد آپ نے آہستہ آہستہ پبلک میں آنا شروع کیا۔ یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہئے کہ خدائی تقدیر آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے زاویۂ گمنامی سے نکال کر شہرت کے میدان کی طرف کھینچنے لگی۔ آغاز اس تبدیلی کا بظاہر اس طرح ہوا کہ ان ایام میں پنڈت دیانند سرسوتی کی تحریک سے بیدار ہو کر ہندوئوں میں ایک جماعت آریہ سماج کے نام سے قائم ہوئی جس نے نہ صرف ہندوئوں کے لئے ایک نیا مذہبی فلسفہ پیش کیا بلکہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ پر بھی ہندو قوم میں ایک جارحانہ روح پیدا کر دی۔ دوسری طرف ہندوستان کے مسیحی پادریوں نے بھی جو دہلی کے غدر کے بعد سے مسلمانوں کے مذہبی جوش و خروش سے کسی قدر مرعوب ہو کر سہمے ہوئے تھے اب پھر سر اٹھانا شروع کیا اور حکومت کے سایہ میں ایک نہایت پر زور مشنری مہم شروع کر دی۔ اور ویسے بھی اس زمانہ میں صلیبی مذہب ساری دنیا میں ایک طوفانِ عظیم کی طرح جوش مار رہا تھا۔ تیسری طرف یہ زمانہ ہندوستان کی مشہور مذہبی تحریک برہمو سماج کے زور کا زمانہ تھا جس کا جدید مذہبی فلسفہ امن اور آشتی اور صلح کل پالیسی کے لباس میں مذہب کی عمومی روح کے لئے گویا ایک کاٹنے والی تلوار کا حکم رکھتا تھا اور چوتھی طرف اس زمانہ میں ساری دنیا کا یہ حال ہو رہا تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن کی بظاہر خوشگوار ہوائیں جہاں جہاں سے بھی گزرتی تھیں دہریت اور مادیت کا بیج بوتی جاتی تھیں اور یہ زہر بڑی سرعت کے ساتھ ہرقوم و ملت میں سرایت کرتا جا رہا تھا۔ اس چوکور خطرے کو حضرت مسیح موعود ؑ کی تیز اور دور بین آنکھ نے دیکھا اور آپ کی اکیلی مگر بہادر روح اس مہیب خطرے کے مقابلہ کے لئے بے قرار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ کی سب سے پہلی تصنیف جو براہین احمدیہ کے نام سے موسوم ہے اور چار جلدوں میں ہے اسی مرکب حملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب میں خصوصیت سے الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت۔ اسلام کی صداقت اور قرآن کی فضیلت ۔ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت ۔ خدا کی خالقیت اور اس کی مالکیت پر نہایت لطیف اور سیرکن بحثیں ہیں اور ساتھ ہی اپنا ملہم ہونا ظاہر کر کے اپنے بہت سے الہامات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بہت سے الہام آئندہ کے متعلق عظیم الشان پیشگوئیوں پر مشتمل ہیں۔ غرض یہ اس پایہ کی کتاب ہے کہ محققین نے اسے بالا تفاق اس زمانہ میں اسلامی مدافعت کا شاہکار قرار دیا۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو فرقہ اہلحدیث کے نامور لیڈر تھے اور بعد میں حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف سب سے پہلے کفر کا فتویٰ لگانے والے بنے انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے لکھا کہ :۔
    ’’ ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی …… اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی وحالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ ‘‘ ۱ ؎
    براہین احمدیہ کو حضرت مسیح موعود ؑ کی سب سے پہلی تصنیف ہونے کے علاوہ ایک یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں آپ نے اپنے بہت سے ابتدائی الہامات جمع کر دئیے ہیں جن میں سے اکثر آپ کی آئندہ ترقیات کے متعلق ہیں چنانچہ انہی میں سے ایک الہام یہ بھی ہے کہ :۔
    ’’ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ‘‘ ۱ ؎
    یعنی ایک وقت آنے والا ہے کہ دنیا میںتجھے اتنی قبولیت حاصل ہو جائے گی کہ بڑے بڑے بادشاہ تیرے حلقۂ غلامی میں داخل ہو کر تیرے متبرک کپڑوں کو اپنے سر آنکھوں سے لگائیں گے اور انہیں زیبِ تن کر کے ان سے برکت حاصل کریں گے۔ یہ الہام اس وقت کا ہے جبکہ آپ بالکل گوشۂ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور ابھی مجددیت اور ماموریت کا بھی دعویٰ نہیں تھا اور کوئی شخص آپ کو نہیں جانتا تھا۔ مگر آئندہ آنے والی نسلیں دیکھیں گی کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کو کس طرح پورا کرتا ہے اس الہام میں یہ بھی اشارہ ہے کہ احمدیت میں بادشاہوں کے داخل ہونے کا زمانہ ایسے وقت تک آجائے گا کہ ابھی آپ کے استعمال شدہ کپڑے (جو زیادہ دیر تک ٹھہرنے والی چیز نہیں) دنیا میں موجود ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ بھی لکھا ہے کہ عالمِ کشف میں مجھے یہ بادشاہ دکھائے گئے جو تعداد میں سات تھے اور گھوڑوں پر سوار تھے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے سات کے عدد اور گھوڑوں پر سوار ہونے کے کی تشریح نہیں فرمائی مگر میں خیال کرتا ہوں کہ سات کے عدد میں کثرت اور تکمیل کی طرف اشارہ ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لفظ ہفت اقلیم کے محاورہ کی بناء پر استعمال کیا گیا ہو اور گھوڑوں کی سواری سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ یہ بادشاہ یونہی نام کے بادشاہ نہیں ہون گے بلکہ حقیقی حکمران ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں حکومت کی عنان ہو گی ۔ کیونکہ عالمِ رئویا میں گھوڑے کی سواری سے حکومت مراد ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور بھی بہت سے الہامات درج ہیں جن میں سے کئی پورے ہو چکے ہیں اور کئی پورے ہونے والے ہیں۔
    ماموریت کا پہلا الہام :۔ ابھی براہین احمدیہ کی تصنیف جس کے چار حصے ۱۸۸۰ء تا ۱۸۸۴ء میں
    شائع ہوئے مکمل نہیں ہوئی تھی کہ آپ کو خدا کی طرف سے مارچ ۱۸۸۲ء میں وہ تاریخی الہام ہوا جو آپ کی ماموریت کی بنیاد تھا۔اس الہام میں خدا تعالیٰ نے آپ کو مخاطب ہو کر فرمایا :۔
    یَا اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ ـ مَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ـ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ـ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَائُھُمْ ـ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلَ الْمُجْرِمِیْنَ ـ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ـ ۱ ؎
    ’’ یعنی اے احمد ! اللہ نے تجھے برکت دی ہے پس جو وار تو نے دین کی خدمت میں چلایا ہے وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ دراصل خدا نے چلایا ہے۔ خدا نے تجھے قرآن کا علم عطا کیا ہے تا کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کرے جن کے باپ دادے ہوشیار نہیں کئے گئے اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہو جاوے۔ لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ ‘‘
    آپ کا یہ الہام پہلا الہام نہیں تھا بلکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے الہامات کا سلسلہ آپ کے والد ماجد کی زندگی میں ہی شروع ہو چکا تھا۔ مگر یہ وہ پہلا الہام تھا جو ماموریت کے متعلق آپ پر نازل ہوا اور جس نے آپ کی زندگی میں ایک نئے دورکا آغاز کر دیا ۔ لیکن چونکہ ابھی تک آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے اس کے بعد بھی آپ کچھ عرصہ تک عام رنگ میں اسلام کی خدمت میں مصروف رہے اور کسی باقاعدہ جماعت کی بنیاد نہیں رکھی۔ البتہ آپ نے یہ کیا کہ اپنے ماموریت کے دعویٰ کو جسے آپ نے مجددیت کا آغاز قرار دیا ایک اشتہار کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں میں بلکہ اس اشتہار کو انگریزی میں ترجمہ کرا کے دوسرے ممالک میں بھی کثرت کے ساتھ پہنچا دیا اور دنیا بھر کے بادشاہوں ،وزیروں اور مذہبی لیڈروں کو یہ اشتہار بھجوایا۔ اور جملہ مذاہب والوں کو دعوت دی کہ اگر انہیں اسلام کی حقانیت یا آنحضرت ﷺ کی صداقت میں کوئی شبہ ہو یا الہام یا ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی اعتراض ہو یا قرآن کی فضیلت کے متعلق کوئی بات دل میں کھٹکتی ہو تو وہ آپ کے پاس آکر یا خط و کتابت کے ذریعہ تسلی کر لیں۔۲ ؎ مجددیت کے دعویٰ سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اسلام میں جو یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد یعنی مصلح مبعوث ہوا کرے گا جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ دنیا میں اصلاح کا کام لیا کرے گا اور اس وعدے کے مطابق گذشتہ صدیوں میں مجدد آتے رہے ہیں سو موجودہ چودھویں صدی کا مجدد میں ہوں جسے خدا نے اسلام کی خدمت کے لئے مبعوث کیا ہے اور مجھے وہ علم دیاگیا ہے اور وہ طاقتیں عطا کی گئی ہیں جو موجودہ زمانہ کے فتنوں کے مقابلہ کے لئے ضروری ہیں۔
    بعض دوسرے الہامات :۔ ماموریت کے الہام کے بعد الہاموں کا سلسلہ زیادہ کثرت کے
    ساتھ شروع ہو گیا اور چونکہ یہ الہامات براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں ہوئے تھے اس لئے آپ ان کو ساتھ ساتھ کتاب میں درج فرماتے گئے اور اس طرح مخالفوں پر اتمام حجت کے لئے ایک عمدہ ذخیرہ تیار ہو گیا۔ یہ الہامات اکثر صورتوں میں آئندہ ترقیوں کے متعلق ہیں اور اس زمانہ میں نازل ہوئے تھے کہ جب ابھی آپ کے دعویٰ کی بالکل ابتداء تھی اور ابھی جماعت احمدیہ کی بنیاد بھی نہیں رکھی گئی تھی اور بہت کم لوگ آپ کو جانتے تھے ان میں سے تین الہام نمونے کے طور پر اس جگہ درج کئے جاتے ہیں۔ پہلا الہام یہ ہے :۔
    یَاْتُونَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ـ وَیَأْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ۱؎
    ’’ یعنی تیرے پاس دور دراز سے لوگ آویں گے اور تیری امداد کے لئے تجھے دور دراز سے سامان پہنچیں گے حتیّٰ کہ لوگوں کی آمد اور اموال و سامان کے آنے سے قادیان کے راستے گھس گھس کر گہرے ہو جائیں گے۔ ‘‘
    یہ الہام اس وقت کا ہے جبکہ قادیان میں کسی کی آمد و رفت نہیں تھی اور قادیان کا دور افتادہ گائوں دنیا کی نظروں سے بالکل محجوب و مستور تھا مگر حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی لوگوں نے اس الہام کو پورا ہوتے دیکھ لیا اور ہنوز اس الہام کی تکمیل کا سلسلہ جاری ہے اور نہ معلوم اس کی انتہا کن کن عجائبات قدرت کی حامل ہو گی ۔ دوسرا الہام براہین احمدیہ میں یہ درج ہے کہ :۔
    اِنّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ـ ۱ ؎
    ’’ یعنی وقت آتا ہے کہ تیری جان پر دشمنوں کی طرف سے حملے ہوں گے مگر میں تجھے ان سب حملوں سے بچائوں گا اور تجھے اپنے وقت پر طبعی موت سے وفات دوں گا اور تیری موت عزت اور رفعت کی موت ہو گی جس کے بعد تیری روح میری طرف اٹھائی جائے گی اور میں تیرے ماننے والوں کو قیامت کے دن تک تیرے منکروں پر غالب رکھوں گا اور وہ کبھی بھی تیرے مخالفوں کے مقابل پر مغلوب نہیں ہوں گے۔ ‘‘
    یہ الہام بھی جس عظیم الشان پیشگوئی کا حامل ہے وہ ظاہر و عیاں ہے اور اس پیشگوئی کے اندر دراصل کئی پیشگوئیاں مخفی ہیں جن کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور اس الہام میں احمدیت کے لئے ایک ایسی بڑی بشارت ہے کہ جس سے بڑھ کر اس دنیا میں ممکن نہیں اور گو اس کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے اور اہل نظر کے لئے اس کے دوسرے حصہ کے ظہور کا بھی آغاز ہو چکا ہے مگر اس کی اصل شان آئندہ زمانوں میں ظاہر ہو گی جسے دیکھنے والے دیکھیں گے۔ تیسرا الہام براہین احمدیہ میں یہ درج ہے کہ :۔
    ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ ‘‘ ۲ ؎
    یہ الہام بھی جس زبردست قوت اور بشارت کا حامل ہے اس پر کسی دلیل لانے کی ضرورت نہیں اور گو ابھی تحریک احمدیت کا آغاز ہی ہے لیکن خدائی حملوں نے پہلے سے ہی دنیا کو ہلا رکھا ہے اور یہ ابتدائی حملے اس بات پر شاہد ہیں کہ خدائے ذوالجلال اس وقت تک دنیا کو چھوڑے گا نہیں جب تک کہ اپنے مرسل و مامور کی صداقت کا سکہ نہ جمالے۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں ا ور بہت سی پیشگوئیاں درج ہیں مگر اس مختصر رسالہ میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔
    حضرت مسیح موعود کی شادی اور مبشر اولاد :۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ
    حصہ چہارم کی تصنیف سے فارغ ہو چکے اور ماموریت کا اشتہار بھی شائع کیا جا چکا تو ۱۸۸۴ء کے آخر میں آپ نے ایک خدائی بشارت کے ماتحت دہلی کے ایک معزز سید خاندان میں دوسری شادی کی جو برخلاف آپ کی پہلی شادی کے بہت کامیاب اور نہایت بابرکت ثابت ہوئی اور آپ کا گھر اہلی زندگی کا بہترین نمونہ نظر آنے لگا۔ آپ کی اس زوجہ محترمہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے جو خدا کے فضل سے اس وقت تک زندہ ہیں اور اسلامی محاورہ کے مطابق جماعت احمدیہ میں ام المومنین یعنی مومنوں کی ماں کہلاتی ہیں۔ ان کے والد صاحب کا نام میر ناصر نواب تھا جو دہلی کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ میر درد کی نسل میں سے تھے اور نہایت پاک باطن اور صاف گو بزرگ تھے۔ اس شادی سے حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر میں زمانہ وفات کے قریب تک اولاد کا سلسلہ جاری رہا اور آپ نے لکھا ہے کہ میری یہ ساری اولاد کہ جو نسل سیدہ ہے خدائی بشارتوں کے ماتحت پیدا ہوئی ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کی ولادت سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے کسی مبشر الہام کے ذریعہ ان کی پیدائش کی خبر دیتا رہا ہے اور ایک بچہ کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے آپ کو یہ الہام کیاکہ وہ ایک بہت اعلیٰ مقام کو پہنچے گا اور اس کے ذریعہ سے دنیا میں خدا کے جلال کا ظہور ہو گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ اس اولاد میں سے جو بچے زندہ رہے ان میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سب سے بڑے ہیں جو ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے حضرت مسیح موعود ؑ کے دوسرے خلیفہ کی حیثیت میں جماعت احمدیہ کے امام اور لیڈر ہیں۔
    اس جگہ ضمنی طور پر یہ ذکر بے موقعہ نہ ہو گا کہ حضرت مسیح موعود کا تعلق اپنے اہل خانہ اور اپنی اولاد کے ساتھ نہایت درجہ پاکیزہ اور خوشگوار تھا۔ میں اس کے لئے کوئی اور الفاظ نہیں پاتا سوائے اس کے کہ اس تعلق میں محبت اور شفقت اور نصیحت کے عناصرنے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جسے اعلیٰ درجہ کی بہشتی زندگی کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے ہزاروں لوگوں کی اہلی زندگی کو دیکھا ہے اور دوسروں کے حالات کو سنا او رپڑھا ہے مگر میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس زمانہ میں آپ سے کوئی بہتر خاوند اور بہتر باپ نہیں دیکھا اور بیوی اور بچوں پر ہی منحصر نہیں بلکہ دوستوں اور ہمسایوں ۔ اپنوں اور بیگانوں حتیّٰ کہ دشمنوں تک سے آپ کا سلوک نہایت درجہ مشفقانہ تھا اور وہ باوجود مذہبی مخالفت کے آپ کی صداقت اور امانت اور وفاداری پر کامل بھروسہ رکھتے تھے۔
    شہب ثاقبہ کا نشان :۔ ۱۸۸۵ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی تائید میں ایک
    عجیب نشان ظاہر کیا یعنی ۲۷اور ۲۸؍ نومبر ۱۸۸۵ء کی درمیانی رات کو آسمان پر ستاروں کے ٹوٹنے کا ایک غیر معمولی نظارہ نظر آیا۔ اس رات اس کثرت کے ساتھ ستارے ٹوٹے کہ گویا ستاروں کی بارش ہو رہی تھی۔ ان ستاروں کا ٹوٹنا تصویری زبان میں اس بات کی علامت تھی کہ اب دنیا کی شیطانی فوجوں پر خدا کی رحمانی فوج کے حملہ کا وقت آگیا ہے اور آسمان کی طاقتیں غیر معمولی حرکت میں ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ لکھتے ہیں:۔
    ’’ ۲۸ ؍ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸؍ نومبر سے پہلے آئی اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزارہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کر سکوں …… یہ شہب ثاقبہ کا تماشا ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا …… وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہاماً ڈالاگیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہو ا ہے۔ ‘‘ ۱ ؎
    یہ بتایا جا چکا ہے کہ ستاروں کے ٹوٹنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمین کی اصلاح کے لئے آسمان میں حرکت ہو رہی ہے اور یہ کہ شیطانی فوجوں پر خدا کی فوجیں حملہ آور ہونے کو تیار ہیں۔ چنانچہ روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے وقت بھی اسی طرح کا نظارہ آسمان میں نظر آیا تھا ۔ ۱ ؎ اور بعض اوقات ستاروں کے ٹوٹنے کی بجائے اجرام سماوی میں بعض اور قسم کے نشان بھی نظر آتے ہیں جیسا کہ مثلاً حضرت مسیح ناصری کی پیدائش کے وقت ایک خاص قسم کا ستارا نظر آیا تھا جسے بعض مجوسی لوگ دیکھ کر مسیح کی تلاش کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ۲ ؎ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری نے اپنی آمد ثانی کے لئے خاص طور پر ستاروں کے ٹوٹنے کو بطور نشان کے بیان کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں :۔
    ’’ سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور آسمان سے ستارے گریں گے اور جو قوتیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائیں گی اور اس وقت لوگ ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔ ‘‘ ۳ ؎
    حضرت مسیح ناصری کے اس قول میں جو سورج اور چاند کے روشنی نہ دینے کا ذکر ہے اس سے مراد ان کو گرہن لگنا ہے جو وہ بھی مسیح موعود ؑ کے لئے بطور ایک علامت کے مقرر تھا چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ ۱۸۹۴ء میں سورج ا ور چاند کو گرہن لگا جو عین ان تاریخوں کے مطابق تھا جو اسلامی صحیفوں میں پہلے سے بتائی گئی تھیں اور انجیل کے الفاظ میں جو یہ ذکر ہے کہ مسیح کا نزول بادلوں میں سے ہو گا اس سے یہ مراد ہے کہ گو اپنی ذات میں مسیح کا نزول قدرت اور جلال کے رنگ میں ہو گا اور آسمانی طاقتیں بڑی شان و شوکت کے ساتھ حرکت میں آئیں گی لیکن شروع شروع میں دنیا کی نظر میں مسیح کا نزول ایسا ہو گا کہ گویا وہ بادلوں میں مستور ہو کر دھندلی روشنی میں اتر رہا ہے لیکن بعد میں آہستہ آہستہ بادلوں کے چھٹ جانے سے روشنی ترقی کرتی جائے گی۔
    ۱۸۸۶ء کے شروع میں حضرت مسیح موعود ؑ خدائی منشاء کے ماتحت ہوشیار پور میں تشریف لے گئے جو قادیان سے قریباً چالیس میل مشرق کی طرف واقع ہے اور پنجاب کے ایک ضلع کا صدر مقام ہے۔ یہاں آپ نے چالیس دن تک ایک علیحدہ مکان میں جو آبادی سے کسی قدر جدا تھا عبادت اور ذکر الٰہی میں وقت گزارا ۔ ان دنوں میں آپ اس مکان کے بالا خانہ میں بالکل خلوت کی حالت میں رہتے تھے اور آپ کے تین ساتھی جو خدمت کے لئے ساتھ گئے تھے نیچے کے حصہ میں مقیم تھے اور آپ نے حکم دیا تھا کہ مجھ سے کوئی شخص ازخود بات نہ کرے اور ان ایام میں آپ خود بھی بہت کم گفتگو فرماتے تھے اور اکثر حصہ وقت کا عبادت اور ذکر الٰہی میں گزارتے تھے ۔ گویا ایک طرح آپ کی یہ خلوت نشینی اعتکاف کا رنگ رکھتی تھی۔
    ان ایام میں آپ پر بہت سے انوار سماوی کا انکشاف ہوا اور پسرِ موعود کے متعلق بھی انہی دنوں میں الہامات ہوئے جن میں بتایا گیا کہ خدا آپ کو ایک ایسا لڑکا دے گا جو خدا کی طرف سے ایک خاص رحمت کا نشان ہو گا اور اس کے ذریعہ دین کو بہت ترقی حاصل ہو گی۔ چنانچہ اس الہام کے الفاظ یہ ہیں :۔
    ’’ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا …… فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والاخر مظہر الحق والعلا کَأَنَّ اللّٰہ نزل من السَّماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ہے۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔ اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا ۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ۔‘‘ ۱؎
    جب حضرت مسیح موعود ؑ اس چالیس روزہ عبادت کو پورا کر چکے تو اس کے بعد آپ بیس روز مزید ہوشیار پور میں ٹھہرے اور انہی دنوں میں ہوشیار پور کے ایک جوشیلے آریہ ماسٹر مرلی دھر کے ساتھ آپ کا اسلام اور آریہ مذہب کے اصولوں کے متعلق مناظرہ ہوا جس میں حضرت مسیح موعود ؑ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ مناظرہ کے بعد جلد ہی حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک تصنیف ’’ سرمہ چشم آریہ‘‘ کے نام سے شائع فرمائی جس میں اس مناظرہ کی کیفیت درج کرنے کے علاوہ اسلام کی صداقت اور آریہ مذہب کے بطلان میں نہایت زبردست دلائل درج فرمائے اور اعلان کیا کہ اگر کوئی آریہ اس کتاب کا رد لکھ کر اس کے دلائل کو غلط ثابت کرے تو میں اسے انعام دوں گا مگر کسی کو اس مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہ کتاب ۱۸۸۶ء کے آخر میں شائع ہوئی اور سلسلہ احمدیہ کی بہترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کتاب میں معجزات کی حقیقت پر نہایت لطیف بحث ہے اور خصوصاً آنحضرت ﷺ کے شق القمر کے معجزہ پر ایک نہایت لطیف مقالہ درج ہے اور آریہ مذہب کے اصول دربارہ قدامتِ روح ومادہ وغیرہ کو زبردست دلائل کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔
    بشیر اوّل کی ولادت اور وفات اور مخالفوں کا شور و غوغا :۔ ۱۸۸۷ء کے آخر میں حضرت
    مسیح موعود ؑ کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے بشیر احمد رکھا۔ اس کی ولادت پر لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا یہی لڑکا وہ پسرِ موعود ہے جس کی خاص طور پر بشارت دی گئی تھی؟ آپ نے فرمایا مجھے اس معاملہ میں خدا کی طرف سے کوئی خبر نہیں دی گئی ۔ پس ممکن ہے کہ یہی وہ لڑکا ہو اور ممکن ہے کہ وہ لڑکا بعد میں پیدا ہو۔ باوجود آپ کی اس تشریح کے جب یہ لڑکا قضاء الٰہی سے ۱۸۸۸ء کے آخر میں فوت ہو گیا تو بعض لوگوں نے اس پر بہت شور مچایا کہ پیشگوئی غلط نکلی اور یہ کہ جس لڑکے کے متعلق اس شدومد کے ساتھ خبر دی گئی تھی وہ صرف چند ماہ زندہ رہ کر فوت ہو گیا۔ آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اس بات کو اچھی طرح واضح کیا کہ میں نے کبھی یہ نہیں لکھا تھا کہ یہی وہ موعود لڑکا ہے۔ بلکہ صرف اس قدر کہا تھا کہ ممکن ہے کہ یہی وہ لڑکا ہو مگر مجھے اس بارے میں خدا کی طرف سے کوئی علم نہیں دیا گیا تھا اور آپ نے پھر دوبارہ بڑے زور کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ جس عظیم الشان لڑکے کی مجھے بشارت دی گئی ہے وہ اپنے وقت پر ضرور پیدا ہو گا اور آپ نے لکھا کہ زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا کی بات نہیں ٹل سکتی۔ ۱؎







    سلسلہ احمدیہ کی مختصر تاریخ
    حضرت مسیح موعود ؑ کا زمانہ
    جماعت کا سنگ بنیاد :۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماموریت کا پہلا الہام مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا تھا جس کے بعد آپ نے اشتہاروں وغیرہ کے ذریعہ تمام دنیا میں اپنے دعویٰ مجددیت کا اعلان فرما دیا مگر چونکہ ابھی تک آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے آپ نے بیعت کا سلسلہ شروع نہیں کیا اور بدستور عام رنگ میں اسلام کی خدمت میں مصروف رہے۔ پھر جب ۱۸۸۸ء کا آخر آیا تو آپ نے خدا سے حکم پا کر بیعت کا اعلان فرمایا ۔ ۱ ؎ اور پہلے دن کی بیعت میں جومارچ ۱۸۸۹ء میں بمقام لدھیانہ ہوئی چالیس افراد نے آپ کے ہاتھ پر توبہ اور اخلاص اور اطاعت کا عہد باندھا جس میں ہر بیعت کنندہ سے خصوصیت کے ساتھ یہ اقرار لیا جاتا تھا کہ ’’ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ ‘‘ ابتدائی بیعت میں بیشتر طور پر وہی لوگ شامل تھے جو پہلے سے آپ کے زیر اثر آکر آپ کی صداقت کے قائل ہو چکے تھے۔ انہی میں حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی تھے جو ایک بہت بڑے دینی عالم اور نہایت ماہر طبیب تھے اور ان ایام میں مہاراجہ صاحب جموںو کشمیر کے دربار میں بطور شاہی طبیب کے ملازم تھے حضرت مولوی صاحب موصوف ایک نہایت جید عالم تھے اور قرآن کریم کی تفسیر کا خاص علم اور خاص ملکہ رکھتے تھے اور اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لٹریچر پر بھی ان کی نظر نہایت وسیع تھی وہ پہلے دن کی بیعت میں اول نمبر پر تھے اور انہیں یہ امتیاز اور فخر بھی حاصل ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو ۱۹۰۸ء میں ہوئی وہ جماعت کے پہلے خلیفہ ہوئے۔ حضرت مولوی صاحب بھیرہ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔
    اس ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ صرف مجدد ہونے کا تھا یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اسلام کی چودھویں صدی کے سر پر دین کی خدمت اور اسلام کی تجدید کے لئے مبعوث کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور دعویٰ نہیں تھا۔ نہ مسیح ہونے کا نہ مہدی ہونے کا ،نہ نبی اور رسول ہونے کا اور نہ تمام قوموں کے آخری موعود ہونے کا۔ اس لئے اس وقت تک مسلمانوں میں آپ کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی بلکہ عموماً آپ کو اسلام کا ایک نہایت قابل جرنیل خیال کیا جاتا تھا اور لوگ آپ کے غیر معمولی تقویٰ اور طہارت اور جذبۂ خدمتِ دین کے قائل تھے اور آپ کے وجود کو اپنے لئے ایک مضبوط سہارا دین کے لئے ایک پختہ ستون سمجھتے تھے۔ اور دوسری قومیں بھی آپ کو اسلام کا ایک عدیم المثال جرنیل خیال کرتی تھیں اور آپ کی زبردست تحریروں سے خائف تھیں۔ مگر جیسا کہ ذیل کی سطور سے ظاہر ہو گا یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔
    مسیحیت کا دعویٰ اور مخالفت کا طوفانِ بے تمیزی :۔ ۱۸۹۰ء اور ۱۸۹۱ء کے سال حضرت
    مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے خاص سال تھے کیونکہ ان میں حضرت مسیح موعود ؑ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کا انکشاف ہوا جس نے آپ کے متعلق لوگوں کے رخ کو بالکل بدل دیا۔ اور آپ کے خلاف مخالفت کا وہ طوفانِ بے تمیزی اٹھ کھڑا ہوا جس کی نظیر سوائے انبیاء کے زمانے کے اور کسی جگہ نہیں ملتی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۱۸۹۰ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر الہاماً ظاہر کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان دونوں آسمان پر زندہ خیال کر رہے ہیں اور آخری زمانہ میں ان کی دوسری آمد کے منتظر ہیں وہ دراصل وفات پا چکے ہیں اور ان کے آسمان پر جانے اور آج تک زندہ چلے آنے کا خیال بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے اور یہ کہ ان کی دوسری آمد کا وعدہ ایک مثیل کے ذریعہ پورا ہونا تھا اور آپ کو بتایا گیا کہ یہ مثیل مسیح خود آپ ہی ہیں۔ چنانچہ جو الہامات اس بارے میں آپ کو ہوئے ان میں سے ایک الہام یہ تھاکہ :۔
    ’’ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔ وَکَانَ وَعْدُاللّٰہِ مَفْعُوْلًا ـ‘‘ ۱؎
    اس عظیم الشان انکشاف پرآپ نے ۱۸۹۱ء کے شروع میں رسالوں اور اشتہاروں کے ذریعہ اپنے اس دعویٰ کا اعلان کیا ۱ ؎ جس پر مسلمانوں اور عیسائیوں ہر دو میں ایک خطرناک ہیجان پیدا ہو گیا اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مخالفت کی آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔
    اس مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان اور عیسائی دونوں کئی صدیوں سے یہ عقیدہ بنائے بیٹھے تھے کہ حضرت مسیح ناصری جو ساڑھے انیس سو سال گزرے کہ ملک فلسطین میں پیدا ہوئے تھے وہ اب تک آسمان میں خدا کے پاس زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں جبکہ فتنوں اور فسادوں کا زور ہو گا وہ دنیا میں دوبارہ آئیں گے اور ان کے ذریعہ زمین پر پھر خداکی حکومت قائم ہو گی ۔ مگر اس حد تک مشترک عقیدہ رکھنے کے بعد ان ہر دو قوموں کے عقائد کی تفصیل میں اختلاف تھا یعنی مسلمان تو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ عیسیٰ رسول اللہ فوت نہیں ہوئے بلکہ اللہ نے انہیں صلیب سے بچا لیا تھا اور پھر وہ زندہ ہی آسمان پر اٹھا لئے گئے اور آخری زمانہ میں وہ زمین پر دوبارہ نازل ہو کر اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کریں گے اور یہ غلبہ قہری اور جلالی ہو گا اور اس وقت جو قومیں اسلام کو قبول نہیں کریں گی وہ سب مٹا دی جاویں گی اور دوسری طرف عیسائی یہ خیال کرتے تھے کہ ان کے خداوند مسیح صلیب پر فوت تو ہو گئے تھے مگر ان کی یہ موت عارضی موت تھی جو انہوں نے دنیا کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے خود اپنی مرضی سے اختیار کی تھی چنانچہ اس موت کے بعد وہ دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے اور آخری زمانہ میں پھر زمین پر اتریں گے اور مسیحیت کو تمام دنیا میں قائم کر دیں گے اور ان کی یہ دوسری آمد پہلی آمد کی نسبت زیادہ شاندار اور جلالی ہو گی وغیرہ وغیرہ ۔ گویا دونوں قومیں اپنے اپنے مذہبی اصول کے ماتحت حضرت مسیح ؑکی آمد ثانی کی منتظر تھیں اور انہیں اپنا نجات دہندہ خیال کرتی تھیںاور ان کے جلالی نزول کے متعلق دونوں نے عجیب عجیب نقشے جما رکھے تھے۔
    پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کا اعلان فرمایا اور اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو چکے ہیں اور آسمان پرنہیں گئے اور یہ کہ ان کی دوسری آمد کا وعدہ خود آپ کے وجود میں پورا ہوا ہے کیونکہ آپ حضرت مسیح ناصری کی خوبو پر اور انہی کی روحانی صفات سے متصف ہوکر آئے ہیں تو اس پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو طبعاً ایک سخت دھکا لگا اور انہوں نے اپنے ہوائی قلعوں کو خاک میں ملتا دیکھ کر آپ کے خلاف اپنے اپنے رنگ میں مخالفت کا طوفان کھڑا کر دیا اور یہ مخالفت طبعاً مسلمانوں میں زیادہ تھی کیونکہ آپ نے اسلام کے اندر ہو کر مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مسلمان ہی آپ کے پہلے مخاطب تھے چنانچہ مسلمان علماء نے آپ کو ملحد اور کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور آپ کا نام دجال اور دشمن اسلام رکھا اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک خطرناک عداوت کی آگ مشتعل ہو گئی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کے ساتھ اس وقت تک صرف چند گنتی کے آدمی تھے اس مخالفت کے طوفان سے ہراساں نہیں ہوئے بلکہ اس مخالفت کو بھی الٰہی سلسلوں کی سنت قرار دے کر اپنی صداقت کی ایک دلیل گردانا۔ اور ایک مفصل اور مدلل تصنیف کے ذریعہ جس کا نام آپ نے ’’ازالہ اوہام‘‘ رکھا اپنے دعویٰ کی صداقت کے دلائل پیش کئے اور ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری واقعی وفات پا چکے ہیں اور ہرگز آسمان پر نہیں اٹھائے گئے اور قرآن اور حدیث بلکہ خود مسیحی صحیفے انہیں فوت شدہ قرار دیتے ہیں اور یہ کہ آخری زمانہ میں جس مسیح کا وعدہ تھا وہ ایک مثیل کے ذریعہ پورا ہونا تھا اسی طرح جس طرح کہ مسیح ناصری کے زمانہ میں ایلیا نبی کی دوبارہ آمد کا وعدہ یوحنا نبی کی آمد سے پورا ہوا۔ آپ نے ثابت کیا کہ قرآن شریف کی متعدد آیتیں حضرت مسیح کو یقینی طور پر فوت شدہ قرار دیتی ہیں اور کوئی ایک آیت بھی مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کی مؤید نہیں بلکہ مسلمانوں نے عیسائیوں کے خیالات سے متاثر ہو کر اور بعض استعارات سے دھوکا کھا کر یہ سراسر غلط عقیدہ بنا رکھا ہے جس کا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانہ میں نام و نشان تک نہ تھا۔
    آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مسیح کی دوسری آمد کے لئے جو علامات اسلام میں بتائی گئی تھیں مثلاً مسلمانوں کی حالت کا بگڑ جانا اور عیسائی مذہب کا زور پکڑنا اور ریل اور پریس وغیرہ کا جاری ہونا وغیرہ وہ موجودہ زمانہ میں پوری ہو گئی ہیں اور یہی وہ زمانہ ہے جس میں ازل سے مسیح کی آمد ثانی مقدر تھی۔ اور آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مسیح کے جلالی ظہور سے یہ مراد نہیں کہ وہ تلوار کے ساتھ ظاہر ہو گا بلکہ اس میں اس کی روحانی طاقتوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ مسیح کی دوسری آمد اس کی پہلی آمد کی نسبت زیادہ شاندار ہو گی اور اللہ تعالیٰ اسے دوسری آمد میں زیادہ کامیابی اور زیادہ غلبہ عطا کرے گا اور دجال کے متعلق جس نے مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا تھا آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ اس سے کوئی فرد واحد مراد نہیں بلکہ ایک قوم اور ایک فرقہ ضالہ مراد ہے جو اپنی بے دینی کی طاقتوں کے ساتھ دنیا میں فساد عظیم کے پھیلانے کا موجب ہو گا اور آپ نے بتایا کہ اس سے مسیحیت کی فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو مسیح ناصری کی حقیقی تعلیم کو چھوڑ کر دنیا میں دہریت اور مادیت کے انتشار کا آلہ بنی ہوئی ہیں۔ ۱ ؎
    مہدویت کا دعویٰ اور خونی مہدی سے انکار :۔ اسی طرح آپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام
    میں جس مہدی کا مسیح کے زمانہ میں وعدہ کیاگیا تھا وہ میں ہوں مگر یہ کہ میں کسی جنگی مشن کے ساتھ مبعوث نہیں کیا گیا بلکہ میرا کام امن اور صلح کے طریق پر مقرر ہے اور آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں جو ایک خونی مہدی کا خیال پیدا ہو چکا ہے یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے جس کے متعلق قرآن شریف اور صحیح احادیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بلکہ یہ خیال بھی بعض استعاروں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو عموماً پیشگوئیوں میں اختیار کئے جاتے ہیں اور آپ نے لکھا کہ جہاد کرنے والے اور کافروں کو مارنے والے مہدی سے صرف یہ مراد ہے کہ آنے والا مہدی ایسے مضبوط اور زبردست دلائل کے ساتھ ظاہر ہو گا کہ اس کے مقابل پر گویا اس کے مخالفوں پر موت وارد ہو جائے گی ۔ آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مہدی اور مسیح الگ الگ وجود نہیں ہیں بلکہ ایک ہی شخص کی دو مختلف حیثیتوں سے اسے یہ نام دیا گیا ہے یعنی مثیل مسیح ہونے کے لحاظ سے آنے والے موعود کا نام مسیح ہے اور آنحضرت ﷺ کے ظل اور بروز ہونے کے لحاظ سے اس کا نام مہدی ہے ورنہ دراصل وہ ایک ہی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ مسیح موعود کے سوا اور کوئی مہدی نہیں ۔ ۲ ؎
    حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف کفر اور بائیکاٹ کا فتویٰ :۔ مسیح اور مہدی کی بحث کے متعلق
    ان تصریحات نے جن کے ساتھ زبردست دلائل بھی شامل تھے آپ کے متبعین کی ہمتوں کو بلند کر دیا اور مسلمانوں کے ایک حصہ کو بھی آپ کی طرف کھینچنا شروع کر دیا مگر جمہور مسلمان اپنے علماء اور سجادہ نشینوں کی اتباع میں لحظہ بلحظہ مخالفت میں ترقی کرتے گئے اور علماء کے فتووں نے ملک میں ایک آگ لگا دی اور علماء نے صرف قولی فتویٰ ہی نہیں لگایا یعنی آپ کو صرف عقیدہ کے لحاظ سے ہی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا بلکہ یہ بھی اعلان کیا کہ حضرت مرزا صاحب اور آپ کے متبعین کے ساتھ کلام سلام اور ہر قسم کا تعلق ناجائز اور حرام ہے اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ ممنوع ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے قبرستانوں میں بھی انہیں دفن کرنے کی اجازت نہیں۔ ان عملی فتووں نے ملک میں ایک نہایت خطرناک حالت پیدا کر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مٹھی بھر جماعت چاروں طرف سے مخالفت کے طوفان میں گھر گئی اور اس طوفانِ عظیم میں احمدیت کی چھوٹی سی نائو اس طرح تھپیڑے کھانے لگی کہ لوگوں نے سمجھا کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔ ہم اس فتوے کی گالیوںاور گندے حصوں کو چھوڑ کر اس کے بعض الفاظ مثال کے طور پر درج ذیل کرتے ہیں تا کہ ہمارے ناظرین کو یہ پتہ لگ سکے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے متعلق اوائل زمانہ میں کیا کچھ کہا گیا ہے ۔ علماء اسلام نے جن میں بڑے بڑے چوٹی کے علماء شامل تھے آپ کے متعلق لکھا کہ :۔
    ’’ مرزا قادیانی ان تیس دجالوں میں سے ایک ہے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے اور اس کے پیرو ذریت دجال ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال کذاب سے احتراز اختیار کریں اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں جو اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔ نہ اس کی صحبت اختیار کریں نہ اس کی دعوت قبول کریں نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں …… وہ اور اس جیسے لوگ دین کے چور ہیں اور دجالین کذابین ملعون شیاطین سے ہیں …… اس کذاب قادیانی کے کفر میںکوئی شک نہیں …… وہ قطعاً کافر اور مرتد ہے …… وہ بڑا بھاری دجال ہے …… وہ دائرہ اسلام سے خارج اور ملحد اور زندیق ہے … وہ کافر ہے اور بدکردار … بدترین خلائق اور خدا کا دشمن … جو اس کے گمراہ ہونے میں شک کرے وہ بھی ویسا ہی گمراہ ہے … وہ کافر بلکہ اکفر ہے … اس قادیانی کے چوزے ہنود و نصاریٰ کے مخنث ہیں… وہ اس شیطان سے بھی زیادہ گمراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے اس کو مسلمانوں کی قبروں میں دفن نہ کیا جائے … یہ ملحد کادیانی اشد المرتدین اور عجیب کافر اور منافق لاثانی ہے … وہ نبیوں کا دشمن ہے اور خدا اس کا دشمن ہے … وہ مثیل مسیح تو نہیں البتہ مثیل اسودعنسی اور مسیلمہ کذاب ہے … اس پر شیطان مسلط ہے جو اس سے یہ بکواس کرا رہا ہے … جو شخص کادیانی کے موافق اعتقاد رکھتا ہے وہ بھی مردود ہے … مرزا کادیانی دجال اور مضل بلکہ دجاجلہ کار اس رئیس ہے ۔ ‘‘ ۱ ؎ ’’ان کی عورتوں کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان سے نکاح کر سکتا ہے۔‘‘ ۲ ؎
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان علماء کی گالیوں کو حوالہ بخدا کیا اور نہایت صبر اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہے اور مخالفین کے ہر اعتراض کا تسلی کے ساتھ جواب دیا اور قرآن سے۔ حدیث سے۔ ائمہ کے اقوال سے ۔ تاریخ سے ۔ صحفِ سابقہ سے اور عقل خدا داد سے مخالفین کے ہر شبہ کے ازالہ کی کوشش کی اور صرف مدافعت پر ہی اکتفاء نہیں کی بلکہ اشتہاروں اور رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ دشمن کے قلعوں پر وہ گولہ باری کی کہ انہیں کئی معرکوں میں اپنا میدان چھوڑنا پڑا۔ مگر اس جنگ میں ایک بات آپ کے لئے نہایت درجہ تکلیف دہ تھی اور یہ وہ اعتراض تھے جن میں آپ کو دشمنِ خدا اور دشمنِ اسلام اور دشمنِ رسول قرار دیا جاتا تھا۔ ان اعتراضوں کو سن کر آپ کی روح بے چین ہو جاتی تھی اور آپ کے نازک ترین جذبات کو انتہائی دھکا لگتا تھا کیونکہ جس مقدس ہستی کی محبت میں آپ نے یہ سارا بوجھ اٹھایا تھا اسی کی دشمنی اور غداری کا آپ پر الزام لگایا جاتا تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی عاشق پر یہ الزام لگایا جاوے کہ وہ اپنے معشوق کا دشمن ہے چنانچہ آپ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں :۔
    کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں
    نام کیا کیا غمِ ملت میں رکھایا ہم نے
    تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد
    تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے
    ابتدائی سفر :۔ ان اعتراضوں کے ازالہ اور لوگوں کے سمجھانے کی غرض سے نیز اپنا صحیح صحیح پیغام
    پہنچانے کے لئے آپ نے اپنے دعویٰ کے ابتدائی زمانہ میں متعدد سفر بھی اختیار کئے۔ مثلاً شروع میں آپ ایک لمبا عرصہ لدھیانہ میں مقیم رہے ۔ پھر دہلی گئے اور وہاں کافی عرصہ قیام کیا۔ پھر پٹیالہ تشریف لے گئے اور اپنے پیغام کو پہنچایا۔ اسی طرح امرتسر ،لاہور ،سیالکوٹ اور جالندھر وغیرہ جا کر کلمہ حق کی تبلیغ کی اور حقیقت الامر سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ مگر اس سے مخالفت کے طوفان میں کمی نہیں آئی۔ ہاں ایک فائدہ ان سفروں سے ضرور حاصل ہوا کہ آپ کی آواز بہت جلد ملک کے مختلف حصوں میں پہنچ گئی اور لوگ آپ کے دعویٰ سے واقف ہو گئے لیکن اس کے ساتھ ہی لوگوں کے جوش و خروش کا پارہ بھی لحظہ بلحظہ چڑھتا گیا۔ ۱ ؎
    حضرت مسیح موعود ؑ کا بلند اخلاقی معیار :۔ مخالفت کے اس طوفان میں ایک بات اہل ذوق
    کو نہایت لطیف نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کے بعد تو بے شک آپ کے خلاف ہر قسم کے الزامات لگائے گئے۔ آپ کو دشمنِ خدا اور دشمنِ رسول کہا گیا۔ دین کو بگاڑنے والا اور اسلام میں فتنہ پیدا کرنیوالا قرار دیا گیا۔ خدا پر افتراء باندھنے والا اور بندوں کے حقوق غصب کر جانے والا سمجھا گیا اور اسی طرح اور بھی کئی طرح کے الزام لگائے گئے حتیّٰ کہ آپ کے خلاف تقریر کرنے والوں کی زبانیں گالیاں دے دے کر تھک گئیں اور لکھنے والوں کی قلمیں کاغذوں کو سیاہ کر کر کے گھِس گئیں اور دعویٰ کے بعد ساری دنیا کے عیب آپ کی طرف منسوب کئے گئے مگر اس کے مقابل پر کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی مسلمان یا کسی ہندو یا کسی سکھ یاکسی عیسائی یا کسی دوسرے شخص نے آپ کے متعلق یہ الزام لگایا ہو کہ دعویٰ سے پہلے آپ کی زندگی میں یہ یہ عیب پایا جاتا تھا بلکہ قبل دعویٰ زندگی کے متعلق تمام مذاہب کے لوگ یک زبان ہو کر آپ کو صادق القول اور نیک اور خداپرست قرار دیتے ہیں اور یہ شہادت دعویٰ سے پہلی زندگی کے ہر زمانہ کے متعلق پائی جاتی ہے۔ بچپن کے متعلق بھی اور جوانی کے متعلق بھی اور ادھیڑ عمر کے متعلق بھی دور نہ جائو آپ کے اشد ترین معاند مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ہی لے لو۔ دعویٰ کے بعد اس شخص نے اپنی مخالفت کو انتہا تک پہنچا دیا اور آپ کی طرف ہر قسم کی برائی منسوب کی اور آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا اور مفتری اور حرام خور اور بے دین اور مکار اور فریبی قرار دیا مگر دعویٰ سے پہلی زندگی کے متعلق اس کے منہ سے بھی مدح و ستائش کے سوا اور کوئی کلمہ نہیں نکل سکا۔ میں نے ان متعدد خطوط کو دیکھا ہے جو مسیحیت کے دعویٰ کے بعد مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت مسیح موعود ؑ کو لکھے۔ یہ خطوط و شنام دہی اور گالیوں او رطرح طرح کے الزاموں سے پر ہیں مگر ان خطوں میں بھی مولوی محمد حسین صاحب حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف دعویٰ سے پہلے کی زندگی کے متعلق قطعاً کوئی الزام نہیں لگا سکے۔
    باقی رہا دعویٰ کے بعد عیب جوئی کرنا سو ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ عیب جوئی ہرگز کوئی حجت نہیں کیونکہ دشمنی پیدا ہو جانے کے بعد انسان کی آنکھ بدل جایا کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے مخالفوں کے سامنے یہ چیلنج پیش کیا کہ میں تمہارے اندر اپنے دعویٰ سے قبل ایک لمبی زندگی گزار چکا ہوں کیا تم میں کوئی ہے جو آگے آ کر میری قبل دعویٰ زندگی کے متعلق کوئی دینی یا اخلاقی عیب پیش کرے یا کوئی جھوٹ یا خیانت یا بدعملی ثابت کرے۔ ۱ ؎ تو اس پر کسی شخص کو آپ کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہیں ہوئی۔ مگر مشکل یہ تھی کہ جن لوگوں کے ساتھ آپ کو واسطہ پڑا تھا ان کے لئے اس قسم کی دلیلیں کافی نہیں تھیں وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ آپ نے اہل اسلام کے ایک معروف اور مسلمہ عقیدہ کے خلاف دعویٰ کیا ہے اور یہ کہ علماء کا مقدس طبقہ آپ کو کافر اور بے دین قرار دے رہا ہے ۔ پس باوجود دیکھنے کے وہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھے اور باوجود سننے کے ان کے کانوں پر مہر تھی اور مخالفت کے بادل لحظہ بلحظہ گھنے اور سیاہ ہوتے جا رہے تھے۔
    ابتدائی مناظرات :۔ اس مخالفت کا ایک فوری نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو اپنے دعویٰ کے ابتدائی دو تین
    سالوں میں متعدد مناظروں میں حصہ لینا پڑا۔ چنانچہ ابتداء میں یعنی ۱۸۹۱ء میں آپ نے مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کے ساتھ ایک مناظرہ لدھیانہ میں کیا۔ ۱ ؎ اس کے بعد اسی سال ایک مناظرہ مولوی نذیر حسین صاحب امام فرقہ اہل حدیث کے ساتھ جامع مسجد دہلی میں بڑے ہنگامہ کے ساتھ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ۲ ؎ اور اسی سال ایک مناظرہ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی کے ساتھ ہوا۔ ۳؎ اور ایک مناظرہ لاہور میں ۱۸۹۲ء میں مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری کے ساتھ ہوا۔ ۴؎ مگرافسوس ہے کہ ان مناظروں نے اہل مناظرہ کو چنداں فائدہ نہ پہنچایا بلکہ جیسا کہ عموماً بحث مباحثہ میں ہوتا ہے یہ لوگ اور ان کے متبعین اپنی ضد اور مخالفت میں اور بھی ترقی کر گئے۔ اسی طرح آپ کا ایک مناظرہ ۱۸۹۳ء میں مسٹر عبداللہ آتھم مسیحی کے ساتھ امرتسر میں اسلام اور مسیحیت کے متعلق ہوا۔ ۵؎ مگر اس کا انجام بھی ضد اور ہٹ دھرمی کے بڑھ جانے کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ ہاں بے شک ایک فائدہ ان مناظروں کا ضرور ہوا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے زبردست مضامین کی وجہ سے (کیونکہ آپ ہمیشہ تحریری مناظرہ کرتے تھے) ایک مفید لٹریچر اسلام اور احمدیت کی تائید میں تیار ہو گیا جو اب تک سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کی زینت ہے۔
    مسیحیوں کے ایمان کا دلچسپ امتحان :۔ امرتسر کے مناظرہ میں ایک عجیب واقعہ بھی پیش آیا
    جس کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہو گا اور وہ یہ کہ چونکہ آپ کا دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا تھا اور انجیل میں آتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری بیماروں کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیتے تھے اس لئے عیسائی مناظر نے ایک دن ایسا کیا کہ تین چار لولے لنگڑے اور اندھے جمع کر کے ایک طرف چھپا دئیے اور جب اس کی مضمون پڑھنے کی باری آئی تو اس نے ان لوگوں کو باہر نکال کر حضرت مسیح موعود ؑ سے مطالبہ کیا کہ آپ مسیح ہونے کے مدعی ہیں سو لیجئے یہ چند بیمار حاضر ہیں انہیں ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجئے اور پھر سب لوگ ہنسنے لگے اور بعض حاضر المجلس احمد ی بھی گھبرا ئے کہ خواہ علمی لحاظ سے اس کا جواب دے دیا جائیگا مگر بظاہر صورت فریق مخالف کو ایک ہنسی کا موقعہ مل گیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑ بڑے اطمینان کے ساتھ خاموش بیٹھے رہے۔ پھر جب آپ کی باری آئی تو آپ نے فرمایا کہ میں تو اس رنگ میں حضرت مسیح ناصری کے ان معجزوں کا قائل نہیں ہوں اور ان کے وہ معنی نہیں سمجھتا جو عیسائی صاحبان سمجھتے ہیں اور میں اپنی ذات کے لئے بھی اس بات کا مدعی نہیں کہ میں خود اپنی مرضی سے جب چاہوں کسی بیمار کو ہاتھ لگا کر اچھا کر سکتا ہوں اس لئے مجھ سے اس قسم کا مطالبہ جو میرے مسلمات کے خلاف ہے نہیں ہو سکتا۔ ہاں بے شک انجیل میں حضرت مسیح ناصری نے اپنے متبعین کو ضرور یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو توتم قدرت کے خزانوں کے مالک بن سکتے ہو اور پہاڑوں کو حکم دے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکتے ہو اور کوئی بات تمہارے سامنے انہونی نہیں رہ سکتی ۔ ۱ ؎ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ مسیحی حضرات جو یہاں جمع ہیں اپنے مسیح پر ضرور سچا ایمان رکھتے ہیں اور آپ لوگوں کا ایمان رائی کے دانے سے تو بہر حال بڑا ہو گا پس میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے بیماروں کے جمع کرنے کی زحمت سے بچا لیا اب لیجئے یہی آپ کا مہیا کردہ تحفہ حاضر ہے انہیں ذرا ہاتھ لگا کر اپنے ایمان کا ثبوت دیجئے۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے اس جواب نے مسیحیوں کو بالکل مبہوت کر دیا اور وہ سخت گھبرا کر ان بیماروں کو ادھر ادھر چھپانے لگ گئے اور یہ ساری کھیل الٹ کر خود انہی پر آگئی اور جس بات کو انہوں نے اپنی فتح خیال کیا تھا وہ ایک خطرناک شکست کی صورت میں بدل گئی۔ ۲؎ الغرض اس ابتدائی زمانہ میں آپ کو بہت سے مناظرات کرنے پڑے اور خدا کے فضل سے ہر مناظرہ میں آپ کو نمایاں کامیابی نصیب ہوئی۔
    علم کلام کے دو زرّیں اصول :۔ ان مناظرات میں آپ نے اسلام کے اندرونی اختلافات
    اور اسلام اور دوسرے مذاہب کے باہمی اختلافات کے تصفیہ کے متعلق دو ایسے زرّیںاصول پیش کئے جنہوں نے مذہبی علم کلام میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ پہلااصول آپ نے اسلام کے اندرونی اختلافات کے متعلق یہ پیش کیا کہ اسلام میں اندرونی فیصلوں کی اصل کسوٹی قرآن شریف ہے نہ کہ حدیث یا بعد کے ائمہ کے اقوال وغیرہ۔ اس اصول نے اس گندے علم کلام کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جو ایک عرصہ سے اسلامی مباحثات کو مکدر کر رہا تھا جس کی وجہ سے قرآن شریف تو پسِ پشت ڈال دیا گیا تھا اور ہر فرقہ نے اپنے مطلب کی حدیثوں یا اپنے ائمہ کے اصوال کو قرآن پر قاضی اور حاکم بنا رکھا تھا۔ آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ اسلام کی اصل بنیاد قرآن شریف پر ہے اور حدیثوں وغیرہ کو صرف ایک خادم کی حیثیت حاصل ہے۔ پس اگر کوئی حدیث یا کسی امام کا قول کسی آیت قرآنی کے ساتھ ٹکرائے تو وہ اسی طرح پھینک دینے کے قابل ہے جس طرح اسلام کے مقابل پر ایک خلاف اسلام چیز پھینک دی جاتی ہے۔ ۱؎ اور آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ کسی حدیث کو رد کرنے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے قول کو رد کرتے ہیں بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی طرف غلط طور پر منسوب ہوئی ہے۔ اسی تعلق میں آپ نے بعد میں اس بات کو بھی واضح فرمایا کہ حدیث اور سنت دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ جہاں سنت سے آنحضرت ﷺ کا تعامل مراد ہے جو قرآن کے ساتھ ساتھ وجود میں آکر صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے ذریعہ عملی صورت میں نیچے پہنچا ہے وہاں حدیث سے وہ اقوال مراد ہیں جو لوگوں کے سینوں سے ڈیڑھ دو سو سال بعد میںجمع کئے گئے ہیں۔ اس طرح آپ نے اسلام کی اصل بنیاد قرآن اور سنت پر قرار دی اور حدیث کو صرف ایک خادم کی صورت میں پیش کیا ۔ یہ ایک نہایت عجیب نکتہ تھا جس نے اسلامی علم کلام کی صورت کو بالکل بدل دیا اور شکر ہے کہ آج غیر احمدی دنیا بھی آہستہ آہستہ اسی نکتہ کی طرف آرہی ہے۔ بے شک وہ ابھی تک اس بارے میں حضرت مسیح موعود ؑ کے احسان کو نہیں مانتی بلکہ ان میں سے اکثر لوگ اس تبدیلی کو محسوس بھی نہیں کرتے مگر واقف کار لوگ جانتے ہیں کہ اس تبدیلی کا اصل باعث کیا ہے اور جب بعد کی نسلیں غیر متعصب نظر کے ساتھ حالات کا مطالعہ کریں گی تو اس وقت ساری دنیا جان لے گی کہ یہ تبدیلی محض احمدیت کی تعلیم کے اثر کے ماتحت وقوع میں آئی ہے۔
    دوسرا زریں اصول جو آپ نے بین المذاہب اختلافات کے لئے پیش کیا وہ یہ تھا کہ ہر مذہب کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک کم از کم اصول مذہب کا تعلق ہے وہ اپنے دعویٰ اور دلیل ہر دو کو اپنی مقدس کتاب سے نکال کر پیش کرے تا کہ یہ ثابت ہو کہ بیان کردہ دعویٰ متبعین کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ خود بانیء مذہب کا پیش کردہ ہے۔ ۱؎ مثلاً آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری کی خدائی کا دعویٰ ہرگز قابل توجہ نہیں ہو گا ۔ جب تک کہ عیسائی صاحبان اس دعویٰ کو انجیل سے ثابت کر کے نہ دکھائیں اور پھر خود انجیل سے ہی اس کے چند دلائل بھی پیش نہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ آجکل اکثر مذاہب میں یہی فساد برپا ہے کہ مذاہب کی کتب مقدسہ کی طرف ایسے خیالات اور ایسے دعاوی منسوب کئے جا رہے ہیں جو دراصل ان مذاہب کے پیش کردہ نہیں ہیں بلکہ خود لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں اور اس طرح مذاہب کی اصل شکل و صورت بدل کر کچھ کی کچھ ہو گئی ہے۔ آپ نے تحدی کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت مسیح ناصری کی اصل تعلیم توحید اور رسالت کے اصول پر مبنی تھی مگر بعد میں آنے والوں کی دست برد اور حاشیہ آرائی سے اس نے ایک بالکل اور ہی رنگ اختیار کر لیا اور تثلیث اور کفارہ کے مشرکانہ خیالات داخل ہو گئے۔ ۱؎ اسی طرح ویدوںکی اصل تعلیم میں قدامت روح و مادہ وغیرہ کا کوئی نشان نہیں ہے مگر بعد میں آنے والوں نے یہ خیالات وید کی طرف منسوب کرنے شروع کر دئیے۔ لیکن اگر اس اصول کو اختیار کیا جاوے کہ ہر مذہبی کتاب اپنا دعویٰ خود پیش کرے اور پھر خود ہی اس کی دلیل لائے تو یہ سارا پول کھل جاتا ہے اور مذہب کی اصل تعلیم ننگی ہو کر سامنے آجاتی ہے جب آپ نے یہ اصول امرتسر والے مناظرہ میں عیسائی صاحبان کے سامنے پیش کیا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے مگر نتیجہ پھر بھی وہی تھا جو عموماً مذہبی مناظروں کا ہوا کرتا ہے کہ دنیا کی عزت کی خاطر صداقت کی طرف سے آنکھیں بند رکھی گئیں۔
    اسی زمانہ میں آپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہ خیال کہ قرآن شریف کے علوم سلف صالحہ یا گذشتہ علماء کی بیان کردہ باتوں پر ختم ہو چکے ہیں اور جو کچھ انہوں نے فرما دیا یا لکھ دیا اسی پر قرآنی تفسیر کا خاتمہ ہے ایک بالکل غلط اور مہلک خیال ہے اور آپ نے لکھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ جس طرح یہ ظاہری دنیا ایک مادی عالم ہے جس میں سے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق مادی خزانے نکلتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن شریف ایک روحانی عالم ہے جس کے روحانی اور علمی خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے اور ہر زمانے کی ضرورت کے مطابق نکلتے رہیں گے اور اس طرح قرآنی شریعت کے مکمل ہو چکنے کے باوجود اسلام کے علمی حصہ میں نمو اور ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہی قرآن شریف کا بڑا معجزہ ہے۔ ۱؎
    اسی اصل کے ماتحت آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے قرآن شریف کی خدمت کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے مجھے قرآن کی وہ سمجھ عطا کی گئی ہے جو موجودہ زمانہ میں کسی اور کو عطا نہیں کی گئی اور مجھے یہ طاقت دی گئی ہے کہ میں اس زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن شریف سے ایسے نئے نئے علمی اور روحانی خزانے نکال کر دنیا کے سامنے پیش کروں جو پہلے کبھی پیش نہیں کئے گئے اور آپ نے تحدّی کے ساتھ لکھا کہ اس زمانہ میں دنیا کا کوئی شخص اس بات میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ آپ نے بار بار چیلنج کر کے لوگوں کو بلایا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو میرے سامنے آکر قرآن کی تفسیر نویسی میں مقابلہ کر لے۔ ۲؎ مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی۔ آپ نے دوسرے مذاہب والوں کو بھی بار بار دعوت دی کہ وہ میرے مقابل پر آکر اپنی اپنی مذہبی کتابوں کے حقائق و معارف بیان کریں اور میں قرآن کے حقائق و معارف بیان کروں گا او رپھر دیکھا جاوے کہ کس کی کتاب زیادہ بہتر اور زیادہ معارف کا خزانہ ہے اور کون فریق حق پر ہے اور کون باطل پر مگر کوئی شخص آپ کے سامنے نہ آیا۔
    اس زمانہ کی ایک نہایت لطیف تصنیف :۔ آپ کا یہ دعویٰ محض زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ آپ
    نے اسے عملاً ثابت کر دکھایا چنانچہ گو کوئی مخالف تفسیر نویسی کے مقابلہ میں آپ کے سامنے نہیں آیا مگر آپ نے اپنے طور پر بہت سی تصانیف فرمائیں جن میں قرآن شریف کی متعدد آیات کی ایسی لطیف تفسیر بیان کی جو پہلے کسی کتاب میں بیان نہیں ہوئی اور آپ کی بیان کردہ تفسیر نے قرآن شریف کے کمال کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا۔ چنانچہ اسی زمانہ میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں آپ نے ایک کتاب ’’ آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ لکھ کر شائع فرمائی جو جدید تفسیر قرآن کے علاوہ اپنے مضامین کی لطافت اور ندرت کے لحاظ سے ایک نہایت اعلیٰ شان رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ حقیقۃً ایک ایسے آئینہ کا حکم رکھتی ہے جس میں اسلام کا خوبصورت چہرہ درخشاں ہو کر نظر آنے لگتا ہے۔ اس کتاب میں قرآنی آیات کی بناء پر اسلام کی حقیقت۔ روحانی سلوک کے مدارج ۔ ملائکۃ اللہ کی حقیقت اور ان کے کام ۔ روح القدس کا فلسفہ ۔ معجزہ کی حقیقت۔ اجرام سماوی کی تاثیرات وغیرہ پر نہایت لطیف بحث کی گئی ہے جسے پڑھ کر ایک علم دوست انسان کی پیاس بجھتی ہے۔
    اس کتاب کا ایک حصہ عربی میں ہے جس کا نام ’’ التبلیغ ‘‘ ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود ؑ کی سب سے پہلی عربی تصنیف ہے۔ یہ حصہ آپ نے اپنے بعض دوستوں کی تحریک پر عربی دان طبقہ کے لئے لکھا تھا اور ایک دوست کا بیان ہے کہ جب آپ کو اس موقعہ پر عربی میں لکھنے کی تحریک کی گئی تو آپ بہت متامل تھے کہ میں تو زیادہ عربی نہیں جانتا میں یہ کام کس طرح سر انجام دے سکوں گا لیکن جب آپ نے اس کام میں ہاتھ ڈالا اور خدا نے آپ کو اپنے پاس سے اس کے لئے قوت عطا کی تو ایسی فصیح و بلیغ عبارت لکھی کہ انہی دوست کا بیان ہے کہ اسے دیکھ کر ایک اہلِ زبان عرب نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ اس کتاب کو پڑھ کر میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیان تک آئوں۔ ۱ ؎
    جماعت احمدیہ کا پہلا سالانہ جلسہ :۔ واقعات کے تسلسل کو قائم رکھنے کی غرض سے میں
    درمیان میں جلسہ سالانہ کے آغاز کے ذکر کو ترک کر گیا ہوں۔ غالباً بہت سے ناظرین کو معلوم ہوگا کہ سلسلہ احمدیہ کے مرکز قادیان میں جماعت احمدیہ کا ایک سالانہ اجتماع دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہوا کرتا ہے۔ اس کا آغاز ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا جبکہ اس میں ۷۵ اصحاب شریک ہوئے مگر اس اجتماع کا باقاعدہ اجراء ۱۸۹۲ء میں ہوا جب کہ جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ میں ۳۲۷ اصحاب شریک ہوئے ۔ ۱؎ اس کے بعد یہ جلسہ سوائے ایک دو ناغوں کے ہر سال جاری رہا اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد سال بسال بڑھتی گئی حتیّٰ کہ آجکل جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد پچیس تیس ہزار کے قریب ہوتی ہے جو ملک کے مختلف حصوں سے آتے ہیں۔ اس سے جماعت کی نسبتی ترقی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ یہ جلسہ مذہبی عبادت کا رنگ نہیں رکھتا مگر اس نے جماعت کی تبلیغی اور تربیتی اور تنظیمی اغراض کے پورا کرنے میں بہت بھاری حصہ لیا ہے۔ اس سالانہ اجتماع میں بعض غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب بھی شریک ہوتے ہیں جو عموماً بہت اچھا اثر لے کر جاتے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کی مہمان نوازی :۔ اس جگہ ضمنی طور پر یہ ذکر بھی لاتعلق نہیں ہو گا کہ حضرت
    مسیح موعود ؑ کی طبیعت نہایت درجہ مہمان نواز تھی اور جو لوگ جلسہ کے موقعہ پر یا دوسرے موقعوں پر قادیان آتے تھے خواہ وہ احمدی ہوں یا غیر احمدی وہ آپ کی محبت اور مہمان نوازی سے پورا پورا حصہ پاتے تھے اور آپ کو ان کے آرام اور آسائش کا از حد خیال رہتا تھا۔ آپ کی طبیعت میں تکلف بالکل نہیں تھا اور ہر مہمان کو ایک عزیز کے طور پر ملتے تھے اور اس کی خدمت اور مہمان نوازی میں دلی خوشی پاتے تھے۔ اوائل زمانہ کے آنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مہمان آتا تو آپ ہمیشہ اسے ایک مسکراتے ہوئے چہرہ سے ملتے مصافحہ کرتے۔ خیریت پوچھتے۔ عزت کے ساھ بٹھاتے۔ گرمی کا موسم ہوتا تو شربت بنا کر پیش کرتے سردیاں ہوتیں تو چائے وغیرہ تیار کروا کے لاتے۔ رہائش کی جگہ کا انتظام کرتے اور کھانے وغیرہ کے متعلق مہمان خانہ کے منتظمین کو خود بلا کر تاکید فرماتے کہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ ایک پرانے صحابی نے جو دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت کے تھے خاکسار مؤلف سے بیان کیا کہ میں جب شروع شروع میں قادیان آیا تو اس وقت گرمی کا موسم تھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ حسب عادت نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ ملے اور مجھے خود اپنے ہاتھ سے شربت بنا کر دیا اور لنگر خانہ کے منتظم کو بلا کر میرے آرام کے بارے میں تاکید فرمائی اور مجھے بھی بار بار فرمایا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ بے تکلف کہہ دیں پھر اس کے بعد جب میں سردیوں میں آیا اور نماز اور کھانے سے فارغ ہو کر مہمان خانہ کے ایک کمرہ میں سونے کے لئے لیٹ گیا اور رات کاکافی حصہ گزر گیا تو کسی نے میرے کمرہ کے دروازہ کو آہستہ سے کھٹکھٹایا ۔ میں جب اٹھ کر گیا اور دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود ؑ خود بنفس نفیس ایک ہاتھ میں لالٹین لئے اور دوسرے میں ایک پیالہ تھامے کھڑے تھے اور مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمانے لگے ’’اس وقت کہیں سے دودھ آگیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آئوں کہ شاید رات کو دودھ پینے کی عادت ہو گی۔ ‘‘ وہ دوست بیان کرتے تھے کہ میں شرم سے کٹا جا رہا تھا مگر حضرت مسیح موعود ؑ اپنی جگہ معذرت فرما رہے تھے کہ میں نے آپ کو اس وقت اٹھا کر تکلیف دی ہے۔ ۱؎ اس چھوٹے سے واقعہ سے آپ کے جذبۂ مہمان نوازی کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے۔
    تین بڑی قوموں کے متعلق اصولی پیشگوئیاں :۔ اس زمانہ میں مخالفت کا بڑا زور تھا اور ہر
    قوم کی طرف سے نشان نمائی کا مطالبہ ہو رہا تھا اور مسلمان ،عیسائی اور ہندو سب حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف میدان میں اترے ہوئے تھے اور آپ کے دعویٰ کے مطابق تقاضا کر رہے تھے کہ اگر آپ میں کوئی روحانی طاقت ہے یا اگر اسلام کی حقانیت کے متعلق آپ کا دعویٰ سچا ہے تو ہمیں کوئی نشان دکھائیں۔ اس پر آپ نے زمانہ کے قلیل فرق کے ساتھ ہندوستان کی تین بڑی قوموں یعنی مسلمانوں عیسائیوں اور ہندوئوں کے متعلق علیحدہ علیحدہ پیشگوئیاں فرمائیں اور ان پیشگوئیوں کو ان قوموں کے لئے خدا کی طرف سے ایک نشان ٹھہرایا ۔ ۲؎
    جو پیشگوئی مسلمانوں سے تعلق رکھتی تھی وہ مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری کے متعلق ۱۸۸۸ء میں کی گئی تھی مگر اس کی میعاد ۱۸۹۲ء میں شروع ہوئی۔ مرزا احمد بیگ صاحب حضرت مسیح موعود ؑ کے رشتہ داروں میں سے تھے۔ مگر سخت دنیا دار تھے اور دین کی طرف سے قطعاً غافل تھے اور اپنے دوسرے عزیزوں کی طرح حضرت مسیح موعود ؑ سے اس بات کے طالب رہتے تھے کہ انہیں کوئی نشان دکھایا جاوے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی زمانہ میں وہ حضرت مسیح موعود ؑ سے ایک احسان کے طالب ہوئے یعنی یہ درخواست کی کہ آپ اپنی جائیداد کا ایک حصہ جو آپ کو اپنے ایک مفقود الخبر رشتہ دار کی طرف سے پہنچنے والا تھا ان کے بیٹے کے نام ہبہ کر دیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کے متعلق حسب عادت استخارہ کیا اور دعا مانگی تو آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ اس شخص سے یہ تحریک کرو کہ وہ اپنی بڑی لڑکی کا رشتہ تم سے کر دے۔ پھر اگر اس نے اس تجویز کو مان لیا تو یہ لوگ خدا کی طرف سے رحمت کا نشان پائیں گے اور اگر انکار کیا تو اس صورت میں وہ عذاب کا نشان دیکھیں گے۔ گویا یہ رشتہ حضرت ہود کی اونٹنی کی طرح ۱؎ نشان نمائی کا ایک واسطہ بن گیا اور یہ پیشگوئی مرکب رنگ رکھتی تھی یعنی اس کے دو پہلو تھے ایک پہلو رحمت کا تھا جو رشتہ کے ساتھ وابستہ تھا اور دوسرا پہلو عذاب کا تھا جو انکار کے ساتھ وابستہ تھا اور حضرت مسیح موعود نے یہ تصریح فرمائی کہ ہمیں اس رشتہ کی کوئی خواہش نہیں ہے اور یہ کہ اس پیشگوئی کی اصل غرض رشتہ نہیں بلکہ نشان نمائی ہے اور رشتہ صرف ایک علامت کے طور پر ہے اور انکار کی صورت میں آپ نے مرزا احمد بیگ کی موت کے لئے تین سال اور ان کے داماد کے لئے اڑھائی سال کی میعاد مقرر فرمائی۔ ۲؎
    مگر افسوس کہ ان لوگوں نے رحمت کے نشان کو رد کر دیا اور ۱۸۹۲ء کے ابتداء میں اس لڑکی کی شادی ایک صاحب مرزا سلطان محمد بیگ نامی کے ساتھ کر دی اور خدا سے مقابلہ کی ٹھان کر پیشگوئی کے عذاب کے پہلو کو اپنے اوپر لے لیا۔ چنانچہ ابھی اس رشتہ پر چھ ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ ماہ ستمبر ۱۸۹۲ء میں لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تپ محرقہ میں مبتلاء ہو کر اس جہان سے رخصت ہوئے اور خاندان کی ساری خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ ۳؎ اس اچانک حادثہ نے خاندان کے دوسرے افراد کے دل میں سخت خوف پیدا کر دیا اور ان میں سے بعض نے حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں عاجزی اور انکساری کے خط لکھے اور مرزا سلطان محمد بیگ صاحب نے بھی ادب اور احترام کا طریق اختیار کیا اور باوجود مخالفوں کے اکسانے کے کوئی مخالفت کا کلمہ زبان پر نہیں لائے۔ جس کی وجہ سے خدا نے اپنے ابدی قانون کے ماتحت عذاب کا بقیہ حصہ معاف کر دیا۔ جیسا کہ اس نے اپنے ایک الہام میں بھی پہلے سے اشارہ کر رکھا تھا کہ اس پیشگوئی میں عذاب کا پہلو ظاہر ہو گا مگر توبہ سے یہ عذاب ٹل سکے گا۔ مگر نادان مخالفوں نے اس پر بھی شور مچایا کہ پیشگوئی غلط گئی کیونکہ مرزا سلطان محمد بیگ فوت نہیں ہوئے اور لڑکی آپ کے نکاح میں نہیں آئی لیکن یہ مخالفت کا شور بھی پیشگوئی کے عین مطابق تھا کیونکہ اس پیشگوئی کے تعلق میں حضرت مسیح موعود ؑ کو یہ الہام بھی ہوا تھا کہ مرزا احمد بیگ فوت ہوں گے اور ان کے پیچھے بہت سے بھونکنے والے کتے باقی رہ جائیں گے۔ ۱؎ یعنی پیشگوئی کا ایک پہلو ایسا ہو گا کہ اس میں نادان مخالفوں کو شور کرنے کا موقعہ ملے گا مگر یہ شور ایسا ہی ہو گا جیسے کتوں کے بھونکنے کا شور ہوتا ہے سو پیشگوئی کا یہ حصہ بھی کمال صفائی سے پورا ہوا۔ ۲؎
    دوسری پیشگوئی جو عیسائیوں کے ساتھ تعلق رکھتی تھی وہ مسٹر عبداللہ آتھم کے متعلق تھی۔ مسٹر آتھم ایک پر جوش مسیحی تھے اور اس مناظرہ میں عیسائیوں کے زعیم تھے جو امرتسر میں حضرت مسیح موعود ؑ اور مسیحیوں کے درمیان ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا۔ جب اس مناظرہ میں عیسائی مناظر نے ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا اور استہزاء کا طریق اختیار کیا تو ۵؍ جون ۱۸۹۳ء کو جبکہ اس مناظرہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف سے آخری پرچہ پیش ہوا آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ آج رات خدا نے مجھے بتایا ہے کہ جو فریق اس مناظرہ میں جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ کر ایک کمزور انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اور آپ نے اس موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ آتھم نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں آنحضرت ﷺ کے متعلق نعوذ باللہ دجال کا لفظ استعمال کر کے آپ کی شان میں سخت گستاخی کی ہے۔ ۳؎
    اس پیشگوئی کو سن کر آتھم صاحب سخت خوفزدہ ہو گئے اور اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ میں نے تو دجال کا لفظ نہیں لکھا (حالانکہ وہ اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں یہ لفظ استعمال کر چکا تھا) اس وقت آتھم کی یہ حالت تھی کہ اسے مجلس سے اٹھنا محال ہو گیا اور دوسرے لوگوں نے سہارا دے کر اٹھایا اور پھر اس کے بعد آتھم نے اپنی زبان اور قلم کو اسلام کے خلاف بالکل روک لیا اور یہ پندرہ مہینے انتہائی گھبراہٹ اور خوف میں گزارے اور بعض اوقات وہ علیحدگی میں بیٹھ کر روتا بھی تھا اور اضطراب کی حالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھاگا پھرتا تھا حتیّٰ کہ عیسائیوں کو یہ اندیشہ پیدا ہو گیا کہ وہ اپنی گھبراہٹ میں کوئی ایسا لفظ نہ منہ سے نکال بیٹھے جو ان کے لئے تذلیل کا موجب ہو چنانچہ بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ میعاد کے آخری ایام میں وہ اسے اکثر وقت مخمور رکھتے تھے اور کسی غیر شخص سے ملنے نہیں دیتے تھے۔ غرض آتھم نے اپنے حرکات و سکنات سے ثابت کر دیا کہ وہ دل میں اسلام کی صداقت سے مرعوب ہو چکا ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کا خوف اس پر غالب ہے اور یہ کہ وہ شوخی اور مخالفت کے اس مقام سے پیچھے ہٹ گیا ہے جس پر وہ مناظرہ سے پہلے اور مناظرہ کے دوران میں قائم تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بذریعہ الہام اطلاع دی کہ اطلع اللہ علی ھمہ و غمہ ۱؎ یعنی ’’خدا تعالیٰ آتھم کے غم اور اس کے فکر و اضطراب کو دیکھ رہا ہے اور اس کی اس حالت سے بے خبر نہیں ۔‘‘ جس میں یہ اشارہ تھا کہ اب آتھم صاحب پیشگوئی کے ان الفاظ سے فائدہ اٹھائیں گے کہ ’’ بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ ‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ خدا کے رحم نے اس کے غضب کی جگہ لے لی اور آتھم صاحب اس وقت موت کے ہاویہ میں گرنے سے بچ گئے۔
    مگر بجائے اس کے کہ مسیحی لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور شور کرنا شروع کیا کہ پیشگوئی غلط نکلی کیونکہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے اشتہار پر اشتہار شائع کیا کہ یہ پیشگوئی قطعی نہیں تھی بلکہ مشروط تھی اور آتھم نے اپنے حالات سے ثابت کر دیا ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رعب سے خائف ہو کر اپنی سابقہ حالت سے رجوع کیا ہے اور آپ نے لکھا کہ اگر کسی کو شبہ ہو کہ آتھم نے رجوع نہیں کیا تو اس کا آسان علاج یہ ہے کہ آتھم صاحب خدا کی قسم کھا جائیں کہ میعاد کے دوران میں میرے دل پر اسلام کا رعب طاری نہیں ہوا اور اسلام اور مسیحیت کے متعلق میرے دل کی وہی حالت رہی ہے جو پہلے تھی تو میں آتھم صاحب کو چار ہزار روپیہ انعام دوں گا اور اپنے آپ کو جھوٹا سمجھ لوں گا اور آپ نے تحدی کے ساتھ لکھا کہ اگر آتھم صاحب نے ایسی قسم کھا لی تو خدا انہیں ایک سال کے اندر اندر ضرور ہلاک کر دے گا اور یہ ہلاکت قطعی اور اٹل ہے جس میں کوئی تخلف نہیں ہو گا۔ مگر باوجود بار بار غیرت دلانے کے آتھم صاحب اس قسم کے لئے تیار نہ ہوئے۔ ۱؎ مگر پھر بھی چونکہ آتھم صاحب نے حق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی اس لئے وہ حضرت مسیح موعود ؑ کے آخری اشتہار کے سات ماہ کے اندر حضرت مسیح موعود ؑ کی دن دگنی اور رات چگنی ترقی دیکھتے ہوئے ۱۸۹۶ء کے وسط میں اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ ۲؎
    تیسری پیشگو ئی پنڈت لیکھرام کے متعلق تھی جو آریہ قوم کے ایک بہت نامور لیڈر تھے۔ پنڈت لیکھرام اسلام کے سخت دشمن تھے اور آنحضرت ﷺ کے خلاف انتہائی تیز زبانی سے کام لیا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود سے نشان کے طالب رہتے تھے۔ آخر حضرت مسیح موعود ؑ نے لیکھرام صاحب کی خواہش کے مطابق خدا سے دعا کی کہ ان کے بارے میں کوئی ایسا نشان دکھایا جاوے جس سے اسلام کی صداقت ظاہر ہو اور جھوٹا فریق اپنی سزا کو پہنچے اس پر ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء کو آپ نے خدا سے خبر پا کر یہ اعلان کیا کہ چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ اور آپ نے بڑی تحدی کے ساتھ لکھا کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں کوئی عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں اور پنڈت لیکھرام کے متعلق آپ کو خدا نے یہ شعر بھی الہام کیا کہ :۔
    ’’ الا اے دشمن نادان و بے راہ
    بترس از تیغ بُرّانِ محمد ‘‘
    یعنی اے نادان اور رستے سے بھٹکے ہوئے دشمن تو اس قدر شوخی سے کام نہ لے اور محمد ﷺ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔ ۳؎
    اس کے بعد آپ نے اس بارے میں مزید دعا کی توآپ پر ظاہر کیا گیا کہ لیکھرام کی ہلاکت عید کے دوسرے روز ہو گی۔ ۱؎ اور آپ کو ایک خواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک قوی ہیکل مہیب شکل فرشتہ جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا تھا پنڈت لیکھرام کی ہلاکت کے لئے متعین کیا گیا ہے ۔ ۲؎ اس کے مقابل پر پنڈت لیکھرام نے بھی یہ اعلان کیا کہ مرزا صاحب کذاب ہیں اور تین سال کے عرصہ میں تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ ۳؎
    غرض یہ روحانی مقابلہ بڑے اہتمام اور جلال کے ساتھ منعقد ہوا اور دنیا کی نظریں اسلام اور آریہ مذہب کے ان نامور لیڈروں پر جم گئیں اور اس انتظار میں لگ گئیں کہ پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتاہے۔ آخر پنڈت لیکھرام کی تین سالہ میعاد تو یونہی گزر گئی اور کچھ نہیں ہوا لیکن جب حضرت مسیح موعود ؑ کی بیان کردہ میعاد کا پانچواں سال آیا تو عید کے عین دوسرے دن پنڈت لیکھرام صاحب ایک نامعلوم شخص کی چھری کا نشانہ بن کر اس جہان سے رخصت ہوئے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی نہایت آب و تاب کے ساتھ پوری ہو گئی۔ ۴؎ قاتل کی بہت تلاش ہوئی اور آریوں نے بہت ہاتھ پائوں مارے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف رپورٹ کر کے آپ کے مکان وغیرہ کی تلاشی بھی کرائی مگر جو بات جھوٹی تھی اس کا سراغ کیونکر ملتا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے سخت سے سخت قسم کھا کر حلفاً بیان کیا کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ پنڈت لیکھرام کا قاتل کون تھا اور اس نے اسے کیوں مارا اور کیونکر مارا ۔ ہم صرف اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ ایک خدائی تقدیر تھی جو اپنا کام کر گئی۔ آپ نے لکھا کہ مارنیوالا خواہ کوئی انسان تھا یا فرشتہ تھا بہر حال وہ خدا کا ایک غیبی آلہ تھا جس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ گو ہمیں اس لحاظ سے خوشی ہے کہ خدا کی بات سچی نکلی اور اسلام کا بول بالا ہوا لیکن انسانی ہمدردی کی رو سے ہمیں افسوس بھی ہے کہ پنڈت لیکھرام کی ایسی بے وقت موت ہوئی اور ان کے متعلقین کو صدمہ پہنچا۔
    الغرض یہ وہ تین پیشگوئیاں تھیں جو حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے علم پا کر کیں اور جو خدا کے فضل سے اپنی اپنی شرائط کے مطابق کمال صفائی کے ساتھ پوری ہوئیں۔ مگر ان پیشگوئیوں کے انفرادی پہلو کی نسبت ان کا قوی پہلو اور بھی زیادہ اہم اور زیادہ وسیع الاثر ہے۔ کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتاب ’’ شہادۃ القرآن‘‘ میں اشارہ کیا ہے یہ پیشگوئیاں اس تقدیر الٰہی کو ظاہر کرتی ہیں جو خدا نے ان ہرسہ قوموں کے متعلق مقدر کر رکھی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن دو مسلمانوں کے متعلق پیشگوئی تھی ان میں سے ایک مقررہ میعاد کے اندر اندر مر گیا اور دوسرا خائف ہوکر اور مخالفت سے کنارہ کش رہ کر حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی کے آخر تک خدائی گرفت سے بچا رہا۔ اور عیسائیوں میں سے جس شخص کے متعلق پیشگوئی تھی اس نے ڈر ڈر کر وقت گزارا اور دل میں اسلام کی صداقت اور حقانیت سے مرعوب ہوا اس لئے وہ مقررہ میعاد میں تو بچ گیا مگر جب بعد میں اس نے حق پر پردہ ڈالا تو پیشگوئی کے اصل منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا اور آریوں میں سے جس شخص کے متعلق پیشگوئی تھی اس نے سامنے سے شیخی اور دلیری کا طریق اختیار کیا اور اسلام کے مقابلہ میں تکبر کے ساتھ ڈٹا رہا اس لئے وہ خدا کے رحم سے کلیۃً محروم رہا اور مقررہ میعاد کے اندر اندر عبرتناک حالات میں اس جہان سے رخصت ہوا۔ دوسری طرف حضرت مسیح موعود ؑ جو ان تینوں پیشگوئیوں میں اسلام اور احمدیت کے نمائندہ تھے وہ نہ صرف ہر تکلیف سے محفوظ رہے بلکہ خدا نے آپ کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب کی۔ اس طرح ان پیشگوئیوں نے بتا دیا کہ احمدیت اور اسلام کے مقابلہ پر ان تین قوموں کے ساتھ خدا کا کیا سلوک ہو گا۔ اور وہ یہ کہ غیر احمدی مسلمانوں کا ایک حصہ تو احمدیت کے مقابلہ پر آکر جلد مٹ جائے گا اور دوسرا حصہ دب کر اطاعت اختیار کرے گا اور بچ جائے گا یا مہلت پائے گا اور عیسائی قوم اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر دل میں مرعوب ہو گی اور ایک وقت تک خدائی گرفت سے بچی رہے گی مگر جب وہ حق پر پردہ ڈالنے کا طریق اختیار کرے گی اور اس کا رویہ صداقت کے رستہ میں روک بننے لگے گا تو پکڑی جائے گی اور پھر اس کی صف اس دنیا سے عملاً لپیٹ دی جائے گی اور اس کے بعد وہ زندہ قوموں میں شمار نہیں ہو گی اور آریہ لوگ احمدیت اور اسلام کے مقابلہ پر شوخ رہیں گے اس لئے وہ جلد مٹا دئیے جائیں گے اور ان کی قومی زندگی کا جلد خاتمہ ہو جائے گا سو یہ تینوں پیشگوئیاں اپنے اندر نہایت لطیف اشارے رکھتی ہیں مگر افسوس کہ کورچشم لوگوں نے ان کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور اعتراض کی طرف جلدی کی مگر دنیا اپنے وقت پر دیکھ لے گی کہ یہ ایک زبردست خدائی تقدیر ہے جو بہر حال پوری ہو کر رہے گی۔
    پیشگوئیوں کے متعلق دو بنیادی اصول :۔ پیشگوئیوں کے متعلق عمومی طور پر حضرت مسیح موعود ؑ
    نے ان بحثوں کے دوران میں یہ نکتہ بھی بیان کیا اور دراصل یہ نکتہ سارے معجزات پر یکساں چسپاں ہوتا ہے کہ چونکہ ایمان کے معاملہ میں بالکل شہود کا رنگ پیدا ہو جانا جو نصف النہار کے سورج کی طرح ہو ایمان کی غرض و غایت کے خلاف ہے جس کے بعد ایمان لانا چنداں ثواب کا موجب نہیں رہتا اس لئے اللہ تعالیٰ معجزات میں ایک حد تک اخفا کا پردہ ضرور رکھتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ شبہ پیدا ہونے کے سارے راستے بالکل مسدود ہو جائیں اور آپ نے اس کی مثال یوں بیان کی کہ معجزات کے نتیجہ میں اس قسم کی روشنی پیدا ہوتی ہے کہ جیسے ایک چاندنی رات کی روشنی ہو جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو ایسی حالت میں ایک طرف روشنی کی تیزی بھی نہیں ہوتی بلکہ صرف مدھم سی روشنی ہوتی ہے اور دوسری طرف آنکھیں رکھنے والوں کو رستہ بھی نظر آتا ہے اور وہ مختلف چیزوں میں تمیز کر سکتے ہیں۔ پس ایمان کے ابتدائی مرحلوں میں اس سے زیادہ روشنی پیدا نہیں کی جاتی تا کہ مومن اور منکر میں امتیاز رہے اور ایمان لانا موجب ثواب سمجھا جاوے ورنہ بالکل شہود کے بعد ثواب کا کوئی سوال نہیں رہتا۔ پس آپ نے تشریح فرمائی کہ یہ جو نبیوں کی بعض پیشگوئیوں میں یا دوسرے معجزات میں کسی قدر اشکال نظر آتا ہے اور شبہ کی گنجائش باقی رہتی ہے یہ بھی خدائی منشاء کے ماتحت ضروری ہے۔ پس بجائے ہر پیشگوئی کے ہر پہلو کو کریدنے اور فرضی شبہات پیدا کرنے کے ایک عمومی نظر کے ساتھ دیکھنا چاہئے کہ کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے مثلاً اگر کسی مامور من اللہ کی ایک سو پیشگوئیاں ہوں اور ان پیشگوئیوں میں سے ایک بھاری کثرت صفائی سے پوری ہو جائے جس میں کسی معقول شبہ کی گنجائش نہ ہو اور صرف بعض میں کسی حد تک شبہ کی صورت پیدا ہو تو اس کی وجہ سے اس مامور من اللہ کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ جو پیشگوئیاں کی گئی ہیں ان میں خدائی علم اور خدائی قدرت کا ہاتھ نظر آئے اور وہ انسانی علم اور انسانی قدرت سے بالا رنگ رکھتی ہوں۔
    دوسرا نکتہ آپ نے یہ بیان کیا کہ جو پیشگوئیاں وعید کا رنگ رکھتی ہوں یعنی ان میں کسی فرد یا جماعت یا قوم کے متعلق عذاب کی خبر دی گئی ہو وہ ہمیشہ دوسرے فریق کی شرارت اور شوخی کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں اور اگر دوسرا فریق ڈر کر دب جائے یا خائف ہو کر توبہ کا طریق اختیار کرے تو پھر ایسی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اور یہ بات اس کی شان سے بعید ہے کہ ایک گرے ہوئے دشمن یا توبہ کے ساتھ جھکنے والے انسان پر ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں بھی فرماتا ہے کہ ہم استغفار کرنے والے بندہ پر عذاب نازل نہیں کرتے۔ ۱؎ پس آپ نے فرمایا کہ وعید والی پیشگوئیوں میں خواہ توبہ وغیرہ کی شرط صراحتاً مذکور ہو یا نہ ہو وہ لازماً اس اصولی شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں کہ توبہ اور استغفار سے خدا کا عذاب ٹل جاتا ہے۔
    ایک اور لطیف تصنیف اور قبولیت دعا کا مسئلہ :۔ اس زمانہ میں مغربی محققین اور مسیحی
    پادریوں کے اعتراضوں سے تنگ آکر مسلمانون کی عجیب حالت ہو رہی تھی۔ ان میں سے ایک طبقہ تو عیسائیت کی طرف مائل ہو رہا تھا اور دوسرا کھلم کھلا مذہب کو خیر باد کہہ کر دہریت کا شکار ہوتا جا رہا تھا مگر ایک تیسرا درمیانی طبقہ بھی تھا جو اسلام کی محبت یا عام قومی پچ میں اسلام کو چھوڑنے کے لئے تو تیار نہیں تھا مگر مغربی اعتراضوں سے تنگ آکر وہ اسلامی مسائل کی ایسی ایسی تاویلیں کر رہا تھا کہ جس سے اسلام کی شکل و صورت ہی مسخ ہو رہی تھی۔ اس مؤخر الذکر طبقہ کے لیڈر سر سید احمد خان صاحب بانی ٔ علی گڑھ کالج تھے انہیں اسلام سے محبت تھی اور مسلمانوں کو تباہی سے بچانا چاہتے تھے مگر چونکہ سید صاحب روحانی اور مذہبی آدمی نہیں تھے اس لئے اسلامی مسائل کی ایسی ایسی تاویلیں کر رہے تھے جو اسلام کی تعلیم کے بالکل خلاف تھیں۔ ان کی مدافعت کی پالیسی بالکل یہ رنگ رکھتی تھی کہ مثلاً کوئی شخص دوسرے پر حملہ کر کے آوے کہ تمہاری یہ یہ چیز خراب اور گندی ہے تو وہ بجائے اعتراض کو جھوٹا ثابت کرنے اور اپنی چیز کی خوبی کے دلائل دینے کے سامنے سے ہاتھ جوڑ کر یہ کہنے لگ جاوے کہ آپ کو غلطی لگی ہے یہ چیز تو میری ہے ہی نہیں میری چیز تو وہ ہے اس شکست خوردہ ذہنیت کے ماتحت سر سید مرحوم نے اسلام کی بہت سی باتوں سے انکار کر دیا اور بعض کی ایسی تاویل کرنی شروع کی کہ مذہب کی صورت ہی بدل گئی۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس ہزیمت کو دیکھا تو غیرت کے جوش سے اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ آپ کی جس تصنیف کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں یعنی ’’ آئینہ کمالات اسلام‘‘ اس میں آپ نے متفرق جگہ سر سید کی غلط تاویلات کا رد کر کے اسلام کی صحیح تعلیم پیش کی ہے اور عیسائیوں کو تحدی کے ساتھ بلایا ہے کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو میرے سامنے آئے ۔ اسی خطرہ کے انسداد میں آپ نے ۱۸۹۳ء میں ایک مخصوص تصنیف بھی لکھ کر شائع فرمائی جس کا نام ’’ برکات الدعا‘‘ ہے ۔ اس کتاب میں آپ نے سر سید احمد خان صاحب کے اس غلط عقیدہ کا بطلان کیا کہ دعا محض ایک عبادت ہے ورنہ وہ دنیا کے کاموں کی رَو کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی جو سب اپنے اپنے مقررہ قانون کے ماتحت اپنی اپنی صورت میں چل رہے ہیں اور چلتے چلے جائیں گے۔ آپ نے ثابت کیا کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے جو دنیا کو پیدا کرنے کے بعد اس کی حکومت سے مغطل نہیں ہوا بلکہ اب بھی دنیا کی ہر چیز ہر وقت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور گو قضاء و قدر اور خواص الاشیاء کی عام تقدیر جس کا دوسرا نام قانونِ قدرت ہے خدا ہی کی جاری کردہ ہے اور وہ اس میں سوائے خاص استثنائی حالات کے کوئی تبدیلی نہیں کرتا لیکن چونکہ وہ اپنے قانون پر غالب ہے اس لئے اگر وہ چاہے او رمناسب خیال کرے تو جب چاہے اپنے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی کر سکتا ہے اور یہ تبدیلی بھی خدا کے وسیع قانون کا ایک حصہ ہے چنانچہ خدا گاہے گاہے اپنے خاص بندوں کے لئے اور خاص مصالح کے ماتحت تبدیلی کرتا بھی ہے اور اسی کا نام معجزہ ہے جو بعض اوقات قبولیت دعا کی صورت میں اور بعض اوقات ویسے ہی خدا کے منشاء کے ماتحت استثنائی قانون کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آپ نے چیلنج دیا کہ اگر کوئی شخص اس قسم کا معجزہ دیکھنا چاہے تو وہ میرے پاس آئے میں اسے خدا کے فضل سے ایسا نشان دکھائوں گا جو اس کے شبہات کی تاریکی کو دور کر دے گا۔ چنانچہ آپ نے سر سید مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا :۔
    اے کہ گوئی گردعا ہارا اثر بودے کجا است
    سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب
    ہاں مکن انکار زیں اسرار قدرت ہائے حق
    قصہ کو تہ کن ببیں از ما دعائے مستجاب ۱؎
    ’’ یعنی اے وہ صاحب جو یہ فرما رہے ہو کہ اگر دعا میں کوئی اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے آپ جلدی سے میری طرف آجائیں میں آپ کو آفتاب کی طرح دعا کا اثر دکھا دوں گا۔ ہاں ہاں خدا کی قدرتوں کے مخفی اسرار سے انکار نہ کرو کیونکہ خدا کے اسرار کو خدا کے بندے ہی سمجھتے ہیں اور اگر آپ کو انکار پر اصرار ہے تو لمبی بحث کی ضرورت نہیں آئیں اور میری طرف سے اس دعا کا نتیجہ دیکھ لیں جس کے متعلق مجھے خدا نے بتایا ہے کہ وہ قبول ہو چکی ہے۔ ‘‘ اور آپ نے اس شعر پر یہ نوٹ لکھا کہ اس دعا سے وہ دعا مراد ہے جو میں پنڈت لیکھرام کے متعلق کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں مجھے خدا کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ پنڈت لیکھرام جو اسلام کی عداوت میں کھڑا ہے چھ سال کے عرصہ میں عید کے دوسرے روز عذاب ِ الیم میں مبتلا ہو جائے گا۔ اب خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو کہ مقررہ میعاد کے اندر اندر یعنی ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو عین عید کے دوسرے روز پنڈت لیکھرام اس جہان سے رخصت ہوئے اور حضرت مسیح موعود نہ صرف ہر قسم کی آفت اور نقصان سے محفوظ رہے بلکہ خدا نے آپ کو اس عرصہ میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب کی اور پھر لطف یہ ہے کہ خدا نے سر سید مرحوم کو بھی اس وقت تک زندہ رکھا کہ وہ اس ’’دعائے مستجاب‘‘ کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ لیں۔
    عربی میں مقابلہ کی دعوت :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی تعلیم کے بیان میں یہ ذکر گزرچکا ہے کہ آپ
    نے اپنی ابتدائی عمر میں بعض پرائیویٹ استادوں سے عربی کا علم سیکھا تھا مگر یہ تعلیم محض ایک ابتدائی رنگ رکھتی تھی اور مروجہ تعلیم کے ابتدائی مرحلہ سے متجاوز نہیں تھی اور یہ علم بھی آپ نے گھر پر رہ کر سیکھا تھا اور کسی مرکزی شہر میں جا کر تحصیل علم نہیں کی تھی اس لئے بظاہر حالات آپ کی علمی استعداد بہت معمولی تھی اور پنجاب و ہندوستان میں ہزاروں علماء ایسے موجود تھے جو کتابی علم میں آپ سے بہت آگے تھے لیکن جب خدا نے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے مبعوث کیا اور آپ کو قرآنی علوم سے مالا مال کیا تو اس کے ساتھ ہی آپ کو خارق عادت رنگ میں عربی کا علم بھی عطا کیا چنانچہ سب سے پہلے آپ نے ۱۸۹۳ء میں علماء کو دعوت دی کہ وہ آپ کے سامنے آکر عربی نویسی میں مقابلہ کر لیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ مجھے خدا کی طرف سے ایک رات میں عربی کا چالیس ہزار مادہ سکھایا گیا ہے اور خدا نے مجھے عربی میں ایسی کامل قدرت عطا فرمائی ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا شخص نہیں ٹھہر سکتا خواہ وہ ہندی ہو یا مصری یا شامی۔ آپ نے بڑی تحدی کے ساتھ اور بار بار اپنے اس دعویٰ کو پیش کیا اور آخری عمر تک اسے دہراتے رہے مگر کسی کو آپ کی عربی تصانیف کے مقابلہ میں لکھنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ آپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر کوئی ایک فرد اس مقابلہ کی جرأت نہیں کر سکتا تو میری طرف سے اجازت ہے کہ سب مل کر میرے مقابل پر آئو اور میرے جیسی فصیح اور بلیغ اور معارف سے پُر عربی لکھ کر دکھائو مگر کوئی شخص سامنے نہیں آیا۔ شروع شروع میں ہندوستانی علماء نے یہ کہہ کر بات کو ٹالا کہ شاید آپ نے کوئی عرب چھپا کر رکھا ہوا ہے مگر جب آپ نے اپنے چیلنج کو عربوں اور مصریوں اور شامیوں تک وسیع کر دیا تو پھر یہ سب لوگ جھاگ کی طرح ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر لطف یہ ہے کہ آپ کی عربی تصانیف صرف نثر میں ہی نہیں تھیں بلکہ آپ نے بہت سی عربی نظمیں بھی لکھیں جن میں سے بعض بہت لمبی لمبی نظمیں ہیں اور ہر بحر اور ہر قافیہ میں ہیں اور ان میں فصاحت اور بلاغت کو اس کمال تک پہنچایا کہ اہل زبان بھی دنگ رہ گئے۔ نثر میں بھی آپ نے ہر رنگ میں کلام لکھا یعنی مقفی بھی غیر مقفی بھی مسجع بھی غیر مسجع بھی۔ آسان بھی اور مشکل بھی اور ادب کے ہر میدان میں اپنے گھوڑے کو ڈالا اور شاہسواری کا حق ادا کر دیا۔ آپ کی عربی تصانیف کی کل تعداد اکیس ہے جن میں التبلیغ ۔ حمامۃ البشریٰ۔ منن الرحمن ۔ لجۃ النور۔ خطبہ الہامیہ ۔ الہدیٰ ۔ اعجاز المسیح اور سیرۃ الابدال خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
    کسوف خسوف کا نشان :۔ ۱۸۹۴ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں ایک اور عظیم الشان نشان
    دکھایا اور وہ یہ کہ اس قدیم پیشگوئی کے مطابق جو مہدی معہود کے متعلق پہلے سے بیان کی جا چکی تھی ۱۸۹۴ء مطابق ۱۳۱۱ھ کے رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگا۔ یہ گرہن اپنی ذات میں کوئی خصوصیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ گرہن ہمیشہ سے لگتے ہی آئے ہیں لیکن اس گرہن کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ اس کے متعلق پہلے سے معین تاریخیں بتا دی گئی تھیں کہ رمضان کے مہینہ میں فلاں فلاں تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا اور یہ کہ اس وقت ایک شخص مہدویت کا مدعی موجود ہو گا جو خدا کی طرف سے ہو گا۔ چنانچہ ان سب شرائط کے ایک جگہ اکٹھے ہو جانے سے یہ گرہن ایک خاص نشان قرار دیاگیا تھا چنانچہ وہ حدیث جس میں یہ پیشگوئی درج تھی اس کے الفاظ یہ تھے کہ ’’ ہمارے مہدی کی یہ علامت ہو گی کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو اس کے گرہن کی تاریخوں میںسے پہلی تاریخ میں گرہن لگے گا اور اسی مہینہ کے آخر میں سورج کو اس کے گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ میں گرہن لگے گا۔ ‘‘ ۱؎ گویا اس نشان کے لئے اتنی شرائط ضروری قرار دی گئیں۔ اوّل ایک مدعی مہدویت پہلے سے موجود ہو۔ دوم رمضان کا مہینہ ہو۔ سوم اس مہینہ کی تیرھویں تاریخ کو (کیونکہ چاند کے گرہن کے لئے یہی پہلی تاریخ ہے) چاند کو گرہن لگے۔ اور چہارم اسی مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو (کیونکہ سورج کے گرہن کے لئے یہی درمیانی تاریخ ہے) سورج کو گرہن لگے۔ ان شرائط کے ساتھ یہ نشان ایک عظیم الشان نشان قرار پاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ ۱۸۹۴ء کے رمضان میں عین انہی شرائط کے ساتھ چاند اور سورج کو گرہن لگا اور حضرت مسیح موعود ؑ نے تحدی کے ساتھ اس دعویٰ کو پیش کیا کہ ان چار شرائط کے ساتھ یہ نشان اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوا اور آپ نے اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ اگر ایسا نشان پہلے کبھی گزرا ہے تو اس کی مثال پیش کرو مگر کوئی شخص اس کی مثال پیش نہیں کر سکا۔ اور پھر لطف یہ ہے کہ اس نشان کی طرف قرآن شریف نے بھی اشارہ کیا ہے کہ آخری زمانہ میں چاند اور سورج کو خاص حالات میں گرہن لگے گا۔ ۲ ؎ اور انجیل میں بھی حضرت مسیح ناصری اپنی دوسری آمد کا ذکر کرتے ہوئے اس نشان کو پیش کرتے ہیں کہ اس وقت چاند اور سورج تاریک ہو جائیں گے۔ ۱؎ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس نشان کے متعلق اپنی کتاب ’’ نور الحق حصہ دوم‘‘ میں مفصل بحث کی ہے۔
    عربی کے ام الالسنہ ہونے کے متعلق اعلان :۔ ۱۸۹۵ء میں آپ نے خدا سے علم پا کر اس
    بات کا اعلان فرمایا کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے یعنی وہ تمام دوسری زبانوں کی ماں ہے جس سے دنیا کے موجودہ دور کی ساری زبانیں نکلی ہیں اور بعد میں آہستہ آہستہ بدل کر نئی صورتیں اختیار کر گئی ہیں اور اسی لئے خدا نے اپنی آخری شریعت عربی زبان میں نازل فرمائی تا کہ وہ اس بات کی علامت ہو کہ یہ شریعت تمام دنیا اور سب قوموں کے لئے ہے۔ اس تحقیق کے متعلق آپ نے ایک کتاب بھی لکھ کر شائع فرمائی جس کا نام ’’ منن الرحمن ‘‘ ہے مگر افسوس ہے کہ یہ کتاب مکمل نہیں ہو سکی۔ لیکن جس قدر حصہ لکھا گیا اس میں اس بحث کے سب بنیادی اصول آگئے ہیں جنہیں آگے چلا کر اس تحقیق کو مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں آپ نے اس بحث کے لئے تین مراحل مقرر کئے ہیں :۔
    اوّل:۔ ز بانوں کا ایسا اشتراک ثابت کرنا جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ایک مشترک ماخذ سے نکلی ہیں۔
    دوم:۔ یہ ثابت کرنا کہ وہ مشترک ماخذ جس سے موجودہ زبانیں نکلی ہیں وہ عربی ہے۔ جس کے لئے آپ نے :۔
    (الف) عربی کے مفردات کے نظام
    (ب) اس کی تراکیب کے نظام
    (ج) اس کے اشتقاق کے نظام
    (د) اس کی تراکیب کے الفاظ کے مقابل پر معانی کی وسعت اور
    (ھ) اس کے بنیادی اسماء کی حکمت وغیرہ کو پیش کیا۔
    سوم :۔یہ ثابت کرنا کہ عربی زبان الہامی زبان ہے یعنی اس کا آغاز خدا کی طرف سے بذریعہ الہام ہوا تھا۔
    آپ کی یہ تحقیق گو بظاہر ایک محض علمی تحقیق تھی لیکن غور کیا جاوے تو اس کا جوڑ بھی بالآخر اسلام کی خدمت کے ساتھ جا ملتا ہے کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ عربی زبان واقعی ام الالسنہ ہے تو پھر اس دعویٰ پر بہت بھاری روشنی پڑتی ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور قرآنی شریعت آخری اور عالمگیر شریعت ہے۔
    اس تحقیق کے اعلان کے ساتھ ہی آپ نے یہ تحریک بھی فرمائی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ عربی سیکھنے کی طرف زیادہ توجہ دیں کیونکہ اس کے بغیر وہ قرآنی حقائق و معارف کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے چنانچہ آپ نے اپنی جماعت میں بھی عربی کو رواج دینے کے لئے ایک سلسلہ اسباق جاری فرمایا جس میں روز مرہ کے الفاظ اور بول چال کے آسان فقروں کے ذریعہ عربی کی تعلیم دینا مقصود تھی اور آپ کا منشاء یہ تھا کہ مسلمان خواہ کسی ملک یا کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں انہیں چاہئے کہ عربی کو اپنی دوسری زبان سمجھیں اور اس کے سیکھنے کی طرف خاص توجہ دیں۔
    یہ زمانہ ہندوستان میں مذہبی بحث و مباحثہ کے زور کا زمانہ تھا اورہر قوم ایک دوسرے کے خلاف اٹھی ہوئی تھی اور ایک دوسرے کے خلاف نہایت سخت حملے کئے جا رہے تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں کو ہر قسم کے اعتراضات کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے ملک کی فضا سخت مسموم ہو رہی تھی۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس حالت کو دیکھا اور اس کے خطرناک نتائج کو محسوس کیا تو وائسرائے ہند کی خدمت میں ایک میموریل بھجوانے کی تجویز کی اور سمجھ دار غیر احمدیوں کو بھی اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اس میموریل میں یہ استدعا تھی کہ چونکہ مذہبی تحریروں اور تقریروں کو حد اعتدال کے اندر رکھنے کے لئے موجودہ قانون کافی نہیں ہے اور ملک کی فضا خراب ہو رہی ہے اور بین الاقوام کشیدگی کے علاوہ لوگوں کے اخلاف بھی بگڑ رہے ہیں اس لئے گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس بارے میں موجودہ قانون کو توسیع دے کر ایک نیا قانون بنا دے تا کہ لوگ مذہبی تحریروں اور تقریروں میں مناسب حد سے تجاوز نہ کر سکیں اور بین الاقوام کشیدگی میں اصلاح کی صورت پیدا ہو اور آپ نے اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کی کہ اوّل یہ قانون بنا دیا جاوے کہ کوئی فریق دوسرے فریق پر ایسا حملہ یا ایسا اعتراض کرنے کا مجاز نہ ہو جو خود اس کے اپنے مذہب پر بھی پڑتا ہو کیونکہ یہ بھی ایک بڑا ذریعہ فتنہ و فساد کا ہے کہ لوگ اپنے اندرون خانہ پر نگاہ ڈالنے کے بغیر دوسرے مذہبوں اور ان کے پیشوائوں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہی اعتراض ان کے اپنے مذہب پر اور اپنے پیشوائوں پر بھی پڑتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہر فریق اپنے مذہب کی مسلمہ کتب کی ایک فہرست شائع کر دے جو اس کے مذہب کی مقدس اور بنیادی کتب ہوں اور ان کتب کی ترتیب بھی مقرر کر دے اور پھر گورنمنٹ کی طرف سے یہ پابندی لگا دی جاوے کہ کوئی فریق دوسرے فریق کے مذہب پر اعتراض کرتے ہوئے ان کتب سے باہر نہ جاوے کیونکہ بین الاقوام کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ رطب و یابس کے ہر ذخیرہ کوجوزید و بکر کی طرف سے شائع ہو اسے اس مذہب کے خلاف حملہ کرنے کا بہانہ بنا لیا جاتا ہے۔
    یہ وہ تجویزیں تھیں جو حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۸۹۵ء میں گورنمنٹ کے سامنے ایک باقاعدہ میموریل کی صورت میں پیش کرنی چاہیں اور ایک طرح سے آپ نے انہیں اپنے اشتہاروں کے ذریعہ پیش بھی کر دیا ۔ ۱ ؎ مگر افسوس ہے کہ بعض کو تہ اندیش مسلمانوں کی حاسدانہ دخل اندازی سے یہ تجویز تکمیل کو نہ پہنچ سکی اور گورنمنٹ نے بھی اس معاملہ میں توجہ نہ دی اور مذہبی مناقشات بد سے بدتر صورت اختیار کرتے گئے۔
    اس کے بعد جب ۱۸۹۸ء میں ایک متعصب عیسائی نے ایک کتاب ’’امہات المومنین ‘‘ لکھ کر شائع کی اور اس میں آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مبارکہ کے متعلق نہایت گندے اور اشتعال انگیز حملے کئے تو حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی سابقہ تجویزوں کو پھر دوبارہ زیادہ تفصیل اور تعیین کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے پیش کیا اور استدعا کی کہ ملک کی فضاء کی بہتری اور اخلاقی درستی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مجوزہ صورت میں قانون کو وسیع کر دیا جاوے تا کہ ناواجب حملوں کا دروازہ بند ہو جاوے اور آپ نے لکھا کہ یہ قانون ساری قوموں کے لئے مساوی ہو گا اور اس میں کسی کی رعایت نہیں ہے۔ دوسری طرف آپ نے اس موقعہ پر مسلمانوں کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ اس بات پر زور دینا کہ ایسی کتاب ضبط کر لی جاوے اور مصنف کے خلاف مقدمہ چلایا جائے درست نہیں ہے کیونکہ اوّل تو کتاب کافی حد تک پھیل چکی ہے اور اب اس کی ضبطی بے معنی ہے اور دوسرے اس کی ضبطی سے ہم اس کی تردید کے حق سے بھی محروم ہو جاتے ہیں حالانکہ اصل علاج یہ ہے کہ ہم ان اعتراضوں کا مدلل اور مسکت جواب دے کر انہیں جھوٹا ثابت کر دیں پس آپ نے اس موقعہ پر پھر اپنی سابقہ تجویزوں کی طرف گورنمنٹ کی توجہ دلائی اور لکھا کہ ہم جائز مذہبی تبادلہ خیال اور پرامن تبلیغ و اشاعت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ ضروری ہے کہ مذہبی آزادی کے نام پر ناجائز اور ناواجب حملے نہ کئے جائیں اور مذہبی تحریرو تقریر کو مناسب قیود کے اندر مقید کر دیا جاوے۔ اس موقعہ پر آپ نے یہ تجویز بھی پیش کی جو اس ضمن میں گویا تیسری تجویز تھی کہ مناسب ہو گا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر وقتی طور پر یہ قانون بھی بنا دیا جاوے کہ کوئی فریق دوسرے فریق پر حملہ نہ کرے یعنی ہر شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور اس کے محاسن کو دوسروں کے سامنے لائے مگر دوسروں کے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت نہ ہو ۔ ۱؎ مگر افسوس ہے کہ اس موقعہ پر بھی گورنمنٹ نے ملکی فضا کی بہتری کے لئے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا ۔
    حضرت مسیح موعود ؑ نے اسی زمانہ کے قریب یہ بھی اعلان کیا کہ ہم نے جو بعض اوقات اپنے مخالفین کے خلاف یا دوسرے مذاہب کے خلاف اپنی تحریرات میں کسی قدر سختی سے کام لیا ہے تو وہ محض جوابی صورت میں لیا ہے اور ہمیشہ دوسروں کی طرف سے پہل ہوتی رہی ہے اور آپ نے تشریح فرمائی کہ ہم نے کہیں کہیں جوابی رنگ میں اس لئے سختی کی ہے کہ تا دوسری قوموں کو ہوش آئے اور وہ اپنے اوپر حملہ ہوتا ہوا دیکھ کر دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا سیکھیں اور تا اس ذریعہ سے مسلمانوں کے جوش بھی ٹھندے ہو جائیں اور وہ یہ خیال کریں کہ کچھ نہ کچھ ہماری طرف سے بھی جواب ہو گیا ہے اور آپ نے بار بار لکھا کہ ہماری اصل غرض کبھی بھی یہ نہیں ہوئی کہ کسی قوم کی دلآزاری کی جاوے بلکہ ہم نہایت نرمی اور محبت اور امن کے طریق پر کام کرنا چاہتے ہیں مگر جب دوسرا فریق حد سے بڑھ جاوے تو اصلاح اور انسداد کے خیال سے کسی قدر تلخ جواب دینا پڑتا ہے لیکن پھر بھی ہم مناسب حد سے تجاوز نہیں کرتے اور اگر دوسرے لوگ اصلاح کر لیں تو ہمیں اس کی بھی ضرورت نہیں۔ ۱؎
    حضرت بابا نانک ؒ کے متعلق ایک زبردست انکشاف :۔ اسی زمانہ میں یعنی ۱۸۹۵ء میں
    آپ نے ایک عظیم الشان تحقیق کا اعلان فرمایا جو سکھ مذہب کے بانی حضرت باوا نانک صاحب کے متعلق تھی۔ آپ نے باوا صاحب کے متعلق یہ ثابت کیا کہ وہ گو ہندوئوں کے گھر میں پیدا ہوئے مگر دراصل وہ ایک پاکباز مسلمان ولی تھے جنہوں نے ہندوئوں کے مذہب سے بیزار ہو کر بالآخر اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ نے ثابت کیا کہ باوا صاحب نے کوئی نئی شریعت پیش نہیں کی بلکہ وہ آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن شریف کی شریعت پر ایمان لاتے تھے اور مسلمانوں کی طرح باقاعدہ نماز پڑھتے تھے اور سارے اسلامی احکام کے پابند تھے اور انہوں نے مکہ کا دور دراز سفر اختیار کر کے بیت اللہ کا حج بھی کیا تھا اور بالآخر آپ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ متبرک چولہ جو ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور میں کئی صدیوں سے باوا صاحب کی خاص یادگار چلا آتا ہے وہ بھی آپ کے مسلمان ہونے کو ثابت کرتا ہے کیونکہ اس میں جابجا کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات درج ہیں۔ ۲؎ اس عظیم الشان تحقیق نے سکھ قوم میں ایک تہلکہ مچا دیا اور گو ان میں سے اہل الرائے لوگ اس انکشاف کی وجہ سے سوچ میں پڑ گئے مگر عوام نے اسے اشتعال کا ذریعہ بنا لیا اور آپ کی مخالفت میں آگے سے بھی زیادہ تیز ہو گئے۔
    آپ کی اس تحقیق کی قدر و منزلت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے جب ہم اسے اس بات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ قرآنی تعلیم کی رو سے حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ عقیدہ تھا کہ چونکہ خدا کسی ایک ملک یا ایک قوم کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا کا خدا ہے اور وہ مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کی طرف رسول بھیجتا رہا ہے اور یہ سلسلہ رسالت بالآخر مقدس بانی ٔ اسلام میں آکر اپنے کمال کو پہنچا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ سے پہلے جس جس نبی یا مصلح یا اوتار کا سلسلہ قائم ہو چکا تھا اور دنیا کے ایک معتدبہ حصہ میں اسے قبولیت حاصل ہو چکی تھی وہ خدا کی طرف سے سمجھا جائے گا کیونکہ جس مدعی رسالت کو اللہ تعالیٰ وسیع قبولیت عطا کر دے اور لاکھوں انسان اس کی صداقت پر ایمان لے آئیں اور اس کا سلسلہ دنیا میں راسخ اور قائم ہو جائے وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا ایک جھوٹے مدعی کو ایسی قبولیت عطا نہیں کرتا جس سے سچے اور جھوٹے میں امتیاز اٹھ جاوے۔ اس طرح گویا آپ نے ان جملہ بانیان مذاہب کی صداقت کو تسلیم کر لیا جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں۔ اس کے بعد دنیا کی مشہور قوموں میں سے صرف ایک سکھ قوم باقی رہ گئی جس کے بانی آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئے ہیں۔ سو انہیں آپ نے ایک مسلمان ولی ثابت کر کے دوستوں کی صف میں کھینچ لیا اور اس طرح ایک وسیع بین الاقوام امن اور اخوت کی بنیاد قائم کر دی۔ چنانچہ احمدیہ جماعت جہاں یہودیوں اور مسیحیوں کے مقدس رسولوں پر ایمان لاتی ہے وہاں ہندوئوں کے حضرت کرشن اور بدھ مذہب والوں کے گوتم بدھ اور پارسیوں کے زرتشت اور چینیوں کے کنفیوشس کی رسالت پر بھی یقین رکھتی ہے اور اسی طرح سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا نانک صاحب کو ایک پارسا اور نیک اور صالح بزرگ خیال کرتی ہے۔ پس بابا صاحب کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کی تحقیق دُہرا نتیجہ پیدا کر رہی ہے ۔ یعنی ایک طرف تو وہ مسلمانوں کے دلوں میں بابا صاحب کی عزت کو بڑھاتی ہے اور دوسری طرف وہ سکھوں کو یاد دلاتی ہے کہ ان کے گھر کا چراغ بھی نورِ محمدی سے روشنی حاصل کرنے والا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ابھی تک دنیا نے ان نکتوں کو سمجھا نہیں۔
    مخالفین کا نام لے کر مباہلہ کا چیلنج :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی مخالفت کا آغاز ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا
    اس سلسلہ کے شروع ہوتے ہی بعض مخالف علماء نے آپ کو یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اسلامی طریق کے مطابق ہم سے مباہلہ کر لیں یعنی فریقین ایک دوسرے کے مقابل پر خدا کی قسم کھائیں کہ ہمارے یہ یہ عقائد ہیں جنہیں ہم دلی یقین کے ساتھ سچا سمجھتے ہیں لیکن ہمارا مخالف فریق انہیں جھوٹا اور خلاف اسلام قرار دیتا ہے پس اے خدا اب ہم دونوں فریقوں میں سے جو فریق تیری نظر میں جھوٹا ہے تو اس پر *** کی مار ڈال اور اسے دوسرے کے مقابل میں ذلیل و رسوا کرتا کہ حق و باطل میں فیصلہ ہو جائے اس وقت چونکہ مخالفت کا آغاز ہی تھا اور ابھی عوام الناس کو آپ کے دعویٰ اور اس کے دلائل سے اطلاع نہیں تھی اور آپ کے خلاف ابھی تک کفر کے فتویٰ کی بھی اشاعت نہیں ہوئی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی تک آپ کو خدا کی طرف سے مباہلہ کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے آپ نے مباہلہ سے اجتناب فرمایا لیکن جب کفر کا فتویٰ شائع ہو گیا اور آپ کو جمہور علماء نے کافر اور کذاب اور دجال قرار دیا اور اس فتویٰ سے ملک میں عداوت کی آگ بلندہو گئی اور دوسری طرف آپ کے دعاوی اور دلائل کی بھی کافی اشاعت ہو چکی تو ۱۸۹۲ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایک الہام کے ذریعہ آپ کو مباہلہ کی اجازت دی جس پر آپ نے ایک عام اعلان فرما دیا کہ اب جو شخص چاہے میرے سامنے آکر میرے دعاوی کے بارے میں مباہلہ کرلے اور پھر اسلامی تعلیم کے ماتحت ایک سال کے اندر دیکھ لے کہ خدا کیا نتیجہ ظاہر کرتا ہے ۔ مگر وہی لوگ جن میں سے بعض مباہلہ کے لئے دعوت دے رہے تھے اب ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور فضول اور خلافِ تعلیم اسلام شرائط پیش کر کے پہلو تہی اختیار کی۔
    اس کے بعد ۱۸۹۶ء میں یعنی اس زمانہ میں جس کا ہم اس وقت ذکر کر رہے ہیں آپ نے ایک لمبی فہرست مسلمان علماء اور گدی نشینوں کی شائع فرمائی اور ان سب کو نام لے لے کر بلایا کہ اگر تم میں سے کسی میں ہمت ہے تو وہ میرے سامنے آکر مسنون طریق پر مباہلہ کر لے اور آپ نے بڑے غیرت کے الفاظ میں لوگوں کو ابھارا مگر کسی کو آپ کے سامنے آنے کی جرأت نہیں ہوئی چنانچہ آپ لکھتے ہیں :۔
    ’’ اے مخالف مولویو ! اور سجادہ نشینو!! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اگرچہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فئہ قلیلہ ہے تا ہم یقینا سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے۔ خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ وہ راضی نہیں ہو گا جب تک کہ اسے کمال تک نہ پہنچاوے …… اسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے مباہلہ کی درخواست پیش کروں تا جو راستی کا دشمن ہے وہ تباہ ہو جاوے اور جو اندھیرے کو پسند کرتا ہے وہ عذاب کے اندھیرے میں پڑے۔ پہلے میں نے کبھی ایسے مباہلہ کی نیت نہیں کی اور نہ چاہا کہ کسی پر بد دعا کروں …… لیکن اب میں بہت ستایا گیا اور دکھ دیا گیا مجھے کافر ٹھہرایا گیا۔ مجھے دجال کہا گیا میرانام شیطان رکھا گیا۔ مجھے کذاب اور مفتری سمجھا گیا …… سو اب اٹھو اور مباہلہ کے لئے تیار ہو جائو …… اس مباہلہ کے بعد اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہو گیا جس میں جانبری کے آثار نہ پائے جائیں تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے اور میں ہمیشہ کی *** کے ساتھ ذکر کیا جائوں گا …… لیکن اگر خدا نے ایک سال تک مجھے موت اور آفاتِ بدنی سے بچا لیا اور میرے مخالفوں پر قہر اور غضبِ الٰہی کے آثار ظاہر ہو گئے اور ہر ایک ان میں سے کسی نہ کسی بلا میں مبتلا ہو گیا اور میری بد دعا نہایت چمک کے ساتھ ظاہر ہو گئی تو دنیا پر حق ظاہر ہو جائے گا اور یہ روز کا جھگڑا درمیان سے اٹھ جائے گا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میں نے پہلے اس سے کبھی کلمہ گو کے حق میں بد دعا نہیں کی اور صبر کرتا رہا مگر اس روز خدا سے فیصلہ چاہوں گا اور اس کی عصمت اور عزت کا دامن پکڑوں گا کہ تا ہم میں سے فریق ظالم اور دروغگو کو تباہ کر کے اس دین متین کو شریروں کے فتنہ سے بچاوے۔ میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میںبالمقابل آویں ایک سال تک ان بلائوں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔ اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا۔ اگرچہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار …… گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان ! کہ خدا کی *** اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر او رتوہین کو چھوڑے۔‘‘ ۱؎
    مگر افسوس ہے کہ باوجود ان غیرت دلانے والے الفاظ کے ان لوگوں میں سے ایک فرد واحد بھی مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوا جن کو آپ نے اپنے چیلنج میں مخاطب کیا تھا بلکہ بعض نے تو ڈر ڈر کر چٹھیاں لکھیں کہ ہم آپ کوبرا نہیں کہتے ہمیں اس مقابلہ کے امتحان میں نہ ڈالا جاوے لیکن اکثر نے تکبر اور نخوت سے کام لیا یعنی نہ تو مباہلہ کے لئے آگے آئے اور نہ ہی تکفیر اور تکذیب کو چھوڑا اور جھوٹے بہانوں سے وقت کو ٹال دیا ۔ مگر باوجود اس کے ان میں سے اکثر لوگ حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی مختلف قسم کے عذابوں کا نشانہ بن کر خاک میں مل گئے۔
    غیر احمدی مسلمانوں کو صلح کی دعوت :۔ چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت کی بڑی غرض اسلام
    کی خدمت تھی اس لئے آپ نے مباہلہ کے ساتھ ساتھ غیر احمدی علماء کے سامنے ایک اور تجویز بھی پیش کی۔ یہ تجویز عارضی صلح کی تھی۔آپ نے لکھا کہ اگر تمہیں فیصلہ کے دوسرے طریق منظور نہیںاور مباہلہ کے لئے بھی آگے نہیں آنا چاہتے تو آئو میرے ساتھ سات سال کے لئے صلح کر لو اور اس عرصہ میں مجھے غیر مذاہب کے مقابلہ کے لئے آزادی اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے دو۔ پھر اگر خدا نے مجھے اس عرصہ میں غیر مذاہب کے مقابلہ میں نمایاں غلبہ دے دیا اور اسلام کو ایک غیر معمولی فتح نصیب ہو گئی اور اسلام کا بول بالا ہو گیا تو چونکہ یہی مسیح اور مہدی کی بڑی علامت ہے تم مجھے مان لینا۔ لیکن اگر میرے ذریعہ یہ غلبہ حاصل نہ ہوا تو پھر تمہیں اختیار ہو گا کہ میرا انکار کرو اور جس طرح چاہو جھوٹوں کی طرح سلوک کرو چنانچہ آپ نے لکھا :۔
    ’’ اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں (یعنی عربی نویسی میں مقابلہ ۔تفسیر نویسی میں مقابلہ ۔قبولیت دعا میں مقابلہ ۔معجزہ نمائی میں مقابلہ ا ور مباہلہ وغیرہ) تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکذیب اور تکفیر اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں۔ …… پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاںاثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیانِ باطلہ کا مر جانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دنیوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخلہ ہوناشروع ہو جائے۔ اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کر لوں گا۔ اور خدا جانتا ہے کہ میں ہرگز کاذب نہیں۔ یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہرگز نہیں۔ پس جبکہ میںسچے دل سے اور خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں تو اب تم خدا سے ڈرو۔ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جائوں گا ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کر سکتا۔ ‘‘ ۱؎
    مگر افسوس ہے کہ غیر احمدی زعماء نے اس تجویز کو بھی قبول نہ کیا اور ہر موقعہ جو ان کے سامنے آیا اسے ضائع کرتے چلے گئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس صلح کی تجویز کو ۱۹۰۱ء میں پھر دہرایا اور ایک اشتہار کے ذریعہ اس کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میری تردید میں کچھ نہ لکھا جاوے۔ بے شک لکھو اور میری غلطیوں کو جو تمہیں نظر آتی ہیں دنیا کے سامنے لائو اور اپنے عقائد کے دلائل پیش کرو مگر بدزبانی اور ذاتی حملے اور تحقیر و توہین کا طریق چھوڑ دو بلکہ نرمی اور ہمدردی اور شائستگی کے ساتھ کلام کرو اور پھر صبر اور حلم کے ساتھ خدا کے فیصلہ کا انتظار کرو کیونکہ جس فریق کے ساتھ خدا ہو گا وہ خود غالب آتا جائے گا اور اس دفعہ آپ نے سات سال کی بجائے صرف تین سال کی میعاد پیش کی مگر افسوس ہے کہ ہمارے ضدی اور کج ر و علماء نے اس تجویز کو بھی ٹھکرا دیا۔‘‘ ۱؎
    جلسہ مذاہب اور حضرت مسیح موعود ؑ کی بے نظیر کامیابی :۔ اسی زمانہ کے قریب اللہ تعالیٰ
    نے ایک اور رنگ میں بھی حضرت مسیح موعودؑ کا غلبہ ثابت کیا جس نے سارے مذاہب کے مقابلہ پر آپ کو اور آپ کے ذریعہ اسلام کو ایک فاتح کی حیثیت دے دی تفصیل اس کی یہ ہے کہ ۱۸۹۵ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک اشتہار کے ذریعہ مختلف قوموں کے مذہبی لیڈروں کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ اب جبکہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں علم کی اشاعت کے لئے اتنی سہولتیں پیدا کر دی ہیں تو مناسب ہے کہ مختلف مذاہب کی تحقیق کے لئے ایک مشترک جلسہ منعقد کیا جائے جس میں مختلف مذاہب کے چیدہ چیدہ نمائندے شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں کریں تا کہ لوگوں کے لئے تحقیق بین المذاہب کے متعلق سہولت پیدا ہو اور آپ نے اپنی طرف سے یہ دعوت دی کہ ایسا جلسہ قادیان میں منعقد کیا جائے اور یہ کہ آپ اس جلسہ کے جملہ مہمانوں کی مہمان نوازی کا خرچ خود برداشت کریں گے اور جملہ انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے۔ ۲؎ مگر افسوس ہے کہ اس وقت کسی قوم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن اس کے ایک سال بعد یعنی ۱۸۹۶ء کے آخر میں بعض ہندو صاحبان نے اس تحریک کو پھر تازہ کر کے اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کی کہ ایک مشترک جلسہ لاہور میں ۲۶۔۲۷۔۲۸ ؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کو منعقد کیا جائے اور اس مذہبی کانفرنس میں جملہ مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تعلیم بیان کریں تا کہ لوگوں کو بیک وقت مختلف مذاہب کی تعلیم کو جانچنے اور وزن کرنے کا موقعہ میسر آجاوے اور اس غرض کے لئے چند اصولی سوالات مقرر کر کے ان پر اظہار خیالات کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ جملہ اقوام اور جملہ مذاہب کے نمائندے اس جلسۂ مذاہب میں شرکت کے لئے تیار ہو گئے۔ یعنی ہندو، عیسائی ،سکھ ،برہمو ،مسلمان وغیرہ سبھی اس جلسہ میں شریک ہوئے اور حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی تجویز کو بار آور بھی کر دیا اور اصل سہرا آپ کے سر رہا مگر دوسری طرف اس تجویز کو غیروں کے منہ سے نکلوا کر اس کامیابی کو جو اس جلسہ میں آپ کو ہونے والی تھی دوبالا کر دیا۔ الغرض یہ جلسہ ہوا اور حضرت مسیح موعود نے بھی مقررہ سوالات پر ایک مضمون لکھا اور خدا سے علم پا کر پہلے سے اعلان کر دیا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ میرا یہ مضمون سارے مضمونوں پر غالب رہے گا اور اس کے ذریعہ سے اسلام کو ایک نمایاں فتح حاصل ہو گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلم ۔غیر مسلم۔ دوست۔ دشمن سب نے بالاتفاق اقرار کیا کہ یہ مضمون واقعی سارے مضمونوں پر غالب رہا ہے اور اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ چونکہ مضمون لمبا تھا اور مقررہ وقت پر ختم نہیں ہو سکا اس لئے لوگوں کی متفقہ خواہش پر صرف اس مضمون کی خاطر جلسہ کا ایک دن بڑھایا گیا۔ اس جلسہ میں آریوں نے بھی اپنا مضمون پڑھا۔ عیسائیوں نے بھی پڑھا۔ سکھوں نے بھی پڑھا۔ برہمو سماج والوں نے بھی پڑھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے مخالف مسلمانوں نے بھی اپنا مضمون پڑھا۔ مگر اس وقت بلا استثناء ہر زبان پر یہی کلمہ جاری تھا کہ مرزا صاحب کے مضمون کے آگے سارے مضامین ماند پڑ گئے ہیں۔ ۱؎ اور یہ فتح ایسے حالات میں حاصل ہوئی کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے پہلے سے اشتہار دے کر عام اعلان کر رکھا تھا کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ یہ مضمون سارے مضمونوں پر غالب رہے گا۔ ۲؎ اور پھر یہ فتح صرف ایک وقت فتح نہیں تھی بلکہ جب یہ مضمون چھپ کر شائع ہوا اور بعد میں انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ چھپا تو یورپ اور امریکہ کے مشہور اہل الرائے اصحاب اور خبارات نے بھی اس مضمون کی لطافت اور اس کی طاقت اور اس کے حسن بیان اور اس کے مضامین کی ندرت اور اس کی گہری روحانیت اور اس کے بے نظیر اثر کو تسلیم کیا اور اس کے متعلق نہایت زور دار ریویو شائع کئے۔ الغرض اس موقعہ پر آپ کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جس پر ساری قوموں کے وکیل جمع تھے ایک نمایاں فتح نصیب ہوئی اور اس سے وہ قرآنی وعدہ بھی پورا ہوا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس کے ذریعہ اسلام کو سارے مذاہب پر غلبہ حاصل ہو جائے گا۔ یہ مضمون ایک کتاب کی صورت میں چھپ چکا ہے جس کا نام اردو میں ’’ اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ ہے اور انگریزی میں اس کا نام ’’ ٹیچنگز آف اسلام ‘‘ ہے ۔ ہم اپنے ناظرین سے پر زور استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس بے نظیر کتاب کو ضرور مطالعہ کریں تا کہ انہیں اسلام کی روحانی طاقت اور حضرت مسیح موعود ؑ کے زور قلم کا اندازہ ہو سکے۔ اس کتاب کے متعلق بعض مغربی محققین کی رائے مثال کے طور پر درج ذیل کی جاتی ہے۔ برسٹل ٹائمز اینڈ مرر نے لکھا :۔
    ’’ یقینا وہ شخص جو اس رنگ میں یورپ و امریکہ کو مخاطب کرتا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
    سپریچوال جرنل بوسٹن نے لکھا :۔
    ’’ یہ کتاب بنی نوع انسان کے لئے ایک خالص بشارت ہے۔ ‘‘
    پی او کداوو جزیر کلپانی نے لکھا :۔
    ’’ یہ کتاب عرفان الٰہی کا ایک چشمہ ہے ۔ ‘‘
    تھیاسوفیکل بک نوٹس نے لکھا :۔
    ’’ یہ کتاب محمد (صلعم) کے مذہب کی بہترین اور سب سے زیادہ دلکش تصویر ہے۔ ‘‘
    انڈین ریویو نے لکھا :۔
    ’’ اس کتاب کے خیالات روشن ،جامع اور حکمت سے پُر ہیں اور پڑھنے والے کے منہ سے بے اختیار اس کی تعریف نکلتی ہے۔ ‘‘
    مسلم ریویو نے لکھا :۔
    ’’ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس میں بہت سے سچے اور عمیق اور اصلی اور روح افزا خیالات پائے گا۔ ‘‘
    ۱۸۹۷ء کا سال اپنے ساتھ غیر معمولی نقل و حرکت کو لایا۔ ابھی اس سال کا آغاز ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی اس پیشگوئی کے مطابق جو آپ نے ۱۸۹۳ء میں پنڈت لیکھرام کی ہلاکت کے بارے میں کی تھی جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ۶؍مارچ کو پنڈت لیکھرام کسی نامعلوم آدمی کے ہاتھ سے لاہور میں مارے گئے اور عجیب یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے سے خبر دی گئی تھی لیکھرام کی موت عین عید کے دسرے دن واقع ہوئی۔ اس واقعہ سے ہندوستان بھر کی ہندو قوم میں حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایک خطرناک اشتعال کی صورت پیدا ہو گئی اور پیشگوئی سے مرعوب ہونے کی بجائے ہندوئوں نے یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب نے پنڈت لیکھرام کو خود سازش کر کے قتل کروا دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کے خلاف بڑے زور کے ساتھ اعلان کیا اور قسم کھا کھا کر بیان کیا کہ اس واقعہ میں میرا اس بات کے سوا قطعاً کوئی ہاتھ نہیں کہ خدا نے مجھے اپنے الہام کے ذریعہ لیکھرام کی ہلاکت کی خبر دی تھی مگر آریہ صاحبان کی تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے گورنمنٹ میں رپورٹ کر کے آپ کے مکان کی تلاشی کروائی اور خفیہ پولیس کے آدمی سپیشل ڈیوٹی پر لگوائے مگر جب کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا اس معاملہ میں کوئی دخل ہی نہیں تھا تو کوئی بات ثابت کیسے ہوتی لیکن ہندو صاحبان کی مزید تسلی کے لئے اور ان پر اتمام حجت کی غرض سے آپ نے یہ اعلان کیا اور اس اعلان کو بار بار دہرایا کہ اگر کسی کو یہ شبہ ہے کہ میں نے خود پنڈت لیکھرام کو قتل کروا دیا ہے تو اس کا آسان علاج یہ ہے کہ ایسا شخص میرے مقابل پر کھڑا ہو کر خدا کی قسم کھا جاوے کہ پنڈت لیکھرام کو میں نے قتل کروایا ہے پھر اگر وہ خود ایک سال کے عرصہ کے اندر ہلاک نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور اس صورت میں مَیں اس کو دس ہزار روپیہ انعام بھی دوں گا اور آپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایسے شخص کی ہلاکت ایسے رنگ میں ہو گی جس میں انسانی ہاتھ کا دخل قطعاً ممکن نہ ہو تا کہ کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔ ۱؎ یہ ایک بہت صاف اور پختہ طریق فیصلہ تھا مگر کوئی شخص آپ کے مقابلہ پر نہ آیا اور اس چیلنج نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کی شان کو دوبالا کر دیا۔ دوسری طرف جو پیشگوئی پنڈت لیکھرام نے حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت کے بارے میں کی تھی وہ بالکل ناکام اور غلط ثابت ہوئی۔
    اس جگہ یہ ذکر بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ پنڈت لیکھرام کی موت کے بعد جبکہ آریہ قوم میں بہت جوش پیدا ہوا تو ان ایام میں حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس کئی گمنام خطوط ایسے آئے جن میں آپ کو قتل کی دھمکی دی گئی تھی مگر جس کو خدا بچانا چاہے اسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔
    پنڈت لیکھرام کے تعلق میں ایک اوربات بھی قابل ذکر ہے جس سے حضرت مسیح موعود ؑ کی مذہبی غیرت کا دلچسپ ثبوت ملتا ہے وہ یہ کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود ؑ نے پنڈت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی فرمائی تو ایک دفعہ جب آپ ایک سفر کے دوران میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر تھے تو پنڈت لیکھرام آپ کا علم پا کر آپ کی ملاقات کے لئے آئے اور قریب آکر سلام کیا۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ نے اس سلام کا جواب نہیں دیا۔ جس پر پنڈت لیکھرام نے خیال کیا کہ شاید آپ نے سنا نہیں اس لئے پنڈت لیکھرام نے دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کہا مگر آپ پھر بھی خاموش رہے جس پر بعض حاضرین مجلس نے آپ کو توجہ دلانے کے لئے عرض کیا کہ حضور! پنڈت لیکھرام سلام کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ’’ ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کہتا ہے! ‘‘ اس سے اس بے نظیر محبت اور بے نظیر غیرت کا ثبوت ملتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے متعلق آپ کے دل میں تھی مگر اس واقعہ سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ آپ کسی مخالفِ اسلام کے ساتھ ملاقات نہیں فرماتے تھے کیونکہ بہت سے غیر مسلموں کے ساتھ آپ کے تعلقات تھے اور آپ ہمیشہ انہیں بڑے اخلاق اور محبت کے ساتھ ملتے تھے لیکن جب پنڈت لیکھرام نے اسلام کی مخالفت کو انتہاء تک پہنچا دیا اور آنحضرت ﷺ کے خلاف سخت بدزبانی سے کام لیا تو آپ کی غیرت نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ ان حالات میں ایسے شخص کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھیں خصوصاً جبکہ اب وہ آپ کے خلاف مباہلہ کے میدان میں آخر خدا کی *** کا نشانہ بننے والا تھا۔
    ۱۸۹۷ء کے وسط میں ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جوبلی تھی۔ چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ نہ صرف اصولاً حکومتِ وقت کے ساتھ تعاون کے قائل اور مؤید تھے بلکہ برٹش حکومت کے ویسے بھی مداح تھے اور اس کی امن اور انصاف اور مذہبی آزادی کی پالیسی کے ثناخواں تھے اور جماعت کو ہمیشہ پر امن اور وفادار شہری بنے رہنے کی تاکید فرماتے رہتے تھے اس لئے جب ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جوبلی کا موقعہ آیاتو چونکہ اس موقعہ پر ملک کے سارے حصوں میں خوشی کے جلسے ہو رہے تھے آپ نے بھی قادیان میں ایک جلسہ منعقد فرمایا جس میں حکومت کے اچھے اوصاف کی تعریف فرمائی اور پبلک کو پرامن اور وفادار رہنے کی تلقین کی اور ملک کے امن و امان کے لئے دعا فرمائی اور جلسہ کے علاوہ اس موقعہ پر غربا میں کھانا بھی تقسیم کیا گیا اور رات کے وقت قصبہ میں چراغاں ہوا۔ اس طرح آپ نے ایک پرامن اور وفادار شہری کے حقوق تو ادا کر دئیے لیکن ابھی ایک مصلح کے حقوق کی ادائیگی باقی تھی جو آپ نے اس طرح پوری فرمائی کہ ایک کتاب ’’ تحفہ قیصریہ‘‘ نامی لکھ کر اس میں ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی دعوت دی اور نہایت دلکش پیرایہ اور محبت کے انداز میں بوڑھی ملکہ کو حق اور صداقت کی طرف بلایا اور پھر اس کتاب کو خوبصورت شکل میں جلد کروا کے اپنی ایک چٹھی کے ساتھ ملکہ کی خدمت میں ارسال کیا ۔ ۱؎ اور اس طرح آپ کے ہاتھ سے وہ سنت بھی پوری ہو گئی جو مقدس بانی اسلام نے قیصرو کسریٰ کو تبلیغ مراسلات کے بھجوانے میں قائم کی تھی۔ ملکہ معظمہ نے اس کتاب کا شکریہ ادا کیا اور اسے پڑھنے کا وعدہ فرمایا مگر بادشاہوں کا مذہب عموماً ان کی سیاست سے مغلوب ہوتا ہے اس لئے نہ بظاہر اس تبلیغ کا کوئی معین نتیجہ نکلنے کی امید تھی اور نہ کوئی نتیجہ نکلا۔
    اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک غیر مطبوعہ مراسلہ کے ذریعہ ۱۸۹۶ء میں امیر کابل کو بھی صداقت کی طرف دعوت دی تھی اور اپنے دعویٰ کو پیش کر کے امیر صاحب کو حق کی طرف بلایا تھا بلکہ یہ بھی لکھا تھا کہ اگر میرے دعویٰ میں کچھ شک ہو تو اسے ایک طرف رکھ کر اسلام کی خدمت میں ہی میری امداد کرو کیونکہ یہ سب مسلمانوں کا مشترکہ کام ہے اور اس وقت اسلام سخت مصائب میں گھرا ہوا ہے مگر امیر نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ سنا گیا ہے کہ تحقیر اور استہزاء کا طریق اختیار کیا۔ ۱؎
    حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی اس روز افزوں
    ترقی اور کامیابی کو دیکھ کر ہندوستان کی مختلف قوموں نے آپ کو اس رنگ میں بھی کچلنا چاہا کہ آپ پر سنگین مقدمات قائم کر کے آپ کو حکومت کی طرف سے سزا دلائی جائے یا کسی اور طرح نقصان پہنچایا جاوے۔ چنانچہ پنڈت لیکھرام کے قتل کے موقعہ پر آپ کے مکان کی تلاشی اسی کوشش کا نتیجہ تھی ۔ لیکن جب اس کوشش میں بھی ناکامی رہی تو اس خیال سے کہ شاید انگریزی حکومت اپنے پادریوں کی بات کی طرف زیادہ توجہ دے گی آپ کے خلاف مسیحی پادریوں کی طرف سے ایک مقدمہ اقدام قتل کا کھڑا کروایا گیا اور آریہ صاحبان اور غیر احمدی مسلمان اس ناپاک کوشش میں ان کے مدد گار بنے۔ چنانچہ پادری مارٹن کلارک نے آپ کے خلاف یہ استغاثہ دائر کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک مسلمان نوجوان کو میرے قتل کے لئے سکھا کر بھجوایا ہے اور ایک آوارہ گرد مسلمان لڑکے کو اقبالی مجرم بنا کر عدالت میں پیش کر دیا۔ اس مقدمہ میں ایک مشہور آریہ وکیل نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ کی مفت پیروی کی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بطور گواہ کے پیش ہوئے اور حضرت مرزا صاحب کو قاتل ثابت کرنے کے لئے ایک پورا جال پچھا دیا گیا۔ مگر جس کو خدا بچانا چاہے اسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خدا نے ایسا تصرف کیا کہ جس لڑکے کو اقبالی مجرم بنا کر کھڑا کیا گیا تھا اس سے اپنے بیان کے دوران میں ایسی حرکات سرزد ہوئیں کہ گورداسپور کے انصاف پسند ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس کو شبہ پیدا ہوا کہ یہ سارا مقدمہ محض ایک سازش ہے چنانچہ اس نے زیادہ چھان بین کی اور لڑکے کو پادریوں کے قبضہ سے نکال کر اس پر زور ڈالا تو اس نے اقبال کر لیا کہ مجھے ہرگز مرزا صاحب نے کسی کے قتل کے لئے مقرر نہیں کیا بلکہ میں نے عیسائی پادریوں کے کہنے کہانے سے ایسا بیان دیا تھا۔ جس پر حضرت مسیح موعود ؑ بڑی عزت کے ساتھ بری کئے گئے اور آپ کے مخالفوں کے ماتھے پر ناکامی کے علاوہ ذلت کا ٹیکہ بھی لگ گیا۔ ۱ ؎
    دشمن کے ساتھ احسان کا سلوک :۔ اس مقدمہ کے دوران میں دو باتیں ایسی ظاہر ہوئیں جن سے حضرت مسیح موعود ؑ کے اعلیٰ اخلاق پر بہت بھاری روشنی پڑتی ہے۔
    اوّل یہ کہ دورانِ مقدمہ میں جب مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کے خلاف شہادت میں پیش ہوئے اور آپ کو سزا دلوانے کی کوشش میں عیسائیوں کے حمایتی بنے تو آپ کے وکیل نے ان کے خلاف ایسی جرح کرنی چاہی جس سے ان کے بعض ذاتی اور خاندانی عیوب ظاہر ہوتے تھے اور ان کی حیثیت کے گرنے سے حضرت مسیح موعود ؑ کو فائدہ پہنچتا تھا کیونکہ وہی بڑے گواہ تھے مگر حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے وکیل کو سختی کے ساتھ اس جرح سے روک دیا اور کہا کہ میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ اس قسم کے سوال کئے جائیں آپ کے اس رویہ کا اس وکیل پر جو اتفاق سے وہ بھی ایک غیر احمدی تھا آپ کے اعلیٰ اخلاق کے متعلق نہایت گہرا اثر ہوا۔ اور وہ ہمیشہ اس واقعہ کا تعجب کے ساتھ ذکر کیا کرتا تھا کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کو تذلیل سے بچایا۔
    دوسری بات یہ تھی کہ جب مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا تو حضرت مسیح موعود ؑ کو بری قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپ کے خلاف یہ مقدمہ جھوٹے طور پر بنایا گیا تھا ۔ قانونی طور پر آپ کو یہ حق ہے کہ اگر چاہیں تو مقدمہ کرنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں چاہتا۔ خدا نے مجھے اپنے وعدہ کے مطابق بری کر دیا ہے اور وہ میرا محافظ ہے مجھے اپنے مخالفوں کے خلاف انتقامی چارہ جوئی کی ضرورت نہیں۔ اس کا بھی دیکھنے والوں پر نہایت گہرا اثر ہوا۔
    سفیر ترکی کی قادیان میں آمد اور ایک خدائی نشان :۔ ۱۸۹۷ء میں ایک اور اہم واقعہ بھی
    پیش آیا اور وہ یہ کہ حسین کامی جو حکومت ترکی کی طرف سے ہندوستان میں سفیر تھا وہ حضرت مسیح موعود ؑ کی ملاقات کی غرض سے قادیان آیا اور علیحدگی میں ملاقات کی خواہش کر کے سلطان ترکی کے لئے دعا کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ اگر سلطان کی حکومت کے متعلق آپ کو خدا کی طرف سے کچھ معلوم ہو تو مجھے بتائیں آپ نے اسے بتایا کہ میں تمہارے سلطان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور اس کی سلطنت کا حال بھی مجھے خراب نظر آتا ہے اور اپنے دعویٰ کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود ؑ نے حسین کامی کو سمجھایا کہ اب میری بعثت کے بعد مسلمانوں کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ میری اتباع کو قبول کریں ورنہ خواہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا اس کا انجام اچھا نہیں چنانچہ آپ اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے خود تحریر فرماتے ہیں کہ :۔
    ’’میں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔ یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بری معلوم ہوئیں۔ میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصوروار ہے۔ خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوعِ انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے۔ توبہ کرو تا نیک پھل پائو …… ماسوا اس کے میرے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان میں آئیں ۔ میں نے اس کو بار بار سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں …… خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں۔‘‘ ۱؎
    الغرض ترکی سلطنت کا سفیر بہت دلبرداشتہ ہو کر قادیان سے واپس گیا اور اپنے دل میں مخالفت اور عداوت کے جذبات لے کر لوٹا مگر خدا نے جلد ہی دنیا کو بتا دیا کہ حق وہی تھا جو خدا کے مرسل کے منہ سے نکلا تھا۔ چنانچہ پہلی سزا تو خود حسین کامی کو اپنی ذات میں پہنچی ۔ یعنی جب اس نے قادیان سے واپس جا کر اخبارات میں حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف اعلان شائع کرایا تو اس کے کچھ عرصہ بعد وہ کسی جرم کی وجہ سے ترکی حکومت کے زیر عتاب آکر سفارت سے برطرف کر دیا گیا اور اس کے املاک وغیرہ ضبط کر لئے گئے۔ ۱؎ اور پھر حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کے بعد خود سلطان ترکی اور ان کے خاندان کی بھی جو حالت ہوئی وہ تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہے جسے اس جگہ دہرانے کی ضرورت نہیںیعنی مختصر یہ کہ اس کے بعد ترکی کے ملک میں بغاوت ہوئی اور سلطان اپنے عہدہ سے معزول ہو کر جلا وطن ہوا اور بالآخر حکومتِ ترکی نے سلطان اور خلیفۃ المسلمین کا عہدہ ہی منسوخ کر کے اس سلسلہ کا خاتمہ کر دیا۔
    حضرت مسیح ناصری کے متعلق ایک عظیم الشان تحقیق :۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا
    میں حقیقی توحید کے قیام کا انتہائی جوش تھا اور آپ کی یہ دلی تڑپ تھی کہ جس طرح بھی ہو لوگوں کے خود ساختہ بت خدائے واحد کے سامنے گر کر پاش پاش ہو جائیں اورآپ ان مصنوعی بتوں میں حضرت مسیح ناصری کے وجود کو سب سے بڑا بت خیال کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ عیسائیوں نے حضرت مسیح کے بعد اس جھوٹے عقیدہ کو گھڑ کر دنیا میں ایک ظلم عظیم کی عمارت کھڑی کر دی ہے اور آپ اس عمارت کو گرانے کو اپنا سب سے بڑا مشن خیال کرتے تھے۔ چنانچہ جب شروع شروع میں آپ پر اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کاعقیدہ غلط ہے اور یہ کہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح اپنی عمر کے دن گذار کر فوت ہو گئے تھے تو آپ نے دنیا میں اس انکشاف کی نہایت کثرت کے ساتھ اشاعت فرمائی اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس خیال پر بہت زور دیا کہ دوسرے فانی انسانوں کی طرح حضرت مسیح ناصری دنیا میں اپنی زندگی کے دن گزار کر فوت ہو چکے ہیں۔ جس میں آپ کی دو غرضیں تھیں۔ اوّل یہ کہ اس طرح شرک کو مٹا کر توحید کو قائم کیا جاوے ۔ دوسرے یہ کہ حضرت مسیح کو فوت شدہ ثابت کر کے اپنے خداداد منصب کی طرف لوگوں کی توجہ کو کھینچا جاوے۔
    لیکن اس سارے عرصہ میں آپ صرف اس خیال پر قانع نہیں رہے کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں بلکہ آپ اپنے طور پر اس تحقیق میں بھی لگے رہے کہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ صلیب کے واقعہ کے بعد کیا پیش آیا اور صلیب سے بچ کر حضرت مسیح کہاں گئے اور بالآخر انہوں نے کہاں پہنچ کر انتقال کیا۔ چنانچہ آخر کار آپ کی یہ کوشش کامیابی کا پھل لائی اور آپ نے کھوج نکالتے نکالتے اس صدیوں کے چھپے ہوئے راز کا پتہ لگا لیا۔ چنانچہ ۱۸۹۸ء میں آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری صلیب پر چڑھائے تو گئے تھے مگر صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب کی تکلیف کی وجہ سے صرف بیہوش ہو گئے تھے اور پھر اپنے بعض دوستوں کی کوشش اور بعض افسرانِ حکومت کی مخفی ہمدردی کی وجہ سے بیہوشی کی حالت میں ہی صلیب سے اتار لئے گئے تھے اور صلیب سے اتارنے کے بعد بھی جیسا کہ ملک میں دستور تھا ان کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں اور ان کا جسم ان کے ہمدردوں کے سپرد کر دیا گیا وغیرہ وغیرہ یہاں تک تو یہ ایک ایسا عقیدہ تھا کہ خود مسیحی قوم کا ایک حصہ ایک دھندلے خیال کے طور پر اس کا قائل رہا ہے مگر حضرت مسیح موعود ؑ نے نہ صرف اس خیال پر مزید روشنی ڈالی بلکہ اپنی تحقیق کو اس کے آگے چلا کر ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری نہ صرف صلیب سے بچ گئے تھے بلکہ اس کے بعد وہ علاج سے اچھے بھی ہو گئے لیکن چونکہ ملک میں ان کی سخت مخالفت تھی اور صلیب کے بعد زندہ نظر آنا سخت خطرہ کا باعث تھا اس لئے وہ اپنے زخموں وغیرہ سے کسی قدر صحتیاب ہونے کے بعد خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے اور بالآخر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں گھومتے گھومتے کشمیر میں پہنچے جہاں ایک سو بیس سال کی عمر کو پہنچ کر طبعی حالت میں ان کی وفات ہوئی اور وہ سری نگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں جہاں اب تک ان کی قبر محفوظ ہے اور یہ قبر کشمیر کی قدیم ترین قبروں میں سے ہے جس کے متعلق اہل کشمیر کی روایات سے پتہ لگتا ہے کہ یہ ایک شہزادہ نبی کی قبر ہے جو کہیں باہر سے آیا تھا اور خود اہل کشمیر کے متعلق یہ ثابت ہے کہ وہ بنو اسرائیل ہی کی ایک شاخ ہیں جو ابتداء میں اپنے پدری درخت سے جدا ہو کر کشمیر کی طرف آگئے تھے۔ آپ نے یہ بھی ثابت کیاکہ جس دوائی سے حضرت مسیح کے زخموں کا علاج کیا گیا تھا وہ اب تک طب کی پرانی کتابوں میں مرہم عیسیٰ کے نام سے مشہور ہے آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ حضرت مسیح کے پیچھے پیچھے ان کے بعض حواری بھی ہندوستان پہنچے تھے۔ ۱؎
    یہ تحقیق ایسی اہم اور ایسی وسیع الاثر ہے کہ جب وہ دنیا کے نزدیک پایہ ثبوت کو پہنچے گی تو موجودہ مسیحیت کا تو گویا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ اس سے مسیحیت کے وہ تین ستون جس پر اس مذہب کی ساری عمارت کھڑی ہے یعنی الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ ٹوٹ کر گر جائیں گے اور مسلمان بھی جو حضرت عیسیٰ کی انتظار میں آسمان کی طرف نظر لگائے بیٹھے ہیں اس طرف سے مایوس ہو کر احمدیت کی طرف پلٹا کھائیں گے۔ یہ درست ہے کہ ابھی تک مسیحی محققین نے اس تحقیق کو درست تسلیم نہیں کیا لیکن اگر تاریخی اور عقلی دلائل کی رو سے یہ تحقیق سچی ثابت ہوتی ہے تو پھر کسی قوم کا اسے ماننا یا نہ ماننا کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اور حضرت مسیح موعود ؑ نے یونہی ایک بلا دلیل دعویٰ نہیں کیا بلکہ انجیل سے اور تاریخ سے اور آثار قدیمہ سے اپنے دعویٰ کے دلائل پیش کئے ہیں اور واقعہ صلیب سے پہلے کے اور بعد کے حالات اور حضرت مسیح ناصری کے اقوال اور ان کے حواریوں کے واقعات اور شام اور کشمیر کی تواریخ وغیرہ سے ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری صلیب کے واقعہ سے بچ کر آہستہ آہستہ ہندوستان ہوتے ہوئے کشمیر پہنچ گئے تھے اور بالآخر یہیں فوت ہوئے۔ مگر چونکہ فلسطین و شام میں پولوس کے ہاتھوں سے مسیحیت نے ایک بالکل ہی اور جامہ پہن لیا لیکن اس کے مقابل پر کشمیر میں ان کی اصلی موحدانہ تعلیم قائم رہی جو بعد میں اسلام کے اندر آکر جذب ہو گئی اس لئے ان دونوں تعلیموں میں کبھی اتصال نہیں ہوا اور نہ کبھی درمیان کا پردہ اٹھا۔
    مگر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قبرِ مسیح کی تحقیق پر حضرت مسیح موعود ؑ کے اس سارے حملہ کی بنیاد تھی جو آپ کی طرف سے مسیحیت کے خلاف ظاہر ہوا بلکہ یہ صرف ایک تائیدی تحقیق تھی اور آپ کا زیادہ زور وفات مسیح کے مسئلہ پر تھا یعنی یہ کہ مسیح ناصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے۔ علاوہ ازیں آپ نے اپنی تصانیف میں مسیحیت کے بنیادی عقائد الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ پر ایسی زبردست جرح کی ہے کہ آپ کے دلائل کے سامنے مسیحیت کا طلسم دھواں ہو کر اُڑنے لگتا ہے۔ الوہیت مسیح کے متعلق آپ نے ثابت کیا کہ اوّل تو مسیح نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا ہی نہیں اور اگر بالفرض دعویٰ ثابت بھی ہو تو مسیح کے حالات اس کی خدائی کے خیال کو دور سے ہی دھکے دیتے ہیں اور اس میں قطعاً کوئی بات خدائی کی ثابت نہیں ہوتی اور تثلیث کے متعلق آپ نے بتایا کہ یہ ایک سراسر مشرکانہ عقیدہ ہے جس پر کسی صحیح الفطرت انسان کا دل تسلی نہیں پاسکتا اور اس سے خدا کی خدائی پر بھی سخت حرف آتا ہے اور کفارہ کے متعلق آپ نے ثابت کیا کہ وہ ایک بالکل گندہ اور غیر فطری عقیدہ ہے جس کو گناہوں کی معافی اور اصلاح نفس کے ساتھ کوئی طبعی جوڑ نہیں بلکہ اس نے گناہ کو مٹانے کی بجائے اسے اور بھی ترقی دے دی ہے۔ غرض مسیحیت کے متعلق آپ کا لٹریچر ایسا اعلیٰ پایہ کا ہے کہ اسے پڑھ کر کوئی غیر متعصب انسان مسیحیت کے موجودہ عقائد کو ایک منٹ کے لئے بھی سچا نہیں سمجھ سکتا او ر خود سمجھدار عیسائیوں نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ احمدیت کے وجود میں مسیحی عقائد کے لئے موت کا پیغام ہے۔
    قادیان میں سکول اور اخبار کا اجراء :۔ چونکہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ اور آپ کی
    جماعت کے خلاف مخالفت کی رو بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف خدا کے فضل سے جماعت بھی آہستہ آہستہ ترقی کر رہی تھی اس لئے ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود ؑ کے منشاء اور مشورہ کے ماتحت جماعت احمدیہ میں دو نئے کاموں کا اضافہ ہوا۔ یعنی ایک تو جماعت کے بچوں کے لئے قادیان میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی تا کہ جماعت کے بچے دوسرے سکولوں کے زہر آلود ماحول میں تعلیم پانے کی بجائے اپنے ماحول میں تعلیم پائیں اور بچپن سے ہی اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو اپنے اندر جذب کر سکیں۔ یہ وہی مدرسہ ہے جو اس وقت تعلیم الاسلام ہائی سکول کی صورت میں قائم ہے۔ یہ مدرسہ سرکاری محکمہ تعلیم سے ملحق تھا اور اب بھی ہے مگر اس میں دینیات کا کورس زیادہ کیا گیا تھا جس میں قرآن شریف اور سلسلہ کی کتب شامل تھیں اور بڑی غرض یہ تھی کہ بچوں کی تربیت احمدیت کے ماحول میں ہو سکے اور جماعت کے نونہال حضرت مسیح موعود ؑ اور جماعت کے پاک نفس بزرگوں کی صحبت میں رہ کر اپنے اندر اسلام اور احمدیت کی حقیقی روح پیدا کر سکیں۔ سو الحمد للہ کہ مدرسہ نے اس غرض کو وبصورتِ احسن پورا کیاہے۔ یہ مدرسہ پرائمری کی جماعت سے شروع ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی ہائی کے معیار تک پہنچ گیا تھا اور سلسلہ کے بہت سے مبلغ اور دوسرے ذمہ دار کارکن اسی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں مدرسہ کے انتظام کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک کمیٹی مقرر فرما دی تھی۔
    دوسرا نیا کام ۱۸۹۸ء میں یہ شروع ہوا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی دیرینہ خواہش کے مطابق ۱؎ اس سال قادیان سے ایک ہفتہ واری اخبار جاری کیا گیا جس کی غرض و غایت سلسلہ کی تبلیغ اور سلسلہ کی خبروں کی اشاعت اور جماعت کی تعلیم و تربیت تھی۔ اس سے پہلے قادیان میں جماعت کا اپنا پریس تو موجود تھا جو ۱۸۹۳ء سے جاری تھا مگر اخبار ابھی تک کوئی نہیں تھا۔ سو ۱۸۹۸ء میں آکر یہ کمی بھی پوری ہو گئی۔ یہ اخبار جس کا نام الحکم تھا جماعت کے انتظام کے ماتحت جاری کردہ نہیں تھا بلکہ مالی ذمہ داری کے لحاظ سے ایک پُر جوش نوجوان شیخ یعقوب علی صاحب تراب حال عرفانی کی انفرادی ہمت کا نتیجہ تھا مگر بہر حال وہ جماعت کا اخبار تھا اور جماعت کی عمومی نگرانی کے ماتحت تھا اور اس کے ذریعہ جماعت کی ایک اہم ضرورت پوری ہوئی ۔ یہ اخبار ابتداء ً ۱۸۹۷ء میں امرتسر سے جاری ہوا تھا مگر ۱۸۹۸ء کے شروع میں قادیان آگیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد یعنی ۱۹۰۲ء میں قادیان سے ایک دوسرا اخبار البدر نامی بھی جاری ہو گیا اور ان دونوں اخباروں نے مل کر حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں سلسلہ کی بہت عمدہ خدمت سر انجام دی۔ چنانچہ بعض اوقات حضرت مسیح موعود ؑ ان اخباروں کو جماعت کے دو بازو کہہ کر یاد فرمایا کرتے تھے۔
    ۱۸۹۸ء کا سال جماعت کی اندرونی تنظیم کے لحاظ سے خاص خصوصیت رکھتا ہے چنانچہ جن دو اصلاحات کا اوپر ذکر گزر چکا ہے یعنی مدرسہ اور اخبار کااجراء ان کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سال میں خدا سے علم پا کر جماعت کی تنظیم و تربیت کے متعلق دو مزید احکامات جاری فرمائے یعنی اوّل تو آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ آئندہ کوئی احمدی کسی غیر احمدی کی امامت میں نماز ادا نہ کرے بلکہ صرف احمدی امام کی اقتداء میں نماز ادا کی جاوے یہ حکم ابتداء ً ۱۸۹۸ء میں زبانی طور پر جاری ہوا تھا مگر بعد میں ۱۹۰۰ء میں تحریری طور پر بھی اس کا اعلان کیا گیا۔ آپ کا یہ فرمان جو خدائی منشاء کے ماتحت تھا اس حکمت پر مبنی تھا کہ جب غیر احمدی مسلمانوں نے آپ کے دعویٰ کو رد کر کے اور آپ کو جھوٹا اور مفتری قرار دے کر اس خدائی سلسلہ کی مخالفت پر کمر باندھی ہے جو خدا نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے جاری کیا ہے اور جس سے دنیا میں اسلام اور روحانی صداقت کی زندگی وابستہ ہے تو اب وہ اس بات کے مستحق نہیں رہے کہ کوئی شخص جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لاتا ہے وہ آپ کے منکر کی امامت میں نماز ادا کرے۔ نماز ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی عبادت ہے اور اس کا امام گویا خدا کے دربار میں اپنے مقتدیوں کا لیڈر اور زعیم ہوتا ہے ۔ پس جو شخص خدا کے مامور کو رد کر کے اس کے غضب کا مورد بنتا ہے وہ ان لوگوں کا پیشرو نہیں ہو سکتا جو اس کے مامور کو مان کر اس کی رحمت کے ہاتھ کو قبول کرتے ہیں۔ اس میں کسی کے برا منانے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ سلسلہ احمدیہ کے قیام کا ایک طبعی اور قدرتی نتیجہ تھا جو جلد یا بدیر ضرور ظاہر ہونا تھا۔ چنانچہ حدیث میں بھی اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب مسیح موعود ؑ آئے گا تو اس کے متبعین کا امام انہی میں سے ہوا کرے گا چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :۔
    ’’ یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر یامکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ ‘‘ ۱؎
    دوسری ہدایت جو آپ نے اپنی جماعت کے لئے جاری فرمائی وہ احمدیوں کے رشتہ ناطہ کے متعلق تھی۔ اس وقت تک جیسا کہ احمدیوں اور غیر احمدی مسلمانوں کی نماز مشترک تھی یعنی احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے اسی طرح باہمی رشتہ ناطہ کی بھی اجازت تھی یعنی احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں کے ساتھ بیاہ دی جاتی تھیں مگر ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کی بھی ممانعت فرما دی اور آئندہ کے لئے ارشاد فرمایا کہ کوئی احمدی لڑکی غیراحمدی مرد کے ساتھ نہ بیاہی جاوے۔ ۱؎ یہ اس حکم کی ایک ابتدائی صورت تھی جس کے بعد اس میں مزید وضاحت ہوتی گئی اور اس حکم میں حکمت یہ تھی کہ طبعاً اور قانوناً ازدواجی زندگی میں مرد کو عورت پر انتظامی لحاظ سے غلبہ حاصل ہوتا ہے پس اگر ایک احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ بیاہی جائے تو اس بات کا قوی اندیشہ ہو سکتا ہے کہ مرد عورت کے دین کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا اور خواہ اسے اس میں کامیابی نہ ہو لیکن بہر حال یہ ایک خطرہ کاپہلو ہے جس سے احمدی لڑکیوں کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔ علاوہ ازیں چونکہ اولاد عموماً باپ کی تابع ہوتی ہے اس لئے اس قسم کے رشتوں کی اجازت دینے کے یہ معنے بھی بنتے ہیں کہ ایک احمدی لڑکی کو اس غرض سے غیر احمدیوں کے سپرد کر دیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ غیر احمدی اولاد پیدا کریں۔ اس قسم کی وجوہات کی بناء پر آپ نے آئندہ کے لئے یہ ہدایت جاری فرمائی کہ گو حسب ضرورت غیراحمدی لڑکی کا رشتہ لیا جا سکتا ہے مگر کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ نہ بیاہی جاوے بلکہ احمدیوں کے رشتے صرف آپس میں ہوں۔ لیکن جو لڑکیاں اس ہدایت سے پہلے غیر احمدیوں کے نکاح میں آچکی تھیں ان کے متعلق آپ نے یہ ہدایت نہیں دی کہ ان کے نکاح فسخ ہو گئے ہیں کیونکہ اوّل تو اس کا عملی اجراء اپنے اختیار میں نہیں تھا دوسرے اس قسم کے حکم سے فتنوں اور پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا احتمال تھا جس سے بہر صورت بچنا لازم ہے۔
    حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک اور فوجداری مقدمہ :۔ اقدام قتل کا وہ خطرناک اور
    جھوٹا مقدمہ جو ڈاکٹر مارٹن کلارک نے ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود کے خلاف دائر کیا تھا اور جس میں غیر احمدی مسلمانوں اور آریوں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ عیسائیوں کی حمایت کی تھی اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اس مقدمہ کی ناکامی نے حضرت مسیح موعود ؑ کے مخالفین کی آتشِ غضب کو اور بھی بھڑکا دیا تھا چنانچہ ۱۸۹۹ء کے شروع میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایک دوسرا مقدمہ کھڑا کر دیا جس میں یہ استغاثہ تھا کہ مجھے مرزا صاحب کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے اس لئے ان سے حفظ امن کی ضمانت لی جائے اور یا انہیں آزادی سے محروم کر کے زندانِ حراست میں ڈال دیا جائے۔ مولوی محمد حسین صاحب کو اس مقدمہ کی جرأت اس لئے بھی ہوئی کہ اتفاق سے اس وقت بٹالہ کے پولیس سٹیشن میں جس کے حلقہ میں قادیان واقع ہے ایک شخص شیخ محمد بخش نامی تھانہ دار تھا جو حضرت مسیح موعود ؑ کا سخت مخالف تھا اور چونکہ حفظِ امن کے مقدمہ میں عموماً پولیس کی رپورٹ پر فیصلہ ہوتا ہے اس لئے مولوی محمد حسین نے یہ موقعہ غنیمت سمجھ کر آپ کے خلاف حفظِ امن کی درخواست گزار دی۔ جب یہ درخواست تھانہ دار مذکور کے پاس آئی تو اس نے کمال ہوشیاری سے حفظِ امن کی کارروائی میں خود مولوی محمد حسین کو بھی لپیٹ لیا اور یہ رپورٹ کی کہ فریقین کو ایک دوسرے سے خطرہ ہے اس لئے دونوں کی ضمانت ہونی چاہئے اور اس طریق کے اختیار کرنے میں تھانہ دار کی غرض یہ تھی کہ اس کی کارروائی غیر جانبدار سمجھی جاوے تا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسے بلا تامل منظور کر لے چنانچہ تھانہ دار مذکور نے ان ایام میں اپنی ایک مجلس میں برملا کہا کہ ’’ آج تک تو مرزا بچ جاتا رہا ہے لیکن اب وہ میرے ہاتھ دیکھے گا ۔ ‘‘ اس کی یہ بات کسی شخص نے حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی پہنچا دی جس پر آپ نے رپورٹ کنندہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور بے ساختہ فرمایا ۔ ’’ وہ کیا سمجھتا ہے ؟ اس کا اپنا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ‘‘ اس کے بعد قدرتِ حق کا تماشہ دیکھو کہ نہ صرف حضرت مسیح موعود ؑ اس مقدمہ میں بری کئے گئے بلکہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد شیخ محمد بخش تھانہ دار کے ہاتھ میں ایک زہریلی قسم کا پھوڑا نکلا جس کے درد سے وہ دن رات بیتاب ہو کر کراہتا تھا اور آخر اسی تکلیف میں وہ اس جہان سے رخصت ہوا۔ اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود ؑ کو مزید فتح یہ حاصل ہوئی کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ شیخ محمد بخش مذکور کا اکلوتا لڑکا حضرت مسیح موعود ؑ کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا اور اب وہ خدا کے فضل سے ایک مخلص احمدی ہیں اور ان کی والدہ اور بیوی بچے بھی احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کی اضطراب اور کرب کی دعائیں :۔ اب حضرت مسیح موعود ؑ کے دعویٰ
    ماموریت پر قریباً اٹھارہ سال گزر چکے تھے اور بیعت کے سلسلہ کو شروع ہوئے بھی دس سال ہو چکے تھے اور گو اس عرصہ میں آپ کی جماعت نے خدا کے فضل سے کافی ترقی کی تھی اور ہزاروں لوگ آپ کی بیعت میں داخل ہو چکے تھے مگر ساتھ ساتھ مخالفت کا طوفان بھی تیز ہوتا گیا تھا اور مسلمان علماء اور ان کے رفقاء نے آپ کے خلاف ایک خطرناک آگ لگا رکھی تھی اور یہ لوگ دہری شرارت پر آمادہ تھے ۔ ایک طرف تو وہ گورنمنٹ کو خفیہ اور ظاہری رپورٹیں کر کر کے حکام کو آپ کے خلاف اکسانے اور بدظن کرنے میں مصروف تھے اور آپ کے دعویٰ مہدویت کو آڑ بنا کر اس پراپیگنڈا میں مصروف تھے کہ گویا آپ اور آپ کی جماعت درپردہ گورنمنٹ کاتختہ الٹنے میں مصروف ہے اور دوسری طرف وہ آپ کو کافر اور بے دین اور دجال کہہ کر عوام الناس کو آپ کی طرف متوجہ ہونے سے روک رہے تھے اور انہوں نے لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ آپ کے ساتھ ملنے ملانے یا آپ کی تصانیف کے پڑھنے سے انسان بے دین اور خدا کی نظر میں ملعون ہو جاتا ہے۔ غرض اس زمانہ میں مخالفت انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور بد زبانی اور دشنام دہی اور گالی گلوچ کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایسے ایسے گندے اور اشتعال انگیز اشتہار اور رسالے شائع ہو رہے تھے کہ ایک شریف انسان انہیں دیکھ نہیں سکتا اور عوام الناس میں جماعت کے خلاف ایک خطرناک جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ ان حالات میں حضرت مسیح موعود ؑ کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ جماعت کی ترقی کا قدم اس تیز رفتاری کے ساتھ نہیں اٹھ رہا جس طرح کہ آپ چاہتے تھے کہ وہ اٹھے اس احساس نے آپ کو اس زمانہ میں غیر معمولی کرب اور اضطراب میں مبتلا کر رکھا تھا اور آپ بے تاب ہو ہو کر خدا کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس دعا میں مصروف تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی ایسے فوق العادت نشان ظاہر ہوں جو لوگوں کی گردنوں کو جھکا کر حق کی طرف مائل کر دیں۔ ۱۸۹۹ء کا سال اس احساس اور اضطراب کے معراج کا زمانہ تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں جو اشتہارات آپ نے شائع فرمائے یا جو تصانیف لکھیں ان میں سے اکثر میں یہی احساس اور یہی اضطراب جھلکتا نظر آتا ہے اور میں اپنے ناظرین کو آپ کے قلبی جذبات کا نظارہ دکھانے کے لئے اس جگہ آپ کے بعض اقتباسات درج کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ اے میرے حضرت اعلیٰ ذوالجلال، قادر، قدوس، حیّ و قیّوم جو ہمیشہ راستبازوں کی مدد کرتا ہے تیرا نام ابدالآباد مبارک ہے۔ تیرے قدرت کے کام کبھی رک نہیں سکتے تیرا قوی ہاتھ ہمیشہ عجیب کام دکھلاتا ہے۔ تُو نے ہی اس چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث کیا …… مگر اے قادر خدا تو جانتا ہے کہ اکثر لوگوں نے مجھے منظور نہیں کیا اور مجھے مفتری سمجھا اور میرا نام کافر اور کذاب اور دجال رکھا گیا۔ مجھے گالیاں دی گئیں۔ اور طرح طرح کی دل آزار باتوں سے مجھے ستایا گیا … سو اے میرے مولا قادر خدا ! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس سے تیرے سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرا مقبول ہوں اور جس سے ان کا ایمان قوی ہو اور وہ تجھے پہچانیں …… اور دنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے نام کی روشنی اس بجلی کی طرح دکھلائی دے کہ جو ایک لمحہ میں مشرق سے مغرب تک اپنے تئیں پہنچاتی اور شمال و جنوب میں اپنی چمکیں دکھلاتی ہے…… دیکھ !میری روح نہایت توکل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے ۔ سو میں تیری قدرت کے نشان کا خواہشمند ہوں۔ لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے۔ بلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں …… میں تجھے پہچانتا ہوں کہ تُو ہی میرا خدا ہے اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اچھلتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے۔ لیکن اکثر لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ قبول کیا۔ اس لئے نہ مَیں نے بلکہ میری روح نے اس بات پر زور دیا کہ میں یہ دعا کروں کہ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں …… تو میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندہ کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر …… میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں رَبِّ اِنِّی مَغْلُوْبٌ ـ مگر بغیر فَانْتَصِرْ کے۔ اور میری روح دیکھ رہی ہے کہ خدا میری سنے گا ۔‘‘ ۱؎
    آپ نے اپنی طرف سے اس دعا کی قبولیت کے لئے تین سال کی میعاد پیش کی یعنی خدا سے استدعا کی کہ وہ تین سال کے عرصہ میں آپ کے حق میں کوئی ایسا نشان ظاہر فرمائے جو رجوع عام کا باعث ہو۔ اسی طرح آپ نے ان ایام میں ایک فارسی نظم لکھ کر شائع فرمائی جو مناجات کے رنگ میں ہے اور نہایت دردناک ہے۔ اس نظم میں آپ فرماتے ہیں :۔
    اے قدیر و خالقِ ارض و سما
    اے رحیم و مہربان و رہنما
    اے کہ میداری تو بر دِلہا نظر
    اے کہ از تو نیست چیزے مستتر
    گر تومے بینی مرا پر فسق و شر
    گر تو دید استی کہ ہستم بد گہر
    پارہ پارہ کن منِ بدکار را
    شادکن ایں زمرۂ اغیار را
    بر دلِ شاں ابرِ رحمت ہا ببار
    ہر مرادِ شان بفضل خود برآر
    آتش افشاں بر در و دیوارِ من
    دشمنم باش و تباہ کن کارِ من
    در مرا از بندگانت یافتی
    قبلہ من آستانت یافتی
    در دل من آں محبت دیدۂ
    کز جہاں آں راز را پوشیدۂ
    بامن از روئے محبت کارکن
    اند کے افشاء آں اسرار کن
    اے کہ آئی سوئے ہر جویندۂ
    واقفی از سوزِ ہر سوزندۂ
    زاں تعلق ہا کہ با تو داشتم
    زاں محبت ہا کہ در دل کاشتم
    خود بروں آ از پئے ابراء من
    اے تو کہف و ملجاء وماوائے من
    آتشے کاندر دلم افروختی
    وز دم آں غیر خود را سوختی
    ہم ازاں آتش رخ من بر فروز
    ویں شبِ تارم مبدل کن بروز ۱؎
    ’’ یعنی اے میرے قادر ۔ زمین و آسمان کے پیداکرنے والے خدا ! اے میرے رحیم اور مہربان اور مشکلات کی تاریکی میں رستہ دکھانے والے آقا ! اے دلوں کے بھیدوں کے جاننے والے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں! اگر تو مجھے شر اور فسق و فساد سے بھرا ہوا پاتا ہے اور اگر تو یہ دیکھتا ہے کہ میں ایک بدطینت اور گندہ آدمی ہوں تو اے خدا تو مجھ بدکار کو پارہ پارہ کر کے ہلاک و برباد کر دے اور میرے مخالف گروہ کے دلوں کو خوشی اور راحت بخش اور ان پر اپنی رحمت کے بادل برسا اور ان کی ہر مراد کو اپنے فضل سے پورا کر۔ اور میرے درو دیوار پر اپنے غضب کی آگ نازل کر اور میرا دشمن بن کر میرے اس کاروبار کو تباہ و برباد کر دے۔لیکن اے میرے آقا ! اگر تو مجھے اپنے بندوں میں سے سمجھتا ہے اور اپنے آستانہ کو میری توجہ کا قبلہ پاتا ہے اور میرے دل میں اس محبت کو دیکھتا ہے جو تو نے دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ کر رکھی ہے تو اے میرے خدا تو میرے ساتھ محبت کا معاملہ کر اور اس چھپے ہوئے راز کو ذرا ظاہر ہونے دے۔ اے وہ کہ جو ہر تلاش کرنے والے کی طرف خود چل کر آتا ہے اور اے وہ کہ جو ہر سوزِ محبت میں جلنے والے کی سوزش قلب سے آگاہ ہے میں تجھے اس تعلق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو میرے دل میں تیرے لئے ہے اور اس محبت کو یاد دلاتا ہوں عرض کرتا ہوں کہ جس کے پودے کو میں نے تیرے لئے اپنے دل کی گہرائیوں میں نصب کیا ہے کہ تو خود میری بریت کے لئے اٹھ۔ ہاں اے میری پناہ! اے میرے ملجاء و ماوٰے ! تجھے تیری ذات کی قسم ہے کہ ایسا ہی کر۔ وہ آتش محبت جو تو نے میرے دل میں شعلہ زن کی ہے جس کی لپٹوں سے تو نے میرے دل میں غیر کی محبت کو جلا کر خاک کر دیا ہے اب ذرا اسی نور سے میرے ظاہر کو بھی تو روشن فرما اور میری اس تاریک و تار رات کو دن کی روشنی سے بدل دے۔ ‘‘
    اس کے بعد خدا نے کئی نشان دکھائے مگر اس دعا کی قبولیت کا زیادہ ظہور طاعون کے ذریعہ ہوا جس نے ۱۹۰۲ء میں زور پکڑ کر جماعت کی ترقی میں ایک انقلابی صورت پیدا کر دی اور لوگ خدائی سلسلہ میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہو گئے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کا آخری فرزند اور اس کی وفات :۔ اسی سال یعنی ۱۸۹۹ء میں ہمارا
    سب سے چھوٹا بھائی مبارک احمد پیدا ہوا۔ مبارک احمد وہ آخری لڑکا تھا جو حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر پیدا ہوا۔ اس سے پہلے دوسری شادی سے آپ کے گھر میں تین لڑکے زندہ موجود تھے یعنی ایک حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے جماعت کے امام اور خلیفہ ہیں۔ دوسرے خاکسار مؤلف رسالہ ہذا جو ۱۸۹۳ء میں پیدا ہوا اور تیسرے عزیزم مکرم مرزا شریف احمد صاحب جو ۱۸۹۵ء میں پیدا ہوئے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی یہ ساری اولاد خدائی بشارتوں کے ماتحت پیدا ہوئی تھی یعنی ہر بچہ کی ولادت سے پہلے آپ کو خدائی الہام کے ذریعہ اس کی ولادت کی خبر دی گئی تھی چنانچہ ۱۸۹۹ء میں جب مبارک احمد پیدا ہوا تو آپ کو خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ یہ لڑکا آسمان سے آتا ہے اور آسمان کی طرف ہی اٹھ جائے گا۔ حضرت مسیح موعود نے اس الہام کی یہ تعبیر فرمائی کہ یا تو یہ لڑکا خاص طور پر نیک اور پاکباز اور روحانی امور میں ترقی کرنے والا ہو گا اور یا بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا ۔ چنانچہ مؤخر الذکر صورت درست نکلی اور یہ بچہ آپ کی زندگی میں ہی ۱۹۰۷ء میں وفات پا گیا۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کو اپنے بچوں کے ساتھ بہت محبت تھی اور مبارک احمد سب سے چھوٹا بچہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کی نسبت طبعاً محبت و شفقت کا زیادہ حصہ پاتا تھا اس لئے اس کی وفات پر آپ کو بہت صدمہ ہوا مگر چونکہ آپ کا اصل تعلق خدا سے تھا اس لئے آپ نے اس صدمہ میں صبر اور رضا کا کامل نمونہ دکھایا اور دوسروں کو بھی صبر و رضا کی نصیحت فرمائی حتیّٰ کہ جو لوگ اس موقعہ پر افسوس اور ہمدردی کے اظہار کے لئے آئے تھے ان کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود ہمارے ساتھ اس رنگ میں گفتگو فرماتے تھے کہ گویا صدمہ ہمیں پہنچا ہے اور آپ تسلی دینے والے ہیں۔ اس موقعہ پر آپ نے مبارک احمد کی قبر کے کتبہ کے لئے چند شعر بھی تحریر فرمائے جو آپ کے جذباتِ قلب کی عمدہ تصویر ہیں۔ ان میں سے دو اشعار نمونہ کے طور پر درج ذیل کئے جاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں :۔
    جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا
    وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر
    برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا
    بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل توجاں فدا کر
    بشپ آف لاہور کو مقابلہ کا چیلنج :۔ ۱۹۰۰ء میں لاہور میں ایک مشہور پادری ڈاکٹر لیفرائے
    ہوتے تھے جو لاہور کے لارڈ بشپ تھے اور پنجاب بھر کے عیسائیوں کے افسر اعلیٰ اور لیڈر تھے۔ یہ صاحب دوسرے مذاہب کے خلاف جارحانہ پالیسی کے مؤید تھے اور اسی غرض سے انہوں نے مسلمانوں کو یہ دعوت دی تھی کہ مسیح کے مقابلہ پر اپنے رسول کی معصومیت ثابت کر کے دکھائیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ تو ان موقعوں کی تلاش میں رہتے تھے آپ نے فوراً بشپ صاحب موصوف کے اس چیلنج کو قبول کر کے ان کے مقابلہ پر ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس بات پرخوشی ظاہر کی کہ بشپ صاحب کی سی پوزیشن کا انسان اس قسم کی تحقیق کے لئے آمادہ ہوا ہے مگر ساتھ ہی تشریح فرمائی کہ معصومیت کا مفہوم غلط فہمی پیدا کرنے کے علاوہ ایک نہایت محدود مفہوم ہے کیونکہ اوّل تو معصومیت کی تعریف میں مختلف قوموں کے درمیان بہت بڑا اختلاف ہو سکتا ہے یعنی ممکن ہے کہ ایک قوم کے نزدیک ایک بات گناہ میں داخل ہو اور دوسری کے نزدیک وہی بات کارِ ثواب سمجھی جائے پس کس معیار سے فیصلہ کیا جائے کہ کون زیادہ معصوم ہے ؟ علاوہ ازیں معصومیت کا حقیقی اظہار گناہ کی طاقت کے موجود ہونے سے ہوتا ہے اور جس شخص کو کسی خاص قسم کے گناہ یا ظلم یا بد اخلاقی کی طاقت ہی نہ ہو اسے اس گناہ یا ظلم یا بداخلاقی سے مجتنب رہنے کی وجہ سے معصوم یا قابل تعریف نہیں سمجھا جا سکتا ۔ پس اس لحاظ سے بھی حقیقی معصومیت کا فیصلہ آسان نہیں ہے۔ دوسرے محض معصومیت ایک منفی قسم کی خوبی ہے اور نہایت محدود پہلو رکھتی ہے اور اصل کمال یہ ہے کہ کسی انسان میں مثبت قسم کی خوبیاں اعلیٰ پیمانہ پر جمع ہوں پس آپ نے لکھا کہ گو میں ثابت کر سکتا ہوں کہ حقیقی معصومیت میں بھی مسیح ناصری کو آنحضرت ﷺ سے کوئی نسبت نہیں لیکن دنیا کو اس بحث سے چنداں فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ پس اگر بشپ صاحب کو واقعی سچائی کی تڑپ ہے تو مسیح اور مقدس بانی ٔ اسلام کے کمالات کے بارے میں ہم سے مقابلہ کر لیں۔ یعنی اصل موضوع یہ قرار دیا جائے کہ ’’ ان دونو نبیوں میں سے کمالات ایمانی اور اخلاقی اور برکاتی اور تاثیراتی اور قولی اور فعلی اور عرفانی اور علمی اور تقدسی اور طریق معاشرت کی رو سے کون نبی افضل اور اعلیٰ ہے۔ ‘‘ اور آپ نے لکھا کہ اگر بشپ صاحب کو یہ طریق منظور ہو تو ہمیں اطلاع دیں پھر ہماری جانب سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جائے گا۔
    اس کے بعد آپ نے اپنی جماعت کے بعض سر کردہ اشخاص کے ذریعہ بشپ صاحب کو پرائیویٹ خطوط بھی لکھوائے اور بار بار دعوت دی کہ وہ اس مقابلہ کے لئے آگے آئیں اور بعض معزز اخبارات مثلاً پانیئر الہ آباد وغیرہ نے بھی پر زور تحریک کی کہ بشپ صاحب کو اس مقابلہ کے لئے آگے آنا چاہئے مگر بشپ صاحب موصوف نے اس بودے اور فضول عذر پر انکار کر دیا کہ چونکہ مرزا صاحب مسیح ہونے کے مدعی ہیں جس میں ہمارے خدواند کی سخت ہتک ہے اس لئے میں ایسے شخص کے مقابلہ پر کھڑا نہیں ہو سکتا اور اس طرح ایک نہایت عمدہ موقعہ اسلام اور مسیحیت کے مقابلہ کا ضائع ہو گیا۔ لیکن ملک کے سمجھدار طبقہ نے محسوس کر لیا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔ ۱؎
    مگر عصمت انبیاء کے مسئلہ میں بھی حضرت مسیح موعود ؑ نے ڈاکٹر لیفرائے کے چیلنج کو خالی نہیں جانے دیا بلکہ اس مضمون پر رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان میں ایک سلسلہ مضامین لکھ کر تمام دوسرے مذاہب کے دانت کھٹے کر دئیے اور ثابت کیا کہ گو سارے نبی ہی اپنی جگہ معصوم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں گناہ کے ارتکاب سے بچاتا ہے کیونکہ ان کے ذریعہ اس نے دنیا میں ایک نمونہ قائم کرنا ہوتا ہے مگر حقیقی معصومیت صرف آنحضرت ﷺ کو حاصل ہے۔ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی زندگی عطا فرمائی جس میں آپ کو ہر شعبہ زندگی سے واسطہ پڑا اور آپ پر ہر فطری خلق کے اظہار کا موقعہ آیا یعنی آپ حاکم بھی بنے اور محکوم بھی ۔ دوست بھی بنے اور دشمن بھی ۔ بیٹا بھی بنے اور باپ بھی ۔ خاوند بھی بنے اور خسر بھی۔ جرنیل بھی بنے اور مدبر بھی۔ غریب بھی بنے اور امیر بھی۔ فاتح بھی بنے اور مفتوح بھی۔ معاہد بھی بنے اور حلیف بھی۔ مزدور بھی بنے اور آقا بھی۔ قارض بھی بنے اور مقروض بھی۔ عاشق بھی بنے اور معشوق بھی۔ غرض انسانی اخلاق کے ہر میدان میں آپ کا قدم پڑا اور آپ نے ہر میدان میں اعلیٰ اخلاق کا وہ نمونہ قائم کیا جس کی نظیر دنیا میں کسی جگہ نظر نہیں آتی۔ بھلا اس عالی شان اور دلوں کو مسخر کر لینے والے منظر کے مقابلہ میں حضرت مسیح ناصری یا کسی اور شخص کی کیا حیثیت ہے جنہیں زندگی کے بہت ہی تھوڑے شعبوں سے حصہ ملا اور ان میں بھی انہوں نے چند اصولی اور خیالی تعلیموں کے سوا دنیا کو کوئی عملی سبق نہیں دیا۔ پس ان کی معصومیت ایسی ہی ہے کہ جیسے ایک بکری یہ دعویٰ کرے کہ میں بھیڑیوں اور شیروں کو تکلیف نہیں دیتی اور نہ دوسرے جانوروں کو چیر پھاڑ کر اپنی غذا بناتی ہوں۔
    حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے ان مضامین میں یہ تشریح بھی فرمائی کہ یہ جو آنحضرت ﷺ کے متعلق قرآن شریف یا حدیث وغیرہ میں کہیں کہیں ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے یا بعض جگہ آپ کے استغفار کا ذکر آتا ہے یہ آپ کی معصومیت کے خلاف نہیں بلکہ اس سے آپ کی ارفع شان کا اور بھی کمال ظاہرہوتا ہے کیونکہ ذنب سے عربی زبان میں گناہ اور نافرمانی مراد نہیں جس کے لئے عربی میں اثم اور جرم اور فسق وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ بلکہ ذنب کا لفظ ایسی بشری کمزوریوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے اندر خلقی اور پیدائشی رنگ میں رکھی گئی ہیں ۔ مثلاً انسان کے علم کا محدود ہونا یا اس کی طاقتوں کا محدود ہونا یا اس کی عمر کا محدود ہونا وغیر ذالک ۔ پس آنحضرت ﷺ نے جو اپنے ذنوب یا کمزوریوں کے متعلق استغفار کی دعا کی ہے یا خد انے آپ کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے تیرے سارے ذنوب معاف فرما دئیے تو ان سے یہی خلقی اور پیدائشی کمزوریاں اور کوتاہیاں مراد ہیں جو ہر انسان کے ساتھ طبعاً لاحق ہیں۔ گویا آنحضرت ﷺ جب استغفار کرتے تھے تو بالفاظ دیگر آپ یہ دعا فرماتے تھے کہ خدایا میں تو تیرے دین کی اشاعت میں ہر طرح سے مصروف ہوں اور میں نے اپنی جان کو اس رستہ میں ہلاکت کے کنارے تک پہنچا رکھا ہے مگر میں بہر حال ایک انسان ہوں اس لئے باوجود میری اس کوشش کے پھر بھی جو خامی یا کمزوری باقی رہ جائے اسے تو اپنے فضل اور اپنی نصرت کے ہاتھ سے پورا فرما دے اور میری بشری کمزوریوں کو دین کی ترقی کے رستے میں روک نہ بننے دے۔ اور آپ کی اس دعا کے جواب میں خدا نے یہ وعدہ فرمایا کہ ہاں ہم تیری انسانی کمزوریوں کی خامی کو اپنے فضل اور نصرت کے ہاتھ سے خود پورا کر دیں گے ۔ پس جس قسم کے نام نہاد گناہ کی وجہ سے آپ پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کے کمال اور آپ کی ارفع شان کی دلیل ہے۔ مگر اس کے مقابل پر حضرت مسیح ناصری کا یہ حال ہے کہ باوجود خدائی کے دعویدار ہونے کے اور باوجود انسانی کمزوریوں سے بالا سمجھے جانے کے وہ اپنے متعلق صاف فرماتے ہیں کہ مجھے نیک نہ کہو نیک صرف ایک ہے جو آسمان میں ہے اور شیطان ان کی آزمائش کے لئے بار بار حیلے کر کے آتا ہے۔ ان حالات کے ہوتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ گناہگار سمجھنا اور حضرت مسیح ناصری کو معصوم قرار دینا پرلے درجہ کی جہالت اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۱؎
    خطبہ الہامیہ :۔ ۱۹۰۰ء کے شروع میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ہاتھ پر ایک نہایت لطیف اور علمی
    معجزہ ظاہر ہوا اور وہ یہ کہ جب اس سال کی عید الاضحی کا موقعہ آیاتو آپ کو خدا تعالیٰ نے الہاماً حکم دیا کہ تم عید کے موقعہ پر عربی زبان میں تقریر کرو اور ہم تمہاری مدد کریں گے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ نے کبھی عربی میں تقریر نہیں کی تھی آپ اس خدائی حکم کے ماتحت تقریر کے لئے کھڑے ہو گئے اور قادیان کی مسجد اقصیٰ میں قربانی کے مسئلہ پر ایک نہایت لطیف اور لمبی تقریر فرمائی۔ اس وقت آپ کی آنکھیں قریباً بند تھیں اور چہرہ پر سرخی کے آثار تھے اور آپ نہایت روانی کے ساتھ بولتے جاتے تھے اور تقریر لکھنے والوں کو آپ نے یہ تاکید کر رکھی تھی کہ اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آوے تو فوراً پوچھ لیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بعد میں مجھے بھی یاد نہ رہے۔ یہ تقریر بعد میں ’’ خطبہ الہامیہ ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے جس کے ابتدائی اڑتیس (۳۸) صفحے اصل خطبہ کے ہیں اور باقی حصہ آپ نے بعد میں زیادہ کیا ہے اور اس کتاب کے مطالعہ سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ صرف زبان کی فصاحت و بلاغت بلکہ مضامین کی لطافت اور ندرت کے لحاظ سے یہ تقریر ایک فوق العادت شان رکھتی ہے۔ آپ بعد میں فرماتے تھے کہ اس تقریر کے دوران میں بسا اوقات میرے سامنے غیب کی طرف سے لکھ ہوئے الفاظ پیش کئے جاتے تھے اور میں اپنے آپ کو ایسا خیال کرتا تھا کہ گویا خدا کے طاقتور ہاتھ میں ایک مردہ کی طرح پڑا ہوں اور وہ جس طرح چاہتا ہے میری زبان پر تصرف فرما رہا ہے۔
    ممانعت جہاد کا فتویٰ :۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ ابتداء دعویٰ سے ہی اپنے مشن کو
    ایک امن اور صلح کا مشن خیال کرتے تھے اور کسی خونی مسیح یا خونی مہدی کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی مذہب کے معاملہ میں جبر اور تشدد کو جائز سمجھتے تھے۔ لیکن اب ۱۹۰۰ء میں آکر آپ نے ایک باقاعدہ فتویٰ کے ذریعہ اس بات ا اعلان فرمایا کہ اگر آنحضرت ﷺ نے اسلام کے لئے تلوار کا جہاد کیا تو آپ اس کے لئے اپنے دشمنوں کی پیش دستی کی وجہ سے مجبور تھے لیکن موجودہ زمانہ میں یہ حالات نہیں ہیں بلکہ ملک میں ایک پر امن اور مستحکم حکومت قائم ہے۔ جس نے ہر قسم کی مذہبی آزادی دے رکھی ہے پس آجکل دین کے لئے تلوار نکالنے کا خیال ایک بالکل باطل اور خلاف اسلام خیال ہے اور آپ نے لکھا کہ یہ جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود جزیہ اور جنگ کو موقوف کر دے گا تو اس ا بھی یہی مطلب ہے کہ اس کا زمانہ امن کا زمانہ ہو گا اس لئے تلوار کی حاجت نہیں رہے گی اور دلائل اور براہین کے زور سے اسلام کی تبلیغ ہو گی چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ حدیثوں میں پہلے سے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے …… میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے ۔ خداتعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔ پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے ……لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔ جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچائو۔مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔ ‘‘ ۱؎
    جماعت کا نام احمدی رکھا جانا :۔ اب ۱۹۰۱ء کا سال شروع ہونے والا تھا جبکہ ملک میں حکومت
    کی طرف سے مردم شماری ہونے والی تھی ۔ جماعت کے لئے یہ پہلی مردم شماری تھی اور ضروری تھا کہ جماعت کا کوئی نام مقرر کر دیا جاوے جو اسے دوسرے اسلامی فرقوں سے ممتاز کر دے۔ اس پر آپ نے ۱۹۰۰ء کے آخر میں ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ آئندہ آپ کی قائم کردہ جماعت کا نام جماعت احمدیہ ہو گا اور یہ کہ اسی نام کے ماتحت مردم شماری میں آپ کے متبعین کا ذکر ہونا چاہئے۔ چنانچہ اس کے بعد سے آپ کی جماعت ’’جماعت احمدیہ‘‘ اور آپ کے ماننے والے ’’احمدی‘‘ کہلانے لگے۔ مگر یہ ایک بہت افسوس اور تکلیف کی بات ہے کہ مخالفین نے اس چھوٹے سے معاملہ میں بھی اپنی بداخلاقی کا ثبوت دیا ہے اور بجائے اس نام کو استعمال کرنے کے جو جماعت نے اپنے لئے پسند کیا ہے وہ انہیں ’’مرزائی ‘‘ یا ’’قادیانی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا تو کچھ نہیں بگڑتا مگر یقینا ان کے اپنے اخلاق پر اچھی روشنی نہیں پڑتی۔
    احمدی نام کی وجہ حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ بیان فرمائی کہ قرآن شریف اور احادیث سے ظاہر ہوتاہے کہ آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں مقدر تھیں۔ ایک جلالی بعثت تھی جو خود آپ کے وجود باوجود کے ذریعہ محمد ؐ نام کے ماتحت ہوئی اور دوسری جمالی بعثت مقدر تھی جو ایک ظِلّ اور بروز کے ذریعہ احمد ؐ نام کے ماتحت ہونی تھی اور آپ نے لکھا کہ چونکہ یہ ظِلّ اور بروز میں ہوں اس لئے میں نے خدا کے منشاء کے ماتحت اپنی جماعت کا نام جماعت احمدیہ رکھا ہے۔ ۱؎
    یہ بتایا جا چکا ہے کہ پہلے دن جبکہ حضرت مسیح موعود ؑ نے لدھیانہ میں سلسلہ بیعت شروع فرمایا تو آپ کے ہاتھ پر چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی۔ یہ مارچ ۱۸۸۹ء کا واقعہ ہے یہ چالیس اصحاب قریباً سارے کے سارے وہ لوگ تھے جو ایک عرصہ سے آپ کے اثر کے ماتحت آکر آپ کی صداقت اور روحانی کمال کے قائل ہو چکے تھے۔ اس کے بعد بیعت کا سلسلہ آہستہ آہستہ جاری رہا۔ حتیّٰ کہ ان اصحاب کی فہرست سے جو آپ نے ۱۸۹۶ء کے آخر میں تیار کی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں معروف بیعت کنندگان کی تعداد ۳۱۳ تھی۔ اس فہرست میں استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر عورتوں اور بچوں کے نام شامل نہیں تھے اور نہ ہی غیر معروف احمدیوں کے نام شامل تھے جنہیں ملا کر اس وقت تک یعنی ۱۸۹۶ء کے آخر تک جماعت احمدیہ کی مجموعی تعداد ڈیڑھ دو ہزار سمجھی جا سکتی ہے۔
    یہ زمانہ جماعت کے لئے ایک نہایت سخت زمانہ تھا جسے ایک اونچے اور تیز ڈھال والے پہاڑ کی چڑھائی سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔ بے شک جماعت کی ترقی کا قدم کبھی نہیں رکا لیکن اس خطرناک مخالفت کے مقابلہ پر جس نے جماعت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اس کی رفتار اس قدر دھیمی تھی کہ اس کے دشمن ہر آن یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ بس یہ سلسلہ آج بھی مٹا اور کل بھی مٹا۔ اور خود حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے بھی یہ ابتدائی زمانہ سخت پریشانی اور گھبراہٹ کا زمانہ تھا اور جماعت کی یہ رینگنے والی چال آپ کی بجلی کی طرح اڑنے والی روح کو بیتاب کر رہی تھی۔ مگر آپ جانتے تھے کہ ہر نبی کے زمانہ میں یہی ہوا کرتا ہے اور یہ کہ اس سخت امتحان میں سے گزرنے کے بغیر چارہ نہیں اور خود جماعت کی مضبوطی اور اخلاص کی ترقی کے لئے بھی یہ مخالفت ضروری ہے۔ پس آپ نے ہمت نہیں ہاری اور آپ کی فولادی میخیں آہستہ آہستہ مگر یقینی اور قطعی صورت میں آگے ہی آگے دھستی گئیں حتیّٰ کہ اس زمانہ میں جس کا ہم اس وقت ذکر کر رہے ہیں یعنی انیسویں صدی کے انتہاء اور بیسیویں صدی کے آغاز میں جماعت احمدیہ کی تعداد حضرت مسیح موعود ؑ کے اپنے اندازے میں تیس ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔ یہ تعداد جماعت کی ابتداء کے لحاظ سے کافی بڑی تعداد تھی مگر اس کے انتہاء اور اس کی غرض و غایت کے لحاظ سے اتنی بھی نہیں تھی جسے آٹے میں نمک کہا جا سکے اور ابھی آپ کا کام ایک فلک بوس پہاڑ کی طرح آپ کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ درست ہے کہ نبی کا کام صرف تخم ریزی کرنا ہوتا ہے مگر تخم ریزی کا کام بھی کچھ وقت لیتا ہے اور پھر کونسا باغبان یہ خواہش نہیں رکھتا کہ وہ اپنی تخم ریزی کا تھوڑا سا ثمرہ خود اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لے۔ بے شک نبی کا کام نفسانیت پر مبنی نہیں ہوتا اور وہ اپنے بعد میں آنیوالی ترقیوں کو بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے جس طرح وہ اپنے وقت کی ترقیوں کو دیکھتا ہے مگر پھر بھی وہ انسان ہوتا ہے اور اس کا دل ان جذبات سے خالی نہیں ہوتا کہ ان ترقیوں کی تھوڑی سی جھلک اسے بھی نظر آجاوے۔ یقینا وہ مٹی میں چھپے ہوئے بیج کو بھی ایک درخت کی صورت میں دیکھتا ہے مگر اس کے بشری جذبات کا دل اس خواہش سے بالا نہیں ہوتا کہ میں کم از کم اس بیج کو مٹی سے باہر نکلتا ہوا تو دیکھ لوں یہ وہ جذبات تھے جو ان دنوں میں حضرت مسیح موعود ؑ کے دل و دماغ پر غلبہ پائے ہوئے تھے اور اس تیز رو سوار کی طرح جس کے گھوڑے کے پائوں میں زنجیریں پڑی ہوئی ہوں آپ ان زنجیروں کو توڑ کر ہوا ہو جانے کے لئے بے چین ہو رہے تھے۔ خدا نے اپنے فضل سے آپ کو اس دن کی تھوڑی سی روشنی دکھا بھی دی کہ جب آپ کی تیار کردہ جماعت اڑنے کے قابل تو نہیں مگر تیز رفتاری سے چلنے کے قابل ہو گئی۔ لیکن ان حالات کے بیان کے لئے اگلے اوراق ہیں جن کے لئے ہمیں جلدی کی ضرورت نہیں۔
    اس وقت تک جو جماعت کی ترقی ہوئی اس کے اسباب مختلف تھے جن میں سے ہم بعض کو اس جگہ اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں :۔
    اوّل ایک بہت بڑا نہایت مؤثر سبب خود حضرت مسیح موعود ؑ کی ذات تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقناطیسی وجود عطا کیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ مناسبت رکھنے والی روح کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا تھا اور یہ بات حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ ہی خاص نہیں تھی بلکہ ہر نبی کی کامیابی کا ایک بڑا ذریعہ اس کا ذاتی اثر ہوتا ہے۔ بے شک یہ درست ہے کہ یہ ذاتی اثر کسی نبی میں کم ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کے وجود میں یہ اثر آپ کے متبوع حضرت محمد ﷺ کی طرح اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    اگر خواہی دلیلے عاشقش باش
    محمدؐ ہست برہان محمدؐ
    ’’ یعنی اے حق کے متلاشی انسان! اگر تو محمد ﷺ کی صداقت کی دلیل چاہتا ہے تو آپ کا عاشق بن جا کیونکہ محمد ﷺ کی سب سے بڑی دلیل خود محمد ﷺ کا اپنا وجود ہے۔ ‘‘ یہی دلیل اسی صداقت اور اسی زور کے ساتھ حضرت مسیح موعود ؑ پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔ سینکڑوں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے صرف حضرت مسیح موعود ؑ کا چہرہ دیکھ کر بغیر کسی دلیل کے آپ کو مان لیا اور ان کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ سینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جو چند دن کی صحبت میں رہ کر ہمیشہ کے لئے رام ہو گئے اور پھر انہوں نے آپ کی غلامی کو سب فخروں سے بڑا فخر جانا۔
    غرض آپ کی کامیابی کا ایک بڑا سبب آپ کی ذات اور آپ کا اخلاقی اور روحانی اثر تھا۔ یہ درست ہے کہ بعض لوگوں نے باوجود آپ کے ساتھ ملنے اور آپ کی مجلس میں آنے جانے کے آپ کو نہیں مانا لیکن یہ آپ کا قصور نہیں بلکہ خود ان لوگوں کا اپنا قصور تھا ۔ کیونکہ ایک بڑے سے بڑا مقناطیس بھی مٹی کے ڈھیلے کو نہیں کھینچ سکتا اور ایسے سفلی لوگوں کا وجود ہر نبی کے زمانہ میں پایا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی مقناطیسی طاقت کم نہیں سمجھی جا سکتی حضرت مسیح موعود کو اپنی اس خداداد طاقت کا خود بھی احساس تھا چنانچہ آپ اپنے مخالفوں کو اکثر کہا کرتے تھے کہ چند دن مخالفت چھوڑ کر میری صحبت میں آکر رہو اور پھر میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے خود کوئی رستہ کھول دے گا۔ بعض لوگوں نے آپ کے اس روحانی اثر کو سحرا اور جادو کے نام سے تعبیر کیا اور مشہور کیا کہ مرزا صاحب کے پاس کوئی نہ جائے کیونکہ وہ جادو کر دیتے ہیں۔ مگر یہ جادو نہیں تھا بلکہ آپ کی روحانیت کی زبردست کشش تھی جو سعید لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی اور روحانی اثر کے علاوہ آپ کے اخلاق بھی ایسے اعلیٰ اور ارفع تھے کہ ہر شخص جس کو آپ کے ساتھ واسطہ پڑتا تھا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔
    دوسرا بڑا سبب وہ نشانات اور معجزات تھے جو آپ کو خدا تعالیٰ نے عطا کئے تھے جن کا مجموعی اثر بھی ایک مقناطیسی طاقت سے کم نہیں تھا اور آپ کے نشانات چند قسم پر منقسم تھے ۔
    (الف) نشانات کی پہلی قسم وہ پیشگوئیاں تھیں جو آپ خدا سے علم پا کر کرتے تھے جن میں دوستوں اور دشمنوں اور افراد اور قوموں سب کے متعلق آئندہ کی خبریں ہوتی تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہو کر لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرتی تھیں اور آپ کی پیشگوئیوںمیں علم اور قدرت ہر دو کا اظہار ہوتا تھا۔ کیونکہ یہی وہ دو ستون ہیں جن پر خدا کی حکومت قائم ہے۔ مگر پیشگوئیوں کے معاملہ میں آپ یہ تشریح فرمایا کرتے تھے کہ ان سے بالعموم ایسی صورت پیدا نہیں ہوتی جسے دن کی تیز روشنی سے تشبیہہ دے سکیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایمان کا کوئی فائدہ نہیں رہتا اور نہ کوئی شخص ثواب کا مستحق بن سکتا ہے پس آپ فرماتے تھے کہ معجزات سے صرف اس حد تک روشنی پیدا ہوتی ہے جسے بادلوں والی چاندنی رات کی روشنی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایمان کا کوئی فائدہ نہیں رہتا اور نہ کوئی شخص ثواب کا مستحق بن سکتا ہے پس آپ فرماتے تھے کہ معجزات سے صرف اس حد تک روشنی پیدا ہوتی ہے جسے بادلوں والی چاندنی رات کی روشنی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جس میں دیکھنے والے تو رستہ دیکھ لیتے ہیں مگر کمزور نظر والوں کے لئے شبہ کی بھی گنجائش رہتی ہے۔ آپ کی جماعت کے ہزاروں لوگوں نے پیشگوئیوں کا نشان دیکھ کر آپ کو قبول کیا۔
    (ب) نشانات کی دوسری قسم قبولیت دعا کے نمونے ہیں۔ آپ کو یہ دعویٰ تھا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے وہ آپ کی دعائوں کو خاص طور پر سنتا ہے اور انہیں قبولیت کا مرتبہ عطا کرتا ہے مگر آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ دعائوں کی قبولیت سے یہ مراد نہیں کہ ہر دعا ہر حال میں سنی جاتی ہے۔ بلکہ اس معاملہ میں بندے کے ساتھ خدا کا سلوک دوستانہ رنگ رکھتا ہے کہ وہ اکثر دعائیں سنتا اور مانتا ہے لیکن بعض اوقات اپنی بھی منواتا ہے اور اس بات کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ اس کا بندہ اس کی بات کو کہاں تک خوشی اور انشراح کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ بہرحال بہت سے لوگوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کو دعائوں کی قبولیت کے نشان سے شناخت کیا۔ کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ لوگ کسی مصیبت یا تکلیف کے وقت میں آپ کو دعا کے لئے لکھتے تھے اور بظاہر حالات کامیابی محال نظر آتی تھی مگر آپ کی دعا سے خدا کامیابی عطا فرماتا تھا۔ یا آپ کی بد دعا سے دشمنوں کو ہلاک کرتا تھا۔
    (ج) نشانات کی تیسری قسم خدائی نصرت ہے جو مجموعی طور پر ہر ایک صادق کے حق میں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔اس دلیل سے بھی بہت سے لوگوں نے آپ کو مانا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ یہ ایک اکیلا شخص اٹھا ہے جو بالکل بے سرو سامان ہے اور سارا ملک اس کے خلاف ہے مگر پھر بھی خدا ہر میدان میں اسے کامیابی عطا کرتا ہے اور اس کے مخالف باوجود ہر قسم کے سازو سامان سے آراستہ ہونے کے اور باوجود اپنی کثرت کے اس کے سامنے ذلیل اور مغلوب ہوتے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    کبھی نصرت نہیں ملتی درِ مولی سے گندوں کو
    کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
    (د) نشانات کی چوتھی قسم وہ خوابیں وغیرہ تھیں جو دوسرے لوگوں کو آپ کی صداقت کے متعلق آئیں اور اس ذریعہ سے بھی ہزاروں لوگوں نے آپ کو مانا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں بڑی کثرت کے ساتھ لوگوں کو اس قسم کی خوابیں آتی تھیں یا بعض اوقات الہام بھی ہوتا تھا جن میں یہ بتایا جاتا تھا کہ آپ سچے اور خدا کی طرف سے ہیں حتیّٰ کہ بعض خوابیں مخالفوں کو بھی آئیں جن میں سے بعض نے تو اپنی مخالفت کو ترک کر کے غلامی اختیار کر لی مگر بعض خوابوں کی تاویل کر کے مخالفت پر جمے رہے۔
    تیسرا بڑا سبب آپ کی کامیابی کا وہ دلائل اور براہین تھے جو آپ نے اپنی صداقت میں پیش کئے جو منقولی اور معقولی دونوں رنگ کے تھے۔ یہ دلائل ایسے زبردست تھے کہ کوئی غیر متعصب عقلمند انسان ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپ نے قرآن سے ،حدیث سے ،دوسرے مذاہب کے اقوال سے ،تاریخ سے اور عقل خداداد سے اپنی تائید میں دلائل کی ایسی عمارت کھڑی کر دی کہ لوگ اسے دیکھ دیکھ کر مرعوب ہوتے تھے اور جو اب کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ بے شک آپ کے مقابل پر آپ کے مخالفین بھی خاموش نہیں تھے اور وہ بھی اپنی طرف سے بعض کمزور حدیثیں یا بعض ذومعنیین اور متشابہ قرآنی آیات پیش کرتے تھے اور سلف صالح کے اقوال کا ایک حصہ بھی ان کے ہاتھ میں تھا مگر اس ریت کے تودہ کو حضرت مسیح موعود ؑ کے قلعہ سے کوئی نسبت نہیں تھی اور عقلمند لوگ اس فرق کو دیکھتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
    چوتھا بڑا سبب وہ دلکش اور خوبصورت تصویر تھی جو حضرت مسیح موعود ؑ نے اسلام کی پیش فرمائی جو ہر سمجھدار شخص کے دل کو مسخر کرتی تھی اور اس کے مقابل پر اسلام کا جو نقشہ غیر احمدی علماء پیش کرتے تھے وہ اپنے اندر کوئی خاص کشش نہیں رکھتا تھا۔ آپ نے نہ صرف اسلام کے چہرہ سے اس کی صدیوں کی میل کو دھویا بلکہ قرآن شریف سے وہ وہ معارف نکال کر دنیا کے سامنے پیش کئے کہ دشمن بھی پکار اٹھا کہ اسلام کی یہ تصویر نہایت خوبصورت اور دلکش ہے اور اس صورت حال نے لازماً لوگوں کو آپ کی طرف کھینچا۔
    پانچواں بڑا سبب آپ کا وہ جہاد تھا جو آپ اسلام کی خدمت میں دن رات کر رہے تھے۔ آپ کی یہ والہانہ خدمت بڑے سے بڑے دشمن کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلواتی تھی کہ یہ شخص اسلام کا بے نظیر فدائی اور اس کا عاشقِ زار ہے جسے دن رات اسلام کی خدمت کے سوا کوئی خیال نہیں۔ اس حالت کو دیکھ کر سمجھدار لوگ ایک گہرے فکر میں پڑ جاتے تھے کہ ایک طرف تو مرزا صاحب علماء کی نظر میں کافر اور بے دین ہیں اور دوسری طرف انہیں اسلام کا اس قدر درد ہے کہ بے دین کہنے والے تو پڑے سوتے ہیں مگر مرزا صاحب ہر قسم کے آرام کو اپنے اوپر حرام کر کے اسلام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ اس پر جو لوگ سعید الفطرت تھے وہ مجبور ہو کر آپ کی طرف کھچے آتے تھے۔
    چھٹا بڑا سبب وہ نیک اثر تھا جو آپ نے اپنی جماعت میں پیدا کیا جس کی وجہ سے آپ کا ہر متبع خدمت دین کا متوالا ہو رہا تھا۔ لوگ دیکھتے تھے کہ پہلے ایک انسان بے دین اور اسلامی تعلیم سے ٹھٹھا اور ہنسی کرنے والا ہوتا ہے لیکن جونہی کہ وہ آپ کی جماعت میں داخل ہوتا ہے وہ ایک دیندار۔ خدا سے ڈرنے والا۔ اسلام سے محبت کرنے والا۔ اسلام کی تعلیم پر دلی شوق سے عمل کرنے والا اور اسلام کی خدمت میں اپنی روح کی غذا پانے والا بن جاتا ہے۔ اس نظارے کو دیکھ کر ان کے دل کہتے تھے کہ یہ پاک پھل ایک گندے درخت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔
    یہ وہ اسباب تھے جو آپ کی تائید میں کام کر رہے تھے مگر مخالف بھی خالی ہاتھ نہیں تھا کیونکہ شیطان نے اس کے ہاتھ میں بھی کچھ گولہ بارود دے رکھا تھا۔ چنانچہ مخالفت کے موٹے موٹے اسباب یہ تھے۔
    (۱) حضرت مسیح موعود ؑ کے بہت سے عقائد اور خیالات موجود الوقت مسلمانوں کے معروف عقائد کے خلاف تھے۔ مثلاً مسیح کی وفات کا عقیدہ۔ اصل مسیح ناصری کی بجائے کسی مثیل مسیح کا نزول ۔ مسیح اور مہدی کا ایک ہی ہونا۔ خونی اور جنگی مہدی سے انکار۔ جہاد بالسیف کی ممانعت۔ ملائکۃ اللہ کے نزول کی تشریح۔ دجال کی تشریح وغیرہ وغیرہ ۔ ان اختلافات کی وجہ سے عوام آپ کو اسلام سے منحرف اور دین میں ایک نئی راہ نکالنے والا خیال کرتے تھے اور آپ کی باتوں پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
    (۲) مسلمان علماء کا یہ فتویٰ کہ آپ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور آپ سے کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں عوام کے رستے میں ایک بھاری روک تھی۔
    (۳) آپ کی بعض پیشگوئیوں میں وہ بادل کا سا سایہ جو خدا کی طرف سے ایک ابتلا اور آزمائش کے طور پر رکھا جاتا ہے اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے معیار میں اختلاف جو آپ کے اور آپ کے مخالف علماء میں پایا جاتا تھا وہ بھی عوام الناس کے لئے ایک روک تھا۔ یعنی آپ یہ فرماتے تھے کہ چونکہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس لئے توبہ اور استغفار سے عذاب ٹل جاتا ہے اور اسی لئے وعید کی پیشگوئیاں بعض اوقات جبکہ دوسرا فریق خائف ہو کر دب جاوے ٹل جایا کرتی ہیں اور آپ دوسرے نبیوں کے حالات میں ان کی مثالیں بھی دیتے تھے مگر آپ کے مخالف یہ کہتے تھے کہ نہیں بلکہ وعدہ ہو یا وعید جو بھی کسی پیشگوئی کے الفاظ ہوں وہ بہر حال اپنی ظاہری صورت میں پورے ہونے چاہئیں۔
    (۴) آپ کو ماننے سے ایک تلخی اور قربانی کی زندگی اختیار کرنی پڑتی تھی جس کے لئے اس زمانہ کے مسلمان اور دوسرے لوگ تیار نہیں تھے۔
    (۵) وہ قدرتی تعصب جو ہر نئے سلسلہ کے متعلق ہوا کرتا ہے وہ آپ کے سلسلہ کے متعلق بھی کام کر رہا تھا۔
    ان اسباب کی وجہ سے آپ کی جماعت کی رفتار ترقی ابتداء میں دھیمی تھی اور ایک رسہ کشی کی سی کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ مگر پھر بھی باوجود خطرناک مخالفت کے آپ کی جماعت آہستہ آہستہ قدم بقدم (مگر اس طرح کہ ہر اگلا قدم پچھلے قدم کی نسبت کسی قدر تیز اٹھتا تھا) کامیابی کی چوٹی کی طرف چڑھتی چلی جا رہی تھی۔ یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ مخالفت کی طاقتیں جماعت احمدیہ کو زور کے ساتھ نیچے کھینچ رہی تھیں۔ خدائی ابتلائوں کے بادل بھی ان پر بعض اوقات اندھیرا کر دیتے تھے اور گاہے گاہے ان کی اپنی کمزوریوں سے بھی ان کا سانس پھولنے لگتا تھا۔ مگر انچ انچ۔ چپہ چپہ ۔ بالشت بالشت۔ ان کا قدم اوپر اٹھتا جا رہا تھا۔ اور جس طرح آنحضرت ﷺ کا دل بدر کی جنگ میں جو اسلام اور کفر کی موت و حیات کی جنگ تھی آپ کے سینہ میں اچھلتا اور گرتا تھا اور آپ بے چین ہو ہو کر یہ دعا کر رہے تھے کہ ’’ اے میرے آقا اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت اس میدان میں ہلاک ہو گئی تو پھر دنیا کے پردے پر تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ ‘‘ اسی طرح اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کا دل انتہائی اضطراب اور کرب میں خدا کی رحمت کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ کب آپ کی طرف لمبا ہوتا ہے۔
    اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اس وقت تک جماعت احمدیہ کی تعداد قریباً تیس ہزار تک پہنچ چکی تھی اور یہ تعداد صرف پنجاب تک محدود نہیں تھی بلکہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں پائی جاتی تھی مثلاً صوبہ سرحد ،کشمیر ،یوپی ،بمبئی ،حیدر آباد دکن ،مدراس ،بہار ،بنگال وغیرہ میں جماعت قائم ہو چکی تھی اور ہندوستان سے باہر بھی مشرقی افریقہ میں احمدیت کا خمیر پہنچ چکا تھا اور خال خال احمدی عرب وغیرہ ممالک میں بھی پائے جاتے تھے اور اس اشاعت کا باعث بیشتر طور پر حضرت مسیح موعود ؑ کی تصنیفات تھیں اور دوسرے درجہ پر آپ کے مخلصین کی تبلیغی کوششیں بھی اس میں ممد ہوئی تھیں جن میں سے ہر فرد ایک پر جوش مبلغ تھا۔
    مقدمہ دیوار اورہدم دیوار :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف جو مخالفت کا طوفان برپا تھا اس کا
    ایک پہلو یہ بھی تھا کہ آپ کے مخالفین نے آپ کے بعض رشتہ داروں کو اکسا کر انہیں بھی مخالفت میں کھڑا کر دیا تھا۔ یہ لوگ بوجہ اپنی بے دینی اور بداخلاقی کے ویسے بھی حضرت مسیح موعود ؑ کے مخالف تھے لیکن مخالفوں نے انہیں اکسا اکسا کر اور بھی زیادہ تیز کر دیا تھا۔ ان میں سے دو آدمی یعنی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین صاحبان ایذا رسانی میں خاص طور پر بڑھے ہوئے تھے۔ یہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے چچا کے لڑکے تھے مگر باوجود اس قرابت کے ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود ؑ کے چچا کے لڑکے تھے مگر باوجود اس قرابت کے ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود ؑ کی دشمنی کی آگ شعلہ زن تھی اور وہ کوئی موقعہ آپ کو دکھ پہنچانے کا ضائع نہیں جانے دیتے تھے اور چونکہ ان کا مکان حضرت مسیح موعود ؑ کے مکان کے ساتھ ملحق تھا اور ویسے بھی انہیں قادیان میں حقوق ملکیت حاصل تھے اس لئے ان کا وجود گویا ایک مار آستین کا رنگ رکھتا تھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے انہیں کبھی تکلیف نہیں دی بلکہ ہمیشہ احسان اور مروت کا سلوک کیا مگر باوجود اس کے ان کی مخالفت دن بدن بڑھتی ہی گئی۔ بالآخر ۱۹۰۰ء میں انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ اور آپ کے متبعین کو تنگ کرنے کی یہ تدبیر نکالی کہ سراسر ظلم اور سینہ زوری کے ساتھ اس رستہ کو دیوار کھینچ کر بند کر دیا جو حضرت مسیح موعود ؑ کے مہمان خانہ اور آپ کے گھر اور مسجد کو ملاتا تھا۔ اس شرارت نے قادیان کے غریب احمدی مہاجرین پر ان کا عرصۂ عافیت تنگ کر دیا کیونکہ اب انہیں مسجد میں آنے اور حضرت مسیح موعود ؑ سے ملنے کے لئے قصبہ کے اندر ایک بڑا چکر کاٹ کر پہنچنا پڑتا تھا اور ایسے حصوں میں سے گزرنا پڑتا تھا جو سلسلہ کے اشد معاندین سے آباد تھا۔ آخر مجبور ہو کر حضرت مسیح موعود ؑ کو قانونی چارہ جوئی کرنی پڑی۔ اور آپ کی زندگی میں یہی ایک منفرد مثال ہے کہ جب آپ کسی کے خلاف مدعی بنے۔ آپ اب بھی اس پوزیشن میں نہیں آنا چاہتے تھے مگر وکلاء کا یہ مشورہ تھا کہ چونکہ یہ رستہ خاندان کا پرائیویٹ رستہ ہے اس لئے آپ کے سوا کسی اور شخص کو قانونی چارہ جوئی کا حق نہیں پہنچتا۔ اس لئے مجبوراً آپ کو مدعی بننا پڑا۔ آخر ایک لمبے مقدمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو فتح دی اور عدالت کے حکم سے یہ دیوار گرا دی گئی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کامیابی پر خدا کا شکر ادا کیا اور خاموش ہو گئے۔ اور آپ کو اس بات کا خیال بھی نہیں آیا کہ دوسرے فریقی پر خرچہ بھی پڑا ہے۔ لیکن آپ کے وکیل نے آپ کی اطلاع کے بغیر خرچہ کی ڈگری لے کر اس کا اجراء کرا دیا۔ جب اس روپے کی وصولی کے لئے سرکاری آدمی قادیان میں پہنچا تو اتفاق سے اس وقت حضرت مسیح موعود ؑ قادیان سے غیر حاضر تھے اور گورداسپور گئے ہوئے تھے۔ آپ کی غیر حاضری میں ہی سرکاری آدمی نے مرزا صاحبان مذکور سے خرچہ کا مطالبہ کیا اور چونکہ ان کے پاس اس وقت اس قدر رقم موجود نہیں تھی اس لئے وہ ضابطہ کے مطابق قرقی کی کارروائی کرنے پر مجبور ہوا۔ اس پر ان لوگوں نے راتوں رات ایک آدمی کو اپنا ایک خط دے کر گورداسپور بھجوایا اور حضرت مسیح موعود ؑ سے استدعا کی کہ ہمیں اس ذلت سے بچایا جاوے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ اپنے آدمیوں پر خفا ہوئے کہ خرچہ کی ڈگری کا اجراء کیوں کرایا گیا ہے اور نہ صرف خرچہ کی رقم معاف کر دی بلکہ معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ تکلیف پہنچی ہے۔ یہ مقدمہ ۱۹۰۰ء میں شروع ہوا تھا اور ۱۹۰۱ء میں اس کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی۔
    اس وقت تک حضرت مسیح موعود ؑ کی عملی مخالفت زیادہ تر علماء کی طرف سے تھی اور گو سجادہ نشینوں اور پیروں کا طبقہ بھی مخالف تھا۔ مگر ابھی تک ان کی مخالفت نے کوئی عملی صورت اختیار نہیں کی تھی لیکن اس زمانہ میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس طبقہ کا ایک نامور نمائندہ بھی آپ کے خلاف میدان میں آیا اور آپ کے مقابلہ میں طاقت آزمائی کرنی چاہی۔ یہ صاحب گولڑہ ضلع راولپنڈی کے ایک مشہور پیر تھے جن کا نام مہر علی شاہ تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف دو کتابیں لکھ کر شائع کیں جن میں بہت کچھ لاف زنی کے علاوہ حضرت مسیح موعود ؑ کے لاف ناگوار حملے بھی کئے اور آپ کو اپنے مقابلہ کے لئے دعوت دی۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس خیال سے کہ یہ صاحب ایک نئے طبقہ کے آدمی ہیں اور ممکن ہے کہ سجادہ نشینوں میں ہل چل ہونے سے پیروں کے ماننے والے لوگوں میں کوئی مفید حرکت پیدا ہو جائے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور گولڑوی صاحب کے جواب میں دو زبردست کتابیں لکھ کر شائع فرمائیں۔ ایک کا نام ’’ تحفہ گولڑویہ ‘‘ تھا جس میں آپ نے قرآن و حدیث سے اپنے دعاوی مسیحیت اور مہدویت کو ثابت کیا اور اپنے تائید میں ایسے زبردست دلائل دئیے کہ جن سے مخالفین کے دانت کھٹے کر دئیے ۔یہ کتاب آپ کے دعاوی کے دلائل کے لحاظ سے غالباً سب سے زیادہ جامع ہے۔
    دوسری کتاب جو آپ نے پیر گولڑوی صاحب کے مقابلہ میں لکھ کر شائع فرمائی اس کا نام ’’اعجاز المسیح ‘‘ تھا ۔ اس کتاب میں آپ نے عربی زبان میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھی جو نہ صرف زبان کے لحاظ سے بلکہ اپنی معنوی لطافت کے لحاظ سے بھی نہایت بلند پایہ رکھتی ہے۔ آپ نے اس کتاب کے لکھنے سے پہلے ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ اس بات کا اعلان فرمایا کہ پیر صاحب کو قرآن شریف کے علم کا دعویٰ ہے اور وہ اپنے آپ کو روحانی امام و مقتداء بھی سمجھتے ہیں اگر ان میں ہمت ہے تو میرے سامنے آکر تفسیر نویسی میں مقابلہ کر لیں تا کہ دنیا کو پتہ لگ جائے کہ کس کا دعویٰ حق و صداقت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کس کے ساتھ ہے اور آپ نے اس کے لئے ستر دن کی میعاد مقرر فرمائی یعنی لکھا کہ میں بھی ستر دن کے اندر ایک تفسیر عربی زبان میں لکھ کر شائع کرتا ہوںاور پیرصاحب بھی شائع کریں اور پھر دیکھا جائے کہ غلبہ کس کو حاصل ہوتا ہے اور آپ نے پیر صاحب کو یہ بھی اجازت دی کہ وہ اگر چاہیں تو ملک کے دوسرے پیروں اور مولویوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے تو مقررہ میعاد کے اندر اندر یعنی ۲۵؍ فروری ۱۹۰۱ء سے قبل سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھ کر شائع فرما دی حالانکہ اس عرصہ میں آپ قریباً ایک ماہ تک علیل بھی رہے مگر پیر صاحب ا ور ان کے رفقاء ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے اور جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود ؑ کی یہ تفسیر نہ صرف زبان کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ رکھتی ہے بلکہ معارف اور علوم قرآنی کا بھی ایک عظیم الشان خزانہ ہے جو صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کتاب کی خوبی کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو مصر کے دو مشہور اخباروں یعنی ’’مناظر‘‘ اور ’’ الھلال‘‘ نے اس کی زبان کی بہت تعریف کی اور ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا کہ یہ واقعی ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی نظیر لانی مشکل ہے۔ ۱؎
    ظلّی نبوت کا دعویٰ اور ختم نبوت کی تشریح :۔ اب ہم بیسوی صدی میں داخل ہو چکے ہیں اور
    ۱۹۰۱ء کا ابتداء اپنے ساتھ تازہ نشانوں کی روشنی کو لایا ہے چنانچہ رسالہ ’’اعجاز المسیح‘‘ کی معجزانہ تصنیف جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے وہ اسی سال کے ابتدائی ایام میں انجام پذیر ہوئی تھی۔ اسی سال میں حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک لمبے اشتہار کے ذریعہ جس کا نام ’’ ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ہے اس بات کابھی اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آنحضرت ﷺ کی اتباع میں اور آپ کے روحانی فیض کی برکت سے ظلی اور بروزی رنگ میں نبوت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ نبوت اور رسالت کا دعویٰ آپ کی کتب میں پہلے بھی آچکا تھا اور آپ کے بہت سے الہاموں میں بھی آپ کے متعلق یہ الفاظ وارد ہو چکے تھے مگر مسلمانوں کے اس معروف عقیدہ کے ماتحت کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا آپ ان الفاظ کی تاویل فرما دیا کرتے تھے اور خیال فرماتے تھے کہ یہ الفاظ حقیقت پر محمول نہیں ہیں بلکہ محض جزوی مشابہت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں استعمال کیا ہے۔ لیکن جب خدائی الہامات میں یہ الفاظ زیادہ کثرت کے ساتھ استعمال ہونے لگے اور آپ نے اس بارے میں توجہ فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ بات ظاہر کی کہ نبوت کا دروازہ من کل الوجوہ بند نہیں ہے بلکہ ختم نبوت کے صرف یہ معنے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا ہو یا آپ کے فیض نبوت سے آزاد ہو کر مستقل حیثیت میں نبوت کا مدعی بنے اور آپ نے تشریح فرمائی کہ آنحضرت ﷺ نے جو اس قسم کے الفاظ فرمائے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں یا یہ کہ میں آخری نبی ہوں ان سے یہی مراد ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شاگردی اور میری غلامی سے آزاد ہو۔
    یہ انکشاف آپ پر آہستہ آہستہ ہوا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جہاں آپ اوائل میں ہمیشہ اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ کی تاویل فرماتے تھے اور ان الفاظ کو اپنے لئے استعمال نہیں کرتے تھے وہاں آپ نے ۱۹۰۱ء میں اور اس کے بعد ان الفاظ کو نہ صرف اپنے لئے خود استعمال کیا بلکہ جب آپ کو یہ اطلاع ملی کہ آپ کے ایک مرید نے آپ کے متعلق بیان کیا ہے کہ آپ کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے تو آپ نے اسے تنبیہہ فرمائی اور اس کی غلطی کے ازالہ کے لئے ایک اشتہار لکھ کر شائع کیا جس میں تصریح کے ساتھ لکھا کہ مجھے صرف شریعت والی نبوت یا اپنی ذات میں مستقل نبوت سے انکار ہے ورنہ ظِلّی اور بروزی نبوت سے انکار نہیں ہے اور میں اس بات کا مدعی ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے فیض سے اور آپ کی اتباع میں مجھے خدا نے بروزی رنگ میں نبوت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے اشتہار ’’ ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں ۱۹۰۱ء میں لکھا کہ :۔
    ’’ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیںہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں …… اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت ﷺ توخاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا جس طرح آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں … نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی ۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظِلّی طورپر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوتِ محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے …… میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے۔ اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا ۔ لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا …… یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی ﷺ۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ ‘‘ ۱؎
    اس کے بعد آپ نے اپنی تحریرات میں اپنے اس دعویٰ کے متعلق مزید تصریحات بھی فرمائیں مثلاً اپنی تصنیف حقیقۃ الوحی میں آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی………………… میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے …………………… خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا …………… اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور دوسرے پہلو سے امتی …………… ……… اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی
    ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔ ‘‘ ۱؎
    ان حوالہ جات اور اسی قسم کے بہت سے دوسرے حوالہ جات سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
    اوّل یہ کہ گو اوائل میں حضرت مسیح موعود ؑ اپنے متعلق نبوت اور رسالت کی تاویل فرماتے تھے مگر بعد میں جب خدا نے آپ پر حق کھول دیا تو آپ نے کھلے طور پر رسالت اور نبوت کا دعویٰ کیا۔
    دوم یہ کہ آپ کا یہ دعویٰ آنحضرت ﷺ اور اسلام سے آزاد ہو کر نہیں تھا بلکہ آنحضرت ﷺ کی شاگردی اور غلامی میں ہو کر اور اسلام کی متابعت میں بروزی صورت میں دعویٰ تھا۔ اوراس دعویٰ کو آپ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی نبوت کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا حصہ اور ظل قرار دیتے تھے ۔ مجھے اس امر میں زیادہ تشریح کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ غیر تو خیر اعتراض کرتے ہی تھے بدقسمتی سے احمدی کہلانے والوں میں سے بھی ایک حصہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ کی ابتدائی تاویلات کی بناء پر آپ کے دعویٰ نبوت کا منکر ہے اور غیراحمدیوں کی طرح اسے آیت خاتم النبیین کے خلاف سمجھتا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے بار بار تشریح فرمائی ہے جس قسم کی نبوت کے آپ مدعی ہیں یعنی ظلی اور بروزی نبوت وہ ہرگز ہرگز آیت خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔
    میں اپنے غیر احمدی ناظرین کے لئے اس جگہ یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خیال کرنا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلنے سے آنحضرت ﷺ کی ہتک لازم آتی ہے ایک نہایت ہی بودا اور سطحی خیال ہے اور یہ خیال صرف انہی لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے جنہوں نے اس معاملہ میں قطعاً کوئی غور نہیں کیا اور محض سنی سنائی باتوں پر فتویٰ لگا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہتک صرف اس صورت میں سمجھی جا سکتی ہے کہ کوئی شخص آپ کی لائی ہوئی شریعت کو منسوخ کرے یا آپ سے آزاد ہو کر مستقل نبوت کا مدعی بنے۔ مگر یہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔ بلکہ یہاں تو صرف یہ دعویٰ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شریعت کی ماتحتی میں اور آپ کی شاگردی اور غلامی کے جوئے کے نیچے ہو کر خدا نے نبوت کا مرتبہ عطا کیا ہے اور ایک ادنیٰ عقل کا آدمی بھی خیال کر سکتا ہے کہ یہ صورت آنحضرت ﷺ کی عزت اور آپ کے مقام کو بڑھانے والی ہے نہ کہ کم کرنے والی۔ نبوت کیا ہے ؟ نبوت ایک اعلیٰ روحانی مقام ہے جس میں خدا اپنے بندے کے ساتھ بکثرت کلام فرماتا اور اسے آئندہ کی خبروں سے اطلاع دیتا اور دنیا کی طرف اسے رسول بنا کر بھیجتا ہے۔ اب غور کرو کہ کیا آنحضرت ﷺ کی عزت اس میں ہے کہ آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں میں اس روحانی انعام کا سلسلہ بند ہو جائے یا کہ آپ کی عزت اس میں ہے کہ آپ کے فیض سے یہ سلسلہ پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر جاری رہے۔ دراصل سارا دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ نبوت کے معنوں کے متعلق غور نہیں کیا گیا اور ہر نبی کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا کم از کم اپنے سابقہ نبی سے آزاد ہو کر فیضِ نبوت پائے حالانکہ نبی کے لئے یہ دونوں باتیں لازمی نہیں اور جب یہ باتیں لازمی نہیں تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا رکھنے میں آپ کی ہتک نہیں بلکہ اس دروازے کے بند کرنے میں ہتک ہے۔ میں تو یہ خیال کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے ان عظیم الشان احسانوں میں سے جو آپ نے اسلام پر بلکہ دنیا پر کئے ہیں سب سے بھاری احسان یہ دو ہیں :۔
    اوّل یہ کہ آپ نے صحیفۂ فطرت کی طرح قرآنی علوم کو غیر محدود قرار دے کر اسلام کے علمی حصہ میں ایک غیر معمولی نمو اور ترقی کا دروازہ کھول دیا ہے اور ان اعتراض کرنے والوں کا منہ بند کر دیا ہے جو اس زمانہ کی ظاہری ترقی کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں چودہ سو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہو اور آپ نے صرف یہ دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ عملاً قرآن کی نئی تفسیر پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے اندر موجودہ زمانہ کے ہر اعتراض کا جواب اور ہر زہر کا تریاق موجود ہے۔
    دوسرے آپ نے ختم نبوت کی صحیح اور سچی تشریح کر کے مسلمانوں کی گردنوں کو بلند کر دیا ہے اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ خدا کی رحمت کے دروازے کو تنگ کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ وسیع کرنے کے لئے آئے ہیں اور یہ کہ آپ کے متبعین کے لئے ہر قسم کے روحانی انعام کا دروازہ کھلا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ اپنے ایک شعر میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :۔
    ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل
    تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے
    افسوس کہ حضرت مسیح موعود ؑکے ان عظیم الشان احسانوں کو دنیا نے آج نہیں پہچانا مگر وقت آتا ہے کہ وہ انہیں پہچانے گی اور اپنی عقیدت کے پھول آپ کے قدموں پر رکھ کر آپ پر درود اور سلام بھیجے گی ۔ مگر جیسا کہ آپ نے خود لکھا ہے اس وقت کا ایمان اس تلخی کو بھی اپنے ساتھ لائے گا جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے کہ :۔
    جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر
    پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر
    حضرت مسیح موعود ؑ کو اس بات کی بڑی خواہش رہتی تھی کہ عیسائی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کی جاوے اور آپ کی بعثت کی غرضوں میں سے ایک بڑی غرض یہی تھی کہ صلیبی مذہب کے زور کو توڑ کر اس کی جگہ اسلام کو قائم کیا جاوے۔ دراصل آپ کو شرک سے انتہائی نفرت تھی اور آپ کی روح اس خیال سے سخت بے چین رہتی تھی کہ دنیا کے ایک وسیع حصہ میں ایک کمزور انسان کو جس میں کوئی خدائی کی بات نہیں پائی جاتی اور اس نے کبھی خدائی کا دعویٰ بھی نہیں کیا خدا بنایا جا رہا ہے۔ آپ نے کئی جگہ لکھا ہے اور فرمایا بھی کرتے تھے کہ میں نے کشف کی حالت میں
    بارہا حضرت مسیح ناصری سے ملاقات کی ہے اور ایک دفعہ ان کے ساتھ مل کر کھانا بھی کھایا ہے اور ہر دفعہ انہیں نہایت فروتن اور منکسر المزاج پایا ہے اور ان کے منہ سے یہ اقرار سنا ہے کہ میں تو خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں۔ الغرض حضرت مسیح موعود کے دل میں یہ بڑی خواہش تھی کہ دنیا سے شرک اور مردہ پرستی مٹ جائے اور اس کی جگہ حقیقی توحید اور خدا پرستی قائم ہو جائے اور آپ کے دل میں یہ سخت قلق رہتا تھا کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح ناصری میں قطعاً کوئی خدائی علامت نہیں پائی جاتی بلکہ بطور ایک رسول کے بھی انہیں اپنی زندگی میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی انہیں بعد میں آنے والوں نے الوہیت کے تخت پر بٹھا رکھا ہے اور آپ اس تحریف کا اصل بانی مبانی پولوس کو خیال کرتے تھے جس نے مسیحی مذہب میں داخل ہو کر اس کا رنگ بدل دیا اور ایک کمزور انسان کو خدا بنانے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور پھر بعد میں آنے والوں نے اس خیال کو اور پختہ کر دیا ۔ مگر آپ فرماتے تھے کہ اب آسمان پر اس شرک عظیم کے خلاف بہت جوش ہے اور میری بعثت اسی آسمانی حرکت کا نتیجہ ہے اور وہ وقت قریب آگیا ہے کہ صلیبی طلسم ٹوٹ جائے گا اور دنیا پھر بڑے زور کے ساتھ توحید اور خدا پرستی کی طرف لوٹے گی۔
    آپ نے فرمایا کہ ہم تو صرف ایک آلہ ہیں ورنہ اصل جنگ خدا کی ہے جس کی غیبی فوجیں شیطانی خیالات کو مٹانے کے لئے حرکت میں ہیں۔ لیکن ہمارا فرض ہے کہ اس آسمانی حرکت کے مطابق ظاہر میں بھی ایک حرکت پیدا رکھیں اور ان اسباب کو کام میں لائیں جو خدا نے اپنے فضل سے ہمارے ہاتھ میں دئیے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اوائل دعویٰ سے لے کر برابر اپنی زبان اور اپنی قلم کو توحید کے قیام کے لئے حرکت میں رکھا اور اشتہاروں سے ،کتابوں سے ،مناظروں سے ،تقریروں سے شرک کے قلعہ پر مسلسل گولہ باری کی۔ اور بارہا یہ اعلان کیا کہ مسیحیوں یا دیگر مذاہب والوں میں سے جسے اسلام کی صداقت کے متعلق شک ہو یا وہ اپنے مذہب کو اسلام کے مقابل پر حق خیال کرتا ہو تو وہ ہمارے سامنے آکر منقولی اور عقلی دلائل کے ساتھ یا روحانی مقابلہ کے رنگ میں زور آزمائی کر لے۔ آپ نے یہ بھی اشتہار دیا کہ چونکہ خدا نے مجھے ساری دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اور اس زمانہ کے وسیع فتنوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا کیا ہے اس لئے اس نے مجھے وہ طاقتیں بھی عطا کی ہیں جو اس کام کی سر انجام دہی کے لئے ضروری ہیں اور آپ نے لکھا کہ چونکہ حضرت مسیح ناصری کا مشن بہت محدود تھا اس لئے ان کی طاقتیں بھی محدود تھیں چنانچہ آپ نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی پادری میں ہمت ہے تو وہ میرے سامنے آکر اس بات کا امتحان کر لے کہ روحانی طاقت اور نشان نمائی میں مسیح ناصری اور مسیح محمدی میں کون افضل ہے؟ آپ نے تشریح فرمائی کہ خوش اعتقادی کا خیال جداگانہ ہے لیکن اگر مسیح ناصری کے نشانات کو تنقیدی نظر سے دیکھا جاوے اور ان کی اصلی حقیقت پر غور کیا جائے تو یقینا وہ نشانات اِن نشانات کے مقابلہ پر ادنیٰ اور کم تر ثابت ہوں گے جو خدا میرے ہاتھ پر ظاہر کر رہا ہے۔
    الغرض آپ کو مسیح پرستی کے خلاف بہت جوش تھا اور آپ کو خدا نے الہاموں اور خوابوں کے ذریعہ یہ بشارت بھی دی تھی کہ جلد یا بدیر آپ کی لائی ہوئی روشنی سے یورپ منور ہو گا اس غرض کے لئے آپ نے ۱۹۰۲ء میں ایک انگریزی رسالہ کی بنیاد رکھی تا کہ اس کے ذریعہ سے مغربی ممالک میں مسیحیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں مہم جاری کر سکیں اور چونکہ آپ خود انگریزی زبان سے ناواقف تھے آپ نے اس رسالہ کی ایڈیٹری اپنے ایک نوجوان اور انگریزی خوان مرید مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے کے سپرد کی جو حضرت مسیح موعود ؑ کی ہدایات کے ماتحت آپ کے مضامین کا انگریزی میں ترجمہ کرتے یا آپ کے بتائے ہوئے نوٹوں کے مطابق خود مضمون لکھتے تھے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی توجہ کی برکت سے اس رسالہ نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ساری علمی دنیا میں اپنا سکہ جما لیا اور بڑے بڑے یورپین اور امریکن علماء نے اس کے مضامین کی تعریف میں پُر جوش ریویو لکھے اور اس کے دلائل کی قوت کو تسلیم کیا۔
    جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس رسالہ کے اکثر مضامین خود حضرت مسیح موعود ؑ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہوتے تھے اور بعض کے متعلق آپ نوٹ لکھا دیتے تھے اور آپ نے ان مضامین میں اپنے اسپ قلم کو مذاہب کے وسیع میدان کے ہرحصہ میں ڈالا اوراس میدان کا ہر کونہ اور گوشہ چھان ڈالا اور اسلام کی تائید اور مسیحیت اور دوسرے مذاہب کی تردید میں ایسے ایسے زبردست مضامین لکھے کہ علمی دنیا میںایک ہل چل مچ گئی۔ مسیح ناصری کے معجزات پر۔ آپ کے روحانی اثر پر۔ آپ کی تعلیم پر۔ آپ کے واقعہ صلیب پر۔ صلیب سے بعد کے حالات پر۔ آپ کی سیاحت ہند اور وفات پر۔ آپ کے فرضی دعویٰ خدائی پر۔ تثلیث اور کفارہ پر۔ غرض مسیحیت کے ہر شعبہ پر مضامین لکھے گئے اور دوسری طرف اسلام کی حقیقت اور آنحضرت ﷺ کی رسالت اور آپ کی روحانی طاقت اور آپ کی کامیابی اور آپ کی تعلیم کی برتری وغیرہ پر زبردست بحثیں کی گئیں اور اسی طرح دوسرے مذاہب کی تعلیمات پر بھی مضامین لکھے گئے اور رسالہ نے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں ’’ ریویو آف ریلیجنز ثابت کر دیا۔ چنانچہ اس رسالہ کے متعلق آل انڈیا ینگ من کرسچن ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر واکر نے لکھا کہ :۔
    ’’ یہ رسالہ اسم بامسمّٰی ہے کیونکہ اس رسالہ نے مذاہب کے ایک نہایت وسیع حلقہ کو اپنے کام میں شامل کیا ہے اور مذہبی مضامین کے ایک بڑے وسیع دائرہ پر نظر ڈالی ہے۔ ‘‘
    مسٹر اے اروب نے امریکہ سے لکھا :۔
    ’’ اس رسالہ کے مضامین روحانی صداقتوں کی نہایت پُرحکمت اور روشن تفسیر ہیں۔ ‘‘
    کونٹ ٹالسٹائے نے روس سے لکھا :۔
    ’’ اس رسالہ کے خیالات بڑے وزنی اور بڑے سچے ہیں۔ ‘‘
    پروفیسر ہالٹسما ایڈیٹر انسائیکلوپیڈیا آف اسلام نے لکھا :۔
    ’’ یہ رسالہ از حد دلچسپ ہے۔ ‘‘
    ریویو آف ریویوز لندن نے لکھا :۔
    ’’ یورپ اور امریکہ کے وہ لوگ جو محمد (صلعم) کے مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کو چاہئے کہ یہ رسالہ ضرور منگائیں ۔ ‘‘
    مس ہنٹ نے امریکہ سے لکھا :۔
    ’’ اس رسالہ کا ہر نمبر نہایت دلکش ہوتا ہے اور ان غلط خیالات کا بطلان ثابت کرتا ہے جو اسلام کے متعلق اس زمانہ میں دنیا کی ان اقوام کی طرف سے پھیلائے جاتے ہیں جو مہذب کہلاتی ہیں۔ ‘‘
    الغرض حضرت مسیح موعود ؑ کی زیر قیادت اس رسالہ نے کسرِ صلیب اور فتح اسلام میں نمایاں حصہ لیا۔
    طاعون کی بیماری کو اکثر ناظرین جانتے ہوں گے۔ یہ ایک وبائی مرض ہے جس کے جراثیم چوہوں کے ذریعہ پھیلتے ہیں۔اور جب اس بیماری کا زورہوتا ہے تو گویا ایک آگ شعلہ زن ہو جاتی ہے جس میں ہزاروں لوگ ایک ایک دن میں بھسم ہونے لگتے ہیں۔ یہ بیماری قانون قدرت کے ماتحت پیدا ہوتی ہے اور عام حالات میں اس کی تہہ میں کوئی روحانی اسباب نہیں ہوتے مگر خدا کا قاعدہ ہے کہ بعض اوقات اس قسم کی بیماریوں کو بھی اپنے مرسلین کی صداقت کا نشان قرار دے دیتا ہے اور ان کے ذریعہ سے اپنے قائم کردہ سلسلوں کو ترقی دیتا ہے۔ چنانچہ جب شروع شروع میں طاعون کا مرض بمبئی میں ظاہر ہوا اور ابھی وہ پنجاب میں نہیں آیا تھا تو ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک خواب دیکھا کہ بعض لوگ سیاہ رنگ کے کریہہ المنظر پودے لگا رہے ہیں اور جب آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیسے پودے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو اب اس ملک پنجاب میں پھیلنے والی ہے اور آپ کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس مرض کے پھیلنے کا روحانی باعث لوگوں کی بے دینی اور ان کی حالت کی خرابی ہے۔ ۱؎
    اس کے بعد جلد ہی یہ مرض پنجاب میں بھی آگیا اور گو شروع میں اس کا حملہ زیادہ سخت نہیں تھا۔ مگر آہستہ آہستہ اس کی تیزی ترقی کرتی گئی حتیّٰ کہ ۱۹۰۲ء میں آکر اس نے پنجاب میں کافی زور پکڑ لیا۔ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کیا کہ یہ طاعون آپ کے لئے ایک خدائی نشان ہے اور اس کے ذریعہ خدا آپ کے ماننے والوں اور انکار کرنے والوں میں ایک امتیاز پیدا کر دے گا چنانچہ ان ایام میں جو الہام اس بارے میں آپ پر نازل ہوا وہ یہ تھا۔
    ’’ تُو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔ اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہو گا تا وہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے ۔ لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے۔ اس کے لئے مت دلگیرہو…… قادیان میں سخت بربادی افگن طاعون نہیں آئے گی۔…… اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے۔ ‘‘ ۱؎
    آپ نے اس الہام کی تشریح یہ فرمائی کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا اور ہر اک غیر متعصب شخص سمجھ جائے گا کہ خدا نے اس جماعت کے ساتھ معجزانہ رنگ میں معاملہ کیا ہے اور طاعون کے ذریعہ سے آپ کی جماعت بہت بڑھے گی اور خارق عادت ترقی کرے گی اور ان کی یہ ترقی تعجب سے دیکھی جائے گی اور آپ نے لکھا کہ یہ جو خدا نے فرمایا ہے کہ جو بھی تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہے میں اسے طاعون سے محفوظ رکھوںگا اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس جگہ گھر سے مراد صرف یہ خاک و خشت کا گھر ہے۔ بلکہ گھر کا لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے جس کے مفہوم میں ظاہری گھر کے علاوہ روحانی گھر بھی شامل ہے۔ پس آپ نے لکھا کہ میری کامل پیروی کرنے والا بھی اسی طرح طاعون سے محفوظ رہے گا جس طرح میرے ظاہری گھر کے اندر رہنے والے محفوظ رہیں گے۔
    اس کے بعد طاعون نے بہت زور پکڑنا شروع کیا اور پنجاب کے مختلف حصوں میں اس قدر تباہی مچائی کہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قیامت کا نمونہ آگیا۔ ہزاروں دیہات ویران ہو گئے۔ سینکڑوں شہروں اور قصبوں کے محلے کے محلے خالی ہو گئے اور بعض جگہ ایسی تباہی آئی کہ مردوں کو دفن کرنے کے لئے کوئی آدمی نہیں ملتا تھا اور لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں پڑی ہوئی سڑتی تھیں۔ یہ زور ۱۹۰۲ء میں شروع ہوا اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفوں کیساتھ دن بدن تیز ہوتا گیا حتیّٰ کہ ۱۹۰۳ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک اس کے معراج کا زمانہ تھا۔
    اس عرصہ میں جماعت احمدیہ نے اس حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی کہ بعض اوقات ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی بیعت کے خطوط پہنچتے تھے اور دنیاگھبرا کر خدا کے مسیح کا دامن پکڑنے کے لئے ٹوٹی پڑتی تھی۔ لوگوں کا یہ غیر معمولی رجوع کسی وہم کی بنا پر نہیں تھا بلکہ ہر غیر متعصب شخص کو یہ صاف نظر آرہا تھا کہ اس عذاب کے پیچھے خدا کاہاتھ مخفی ہے جو اپنی قدیم سنت کے مطابق ماننے والوں اور انکار کرنے والوں میں امتیاز کرتا چلا جا رہا ہے۔ بے شک جیسا کہ الہام میں بھی اشارہ تھا بعض خال خال موتیں احمدیوں میں بھی ہوئیں کیونکہ بسا اوقات جنگ میں فاتح فوج کے بعض سپاہی بھی مارے جاتے ہیں لیکن ان شاذ و نادر اموات کو اس خطرناک ہلاکت سے کوئی نسبت نہیں تھی جو طاعون نے حضرت مسیح موعود کے منکرین میں برپا کی۔ پس لوگوں کا یہ رجوع وہم پر مبنی نہیں تھا بلکہ بصیرت پر مبنی تھا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اس وقت خدا کے عذاب کا حقیقی علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اس کے مسیح کی غلامی کو قبول کیا جاوے۔ الغرض ان ایام میں جماعت احمدیہ نے نہایت خارق عادت رنگ میں ترقی کی اور پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ اس زمانہ میں لوگوں کے رجوع کو دیکھ کر بعض اوقات حضرت مسیح موعود ؑ مسکرا کر فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگ طاعونی احمدی ہیں کہ جب لوگوں نے دوسرے دلائل سے نہیں مانا تو خدانے انہیں عذاب کا طماچہ دکھا کر منوایا۔
    اسی طرح اس پیشگوئی کا دوسرا حصہ بھی کامل صفائی سے پورا ہوا یعنی قادیان میں طاعون آئی اور بعض اوقات کافی سخت حملے بھی ہوئے مگر اپنے وعدہ کے مطابق خدا نے اسے اس تباہ کن ویرانی سے بچایا جو اس زمانہ میں دوسرے دیہات اور قصبات میں نظر آرہی تھی اور پھر لطف یہ ہے کہ خدا نے اپنے نشان کو پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ کے مکان کے اردگرد بھی طاعو ن کی تباہی دکھائی اور آپ کے پڑوسیوں میں کئی موتیں ہوئیں مگر اس سارے عرصہ میں آپ کے مکان میں کسی انسان کا مبتلائے مرض ہونا تو الگ رہا کبھی ایک چوہا تک بھی نہیں مرا۔ اور خدا نے چاروں طرف آگ لگا کر بتا دیا کہ اس وسیع آگ کے میدان میں اگر کوئی امن کی جگہ ہے تو بس یہی ایک مکان ہے جس کی حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہے۔ پھر ایک اور لحاظ سے بھی طاعون نے خدا کے مسیح کی خدمت کی۔ وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے کئی نامور دشمن اس مرض میں مبتلا ہو کر موت کا لقمہ بن گئے۔ مثلاً ۱۹۰۲ء میں ہی جو طاعون کے زور کا پہلا سال تھا سلسلہ احمدیہ کا ایک اشد مخالف مولوی رسل بابا امرتسری جو پنجاب کے حنفیوں کا سرکردہ تھا طاعون سے ہلاک ہوا۔ اسی طرح کئی اور مخالف طاعون کا شکار ہوئے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کا سن کر اس کے مقابل پر خود اپنے لئے بھی یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے ۔ مگر خدا نے ایسے لوگوں کو چن چن کر لیا اور جن لوگوں نے ایسا دعویٰ کیا تھا ان میں سے ایک بھی نہیں بچا چنانچہ ہم ان میں سے بعض کا ذکر آگے چل کر کریں گے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کی تعلیم کا خلاصہ :۔ جب ۱۹۰۲ء میں طاعون کا زور ہونے لگا تو
    حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو نصیحت اور لوگوں کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک کتاب لکھ کر شائع فرمائی جس کا نام آپ نے ’’ کشتی نوح ‘‘ رکھا ۔ گویا اس تباہی کے طوفان میں ایک نوح ؑ کی کشتی تھی جس میں بیٹھ کر لوگ اس ہلاکت سے بچ سکتے تھے۔ اس کتاب میں آپ نے اپنی تعلیم کا خلاصہ پیش کیا اور بتایا کہ آپ اپنی جماعت سے کن عقائد اور کن اعمال کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم اس تعلیم کا ضروری اقتباس اس جگہ ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ آپ نے لکھا۔
    ’’ اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جائو گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے…… یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر اک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔ ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔ سو خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھائو۔ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے۔ جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے ……… یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کرلی ہے۔ ظاہر کچھ چیز نہیں۔ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔ دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھائو۔ خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو۔ دعا کرو ۔ تا تمہیں طاقت ملے۔ جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پرقادر نہیں سمجھتا بجز ووعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے قمار بازی سے بدنظری سے اور خیانت سے اور رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یاد نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص بد رفیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر بد اثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امورِ معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں ان کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعہد خدمت سے لاپروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنیٰ ادنیٰ خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص اس عہدکو جو اس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص مجھے فی الواقع مسیح موعود و مہدی معہود نہیں سمجھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اور جو شخص امور معروفہ میں میری اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اور جو شخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک زانی ،فاسق ،شرابی ،خونی ،چور ،قمار باز ،خائن ،مرتشی ،غاصب ،ظالم ،دروغ گو، جعلساز اور ان کا ہم نشین اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔
    یہ سب زہریں ہیں۔ تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ ہر ایک جو پیچ در پیچ طبیعت رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ صاف نہیں ہے وہ اس برکت کو ہرگز نہیں پاسکتا جو صاف دلوں کو ملتی ہے …… کیا ہی قادر اور قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا ؟ کیا ہی زبردست قدرتوں کا مالک ہے جس کوہم نے دیکھا ؟ سچ تو یہ ہے کہ اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں مگر وہی جو اس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے۔ سو جب تم دعا کرو تو ان جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانون قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مہر نہیں۔ کیونکہ وہ مردود ہیں۔ ان کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی۔ وہ اندھے ہیں نہ سوجاکھے۔ وہ مردے ہیں نہ زندے خدا کے سامنے اپنے تراشیدہ قانون پیش کرتے ہیں اور اس کی بے انتہاء قدرتوں کی حد بست ٹھہراتے ہیں اور اس کو کمزور سمجھتے ہیں سو ان سے ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسا کہ ان کی حالت ہے …… کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرمو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔
    اگر تم خدا کے ہو جائو گے تو یقینا سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے ۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تمہارے لئے جاگے گا۔ تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا…… میں تمہیں حد اعتدال تک رعایت اسباب سے منع نہیں کرتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ تم غیر قوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جائو اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیا کرتا ہے۔ اگر تمہیں آنکھ ہو تو تمہیں نظر آجائے کہ خدا ہی خدا ہے اور سب ہیچ ہے۔ تم نہ ہاتھ لمبا کر سکتے ہو اور نہ اکٹھا کر سکتے ہو مگر اس کے اذن سے۔ ایک مردہ اس پر ہنسی کرے گا مگر کاش اگر وہ مر جاتا تو اس ہنسی سے اس کے لئے بہترتھا۔ خبردار ! !! تم غیر قوموں کو دیکھ کر ان کی رِیس مت کرو کہ انہوں نے دنیا کے منصوبوں میں بہت ترقی کر لی ہے آئو ہم بھی انہیں کے قدم پر چلیں۔ سنو اور سمجھو کہ وہ اس خدا سے سخت بیگانہ اور غافل ہیں جو تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے ۔ ان کا خدا کیا چیز ہے صرف ایک عاجز انسان۔ اس لئے وہ غفلت میں چھوڑے گئے۔ میں تمہیں دنیا کے کسب اور حرفت سے نہیں روکتا مگر تم ان لوگوں کے پیرو مت بنو جنہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے ……
    عقیدہ کی روح سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک ہے اور محمد ﷺ اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی بیخ سے جدا ہے۔ پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دونہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔ صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔ سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا …… میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔ موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں مَیں مسیح موعود ہوں … …… مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ ‘‘ ۱؎
    حضرت مسیح موعود ؑ کاتعلیم و تربیت کا طریق :۔ گذشتہ صفحات میں ان ظاہری اور
    باطنی طاقتوں کا ذکر گزر چکا ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف سے تبلیغی میدان میں زیر عمل آرہی تھیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ان ذرائع کو بھی بیان کر دیا جائے جو آپ اپنی جماعت کی اخلاقی اور روحانی اور علمی اور عملی تربیت کے لئے اختیار فرماتے تھے۔ اس ضمن میں اصولی طور پر تو صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ آپ کا طریق وہی تھا جو ہمیشہ سے خداکے رسولوں اور نبیوں کا رہا ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًـا تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آپ اپنی جماعت کی تعلیم و تربیت کے لئے ظاہری اور روحانی اسباب ہر دو کو استعمال فرماتے تھے۔ ان اسباب کا مختصر خاکہ یہ ہے کہ :۔
    اوّل جب آپ کسی شخص کو اپنی جماعت میں داخل کرنے لگتے تھے تو اس کی طرف سے صرف اس بات کے عمومی اظہار کو کافی خیال نہیں فرماتے تھے کہ میں نے آپ کو قبول کر لیا ہے بلکہ ایک باقاعدہ اقرار کے ذریعہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر یہ عہد لیتے تھے کہ میں آپ کے دعووں پر ایمان لاتے ہوئے اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لئے وعدہ کرتا ہوں کہ ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کروں گا اور ہر معاملہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اقرار اور یہ عہدنامہ جو بیعت کرنے والے کو اپنے سامنے بٹھا کر اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر منہ در منہ لیا جاتا تھا اس کی بعد کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک پختہ بنیاد بن جاتا تھا اور بیعت میں داخل ہونے کے ساتھ ہی وہ اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی محسوس کرتا تھا جو اسے بعد میں ہر لحظہ طہارت اور پاکیزگی اور اصلاح نفس کی بلندیوں کی طرف اٹھاتی چلی جاتی تھی۔ یہ درست ہے کہ بعض اوقات جب کسی شخص کو خود حاضر ہو کر دستی بیعت کا موقعہ نہ مل سکتا ہو تو خط کے ذریعہ تحریری بیعت کا رستہ بھی کھلا تھا مگر یہ تحریری بیعت بھی بہر حال ایک عہد اور اقرار کا رنگ رکھتی تھی جس کے بعد ہر بیعت کنندہ یہ محسوس کرتا تھا کہ اب مجھے زندگی کا ایک نیا ورق الٹنا چاہئے۔ پس تعلیم و تربیت کا پہلا ذریعہ وہ عہد اور وہ اقرار تھا جو بیعت کرنے والے سے ذاتی طور پر لیا جاتا تھا جس کے بعد ہر بیعت کنندہ گویا خود اپنے اعمال کا نگران اور محاسب ہو جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے معنی اپنے آپ کو فروخت کر دینے اور اپنے مرشد کے ہاتھ پر بِک جانے کے ہیں۔ پس جو شخص بیعت کے بعد کوئی رنگ دُوئی کا رکھتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ کامل اتحاد و اتصال پیدا نہیں کرتا وہ اپنے عہد میں سچا نہیں ہے۔
    دوم دوسرا بڑا ذریعہ آپ کا یہ تھا کہ آپ ہمیشہ تحریر اور تقریر کے ذریعہ اپنی جماعت کے لوگوں کو ان کے غلط خیالات کی اصلاح اور خراب اور ناپسندیدہ اعمال کی درستی کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے اوران کے دلوں میں خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور اپنے نفسوں کی اصلاح کرنے اور مخلوق کے ساتھ انصاف اور احسان کا معاملہ کرنے کے لئے جوش پیدا کرتے رہتے تھے اور آپ کی یہ عادت تھی کہ اپنی جماعت کے لوگوں کے خیالات اور ان کے اعمال کو گہری نظر کے ساتھ دیکھتے رہتے تھے اور ان کی کمزوریوں اور نقصوں کے مناسب حال اپنی تحریر و تقریر میں نصیحت کا طریق اختیار فرماتے تھے۔ مگر عموماً آپ کسی فرد کو مخاطب کر کے اور اس کے کسی نقص کی طرف اشارہ کر کے نصیحت نہیں فرماتے تھے بلکہ جب کسی فرد یا افراد میں کوئی نقص دیکھتے تو اس کا یا ان کا نام لینے کے بغیر عمومی رنگ میں نصیحت فرماتے تھے۔
    زبانی نصیحت کے لئے آپ عموماً پنجگانہ نماز کے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے تھے یعنی آپ کا یہ طریق تھا کہ بعض نمازوں کے بعد آپ مسجد میں ہی بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو جاتے تھے اور پھر موقعہ اور حالات کے مناسب گفتگو ہوتی رہتی تھی اور لوگ آپ کی باتوں کو نہایت شوق اور محبت کے ساتھ سنتے اور آپ کے مبارک کلام کو اپنے اندر جذب کرتے جاتے تھے۔ یہ مجلس نہایت بے تکلفی کی مجلس ہوتی تھی جس میں ہر شخص آپ کے ساتھ بے تکلفی کے انداز میں گفتگو کرتا تھا اور آپ ہر شخص کی بات کو سنتے اور اس کا جواب دیتے تھے۔ اس مجلس میں بیٹھنے والوں کے لئے کوئی ترتیب مقرر نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی آپ کے لئے کوئی خاص مسند ہوتی تھی۔ بلکہ آپ اور آپ کے ساتھی بے تکلفی کے رنگ میں جسطرح ایک مشفق باپ کے اردگرد اس کے بیٹے بیٹھے ہوں اکٹھے بیٹھ کر گفتگو فرماتے تھے اور مجلس میں ہر قسم کی گفتگو ہوتی تھی یعنی دشمنوں کا ذکر بھی ہوتا تھا اور دوستوں کا بھی قوموں کا بھی اور افراد کا بھی۔ پرائیویٹ باتوں کا بھی اور پبلک کا بھی۔ عقائد و خیالات کا بھی اور اعمال و افعال کا بھی ۔ جماعت کی موجودہ مشکلات کا بھی اور اس کی آئندہ ترقیات کا بھی ۔ غرض ہر رنگ کی گفتگو رہتی تھی اور سب لوگ اپنی باتوں کو سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ پیش کرتے تھے اور آپ ان کے جواب میں اسی سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔ غرض یہ ایک علم و عرفان اور محبت و وفا کادرس تھا جو آپ کی مجلس میں جاری رہتا تھا اور ہر شخص اپنی بساط اور اپنی استعداد کے مطابق اس چشمہ سے پانی لیتا تھا۔ اسی طرح کے موقعے آپ کی روزانہ سیروں میں بھی میسر آتے تھے جو آپ عموماً ہر روز صبح کے وقت اپنے دوستوں کے ساتھ فرمایا کرتے تھے اور قادیان سے باہر دو دو تین تین میل تک چہل قدمی کرتے ہوئے نکل جاتے تھے۔ اس وقت بھی اس شمع کے پروانے آپ کے گرد گھومتے تھے اور ہر شخص آپ کے ساتھ چھو کربرکت و معرفت کا جام پیتا تھا۔ یہ مجلسیں اور یہ سیریں گویا ایک روحانی دھوبی کا کارخانہ تھیں س میں لوگوں کی میلیں خود بخود دھلتی چلی جاتی تھیں اور وہ طہارت اور پاکیزگی کے میدان میں اپنے ہر قدم کو دوسرے قدم سے آگے پاتے تھے۔ اسی طرح تحریر کے میدان میں آپ کی کتابیں اور اشتہارات اور جماعت کے رسالے اور اخبارات ایک نہایت ماہر استاد کی طرح لوگوں کو اوپر اٹھانے میں لگے ہوئے تھے اور جلسہ سالانہ کے اجتماع بھی جماعت میں ایک تازہ زندگی کی روح پھونکتے تھے۔
    سوم تیسرا بڑا ذریعہ جماعت کی تعلیم و تربیت کا یہ تھا کہ آپ جماعت کو ہر وقت اپنے مخالفین کے خلاف اس قلمی اور لسانی جہاد میں لگائے رکھتے تھے جس میں آپ خود ہر لحظہ مصروف رہتے تھے۔ بظاہر اس بات کا جماعت کی اندرونی تعلیم و تربیت کے ساتھ تعلق نظر نہیں آتا مگر حقیقۃً ان دونوں باتوں کا ایک بہت بھاری اور نہایت عمیق تعلق ہے جسے آپ خوب سمجھتے تھے چنانچہ ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے جو بعد میں آپ کے خلیفہ ہوئے آپ سے دریافت کیا کہ مجھے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے کوئی خاص عمل بتائیں جس پر آپ نے انہیں فرمایا کہ اس وقت اسلام کے خلاف عیسائیوں کے بہت حملے ہو رہے ہیں آپ ان کے جواب میں کوئی کتاب لکھ کر شائع کریں۔ اس کے بعد پھر ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب نے ایسا ہی سوال کیا تو آپ نے انہیں آریوں کے خلاف کتاب لکھنے کی ہدایت فرمائی اور حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان تصنیفات نے بہت ہی فائدہ دیا۔ غرض حضرت مسیح موعود ؑ کا بڑا ذریعہ تعلیم و تربیت کا یہ بھی تھا کہ آپ اپنی جماعت کو ہر وقت جہاد میں مصروف رکھتے تھے جس میں ان کو کئی لحاظ سے فائدہ پہنچتا تھا مثلاً (۱) ان کے علم و معرفت میں ترقی ہوتی تھی۔ (۲) ان کی توجہ مسلسل طور پر ایک دینی ا ور ملی کام میں لگی رہتی تھی جو اپنی ذات میں اصلاح نفس کا ایک بڑا ذریعہ ہے ۔ (۳) اس جہاد میں انکو یہ احساس رہتا تھا کہ ہم دوسروں کے لئے ایک عمدہ نمونہ بنیں تا کہ ہمارا فعل ہمارے قول کا مؤید رہے۔ (۴) ان کا وقت ہمیشہ ایک مفید کام میں لگا رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس دماغی بیکاری سے بچے رہتے تھے جوبہت سی خباثتوں کی ماں ہے (۵) وہ خدا سے ان برکتوں کا حصہ پاتے تھے جو ازل سے دین کے سچے خادموں کے لئے مقدر ہو چکی ہیں۔ الغرض آپ ہمیشہ اپنی جماعت کو دوسروں کے مقابلہ میں لگائے رکھتے تھے کیونکہ آپ اس نکتہ کو خوب سمجھتے اور جانتے تھے کہ قومی زندگی دفاع میں نہیں بلکہ حملہ میں مخفی ہے۔
    چہارم ۔ چوتھا بڑا ذریعہ جماعت کی تربیت کا یہ تھا کہ آپ اپنی جماعت سے دین کی خاطر مالی قربانی کرواتے رہتے تھے اور بار بار کی تحریک سے ان کے اندر اس جوش کو زندہ رکھتے تھے کہ اسلام اور احمدیت کی خاطر اپنے اموال میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ نکالیں اور یہ قربانی ان کی ایمانی روح کو ہر وقت چوکس اور ہوشیار رکھتی تھی اور ان کے اندر یہ احساس پیدا کرتی تھی کہ دین ایک ایسی چیز ہے جس کے مقابلہ پر دنیا کے مال و دولت کی کوئی قیمت نہیں۔
    پنجم ۔ پانچواں بڑا ذریعہ جماعت کی تربیت کا آپ کا ذاتی روحانی اثر تھا جو ایک زبردست بیٹری کی صورت میں ہراس شخض میں روحانی طاقت بھر دیتا تھا جو نیک نیتی کے ساتھ اور صلاحیت کا مادہ لے کر آپ کے قریب آتا تھا اور ایک طرح سے یہ ذریعہ دوسرے سارے ذریعوں سے بڑا تھا کیونکہ اس میں وہ خاموش بجلی کا اثر کام کرتا تھا جو دنیا کی تحریکی طاقتوں میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس عمل میں سے گزر کر ہر شخص اپنی فطری استعداد اور اپنی قوت جذب کے لحاظ سے خود ایک بیٹری بن جاتا تھا اور بڑے مقناطیس سے رگڑ کھا کھا کر لوہے کے ٹکڑے مقناطیسی صفات حاصل کرتے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ کا اعلیٰ اخلاقی اور روحانی نمونہ بھی لوگوں کے لئے اصلاح کا ایک نہایت عمدہ ذریعہ تھا جسے دیکھ کر اور جس کی نقل کی کوشش کر کے وہ اس میدان میں آگے بڑھتے جاتے تھے۔
    ششم۔ چھٹا بڑا ذریعہ آپ کی وہ درد مندانہ دعائیں تھیں جو ہر وقت اپنے متبعین کے لئے آسمان کی طرف اٹھتی تھیں اور آسمانی طاقتوں کو حرکت میں لا کرجماعت کی روحانی ترقیات کا باعث بن رہی تھیں۔ اس زمانہ کے مادہ پرست لوگ اس ذریعہ کی حقیقت اور اس کی طاقت کو نہیں سمجھتے لیکن درحقیقت یہ ایک بہت بھاری ہتھیار ہے جو ہر نبی کو اس کی جماعت کی اصلاح اور ترقی کے لئے دیا جاتا ہے۔
    جماعت کے چندوں کی تنظیم :۔ اس وقت تک جماعت کے کام ایسے چندوں پر چل رہے
    تھے جو مختلف احباب سلسلہ کی ضروریات کا اندازہ کر کے یا وقتی تحریک کے جواب میں اپنے اخلاص کے مطابق اپنی خوشی سے دیتے رہتے تھے۔ بے شک بعض دوست باقاعدہ ماہوار چندہ بھی دیتے تھے مگر یہ طریق ان کی اپنی خوشی پر موقوف تھا اور حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف سے کوئی ایسی تحریک نہیں تھی کہ ہر شخص ضرور باقاعدہ ماہوار چندہ دے۔ علاوہ ازیں شروع میں سلسلہ کا کام زیادہ تر تین مدات میں منقسم تھا یعنی اوّل کتب اور رسالہ جات کی اشاعت جن میں سے ایک معقول حصہ مفت تقسیم کیا جاتا تھا۔ دوم اشتہارات کی اشاعت جو کلیۃً مفت تقسیم ہوتے تھے۔ سوم مہمان نوازی کا خرچ جو دن بدن زیادہ ہو رہا تھا۔ ان کے علاوہ کسی قدر خط و کتابت اور غریب احمدیوں کی امداد کا خرچ بھی تھا۔ یہ سارے اخراجات ان چندوں سے پورے کئے جاتے تھے جو جماعت کے دوست اپنی خوشی سے بھجواتے رہتے تھے ۔ لیکن اب نہ صرف ہر مد کا خرچ بڑھ گیا تھا اور خصوصاً مہمانخانہ کا خرچ بہت زیادہ ہو گیا تھا بلکہ بعض نئی مدات بھی نکل آئی تھیں۔ مثلاً تعلیم الاسلام ہائی سکول کا چندہ۔ ریویو آف ریلیجنز کا چندہ امدادی وغیرہ اس لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۹۰۲ء میں ایک اشتہار کے ذریعہ جماعت کے نام یہ ہدایت جاری فرمائی کہ آئندہ ہر احمدی باقاعدہ ماہواری چندہ دیا کرے جس میں کسی صورت میں تخلف نہ ہو۔ آپ نے اس چندہ کی کوئی شرح مقرر نہیں فرمائی بلکہ رقم کی تعیین کو ہر شخص کے اخلاص اور حالات پر چھوڑا لیکن یہ لازم قراردیا کہ ہر شخص اپنے لئے ایک رقم معین کر کے اطلاع دے کہ وہ کس قدر چندہ ماہوار دے سکتا ہے اور پھر جس قدر رقم کا وہ وعدہ کرے خواہ وہ ایک پیسہ ہی ہو وہ باقاعدہ ہر ماہ بھجواتا رہے اور آپ نے اس بارے میں اس قدر تاکید فرمائی کہ حکم دیا کہ جو شخص اس قسم کی پابندی اختیار نہیں کرے گا یا رقم مقرر کرنے کے بعد پھر تین ماہ تک رقم کی ادائیگی میں غفلت سے کام لے گا اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا اور سمجھا جائے گا کہ اس الٰہی سلسلہ کے ساتھ اس کا تعلق حقیقت اور اخلاص پر مبنی نہیں ہے کیونکہ جو شخص صداقت کی خاطر ادنیٰ قربانی کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتا اور اس قربانی پر دوام اختیار نہیں کرتا وہ سچا احمدی نہیں سمجھا جا سکتا۔ ۱؎
    یہ وہ بنیادی اینٹ تھی جس پر سلسلہ کے چندوں اور محاصل کی عمارت کھڑی ہوئی ہے اس کے بعد آہستہ آہستہ چندہ کی شرح بھی مقرر ہو گئی اور مدات میں بھی اس قدر اضافہ ہو گیا کہ اب جماعت احمدیہ کا مجموعی بجٹ دس لاکھ روپے کے قریب ہوتا ہے اور اس عدد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر پھر بھی اس وسیع کام کے مقابلہ پر جو جماعت کے ذمہ ہے یہ رقم بالکل ناکافی اور غیر مکتفی ثابت ہوتی ہے اور جماعت کی مدات ہمیشہ بھاری قرضہ کے نیچے دبی رہتی ہیں۔
    جیسا کہ بتایا جا چکا ہے جب حضرت مسیح موعود ؑ نے ابتداء میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو آپ کی مخالفت میں مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ جوش دکھانے والا مولوی محمد حسین بٹالوی تھا۔ مولوی صاحب نے سلسلہ احمدیہ کے ابتدائی سالوں میں مخالفت کو انتہاء تک پہنچا دیا اور گو ملک کے اکثر مولوی اس مخالفت میں گرم جوشی کے ساتھ حصہ لے رہے تھے مگر ان سب کے لیڈر اور مدار المہام یہی مولوی صاحب تھے جو مسلسل طور پر کئی سال تک سلسلہ احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے لیکن اب آہستہ آہستہ ان کا زور ٹوٹ رہا تھا اور وہ اپنی تمام قوت کو ختم کر کے اور مخالفت کو بے اثر پا کر کسی قدر ڈھیلے پڑ رہے تھے ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ سلسلہ احمدیہ کی مخالفت میں کمی آگئی تھی کیونکہ ان کے سست ہونے پر کئی دوسرے لوگ ان کی جگہ لینے کے لئے تیار تھے اور لے رہے تھے چنانچہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی بھی جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے انہی لوگوں میں سے تھے جو مولوی محمد حسین صاحب کے ڈھیلے پڑنے پر سلسلہ کی مخالفت میں آگے آرہے تھے۔ اسی طرح ایک صاحب بابو الٰہی بخش لاہور کے رہنے والے تھے جو کسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کے معتقد بھی رہ چکے تھے مگر بعد میں مخالف ہو گئے تھے اور آجکل ان کی مخالفت زوروں پر تھی۔ اسی طرح امرتسر کا غزنوی خاندان بھی شروع سے مخالفت میں پیش پیش چلا آیا تھا۔
    مگر اب ۹۱۰۲ء میں آکر ایک اور شخص آگے آیا جس کا نام مولوی ثناء اللہ تھا۔ یہ صاحب امرتسر کے رہنے والے تھے (یا یوں کہنا چاہئے کہ رہنے والے ہیں کیونکہ وہ ایک خدائی نشان کے نتیجہ میں اب تک زندہ ہیں) اور جب انہوں نے مخالفت کے میدان میں قدم رکھا تو اسے انتہاء تک پہنچا دیا۔ شروع شروع میں تو وہ معمولی طور پر مخالفانہ مضامین لکھتے رہے لیکن ۱۹۰۲ء کے آخر میں انہوں نے جماعت احمدیہ کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ تو چونکہ ۱۸۹۶ء سے ہی اپنے متعلق یہ اعلان فرما چکے تھے کہ چونکہ مناظرہ میں ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوتی ہے اور عوام کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے اس لئے میں آئندہ کسی سے مناظرہ نہیں کروں گا لہٰذا جماعت کی طرف سے سلسلہ کے ایک عالم مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مناظرہ کے لئے بھجوائے گئے اور بمقام مد ضلع امرتسر یہ مناظرہ منعقد ہوا۔ لیکن اس مناظرہ میں بھی اس تلخ تجربہ کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوا جو حضرت مسیح موعود ؑ کوپہلے مناظروں میں حاصل ہو چکا تھا یعنی یہ کہ تحقیق حق کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی نے ترقی کی۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو چیلنج دیا کہ فیصلہ کا اصل طریق تو خدائی نصرت اور روحانی طاقت کا امتحان ہے۔ پس اس کی طرف توجہ دینی چاہئے اور آپ نے لکھا کہ میں مناظرہ مد کے حالات کے متعلق ایک قصیدہ عربی زبان میں لکھتا ہوں مولوی صاحب کو جید عالم ہونے کا دعویٰ ہے سو اگر ان میں طاقت ہے اور خدا کی نصرت ان کے ساتھ ہے تو اس کے مقابلہ پر ایسا ہی فصیح و بلیغ قصیدہ وہ بھی لکھ کر شائع کر دیں۔ پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حق کس کے ساتھ ہے اور آپ نے فرمایا کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے مقررہ میعاد کے اندر اس قسم کا قصیدہ لکھ کر شائع کر دیا تو میں اپنی شکست ماننے کے علاوہ انہیں دس ہزار روپیہ انعام بھی دوں گا۔ ۱؎ مگر افسوس کہ مولوی صاحب نے اس میدان میں قدم نہ رکھا۔
    اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب کی مخالفت دن بدن اور بھی تیز ہوتی گئی اور حضرت مسیح موعود ؑ کے آخری ایام میں تو وہ گویا ایک طرح مخالفانہ تحریک کے لیڈر بن گئے اور ان کا اخبار ’’اہلحدیث‘‘ امرتسر سلسلہ احمدیہ کے خلاف تحقیر آمیز پراپیگنڈے سے بھرا ہوا ہوتا تھا ۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۹۰۷ء میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ لمبی قیل و قال سے کیا حاصل ہے۔ فیصلہ کی آسان صورت یہ ہے کہ ہم دونوںاپنے مقدمہ کو خدا کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔ اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ہم میں سے جو فریق جھوٹا ہے خدا اسے سچے کی زندگی میں ہلاک کرے اور آپ نے لکھا کہ میرے اس اشتہار کو مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے اخبار میں شائع کر دیں اور اپنی طرف سے اس کے نیچے جو چاہیں لکھ دیں۱؎ اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے بڑا واویلا کیا اور لکھا کہ یہ اشتہار میری اجازت کے بغیر اور میری مرضی کے خلاف شائع ہوا ہے اور مجھے یہ طریق فیصلہ منظور نہیں اور نہ کوئی عقلمند اسے منظور کر سکتا ہے بلکہ یہاں تک لکھا کہ مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کے بعد تک زندہ رہا تھا تو کیا یہ بات اس کے سچا ہونے کی دلیل ہو گی۔ ۲؎ حالانکہ حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ نہیں لکھا تھا کہ ہر صورت میں دوسرے کی زندگی میں مرنا جھوٹے ہونے کی دلیل ہے بلکہ یہ لکھا تھا کہ بالمقابل دعا کے بعد نشان کے طور پر دوسرے کے سامنے ہلاک ہونا جھوٹے ہونے کی دلیل ہے اور آپ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یہ بھی تحریر فرما چکے تھے کہ اگر مولوی صاحب نے اس طریق فیصلہ کو مان لیا کہ صادق کاذب سے پہلے مرے تو پھر وہ ضرور ہلاک ہوں گے۔ ۳؎ لیکن باوجود غیرت دلائے جانے کے مولوی صاحب نے اس فیصلہ کو نہ مانا اور صاف انکار کیا اور تکرار کے ساتھ صراحتاً لکھا کہ مجھے یہ طریق فیصلہ منظور نہیں۔ پس جب مولوی صاحب نے اس طریق فیصہ کو رد کر دیا بلکہ پیچھے زندہ رہنے والے کو مسیلمہ کذاب قرار دیا تو خدا نے ان کا پھندا انہی پر لوٹا دیا اور ان کی رسی دراز کر دی۔ چنانچہ وہ اب تک اپنے ہی پیش کردہ اصول یَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ کے ماتحت سلسلہ احمدیہ کے لئے کھاد کا کام دے رہے ہیں۔ اور اس عذاب سے حصہ لے رہے ہیں جو دنیا کے سخت ترین عذابوں میں سے ایک عذاب ہے یعنی اپنی آنکھوں سے اپنی ذلت و ناکامی اور اپنے مخالف فریق کی عزت و کامیابی کو دیکھنا اوراس کی جماعت کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کو مشاہدہ کرنا۔ ان حالات میں یہ یقینی ہے کہ جب تک وہ اپنی پوری ڈور حاص نہیں کر لیں گے ملک الموت ان کی آخری قضاء و قدر کو روکے رکھے گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑ کے بعض الہاموں سے پتہ لگتا ہے کہ بالآخر مولوی ثناء اللہ صاحب کی موت بھی جب بھی کہ وہ ہو گی حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت کا ایک نشان ہو گی جس طرح کہ ان کی زندگی ایک نشان ہے۔
    ایک اور مقدمہ کا آغاز اور سفرِ جہلم اور سفرِ گورداسپور :۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت
    مسیح موعود ؑ کے دشمنوںکا ایک حربہ یہ بھی تھا کہ آپ پر جھوٹے مقدمات کھڑے کر کے نقصان پہنچایا جاوے۔ چنانچہ ۱۹۰۳ء کے شروع میں آپ کے خلاف پھر ایک فوجداری مقدمہ قائم کیا گیا۔ یہ مقدمہ ایک شخص مولوی کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کی طرف سے تھا جس میں مولوی کرم دین نے یہ استغاثہ دائر کیا تھا کہ مرزا صاحب نے میرے متعلق اپنی کتاب ’’مواہب الرحمن‘‘ میں جھوٹے اور کمینہ کے الفاظ لکھے ہیں جو میری ازالہ حیثیت عرفی کا موجب ہوئے ہیں۔ اس مقدمہ کی بنا یہ تھی کہ مولوی کرم دین نے حضرت مسیح موعودؑ کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ ظاہر کیا تھا کہ میں آپ کا ہمدرد ہوں اور اس میں یہ اطلاع دی تھی کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی جو کتاب آپ کی کتاب ’’ اعجاز المسیح‘‘ کے مقابلہ پر لکھ رہے ہیں اس میں انہوں نے ایک دوسرے شخص کی کتاب کے مسودہ سے سرقہ کیا ہے۔ مولوی کرم دین کا یہ خط اخبار الحکم قادیان میں چھاپ دیاگیا تا کہ یہ ظاہر ہو کہ سلسلہ کے مخالفین کس اخلاق اور کس ذہنیت کے لوگ ہیں۔اس پر مولوی کرم دین نے بر افروختہ ہو کرایک مضمون شائع کیا کہ میں نے یونہی ہنسی اور امتحان کے خیال سے یہ ساری بات لکھی تھی ورنہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے کوئی سرقہ نہیں کیا جب حضرت مسیح موعود ؑ کو مولوی کرم دین کے اس مضمون کی اطلاع ہوئی تو آپ کو اپنے مخالف مولویوں کی حالت پر سخت افسوس ہوا اور آپ نے اپنی عربی کتاب ’’ مواہب الرحمن‘‘ میں جو ان ایام میں زیر تصنیف تھی مولوی کرم دین کے متعلق لکھا کہ یہ شخص کذاب اور لئیم ہے یعنی جھوٹ بولنے والا اور کمینہ مزاج شخص ہے کہ ایسے سنجیدہ معاملات میں بھی اس نے جھوٹ اور کمینگی سے کام لیا ہے۔ اس پر مولوی کرم دین نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ازالہ حیثیت کا دعویٰ دائر کر دیا جس کے جواب میں دفاع کے خیال سے ایک مقدمہ ایڈیٹر اخبار الحکم کی طرف سے مولوی کرم دین کے خلاف بھی دائر کر دیا گیا۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف مقدمہ کی پہلی پیشی جنوری ۱۹۰۳ء میں جہلم میں ہوئی چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو ایسی قبولیت عطا فرمائی اور لوگوں کا ایسا رجوع ہوا کہ راستہ میں ہر سٹیشن پر زائرین کا اتنا ہجوم ہوتا تھا کہ پولیس اور محکمہ ریلوے کو انتظام کرنا مشکل ہو جاتا تھا اور جہلم میں تو لوگوں کی اتنی کثرت تھی کہ جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی نظر آتے تھے اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کے لئے دور دراز سے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے۔ ان میں ایک حصہ اشد مخالف اور دشمن بھی تھا لیکن اکثر لوگ عقیدت اور زیارت کے لئے آئے تھے۔ چنانچہ اس موقعہ پر جہلم میں قریباً ایک ہزار آدمیوں نے بیعت کی۔ اور لوگوں کی توجہ سے صاف نظر آتا تھا کہ جماعت کی ترقی میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
    اس کے بعد یہ مقدمہ جہلم میں ختم ہو کر گورداسپور میں جاری ہو گیا جو اس ضلع کا صدر مقام ہے جس میں قادیان واقع ہے اور پھر قریباً دو سال تک جاری رہا جس کے لئے حضرت مسیح موعودؑ کو بعض اوقات لمبے لمبے عرصہ کے لئے گورداسپور میں جا کر ٹھہرنا پڑا کیونکہ مجسٹریٹ صاحب عموماً اتنی اتنی قریب کی تاریخیں مقرر کرتے تھے کہ قادیان آنا جانا باعثِ تکلیف تھا۔ اس مقدمہ میں اوپر تلے دو مجسٹریٹ بدلے اور اتفاق سے دونوں ہندو تھے اور ان ایام میں یہ افواہ بہت گرم تھی کہ آریہ لوگ ان مجسٹریٹوں کے کان بھرتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب نعوذ باللہ لیکھرام کے قاتل ہیں اور اب اپنا قومی بدلہ اتارنے کا اچھا موقعہ ہے۔ اور مجسٹریٹوں کے تیور بھی بدلے ہوئے نظر آتے تھے ۔ انہی ایام میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کو یہ اطلاع پہنچی کہ بعض آریوں نے مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ اس وقت یہ شخص آپ کے ہاتھ میں ایک شکار ہے اسے اب بچ کر نہیں جانے دینا چاہئے۔ اس وقت حضرت مسیح موعود ؑ چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور طبیعت کچھ خراب تھی مگر یہ بات سن کر آپ جوش کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ ’’ کیا یہ لوگ مجھے شکار سمجھتے ہیں؟ میں شکار نہیں ہوں۔ میں تو خدا کا شیر ہوں اور خدا کے شیر پر کوئی ہاتھ تو ڈال کر دیکھے! ‘‘ پھر تھوڑی دیر تک خاموش رہنے کے بعد فرمایا۔ ’’ میں کیا کروں میں نے تو خدا سے کئی دفعہ عرض کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھوں میں لوہے کے کڑے پہننے کے لئے تیار ہوں مگر وہ مجھے باربار یہی کہتا ہے کہ نہیں نہیں میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔ میں تیری حفاظت میں کھڑا ہوں اور کوئی شخص تجھ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ انہی دنوں میں حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ بھی کہا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اس عدالت میں سزا ہو جائے گی مگر عدالتِ اپیل میں بریت ہو گی۔
    الغرض یہ مقدمہ دو سال تک چلتا رہا ۔ اور اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہوا اور بالآخر مجسٹریٹ نے ۱۹۰۴ء کے آخر میں آپ کو پانچ سو روپیہ جرمانہ کی سزا دے دی اور دوسرے مقدمہ میں جو ایڈیٹر الحکم کی طرف سے تھا مولوی کرم دین کوپچاس روپے جرمانہ کیا گیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف سے جرمانہ فوراً ادا کر دیا گیا اور سشن جج کے پاس اپیل کی گئی سشن جج نے جو ایک انگریز افسر تھا پہلی ہی پیشی میں جو جنوری ۱۹۰۵ء میں ہوئی اپیل کو منطور کر لیا بلکہ افسوس ظاہر کیا کہ ایسا معمولی سا مقدمہ اتنے لمبے عرصہ تک چلتا رہا ہے اور لکھا کہ کرم دین نے جن گرے ہوئے اخلاق کا اظہار کیا ہے اس کے پیش نظر جو الفاظ اس کے متعلق مرزا صاحب نے لکھے ہیں وہ بالکل جائز اور واجبی ہیں اور ان سے اس کی قطعاً کوئی ہتک نہیں ہوئی بلکہ صرف امر واقع کا اظہار ہوا ہے جو حالات کے ماتحت ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ خدائی وعدہ کے مطابق بری کئے گئے اور آپ کا جرمانہ واپس ہوا۔ مگر مولوی کرم دین کا جرمانہ قائم رہا اور اس کے جھوٹ اور کمینگی پر ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق ثبت ہو گئی۔ ۱؎
    منارۃ المسیح کا سنگِ بنیاد :۔ مسیح موعود ؑ کے متعلق بعض اسلامی پیشگوئیوں میں یہ ذکر آتا
    ہے کہ اس کا نزول دمشق کے مشرق کی طرف ایک سفید مینار پر ہو گا ۔ اس پیشگو ئی کے اصل معنے تو اور ہیں یعنی یہ کہ مسیح موعود ؑ کا نزول ایسے دلائل کے ساتھ ہو گا جو دودھ کی سفیدی کی طرح بے عیب ہوں گے اور اس کی روشنی دور دور تک نظر آئے گی۔ لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ طریق تھا کہ جہاں تک ممکن اور جائز ہو ہر پیشگوئی کو ظاہر میں بھی پوراکرنے کی کوشش فرماتے تھے اس لئے آپ نے ۱۹۰۰ء میں یہ تجویز کی تھی کہ قادیان کی مسجد اقصیٰ میں ایک سفید منارہ تعمیر کیا جاوے جس میں ایک بڑی گھڑی بھی لگائی جاوے اور روشنی کا بھی انتظام ہو تا کہ یہ روشنی خدائی نور کے لئے ایک ظاہری علامت بھی بن جاوے۔ ۱؎ اس تجویز کے مطابق آپ نے بتاریخ ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ ء بروز جمعہ مجوزہ مینار کی بنیاد رکھی اور خشت بنیاد کو اپنی رانِ مبارک پر رکھ کر بہت دیر تک لمبی دعا فرمائی ۔ ۲؎ مگرچونکہ اس وقت جماعت کی مالی حالت کمزور تھی اس لئے حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں مینار کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی اور ایک عرصہ تک کام رکا رہا اور پھر ۱۶،۱۹۱۵ء میں آکر خلافتِ ثانیہ میں اس کی تکمیل ہوئی۔
    مولوی عبداللطیف صاحب کی شہادت کا درد ناک واقعہ :۔ ۱۹۰۳ء میں جماعت احمدیہ
    کو ایک نہایت درد ناک واقعہ پیش آیا جو سلسلہ کی تاریخ میں ایک یادگار رہے گا اور وہ یہ کہ ۱۹۰۲ء کے آخر میں افغانستان کے علاقہ خوست کے ایک معزز رئیس مولوی عبداللطیف صاحب حضرت مسیح موعود ؑ کا نام سن کر قادیان میں آئے اور آپ کی بیعت سے مشرف ہوگئے۔ یہ صاحب افغانستان کے بڑے علماء میں سے تھے اور دربارِ کابل میں ان کی اتنی عزت تھی کہ امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی اور ان کے شاگردوں اور معتقدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا ۔ انہوں نے کئی ماہ تک قادیان میں قیام کیا اور حضرت مسیح موعود کی صحبت سے بہت فائدہ اٹھایا اور اس عرصہ میں ان کا ایمان اتنا ترقی کر گیا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ عشق کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ جب وہ کئی ماہ کے قیام کے بعد اپنے وطن میں واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود ؑ کے پائوں پر گر کر زار زار روئے اور کہنے لگے کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ مجھے اس دنیا میں اس مبارک چہرہ کی زیارت پھر نصیب نہیں ہو گی۔
    جب وہ کابل میں پہنچے تو امیر حبیب اللہ خان کے دربار میں ایک شور پڑ گیا کہ یہ شخص کافر اور مرتد ہو کر آیا ہے اور جہاد کا منکر ہے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس سزا کا مستحق ہے کہ اسے قتل کر دیا جاوے۔ مولوی عبداللطیف صاحب نے انہیں سمجھایا کہ میں ہرگز مرتد یا کافر نہیں ہوں بلکہ اسلام کا خادم اور فدائی ہوں اور اسلام کے متعلق پہلے سے بہت زیادہ محبت اور اخلاص رکھتا ہوں۔ ہاں میں نے حضرت مسیح موعو د ؑکے دعویٰ کو سچا جان کر آپ کو قبول کیا ہے اور یہ ایک حق ہے جسے میں چھوڑ نہیں سکتا اور میں جہاد کا منکر نہیں ہوں البتہ چونکہ اس زمانہ میں جہاد کی ضرورت نہیں اور وہ حالات موجود نہیں جن میں اسلام نے تلوار کا جہاد جائز رکھا ہے اس لئے میں موجودہ زمانہ میں جہاد بالسیف کا قائل نہیں ہوں۔ غرض علماء کے ساتھ مولوی صاحب کی بہت بحث ہوئی مگر کابل کے علماء اپنی ضد پر قائم رہے اور بالآخر انہوں نے متفقہ طور پر مولوی صاحب کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کا فتویٰ دیا۔ اس پر امیر حبیب اللہ خان نے مولوی صاحب کو سمجھایا کہ اس وقت ضد اچھی نہیں اور مخالفت کا بہت زور ہے بہتر ہے کہ آپ اپنے عقائد سے توبہ کا اعلان کر دیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے جس بات کو خدا کی طرف سے حق سمجھ کر یقین کیا ہے اسے نہیں چھوڑوں گا اور میں اپنی جان کو بچانے کے لئے اپنے ایمان کو ضائع نہیں کر سکتا۔ اس پر علماء کے دبائو کے نیچے آکر امیر نے مولوی صاحب کے قتل کا حکم دے دیا اور قتل کے طریق کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ زمین میں ایک گڑھا کھود کر مولوی صاحب کو اس گڑھے میں کمر تک دفن کر دیا جائے اور پھر ان پر پتھروں کی بارش برسا کر انہیں ہلاک کر دیا جائے۔ چنانچہ شہر سے باہر کھلے میدان میں یہ انتظام کیا گیا اور کابل کے سب علماء اور رئوسا اور خود امیر اور دوسرے لوگ اس جگہ جمع ہوئے۔ جب مولوی صاحب کو کمر تک زمین میں دفن کر دیا گیا اور صرف اوپر کا دھڑ باہر رہا تو امیرکابل پھر آگے بڑھ کر مولوی صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ اب بھی وقت ہے اگر آپ توبہ کر لیں تو علماء کا جوش دب جائے گا ۔ مگر مولوی صاحب نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور کہا میں کسی قیمت پر بھی اپنے ایمان کو ضائع نہیں کروں گا اور اب میری صرف اس قدر درخواست ہے کہ تم جلدی کرو تا کہ جو پردہ مجھے جنت سے جدا کر رہا ہے وہ درمیان سے اٹھ جاوے۔ اس پرامیر نے پتھرائو کا حکم دیا جس پر اس زور سے پتھر برسے کہ دیکھے ہی دیکھتے پتھروں کا ایک پہاڑ کھڑا ہو گا اور اس عاشق مسیح کی روح اپنے ابدی ٹھکانہ میں پہنچ گئی۔
    جب حضرت مسیح موعود ؑ کو اس واقعہ کی اطلاع پہنچی اور ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ اس سے قبل مولوی عبداللطیف صاحب کے ایک شاگرد مولوی عبدالرحمن صاحب کو بھی کابل میں شہید کیا گیا تھا تو آپ کو بہت صدمہ پہنچا مگر اس جہت سے خوشی بھی ہوئی کہ آپ کے ان دو مخلصین نے ایمان کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے جو صحابہ ؓ کے زمانہ کی یاد کو تازہ کرتا ہے چنانچہ آپ نے اس واقعہ شہادت کے متعلق ایک کتاب ’’ تذکرۃ الشہادتین ‘‘ لکھ کر شائع فرمائی اور اس میں بتایا کہ وہ الہام جو خدا نے کئی سال ہوئے آپ پر نازل کیا تھا کہ دو بے گناہ بکرے ذبح کئے جائیں گے وہ ان دو شہادتوں سے پورا ہوا ہے۔ ۱؎
    اس کے بعد افغانستان میں احمدیوں پر سخت مصائب کا زمانہ شروع ہو گیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنے وطن سے بھاگ کر قریب کے انگریزی علاقہ میں آگئے اور بعض قادیان میں ہجرت کر آئے اور ان لوگوں کی جائدادیں ضبط کر لی گئیں۔ اور جو لوگ پیچھے ًٹھہرے وہ چھپ چھپ کر اور اپنے ایمان کو مخفی رکھ کر ٹھہرے مگر ساتھ ہی مولوی عبداللطیف صاحب کی شہادت نے کابل میں ایک بیج بھی بو دیا اور بعض سعید طبیعتوں میں یہ جستجو پیدا ہو گئی کہ اس سلسلہ کے حالات معلوم کریں جس کے ایک فرد نے اپنے ایمان کی خاطر اس دلیری کے ساتھ جان دی ہے چنانچہ کچھ عرصہ کی خاموشی کے بعد پھر اندر ہی اندر احمدیت کا درخت بڑھنا شروع ہوا۔ اور اب افغانستان کے مختلف حصوں میں ایک کافی جماعت پائی جاتی ہے۔ مگر اب تک بھی یہ لوگ کھل کر ظاہر نہیں ہو سکتے۔ ۲؎
    لاہور اور سیالکوٹ کے سفر اور مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ :۔ ۱۹۰۳ء اور ۱۹۰۴ء کے
    سال زیادہ تر اس مقدمہ کی مصروفیت میں گزرے جو مولوی کرم دین جہلمی نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف دائر کر رکھا تھا۔ اس مقدمہ کی پیروی میں بظاہر بہت سا وقت ضائع گیا مگر چونکہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اس لئے گو ایک لحاظ سے یہ وقت ضائع گیا اور حضرت مسیح موعود ؑ کو مقدمہ کی پریشانی بھی لاحق ہوئی لیکن دوسری جہت سے یہ مقدمہ باعثِ رحمت بھی ہو گیا۔ یعنی اوّل تو اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا یہ نشان ظاہر ہوا کہ آنے والے مقدمہ اور بالآخر اس کی کامیابی کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کو جو الہامات ہوئے تھے وہ پورے ہو کر کئی لوگوں کی ہدایت اور جماعت کے ازد یاد ایمان کا باعث ہوئے۔ دوسرے چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ اس مقدمہ کے دوران میں زیادہ تر سفر کی حالت میں رہے جس میں آپ کو اپنے دوستوں کے ساتھ ملنے کا زیادہ موقعہ میسر آتا تھا اور کچہری کی حاضری کا وقت بھی گویا اختلاط میں گزرتا تھا اس لئے یہ ایام جماعت کی تربیت کے لحاظ سے بہت مبارک ثابت ہوئے۔ گویا یہ زمانہ تبلیغ کی نسبت زیادہ تر تعلیم و تربیت میں خرچ ہوا۔ چنانچہ خاکسار مؤلف نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے عادات و اخلاق کے متعلق آپ کے اصحاب کی روایات بیشتر طور پر اسی زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور ان میں آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب کے ذاتی تعلق اور وابستگی کی ایک خاص جھلک نظر آتی ہے۔
    مگر دعوت الی الحق کا کام بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا چنانچہ علاوہ اس کے کہ ان ایام میں بھی ملنے والوں کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ جاری رہتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دو ایسے موقعے پیدا کر دئیے جن میں سلسلہ حقہ کی پوری پوری تبلیغ میسر آگئی۔ یہ واقعات دو سفروں کی صورت میں تھے جو حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۹۰۴ء کے نصف آخر میں کئے۔ چنانچہ پہلا سفر اگست ۱۹۰۴ء کے آخر میں لاہور تک کیا گیا۔ جہاںآپ قریباً دو ہفتے ٹھہرے۔ اس سفر میں بھی جہلم کے سفر کی طرح لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ پولیس کو انتظام مشکل ہو گیا اور جتنے دن آپ لاہور میں ٹھہرے آپ کی فرودگاہ کے قریب متلاشیان اور مخالفین کا ایک بھاری ہجوم رہتا تھا۔ متلاشی لوگ آپ کے پاس آتے آپ سے ملتے اور آپ کے سامنے اپنے اعتراضات پیش کر کے فائدہ اٹھاتے تھے اور مخالف لوگ آپ کے قریب آنے کی بجائے آپ کی فرودگاہ کے سامنے مظاہرہ کرتے جلسے منعقد کرتے اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے تھے۔ انہی ایام میں لوگوں کی خواہش پر آپ کے لئے ۳؍ ستمبر ۱۹۰۴ء کو ایک پبلک تقریر کا بھی انتظام کیا گیا۔ آپ نے اس موقعہ کے لئے ایک مضمون ’’اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب ‘‘ کے عنوان کے ماتحت لکھ کر اسے طبع کرا لیا اور پھر اسے آپ کے ایک مخلص حواری حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حسب معمول اپنی بلند اور خوبصورت آواز میں پڑھ کر سنایا۔ حاضرین کی تعداد باوجود لوگوں کی سخت مخالفت کے سات آٹھ ہزار کے قریب تھی اور جلسہ نہایت کامیاب رہا۔ تقریر کے اختتام پر حاضرین نے خواہش کی کہ حضرت مسیح موعود ؑ اپنی زبان سے بھی کچھ فرمائیں چنانچہ آپ نے تحریری تقریر کے پڑھے جانے کے بعد ایک مختصر زبانی تقریر بھی کی جس کا بہت اچھا اثر ہوا اور اس طرح یہ جلسہ نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ چونکہ یہ زمانہ سخت مخالفت کا زمانہ تھا اور ہر قسم کے لوگوں کا رجوع عام تھا اس لئے اس جلسہ کے موقعہ پر پولیس کی طرف سے خاص انتظام تھا۔ ہندوستانی اور گورہ پولیس دونوں کا پہرہ تھا اور گورہ پولیس ننگی تلواروں کے ساتھ ڈیوٹی پر حاضر تھی اور نہ صرف جلسہ گاہ میں پہرے کا انتظام تھا بلکہ راستہ میں بھی مضبوط پہرہ متعین تھا۔ اور آپ کی گاڑی کے آگے اور پیچھے گھوڑے سوار سپاہی کام پر لگے ہوئے تھے اس لئے باوجود اس کے کہ بعض شریر اور فتنہ پرداز لوگ شرارت کا ارادہ رکھتے تھے کسی کو جرأت نہیں ہوئی اور پندرہ دن کے قیام کے بعد آپ لاہور سے گورداسپور تشریف لے گئے۔ ۱؎
    سفر لاہور کے قریباً دو ماہ بعد یعنی اکتوبر ۱۹۰۴ء کے آخر میں جب کہ ماتحت عدالت نے مولوی کرم دین والے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ اس سفر کی وجہ یہ تھی کہ سیالکوٹ کی جماعت نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ اپنی ابتدائی عمر میں کئی سال تک سیالکوٹ میں رہے ہیں پس اب بھی جبکہ خدا نے آپ کو ایسی عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے آپ ایک دفعہ پھر چند دن کے لئے سیالکوٹ تشریف لے چلیں اور اس شہر کو اپنے مبارک قدموں سے برکت دیں۔ آپ نے جماعت کی اس خواہش کو منظور فرما لیا اور ۲۷؍ اکتوبر کو سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ اس سفر کی کامیابی نے جہلم اور لاہور کے سفروں کو بھی مات کر دیا اور راستے کے سٹیشنوں پر اور بالآخر سیالکوٹ کے سٹیشن پر زائرین کا اس قدر ہجوم تھا کہ محکمہ ریلوے اور پولیس کے لئے انتظام سخت مشکل ہو گیا۔ مسلمان ۔ہندو ۔ سکھ ۔ عیسائی غرض ہر قوم کے لوگ اس شخص کو دیکھنے کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے جس نے اپنے دعووں اور اپنی پیشگوئیوں کے ساتھ ملک میں ایک زلزلہ برپا کر رکھا تھا۔ اس سفر میں لاہور کے سٹیشن پر اس قدر ہجوم تھا کہ پلیٹ فارم ٹکٹ ختم ہو گئے اور بہت سے لوگ سٹیشن کے اندر آنے سے محروم رہ گئے اور سیالکوٹ سٹیشن پر تو حد ہی ہو گئی جہاں تک نظر جاتی تھی لوگوں کے سر ہی سر نظر آتے تھے ۔ سٹیشن کی عمارتیں ۔ پاس کے مکانات اور دوکانات اور راستے وغیرہ اس طرح بھرے ہوئے تھے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی اور یہ ہجوم صرف سٹیشن کے قرب وجوار تک محدود نہیں تھا بلکہ سٹیشن سے لے کر اس جگہ تک جہاں حضرت مسیح موعود ؑ نے قیام کرنا تھا جو قریباً ایک میل کے فاصلہ پر تھی لوگوں کا مسلسل ہجوم تھا اور راستہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کی گاڑی کے لئے راستہ صاف رکھنے کے واسطے پولیس کو خاص انتظام کرنا پڑا اور کئی افسر ڈیوٹی پر لگے ہوئے تھے۔ شاید یہ نظارہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے دکھایا کہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ جس شہر میں دعویٰ سے پہلے آپ ایک بالکل غیر معروف صورت میں کسم پرسی کی حالت میں رہتے تھے وہاں دعویٰ کے بعد خدا کی نصرت نے آپ کی مقبولیت کو کہاں تک پہنچا دیا کہ باوجود انتہائی مخالفت کے دنیا امڈی چلی آتی ہے۔
    سیالکوٹ میں آپ نے ایک ہفتہ قیام کیا اور لوگوں کی خواہش پر یہاں بھی آپ نے ایک پبلک جلسہ میں تقریر فرمائی۔ یہ تقریر بھی لکھی ہوئی تھی جسے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا جو اسی شہر کے رہنے والے تھے اور اپنی آواز اور سحر بیانی سے لوگوں کو مسحور کر لیتے تھے۔ باوجود اس کے کہ علماء کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب کی تقریر میں کوئی شخص نہ جائے اور لوگوں کو روکنے کی غرض سے ایک بالمقابل جلسہ بھی منعقد کیا گیا اور لیکچر گاہ کے دروازوں پر بھی بہکانے والے آدمی مقرر کئے گئے مگر پھر بھی لوگ بڑی کثرت کے ساتھ جلسہ میں شریک ہوئے اور تقریر نہایت کامیاب ہوئی۔ دوران تقریر میں بعض فتنہ پرداز لوگوں نے شور کرنا چاہا مگر پولیس نے روک دیا اور کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہو سکی۔
    اس تقریر میں حضرت مسیح موعود ؑ نے اسلام اور احمدیت کی صداقت کے دلائل بیان کئے مگر جو بات اس تقریر میں حضرت مسیح موعود کی طرف سے خاص طور پر پیش کی گئی وہ مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ تھا۔ یہ دعویٰ پہلے سے آپ کی تحریرات میں آچکا تھا مگر اس موقعہ پر آپ نے خصوصیت سے اس بات کا اعلان فرمایا کہ خدا نے آپ کو بتایا ہے کہ جس طرح آپ مثیل مسیح اور مثیل موسیٰ اور بہت سے دوسرے نبیوں کے مثیل ہیں اسی طرح آپ مثیل کرشن بھی ہیں جو ہندوئوں میں ایک بہت باخدا بزرگ اور بڑے بھاری اوتار گزرے ہیں۔ ۱؎ لیکچر کے دوسرے دن یعنی نومبر ۱۹۰۴ء کے شروع میںآپ قادیان واپس تشریف لے آئے۔
    ایک تباہ کن زلزلہ او رخدائی پیشگوئی کا ظہور :۔ ۱۹۰۵ء کا آغاز اس مقدمہ کی فتح کے
    ساتھ ہوا جو مولوی کرم دین نے آپ کے خلاف دائر کر رکھا تھا اور جس میں ماتحت عدالت نے آپ پر پانچ سو روپیہ جرمانہ کیا تھا۔ عدالت اپیل نے نہ صرف آپ کو بری کیا اور جرمانہ واپس دلایا بلکہ ماتحت عدالت کے فیصلہ پر سختی کے ساتھ ریمارک کئے کہ ایسے معمولی مقدمہ کو اتنا لٹکایا گیا ہے اور کرم دین کے متعلق بھی لکھا کہ وہ ان الفاظ کا پوری طرح حقدار تھا جو اس کے متعلق استعمال کئے گئے۔ یہ کامیابی اس خدائی بشارت کے مطابق تھی جو پہلے سے حضرت مسیح موعود ؑ کو دی جاچکی تھی۔
    ابھی اس نئے سال نے زیادہ منزلیں طے نہیں کی تھیں کہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو شمالی ہندوستان میں ایک خطرناک زلزلہ آیا۔ اس زلزلہ کا مرکز ضلع دھرم سالہ کے پہاڑ تھے جہاں سب سے زیادہ تباہی آئی مگر یہ تباہی صرف دھرم سالہ تک محدود نہیں تھی بلکہ پنجاب کے ایک بہت بڑے علاقہ میں تباہی آئی اور ہزاروں جانیں اور لاکھوں روپے کی جائیداد تباہ ہو گئی اور ایک آن کی آن میں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قیامت کا نظارہ پھر گیا۔ یہ تباہ کن زلزلہ حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھا جو چند ماہ پہلے شائع کی گئی تھی اور جس کے الفاظ یہ تھے کہ :۔
    عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَمُقَامُھَا ۲؎
    یعنی عنقریب ایک تباہی آنیوالی ہے جس میں سکونت کی عارضی جگہیں اور مستقل جگہیں دونوں مٹ جائیں گی اور اس کے بعد ایک اور الہام میں بتایا گیا تھا کہ :۔
    ’’ درد ناک موتوں سے عجیب طرح پر شورِ قیامت برپا ہے اور موتا موتی لگ رہی ہے۔ ۳؎
    چنانچہ عین ان الہاموں کے مطابق جو کئی ماہ پہلے شائع کئے جا چکے تھے اس زلزلہ نے لوگوں کو یہ قیامت کا نمونہ دکھا دیا اور پیشگوئی بڑی صفائی کیساتھ پوری ہوئی۔
    اس زلزلہ کے بعد آپ احتیاط کے طور پراپنے مکان میں سے نکل کر اس باغ میں جا کر مقیم ہو گئے جو قصبہ کے جنوبی جانب واقع ہے اور کئی ماہ تک وہیں باغ میں ٹھہرے ۔ جہاں خیموں کے انتظام کے علاوہ چد عارضی مکانات بھی تیار کرالئے گئے تھے اور مقامی جماعت کے اکثر دوست بھی آپ کے ساتھ باغ میں چلے گئے۔ اور اس طرح باغ میں ایک چھوٹا سا شہر آباد ہو گیا۔ جس کے سارے باشندے گویا ایک خاندان کے فرد تھے۔ انہی دنوں میں آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اَور زلزلوں کی بھی خبر دی ہے اور آپ نے لکھا کہ گو خدا کے الہام میں زلزلہ کا لفظ ہے مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ضرور زلزلہ ہی ہو گا بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور تباہی ہو جو اپنی ہلاکت میں زلزلہ سے مشابہ ہو۔ چنانچہ انہی ایام میں آپ نے وہ منظوم پیشگوئی شائع فرمائی جس میں ایک عالمگیر تباہی کی خبر دی اور یہاں تک لکھا کہ یہ تباہی ایسی خطرناک ہو گی کہ خون کی ندیاں چل جائیں گی اور عمارتیں مت جائیں گی اور لوگ اپنے عیش و عشرت کو بھول کر دیوانوں کی طرح پھریں گے حتیّٰ کہ زارِ روس جیسے جلیل القدر بادشاہ بھی اس وقت با حال زار ہوں گے چنانچہ آپ نے فرمایا :۔
    اک نشاں ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد
    جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار
    آئیگا قہرِ خدا سے خلق پر اک انقلاب
    اک برہنہ سے نہ ہو گا یہ کہ تا باندھے ازار
    یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
    کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار
    اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیرو زبر
    نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آبِ رودبار
    ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس
    بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار
    خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں
    سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار
    مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس
    زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحالِ زار ۱؎
    یہ نظم حضرت مسیح موعود ؑ نے اپریل ۱۹۰۵ء میں لکھی اور اس کے نیچے یہ نوٹ لکھا کہ گو خدا تعالیٰ نے الہام میں زلزلہ کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن چونکہ بعض اوقات زلزلہ کالفظ ایک بڑی آفت اور انقلاب پر بھی بولا جاتا ہے اس لئے ممکن ہے کہ یہ مصیبت عام زلزلہ کی صورت میں نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نمونہ دکھاوے۔ اور بعد کے حالات نے بتا دیا کہ اس پیشگوئی میں جنگ عظیم کی طرف اشارہ تھا جس نے ۱۹۱۴ء میں ظاہر ہو کر گویا دنیا کا نقشہ بدل دیا اور ایسی خطرناک تباہی پیدا کی جس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں نہیں ملتی اور پھر لطف یہ ہے کہ عین پیشگوئی کے مطابق اس زلزلہ عظیمہ نے زار کا بھی تختہ الٹ دیا۔
    سلسلہ کے ایک بہت بڑے عالم کی وفات :۔ ۱۹۰۵ء کے آخر میں سلسلہ احمدیہ کو
    ایک بہت بھاری صدمہ پہنچا یعنی ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے وفات پائی۔ مولوی صاحب مرحوم ایک نہایت جید عالم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مقرر اور مصنف بھی تھے اور ان میں خدا نے ایسے دو وصفوں کو جمع کر دیا تھا جو بہت کم جمع ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی زبان اور قلم دونوں نے خدا سے خاص برکت حاصل کی تھی۔ آواز نہایت بلند اور دلکش تھی اور زبان نہایت فصیح اور زور دار اور ہر لفظ اثر میں ڈوبا ہوا نکلتا تھا۔ تصنیف میں بھی نہایت زور تھا۔ اور سلاست اور روانی کے ساتھ فصاحت غضب کی تھی۔ اس کے علاوہ طبیعت بہت زیرک اور نکتہ سنج تھی اور قرآن شریف کے معارف بیان کرنے میں خاص ملکہ تھا۔ ابھی بالکل جوان ہی تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل ؓ کے واسطے سے حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور گو شروع شروع میں سر سید مرحوم کے خیالات کے اثر کے ماتحت طبیعت میں کسی قدر نیچریت کی طرف میلان تھا مگر حضرت مسیح موعود ؑ کی صحبت میں آکر یہ اثر آہستہ آہستہ دُھل گیا اور چونکہ جو ہر پاک تھا اس لئے نبوت کے پَرتَو نے غلبہ پا کر طبیعت کو ایک خاص جلا دے دی۔
    وفات کے وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی عمر صرف سینتالیس سال کی تھی۔ اگست ۱۹۰۵ء میں مرض کاربنکل سے بیمار ہوئے اور قریباً دو ماہ بیمار رہ کر ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو نمونیا کی زائد تکلیف سے اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو مولوی صاحب کی وفات کا ایسا ہی صدمہ ہوا جیسے ایک محبت کرنے والے باپ کو ایک لائق بیٹے کی وفات کا ہوا کرتا ہے مگر آپ کی محبت کا اصل مرکزی نکتہ خدا کا وجود تھا اس لئے آپ نے کامل صبر کا نمونہ دکھایا اور جب بعض لوگوں نے زیادہ صدمہ کا اظہار کیا اور اس بات کے متعلق فکر ظاہر کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کی ذات کے ساتھ بہت سے کام وابستہ تھے اب ان کے متعلق کیا ہو گا تو آپ نے ایسے خیالات پر توبیخ فرمائی چنانچہ فرمایا:۔
    ’’ مولوی عبدالکریم صاحب کی موت پر حد سے زیادہ غم کرنا ایک قسم کی مخلوق کی عبادت ہے کیونکہ جس سے حد سے زیادہ محبت کی جاتی ہے یا حد سے زیادہ اس کی جدائی کا غم کیا جاتا ہے وہ معبود کے حکم میں ہو جاتا ہے ۔ خدا ایک کو بلا لیتا ہے تو دوسرا اس کے قائم مقام کر دیتا ہے۔ وہ قادر اور بے نیاز ہے ۔ ۱؎
    حضرت مسیح موعود ؑ نے مولوی صاحب مرحوم کے سنگِ مزار کے لئے ایک فارسی نظم بھی تحریر فرمائی جس میں آپ نے لکھا کہ :۔
    کے تواں کردن شمارِ خوبیٔ عبدالکریم
    آں کہ جاں داد از شجاعت بر صراط مستقیم
    حامیٔ دیں آنکہ یزداں نام اولیڈر نہاد
    عارفِ اسرار حق گنجینئہ دین قویم
    گرچہ جنس نیکواں ایں چرخ بسیار آورد
    کم بزاید مادرے باایں صفا دُرِّیتیم
    دل بدرد آمد زہجر ایں چنیں یک رنگ دوست
    لیک خوشنودیم برفعلِ خداوند کریم
    ’’ یعنی مولوی عبدالکریم مرحوم کی خوبیاں کس طرح بیان کی جائیں۔ وہ عبدالکریم جس نے دین کے رستہ میں شجاعت اور بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دی ہے۔ وہ دین کا ایک زبردست پہلوان تھا جس کا نام خود خدا نے اپنے ایک الہام میں ’’مسلمانوں کا لیڈر‘‘ رکھا تھا۔ وہ حق کے اسرار کا راز دار تھا۔ اور دینی معارف کا ایک خزانہ تھا۔ اگرچہ اس آسمان کے نیچے بڑے بڑے نیک لوگ پیدا ہوئے ہیں مگر اس آب و تاب کا موتی بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ اس قسم کے یک رنگ دوست کی جدائی سے دل میں درد اٹھتا ہے لیکن اپنے خدا کے فعل پر ہر حال میں راضی اور شاکر ہیں۔ ‘‘
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد ماہ اکتوبر کے آخر میں حضرت مسیح موعود ؑ چند دن کے لئے دہلی تشریف لے گئے۔ اس سفر سے پہلے آپ کو خواب میں یہ بتایا گیا تھاکہ آپ دہلی گئے ہیں مگر شہر کے دروازوں کو بند پایا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دہلی میں لوگوں نے مخالفت کا شور تو بہت کیا مگر مخالفت کا دوسرا پہلو جو قبولیت کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے وہ ظاہر نہ ہوا اور آپ نے اپنی خواب کے مطابق دہلی والوں کے دلوں پرقفل لگے ہوئے پائے۔ مگر پھر بھی تبلیغ کا حق ادا کیا گیا اور بہت لوگ ملاقات سے مستفیض ہوئے۔ دہلی سے واپسی پر آپ لدھیانہ میں دو دن ٹھہرے۔ یہ لدھیانہ وہی تھا جس میں آپ نے سب سے پہلی بیعت لی تھی اور جس میں بیعت اولیٰ کے دو سال بعد آپ نے دعویٰ مسیحیت کا اعلان کیا تھا۔ لدھیانہ میں دہلی کی طرح شہر کے دروازے مقفل نہیں تھے اور باوجود مخالفت کے ۶؍ نومبر ۱۹۰۵ء کو آپ کا ایک بہت کامیاب لیکچر ہوا اور ہزاروں انسانوں نے آپ کا کلام سنا۔
    لدھیانہ سے روانہ ہو کر آپ دو دن کے لئے امرتسر ٹھہرے۔ یہاں بھی لوگوں کی خواہش پر آ نے ۹؍ نومبر ۱۹۰۵ء کو ایک تقریر فرمائی جس میں حاضری بہت کافی تھی۔ مگر دورانِ تقریر میں مخالفوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور باوجود کوشش کے نہ رکے حتیّٰ کہ آپ کو اپنی تقریر بند کرنی پڑی۔ اس وقت لوگوں میں سخت جوش تھا اور وہ بار بار سٹیج کی طرف حملہ کرنے کے خیال سے بڑھتے تھے مگر پولیس روک کر پیچھے ہٹا دیتی تھی۔ آخر آپ پولیس کے مشورہ سے ایک عقبی دروازہ میں سے باہر نکل کر اس گاڑی میںسوار ہو گئے جو پولیس نے آپ کے لئے مہیا کی تھی جونہی کہ آپ اس گاڑی میں بیٹھ کر اپنی فرودگاہ کی طرف روانہ ہوئے لوگوں نے گاڑی کی طرف دھاوا کیا اور لاٹھیاں اور پتھر برسنے شروع ہو گئے۔ مگر خدا کے فضل سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ صرف ایک احمدی کو لاٹھی سے خفیف چوٹ آئی اور ایک پتھر کا ٹکڑا گاڑی کے شیشے کو توڑ کر خاکسار مؤلف کے ہاتھ پر لگا۔ اس سے کوئی زخم تو نہیں آیا مگر میرے لئے ایک فخر کی یاد گار باقی رہ گئی کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے خاندان میں اور آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے خدا کے رستے میں پہلی ضرب میں نے کھائی ہے۔ دوسرے روز حضرت مسیح موعود ؑ قادیان واپس تشریف لے آئے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کی وصیت اور مقبرہ بہشتی کا قیام :۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب
    کی وفات ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو ہوئی تھی اور اسی مہینہ کے آخری حصہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کو اپنی وفات کے متعلق الہامات شروع ہو گئے اور اس کثرت اور تکرار کے ساتھ ہوئے کہ بقول آپ کے آپ کی ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو آپ پر سرد کر دیا۔ چنانچہ سب سے پہلے ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو آپ نے دیکھا کہ آپ کے سامنے ایک برتن میں مصفیٰ اور ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا ہے جو بقدر دو یا تین گھونٹ کے تھا ۱؎ اور اس کے ساتھ ہی آپ کو الہام ہوا۔ ’’ آبِ زندگی ‘‘ یعنی یہ تیری بقیہ زندگی کا پانی ہے۔ اس کے بعد الہام ہوا۔ قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ ۔ یعنی تیری زندگی کی میعاد تھوڑی رہ گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔ ’’ خدا کی طرف سے سب پر اداسی چھا گئی۔ ‘‘ ۲؎ پھر ۲۹؍ نومبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا ۔ قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ وَلَا نُبْقِی لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا ۔ یعنی تیری مقدر وفات کا وقت قریب آگیا ہے اور ہم تیرے پیچھے کوئی رسوا کرنے والی بات نہیں رہنے دیں گے۔ ۳؎ پھر ۱۴؍ دسمبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا ’’ جاء وقتک ونبقی لک الایات باھرات ‘‘ یعنی تیرا وقت آن پہنچا ہے اور ہم تیرے واسطے روشن نشان باقی رکھیں گے۔ ۴؎ اسی طرح اور بھی بہت سے الہامات ہوئے جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ اب آپ کی وفات کا وقت بالکل قریب آگیا ہے۔
    اس پر آپ نے ’’الوصیت‘‘ نام کے ماتحت ایک وصیت لکھ کر شائع فرمائی اور اس میں ان سارے الہامات کو درج کر کے اس بات کو ظاہر کیا کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے اور آپ نے اپنی تعلیم کا خلاصہ بیان کر کے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ وہ آپ کے بعد آپ کی دلائی ہوئی تعلیم پر قائم رہے اور درمیانی ابتلائوں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلائوں کا آنا بھی سنت اللہ کے ماتحت ضروری ہوتا ہے اور آپ نے لکھا کہ نبی کا کام صرف تخم ریزی تک محدود ہوتا ہے۔ پس میرے ذریعہ سے یہ تخم ریزی ہو چکی ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر اک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ آپ نے یہ بھی لکھا کہ بسا اوقات ایک نبی کی وفات ایسے وقت میں ہوتی ہے جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے اندر رکھتا ہے اور مخالف لوگ ہنسی اور ٹھٹھا اور طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب یہ سلسلہ مٹ گیا۔ اور بعض کمزور مومن بھی ڈگمگانے لگتے ہیں۔ تب خدا اپنی دوسری قدرت کو ظاہر فرماتا ہے اور خلفاء کے ذریعہ بظاہر گرتی ہوئی عمارت کو سنبھال کر اپنی طاقت اور نصرت کا ثبوت دیتا ہے اور دشمن کی خوشی خاک میں مل جاتی ہے۔ چنانچہ آپ ’’ الوصیت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔
    ’’یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہے ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے … اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔ لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔ بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے …… غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ (۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا …… تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا۔ جبکہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانوں کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا……
    سو اے عزیزو ! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلادے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہے (یعنی میری وفات کے قریب ہونے کی خبر) غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔ کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا …… میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ ‘‘ ۱؎
    اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی اس وصیت میں خدا کے حکم سے جماعت کے لئے ایک خاص مقبرہ کی بھی تجویز فرمائی جس کا نام آپ نے بہشتی مقبرہ رکھا۔ دراصل اس مقبرہ کے متعلق آپ کو کئی سال پہلے سے رؤیا ہو چکا تھا اور آپ کو بتایا گیا تھا کہ جماعت کے خاص مخلصین کے لئے جو خدا کی نظر میں بہشتی ہیں ایک علیحدہ قبرستان ہونا چاہئے تا کہ وہ ایک یادگار ہو اور بعد میں آنے والی نسلیں اسے دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں اور آپ اس عرصہ میں اس کے جائے وقوع اور زمین وغیرہ کے بارے میں غور فرماتے رہے تھے لیکن اب جبکہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات ہوئی اور خود آپ کو اپنی وفات کے بارے میں بھی کثرت کے ساتھ الہامات ہوئے تو آپ نے اس تجویز کے متعلق عملی قدم اٹھایا اور قادیان سے جنوبی جانب اپنے باغ کے ساتھ ایک قطعہ اراضی تجویز کر کے اس میں اس مقبرہ کی بنیادقائم کی۔ اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو جنہیں عارضی طور پر ایک بکس میں دوسری جگہ دفن کر دیا گیا تھا اس نئے مقبرہ کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ اس مقبرہ کے قیام کے وقت آپ نے خدا سے الہام پا کر اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے دو ضروری شرطیں بھی مقرر فرمائیں :۔
    اوّل یہ کہ اس مقبرہ میں دفن ہونے والا ایک سچااور مخلص مومن ہو جو متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرنے والا اور ہر قسم کے شرک اور بدعت سے پاک ہو۔
    دوم یہ کہ وہ اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے اپنی جائیداد کا کم از کم دسواں حصہ اور زیادہ سے زیادہ تیسرا حصہ پیش کرے اور اس بارے میں ایک باقاعدہ وصیت کر کے اپنے مال کا یہ حصہ سلسلہ کے نام پر لکھ دے۔ مگر آپ نے یہ تصریح کی کہ اگر کوئی شخص کسی قسم کی جائیداد نہ رکھتا ہو تو پھر صرف شرط اوّل کافی ہو گی بشرطیکہ یہ ثابت ہو کہ ایسا شخص اپنی زندگی کو دین کے لئے وقف رکھتا تھا۔
    آپ نے اس مقبرہ کے انتظام کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس کا صدر حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ کو مقرر کیا اور اس بات کو لازمی قرار دیا کہ اس کمیٹی میں کم از کم دو ممبر ایسے رہنے چاہئیں جو دین کے عالم ہوں اور سلسلہ کی تعلیم سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہوں آپ نے اس مقبرہ کے متعلق یہ بھی تصریح فرمائی کہ خدا نے جو یہ انتظام قائم کیا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ یہ زمین کسی کو بہشتی کر دے گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ خداتعالیٰ اپنے فضل سے ایسا تصرف فرمائے گا کہ صرف بہشتی ہی اس مقبرہ میں دفن کیا جائے گا اور دوسرے لوگ اس میں جگہ نہیں پا سکیں گے۔ ۱؎
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات نے حضرت مسیح موعود ؑ کی توجہ کو اس طرف بھی مبذول کیا کہ جماعت میں کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ مرنے والے علماء کی جگہ لینے کے لئے دوسرے لوگ تیار ہوں جو سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں اور چونکہ اس زمانہ میں آپ کو اپنی وفات کے متعلق بھی کثرت کے ساتھ الہامات ہو رہے تھے اور ان ایام میں آپ کو جماعت کی تربیت کی طرف بھی خاص توجہ تھی اس لئے آپ نے کوشش فرمائی کہ بہت جلد کوئی ایسی تجویز ہو جاوے جس سے جماعت میں دین کی خدمت کرنے والے علماء پیدا ہونے لگیں۔ چنانچہ جب دسمبر ۱۹۰۵ء کے آخری ہفتہ میں قادیان میں جلسہ سالانہ کا اجتماع ہوا تو آپ نے اس موقع پر ایک نہایت درد انگیز تقریر فرمائی جس میں اپنی اس تجویز کو پیش کیا اور فرمایا کہ موجودہ انگریزی مدرسہ (یعنی تعلیم الاسلام ہائی سکول) ہماری اس مخصوص ضرورت کو پورا نہیں کرتا اس لئے ایسی درسگاہ کی ضرورت باقی رہتی ہے جس میں دینی علوم کی تعلیم دی جائے او رایسے علماء پیدا کئے جائیں جو اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے پوری طرح واقف ہوں اور علم کے علاوہ تقریر و تحریر میں بھی اعلیٰ ملکہ رکھیں اور انہیں انگریزی اور حسب ضرورت سنسکرت وغیرہ بھی پڑھائی جائے اور دوسرے مذاہب کی تعلیم بھی دی جائے اور کسی قدر سائنس بھی سکھائی جائے اور اس کے ساتھ آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جماعت کے نوجوان اپنے آپ کو خدمتِ دین کے لئے پیش کریں تا کہ انہیں مناسب تعلیم دلا کر کام میں لگایا جا سکے۔ اس موقعہ پر آپ نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ ابھی جماعت میں تربیت کے لحاظ سے بہت کچھ اصلاح اور ترقی کی ضرورت ہے اور فرمایا کہ گو خدا کے وعدوں پر نظر رکھتے ہوئے مجھے ہر طرح سے امید اور ڈھارس ہے کہ خدا ساری کمیوں کو خود پورا فرمادے گا مگر بظاہر صورت جماعت کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اور دوسری طرف اس پیغام موت کا خیال کرتے ہوئے جو مجھے خدا کی طرف سے آرہا ہے میرے دل میں غم اور درد پیدا ہوتاہے اور جماعت کی حالت اس بچہ کی سی نظر آتی ہے جس نے ابھی چند دن ہی دودھ پیا ہو اور اس کی ماں فوت ہو جاوے۔ ۱؎
    آپ کی اس تقریر نے جو سوزوگداز سے بھری ہوئی تھی سامعین میںا یسی رقت پیدا کر دی کہ ان میں سے اکثر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور جب آپ نے اپنی تقریر کو ختم کیا تو سب نے بالاتفاق عرض کیا کہ جماعت کی بہتری کے لئے جو بھی تجویز کی جاوے ہم سب اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کا بوجھ اٹھانے کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔ اس کے بعد جماعت میں کافی دیر تک مشورہ ہوتا رہا۔ اور مختلف دوستوں کی طرف سے مختلف رائیں پیش کی گئیں اور بعض نے یہ بھی مشورہ دیا کہ موجودہ مدرسہ یعنی تعلیم الاسلام ہائی سکول کو اڑا کر اس کی جگہ خالص دینی مدرسہ قائم کر دیا جاوے مگر حضرت مسیح موعود ؑ نے اس تجویز کوپسند نہیں کیا اور فرمایا کہ یہ مدرسہ بھی ایک ضرورت کو پورا کر رہا ہے اور اسے اڑانا مناسب نہیں۔ البتہ اس میں بھی دینی تعلیم کو زیادہ مضبوط کرنا چاہئے۔ مگر علماء اور مبلغ پیدا کرنے کے لئے علیحدہ انتظام کی ضرورت ہے۔ بالآخر یہ فیصلہ قرار پایا کہ فی الحال تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ ایک دینیات کی علیحدہ شاخ زائد کر دی جائے۔ یعنی پرائمری کی تعلیم کے بعد طالب علم مروجہ تعلیم کے رستے پر تعلیم پائیں اور بعض بچے دینیات کی شاخ کی طرف آجائیں جس میں عربی اور دینیات کی اعلیٰ تعلیم کے علاوہ دوسرے مذاہب کے متعلق بھی تعلیم دی جائے اور ساتھ ہی دوسری زبانیں مثلاً انگریزی اور سنسکرت وغیرہ بھی پڑھائی جائیں اور کسی حد تک سائنس بھی ہو اور تحریر و تقریر کی بھی مشق کرائی جائے۔
    چنانچہ ۱۹۰۶ء کی ابتداء سے یہ دینیات کی شاخ جاری کر دی گئی اور بعض نوجوانوں نے اپنے آپ کو خدمتِ دین کے لئے پیش کر دیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ میں یہ سوال پھر جماعت کے مشورہ کے لئے پیش کیا گیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی یادگار میں دینیات کی شاخ تو تعلیم الاسلام ہائی سکول سے کاٹ کر ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم کر دیا جائے۔ چنانچہ اس وقت سے یہ شاخ ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم ہو گئی اور یہی وہ درسگاہ ہے جو اس وقت مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی صورت میں قائم ہے۔ اس درسگاہ میں جس کے ابتدائی حصہ کا نام مدرسہ احمدیہ ہے اور آخری حصہ کا نام جامعہ احمدیہ ہے قرآن شریف اور حدیث اور فقہ اور تصوف اور کتب سلسلہ احمدیہ کے علاوہ تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت اور دیگر مذاہب کا لٹریچر بھی پڑھایا جاتا ہے اور کسی قدر جغرافیہ اور سائنس اور انگریزی بھی ہے اور حال ہی میں سنسکرت کا بھی انتظام کیاگیا ہے اس درسگاہ کا سرکاری محکمہ تعلیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک خالص قومی درسگاہ ہے جس کی غرض و غایت دین کے عالم اور دین کے مبلغ پیدا کرنا ہے۔
    ۱۹۰۵ء کا انجام ایک لحاظ سے درد انگیز حالات میں ہوا تھا۔ یعنی اس سال کے آخر میں سلسلہ کے ایک جلیل القدر بزرگ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات ہوئی جن کے وصال سے جماعت میں گویا ایک خلا پیدا ہو گیا تھا اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ اسی سال کے آخری ایام میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو اپنے قرب وفات کی خبر دی جس سے جماعت میں ایک انتہائی غم اور سراسیمگی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ عام دنیا دارانہ رنگ میں ان حالات کا یہ نتیجہ ہونا چاہئے تھا کہ کم از کم ایک وقت تک جماعت میں مایوسی اور بے ذوقی کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔مگر چونکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے قائم شدہ تھا اس لئے ان حالات نے حضرت مسیح موعود ؑ اور آپ کی جماعت ہر دو پر وہ اثر پیدا کیا جو ایک تیز گھوڑے پر تاز یا نہ کا اثر ہوتا ہے چنانچہ اس کے بعد سے نہ صرف سلسلہ کے کاموں میں آگے سے بھی زیادہ چستی اور تیز رفتاری پیدا ہو گئی بلکہ جماعت کے اخلاص نے بھی اس زمانہ میں غیر معمولی ترقی کی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تو یوں نظر آتا تھا کہ گویا اس خیال سے کہ اب کام کی مہلت ختم ہو رہی ہے اور خدا کے دربار میں حاضر ہو کر رپورٹ دینے کا وقت قریب آگیا ہے آپ اپنے انتہائی زور اور انتہائی جدوجہد اور انتہائی انہماک کے ساتھ خدمت دین میں مصروف تھے اور اپنے منصب ماموریت کے سوا ہر چیز کو بھولے ہوئے تھے ۔ یہی وہ دن ہیں جن میں آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ یہ جو وقت لوازماتِ بشری کے ماتحت کھانے پینے یا سونے یا رفع حاجت کے لئے پاخانہ وغیرہ میں جانے میں خرچ ہوتا ہے اس کا بھی ہمیں سخت قلق ہوتا ہے کہ کاش یہ وقت بھی خدمتِ دین میں لگ جاتا ۔ آپ کی یہ حالت اس پختہ ایمان اور اس کامل یقین پر ایک روشن دلیل ہے جو آپ کو اپنے خدا داد مشن کے متعلق تھا ۔ دوسری طرف اس زمانہ میں خدا نے بھی اپنے نشان نمائی کے ہاتھ کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیا تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ خداوند عالمیان یہ ارادہ کئے ہوئے ہے کہ ہمارا یہ چہیتا بندہ ہمارے سامنے کامل سرخروئی کے ساتھ آئے اور ہمارے دربار میں فتح و ظفر کا پرچم لہراتا ہوا پہنچے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی کے آخری ڈھائی سال میں اتنے نشان ظاہر ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے قدرت کے ہاتھ کی اتنی تجلیاں دکھائیں اور سلسلہ احمدیہ کے مخالف اس کثرت کے ساتھ ذلت کی موت کا شکار ہوئے کہ پہلے سارے ریکارڈ مات ہو گئے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم اس مختصر رسالہ میں ان سب کا ذکر نہیں کر سکتے البتہ بطور مثال صرف چند معاندین کا ذکر درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    (۱) ایک شخص چراغ دین نامی جموں کا رہنے والا تھا۔ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کا سخت مخالف تھا اور اس نے سلسلہ احمدیہ کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں اس نے حضرت مسیح موعود ؑ کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور خدا سے فیصلہ چاہاتھا چنانچہ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کتاب کے لکھنے کے چند دن بعد ہی یعنی ۱۹۰۶ء میں وہ خود طاعون سے ہلاک ہو گیا اور اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی طاعون کا شکار ہو گئے اور کوئی نام لیوا باقی نہ رہا۔ ۱؎
    (۲) ایک اور صاحب بابو الٰہی بخش لاہوری تھے۔ اس شخص نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایک کتاب ’’ عصائے موسیٰ ‘‘ لکھی تھی اور اس میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ مرزا صاحب نعوذ باللہ فرعون ہیں اور ان کے مقابل پر میں موسیٰ ہوں اور یہ کہ فرعون موسیٰ کے سامنے ہلاک ہو گا۔ مگر ۱۹۰۷ء میں وہ خود اپنے آپ کو فرعون کا مثیل ثابت کرتا ہوا طاعون کا نشانہ بن گیا۔ ۲؎
    (۳) ایک شخص فقیر مرزا جو دوالمیال ضلع جہلم کا رہنے والا تھا اس نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف بہت کچھ بدزبانی کر کے آپ کی ہلاکت کی پیشگوئی کی تھی۔ یعنی یہ کہ آپ رمضان کے مہینہ میں ہلاک ہو جائیں گے مگر پھر وہ خود حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں یعنی ۱۹۰۷ء میں طاعون کا شکار ہو گیا اور قدرتِ حق کا تماشا یہ ہے کہ اس کی موت عین رمضان کے مہینہ میں واقع ہوئی۔ ۳؎
    (۴) حکیم عبدالقادر جو طالب پور ضلع گورداسپور کا رہنے والا تھا اس نے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایک نہایت گندی نظم لکھی اور اس میں خدا سے دعا کی کہ وہ جھوٹ کا مطلع صاف کرے اور پھر ۱۹۰۷ء میں طاعون سے ہلاک ہو کر خود جھوٹ کے مطلع کو صاف کر گیا۔۱؎
    (۵) مولوی محمد جان عرف ابوالحسن پسروری جو ایک مصنف تھا اور حدیث بخاری کا شارح بھی تھا اس نے ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایک کتاب ’’ بجلی آسمانی ‘‘ لکھی اور دعا کی کہ مرزا صاحب پر خدا کی طرف سے بجلی گرے مگر اس کتاب کے لکھنے کے بعد وہ ایک ماہ کے اندر اندر خود طاعون کی بجلی کا نشانہ بن کر پیوند خاک ہو گیا۔ ۲؎
    (۶) پھر ایک شخص سعد اللہ لدھیانوی تھا جس نے سلسلہ احمدیہ کی مخالفت کو انتہاء تک پہنچا دیا اور حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایسی گندی تحریریں لکھیں کہ انسانی شرافت ان کے ذکر سے شرماتی ہے اس نے تحدی کے ساتھ لکھا تھا کہ میں مرزا صاحب کو نیچا دکھا کر تباہ و برباد کروں گا مگر آخر ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی خود طاعون سے ہلاک ہو گیا ۔ بلکہ سعداللہ کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک اور عظیم الشان پیشگوئی بھی پوری ہوئی اور وہ یہ کہ اس نے حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق لکھا تھا کہ آپ نعوذ باللہ ابتر رہیں گے یعنی آپ کا سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور کوئی نام لیوا نہیں رہے گا اور آپ لاولد اور لاوارث مریں گے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو الہام کیا کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَبْتَر یعنی تیرا دشمن خود ابتر اور لاولد رہے گا۔ چنانچہ اس کے بعد سعد اللہ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور جو لڑکا پہلے سے اس کا موجود تھا وہ بھی لاولد گزر گیا۔ اور ساری نسل خاک میں مل گئی۔ ۳؎
    (۷) قادیان میں تین جوشیلے آریہ اچھر چند ، سوم راج اور بھگت رام رہتے تھے جنہوں نے قادیان سے حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف ایک اخبار ’’ شبھ چنتک ‘‘ نامی جاری کیا تھا اور اس اخبار کو سلسلہ احمدیہ کی مخالفت میں وقف کر دیا تھا اور یہ مخالفت محض اصولی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ اخبار شبھ چنتک کا ہر ورق حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف گندی گالیوں اور جھوٹے الزامات سے بھرا ہوا ہوتا تھا اور اچھرچند تو تمسخر کے طور پر یہ بھی کہا کرتا تھا کہ مرزا صاحب نے اپنے لئے اور اپنے مکان میں رہنے والوں کے لئے طاعون سے محفوظ رہنے کی پیشگوئی ہے اس کے مقابل پر میں بھی کہتا ہوں کہ مجھے بھی طاعون نہیں ہو گی۔ آخر ۱۹۰۷ء کے شروع میں ان تینوں کو طاعون نے پکڑا اور چند دن کے اندر اندر سب کا صفایا کر دیا اور ان کی ہلاکت کے ساتھ اخبار ’’ شبھ چنتک‘‘ کا بھی ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔ ۱؎
    (۸) ایک شخص جان الگزینڈر ڈوئی امریکہ کے شہر شکاگو کے پاس رہتا تھا اور نہایت امیر کبیر آدمی تھا۔ وہ مذہباً عیسائی تھا اور اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خدا نے مجھے مسیح کی آمد ثانی کی تیاری کے لئے مبعوث کیا ہے اور اس نے اسلام کے خلاف ایک رسالہ ’’ لیوز آف ہیلنگ‘‘ نامی بھی نکالا تھا اور اس بات کا مدعی تھا کہ اسلام اس کے ہاتھ سے نابود ہو گا۔ جب حضرت مسیح موعود ؑ کو اس کے دعویٰ سے اطلاع ہوئی تو آپ نے اسے چیلنج دیا کہ اگر تم سچے ہو تو میرے سامنے آکر روحانی مقابلہ کر لو اور آپ نے اس چیلنج کو امریکہ کے بہت سے اخباروں میں چھپوا دیا مگر ڈوئی اس مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں ان بھنبھنانے والے مچھروں کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہتا جن کو میں کسی وقت اپنے ہاتھ میں لے کر مسل سکتا ہوں۔ آخر حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کے متعلق بطور خود خدا سے فیصلہ چاہا اور خدا نے آپ کو خبر دی کہ عنقریب ایک ایسا نشان ظاہر ہو گا جو ساری دنیا کے لئے نشان ہو گا۔ چنانچہ اس کے چند دن بعد ہی یعنی ۱۹۰۷ء کے شروع میں امریکہ کا جھوٹا مدعی ڈوئی نہایت درجہ ذلیل ہو کر خاک میں مل گیا۔ یعنی پہلے تو اس کے مریدوں کاایک بڑا حصہ اس سے برگشتہ ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہو گیا اور پھر اس پر فالج کا حملہ ہوا جس میں اس نے کچھ عرصہ نہایت تکلیف کی زندگی گزاری اور آخر حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی وہ اس جہان سے رخصت ہوا۔ ۲؎
    یہ تو وہ بعض عذاب کی تجلیاں تھیں جو حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی کے آخری ایام میں ظاہر ہوئیں۔ مگر خدا کے مرسل صرف عذاب کے لئے نہیں آتے بلکہ ان کا اصل مشن رحمت کا ہوتا ہے اور عذاب کا پہلو صرف انکار اور شوخی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں خدا نے رحمت کے نشانوں کی بھی کمی نہیں رکھی بلکہ غور کیا جائے تو آپ کے رحمت کے نشان جو آپ کے متعلق یا آپ کی اولاد کے متعلق یا آپ کے دوستوں کے متعلق یا آپ کی جماعت کے متعلق ظاہر ہوئے ان کی تعداد عذاب کے نشانوں سے بہت زیادہ ہے مگر ہم اس جگہ مثال کے طور پر صرف پانچ نشانوں کا ذکر کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی کے آخری ایام میں ظاہر ہوئے۔
    (۱) حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں ایک بزرگ نواب محمد علی خان صاحب ہیں جو ہزہائی نس نواب مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں۔ نواب محمد علی خان صاحب حضرت مسیح موعود کی صحبت سے مستفیض ہونے کے لئے قادیان میں ہجرت کر کے آگئے تھے۔ اس عرصہ میں ان کا لڑکا عبدالرحیم خان تپ محرقہ سے بیمار ہو گیا اور باوجود پورے پورے علاج کے اس کی حالت دن بدن گرتی گئی حتیّٰ کہ ڈاکٹروں نے یہ رائے ظاہر کر دی کہ اب اس کا بچنا محال ہے اور چند دن میں فوت ہو جائے گا۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑکو دعا کی طرف خاص توجہ پیدا ہوئی اور آپ نے علیحدگی میں جا کر اس کے لئے دعا فرمائی۔ جس پر آپ کو الہاماً بتایا گیا کہ اس لڑکے کی موت مقدر ہے اور اب دعا کا وقت گزر چکا ہے ۔ اس پر آپ نے خداسے التجا کی کہ اگر دعا کا وقت نہیں تو شفاعت کا وقت تو ہے۔ ۱؎ پس میں اس بچہ کے لئے شفاعت کرتا ہوں اس پر بڑے زور کے ساتھ یہ الہام ہوا کہ خدا کی اجازت کے بغیر کون شفاعت کر سکتا ہے اور آپ لکھتے ہیں کہ اس الہام کے جلال کے سامنے میرا جسم کانپ گیا اور میں یہ یاد کر کے پانی پانی ہو گیا کہ میں نے خدا کی اجازت کے بغیر شفاعت کر دی۔ مگر ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک محبت کی آواز آپ کے کانوں میں آئی کہ اَنْتَ الْمَجَاز یعنی ہم تجھے شفاعت کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے شفاعت فرمائی اور شفاعت کے ساتھ عبدالرحیم خان کی بیماری ہوا کی طرح اڑ گئی اور چند دن میں صحت یاب ہو کر چلنے پھرنے لگ گیا۔ ۲؎
    (۲) ایک نہایت مخلص احمدی سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس میں تاجر تھے۔ سیٹھ صاحب کی عمر بڑی تھی اور جسم بھاری تھا اور ساتھ اس کے ذیابیطس کی تکلیف بھی رہتی تھی۔ اس حالت میں انہیں کار بنکل کا پھوڑا نکل آیا۔ اور چونکہ ان حالات میں یہ مرض عموماً مہلک ہوتا ہے ڈاکٹروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اس پر سیٹھ صاحب نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود ؑ کو تار کے ذریعہ دعا کی درخواست کی۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو سیٹھ صاحب کے ساتھ ان کے اخلاص اور خدمات کی وجہ سے بہت محبت تھی اس لئے آپ نے ان کے لئے خاص توجہ سے دعا فرمائی جس پر آپ کو خداکی طرف سے الہام ہوا ’’آثار زندگی ‘‘ چنانچہ اس کے بعد سیٹھ صاحب بالکل تندرست ہو گئے اور کئی سال صحت کی حالت میں زندہ رہ کر حضرت مسیح موعود ؑ کے بعد وفات پائی۔ ۱؎
    (۳) حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی جو حضرت مسیح موعود ؑ کے بعد پہلے خلیفہ ہوئے اور جو حضرت مسیح موعود ؑ کے خاص الخاص صحابہ اور دوستوں میں سے تھے ان کی اولاد چھوٹی عمر میں مر جاتی تھی جس پر بعض مخالفین نے استہزاء کا طریق اختیار کیا کہ گویا مرزا صاحب کا یہ خاص حواری لاولد رہا جا رہا ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ حضرت مولوی صاحب کے ایک لڑکا پیدا ہو گا جسے خدا چھوٹے عمر میں فوت ہونے سے بچائے گا اور بطور علامت کے یہ بتایا گیا کہ اس بچہ کے بدن پر غیر معمولی صورت میں پھوڑے نکلیں گے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق حضرت مولوی صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جسے خدا نے بچپن میں وفات سے بچایا اور ولادت کے کچھ عرصہ بعد اس کے بدن پر اتنے پھوڑے نکلے کہ سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا ۲؎ گویا وہ کوئی مخفی زہر تھا جو پھوڑوں کے رستے نکل گیا اور پھر ایک لمبے عرصہ کے بعد ان پھوڑوں سے نجات ملی اور اس کے بعد خدا نے حضرت مولوی صاحب کو اور بھی کئی بچے عطا کئے جو زندہ رہے۔
    (۴) خاکسار مؤلف کے حقیقی ماموں میر محمد اسحق صاحب جو حضرت مسیح موعود ؑ کے مکان کے ایک حصہ میں رہتے تھے وہ ۱۹۰۶ء میں سخت بیمار ہو گئے اور تیز بخار کے ساتھ ہر دو بنِ ران میں گلٹیاں بھی ظاہر ہو گئیں۔ چونکہ یہ ایام طاعون کے تھے اس لئے یقین کر لیا گیا کہ یہ طاعون ہے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل بھی جو میر صاحب کے معالج تھے بہت گھبرا گئے۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ کو سخت قلق پیدا ہوا اور آپ نے ان کے لئے خصوصیت سے دعا فرمائی اور خدا سے عرض کیا کہ خواہ اصل مرض کچھ ہو لیکن اگر اس وقت ان عوارض کے ساتھ ان کی وفات ہو گئی تو دشمن کو اعتراض کا موقعہ ہو گا کہ طاعون کی بیماری سے مکان کی حفاظت کاوعدہ غلط نکلا جس پر خدا نے آپ کی دعا کو سنا اور میر صاحب کو خارق عادت طور پر شفا عطا کی چنانچہ میر صاحب دو تین گھنٹے کے اندر اٹھ کر کھیلنے کودنے لگ گئے اور بخار اور گلٹیوں کا نام و نشان نہ رہا۔ ۱؎
    (۵) قادیان میں ریاست حیدر آباد دکن کا ایک لڑکا عبدالکریم پڑھتا تھا۔ اسے ۱۹۰۶ء میں ایک دیوانے کتے نے کاٹ لیا اور بہت زخمی کیا۔ اس پر عبدالکریم کو کسولی پہاڑ پر بھجوایا گیا جہاں ایسے بیماروں کا علاج ہوتا تھا۔ چند دن کے علاج کے بعد عبدالکریم بظاہر اچھا ہو کر واپس آگیا۔ مگر اس کے کچھ عرصہ بعد اس میں ہائیڈرو فوبیا کے آثار ظاہر ہو گئے اور اس شدّت کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ جھوٹے ہائیڈرو فوبیا کا امکان نہ رہا بلکہ بیماری کی حقیقی علامات ظاہر ہو گئیں۔ چونکہ لڑکا بہت دور سے آیا ہوا تھا حضرت مسیح موعود ؑ کو اس کے لئے خاص طور پر دعا کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور ساتھ ہی آپ کے منشاء کے ماتحت کسولی کے انچارج ڈاکٹر کو تار دی گئی کہ عبدالکریم کو یہ یہ علامات ظاہر ہو گئی ہیں اس کا کیا علاج کیا جائے۔ وہاں سے تار آیا کہ اب اس مرحلہ پر اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ نے پھر بھی دعا جاری رکھی اور آخر آپ کی دعا سے خدا نے عبدالکریم کو شفا دی اور وہ بالکل صحت یاب ہو گیا حالانکہ اس وقت تک فن طب کا یہ متحدہ فتویٰ ہے کہ جب ایک دفعہ اس مہلک بیماری کے حقیقی آثار ظاہر ہو جائیں تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں۔ ۲؎
    یہ وہ نشان ہیں جو محض سنے سنائے نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگ ان کے چشم دید گواہ ہیں اور یہ چند نشان صرف بطور مثال درج کئے گئے ہیں ورنہ حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب اس قسم کے نشانوں سے بھری پڑی ہیں۔ بے شک آجکل کے مادہ پرست لوگ ان باتوں کو پڑھ کر ہنسیں گے اور انکار کریں گے مگر جن لوگوں کی آنکھوں کے سامنے یہ نظارے گزرے ہیںوہ کس طرح انکار کر سکتے ہیں اور سچ پوچھو تو وہ لوگ بھی کس طرح انکار کر سکتے ہیں جو حضرت مسیح ناصری اور دوسرے مذہبی بزرگوں کے متعلق اسی قسم کے معجزوں پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ وہ معجزے تاریخی رنگ میں اپنے ساتھ بہت ہی کم ثبوت رکھتے ہیں اور اکثر ان میں سے قصے کہانیوں سے زیادہ نہیں۔
    صدر انجمن احمدیہ کا قیام :۔ حضرت مسیح موعو ؑ کے آخری ایام کے نشانوں کو ایک جگہ
    بیان کرنے کی غرض سے ہم نے واقعات کے تسلسل کا خیال نہیں رکھا اب اس زمانہ کے دوسرے واقعات تسلسل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے مقبرہ بہشتی کے انتظام کے لئے ایک مجلس مقرر فرما دی تھی جس کا صدر آپ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مقرر فرمایا تھا۔ اس کے جلدی بعد حضرت مسیح موعود ؑ کے سامنے بعض لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اب چونکہ سلسلہ کا کام بہت پھیل گیا ہے اور کئی قسم کے کام جاری ہو گئے ہیں اور مرکزی دفاتر کا انتظام اور چندوں کا حساب کتاب ایک باقاعدہ نام چاہتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ ایک واحد مرکزی کمیٹی بنا کر سارے دفتری کام اور انتظامات اس کے سپرد کر دئیے جائیں ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس تجویز کو منظور کر کے ایک مرکزی مجلس کے قیام کو منظور فرمایا اور اس طرح صدر انجمن احمدیہ کا وجود ظہور میں آگیا۔ صدر انجمن احمدیہ کے قیام کے بعد وہ تین انجمنیں بھی جو اس سے پہلے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور ریویو آف ریلیجنز اور مقبرہ بہشتی کے انتظام کے لئے علیحدہ علیحدہ مقرر تھیں اس مرکزی انجمن کے ماتحت آگئیں چنانچہ جنوری ۱۹۰۶ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود ؑ کی منظوری سے صدر انجمن احمدیہ کے قواعد مرتب کر کے شائع کر دئیے گئے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے صدر انجمن احمدیہ کے چودہ ممبر مقرر فرمائے اور انجمن کا صدر حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مقرر کیا اور مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے سیکرٹری مقرر کئے گئے اور گو اس وقت خاکسار مؤلف رسالہ ہذا کے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب (جو اس وقت جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں) بہت چھوٹے تھے یعنی صرف سترہ سال کی عمر تھی مگر انہیں بھی حضرت مسیح موعود ؑ نے اس انجمن کا ممبر مقرر فرمایا۔ اور سلسلہ کا دفتری کام اور صیغہ جات کا انتظام جو پہلے متفرق انجمنوں کے سپرد تھا اب اس واحد مرکزی انجمن کے سپرد کر دیا گیا۔ مگر انجمن کے سپرد کردہ امور میں بھی ہر معاملہ میں آخری حکم خود حضرت مسیح موعود ؑ کے ہاتھ میں رہا۔ ۱؎ علاوہ ازیں لنگرخانہ اور مہمان خانہ کا انتظام براہ راست آپ کے پاس رہا کیونکہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اسے انجمن کے سپرد کر دینے سے کہیں مہمانوں کے لئے تکلیف کا سامنا نہ ہو اور آپ یہ بھی چاہتے تھے کہ تربیت کے لحاظ سے مہمانوں کا براہ راست آپ کے ساتھ تعلق رہے۔
    صدر انجمن احمدیہ کے قیام کی تجویز ایک عام تنظیمی تجویز تھی جو سلسلہ کے بڑھتے ہوئے کاموں کی وجہ سے سہولت کے خیال سے اختیار کی گئی اور حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میںاس انجمن کی اس سے زیادہ حیثیت نہیں تھی کہ وہ آپ کے ماتحت اور آپ کی امداد کے لئے بعض کاموں کے چلانے کے واسطے ایک انجمن ہے اور کسی کو یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ انجمن جماعت کی افسر اور اس کی پالیسی کی نگران اور اس کی مہم کو چلانے والی ہے۔ اور جماعت کے بہت سے لوگ اس سے واقف تک نہیں تھے اور جماعت سے باہر تو اس کے نام سے بھی اکثر لوگ ناآشنا تھے اور جب ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات ہوئی تو اس وقت بھی کسی کو یہ خیال تک نہیںگیا کہ یہ انجمن سلسلہ احمدیہ میں خلافت کی قائم مقام ہے بلکہ خود انجمن نے اور انجمن کے ممبروں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کرنے میں حصہ لیا اور ساری جماعت نے متحدہ طور پر حضرت خلیفہ اوّل کی خلافت کو مطابق وصیت حضرت مسیح موعود ؑ برحق تسلیم کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں ہی ایک پارٹی ایسی پیدا ہو گئی جس نے مغرب کے جمہوری طریق حکومت سے متاثر ہو کر اور شخصی نظام کو اپنی طبیعت کے خلاف پاکر اس خیال کو اٹھایا کہ اصل چیز انجمن ہی ہے اور وہی جماعت کی حاکم اعلیٰ ہے اور خلیفہ کی حیثیت زیادہ سے زیادہ ایک پریزیڈنٹ کی ہے جو انجمن کے ماتحت ہے۔ یہ خیال ایک مضحکہ خیز خیال تھاکیونکہ :
    اوّل ۔ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کی وصیت کے خلاف تھا جس کا ایک اقتباس اوپر گزر چکا ہے۔
    دوسرے ۔ وہ جماعت کے سب سے پہلے اجماع کے خلاف تھا جو وہ حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کے معاً بعد ایک واجب الاطاعت خلیفہ کو منتخب کر کے کر چکی تھی۔
    تیسرے ۔ وہ خود صدر انجمن احمدیہ کے اس متحدہ فیصلہ کے خلاف تھا جو اس نے حضرت خلیفہ اوّلؓ کے انتخاب کے وقت کیا تھا۔ ۱؎
    چوتھے ۔ وہ اسلامی طریق عمل اور صحابہ کے تعامل کے خلاف تھا جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ کی صورت میں قائم ہو چکا تھا۔
    پانچویں ۔ وہ عقل اور تجربہ کے بھی خلاف تھا جس نے دنیا میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ گو عام انتظامی کاموں کے سر انجام دینے کے لئے مجلسیں اور پارلیمنٹیں ایک حد تک کام دے سکتی ہیں مگر کسی زبردست مہم کو چلانے اور کسی تیز رَو کو جاری کرنے اور لوگوں میںزندگی کی روح پھونکنے کے لئے ایک واحد مقناطیسی شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اور پھر مذہبی نظام کے معاملہ میں تو خصوصاً ایک شخصی انتظام کے بغیر کام نہیں چل سکتا کیونکہ مذہب میں جذبات اور اخلاص اور ایمان کا تعلق ہوتا ہے اور یہ چیزیں ہرگز کسی انجمن کے انتظام کے ماتحت قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر اسلام نے خلافت کو بھی کلی طور پر شخصی نہیں رہنے دیا بلکہ اس کے ساتھ مشورہ کو ضروری قرار دیا ہے۔ مگر افسوس کہ جماعت کے ایک حصہ نے اس سوال پر ٹھوکر کھا کر اپنے لئے ایک ایسا رستہ اختیار کر لیا جو یقینا فلاح و کامیابی کا رستہ نہیں لیکن اس ذکر کا اصل موقعہ آگے آتا ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
    جو درد ناک تقریر حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۹۰۵ء کے جلسہ سالانہ میں فرمائی تھی جس میں خصوصیت سے اس بات پر زور تھا کہ گزرنے والے علماء کی جگہ لینے کے لئے نوجوانوں کو آگے آنا چاہئے وہ بہرے کانوں پر نہیں پڑی تھی۔ بلکہ اس نے جماعت کے نوجوانوں میں ایک خاص زندگی کی روح پھونک دی تھی اور وہ خدمت کا موقعہ پانے کے لئے بیتاب ہو کر آگے آرہے تھے۔ چنانچہ اس تقریر کے معاً بعد یعنی اوائل ۱۹۰۶ء میں چند احمدی نوجوانوں نے مل کر قادیان میں ایک انجمن قائم کی جس کی غرض یہ تھی کہ احمدی نوجوان تقریر و تحریر کی مشق کر کے سلسلہ کی خدمت کے قابل بنیں۔ اس انجمن کا نام حضرت مسیح موعود ؑ نے تشحیذ الاذہان رکھا ۔ یعنی ذہنوں کو تیز کرنے والی انجمن اور اس انجمن نے اپنا طریق عمل یہ اختیار کیا کہ ایک تو ہفتہ واری یا پندرہ روزہ جلسے منعقد کر کے تقریروں کی مشق شروع کی اور دوسرے ایک ماہواری رسالہ کا اجراء کیا جس کا نام بھی ’’تشحیذ الاذہان‘‘ رکھا گیا۔ اس رسالہ میں اسلام اور احمدیت کی تائید میں مضامین لکھے جاتے تھے۔ ان ہر دو سلسلوں نے جماعت کی ایک عمدہ خدمت سر انجام دی اور نوجوانوں کی تنظیم اور ان کی علمی اور عملی ترقی میں نمایاں حصہ لیا۔ اس انجمن کے روح و رواں حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب تھے جو آجکل جماعت کے امام ہیں اور ان کے ساتھ چوہدری فتح محمد صاحب اور بعض دوسرے نوجوان تھے ۔ یہ وہی چوہدری فتح محمد صاحب ہیں جو آجکل صدر انجمن احمدیہ کے پریزیڈنٹ اور ناظر اعلیٰ ہیں۔
    ڈاکٹر عبدالحکیم خان کا ارتداد اور حقیقۃ الوحی کی تصنیف :۔ ہر الٰہی سلسلہ میں ایک حد
    تک ارتداد کا سلسلہ بھی چلتا ہے چنانچہ حضرت مسیح ناصری کے عہد میں بھی بعض لوگ مرتد ہو گئے تھے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی عبداللہ بن ابی سرح وغیرہ نے ارتداد اختیار کیا تھا سو یہ سنت حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت میں بھی پوری ہوئی یعنی ۱۹۰۶ء کے شروع میں ایک شخص ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نامی جو ریاست پٹیالہ میں اسسٹنٹ سرجن تھا اور کئی سال تک حضرت مسیح موعود ؑ کا مرید رہ چکا تھا جماعت سے مرتد ہو کر مخالفین کے گروہ میں شامل ہو گیا۔ اس کے ارتداد کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ نجات کے لئے کسی نبی یا رسول پر ایمان لانا ضروری نہیں بلکہ محض خدا کو مان لینا کافی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ ایمان جو سلسلہ رُسل و کتب کو الگ رکھ کر محض صحیفہ فطرت پر نگاہ کرنے سے خدا کے متعلق پیدا ہوتا ہے وہ بہت ناقص اور ادنیٰ ہوتا ہے بلکہ دراصل وہ حقیقی ایمان ہوتا ہی نہیں۔ بلکہ ایک قسم کا قیاس ہوتا ہے جو انسان کو خدا کے متعلق اس شکی مقام سے آگے نہیں لے جاتا کہ کوئی خدا ہونا چاہئیے۔ مگر آپ نے تشریح فرمائی کہ محض ’’ہونا چاہئے‘‘ والا ایمان کچھ حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ انسان اس یقین تک نہ پہنچ جائے کہ واقعی ایک خدا ہے اور آپ نے بتایا کہ یہ ’’ہے‘‘ والا ایمان رسولوں اور نبیوں کی وساطت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے لئے خدائی تجلیات اور نشانات اور معجزات کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک نبی اور رسول کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی لئے محض ’’ ہونا چاہئیے‘‘ والا ایمان جو صرف ایک قیاسی درجہ رکھتا ہے انسان کے اندر حقیقی عرفان اور کامل یقین اور تسلی اور اطمینان نہیں پیدا کر سکتا جو انسانی اعمال کی اصلاح اور خدا کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن افسوس ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی ان تشریحات نے عبدالحکیم خان کو فائدہ نہ پہنچایا اور وہ دن بدن مخالفت میں ترقی کرتا گیا اور چونکہ وہ ملہم ہونے کا بھی مدعی تھا اس لئے اس نے آپ کے خلاف یہ بھی اعلان کیا کہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ آپ بہت جلد تباہ ہو جائیں گے اس کے لئے اس نے پہلے تین سال کی میعاد مقرر کی ۱؎ اور پھر اسے بدل کر چودہ ماہ کی میعاد مقرر کی ۲؎ اور پھر بالآخر اسے بھی بدل کر ایک معین دن مقرر کر دیا کہ ۴؍ اگست ۱۹۰۸ء کے دن آپ کی وفات ہو گی۔ ۳؎ اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود ؑ کو خدا نے اس کے متعلق یہ الہام کیا کہ :۔
    ’’ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں …… ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا ……… رَبِّ فَرِّقْ بَیْنَ صَادِقٍ وَّکَاذِبٍ ۔ اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا دے۔ ۴؎
    یہ ایک بہت لطیف الہام تھا جس کے الفاظ میں یہ اشارہ مخفی تھا کہ گو عبدالحکیم خان کی پیشگوئی تو بہر حال جھوٹی نکلے گی مگر دوسری طرف وہ آپ کی زندگی میں مرے گا بھی نہیں بلکہ بعد تک زندہ رہے گا لیکن باوجود اس کے زندہ رہنے کے اللہ تعالیٰ جھوٹے اور سچے میں فرق کر کے دکھلا دے گا یعنی سچا اپنی قبولیت کی علامت سے پہچانا جائے گا اور جھوٹا مردود اور ناکام رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دی اور ایسی قبولیت عطا فرمائی جو ہمیشہ سے صادقوں کو ملتی آئی ہے۔ مگر اس کے مقابل پر نہ صرف عبدالحکیم خان کی پیشگوئی جھوٹی نکلی بلکہ وہ ہر طرح ذلیل اور مردود رہا اور کسی نے اس کو پوچھا تک نہیں اور آخر وہ اسی ذلت اور گمنامی کی حالت میں مر گیا اور اب کوئی شخص اسے جانتا تک نہیں۔
    لیکن چونکہ وہ سوال جو عبدالحکیم خان نے ایمان بالرسل کے متعلق اٹھایا تھا وہ بہت اہم تھا اور علاوہ اس کے عبدالحکیم خان الہام کا بھی مدعی بنتا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود نے اس کے مقابل پر اپنے الہام کی اشاعت پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ عبدالحکیم خان کے غلط خیالات کی تردید میں ایک مبسوط کتاب تصنیف کر کے شائع فرمائی جس کا نام آپ نے ’’ حقیقۃ الوحی‘‘ رکھا۔ یہ ایک بہت ضخیم کتاب ہے جو ۱۹۰۶ء سے شروع ہو کر ۱۹۰۷ء میں ختم ہوئی۔ اس میں حضرت مسیح موعود ؑ نے وحی اور الہام کی حقیقت پر نہایت سیرکن بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ وحی کتنی قسم کی ہوتی ہے اور وحی کی مختلف اقسام کی کیا کیا علامات ہیں اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات الہام کی ادنیٰ قسمیں کمزور اور گندے لوگوں کو بھی ہو جایا کرتی ہیں اور غیر مومنوں اور فاسقوں فاجروں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں۔ مگر یہ خواب اور یہ الہام ان کی سچائی اور نیکی کی علامت نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ اس غرض سے ایسا کرتا ہے کہ تا عام لوگ بھی خوابوں اور الہاموں کے کوچے سے کسی قدر آشنا رہیں اور نبیوں اور پاک لوگوں کا اعلیٰ اور ارفع الہام ان کے خلاف حجت ہو سکے اور وہ اسے سمجھ سکیں۔
    اسی طرح آپ نے اس کتاب میں اس سوال کا بھی تشریح کے ساتھ جواب دیا کہ وہ نام نہاد ایمان جو محض صحیفہ فطرت کے عقلی مطالعہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے وہ ہرگز کافی نہیں ہوتا بلکہ حقیقی اور زندہ ایمان پیدا کرنے کے لئے نبیوں اور رسولوں کا وجود ضروری ہے جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنی روشن تجلیات کا ظہور کرتا ہے جو ایمان کو ’’ ہونا چاہئے‘‘ کی پر خطر وادی سے نکال کر ’’ہے‘‘ کے محفوظ قلعہ میں پہنچا دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے اس کتاب میںاپنے ان سینکڑوں نشانوں کو بھی بیان کیا جو خدا نے آپ کے ذریعہ ظاہر کئے اور آپ نے بتایا کہ آپ کی پیشگوئیاں کس طرح پوری ہوئیں آپ کے مخالف کس طرح خدائی عذابوں کا نشانہ بنے اور آپ کے دوستوں نے کس طرح خدا کی رحمت سے حصہ پایا اور خدا نے آپ کی تائید میں کیا کیا زبردست نشانات ظاہر کئے وغیر ذالک۔ الغرض یہ کتاب ایک لا جواب تصنیف ہے جس کے مطالعہ سے ہر غیر متعصب شخص کو گویا خدا کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔
    پنجاب میں بغاوت اور اس پر حضرت مسیح موعود ؑ کا اعلان :۔ ۱۹۰۷ء میں پنجاب کے
    اندر ایک بہت بھاری پولیٹکل ہیجان پیدا ہوا جس کی ابتداء سودیشی کے سوال سے ہوئی تھی مگر آہستہ آہستہ بات بڑھ گئی اور اس تحریک نے ایک گو نہ بغاوت کا رنگ اختیار کر لیا جس کے نتیجہ میں ہندوئوں کے مشہور لیڈر لالہ لاجپت رائے پنجاب سے جلا وطن کئے گئے۔ اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک اشتہار ۱؎ کے ذریعہ اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہر طرح پرامن رہیںاور کسی قسم کی باغیانہ اور قانون شکن کارروائی میں حصہ نہ لیں۔ دراصل حضرت مسیح موعود ؑ ہمیشہ سے اسلام کی اصولی تعلیم کے ماتحت اپنی جماعت کو یہ نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ انسان کو حکومت وقت کا وفادار رہنا چاہئے اور اس کے خلاف کسی قسم کی باغیانہ کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہئے بلکہ ایک پرامن شہری کے طور پر زندگی بسر کرنی چاہئے آپ اس بات کے خلاف نہیں تھے کہ لوگ حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں مگر آپ اس بات کو ناجائز قرار دیتے تھے کہ یہ مطالبہ قانون شکنی کی صورت میں باغیانہ طریق اختیار کر کے کیا جاوے بلکہ نصیحت فرماتے تھے کہ ایسے مطالبات قانون کے اندر رہتے ہوئے پیش کرنے چاہئیں اور کوئی ایسا طریق اختیار نہیں کرنا چاہئے جو ملک میں امن شکنی اور فتنہ و فساد کا باعث ہو۔ اور آپ اس لحاظ سے حکومت انگریزی کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے کہ اس کے ذریعہ ملک میں ایک مستحکم نظام حکومت قائم ہے جو فتنہ و فساد کے رستے کو روکتا ہے اور ہر قوم کو اپنے عقائد و خیالات کی پر امن تبلیغ کے لئے پوری پوری آزادی حاصل ہے اور آپ اس بات کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ یہ آزادی اور یہ امن کسی طرح خطرہ میں پڑے ۔ مگر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ حکومت کے متعلق آپ کی وفاداری کی تعلیم انگریزی حکومت کے لئے خاص تھی بلکہ آپ کی یہ تعلیم اصولی رنگ رکھتی تھی اور سب حکومتوں پر اس کا ایک سا اثر تھا کیونکہ اس کی بنیاد امن اور ضمیر کی آزادی کے اصول پر مبنی تھی جو سب کے لئے برابر ہے ہاں چونکہ آپ انگریزی حکومت کے ماتحت تھے اور اسی حکومت میں آپ کے سلسلہ کا مرکز واقع تھا اس لئے طبعاً آپ کی اس تعلیم میں انگریزی حکومت کا ذکر زیادہ آیا ہے۔
    ۱۹۰۷ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود ؑ کو لاہور کی آریہ سماج نے یہ تحریک کی کہ ہم لاہور میں ایک مذہبی جلسہ کرنا چاہتے ہیں جس میں ہم نے دوسرے مذاہب کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے اور آپ سے بھی درخواست ہے کہ اس جلسہ کے لئے کوئی مضمون لکھ کر ارسال فرمائیں اور آریہ صاحبان نے اس جلسہ کے لئے یہ مضمون مقرر کیا کہ ’’ کیا دنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے؟ اگر ہے تو کونسی ہے ؟ ‘‘ آریہ صاحبان نے حضرت مسیح موعود ؑ کو یہ بھی یقین دلایا کہ جلسہ میں کوئی خلاف تہذیب اور دلآزار بات نہیں ہو گی اور دوسروں کے مذہبی احساسات کا پورا پورا احترام کیا جائے گا ۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس دعوت کو قبول کیا اور مقررہ موضوع پر ایک مضمون لکھ کر حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ ارسال فرمایا اور جماعت میں بھی تحریک فرمائی کہ لوگ اس جلسہ میں شریک ہوں مگر ساتھ ہی آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ جلسہ کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ منتظمین جلسہ کی نیت بخیر نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی کا منہ نہیں دکھائے گا۔ ۱؎
    اس کے بعد یہ جلسہ ۳؍ دسمبر ۱۹۰۷ء کو لاہور میں منعقد ہوا اور حضرت مسیح موعود کا مضمون حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پڑھ کر سنایا جو نہایت درجہ مہذب اور موثر تھا مگر جب دوسرے روز آریہ مقرر کی باری آئی تو ان لوگوں نے سارے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسا دل آزاد مضمون پڑھا جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کے خلاف بدزبانی اور طعنہ زنی سے پُر تھا اور جابجا اسلامی تعلیم کے خلاف دل آزار حملے کئے گئے تھے۔ جب جلسہ کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ کو حالات سے آگاہی ہوئی تو آپ کو سخت رنج ہوا اور آپ اپنے دوستوں پر بھی سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مومن کو باغیرت ہونا چاہئے آپ لوگ اس قسم کے مضمون کے وقت کیوں نہ اٹھ کر چلے آئے اور کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم گالیاں سننے کے لئے نہیں آئے ؟
    اس کے بعد آپ نے آریوں کے ان اعتراضوں کے جواب کے لئے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ’’ چشمۂ معرفت ‘‘ رکھا اور حق یہ ہے کہ اس تحریر کے ذریعہ آپ نے حقیقۃً معرفت کے چشمہ کا منہ کھول دیا۔ یہ کتاب نہ صرف ان اعتراضوں کا دنداں شکن جواب ہے جو عموماً آریہ صاحبان کی طرف سے اسلام کے خلاف کئے جاتے ہیں بلکہ اس میں خود ویدک دھرم کی تعلیم پر بھی ایسی زبردست جرح ہے کہ جس کا جواب کسی آریہ کی طرف سے ممکن نہیں ہو سکتا۔ مثلاً آپ نے لکھا کہ آریوں کا یہ عقیدہ کہ خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں ہے بلکہ یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سے خدا کے ساتھ ساتھ چلی آئی ہیں اور خدا صرف ان کے جوڑ توڑ سے دنیا پر حکومت کر رہا ہے یہ نہ صرف ایک مشرکانہ عقیدہ ہے بلکہ غور کیا جائے تو اس عقیدہ کو مان کر خدا کی خدائی کا کچھ باقی ہی نہیں رہتا اور اس کی بہت سی اہم صفات مثلاً خالقیت اور مالکیت اور قدرتِ کاملہ وغیرہ کا انکار کرنا پڑتا ہے جن کے انکار کے بعد ایک سچا عابد خدا کی طرف کوئی کشش نہیں پا سکتاآپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قدامتِ روح و مادہ کا مسئلہ ایک سراسر جھوٹے مشاہدہ اور قیاس مع الفارق کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی وسیع طاقتوں کو بھی اسی قانون سے ناپا گیا ہے جو اس کی محدود طاقتوں والی مخلوق پر چلتا ہے اور تناسخ کے عقیدہ کے متعلق آپ نے لکھا کہ وہ اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ قانون نیچر او رقانون شریعت میں تمیز نہیں کی گئی اوردنیاکے طبعی اختلافات کو جو ایک حکیمانہ قانون نیچر کے ماتحت رو پذیر ہوتے ہیں سراسر نادانی کے ساتھ قانون شریعت کے ماتحت قرار دے کر تناسخ کا عقیدہ گھڑ لیا گیا ہے حالانکہ تناسخ کا عقیدہ ایسا خطرناک ہے کہ اسے مان کر خدا کی صفت خالقیت اور صفت عفوو قبول توبہ پر بالکل پانی پھر جاتا ہے۔ اسی طرح اس عقیدہ کے متعلق کہ خدا کا الہام صرف وید کے زمانہ تک محدود تھا اور اس کے بعد یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا آپ نے لکھا کہ یہ ایسا خطرناک عقیدہ ہے کہ جو ایمان کے پودے کو جلا کر خاک کر دیتا ہے کیونکہ ایمان کا درخت ایسا ہے کہ جب تک اسے خدائی نشانات اور خدائی کلام کے ذریعہ تازہ بتازہ پانی نہ ملتا رہے وہ خشک ہو جاتا ہے اور محض گزشتہ کے قصے اسے ہرگز زندہ نہیں رکھ سکتے۔ جس مذہب نے خدائی الہام کا دروازہ بند کیا وہ مر گیا اسی لئے اسلام نے گو شریعت کو آنحضرت ﷺ پر ختم قرار دیا ہے مگر الہام کے دروازہ کو بند نہیں کیا۔ اسی طرح آپ نے محدود نجات اور گناہوں کی معافی کا دروازہ بند ہونے کے متعلق آریہ عقائد کی تردید میں ایسے زبردست دلائل دئیے کہ جن سے اس مذہب کا سارا تار وپود بکھر گیا اور آریہ کیمپ میں ایک کھلبلی مچ گئی۔
    الغرض ’’ چشمۂ معرفت ‘‘ ایک نہایت لطیف اور جامع کتاب ہے جو آپ نے اپنی زندگی کے بالکل آخری ایام میں تصنیف فرمائی جس سے سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں ایک نہایت بیش قیمت اضافہ ہوا۔
    مارچ ۱۹۰۸ء کے تیسرے ہفتہ میں پنجاب کے فنانشل کمشنر سرجیمز ولسن اپنے دورہ میں قادیان آئے اور گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر کنگ کے ساتھ قادیان میں اپنا مقام رکھا۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ صوبہ کا ایک بڑا افسر جو اس زمانہ میں گورنر سے دوسرے نمبر پر ہوتا تھا قادیان آکر ٹھہرا تھا اور غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ گورنمنٹ ایک ذمہ دار افسر کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ کے متعلق مستند معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی اور ان مخالفانہ رپورٹوں کی صحت یا عدم صحت کا امتحان کرنا چاہتی تھی جو ان ایام میں سلسلہ احمدیہ کے متعلق اس کے مخالفوں کی طرف سے اوپر پہنچ رہی تھیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے جن میں بہت سے احباب قادیان کے باہرسے بھی آئے ہوئے تھے فنانشل کمشنر صاحب کا بہت اچھی طرح استقبال کیا اور حضرت مسیح موعود نے ان کی دعوت بھی کی اورپھر آپ ان کی اس خواہش پر کہ میں مرزاصاحب سے ملنا چاہتا ہوں خود ان کے کیمپ میں تشریف لے گئے جہاں صاحب موصوف آپ کے ساتھ بڑی عزت کے ساتھ پیش آئے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق بہت سے سوالات پوچھتے رہے اور ملک کی سیاسی فضا کے متعلق بھی گفتگو ہوئی اور سرجیمز ولسن اس ملاقات سے بہت محظوظ اور خوش ہو کر واپس گئے۔ ۱؎
    قادیان میں دو امریکن سیاحوں کی آمد :۔ اپریل ۱۹۰۸ء کے شروع میں ایک امریکن مرد
    اور ایک امریکن عورت جو امریکہ سے ہندوستان کی سیاحت کے لئے آئے تھے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی ملاقات کے لئے قادیان آئے۔ ان کے ساتھ لاہور کا ایک انگریز بھی تھا۔ ان تینوں نے حضرت مسیح موعود ؑ سے ملاقات کی اور حضرت مسیح موعود ؑ انہیں بڑی محبت سے ملے اور ان کے سوالات کے جواب دیتے رہے۔ آپ نے ان کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا اور مسیح کی بعثتِ ثانی کی حقیقت سمجھائی اور اپنے بعض نشانات بھی بیان کئے وہ آپ کی باتوں سے بہت متاثر ہوئے اور دورانِ گفتگو میں آپ سے کہا کہ کوئی نشان ہمیں بھی دکھایا جاوے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ غور کریں تو آپ کا وجود خود ایک نشان ہے۔ انہوں نے گھبرا کر پوچھا وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ آج سے چند سال پہلے میں یہاں بالکل گمنامی کی حالت میں پڑا تھا اور قادیان کا دور افتادہ گائوں لوگوں کی نظروں سے بالکل مستور تھا۔ اس وقت خدا نے مجھے خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تجھے بڑی شہرت دے گا اور لوگ دور دراز سے تیری ملاقات کے لئے آئیں گے اور تیری نصرت کے لئے دور دراز سے سامان پہنچیں گے ۔ پھر اس کے بعد میری سخت مخالفت ہوئی مگر باوجود اس مخالفت کے خدا نے اپنے وعدہ کو پورا کر کے دکھا دیا چنانچہ آپ صاحبان کا یہاں آنا بھی اس پیشگوئی کے ماتحت ایک خدائی نشان ہے ورنہ کہاں امریکہ اور کہاں قادیان! اس پر یہ لوگ بہت گھبرائے کہ ہم اپنے منہ سے ایک بات کہہ کر خود ہی پکڑے گئے۔ ۲؎
    اسی طرح بعض اور موقعوں پر بھی بعض یورپین اصحاب قادیان آتے رہے ہیں اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود ؑ کی گفتگو سے آپ کی اعلیٰ روحانیت اور وسیع علمی نظر سے بہت متاثر ہوتے رہے ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح موعود ؑ کے آخری سفر لاہور میں ایک انگریز سیاح پروفیسر ریگ نامی جو انگلستان سے ہندوستان کا دورہ کرنے آیا تھا آپ کو لاہور میں ملا تھا اور حقیقتِ گناہ اور نجات اور بعث بعد الموت اور خلق آدم اور عمر دنیا اور مسئلہ ارتقاء وغیرہ کے متعلق آپ کے جوابات سن کر بہت ہی متاثر ہوا تھا اور ایک دفعہ ملنے کے بعد خواہش کر کے دوسری ملاقات مقرر کروائی تھی۔ ۱؎
    سفر لاہور اور وفات کے الہامات کا اعادہ :۔ ان ایام میں ہماری والدہ صاحبہ کی
    طبیعت علیل رہتی تھی اور ان کی خواہش تھی کہ لاہور جا کر کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر کو دکھا کر علاج کرائیں۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ غالباً اپنی طبیعت کے کسی مخفی اثر کے ماتحت اس وقت سفر اختیار کرنے میں متامل تھے۔ لیکن آخر آپ والدہ صاحب کے اصرار پر تیار ہو گئے۔ یہ اپریل ۱۹۰۸ء کے اخری ایام تھے۔ لیکن ابھی آپ قادیان میں ہی تھے اور دوسرے دن روانگی کی تیاری تھی کہ ۲۵ ؍ اور ۲۶ اپریل کی درمیانی شب کو آپ کو یہ الہام ہوا کہ :۔
    مباش ایمن از بازیٔ روزگار۔ ۲؎
    یعنی اس زندگی کے کھیل سے امن میں نہ رہو۔
    یہ ایک چونکا دینے والا الہام تھا اور چونکہ اتفاق سے اس دن ہمارے چھوٹے بھائی کی طبیعت بھی علیل ہو گئی اس لئے آپ پھر متامل ہوگئے اور اس دن کی روانگی ملتوی کر دی۔ لیکن چونکہ ادھر والدہ صاحبہ کی خواہش تھی اور ادھر الہام میں کوئی تعیین نہیں تھی او ربھائی کی حالت میں بھی افاقہ تھا اس لئے آپ دوسرے دن یعنی ۲۷؍ اپریل ۱۹۰۸ء کو قادیان سے روانہ ہو گئے۔ بالہ میں پہنچ کر جو ان ایام میں قادیان کا ریلوے سٹیشن تھا پھر ایک روک پیش آگئی اور وہ یہ کہ خلاف توقع ریزرو گاڑی نہیں مل سکی۔ اس پر آپ نے پھر قادیان واپس چلے آنے کا ارادہ فرمایا لیکن بالآخر بٹالہ میں ہی ریزرو گاڑی کے انتظام میں ٹھہر گئے اور گاڑی ملنے پر ۲۹۔ اپریل کو لاہور تشریف لے گئے جہاں آپ نے اپنے ایک ذی عزت مرید خواجہ کمال الدین صاحب بی ۔اے ۔ ایل ایل بی کے مکان پر قیام کیا۔
    جب مخالفین کو آپ کے لاہور آنے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے پھر وہی مخالفت کے پرانے مظاہرے شروع کر دئیے اور آپ کی فرودگاہ کے سامنے اڈہ جما کر نہایت گندے اور اشتعال انگیز لیکچر دینے لگے۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ان گالیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کریں اور اپنے آپ کو ہر طرح روک کر رکھیں۔ اس تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ شریف طبقہ کو حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف اور بھی زیادہ توجہ پیدا ہو گئی اور متلاشی لوگ کثرت کے ساتھ حضور کی ملاقات کے لئے آنے لگے۔ اسی دوران میں ۹؍ مئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو الہام ہوا کہ :۔
    اَلرَّحِیْل ثُمَّ الرَّحِیْل ـ اِنَّ اللّٰہَ یَحْمِلُ کَلَّ حِمْلٍ ـ ۱؎
    یعنی کوچ اور پھر کوچ اللہ تعالیٰ سارا بوجھ خود اٹھالے گا۔
    یہ آپ کی وفات کی طرف صریح اشارہ تھا۔ مگر آپ نہایت استقلال کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہے اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا البتہ آپ نے انبیاء کی سنت کے مطابق اس قسم کی خواب یا الہام کو حتیّٰ الوسع ظاہر میں بھی پورا کر دینا چاہئے اپنے مکان کو بدل لیا اور فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا کوچ ہے اور ایک رنگ میں الہام کا منشاء پورا ہو جاتا ہے پس آپ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں سے منتقل ہو کر اپنے ایک دوسرے مرید ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں جو اس کے ساتھ ہی ملحق تھا تشریف لے گئے۔ مگر باوجود اس کے جماعت کے ایک طبقہ میں اس الہام کی وجہ سے تشویش تھی۔ لیکن جب اس کے چند دن بعد قادیان سے ایک مخلص احمدی نوجوان بابو شاہ دین صاحب سٹیشن ماسٹر کی وفات کی خبر آئی تو لوگوں کی توجہ اس طرف منتقل ہو گئی کہ شاید کوچ والے الہام میں انہی کی موت کی طرف اشارہ ہو گا مگر قرائن سے پتہ لگتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود ؑ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ یہ الہام آپ ہی کے متعلق ہے ۔ لیکن جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے اس کی وجہ سے آپ میں قطعاً کسی قسم کی گھبراہٹ کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ بلکہ آپ اسی انہماک اور اسی استقلال اور اسی شوق و ولولہ کے ساتھ اپنے خداداد مشن میں لگے رہے۔
    لاہور کے رؤسا کو دعوت :۔ انہی ایام میں آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ چونکہ رؤساء کا
    طبقہ عموماً دوسرے لوگوں کے ساتھ کم اختلاط کرتا ہے اور پبلک جلسوں میں شریک نہیں ہوتا اور ویسے بھی یہ طبقہ دولت اور آرام کی زندگی کی وجہ سے عموماً دین میں سست ہوتا ہے اس لئے انہیں ایک دعوت کے ذریعہ اپنے مکان پربلایا جاوے اور پھر ظاہری طعام کے ساتھ انہیں روحانی غذا بھی پہنچا دی جائے تا کہ اس طرح ان کے کانوں میں پیغام حق پہنچ جائے۔ چنانچہ آپ کی تحریک پر ۱۷؍ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور کے مسلمان رئوساء کو دعوت دی گئی اور کھانے سے کسی قدر قبل کا وقت دے کر بلا لیا گیا اور پھر حضرت مسیح موعود ؑ نے ان میں کھڑے ہو کر اپنے خدا داد مشن کے متعلق تقریر فرمائی۔ گو آپ اس دن کسی قدر بیمار تھے اور طبیعت اچھی نہیں تھی مگر پھر بھی آپ نے دو ڈھائی گھنٹہ بڑے جوش کے ساتھ تقریر کی اور سب حاضرین نے شوق اور محبت کے ساتھ اس تقریر کو سنا اور جب بعض نازک مزاج اور جلد باز لوگ بھوک کی وجہ سے گھبرا کر کچھ تلملانے لگے تو دوسروں نے انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ دنیا کا کھانا تو ہم ہر روز کھاتے ہیں آج یہ روحانی غذا مل رہی ہے اس لئے توجہ کے ساتھ سنو۔ الغرض اس طرح امراء کے طبقہ میں بہت اچھی طرح تبلیغ پہنچ گئی اور حضرت مسیح موعود ؑ اپنے ایک اہم فرض سے سبکدوش ہو گئے۔
    جس دن آپ نے یہ تقریر فرمائی اسی دن یعنی اس سے پہلی رات آپ کو یہ الہام ہوا کہ :
    مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار۔ ۱؎
    یعنی اس گزرنے والی عمر پر بھروسہ نہ کر ۔
    یہ الہام بھی واضح طور پر آپ کی وفات کے قرب کی خبر دیتا تھا مگر آپ بدستوراپنے کام میں منہمک رہے۔
    ایک پبلک لیکچر کی تجویز اور ’’ پیغام صلح ‘‘ کی تصنیف :۔ اس مخصوص لیکچر کے بعد جو
    رئوساء لاہور کے سامنے ہوا تھا بعض لوگوں کی تحریک پر ایک پبلک لیکچر کی بھی تجویز کی گئی اور حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کے لئے ’’ پیغام صلح‘‘ کا عنوان پسند فرمایا۔ اس مضمون کو حضرت مسیح موعود نے حسب عادت لکھ کر سنانا پسند کیا اور اس کی تصنیف شروع فرما دی اور اس میں ہندوستان کے ہندوئوں کو یہ دعوت دی کہ ہم لوگ ایک خدا کی مخلوق ہیں اور ایک ملک میں رہتے ہیں اس لئے یہ آپس کے ناگوار جھگڑے اچھے نہیں اور جھگڑوں کی اصل وجہ ایک دوسرے کے مذہبی پیشوائوں کے متعلق بدزبانی اور بے ادبی کا طریق اختیار کرنا ہے۔ پس آئو کہ ہم اس بنائے فساد کو درمیان سے اٹھا کر آپس میں صلح کر لیں اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ پیش آئیں اور اس کے لئے آپ نے عملاً یہ تجویز پیش فرمائی کہ آئندہ کے لئے یہ عہد کیا جاوے جس کے توڑنے پر ایک بھاری تاوان مقرر ہو کہ ایک دوسرے کے مذہبی پیشوائوں کو برا نہیں کہا جائے گا بلکہ ان کو اسی عزت اور اسی ادب سے یاد کیا جائے گا جو ایک سچے مذہبی پیشوا کے مقام کے لحاظ سے ضروری ہے اور آپ نے لکھا کہ میں اور میری جماعت جو اس وقت چار لاکھ کے قریب ہے اپنی طرف سے یہ اقرار کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ویدوں کے رشی اور بعد میں آنے والے ہندوئوں کے مذہبی بزرگ یعنی حضرت کرشن اور رامچندر جی صاحبان خدا کے برگزیدہ انسان تھے اور ہم ان مقدس ہستیوں کی اسی طرح عزت کریں گے جس طرح ایک صادق اور سچے مامور من اللہ کی کی جاتی ہے اور ان کے متعلق کوئی کلمہ بے ادبی یا گستاخی کا اپنی زبان پر نہیں لائیں گے۔ اور اس کے مقابل پرہندو صاحبان یہ اقرار کریںکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خدا کی طرف سے سچے رسول تھے جو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کئے گئے اور یہ کہ آئندہ ہندو صاحبان آپ کی اسی طرح عزت کریں گے جس طرح کہ ایک سچے رشی اور اوتار کی کی جاتی ہے۔ اور آپ کے متعلق کوئی کلمہ بے ادبی یا گستاخی کا اپنی زبان پر نہیں لائیں گے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ بھی لکھا کہ اگر ہندو قوم اس قسم کے معاہدہ اور مصالحت کے لئے تیار ہو تو پھر یہ گائے کا جھگڑا بھی درمیان سے اٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ مسلمانوں میں گائے حلال ہے یہ نہیں کہ اس کے گوشت کا استعمال ضروری ہے پس اتنے بڑے فائدہ کے مقابل پر یہ بات ترک کی جا سکتی ہے اور آپ نے لکھا کہ ضروری ہو گا کہ اس معاہدہ پر ہر دو فریق کے دس دس ہزار معروف اور با اثر نمائندوں کے دستخط ہوں تا کہ یہ معاہدہ قومی معاہدہ سمجھا جا سکے۔ ۱؎ مگر افسوس ہے کہ ابھی اس لیکچر کے پڑھے جانے کا وقت نہیں آیا تھا کہ خدائی الہام کے مطابق حضرت مسیح موعود اس جہان سے کوچ فرما گئے جس میں غالباً قدرت کا یہ اشارہ مخفی تھا کہ آپ کی وفات عین کام کی حالت میں واقع ہوئی ہے لیکن چونکہ جس مشن کو لے کر آپ اس دنیا میں آئے تھے وہ خدا کا مقرر کردہ مشن تھا اس لئے آپ کی وفات کے ساتھ آپ کا کام رک نہیں سکتا تھا چنانچہ آپ کی وفات کے قریباً ایک ماہ بعد یعنی ۲۱ ؍جون ۱۹۰۸ء کو یہ مضمون لاہور کے ایک بڑے مجمع میں جس کے صدر مسٹر جسٹس رائے بہادر پرتول چندر صاحب جج چیف کورٹ پنجاب تھے پڑھ کر سنایا گیا اور ہر قوم و ملت کے لوگوں نے اسے نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ۱؎ اور بعض نے یہاں تک آمادگی ظاہر کی کہ مجوزہ سمجھوتہ کی کارروائی ابھی اسی جلسہ میں شروع ہو جانی چاہئے لیکن بعض دوسرے لوگوں نے غور کے لئے وقت مانگا اور اس طرح یہ معاملہ اس وقت توقف میں پڑ گیا لیکن اگر ہندو اصحاب غور کریں تو آج بھی ملک کے امن اور بین الاقوام اتحاد کا یہی ایک ذریعہ ہے۔
    لیکچر ’’ پیغام صلح‘‘ حضرت مسیح موعود ؑ کی آخری تصنیف تھی جس سے آپ کی تصانیف کا شمار اسی (۸۰) سے اوپر پہنچ گیا جن میں بعض بڑی بڑی ضخیم کتابیں بھی شامل ہیں اور آپ کے اشتہارات کی تعداد دو سو ساٹھ (۲۶۰) سے اوپر ہے جن میں سے بعض اشتہار کئی کئی صفحے کے ہیں۔
    قرب وفات کے متعلق آخری الہام :۔ حضرت مسیح موعود ؑ ’’ پیغام صلح‘‘ کی تصنیف میں
    مصروف تھے کہ ۲۰؍ مئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو یہ الہام ہوا کہ :۔
    اَلرَّحِیْل ثُمَّ الرَّحِیْل وَالْمَوْتُ قَرِیْبٌ۔ ۲؎
    یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔
    یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا مگر حضرت مسیح موعود ؑ نے دانستہ اس کی کوئی تشریح نہیں فرمائی لیکن ہر سمجھدار شخص سمجھتا تھا کہ اب مقدر وقت سر پر آگیا ہے۔ اس پر ایک دن حضرت والدہ صاحبہ نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود ؑ سے کہا کہ اب قادیان واپس چلیں۔ آپ نے فرمایا کہ اب تو ہم اسی وقت جائیں گے جب خدا لے جائے گا اور آپ بدستور پیغام صلح کی تقریر کے لکھنے میں مصروف رہے بلکہ آگے سے بھی زیادہ سرعت اور توجہ کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا۔ بالآخر ۲۵؍ مئی کی شام کو آپ نے اس مضمون کو قریباً مکمل کر کے کاتب کے سپرد کر دیا اور عصر کی نماز سے فارغ ہو کر حسب طریق سیرکے خیال سے باہر شریف لائے۔ ایک کرایہ کی گھوڑا گاڑی حاضر تھی جو فی گھنٹہ مقررہ شرح کرایہ پر منگائی گئی تھی۔ آپ نے اپنے ایک مخلص رفیق شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سے فرمایا کہ اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ کے کرایہ کے پیسے ہیں۔ وہ ہمیں صرف اتنی دور لیجائے کہ ہم اس وقت کے اندر اندر ہوا خوری کر کے گھر واپس پہنچ جائیں۔ چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور آپ تفریح کے طور پر چند میل پھر کر واپس تشریف لے آئے۔ اس وقت آپ کو کوئی خاص بیماری نہیں تھی صرف مسلسل مضمون لکھنے کی وجہ سے کسی قدر ضعف تھا اور غالباً آنے والے حادثہ کے مخفی اثر کے ماتحت ایک گونہ ربودگی اور انقطاع کی کیفیت طاری تھی۔ آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں اور پھر تھوڑا سا کھانا تناول فرما کر آرام کے لئے لیٹ گئے۔
    وصال اکبر :۔ کوئی گیارہ بجے رات کا وقت ہو گا آپ کو پاخانہ جانے کی حاجت محسوس ہوئی اور
    آپ اٹھ کر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ کو اکثر اسہال کی تکلیف ہو جایا کرتی تھی اب بھی ایک دست آیا اور آپ نے کمزوری محسوس کی اور واپسی پر حضرت والدہ صاحبہ کو جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک دست آیا ہے جس سے بہت کمزوری ہو گئی ہے وہ فوراً اٹھ کر آپ کے پاس بیٹھ گئیں اور چونکہ آپ کو پائوں دبانے سے آرام محسوس ہوا کرتا تھا اس لئے آپ کی چارپائی پر بیٹھ کر پاؤں دبانے لگ گئیں۔ اتنے میں آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور آپ رفع حاجت کے لئے گئے اور جب اس دفعہ واپس آئے تو اس قدر ضعف تھا کہ آپ چارپائی پر لیٹتے ہوئے اپنے جسم کو سہار نہیں سکے اور قریباً بے سہارا ہو کرچارپائی پر گر گئے۔ اس پر حضرت والدہ صاحبہ نے گھبرا کر کہا ’’ اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ۔ ’’ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ ‘‘ یعنی اب مقدر وقت آن پہنچا ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایامولوی صاحب (یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب جو آپ کے خاص مقرب ہونے کے علاوہ ایک نہایت ماہر طبیب تھے) کو بلوا لو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ محمود (یعنی ہمارے بڑے بھائی مرزابشیرالدین محمود احمد صاحب) اور میر صاحب (یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب جو حضرت مسیح موعود ؑ کے خسر تھے) کو جگا دو۔ چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے اور بعد میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی بلوا لیا گیااور علاج میں جہاں تک انسانی کوشش ہو سکتی تھی وہ کی گئی۔ مگر خدائی تقدیر کو بدلنے کی کسی شخص میں طاقت نہیں۔ کمزوری لحظہ بلحظہ بڑھتی گئی اور اس کے بعد ایک اور دست آیا جس کی وجہ سے ضعف اتنا بڑھ گیا کہ نبض محسوس ہونے سے رک گئی۔ دستوں کی وجہ سے زبان اور گلے میں خشکی بھی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے بولنے میں تکلیف محسوس ہوتی تھی مگر جو کلمہ بھی اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا وہ ان تینوں لفظوں میں محدود تھا۔ ’’ اللہ ۔ میرے پیارے اللہ‘‘ اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔
    صبح کی نماز کا وقت ہوا تو اس وقت جبکہ خاکسار مؤلف بھی پاس کھڑا تھا نحیف آواز میں دریافت فرمایا ’’ کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ‘‘ ایک خادم نے عرض کیا۔ ہاں حضور ہو گیا ہے۔ اس پر آپ نے بسترے کے ساتھ دونوں ہاتھ تیمم کے رنگ میں چھو کر لیٹے لیٹے ہی نماز کی نیت باندھی۔ مگر اسی دوران میں بیہوشی کی حالت ہو گئی۔ جب ذرا ہوش آیا تو پھر پوچھا کیا ’’ نماز کا وقت ہو گیا ہے؟‘‘ عرض کیا گیا ہاں حضور ہو گیا ہے ۔ پھر دوبارہ نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔ اس کے بعد نیم بیہوشی کی کیفیت طاری رہی مگر جب کبھی ہوش آتا وہی الفاظ ’’ اللہ۔ میرے پیارے اللہ ‘‘ سنائی دیتے تھے۔ اور ضعف لحظہ بلحظہ بڑھتا جاتا تھا۔
    آخر دس بجے صبح کے قریب نزع کی حالت پیدا ہو گئی اور یقین کر لیا گیا کہ اب بظاہر حالات بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس وقت تک حضرت والدہ صاحبہ نہایت صبر اور برداشت کیساتھ دعا میں مصروف تھیں اور سوائے ان الفاظ کے اور کوئی لفظ آپ کی زبان پر نہیں آیا تھا کہ ’’ خدایا ! ان کی زندگی دین کی خدمت میں خرچ ہوتی ہے تو میری زندگی بھی ان کو عطا کر دے۔ ‘‘ لیکن اب جبکہ نزع کی حالت پیدا ہو گئی تو انہوں نے نہایت درد بھرے الفاظ سے روتے ہوئے کہا ’’ خدایا ! اب یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں لیکن تو ہمیں نہ چھوڑیو۔ ‘‘ آخر ساڑھے دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک دو لمبے لمبے سانس لئے اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب کی خدمت میں پہنچ گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ـ کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ـ
    وفات پر اپنوں اور بیگانوں کی حالت :۔جماعت کے لئے یہ فوری دھکا ایک بڑے بھاری
    زلزلہ سے کم نہیں تھا۔ کیونکہ اوّل تو باوجود ان الہامات کے جو حضرت مسیح موعود ؑ کو اپنی وفات کے متعلق ایک عرصہ سے ہو رہے تھے اور جو وفات سے چندروز قبل بہت زیادہ کثرت اور بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ ہوئے جماعت کے لوگ اس عاشقانہ محبت کی وجہ سے جو انہیں آپ کے ساتھ تھی اس صدمہ کے لئے تیار نہیں تھے۔ دوسرے آپ کی وفات مرض الموت کے مختصر ہونے کی وجہ سے بالکل اچانک واقع ہوئی تھی اور بیرونجات کے احمدی تو الگ رہے خود لاہور کے اکثر دوست آپ کی بیماری تک سے مطلع نہیں ہونے پائے تھے کہ اچانک ان کے کانوں میں آپ کے وصال کی خبر پہنچی ۔ اس خبر نے جماعت کو گویا غم سے دیوانہ کر دیا اور دنیا ان کی نظر میں اندھیر ہو گئی۔ اور گو ہر دل غم سے پھٹا جاتا تھا اور ہر آنکھ اپنے محبوب کی جدائی میں اشکبار تھی اور ہر سینہ سوزش ہجر سے جل رہا تھا مگر جو لوگ حضرت مسیح موعود ؑ کے خاص تربیت یافتہ تھے اور جماعت کی ذمہ داری کو سمجھتے تھے اور وقت کی نزاکت کو پہچانتے تھے اور اپنے دلوں کے جذبات کو روکے ہوئے تھے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر ان کے ہاتھ کام میں لگے ہوئے تھے دوسرے لوگوں میں سے اکثر ایسے تھے جو بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے تھے اور بعض تو اس بات کو باور کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ان کا پیارا امام۔ ان کا محبوب آقا۔ ان کی آنکھوں کا نور۔ ان کے دل کا سرور۔ ان کی زندگی کا سہارا ۔ ان کی ہستی کا چمکتا ہوا ستارا ان سے واقعی جدا ہو گیا ہے۔ حتیّٰ کہ جو تاریں۔ بیرونی جماعتوں کی اطلاع کے لئے لاہور سے دی گئی تھیں اور استدعا کی گئی تھی کہ لوگ جنازہ کے لئے فوراً قادیان پہنچ جائیں انہیں بھی اکثر لوگوں نے جھوٹ سمجھا اور گو وہ قادیان آئے مگر صرف احتیاط کے طور پر آئے اور اس خیال سے آئے کہ جھوٹ کا پو ل کھولیں۔
    دوسری طرف جب حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کی خبر مخالفوں تک پہنچی تو ایک آن واحد میں لاہور کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک بجلی کی طرح پھیل گئی اور پھر ہماری آنکھوں نے مسلمان کہلانے والوں کی طر ف سے وہ نظارہ دیکھا جو ہمارے مخالفوں کے لئے قیامت تک ایک ذلت اور کمینگی کا داغ رہے گا۔ حضرت مسیح موعود کی وفات سے نصف گھنٹہ کے اندر اندر وہ لمبی اور فراخ سڑک جو ہمارے مکان کے سامنے تھی شہر کے بدمعاش اور کمینہ لوگوں سے بھر گئی اور ان لوگوں نے ہمارے سامنے کھڑے ہو کر خوشی کے گیت گائے اور مسرت کے ناچ ناچے اور شادمانی کے نعرے لگائے اور فرضی جنازے بنا بنا کر نمائشی ماتم کے جلوس نکالے۔ ہماری غم زدہ آنکھوں نے ان نظاروں کو دیکھا او رہمارے زخم خوردہ دل سینوں کے اندر خون ہو ہو کر رہ گئے۔ مگر ہم نے ان کے اس ظلم پر صبر سے کام لیا او راپنے سینوں کی آہوں تک کو دبا کے رکھا۔ اس لئے نہیں کہ یہ ہماری کمزوری کا زمانہ تھا کیونکہ ایک کمزور انسان بھی موت کے منہ میں کود کر اپنی غیرت کا ثبوت دے سکتا ہے بلکہ اس لئے کہ خدا کے مقدس مسیح نے ہمیں یہی تعلیم دی تھی کہ :۔
    گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو
    کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھائو انکسار
    دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو
    شدتِ گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار
    اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہی کہتے ہیں۔ ہاں وہی نسلیں جن کے سروں پر بادشاہی کے تاج رکھے جائیں گے کہ جب خدا تمہیں دنیا میں طاقت دے اور تم اپنے دشمنوں کا سر کچلنے کا موقعہ پائو اور تمہارے ہاتھ کو کوئی انسانی طاقت روکنے والی نہ ہو تو تم اپنے گزرے ہوئے دشمنوں کے ظلموں کو یاد کر کے اپنے خونوں میں جوش نہ پیدا ہونے دینا اور ہمارے کمزوری کے زمانہ کی لاج رکھنا تا لوگ یہ نہ کہیں کہ جب یہ کمزور تھے تو دشمن کے سامنے دب کر رہے اور جب طاقت پائی تو انتقام کے ہاتھ کو لمبا کر دیا۔ بلکہ تم اس وقت بھی صبر سے کام لینا اور اپنے انتقام کو خدا پر چھوڑنا کیونکہ وہی اس بات کوبہتر سمجھتا ہے کہ کہاں انتقام ہونا چاہئے اور کہاں عفو اور درگزر بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم اپنے ظالموں کی اولادوں کو معاف کرنا اور ان سے نرمی کا سلوک کرنا کیونکہ تمہارے مقدس آقا نے یہی کہا ہے کہ :
    اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار
    کاخر کنند دعوائے حُبِّ پیمبرم
    ’’ یعنی اے دل تو ان مسلمان کہلانے والوں کا بہر حال لحاظ کر کیونکہ خواہ کچھ بھی ہو
    آخر یہ لوگ ہمارے محبوب رسول کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ‘‘
    بلکہ مسلمانوں پر ہی حصر نہیں تم ہر قوم کے ساتھ عفو اور نرمی کا سلوک کرنا اور ان کو اپنے اخلاق اور محبت کا شکار بنانا کیونکہ تم دنیا میں خدا کی آخری جماعت ہو اور جس قوم کو تم نے ٹھکرا دیا اس کے لئے کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہو گا ۔ اے آسمان گواہ رہ کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو خدا کے سچے مسیح کی رحمت اور عفو کا پیغام پہنچا دیا۔
    تکفین و تدفین اور قدرت ثانیہ کا پہلا جلوہ :۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود ؑ
    کی وفات ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل بوقت ساڑھے دس بجے صبح ہوئی تھی اسی وقت تجہیز و تکفین کی تیاری کی گئی اور جب غسل وغیرہ سے فراغت ہوئی تو تین بجے بعد دوپہر حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل ؓ نے لاہور کی جماعت کے ساتھ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں نماز جنازہ ادا کی اور پھر شام کی گاڑی سے حضرت مسیح موعود ؑ کا جنازہ بٹالہ پہنچایا گیا جہاں سے راتوں رات روانہ ہو کر مخلص دوستوں نے اپنے کندھوں پر اسے صبح کی نماز کے قریب بارہ میل کا پیدل سفر کرکے قادیان پہنچایا۔ قادیان پہنچ کر آپ کے جنازہ کو اس باغ میں رکھا گیا جو مقبرہ بہشتی کے ساتھ ہے اور لوگوں کو اپنے محبوب آقا کی آخری زیارت کا موقعہ دیا گیا۔ اور پھر ۲۷؍ مئی ۱۹۰۸ء کو قریباً بارہ سو احمدیوں کی موجودگی میں جن میں ایک کافی تعداد باہر کے مقامات سے آئی ہوئی تھی حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا۔ اور آپ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی گئی اور اس طرح حضرت مسیح موعود کا وہ الہام پورا ہوا کہ ’’ ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق۔ ‘‘
    پہلی بیعت کا نظارہ نہایت ایمان پرور تھا اور لوگ اس بیعت کے لئے یوں ٹوٹے پڑتے تھے جس طرح ایک مدت کا پیاسا پانی کو دیکھ کر لپکتا ہے۔ ان کے دل غم و حزن سے چور چور تھے کہ ان کا پیارا آقا ان سے جدا ہو گیا ہے مگر دوسری طرف ان کے ماتھے خدا کے آگے شکر کے جذبات کے ساتھ سربسجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں پھر ایک ہاتھ پر جمع کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی بتائی ہوئی پیشگوئی پوری ہوئی کہ ’’ میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو خدا کی دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ ‘‘
    حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت جماعت کے کامل اتحاد کے ساتھ ہوئی جس میں ایک منفرد آواز بھی خلاف نہیں اٹھی اور نہ صرف افراد جماعت نے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے خاندان نے آپ کی خلافت کو تسلیم کیا بلکہ صدر انجمن احمدیہ نے بھی ایک متحدہ فیصلہ کے ماتحت اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی وصیت کے مطابق حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ منتخب کیا گیا ہے اور ساری جماعت کو آپ کی بیعت کرنی چاہئے۔ ۱؎ حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ کسی قسم کا جسمانی رشتہ نہیں رکھتے تھے اور ان کا انتخاب مومنوں کے اتفاق رائے سے ہوا تھا۔ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کے پرانے دوست اور سلسلہ بیعت میں اوّل نمبر پر تھے اور اپنے علم و فضل اور تقویٰ و طہارت اور اخلاق و قابلیت میں جماعت میں ایک لاثانی وجود سمجھے جاتے تھے۔
    بیعت خلافت کے بعد جو حضرت مسیح موعود کے باغ متصل بہشتی مقبرہ میں ایک آم کے درخت کے نیچے ہوئی تھی حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے باغ کے ملحقہ حصہ میں تمام حاضر الوقت احمدیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود ؑ کی نماز جنازہ ادا کی جس میں رقت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے گریہ وزاری کی آواز اٹھ رہی تھی۔ نماز کے بعد چھ بجے شام کے قریب حضرت مسیح موعود ؑ کے جسم اطہر کو مقبرہ بہشتی کے ایک حصہ میںدفن کیا گیا اور آپ کے مزار مبارک پر پھر ایک آخری دعا کر کے آپ کے غم زدہ رفیق اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔ مگر جو درد بھری یاد خدا کے مقدس مسیح نے اپنے رفیقوں کے دلوں میں چھوڑی تھی وہ ایک نہ مٹنے والی یاد تھی اور آج بھی جبکہ آپ کی وفات پر اکتیس (۳۱) سال کا عرصہ گزر گیاہے آپ کے ہر دیکھنے والے کے دل کو آپ کی یاد محبت کی تپش سے گرما رہی ہے اور میں نے کبھی آپ کے کسی صحابی کو اس حالت میں نہیں دیکھا کہ آپ کے محبت بھرے ذکر پر اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی جھلی نہ آگئی ہو۔ اے خدا کے برگزیدہ مسیح! تجھ پر خدا کی بے شمار رحمتیں اور بے شمار سلام ہوں کہ تو نے اپنے پاک نمونے اور اپنی پاک تعلیم سے دنیا میں ایک ایسا بیج بو دیا ہے جو ایک عظیم الشان روحانی انقلاب کا بیج ہے جس کے ساتھ بہت سے مادی انقلاب بھی مقدر ہیں یہ بیج اب بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور پھیلے گا اور دنیا کے سب باغوں پر غالب آئے گا۔ اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَعَلٰی مُطَاعِہٖ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ ـ
    حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر بعض اخبارات کا ریویو :۔ اس گندے مظاہرے کے بعد
    جو حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر لاہور میں کیا گیا تھا کسی مخالف کی طرف سے حضرت مسیح مودعود ؑ کے متعلق کسی تعریفی کلمہ کے سننے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی مگر ہر قوم میں سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے اور حق یہ ہے کہ کمینہ مزاج اندھے دشمنوں یا ان کے متبعین کو چھوڑ کر حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر ہر قوم و ملت کے شریف طبقہ نے آپ کے متعلق نہایت اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ چنانچہ ہم اس جگہ مثال کے طور ر بعض آراء درج ذیل کرتے ہیں۔ دہلی کے غیر احمدی اخبار ’’ کرزن گزٹ‘‘ کے مشہور ایڈیٹر میرزاحیرت صاحب دہلوی نے لکھا ۔
    ’’ مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔ نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا……… اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلنی بلندیٔ میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں …… اس کا پر زور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالاہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے …… اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔ ‘‘ ۱؎
    امرتسر کے غیر احمدی اخبار ’’وکیل‘‘ کے ایڈیٹر نے لکھا :۔
    ’’ وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا (خالی ہاتھ مت کہو وہ رحمت کے پھول لایا تھا اور درود کا گلدستہ لے کر گیا۔ مؤلف) …… مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے۔ ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پید اہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہی اور جب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو ۔ محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے …… میرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے …… آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔ ‘‘ ۱؎
    لاہور کے مشہور غیر احمدی رسالہ ’’ تہذیب النسوان ‘‘ کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا :۔
    ’’ مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دل کو تسخیر کر لیتی تھی۔ وہ نہایت باخبر عالم۔ بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔ ہم انہیں مذہباً مسیح موعود تو نہیں مانتے لیکن ان کی ہدایت اور رہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تھی۔ ‘‘ ۲؎
    لاہور کے اخبار ’’ آریہ پترکا‘‘ کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا :۔
    ’’ عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اس کی نسبت مرزا صاحب کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے۔ مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی بھی دوستانہ نہیں ہوئے اور جب ہم آریہ سماج کی گزشتہ تاریخ کو یاد کرتے ہیں تو ان کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے۔ ‘‘ ۳؎
    لاہور کے آریہ اخبار ’’اندر‘‘ نے لکھا :۔
    ’’ مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔ ‘‘ ۱؎
    الہ آباد کے انگریزی اخبار ’’ پائنیر ‘‘ نے لکھا :۔
    ’’ اگر گزشتہ زمانہ کے اسرائیلی نبیوں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آکر اس زمانہ میں دنیا میں تبلیغ کرے تو وہ بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں معلوم نہ ہو گا جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی تھے …… مرزا صاحب کو اپنے دعویٰ کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا اور وہ کامل صداقت اور خلوص کے ساتھ اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ ان پرکلام الٰہی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ انہیں ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے …… ایک دفعہ انہوں نے بشپ ویلڈن ۲؎ کو چیلنج دیا (جس نے اسے حیران کر دیا) کہ وہ نشان نمائی میں ان کا مقابلہ کرے اور مرزا صاحب اس بات کے لئے تیار تھے کہ حالات زمانہ کے ماتحت بشپ صاحب جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں کہ نشان دکھانے میں کوئی فریب اور دھوکا استعمال نہ ہو …… وہ لوگ جنہوں نے مذہبی میدان میں دنیا کے اندر حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں انگلستان کے لارڈ بشپ کی نسبت مرزا غلام احمد صاحب سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں …… بہر حال قادیان کا نبی ان لوگوں میں سے تھا جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ ‘‘ ۳؎
    مسٹر والٹر ایم ۔ اے سیکرٹری آل انڈیا کرسچن ایسوسی ایشن نے اپنی انگریزی کتاب ’’احمدیہ موومنٹ ‘‘ میں لکھا :۔
    ’’ یہ بات ہر طرح سے ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے۔ ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقینا قابل تحسین ہے۔ صرف ایک مقناطیسی جذب اور دلکش اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا ہے جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کے لئے جان دیدی مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔ میں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور جذب اور مقناطیسی شخصیت کو پیش کیا ……… میں نے ۱۹۱۶ء میں قادیان جا کر (حالانکہ اس وقت مرزا صاحب کو فوت ہوئے آٹھ سال گزر چکے تھے) ایک ایسی جماعت دیکھی جس میں مذہب کے لئے وہ سچا اور زبردست جوش موجود تھا جو ہندوستان کے عام مسلمانوں میں آجکل مفقود ہے ۔ قادیان میں جا کر انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو محبت اور ایمان کی وہ روح جسے وہ عام مسلمانوں میں بے سود تلاش کرتا ہے احمد کی جماعت میں بافراط ملے گی۔ ‘‘ ۱؎
    اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر دی سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور۔ دی علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ علی گڑھ۔ دی یونیٹی اینڈ منسٹر کلکتہ ۔ دی ٹائمز لنڈن وغیرہ وغیرہ نے تعریفی نوٹ شائع کئے مگر اس مختصر رسالہ میں ان سب نوٹوں کے درج کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کا حلیہ اور اخلاق و عادات
    حلیہ مبارک اور ذاتی خصائل :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے سوانح کا حصہ ختم کرنے سے پہلے ایک مختصر نوٹ آپ کے حلیہ اور ذاتی اخلاق و عادات کے متعلق درج کرنا ضروری ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ جہاں تک آپ کے حلیہ کا تعلق ہے آپ ایک اعلیٰ درجہ کے مردانہ حسن کے مالک تھے اور فی الجملہ آپ کی شکل ایسی وجیہہ اور دلکش تھی کہ دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آپ کا چہرہ کتابی تھا اور رنگ سفیدی مائل گندمی تھا اور خط و خال نہایت متناسب تھے ۔ سر کے بال بہت ملائم اور سیدھے تھے مگر بالوں کے آخری حصہ میں کسی قدر خوبصورت خم پڑتا تھا۔ داڑھی گھندار تھی مگر رخسار بالوں سے پاک تھے۔ قد درمیانہ تھا اور جسم خوب سڈول اور متناسب تھا اور ہاتھ پائوں بھرے بھرے اور ہڈی فراخ اور مضبوط تھی۔
    چلنے میں قدم بہت تیزی سے اٹھتا تھا مگر یہ تیزی ناگوار نہیں معلوم ہوتی تھی۔ زبان بہت صاف تھی مگر کسی کسی لفظ میں کبھی کبھی خفیف سی لکنت پائی جاتی تھی جو صرف ایک چوکس آدمی ہی محسوس کر سکتا تھا۔ پچھتر (۷۵) سال کی عمر میں وفات پائی مگر کمر میں خم نہیں آیا اور نہ ہی رفتار میں فرق پڑا۔ دور کی نظر ابتداء سے کمزور تھی مگر پڑھنے کی نظر آخر تک اچھی رہی اور یوم وصال تک تصنیف کے کام میں مصروف رہے۔ کہتے ہیں ابتداء میں جسم زیادہ ہلکا تھا مگر آخر عمر میں کسی قدر بھاری ہو گیا تھا جسے درمیانہ درجہ کا جسم کہا جا سکتا ہے۔
    آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے یا یونہی بلا ضرورت ادھر ادھر نظر اٹھانے کی عادت بالکل نہیں تھی بلکہ اکثر اوقات آنکھیں نیم بند اور نیچے کی طرف جھکی رہتی تھیں۔ گفتگو کا انداز یہ تھا کہ ابتداء میں آہستہ آہستہ کلام شروع فرماتے تھے مگر پھر حسب حالات اور حسب تقاضائے وقت آواز بلند ہوتی جاتی تھی ۔ چہرہ کی جلد نرم تھی اور جذبات کا اثر فوراً ظاہر ہونے لگتا تھا ۔ لباس ہمیشہ پرانی ہندوستانی وضع کا پہنتے تھے یعنی عموماً بند گلے کا کوٹ یا جُبّہ ۔ دیسی کاٹ کا کرتہ یا قمیض اور معروف شرعی ساخت کا پاجامہ جو آخری عمر میں عموماً گرم ہوتا تھا۔ جوتا ہمیشہ دیسی پہنا کرتے تھے اور ہاتھ میں عصا رکھنے کی عادت تھی۔ سر پر اکثر سفید ململ کی پگڑی باندھتے تھے جس کے نیچے عموماً نرم قسم کی رومی ٹوپی ہوتی تھی۔ کھانے میں نہایت درجہ سادہ مزاج تھے اور کسی چیز سے شغف نہیں تھا بلکہ جو چیز بھی میسر آتی تھی بے تکلف تناول فرماتے تھے۔ اور عموماً سادہ غذا کو پسند فرماتے تھے۔ غذا بہت کم تھی او رجسم اس بات کا عادی تھا کہ ہر قسم کی مشقت برداشت کر سکے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کے حلیہ کی ذیل میں اس بات کا ذکر بھی غیر متعلق نہیں ہو گا کہ آپ کو دو بیماریاں مستقل طور پر لاحق تھیں یعنی ایک تو دوران سر کی بیماری تھی جو سردرد کے ساتھ مل کر اکثر اوقات آپ کی تکلیف کا باعث رہتی تھی اور دوسرے آپ کو ذیابیطس کی بیماری لاحق تھی اور پیشاب کثرت سے اور بار بار آتا تھا۔ آپ نے ان بیماریوں کے لئے دعا فرمائی تو آپ کو الہاماً بتایا گیا کہ یہ بیماریاں دور نہیں ہوں گی کیونکہ ان کا آپ کے ساتھ رہنا مقدر ہے اور آپ نے اس کی یہ تشریح فرمائی کہ مسیح موعود کے متعلق اسلامی نوشتوں میں جو یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ دو زرد چادروں میں لپٹا ہوا نازل ہو گا اس سے انہی دو بیماریوں کی طرف اشارہ مقصود تھا کیونکہ خواب میں زرد چادر سے مراد بیماری ہوتی ہے۔ ان بیماریوں کے علاوہ آپ کو کبھی کبھی اسہال کی تکلیف بھی ہو جاتی تھی۔
    جہاں تک ان اخلاق کا سوال ہے جو دین اور ایمان سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود ؑ میں دو خلق خاص طور پر نمایاں نظر آتے تھے۔ اوّل اپنے خدا داد مشن پر کامل یقین ۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کے ساتھ بے نظیر عشق و محبت۔ یہ دو اوصاف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچے ہوئے تھے کہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہرحرکت و سکون میں ان کا ایک پُر زور جلوہ نظر آتا تھا۔ بسا اوقات اپنے خدا داد مشن اور الہامات کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ یقین ہو سکتا ہے اور بعض اوقات اپنی پیشگوئیوں کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی اور اگر وہ پوری نہ ہوں تو میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ مجھے مفتری قرار دے کر برسرِ عام پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے تاکہ میرا وجود دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔ اپنے الہام کے قطعی ہونے کے متعلق اپنی ایک فارسی نظم میں فرماتے ہیں۔
    آں یقینے کہ بُود عیسٰے را
    بر کلامے کہ شد برو القا
    واں یقین کلیم بر تورات
    واں یقیں ہائے سید السادات
    کہ نیم زاں ہمہ بروے یقین
    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین ۱؎
    ’’ یعنی جو یقین کہ حضرت عیسیٰ کو اس کلام کے متعلق تھا جو ان پر نازل ہوا اور جو یقین کہ حضرت موسیٰ کو تورات کے متعلق تھا اور جو یقین کہ نبیوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ کو اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام کے متعلق تھا میں یقین کی رو سے ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جو شخص جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ *** ہے۔‘‘
    ’’ یہ مکالمہ الہٰیہ جو مجھ سے ہوتاہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جائوں اور میری آخرت تباہ ہو جاوے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کرسکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔ ‘‘ ۲؎
    آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنی محبت و عشق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    جان و دلم فدائے جمالِ محمدؐ است
    خاکم نثارِ کوچۂ آلِ محمدؐ است
    دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش
    در ہر مکاں ندائے جمالِ محمدؐ است ۱؎
    ’’ یعنی میرے جان و دل آنحضرت ﷺ کے حسن خدا داد پر قربان ہیںاور میں آپ کے آل وعیال کے کوچہ کی خاک پر نثار ہوں۔ میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا اور ہوش کے کانوں سے سنا ہے کہ ہر کون و مکان میں محمد صلعم ہی کے جمال کی ندا آرہی ہے۔ ‘‘
    پھر فرماتے ہیں :۔
    بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
    گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
    جانم فدا شود برہ دین مصطفی
    اینست کام دل اگر آید میسرم ۲؎
    ’’ یعنی خدا سے اتر کر میں محمد صلعم کے عشق کی شراب سے متوالا ہو رہا ہوں اور اگر یہ بات کفر میں داخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔ میرے دل کا واحد مقصد یہ ہے کہ میری جان محمد صلعم کے دین کے رستے میں قربان ہو جائے۔ خدا کرے کہ مجھے یہ مقصد حاصل ہو جائے۔ ‘‘
    پھر فرماتے ہیں :۔
    وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
    نام اس کا ہے محمدؐ دلبر مرا یہی ہے
    اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
    وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
    وہ دلبرِ یگانہ علموں کا ہے خزانہ
    باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے ۳؎
    آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت مسیح موعود ؑ کی یہ والہانہ محبت محض کاغذی یا نمائشی محبت نہیں تھی بلکہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون میں اس کی ایک زندہ اور زبردست جھلک نظر آتی تھی چنانچہ پنڈت لیکھرام کے حالات میں جس واقعہ کا ذکر اسی رسالہ میں اوپر گزر چکا ہے وہ اس محبت کی ایک عام اور دلچسپ مثال ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نہایت درجہ وسیع القلب اور ملنسار تھے اور ہر دوست و دشمن کو انتہائی خوش اخلاقی کے ساتھ ملتے تھے جب پنڈت لیکھرام نے آپ کے آقا اور محبوب آنحضرت ﷺ کے متعلق سخت بدزبانی سے کام لیا اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تو آپ نے پنڈت صاحب کا سلام تک قبول کرنا پسند نہ کیا اور دوسری طرف منہ پھیر کر خاموش ہو گئے اور جب کسی ساتھی نے دوبارہ توجہ دلائی تو غیرت اور غصہ کے الفاظ میں فرمایا کہ :۔
    ’’ ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔ ‘‘
    بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر اس سے عشق و محبت کے اتھاہ سمندر پر بے انتہا روشنی پڑتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے متعلق آپ کے دل میں موجزن تھا۔
    اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق یہ روایت بھی چھپ کر شائع ہو چکی ہے کہ ایک دفعہ آپ علیحدگی میں ٹہلتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے درباری شاعر حسان بن ثابت کا یہ شعر تلاوت فرما رہے تھے اور ساتھ ساتھ آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے جا رہے تھے کہ :۔
    کنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر
    ’’ یعنی اے محمد صلعم تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے سو اب تیرے بعد جس شخص پر چاہے موت آجاوے مجھے اس کی پرواہ نہیں کیونکہ مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔ ‘‘
    راوی بیان کرتا ہے کہ جب آپ کے ایک مخلص رفیق نے آپ کو اس رقت کی حالت میں دیکھا تو گھبرا کر پوچھا کہ ’’ حضرت ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ ‘‘ آپ نے فرمایا ۔ ’’ کچھ نہیں میں اس وقت یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔ ‘‘ ۱؎
    مذہبی بزرگوں کا احترام :۔ مگر آنحضرت ﷺ کی محبت کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ
    دوسرے بزرگوں کی محبت سے خالی تھے بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی محبت نے آپ کے دل میں دوسرے پاک نفس بزرگوں کی محبت کو بھی ایک خاص جلا دے دی تھی اور آپ کسی بزرگ کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں یہ ذکر فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہئیے۔ اس پر حاضرین میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ ’’ حضور ! کیا سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی؟ ‘‘ آپ نے فوراً فرمایا ’’ نہیں نہیں ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ حنفی فرقہ کے کثیر التعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں اور ہم ہرگز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی۔ ‘‘
    اسی طرح آپ کو غیر مسلم قوموں کے بزرگوں کی عزت کا بھی بہت خیال تھا اور ہر قوم کے تسلیم شدہ مذہبی بزرگوں کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کے نام کو عزت کے ساتھ دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اس کی بزرگی کا خیال بٹھا دیتا ہے اور اس کے سلسلہ کو استقلال اور دوام حاصل ہو جاتا ہے تو ایسا شخص جسے اس قدر قبولیت حاصل ہو جاوے جھوٹا نہیں ہو سکتا اور ہر انسان کا فرض ہے کہ بچوں کی طرح اس کی عزت کرے اور کسی رنگ میں اس کی ہتک کا مرتکب نہ ہو۔ اس معاملہ میں خود اپنے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ماہمہ پیغمبراں را چاکریم
    ہمچو خاکے او فتادہ بردرے
    ہر رسولے کو طریقِ حق نمود
    جان ما قرباں براں حق پرورے ۱؎
    ’’ یعنی میں ان تمام رسولوں کا خادم ہوں جو خدا کی طرف سے آتے رہے ہیں اور میرا نفس ان پاک روحوں کے درواز پر خاک کی طرح پڑا ہے۔ ہر رسول جو خدا کا رستہ دکھانے کے لئے آیا ہے (خواہ وہ کسی زمانہ اور کسی ملک میں آیا ہو) میری جان اس خادم دین پر قربان ہے۔ ‘‘
    حضرت مسیح موعود ؑ کا صبر و استقلال اور شجاعت :۔ روحانی مصلحوں کا رستہ پھولوں کی سیج
    میں سے نہیں گزرتا بلکہ انہیں فلک بوس پہاڑیوں اور بے آب و گیاہ بیابانوں اور مہیب سمندروں میں سے ہو کر اپنی منزل مقصود تک پہنچنا پڑتا ہے بلکہ جتنا کسی رسول کا مشن زیادہ اہم اور زیادہ وسیع ہوتا ہے اتنا ہی اس کے رستے میں ابتلائوں اور امتحانوں کی بھی زیادہ کثرت ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ اپنی ان مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    دعوت ہر ہرزہ گو کچھ خدمت آساں نہیں
    ہر قدم پر کوہ ماراں ہر گزر میں دشت خار
    مگر آپ کو وہ چیز حاصل تھی جس کے سامنے یہ ساری مشکلات ہیچ ہو جاتی ہیں۔ فرماتے ہیں :۔
    عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پُر خطر
    عشق ہے جو سر جھکا دے زیرِ تیغِ آبِ دار
    اور دل بھی آپ کو خدا نے وہ عطا کیا تھا جو دنیا کی کسی طاقت کے سامنے مرعوب ہونے والا نہیں تھا۔
    فرماتے ہیں :۔
    سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں
    دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار
    جو خدا کاہے اسے للکارنا اچھا نہیں
    ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبۂ زارو نزار
    یہ صرف ایک خالی دعویٰ نہیں تھا بلکہ جب سے کہ آپ نے خدا سے الہام پا کر مسیح موعود ؑ ہونے کا اعلان کیا اس وقت سے لے کر اپنے یومِ وصال تک آپ کی زندگی صبر اور استقلال اور شجاعت کا ایسا شاندار منظر پیش کرتی ہے جو سوائے خدا کے خاص الخاص بندوں کے کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتا۔ یہ تفصیلات میں جانے کا موقعہ نہیں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ جب آپ نے اپنے دعویٰ کا اعلان کیا تو ہندوستان کی ہر قوم آپ کے مقابلہ کے لئے ایک جان ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی اور یوں نظر آتا تھا کہ ایک چھوٹی سی کشتی جسے ایک کمزور انسان اکیلا بیٹھا ہوا ایک ٹوٹے پھوٹے چپو کے ساتھ چلا رہا ہے چاروں طرف سے سمندر کی مہیب موجوں کے اندر گھری ہوئی ہے اور طوفان کا زور اسے یوں اٹھاتا اور گراتا ہے کہ جیسے کسی تیز آندھی کے سامنے ایک کاغذ کا پرزہ اِدھر ُادھر اڑتا پھرتا ہو مگر یہ شخص قطعاً ہراساں نہیں ہوتا بلکہ برابر چپو مارتا ہوا اور خدا کی حمد کے گیت گاتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہے اور سمندر کے لرزہ خیز طوفان کو ایک پر پشہ کے برابر بھی حیثیت نہیں دیتا۔ یہی وہ منظر تھا جس نے دشمنوں تک کے دل کو موہ لیا او روہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ خواہ مرزا صاحب کے عقائد سے ہمیں کتنا ہی اختلاف ہو مگر اس میں شبہ نہیں کہ :۔
    ’’ اس نے مخالفتوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا او رترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔ ‘‘ ۱؎
    اور پھر :۔
    ’’ مرزا صاحب اپنے آخری دم تک اپنے مقصود پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔ ‘‘ ۲؎
    اور پھر :۔
    ’’ مرزا صاحب کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے دشمنوں کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقینا بہت قابل تحسین ہے۔ ‘‘ ۳؎
    محنت اور انہماک :۔اردو زبان میں ایک لفظ ’’ معمور الاوقات ‘‘ ہے جو ایسے شخص کے متعلق بولا
    جاتا ہے جس کا سارا وقت کسی نہ کسی مفید کام میں لگا ہوا ہو اور کوئی وقت بیکاری میں نہ گذرے ۔ یہ لفظ حضرت مسیح موعود ؑ پر اپنی پوری وسعت اور پوری شان کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔ جس وقت سے کہ آپ نے خدا کے حکم کے ماتحت ماموریت کے میدان میں قدم رکھا اس وقت سے لے کر یوم وفات تک آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اس سپاہی کی طرح گزرا جسے کسی عظیم الشان قومی خطرے کے وقت میں کسی نہایت نازک مقام پر بطور نگران سنتری مقرر کیا گیا ہو اور اس کی چوکسی یا غفلت پر قوم و ملک کی زندگی اور موت کا انحصار ہو۔ یہ تشبیہہ قطعاً کسی مبالغہ کی حامل نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ تشبیہہ اس حالت کا صحیح صحیح نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے جو ہر دیکھنے والے کو حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں نظر آتی تھی۔
    آپ کی زندگی گویا ایک مقابلہ کی دوڑ تھی جس کا ہر قدم اس احساس کے ماتحت اٹھایا جاتا ہے کہ اس قدم کے اچھا اُٹھ جانے پر اس مقابلہ کی ساری کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔ بسا اوقات کام کے انہماک میں حضرت مسیح موعود ؑ کھانا اور سونا تک بھول جاتے تھے اور ایسے موقعوں پر آپ کو کھانے کے متعلق بار بار یاد کرا کے احساس پیدا کرانا پڑتا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ تصنیف کے کام میں آپ نے ساری ساری رات خرچ کر دی اور ایک منٹ کے لئے بھی آرام نہیں کیا۔ اس قسم کے واقعات شاذ کے طور پر نہیں تھے بلکہ کام کے زور کے ایام میں کثرت کے ساتھ پیش آتے رہتے تھے اور دیکھنے والے حیران ہوتے تھے کہ آپ کی خِلقت میں کس پاک مٹی کا خمیر ہے کہ فرائض منصبی کی ادائیگی میں اپنے نفس کے ہر آرام کو فراموش کر رکھا ہے۔
    لیکن چونکہ آپ نے ہر جہت سے لوگوں کے لئے ایک پاک نمونہ بننا تھا اس لئے آپ کا یہ شغف اور یہ انہماک دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں دخل انداز نہیں ہوتا تھا اور آپ سب لوگوں کے حقوق کو ایک مذہبی فریضہ کے طور پر احسن صورت میں ادا فرماتے تھے بلکہ اپنے نفس کی قربانی میں بھی جب آپ یہ دیکھتے تھے کہ یہ قربانی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ بشری لوازمات کے ماتحت خود کام کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو آپ فوراً چوکس ہو کر اپنے نفس کے حقوق کی طرف بھی توجہ فرماتے تھے اور اس طرح آپ نے اپنی زندگی کے ہر فعل کو ایک مقدس عبادت کا رنگ دے لیا تھا۔ بہر حال آپ کی زندگی مصروفیت اور فرائض منصبی کی ادائیگی کے لحاظ سے ایک بے نظیر نمونہ پیش کرتی تھی اور آپ صحیح اور کامل معنوں میں معمور الاوقات تھے اور آپ کے متعلق خدا کا یہ الہام کہ :۔
    انت الشیخ المسیح الذی لا یضاع وقتہ ۔ ۱؎
    یعنی تو وہ برگزیدہ مسیح ہے جس کا کوئی وقت بھی ضائع جانے والا نہیں
    آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔
    عبادت الٰہی :۔ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی ایک مجسم عبادت تھی
    کیونکہ آپ کا ہر قول و فعل خواہ وہ بظاہر اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے تھا یا اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں اور دوستوں اور مہمانوں اور ہمسایوں کے آرام کی خاطر تھا یا کسی اور غرض سے تھا اس میں آپ کی نیت صرف رضائے الٰہی کی جستجو تھی اور آپ اپنے آقا اور مخدوم آنحضرت ﷺ کے اس پاک ارشاد کا عملی نمونہ تھے جس میں آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ہر اچھا کام جو انسان رضائے الٰہی کے خیال سے کرتا ہے وہ عبادت میں داخل ہے حتیّٰ کہ اگر کوئی انسان اپنی بیوی کے منہ میں اس نیت کے ساتھ ایک لقمہ ڈالتا ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ بیوی کے آرام کا خیال رکھو تو اس کا یہ فعل بھی ایک عبادت ہے۔ اس معنی میں اور اس تشریح کے ساتھ حضرت مسیح موعود ؑ کی ساری زندگی یقینا مجسم عبادت تھی مگر عبادت کے معروف مفہوم کے لحاظ سے بھی آپ کا پایہ نہایت بلند تھا۔ جوانی کی زندگی جو نفسانی لذات کے زور کا زمانہ ہوتی ہے وہ آپ نے ایسے رنگ میں گزاری کہ دیکھنے والوں میں آپ کا نام ’’مسیتڑ‘‘ مشہور ہو گیا تھا جو پنجابی زبان میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنا بیشتر وقت مسجدمیں بیٹھ کر عبادت الٰہی میں گزار دے۔ قرآن شریف کے مطالعہ میں آپ کو اس قدر شغف تھا کہ گویا وہ آپ کی زندگی کا واحد سہارا ہے جس کے بغیر جینا ممکن نہیں اور قرآن شریف کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک جگہ خدا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
    قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے
    پنجگانہ نماز تو خیر فرض ہی ہے جس کے بغیر کوئی شخص جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو مسلمان نہیں رہ سکتا۔ نفل نماز کے موقعوں کی بھی حضرت مسیح موعود ؑ کو اس طرح تلاش رہتی تھی جیسے ایک پیاسا انسان پانی کی تلاش کرتا ہے۔ تہجد کی نماز جو نصف شب کے بعد اٹھ کر ادا کی جاتی ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کا دستور تھا کہ باقاعدہ شروع وقت میں اٹھ کر ادا فرماتے تھے اور اگر کبھی زیادہ بیماری کی حالت میںبستر سے اٹھنے کی طاقت نہیں ہوتی تھی تو پھر بھی وقت پر جاگ کر بستر میں ہی اس مقدس عبادت کو بجا لاتے تھے۔
    جوانی کے عالم میں ایک دفعہ مسلسل آٹھ نو ماہ تک روزے رکھے اور آہستہ آہستہ خوراک کو اس قدر کم کر دیا کہ دن رات میں چند تولہ سے زیادہ نہیں کھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا کے فضل سے اپنے نفس پر اس قدر قدرت حاصل ہے کہ اگر کبھی فاقہ کرنا پڑے تو قبل اس کے مجھے ذرا بھی اضطراب پیدا ہو ایک موٹا تازہ شخص اپنی جان کھو بیٹھے۔ بڑھاپے میں بھی جبکہ صحت کی خرابی اور عمر کے طبعی تقاضے اور کام کے بھاری بوجھ نے گویا جسمانی طاقتوں کو توڑ کر رکھ دیا تھا روزے کے ساتھ خاص محبت تھی اور بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سحری کھا کر روزہ رکھتے تھے اور دن کے دوران میں ضعف سے مغلوب ہو کر جبکہ قریباً غشی کی سی حالت ہونے لگتی تھی خدائی حکم کے ماتحت روزہ چھوڑ دیتے۔ مگر جب دوسرا دن آتاتو پھر شوقِ عبادت میں روزہ رکھ لیتے۔
    زکوٰۃ آپ پر کبھی فرض نہیں ہوئی یعنی آپ کے پاس کبھی اس قدر روپیہ جمع نہیں ہوا کہ آپ پر زکوٰۃ فرض ہوتی بلکہ آپ نے اپنے محبوب آقا اور مخدوم نبی کی طرح جو بھی ملا اسے خدا کی راہ میں اور دین کی ضروریات میں بے دریغ خرچ کر دیا اور دنیا کے اموال سے اپنے ہاتھوں کو خالی رکھا اور مقدس بانی اسلام کی طرح اس اصول کو حرز جان بنایا کہ الفقر فخری یعنی فقر کی زندگی گزارنا میرے لئے فخر کا موجب ہے۔ حج بھی آپ باوجود خواہش کے کبھی ادا نہیں کر سکے کیونکہ اسلام نے حج کے لئے جو شرطیں مقرر کی ہیں وہ آپ کو میسر نہیں تھیں یعنی اوّل تو آپ کے پاس کبھی بھی حج کے مصارف کے لئے کافی روپیہ جمع نہیں ہوا دوسرے ان خطرناک فتووں کے پیش نظر جو اسلامی دنیا میں آپ کے خلاف لگ چکے تھے آپ کے لئے حج کا رستہ یقینا پر امن نہیں تھا مگر خدا نے آپ کی اس خواہش کو بھی خالی جانے نہیں دیا چنانچہ آپ کی وفات کے بعد حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کی خواہش کو اس طرح پورا فرما دیا کہ اپنے خرچ پر ایک شخص کو مکہ مکرمہ میں بھجوا کر آپ کی طرف سے حج کروا دیا۔ غرض آپ ہر جہت سے عبادت الٰہی میں ایک بہترین نمونہ تھے۔
    تقویٰ اللہ اور اطاعت رسول :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے تقویٰ و طہارت اور جذبہ اطاعت
    رسول کے متعلق کچھ لکھنا میرے منصب اور میری طاقت سے باہر ہے۔ صرف اس قدر اصولی اشارہ کافی ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کو تقویٰ کی باریک در باریک راہوں پرنگاہ رہتی تھی اور ہر قدم اٹھاتے ہوئے آپ کی نظر اس جستجو میں گھومتی تھی کہ اس معاملہ میں خدا اور اس کے رسول کا کیا ارشاد ہے۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں جس میں ایک عام انسان کو یہ خیال تک نہیں جاتا کہ اس معاملہ میں بھی کوئی شریعت کا حکم ہو گا ان میں بھی آپ کو ہر قدم پر قرآن و حدیث کا حکم مستحضر رہتا تھا اور آپ اس حکم کو رسم و عادت یا چٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مقدس فرض کے طور پر رحمت کے احساس کے ساتھ بجا لاتے تھے۔ میں بڑی باتوں کو دانستہ ترک کرتے ہوئے ایک نہایت معمولی واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے اہل ذوق آپ کے اطاعت رسول کے جذبہ کا کسی قدر اندازہ کر سکتے ہیں۔ گورداسپور میں جبکہ مولوی کرم دین جہلمی کی طرف سے آپ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ دائر تھا ایک گرمیوں کی رات میں جبکہ سخت گرمی تھی اور آپ اسی روز قادیان سے گورداسپور پہنچے تھے آپ کے لئے مکان کی کھلی چھت پر پلنگ بچھایا گیا۔ اتفاق سے اس مکان کی چھت پر صرف معمولی منڈیر تھی اور کوئی پردہ کی دیوار نہیں تھی۔ جب حضرت مسیح موعود ؑ بستر پر جانے لگے تو یہ دیکھ کر کہ چھت پر کوئی پردہ کی دیوار نہیں ہے ناراضگی کے لہجہ میں خدام سے فرمایا کہ ’’ میرا بستر اس جگہ کیوں بچھایا گیا ہے کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘ اور چونکہ اس مکان میں کوئی اور مناسب صحن نہیں تھا آپ نے باوجود شدت گرمی کے کمرہ کے اندر سونا پسند کیا مگر اس کھلی چھت پر نہیں سوئے۔ آپ کا یہ فعل اس خوف کی وجہ سے نہیں تھاکہ ایسی چھت پر سونا خطرہ کا باعث ہوتا ہے بلکہ اس خیال سے تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔
    ایک اور موقعہ پر جب کہ آپ اپنے کمرہ میں بیٹھے تھے اور اس وقت دو تین باہر سے آئے ہوئے احمدی بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے کسی شخص نے دروازہ پر دستک دی اس پر حاضر الوقت احباب میں سے ایک شخص نے اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ دیکھا تو گھبرا کر اٹھے اور فرمایا ’’ ٹھہریں ٹھہریں۔ میں خود کھولوں گا۔ آپ دونوں مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔ ‘‘ غرض حضرت مسیح موعود ؑ کو نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی قال اللہ اور قال الرسول کا انتہائی پاس ہوتا تھا اور زندگی کے ہر قدم پر خواہ وہ بظاہر کیسا ہی معمولی ہو آپ کی نظر لازماً سیدھی خدا اور اس کے رسول کی طرف اٹھتی تھی۔ اس ضمن میں آپ نے جو تعلیم اپنے متبعین کو دی ہے وہ بھی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے فرماتے ہیں :۔
    ’’ جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے کسی حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہو گا۔ سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تا تم اسی کے لئے پکڑے نہ جائو۔ ۱؎
    اور مخصوص طور پر تقویٰ اللہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    عجب گوہر ہے جس کانام تقویٰ
    مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ
    سنو! ہے حاصلِ اسلام تقویٰ
    خدا کا عشق مَے اورجام تقویٰ
    مسلمانو! بنائو تام تقویٰ
    کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ
    یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی
    فسبحان اللہ اخزی الاعادی ۲؎
    راست گفتاری :۔ راست گفتاری کی صفت تقویٰ و طہارت ہی کا ایک حصہ ہے لیکن چونکہ
    اس پر ایک روحانی مصلح کے دعویٰ کی بنیاد ہوتی ہے اس لئے اس کے متعلق ایک علیحدہ نوٹ نامناسب نہ ہو گا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی راست گفتاری نہایت نمایاں اور مسلم تھی۔ ظاہر ہے کہ عام حالات میں ہر شخص ہی سچ بولتا ہے اور بلاوجہ کوئی شخص راستی کے طریق کو ترک نہیں کرتا پس اس معاملہ میں انسان کا اصل امتحان عام حالات میں نہیں ہوتا بلکہ اس وقت ہوتاہے جب وہ ایسے حالات میں بھی صداقت پر قائم رہے جبکہ ایسا کرنے میں اس کی ذات یا اس کے عزیز و اقارب یا اس کے دوستوں اور تعلق داروں یا اس کی قوم و ملک کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔ ان حالات میں راست گفتاری حقیقۃً ایک بڑی قربانی کا درجہ رکھتی ہے اور وہی شخص اسے اختیار کر سکتا ہے جو سچائی کے مقابلہ پر ہر دنیوی نفع اور ہر دنیوی رشتہ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔ اور سچائی کے اختیار کرنے میں بظاہر جتنا زیادہ خطرہ درپیش ہو اتنا ہی اس کے مقابلہ پر اس قربانی کا درجہ زیادہ بلند ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کے لئے چونکہ ایک روحانی مصلح بننا مقدر تھا اس لئے آپ کی زندگی میں ایسے متعدد موقعے پیش آئے کہ جب راستی کو اختیار کرنا آپ کے لئے بظاہر بہت بڑے نقصان یا خطرے کا باعث تھا مگر آپ نے ہر ایسے موقعہ پر اپنے نفع اور فائدہ کو ایک پرپشہ کے برابر بھی حیثیت نہیں دی اور ایک مضبوط چٹان کی طرح صداقت اور راستی پر قائم رہے اور ہر قسم کے نقصان اور خطرے کو برداشت کیا مگر سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔
    مثلاً ایک دفعہ ایک فوجداری مقدمہ میں جو محکمہ ڈاکخانہ کی طرف سے آپ کے خلاف دائر کیا گیا تھا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس میں ایک بھاری جرمانہ یا قید کی سزا تھی اور مقدمہ کے حالات ایسے تھے کہ سوائے اس کے کہ آپ خود اپنی زبان سے اعتراف کریں دوسرے فریق کے ہاتھ میں کوئی قطعی ثبوت نہیں تھا آپ نے بڑی دلیری کے ساتھ اپنے فعل کا اعتراف کیا مگر ساتھ ہی یہ معذرت پیش کی کہ مجھے اس قانون کا علم نہیں تھا اور میں نے نیک نیتی کے ساتھ درست سمجھتے ہوئے یہ کام کیا ہے۔ اس پر مجسٹریٹ کے دل پر آپ کی صداقت کا ایسا گہرا اثر ہوا کہ اس نے آپ کو بلا تامل بری کر دیا اور یہ بریت اس الہام کے مطابق ہوئی جو اس بارے میں پہلے سے آپ کو ہو چکا تھا۔
    اسی طرح ایک دفعہ ایک دیوانی مقدمہ میں جو آپ کی زوجہ اوّل کے بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد صاحب نے ایک شخص کے خلاف دائر کر رکھا تھا اور اس مقدمہ کے ناکام رہنے میں خاندان کے ہاتھ سے ایک معقول جائداد نکل جاتی تھی فریق مخالف نے جو باوجود مخالف ہونے کے آپ کی راست گفتاری پر کامل اعتماد رکھتا تھا آپ کو بطور گواہ کے لکھا دیا اور گو اصل امر میں حق آپ کے ساتھ تھا مگر چونکہ بعض ضمنی اور اصطلاحی امور میں آپ کی شہادت دوسرے فریق کے حق میں جاتی تھی اور آپ نے اپنے وکیل سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ خواہ کچھ ہو میں خلاف واقعہ بات ہرگز نہیں کہوں گا اس لئے بھاری نقصان برداشت کر کے اپنے جائز حق کو ترک کر دیا گیا اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا گیا۔ یہ دو واقعات صرف بطور نمونہ کے لکھے گئے ہیں ۱؎ ورنہ آپ کی زندگی اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور آپ کے متعلق خدا کا یہ الہام ایک ٹھوس صداقت پر مبنی ہے کہ :۔
    قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ـ۲؎
    ’’ یعنی تو اپنے مخالفوں سے کہہ دے کہ اگر میں نے خدا پر افترا باندھا ہے تو میں مجرم ہوں اور اپنے جرم کی پاداش سے بچ نہیں سکتا مگر تم اتنا تو سوچو کہ میں اپنے دعویٰ سے پہلے تمہارے درمیان ایک لمبا زمانہ گزار چکا ہوں اور تم میرے حالات اور میری عادات سے اچھی طرح واقف ہو تو کیا پھر بھی تم میری صداقت کے متعلق شک کرتے ہو اور عقل و خرد سے کام نہیں لیتے ؟
    اس الہام میں گویا آپ کے منہ میں یہ دلیل ڈالی گئی تھی کہ اگر میں نے دنیا کی باتوں میں کبھی جھوٹ کا رستہ اختیار نہیں کیا اور ہر حال میں صداقت اور راستی کے دامن کو مضبوط پکڑے رکھا ہے اور کبھی کسی انسان تک پر افتراء نہیں باندھا تو اے لوگو کیا تمہارے دل اس بات پر تسلی پاتے ہیں کہ اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر میں خدائے قدوس پر افترا باندھنے لگ گیا ہوں اور ساری عمر نیکی اور راستی کی زندگی گزار کر اب آخری وقت میں اچانک ایک جھوٹا اور مفتری انسان بن گیا ہوں؟ یقینا یہ نتیجہ بالکل غیر طبعی اور عقل و خرد کے سراسر خلاف ہے کہ ایک شخص اپنی ساری جوانی تقویٰ و طہارت اور صداقت و راستی میں گزار کر آخری عمر میںقدم رکھتے ہی اچانک مفتری علی اللہ بن جائے۔
    تکلّفات سے پاک زندگی :۔حضرت مسیح موعود ؑ کے اخلاق و عادات کا ایک اور نمایاں
    پہلو یہ تھا کہ آپ کی زندگی کلیۃً تکلّفات سے پاک تھی ۔ یعنی نہ صرف جیسا کہ اس باب کے شروع میں بتایا گیا ہے آپ خوراک اور لباس وغیرہ کے معاملہ میں بالکل سادہ مزاج تھے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ اور اخلاق کے ہر پہلو میں آپ کا طریق ہر جہت سے سادہ اور ہر قسم کے تکلّفات سے بالا تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق تمام مصنوعی آرائشوں سے آزاد ہو کر اپنے قدرتی زیور میں جلوہ افروز ہیں۔ کھانے میں، پینے میں، سونے میں، جاگنے میں، کام میں، آرام میں، تکلیف میں، آسائش میں، سفر میں ،حضر میں ،عزیزوں میں ،بیگانوں میں،گھر کے اندر گھر کے باہر غرض زندگی کے ہر پہلو میں آپ کے اخلاق و عادات اپنے فطری بہائو پر چلتے تھے اور ان میں تکلف کی کوئی دور کی جھلک بھی نظر نہیں آتی تھی۔ خاکسار راقم الحروف نے بہت ہی کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو میں کسی نہ کسی جہت سے تکلف کا دخل نہ آجاتا ہو بلکہ حق یہ ہے کہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جوتکلف سے کلی طور پر پاک ہو مگر حضرت مسیح موعود کی زندگی تکلّفات سے اس طرح بالا اور ارفع رہی جس طرح ایک بلند پرواز طیارہ زمین کو چھوڑ کر اوپر نکل جاتا ہے۔ میں تکلفات کو ہر صورت میں برا نہیں کہتا یقینا ایک ایسا انسان جو اخلاق کے کمال تک نہ پہنچا ہو اسے اپنے اخلاق کے درست اظہار کے لئے کسی نہ کسی جہت سے تکلف کی ضرورت لاحق ہوتی ہے اور قدرتی حسن کی کمی کو مصنوعی تزئین سے پورا کرنا پڑتا ہے پس اگر عام حالات میں تکلف ایک بری چیز ہے تو بعض خاص حالات میں وہ ایک مفید پہلو بھی رکھتا ہے مگر حضرت مسیح موعود ؑ کے اخلاق کو یہ قدرت حسن حاصل تھا کہ وہ اپنی اکمل صورت کی وجہ سے تکلفات کی آرائش سے بالکل بالا تھے۔
    خوراک لباس وغیرہ کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادات نہایت درجہ سادہ تھیں جو کھانا بھی سامنے رکھ دیا جاتا آپ اسے بے تکلفی سے تناول فرماتے اور کبھی کسی کھانے پر اعتراض نہیں کیا اور نہ کبھی کھانے پینے کے شوقین لوگوں کی طرح کسی خاص کھانے کی خواہش کی ۔ یہ نہیں کہ ملامتی فرقہ کے لوگوں کی طرح آپ کو اچھے کھانے سے پرہیز تھا اور ضرور ادنیٰ کھانا ہی کھاتے تھے بلکہ جو کھانا بھی میسر آتا آپ اسے خوشی کے ساتھ کھاتے اور عموماً سادہ غذا کو پسند فرماتے تھے۔ اسی طرح جو لباس بھی گھر میں تیار کروا دیا جاتا یا باہر سے تحفۃ ً آجاتا آپ اسے خوشی کے ساتھ استعمال فرماتے تھے مگر سادہ لباس پسند تھا اور کسی قسم کے فیشن وغیرہ کا خیال تک نہ آتا تھا۔ لباس کے معاملہ میں مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آگیا ہے جو حاضرین کی دلچسپی کے لئے اس جگہ درج کرتا ہوں۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کے خسر یعنی خاکسار مولف رسالہ ہذا کے نانا حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنے ایک غریب رشتہ دار کو جسے کوٹ کی ضرورت تھی اپنا ایک استعمال شدہ کوٹ بھجوایا۔ میر صاحب کے اس عزیز نے اس بات کو بہت برا منایا کہ مستعمل کوٹ بھیجا گیا ہے او رناراضگی میں کوٹ واپس کر دیا۔ جب خادم اس کوٹ کو واپس لا رہا تھا تو اتفاق سے اس پر حضرت مسیح موعود ؑ کی نظر پڑ گئی۔ آپ نے اس سے حال دریافت فرمایا اور جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ کوٹ میر صاحب کو واپس جا رہا ہے تو حضرت مسیح موعود ؑ نے اس خادم سے یہ کوٹ لے لیا اور فرمایا کہ واپس کرنے سے میرصاحب کی دلشکنی ہو گی تم مجھے دے جائو۔ میں خود یہ کوٹ پہن لوں گا اور میر صاحب سے کہہ دینا کہ کوٹ ہم نے اپنے لئے رکھ لیا ہے۔ یہ ایک بہت معمولی سا گھریلو واقعہ ہے مگر اس سے حضرت مسیح موعود ؑ کے اعلیٰ اخلاق اور بے تکلفانہ زندگی پر کتنی روشنی پڑتی ہے !
    ہندوستان کے پیروں اور سجادہ نشینوں میں یہ ایک عام مرض ہے کہ کوئی مرید پیر کے برابر ہو کر نہیں بیٹھ سکتا یعنی ہر مجلس میں پیر کے لئے ایک مخصوص مسند مقرر ہوتی ہے اور مریدوں کو اس سے ہٹ کر نچلی جگہ بیٹھنا پڑتا ہے بلکہ پیروں پر ہی حصر نہیں دنیا کے ہر طبقہ میں مجلسوں میں خاص مراتب ملحوظ رکھے جاتے ہیں اور کوئی شخص انہیں توڑ نہیں سکتا۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑ کی مجلس میں قطعاً کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ کی مجلس میں ہر طبقہ کے لوگ آپ کے ساتھ مل کر اس طرح ملے جلے بیٹھتے تھے کہ جیسے ایک خاندان کے افراد گھر میں مل کر بیٹھتے ہیں۔ اور بسا اوقات اس بے تکلفانہ انداز کا یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود بظاہر ادنیٰ جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اچھی جگہ مل جاتی تھی مثلاً بیسیوں مرتبہ ایسا ہو جاتا تھا کہ چارپائی کے سرہانی کی طرف کوئی دوسرا شخص بیٹھاہے اور پائنتی کی طرف حضرت مسیح موعود ؑ ہیں یا ننگی چارپائی پر آپ ہیں اور بستر والی چار پائی پر آپ کا کوئی مرید بیٹھا ہے یا اونچی جگہ میں کوئی مرید ہے اور نیچی جگہ میں آپ ہیں۔ مجلس کی اس صورت کی وجہ سے بسا اوقات ایک نووارد کو دھوکا لگ جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کون ہیں اور کہاں بیٹھے ہیں ۔ مگر یہ ایک کمال ہے جو غالباً صرف انبیاء کی جماعتوں میں ہی پایا جاتا ہے کہ اس بے تکلفی کے نتیجہ میں کسی قسم کی بے ادبی نہیں پیدا ہوتی تھی بلکہ ہر شخص کا دل محبت اور ادب و احترام کے انتہائی جذبات سے معمور رہتا تھا۔
    خادموں تک سے پوری بے تکلفی کا برتائو تھا۔ مثلاً ناظرین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اوائل زمانہ میں کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ سفر کے خیال سے گھر سے نکلے اور ایک خادم اور ایک گھوڑا ساتھ تھا۔ آپ نے اصرار کے ساتھ خادم کو گھوڑے پر سوار کرا دیا اور خود پیدل چلتے رہے یا خادم کے ساتھ باری مقرر کر لی کہ چند میل تک تم سوار ہو اور پھر چند میل تک میں سوارہوں گا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سفر میں بالعموم خادم کو اچھا کھانا دیتے تھے اور خود معمولی کھانے پر اکتفا کرتے تھے۔ ایک شخص نے جسے شروع کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ خادم اور مصاحب کے طور پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا تھا مجھ سے ذکر کیا کہ عموماً حضرت مسیح موعود ؑ مجھے ایک وقت کے کھانے کے لئے چار آنے کے پیسے دیتے تھے اور خود ایک آنہ کے کھانے پر گزارہ کرتے تھے۔ یہ غالباً اس لئے تھا کہ آپ یہ خیال فرماتے ہوں گے کہ یہ شخص اس قدر سادہ غذا پر گزارہ نہیں کر سکتا جس پر کہ خود آپ کر سکتے ہیں۔
    گھر کے کام کاج میں بھی حضرت مسیح موعود ؑ کی طبیعت نہایت درجہ سادہ اور تکلفات سے آزاد تھی۔ ضرورت کے موقعہ پر نہایت معمولی معمولی کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے اور کسی کام میں عار نہیں محسوس کرتے تھے مثلاً چارپائی یا بکس وغیرہ اٹھا کر ادھر ادھر رکھ دینا یا بستر بچھانا یا لپیٹنا یا کسی مہمان کے لئے کھانے یا ناشتہ کے برتن لگا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا وغیرہ وغیرہ۔خاکسار کو یاد ہے کہ وبائی امراض کے ایام میں بسا اوقات حضرت مسیح موعود ؑ خود بھنگن کے سر پر کھڑے ہو کر نالیوں کی صفائی کرواتے تھے اور بعض اوقات نالیوں میں خود اپنے ہاتھ سے پانی بہا کر فینائل وغیرہ ڈالتے تھے۔ غرض حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی ہر جہت سے بالکل سادہ اور تکلفات کی آلائش سے بالکل پاک تھی ۔
    بیوی بچوں سے سلوک :۔ قرآن شریف نے بار بار اور تاکید کے ساتھ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی
    ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ شفقت و احسان کا سلوک کریں اور آنحضرت ﷺ حدیث میں فرماتے ہیں کہ خیرکم خیرکم لاھلہ یعنی اے مسلمانو! تم میں سے خدا کی نظر میں بہترین اخلاق والا شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے۔ اس معیار کے مطابق حضرت مسیح موعود ؑ یقینا ایک خیر الناس وجود تھے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت درجہ پاکیزہ اور حسن و احسان کی خوبیوں سے معمور تھا۔ یہ مضمون اس نوعیت کا ہے کہ اس پر قلم اٹھاتے ہوئے مجھے کسی قدر حجاب محسوس ہوتا ہے مگر میں اپنے ناظرین کو یقین دلاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ؑ ایک بہترین خاوند اور بہترین باپ تھے اور گھر کے اس بہشتی ماحول اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود ؑ کی تعلیم کی وجہ سے جماعت احمدیہ کی مستورات اپنے خانگی تنازعات میں حضرت مسیح موعود ؑ کو اپنا ایک زبردست سہارا اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک نہایت مضبوط ستون خیال کرتی تھیں کیونکہ انہیں یہ یقین تھا کہ ہماری ہر شکایت نہ صرف انصاف بلکہ رحمت و احسان کے جذبات کے ساتھ سنی جائے گی۔ مجھے وہ لطیفہ نہیں بھولتا جبکہ ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کے عہد حکومت میں ایک دفعہ ایک معزز احمدی نے کسی خانگی بات میں ناراض ہو کر اپنی بیوی کو سخت سست کہا۔ بیوی بھی حساس تھیں وہ خفا ہو کر حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر میں آگئیں اور ہماری والدہ صاحبہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود ؑ تک اپنی شکایت پہنچائی۔ دوسری طرف وہ صاحب بھی غصہ میں جماعت احمدیہ کے ایک نہایت معزز فرد حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے پاس آئے اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود ؑ تک اپنے حالات پہنچانے چاہے حضرت مولوی صاحب مرحوم کی طبیعت نہایت ذہین اور بامذاق تھی۔ ان دوست کی بات سن کرکہنے لگے۔ میاں تم جانتے نہیں کہ آجکل ملکہ کا راج ہے پس میرا مشورہ ہے کہ چپکے سے اپنی کو منا کر گھر واپس لے جائو اور جھگڑے کو لمبا نہ کرو۔ ‘‘ چنانچہ ان صاحب نے ایسا ہی کیا اور گھر کی ایک وقتی ناراضگی پھر امن اور خوشی کی صورت میں بدل گئی۔ لطیفہ اس بات میں یہ تھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جو یہ کہا کہ آجکل ملکہ کا راج ہے اس سے ان کی یہ مراد تھی کہ جہاں آجکل حکومت انگریزی کی باگ ڈور ایک ملکہ کے ہاتھ میں ہے وہاں جماعت احمدیہ کی روحانی بادشاہت میں بھی جہاں تک اس قسم کے خانگی امور کاتعلق ہے حضرت مسیح موعود ؑ اپنے گھر والوں کی بات کو زیادہ وزن دیتے ہیں اور عورتوں کی ہمدردی اور ان کے حقوق کا آپ کو خاص خیال رہتا ہے۔
    دوسری طرف حضرت مسیح موعود ؑ کے احسان اور شفقت کا یہ نتیجہ نہیں تھا کہ ہماری والدہ صاحبہ کے دل میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ادب و احترام یا آپ کی قدر و منزلت میں کوئی کمی آجاتی بلکہ حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے ان کا رویہ نہایت درجہ مخلصانہ اور نہایت درجہ مؤدبانہ تھا۔ چنانچہ جب حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے علم پا کر اپنے لئے ایک نکاح ثانی کی پیشگوئی فرمائی جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے تو گویہ پیشگوئی بعض شرائط کے ساتھ مشروط تھی مگر پھر بھی چونکہ اس وقت اس کا ظاہر پہلو یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ایک نکاح کی پیشگوئی ہے اور لڑکی کے والدین اور عزیزو اقارب حضرت مسیح موعود ؑ کے سخت خلاف تھے تو ایسے حالات میں حضرت والدہ صاحبہ نے کئی دفعہ خدا کے حضور رو رو کر دعائیں کیں کہ ’’خدایا تو اپنے مسیح کی سچائی کو ثابت کر اور اس رشتہ کے لئے خود اپنی طرف سے سامان مہیا کر دے۔ ‘‘ اور جب حضرت مسیح موعود ؑ نے ان سے دیافت کیا کہ ’’ اس رشتہ کے ہو جانے سے تو تم پر سوکن آتی ہے پھر تم ایسی دعا کس طرح کرتی ہو؟ ‘‘ تو حضرت والدہ صاحبہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ’’ کچھ بھی ہو میری خوشی اسی میں ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہو جائے ۔ ‘‘ اس چھوٹے سے گھریلو واقعہ سے اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے بے نظیر حسن سلوک اور عدیم المثال شفقت نے آپ کے اہل خانہ پر کس قدر غیر معمولی اثر پیدا کیا تھا۔ الغرض آپ کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایسا اعلیٰ سلوک تھا کہ جس کی نظیر تلاش کرنا بے سود ہے۔
    دوستوں کے ساتھ سلوک :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا دل عطا کیا تھا جو
    محبت اور وفاداری کے جذبات سے معمور تھا۔ آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کسی محبت کی عمارت کو کھڑا کر کے پھر اس کے گرانے میں کبھی پہل نہیں کی۔ ایک صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کے بچپن کے دوست اور ہم مجلس تھے مگر آپ کے دعویٰ مسیحیت پر آکر انہیں ٹھوکر لگ گئی اور انہوں نے نہ صرف دوستی کے رشتہ کو توڑ دیا بلکہ حضرت مسیح موعود ؑ کے اشد ترین مخالفوں میں سے ہو گئے اور آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانے میں سب سے پہل کی۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کے دل میں آخر وقت تک ان کی دوستی کی یاد زندہ رہی اور گو آپ نے خدا کی خاطر ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان کی فتنہ انگیزیوں کے ازالہ کے لئے ان کے اعتراضوں کے جواب میں زوردار مضامین بھی لکھے مگر ان کی دوستی کے زمانہ کو آپ کبھی نہیں بھولے اور ان کے ساتھ قطع تعلق ہو جانے کو ہمیشہ تلخی کے ساتھ یاد رکھا چنانچہ اپنے آخری زمانہ کے اشعار میں مولوی محمد حسین صاحب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :۔
    قَطَعْتَ وَدَادًا قَدْ غَرَسْنَاہُ فِی الصَّبَا
    وَلَیْسَ فُؤَادِیْ فِی الوَدَادِ یُقَصِّرُ ۱؎
    ’’ یعنی تو نے تو اس محبت کے درخت کو کاٹ دیا جو ہم دونوں نے مل کر بچپن میں لگایا تھا۔ مگر میرا دل محبت کے معاملہ میں کوتاہی کرنے والا نہیں ہے۔ ‘‘
    جب کوئی دوست کچھ عرصہ کی جدائی کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ کو ملتا تو اسے دیکھ کر آپ کا چہرہ یوں شگفتہ ہو جاتا تھا جیسے کہ ایک بند کلی اچانک پھول کی صورت میں کھل جاوے اور دوستوں کے رخصت ہونے پر آپ کے دل کو از حد صدمہ پہنچتا تھا۔ ایک دفعہ جب آپ نے اپنے بڑے فرزند اور ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب (موجودہ امام جماعت احمدیہ) کے قرآن شریف ختم کرنے پر آمین لکھی اور اس تقریب پر بعض بیرونی دوستوں کو بھی بلا کر اپنی خوشی میں شریک فرمایا تو اس وقت آپ نے اس آمین میں اپنے دوستوں کے آنے کا بھی ذکر کیا اور پھر ان کے واپس جانے کا خیال کر کے اپنے غم کا بھی اظہار فرمایا ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :۔
    مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
    دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
    پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے
    گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے
    شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی ۱؎
    اوائل میں آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ اپنے دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر مکان کے مردانہ حصہ میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور یہ مجلس اس بے تکلفی کی ہوتی تھی اور ہر قسم کے موضوع پر ایسے غیر رسمی رنگ میں گفتگو کا سلسلہ رہتا تھا کہ گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا بھی دسترخوان بچھ جاتا تھا۔ ان موقعوں پر آپ ہر مہمان کا خود ذاتی طور پر خیال رکھتے اور اس بات کی نگرانی فرماتے کہ ہر شخص کے سامنے دستر خوان کی ہر چیز پہنچ جاوے۔ عموماً ہر مہمان کے متعلق خود دریافت فرماتے تھے کہ اسے کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے یا پان وغیرہ کی عادت تو نہیں اور پھر حتیّٰ الوسع ہر اک کے لئے اس کی عادت کے مطابق چیز مہیا فرماتے ۔ جب کوئی خاص دوست قادیان سے واپس جانے لگتا تو آپ عموماً اس کی مشایعت کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو میل تک اس کے ساتھ جاتے اور بڑی محبت اور عزت کے ساتھ رخصت کر کے واپس آتے تھے۔
    آپ کو یہ بھی خواہش رہتی تھی کہ جو دوست قادیان میں آئیں وہ حتیّٰ الوسع آپ کے پاس آپ کے مکان کے ایک حصہ میں ہی قیام کریں او رفرمایا کرتے تھے کہ زندگی کا اعتبار نہیں جتنا عرصہ پاس رہنے کا موقعہ مل سکے غنیمت سمجھنا چاہئے۔ اس طرح آپ کے مکان کا ہر حصہ گویا ایک مستقل مہمان خانہ بن گیا تھا اور کمرہ کمرہ مہمانوں میں بٹا رہتا تھا مگر جگہ کی تنگی کے باوجود آپ اس طرح دوستوں کے ساتھ مل کر رہنے میں انتہائی راحت پاتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ معززین جو آجکل بڑے بڑے وسیع مکانوں اور کوٹھیوں میں رہ کر بھی تنگی محسوس کرتے ہیں حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں ایک ایک کمرہ میں سمٹے ہوئے رہتے تھے اور اسی میں خوشی پاتے تھے۔
    قادیان میں حضرت مسیح موعود ؑ کے والد صاحب کے زمانہ کا ایک پھلدار باغ ہے جس میں مختلف قسم کے ثمردار درخت ہیں ۔ حضرت مسیح موعود ؑ کا طریق تھا کہ جب پھل کا موسم آتا تو اپنے دوستوں اور مہمانوں کو ساتھ لے کر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور موسم کا پھل تڑوا کر سب دوستوں کے ساتھ مل کر نہایت بے تکلفی سے نوش فرماتے۔ اس وقت یوں نظر آتا تھا کہ گویا ایک مشفق باپ کے اردگرد اس کی معصوم اولاد گھیرا ڈالے بیٹھی ہے۔ مگر ان مجلسوں میں کبھی کوئی لغو بات نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمیشہ نہایت پاکیزہ اور اکثر اوقات دینی گفتگو ہوا کرتی تھی اور بے تکلفی اور محبت کے ماحول میں علم و معرفت کا چشمہ جاری رہتا تھا۔ حضرت مسیح موعود کے تعلقات دوستی کے تعلق میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ آپ کی دوستی کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ یعنی دوستی اوردشمنی دونوں خدا کے لئے ہونی چاہئیں نہ کہ اپنے نفس کے لئے یا دنیا کے لئے۔ اسی لئے آپ کی دوستی میں امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں تھا اور آپ کی محبت کے وسیع دریا سے بڑے اور چھوٹے ایک سا حصہ پاتے تھے۔
    دشمنوں کے ساتھ سلوک :۔ قرآن شریف فرماتا ہے لَایَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی
    اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی یعنی اے مسلمانو چاہئیے کہ کسی قوم یا فرقہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کا طریق ترک کر دو۔ بلکہ تمہیں ہر حال میں ہر فریق او رہر شخص کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہئیے۔ قرآن شریف کی یہ زرّیں تعلیم حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی کا نمایاں اصول تھی۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں کسی شخص کی ذات سے عداوت نہیں ہے۔بلکہ صرف جھوٹے اور گندے خیالات سے دشمنی ہے اس اصل کے ماتحت جہاں تک ذاتی امور کا تعلق ہے آپ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ نہایت درجہ مشفقانہ سلوک تھا اور اشد ترین دشمن کا درد بھی آپ کو بے چین کر دیتا تھا۔ چنانچہ جیسا کہ آپ کے سوانح کے حالات میں گزر چکا ہے جب آپ کے بعض چچا زاد بھائیوں نے جو آپ کے خونی دشمن تھے آپ کے مکان کے سامنے دیوار کھینچ کر آپ کو اور آپ کے مہمانوں کو سخت تکلیف میں مبتلاء کر دیا اور پھر بالآخر مقدمہ میں خدا نے آپ کو فتح عطا کی اور ان لوگوں کو خود اپنے ہاتھ سے دیوار گرانی پڑی تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ کے وکیل نے آپ سے اجازت لینے کے بغیر ان لوگوں کے خلاف خرچہ کی ڈگری جاری کروا دی۔ اس پر یہ لوگ بہت گھبرائے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں ایک عاجزی کا خط بھجوا کر رحم کی التجا کی۔ آپ نے نہ صرف ڈگری کے اجراء کو فوراً رکوا دیا بلکہ اپنے ان خونی دشمنوں سے معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ کارروائی ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے اور اپنے وکیل کو ملامت فرمائی کہ ہم سے پوچھے بغیر خرچہ کی ڈگری کا اجرا کیوں کروایا گیا ہے۔ اگر اس موقعہ پر کوئی اور ہوتا تو وہ دشمن کی ذلت اور تباہی کو انتہا تک پہنچا کر صبر کرتا مگر آپ نے ان حالات میں بھی احسان سے کام لیا اور اس بات کا شاندار ثبوت پیش کیا کہ آپ کو صرف گندے خیالات اور گندے اعمال سے دشمنی ہے کسی سے ذاتی عداوت نہیں اور یہ کہ ذاتی معاملات میں آپ کے دشمن بھی آپ کے دوست ہیں۔
    اسی طرح یہ واقعہ بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جب ایک خطرناک خونی مقدمہ میں جس میں آپ پر اقدام قتل کا الزام تھا آپ کا اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کے خلاف بطور گواہ پیش ہوا اور آپ کے وکیل نے مولوی صاحب کی گواہی کو کمزور کرنے کے لئے ان کے بعض خاندانی اور ذاتی امور کے متعلق ان پر جرح کرنی چاہی۔ تو حضرت مسیح موعود ؑ نے بڑی ناراضگی کے ساتھ اپنے وکیل کو روک دیا اور فرمایا کہ خواہ کچھ ہو میں اس قسم کے سوالات کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اور اس طرح گویا اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی ۔
    اسی طرح جب پنڈت لیکھرام حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کے مطابق لاہور میں قتل ہوئے اور آپ کو اس کی اطلاع پہنچی تو گو پیشگوئی کے پورا ہونے پر آپ خدا تعالیٰ کا شکر بجا لائے مگر ساتھ ہی انسانی ہمدردی میں آپ نے پنڈت لیکھرام کی موت پر افسوس کا بھی اظہار کیا اور بار بار فرمایا کہ ہمیں یہ درد ہے کہ پنڈت صاحب نے ہماری بات نہیں مانی اور خدا اور اس کے رسول کے متعلق گستاخی کے طریق کو اختیار کر کے اور ہمارے ساتھ مباہلہ کے میدان میں قدم رکھ کر اپنی تباہی کا بیج بولیا۔
    قادیان کے بعض آریہ سماجی حضرت مسیح موعود ؑ کے سخت مخالف تھے اور آپ کے خلاف ناپاک پراپیگنڈے میں حصہ لیتے رہتے تھے مگر جب بھی انہیں کوئی تکلیف پیش آتی یا کوئی بیماری لاحق ہوتی تو وہ اپنی کارروائیوں کو بھول کر آپ کے پاس دوڑے آتے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردانہ اور محسنانہ سلوک کرتے اور ان کی امداد میں دلی خوشی پاتے۔ چانچہ ایک صاحب قادیان میں لالہ بڈھامل ہوتے تھے جو حضرت مسیح موعود ؑ کے سخت مخالف تھے جب قادیان میں منارۃ المسیح بننے لگا تو ان لوگوں نے حکام سے شکایت کی کہ اس سے ہمارے گھروں کی بے پردگی ہو گی اس لئے مینارہ کی تعمیر کو روک دیا جائے۔ اس پر ایک مقامی افسر یہاں آیا اور اس کی معیت میں لالہ بڈھامل اور بعض دوسرے مقامی ہندو اور غیر احمدی اصحاب حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے ان افسر صاحب کو سمجھایا کہ یہ شکایت محض ہماری دشمنی کی وجہ سے کی گئی ہے ورنہ اس میں بے پردگی کا کوئی سوال نہیں اور اگر بالفرض کوئی بے پردگی ہو گی تو اس کا اثر ہم پر بھی ویسا ہی پڑے گا جیسا کہ ان پر۔ اور فرمایا کہ ہم تو صرف ایک دینی غرض سے یہ مینارہ تعمیر کروانے لگے ہیں ورنہ ہمیں ایسی چیزوں پر روپیہ خرچ کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔ اسی گفتگو کے دوران میں آپ نے اس افسر سے فرمایا کہ اب یہ لالہ بڈھامل صاحب ہیں آپ ان سے پوچھئے کہ کیا کبھی کوئی ایسا موقعہ آیا ہے کہ جب یہ مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتے ہوں اور انہوں نے اس موقعہ کو خالی جانے دیا ہو اور پھر انہی سے پوچھئے کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ انہیں فائدہ پہنچانے کا کوئی موقعہ مجھے ملا ہو اور میں نے اس سے دریغ کیا ہو۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی اس گفتگو کے وقت لالہ بڈھامل اپنا سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے اور آپ کے جواب میں ایک لفظ تک منہ پر نہیں لا سکے۔
    الغرض حضرت مسیح موعود کا وجود ایک مجسم رحمت تھا ۔وہ رحمت تھا اسلام کے لئے اور رحمت تھا اس پیغام کے لئے جسے لے کر وہ خود آیا تھا۔ وہ رحمت تھا اس بستی کے لئے جس میں وہ پیدا ہوا اور رحمت تھا دنیا کے لئے جس کی طرف وہ مبعوث کیا گیا۔ وہ رحمت تھا اپنے اہل و عیال کے لئے اور رحمت تھا اپنے خاندان کے لئے ۔وہ رحمت تھا اپنے دوستوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے دشمنوں کے لئے۔ اس نے رحمت کے بیج کو چاروں طرف بکھیرا۔ اوپر بھی اور نیچے بھی۔ آگے بھی اور پیچھے بھی۔ دائیں بھی او ربائیں بھی۔ مگر بدقسمت ہے وہ جس پر یہ بیج تو آکر گرا مگر اس نے ایک بنجر زمین کی طرح اسے قبول کرنے اور اگانے سے انکار کر دیا۔
    حضرت مسیح موعود ؑ کے اخلاق و عادات کا مضمون تو نہایت وسیع ہے مگر اس مختصر رسالہ میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں پس اسی مختصر نوٹ پر اکتفا کرتے ہوئے ہم اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں اور وما التوفیق الا باللّٰہ -






    اسلامی تعلیم کا مختصر ڈھانچہ
    احمدیت اسلام ہی کا دوسرا نام ہے :۔ اس رسالہ کے شروع میں بیان کیا جا چکا ہے کہ
    احمدیت کسی نئے مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ اسلام ہی کی تجدید کا دوسرا نام احمدیت ہے مگر تجدید سے یہ مراد نہیں کہ اسلامی شریعت میں کسی قسم کا نسخ یا زیادتی ہو سکتی ہے بلکہ تجدید سے صرف یہ مراد ہے کہ مرور زمانہ کی وجہ سے جو غلط خیالات یا غلط اعمال مسلمانوں میں پیدا ہو چکے تھے جنہیں وہ غلطی سے اسلام کا حصہ سمجھنے لگ گئے تھے ان کی اصلاح کر کے اسلام کو پھر اس کی اصلی اور پاک و صاف صورت میں قائم کیا جائے۔ ہاں تجدید کے وسیع معنوں میں یہ بات بھی شامل ہے اور اسی لئے وہ بانیء سلسلہ احمدیہ کے خداداد مشن کا حصہ تھی کہ نئے نئے علوم کی روشنی میں جو نئے اعتراضات اسلام کے خلاف پیدا ہوئے ہیں جو پہلے زمانوں میں پیدا نہیں ہوئے ان کے ازالہ کے لئے اسلام کے ان مخفی معارف کو نکال کر پیش کیا جائے جو ہمیشہ سے قرآن شریف کے اندر موجود تو تھے مگر ابھی تک وہ دنیا کی نظروں کے سامنے نہیں آئے تھے اور ان قیمتی کانوں کی طرح جو اس زمین کے اندر موجود ہوتے ہوئے پھر لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوتی ہیں یہ معارف بھی قرآن کے اندر موجود ہوتے ہوئے ابھی تک دنیا کی نظر سے مخفی رہے تھے اور اس مسلم اصول کے مطابق کہ جب کوئی زہر پیدا ہوا اسی وقت تریاق کی ضرورت پیش آتی ہے ان معارف کا باہر نکلنا اور دنیا کے سامنے آنا موجودہ زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ پس چونکہ احمدیت کسی نئی شریعت کی مدعی نہیں بلکہ وہی قرآنی شریعت احمدیت کی شریعت ہے اور وہی پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار احمدیت کا شارع نبی ہے جس کی اطاعت اور غلامی کا جو ٔا احمدیت کی گردن پر ہے اور ہمیشہ رہے گا اس لئے ضروری ہے کہ احمدیت کے مخصوص عقائد کے بیان کرنے سے پہلے یعنی ان عقائد کا ذکر کرنے سے قبل جن میں حضرت مسیح موعود ؑ نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے غلط خیالات کی اصلاح کی ہے اسلام کی تعلیم کا ایک مختصر ڈھانچہ بیان کر دیا جاوے تا کہ ہمارے غیر مسلم ناظرین اس بات کو سمجھ سکیں کہ وہ مذہب جس کی طرف احمدیت منسوب ہے اور وہ چراغ جس سے احمدیت نے اپنا نور حاصل کیا ہے کیا تعلیم پیش کرتا ہے۔
    اسلام کی ابتدائی تاریخ :۔ سو جاننا چاہئے کہ اسلام اس مذہب کا نام ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو
    سال پہلے عرب کے ملک میں ظاہر ہوا۔ اسلام کے مقدس بانی کا نام نامی حضرت محمد ﷺ تھا جو قریش مکہ کے ایک معزز گھرانے میں ۵۷۰ء میں پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں آپ کے قبیلہ کا مذہب بت پرستی تھا اور آپ نے اسی ماحول میں پرورش پائی مگر چونکہ طبیعت میں ابدی سعادت اور نبوت کا نور مخفی تھا اس لئے آپ کبھی بھی شرک کی نجاست میں ملوث نہیں ہوئے اور اسلام کے ظہور سے پہلے بھی ہمیشہ ایک واحد لاشریک خدا کے متلاشی رہے۔ جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ آپ پر الہام کے ذریعہ ظاہر ہوا اور آپ کو حکم دیا کہ شرک اور بت پرستی کے خلاف لوگوں کو بلائیں۔ اس پر وہی جنگ و جدال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جو ہمیشہ سے خدا کے نبیوں کے زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے۔ آپ کے قبیلہ نے آپ کی سخت مخالفت کی اور جن لوگوں نے آپ کو مانا ان کو بھی ہر طرح کی اذیتیں پہنچائیں اور آپ کے لائے ہوئے مذہب کو جس کا نام اسلام تھا مٹانے اور نیست و نابود کرنے کے لئے طرح طرح کی تدبیریں کیں مگر آپ ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہے اور ہر طرح کا دکھ اٹھا کر خدا کا پیغام پہنچایا اور آپ کے صحابہ نے بھی ہر قربانی کو خوشی سے برداشت کیا مگر اپنے آقا کا دامن نہ چھوڑا۔
    آخر جب قریش کے مظالم انتہاء کو پہنچ گئے اور انہوں نے بعض بے گناہ مسلمانوں کو قتل کر دیا اور آنحضرت ﷺ کے قتل کی بھی سازش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ کی تیرہ سالہ مظلومانہ زندگی کے بعد اجازت دی کہ آپ مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ مدینہ بھی عرب ہی کا ایک شہر تھا۔ جو مکہ سے دو سو میل شمال کی طرف واقع تھا اور اس میں عرب کے بعض دوسرے قبیلے آباد تھے۔ اس اجازت پر آپ مکہ سے رات کے وقت خفیہ خفیہ نکل کر مدینہ کی طرف چلے گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک جماعت دی اور ایک گونہ امن کی زندگی نصیب ہوئی۔ مگر ظالم قریش نے وہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑا اور عرب کے دوسرے قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسا کر اپنے ساتھ ملا لیا اور پھر سب نے مل کر تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانا چاہا۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اجازت عطا فرمائی کہ وہ خود حفاظتی کے طور پران کفار کا مقابلہ کریں جو آپ کے خلاف تلوار لے کر نکلے تھے چنانچہ آپ نے اپنی مٹھی بھر جماعت کو لے کر ان ظالموں کا مقابلہ کیا اور چونکہ آپ کے ساتھ حق و صداقت کی روشنی تھی اور خدا کی نصرت کا مخفی ہاتھ آپ کی تائید میں تھا اور آپ کے صحابہ میں ایمان کی برقی طاقت موجزن تھی اس لئے باوجود انتہائی بے سروسامانی اور قلت تعداد کے خدا نے آپ کو خارق عادت رنگ میں فتح دی اور ابھی آپ کو مدینہ میں آئے ہوئے صرف آٹھ سال ہوئے تھے کہ مکہ نے آپ کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے۔ اس وقت آپ چاہتے تو ایک فاتح کی حیثیت میں سب رئوساء مکہ کو تہ تیغ کر سکتے تھے اور وہ اپنی خون آشام کارروائیوں کی وجہ سے اس سزا کے مستحق بھی تھے۔ مگر آپ نے اس خدائی رحمت کا ثبوت دیا جو آپ کی بعثت کی محرک تھی اور اپنے بے گناہ صحابہ کے قاتلوں سے فرمایا کہ جائو میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ یہ نسل انسانی کی تاریخ کا ایک ایسا سنہری ورق ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔
    فتح مکہ کے بعد چونکہ عرب میں مخالفت کا زور ٹوٹ چکا تھا اور جو لوگ اسلام کوتلوار کے زور سے مٹانے کے لئے اٹھے تھے وہ سب مغلوب ہو چکے تھے اس لئے اسلام کی دلکش تعلیم کا اہل عرب پر ایسا مقناطیسی اثر ہوا کہ انہوں نے بہت تھوڑے عرصہ میں ہی شرک سے توبہ کر کے اسلام کو قبول کر لیا اور جب فتح مکہ کے دو سال بعد ۱۱ھ یعنی ۶۳۲ء میں آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت سارا عرب اسلام کی غلامی میں آچکا تھا۔ اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اللہ اکبر کی آواز بلند تھی۔ اس طرح خدانے آنحضرت ﷺ کو وہ کامیابی عطا فرمائی جو دنیا کی تاریخ میں حقیقۃً بے نظیر ہے اور آپ کی قوت روحانی کے اثر کے ماتحت عرب کے وحشی لوگوں نے اپنی زندگیوں میں ایسا حیرت انگیز تغیر پیدا کیا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ انسانیت کے ادنیٰ ترین درجہ سے اٹھ کر کمالاتِ انسانی کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچ گئے اور ایک وحشی قوم کی بجائے ایک اعلیٰ درجہ کی بااخلاق اور باخدا قوم بن گئے اور علم و فضل میں بھی انہوں نے ایسی ترقی کی کہ وہ قوم جوچند سال پہلے جہالت میں ضرب المثل تھی اب ساری دنیا کی استاد بن گئی اور سیاسی لحاظ سے بھی عرب لوگ ایسے پھیلے کہ دنیا کے بیشتر حصہ پر چھا گئے اور یورپ کا بہت سا حصہ بھی اسلامی جھنڈے کے نیچے آگیا۔ یہی وہ زمانہ تھا کہ جب اہل یورپ نے مسلمانوں کے زیر اثر آکر اور ان کے تہذیب و تمدن اور لٹریچر سے متاثر ہو کر اپنی صدیوں کی نیند سے کروٹ بدلی اور جہالت اور تاریکی کو چھوڑ کر علم اور روشنی کا رستہ اختیار کیا۔ چنانچہ یورپ کے تمام غیر متعصب مؤرخ اس بات کے معترف ہیں کہ ہماری بیداری کا بڑا باعث مسلمان ہوئے ہیں۔ ۱؎ مگر افسوس کہ اس کے بعد خود مسلمان اسلام کی تعلیم کو چھوڑ کر گرنا شروع ہو گئے حتیّٰ کہ آہستہ آہستہ وہ وقت آیا کہ وہ دنیا کی بڑی قوموں میں سب سے پست شمار ہونے لگے اور دین کے بگاڑ کے ساتھ ان کی دنیا بھی بگڑ گئی۔
    قرآن شریف :۔ آنحضرت ﷺ کی تئیس سالہ نبوت کی زندگی میں جو کلام الٰہی آپ
    پر آہستہ آہستہ نازل ہوا اس کا نام قرآن شریف ہے اور یہی وہ مقدس صحیفہ ہے جو خدا کی آخری شریعت کا حامل ہے یہ ایک نہایت عجیب و غریب کتاب ہے اور گو اس کے سطحی معنی بالکل سادہ اور صاف ہیں مگر اس کی گہرائیوں میں جانے کے لئے بڑے غور و خوض اور گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے اور جو شخص اس کی گہرائیوں تک رستہ پا لیتا ہے وہ ان معارف کے خزانوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے جو اس چھوٹی سی کتاب کے اندر مخفی ہیں لیکن اس کاصحیح اور گہرا علم حاصل کرنے کے لئے صرف ظاہری علم اور ظاہری کوشش ہی کافی نہیں بلکہ دل کی طہارت اور پاکیزگی بھی ضروری ہے کیونکہ قرآن ایک قدوس ہستی کا کلام ہے اور قدوس ہستی کے کلام کی سمجھ ایک ناپاک دل کو حاصل نہیں ہو سکتی۔
    اسلامی تعلیم کا اصل الاصول :۔ قرآنی تعلیم کا خلاصہ چند لفظوں میں آجاتا ہے اور وہ الفاظ
    یہ ہیں کہ :۔
    لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
    یعنی ’’ اللہ ایک ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد ﷺ خدا کے رسول ہیں جن کے ذریعہ اس نے اپنی شریعت نازل کی ہے۔ ‘‘
    قرآنی تعلیم کا یہ ایک ایسا جامع اور مانع خلاصہ ہے کہ دوسرا کوئی مذہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ ان الفاظ میں واقعی اور سچ مچ اسلام کا نچوڑ آجاتا ہے جو یہی ہے کہ خدا کو ایک یقین کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائو۔ نہ بت کو نہ انسان کو۔ نہ جانور کو نہ حیوان کو۔ نہ سورج کو نہ چاند کو ۔ نہ پہاڑ کو نہ دریا کو۔ نہ مال کو نہ دولت کو۔ نہ دوست کو نہ عزیز کو۔ نہ ملک کو نہ قوم کو۔ بلکہ ایک واحد خدا کی پرستش کرو جس نے ساری دنیا کو پیدا کیا ہے جو خالق ہے اور مالک ہے اور رازق ہے۔ وہ قدیر ہے اور کوئی بات اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں ۔ وہ علیم ہے اور کوئی بات اس سے چھپی ہوئی نہیں۔ ہمارا جسم اور ہماری روح اور ہمارا ہر ذرہ اور اس کی ہر طاقت اسی کی پیداکردہ ہے اور اسی کے سہارے پر قائم ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ کھانے اور پینے اور سونے اور آرام کرنے اور شادی کرنے اور بیٹا جننے سے پاک ہے۔ وہ دیکھتا ہے بغیر ظاہری آنکھوں کے اور سنتا ہے بغیر ظاہری کانوں کے اور بولتا ہے بغیر ظاہری زبان کے اور پکڑتا ہے بغیر ظاہری ہاتھوں کے۔ وہ لطیف ہے اور نظروں سے پوشیدہ ۔ وہ غیر محدود ہے اور شکل و صورت کی قیود سے بالا۔ مگر وہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر چیز کو دیکھتا ہے اور ہر بات کو سنتا ہے اور اس کی کوئی صفت معطل نہیں۔ وہ ایک محبت کرنے والا مہربان خداہے اور اس کی محبت کو کوئی دوسری محبت نہیں پہنچتی نہ باپ کی نہ ماں کی۔ نہ خاوند کی نہ بیوی کی۔ نہ بھائی کی نہ بہن کی۔ نہ دوست کی نہ عزیز کی مگر وہ ایک حکیم اور دانا خدا ہے اور جب کوئی شخص اپنے خبث اور شرارت میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہ اسے اصلاح کی غرض سے پکڑتا اور سزا بھی دیتا ہے لیکن وہ ایک کینہ ور خدا نہیں بلکہ جب کوئی شخص اس کی طرف توبہ اور استغفار کے ساتھ جھکتا ہے تو وہ معاف کر دیتا ہے اور سچی توبہ کو جو اصلاح کی موجب ہو رد نہیں کرتا۔ یہ وہ خدا ہے جسے اسلام نے پیش کیا اور آنحضرت ﷺ نے دنیا کو اس کی بشارت پہنچائی۔
    اسلامی کلمہ کا دوسرا حصہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی اسلام یہ سکھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کے قائل ہونے کے علاوہ تم آنحضرت ﷺ کی رسالت پر بھی ایمان لائو۔ یعنی یہ یقین کرو کہ محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے سچے نبی اور رسول ہیں اور جو پیغام وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں وہ حق و راستی کا پیغام ہے جس کی اطاعت ہر مسلمان پر واجب ہے اور کوئی شخص آپ کی حکم عدولی کر کے خدا کا فرمانبردار نہیں کہلا سکتا کیونکہ آپ کا پیغام خدا کا پیغام ہے اور آپ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔ رسالت کا یہ مقام شرک میں داخل نہیں ہے بلکہ توحید کی حفاظت کے لئے ایک نہایت ضروری انتظام ہے کیونکہ حقیقی توحید کا سبق صرف نبیوں کے واسطے سے ملتا ہے اور جو شخص اس واسطے کو ترک کرے وہ حقیقی توحید کے مقام سے گر جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن نے یہ تعلیم دی ہے کہ تم اگر خدا تعالیٰ کے پیارے بندے بننا چاہتے ہو تو محمد رسول اللہ کے نقش قدم پر چلو کیونکہ اس نے ہمارے راستے کی باریکیوں کو دیکھا ہوا ہے اور اس کے پیچھے لگ کر تم بھٹکنے سے محفوظ رہو گے۔ اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمام نبیوں کے سردار ہیں اور آپ کے وجود میں سلسلہ رسالت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ہے اور اسی لئے آپ کو آخری شریعت عطا کی گئی جس کے بعد نسلِ آدم کے لئے کوئی اور شریعت نہیں۔
    اسلام اور دیگر مذاہب میں اصولی فرق :۔ دیگر مذاہب کے متعلق اسلام کی پوزیشن مخالفت
    کی نہیں بلکہ فی الجملہ تصدیق کی ہے کیونکہ گزشتہ نبیوں کے متعلق جن کی صداقت دنیا میں مسلم ہو چکی ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول تھے اور اس کی طرف سے اپنے اپنے زمانہ کی ہدایت کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے اپنے وقت میں دنیا کو روشنی پہنچائی اور خدا کی معرفت کا سبق دیا مگر ان کی رسالت کا دائرہ خاص خاص زمانوں اور خاص خاص قوموں کے ساتھ محدود تھا اور ساری دنیا کے لئے اور سارے زمانوں کے لئے نہیں تھا اس لئے اب ان کی رسالت کا دور ختم ہے لیکن آنحضرت ﷺ کی رسالت ساری دنیا کے لئے تھی اور آپ کا پیغام سارے زمانوں پر وسیع تھا اس لئے آپ کا دور قیامت تک چلے گا اور ختم نہیں ہو گا۔ پہلے نبیوںکے دور کو اس لئے محدود رکھا گیا کہ اس وقت تک بنی نوع آدم کی ذہنی او رتمدنی ترقی ابتدائی حالت میں تھی اور نسل انسانی ابھی تک اس درجہ کو نہیں پہنچی تھی کہ اس کے لئے ایک کامل اور آخری شریعت نازل کی جاوے پس اس ماہر ڈاکٹر کی طرح جو بیمار کی حالت کے مطابق نسخہ تجویز کرتا ہے خدا نے اس زمانہ میں الگ الگ قوموں کے لئے وقتی اور عارضی شریعتیں نازل فرمائیں۔ لیکن جب وہ وقت آیا کہ تمام دنیا ایک ملک کے حکم میں آنے لگی اور ان کی ذہنی اور تمدنی ترقی اس نکتہ کو پہنچ گئی کہ وہ ایک کامل اور دائمی شریعت کی متحمل ہو سکیں جو ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے وسیع ہوتو اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر کے ایک مشترک اور کامل شریعت نازل فرما دی مگر اس میں بھی قوموں اور زمانوں کے اختلاف کوکلی طور پر نظر انداز نہیں کیا بلکہ ایک اصولی اشتراک قائم کر کے تفصیلات میں ایسی تعلیم پیش کی جو وقتی اور قومی حالات کے ماتحت مختلف صورتیں اختیار کر سکتی ہے۔
    مثلاً اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے مگر اس بات کا حکم نہیں دیا کہ ہر شخص ضرور ہر حال میں ایک سے زیادہ شادی کرے بلکہ اسے افراد اور قوموں اور ملکوں کے حالات پر چھوڑ دیا ہے کہ ان کے حالات جس بات کے متقاضی ہوں وہ انہیں مناسب قیود کے ماتحت اختیار کر سکتے ہیں اس اصولی تعلیم کے ماتحت اگر کوئی فرد اپنے لئے خاص حالات میں دوسری شادی ضروری خیال کرے مثلاً اس کے اولاد نہ ہو اور وہ حصولِ اولاد کے لئے دوسری شادی کرنا چاہے یا کوئی قوم جو قلت تعداد کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر پہنچ رہی ہو وہ اپنی نسلی ترقی کے لئے تعداد ازدواج کو اختیار کرنا چاہے تو اسلامی تعلیم کے ماتحت اس کے لئے رستہ کھلا ہے اور ان حالات میں کسی دانا عورت کو محض جذبات سے متاثر ہو کر اس ضروری قربانی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔
    اسی طرح مثلاً بعض گذشتہ نبیوں کی تعلیم میں صرف انتقام پر زور دیا گیا ہے اور بعض نبیوں کی تعلیم میں صرف عفو پر زور دیا گیا ہے جس کی یہ وجہ ہے کہ اس زمانہ میں ان کی قوموں کے حالات اس مخصوص تعلیم کے متقاضی تھے یعنی اگر کوئی قوم پست ہو کر گر گئی اور ان میں بزدلی اور دنائت پیدا ہو گئی اور غیرت کا جذبہ مٹ گیا تو انہیں اوپر اٹھانے کی غرض سے انتقام پر زور دیا گیا اور عفو سے روک دیا گیا تا کہ ان کے اندر خودداری کا جذبہ اور عزت نفس کا احساس پیدا ہو اور اگرکوئی قوم سخت دل ہو گئی اور نرمی اور درگزر کے صفت کو کھو بیٹھی تو اس کے لئے انتقام کا دروازہ بند کر کے صرف عفو پر زور دیا گیا تا کہ اس کے اندر شفقت اور رأفت کا جذبہ پیدا ہو ۔ مگر اسلام کی تعلیم چونکہ ساری قوموں اور سارے زمانوں کے واسطے تھی اس لئے اس میں اخلاق کی جڑ پر ہاتھ رکھ کر یہ اصولی ہدایت دی گئی کہ انتقام اور عفو دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اچھی چیزیں ہیں اور انسانی اخلاق کی درستی کے لئے دونوں ضروری ہیں پس جہاں حالات اس بات کے متقاضی ہوں کہ مجرم سے انتقام لیا جائے وہاں انتقام لینا چاہئے اور جہاں عفو کرنا مناسب ہو اور اس کے نتیجہ میں اصلاح کی صورت پیدا ہوتی ہو تو وہاں عفو سے کام لینا چاہئے۔ اسی طرح کئی دوسرے مسائل میں اسلام نے متوازی اور متقابل ہدایات دی ہیں جن میں یہی غرض مدنظر ہے کہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت مناسب رستہ اختیار کیا جا سکے۔ مگر اصولی اور اہم امور میں ایک واحد اور مشترک شریعت بیان کر کے اتحاد و اتصال کی صورت بھی قائم کر دی گئی ہے۔
    ایک اور فرق اسلامی شریعت اور سابقہ شریعتوں میں یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں کے وقت چونکہ بنی نوع آدم کا علم ایک ابتدائی حالت میں تھا اس لئے اس وقت کی شریعتوں نے انسانی اعمال میں زیادہ تفصیل کے ساتھ دخل دیا ہے اور بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی شریعت کے دائرہ میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن اسلامی شریعت میں اس طریق کو بدل کر صرف اہم باتوں کے بیان کر دینے پر اکتفا کی گئی ہے۔ اور ایسی تفصیلات میں جن میں انسان خود اپنی عقل اور علم سے ایک اچھا رستہ تجویز کر سکتا ہے اسے آزاد رہنے دیا گیاہے تا کہ اسے بلاوجہ تنگی محسوس نہ ہو اور اس کے دماغی نشوونما کے لئے راستہ کھلا رہے۔ مثلاً اکثر پرانی شریعتوں میں اس بات کے متعلق تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں کہ عبادت کی جگہ کیسی ہونی چاہئے اور اسے کس طرح پاک و صاف کیا جائے اور انسانی جسم کو کس طرح صاف رکھا جائے۔ وغیرہ وغیرہ مگر شریعت اسلامی نے نسلِ انسانی کے ترقی یافتہ حالات کے ماتحت ان امور میںایک اصولی تعلیم دے کرتفصیلات کے فیصلہ کو خود لوگوں کی عقل اور ان کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔
    اسی طرح اسلامی شریعت اور سابقہ شریعتوں میں ایک فرق یہ ہے کہ سابقہ شریعتوںمیں چونکہ انسانی ذہن کی نشوونما کامل نہیں تھی اور انسان خدا کی ساری صفات کا نقشہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا اس لئے صرف چند صفات کا علم دیا گیا اور انہیں بھی ایسے استعاروں کے ساتھ بیان کیا گیا جسے اس وقت کا اوسط انسانی دماغ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا۔ مثلاً بہت سی سابقہ شریعتوں میں انسان کے ساتھ خدا کے تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے خدا کو بطور اَب یعنی باپ کے پیش کیا گیا ہے لیکن اسلامی شریعت میں آکر خدا کی ساری صفات کا مکمل ظہور ہو گیا اور خدا کا وجود اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور باپ وغیرہ کے استعارے چھوڑ کر جن کے ساتھ ہمیشہ شرک کے خطرہ کا امکان رہتا تھا الوہیت کے صحیح نقشہ کو پیش کیا گیا۔ چنانچہ اَب کے لفظ کی جگہ رب کی صفت رکھی گئی جو اَب کی نسبت بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ گہرے تعلق پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ اَب کے معنے تو صرف اسی حد تک محدود ہیں کہ دو نر و مادہ آپس میں ملیںاور ایک تیسری چیز پیدا ہو جائے خواہ اس کے بعد اس تیسری چیز کا اپنے باپ کے ساتھ کوئی تعلق قائم رہے یا نہ رہے۔ جیسا کہ عموماً حیوانات اور ادنیٰ درجہ کے انسانوں میں ہوتا ہے۔ مگر رب سے مراد ایک ایسی ہستی ہے جو ایک چیز کو نیست سے ہست میں لائے۔ پھر اس کی پرورش کا سامان مہیا کرے ۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ رہے اور اس کی زندگی کے ہر دور میں اس کی محافظ ہو اور ہر دور کی ضروریات کو بصورت احسن پورا کرے اور پھر اسے درجہ بدرجہ اعلیٰ کمالات تک پہنچائے۔ یہ ایک ایسا اعلیٰ اور وسیع مفہوم ہے جس کے ساتھ اَب کے ادنیٰ اور محدود مفہوم کو کوئی بھی نسبت نہیں۔ اسی طرح کئی اور فرق ہیں جو اسلامی شریعت اور سابقہ شریعتوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس مختصر رسالہ میں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں۔
    اسلامی عبادات :۔ عبادات میں اسلام نے چار عبادتوں پر خاص زور دیا ہے یعنی نماز روزہ
    حج اور زکوٰۃ ۔ اسلام میں نماز ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے جس کی نظیر کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی اور اس کے ارکان بھی ایسے مقرر کئے گئے ہیں کہ جو دعا اور ذکر الٰہی کی صحیح کیفیت پیدا کرنے میں نہایت درجہ مؤثر ہیں۔ یقینا خدا تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرانے میں نماز ایک نہایت اعلیٰ درجہ رکھتی ہے اور اگر اسے پوری شرائط کے ساتھ ادا کیا جاوے تو وہ انسان کے دل کو پاک و صاف کرنے اور اسے خدا کی محبت کا مرکز بنانے میں اکسیر ثابت ہوتی ہے اور انسان کی روحانی ترقی کے لئے ایک بہت بھاری ذریعہ ہے۔ اسی لئے اسلام نے دن رات میں پانچ نمازوں کاحکم دیا ہے تا کہ جو زنگ انسان کے دل پر دنیا کے کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے لگتا رہتا ہے وہ بار بار دھلتا رہے اور خداتعالیٰ کا تعلق کمزورنہ ہونے پائے۔نماز کے لئے مختلف دعائیں مقرر ہیں جو اس کے مختلف حصوں میں مانگی جاتی ہیں مگر اس بات کی اجازت ہے بلکہ تحریک کی گئی ہے کہ مقررہ دعائوں کے علاوہ انسان اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگے۔ نماز کی اصل جگہ مسجد ہے مگر سفر میں یا دوسرے خاص حالات میں کسی صاف جگہ میں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح نماز کا اصل طریق یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاوے مگر کسی مجبوری کی وجہ سے منفرد صورت میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
    دوسری عبادت روزہ ہے۔ یہ عبادت دہری غرض رکھتی ہے ایک تو یہ کہ تا اس ذریعہ سے نفسانی لذات کمزور ہو کر روحانی ترقی کا دروازہ کھلے دوسرے یہ کہ انسان کو بھوک اور تکلیف برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو اور وہ اپنے غریب ہم جنسوں کی تکلیف کو سمجھ کر ان کے ساتھ ہمدردی کر سکے۔ روزہ میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی کے ساتھ مخصوص تعلقات کرنے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے روزہ کا عملی تجربہ کیا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کی جسمانی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لئے وہ کس قدر مؤثر ہے۔ اسلام نے سال میں ایک ماہ کے روزے فرض کئے ہیں لیکن چونکہ روزہ میں ایک پہلو تکلیف اور مشقت کا بھی رکھا گیا ہے اس لئے بیماروں اور مسافروں کے لئے یہ سہولت کر دی گئی ہے کہ وہ بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ ترک کر کے دوسرے اوقات میں اس کی تلافی کر سکتے ہیں ۔
    تیسری عبادت حج ہے۔ اس کے لئے اسلام کا یہ حکم ہے کہ اگر انسان میں جسمانی اور مالی لحاظ سے طاقت ہو اور اس کے لئے رستہ بھی مخدوش نہ ہو تو وہ اپنی عمر میں کم از کم ایک دفعہ مکہ میں جا کر خانہ کعبہ کا طواف اور دوسری مقررہ عبادات سر انجام دے۔ کعبہ دنیا کی سب سے پرانی عبادت گاہ ہے اور اس کے ساتھ خدا کے بعض خاص برگزیدہ نبیوں کے واقعاتِ زندگی وابستہ ہیں اور اس کی روایات میں قربانی کا ایک خاص روح پرور عنصر پایا جاتا ہے اور پھر مکہ کا شہر آنحضرت ﷺ کا مولد اور مقام بعثت بھی ہے اس لئے عمر بھر میں ایک دفعہ اس مقدس جگہ کی زیارت مقرر کی گئی ہے تا کہ ایک مسلمان کے دل و دماغ میں اس کی قدیم اور مقدس روایات تازہ ہو کر زندگی کا تازہ خون پیدا کر دیں۔ حج میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ تا اس ذریعہ سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھے ہو کر آپس میں تعارف پیدا کرنے اور مشترک اسلامی امور میں تبادلہ خیالات کرنے کا موقعہ میسر آتا رہے۔
    چوتھی عبادت زکوٰۃ ہے یعنی اسلام نے انسان کے اموال پر ایک خاص شرح کے ساتھ ایک خاص چندہ یا ٹیکس مقرر کر دیا ہے اور اس چندہ کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ وہ غرباء اور مساکین وغیرہ پر خرچ کیا جاوے۔ اس انتظام میں بھی دہری غرض مدنظر ہے ایک تو یہ کہ امراء کو خدا کے رستے میںخرچ کرنے کی عادت پیدا ہو اور وہ اپنے اموال کے استعمال میں بالکل آزاد نہ رہیں۔ دوسرے یہ کہ کمزور اور غریب لوگوں کی امداد کا ایک مستقل انتظام قائم ہو جاوے چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ ایک ایسا ٹیکس ہے جس میں امیروں کی دولت کو کاٹ کر غریبوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اور اس طرح ملک کی دولت کو سمونے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔
    حقوق العباد کے متعلق اسلامی تعلیم :۔ حقوق العباد کے معاملہ میں بھی اسلام نے ایک
    نہایت اعلیٰ اور وسطی تعلیم دی ہے اور افراد اور اقوام کے درمیان عدل و انصاف کے ترازو کو پوری طرح قائم رکھا ہے۔ مثلاً غیر قوموں کے ساتھ معاملہ کرنے کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے اَوْفُوا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَکَانَ مَسْئُوْلًا۔ ۱؎ ’’یعنی اے مسلمانو تمہیں چاہئے کہ اپنے تمام عہدوں کو پورا کیا کرو کیونکہ تمہیں اپنے عہدوں کے متعلق خدا کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ‘‘ پھر فرماتا ہے لَایَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلٰی اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔ ۲؎ ’’ یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے ساتھ انصاف کا طریق ترک کردو بلکہ تمہیں چاہئے کہ ہر حال میں دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا معاملہ کرو کیونکہ یہی تقویٰ کا تقاضا ہے۔ ‘‘
    افراد کے حقوق کے متعلق اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ سب سے پہلے تو اخوت اور مساوات کے اصول کو قائم کیا ہے یعنی حکم دیا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور جہاں تک حقوق کا تعلق ہے کسی شخص کو کسی دوسرے شخص پر فوقیت حاصل نہیں بلکہ جو شخص بھی اپنی ذاتی خوبیوں اور ذاتی کمالات سے آگے نکل جاوے وہ دوسروں کے لئے جائے ادب ہے پس اسلام میں حقوق کے معاملہ میں کوئی نسلی یا قومی یا خاندانی امتیاز نہیں بلکہ سب برابر ہیں۔ اسی طرح اسلام میں ذات پات کا کوئی سوال نہیں اور نہ ہی مذہبی پیشوائی اور مذہبی تعلیم کے لئے کوئی خاص جماعت یا خاص طبقہ مقرر ہے بلکہ ہر شخص کے لئے ہر میدان میں ترقی کا راستہ کھلا ہے۔
    مرد اور عورت کے درمیان بھی اسلام نے حقیقی انصاف قائم کیا ہے۔ یعنی ایک طرف ان کے طبعی فرق کو تسلیم کیا ہے اور دوسری طرف حقوق کے معاملہ میں ان کو برابر رکھا ہے مگر چونکہ عورت میں بعض فطری کمزوریاں پائی جاتی ہیں اس لئے انتظامی لحاظ سے مرد کو عورت پر فوقیت دی ہے لیکن ساتھ ہی مرد کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ نرمی اور شفقت اور محبت کا معاملہ کرے۔ اسی طرح اسلام نے عورت کے لئے ورثہ کا حق بھی تسلیم کیا ہے اور اسے اپنے نام پر جائیداد پیدا کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا ہے۔
    تقسیم ورثہ کے معاملہ میں اسلام نے اس گندے اصول کو تسلیم نہیں کیا کہ صرف بڑے لڑکے کو ورثہ دیا جائے یا یہ کہ صرف نرینہ اولاد کو ورثہ ملے اور لڑکیاں محروم رہیں بلکہ ساری اولاد کو ورثہ کا حق عطا کیا ہے اور ا س طرح دولت کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد قائم کر دی ہے۔ یہ جھوٹا اصول کہ ورثہ کے تقسیم ہو جانے سے خاندان کی حیثیت گر جاتی ہے دنیا میں بڑی تباہی اور بڑی بے انصافی کا باعث ہوا ہے اس لئے اسلام نے اسے شروع سے ہی تسلیم نہیں کیا اور ساری اولاد کو برابر حصہ دے کر انہیں زندگی کی کشمکش میں ایک لیول پر کھڑا کر دیا ہے۔
    اسلام نے سُود کو بھی ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ اوّل تو اس سے انسانی اخلاق ہمدردی اور مواسات کو سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ دوسرے اس میں انسان کو اپنی طاقت سے بڑھ کر قرض اٹھانے کی جرأت پیدا ہوتی ہے جو سخت مہلک ہے۔ تیسرے اس کی وجہ سے افراد اور اقوام کے درمیان جنگ و جدال کا دروازہ کھلتا ہے۔ پس اسلام نے سود کو منع کر کے صرف سادہ تجارت کی اجازت دی ہے اور سود لینے اور دینے والے ہر دو کو گناہ گار قرار دیا ہے۔ بے شک موجودہ زمانہ میں سود کے جال کے وسیع ہو جانے کی وجہ سے یہ نظر آتا ہے کہ شاید سود کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا مگر یہ صرف نظر کا دھوکا ہے جو موجودہ زہریلے ماحول کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ورنہ جب مسلمان نصف دنیا سے زائد حصہ پر حکمران تھے اس وقت سود کے بغیرگزارہ چلتا ہی تھا۔
    اسلام نے شراب کے استعمال کو بھی روکا ہے کیونکہ اس سے انسان کی اعلیٰ دماغی طاقتوں کو صدمہ پہنچتا ہے۔ بے شک اس سے ایک عارضی تحریک اور چمک پیدا ہوتی ہے چنانچہ شراب کے بعض فوائد کو قرآن شریف نے بھی تسلیم کیا ہے مگر مستقل نتیجہ بہرحال ضرر رساں ہے اور اسکے استعمال کی کثرت سے انسان کی عقل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے حتیّٰ کہ ایک مدہوش آدمی انسان کہلانے کا حقدار نہیں رہتا اور چونکہ شراب ان چیزوں میں سے ہے جن کا تھوڑا استعمال بڑے استعمال کی طرف کھینچتا ہے اور اس کی عادت کو اختیار کر کے ہروقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ انسان اس کی کثرت کی طرف نہ جھک جاوے اور درمیانی حد بندی کی کوئی ضمانت نہیں اس لئے اسلام نے شراب کے قلیل اور کثیر دونوں حصوں کو منع کیا ہے اور اس گندی عادت کو جڑ سے اکھیڑنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح شراب کے استعمال سے فضول خرچی کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے اور کئی لوگ محض اسی عادت کی وجہ سے اپنے ذرائع سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
    یہی حال جوئے کا ہے جسے اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے کیونکہ وہ ایک اتفاق کی کھیل ہے جس میں انسان کی کسی محنت یا ہنر کا دخل نہیں ہوتا۔ اور اگر انسان کو ایسی باتوں میں پڑنے کی اجازت دی جاوے تو وہ حلال اور محنت کی روزی کمانے کی بجائے اپنے وقت کو بیہودہ طور پر ضائع کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور مال کی ناواجب طمع پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلام نے قتل، چوری، ڈاکہ، فساد جھوٹ ،دغا ،خیانت ،بدنظری ،زنا ،رشوت وغیرہ سے منع کیاہے اور راستی ،دیانت ،وفاداری ،انصاف امن پسندی ،غرباء پروری ،ادب اور شفقت وغیرہ کی تعلیم دی ہے اور ان اخلاق کی ایسی تفاصیل بیان کی ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتیں مگر افسوس ہے کہ اس جگہ زیادہ تفصیلی بیان کی گنجائش نہیں ہے۔
    ایک حکم اسلام میں پردہ اور غضِ بصر کا ہے یعنی مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کوئی عورت ایسے اجنبی لوگوں کے سامنے آئے جن کے ساتھ اس کا قریبی رشتہ نہیں ہے تو وہ اپنی زینت کو چھپا کر رکھے اور غیر محرم مرد و عورت دونوں ایک دوسرے کے سامنے اپنی نظروں کو نیچا رکھیں اور ایک دوسرے کی طرف بے حجابانہ اور آزادانہ نظر نہ اٹھائیں کیونکہ اس طرح بسااوقات دل میں ناپاک خیالات پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ بے شک بعض خاص لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جن کے دل میں ناپاک خیالات پیدا نہیں ہوتے لیکن چونکہ قانون کی بنیاد کثرت پر ہے اس لئے اسلام نے اس حکیمانہ حکم کے ذریعہ بدی کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کی ہے اور دنیا کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مرد عورت کا آزادانہ میل جول اکثر صورتوں میں خراب نتیجہ پیدا کرتا ہے مگر باوجود پردہ کی حد بندی کے اسلام نے عورت کو گھر کی چاردیواری کے اندر قید نہیں کیا بلکہ اسے اجازت دی ہے کہ زینت کے برملا اظہار سے رکتے ہوئے حسب ضرورت گھر سے نکل کر دین و دنیا کے کاموں میں حصہ لے۔
    اسلام نے مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ ہر وقت تبلیغ میں مصروف رہنا چاہئے۔تا کہ نسلی ترقی کے علاوہ تبلیغ کے ذریعہ بھی قومی ترقی کا رستہ کھلا رہے مگر اس حکم میں اصل غرض محض تعداد کی ترقی نہیں بلکہ اس حکم کی اصل بنیاد یہ ہے کہ جو صداقت اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہے وہ دوسروں تک بھی پہنچائی جائے اور اسلام کے نور سے دوسروں کو بھی منور کیا جاوے تا کہ خدا کے بھٹکے ہوئے بندے پھر خدا کے رستہ پر آجائیں۔ اس تبلیغ میں کوئی قومی یا نسلی امتیاز نہیںبلکہ ہر شخص اسلام کو قبول کر کے وسیع اسلامی اخوت میں برابر کا شریک بن سکتا ہے۔
    اسلامی نظام حکومت :۔ چونکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اس لئے اس نے نظام حکومت
    کے بارے میں زیادہ تفصیلی دخل نہیں دیا بلکہ چند اصولی ہدایات دے کر تفصیلات کے فیصلہ کو مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔ اصولی ہدایات جو اس بارے میں اسلام نے دی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کا اصلی اور طبعی حق جمہور کو حاصل ہے البتہ چونکہ نظام حکومت کو چلانے کے لئے ایک محدود او رمرکزی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی اہل اور قابل شخص کو منتخب کر کے اس کو اپنا امیر بنا لیں۔ لیکن جب ایک شخص امیر بن جاوے تو پھر سب لوگ اس کی پوری پوری اطاعت کریں۔ دوسری طرف امیر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکومت کے معاملہ میں لوگوں سے مشورہ لیتا رہے اور مشورہ کے ساتھ نظام حکومت کو چلاوے۔
    انسانی پیدائش کی غرض و غایت :۔ انسانی پیدائش کی غرض و غایت کے متعلق اسلام نے یہ تعلیم
    دی ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ عبادت سے یہ مراد نہیں کہ انسانی پیدائش کی غرض و غایت صرف نماز روزہ تک محدود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو انسان کو اسکے موجودہ ماحول میں اور موجودہ طاقتوں اور موجودہ ضروریات کے ساتھ نہ پیدا کیا جاتا جہاں اسے بہت سے دوسرے کاموں میں لازماً پڑنا پڑتا ہے۔ پس اسلامی اصطلاح میں عبادت سے یہ مراد ہے کہ خدا نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کی ہستی کو پہچانے اور پھر اس کی صفات کو اپنے اندر لے کر اور اس کا ظل بن کر ایک مفید اور نفع مند و جود کی صورت میں دنیا میں ترقی کرے۔ اعلیٰ اخلاق کا صحیح معیار سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری جائے اور جو رستہ خدا نے انسان کے لئے مقرر کر دیا ہے اس پر چل کر ترقی کی جاوے۔ اسی تعریف میں دین اور دنیادونوں کے رستے شامل ہیں۔ پس اسلام کی رو سے انسان کی پیدائش کی غرض و غایت یہی ہے کہ وہ خدا کا بندہ بن کر اس کی مرضی کو پورا کرے۔ دین کے رستے میں خدا پر سچا ایمان اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق ہو۔ اور اس کے احکام کی پیروی کی جاوے اور دنیا کے رستے میں افراد اور قوموں کے حقوق کو خدا کے منشاء کے مطابق ادا کیا جائے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خدا کی خاطر اچھی نیت کے ساتھ اپنی بیوی کے منہ میں ایک لقمہ ڈالتا ہے تو وہ بھی ایک عبادت ہے۔ اس معنی میں ہر نیک اور اچھا عمل جو خدا کی خاطر کیا جائے ایک عبادت ہے اور انسان کو عبادت ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
    موت کے بعد دوسری زندگی :۔ انسانی زندگی کے متعلق اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ
    نے انسان کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک اس دنیا کی زندگی جو دارالعمل ہے۔ دوسرے آخرت کی زندگی جو دارالجزاء ہے اور ان دونوں کے درمیان موت کا پردہ حائل ہے۔ جو اعمال انسان اس دنیا میں کرتا ہے ان کے مطابق وہ اپنی اگلی زندگی میں اچھا یا برا بدلہ پائے گا۔ یہ بدلہ کس صورت میں ظاہر ہو گا اس کے متعلق ہم انشاء اللہ آگے چل کر احمدیت کے مخصوص عقائد کی ذیل میں بیان کریں گے مگر بہر حال اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جنت ایک پاکیزہ مقام ہے جس میں کوئی لغو چیز یا گناہ کی بات نہیں۔ علاوہ ازیں جہاں اسلام نے جنت کو دائمی قرار دیا ہے وہاں دوزخ کے متعلق تصریح کی ہے کہ وہ دائمی نہیں۔ بلکہ جس طرح ایک بیمار کچھ عرصہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہ کر پھر اچھا ہو کر ہسپتال سے باہر آجاتا ہے اسی طرح دوزخی لوگ بالآخر دوزخ سے باہر نکل آئیں گے اور علیٰ قدر مراتب جنت میں جگہ پائیں گے۔ لیکن ہر دو صورتوں میں اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ آخرت کی زندگی ایک ابدی زندگی ہے جس کے بعد کوئی موت نہیں۔








    جماعت احمدیہ کے مخصوص عقائد
    اسلامی تعلیم کا مختصر ڈھانچہ درج کرنے کے بعد ہم ان مخصوص عقائد کا ذکر کرتے ہیں جو مقدس
    بانیء سلسلہ احمدیہ نے دنیا کے سامنے پیش کئے۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے یہ عقائد اسلام سے خارج یا اس کے علاوہ نہیں ہیں بلکہ یہ سارے عقائد جو ہم اس جگہ بیان کریں گے اسلام ہی کے عقائد ہیں لیکن بوجہ اس کے کہ مسلمان انہیں بھلا چکے تھے حضرت مسیح موعود ؑ نے انہیں دوبارہ زندہ کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اسی طرح ان میں بعض عقائد ایسے ہیں کہ وہ قرآن شریف میں موجود تو تھے مگر چونکہ ابھی تک ان کے ظاہر ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی اس لئے وہ آج تک ایک مخفی کان کی طرح نظروں سے اوجھل چلے آئے تھے لیکن اب آکر حضرت مسیح موعود ؑ کے ذریعہ ان کا اظہار اور انکشاف ہوا۔ ہم اس جگہ ان سب عقائد کا تو ذکر نہیں کر سکتے جن پر حضرت مسیح موعود ؑ نے احمدیت کی بنیاد رکھی ہے البتہ بعض خاص خاص عقائد کو ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں اور انہیں بھی صرف اختصار کے ساتھ درج کیا جائے گا کیونکہ اصل بحث حضرت مسیح موعود کی کتب اور سلسلہ احمدیہ کے دوسرے مستند لٹریچر میں موجود ہے اور جو شخص چاہے آسانی کے ساتھ اصل ماخذ کا مطالعہ کر سکتا ہے۔
    احمدیت کے مخصوص عقائد کے بیان میں سب سے مقدم جگہ حضرت مسیح موعود ؑ کے دعاوی کو حاصل ہے کیونکہ احمدیت کی عمارت کی بنیاد انہی پر قائم ہے۔ سو سب سے پہلے ہم انہی کو لیتے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود ؑکا مجدّدیت کا دعویٰ :۔ سب سے پہلا دعویٰ جو حضرت مسیح موعود ؑ نے دنیا
    کے سامنے پیش کیا وہ مجددیت کا دعویٰ تھا ۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں مقدس بانیء اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھاکہ :۔
    ان اللّٰہ یبعث لھذہ الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدّد لھا دینھا ۱؎
    ’’ یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے ہر صدی کے سر پر ایک ایسا مصلح مبعوث کیا کرے گا جو ان کی دینی غلطیوں کی اصلاح کر کے انہیں نئے سرے سے زندگی عطا کیا کرے گا۔ ‘‘
    اس پیشگوئی کے مطابق اسلام میں ہر صدی کے سر پر مجدد مبعوث ہوتے رہے ہیں جو اسلام کے اندر ہو کر اور آنحضرت ﷺ کی غلامی کا جُوا اپنی گردنوں پر رکھتے ہوئے اسلام کی تجدید اور مسلمانوں کی اصلاح کی خدمت سر انجام دیتے رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی اور حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجددالف ثانی اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی اور حضرت سید احمد صاحب بریلوی وغیرھم اسی مقدس لڑی کی مختلف کڑیاں ہیں۔ اور مسلمانوں کا سواد اعظم ان بزرگوں کی ولایت اور مجددیت کا قائل اور معترف ہے۔ سو حضرت مسیح موعود کا سب سے پہلا دعویٰ جو گویا آپ کے سب دعاوی کے لئے بطور بنیاد کے ہے یہی تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے قدیم وعدے کے مطابق اسلام کی چودھویں صدی کا مجدد بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اعلان کیا کہ چونکہ یہ زمانہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک فساد عظیم کا زمانہ ہے اس لئے اس فساد کی اصلاح کے واسطے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ خاص طاقتیں بھی عطا کی ہیں جو اس زمانہ کے روحانی مصلح کے لئے ضروری ہیں۔ آپ نے یہ دعویٰ براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں کیا تھا۔ ۱؎ مگر چونکہ آپ کے اس دعویٰ میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو مسلمانوں کے کسی معروف عقیدہ کے خلاف ہو اور اس وقت تک آپ نے سلسلہ بیعت بھی شروع نہیں فرمایا تھا اس لئے اس دعویٰ پر آپ کی کوئی خاص مخالفت نہیں ہوئی اور جمہور مسلمانوں نے اسے ایک گونہ خاموش تصدیق کے ساتھ قبول کیا۔ بعد میں جب مخالفت کا طوفان اٹھا تو حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے مخالفوں کے سامنے بار بار یہ بات پیش فرمائی کہ اگر تم میرے دعویٰ مجددیت کو قبول نہیں کرتے تو پھر کوئی اور شخص پیش کرو جس نے اس صدی کے سر پر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہو مگر آپ کا کوئی مخالف اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا۔
    مسیحیت کا دعویٰ :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کا دوسرا دعویٰ جس پر آپ کے خلاف ایک خطرناک
    طوفانِ بے تمیزی اٹھ کھڑا ہوا اور چاروں طرف سے مخالفت کی آگ کے شعلے بلند ہونے لگے وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔ یعنی آپ نے خدا سے الہام پا کر یہ دعویٰ فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری جنہیں مسلمان غلطی سے آسمان پر زندہ سمجھ رہے تھے وہ دراصل فوت ہو چکے ہیں اور جو وعدہ ان کی آمدِ ثانی کے متعلق اسلام میں کیا گیاتھا وہ تمثیلی رنگ میں خود آپ کے وجود میں پورا ہوا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے قرآن شریف نے فی الجملہ ایک مثیل مسیح کی پیشگوئی فرمائی تھی ۱؎ اور حدیث میں صراحت کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ :۔
    وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشَکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدَلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ ۲؎
    ’’ یعنی مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور نازل ہوں گے تم میں مسیح ابن مریم اور وہ خدا کی طرف سے تمہارے تمام اختلافی امور میں حَکَم اور عدل ہو کر فیصلہ کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے (یعنی صلیبی مذہب کے زور کے وقت میں ظاہر ہو کر اس کے زور کو توڑ دیں گے) اور خنزیر کو قتل کریں گے (یعنی خنزیری صفات لوگوں کا استیصال کریں گے) اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے یعنی جنگ کو موقوف کر کے جزیہ کا سوال ہی اٹھا دیں گے۔ ‘‘
    اس پیشگوئی کے نتیجہ میں مسلمانوں میں کئی صدیوں سے یہ عقیدہ چلا آرہا تھا کہ حضرت مسیح ناصری جو انیس سو سال ہوئے فلسطین کے ملک میں گزرے تھے اور جن کے ہاتھ سے مسیحی مذہب کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے علم پا کر اعلان فرمایا کہ یہ عقیدہ قرآن و حدیث کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ بے شک مسیح کی آمد ثانی کا وعدہ برحق ہے مگر یہ بات قطعاً درست نہیں کہ وہی پہلا مسیح آسمان پر زندہ موجود ہے اور آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہو گا بلکہ یہ پیشگوئی استعارہ کے رنگ میں ایک مثیل مسیح کی آمد کی خبر دیتی تھی یعنی اس پیشگوئی میں یہ بتانا مقصود تھا کہ آخری زمانہ میں ایک ایسا روحانی مصلح مبعوث ہو گا جو اپنی صفات میں مسیح ناصری کا مثیل ہو گا اور حضرت مسیح کی خوبو پر آئے گا اس لئے اس کا آنا گویا خود مسیح ناصری کا آنا ہو گا۔ آپ نے مثالیں دے دے کر ثابت کیا کہ روحانی سلسلوں میں جب کبھی بھی کسی بنی کی دوسری آمد کا وعدہ دیا جاتا ہے تو اس سے ہمیشہ اس کے مثیل کا آنا مراد ہوتا ہے جیسا کہ مثلاً حضرت مسیح ناصری کے زمانہ میں الیاس نبی کی دوسری آمد کا وعدہ یوحنا نبی کی بعثت سے پورا ہوا۔ ۱؎
    آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن شریف کی رو سے نہ صرف حضرت مسیح ناصری کا آسمان پر جانا ثابت نہیں بلکہ متعدد آیات سے ان کی وفات ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی قرآن و حدیث سے یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ کوئی حقیقی مردہ زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آسکتا۔ اور بالآخر آپ نے قرآن و حدیث سے یہ بھی ثابت کیا کہ جس مسیح کا اسلام میں وعدہ کیا گیا تھا اس کے متعلق قرآن و حدیث ہی اس بات کی تشریح کرتے ہیں کہ اس سے مسیح ناصری مراد نہیں بلکہ مثیل مسیح مراد ہے اور ان جملہ امور کے متعلق آپ نے ایسے زبردست دلائل پیش کئے کہ آپ کے مخالف بالکل سراسیمہ ہو کر رہ گئے۔
    تاریخی رنگ میں بھی آپ نے اس بات کو ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری گو خدائی تصرف کے ماتحت صلیب کی موت سے بچ گئے تھے مگر اس کے بعد وہ اپنے ملک سے ہجرت کر کے ہندوستان کے رستے کشمیر چلے گئے تھے اور وہیں اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے۔ الغرض آپ نے قرآن سے اور حدیث سے اور مسیحی نوشتوں سے اور تاریخ سے حضرت مسیح ناصری کی وفات ثابت کر کے اپنے مثیل مسیح ہونے کا ثبوت پیش کیا اور اس بحث کے دوران میں مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی :
    (۱) یہ کہ حضرت مسیح ناصری دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے جو دشمنوں کی شرارت سے صلیب پر تو ضرور چڑھائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس *** موت سے بچا لیا جس کے بعد وہ خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے۔
    (۲) یہ کہ اپنے ملک سے نکل کر حضرت مسیح ؑآہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور وہیں ان کی وفات ہوئی اور وہیں آج تک ان کی قبر موجود ہے۔
    (۳) یہ کہ قرآن شریف اور حدیث کی رو سے کوئی حقیقی مردہ زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آسکتا اس لئے مسیح کو فوت شدہ مان کر ان کی دوبارہ آمد کا انتظار بے سود ہے۔
    (۴) یہ کہ اسلامی تعلیم کی رو سے کوئی فرد بشر اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں جا سکتا اس لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے۔
    (۵) یہ کہ بے شک مسیح کی آمدِ ثانی کا وعدہ تھا مگر اس سے مراد ایک مثیل مسیح کا آنا تھا نہ کہ خود مسیح کا۔
    (۶) یہ کہ مثیل مسیح کی بعثت کا وعدہ خود آپ کے وجود میں پورا ہوا ہے اور آپ ہی وہ موعود مسیح ہیں جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق و صداقت کی آخری فتح مقدر ہے۔ اس شق کی ذیل میں یعنی اپنے مسیح موعود ہونے کی تائید میں آپ نے مندرجہ ذیل ثبوت پیش کئے :۔
    (الف) یہ کہ مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق جو علامتیں بیان کی گئی تھیں وہ موجودہ زمانہ پر چسپاں ہوتی ہیں یعنی مسلمانوں کی حالت کا بگڑ جانا۔ صلیبی مذہب کا زوروں میں ہونا۔ دجال کا خروج۔ پریس اور ریل وغیرہ کی ایجاد کا ظہور وغیرہ۔
    (ب) یہ کہ مسیح موعود کے نزول کی جگہ کے متعلق جو خبر دی گئی تھی کہ وہ مشرقی ممالک میں یعنی بلاد شام کے مشرق کی طرف ظاہر ہو گا وہ بھی آپ کے مقامِ ظہور یعنی قادیان پر چسپاں ہوتی ہے۔
    (ج) یہ کہ مسیح ناصری کے حلیہ کے مقابل پر جو حلیہ مسیح موعود کا بیان کیا گیا تھا یعنی گندمی رنگ اور سیدھے بال وغیرہ۔ وہ آپ پر پوری طرح صادق آتا ہے اسی طرح آخری زمانہ کے مصلح کے متعلق جو یہ پیشگوئی تھی کہ وہ قومی لحاظ سے فارسی الاصل ہو گا وہ بھی آپ میں پوری ہوتی ہے۔
    (د) یہ کہ مسیح موعود کا جو کام بتایا گیا تھا یعنی یہ کہ وہ مسلمان میں کھوئے ہوئے ایمان کو پھر قائم کرے گا اور ان کے غلط عقائد کی اصلاح کرے گا اور صلیب کے زور کو توڑے گا اور اس کے ذریعہ سے اسلام کو غلبہ حاصل ہو گا وغیرہ وغیرہ اس کام کی داغ بیل آپ کے ہاتھ سے قائم کر دی گئی ہے اور اب یہ کام سنت اللہ کے مطابق آہستہ آہستہ آپ کی جماعت کے ذریعہ اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔
    ان امور کو تفصیل اور دلائل کے ساتھ لکھنا بہت جگہ چاہتا ہے مگر چونکہ ان جملہ امور کی بحث حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب میں نہایت تفصیل کے ساتھ آچکی ہے اور یہ باتیں جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں شائع و متعارف ہیں اس لئے اس جگہ اسی قدر مجمل نوٹ پراکتفا کی جاتی ہے۔ ۱؎
    مہدویت کا دعویٰ :۔ تیسرا دعویٰ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ تھا کہ آپ مہدی معہود ہیں۔یعنی
    اسلام میں جو ایک مہدی کے ظہور کا وعدہ دیا گیا تھا وہ آپ کی آمدسے پورا ہوا ہے۔ مگر آپ نے اس دعویٰ کی ذیل میں یہ تشریح فرمائی کہ میں کسی جنگی اور خونی مشن کے ساتھ نہیں بھیجا گیا بلکہ میرا کام امن اور صلح کے طریق پر کام کرنا اور براہین اور دلائل کے ساتھ منوانا ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ یہ خیال کہ اسلامی تعلیم کی رو سے دین کے معاملہ میں جبر او رتشدد جائز ہے سراسر غلط اور بے بنیاد ہے اور قرآن شریف و حدیث بڑے زور کے ساتھ اس کی تردید کرتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ جو مسیح موعود اور مہدی کو الگ وجود سمجھ لیا گیا تھا یہ درست نہیں بلکہ دراصل مسیح موعود اور مہدی معہود ایک ہی ہیں جنہیں صرف دو مختلف حیثیتوں کی وجہ سے دو الگ الگ نام دے دئیے گئے ہیں چنانچہ ایک صحیح حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ :۔
    لَا الْمَہْدِیْ اِلَّا عِیْسٰی ۱؎
    ’’ یعنی مسیح موعود کے سوا اور کوئی موعود مہدی نہیں ہے۔ ‘‘
    اس دعویٰ کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب اور سلسلہ کے لٹریچر میں تفصیل کے ساتھ بحث آچکی ہے اس لئے اس جگہ تفصیلی بیان کی ضرورت نہیں۔ جو ناظرین تفصیل میں جانا چاہیں وہ سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ ۲؎
    نبوت کا دعویٰ :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کا چوتھا دعویٰ ظلّی نبوت کا تھا یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو
    آنحضرت ﷺ کی اتباع میں اور آپ کے لائے ہوئے دین کی خدمت کے لئے آپ کے ظل اور بروز ہونے کی حیثیت میں نبوت کی خلعت پہنائی ہے۔ یہ دعویٰ بھی چونکہ موجود الوقت مسلمانوں کے معروف عقیدہ کے سخت خلاف تھا اور وہ مقدس بانیء اسلام ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند قرار دیتے تھے اس لئے اس دعویٰ پر بھی مخالفت کا بہت شور برپا ہوا اور آپ کے مخالفوں نے اسے ایک آڑ بنا کر آپ کو نعوذ باللہ اسلام کا دشمن اور آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے دین کو مٹانے والا قرار دیا اور اب تک بھی آپ کا یہ دعویٰ مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہیجان پیدا کرنے والا ثابت ہو رہا ہے۔ مگر یہ سب شور و غوغا محض جہالت اور تعصب کی بناء پر ہے ورنہ غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود ؑ کے اس دعویٰ میں کوئی بات قرآن و حدیث کے خلاف نہیں بلکہ اس سے اسلام کی اکملیت اور آنحضرت ﷺ کی شان کی بلندی کا ثبوت ملتا ہے۔
    دراصل اس معاملہ میں سارا دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ بدقسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر نبی کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری ہے یا کم از کم یہ کہ ہر نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سابقہ نبی کے روحانی فیض سے آزاد ہو کر براہ راست نبوت کا انعام حاصل کرے اور نبوت کی اس تعریف کو مان کر واقعی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دروازہ کھلا رکھنا نہ صرف آنحضرت ﷺ کی شان کے منافی ہے بلکہ اس سے اسلام کی اکملیت پر بھی سخت زد پڑتی ہے۔ مگر حق یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتب میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے نبوت کی یہ تعریف ہرگز درست نہیں اور قرآن وحدیث دونوں اسے سختی کے ساتھ رد کرتے ہیں۔ اس کے مقابلہ پر نبی کی جو تعریف اسلامی تعلیم کی رو سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ سے وحی پا کر دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہو اور ایسے روحانی مقام پر پہنچ جاوے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کثرت سے کلام کرے اور اسے غیب کے امور پر کثرت کے ساتھ اطلاع دی جاوے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحبِ شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔ پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اسی نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔ ‘‘ ۱؎
    اس تشریح کے ہوتے ہوئے جو قرآنی تعلیم کے عین مطابق ہے یہ اعتراض بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ماننے سے آنحضرت ﷺ کی ہتک لازم آتی ہے یا یہ کہ اس سے قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دینا پڑتا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ ایسی نبوت کو جاری ماننے سے آنحضرت ﷺ کی شان کی بلندی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ وہی افسر بڑا ہوتا ہے جس کے ماتحت بڑے ہوں اور وہی شخص زیادہ کامل سمجھا جاتا ہے جس کا فیضان زیادہ وسیع ہو اور اس کی پیروی انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات کا حقدار بنا سکے۔ بے شک اگر حضرت مسیح موعود ؑ یہ دعویٰ فرماتے کہ میرے آنے سے قرآنی شریعت منسوخ ہو گئی ہے یا یہ اعلان فرماتے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے فیضان سے باہر ہو کر براہ راست نبوت کا انعام پایا ہے تو اس میں آنحضرت ﷺ اور اسلام کی کسر شان سمجھی جا سکتی تھی مگر جبکہ یہ دعویٰ ہی نہیں بلکہ دعویٰ صرف اس قدر ہے کہ مجھے خدا نے اسلا کی خدمت کے لئے اور آنحضرت ﷺ کے فیضان کی برکت سے اور آپ کی اتباع اور غلامی میں نبوت کا منصب عطا کیا ہے تو ہر دانا شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ عقیدہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی شان کو بڑھانے والا ہے نہ کہ کم کرنے والا۔
    باقی رہا یہ اعتراض کہ قرآن و حدیث نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند کیا ہے اس لئے خواہ اس میں اسلام کی عزت ہو یا ہتک ہم بہر حال اس عقیدہ کے پابند ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ ہرگز درست نہیں کہ قرآن و حدیث نبوت کے دروازہ کو من کل الوجوہ بند کرتے ہیں بلکہ غور کیا جاوے تو جو دلیلیں نبوت کے بند ہونے کی قرآن و حدیث سے دی جاتی ہیں وہی اسے کھلا ثابت کرتی ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کو ’’ خاتم النبیین ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور خاتم النبیین کے معنے آخری نبی کے ہیں اس لئے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ لیکن غور کیا جاوے تو اسی دلیل سے نبوت کا دروازہ کھلا ثابت ہوتا ہے وہ اس طرح کہ عربی لغت اور محاورہ کی رو سے ’’ خاتم النبیین ‘‘ کے معنی آخری نبی کے ہرگز نہیں بلکہ نبیوں کی مہر کے ہیں کیونکہ ’’ خاتم ‘‘ کا لفظ جو ’’ت‘‘ کی فتح سے ہے اس کے معنے عربی میں ایسی مہر کے ہوتے ہیں جو تصدیق وغیرہ کی غرض سے کسی دستاویز پر لگائی جاتی ہے پس نبیوں کی مہر سے یہ مراد ہوا کہ آئندہ کوئی شخص جس کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیقی مہر نہ ہو خدائی دربار سے کوئی روحانی انعام حاصل نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر یہ مہر اسے حاصل ہو جائے تو عام انعامات تو درکنار نبوت کا انعام بھی انسان کو مل سکتا ہے ۔ پس یہی آیت جسے غلط صورت دے کر نبوت کے دروازہ کو بند کرنے والا قرار دے لیا گیا ہے درحقیقت نبوت کے دروازہ کو کھول رہی ہے۔
    اسی طرح حدیث میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اب نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہے حالانکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہے کیونکہ وہی ایسی نبوت ہے جس کے متعلق ’’ بعد‘‘ کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے ورنہ ظلی نبوت اور تابع نبوت تو دراصل آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی کا حصہ ہے اور اس کے اندر شامل ہے نہ کہ اس کے بعد۔ خوب غور کرو کہ بعد میں آنے والی چیز اسی کو کہا جاتا ہے کہ جو سابقہ چیز کے اٹھ جانے یا ختم ہو جانے کے بعد آئے لیکن جو چیز سابقہ سلسلہ کے اندر ہی پروئی ہوئی ہو اور اس کا حصہ بن کر آئے اس کے متعلق بعد کا لفظ نہیں بولا جا سکتا۔ پس اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ ’’ میرے بعد‘‘ کوئی نبی نہیں ہو گا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں ایسا نبی مراد ہے جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہو۔ الغرض جن قرآنی آیات اور احادیث سے نبوت کے بند کرنے کی تائید میں سہارا ڈھونڈا جاتا ہے وہی نبوت کے دروازہ کو کھلا ثابت کرتی ہیں۔
    مگر حضرت مسیح موعود نے صرف منفی قسم کے دلائل سے ہی اپنے دعویٰ کو قائم نہیں کیا بلکہ متعدد قرآنی آیات اور احادیث سے اس بات کو ثابت کیا کہ بے شک شریعت والی نبوت اور مستقل نبوت کا دروازہ تو ضرور بند ہے مگر ظلی اور غیر تشریعی نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ یہ دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور اس کے کھلا رہنے میں ہی اسلام کی زندگی اور آنحضرت ﷺ کی شان کا اظہار ہے۔ مثلاً حضرت مسیح موعود ؑ نے ثابت کیا کہ ایک طرف تو قرآن شریف مسلمانوں کو یہ دعا سکھاتا ہے کہ تم مجھ سے ان تمام روحانی انعامات کے حصول کے لئے دعا کیا کرو جو پہلی امتوں پر ہوتے رہے ہیں ۱؎ اور دوسری طرف قرآن شریف یہ بتاتا ہے کہ نبوت خداکے ان اعلیٰ ترین انعاموں میں سے ہے جو پہلے لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔ ۲؎ پس ایک طرف ہر قسم کے انعاموں کے مانگنے کی دعا سکھانا اور دوسری طرف یہ بتانا کہ انعام سے نبوت وغیرہ کے انعامات مراد ہیں صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے ورنہ نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ خدا نے ایک طرف تو سوال کرنا سکھایا اور دوسری طرف ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا کہ اس سوال کو قبول نہیں کیاجائے گا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ نے ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کی متعدد احادیث میں آنے والے مسیح کو نبی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ۱؎ اور جب یہ ثابت ہے کہ آنے والا مسیح گزرے ہوئے مسیح سے جدا ہے تو لامحالہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ الغرض حضرت مسیح موعود ؑ نے نبوت کے مسئلہ کے متعلق اپنی کتب میں نہایت سیرکن بحث فرمائی ہے اور اس ذیل میں مندرجہ ذیل امور پر زبردست روشنی ڈالی ہے:۔
    (۱) یہ کہ نبوت کے جو معنی موجودالوقت مسلمانوں میں سمجھے گئے ہیں یعنی یہ کہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا کم از کم یہ کہ کسی سابقہ نبی سے فیض یافتہ نہ ہو یہ درست نہیں بلکہ نبوت سے مراد ایسا مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہے جو کامل اور مصفٰی ہونے کے علاوہ کثرت کے ساتھ غیب کی خبروں پر مشتمل ہو پس ایک شخص نئی شریعت کے لانے کے بغیر سابقہ نبی کے فیض سے اور اس کی اتباع میں ہو کر نبوت کا انعام حاصل کر سکتا ہے مگر بہر حال یہ ضروری ہے کہ اسے خدا کی طرف سے نبی کا نام دیا جاوے۔
    (۲) یہ کہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے یہ مراد نہیں کہ آپ آخری نبی ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں اور اب آپ کی تصدیقی مہر کے بغیر کسی نئے یاپرانے نبی کی نبوت تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
    (۳) یہ کہ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میرے دورِ نبوت کو قطع کر کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہو۔
    (۴) یہ کہ امت محمدیہ کا مسیح موعود خداکا ایک برگزیدہ نبی ہے جسے خود آنحضرت ﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں نبی کے نام سے یاد کیا ہے۔ مگر اس کی نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت کے تابع اور اسی کی ظل ہے نہ کہ آزاد اور مستقل نبوت۔
    (۵) یہ کہ ایسی نبوت کا دروازہ کھلا ماننے میں آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں بلکہ اس میں آپ کی شان کی بلندی کا اظہار ہے کیونکہ اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مرتبہ اس قدر بلند اور ارفع ہے کہ آپ کے خادم نبوت کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں اور یہ کہ آپ روحانی مملکت کے صرف بادشاہ ہی نہیں بلکہ شاہنشاہ اور بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔
    (۶) اسی ذیل میں آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ گو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ عام عقیدہ ہو رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروزہ کلی طور پر بند ہے مگر صحابہ کا یہ عقیدہ نہیں تھا اور صحابہ کے بعد بھی کئی مسلمان اولیاء اور بزرگ ایسے گزرے ہیں جو غیر تشریعی نبوت کے دروازہ کو کھلا مانتے رہے ہیں مثلاً حضرت محی الدین ابن عربی۔ امام عبدالوہاب صاحب شعرانی۔ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی۔ حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی۔ علامہ محدث ملا علی قاری۔ امام محمد طاہر صاحب گجراتی وغیرھم نبوت کے دروازہ کو کلی طور پر بند خیال نہیں کرتے تھے۔
    (۷) آپ نے اپنے مخالفین کو ملزم کرنے کے لئے یہ بھی ثابت کیا کہ موجودالوقت مسلمانوں کا جو یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں دنیا میں نازل ہوں گے اس سے بھی آنحضرت ﷺ کے بعد ایک گو نہ نبوت کا دروازہ کھلا قرار پاتا ہے کیونکہ خواہ حضرت مسیح ناصری نے نبوت کا انعام آنحضرت ﷺ سے پہلے پایا تھا مگر جب ان کی دوسری آمد آنحضرت ﷺ کے بعد ہو گی تو بہر حال اس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی کا وجود مان لیا گیا مگر آپ نے بتایا کہ جہاں آنحضرت ﷺ کی امت میں سے کسی فرد کا نبوت کے انعام کو پانا آپ کے لئے باعث عزت ہے وہاں ایک سابقہ نبی کا آپ کے بعد آپ کی امت کی اصلاح کے لئے دوبارہ مبعوث ہو کر آنا یقینا آپ کے لئے باعث عزت نہیں بلکہ ہتک اور غیرت کا باعث ہے۔
    (۸) آپ نے عقلی طور پربھی ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کے سلسلہ کا بند ہو جانا یہ معنے رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت خدا کے انعاموں کو وسیع کرنے والی نہیں بلکہ تنگ کرنے والی ثابت ہوئی ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کا وہ مقام ہے کہ اس کے بعد خدائی انعاموں کا دروازہ زیادہ سے زیادہ وسیع ہو کر کھل جانا چاہئے۔
    الغرض حضرت مسیح موعود ؑ نے اس اہم مسئلہ کے مختلف پہلوئوں پر نہایت سیرکن بحث کرکے ثابت کیا کہ گو قرآن شریف آخری شریعت ہے جس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں اور آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں جن کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو آپ کی غلامی کے جوے سے آزاد ہو کر آئے مگر مطلق نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ کھلا ہے اور اس کے کھلا رہنے میں ہی اسلام کی عزت اور آنحضرت ﷺ کی شان کی بلندی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افتراء عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین ، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیںجانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیںاور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیاہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔ دنیا کی مثالوں میںسے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آکر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ اسے بدر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت ﷺ پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ بجز اس کے کوئی نبی صاحبِ خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے …… سو خدا نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔ ‘‘ ۲؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت تصدیق نہیں ہو سکتی جب مہر لگ جاتی ہے تو کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی مہر او رتصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ سند نہیں۔ ‘‘ ۳؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ اگر میں آنحضرت ﷺ کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بارِ ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ ۲؎
    اس بحث کے ختم کرنے سے پہلے یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گو حضرت مسیح موعود ؑ کے الہامات میں شروع سے ہی آپ کے متعلق مرسل اور رسول اور نبی وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے آئے ہیں مگر چونکہ عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا اور آپ پر بھی اس بارے میں ابھی تک خدا کی طرف سے پوری وضاحت نہیں ہوئی تھی اس لئے اوائل میں آپ مسلمانوں کے معروف عقیدہ کا احترام کرتے ہوئے ان الفاظ کی تاویل فرما دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ الفاظ محض جزوی مشابہت کے اظہار کے لئے استعمال کئے گئے ہیں مگر جب خدا کی طرف سے آپ پر حق کھل گیا اور آپ کو صریح اور واضح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا تو آپ نے کھلے طور پر اس کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘ ۱؎
    اور اپنے ابتدائی انکار کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    ’’ جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانیوالا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوںمگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوںمگر بغیر کسی جدید شریعت کے ۔‘‘ ۲؎
    تمام انبیاء کے مثیل ہونے کا دعویٰ :۔ ایک دعویٰ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ تھا کہ چونکہ یہ دنیا کے موجودہ دور کا آخری زمانہ ہے اور میرے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہر امت کی اصلاح کا کام لینا ہے اس لئے خدا نے مجھے صرف مثیل مسیح یا مثیل محمد ﷺ ہی بنا کر نہیں بھیجا بلکہ تمام گزشتہ انبیاء کی صفات میرے اندر جمع کر دی ہیں اور مجھے مثیل انبیاء قرار دیا ہے چنانچہ اس بارے میں آپ کو ایک نہایت لطیف الہام بھی ہوا تھا جو یہ ہے کہ :۔
    جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ ۳؎
    ’’ یعنی ہمارا یہ مرسل تمام گزشتہ نبیوں کے لباس میں اور ان کی صفات سے متصف ہو کر آیا ہے۔ ‘‘
    اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:۔
    ’’ آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہو گا تا یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر اک گذشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہہ دی …… گویا تمام انبیاء گذشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے ۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں ۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں دائود ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں۔ اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔ ‘‘ ۲؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے زمین پُر ہو گئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کے رو سے میں وہی ہوں یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوئوں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔ ‘‘ ۳؎
    حضرت مسیح موعود ؑ کا مقام :۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے دعاوی کے ذیل میں آپ کے مرتبہ
    اور مقام کا سوال بھی آتا ہے سو اس کے متعلق بھی اس جگہ ایک مختصر نوٹ بے موقعہ نہ ہو گا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آنحضرت ﷺ کی پیروی میں ساری دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے مجھے وہ روحانی طاقتیں عطا کی ہیں اور وہ مقام بخشا ہے جو اس کام کے لئے ضروری ہے ۔فرماتے ہیں :۔
    ’’ چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں۔ تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی ہے۔ وَھٰذَا تَحْدِیْث نِعْمَۃِ اللّٰہِ وَلَا فَخْرَـ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا اور خدا کا فضل اپنے سے زیادہ مجھ پر پاتا۔ ‘‘ ۲؎
    اور اپنے اوپر ایمان لانے کی ضروری قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر اک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ ۔ ‘‘ ۲؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اسے مدارِ نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوںسنے۔ ‘‘ ۳؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور مَیں اس کے سب نوروںمیں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ ‘‘ ۴؎
    اپنے روحانی مقام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
    ’’ میں اپنے رب سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا اور میرا بھید اکثر اہل اللہ سے بھی پوشیدہ اور دور تر ہے قطع نظر اس کے کہ عام لوگوں کو اس سے کچھ اطلاع ہو سکے…… پس مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ۔ ‘‘ ۵؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ جیسا کہ ہمارے سردار محمد مصطفی ﷺ نبوت کے مقام پر فائز تھے اور خاتم الانبیاء تھے اسی طرح میں دلایت میں ختم کے مقام پر فائز ہوں اور خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں آسکتا مگر وہی جو مجھ میں سے ہو اور میرے عہد پر قائم ہو …… میرا قدم ایک ایسے مینار پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا نے مجھ پر اپنے برگزیدہ رسول کا فیض نازل فرمایا اور اس فیض کو کامل ومکمل کیا اور اس نبی کے لطف و کرم کو میری طرف کھینچا حتیّٰ کہ (کامل اتحاد کی و جہ سے) میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔ پس جو شخص کہ میری جماعت میں داخل ہوا وہ دراصل سیدالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا …… اور جو مجھ میں اور محمد مصطفی ﷺ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا۔ ‘‘ ۲؎
    حضرت مسیح موعود ؑ کے مخصوص دعاوی اور آپ کے روحانی مقام کو بیان کرنے کے بعد ہم ان عام عقائد کا ذکر کرتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود ؑ نے یا تورائج الوقت غلط عقائد کی اصلاح فرمائی ہے اور یا قرآن شریف سے استنباط کر کے ایسے نئے خیالات دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں جو اس سے پہلے اس رنگ میں دنیا کے سامنے نہیں آئے تھے۔
    خدا کی کوئی صفت معطل نہیں ہے :۔ پہلا عقیدہ جو حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان کیا وہ یہ
    تھا کہ خدا کی تمام صفات اس کی ذات کے ساتھ ابدی اور ازلی ہیں اور کوئی صفت بھی ایسی نہیں جو پہلے تو کسی زمانہ میں کام کرتی ہو اور اب معطل ہو چکی ہو بلکہ ہر صفت اسی طرح قائم اور حیّز عمل میں ہے جس طرح کہ پہلے تھی۔ اس عقیدہ کے بیان کرنے اور اس پر زور دینے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ دوسری قومیں تو خیر الگ رہیں خود مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ اس غلط خیال میں مبتلا ہو گیا تھا کہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں کہ وہ بے شک پہلے زمانوں میں توزندہ اور چوکس تھیں مگر اب وہ معلق اور معطل ہو چکی ہیں اور آئندہ ان صفات کا ظہور بند ہے۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں اکثر مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو رہا تھا کہ خدا بے شک پہلے زمانوں میں بولتا تھا اور اپنے خاص لوگوں کے ساتھ کلام کرتا تھا مگر اب وہ کلام نہیں کرتا اور اس کی اس صفت کا ظہور بند ہو چکا ہے اسی طرح مسلمانوں کے ایک حصہ کا یہ عقیدہ بھی ہو چکا تھا کہ موجودہ زمانے میں خدا سنتا بھی نہیںاور یہ جو اسلام میں دعا پر زور دیا گیا ہے یہ صرف ایک عبادت اور اظہار عقیدت کا ذریعہ ہے۔ ورنہ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ دعا کو سنے اور اس پر کوئی نتیجہ مرتب کرے وغیرہ وغیرہ۔
    حضرت مسیح موعود ؑ نے اس قسم کے جملہ باطل خیالات کو سختی کے ساتھ رد کیا اور بڑے زور کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی کوئی صفت بھی معطل نہیں بلکہ موجودہ زمانہ میں بھی اس کی ہر صفت اسی طرح ہوشیار اورحیّز عمل میں ہے جس طرح کہ وہ پہلے زمانوں میں تھی اور آپ نے صراحت کے ساتھ لکھا کہ خدا کی کسی صفت کو معطل قرار دینا اس کی قدوسیت اور ازلیت پر ایک خطرناک حملہ ہے کہ گویا خدا کا ایک حصہ مردہ کی طرح ہو گیا ہے۔ چنانچہ جن جن صفات کو لوگ اپنی نادانی سے معطل قرار دے رہے تھے آپ نے انہیں بڑے زبردست دلائل کے ساتھ زندہ اور چوکس ثابت کیا اور بتایا کہ اس قسم کے گندے خیالات محض اس وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ لوگ خودگندوں میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے ان خدائی صفات کا مورد نہیں رہے۔
    جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے جن صفات الٰہی کو عملاً معطل قرار دیا جا رہا تھا ان میں ایک صفت قبولیت دعا کی تھی یعنی مسلمانوں کا ایک فریق مغربی ممالک کی دہریت سے متاثر ہو کر اور خود اپنی روحانیت کو کھو کر اس بات کا قائل ہو رہا تھا کہ دعا محض ایک عبادت ہے اور یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ دعا کو سن کر کوئی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ ہندوستان میں اس گروہ کے لیڈر سر سید احمد خان صاحب مرحوم بانئے علی گڑھ کالج تھے۔ سید صاحب مسلمانوں کے ہمدرد اور خیر خواہ تھے اور اسلام کا درد بھی رکھتے تھے مگر روحانیت کے فقدان کی وجہ سے اور مغرب کے اعتراضوں سے گھبرا کر اس خیال کے قائل ہو گئے تھے کہ دعا صرف ایک عبادت ہے ورنہ یہ نہیں کہ انسان کی دعا قبولیت کی صورت میں کوئی نتیجہ پیدا کرتی ہو۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس گندے عقیدے کے خلاف ایک رسالہ لکھ کر شائع فرمایا جس میں لکھا کہ سیدصاحب کا یہ عقیدہ ایسا عقیدہ ہے جس نے خالق و مخلوق کے باہمی تعلق کو بالکل کمزور کر دیا ہے۔ آپ نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال پکڑنے کے علاوہ اپنی مثال دے کر یہ دعویٰ پیش کیا کہ اگر کسی شخص کو قبولیت دعا کے مسئلہ میں شک ہو تو وہ میرے سامنے آکر جس طرح چاہے تسلی کر لے۔ چنانچہ آپ نے سر سید مرحوم کو مخاطب کر کے لکھا:۔
    اے کہ گوئی گر دعا ہارا اثر بودے کجا ست
    سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب
    ہاں مکن انکار زیں اسرار قدر تہائے حق
    قصہ کو تہ کن ببیں از مادعائے مستجاب ۱؎
    یعنی اے وہ جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ اگر دعا میں کوئی اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے تم جلدی سے میری طرف آجائو کہ میں تمہیں سورج کی طرح دعا کا اثر دکھائوں گا۔
    ہاں ہاں خدا کی قدرتوں کے اسرار سے انکار نہ کرو اور اگر دلیل چاہتے ہو تو کسی لمبی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے آئو اور میری قبول شدہ دعا کا نتیجہ دیکھ لو۔ ‘‘
    ان اشعار میں حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی جس قبول شدہ دعا کی طرف اشارہ کیاتھا وہ پنڈت لیکھرام والی پیشگوئی سے تعلق رکھتی تھی جس میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی دعا کے نتیجہ میں آپ کو الہاماً بتایا تھا کہ پنڈت صاحب اپنی شوخی اور گستاخی کی وجہ سے چھ سال کے اندر اندر عید کے دوسرے دن عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ واقعی دعا جیسے مسئلہ میں اصل ثبوت یہی ہے کہ عملاً دعا کا نتیجہ دکھا دیا جاوے۔ اگر دعا کا نتیجہ عملاً دکھا دیا جاوے تو یہ ایک ایسی قطعی شہادت ہو گی جس کے بعد کوئی عقلمند شخص انکار نہیں کر سکتا اور حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی سینکڑوں قبول شدہ دعائیں دکھا کر ثابت کر دیا کہ قبولیت دعا کا مسئلہ بالکل سچا اور یقینی ہے۔
    الہام کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے:۔ اسی طرح الہام اور کلام الٰہی کے متعلق آپ نے
    لکھا کہ اس دروازہ کو بند کرنے کا عقیدہ ایسا خطرناک اور مہلک ہے کہ اس سے خدا کے متعلق یقین اور عرفان پیدا کرنے اور اس کے نشانات کو دیکھنے کا رستہ بالکل مسدود ہو جاتا ہے اور انسان اپنے خالق و مالک کے متعلق گویا بالکل تاریکی میں رہ جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ چونکہ لطیف اور غیر محدود ہے اس لئے وہ نظر نہیں آسکتا اب اگر اس کے کلام کا بھی دروازہ بند کر دیا جاوے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بندے اور خداکے درمیان تمام علائق منقطع ہوجائیں اور کوئی جوڑنے والی کڑی درمیان میں باقی نہ رہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔
    بن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پہ آئے دل
    کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل
    دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی
    حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی
    آپ نے بار بار فرمایا کہ کلام الٰہی تو ایک ایسی چیز ہے کہ جو مذہب اس کا دروازہ بند کرتا ہے وہ یقینا زندہ مذہب کہلانے کا حقدار نہیں بلکہ وہ ایک مردہ مذہب ہے جس میں زندگی کی کوئی بھی روح نہیں کیونکہ ایسا مذہب بندے اور خدا کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل کر دیتا ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے بندہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور خدا کا وجود محض ایک خشک فلسفیانہ خیال رہ جاتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ہے غضب کہتے ہیں اب وحیِ خدا مفقود ہے
    اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار
    گوہر وحیِ خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر
    اک یہی دیں کے لئے ہے جائے عزّو افتخار
    یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں
    یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مُشکِ تتار
    ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں
    محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار
    اور دوسری جگہ فرماتے ہیں :۔
    ’’ جبکہ خدا تعالیٰ کا جسمانی قانون قدرت ہمارے لئے اب بھی وہی موجود ہے جو پہلے تھا تو پھر روحانی قانون قدرت اس زمانہ میں کیوں بدل گیا؟ نہیں ہرگز نہیںبدلا۔ پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وحی الٰہی پر آئندہ کے لئے مہر لگ گئی ہے وہ سخت غلطی پر ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    الہام الٰہی کے متعلق حضرت مسیح موعود نے ایک اور تشریح بھی فرمائی اور وہ یہ کہ یہ ضروری نہیں کہ صرف نیک اور پاک لوگوں کو ہی الہام ہو بلکہ بعض اوقات ادنیٰ درجہ کے لوگوں کو بھی الہام ہوجاتا ہے کیونکہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ عام لوگوں میں ایک شہادت پیدا کرنا چاہتا ہے کہ وہ الہام کے کوچہ سے بالکل بے خبر اور ناآشنا نہ رہیں مگر یہ الہام شاذ ہوتا ہے اور درجہ میں بھی ادنیٰ ہوتا ہے لیکن جو الہام انبیاء کو یا خاص اولیاء کو ہوتا ہے اس میں کثرت کے علاوہ یہ خصوصیت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ زیادہ مصفا اور زیادہ شاندار ہوتا ہے اور اس میں خدا کے علم اور اس کی قدرت اور اس کی محبت کی خاص جھلک نظر آتی ہے اور بسا اوقات وہ دوستانہ کلام کا رنگ رکھتا ہے مگر اس کے مقابل پر عام لوگوں کا الہام ایسا ہوتا ہے جیسے کہ ایک بادشاہ بعض اوقات گھر کے ایک ادنیٰ نوکر یا چوہڑے سے بات کر لیتا ہے اور کثرت اور قلت کے لحاظ سے ان دونوں میں ایسا فرق ہوتا ہے کہ جیسے ایک امیر کبیر آدمی کے مقابلہ پر جس کے پاس لاکھوں روپیہ ہو ایک غریب مفلس شخص کی حیثیت ہوتی ہے جس کے پاس صرف چند پیسے ہوں پس دونوں میں اشتراک تو ہے مگر اس اشتراک کی وجہ سے دونوں کی بالمقابل حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    ایمان باللہ کی حقیقت :۔ دوسرا عقیدہ جو آپ نے پیش کیا وہ ایمان باللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے
    آپ نے بیان فرمایا کہ موجودہ زمانے میں اکثر لوگ ایمان باللہ کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور محض ایک رسمی اور سنے سنائے ایمان یا ورثہ کے ایمان کو حقیقی ایمان سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ ایسا ایمان کوئی چیز نہیں بلکہ حقیقی ایمان جو زندہ ایمان کہلانے کا حقدار ہے وہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی کے متعلق کم از کم ایسا ہی یقین رکھے جیسا کہ وہ اس دنیا کی چیزوں کے متعلق رکھتا ہے۔ مثلاً ایک انسان اپنے باپ کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے اپنے مکان پر نظر ڈالتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ یہ میرا مکان ہے۔ سورج پر نگاہ کرتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ یہ سورج ہے اور ان چیزوں کے متعلق اسے ایک حقیقی بصیرت اور یقین کی صورت حاصل ہوتی ہے جس میں کسی شک یا شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی اسی طرح خدا کے متعلق ایمان ہونا چاہئے مگر آپ نے لکھا کہ دنیا میں اکثر لوگوں کو یہ ایمان حاصل نہیں اور نہ صرف یہ ایمان حاصل نہیں بلکہ وہ اس ایمان سے آگاہ بھی نہیں اور محض ورثہ کے ایمان یا سنے سنائے ایمان کو ہی حقیقی ایمان سمجھ رہے ہیں یعنی چونکہ ان کے اردگرد لوگ یہ بات کہتے رہتے ہیں کہ خدا ہے اس لئے وہ بھی کہتے ہیں کہ خدا ہے یا چونکہ ان کے ماں باپ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ کوئی خدا ہے اس لئے وہ بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا ہے مگر ان کو خدا کے متعلق کوئی ذاتی بصیرت یا یقین حاصل نہیں ہے حالانکہ حقیقی اور زندہ ایمان وہی ہے جس میں انسان کو بصیرت اور یقین حاصل ہو اور اس کا دل خدا کی ہستی کے متعلق تسلی اور تشفی پا جائے اور آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ میں لوگوں کو اس قسم کا ایمان عطا کروں اور خدا کی ذات کو ایک خیالی فلسفہ کی وادی سے نکال کر حقیقت کی چٹان پرقائم کر دوں۔
    آپ نے بار بار تشریح فرمائی ہے کہ خدا کا وجود ایسا نہیں ہے کہ خدا نے دنیا کو پیدا کیا اور پھر اس کی حکومت سے معزول ہو کر اور سارے تعلقات قطع کر کے الگ ہو کر بیٹھ گیا بلکہ وہ ایک تعلق رکھنے والا دنیا کے کاموں میں دلچسپی لینے والا اپنی مخلوق کی نیکی بدی کو دیکھنے والا خدا ہے جو اپنے نیک بندوں کا دوست اور محافظ ہوتا ہے اور ان کو دشمنوں کے شر سے بچاتا اور ان کے لئے ترقی کے رستے کھولتا ہے اور مشکلات میںان کے کام آتا ہے اور برے اور شریر لوگوں کو وہ کبھی کبھی اس دنیا میں ہی اصلاح کے خیال سے پکڑتا اور سزا دیتا ہے ۔ پس جب دنیا کا خدا ایسا خدا ہے تو اس کے متعلق ایک محض فلسفیانہ ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے متعلق دلی یقین اور بصیرت کے ساتھ ایمان لا کر اس کے ساتھ تعلق نہ پیدا کیا جاوے۔ حضرت مسیح موعود ؑ رماتے ہیں :۔
    ناز مت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں
    اس کو ہیرا مت گماں کر ہے یہ سنگِ کوہسار
    پیٹنا ہو گا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مر گئے
    جبکہ ایماں کے تمہارے گندہوں گے آشکار
    توحید کی حقیقت اور مخفی شرک کی تشریح :۔ تیسرا عقیدہ آپ نے یہ پیش کیا کہ دنیا کو بتایا کہ
    حقیقی توحید صرف یہ نہیں کہ صرف منہ سے خدا کے ایک ہونے کا اقرار کیا جائے اور شرک صرف اس بات میں محدود نہیں کہ کس بت یا انسان یا سورج یا پہاڑ یا دریا کو خدا مان کر اس کے سامنے سجدہ کیا جائے۔ بلکہ یہ چیزیں صرف موٹے طور پر توحید اور شرک کو بیان کرتی ہیں اور توحید اور شرک کی حقیقی تشریح ان سے بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ گہری ہے۔ چنانچہ آپ نے بتایا کہ اصل توحید یہ ہے کہ انسان نہ صرف منہ سے خدا کے ایک ہونے کا قائل ہو بلکہ اس کی کامل محبت اور کامل خوف اور کامل بھروسہ صرف خدا کی ذات کیساتھ وابستہ ہے اور یہ کہ شرک صرف یہ نہیں کہ کسی بت وغیرہ کی پرستش کی جائے بلکہ حقیقی شرک میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انسان کسی چیز کی ایسی عزت کرے جو خدا کی کرنی چاہئے اور کسی چیز کے ساتھ ایسی محبت کرے جو خدا سے کرنی چاہئے اور کسی چیز سے ایسا خوف کھائے جو خدا سے کھانا چاہئے اور کسی چیز پر ایسا بھروسہ کرے جو خدا پر کرنا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں:۔
    ہر چہ غیرِ خدا بخاطرِ تست
    آں بُتِ تُست اے بایماں سست
    پر حذر باش زیں بتان نہاں

    دامن دل زدست شاں برہاں
    ’’ یعنی ہر وہ چیزکہ جو خدا کے مقابل پر تیرے دل میں جگہ پائے ہوئے ہے وہ تیرے دل کا ایک مخفی بت ہے مگر اے کمزور ایمان والے شخص تو اسے سمجھتا نہیں۔ تجھے چاہئے کہ اپنے ان مخفی بتوں کی طرف سے ہوشیار رہے اور اپنے دل کے دامن کو ان کی گرفت سے بچا کر رکھے ۔ ‘‘
    آپ نے بار بار اور کثرت کے ساتھ بیان کیا کہ مثلاً اگر کوئی شخص بیمار ہو کر اپنے ظاہری علاج معالجہ پر اتنا بھروسہ کرے کہ گویا خدا کو بھلا ہی دے اور ساری طاقت اور ساری شفا دوائی میں ہی سمجھنے لگ جائے تو وہ بھی ایک قسم کے مخفی شرک کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ وہ دوائی کو وہ درجہ دیتا ہے جو خداکو دینا چاہئے آپ نے لکھا کہ اسلام اسباب کے اختیار کرنے سے نہیں روکتا بلکہ علم دیتا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کے لئے جو اسباب خدا کی طرف سے مقرر ہیں انہیںاستعمال کرو کیونکہ وہ بھی خدا کے پیدا کردہ ذرائع ہیں مگر اسلام ان اسباب پر تکیہ کرنے سے اور انہیں کامیابی کا آخری ذریعہ قرار دینے سے منع کرتا ہے بلکہ ہدایت دیتا ہے کہ اصل بھروسہ صرف خدا پر رکھو جس نے یہ سارے اسباب پیدا کئے ہیں اور جو اس دنیا کی آخری علت العلل ہے۔ چنانچہ آپ اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر اک قدم میں تمہارا مددگار ہے تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیںاور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔ غیر قوموں کی تقلید نہ کرو کہ جو بکلی اسباب پر گر گئی ہیں اور جیسے سانپ مٹی کھاتا ہے انہوں نے سفلی اسباب کی مٹی کھائی …… میں تمہیں حدِ اعتدال تک رعایت اسباب سے منع نہیں کرتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ تم غیر قوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جائو اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیا کرتا ہے ……… خدا تمہاری آنکھیں کھولے تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے۔ اگر شہتیر گر جائے تو کیا کڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    ملا ئکۃ اللّٰہکی حقیقت :۔ چوتھا عقیدہ جو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا وہ ملائکۃ اللہ کی
    تشریح کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ فرشتوں کے وجود کو قریباً ہر مذہب و ملت نے مانا ہے اس لئے ہمیں اس جگہ ان کی ہستی کی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف اس قدر بتانا کافی ہے کہ فرشتوں کے متعلق یہ ایک عام عقیدہ ہو رہا تھا کہ فرشتے کوئی خاص قسم کی عجیب و غریب مخلوق ہے جو خدا اور انسان کے درمیان واسطہ کا کام دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑنے اس بارے میں تشریح فرمائی کہ بے شک فرشتے خدا کی ایک مخفی مخلوق ہے مگر ان کے متعلق وہ عجیب و غریب خیالات جو ان کی شکل و صورت وغیرہ کے متعلق رائج ہیں مثلاً یہ کہ وہ ایک پروں کے ساتھ اڑنے والی مخلوق ہے اور ان کے یہ یہ رنگ اور اتنے اتنے پر ہیں وغیر ذالک یہ درست نہیں ہیں بلکہ اس قسم کے الفاظ بطور استعارہ بیان ہوئے ہیں اور فرشتوں کی اصل شکل و صورت کا علم صرف خدا کو ہے البتہ قرآن شریف و حدیث سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے خدا کی ایک مخفی مخلوق ہے جو نظام عالم کو چلانے کے لئے بطور اسباب کے ہیں یعنی جس طرح دنیا کے ظاہری نظام کو چلانے کے لئے خدا نے ظاہری اسباب مقرر کر رکھے ہیں مثلاً سورج اور چاند اور ستارے اور ہوا اور پانی اور زمین وغیرہ اور ان چیزوں کے خواص اور ان کی طاقتیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بعض مخفی اسباب بھی مقرر کئے ہیں جو فرشتوں کے نام سے موسوم ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس نظام عالم کو چلا رہا ہے۔
    اسی طرح آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ یہ جو فرشتوں کے نازل ہونے کا عقیدہ عام طور پر مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی فرشتہ خدا کا کلام لے کر نازل ہوتا ہے اورکوئی لوگوں کی روح قبض کرنے کے لئے نازل ہوتا ہے یہ فی الجملہ درست ہے مگر فرشتوں کے نزول سے یہ مراد نہیں کہ وہ اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور وہ اس وقت ان کے وجود سے خالی ہو جاتی ہے بلکہ فرشتوں کے نزول سے یہ مراد ہے کہ فرشتے اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ میں دنیا کی چیزوں پر مقررہ اثرات پیدا کرتے ہیں مثلاً جس فرشتے کا کام کلام الٰہی کا پہنچانا ہے وہ یوں نہیں کرتا کہ خدا کے الفاظ کو لے کر کبوتر کی طرح اڑتا ہوا زمین پر پہنچ جاوے بلکہ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ اپنی خداداد طاقت کو حرکت میں لا کر خدا کے کلام کو اس کے منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح جس فرشتے نے کسی انسان کی روح قبض کرنی ہو وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر زمین پر آوے اور مرنے والے کی روح نکال کر پھر واپس اڑ جائے بلکہ وہ اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ہی سارا کام سرانجام دیتا ہے پس نزول سے خود فرشتوں کا جسمانی نزول مراد نہیں بلکہ ان کی خداداد طاقتوں کا پَر تَویا سایہ اور اثر مراد ہے جو حسب ضرورت زمین پر نازل ہوتا ہے۔ ۱؎
    اس دنیا کی عمر اور خَلق آدم:۔ پانچویںاصلاح حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ کی کہ لوگوں کے
    اس خیال کو رد کیا کہ گویا یہ دنیا صرف چھ سات ہزار سال سے ہے اور اس سے پہلے خدا نعوذ باللہ معطل تھا۔ دراصل چونکہ عیسائیوں کا بائیبل کی بناء پر یہ عقیدہ تھا کہ انسان کی پیدائش کا آغاز آدم سے ہوا ہے اور آدم کو پیدا ہوئے صرف چھ ہزار سال ہوئے ہیں اس لئے ان کے ساتھ اختلاط کی وجہ سے بعد کے مسلمانوں میں بھی غلطی سے یہی عقیدہ داخل ہو گیا مگر خود قرآن شریف نے یا آنحضرت ﷺ نے ایسی کوئی تعلیم نہیں دی تھی۔ بہر حال حضرت مسیح موعود ؑ نے صراحت کے ساتھ اس عقیدے کو جھوٹا قرار دیا اور فرمایا کہ آدمی کی پیدائش سے دنیا کا آغاز مراد نہیں ہے بلکہ دنیا کا آغاز بہت قدیم سے ہے اور اس میں مخلوقات کے کئی دور آتے رہے ہیں جن میں سے موجودہ دور اس آخری آدم سے شروع ہوا ہے جس کی پیدائش پر چھ ہزار سال کا عرصہ گزرا ہے پس آدم کی پیدائش سے دنیا کے ایک دور کا آغاز مراد ہے نہ کہ دنیا کی پیدائش کا آغاز ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ ہم اس مسئلہ میں توریت کی پیروی نہیں کرتے کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے کہ آدم پیدا ہوا ہے اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ نہیں تھا اور گویا خدا معطل تھا اور نہ ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسل جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے۔ ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے ان الفاظ سے پتہ لگتا ہے کہ ’’ اِنِّی جَاعِلٌ فِی الْـاَرْضِ خَلِیْفَۃً ‘‘ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی دنیا میں مخلوق موجود تھی پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اسی آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے۔ ‘‘ ۲؎
    اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ عقیدہ بھی پیش فرمایا کہ چونکہ خدا کی صفات قدیم سے ہیں اور ان میں مستقل تعطل جائز نہیں اس لئے یہ خیال کرنا کہ کوئی ایسا زمانہ بھی گذرا ہے کہ جب مخلوق کی کوئی نوع بھی دنیا میں موجود نہیں تھی درست نہیں۔ بلکہ ہر زمانہ میں مخلوق کی کوئی نہ کوئی نوع موجود رہی ہے اور ممکن ہے کہ انسان سے پہلے اس عالم میں مخلوق کی کوئی اور نوع پائی جاتی ہو۔ چنانچہ فرماتے ہیں :۔
    ’’ یہ بات سچ ہے کہ خدا کی صفات خالقیت رازقیت وغیرہ سب قدیم ہیں حادث نہیںہیں ۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طور پر۔ یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ انسان سے پہلے کیا کیا خدا نے بنایا مگر اس قدر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئے۔ اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامتِ نوعی ضروری ہے مگر قدامتِ شخصی ضروری نہیں۔ ‘‘ ۱؎
    مسئلہ ارتقا :۔ ایک عرصہ سے مسئلہ ارتقا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے یعنی بعض مغربی محققین کی یہ
    رائے ہے کہ کسی زمانہ میںانسان موجودہ صورت میں نہیں تھا بلکہ حیوانیت کی ادنیٰ حالت میں زندگی گزارتا تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ کئی تغیرات کے بعد موجودہ شکل و صورت کو پہنچا ہے۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابتداء میں انسان بندر کی شکل پر تھا اور پھر اس سے تدریجاً ترقی کر کے انسانی شکل پر آگیا۔ سائنس دانوں کا یہ خیال ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی سارے سائنسدان اس خیال کے قائل ہیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ کے اکثر سائنسدان مسئلہ ارتقا کی اس تھیوری کو سچا سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس مخصوص مسئلہ کے متعلق تفصیل کے ساتھ تو نہیں لکھا مگر بہر حال آپ نے اس خیال کو معین صورت میں رد فرمایا ہے کہ انسان بندر سے بنا ہے چنانچہ فرماتے ہیں :۔
    ’’ ہمارا مذہب یہ نہیں کہ انسان کسی وقت بندر تھا۔ پھر دم کٹ گئی اور انسان بن گیا۔ یہ تو صرف دعویٰ ہے اور بارِ ثبوت مدعی پر ہے …… ہم ایسے قصوں پر اپنے ایمان کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ موجودہ زمانہ کا عام نظارہ جو ہے وہ یہی ہے کہ بندر سے بندر پیدا ہوتا ہے اور انسان سے انسان ۔ پس جو اس کے خلاف ہے وہ قصہ ہے۔ واقعی بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ انسان ہی سے انسان پیدا ہوتاہے اور پہلے دن آدم ہی بنا تھا۔ ‘‘ ۱؎
    مگر مسئلہ ارتقا کے اس پہلو کو رد کرنے کے باوجود حضرت مسیح موعود ؑ ارتقا کے اصول کو فی الجملہ تسلیم فرماتے تھے مثلاً حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ عقیدہ تھا کہ دنیا کی پیدائش ایک فوری تغیر کی صورت میں نہیں ہوئی بلکہ تدریجی طور پر آہستہ آہستہ ہوئی ہے اور آپ کا یہ عقیدہ اس قرآنی تعلیم کے مطابق تھا جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو درجہ بدرجہ پیدا کیا ہے۔ اسی طرح آپ انسانی پیدائش میں بھی تدریجی خلق کے قائل تھے مگر اس بات کے قائل نہیں تھے کہ انسان کسی وقت بندر تھا اور پھر آہستہ آہستہ انسان بن گیا۔ اور قرآن شریف نے جو یہ بیان کیا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان اور ان کی درمیانی چیزوں کو چھ دن میں بنایا اس کی تشریح حضرت مسیح موعود ؑ یہ فرماتے تھے کہ یہاں دن سے مراد یہ چوبیس گھنٹے والا دن نہیں ہے کیونکہ یہ دن تو خلق عالم کے بعد وجود میں آیا ہے بلکہ دن سے مراد ایک لمبا زمانہ ہے جیسا کہ مثلاً قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانوں کی شمار کے لحاظ سے خدا کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوتا ہے۔ ۲؎
    تمام قوموں میں رسول آئے ہیں :۔ ایک اور نیا خیال حضرت مسیح موعود ؑ نے دنیا کے
    سامنے یہ پیش کیا کہ یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف خاص خاص قوموں یا خاص خاص ملکوں کی طرف ہی اپنے رسول بھیجے ہی اور دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں کو بھلائے رکھا ہے بلکہ اس نے اپنی وسیع رحمت کے ماتحت ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں اور دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو اس کی اس رحمت سے محروم رہی ہو۔ بے شک قرآن شریف نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے اور مسلمان اس تعلیم پر اجمالی ایمان لاتے رہے ہیں۔ مگر ان کی توجہ کبھی بھی اس مضمون کی تفصیلات کی طرف مبذول نہیں ہوئی او رنہ کبھی انہوں نے قرآن شریف کے بیان کردہ رسولوں کے سوا کسی اور قوم کے مذہبی پیشوا کی رسالت کو تصریحاً تسلیم کیا۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑ نے قرآن شریف کے اس پیش کردہ اصول کو ایسی تفصیل اور تعیین کے ساتھ بیان کیا کہ گویا دنیا میں ایک نئی صداقت کا دروازہ کھل گیا اور بین الاقوام تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے ایک نہایت موثر خیال ہاتھ میں آگیا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس قرآنی آیت کو لے کر اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں تشریح اور تکرار کے ساتھ لکھا کہ جس طرح خدا تمام دنیا کی مادی ضروریات کو پورا فرماتا ہے اسی طرح وہ روحانی میدان میں بھی ہر قوم کی اصلاح اور ترقی کی طرف توجہ کرتا رہا ہے اور دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس میں کسی نہ کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نہ کوئی رسول نہ آیا ہو۔ آپ نے لکھا کہ چونکہ خدا سارے ملکوں اور ساری قوموں کا ایک سا خدا ہے اس لئے اس نے کسی قوم کو بھی فراموش نہیں کیا اور ہر قوم کی طرف اپنے رسول بھیج کر اپنی عالمگیر خدائی اور وسیع رحمت کا ثبوت دیا ہے حضرت مسیح موعود ؑ نے اس اصول کو محض ایک فلسفہ تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ عملاً نام لے لے کر اعلان کیا کہ دنیا کی مختلف قوموں میں جو جو رسول یا اوتار یا مصلح گزرے ہیں وہ سب خدا کی طرف سے تھے اور ہم ان کی صداقت کے قائل ہیں اور ان کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جس طرح ایک سچے رسول کی کرنی چاہئے ۔آپ کے اس اعلان نے بین الاقوام تعلقات میں ایک انقلاب کی صورت پیدا کر دی اور جو قومیں اس سے پہلے رقیب اور مد مقابل کی صورت میں نظر آتی تھیں اب ایک ہی درخت کی شاخیں اور ایک ہی باپ کی اولاد کے رنگ میں نظر آنے لگیں۔
    مگر اس اعلان کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ تشریح فرمائی کہ دوسری قوموں کے مذہبی بانیوں کو مان لینے سے ہماری یہ مراد نہیں ہے کہ ہم ان کی اس تعلیم کو بھی مانتے ہیں جو آجکل ان کی طرف منسوب کی جاتی ہے کیونکہ یہ تعلیم دو لحاظ سے ہمارے لئے قابل عمل نہیں۔ اوّل اس لئے کہ یہ تعلیم مرور زمانہ سے اپنی اصل حقیقت اور اصل صورت سے منحرف ہو چکی ہے دوسرے اس لئے کہ قرآن شریف کے نزول کے بعد جو سارے ملکوں اور ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے تمام سابقہ شریعتیں جو زمانی اور مکانی اور قومی حدود میں مقید تھیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ پس آپ نے فرمایا کہ ہم اس وقت عملاً صرف قرآنی شریعت کو مانیں گے مگر ویسے اصولاً ہم تمام قوموں کے رسولوں، رشیوں اور اوتاروں اور مصلحوں کو سچا سمجھتے ہیں اور ان کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جس طرح ایک سچے رسول کی کرنی چاہئے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلحکاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والاہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔ اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے گئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوئوں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ اسی عظیم الشان نبی نے ہمیں سکھایا ہے کہ جن جن نبیوں او ررسولوں کو دنیا کی قومیں مانتی چلی آئی ہیں اور خدا نے عظمت او رقبولیت ان کی دنیا کے بعض حصوں میں پھیلا دی ہے وہ درحقیقت خدا کی طرف سے ہیں اور ان کی آسمانی کتابوں میں گو دور دراز زمانہ کی وجہ سے کچھ تبدیل تغییر ہو گئی ہو یا ان کے معنے خلاف حقیقت سمجھے گئے ہوں مگر دراصل وہ کتابیں من جانب اللہ اور عزت اور تعظیم کے لائق ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    سچا مذہب اسی دنیا میں پھل دیتا ہے :۔ ایک اور لطیف انکشاف حضرت مسیح موعود نے یہ
    فرمایا کہ سچے مذہب کی یہ علامت ہے کہ وہ اپنے متبعین کو صرف آئندہ کے وعدہ پر نہیں رکھتا بلکہ اسی زندگی میں ایمان کے شیریں اثمار چکھا دیتا ہے۔ یہ اصول قرآن شریف میں موجود تھا جیسا کہ فرمایا:۔
    وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ ۲؎
    ’’ یعنی جو شخص خدا کا تقویٰ اختیار کر کے روزِ جزا کو یاد رکھتا ہے اسے دو جنتیں ملیں گی ایک آخرت میں اور ایک اسی دنیا میں یعنی اسی دنیا سے اس کے لئے جنتی زندگی کا آغاز ہو جائے گا اور وہ اسی زندگی میں خدا کے قرب کی ٹھنڈک کو محسوس کرنے لگے گا۔ ‘‘
    پھر فرماتا ہے :۔
    اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰئِکَۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۳؎
    ’’ یعنی جو لوگ دل سے خدائے واحد کو اپنا رب مان لیتے ہیں اور پھر اس عقیدہ پر پختہ طور پر جم جاتے ہیں ان پر اسی دنیامیں خدا کے فرشتے نازل ہو کر انہیں تسلی دیتے ہیں کہ تم کسی قسم کا خوف نہ کرو اورنہ کوئی غم کرو اور اس جنت کی اسی دنیا میں بشارت حاصل کرو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ ‘‘
    مگر باوجود قرآن شریف میں ان آیات کو پڑھتے ہوئے مسلمان ان کے مفہوم سے بالکل بے خبر تھے اور دوسری قوموں کی طرح اس خام خیالی پر تسلی پائے ہوئے تھے کہ دنیا میں صرف عمل ہی عمل ہے اور جزا کا پہلو کلیۃً آخرت کے ساتھ مخصوص ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس باطل خیال کو سختی کے ساتھ رد فرمایا اور تشریح کے ساتھ بیان کیا کہ اگر دنیا میں صرف وعدہ ہی وعدہ ہے اور آخرت کی بہشتی زندگی کا کوئی اثر دنیا کی زندگی میں ظاہر نہیں ہوتا تو پھر یہ عمل و جزا کا سارا سلسلہ ایک جوئے کی کھیل سے زیادہ نہیں جس کے متعلق انسان کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ آپ نے بڑے زور کے ساتھ لکھا کہ حقیقی نجات وہی ہے جس کا آغاز اسی دنیا سے ہو جاتا ہے اور سچا مذہب وہی ہے جو اپنے ماننے والوں کو اسی زندگی میں ایمان کا شیریں پھل چکھا دیتا ہے اور صرف آخرت کے موہوم وعدہ پر نجات کی بنیاد نہیں رکھتا۔ آپ نے دوسری قوموں کو بھی متنبہ فرمایا کہ وہ صرف آنے والی زندگی کے خالی وعدوں پر تسلی نہ پائیں اور اگر ان کا مذہب ان کے لئے اسی دنیا میں جنتی زندگی کی داغ بیل قائم نہیں کرتا تو قبل اس کے کہ موت ان کے لئے تلاش کا رستہ بند کر دے وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس مذہب کی تلاش میں لگ جائیں جو آخرت کے وعدہ کے ساتھ ساتھ جنت کاکچھ نمونہ اس دنیا میں بھی پیش کر دیتا ہے۔ آپ نے لکھا کہ اسلام کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس پر ایمان لا کر اور اس کے حکموں پر چل کر انسان اسی دنیا میں خدا کو پا لیتا ہے اور یہ پانا ایک خیالی فلسفہ کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ ایک زندہ حقیقت کا رنگ رکھتا ہے یعنی اس مقام پر پہنچ کر خدا اپنے بندے کی دعائوں کو سنتا اور اپنے کلام سے اس کو مشرف کرتا اور اس کے لئے اپنی قدرت کے جلوے دکھاتا ہے اور ہر رنگ میں اس پر ثابت کر دیتا ہے کہ میں تیرا زندہ اور قادر خدا ہوںاور میری نصرت کا ہاتھ تیری زندگی کے ہر قدم میں تیرے ساتھ ہے۔ ایسے شخص کے لئے آخرت کی زندگی ایک خالی وعدہ نہیں رہتی بلکہ دنیا کی زندگی کا ایک خوش کن تسلسل بن جاتی ہے اور گو بہر حال مکمل اور تفصیلی اجر کا گھر تو آخرت ہی ہے مگر اس کی جھلک اسی دنیا میں نظر آجاتی ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے مخالفوں کو بلایا کہ آئو اور میرے ساتھ ہو کر اس بہشتی جھلک کا نظارہ دیکھ لو۔ ۱؎
    قرآن میں کوئی آیت منسوخ نہیں :۔ مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی غلطیاں آگئی
    تھیں وہاں ایک غلط خیال ان میں یہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ نعوذ باللہ سارا قرآن شریف قابلِ عمل نہیںبلکہ اس کی بعض آیتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ اس گندے عقیدے نے یہاں تک زور پکڑا تھا کہ بعض لوگوں نے تو قرآن شریف کی کئی سو آیات منسوخ قرار دے دیں اور اس خیال نے بعض بڑے عالموں کے دل و دماغ پر بھی قبضہ پا لیا ۔ اس طرح نہ صرف خدا کی اس وسیع رحمت کو جو قرآن شریف کے ذریعہ نازل ہوئی محدود کر دیا گیا بلکہ نسخ کے دروازہ کو کھول کر گویا سارے قرآن کو ہی یقین اور قطعیت کے مقام سے گرا کر شک کے گڑھے میں اتار دیا گیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے بڑی سختی کے ساتھ اس بیہودہ عقیدہ کو رد فرمایا اور لکھا کہ جن لوگوں نے قرآنی آیات کو منسوخ قرار دیا ہے یہ ان کی اپنی کم علمی اور کوتہ نظری کی علامت ہے کیونکہ اگر انہیں کسی آیت کے معنے واضح نہیں ہوئے تو انہوں نے اسے اپنی کم فہمی کی طرف منسوب کرنے کی بجائے قرآن کی طرف منسوب کر دیا۔ آپ نے لکھا کہ کسی آیت کو منسوخ ہونا تو درکنار قرآن شریف کا ایک نقطہ اور شعشہ بھی منسوخ نہیں اور الحمد سے لے کر والنّاس تک سارا قرآن واجب العمل اور سراسر رحمت ہی رحمت ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:۔
    ’’جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہو گا۔ سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تا تم اسی کے لئے پکڑے نہ جائو۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے …… حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے۔ ‘‘ ۲؎
    قرآن شریف کو حدیث پر فضیلت ہے:۔ ایک اور بڑی غلطی جو مسلمانوں میں پیدا ہو گئی
    تھی یہ تھی کہ مسلمانوں کے ایک متعدبہ حصہ نے عملاً یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ حدیث قرآن شریف پر حاکم اور قاضی ہے اور اگر کسی صحیح دیث سے کوئی بات ثابت ہو جاوے اور قرآن کی کوئی آیت اس کے خلاف ہو تو یا تو آیت کو منسوخ سمجھ لینا چاہئے اور یا حدیث کے مطابق آیت کے معنے ہونے چاہئیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس عقیدہ کو بڑی سختی کے ساتھ رد فرمایا اور لکھا کہ اصل چیز جس پر اسلام کی بنیاد ہے وہ قرآن شریف ہے نہ کہ حدیث جو آنحضرت ﷺ کے ڈیڑھ دو سو سال بعد عالم وجود میں آئی ہے۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن شریف کے ساتھ خدا کا خاص حفاظت کا وعدہ ہے جو حدیث کے ساتھ ہرگز نہیں۔ پس قرآن کے مقابل پر حدیث کو کوئی وزن حاصل نہیں اور جو حدیث کسی قرآنی آیت سے ٹکرائے اور تطابق کی کوئی صورت نہ ہو سکے تو وہ اس سے زیادہ حق نہیں رکھتی کہ اسے غلط سمجھ کر ردی کی طرح پھینک دیا جائے۔ آپ نے لکھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی حدیث آنحضرت ﷺ کا قول ہے اور پھر بھی ہم اسے رد کرتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا قول ہی نہیں اور غلط طور پر آپ کی طرف منسوب ہوئی ہے۔
    اسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک اور لطیف حقیقت کا بھی انکشاف فرمایا اور وہ یہ کہ آپ نے بتایا کہ قرآن شریف اور حدیث کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی ہے جس کا نام سنت ہے ۔ آپ نے لکھا کہ یہ جو مسلمانوں کا عام طریق ہے کہ حدیث کو ہی سنت کا نام دے دیتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ سنت ایک بالکل جدا چیز ہے جسے حدیث سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جہاں حدیث ان زبانی اقوال کا نام ہے جو راویوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کے ڈیڑھ دو سو سال بعد جمع کئے گئے وہاں سنت کسی قولی روایت کا نام نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے اس تعامل کا نام ہے جو حدیثوں کے واسطے سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے مجموعی تعامل کے ذریعہ ہمیں پہنچا ہے۔ مثلاً قرآن شریف میں نماز کا حکم نازل ہوا اور پھر اس کی عملی صورت کو آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں کر کے بتا دیاکہ نماز اس طرح پڑھنی چاہئے اور یہ عملی صورت کسی روایت کے ذریعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مسلسل تعامل کے ذریعہ بعد کے لوگوں تک پہنچی۔ یہ وہ چیز ہے جس کانام سنت ہے اور جو حدیث سے بالکل الگ ہے۔
    اس طرح حضرت مسیح موعود ؑ نے گویا اسلامی تعلیم کے تین ماخذ قرار دئیے۔ اوّل قرآن شریف جو خدا کا کلام ہے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی پوری طرح محفوظ ہو کر یقینی اور قطعی شہادت کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ دوسرے سنت یعنی آنحضرت ﷺ کا عمل جو کسی زبانی روایت کے ذریعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مسلسل تعامل کے واسطے سے نیچے آیا ہے۔ اور تیسرے حدیث جو ان اقوال کے مجموعہ کا نام ہے جو راویوں کے سینے سے جمع کئے جا کر آنحضرت ﷺ کے ڈیڑھ دو سو سال بعد ضبط میں آئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ میں حدیث کے رتبہ کو کم نہیں کرنا چاہتا اور اپنی جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والی صحیح حدیثوں کو انتہائی عزت سے دیکھے اور ان پر عمل کرے مگر بہر حال حدیث کا مرتبہ قرآن و سنت کے مقابل پر بہت ادنیٰ ہے اور اگر قرآن و حدیث میں کوئی تعارض پیدا ہو اور تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو سکے تو لازماً قرآن کو اختیار کر کے حدیث کو ترک کر دیا جائے گا کیونکہ حدیث قرآن پر قاضی نہیں بلکہ قرآن حدیث پر قاضی ہے۔
    قرآن شریف کے معانی غیر محدود ہیں :۔ ایک اور نہایت اہم اور نہایت لطیف انکشاف جو
    حضرت مسیح موعود ؑ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جس نے اسلامک ریسرچ میں گویا ایک انقلابی صورت پیدا کر دی اور نئے علوم کے لئے ایک نہایت وسیع دروازہ کھول دیا یہ تھا کہ آپ نے خدا سے علم پا کر اعلان فرمایا کہ جیسا کہ عام طور پر مسلمانوں میں خیال کیا جاتا ہے یہ بات ہرگز درست نہیں کہ قرآن شریف کے معانی اس محدود تفسیر میں محصور ہیں جو حدیث یا گذشتہ مفسرین نے بیان کر دی ہے بلکہ قرآن کے معانی غیر محدود اور غیر متناہی ہیں اور خدا نے یہ انتظام اس لئے فرمایا ہے کہ تا ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن شریف کے نئے نئے معانی ظاہر ہو کر اسلام کی صداقت پر دلیل بنتے رہیں۔ اس مضمون کو واضح کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک نہایت لطیف مثال بھی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ جس طرح یہ مادی عالم ہمیشہ سے ایک ہی چلا آیا ہے مگر اس کے مخفی خزانے غیر متناہی ہیں اور ان کا ظہور کسی ایک زمانہ کے ساتھ وابستہ نہیں رہا بلکہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق صحیفہ فطرت کے مخفی خزانے نئے سے نئے رنگ میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح قرآن شریف بھی جو ایک روحانی عالم ہے اپنے اندر غیر متناہی خزانے رکھتا ہے جن کا ظہور کسی ایک زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ مثلاً آدم کے وقت میں بھی یہی مادی دنیا تھی اور پھر موسیٰ کے وقت میں بھی یہی دنیا تھی اور پھر آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی یہی دنیا تھی اور اب موجودہ زمانہ میں بھی یہی دنیا ہے مگر باوجود اس کے اس مادی دنیا نے اپنے سارے مخفی خزانے ایک وقت میں باہر نکال کر نہیں رکھ دئیے بلکہ کچھ حقائق آج سے ہزاروں سال پہلے ظاہر ہو گئے تھے اور کچھ درمیانی زمانہ میں ظاہر ہوئے اور بہت سے اب موجودہ زمانہ میں ظاہر ہو رہے ہیں حالانکہ یہ صحیفہ فطرت پہلے بھی وہی تھا جو اب ہے۔ اسی طرح آپ نے لکھا کہ قرآن شریف گو بظاہر ایک چھوٹی سی کتاب ہے مگر اللہ کی حکیمانہ قدرت نے اسے ایک روحانی عالم کی صورت دی ہے اور یہ مقدر کیا ہے کہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن کے مخفی حقائق و معارف ظاہر ہوتے رہیں۔ بلکہ جس طرح موجودہ زمانہ میں مادی عالم کے خزانوں کے اظہار کا خاص طور پر زور ہے اور دنیا اپنی گو ناگوں مخفی طاقتوں کو باہر نکال نکال کر مخلوق کی خدمت میں لگا رہی ہے اسی طرح موجودہ زمانہ کے لئے یہ بھی مقدر تھا کہ اس میں قرآن کے روحانی خزانے بھی پورے زور اور کثرت کے ساتھ دنیا کے سامنے آجائیں تا کہ ان مادی طاقتوں کا مقابلہ ہو سکے جو مادی لوگوں کی غلطی اور کم فہمی کی وجہ سے روحانی طاقتوں کے مقابلہ کے لئے استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔
    الغرض حضرت مسیح موعود ؑ نے اس خیال کو سختی کے ساتھ رد فرمایا کہ قرآن شریف کی تفسیر سابقہ معانی پر ختم ہو چکی ہے اور بڑے زور دار رنگ میں لکھا کہ صحیفہ فطرت کے خزانوں کی طرح قرآنی علوم بھی غیر محدود ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوں گے مگر ان کا انکشاف ضرورت کے مطابق آہستہ آہستہ ہو گا۔ اس طرح آپ نے اس اعتراض کا بھی قلع قمع کر دیا جو اس زمانہ میں نئی روشنی کے دلدادگان کی طرف سے حامیان اسلام کے خلاف کیا جاتا تھا کہ تم ہمیں ایک ایسی کتاب کی طرف لے جانا چاہتے ہو جو آج سے تیرہ سو سال پہلے نازل ہوئی تھی۔ کیونکہ اگر آدم کے وقت کا مادی عالم آج کے ترقی یافتہ لوگوں کی مادی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا روحانی عالم موجودہ زمانہ کی روحانی ضروریات کے لئے کیوں کافی نہیں ہو سکتا؟ ہاں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مادی دنیا کے سائنس دانوں کی طرح کوئی روحانی استاد اس روحانی عالم کی گہرائیوں میں سے نئے نئے خزانے نکال کر دنیا کے سامنے لائے اور حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ میری بعثت کی یہی غرض ہے کہ میں موجودہ زمانہ کی روحانی پیاس کو ایک پرانے برتن میں سے تازہ شراب نکال کر بجھائوں۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:۔
    ’’ جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہل زبان پر روشن ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن۔ یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کر سکتے ہیں وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں …… اے بندگان خدا یقینا یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے ۔ کوئی شخص برہمو ہو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الٰہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔ قرآ ن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفۂ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم بذات خود معجزہ ہے اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے بلکہ جیسے جیسے وقت کے مشکلات تقاضا کرتے ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ دیکھو دنیوی علوم جو اکثر مخالفِ قرآن کریم اور غفلت میں ڈالنے والے ہیں کیسے آجکل ایک زور سے ترقی کر رہے ہیں اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقاتوں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔ کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جاتا تا شرور محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی۔ سو یقینا سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخفیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔ ‘‘ ۲؎
    نبوت کا سلسلہ بند نہیں ہوا :۔ ایک اور بڑی اصلاح جو حضرت مسیح موعود ؑ نے مسلمانوں
    کے خیالات میں فرمائی وہ مسئلہ نبوت کے متعلق تھی۔ کئی صدیوں کے تنزل کے زمانہ میں ہمتوں کے پست ہو جانے کی وجہ سے اور بعض قرآنی آیات اور احادیث کا غلط مطلب سمجھنے کے نتیجہ میں مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اس خیال نے مسلمانوں کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیا تھا کہ وہ امت محمدیہ میں نبوت کے اجراء کو آنحضرت ﷺ کے لئے باعث ہتک اور اسلام کے لئے موجب ذلت خیال کرنے لگے تھے حضرت مسیح موعود نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ یہ عقیدہ بالکل خلاف تعلیم اسلام اور خلاف عقل ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کا آنا جو آپ کے خادموں میں سے ہو اور آپ کی وساطت سے نبوت کا انعام پائے اور اس کی بعثت کی غرض اسلام کی تجدید اور اسلام کی اشاعت ہو آنحضرت ﷺ کی شان کو گرانے والا نہیں بلکہ بلند کرنے والا اور اسلام کی اکملیت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ابھی تک ہمارے مخالفین نے اس نکتہ کی قدر نہیں کی ورنہ وہ حضرت مسیح موعود پر اعتراض کرنے کی بجائے آپ کے شکر گزار ہوتے کہ آپ نے اس حقیقت کا انکشاف کر کے مسلمانوں کی جھکی ہوئی گردنوں کو بلند کر دیا ۔ چونکہ اس مضمون پر ایک مفصل نوٹ اوپر گزر چکا ہے اس لئے اس جگہ صرف اس قدر اشارہ پر اکتفا کر کے ہم اگلے سوال کو لیتے ہیں۔
    الہام کی حقیقت :۔ سلسلہ الہام کے متعلق مسلمانوں کی اس غلطی کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ
    ان کا ایک معتدبہ حصہ اس زمانہ میں الہام کے دروازہ کو بند قرار دیتا تھا۔ اس کے علاوہ الہام کے متعلق مسلمانوں کا ایک فریق اس غلطی میں بھی مبتلا تھا کہ الہام الفاظ کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ وہ اچھے خیالات جو انسان کے دل میں اچانک گزر جاتے ہیں وہی الہام ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اس خیال کی سختی سے تردید فرمائی اور فرمایا کہ الہام اور وحی کی گو کئی اقسام ہیں مگر زیادہ ارفع اور زیادہ پختہ قسم لفظی الہام ہے جو خدا کی طرف سے اسی طرح انسان تک پہنچتا ہے جس طرح کہ ایک دوسرے شخص کی آواز اس کے کانوں تک پہنچتی ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ قرآنی وحی بھی اسی نوع میں داخل تھی چنانچہ سارا قرآن شریف آنحضرت ﷺ پر لفظاً نازل ہوا تھا اور نہ صرف قرآن شریف کے معانی بلکہ اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف خدا کا کلام ہے ۔ آپ نے بتایا کہ اگر محض دل کے اچھے خیالات کا نام الہام ہو تو اس طرح تو ہر مصنف اور ہر مقرر اور ہر شاعر اور ہر محقق اور ہر سائنسدان ملہم قرار پائے گا کیونکہ اس قسم کے فوری خیالات ہر انسان کے دل پر گزرتے رہتے ہیں بلکہ اس تعریف کے ماتحت ایک چور بھی ملہم سمجھا جائے گا کیونکہ اس کے دل پر بھی بسا اوقات دوسروں کا مال لوٹنے کے لئے بڑے بڑے باریک اور اچھوتے خیالات گزر جاتے ہیں۔ غرض آپ نے اپنے تجربہ اور قرآنی آیات و احادیث سے ثابت کیا کہ الہام کی یہ تعریف بالکل غلط ہے اور حقیقی الہام وہی ہے جو خدا کی طرف سے معین الفاظ کی صورت میں انسان تک پہنچتا ہے اور یہ الہام اپنے ساتھ ایک خاص قسم کی شان اور لطافت اور تاثیر رکھتا ہے جو لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ الہام کے الفاظ سے اس جگہ یہ مراد نہیں کہ سوچ اور فکر کی کوئی بات دل میں پڑ جائے جیسا کہ جب شاعر شعر کے بنانے میں کوشش کرتا ہے یا ایک مصرع بنا کر دوسرا سوچتا رہتا ہے تو دوسرا مصرع دل میں پڑ جاتا ہے سو یہ دل میں پڑ جانا الہام نہیں بلکہ یہ خدا کے قانونِ قدرت کے موافق اپنے فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ ہے …… اگر صرف دل میں پڑ جانے کا نام الہام ہے تو پھر ایک بدمعاش شاعر جو راستبازی اور راستبازوں کا دشمن اور ہمیشہ حق کی مخالفت کے لئے قدم اٹھاتا اور افترائوں سے کام لیتا ہے خدا کا ملہم کہلائے گا۔ دنیا میں ناولوں وغیرہ میں جادو بیانیاں پائی جاتی ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ اس طرح سراسر باطل مگر مسلسل مضمون لوگوں کے دل میں پڑتے ہیں۔ پس کیا ہم ان کو الہام کہہ سکتے ہیں ؟ بلکہ اگر الہام صرف دل میں بعض باتیں پڑ جانے کا نام ہے تو ایک چور بھی ملہم کہلا سکتا ہے کیونکہ وہ بسا اوقات فکر کر کے اچھے اچھے طریق نقب زنی کے نکال لیتا ہے اور عمدہ عمدہ تدبیریں ڈاکہ مارنے اور خون ناحق کرنے کی اس کے دل میں گزر جاتی ہیں۔ تو کیا لائق ہے کہ ہم ان تمام ناپاک طریقوں کا نام الہام رکھ دیں؟ ہرگز نہیں …… الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور باقدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے …… خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہمکلام کرتا ہے اسی طرح رب اور اس کے بندے میں ہم کلامی واقع ہو۔ ‘‘ ۱؎
    اور اپنا ذاتی تجربہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ :۔
    ’’ وحی آسمان سے دل پرایسی گرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع دیوار پر۔ میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الٰہیہ کا وقت آتا ہے تو اوّل یک دفعہ مجھ پر ایک ربودگی طاری ہوتی ہے ۔تب میں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوںاور میری حس اور میرا ادراک اور ہوش گو بگفتن باقی ہوتا ہیں مگر اس وقت میں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا نہیں بلکہ اس کا ہے۔ جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو اس وقت سب سے پہلے خدا تعالیٰ دل کے ان خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہے …………… اور ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک خیال……دل میں آیا تو جھٹ اس پر ایک ٹکڑا کلام الٰہی کا ایک شعاع کی طرح گرتا ہے اور بسا اوقات اس کے گرنے کے ساتھ تمام بدن ہل جاتا ہے۔ ‘‘ ۲؎
    اس تحریر میں حضرت مسیح موعود ؑ نے الہام کی جو قسم بیان فرمائی ہے یہ وحی الٰہی کی متعدد اقسام میں سے ایک قسم ہے اور دوسری جگہ آپ نے دوسری اقسام کا بھی ذکر فرمایا ہے مگر بہر حال آپ نے اس خیال کو سختی کے ساتھ رد فرمایا ہے کہ دل میں گزرنے والے خیالات کا نام ہی الہام ہے اور آپ نے اپنی متعدد کتب میں الہام الٰہی کی اقسام اور اس کی نشانیاں اور اس کے پرکھنے کے طریقے بھی بیان فرمائے ہیں مگر اس مختصر رسالہ میں ان سارے مضامین کی گنجائش نہیں ۔
    جہاد کی حقیقت :۔ ایک اور اہم مسئلہ جس میں موجودہ زمانہ کے مسلمان سخت غلطی میں مبتلا تھے
    جہاد کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کا عام طور پر یہ خیال ہو رہا تھا کہ دین چونکہ ایک سچائی ہے اس لئے اس کے معاملہ میں جبر کرنا جائز ہے اور یہ کہ اسلام نے دوسری قوموں کے خلاف تلوار اٹھانے کی تحریک کی ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک مہدی کو مبعوث کرے گا جو روئے زمین کے تمام کافروں کے ساتھ جنگ کر کے یا تو انہیں مسلمان بنا لے گا اور یا تلوار کی گھاٹ اتار دے گا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے قرآن و حدیث اور عقل خداداد سے اس بات کو ثابت کیا کہ یہ عقیدہ صحیح اسلامی تعلیم کے سراسرخلاف اور دنیا میں سخت فتنہ و فساد کا باعث ہے۔قرآن شریف صاف اور صریح الفاظ میں تعلیم دیتا ہے کہ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن ۱؎ یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے اور قرآن و حدیث اور تاریخ ہرسہ سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کفار کو تہ تیغ کرنے یا ان کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار نہیں اٹھائی تھی بلکہ کفار کے مظالم اور خونی کارروائیوں سے تنگ آکر محض دفاع کے طور پر تلواراٹھائی تھی اور مہدی کے متعلق حضرت مسیح موعود نے ثابت کیا کہ یہ خیال قطعاً درست نہیں کہ اسلام نے کسی خونی مہدی کا وعدہ دیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے کوئی ایسی خبر نہیں دی۔ بے شک آپ نے ایک مہدی کی پیشگوئی فرمائی تھی مگر ساتھ ہی فرما دیا تھا کہ مہدی اور مسیح موعود ایک ہی وجود ہیں اور یہ کہ جنگ کرنا تو درکنار مسیح موعود ایسے زمانہ میں ظاہر ہو گا کہ جو امن کا زمانہ ہو گا اور اس کی جنگ دلائل اور براہین کی جنگ ہو گی نہ کہ نیزہ و تلوار اور تیر و تفنگ کی۔
    آپ نے فرمایا کہ خدائی پیشگوئیوں میں بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں کلام ہوتا ہے مگر ناسمجھ لوگ اسے حقیقت پر محمول کر لیتے ہیں چنانچہ مسیح و مہدی کے متعلق جو اس قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ اس کے دم سے کافر مریں گے یا یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا وغیرہ وغیرہ اس سے کم علم لوگوں نے خیال کر لیا کہ شاید ان الفاظ میں ایک جنگ کرنے والے مصلح کی خبر دی گئی ہے حالانکہ یہ سب استعارے تھے جن سے نشانات اور دلائل کی جنگ مراد تھی نہ کہ تیر و کمان کی جنگ۔ چنانچہ اگر ایک طرف مسیح و مہدی کے متعلق اس قسم کے جنگی الفاظ بیان ہوئے ہیں تو دوسری طرف اسلامی پیشگوئیوں میں صراحت کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے کہ مسیح کا کام امن کے طریق پر ہو گا اور اس کے زمانہ میں جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔ علاوہ ازیں جب قرآن شریف نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر جائز نہیں تو اب کسی پیشگوئی کے ایسے معنے کرنا جو اس اصولی تعلیم کے خلاف ہوں ہرگز درست نہیں ہو سکتا۔ عقلاً بھی آپ نے بتایا کہ جبر کا طریق نہ صرف فتنہ و فساد کا طریق ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں کبھی بھی دلوں کی اصلاح جو دین کی اصل غرض و غایت ہے حاصل نہیں ہو سکتی۔
    آپ نے فرمایا کہ بے شک جہاد کا مسئلہ سچا اور برحق ہے مگر اصل جہاد نفس کا جہاد اور تبلیغ کا جہاد ہے۔ اور تلوار کا جہاد صرف ان حالات میں جائز ہے جبکہ کوئی قوم اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنے کے لئے ان کے خلاف تلوار اٹھائے۔ اس صورت میں بے شک ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ امام وقت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر اسلام سے اس خطرہ کو دور کرے اور تلوار کا جواب تلوار سے دے۔ مگر یونہی غازی نام رکھ کر کفار کو مارتے پھرنا یا لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار اٹھانا اسلام کی تعلیم اور اسلام کی روح اور اسلام کی غرض و غایت سے اسی طرح دور ہے جس طرح ایک بوسیدہ روئیدگی کی بُو تازہ پھولوں کی خوشبو سے دور ہوتی ہے۔
    موجودہ زمانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ اس وقت نہ صرف وہ حالات موجود نہیں جن میں جہاد بالسیف جائز ہوتا ہے بلکہ خدانے اپنے مسیح کو بھیج کر اس زمانہ میں امن کا سفید جھنڈا بلند کیا ہے ۔ پس جو شخص اب بھی خونی جہاد کے خیالات کو ترک نہیں کرے گا اس کے لئے ذلت اور ناکامی مقدر ہے۔ فرماتے ہیں :۔
    ایسا گماں کہ مہدیٔ خونی بھی آئے گا
    اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا
    اے غافلو یہ باتیں سراسر دروغ ہیں
    بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں
    فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰ
    عیسٰی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا
    جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا
    جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
    یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
    وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
    اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے
    کافی ہے سوچنے کواگر اہل کوئی ہے
    وفات مسیح اور عدم رجوع موتی ٰ :۔ ایک اور غلط عقیدہ جس کی حضرت مسیح موعود ؑ نے اصلاح
    فرمائی وہ حضرت مسیح ناصری کی حیات کا عقیدہ تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح ناصری فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے ان کو صلیب کے واقعہ سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ آخری زمانہ میں زمین پر دوبارہ نازل ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا کہ یہ عقیدہ بالکل غلط اور باطل ہے بلکہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل کر کشمیر کی طرف آگئے تھے اور وہیں ایک سو بیس سال کی عمر میں اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے۔
    اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ خیال اگر حضرت مسیح ناصری فوت بھی ہو چکے ہیں تو پھر بھی خدا انہیں دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں واپس لے آئے گا بالکل غلط اور خلاف منشاء اسلام ہے کیونکہ قرآن و حدیث صراحت کے ساتھ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ کوئی شخص ایک دفعہ مر کر پھر اس دنیا میں دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آسکتا بلکہ دوسری زندگی کے لئے آخرت کا گھر مقرر ہے اس مضمون کی بحث بھی چونکہ اوپر گزر چکی ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔
    معراج کی حقیقت:۔ مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ یہ عقیدہ رکھتا تھا اور رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ
    معراج کی رات اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے گئے تھے اور وہاں سارے آسمانی طبقوں کی سیر کر کے زمین پر واپس تشریف لائے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس خیال کی بھی تردید فرمائی اور ثابت کیا کہ بے شک معراج برحق ہے اور آنحضرت ﷺ آسمان پر ضرور تشریف لے گئے مگر آپ کا یہ صعود اس جسم عنصری کے ساتھ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت لطیف قسم کا روحانی کشف تھا جس میں آپ کا جسم مبارک اس کرہ ارض سے جدا نہیں ہوا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا کہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کا خیال بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے چنانچہ قرآنی بیان کے علاوہ ایک صحیح حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے کہ آسمانوں کی سیر کے بعد آنحضرت ﷺ نیند سے بیدار ہو گئے اور یہ بھی ذکر آتا ہے کہ معراج کی رات میں آنحضرت ﷺ کا جسم مبارک اپنی جگہ سے جدا نہیں ہوا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے تشریح فرمائی کہ اس قسم کے خیالات کی طرف وہی لوگ جھکتے ہیں جو عجوبہ پسندی اور شعبدہ بازی کے شائق ہوتے ہیں حالانکہ اسلام کی غرض شعبدہ بازی نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی اور روحانی اصلاح ہے۔ بے شک لوگوں میں یقین پیدا کرنے کے لئے معجزات کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن معجزات بھی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہر حال جس چیز کے متعلق قرآن شریف اور حدیث نے صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ روحانی چیز تھی اسے خواہ نخواہ کھینچ کر مادی اور سفلی میدان میں لانے کی کوشش کرنا کسی طرح درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ معراج کے کشف میں آئندہ کے لئے بعض نہایت لطیف پیشگوئیاں تھیں اور گویا تصویری زبان میں آنحضرت ﷺ کو اپنی اور اپنی امت کی آئندہ ترقیات کا نظارہ دکھایا گیا تھا مگر افسوس ہے کہ دنیا کے کوتہ بینوں نے اسے اس کے اعلیٰ اور اشرف مقام سے گرا کر محض ایک شعبدہ قرار دے دیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھابلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفسِ ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔ پس چونکہ آنحضرت ﷺ کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورۂ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے۔ سو درحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔ میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفیٰ اور اجلیٰ ہوتی ہے اوراس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے اس جگہ زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ ۱؎
    معجزات کی حقیقت :۔ ایک اور لطیف انکشاف جو خدائے علیم نے حضرت مسیح موعود ؑ کے ذریعہ
    ظاہر فرمایا وہ معجزات کے متعلق ہے۔ اس بارے میں مسلمانوں کے عقائد اور خیالات میں ایسی ایسی فضول باتیں داخل ہو گئی تھیں کہ انہیں سن کر نہ صرف شرم آتی ہے بلکہ ان سے دین اور ایمان کی غرض و غایت پر ہی پانی پھر جاتا ہے۔ مسلمانوں نے مختلف نبیوں اور ولیوں کی طرف ایسے ایسے معجزات منسوب کر رکھے تھے اور کر رکھے ہیں جن کا کوئی ثبوت قرآن شریف یا حدیث یا کتب سابقہ یا تاریخ میں نظر نہیں آتا اور بعض صورتوں میں استعارہ اور مجاز والے کلام کو حقیقت پر محمول کر کے فرضی معجزوں کا وجود گھڑ لیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس بارے میں نہایت لطیف بحث فرمائی اور جہاں ایک طرف معجزات کے وجود کو برحق قرار دیا وہاں دوسری طرف ان قصوں اور کہانیوں کو ردی کی طرح پھینک دیا جو بعد کے خوش عقیدہ لوگوں کے تخیل نے اپنے پاس سے بنا لئے تھے آپ نے آیات و معجزات کے متعلق ایسے پختہ اصول بیان فرمائے جن سے اس اہم مگر پیچدار مسئلہ پر گویا ایک چمکتا ہواسورج طلوع کر آیا۔
    آپ نے فرمایا کہ معجزہ برحق ہے بلکہ ایمان کو زندہ اور تروتازہ رکھنے کے لئے معجزہ ایک ضروری چیز ہے کیونکہ یہ معجزہ ہی ہے جو انسان کو عقلی دلائل کی دور آمیز فضا سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے مگر اس کے لئے خدا کی طرف سے چند شرائط ضروری اور لازمی کر دی گئی ہیں جنہیں نظر انداز کر کے اصلی اور فرضی معجزہ میں تمیز باقی نہیں رہتی۔ سب سے پہلے تو آپ نے یہ فرمایا کہ معجزہ کو سمجھنے کے لئے ایمان کی حقیقت کا سمجھنا ضروری ہے۔ آپ نے تشریح فرمائی کہ ایمان کی ابتداء ہمیشہ تاریکی اور نور کی سرحد سے شروع ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ ایمان کے ابتدائی مراحل میں ایک خفیف تاریکی کا پردہ حائل رہے اور بالکل روشنی کی صورت نہ پیدا ہو ۔ اگر ایمان کی ابتداء کامل روشنی سے ہو تو ایمان کی غرض و غایت باطل چلی جاتی ہے اور ایمان لاناموجب ثواب نہیں رہتا کیونکہ ایک بدیہی اور بین چیز کو ماننا کسی طرح قابل تعریف نہیں سمجھا جا سکتا۔ مثلاً کوئی شخص اس بات پر تعریف اور انعام کا مستحق نہیں بن سکتا کہ اس نے دن چڑھنے پر سورج کو دیکھ لیا ہے یا اسے چودھویں رات کا چاند نظر آگیا ہے پس ایمان کی ابتدائی حالت میں ایک پہلو تاریکی کا ہونا ضروری ہے مگر یہ بادل کا سا سایہ اس حد تک نہیں ہونا چاہئے کہ ایک عقلمند اور غیر متعصب انسان کو خواہ نخواہ تاریکی کی طرف لے جاوے بلکہ صرف اس حد تک ہونا چاہئے کہ اندھے اور بینا اور عقلمند اور بے وقوف میں تمیز پیدا کر دے اور دیکھنے والے کو تعریف اور انعام کا مستحق بنا دے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ اگر ایک نبی مبعوث ہوتے ہی اس قسم کے معجزات دکھانا شروع کر دے کہ قبروں پر جا کر آواز دے اور اس آواز پر قبروں کے مردے نکل کر باہر آجائیں۔ اور اپنے دشمنوں کی طرف اشارہ کرے اور وہ مرکر زمین میں جا گریں۔ اور اگر شخص اس پر حملہ کرنے آوے تو وہ لوگوں کے دیکھتے دیکھتے آسمان پر چڑھ جاوے وغیرہ وغیرہ تو ظاہر ہے کہ اس قسم کے حالات میں کوئی شخص بھی ایسے نبی کا منکر نہیں رہ سکتا اور ایمان کا معاملہ ایک بے سود چیز بن جاتا ہے پس پہلی شرط معجزات کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان میں ایک قسم کا سایہ یعنی دھندلاپن موجود ہو اور کامل روشنی کی صورت نہ پیدا ہو۔
    دوسری شرط حضرت مسیح موعود نے یہ بیان فرمائی کہ معجزات میں کوئی بات خدا تعالیٰ کی سنت اور اس کے وعدہ کے خلاف نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اگر ایسا ہو تو خدا پر حرف آنے کے علاوہ دین کے معاملہ میں ساری امان اٹھ جاتی ہے اور کوئی بات بھی پختہ اور قابل تسلی نہیں رہتی۔ مثلاً اگر ایک طرف خدا تعالیٰ اپنے کسی نبی کو یہ تعلیم دے کہ کوئی حقیقی مردہ اس دنیا میں زندہ ہو کر واپس نہیں آسکتا اور دوسری طرف اسی نبی کے ہاتھ پر وہ مردوں کو زندہ کرنا شروع کر دے تو اس سے دین میں ایک ایسا فساد عظیم برپا ہو جائے گا کہ کوئی امن کی صورت باقی نہیں رہے گی اور خدا جو ہر صدق و راستی کا منبع ہے خود اسی کی صداقت معرض شک میں پڑ جائے گی۔ پس دوسری شرط حضرت مسیح موعود نے معجزات کے متعلق یہ بیان فرمائی کہ ان میں کوئی بات خدا تعالیٰ کی کسی سنت یا اس کے کسی وعدے کے خلاف نہیںہونی چاہئے۔
    دوسری طرف معجزہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی معجزہ معجزہ ہی نہیں کہلا سکتا کہ وہ ایسے حالات کے ماتحت ظہور پذیر ہو کہ نبی کے مخالفوں کو حقیقۃً عاجز کر دے اور وہ اس کی نظیر لانے سے قاصر رہیں کیونکہ اگر یہ شرط نہ پائی جاوے تو پھر معجزہ کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہتا او راس کی ساری غرض و غایت باطل چلی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ معجزہ کی ضرورت اسی لئے پیش آتی ہے کہ تا خداتعالیٰ دنیا پر یہ ظاہر کر دے کہ ہمارا یہ بندہ ہماری نصرت اور تائید کے ساتھ کھڑا ہوا ہے اور یہ کہ یہ نصرت اور تائید اس کے مخالفوں کو حاصل نہیں ہے۔ پس ضروری ہے کہ معجزہ میں کوئی نہ کوئی ایسی خارق عادت بات پائی جاوے جو نبی کے مخالفوں کو عاجز کر دے گویا حضرت مسیح موعود ؑ نے معجزہ کے لئے تین شرائط ضروری قرار دیں :۔
    اوّل یہ کہ اس میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو جو دوسروں کو نبی کے مقابل پر عاجز کر دے اور اس کی تہ میں خدا کا ہاتھ نظر آئے۔
    دوم یہ کہ اس میں کوئی بات ایسی نہ ہو جو نبی کی سچائی کو روز روشن کی طرح ظاہر کر دے اور تاریکی کا کوئی پہلو بھی باقی نہ رہے بلکہ اس کا کوئی نہ کوئی پہلو ایسا رہنا چاہئے کہ ایک شخص جو اسے صحیح اور کھلی ہوئی نظر کے ساتھ دیکھنے کے لئے تیار نہیں شک میں مبتلا رہے۔
    سوم یہ کہ اس میں کوئی بات خدا تعالیٰ کی سنت اور وعدہ کے خلاف نہ ہو۔
    یہ شرائط ایسی معقول اور قرآن و حدیث کے ایسی مطابق تھیں کہ انہوں نے اس پیچیدہ مسئلہ پر گویا ایک سورج چڑھا دیا اور ان دونوں قسم کے لوگوں کا منہ بند کر دیا جن میں سے ایک تو نئی روشنی سے متاثر ہو کر معجزات کے وجود سے بالکل ہی منکر ہو رہا ہے اور دوسرا ہر قسم کے فرضی اور خلاف عقل اور خلاف سنت معجزات کو سچ سمجھ کر سینہ سے لگائے بیٹھا ہے اور بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ دونوں قسم کے گروہ مسلمانوں میں کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں یعنی ایک گروہ وہ ہے جو معجزات کے معاملہ میں ہر قسم کے رطب ویا بس کے ذخیرہ کو سچا سمجھ رہا ہے اور اس گروہ کے لئے معجزہ کی کوئی حدود نہیں اور دوسرا گروہ وہ ہے جو دہریت کے مخفی اثر کے نیچے آکر معجزہ کے وجود سے ہی منکر ہو گیا ہے اور صرف خشک فلسفیانہ باتوں پر دین کی بنیاد رکھتا ہے حضرت مسیح موعود ؑ نے ان دونوں گروہوں کی تردید فرما کر ایک نہایت سچا اور وسطی رستہ کھول دیا۔
    معجزات کی اس تشریح کے ماتحت جماعت احمدیہ جہاں سچے اور ثابت شدہ معجزات کی دل و جان سے قائل ہے وہاں ان تمام فرضی معجزات کو رد کرتی ہے جو لوگوں نے حضرت مسیح ناصری یا سید عبدالقادر صاحب جیلانی یا دوسرے مذہبی بزرگوں کی طرف منسوب کر رکھے ہیں۔ مثلاً یہ کہ حضرت مسیح نے سینکڑوں مردوں کو ان کی قبروں میں سے اٹھا کر کھڑا کر دیا۔ یا حقیقی اور واقعی طور پر اندھے لوگوں کو ہاتھ لگا کر بینا بنا دیا۔ یا مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک ماری اور وہ زندہ ہو کر خدا کے بنائے ہوئے پرندوں سے مل جل گئے۔ یا جب ان کے مخالفوں نے انہیں پکڑ کر صلیب پر لٹکانا چاہا تو وہ جھٹ حلیہ بدل کر آسمان کی طرف اڑ گئے یا یہ کہ حضرت سید عبدالقادر صاحب نے ایک کئی سال کی ڈوبی ہوئی کشتی کو دریا سے باہر نکال کر اس کے مردوں کو از سر نو زندگی دے دی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب خوش عقیدگی کے قصے ہیں جن میں کچھ بھی حقیقت نہیں سوائے اس کے کہ بعض صورتوں میں استعارہ کے کلام کو حقیقت پر محمول کر لیا گیا ہے۔
    حضرت مسیح موعود ؑ نے معجزات کے متعلق اپنی تصنیفات میں کئی جگہ بحث فرمائی ہے مگر ہم اس جگہ اختصار کے خیال سے صرف ایک اقتباس کے درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ ایمان اس حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ ایک بات مِن وجہٍ ظاہر ہو اور مِن وجہٍ پوشیدہ بھی ہو۔ یعنی ایک باریک نظر سے اس کا ثبوت ملتا ہو اور اگر باریک نظر سے نہ دیکھا جائے تو سرسری طور پر حقیقت پوشیدہ رہ سکتی ہولیکن جب سارا پردہ ہی کھل گیا تو کون ہے کہ ایسی کھلی بات کو قبول نہیں کرے گا ۔ سو معجزات سے وہ امور خارق عادت مراد ہیں جو باریک اور منصفانہ نظر سے ثابت ہوں اور بجز مؤیدان الٰہی دوسرے لوگ ایسے امور پر قادر نہ ہو سکیں۔ اسی وجہ سے وہ امور خارق عادت کہلاتے ہیں مگر بدبخت ازلی ان معجزانہ امور سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے … ……… درحقیقت معجزات کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو۔ مگر وہ شخص جو شب کور ہو جو رات کو کچھ نہیں دیکھ سکتا اس کے لئے یہ چاندنی کچھ مفید نہیں۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس دنیا کے معجزات اسی رنگ سے ظاہر ہوں جس رنگ سے قیامت میں ظہور ہو گا۔ مثلاً دو تین سو مردے زندہ ہو جائیں اور بہشتی پھل ان کے پاس ہوں اور دوزخ کی آگ کی چنگاریاں بھی پاس رکھتے ہوں اور شہر بہ شہر دورہ کریں اور ایک نبی کی سچائی پر جو قوم کے درمیان ہو گواہی دیں اور لوگ ان کو شناخت کرلیں کہ درحقیقت یہ لوگ مر چکے تھے اور اب زندہ ہو گئے ہیں اور وعظوں اور لیکچروں سے شور مچا دیں کہ درحقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے سچا ہے۔ سو یاد رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے اور جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اس کوسنت اللہ کا علم نہیں۔ اگر ایسے معجزات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پردے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی ثواب باقی نہ رہتا۔ یاد رہے کہ معجزہ صرف حق اور باطل میں فرق دکھلانے کے لئے اہل حق کو دیا جاتا ہے اور معجزہ کی اصل غرض صرف اس قدر ہے کہ عقل مندوں اور منصفوں کے نزدیک سچے اور جھوٹے میں ایک مابہ الامتیاز قائم ہو جائے۔ ‘‘ ۱؎
    جنت و دوزخ کی حقیقت :۔ جنت و دوزخ کی حقیقت کے متعلق مذاہب میں بڑا اختلاف
    ہے اور مسلمانوں نے بھی جنت و دوزخ کا ایک عجیب و غریب نقشہ بنا رکھا ہے جو قرآن شریف اور حدیث کے مفہوم کو غلط سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ عام مسلمانوں میں جو تصور جنت و دوزخ کا پایا جاتا ہے وہ موٹے طور پر یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اچھے یا برے اعمال بجا لاتا ہے جن کے نتیجہ میں موت کے بعد اسے انعام یا سزا کی صورت میں اجر ملے گا۔ انعام اس صورت میں ہو گا کہ انسان کو علیٰ قدر مراتب بڑے بڑ ے خوبصورت اور شاداب باغوں میں رکھا جائے گا جن میں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہوں گی اور طرح طرح کے شیریں پھل ہوں گے اور انسان کی خدمت کے لئے مستعد نوجوان لڑکے اور چست و چاق نوجوان لڑکیاں مقرر ہوں گی اور جنت میں کوئی پہلو غم اور تکلیف کا نہیں ہو گا اور انسان کو ایک ابدی اور دائمی خوشی کی زندگی نصیب ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ اس کے مقابل پر دوزخ کی سزا اس صورت میں ہو گی کہ موت کے بعد گندے لوگوں کو ایک ایسی جگہ میں رکھا جائے گا جس کے اندر اور جس کے چاروں طرف خطرناک آگ کے شعلے بلند ہوں گے جس کا ایندھن پتھروں اور گندھک کی قسم کے آتشیں مادوں سے تیار کیا جائے گا اور طرح طرح کے زہریلے اور موذی جانور انسان پر حملہ کر کے اسے کاٹیں گے اور کھانے پینے کے لئے اسے کڑوی اور تکلیف دہ چیزیں دی جائیں گی اور اسی حالت میں اچھے لوگ جنت میں اور خراب لوگ دوزخ میں ہمیشہ کے لئے زندگی گزاریں گے۔
    یہ وہ نقشہ ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں جنت و دوزخ کے متعلق جگہ پائے ہوئے تھا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے علم پا کر بتایا کہ بے شک قرآن و حدیث میں بظاہر ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جو فی الجملہ اس نقشہ کے مؤید ہیں لیکن یہ نقشہ جنت و دوزخ کی اصلی تصویر نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ صرف بطور استعارہ استعمال کئے گئے ہیں جن کے پیچھے ایک اور حقیقت مخفی ہے۔ اسی لئے جہاں ایک طرف قرآن شریف نے جنت و دوزخ کی تمثیل میں اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہاں قرآن شریف تاکید اور صراحت کے ساتھ یہ بھی فرماتا ہے کہ لَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۱؎ ’’ یعنی کوئی انسان نہیں جانتا کہ اگلے جہان میں نیک لوگوں کے لئے کیا کچھ آنکھ کی ٹھنڈک کا سامان مخفی رکھا گیا ہے۔ ‘‘ اور حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ۲؎ ’’یعنی جنت کی نعمتیں وہ ہیں کہ نہ انہیں کبھی کسی انسان کی آنکھ نے دیکھا نہ کسی انسان کے کانوں نے ان کا حال سنا اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کا تصور گذرا ۔ ‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ جو نقشہ قرآن شریف اور حدیث میں آخرت کی زندگی کا بتایا گیا ہے وہ ایک محض تمثیلی نقشہ ہے اور بیان کردہ الفاظ کو ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں۔ کیونکہ اگر یہ درست ہے کہ جنت میں یہی ظاہری نہریں اور یہی ظاہری پھل ہوں گے تو پھر یہ بیان غلط قرار پاتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کو نہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا اور نہ کبھی کسی کے دل میں ان کا تصور آیا۔ پس حضرت مسیح موعود ؑ نے بڑی سختی کے ساتھ جنت و دوزخ کے معروف اور مشہور نقشے کو رد فرمایا اور فرمایا کہ چونکہ جنت و دوزخ کی چیزیں ایسی ہیں کہ اس دنیا میںانسان ان کا تصور تک دل میں نہیں لا سکتا اس لئے خدا نے انسانی ادراک کے مطابق ایک محض تمثیلی نقشہ بیان کر دیا ہے مگر اصل حقیقت اور ہے جو اس تمثیل کے پیچھے مخفی ہے ان حالات میں یہ ہرگز درست نہیں ہو گا کہ قرآن و حدیث کے بعض الفاظ کے ظاہری معنے لے کر جنت و دوزخ کا تصور قائم کیا جاوے۔
    مگر حضرت مسیح موعود ؑ نے صرف اس قدر مجمل بیان پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ قرآن شریف کی دوسری آیات سے استدلال پکڑ کر اگلے جہان کی زندگی کا ایک ایسا نقشہ پیش فرمایا کہ جس سے علم کا ایک بالکل ہی نیا دروازہ کھل گیا۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف کی متعدد آیات سے معلوم ہوا ہے کہ آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی کا ہی ایک تسلسل ہے اور کوئی آزاد اور جداگانہ زندگی نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ انسان اس دنیا میں اچھے یا برے عمل کرے اور پھر مرنے کے بعد اچانک پردہ اٹھ کر اس کے لئے ایک نئے نظارہ اور نئے ماحول کا آغاز شروع ہو جاوے۔ بلکہ اسلام نے آخرت کی زندگی کو اسی دنیوی زندگی کا پَرتَو اور نتیجہ قرار دیا ہے ۔آپ نے فرمایا کہ جو اچھا یا برا عمل انسان اس زندگی میں کرتا ہے وہ اس کے ساتھ ایک نہایت مخفی در مخفی رنگ میں بطور سایہ کے پیوست کر دیا جاتا ہے اور پھر مرنے کے بعد یہ مخفی سایہ آہستہ آہستہ ایک نظر آنے والی حقیقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ گویا انسان کا ہر عمل ایک مخفی بیج ہے اور آخرت کا انعام یا سزا اس بیج سے پیدا شدہ درخت ہے جو آخرت میں کھلے طور پر ظاہر ہو کر نظر آنے لگے گا۔ اس تشریح کے ماتحت حضرت مسیح موعود نے بیان فرمایا کہ یہ جو مثلاً جنت میں پھلوں کا ذکر آتا ہے یہ کوئی نئے پھل نہیں ہیں جو اگلے جہان میں آزادانہ طور پر پیدا ہوں گے بلکہ یہ انہی اعمال کا ثمرہ یا مجسمہ ہیں جو ایک انسان اس دنیا میں بجا لاتا ہے مثلاً ایک انسان خدا کی رضا کی خاطر نماز پڑھتا ہے اور اسے اس عبادت میں ایک خاص قسم کی روحانی لذت محسوس ہوتی ہے تو اب آخرت کی زندگی میں یہی روحانی لذت اس کے لئے جسمانی اور ظاہری صورت اختیار کر کے ایک پھل کی شکل میں اس کے سامنے آجائے گی جسے کھا کر وہ اسی قسم کی ظاہری لذت پائے گا جو وہ دنیا میں نماز ادا کر کے روحانی رنگ میں پاتا تھا مگر درجہ اور کیفیت میں اس سے بہت بڑھ چڑھ کر ۔ اسی طرح جو روحانی لذت ایک مومن روزہ میں پاتا ہے وہ آخرت میں ایک دوسری قسم کے پھل کی صورت اختیار کر کے اسے جسمانی رنگ میں حاصل ہو گی وعلیٰ ہذا القیاس اس فلسفہ کی تہ میں نکتہ یہ ہے کہ اس دنیا کی روح آخرت کا جسم ہے یعنی جو روح اس دنیا میں انسان کو ملتی ہے وہ آخرت میں جا کر اس کے لئے جسم بن جائے گی اور اس جسم کے اندر سے ایک اور لطیف جو ہر ترقی پاکر اس روحانی جسم کے لئے روح بن جائے گا اس طرح اس دنیا کی روحانی لذتیں آخرت میں جسمانی لذتوں کی صورت اختیار کر لیں گی۔
    بہر حال حضرت مسیح موعود ؑ نے قرآن شریف کی آیات سے ثابت کیا کہ جنت و دوزخ کے انعام یا سزائیں کوئی جداگانہ چیزیں نہیں بلکہ دنیا کی زندگی ہی کے اچھے یا برے اعمال کا پَرتَو ہیں جو آخرت میں مجسم صورت اختیار کر کے ظاہر ہو گا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی اس لطیف تشریح نے جو قرآنی آیات پر مبنی تھی نہ صرف اسلام کے مقدس چہرہ پر سے اس گندے اعتراض کو دور کر دیا کہ اسلام ایک جسمانی لذات والی جنت پیش کرتا ہے بلکہ اخروی زندگی کا نقشہ ہی بدل دیا اور اس کی جگہ ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ نقشہ جو اپنے اندر ایک بالکل طبعی کیفیت رکھتا ہے دنیا کے سامنے آگیا ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ اس دن (یعنی آخرت میں) ہمارے اعمال اور اعمال کے نتائج جسمانی طور پر ظاہر ہوں گے اور جو کچھ ہم اس عالم سے مخفی طور پر ساتھ لے جائیں گے وہ سب اس دن ہمارے چہرہ پر نمودار نظر آئے گا۔ ……خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۱؎ یعنی کوئی نفس نیکی کرنے والا نہیں جانتا کہ وہ کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس کے لئے مخفی ہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے ان تمام نعمتوں کو مخفی قرار دیا جن کا دنیا کی نعمتوں میں نمونہ نہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم پر مخفی نہیں ہیں اور دودھ اور انار اور انگور وغیرہ کو ہم جانتے ہیں اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں اور ہیں اور ان کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔ پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔ اس آیت کی شرح میں جو ابھی میں نے ذکر کی ہے ہمارے سید و مولا نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ بہشت اور اس کی نعمتیں وہ چیزیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں کبھی گذریں حالانکہ ہم دنیا کی نعمتوں کو آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں او رکانوں سے بھی سنتے ہیں اور دل میں بھی وہ نعمتیں گزرتی ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    پھر فرماتے ہیں :۔
    ’’ قاعدہ کلی کے طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ موت کے بعد جو حالتیں پیش آنی ہیں قرآن شریف نے انہیں تین قسم پر منقسم کیا ہے اور عالم معاد کے متعلق یہ تین قرآنی معارف ہیں جن کو ہم جدا جدا اس جگہ ذکر کرتے ہیں :۔
    اوّل یہ دقیقہ معرفت ہے کہ قرآن شریف بار بار یہی فرماتا ہے کہ عالم آخرت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے تمام نظارے اسی دنیوی زندگی کے اظلال و آثار ہیں جیسا کہ فرماتا ہے وَکُلُّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنَاہُ طَائِرُہٗ فِیْ عُنُقِہٖ وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَابًا یَّلْقَاہُ مَنْشُوْرًا ۲؎ یعنی ہم نے اس دنیا میں ہر ایک شخص کے اعمال کا اثر اس کی گردن سے باندھ رکھا ہے اور انہی پوشیدہ اثروں کو ہم قیامت کے دن ظاہر کر دیں گے اور ایک کھلے کھلے اعمال نامہ کی شکل پر دکھا دیں گے …………
    دوسرا دقیقہ معرفت جس کو عالم معاد کے متعلق قرآن شریف نے ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ عالم معاد میں وہ تمام امور جو دنیا میں روحانی تھے جسمانی طور پر متمثل ہوں گے۔ …… اس بارے میں جو کچھ خدائے تعالیٰ نے فرمایا اس میں سے ایک آیت یہ ہے وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہِٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلًا ۱؎ یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہو گا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہو گا۔ اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس جہان کی روحانی نابینائی اس جہان میں جسمانی طور پر مشہود اور محسوس ہو گی ………
    تیسرا دقیقہ معرفت کا یہ ہے کہ عالم معاد میں ترقیات غیر متناہی ہوں گی …… ……تنزل کبھی نہیں ہو گا اور نہ کبھی بہشت سے نکالے جائیں گے بلکہ ہر روز آگے بڑھیں گے۔……
    اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف کی رو سے دوزخ اوربہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں۔ کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔ یہ سچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں درحقیقت گندھک کے پتھر ہیں بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت و دوزخ انہی اعمال کے انعکاسات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔ ‘‘ ۲؎
    اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ تعلیم دی کہ گو جنت کا انعام دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہو گا مگر دوزخ کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ ایک لمبے زمانہ کے بعد ختم ہو جائے گا کیونکہ اسلامی تشریح کے مطابق دوزخ صرف ایک عذاب خانہ ہی نہیں بلکہ ایک رنگ کا ہسپتال بھی ہے جس میں ہر روحانی مریض اپنی مرض کی شدت کے مطابق وقت گزار کر بالآخر خدا کی رحمت سے حصہ پائے گا اور دوزخی لوگ آہستہ آہستہ دوزخ کو خالی کر کے جنت کی طرف منتقل ہوتے جائیں گے۔
    فرماتے ہیں :۔
    ’’ قرآن شریف میں خدا فرماتا ہے اِلَّا مَاشَائَ رَبُّکَ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد ۱؎ یعنی دوزخی لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نہ وہ ہمیشگی جو خداکو ہے بلکہ دور دراز مدت کے لحاظ سے۔ پھر خدا کی رحمت دستگیر ہو گی کیونکہ وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور اس آیت کی تشریح میں ہمارے سیدو مولا نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث بھی ہے اور وہ یہ ہے یَاتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْھَا اَحَدٌ وَنَسِیْمُ الصَّبَا تُحَرِّکُ اَبْوَابَھَا یعنی جہنم پر ایک وہ زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہ ہو گا اور نسیم صبا اس کے کواڑوں کو ہلائے گی۔‘‘۲؎
    اسلامی فرقوں کے باہمی اختلافات :۔ موجود الوقت مسلمانوں میں بہت سے فرقے
    پائے جاتے ہیں جن کی تعداد ایک حدیث نبوی کی رو سے بہتر (۷۲) تک پہنچتی ہے مگر موٹے طور پر دیکھا جاوے تو مسلمانوں کے اندرونی فرقوں کی تقسیم اس طرح پر ہے کہ ایک بڑا فرقہ اہل سنت و الجماعت کا ہے اور دوسرا فرقہ شیعہ اصحاب کا ہے۔ پھر اہل سنت میں یہ تقسیم ہے کہ ایک فرقہ اہل فقہ یعنی مقلدین کا ہے اور دوسرا اہل حدیث کا ہے اور تیسرا اہل تصوف یعنی اہل طریقت کا ہے۔ اس طرح موٹے طور پر یہ چار فرقے بنتے ہیں یعنی اہل فقہ ۔ اہل حدیث۔ اہل تصوف اور شیعہ ۔
    حضرت مسیح موعود ؑ نے ان فرقوں کے متعلق بھی اپنی تصنیفات میں متعدد جگہ تبصرہ فرمایا ہے خلاصہ جس کا یہ ہے کہ اپ نے شیعہ اصحاب کو اس بات میں سخت غلطی پر قرار دیا کہ انہوں نے خلافت راشدہ سے انکار کر کے اور صحابہ کی پاک جماعت پر طعن کی زبان کھول کر اسلام میں ایک سخت رخنہ پیدا کر دیا ہے اور کئی باتوں میں سنت نبوی سے منحرف ہو کر گویا ایک نئی عمارت کھڑی کر دی ہے۔ اہل سنت کے تین مشہور فرقوں میںسے آپ ہر اک میں کئی جہت سے خوبیاں تسلیم فرماتے تھے مگر فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر اک فرقہ بعض پہلوئوں سے جادہ صواب سے منحرف ہو گیا ہے۔ مثلاً اہل فقہ نے تقلید میں ایسا اندھا دھند طریق اختیار کر لیا ہے کہ وہ اپنے مقررہ امام کے قول کے خلاف قرآن و حدیث تک کاکوئی استدلال سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اور اہل حدیث نے یہ غلطی کی ہے کہ اجتہاد کے دروازے کو بالکل ہی وسیع کر دیا ہے اور جو واجبی وزن علماء اور ائمہ کے اقوال کو ہونا چاہئے اس سے بھی انہیں محروم کر دیا ہے۔ بلکہ بعض صورتوں میں ائمہ کرام کی ہتک کا طریق اختیار کیا ہے اور اہل تصوف کے متعلق فرماتے تھے کہ یہ آہستہ آہستہ شریعت کے ظاہر سے ہٹ کر بعض بدعتوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے حضرت مسیح موعود ؑ ان جملہ فرقوں کی بہت سی خوبیوں کو تسلیم فرماتے تھے اور شیعہ اور سنی ہر دو فرقوں کے بزرگوں کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔
    جماعت احمدیہ کی عملی اصلاح :۔ یہ وہ عقائد ہیں جن پر حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے حکم پا کر
    سلسلہ احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ ان کے علاوہ بعض اور عقائد بھی ایسے ہیں جن میں جماعت احمدیہ اوردوسرے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے مگر زیادہ اہم اور زیادہ معروف عقائد یہی ہیں جو ہم نے اوپر وبیان کر دئیے ہیں۔ اگر احمدیت کے ان مخصوص عقائد کو اسلام کی مشترک اور مسلم تعلیم کے ساتھ ملا کر دیکھا جاوے تو جماعت احمدیہ کے اصولی عقائد کا ایک اجمالی نقشہ مکمل ہو جاتا ہے اور اسی لئے ہم نے سابقہ باب میں اسلامی تعلیم کا ڈھانچہ بھی درج کر دیا ہے تا کہ احمدیت کی تصویر کا وہ عقبی منظر جس پر قدرت کے ہاتھ نے یہ جدید نقوش قائم کئے ہیں ہمارے ناظرین کے سامنے رہے اور وہ تحریک احمدیت کے وسیع میدان پر ایک مجموعی نظر ڈال کر صحیح رائے قائم کر سکیں۔
    مگر کوئی مذہبی سلسلہ صرف عقائد کی اصلاح تک اپنے کام کو محدود نہیں رکھ سکتا کیونکہ مذہب کی بڑی غرض و غایت اعمال کی اصلاح ہے اور دنیا میں کوئی قوم کامل ترقی حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ عقائد کے ساتھ ساتھ اعمال کی بھی اصلاح نہ کرے اور الحمد للہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی تعلیم اور روحانی تاثیر کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ نے اس میدان میں بھی غیر معمولی نمونہ پیش کیا ہے۔
    میں یہ نہیں کہتا کہ ہم میں کوئی شخص بھی کمزور نہیں۔ بے شک ہم میں بعض لوگ کمزور ہیں لیکن بعض کا کمزور ہونا جماعت کی مجموعی حیثیت کوگرا نہیں سکتا۔ ایک اعلیٰ سے اعلیٰ مدرسہ کی اچھی سے اچھی کلاس میں بھی سب طالب علم ایک سے نہیں ہوتے۔ پس دیکھنا یہ چاہئے کہ بحیثیت مجموعی کسی جماعت کا کیا حال ہے اور یقینا اس معیار کے مطابق جماعت احمدیہ کا مقام دوسری تمام جماعتوں سے نمایاں طور پر بلند و بالا ہے۔ عبادات میں ،معاملات میں ،قربانی میں ،تبلیغی جوش میں جماعت احمدیہ نے ایک حیرت انگیز ترقی کی ہے جس کی مثال اس زمانہ میں کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔
    عبادات میں یہ حال ہے کہ وہ لوگ جو پہلے کبھی فرض نماز تک کے قریب نہیں جاتے تھے اب وہ ایسے نمازی بن گئے ہیں کہ اگر ان سے کبھی تہجد کی نفلی نماز بھی رہ جاوے تو گھنٹوں ان کے دل پر غم کا بوجھ رہتا ہے۔ جو لوگ رمضان کے مبارک مہینہ میں ایک روزہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ اب وہ رمضان کے علاوہ بھی سال میں کئی کئی دن نفلی روزے رکھتے ہیں اور پھر بھی ان کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ اسی طرح دوسری عبادتوں کا حال ہے۔
    معاملات میں بھی ایک غیر معمولی تغیر نظر آتا ہے جو لوگ کئی کئی قسم کی کمزوریوں میں مبتلا تھے اور انصاف کا خون کرنا اور دوسروں کے حقوق غضب کرنا ان کا شیوہ تھا اب وہ بالکل ہی نئے انسان بن گئے ہیں اور وفاداری اور انصاف اور دیانت ان کا امتیازی نشان ہے ۔ ہزاروں لوگ جو احمدیت سے پہلے طرح طرح کی کمزوریوں کا شکار تھے اب وہ عملاً ولیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ ان معاملات میں نام لے کر مثالیں دینا اچھا نہیں ہوتا مگر ناظرین کو اس بات کا اندازہ کرانے کے لئے کہ احمدیت نے کیا تغیر پیدا کیا ہے میں اس جگہ دو مثالیں بغیر نام لینے کے بیان کرتا ہوں۔ ایک صاحب ضلع سیالکوٹ پنجاب کے رہنے والے ہیں وہ سرکاری ملازمت میں تھے اور احمدیت سے پہلے انہوں نے حسب دستور زمانہ لوگوں سے بے دریغ رشوت لی۔ مگر جب خدا نے انہیں احمدیت سے مشرف کیا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی تعلیم کے ماتحت اس کمزوری کو نہ صرف یکدم ترک کر دیا بلکہ جن جن لوگوں سے رشوت لی تھی ان سب کے گھروں پر جا جا کر ان سے معافی مانگی اور رشوت کا سارا روپیہ واپس کیا اور جب اپنی پونجی ختم ہو گئی تو جدی جائیداد فروخت کر کے حساب بے باق کیا۔ ایک اور صاحب ضلع گجرات کے تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں۔ یہ صاحب احمدیت سے پہلے اپنے علاقہ کے مشہور ڈاکو اور رہزن تھے اور جتھوں میں ہو کر نہایت دلیرانہ وارداتیں کیا کرتے تھے لیکن احمدیت کے بعدان میں ایسا تغیر آیا کہ میں نے خود انہیں ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ ان کی زبان پر اکثر خدا اور اس کے رسول کا ذکر رہتا تھا اور اپنا اکثر وقت عبادت اور خدمت دین میں گزارتے تھے۔
    مالی قربانی کا یہ حال ہے کہ جن لوگوں کو احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے خدا کی راہ میں ایک پیسہ تک خرچ کرنا دو بھر تھا اب وہ اس رستہ میں پانی کی طرح روپیہ بہاتے ہیں اور اس قربانی میں انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ جماعت کے اکثر افراد پابندی کے ساتھ اپنی کل آمد کا دسواں حصہ خدا کے رستے میں دیتے ہیں اور بہت ہیں جو پانچواں یا تیسرا حصہ دیتے ہیں اور بعض یقینا اس سے بھی زیادہ دیتے ہیں۔ یہ باتیں محض قیاسی نہیں بلکہ جماعت کے چندوں کے رجسٹرات سے ان کا ثبوت مل سکتا ہے اور میں یہ بات خوش عقیدگی سے نہیں کہتا بلکہ ذاتی علم کی بنا پر ایک حقیقت بیان کرتا ہوں کہ جماعت کا کثیر حصہ ایسا ہے جس کے لئے وہ مال جو وہ دین کے رستے میں خرچ کرتا ہے اس مال سے بہت زیادہ خوشی کا موجب ہوتا ہے جو وہ اپنے لئے رکھتا ہے۔
    یہی حال جان کی قربانی کا ہے۔ جماعت احمدیہ کا ہر مخلص فرد دین کی خاطر اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے اور اس وقت کے لئے بے تاب ہے جب اسے دین کے رستے میں خدا کی آواز پر لبیک کہنا پڑے۔ ہندوستان میں تو ملکی حالات کی وجہ سے ایسے موقعے نہیں پیش آئے لیکن بعض بیرونی حکومتوں میں کئی احمدی اپنے عقائد کی وجہ سے جان سے مار دئیے گئے ہیں اور انہوں نے اس قربانی کو خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ کابل کی حکومت میں جماعت کے دو معزز افراد کو احمدیت کی وجہ سے زمین میں کمر تک دفن کر کے اوپر سے پتھر برسائے گئے مگر انہوں نے خدا کی حمد کے گیت گاتے ہوئے جان دی اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی لغزش نہیں کھائی۔
    تبلیغی جوش کا یہ عالم ہے کہ ہر مخلص احمدی ایک پر جوش مبلغ ہے او رتبلیغ کو اپنا ایک مقدس فرض سمجھتا ہے۔ عالم ہے تو وہ مبلغ ہے ان پڑھ ہے تو وہ مبلغ ہے۔ بچہ ہے تو وہ مبلغ ہے بوڑھا ہے تو وہ مبلغ ہے۔ مرد ہے تو وہ مبلغ ہے عورت ہے تو وہ مبلغ ہے۔ غرض ہر مخلص احمدی اپنی سمجھ او ربساط کے مطابق اس پیغام حق کو پھیلانے میں مصروف ہے جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دنیا تک پہنچا ہے اور یہ تبلیغی جدوجہد ان کثیر التعداد منظم مشنوں کے علاوہ ہے جو جماعت احمدیہ کی زیر نگرانی دنیا کے مختلف حصوں میں قائم ہیں۔ یقینا یہ نقشہ ایک عظیم الشان عملی تبدیلی کا ثبوت ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ کی روحانی تاثیر نے جماعت احمدیہ میں پیدا کی ہے اور اگر حضرت مسیح ناصری کا یہ قول درست ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو لاریب حضرت مسیح موعود ؑ کے شیریں پھل نے بتا دیا ہے کہ یہ درخت بندوں کا نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ اپنی جماعت کے متعلق فرماتے ہیں :۔
    ’’ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے ہزارہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزارہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنی فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے ۔ ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جائو تو وہ دست بردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔ پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگر دل میں خوش ہوں۔ ‘‘ ۱؎
    یہ ایک حسن ظنی اور خود بینی کی رائے نہیں تھی جو ایک امام نے اپنی جماعت کے لئے خود قائم کر لی ہو بلکہ غیر لوگ اور دشمن تک جماعت احمدیہ کی اس تبدیلی کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ مسٹر محمد اسلم جرنلسٹ لکھتے ہیں :۔
    ’’ اس جماعت کے اکثر افراد بمقابلہ باقی اسلامی فرقوں کے زہد و تقویٰ میں بہت بڑھے ہوئے ہیں اور ان میں اسلام کی محبت کا جوش ایک صادقانہ پہلو لئے ہوئے ہے۔ …… قرآن مجید کے متعلق جس قدر صادقانہ محبت اس جماعت میں میں نے دیکھی کہیں نہیں دیکھی …… جو کچھ میں نے احمدی قادیان میں جا کر دیکھا وہ خالص اور بے ریا توحید پرستی تھی۔ ‘‘ ۲؎
    مسٹر فریڈرک جرمن سیاح لکھتے ہیں :۔
    ’’ قادیان دہلی اور آگرہ کی طرح شاندار عمارات کا مجموعہ نہیں لیکن ایک ایسی جگہ ہے جس کے روحانی خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہاں ہر دن جو گزارا جائے انسان کی روحانیت میں اضافہ کرتا ہے …… میں نے ایشیا میں ایک لمبا سفر کیا ہے اور بہت مقامات دیکھے ہیں۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں دوبارہ دیکھنے کی خواہش نہیں۔ بعض ایسے ہیں جنہیں پھر دیکھنے کو دل چاہتا ہے اور ایسے مقامات میں قادیان کا نمبر سب سے اوّل ہے۔ ‘‘ ۳؎
    پادری ایچ کریمر امریکن مشنری لکھتے ہیں :۔
    ’’ مسلمانوں میں صرف یہی جماعت ہے جسکا واحد مقصد تبلیغ اسلام ہے ۔ اگرچہ ان کی طرز تبلیغ میں کسی قدر سختی پائی جاتی ہے تا ہم ان لوگوں میں قربانی کی روح اور تبلیغ اسلام کا جوش اور اسلام کے لئے سچی محبت کو دیکھ کر دل سے بے اختیار تعریف نکلتی ہے … میں جب قادیان گیا تو میں نے دیکھاکہ وہاں کے لوگ اسلامی جوش میں اور اسلام کی آئندہ کامیابی کی امیدوں سے سرشار ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    مشہور عالم پادری زویمر نے جب قادیان کو دیکھا تو اس کے اداروں کا معائنہ کر کے یہ رائے ظاہر کی کہ :۔
    ’’ یہ ایک اسلحہ خانہ ہے جو غیر ممکن کو ممکن ثابت کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ راسخ الاعتقادی کا یہ عالم ہے کہ وہ پہاڑوں کو جنبش دینے والی ہے۔ ‘‘ ۲؎
    اخبار تیج دہلی میں ایک جوشیلے آریہ سماجی نے لکھا :۔
    ’’ تمام دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ٹھوس اور مسلسل تبلیغی کام کرنے والی طاقت صرف احمدیہ جماعت ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم سب سے زیادہ اسی کی طرف سے غافل ہیں …… بلامبالغہ احمدیہ تحریک ایک خوفناک آتش فشاں پہاڑ ہے جو بظاہر اتنا خوفناک معلوم نہیں ہوتا مگر اس کے اندر ایک تباہ کن اور سیال آگ کھول رہی ہے جس سے بچنے کی کوشش نہ کی گئی تو کسی وقت موقعہ پا کر ہمیں بالکل جھلس دے گی۔ ‘‘ ۳؎


    احمدیت کی غرض و غایت
    جماعت احمدیہ کے عقاید بیان کرنے کے بعد ہم احمدیت کی غرض و غایت کے متعلق ایک مختصر نوٹ ہدیۂ ناظرین کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب کے شروع میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ احمدیت کی بنیادی غرض و غایت اسلام کی تجدید اور اسلام کی خدمت اور اسلام کی اشاعت ہے مگر موجودہ باب میں احمدیت کی غرض و غایت سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ کن خیالات کی اشاعت چاہتا ہے اور کس طریق کو قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس جگہ احمدیت کی غرض و غایت سے اس کا منتہیٰ اور مقصد اور اس مقصد کے حصول کا طریق مراد ہے۔
    سو اس تعلق میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ احمدیت کسی سوسائٹی کا نام نہیں ہے جو ایک اصلاحی پروگرام کے ماتحت قائم کی گئی ہو اور نہ ہی وہ دنیا کے نظاموں میں سے ایک نظام ہے جس کا مقصد کسی خاص سکیم کا اجرا ہو بلکہ وہ ایک خالصۃً الٰہی تحریک ہے جو اسی طریق اور اسی منہاج پر قائم کی گئی ہے جس طرح قدیم سے الٰہی سلسلے قائم ہوتے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب دنیا کے لوگ اپنے خالق و مالک کو بھلا کر اور اپنی پیدائش کی غرض و غایت کی طرف سے آنکھیں بند کر کے دنیا کی باتوں میں منہمک ہو جاتے ہیں اور قرب الٰہی کی برکات سے محروم ہو کر اس اخلاقی اور روحانی مقام سے نیچے گر جاتے ہیں جس پر خدا انہیں قائم رکھنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے کسی پاک بندے کو مبعوث کر کے انہیں پھر اپنی طرف اٹھاتا ہے اور ان کے اخلاق اور ان کے تہذیب و تمدن کو ایک نئے قالب میں ڈھال کر ایک جدید نظام کی بنیاد قائم کر دیتا ہے۔ یہ اسی قسم کا انقلاب ہوتا ہے جس طرح کہ حضرت موسیٰ ؑ کے وقت میں ہوا یا جس طرح حضرت مسیح ناصری کے وقت میں ظہور میں آیا یا جس طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں رونما ہوا کہ خدا نے ان مقدس نبیوں کے ذریعہ ایک بیج بوکر بالآخر اسی بیج کے نتیجہ میں دنیا کی کایا پلٹ دی۔ پس حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت بھی کسی اصلاحی سوسائٹی کے قیام کی صورت میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایک وقتی دنیوی نظام کا رنگ رکھتی ہے بلکہ وہ ایک جدید اور مستقل الٰہی نظام کی داغ بیل ہے جس کے لئے یہ مقدر ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سارے نظاموں کو مغلوب کر کے دنیا کو ایک نئی صورت میں ڈھال دے گا۔
    یہ نظام ملکی اور قومی حدود میں مقید نہیں (کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت اپنے مخدوم نبی کی طرح ساری دنیا کے لئے تھی) بلکہ تمام ملکوں اور سب قوموں اور سارے زمانوں کے لئے وسیع ہے اور جو انقلاب احمدیت کے پیش نظر ہے وہ دو پہلو رکھتا ہے۔ اوّل خدا تعالیٰ کے ساتھ بندوں کے تعلق کو ایک نئی بنیاد پر قائم کر دینا جس میں خدا تعالیٰ کا وجود ایک خیالی فلسفہ نہ ہو بلکہ ایک زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر لے اور انسان کا اپنے خالق و مالک کے ساتھ سچ مچ پیوند ہو جاوے۔ دوسرے بندوں بندوں کا باہمی تعلق بھی ایک نئے قانون کے ماتحت نیا رنگ اختیار کر لے جس میں حقیقی مساوات اور انصاف اور تعاون اور ہمدردی کی روح کا قوام ہو۔ یہ تبدیلی اسلامی تعلیم کے ماتحت اور اسی کے مطابق عمل میں آئے گی مگر اس کا اجرا اسی رنگ میں ہو گا جس طرح کہ تمام الٰہی سلسلوں میں ہوتا چلا آیا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کا ایک الہام اس انقلاب کا خوب نقشہ کھینچتا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حالت کشف میں دیکھا کہ میرے اندر خدا حلول کر گیا ہے اور میرا کچھ باقی نہیں رہا بلکہ سب کچھ خدا کا ہو گیا ہے اور گویا میں خدا بن گیاہوں اور پھر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ :۔
    ’’ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    اس کشفی الہام سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت اپنے اندر ایک نہایت اہم اور نہایت وسیع غرض و غایت رکھتی ہے اور وہ غرض و غایت یہی ہے کہ دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر اس کی جگہ ایک بالکل نیا نظام قائم کر دیا جاوے۔ اس کشف میں آسمان سے مراد حقوق اللہ ہیں اور زمین سے مراد حقوق العباد ہیں۔ یعنی حضرت مسیح موعود ؑ کے ذریعہ جو انقلاب مقدر ہے وہ لوگوں کے دین اور دنیا دونوں پر ایک سا اثر انداز ہو گا اور گویا اس جہان کا آسمان بھی بدل جائے گا اور زمین بھی بدل جائے گی او رآسمان اور زمین کے الفاظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ تبدیلی ملکی اور قومی نہیں ہو گی بلکہ جس طرح یہ آسمان اور یہ زمین سارے جہان کے لئے وسیع ہیں اور سب پر حاوی ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ کے ذریعہ ایک عالمگیر انقلاب پیدا ہو گا جس سے دنیا کا کوئی ملک اور دنیا کی کوئی قوم باہر نہیں رہے گی ۔ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس وقت اندھی دنیا ہمارے اس دعویٰ پر ہنستی ہے اور ایک زمانہ تک ہنستی رہے گی مگر مستقبل بتا دے گا کہ خدا کے فضل سے یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:۔
    ’’ میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ‘‘ ۱؎
    الغرض حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت کی غرض و غایت اور منتہیٰ یہ ہے کہ تجدید اسلام اور اشاعت اسلام کے کام کو اس رنگ میں مکمل کیا جاوے کہ دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہو جاوے اور دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ تہذیب و تمدن کے نام و نشان کو مٹا کر صحیح اسلامی نظام او رصحیح اسلامی تہذیب کو قائم کیا جاوے تا کہ یہ دنیا جو اب مردہ روحانیت اور گندی تہذیب کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہی وہ ایک نئی زمین اور نئے آسمان کے نیچے آکر پھر بہشت کا نمونہ بن جاوے۔ دنیا اس دعویٰ پر بے شک جتنی چاہے ہنسی اڑائے اور اس کے رستہ میں جتنی چاہے روکیں ڈالے مگر حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا
    یعنی یہ ایک خدائی تقدیر ہے جو ہر حال میں ہو کر رہے گی۔


    خلافت کا نظام اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کا عہدِ خلافت
    اُوپر کے ابواب میں ہم سلسلہ احمدیہ کی تعلیم اور احمدیت کی غرض و غایت کا ایک مختصر نقشہ ہدیہ ناظرین کر چکے ہیں۔ یہ نقشہ حضرت مسیح موعودؑ کے سوانح حیات کے معاً بعد درج کیا جانا ضروری تھا تا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے خداداد مشن کی پوری پوری تصویر یکجا طور پر ناظرین کے سامنے آجائے۔ اس کے بعد ہم پھر سلسلہ احمدیہ کے تاریخی پہلو کی طرف عود کر کے ان حالات کو بیان کرنا چاہتے ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کے بعد جماعت کو پیش آئے۔ مگر اس سے پہلے نظام خلافت کے متعلق ایک مختصر نوٹ درج کرنا بے جا نہ ہو گا۔
    خلافت کا نظام :۔ قرآن شریف کی تعلیم اور سلسلہ رسالت کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ
    جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی رسول اور نبی کو بھیجتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ ایک آدمی دنیا میں آئے اور ایک آواز دے کر واپس چلا جاوے۔ بلکہ ہر نبی اور رسول کے وقت خداتعالیٰ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک تغیر او رانقلاب پیدا کرے جس کے لئے ظاہری اسباب کے ماتحت ایک لمبے نظام اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ ایک آدمی کی عمر بہر حال محدود ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ نبی کے ہاتھ سے صرف تخم ریزی کا کام لیتا ہے اور اس تخم ریزی کو انجام تک پہنچانے کے لئے نبی کی وفات کے بعد اس کی جماعت میں سے قابل اور اہل لوگوں میں یکے بعد دیگرے اس کے جانشین بنا کر اس کے کام کی تکمیل فرماتاہے۔ یہ جانشین اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کہلاتے ہیں کیونکہ خلیفہ کے معنے پیچھے آنے والے اور دوسرے کی جگہ قائم مقام بننے والے کے ہیں۔ یہ سلسلہ خلافت قدیم زمانہ سے ہر نبی کے بعد ہوتا چلا آیا ہے چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد یوشع خلیفہ ہوئے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد پطرس خلیفہ ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے بلکہ آنحضرت ﷺ کے بعد یہ سلسلہ خلافت تمام سابقہ نبیوں کی نسبت زیادہ شان اور زیادہ آب و تاب کے ساتھ ظاہر ہوا۔ اس نظام خلافت میں نبی کے کام کی تکمیل کے علاوہ ایک حکمت یہ بھی مدنظر ہوتی ہے کہ تا جو دھکا نبی کی وفات کے وقت نبی کی نئی نئی جماعت کو لگتا ہے جو ایک ہولناک زلزلہ سے کم نہیں ہوتا اس میں جماعت کو سنبھالنے کا انتظام رہے۔ پس ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے وقت میں بھی خدا کی یہ قدیم سنت پوری ہو چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔
    ’’ خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ …… وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا ۔ کچھ میرے ہاتھ سے کچھ میرے بعد۔ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے…… اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے …… ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے …… غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے …… خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا …… ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا …… ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا …… سو اے عزیزو ! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے …… سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے… میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ ‘‘ ۱؎
    خلفاء کے تقرر اور ان کے مقام کے متعلق اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خلافت کا منصب کسی صورت میں بھی ورثہ میں نہیں آسکتا بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہے جو مومنوں کے انتخاب کے ذریعہ جماعت کے قابل ترین شخص کے سپرد کی جاتی ہے اور چونکہ نبی کی جانشینی کا مقام ایک نہایت نازک اور اہم روحانی مقام ہے اس لئے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ گو بظاہر خلیفہ کا انتخاب لوگوں کی رائے سے ہوتا ہے مگر اس معاملہ میں خدا تعالیٰ خود آسمان سے نگرانی فرماتا ہے اور اپنے تصرفِ خاص سے لوگوں کی رائے کو ایسے رستہ پر ڈال دیتا ہے جو اس کے منشاء کے مطابق ہو۔ اس طرح گو بظاہر خلیفہ کا تقرر انتخاب کے ذریعہ عمل میں آتا ہے مگر دراصل اس انتخاب میں خدا کی مخفی تقدیر کام کرتی ہے اور اسی لئے خدا نے خلفاء کے تقرر کو خود اپنی طرف منسوب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ خلیفہ ہم خود بناتے ہیں یہ ایک نہایت لطیف روحانی انتظام ہے جسے شاید دنیا کے لوگوں کے لئے سمجھنا مشکل ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ خلیفہ کا تقرر ایک طرف تو مومنوں کے انتخاب سے اور دوسری طرف خدا کی مرضی کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے اور خدائی تقدیر کی مخفی تاریں لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظورِ ایزدی کی طرف مائل کر دیتی ہیں۔ پھر جب ایک شخص خدائی تقدیر کے ماتحت خلیفہ منتخب ہو جاتا ہے تو اس کے متعلق اسلام کا حکم یہ ہے کہ تمام مومن اس کی پوری پوری اطاعت کریں اور خود اس کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ تمام اہم اور ضروری امور میں مومنوں کے مشورہ سے کام کرے اور گو وہ مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں بلکہ اگر مناسب خیال کرے تو مشورہ کو رد کر کے اپنی رائے سے جس طرح چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔ مگر بہر حال اسے مشورہ لینے اور لوگوں کی رائے کا علم حاصل کرنے کا ضرور حکم ہے۔
    اسلام میں یہ نظام خلافت ایک نہایت عجیب و غریب بلکہ عدیم المثال نظام ہے یہ نظام موجود الوقت سیاسیات کی اصطلاح میں نہ تو پوری طرح جمہوریت کے نظام کے مطابق ہے اور نہ ہی اسے موجودہ زمانہ کی ڈکٹیٹرشپ کے نظام سے تشبیہہ دے سکتے ہیں بلکہ یہ نظام ان دونوں کے بین بین ایک علیحدہ قسم کا نظام ہے ۔ جمہوریت کے نظام سے تو وہ اس لئے جدا ہے کہ جمہوریت میں صدر حکومت کا انتخاب میعادی ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کا انتخاب میعادی نہیں بلکہ عمر بھر کے لئے ہوتا ہے۔ دوسرے جمہوریت میں صدر حکومت بہت سی باتوں میں لوگوں کے مشورہ کا پابند ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کو مشورہ لینے کا حکم تو بے شک ہے مگر وہ اس مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔ بلکہ مصلحتِ عامہ کے ماتحت اسے رد کر کے دوسرا طریق اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ نظام ڈکٹیٹرشپ سے بھی مختلف ہے کیونکہ اول تو ڈکٹیٹرشپ میں میعادی اور غیر میعادی کا سوال نہیں ہوتااور دونوں صورتیں ممکن ہوتی ہیں دوسرے ڈکٹیٹر کو عموماً کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں حتی کہ وہ حسب ضرورت پرانے قانون کو بدل کر نیا قانون جاری کر سکتا ہے مگر نظام خلافت میں خلیفہ کے اختیارات بہر صورت شریعت اسلامی اور نبی متبوع کی ہدایات کی قیود کے اندر محدود ہیں۔ اسی طرح ڈکٹیٹر مشورہ لینے کا پابند نہیں مگر خلیفہ کومشورہ لینے کا حکم ہے۔
    الغرض خلافت کا نظام ایک نہایت ہی نادر اور عجیب و غریب نظام ہے جو اپنی روح میں توجمہوریت کے قریب تر ہے مگر ظاہری صورت میں ڈکٹیٹرشپ سے زیادہ قریب ہے۔ مگر وہ حقیقی فرق جو خلافت کو دنیا کے جملہ نظاموں سے بالکل جدا اور ممتاز کر دیتا ہے وہ اس کا دینی منصب ہے۔ خلیفہ ایک انتظامی افسر ہی نہیں ہوتا بلکہ نبی کا قائم مقام ہونے کی وجہ سے اسے ایک روحانی مقام بھی حاصل ہوتا ہے۔ وہ نبی کی جماعت کی روحانی اور دینی تربیت کا نگران ہوتا ہے اور لوگوں کے لئے اسے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے اور اس کی سنت سند قرار پاتی ہے۔ ۱؎
    پس منصب خلافت کا یہ پہلو نہ صرف اسے دوسرے تمام نظاموں سے ممتاز کر دیتا ہے بلکہ اس قسم کے روحانی نظام میں میعادی تقرر کا سوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔ خلافت کے نظام کے متعلق یہ مختصر اور اصولی نوٹ درج کرنے کے بعد ہم اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔۱؎
    جماعت احمدیہ میں پہلے خلیفہ کا انتخاب :۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات
    پر تمام جماعت نے متفقہ اور متحدہ طور پر حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی کو حضرت مسیح موعود ؑ کا خلیفہ اور جانشین منتخب کیا تھا۔ یہ ۲۷؍ مئی ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے۔ یہ تقرر اسلامی طریق پر انتخاب کی صورت میں ہوا تھا یعنی حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر قادیان اور بیرونجات کے جو احمدی جمع تھے اور ان میں جماعت کا چیدہ حصہ شامل تھا انہوں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود ؑ کا پہلا خلیفہ منتخب کر کے آپ کے ہاتھ پر اطاعت اور اتحاد کا عہد باندھا۔ اس انتخاب اور اس بیعت میں صدر انجمن احمدیہ کے جملہ ممبران اور حضرت مسیح موعود ؑ کے خاندان کے جملہ افراد اور تمام حاضرالوقت احمدی اصحاب شریک و شامل تھے اور کسی ایک فرد واحد نے بھی حضرت مولوی صاحب کی خلافت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی اور اس طرح حضرت مسیح موعود ؑ کے بعد نہ صرف جماعت احمدیہ کا بلکہ صدرانجمن احمدیہ کا بھی پہلا اجماع خلافت کی تائید میں ہوا۔
    حضرت مولوی نورالدین صاحب جو حضرت مسیح موعود ؑ کے رشتہ داروں میں سے نہیں تھے جماعت کے بزرگ ترین اصحاب میں سے تھے اور اپنے علم و فضل اور تقویٰ و طہارت میں جماعت کے اندرعدیم المثال حیثیت رکھتے تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی سب سے اوّل نمبر پر بیعت کی تھی اور حضرت مسیح موعود ؑ آپ کو اپنے خاص الخاص دوستوں اور محبوّں میں شمار کرتے تھے اور تمام جماعت احمدیہ میں آپ کا ایک خاص اثر اور رعب تھا حضرت مولوی صاحب دینی علم میں کامل ہونے کے علاوہ علم طب اور دیگر علوم مشرقیہ میں نہایت بلند پایہ رکھتے تھے اور قادیان آنے سے قبل مہاراجہ صاحب جموّں و کشمیر کے دربار میں بطور شاہی طبیب کام کر چکے تھے۔
    حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر جماعت احمدیہ نے پہلی بیعت حضرت مسیح موعود ؑ کے اس باغ میں کی تھی جو بہشتی مقبرہ کے قریب ہے اور وہیں حضرت مولوی صاحب کی قیادت میں حضرت مسیح موعود ؑ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بیعت کے بعد حضرت مولوی صاحب نے ایک نہایت مؤثراور درد انگیز تقریر فرمائی جس میں حضرت مسیح موعود کے بعد جماعت کو اس کی بھاری ذمہ داریاں یاد دلائیں اور فرمایا کہ ظاہری اسباب میں سے ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ جماعت اپنے اتحاد کو قائم رکھ کر اس عظیم الشان کام کو جاری رکھے جسے حضرت مسیح موعود ؑ نے شروع کر رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے خلیفہ بننے یا جماعت کو اپنے پیچھے لگانے کی کوئی خواہش نہیں تھی بلکہ میں چاہتا تھا کہ کوئی اور شخص اس بوجھ کو اٹھائے مگر اب جبکہ آپ لوگوں نے مجھے خلیفہ منتخب کیا ہے تو اس انتخاب کو خدا کی مرضی یقین کرتے ہوئے میں اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں لیکن یہ ضروری ہو گا کہ آپ لوگ میری پوری پوری اطاعت کریں تا کہ جماعت کے اتحاد میں فرق نہ آئے اور ہم سب مل کر اس کشتی کو آگے چلا سکیں جو خدا نے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ دنیا کے متلاطم سمندر میں ڈوبتے ہوئوں کو بچانے کے لئے ڈالی ہے۔
    جماعت پھر ایک جھنڈے کے نیچے :۔ قادیان کی بیعت خلافت کے بعد جوں جوں
    بیرونجات کی جماعتوں اور دوستوں کو حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات اور حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کی اطلاع پہنچی سب نے بلا استثناء اور بلا تامل حضرت خلیفہ اوّل کی اطاعت قبول کی اور ایک نہایت ہی قلیل عرصہ میں جماعت احمدیہ کا ہرمتنفس خلافت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا اور حضرت مسیح موعود ؑ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ :۔
    ’’ میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔‘‘ ۱؎
    یہ نظارہ سلسلہ احمدیہ کے دشمنوں کے لئے نہایت درجہ روح فرسا تھا جو حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کے بعد یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ بس اب اس سلسلہ کے مٹنے کاوقت آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو پھر ایک ہاتھ پر جمع کر کے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور دنیا کو بتا دیا کہ یہ پودا خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے اور کسی انسان کو طاقت نہیں کہ اسے مٹا سکے۔
    جماعت میں انشقاق کا بیج :۔ مگر جہاں حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر خدا نے اپنی قدیم
    سنت کے مطابق آپ کی گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال کر اپنی قدرت نمائی کا ثبوت دیا وہاں تقدیر کے بعض دوسرے نوشتے بھی پورے ہونے والے تھے۔ چنانچہ ابھی حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات پر ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ بعض لوگوں نے جن کے ہاتھ پر اس فتنہ کا بیج بونا مقدر تھا مخفی مخفی اور آہستہ آہستہ یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ دراصل حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ منشاء نہیں تھا کہ آپ کے بعدجماعت میں کسی واجب الاطاعت خلافت کا نظام قائم ہو بلکہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ سلسلہ کا سارا انتظام صدرانجمن احمدیہ کے ہاتھ میں رہے جس کی آپ نے اسی غرض سے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بنیاد رکھی تھی۔ پس اگر کسی خلیفہ کی ضرورت ہو بھی تو وہ صرف بیعت لینے کی غرض سے ہو گا اور انتظام کی ساری ذمہ داری صدر انجمن احمدیہ کے ہاتھ میں رہے گی۔
    اس سوال کی ابتداء صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبروں کی طرف سے ہوئی تھی جن میں مولوی محمدعلی صاحب ایم اے ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز قادیان اور خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی لاہور زیادہ نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ان اصحاب اور ان کے رفقاء نے خفیہ خفیہ اپنے دوستوں اور ملنے والوں میں اپنے خیالات کو پھیلانا شروع کر دیا اور ان کی بڑی دلیل یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی وصیت میں خلافت کا ذکر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی ایک غیر مطبوعہ تحریر میں صدر انجمن احمدیہ کے حق میں اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میرے بعد اس انجمن کا فیصلہ قطعی ہو گا وغیر ذالک ۔ دلوں کا حال تو خدا جانتا ہے مگر ظاہری حالات پر اندازہ کرتے ہوئے اس سوال کے اٹھانے والوں کی نیت اچھی نہیںسمجھی جا سکتی تھی کیونکہ :۔
    اوّل جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے اس سوال کے اٹھانیوالے صدر انجمن احمدیہ ہی کے بعض ممبر تھے اور یہ ظاہر ہے کہ انجمن کے طاقت میں آنے سے خود ان کو طاقت حاصل ہوتی تھی۔
    دوم حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کے بعد صدر انجمن احمدیہ اپنے سب سے پہلے فیصلہ میں اتفاق رائے کے ساتھ یہ قرار دے چکی تھی کہ جماعت میں ایک واجب الاطاعت خلیفہ ہونا چاہئے۔ ۱؎ پس اگر بالفرض حضرت مسیح موعود ؑ کی کسی تحریر کا یہ منشاء تھا بھی کہ میرے بعد انجمن کا فیصلہ قطعی ہوگا تو صدر انجمن احمدیہ خلافت کے حق میں فیصلہ کر کے خود خلافت کو قائم کر چکی تھی اور جن اصحاب نے اب خلافت کے خلاف سوال اٹھایا تھا وہ سب اس فیصلہ میں شریک تھے اور اس کے مؤید و حامی تھے۔ پس اس جہت سے بھی یہ نیا پراپیگنڈا ایک دیانتداری کا فعل نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔
    سوم یہ بات قطعاً غلط تھی کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں کیا بلکہ جیسا کہ ہم الوصیت کا ایک اقتباس اوپر درج کر چکے ہیں حضرت مسیح موعود ؑ نے صراحت اور تعیین کے ساتھ خلافت کا ذکر کیا تھا بلکہ حضرت ابوبکر کی مثال دے کر بتایا تھا کہ ایسا ہی میرے سلسلہ میں ہو گا اور یہ تصریح کی تھی کہ میرے بعد نہ صرف ایک خلیفہ ہو گا بلکہ خلافت کا ایک لمبا سلسلہ چلے گا اور متعدد افراد قدرتِ ثانیہ کے مظہر ہوں گے۔ پس ایسی صراحت کے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کس طرح دیانتداری پر مبنی سمجھا جا سکتا تھا کہ الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں ۔
    چہارم غالباًسب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس سوال کے اٹھانے والوں نے کھلے طور پر اس سوال کو نہیں اٹھایا بلکہ حضرت خلیفہ اوّل سے مخفی رکھ کر خفیہ خفیہ پراپیگنڈہ کیا جو یقینا اچھی نیت کی دلیل نہیں ہے۔
    مندرجہ بالا وجوہات سے ظاہرہوتا ہے کہ ان اصحاب کی نیت صاف نہیں تھی اور یہ ساری کوشش محض اپنے آپ کو طاقت میں لانے یا کسی دوسرے کی ماتحتی سے اپنے آپ کو بچانے کی غرض سے تھی ان کا یہ عذر کہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے اور ہم سلسلہ کے اندر جمہوری نظام قائم کرنا چاہتے ہیں یا تو محض ایک بہانہ تھا اور یا پھر یہ اس بات کی دلیل تھی کہ یہ اصحاب سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہو جانے کے باوجود سلسلہ کی اصل غرض و غایت اور اس کے مقصد و منتہیٰ سے بے خبر تھے اور اسے ایک محض دنیوی نظام سمجھ کر دنیا کے سیاسی قانون کے ماتحت لانا چاہتے تھے گویہ علیحدہ بات ہے کہ دنیا کا سیاسی قانون بھی کلی طور پر جمہوریت کے حق میں نہیں ہے۔ پس اس فتنہ کے کھڑا کرنے والوں نے ایک نہایت بھاری ذمہ داری کو اپنے سر پر لیا اور خدا کی برگزیدہ جماعت میں انشقاق و افتراق کا بیج بویا۔ اور اپنے نفسوں کو گرانے کی بجائے خدا کی قدیم سنت اور اسلام کے صریح حکم اور حضرت مسیح موعود ؑ کی واضح تعلیم کو پسِ پُشت ڈال دیا۔ ممکن ہے کہ یہ اصحاب اپنی جگہ اپنی نیت کو اچھا سمجھتے ہوں اور دھوکا خوردہ ہوں اور ہم بھی اس بات کے مدعی نہیں کہ ہم نے ان کا دل چیر کر دیکھا ہے مگر ان ٹھوس حالات میںجو اوپر بیان کئے گئے ہیں دھوکا خوردہ ہونے کی صورت میں بھی ان کی بدقسمتی کا بوجھ کچھ کم نہیں ہے۔ اے کاش وہ ایسا نہ کرتے !!!
    جب ان خیالات کا زیادہ چرچا ہونے لگا اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ تک سارے حالات پہنچے تو آپ نے جماعت میں ایک فتنہ کا دروازہ کھلتا دیکھ کر اس معاملہ کی طرف فوری توجہ فرمائی اور ۳۱ ؍ جنوری ۱۹۰۹ء بروز اتوار جماعت کے سرکردہ ممبروں کو قادیان میں جمع کر کے مسجد مبارک میں ایک تقریر فرمائی جس میں مسئلہ خلافت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈال کر جماعت کو بتایا کہ اصل چیز خلافت ہی ہے جو نظام اسلامی کا ایک اہم اور ضروری حصہ ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات سے بھی خلافت ہی کا ثبوت ملتا ہے اور صدر انجمن احمدیہ ایک عام انتظامی انجمن ہے جسے خلافت کے منصب سے کوئی تعلق نہیں اور پھر یہ کہ خود انجمن بھی اپنی سب سے پہلی قرار داد میں خلافت کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس موقعہ پر آپ نے حاضرین کو جن میں منکرین خلافت کے سرکردہ اصحاب شامل تھے نصیحت بھی فرمائی کہ دیکھو حضرت مسیح موعود ؑ کے اس قدر جلد بعد جماعت میں اختلاف اور انشقاق کا بیج نہ بو اور جس جھنڈے کے نیچے تمہیں خدا نے جمع کر دیا ہے اس کی قدر کرو۔
    آپ کی یہ تقریر اس قدر دردناک اور رقت آمیز تھی کہ اکثر حاضرین بے اختیار ہو کر رونے لگے اور منکرین خلافت نے بھی معافی مانگ کر اپنے آپ کو پھر خلافت کے قدموں پر ڈال دیا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان اصحاب کی اندرونی بیماری اس سے بہت زیادہ گہری تھی جو سمجھی گئی تھی کیونکہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی ظاہر ہوا کہ مؤیدین انجمن کا مخفی پراپیگنڈا بدستور جاری ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ زوروں میں ہے۔ چونکہ یہ لوگ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر چکے تھے اور اس سے پیچھے ہٹنا مشکل تھا اس لئے اب آہستہ آہستہ انہوں نے یہ بھی کہنا شروع کیا کہ ہمیں حضرت مولوی صاحب کی امامت پر تو اعتراض نہیں ہے اور وہ اپنی ذاتی قابلیت اور ذاتی علم و فضل سے ویسے بھی واجب الاحترام اور واجب الاطاعت ہیں مگر ہمیں اصل فکر آئندہ کا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد کیا ہو گا کیونکہ ہم مولوی صاحب کے بعد کسی اور شخص کی قیادت کو خلافت کی صورت میں قبول نہیں کر سکتے۔ افسوس ہے کہ ان کا یہ عذر بھی دیانتداری پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا تھا کیونکہ جیسا کہ متعدد تحریری شہادات سے ثابت ہے ان اصحاب نے اپنے خاص الخاص حلقہ میں خود حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی ذات کے خلاف بھی پراپیگنڈا شروع کر رکھا تھا مگر بہر حال اس وقت ان کا ظاہر قول یہی تھا کہ ہمیں اصل فکر آئندہ کا ہے کہ پیچھے تو جو کچھ ہونا تھا ہو گیا اب کم از کم آئندہ یہ خلافت کا سلسلہ جاری نہ رہے۔
    اس قول میں ان کا اشارہ حضرت مسیح موعود ؑ کے بڑے صاحبزادے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب (موجودہ امام جماعت احمدیہ) کی طرف تھا جن کی قابلیت اور تقویٰ طہارت کی وجہ سے اب آہستہ آہستہ لوگوں کی نظریں خودبخود اس طرف اٹھ رہی تھیں کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد وہی جماعت کے خلیفہ ہوں گے ۔ اس کے بعد سے گویا منکرین خلافت کی پالیسی نے دہرا رخ اختیار کر لیا۔ اوّل یہ کہ انہوں نے اس بات کا پراپیگنڈا جاری رکھا کہ جماعت میں اصل چیز انجمن ہے نہ کہ خلافت۔ دوم یہ کہ انہوں نے ہر رنگ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو نیچا کرنے اور جماعت میںبدنام کرنے کا طریق اختیار کر لیا۔ تا کہ اگر جماعت خلافت کے انکار کے لئے تیار نہ ہو تو کم از کم وہ خلیفہ نہ بن سکیں۔ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے بار بار حلف اٹھا کر کہا کہ میرے وہم و گمان میں بھی خلیفہ بننے کا خیال نہیں ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے آئندہ خلیفہ کا ذکر کرنا ہی ناجائز اور خلاف تعلیم اسلام ہے پس خدا کے لئے اس قسم کے ذاتی سوالات کو اٹھا کر جماعت کی فضا کو مزید مکدر نہ کرو مگر ان خدا کے بندوں نے ایک نہ سنی اور حضرت مولوی صاحب کی زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے اس دہرے پراپیگنڈے کو جاری رکھا۔ بلکہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے خلاف بھی اپنے خفیہ طعنوں کے سلسلہ کو چلاتے چلے گئے۔
    اس عرصہ میں حضرت خلیفہ اوّل نے بھی متعدد موقعوں پرخلافت کی تائید میں تقریریں فرمائیں اور طرح طرح سے جماعت کو سمجھایا کہ خلافت ایک نہایت ہی بابرکت نظام ہے جسے اسلام نے ضروری قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ اس نظام کے ذریعہ نبی کے کام کو مکمل فرمایا کرتا ہے اور ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی رہی ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی اپنے بعد خلافت کا وعدہ فرمایا تھا اور یہ کہ گو بظاہر خلیفہ کا تقرر مومنوں کے انتخاب سے ہوتا ہے مگر دراصل اسلامی تعلیم کے ماتحت خلیفہ خدا بناتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اب جب سلسلہ احمدیہ میں خلافت کا نظام عملاً قائم ہو چکا ہے اور تم ایک ہاتھ پر بیعت کر چکے ہو تو اب تم میں یا کسی اور میں یہ طاقت نہیں ہے کہ خداکی مشیت کے رستے میں حائل ہو اور فرمایا کہ جو قمیض مجھے خدا نے پہنائی ہے وہ میں اب کسی صورت میں اتار نہیں سکتا۔ مگر افسوس کہ منکرین خلافت کا پراپیگنڈا ایسی نوعیت اختیار کر چکا تھا کہ ان پر کسی دلیل کااثر نہیں ہوا اور بظاہر حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے خلافت کے خلاف اپنی خفیہ کارروائیوں کو جاری رکھا۔ لیکن حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی تقریروں سے ایک عظیم الشان فائدہ ضرور ہو گیا اور وہ یہ کہ جماعت کا کثیر حصہ خلافت کی اہمیت اور اس کی برکات اور اس کے خداداد منصب کو اچھی طرح سمجھ گیا اور ان گم گشتگان راہ کے ساتھ ایک نہایت قلیل حصہ کے سوا اور کوئی نہ رہا۔ اور جب ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات ہوئی تو بعد کے حالات نے بتا دیا کہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی مسلسل اور ان تھک کوششوں نے جماعت کو ایک خطرناک گڑھے میں گرنے سے محفوظ کر رکھا ہے ۔ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد کا یہ ایسا جلیل القدر کارنامہ ہے کہ اگر اس کے سوا آپ کے عہد میں کوئی اور بات نہ بھی ہوتی تو پھر بھی اس کی شان میں فرق نہ آتا۔
    خلافت کے سوال کے علاوہ منکرین خلافت نے جماعت میں آہستہ آہستہ یہ سوال بھی پیدا کر دیا تھا کہ کیا حضرت مسیح موعود ؑ پر ایمان لانا ضروری ہے؟ اور کیا حضرت مسیح موعود ؑ نے واقعی نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ پر ایمان لانا اچھا تو ہے مگر ضروری نہیں اور ایک مسلمان آپ پر ایمان لانے کے بغیر بھی نجات پا سکتا ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف مجددیت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا تھا ہم جماعت احمدیہ کے مخصوص عقائد کے باب میں ان مسائل پر کافی روشنی ڈال چکے ہیں اور اس جگہ اس بحث کے اعادہ کی ضرورت نہیں مگر اس تبدیلی عقیدہ کی وجوہات اور اس کے نتائج کے متعلق ہم انشاء اللہ آگے چل کر روشنی ڈالیں گے جبکہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد جماعت کے عملی افتراق کی بحث آئے گی کیونکہ اسی وقت ان تبدیل شدہ عقیدوں کا پورا ظہور ہوا۔
    قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ :۔ چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت کی اغراض میں سے
    ایک غرض قرآنی علوم کی اشاعت تھی اس لئے جماعت احمدیہ میں قرآن شریف کو سمجھنے اور پھر اس کے علوم کو دوسروں تک پہنچانے کی طرف خاص توجہ تھی اور حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے درس قرآن نے اس شوق کو اور بھی جلا دے دی تھی چنانچہ کئی احمدیوں نے قرآن شریف کی تفسیر لکھنے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے رنگ میں اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان کو کامیاب کیا انہی کوششوں میں سے ایک کوشش مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی تھی۔ مولانا موصوف سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک جید عالم ہیں اور حضرت مسیح موعود ؑ کے خاص صحابہ میں شامل ہیں انہوں نے صدر انجمن احمدیہ کے انتظام کے ماتحت حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک تفسیر اردو میں لکھنی شروع کی اور یہ کام حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے زمانہ میں بھی جاری رہا۔ یہ تفسیر بہت مفصل تھی مگر افسوس ہے کہ قریباً آٹھ پاروں کی تفسیر شائع ہو جانے کے بعد صدر انجمن احمدیہ اس مفید کام کو جاری نہیں رکھ سکی۔
    اسی زمانہ میں یعنی حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے عہد خلافت کے اوائل میں صدر انجمن احمدیہ نے مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے کو مقرر کیا کہ وہ قرآن شریف کا انگریزی میں ترجمہ کریں اور اس کے ساتھ مختصر تفسیری نوٹ بھی لکھیں تا کہ یہ ترجمہ ممالک مغربی میں شائع کیا جا سکے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف نے کئی سا ل لگا کر اور کافی محنت اٹھا کر ایک انگریزی ترجمہ تیار کیا اور تفسیری نوٹوں کی تیاری میں حضرت خلیفہ اوّل ؓ سے جو ایک عدیم المثال مفسر قرآن تھے کافی امداد لی مگر پیشتر اس کے کہ یہ کام تکمیل کو پہنچتا حضرت خلیفہ اوّل کی وفات ہو گئی اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی مرکز سلسلہ سے کٹ کر لاہور چلے گئے۔ اور گو اس ترجمہ کے جملہ مصارف صدر انجمن احمدیہ نے برداشت کئے تھے اور صدر انجمن احمدیہ بدستور قادیان میں قائم تھی مگر لاہور جاتے ہوئے وہ اس ترجمہ اور تفسیر کو بھی اپنے ساتھ لیتے گئے اور وہیں اسے مکمل کر کے اپنی طرف سے شائع کر دیا ۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس ترجمہ اور تفسیر کی تکمیل کے وقت اس میں کیا کیا تبدیلی کی گئی کیونکہ اس وقت جماعت کے اندرونی اختلافات نے زور پکڑ کر ساری فضا کو سخت مسموم کر رکھا تھا۔ مگر بہر حال یہ ظاہر ہے کہ اختلافی مسائل میں مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر نے ایک دوسرا رنگ اختیار کر لیا۔
    قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر :۔ جب ایک جماعت بنتی ہے تو اس کے رستہ میں ہر قسم کی ضروریات پیش آتی ہیں جو اسے پوری کرنی پڑتی ہیں ۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کا اضافہ ہوا۔ مثلاً حضرت خلیفہ اوّل کے عہد میں قادیان کی جامع مسجد یعنی مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی جو پہلے سے قریباً دوگنی بڑھ گئی۔ اسی طرح آپ کے زمانہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے بورڈنگ کی عظیم الشان عمارتیں تیارہوئیں جن پر قریباً سوا لاکھ روپیہ خرچ ہوا۔ ان عمارتوں کے تیار کروانے میں براہ راست حضرت خلیفہ اوّل کی رائے اور تجویز کا دخل نہیں تھا بلکہ صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں کی کوشش اور توجہ سے یہ عمارتیں تیار ہوئیں مگر آپ کے زمانہ میں ان کا تیار ہونا آپ ہی کی طرف منسوب ہو گا ۔ اسی طرح آپ کے زمانہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے وسیع احاطہ میں ’’ مسجد نور‘‘ بھی تیار ہوئی اور سکول کے قریب ایک شفاخانہ بھی تیار ہوا جس کا نام ’’نورہسپتال‘‘ رکھا گیا۔ ہسپتال کی تیاری کلیۃً اور مسجد نور کی تیاری بڑی حد تک ہمارے بلند ہمت نانا حضرت میرناصرنواب صاحب مرحوم کی کوشش کا نتیجہ تھی جنہوں نے باوجود پیرانہ سالی کے احمدی جماعتوں میں دورہ کر کے ان عمارات کے لئے ایک بھاری رقم فراہم کی۔ الغرض تعمیر عمارات کے لحاظ سے حضرت خلیفہ اوّل کا عہد ایک نمایاں خصوصیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیںان باتوں کو جماعت کی دینی اور تبلیغی کام سے تو کوئی تعلق نہیں مگر بہر حال وہ جماعت کی ترقی کا حصہ تھیں کیونکہ قادیان کی ظاہری رونق میں اضافہ ہونا بھی فی الجملہ سلسلہ کی ترقی کی علامت ہے۔
    جماعت احمدیہ کے پریس میں نمایاں اضافہ :۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے عہد میں جماعت
    کے پریس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا یعنی آپ کے زمانہ میں جماعت میں چار نئے اخبارات جاری ہوئے۔ سب سے پہلے ۱۹۰۹ء میں قادیان سے اخبار ’’نور‘‘ کا اجراء ہوا جو ایک نو مسلم احمدی شیخ محمدیوسف صاحب نے سکھوں میں تبلیغ اسلام کے لئے جاری کیا۔ اس کے بعد ایک اخبار ’’ الحق‘‘ دہلی سے میر قاسم علی صاحب نے ۱۹۱۰ء میں جاری کیا اور پھر قادیان سے ایک اور اخبار ’’الفضل‘‘ ۱۹؍جون ۱۹۱۳ء سے جاری ہوا۔ یہ اخبار حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (موجودہ امام جماعت احمدیہ) نے تبلیغی اور تربیتی اور علمی اغراض کے ماتحت جاری کیا تھا اور خدا کے فضل سے اس نے بہت اچھی خدمات سر انجام دیں ۔ یہ وہی اخبار ہے جو حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد سے جماعت احمدیہ کا مرکزی آرگن ہے۔ چوتھا اخبار ’’ پیغام صلح‘‘ لاہور سے ۱۰؍ جولائی ۱۹۱۳ء سے جاری ہوا۔ اس اخبار کے انتظام کی باگ ڈور ان اصحاب کے ہاتھ میں تھی جو خلافت کو اڑا کر صدر انجمن احمدیہ کے انتظام کو قائم کرنا چاہتے تھے اور اب یہی اخبار لاہوری پارٹی کا افیشل آرگن ہے۔ یہ جملہ اخبارات ہفتہ واری تھے اور ان سے جماعت کے پریس کی تعداد میں ایک نمایاں اضافہ ہوا۔ اور چونکہ حضرت خلیفہ اوّل کے آخری ایام میں گورنمنٹ کی طرف سے ضمانت کا مطالبہ ہونے پر اخبار ’’ بدر‘‘ بند ہو گیا تھا اور صرف ’’ الحکم ‘‘ باقی تھا اس لئے ان جدید چار اخباروں کے اجراء سے جماعت کے اخباروں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی جو جماعت کی تعداد اور وسعت کے لحاظ سے یقینا ایک بہت بڑی تعداد تھی۔
    جماعت احمدیہ کا پہلابیرونی مشن :۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے عہد مبارک کی ایک
    یادگار یہ بھی ہے کہ آپ کے زمانہ میں جماعت کا پہلا بیرونی تبلیغی مشن قائم ہوا۔ اس وقت تک براہ راست تبلیغ صرف ہندوستان تک محدود تھی اور بیرونی ممالک میں صرف خط و کتابت یا رسالہ جات وغیرہ کے ذریعہ تبلیغ ہوتی تھی۔ لیکن حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں آکر جماعت کا پہلا بیرونی مشن قائم ہوا ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۱۹۱۲ء کے نصف آخر میں خواجہ کمال الدین صاحب بی ۔ اے ایل ایل بی کو ایک مسلمان رئیس نے اپنے ایک مقدمہ کے تعلق میں اپنی طرف سے اخراجات دے کر ولایت بھجوانے کا انتظام کیا چنانچہ خواجہ صاحب موصوف ۷؍ ستمبر ۱۹۱۲ء کو انگلستان روانہ ہو گئے اور چونکہ ہر احمدی کو تبلیغ کا خیال غالب رہتا ہے خواجہ صاحب نے بھی اس سفر میں تبلیغ کی نیت رکھی اور ولایت کے قیام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں بعض تبلیغی لیکچر دئیے اور پھر آہستہ آہستہ وہیں ٹھہر کر اسی کام میں مصروف ہو گئے۔
    کچھ عرصہ کے بعد خواجہ صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں لکھا کہ مجھے کوئی نائب بھجوایا جائے۔ حضرت خلیفہ اوّل نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے کو تجویز فرمایا اور چونکہ چوہدری صاحب انجمن انصار اللہ کے ممبر تھے جو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس زمانہ میں تبلیغی اغراض کے ماتحت قائم کر رکھی تھی اور انصار اللہ کو پہلے سے بیرون ہند کی ایک تبلیغی سکیم مدنظر تھی اس لئے چوہدری صاحب کا خرچ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے انجمن انصار اللہ کی طرف سے برداشت کیا اور کچھ اپنے پاس سے اور اپنے دوستوں کی طرف سے ڈالا اور چوہدری صاحب موصوف ۲۸؍ جون ۱۹۱۳ء کو تبلیغ کی غرض سے ولایت روانہ ہو گئے۔ ۱؎ اس طرح گویا چوہدری فتح محمد صاحب وہ پہلے احمدی مبلغ تھے جو احمدیوں کی طرف سے بیرون ہند میں خالص تبلیغ کی غرض سے بھیجے گئے۔ چوہدری صاحب نے کچھ عرصہ تک خواجہ صاحب کی معیت میں کام کیا اور اس عرصہ میں خواجہ صاحب موصوف نے بعض ذی اثر غیر احمدیوں کی امداد سے مسجد ووکنگ کی امامت کا بھی حق حاصل کر لیا مگر چونکہ خواجہ صاحب اور چوہدری صاحب کے خیالات اور طریق تبلیغ میں بہت فرق تھا اس لئے حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر یہ اتحاد قائم نہ رہ سکا اور چوہدری صاحب جلد ہی خواجہ صاحب سے الگ ہو کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ہدایات کے ماتحت مستقل حیثیت میں کام کرنے لگے اور ووکنگ کو چھوڑ کر اپنا مرکز لندن میں قائم کر لیا جو اب تک جماعت احمدیہ کے برطانوی مشن کا مرکز ہے۔
    اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہو گا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنے اوائل زمانہ میں یہ خواب دیکھا تھا کہ آپ ولایت تشریف لے گئے ہیں اور وہاں جا کر چند سفید قسم کے جانور درختوں کے اوپر سے پکڑے ہیںاورآپ نے اس کی یہ تشریح فرمائی تھی کہ آپ کی تبلیغ ولایت میں پہنچے گی اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض انگریزوں کو ہدایت دے گا ۔ ۲؎ سو الحمد للہ کہ جماعت کے برطانوی مشن کے ذریعہ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ رویا پورا ہوا اور ہو رہا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ چند پرندوں کا پکڑا جانا صرف اس زمانہ تک کے لئے ہے کہ جب تک یہ پرندے بلندیوں کی ہوا کھاتے ہوئے درختوں پر بسیرا لگائے بیٹھے ہیں۔ لیکن جب احمدیت کے ذریعہ دنیا میں انقلابی صورت پیدا ہو گی اور ان سفید پرندوں کا شجری خمار جاتا رہے گا تو پھر چند پرندوں کے پکڑنے کا سوال نہیں ہو گا بلکہ یہ سوال ہو گا کہ خدائی جال سے باہر کتنے پرندے باقی رہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی جہاں ایک طرف صرف چند پرندوں کے پکڑے جانے کا ذکر کیا ہے وہاں دوسری طرف صراحت کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ اہل مغرب بڑی کثرت اور زور کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی طرف رجوع کریں گے۔ ۱؎
    حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کی علالت اور وفات :۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کو اپنی خلافت
    کے دوران میں ایک حادثہ پیش آگیا تھا اور وہ یہ کہ آپ ۱۸؍ نومبر ۱۹۱۰ء کو ایک گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تھے۔ ۲؎ شروع شروع میں یہ زخم معمولی سمجھا گیا مگر بعد میں اس کا اثر گہرا ثابت ہوا اور دائیں کنپٹی کے پاس آپریشن کے نتیجہ میں ایک گہرا نشان پڑ گیا اور گو آپ ایک لمبے عرصہ تک صاحب فراش رہنے کے بعد صحت یاب ہو گئے مگر اس کے بعد آپ کی صحت کبھی بھی پہلے جیسی نہیں ہوئی۔ جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کے بعد سے آپ میں زیادہ کمزوری کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے اور جنوری ۱۹۱۴ء کے وسط سے معین بیماری کا آغاز ہو گیا ۔ ۳؎ ابتداء میں صرف پسلی کے درد کی تکلیف اور گاہے گاہے کی ہلکی حرارت اور قے وغیرہ کی شکایت تھی جو آہستہ آہستہ سل کی صورت اختیار کر گئی اور اس بیماری نے اس قدر زور پکڑ لیا کہ پھر اس کے بعد آپ بستر سے نہ اُٹھ سکے۔
    اس طویل بیماری کے ایام میں منکرین خلافت کا پراپیگنڈا بہت زور پکڑ گیا۔ اور اخلاقی مسائل کی برملا اشاعت کے علاوہ مویدین خلافت اور خصوصاً حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے خلاف ذاتی حملوں نے زیادہ شدت اختیار کر لی۔ گویا ان ایام میں لاہوری پارٹی کے زعماء نے ایک آخری جدوجہد اس بات کی کرنی چاہی کہ حضرت خلیفہ اوّل کی بیماری سے فائدہ اٹھا کر جماعت کے سواد اعظم کو اپنی طرف کھینچ لائیں۔ مگر ایک خدائی تحریک کو اس کے ابتدائی مراحل میں غلط رستہ پر ڈال دینا کسی انسانی طاقت کا کام نہیں اس لئے اس کوشش میں منکرین خلافت کو سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ ان ایام میں احمدیت کی فضا یوں شرر بار ہو رہی تھی کہ گویا ایک میدان جنگ میں چاروں طرف سے گولیاں برس رہی ہوں یہ خدا کا فضل تھا کہ حضرت خلیفہ اوّل کی دور بین آنکھ نے اپنی بیماری کے ایام میں اپنے قدیم طریق کے مطابق اپنی جگہ نمازوں کی امامت اور جمعہ کے خطبات کے لئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو مقرر کر رکھا تھا ورنہ اگر پریس کے ایک حصہ کے ساتھ ساتھ جماعت کے خطبات کا منبر بھی ان لوگو ں کے ہاتھ میں چلا جاتا تو پھر بظاہر حالات بڑے فتنہ کا احتمال تھا۔
    بیماری کی شدت کے ایام میں حضرت خلیفہ اوّل ؓ کو ان حالات کی خبر نہیں تھی جو باہر گزر رہے تھے مگر مسیح محمدی کی گود میں پرورش پایا ہوا دماغ خود اپنی جگہ مصروف کار تھا چنانچہ جب حضرت خلیفہ اوّل نے محسوس کیاکہ اب میرا وقت قریب ہے تو آپ نے ۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو ایک وصیت تحریر فرمائی ۱؎ جس کا مآل یہ تھا کہ آپ کے بعد جماعت کسی متقی اور عالم باعمل اور ہر دلعزیز شخص کو آپکا جانشین منتخب کر کے اس کے ہاتھ پر جمع ہو جائے اور پھر آپ نے اس وصیت کو معززین جماعت کی ایک مجلس میں جس میں مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے اور ان کے بعض رفقا بھی شامل تھے خود مولوی محمد علی صاحب سے بلند آواز کے ساتھ پڑھوایا اور اس پیغام حق کو سب تک پہنچا کر وصیت کو نواب محمد علی خاں صاحب کے پاس محفوظ کروا دیا۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ مہلت نہیں پائی اور ۱۳؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو جمعہ کے دن سوا دو بجے بعد دوپہر قریباً ۷۸ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر کے اپنے محبوب حقیقی کے پاس حاضر ہو گئے۔ ۲؎ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ وَارْفَعْ مَقَامَہٗ فِی الْعِلِّیِیْنَ ۔
    حضرت خلیفہ اوّل کا بلند مقام :۔ حضرت خلیفہ اوّل کا پایہ حقیقۃً نہایت بلند تھا اور جماعت
    احمدیہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اسے حضرت مسیح موعود ؑ کے بعد جبکہ ابھی جماعت میں کوئی دوسرا شخص اس بوجھ کے اٹھانے کا اہل نظر نہیں آتا تھا ایسے قابل اور عالم اور خدا ترس شخص کی قیادت نصیب ہوئی۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کو علمی کتب کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا چنانچہ زرکثیر خرچ کر کے ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا اور ایک نہایت قیمتی لائبریری اپنے پیچھے چھوڑی مگر آپ کا سب سے نمایاں وصف قرآن شریف کی محبت تھی جو حقیقۃً عشق کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔ خاکسار نے بے شمار دفعہ دیکھا کہ قرآن شریف کی تفسیر بیان کرتے ہوئے آپ کے اندر ایک عاشقانہ ولولہ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ آپ نے اوائل زمانہ سے ہی قادیان میں قرآن شریف کا درس دینا شروع کر دیا تھا جسے اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی جاری رکھا اور آخر تک جب تک کہ بیماری نے بالکل ہی نڈھال نہیں کر دیا اسے نبھایا۔ طبیعت نہایت سادہ اور بے تکلف اور انداز بیان بہت دلکش تھا اور گو آپ کی تقریر میں فصیحانہ گرج نہیں تھی مگر ہر لفظ اثر میں ڈوبا ہوا نکلتا تھا۔ مناظرہ میں ایسا ملکہ تھا کہ مقابل پر خواہ کتنی ہی قابلیت کا انسان ہو وہ آپ کے برجستہ جواب سے بے دست و پا ہو کر سردھنتا رہ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ خود فرماتے تھے کہ فلاں معاند اسلام سے میری گفتگو ہوئی اور اس نے اسلام کے خلاف یہ اعتراض کیا اور میں نے سامنے سے یہ جواب دیا۔ اس پر وہ تلملا کر کہنے لگا کہ میری تسلی نہیں ہوئی گو آپ نے میرا منہ بند کر دیا ہے۔ فرمانے لگے میں نے کہا تسلی دینا خدا کا کام ہے ۔ میرا کام چپ کرا دینا ہے تا کہ تمہیں بتا دوں کہ اسلام کے خلاف تمہارا کوئی اعتراض چل نہیں سکتا۔ یہ درست ہے کہ ان معاملات میں حضرت مسیح موعود ؑ کا طریق اور تھا یعنی آپ مخالف کو چپ کرانے کی بجائے اس کی تسلی کرانے کی کوشش فرماتے تھے اور گفتگو میں مخالف کو خوب ڈھیل دیتے تھے مگر ہر اک کے ساتھ خدا کا جداگانہ سلوک ہوتا ہے اور یہ بھی ایک شان خداوندی ہے کہ خصم تسلی پائے یا نہ پائے مگر ذلیل ہو کر خاموش ہو جائے۔ اسی لئے کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ :۔
    ’’ ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است ‘‘
    حضرت خلیفہ اوّل کے دل میں حضرت مسیح موعود کی اطاعت کا جذبہ اس قدر غالب تھا کہ ایک دفعہ جب ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود ؑ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں ہمارے نانا جان مرحوم یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب بیمار ہو گئے تو ان کے علاج کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے حضرت مولوی صاحب کو قادیان میں تار بھجوائی کہ بلا توقف دہلی چلے آئیں۔ جب یہ تار قادیان پہنچی تو حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے درس و تدریس کا شغل کر رہے تھے۔ اس تار کے پہنچتے ہی آپ بلا توقف وہیں سے اٹھ کر بغیر گھر گئے اوربغیر کوئی سامان یازاد راہ لئے سیدھے بٹالہ کی طرف روانہ ہو گئے جو ان ایام میں قادیان کا ریلوے سٹیشن تھا۔ کسی نے عرض کیا۔ حضرت بلا توقف آنے کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ آپ گھر جا کر سامان بھی نہ لیں اور اتنے لمبے سفر پر یوں خالی ہاتھ روانہ ہو جائیں۔ فرمایا ۔ امام کا حکم ہے کہ بلا توقف آئو اس لئے میں اب ایک منٹ کے توقف کو بھی گناہ خیال کرتا ہوں اور خدا خود میرا کفیل ہو گا ۔ خدا نے بھی اس نکتہ کو ایسا نوازا کہ بٹالہ کے سٹیشن پر ایک متمول مریض مل گیا جس نے آپ کو پہچان کر آپ کا بڑا اکرام کیا اور دہلی کا ٹکٹ خرید دینے کے علاوہ ایک معقول رقم بھی پیش کی۔ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود ؑ مجھے ارشاد فرمائیں کہ اپنی لڑکی کسی چوہڑے کے ساتھ بیاہ دو ۱؎ تو بخدا مجھے ایک سیکنڈ کے لئے بھی تامل نہ ہو۔ یقینا ایسا پاک جوہر دنیا میں کم پیدا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی حضرت مولوی صاحب کے ساتھ از حد محبت تھی۔ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:۔
    چہ خوش بُودے اگر ہر یک زِاُمت نور دیں بُودے

    ہمیں بُودے اگر ہر دل پُر از نورِ یقیں بُودے
    یعنی کیا ہی اچھا ہو اگر قوم کا ہر فرد نور دین بن جائے۔ مگر یہ تو تب ہی ہو سکتا ہے کہ ہر دل یقین کے نور سے بھر جائے۔

    بارش سے پہلے بادلوں کی گرج
    ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود ؑ نے خدا سے حکم پا کر اپنے دعویٰ مسیحیت کا اعلان فرمایا تو کس طرح مذہبی دنیا کی فضا بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک سے گونجنے لگ گئی۔ اسی طرح اب جبکہ خدا کے برگزیدہ مسیح کا موعود خلیفہ مسند خلافت پر قدم رکھ رہا تھا تو دنیا نے پھر وہی نظارہ دیکھا اور احمدیت کے آسمان پر گھٹا ٹوپ بادلوں کی گرجوں نے آنے والے کا خیرمقدم کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کی وفات کے وقت وہ اختلاف جو عرفاً مخفی کہلاتا تھا مگر حقیقۃً اب مخفی نہیں رہا تھا یکدم پھوٹ کر باہر آگیا۔ قادیان کی جماعت کو حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کی خبر اس وقت ملی جبکہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز پڑھا کر مسجد سے باہر آرہے تھے۔ اس پر سب لوگ گھبرا کر فوراً نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر پہنچے جہاں حضرت خلیفہ اوّل اپنی بیماری کے آخری ایام میں تبدیل آب و ہوا کے لئے تشریف لے گئے ہوئے تھے اور قادیان کی نئی آبادی کا کھلا میدان گویا میدان حشر بن گیا۔ بے شک حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی جدائی کا غم بھی ہر مومن کے دل پر بہت بھاری تھا مگر اس دوسرے غم نے جو جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ہر مخلص احمدی کے دل کو کھائے جا رہا تھا اس صدمہ کو سخت ہولناک بنا دیا تھا۔ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے جمعہ کے دن سوا دو بجے کے قریب حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات ہوئی اور دوسرے دن نماز عصر کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے گویایہ قریباً چھبیس (۲۶)گھنٹہ کا وقفہ تھا جو قادیان کی جماعت پر قیامت کی طرح گزرا۔
    اس نظارے کو دیکھنے والے بہت سے لوگ گزر گئے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس کے بعد پیدا ہوئے یا وہ اس وقت اس قدر کم عمر تھے کہ ان کے دماغوں میں ان واقعات کا نقشہ محفوظ نہیں مگر جن لوگوں کے دلوں میں ان ایام کی یاد قائم ہے وہ اسے کبھی بھلا نہیں سکتے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ وہ دن جماعت کے لئے قیامت کا دن تھا اور میرے اس بیان میں قطعاً کوئی مبالغہ نہیں ۔ ایک نبی کی جماعت تازہ بنی ہوئی جماعت ۔بچپن کی اٹھی ہوئی امنگوں میں مخمور ۔ اور صداقت کی برقی طاقت سے دنیا پر چھا جانے کے لئے بے قرار ۔ جس کے لئے دین سب کچھ تھا اور دنیا کچھ نہیں تھی وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی کہ اگر ایک طرف اس کے پیارے امام کی نعش پڑی ہے تو دوسری طرف چند لوگ اس امام سے بھی زیادہ محبوب چیز یعنی خدا کے برگزیدہ مسیح کی لائی ہوئی صداقت اور اس صداقت کی حامل جماعت کو مٹانے کے لئے اس پر حملہ آور ہیں۔ یہ نظارہ نہایت درجہ صبر آزما تھا اور مؤلف رسالہ ہذا نے ان تاریک گھڑیوں میں ایک دو کو نہیں دس بیس کو نہیں بلکہ سینکڑوں کو بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے دیکھا۔ اپنے جدا ہونے والے امام کے لئے نہیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ اس وقت جماعت کے غم کے سامنے یہ غم بھولا ہوا تھا۔ بلکہ جماعت کا اتحاد اور اس کے مستقبل کی فکر میں۔ مگر اکثر لوگ تسلی کے اس فطری ذریعہ سے بھی محروم تھے۔ وہ رونا چاہتے تھے مگر افکار کے ہجوم سے رونا نہیں آتا تھا اور دیوانوں کی طرح ادھر ادھر نظر اٹھائے پھرتے تھے تا کہ کسی کے منہ سے تسلی کا لفظ سن کر اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو سہارا دیں۔ غم یہ نہیں تھا کہ منکرین خلافت تعداد میں زیادہ ہیں یا یہ کہ ان کے پاس حق ہے کیونکہ نہ تو وہ تعداد میں زیادہ تھے اور نہ ان کے پاس حق تھا۔ بلکہ غم یہ تھا کہ باوجود تعداد میں نہایت قلیل ہونے کے اور باوجود حق سے دور ہونے کے ان کی سازشوں کا جال نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا تھا اور قریباً تمام مرکزی دفاتر پر ان کا قبضہ تھا اور پھر ان میں کئی لوگ رسوخ والے طاقت والے اور دولت والے تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ چونکہ ابھی تک اختلافات کی کشمکش مخفی تھی اس لئے یہ بھی علم نہیں تھا کہ کون اپنا ہے اور کون بیگانہ اور دوسری طرف جماعت کا یہ حال تھا کہ ایک بیوہ کی طرح بغیر کسی خبر گیر کے پڑی تھی۔ گویا ایک ریوڑ تھا جس پر کوئی گلہ بان نہیں تھا اور چاروں طرف بھیڑئیے تاک لگائے بیٹھے تھے۔
    اس قسم کے حالات نے دلوں میں عجیب ہیبت ناک کیفیت پیدا کر رکھی تھی اور گو خدا کے وعدوں پر ایمان تھا مگر ظاہری اسباب کے ماتحت دل بیٹھے جاتے تھے جمعہ سے لے کر عصر تک کا وقت زیادہ نہیں ہوتا مگر یہ گھڑیاں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔ آخر خدا خدا کر کے عصر کا وقت آیا اور خدا کے ذکر سے تسلی پانے کے لئے سب لوگ مسجد نور میں جمع ہو گئے۔ نماز کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مختصر مگر نہایت درد انگیز اور موثر تقریر فرمائی اور ہر قسم کے اختلافی مسئلہ کا ذکر کرنے کے بغیر جماعت کو نصیحت کی کہ یہ ایک نہایت نازک وقت ہے اور جماعت کے لئے ایک بھاری ابتلاء کی گھڑی درپیش ہے پس سب لوگ گریہ وزاری کے ساتھ خدا سے دعائیں کریں کہ وہ اس اندھیرے کے وقت میں جماعت کے لئے روشنی پیدا کر دے اور ہمیں ہر رنگ کی ٹھوکر سے بچا کر اس رستہ پر ڈال دے جو جماعت کے لئے بہتر اور مبارک ہے اور اس موقعہ پر آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جن لوگوں کو طاقت ہو وہ کل کے دن روزہ بھی رکھیں تا کہ آج رات کی نمازوں اور دعائوں کے ساتھ کل کا دن بھی دعا اور ذکر الٰہی میں گزرے۔ اس تقریر کے دوران میں لوگ بہت روئے اور مسجد کے چاروں کونوں سے گریہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں مگر تقریر کے ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں ایک گونہ تسلی کی صورت بھی پیدا ہو گئی اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو کر دعائیں کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہوں کو چلے گئے۔
    رات کے دوران میں اس بات کا علم ہوا کہ منکرین خلافت کے لیڈر مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے قبل ہی ایک رسالہ ’’ ایک نہایت ضروری اعلان ‘‘ کے نام سے چھپوا کر مخفی طور پر تیار کر رکھا تھا اور ڈاک میں روانہ کرنے کے لئے اس کے پیکٹ وغیرہ بھی بنوا رکھے تھے اور اب یہ رسالہ بڑی کثرت کے ساتھ تقسیم کیا جا رہا تھا۔ بلکہ یہ محسوس کر کے کہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات بالکل سر پر ہے آپ کی زندگی میں ہی اس رسالہ کو دور کے علاقوں میں بھجوا دیا گیا تھا۔ اس رسالہ کا مضمون یہ تھا کہ جماعت میں خلافت کے نظام کی ضرورت نہیں بلکہ انجمن کا انتظام ہی کافی ہے البتہ غیراحمدیوں سے بیعت لینے کی غرض سے اور حضرت خلیفہ اوّل کی وصیت کے احترام میں کسی شخص کو بطور امیر مقرر کیا جا سکتا ہے ۔ مگر یہ شخص جماعت یا صدر انجمن احمدیہ کا مطاع نہیں ہو گا بلکہ اس کی امارت اور سرداری محدود اور مشروط ہو گی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اشتہار یا رسالہ بیس اکیس صفحے کا تھا اور اس میں کافی مفصل بحث کی گئی تھی اور طرح طرح سے جماعت کو اس بات پر ابھارا گیا تھا کہ وہ کسی واجب الاطاعت خلافت پر رضامند نہ ہوں۔ جب قادیان میں اس رسالہ کی اشاعت کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ لگا کہ قادیان سے باہر اس رسالہ کی اشاعت نہایت کثرت کے ساتھ کی گئی ہے تو طبعاً اس پر بہت فکر پیدا ہوا کہ مبادا یہ رسالہ ناواقف لوگوں کی ٹھوکر کا باعث بن جائے۔ اس کا فوری ازالہ وسیع پیمانہ پر تو مشکل تھا مگر قادیان کے حاضر الوقت احمدیوں کی ہدایت کے لئے ایک مختصر سا نوٹ تیار کیا گیا جس میں یہ درج تھا کہ جماعت میں اسلام کی تعلیم اور حضرت مسیح موعود ؑ کی وصیت کے مطابق خلافت کا نظام ضروری ہے اور جس طرح حضرت خلیفہ اول جماعت کے مطاع تھے اسی طرح آئندہ خلیفہ بھی مطاع ہو گا اور خلیفہ کے ساتھ کسی قسم کی شرائط وغیرہ طے کرنا یا اس کے خدا داد اختیاروں کو محدود کرنا کسی طرح درست نہیں۔ اس نوٹ پر حاضر الوقت لوگوں کے دستخط کرائے گئے تا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہو کہ جماعت کی اکثریت نظام خلافت کے حق میں ہے۔ غرض یہ رات بہت سے لوگوں نے انتہائی کرب اور اضطراب کی حالت میں گزاری۔
    دوسرے دن فریقین میں ایک آخری سمجھوتہ کی کوشش کے خیال سے نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر ہر دو فریق کے چند زعماء کی میٹنگ ہوئی جس میں ایک طرف مولوی محمد علی صاحب اوران کے چند رفقا اور دوسری طرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور نواب محمد علی خاں صاحب اور بعض دوسرے مؤیدین خلافت شامل ہوئے اس میٹنگ میں منکرین خلافت کو ہر رنگ میں سمجھایا گیا کہ اس وقت سوال صرف اصول کا ہے پس کسی قسم کے ذاتی سوال کو درمیان میں نہ لائیں اور جماعت کے شیرازہ کی قدر کریں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر منکرین خلافت سرے سے خلافت ہی کے اڑانے کے در پے نہ ہوں تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتے ہیں کہ مومنوں کی کثرت رائے سے جو بھی خلیفہ منتخب ہو گا خواہ وہ کسی پارٹی کا ہو ہم سب دل و جان سے اس کی خلافت کو قبول کریں گے مگر منکرین خلافت نے اختلافی مسائل کو آڑ بنا کر خلافت کے متعلق ہر قسم کے اتحاد سے انکار کر دیا۔ بالآخر جب یہ لوگ کسی طرح بھی نظام خلافت کے قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوئے تو ان سے استدعا کی گئی کہ اگر آپ لوگ خلافت کے منکر ہی رہنا چاہتے ہیں تو آپ کا خیال آپ کو مبارک ہو لیکن جو لوگ خلافت کو ضروری خیال کرتے ہیں آپ خدا را ان کے رستے میں روک نہ بنیں اور انہیں اپنے میں سے کوئی خلیفہ منتخب کر کے ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے دیں مگر یہ اپیل بھی بہرے کانوں پر پڑی اور اتحاد کی آخری کوشش ناکام گئی۔ چنانچہ جب ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو بروز ہفتہ عصر کی نماز کے بعد سب حاضر الوقت احمدی خلافت کے انتخاب کے لئے مسجد نور میں جمع ہوئے تو منکرین خلافت بھی اس مجمع میں روڑا اٹکانے کی غرض سے موجود تھے۔
    اس دو ہزار کے مجمع میں سب سے پہلے نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی وصیت پڑھ کر سنائی۔ جس میں جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے کی نصیحت کی تھی اس پر ہر طرف سے ’’ حضرت میا ں صاحب حضرت میاں صاحب ‘‘ کی آوازیں بلند ہوئیں اور اسی کی تائید میں مولانا سیدمحمد احسن صاحب امروہوی نے جو جماعت کے پرانے بزرگوں میں سے تھے کھڑے ہو کر تقریر کی اور خلافت کی ضرورت اور اہمیت بتا کر تجویز کی کہ حضرت خلیفہ اوّل کے بعد میری رائے میں ہم سب کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر جمع ہو جانا چاہئے کہ وہی ہر رنگ میں اس مقام کے اہل اور قابل ہیں۔ اس پر سب طرف سے پھر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے حق میں آوازیں اٹھنے لگیں اور سارے مجمع نے بالاتفاق اور بالاصرار کہا کہ ہم انہی کی خلافت کو قبول کرتے ہیں۔ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور ان کے بعض رفقا ء بھی موجود تھے۔ مولوی محمد علی صاحب نے مولوی محمد احسن صاحب کی تقریر کے دوران میں کچھ کہنا چاہا اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے یہ کہہ کر انہیں روک دیا کہ جب آپ خلافت ہی کے منکر ہیں تواس موقع پر ہم آپ کی کوئی بات نہیںسن سکتے۔ اور اس کے بعد مومنوں کی جماعت نے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طرف رخ کیا کہ اس کا نظارہ کسی دیکھنے والے کو نہیں بھول سکتا۔ لوگ چاروں طرف سے بیعت کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے اور یوں نظر آتا تھا کہ خدائی فرشتے لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظورِ ایزدی کی طرف کھینچے لا رہے ہیں۔ اس وقت ایسی ریلا پیلی تھی اور جوش کا یہ عالم تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور بچوں اور کمزور لوگوں کے پِس جانے کا ڈر تھا اور چاروں طرف سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ہماری بیعت قبول کریں ہماری بیعت قبول کریں۔ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے چند لمحات کے تامل کے بعد جس میں ایک عجیب قسم کا پُر کیف عالم تھا لوگوں کے اصرار پر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور بیعت لینی شروع کی۔ یکلخت مجلس میں ایک سناٹا چھا گیا اور جو لوگ قریب نہیں پہنچ سکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا پھیلا کر اور ایک دوسری کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے۔ ۱؎ بیعت شروع ہو جانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اس مجمع سے حسرت کے ساتھ رخصت ہو کر اپنی فرودگاہ کی طرف چلے گئے۔
    بیعت کے بعد لمبی دعا ہوئی جس میں سب لوگوں پر رقت طاری تھی اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے اس مجمع میں کھڑے ہو کر ایک درد انگیز تقریر فرمائی جس میں جماعت کو اس کے نئے عہد کی ذمہ داریاں بتا کر آئندہ کام کی طرف توجہ دلائی اور اسی دوران میں کہا کہ میں ایک کمزور اور بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر میں خدا سے امید رکھتاہوں کہ جب اس نے مجھے اس خلعت سے نوازا ہے تو وہ مجھے اس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت دے گا اور میں تمہارے لئے دعا کروں گا اور تم میرے لئے دعا کرو چنانچہ فرمایا :۔
    ’’ دوستو ! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں …… پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔ پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔ مگر میں پھر کہتا ہوں کہ شریعت اسلامی میں کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا ……… خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفاء راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو گھٹتی گئی …… تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسی منہاج نبوت پر حضرت مسیح موعود ؑ کو آنحضرت ﷺ کے وعدوں کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے …… حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب ان کا درجہ اعلیٰ علیین میں ہو… اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے …… پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا ……
    میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور میں اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں ……… میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہگار ہوں ۔میں کس طرح دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں دنیا کی ہدایت کر سکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہا ہیں۔ تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے۔ تو سنو ! اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو۔
    میں انسان ہوں اور کمزور انسان۔ مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔ تم سے غلطیاں ہوں گی۔ میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگذر کروں گا۔ اور میرا اور تمہارا متحدہ کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پیدا کرنا ہے …… اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کرے گا۔ ‘‘ ۱؎
    اس بیعت اور اس تقریر کے بعد لوگوں کی طبیعتوں میں کامل سکون تھا اور ان کے دل اس طرح تسلی پا کر ٹھنڈے ہو گئے تھے جس طرح کہ ایک گرمی کے موسم کی بارش جھلسی ہوئی زمین کو ٹھنڈا کر دیتی ہے ۔ روح القدس نے آسمان پرسے ان کے دلوں پر سکینت نازل کی اور خدا کے مسیح کی یہ بات ایک دفعہ پھر پوری ہوئی کہ :۔
    ’’ میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ ‘‘ ۲؎
    دعا اور تقریر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے شمالی میدان میں قریباً دو ہزار مردوں اورکئی سو عورتوں کے مجمع میں حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر حضور کی معیت میں مخلصین کا یہ بھاری مجمع جس کے ہر متنفس کا دل اس وقت رنج و خوشی کے دہرے جذبات کا مرکز بنا ہوا تھا حضرت خلیفہ اوّل کی نعش مبارک کو لے کر بہشتی مقبرہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس مبارک انسان کے مبارک وجود کو ہزاروں دعائوں کے ساتھ اس کے آقا و محبوب کے پہلو میں سُلا دیا۔
    اے جانے والے ! تجھے تیرا پاک عہد خلافت مبارک ہو کہ تو نے اپنے امام و مطاع مسیح کی امانت کو خوب نبھایا اور خلافت کی بنیادوں کو ایسی آہنی سلاخوں سے باندھ دیا کہ پھر کوئی طاقت اسے اپنی جگہ سے ہلا نہ سکی۔ جا ۔ اور اپنے آقا کے ہاتھوں سے مبارکباد کا تحفہ لے اور رضوانِ یار کا ہار پہن کر جنت میں ابدی بسیرا کر۔ اور اے آنے والے! تجھے بھی مبارک ہو کہ تو نے سیاہ بادلوں کی دل ہلا دینے والی گرجوں میں مسندِ خلافت پر قدم رکھا اور قدم رکھتے ہی رحمت کی بارشیں برسا دیں۔ تو ہزاروں کانپتے ہوئے دلوں میں سے ہو کر تختِ امامت کی طرف آیا اور پھر صرف ایک ہاتھ کی جنبش سے ان تھراتے ہوئے سینوں کو سکینت بخش دی۔ آ۔ اور ایک شکور جماعت کی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے ساتھ ان کی سرداری کے تاج کو قبول کر۔ تو ہمارے پہلو سے اٹھا ہے مگر بہت دور سے آیا ہے۔ آ۔ اور ایک قریب رہنے والے کی محبت اور دور سے آنے والے کے اکرام کا نظارہ دیکھ۔
    اے فخر رسل قرب تو معلومم شد

    دیر آمدۂ زراہ دُور آمدۂ







    حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا عہدِ خلافت
    شانِ موعود :۔ آنحضرت ﷺ ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ میں اس وقت سے خدا کا نبی
    ہوں کہ جب ابھی آدم اپنی خلقت کے ابتدائی مراحل میں پانی اور مٹی کے اندر مخلوط پڑا تھا۔ یہ نعوذ باللہ ایک فخریہ کلام نہیں ہے بلکہ ایک نہایت گہری اور لطیف صداقت پر مبنی ہے اور اس کی تہ میں یہ اصول مخفی ہے کہ جب خدا تعالیٰ دنیا میں کوئی انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اس انقلاب کی تیاری میں بہت عرصہ پہلے سے ایک داغ بیل قائم کرتا ہے اور پھر کئی درمیانی تغیرات کے بعد انقلاب کے ظہور کی باری آتی ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ خود اپنے متعلق بھی لکھتے ہیں کہ آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ تک سارے نبی میری بعثت کی خبر دیتے آئے ہیں ۔ اسی طرح چونکہ ازل سے یہ بھی مقدر تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی اولاد میں ایک خاص شان کا شخص پیدا ہو گا جو آپ کے بعد آپ کا خلیفہ ہو کر آپ کے خداداد مشن کو غیر معمولی طور پر ترقی دے گا اس لئے جہاں خدا نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے یہ پیشگوئی کروائی کہ آخری زمانہ میں ایک عظیم الشان روحانی مصلح مسیح موعود کے نام سے مبعوث ہو گا وہاں آپ ہی کے منہ سے اس بات کا بھی اعلان کروایا کہ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ ۱؎ یعنی جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس حدیث کی تشریح فرمائی ہے یہ عظیم الشان مصلح اکیلا نہیں آئے گا بلکہ خدائی منشاء کے ماتحت اس کی ایک خاص جگہ شادی ہو گی اور اس شادی سے خدا اسے اولاد عطا کرے گا جن میں سے ایک بیٹا خاص شان کا نکلے گا جس سے اس کے کام کو بہت ترقی حاصل ہو گی ۔ اس طرح گویا خدا نے مسیح موعود کی بعثت کے ساتھ ساتھ ہی آپ کے ایک موعود فرزندکی روحانی خلافت کی بھی داغ بیل قائم کر دی۔
    اس کے بعد جب حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ آیا اور اس موعود بیٹے کے ظہور کا وقت بھی قریب پہنچا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ پر اس پیشگوئی کی مزید تفصیلات ظاہر فرمائیں اور پسرِ موعود کی شان کے اظہار کے علاوہ اس کے کام کی وسعت اور اس کے عروج اور ترقی کے متعلق بھی معین بشارات دیں۔ چنانچہ ابھی حضرت مسیح موعود کے زمانہ ماموریت کی ابتداء ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً بتایا کہ :۔
    ’’ تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک ذکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہو گا …… وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا ۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت اور غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گا …… فرزند دلبند گرامی ارجمند مَظْھَرُ الْاَوَّلِ وَالْاَخِرِ مَظْھَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَآئِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآئِ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ ‘‘ ۱؎
    اور ایک بعد کے اشتہار میں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:۔
    ’’ مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا۔ ‘‘
    ’’ اے فخرِ رسل قربِ تو معلومم شد
    دیر آمدۂِ زراہِ دور آمدۂِ ‘‘ ۲؎
    اور پھر :۔
    ’’ وہ اولوالعزم ہو گااور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔ ‘‘ ۳؎
    یہ وہ شاندار پیشگوئی ہے جس میں حضرت مسیح موعودؑ کو پسر موعود کے مقام اور کام کے متعلق خبر دی گئی اور جماعت احمدیہ کا یہ تسلیم شدہ عقیدہ ہے کہ یہ پیشگوئی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی میں پوری ہوئی ہے کیونکہ آپ کے اوصاف اور آپ کی خلافت کے حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ ہی اس کے مصداق ہیں۔ بے شک حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے خدا سے الہام پا کر دعویٰ نہیں کیا مگر آپ نے اپنے آپ کو اس پیشگوئی کا مصداق ضرور قرار دیا ہے ۔ ۱؎ اور مصلح موعود کے متعلق یہ شرط نہیں تھی کہ وہ مامور ہو گا بلکہ اس کے متعلق صرف یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ روح القدس سے نصرت پائے گا اور حضرت مسیح موعود ؑ کے بعد آکر اور آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے کام کو ترقی دے گا اور پھر ایک برحق خلیفہ بھی ا س رنگ میں گویا مامور ہی ہوتا ہے کہ گو اس کا انتخاب بظاہر مومنوں کی رائے سے ہوتا ہے مگر اس کے انتخاب میں خدائی تقدیر کام کرتی ہے اور یہاں تو جس رنگ میں اور جن حالات کے ماتحت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا انتخاب ہوا وہ اس بات کو روز روشن کی طرح ظاہر کر رہے ہیں کہ اس وقت لوگوں کے دل اور لوگوں کی زبانیںخدا کے ہاتھ میں تھیں اور لوگ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ قدرت کی مخفی تاروں سے مجبور ہو کر اس طرف کھچے آرہے تھے۔ پس یقینا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا مقام عام خلفاء کے مقام سے ممتاز و بالا ہے اور جس رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی خلافت کو نوازا ہے اور اس کے ہر پہلو کو اپنی برکت کے ہاتھ سے ممسوح کیا ہے اس کی مثال دوسری جگہ بہت کم نظر آتی ہے۔
    حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے سوانح قبل از خلافت :۔ اس تمہیدی نوٹ کے بعد اور
    حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے عہد خلافت کا ذکر شروع کرنے سے قبل ہم آپ کی ابتدائی زندگی کے حالات اور سوانح کے متعلق ایک نہایت مختصر نوٹ درج کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سو جاننا چاہئے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ء کو ہفتہ کے دن بوقت شب قادیان میں پیدا ہوئے تھے۔ اس سے پہلے ہماری والدہ صاحبہ کے بطن سے حضرت مسیح موعود ؑ کی صرف ایک لڑکی زندہ تھی مگر وہ بھی کچھ عرصہ بعد فوت ہو گئی۔ اور اب گویا آپ اپنے سب بہن بھائیوں میں بڑے ہیں۔ آپ کی ولادت پرحضرت مسیح موعود ؑ نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں آپ کی ولادت پر خوشی کا اظہار کر کے اپنی بعض سابقہ پیشگوئیاں یاد کرائی تھیں اور اسی اشتہار میں لوگوں کو بیعت کے لئے آمادہ کرنے کے واسطے دس شرائط بیعت کا بھی اعلان فرمایا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔ اس طرح گویا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی ولادت اور جماعت احمدیہ کا آغاز ایک ہی وقت میں جمع ہو جاتے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی اور روحانی رنگ میں یہ دونوں توام ہیں۔
    جب حضرت خلیفۃ المسیح ثانی تعلیم کی عمر کو پہنچے تو آپ کو مقامی مدرسہ میں داخل کرا دیا گیا مگر طالب علمی کے زمانہ میں آپ کو کبھی بھی کتابی تعلیم میں دلچسپی نہیں ہوئی حتیّٰ کہ بعض اوقات آپ کے اساتذہ شکایت کے رنگ میں حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں کہلا بھیجتے تھے کہ انہیں پڑھائی کی طرف توجہ نہیں۔ ایک دفعہ جبکہ آپ کے ریاضی کے استاد نے زیادہ اصرارکے ساتھ توجہ دلائی تو حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ جس حد تک یہ شوق سے پڑھتا ہے پڑھنے دو۔ ہمیں ان پڑھائیوں کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ انٹرنس تک اسی طرح گرتے پڑتے پہنچے ۔ اس کے آگے چونکہ سرکاری امتحان تھا اس لئے فیل ہو کر رک گئے اور یہی اب آپ کی مدرسی تحصیل علم کی حد ہے۔ مگر یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ تقدیر الٰہی کا ایک زبردست کرشمہ تھا کیونکہ جیسا کہ بعد کے واقعات نے بتایا خدا خود آپ کا معلم بننا چاہتا تھا پس اگر آپ کے معاملہ میں دنیوی استادوں کی خواہشیں پوری ہو جاتیں اور آپ بڑی بڑی علمی ڈگریاں حاصل کر لیتے تو خدائی تعلیم کا پہلو کس طرح روشن ہوتا۔ اب یہ حال ہے کہ باطنی اور روحانی علم کا معاملہ تو خیر جداگانہ ہے ظاہری علوم میں بھی آپ کی نظر ہر اس علم کے میدان میں جس کا کسی نہ کسی رنگ میں دین کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے خواہ وہ واسطہ کتنا ہی دور کا ہو اس قدر وسیع ہے کہ کسی اسلامی صداقت پر حملہ کرنے والا خواہ وہ کیسے ہی دنیوی علوم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر آئے وہ آپ کے سامنے طفلِ مکتب نظر آتا ہے ۔ اور خدا کا یہ فرمانا حرف بہ حرف پورا ہوا ہے کہ :۔
    ’’ وہ علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا ‘‘
    حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی جبکہ آپ کا بالکل بچپن کا زمانہ تھا آپ میں خدمت دین کا ایک زبردست جذبہ پیدا ہو چکا تھا چنانچہ جب حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں احمدی نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ خدمت کے لئے آگے آئیں اور اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کریں تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے فوراً اس ارشاد کی تعمیل میں ایک انجمن تشحیذ الاذہان قائم کر کے اور اس کی نگرانی میں ایک اسی نام کا رسالہ جاری کر کے تقریر و تحریر میں مشق کا سلسلہ شروع کر دیااور ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ اس انجمن اور اس رسالہ کے ذریعہ خدمت دین کا شاندار کام سر انجام پانے لگا۔ حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ کی عمر صرف ساڑھے انیس سال کی تھی مگر اس وقت بھی مخالفوں کے اعتراضوں کا سب سے زیادہ مفصل اور دندان شکن جو اب آپ ہی کے قلم سے نکلا۔ ۱؎
    اس کے بعد حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے آپ کو اپنی خاص تربیت میں لے لیا اور آپ نے حضرت خلیفہ اوّل سے قرآن شریف اور بعض کتب حدیث و تصوف کی جس حد تک کہ خدا نے چاہا تعلیم حاصل کی مگر اس تعلیم کا بھی رنگ خاص تھا۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کا قاعدہ تھا کہ آپ اپنے شاگردوں کے ساتھ بہت بے تکلف رہتے تھے اور شاگردوں کو یہ آزادی تھی کہ درس کے وقت میں جس طرح چاہیں سوالات کر کے بلکہ آپ کے ساتھ بحث مباحثہ میں پڑ کر اپنے علم میں ترقی دیں مگر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو آپ نے منع کر دیا تھا کہ وہ کوئی سوال نہ کیا کریں اور ہدایت دی تھی کہ جب کوئی مشکل پیش آئے تو خود سوچ کر اور طبیعت پر زور ڈال کر اس کا حل نکالا کریں۔
    ۱۹۱۱ء کے اوائل میں آپ نے حضرت خلیفہ اوّل کی اجازت سے تبلیغ و تربیت اور باہمی رابطہ و اتحاد و محبت کی غرض سے ایک انجمن انصار اللہ قائم کی جس کے ممبروں کا یہ فرض تھا کہ وہ خدمت دین اور تبلیغ اسلام و احمدیت کے لئے اپنے وقت کا کچھ حصہ لازماً دیں اور لوگوں کے لئے پاک نمونہ بنیں اور آپس میں محبت و اخوت کا رابطہ بڑھائیں۔ ۲؎ چنانچہ جماعت کے بہت سے احباب نے اس انجمن کی ممبری قبول کی اور ان کے ذریعہ سے تبلیغ و تربیت کے کام میں ایک خاص ولولہ پیدا ہو گیا۔ ۱۹۱۲ء کے ماہ ستمبر کے آخر میں آپ بیت اللہ کے حج کے لئے تشریف لے گئے ۱ ؎ اور اس سفر میں بھی تبلیغ کا حق خوب ادا کیا ۔ ۱۹۱۳ء کے وسط میں آپ نے قادیان سے الفضل اخبار کا اجراء کیا جس میں سلسلہ کی خبروں کے علاوہ ایک مقررہ پروگرام کے ماتحت علمی اور تاریخی اور تبلیغی اور تربیتی مضامین شائع ہوتے تھے اور ایک نہایت قلیل عرصہ میں اس اخبار نے نہ صرف اپنوں میں بلکہ بیگانوں میں بھی بہت مقبولیت حاصل کر لی اور حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات کے بعد سے یہی اخبار جماعت احمدیہ کا مرکزی آرگن ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ تھے اور اس زمانہ میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے انتظام میں کئی صیغوں کے آنریری انچارج بھی رہے جن میں لنگرخانہ اور مدرسہ احمدیہ زیادہ نمایاں تھے۔ اسی زمانہ میں آپ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے حکم کے ماتحت شمالی ہندوستان کے کئی مقامات میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے اور خدا کے فضل سے آپ کے لیکچر ہمیشہ بہت مقبول ہوتے تھے۔
    آپ کی اوّلیات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ نے شروع سے ہی اس مخفی فتنہ کے شراروں کو دیکھ لیا تھا جو بالآخر وسیع ہو کر حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات پر نمودار ہوا اور آپ نے ہر ممکن کوشش اس فتنہ کو مٹانے اور اس کی وسعت کو روکنے کے لئے کی۔ اس کوشش میں آپ کو طرح طرح کے مصائب میں سے ہو کر گزرنا پڑا مگر آپ نے ان مصائب کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کی اور جماعت کو اس گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔ اسی لئے منکرین خلافت آپ کو اپنا دشمن نمبر ۱ خیال کرتے تھے مگر آپ نے ان کے ہر وار کو اپنے نہتے ہاتھوں پر لیا اور کبھی ایک سیکنڈ کے لئے بھی صداقت کی مضبوط چٹان سے متزلزل نہیں ہوئے۔ خدا کی مشیت نے تو بہر حال پورا ہو کر رہنا تھا مگر ظاہری اسباب کے لحاظ سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا وجود نہ ہوتا تو اس وقت جماعت احمدیہ ایک خطرناک فتنہ کے بھنور میں گھری ہوئی ہوتی اور خاص خاص نفوس کو چھوڑ کر اس کا رستہ وہی ہوتا جو آج منکرین خلافت کا رستہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ مسیح کی طرف سے منہ موڑ کر الٹے پائوں لوٹے جا رے ہیں اور جس گڑھے سے نکلے تھے اسی میں گرنے کے در پے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا یہ ایک ایسا عظیم الشان احسان ہے کہ جس کی قدر و قیمت زمانہ کے گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہو گی بلکہ دن بدن بڑھتی جائے گی اور اس کا پورا پورا اندازہ تب جا کر ہو گا کہ جب ہمارے ان بھٹکے ہوئے دوستوں کا روحانی انجام ننگا ہو کر بعد میں آنے والی نسلوں کے سامنے آئے گا۔
    الغرض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کے زمانہ میں ہی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنے علم و فضل سے ایسا مقام حاصل کر لیا تھا کہ جماعت کے ہر مخلص فرد کی نظر شکر و امتنان کے جذبات کے ساتھ آپ کی طرف اٹھتی تھی اور حضرت خلیفہ اوّل ؓ بھی آپ کو انتہائی محبت اور اکرام کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ پر از حد خوش تھے۔ چنانچہ اپنی بیماری وغیرہ کے ایام میں ہمیشہ آپ ہی کو اپنی جگہ امام صلوۃ مقرر فرماتے تھے اور بسا اوقات اپنی پبلک تقریروں میں آپ کے جذبہ اطاعت اور جذبہ خدمت دین اور علمی قابلیت کی تعریف فرمایا کرتے تھے اور کئی دفعہ اشارہ کنایہ سے اس بات کا بھی اظہار فرمایا کہ میرے بعد یہی خلیفہ ہوں گے ۔چنانچہ ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔
    ’’ ایک نکتہ قابل یاد سنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش رک نہیں سکا۔ وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا۔ ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔ ۷۸ برس تک انہوں نے خلافت کی۔ ۲۲ برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔ یہ بات یاد رکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔ ‘‘ ۱؎
    حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات کے وقت جو ۱۹۱۴ء میں ہوئی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی عمر صرف پچیس سال تھی مگر اس خام عمر میں بھی آپ نے سلسلہ احمدیہ کی وسیع ذمہ داریوں کو جس خوبی اور جس حسن انتظام کے ساتھ نبھایا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ آپ کی اہلی زندگی کے متعلق صرف اس قدر ذکر کافی ہے کہ آپ کی شادی حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی بلکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں آپ کے گھر ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا جو جلد ہی فوت ہو گیا۔مگر اس کے بعد خدا نے آپ کو ماشاء اللہ بہت اولاد دی جن میں سے بڑے لڑکے کا نام مرزا ناصر احمد ہے جو خدا کے فضل سے ایک بہت ہونہار نوجوان ہیں۔
    عہد خلافت ثانیہ کی ابتدائی کش مکش :۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی
    ۱۴؍مارچ ۱۹۱۴ء کو بروز ہفتہ بعد نماز عصر مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔ اس وقت قادیان میں قریباً دوہزار مردوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس تعداد میں ایک حصہ ان لوگوں کا بھی شامل تھا جو حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی بیماری کے آخری ایام میں یا آپ کی وفات کی خبر سن کر باہر سے آئے ہوئے تھے۔ مگر دوسری طرف اس وقت قادیان میں ہی ایک حصہ ایسا بھی موجود تھا جو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی بیعت سے منحرف رہا۔ اس حصہ میں زعماء منکرین خلافت اور ان کے رفقا ہر دو شامل تھے۔ ہر چند کہ ان لوگوں کی تعداد بہت قلیل تھی یعنی اس وقت قادیان میں ان کی مجموعی تعداد دو تین فی صدی سے زیادہ نہیں تھی مگر چونکہ ان میں بعض ذی اثر اصحاب شامل تھے۔ مثلاً مولوی محمد علی صاحب ایم اے جو صدر انجمن احمدیہ کے مستقل سیکرٹری اور ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے اور جماعت میں اچھا اثر رکھتے تھے اور مولوی صدر الدین صاحب بی اے جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے مستقل ہیڈ ماسٹر اور صدر انجمن احمدیہ کے قائم مقام سیکرٹری تھے اور اسی طرح بعض اور لوگ جو صدر انجمن احمدیہ کے مختلف صیغہ جات میں کام کرتے تھے اس گروہ میں شریک تھے اس لئے باوجود تعداد کی کمی کے ان لوگوں کے اثر کا دائرہ کافی وسیع تھا۔ مگر سب سے زیادہ فکر جماعت کے اس سوادِ اعظم کے متعلق تھی جو قادیان سے باہر پنجاب و ہندوستان کے مختلف حصوں میں بالکل تاریکی کی حالت میں پڑا تھا۔ پس خلافت کے انتخاب کے بعد پہلا کام یہ تھا کہ جماعت کے ان منتشر دھاگوں کو سمیٹ کر پھر ایک رسی کی صورت میں جمع کر لیا جاوے چنانچہ اس کی طرف فوری توجہ دی گئی اور اخباروں اور رسالوں اور اشتہاروں کی غیر معمولی اشاعت کے علاوہ جماعت کے اہل علم لوگوں کو ملک کی چاروں اطراف میں پھیلا دیا گیا تا کہ وہ بیرنی جماعتوں کو حالات سمجھا کر اور اختلافی امور کی تشریح کر کے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی تعلیم بتا کر خلافت کے ہاتھ پر جمع کرنے کی کوشش کریں اور گو خدا کے فضل اور رحم سے جماعت کی کثرت نے ایک غیر معمولی سنبھالا لے کر مرکز کی اپیل پر مخلصانہ لبیک کہا اور حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی بیعت فوراً قبول کر لی مگر چونکہ منکرین خلافت کی طرف سے بھی پر زور پراپیگنڈا جاری تھا اس لئے جماعت کا ایک معتدبہ حصہ ایسا بھی تھا جسے سخت کوشش اور انتہائی جدوجہد کے ساتھ راہ راست پر لانا پڑا۔ یہ ایک ہولناک نظارہ تھا اور گویا ایک قسم کی طولانی رسہ کشی تھی جس میں کئی موقعے خطرے کے پیدا ہوتے رہے مگر بالآخر چپہّ چپہّ اور بالشت بالشت اور ہاتھ ہاتھ خدائی فوج دشمن کے کیمپ میں دھستی چلی گئی اور چند ماہ کی شب و روز کی جنگ کے بعد خدا نے اپنے روحانی خلیفہ کو فتح عطا کی اور جماعت کا زائد از پچانوے فی صدی حصہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا۔یہ دن بڑے عجیب و غریب تھے جس کی یاد دیکھنے والوں کو کبھی بھول نہیں سکتی۔ ہر مخلص احمدی جوش سے بھرا ہوا تھا اور ہر فرد اپنے علم اور اپنی استعداد کے مطابق تبلیغ کے کام میں دن رات مصروف تھا اورصحیح معنوں میں ایک پوری پوری جنگی کیفیت نظر آتی تھی۔ اس عرصہ میں منکرین خلافت نے بھی اپنی جدوجہد کو انتہا تک پہنچا دیا اور اصول کی بحث کے علاوہ ذاتیات کے میدان میں بھی قدم رکھ کر ایسا ناز یبا پراپیگنڈا کیا کہ جس نے جماعت کی اخلاقی فضا کو وقتی طور پر مکدر کر دیا مگر فرشتوں کی مخفی فوج کے سامنے سب کوششیں بیکار تھیں اور آہستہ آہستہ حریف کا ہر مورچہ مغلوب ہو کر ہتھیار ڈالتا گیا اور سوائے ایک نہایت قلیل حصہ کے ساری جماعت دامن خلافت کے ساتھ وابستہ ہو گئی۔
    دوسری طرف منکرین خلافت کا جو حصہ قادیان میں تھا جس کے ہاتھ میں صدر انجمن احمدیہ کے بعض محکمہ جات کی باگ ڈور تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب طاری کیا کہ وہ قادیان کو چھوڑ کر خودبخود لاہور چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مرکز سلسلہ کو فتنے کے شراروں سے بہت جلد پاک کر دیا۔ ان لوگوں کا قادیان کو چھوڑنا گو جماعت کے لئے ایک بڑی رحمت ثابت ہوا مگر خود ان کے مفاد کے لحاظ سے یہ ایک خطرناک غلطی تھی جسے انہوں نے خود بھی بعد میں محسوس کیا۔ کیونکہ اوّل تو اس کے بعد ان کے لئے مرکز میں اڈا جمانے کا موقعہ نہ رہا۔ دوسرے چونکہ دنیا کی نظروں میں قادیان ہی سلسلہ احمدیہ کا مرکز تھا اس لئے اپنوں اور بیگانوں کی نظر قادیان ہی کی طرف لگی رہی اور ان لوگوں کے متعلق ہر سمجھنے والے نے یہی سمجھا کہ وہ جماعت کو چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔ مگر بہر حال ان کا قادیان سے خودبخود نکل جانا ایک خدائی تصرف تھا جس نے جماعت کے حق میں ایک بھاری ہتھیار کا کام دیا۔
    اس اختلاف کے دوران میں صدر انجمن احمدیہ کایہ حال تھا کہ گو اس کے ممبروں میں سے ایک معتدبہ حصہ خلافت کا منکر ہو چکا تھا مگر اب تک بھی ممبروں کی اکثریت خلافت کے حق میں تھی جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہو گا :۔
    ۱
    حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب
    خلافت کے حق میں
    ۲
    نواب محمد علی خان صاحب
    ؍؍
    ۳
    مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی
    ؍؍
    یہ بزرگ شروع میں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی بیعت میں داخل ہوئے مگر بعد میںمنکرین خلافت کے بہکانے سے بعض امور میں خلاف ہو گئے۔ مگر وفات کے قریب پھر مائل ہو گئے تھے۔
    ۴
    ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب
    ؍؍
    ۵
    ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب
    ؍؍
    ۶
    سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی
    ؍؍
    ۷
    مولانا مولوی شیر علی صاحب
    خلافت کے حق میں
    ۸
    خاکسار مرزا بشیر احمد مولف رسالہ ھٰذا
    ؍؍
    ۹
    مولوی محمد علی صاحب ایم اے
    خلافت کے خلاف
    ۱۰
    خواجہ کمال الدین صاحب
    ؍؍
    خواجہ صاحب کی قائم مقامی میں حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات کے وقت مولوی صدرالدین صاحب عارضی طور پر ممبر تھے اور وہ بھی خلافت کے خلاف تھے۔
    ۱۱
    ڈاکر مرزا یعقوب بیگ صاحب
    ؍؍
    ۱۲
    ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب
    ؍؍
    ۱۳
    شیخ رحمت اللہ صاحب
    ؍؍
    ۱۴
    مولوی غلام حسن صاحب پشاوری
    ؍؍
    یہ بزرگ خاکسار مولف رسالہ ہذا کے خسر ہیں اور گو اب تک خلافت کے خلاف ہیں مگر منکرین خلافت کی پارٹی سے الگ ہو چکے ہیں۔ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ جلد ہدایت دے کر ادھر لے آئے
    ۱۵
    میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی
    ؍؍
    یہ بزرگ شروع میں کچھ وقت تک مصلحۃً منکرین کے ساتھ رہے مگر بعد میں جلد ہی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی بیعت سے مشرف ہو گئے۔
    مندرجہ بالا نقشے میں جن ممبران صدر انجمن احمدیہ کا ذکر ہے یہ سب حضرت مسیح موعود ؑ کے مقرر کردہ تھے سوائے اس کے کہ مولانا مولوی شیر علی صاحب اور خاکسار مولف رسالہ ھٰذا کو حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے مقرر فرمایا تھا اور مولوی صدرالدین صاحب کوصدر انجمن احمدیہ نے خود بخود خواجہ کمال الدین صاحب کے سفر ولایت کے ایام میں عارضی ممبر مقرر کر لیا تھا۔ بہر حال اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات کے وقت بھی صدر انجمن احمدیہ کی اکثریت خلافت کی موید تھی۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین خلافت اس بات پر مجبور ہوئے کہ صدر انجمن احمدیہ سے ۔ ہاں وہی صدر انجمن احمدیہ جو ان کی اس قدر منظور نظر تھی۔ قطع تعلق کر کے اس کی جگہ لاہور میں ایک علیحدہ انجمن قائم کر لیں۔ گویا حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات کے بعد ان اصحاب کا صرف خلافت سے ہی قطع تعلق نہیں ہوا بلکہ صدر انجمن احمدیہ سے بھی قطع تعلق ہو گیا اور وہ مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر لاہور چلے گئے اور وہاں اپنی ایک جداگانہ انجمن بنا لی جسکا نام انجمن احمدیہ اشاعت اسلام ہے۔
    جس وقت یہ اصحاب قادیان کو چھوڑ کر جا رہے تھے اس وقت ان کے تعمیراتی پروگرام نے صدر انجمن احمدیہ کے خزانے کو بالکل خالی کر رکھا تھا اور صرف چند آنوں کے پیسے باقی تھے اور دوسری طرف یہ لوگ اس قدر خودبینی میں مبتلا تھے کہ سمجھتے تھے کہ ہمارے چلے جانے سے یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ہمارے بعد کوئی شخص اس نظام کو چلا نہیں سکے گا۔ چنانچہ ان کے ایک معزز رکن نے قادیان سے جاتے ہوئے سلسلہ کی عمارات کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اب یہاں اُلو بولیں گے۔ یہ کلمہ اس انتہائی نخوت کا ایک گندہ ابال تھا جو ان لوگوں کے دماغوں میں غلبہ پائے ہوئے تھی اور اس سے اس بے حمیتی پر بھی روشی پڑتی تھی جس کا یہ لوگ شکار ہو رہے تھے کیونکہ خواہ وہ قادیان سے جا رہے تھے مگر بہر حال قادیان ان کے روحانی پیشوا اور سلسلہ احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود ؑ کا مولد و مسکن و مدفن تھا اور سلسلہ کی تمام روایات قادیان سے وابستہ تھیں۔ پس اگر ان لوگوں کے دل میں مرکز سلسلہ کی ذرا بھی محبت ہوتی تو ان کے منہ سے قادیان کے متعلق اس قسم کے الفاظ ہرگز نہ نکلتے ۔ کہتے ہیں کہ محبوب کی گلی کا کتا بھی پیارا ہوتا ہے مگر ان لوگوں نے اپنے محبوب کے مکانوں اور ہزاروں خدائی نشانات کی جلوہ گاہ عمارتوں اور بیسیوں شعائر اللہ کو محبوب کی گلی کے کتے کے برابر بھی حیثیت نہیں دی۔ مگر اس کا کیا پھل پایا؟ آہ یہ ایک نہایت تلخ خیال ہے جس کے تصور سے بھی دل میں درد اٹھتا ہے۔ پس میں اس کی تشریح میں جانے کے بغیر صرف اس دعا پر اس حصہ مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ان بھٹکے ہوئے بھائیوں کو پھر اس رستہ پر لے آئے جسے انہوں نے کس محبت اورکن امنگوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں اختیار کیا تھا اور خدا وہ وقت نہ لائے کہ حضرت مسیح موعود ؑ قیامت کے دن اپنے صحابہ کی ایک جماعت کو دیکھ کر اُصَیْحَابِیْ اُصَیْحَابِیْ پکاریں مگر خدا کے فرشتے انہیں دھکیل کر دوسری طرف لے جائیں۔ بس میں اس وقت اس مضمون پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ :۔
    دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے
    بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانیئے کیا یاد آیا
    اختلافی مسائل کا آغاز و انجام :۔ ہم بتا چکے ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے زمانہ
    میں ہی منکرین خلافت کا عقیدہ تین اہم باتوں میں جماعت احمدیہ کے سوادِ اعظم سے جدا ہو چکا تھا یعنی اوّل خلافت کا سوال۔ دوسرے یہ سوال کہ آیا حضرت مسیح موعود ؑ پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں۔ اور تیسرے حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت کا مسئلہ۔ یہ لوگ خلافت کے منکر اورایک انجمنی نظام کے قائل تھے اور حضرت مسیح موعود ؑ پر ایمان لانے کو اچھا تو خیال کرتے تھے بلکہ ان میں سے اکثر اسے ترقی درجات کے لئے ضروری بھی قرار دیتے تھے مگر نجات کے لئے اسے ضروری نہیں سمجھتے تھے یعنی ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آپ پر ایمان لانے کے بغیر بھی انسان نجات پا سکتا ہے اور تیسرے یہ کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کے دروازہ کو کلیۃً بند خیال کرتے تھے اور اس بات کے مدعی تھے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف جزوی مشابہت کی وجہ سے استعارہ کے رنگ میں کبھی کبھی اس لفظ کو اپنے متعلق استعمال کیا ہے۔ ان عقائد میں سے مقدم الذکر دو عقیدے تو حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی زندگی میں ہی ظاہر و عیاں ہوچکے تھے مگر نبوت کے متعلق ان اصحاب کے عقیدے نے آہستہ آہستہ تدریجی رنگ میں تبدیلی اختیار کی جس کی پوری پوری تشکیل حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی وفات کے بعد ہوئی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ کی تحریریں تو خیر صاف ہی ہیں جن میں یہ لوگ کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت کا اقرار کرتے رہے ہیں حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے زمانہ میں بھی ان میں سے کئی ایک اصحاب نے اپنی تحریرات میں حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت کا اقرار کیا ہے اور اپنے مضمونوں اور تقریروں میں حضرت مسیح موعود ؑ کو نبی کہہ کر پکارتے رہے ہیں ۔ لیکن چونکہ مقدم الذکر دو عقیدوں پر قائم رہتے ہوئے یہ لوگ نبوت کے متعلق اپنے عقیدہ کو بدلنے پر مجبور تھے اس لئے انہوں نے آہستہ آہستہ یہ تیسرا عقیدہ بھی تبدیل کر لیا۔
    دراصل اس ساری تبدیلی کی تہ میں یہ جذبہ مخفی تھا کہ یہ لوگ موجودہ زمانہ کی پَین اسلامک تحریک کے ماتحت اس خیال سے حد درجہ متاثر تھے کہ سب مسلمانوں کو آپس میں مل کر رہنا چاہئے اور درمیانی اختلافات کو مٹا کر ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہو جانا چاہئے۔ اس خیال کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ وہ آہستہ آہستہ احمدیت کے ان مخصوص عقائد سے متزلزل ہونے شروع ہو گئے جو ان کے خیال میں احمدیت کو اس زمانہ کے دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ کر رہے تھے۔ ان کا یہ میلان حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں بھی ایک حد تک موجود تھا لیکن حضرت مسیح موعود ؑ کی مقناطیسی شخصیت نے ہر قسم کے تشتّت کے خیال کو دبائے رکھا اور جماعت میں کسی خارجی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اور جماعت کی خصوصیات کو سختی کے ساتھ قائم رکھا۔ لیکن جب آپ وفات پا گئے تو پھر آہستہ آہستہ ان لوگوں کے خیالات نے پلٹا کھانا شروع کیا اور یکے بعد دیگرے احمدیت کے ایک ایک قلعہ کو نقب لگتی گئی ۔ سلسلہ کے اندرونی اختلافات کا یہ نظریہ ایسا بدیہی ہے کہ سلسلہ کے مخالفوں تک نے اسے محسوس کیا ہے اور گو طبعاً وہ ساری اندرونی کیفیات کو تو نہیں سمجھ سکے مگر انہوں نے اس بات کو ضرور محسوس کر لیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی لاہوری پارٹی کا رجحان انہیں آہستہ آہستہ کس طرف لے جا رہا ہے چنانچہ مسٹر ایچ اے والٹرایم اے سیکرٹری آل انڈیا ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن اپنی کتاب احمدیہ موومنٹ میں لکھتے ہیں :۔
    ’’ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات یقینی طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ اس فرقہ کی لاہوری پارٹی آہستہ آہستہ مسلمانان ہند کی مسلم لیگ پارٹی کے اندر جذب ہو جائے گی ہاں اس قدر ضرور ہو گا کہ وہ اپنے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں میں مسیحیت کے خلاف ایک زیادہ زبردست جذبہ لیتی جائے گی اور شاید کسی حد تک مسیح ناصری کی موت کا عقیدہ بھی ساتھ لیتی جاوے لیکن اس کے مقابل پر قادیان کی پارٹی آخر تک اسلام کی ایک مستقل اور جداگانہ پارٹی رہے گی اور غالباً اسی حالت میں بڑھتی جائے گی۔ ‘‘ ۱؎
    بدقسمتی سے اس سارے انقلاب کی وجہ یہ ہوئی ہے کہ منکرین خلافت نے سلسلہ احمدیہ کی غرض و غایت اور اس کے مقصد و منتہیٰ کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے صرف اس قدر دیکھا کہ بانیء سلسلہ احمدیہ ایک نیک اورپاکباز انسان ہیں اور اسلام کی تبلیغ کا خاص شوق رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ نے بعض اسلامی عقائد کی ایسی معقول اور حکیمانہ تشریح کی ہے کہ جس سے وہ اعتراضا ت جو آجکل عام طور پر اسلام کے خلاف ہوتے تھے اسلام کے پاک چہرہ سے دھل گئے ہیں۔ اس جذبہ اور اس احساس کے ماتحت انہوں نے احمدیت کو قبول کیا مگر انہوں نے احمدیت کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ ہی کبھی یہ غور کیا کہ سلسلہ احمدیہ کس منہاج پر قائم ہے اور اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ دنیا میں کیا انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ انقلاب کس رنگ میں پیدا ہو گا ۔ اگر وہ ان باتوں کو سمجھتے تو یقینا وہ اس ٹھوکر سے بچ جاتے جو اب انہیں لگی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں وہ بجائے احمدیت کو موجودہ زمانہ کے اسلام کی طرف لے جانے کے موجودہ اسلام کو احمدیت کی طرف لانے کی کوشش کرتے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو بالآخر غالب آنے والی ہے۔ انہوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ جب خدا تعالیٰ نے بانیء سلسلہ احمدیہ کو تجدید اسلام کے لئے مبعوث کیا ہے تو اب سنت اللہ کے مطابق بگڑے ہوئے اسلام کو اصلاح شدہ اسلام کی طرف آنا چاہئے نہ یہ کہ اصلاح شدہ اسلام بگڑے ہوئے اسلام کی طرف جائے۔ پھر افسوس ہے کہ ان لوگوں نے قوموں کے اتار چڑھائو کے فلسفہ کو بھی نہیں سمجھا۔ کیونکہ اگر وہ سوچتے تو انہیں یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ آجاتی کہ اصلاح کا طریق یہ نہیں ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو بچانے کی خاطر اپنی خصوصیات کو ترک کر کے اس میں جذب ہو جاوے اور نہ ہی کسی قوم کی خصوصیات دوسری قوم میں جذب ہونے سے باقی رہ سکتی ہیں۔ جب کسی کھیت کی فصل پرانی ہو کر خراب ہو جاوے اور اجڑنے لگے تو اس کی اصلاح کا یہ طریق نہیں کہ اسی کھیت کے اندر تازہ بیج بکھیر دیا جائے۔ بلکہ اس کی اصلاح کا طریق یہ ہے کہ اس میں ہل چلا کر اسے صاف کیا جائے اور پھر نیا بیج ڈالا جائے۔ پس بے شک اسلام اور قرآن کا کھیت وہی قدیم کھیت ہے جو پہلے تھا اور قیامت تک وہی قائم رہے گا مگر اس کی موجودہ فصل خراب ہو کر اجڑ رہی ہے اور ضرورت ہے کہ اس کھیت میں دوبارہ ہل چلا کر نیا بیج ڈالا جاوے۔
    غالباً منکرین خلافت کے لیڈروں کو یہ بات بھی بھولی نہیں ہو گی کہ جب ۱۹۰۶ء کے آغاز میں ایک مشہور غیر احمدی جرنلسٹ نے ان تبلیغی اور علمی مضامین سے متاثر ہو کر جو ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہو رہے تھے یہ تجویز پیش کی کہ ریویو کو عام اسلامی مضامین کے لئے وقف کر دیا جاوے اور سلسلہ احمدیہ کے مخصوص عقائد کا اس میں ذکر نہ ہوا کرے اور اس صورت میں اس کی خریداری کی توسیع کے متعلق بڑی بڑی امیدیں دلائی تھیں تو حضرت مسیح موعود ؑ نے اس تجویز کو سختی کے ساتھ ٹھکرا دیا اور فرمایا کہ کیا ہم احمدیت کے ذکر کو الگ کر کے لوگوں کے سامنے مردہ اسلام کو پیش کریں گے؟ اور جب ایک دوسرے موقعہ پر اس بات کا ذکر تھا کہ بعض غیر احمدی مسلمانوں کی خواہش ہے کہ احمدی ان کے ساتھ مل جائیں اور سب کام مل کر کریں تو آپ نے فرمایا کہ خدا نے میرے ذریعہ پاک اور صاف دودھ اتارا ہے تو کیا اب میں اپنے پاک و صاف دودھ کو پھر بگڑے ہوئے اور ناصاف دودھ کے ساتھ ملا دوں؟ یہ ایک کیسی سادہ مثال ہے مگر کیسی لطیف اور کیسی حکمت سے پُر!! مگر افسوس ہے کہ ہمارے ان بھٹکے ہوئے ودستوں نے ان باتوں کو سنتے ہوئے بھی آنکھیں نہ کھولیں۔
    الغرض منکرین خلافت کو ساری ٹھوکر اس بات سے لگی ہے کہ انہوں نے احمدیت کی حقیقت اور اس کی غرض و غایت کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے اسے صرف ایک عام اصلاحی تحریک خیال کیا اور اس لئے اس بات کو کافی سمجھا کہ وہ احمدیت کے اصلاح شدہ خیالات کو لے کر اسلام کے سوادِ اعظم میں پھر جا داخل ہوں مگر یہاں تو بات ہی اور تھی۔ یہاں تو احمدیت کا یہ دعویٰ ہے کہ میں دنیا کے سارے نظاموں کو مٹا کر جن میں موجودہ اسلام کا بگڑا ہوا نظام بھی شامل ہے ایک نیا نظام قائم کرنے آئی ہوں۔ یہ نیا نظام اسلام ہی کا نظام ہو گا مگر بہر حال نیا ہو گا اور احمدیت کے واسطے سے قائم ہو گا۔ خداتعالیٰ حضرت مسیح موعو دؑسے فرماتا ہے :۔
    ’’ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ ‘‘ ۱؎
    اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ ہم لوگ دوسرے مسلمانوں سے ہر بات میںجدا رہنا چاہتے ہیں اور کسی بات میں بھی ان کے ساتھ اتحاد پسند نہیں کرتے۔ یہ وہم یقینا خلاف واقعہ اور خلاف تعلیم احمدیت ہو گا ۔ ہم سب مسلمانوں کو اپنا قریب تر بھائی خیال کرتے ہیں کیونکہ ہم اسی کلمہ کو پڑھنے والے اور اسی شریعت پر عمل کرنے والے اور اسی نبیوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کا دم بھرنے والے ہیں اور ہم تمام مشترک امور میں مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنے اور ان کے دوش بدوش کھڑے ہو کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور ان کی خدمات کو اپنا فرض خیال کرتے ہیں۔ مگر ہم مسلمانوں کے بگڑے ہوئے عقائد کو اچھا نہیں کہہ سکتے اور نہ ان کی خاطر اپنے اچھے عقائد کو چھپانے کے لئے تیار ہیں۔ بلکہ ہم ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں اور خدا کے فضل سے ہمیشہ کہتے رہیں گے کہ اب حقیقی اسلام صرف احمدیت ہی میں مل سکتا ہے اور احمدیت کے ساتھ ہی مسلمانوںکی نجات وابستہ ہے۔ اگر وہ احمدیت کے مخالف رہیں گے اور خدا کے برگزیدہ مسیح کے ساتھ اپنا پیوند نہیں جوڑیں گے تو ہم اس بات کے اظہار سے رک نہیں سکتے کہ اس صورت میں وہ خدا کا مقابلہ کرنے والے ہوں گے اور ان کا قدم ہر لحظہ نیچے ہی نیچے گرتا جائے گا۔ ہم ان کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر ان کو ہوشیار کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جتھے اور اپنی حکومتوں پر نازاں نہ رہیں کیونکہ خدا کے مسیح نے صاف فرما دیا ہے کہ :۔
    ’’ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔ ‘‘ ۱؎
    خلافت ثانیہ میں واقعات کا غیر معمولی ہجوم :۔ اب ہم جماعت احمدیہ کے اندرونی اختلافات کی دلدل سے نکل کر جماعت کی تاریخ کے اس حصہ میں داخل ہو رہے ہیں جہاں سے ہماری تاریخ منکرین خلافت سے علیحدہ و ممتاز ہو کر اپنے مستقل رستہ پر گامزن ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہمارا راستہ بالکل صاف اور سیدھا ہے جس میں جماعت احمدیہ کی متحدہ آواز میں کوئی اختلافی راگنی سنائی نہیں دیتی۔ اور خدا کے برگزیدہ مسیح کی ساری فوج اپنی ساری طاقت کے ساتھ ایک ہی نقطہ پر جمع نظر آتی ہے ۔ مگر قبل اس کے کہ ہم سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کے اس حصہ میں داخل ہوں ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ چونکہ اب خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کافی ترقی کر چکی تھی اور نہ صرف اس کی تعداد میں اضافہ ہو چکا تھا بلکہ اس کا کام بھی گو ناگوں شعبوں میں تقسیم ہو کر بہت وسعت اختیار کر چکا تھا اور وہ اپنے اندرونی اختلافات کے داغ سے بھی پاک ہو چکی تھی اس لئے جماعت احمدیہ کی تاریخ کے اس حصہ میں واقعات کا اس قدر ہجوم ہے کہ ہمارے لئے یہ ناممکن ہے کہ اس مختصر رسالہ میں سارے واقعات کو درج کر سکیں۔ پس اب ہمیں لازماً زیادہ اختصار اور انتخاب سے کام لینا پڑے گا۔ علاوہ ازیں چونکہ اس رسالہ کی اصل غرض و غایت خلفاء احمدیہ کی سیرت و سوانح بیان کرنا نہیں بلکہ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ اور ترقی کو ضبط میں لانا اصل مقصد ہے اس لئے ہم اس بناء پر بھی صرف ایسے اہم واقعات تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے جن کا سلسلہ احمدیہ کی ترقی اور توسیع کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ اور پھر یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس کتاب کا حجم خاکسار مولف رسالہ ہذا کے ابتدائی اندازے سے اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب سوائے اس کے کہ غیر معمولی اختصار کے ساتھ ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھا جائے اور کوئی چارہ نہیں۔ مگر ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ سلسلہ کی تاریخ کا یہ زمانہ جو خلافت ثانیہ سے تعلق رکھتا ہے ہماری تاریخ کا ایک ایسا سنہری زمانہ ہے کہ یقینا وہ شخص بہت خوش قسمت ہوگا جو اس زمانہ کا ایک مفصل مرقع تیار کرنے کی سعادت پائے۔
    جنگ عظیم اور جماعت احمدیہ :۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں خلافت ثانیہ کا آغاز روحانی فضا
    میں بادلوں کی گرج او ربجلیوں کی کڑک کے اندر ہوا تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک محض اتفاق تھا یاکہ آسمانی تقدیر کا ایک اور مخفی کرشمہ تھا کہ خلافت ثانیہ کے آغاز کے چند ماہ کے اندر اندر ہی اس دنیا کی مادی فضا میں بھی تاریک بادلوں کی گرجوں نے ایک غیر معمولی طوفان پیدا کر دیا۔ خلافت ثانیہ کی ابتداء ۱۹۱۴ء کے ماہ مارچ میں ہوئی اور اسی سال کے ماہ اگست میں دنیا کی وسیع سٹیج پر اس جنگ عظیم کا آغاز ہوا جس کے متعلق یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس سے پہلے دنیا میں کوئی جنگ اس قدر وسیع پیمانہ پر اور اس قدر ہیبت ناک مناظر کے ساتھ نہیں ہوئی۔ اور جب یہ آگ ایک دفعہ شروع ہوئی تو پھر اس سرعت کے ساتھ پھیلی کہ جنگ کے اختتام سے قبل دنیا کا بیشتر حصہ کسی نہ کسی جہت سے اس کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعود ؑ کے سوانح کے ذکر میں بتا چکے ہیں آپ نے خدا سے علم پا کر ۱۹۰۵ء میں اس خطرناک تباہی کی پیشگوئی فرمائی تھی اور اس کی تباہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ خبر بھی دی تھی کہ اس عالمگیر زلزلہ میں زار روس پر بھی ایک تباہ کن مصیبت آئے گی۔ ۱؎ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جنگ کے اختتام سے قبل ہی زار روس کے اقبال کی صف لپیٹ دی گئی۔
    اس جنگ میں چونکہ حکومت انگریزی بھی شریک تھی اس لئے جماعت احمدیہ نے اپنے مقدس بانی کی تعلیم کے ماتحت ایک وفادار شہری کا پورا پورا حق ادا کیا اور حکومت وقت کو اپنی طاقت سے بڑھ کر جان و مال سے مدد پہنچائی۔ یہ سب امداد ایک اصول کے ماتحت تھی اور اگر انگریزوں کے سوا کسی اور کی حکومت ہوتی تو اس کے ساتھ بھی یہی وفاداری کا سلوک کیا جاتا کیونکہ اسلام کی یہ تعلیم ہے جسے احمدیت نے بڑے زور کے ساتھ پیش کیا ہے کہ حکومت وقت کے ساتھ اور خصوصاً ایسی حکومت کے ساتھ جنس کے ذریعہ ملک میں امن قائم ہو تعاون اور وفاداری کا سلوک ہونا چاہئے اور جماعت احمدیہ کے لئے تو سب سے زیادہ قیمتی چیز ہی مذہبا ور اشاعت مذہب اور تبدیل مذہب کی آزادی ہے۔ پس جو حکومت جماعت احمدیہ کو یہ چیز دیتی ہے وہ خواہ کوئی ہو او رکسی ملک میں ہو وہ جماعت احمدیہ کو ہمیشہ اپنا مخلص اور وفادار پائے گی۔ جو لوگ جماعت احمدیہ پر انگریزوں کی جاسوسی اور حکومت انگریزی کے ساتھ خفیہ ساز باز کا الزام لگاتے ہیں وہ یقینا جھوٹے اور فریبی ہیں کیونکہ انگریزوں کے ساتھ ہمارے اتحاد کی تہہ میں اس جذبہ کے سوا اور کوئی جذبہ نہیں جو ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے اور وقت آنے پر دنیا دیکھ لے گی کہ ہماری پالیسی کی بنیاد اصول پر ہے نہ کہ ذاتیات پر۔
    جماعت کی تبلیغی کوششوں میں توسیع اور ایک نادر تفسیر :۔ اندرونی اختلافات کی کشمکش
    سے فرصت پانے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی توجہ سب سے پہلے جماعت کے تبلیغی کام کو وسیع کرنے کی طرف مبذول ہوئی۔ چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ آپ کے عہد خلافت میں کس حیرت انگیز رنگ میں جماعت کے تبلیغی مشنوں نے ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا میں تبلیغ کا ایک وسیع جال پھیل گیا۔ مگر جو کام مسندِ خلافت پر متمکن ہوتے ہی فوری طور پر کیا گیا وہ قرآنی علوم کی اشاعت کا کام تھا۔ چنانچہ ۱۹۱۵ء میں جو خلافتِ ثانیہ کا دوسرا سال تھا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی ہدایت اور نگرانی کے ماتحت قرآن شریف کے پہلے پارہ کی تفسیر انگریزی اور اردو ہر دو میں تیار کرا کے شائع کی گئی جس نے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ یورپ کے علم دوست حلقہ میں بھی ایک ہلچل پیدا کر دی حتیّٰ کہ ایک یورپین مستشرق نے مشہور عیسائی رسالہ مسلم ورلڈ میں اس تفسیر پر ریویو کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ احمدیت کے لٹریچر کا مطالعہ ہی اس بات کا اندازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ مذاہب کی موجودہ جنگ میں اسلام اور مسیحیت میں سے کون غالب آنے والا ہے۔ ۱؎ یہ تفسیر خود حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی مگر آپ کے نام پر شائع نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے جماعت کے ذمہ دار لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف ایک نمونہ تیار کرتا ہوں اور آگے اسے مکمل کرنا آپ لوگوں کا کام ہو گا۔ اس تفسیر کا انگریزی ترجمہ احمدی علما کے ایک بورڈ نے کیا تھا مگر افسوس ہے کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے یہ نادر الوجود تفسیر ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی لیکن جن لوگوں نے اس کا پہلا پارہ مطالعہ کیا ہے ان کے دلوں سے اتنا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک اس کے بقیہ حصوں کے انتظار کا جذبہ مٹ نہیں سکا۔ بہر حال اس تفسیر نے دنیا کو ایک رستہ دکھا دیا ہے اور اب وہ اس بات کا کسی قدر اندازہ کر سکنے کے قابل ہے کہ احمدیت کے سینہ میں قرآنی علوم کے کتنے خزانے مخفی ہیں۔
    منارۃ المسیح کی تکمیل :۔ منکرین خلافت نے اپنی طاقت کے زمانہ میں یعنی جب وہ حضرت خلیفہ اوّل کے عہد میں صدر انجمن احمدیہ کے بیت المال پر قابض تھے قادیان میں بعض شاندار عمارتوں کی بنیاد رکھی تھی۔ ہم ان عمارتوں کو برا نہیں کہتے کیونکہ بہر حال وہ مرکز سلسلہ کی ظاہری رونق اورشان کو بڑھانے والی اور جماعت کی بعض ضرورتوں کو پورا کرنے والی تھیں مگر چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی توجہ تمام تر اشاعت دین اور اعلاء کلمۃ اللہ میںلگی ہوئی تھی اس لئے آپ اس زمانہ میں بسا اوقات اس بات پر کڑھتے تھے کہ جماعت کا اس قدر روپیہ جس کی دین کے کاموں میں ایسی اشد ضرورت ہے اس طرح اینٹ اور گارہ میں ضائع کیاجا رہا ہے۔ پس جب آپ کا زمانہ آیا تو آپ نے اپنے عہد خلافت میں ان عمارتوں کے سلسلہ کو یکدم روک دیا مگر ایک عمارت کی تڑپ آپ کے دل میں بھی مخفی تھی اور وہ منارۃ المسیح کی عمارت تھی ۔ آپ دیکھتے تھے کہ یہ عمارت سلسلہ کی ایک مقدس یاد گار ہے جس کی حضرت مسیح موعود ؑ نے خود اپنے ہاتھ سے بنیاد رکھی مگر روپے کی قلت کی وجہ سے اسے مکمل نہیں فرما سکے۔ پس آپ نے جہاں دوسری عمارتوں کے سلسلہ کو بند کیا وہاں خود کہہ کر اور حکم دے کر منارۃ المسیح کی بند شدہ عمارت کی تعمیر جاری کرا دی۔ چنانچہ خدا کے فضل سے بہت جلد ہی ہمارے سلسلہ کی یہ روحانی یادگار جس کا رنگ پورے طور پر سفید ہے تکمیل کو پہنچ گئی۔ اور اب یہ منارہ نہ صرف قادیان کی آبادی کا ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے بلکہ جماعت کو ہر وقت ان کا یہ فرض بھی اد دلاتا ہے کہ وہ ایک سفید اور بے داغ دل کے ساتھ اسلام کی بلندیوں میں پرواز کرتے چلے جائیں۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں منارہ کی بنیاد ۱۹۰۳ء میں رکھی گئی تھی۔ مگر بعد میں یہ کام فنڈز کی کمزوری کی وجہ سے رک گیا اور پھر خلافت ثانیہ کے زمانہ میں ۱۹۱۵ء میں دوبارہ جاری ہو کر ۱۹۱۶ء میں تکمیل کو پہنچا۔
    حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے زمانہ کے حالات میں جماعت احمدیہ کے لندن مشن کا ذکر کیا جا چکا ہے اور یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ دارالتبلیغ لندن کے قیام میں بھی حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا کافی ہاتھ تھا کیونکہ آپ نے ہی اپنی قائم کردہ انجمن انصار اللہ کے چندہ سے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔ یہ دارالتبلیغ خدا کے فضل سے کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا اور چوہدری صاحب موصوف بڑے اخلاص اور جوش کے ساتھ تبلیغ اسلام میں مصروف تھے اور قبل اس کے کہ خلافت ثانیہ کاپہلا سال اختتام کو پہنچے اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب کو ان کی کوششوں کا پہلا ثمرہ بھی عطا کر دیا یعنی ایک انگریز مسٹر کوریو نامی چوہدری صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے احمدیت میں داخل ہوا۔
    اب خلافت ثانیہ کے دوسرے سال میں خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن قائم ہوا۔ یہ مشن جزیرہ ماریشس میں قائم کیا گیا جو براعظم افریقہ کے مشرق میں اور خط استوا کے جنوب میں واقع ہے یہ جزیرہ پہلے فرانسیسی حکومت کے ماتحت تھا لیکن بعد میں انگریزی حکومت میں آگیا اور اس کی آبادی کا بیشتر حصہ ایسا تھا جو کسی زمانہ میں ہندوستان سے جا کر وہاں آباد ہوا تھا۔ ان لوگوں نے جب احمدیت کا نام سنا تو اس بات کی خواہش کی کہ ان کے پاس کوئی مبلغ بھجوایا جائے چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے اس کام کے لئے حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی اے کو منتخب کیا اور وہ فروری ۱۹۱۵ء کو قادیان سے روانہ ہو گئے۔ صوفی صاحب سلسلہ احمدیہ کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور انگریزی میں گریجوایٹ ہونے کے علاوہ حافظ قرآن اور عربی علوم کے اچھے ماہرہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح