1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 9 ۔نور القرآن ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 31, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد9۔ نورالقرآن۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 324
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 324
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بِسْمِؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
    اشتہار
    کتاب مِنَنُ الرَّحمٰن
    یہ ایک نہایت عجیب و غریب کتاب ہے
    جس کی طرف قرآن شریف کی بعض پُر حکمت آیات نے ہمیں توجہ دلائی۔ سو قرآن عظیم نے یہ بھی دنیا پر ایک بھاری احسان کیا ہے جو اختلاف لغات کا اصل صرف بیان کر دیا اور ہمیں اس دقیق بات پر
    مطلع کر دیا کہ انسانی بولیاں کس منبع اورمعدن سے نکلی ہیں اور کیسے وہ لوگ دھوکا میں رہے جنہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا جو انسانی بولی کی جڑ خدا تعالیٰ کی تعلیم ہے اور واضح ہو کہ اس
    کتاب میں تحقیق السنہ کی رو سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو اس زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو ام الالسنہ اور الہامی اور تمام بولیوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔
    یہ بات ظاہر ہے کہ الٰہی کتاب کی تمام تر زینت اور فضیلت اسی میں ہے جو ایسی زبان میں ہو جو خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلی اور اپنی خوبیوں میں تمام زبانوں سے بڑھی ہوئی اور ؔ اپنے نظام میں
    کامل ہو اور جب ہم کسی زبان میں وہ کمال
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 325
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 325
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پاویں جس کے پیدا کرنے سے انسانی طاقتیں اور بشری بناوٹیں عاجز ہوں اور وہ خوبیاں دیکھیں جو دوسری زبانیں ان سے قاصر
    اور محروم ہوں اور وہ خواص مشاہدہ کریں جو بجز خدا تعالیٰ کے قدیم اور صحیح علم کے کسی مخلوق کا ذہن ان کا موجد نہ ہوسکے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ وہ زبان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سو
    کامل اور عمیق تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زبان عربی ہے اگرچہ بہت سے لوگوں نے ان باتوں کی تحقیقات میں اپنی عمریں گذاری ہیں اور بہت کوشش کی ہے جو اس بات کا پتہ لگاویں جو اُمّ
    الالسنہ کون سی زبان ہے مگر چونکہ ان کی کوششیں خط مستقیم پر نہیں تھیں اور نیز خدا تعالیٰ سے توفیق یافتہ نہ تھے اس لئے وہ کامیاب نہ ہوسکے اور یہ بھی وجہ تھی کہ عربی زبان کی طرف ان
    کی پوری توجہ نہ تھی بلکہ ایک بخل تھا لہٰذا وہ حقیقت شناسی سے محروم رہ گئے اب ہمیں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُمّ الالسنہ
    جس کے لئے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی والوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کئے کہ انہیں کی وہ زبان ہے وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعوے دار غلطی پر اور خطا پر
    ہیں۔ اگرچہ ہم نے اس رائے کو سرسری طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنی جگہ پُوری تحقیقات کر لی ہے اور ہزارہا الفاظ سنسکرت وغیرہ کا مقابلہ کرکے اور ہریک لغت کے ماہروں کی کتابوں سے سن
    کر اور خوب عمیق نظر ڈال کر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ زبان عربی کے سامنے سنسکرت وغیرہ زبانوں میں کچھ بھی خوبی نہیں پائی جاتی بلکہ عربی کے الفاظ کے مقابل پر ان زبانوں کے الفاظ
    لنگڑوں، لولوں، اندھوں، بہروں، مبروصوں، مجذوموں کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 326
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 326
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    مشابہ ہیں جو فطری نظام کو بکلی کھو بیٹھے ہیں۔ اور کافی ذخیرہ مفردات کا جو کامل زبان کے لئے شرط ضروری ہے اپنے
    ساتھ نہیں رکھتے۔ لیکن اگر ہم کسی آریہ صاحب یا کسی پادری صاحب کی رائے میں غلطی پر ہیں اور ہماری یہ تحقیقات ان کی رائے میں اس وجہ سے صحیح نہیں ہے کہ ہم ان زبانوں سے ناواقف
    ہیں۔ تو اول ہماری طرف سے جواب یہ ہے کہ جس طرز سے ہم نے اس بحث کا فیصلہ کیا ہے اس میں کچھ ضروری نہ تھا کہ ہم سنسکرت وغیرہ زبانوں کے املاء انشاء سے بخوبی واقف ہوجائیں۔ ہمیں
    صرف سنسکرت وغیرہ کے مفردات کی ضرورت تھی سو ہم نے کافی ذخیرہ مفردات کا جمع کرلیا ہے اور پنڈتوں اور یورپ کے زبانوں کے ماہروں کی ایک جماعت سے ان مفردات کے معنوں کی بھی
    جہاں تک ممکن تھا تنقیح کرلی اور انگریز محققوں کی کتابوں کو بھی بخوبی غور سے سن لیا۔ اور ان باتوں کو مباحثات میں ڈال کر بخوبی صاف کر لیا۔ اور پھر سنسکرت وغیرہ زبان دانوں سے مکرر
    شہادت لے لی جس سے یقین ہوگیا کہ درحقیقت ویدک سنسکرت وغیرہ زبانیں ان خوبیوں سے عاری اور بے بہرہ ہیں جو عربی زبان میں ثابت ہوئیں۔
    پھر دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی آریہ
    صاحب یا کسی اور مخالف کو یہ تحقیقات ہماری منظور نہیں تو ان کو ہم بذریعہ اس اشتہار کے اطلاع دیتے ہیں کہ ہم نے زبان عربی کی فضیلت اور کمال اور فوق الالسنہ ہونے کے دلائل اپنی اس کتاب
    میں مبسوط طور پر لکھ دیئے ہیں جو بہ تفصیل ذیل ہیں۔
    (۱)ؔ
    عربی کے مفردات کا نظام کامل ہے۔
    (۲)
    عربی اعلیٰ درجہ کی علمی وجوہ تسمیہ پر مشتمل ہے جو فوق العادت ہیں۔
    (۳)
    عربی کا سلسلہ اطراد مواد اتم و اکمل ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 327
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 327
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    (۴)
    عربی کی تراکیب میں الفاظ کم اور معانی زیادہ ہیں۔
    (۵)
    عربی زبان انسانی ضمائر کا پورا نقشہ کھینچنے کے
    لئے پوری پوری طاقت اپنے اندر رکھتی ہے۔
    اب ہر یک کو اختیار ہے کہ ہماری کتاب کے چھپنے کے بعد اگر ممکن ہو تو یہ کمالات سنسکرت یا کسی اور زبان میں ثابت کرے یا اس اشتہار کے
    پہنچنے کے بعد ہمیں اپنے منشاء سے اطلاع دے کہ وہ کیونکر اور کس طور سے اپنی تسلی کرنا چاہتا ہے۔ یا اگر اس کو ان فضائل میں کچھ کلام ہے یا سنسکرت وغیرہ کی بھی کوئی ذاتی خوبیاں بتلانا
    چاہتا ہے تو بے شک پیش کر دیوے ہم غور سے اس کی بات کو سنیں گے۔ مگر چونکہ اکثر وہمی مزاج اس قسم کے بھی ہریک قوم میں پائے جاتے ہیں کہ یہ خدشہ ان کے دل میں باقی رہ جاتا ہے کہ شاید
    سنسکرت وغیرہ میں کوئی ایسے چھپے ہوئے کمالات ہوں جو انہیں لوگوں کو معلوم ہوں جو ان زبانوں کی کتابوں کو پڑھتے پڑھاتے ہیں اس لئے ہم نے اس کتاب کے ساتھ پانچ ہزار روپیہ کا انعامی
    اشتہار بھی شائع کر دیا ہے اور یہ پانچ ہزار روپیہ صرف کہنے کی بات نہیں بلکہ کسی آریہ صاحب یا کسی اور صاحب کی درخواست کے آنے پر پہلے ہی ایسی جگہ جمع کرا دیا جائے گا جس میں
    وہ آریہ صاحب یا اور صاحب بخوبی مطمئن ہوں اور سمجھ لیں کہ فتح یابی کی حالت میں بغیر حرج کے وہ روپیہ ان کو وصول ہو جائے گا۔ مگر یاد رہے کہ روپیہ جمع کرانے کی اس وقت درخواست
    آنی چاہئے جبکہ تحقیق السنہ کی کتاب چھپ کر شائع ہوجاوے اور جمع کرانے والے کو اس امر کے بارے میں ایک تحریری اقرار دینا ہوگا کہ اگر وہ پانچ ہزار روپیہ جمع کرانے کے بعد مقابلہ سے
    گریز کر جائے یا اپنی لاف و گزاف کو انجام تک
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 328
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 328
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پہنچا نہ سکے تو وہ تمام حرجہ ادا کرے گا جو ایک تجارتی روپیہ کے لئے کسی مدت تک بند رہنے کی حالت میں ضروری
    الوقوع ہے۔
    والسّلام علٰی من اتّبع الھُدٰی
    المشتھر
    غلام احمد قادیانی
    ۱۵ جون ۱۸۹۵ ؁ء
    ***
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 329
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 329
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
    ہدایت
    چونکہ اس زمانہ میں طرح طرح کے غلط خیالات ہر ایک قوم میں ایسے طور سے پھیل گئے ہیں
    کہ ان کے بد اثر ان سادہ دلوں کو موت تک پہنچاتے جاتے ہیں جن میں دینی فلسفہ کی تصویر کامل طور پر موجود نہیں یا ایسی سطحی طور پر کھینچی گئی ہے جس کو سوفسطائی تو ہمات جلد مٹا سکتے
    ہیں۔ اس لئے میں نے محض زمانہ کی موجودہ حالت پر رحم کرکے اس ماہواری رسالہ میں ان باتوں کو شائع کرنا چاہا جن میں ان آفات کا کافی علاج ہو اور جو راہ راست کے جاننے اور سمجھنے اور
    شناخت کرنے کا ذریعہ ہوں اور جن سے وہ سچا فلسفہ معلوم ہو جو دلوں کو تسلی دیتا اور روح کو سکینت اور آرام بخشتا اور ایمان کو عرفان کے رنگ میں لے آتا ہے اور چونکہ اس تالیف سے مقصود
    یہی ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 330
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 330
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کہ کلام الٰہی کے معارف اور حقائق لوگوں کو معلوم ہوں۔ اس لئے اس رسالہ میں ہمیشہ کے لئے یہ التزام کیا گیا ہے کہ کوئی
    دعویٰ اور دلیل اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ قرآن کریم کی طرف سے ہو جو خدا تعالیٰ کا کلام اور اس دنیا کی تاریکیوں کے مٹانے کے لئے آیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ قرآن شریف میں ہی ایک
    اعجازی خاصیت ہے کہ وہ اپنے دعوے اور دلیل کو آپ ہی بیان کرتا ہے اور یہی ایک اول نشانی اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنا ثبوت ہر ایک پہلو سے آپ دیتا ہے اور آپ ہی دعویٰ
    کرتا اور آپ ہی اس دعویٰ کے دلائل پیش کرتا ہے اور ہم نے قرآن کی اس اعجازی خاصیت کو اس رسالہ میں اس لئے شائع کرنا چاہا کہ تااس تقریب سے وہ تمام مذاہب بھی جانچے جائیں جن کے پابند
    اسلام کے مقابل پر ایسی کتابوں کی تعریف کررہے ہیں جن میں یہ طاقت ہرگز نہیں کہ وہ اپنے دعوے کو دلیل کے ساتھ ثابت کر سکیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ الٰہی کتاب کی پہلی نشانی علمی طاقت ہے
    اور یہ امر ممکن ہی نہیں کہ ایک کتاب فی الحقیقت الہامی کتاب ہو کر کسیؔ سچائی کے بیان میں جو عقائد دینیہ کی ضروریات میں سے ہے قاصر ہو یا ایک انسانی کتاب کے مقابل پر تاریکی اور نقصان
    کے گڑھے میں گری ہوئی ہو۔ بلکہ الٰہی کتاب کی اول نشانی تو یہی ہے کہ جس نبوت اور عقیدہ کی اس نے بنیاد ڈالی ہے اس کو معقولی طور پر ثابت بھی کرتی ہو کیونکہ اگر وہ اپنے دعاوی کو ثابت
    نہیں کرتی بلکہ انسان کو گرداب حیرت میں ڈالتی ہے تو ایسی کتاب کو منوانا اکراہ اور جبر میں داخل ہوگا۔ اور یہ بات نہایت صاف اور سریع الفہم ہے کہ وہ کتاب جو حقیقت میں کتاب الٰہی ہے وہ
    انسانوں کی طبیعتوں پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالتی اور ایسے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 331
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 331
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    امور مخالف عقل پیش نہیں کرتی جن کا قبول کرنا اکراہ اور جبر میں داخل ہو کیونکہ کوئی عقل صحیح تجویز نہیں کرسکتی جو
    دین میں اکراہ اور جبر جائز ہو اس واسطے اللہ جلّ شانہٗ
    نے قرآن کریم میں فرمایا ۱؂ ۔جب ہم انصاف کے ساتھ سوچتے ہیں کہ الٰہی کتاب کیسی ہونی چاہیے تو ہمارا نور قلب بڑے زور سے
    شہادت دیتا ہے کہ الٰہی کتاب کے چہرہ کا حقیقی حلیہ یہی ہے کہ وہ اپنی روشنی سے علمی اور عملی طریقوں میں حق الیقین کا آپ راہ دکھاتی ہو اور پوری بصیرت بخش کر اسی جہان میں بہشتی
    زندگی کا نمونہ قائم کر دیتی ہو کیونکہ الٰہی کتاب کا زندہ معجزہ صرف یہی ہے کہ وہ علم اور حکمت اور فلسفہ حقّہ کی معلم ہو اور جہاں تک ایک سوچنے والے کے لئے روحانی حقائق کے سلسلہ کا
    پتہ لگ سکتا ہو وہ تمام حقائق اس میں موجود ہوں اور صرف مدعی نہ ہو بلکہ اپنے ہر یک دعویٰ کو ایسے طور سے ثابت کرے کہ پوری تسلی بخش دیوے اور جس تعمق اور امعان کے ساتھ اس پر نظر
    ڈالی جاوے صاف دکھائی دے کہ فی الواقعہ وہ ایسا ہی معجزہ اپنے اندر رکھتی ہے کہ دینی امور میں انسانی بصیرتوں کو ترقی دینے کے لئے اعلیٰ درجہ کی مددگار اور اپنے کاروبار کی آپ ہی وکیل
    ہے۔
    بالآخر میں اپنے ہر ایک مخالف کو مخاطب کر کے علانیہ طور پر متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ فی الواقع اپنی کتابوں کو منجانب اللہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس ذات کامل سے صادر
    ہیں جو اپنی پاک کتاب کو اس شرمندگی اور ندامت کا نشانہ بنانا نہیں چاہتا کہ اس کی کتاب صرف بے ہودہ اور
    بے اصل دعووں کا مجموعہ ٹھہرے جن کے ساتھ کوئی ثبوت نہ ہو تو اس موقعہ پر
    ہمارے دلائل کے مقابل پر وہ بھی دلائل پیش کرتے رہیں کیونکہ بالمقابل
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 332
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 332
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    باتوں کو دیکھ کر جلد حق سمجھ آجاتا ہے اور دونوں کتابوں کا موازنہ ہوکر ضعیف اور قوی اور ناقص اور کامل کا فرق ظاہر
    ہوجاتا ہے لیکن یاد رکھیں کہ آپ ہی وکیل نہ بن بیٹھیں بلکہ ہماری طرح دعویٰ اور دلیل اپنی کتاب میں سے پیش کریں اور مباحثہ کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ بات بھی لازم پکڑیں کہ جس
    دلیل سے اب ہم شروع کرتے ہیں اسی دلیل کا وجود اپنے بالمقابل رسالہ میں اپنی کتاب میں سے نکال کر دکھلاویں۔ علیٰ ؔ ھٰذاالقیاس ہمارے ہریک نمبر کے نکلنے کے مقابل اسی دلیل کو اپنی کتاب کی
    حمایت میں پیش کریں جو ہم نے اس نمبر میں پیش کی ہو۔ اس انتظام سے بہت جلد فیصلہ ہو جائے گا کہ ان کتابوں میں سے کونسی کتاب اپنی سچائی کو آپ ثابت کرتی ہے اور معارف کا لا انتہا سمندر
    اپنے اندر رکھتی ہے۔ اب ہم خدا تعالیٰ سے توفیق پاکر اول نمبر کو شروع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا الٰہی سچائی کی فتح کر اور باطل کو ذلیل اور مغلوب کرکے دکھلا وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
    الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔ اٰمین
    بُرہانِ اوّل
    قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلیل
    قرآن شریف نے بہت زور شور سے اس دعویٰ کو پیش کیا ہے کہ وہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 333
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 333
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خدا کا کلام ہے اور حضرت سیدنا و مولانا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے نبی اور رسول ہیں جن پر وہ پاک کلام اترا
    ہے چنانچہ یہ دعویٰ آیات مندرجہ ذیل میں بخوبی مصرح و مندرج ہے۔
    (آل عمران ۱،۲) ۱؂ ۔ یعنی وہی اللہ ہے۔ اس کا کوئی ثانی نہیں اسی سے ہر ایک کی زندگی اور بقا ہے۔ اس نے حق اور
    ضرورت حقہ کے ساتھ تیرے پر کتاب اتاری اور پھر فرمایا ۲؂ ۔ الجزونمبر۵سورۃ النساء۔ یعنی اے لوگو حق اور ضرورت حقہ کے ساتھ تمہارے پاس یہ نبی آیا ہے اور پھر فرمایا ۳؂ ۔ الجزونمبر ۱۵
    یعنی ضرورت حقہ کے ساتھ ہم نے اس کلام کو اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے۔ اور پھر فرمایا ۴؂ ۔ الجزو نمبر۶سورۃ النساء۔ اے لوگو تمہارے پاس یہ یقینی برہان پہنچی ہے اور ایک
    کھلا نور تمہاری طرف ہم نے اتارا ہے۔ اور پھر فرمایا ۵؂ ۔ الجزونمبر۹ یعنی لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف پیغمبر ہوکر آیا ہوں۔ اور پھرفرمایا ۶؂ ۔ الجزو نمبر ۲۶ یعنی جو لوگ ایمان لائے
    اور اچھے عمل کئے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وہی حق ہے خداؔ ان کے گناہ دور کرے گا اور ان کے حال چال کو درست کر دے گا۔
    ایسا ہی صدہا
    آیات اور ہیں جن میں نہایت صفائی سے یہ دعویٰ کیا گیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 334
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 334
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ہے کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے نبی ہیں لیکن ہم بالفعل اسی قدر لکھنا
    مناسب و کافی دیکھتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنے مخالفوں کو یاد دلاتے ہیں کہ جس شد و مد سے قرآن شریف میں یہ دعویٰ موجود ہے کسی اور کتاب میں ہرگز موجود نہیں۔ ہم نہایت مشتاق ہیں اگر آریہ
    اپنے ویدوں میں اتنا بھی ثابت کر دیں کہ ان کے ہر چہار ویدوں نے الٰہی کلام ہونے کا دعویٰ کیا اور بتصریح بتلایا کہ فلاں فلاں شخص پر فلاں زمانہ میں وہ اترے ہیں۔ کتاب اللہ کے ثبوت کے لئے پہلا
    ضروری امر یہی ہے کہ وہ کتاب اپنے منجانب اللہ ہونے کی مدعی بھی ہو کیونکہ جو کتاب اپنے منجانب اللہ ہونے کی طرف آپ کوئی اشارہ نہیں کرتی اس کو خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ایک
    بے جا مداخلت ہے۔
    اب دوسرا امر قابل تذکرہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنے منجانب اللہ ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں صرف دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ اس دعویٰ
    کو نہایت مضبوط اور قوی دلیلوں کے ساتھ ثابت بھی کر دیا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ سلسلہ وار اُن تمام دلائل کو لکھیں گے اور ان میں سے پہلی دلیل ہم اسی مضمون میں تحریر کرتے ہیں تاحق کے
    طالب اول اسی دلیل میں دوسری کتابوں کا قرآن کے ساتھ مقابلہ کریں اور نیز ہم ہریک مخالف کو بھی بلاتے ہیں کہ اگر یہ طریق ثبوت جس کا ایک کتاب میں پایا جانا اس کی سچائی پر بدیہی دلیل ہے ان
    کی کتابوں اور نبیوں کی نسبت بھی پایا جاتا ہے تو وہ ضرور اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے پیش کریں ورنہ ان کو اقرار کرنا پڑے گا کہ ان کی کتابیں اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے عاری
    اور بے نصیب ہیں اور ہم نہایت یقین اور وثوق سے کہتے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 335
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 335
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کہ یہ طریق ثبوت ان کے مذہب میں ہرگز پایا نہیں جاتا۔ پس اگر ہم غلطی پر ہیں تو ہماری غلطی ثابت کریں اور وہ پہلی دلیل جو
    قرآن شریف نے اپنے منجانب اللہ ہونے پر پیش کی ہے۔ اُس کی تفصیل یہ ہے کہ عقل سلیم ایک سچی کتاب اور ایک سچے اور منجانب اللہ رسول کے ماننے کے لئے اس بات کو نہایت بزرگ دلیل
    ٹھہراتی ہے کہ ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہو جبکہ زمانہ تاریکی میں پڑا ہو۔ اور لوگوں نے توحید کی جگہ شرک اور پاکیزگی کی جگہ فسق اور انصاف کی جگہ ظلم اور علم کی جگہ جہل اختیار
    کر لیا ہو اور ایک مصلح کی اشد حاجت ہو اور پھر ایسے وقت میں وہ رسول دنیا سے رخصت ہو جبکہ وہ اصلاح کا کام عمدہ طور سے کر چکا ہو اور جبؔ تک اس نے اصلاح نہ کی ہو دشمنوں سے
    محفوظ رکھا گیا ہو اور نوکروں کی طرح حکم سے آیا ہو اور حکم سے واپس گیا ہو۔ غرض کہ وہ ایسے وقت میں ظاہر ہو جبکہ وہ وقت بزبان حال پکار پکار کر کہہ رہا ہو کہ ایک آسمانی مصلح اور کتاب
    کا آنا ضروری ہے اور پھر ایسے وقت میں الہامی پیشگوئی کے ذریعہ سے واپس بلایا جاوے کہ جب اصلاح کے پودہ کو مستحکم کر چکا ہو اور ایک عظیم الشان انقلاب ظہور میں آچکا ہو۔ اب ہم اس بات
    کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ دلیل جس طرح قرآن اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہایت روشن چہرہ کے ساتھ جلوہ نما ہوئی ہے کسی اور نبی اور کتاب کے حق میں
    ہرگز ظاہر نہیں ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ تھا کہ میں تمام قوموں کے لئے آیا ہوں سو قرآن شریف نے تمام قوموں کو ملزم کیا ہے کہ وہ طرح طرح کے شرک اور فسق و فجور میں
    مبتلا ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے
    ۱؂ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے۔ اور پھر فرماتا ہے۲؂ یعنی ہم نے تجھے بھیجا تاکہ دنیا کی تمام قوموں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 336
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 336
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کو ڈراوے یعنی ان کو متنبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی بدکاریوں اور عقیدوں کی وجہ سے سخت گنہگار ٹھہری
    ہیں۔
    یاد رہے کہ جو اس آیت میں نذیر کا لفظ دنیا کے تمام فرقوں کے مقابل پر استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی گنہگاروں اور بدکاروں کو ڈرانا ہے اسی لفظ سے یقینی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ
    دعویٰ تھا کہ تمام دنیا بگڑ گئی اور ہر ایک نے سچائی اور نیک بختی کا طریق چھوڑ دیا کیونکہ انذار کا محل فاسق اور مشرک اور بدکار ہی ہیں اور انذار اور ڈرانا مجرموں کی ہی تنبیہہ کے لئے ہوتا ہے
    نہ نیک بختوں کے لئے۔ اس بات کو ہریک جانتا ہے کہ ہمیشہ سرکشوں اور بے ایمانوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے اور سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ نبی نیکوں کے لئے بشیرہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر۔
    پھر جبکہ ایک نبی تمام دنیا کے لئے نذیر ہوا تو ماننا پڑا کہ تمام دنیا کو نبی کی وحی نے بداعمالیوں میں مبتلا قرار دیا ہے اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ نہ توریت نے موسیٰ کی نسبت کیا اور نہ انجیل نے
    عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی نسبت بلکہ صرف قرآن شریف نے کیا اور پھر فرمایا کہ۱؂ یعنی تم اس نبی کے آنے سے پہلے دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر پہنچ چکے تھے اور عیسائیوں اور
    یہودیوں کو بھی متنبہ کیا کہ تم نے اپنے دجل سے خدا کی کتابوں کو بدل دیا اور تم ہریک شرارت اور بدکاری میں تمام قوموں کے پیشرو ہو اور بُت پرستوں کو بھی جابجا ملزم کیا کہ تم پتھروں اور
    انسانوں اور ستاروں اور عناصرؔ کی پرستش کرتے ہو اور خالق حقیقی کو بھول گئے ہو اور تم یتیموں کا مال کھاتے اور بچوں کو قتل کرتے اور شرکاء پر ظلم کرتے ہو اور ہریک بات
    * حا شیہ:
    جیسا کہ فرماتا ہے ۲؂ یعنی مشرک اپنی لڑکی کو(باقی اگلے صفحہ پر)
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 337
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 337
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    میں حد اعتدال سے گذر گئے ہو اور فرمایا۱؂ یعنی یہ بات تمہیں معلوم رہے کہ زمین سب کی سب مرگئی تھی۔ اب خدا نئے
    سرے اس کو زندہ کرتا ہے۔ غرض تمام دنیا کو قرآن نے شرک اور فسق اور بت پرستی کے الزام سے ملزم کیا جو اُمّ الخبائث ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو دنیا کی تمام بدکاریوں کی جڑ ٹھہرایا اور
    ہریک قسم کی بدکاریاں ان کی بیان کر دیں اور ایک ایسا نقشہ کھینچ کر زمانہ موجودہ کا اعمال نامہ دکھلادیا کہ جب سے دنیا کی بناء پڑی ہے بجز نوح کے زمانہ کے اور کوئی زمانہ اس زمانہ سے
    مشابہ نظر نہیں آتا اور ہم نے اس جگہ جس قدر آیات لکھ دی ہیں وہ اتمام حجت کے لئے اول درجہ پر کام دیتی ہیں۔ لہٰذا ہم نے طول کے خوف سے تمام آیات کو نہیں لکھا۔ ناظرین کو چاہیئے کہ قرآن
    شریف کو غور سے پڑھیں تا انہیں معلوم ہوکہ کس شدّ و مدّ اور کس قدر مؤثر کلام سے جابجا قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ تمام دنیا بگڑ گئی۔ تمام زمین مرگئی اور لوگ دوزخ کے گڑھے کے قریب پہنچ
    گئے اور کیسے بار بار کہتا ہے کہ تمام دنیا کو ڈرا کہ وہ خطرناک حالت میں پڑے ہیں۔ یقیناً قرآن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرک اور فسق اور بت پرستی اور طرح طرح کے گناہوں میں سڑ
    گئی اور بدکاریوں
    بقیہ حاشیہ:زندہ درگور کرتا ہے اور فرماتا ہے ۲؂ یعنی قیامت کو زندہ درگور لڑکیوں سے سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ سے قتل کی گئیں یہ اشارہ ملک کی موجودہ حالت کی طرف کیا
    کہ ایسے ایسے بُرے کام ہو رہے ہیں اسی کی طرف عرب کے ایک پرانے
    شاعر ابن الاعرابی نے اشارہ کیا ہے چنانچہ وہ کہتا ہے
    ما لقی المؤود من ظلم اُمّہ
    کما لقیت ذھل جمیعا و
    عامر‘
    یعنی زندہ درگور لڑکی پر اس کی ماں کی طرف سے وہ ظلم نہیں ہوتا جیسا کہ ذہل اور عامر پر ہوا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 338
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 338
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/338/mode/1up
    کے عمیق کنوئیں میں ڈوب گئی ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ انجیل میں بھی کسی قدر یہودیوں کی بدچلنیوں کا ذکر ہے لیکن مسیح نے
    کہیں یہ ذکر تو نہیں کیا کہ جس قدر دنیا کے صفحہ میں لوگ موجود ہیں جن کو عالمین کے نام سے نامزد کرسکتے ہیں وہ بگڑ گئے مرگئے اور دنیا شرک اور بدکاریوں سے بھر گئی اور نہ رسالت کا عام
    دعویٰ کیاؔ ۔ پس ظاہر ہے کہ یہودی ایک تھوڑی سی قوم تھی جو مسیح کی مخاطب تھی بلکہ وہی تھی جو مسیح کی نظر کے سامنے اور چند دیہات کے باشندے تھے۔ لیکن قرآن کریم نے تو تمام زمین
    کے مر جانے کا ذکر کیا ہے اور تمام قوموں کی بری حالت کو وہ بتلاتا ہے اور صاف بتلاتا ہے کہ زمین ہر قسم کے گناہ سے مر گئی* یہودی تو نبیوں کی اولاد اور تورات کو اپنے اقرار سے مانتے
    تھے گو عمل سے قاصر تھے لیکن قرآن کے زمانہ میں علاوہ فسق اور فجور کے عقائد میں بھی فتور ہوگیا تھا۔ ہزارہا لوگ دہریہ تھے۔ ہزارہا وحی اور الہام سے منکر تھے اور ہر قسم کی بدکاریاں زمین
    پر پھیل گئی تھیں اور دنیا میں اعتقادی اور عملی خرابیوں کا ایک سخت طوفان برپا تھا۔ ماسوا اس کے مسیح نے اپنی چھوٹی سی قوم یہودیوں کی بدچلنی کا کچھ ذکر تو کیا جس سے البتہ یہ خیال پیدا ہوا
    کہ اس وقت یہود کی ایک خاص قوم کو ایک مصلح کی ضرورت تھی مگر جس دلیل کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ
    وسلم کا فساد عام کے وقت میں آنا اور کامل اصلاح کے بعد واپس
    * نوٹ:اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدگی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا۔ تو
    جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہوگیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللّٰہ کہنے والے موجود ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے
    سے محروم نہیں رکھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 339
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 339
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/339/mode/1up
    بلائے جانا اور ان دونوں پہلوؤں کا قرآن کا آپ پیش کرنا اور آپ دنیا کو اس کی طرف توجہ دلانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ انجیل تو
    کیا بجز قرآن شریف کسی پہلی کتاب میں بھی نہیں پایا جاتا۔ قرآن شریف نے آپ یہ دلائل پیش کئے ہیں اور آپ فرما دیا ہے کہ اس کی سچائی ان دو پہلوؤں پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتی ہے۔ یعنی ایک تو
    وہی جو ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایسے زمانہ میں ظہور فرمایا جبکہ زمانہ میں عام طور پر طرح طرح کی بدکاریاں بداعتقادیاں پھیل گئی تھیں اور دنیا حق اور حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے بہت
    دور جا پڑی تھی اور قرآن شریف کے اس قول کی اس وقت تصدیق ہوتی ہے۔ جبکہ ہریک قوم کی تاریخ اس زمانہ کے متعلق پڑھی جائے۔ کیونکہ ہریک قوم کے اقرار سے یہ عام شہادت پیدا ہوتی ہے کہ
    درحقیقت وہ ایسا پُر ظلمت زمانہ تھا کہ ہریک قوم مخلوق پرستی کی طرف جھک گئی تھی اور یہی و جہ ہے کہ جب قرآن نے تمام قوموں کو گمراہ اور بدکار قرار دیا تو کوئی اپنا بری ہونا ثابت نہ کرسکا۔
    دیکھو اللہ تعالیٰ کیسے زور سے اہل کتاب کی بدیوںؔ اور تمام دنیا کے مرجانے کاذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے۔۱؂ ( سورۃ الحدید جزونمبر ۲۷ رکوع۱۷) یعنی مومنوں کو چاہیئے کہ اہل کتاب کی
    چال و چلن سے پرہیز کریں ان کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ پس ان پر ایک زمانہ گذر گیا سو ان کے دل سخت ہوگئے اور اکثر ان میں سے فاسق اور بدکار ہی ہیں۔ یہ بات بھی جانو کہ زمین مر
    گئی تھی اور اب خدا نئے سرے سے زمین کو زندہ کررہا ہے یہ قرآن کی ضرورت اور سچائی کے نشان ہیں جو اس لئے بیان کئے گئے تاکہ تم نشانوں کو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 340
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 340
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/340/mode/1up
    دریافت کر لو۔
    اب سوچ کر دیکھو کہ یہ دلیل جو تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے یہ ہم نے اپنے ذہن سے ایجاد نہیں کی۔ بلکہ
    قرآن شریف آپ ہی اس کو پیش کرتا ہے اور دلیل کے دونوں حصے بیان کر کے پھر آپ ہی فرماتا ہے۔۱؂ یعنی اس رسول اور اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر یہ بھی ایک نشان ہے جس کو ہم نے بیان
    کر دیا تا تم سوچو اور سمجھو اور حقیقت تک پہنچ جاؤ۔*
    قرآن شریف نے جس قدر اپنے نزول کے زمانہ میں ان عیسائیوں وغیرہ کی بدچلنیاں بیان کی ہیں جو اس وقت موجود تھے۔ ان تمام قوموں نے
    خود اپنے منہ سے اقرار کر لیا تھا بلکہ بار بار اقرار کرتے تھے کہ وہ ضرور ان بدچلنیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    کے سلسلہ آباء و اجداد کے جن کو اللہ جلّ شانہٗنے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اور دوسری بلاؤں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بدنمونہ کو دیکھ کر اور ان کی چال و چلن کی
    بدتاثیر سے متاثر ہوکر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اور بدچلنیوں میں مبتلا ہوگئے تھے اور جس قدر بدچلنی اور بد اعمالی عربوں میں آئی وہ درحقیقت عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ
    ایک نہایت ناپاک اور بدچلن قوم ان میں آباد ہوگئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کر کے ہریک گناہ کو شیر مادر کی طرح سمجھتی تھی اور مخلوق پرستی اور شراب خواری اور ہریک قسم کی
    بدکاری کو بڑے زور کے ساتھ دنیا میں پھیلا رہی تھی اور اول درجہ کی کذّاب اور دغا باز اور بد سرشت تھی۔ بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیا اس زمانہ میں فسق و فجور اور ہریک قسم کی بد چلنی
    میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے۔ مگر ؔ ذرہ غور کرنے
    کے بعد معلوم ہوگا کہ درحقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اور بدچلنی اور مشرکانہ عادات
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 341
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 341
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/341/mode/1up
    دوسراؔ پہلو اس دلیل کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایسے وقت میں
    میں پیش دست تھے۔ کیونکہ یہودی
    لوگ متواتر ذلتوں اور کوفتوں سے کمزور ہوچکے تھے اور وہ شرارتیں جو ایک سفلہ آدمی اپنی طاقت اور دولت اور عروج قومی کو دیکھ کر کرسکتا ہے یا وہ بدچلنیاں جو کثرت دولت اور روپیہ پر موقوف
    ہیں۔ ایسے نالائق کاموں کا یہودیوں کو کم موقعہ ملتا تھا مگر عیسائیوں کا ستارہ ترقی پر تھا اور نئی دولت اور نئی حکومت ہر وقت انگشت دے رہی تھی کہ وہ تمام لوازمات ان میں پائے جائیں جو بدی
    کے مؤیدات پیدا ہونے سے قدرتی طور پر ہمیشہ پائی جاتی ہیں۔ پس یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی بدچلنی اور ہریک قسم کی بدکاری سب سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی اور یہ بات یہاں تک ایک
    مشہور واقع ہے کہ پادری فنڈل باوجود اپنے سخت تعصب کے اس کو چھپا نہیں سکا اور مجبور ہوکر اس زمانہ کے عیسائیوں کی بدچلنیوں کا میزان الحق میں اس کو اقرار کرنا ہی پڑا۔ مگر دوسرے
    انگریز مؤرخوں نے تو بڑی بسط سے ان کی بدچلنیوں کا مفصل حال لکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک ڈیون پورٹ صاحب کی کتاب ہے جو ترجمہ ہوکر اس ملک میں شائع ہوگئی ہے۔ غرض یہ ثابت شدہ
    حقیقت ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی اپنی نئی دولت اور حکومت اور کفارہ کی زہر ناک تحریک سے تمام بدچلنیوں میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ہریک نے اپنی فطرت اور طبیعت کے موافق جدا
    جدا بے اعتدالی اور معصیت کی راہیں اختیار کر رکھی تھیں اور ان کی دلیریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائی سے بالکل نومید ہوچکے تھے اور ایک چھپے ہوئے دہریہ تھے اور ان کی
    روحانیت کی اس وجہ سے بہت ہی بیخ کنی ہوئی کہ دنیا کے دروازے ان پر کھولے گئے اور انجیل کی تعلیم میں شراب کی کوئی ممانعت نہیں تھی۔ قمار بازی سے کوئی روک نہ تھی پس یہی تمام زہریں
    مل کر ان کا ستیاناس کر گئیں۔ صندوقوں میں دولت تھی ہاتھ میں حکومت تھی۔ شرابیں*
    * نوٹ: ؔ شراب بنانا حضرت عیسیٰ ؑ کا ایک معجزہ شمارکیا گیا ہے بلکہ شراب پینا عیسائی مذہب کی جزو
    اعظم ہے جیسا کہ عشاء رَبّانی میں ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 342
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 342
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/342/mode/1up
    دنیا سے اپنے مولیٰؔ کی طرف بلائے گئے جبکہ وہ اپنے کام کو پورے طور پر انجام دے چکے اور یہ امر قرآن شریف سےؔ
    بخوبی ثابت ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا
    خود ایجاد کر لیں۔ پھر کیا تھا۔ اُمّ الخبائث کی تحریکوں سے سارے برے کام کرنے پڑے۔ یہ باتیں ہم نے اپنی فطرت سے نہیں کہیں۔ خود بڑے بڑے
    مؤرخ انگریزوں نے اس کی شہادتیں دی ہیں۔ اور اب بھی دے رہے ہیں بزرگ پادری باس ورتھ اور فاضل قسیس ٹیلر نے حال ہی کے زمانہ میں کس صفائی سے انہیں باتوں پر لیکچر دیئے ہیں اور کس
    زور سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ عیسائی مذہب کی قدیم بدچلنیوں نے اس کو ہلاک کر دیا ہے چنانچہ قوم کےؔ فخر پادری باس ورتھ صاحب اپنے لیکچر میں بآواز بلند بیان کرتے ہیں کہ عیسائی قوم
    کے ساتھ تین لعنتیں لازم ملزوم ہو رہی ہیں جو اس کو ترقی سے روکتی ہیں۔ وہ کیا ہیں۔ زناکاری۔ شراب خواری۔ قمار بازی۔ غرض اس زمانہ میں سب سے زیادہ یہ عیسائیوں کا ہی حق تھا کہ وہ
    بدکاریوں کے میدانوں میں سب سے پہلے رہیں۔ کیونکہ دنیا میں انسان صرف تین وجہ سے گناہ سے رک سکتا ہے (۱) یہ کہ خدا تعالیٰ کا خوف ہو (۲) یہ کہ کثر ت مال جو بدمعاشیوں کا ذریعہ ہے
    اس کی بلا سے بچے (۳) یہ کہ ضعیف اور عاجز ہو کر زندگی بسر کرے حکومت کا زور پیدا نہ ہو۔ مگر عیسائیوں کو ان تینوں روکوں سے فراغت ہوچکی تھی اورکفارہ کے مسئلہ نے گناہ پر دلیر
    کر دیا تھا اور دولت اور حکومت ظلم کرنے کے لئے معین ہوگئے تھے۔ پس چونکہ دنیا کی راحتیں اور نعمتیں اور دولتیں ان پر بہت وسیع ہوگئی تھیں اور ایک زبردست سلطنت کے وہ مالک بھی ہوگئے
    تھے اور پہلے اس سے ایک مدت تک فقر و فاقہ اور تکالیف شاقہ میں مبتلا رہ چکے تھے اس لئے دولت اور حکومت کو پاکر عجیب طوفان فسق و فجور ان میں ظاہر ہوا اور جس طرح پُر زور سیلاب آنے
    کے وقت بند ٹوٹ جاتا ہے اور پھر بند ٹوٹنے سے تمام اردگرد کھیتوں اور آبادی کی شامت آجاتی ہے اسی طرح ان دنوں میں وقوع میں آیا کہ جب عیسائیوں کو تمام اسباب شہوت رانی کے میسر آگئے۔
    اور دولت اور قوت اور بادشاہت میں تمام دنیا کے طاقتوروں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 343
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 343
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/343/mode/1up
    ہے۔۱؂
    سے اول نمبر پر ہوگئے۔ تو جیسے ایک سفلہ آدمی فقر و فاقہ کا مارا ہو ا دولت اور حکومت پاکر اپنے لچھن دکھلاتا
    ہے وہ سارے لچھن ان لوگوں نے دکھلائے اول وحشیوں اور سخت ظالموں کی طرح وہ خونریزیاں کیں اور ناحق بے موجب کئی لاکھ انسانوں کو قتل کیا اور وہ
    بے رحمیاں دکھلائیں جن سے بدن کانپ
    اٹھتا ہے اور پھر امن اور آزادی پاکر دن رات شراب خواری، زنا کاری، قمار بازی میں شغل رکھنے لگے۔ چونکہ ان کی بدبختی سے کفارہ کی تعلیم نے پہلے ہی ان کو بدکاریوں پر دلیر کر دیا تھا اور
    صرف ستر بی بی از بے چادری کا مصداق تھی۔ اب جو لچھمی بھی ان کے گھر میں آگئی تو پھر کیا تھا ہریک بدکاری پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے ایک زور دار سیلاب اپنے چلنے کی ایک کھلی ؔ کھلی راہ
    پاکر زور سے چلتا ہے اور ملک پر ایسا بداثر ڈالا کہ غافل اور نادان عرب بھی انہیں کے بداثر سے پیسے گئے وہ تو اُمّی اور ناخواندہ تھے۔ جب انہوں نے اپنے اردگرد عیسائیوں کی بداعمالیوں کا
    طوفان پایا تو اس سے متاثر ہوگئے۔ یہ بات بڑی تحقیق سے ثابت ہوئی ہے کہ عربوں میں قمار بازی اور شراب خواری اور بدکاری عیسائیوں کے خزانہ سے آئی تھی اخطل عیسائی جو اس زمانہ میں
    ایک بڑا شاعر گذرا ہے۔ جس کا دیوان بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور حال میں بیروت میں ایک عیسائی گروہ نے بڑے اہتمام اور خوبصورتی سے وہ دیوان چھاپ کر جابجا شائع کیا ہے چنانچہ
    اس ملک میں بھی آگیا ہے اس دیوان میں کئی ایک شعر اس کی یادگار ہیں۔ جو اس کی اور اس وقت کے عیسائیوں کی اندرونی حالت کا نقشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے
    "بان الشباب
    و ربما علّلتہ
    بالغانیات وبالشراب الاصھب"
    یعنی جوانی مجھ سے جدا ہوگئی اور میں نے اس کے روکنے کے لئے کئی مرتبہ اور بہت دفعہ یہ حیلہ کیا ہے کہ خوبصورت عورتوں اور سرخ
    شراب کے ساتھ اپنا شغل رکھا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 344
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 344
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/344/mode/1up
    یعنی آج میں نے قرآن شریف کے اتارنے اور تکمیلؔ نفوس سے تمہارا دین تمہارے
    اب اس شعر سے صاف ظاہر ہے کہ
    یہ شخص باوجود پیرانہ سالی اور عیسائیوں کا ایک بزرگ فاضل کہلانے کے پھر بھی زنا کاری کی ایک خراب حالت میں مبتلا رہا اور زیادہ قابل شرم بات یہ کہ بڈھا ہوکر بھی بدکاری سے باز نہ آیا اور
    نہ صرف اسی پر بس کرتا تھا بلکہ شراب پینے کا بھی نہایت درجہ عادی تھا۔ اخطل کی لائف پر اطلاع رکھنے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ وہ اس زمانہ کی عیسائی قوم میں بہت ہی معزز اور
    علم اور فضیلت کی رو سے گویا ان میں صرف ایک ہی تھا اور اس کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اس خیال کو جو کفارہ کے مسئلہ سے اس کو ملا تھا شاعرانہ لباس میں ادا کرتا بلکہ
    وہ پادریوں کا بھی منصب رکھتا تھا۔ اور جن گرجاؤں کا اس نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ ان میں ایک پیشرو پادری کی حیثیت سے بلا ناغہ جاتا تھا اور سب لوگ اسی کے نقش قدم
    پر چلتے تھے کیا اس زمانہ کے تمام عیسائیوں میں سے اس کے یگانہ روزگار ہونےؔ میں یہ کافی دلیل نہیں کہ کروڑہا عیسائیوں اور پادریوں میں سے صرف وہی اس زمانہ کا ایک آدمی ہے جس کی
    یادگار تیرہ سو برس میں اس زمانہ میں پائی گئی غرض عیسائیوں میں سے صرف ایک اخطلہی ہے جو پرانے عیسائیوں کے چال چلن کا نمونہ بطور یادگار چھوڑ گیا۔ اور نہ صرف اپنا ہی نمونہ بلکہ اس
    نے گواہی دے دی کہ اس وقت کے تمام عیسائیوں کا یہی حال تھا اور درحقیقت وہی چال چلن بطور سلسلہ تعامل کے اب تک یورپ میں چلا آتا ہے عیسائی مذہب کا پایہ تخت ملک کنعان تھا اور یورپ میں
    اسی ملک سے یہ مذہب پہنچا اور ساتھ ہی ان تمام خرابیوں کا تحفہ بھی ملا۔ غرض اخطلکا دیوان نہایت قدر کے لائق ہے جس نے اس وقت کے عیسائی چال چلن کا تمام پردہ کھول دیا اور تاریخ پتہ نہیں
    دے سکتی کہ اس زمانہ کے عیسائیوں میں سے کوئی اور بھی ایسا ہے جس کی کوئی تالیف عیسائیوں کے ہاتھ میں ہو۔ ہمیں اخطلکی سوانح پر نظر ڈالنے کے بعد ماننا پڑتا ہے کہ وہ انجیل سے بھی خوب
    واقف تھا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 345
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 345
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/345/mode/1up
    لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسندؔ کر لیا
    کیونکہ اس نے اس وقت کے
    تمام عیسائیوں اور پادریوں سے خصوصیت کے ساتھ وہ علمیت اور قابلیت دکھلائی کہ اس وقت کے عیسائیوں اور پادریوں میں سے کوئی بھی دکھلا نہ سکا۔ بہرحال ہمیں ماننا ہی پڑا کہ وہ اس وقت کے
    عیسائیوں کا ایک منتخب نمونہ ہے۔ مگر ابھی آپ سن چکے ہیں کہ وہ اس بات کا اپنے منہ سے اقراری ہے کہ میں خوبصورت عورتوں اور عمدہ شراب کے ساتھ پیرانہ سالی کے ملال کو دفع کرتا ہوں۔
    اور اس وقت کے شعراء کا بھی یہی محاورہ تھا کہ وہ اپنی بدکاریوں کو انہیں الفاظ سے ادا کرتے تھے اور وہ لوگ حال کے نادان شاعروں کی طرح صرف فرضی خیالات کی بندش نہیں کرتے تھے بلکہ
    اپنی زندگی کے واقعات کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیتے تھے اسی وجہ سے ان کے دیوان محققوں کی نظر میں نکمے نہیں سمجھے گئے۔ بلکہ تاریخی کتب کا ان کو پورا مرتبہ دیا گیا ہے اور وہ پرانے
    زمانہ کے رسوم اور عادات اور جذبات اور خیالات کو کامل طور پر ظاہر کرتے ہیں اسی واسطے اہل اسلام نے جو علم دوست ہیں ان کے قصائد اور دیوانوں کو ضائع نہیں کیا تا کہ ہر زمانہ کے لوگ
    بچشم خود معلوم کرسکیں کہ اسلام سے پہلے عرب کا کیا حال تھا اور پھر اسلام کے بعد قادر خدا نے کس تقویٰ اور طہارت سے ان کو رنگین کر دیا۔ اگر اخطل اور دیوان حماسہ اور سبعہ معلقہ اور
    اغانی کےؔ وہ اشعار جو جاہلیت کے شعرا کے صاحب اغانی نے لکھے ہیں اور جو لسان العرب اور صحاح جوہری وغیرہ پرانی کتابوں میں موجود ہیں نظر کے سامنے رکھے جائیں اور پھر ان کے
    مقابل پر اسلام کو دیکھا جائے تو ببداہت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تاریک زمانہ میں اسلام اس طرح پر چہرہ نما ہوا کہ جیسے کہ ایک نہایت درجہ کی تاریکی میں یک دفعہ آفتاب نکل آتا ہے۔ اس مقابلہ
    سے ایک نظارہ قدرت معلوم ہوتا ہے اور دل بول اٹھتا ہے کہ اللہ اکبر کیسی اس وقت قرآن شریف کے نزول کی ضرورت تھی۔ درحقیقت اس قوی دلیل نے تمام مخالفوں کو پاؤں کے نیچے کچل دیا ہے۔ پھر
    ہم اپنے پہلے مضمون کی طرف عود کر کے لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کوئی نادان اخطل کی نسبت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 346
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 346
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/346/mode/1up
    حاصل مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جس قدر نازل ہونا تھا نازل ہو چکا اور مستعد دلوں
    یہ سوال پیش کرے کہ کیوں یہ جائز
    نہیں کہ اخطل اپنی پیرانہ سالی کے زمانہ میں بہت سی خوبصورت عورتیں اپنے نکاح میں لایا ہو تو اس صورت میں زنا کا الزام اس پر کیونکر عائد ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اخطل نے اپنے
    شعر میں اس مضمون کو ہرگز ظاہر نہیں کیا۔ کہ وہ خوب صورت عورتیں میری بیویاں ہیں بلکہ ایسی طرز پر اپنے کلام کو ظاہر کیا ہے جیسا کہ بدکار اور بدچلن آدمی ہمیشہ ظاہر کیا کرتے ہیں۔ اسی
    وجہ سے اس نے خوب صورت عورتوں کے ساتھ عمدہ شراب کو بھی جوڑ دیا ہے کیونکہ شراب بدمعاشی کے لوازم میں سے ہے اور ماسوا اس کے یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ عیسائی مذہب میں
    صرف ایک جورو تک جائز ہے پھر کیونکر ممکن تھا کہ قوم کے لوگ اپنے مذہب اور رسم کے مخالف اس کو خوبصورت لڑکیاں دے دیتے۔ یہ قبول کیا کہ وہ اپنے علم اور فضل کے رو سے تمام قوم سے
    بہتر تھا اور جیسا کہ اس زمانہ میں ایک بڑے بھاری بشپ کو اپنی قوم میں ایک عام وجاہت ہوتی ہے۔ یہی وجاہت یا اس سے زیادہ اس کو حاصل تھی اور وہ مقتدا اور پیشوا اور ساری قوم کا برگزیدہ تھا۔
    مگر تاہم یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ لوگ عمداً اپنی خوبصورت لڑکیاں قدیم رسم کے مخالف اس کے نکاح میں لائے ہوں اور اس کا یہ شعر بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ صرف زنا کے طور پر یہ ناجائز
    حرکتیں اس سے صادر ہوتی تھیں۔ تبھی تو شراب کباب کا سلسلہ بھی ساتھ جاری تھا کیا کوئی قبول کرسکتا ہے کہ ایک بڈھا آدمی اور پھر لڑکی والوں کو سوت کا دکھ اور پھر لڑکی پر لڑکی دینا مذہب کے
    مخالف رسم کے مخالف قومی اتفاق کے مخالف اور پھر لوگ اندھے ہوکر میاں اخطل کو اپنی خوبصورت لڑکیاں دیتے جائیں اور دو تین خم شراب کے بھی ساتھ لے آویں۔ بے شک اس خیال محال کو تو
    کوئی بھیؔ قبول نہ کرے گا۔ اصل بات تو وہی ہے جو ہم لکھ چکے جس کی نظیریں اب بھی یورپ میں نہ صدہا نہ ہزارہا بلکہ لاکھوں موجود ہیں۔ یورپ کے سفر میں سمندر سے پار ہوتے ہی یہ نظارہ
    جا بجا نظر آ جائے گا۔ ماسوا اس کے اخطل کا صرف یہی شعر نہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 347
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 347
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/347/mode/1up
    میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدؔ یلیاں پیدا کرچکا اور تربیت کو کمال تک
    بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دیوان اخطل میں
    ایک اور شعر ہے جو اس وقت ہم وہ بھی ہدیہ ناظرین کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:
    "ان من یدخل الکنیسۃ یومًا
    یلقٰی فیھا جأذر و ظباء"
    ترجمہ اس شعر کا یہ ہے کہ اگر ہمارے گرجا میں
    کسی دن کوئی جائے تو بہت سے گوزن بچے اور ہرن اس میں پائے گا۔ یعنی بہت سی خوبصورت اور جوان اور باجمال اور چست عورتوں کو دیکھ کر حظ اٹھائے گا۔ یعنی گویا اس میں میاں اخطل لوگوں
    کو رغبت دیتے ہیں کہ ضرور گرجا میں جانا چاہئے اور یہ لطف اٹھانا چاہئے۔
    اب اس شعر سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ اول یہ کہا اخطلنے اپنی قوم کے لئے کوئی گرجا بھی بنایا ہوا تھا جس میں وہ ایک
    پادری کی حیثیت سے جایا کرتا تھا اور بظاہر انجیل اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کی لڑکیوں اور بہؤں کو تاڑا کرتا تھا اور انہیں سے ناجائز تعلقات کر رکھے تھے۔ دوسری یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ ان
    ناجائز تعلقات کو قوم کچھ بھی بُرا نہیں مانتی تھی اور ایسے نظر باز کو گرجا سے نہیں نکالتی تھی اور پادری کے منصب سے علیحدہ نہیں کرتی تھی حالانکہ ان کو کم سے کم یہ تو خبر تھی کہ یہ
    شخص ناپاک دل ہے اور ناپاک حرکات کا دل میں قصد رکھتا ہے کیونکہ اس کے گندے شعر جو یارانہ اور آشنائی پر دلالت کرتے تھے قوم سے مخفی نہیں تھے پس اس سے بڑھ کر اس بات پر اور کیا
    دلیل ہوگی کہ وہ ساری قوم ہی فسق و فجور میں مبتلا تھی اور ان کے گرجے طوائف کی کوٹھیوں کی طرح تھے اور ان مردوں عورتوں کے جمع ہونے کے لئے جو بدوضع اور ناپاک خیال تھے گرجوں
    سے بہتر اور کوئی مکان نہ تھا۔ یعنی وہ گرجوں ہی میں اپنے نفسانی جذبات کے پورا کرنے کے لئے موقعہ پاتے تھے۔ اور اخطل صرف اپنے ہی نفسانی جذبات میں مبتلا نہیں تھا بلکہ وہ عیسائیوؔ
    ں کی کسی عورت یا لڑکی کو بھی پاک دامن نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس کے دیوان اخطل میں جس کے ساتھ عیسائی محققوں نے اس کی لائف بھی شائع کی ہے۔ اس کی سوانح میں یہ درج کیا
    ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 348
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 348
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/348/mode/1up
    پہنچا دیا اور اپنی نعمت کو ان پر پورا کر دیا اور یہی دو رکن ضروری ہیںؔ جو ایک
    کہ وہ اسی عورتوں کے معاملہ میں
    ایک مرتبہ کنیسہ دمشق میں قید بھی کیا گیا اور یہ الزام لگایا گیا کہ وہ عیسائی عورتوں کی پاک دامنی کا قائل نہیں ہے چنانچہ ایک شریف اور معزز مسلمان کی فرمائش سے دمشق کے قسیس نے اس کو
    رہا کر دیا لیکن اخطلنے تادم مرگ اپنی رائے کو ہرگز تبدیل نہیں کیا چنانچہ عیسائی عورتوں کی نسبت اس کے اشعار اب تک زبان زد خلائق ہیں۔
    اسی کتاب کے صفحہ ۳۳۹ میں اخطلکی لائف میں
    لکھا ہے کہ وہ اپنے اشعار میں شراب کی بہت تعریف کرتا تھا اور شراب کے فوائد پر وہ خوب مطلع اور تجربہ کار تھا۔ پھر اس کی لائف میں صفحہ ۳۳۷ میں لکھا ہے کہ اخطل ایک پکا عیسائی تھا اور
    اپنے دین پر مضبوط پنجہ مارا ہوا تھا اور گرجا کے وصایا کو خوب یاد رکھا ہوا تھا اور صلیب کو اپنے سینہ پر ہر وقت لٹکائے رکھتا تھا اسی لئے اس کا نام لوگوں میں ذوالصلیب مشہور تھا۔ پھر اسی
    صفحہ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ سلطان عبد الملک بن مروان نے جس کے دربار میں یہ ملازم بھی تھا اس کو کہا کہ تو مسلمان ہو جا تو اس نے جواب دیا کہ ’’اگر شراب پینا میرے لئے حلال کر دو
    اور رمضان کے روزے بھی مجھے معاف ہو جائیں تو میں مسلمان ہونے کیلئے تیار ہوں۔‘‘ دیکھو ابھی کہا تھا کہ یہ پکا عیسائی اور ذوالصلیب اس کا نام ہے۔ اور اب یہ بھی لکھ دیا کہ یہ شخص ایک
    شراب کے پیالے پر عیسائی مذہب کو فروخت کرنے کے لئے تیار تھا۔ غرض اس کی لائف میں یہی لکھا ہے کہ یہ ایک شراب خوار آدمی تھا اور اس بات کا اس کو اپنے شعروں میں خود اقرار ہے کہ یہ
    بیگانہ عورتوں سے بالکل پرہیز نہیں کر سکتا تھا اور نیز یہ بھی اقرار ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی مردوں اور عورتوں کا عموماً چال چلن اچھا نہیں تھا اور ایک خفیہ بدکاری ان میں جاری تھی۔ ہاں اس
    میں ایک بڑی دلیری یہ تھی کہ یہ بڑی جرأت کے ساتھ عیسائیوں کے فسق و فجور کو ظاہر کرتا اور ان کے گرجاؤں کو بدکاری کی جگہ بتلاتا تھا اور اپنی بدچلنی کو بھی نہیں چھپاتا تھا۔ چنانچہ اسی
    کتاب کے صفحہ ۳۳۷ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ عبد الملک نے اس سے دریافت کیا کہ تجھے شراب پینے سے کیا حاصل ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 349
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 349
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/349/mode/1up
    نبی کے آنے کی علّت غائی ہوتے ہیں۔ اب دیکھو یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی
    تو اسؔ نے فی الفور یہ دو شعر پڑھ کر
    سنا دیئے۔
    اذا ما ندیمی علّنی ثم علّنی
    ثلٰث زجاجات لھن ھدیر‘
    جعلت اجرّ الذیل منّی کانّنی
    علیک امیر المؤمنین امیر‘
    یعنی جب میرے ساقی نے تین ایسی بوتلوں کی مجھے شراب پلائی جن
    کے شراب نکالنے کے وقت ایک خوش آواز تھی تو میں مستی سے ایسا دامن کشاں چلنے لگا کہ گویا تیرے پر یا امیر المومنین میں امیر ہوں۔ غرض چونکہ اکابر اسلام نے مسلمان ہونے کے لئے کبھی
    کسی پر جبر نہیں کیا اس لئے بجز تبلیغ کے اور کچھ بھی اس پر رنجش ظاہر نہ کی گئی اور وہ مروانی ملوک کے دربار میں ہزارہا روپیہ کا انعام پاتا رہا اور وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
    زمانہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور ہر چہار خلیفہ رضی اللہ عنہم کا اس نے زمانہ پایا تھا اور بلاد شام میں رہتا تھا اور خوب بڈھا ہوکر فوت ہوا۔ اس نے یہ نہایت عمدہ کام کیا کہ اپنے اشعار میں عیسائی چال
    چلن کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور نہایت صاف گواہی دے دی کہ اس وقت کے عیسائی لوگ نہایت مکروہ بدچلنیوں میں گرفتار تھے اور شراب خوری اور ہر قسم کی بدکاری ان پر غالب آگئی تھی
    اور چونکہ عیسائی مذہب کا اصل مبدء اور منبع بلاد شام ہی ہے جن بلاد کا وہ متوطن تھا اور جن کا نقشہ کھینچ کر اس نے پیش کیا ہے اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کفارہ کا مسئلہ کس قدر
    جھوٹا اور نابکار فریب ہے جس کا ابتدائے زمانہ میں ہی یہ اثر ثابت ہوا کہ عیسائی لوگ ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے۔ اخطل کا زمانہ حضرت مسیح کے زمانہ سے کچھ بہت دور نہیں تھا
    صرف چھ سو ۶۰۰برس گذرے تھے مگر اخطل کی گواہی اور اس کے اپنے اقرار سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کے عیسائی اپنی بدچلنیوں کی رو سے بت پرستوں سے بھی زیادہ گرے ہوئے تھے
    پس جبکہ تازہ تازہ زمانہ میں کفارہ نے یہ اثر کیا تو وہ لوگ سخت
    بے وقوف ہیں کہ اب انیسویں صدی میں اس آزمودہ کفارہ سے کوئی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ اس زمانہ کی عیسائیت کی چال و
    چلن کے متعلق ایک وہ بھی قصیدہ ہے جو سبعہ معلقہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 350
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 350
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/350/mode/1up
    ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک کہ دین اسلام کو
    کے چوتھے معلقہ میں
    عمرو بن کلثوم تغلبی کی طرف سے درج ہے۔ یہ بات کسی تاریخ دان پر پوشیدہ نہیں کہ بنی تغلب عیسائی تھے اور وہی تمام عرب میں سب سے بڑھ کر فسق و فجور اور ظلم اور زیادتی میں شمار کئے
    گئے تھے چنانچہؔ یہ قصیدہ بنی تغلب کے چال چلن پر پورا گواہ ہے کہ کیونکر وہ اول درجہ کے خونی اور جنگجو اور کینہ دار اور فاسق اور شراب خوار اور شہوات نفسانیہ کے پورا کرنے کے
    لئے بے جا خرچ کرنے والے اور اپنے فسق و فجور پر کھلا کھلا ناز کرنے والے تھے اور ہم اس جگہ صرف دو شعر تغلبی مذکور کے بطور نمونہ کے لکھتے ہیں اور یہ سبعہ معلقہ کے قصیدہ خامسہ
    میں موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھ لے اور وہ یہ ہیں
    الا حُبّی بصحنک فاصحبینا
    و لا تُبقی خُمور الاندرینا
    و کاسٍ قد شربت ببعلبک
    و اُخرٰی فی دمشقٍ و قاصرینا
    یعنی اے میری معشوقہ
    (یہ اس کی معشوقہ درحقیقت اس کی والدہ ہی تھی) شراب کا پیالہ لے کر اٹھ اور قصبہ ’’اندرین‘‘ میں جس قدر شرابیں بنائی جاتی ہیں وہ سب مجھے پلا دے اور ایسا کر کہ شراب کے ذخیروں
    میں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے پھر کہتا ہے کہ میں نے مقام بعلبک میں بہت شراب پی ہے اور پھر اسی قدر میں نے دمشق میں بھی پی اور ایسا ہی مقام قاصرین میں بھی پیتا رہا۔ سچ ہے کہ عیسائیوں کو
    بجز شراب پینے کے اور کیا کام تھے یہی تو وہ دین کی جزو اعظم ہے جو عشاء ربّانی میں بھی داخل ہے۔ لیکن عجیب تر یہ ہے کہ یہ عیسائی اپنی حقیقی والدہ پر عاشق ہوگیا۔ اور ناظرین کو معلوم
    رہے کہ اندرین بلاد شام میں ایک قصبہ کا نام ہے۔ جس میں حضرات عیسائی ہر قسم کی شراب بناتے تھے اور پھر ان شرابوں کو دور دور کے ملکوں میں لے جاتے تھے اور ان کے مذہب میں شراب پینا
    صرف جائز ہی نہیں تھا بلکہ ہندوؤں کے بام مار گی فرقہ کی طرح مذہب کی بھاری جُزو تھی جس کے بغیر کوئی عیسائی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے قدیم سے عیسائیوں کو شراب کے ساتھ بہت کچھ
    تعلقات رہے ہیں اور اس زمانہ میں بھی انواع اقسام کی شرابوں کے موجد عیسائی لوگ ہی ہیں۔ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ عرب کے ملک میں بھی عیسائی لوگ ہی شراب لے گئے اور ملک کو تباہ کر دیا۔
    معلوم ہوتا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 351
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 351
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/351/mode/1up
    تنزیل قرآن اور تکمیلؔ نفوس سے کامل نہ کیا گیا* اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ
    ہے کہ بت پرستی کے خیال کو
    بھی عیسیٰ پرستی کے خیال نے ہی قوت دی اور عیسائیوں کی ریس سے وہ لوگ بھی مخلوق پرستی پر زیادہ جم گئے۔ یاد رہے کہ عرب کے جنگلی لوگ شراب کو جانتے بھی نہیں تھے کہ کس بلا کا نام
    ہے مگر جب حضرات عیسائی وہاں پہنچے اور انہوں نے بعض نومریدوں کو بھی تحفہ دیا۔ تب تو یہ خراب عادت دیکھا دیکھی عام طور پر پھیل گئی اور نماز کے پانچ وقتوں کی طرح شراب کے پانچ
    وقت مقرر ہوگئے۔ یعنی جاشریہ ۱ صبح قبل طلوع آفتاب کی شراب ہے۔ صبوح۲ جو بعد طلوع کے شراب پی جاتی ہے۔ غبوق۳ جو ظہر اور عصر کی شراب کا نام ہے۔ قیل ۴ جو دوپہر کی شراب کا نام
    ہے۔ فحم ۵ جو رات کی شراب کا نام ہے۔ اسلام نے ظہور فرما کر یہ تبدیلی کی۔ جو ان پانچ وقتوں کے شرابوں کی جگہ پانچ نمازیں مقرر کر دیں اور ہریک بدی کی جگہ نیکی رکھ دی اور مخلوق پرستی
    کی جگہ خدا تعالیٰ کا نام سکھا دیا۔ اس پاک تبدیلی سے انکار کرنا کسی سخت بدذات کا کام ہے نہ کسی سعید انسان کا کیا کوئی مذہب ایسی بزرگ تبدیلیؔ کا نمونہ پیش کرسکتا ہے ہرگز نہیں اور اس
    وقت ہم عیسائیوں کے اقراری اشعار میں سے اسی پر کفایت کرتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے چوں چرا کیا تو کئی سو اسی طور کے شعر ان کی نذر کیا جائے گا مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ اس موقعہ پر
    کوئی بھی نہیں بولے گا۔ کیونکہ ایسے ہزارہا شعر جو جرائم ورزی کے اقرار پر مشتمل ہیں کیونکر چھپ سکتے ہیں۔
    اب کوئی پادری ٹھاکر داس صاحب سے جنہوں نے عدم ضرورت قرآن پر ناحق
    بے جا تعصب سے یا وہ گوئی کی ہے پوچھے کہ کیا اب بھی ضرورت قرآن کے بارے میں آپ کو اطلاع ہوئی یا نہیں یا کیا ہم نے ثابت نہیں کر دیا کہ قرآن اس وقت نازل ہوا کہ جب تمام عیسائی
    جذامیوں کی طرح گل سڑ گئے
    خدا ؔ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ کو مخاطب کیا کہ میں نے تمہارے دین کو کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کی اور آیت کو اس طور سے نہ فرمایا کہ اے نبی
    آج میں نے قرآن کو کامل کر دیا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تا ظاہر ہو کہ صرف قرآن کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بھی تکمیل ہو گئی کہ جن کو قرآن پہنچایا گیا اور رسالت کی علّت غائی کمال تک پہنچ
    گئی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 352
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 352
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/352/mode/1up
    ہونے کی ہے جو کاذب کو ہرگز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
    تھے اور ان کی محبت سے دوسرے
    لوگ بھی تباہ ہو گئے تھے۔ حقیقی ضرورت اس کا نام ہے۔ یا وہ جو انجیل کے لئے پیش کی جاتی ہے مسیح کی جان گئی اور عیسائی پہلے سے بھی بدتر ہوگئے اگر ٹھاکر داس صاحب چاہیں تو ہم دس
    ہزار تک ایسے شعر پیش کر سکتے ہیں جن میں مخالفین نے اپنے جرائم ورزی کا اقرار کیا ہے۔ اب بھی بعض بعض جرائم میں عیسائی سب سے اول نمبر پر ہیں۔ اس اُمّ الخبائث شراب کی نسبت ہی
    دیکھئے کہ صرف ایک شہر لنڈن میں شراب کی اس قدر دکانیں ہیں کہ حساب کیا گیا کہ اگر ان کو ایک لائن میں لگائیں تو ۷۵ میل میں آئیں۔ زانیہ عورتوں کی انگلستان میں اس قدر کثرت ہے کہ خاص لنڈن
    میں ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ہوں گی اور جو خفیہ طور پر پاک دامن لیڈیوں کی بہادری سے ولد الحرام پیدا ہوتے ہیں بعض نے حساب کیا ہے کہ وہ فیصدی ۷۵ ہیں۔ قمار بازی کا وہ زور شور ہے کہ خدا
    کی پناہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے دلوں سے عظمت الٰہی بالکل اٹھ گئی ہے۔ انسان کو خدا بنا چھوڑا ہے۔ بدیوں کو نیکی سمجھ لیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مسیح کی خود کشی کے خیال نے ان کو
    ہلاک کر دیا اور جس قدر توریت کے احکام بدکاریوں سے بچنے کے متعلق اور نیک راہوں پر چلنے کے تھے کفارہ نے سب سے فراغت کر دی۔ اسلام سے اس قدر دشمنی ان لوگوں کو ہے جس قدر شیطان
    کو دشمنی سچائی سے ہے کوئی ان میں سے غور نہیں کرتا کہ اسلام نے کون سی نئی بات پیش کی جو قابل اعتراض ہے۔ موسیٰ نے کئی لاکھ بے گناہ بچے مار ڈالے کوئی عیسائی نہیں کہتا کہ برا کام
    کیا۔ لیکن ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر تلوار اٹھائی جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی۔ اور ان کو مارا جو پہلے بہت سے مسلمانوں کو مار چکے تھے مگر پھر بھی آپ نہیں
    بلکہ اس وقت جب کہ انہوں نے خود تعاقب کیا اور خود چڑھائی کی نہ بچوں کو مارا نہ بوڑھوں کو بلکہ جو مجرم ہو چکے تھے انہیں کو سزا دی گئی۔ یہ سزا عیسائیوں کو بہت بری معلوم ہوتی ہے۔
    جابجا یہی سیاپا کرتے ہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مارے بغض کے ان کے دل سیاہ ہوگئے۔ غضب کی بات ہے کہ عاجز انسان کو خدا کہہ کر ان کا بدن نہیں کانپتا کچھ بھی باز پُرس کے دن کا ان
    کو خوف نہیں آتا۔ اگر حضرت مسیح ایک دن
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 353
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 353
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/353/mode/1up
    پہلے کسی صادق نبی نے بھی اس اعلیٰ شان کے کمال کا نمونہ نہیں دکھلایا کہ ایک طرف کتاب اللہ بھی آرام اور امن کے ساتھ
    پوری ہو جائے۔ اور دوسری طرف تکمیل نفوس بھی ہو اور بایں ہمہ کفر کو ہریک پہلو سے شکست اور اسلام کو ہریک پہلو سے فتح ہو۔
    اور پھر دوسری جگہ فرمایا کہ*
    کے لئے زندہ ہوکر آجائیں
    اور کہا جائے کہ دیکھو یہ تمہارا خدا۔ ان سے ذرہ مصافحہ تو کیجئے تو شرم میں غرق ہو جائیں۔ کمبخت مخلوق پرستوں نے عاجز بندوں کے مرنے کے بعد کیا کیا ان کو بنا ڈالا حیا نہیں۔ خدا تعالیٰ کا
    خوف نہیں یہ بھی نہیں سوچتے کہ مسیح نے پہلے نبیوں سے بڑھ کر کیا دکھلایا۔ خدائی کی مَد میں کون سے کام کئے۔ کیا یہ کام خدائی کے تھے کہ ساری رات آنکھوں میں سے رو رو کر نکالی پھر
    بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ ایلی ایلی کہتے جان دی۔ باپ کو کچھ بھی رحم نہ آیا۔ اکثر پیشین گویاں پوری نہ ہوئیں معجزات پر تالاب نے دھبہ لگایا۔ فقیہوں نے پکڑا اور خوب پکڑا اور کچھ پیش نہ گئی۔ ایلیا
    کی تاویل میں کچھ عمدہ جواب بن نہ پڑا۔ اور پیشگوئی کو اپنے ظاہر الفاظ پر پورا کرنے کے لئے ایلیا کو زندہ کر کے دکھلا نہ سکا اور لما سبقتنی کہہ کر بصد حسرت اس عالم کو چھوڑا ایسے خدا
    سے تو ہندوؤں کا خدا رام چندر ہی اچھا رہا جس نے جیتے جی راون سے اپنا بدلہ لے لیا اور نہ چھوڑا جب تک اس کو ہلاک نہ کیا اور اس کے شہر کو جلا نہ دیا۔ ہاں کفارہ کا ڈھکوسلہ پیچھے سے بنایا
    گیا۔ مگر دیکھنا چاہئے کہ اس سے فائدہ کیا ہوا عیسائیوں پر تو اور بھی گناہ کا بھوت سوار ہوگیا۔ کون سے بدی ہے جس سے وہ رک گئے۔ کون سی ناپاکی ہے جس میں وہ گرفتار نہ ہوئے افسوس کہ
    خودکشی یوں ہی برباد گئی۔ منہ
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہایت درجہ کا یہ جوش تھا کہ میں اپنی زندگی میں اسلام کا زمین پر پھیلنا دیکھ لوں اور یہ
    بات بہت ہی ناگوار تھی کہ حق کو زمین پر قائم کرنے سے پہلے سفر آخرت پیش آوے سو خدا تعالیٰ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دیتا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 354
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 354
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/354/mode/1up
    ۔۱؂ یعنی جبکہ آنے والی مدد اور فتح آگئی جس کا وعدہ دیا گیا تھا اور تو نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل
    ہوتے جاتے ہیں۔ پس خدا کی حمد اور تسبیح کر یعنی یہ کہہ کہ یہ جو ہوا وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس کے فضل اور کرم اور تائید سے ہے اور الوداعی استغفار کر کیونکہ وہ رحمت کے ساتھ بہت ہی
    رجوع کرنے والا ہے۔ استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلّل اور کمزوری کا اقرار
    اور مدد طلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے چونکہ اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے وہ پورا ہوگیا یعنی یہ کہ ہزارہا لوگوں نے دین
    اسلام قبول کر لیا۔ اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ چنانچہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک برس کے اندر فوت ہو گئے پس ضرور تھا کہ آنحضرت
    صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول سے جیسا کہ خوش ہوئے تھے غمگین بھی ہوں کیونکہ باغ تو لگایا گیا مگر ہمیشہ کی آب پاشی کا کیا انتظام ہوا سو خدا تعالیٰ نے اسی غم کے دور کرنے کے لئے
    استغفار کا حکم دیا۔ کیونکہ لغت میں ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے۔ اسی وجہ سے مِغْفر جو خود کے معنی رکھتا ہے اسی میں سے نکالا گیا ہے اور مغفرت مانگنے
    سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ
    ہے کہ دیکھ میں نے تیری مراد پوری کر دی اور کم و بیش اس مراد کا ہر یک نبی کو خیال تھا مگر چونکہ اس درجہ کا جوش نہیں تھا اس لئے نہ مسیح کو اور نہ موسٰیؑ کو
    یہ خوشخبری ملی بلکہ اسی کو ملی جس کے حق میں قرآن میں فرمایا۲؂ یعنی کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جاوے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 355
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 355
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/355/mode/1up
    جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہےؔ خدا تعالیٰ اس بلایا اس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے سو
    اس استغفار کے ضمن میں یہ وعدہ دیا گیا کہ اس دین کے لئے غم مت کھا۔ خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمیشہ رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا رہے گا اور ان بلاؤں کو روک دے
    گا جو کسی ضعف کے وقت عائد حال ہوسکتی ہیں۔
    اکثر نادان عیسائی مغفرت کی سچی حقیقت نہ دریافت کرنے کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو شخص مغفرت مانگے وہ فاسق اور گنہ گار
    ہوتا ہے مگر مغفرت کے لفظ پر خوب غور کرنے کے بعد صاف طور پر سمجھ آجاتا ہے کہ فاسق اور بدکار وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے مغفرت نہیں مانگتا۔ کیونکہ جبکہ ہریک سچی پاکیزگی اسی کی
    طرف سے ملتی ہے اور وہی نفسانی جذبات کے طوفان سے محفوظ اور معصوم رکھتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے راستباز بندوں کا ہریک طرفۃ العین میں یہی کام ہونا چاہیے کہ وہ اس حافظ اور عاصم
    حقیقی سے مغفرت مانگا کریں۔ اگر ہم جسمانی عالم میں مغفرت کا کوئی نمونہ تلاش کریں۔ تو ہمیں اس سے بڑھ کر اور کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ مغفرت اس مضبوط اور ناقابل بند کی طرح ہے جو
    ایک طوفان اور سیلاب کے روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے پس چونکہ تمام زور تمام طاقتیں خداتعالیٰ کے لئے مسلّم ہیں اور انسان جیسا کہ جسم کے رو سے کمزور ہے روح کے رو سے بھی ناتوان
    ہے
    اور اپنے شجرہ پیدائش کے لئے ہریک وقت اس لازوال ہستی سے آب پاشی چاہتا ہے جس کے فیض کے بغیر یہ جی ہی نہیں سکتا اس لئے استغفار مذکورہ معانی کے رو سے اس کے لازم حال پڑا
    ہے اور جیسا کہ چاروں طرف درخت اپنی ٹہنیاں چھوڑتا ہے گویا اردگرد کے چشمہ کی طرف اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے کہ اے چشمہ میری
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 356
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 356
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/356/mode/1up
    مدد کر اور میری سرسبزی میں کمی نہ ہونے دے اور میرے پھلوں کا وقت ضائع ہونے سے بچا یہی حال راستبازوں کا ہے۔
    روحانی سرسبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں
    میں استغفار کے نام سے موسوم کرتا ہے قرآن شریف کو سوچو اور غور سے پڑھو استغفار کی اعلیٰ حقیقت پاؤ گے اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ مغفرت لُغت کی رو سے ایسے ڈھانکنے کو کہتے
    ہیں جس سے کسی آفت سے بچنا مقصود ہے۔ مثلاً پانی درختوں کے حق میں ایک مغفرت کرنے والا عنصر ہے یعنی ان کے عیبوں کو ڈھانکتا ہے۔ یہ بات سوچ لو کہ اگر کسی باغ کو برس دو برس بالکل
    پانی نہ ملے تو اس کی کیا شکل نکل آئے گی کیا یہ سچ نہیں کہ اس کی خوبصورتی بالکل دور ہو جائے گی اور سرسبزی اور خوشنمائی کا نام و نشان نہیں رہے گا اور وہ وقت پر کبھی پھل نہیں لائے گا
    اور ؔ اندر ہی اندر جل جائے گا۔ اور پھول بھی نہیں آئیں گے بلکہ اس کے سبز سبز اور نرم نرم لہلہاتے ہوئے پتے چند روز ہی میں خشک ہوکر گر جائیں گے اور خشکی غالب ہوکر مجذوم کی طرح
    آہستہ آہستہ اس کے تمام اعضاء گرنے شروع ہوجائیں گے یہ تمام بلائیں کیوں اس پر نازل ہوں گی؟ اس وجہ سے کہ وہ پانی جو اس کی زندگی کا مدار تھا اس نے اس کو سیراب نہیں کیا اسی کی طرف
    اشارہ ہے جو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے
    ۱؂ ۔یعنی پاک
    کلمہ پاک درخت کی مانند ہے پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 357
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 357
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/357/mode/1up
    بغیر پانی کے نشوونما نہیں کر سکتا۔ اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیّبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری
    سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشوونما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ ان کی جڑوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے سو انسان کی روحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے
    میں ہوکر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑوں تک پہنچتا ہے اور خشک ہونے اور مرنے سے بچا لیتا ہے۔ جس مذہب میں اس فلسفہ کا ذکر نہیں وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ اور جس شخص
    نے نبی یا رسول یا راستباز یا پاک فطرت کہلا کر اس چشمہ سے منہ پھیرا ہے۔ وہ ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ایسا آدمی خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے نکلا ہے کیونکہ شیط مرنے کو
    کہتے ہیں پس جس نے اپنے روحانی باغ کو سرسبز کرنے کے لئے اس حقیقی چشمہ کو اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہا اور استغفار کے نالے کو اس چشمہ سے لبالب نہیں کیا وہ شیطان ہے یعنی مرنے
    والا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ کوئی سرسبز درخت بغیر پانی کے زندہ رہ سکے۔ ہریک متکبر جو اس زندگی کے چشمہ سے اپنے روحانی درخت کو سرسبز کرنا نہیں چاہتا وہ شیطان ہے اور شیطان کی
    طرح ہلاک ہوگا۔ کوئی راستباز نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے استغفار کی حقیقت سے منہ پھیرا اور اس حقیقی چشمہ سے سرسبز ہونا نہ چاہا۔ ہاں سب سے زیادہ اس سرسبزی کو ہمارے سید و مولیٰ ختم
    المرسلین فخر الاولین والآخرین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اس لئے خدا نے اس کو اس کے تمام ہم منصبوں سے زیادہ سرسبز اور معطر کیا۔
    پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف عود
    کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقّاؔ نیت پر اس دلیل سے نہایت اعلیٰ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 358
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 358
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/358/mode/1up
    واجلٰی ثبوت پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے وقت میں دنیا میں بھیجے گئے کہ جب دنیا زبان حال سے ایک
    عظیم الشان مصلح کو مانگ رہی تھی اور پھر نہ مرے اور نہ مارے گئے جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کردیا*
    اس جگہ بظاہر ایک اعتراض ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ایک بُت پرست کہے
    کہ گو ہم قبول کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے بت پرستی کا استیصال ہوا لیکن ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ بت پرستی بری تھی بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہی راہ راست تھا جس سے
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔ پس اس سے لازم آیا کہ آپ نے دنیا کی اصلاح نہ کی بلکہ صلاحیت کی راہ کو معدوم کردیا۔ ایسا ہی اگر ایک مجوسی کہے کہ یہ تو میں مانتا ہوں کہ
    درحقیقت آنحضرتؐ نے آتش پرستی کی رسم کو نابود کر دیا اور آفتاب پرستی کا بھی نام و نشان کھو دیا مگر میں یہ بات نہیں مانوں گا کہ یہ کام اچھا کیا بلکہ وہی سچی راہ تھی جس کو مٹا دیا۔ ایسا ہی
    اگر ایک عیسائی کہے کہ گو میں مانتا ہوں کہ آنحضرتؐ نے عرب سے عیسائی عقیدہ کی بنیاد اکھیڑ دی مگر میں اس بات کو اصلاح کی مد میں داخل نہیں کر سکتا کہ جو عیسیٰ اور اس کی والدہ کی
    پرستش سے منع کیا گیا اور صلیبوں اور تصویروں کو توڑ دیا گیا یہ کارخیر تھا بلکہ وہی راہ اچھی تھی جس کی مخالفت کی گئی۔ اسی طرح اگر قمار باز اور شراب خوار اور زانی اور لڑکیوں کے قتل
    کرنے والے اور بخیل یا بے جا خرچ کرنے والے اور طرح طرح کے ظلموں اور خیانتوں کو پسند کرنے والے اور چور اور اچکے اور دھاڑوی اپنے اپنے دلائل پیش کریں اور کہیں کہ اگرچہ ہم قبول
    کرتے اور مانتے ہیں کہ اسلام میں ہمارے فرقوں کا بہت ہی عمدہ تدارک کیا گیا ہے اور ہزارہا چوروں کو سخت سخت سزائیں دے کر اکثر زمین کے حصہ سے ان کا شور و شر مٹا دیا۔ لیکن ہماری
    دانست میں ان پر ناحق ظلم کیا گیا وہ جان مار کر چوری کرتے اور خود خطرہ میں پڑ کر ڈاکہ مارتے تھے پس ان کا مال اس قدر محنت کے بعد حلال کے ہی حکم میں تھا ناحق ان کو ستایا گیا اور ایک
    پرانی رسم جو عبادت میں داخل تھی مٹا دی سو ان سب فرقوں کا جواب یہ ہے کہ یوں تو کوئی شخص بھی ان فرقوں میں سے اپنے منہ سے اپنے تئیں قصور وار نہیں ٹھہرائے گا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 359
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 359
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/359/mode/1up
    جب نبوت کے ساتھ ظہور فرما ہوئے تو آتے ہی اپنی ضرورت دنیا پر ثابت کر دی۔ اور ہریک قوم کو ان کے شرک اور ناراستی
    اور مفسدانہ حرکات پر ملزم کیا جیسا کہ قرآن کریم اس سے بھرا ہوا ہے۔ مثلاً اسی آیت کو سوچ کر دیکھو جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ۔۱؂
    لیکن بعض ان کے بعض پر گواہ ہیں۔ مثلاً ایک شخص رام
    چندر اور کرشن جی کا پوجا کرنے والا اور انؔ کو خدا ٹھہرانے والا اس بات سے تو کبھی باز نہیں آئے گا۔ کہ وہ رام چندر اور کرشن کو انسان محض قرار دے بلکہ بار بار اسی بات پر زور دے گا کہ
    ان دونوں بزرگوں میں پرم آتما کی جوت تھی اور وہ باوجود انسان ہونے کے خدا بھی تھے اور اپنے اندر ایک جہت مخلوقیت کی رکھتے تھے۔ اور ایک جہت خالقیت کی اور مخلوقیت ان کی حادث تھی اور
    ایسا ہی مخلوقیت کے عوارض بھی یعنی مرنا اور دکھ اٹھانا یا کھانا پینا سب حادث تھے۔ مگر خالقیت ان کی قدیم ہے اور خالقیت کی صفات بھی قدیم لیکن اگر ان کو کہا جائے کہ اے بھلے مانسو اگر یہی
    بات ہے تو ابن مریم کی خدائی کو بھی مان لو اور بے چارے عیسائی جو دن رات یہی سیاپا کر رہے ہیں ان کی بھی تو کچھ خاطر رکھو کہ چون آب ازسر گذشت چہ نیزہ چہ بالشت۔ تب وہ حضرت مسیح
    کی اس قدر بدتہذیبی سے تکذیب کرتے ہیں کہ خدائی تو بھلا کون مانے اس غریب کو نبوت سے بھی جواب دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو شری مہاراج
    برہم مورت رام چندر جی اور کرشن گوپال رود ر سے کیا نسبت وہ تو ایک آدمی تھا جس نے پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کیا کہاں شری مہاراج کرشن جی اور کہاں عیسیٰ مریم کا پوتر۔ اور تعجب ہے کہ
    اگر عیسائیوں کے پاس ان دونوں مہاتما اوتاروں کا ذکر کیا جائے تو وہ بھی ان کی خدائی نہیں مانتے بلکہ بے ادبی سے باتیں کرتے ہیں حالانکہ دنیا میں خدائی کی پہلے پہل بنا ڈالنے والے یہی دونوں
    بزرگ ہیں اور چھوٹے چھوٹے خداؤں کے مورث اعلیٰ اور ابن مریم وغیرہ تو پیچھے سے نکلے اور ان کی شاخیں ہیں اور عیسائی مسیح کے خدا بنانے میں انہیں لوگوں کے نقش قدم پر چلے ہیں جنہوں
    نے ان مہاتماؤں کو خدا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 360
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 360
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/360/mode/1up
    یعنی وہ بہت ہی برکت والا ہے۔ جس نے قرآن شریف کو اپنے بندہ پر اس غرض سے اتارا کہ تمام جہان کو ڈرانے والا ہو یعنی
    تا ان کی بدراہی اور بدعقیدگی پر ان کو متنبہ کرے۔ پس یہ آیت بصراحت اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کایہی دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جبکہ تمام دنیا
    اور تمام قومیں بگڑ چکی تھیں اور مخالف قوموں نے اس دعویٰ کو نہ صرف اپنی خاموشی
    بنایا جیسا کہ قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے دیکھو آیت ۱؂
    الجزو نمبر ۱۰ یعنیؔ یہود نے
    کہا کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ سب ان کے منہ کی باتیں ہیں یہ لوگ ان لوگوں کی ریس کرتے ہیں جو ان سے پہلے انسانوں کو خدا بناکر کافر ہوگئے۔ خدا
    کے ماروں نے کہاں سے کہاں پلٹا کھایا۔ سو یہ آیت صریح ہندیوں اور یونانیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور بتلا رہی ہے جو پہلے انسانوں کو انہیں لوگوں نے خدا قرار دیا۔ پھر عیسائیوں کی بدقسمتی
    سے یہ اصول ان تک پہنچ گئے۔ تب انہوں نے کہا کہ ہم ان قوموں سے کیوں پیچھے رہیں اور ان کی بدبختی سے توریت میں پہلے سے یہ محاورہ تھا کہ انسانوں کو بعض مقامات میں خدا کے بیٹے قرار
    دیا تھا بلکہ خدا کی بیٹیاں بھی بلکہ بعض گذشتہ لوگوں کو خدا بھی کہا گیا تھا۔ اس عام محاورہ کے لحاظ سے مسیح پر بھی انجیل میں ایسا ہی لفظ بولا گیا پس وہی لفظ نادانوں کے لئے زہر قاتل ہوگیا تمام
    بائبل دوہائی دے رہی ہے کہ یہ لفظ ابن مریم سے کچھ خاص نہیں ہریک نبی اور راستباز پر بولا گیا ہے بلکہ یعقوب نخست زادہ کہلایا ہے مگر بدقسمت انسان جب کسی پیچ میں پھنس جاتا ہے تو پھر اس
    سے نکل نہیں سکتا پھر عجیب تر یہ کہ جو کچھ مسیح کی خدائی کے لئے قواعد بیان کئے گئے ہیں کہ وہ خدا بھی ہے انسان بھی یہ تمام قواعد کرشن اور رام چندر کے لئے ہندوؤں کی کتابوں میں پہلے
    سے موجود ہیں اور اس نئی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 361
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 361
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/361/mode/1up
    سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے پس اس سے ببداؔ ہت نتیجہ نکلا کہ
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت ایسے
    وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہیئے۔ پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کس وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا
    ہے کہ ایسے وقت میں
    تعلیم سے ایسے مطابق پڑے ہیں کہ ہم بجز اس کے اور کوئی بھی رائے ظاہر نہیں کرسکتے کہ یہ تمام ہندوؤں کے عقیدوں کی نقل کی گئی ہے۔ ہندوؤں میں ترے مورتی کا بھی
    عقیدہ تھا جس سے برھما۔ بشن۔ مہادیو کا مجموعہ مراد ہے۔ سو تثلیث ایسے عقیدے کا عکس کھینچا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ جو کچھ مسیح کے خدا بنانے کے لئے اور عقلی
    اعتراضوں سے بچنے کے لئے عیسائی لوگ جوڑ توڑ کررہے ہیں اور مسیح کی انسانیت کو خدائی کے ساتھ ایسے طور سے پیوند دے رہے ہیں جس سے ان ؔ کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح عقلی
    اعتراضوں سے بچ جائیں اور پھر بھی وہ کسی طرح بچ بھی نہیں سکتے اور آخرا سرار الٰہی میں داخل کر کے پیچھا چھوڑاتے ہیں بعینہٖ یہی نقشہ ان ہندوؤں کا ہے جو رام چندر اور کرشن کو
    ایشر قرار دیتے ہیں یعنی وہ بھی بعینہٖ وہی باتیں سناتے ہیں جو عیسائی سنایا کرتے ہیں اور جب ہریک پہلو سے عاجز آجاتے ہیں۔ تب کہتے ہیں کہ یہ ایک ایشر کا بھید ہے اور انہیں پر کھلتا ہے جو
    جوگ کماتے اور دنیا کو تیاگتے اور تپسیاکرتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ بھید تو اسی وقت کھل گیا جبکہ ان جھوٹے خداؤں نے اپنی خدائی کا کوئی ایسا نمونہ نہ دکھلایا جو انسان نے نہ دکھلایا
    ہو۔ سچ ہے کہ گرنتھوں میں یہ قصے بھرے پڑے ہیں کہ ان اوتاروں نے بڑی بڑی شکتی کے کام کئے ہیں مردے جلائے اور پہاڑوں کو سر پر اٹھا لیا۔ لیکن اگر ہم ان کہانیوں کو سچ مان لیں تو یہ لوگ
    خود قائل ہیں کہ بعض ایسے لوگوں نے بھی کرشمے دکھلائے جنہوں نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ مثلاً ذرہ سوچ کر دیکھ لو کہ کیا مسیح کے کام موسیٰ کے کاموں سے بڑھ کر تھے بلکہ مسیح کے
    نشانوں کو تو تالاب کے قصہ نے خاک میں ملا دیا کیا آپ لوگ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 362
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 362
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/362/mode/1up
    بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں
    کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہوگیا اور جو کچھ ضروریات دینؔ میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں بھی کمال کو پہنچ گئیں اور
    جوق در جوق
    معجزہ نما تالاب سے واقف نہیں جو اسی زمانہ میں تھا اور کیا اسرائیل میں ایسے نبی نہیں گذرے جن کے بدن کے چھونے سے مُردے زندہ ہوئے پھر خدائی کی شیخی مارنے کے لئے
    کون سے وجوہات ہیں جائے شرم!!!
    اور اگرچہ ہندوؤں نے اپنے اوتاروں کی نسبت شکتی کے کام بہت لکھے ہیں اور خواہ نخواہ ان کو پرمیشر ثابت کرنا چاہا ہے مگر وہ قصے بھی عیسائیوں کے
    بے ہودہ قصوں سے کچھ کم نہیں ہیں اور اگر فرض بھی کریں کہ کچھ ان میں سے صحیح بھی ہے۔ تب بھی عاجز انسان جو ضعف اور ناتوانی کا خمیر رکھتا ہے۔ پرمیشر نہیں ہوسکتا اور احیاء حقیقی تو
    خود باطل اور الٰہی کتابوں کے مخالف۔ ہاں اعجازی احیاء جسؔ میں دنیا کی طرف رجوع کرنا اور دنیا میں پھر آباد ہونا نہیں ہوتا۔ ممکن تو ہے مگر خدائی کی دلیل نہیں کیونکہ اس کے مدعی عام ہیں
    مردوں سے باتیں کرا دینے والے بہت گذرے ہیں مگر یہ طریق کشف قبور کے قسم میں سے ہے۔ ہاں ہندوؤں کو عیسائیوں پر ایک فضیلت بے شک ہے۔ اس کے بلاشبہ ہم قائل ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بندوں
    کو خدا بنانے میں عیسائیوں کے پیشرو ہیں۔ انہیں کے ایجاد کی عیسائیوں نے بھی پیروی کی۔ ہم کسی طرح اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ جو کچھ عیسائیوں نے عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے
    باتیں بنائی ہیں یہ باتیں انہوں نے اپنے دماغ سے نہیں نکالیں بلکہ شاستروں اور گرنتھوں میں سے چرائی ہیں یہ تمام تودہ طوفان پہلے ہی سے برہمنوں نے کرشن اور رام چندر کے لئے بنا رکھا تھا جو
    عیسائیوں کے کام آیا پس یہ خیال بدیہی البطلان ہے کہ شائد ہندوؤں نے عیسائیوں کی کتابوں میں سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 363
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 363
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/363/mode/1up
    لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے۔ اور یہ آیتیں بھی نازل ہوگئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور
    فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متّصف ہوگئے اور ایک بھاری تبدیلی ان کے اخلاق
    چرایا ہے کیونکہ ان کی یہ تحریریں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسٰی کا
    وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔ پس ناچار ماننا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں چنانچہ پوٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ’’تثلیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ مگر اصل یہ
    ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرایا متقابلہ کے طرح تھے۔ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبارپہلے ہند سے وید ودیا کی صورت میں یونان میں گئے۔ پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا
    چرا کر انجیل پر حاشئے چڑھائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا۔‘‘
    اب ہم اصلمعنوں کی طرف توجہ کرکے لکھتے ہیں کہ جبکہ ان تمام فرقوں میں سے ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مکذب ہے تو اس
    میں کچھ شک نہیں کہ ہر ایک ان میں سے اپنی رائے میں دنیا کی اصلاح اس بات میں دیکھتا ہے کہ اس کے مخالف فرقہ کا اعتقاد نابود ہو۔ اور اس بات کا قائل ہے کہ اس کے مخالفؔ کا عقیدہ نہایت
    خراب اور غیر صحیح ہے۔ پھر جبکہ ہریک فرقہ اپنے مخالف پر نظر ڈال کر اس خرابی کو مان رہا ہے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہریک فرقہ کو بالضرورت اقرار
    کرنا پڑا ہے کہ درحقیقت آپ کے ہاتھ سے دنیا کی عام اصلاح ظہور میں آئی۔ اور آپ درحقیقت مصلح اعظم تھے۔ ماسوا اس کے ہریک فرقہ کے محقق اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ درحقیقت ان کے
    مذہب کے لوگ اس زمانہ میں سخت بدچلن اور بدراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کی بدچلنی اور خراب حالت کے بارے میں پادری فنڈل میزان الحق میں اور محقق پوٹ اپنی کتاب میں اور
    پادری جیمس کیمرن لیس اپنے لیکچر مطبوعہ مئی ۱۸۸۲ ؁ء میں اس بات کے قائل ہیں۔ ماسوا اس کے حقیقی نیکی اور راہ راست کو پہچاننے والے جانتے ہیں کہ یہ تمام فرقے ایک تاریکی کے گڑھے
    میں پڑے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 364
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 364
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/364/mode/1up
    اور چلن اور روح میں واقعؔ ہوگئی تب ان تمام باتوں کے بعد سورۃ النصر نازل ہوئی جس کا ماحصل یہی ہے کہ نبوت کے تمام
    اغراض پورے ہوگئے اور اسلام دلوں پر فتح یاب ہوگیا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر اعلان دے دیا کہ یہ سورت میری وفات کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ اس کے بعد
    ہوئے
    ہیں* اور ان خداؤں میں سے کوئی بھی واقعی اور سچا خدا نہیں جن لوگوں کو ان نادانوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کیونکہ واقعی طور پر خدا ہونے کی یہ نشانی تھی کہ اس کی عظمت اور جلال اس کے
    واقعات زندگی سے ایسے طور سے ظاہر ہوتی ہو جیسا کہ آسمان اور زمین ایک سچے اور جلیل خدا کی عظمت ظاہر کر رہا ہے مگر ان عاجز اور مصیبت زدہ خداؤں میں یہ نشانی قطعاً مفقود ہے کیا
    عقل سلیم اس بات کو قبول کرلے گی کہ ایک مرنے والا اور خود کمزور کسی پہلو سے خدا بھی ہے حاشا وکلا ہرگز نہیں بلکہ سچا خدا وہی خدا ہے جس کی غیر متبدل صفات قدیم سے آئینہ عالم میں
    نظر آرہی ہیں اور جس کو ان باتوں کی حاجت نہیں کہ کوئی اس کا بیٹا ہو اور خودکشی کرے۔ تب لوگوں کو اس سے نجات ملے بلکہ نجات کا سچا طریق قدیم سے ایک ہی ہے جو حدوث اور بناوٹ سے
    پاک ہے جس پر چلنے والے حقیقی نجات کو اور اس کے ثمرات کو اسی دنیا میں پالیتے ہیں۔ اور اس کے سچے نمونے اپنے اندر دیکھتے ہیں یعنی ؔ وہ سچا طریق یہی ہے کہ الٰہی منادی کو قبول
    کرکے اس کے نقش قدم پر ایسا چلیں کہ اپنی نفسانی ہستی سے مر جائیں اور اسی طرح اپنے لئے آپ فدیہ دیں اور یہی طریق ہے جو خدا تعالیٰ نے ابتدا سے حق کے طالبوں کی فطرت میں رکھا ہے اور
    قدیم سے اور جب سے کہ انسان بنایا گیا ہے اور اس روحانی قربانی کا سامان اس کو عطا کردیا گیا ہے اور اس کی فطرت
    یہ اقرار پنڈت دیانند نے بھی اپنی ستیارتھ پرکاش میں کیا ہے اور پنڈت جی
    قائل ہیں کہ آریہ ورت اُس زمانہ میں مورتی پوجن میں غرق تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 365
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 365
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/365/mode/1up
    حج کیا اور اس کا نام حجۃ الوداع رکھا اور ہزارہا لوگوں کی حاضری میں ایک اونٹنی پر سوار ہوکر ایک لمبی تقریر کی اور کہا
    کہ سنو! اےؔ خدا کے بندو! مجھے میرے رب کی طرف سے یہ حکم ملے تھے کہ تا میں یہ سب احکام تمہیں پہنچا دوں پس کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ یہ سب باتیں میں نے تمہیں پہنچا دیں۔ تب
    ساری قوم نے
    اس سامان کو اپنے ساتھ لائی ہے اور اسی پر متنبہ کرنے کے لئے ظاہری قربانیاں بھی رکھی گئیں۔ یہ وہ واقعی حقیقت ہے۔ جس کو کوتہ اندیش اور بدقسمت ہندوؤں اور عیسائیوں نے
    نہیں سمجھا اور روحانی حقیقتوں پر غور نہیں کی اور نہایت بد اور مکروہ اور تاریک خیالات میں پڑ گئے۔ میں نے کبھی کسی چیز پر ایسا تعجب نہیں کیا جیسا کہ ان لوگوں کی حالت پر تعجب کرتا ہوں
    کہ جو کامل اور زندہ اور حیّ و قیّوم خدا کو چھوڑ کر ایسے بے ہودہ خیالات کے پیرو ہیں اور ان پر ناز کرتے ہیں۔
    پھر ہم اصل مطلب کی طرف عود کرکے کہتے ہیں کہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں
    ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح نہایت وسیع اور عام اور مسلم الطوائف ہے۔ اور یہ مرتبہ اصلاح کا کسی گذشتہ نبی کو نصیب نہیں ہوا۔ اور اگر کوئی عرب کی تاریخ کو
    آگے رکھ کر سوچے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس وقت کے بت پرست اور عیسائی اور یہودی کیسے متعصب تھے اور کیونکر ان کی اصلاح کی صدہا سال سے نومیدی ہوچکی تھی۔ پھر نظر اٹھا کر
    دیکھئے کہ قرآنی تعلیم نے جو ان کے بالکل مخالف تھی کیسی نمایاں تاثیریں دکھلائیں اور کیسی ہریک بد اعتقاد اور ہریک بدکاری کا استیصال کیا۔ شراب کو جو اُمّ الخبائث ہے دور کیا۔ قمار بازی کی رسم
    کو موقوف کیا دختر کشی کا استیصال کیا اور جو انسانی رحم اور عدل اور پاکیزگی کے برخلاف عادات تھیں سب کی اصلاح کی۔ ہاں مجرموں نے اپنے جرموں کی سزائیں بھی پائیں جن کے پانے کے وہ
    سزا وار تھے۔ پس اصلاح کا امر ایسا امر نہیں ہے جس سے کوئی انکار کرسکے۔ اسؔ جگہ یہ بھی یاد رہے کہ اس زمانہ کے بعض حق پوش پادریوں نے جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    کے ہاتھ سے اس قدر عام اصلاح ہوئی کہ اس کو کسی طرح چھپا نہیں سکتے اور اس کے مقابل پر جو مسیح نے اپنے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 366
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 366
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/366/mode/1up
    بآواز بلند تصدیق کی کہ ہم تک یہ سب پیغام پہنچائے گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف
    اشارہ کرکے کہا کہ اے خدا ان باتوں کا گواہ رہ اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مقرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھؔ نہیں ہونگا۔ اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں
    پاؤ گے۔ تب مدینہ میں جاکر
    دوسرے سال میں فوت ہوگئے اللّٰھم صلّ علیہ وبارک وسلم درحقیقت یہ
    وقت میں اصلاح کی وہ ہیچ ہے تو ان پادریوں کو فکر پڑی کہ گمراہوں کو رو باصلاح کرنا اور
    بدکاروں کو نیکی کے رنگ میں لانا جو اصل نشانی سچے نبی کی ہے۔ وہ جیسا کہ اکمل اور اتم طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئی مسیح کی اصلاح میں کوئی بھی اس کی نسبت
    نہیں پائی جاتی تو انہوں نے اپنے دجّالی فریبوں کے ساتھ آفتاب پر خاک ڈالنا چاہا تو ناچار جیسا کہ پادری جیمس کیمرن لیس نے اپنے لیکچر میں شائع کیا ہے۔ جاہلوں کو اس طرح پر دھوکا دیا کہ وہ لوگ
    پہلے سے صلاحیت پذیر ہونے کے مستعد تھے اور بت پرستی اور شرک ان کی نگاہوں میں حقیر ٹھہر چکا تھا۔ لیکن اگر ایسی رائے ظاہر کرنے والے اپنے اس خیال میں سچے ہیں تو انہیں لازم ہے کہ
    اپنے اس خیال کی تائید میں ویسا ہی ثبوت دیں جیسا کہ قرآن کریم ان کے مخالف ثبوت دیتا ہے یعنی فرماتا ہے کہ۔۱؂ اور ان سب کو مردے قرار دے کر ان کا زندہ کیا جانا محض اپنی طرف منسوب کرتا
    ہے اور جابجا کہتا ہے کہ وہ ضلالت کے زنجیروں میں پھنسے ہوئے تھے ہم نے ہی ان کو رہائی دی وہ اندھے تھے ہم نے ہی ان کو سوجاکھا کیا۔ وہ تاریکی میں تھے ہم نے ہی نور بخشا اور یہ باتیں
    پوشیدہ نہیں کہیں بلکہ قرآن ان سب کے کانوں تک پہنچا اور انہوں نے ان بیانات کا انکار نہ کیا اور کبھی یہ ظاہر نہ کیا کہ ہم تو پہلے ہی مستعد تھے قرآن کا ہم پر کچھ احسان نہیں۔ پس اگر ہمارے
    مخالفوں کے پاس کوئی مخالفانہ تحریر اپنے بیان کی تائید میں ایسی ہو جو قرآن کریم کے ہم پہلو تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے چلی آتی ہے تو وہ پیش کردیں ورنہ ایسی باتیں صرف عیسائی سرشت کا افترا
    ہے اس سے زیادہ نہیں یہ تو جیمسؔ کا قول ہے کہ جو کتاب مذاہب عالم میں شائع ہوا ہے مگر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 367
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/367/mode/1up
    تمام اشارات قرآن شریف ہی سے مستنبط ہوتے ہیں جس کی تصدیق اسلام کی متفق علیہ تاریخ سے بہ تفصیل تمام ہوتی ہے۔
    بعض عیسائی پادریوں نے اس سے بھی بڑھ کر حقیقت فہمی کا جوہر دکھلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت اصلاح کچھ چیز ہی نہیں اور نہ کبھی کسی کی اصلاح ہوئی۔ توریت کی تعلیم اصلاح کے لئے
    نہیں تھی بلکہ اس ایما کے لئے کہ گناہ گار انسان خدا کے احکام پر چل نہیں سکتا اور انجیل کی تعلیم بھی اسی مدعا سے تھی۔ ورنہ طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دینا نہ کبھی ہوا نہ ہوگا اور
    کہتے ہیں کہ کیا مسیح کوئی جدید تعلیم لے کر آیا تھا اور پھر آپ ہی جواب دیتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔ اور بائبل کے متفرق مقامات جمع کرنے سے انجیل بن
    جاتی ہے پھر مسیح کیوں آیا تھا؟ اس کا جواب دیتے ہیں کہ صرف خودکشی کے لئے مگر تعجب کہ خودکشی سے بھی مسیح نے جی چرایا اور ایلی ایلی لما سبقتنی منہ پر لایا۔ پھر یہ بھی تعجب کا مقام
    ہے کہ زید کی خودکشی سے بکر کو کیا حاصل ہوگا اگر کسی کا کوئی عزیز اس کے گھر میں بیمار ہو اور وہ اس کے غم سے چھری مار لے تو کیا وہ عزیز اس نابکار حرکت سے اچھا ہو جائے گا۔ یا
    اگر مثلاً کسی کے بیٹے کو درد قولنج ہے تو اس کا باپ اس کے غم میں اپنا سر پتھر سے پھوڑ لے تو کیا اس احمقانہ حرکت سے بیٹا اچھا ہو جائے گا۔
    اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ زید کوئی گناہ
    کرے اور بکر کو اس کے عوض سولی پر کھینچا جائے یہ عدل ہے یا رحم کوئی عیسائی ہم کو بتلاوے ہم اس کے اقراری ہیں کہ خدا کے بندوں کی بھلائی کے لئے جان دینا یا جان دینے کے لئے مستعد
    ہونا ایک اعلیٰ اخلاقی حالت ہے لیکن سخت حماقت ہی ہوگی کہ خود کشی کی بے جا حرکت کو اس مد میں داخل کیا جائے۔ ایسی خودکشی تو سخت حرام ہے اور نادانوں اور بے صبروں کا کام ہے۔ ہاں
    جاں فشانی کا پسندیدہ طریق اس کامل مصلح کی لائف میں چمک رہا ہے جس کا نام محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 368
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/368/mode/1up
    اب کیا دنیا میں کوئی عیسائی یا یہودی یاآریہ اپنے کسی ایسے مصلح کو بطور نظیر پیش کرسکتا ہے۔ جسؔ کا آنا ایک عام اور
    اشد ضرورت پر مبنی ہو اور جانا اس غرض کی تکمیل کے بعد ہو اور ان مخالفوں کو اپنی ناپاک حالت اور بدعملیوں کا خود اقرار ہو جن کی طرف وہ رسول بھیجا گیا ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ثبوت بجز
    اسلام کے کسی کے پاس موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ
    حضرت موسٰیؑ صرف فرعون کی سرکوبی کے لئے اور اپنی قوم کو چھڑانے کے لئے اور نیز راہ راست دکھانے کے لئے آئے تھے سارے جہان
    کے فساد یا عدم فساد کیؔ ان کو کچھ غرض نہیں تھی اور یہ تو سچ ہے کہ فرعون کے ہاتھ سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑا دیا مگر شیطان کے ہاتھ سے چھوڑا نہ سکے اور نیز وعدہ کے ملک تک ان
    کو پہنچا نہ سکے اور ان کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو تزکیہ نفس نصیب نہیں ہوا اور بار بار نافرمانیاں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ فوت ہوگئے اور ان کا وہی حال تھا اور حضرت مسیح کے
    حواریوں کی حالت خود انجیل سے ظاہر ہے حاجت تصریح نہیں اور یہ بات کہ یہودی جن کے لئے حضرت مسیح نبی ہوکر آئے تھے کس قدر ان کی زندگی میں ہدایت پذیر ہوگئے تھے۔ یہ بھی ایک ایسا
    امر ہے کہ کسی پر پوشیدہ نہیں بلکہ اگر حضرت مسیح کی نبوت کو اس معیار سے جانچا جائے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی نبوت اس معیار کی رو سے کسی طرح ثابت نہیں ہو
    سکتی۔* کیونکہ اول نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت آوے کہؔ جب فی الواقعہ اس اُمّت
    * نوٹ: عیسائی کفارہ پر بہت ناز رکھتے ہیں مگر عیسائی تاریخ کے واقف اس سے بے خبر نہیں
    کہ مسیح کی خودکشی سے پہلے جو عیسائیوں کے زعم میں ہی تھوڑے بہت عیسائی نیک چلن تھے مگر خودکشی کے بعد تو عیسائیوں کی بدکاریوں کا بند ٹوٹ گیا۔ کیا یہ کفارہ کی نسل جو اب یورپ میں
    موجود ہے اپنے چال و چلن میں ان لوگوں سے مشابہ ہے جو کفّارہ سے پہلے مسیح کے ساتھ پھرتی تھی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 369
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/369/mode/1up
    کی حالت دینداری تباہ ہوگئی ہو جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح یہود کو ایسا الزام کوئی بھی نہیں دے سکے
    جس سے ثابت ہوتا ہو کہ انہوں نے اپنے اعتقاد بدل ڈالے ہیں یا وہ چور اور زنا کار اور قمار باز وغیرہ ہوگئے ہیں یا انہوں نے توریت کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کی پیروی اختیار کرلی ہے بلکہ خود
    گواہی دی کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں اور نہ یہود نے اپنے بدچلن اور بدکار ہونے کا اقرر کیا۔ پھر دوسرے سچے نبی کی سچائی پر یہ بھاری دلیل ہوتی ہے کہ وہ کامل اصلاح کا ایک
    بھاری نمونہ دکھلاوے پس جب ہم اس نمونہ کو حضرت مسیح کی زندگی میں غور کرتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کون سی اصلاح کی اور کتنے لاکھ یا ہزار آدمی نے ان کے ہاتھ پر توبہ
    کی تو یہ خانہ بھی خالی پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہاں بارا۱۲ں حواری ہیں۔ مگر جب ان کا اعمال نامہ دیکھتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے اور افسوس آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے تھے کہ اس قدر اخلاص کا دعویٰ
    کرکے پھر ایسی ناپاکی دکھلا ویں جس کی نظیر دنیا میں نہیں۔ کیا تیس روپیہ لے کر ایک سچے نبی اور پیارے رہنما کو خونیوں کے حوالہ کرنا حواری کہلانے کی یہی حقیقت تھی کیا لازم تھا کہ پطرس
    جیسا حواریوں کا سردار حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہوکر ان پر *** بھیجے اور چند روزہ زندگی کے لئے اپنے مقتدا کو اس کے منہ پر گالیاں دے۔ کیا مناسب تھا کہ حضرت مسیح کے پکڑے
    جانے کے وقت میں تمام حواری اپنا اپنا راہ لیں اور ایک دم کے لئے بھی صبر نہ کریں۔ کیاجن کا پیارا نبی قتل کرنے کے لئے پکڑا جائے ایسے لوگوں کے صدق و صفا کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں جو
    حواریوں نے اس وقت دکھلائے ان کے گذر جانے کے بعد مخلوق پرستوں نے باتیں بنائیں اور آسمان پر چڑھا دیا مگر جو کچھ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنا ایمان دکھلایا وہ باتیں تو اب تک انجیلوں میں
    موجود ہیں غرض وہ دلیل جو نبوت اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 370
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 370
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/370/mode/1up
    رسالت کے مفہوم سے ایک سچے نبی کے لئے قائم ہوتی ہے وہ حضرت مسیح کے لئے قائم نہیں ہوسکی۔ اگر قرآن شریف ان کی
    نبوت کا بیان نہ کرتا تو ہمارے لئے کوئی بھی راہ کھلی نہیں تھی کہ ہم ان کو سچے نبیوں کے سلسلہ میں داخل کر سکیں کیا جس کی یہ تعلیم ہو کہ میں ہی خدا ہوں اور خدا کا بیٹا اور بندگی اور
    فرمانبرداری سے آزاد اور جس کی عقل اور معرفت صرف اس قدر ہو کہ میری خودکشی سے لوگ گناہ سے نجات پا جائیں گے۔ ایسے آدمی کو ایک دم کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ دانا اور راہ
    راست پر ہے مگر الحمد للہ کہ قرآنی تعلیم نے ہم پر یہ کھول دیا کہ ابن مریم پر یہ سب الزام جھوٹے ہیں۔ انجیل میں تثلیث کا نام و نشان نہیں۔ ایک عام محاورہ لفظ ابن اللہ کا جو پہلی کتابوں میں آدم ؑ
    سے لے کر اخیر تک ہزارہا لوگوں پر بولا گیا تھا۔ وہی عام لفظ حضرت مسیح کے حق میں انجیل میں آ گیا پھر بات کا بتنگڑ بنایا گیا یہاں تک کہ حضرؔ ت مسیح اسی بات کی بنیاد پر خدا بھی بن گئے۔
    حالانکہ نہ کبھی مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ کبھی خودکشی کی خواہش ظاہر کی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا کرتا تو راستبازوں کے دفتر سے اس کا نام کاٹا جاتا۔ یہ بھی مشکل
    سے یقین ہوتا ہے کہ ایسے شرمناک جھوٹ کی بنیاد حواریوں کے خیالات کی برگشتگی نے پیدا کی ہو کیونکہ گو ان کی نسبت جیسا کہ انجیل میں بیان کیا گیا ہے یہ صحیح بھی ہو کہ وہ موٹی عقل کے
    آدمی اور جلد تر غلطی کھانے والے تھے۔ لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کرسکتے کہ وہ ایک نبی کے صحبت یافتہ ہوکر ایسے بے ہودہ خیالات کی جنس کو اپنی ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔ مگر انجیل کے
    حواشی پر نظر غور کرنے سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ساری چال بازی حضرت پولس کی ہے۔ جس نے پولیٹیکل چال بازوں کی طرح عمیق مکروں سے کام لیا ہے۔
    غرض جس ابن مریم
    کی قرآن شریف نے ہم کو خبر دی ہے وہ اسی ازلی ابدی ہدایت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 371
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 371
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/371/mode/1up
    کا پابند تھا جو ابتداء سے بنی آدم کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ لہٰذا اُس کی نبوت کے لئے قرآنی ثبوت کافی ہے گو انجیل کی رو
    سے کتنے ہی شکوک و شبہات اس کی نبوت کے بارے میں پیدا ہوں۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتّبَعَ الْھُدٰی
    راقم خاکسار
    غلام احمد
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 372
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 372
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/372/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 373
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 373
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/373/mode/1up
    ٹائیٹل طبع اوّل
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 374
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 374
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/374/mode/1up
    ناظرین کے لئے ضروری اطلاع
    ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور
    القرآن کا جاری ہوا ہے۔ جس نے بجائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سید و مولا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیّبین و سید المطہّرین پر
    سراسر افترا سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔ لہٰذا محض ایسے یا وہ لوگوں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔ ہم ناظرین پر ظاہر
    کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا ئے تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے
    کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفٰیصلی اللہ علیہ وسلم پر دل و جان سے ایمان لائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے
    صدہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا
    اور بجز اپنے نفس کے تمام اوّلین آخرین کو *** سمجھتا تھا یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سزا *** ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الٰہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں قرآن نے
    ہمیں اس گستاخ اور بدزبان یسوع کی خبر نہیں دی اس شخص کی چال چلن پر ہمیں نہایت حیرت ہے جس نے خدا پر مرنا جائز رکھا اور آپ خدائی کا دعویٰ کیا۔ اور ایسے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 375
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 375
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/375/mode/1up
    پاکوں کو جو ہزارہا درجہ اس سے بہتر تھے گالیاں دیں۔ سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے
    اور خدائے تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی
    گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔ بعض نادان مولوی جن کو اندھے اور نابینا کہنا چاہیے۔ عیسائیوں کو معذور رکھتے ہیں کہ وہ بے چارے کچھ بھی منہ سے نہیں بولتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
    کچھ بے ادبی نہیں کرتے۔ لیکن یاد رہے کہ درحقیقت پادری صاحبان تحقیر اور توہین اور گالیاں دینے میں اول نمبر پر ہیں۔ ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت
    کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آکر دیکھ لیوے اور یاد رہے کہ آئندہ جو پادری صاحب گالی دینے کے طریق کو چھوڑ کر ادب سے کلام کریں گے ہم بھی ان کے ساتھ ادب
    سے پیش آویں گے اب تو وہ اپنے یسوع پر آپ حملہ کررہے ہیں۔ کہ کسی طرح سبّ و شتم سے باز ہی نہیں آتے ہم سنتے سنتے تھک گئے اگر کوئی کسی کے باپ کو گالی دے تو کیا اس مظلوم کا حق
    نہیں ہے کہ اس کے باپ کو بھی گالی دے اور ہم نے تو جو کچھ کہا واقعی کہا۔ وانما الاعمال بالنیات۔
    خاکسار غلام احمد
    ۲۰ ؍ دسمبر ۱۸۹۵ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 376
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 376
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/376/mode/1up
    رسالہؔ
    فتح مسیح
    س
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰٰی
    اما بعد واضح ہو کہ چونکہ پادری فتح مسیح
    متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سید و مولیٰ
    محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے
    الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے۔ اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔ لہٰذا یہ رسالہ لکھا گیا امید کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے
    الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہرحال لحاظ ہے۔ اور
    صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے۔ کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
    نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے اور اب ہم اس کے خط کا جواب ذیل میں لکھتے ہیں۔ وَ ھُوَ ھٰذَا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 377
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 377
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/377/mode/1up
    مشفقی پادری صاحب! بعد ماوجب اس وقت مجھے بہت کم فرصت ہے۔ مگر میں نے جب آپ کا وہ خط دیکھا۔ جو آپ نے اخویم
    مولوی عبد الکریم صاحب کے نام بھیجا تھا۔ مناسب سمجھا کہ اپنے اس رسالہ کی جو زیر تالیف ہے خود ہی آپ کو بشارت دوں تاآپ کو زیادہ تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہ رہے۔ یاد رکھیں کہ رسالہ
    ایسا ہوگا کہ آپ بہت ہی خوش ہو جائیں گے۔ آپ کی ان مہربانیوں کی وجہ سے جو اب کی دفعہ آپ کے خط میں بہت ہی پائی جاتی ہیں۔ میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ اس رسالہ کی وجہ اشاعت
    صرف آپ ہی کی درخواست قرار دی جاوے کیونکہ جس مضمون کے لکھنے کیلئے اب ہم طیار ہیں اگر آپ کا یہ خط نہ آیا ہوتا جس میں جناب مقدس نبوی اور حضرت عائشہ صدیقہ اور سودہ کی نسبت
    آپ ؔ نے بدزبانی کی ہے۔ تو شائد وہ مضمون دیر کے بعد نکلتا یہ آپ کی بڑی مہربانی ہوئی کہ آپ ہی محرک ہوگئے۔ امید ہے کہ دوسرے پادری صاحبان آپ پر بہت ہی خوش ہوں گے اور کچھ تعجب
    نہیں کہ ہمارا رسالہ نکلنے کے بعد آپ کی کچھ ترقی بھی ہو جاوے۔ پادری صاحب ہمیں آپ کی حالت پر رونا آتا ہے کہ آپ زبان عربی سے تو بے نصیب تھے ہی۔ مگر وہ علوم جو دینیات سے کچھ تعلق
    رکھتے ہیں۔ جیسے طبعی اور طبابت ان سے بھی آپ بے بہرہ ہی ثابت ہوئے۔ آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرکے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اول تو نو برس کا
    ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے
    لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمّی تھے اور دو تین برس کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 378
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 378
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/378/mode/1up
    کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔ جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر ناخواندہ لوگ دو چار برس کے فرق
    کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں۔ کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نوبرس ہی تھے۔ لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا مگر احمق
    کا کوئی علاج نہیں ہم آپ کو اپنے رسالہ میں ثابت کر کے دکھا دیں گے کہ حال کے محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ نوبرس تک بھی لڑکیاں بالغ ہوسکتی ہیں۔ بلکہ سات برس تک بھی اولاد
    ہوسکتی ہے اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صدہا لوگوں کی یہ بات چشم دید ہے کہ اسی ملک میں آٹھآٹھ نو نو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولاد موجود ہے مگر آپ پر
    تو کچھ بھی افسوس نہیں اور نہ کرنا چاہئے کیونکہ آپ صرف متعصب ہی نہیں بلکہ اول درجہ کے احمق بھی ہیں۔ آپ کو اب تک اتنی بھی خبر نہیں کہ گورنمنٹ کے قانون عوام کی درخواست کے موافق
    ان کی رسم اور سوسائٹی کی عام وضع کی بِنا پر تیار ہوتے ہیں۔ ان میں فلاسفروں کی طرز پر تحقیقات نہیں ہوتی اور جو بار بار آپ گورنمنٹ انگریزی کا ذکر کرتے ہیں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم
    گورنمنٹ انگریزی کے شکر گذار ہیں اور اس کے خیرہ خواہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں رہیں گے مگر تاہم ہم اس کو خطا سے معصوم نہیں سمجھتے اور نہ اس کے قوانین کو حکیمانہ تحقیقاتوں پر مبنی
    سمجھتے ہیں بلکہ قوانین بنانے کا اصول رعایا کی کثرت رائے ہے۔ گورنمنٹ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تا وہ اپنے قوانین میں غلطی نہ کرے اگر ایسے ہی قوانین محفوظ ہوتے تو ہمیشہ نئے نئے
    قانون کیوں بنتے رہتے انگلستان میں لڑکیوں کے بلوغ کا زمانہ (۱۸) برس قرار دیا ہے اور گرم ملکوں میں تو لڑکیاں بہت جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔ آپ اگر گورنمنٹ کے قوانین کو کالوحی من السماء
    سمجھتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 379
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 379
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/379/mode/1up
    ان میں امکان غلطی نہیں۔ تو ہمیں بواپسی ڈاک اطلاع دیں تا انجیل اور قانون کا تھوڑا سا مقابلہ کر کے آپؔ کی کچھ خدمت کی
    جائے۔ غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی توریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج
    دیں پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو ان کا ذکر کرنا یا تو حمق کی وجہ سے ہے یا تعصب کے سبب سے مگر آپ معذور ہیں اگر گورنمنٹ کو اپنے قانون پر
    اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو۹ برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور نو ۹برس کی
    عمر کے متعلق آپ اعتراض کر کے پھر توریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے صرف گورنمنٹ کے قانون کا ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا توریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ ورنہ نو برس
    کی حرمت یا تو توریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہیئے تھی پادری صاحب یہی تو دجل ہے۔ کہ الہامی کتب کے مسائل میں آپ نے گورنمنٹ کے قانون کو پیش کر دیا۔ اگر آپ کے نزدیک
    گورنمنٹ کے قانون کی تمام باتیں خطا سے خالی ہیں اور الہامی کتابوں کی طرح بلکہ ان سے افضل ہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جن نبیوںؑ نے خلاف قانون انگریزی کئی لاکھ شیر خوار بچے
    قتلکئے اگر وہ اس وقت ہوتے تو گورنمنٹ ان سے کیا معاملہ کرتی اگر وہ لوگ گورنمنٹ کے سامنے چالان ہوکر آتے جنہوں نے بیگانے کھیتوں کے خوشے توڑ کر کھا لئے تھے تو گورنمنٹ اُن کو اور
    ان کے اجازت دینے والے کو کیا کیا سزا دیتی پھر میں پوچھتا ہوں کہ وہ شخص جو انجیر کا پھل کھانے دوڑا تھا اور انجیل سے ثابت ہے کہ وہ انجیر کا درخت اس کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 380
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 380
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/380/mode/1up
    ملکیت نہ تھا بلکہ غیر کی ملک تھا۔ اگر وہ شخص گورنمنٹ کے سامنے یہ حرکت کرتا تو گورنمنٹ اس کو کیا سزا دیتی۔ انجیل
    سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے سؤر جو بیگانہ مال تھے اور جن کی تعداد بقول پادری کلارک دو ہزار تھے مسیح نے تلف کئے اب آپ ہی بتلائیں کہ تعزیرات کی رو سے اس کی سزا کیا ہے۔ بالفعل
    اسی قدر لکھنا کافی ہے جواب ضرور لکھیں تا اور بہت سے سوال کئے جائیں۔
    پادری صاحب! آپ کا یہ خیال کہ نو۹ برس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے سراسر غلط ہے آپ کی
    ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے۔ انجیل نے آپ کو دھکے دئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں پر آ پڑے۔ یاد رکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں۔ جناب
    مقدس نبویؐ کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا یہ افترا شیطانوں کا کام ہے ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات اور خبیث لوگوں
    نے سخت افترا کئے ہیں۔ چنانچہ ان پلیدوں نے لعنۃ اللّٰہ علیھم پہلے نبیؐ کو تو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور دوسرے کو ولدالزنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے۔ آپ کو چاہیئے کہ ایسے
    اعتراضوںؔ سے پرہیز کریں۔
    اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہوگئے تھے۔ سراسر غلط اور خلاف
    واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کس شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ
    احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 381
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 381
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/381/mode/1up
    میری حالت قابل رغبت نہیں رہی ایسا نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بباعث طبعی کراہت کے جو نشاء بشریت کو لازم
    ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو۔ کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات
    میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میر احشر ہو۔ چنانچہ نیل الاوطار کے ص۱۴۰ میں یہ
    حدیث ہے: قَالَ ا لسَّوْدَۃ بِنْت زَمعۃ حین اسنّت و خافت اَن یفارقھا رسول اللّٰہ قالت یا رسول اللّٰہ وھبت یومی لعائشۃ فقبل ذلک منہا۔۔۔ و رواہ ایضًا سعد و سعید ابن منصور والترمذی و عبد الرزاق قال الحافظ
    فی الفتح فتواردت ھذہ الروایات علٰی انھا خشیت الطلاق۔ یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شائد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جاؤں
    گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی۔ آپ نے یہ اس کی درخواست قبول فرما لی۔ ابن سعد اور سعید ابن منصور اور ترمذی اور عبد الرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے
    اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہواتھا۔ اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں
    ہوا بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کرکے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کے توارد اور تظاہر کو نظر انداز کر کے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرتؐ نے
    طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پاکر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 382
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 382
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/382/mode/1up
    بھی کوئی برائی نہیں۔ اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت
    موقوف ہیں۔ اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرد اس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہوسکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے
    کوئی کاروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں۔
    پادریؔ صاحب آپ کا یہ سوال کہ اگر آج ایسا شخص جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتا
    تو گورنمنٹ اس سے کیا کرتی۔ آپ کو واضح ہو۔ کہ اگر وہ سیّد الکونین اس گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوتے۔ تو یہ سعادت مند گورنمنٹ ان کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتی جیسا کہ قیصر روم صرف
    تصویر دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا آپ کی یہ نالیاقتی اور ناسعادتی ہے کہ اس گورنمنٹ پر ایسی بدظنی رکھتے ہیں کہ گویا وہ خدا کے مقدسوں کی دشمن ہے یہ گورنمنٹ اس زمانہ میں ادنیٰ ادنیٰ امیر
    مسلمانوں کی عزت کرتی ہے۔ دیکھو نصر اللہ خاں جو اس جناب کے غلاموں جیسا بھی درجہ نہیں رکھتا ہماری قصیرۂ ہند دام اقبالہانے کیسی اس کی عزت کی ہے پھر وہ عالی جناب مقدس ذاتؐ جو
    اس دنیا میں بھی وہ مرتبہ رکھتا تھا کہ بادشاہ اس کے قدموں پر گرتے تھے اگر وہ اس وقت میں ہوتا تو بے شک یہ گورنمنٹ اس کی جناب سے خادمانہ اور متواضعانہ طور پر پیش آتی۔ الٰہی گورنمنٹ
    کے آگے انسانی گورنمنٹوں کو بجز عجز و نیاز کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ قیصر روم جو آنجنابؐ کے وقت میں عیسائی بادشاہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 383
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 383
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/383/mode/1up
    اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھا وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہوسکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی
    کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا سو جو قیصر روم نے کہا۔ یقیناً یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی اگر حضرت مسیح کی نسبت اس وقت کے
    کسی چھوٹے سے جاگیردار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو جو قیصر روم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا۔ جو آج تک نہایت صحیح تاریخ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہوا موجود ہے تو ہم آپ
    کو ابھی ہزار روپیہ نقد بطور انعام کے دیں گے اگر آپ ثابت کر سکیں۔ اور اگر آپ یہ ثبوت نہ دے سکیں تو اس ذلیل زندگی سے آپ کے لئے مرنا بہتر ہے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا کہ قیصر روم اس
    گورنمنٹ عالیہ کا ہم مرتبہ تھا بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی طاقت کے برابر اور کوئی طاقت دنیا میں موجود نہ تھی ہماری گورنمنٹ تو اس درجہ تک نہیں پہنچی پھر جبکہ
    قیصر باوجود اس شہنشاہی کے آہ کھینچ کر یہ بات کہتا ہے کہ اگر میں اس عالی جناب کی خدمت میں پہنچ سکتا تو آنجنابؐ مقدس کے پاؤں دھویا کرتا۔ تو کیا یہ گورنمنٹ اس سے کم حصہ لیتی۔ میں
    دعوے سے کہتا ہوں کہ ضرور یہ گورنمنٹ بھی ایسے شہنشاہ کے پاؤں میں گرنا اپنا فخر سمجھتی کیونکہ یہ گورنمنٹ اس آسمانی بادشاہ سے منکر نہیں جس کی طاقتوں کے آگے انسان اک مرے ہوئے
    کیڑے کے برابر نہیں اور ہم نے اک معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ ہماری قیصرۂ ہند ادام اللّٰہ اِقبالہا درحقیقت اسلام سے محبت ؔ رکھتی ہے اور اس کے دل میں
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
    بہت تعظیم ہے چنانچہ ایک ذی علم مسلمان سے وہ اردو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 384
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 384
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/384/mode/1up
    بھی پڑھتی ہے۔ ان کی ایسی تعریفوں کو سن کر میں نے اسلام کی طرف ایک خاص دعوت سے حضرت ملکہ معظمہ کو مخاطب
    کیا تھا۔ پس یہ نہایت غلطی ہے کہ آپ لوگ اس مراتب شناس گورنمنٹ کو بھی ایک سفلہ اور کمینہ پادری کی طرح خیال کرتے ہیں۔ جن کو خدا ملک اور دولت دیتا ہے۔ ان کو زیر کی اور عقل بھی دیتا
    ہے۔ ہاں اگر یہ سوال پیش ہو کہ اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ
    مہربان گورنمنٹ اس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی۔ تا اس کے دماغ کی اصلاح ہو۔ یا اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی۔ جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت لوگ جمع ہیں۔
    جب ہم حضرت مسیحاور
    جناب خا تم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر ان کے ربّانی رعب یا الٰہی تائید نے اثر دکھایا تو ہمیں اقرار
    کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلمکی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔ جناب مقدس نبوی کے جب پادشاہوں کے نام فرمان
    جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا میں تو عیسائیوں کے پنجہ میں مبتلا ہوں۔ کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجائش ہوتی تو میں اپنا فخر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 385
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 385
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/385/mode/1up
    سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل پادشاہ
    کسرٰی ایران کے فرمان روا نے غصہ میں آکر آپ کے پکڑنے کے لئے سپاہی بھیج دیئے وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے آپ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کرکے
    فرمایا تم اسلام قبول کرو۔ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربّانی رعب سے وہ دونوں بیدکی طرح کانپ رہے تھے آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم
    یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے کہ ہم جواب ہی لے جائیں حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔ صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو
    آنجناب ؐنے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو۔ وہ خداوند نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا میرے سچے خداوند نے اسی
    کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا سوؔ وہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہوگیا اور یہی جواب ہے۔ یہ بڑا معجزہ تھا۔ اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزارہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اسی رات درحقیقت
    خسرو پرویز یعنی کسریٰ مارا گیا تھا اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت
    ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 386
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 386
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/386/mode/1up
    چنانچہ ڈیون پورٹ صاحب بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھتا ہے لیکن اس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی
    جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں۔ وہ اوراق شائد اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرو دیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پلاطوس کی طرف چالان کیا اور وہ ایک مدت
    تک شاہی حوالات میں رہے۔ کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی اور کسی پادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا فخر ہوگا۔ اگر میں اُس کی خدمت میں رہوں اور اس کے پاؤں دھویا کروں بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے
    حوالہ کر دیا۔ کیا یہی خدائی تھی عجیب مقابلہ ہے دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجہ میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں۔ ایک شخص کے گرفتار کرنے کو
    ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برانگیختہ ہونا اور خود آخر *** الٰہی میں گرفتار ہوکر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلت کے ساتھ قتل کیا جانا اور ایک دوسرا انسان جسے قطع نظر اپنے
    اصلی دعووں کے غلو کرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رکھا ہے۔ سچ مچ گرفتار ہو جانا۔ چالان کیا جانا اور عجیب ہیئت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا
    جانا۔۔۔۔۔۔ افسوس یہ عقل کی ترقی کا زمانہ اور ایسے بے ہودہ عقائد۔ شرم! شرم! شرم
    اگر یہ کہو کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میں جناب مقدس نبوی صلی اللّٰہ
    علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں ایک ادنیٰ خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔ اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعد کتٰب اللّٰہ صحیح بخاری کی عبارت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 387
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 387
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/387/mode/1up
    لکھتا ہوں ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے و قد کنت اعلم انہ خارج و لم اکن اظن انہ منکم فلو انی اعلم انی اخلص الیہ
    لتجشمت لقاء ہ و لو کنت عندہ لغسلت عن قدمیہ دیکھو ص ۴ یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی
    آخرالزمان آنے والا ہے مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہی (اے اہل عرب) پیدا
    ہوگا پس اگر میںؔ اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا اب اگر کچھ غیرت اور
    شرم ہے تو مسیح کے لئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل سے ہی بلکہ پیش کرو اگرچہ کوئی
    نجاست میں پڑا ہوا ورق ہی پیش کردو اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹاسا نواب ہی پیش کردو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کرسکو گے پس یہ عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم
    نہیں کہ آپ ہی بات کو اٹھا کر پھر آپ ہی ملزم ہوگئے۔ شاباش! شاباش! شاباش! خوب پادری ہو۔
    مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی۔ نہ زاہد نہ عابد۔ نہ حق کا پرستار۔
    متکبر۔ خودبین۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ مگر اس سے پہلے اور بھی کئی خدائی کا دعوے کرنے والے گذر چکے ہیں ایک مصر میں ہی موجود تھا۔ دعووں کو الگ کرکے کوئی اخلاقی حالت جو فی
    الحقیقت ثابت ہو ذرا پیش تو کرو تاحقیقت معلوم ہو۔ کسی کی محض باتیں ان کے اخلاق میں داخل نہیں ہوسکتیں۔ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مرتد جو خود خونی اور اپنے کام سے سزا کے لائق ٹھہر
    چکے تھے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 388
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 388
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/388/mode/1up
    بے رحمی سے قتل کئے گئے مگر آپ کو یاد نہ رہا کہ اسرائیلی نبیوں نے تو شیر خوار بچے بھی قتل کئے ایک دو نہیں بلکہ
    لاکھوں تک نوبت پہنچی کیا ان کی نبوت سے منکر ہو یا وہ خدا تعالیٰ کا حکم نہیں تھا یا موسیٰ ؑ کے وقت خدا اور تھا اور جناب محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کوئی اور خدا تھا۔
    اے
    ظالم پادری کچھ شرم کر آخر مرنا ہے۔ مسیح بے چارہ تمہاری جگہ جواب دہ نہیں ہو سکتا اپنے کاموں سے تم ہی پکڑے جاؤ گے اس سے کوئی پُرسش نہ ہوگی۔ اے نادان تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا
    دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر کیوں تجھے نظر نہیں آتا تیری آنکھیں کیا ہوئیں جو تو اپنی آنکھوں کو دیکھ نہیں سکتا۔
    زینبؓ کے نکاح کا قصہ جو آپ نے زنا کے الزام سے ناحق پیش کر دیا بجز
    اس کے کیا کہیں کہ ع
    بد گہر از خطا خطا نہ کند
    اے نالائق متبنّٰی کی مطلّقہ سے نکاح کرنا زنا نہیں۔ صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن
    سکتی ہے مثلاً اگر کوئی عیسائی ؔ غصّہ میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ بلکہ وہ بدستور اُسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا پس
    جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے نہیں ہوسکتی اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہہ دیتا کہ ماں کہنے سے
    طلاق پڑ جاتی ہے مگر شاید کہ مسیح کو وہ عقل نہ تھی جو فتح مسیح کو ہے۔ اب تم پر فرض ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 389
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 389
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/389/mode/1up
    کہ اس بات کا ثبوت انجیل میں سے دو کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے یا یہ کہ اپنے مسیح کی تعلیم کو
    ناقص مان لو یا یہ ثبوت دو کہ بائبل کی رو سے متبنّٰی فی الحقیقت بیٹا ہو جاتا اور بیٹے کی طرح وارث ہو جاتا ہے اور اگر کچھ ثبوت نہ دے سکو۔ تو بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ
    مسیح بھی تم پر *** کرتا ہے۔ کیونکہ مسیح نے انجیل میں کسی جگہ نہیں کہا کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ تینوں امر ہم شکل ہیں۔ اگر صرف منہ
    کے کہنے سے ماں نہیں بن سکتی تو پھر بیٹا بھی نہیں بن سکتا اور نہ باپ بن سکتاہے اب اگر کچھ حیا ہو تو مسیح کی گواہی قبول کر لو یا اس کا کچھ جواب دو اور یاد رکھو کہ ہرگز نہیں دے سکو گے
    اگرچہ فکر کرتے کرتے مر ہی جاؤ کیونکہ تم کاذب ہو اور مسیح تم سے بیزار ہے۔
    اور آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق کھودنے کے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں اول آپ لوگوں کی علمیت تو
    یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اے نادان قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ ترک نماز کا نام قضا ہرگز نہیں ہوتا۔ اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے اسی لئے ہم نے پانچ ہزار
    روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بے وقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی تک قضا کے معنی بھی معلوم نہیں جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا وہ نادان کب یہ
    لیاقت رکھتا ہے کہ امور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 390
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 390
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/390/mode/1up
    دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔ باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ
    ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کر نے اور
    قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلٰوۃ
    العصرمعمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔ اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہؔ چار نمازیں فوت ہوگئی تھیں۔ چار نمازیں تو خود
    شرع کی رو سے جمع ہوسکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر۔ اور مغرب اور عشاء۔ ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کرکے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح
    حدیثیں اس کو رد کرتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔ آپ عربی علم سے محض بے نصیب اور سخت جاہل ہیں ذرا قادیان کی طرف آؤ اور ہمیں ملو تو پھر آپ
    کے آگے کتابیں رکھی جائیں گی تا جھوٹے مفتری کو کچھ سزا تو ہو ندامت کی سزا ہی سہی اگرچہ ایسے لوگ شرمندہ بھی نہیں ہوا کرتے۔
    مال مسروقہ کو آپ کے مسیح کے روبرو بزرگ حواریوں
    کا کھانا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 391
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 391
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/391/mode/1up
    یعنی بیگانے کھیتوں کی بالیاں توڑنا کیا یہ درست تھا۔ اگر کسی جنگ میں کفار کے بلوے اور خطرناک حالت کے وقت نماز عصر
    تنگ وقت پر پڑھی گئی تو اس میں صرف یہ بات تھی کہ دو عبادتوں کے جمع ہونے کے وقت اس عبادت کو مقدم سمجھا گیا جس میں کفار کے خطرناک حملہ کی روک اور اپنے حقوق نفس اور قوم اور ملک
    کی جائز اور بجا محافظت تھی اور یہ تمام کاروائی اس شخص کی تھی جو شریعت لایا اور یہ بالکل قراٰن کریمکے منشاء کے مطابق تھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ 33۱؂ ۔یعنی نبی کی ہریک بات خدا تعالیٰ
    کے حکم سے ہوتی ہے نبی کا زمانہ نزول شریعت کا زمانہ ہوتا ہے اور شریعت وہی ٹھہر جاتی ہے جو نبی عمل کرتا ہے ورنہ جو جو کارروائیاں مسیح نے توریت کے برخلاف کی ہیں یہاں تک کہ سبت
    کی بھی پرواہ نہ رکھی اور کھانے پر ہاتھ نہ دھوئے وہ سب مسیح کو مجرم ٹھہراتے ہیں ذرا توریت سے ان سب کا ثبوت تو دو مسیح پطرس کو شیطان کہہ چکا تھا پھر اپنی بات کیوں بھول گیا۔ اور
    شیطان کو حواریوں میں کیوں داخل رکھا۔
    اور پھر آپ کا اعتراض ہے کہ بہت سی عورتوں اور لونڈیوں کو رکھنا یہ فسق و فجور ہے اے نادان حضرت داؤد نبی ؑ کی بیبیاں تجھ کو یاد نہیں جس کی
    تعریف کتاب مقدس میں ہے کیا وہ اخیر عمر تک حرام کاری کرتا رہا کیا اسی حرام کار کی یہ پاک ذریت ہے جس پر تمہیں بھروسہ ہے جس خدا نے اوریا کی بیوی کے بارے میں داؤد پر عتاب کیا۔ کیا وہ
    داؤد ؑ کے اس جرم سے غافل رہا جوؔ مرتے دم تک اس سے سرزد
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 392
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 392
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/392/mode/1up
    ہوتا رہا بلکہ خدا نے اس کی چھاتی گرم کرنے کو ایک اور لڑکی بھی اسے دی اور آپ کے خدا کی شہادت موجود ہے کہ داؤد
    اور یا کے قصہ کے سوا اپنے تمام کاموں میں راستباز ہے کیا کوئی عقلمند قبول کرسکتا ہے کہ اگر کثرت ازدواج خدا کی نظر میں بُری تھی تو خدا اسرائیلی نبیوں کو جو کثرت ازدواج میں سب سے بڑھ
    کر نمونہ ہیں ایک مرتبہ بھی اس فعل پر سرزنش نہ کرتا پس یہ سخت بے ایمانی ہے کہ جو بات خدا کے پہلے نبیوں میں موجود ہے اور خدا نے اسے قابل اعتراض نہیں ٹھہرایا اب شرارت اور خباثت
    سے جناب مقدس نبوی کی نسبت قابل اعتراض ٹھہرائی جاوے۔ افسوس یہ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک سے اوپر بیوی کرنا زنا کاری ہے تو حضرت مسیح جو داؤد کی
    اولاد کہلاتے ہیں ان کی پاک ولادت کی نسبت سخت شبہ پیدا ہوگا اور کون ثابت کرسکے گا کہ ان کی بڑی نانی حضرت داؤد کی پہلی ہی بیوی تھی۔
    پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نام لے کر
    اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبویؐ کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اب اس ناپاک تعصب پر کہاں تک روویں۔ اے نادان جو حلال اور جائز نکاح ہیں۔ ان میں یہ سب باتیں جائز
    ہوتی ہیں یہ اعتراض کیسا ہے کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔
    ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 393
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 393
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/393/mode/1up
    حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے
    دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخرنا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔
    اے نادان! فطرت انسانی اور اس کے سچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم
    جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلٰوۃ والسَّلام نے بھی اسے برتا اور اپنی جماعت کو ایک نمونہ دیا مسیح نے اپنےؔ نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے
    ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا
    ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آکر آہ و فغان کرنا اور برسوں دیوثیوں اور
    سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودۂ طلاق پاس کرانا یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔ کیا اس قدوس مطہر۔ مزکّی نبی اُمّیؐ کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے
    آپ معترض ہیں یہ نتیجہ ہے۔ اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفّن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے اب دو زانو
    ہوکر بیٹھو اور یوم الجزا کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 394
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 394
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/394/mode/1up
    ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا ہم تو سوچ کر تھک گئے اب
    تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں آپ یاد رکھیں کہ ہم بقول آپ کے مرد میدان بن کر ہی رسالہ لکھیں گے اور آپ کو دکھائیں گے کہ
    وساوس کی بیخ کنی اسے کہتے ہیں اس جاہل گمراہ کا شکست دینا کون سے بڑی بات ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے مگر آپ از راہ مہربانی ان چند باتوں کا جو میں نے دریافت کی ہیں۔ ضرور جواب
    لکھیں۔ اور ان الفاظ سے ناراض نہ ہوں جو لکھے گئے ہیں کیونکہ الفاظ محل پر چسپاں ہیں۔ اور آپ کی شان کے شایان ہیں۔ جس حالت میں آپ نے باوجود بے علمی اور جہالت کے آنحضرت صلی اللہ
    علیہ وسلم پر جو سیّد المطھرین ہیں زنا کی تہمت لگائی۔ تو اس پلید جھوٹ اور افترا کا یہی جواب تھا۔ جو آپ کو دیا گیا۔ ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ بھلے مانس بن جاویں۔ اور گالیاں نہ دیا کریں۔ مگر
    آپ لوگ نہیں مانتے۔ آپ ناحق اہل اسلام کا دل دکھاتے ہیں آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زنا کار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ اگر آپ لوگ
    مسیح کے خیر خواہ ہوتے تو ہم سے جناب مقدس نبوی کے ذکر میں بہ ادب پیش آتے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ تم اپنے باپ کو گالی مت دو لوگوں نے عرض کی کوئی باپ کو بھی گالی دیتا ہے آپ
    نے فرمایا ہاں جب تو کسی کے باپ کو گالی دے گا تو وہ ضرور تیرے باپ کو بھی گالی دے گا تب وہ گالی اسؔ نے نہیں دی بلکہ تو نے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 395
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 395
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/395/mode/1up
    دی ہے اسی طرح آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے بودے جھوٹے خدا کی بھی اچھی طرح بھگت سنواری جائے۔ اب ہم یہ خط بطور
    نوٹس کے آپ کو بھیجتے ہیں کہ اگر پھر ایسے ناپاک لفظ آپ نے استعمال کئے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں ناپاک تہمت لگائی تو ہم بھی آپ کے فرضی اور جعلی خدا کی وہ خبر لیں
    گے جس سے اس کی تمام خدائی ذلت کی نجاست میں گرے گی۔
    اے نالائق کیا تو اپنے خط میں سرور انبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زنا کی تہمت لگاتا ہے اور فاسق فا جر قرار دیتا ہے اور ہمارا دل
    دکھاتا ہے۔ ہم کسی عدالت کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ کریں گے مگر آئندہ کے لئے سمجھاتے ہیں کہ ایسی ناپاک باتوں سے باز آجاؤ اور خدا سے ڈرو جس کی طرف پھرنا ہے اور حضرت مسیح
    کو بھی گالیاں مت دو۔ یقیناً جو کچھ تم جناب مقدس نبوی کی نسبت بُرا کہو گے۔ وہی تمہارے فرضی مسیح کو کہا جائے گا مگر ہم اس سچے مسیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس
    نے نہ خدائی کا دعویٰ کیا نہ بیٹا ہونے کا اور جناب محمد مصطفٰیاحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اور ان پر ایمان لایا۔فقط
    مولوی صاحبان امرتسر کی اسلامی ہمدردی
    حضرات مولوی صاحبان امرتسر جو چھ سات آدمی سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 396
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 396
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/396/mode/1up
    زیادہ نہیں یعنی مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری اور مولوی غلام رسول صاحب
    امرتسری اور مولوی احمد اللہ صاحب وغیرہ وغیرہ صاحبان نے اس درخواست پر دستخط کرنے سے اعتراض کیا جو گورنمنٹ میں بمراد توسیع دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند اور نیز دو شرطوں کے پاس
    کرانے کی غرض سے بھیجی جائے گی اور مخالفت بیجا کرکے ثابت کر دیا کہ وہ کیسے اسلام کے پکے دشمن اور اسلامی مصالح کے سخت مخالف ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ عام مسلمانوں کو ان کی اس
    حرکت بے جا سے بہت ہی رنج ہوا اور اکثر لوگوں نے بہت لعن طعن بھی کی کہ یہ کیسے مولوی اور کیسے مسلمان ہیں جنہوں نے محض اپنی ایک اندرونی نزاع کی وجہ سے اس سیدھی اور صاف
    اور نہایت مناسب تحریر سے گریز کی جس میں سراسر اسلام کی بھلائی اور جس سے آئندہ کو اس سبّ و شتم اور بے جا بہتان اور گندی گالیوں کا جو یا وہ گو آریہ اور پادری ہمارے پیغمبر خاتم الرسل
    صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیتے ہیں دروازہ بند ہو جاتا تھا لیکن مولوی صاحبوں کےؔ اشتہار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پادری صاحبوں اور آریہ صاحبوں کو گالیاں دینے اور توہین مذہب کرنے میں بالکل بے
    قصور ٹھہراتے ہیں اور یہ تمام الزام اس عاجز پر رکھتے ہیں کہ اول اس عاجز نے ان کے بزرگوں کو گالیاں دیں اور پھر ناچار ان نیک بختوں کو بھی کچھ کہنا پڑا۔سو یہ افترا اگر کچھ پوشیدہ اور قابل
    غور ہوتا تو ہم اس کا نہایت بسط اور تفصیل سے جواب دیتے مگر ایسے سفید جھوٹ کا کیا جواب دیں جس میں ایک ذرہ بھی سچائی کی آمیزش نہیں۔ ہم نہایت حیرت میں ہیں کہ اس قدر دروغگوئی کا نام
    کیا رکھیں آیا
    بے ایمانی رکھیں یا بدذاتی کے نام سے موسوم کریں یا متعصبانہ جنون قرار دیں کیا کہیں!!!
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 397
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 397
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/397/mode/1up
    اس بات کو کون نہیں جانتا۔ کہ ہندوستان اور پنجاب میں کم سے کم ۴۵ برس سے یہ بے اعتدالیاں شروع ہیں۔ ہمارے سید و مولیٰ
    حضرت خاتم الانبیاء سیّد المطہرین افضل الاولین و الآخرین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دی گئی ہیں اور اس قدر قرآن کریم کو بے جا ٹھٹھے اور ہنسی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ
    دنیا میں کسی ذلیل سے ذلیل انسان کے لئے بھی کسی شخص نے یہ لفظ استعمال نہیں کئے یہ کتابیں کچھ ایک دو نہیں بلکہ ہزارہا تک نوبت پہنچ گئی ہے اور جو شخص ان کتابوں کے مضمون پر علم رکھ
    کر اللہ جلّ شانہٗ اور اس کے رسول پاک کے لئے کچھ بھی غیرت نہیں رکھتا وہ ایک *** آدمی ہے نہ مولوی۔ اور ایک پلید حیوان ہے نہ انسان۔
    اور یاد رہے کہ ان میں بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو
    میرے بلوغ کے ایام سے بھی پہلے کی ہیں اور کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ ان کتابوں کی تالیف کا یہ موجب تھا کہ میں یا کسی اور مسلمان نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی تھیں جس سے
    مشتعل ہوکر پادری فنڈل اور صفدر علی اور پادری ٹھاکر داس اور عماد الدین اور پادری ولیمس ریواری نے وہ کتابیں تالیف کیں کہ اگر ان کی گالیاں اور بے ادبیاں جمع کی جائیں تو اس سے سو جز کی
    کتاب بن سکتی ہیں اور ایسا ہی کوئی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ جس قدر گالیاں اور بے ادبیاں پنڈت دیانند نے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں ہمارے سید و مولیٰ نبی صلے اللہ علیہ وسلم کو دیں اور
    دینِ اسلام کی توہین کی یہ کسی ایسے اشتعال کی و جہ سے تھیں جو ہماری طرف سے ہوا تھا ایسا ہی آریوں میں سے لیکھرام وغیرہ جو اب تک گندی کتابیں چھاپ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 398
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 398
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/398/mode/1up
    رہے ہیں۔ اصل موجب اس کا ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم نے وید کے رشیوں کو گالیاں دی تھیں بلکہ اگر ہم نے کچھ وید کی نسبت
    براہین میں لکھا تو نہایت تہذیب سے لکھا اور اس وقت لکھا گیا کہ جب دیانند اپنے ستیارتھ پرکاش میں اور کنہیا لعل الکھ دھاری لدھیانوی اپنی کتابوں میں اور اندر من مراد آبادی اپنی پلید تالیفوں میں
    ہزارہا گالیاں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دے چکے تھے اور ان کی کتابیں شائع ہو چکی تھیں اور ؔ بعض بدبخت اور آنکھوں کے اندھے مسلمان آریہ بن چکے تھے اور اسلام سے نہایت درجہ ٹھٹھا
    کیا گیا تھا اور پھر بھی ہم نے براہین میں تہذیب کو ہاتھ سے نہ دیا گو ہمارا دل دکھایا گیا اور بہت ہی دکھایا گیا مگر ہم نے اپنی کتاب میں ہرگز ناراستی اور سختی کو اختیار نہ کیا اور جو واقعات دراصل
    صحیح اور محل پر چسپاں تھے وہی بیان کئے ہم بمقابل آریوں کی گالیوں کے ویدوں کے رشیوں کو کیونکر گالیاں دیتے۔ ہمیں تو اب تک بھی یہ پتہ نہیں لگا کہ ویدوں کے رشی کچھ وجود بھی رکھتے تھے
    یا نہیں اور کہاں تھے اور کس شہر میں رہتے تھے اور ان کی زندگی کی سوانح کیا تھی اور ان کی لائف کا سلسلہ کس طور کا تھا۔ پھر ہم کیونکر ان کی نکتہ چینی کرسکتے ہمیں اب تک ان کے وجود میں
    ہی شک ہے اور ہمارا یہی مذہب کہ اگنو اور وایو اور ادت وغیرہ جو وید کے رشی سمجھے جاتے ہیں یہ صرف فرضی اور خیالی نام ہیں اور ہم بالکل اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہ لوگ کون تھے اگر ان
    کا کچھ بھی وجود خارج میں ہوتا تو البتہ ان کی سوانح لکھی جاتی اور وید کے مؤلف وہی معلوم ہوتے ہیں جن کے نام سکتوں کے سر پر موجود ہیں پھر ہم ایسے مستور الحال اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 399
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 399
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/399/mode/1up
    مفقود الخبررشیوں کو گالیاں کیونکر دے سکتے تھے اور اسلام کا طریق گالی دینا نہیں ہے مگر ہمارے مخالفوں نے ناحق بے و
    جہ اس قدر گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں لکھی ہیں کہ اگر ان کا ایک جگہ ڈھیر لگایا جائے تو ان کی بلندی ہزار فٹ سے کچھ کم نہ ہو اور ابھی تک بس کب ہے ہر یک مہینہ میں ہزاروں رسالے اور کتابیں
    اور اخبار توہین اور سب و شتم سے بھرے ہوئے نکلتے ہیں۔ پس ہمیں ان مولویوں کی حالت پر افسوس تو یہی ہے کہ ایسے مولوی جو کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے کچھ مضایقہ نہیں اگر ان
    کی ماں کو کوئی ایسی گالی دی جاتی جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی ہے یا اگر ان کے باپ پر وہ بہتان لگایا جاتا۔ جو سیّدالرسل محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا جاتا
    ہے تو کیا یہ ایسے ہی چپ بیٹھے رہتے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ فی الفور عدالت تک پہنچتے اور جہاں تک طاقت ہوتی کہ کوشش کرتے کہ تا ایسا دشنام دہ اپنی سزا کو پہنچے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ
    وسلم کی عزت ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں۔ غضب کی بات ہے کہ مخالفین کی طرف سے تو چھ کروڑ کتاب اب تک اسلام کے رد اور توہین میں تالیف ہو چکیں اور سب و شتم کا کچھ انتہا نہ رہا اور یہ
    لوگ کہتے ہیں کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ ہونے دو جو کچھ ہوتا ہے۔ عنقریب ہے جو ان گالیوں سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر ان مولویوں کو کچھ پرواہ نہیں۔ حیف ہے ایسے اسلام اور مسلمانی پر کہ
    کہتے ہیں کہ کچھ بھی حرج نہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 400
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 400
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/400/mode/1up
    ہزارہا آدمی ان جھوٹے بہتانوں کو سن کر مرتد ہوگئے مگر ان کے خیال میں ہنوز کسی احسن انتظام کی ضرورت نہیں۔ یا الٰہی
    یہ لوگ کیوں اندھے ہو گئے۔ مجھےؔ کچھ سبب معلوم نہیں ہوتا کیوں بہرے ہوگئے۔ مجھے کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ اے قادر خدا اے حامی دین مصطفٰی تو ان کے دلوں کے جذام کو دور کر۔ ان کی آنکھوں
    کو بینائی بخش کہ تو جو چاہتا ہے کرتا ہے تیرے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔ ہم تیری رحمتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں تو کریم اور قادر ہے۔
    پیارے ناظرین ایک اور اعجوبہ بھی سنو کہ یہ لوگ اپنے
    اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس قسم کا قانون پاس کرنا کہ کوئی شخص کسی مذہب پر ایسا اعتراض نہ کرے جو خود اس پر وارد ہوتا ہو یہ صرف ہمارے ماخوذ کرانے کے لئے ہے۔ او ظالم مولویو! تم
    مطمئن رہو کہ ہم تمہارے جھوٹ اوربہتان کی و جہ سے تم پر ہرگز نالش نہیں کریں گے یہاں تک کہ اس دنیا سے گذر جائیں گے لیکن برائے خدا اپنی خیانتوں سے اسلام پر ظلم مت کرو۔ یہ بات بالکل
    سچ ہے کہ اسلام پر جس قدر عیسائی مذہب اور دوسروں کی طرف سے اعتراض ہو رہے ہیں وہ اعتراض ان کی کتابوں پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر قانون کا رعب درمیان ہوگا تو ایسے
    اعتراض آئندہ نابود ہو جائیں گے اور جو پہلے کرچکے ان کی قلعی کھل جائے گی اور اس طریق سے اسلام کا چہرہ روشن سب کو نظر آجائے گا اور تمام دھوکا دینے والوں کی کار ستانیاں مٹ جائیں
    گی سو تم سچ کو مت چھپاؤ بے ایمانی مت اختیار کرو، اس سے ڈرو جس کا غضب ایک کھا جانے والی آگ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 401
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 401
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/401/mode/1up
    اور میں نے آپ لوگوں کا یہ قول بھی سنا ہے کہ ہم کیا دستخط کریں عبد اللہ آتھم کے معاملہ میں ہم بہت ہی نادم ہیں اس کا ہم
    بجز اس کے کیا جواب دیں کہ درحقیقت آپ لوگ آتھم کی پیشگوئی کے بارہ میں بہت ہی شرمندہ ہیں آپ کا کچھ باقی نہیں رہا۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ بالکل سچ ہے کہ آپ کی اس پیشگوئی سے ناک کٹ گئی
    اور بہت ہی شرمندگی آپ کو پہنچی مگر ہمیں اب تک معلوم نہیں کہ اس شرمندگی اور ناک کٹنے کی آپ کے نزدیک وجہ کیا ہے۔ ہاں پیشگوئی کے واقعات اور آپ لوگوں کی ہٹ دھرمی پر نظر ڈال کر
    معلوم ہوتا ہے کہ یہ شرمندگی ضرور دو و جہ سے ہے اور کوئی تیسری و جہ نہیں۔
    (۱) اول تو یہ کہ آپ صاحبوں کے دل پر یہ سخت تازیانہ لگا کہ آتھم نے اپنے افعال اور اقوال اور خود اپنے
    اقرار سے پیشگوئی کا سچا ہونا ثابت کر دیا اور قسم کھانے سے پہلوتہی کرکے پیشگوئی کی اس شرط کی طرف لوگوں کے دلوں کو توجہ دلائی جس میں صریح صریح لکھا گیا تھا کہ اگر حق کی طرف
    رجوع کرے گا تو یہ عذاب اس پر نازل نہیں ہوگا پس اگر اس بات کو سوچنے سے شرمندگی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف مراد عیسائیوں پر ایسی حجت پوری ہوئی کہ وہ منہ نہیں دکھا سکتے۔ تو
    بے شک آپ کی حالت قابل رحم ہے بلکہ ہمیں تو تعجب ہے کہ آپ لوگ اس صدمہ سے فوت کیوں نہ ہوگئے کیونکہ یہ صدمہ بھی کچھ تھوڑا صدمہ نہیں کہ آتھم باوجود آپ لوگوں کی تحریک کے قسم کھا
    کر اپنی صفائی نہ کر سکا اورؔ اب تک میت کی طرح بیٹھا ہے بے شک یہ شرمندگی کی جگہ تھی آپ لوگ معذور ہیں اور پھر رسالہ ضیاء الحق نے شائع ہوکر اور بھی آپ کے سر پر خاک ڈالی۔
    (۲)
    دوسری وجہ آپ کے شرمندہ ہونے کی یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ جن تین
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 402
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 402
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/402/mode/1up
    حملوں کا آتھم نے دعویٰ کیا تھا کہ گویا وہ ان کی وجہ سے ڈرتا رہا نہ پیشگوئی کی اسلامی ہیبت سے ان تین حملوں کو نہ آتھم
    اب تک ثابت کر سکا اور نہ آپ لوگ ثابت کرسکے اس لئے نہایت صفائی سے یہ ثابت ہوگیا۔ کہ آتھم نے اسلامی پیشگوئی سے بہت خوف کھا کر اور حق کا ایک قوی اثر اپنے دل پر ڈال کر رجوع الی
    الحق کی شرط کو پورا کردیا پھر کیوں آپ لوگ شرمندہ نہ ہوں۔ بلکہ جس قدر شرمندہ ہوں وہ تھوڑا ہے آپ لوگ تو مر گئے ناک کٹ گئی۔ کیا باقی رہا۔
    بقیہ اعتراضات پادری فتح مسیح صاحب جس
    کو
    انہوں نے دوسرے خط میں ظاہر کیا
    ایک یہ اعتراض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپا لینے کے واسطے قرآن میں
    صاف حکم دے دیا ہے مگر انجیل نے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی اما الجواب۔ پس واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لئے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہرگز باور نہیں کر سکتا
    کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو بیس برس کے قریب عرصہ ہوگیا کہ میں نے اسی بارہ میں ایک اشتہار دیا تھا اور قرآنی آیات لکھ کر اور عیسائیوں وغیرہ کو ایک رقم کثیر بطور انعام دینا کر
    کے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جیسے ان آیات میں راست گوئی کی تاکید ہے اگر کوئی عیسائی اس زور و شور کی تاکید انجیل میں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 403
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 403
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/403/mode/1up
    سے نکال کر دکھلا دے تو اس قدر انعام اس کو دیا جائے گا مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں
    اب مدت کے بعد فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجہ امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہار ان کو یاد نہیں رہا۔ پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں اور سونے کی کان سے منہ
    مروڑ کر اِدھر اُدھر بھاگتے ہیں اگر یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔ قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۔۱؂ یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی
    پلیدی سے پرہیز کرو۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔۲ ؂ الجزو نمبر ۴۔
    یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگرچہؔ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر
    پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔
    اب اے ناخدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لئے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے اور اگر
    ایسی تاکید ہوتی تو پطرس اول درجہ کا حواری کیوں جھوٹ بولتا اور کیوں جھوٹی قسم کھا کر اور حضرت مسیح پر *** بھیج کر صاف منکر ہو جاتا کہ میں اس کو نہیں جانتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ
    وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم محض راست گوئی کی وجہ سے شہید ہوتے رہے اور الٰہی گواہی کو انہوں نے ہرگز مخفی نہ رکھا گو ان کے خون سے زمین سرخ ہوگئی مگر انجیل سے ثابت ہے کہ
    خود آپ کے یسوع صاحب اس شہادت* کو مخفی رکھتے رہے ہیں جس کا ظاہر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 404
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 404
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/404/mode/1up
    کرنا ان پر واجب تھا اور وہ ایمان بھی دکھلا نہ سکے جو مکہ میں مصائب کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ
    نے دکھلایا تھا۔ امید کہ آپ اس سے منکر نہیں ہوں گے اور اگر خیانت کے طور پر منکر بھی ہوگئے تو وہ مام مقام ہم دکھلا دیں گے بالفعل صرف نمونہ کے طور پر ثبوت میں لکھا گیا۔
    اور پھر آپ
    لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ
    بولنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ ان قتلت واحرقت یعنی سچ کو مت چھوڑ اگرچہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔ پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور سچ
    مت چھوڑو اگرچہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگرچہ تم جلائے جاؤ اور قتل کئے جاؤ مگر سچ ہی بولو۔ تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث
    صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہوگی کیونکہ ہم لوگ اُسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف
    اشارہ پایا جاتا ہے۔ اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید اس کو
    حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو درحقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہے
    اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پرہیز کریں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 405
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 405
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/405/mode/1up
    اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لئے یا کسی اور مصلحت پر
    ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوؔ ں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف
    چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں اور غور کرنے کے بعد معلوم ہوکہ جو کچھ متکلم نے کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو اور نہ دل نے ایک ذرہ
    بھی کذب کی طرف میل کیا ہو جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لئے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کے لئے یا جنگ میں اپنے مصالح
    دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے توریہ کا جواز پایا جاتا ہے مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ
    توریہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے اور بہرحال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگرچہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے مگر افسوس کہ یہ توریہ آپ کے یسوع صاحب کے کلام
    میں بہت ہی پایا جاتا ہے تمام انجیلیں اس سے بھری پڑی ہیں اس لئے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اگر توریہ کذب ہے تو یسوع سے زیادہ دنیا میں کوئی بھی کذاب نہیں گذرا۔ یسوع صاحب کا یہ قول کہ میں خدا
    کی ہیکل کو ڈھا سکتا ہوں اور پھر میں تین دن میں اسے بنا سکتا ہوں یہی وہ قول ہے جس کو توریہ کہتے ہیں۔اور ایسا ہی وہ قول کہ ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا یہ سب توریہ کی قسمیں
    ہیں اور یسوع صاحب کے کلام میں اس کے بہت سے نمونے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ چبا چبا کر باتیں کرتا تھا اور اس کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 406
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 406
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/406/mode/1up
    باتوں میں دورنگی پائی جاتی تھی۔
    اور ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس نبوی کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے
    اور وہ یہ کہ جس توریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری
    صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے جو شخص خدائی کا دعویٰ کرے وہ تو شیر ببر کی طرح دنیا میں آنا
    چاہئے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ اختیار کرکے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کاملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لاپرواہ ہوکر دشمنوں کے مقابل پر اپنے
    تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے مجھے تو ان باتوں کو یاد کرکے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف
    حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلینؐجنگ احد ۱؂ میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ
    رہے تھے میں محمدؐ ہوں۔ میںؔ نبی اللّٰہ ہوں۔ میں ابن عَبْد المطّلِب ہوں اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں۔ کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ
    کہنا کہ
    ۱؂ سہو ہے یہ واقعہ غزوۂ حنین کا ہے۔ شمس
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 407
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 407
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/407/mode/1up
    میں یسوع مسیح ہوں حالانکہ اس کلمہ سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا تو میں دریائے حیرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ یا الٰہی یہ
    شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔
    الغرض فتح مسیح نے اپنی جہالت کا خوب پردہ کھولا بلکہ اپنے یسوع صاحب پر بھی وار کیا کہ بعض ان احادیث کو
    پیش کر دیا جن میں توریہ کے جواز کا ذکر ہے اگر کسی حدیث میں توریہ کو بطور تسامح کذب کے لفظ سے بیان بھی کیا گیا ہو تو یہ سخت جہالت ہے کہ کوئی شخص اس کو حقیقی کذب پر محمول
    کرے جبکہ قرآن اور احادیث صحیحہ بالاتفاق کذب حقیقی کو سخت حرام اور پلید ٹھہراتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی حدیثیں توریہ کے مسئلہ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں تو پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ
    کسی حدیث میں بجائے توریہ کے کذب کا لفظ آگیا ہو تو نعوذ باللّٰہ اس سے مراد حقیقی کذب کیونکر ہوسکتا ہے بلکہ اس کے قائل کے نہایت باریک تقویٰ کا یہ نشان ہوگا کہ جس نے توریہ کو کذب کی
    صورت میں سمجھ کر بطور تسامح کذب کا لفظ استعمال کیا ہو ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے اگر کوئی امر اس کے مخالف ہوگا تو ہم اس کے وہ معنے ہرگز قبول نہیں کریں
    گے جو مخالف ہوں احادیث پر نظر ڈالنے کے وقت یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ ایسی حدیثوں پر بھروسہ نہ کریں جو ان احادیث سے مناقض اور مخالف ہوں۔ جن کی صحت اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی ہو
    اور نہ ایسی حدیثوں پر جو قرآن کی نصوص صریحہ بینہ محکمہ سے صریح مخالف اور مغائر اور مبائن واقع ہوں پھر ایک ایسا مسئلہ جو قرآن اور احادیث صحیحہ نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کتب
    دین میں صراحت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 408
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 408
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/408/mode/1up
    سے اس کا ذکر ہے اس کے مخالف کسی بے ہودہ قول یا کسی مغشوش اور غیر ثابت حدیث یا مشتبہ اثر سے تمسک کر کے
    اعتراض کرنا یہ خیانت اور شرارت کا کام ہے۔ درحقیقت عیسائیوں کو ایسی شرارتوں نے ہی ہلاک کیا ہے ان لوگوں کو خود بخود حدیث دیکھنے کا مادہ نہیں۔ غایت کار مشکٰوۃ کا کوئی ترجمہ دیکھ کر
    جس بات پر اپنے فہم ناقص سے عیب لگا سکتے ہیں وہی بات لے لیتے ہیں حالانکہ کتب احادیث میں رطب و یا بس سب کچھ ہوتا ہے اور عامل بالحدیث کو تنقید کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ ایک نہایت
    نازک کام ہے کہ ہریک قسم کی احادیث میں سے احادیث صحیحہ تلاش کریں اور پھر اس کے صحیح معنی معلوم کریں اور پھر اس کے لئے صحیح محمل تلاش کریں۔
    قرآنؔ نے جھوٹوں پر *** کی
    ہے۔ اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی
    فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض
    صدق ہو ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔ اب بتلاؤ یہ تعلیمیں انجیل میں کہاں ہیں۔ اگر ایسی تعلیمیں ہوتیں تو عیسائیوں میں اپریل فول کی گندی رسمیں اب تک کیوں جاری رہتیں۔ دیکھو اپریل
    فول کیسی بُری رسم ہے کہ ناحق جھوٹ بولنا اس میں تہذیب کی بات سمجھی جاتی ہے یہ عیسائی تہذیب اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 409
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 409
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/409/mode/1up
    انجیلی تعلیم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی لوگ جھوٹ سے بہت ہی پیار کرتے ہیں۔ چنانچہ عملی حالت اس پر شاہد ہے۔ مثلاً
    قرآن تو تمام مسلمانوں کے ہاتھ میں ایک ہی ہے۔ مگر سنا گیا ہے کہ انجیلیں ساٹھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔ شاباش اے پادریان جھوٹ کی مشق بھی اسے کہتے ہیں۔ شاید آپ نے اپنے ایک مقدس بزرگ کا قول
    سنا ہے۔ کہ جھوٹ بولنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کی بات ہے خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ فرمایا ہے۱؂ یعنی دشمن قوموں کی دشمنی
    تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔ اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل
    کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی
    دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی مگر آپ تو تعصب کے گڑھے میں گرے ہیں ان پاک باتوں کو کیونکر سمجھیں۔ انجیل میں اگرچہ لکھا ہے کہ اپنے
    دشمنوں سے پیار کرو مگر یہ نہیں لکھا کہ دشمن قوموں کی دشمنی اور ظلم تمہیں انصاف اور سچائی سے مانع نہ ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے
    حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے اکثر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 410
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 410
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/410/mode/1up
    لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت توؔ کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں ایک
    بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے۔ اور محبت کے پردہ میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا اور یوں اتنی
    محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ میعار محبت کا ذکر کیا۔ کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا۔ اور سچائی اور انصاف سے
    درگذر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے مگر آپ کے خدا کو یہ تعلیم یاد نہ رہی کہ ظالم دشمنوں کے ساتھ عدل کرنے پر ایسا زور دیتا جو قرآن نے دیا اور دشمن کے ساتھ سچا معاملہ
    کرنے کے لئے اور سچائی کو لازم پکڑنے کے لئے وہ تاکید کرتا جو قرآن نے تاکید کی اور تقویٰ کی باریک راہیں سکھاتا مگر افسوس کہ جو بات سکھلائی دھوکے کی سکھلائی اور پرہیز گاری کی سیدھی
    راہ پر قائم نہ کر سکا یہ آپ کے فرضی یسُوع کی نسبت ہم کہتے ہیں جس کے چند پریشان ورق آپ کے ہاتھ میں ہیں اور جو خدائی کا دعویٰ کرتا کرتا آخر مصلوب ہوگیا اور ساری رات رو رو کر دعا
    کی کہ کسی طرح بچ جاؤں مگر بچ نہ سکا۔
    ہمارے سید و مولیٰ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ دنیا سے جانے کے لئے دعا کی کہ الحقنی بالرفیق الاعلٰی مگر آپ کے خدا صاحب نے
    دنیا کی چند روزہ زندگی سے ایسا پیار کیا کہ ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعائیں کرتا رہا بلکہ سولی پر بھی رضا اور تسلیم کا کلمہ منہ سے نہ نکلا اور اگر نکلا تو یہ نکلا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی
    اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا اور خدا نے کچھ جواب
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 411
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 411
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/411/mode/1up
    نہ دیا کہ اس نے ترک کر دیا مگر بات تو ظاہر ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا۔ تکبّر کیا ترک کیاگیا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
    خدا تعالیٰ نے آخر وقت میں مخیر کیا کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آجاؤ۔ آپ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا
    جس پر آپ کی جان مطہر رخصت ہوگئی۔ یہی تھا کہ بالرفیق الاعلٰی یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ اب دونوں کلموں کو وزن کرو۔ آپ کے خدا صاحب نے
    نہ فقط ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعا کی بلکہ صلیب پر بھی چلّا چلّا کر روئے کہ مجھے موت سے بچالے مگر کون سنتا تھا۔ لیکن ہمارے مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے لئے ہرگز
    دعا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ مختار کیا کہ اگر زندگیؔ کی خواہش ہے تو یہی ہوگا۔ مگر آپ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا کیا یہ خدا ہے جس پر بھروسہ ہے ڈوب جاؤ!!!
    اور آپ کا یہ زعم کہ قرآن اپنے دین کو چھپا لینے کے لئے حکم دیتا ہے محض بہتان اور افترا ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔ قراٰن تو ان
    پر *** بھیجتا ہے*۔ جو دین کی گواہی کو عمداً
    چھپاتے ہیں اور ان پر
    *** بھیجتا ہے جو جھوٹ بولتے ہیں شاید آپ نے قرآن کی اس آیت سے بوجہ نافہمی کے دھوکا کھایا ہوگا جو سورۃ النحل میں مذکور ہے۔ اور
    وہ یہ ہے۱؂۔ یعنی کافر
    عذاب میں
    * نوٹ: لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔ قرآن شریف میں ہے یا انجیل میں جواب تو دو۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 412
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 412
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/412/mode/1up
    ڈالے جائیں گے مگر ایسا شخص جس پر زبردستی کی جائے یعنی ایمانی شعار کے ادا کرنے سے کسی فوق الطاقت عذاب کی
    وجہ سے روکا جائے اور دل اس کا ایمان سے تسکین یافتہ ہے وہ عند اللہ معذور ہے۔ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی مسلمان کو سخت درد ناک اور فوق الطاقت زخموں سے مجروح
    کرے اور وہ اس عذاب شدید میں کوئی ایسے کلمات کہہ دے کہ اس کافر کی نظر میں کفر کے کلمات ہوں مگر وہ خود کفر کے کلمات کی نیت نہ کرے بلکہ دل اس کا ایمان سے لبالب ہو اور صرف یہ
    نیت ہو کہ وہ اس ناقابل برداشت سختی کی وجہ سے اپنے دین کو چھپاتا ہے مگر نہ عمداً بلکہ اس وقت جبکہ فوق الطاقت عذاب پہنچنے سے بے حواس اور دیوانہ سا ہوجائے تو خدا اس کی توبہ کے
    وقت اس کے گناہ کو اس کی شرائط کی پابندی سے جو نیچے کی آیت میں مذکور ہیں معاف کر دے گا کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ اور وہ شرائط یہ ہیں۔۔۱؂ یعنی ایسے لوگ جو فوق الطاقت دکھ کی حالت
    میں اپنے اسلام کا اخفاء کریں ان کا اس شرط سے گناہ بخشا جائے گا کہ دکھ اٹھانے کے بعد پھر ہجرت کریں یعنی ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے نکل جائیں جہاں دین پر زبردستی ہوتی ہے پھر خدا
    کی راہ میں بہت ہی کوشش کریں اور تکلیفوں پر صبر کریں ان سب باتوں کے بعد خدا ان کا گناہ بخش دے گا کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔
    اب ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی فوق الطاقت
    دکھ کے وقت بھی جو دشمنوں سے اس کو پہنچے دین اسلام کی گواہی کو پوشیدہ کرے وہ بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہؔ گار ہے مگر خدمات شائستہ دکھلانے کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 413
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 413
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/413/mode/1up
    بعد اور ایسی عادت یا ایسا ملک چھوڑ دینے کے بعد جس میں زبردستی کی جاتی ہے اور صبر اور استقامت کے بعد اس کا گناہ
    معاف کیا جائے گا اور خدا اس کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ وہ رحمن و رحیم ہے۔
    غرض خدا تعالیٰ نے اس اخفا کو محل مدح میں نہیں رکھا بلکہ ایک گناہ قرار دیا ہے اور اس گناہ کا کفارہ پچھلی
    آیت میں بتلا دیا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں جابجا ان مومنوں کی تعریف کی ہے جو دین کی گواہی کو نہیں چھپاتے اگرچہ جان جائے۔ ہاں ایسے شخص کو بھی رد کرنا نہیں چاہا جو اپنی ضعف
    استعداد اور فوق الطاقت عذاب کی وجہ سے معذب ہونے کی حالت میں دین کی گواہی کو پوشیدہ رکھے بلکہ اس کو اس شرط سے قبول کر لیا ہے کہ آئندہ ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے جس میں
    زبردستی ہوتی ہے علیحدہ ہو جائے اور اپنے صدق اور ثبات اور مجاہدات سے اپنے ربّ کو راضی کرے تب یہ گناہ دین کے اخفاء کا معاف کیا جائے گا کیونکہ وہ خدا جس نے عاجز بندوں کو پیدا کیا
    ہے نہایت کریم و رحیم خدا ہے۔ وہ کسی کو تھوڑے کئے پر اپنی جناب سے رد نہیں کرتا یہ تو تعلیم قرآنی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی صفات رحمت اور مغفرت کے بالکل مطابق ہے۔ لیکن آپ کے اقرار سے
    یہ معلوم ہوا کہ یہ تعلیم انجیل کی نہیں ہے اور انجیل کی رو سے یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عیسائی کسی فوق الطاقت دکھ کے وقت عیسائی دین کی گواہی سے زبان سے انکار کرے تو وہ ہمیشہ کے لئے
    مردود ہوگیا اور اب انجیل اس کو اپنی جماعت میں جگہ نہیں دے گی اور اس کے لئے کوئی توبہ نہیں شاباش شاباش آج تم نے اپنے ہاتھ سے مہر لگا دی کہ یہ انجیل جو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 414
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 414
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/414/mode/1up
    تمہارے ہاتھ میں ہے ایک جھوٹی انجیل ہے خیر اب ہمارے وار سے بھی خالی نہ جاؤ اور جو نیچے لکھتا ہوں اس کا جواب دو۔
    ورنہ اگر کچھ حیا ہے تو عیسائی مذہب سے توبہ کرو۔
    اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں بقول آپ کے وہ تعلیم خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتی کہ جو ایمان کے چھپانے والے کو اس کی توبہ
    اور اعمال صالحہ اور صبر اور ثبات کے بعد معافی کا وعدہ دے اور رحمت الٰہی سے ردّ نہ کرے تو پھر انجیل کی تعلیم کس قدر سچائی سے دور ہوگی جس نے پطرس کو باوجود اس کی نہایت مکروہ
    بداعمالی اور دروغ گوئی اور سخت انکار اور جھوٹی قسم اور مسیح پر *** بھیجنے اور ایمان کو پوشیدہ کرنے کے پھر قبول کر لیاآپ کا *اعتراض تو صرفؔ اتنا تھا کہ قرآن نے ایسے لوگوں کو بھی
    اسلام سے رد نہیں کیا جو کسی خوف سے اسلام کا زبان سے انکار کر دیں مگر انجیل نے تو اس بارے میں حد کر دی کہ ایسے شخص کو بھی پھر قبول کر لیا جس نے نہ صرف ایمان کو پوشیدہ کیا بلکہ
    صاف انکار کیا اور اپنے جھوٹ کو سچ ظاہر کرنے کے لئے قسم کھائی۔ بلکہ یسوع صاحب پر *** بھی بھیجی اور اگر کہو کہ انجیل کی تعلیم نے اس کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اب تک مردود اور ایمان
    سے خارج ہے تو اس عقیدہ کا اشتہار دے دو۔ اب کہو قرآن پر اعتراض کرنے سے کچھ سزا پائی یا نہیں۔
    * نوٹ: گواہی کا چھپانا اور دل میں رکھنا تو درکنار عیسائی تو انجیل کے مرتدوں کو
    بھی ایمان لانے پر پھرواپس لے لیتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 415
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 415
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/415/mode/1up
    آپ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ کسی امر کا جواب دینا اور بات ہے مگر معقول طور پر جواب دینا اور بات ہے۔ اب بتاؤ معقولی
    طور پر یہ جواب ہیں یا نہیں۔ اور ابھی وقت آیا یا نہیں کہ ہم لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین کہہ دیں۔
    آپ نے یہ بھی خط میں لکھا ہے کہ محمدی لوگ جواب تو دیتے ہیں مگر وہ عقل کے سامنے جواب نہیں
    سمجھے جاتے اب ہمارے یہ تمام جواب آپ کے سامنے ہیں اس کو چند منصفوں کو دکھلاؤ کہ کیا یہ عقل کے سامنے جواب ہیں یا نہیں۔ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ جو انجیل پر اعتراض ہم نے کئے ہیں
    آپ ان کا کچھ جواب دے سکیں گے ہرگز ممکن نہیں وہ دن آپ پر کبھی نہیں آئے گا کہ ان اعتراضات کے جواب سے سبکدوش ہوسکیں۔
    پھر آپ کا ایک یہ وسوسہ ہے کہ کامل گناہ کا بیان انجیل میں
    ہی ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انجیل تقویٰ کی راہوں کو کامل طور پر بیان نہیں کر سکی اور نہ انجیل نے ایسا دعویٰ کیا مگر قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علّت غائی ہی یہ
    قرار دی ہے کہ تقویٰ کی راہوں کو سکھائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ ۔ یعنی یہ کتاب اس غرض سے اتری ہے کہ تا جو لوگ گناہ سے پرہیز کرتے ہیں ان کو باریک سے باریک گناہوں پر بھی
    اطلاع دی جائے تاوہ ان بُرے کاموں سے بھی پرہیز کریں جو ہریک آنکھ کو نظر نہیں آتے بلکہ فقط معرفت کی خوردبین سے نظر آسکتے ہیں اور موٹی نگاہیں ان کے دیکھنے سے خطا کر جاتی ہیں مثلاً
    آپ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 416
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 416
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/416/mode/1up
    کے یسوع صاحب کا قول متی نے یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو کوئی شہوت سے کسی عورت پر نگاہ کرے۔ وہ
    اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کرچکا لیکن قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ نہ تو شہوت سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورت کے منہ پر ہرگز نظر نہ ڈال اور ان کی باتیں مت سن اور ان کی آواز مت سن
    اور ان کے حسن کے قصے مت سن کہؔ ان امور سے پرہیز کرنا تجھے ٹھوکر کھانے سے بچائے گا جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؂۔ یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم کو دیکھنے سے اپنی
    آنکھوں کو بند رکھیں اور اپنے کانوں اور ستر گاہوں کی حفاظت کریں یعنی کان کو بھی ان کی نرم باتوں اور ان کی خوبصورتی کے قصوں سے بچاویں کہ یہ سب طریق ٹھوکر کھانے کے ہیں۔ اب اگر بے
    ایمانی کے زہر دل میں نہیں تو ایسی تعلیم سے یسوع کی تعلیم کا مقابلہ کرو اور پھر نتائج پر بھی نظر ڈالو یسوع کی تعلیم نے عام آزادی کی اجازت دے کر اور تمام ضروری شرائط کو نظر انداز کر کے
    تمام یورپ کو ہلاک کر دیا یہاں تک کہ ان سب میں خنزیروں اور کتوں کی طرح فسق و فجور پھیلا۔ اور بے حیائی اس حد تک پہنچ گئی کہ شیرینیوں پر اور ولایت کی مٹھائیوں پر بھی یہ لفظ لکھے جاتے
    ہیں۔ کہ اے میری پیاری ذرا مجھے بوسہ دے۔ یہ تمام گناہ کس کی گردن پر ہے۔ بے شک اس یسوع کی گردن پر جس نے ایسی تعلیم دی کہ ایک جوان مرد یا عورت دوسرے پر نظر ڈالے مگر زنا کا قصد
    نہ کرے۔ اے نادان کیا زنا کا قصد اختیار میں ہے۔ جو شخص آزادی سے نامحرم عورتوں کو دیکھتا رہے گا آخر ایک دن بدنیتی سے بھی دیکھے گا۔ کیونکہ نفس کے جذبات ہریک طبیعت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 417
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 417
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/417/mode/1up
    کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور تجربہ بلند آواز سے بلکہ چیخیں مار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے میں ہرگز
    انجام بخیر نہیں ہوتا یورپ جو زناکاری سے بھر گیا اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہوگیا اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر
    ہوگیا پھر اس سے ترقی ہوکر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جاکر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں اور کوئی منع نہیں کرتا شیرینیوں پر فسق و
    فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسے اور آنکھ ایسی ہے اور ان کے
    عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔ کاش! ایسا شخص دنیا میں
    نہ آیا ہوتا۔ تا یہ بدکاریاں ظہور میں نہ آتیں اس شخص نے پارسائی اور تقویٰ کا خون کردیا اور الحاد اور اباحت کو تمام ملک میں پھیلا دیا کوئی عبادت نہیں کوئی مجاہدہ نہیں بجز کھانے پینے اورؔ
    بدنظریوں کے اور کوئی بھی فکر نہیں پھر زہر پر زہر یہ کہ ایک جھوٹے کفارہ کی امید دے کر گناہوں پر دلیر کر دیا کون عقلمند اس بات کو باور کرے گا کہ زید کو مُسہل دیا جائے اور بکر کے زہریلے
    مواد اس سے نکل جائیں بدی حقیقی طور پر تبھی دور ہوتی ہے کہ جب نیکی اس کی جگہ لے لے۔ یہی قرآنی تعلیم ہے کسی کی خودکشی سے
    دوسرے کو کیا فائدہ۔ کس قدر یہ نادانی کا خیال اور
    قانون قدیم کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 418
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 418
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/418/mode/1up
    مخالف ہے۔ جو آپ کے یسوع صاحب سے ظہور میں آیا۔ کیا اس کے روٹی کھانے سے حواریوں کا پیٹ بھر جاتا تھا پھر کیونکر
    اس کی خودکشی دوسرے کو مفید ہوسکتی ہے انجیل کی ساری تعلیم ایسی گندی اور ناقص ہے کہ حرف حرف پر سخت اعتراض ہے اور اس کے مؤلف کو خبر ہی نہیں کہ تقویٰ کس کو کہتے ہیں اور
    گناہ کے باریک مراتب کیا ہیں بے چارہ بچوں کی طرح باتیں کرتا ہے افسوس کہ اس وقت ہمیں فرصت نہیں کہ ان تمام یسوع کی باتوں کی قلعی کھولیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ دوسرے وقت میں دکھائیں گے اور
    ثابت کریں گے کہ یہ شخص بالکل تقویٰ کے طریق سے ناواقف ہے اور اس کی تعلیم انسانی درخت کے کسی شعبہ کی بھی آب پاشی نہیں کرسکتی۔ جانتا ہی نہیں کہ انسان کن کن قوتوں کے ساتھ اس
    مسافر خانہ میں بھیجا گیا ہے اور اسے خبر ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ مقصود نہیں کہ ان تمام قوتوں کو زائل کر دیوے بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کو خط اعتدال پر چلاوے پس ایسی ناقص تعلیم کو قرآن
    شریف کے سامنے پیش کرنا سخت ہٹ دھرمی اور نابینائی اور بے شرمی ہے۔
    اور آپ کا یہ کہنا کہ حضرت مقدس نبوی کی تعلیم یہ ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہنے سے گناہ دور ہو
    جاتے ہیں یہ بالکل سچ ہے اور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لا شریک جانتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی قادر یکتا نے بھیجا ہے تو بے شک اگر
    اس کلمہ پر اس کا خاتمہ ہو تو نجات پا جائے گا آسمانوں کے نیچے کسی کی خودکشی سے نجات نہیں ہرگز نہیں۔ اور اس سے زیادہ کون پاگل ہوگا کہ ایسا خیال بھی کرے مگر خدا کو واحد لا
    شریک
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 419
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 419
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/419/mode/1up
    سمجھنا اور ایسا مہربان خیال کرنا کہ اس نے نہایت رحم کرکے دنیا کو ضلالت سے چھڑانے کے لئے اپنا رسول بھیجا جس کا
    نام محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ ایک ایسا اعتقاد ہے کہ اس پر یقین کرنے سے روح کی تاریکی دور ہوتی ہے اور نفسانیت دور ہوکر اس کی جگہ توحید لے لیتی ہے آخر توحید کا زبردست
    جوش تمام دل پر محیط ہوکر اسی جہان میں بہشتی زندگی شروعؔ ہوجاتی ہے۔ جیسا تم دیکھتے ہوکہ نور کے آنے سے ظلمت قائم نہیں رہ سکتی ایسا ہی جب لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کا نورانی پرتوہ دل پر پڑتا ہے
    تو نفسانی ظلمت کے جذبات کالمعدوم ہو جاتے ہیں گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور و غوغا ہو جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام
    گناہ گار رکھا جاتا ہے اور لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کے معنی جو لغت عرب کے موارد استعمال سے معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لَا مَطْلُوْبَ لِیْ وَ لَا مَحْبُوبَ لِیْ وَ لَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَ لَا مُطَاعَ لِیْ اِلَّا اللّٰہُ یعنی بجز اللہ کے
    اور کوئی میرا مطلوب نہیں اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ معنی گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں پس جو شخص ان معنی کو
    خلوص دل کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا تو بالضرورت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا کیونکہ ضدّین ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے۔
    جس کو سچی پاکیزگی اور حقیقی راست بازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز کلمہ کا مفہوم ہے اس کی ضرورت یہ ہے کہ تاخدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو
    جائے کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 420
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 420
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/420/mode/1up
    ہے کہ میں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے فرمانوں پر ایمان بھی لاوے اور فرمان پر
    ایمان لانا بجز اس کے ممکن نہیں کہ اس پر ایمان لاوے جس کے ذریعہ سے دنیا میں فرمان آیا پس یہ حقیقت کلمہ کی ہے۔ اور آپ کے یسوع صاحب نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہی مدار
    نجات ٹھہرایا ہے کہ خدا پر اور اس کے بھیجے ہوئے یسوع پر ایمان لایا جائے مگر چونکہ آپ لوگ اندھے ہیں اس لئے جوش تعصب سے انجیل کی باتیں بھی آپ کو نظر نہیں آتیں۔
    اور آپ کا یہ کہنا
    کہ وضو کرنے سے گناہ کیونکر دور ہوسکتے ہیں۔ اے نادان! الٰہی نوشتوں پر کیوں غور نہیں کرتا کیا انسان ہونے کے بعد پھر حیوان بن گیا وضو کرنا تو صرف ہاتھ پیر اور منہ دھونا ہے اگر شریعت
    کا یہی مطلب ہوتا کہ ہاتھ پیر دھونے سے گناہ دور ہوجاتے ہیں تو یہ پاک شریعت ان تمام پلید قوموں کو جو اسلام سے سرکش ہیں ہاتھ منہ دھونے کے وقت گناہ سے پاک جانتے کیونکہ وضو سے گناہ دور
    ہو جاتے ہیں۔ مگر شارع علیہ السلام کا یہ مطلب نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے چھوٹے چھوٹے حکم بھی ضائع نہیں جاتے اور ان کے بجا لانے سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں اگر میں اس وقت
    الزامی جواب دوں تو کئی جز لکھ کر منکر کا منہ کالا کروں مگر وقت تنگؔ ہے اور ابھی چند سوال باقی ہیں ذرا میری اس تحریر پر کچھ لکھو پھر تمہاری ہی کتابوں سے تمہیں عمدہ انعام دیا جائے گا۔
    تسلی رکھو۔ آپ جھوٹ سے کیونکر متنفر ہوگئے کیا انجیل کا جھوٹ یاد نہ رہا۔ کیا یہ سچ ہے کہ یسوع صاحب کو سر دھرنے کے
    لئے جگہ نہیں ملتی تھی۔ کیا یہ واقعی امر ہے کہ اگر یسوع کے
    تمام کام لکھے جاتے تو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 421
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 421
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/421/mode/1up
    وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں اب کہو کہ دروغ گوئی میں انجیل کو کمال ہے یا کچھ کسر رہ گئی۔ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن
    شریف میں گناہ کو ہلکا نہیں سمجھا گیا بلکہ بار بار بتلایا گیا ہے کہ کسی کو بجز اس کے نجات نہیں کہ گناہ سے سچی نفرت پیدا کرے مگر انجیل نے سچی نفرت کی تعلیم نہیں دی انجیل نے ہرگز اس
    بات پر زور نہیں دیا کہ گناہ ہلاک کرنے والا زہر ہے اس کے عوض اپنے اندر کوئی تریاق پیدا کرو بلکہ اس محرف انجیل نے نیکیوں کا عوض یسوع کی خود کشی کو کافی سمجھ لیا ہے مگر یہ کیسی بے
    ہودہ اور بھول کی بات ہے کہ حقیقی نیکی کے حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں بلکہ انجیل کی یہی تعلیم ہے کہ عیسائی بنو اور جو چاہو کرو۔ کفارہ ناقص ذریعہ نہیں ہے تاکسی عمل کی حاجت ہو۔ اب
    دیکھو اس سے زیادہ بدی پھیلنے کا ذریعہ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنے تئیں پاک نہ کرو اس پاک گھر میں داخل نہ ہوگے اور انجیل کہتی ہے کہ ہریک بدکاری کر
    تیرے لئے یسوع کی خودکشی کافی ہے۔ اب کس نے گناہ کو ہلکا سمجھا قرآن نے یا انجیل نے۔ قرآن کا خدا ہرگز کسی کو نیک نہیں ٹھہراتا۔ جب تک بدی کی جگہ نیکی نہ آجائے مگر انجیل نے اندھیر مچا
    دیا ہے۔ کفّارہ سے تمام نیکی اور راستبازی کے حکموں کو ہلکا اور ہیچ کر دیا اور اب عیسائی کے لئے ان کی ضرورت نہیں۔ حیف صد حیف۔ افسوس صد افسوس۔
    دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ بہشت
    کی تعلیم محض نفسانی ہے جس سے ایک خدا رسیدہ شخص کو کچھ تسلّی نہیں ہوسکتی۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ بات نہایت بدیہی اور عند العقل مسلم اور قرین انصاف ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 422
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 422
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/422/mode/1up
    کہ جیسا کہ انسان دنیا میں ارتکاب جرائم یا کسب خیرات اور اعمال صالحہ کے وقت صرف روح سے ہی کوئی کام نہیں کرتا
    بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتا ہے ایسا ہی جزا اور سزا کا اثر بھی دونوں پر ہی ہونا چاہئے یعنی جان اور جسم دونوں کو اپنی اپنی حالت کے مناسب پاداش اخروی سے حصہ ملنا چاہئے لیکن
    عیسائی صاحبوں پر سخت تعجب ہے کہ سزا کی حالت میں تو اس اصول کو انہوں نے قبول کر لیا ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے بدکاریاں اورؔ بے ایمانیاں کرکے خدا کو ناراض کیا ان کو
    جو سزا دی جائے گی وہ صرف روح تک محدود نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور گندھک کی آگ سے جسم جلائے جائیں گے اور وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا اور وہ پیاس
    سے جلیں گے اور ان کو پانی نہیں ملے گا۔اور جب حضرات عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ جسم کیوں آگ میں جلایا جائے گا تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھائی روح اور جسم دونوں مزدور کی طرح دنیا
    میں کام کرتے تھے پس جبکہ دونوں نے اپنے آقا کے کام میں مل کر خیانت کی تو وہ دونوں سزا کے لائق ٹھہرے۔ پس اے اندھو اور خدا کے نوشتوں پر غور کرنے میں غافلو تمہیں تمہاری ہی بات سے
    ملزم کرتا ہوں کہ وہ خدا جس کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے جب اس نے سزا دینے کے وقت جسم کو خالی نہ چھوڑا تو کیا ضرور نہ تھا کہ وہ جزا دینے کے وقت بھی اس اصول کو یاد رکھتا کیا
    لائق ہے کہ ہم اس رحیم خدا پر یہ بدگمانی کریں کہ وہ سزا دینے کے وقت تو ایسا غضب ناک ہوگا کہ ہمارے جسموں کو بھی جلتے ہوئے تنور میں ڈالے گا لیکن جزا دینے کے وقت اس کا رحم اس درجہ
    پر نہیں ہوگا جس درجہ پر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 423
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 423
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/423/mode/1up
    سزا کی حالت میں اس کا غضب ہوگا اگر جسم کو سزا سے الگ رکھتا تو بے شک جزا سے بھی اس کو الگ رکھتا مگر جبکہ اس
    نے سزا کے وقت جسم کو گناہ کا شریک سمجھ کر جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا تو اے اندھو اور کوتاہ اندیشو! کیا وہ ایمان اور عمل صالح کی شراکت کے وقت جسم کو جزا سے حصہ نہیں دے گا۔ کیا
    جب مردے جی اٹھیں گے تو بہشتیوں کو عبث طور پر ہی جسم ملے گا۔
    اور یہ بھی بدیہی بات ہے کہ جب جسم اپنے تمام قویٰ کے ساتھ روح سے پیوند کیا جائے گا تو وہ جسمانی قویٰ یا راحت میں
    ہوں گے یا رنج میں کیونکہ دونوں حالتوں کا مرتفع ہونا محال ہے پس اس صورت میں ماننا پڑا کہ جیسا جسم سزا کی حالت میں دکھ اٹھائے گا ویسا ہی وہ جزا کی حالت میں ایک قسم کی راحت سے بھی
    ضرور متمتع ہوگا اور اسی راحت کی قرآن کریم میں تفصیل ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بہشت کی نعمتیں فوق الفہم ہیں تمہیں ان کا حقیقی علم نہیں دیا گیا اور تم وہ نعمتیں پاؤ گے جواب تم
    سے پوشیدہ ہیں۔ جو نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں اور نہ سنیں اور نہ دلوں میں گذریں وہ تمام مخفی امور میں اسی وقت سمجھ میں آئیں گی جب وارد ہوں گی جو کچھ قرآن اور حدیث میں وعدے ہیں وہ سب
    مثال کے طور پر بیان کیا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ امور مخفی ہیں جن کی کسی کو اطلاع نہیں پس اگر وہ لذات اسی قدر ہوتیں جیسے اس دنیا میں شربت یا شراب پینےؔ کی لذت
    یا عورت کے جماع کی لذت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یہ نہ کہتا کہ وہ ایسے امور ہیں کہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے اور نہ کسی کان نے سنے۔ اور نہ وہ کبھی کسی کے دل میں گذرے پس ہم مسلمان لوگ
    اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ بہشت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 424
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 424
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/424/mode/1up
    جو جسم اور روح کے لئے دارالجزا ہے وہ ایک ادھورا اور ناقص دارالجزا نہیں بلکہ اس میں جسم اور جان دونوں کو اپنی اپنی
    حالت کے موافق جزا ملے گی جیسا کہ جہنم میں اپنی اپنی حالت کے موافق دونوں کو سزا دی جائے گی اور اس کی اصل تفصیلات ہم خدا کے حوالے کرتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ جزا سزا
    جسمانی روحانی دونوں طور پر ہوں گی اور یہی وہ عقیدہ ہے جو عقل اور انصاف کے موافق ہے اور یہ نہایت شرارت اور خباثت اور حرام زدگی ہے کہ قرآن پر یہ طعن وارد کیا جائے کہ وہ صرف
    جسمانی بہشت کا وعدہ کرتا ہے۔ قرآن تو صاف کہتا ہے کہ ہریک جو بہشت میں داخل ہوگا وہ جسمانی روحانی دونوں قسم کی جزا پائے گا اور جیسا کہ نعمت جسمانی اس کو ملے گی۔ ایسا ہی وہ دیدار
    الٰہی سے لذت اٹھائے گا اور یہی اعلیٰ لذت بہشت میں ہے معارف کی لذت بھی ہوگی اور طرح طرح کے انوار کی لذت بھی ہوگی اور عبادت کی لذت بھی ہوگی مگر اس کے ساتھ جسم بھی اپنی سعادت
    تامہ کو پہنچے گا۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جس قدر قرآن نے بہشتیوں کی روحانی جزا کی کیفیت لکھی ہے انجیل میں ہرگز نہیں۔ جس شخص کو شک ہو۔ ہمارے مقابل پر آئے اور ہم سے سنے اور
    انجیل کی تعلیم سناوے اگر وہ غالب ہوا اور اس نے ثابت کیا کہ انجیل میں بہشتیوں کی روحانی جزا قرآن سے بڑھ کر لکھی ہے تو ہم حلفاًکہتے ہیں کہ اسی وقت ہزار روپیہ نقد اس کو دیا جائے گا۔ جس
    جگہ چاہے باضابطہ تحریر دے کر جمع کرا لے۔
    اے اندھو! قرآن کے مقابل پر انجیل کچھ بھی چیز نہیں۔ کیوں تمہاری شامت آئی ہے۔ گھروں میں آرام کر کے بیٹھو اب تمہاری رسوائی کا وقت آگیا
    ہے کیا تم میں کسی کو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 425
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 425
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/425/mode/1up
    حوصلہ ہے کہ آرام سے آدمی بن کر مجھ سے آکر بحث کرلے کہ بہشت کے بارے میں روحانی جزا کا بیان انجیل میں زیادہ
    ہے یا قرآن میں۔ اور اگر انجیل میں زیادہ نکلے تو مجھ سے نقد ہزار روپیہ لے لے جہاں چاہے جمع کرا لے۔ مجھے امید نہیں کہ کوئی میرے سامنے آوے۔ اللہ اللہ کیسی یہ قوم ظالم اور دغا باز ہے
    جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بھلا دیا ہے مگر ذرہ موت کا پیالہ پی لیں پھر دیکھیں گے کہ کہاں ہے یسوع اور اس کا کفارہ۔ ہائے افسوس ان لوگوں نے ایکؔ عاجز انسان اور عاجزہ کے
    بیٹے کو خدا بنا دیا اور خدائے قدوس پر تمام نالائق باتیں روا رکھیں۔دنیا میں ایک ہی آیا جو سچی اور کامل توحید کو لایا اس سے انہوں نے دشمنی کی۔
    اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ انجیل میں
    جسمانی جزا کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ دیکھو متی کیسی تفصیل سے یسوع کا قول جسمانی جزا کے بارے میں بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے:۲۹۔ اور جس نے گھر یا بھائی یا بہن یا باپ یا جورو یا بال
    بچوں یا زمین کو میرے نام پر چھوڑا سو گنا پاوے گا۔ ۱۹ باب آیت ۲۹۔ دیکھو یہ کیسا صریح حکم ہے اس میں تو یہ بھی بشارت ہے کہ اگر عیسائی عورت یسوع کے لئے خاوند چھوڑے تو قیامت کو
    اسے سو خاوند ملیں گے۔ اور اگر جسمانی نعمتوں کا وعدہ کرنا خدا تعالیٰ کی شان کے مخالف ہوتا تو توریت خروج ۳ باب ۸ آیت۔استثناء ۶ باب ۳ آیت۔۷ باب ۱۳ آیت۔ ۸ باب ۱۷ آیت اور۔قاضی ۹ باب
    ۱۲ آیت اور استثناء۳۲ باب ۱۴آیت۔ استثناء ۱۶ باب ۲۰
    آیت اور احبار ۲۶ باب ۳ آیت۔احبار ۲۵ باب۔ ایوب ۲۰ باب ۱۵ آیت میں ہرگز
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 426
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 426
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/426/mode/1up
    جسمانی نعمتوں کے وعدے نہ دیئے جاتے۔ کیا یسوع نے یہ نہیں کہا کہ میں بہشت میں شیرہ انگور پیوں گا۔ عجیب یسوع ہے۔
    جو مسلمانوں کی بہشت میں داخل ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ جس میں جسمانی نعمتیں بھی ہیں۔ اور پھر عجیب تر یہ کہ جسمانی نعمتوں پر ہی گرا۔ دیدار الٰہی کا ذکر نہیں کیا۔ لعاذر سے پانی مانگنا بھی
    ذرہ یاد کرو۔ جس بہشت میں پانی نہیں۔ اس میں پانی کا ذکر مصداق اس مثل کا ہے کہ دروغ گو را حافظہ نبا شد۔ یہ سچ ہے کہ بہشت میں رہنے والے فرشتوں کی طرح ہو جائیں گے مگر یہ کہاں ثابت
    ہے کہ تبدیل خواص کر کے
    فی الحقیقت فرشتے ہی ہو جائیں گے *اور انسانی خواص چھوڑ دیں گے۔
    ہاں یہ درست ہے کہ بہشت میں دنیا کی طرح نکاح نہیں ہوتے مگر بہشتی طور پر جسمانی
    لذات تو ہوں گے جیسے یسوع کو بھی انکار نہیں تھا ۔ شیرۂ انگور پینے کی امید کرتا گذر گیا۔ توریت سے ثابت ہے کہ جسمانی جزا بھی خدا کی عادت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ غیر متبدل خدا
    قیامت کو اپنی عادتیں بدل ڈالے۔
    تیسرا ؔ اعتراض آپ کا یہ ہے کہ اسلامی تعلیم میں ہے کہ جب تک کوئی کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو جائے تب تک ایسے شخص سے مواخذہ نہ ہوگا اور محض دلی
    خیالوں پر خدا پُرسش نہیں کرے گا مگر انجیل میں اس کے خلاف ہے یعنی دلی خیالات پر بھی عذاب ہوگا۔ اما الجواب۔ پس واضح ہوکہ اگر انجیل میں ایسا ہی لکھا ہے تو ایسی انجیل ہرگز خدا
    تعالیٰ
    *نوٹ: درحقیقت فرشتے بن جانا اور بات ہے۔ مگر پاکیزگی میں اُن سے مشابہت پیدا کرنا یہ اوربات ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 427
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 427
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/427/mode/1up
    کی طرف سے نہیں ہے اور حق بات یہی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمائی ہے کہ انسان کے دل کے تخیلات جو
    بے اختیار اٹھتے رہتے ہیں اس کو گناہ گار نہیں کرتے بلکہ عند اللہ مجرم ٹھہر جانے کی تین۳ ہی قسم ہیں (۱) اوّل یہ کہ زبان پر ناپاک کلمے جو دین اور راستی اور انصاف کے برخلاف ہوں جاری
    ہوں
    (۲) دوسرے یہ کہ جوارح یعنی ظاہری اعضاء سے نافرمانی کے حرکات صادر ہوں (۳) تیسرے یہ کہ دل نافرمانی پر عزیمت کرے یعنی پختہ ارادہ کرے کہ فلاں فعل بد ضرور کروں گا۔
    اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی جن گناہوں کو دل اپنی عزیمت سے حاصل کرے ان گناہوں کا مواخذہ ہوگا مگر مجرد خطرات پر مواخذہ نہیں ہوگا کہ وہ انسانی فطرت کے
    قبضہ میں نہیں ہیں خدائے رحیم ہمیں ان خیالات پر نہیں پکڑتا جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ ہاں اس وقت پکڑتا ہے کہ جب ہم ان خیالات کی زبان سے یا ہاتھ سے یا دل کی عزیمت سے پیروی کریں
    بلکہ بعض وقت ہم ان خیالات سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ
    اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے۔ ۲؂ یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی۔ اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کے گناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر
    کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 428
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 428
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/428/mode/1up
    بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا *ہے۔ صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں۔ ہاں اس
    وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کر لیوے ایسا ہی اللہ جلّ شانہٗ اندرونی گناہوں کے بارے میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔
    ۱؂ یعنی خدا نے ظاہری اور
    اندرونی گناہ دونوں حرام کر دیئے۔ اب میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ عمدہ تعلیم بھی انجیل میں موجود نہیں کہ تمام عضووں کے گناہ کا ذکر کیا ہو اور عزیمت اور خطرات میں فرق کیا ہو اور ممکن نہ
    تھا کہ انجیل میں یہ ؔ تعلیم ہوسکتی۔ کیونکہ یہ تعلیم نہایت لطیف اور حکیمانہ اصولوں پر مبنی ہے اور انجیل تو ایک موٹے خیالات کا مجموعہ ہے جس سے اب ہر یک محقق نفرت کرتا جاتا ہے ہاں آپ
    کے یسوع صاحب نے پردہ پوشی کے لئے یہ خوب تدبیر کی کہ لوگوں کو باتوں باتوں میں سمجھا دیا کہ میری تعلیم کچھ اچھی نہیں۔ آئندہ اس پر مضحکہ ہوگا بہتر ہے کہ تم ایک اور آنے والے کا انتظار
    کرو جس کی تعلیم معارف کے تمام مراتب کو پورا کرے گی مگر شاباش اے پادری صاحبان آپ نے اس وصیّت پر خوب ہی عمل کیا جس تعلیم کو خود آپ کے یسوع صاحب بھی قابل اعتراض ٹھہراتے
    ہیں اور ایک آئندہ آنے والے نبی مقدس کی خوشخبری دیتے ہیں اسی ادھوری تعلیم پر آپ
    *نوٹ:ثواب اس وقت حاصل کرتے ہیں جب ہم دلی خیالات کا جو معصیت کی رغبت دیتے ہیں۔ اعمال صالحہ
    کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں اور ان خیالات کے برعکس عمل میں لاتے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 429
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 429
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/429/mode/1up
    گرے جاتے ہیں۔ بھلا بتلاؤ تو سہی کہ آپ کے یسوع کی تعلیم خود اس کے اقرار سے ناقص ٹھہری یا ابھی کچھ کسر رہ گئی پھر
    جبکہ یسوع خود معترف ہے کہ میری تعلیم ادھوری اور نکمی ہے تو اپنے گرو کی پیشگوئی کو ذہن میں رکھ کر اسلامی تعلیم کی خوبیاں ہم سے سنو اور اپنے یسوع کو جھوٹا مت ٹھیراؤ کیونکہ جب تک
    ایسا نبی دنیا میں ظہور نہ کرے جس کی تعلیم انجیل کی تعلیم سے اکمل اور اعلیٰ ہو تب تک یسوع کی پیشگوئی باطل کے رنگ میں ہے مگر وہ مقدس نبی تو آچکا اور تم نے اس کو شناخت نہیں کیا ہماری
    تحریروں پر غور کرو تاتمہیں معلوم ہوکہ وہ کامل تعلیم جس کی مسیح کو انتظار تھی قرآن ہے اور اگر یہ پیشگوئی نہ ہوتی تب بھی قراٰن کا کامل اور انجیل کا ناقص ہونا خدا کی حجت کو پوری کرتا تھا
    سو جہنم کی آگ سے ڈرو اور اس آنے والے نبی کو مان لو جس کی نسبت مسیح نے بشارت دی اور اس کی کامل تعلیم کی تعریف کی مگر پھر بھی آپ کے یسوع کا اس میں بھی کچھ احسان نہیں کیونکہ
    خود زور آور نے کمزور کو گرا دیا اب صرف سمجھ کا گھاٹا ہے ورنہ اب انجیل کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔
    (۴) چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اسلامی تعلیم میں غیر مذہب والوں سے محبت کرنا
    کسی جگہ حکم نہیں آیا۔ بلکہ حکم ہے کہ بجز مسلمان کے کسی سے محبت نہ کرو۔ اماالجواب: پس واضح ہو کہ یہ تمام ناقص اور ادھوری انجیل کی نحوستیں ہیں کہ عیسائی لوگ حق اور حقیقت سے
    دور جا پڑے ورنہ اگر ایک گہری نظر سے دیکھا جائے کہ محبت کیا چیز ہے اور کس کس محل پر اس کو استعمال کرنا چاہئے اوربُغضکیا چیز ہے اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 430
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 430
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/430/mode/1up
    کن کن مقامات میں برتنا چاہئے تو فرقان کریم کا سچا فلسفہ نہ صرف سمجھ میں ہی آتا ہے بلکہ روح کو اس سے معارف حقہ کی
    ایک کامل روشنی ملتی ہے۔
    ابؔ جاننا چاہئے کہ محبت کوئی تصنع اور تکلف کا کام نہیں بلکہ انسانی قُویٰ میں سے یہ بھی ایک قوت ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس
    کی طرف کھنچے جانا اور جیسا کہ ہریک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں یہی محبت کا حال ہے کہ اس کے جوہر بھی اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے
    ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3۱؂ ۔ یعنی انہوں نے گو سالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گو سالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔ درحقیقت جو شخص کسی سے
    کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی
    صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اس نور کو
    حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے۔ اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے پس جبکہ محبت کی حقیقت یہ ہے تو پھر کیونکر ایک سچی کتاب
    جو منجانب اللہ ہے اجازت دے سکتی ہے کہ تم شیطان سے وہ محبت کرو جو خدا سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 431
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 431
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/431/mode/1up
    کرنی چاہئے اور شیطان کے جانشینوں سے وہ پیار کرو جو رحمٰن کے جانشینوں سے کرنا چاہئے افسوس کہ پہلے تو انجیل کے
    باطل ہونے پر ہمارے پاس یہی ایک دلیل تھی کہ وہ ایک عاجز مشت خاک کو خدا بناتی ہے اب یہ دوسری دلائل بھی پیدا ہوگئیں کہ اس کی دوسری تعلیمیں بھی گندی ہیں کیا یہ پاک تعلیم ہوسکتی ہے کہ
    شیطان سے ایسی ہی محبت کرو جیسا کہ خدا سے اور اگر یہ عذر کیا جائے کہ یسوع کے منہ سے سہوًا یہ باتیں نکل گئیں کیونکہ وہ الٰہیات کے فلسفہ سے ناواقف تھا تو یہ عذر نکما اور فضول ہوگا
    کیونکہ اگر وہ ایسا ہی ناواقف تھا تو کیوں اس نے قوم کے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا۔ کیا وہ بچہ تھا اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان سچے دل
    سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لئے بدل و جان ساعی ہو تا اپنے محبوب میں ہوکر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے سچی محبت
    کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔ اپنے محبوب کے گریبان سے ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اسے پی جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس میں ہوکر اور
    اس کے رنگ میں رنگین ہوکر اور اس کے ساتھ ہوکر لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ درحقیقت اس کی محبت میں کھویا گیا ہے۔ محبّتایک عربی لفظ ہے اور اصل معنی اس کے پُر ہوجانا ہے چنانچہ
    عرب میں یہ مثل مشہور ہے کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ یعنی جب عربوں کو یہ کہنا منظور ہو جاتا ہے کہ گدھے کا پیٹ پانی سے بھر گیا تو کہتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 432
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 432
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/432/mode/1up
    تَحَبَّبَ الْحِمَارُ اور جب یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ اونٹ نے اتنا پانی پیا کہ وہ پانی سے پُر ہوگیا۔ تو کہتے ہیں شربت الابل حتّٰی
    تحببت اور حَبّجو دانہ کو کہتے ہیں۔ وہ بھی اسی سے نکلا ہے۔ جس سے یہ مطلب ہے کہ وہ پہلے دانہ کی تمام کیفیت سے بھر گیا اور اسی بناء پر اِحْبَاب سونے کو بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ جو دوسرے
    سے بھر جائے گا وہ اپنے وجود کو کھودے گا گویا سو جائے گا اور اپنے وجود کی کچھ حِسّ اس کو باقی نہیں رہے گی پھر جبکہ محبَّت کی یہ حقیقت ہے تو ایسی انجیل جس کی یہ تعلیم ہے کہ شیطان
    سے بھی محبت کرو اور شیطانی گروہ سے بھی پیار کرو دوسرے لفظوں میں اس کا ماحصل یہی نکلا کہ ان کی بدکاری میں تم بھی شریک ہو جاؤ۔ خوب تعلیم ہے۔ ایسی تعلیم کیونکر خدا تعالیٰ کی طرف
    سے ہوسکتی ہے بلکہ وہ تو انسان کو شیطان بنانا چاہتی ہے خدا انجیل کی اس تعلیم سے ہر ایک کو بچاوے۔
    اگر یہ سوال ہو کہ جس حالت میں شیطان اور شیطانی رنگ و روپ والوں سے محبت کرنا
    حرام ہے تو کس قسم کا خلق ان سے برتنا چاہئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا پاک کلام قرآن شریف یہ ہدایت کرتا ہے کہ ان پر کمال درجہ کی شفقت چاہئے جیسا کہ ایک رحیم دل آدمی
    جذامیوں اور اندھوں اور لولوں اور لنگڑوں وغیرہ دکھ والوں پر شفقت کرتا ہے اور شفقت اور محبت میں یہ فرق ہے کہ محب اپنے محبوب کے تمام قول اور فعل کو بنظر استحسان دیکھتا ہے اور رغبت
    رکھتا ہے کہ ایسے حالات اس میں بھی پیدا ہوجائیں مگر مشفق شخص مشفق علیہ کے حالات بنظر
    خوف و عبرت دیکھتا ہے اور اندیشہ کرتا ہے کہ شائد وہ شخص اس تباہ حال میں ہلاک نہ ہو جائے
    اور حقیقی مشفق کی یہ علامت ہے کہ وہ شخص مشفق علیہ سے ہمیشہ نرمی سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 433
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 433
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/433/mode/1up
    پیش نہیں آتا بلکہ اس کی نسبت محل اور موقعہ کے مناسب حال کارروائی کرتا ہے اور کبھی نرمی اور کبھی درشتی سے پیش
    آتا ہے بعض وقت اس کو شربت پلاتا ہے اور بعض اوقات ایک حاذق ڈاکٹر کی طرح اس کا ہاتھ یا پیر کاٹنے میں اس کی زندگی دیکھتا ہے اور بعض اوقات اس کے کسی عضو کو چیرتا ہے اور بعض اوقات
    مرہم لگاتا ہے اگر تم ایک دن ایک بڑے شفاخانہ میں جہاں صدہا بیمار اور ہریک قسم کے مریض آتے ہوں۔ بیٹھ کر ایک حاذق تجربہ کار ڈاکٹر کی کارروائیوں کو مشاہدہ کرو تو امید ہے کہ مشفق کے معنے
    تمہاری سمجھ میں آجائیں گے۔ سو تعلیم قرآنی ہمیں ؔ یہی سبق دیتی ہے کہ نیکوں اور ابرار اخیار سے محبت کرو اور فاسقوں اور کافروں پر شفقت کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3۱؂ یعنی اے کافرو یہ
    نبی ایسا مشفق ہے جو تمہارے رنج کو دیکھ نہیں سکتا اور نہایت درجہ خواہشمند ہے کہ تم ان بلاؤں سے نجات پا جاؤ پھر فرماتا ہے3 33۲؂ یعنے کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جائے گا۔ کہ یہ لوگ
    کیوں ایمان نہیں لاتے۔ مطلب یہ ہے کہ تیری شفقت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ تو ان کے غم میں ہلاک ہونے کے قریب ہے اور پھر ایک مقام میں فرماتا ہے 33 ۳؂ یعنی مومن وہی ہیں جو ایک دوسرے
    کو صبر اور مرحمت کی نصیحت کرتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ شدائد پر صبر کرو اور خدا کے بندوں پر شفقت کرو اس جگہ بھی مرحمت سے مراد شفقت ہے کیونکہ مرحمت کا لفظ زبان عرب میں
    شفقت کے معنوں پر مستعمل ہے پس قرآنی تعلیم کا اصل مطلب یہ ہے کہ محبت جس کی حقیقت محبوب کے رنگ سے رنگین ہو جانا ہے بجز خدا تعالیٰ اور صلحاء کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 434
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 434
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/434/mode/1up
    اور کسی سے جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے جیسا کہ فرماتا ہے۱؂ ا ور فرماتا ہے ۲؂
    اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے
    ۳؂ یعنی یہود اور نصاریٰ سے محبت مت کرو اور ہر ایک شخص جو صالح نہیں اس سے محبت مت کرو۔ ان آیتوں کو پڑھ کر نادان عیسائی دھوکا کھاتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ عیسائی وغیرہ
    بے دین فرقوں سے محبت نہ کریں لیکن نہیں سوچتے کہ ہریک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اسی صورت میں بجا لانا متصور ہے کہ جب ان
    کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے نہایت سخت جاہل وہ شخص ہوگا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ پیار اور محبت اسی کا نام ہے کہ اس
    شخص کے قول اور فعل اور عادت اور خلق اور مذہب کو رضا کے رنگ میں دیکھیں۔ اور اس پر خوش ہوں اور اس کا اثر اپنے دل پر ڈال لیں اور ایسا ہونا مومن سے کافر کی نسبت ہرگز ممکن نہیں۔ ہاں
    مومن کافر پر شفقت کرے گا اور تمام دقائق ہمدردی بجا لائے گا اور اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب ملت کے تم لوگوں
    سے ہمدردی کرو بھوکوں کو کھلاؤ غلاموں کو آزاد کرو قرض داروں کے قرض دو اور زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔
    اورؔ فرماتا ہے 3۴؂ یعنی خدا تعالیٰ
    تمہیں حکم دیتا ہے کہ عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرو۔ جیسے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 435
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 435
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/435/mode/1up
    بچہ سے اس کی والدہ یا کوئی اور شخص محض قرابت کے جوش سے کسی کی ہمدردی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے ۱؂ یعنی
    نصاریٰ وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی تو اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے
    کے لئے لڑائیاں نہیں کیں۔ اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگرچہ عیسائی ہوں یا یہودی ہوں بے شک ان پر احسان کرو ان سے ہمدردی کرو انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا
    ہے اور پھر فرماتا ہے:۔ ۔۲؂ یعنی خدا نے جو تمہیں ہمدردی اور دوستی سے منع کیا ہے تو صرف ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے دینی لڑائیاں تم سے کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نکالا اور بس نہ
    کیا۔ جب تک باہم مل کر تمہیں نکال نہ دیا۔ سو ان کی دوستی حرام ہے۔ کیونکہ یہ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تَوَلِّیْ *عربی زبان میں دوستی کو
    کہتے ہیں جس کا دوسرا نام مودت ہے اور اصل حقیقت دوستی اور مودت کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے۔ سو مومن نصاریٰ اور یہود اور ہنود سے دوستی اور ہمدردی اور خیر خواہی
    * نوٹ:
    تولی کی تا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تولی میں ایک تکلف ہے جو مغائرت پر دلالت کرتا ہے مگر محبت میں ایک ذرّہ مغائرت باقی نہیں رہتی۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 436
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 436
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/436/mode/1up
    کرسکتا ہے۔ احسان کرسکتا ہے مگر ان سے محبت نہیں کرسکتا یہ ایک باریک فرق ہے اس کو خوب یاد رکھو۔
    پھر آپ نے یہ
    اعتراض کیا ہے کہ مسلمان لوگ خدا کے ساتھ بھی بلا غرض محبت نہیں کرتے ان کو یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ خدا اپنی خوبیوں کی وجہ سے محبت کے لائق ہے۔ اما الجواب۔ پس واضح ہو کہ یہ
    اعتراض درحقیقت انجیل پر وارد ہوتا ہے نہ قرآن پر کیونکہ انجیل میں یہ تعلیم ہرگز موجود نہیں کہ خدا سے محبت ذاتی رکھنی چاہئے اور محبت ذاتی سے اس کی عبادت کرنی چاہئے مگر قرآن تو اس
    تعلیم سے بھرا پڑا ہے قرآن نے صاف فرما دیا ہے۱؂ * ۔۲؂ یعنی خدا کو ایسا یاد کرو۔ جیسا کہ اپنے باپوں کو بلکہ اس سے بہت زیادہ۔ اور مومنوں کی یہی شان ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر خدا سے
    محبت رکھتے ہیں یعنی ایسی محبت نہ وہ اپنے باپ سے کریں اور نہ اپنی ماں سے اورؔ نہ اپنے دوسرے پیاروں سے اور نہ اپنی جان سے اور پھر فرمایا: ۳؂ یعنی خدا نے تمہارا محبوب ایمان کو
    بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور پھر فرمایا۴؂ یہ آیت حق اللہ اور حق العباد پر مشتمل ہے اور اس میں کمال بلاغت یہ ہے کہ دونوں پہلو پر اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم کیا ہے۔ حق
    العباد کا پہلو تو ہم ذکر
    * نوٹ:انجیل کی رو سے ہر یک فاسق فاجر خدا کا بیٹا ہے بلکہ آپ ہی خدا ہے سو انجیل اس وجہ سے کسی کو خدا کا بیٹا قرار نہیں دیتی کہ وہ خدا سے کامل محبت رکھتا
    ہے بلکہ بائبل کی رو سے زانی لوگ بھی خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 437
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 437
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/437/mode/1up
    کرچکے ہیں اور حق اللہ کے پہلو کی رو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ انصاف کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی اطاعت کر
    کیونکہ جس نے تجھے پیدا کیا اور تیری پرورش کی اور ہر وقت کر رہا ہے اس کا حق ہے کہ تو بھی اس کی اطاعت کرے اور اگر اس سے زیادہ تجھے بصیرت ہوتو نہ صرف رعایت حق سے بلکہ
    احسان کی پابندی سے اس کی اطاعت کر کیونکہ وہ محسن ہے اور اس کے احسان اس قدر ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے اور ظاہر ہے کہ عدل کے درجہ سے بڑھ کر وہ درجہ ہے جس میں اطاعت کے
    وقت احسان بھی ملحوظ رہے اور چونکہ ہر وقت مطالعہ اور ملاحظہ احسان کا محسن کی شکل اور شمائل کو ہمیشہ نظر کے سامنے لے آتا ہے اس لئے احسان کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ ایسے
    طور سے عبادت کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے درحقیقت تین قسم پر منقسم ہیں۔ اوّل وہ لوگ جو بباعث محجوبیت اور رویت اسباب کے احسان الٰہی کا
    اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے اور نہ وہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایات عظیمہ کا
    تصور کر کے جنبش میں آیا کرتی ہے بلکہ صرف ایک اجمالی نظر سے خدا تعالیٰ کے حقوق خالقیت وغیرہ کو تسلیم کرلیتے ہیں اور احسان الٰہی کی ان تفصیلات کو جن پر ایک باریک نظر ڈالنا اس حقیقی
    محسن کو نظر کے سامنے لے آتا ہے ہرگز مشاہدہ نہیں کرتے کیونکہ اسباب پرستی کا گردوغبار مُسبّبِ حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے روک دیتا ہے اس لئے ان کو وہ صاف نظر میسر نہیں آتی جس
    سے کامل طور پر معطی حقیقی کا جمال مشاہدہ کرسکتے سو ان کی ناقص معرفت رعایت اسباب کی کدورت سے ملی ہوئی ہوتی ہے اور بوجہ اس کے جو وہ خدا کے احسانات کو اچھی طرح دیکھ نہیں
    سکتے خود بھی اس کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 438
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 438
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/438/mode/1up
    طرف وہ التفات نہیں کرتے جو احسانات کے مشاہدہ کے وقت کرنی پڑتی ہے جس سے محسن کی شکل نظر کے سامنے آجاتی
    ہے بلکہ ان کی معرفت ایک دھندلی سی ہوتی ہے۔ و جہ یہ کہ وہ کچھ تو اپنی محنتوں اور اپنے اسباب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کچھ تکلف کے طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا حق خالقیّت اور
    رزّاقیّت ہمارے سر پر واجب ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کے وسعت فہم سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اس لئے ان سے جب تک کہ وہ اس حالت میں ہیں یہی چاہتا ہے کہ اس کے حقوق کا شکر
    ادا کریں اور آیت اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ میں عدل سے مراد یہیؔ اطاعت برعایت عدل ہے۔ مگر اس سے بڑھ کر ایک اور مرتبہ انسان کی معرفت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں
    انسان کی نظر رویت اسباب سے بالکل پاک اور منزہ ہوکر خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ہاتھ کو دیکھ لیتی ہے اور اس مرتبہ پر انسان اسباب کے حجابوں سے بالکل باہر آجاتا ہے اور یہ مقولہ کہ
    مثلاً میری اپنی ہی آبپاشی سے میری کھیتی ہوئی اور یا میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زید کی مہربانی سے فلاں مطلب میرا پورا ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا
    یہ تمام باتیں ہیچ اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اور ایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ایک ذرہ شرک فی الاسباب کی
    گردوغبار نہیں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے اور یہ رویت اس قسم کی صاف اور یقینی ہوتی ہے کہ وہ ایسے محسن کی عبادت کرنے کے وقت اس کو غائب نہیں سمجھتا بلکہ یقیناً اس کو حاضر
    خیال کرکے اس کی عبادت کرتا ہے اور اس عبادت کا نام قرآن شریف میں اِحْسَان
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 439
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 439
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/439/mode/1up
    ہے۔ اور صحیح بخاری اور مسلم میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔
    اور اس
    درجہ کے بعد ایک اور درجہ ہے جس کا نام ایتاء ذی القربٰی* ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک مدت تک احسانات الٰہی کو بلا شرکت اسباب دیکھتا رہے اور اس کو حاضر اور بلاواسطہ
    محسن سمجھ کر اس کی عبادت کرتا رہے تو اس تصور اور تخیل کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ذاتی محبت اس کو جناب الٰہی کی نسبت پیدا ہو جائے گی کیونکہ متواتر احسانات کا دائمی ملاحظہ
    بالضرورت شخص ممنون کے دل میں یہ اثر پیدا کرتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ اس شخص کی ذاتی محبت سے بھر جاتا ہے جس کے غیر محدود احسانات اس پر محیط ہوگئے پس اس صورت میں وہ صرف
    احسانات کے تصور سے اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ اس کی ذاتی محبت اس کے دل میں بیٹھ جاتی ہے جیسا کہ بچہ کو ایک ذاتی محبت اپنیؔ ماں سے ہوتی ہے۔ پس اس مرتبہ پر وہ عبادت کے وقت
    صرف خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہی نہیں بلکہ دیکھ کر سچے عشاق کی طرح لذت بھی اٹھاتا ہے اور تمام اغراض نفسانی
    *نوٹ: مرتبہ ایتاء ذی القربٰی متواتر احسانات کے ملاحظہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور
    اس مرتبہ میں کامل طور پر عابد کے دل میں محبت ذات باری تعالیٰ کی پیدا ہوجاتی ہے اور اغراض نفسانیہ کا رائحہ اور بقیہ بالکل دور ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت ذاتی کا اصل اور منبع دو ہی
    چیزیں ہیں (۱) اوّلکثرت سے مطالعہ کسی کے حسن کا اور اس کے نقوش اور خال و خط اور شمائل کو ہر وقت ذہن میں رکھنا اور بار بار اس کا تصور کرنا (۲) دوسریکثرت سے تصور کسی کے
    متواتر احسانات کا کرنا اور اس کے انواع و اقسام کے مروتوں اور احسانوں کو ذہن میں لاتے رہنا اور ان احسانوں کی عظمت اپنے دل میں بٹھانا۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 440
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 440
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/440/mode/1up
    معدوم ہوکر ذاتی محبت اس کی اندر پیدا ہوجاتی ہے اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور اسی
    کی طرف خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے ۱؂ غرض آیت ۲؂ کی یہ تفسیر ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے تینوں مرتبے انسانی معرفت کے بیان کر دیئے اور تیسرے مرتبہ کو محبت ذاتی کا مرتبہ
    قرار دیا اور یہ وہ مرتبہ ہے جس میں تمام اغراض نفسانی جل جاتے ہیں اور دل ایسا محبت سے بھر جاتا ہے جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں
    ہے۳؂ یعنی بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضاء الٰہی کے عوض میں بیچ دیتے ہیں اور خدا ایسوں ہی پر مہربان ہے*۔ اور پھر فرمایا۴؂ یعنی وہ لوگ نجات یافتہ ہیں جو خدا کو اپنا
    وجود حوالہ کر دیں اور اس کی نعمتوں کے تصور سے اس طور سے اس کی عبادت کریں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں سو ایسے لوگ خدا کے پاس سے اجر پاتے ہیں اور نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ
    وے کچھ غم کرتے ہیں یعنی ان کا مدّعا خدا اور خدا کی محبت ہوجاتی ہے اور خدا کے پاس کی نعمتیں ان کا اجر ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا
    * نوٹ: نفس کے بیچنے میں یہ بات داخل ہے کہ
    انسان اپنی زندگی اور اپنے آرام کو جلال الٰہی کے ظاہر کرنے اور دین کی خدمت میں وقف کردیوے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 441
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 441
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/441/mode/1up
    ا؂ یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو روٹی کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روٹی
    کھلانے سے تم سے کوئی بدلہ اور شکر گذاری نہیں چاہتے اور نہ ہماری کچھ غرض ہے ان تمام خدمات سے صرف خدا کا چہرہ ہمارا مطلب ہے۔ اب سوچنا چاہئے کہ ان تمام آیات سے کس قدر صاف
    طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف نے اعلیٰ طبقہ عبادت الٰہی اور اعمال صالحہ کا یہی رکھا ہے کہ محبت الٰہی اور رضاء الٰہی کی طلب سچے دل سے ظہور میں آوے مگر اس جگہ سوال یہ ہے
    کہ کیا یہ عمدہ تعلیم جو نہایت صفائی سے بیان کی گئی ہے انجیل میں بھی موجود ہے ہم ہر یک کو یقین دلاتے ہیں کہ اس صفائی اور تفصیل سے انجیل نے ہرگز بیان نہیں کیا۔ خدا تعالیٰ نے تو اس دین کا
    نام اسلام اس غرض سے رکھا ہے کہ تاانسان خدا تعالیٰ کی عبادت نفسانی اغراض سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے کرے کیونکہ اسلام تمام اغراض کے چھوڑ دینے کے بعد رضا بقضا کا نام ہے دنیا میں
    بجز اسلام ایسا کوئی مذہب نہیں جس کے یہ مقاصد ہوں بے شک خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت جتلانے کے لئے مومنوں کو انواع اقسام کی نعمتوں کے وعدے دیئے ہیں مگر مومنوں کو جو اعلیٰ مقام کے
    خواہش مند ہیں یہی تعلیم دی ہے کہ وہ محبت ذاتی سے خداتعالیٰ کی عبادت کریں لیکن انجیل میں تو صاف شہادتیں موجود ہیں کہ آپ کے یسوع صاحب کے حواری لالچی اور کم عقل تھے پس جیسی ان
    کی عقلیں اور ہمتیں تھیں ایسی ہی ان کو ہدایت بھی ملی اور ایسا ہی یسوع بھی ان کو مل گیا۔ جس نے اپنی خودکشی کا دھوکا دے کر سادہ لوحوں کو عبادت کرنے سے روک دیا۔
    اگر کہو کہ انجیل نے
    یہ سکھلا کر کہ خدا کو باپ کہو محبت ذاتی کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 442
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 442
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/442/mode/1up
    طرف اشارہ کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط ہے کیونکہ انجیلوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح
    نے خدا کے بیٹے کا لفظ دو طور سے استعمال کیا ہے (۱) اوّل تو یہ کہ مسیح کے وقت میں یہ قدیم رسم تھی کہ جو شخص رحم اور نیکی کے کام کرتا اور لوگوں سے مروت اور احسان سے پیش آتا
    تو وہ واشگاف کہتا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور اس لفظ سے اس کی یہ نیت ہوتی تھی کہ جیسے خدا نیکوں اور بدوں دونوں پر رحم کرتا ہے اور اس کے آفتاب اور ماہتاب اور بارش سے تمام بُرے بھلے
    فائدہ اٹھاتے ہیں ایسا ہی عام طور پر نیکی کرنا میری عادت ہے لیکن فرق اس قدر ہے کہ خدا تو ان کاموں میں بڑا ہے اور میں چھوٹا ہوں۔ سو انجیل نے بھی اس لحاظ سے خدا کو باپ ٹھہرایا کہ وہ بڑا
    ہے اور دوسروں کو بیٹا ٹھہرایا یہ نیت کرکے کہ وہ جھوٹے ہیں مگر اصل امر میں خدا سے مساوی کیا یعنی کمیّت میں کمی بیشی کو مان لیا مگر کیفیت میں باپ بیٹا ایک رہے اور یہ ایک مخفی شرک تھا
    اس لئے کامل کتاب یعنی قرآن شریف نے اس طرح کی بول چال کو جائز نہیں رکھا یہودیوں میں جو ناقص حالت میں تھے جائز تھا اور انہیں کی تقلید سے یسوع نے اپنی باتوں میں بیان کردیا چنانچہ
    انجیل کے اکثر مقامات میں اسی قسم کے اشارے پائے جاتے ہیں کہ خدا کی طرح رحم کرو خدا کی طرح صلح کار بنو خدا کی طرح دشمنوں سے بھی ایسی ہی بھلائی کرو جیسا کہ دوستوں سے تب تم
    خدا کے فرزند کہلاؤ گے کیونکہ اس کے کام سے تمہارا کام مشابہ ہوگا صرف اتنا فرق رہا کہ وہ بڑا بمنزلہ باپ خدا اور تم چھوٹے بمنزلہ بیٹے کے ٹھہرے سو یہ تعلیم درحقیقت یہودیوں کی کتابوں
    سے لی گئی تھی اسی لئے
    یہودیوں کا ابؔ تک یہ اعتراض ہے کہ یہ چوری اور سرقہ ہے بائبل سے چرا کر یہ باتیں انجیل میں لکھ دیں۔ بہرحال یہ تعلیم ایک تو ناقص ہے اور دوسرے اس طرح کا بیٹا
    محبت ذاتی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 443
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 443
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/443/mode/1up
    (۲) دوسری قسم کے بیٹے کا انجیل میں ایک بے ہودہ بیان ہے جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ میں ہے یعنی اس ورس میں بیٹا
    تو ایک طرف ہریک کو خواہ کیسا ہی بدمعاش ہو خدا بنادیا ہے اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ نوشتوں کا باطل ہونا ممکن نہیں۔ غرض انجیل نے شخصی تقلید سے اپنی قوم کا ایک مشہور لفظ لے لیا علاوہ اس
    کے یہ بات خود غلط ہے کہ خدا کو باپ قرار دیا جاوے اور اس سے زیادہ تر نادان اور بے ادب کون ہوگا کہ باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے چنانچہ ہم اس بحث کو بفضلہ تعالیٰ کتاب منن الرحمن
    میں بتفصیل بیان کرچکے ہیں۔ اس سے آپ پر ثابت ہوگا کہ خدا تعالیٰ پر باپ کا لفظ اطلاق کرنا نہایت گندہ اور ناپاک طریق ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم نے سمجھانے کے لئے یہ تو کہا کہ خدا تعالیٰ
    کو ایسی محبت سے یاد کرو جیسا کہ باپوں کو یاد کرتے ہو مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کو باپ سمجھ لو۔
    اور انجیل میں ایک اور نقص یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم کسی جگہ نہیں
    دی کہ عبادت کرنے کے وقت اعلیٰ طریق عبادت یہی ہے کہ اغراض نفسانیہ کو درمیان سے اٹھادیا جاوے بلکہ اگر کچھ سکھلایا تو صرف روٹی مانگنے کے لئے دعا سکھلائی۔ قرآن شریف نے تو ہمیں
    یہ دعا سکھلائی کہ ۔۱؂یعنی ہمیں اس راہ پر قائم کر جو نبیوں اور صدّیقوں کی اور عاشقان الٰہی کی راہ ہے۔ مگر انجیل یہ سکھلاتی ہے کہ ہماری روزینہ کی روٹی آج ہمیں بخش۔ ہم نے تمام انجیل پڑھ
    کر دیکھی اس میں اس اعلیٰ تعلیم کا نام و نشان نہیں ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 444
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 444
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/444/mode/1up
    اعتراض پنجم
    محمد صاحب کی ایک غیر عورت پر نظر پڑی۔ تو آپ نے گھر میں آکر اپنی بیوی سودہ سے خلوت کی پس جو
    شخص غیر عورت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہیں آسکتا۔ جب تک اپنی عورت سے خلوت نہ کرے اور اپنے نفس کی حرص کو پورا نہ کرے تو وہ فرد اکمل کیونکر ہوسکتا ہے۔
    اقولمیں کہتا ہوں
    کہ جس حدیث کے معترض نے الٹے معنے سمجھ لئے ہیں وہ صحیح مسلم میں ہے اور ؔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ عن جابر ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رأی امرأۃ فاتی امرأتہ زینب وھی تمعسُ منیّۃ
    لھا فقضی حاجتہ۔ اس حدیث میں سودہؓ کا کہیں ذکر نہیں اور معنے حدیث کے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا۔ پھر اپنی بیوی زینبؓ کے پاس آئے اور وہ چمڑہ کو
    مالش کر رہی تھی۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت پوری کی۔ اب دیکھو کہ حدیث میں اس بات کا نام و نشان نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عورت کا حسن و جمال پسند
    آیا بلکہ یہ بھی ذکر نہیں کہ وہ عورت جوان تھی یا بڈھی تھی اور یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت نے اپنی بیوی سے آکر صحبت کی۔ الفاظ حدیث صرف اس قدر ہیں کہ اس سے اپنی حاجت کو پورا
    کیا اور لفظ قَضٰی حَاجَتَہ‘ لغت عرب میں مباشرت سے خاص نہیں ہے۔ قضاء حاجت پاخانہ پھرنے کو بھی کہتے ہیں اور کئی معنوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے صحبت کی تھی۔ ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔ علاوہ اس کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 445
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 445
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/445/mode/1up
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ بات مروی نہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھ کر اپنی بیوی سے صحبت کی۔
    اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ مسلم میں جابر سے ایک حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے۔ اور وہ اس کی نظر میں خوبصورت معلوم ہو۔ تو بہتر
    ہے کہ فی الفور گھر میں آکر اپنی عورت سے صحبت کر لے۔ تاکہ کوئی خطرہ بھی دل میں گذرنے نہ پائے اور بطور حفظ ماتقدم علاج ہوجائے۔ پس ممکن ہے کہ کسی صحابی نے اس حدیث کے سننے
    کے بعد دیکھا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی راہ میں کوئی جوان عورت سامنے آگئی اور پھر اس کو یہ بھی اطلاع ہوگئی کہ اس وقت کے قریب ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
    اتفاقاً اپنی بیوی سے صحبت کی تو اس نے اس اتفاقی امر پر اپنے اجتہاد سے اپنے گمان میں ایسا ہی سمجھ لیا ہو کہ اس حدیث کے موافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عمل کیا۔
    پھر اگر
    فرض بھی کر لیں کہ وہ قول صحابی کا صحیح تھا تو اس سے کوئی بد نتیجہ نکالنا کسی بد اور خبیث آدمی کا کام ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس بات پر بہت
    حریص ہوتے ہیں
    کہ ہریک نیکی اور تقویٰ کے کام کو عملی نمونہ کے پیرایہ میں لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیں۔ پس بسااوقات وہ تنزل کے طور پر کوئی ایسا نیکی اور تقویٰ کا کام بھی کرتے ہیں جس میں محض عملی نمونہ
    دکھانا منظور ہوتا ہے اور ان کے نفس کو اس کی کچھ بھی حاجت نہیں ہوتی جیسا کہ ہم قانون قدرت کے آئینہ میں یہ بات حیوانات میں بھی پاتے ہیں۔ مثلاً ایک مرغی صرف مصنوعی طور پر اپنی منقار
    دانہ پر اس غرض سے مارتی ہے کہ اپنے بچوں کو سکھاوے کہؔ اس طرح دانہ زمین پر سے اٹھانا چاہئے سو عملی نمونہ دکھانا کامل معلّم کے لئے ضروری ہوتا ہے اور ہریک فعل معلّم کا اس کے دل
    کی حالت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 446
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 446
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/446/mode/1up
    کا معیار نہیں ہوتا ماسوا اس کے ایک خوبصورت کو اگر اتفاقاً اس پر نظر پڑ جائے خوبصورت سمجھنا نفس الامر میں کوئی بات
    عیب کی نہیں۔ ہاں بدخطرات کامل تقدس کے برخلاف ہیں لیکن جو شخص بدخطرات سے پہلے حفظ ماتقدم کے طور پر تقویٰ کی دقیق راہوں پر قدم مارے تاخطرات سے دور رہے تو کیا ایسا عمل کمال
    کے منافی ہوگا۔ یہ تعلیم قرآن شریف کی نہایت اعلیٰ ہے کہ ۱؂۔ یعنی جس قدر کوئی تقویٰ کی دقیق راہیں اختیار کرے اسی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے پس بلاشبہ یہ نہایت اعلیٰ
    مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل ازخطرات خطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ماتقدم کی جائے۔
    اور اگر یہ دعویٰ ہو کہ کاملین بہرحال خطرات سے محفوظ رہتے ہیں ان کو تدبیر کی حاجت
    نہیں تو یہ دعویٰ سراسر حماقت اور قصور معرفت کی وجہ سے ہوگا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کسی معصیت اور نافرمانی پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی دلی عزیمت نہیں کرسکتے اور ایسا کرنا ان کے
    لئے کبائر ذنوب کی طرح ہے لیکن انسانی قویٰ اپنے خواص اُن میں بھی دکھلا سکتے ہیں گو وہ بدخطرات پر قائم ہونے سے بکلّی محفوظ رکھے گئے ہیں مثلاً اگر ایک نبی بشدت بھوکا ہو اور راہ میں وہ
    بعض درخت پھلوں سے لدے ہوئے پائے تو یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بغیر اجازت مالک پھلوں کی طرف ہاتھ لمبا نہیں کرے گا اور نہ دل میں ان پھلوں کے توڑنے
    کے لئے عزیمت کرے گا لیکن
    یہ خیال اس کو آسکتا ہے۔ کہ اگر یہ پھل میری ملک میں سے ہوتے تو میں ان کو کھا سکتا اور یہ خیال کمال کے منافی نہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ کے خدا صاحب تھوڑی سی بھوک کے عذاب پر صبر نہ
    کر کے کیونکر انجیر کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 447
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 447
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/447/mode/1up
    درخت کی طرف دوڑے گئے کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ یہ درخت ان کا یا ان کے والد صاحب کی ملک میں سے تھا۔ پس جو
    شخص بیگانہ درخت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہ آسکا اور پیٹ کو بھینٹ چڑھانے کے لئے اس کی طرف دوڑا گیا وہ خدا تو کیا بلکہ بقول آپ کے فرد اکمل بھی نہیں۔
    الغرض کسی کے دل میں
    یہ خیال گذرنا کہ یہ چیز خوبصورت ہے یہ ایک علیحدہ امر ہے جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں جیسے وہ کانٹے اور پھول میں فرق کرسکتا ہے۔ ایسا ہی وہ خوبصورت اور بدصورت میں فرق کرسکتا ہے
    آپ کے خدا صاحب کو شاید یہ قوت ممیزہ فطرت سے نہیں ملی ہوگی مگر پیٹ کی شہوت کے لئے تو انجیر کے درخت کی طرف دوڑے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ کس کا انجیر ہے۔
    تعجبؔ کہ ایک
    شرابی اور کھاؤ پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ذات جس کی زندگی اور جس کا ہریک فعل خدا کے لئے تھا اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست رکھیں عجب تاریکی کا زمانہ
    ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بدنظری کا پیش خیمہ ہے اور اگر اتفاقاً کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ
    خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو۔ خوب یاد رکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظ ماتقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہیضہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے
    لئے حفظ ماتقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہوگیا ہے یا ہیضہ کے آثار اس میں ظاہر ہوگئے ہیں بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہوگی اور
    سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعاً نفرت رکھتا ہے اور اس سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 448
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 448
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/448/mode/1up
    دور رہنا چاہتا ہے۔ اس بات میں آپ کے ساتھ کوئی بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا کمال کے برخلاف
    ہے۔ اگر انبیاء علیہم السلام تقویٰ کا نمونہ نہ دکھلاویں تو اور کون دکھلاوے جو خدا ترسی میں سب سے بڑھ کر ہوتا ہے وہی سب سے بڑھ کر تقویٰ بھی اختیار کرتا ہے وہ بدی سے اپنے تئیں دور رکھتا
    ہے وہ ان راہوں کو چھوڑ دیتا ہے جس میں بدی کا احتمال ہوتا ہے مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روویں کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت
    کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز اور نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر
    مالش کرتی اگر یسوع کا دل بدخیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا مگر ایسے لوگوں کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔ وہ ایسے نفسانی
    موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی
    ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ٹال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے۔ ایسا اخلاص تو تجھ میں بھی
    نہیں پایا گیا۔ سبحان اللہ یہ کیا عمدہ جواب ہے۔ یسوع صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر رہے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے۔ دعویٰ خدائی کا اور کام ایسے۔ بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے
    سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے پینے میں بھی ایسا اول نمبر کا جو لوگوں میں یہ اس کا نام ہی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 449
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 449
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/449/mode/1up
    پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔ اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید ہوسکتی ہے ہمارؔ ے سیّد و مولیٰ افضل الانبیاء خیر
    الاصفیاء محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاک دامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کرنے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور
    بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے مگر کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب
    بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشمنا اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشہ کررہی ہے یسوع
    صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں۔ اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصورت کسبی
    عورت سامنے پڑی ہے۔ جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع
    کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے اور
    شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف
    میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 450
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 450
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/450/mode/1up
    اعتراض ہفتم
    متعہ کا جائز کرنا اور پھر ناجائز کرنا
    اما الجواب نادان عیسائیوں کو معلوم نہیں کہ اسلام نے متعہ کو رواج
    نہیں دیا۔ بلکہ جہان تک ممکن تھا اس کو دنیا میں سے گھٹایا اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں متعہ کی رسم تھی یعنی یہ کہ ایک وقت خاص تک نکاح کرنا پھر طلاق دے
    دینا اور اس رسم کے پھیلانے والے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا کہ جو لوگ لشکروں میں منسلک ہوکر دوسرے ملکوں میں جاتے تھے یا بطریق تجارت ایک مدت تک دوسرے ملک میں رہتے تھے ان
    کو موقت نکاح یعنی متعہ کی ضرورت پڑتی تھی اور کبھی یہ بھی باعث ہوتا کہ غیر ملک کی عورتیں پہلے سے بتلا دیتی تھیں کہ وہ ساتھ جانے پر راضی نہیں اس لئے اسی نیت سے نکاح ہوتا تھا کہ
    فلاں تاریخ طلاق دی جائے گی۔ پس یہ سچ ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ اس قدیم رسم پر بعض مسلمانوں نے بھی عمل کیا*۔ مگرؔ وحی اور الہام سے نہیں بلکہ جو قوم میں پرانی رسم تھی معمولی طور پر
    اس پر عمل ہوگیا لیکن متعہ میں بجز اس کے اور کوئی بات نہیں کہ وہ ایک تاریخ مقررہ تک نکاح ہوتا ہے اور وحی الٰہی نے آخر اس کو حرام کر دیا چنانچہ ہم رسالہ آریہ دھرم میں اس کی تفصیل لکھ
    چکے ہیں مگر تعجب کہ عیسائی لوگ کیوں متعہ کا ذکر کرتے ہیں جو صرف ایک نکاح موقت ہے اپنے یسوع کے چال چلن کو کیوں نہیں دیکھتے
    * نوٹ:یہ عمل سخت اضطرار کے وقت تھا جیسے
    بھوک سے مرنے والا مُردہ کھا لے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 451
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 451
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/451/mode/1up
    دیکھتے کہ وہ ایسی جوان عورتوں پر نظر ڈالتا ہے جن پر نظر ڈالنا اس کو درست نہ تھا۔ کیا جائز تھا کہ ایک کسبی کے ساتھ وہ
    ہم نشین ہوتا۔ کاش اگر وہ متعہ کا ہی پابند ہوتا تو ان حرکات سے بچ جاتا۔ کیا یسوع کی بزرگ دادیوں نانیوں نے متعہ کیا تھا یا صریح صریح زنا کاری تھی ہم عیسائی صاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ جس
    مذہب میں نہ متعہ یعنی نکاح موقت درست ہے اور نہ ازدواج ثانی جائز اس مذہب کے لشکری لوگ جو بباعث رعایت حفظ قوت کے راہبانہ زندگی بھی بسر نہیں کرسکتے بلکہ شہوت کی جنبش دینے
    والی شرابیں پیتے ہیں اور عمدہ سے عمدہ خوراکیں کھاتے ہیں تا سپاہیانہ کاموں کے بجا لانے میں چست و چالاک رہیں جیسے گوروں کی پلٹنیں وہ کیونکر بدکاریوں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہیں اور ان
    کی حفظ عفت کے لئے انجیل میں کیا قانون ہے اور اگر کوئی قانون تھا اور انجیل میں ایسے مجردوں کا کچھ علاج لکھا تھا تو پھر کیوں سرکار انگریزی نے ایکٹ چھاؤنی ہائے نمبر ۱۳ ۱۸۸۹ ؁ء جاری
    کرکے یہ انتظام کیا کہ گورہ سپاہی فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوا کریں یہاں تک کہ سر جارج رائٹ صاحب کمانڈر انچیف افواج ہند نے ماتحت حکام کو ترغیب دی کہ ایسی خوبصورت اور جوان
    عورتیں گوروں کی زنا کاری کے لئے بہم پہنچائی جائیں یہ ظاہر ہے کہ اگر ایسی ضرورتوں کے وقت جنہوں نے حکام کو ان قابل شرم تجویزوں کے لئے مجبور کیا انجیلوں میں کوئی تدبیر ہوتی تو وہ
    حلال طریق کو چھوڑ کر ناپاک طریقوں کو اپنے بہادر سپاہیوں میں رواج نہ دیتے۔ اسلام میں کثرت ازدواج کی برکتوں نے ہریک زمانہ میں سلاطین کو ان ناپاک تدبیروں سے بچا لیا اسلامی سپاہی نکاح سے
    اپنے تئیں حرام کاری سے بچا لیتے ہیں اگر پادری صاحبان کوئی مخفی تدابیر انجیل کی حرام کاری سے بچانے کی یاد رکھتے ہیں تو اس طریق سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 452
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 452
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/452/mode/1up
    گورنمنٹ کو روک دیں۔ کیونکہ اخبار ٹائمز نے اب پھر زور شور سے اس قانون کو دوبارہ جاری کرنے کے لئے سلسلہ جنبانی
    کی ہے یہ سب باتیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انجیل کی تعلیم ناقص ہے۔ اور اس میں تمدن کے ہریک پہلو کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ باقی آئندہ۔ انشاء اللہ۔
    الراقم : میرزا غلام احمد قادیانی
    بِسْمِ اللّٰہِ
    الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا مَضٰی وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ علٰی ما بقی والصّلٰوۃ وَالسَّلَامُ علٰی مُحَمَّدٍ خَےْر الورٰی وَ اَھْلَ بَیْتِ
    الْمُصْطَفٰی و علی المؤمنین بنبیّہ المجتبٰی: محبان اہل اسلام کو واضح ہو کہ اس
    عرصہ میں ایک کتاب نُور الحَق مرسلہ امام الہمام میرزا غلام احمد صاحب قادیانی میرے پاس پہنچی اس کو میں نے دیکھا اور نیز کچھ تحریرات متعلقہ محمد حسین بطالوی نظر سے گذریں۔ جن کو دیکھ
    کر سخت افسوس ہوا کہ باوجود اس فہم و ذکا اور شہرہ آفاق ہونے کے اور چند عرصہ تک میرزا صاحب کی قدم بوسی حاصل کرنے کے اور ثنا گو ہونے کے بھی یکبارگی ایسے لوٹے کہ کفر تک نوبت
    پہنچا دی (ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا) حالانکہ زمانہ کی بھی کیفیت مثل آئینہ کے کھل رہی ہے اور دیکھ رہے ہیں کہ قوم دجّال پوری دجالیت کر رہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا
    فرمانا صادق ہوتا جاتا ہے اور اس پر بھی مقصد لِکُلّ فرعون موسٰیکا نہیں سمجھتے اور کیونکر سمجھ سکتے ہیں جبکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔۱؂ اسی جگہ پر قدرت کبریائی نظر آتی ہے کہ جس کسی کو
    گمراہ کرانا منظور ہوتا ہے تو ایسے ہی اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ جن باتوں کو علماء محققین نکات ٹھہراتے تھے یہ صاحب کفریات جانتے ہیں زمانہ کے حال کو بھولے جاتے ہیں آج جو ہمارے پیغمبر
    آخرالزمان کے جھنڈے کا پھریرہ اڑا رہا ہے اور اس کے دین
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 453
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 453
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/453/mode/1up
    کو زندہ کر رہا ہے۔ ہمارا حامی و مددگار ہو رہا ہے ہمارے دشمنان دین کو زیر قدم کر رہا ہے کرامت کا جو آج کل بے نام و نشان
    ہے دعویٰ کر رہا ہے۔ جیسا کہ لائق ہے اس پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔ ویل ان لوگوں پر جو ایسا خیال رکھتے ہیں فی زمانہ فلسفہ طبعی والوں کے نزدیک کرامت کوئی چیز نہیں۔ دیکھئے فرقہ نیچریہ
    عجب ڈھب کا نکلا ہے کہ جس وقت ایسی بحث آکر ہوتی ہے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کوئی نہیں کر کے دکھلائے اگر کرامت کا قائل ہے اگر کرامت یا معجزات نعوذ باللہ بے وجود سمجھے جاتے ہیں تو
    اس کا اثر بد کہاں تک پہنچتا ہے یہ شکر کا مقام تھا کہ ہماری کشتی جو بھنور میں چکرا رہی تھی ایک ملاح نے اس کو آکر نکال لیا اس کو تسلیم کرتے نہ اس پر الزام کذب و فریب لگاتے۔ اس وقت یہ بندہ
    کہتا ہے کہ جیسا مجھ کومعلوم ہوا ہے اور وہ حق ہے تو بے شک امام ہمام میرزا غلام احمد صاحب مُجَدّد وقت ہیں اور میں بصد اشتیاق ان کے دیدار کا طالب ہوں اور شب و روز اللہ جلّ و علیٰ سے
    مستدعی ہوں کہ اگر مرزا صاحب کو تو نے حق پر بھیجا ہے تو مجھ کو بھی ان کی زیارت سے مشرف کر اور اُسی جماعت مومنین سے شمار کیا جاؤں میں پہلے متذبذب تھا اب یقیناً بعد دریافت ثبوت
    صحیحہ کہتا ہوں کہ جو میں نے لکھا ہے سب صحیح اور حق ہے اور میں انہیں مجدد صادق سمجھتا ہوں۔ والسلام۔
    الراقم: عضد الدین از بچھرایوں ضلع مراد آباد
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 454
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 454
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/454/mode/1up
    اُن صاحبوں کے نام جو آجکل حضرت امام کامل کی خدمت میں حاضر ہیں
    (۱) حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب
    بھیروی (۲) حکیم فضل الدین صاحب بھیروی (۳) مولوی قطب الدین صاحب بدوملی (۴) صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانہ (۵) صاحبزادہ منظور محمد صاحب لدھیانہ (۶) مولوی
    عنایت اللہ صاحب مدرس مانانوالہ ضلع گوجرانوالہ (۷) قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ (۸) خلیفہ نور الدین صاحب جموں (۹) سید ناصر نواب صاحب دہلوی (۱۰)
    شیخ عبد الرحیم صاحب* (۱۱) شیخ عبد العزیز صاحب (۱۲) حاجی وریام صاحب خوشابی (۱۳) ثناء اللہ صاحب خوشابی (۱۴) مولوی خدا بخش صاحب جالندھری (۱۵) عبد الکریم
    صاحب خوشنویس (۱۶) شیخ غلام محی الدین صاحب کتب فروش جہلمی (۱۷) شیخ حامد علی صاحب (۱۸) میرزا اسمٰعیل صاحب قادیانی (۱۹) سید محمد کبیر دہلوی (۲۰) خدا بخش
    صاحب ماڑوی ضلع جھنگ (۲۱) حاجی حافظ
    * حاشیہ: شیخ عبد الرحیم صاحب جوان صالح اور متقی شخص ہیں ان کے ایمان اور اسلام پر ہمیں بھی رشک پیدا ہوتاہے ان کو اسلام لانے کے
    وقت کئی اک سخت ابتلا پیش آئے لیکن انہوں نے ایسے سخت ابتلاء کے وقت بڑی ثابت قدمی اور استقامت دکھلائی محض ابتغاءً لمرضات اللہ دفعہ داری چھوڑ کر قادیان میں امام کامل کے ہاتھ پر اسلام و
    بیعت سے مشرف ہوئے قرآن شریف سے کامل اُلفت ہے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے معہ ترجمہ اور تفسیر قرآن چند ماہ میں پڑھا ۔ شیخ عبد اللہ صاحب جوان صالح ہیں۔ رشد کے آثار اور اتقا
    کے نشان ان کے بشرہ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ جب انہوں نے اسلام کی طرف میلان کیا تو کئی ابتلاء پیش آئے۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ لیکھرام آریہ سے کئی بار مباحثہ ہوا آخر کار لیکھرام کو انہوں نے
    شکست فاش دی چونکہ آریہ تھے اس تعلیم خراب سے دستبر دار ہوکر اسلام زور شور سے قبول کیا اور امام وقت سے بیعت کی یہ مجھ سے کہتے تھے کہ ازالہ اوہام کے دیکھنے سے مجھے اسلام کا
    شوق پیدا ہوا اور جب پیشگوئی (جو آتھم کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 455
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 455
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/455/mode/1up
    احمد اللہ خاں صاحب (۲۲) حافظ معین الدین صاحب (۲۳) مولوی غلام احمد صاحب کھبکیّ (۲۴) حافظ قطب الدین
    صاحب کوٹلہ فقیر جہلم (۲۵) مولوی سید مردان علی صاحب حیدر آبادی (۲۶) مولوی شیخ احمد صاحب (۲۷) میرزا ایوب بیگ صاحب (۲۸) عاجز سراج الحق ۔ شیخ فضل الٰہی کلانوری۔
    نمبر اول نور القرآن جو تین ۳ماہ کا اکٹھا چھپ کر شائع ہوچکا ہے اس میں جو ایک روپیہ سالانہ قیمت رکھی گئی ہے سو وہ قانون اب منسوخ کیا جاتا ہے اور اس کی جگہ قیمت کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے
    کہ جو نمبر مطبع سے جس قدر شائع ہو۔ اس کی قیمت دست بدست خریدار روانہ کریں۔ یہ رسالہ ویلیوپے ایبل یا نقد قیمت بذریعہ منی آرڈر روانہ ہوسکتا ہے اور جو صاحب ٹکٹ روانہ کریں وہ آدھ آنہ
    والے ٹکٹ بھیجیں یا ایک آنہ والے دو دو چار چار آنہ والے ٹکٹ روانہ نہ کریں۔ دور دراز بلاد کے رہنے والے جیسے مدراس یا ملک آسام یا ممالک متوسط پر واجب ہے کہ دو آنہ رجسٹری کے بھی
    علاوہ قیمت روانہ کریں تاکہ رسالہ کے گم ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ جس صاحب کے پاس یہ رسالہ پہنچے مناسب ہے کہ دوسروں کو بھی دکھلا دیں۔ اور اس کے خریدار پیدا کرنے کے لئے جہاں تک
    ممکن ہو کوشش اور سعی کریں یہ ایک نئی طرز کار سالہ مخالفین اسلام کے رد میں شائع ہوا ہے۔ اس رنگ ڈھنگ کا رسالہ کہیں نہ دیکھو گے۔
    اس نور القراٰن نمبر ۲ کی قیمت ۸ ؍ ہے۔
    بقیہ
    حاشیہ: رجوع الی الحق یا موت کی تھی اس کا رجوع الی الحق ہونا اور موت سے بچنا پوری ہوگئی۔ سچے دل سے اسلام لایا اور امام وقت کی شناخت حاصل ہوئی۔ الحمد للہ۔ سراج الحق
    نوٹ:
    شیخ عبد العزیز صاحب بھی ابھی تھوڑا عرصہ ہوا قادیان میں مشرف باسلام ہوئے۔ نیک صالح آدمی ہیں۔ اس جوانی میں صلاحیت حاصل ہونا محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ان کے سوا اور بھی کئی مسلمان
    ہوئے چار شخص عیسائی مسلمان ہوئے جو وہ اب لاہور میں موجود ہیں۔ سراج الحق
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 456
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 456
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/456/mode/1up
    حضرت عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی کا ایک کشف شیخ محمد حسین
    بطالوی کی نسبت
    جس کو جناب قاضی ضیاء الدین
    صاحب ساکن قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ نے اپنے کانوں سے سنا اور شیخ صاحب کی طرف محض اصلاح روحانی کے لئے لکھ کر روانہ کیا۔ سو وہ ہم اس رسالہ میں درج کرتے ہیں۔ اگرچہ شیخ
    صاحب کی نسبت ہمارا یقین ہے کہ وہ اس سے متنبہ ہونے والے نہیں لیکن ہم ان کے بعض ہم خیال اور محبوں پر ایک قسم کا حسن ظن رکھتے ہیں کہ وہ اس سے فائدہ حاصل کریں گے واللہ ولی التوفیق
    وہ کشف ذیل میں درج ہے۔ خاکسار سراج الحق نعمانی
    ھُوَ الْہَادِیْ بِسْمِ اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ و نصلّیمکرمی مولوی محمد حسین صاحب بعد شوق ملاقات آنکہ یہ جو آج کل آپ دربارہ تکفیر و
    تضلیل حضرت مسیح موعود میرزا غلام احمد صاحب قادیانی جن کو آپ پہلے مجدد وقت تسلیم کرچکے ہیں سرگرم ہیں اور یہاں تک سرگرمی ہے کہ آپ نے اپنے لکھے ہوئے مضمون کفر و کافر مندرجہ
    اشاعہ کی بھی پرواہ نہیں کی جس کی شامت سے اب صریح سوء خاتمہ کے آثار ظاہر ہیں آپ کی اس حالت کو دیکھ کر عاجز کا دل بلحاظ حبّ بنی نوع پگھل آیا لہٰذا بحکم اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَۃُ مَیں نے چاہا کہ
    آپ کو اس شیمہ نامرضیہ سے للہ متنبہ کروں شاید اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے رحم فرماوے اور اس بارے میں یہ ایک الہام عبد اللہ غزنوی مرحوم ہے جو آپ کی نسبت ان کو ہوا تھا اور اسی زمانہ
    میں آپ کو سنا بھی دیا تھا شائد وہ آپ کو یاد ہو یا نہ ہو اب میں آپ کو دوبارہ سناتا ہوں اور مجھے کئی بار تجربہ ہوچکا ہے کہ مولوی لوگ اپنے ہم عصر کی بات
    سے گو کیسی ہی مفید ہو کم متاثر
    ہوتے ہیں اب وہ مرحوم تو فوت ہوچکے شاید
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 457
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 457
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/457/mode/1up
    آپ ان سے علاقہ بیعت بھی رکھتے تھے۔ تعجب نہیں کہ آپ کو ان کے الہام سے فائدہ پہنچے۔ عاجز کی غرض سوائے خیر
    خواہی اور اتفاق بین المسلمین اور کچھ نہیں مَیں حلفاًبیان کرتا ہوں وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًاکہ یہ الہام میں نے خود حضرت مرحوم سے سنا ہے۔ خدا کے لئے جاگتے دل سے سنو۔ وہو ہٰذا
    می بینم کہ محمد
    حسین پیراہنے کلان پوشیدہ است لاکن پارہ پارہ شدہ است۔ پھر آپ ہی یہ تعبیر فرمائی کہ آن پیراہن علم است کہ پارہ پارہ خواہد شد اور پارہ پارہ زبان سے کہتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے
    سینہ سے لے کر پنڈلیوں تک بار بار اشارہ کرتے تھے۔ پھر عاجز کو فرمایا کہ آنرا با یدگفت کہ توبہ کردہ باشد۔ چنانچہ حسب الوصیت میں نے آپ کو یہ حال سنایا تھا۔ آپ نے عاجز کو چینیاں والی
    مسجد لاہور میں تمسخر آمیز الفاظ سے پیغام دیا تھا کہ ولی بننے جاتے ہیں عبد اللہ کو کہنا کہ مجھے بھی بلاوے۔ اس پیغام کے بعد انہوں نے ملا سفر کے روبرو الہام مذکور فرمایا اور میں نے امرتسر
    میں بمکان حافظ محمد یوسف صاحب جہاں حافظ عبد المنان رہتا تھا حرف بحرف آپ کو سنا دیا تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت آپ متاثر ہوگئے تھے۔ جس سے مطالعہ کتاب بھی چھوٹ گیا تھا۔ میں
    نے انہی دنوں اپنے گاؤں کے لوگوں کو بھی سنا دیا تھا جو وہ اب گواہی دے سکتے ہیں۔ غرضکہ یہ منذر الہام ان دنوں میں پورا ہوا جس کا اثر اب ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب کے مقابل پر آپ کی ساری
    علمیت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور علم کے لاف و گزاف بھی ہیچ محض ثابت ہوئے۔ لہٰذا یہ الہام بے شک سچا ہے۔ مولوی صاحب میں نے وقت پر دوبارہ آپ کو یاد دلایا ہے آپ عبرت پکڑیں اور توبہ کریں
    اور اس مصلح اور مجدد اور امام کامل اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 458
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- نُور القُرآن: صفحہ 458
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/458/mode/1up
    مسیح موعود ایدہ اللہ کی عداوت سے دست بردار ہو جائیں۔ ورنہ حسرت سے دانت پیسنا اور رونا ہوگا۔ آئندہ اختیار بدست
    مختار۔ شعر
    گر امروز ایں پند من نشنوی
    یقین دان کہ فردا پشیمان شوی
    و ما علینا الا البلاغ
    الراقم المسکین ضیاء الدین عفا عنہ
    ۲۰؍ دسمبر ۱۸۹۵ ؁ء
    نوٹ:
    نور القرآن نمبر ۲ کے
    خاتمہ پر بعض ایڈیشنوں میں حاشیہ متعلقہ صفحہ ۱۶۴ مرہم حواریین جس کا دوسرا نام مرہم عیسیٰ بھی ہے۔ اور آٹھ صفحات کا حاشیہ اور حاشیہ در حاشیہ متعلقہ صفحہ ۱۶۴ دو صفحات کا حاشیہ
    لکھا گیا ہے۔ یہ حاشیہ درحقیقت ست بچن کتاب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے ہم نے نور القرآن نمبر ۲ کے آخر میں ان دونوں حاشیوں کو درج نہیں کیا۔ ست بچن کے ساتھ درج کئے جائیں گے۔
    شمسؔ
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں