1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روح و مادہ ۔ عقلی دلائل حدوث روح و مادہ پر

'اسلام اور ویدک دھرم' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 5, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روح و مادہ
    عقلی دلائل حدوث روح و مادہ پر

    دلیل اوّل:۔ وہ قادر مطلق ہے۔سرب شکتی مان ہے۔پس چونکہ وہ قادرِ مطلق ہے اس لئے ہرکام وہ کرسکتا ہے۔ (البقرۃ :۱۴۹)

    وَلِكُلٍّ۬ وِجۡهَةٌ هُوَ مُوَلِّيہَا‌ۖ فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٲتِ‌ۚ أَيۡنَ مَا تَكُونُواْ يَأۡتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا‌ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىۡءٍ۬ قَدِيرٌ۬ (١٤٨) (البقرۃ :۱۴۹)

    اعتراض:۔خدا اپنے جیسا خدا نہیں بنا سکتا ۔نہ وہ مر سکتا ہے؟

    جواب نمبر۱:۔ تمام صفات مساوی ہیں ۔اپنی مثل بنانا قدرت نہیں بلکہ کمزوری ہے کیونکہ دوسری صفات کٹتی ہیں۔چونکہ اس کی صفات میں سے حیّ ہونا اور واحد ہونا ہے۔اگر وہ مثل بنائے تو واحد نہیں رہتا۔اپنے آپ کو ماردے تو حیّ نہیں رہتا مگر مادہ اور روح میں کونسی صفت کٹتی ہے؟

    جواب نمبر۲:۔ کوئی معیار پیش کرو ورنہ قادر مطلق نہ مانو۔ہاں انسان سے زیادہ قادر مانو۔ اسی طرح انسان بمقابلہ حیوان کے اور ڈاکٹر بمقابلہ کمپونڈر کے قادرِ مطلق ہے۔

    دلیل نمبر۲:۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے (الرعد:۱۷)

    قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ قُلِ ٱللَّهُ‌ۚ قُلۡ أَفَٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِهِۦۤ أَوۡلِيَآءَ لَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ نَفۡعً۬ا وَلَا ضَرًّ۬ا‌ۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ أَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِى ٱلظُّلُمَـٰتُ وَٱلنُّورُ‌ۗ أَمۡ جَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُواْ كَخَلۡقِهِۦ فَتَشَـٰبَهَ ٱلۡخَلۡقُ عَلَيۡہِمۡ‌ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَـٰلِقُ كُلِّ شَىۡءٍ۬ وَهُوَ ٱلۡوَٲحِدُ ٱلۡقَهَّـٰرُ (١٦) (الرعد:۱۷)

    ۱۔یہ کہ اﷲ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے کیونکہ اگر وہ بعض چیزوں کا خالق نہ ہو تو واحد نہ ہوگا۔یعنی واحد فی الصّفات۔

    ۲۔اگر وہ ہر چیز کا خالق نہیں تو وہ ان اشیاء پر غلبہ جائز طور پر پانے کا مستحق نہیں۔اسی کی تائید کرتی ہے یہ آیت (الانعام:۶۲)

    وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦ‌ۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ (٦١) (الانعام:۶۲)

    اعتراض:۔ انسان بھی اکثر اشیاء کا مالک ہے ۔اور اسے غلبہ حاصل ہے۔بدوں خَلق کے۔

    جواب نمبر۱:۔ خدا کی اجازت سے ۔

    جواب نمبر۲:۔ (الشورٰی:۱۲) پس اُس کی مِلک اور انسان کی مِلک میں فرق ہونا چاہیے۔

    فَاطِرُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ‌ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٲجً۬ا وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَـٰمِ أَزۡوَٲجً۬ا‌ۖ يَذۡرَؤُكُمۡ فِيهِ‌ۚ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَىۡءٌ۬‌ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ (١١) (الشورٰی:۱۲)

    اعتراض:۔ ہم بھی موجود ہیں ۔خدا بھی موجود ہے۔ ہم بھی ابدی ہیں۔خدا بھی ابدی ہے تو توحید فی الصفات کیسے ہوئی بلکہ اشتراک ثابت ہوا۔

    جواب:۔ ہم اس کے قائم رکھنے سے موجود ہوئے وہ خود قدیم ہے مگر روح و مادہ کا وجود حادث ہے۔دلیل یہ ہے کہ خدا چاہے تو قائم نہ رکھے یا ابدی نہ بنائے مگر روح کو نہیں مٹائے گا۔ (دیکھو سورۃ ہود رکوع ۹ آیت ۱۰۳تا۱۰۹)

    وَكَذَٲلِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِىَ ظَـٰلِمَةٌ‌ۚ إِنَّ أَخۡذَهُ ۥۤ أَلِيمٌ۬ شَدِيدٌ (١٠٢) إِنَّ فِى ذَٲلِكَ لَأَيَةً۬ لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ ٱلۡأَخِرَةِ‌ۚ ذَٲلِكَ يَوۡمٌ۬ مَّجۡمُوعٌ۬ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٲلِكَ يَوۡمٌ۬ مَّشۡهُودٌ۬ (١٠٣) وَمَا نُؤَخِّرُهُ ۥۤ إِلَّا لِأَجَلٍ۬ مَّعۡدُودٍ۬ (١٠٤) يَوۡمَ يَأۡتِ لَا تَڪَلَّمُ نَفۡسٌ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِىٌّ۬ وَسَعِيدٌ۬ (١٠٥) فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِى ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيہَا زَفِيرٌ۬ وَشَهِيقٌ (١٠٦)خَـٰلِدِينَ فِيہَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٲتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ‌ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ۬ لِّمَا يُرِيدُ (١٠٧) ۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِى ٱلۡجَنَّةِ خَـٰلِدِينَ فِيہَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٲتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ‌ۖ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوذٍ۬ (١٠٨) (سورۃ ہود آیت ۱۰۳تا۱۰۹)

    (البقرۃ:۲۵۶) حیّ پر اعتراض تھا مگر قَیُّوْم نے دور کر دیا۔

    ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَىُّ ٱلۡقَيُّومُ‌ۚ لَا تَأۡخُذُهُ ۥ سِنَةٌ۬ وَلَا نَوۡمٌ۬‌ۚ لَّهُ ۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِ‌ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشۡفَعُ عِندَهُ ۥۤ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦ‌ۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ‌ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىۡءٍ۬ مِّنۡ عِلۡمِهِۦۤ إِلَّا بِمَا شَآءَ‌ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ‌ۖ وَلَا يَـُٔودُهُ ۥ حِفۡظُهُمَا‌ۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِىُّ ٱلۡعَظِيمُ (٢٥٥) (البقرۃ:۲۵۶)

    دلیل نمبر۳:۔ (الفرقان:۳) یعنی ہر چیز سوائے باری تعالیٰ کے مخلوق ہے کیونکہ محدود ہے اورمحدود کا محدّد چاہیے اور روح اور مادہ بھی محدود ہیں۔

    ٱلَّذِى لَهُ ۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدً۬ا وَلَمۡ يَكُن لَّهُ ۥ شَرِيكٌ۬ فِى ٱلۡمُلۡكِ وَخَلَقَ ڪُلَّ شَىۡءٍ۬ فَقَدَّرَهُ ۥ تَقۡدِيرً۬ا (٢) الفرقان:۳)

    (دیکھو ستیارتھ ب۸دفعہ ۱)

    دلیل نمبر۴:۔اگر روح پیدا نہیں ہوسکتی تو لازماً خدا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجے گا اور یہ ظلم ہے۔دیانند جی کو دقّت پیش آئی تو وہ مکتی کو قید سے تعبیر کرنے لگے۔

    دلیل نمبر۵:۔ روح و مادہ کو اور ان کے خواص کو قدیم ماننے سے ذاتِ باری پر دلیل قائم نہیں رہتی کیونکہ جب بڑا کام خود ہواتو چھوٹا کام کیوں نہ خود ہوا؟

    دلیل نمبر۶:۔ صفات کی فنا ذات کی فنا ہے۔اس لئے آریوں کے نزدیک جس طرح روح کی ذات مخلوق نہیں اسی طرح صفات بھی مخلوق نہیں۔

    پس اگر ثابت ہو کہ صفات میں تغیر ہے تو ذات میں بھی تغیر ماننا پڑے گااور ہر متغیّرقائم بالذّات ہے صفات کا تغیر۔دیکھو نیک سے بداور بد سے نیک۔جاہل سے عالم اور عالم سے جاہل۔

    دلیل نمبر۷:۔ خدا ظرف ہے۔روح مظروف ہے ،ظرف پہلے ہونا چاہیے۔

    دلیل نمبر۸:۔ روح و مادہ محتاج الغیر ہیں یا نہیں؟اگر محتاج ہیں تو قدیم نہ ہوئے۔اگر محتاج نہیں تو پھر ماتحت نہیں ہو سکتے۔

    دلیل نمبر۹:۔ تین چیزیں ازلی ہیں۔(ستیارتھ ب۸ دفعہ۲ سوال۳) پھر پانچ ازلی (ستیارتھ ب۸دفعہ۳۹) دلیل کہ اکاش ازلی ہے (ستیارتھ ب۸ دفعہ) اکاش مخلوق ہے (بھومکاصفحہ۷۶) پھر زمانہ فانی ہے(صفحہ ۱۲ ستیارتھ)اور اکاش فانی ہے(ستیارتھ ب۹ دفعہ۹) سب سے پہلے خدا کاہونا ضروری ہے۔(ستیارتھ ب۷ دفعہ۷)

    زمانہ جس طرح دوبارہ پیدا ہوتا ہے بغیر علّت مادی کے اسی طرح مادہ بھی بغیر علّت مادی کے پیدا ہو سکتا ہے۔ (دیکھو حوالجات رگ وید بھومکاصفحہ ۵۳،۷۰،۷۳،۷۸)

    دلیل نمبر۱۰:۔ اگر وہ خَلق نہیں کر سکتا تو وہ عالم نہیں۔اگر وہ عالم ہے تو خالق بھی ہے۔ (یٰسٓ:۸۰)

    قُلۡ يُحۡيِيہَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ۬‌ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيمٌ (٧٩) (یٰسٓ:۸۰)

    پس جبکہ کامل علم خالق ہونے کا مقتضی ہے تو پھر اﷲ تعالیٰ کا خالق نہ ہونا اُس کے نقص علم پر دلیل ہے۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    دلیل نمبر۱۱:۔ ستیارتھ ب۸ دفعہ ۵۷ جیو اور پرکرتی کے صفات اور فعل اور عادات ازلی ہیں۔

    ۲۔ خدا تو مرکّب کو بھی بدل نہیں سکتا۔ (ستیارتھ باب۸ دفعہ ۱۴)

    ۳۔ جو قدرتی اصول ہیں ۔مثلاًآگ گرم، پانی ٹھنڈاوغیرہ اس کی طبعی صفات کو پر میشور بھی نہیں بدل سکتا۔ (ستیارتھ صفحہ ۲۸۱ باب۸ دفعہ ۱۴)

    جہاں جیو اور پرکرتی کے صفات دئیے گئے ہیں وہاں مادہ سے تعلق پیدا کرنے کا حق نہیں یا طریق تعلق پیدا کرنے کا بتاؤ۔

    دلیل نمبر۱۲:۔ ستیارتھ ۔جس مادہ سے روح بنائی جاوے وہ آخر ختم ہو جائے گا۔

    دلیل نمبر۱۳:۔ (الطور:۳۶،۳۷) یعنی منکرین حدوثِ روح و مادہ کہتے ہیں کہ روحیں پیدا نہیں ہوئیں۔

    أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ‌ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ (٣٦) أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآٮِٕنُ رَبِّكَ أَمۡ هُمُ ٱلۡمُصَۣيۡطِرُونَ (٣٧) (الطور:۳۶،۳۷)
    (۱) کیاوہ بغیر علل کے خود بخود ہیں؟اور ظاہر ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا ۔کیونکہ اس سے ترجیح بلا مرجّح لازم آتی ہے جو محال ہے
    (۲) دوسری شق یہ ہو سکتی تھی کہ خود علّت ہوں،لیکن اگر ایسا ہو تو اس سے تقدم الشی ءٍ علیٰ نفسہٖ لازم آتا ہے جو محال ہے۔
    (۳) جو علت العلل ہوں اور آسمانوں اور زمینوں کے مالک ہوں تو اس سے تعدد لازم آتا ہے جو محال ہے۔علاوہ ازیں خالق مخلوق کا محتاج نہیں۔ مگرہم زمین و آسمان کے محتاج ہیں۔اگر یہ ہماری مخلوق ہوتے تو ہم ان کے محتاج نہ ہوتے۔

    دلیل نمبر۱۴:۔ (بنی اسرائیل:۸۶)آریہ لوگ جو حدوث روح و مادہ کے منکر ہیں کسی زمانہ میں سوال کریں گے کہ روح کیا چیز ہے۔آیا حادث ہے یا قدیم ہے۔

    وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَـٰطِلُ‌ۚ إِنَّ ٱلۡبَـٰطِلَ كَانَ زَهُوقً۬ا (٨١) (بنی اسرائیل:۸۶)

    جواب میں کہہ دے کہ یہ میرے رب کی مخلوق میں سے ہے۔ (الاعراف:۵۵) (بنی اسرائیل:۸۹)دلیل اس کا(روح کا)علم ناقص ہے۔اگر قدیم سے ہوتی تو علم کامل ہوتا جیسے خدا کا علم کامل ہے۔

    إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ۬ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ يُغۡشِى ٱلَّيۡلَ ٱلنَّہَارَ يَطۡلُبُهُ ۥ حَثِيثً۬ا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٲتِۭ بِأَمۡرِهِۦۤ‌ۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُ‌ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَـٰلَمِينَ (٥٤)
    (الاعراف:۵۵)
    پس ان دلائل سے حدوث ثابت ہوا۔آریوں کے اعتراضات بالکل کچّے ہوتے ہیں۔جیسے دہریوں کے ہوتے ہیں۔دہریہ بھی کہا کرتے ہیں کہ خدا اگر ہے تو بتاؤ وہ کیا چیز ہے؟یہی سوال ایک دفعہ ایک کمہار کے لڑکے نے کیا جس کے جواب میں کہا گیا کہ خدا چیز نہیں کیونکہ چیزوں کو تو وہ پیدا کرتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ تم سے پوچھا جاوے کہ تمہارا باپ کون سا برتن ہے۔تو تم کہو گے کہ برتن تو میرا باپ بنایا کرتا ہے۔وہ برتن نہیں۔اسی طرح خدا بھی خالق الاشیاء ہے۔

    دلیل نمبر۱۵:۔ ارواح و مادہ صاحب علم و ارادہ نہیں۔اگر صاحب علم و ارادہ ہیں تو پھر کیوں وہ آپس میں نہیں مل جاتے اور صاحبِ علم وارادہ کے بغیر کوئی خَلق نہیں ہو سکتی۔پس روح و مادہ مخلوق ہیں نہ کہ خود بخود۔

    دلیل نمبر۱۶:۔ اگر روح و مادہ مخلوق نہیں تو پھر اﷲ تعالیٰ خالق نہیں بلکہ صرف ایک معمار کی حیثیت رکھتا ہے حالانکہ یہ بات مسلّمات آریہ کے خلاف ہے۔

    دلیل نمبر۱۷:۔ جب روح و مادہ اﷲ تعالیٰ کے ماتحت ہیں تو پھر وہ خود بخود کیونکر ہو سکتے ہیں۔ اگر کہو کہ اﷲ تعالیٰ کے ماتحت ہونا ان کی فطرتی اور ذاتی صفت ہے تو ہم کہیں گے کہ پھر وہ کیوں اطاعتِ الٰہی میں تکلیف محسوس کرتی ہیں۔

    دلیل نمبر۱۸:۔ روحوں کا اﷲ تعالیٰ سے ذاتی محبت رکھنا جیسے ان کو ایک بچہ سے ذاتی محبت ہوتی ہے کیونکہ اس سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔یہی صاف دلیل ہے کہ یہ اس سے نکلاہوا ہے اور وہ صرف مخلوق ہونے کی حالت ہے۔

    دلیل نمبر۱۹:۔ روحوں کی اپنی کمزوری کی و جہ سے ایک عالم اور فیّاض ہستی کا محتاج ہونا بھی ان کے مخلوق ہونے پر ایک زبردست دلیل ہے۔

    دلیل نمبر۲۰:۔آریہ سماج کا یہ ادّعا کہ چونکہ مادہ’’اجزائے لا یتجزٰی‘‘(ATOMS)کا نام ہے۔جو ناقابل تقسیم و تفریق ہیں اس لئے مادہ ازلی ہے موجودہ عالمگیر جنگ میں سائنس نے (ATOM BOMB ) ایٹم بم کی ایجاد سے باطل ثابت کر دیا ہے کیونکہ وہ ATOMجسے ’’لا یتجزٰی‘‘ یعنی ناقابل تقسیم خیال کیا جاتا تھااب تقسیم کے قابل ہی ثابت نہیں ہوا بلکہ اسے فی الواقع تقسیم کرکے فنا کر دیا گیا ہے۔پس جب مادہ فانی ثابت ہو گیا تو وہ ابدی بھی نہ رہا اور معلوم ہوگیا کہ خدا تعالیٰ ہی مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔۔(خادمؔ)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں