1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 9 ۔منن الرحمٰن ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 31, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 9۔ منن الرحمٰن۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    الحمد للّٰہ مَوْلَی النعم والصّلٰوۃ والسلام علٰی سیّد الرسُل وسِرَاج الامم و اصحابہ الھادیّن المھدین و اٰلہ الطاھرین المطہرین اما بعد
    چونکہ قرآن مجید ایک ایسا لعل تاباں اور مہر درخشاں ہے کہ اس کی سچائی کی کرنیں اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی چمکیں نہ کسی ایک یا دو پہلو سے بلکہ ہزارہا پہلوؤں سے ظاہر ہو رہی ہیں اور
    جس قدر مخالف دین متین کوشش کر رہے ہیں کہ اس ربانی نور کوبجھاویں اُسی قدر وہ زور سے ظاہر ہوتا اور اپنے حسن اور جمال سے ہریک اہل بصیرت کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اس لئے اِس
    تاریک زمانہ میں بھی جبکہ پادریوں اور آریوں نے توہین اور تحقیر کا کوئی دقیقہ نہ چھوڑا اور اپنی نابینائی کی وجہ سے اس نور پر وہ تمام حملے کئے جو ایک سخت جاہل اور سخت متعصب کر سکتا
    ہے اس ازلی نور نے آپ اپنے منجانب اللہ ہونے کا ہریک پہلو سے ثبوت دیا ہے اس میں یہ ایک عظیم الشان خاصیت ہے کہ وہ اپنی تمام ہدایات اور کمالات کی نسبت آپ ہی دعویٰ کرتا اور آپ ہی اس
    دعویٰ کا ثبوت دیتا ہے اور یہ عظمت کسی اور کتاب کو نصیب نہیں اور منجملہ ان دلائل اور براھین کے جو اس نے اپنے منجانب اللہ ہونے پر اور اپنے اعلیٰ درجہ کی فضیلت پر پیش کئے ہیں ایک
    بزرگ دلیل وہ ہے جس کی بسط اور تفصیل کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے جو اُمّ الالسنہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 129
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 129
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کے ؔ پاک چشمہ سے پیدا ہوتی ہے جس کا آب زلال ستاروں کی طرح چمکتا اور ہریک معرفت کے پیاسے کو یقین کے پانی سے
    سیراب کرتا اور شکوک و شبہات کی میلوں سے صاف کر دیتا ہے یہ دلیل کسی پہلی کتاب نے اپنی سچائی کی تائید میں پیش نہیں کی اور اگر وید یا کسی اور کتاب نے پیش کی ہے تو واجب ہے کہ اس
    کے پیر و مقابلہ کے وقت پہلے اس وید کے مقام کو پیش کریں۔ اور خلاصہ مطلب اُس دلیل کا یہ ہے کہ زبانوں پر نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں کا باہم اشتراک ہے۔ پھر ایک
    دوسری عمیق اور گہری نظر سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچتی ہے جو ان تمام مشترک زبانوں کی ماں زبان عربی ہے جس سے یہ تمام زبانیں نکلی ہیں۔ اور پھر ایک کامل اور نہایت محیط تحقیقات سے
    یعنی جبکہ عربی کی فوق العادت کمالات پر اطلاع ہو یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ یہ زبان نہ صرف اُمّ الالسنہ ہے بلکہ الٰہی زبان ہے جو خداتعالیٰ کے خاص ارادہ اور الہام سے پہلے انسان کو سکھائی
    گئی اور کسی انسان کی ایجاد نہیں اور پھر اس بات کا نتیجہ کہ تمام زبانوں میں سے الہامی زبان صرف عربی ہی ہے یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکمل اور اتم وحی نازل ہونے کے لئے صرف
    عربی زبان ہی مناسبت رکھتی ہے کیونکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ کتاب الٰہی جو تمام قوموں کی ہدایت کے لئے آئی ہے وہ الہامی زبان میں ہی نازل ہو اور ایسی زبان میں ہو جو اُمّ الالسنہ ہوتا اس کو
    ہریک زبان اور اہل زبان سے ایک فطری مناسبت ہو اور تا وہ الہامی زبان ہونے کی وجہ سے وہ برکات اپنے اندر رکھتی ہو جو ان چیزوں میں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے مبارک ہاتھ سے نکلتی ہیں لیکن
    چونکہ دوسری زبانیں بھی انسانوں نے عمدًا نہیں بنائیں بلکہ وہ تمام اسی پاک زبان سے بحکم رب قدیر نکل کر بگڑ گئی ہیں اور اسی کی ذریات ہیں اس لئے یہ کچھ نامناسب نہیں تھا کہ ان زبانوں میں بھی
    خاص خاص قوموں کے لئے الہامی کتابیں نازل ہوں ہاں یہ ضروری تھا کہ اقویٰ اور اعلیٰ کتاب عربی زبان میں ہی نازل ہو کیونکہ وہ اُمّ الالسنہ اور اصل الہامی زبان اور خداتعالیٰ کے منہ سے نکلی
    ہے اور چونکہ یہ دلیل قرآن نے ہی بتلائی اور قرآن نے ہی دعویٰ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 130
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 130
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کیاؔ اور عربی زبان میں کوئی دوسری کتاب مدعی بھی نہیں اِس لئے ببداہت قرآن کا منجانب اللہ ہونا اور سب کتابوں پر مہیمن
    ہونا ماننا پڑا ورنہ دوسری کتابیں بھی باطل ٹھہریں گی لہٰذا میں نے اسی غرض سے اس کتاب کو لکھا ہے کہ تا اوّل بعونہٖ تعالٰی تمام زبانوں کا اشتراک ثابت کروں اور پھر بعدازاں زبان عربی کے اُمّ
    الالسنہ اور اصل الہامی ہونے کے دلائل سناؤں اور پھر عربی کی اس خصوصیت کے بناء پر کہ کامل اور خالص اور الہامی زبان صرف وہی ہے اس آخری نتیجہ کا قطعی اور یقینی ثبوت دوں کہ الٰہی
    کتابوں میں سے اعلیٰ اور ارفع اور اتم اور اکمل اور خاتم الکتب صرف قرآن کریم ہی ہے اور وہی اُمّ الکتب ہے جیسا کہ عربی اُمّ الالسنہ ہے اور اس سلسلہ تحقیقات میں ہمارے ذمّہ تین مرحلوں کا طے
    کرنا ضروری ہوگا۔
    پہلا مرحلہ زبانوں کا اشتراک ثابت کرنا۔
    دوسرا مرحلہ عربی کا اُمّ الالسنہ ہونا بپایۂ ثبوت پہنچانا۔
    تیسرا مرحلہ عربی کا بوجہ کمالات فوق العادت کے الہامی ثابت
    کرنا۔
    مگر چونکہ ہمارے مخالف خوب جانتے ہیں کہ اس تحقیقات سے اگر عربی کے حق میں ڈگری ہوگئی تو صرف یہی ماننا نہیں پڑے گا کہ قرآن منجانب اللہ ہے بلکہ یہ بھی اقرار کرنا پڑے گا
    کہ وہ کتاب جو اصل اور کامل اور الہامی زبان میں نازل ہوئی ہے وہ صرف قرآن ہی ہے اور دوسری سب زبانیں اس کی طفیلی ہیں اس لئے ضرور ہے کہ اس سچائی کے کھلنے سے ان تمام قوموں میں
    بہت ہی سیاپا ہو خاص کر قوم آریہ میں جن کے زعم باطل میں یہ ہے کہ انہیں کی زبان سنسکرت پر میشر کی بولی ہے اور وہی نہایت کامل اور الہامی اور اُمّ الالسنہ ہے حالانکہ آج تک کوئی ایک شُرتی
    وید کی بھی پیش نہیں کی گئی جس سے معلوم ہو کہ وید نے اپنے منہ سے ایسا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے دین اسلام کے مقابلہ پر بعض بدزبان اور نادان آریہ بہت سی یاوہ
    گوئی کر چکے ہیں اور باوجود سخت جہالت اور بے علمی کے پھر بھی وہ مذہبی مباحثات میں دخل دیتے رہے ہیں اور بعض شریر بے حیا سفلہ طبع نے ناحق وید کی طرف داری
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 131
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 131
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کرؔ کے خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن مجید کی بے ادبیاں کیں اور جو کچھ گند اندر بھرا تھا وہ سب نکالا اور نادانوں کو دھوکا دیا
    کہ گویا وہ بڑے ویدوان اور ودّیا وان ہیں اور گویا انہوں نے بہت کچھ وید کے فضائل دیکھے تب اس کی طرف جھک گئے مگر اب یہ علمی تحقیقات ہے جس میں کسی مذہب کا جاہل بول نہیں سکتا۔
    کیونکہ اس جگہ کلام کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہے اس میں فضول اور غیر متعلق باتیں کام نہیں دے سکتیں۔ یہ سلسلۂ تحقیقات ایسا کامل ہے جس کی جڑھ زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہیں
    یعنی انسان اس درخت کے اوپر چڑھتا چڑھتا آخر روحانی سچائی کے پھل کو پا لیتا ہے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ گو شاخوں کو جڑھوں سے ہی قوت ہے مگر پھل جو کھائے جاتے ہیں وہ جڑھوں میں تو
    نہیں لگتے بلکہ شاخوں میں لگتے ہیں ایسا ہی کل واقعات کا اصل نتیجہ اس علم کی شاخوں میں ہی ظاہر ہوتا ہے اور جو لوگ اس کے واقعات پر منصفانہ بحث کرتے ہیں اور ثابت شدہ حقائق کو اپنے
    ذہنوں میں اچھی طرح محفوظ رکھتے ہیں وہ بہت صفائی سے ان پھلوں کو دیکھ لیتے ہیں جن سے شاخیں لدی پڑی ہیں۔
    جاننا چاہیئے کہ اس معرفت تک پہنچنے کے لئے کہ قرآن منجانب اللہ اور اُمّ
    الکُتب ہے صرف تین امور تنقیح طلب ہیں جن کو ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص ان تینوں امروں کو اچھی طرح سمجھ لے گا اس کی آنکھوں سے جہالت کے پردے دور ہو
    جائیں گے اور جو واقعات سے نتیجہ نکلتا ہے بہرحال اسے ماننا پڑے گا۔
    تنقیح کے تین امروں سے پہلا امر جو اشتراک اَلْسنہ ہے اس کا فیصلہ ہماری اس کتاب میں ایسی صفائی سے ہوگیا ہے جو
    اس سے بڑھ کر کسی اعلیٰ تحقیقات کے لئے کوئی کارروائی متصور نہیں کیونکہ اشتراک کے ثابت کرنے کے لئے صرف ایک لفظ کا اشتراک دکھلا دینا کافی ہوتا ہے مگر ہم نے تو اس کتاب میں ہزارہا
    الفاظ مشترکہ دکھلا دیئے اور کمال صفائی سے ثابت کردیا کہ عربی زبان کو ہریک زبان کے ساتھ اشتراک ہے۔
    دوسرا امر تنقیح کے امروں میں سے یہ ہے کہ مشترکہ زبانوں میں سے
    صرف
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 132
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 132
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    عربی ؔ ہی اُمّ الالسنہ ہے چنانچہ اس کی وجوہ بجائے خود مفصل لکھی گئی ہیں اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ عربی کے
    کمالات خاصہ میں سے یہ ہے کہ وہ فطری نظام اپنے ساتھ رکھتی ہے اور الٰہی صنعت کی خوبصورتی اسی رنگ سے دکھلاتی ہے جس رنگ سے خدا تعالیٰ کے اور کام دنیا میں پائے جاتے ہیں اور یہ
    بھی ثابت کیا گیا ہے کہ باقی تمام زبانیں زبان عربی کا ایک ممسوخ شدہ خاکہ ہے جس قدر یہ مبارک زبان ان زبانوں میں اپنی ہیئت میں قائم رہی ہے وہ حصّہ تو لعل کی طرح چمکتا ہے اور اپنے حسن دلربا
    کے ساتھ دلوں پر اثر کرتا ہے اور جس قدر کوئی زبان بگڑ گئی ہے اسی قدر اس کی نزاکت اور دلکش صورت میں فرق آگیا ہے یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہریک چیز جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہے جب
    تک وہ اپنی اصلی صورت میں ہے تب تک اس میں خارق عادت شمائل ضرور ہوتے ہیں اور اس کی نظیر بنانے پر انسان قادر نہیں ہوتا اور جوں ہی وہ چیز اپنی اصلی حالت سے گر جاتی ہے تو معًا اس کی
    شکل اور حسن میں فرق ظاہر ہو جاتا ہے دیکھو جب ایک درخت اپنی اصلی حالت پر ہوتا ہے تو کیسا خوبصورت اور پیارا دکھائی دیتا ہے اور کیسے اپنی خوش نما سبزی سے اپنے آرام بخش سایہ سے
    اپنے پھولوں سے اپنے پھلوں سے بآواز بلند پکارتا ہے کہ انسان میری نظیر بنانے پر قادر نہیں اور جب کہ وہ اپنے مقام سے گر جاتا یا خشک ہوجاتا ہے تو ساتھ ہی اس کے تمام حالات میں فرق آجاتا ہے
    نہ وہ رنگت اور آب و تاب باقی رہتی ہے اور نہ وہ خوشنما سبزی دکھائی دیتی ہے اور نہ آئندہ نشوونما اور پھل لانے کی توقع کر سکتے ہیں یا مثلاً انسان جب زندہ اور جوان ہوتا ہے تو کیسا چہرہ چمکیلا
    اور تمام قویٰ عمدگی سے کام دیتے ہیں اور کیسا وہ لباس فاخرہ سے ملبوس ہوتا ہے اور پھر جبکہ جان نکل جاتی ہے تو نہ وہ ملاحت آنکھوں میں رہتی ہے اور نہ وہ خوشنما چہرہ اور سننا دیکھنا سمجھنا
    پہچاننا بولنا پھرنا چلنا دکھائی دیتا ہے بلکہ معًا سب باتیں رخصت ہو جاتی ہیں۔ یہی فرق عربی اور غیر زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ زبان عربی اس لطیف طبع اور زیرک انسان کی طرح کام دیتی ہے جو
    مختلف ذرائع سے اپنے مدعا کو سمجھا سکتا ہے مثلاً ایک نہایت ہوشیار اور زیرک انسان کبھی ابرو یا ناک یا ہاتھ سے وہ کام
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 133
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 133
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    لے ؔ لیتا ہے جو زبان نے کرنا تھا یعنی اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ باریک باریک اشارات سے مخاطب کو سمجھاوے یہی طریق
    زبان عربی کے عادات میں سے ہے یعنی یہ زبان کبھی الف لام تعریف سے وہ کام نکالتی ہے جس میں دوسری زبانیں چند لفظوں کی محتاج ہوتی ہیں اور کبھی صرف تنوین سے ایسا کام لیتی ہے جو
    دوسری زبانیں طولانی فقروں سے بھی پورا نہیں کر سکتیں ایسا ہی زیر و زبر و پیش بھی الفاظ کا ایسا کام دے جاتے ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی دوسری زبان بغیر چند فضول فقروں کے ان کا مقابلہ کر
    سکے اس کے بعض لفظ بھی باوجود بہت چھوٹے ہونے کے ایسے لمبے معنے رکھتے ہیں کہ نہایت حیرت ہوتی ہے کہ یہ معنی کہاں سے نکلے مثلاً عرضتُ کے یہ معنی ہیں کہ میں مکہ اور مدینہ
    اور جو ان کے گرد دیہات ہیں سب دیکھ آیا اور طھفلتُ کے یہ معنی ہیں کہ میں چینی کی روٹی کھاتا ہوں اور ہمیشہ چینی کی روٹی کھانے کے لئے عہد کر چکا ہوں اور جثم کے یہ معنی ہیں کہ آدھی
    رات چلی گئی اور حیعل کے یہ معنے ہیں کہ آؤ نماز پڑھو وقت نماز ہے اور اسی طرح بہت سے الفاظ ایسے ہیں کہ صرف وہ ایک حرف ہی ہے مگر اس کے معنے دو یا تین لفظ پر مشتمل ہیں جیسے
    فِ
    قِ
    لِ
    عِ
    اِ
    وفاکر
    نگہ رکھ
    نزدیک ہو
    یاد کر
    وعدہ کر
    خِ
    ھِ
    دِ
    رِ
    شِ
    نہ آہستہ چل اور نہ جلدی کر۔ بلکہ میانہ روی اختیار کر
    پھٹ
    جا
    کمزور ہو جا
    خون بہا دے
    بھرک اور روشن ہو اور آتش زنہ سے نکل اور گندہ ہو جا
    اپنے کپڑا کو منقش کر
    نِ: سُست ہو جا
    اور عربی کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی معلوم ہوا
    ہے کہ اور متفرق زبانوں میں جس قدر خواص ہیں اس میں وہ سب جمع ہیں مثلاً بعض زبانوں میں جیسا کہ چینی زبان میں یہ خاصیت ہے کہ اس کے سارے الفاظ ایک ہی جز کے ہیں اور ہریک جز اپنی
    اپنی جگہ مستقل معنی رکھتی ہے سو یہ خاصیت بھی بعض حصہ عربی میں پائی گئی ہے۔ ایسا ہی بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ کی اصل زبان کے الفاظ کئی کئی اجزاء سے مل کر بنے ہوئے ہوتے ہیں اور
    ان اجزاء کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 134
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 134
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خودؔ کچھ معنے نہیں ہوتے سو یہ خاصیت بھی عربی کے بعض حصوں میں موجود ہے۔ پھر امریکہ اور سنسکرت زبان میں
    معانی کے تغیر کے اظہار کے لئے گردانیں ہیں۔ سو وہ گردانیں عربی زبان میں بھی پائی جاتی ہیں اور چینی زبان میں گردانیں نہیں ہیں بلکہ وہاں نئے خیال کے اظہار کے لئے علیحدہ لفظ ہے سو بعض
    الفاظ میں یہ صورت بھی عربی میں موجود ہے۔ پس جبکہ غور کرنے اور پوری پوری خوض اور عمیق تحقیقات کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت زبان عربی تمام زبانوں کے خواص متفرقہ کی
    جامع ہے تو اس سے بالضرورت ماننا پڑتا ہے کہ تمام زبانیں عربی کی ہی فروعات ہیں۔
    بعض لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر تمام زبانوں کی جڑ اور اصل ایک ہی زبان کو تسلیم کیا جائے تو عقل اس
    بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ صرف تین چار ہزار برس تک ایسی زبانوں میں جو ایک ہی اصل سے نکلی تھیں اس قدر فرق ظاہر ہوگیا ہو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض درحقیقت ازقبیل بنیاد فاسد
    برفاسد ہے ورنہ یہ بات قطعی طور پر طے شدہ نہیں کہ عمر دنیا کی صرف چار یا پانچ ہزار برس تک گذری ہے اور پہلے اس سے زمین و آسمان کا نام و نشان (نہ) تھا بلکہ نظر عمیق سے معلوم ہوتا
    ہے کہ یہ دنیا ایک مدت دراز سے آباد ہے ماسوا اس کے اختلاف السنہ کے لئے صرف باہمی بُعد زمان یا مکان سبب نہیں بلکہ اس کا ایک قوی سبب یہ بھی ہے کہ خط استوا کے قُرب یا بُعد اور ستاروں
    کی ایک خاص وضع کی تاثیر اور دوسرے نامعلوم اسباب سے ہریک قسم کی زمین اپنے باشندوں کی فطرت کو ایک خاص حلق اور لہجہ اور صورت تلفظ کی طرف میلان دیتی ہے اور وہی محرک رفتہ رفتہ
    ایک خاص وضع کلام کی طرف لے آتا ہے اسی وجہ سے دیکھا جاتا ہے کہ بعض ملک کے لوگ حرف زا بولنے پر قادر نہیں ہو سکتے اور بعض را بولنے پر قادر نہیں ہوسکتے جیسے انسانوں میں ملکوں
    کے اختلاف سے رنگوں کا اختلاف، عمروں کا اختلاف، اخلاق کا اختلاف، امراض کا اختلاف ایک ضروری امر ہے۔ ایسا ہی یہ اختلاف بھی ضرور ہے کیونکہ انہیں مؤثرات کے نیچے زبانوں کا بھی
    اختلاف ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 135
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 135
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پسؔ یہ خیال ایک دھوکا ہے کہ یہ اختلاف کیوں ہزارہا برس سے ایک ہی حد تک رہا اس سے آگے نہ بڑھا کیونکہ مؤثرات نے
    جس قدر اختلاف کو چاہا اسی قدر ہوا اس سے زیادہ کیونکر ہو سکتا۔ یہ ایسا ہی سوال ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ اختلاف امکنہ میں رنگوں اور عمروں اور مرضوں اور اخلاق کا اختلاف ہوگیا۔ یہ کیوں نہ
    ہوا کہ کسی جگہ ایک آنکھ کی جگہ د۱۰س آنکھ ہو جاتیں سو ایسے وہم کا بجز اس کے ہم کیا جواب دے سکتے ہیں کہ یہ اختلاف یوں ہی بے قاعدہ نہیں تھا بلکہ ایک طبیعی قاعدہ کے نیچے تھا سو جس
    قدر قاعدہ نے تقاضا کیا اسی قدر اختلاف بھی ہوا۔ غرض جو کچھ موثرات سماوی ارضی کی وجہ سے انسان کی بناوٹ خلق یا خیالات کے طبیعی رفتار میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے وہ تبدیلی بالضرورت
    سلسلہ کلمات میں تبدیلی ڈالتی ہے لہٰذا وہ طبعاً اختلاف پیدا کرنے کے لئے مجبور ہوتی ہیں اور اگر کوئی دوسری زبان کا لفظ ان کی زبان میں پہنچے تو وہ عمداً اس میں بہت کچھ تبدیلی کر دیتے ہیں پس
    یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ اپنی خلقت کے لحاظ سے جو موثرات ارضی سماوی سے متاثر ہے فطرتاً تبدیل کے محتاج ہیں ماسوا اس کے عیسائیوں اور یہودیوں کو تو ضرور یہ
    بات ماننی پڑتی ہے کہ اُمّ الالسنہ عربی ہے کیونکہ توریت کی ّ نص صریح سے یہ بات ثابت ہے کہ ابتدا میں بولی ایک ہی تھی۔ پھر خدا تعالیٰ نے بمقام بابل ان میں اختلاف ڈال دیا۔ دیکھو توریت پیدائش
    با۱۱ ب ا ور یہ بات ہریک فریق کے نزدیک مسلّم ہے کہ بابل اُسی سر زمین پر شہر آباد تھا کہ جہاں اب کربلا ہے پس اس سے تو توریت کے بیان کا ماحصل یہی نکلا کہ تمام زبانوں کی ماں عربی ہے۔
    باتفاق انگریز محققوں اور اسلامی محققوں کے یہ بات ثابت ہے کہ بابل جس کی آبادی کا طول دو سو میل تک تھا اور وہ اپنی آبادی میں شہر لنڈن جیسے پانچ شہروں کے برابر تھا اور نہایت عجیب اور
    پُر تکلف باغ بھی اس میں تھے اور دریائے فرات اس کے اندر بہتا تھا وہ عراق عرب کے اندر تھا اور جب وہ ویران ہوا تو اس کی اینٹوں سے بصرہ اور کوفہ اور حلّہاور بغداد اور مداین آباد ہوئے اور
    یہ تمام شہر اس کی حدود کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 136
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 136
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    قریبؔ قریب ہیں پس اس تحقیق سے ثابت ہے کہ بابل عرب کی سرزمین میں تھا چنانچہ عرب کے نقشہ میں جو حال میں
    بیروت میں چھپا ہے بابل کو عراق عرب میں ہی دکھلایا ہے۔
    اصل توریت عبرانی کتاب پیدائش آیت ایک میں یہ عبارت ہے ویہی خُل ہارص شفہ آحت و دبریم آحدیم۔ اور تھی تمام زمین ہونٹ ایک اور
    باتیں یکساں۔ واضح ہو کہ اس تمام زمین سے مراد صرف بابل کی زمین نہیں ہوسکتی جو سِنْعار کے نام سے موسوم ہے کیونکہ یہ آیت اُس قصہ سے پہلے اور ان قصوں سے متعلق ہے جو دسو۱۰یں باب
    میں گذر چکی ہیں پس آیت مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ تمام وہ قومیں جو زمین میں رہتی تھیں ان کی ایک ہی زبان تھی اس وقت تک کہ ایک گروہ ان میں سے بابل میں نہیں پہنچا تھا پھر بابل میں پہنچنے کے
    بعد خدا تعالیٰ نے ان کی زبانیں متفرق کر دیں۔ اور زبانوں میں اختلاف یوں ڈالا گیا کہ بابل کے رہنے والے مختلف ملکوں میں نکال دیئے گئے جیسا کہ اسی باب کی یہ آٹھو۸یں آیت اُس پر دلالت کرتی ہے
    اور وہ یہ ہے و یفص یھوہ آتم مِشّم عَل بنی کل ھارص۔یعنی خدا نے ان کو وہاں سے سب زمین پر پریشان کر دیا۔ اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ بابل سے متفرق ہو کر ہریک ملک میں چلے گئے پس کل ہارص کا
    لفظ جو پہلی آیت میں اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے کہ ساری دنیا کی ایک بولی تھی وہی لفظ آٹھویں آیت میں اس بات کے لئے مستعمل ہوا کہ بابل کے رہنے والے مورد غضب الٰہی ہوکر کل
    دنیا میں متفرق ہو گئے پس ان دونوں آیتوں کے تظاہر سے اور نیز گذشتہ باب پر نظر ڈالنے سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ مطلب ان آیات کا یہی ہے کہ بابل کے واقعہ سے پہلے دنیا میں ایک ہی بولی تھی اور
    یہی متفق علیہ عقیدہ یہود اور نصاریٰ کا ہے۔ اور جس نے اس بارے میں شک کیا اس نے سخت غلطی کھائی ہے یہ مسئلہ توریت کی نصوص صریحہ میں سے ہے جو قدیم سے اہل کتاب میں مسلّم چلا
    آتا ہے ہاں یہ ماننا پڑتا ہے کہ جبکہ بموجب آیت اول گیارھویں باب پیدائش کے کُل دنیا کی بولی ایک ہی تھی تو پھر یہ بے ہودہ خیال ہوگا کہ ہم ایسا سمجھیں کہ کل بنی آدم اپنی اپنی ولایتوں سے کوچ کر
    کے بابل میں ہی آ ٹھہرے تھے اور اس کی کوئی وجہ معلوم
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 137
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 137
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نہیں ؔ ہوتی کہ کیوں انہوں نے اپنی ولایتوں کو چھوڑ دیا تھا بلکہ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ نوح کے طوفان کے
    بعد خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ بہت جلد دنیا اپنی توالد تناسل میں ترقی کرے اس لئے اس قادر مطلق نے ایک مدت تک ان کو صحت اور امن کی حالت میں چھوڑ دیا تھا تب وہ بہت بڑھے اور پھولے اور ایک
    خارق عادت طور پر ان میں ترقی ہوئی تب بعض قوموں نے اپنے ملک میں گنجائش کم دیکھ کر سِنْعار کی زمین کی طرف جو بابل کی زمین تھی حرکت کی اور اس جگہ آکر اس شہر کو آباد کیا اور اس قدر
    کثرت ہوگئی جس کی نظیر کسی زمانہ میں ثابت نہیں ہوئی پھر وہ دوسرے شہروں کی طرف متفرق ہوگئے اور تمام دنیا میں بولیوں کا تفرقہ پڑنے کا موجب ہوئے۔
    لیکن اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ
    زبان عربی جو اُمّ الالسنہ قرار دی گئی ہے اس کی نسبت تمام زبانوں کی نسبت مساوی نہیں ہے بلکہ بعض سے کم اور بعض سے زیادہ ہے مثلًا عبری زبان پر ادنیٰ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ
    تھوڑے سے تغیر کے بعد عربی زبان ہی ہے لیکن سنسکرت یا یورپ کی زبانوں کے ساتھ وہ تعلق پایا نہیں جاتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ گو عبری اور دوسری شاخیں اس کی درحقیقت عربی کے
    تھوڑے سے تغیر سے پیدا ہوئی ہیں اور سنسکرت وغیرہ دنیا کی کل زبانیں تغیرات بعیدہ سے نکلی ہیں تاہم کامل غور کرنے اور قواعد پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ان زبانوں کے کلمات
    اور الفاظ مفردہ عربی سے ہی بدلا کر طرح طرح کے قالبوں میں لائے گئے ہیں۔
    اور عربی کے فضائل خاصہ سے جو اسی زبان سے خصوصیت رکھتے ہیں جن کی ہم انشاء اللہ اپنے اپنے محل پر
    تشریح کریں گے اور جو اس کے اُمّ الالسنہ اور کامل اور الہامی زبان ہونے پر قطعی دلیل ہے پانچ خوبیاں ہیں جو مفصلہ ذیل ہیں۔
    پہلی۱ خوبی۔ عربی کے مفردات کا نظام کامل ہے یعنی انسانی
    ضرورتوں کو وہ مفردات پوری مدد دیتے ہیں دوسرے لغات اس سے بے بہرہ ہیں۔
    دوسری خوبی۔ عربی میں اسماء باری و اسماء ارکان عالم و نباتات و حیوانات و جمادات و اعضائے انسان
    اپنی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 138
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 138
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اپنی وجوہ تسمیہ میں بڑے ؔ بڑے علوم حکمیہ پر مشتمل ہیں دوسری زبانیں ہرگز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
    تیسر۳ی
    خوبی۔ عربی کا اطراد مواد الفاظ بھی پورا نظام رکھتا ہے اور اس نظام کا دائرہ تمام افعال اور اسماء کو جو ایک ہی مادہ کے ہیں ایک سلسلہ حکمیہ میں داخل کر کے ان کے باہمی تعلقات دکھلاتا ہے اور
    یہ بات اس کمال کے ساتھ دوسری زبانوں میں پائی نہیں جاتی۔
    چو۴تھی خوبی۔ عربی کی تراکیب میں الفاظ کم اور معانی زیادہ ہیں یعنی زبان عربی الف لام اور تنوینوں اور تقدیم تاخیر سے وہ کام
    نکالتی ہے جس میں دوسری زبانیں کئی فقروں کے جوڑنے کی محتاج ہوتی ہیں۔
    پانچو۵یں خوبی۔ عربی زبان ایسے مفردات اور تراکیب اپنے ساتھ رکھتی ہے جو انسان کے تمام باریک در باریک ضمائر
    اور خیالات کا نقشہ کھینچنے کے لئے کامل وسائل ہیں۔
    اب چونکہ یہ بھاری ثبوت ہمارے ذمہ ہے کہ ہم عربی کے مفردات کا ایسا نظام کامل ثابت کریں جو دوسری کتابیں اس کے مقابلہ سے عاجز
    رہیں اور نیز اس کی باقی چار خوبیوں کو بھی اسی طرح بپایہ ثبوت پہنچاویں۔ لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہوا کہ ہم ان مباحث کو عربی زبان میں ہی لکھیں کیونکہ ہمار ایہ فرض ہے کہ یہ تمام خوبیاں
    مخالف کو دکھلاویں اور اگر وہ کسی اور زبان کو الہامی اور
    اُمّ الالسنہ قرار دیتا ہے تو اس سے ان خوبیوں کا مطالبہ کریں اور چونکہ یہ بڑا بھاری کام ہے اس لئے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ
    مخالف کو پورے پورے طور پر ملزم اور ساکت کرنے کے لئے کوئی ایسی تدبیر کی جائے جس سے ان سب جھوٹے عذرات کا استیصال ہو جائے جو ایک مخالف مقابلہ سے عاجز آکر محض بے ہودہ
    حیلہ سازی کے طور پر پیش کرسکتا ہے۔ مثلاً ایک آریہ مخالف اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کہہ سکتا ہے کہ ان فضائل خمسہ میں عربی کی خصوصیت کا دعویٰ بے دلیل ہے کیونکہ یہ دعویٰ اس وقت
    صحیح ٹھہر سکتا ہے کہ جب کہ تمہیں سنسکرت کی پوری واقفیت ہوتی اب جبکہ سنسکرت کی ایسی واقفیت نہیں ہے تو یہ دعویٰ صرف یک طرفہ خیال ہے اور ممکن ہے کہ یک طرفہ خیال تحقیق کے
    وقت غلط نکلے اور گو ہم اس ناکارہ خیال کا جواب دے چکے ہیں کہ ہماری یہ تحقیقاتیں ایک
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 139
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 139
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    جما ؔ عت کی تحقیقات ہے جس میں سنسکرت دان بھی ہیں۔ لیکن اب ہم پورے طور پر اتمام حجت کے لئے ایک ایسا طریق فیصل
    لکھتے ہیں جس سے کوئی گریز نہیں کرسکتا اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم اس دعوے میں کاذب ہیں کہ عربی میں وہ پانچ فضائل خصوصیت کے ساتھ موجود ہیں جو ہم لکھ چکے ہیں اور کوئی سنسکرت دان
    وغیرہ اس بات کو ثابت کرسکتا ہے کہ ان کی زبان بھی ان فضائل میں عربی کی شریک و مساوی ہے یا اس پر غالب ہے تو ہم اس کو پانچ ہزار روپیہ بلا توقف دینے کے لئے قطعی اور حتمی وعدہ کرتے
    ہیں۔ اور یاد رہے کہ یہ وعدہ انعام ہمارا عام لوگوں کے بے ہودہ اشتہارات کی طرح نہیں تا کوئی یہ خیال کرے کہ صرف کہنے کی باتیں ہیں کس نے دینا اور کس نے لینا۔ بلکہ ہم اعلان دیتے ہیں کہ
    ایسا شخص جس طرح چاہے اپنی تسلی کرلے اور اگر چاہے تو یہ روپیہ بینک سرکاری میں رکھا جائے اور چاہے تو کسی آریہ مہاجن کے پاس یہ روپیہ جمع کرا دیا جائے اگر ہم اس کی درخواست کے
    موافق جمع نہ کرا دیں یا درخواست کے شائع ہونے اور بذریعہ رجسٹری شدہ خط کے ہم تک پہنچنے کے بعد ایک ماہ تک ہم روپیہ کو جمع نہ کرا ویں تو بے شک ہم کاذب اور لاف زن ٹھہریں گے اور
    ہماری ساری کارروائی پایۂ اعتبار سے گر جائے گی۔ لیکن یہ ضروری ہوگا کہ جو شخص جمع کرانے کی درخواست کرے وہ اس درخواست میں یہ بھی تحریر کردے کہ وہ فلاں مدت تک اس کام سے
    عہدہ برا ہوگا اور اس بات کا اقرار کردے کہ اگر وہ اُس مدت تک عہدہ برا نہ ہو اور مقابلہ کرکے نہ دکھلا سکا تو جو کچھ حرجانہ منصفوں یا عدالت کی تجویز سے ایک تجارتی روپیہ کی مدت مذکورہ
    تک بند رہنے سے متصور ہے تو وہ بلا عذر و حیلہ ادا کردے گا۔
    اور واضح ہو کہ یہ کتاب قریباً ڈیڑھ مہینہ کی محنت اور کوشش سے ہم نے تیار کی ہے چنانچہ اپریل ۱۸۹۵ ؁ء کے کچھ دن گذرے
    یہ کام شروع ہوا اور مئی ۱۸۹۵ ؁ء کو ابھی کچھ باقی رہتا تھا کہ انجام کو پہنچ گیا اور اس محنت کے دنوں میں پورا دن اس کام کے لئے کبھی نہیں لگا بلکہ زیادہ سے زیادہ تیسرا یا چوتھا حصہ اس
    فکر میں خرچ آتا رہا اور اگر تمام روز محنت کی جاتی تو شاید ہفتہ عشرہ تک ہی یہ کام انجام تک پہنچ جاتا۔ لیکن اب بالمقابل لکھنے والوں کے لئے یہ محنت راہ میں نہیں جو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 140
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 140
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/140/mode/1up
    ہمیںؔ کرنی پڑے کیونکہ ہمارے لئے ضروری تھا کہ تمام زبانوں پر ایک عمیق نظر ڈالیں اور عربی زبان کا ان سے اشتراک
    ثابت کریں اور پھر بعد ثبوت اشتراک یہ ضروری تھا کہ عربی کے فضائل خاصہ اور فوق العادت کمالات سے اس کا الہامی اور اُمّ الالسنہ ہونا بپایہ ثبوت پہنچاویں لیکن ہمارے مخالفوں کے لئے یہ
    ضروری نہیں کہ اس قدر محنت کریں۔ بلکہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ صرف عربی کے فضائل کے مقابل پر اپنی زبان کے فضائل دکھلاویں اور جس قدر ہم نے عربی زبان کی خوبیاں اس کتاب میں
    ثابت کی ہیں وہ تمام خوبیاں اپنی زبان میں ثابت کر کے پیش کریں اور جیسا کہ ہم نے نمونہ کے طور پر عربی زبان کے مفردات کو عبارات کے سلسلہ میں مندرج کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ عربی
    مفردات کا نظام کامل ہے اور ہریک قسم کے خیالات کے ادا کر دینے پر قادر ہے یہی نمونہ اپنی زبان کے مفردات سے وہ بھی دکھلاویں اور یہ کام نہایت تھوڑا اور صرف چند روز کا ہے۔ پس اس
    صورت میں محنت کا کام نہایت کم رہ گیا بلکہ مثلاً ویدک سنسکرت کا واقف صرف دو چار روز میں یہ نمونہ پیش کر سکتا ہے بشرطیکہ سنسکرت میں ایسا نمونہ بھی ہو۔ اس وقت ہم غیر زبان والوں سے
    کیا مانگتے ہیں صرف یہی کہ وہ یہ خوبیاں جو ہم نے زبان عربی میں ثابت کی ہیں اپنی زبان میں ثابت کر کے دکھلاویں۔ مثلاً یہ بات ظاہر ہے کہ کامل زبان کے لئے مفردات کا کامل نظام ضروری ہے
    یعنی یہ واجبات سے ہے کہ کامل زبان جو الہامی اور اُمّ الالسنہ کہلاتی ہے انسانی خیالات کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کے وقت پورا ذخیرہ مفردات کا اپنے اندر رکھتی ہو ایسے طور سے کہ جب
    انسان مثلاً ایک توحید کے مضمون کے متعلق یا شرک کے مضمون کے متعلق یا حقوق اللہ کے متعلق یا حقوق عباد کے متعلق یا عقائد دینیہ کے متعلق یا ان کے دلائل کے متعلق یا محبت اور مخالطت کے
    متعلق یا بغض اور نفرت کے متعلق یا خداتعالیٰ کی مدح اور ثنا اور اس کے اسماء مطہرہ کے متعلق یا مذاہب باطلہ کے رد کے متعلق یا قصص اور سوانح کے متعلق یا احکام اور حدود کے متعلق یا علم
    معاد کے متعلق یا تجارت اور زراعت اور نوکری کے متعلق یا نجوم اور ہیئت کے متعلق یا طبعی اور طبابت اور منطق وغیرہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 141
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 141
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/141/mode/1up
    کےؔ متعلق کوئی مبسوط کلام کرنا چاہے تو اس زبان کے مفردات اس کو ایسے طور سے مد د دے سکیں کہ ہریک خیال کے
    مقابل پر جو دل میں پیدا ہو ایک لفظ مفرد موجود ہوتا یہ امر اس بات پر دلیل ہو کہ جس ذات کامل نے انسان اور اس کے خیالات کو پیدا کیا اسی نے ان خیالات کے ادا کرنے کے لئے قدیم سے وہ مفردات
    بھی پیدا کر دیئے اور ہمارا دلی انصاف اس بات کے قبول کرنے کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اگر یہ خصوصیت کسی زبان میں پائی جائے کہ وہ زبان انسانی خیالات کے قد و قامت کے موافق
    مفردات کا خوبصورت پیرایہ اپنے اندر طیار رکھتی ہے اور ہریک باریک فرق جو افعال میں پایا جاتا ہے وہی باریک فرق اقوال کے ذریعہ سے دکھاتی ہے اور ا سکے مفردات خیالات کے تمام حاجتوں کے
    متکفل ہیں تو وہ زبان بلاشبہ الہامی ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو اس نے انسان کو ہزارہا طور کے خیالات کے ظاہر کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا ہے۔ پس ضرور تھا کہ انہیں خیالات کے
    اندازہ کے موافق اس کو ذخیرہ قولی مفردات بھی دیا جاتا تاخدا تعالیٰ کا قول اور فعل ایک ہی مرتبہ پر ہو لیکن حاجت کے وقت ترکیب سے کام لینا یہ بات کسی خاص زبان سے خصوصیت نہیں رکھتی۔
    ہزارہا زبانوں پر یہ عام آفت اور نقص درپیش ہے کہ وہ مفردات کی جگہ مرکبات سے کام لیتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ضرورتوں کے وقت وہ مرکبات انسانوں نے خود بنا لئے ہیں۔ پس جو زبان ان
    آفتوں سے محفوظ ہوگی اور اپنی ذات میں مفردات سے کام نکالنے کی خصوصیت رکھے گی اور اپنے اقوال کو خدا تعالیٰ کے فعل کے مطابق یعنی خیالات کے جوشوں کے مطابق اور ان کے ہم وزن
    دکھلائے گی۔ بلاشبہ وہ ایک خارق العادات مرتبہ پر ہو کر اور تمام زبانوں کی نسبت ایک خصوصیت پیدا کر کے اس لائق ہو جائے گی کہ اس کو اصل الہامی زبان اور فطرت اللہ کہا جائے اور جو زبان
    اس مرتبہ عالیہ سے مخصوص ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلی اور فوق العادات کمالات سے مختص اور
    اُمّ الالسنہ ہے اس کی نسبت یہ کہنا ایمانداری کا فرض ہوگا کہ وہی ایک زبان ہے جو
    حقیقی طور پر اس لائق ٹھہرائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کا اعلیٰ اور اکمل الہام اسی میں نازل ہو اور دوسرے الہام اس الہام کی ایسی ہی فرع ہیں جیسا کہ دوسری بولیاں اس بولی کی فرع ہیں لہٰذا ہم اس
    بحث کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 142
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 142
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/142/mode/1up
    بعد ؔ اس بحث کو لکھیں گے کہ وہ حقیقی اور کامل اور اتم اور اکمل وحی جو دنیا میں آنے والی تھی وہ صرف قرآن شریف ہے
    اور انہیں مقدمات سے اس نتیجہ کو بہ تفصیل ظاہر کریں گے کہ عربی کو اُم الالسنہ اور الہامی ماننے سے نہ صرف یہی ماننا پڑتا ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے بلکہ یہ بھی ضروری طور پر ماننا
    پڑتا ہے کہ صرف قرآن ہی ہے جس کو حقیقی وحی اور اکمل اور اتم اور خاتم الکتب کہنا چاہیئے۔ اور اب ہم مفردات کا نظام دکھلانے کے لئے اور نیز دوسری خوبیوں کے لحاظ سے اس کتاب کا عربی
    حصہ شروع کریں گے ولا حول و لا قوّۃ الا باللّٰہ و ھُو العَلیّ الْعظِیم۔
    تنبیہ
    قبل اس کے جو ہم اس کتاب کے عربی حصہ کو شروع کریں یہ بات ظاہر کرنا ضروریات سے ہے کہ پہلے ہم نے ارادہ
    کیا تھا کہ صرف عربی کے الفاظ مفردہ جمع کر کے دکھلاویں لیکن پھر ہم نے سوچا کہ اس صورت میں شاید بعض لوگ ہمارے مدعا کو صفائی سے نہ سمجھ سکیں کیونکہ بظاہر تھوڑی بہت مفردات
    ہریک قوم کے پاس ہیں۔ مثلاً اگرچہ سنسکرت مفردات کا ذخیرہ بہت ہی کم رکھتی ہے۔ چنانچہ اس زبان کے فاضل بیان کرتے ہیں کہ اس میں چار ۴۰۰سو روٹ سے زیادہ نہیں مگر تاہم اگرچہ صرف
    چار ۴۰۰سو ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ کچھ بھی نہیں اور عربی کے محققوں نے گو تحقیق کیا ہے کہ اس کے مفردات ستائیس لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن جب تک ایک دشمن متعصب کو ایک
    قاعدہ کے ساتھ ملزم نہ کیا جائے وہ اپنے بخل اور شرارت اور چون و چرا سے باز نہیں آتا لہٰذا ہمیں یہ تجویز نہایت معقول معلوم ہوئی کہ ہریک مضمون میں مفردات کا نظام طلب کیا جائے اور نظام
    مفردات سے مطلب ہمارا یہ ہے کہ ہریک مضمون جہاں تک کہ طبیعی طور پر ختم ہو اس کو محض ایسی عبارت سے جو مفردات سے ہی ترکیب پاتی ہو انجام تک پہنچایا جائے اور پھر مخالفوں سے اس
    کی نظیر مانگی جائے یہ ایک ایسا طریق ہے جس سے بڑی صفائی سے فیصلہ ہو جائے گا اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 143
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 143
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/143/mode/1up
    ہرؔ یک زبان کی بلاغت فصاحت کا بھی اندازہ ہو جائے گا ماسوا اس کے چونکہ مفردات کا نظام ثابت کرنے کے لئے ہریک فریق
    کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ صرف متفرق مفردات پیش نہ کرے بلکہ ان ضروری مضامین کے رنگ میں پیش کرے جو ہمارے مضامین کے مقابل لکھے جائیں گے۔ لہٰذا اس فاضلانہ بحث میں ہریک
    جاہل جو علم سے بے بہرہ ہو دخل نہیں دے سکے گا اور جیسا کہ پہلے اس سے مثلاً آریہ سماج والوں نے ایک نہایت ذلیل نادان اور سخت درجہ کے احمق اور جاہل لیکھرام نام ایک ہندو کو اسلام کے
    مقابل پر کھڑا کر دیا تھا اور وہ صرف گالیوں سے کام نکالتا تھا اور عیسائیوں کا چیلہ بن کر ان کے بے ہودہ اعتراض جو ان کے جاہلوں نے اسلام پر کئے ہیں پیش کرتا تھا۔ اس بحث میں ایسا نہ ہوگا
    کیونکہ یہ علمی بحث ہے اب ایسے ّ*** سیرت، گندہ طبع اور بد خو اور ساتھ اس کے سخت درجہ کے نادان اور بے علم کو بولنے کی گنجائش نہیں رہے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ ان لوگوں کی
    اصل حقیقت کیا تھی۔
    اور ہم اس جگہ اپنے ان دوستوں کا شکر ادا کرنے سے رہ نہیں سکتے جنہوں نے ہمارے اس کام میں زبانوں کا اشتراک ثابت کرنے کے لئے مدد دی ہے ہم نہایت خوشی سے اس
    بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے مخلص دوستوں نے اشتراک السنہ ثابت کرنے کے لئے وہ جان فشانی کی ہے جو یقیناً اس وقت تک اس صفحہ دنیا میں یادگار رہے گی جب تک کہ یہ دنیا آباد رہے۔ ان
    مردان خدا نے بڑی بہادری سے اپنے عزیز وقتوں کو ہمیں دیا ہے اور دن رات بڑی محنت اور عرق ریزی اٹھا کر اس عظیم الشان کام کو انجام دے دیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ان کو جناب الٰہی میں بڑا ہی
    ثواب ہوگا کیونکہ وہ ایک ایسے جنگ میں شریک ہوئے جس میں عنقریب اسلام کی طرف سے فتح کے نقارے بجیں گے۔ پس ہر ایک ان میں سے الٰہی تمغہ پانے کا مستحق ہے۔ میں اس کیفیت کو بیان نہیں
    کر سکتا کہ وہ کیونکر ہریک جلسہ میں اشتراک نکالنے کے لئے اندر ہی اندر صدہا کوس نکل جاتے تھے اور پھر کیوں کر کامیابی کے ساتھ واپس آکر کسی لفظ مشترک کا تحفہ پیش کرتے تھے یہاں تک کہ
    اسی طرح دنیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 144
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 144
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/144/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 145
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 145
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/145/mode/1up
    یہ وؔ ہ پہلا خطبہ اور تمہید ہے جس کا مقابلہ نظام مفردات میں سنسکرت کے مدعی آریہ اور دوسری قوموں سے مطلوب
    ہے
    الحمد للّٰہ الرّب الرّحمان۔ ذی المجد والفضل والاحسان۔ خلق
    تمام تعریفیں اس اللہ کو جو رب اور رحمن ہے۔ بزرگی اور فضل اور احسان اسی کی صفات ہیں۔ انسان
    چونکہؔ اصلی غرض
    عربی عبارتوں کے املا سے یہ دکھلانا ہے کہ یہ زبان علاوہ اس صفت خاص کے کہ الٰہیات اور دینی تعلیم کے تمام شاخوں کی کامل طور پر خادم ہے ہریک قصہ اور خطبہ اور مبادی اور مقاصد کے
    بیان کرنے میں اور ہریک نازک سے نازک مضمون کے ادا کرنے کے وقت صرف مفردات سے کام لیتی ہے اور اس کے خزانہ میں وہ مفردات کا نظام موجود ہے جو ہریک قصہ کے نظام سے برابر آجاتا
    ہے اور مرکبات کی طرف حاجت نہیں پڑتی اس لئے ہم نے اس خطبہ اور تمہید کے وقت اور ایسا ہی اور چند مضامین میں جو بعد میں آئیں گے یہ ارادہ کیا ہے کہ ناظرین کو عربی کے ان صفات خاصّہ
    کی طرف توجہ دلاویں تا اگر ممکن ہو تو ہمارے مخالف اس کا مقابلہ کر کے دکھلاویں اور اگر ہو سکے تو اپنی زبان کو اس دھبہ سے پاک کر دیں کہ وہ ہریک امرذی شان کے بیان کرنے میں صرف
    مفردات سے کار براری کرنے سے قاصر ہے اور ایسا نہ کر سکیں تو گو وہ سنسکرت کے حامی ہوں یا کسی اور زبان کے انہیں اس بات سے شرم کرنی چاہیئے کہ وہ کبھی کسی مجلس میں عربی زبان
    کے مقابل پر اپنی زبانوں کا نام بھی لیویں یا کبھی بھولے بسرے بھی منہ پر لاویں کہ ہماری زبان الٰہی زبان ہے اور اسی میں خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔
    اب واضح ہو کہ اس خطبہ اور تمہید میں تین سو
    کلمے ہیں جو کلمات مفردہ ہیں اور بعض ایسے کلمے ہم نے چھوڑ بھی دیئے ہیں جو ایک ہی مادہ سے نکلے ہیں اور یہ کلمات صدہا عجائب اور لطائف پر مشتمل ہیں اور اگر ہم ان کے عجائب خواص کا
    بیان کریں تو ان تمام کا لکھنا فی الواقعہ ایک دفتر چاہتا ہے لہٰذا ہم اس جگہ بالفعل صرف دو لفظ کی خوبیاں بطور نمونہ پیش کریں گے۔ اور پھر وقتاً فوقتاً انشاء اللہ پیش کرتے جائیں گے لیکن پہلے اس
    سے اس نہایت مفید قاعدہ کا لکھنا واجبات سے ہے کہ صحیفہ قدرت پر نظر ڈالنے سے یہ بات ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ جو چیزیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا ہوئیں یا اس سے صادر ہوئیں
    ان کی اول علامت یہی ہے کہ اپنے اپنے مرتبہ کے موافق خدا شناسی کی راہوں کے خادم ہوں اور اپنے وجود کی اصلی غرض بزبان قال یا حال یہی ظاہر کریں کہ وہ معرفت باری کا ذریعہ اور اسی
    کے راہ کے خادم ہیں۔ کیونکہ تمام مخلوقات کی افراد پر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 146
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 146
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/146/mode/1up
    الانسان۔ علمہ البیان ۔ ثم جعل من لسان واحدۃ السنۃ
    پیدا کیا اور اس کو بولنا سکھلایا پھر ایک زبان سے کئی زبانیں شہروں
    میں
    بقیہ حاشیہ:ایک نظر ؔ غور ڈالنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا تمام سلسلہ انواع اقسام کے پیرایوں میں اسی کام میں لگا ہوا ہے کہ تا وہ خدا تعالیٰ کے پہچاننے اور اس کی راہوں کے
    جاننے میں ایک ذریعہ ہو پس چونکہ عربی زبان خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی اور اس کے منہ سے نکلی ہے لہٰذا ضرور تھا کہ اس میں بھی یہ علامت موجود ہو تا یقینی طور پر شناخت کیا جائے کہ وہ فی
    الواقعہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی کوششوں کے محض خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہوئی ہیں سو الحمد للہ والمنہ کہ عربی زبان میں یہ علامت نہایت بدیہی اور صاف طور پر
    پائی جاتی ہے اور جیسا کہ انسان کے اور قویٰ کی نسبت مضمون آیۃ 3۱؂ ثابت و متحقق ہے اسی طرح عربی زبان میں جو انسان کی اصلی زبان اور اس کی جزو خلقت ہے یہی حقیقت ثابت ہے اس میں
    کیا شک ہے کہ انسان کی خلقت اسی حالت میں اتم اور اکمل ٹھہر سکتی ہے کہ جب کلام کی خلقت بھی اس میں داخل ہو کیونکہ وہ چیز جو انسانیت کے جوہر کی چہرہ نما ہے وہ کلام ہی ہے اور کچھ
    مبالغہ نہ ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ انسانیت سے مراد یہی نطق اپنے تمام لوازم کے ساتھ ہے پس خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ میں نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لئے پیدا کیا ہے درحقیقت دوسرے
    لفظوں میں یہ بیان ہے کہ میں نے انسانی حقیقت کو جو نطق اور کلام ہے معہ اس کے تمام قویٰ اور افعال کے جو اس کے زیر حکم چلتے ہیں اپنے لئے بنایا ہے کیونکہ جب ہم سوچتے ہیں کہ انسان کیا
    چیز ہے تو صریح یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک جاندار ہے کہ جو اپنی کلام سے دوسرے جانوروں سے تمیز کلی رکھتا ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ کلام انسان کی اصل حقیقت ہے اور باقی قویٰ اس
    حقیقت کی تابع اور خادم ہیں۔ پس اگر یہ کہیں کہ انسان کا کلام خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ انسان کی انسانیت خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں لیکن ظاہر ہے کہ خدا انسان کا خالق
    ہے اس لئے زبان کا معلم بھی وہی ہے اور اس جھگڑے کے فیصلے کے لئے کہ وہ کس زبان کا معلّم ہے ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اس کی طرف سے وہی زبان ہے کہ جو بموجب منطوق 3۲ ؂ اسی طرح
    معرفت الٰہی کی خادم ہو سکتی ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی دوسری بناوٹ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان صفات سے موصوف صرف عربی ہی ہے اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ معرفت باری تک
    پہنچانے کے لئے اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتی ہے جو الٰہیات کے ایک معنوی تقسیم کو جو قانون قدرت میں پائی جاتی ہے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے مفردات میں دکھاتی ہے اور
    صفات
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 147
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 147
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/147/mode/1up
    فی البلدان۔ کما جعل من لون واحد انواع الالوان۔ و جعل
    کر دیں۔ جیسا کہ ایک رنگ سے کئی رنگ انواع اقسام کے بنا دیئے اور
    عربی
    بقیہ حاشیہ: الٰہیہ کے نازک اور باریک فرقوں کو جو صحیفہ فطرت میں نمودار ہیں اور ایسا ہی توحید کے دلائل کو جو اسی صحیفہ سے مترشح ہیں اور خدا تعالیٰ کے انواع اقسام کے ارادوں
    کو جو اس کے بندوں سے متعلق اور صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں ایسےؔ طور سے ظاہر کر دیتی ہے کہ گویا ان کا ایک نہایت لطیف نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیتی ہے اور ان دقیق امتیازوں کو جو خدا
    تعالیٰ کے اسماء اور صفات اور افعال اور ارادوں میں واقع ہیں جن کی شہادت اس کا قانون قدرت دے رہا ہے ایسی صفائی سے دکھا دیتی ہے کہ گویا ان کی تصویر کو آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے
    چنانچہ یہ بات ببداہت معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صفات اور افعال اور ارادوں کی چہرہ نمائی اور نیز اپنے فعل اور قول کے تطبیق کے لئے زبان عربی کو ایک متکفل خادم پیدا کیا ہے اور ازل
    سے یہی چاہا ہے کہ الٰہیات کے سر مکتوم اور مقفل کے لئے یہی زبان کنجی ہو۔ اور جب ہم اس نکتہ تک پہنچتے ہیں اور یہ عجیب عظمت اور خصوصیت عربی کی ہم پر کھلتی ہے تو دوسری تمام
    زبانیں سخت تاریکی اور نقصان میں پڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ جس طرح زبان عربی صفات الٰہیہ اور اس کی تمام تعلیموں کے لئے مرایا متقابلہ کی طرح واقع ہے اور الٰہیات کے قدرتی نقشہ کا
    ایک سیدھا انعکاسی خط عربی میں پڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یہ صورت کسی دوسری زبان میں ہرگز موجود نہیں اور جب ہم عقل سلیم اور فہم مستقیم سے صفات الٰہیہ کی اس تقسیم پر نظر ڈالتے ہیں جو
    قدیم سے اور ازل سے صحیفہ عالم میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے تو وہی تقسیم عربی کے مفردات میں ہمیں ملتی ہے مثلاً جب ہم غور کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا رحم عقلی تحقیق کی رو سے اپنی
    ابتدائی تقسیم میں کتنے حصوں پر مشتمل ہوسکتا ہے تو اس قانون قدرت کو دیکھ کر جو ہماری نظر کے سامنے ہے صاف طور پر ہمیں سمجھ آجاتا ہے کہ وہ رحم دو قسم پر ہے یعنی قبل از عمل و بعداز
    عمل کیونکہ بندہ پروری کا نظام بآواز بلند گواہی دے رہا ہے کہ رحمت الٰہی نے دو قسم سے اپنی ابتدائی تقسیم کے لحاظ سے بنی آدم پر ظہور و بروز فرمایا ہے۔
    اول وہ رحمت جو بغیر وجود عمل
    کسی عامل کے بندوں کے ساتھ شامل ہوئی جیسا کہ زمین اور آسمان اور شمس اور قمر اور ستارے اور پانی اور ہوا اور آگ اور وہ تمام نعمتیں جن پر انسان کی بقا اور حیات موقوف ہے کیونکہ بلاشبہ یہ
    تمام چیزیں انسان کے لئے رحمت ہیں جو بغیر کسی استحقاق کے محض فضل اور احسان کے طور سے اس کو عطا ہوئے ہیں اور یہ ایسا فیض خاص ہے جو انسان کے سوال کو بھی اس میں دخل نہیں
    بلکہ اس کے وجود سے بھی پہلے ہے اور یہ چیزیں ایسی بزرگ رحمت ہے جو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 148
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 148
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/148/mode/1up
    العربیۃ اُمّا لکل لسان۔ وجعلہا کالشمس بالضوء واللمعان۔
    کو ہر یک زبان کی ماں ٹھہرایا۔اور اس کو چمک اور روشنی میں
    سورج کی طرح بنا دیا
    بقیہ حاشیہ:انسان کی زندگی انہیں پر موقوف ہے اور پھر باوصف اس کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں انسان کے کسی نیک عمل سے پیدا نہیں ہوئیں بلکہ انسانی گناہ
    کا علم بھی جو خدا تعالیٰ کو پہلے سے تھا ان رحمتوں کے ظہور سے مانع نہیں ہوا اور کوئی اوا گون کا قائل یا تناسخ کا ماننے والا گو کیسا ہی اپنے تعصب اور جہالت میں غرق ہو مگر یہ بات تو وہ
    منہ پر نہیں لا سکتا کہؔ یہ انسان ہی کے نیک کاموں کا پھل اور نتیجہ ہے کہ اس کے آرام کے لئے زمین پیدا کی گئی یا اس کی تاریکی دور کرنے کے لئے آفتاب اور ماہتاب بنایا گیایا اس کے کسی نیک
    عمل کی جزا میں پانی اور اناج پیدا کیا گیا یا اس کے کسی زہد اور تقویٰ کے پاداش میں سانس لینے کے لئے ہوا بنائی گئی کیونکہ انسان کے وجود اور زندگی سے بھی پہلے یہ چیزیں موجود ہو چکی ہیں۔
    اور جب تک ان چیزوں کا وجود پہلے فرض نہ کر لیں تب تک انسان کے وجود کا خیال بھی ایک خیال محال ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ یہ چیزیں جن کی طرف انسان اپنے وجود اور حیات اور بقا کے
    لئے محتاج تھا وہ انسان کے بعد ظہور میں آئے ہوں پھر خود انسانی وجود جس احسن طور کے ساتھ ابتدا سے تیار کیا گیا ہے یہ تمام وہ باتیں ہیں جو انسان کی تکمیل سے پہلے ہیں اور یہی ایک خاص
    رحمت ہے جس میں انسان کے عمل اور عبادت اور مجاہدہ کو کچھ بھی دخل نہیں۔
    دوسریقسم رحمت کی وہ ہے جو انسان کے اعمال حسنہ پر مترتب ہوتی ہے کہ جب وہ تضرع سے دعا کرتا ہے تو
    قبول کی جاتی ہے اور جب وہ محنت سے تخم ریزی کرتا ہے تو رحمت الٰہی اس تخم کو بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ایک بڑا ذخیرہ اناج کا اس سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر غور سے دیکھو تو ہمارے ہریک
    عمل صالح کے ساتھ خواہ وہ دین سے متعلق ہے یا دنیا سے رحمت الٰہی لگی ہوئی ہے اور جب ہم ان قوانین کے لحاظ سے جو الٰہی سنتوں میں داخل ہیں کوئی محنت دنیا یا دین کے متعلق کرتے ہیں تو فی
    الفور رحمت الٰہی ہمارے شامل حال ہو جاتی ہے اور ہماری محنتوں کو سرسبز کردیتی ہے یہ دونوں رحمتیں اس قسم کی ہیں کہ ہم ان کے بغیر جی ہی نہیں سکتے۔ کیا ان کے وجود میں کسی کو کلام
    ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو اجلٰی بدیہیات میں سے ہیں جن کے ساتھ ہماری زندگی کا تمام نظام چل رہا ہے پس جبکہ ثابت ہوگیا کہ ہماری تربیت اور تکمیل کے لئے دو رحمتوں کے دو چشمے قادر
    کریم نے جاری کر رکھے ہیں اور وہ اس کی دو صفتیں ہیں جو ہمارے درخت وجود کی آبپاشی کے لئے دو رنگوں میں ظاہر ہوئے ہیں تو اب دیکھنا چاہیئے کہ وہ دو چشمے زبان عربی میں منعکس ہوکر
    کس کس نام سے پکارے گئے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 149
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 149
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/149/mode/1up
    ھو الذی نطق بحمدہ الثقلان۔ و اقرّ بربوبیتہ الانس
    وہی ہے جس کی حمد آدمی اور جن کر رہے ہیں۔ اور اس کے رب ہونے کا
    اقرار کرتے
    بقیہ حاشیہ: پس واضح ہو کہ پہلے قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان عربی میں خدا تعالیٰ کو رحمن کہتے ہیں اور دوسرے قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان موصوف میں اس کا
    نام رحیمہے اسی خوبی کے دکھلانے کے لئے ہم عربی خطبہ کے پہلی ہی سطر میں رحمان کا لفظ لائے ہیں۔ اب اس نمونہ سے دیکھ لو کہ چونکہ یہ رحم کی صفت اپنی ابتدائے تقسیم کے لحاظ سے
    الٰہی قانون قدرت کے دو قسم پر مشتمل تھی۔ لہٰذا اس کے لئے زبان عربی میں دو مفرد لفظؔ موجود ہیں اور یہ قاعدہ طالب حق کے لئے نہایت مفید ہوگا کہ ہمیشہ عربی کے باریک فرقوں کے پہچاننے
    کے لئے صفات اور افعال الٰہیہ کو جو صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں معیار قرار دیا جائے اور ان کے اقسام کو جو قانون قدرت سے ظاہر ہوں عربی کے مفردات میں ڈھونڈا جائے اور جہاں کہیں عربی
    کے ایسے مترادف لفظوں کا باہمی فرق ظاہر کرنا مقصود ہو جو صفات یا افعال الٰہی کے متعلق ہیں تو صفات یا افعال الٰہی کی اس تقسیم کی طرف متوجہ ہوں جو نظام قانون قدرت دکھلا رہا ہے کیونکہ
    عربی کی اصل غرض الٰہیات کی خدمت ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی اصل غرض معرفت باری تعالیٰ ہے اور ہریک چیز جس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی غرض کو سامنے رکھ کر اس کے
    عقدے کھل سکتے ہیں اور اس کے جوہر معلوم ہوسکتے ہیں مثلاً بیل صرف کلبہ رانی اور بارکشی کے لئے پیدا کیا گیا ہے پس اگر اس غرض کو نظر انداز کر کے اس سے وہ کام لینا چاہیں جو شکاری
    کتوں سے لیا جاتا ہے تو بے شک وہ ایسے کام سے عاجز آ جائے گا اور نہایت نکما اور ذلیل ثابت ہوگا لیکن اگر اصلی کام کے ساتھ اس کی آزمائش کریں تو وہ بہت جلد اپنے وجود کی نسبت ثابت کرے
    گا کہ سلسلہ وسائل معیشت دنیوی کا ایک بھاری بوجھ اس کے سر پر ہے غرض ہریک چیز کا ہنر اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب اس کا اصلی کام اس سے لیا جائے سو عربی کے ظہور اور بروز کا اصلی
    مقصود الٰہیات کا روشن چہرہ دکھلانا ہے مگر چونکہ اس نہایت باریک اور دقیق کام کا ٹھیک ٹھیک انجام دینا اور غلطی سے محفوظ رہنا انسانی طاقتوں سے بڑھ کر تھا۔ لہٰذا خداوند کریم اور رحیم نے قرآن
    کریم کو عربی زبان کی بلاغت و فصاحت دکھلانے کے لئے اور مفردات کی نازک
    * کتاب دساتیر مجوس میں یہ فقرات ہیں ’’بنام ایزد بخشائندہ بخشائش گر مہربان دا دگر‘‘ جو بظاہر بسم اللہ
    الرحمن الرحیم کے مشابہ ہیں لیکن جو لفظ رحمان اور رحیم میں پُر حکمت فرق ہے وہ فرق ان لفظوں میں موجود نہیں اور جو اللہ کا اسم وسیع معنی رکھتا ہے وہ ایزد کے لفظ میں ہرگز پائے نہیں جاتے۔
    لہٰذا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 150
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 150
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/150/mode/1up
    والجان۔ تسجد لہ الارواح والابدان۔ والقلب واللسان
    ہیں۔ روحیں اور بدن اس کو سجدہ کرتی ہیں۔ دل اور زبان اس کی
    تعریف
    بقیہ حاشیہ : فرق اور مرکبات کا خارق عادت ایجاز ظاہر کرنے کے لئے بطور ایسے اعجاز کے بھیجا کہ تمام گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور عربی کی بلاغت کو اس کے مفردات اور
    مرکبات کی نسبت جو کچھ قرآن نے ظاہر کیا اس کو اس وقت کے اعلیٰ درجہ کے زبان دانوں نے نہ صرف قبول ہی کیا بلکہ مقابلہ سے عاجز آکر یہ بھی ثابت کر دیا کہ انسانی قوتیں ان حقائق اور
    معارف کے بیان کرنے اور زبان کا سچا اور حقیقی حسن دکھلانے سے عاجز ہیں اسی مقدس کلام سے رحمان اور رحیم کا بھی فرق معلوم ہوا جس کو ہم نے بطور نمونہ خطبہ مذکورہ میں لکھا ہے اور
    یہ بات ظاہر ہے کہ ہریک زبان میں بہت سے مترادف الفاظ پائے جاتے ہیں لیکن جب تک آنکھ کھول کر ان کے باہمی فرقوں پر اطلاع نہ پاویں اور وہ الفاظ علم الٰہی اور دینی تعلیم میں سے نہ ہوں تب تک
    ان کو علمی مد میں شمار نہیں کرسکتے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ انسان اپنی طرف سے ایسے مفردات پیدا نہیں کر سکتا ہاں اگر قدرت قادر سے پیدا شدہ ہیں تو ان میں غور کر کے ان کے باریک فرق اور
    محل استعمال معلوم کرسکتا ہے مثلاً صرف اور نحو کےؔ بانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے کوئی نئی بات نہیں نکالی اور نہ نئے قواعد بنا کر کسی کو ان پر چلنے کے لئے مجبور کیا بلکہ اسی طبیعی بولی
    کو ایک بیدار نظر کے ساتھ دیکھ کر تاڑ گئے کہ یہ بول چال قواعد کے اندر آسکتی ہے۔ تب مشکلات کے سہل کرنے کے لئے قواعد کی بنا ڈالی سو قرآن کریم نے ہریک لفظ کو اپنے محل پر رکھ کر دنیا
    کو دکھلا دیا کہ عربی کے مفردات کس کس محل پر استعمال پاتے ہیں اور کیسے وہ الٰہیات کے خادم اور نہایت دقیق امتیاز باہمی رکھتے ہیں اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کریم د۱۰س قسم کے نظام
    مفردات پر مشتمل ہے۔
    (۱) ایسے مفردات کا نظام جن میں بیان وجود باری اور دلائل وجود باری اور نیز خدا تعالیٰ کی ایسے صفات
    اور اسماء اور افعال اور سنن اور عادات کا بیان ہے کہ
    جو باہمی امتیازوں کے ساتھ اللہ جلّ شانہ کی ذات سے مخصوص ہیں اور نیز وہ کلمات جو اس کی اس کامل مدح اور ثناء کے متعلق ہیں جو بیان جلال اور جمال اور عظمت اور کبریائی کے بارے میں
    ہیں۔
    (۲) ان مفردات کا نظام جو توحید باری اور دلائل توحید باری پر مشتمل ہیں۔
    بقیہ حاشیہ: یہ ترکیب پارسیوں کی بسم اللہ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتی غالباً یہ الفاظ پیچھے سے بطور
    سرقہ لکھے گئے ہیں
    بہرحال یہ نقص دلالت کرتا ہے کہ یہ انسان کا قول ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 151
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/151/mode/1up
    یحمدان۔ سبحان ربّنا ربّ مایُوجد وما یکون وکان۔ یفعل
    میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارا رب پاک ہے جو موجودہ زمانہ اور آئندہ اور
    گذشتہ کا رب ہے جو چاہتا ہے
    بقیہ حاشیہ: (۳) ان مفردات کا نظام جن میں وہ صفات اور افعال اور اعمال اور عادات اور کیفیات
    روحانیہ یا نفسانیہ بیان کی گئی ہیں جو باہمی امتیازوں کے
    ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے اس کی مرضی کے
    موافق یا خلاف مرضی بندوں سے صادر ہوتی ہیں یا ظہور و بروز میں آتی ہیں۔
    (۴) ان مفردات کا نظام جو وصایا اور تعلیم اخلاق اور عقائد اور
    حقوق اللہ اور حقوق العباد اور علوم حکمیہ اور
    حدود اور احکام اور اوامر اور نہی اور حقائق اور معارف کے رنگ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کامل ہدایتیں ہیں۔
    (۵) ان مفردات کا نظام جن
    میں بیان کیا گیا ہے کہ نجات حقیقی کیا شے ہے اور اس کے حصول کے لئے
    حقیقی وسائل اور ذرائع کیا کیا ہیں اور نجات یافتہ مومنوں اور مقربوں کے آثار اور علامات کیا ہیں۔
    (۶) ان
    مفردات کا نظام جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اسلام کیا شے ہے اور کفر اور شرک کیا شے ہے اور اسلام کی
    حقیت پر دلائل اور نیز اعتراضات کی مدافعت ہے۔
    (۷) ایسے مفردات کا نظام جو
    مخالفین کے تمام عقائد باطلہ کا رد کرتے ہیں۔
    (۸) ایسے مفردات کا نظام جو انذار اور تبشیر اور وعد اور وعید اور عالم معاد کے بیان کے رنگ میں یا
    معجزات کی صورت میں یا مثالوں کے
    طور پر ایسی پیشگوئیوں کی صورت میں جو موجب زیادت ایمان یا اور مصالحؔ پر مشتمل ہوں ایسے قصوں کی طرز میں جو تنبیہہ یا ڈرانے یا خوشخبری دینے کی غرض سے ہوں مرتب کیا گیا
    ہے۔
    (۹) ایسے مفردات کا نظام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح اور پاک صفات اور آنجناب کی پاک
    زندگی کے اعلیٰ نمونہ پر مشتمل ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    کی نبوت کے دلائل کاملہ بھی ہیں۔
    (۱۰) ایسے مفردات کا نظام جو قرآن کریم کے صفات اور تاثیرات اور اس کے ذاتی خواص کو بیان کرتے ہیں۔
    یہ د۱۰س نظام وہ ہیں جو اپنے کمال تام کی
    وجہ سے د۱۰س دائروں کی طرح قرآن میں پائے جاتے ہیں
    جن کو دوائر عشرہ سے موسوم کرسکتے ہیں۔
    ان د۱۰س دائروں میں خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے پاکیزہ اور باہمی امتیاز رکھنے
    والے مفردات سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 152
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/152/mode/1up
    ما یشاء وکل یوم ھو فی شان۔ یُسبّح لہ کل ناطق وصامت۔
    کرتا ہے اور ہریک دن وہ ایک کام میں ہے۔ ہریک بولنے والا اور نہ
    بولنے والا اس کی تسبیح میں مشغول ہے۔
    بقیہ حاشیہ:کام لیا ہے جو عقل سلیم فی الفور گواہی دیتی ہے کہ یہ اکمل اور اتم سلسلہ مفردات کا اسی لئے عربی میں مقرر کیا گیا تھا کہ تاقرآن کا خادم ہو
    یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ مفردات کا قرآن کریم کے تعلیمی نظام سے جو اکمل اور اتم ہے بالکل مطابق آگیا۔ لیکن دوسری زبانوں کے مفردات کا سلسلہ ان کتابوں کے تعلیمی نظام سے ہر گز مطابق نہیں
    آتا جو الٰہی کتابیں کہلاتی ہیں اور جن کا ان زبانوں میں نازل ہونا بیان کیا گیا اور نہ دوائر عشرہ مذکورہ ان کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ پس ان کتابوں کے ناقص ہونے کی وجوہ سے یہ بھی ایک بھاری
    وجہ ہے کہ وہ دوائر ضروریہ سے بے بہرہ اور نیز زبان کے مفردات ان کتابوں کی تعلیم سے وفا نہیں کر سکے اور اس میں بھید یہی ہے کہ وہ کتابیں حقیقی کتابیں نہیں تھیں بلکہ وہ صرف چند روزہ
    کارروائی تھی حقیقی کتاب دنیا میں ایک ہی آئی جو ہمیشہ کے لئے انسانوں کی بھلائی کے لئے تھی لہٰذا وہ دوائر عشرہ کاملہ کے ساتھ نازل ہوئی اور اس کے مفردات کا نظام تعلیمی نظام کا بالکل ہموزن
    اور ہم پلہ تھا اور ہریک دائرہ اس کا دوائر عشرہ میں سے اپنے طبیعی نظام کے اندازہ اور قدر پر مفردات کا نظام ساتھ رکھتا تھا جس میں الٰہی صفات کے اظہار کے لئے اور اقسام اربعہ مذکورہ کے
    مدارج بیان کرنے کی غرض سے الگ الگ الفاظ مفردہ مقرر تھے اور ہریک تعلیم کے دائرہ کے موافق مفردات کا کامل دائرہ موجود تھا۔ اب ہم اسی پر اکتفا کر کے ایک اور لفظ کی چند خوبیان بیان کرتے
    ہیں۔ سو وہ لفظ ربّ کا ہے جو قرآنی الفاظ میں سے ہم نے لیا ہے۔ یہ لفظ قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ اور پہلی ہی آیت میں آتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے الحمد للّٰہ رب العالمین۔ لسان العرب
    اور تاج العروس میں جو لُغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں رب کا لفظ سا۷ت معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔ مالکؔ ۔ سیّد۔ مدبر۔ مربی۔ قیّم۔ منعم۔ متمم۔ چنانچہ ان سات معنوں
    میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے
    تصرف میں لاسکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیوں کہ قبضہ تامہ ہو اور
    تصرف تمام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 153
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/153/mode/1up
    ویبغیؔ رحمہ کل زائغ و سامتٍ۔ و ھو رب العالمین لہ الحمد والمجد وھو
    اور ہریک کج رو اور راست رو اس کا رحم طلب
    کرتا ہے اور وہ رب العالمین ہے اسی کے لئے تعریف اور بزرگی مسلّم ہے اور وہ
    بقیہ حاشیہ:کے لئے مسلّم نہیں اور سیّد لُغت عرب میں اُس کو کہتے ہیں جس کا تابع ایک ایسا سواد اعظم ہو جو
    اپنے دلی جوش اور اپنی طبعی اطاعت سے اس کے حلقہ بگوش ہوں سو بادشاہ اور سید میں یہ فرق ہے کہ بادشاہ سیاست قہری اور اپنے قوانین کی سختی سے لوگوں کو مطیع بناتا ہے اور سید کے
    تابعین اپنی دلی محبت اور دلی جوش اور دلی تحریک سے خود بخود متابعت کرتے ہیں اور سچی محبت سے اس کو سیّدنا کر کے پکارتے ہیں اور ایسی متابعت بادشاہ کی اس وقت کی جاتی ہے کہ جب وہ
    بھی لوگوں کی نظر میں سید قرار پاوے۔ غرض سیّد کا لفظ بھی حقیقی طور پر بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر بولا نہیں جاتا کیونکہ حقیقی اور واقعی جوش سے اطاعت
    جس کے ساتھ کوئی شائبہ اغراض نفسانیہ کا نہ ہو بجز خدا تعالیٰ کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ وہی ایک ہے جس کی سچی اطاعت روحیں کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کی پیدائش کا حقیقی مبدا ہے۔ اس لئے
    طبعاً ہر یک روح اس کو سجدہ کرتی ہے بت پرست اور انسان پرست بھی اس کی اطاعت کے لئے ایسا ہی جوش رکھتے ہیں جیسا کہ ایک موحّد راستباز مگر انہوں نے اپنی غلطی سے اور قصور طلب
    سے اس زندگی کے سچے چشمہ کو شناخت نہیں کیا بلکہ نابینائی کی وجہ سے اس اندرونی جوش کو غیر محل پر وضع کر دیا تب کسی نے پتھروں کو اور کسی نے رام چندر کو اور کسی نے کرشن کو
    اور کسی نے نعوذ باللہ ابن مریم کو خدا بنا لیا۔ لیکن اس دھوکہ سے بنایا کہ شاید وہ جو مطلوب ہے یہ وہی ہے۔ سو یہ لوگ مخلوق کو حق اللہ دے کر ہلاک ہوگئے۔ ایسا ہی اس حقیقی محبوب اور سیّد کی
    روحانی طلب میں ہوا پرستوں نے دھوکے کھائے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں بھی ایک محبوب اور ایک حقیقی سید کی طلب تھی مگر انہوں نے اپنے دلی خیالات کو اچھی طرح شناخت نہ کر کے یہ خیال
    کیا کہ وہ حقیقی محبوب اور سید جس کو روحیں طلب کر رہی ہیں اور جس کی اطاعت کے لئے جانیں اچھل رہی ہیں وہ دنیا کے مال اور دنیا کے املاک اور دنیا کی لذات ہی ہیں مگر یہ ان کی غلطی تھی
    بلکہ روحانی خواہشوں کا محرک اور پاک جذبات کا باعث وہی ایک ذات ہے جس نے فرمایا ہے 3۔۱؂ یعنی جن اور انس کی پیدائش اور ان کی تمام قویٰ کا میں ہی مقصود ہوں وہ اسی لئے میں نے پیدا کئے
    کہ تا مجھے پہچانیں اور میری عبادت کریں سو ؔ اس نے اس آیت میں اشارہ کیا کہ جن وانس کی خلقت میں اس کی طلب و معرفت اور اطاعت کا مادہ رکھا گیا ہے اگر انسان میں یہ مادہ نہ ہوتا تو نہ
    دنیا میں ہوا پرستی ہوتی نہ بت پرستی نہ انسان پرستی کیونکہ ہریک خطا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 154
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/154/mode/1up
    مولی النعم فی الاولٰی والاٰخرۃ۔ والصلٰوۃ والسّلام علٰی رسولہ سید الرسل
    دونوں جہانوں میں آقائے نعمت ہے۔ اور سلام اور
    صلوٰۃ اس کے رسول پر جو رسولوں کا سردار
    بقیہ حاشیہ:صواب کی تلاش میں پیدا ہوا ہے۔ غرض سیادت حقیقی اُسی ذات کے لئے مسلّم ہے اور وہی واقعی طور پر سیّد ہے۔ اور منجملہ ان تین
    ناموں کے جو خدا تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں مُدّبر بھی ہے اور تدبیر کے معنی ہیں کہ کسی کام کے کرنے کے وقت تمام ایسا سلسلہ نظر کے سامنے حاضر ہو جو گذشتہ واقعات کے متعلق یا
    آئندہ نتائج کے متعلق ہے اور اس سلسلہ کے لحاظ سے وضع شئ فی محلّہ ہو اور کوئی کارروائی حکمت عملی سے باہر نہ ہو اور یہ نام بھی اپنے حقیقی معنوں کی رو سے بجز خدا تعالیٰ کے کسی غیر
    پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ کامل تدبیر غیب دانی پر موقوف ہے اور وہ بجز خدا تعالیٰ کے کسی کے لئے مسلّم نہیں۔
    اور چار باقی نام یعنے مربی۔ قیّم۔ منعم۔ متمم۔ خدا تعالیٰ کے ان فیوض پر دلالت
    کرتے ہیں جو بلحاظ اس کی کامل ملکیت اور کامل سیادت اور کامل تدبیر کے اُس کے بندوں پر جاری ہیں۔ چنانچہ مربی کا لفظ بظاہر معنی پرورش کرنے والے کو کہتے ہیں اور کامل طور پر تربیت کی
    حقیقت یہ ہے کہ جس قدر خلقت انسان کے شعبے باعتبار جسم اور روح اور تمام طاقتوں اور قوتوں کے پائے جاتے ہیں ان تمام شاخوں کی پرورش ہو اور جہاں تک بشریت کی جسمانی اور روحانی
    ترقیات اس پرورش کے کمال کو چاہتے ہیں ان تمام مراتب تک پرورش کا سلسلہ ممتد ہو ایسا ہی جس ُ نقطہسے بشریت کا نام اور اسم یا اس کے مبادی شروع ہوتے ہیں اور جہاں سے بشری نقش یا کسی
    دوسری مخلوق کا نقش وجود عدم سے ہستی کی طرف حرکت کرتا ہے اس اظہار اور ابراز کا نام بھی پرورش ہے پس اس سے معلوم ہوا کہ لغت عرب کے رو سے ربوبیت کے معنے نہایت ہی وسیع ہیں
    اور عدم کے نقطہ سے مخلوق کے کمال تام کے نقطہ تک ربوبیت کا لفظ ہی اطلاق پاتا ہے اور خالق وغیرہ الفاظ رب کے اسم کی فرع ہیں اور قیم کے معنی ہیں نظام کو محفوظ رکھنے والا اور منعم کے
    یہ معنی ہیں کہ ہریک قسم کا انعام اکرام جو انسان یا کوئی دوسری مخلوق اپنی استعداد کی رو سے پاسکتی ہے اور بالطبع اس نعمت کے خواہاں ہے وہ انعام اس کو عطا کرے تا ہریک مخلوق اپنے کمال تام
    کو پہنچ جائے جیسا کہ اللہ
    جلّ شانہ ایک جگہ فرماتا ہے۔۱؂ یعنے وہ خدا جس نے ہریک چیز کو اس کے مناسب حال کمال خلقت بخشا اور پھر اس کو دوسرے کمالات مطلوبہ کے لئے رہنمائی کی
    پس
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 155
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/155/mode/1up
    و نور الامم وخیر البریّۃ واصحابہ الھادین المھتدین و اٰلہ الطیبین
    اور امتوں کا ُ نور اور تمام مخلوق سے بہتر ہے۔ اور اس کے
    اصحاب پر جو ہادی اور مہتدی ہیں اور اس کے آل پر جو طیب
    بقیہ حاشیہ:یہ انعام ہے کہ ہریک چیز کو اول اس کے وجود کی رو سے وہ ؔ تمام قویٰ وغیرہ عنایت ہوں جن کی وہ چیز محتاج ہے پھر
    اس کے حالات مترقبہ کے حصول کے لئے اس کو راہیں دکھائی جائیں اور متمم کے یہ معنی ہیں کہ سلسلہ فیض کو کسی پہلو سے بھی ناقص نہ چھوڑا جائے اور ہریک پہلو سے اس کو کمال تک پہنچایا
    جائے۔
    سو ربّ کا اسم جو قرآن کریم میں آیا ہے جس کو ہم اقتباس کے طور پر اس خطبہ کے اول میں لائے ہیں ان وسیع معنوں پر مشتمل ہے جن کو ہم نے بطور اختصار اس مضمون میں ذکر کیا
    ہے۔
    اب ہم نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایک ناسمجھ انگریز عیسائی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسلام پر عیسائی مذہب کو یہ فضیلت ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام باپ بھی آیا ہے اور یہ
    نام نہایت پیارا اور دلکش ہے اور قرآن میں یہ نام نہیں آیا۔ مگر ہمیں تعجب ہے کہ اس معترض نے اس تحریر کے وقت پر یہ خیال نہیں کیا کہ لغت نے کہاں تک اس لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کی
    ہے کیونکہ ہریک لفظ کو حقیقی عزت اور بزرگی لغت سے ہی ملتی ہے اور کسی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ اپنی طرف سے کسی لفظ کو وہ عزت دے جو لغت اس کو دے نہیں سکی اسی وجہ سے خدا
    تعالیٰ کا کلام بھی لغت کے التزام سے باہر نہیں جاتا اور تمام اہل عقل اور نقل کے اتفاق سے کسی لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کرنے کے وقت اول لغت کی طرف رجوع کرنا چاہیئے کہ اس زبان نے
    جس زبان کا وہ لفظ ہے یہ خلعت کہاں تک اس کو عطا کی ہے اب اس قاعدہ کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر جب سوچیں کہَ ابْیعنی باپ کا لفظ لُغت کی رو سے کس پایہ کا لفظ ہے تو بجز اس کے کچھ
    نہیں کہہ سکتے کہ جب مثلاً ایک انسان فی الحقیقت دوسرے انسان کے نطفہ سے پیدا ہو مگر پیدا کرنے میں اس نطفہ انداز انسان کا کچھ بھی دخل نہ ہو تب اس حالت میں کہیں گے کہ یہ انسان فلاں
    انسان کا اَبْ یعنی باپ ہے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خدائے قادر مطلق کی یہ تعریف کرنی منظور ہو جو مخلوق کو اپنے خاص ارادہ سے خود پیدا کرنے والا خود کمالات تک پہنچانے والا اور خود
    رحم عظیم سے مناسب حال اس کے انعام کرنے والا اور خود اس کا حافظ اور قیّوم ہے تو لغت ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ اس مفہوم کو اب یعنی باپ کے لفظ سے ادا کیا جائے بلکہ لغت نے اس کے لئے
    ایک دوسرا لفظ رکھا ہے جس کو ربّ کہتے ہیں جس کی اصل تعریف ابھی ہم لغت کی رو سے بیان کر چکے ہیں۔ اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 156
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/156/mode/1up
    المطہرین وجمیع عباد اللّٰہ الصّالحین امّا بعد فیقول عبد اللّٰہ الاحد
    اور طاہر ہیں اور تمام خدا کے نیک بندوں پر۔ اس کے بعد
    خدائے واحد کا بندہ
    بقیہ حاشیہ : ہم ہرگز مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے ُ لغت تراشیں بلکہ ہمیں انہیں الفاظ کی پیروی لازم ہے جو قدیم سے خدا کی طرف سے چلے آئے ہیں پس اس تحقیق سے
    ظاہر کہ ابْ یعنی باپ کا لفظ خدائے تعالیٰ کی نسبت استعمال کرنا ایک سوء ادب اورؔ ہجو میں داخل ہے اور جن لوگوں نے حضرت مسیح کی نسبت یہ الزام گھڑا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو اَبْ کر کے
    پکارتے تھے اور درحقیقت جناب الٰہی کو اپنا باپ ہی یقین رکھتے تھے انہوں نے نہایت مکروہ اور جھوٹا الزام ابن مریم پر لگایا ہے کیا کوئی عقل تجویز کرسکتی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح ایسی
    نادانی کے مرتکب ہوئے کہ جو لفظ اپنے لغوی معنوں کی رو سے ایسا حقیر اور ذلیل ہو جس میں ناطاقتی اور کمزوری اور بے اختیاری ہریک پہلو سے پائی جائے وہی لفظ حضرت مسیح اللہ جلّ شانہ
    کی نسبت اختیار کریں۔ ابن مریم علیہ السلام کو یہ اختیار ہرگز نہیں تھا کہ اپنی طرف سے لغت تراشی کریں اور لغت تراشی بھی ایسی بے ہودہ جس سے سراسر جہالت ثابت ہو۔ پس جس حالت میں
    لغت نے اَبْ یعنی باپ کے لفظ کو اس سے زیادہ وسعت نہیں دی کہ کسی نر کا نطفہ مادہ کے رحم میں گرے اور پھر وہ نطفہ نہ گرانے والے کی کسی طاقت سے بلکہ ایک اور ذات کی قدرت سے رفتہ
    رفتہ ایک جاندار مخلوق بن جائے تو وہ شخص جس نے نطفہ گرایا تھا لغت کی رو سے اَبْ یا باپ کے نام سے موسوم ہوگا اور اَبْ کا لفظ ایک ایسا حقیر اور ذلیل لفظ ہے کہ اس میں کوئی حصہ پرورش
    یا ارادہ یا محبت کا شرط نہیں۔ مثلاً ایک بکرا جو بکری پر جست کر کے نطفہ ڈال دیتا ہے یا ایک سانڈ بیل جو گائے پر جست کر کے اور اپنی شہوات کا کام پورا کر کے پھر اس سے علیحدہ بھاگ جاتا ہے
    جس کے یہ خیال میں بھی نہیں ہوتا ہے کہ کوئی بچہ پیدا ہو۔ یا ایک سؤر جس کو شہوات کا نہایت زور ہوتا ہے اور بار بار وہ اسی کام میں لگا رہتا ہے اور کبھی اس کے خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ اس
    بار بار کے شہوانی جوش سے یہ مطلب ہے کہ بہت سے بچے پیدا ہوں اور خنزیر زادے زمین پر کثرت سے پھیل جائیں اور نہ اس کو فطرتی طور پر یہ شعور دیا گیا ہے۔ تاہم اگر بچے پیدا ہو جائیں تو
    بلاشبہ سؤر وغیرہ اپنے اپنے بچوں کے باپ کہلائیں گے۔ اب جبکہ اَبْ کے لفظ یعنی باپ کے لفظ میں دنیا کی تمام لغتوں کی رو سے یہ معنی ہرگز مراد نہیں کہ وہ باپ نطفہ ڈالنے کے بعد پھر بھی
    نطفہ کے متعلق کچھ کار گذاری کرتا رہے تا بچہ پیدا ہوجائے یا ایسے کام کے وقت میں یہ ارادہ بھی اس کے دل میں ہو اور نہ کسی مخلوق کو ایسا اختیار دیا گیا ہے بلکہ باپ کے لفظ میں بچہ پیدا
    ہونے کا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 157
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/157/mode/1up
    احمد عافاہ اللّٰہ و ایّد انی کنتُ مولعًا مِنْ شَرخ الزمان بتحقیق
    احمد کہتا ہے )خدا اسے عافیت میں رکھے اور تائید میں رہے(
    کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ سے ہی مذہب کی تحقیق
    بقیہ حاشیہ:خیال بھی شرط نہیں اور اس کے مفہوم میں اس سے زیادہ کوئی امر ماخوذ نہیں کہ وہ نطفہ ڈال دے بلکہ وہ اسی ایک ہی لحاظ سے
    جو نطفہ ڈالتا ہے لغت کی رو سے اَبْ یعنی باپ کہلاتا ہے تو کیونکر جائز ہو کہ ایسا ناکارہ لفظ جس کو تمام زبانوں کا اتفاق ناکارہ ٹھہراتا ہے اس قادر مطلق پر بولا جائے جس کے تمام کام کامل
    ارادوں اور کامل علم اور قدرت کاملہ سے ظہور میں آتے ہیں اور کیوں کر درست ہو کہ وہی ایک لفظ جو بکرا پرؔ بولا گیا۔ بیل پر بولا گیا۔ سؤر پر بولا گیا۔ وہ خدا تعالیٰ پر بھی بولا جائے یہ کیسی بے
    ادبی ہے جس سے نادان عیسائی باز نہیں آتے نہ ان کو شرم باقی رہی نہ حیا باقی رہی نہ انسانیت کی سمجھ باقی رہی کفارہ کا مسئلہ کچھ ایسا ان کی انسانی قوتوں پر فالج کی طرح گرا کہ بالکل نکما اور
    بے حس کر دیا۔ اب اس قوم کے کفارہ کے بھروسہ پر یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اچھا چال چلن بھی ان کے نزدیک بے ہودہ ہے۔ حال میں یعنی ۲۱؍ جون ۱۸۹۵ ؁ء کو پرچہ نور افشاں لدھیانہ میں
    جو عیسائی مذہب کا اصول کفارہ کی نسبت چھپا ہے وہ ایسا خطرناک ہے جو جرائم پیشہ لوگوں کو بہت ہی مدد دیتا ہے۔ اس کا ماحصل یہی ہے کہ ایک سچے عیسائی کو کسی نیک چلنی کی ضرورت
    نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ اعمال حسنہ کو نجات میں کچھ بھی دخل نہیں جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی جز رضا مندئ الٰہی کی جو نجات کی جڑ ہے اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتی
    بلکہ کفارہ ہی کافی ہے۔ اب سوچنے والے سوچ سکتے ہیں کہ جبکہ اعمال کو الٰہی رضا مندی میں کچھ بھی دخل نہیں تو پھر عیسائیوں کا چال چلن کیونکر درست رہ سکتا ہے جبکہ چوری اور زنا سے
    پرہیز کرنا موجب ثواب نہیں تو پھر یہ دونوں فعل موجب مواخذہ بھی نہیں اب معلوم ہوا کہ عیسائیوں کا بے باک ہوکر بدکاریوں میں پڑنا اسی اصول کی تحریک سے ہے بلکہ اس اصول کی بنا پر قتل و نیز
    حلف دروغی سب کچھ کرسکتے ہیں کفارہ جو کافی اور ہریک بدی کا مٹانے والا ہوا۔ حیف ایسے دین و مذہب پر۔
    اب سمجھنا چاہیئے کہ اَبْ یا باپ کا لفظ جس کو ناحق بے ادبی کی راہ سے عیسائی
    نادان خدا تعالیٰ پر اطلاق کرتے ہیں لغات مشترکہ میں سے ہے یعنی ان عربی لفظوں میں سے ہے جو تمام ان زبانوں میں پائے جاتے ہیں جو عربی کی شاخیں ہیں اور تھوڑے تغیر و تبدل سے ان میں
    موجود ہیں چنانچہ درحقیقت فادر اور پتا اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 158
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/158/mode/1up
    المذاھب والادیان۔ وما رضیت قط ببادرۃ الکلمات وما قنعت بطافی من الخیالات
    میں مشغول رہا ہوں۔اور کبھی میں اس بات پر
    راضی نہ ہوا کہ سرسری کلمات پر ہی بس کروں اور کبھی میں نے سطحی خیالات پر قناعت نہ کی۔
    بقیہ حاشیہ : باپ اور پدر وغیرہ اسی عربی لفظ کی خراب شدہ صورتیں ہیں جس کو ہم انشاء
    اللہ اپنے محل پر بیان کریں گے اور لغت کی رو سے یہ لفظ چار مادوں کے لحاظ سے بنایا گیا ہے۔
    (۱) اباء سے کیونکہ اباء اس پانی کو کہتے ہیں جو ختم نہ ہو چونکہ نطفہ کا پانی مدت دراز تک
    مرد میں پیدا ہوتا رہتا ہے اور اسی پانی سے حکیم ذوالجلال بچہ پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس پانی کا منبع اب کے نام سے موسوم ہوا اور اسی لحاظ سے عرب کے لوگ عورت کی شرم گاہ کو بھی ابو دارس
    کہتے ہیں اور دارس حیض کا نام ہے یعنی حیض کا باپ چونکہ حیض بھی ایک مدت دراز تک منقطع نہیں ہوتا۔ اسؔ لئے اس کو بھی بطریق مجاز ایک پانی تصور کر کے عورت کی شرم گاہ کا نام ابودارس
    رکھا گیا ہے گویا وہ بھی ایک کنواں ہے جس کا پانی منقطع نہیں ہوتا اور دوسرے ابی کے لفظ سے نکالا گیا ہے کیونکہ ابی کے معنی لغت میں رک جانے اور بس کر جانے کے بھی ہیں چونکہ اس کام میں
    نر جو باپ کہلاتا ہے صرف نطفہ ڈالنے پر بس کر جاتا ہے اور آگے اس کا کوئی کام نہیں بلکہ اُمّ جس کے معنے اَبْ کی نسبت بہت وسیع ہیں اپنے رحم میں اس نطفہ کو لیتی ہے اور اسی کے خون سے
    وہ نطفہ پرورش پاتا ہے پس اَبْ کی وجہ تسمیہ میں یہ امر بھی ملحوظ ہے۔ تیسرے اباء کے لفظ سے مشتق ہے کیونکہ اباء سرکنڈہ کو کہتے ہیں چونکہ نر کا عضو تناسل سرکنڈے سے مشابہت رکھتا
    ہے اس لئے اس کا نام اَبْ یعنی باپ ہوا ۔ چوتھے ۔ابی کے لفظ سے جو سقوط اشتہاء کو کہتے ہیں چونکہ فراغت کے بعد مرد کی خواہش منقطع ہو جاتی ہے اس لئے یہ جزو بھی وجہ تسمیہ اَبْ میں
    ماخوذ ہے۔
    غرض یہ چار جزو ہیں جو اُس قانون قدرت میں پائی جاتی ہیں جو باپ کے متعلق ہے لہٰذا انہیں کی بناء پر اَبْ کا نام اَبْ رکھا گیا اور جبکہ اَبْ کا وجہ تسمیّہ معلوم ہو چکا تو دوسری
    زبانوں میں جو اس کے عوض میں نام بولا جاتا ہے جیسا کہ باپ یا فادر یا پدر یا پتا وغیرہ ان کی وجوہ تسمیہ بھی ساتھ ہی معلوم ہو گئیں کیونکہ وہ سب اسی زبان سے نکلی ہیں اور وہ الفاظ بھی درحقیقت
    عربی بگڑی ہوئی ہے اب ذرا شرم اور حیا سے سوچنا چاہیئے کہ کیا ایسا لفظ جس کی وجوہ تسمیہ یہ ہیں خدا تعالیٰ پر اطلاق کرسکتے ہیں۔
    اور اگر یہ سوال ہو کہ پھر پہلی کتابوں نے کیوں اطلاق
    کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو وہ تمام کتابیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 159
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/159/mode/1up
    ککُلِّ غبیّ اسیر الجہلات و محبوس الخزعبلات و ما اصررتُ علی باطل
    جیسا کہ ہریک ُ کند ذہن جو جہل اور باطل میں مقید ہو
    قناعت کرتا ہے اور کبھی میں نے بے اصل باتوں پر اصرار نہ کیا
    بقیہ حاشیہ:محرف و مبدل ہیں اور ان کا ایسا بیان جو حق اور حقیقت کے برخلاف ہے ہرگز پذیرائی کے لائق نہیں کیونکہ اب وہ
    کتابیں ایک گندے کیچڑ کی طرح ہیں جس سے پاک طبع انسان کو پرہیز کرنا چاہیئے اور پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ توریت میں بعض جگہ ایسے لفظ موجود تھے تو ممکن ہے کہ ان کے اور بھی معنے
    ہوں جو باپ کے معنے سے بالکل مخالف ہوں۔ کیونکہ الفاظ کے معنوں میں وسعت ہوا کرتی ہے پھر اگر قبول بھی کریں کہ اس لغت کے ایک ہی معنے ہیں تو اس وقت یہ جواب ہوسکتا ہے کہ چونکہ بنی
    اسرائیل اور بعد میں ان کی اور شاخیں اس زمانہ میں نہایت تنزل کی حالت میں تھیں اور وحشیوں کی طرح وہ زندگی بسر کرتی تھیں اور اس پاک اور کامل معنی کو نہیں سمجھتی تھیں جو ربّ کے مفہوم
    میں ہے اس لئے الہام الٰہی نے ان کی پست حالت کے موافق ایسے لفظوں سے ان کو سمجھایا جن کو وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا ؔ کہ توریت میں عالم معاد کی
    اچھی طرح تصریح نہیں کی گئی اور دنیا کے آراموں کی طمع دی گئی اور دنیا کی آفتوں سے ڈرایا گیا کیونکہ اس وقت وہ قومیں عالم معاد کی تفاصیل کو سمجھ نہیں سکتی تھیں پس جیسا کہ اس اجمال کا
    یہ نتیجہ ہوا کہ ایک قوم قیامت کی منکر یہود میں پیدا ہوگئی ایسا ہی باپ کے لفظ کا آخر کار یہ نتیجہ ہوا کہ ایک نادان قوم یعنی عیسائیوں نے ایک عاجز بندہ کو خدا بنا دیا مگر یہ تمام محاورات تنزل کے
    طور پر تھے چونکہ ان کتابوں کی تعلیم محدود تھی اور خدا تعالیٰ کے علم میں وہ تمام تعلیمیں جلد منسوخ ہونے والی تھیں۔ اس لئے ایسے محاورات ایک سفلہ اور پست خیال قوم کے لئے جائز رکھے گئے
    اور پھر جب وہ کتاب دنیا میں آئی جو حقیقی نور دکھلاتی ہے تو اس روشنی کی کچھ حاجت نہ رہی جو تاریکی سے ملی ہوئی تھی اور زمانہ اپنی اصلی حالت کی طرف رجوع کر آیا اور تمام الفاظ اپنی
    اصل حقیقت پر آگئے یہی بھید تھا کہ قرآن کریم بلاغت فصاحت کا اعجاز لے کر آیا کیونکہ دنیا کو سخت حاجت تھی کہ زبان کی اصل وضع کا علم حاصل ہو۔ پس قرآن کریم نے ہریک لفظ کو اس کے
    محل پر رکھ کر دکھلا دیا اور بلاغت اور فصاحت کو ایسے طور سے کھول دیا کہ وہ بلاغت اور فصاحت دین کی دو آنکھیں بن گئیں۔ پہلی قومیں اس بات سے بہت ہی غفلت میں رہیں کہ وہ زبان کو دینی
    اسرار کے حل کرنے کی خادم بناتیں۔ لیکن وہ اس میں بے اختیار اور مجبور بھی تھیں کیونکہ ان کے پاس صرف بگڑی ہوئیں اور خراب حالت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 160
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/160/mode/1up
    ککل جھول ضنین۔ وما حرّکنی الی امرٍ الا اعین التحقیق۔ و ما جرّنی
    جیسا کہ ہریک نافہم بخیل کی عادت ہے۔ اور کبھی کسی
    چیز نے بجز تحقیق کی آنکھوں کے کسی امر کی طرف مجھے جنبش نہیں دی۔ اور بجز
    بقیہ حاشیہ: کی زبانیں تھیں جو مفردات اور اسماء کی وجوہ تسمیہ بیان کرنے میں گونگی تھیں مفردات کا
    کچھ نظام نہ تھا۔ اطراد مواد کا کچھ بھی سرمایہ نہ تھا۔ ایک گری ہوئی عمارت کی طرح اینٹیں پڑی تھیں جن کی ترتیب طبعی کا کوئی بھی نشان باقی نہ تھا پس ان کو ایسی نالائق زبانیں کیونکر الٰہیات میں
    مدد دے سکتی تھیں اس لئے وہ تمام قومیں ہلاک ہو گئیں پھر قرآن کریم ایک ایسی کامل زبان میں نازل ہوا جس میں یہ سارا سامان نظام موجود تھا اس لئے دین اسلام بگڑنے سے محفوظ رہا اور خدائے قادر
    کی جگہ مخلوق نے نہیں لی۔
    اب اس کے بعد اگرچہ ہمارا ارادہ تھا کہ چند اور کلمات کی بھی تشریح کی جائے اور دکھلایا جائے کہ عربی کے مفردات کس قدر حقائق عالیہ اپنے اندر رکھتے ہیں
    مگر افسوس کہ طول کے خوف سے بالفعل ہم اس مضمون کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں لیکن یہ تین سو لفظ جو ہم لکھ چکے ہیں یہ اسی غرض سے لکھے گئے ہیں تا ہمارے مخالف بھی ایسی ہی عبارتیں
    اپنی اپنی زبانوں میں بنا کر مثلاً ایسا ہی خطبہ اور اس کے بعد ایسی ہی تمہید کلمات مفردہ میں ہم کو لکھ کر دکھلاویں تاہم بھی دیکھیں کہ ان کے پاس کس قدر مفردات ہیں اور وہ اپنے مفردات کو کسی
    امر کے بیان میں کہاں تک نباہ سکتے ہیں اور مفردات کا نظام اپنے پاس رکھتے ہیں یا یوں ہی لاف و گزاف ہے۔
    اسؔ جگہ ہم میکس ملر کے بعض شبہات اور وساوس کو بھی دور کرنا قرین مصلحت
    سمجھتے ہیں جو اس نے اپنی کتاب لیکچر جلد اول علم اللسان کی بحث کے نیچے لکھے ہیں چنانچہ بطرز قولہ و اقول کے ذیل میں تحریر ہیں۔
    قولہ ترقی علم کے موانعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ
    بعض قوموں نے دوسری قوموں کو استخفاف اور تحقیر کی نِگہ سے دیکھنے کے لئے ان کی نسبت حقارت آمیز القاب تراشے اس لئے وہ ان محقرقوموں کی لغات کے سیکھنے سے قاصر رہے اور جب
    تک یہ الفاظ جنگلی اور عجمی کہنے کے انسان کی لغات اور فرہنگ سے نہ نکالے گئے اور بجائے اس کے لفظ برادر قائم نہ ہوا ایسا ہی جب تک تمام قوموں کا یہ استحقاق تسلیم نہ کیا گیا کہ وہ ایک ہی
    نوع یا جنس کے ہیں اس وقت تک ہمارے اس علم اللسان کا آغاز نہ ہوا۔ اقول صاحب راقم کی اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل ان کو اہل عرب پر اعتراض ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ عرب
    کے لوگ جو دوسری زبان والوں کو عجمی بولتے ہیں یہ لفظ محض بخل اور تعصب کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 161
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/161/mode/1up
    الٰی عقیدۃ الّا قائد التعمیق۔و ما فھمنی الاَّ ربّی الذی ھو خیر المفہمین
    عمیق بینی کی کشش کے اور کسی نے مجھ کو کسی
    عقیدے کیطرف نہیں کھینچااور بجز خداکے مجھ کو کسی نے نہیں سمجھایا اور وہ سب سمجھانے والوں سے بہتر ہے
    بقیہ حاشیہ:راہ سے دوسری قوموں کی تحقیر کی غرض سے تراشا گیا ہے
    لیکن یہ غلطی محض اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ ان کی عیسائیت کا بخل ان کو اس بات کی دریافت سے مانع ہوا کہ آیا عجم اور عرب کا لفظ انسان کی طرف سے یا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے
    حالانکہ وہ اپنی کتاب میں خود اقرار کرچکے ہیں کہ مفردات زبان کا اپنی طرف سے بنا لینا کسی انسان کا کام نہیں۔ اب ہم ان پر اور ان کے ہم خیالوں پر واضح کرتے ہیں کہ زبان عرب میں دو لفظ ہیں
    جو ایک دوسرے کے مقابل پر واقع ہیں۔ ایک تو عرب جس کے معنی فصیح اور بلیغ کے ہیں اور دوسرا عجم جو اس کے مقابل پر واقع ہے جس کے معنی غیر فصیح اور بستہ زبان ہے اگر میکس ملر
    صاحب کے خیال میں یہ دو لفظ قدیم نہیں ہیں اور اسلام نے ہی بخل کے راہ سے ان کو ایجاد کیا ہے تو ان کو اُن لفظوں کا نشان دینا چاہیئے جو ان کی رائے میں اصلی لفظ تھے کیونکہ یہ تو ممکن نہیں
    کہ کسی قوم کا قدیم سے کوئی بھی نام نہ ہو اور جب قدیم ماننا پڑا تو ثابت ہوا کہ یہ انسانی بناوٹ نہیں بلکہ وہ قادر عالم الغیب جس نے مختلف استعدادوں کے ساتھ انسانوں کو پیدا کیا ہے اس نے مختلف
    لیاقتوں کے لحاظ سے یہ دو نام آپ مقرر کر دیئے ہیں۔ پھر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ دو نام عرب اور عجم کسی انسان نے محض تعصب اور تحقیر کے لحاظ سے آپ ہی گھڑ لئے ہیں تو بلاشبہ
    یہ واقعات کے برخلاف ہوں گے اور محض دروغ بے فروغ ہوگا لیکن ہم اس کتاب میں ثابت کر چکے ہیں کہ عرب کا لفظ درحقیقت اسم بامسمّٰی ہے اور واقعی طور پر یہ بات سچ ہے کہ زبان عربی اپنے
    نظام مفردات اور لطافت ترکیب اور دیگر عجائب و غرائب کے لحاظ سے ایسے اعلیٰ مقام کے مرتبہ پر ہے کہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ دوسری زبانیں اس کے مقابل پر گونگے کی طرح ہیں اور نہ صرف
    یہی بلکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری تمام زبانیں جمادات کی طرح بے حس و حرکت پڑی ہیں اور اطراد مواد کی حرکت ایسی ان سے مفقود ہے کہ گویا وہ بالکل بے جان ہیں تو ہمیں بمجبوری یہ ؔ
    ماننا پڑتا ہے کہ درحقیقت وہ زبانیں نہایت تنزل کی حالت میں ہیں اور عربی زبان میں یہ بات نہایت نرم لفظوں میں کہی گئی ہے کہ عرب کے مقابل کے لوگوں کا نام عجم ہے ورنہ اس نام کا استحقاق
    بھی ان زبانوں اور ان لوگوں کو حاصل نہ تھا اور اگر ٹھیک ٹھیک ان کے تنزل کا حال ظاہر کیا جاتا تو یہ لفظ نہایت موزوں تھا کہ ان زبانوں کا نام مردہ زبانیں رکھا جاتا۔ بہرحال اب ہم اس مقدمہ کو
    صرف دعویٰ کی صورت میں پیش نہیں کرتے ہم نے اس جھگڑے کے طے کے لئے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 162
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/162/mode/1up
    و انہ کشف علیّ اسرارًا من الحقائق و ؔ انزل علیّ عہاد المعارف والدقائق
    اس نے حقائق کے کئی اسرار مجھ پر کھولے اور
    معارف اور دقائق کی بارشیں میرے پر کیں
    بقیہ حاشیہ:پانچ ہزار روپیہ کا اشتہار اس کتاب کے ساتھ شائع کیا ہے پس اگر کوئی اس بیان کا مکذب ہے میکس ملر ہوں یا کوئی اور ہو تو ان کے لئے
    سیدھی راہ یہی ہے کہ وہ اپنی اس لاف و گزاف کو دلائل شافیہ کے ساتھ ثابت کرکے دکھلاویں اور پانچ ہزار روپیہ نقد ہم سے لے لیں اور ہمیں میکس مولر صاحب پر نہایت افسوس ہے کہ انہوں نے
    عیسائی کہلا کر اپنی کتب مقدسہ کے برخلاف اعتراض پیش کردیا ہے کیونکہ ان کی مقدس کتابوں نے عرب کے نام کو عرب کے لفظ سے ہی بیان کیا ہے۔ کیا ان کو اس جوش تعصب کے وقت انجیل بھی
    یاد نہ رہی۔ رسولوں کے اعمال کو دیکھیں کہ ان کے خدا نے عرب کے لفظ کو عرب کے نام سے ہی یاد کیا ہے۔ پس جبکہ ان کی مقدس کتابیں بھی عرب کے لفظ کی وہ عزت بحال رکھتی ہیں جس کے
    مقابل پر عجم واقع ہے تو بڑا افسوس ہے کہ انہوں نے عیسائی کہلا کر اس نام کی عزت کو قبول کرنا ناگوار سمجھا ہے اور نیز مقابل کے نام کو بھی تسلیم نہیں کیا ان کو سوچنا چاہیئے تھا کہ ان کی
    مقدس کتابوں نے عرب کے اس پاک مفہوم کو تصدیق کر لیا ہے تبھی توعرب کو عرب کے نام سے ہی جو فصاحت کی خصوصیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے جابجا موسوم کیا ہے چنانچہ انجیل کے
    وجود سے پہلے بائبل میں بھی جابجا عرب کا لفظ موجود ہے اور جن نبیوں نے عرب کے بارے میں نبوت کی ہے انہوں نے عرب کا لفظ استعمال کیا ہے اگر عرب کا لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں
    تو لازم آئے گا کہ انجیل اور تمام وہ کتابیں جو کتب مقدسہ کہلاتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو اس صورت میں اس بخل کی وجہ سے ان تمام کتابوں کو چھوڑنا پڑے گا۔
    قولہ میرے نزدیک
    واقعی آغاز علم اللسان کا پنتیکوست کے پہلے روز سے ہوا۔ اقول چونکہ رسولوں کے اعمال میں حواریوں کا طرح طرح کی بولی بولنا لکھا ہے اس لئے میکس مولر صاحب اس سے یہ حجت پکڑتے ہیں
    کہ بولیوں کی تحقیق کی بناء عیسائی مذہب نے ڈالی ہے۔ اب اہل نظر سوچیں کہ صاحب راقم ایسے بے اصل کلمات کے ساتھ کس قدر تعصب سے کام لے رہے ہیں۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ
    اعمال کے دوسرے باب میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ حواریوں نے اس روز وہی بولیاں بولیں جو یروشلم کے یہودی بولتے تھے یہ نہیں لکھا کہ انہوں نے اس وقت چینی زبان یا سنسکرت یا جاپان
    کی بولی میں باتیں کرنا شروع کر دیا تھا بلکہ صاف لکھا ہے کہ ان تمام بولیوں کو یہودی سمجھتے تھے کیونکہ یروشلم میں وہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 163
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/163/mode/1up
    واعطانی ما یعطی المخلصین فلما وجدت الحق بفیضانہ و رُبّیتُ بلِبانہ
    اور مجھے وہ نعمتیں دیں جو مخلصوں کو دیا کرتا ہے۔
    پس جبکہ میں نے اس کے فیضان سے حق کو پا لیا اور اس کے دودھ
    رأیت شکر ھٰذہ الآلاء فی اَنْ امون خدمۃ الدین والشریعت الغرآء۔ و أری
    سے میں پرورش کیا گیا تو میں نے اِن نعمتوں کا شکر
    اس بات میں دیکھا کہ دین کی خدمت میں اور شریعت کی تائید میں اپنے پر مشقت
    الناس نور الدین المتین۔ و اری ملکوتہ بعساکر البراہین
    گوارا کروں۔ اور دین متین کا نور لوگوں کو دکھلاؤں۔ اور
    اس کی بادشاہت براہین کے لشکروں کے ساتھ ظاہر کروں۔
    بقیہ حاشیہ :سب بولیاں بولی جاتی تھیں پس اس صورت میں حواریوں کی کرامات کیا ہوئی بلکہ ایسی باتوں کا اس زمانہ میں پیش کرنا قابل
    شرم ہے کیا ممکن نہیں کہ وہ بولیاں جو اسی شہر میں حواریوں کی قوم اور برادری میں بکثرت مستعمل تھیں حواریوں کو بھی یاد ہوں جبکہ ایک ہی قوم ایک ہی شہر ایک ہی برادری تھی اور تمدن کا سلسلہ
    چاہتا تھا کہ بوجہ رشتہ اور تعلق اور دن رات کی ملاقاتوں اور معاملات کے بعض بعض کی بولیوں سے واقف ہو جائیں تو اس بات میں کون سا استبعاد ہے کہ حواری بھی اپنے عزیز بھائیوں کی بولیوں
    سے واقف ہوں پس ایسی کرامت اُس کرامت سے کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوتی کہ جو لاہور کے سادھو بھی دکھلا دیا کرتے ہیں ہاں اگر میکس مولر یہ لکھتے کہ علم اللسان کا آغاز مسیح کے جانی دشمنوں
    سے ہوا ہے اور انہوں نے اول اول یہ بنا ڈالی تو یہ بات بظاہر سچی معلوم ہوسکتی تھی کیونکہ اعمال کے اِسی باب میں اس بات کا اقرار ہے کہ یہود اُسی شہر میں جہاں حواری رہتے تھے مدت دراز
    سے یہی بولیاں بولتے تھے سو تقدم یہود کو ثابت ہوا اور حواریوں کو اس قدر عزت دینا غنیمت ہے کہ یہ گمان کریں کہ شعبدہ بازوں کی طرح یہ نکارے نہیں تھے بلکہ یہ بولیاں اپنی برادری سے انہوں
    نے سیکھ لی تھیں کیونکہ انہیں میں انہوں نے پرورش پائی تھی اور اصل بات یہ ہے کہ بولیوں کی تحقیق کی طرف توجہ دلانے والا بجز قرآن کریم کے اور کوئی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا۔ اسی پاک کلام نے
    یہ فرمایا ۔۱؂ (سورہ روم) یعنی خدا تعالیٰ کی ہستی اور توحید کے نشانوں میں سے زمین آسمان کا پیدا کرنا اوربولیوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ درحقیقت خدا شناسی کے لئے یہ بڑے نشان ہیں مگر
    ان کے لئے جو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 164
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 164
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/164/mode/1up
    و اراعی شؤن صدوق امین۔ و ما ھٰذا الّا فضل ربی انہ ارانی
    اور صدوق امینؐ کے کاموں کی حفاظت کروں اور یہ خاص فضل
    الٰہی ہے اسی نے مجھ کو صادقوں کی راہیں
    سبل الصادقین۔ و علمنی فاحسن تعلیمی و فھّمنی فاکمل تفھیمی
    دکھلائیں۔ اور اس نے مجھ کو سکھلایا اور اچھا سکھلایا اور سمجھایا اور کامل سمجھایا
    اور
    وعصمنی من طُرق الخاطئین۔ و اوحی الیّ ان الدّین ھو الاسلام و ان
    خطا کی راہوں سے مجھے بچا لیا۔ اور مجھے الہام کیا کہ دین اللہ اسلام ہی ہے اور
    الرسول ھو المصطفٰی السید الامام
    رسول اُمّی امین۔ فکما ان ربنا اَحد
    سچا رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سردار امام ہے جو رسول اُمّی امین ہے۔ پس جیسا کہ عبادت صرف خدا کے
    یستحق العبادۃ وحدہ فکذالک رسولنا المطاع
    واحد لا نبی بعدہ ولاشریک
    لئے مسلّم ہے اور وہ وحدہ لا شریک ہے اسی طرح ہمارا رسول اس بات میں واحد ہے کہ اس کی پیروی کی جاوے اور اس بات میں واحد ہے
    معہ وانہ خاتم النبیین۔
    فاھتدیت بھداہ و رأیت الحق بسناہ و رفعتنی
    کہ وہ خاتم الانبیاء ہے۔ پس میں نے اس کی ہدایت سے ہدایت پائی اور اس کی روشنی سے میں نے حق کو دیکھا اور اس کے دونوں
    یداہ و ربانی ربی کما
    یربی عبادہ المجذوبین و ھدانی وادرانی
    ہاتھوں نے مجھے اٹھا لیا اور میرے رب نے میری ایسی پرورش کی جیسا کہ وہ ان لوگوں کی پرورش کرتا ہے جن کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس نے مجھ
    کو ہدایت دی
    و اؔ رانی ما ارانی حتی عرفت الحق بالدلائل القاطعۃ و وجدت الحقیقۃ
    اور علم بخشا اور دکھلایا جو دکھلایا یہاں تک کہ میں نے دلائل قاطعہ کے ساتھ حق کو پہچان لیا اور روشن
    براہین کے
    بالبراھین الساطعۃ و وصلت الٰی حق الیقین۔ فاخذنی الاسف علٰی
    ساتھ حقیقت کو پا لیا اور میں حق الیقین تک پہنچ گیا۔ تب مجھے ان دلوں پر سخت افسوس
    بقیہ حاشیہ: اہل علم ہیں
    اب دیکھو کہ کس قدر تحقیق السنہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خدا شناسی کا مدار ٹھہرا دیا ہے کیا کوئی ایسی آیت انجیل میں بھی موجود ہے؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں پس جائے
    شرم ہے +
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 165
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 165
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/165/mode/1up
    قلوب فسدت و انظار زاغت و عقول فالت و آراءٍ مالت
    ہوا جو بگڑ گئے اور ان نظروں پر دل دُکھا جو ٹیڑھی ہوگئیں اور ان
    عقلوں پر جو ضعیف ہوگئیں اور ان رایوں پر جو
    و اھواء صالت و اوباء شاعت من افساد المفسدین
    نا راستی کی طرف جھک گئیں اور ان نفسانی خواہشوں پر جنہوں نے حملہ کیا اور ان وباؤں پر
    جو مفسدوں کے فساد سے پھیل گئیں
    و رأیت ان الناس اکبو علی الدنیا و زینتہا فلا یصغون الی
    اور میں نے دیکھا کہ لوگ دنیا اور اس کی زینت پر گرے ہوئے ہیں اور مذہب حق اور اس کے
    دلائل
    الملّۃ و ادلّتہا و لا ینظرون الی نضارھا ونُضرتھا و یعرضون کانھم
    کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کی زر خالص اور تازگی کو نہیں دیکھتے اور اس طرح کنارہ کرتے ہیں کہ گویا
    مرتابون و لیسوا بمرتابین۔ ولکنہم آثروا الدنیا علی الدّین۔لا یقبلون
    شک میں ہیں اور وہ دراصل شک میں نہیں بلکہ انہوں نے دنیا کو دین پر اختیار کر لیا ہے اپنی نابینائی کی
    لِعَمْیِہِمْ دقائق العرفانِ ولا
    یرون علاء البراھین۔ و کیف و انھم
    وجہ سے معرفت کی باریک باتوں کو قبول نہیں کرتے اور براہین کے اونچے مقام کو دیکھ نہیں سکتے۔ اور کیونکر دیکھیں
    یؤثرون سبل الشیطان ویصرّون علی
    التکذیب والعدوان۔
    انہوں نے تو شیطان کی راہیں اختیار کر رکھی ہیں اور ظلم اور تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں
    ولا یسلکون محجۃ الصّادقین فطفقتُ ادعواللّٰہ لیؤتینی حجۃ تفحم
    اور صادقوں کی
    راہوں پر چلنا نہیں چاہتے۔ سو میں نے جناب الٰہی میں اس غرض سے دعا کرنا شروع کیا تاکہ وہ مجھے ایسی حجت
    کفرۃ ھذا الزمان و تناسب طبائع الحدثان لاُبکّت سفھاءھم
    عنایت کرے جو اس
    زمانہ کے کافروں کو لاجواب کر دیوے اور جو اس زمانہ کے نوجوانوں کی طبائع کے مناسب حال ہوتا کہ میں ان کے
    و ؔ عقلاء ھم باحسن البیان وتتم الحجۃ علی المجرمین۔فاستجاب
    کم عقلوں اور
    عقلمندوں کو ایک عمدہ بیان کے ساتھ ملزم کروں اور تاکہ مجرموں پر حجت پوری ہو۔ پس میرے رب نے میری دعا کو
    ربّی دعوتی و حقّق لی مُنیتی وفتح علی بابہا کما کانت مسئلتی
    قبول کیا اور
    میری آرزو کو میرے لئے موجود کر دیا اور میرے پر میری آرزو کا دروازہ ایسے طور پر کھول دیا جو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 166
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 166
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/166/mode/1up
    و مراد مھجتی واَعْطانی الدلائل الجدیدۃ البینۃ والحجج القاطعۃ
    میرا مدعا تھا اور مجھے نئے اور کھلے کھلے دلائل عطا
    فرمائے اور یقینی اور قاطعہ دلیلیں عنایت کیں
    الیقینیۃ فالحمد للّٰہ المولی المعین۔
    سو اس اللہ کو سب تعریف جو مددگار آقا ہے۔
    و تفصیل ذٰلک انّہ صرف قلبی الٰی تحقیق الاَ لْسِنۃ
    اور اس
    مجمل کی تفصیل یہ ہے کہ اس نے زبانوں کی تحقیق کی طرف میرے دل کو پھیر دیا اور
    واعان نظری فی تنقید اللغات المتفرقۃ و علمنی ان العربیۃ اُمّھا
    میری نظر کو متفرق زبانوں کے پرکھنے
    کے لئے مدد کی۔ اور مجھ کو سکھلایا کہ عربی تمام زبانوں کی ماں اور
    وجامع کیفہا وکمّہا وانہا لسانٌ اصلیّ لنوع الانسان و لغتٌ الھامیۃ من
    ان کی کیفیت کمیت کی جامع ہے اور وہ نوع انسان کے
    لئے ایک اصلی زبان اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے
    حضرۃ الرحمان و تتمۃ لخلقۃ البشر من احسن الخالقین۔
    ایک الہامی لغت ہے اور انسانی پیدائش کا تتمہ ہے جو احسن الخالقین نے ظاہر کیا ہے۔
    ثم عُلّمت من کلام اللّٰہ ذی القدرۃ ان العربیۃ مخزن
    پھر مجھے خدائے قادر کی کلام سے معلوم ہوا کہ عربی دلائل نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    دلائل النبوّۃ و مجمع شواھد عظمۃ ھذہ
    الشریعۃ فخررت
    کا ایک ذخیرہ ہے اور اس شریعت کے لئے بڑی بڑی شہادتوں کا مجموعہ ہے سو میں اس
    ساجدًا لخیر المنعمین۔ و قادنی داعی الشوق الی التوغل فیؔ العربیۃ
    خیر المنعمین
    کے آگے سجدہ میں گر پڑا۔ اور شوق کے جاذب نے مجھے اس طرف کھینچا کہ میں عربی میں توغل
    والتبحر فی ھذہ اللھجۃ فوردت لجّتہا بحسب الطاقۃ البشریۃ
    کروں اور اس زبان میں تبحر
    حاصل کروں پس میں طاقت بشری کے اندازہ پر اُس کے بڑے پانی میں داخل ہوا
    و دخلت مدینتہا بالنصرۃ الالٰھیۃ و شرعت الاختراق فی سبلہا
    اور خدا تعالیٰ کی مدد سے اس کے شہر میں داخل ہوا
    اور میں نے اس کی راہوں اور سڑکوں میں چلنا شروع کیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 167
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 167
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/167/mode/1up
    و مسالکھا والانصلات فی طرقھا و سککہا۔ لاستعرف ربیبۃ خدرھا
    اور اس کی گذر گاہوں اور کوچوں میں چلنے لگا تا میں اس
    کے خانہ پروردہ پردہ نشین کو پہچان لوں
    و اذوق عصیدۃ قدرھا و اجتنی ثمار اشجارھا و اخرج درر
    اور اس کی ہنڈیا کے طعام کو چکھ لوں اور اس کے درختوں کا پھل چُن لوں اور اس کے دریاؤں
    میں سے
    بحارھا فصرت بفضل اللّٰہ من الفائزین۔ و لم یَفُتنی بھا
    موتی نکال لوں پس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابوں میں سے ہوگیا اور کسی چڑھائی میں مَیں ناکام نہ
    مطلع و لا خلا منی مرتع
    و رأیت نضرتھا و رعیت خضرتہا
    رہا اور کسی چراگاہ سے میں خالی ہاتھ نہ پھرا۔ میں نے اس کی تازگی کو دیکھا اور میں اس نے اس کے سبزہ کو چرا اور
    واعطیت من ربِّی حظّاً کثیرًا و دخلًا
    کبیرًا فی عربیّ مبین۔ حتی اذا
    مجھے میرے رب کی طرف سے زبان عربی میں بہت سا حصہ اور ایک بھاری دخل دیا گیا۔ یہاں تک کہ
    حصلت لی دُرُرھا و درّھا و کشف علی مَعْدنہا و مقرھا و
    ارانی
    جب مجھے اس کے موتی اور اس کا دودھ مل گیا اور میرے پر اس کے معدن اور مقام کھولے گئے اور میرے خدا
    ربی انھا وحی کریم و اصل عظیم لمعرفت الدّین۔ و ان شہبھا
    نے مجھے
    دکھلا دیا کہ وہ ایک ذوالکرم وحی اور دین کے پہچاننے کے لئے اصل عظیم ہے اور اس کی آگ کی روشنی
    ترجم الشیاطین۔ و مع ذٰلک رأیت لغاتٍ اُخری کخضراء الدمن
    شیطانوں کو سنگسار کرتی
    ہے اور باوصف اس کے میں نے دوسری زبانوں کو دیکھا کہ گندگی کے سبزہ کی طرح ہیں
    و وجدت دارھا خربۃ و اھلہا فی المحن و وجدتھا شادۃ الرحال
    اور میں نے ان کے گھروں کو ویران پایا
    اور ان کے اہل کو مصیبتوں میں دیکھا اور یہ دیکھا کہ وہ زبانیں مسافروں کی طرح
    للطعنؔ کالمتغربین۔ فاُلقی فی روعی ان اُؤلّف کتابا فی ھٰذا الباب
    کوچ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پس میرے دل میں
    ڈالا گیا کہ اس باب میں ایک کتاب تیار کروں
    واضع الحق امام اعین الطلاب و احسن الی الخلق کما احسن الیّ
    اور سچائی کے طالبوں کے سامنے حق کو رکھ دوں اور خلق اللہ پر احسان کروں جیسا
    کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر احسان کیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 168
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 168
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/168/mode/1up
    رب الارباب لعل اللّٰہ یھدی بہ نفسًا الٰی امور الصواب و ما ابتغی
    تاہو کہ کوئی اس سے صواب کی راہ اختیار کرے اور میں
    اس خدمت سے خدا تعالیٰ کی رضا
    بہ الا رضا الرب الوھاب و ھو مقصودی لا مدح العالمین۔
    کے بغیر اور کچھ نہیں چاہتا اور وہی میرا مقصود ہے نہ لوگوں کی تعریف اور
    و انی ما خرجت
    شیءًا من عیبتی فبایّ حق اطلب محمدتی۔ و واللّٰہ
    میں نے اپنی لیاقت سے کچھ نہیں نکالا پس مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ میں اپنی تعریف کا مطالبہ کروں اور بخدا
    ما خَرجَت من فمی کلمۃ و ما
    انکشفت علیّ حقیقۃ الا بتفھیمہ
    میرے منہ سے کوئی کلمہ نہیں نکلا اور نہ کوئی حقیقت مجھ پر کھلی مگر اس طرح پر کہ خدا ہی نے
    و ما علمت شیءًا الا بتعلیمہ واللّٰہ یعلم و ھو خیر الشاھدین۔
    فلا
    مجھے سمجھایا اور خدا نے ہی مجھے سکھلایا اور اس واقعہ کا خدا کو علم ہے اور وہ سب گواہوں سے بہتر گواہ ہے۔ پس اے
    تثن علی بصالح فی ھذہ الخُطۃ واشکروا اللّٰہ فان کلہا من
    حضرۃ
    پڑھنے والے اس بارے میں میری کچھ تعریف نہ کرنا اور خدا کا شکر کرو کیونکہ یہ سب اسی کی طرف سے حاصل ہوا
    العزۃ ھو الذی احسن الی وھو خیر المحسنین۔
    اس نے میرے پر
    احسان کیا اور وہ ان سب سے بہتر ہے جو نیکوکار ہیں اور وہ ارحم الراحمین ہے۔
    و انی رتّبتُ ھذا الکتاب علی مقدمۃ و ابواب وخاتمۃ
    اور میں نے اس کتاب کو ایک مقدمہ اور کئی باب اور ایک
    خاتمہ پر حق کے طالبوں کے
    لطلاب و لا قوۃ الا بکریم ذی قوۃ و لا قدرۃ الا بقدیر ذیؔ عظمۃ
    لئے منقسم کیا ہے اور بجز فضل کریم ذی قوت کے کچھ بھی قوت نہیں اور بجز قدرت اس قادر ذی
    عظمت کے کچھ بھی
    نرجوا فضلہ و نطلب رحمہ و ھو ارحم الراحمین و انا شرعنا باسمہ
    توانائی نہیں ہم اس کے فضل کو ڈھونڈتے ہیں اور اس کے رحم کو طلب کرتے ہیں اور وہ ارحم الراحمین
    ہے اور ہم نے اس کے نام سے شروع کیا ہے
    و نختم انشاء اللّٰہ بفضلہ وھو خیر المتفضلین۔ وھو المولَی المعین
    اور انشاء اللہ اس کے فضل سے ختم کریں گے اور وہ سب فضل کرنے والوں سے
    بہتر ہے اور وہ آقا مدد کرنے والا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 169
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 169
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/169/mode/1up
    فایّاہ نعبد و ایاہ نستعین و نرید ان نری محامدہ علی راحلۃ قصیدۃ*
    پس ہم اسی کی پرستش کرتے اور اسی کی مدد چاہتے ہیں
    اور ہم ارادہ کرتے ہیں کہ اس کے محامد کو ایک قصیدہ کی سواری پر دکھلاویں
    و نزیّنہا بزھر اشعار جدیدۃ مع نعت رسول ھادی کل نفس سعیدۃ
    اور ان محامدکو تازہ شعروں کے پھولوں سے
    روشن کریں
    لعل اللّٰہ یقبل ھذہ الہدیۃ و یجعل فی کتابی البرکۃ واللّٰہ یعطی
    اس امید سے کہ خدا تعالیٰ اس ہدیہ کو قبول فرماوے اور اس کتاب میں برکت رکھ دیوے اور جو
    من یطلب فبشرٰی
    للطالبین۔ (ڈھونڈتا ہے خدا اسے دیتا ہے سو ڈھونڈنے والوں کو خوشخبری ہو)
    القصیدۃ فی حَمْد حضرۃ العزۃ و نعتِ خَیرِ البَرِیّۃ
    قصیدہ جناب باری کے حمد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
    تعریف میں
    یا من احاط الخلقَ بالاٰلاءِ
    نُثنی علیک و لیس حولُ ثناءِ
    انظر الیّ برحمۃ وعطوفۃٍ
    یا ملجئی یا کاشف الغمّاءِ
    انت الملاذ و انت کھف نفوسنا
    فی ھذہ الدنیا و بعد فناءِ
    انا رئینا فی
    الظلام مصیبۃ
    فارحم وانزلنا بدارضیاءِ
    تعفوا عن الذنب العظیم بتوبۃ
    تنجی رقاب الناس مِن اعباءِ
    انت المراد وانت مطلب مھجتی
    و علیک کل توکلی و رَجَاءِی
    اعطیتنی کاس المحبت
    ریقہا
    فشربت روحاءً علٰی رَوْحاءِ
    انی اموت و لا یموت محبتی
    یُدْرٰی بذکرک فی التراب نداءِی
    ما شاھدت عینی کمثلک محسِنًا
    یا واسع المعروف ذا النعماءِ
    انت الذی قدکان مقصد
    مھجتی
    فی کلّ رشح القلم والاملاءِ
    لما رأیت کمال لطفک والندا
    ذھب البلاء فما احس بلا ءِی
    انی ترکت النفس مع جذباتہا
    لما اتانی طالب الطلباءِ
    متنا بموت لا یراہ عدوّنا
    بعدت جنازتنا من
    الاحیاء
    لو لم یکن رحم المھیمن کافلی
    کادت تعفینی سیُول بکائی
    نتلوا ضیاء الحق عند وضوحہٖ
    لسنا بمبتاع الدجٰی ببراءِ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 170
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 170
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/170/mode/1up
    نفسی نأت عن کل ما ھو مظلم
    فانختُ عند منوری وجناءِی
    لما رأیت النفس سدّ محجتی
    اسلمتُہا کالمیت فی البیداء
    انی
    شربت کُؤس موت للہُدٰی
    فرأیتُ بعد الموت عین بقاءِی
    فُقِدَت مراداتی بزمن لذاذۃ
    فوجد تہا فی فرقۃ وصلاء
    لو لا من الرحمن مصباح الہدی
    کانت زجاجتنا بغیر صفاء
    انی ارٰی فضل الکریم
    احاطنی
    فی النشأۃ الاخرٰی و فی الابداء
    اللّٰہ اعطانی حدایق علمہ
    لو لا العنایۃ کنت کالسفہاء
    وقد اقتضت زفرات مرضٰی مقدمی
    فحضرت حمالا کؤس شفاء
    اللّٰہ خلاقی و مھجۃ
    مھجتی
    حِبٌّ فدتہ النفس کل فداء
    و لہ التفرد فی المحامد کلہا
    ولہ علاء فوق کل علاء
    فانھض لہ ان کنت تعرف قدرہ
    واسبق ببذل النفس والاِعْداء
    ملکوتہ تبقی بقوۃ ذاتہ
    و لہ التقدس
    والعلٰی بغناء
    غلبت علی قلبی محبت وجہہ
    حتی رمیتُ النفس بالالغاء
    و اری الوداد انار با طن باطنی
    و اری التعشق لاح فی سیماءِی
    ما بقی فی قلبی سواہ تصور
    غمرت ایادی اللہ وجہ
    رجاءِی
    ھوجاء الفتہ اثارت حُرّتی
    ففدا جنانی صولت الھوجاء
    ابری الھموم بمشرفیۃ فضلہ
    واللّٰہ کافٍ لی ونعم الراعی
    ماشم انفی مرغمًا فی مشھد
    و اثرتُ نقع الموت فی الاعداء
    یا رب
    اٰمنا بانک واحد
    رب السماء وخالق الغبرآء
    اٰمنتُ بالکتب التی انزلتہا
    و بکل ما اخبرتَ من انباء
    یا ملجاءِی ادرک فانک موئلی
    یا کھفی اعصمنی من الشغباء
    یا رب ایّدنی بفضلک وانتقم
    ممن
    یدس الدین تحت عفاء
    لا یعلمون نکات دین المصطفٰی
    وتھالکوا فی بخلھم وریاءِ
    یؤذوننی قوم اضاعوا دینہم
    نجس المقاصد مظلم الاٰراء
    خشّوا و لا یُخشی الرجال شجاعۃ
    فی نائبات الدھر
    والھیجاء
    زمع الاناس یحملقون کثعلب
    یوذوننی بتحوب و مُواء
    حسدواؔ فسبوا حاسدین ولم یزل
    ذوالفضل یحسدہ ذووالاھواء
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 171
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 171
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/171/mode/1up
    صالوا بابداء النواجذ کالعدا
    لمقالۃ ابن بطالۃ و وشاءِ
    ان اللئام یکفرون و ذمّھم
    ما زادنی الا مقام سناءِ
    نضّواالسیاب ۱؂
    ثیاب تقوٰی کلھم
    ما بقی الا لبسۃ الاغواءِ
    ما ان ارٰی غیر العمائم واللحی
    او اٰنفا زاغت بفرط مراءِ
    و اری تغیظہم یفور کلجّۃٍ
    موج کموج البحر فی الغلواءِ
    کلم اللیام اَسِنَّۃٌ مذروبۃ
    اعری
    بواطنہم لباس عواءِ
    من مخبر عن ذلّتی و مصیبتی
    مولای ختم الرسل اھل رباء
    یا طیّب الاخلاق والاسماءِ
    جئناک مظلومین من جہلاءِ
    ان المحبۃ لا تُضاع و تُشترٰی
    انّا نحبّک یا ذُکاء سخاءِ
    انت الذی جمع المحاسن کلھا
    انت الذی قد جاء للاحْیاءِ
    انت الذی ترک الھدون لربہ
    و تخیر المولی علی الحوباءِ
    یا کنز نعم اللّٰہ والا لاء
    یسعی الیک الخلق للارکاءِ
    یا بدر نور اللّٰہ
    والعرفان
    تھوی الیک قلوب اھل صفاءِ
    یا شمسنا یا مبدء الانوار
    نورت وجۃ المُدن والبیداء
    انی اری فی وجھک المتھلل
    شانًا یفوق شیون وجہ ذکاء
    ما جئتنا فی غیر وقت ضرورۃ
    قد جئتَ مثل
    المزن فی الرمضاء
    انی رأیت الوجہ وجہ محمد
    وجہ کبدرا اللیلۃ البلماءِ
    شمس الھدی طلعت لنا مِن مکۃ
    عین الندانبعت لنا بحراء
    ضاھت ایاۃُ الشمس بعضَ ضیاۂ
    فاذا رأیت فہاج منہ
    بکایئ
    اعلی المھیمن ھممنا فی دینہٖ
    نبنی منازلنا علی الجَوزاء
    نسعٰی کفتیان بدین محمد
    لسنا کرجل فاقد الاعضاءِ
    نلنا ثریّاء السماء و سمکہ
    لنردّ ایمانا الی الصّیداءِ
    انا جُعِلنا کالسیوف
    فندمغ
    رأس اللئام و ھامۃ الاعداءِ
    واھا لاصحاب النبی و جندہ
    حفدوا الیہ بشدۃ و رخاءِ
    غُمسو ا ببرکات النبی و فیضہ
    فی النور بعد تمزّق الاھواءِ
    قاموا باقدام الرسول بغزوہ
    حضروا
    جناب امامنا لفداءِ
    فدمؔ الرجال لصدقہم فی حبہم
    تحت السیوف اُریق کالاطلاءِ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 172
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 172
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/172/mode/1up
    بلغ القلوبُ الی الحناجر کربۃ
    فتخیروا لِلّٰہ کل عناءِ
    دخلوا حدیقۃ ملّۃ غرّاءِ
    عذب الموارد مثمر الشجراءِ
    و فنوا بحبّ
    المصطفٰی فبحبہٖ
    قطعوا من الاٰباء والابناءِ
    قبلوا لدِین اللّٰہ کل مصیبۃ
    حتی رضوا بمصائب الاجلاءِ
    قد اٰثروا وجہ النبی و نورہ
    و تباعدوا من صحبۃ الرفقاءِ
    فی وقت ظلمات المفاسد
    نوّروا
    وجدوا السنا فی اللیلۃ اللیلاءِ
    نھب اللئام نشوبھم فملیکہم
    اعطی جواھر حکمۃ وضیاءِ
    واھًا لہم قُتلوا لعزّۃ ربھم
    ماتوا لہ بصداقتٍ وصفاءِ
    شہدوا المعارک کلہا حتی قضوا
    لرضا
    المھیمن نحبہم بوفاء
    ما فارقوا سبل الھُدٰی و تخیروا
    جور العدا و بوائق الھیجاء
    ھٰذا رسول قد اتینا بابہ
    بمحبّۃٍ و اطاعۃٍ و رضاءِ
    یالیت شُقّ جنانی المتموّج
    لِاُرِی الخلایق بحرھا کالماء
    انا
    قصدنا ظلّہ بھواجر
    کالطیر اذ یأوی الی الدفواءِ
    یا من یکذب دیننا و نبیّنا
    و تسبُّ وجہ المصطفٰی بجفاء
    واللّٰہ لست بباسل یوم الوغٰی
    ان لم اشن علیک یا ابن بغاءِ
    انا نشاھد حسنہ وجمالہ
    وملاحۃ فی مقلۃٍ کحلاءِ
    بدر من اللّٰہ الکریم بفضلہ
    والبدر لا یغسوا بلغی ضِراء
    لا یبصر الکفار نور جمالہ
    والموت خیر من حیات غشاءِ
    انا براء فی مناھج دینہٖ
    من کل زندیق عدوّ
    دھاءِ
    نختار آثار النبی وامرہ
    نقفوا کتاب اللّٰہ لا الاراءِ
    یا مُکفری ان العواقب للتقٰی
    فانظر مآل الامر کالعقلاء
    انی اراک تمیس بالخیلاء
    أ نسیت یوم الظعن والاسراء
    تُب ایھا الغالی و تأتی
    ساعۃ
    تمسی تعض یمینک الشلّاء
    افتضربنّ علی الصفات زجاجۃ
    ھوّن علیک و لا تمت بِاِباء
    غرّتک اقوال بغیر بصیرۃ
    سُترت علیک حقیقۃ الانباءِ
    ان السموم لشر ما فی العالم
    ومن السموم
    غوایل الآراء
    جاوزتَ بالتکفیر عرصات التقٰی
    اشققت قلبی او رأیت خفائی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 173
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 173
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/173/mode/1up
    تأ تیک اٰیاتی فتعرف وجھہا
    فاصبر و لا تترک طریق حیاءِ
    ان المقرب لا یضاع بفتنۃ
    والاجر یکتب عند کل بلاء
    یا ربّنا
    افتح بیننا بکرامۃٍ
    یا من یری قلبی و لُبَّ لحاءِی
    یا من اری ابوابہ مفتوحۃ
    للسائلین فلا ترد دعائی
    اَلمقَدؔ مَۃ
    فی ذکر
    اسباب تالیف الکتاب و بیان ما عُلِّمنا من اللّٰہ الوھاب
    اعلم حفظک
    اللّٰہ القیّوم۔ و ایّدک فی خیرٍ تروم۔ ان ھذا الزمان ھو
    اے پڑھنے والے اس کتاب کے خدائے قیوم تجھے غلطیوں سے نگاہ رکھے اور ہریک نیک مقصد میں تیرا مددگار ہو جائے کہ یہ زمانہ نہایت
    الزمان الظلوم کانہ الیوم المسموم۔ او البلاد الجروم۔ ضاعت فیہ
    ستم گار زمانہ ہے گویا وہ ایک نہایت گرم دن ہے یا ایسا ملک ہے جس میں سخت گرمی پڑتی ہے۔ اس زمانہ میں علم اور معارف
    المعارف والعلوم۔ وشاعت البدعات والرسوم۔ وخلصت للدنیا
    ضائع ہوگئے اور رسوم اور بدعات پھیل گئے۔ اور سارے غم اور ساری ہمتیں دنیا کے لئے
    الھمم والھموم۔ و حمئت بئار الطبائع ونزح
    الجموم۔ وحسبوا
    خالص ہوگئیں اور طبیعتوں کے کوئلوں میں سیاہ مٹی پڑ گئی اور بہت پانی والا کنواں خشک ہوگیا۔ اور اس زمانہ کے لوگوں
    الزقّوم کانہ الزقّوم۔ و قلّ المؤمنون وکثر اللئام
    نے
    درخت زقوم کو ایسا سمجھ لیا کہ گویا وہ کھجوریں اور مکھن ہے۔ اور مومن کم ہوگئے اور لئیم جھگڑنے والے زیادہ ہوگئے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 174
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 174
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/174/mode/1up
    الخصومؔ ۔ وجعلوا المسِیْح الٰھا وقد رأو انہ المسکین الجہوم
    وکذالک جاء ت الایّام الحسوم فنشکوا الَی اللّٰہ ربّ العالمین۔
    والّذی نوّر الشّہَب وازجٰی للمطر السُّحب وخلق السّمٰوات طباقًا وطبّقہا اِشراقًا۔ انّ الظلمت کثرت فی ھٰذا الزمان۔ وحلَّتْ فی جذر قلوب الرّجالِ والنّسوان۔ و مالتِ الطبائع الی الضّیم والزّور واخْتارت سُبُل الفسق
    والفجور۔ وترک الناس طرق الدّیانۃ والامانۃ۔ و رضوا بانواع الفریۃ والخیانۃ و قلّبوا امور الدین۔ یتخذون الجدّ عبثًا۔ و یحسبون التِبر خبثًا۔ و لا یمشون الّا زائغین۔ سُلب منھم الفہم الذی یصقل الخواطر ویدری
    الجہام والماطر فبرزوا کالانعام راتعین۔ لا یعرفون الزمان۔ والوقت الّذِی قد حان۔ و لا یسلکون مسلک الحق والحقیقۃ۔ و لا یستقرون
    اور مسیح کو خدا بنا دیا حالانکہ جانتے تھے کہ وہ مسکین اور عاجز ہے
    اور اسی طرح ایسے ہی منحوس دن متواتر آگئے سو ہم یہ گلہ جناب الٰہی میں کرتے ہیں جو رب العالمین ہے اور اس خدا کی قسم ہے جس نے ستاروں کو روشن کیا اور بارش کے لئے بادلوں کو چلایا
    اور آسمانوں کو طبقہ بعد طبقہ بنایا اور ان کو روشنی سے بھر دیا کہ یہ بات درحقیقت سچ ہے کہ اس زمانہ میں تاریکی بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ اور مردوں اور عورتوں کے دلوں کے اندر بیٹھ گئی ہے
    اور طبیعتیں ظلم اور جھوٹ کی طرف میل کرگئیں اور بدکاری اور دروغ اور بے اعتدالی کے طریقوں کو اختیار کر لیا ہے اور لوگوں نے دیانت اور امانت کے طریق کو چھوڑ دیا ہے اور جھوٹ اور
    خیانت پر راضی ہوگئے ہیں۔ اور دین کے احکام کو بدل ڈالا ہے۔ حق اور حکمت کی باتوں کو عبث سمجھتے ہیں اور سونے کو ایک میل قرار دے رہے ہیں اور جب چلتے ہیں تو ٹیڑھے چلتے ہیں ان کا وہ
    فہم ہی جاتا رہا جو دلوں کو صاف کرتا اور برسنے والے اور نہ برسنے والے بادل کے نشان معلوم کر لیتا ہے۔ سو وہ چارپایوں کی طرح صرف چرنے والے ہی ثابت ہوئے زمانہ کو نہیں
    پہچانتے
    اور نہ اس وقت کو کہ آگیا۔ وہ حق اور حقیقت کی راہوں پر نہیں چلتے اور اس راہ کی کنجی کو نہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 175
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 175
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/175/mode/1up
    مفتاؔ ح الطریقۃ و لا یتدبّرون القراٰن منصفین۔ و لا یستوکفون صیّب الفیضان و یتیہون فی موماۃ الخسران کالعمین۔ یؤذون بحدۃ
    الکلمات و لا کحد الظباۃ۔ و لا یبالون مکانۃ الصادقین۔ و اذا قیل لھم لا تفسدوا۔ واتقوا اللّٰہ واھتدوا۔ قالوا انما نحن اول
    المصلحین۔ فبما کانوا یکذبون۔ و لا یترکون الفساد
    و یزوّرون۔ختم اللّٰہ علی قلوبھم
    و سقاھم سمّ ذنوبہم فما وُفّقوا وصاروا من الہالکین۔ و قد نُصِحُوْا فاکدی النصیحۃ۔ و وُعِظُوْا فما نفع الموعظۃ و ما اروا الاعناد ا و ما زادوا الا فساد ا و تراھم یعثون فی الارض مفسدین۔ نسلوا من کل حدبٍ و
    صاروا سبب کل ندبٍ۔ و ساروا علی نحب صایدین۔ و اشاعوا الفسق والفجور والکذب والزور۔ بما کانوا فاسقین۔ فلذٰلک ترٰی ان الامانت قلّت
    ڈھونڈتے اور قرآن میں منصفوں کی طرح نہیں سوچتے۔ اور
    الٰہی فیضان کے مینہ کا برسنا نہیں چاہتے اور زیاں کاری کے ایسے جنگلوں میں پھرتے ہیں جن میں نہ دانہ نہ پانی ہے۔ تیز کلموں کے ساتھ دکھ دیتے ہیں اور وہ کلمے ایسے تیز نہیں جیسا کہ تلواریں
    بلکہ ان سے بڑھ کر ہیں اور یہ لوگ سچوں کی شان کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور جب کہا جائے کہ فساد مت کرو اور خدا سے ڈرو اور ہدایت پذیر ہوجاؤ تو ان کا جواب یہ ہے۔ کہ ہم تو اول درجہ کے
    مصلح ہیں۔ پس اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور فساد کو نہیں چھوڑتے اور جھوٹ کی بندشوں میں مشغول ہیں خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہیں کے گناہوں کی زہر انہیں پلا دی پس وہ
    توفیق یاب نہ ہوئے اور ہلاک ہوگئے اور ان کو نصیحت کی گئی۔ پس نصیحت نے کچھ فائدہ نہ بخشا اور ان کو وعظ کیا گیا مگر وعظ نے کچھ نفع نہ دیا اور انہوں نے بجز عناد کے کچھ نہ دکھلایا اور
    بجز فساد کے کچھ زیادہ نہ کیا اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زمین پر فساد کرتے پھرتے ہیں۔ ہریک بلندی سے وہ دوڑے اور ہریک ماتم کا وہ سبب ہوئے اور شکار مارنے کے لئے جلدی جلدی انہوں نے قدم
    اٹھائے اور انہوں نے بدکاری اور بے حیائی اور جھوٹ کو پھیلایا کیونکہ وہ خود بدکار تھے۔ اور اسی لئے تو دیکھتا ہے کہ امانت کم ہوگئی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 176
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 176
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/176/mode/1up
    والخیانت کثرت۔ والوقاحت افظعت۔ والضلالت ضنأت۔ وکلبۃ الفسق اجعلت۔ و نعیّ الشرّ نُسأ ت۔ وحامل المواعظ ایتنت۔ وھجان
    الھجر سُمِّنَت۔ وعسبرۃ الحق عُبطَتْ۔ فمابکت علیہا عینٌ و ما ذرفت بل دابۃ الباطل سُرِحتْ۔ فرعت حمی الحق حتی
    تضلّعت۔ فما منعہا احد بل ایدی المسلمین وُثئت۔ و سیوف العدا انطلقت۔ فاخذ الاحرار و
    لحومھم سُفّدت ثم نُدأت ثم خُضمت وقُضمت والقیامۃ قامت و ھوجاء الفتن اشتدّت۔ وسیل الشرور غلبت۔و انکسر السکر والمصیبۃ جلّت۔ ونزلت النوازل وجبأت۔ وارض التقوٰی بردت۔ وسماء الصلاح تغیمت
    والمعصیۃ امتدت و لیلتہا جثمت
    والذنوب اغارت وصالت حتی جنبت الصلاح واسعطت والنفوس ندت
    وعین الانصاف رُمدت۔ وقروح الخبث تذ یّأ ت۔ وکل سلیطۃ
    اور خیانت بہت ہوگئی اور
    بے حیائی حد سے زیادہ پھیل گئی اور گمراہی کے بہت سے بچے ہوگئے اور بدکاری کی کتیا اٹھا میں آئی۔ اور شرارت کی زانیہ کے معمولی دن ٹل گئے اور نصیحتوں کی حاملہ الٹا جنی اور بے ہودہ
    گوئی کے اونٹ موٹے کئے گئے۔ اور تیز رو اور نجیب اونٹنی سچائی کی، باوجود جوانی اور تازگی اور صحت کے ذبح کی گئی پس اس پر کوئی بھی نہ رویا اور نہ آنسو بہائے بلکہ باطل کا ٹٹو چراگاہ
    میں چھوڑا گیا سو وہ سچائی کے مرغزار کو چر گیا یہاں تک کہ اس کی کو کیں بھر گئیں سو اس کو کسی نے منع نہ کیا بلکہ مسلمانوں کے ہاتھ توڑے گئے اور دشمنوں کی تلواریں میان سے باہر نکل آئیں
    سو شریف آدمی پکڑے گئے اور ان کے گوشت سیخوں پر چڑھائے گئے پھر بریاں کرنے کے لئے آگ پر رکھے گئے پھر دانتوں سے چبائے گئے اور پیس کر کھائے گئے اور قیامت قائم ہوگئی اور
    شرارتوں کا سیلاب غالب ہوا اور بند ٹوٹ گیا اور مصیبت بھاری ہوگئی اور حوادث اترے اور یک مرتبہ انہوں نے آ پکڑا اور تقویٰ کی زمین پر اولے پڑے اور نیکی کا آسمان بادل کے نیچے چھپ گیا اور
    بدکاری بہت لمبی ہوگئی اور اس کی رات آدھی چلی گئی۔ اور گناہوں نے دھارا مارا اور حملہ کیا یہاں تک کہ نیکی کی پسلی توڑ ڈالی اور اس کے سینہ پر نیزہ مارا اور لوگ آوارہ اور بے قید اور سرخود
    ہوگئے اور انصاف کی آنکھیں رمد کی بیماری میں مبتلا ہوئیں اور پلیدی کے زخم بہت خراب ہوگئے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 177
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/177/mode/1up
    ھَرَأتْ۔ والفتنۃ تفاقمت۔ وسہامھا من کل جھۃ مطرت والخباثۃ تزوّجت۔ فحملت وکمثلہا اجزء ت۔ فجایأتھا المتربۃ وتواردت والبلاد
    خربت۔ ورھام المصائب تصوّبت فما نجت نفس اَیْمنت او اشأمت او عرضت۔ و ما عصمت من الفقر و ان طہفلت و ما ترکھا العدا و ان بابأت و کم من نفسٍ ارتدت بعد ما ھلہلت۔ و کفرت بعد ما آمنت وحمدلت۔
    فرأینا فی ھذہ اللیلۃ اللّیْلاءِ۔ ما عرّفنا جہد البلاءِ وقصصنا قصص الاعداء مسترجعین۔ محوقلین۔ والذین یقولون انا نحن علماء الاسلام۔ و فحول ملّت خیر الانام۔ فنراھم الکسالی الاٰکلین کالانعام۔ لا ینصرون الحق
    بالاقوال والاقلام۔ الا قلیل من عباد اللّٰہ ذی الاکرام۔ و ترٰی اکثرھم فی حقد اھل الحق کاللئام۔ ما یجیءھم حق الا یستعیر بینھم الاصطخاب ولا یدرون ما الحقّ والصواب لا یمتنعون
    اور ہریک زبان دراز نے
    بدزبانی کی اور فتنہ بہت بڑھ گیا اور ہریک طرف سے اس کے تیر برسے اور پلیدی نے نکاح کر لیا پس اسے حمل ٹھہر گیا اور اس نے اپنی شکل جیسی لڑکیاں جنیں پس وہ فقر و فاقہ ساتھ لائیں اور ملک
    ویران ہوگیا اور مصیبتوں کے مینہ برسے پس ان مصیبتوں سے کوئی شخص نجات نہ پا سکا خواہ وہ یمن کی طرف گیا یا شام کی طرف یا مکہ اور مدینہ اور ان کے گرد کے دیہات کو دیکھ کر واپس آیا
    اور کوئی فاقہ سے نہ بچا اگرچہ وہ چینا یا مکی کا غلّہ کھاتا رہا اور اسی اناج پر ہمیشہ کے لئے قناعت کی اور عہد کے طور پر اسی کا کھانا معمول رکھا اور دشمنوں نے اسے نہ چھوڑا اگرچہ اس
    نے کہا کہ میرا باپ تم پر قربان ہو اور بہت سے مرتد ہوگئے اور بعد اس کے کہ وہ کہتے تھے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ دین سے پھر گئے اور ایمان لانے اور الحمد للہ کہنے کے بعد کافر
    ہوگئے سو ہم نے اس اندھیری رات میں وہ مصیبتیں دیکھیں جنہوں نے ہمیں سمجھا دیا کہ نہایت سخت بلا اسے کہتے ہیں اور ہم نے یہ سب قصے دشمنوں کے اس حالت میں لکھے جبکہ ہم انا للہ وانا
    الیہ راجعون کہتے تھے اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتے تھے اور وہ لوگ جو کہتے ہیں جو ہم علماء اسلام ہیں اور نبی کے دین کے ایک نر عالم ہیں سو ہم ان کو ایک سست الوجود اور چارپایوں کی
    طرح کھانے پینے والے دیکھتے ہیں وہ اپنی باتوں اور قلموں سے کچھ بھی حق کی مدد نہیں کرتے بجز اللہ جلّ شانہ کے ان خاص بندوں کے جو تھوڑے ہیں اور اکثر کو تو ایسا پائے گا کہ اہل حق کا
    کینہ رکھتے
    ہوں گے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی حق کی بات سن کر ان میں شور و غوغا پیدا نہ ہو وہ نہیں جانتے کہ حق اور صواب کیا چیز ہے وہ فتنہ سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 178
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/178/mode/1up
    من الفتنۃ و یلبسون الحق بغوائل الزخرفۃ۔ لیفتنوا من ازراءھم قومًا جاھلین۔ والذی اقامہ اللّٰہ لاصلاح الناس یحسبونہ
    کالخناس
    ویکفرون المؤمنین۔ لا تنقل خطواتھم الا الی التزویر و لا تمیلُ السنھم الا الی التکفیر۔ ولا یعلمون ما خدمۃ الدین لبسوا الحق بالباطل وکذٰلک عبطوا علینا الکذب متعمّدین
    فہذا اعظم المصائب علٰی دین خیر
    البریۃ ان العلماء خرجوا من التّدیّن والامانۃ۔ و فعلوا افعال اعداء الملّۃ۔ واجناؤا علی
    الکذب والفریۃ۔ لیحفظوھا مِن صول الحق والحکمۃ و لا
    یبالون دیانا ذا العظمۃ۔ وینصرون الکفرۃ کالمعاندین۔
    واحتکاؤا
    فی انفسھم انہم علی الصّواب وما یسلکون الا مسلک التباب و لا
    یعلمون الا الامانی۔ و لا یبتغون المعانی و ما کانوا
    باز نہیں آتے اور حق کے ساتھ باطل باتوں کو ملاتے ہیں تا اپنی نکتہ
    چینی سے جاہلوں
    کو دھوکا میں ڈالیں اور وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے اس کو
    ایک خناس سمجھتے ہیں اور مومنوں کو کافر ٹھہراتے ہیں ان کے قدم
    بجز دروغ گوئی کے کسی طرف حرکت نہیں
    کرتے اور ان کی زبانیں بجز کافر بنانے کے کسی طرف جھکتی نہیں اور نہیں جانتے کہ دین کی خدمت کیا شے ہے
    انہوں نے حق کو باطل کے
    ساتھ ملایا اور دیدہ و دانستہ ہم پر افترا کیا
    پس یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ایک بڑی مصیبت ہے کہ اس زمانہ کے اکثر علماء دیانت اور
    امانت سے باہر نکل گئے ہیں اور دینی دشمنوں
    کی مانند کام کر رہے ہیں اور جھوٹ پر
    گرے جاتے ہیں تا اس کو حق کے حملہ سے بچالیں
    اور خداوند ذوالجلال کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے اور عناد رکھنے والوں کی طرح کافروں کو مدد
    دے رہے ہیں
    اور اپنے دلوں میں یہ بات بٹھالی ہے کہ وہی حق پر ہیں حالانکہ سراسر ہلاکت کی راہ پر چلتے
    ہیں وہ صرف اپنی نفسانی آرزوؤں کو جانتے ہیں اور معانی کو نہیں ڈھونڈتے اور نہ
    غور کرتے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 179
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/179/mode/1up
    ممعنین۔ یسمعون الحق فیأبون۔ کأنہم الی الموت یُدْعَوْن و یرون ان الدنیا غدور والدھر عثور۔ ثم یکبّون علیہا کالعاشقین و لھم عمل
    یعملون فی الدار۔ و عمل اٰخر للانظار فویل للمرائین و قد رأوا فساد الکفار و علموا انّ الدّین صار غرض الاشرار۔ ودیس الحق تحت ارجل الفجار ثم ینومون نوم الغافلین ولا یلتفتون الٰی مواسات الدین۔ یسمعون
    کل صیحۃٍ موذیۃ ثم لا یبالون قول کفرۃ فجرۃ و لا یقومون کذی غیرۃ بل یثقلون کالحبالٰی و ما ھم بحبالٰی و اذا قاموا الٰی خیر قاموا کسالٰی۔ و ما تجد فیھم صفۃ الجاھدین و اذا رأو حظ انفسھم فتراھم یھرعون الیہ
    واثبین۔
    ھذا حال علماء نا الکرام۔ واما الکفار فیجاھدون لاطفاء الاسلام
    و ما کان نجواھم الا لھذا المرام وما کانوا مُنتہین۔ حرفوا کتبا
    سچی بات کو سن کر پھر سرکشی کرتے ہیں۔ گویا وہ موت کی
    طرف بلائے جاتے ہیں اور دیکھتے
    ہیں کہ دنیا سخت بے وفا اور زمانہ منہ کے بل گرنے والا ہے پھر دنیا پر عاشقوں کی طرح گرتے ہیں
    اور بعض ان کے کام وہ ہیں جو گھر میں کرتے ہیں اور
    بعض وہ کام ہیں جو دکھلانے کے لئے ہیں سو ریا کاروں پر واویلا ہے
    انہوں نے خوب دیکھ لیا کہ کافروں کا فساد کیسا بڑھ گیا ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ دین شریروں کا نشانہ بن گیا اور
    حق
    بدکاروں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔ پھر غافلوں کی طرح پڑے سوتے ہیں اور دین کی ہمدردی کے لئے کچھ
    بھی توجہ نہیں کرتے ہریک دکھ دینے والی آو از کو سنتے ہیں۔ پھر کافروں نا
    پاکوں کی باتوں کی کچھ بھی
    پروا نہیں رکھتے اور ایک ذی غیرت انسان کی طرح نہیں اٹھتے بلکہ حمل دار عورتوں کی طرح اپنے تئیں بوجھل بنا لیتے
    ہیں حالانکہ وہ حمل دار نہیں۔ اور جب کسی
    نیکی کی طرف اٹھتے ہیں تو سست اور ڈھیلے اٹھتے ہیں اور تو محنت کشوں کے لچھن
    ان میں نہیں پائے گا اور جب کوئی نفسانی حظ دیکھیں تو تو دیکھے گا کہ اس کی طرف دوڑتے بلکہ اچھلتے
    چلے جاتے ہیں۔
    یہ تو ہمارے بزرگ علماء کا حال ہے مگر کافر تو اسلام کے مٹانے کے لئے سخت کوشش کر رہے ہیں اور ان کے تمام مشورے
    اسی مقصد کے لئے ہیں اور باز نہیں آتے۔ کتابوں
    اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 180
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/180/mode/1up
    واخبارًا و مکروا مکرًا کُبّارًا۔ و زوّرُوا اطوارًا و اھلکوا خلقًا کثیرًا من الجاھلین۔ قتلوا زُمرا کثیرۃ و ابدوا مکیدۃ کبیرۃ۔ فما نبأ سیفہم
    نبوۃ و وردوا الدیار متبوّء ین۔ و ما ترکوا دقیقۃ الفساد۔ و جھروا بالذحل من العناد۔ وقلبوا امور الحق والسداد وصافوا الشیطان مثافنین و ما نکّبوا عنھم بغض الصادقین۔ بل نجد کل فردٍ ذا حنقٍ و مُصرًّا علٰی نجس
    و رھق و ما نجدھم الا مفترین۔ لا یعلمون الا الاکل والنیک و لا یؤثرون الا الزینۃ والصَّیْک و لا یمشون الا مستکبرین۔ فحملنا بھم انواع الاحمال۔ لو حُمِّلَتْ مثلہا راسخات الجبال لخرّت وانھدّت فی الحال۔ و ناء
    بہا باس الاثقال۔ و سقطت کالساجدین۔ ولکنّا کنّا محفوظین۔
    و کان قلبی یقلق و کادت نفسی تزھق لو لم یکن
    اخباروں کو بدل ڈالا اور ایک بڑا مکر کیا اور کئی طور سے جھوٹ کو آراستہ کیا اور ایک دنیا
    کو جاہلوں
    میں سے ہلاک کیا بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور ایک عجیب مکر ظاہر کیا سو ان کی تلوار نے
    کبھی خطا نہ کیا اور وہ اس نیت سے ملکوں میں گئے کہ اگر ان کو اپنی مرضی پر
    پاویں تو وہیں ڈیرے جما لیں اور فساد کا
    کوئی دقیقہ نہ چھوڑا اور عناد کی وجہ سے اپنے کینہ کو کھلے کھلے طور پر ظاہر کر دیا اور حق اور صلاحیت کی باتوں کو بدلا دیا اور
    شیطان کے
    زانو بزانو بیٹھ کر اس سے صلح کر لی اور اپنے تئیں سچوں کے بغض سے علیحدہ نہ کر سکے بلکہ ہم ہر ایک کو ان میں سے
    جھگڑالو اور غضبناک پاتے ہیں اور ان کو نقصان رسانی اور حق پوشی
    پر مصر دیکھتے ہیں اور ہم نے ان میں بجز افترا کرنے کے اور کچھ نہیں پایا
    وہ بجز کھانے اور جماع کے اور کچھ نہیں جانتے اور بجز زینت اور خوشبو کے اور کچھ اختیار نہیں کرتے اور بجز
    تکبر کی چال
    کے اور کوئی چال نہیں چلتے پس ہم نے ان سے انواع اقسام کے بوجھ اٹھائے اور ایسے بوجھ اٹھائے کہ اگر ان کی مانند مضبوط
    پہاڑوں پر بوجھ پڑتے تو فی الفور گر پڑتے اور
    بوجھ ان کو گرا دیتا اور ایسے گرتے
    جیسا کہ کوئی سجدہ کرتا ہے مگر ہم حفاظت کئے گئے تھے ۔
    اور میرا دل بے قراری میں تھا اور قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی اگر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 181
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/181/mode/1up
    معی قویٌّ متین۔ وانہ مولانا و لا مولٰی للکافرین۔ و انّہٗ یجیب دعاء نا و یسمع بکاء نا و یأتینا اذا أتیناہ مضطرین۔ وکذالک اذا خوفنی
    ھجوم الاٰفات وارعدنی ضعف المسلمین والمسلمات فبکیت فی وقت من الاَوْقات۔ ودعوت ربی قاضی الحاجات ونادَیتُ مولای کالمتضرّعین۔ و قلتُ یا رب انت ملجأنا فی کلّ حین۔ ونحن
    الیک نشکو وانت
    احکم الحاکمین۔ فلا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا۔ و لا تحملنا ما لا طاقہ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین۔ فاستجاب
    لی ربی واعطانی اربی ونصرنی وھو خیر الناصرین۔ فکنت یومًا اتذکر قِلّۃ البعاع وارتعد کاللُّعاع۔ واقلق فی ھذہ الاحزان۔ واقرء اٰیات القراٰن
    خدائے قوی میرے ساتھ نہ ہوتا اور وہی ہمارا آقا ہے اور
    کافروں کا کوئی آقا نہیں اور وہی ہے جو ہماری دعا کو قبول کرتا اور ہمارے رونے کو سنتا ہے اور جب ہم بے قرار ہوکر اس کی جناب میں آتے ہیں تو ہماری طرف آتا ہے اور اسی طرح جب آفات کے
    ہجوم نے مجھ کو ڈرایا اور مسلمانوں کے ضعف نے میرے بدن پر لرزہ ڈالا۔ پس میں ایک خاص وقت میں رویا اور اپنے رب کی جناب میں جو قاضی الحاجات ہے دعا کی اور اپنے مولا کو تضرع کرنے
    والوں کی طرح پکارا اور میں نے کہا کہ یا الٰہی تو ہر وقت میں ہماری پناہ ہے اور ہم
    تیری طرف شکایت کرتے ہیں اور تو احکم الحاکمین ہے پس ہمارے بھولنے اور خطا کرنے پر مت پکڑ اور ہم پر
    بوجھ مت ڈال جیسا کہ تو نے ان پر بوجھ ڈالا جو ہم سے پہلے تھے اور ہمارے سر پر وہ بوجھ مت رکھ جس کے اٹھانے کی ہمیں طاقت نہیں اور ہم سے درگذر کراور ہمیں ڈھانک لے اور ہم پر رحم کر
    تو ہمارا آقا ہے سو ہمیں کافروں پر مدد دے۔ سو میرے خدا نے میری دعا قبول کی اور میری حاجت مجھے عنایت کی اور مجھ کو مدد دی اور وہ بہتر مدد دینے والا ہے۔ سو میں ایک دن اپنی کمئ سرمایہ
    کو یاد کر رہا تھا اور نرم اور نوخیز سبزہ کی طرح کانپتا تھا اور انہیں غموں میں بے قرار ہو رہا تھا اور قرآن شریف کی آیتیں پڑھتا تھا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 182
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/182/mode/1up
    و اؔ فکر فیہا بجہد الجنان۔ وازجی نضو التدبر والامعان وادعوا اللّٰہ ان یھدینی طرق العرفان۔ ویتم حجتی علی اھل العدوان۔ ویتلافی
    ماسلف من جورالمعتدین۔ فبینما انا افتش کالکمیش وقد حمی وطیس التفتیش وانظر بعض الاٰیات۔ واتوسّم فحواء البینات۔ اذا تلألأت امام عینی اٰیۃ من اٰیات الفرقان۔ و لا کتلالؤ دُرر العمان۔ فاذا فکرت فی فحواۂا۔
    واتبعت انواع ضیاء ھا۔ واجزت حمٰی ارجاۂا۔ وافضیت الی فضاۂا وجدتہا خزینۃ من خزائن العلوم۔ ودفینۃ من السرّ المکتوم۔ فہزت عطفی رؤیتہا و تجلّت لی کجمرۃ قوتہا۔ واصبی قلبی نضارھا ونضرتھا۔
    واغتالت العدا کریھتہا۔ وسرت مھجتی صرّتھا فحمدلت وشکرت للّٰہ ربّ العالمین۔ و رأیت بھا ما یملأ العین قرۃ ویعطی من المعارف دولۃ۔ ویُسرّ قلوب المسلمین۔ وعلّمت من سرّ
    اور دلی کوشش سے فکر
    کر رہا تھا اور تدبر اور سوچ کی دُبلی اونٹنی کو چلا رہا تھا اور خدا تعالیٰ سے مانگ رہا تھا کہ مجھے معرفت کی راہ دکھاوے اور اہل ظلم پر میری حجت کو پوری کرے اور اس ظلم کا تدارک کرے جو
    زیادتی کرنے والوں سے صادر ہو چکا ہے پس اس عرصہ میں جو میں ایک سریع الحرکت انسان کی طرح فکر کر رہا تھا اور تفتیش کا تنور گرم تھا اور میں بعض آیتوں کو دیکھتا اور ان کے بینات میں
    غور کرتا تھا کہ ناگاہ میری آنکھوں کے سامنے ایک آیت قرآن شریف کی چمکی اور وہ ایسی چمک نہ تھی جیسا کہ عمان کے موتیوں کی بلکہ اس سے بڑھ کر تھی۔ پس جبکہ میں نے ان آیتوں کے مضمون
    میں غور کیا اور روشنی کی پیروی کی اور ان کے میدان تک پہنچا تو میں نے ان آیتوں کو مخزن علوم پایا اور چھپے ہوئے بھیدوں کا دفینہ دیکھا۔ سو اس کے دیکھنے نے میرے بازو کو ہلا دیا اور اس کی
    قوت میرے پر ہزار سوار کی طرح ظاہر ہوئی اور اس کی سبزی اور تازگی نے میرے دل کو کھینچ لیا اور اس کی لڑائی نے یکدفعہ دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور اس کی جماعت نے میرے دل کو خوش کیا
    سو میں نے الحمد اللّٰہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اور میں نے ان آیات میں وہ عجائبات دیکھے جو آنکھوں کو خنکی سے بھر دیتے ہیں اور معارف کی دولت بخشتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں کو
    خوش کر دیتے ہیں اور مجھ کو لغتوں کا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 183
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/183/mode/1up
    اللغات ومثواھا۔ وزُودت من فَصّ الکلمات ونجواھا وکذلک اعطیت من اسرارٍ عُلیا ونکاتٍ عظمٰی۔ لیزید یقینی ربّی الاَعْلٰی۔ ولیقطع
    دابر المعتدین۔ وان کنت تحب ان تعرف الاٰیۃ وصولھا فاقرء3۱؂۔ و ان فیہا مدح القراٰن وعربی مبین۔ فتدبرھا کالعاقلین۔ و لا تمرّ بھا مرور الغافلین۔ واعْلم انّ ھذہ الاٰیۃ تعظّم القراٰن والعربیۃ ومکۃ و فیہا نور
    مزّق الاعدآء وبکّت۔ فاقرء ھا بتمامہا وانظر الٰی نظامہا و فتّش کالمستبصرین۔ وانی تدبرتھا فوجدت فیہا اسرارًا۔ ثم امعنتُ فرأیت انوارا۔ ثم عمقت فشاھدت مُنزّلًا قہّارًا ربّ العالمین۔ وکُشف علیّ ان الاٰیۃ
    الموصوفۃ والاشارات الملفوفۃ۔ تہدی الی فضائل العربیۃ۔ وتشیر الی انھا اُمّ الا لسنۃ۔ وان القراٰن اُمّ الکتب السابقۃ۔ وانّ مکۃ اُمّ الارضین۔
    سرّ اور ان کی اصل جگہ بتلائی گئی اور کلمات کے پیوند اور ان
    کے راز سے میں توشہ دیا گیا اور اسی طرح بلند بھید مجھ کو عطا کئے گئے اور بڑے بڑے نکتے مجھ کو دیئے گئے تاخدا تعالیٰ میرا یقین زیادہ کرے اور تا تجاوز کرنے والوں کا پیچھا کاٹ ڈالے اور
    اگر تو چاہتا ہے کہ آیۃ موصوفہ اور اس کے حملہ سے نجات ہو تو قرآن کے اس مقام کو پڑھ جہاں یہ لکھا ہے کہ
    33جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے قرآن کو عربی زبان میں بھیجا تا تو اس شہر
    کو ڈراوے جو تمام آبادیوں کی ماں ہے اور ان آبادیوں کو جو اس کے گرد ہیں یعنی تمام دنیا کو اور اس میں قرآن کی مدح اور عربی کی مدح ہے پس عقلمندوں کی طرح تدبر کر اور غافلوں کی طرح ان
    پر سے مت گزر اور جان کہ یہ آیت قرآن اور عربی اور مکہ کی عظمت ظاہر کرتی ہے اور اس میں ایک نور ہے جس نے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور لاجواب کر دیا پس تمام آیت کو پڑھ اور اس کے
    نظام کی طرف دیکھ اور دانشمندوں کی طرح تحقیق کر اور میں نے ان آیتوں میں تدبر کیا پس کئی بھید ان میں پائے پھر ایک گہری غور کی تو کئی نور اُن میں پائے پھر ایک بہت ہی عمیق نظر سے دیکھا تو
    اتارنے والے قہار کا مجھے مشاہدہ ہوا جو رب العالمین ہے اور میرے پر کھولا گیا کہ آیت موصوفہ اور اشارات ملفوفہ عربی کے فضائل کی طرف ہدایت کرتی ہیں
    اور اس بات کی طرف اشارہ
    کرتی ہیں کہ وہ اُمّ الالسنہ ہے اور قرآن پہلی کتابوں کا اُمّ یعنی اصل ہے اور مکہ تمام زمین کا اُمّ ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 184
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/184/mode/1up
    فاقتادنی بروق ھذہ الاٰیۃ الی انواع التنطس والدرایۃ۔ وفھمتُ سرّ نزول القراٰن فی ھذا اللسان وسرّ ختم النبوۃ علی خیر البریّۃ و ختم
    المرسلین۔ ثم ظھرت علی اٰیات اخرٰی و ایّد بعضہا بعضا تترًا۔ حتّی جرّنی ربّی الی حق الیقین۔ وادخلنی فی المستیقنین۔ وظہر علیّ انّ القراٰن ھو اُمّ الکتُب الاولٰی والعربیۃ امّ الالسنۃ من اللّٰہ الاعلٰی۔ و اما
    الباقیۃ من اللغات فہی لہا کالبنین اوالبنات۔ ولا شک انّہا کمثل ولدھا او ولا یدھا وکلّ یاکل من اعشارھا وموایدھا وکل یجتنون فاکھۃ ھذہ اللّہجۃ ویملأون البطون بتلک المائدۃ و یشربون من تلک اللّجۃ و یتخذون
    لباسًا من ھذہ الحُلّۃ۔ فھی مربیۃ اعارھا الدَّسْت۔ واختار لنفسہا الدَّست۔ واما اختلاف الالسنۃ فی صور الترکیب فلیس من العجیب
    سو مجھے اس آیت کی روشنی نے طرح طرح کے فہم اور درایت کی
    طرف کھینچا اور مجھے یہ بھید سمجھ آگیا کہ قران کیوں عربی زبان میں نازل ہوا اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نبوت ختم ہوئی اس میں بھید کیا ہے پھر میرے پر اور آیتیں ظاہر ہوئیں
    اور بعض نے بعض کی متواتر مدد کی۔ یہاں تک کہ میرے خدا نے حق الیقین تک مجھے کھینچ لیا اور یقین کرنے والوں میں مجھے داخل کیا اور میرے پر ظاہر ہوگیا کہ قرآن ہی پہلی تمام کتابوں کی ماں
    ہے اور ایسا ہی عربی تمام زبانوں کی ماں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور باقی زبانیں اس کے بیٹے بیٹیوں کی طرح ہیں اور کچھ شک نہیں کہ وہ تمام زبانیں اس کے فرزندوں یا خانہ زاد کنیز کوں
    کی طرح ہیں اور ہریک اسی کی دیگوں اور اسی کے خوان میں سے کھا رہا ہے اور ہریک اسی کے پھل چکھ رہا ہے اور اسی خوان سے اپنے پیٹ بھر رہے ہیں اور اسی دریا سے پانی پی رہے ہیں اور
    اسی حُلّہ سے انہوں نے اپنا لباس بنایا ہے اور وہ ان کی مربی ہے جس نے بعاریت ان کو لباس دیا اور اپنی ذات کے لئے مسند اختیار کیا اور یہ بات کہ اگر عربی اُمّ الالسنہ ہی ہے تو زبانوں کی ترکیبوں
    میں کیوں اختلاف ہے تو یہ کچھ عجیب بات نہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 185
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/185/mode/1up
    وکذٰلک الاختلاف فی التصریف واطراد المواد لیس من دلایل عدم الا تحاد ولولا اختلاف بھذا القدر فی الترکیبات لامتنع تغایر یوجب
    کثرۃ اللغات۔ فان وجود التراکیب المختلفۃ ھو الذی غیّر صور الالسنۃ۔ وھو السبب الاول للتفرقۃ فلا یسوغ لمعترض ان یتکلّم بمثل ھٰذہ الکلمات۔ و این منتدحۃ ھذہ الاعتراضات فانھا مصادرۃ
    و من
    الممنوعات وکفاک ان الالسنۃ کلہا مشترکۃ فی کثیر من المفردات۔ و ما اوغلتُ بل ساُریک کاجلی البدیھیات فاستقم کما سمعت و لا تکن من المخطین۔ وانی لما وجدت الدلائل من الفرقان واطمئن قلبی بکتاب اللّٰہ
    الرّحمان اردت ان اطلب الشہادۃ من الاٰثار۔ فاذا فیہا کثیرٌ من الاسرار۔ ففرحت بھا فرحۃ النشوان بالطلاء و وجدت وجد الثمل بالصہباء وشکرت اللّٰہ نصیر
    اور اسی طرح جو اختلاف تصریف اور اطراد
    مواد میں ہے وہ بھی عدم اتحاد کی دلیل نہیں ٹھہر سکتا اور اگر یہ تھوڑا سا اختلاف بھی جو ترکیبات کا اختلاف ہے لغات میں باقی نہ رہے تو وہ تغایر درمیان سے اٹھ جائے گا جو کثرت لغات کا موجب
    ہے کیونکہ مختلف ترکیبوں کا زبانوں میں پایا جانا ہی تو وہ امر ہے جس نے زبانوں کی صورت کو متغایر کر رکھا ہے اور وہی تو زبانوں کے تفرقہ کا پہلا سبب ہے پس کسی معترض کے لئے جائز نہیں
    جو ایسے کلمے منہ پر لاوے اور ایسے اعتراضات کی گنجائش کہاں ہے کیونکہ یہ مصادرہ علی المطلوب ہے جو مناظرات میں ممنوع ہے اور تجھے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ تمام زبانیں بہت سے
    مفردات میں شریک ہیں اور میں نے یہ مبالغہ سے نہیں کہا بلکہ میں عنقریب تجھے بدیہیات کی طرح دکھلاؤں گا پس تو قائم اور ثابت قدم ہو جا جیسا کہ تو نے سن لیا اور خطا کاروں میں سے مت ہو اور
    میں نے جب قرآن کریم سے دلائل پائے اور کتاب اللہ کی گواہی سے میرا دل مطمئن ہوگیا تو میں نے ارادہ کیا کہ احادیث سے بھی کچھ دلائل لوں پس جبکہ میں نے حدیث کو دیکھا تو اس میں بہت بھید
    پائے پس میں ایسا خوش ہوا جیسا کہ نشہ پینے والا شراب سے خوش ہوتا ہے اور جیسا کہ مست کو شراب سے خوشی پہنچتی ہے اور خدا تعالیٰ کا میں نے شکر
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 186
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/186/mode/1up
    الصادقین۔ ثم بدء لی ان اثبت ھذا الامر بالدلایل العقلیہ۔ لاتم الحجۃ علی کل جموح شدید الخصومۃ۔ وابکت قومًا مرتابین۔ فلم تزل
    الاشواق
    تھیج فکری وتُجیل فی عرصاتہا حجری حتی فتحت علیّ ابواب الاستدلال و وُقّفت لامضاض زعم اھل الضلال وقوم ضالین۔ و واللّٰہ ما عانا بالی فی ھذا السبیل وما اخرجت شیئا من الزنبیل۔ وما
    فارقتُ کأس الکرٰی وما نصصتُ رکاب السُّرٰی۔ بل رُزِقتُ کلہا من حضرۃ الکبریاء۔ وقُصِر منہ طول لیلتی اللّیلاء۔ وانقضت من حُسن قضاۂ منیتی۔ وما ارقت فی لیل مقلتی۔ وما تخبشت غیر امتعتی۔ حتی ازلفت
    لی روضتی۔ واثمرت شجرتی۔ وذلّلت علیّ قطوفہا من رب العالمین۔ وواللّٰہ انّ فوزی ھذا من ید ربّی۔ فاحمدہ واصلّی علی نبی عربیّ منہ نزلت البرکات۔ ومنہ اللحمۃ والسداۃ۔ وھو ھیّأ لی اصلی وفرعی
    کیا
    جو سچوں کا حامی ہے پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اس امر کو دلائل سے ثابت کروں تا سخت ہوا پرست اور جھگڑالو پر حجت پوری کردوں اور شک کرنے والوں کو لاجواب کر دوں۔ پس میرے شوق
    ہمیشہ میرے فکر کو جنبش دیتے تھے اور اس کے میدانوں میں میری عقل کو جولان دیتے تھے یہاں تک کہ میرے پر دلائل کے دروازے کھولے گئے اور میں اہل ضلال کے گمان باطل کو جلانے کے
    لئے واقف کیا گیا اور بخدا کہ اس راہ میں میرے دل نے کچھ بھی تکلیف نہیں اٹھائی اور میں نے اپنی زنبیل میں سے کچھ بھی نہیں نکالا اور میں خواب کے پیالوں سے الگ نہیں ہوا اور میں نے رات کے
    وقت اونٹوں کو نہیں چلایا بلکہ یہ سب نعمتیں خداتعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملیں اور اس نے میری اندھیری رات کی لمبائی کو کوتاہ کیا۔ اور میری آرزو اس کی حاجت روائی سے پوری ہوئی اور کسی
    رات میں میری آنکھ بیدار نہیں رہی اور میں نے اپنے سرمایہ کو ادھر ادھر سے کچھ اکٹھا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ میرا روضہ میرے لئے قریب کیا گیا اور میرا درخت پھلدار ہوگیا اور اس کے خوشے
    میرے پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جھکائے گئے اور بخدا یہ میری کامیابی میرے رب کی طرف سے ہے پس میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور نبی عربی پر درود بھیجتا ہوں اسی سے تمام برکتیں نازل
    ہوئیں اور اسی سے سب تانا بانا ہے اسی نے میرے لئے اصل اور فرع کو میسر کیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 187
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 187
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/187/mode/1up
    و انبت کلّ بذری و زرعی وھو خیر المنبتین۔ وما کان لی حول اَنْ اعفّر العدا۔ وما ھروتُ اِذْ ھروت ولکن اللّٰہ ھرٰی۔ وما رأیت رائحۃ
    شق النفس و ما اشتدت لی حاجۃ الی انضاء العنس۔ وما اعدیت ھیاکل الانظار وما جریت طلقا مع الافکار۔ وما رأیت ذات کسورٍ بل طُرت کطیورٍ او کراکب عیدھورٍ۔ و وجدت ما تشتہی الانفس وتلذّ الاعین و
    اُرضعت من غیر بکاءٍ وأنین۔ فتألیفی ھٰذا امر من لدیہ۔ وکل امر یعود الیہ وھو احسن المحمودین۔ واذا ازمعت لھذہ الخطۃ و فکرت فی تلک الاٰیۃ وکذٰلک فی اٰیاتٍ عُلّمت من حضرۃ الاحدیۃ۔ فاحسستُ ان قارعًا
    یقرع باب بالی۔ ویعلمنی من علم عالی وینفخ روح التفھیم والتلقین۔ فسمیت الکتاب منن الرحمان بما انعم علی ربّی بانواع الفضل والاحسان و ھو خیر المحسنین
    اور اس نے میرے بیج اور کھیت کو اگایا
    اور وہ بہتر ہے سب اگانے والوں سے اور میری کہاں طاقت تھی کہ میں دشمنوں کو خاک میں ملاؤں اور میں نے یہ سوٹا نہیں چلایا جبکہ چلایا بلکہ خدا نے چلایا اور میں نے مشقت نفس کی بو نہیں
    دیکھی اور مجھے کچھ ضرورت پیش نہ آئی کہ میں اپنی اونٹنی کو لاغر کروں اور میں نے قوی گھوڑے نظروں کے نہیں دوڑائے اور میں ایک تگ بھی فکروں کے ساتھ نہیں چلا اور میں نے اونچی نیچی
    زمین کو نہیں دیکھا بلکہ میں پرندوں کی طرح اڑا یا ایسے سوار کی طرح جو قوی اونٹ پر سوار ہوا اور میں نے ہر ایک امر جو جی چاہتا ہے اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں پا لیا اور بغیر رونے کے
    مجھ کو دودھ پلایا گیا۔ پس یہ میری تالیف اسی کی طرف سے ہے اور ہریک امر اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ ان سب لوگوں سے جو تعریف کئے جاتے ہیں بہتر ہے اور جب میں نے اس بزرگ
    کام کے لئے قصد کیا اور اس آیت میں فکر کیا اور اسی طرح ان تمام آیتوں میں جو مجھے حضرت احدیت سے سکھلائی گئیں سو مجھے احساس ہوا کہ گویا ایک کھٹکھٹانے والا میرے دل کے دروازے کو
    کھٹکھٹاتا ہے اور نہایت اونچا علم مجھے سکھلاتا ہے اور تفہیم اور تلقین کی روح پھونکتا ہے۔ پس میں نے کتاب کا نام منن الرحمان رکھا کیونکہ کئی قسم کے فضل اور احسان سے خدا تعالیٰ نے میرے
    پر انعام کیا اور وہ سب سے بہتر احسان کرنے والا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 188
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 188
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/188/mode/1up
    وما کان ھذا اوّل آلاۂ بل انی نشأت فی نعماۂ۔ وانہ والانی وربانی واتانی و تولانی وکفّلنی وصافانی۔ ونجانی وعافانی وجعلنی من
    المحدّثین المامورین۔
    وامّا تفصیل اٰیات تؤیّد اٰیۃ امّ القرٰی وتبیّن أنّ العربیۃ امّ الالسنۃ والھام اللّٰہ الاعلی فمنہا اٰیۃ من اللّٰہ المنّان فی سورۃ الرّحمٰن۔ اعنی قولہ 3۱؂۔ فالمراد من البیان اللّغۃ العربیۃ۔ کما
    تشیر الیہ الاٰیۃ الثانیۃ اعنی قولہ تعالی 3۲؂۔فجعل لفظ المبین وصفًا خاصًا للعربیۃ و اشار الٰی انّہ من صفاتہ الذاتیۃ۔ و لا یشترک فیہ احد من الالسنۃ کما لا یخفی علی المتفکّرین۔ واشار بلفظ البیان الٰی
    بلاغۃ ھذا
    اللّسان۔ والٰی انہا ھی اللسان الکاملۃ وانھا احاطت
    اور یہ اس کی کچھ پہلی ہی نعمت نہیں بلکہ میں نے تو اس کی نعمتوں میں ہی پرورش پائی ہے۔ اور اس نے مجھے دوست رکھا اور
    میری پرورش کی اور مجھے دوست رکھا اور میرا متولی اور متکفل ہوا اور مجھے نجات دی اور مجھے محدثین مامورین میں سے کیا ۔
    اور ان آیتوں کی تفصیل جو آیت اُمّ القریٰ کی مؤیّدہیں اور جو
    ظاہر کرتی ہیں جو عربی اُمّ الالسنہ اور الہام الٰہی ہے سو بہ تفصیل ذیل ہے چنانچہ ان میں سے ایک وہ آیت ہے جو سورہ رحمان میں ہے یعنی3 جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا
    اور اس کو بولنا سکھایا۔ سو بیان سے مراد جس کے معنے بولنا ہے زبان عربی ہے جیسا کہ دوسری آیت اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی عربی مبین سو خدا نے مبین کے لفظ کو عربی کے لئے ایک
    خاص صفت ٹھہرایا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لفظ بیان کا عربی کے صفات خاصہ میں سے ہے اور کوئی دوسری زبان اس صفت میں اس کی شریک نہیں جیسا کہ فکر کرنے والوں پر
    پوشیدہ نہیں اور بیان کے لفظ کے ساتھ اس زبان کی بلاغت کی طرف اشارہ کیا اور نیز اس بات کی طرف اشارہ کہ یہ زبان کامل اور ہریک امر مایحتاج پر محیط ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 189
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 189
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/189/mode/1up
    کلما اشتدت الیہ الحاجۃ۔ و تصوّبت مطرھا بقدر ما اقتضت البلدۃ وفاقت کل لغت فی ابراز ما فی الضمائر و ساوی الفطرۃ البشریۃ
    کتساوی الدوائر۔ وکل ما اقتضتہ القوی الانسانیۃ وابتغتہ التصورات الانسیۃ وکل ما طلبہ حوائج فطرۃ الانسان۔ فیحاذیہا مفردات ھذہ اللسان مع تیسیر النطق۔ والقاء الاثر علی الجنان۔ فاتبع ماجاء ک من الیقین
    ثم سیاق ھذہ الاٰیۃ یزیدک فی الدرایۃ۔ فانہ یدل بالدلالۃ القطعیۃ علی ما قلنا من الاسرار الخفیۃ لتکون من الموقنین۔ فتفکر فی اٰیۃ 3 ۱؂ ۔ فان الغرض فیہا ذکر الفرقان والحث علی التلاوۃ والامعان ولا یحصل
    ھذا الغرض الا بعد تعلم العربیۃ والمہارۃ التامۃ فی ھٰذہ اللّہجۃ۔ فلأجل ھذہ الاشارۃ قدم اللّٰہ اٰیۃ 3 ۲؂ ثم قفاہ اٰیۃ3 ۳؂ کانہ قال المنۃ منتان۔ تنزیل القراٰن
    اور اس کا مینہ اس قدر برسا ہے جس قدر
    زمین کو ضرورت تھی اور دلوں کے خیال ظاہر کرنے کے لئے ہریک زبان پر فائق ہے اور فطرت بشری سے ایسی برابر ہے۔ جیسا کہ ایک دائرہ دوسرے دائرے سے برابر ہو اور وہ تمام امور جن کو
    انسانی قویٰ چاہتے ہیں اور انسانی تصورات ان کے خواہشمند ہیں اور وہ تمام امور جن کو انسانی فطرت کی حاجتیں طلب کرتی ہیں سو اس زبان کے مفردات ان کے مقابل پر واقع ہیں اور ساتھ اس کے یہ
    خوبی ہے کہ بولنے کے طریق کو آسان کیا گیا ہے ایسا کہ دل پر اثر پڑے پھر اس آیت کا سیاق درایت کو زیادہ کرتا ہے کیونکہ وہ سیاق ان پوشیدہ بھیدوں پر دلالت کرتا ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں تاکہ
    تو یقین والوں میں سے ہو جائے پس اس آیت میں غور کر یعنی الرحمٰن علّم القرآنکیونکہ اس آیت میں مقصود دو باتیں ہیں۔ قرآن کی فضیلت کا ذکر اور اس کی تلاوت اور سوچنے پر ترغیب اور یہ غرض
    بجز اس کے حاصل نہیں ہوسکتی کہ عربی کو سیکھیں اور اس میں مہارت تامہ حاصل کریں پس اسی اشارت کی غرض سے خدا تعالیٰ نے آیت علّم القرآن کو مقدم کیا پھر بعد اس کے آیت علمہ البیان
    کو لایا پس گویا کہ اس نے یہ کہا کہ احسان دو احسان ہیں (۱) قرآن کا اتارنا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 190
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 190
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/190/mode/1up
    و تخصیص العربیۃ بأحسن البیان۔ وتعلیمہا لاٰدم لینتفع بہ نوع الانسان۔ فانہا مخزن علومٍ عالیۃ وھدایاتٍ ابدیۃ من المنّان کما لا یخفٰی
    علی المتدبّرین۔
    فالحاصل انہ ذکر اوّلًا نعمۃ القراٰن۔ ثم ذکر نعمۃ اُخرٰی التی ھی لھا کالبنیان۔ واشار الیہا بلفظ البیان۔ لیعلم انّھا ھو العربی المبین۔ فان القراٰن ما جعل البیان صفۃ احد من الالسنۃ من دون ھٰذہ
    اللّھجۃ۔ فایّ قرینۃ اقوٰی و ادلّ من ھذہ القرینۃ لو کنتم متفکّرین۔ اََ لا ترٰی أنّ القراٰن سمی غیر العربیۃ اعجمیا فمن الغباوۃ ان تجعلہا للعربیۃ سمیّا۔ فافہم ان کنت زکیا و لا تکن من المعرضین۔ والنّص صریح وما
    ینکرہ الا وقیح من المعاندین۔
    و منہا ما قال ذوالمجد و العزّۃ فی اٰیۃ بعد ھٰذہ
    اور عربی کو بلاغت فصاحت کے ساتھ مخصوص کرنا اور آدم کو عربی کی تعلیم دینا تا نوع انسان اس سے منتفع ہو
    کیونکہ عربی علوم عالیہ کی مخزن ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ابدی ہدایتیں ہیں جیسا کہ تدبر کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں ۔
    پس حاصل کلام یہ ہے کہ اول خدا تعالیٰ نے فرقان کی نعمت
    کو ذکر کیا ہے پھر اس دوسری نعمت کو ذکر کیا جو اس کے لئے بنیاد کی طرح ہے اور اس بات کی طرف بیان کے لفظ کے ساتھ اشارہ کیا تامعلوم ہو کہ اس صفت سے موصوف عربی زبان ہے کیونکہ
    قرآن نے بیان کے لفظ کو بجز عربی کے کسی زبان کی صفت نہیں ٹھہرایا پس کونسا قرینہ اس قرینہ سے زیادہ قوی اور زیادہ دلالت کرنے والا ہے اگر تم فکر کرنے والے ہو۔ کیا تو نہیں جانتا کہ قرآن
    نے غیر زبانوں کا نام اعجمی رکھا ہے پس نادانی ہوگی کہ ان زبانوں کو عربی کا ہمنام اور ہم رتبہ ٹھہرایا جائے پس اگر تو ز کی ہے تو سمجھ لے اور کنارہ کرنے والوں سے مت ہو اور یہ ّ نص صریح
    ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کرے گا مگر بے حیا جو معاندوں میں سے ہوگا۔
    اور ان آیتوں میں سے ایک وہ آیت ہے جو خدائے ذوالمجدوالعزت نے بعد اس
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 191
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 191
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/191/mode/1up
    الاٰیۃ اعنی قول اللّٰہ الحنّان۔ 3۱؂۔ فانظر الٰی ما قال الرحمان۔ وفکر کذی العقل والامعان۔ وتذکّر
    کالمسترشدین۔ فانّ ھذہ الاٰیۃ
    تؤیّد اٰیۃً اولٰی۔ و یفسّر معناھا بتفسیر اجلٰی۔ کما لا یخفٰی علی المفکّرین۔ و بیانہ ان الشمس والقمر یجریان متعاقبین۔ ویحملان نورًا واحدًا فی اللونین۔ وکذٰلک العربیۃ والقراٰن فانّھما تعاقبا واتّحدا البروق واللمعان۔
    اما القران فھو کالشارق المنیر۔ والعربیۃ کالبدر المستنیر۔ ومعذٰلک تری العربیۃ اسرع فی المسیر۔ واجرٰی علی لسان الصالح والشریر۔ و ما کانت شمس القراٰن ان تدرک ھذا القمر۔ وکذٰلک قدر اللّٰہ ھذا الامر۔
    وانھما بحسبان۔ ویجریان کما اُجریا ولا یبغیان۔ بحساب مقدر من الرحمٰن۔ فتری ان القراٰن یجری برعایۃ انواع الاستعداد۔
    آیت کے ذکر فرمائی ہے یعنی خدائے بزرگ اور مہربان کا یہ قول کہ الشمس
    والقمر بحسبان۔ پس اس مضمون کو سوچ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا اور عقلمندوں اور سوچنے والوں کی طرح غور کر اور رشد کے طالبوں کی طرح یاد کر کیونکہ یہ آیت پہلی آیت کی تائید کرتی ہے اور
    ایک کھلی کھلی تفسیر کے ساتھ اس کے معنی بیان کرتی ہے جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور بیان اس کا یہ ہے کہ آفتاب اور چاند ایک دوسرے کے متعاقب چلتے ہیں اور ایک ہی نور کو دو
    رنگوں میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ اور یہی مثال عربی اور قرآن کی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد چل رہے ہیں اور روشنی اور چمک میں اتحاد رکھتے ہیں سو قرآن تو مہرتاباں کی طرح ہے اور عربی
    ماہتاب کی طرح اور باوصف اس کے عربی سیر میں تیز رو ہے اور نیک اور بد کی زبان پر زیادہ جاری ہوگئی ہے اور قرآن کا آفتاب اس کی حرکت کو نہیں پہنچا اور خدا تعالیٰ نے اس امر کو اسی طرح
    مقدر کیا اور وہ دونوں ایک حساب پر چل رہے ہیں اور جیسا کہ چلایا گیا ویسا ہی چل رہے ہیں اور اپنے اپنے اندازہ سے کم و بیش نہیں ہوتے۔ سو قرآن تو استعدادوں کے لحاظ پر چلتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 192
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 192
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/192/mode/1up
    و یکشف علی الطالب اسرار المعاد۔ ویُربّی الحکماء کما یربّی السفہاء۔ ویعلم العقلاء کما یعلم الجہلاء۔ وفیہ بلاغ لکل مرتبۃ الفہم۔ و
    تسلیۃ لکل ارباب الدّھاء والوھم۔ وساوی جمیع انواع الادراک من اھل الارض الٰی اھل الافلاک۔ وانہ احاط دوائر فہم الانسان۔ مع التزام الحق واقامۃ البرھان۔ و انہ نور تام مبین۔ و امّا اللغۃ العربیۃ فحسبانہا انہا
    تجری تحت مقاصد القراٰن۔ و تتم بمفرداتہٖ جمیع دوائر دین الرحمان و تخدم سائر انواع التعلیم والتلقین۔ وانہا من اعظم مجالی القدرۃ الربانیۃ۔ وخصّہا اللّٰہ بنظامٍ فطری من جمیع الالسنۃ۔ و اودعہا
    محاسن الصنعۃ الالٰھیۃ۔ فاحاطت جمیع لطائف البیان۔ و ابدی الجمال کأحسن اشیاء صدرت من الرحمان۔ و ھذا ھو الدلیل علی انھا لیست من الانسان۔ و فیہا صبغۃ حِکمیۃٌ من اللّٰہ
    اور طالب پر معاد کے
    بھید کھولتا ہے اور حکیموں کی پرورش ایسا کرتا ہے جیسا کہ بے وقوفوں کی پرورش کرتا ہے اور عقلمندوں کو اسی طرح سکھلاتا ہے جیسا کہ جاہلوں کو اور اس میں ہریک سمجھ کے مرتبہ کے لئے
    طریق تبلیغ موجود ہے اور ہریک دانش اور وہم کے لئے تسلی کا راہ ہے اور ادر اک کی تمام قسموں سے وہ برابر ہے۔ گو کتنے قسم زمین سے آسمان تک ہوں اور وہ انسانی فہم کے تمام دائرہ پر محیط ہے
    اور وہ حق اور برہان کا التزام اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ پورا پورا نور اور کھلی کھلی روشنی ہے۔ رہی عربی زبان سو اس کے چلنے کا طریق یہ ہے کہ قرآن کے مقاصد کے نیچے چلتی ہے اور اپنے
    مفردات کے ساتھ دین کے تمام دائروں کو پورا کرتی ہے اور تعلیم اور تلقین کے تمام قسموں کی خدمت کرتی ہے اور یہ بولی قدرت ربانی کی عظیم الشان جلوہ گاہوں میں سے ہے اور خدا تعالیٰ نے اس
    کو تمام زبانوں میں سے نظام فطری کے ساتھ خاص کیا ہے اور اس میں طرح طرح کی صنعت الٰہیہ کے محاسن رکھے ہیں پس یہ بولی بیان کے تمام لطائف پر محیط ہے اور اپنے جمال کو ایسے طور
    سے ظاہر کیا ہے جو ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہیں اور یہی دلیل اس بات پر ہے کہ یہ بولی انسان کی طرف سے نہیں اور اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پُر
    حکمت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 193
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 193
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/193/mode/1up
    المنّان۔ و فیہا حسن و بھاء و انواع اللمعان۔ و فیہا عجائب صانع عظیم الشان۔ تلمع وجھہا بین صفوف السنۃ شتّٰی۔ کأنّہا کوکب درّیّ
    فی الدّجٰی۔ و انہا کروضۃٍ طیبۃٍ علٰی نھر جار۔ مثمرۃ بانواع ثمار۔ و اما الاَ لْسن الاُخرٰی۔ فقد غیر وجہھا قتر تصرّف النوکٰی۔ و ما بقیت علٰی صورتہا الاولٰی۔ فہی کاشجار اجتُثّت من مغارسہا وبعدت من
    نواظر حارسہا۔ و نبذت فی موماۃٍ وقفر وفلاۃ۔ فاصفرت اوراقھا۔ ویسبت ساقہا۔ وسقطت اثمارھا۔ وذھبت نضرتھا واخضرارھا وترٰی وجھہا کالمجذومین۔
    فواھًا للعربیۃ ما احسن وجہھا فی الحُلل المنیرۃ
    الکاملۃ۔ أشرقت الارض بانوارھا التامۃ۔ وتحقّق بھا کمال الھویۃ البشریۃ۔ توجد فیہا عجائب الصانع الحکیم القدیر۔ کما توجد فی کل
    رنگ ہے اور حسن اور خوبصورتی اور قسما قسم کی چمک ہے اور
    صنعت الٰہی کے عظیم الشان عجائبات ہیں اس کا منہ کئی زبانوں کی صفوں کے اندر چمک رہا ہے گویا یہ ایک چمکتا ہوا موتی اندھیرے میں ہے اور یہ اس پاکیزہ باغ کی طرح ہے جو نہر جاری پر ہو جو
    پھلوں سے لدا ہوا ہو مگر دوسری زبانوں کا یہ حال ہے کہ احمقوں کے تصرف کے غبار نے بہت سا حصہ ان کا متغیر کر دیا ہے اور اپنی پہلی صورت پر باقی نہیں رہیں پس وہ ان درختوں کی طرح ہیں
    جو اپنی جگہ سے اکھیڑے گئے اور اپنے نگہبان کی آنکھوں سے دور کئے گئے اور ایسے بیابان میں ڈالے گئے جہاں پانی نہیں اور ایسے جنگل میں جہاں کوئی درخت سبز نہیں پس ان کے پتے زرد
    ہوگئے اور ان کے پھل گر گئے اور ان کی تازگی اور سبزی جاتی رہی اور تو دیکھتا ہے کہ ان کا چہرہ جذامیوں کی طرح ہوگیا ۔
    پس عربی زبان کیا ہی عمدہ ہے اور کیا اچھا اس کا چہرہ ہے جو
    چمکیلے اور کامل پیرا یہ میں نظر آتا ہے۔ زمین اس کے پورے نوروں سے چمک اٹھی ہے اور بشری ماہیت کا کمال اس سے ثابت ہوگیا ہے اس میں عجائب کام خدائے صانع حکیم قادر کے ظاہر ہیں جیسا
    کہ ان تمام چیزوں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 194
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 194
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/194/mode/1up
    شیء صدر من البدیع الکبیر۔ و اکمل اللّٰہ جمیع اعضاۂا۔ وما غادر شیءًا من حُسنہا و بہاءھا۔ فلا جرم تجدھا کاملۃ فی البیان۔ محیطۃ
    علٰی اغراض نوع الانسان۔ فما من عمل یبدو الی انقراض الزمان۔ و لا من صفۃٍ من صفات اللّٰہ الدّیّان۔ وما من عقیدۃٍ من عقاید البریّۃ اّ لا ولھا لفظ مفرد فی العربیۃ۔ فاختبر ان کنت من المرتابین۔ وان کنت تقوم
    للخبرۃ کطالب الحق والحقیقۃ۔ فواللّٰہ ما تجد امرًا من امور صحیفۃ الفطرۃ۔ و لا سرًّا من مکتوبات قانون القدرۃ الّا و تجد بحذاۂ لفظا مفردا فی ھٰذہ اللّھجۃ فدقق النظر ھل تجد قولی کالمتصلّفین۔ کلا بل انّ
    العربیۃ احاطت جمیع اغراضنا کالدائرۃ۔ وتجدھا وصحیفۃ الفطرۃ کالمرایا المتقابلۃ۔ وما تجد من اخلاق و افعال و عقائد و اعمال ودعوات وعبادات وجذبات وشہوات الا و تجد فیہا بحذاۂا مفردات و لا
    تجد
    میں پائی جاتی ہیں جو اس بزرگ بے مثل پیدا کنندہ سے صادر ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کے تمام اعضا کو کامل کیا ہے اور اس کے حسن اور خوبی سے کوئی چیز اٹھا نہیں رکھی۔ پس اسی
    وجہ سے تو اس کو بیان میں کامل پائے گا اور دیکھے گا کہ وہ انسان کی تمام غرضوں پر محیط ہے پس ایسا کوئی بھی عمل ان عملوں میں سے نہیں کہ جو زمانہ کے اخیر تک ظاہر ہو ں اور نہ ایسی
    کوئی صفت خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہے اور نہ کوئی ایسا عقیدہ لوگوں کے عقائد میں سے ہے جس کے لئے عربی میں لفظ مفرد موضوع نہ ہو پس تو آزمالے اگر تجھے شک ہے اور اگر تو آزمائش کے
    لئے اٹھے جیسا کہ حق اور حقیقت کے طالب اٹھتے ہیں تو بخدا صحیفہ فطرت میں سے کوئی ایسا امر تو نہیں دیکھے گا اور نہ کوئی ایسا بھید قانون قدرت کے پوشیدہ بھیدوں میں سے دیکھے گا۔ جس
    کے مقابل پر کوئی لفظ مفرد اس زبان میں نہ ہو پس ایک باریک نظر سے دیکھ کیا تو لاف زن لوگوں کی طرح میری بات کو پاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ حق بات یہ ہے کہ زبان عربی ایک دائرہ کی طرح
    ہماری تمام اغراض پر محیط ہے اور تو زبان عربی اور صحیفہ فطرت کو ان دو آئینوں کی طرح پائے گا جو ایک دوسرے کے مقابل ہوں اور تو ایسا کوئی خلق نہیں پائے گا اور نہ کوئی ایسا عقیدہ اور نہ
    کوئی ایسی دعائیں اور نہ ایسی عبادتیں اور نہ ایسے جذبات اور نہ ایسی شہوات جن کے مقابل پر زبان عربی میں مفردات نہ پائے جائیں اور
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 195
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 195
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/195/mode/1up
    ھٰذا الکمال فی غیر العربیۃ۔ فاختبر ان کنت لا تومن بھٰذہ الحقیقۃ و لا تستعجل کالمعاندین۔
    و اعلم أنّ لِلعربیۃ و صحیفۃ القدرۃ
    تعلقات طبعیۃ وانعکاسات ابدیۃ۔ کانہما مرایا متقابلۃ من الرحمان او توامان متماثلان او عینان من منبع تخرجان وتصدغان فانظر و لا تکن کالعمین فہٰذہ نصوص قاطعۃ وحجج یقینیۃ علٰی ان العربیۃ ھی اللسان۔
    والفرقان ھو النور التامّ الفرقان ففکّر و لا تکن من الغافلین۔ ومن فکّر فی القراٰن وتدبّر کلمات الفرقان۔ ففھم ان ھٰذا قد ثبت من البرھان۔ وما کتبناہ
    کالظانین بل اُوتینا علمًا کنورٍ مبین۔
    ثم اعلم یا طالب الرشد
    والسدادان التوحید لایتم اّ لا بھٰذا الاعتقاد ولا بد من ان نؤمن بکمال الوثوق والاعتماد بان کلّ خیر
    یہ کمال کسی غیر زبان میں تو ہرگز نہ پائے گا۔ سو تو اس بات کو آزما لے اگر تو اس حقیقت کو باور
    نہیں کرتا اور معاندوں کی طرح جلدی مت کر ۔
    اور یہ بات جان رکھ کہ عربی اور صحیفہ قدرت میں طبعی تعلقات واقع ہیں اور ابدی انعکاس ہیں گویا وہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے مرایا متقابلہ
    ہیں یا تو ام ہیں جو ایک دوسرے سے مماثلت رکھتا ہے یا ایک ہی منبع میں سے دو چشمے نکل رہے ہیں اور ایک دوسرے کے برابر چلے جاتے ہیں پس سوچ اور اندھوں کی طرح مت ہو پس یہ قطعی
    نصوص اور یقینی حجتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو حقیقی زبان عربی ہے اور حقیقی کتاب اللہ قرآن ہے جو نور تام اور حق و باطل میں فرق کرتا ہے پس سوچ اور غافلوں میں سے مت ہو
    اور جو شخص قرآن میں غور کرے اور فرقان میں تدبر کرے وہ سمجھ لے گا کہ یہ ساری باتیں دلیل سے ثابت ہوگئی ہیں اور ہم نے ظن کرنے والوں کی طرح نہیں لکھا بلکہ ہم کو ایک کھلے کھلے نور
    کی طرح علم ملا ہے ۔
    پھر اے رشد اور صلاح کے طالب اس بات کو جان کہ توحید بجز اس اعتقاد کے پوری نہیں ہوتی اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کمال وثوق اور اعتماد سے اس بات پر
    ایمان لاویں کہ ہریک
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 196
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 196
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/196/mode/1up
    صدر من رب العباد وھو مبدء کل فیض للعالمین۔ ومن المعلوم عند ذوی العرفان انّ طاقۃ النطق والبیان من اعظم کمالات نوع الانسان۔
    بل ھی کالارواح للابدان۔ فکیف یتصور انّھا ما اعطیت من یدالمنان۔ کلا بل ھی تتمۃ الخلقۃ البشریۃ وحقیقۃ الارواح الانسیّۃ وانّہا من اعظم نعم حضرۃ الاحدیۃ۔ ولا یتم التوحید الا بعد ھذہ العقیدۃ۔ أیرضی موحد
    بامرٍ فیہ نقص حضرۃ العزّۃ او فیہ شرک کعقائد
    ا لمشرکین۔ وان الذین یعرفون اللّٰہ حق العرفان یعلمون انہ فی کل خیر مبدء الفیضان۔ وانہ موجدالموجودین۔ ولا یتکلمون کالدھریِین
    والطبیعیین۔ اولئک
    الذین اوتوا حظا من المعرفۃ۔ وسقوا من کاس
    توحید الحضرۃ وجعلوا من الفائزین۔ و ان ربّنا کامل من جمیع الجہات و لا یُغرٰی الیہ نقص فی الذات والصفات۔ وانہ حمید لا یفرط الیہ
    خیر خدا تعالیٰ
    سے ہی صادر ہوتی ہے اور تمام مخلوقات کے لئے وہی ہریک فیض کا مبداء ہے اور جو لوگ صاحب معرفت ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ نطق اور بیان کی طاقت نوع انسان کے بزرگ تر کمالات میں
    سے ہے۔ بلکہ وہ انسان کے لئے ایسی ہے جیسے بدنوں کے لئے روح پس کیونکر گمان کریں کہ وہ انسان کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نہیں ملی۔ یہ بات ہرگز نہیں بلکہ زبان انسان کی پیدائش کا تتمہ ہے
    اور انسانی روح کی حقیقت ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور توحید بجز اس عقیدے کے پوری نہیں ہوسکتی۔ کیا کوئی موحد کسی ایسے امر پر راضی ہوسکتا ہے جس میں
    حضرت عزت کی نسبت نقص لازم آوے یا اس میں مشرکوں کے عقیدے کی طرح شرک ہو اور جو لوگ خدا تعالیٰ کو حق پہچاننے کا پہچانتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ وہ ہریک خیر کا مبداء ہے اور ہریک
    موجود کا موجد ہے اور دہریوں اور طبیعوں کی طرح کلام نہیں کرتے یہ لوگ وہی ہیں جن کو معرفت کا حصہ دیا گیا ہے اور توحید کے پیالے پلائے گئے ہیں اور کامیابوں میں سے کئے گئے ہیں اور
    ہمارا خدا ہریک جہت سے کامل ہے اور کوئی نقص اس کی ذات اور صفات کی طرف عائد نہیں ہوسکتا اور وہ تعریف کیا گیا ہے۔ کوئی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 197
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 197
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/197/mode/1up
    ذمّ و قدوس لا یلحقہ وَصْم۔ و ھذا ھو محجّۃ الاھتداء ومشرب الاولیاء والاصفیاء۔ وصراطُ الذین انعم اللّٰہ علیہم وسبیل الّذین نوّر
    عینیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔ فواللّٰہ الّذی ھو ذوالجلال والاکرام۔ ان البشر ما وجد کمالًا الّا من فیضہ التّام وھو خیر المنعمین۔ ام یقولون انّ نعمۃ النطق ما جاء ت من
    الرحمان و ما کان
    معطیہا خالق الانسان۔ فھٰذا ظلم و زور وغلو فی العدوان۔ کالشیاطین۔ وتلک قوم ما قدروا اللّٰہ حق قدرہ۔ وما نظروا الی شمسہ و بدرہ۔ و ما فکروا انہ ھو رافع کل الدّجیٰ۔ وانہ خالق الارض والسمٰوات العُلٰی خلق
    الانسان ثم انطقہ ثم ھدٰی۔ وما من نعمۃٍ الا اعطیٰ فھذا ھو ربّنا الاَعْلٰی وخالقنا الاغنٰی۔ وسعت نعمہ ظاھرنا وباطننا واحاطت آلاۂ ابداننا وانفسنا
    بدی اس کی طرف پیش دستی نہیں کرسکتی اور وہ نہایت پاک
    ہے کوئی عیب اس کے شامل حال نہیں ہوسکتا یہی ہدایت یابی کی راہ ہے اور اولیاء اور اصفیا کا مشرب ہے اور ان لوگوں کی راہ ہے جن کو آنکھیں دی گئیں مگر جن پر خدا کا غضب اور گمراہ ہیں ان
    کی یہ راہ نہیں پس اس خدا کی قسم ہے جو ذوالجلال والاکرام ہے کہ انسان نے ہریک کمال اسی کے فیض سے پایا ہے اور وہ بہتر انعام کرنے والا ہے کیا لوگ یہ کہتے ہیں کہ بولنے کی نعمت خدا تعالیٰ
    سے انسان کو نہیں ملی اور انسان کا پیدا کرنے والا اس نعمت کا دینے والا نہیں۔ پس یہ ظلم اور جھوٹ ہے اور ظلم میں شیطان کی طرح غلو ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خداتعالیٰ کی وہ قدر نہیں
    کی جو قدر کرنے کا حق تھا اور اس کے سورج اور چاند کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا اور یہ نہیں سوچا کہ وہ خدا ہے جو ہریک تاریکی کو دور کرتا اور بلند آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے
    اس نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولی سکھائی اور پھر ہدایت دی اور کوئی ایسی نعمت نہیں جو اس نے عطا نہیں کی پس یہی ہمارا برتر خدا ہے اور ہمار اپیدا کنندہ جو نہایت غنی ہے اس کی نعمتیں
    ہمارے ظاہر اور باطن پر محیط ہو رہی ہیں اور اس کی بخشش ہمارے بدنوں اور جانوں پر احاطہ کر رہی ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 198
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 198
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/198/mode/1up
    ھو الذی خلق الانسان۔ و أتمّ الخلق و زان۔ واکمل الاحسان فکیف یظنّ انہ ما علّم البیان۔ اتظن انّہ قدر علٰی خلق البشر۔ و ما قدر علی
    الانطاق و ازالۃ الحصر اوکان من الغافلین۔ افانت تعجب ھٰہنا من قدرۃ رب العالمین۔ و تری انہ قوی متین وانہ خالق الجوھر والعرض۔ و منور السمٰوات والارض۔ ومجیب دعوۃ الداعین۔ فھل لک ان تتوب الیہ
    و تمیل۔ وتتحامی القال والقیل۔ واللّٰہ یحب الصالحین۔
    فلما ثبت ان ربنا ھو نور کل شئ مِن الاشیاء۔ ومنیر ما فی الارض والسماء۔ ثبت انہ المفیض من جمیع الانحاءِ۔ و خالق الرقیع والغبراء۔ و ھو احسن
    الخالقین۔ و انہ اعطی العینین۔ و خلق اللسان
    والشفتین۔ وھدی الرضیع الی النجدین۔ وما غادر من کمال مطلوب
    وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی پیدائش کو پورا کیا اور زینت بخشی
    اور اپنے احسان کو کمال تک پہنچایا۔ پس ایسے محسن کی نسبت کیونکر گمان کیا جائے کہ اس نے انسان کو بولنا نہ سکھایا کیا تیرا یہ ظن ہے کہ وہ انسان کے پیدا کرنے پر تو قادر ہوا لیکن اس کے
    بلانے اور اس کی زبان کھولنے پر قادر نہ ہو سکا یا وہ غافلوں میں سے تھا کیا تو اس جگہ رب العالمین کی قدرت سے تعجب کرے گا اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زبردست قوت والا ہے اور وہ جوہر اور
    عرض کو پیدا کرنے والا ہے اور زمین اور آسمان کو روشن کرنے والا ہے اور دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ پس کیا تو اس بات کی طرف رغبت رکھتا ہے کہ اس کی طرف رجوع کرے اور قیل وقال کو
    چھوڑ دے اور خدا نیک بندوں سے محبت رکھتا ہے۔
    اور جبکہ ثابت ہوا کہ ہمارا خدا ہریک چیز کا نور اور زمین اور آسمان کا روشن کرنے والا ہے تو ثابت ہو گیا کہ وہی ہریک طرح سے مبدء جمیع
    فیوض ہے اور وہی زمین و آسمان کا خالق اور احسن الخالقین ہے اس نے دو آنکھیں دیں اور زبان اور ہونٹ دیئے اور بچہ کو پستانوں کی طرف ہدایت دی اور کوئی ایسا کمال انسانی اٹھا نہ
    رکھا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 199
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 199
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/199/mode/1up
    الا اعطاھا باحسن اسلوب۔ فمن الغباوۃ ان تظن ان النطق الذی ھو نور حقیقۃ الانسان و مناط العبادۃ والذکر والایمان۔ ما اعطی مع
    الخلقۃ من الرحمان۔ بل وجدہ البشر بشقّ النّفس وجھد الجنان بعد تطاول امد وامتداد الزمان۔ وھل ھذا الا افتراء الکاذبین۔ و من اٰمن بالّذی لہ کمال تام فی الذات والصفات۔ و فیوض متنوعۃٌ لاھل الارض
    والسموات۔ وعرف انہ مبدء الفیوض من جمیع الجہات یومن بالضرورۃ بانہ اعطی کلّ شیء خلقہ و ما غادر شیءًا من الکمالات و ھو مفیض کل فیض احتاجت الیہ طبائع المخلوقات بحسب الاستعدادات۔ و ما
    نعب غراب الا بتعلیمہ۔ وما زئر اسدٌ الا بتفھیمہ۔ ھو منبع کل خیر و فیضان ومعلم کل نطق وبیان وکذلک کان شان رب العالمین۔ اتزعم انہ رَبّی الانسان کرجل عاجز من اکمال التربیۃ لا بل ربّاہ بأیدی القدرۃ
    التامۃ
    جس کی طرف انسان کو حاجت ہے اور ہریک مطلوب احسن طور سے ادا کیا پس یہ نادانی ہوگی کہ ایسا گمان کیا جائے کہ وہ نطق جو انسانی حقیقت کا نور ہے اور ذکر اور ایمان اور عبادت کا
    مدار ہے وہی خدا تعالیٰ کی طرف سے انسانی پیدائش کو نہیں ملا بلکہ انسان نے اس کو اپنی محنت اور مشقت سے بعد مدت مدید اور زمانہ دراز کے پایا اور یہ خیال صریح دروغ گو لوگوں کا افترا ہے
    اور جو شخص اس ذات پر ایمان لایا ہو جو اپنی ذات اور صفات میں کمال تام رکھتا ہے جو رنگا رنگ کے فیوض زمین اور آسمان کے باشندوں کے لئے رکھتا ہے اور اس نے جان لیا ہو کہ خدا تعالیٰ ہریک
    جہت سے مبدء فیض ہے وہ بالضرورت اس بات پر ایمان لائے گا کہ اس نے ہریک چیز کو اس کے مناسب حال پیدائش بخشی ہے اور کوئی مطلوب باقی نہیں چھوڑا اور ہریک فیض کا مبدء ہے اور
    مخلوقات کی طبیعتیں بحسب استعداد اس کی طرف محتاج ہیں اور کوئی کوا کاں کاں نہیں کرتا اور نہ شیر گرجتا ہے مگر اسی کی تعلیم اور تفہیم سے اور وہ ہریک خیر اور فیض کا مبدء اور ہریک نطق
    اور بیان کا معلم ہے اور ایسی ہی رب العالمین کی شان ہونی چاہئے تھی کیا تیرا یہ زعم ہے کہ اس نے انسان کی اس
    شخص کی طرح پرورش کی جو کامل پرورش کرنے سے عاجز ہو۔ یہ ہرگز
    درست نہیں بلکہ اس نے قدرت تامہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 200
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 200
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/200/mode/1up
    حتی وھب لہ لقب الخلیفۃ۔ وکملہ بکمال الفضل والرحمۃ۔ و اعطی لہ ما لم یعط احدًا من المخلوقین۔ و انہ ھو اللّٰہ الذی یربّی
    الاشجار بتربیۃ کاملۃ حتی یجعلہا دوحا ذات عظمۃ۔ و یزیّنہا بزھر و انواع ثمرۃ۔ و اظلال باردۃ ممدودۃ تسُرّ النّاظرین۔ فما زعمک انہ خلق الانسان خلقا غیر تامٍ و ما بلّغہ الی مقام۔ فیہ کمال نظام و ترکہ
    ناقصا کاللاغبین۔ ثم العلوم التی توجد فی مفردات اللسان العربیۃ تشہد
    بالشہادۃ الجلیلۃ۔ انھا لیست فعل احد من البریّۃ۔ وانھا من خالق السماء والارضین۔ و لا یختلج فی قلبک ان الانسان لا یتولد ناطقا
    متکلمًا بل یجد ھذا الکمال متعلّما کما نشاھد بالحق والیقین۔ فان ھذا الا یراد علیک لا لک۔ فاصلح حالک ولا یغفل بالک کالنائمین
    فانک اذا قبلت ان النطق لا یحصل الّا بالتعلیم۔ فلزمک ان تقبل
    کے دونوں
    ہاتھوں سے پرورش کی ہے یہاں تک کہ اس کو خلیفہ کا لقب عطا کیا اور کمال فضل اور رحمت سے اس کو کامل کیا اور اس کو وہ نعمتیں دیں جو کسی مخلوق کو نہیں دیں اور وہ وہی خدا ہے جو کامل
    تربیت کے ساتھ درختوں کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے درخت ان کو کر دیتا ہے اور ان کو پھولوں اور قسما قسم کے پھلوں اور ٹھنڈے اور پھیلے ہوئے سایوں سے آرائش دیتا ہے اور ایسی
    آرائش دیتا ہے کہ دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں پس تیرا کیا زعم ہے کہ اس خدا نے انسان کو ناقص پیدا کیا ہے اور ایسے کمال تک نہیں پہنچایا جس میں نظام کا کمال ہے اور تھکنے والوں کی طرح اس
    کو ناقص چھوڑ دیا۔ پھر وہ علوم جو عربی زبان کے مفردات میں پائے جاتے ہیں وہ کھلے کھلے طور پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ مخلوق کا فعل نہیں ہیں اور اس کا فعل ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا
    کیا ہے اور تیرے دل میں یہ بات خلجان پیدا نہ کرے کہ انسان بولتا ہوا اور باتیں کرتا ہوا پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کمال کو بذریعہ تعلیم کے پاتا ہے کہ جیسا کہ ہم یقینی طور پر مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ
    یہ اعتراض درحقیقت تیرے پر ہے نہ تیرے لئے پس اپنے حال کو درست کر اور اپنے دل کو سوئے ہوئے لوگوں کی طرح غافل مت کر کیونکہ جب تو نے قبول کر لیا کہ بولنا صرف تعلیم کے ذریعہ سے
    حاصل ہوتا ہے سو تجھے اس بات کا قبول کرنا بھی لازم
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 201
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 201
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/201/mode/1up
    ان البشر الاول مَا فہم الا بالتفھیم۔ فاقررت بما انکرت ان کنت من المتفکرین۔ وقد جرب الناس و تظاھر الخبرۃ والقیاس۔ ان الاطفال
    المتولّدین لویترکون غیر متعلمین۔ ولا یعلمہم لسانہم احد من المعلّمین فلا یقدرون علٰی نطق ولا یجیبون المنطقین۔ بل یبقون کبکم صامتین فایّ دلیل اوضح من ھذا لمن طلب الحق وھو امین۔ و ما اتبع سبل
    الضالین۔ فجاھد حق الجہاد۔ وفکر کاھل الرشاد ولا تستعجل کالمعرضین۔ و من اجلی البدیھیات ان اٰدم خلق من یدربّ الکائنات۔ وما کان احد معہ من المعلمین والمعلمات۔ فثبت ان معلمہ کان خالق المخلوقات
    أفلا تؤمن بقدرۃ قوی متین۔ افلا تعلم ان وجود البریۃ ظل لصفۃ الربوبیۃ وبھا کان ظہورھم فی ھذہ النشأۃ وکان النطق من تتمۃ خلق الانسان فکیف یجوز الخداج للذی ظھر من یدی الرحمان۔ اتزعم
    آگیا کہ
    پہلا انسان بھی بجز سمجھانے کے خود بخود نہیں سمجھ سکا۔ پس اس صورت میں تو تو نے اس بات کا اقرار کر دیا جس کا انکار کر دیا تھا۔ یہی درست ہے اگر تو سوچے اور فکر کرے اور یہ بات
    تحقیق شدہ امر ہے کہ لوگ آزما چکے اور آزمائش اور قیاس نے بالاتفاق یہ گواہی دی کہ بچے جو پیدا ہوتے ہیں اگر وہ بے تعلیم چھوڑے جائیں اور کوئی سکھانے والا ان کی زبان ان کو نہ سکھاوے پس
    وہ خود بخود بولنے پر قادر نہیں ہوسکتے اور نہ بلانے والوں کو جواب دے سکتے ہیں بلکہ گونگوں کی طرح چپ رہتے ہیں۔ پس اس سے بڑھ کر اس شخص کے لئے کون سی واضح دلیل ہوگی جو طالب
    حق اور امین ہے جو گمراہوں کی راہ پر نہیں چلتا۔ پس کوشش کر جیسا کہ حق کوشش کا ہے اور فکر کر جیسا کہ اہل رشد فکر کیا کرتے ہیں اور کنارہ کش لوگوں کی طرح جلدی مت کر اور یہ بات تو
    اجلٰی بدیہیات میں سے ہے کہ آدم خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور اس وقت کوئی سکھانے والا یا سکھلانے والے آدم کے ساتھ موجود نہ تھا پس ثابت ہوا کہ آدم کا معلم اور بولی سکھانے والا
    خدا تعالیٰ ہی تھا کیا تو خدائے قادر زبردست کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا کیا تجھے خبر نہیں کہ مخلوقات ربوبیت کی صفت کا ظل ہے اور اسی صفت ربوبیت کے ساتھ تمام مخلوقات کا اس عالم میں
    ظہور ہوا اور بولنا انسان کی پیدائش کا ایک تتمہ ہے پس کیونکر ان چیزوں کو ناقص الخلقت خیال کیا جائے جو خدا تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں سے ظہور میں آئے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 202
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 202
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/202/mode/1up
    ان اللّٰہ الذی نفخ روحہ فیہ۔ ماکان قادرًا اَنْ ینطق فیہ۔ مالک لا تفکر کالمسترشدین۔ اتظن ان اللّٰہ غادر ربوبیتہ ناقصۃ۔ اووثئت یدہ بعد
    ما ارٰی قدرۃ۔ اوکفأہ رجل من الحاجزین۔ وانْ کنت تقر بالتعلیم ولکن
    لا تقر بتعلیم الرب الکریم۔ بل تسلک مسلک فلاسفۃ ھذا الزمان۔ و تذھب الٰی قدم نوع الانسان۔ فاعلم ان ھذا باطل بالبداھۃ والعیان۔ وان ھو الا
    الدعوی کدعاوی الصبیان۔ او ھذی کھذیان النشوان۔ ما اتوا علیہ بالبرھان۔ وما کانوا مثبتین۔ وکیف وانّ تفرّد حضرۃ الاحدیۃ فی کمال الذات والھویّۃ۔ یقتضی اراء ۃ نقصان البریۃ لیعلموا ان البقاء الذی ھو نوع
    من الکمال۔ لا یوجد الا فی حی ذی العزۃ والجلال۔ ولیعلموا انہ صمد غنیّ کفاہ وجودہ۔ و لا حاجۃ ان یکون احدٌ ولیّہ و ودودہ۔ و لیس علیہ ابقاء احد علی وجہ الوجوب۔ ولیس امر لذاتہ
    کیا تو یہ خیال کرتا
    ہے کہ وہ خدا جس نے انسان میں زندگی کی روح پھونکی وہ اس بات پر قادر نہیں تھا کہ اس کے منہ کو کلام کرنے پر قادر کر دیتا تجھے کیا ہوگیا کہ تو رشید لوگوں کی طرح نہیں سوچتا۔ کیا تو یہ گمان
    کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کو ناقص چھوڑ دیا یا قدرت دکھلانے کے بعد پھر ہاتھ اس کے نکمے ہوگئے یا کسی روکنے والے نے اس کو روک دیا اور اگر یہ بات ہے کہ بولی سکھانے کا تو
    اقرار کرتا ہے لیکن یہ اقرار نہیں کرتا کہ خدا نے سکھائی بلکہ اس زمانہ کے فلاسفروں کے نقش قدم پر چلتا ہے اور نوع انسان کے قدم کا قائل ہے پس جان کہ یہ خیال بالبداہت باطل ہے اور یہ صرف
    بچوں کے دعووں کے مانند دعویٰ ہے اور یا مستوں کی بکواس کی طرح ایک بکواس ہے۔ وہ لوگ اس بات پر کچھ دلیل نہیں لا سکے اور اپنے مدعا کو ثابت نہیں کیا اور کیونکر یہ صحیح ہو جبکہ خدا
    تعالیٰ کا اپنے ذاتی کمالات میں متفرد ہونا اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے مقابل پر تمام مخلوقات ناقص حالت میں ہو تاکہ سب لوگ جان لیں کہ وہ بقا جو کمال کے نوع میں سے ہے وہ بجز اس زندہ
    ذوالجلال کے کسی میں نہیں پائے جاتے اور تا جان لیں کہ وہ بے نیاز ہے۔ اس کا وجود اس کے لئے بس ہے کچھ حاجت نہیں کہ کوئی اس کا مددگار ہو یا دوست ہو اور اس پر فرض نہیں کہ کسی کو
    ہمیشہ کے لئے باقی رکھے اور اس کی ذات
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 203
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 203
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/203/mode/1up
    الغنی کالمطلوب۔ ولیس لہ حاجۃ الی المخلوقین۔ بل قد تقتضی ذاتہ تجلیات الربوبیۃ۔ لیُعْرف انہا من صفاتہ الذاتیۃ۔ فیخلق ما یشاء
    بالامر والارادۃ۔ وقد یقتضی تجلیات الاحدیۃ۔ لیعرف ان غیرہ ھالکۃ الذات باطلۃ الحقیقۃ۔ و لیس لہ الیہ مثقال ذرۃ من الحاجۃ۔ فیہلک کلمن علی الارض من نوع الخلقۃ۔ و لا یغادر فردًا من افراد البریۃ۔ الا و
    یمحوا اثرہ بالاھلاک والاماتۃ۔ وکذلک یدیر صفاتہ الٰی ابد الاٰبدین۔ وکل صفۃٍ یقتضی ظہورہ بعد حین فیخلق قرونا بعد ما اھلک قرونا اولٰی۔ لیعرف بصفاتٍ علیہا مدار نجات الوری۔ و لا یحتاج الی قدم نوع کما
    ھو زعم النوکیٰ۔ وھو غنی عن العالمین۔ ولا تنفک صفات الرحمٰن من ذات الرحمٰن وتری دور صفات اللّٰہ القہّار۔ کدور اللیل والنہار ولا تتعطل صفاتہ کما ھو زعم الغافلین۔ بل یقتضی ذاتہ وقت الافناء
    غنی
    کے لئے کوئی امر واجب الطلب نہیں اور اس کو مخلوقات کی طرف کچھ بھی حاجت نہیں بلکہ اس کی ذات تجلیات ربوبیت کا تقاضا کرتی ہے تاکہ جانا جائے کہ ربوبیت اس کی صفات ذاتیہ میں سے
    ہے پس اپنے امر اور ارادہ سے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور کبھی اس کی ذات تجلیات احدیت کا تقاضا کرتی ہے تاکہ جانا جائے کہ اس کے بغیر سب مرنے والی چیزیں ہیں اور ان کی طرف ایک ذرہ
    اس کو حاجت نہیں۔ تب وہ ہر یک کو جو زمین پر ہے ہلاک کرتا ہے اور ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑتا بلکہ اس کا نشان مٹا دیتا ہے اور اسی طرح اپنی صفات کو گردش میں رکھتا ہے اور کبھی انتہا نہیں
    اور ہریک صفت اپنے وقت پر ظہور چاہتی ہے پس بعض زمانوں کے ہلاک کرنے کے بعد دوسرے زمانے پیدا کردیتا ہے تاکہ وہ اپنی ان صفات سے پہچانا جائے جو مدار نجات ہیں اور وہ کسی نوع کے
    قدامت کا محتاج نہیں جیسا کہ نادانوں کا خیال ہے اور وہ تمام عالم سے بے نیاز ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات اس کی ذات سے منفک نہیں ہوسکتی اور خدا تعالیٰ کے صفات کا دور تو ایسا پائے گا جیسا
    کہ دن اور رات کا دور ہے اور اس کے صفات بیکار نہیں ہوتے جیسا کہ غافلوں کا خیال ہے بلکہ اس کی ذات فنا کرنے کے وقت کو ایسا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 204
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 204
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/204/mode/1up
    کما یقتضی وقت الانشاء۔ لیتحقق کل صفۃ من صفاتہ الغرّاء۔ ولیعرف الناس تفرد ذاتہ۔ ولا یعتقدوا بنقص کمالاتہ کالمشرکین۔
    ولیبرق توحیدہ ویتجلی تمجیدہ۔ ویعرف دین اللّٰہ بالدائرۃ الابدیۃ۔ والسنن القدیمۃ المستمرۃ ۔ و یبطل کفارۃ الکفرۃ الفجرۃ۔ و یمحو طریق الشرک
    والبدعۃ۔ و لیستبین سبیل المجرمین۔ فہذا امر اقتضتہ ذاتہ
    لتعرف بہ صفاتہ ولینقطع دابر المفترین۔ فقدیأتی وقت علٰی ھذہ النشأۃ لا یبقی وجود الا وجود الحضرۃ۔ ویحفش السیل علی کل تلعۃ الخلقۃ۔ و تدرس اطلال الکینونۃ ولا ینفع خبط احدا من الخابطین۔ ثم یاتی وقت
    تبدو سلسلۃ المخلوقات۔ فھذا ان اثران متعاقبان من رب الکائنات لئلا یلزم تعطل الصفات فاذا ثبت ھذا الدور فی صفات الرحمٰن۔ وثبت الافناء والانشاء من سنن المنان۔ من قدیم الزمان فقد بطل منہ رای قدم نوع
    الانسان۔ وکیف
    ہی چاہتی ہے جیسا کہ پیدا کرنے کے وقت کو چاہتی ہے تاکہ اس کی تمام صفتیں ثابت ہو جائیں اور تاکہ لوگ اس کی یکتائی کو سمجھ لیں اور یہ عقیدہ نہ رکھیں کہ اس کے کمالات میں
    کچھ نقص ہے اور تاکہ اس کی توحید چمکے اور اس کی بزرگی جلوہ گر ہو اور دین الٰہی ابدی دائرہ کے ساتھ پہچانا جائے اور سنن قدیمہ کے ساتھ اس کا علم ہو اور عیسائیوں کے کفارہ کا بطلان ثابت
    ہو اور شرک اور بدعت کے طریقے مٹ جائیں۔ اور کھل جائے کہ مجرموں کی یہ راہ ہے پس یہ وہ امر ہے جس کو خدا تعالیٰ کی ذات نے چاہا تا اس کے ساتھی اس کی صفات پہچانیں اور تا مفتریوں کا
    پیچھا کاٹا جائے پس اس عالم پر کبھی وہ وقت آجاتا ہے کہ بجز خداتعالیٰ کے ایک فرد بھی باقی نہیں رہتا۔ اور فنا کا سیلاب ہریک پیدائش کی اونچی اورنیچی زمین پر چڑھ جاتا ہے اور ہستی کے نشان
    معدوم ہو جاتے ہیں اور کسی کو ہاتھ پیر مارنا نفع نہیں دیتا پھر ایک دوسرا وقت آتا ہے کہ مخلوقات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پس یہ دونوں نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک دوسرے کے پیچھے چلتے
    ہیں تاکہ تعطل صفات لازم نہ آوے پس جبکہ یہ دور خدا تعالیٰ کی صفات میں ثابت ہوا اور پیدا کرنا اور مارنا خدا تعالیٰ کی قدیم عادتیں ثابت ہوئیں پس اس سے نوع انسان کی قدامت کا مسئلہ باطل ہوگیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 205
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 205
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/205/mode/1up
    القدم مع ازمنۃ العدم والفقدان۔ و اٰوان الفناء والبطلان۔ فانظر کالمجدین ولا تتکلم کالمستعجلین۔
    واعلم ان القدم الحقیقی لا یوجد
    الا فی ذی الجلال والاکرام۔ ویدور رحی الفناء علی الارواح والاجسام۔ واحدیتہ تقتضی فناء الغیر فی بعض الایام الا الذین دخلوا فی داراللّٰہ۔ وغسلوا بجار اللّٰہ۔ وحفّت بھم انوار اللّٰہ۔ وازیل اثر الغیر بآثار
    اللّٰہ۔ و ماتوا و ھم کانوا فانین۔ فی حُبّ
    ربّ العالمین۔ فاولئک الذین لا یذوقون الموت بعد موتتہم الاولٰی۔ رحمۃ من ربّھم الاَعلٰی۔ فلا یرون أَلما و لا بَلْوٰی۔ ویبقون فی جنۃ اللّٰہ خالدین۔ ویعطیھم اللّٰہ حیاتًا من
    حیاتہ۔ وکمالات من کمالاتہ ولا تفنیہم غیرتہ بما احاطت علیہم احدیتہ فطوبٰی للّذین ضلّوا فی حُبّ مولٰی قویّ متین۔
    ثم نعود الی کلمتنا الاُوْلٰی۔ و نقولُ ان اللّٰہ الاقنٰی جعل
    اور باوجود عدم اور فقدان کے
    اور فنا کے کیونکر قدم باقی رہ سکتا ہے پس کوشش کرنے والوں کی طرح سوچ اور جلدی کرنے والوں کی طرح مت بول ۔
    اور یہ بات جان کہ قدم حقیقی بجز ذات خدائے ذی الجلال کے کسی چیز میں
    بھی نہیں پایا جاتا اور روحوں اور جسموں پر فنا کی چکی چل رہی ہے اور خدا تعالیٰ کی احدیت ذاتی بعض ایام میں غیر کی نیستی چاہتی ہے بجز ان لوگوں کے جو باایمان فوت ہوکر خدا تعالیٰ کے گھر
    میں داخل ہوگئے اور خدا تعالیٰ کے دریاؤں سے غسل دیئے گئے اور الٰہی نور ان پر محیط ہوگیا اور خدا تعالیٰ کے نشانوں سے غیر کے نشان مٹائے گئے اور فنا فی اللہ ہوکر خدا تعالیٰ کی محبت میں
    فوت ہوگئے پس یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی پہلی موت کے بعد پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے یہ تمام رحمت ان کے بزرگ رب کی طرف سے ہے پس نہ وہ کوئی درد اور نہ سختی دیکھتے ہیں اور خدا
    تعالیٰ کی بہشت میں ہمیشہ رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کو اپنی زندگی میں سے زندگی بخشتا ہے اور اپنے کمالات میں سے کمال عطا کرتا ہے اور اس کی غیرت ان کو فنا نہیں کرتی کیونکہ اس کی
    وحدانیت ان پر محیط ہو جاتی ہے پس مبارک وے لوگ جو اس کی محبت میں کھوئے گئے جو زبردست آقا ہے۔
    پھر ہم اپنے پہلے کلمہ کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ خدائے بے نیاز نے ہریک
    چیز کو پانی سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 206
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 206
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/206/mode/1up
    کل شیءٍ من الماء حیًّا۔ والماء نزل من السّماء بانواع البرکات والعطاء فالنتیجۃ ان کل فیض جاء من حضرۃ الکبریاء۔ و ھو مبدء کل
    خیر لجمیع الاشیاء و ھٰذا ردٌّ اٰخر علی المنکرین۔ الذین یقولون ان اللّٰہ خلق الانسان کابکم۔ و ما فہّم و ما علّم و خلقہ کالناقصین۔ ھٰذا ما کتبنا لِلْمُلحدین۔ والطبیعین۔ الذین لا یؤمنون بدین اللّٰہ ویقولون ما یقولون
    مُجترئین۔ واما الذین یومنون بما جاء بہ رسول اللّٰہ خاتم النبیین۔ فیکفی لھم ما اثبتنا من کتاب مبین۔ أیامرھم توحیدھم ان ینسبوا فعل اللّٰہ الٰی غیر الربّ القدیر۔ او یقسموا خلق اللّٰہ بین الرب و العبد الحقیر ۔ او
    یحسبوا خلقہ الاشرف
    ناقصًا محتاجًا الی الناقصین۔ کلا بل ھی کلمۃ لا تخرج من افواہ المؤمنین الموحّدین۔ وللنطق شان خاص کشان الحیٰوۃ و قد خصّہ اللّٰہ بالبشر من جمیع الحیوانات۔ فکما ان البشر ما وجد
    الحیات الّا من الرحمان۔
    زندہ کیا ہے اور پانی کئی قسم کی برکتوں اور بخششوں کے ساتھ آسمان سے اترا ہے پس نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہریک فیض خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آیا ہے اور وہ تمام
    چیزوں کے لئے مبدء خیر ہے اور یہ منکروں پر ایک اور ردّ ہے یعنی ان پر جن کا قول ہے جو انسان گونگے کی طرح پیدا کیا گیا ہے اور خدا نے ان کو نہ کچھ سکھلایا اور نہ سمجھایا اور ناقصوں کی
    طرح ان کو پیدا کیا۔ یہ تو ہم نے ملحدوں اور طبیعوں کیلئے لکھا ہے جو دین اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور دلیری کی راہ سے جو چاہتے ہیں بول اٹھتے ہیں مگر وے لوگ جو
    حضرت خاتم الانبیاء صلی
    اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے پس ان کے لئے تو اسی قدر کافی ہے جو قرآن شریف سے ہم نے ثابت کیا ہے کیا ان کی توحید ان کو اجازت دے سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے فعل کو اس کے غیر کی طرف
    منسوب کریں یا خدا اور بندہ میں پیدائش کو تقسیم کریں۔ یا اس کی اشرف المخلوقات کو ناقص اور ناقصوں کی طرف محتاج خیال کریں ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو مومنوں موحدوں کے منہ
    سے نکل نہیں سکتا اور نطق کے لئے ایک شان خاص جیسا کہ حیات کے لئے ایک شان خاص ہے اور خدا تعالیٰ نے تمام جانداروں میں سے نطق کو بشر کے ساتھ خاص کیا ہے پس جیسا کہ انسان نے
    زندگی کو صرف خدا تعالیٰ سے پایا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 207
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 207
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/207/mode/1up
    فکذٰلک ما وجد النطق الا من ذلک المنان۔ و ھذا ھو الحق افانت من المرتابین۔ وان کنت تظنّ انّ امّک علمک اللسان فمن عَلّم اُمّک الاولٰی و
    علّمہا البیان۔ فلا تکوننّ من الجاھلین۔و ان اللّٰہ اومٰی فی مقامات من الفرقان الٰی انّ العربیۃ ھی اُمّ الالسنۃ و وحی الرحمان۔ و لاجل ذٰلک سمّی مکۃ مکۃ واُمّ القرٰی۔ فان الناس ارضعوا منہا لبان اللسان والھدی۔
    فھٰذہ اشارۃ الی انھا ھی منبع النطق والنّہٰی۔ ففکر فی قول ربّ الورٰی۔3 ۱؂ 3۲؂۔وفی ذٰلک اٰیۃ للذی یتق اللّٰہ ویخشی۔ ویطلب الحق ولا یابی ولا یتبع سبل المعرضین۔ ثم انت تعلم ان رسولنا خاتم النبیین۔ کان
    نذیرًا لِلعَالَمین۔وکذٰلک سماہ ربہ وھو اصدق الصادقین۔ فثبت ان مکۃ اُم الدُّنیا کلہاومولد کثرھا وقلّہا ومبدأ اصل اللغات ومرکز الکائنات اجمعین۔ وثبّت معہ
    اسی طرح اس نے بولنے کو بھی صرف اس محسن
    حقیقی سے پایا ہے اور یہی سچی بات ہے کیا تو ان لوگوں میں سے ہے جو شک کرتے ہیں اور اگر تجھے یہ گمان ہے کہ تیری ماں نے تجھے بولنا سکھلایا سو تیری پہلی ماں کو کس نے بولنا سکھایا تھا
    اور کس نے اس کو فصاحت کا سبق دیا تھا پس تو جاہلوں میں سے مت ہو اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے کئی مقامات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زبانوں کی ماں اور خدا کی وحی صرف
    عربی ہے۔ اور اسی واسطے اس نے مکہ کا نام مکہ اور اُمّ القُرٰی رکھاکیونکہ لوگوں نے اس سے ہدایت اور زبان کا دودھ پیا پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صرف عربی زبان ہی نطق اور عقل کا
    منبع ہے پس خدا تعالیٰ کے اس قول میں فکر کر کہ یہ قرآن عربی ہے تا تو مکہ کو کہ جو تمام آبادیوں کی ماں ہے ڈراوے اور اس میں اس شخص کے لئے نشان ہے جو خدا سے ڈرے اور حق کو ڈھونڈے
    اور انکار نہ کرے اور کنارہ کش لوگوں کا پیرو نہ ہو پھر تو جانتا ہے کہ ہمارا رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے نذیر ہے اور یہی خدا تعالیٰ نے اس کا نام رکھا ہے اور وہ اصدق
    الصادقین خدا ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ مکہ تمام دنیا کی ماں ہے اور تمام قلیل و کثیر کا مولد ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت ہوگیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 208
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 208
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/208/mode/1up
    ان ؔ العربیۃ ام الالسنۃ بما کانت مکۃ ام الامکنۃ من بدء الفطرۃ وثبت انّ القراٰن اُمّ الصحف المطہرۃ۔ ولذٰلک نزل فی اللغۃ الکاملۃ
    المحیطۃ۔ واقتضت حکم ارادات الالٰھیۃ ان ینزل کتابہ الکامل الخاتم فی اللہجۃ التی ھی اصل الالسنۃ و امّ کلّ لغت من لغات البریۃ۔ وھی عربی مبین۔ وقد سمعت ان اللّٰہ جعل لفظ البیان صفۃ للعربیۃ فی
    القراٰن۔ و وصف العربیۃ بعربیّ مبین۔ فہذہ اشارۃ الٰی فصاحت ھذا اللسان و علوّ مقامہا عند الرحمٰن۔ و اما الالسنۃ الاخرٰی فما وصفہا بھذا الشان بل ما عزاھا الٰی نفسہ لتعلیم الانسان۔ وسمّا غیر العربیۃ
    اعجمیا ففکر ان کنت زکیًا۔ وطوبٰی للمتفکّرین۔ و ما نطق التورات بھذا الدعوٰی۔ و لا وید الھنود و لا کتبٌ اُخرٰی۔ و ما اشار احد و ما اومٰی۔ فلا تعز الی احدٍ منہا ما لا عزا۔ او اخرج لنا ھذا الدعوی ان کنت تزعم
    ان احدًا ادعٰی
    کہ عربی تمام زبانوں کی ماں ہے کیونکہ مکہ تمام مکانوں کی ماں ہے اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ قرآن تمام الٰہی کتابوں کی ماں ہے اور اسی لئے کامل زبان میں اترا ہے جو محیط کل ہے
    اور الٰہی ارادوں کے حکمتوں نے تقاضا کیا کہ اس کی کامل کتاب جو خاتم الکتب ہے اس زبان میں نازل ہو جو جڑ زبانوں کی ہے اور تمام مخلوقات کی زبانوں کی ماں ہے اور وہ عربی ہے۔ اور تو سن
    چکا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بلاغت فصاحت کو عربی کی صفت ٹھہرایا ہے اور عربی کو عربی مبین کے لفظ سے موسوم کیا ہے۔ پس یہ بیان اس زبان کی فصاحت کی طرف اشارہ ہے اور نیز اس
    کے مرتبہ عالیہ کی طرف ایما ہے مگر خدا تعالیٰ نے دوسری زبانوں کو اس وصف سے موصوف نہیں فرمایا بلکہ ان کو اپنی ذات کی طرف منسوب بھی نہیں فرمایا اور ان کا نام اعجمی رکھا پس اگر تو
    زکی ہے تو اس بات کو سوچ لے اور مبارک ہیں وہ جو اس بات کو سوچتے ہیں اور تورات نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہندوؤں کے وید نے یہ دعویٰ کیا اور کسی نے اس طرف اشارہ بھی نہیں کیا
    پس تو ان کی طرف اس دعویٰ کو منسوب نہ کر جو انہوں نے نہیں کیا یا ہمیں دعویٰ نکال کر دکھلا اگر تیرا یہ گمان ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 209
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 209
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/209/mode/1up
    ولنؔ تستطیع ان تخرجھا فلا تتبع سبیل المفترین۔ ثم اعلم ان العرب مشتق من الاعراب۔ وھو الافصاح فی التکلم والسؤال والجواب۔
    یقال اعرب الرجل اذا کانت فی کلامہ الابانۃ والایضاح والرزانۃ۔ وما کان کرجل لا یکاد یبین۔ و اما الاعجم فہو الذی لا یفصح کلامہ۔ ولا یحفظ نظامہ۔ ولا یری حلاوۃ اللسان۔ ولا یرتب اعضاء البیان۔ بل یاکل
    اکثرھا ویری بعضہا کعضین فھذان لفظان متقابلان و مفہومان متضادان۔ وما اخترعھما احد من الشیوخ والشبان۔ بل ھما من خالق الانسان لقوم متدبّرین۔ وقد جاء لفظ العرب فی کتبٍ اُوْلٰی صُحف یسعیاہ و موسٰی
    و فی الانجیل تقرء و ترٰی۔ فثبت انّہ من اللّٰہ الاعلٰی۔ ولیس کھذا الاسم اسم لسان من الالسنۃ الاعجمیۃ ولن تجد نظیرہ فی العبرانیۃ وغیرھا من اللہجۃ ففکّر ھل تعلم لہا سمیا فی تلک الالسنۃ
    اور تو ہرگز
    نہیں نکال سکے گا پس تو افترا پردازوں کا پیرو مت ہو پھر تجھے معلوم ہو کہ عرب کا لفظ اعراب سے مشتق ہے اور وہ بلیغ و فصیح کلام کو کہتے ہیں جیسا کہ یہ مقولہ ہے کہ اَعْرَبَ الرَّجُلُ یہ اس
    وقت بولتے ہیں جب کسی کی زبان فصیح ہو اور بستہ زبان نہ ہو مگر اعجم کا لفظ اس پر بولا جاتا ہے جو فصاحت بلاغت سے عاری ہو۔ جس کا نظام تقریر عمدہ نہ ہو زبان میں شیرینی نہ ہو بیان کے
    اعضا میں ترتیب نہ ہو بلکہ کچھ کھا جائے اور کچھ بیان کرے اور بات کو بوٹی بوٹی کردے۔ پس یہ دو لفظ باہم متقابل ہیں اور دو متضاد مفہوم ہیں اور کسی نے جوانوں اور بڈھوں میں سے ان کو اپنی
    طرف سے نہیں بنایا۔ بلکہ یہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں ان کے لئے جو سوچتے ہیں۔ اور عرب کا لفظ پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے۔ یعنی یسعیاہ نبی کی کتاب اور موسیٰ کی کتاب اور انجیل میں۔
    پس ثابت ہوا کہ یہ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کسی دوسری زبان میں ایسا نام نہیں اور کسی ولایت میں تو اس کی نظیر نہیں پائے گا۔ پس تو عبرانی اور دوسری زبانوں میں فکر کر کیا عربی
    کے ہمنام کسی اور زبان کو تو پاتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 210
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 210
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/210/mode/1up
    فثبت انّ العربیۃ ھی اللسان۔ ولا یوجد فی غیرھا ھذا الشان۔ ففکر ان کنت من المشککین۔ ومن اجلی العلامات ان اللسان الذی کان من
    ربّ الکائنات۔ وکان من احسن اللغات۔ وابہی فی الصفات۔ ھو اللسان الذی مدحہ اللّٰہ وسماہ باسم حسنٍ کما ھی سنۃ ربّ ذی مِنَنٍ۔ فانبؤا بذٰلک اللسان ان کنتم فی شکٍّ من ھٰذا البیان۔ و لن تجدوا کالعربیۃ اسمًا فی
    الحُسن واللمعان۔ ففی ذٰلک اٰیات للمتوسّمین۔ وامّا العجم فھم عند اللّٰہ کبکم لالسان لہم۔ اوکبہائم لابیان لھم۔ فان تکلمہم ما حصل لھم الا بالعربیۃ۔ ولیس لفظ عندھم الا من ھذہ اللھجۃ۔ و لا یقدرون من دون العربیۃ
    علی المکالمات۔ فیتحقق حینئذ انھم کالعجماوات۔ فقابل بوجہ طلیق او خاصم بلسان ذلیق۔ انک من
    المغلوبین۔ فاوصیک ان تفکر فی ھذا الدعوٰی۔ وتذکر قومًا نوکی ان کنت
    پس ثابت ہوا کہ حقیقی زبان
    عربی زبان ہی ہے اور اس کے غیر میں یہ شان پائی نہیں جاتی۔ پس اگر تجھے کچھ شک ہے تو شرم کرو۔ اور یہ بات بہت روشن باتوں میں سے ہے کہ وہ زبان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور
    درحقیقت عمدہ زبان ہے وہ وہی زبان ہے جس کا
    خدا تعالیٰ نے آپ تعریف کے ساتھ نام رکھا۔ جیسا کہ یہی سنت اللہ ہے۔ پس ایسی زبان کا مجھے نشان دو اگر تم اس زبان کے بارے میں شک میں ہو
    اور ایسا اسم جیسا کہ عربی ہے ہرگز نہیں پاؤ گے اور اس میں غور کرنے والوں کے لئے نشان ہیں اور عجم خدا تعالیٰ کے نزدیک ان گونگوں کی طرح ہیں جن کی زبان نہ ہو یا ان چارپایوں کی طرح جو
    بول نہ سکیں کیونکہ ان کو صرف عربی کے ذریعہ سے بولنا حاصل ہوا ہے اور ان کے پاس بجز اس زبان کے ایک لفط بھی نہیں اور بجز عربی لفظوں کے بات کرنے پر قادر نہیں ہوسکتے۔ پس اس وقت
    ثابت ہوتا ہے کہ وہ چارپایوں کی طرح ہیں پس کشادہ زبانی کے ساتھ سامنے آ یا تیز زبان کے ساتھ جھگڑ
    بے شک تو مغلوب ہے پس تو اس دعویٰ میں غور کر اور بے وقوفوں کو یاد دلا اگر تو عقل
    مند ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 211
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 211
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/211/mode/1up
    منؔ العاقلین۔ واشکر اللّٰہ علی ما جاء ک من البراھین۔ و لا تنس ان لفظ العجم قد اشتق من العجماء وھو البھیمۃ فی ھٰذہ اللغۃ الغراء۔
    فتدبر وجہ التسمیۃ لینکشف علیک لب الحقیقۃ ولتکون من الموقنین۔ وکم من اٰیۃ تدل علیہا لوکنتم طالبین۔ ومنہا ان اللّٰہ سمی الانسان سمیعًا فی الفرقان۔ فیفہم منہ انہ اسمعہ فی اول الزمان۔ و ما ترکہ
    کالمخذولین۔
    و منہا انہ اوضح فی البقرۃ ھذا الایماء وقال3۱؂ فھٰذا التعلیم یدل علی اشیاء منہا انہ مکان معلم الکلمات بتوسط المسمیات و نعنی بالمسمیات کلما یمکن بیانہ بالاشارات فعلا کان او من اسماء
    المخلوقات۔ ومنہا انہ کان معلم حقایق الاشیاء وخواصہا المکتومۃ المخزونۃ فی حیز الاختفاء بلغۃ عربی مبین۔ وان قلت ان النحویین خصصوا لفظ الاسم بالاسماء المخصوصۃ التی لہا معانی ولا تقترن
    باحد
    اور ان دلائل کی وجہ سے جو تجھ کو ملے خدا تعالیٰ کا شکر کر اور اس بات کو فراموش مت کر کہ عجم کا لفظ عجماسے مشتق ہے اور عجماء لغت عربی میں چارپائے کو کہتے ہیں پس اس
    وجہ تسمیہ کو سمجھ لے تاکہ تیرے پر حقیقت کا مغز کھلے اور تاکہ تو یقین کرنے والوں سے ہو اور بہت سے نشان اس پر دلالت کرتے ہیں اگر تو طالب ہو ان نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ
    نے انسان کا نام سمیع رکھا ہے۔ پس اس سمیع کے لفظ سے سمجھا جاتا ہے کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہی اس کو سنایا اور اس کو خذلان کی حالت میں نہ چھوڑا۔
    اور ان نشانوں میں سے ایک
    یہ ہے کہ اس نے سورہ بقرہ میں اس اشارہ کو زیادہ واضح کر کے لکھا ہے اور کہا ہے کہ خدا نے آدم کو نام سکھائے پس یہ سکھلانا کئی باتوں پر دلالت کرتا ہے ان میں سے ایک یہ کہ خدا تعالیٰ نے
    کلمات کو مسمیات کے ذریعہ سے سکھلایا اور مسمیات سے مراد ہمارے ایسے امور ہیں جن کا بیان کرنا اشارات کے ذریعہ سے ممکن ہے خواہ وہ فعل ہوں یا اسماء مخلوقات میں سے ہوں اور پھر
    دوسرا امر یہ ہے کہ حقائق اشیاء اور ان کے جو چھپے ہوئے خواص ہیں وہ زبان عربی میں سکھلائے گئے۔ اور اگر تو یہ بات کہے کہ نحویوں نے لفظ اسم کو اسماء مخصوصہ سے خاص کیا ہے۔
    یعنی وہ اسماء جن کے واسطے معانی ہیں اور تین زمانوں میں سے کسی سے اقتران
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 212
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 212
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/212/mode/1up
    منؔ الازمنۃ الثلا ثۃ۔ فجوابہ ان ذلک اصطلاح لھٰذہ الفرقۃ۔ ولا اعتبار بہٖ عند نظر الحقیقۃ فانظر کالمبصرین۔ وان قیل ان المشہور
    بین العامۃ من اھل الملۃ۔ ان اللّٰہ علم اٰدم جمیع اللغات المختلفۃ۔ فکان ینطق بکل لغت من العربیۃ والفارسیۃ وغیرھا من الالسنۃ فجوابہ ان ھذا خطأ نشأ من الغفلۃ۔ لا یلتفت الیہ احد من اھل الخبرۃ بما خالف
    امرًا ثبت بالبداھۃ۔ و ما ھو الا زعم الغافلین۔ بل العربیۃ ھی اللسان من مستانف الایّام ومستطرفہا ولیس غیرھا الا کمرجان من درر صدفہا وانت تعلم ان القراٰن والتورات قد اثبتا ما قلنا واکملا الاثبات الا تعلم ما
    جاء فی الاصحاح الحادی العشر من التکوین۔ فانہ شہد انّ اللسان کانت واحدۃ فی الارضین۔ ثم اختلفوا ببابل معرقین۔ و اما القراٰن فقد سبق فیہ البیان۔ ففکر کالمحققین۔ ثم ھٰہنا طریق اٰخر لطلاب الحق
    رکھتے ہیں پس جواب اس کا یہ ہے کہ یہ اس فرقہ کی اصطلاح ہے اور جب ہم حقیقی طور پر نظر کریں تو یہ اصطلاح ساقط الاعتبار ہوگی پس دیکھنے والوں کی طرح سوچ۔اور اگر کوئی کہے کہ عوام
    مسلمانوں میں تو یہ مشہور ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو تمام بولیاں سکھا دی تھیں اور وہ ہریک بولی عربی فارسی وغیرہ بولتا تھا پس اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خطا ہے اور اس کی طرف کوئی عقلمند
    توجہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ بدیہی الثبوت امر کے مخالف ہے اور بے خبروں کا گمان باطل ہے بلکہ پہلی زبان اور پہلے زمانہ کی بولی صرف عربی ہے اور اس کا غیر اس کا مال موروثی ہے۔ یا
    کوئی چھوٹا سا موتی اس کے موتیوں میں سے ہے اور تو جانتا ہے کہ قرآن اور تورات نے جو کچھ ہم نے کہا وہ ثابت کردیا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ توریت کتاب پیدائش گیارھویں باب میں لکھا ہے
    کہ ابتدا میں تمام زمین کی بولی ایک تھی پھر جب وہ عراق عرب میں داخل ہوئی۔ تو بابل شہر میں بولیوں میں اختلاف پڑا اور قرآن کا بیان توتُو سن چکا۔ پس تحقیق کرنے والوں کی طرح سوچ۔ پھر اس
    جگہ ایک اور طریق ثبوت حق
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 213
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 213
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/213/mode/1up
    والمعرفۃ و ھو انا اذا نظرنا فی سنن اللّٰہ ذی الجلال والحکمۃ فوجدنا نظام خلقہ علی طریق الوحدۃ۔ و ذٰلک امر اختارہ اللّٰہ لھدایۃ
    البریۃ لیکون علٰی احدیۃ احد من الادلۃ۔ و لیدل علٰی انہ الخالق الواحد لا شریک لہ فی السماء والارضین۔ فالّذی خلق الانسان من نفس واحدۃ کیف تعزٰی الیہ کثرۃ غیر مرتبۃ و لغات متفرقۃ غیر منتظمۃ۔ الا
    تعلم انہ راعی الوحدۃ فی کل کثرۃ۔ واشار الیہ فی صحف مطہرۃ۔ وکتاب امام العارفین۔ و ابان فی صحفہ الغراء انہ خلق کل شیء من الماء۔ فانظر الی سنۃ حضرۃ الکبریاء کیف رد الکثرۃ الٰی وحدۃ الاشیاء
    وجعل الماء امّ الارض والسماء ففکر کالعقلاء فانہ عنوان الاھتداء و لا تستعجل کالجاھلین و انّ ھٰذہ الاٰیۃ دلیل واضح علٰی سنۃ خالق الرقیع والغبراء۔ وفیہا تبصرۃ لاھل الانظار والاراء واللّٰہ وتر یحب الوتر یا
    معشر الطلباء۔ ھو الذی نوّر من نورٍ واحد نجوم السماء
    اور معرفت کے طالبوں کے لئے ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ہم اللہ ذوالجلال کی سنتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ تو ہم اس کی پیدائش کا نظام وحدت کے
    طور پر پاتے ہیں اور یہ وہ امر ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے اختیار کیا ہے تاکہ اس کی وحدانیت پر دلیل ہو۔ اور اس دلیل پر دلالت کرے کہ وہ اکیلا پیدا کرنے والا واحد لاشریک
    ہے کوئی اس کا شریک زمین و آسمان میں نہیں پس جس نے انسان کو نفس واحد سے پیدا کیا کیونکر اس کی طرف ایک ایسی کثرت منسوب کی جائے جو غیر مرتب ہے اور کیونکر ایسی زبانیں اس کی
    طرف سے سمجھی جائیں جو غیر منتظم ہیں۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس نے ہریک کثرت میں وحدت کی رعایت رکھی ہے اور اپنی پاک کلام میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے جو عارفوں کی امام ہے اور
    اس نے اپنی کتاب روشن میں بیان فرمایا ہے کہ اس نے ہریک چیز کو پانی سے ہی پیدا کیا ہے پس خدا تعالیٰ کی سنت کی طرف دیکھ کیونکر اس نے کثرت کو وحدت کی طرف رد کیا ہے اور پانی کو زمین
    اور آسمان کی ماں ٹھہرایا ہے پس عقلمندوں کی طرح سوچ کہ یہ ہدایت پانے کی علامت ہے اور جاہل مت بن۔ اور یہ آیت خداتعالیٰ کی سنت پر دلیل واضح ہے اور اس میں اہل نظر کے لئے بصیرت کی
    راہ ہے اور خدا تعالیٰ وتر ہے وتر کو دوست رکھتا ہے وہی ہے جس نے ایک نور سے تمام ستاروں کو بنایا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 214
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 214
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/214/mode/1up
    و خلق نفوسًا متشابھۃ علی الغبراء۔ وجعل الانسان عالمًا جامع جمیع حقائق الاشیاء۔ فلولم یکن نظام الخلق مبنیًا علی الوحدۃ لما
    وجدت فی خلق اللّٰہ وجود ھٰذہ المشابھۃ۔ ولکان خلق اللّٰہ کالمتفرقین۔ بل لو لم یکن النظام الوحدانی لبطلت الحکم وضاع السر الروحانی۔ وسُدّ الصراط الربانی وعسر امر السالکین۔ فمالک لا تفھم وحدۃ دالۃ علی
    الوحید۔ وھی فی الاسلام مدار التوحید و اصل کبیر للتعظیم والتمجید۔ و سراج منیر لمعرفۃ الوحدانیۃ الالٰھیۃ والاحدیۃ الربانیۃ۔ وانّہا من علوم اختصت بالمسلمین۔ثم اعلم ان الاٰثار النبویّۃ والنصوص الحدیثیۃ۔
    قد بلغت فی ھذا الٰی کمال الکثرۃ۔ حتی اعطت ثلج القلب ونور السکینۃ۔ کما لا یخفٰی علی المحدّثین و اخرج ابن عساکر فی التاریخ و ھو المقبول الثقۃ۔ قال قال ابن عباس ان اٰدم کان لغتہ فی الجنۃ العربیۃ وکذٰلک
    اخرج عبد الملک
    اور زمین پر تمام نفوس متشابہ پیدا کئے اور انسان کو ایک عالم جمیع حقائق اشیاء کاجامع بنایا پس اگر مخلوقات کا نظام وحدت پر مبنی نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کی پیدائش میں یہ مشابہت
    نہ پائی جاتی اور مخلوق متفرق چیزوں کی طرح ہوتی بلکہ اگر نظام وحدانی نہ ہوتا تو حکمت باطل
    ہو جاتی اور سِرّ روحانی ضائع ہو جاتا اور ربانی راہ بند ہوجاتی اور سالکوں کا امر مشکل
    ہو
    جاتا۔ پس تجھے کیا ہوگیا کہ تو اس وحدت کو نہیں سمجھتا جو اس یگانہ پر دلالت کرتی ہے اور وہی اسلام میں توحید کا مدار ہے اور اس کی تعظیم اور تمجید کے لئے اصل کبیر ہے اور خدا تعالیٰ کی
    وحدانیت اور اس کی یکتائی کے پہچاننے کے لئے ایک چراغ روشن ہے اور ان علوم میں سے ہے جو اہل اسلام سے خاص ہے پھر جان کہ آثار نبویہ اور نصوص حدیثیہ اس بارے میں اس کثرت تک پہنچ
    گئے ہیں کہ جن سے دل کو تسلی اور اطمینان کا نور حاصل ہوتا ہے جیسا کہ محدثوں پر پوشیدہ نہیں اور ابن عساکر جو مقبول اور ثقہ ہے ابن عباس سے اپنی تاریخ
    میں بیان کرتا ہے کہ بہ تحقیق آدم
    کی بولی جنت میں عربی ہی تھی اور اسی طرح عبد الملک آنحضرت
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 215
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 215
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/215/mode/1up
    حدیثا من خیر الورٰی و رجال اٰخرون اولوا العلم والنُّہٰی۔ وحدّثوا بروایۃ اخرٰی فقالوا ان العربیۃ ھی اللسان الاولٰی من اللّٰہ المولٰی۔
    نزلت مع اٰدم من الجنۃ العلیا۔ ثم بعد طول العہد حرّفت وحدثت لغات شتّٰی۔ و اول ما ظھر بعد التحریف کان سریانیًا باذن اللّٰہ اللطیف۔ و صرف اللّٰہ الیہ لھجۃ المبدلین۔
    و لاجل ذٰلک سمی العربی الاول عند
    المتقدمین۔ وکان عربیا بادنٰی تصریف المتصرّفین ثم حدثت السنۃ اخرٰی کما حدثت الملل والنحل فی الدّنیا۔ وھذا ھو الحق فتدبر کالعاقلین۔ ثم من سبل العرفان۔ انک تجد فی القران ذکرًا واحدًا فی اختلاف اللسان
    والالوان۔ فاللّٰہ یشیر الٰی ان اللسان کانت واحدۃ فی زمان کما کان اللون لونًا واحدًا قبل الوان۔ ثم اختلفا بعد زمان وحین ثم من لطایف الایماء ان خاتم الانبیاء۔ جعل نفسہ شریک اٰدم فی تعلم الاسماء کما اخرج
    الدیلمی فی حدیث الطین والماء ففکر فیما قال خاتم النبیین۔
    صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث لایا ہے اور دوسرے اہل علم بھی دوسری روایتوں سے بیان کرتے ہیں سو انہوں نے کہا ہے کہ عربی ہی
    پہلی زبان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور آدم کے ساتھ بہشت سے اتری ہے۔ پھر ایک زمانہ کے بعد محرف ہوگئی اور اس سے اور زبانیں پیدا ہوگئیں اور تحریف کے بعد جو پہلی زبان ظاہر
    ہوئی وہ سُریانی تھی اور خدا تعالیٰ نے زبان کے بدلانے والوں کا لہجہ ویسا ہی کر دیا اور اسی واسطے متقدمین اس کو پہلی عربی کہا کرتے تھے۔ اور وہ ادنیٰ تغیر کے ساتھ عربی ہی تھی پھر اور اور
    زبانیں پیدا ہو گئیں جیسا کہ اور اور مذاہب پیدا ہوگئے اور یہی بات عقلمندوں کے نزدیک حق ہے۔ پھر پہچاننے کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو قرآن میں زبان اور رنگ کے اختلاف کے بارہ میں
    ایک ہی جگہ ذکر پائے گا پس خداتعالیٰ ان دونوں کو ایک جگہ ذکر کرنے سے یہی اشارہ کرتا ہے کہ زبان ایک زمانہ میں ایک تھی چنانچہ رنگ بھی ایک زمانہ میں ایک تھا پھر طول زمانہ کے بعد دونوں میں
    اختلاف ہوگیا پھر ایک لطیف اشارہ یہ ہے کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اسماء کے سکھائے جانے میں آدم کا شریک ٹھہرایا ہے جیسا کہ
    دَیلمی نے حدیث طِین اور مَاء میں
    روایت کی ہے پس تو اس قول میں فکر کر جو آنحضرت صلعم نے فرمایا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 216
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 216
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/216/mode/1up
    مُثِلتْ لی امّتی فی الماء والطین۔ وعُلّمت الاسماء کما علّم اٰدم الاسماء۔ فانظر الٰی ما اشار فخر المرسلین۔ وانت تعلم انہ صلی اللّٰہ
    علیہ وسلم کان اُمِّیًّا لا یعلم غیر العربیۃ۔ نعم اُوْتی جوامع الکلم فی ھٰذہ اللہجۃ۔ ظہر ان المراد من الاسماء فی قصۃ اٰدم و حدیث خیر الانبیاء ھی العربیۃ المبارکۃ۔ کما تدل علیہ النصوص القطعیۃ من کتاب
    مبین۔ الا تنظر الی اشتراک الالسنۃ۔ فانہ یوجد فی کثیر من الالفاظ المتفرقۃ ولا یمکن ھذا الا بعد کونہا شعب اصل واحد فی الحقیقۃ۔ وانکارھا کانکار العلوم الحسیۃ والامور الثابتۃ المرئیۃ۔ فان کان تغایر
    الالسنۃ من اول الفطرۃ فکیف وجد الاشتراک مع عدم الاتحاد فی الاصل والجرثومۃ فلا بد من ان نقر بلسان ھی ام کلہا لکمال بیان وانکارہ جہل و سفاھۃ واللدد تحکم ومکابرۃ۔ وقد تبین الحق لو کنتم طالبین۔ و فی
    العربیۃ کمالات و خواص و اٰیات تجعلہا اُمّ غیرھا
    کہ میری امت میرے لئے پانی اور مٹی میں متمثل کی گئی اور مجھے نام سکھلائے گئے جیسا کہ آدم کو نام سکھلائے گئے۔ پس اس امر میں فکر کر
    جس کی طرف آنحضرت صلعم نے اشارہ فرمایا اور تو جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمّی تھے بجز عربی کے کسی اور زبان کو نہیں جانتے تھے۔ ہاں آپ کو جوامع الکلم زبان عربی میں
    ملی تھی پس ظاہر ہوا کہ اسماء سے مراد حضرت آدم کے قصّہ اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں زبان عربی ہے جیسا کہ نصوص قطعیہ کلام الٰہی کی اس پر دلالت کرتی ہیں کیا تو
    زبانوں کے اشتراک کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ وہ بہت سے الفاظ متفرقہ میں پایا جاتا ہے اور ایسا اور اس قدر اشتراک بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ تمام زبانیں ایک ہی زبان کی شاخیں ہوں اور
    اس کا انکار علوم حسیہ کے انکار کی مانند ہے اور ان امور کے انکار کی طرح جو ثابت اور مرئی ہوں پس اگر زبانوں کا اختلاف ابتدا سے چلا آتا ہے پس کیونکر باوجود اس اختلاف قدیم کے زبانوں میں
    اشتراک ہوگیا پس یہ بات ضروری ہے کہ ہم ایک ایسی زبان کا اقرار کریں کہ وہ تمام زبانوں کی ماں ہو اور انکار اس بات کا جہالت اور کم عقلی ہے اور جھگڑنا ناحق کی حکومت اور ناحق کا کبر ہے
    اور تم طالب ہو تو حق تو کھل چکا اور زبان عربی میں وہ کمالات اور نشان ہیں جو محققوں کے نظر میں اس کو اس کے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 217
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 217
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/217/mode/1up
    عندؔ المحققین و انہا وقعت لہا کالظل او کالعصفور عند البازی المطل فاسمع بعض ایاتہا وکن من المنصفین فمنہا ان التحقیق
    العمیق والنظر الدقیق یُلجئنا بعد المشاھدات و رؤیۃ البینات الٰی ان نقرّ بانّ لغت العرب اوسع اللغات وارفعہا فی الدرجات و اعظمہا فی البرکات و ابرقہا بالمعارف والنکات۔
    وا تمہا فی نظام المفردات
    وابلغہا فی ترصیف المرکبات وادلہا علی اللطائف والاشارات۔ واکملہا فی جمیع الصفات من اللّٰہ رب العالمین۔ وتوجد علوم کثیرۃ فی لف اسماء ھا۔ و تلمع لطائف فی تراکیبہا۔ وطرق اداۂا۔ وسنذکرھا فی
    مقاماتھا لکشف غطاء ھا۔ ونُبیّن علوم مفرداتہا و فنون مرکباتہا لقوم مسترشدین والاٰن نثبت کمال نظام المفردات۔ فانہا اول علامۃ لغۃ ھی اُمّ اللغات و وحی من حکیم قویّ متین۔ فانا نری ان فطرۃ الانسان۔ قد
    اقتضت من اول الاٰوان ان یعطی لہا مفردات فیہا کمال البیان کما ھی کاملۃ من احسن الخالقین
    غیر کی ماں ٹھہرایا ہے۔ اور وہ زبانیں عربی کے لئے سایہ کی طرح واقع ہوئی ہیں یا باز صید گیر کے
    آگے چڑیا کی طرح پس تو انصاف سے عربی کے بعض نشان سن۔ پس ان کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ تحقیق عمیق اور نظر دقیق کے بعد مشاہدہ اور رؤیت بیّنات کے ہمیں اس اقرار کے لئے مجبور
    کرتی ہے کہ لغت عرب تمام لغتوں سے وسیع تر ہے اور وہ مدارج میں سب سے بلند اور برکات میں سب سے بزرگ تر اور معارف اور نکات میں سب سے زیادہ چمکنے والے اور مفردات کے نظام میں
    سب سے زیادہ کامل اور مرکبات کے درجہ بدرجہ رکھنے میں سب سے زیادہ محل مناسب تک پہنچے ہوئے اور لطائف اور اشارات پر سب سے زیادہ دلالت کرنے والے اور سب صفتوں میں خدا تعالیٰ
    کی طرف سے سب سے زیادہ کامل اور اس کے اسماء کی بناوٹ میں بہت سے علوم پائے جاتے ہیں اور اس کی ترکیبوں اور ادا کے طریقوں میں لطائف چمک رہے ہیں اور ہم عنقریب ان کا ذکر حقیقت
    نمائی کے لئے اپنے مقام پر کریں گے اور اس کے مفردات کے علوم اور مرکبات کے فنون طالب ہدایت لوگوں کے لئے بیان کریں گے اور اب ہم مفردات کے نظام کا کمال ثابت کرتے ہیں کیونکہ وہ پہلی
    علامت اس زبان کی ہے جس کو
    اُمّ الالسنہ کہنا چاہئے اور جس کو خدا تعالیٰ کی وحی ماننا چاہئے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی پیدائش نے پہلے ہی سے یہ تقاضا کیا ہے کہ اس کو وہ مفردات
    دیئے جائیں جن میں کمال درجہ کا بیان ہو جیسا کہ وہ فطرت خدا تعالیٰ کی طرف سے کامل ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 218
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 218
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/218/mode/1up
    و نرٰی ان الفطرۃ الانسانیۃ والجبلۃ البشریۃ قد کملت بقوی مختلفۃ وتصورات متنوعۃ۔ وارادات متفننۃ۔ وحالات متفرقۃٍ وخیالات
    متغائرۃ۔ واخلاق متلوّنۃ۔ وجذبات متضادۃ۔ ومحاورات موضوعۃ للاٰباء والبنین۔ والاعداء والمحبین۔ والاکابر۔ والصاغرین۔ ثم انضمت بہا افعال تصدر من جوارح الانسان کالایدی والارجل والاعین والاٰذان۔
    وکذلک کلما یطلب بوسیلۃ ھذہ الاعضاء من علوم الارض والسماء و ما یتعلق بہا کالخادمین۔ فلما خلق اللّٰہ الانسان بھذہ القوٰی والاستعدادات۔ والافعال والصناعات۔ والمقاصد والنیّات۔ اقتضت رحمتہ ان یکمل
    فطرتہ بعطاء نطق یساوی الحاجات و یمدہ فی جمع الضرورات والمھمات ولا یترکہ کالناقصین۔ وکان تمشیۃ ھذہ الارادات موقوفا علی لغت ھی کامل النظام فی المفردات لیساوی ضمائر الانسان و جمیع
    الخیالات و یعطی
    اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ فطرت انسانی اور جبلت بشری مختلف قوتوں کے ساتھ کامل کی گئی ہے اور ایسا ہی قسما قسم کے تصورات کے ساتھ اور قسما قسم کے ارادات کے
    ساتھ اور حالات متفرقہ اور خیالات متغائرہ اور اخلاق متلونہ اور جذبات متضادہ کے ساتھ اس کا کمال ہوا ہے اور ایسا ہی وہ محاورات جو باپوں اور بیٹوں اور دشمنوں اور دوستوں اور چھوٹے اور بڑوں
    میں ہوتے ہیں۔ تتمہ کمالات خلقت انسانی ہیں پھر ان کے ساتھ وہ افعال بھی ہیں جو انسان کے ہاتھ پیر سے صادر ہوتے ہیں جیسا کہ ہاتھ پیر اور آنکھ اور کان سے اور اسی طرح وہ تمام چیزیں جو ان
    اعضاء کے ذریعہ سے طلب کی جاتی ہیں جیسا کہ علوم ارضی اور علوم سماوی اور جو ان کے متعلق ہیں پس جبکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ان قوتوں اور استعدادوں اور صناعتوں کے ساتھ پیدا کیا اور
    ان مقاصد اور نیتوں کے ساتھ اس کو بنایا تو اس کی رحمت نے تقاضا کیا کہ انسانی فطرت کو نطق کے ساتھ مشرف کر کے حاجات پیش آمدہ کے ساتھ برابر اور ہموزن کر دے اور تمام مہموں اور
    ضرورتوں میں اس کی مدد کرے اور اس کو ناقصوں کی طرح نہ چھوڑے اور ان ارادوں کا پورا ہونا ایسی زبان پر موقوف تھا جو مفردات کے نظام میں کامل ہو تاکہ وہ انسان کے ضمیروں اور اس کے
    تمام خیالات کے ساتھ برابر اترے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 219
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 219
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/219/mode/1up
    حلل الالفاظ للطالبین۔ فھذہ ھی العربیۃ۔ وخصت بھا ھذہ الفضیلۃ ھی الّتی اعطی اللّٰہ لہ نظامًا کاملا فی المفردات۔ وجعل دائرتھا
    مساویۃ بالضرورات و لاجل ذٰلک احاطت دقائق الافعال۔ و أرت تصویر الضمائر بالتمام والکمال کالمصوّرین۔ وان اردنا ان نکتب فیہ قصّۃ۔ او نملی حکایۃً او واقعۃً او نؤلف کتابًا فی الالٰھیات۔ فلا نحتاج الی
    المرکبات۔ ولا نضطرّ ان نورد الترکیبات مورد المفردات کالھائمین المتخبطین۔ بل یمدنا نظامہ الکامل فی کل میدانٍ ومضمارٍ۔ ونجد مفرداتہا کحلل کاملۃ لانواع معانی واسرارٍ۔ و لا نجدھا فی مقام کابکم غیر
    مبین۔ وذلک لکمال نظامھا وعلوّ مقامہا و غزارۃ موادھا وکثرۃ افرادھا۔ وتناسبہا ورشادھا واطراد اشتقاقہا واتحاد انتساقہا ولکونھا متساویۃ باٰمال الاٰملین۔ وان صحیفۃ القدرۃ و مواد ھذہ اللہجۃ قد صدغتا
    کثوری فلاحۃ
    اور طلب گاروں کے لئے الفاظ کے(حلل) عطا کرے پس یہ زبان عربی ہے اور یہ فضیلت اس کے ساتھ خاص کی گئی ہے یہ وہی زبان ہے جس کو خدا تعالیٰ نے مفردات میں کامل
    نظام بخشا ہے اور اس کے دائروں کو ضرورتوں کے ساتھ برابر کردیا ہے اور اسی واسطے یہ عربی باریک معانی کے الفاظ پر مشتمل ہے اور ضمیروں کی تمام و کمال تصویروں کو دکھلا رہی ہے جیسا
    کہ مصور دکھلاتے ہیں۔ اور اگر ہم عربی زبان میں کوئی قصہ لکھنا چاہیں یا کوئی حکایت یا واقعہ لکھیں یا کوئی کتاب الٰہیات میں تحریر کریں تو ہم مرکبات کی طرف محتاج نہیں ہوتے اور ہم اس بات کی
    طرف بے قرار نہیں ہوتے کہ ترکیبات کو مفردات کی جگہ میں لاویں بلکہ ہمیں عربی کا نظام کامل ہریک میدان میں مدد دیتا ہے اور ہم اس کے مفردات کو معانی اور اسرار کے لئے کامل لباسوں کی طرح
    پاتے ہیں۔ اور ہم اس کو کسی مقام میں گونگے کی طرح نہیں پاتے اور یہ اس لئے کہ اس کا نظام کامل ہے اس کا مقام عالی ہے اس کے مواد بہت ہیں اس کے مفردات زیادہ ہیں اس میں تناسب اور سامان
    بہت ہے اس کا اشتقاق لمبا ہے اس کے انتساق میں اتحاد ہے اور وہ امیدوں کے سلسلہ سے برابر ہے اور قانون قدرت اور اس زبان کے مواد دوش بدوش چلے جاتے ہیں جیسے کلبہ رانی کے دو بیل یا
    ایک
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 220
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 220
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/220/mode/1up
    و تقابلتا کجداری باحۃ فانظر کالمُبصرین۔ و من العجائب انہا کانت لسان الاُمّیین۔ و ما کانوا ان یصقلوھا کالعُلماء المتبحرین۔ ولم یکن
    لھم فلسفۃ الیونانیین۔ و لا فنون الھنود والصینیین۔ ومعذٰلک نجدھا افصح الالسنۃ لتعبیر خواطر الحکماء و اراء ۃ صور اراء اھل الاراء کانہا تصورھا کما یُصوّر فی البطن الجنین۔ و من فضائلہا انہا ما مدت قط
    ید المسئلۃ الی الاغیار۔ و ما زیّنہا احد من الحکماء والاحبار۔ و لیست علیہا منۃ احد من دون القادر الجبار۔ ھو الذی اکملہا بید الاقتدار۔ و صانہا من کل مکروہ فی الانظار۔ و عصمھا من موجبات الملال
    والاستحسار۔ فھی ربیبۃ خدر الازل کالبنات وکقاصرات الطرف والقانتات۔ وھی حاملۃ باجنّۃ الحکم والنکات۔ لا تسمع صوتہا فی مجمع الھاذین۔ والحکمۃ تبرق من اسرّۃ وجھہا بنور یزین۔ واللّٰہ احسن خلقہا
    کخلق الانسان۔ واعطاھا کل ما ھو من کمال اللسان
    صحن کے مقابل کی دو دیواریں ہیں۔ پس تو سوجاکھوں کی طرح دیکھ۔ اور عجائب میں سے یہ بات ہے کہ وہ امیوں کی زبان ہے اور وہ اس کو علماء
    متبحر کی طرح صیقل نہیں کرتے تھے۔ اور ان کو یونانیوں کے فلسفہ میں سے کچھ حصہ نہیں تھا اور نہ ہندوؤں اور چینیوں کے ان کے پاس علوم تھے اور باوصف اس کے ہم اس زبان کو حکماء کے
    نازک خیالوں کے ادا کرنے اور ہریک رائے کی صورت دکھلانے کے لئے تمام زبانوں سے زیادہ فصیح پاتے ہیں گویا یہ زبان ان خیالات کی ایسی تصویر کھینچتی ہے جیسا کہ جنین کی تصویر پیٹ میں
    کھینچی جاتی ہے اور اس کی فضیلتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے کبھی غیر کی طرف سوال کا ہاتھ لمبا نہیں کیا اور کسی حکیم اور دانشمند نے اس کو زینت نہیں دی اور اس پر سوائے خدا تعالیٰ
    کے کسی کا احسان نہیں۔ اسی ذات نے اس کو اپنے ہاتھ سے کامل کیا ہے اور ہریک ایسی حالت سے بچایا ہے جن سے نظریں کراہت کرتی ہیں اور تھکنے اور ملال کے موجبات سے اس کو محفوظ رکھا
    ہے پس یہ بولی پردہ ازل کی خانہ پروردہ ہے جیسا کہ لڑکیاں اور پرہیز گار بیویاں ہوتی ہیں اور یہ بولی طرح طرح کی حکمتوں اور معارف دقیقہ کے ساتھ حاملہ ہے بے ہودہ گوئیوں کا مجمع اس کی
    آواز نہیں سنتا اور خدا تعالیٰ نے اس کی سرشت کو ایسا ہی نیک پیدا کیا ہے جیسا کہ انسان کی سرشت کو اور جو زبان کا کمال ہونا چاہئے سب کچھ اس کو عطا کیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 221
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 221
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/221/mode/1up
    و اَعطاھا حسنًا یصبی قلوب المبصرین۔ فلأجل ھٰذہ الکمالات و وجازۃ الکلمات تعصمنا عن اضاعۃ الاوقات۔ و تُسعدنا الٰی ابلغ
    البیانات۔ وتحفظنا عن فضوح الحَصَرِ وتعضدنا فی قید ظبأ المعانی والشصر۔ فلا نقف موقف مندمۃ فی میدان۔ و لا نرھق بمعتبۃ عند بیان۔ وتکشف علینا کلام رب العالمین وان القراٰن والعربیۃ کضرتی الرحٰی۔
    والامر من غیرھما لا یتأتی۔ ومثلہما کمثل العروسین۔ فالعربیۃ کزوجۃ کملت فی الحُسنِ والزین۔ ومن خواص العربیۃ وعجائبہا المختصۃ انہا لسان زیّنت بلطائف الصنع ووضع فیہا بازاء معانی متعددۃ بالطبع
    لفظ مفرد فی الوضع لیخفّ النطق بہ حتی الوسع ولا یحدث ملالۃ الطبع۔ وھذا امر ذو شان ممد عند بیان۔ لا یوجد نظیرہ فی لسان من السن الاعجمین۔ فلذٰلک تجد تلک الالسنۃ غیر بریۃ من معرۃ اللکن۔ وخالیۃ من
    فضیلۃ اللسن۔ و مع ذٰلک لا تعصم عن الفضول فی الکلام
    اور اس کو ایسا حسن عطا کیا ہے جو دیکھنے والوں کے دلوں کو کھینچتا ہے پس انہیں کمالات کی وجہ سے اور کلمات کے اختصار سے اوقات
    کے ضائع ہونے سے بچاتی ہے اور نہایت بلیغ بیانات کی طرف ہمیں رہبر ہوتی ہے اور زبان کی بستگی سے ہمیں نگہ رکھتی ہے اور معانی کے ہرنوں اور آہو بچوں کے قید کرنے میں ہمیں مدد دیتی ہے
    پس ہم کسی میدان میں شرمندہ نہیں ہوتے اور نہ کسی بیان کے وقت مورد عتاب ہوتے ہیں اور ہمارے پر رب العالمین کا کلام کھولا جاتا ہے اور قرآن اور عربی ایک چکی کے دو پاٹ ہیں اور ان دونوں کے
    ملنے کے سوا امر مقصود حاصل نہیں ہوتا یا ان دونوں کی مثال میاں بیوی کی طرح ہے اور عربی اس بیوی کی طرح ہے جو حسن اور زینت میں کامل ہو اور عربی کے خواص اور اس کی خاص عجائب
    باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایک ایسی زبان ہے جو لطائف صنعت سے زینت دی گئی ہے اور جو طبعاً معانی متعددہ ہیں۔ ان کے مقابل پر ایک ہی لفظ وضع میں رکھا گیا ہے تاحتی الوسع بولنا اس کا
    آسان ہو اور ملالت طبع پیدا نہ ہو اور یہ ایک امر ذو شان ہے جو بیان میں مدد کرتا ہے اور کسی زبان میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی اسی لئے تو دیکھے گا کہ تمام زبانیں لکنت کے عیب سے خالی نہیں
    ہیں اور فصاحت کے ہنر سے محروم ہیں اور پھر وہ زبانیں فضول گوئی سے بچا نہیں سکتیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 222
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 222
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/222/mode/1up
    ولاؔ تکفی مفرداتہا فی استیفاء انواع المرام۔ و لا توجد فیہا ذخیرۃ المفردات۔ سیما مفردات مشتملۃ علی المعارف والالٰہیات ودقایق
    الدینیات۔ بل لا تستطیع ان تؤلّف بمفرداتہا قصۃً او تکتب حکایۃً مبسوطۃ من امور الدنیا والدّین فانہا ممسوخۃ مبدلۃ۔ و نا قصۃ مغیرۃ فلا طاقت فیہا و لا قوۃ۔ ولا نظام ولا عظمۃ۔ ولا کمال کعربی مبین۔ و لاجل
    ذلک لا یفوز اھلہا غلبۃ عند مقابلۃ۔ ویفرکزمّل عند مناضلۃ۔ ویرھق بمعتبۃ ومذلۃ۔ و یرٰی یوم تبعۃ کالمخذولین۔ وانہا قد بلغت مخارم الجبال۔ فی علو الشان وانواع الکمال۔ وخرجت کفاتکٍ ماضی العزیمۃ و
    تنادی رجل الکریھۃ۔ فھل من مبارزٍ فی المخالفین۔ و ھل فی ندوۃ حیّہم احدٌ من الباسلین۔ وما ھذا من الدعاوی التی لا دلیل علیہا۔ بل ترٰی عساکر البراھین لدیھا کالطوافین۔ وتری انہا قائمۃ کجحیش شیحان
    وتجول بمفصل و سنان ۔ فمن ارتہ شعاعًا ۔ طارت نفسہ شعاعًا و سقط کمیتین
    اور ان کے مفردات مقصودوں کے حاصل کرنے کے لئے کفایت نہیں کرسکتے اور ان میں مفردات کا ذخیرہ نہیں پایا جاتا
    بالخصوص وہ مفردات جو معارف اور الٰہیات اور دینی دقائق پر مشتمل ہیں بلکہ تجھے یہ طاقت نہ ہوگی کہ اس کے مفردات کے ساتھ کوئی قصہ تالیف کرے یا کوئی لمبی چوڑی حکایت لکھے خواہ دنیا
    کے متعلق خواہ دین کے متعلق کیونکہ وہ بولیاں ناقص بولیاں ہیں جو بدلائی گئی ہیں اور ان کی صورت مسخ ہوگئی ہے پس ان بولیوں میں کچھ طاقت اور قوت نہیں اور نہ کچھ نظام اور نہ عظمت اور نہ
    عربی کی طرح کچھ کمال اسی لئے ان بولیوں کے بولنے والا مقابلہ کے وقت غالب نہیں آسکتا اور جنگ میں ایک بزدل نامرد کی طرح بھاگتا ہے اور ذلت اور ملامت اٹھاتا ہے اور انجام بدی کا دن دیکھتا
    ہے جیسا کہ ذلیل اور نامراد لوگ دیکھتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ زبان عربی اپنی شان میں پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ گئی ہے اور ایک بہادر پورے ارادے والے کی طرح میدان میں نکلی ہے اور مقابل
    کے آدمی کو بلا رہی ہے پس کیا کوئی مخالفوں میں بہادر ہے اور کیا کوئی ان کی مجلس میں دلیر موجود ہے اور یہ وہ دعویٰ نہیں ہے جن پر کوئی دلیل نہ ہو بلکہ تو دلائل کے لشکر اس دعوے کے پاس
    پائے گا جیسا کہ طواف کرنے والے ہوتے ہیں اور اس بولی کو تو ایسا قائم پائے گا جیسا کہ ایک بہادر مستقل ارادہ اور تلوار اور نیزہ کے ساتھ جولان کر رہی ہے پس جس کو اس نے اپنا شعاع دکھلایا
    سو اس کی ہوائیاں اڑ گئیں اور مُردوں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 223
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 223
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/223/mode/1up
    و ما کان للاعداء ان یاتوا ببرھان علٰی دعواھم۔ اویخرجوا من مثواھم وان ھم الا کالمدفونین۔ وما تری وجہ السنہم ببشریشف ونضرۃ
    ترف بل تراھا کموماۃ لیس فیہا من غیر رمل و حصاۃٍ و لا تجد فیہا عین ماء معین۔ والذین مارسوا اللغات وفتشوھا۔ واطلعوا علی عجائب العربیۃ و نظروھا۔ و رأوا لطائف مفرداتہا و وزنوھا۔ وشاھدوا ملح
    مرکباتہا و ذاقوھا۔ فاولئک یعلمون بعلم الیقین۔ ویقرّون بالعزم المتین بانّ العربیۃ متفرّدۃ فی صفاتہا۔ وکاملۃ فی مفرداتہا۔ ومعجبۃ بحسن مرکّباتہا ومُصْبِیَۃ بجمال فقراتہا۔ ولا یبلغہا لسان من الالسن الارضین
    ویعلمون انہا فائزۃ کل الفوز فی نظام المفردات و ما نول لسان ان یساویھا فی ھذہ الکمالات۔ و انھا کلمۃ جُرّبت مرارًا و سکّتت اعداءً۔ واشرارًا۔ وذادت کل من صال انکارًا۔ فان کنت تنکر باصرار۔ فات کمثلہا
    من اغیار۔ ولن تقدر ولو تموت کجراد الفلا۔ او تنتحر کالنوکی۔ فلا تکن
    اور دشمنوں کو یہ توفیق نہیں کہ اپنے دعویٰ پر کوئی دلیل لاویں یا اپنی خواب گاہ سے باہر نکلیں اور وہ تو دفن شدہ مردوں کی
    طرح ہیں۔ ان کی زبانوں کا ایسا منہ نہیں جو پورا اور باآب اور بھرا ہوا ہو اور نہ ایسی تازگی جو چمکیلی ہو بلکہ ان زبانوں کو تُو ایسا پائے گا جیسا کہ جنگل بے آب و دانہ جس میں بجز ریت اور
    سنگریزہ کے اور کچھ نہیں اور ان میں تو پانی صاف کا چشمہ نہیں پائے گا اور جو لوگ زبانوں کے مشاق اور تفتیش کرنے والے ہیں جو عربی کے عجائبات پر اطلاع رکھتے ہیں انہوں نے اس کے
    مفردات دیکھے اور ان کو وزن کیا اور اس کے مرکبات کے ملیح جملوں کا مشاہدہ کیا اور ان کو چکھا سو وہ لوگ علم یقینی سے اس بات کو جانتے اور پختہ عزم سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ
    عربی اپنی صفات میں یگانہ اور اپنے مفردات میں کامل اور اپنے مرکبات کے حسن میں عجب انگیز اور اپنے فقروں کے جمال کے ساتھ دلکش زبان ہے اور دنیا کی زبانوں میں سے کوئی زبان اس کے
    کمال تک نہیں پہنچتی اور وہ لوگ جانتے ہیں کہ عربی مفردات کے نظام میں کمال کے مرتبہ تک پہنچی ہوئی ہے اور کسی زبان کی مجال نہیں جو اس کے کمالات میں اس کی برابری کرسکے اور یہ ایک
    ایسا کلمہ ہے جو بارہا آزمایا گیا اور دشمنوں اور شریروں کا اس نے منہ بند کر دیا اور ہریک ایسے شخص کو دفع کیا جو انکار کی راہ سے حملہ آور ہوا۔ پس اگر تو اصرار سے انکار کرتا ہے تو اس کی
    مثل دکھلا اور ہرگز تو مثل دکھلا نہیں سکے گا اگرچہ تو جنگل کی ٹڈیوں کی طرح مر جائے یا نادانوں کی طرح خودکشی کرے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 224
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 224
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/224/mode/1up
    من الجاھلین۔ والأسف کلّ الأسف علی بعض المستعجلین من المسیحیین والغالین المعتدین۔ انھم حسبوا اللسان الھندیۃ اعظم الالسنۃ۔
    ومدحوھا بالخیالات الواھیۃ وفرحوا بالاٰراء الکاذبۃ و لیسوا الا کحاطب لیل او اٰخذ غثاء من سیل او مغترف من کدرٍ لا ماء معین۔ الا ترٰی الی اللسان الویدیۃ الھندیۃ وغیرہ من الالسنۃ الاعجمیۃ کیف توجد اکثر
    الفاظہا من قبیل البری والنحت و شتان ما بینہا وبین المفرد البحت فخداج مفرداتہا وقلّۃ ذات یدھا و عسر حالاتہا یدل علٰی ان تلک الالسنۃ لیست من حضرۃ العزۃ۔ و لا من زمان بدو البریۃ۔ بل تشہد الفراسۃ
    الصحیحۃ و یفتی القلب والقریحۃ انھا نُحتت عند ھجوم الضرورات وصیغت عند فُقدان المفردات۔ لیتخلص اھلہا مخالب الفقر وانیاب الحاجات وما خطرت ببال الاعند ما مسّتِ الحاجۃ الیہا۔ و ما رکبت الا اذا
    حث الوقت علیہا وقد اقربھا زمر المعادین بل یحکم الرأی المستقیم۔ و یشہد العقل السلیم
    پس جاہلوں میں سے مت ہو اور بعض اُن جلد بازوں پر نہایت افسوس ہے جو عیسائیوں میں سے حد سے زیادہ
    تجاوز کرگئے ہیں۔ انہوں نے سنسکرت زبان کو سب زبانوں میں سے بہتر سمجھ لیا ہے اور واہی خیالات کے ساتھ اس کی تعریف کی ہے اور ان کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی رات کو لکڑیاں اکٹھی
    کرے یا پانی کا خس و خاشاک لے لے اور پانی کو چھوڑ دے یا مکدر پانی میں سے ایک گھونٹ لے اور صاف پانی کو چھوڑ دے کیا تو ہندی زبان یعنی سنسکرت وغیرہ عجمی زبانوں کو نہیں دیکھتا کہ
    کیونکر اکثر الفاظ ان کے تراش خراش کے قبیل سے ہیں یعنی مرکب ہیں پس ان کو خالص مفردات سے کیا نسبت ہے پس ان کی مفردات کا ناقص ہونا اور ان کی پونجی کم ہونی اس بات پر صاف دلیل ہے
    کہ وہ زبانیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ ابتدائی زمانہ سے ہیں بلکہ فراست صحیح اور دل اور طبیعت فتویٰ دیتی ہے کہ وہ تمام زبانیں ضرورتوں کے وقت اور مفردات کے نہ ہونے کی وجہ
    سے گھڑی گئی ہیں تا ان زبانوں والے محتاجگی کے داموں سے نجات پاویں اور وہ ترکیبیں حاجت پیدا ہونے سے پہلے کسی کے دل میں نہیں گزریں اور تبھی یاد آئیں جب وقت نے ان کی طرف رغبت
    دی بلکہ رائے مستقیم اور عقل سلیم حکم کرتی ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 225
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 225
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/225/mode/1up
    ان اھل تلک الالسنۃ۔ واللغات المتفرقۃ۔ قوم تطاول علیہم زمان الغی والخذلان۔ وما اعانتہم ید الرحمان۔ وما وجد وا ما یجد اھل الحق
    والعرفان۔ فحلوا السنتھم بایدیھم لا بایدی الفیاض المنان۔ فکان غایۃ سعیہم ان ینحتوا بازاء مفرداتٍ انواع ترکیباتٍ۔ ففرحوا بحیلۃ فاسدۃ مصنوعۃ۔ وبعدوا من ثمار لطیفۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ نافعۃ للاٰکلین۔
    فبدت سوئتھم لاجل منقصۃ اللغات۔ وانتقاص المفردات۔ وظہر انھم کانوا کاذبین۔ وکانوا یحمدون السنتھم بصفات لا تستحق بہا وکانوا فیہا مفرطین فھتکاللّٰہ اسرارھم واذاقھم استکبارھم بما کانوا معتدین۔ و تراہم
    یعادون الحق والفرقان ولا یقبلون المحمود والمشھود والعیان ولا یترکون الحقد والعدوان و یمشون کالعمین۔ سیما الھنود فان سیرتھم الصدود و زادھم العنود وھم المزھوون۔ لا یخشون ولا یتواضعون ولا یتدبّرون
    کالخاشعین۔ وظنّوا ان لغتہم اکمل اللغات۔
    کہ ان زبانوں اور لغت والی وہ قوم ہے جن پر گمراہی اور خذلان کا لمبا زمانہ گذر گیا۔ اور ان کی خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے مدد نہ کی۔ اور انہوں نے اس حقیقت
    کو نہ پایا جو حق اور معرفت کی اہل پاتی ہیں سو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زبان کو آراستہ کیا اور خدا تعالیٰ کے ہاتھوں سے اس زبان سے آرائش نہیں پائی پس ان کی سعی زیادہ سے زیادہ یہ
    تھی کہ مفردات کے مقابل پر ترکیبات کو گھڑیں پس وہ ایک حیلہ فاسد بناوٹی کے ساتھ خوش ہوگئے اور ایسے لطیف پھلوں سے دور جا پڑے جو نہ کاٹے جائیں اور نہ منع کئے جائیں جو عقلمندوں کو
    نفع دیتے تھے پس بباعث ناقص ہونے زبان کے ان کا عیب کھل گیا اور مفردات کی کمی نے ان کی پردہ دری کی اور یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ جھوٹے تھے۔ اور وہ لوگ اپنی زبانوں کی ایسے غلو سے
    تعریف کرتے تھے جن کی وہ حق دار نہیں تھی اور ان بے جا تعریفوں میں حد سے زیادہ گذر گئے تھے سو خدا تعالیٰ نے ان کے پردے پھاڑ دیئے اور ان کو ان کے تکبر کامزہ چکھایا کیونکہ وہ حد سے
    زیادہ گذر گئے تھے اور تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ حق اور فرقان کے دشمن ہیں اور کینہ اور ظلم کو نہیں چھوڑتے اور اندھوں کی طرح چلتے ہیں خاص کرکہ ہندو لوگ کہ ان کی سیرت حق سے روکنا
    ہے اور ان کا عناد حد سے بڑھ گیا ہے اور عُجب اور خود پسندی ان میں بہت ہے۔ خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اور نہ تواضع اختیار کرتے ہیں اور نہ ڈرنے والوں کی طرح تدبر کرتے ہیں اور ان کا گمان
    ہے جو ان کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 226
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 226
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/226/mode/1up
    بلؔ قالوا انّہا ھی وحی رب السمٰوٰت وکذالک رضوا بالخزعبلات و خدعوا قلوبھم بالمفتریات و ما کانوا مستبصرین۔ و تجد لسانھم
    مجموعۃ الترکیبات خالیۃ عن نظام المفردات کانّ ربھم ماقدر الا علی تالیف المرکبات کما ما قدر الاعلی تالیف الابدان من الذرات وکان من العاجزین۔ و اما العربیۃ فقد عصمہا اللّٰہ من ھذہ الاضطرارات۔
    واعطاھا نظامًا کاملًا من المفردات۔ وان فی ذلک لاٰیۃ للمتوسّمین۔ ولا یخفی علی لبیب ولا علی منشی ادیب اِنّ الالسنۃ الاُخرٰی قد احتاجت الٰی ترکیبات شتّٰی و ما استخدمت المفردات کعربی مبین۔ وانت تعلم ان
    للمفردات۔ تقدم زمانی علی المرکبات۔ فانہا مناط افترار ثغر الترکیب وعلیہا تتوقف سلسلۃ التألیف والترتیب فالذی کان مقدما فی الطبع والزمان فہو الذی صدر من الرّحمٰن والیہا ینحل کل مرکب عند ذوی
    العرفان۔ فہل ترٰی کما نرٰی او کنت من المحجوبین۔ ثم لا شک ان الالفاظ التی جمعت عند فقدان المفردات۔
    زبان سب زبانوں سے زیادہ کامل ہے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ یہی الہامی زبان ہے اور اسی
    طرح وہ باطل باتوں پر خوش ہوگئے اور اپنے دلوں کو افترا کی باتوں سے فریب دیا اور صاحب بصیرت نہیں تھے اور تُو ان کی زبان کو محض ترکیبوں کا ایک مجموعہ پائے گا اور مفردات کے نظام
    سے خالی دیکھے گا گویا ان کا خدا صرف مرکبات کی تالیف پر قادر تھا جیسا کہ وہ صرف اس بات پر قادر تھا کہ ذروں کے جوڑنے سے بدنوں کو بناوے اور عاجزوں میں سے تھا۔ مگر عربی زبان کو
    خدا تعالیٰ نے ان تمام بے قراریوں سے بچایا اور مفردات کا نظام کامل اس کو بخشا اور اس میں فراست والوں کے لئے نشان ہے اور کسی دانا پر پوشیدہ نہیں اور نہ کسی انشا پرداز ادیب پر کہ دوسری
    زبانیں انواع اقسام کی ترکیبوں کی محتاج ہیں اور وہ مفردات سے عربی کی طرح خدمت نہیں لیتیں اور تو جانتا ہے کہ مفردات کو مرکبات پر تقدم زمانی ہے کیونکہ ترکیب کے باترتیب دانت اُسی سے
    ظاہر ہوتے ہیں اور انہیں پر سلسلہ تالیف اور ترکیب کا موقوف ہے۔ پس وہ جو از رو زمانہ اور طبع کے مقدم ہے وہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوا ہے اور ہریک ترکیب اسی کی طرف منحل ہوتی
    ہے پس کیا تو اس بات کو دیکھتا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں یا پردہ میں ہے پھر اس میں کچھ شک نہیں کہ جو الفاط مفردات کے نہ ہونے کی وجہ سے جمع کئے گئے اور ضرورت پیش آنے
    سے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 227
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 227
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/227/mode/1up
    و اقیمت مقامہا عند ھجوم الضرورات۔ قد نطقت بلسان الحال۔ انہا ما اُبرزت فی بزتھا الاعند قحط المفردات والامحال۔ فاذا ثبت انھا
    تلفیقات انسانیۃ وترکیبات اضطراریۃ فکیف تنسب الی البدیع الکامل الذی یسلک سبیل الوجازۃ والحکمۃ و یحب طریق البساطۃ والوحدۃ۔ و لا یلجاء الٰی ترکیبات مستحدثۃ کالغافلین۔ بل ھو اللّٰہ الذی فطن من اول
    الامر الی معان مقصودۃ۔ فوضع بازاۂا کل لفظٍ مفردٍ باوضاع محمودۃ۔ وکذٰلک سلک سبیل حکمۃ معھودۃ وما کان کالذی استیقظ بعد النوم او تنبّہ بعد اللؤم۔ بل وضع بازاء کل طیفٍ معنویّ لفظًا مفردًا ککوکب درّی۔
    ببیان جلیّ الا تعرفہ وھو احسن الخالقین۔ اتظن ان اللّٰہ نسی سبیل الحکمۃ او بطّأ بہ مانع من ھٰذہ الارادۃ او ما کان قادرًا علٰی وضع الالفاظ المفردۃ لاظہار المعانی المقصودۃ۔ فالجأہ عجزہ الی الکلمات المرکبۃ
    والترکیبات المستحدثۃ۔ واضطر الی ان یلفق لہا الفاظ باستعانۃ التراکیب
    ان کے قائم مقام کی گئی وہ بزبان حال بول رہے ہیں کہ ضرورت کے وقت لئے گئے پس جبکہ ثابت ہوگیا کہ وہ انسانی جوڑوں
    سے جمع کئے گئے اور ترکیبات اضطراریہ سے اکٹھے کئے گئے تو وہ اس بے نمونہ بنانے والے کامل کی طرف منسوب نہیں ہوسکتے کہ جو اختصار اور حکمت کے طریق کو اختیار کرتا ہے اور
    بساطت اور وحدت کے طریق کو دوست رکھتا ہے اور غافلوں کی طرح نئی نئی ترکیبوں کی طرف محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ خدا وہی ہے جس کے علم میں پہلے ہی سے معانی مقصودہ ہیں سو اس نے ان
    کے مقابل پر ہریک لفظ مفرد رکھ دیا۔ سو اسی طرح وہ اپنی حکمت معہودہ کو عمل میں لایا اور وہ ایسا تو نہیں تھا جیسا کہ سونے کے بعد جاگے یا ملامت کے بعد متنبہ ہو بلکہ ہریک معنوی خیال کے
    مقابل پر ہریک لفظ مفرد رکھ دیا ہے جو چمکدار موتی کی طرح ہے کیا تو اس کو نہیں پہچانتا اور وہ احسن الخالقین ہے کیا تو گمان کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ حکمت کی راہ کو بھول گیا یا کسی مخالف نے
    اس کو اس ارادہ سے روک دیا یا وہ معانی مقصودہ کے ظاہر کرنے کے لئے الفاظ مفردہ کے بنانے پر قادر نہیں اس لئے اس کے عجز نے ترکیب اور نئے نئے جوڑوں کی طرف اس کو بے قرار کیا اور
    وہ اس بات کے لئے مضطر ہوا کہ معانی مقصودہ کے ادا کرنے کے لئے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 228
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 228
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/228/mode/1up
    و یعتمد علیہا لا علی الطباع العجیب ویسلک مسلک المتکلفین۔ و انت ترٰی انّ بَنَّآءً عاقلا ذا معرفۃ اذا اراد ان یبنی صرحًا فی بلدۃ۔ او
    قصرًا فیجردۃ۔ فیفطن فی اول امرہ الٰی کل ضرورۃ و ینظر کلما سیحتاج الیہ عند سکونۃ۔ و ان کان یبنی لغیرہ فینبّھہ ان کان فی غفلۃ۔ و لا یعمل عمل العمین بل یتصور فی قلبہ قبل البناء کل ما سیضطر الیہ
    احد من التُنّاء کالحجرات والرف و الفناءِ والمداخل والمخارج للسکناء۔ ومنافذ النور والھواء۔ ومجالس الرجال والنساء۔ وبیت الخبز وبیت الخلاء وبیت الاضیاف والواردین من الاحبّاء ومقام السائلین والفقراء۔
    وما یحتاج الیہ فی الصیف والشتاء۔ وکذٰلک لا یغادر حاجۃ الا و یبنی لہا ما یسدّ ضرورۃ۔ حجرۃ کان او عُلّۃ سُلّما کان او مصطبۃ۔ او ما یسرّ القلب کالبساتین۔ فالحاصل انہ یبصر فی اول نظرہ کل ما سَتَؤُولُ الیہ
    لوازم
    امرہ و لا ینسی شیئا سیطلبہ احد من زمرہ ویتم الصرح کالمتدبّرین۔
    ترکیبوں کے جوڑ توڑ سے مدد لیوے اور ان ترکیبوں پر بھروسہ رکھے نہ مفردات کے طبعی اور عجیب نظام پر اور
    تکلف کرنے والوں کی راہ پر چلے اور تو دیکھتا ہے کہ ایک معمار عقلمند تجربہ کار جبکہ ایک حویلی کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے یا کسی زمین پر ایک محل بنانا چاہتا ہے سو وہ اپنے کام کی ابتدا میں اپنی
    ہریک ضرورت کو سمجھ جاتا ہے اور ہریک امر کو جس کے بسنے کے وقت کسی وقت حاجت پڑے گی پہلے سے دیکھ لیتا ہے اور اگر کسی غیر کے واسطے وہ مکان بناتا ہے تو اگر وہ غیر غفلت میں
    ہو تو اس کو خبردار کر دیتا ہے اور اندھوں کی طرح کوئی کام نہیں کرتا بلکہ وہ عمارت بنانے سے پہلے ہی تمام ان باتوں کا اپنے دل میں تصور کر لیتا ہے جن کی طرف اس مکان میں رہنے والوں کو
    حاجت ہوگی جیسا کہ حُجرے اور مچان اور صحن اور آنے جانے کا مکان اور ہوا اور روشنی کے لئے کھڑکیاں اور روشندان اور مردوں کے بیٹھنے کی جگہ اور عورتوں کے رہنے کا مکان اور باورچی
    خانہ اور پاخانہ اور مہمانوں اور مسافروں اور دوستوں کے رہنے کی جگہ اور سوال کرنے والوں کے لئے ٹھہرنے کی جگہ اور ایسے مکان جو گرمی کے موسم کے مناسب حال ہوں اور ایسے مکان
    جو جاڑے کے لئے ضروری ہوں اسی طرح کوئی ایسی حاجت نہیں ہوتی جس کے رفع کے لئے بقدر سدّ ضرورت کوئی مکان نہیں بناتا خواہ وہ حجرہ ہو یا بالا خانہ ہو یا زینہ ہو یا چبوترہ یا کوئی باغ ہو
    پس حاصل کلام یہ کہ وہ پہلی نظر میں ہی ان تمام امور کو دیکھ لیتا ہے جن کی طرف اس کے امر کے لوازم مخبر ہوں گے اور ایسی کسی چیز کو نہیں بھولتا جو کوئی اس کے گروہ میں سے کسی وقت
    اس کا طالب ہو اور اپنے مکان کو ایک مدبر انسان کی طرح پورا کرتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 229
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 229
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/229/mode/1up
    و امّا الجاھل الغبی والقلب المخطی فلا یرٰی خیرہ وشرّہ الا بعد البناء۔ ویسلک مسلک العشواء۔ ولا یرٰی المآل فی اول الحال۔ ولا ینظر
    الی ما سیحتاج الیہ فی بعض الاحوال۔ فیبنی من غیر تقدیر وتنسیق وترتیب ولا یتدبر کذی معرفۃ لبیبٍ ولا یفطن الٰی ما یلزم لمبناہ۔ الا بعد ما سکنہ وجرّب مثواہ ووجدہ ناقصًا وراہ۔ فیشعر حینئذ انہ لا یکفی
    لمباء تہ فیتألم برویتہ بعد خبرتہ۔ ویبکی مرّۃ علی فقدان مُنیتہ۔ واُخرٰی علٰی حُمقہ وجہالتہ وضیعتہ فِضّتہٖ۔ وتطلع علٰی قلبہ نار حسرتہ بما لم یدر فی اول الامر مآل خطتہٖ کالعاقلین۔ فیتدارک ما فرط
    منہ بعد ماری التفرقۃ واشتات۔ متأسّفا علٰی ما فات۔ و باکیا کالمتندّمین۔ فھٰذا الذھول الذی یخالف العقل والحکمۃ۔ ویبائن القدرۃ والمعرفۃ الکاملۃ لا یُعزٰی الٰی قدیر ن الذی ھو ذوالجلال والقوۃ۔ و خبیر ن الذی
    یحیط الاشیاء بالعلم والحکمۃ۔ سبحانہ ھو یعلم الخفی والاخفٰی والقریب والاقصٰی ویعلم الغیب
    مگر جاہل غبی اور خطا کرنے والا دل اپنے مکان کی برائی بھلائی پر اس وقت اطلاع پاتا ہے جبکہ مکان بن
    کر تیار ہو جاتا ہے اور اندھی اونٹنی کی طرح چلتا ہے اور انجام کار کو اول حال میں دیکھ نہیں سکتا اور جو کچھ آخر کسی وقت حاجتیں پڑیں گی ان پر اس کی نظر نہیں ہوتی۔ پس وہ مکان کو بغیر کسی
    اندازہ اور ترتیب کے یوں بنا ڈالتا ہے۔ اور ایک دانشمند عارف کی طرح نظر نہیں کرتا اور نہیں سوچ سکتا کہ اس کی اس بنا کا انجام کیا ہوگا مگر اس وقت اس کو پتہ لگتا ہے جبکہ اس میں آباد ہو اور
    آزما لیوے اور نکما پاوے سو اس وقت اس کو سمجھ آتی ہے کہ اس کی بود و باش کے لئے کافی نہیں ہے سو اس مکان کے مشاہدہ اور آزمائش کے بعد درد ناک ہوتا ہے اور کبھی اپنی نامرادی پر روتا ہے
    اور کبھی اپنے حمق اور جہالت اور نقصان مایہ پر گریہ و زاری کرتا ہے اور اس کے دل پر حسرت کی آگ بھڑکتی ہے اس خیال سے کہ کیوں پہلے ان حرجوں اور نقصانوں پر میری نظر نہیں پڑی
    پس اب تجربہ کے بعد اور تفرقہ اور پریشانی اٹھانے کے پیچھے اپنے نقصانوں کا تدارک کرتا ہے۔ مگر دل تأسف اور افسوس سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور روتا ہوا بگڑے ہوئے کی اصلاح کرتا ہے پس ایسا
    نسیان جو عقل اور حکمت کے مخالف اور معرفت کاملہ کے مغایر ہے اس خدا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا جو قادر اور بزرگ اور قوی اور علم اور حکمت کے ساتھ ہریک چیز پر محیط ہو رہا ہے اور
    وہ پوشیدہ بلکہ پوشیدہ تر کو اور نزدیک و دور کو جانتا ہے اور وہ غیب کو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 230
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 230
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/230/mode/1up
    و غیب الغیب۔ وفعلہ منزہ عن المعرّۃ والعیب۔ وانہ لا یخطی کالناقصین اُنظر الٰی ما خلق من قدرۃ کاملۃ۔ ھل ترٰی فیہ من فتور او
    منقصۃٍ ثم ارجع البصر ھل ترٰی من فتور فی خلق ربّ العالمین۔ فکفاک لفہم الحقیقۃ ما ترٰی فی صحیفۃ الفطرۃ۔ ولن ترٰی اختلافًا فی خلقۃ حضرۃ الاحدیۃ فھٰذا ھو المعیار المعرفۃ الالسنۃ فخذ المعیار۔ واعرف
    ما انار۔ واتق اللّٰہ الذی یحبّ المتقین۔ واستفق ولا تکن من الغالین۔
    و لا یریبک ما تجد فی اللسان الھندیۃ وغیرھا من الالسنۃ قلیلا من الالفاظ المفردۃ فانّہا لیست من دارھم الخربۃ ولا من عیبتہم الممزقۃ بل
    ھی کالاموال المسروقۃ۔اوالامتعۃ المستعارۃ فی بیت المساکین۔ والدلیل علیہا انہا خالیۃ عن اطراد المادۃ وغزارتہا المُنْتَسَقَۃِ مع فقدان وجوہ التسمیۃ۔ ولا یتحقق کنہھا الا بعد ردھا الی العربیۃ ولا یخدعک
    قلیلھا
    اور غیب الغیب کو جانتا ہے اور اس کا فعل ہریک عیب سے منزہ ہے اور ناقصوں کی طرح خطا نہیں کرتا اس کی مخلوقات کی طرف دیکھ جو اس نے قدرت کاملہ سے پیدا کی ہے تو کیا اس میں
    کچھ فتور یا نقصان پاتا ہے پھر دوبارہ نظر کو پھیر کیا تو خدا تعالیٰ کی پیدائش میں کچھ فتور پاتا ہے پس تجھے حقیقت کے سمجھنے کے لئے وہ باتیں کافی ہیں جو تو صحیفہ فطرت میں دیکھ رہا ہے اور
    تو خدا تعالیٰ کی پیدائش میں ہرگز اختلاف نہیں پائے گا پس زبانوں کی پہچان کے لئے یہی معیار ہے پس معیار کو پکڑ اور جو کچھ روشن ہوا اس کو دیکھ لے اور اس خدا سے ڈر جو متقیوں کو دوست
    رکھتا ہے اور ہوش میں آ اور غلومت کر ۔
    اور تجھ کو یہ بات شک میں نہ ڈالے کہ تو سنسکرت وغیرہ میں کچھ مفرد الفاظ پاتا ہے کیونکہ وہ الفاظ ان کے ویران گھر کی جائیداد نہیں ہے اور نہ ان
    کے پھٹے ہوئے جامہ دان کے یہ کپڑے ہیں بلکہ وہ تمام الفاظ چوری کے مال کی طرح ہیں یا مانگے ہوئے اسباب کی مانند ہیں اور اس پر دلیل یہ ہے کہ وہ اطراد مواد سے خالی ہیں اور نیز ایسے
    مفردات کی کثرت سے بھی جو ترتیب تناسب کے ساتھ باہم واقعہ ہوں۔ اور ساتھ اس کے ان کی وجوہ تسمیہ بھی مفقود ہیں اور ان کی کنہ ثابت نہیں ہوتی مگر بعد اس کے جو ہم ان کو عربی کی طرف رد
    کریں اور اس بات
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 231
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 231
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/231/mode/1up
    فی تلک اللغات۔ فانّھا لا یوصل الی الغایات۔ ولا تکشف عن ساق معانی المفردات علٰی سبل اطراد اشتقاق المشتقات ونَبْشِ معادن
    الکلمات۔ بل ھی تفھیم سطحی لخدع ذوی الجہلات وقوم عمین۔ وکلما یردّ لفظ الٰی منتہا مقام الردّ ویفتش اصلہ بالجہد والکد۔ فترٰی انہ عربیۃٌ ممسوخۃٌ
    کانہا شاۃٌ مسلوخۃٌ۔ وترٰی کل مضغۃ من ابداء
    عربی مبین۔ ولا نذکر عبرانیۃ ولا سریانیۃ فی ھٰذا الکتاب فان اشتراک ذینک اللسانین مسلّم عند ذوی الالباب من غیر الامتراء والارتیاب۔ وانھما مُحرّفتان من العربیۃ الخالصۃ۔ مع ابقاء اکثر القوانین الادبیۃ
    والتراکیب المتناسبۃ وانھم کالسارقین۔ وکانت دار العربیۃ آنق من حدیقۃ زھرٍ و خمیلۃ شجرٍ ما راٰی اھلہا حر الھوی ولا حرق الجوٰی ذات عِقْیان وعقار وغرب ونضار وحدائق وانھارٍ۔ وزھر وثمار۔ وعبید
    واحرارٍ۔ وجرد مربوطۃ۔ وجدۃٍ
    سے دھوکا نہ کھانا کہ کچھ کچھ وجوہ تسمیہ ان زبانوں میں موجود ہیں کیونکہ اس قدر پایا جانا اصل مقصود کی طرف رہبر نہیں ہوسکتا اور مفردات کے معانی کے بھید
    کو نہیں کھولتا ایسے طور سے کہ الفاظ کا اطراد اشتقاق کر کے دکھلاوے اور کلمات کی کانیں کھودے بلکہ وہ تو نادانوں کے لئے ایک سرسری سمجھ ہوتی ہے اور اندھوں کو دھوکا دیا گیا ہے۔ اور جب
    کوئی ایک لفظ اس کی اصل تلاش کرتے کرتے محنت اور کوشش کے ساتھ انتہائی درجہ تک پہنچایا جاوے پس تو دیکھے گا کہ وہ عربی مسخ شدہ ہے گویا کہ وہ ایک بکری ہے جس کی کھال اتار لی گئی
    ہے اور تو ہریک اس کے ٹکڑے کو عربی کے ٹکڑوں میں سے پائے گا اور ہم عبرانی اور سُریانی کا اس کتاب میں کچھ ذکر نہیں کرتے کیونکہ ان کا اشتراک عقلمندوں کے نزدیک مسلّم امر ہے اور اس میں
    کچھ شک نہیں کہ یہ دونوں زبانیں خالص عربی کی تحریف سے پیدا ہوئی ہیں اور باوجود تحریف کے پھر اکثر قوانین ادبی باقی رہے ہیں اور ایسا ہی اکثر ترکیبیں بھی محفوظ رہی ہیں اور یہ چوروں کی
    طرح ہیں اور عربی کا گھر پھولوں کے باغ اور سبزہ درختوں کی جھاڑی سے زیادہ خوشنما تھا اور اس کے اہل نے کسی خواہش کی گرمی اور کسی بھوک کی آگ نہیں دیکھی تھی اور یہ کہ صاحب زر
    اور مال اور چاندی اور خالص سونے کا مالک تھا اس میں باغ تھے اور اس میں نہریں تھیں اور اس میں پھول تھے اور پھل تھے اور غلام تھے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 232
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 232
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/232/mode/1up
    مغبوطۃ۔ وعمارات مرتفعۃ ومجالس منعقدۃ مزینۃٍ۔ ثم انتثرت عقود الزحام من الفساد۔ فسافروا واخذوا ما راج من الزاد۔ واحتمل کلّ
    بحسب الاستعداد ورکبوا متن مطایا التفرقۃ والتضاد۔ وبدلو الصور بترک السداد۔ حتی جعلوا الغدق جریمۃ۔ واللعل وثیمۃ۔ والولیمۃ وظیمۃ والحسنۃ جریمۃ والضلیع حمارًا والروضۃ مقفارًا وغادروا بیت
    الفصاحۃ انقٰی من الراحۃ وابعد من التلذذ والراحۃ و ما بقیت حدائقہا ولا رکیتہا ولا مروجہا ولا نضرتھا و ما برح یمطر علیہا مطر الشدائد وتتلقاھا ید النوائب بالحصائد حتّٰی رمٰی متاعہا بالکسادو بدل
    صلاحہا بالفساد فاصبحت دارھا کالمنہوبین۔ کانّ اللص ابلطہا او الغریم قعطہا وکسح بیتھا وخلی سفطہا فصارت کالمعترین۔ وانت سمعت ان العربیّۃ نزلت فی بدو الفطرۃ و جاء ت من حضرۃ الاحدیۃ۔ ثم اذا
    تجرم ذٰلک القرن فطرٰی علی اذیالھا الدرن۔ فالعبریۃ وغیرھا کوسخ العربیۃ۔ وفُضلۃ ھذہ المائدۃ
    اور آزاد تھے اور عمدہ عمدہ گھوڑے اس کے طویلہ میں تھے اور قابل رشک حشمت اور دولت تھی اور
    اونچی عمارتیں اور خوب سجی ہوئی مجلسیں تھیں پھر وہ تمام مجلسیں فساد کی وجہ سے اٹھ گئیں پس انہوں نے سفر کیا اور جو کچھ توشہ ملا وہ ہمراہ لے لیا اور ہریک نے اپنی حسب استعداد توشہ اٹھا
    لیا اور تفرقہ اور اختلاف کی سواریوں پر سوار ہو گئے اور بوجہ ترک سداد اپنی صورتوں کو بدل ڈالا یہاں تک کہ کھجور کے درخت کو گٹھلی بنا دیا اور لعل کو پتھر بنا دیا اور شادی کے کھانے کو ماتم
    کا کھانا کر دیا اور نیکی کو بدی بنا دیا اور عمدہ گھوڑے کو گدھا کر دیا اور باغ کو بجز زمین کر دیا اور فصاحت کے گھر کو ہتھیلیکی طرح خالی کر دیا اور لذت اور راحت سے دور پھینک دیا ان کے باغ
    باقی نہ رہے اور نہ ان کا کنواں اور ان کے سبزہ زار اور نہ ان کی تازگی اور سختیوں کا مینہ زبانوں پر برسنے لگا اور حوادث نے ان کو تلف کر دیا یہاں تک کہ نارواجی سے ان کے مال کی تباہی
    ہوگئی اور اس کی صلاحیت فساد کے ساتھ بدل گئی پس ان گھروں کا ایسا حال ہوگیا کہ گویا چور نے ان کو لوٹ لیا اور کچھ بھی نہ چھوڑا یا قرض خواہ نے اس کو سخت مواخذہ کیا اور ان کے گھر کو
    خالی کر دیا اور ان کی بستی میں کچھ بھی نہ چھوڑا پس وہ محتاجوں کی طرح ہوگئے اور تو سن چکا ہے کہ عربی زبان ابتدائے زمان میں نازل ہوئی ہے پھر جب وہ زمانہ گذر گیا تو اس کے دامنوں پر
    کچھ میل چڑھ گئی پس عبری اور دوسری زبانیں عربی کی میل ہیں اور اسی مائدہ کا فضلہ ہیں
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 233
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 233
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/233/mode/1up
    والعربیۃ اوّل درٍّ لارضاع الفطرۃ الانسانیۃ ۔و اول خرسۃ لتغذیۃ ام البریّۃ من خیر المطعمین۔ والیہ اشار معطی القیاس والحواس۔
    ودافع وساوس الخناس3 ۱ ؂ فاومٰی الی ان العربیۃ سبقت الالسنۃ واحاطت الامکنۃ وھی اول غذاء للناطقین۔ فان البیت لا یخلوا من مجمع الناس۔ والمجمع یحتاج الی الکلام لدفع الحوائج والاستیناس۔ فان
    المعاشرۃ موقوفۃ علی الفھم والتفھیم کما
    لا یخفی علی الزکی الفھیم وکذالک قولہ تعالی 33۲؂ دلیل علی کون مکۃ اول العمارات فلا تسکت کالمَیْت وکن من المتیقظین۔ فحاصل المقالات ان مکۃ کانت اول
    العمارات۔ ثم خربت من الحادثات وسیل الاٰفات۔ فلزم ذلک البیان۔ ان العربیۃکانت اول کل ما کان۔ وعلمہا اللّٰہ اٰدم وکمل بہا الانسان۔ ثم حرفت ھٰذہ
    اور عربی وہ پہلا دودھ ہے جو انسانی فطرت کو پلایا گیا
    اور وہ پہلی اچھوانی ہے جو مخلوقات کی ماں کو کھلائی گئی اور اسی کی طرف اس ذات نے اشارہ کیا ہے جس نے قیاس اور حواس کو پیدا کیا اور جس نے خناس کے وساوس کو دفع کیا۔ جو پہلا گھر
    یعنی بیت اللہ وہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور ہدایت واسطے عالموں کے پس اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو عربی تمام زبانوں پر سبقت لے گئی اور تمام مکانوں پر محیط ہے اور وہ
    بولنے والوں کی پہلی غذا ہے کیونکہ گھر لوگوں کے مجمع سے خالی نہیں ہوتا اور مجمع دفع حاجت اور باہم انس پکڑنے کے لئے کلام کی طرف محتاج ہوتا ہے کیونکہ معاشرت فہم اور تفہیم پر موقوف
    ہے جیسا کہ زیرک اور فہیم پر یہ بات پوشیدہ نہیں اور اسی طرح خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ یاد کر جب ہم نے ابراہیم کو دوبارہ بنانے کے لئے وہ مکان دکھلایا جہاں ابتدا میں بیت اللہ تھا۔ یہ قول صاف بتلا
    رہا ہے کہ مکہ دنیا میں پہلی عمارت ہے پس مردہ کی طرح چپ مت ہو جا اور جاگنے والوں کی طرح ہو۔ پس حاصل کلام یہ کہ مکہ دنیا میں پہلی عمارت تھی پھر حادثات اور سیل آفات سے خراب
    ہوگیا پس اس بیان سے یہ لازم آیا کہ ہریک زبان کے وجود سے پہلے عربی زبان تھی اور خدا نے آدم کو ہی زبان سکھلائی تھی اور اسی کے ساتھ انسان کو کامل کیا گیا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 234
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 234
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/234/mode/1up
    اللغت الاصلیۃ۔ ومسخت الکلمات النورانیۃ۔ و فات النظام الکامل الموزون۔ وضاع الدرّ المکنون۔ وخلف من بعدھم خلف تباعدوا عن
    العربیۃ۔ ومسخوھا وبدلوھا حتی جعلوھا کالالسنۃ الجدیدۃ وما بقی الا قلیل یتکلمون بہا من بعض الاٰدمیّین۔ والاٰخرون حرفوا کلمہا عن مواضعہا وبعّدوا جواھرھا عن معادنہا و اماکنہا فصارت السنۃ جدیدۃ فی
    اعین الغافلین۔ ونضی منہا خلعۃ حللہا النفیسۃ و جعلت عاری الجلدۃ بادی العورۃ تبذء ھا اعین الناظرین۔ فلاجل ذٰلک تراھا ساقطۃ عن النظام والقواعد الطبعیۃ۔ ومتفرقۃ غیر منتظمۃ۔ کخشب الفلا المتباعدۃ
    وتشاھد انہا تاءھۃٌ لا ذرا لہا و لا دار و لا سکک و لا جوار وتری ان مفرداتہا متبدّدۃ لا انساب بینہا وعاریۃ ابدت وصُمتہا وشینھا وذالک بما ضاع النظام و ما بقی القوام ورعتہا الانعام فترٰی کانہا ارض بذیّۃ
    او موماۃ مخوفۃ مجنّۃ تبذء ھا عین المحقّقین۔ و ما حسن الاٰن شانہا
    پھر یہ زبان محرف اور مبدل کی گئی اور وہ نورانی کلمے مسخ کئے گئے اور نظام کامل فوت ہوگیا اور موتی چھپا ہوا ضائع ہوگیا اور
    ناخلف لوگ بعد میں آئے جو عربی سے دور جا پڑے اور عربی زبان کو مسخ کردیا اور بدل ڈالا یہاں تک کہ ان زبانوں کو نئی زبانوں کی طرح کر دیا اور عربی تھوڑی رہ گئی جس کو تھوڑے آدمی زمین
    پر بولتے تھے اور دوسرے لوگوں نے توکل الفاظ عربی کو اس کے مواضع سے بدل ڈالا اور اس کے جواہر کو ان کی معدنوں اور مکانوں سے دور ڈال دیا۔ لہٰذا وہ زبانیں لوگوں کی نظر میں نہیں دکھائی
    دیں۔ اور نفیس پیرایوں کا خلعت ان سے اتارا گیا اور وہ ننگی جلد والی اور کھلی کھلی ننگی کی گئیں جن کو دیکھ کر نظریں کراہت کرتی ہیں اور اسی وجہ سے تو ان زبانوں کو دیکھتا ہے کہ وہ نظام سے
    گری ہوئی اور قواعدہ طبعیہ سے خالی اور متفرق جنگلوں کی لکڑیوں کی طرح غیر منتظم اور ایک دوسری سے دور پڑی ہیں اور تو دیکھتا ہے کہ وہ آوارہ ہیں نہ ان کا کوئی گھر اور نہ ہمسایہ۔ اور تو یہ
    بھی دیکھتا ہے کہ ان کے مفردات اور ان کی نظر میں کوئی نسبت باہم باقی نہیں رہی اور وہ ایسی ننگی ہیں کہ ان کا عیب اور داغ کھل گیا اور یہ اس لئے ہوا کہ نظام ضائع ہوگیا اور قوام باقی نہ رہا اور
    چار پائے بولیوں کو چر گئے اور تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ ایسی زمین ہے جس میں کوئی سبزہ وغیرہ نہیں اور ایسا خوفناک جنگل ہے جس میں جن رہتے ہیں جس سے محققوں کی آنکھیں کراہت کرتی ہیں
    اور اب ان کی
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 235
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 235
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/235/mode/1up
    و ما ابدء صبیانہا۔ ولکن الظالمین یخدعون الجاھلین۔ اضاعت نسبًا متماثلۃ واقدامًا متشابھۃ۔ فصارت کاناسٍ متفرقۃ الاراءِ او اوباش
    مختلفۃ الاھواء متغائرین غیر متحدین۔ فکانّ بعضہا علٰی رباوۃ متخصرًا بھراوۃ وبعضہا فی وھاد ساقطا کجماد و بعضہا فقدت اساریر وجہ التسمیۃ۔ کانہ اغمی علیہا اواخذتہا مرض السکتۃ اوکانت من
    المحقّوین۔ وبعضہا بدا کریہ الشکل کثیر الاختلال کانہ ابدی کالاطفال حتی بذء تہا اعین الناظرین۔ والبعض لفع وجھہ برداءٍ ونکّر شخصہ لحیاءٍ۔ والبعض الاٰخر صبّغ الاطمار ودلّس و اٰری کانہ تطلّس۔ ومنہا
    الفاظ بقیت علٰی صورھا الاصلیۃ۔ و ما غیّر وجہھا۔ حرّ ھواجرالغربۃ۔ وما زلزل اقدامہا اعصار التفرقۃ۔ بل بقی لھا نشرتنم نفحاتہ و ترشد الٰی روض الحق فوحاتہ و تُعرف بتارّج عُرفھا۔ ومناعت غرفہا۔
    وتصبی القلوب کجمیل خدین۔ بید انّہا اخرجت
    من المنازل المقرّرۃ۔ و بعدت من الاوطان الموروثیۃ۔ و بوعدت من الاترابحالت کچھ اچھی نہیں ہوگئی اور ان کے بچوں نے بعد گر جانے کے پھر دانت
    نہیں نکالے مگر ظالم لوگ جاہلوں کو دھوکہ دیتے ہیں بلکہ ان زبانوں نے نسب متماثلہ کو ضائع کر دیا اور ایسا ہی اقدام متشابہ کو بھی پس وہ زبانیں ایسی ہوگئیں جیسا کہ مختلف رایوں کے لوگ ہوتے ہیں
    یا جیسے اوباش جو متفرق آرزوئیں رکھتے ہیں جن کی ایک دوسرے کے مخالف خواہش ہوتی ہے پس گویا بعض ان کے ایک ٹیلے پر ہیں ایک سوٹے کے ساتھ اپنی تہیگاہ کو سہارے دیئے ہوئے اور بعض
    گڑھے میں پڑے ہوئے جیسے بے جان اور بعض وجہ تسمیہ کے نشانوں کو کھو بیٹھے ہیں گویا ان کو غشی پڑی ہے یا سکتہ کی مرض ہوگئی یا پیٹ کی درد نے پکڑا اور بعض بری شکل کے ساتھ ظاہر
    ہوئے اور صورت بگڑ گئی گویا ان کو بچوں کی طرح چیچک نکل آئی یہاں تک کہ دیکھنے والوں نے ان سے کراہت کی۔ اور بعض نے چادر کے ساتھ اپنا منہ لپیٹ لیا اور اپنی ہیئت کو مارے حیا کے بدلا
    لیا اور بعض نے اپنے کپڑے رنگین کر ڈالے اور تدلیس کی اور ظاہر کیا کہ گویا اس نے طیلسان پہنا ہے اور بعض ایسے ہیں جو اپنی اصلی صورتوں پر باقی رہی اور پردیس کی دھوپ اور دوپہر کی
    گرمی نے ان کے چہروں کو متغیر نہیں کیا اور تفرقہ کی سخت ہوا نے ان کے قدموں کو جنبش نہیں دی بلکہ ان کی ایک خوشبو باقی رہ گئی جس کی لہریں پوشیدہ بھید کو ظاہر کر رہی ہیں اور جن کا
    مہکنا حق کے باغ کی خبر دے رہا ہے اور اپنی خوشبو کے مہکنے سے پہچانی جاتی ہیں۔ اور اپنی کھڑکیوں کی بلندی سے دیکھی جاتی ہیں اورخوبصورت انسان کیطرح دل کو کھینچتی ہیں ہاں اتنا ہے
    کہ وہ اپنے منازل مقررہ سے نکالے گئے اوراپنے موروثی وطنوں سے دورکئیگئے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 236
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 236
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/236/mode/1up
    و ھیل علیہا الزواید کھیل التراب واخفیت کالمیّتین۔ بل دُفنت کا لموء ود۔ فما مادھا احد کالودود۔ ثم رُدّ علیہا عھد تذکار الوطن۔
    والحنین الی العطن۔ فاستعدت لتقویض خیام الغیبۃ۔ واسرجت جواد الاوبۃ۔ بعد ما کانت کالامعۃ وکانت کرفاقٍ مستعدّین۔ غیر انّہا کانت محتاجۃ الٰی رجل یؤمّھا فی المسیر۔ و ما کان سبیل من دون استصحاب
    الخفیر۔ فاتیناھا واخذناھا کاخذ الوارث متاع المیراث وبعثناھا من الاجداث بعد ما سمع نعیہا من الزمن النّثاث۔ فھی بعد امدٍ رأَتْ کناسھا۔ و وافت اناسھا۔ ونقلت الٰی قصرھا۔ بعد ما حصلہا الشدائد تحت اَسْرھا۔
    وکانہا کانت کالف یُفقد۔ و یسترجع لہ بعد مناحۃ تُعقد فاخرجناھا کنعش المیت او الغلام الاٰبق من البیت۔ اوکطیب الاعراق۔ اللاحق بالفساق اوالنسیب المھجور من الاقارب۔ او الابن الغائب الھارب۔ اواطفال
    منغمسین۔ فمنہا ما لم یر انثلام حبّۃ فی زمن فُرقۃٍ متطاولۃ وازمنۃ بعیدۃ مخوفۃٍ
    اور اپنے ہم عمروں سے الگ کئے گئے اور ان پر زوائد ڈالے گئے جیسا کہ مٹی ڈالی جاتی ہے اور مردوں کی طرح وہ
    چھپائے گئے بلکہ وہ زندہ درگور انسان کی طرح دفن کئے گئے پس کسی نے دوست کی طرح ان کو کھانا نہ کھلایا پھر ان پر وطن یاد کرنے کا زمانہ رد کیا گیا اور وطن کی محبت پیدا ہوگئی پس وہ
    غربت کے خیموں کو اکھاڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور بازگشت کے گھوڑوں پر زینیں کھینچ لیں بعد اس کے کہ وہ ایک ہرجائی آدمی کی طرح تھے اور ہم سفر یاروں کی طرح مستعد ہوگئے مگر
    صرف اتنی بات تھی کہ وہ ایسے شخص کے محتاج تھے جو راہ میں ان کا پیشوا ہو اور بجز رہبر کے اورکوئی سبیل نہیں تھا پس ہم ان کے پاس پہنچ گئے اور ہم نے انہیں یوں لے لیا جیسا کہ کوئی اپنی
    وراثت کا مال لے لیتا ہے اور ہم نے انہیں قبروں میں سے اٹھایا بعد اس کے جو خبر دینے والے زمانہ نے ان کی موت کی خبر دی۔ پس ایک زمانہ کے بعد انہوں نے اپنا گھر دیکھا اور اپنے لوگوں کو
    ملے اور اپنے محل کی طرف آئے بعد اس کے جو سختیوں نے انہیں اپنی قید میں کر دیا تھا پس گویا وہ اس دوست کی طرح تھے جو مفقود الخبر ہو جائے اور ماتم داری کی مجلس کے بعد اس پر انا للہ
    کہا جائے سو ہم نے انہیں مردے کی لاش کی طرح نکالا یا اس غلام کی طرح پکڑا جو گھر سے بھاگ گیا ہو یا اس شریف نجیب کی طرح ان کو واپس لیا جو بدکاروں سے جا ملا ہو یا اس صاحب نسب کی
    طرح ہم نے ان کو لے لیا جو اپنے عزیزوں سے دور پڑ گیا ہو یا اس بیٹے کی طرح جوگم ہو گیا ہو اور بھاگ گیا ہو یا ان بچوں کی طرح جو ڈوب گئے ہوں سو بعض ان میں سے ایسے ہیں جنہوں نے جدائی
    کے زمانہ میں ایک دانہ کا نقصان نہ اٹھایا اور صحت سلامت کے ساتھ اپنے وطن میں لوٹ آئے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 237
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 237
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/237/mode/1up
    و قفل کما سافر بصحۃ وسلامۃ وصلاح وعافیۃ۔ و منہا ما غیرھا حرالسقام حتی بلغ الٰی الاخترام۔ وصارت کالجنائز۔ بعد ما کانت
    من اھل الجوائز۔ وظہرت بوجہ مسنون بعد ما کانت کدُ رٍّ مکنونٍ و ذھب حُسنھا و بھاءھا و غاب نورھا وضیاءھا۔ وتراء ت کشیخ مسلوب الطاقۃ بعد ما کانت کغید ملیح الرشاقۃ۔ او کظلیع لذیذ السیاقۃ۔
    اوکجمازۃ لا یلحقہا العناء۔ ولا تواھقہا وجناء۔ ولا یخالف ھذا البیان الا الذی جہل الحقیقۃ اومان۔ فلا شک ان الحق ابلج۔ والباطل لجلج۔ وشن علی الباطل عسکر الحق والیقین۔ ھذا شان مفردات العربیۃ و اما
    مرکبا تہا فھی ارفع شانًا عند اھل البصیرۃ۔ فان المسک واللّؤلؤ اذا خُلطا لغرض من الاغراض فلا شک ان ھذا المرکب اشدوا قوی لدفع الامراض وانت تعلم ان مرکبات النبات قد تحدث فیہا کیفیۃ خارقۃ للعادات
    نافعۃ لکثیر من الاٰفات۔ فکیف ترکیب مفردات قد علی شانہا۔ واشرق بُرھانھا
    اور بعض الفاظ ایسے ہیں جن کو بیماری نے متغیر کر دیا یہاں تک کہ بیخ کنی تک نوبت پہنچا دی اور جنازوں کی طرح
    ہوگئے بعد اس کے جو صاحب جود اور کرم تھے اور لمبے سے منہ نکل آئے۔ بعد اس کے جو موتی کی طرح تھے اور ان کی خوبصورتی اور خوبی سب جاتی رہی اور تمام نور گم ہوگیا۔ اور وہ اس
    بڈھے کی طرح نکل آئے جس کی طاقت سب جاتی رہی بعد اس کے جو وہ نازک اندام اور خوش قامت عورتوں کی طرح تھے یا اس گھوڑے کی طرح تھے جس کی مزہ دار چال ہو یا اس تیز رو اونٹنی کی
    طرح جس کو ماندگی کے رنج پہنچ نہ سکے اور اس بیان کا بجز ایسے شخص کے کوئی مخالف نہیں ہوگا۔ جو حقیقت سے بے خبر اور دروغ گو ہو۔ پس کچھ شک نہیں کہ حق روشن ہوگیا اور باطل گم
    ہوگیا اور باطل پر حق اور یقین کا لشکر ٹوٹ پڑا یہ تو عربی کے مفردات کی شان ہے مگر اس کے مرکبات تو اس سے بھی بڑھ کر اہل بصیرت کے نزدیک شان بلند رکھتے ہیں کیونکہ مشک اور موتی جب
    کسی غرض سے ملائے جائیں تو کچھ شک نہیں کہ یہ مرکب دفع امراض کے لئے نہایت قوی ہوگا اور تو جانتا ہے کہ کبھی نباتات کے مرکبات میں کوئی ایسی کیفیت خارق للعادت پیدا ہوتی ہے جو بہت
    سی آفات سے نفع دیتی ہے۔ پھر کیونکر ان مفردات کی ترکیب عجیب و غریب نہ ہو جن کی شان بلند اور جن کی برہان روشن ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 238
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 238
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/238/mode/1up
    و اعجب الخلق لمعانہا فانھا نورٌ علٰی نورٍ۔ ومفتاح لسرّ مستور و اٰیۃ عظیمۃ للمسترشدین والسرّ فی عظمتہ مرکبات العربیۃ انھا
    رکّبت من المفردات المبارکۃ التی توجد فیھا غزارۃ المادۃ۔ والنظام الکامل علی سبیل الحکمۃ۔ فتولد فی مرکبا تھا معانی کثیرۃ بتأثیر المفردات۔ ثم بادخال اللام والتنوینات۔ و بکشحٍ مخصر من لطائف الترتیبات۔
    وامّا لغات اُخرٰی والسنۃ شتّٰی۔ فستعلم عجرھا وبجرھا وسنبدی لک حصاتہا وحجرھا وندعوا الی الحق قومًا منصفین۔ انّہا اَلسنۃ ما اعطی لہا بیان ولا لمعان۔ الا غمغمۃ ودُخان۔ ولذالک اردنا لنظہر علٰی کل
    مستطلع دخیلۃ امرھا وحقیقۃ سرّھا وکسوف قمرھا لتستبین تصلف الکاذبین فان کنتم لا تؤمنون ببراعۃ العربیۃ وعزازتھا۔ ولا تقرون بعظمۃ جمازتھا۔ فارونی فی لسانکم مثل کمالاتھا۔ ومفردات کمفرداتہا۔
    ومرکبات کمرکبا تہا۔ ومعارف کمعارفہا ونکا تہا ان کنتم صٰدقین۔
    اور جن کی چمک نے لوگوں کو تعجب میں ڈال دیا کیونکہ وہ ترکیب نور علیٰ نور ہے اور پوشیدہ بھید کے لئے کنجی ہے اور ہدایت
    طلب کرنے والوں کے لئے نشان بزرگ ہے اور عربی کے مرکبات کا عظیم الشان ہونا اس وجہ سے ہے جو بابرکت مفردات سے ان کی ترکیب ہے وہ مفردات جن میں مواد بکثرت پائے جاتے ہیں اور نیز
    نظام پُر حکمت پایا جاتا ہے لہٰذا ان کے مرکبات میں مفردات کی تاثیر سے بہت سے معانی پیدا ہوتے ہیں۔ پھر بوجہ الف لام اور تنوین اور انواع اقسام کی ترتیب کے نئے نئے معنے نکلتے ہیں مگر
    دوسری زبانیں اور متفرق بولیاں یہ مرتبہ نہیں رکھتیں اور عنقریب تو ان کی حقیقت کو جان لے گا اور ہم عنقریب ان کے سنگریزے اور پتھر تیرے پر ظاہر کر دیں گے تاکہ ہم منصف لوگوں کو حق کی
    طرف بلاویں۔ وہ بولیاں کچھ ایسی بولیاں ہیں کہ ان کو بیان اور چمک نہیں دی گئی مگر ناک میں بولنا اور دھواں سو اس لئے ہم نے ارادہ کیا کہ ہریک جستجو کرنے والے پر ان کی اندرونی حقیقت ظاہر کر
    دیں اور ان کے بھید کی حقیقت کھول دیں اور ان کے قمر کا کسوف بیان کر دیں تاکہ جھوٹوں کی لاف زنی کھل جائے پس اگر تم عربی کی بزرگی اور ارجمندی پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی تیز رو
    اونٹنی کی بزرگی کے تم قائل نہیں ہوتے پس تم اس کے کمالات کا نمونہ اپنی زبان میں مجھے دکھاؤ اور اس کے مفردات کے مقابل پر مفردات اور مرکبات کے مقابل پر مرکبات اور معارف کے مقابل پر
    معارف مجھ کو دکھلاؤ اگر تم سچے ہو ۔
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 239
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 239
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/239/mode/1up
    و لا حیٰوۃ بعد الخزی یا معشر الاعداء۔ فقوموا ان کانت ذرۃ من الحیاء۔ او ابخعوا فی غیابۃ الخوقاء۔ و موتوا کالمتندّمین۔ وان کنتم
    تنھضون للمقابلۃ فانی مجیزکم خمسۃ اٰلاف من الدراھم المروّجۃ بعد ان تکملوا شرائط ھٰذہ الدعوۃ ویشہد حَکمان بالحلف عند الشھادۃ لیتمّ حجّتی عند النحاریر۔ ولا یبق ندحۃ المعاذیر۔ وھذا علیّ غرامۃ لو کنتُ
    من الکاذبین۔ فقومُوا لاخذ ھٰذہ الصلۃ او لحمایۃ لغاتکم الناقصۃ۔ ان کنتم حامین واجمعوا عین شریطتی این تشاء ون۔ ان کنتم ترتابون او تخافون وانی اقبل کلما تطلبون۔ واکتب کلما تستملؤن۔ واُبضع فی کلّ ما
    تسئلون۔ لعلکم تطمئنون بھا ولعلکم تستیقنون۔ وافعل کلما تأمرون لو امرتم منصفین۔ و ما ارید ان اشق علیکم وما کنت من المتترعین۔ وستجدونی انشاء اللّٰہ من المقسطین۔ و انی ارٰی انّ الالسنۃ ستزم والوساوس
    تجذع۔ والحجۃ تتم۔ ویفر الاعداء مشفقینمما
    اور ذلت کے بعد اے مخالفو کیا زندگی ہے پس اگر ذرا بھی حیا ہے تو اٹھو یا کسی گہرے کوئیں میں ڈوب کر ہلاک ہو جاؤ۔ اور شرم زدہ لوگوں کی طرح مر
    جاؤ اور اگر مقابلہ کے لئے اٹھتے ہو تو میں تم کو بطور انعام پانچ ہزار روپیہ دوں گا بشرطیکہ تم موافق شرائط جواب دو اور دو ثالث قَسم کے ساتھ گواہی دیں۔ تا عقلمندوں کے نزدیک میری حجت پوری
    ہو جائے اور کسی عذر کی کوئی گنجائش نہ رہے اور یہ میرے پرتاوان ہے اگر میں کاذب ہوں پس اس انعام کے لینے کے لئے کھڑے ہو جاؤ یا اپنی زبانوں کی حمایت کرنے کے لئے کچھ ہمت کرو اور
    میری شرط کا روپیہ جہاں چاہو جمع کرالو اگر کچھ شک ہو یا ڈرتے ہو اور جو تم طلب کرو میں سب قبول کروں گا اور جو لکھواؤ میں لکھوں گا اور جو تم پوچھو میں جواب شافی دوں گا تا ہو کہ تم مطمئن
    ہو جاؤ اور تا ہو کہ تم یقین کرو اور جو کچھ تم کہو میں کروں گا اگر تم انصاف کے ساتھ حکم کرو۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ مشقت ڈالوں اور میں ان میں سے نہیں ہوں جو بدی کے ساتھ کسی پر
    دوڑتے ہیں اور مجھ کو انشاء اللہ انصاف پسند پاؤ گے اور میں دیکھتا ہوں کہ عنقریب زبانیں بند ہو جائیں گی اور وساوس قید میں ڈالے جائیں گے اور حجت پوری ہو جائے گی اور دشمن ہماری دستاویزوں
    کو دیکھ کر بھاگ جائیں گے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 240
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 240
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/240/mode/1up
    فی ایدینا و مرتعدین۔ و انا لملاقوھم بعون اللّٰہ ذی الجلال ولو فرّوا علٰی لاحقۃ الآطال۔ ثم مفرّوھم مُحجرین۔ ولا مناص لہم ولو نزوا
    فی السکاک۔ الا بعد سواد الوجہ والاحلیلاک۔ و اذا اشرعنا الرمح علٰی العدا۔ و ارینا المدٰی وعبطنا افراس الردا۔ فترٰی انّھم یبدون نواجذھم غیر ضاحکین۔ وما کتبت من عندی ولکن الھمنی ربّی۔ و ایّدنی فی امری۔
    فتاقت نفسی الی ان افض ختم ھذا السر۔ و اُری الخلق ما ارانی ذو الفضل والنصر و انہ ذو الفضل المبین۔
    وحاصل ما کتبنا فی ھذہ المقدمۃ ان العربیۃ اُمّ الاَ لْسنۃ و وحی اللّٰہ ذی المجد والعزّۃ و غیرھا کرشٍّ
    من ھٰذہ المطرۃ القاشرۃ۔ و ما لھا سبدٌ ولا لبدٌ الا من ھٰذہ اللہجۃ۔ وان العربیۃ تقسّم الامور وضعًا کما قسمھا اللّٰہ طبعًا وفی ذٰلک اٰیات للمتوسّمین۔ وانّہا تجری فی کل سکک بھٰذا الاشتراط و تتجافٰی عن الاشتطاط و
    نزھہا اللّٰہ عن ضیق الربع۔ و وسع مربعہا لاضیاف الطبع
    کانپتے ہوئے بھاگیں گے اور ہم بفضلہ تعالیٰ تعاقب کر کے ان کو جا ملیں گے اور ان کو جائے گریز نہیں اگرچہ وہ پتلی کمر والے گھوڑوں پر
    دوڑے ہوں پھر ہم زور دیں گے تاوہ بھاگیں یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے سوراخ میں جا گھسیں اور جب ہم نے نیزہ کو دشمنوں پر ہلایا اور کار دیں دکھلائیں اور موت کے گھوڑوں کو سرپٹ دوڑ ایا پس تو
    انہیں دیکھے گا کہ بغیر ہنسنے کے دانت نکال رہے ہیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھا بلکہ میرے خدا نے مجھے الہام کیا اور میرے امر میں مجھے تائید کی پس میرے نفس نے خواہش کی کہ
    میں اس بھید کی مہر کھولوں اور لوگوں کو وہ معارف دکھلاؤں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دکھلائے اور وہ صاحب فضل مبین کا ہے۔
    اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ عربی اُمّ
    الالسنہ ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی ہے جو صاحب مجد اور عزت ہے اور دوسری زبانیں اس بزرگ مینہ میں سے چند قطرے ہیں اور ان کا قلیل و کثیر تمام اسی زبان میں سے ہے اور عربی زبان وضع
    کی رو سے امور کو ایسے طور سے تقسیم کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں طبعی تقسیم کی ہے اور اس میں فراست والوں کے لئے نشان ہے اور وہ ہریک کوچہ میں اسی شرط سے چلتی ہے اور
    تجاوز سے پرہیز کرتی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو گھر کے تنگ ہونے سے پاک کر دیا ہے اور اس کے گھر کو طبع کے مہمانوں کے لئے وسیع کر دیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 241
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 241
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/241/mode/1up
    فدعت ضیوف الفطرۃ الی القُرٰی۔ و مطائب ما تُشتہٰی۔ واثبتت انھا من المتمولین المُعطِین۔ فلا تمل الٰی زبون۔ و لا تُغض علی صفقۃٍ
    مغبون اتستبدل الذی ھو ادنٰی بالذی ھو خیر فافکر ساعۃ یا عار العیر۔ واطلب سبل الموفقین۔ واعلم انّہا خفیر الی العلوم النخب من غیر الوجٰی والتعب۔ فمن قصدھا فقد ذھب الی الذھب ومن باعدھا بالھجر۔ فقد
    رضی بایثار الھجر وھوی فی ھوۃ السافلین۔ وانّہا غانیۃ زیّنت نفسہا بکمال النظام۔ وتجلّت بالحسن التام ولکل سائل قامت بالاجابۃ حتی ثبتت ثروتہا۔ وانجابت غشاوۃ الاسترابۃ واعتقبت دواعی الطبع۔ ووسعت
    لھافناء الربع۔ وحلّت بکل ماحل تقسیم طبعیٌّ بل حملہ کما یحمل اوزارًا مھری۔ وطابقت حتی اعجبت الناظرین۔ فھی شجرۃ مبارکۃ اغصانہا کالبرید۔ واصولہا کالوصید۔ وموادھا کالیقطین۔ وانا لا نسلم ان کمال
    نظامہا یوجد فی غیرھا۔ او یبلغہا لسان فی سیرھا۔ نعم نسلم ان کل
    پس اس نے نیچرل مہمانوں کو دعوت کے لئے بلایا اور عمدہ اور قابل رغبت کھانے تیار کر کے ان کو مدعو کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ
    مالداروں اور دینے والوں میں سے ہے پس تو کسی مغلوب کی طرف میل مت کر اور خسارہ کی بیع پر چشم پوشی مت کر کیا تو اچھی اور بہتر کو چھوڑ کر ادنیٰ کو اختیار کر لے گا پس کچھ تھوڑی دیر
    فکر کر اے گدھے کی جائے ننگ اور توفیق یافتہ لوگوں کی راہ ڈھونڈ اور جان کہ وہ برگزیدہ علوم کی طرف رہنما ہے بغیر اس کے کہ کچھ ماندگی اور فرسودگی پیش آوے پس جس نے اس کا قصد کیا وہ
    سونے کی طرف گیا اور جو شخص جدا ہونے کے ساتھ اس سے دور ہوگیا۔ وہ بے ہودہ گوئی پر راضی ہو گیااور نیچے رہنے والوں کے گڑھے میں گر گیا۔ اور عربی اپنے جمال کے ساتھ غیر کی حاجت
    سے لاپرواہ ہے اور کمال نظام کے ساتھ اپنے نفس کو اس نے آراستہ کیا ہے اور حسن تام کے ساتھ اس نے تجلی فرمائی ہے اور ہریک سائل کا سوال قبول کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ اس
    کی دولتمندی ثابت ہوگئی اور شک دور ہوگیا اور وہ فطرت اور نیچر کے اسباب کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے اور ان کے لئے اپنے گھر کو بہت وسیع بنا رکھا ہے اور وہ ہریک ایسی جگہ میں اترے
    جہاں تقسیم طبعی اتری بلکہ اس کو ایسے اٹھا لیا جیسے اونٹ بوجھ کو اٹھاتا ہے اور اس سے ایسی مطابق آگئی کہ دیکھنے والے کو تعجب میں ڈالا پس وہ ایسا درخت ہے جس کی شاخیں بال مرتب کی
    طرح ہیں اور اس کے اصول اس بوٹے کی طرح ہیں جس کی جڑ ہیں آپس میں ملی ہوئی ہوں اور ہم اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کہ اس کے نظام کا کمال اس کے غیر میں بھی پایا جاتا یا اس کے سیر
    میں کوئی زبان اس کے برابر ہے ہاں ہم اس قدر قبول کرتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 242
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 242
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/242/mode/1up
    لغت من اللغات۔ تشتمل علی قدر من المفردات لکنّہا ناقصۃ کالبیوت المنھدمۃ الخربۃ او کالقفۃ التی یئس اھلہا من الزھر و الثمرۃ۔
    و لا ترٰی دھوم المفردات فی تلک الالسن المحارفۃ المقلوبۃ الّا قلیلا غیر کافٍ للمہمات المطلوبۃ۔ وانت سمعت انہا کانت عربیۃ فی اوائل الازمنۃ۔ ثم مسخت فبدت باقبح الصورۃ۔ فلذٰلک تراھا مُنْتنۃً کالجیفۃ۔
    وخاوی الوفاض کاھل الذل والھزیمۃ۔ وتجد انہا السنۃ بادیۃ الذلۃ۔ لیس بیدھا غزارۃ المادۃ۔ ولا دولۃ الاشتقاق ووجہ التسمیۃ و لصقت الفاظہا بمعانیہا کقتین۔ وانہا بتلادھا لا توفی النظام۔ ولا تکمل الکلام وما
    کان لاھلہا ان یکتبوا بھا قصّۃً۔ او یملوا حکایۃً مبسوطۃ بحیث ان تواغد القصص نظام المفردات وتقابل التقسیم الطبعی فی جمیع الخطوات و انّ ھذا حق ولیس من الترھات
    و لاجلہ کتبنا فی العربیۃ ھذہ
    العبارات۔ و قدمنا ھذہ المقدمۃ کالکماۃ۔
    ہریک زبان زبانوں میں سے کسی قدر مفردات پر مشتمل ہے۔ مگر وہ زبانیں خراب شدہ اور مسمار شدہ گھروں کی طرح ناقص ہیں یا وہ ایسی ہیں جیسے ایک بوسیدہ
    اور خشک درخت جس کا مالک اس کے پھل اور پھول سے ناامید ہو چکا اور تو مفردات کی کثرت کو ان نامبارک زبانوں میں نہیں پائے گا۔ مگر کچھ تھوڑا سا جو مہمات مطلوبہ کے لئے غیر کافی ہے اور
    تو سن چکا ہے کہ وہ زبانیں ابتداء زمانہ میں عربی تھیں پھر مسخ ہوکر ایک نہایت بُری صورت میں ظاہر ہوئیں سو اسی وجہ سے تو ان کو مردار کی طرح بدبودار پاتا ہے اور ان کے ترکش کو شکست
    یافتہ لوگوں کی طرح خالی دیکھتا ہے اور تو ان زبانوں کو کھلی کھلی ذلت میں پاتا ہے ان کے ہاتھ میں مواد لغات کا کوئی بھاری ذخیرہ نہیں اور نہ اشتقاق کی دولت اور وجہ تسمیہ ان کے پاس ہے اور
    ان کے الفاظ اُن کے معانی کو ایسے چمٹے ہیں جیسے چچڑی یعنی معانی کا خون پیتے ہیں اور ان کو بے رونق اور کمزور کرتے ہیں اور اپنے گھر کے سرمایہ کے ساتھ جو وراثت سے اس کو ملا ہے۔
    کسی قصہ کے نظام کو پورا نہیں کرسکتے اور کسی کلام کو کامل نہیں بنا سکتے اور ان کے اہل کو یہ طاقت نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی قصہ لکھیں یا کوئی مفصل حکایت تحریر میں لاوے اس طرح پر
    کہ مفردات کا نظام قصوں کے ساتھ دوش بدوش چلا جائے اور ہریک قدم میں طبعی تقسیم کے مقابل پڑے اور یہ بیان حق ہے واہیات باتوں میں سے نہیں ہے اور اس کیلئے ہم نے ان عبارتوں کو عربی میں
    لکھا ہے اور اس مقدمہ کو بہادر سپاہیوں کی طرح آگے کیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 243
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 243
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/243/mode/1up
    لنقطع عرق الخصومات۔ و لعل العدا یتفکرون فی حللہا۔ اوییأتون بألسنہا من مثلہا ان کانوا صادقین۔ وقد سمعتم ان مفرداتہا تواضخ
    نقوش تقسیم الفطرۃ۔ وتعطی کلما أعطی عند التقاسیم الطبعیۃ۔ و تصنع کل لفظ فی المواضع التی طلبتہا الضرورۃ الداعیۃ او اقتضتہا الصفات الإلٰھیۃ ولا تمشی کالتّاءھین۔ و ترٰی فروق الکلمات کما ارت
    فروقہا دواعی الضرورات۔ وتظھر فی نظام المفردات کلما اظہر القسّام فی مرأۃ الواقعات۔ فکذٰلک نطلب من المخاصمین۔ وما قلنا ھذا القول کصفیر اللاعبین۔ بل ارینا کلہا کالمحققین۔ واثبتنا ان العربیۃ قد وقعت
    کرجل رحیب الباع خصیب الرباع متناسبۃ الاعضاء موزون الطباع۔ مطّلعۃ علٰی ذات صدر الفطرۃ۔ وحامل فوائد ھا کالمطیّۃ فانکنتم من خیل ھٰذا المیدان۔ او للسانکم کمثلہا یدان۔ فاتوا بھا یامعشر اھل العدوان
    وحزب المتعصبین۔ و ان لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوااللّٰہ الذی
    تاہم جھگڑوں کی جڑ کاٹ دیں تاکہ ہمارے مخالف ان عبارتوں کے پیرایوں میں غور کریں یا اگر سچے ہیں تو اپنی اپنی زبانوں میں ان
    عبارتوں کی نظیر پیش کریں۔ اور تم سن چکے ہو کہ عربی کے مفردات فطرتی تقسیم کے دوش بدوش چلے جاتے ہیں اور جو کچھ طبعی تقسیم نے دیا وہ سب مال دیتے ہیں اور ہرایک لفظ کو ایسے موقعہ
    پر رکھتے ہیں جس کو پیش آمدہ ضرورت نے طلب کیا ہے یا صفات الٰہیہ نے اس کو چاہا ہے۔ اور آوارہ گرد لوگوں کی طرح نہیں چلتے اور کلمات کے فرقوں کو وہ ایسے دکھاتے ہیں جیسا کہ
    ضرورتوں کے وجوہ نے ان کو دکھایا ہے اور مفردات کے نظام میں وہ تمام باتیں ظاہر کرتے ہیں جو قسّام ازل نے واقعات کے آئینہ میں ظاہر کی ہیں پس انہیں باتوں کی نظیر ہم مخالفوں سے مانگتے ہیں
    اور ہم نے اس قول کو کھیلنے والوں کی سیٹی کی طرح نہیں کہا بلکہ ہم نے اس کو محققوں کی طرح دکھلایا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ عربی اس مرد کی طرح ہے جو فراخ دست اور کثیر المال ہو اور
    نیز متناسب الاعضاء اور موزوں الطبع ہو۔ عربی زبان فطرت کے اسرار پر مطلع ہے اور اس کے یکتا موتیوں کے لئے یہ سواری کی طرح ہے پس اگر تم اس میدان کے سوار ہو یا تمہاری زبان کو اس
    کے موافق طاقت ہے پس اے ظالم لوگو اپنے زبانوں کو پیش کرو اور اگر تم نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے سو اس خدا سے ڈرو
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 244
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 244
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/244/mode/1up
    یخزی الکاذبین۔
    والاٰن نکشف علیکم سرفروق الکلمات لعل اللّٰہ یھدیکم الٰی طرق الصواب والثبات۔ او تکونون من المتفکرین۔
    فاعلموا ان فروق الکلمات تتبع فروقا توجد فی الکائنات۔ وکذالک قضٰی احسن الخالقین۔ وامّا الفروق التی توجد فی خلقۃ الکائنات۔ وتترایٰ فی صحف الفطرۃ کالبدیھیات فنکشف علیک نموذجًا منہا فی خلقۃ الانسان
    لعلک تفہم الحقیقۃ کذوی العرفان او تکون من الطالبین۔ فانظر ان الانسان اذا قُلِّب فی مراتب الخلقۃ۔ و اُخرح الٰی حیز الفعل من القوۃ۔ واعطی صورًا فی المجالی الطبعیّۃ وقفّا بعضہا بعضًا بالتمایز والتفرقۃ۔
    فجمعت ھٰہنا مدارج تقتضی لانفسہا الاسماء فاعطتہا العربیۃ و اکملت العطاء۔ کالاسخیاء المتموّلین۔ وتفصیلہ ان اللّٰہ اذا اراد خلق الانسان۔ فبدء خلقہ من سلالۃ طین مطہر من الادران فلذٰلک
    جو جھوٹوں
    کو ذلیل کرتا ہے ۔
    اور اب ہم تم پر کلموں کے فرقوں کا بھید کھولتے ہیں تا شاید خدا تعالیٰ تمہیں راست روی اور ثابت قدمی کی راہ دکھاوے یا تم سوچنے والے بن جاؤ۔ پس اب جان لو کہ کلموں کے
    فرق ان فرقوں کے تابع ہیں جو کائنات میں پائے جاتے ہیں اور اسی طرح احسن الخالقین نے ارادہ فرمایا ہے۔ مگر وہ فرق جو کائنات کی پیدائش میں پائے جاتے ہیں اور فطرت کے صحیفوں میں بدیہیات
    کی طرح نظر آتے ہیں پس ہم تیرے پر ان کا ایک نمونہ انسان کی پیدائش کے بارے میں کھولتے ہیں تا تو اس کو اہل عرفان کی طرح سمجھ جائے یا تو طالبوں میں سے ہو جائے پس تو دیکھ کہ جب انسان
    پیدائش کے مراتب میں پھیرا گیا اور حیز فعل سے قوت کی طرف لایا گیا اور طبعی جلوہ گاہوں میں قسم قسم کی صورتیں دیا گیا اور بعض قسم پیدائش بعض کے پیچھے آئیں اور ان میں باہم تفرقہ اور تمیز
    ہوا پس اس جگہ کئی مدارج پیدا ہوئے جو اپنے لئے ناموں کو چاہتے تھے پس عربی نے ان کو ان کے نام عطا کئے اور اپنے عطیہ کو کامل کیا جیسے سخی اور مالدار لوگوں کا کام ہوتا ہے اور اس کی
    تفصیل یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنا چاہا تو اس کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام قویٰ کا عطر تھا اور میلوں سے پاک تھا
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 245
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 245
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/245/mode/1up
    سمّاہ اٰدم عند الخطاب و فی الکتاب لما خلقہ من التراب و لما جمع فیہ فضائل العالمین۔ وکذٰلک خمر فی طینہ اُنسانِ۔ اُنس ما خُلق منہ
    وانس الخالق الرحمان کما یوجد اُنس الاُ ّ م والاب فی الصبیان۔ فدعاہ باسم الانسان۔ وھذا مبنیٌّ علی التثنیۃ من المنان۔ لیدل لفظ الانسین علٰی کلتی الصفتین الی انقطاع الزمان ویکون من المتذکّرین۔ ثم بدل قانون
    القدرۃ باذن اللّٰہ ذی العزّۃ والحکمۃ وخلق الانسان بعد تغیرات فی اَرْحامِ اُمّھاتٍ۔ فسمی التغیّر الاُ وْلٰی ماءً دافقًا و نُطْفۃ۔ والثّانی الذی یزداد فیہ اثر الحیات علقۃ والثالث الذی زاد الی قدر المضغ شدۃ وضاھا فی
    قدرہ لقمۃ فسمی لہذا مضغۃ والرابع الذی زاد من قدر اللقمۃ۔ و مع ذٰلک بلغ الٰی مُنتہی الصلابۃ و اَودعہا اللّٰہ حِکمًا عظیمۃ خلقۃ ونظامًا فسمّاھا عظاما بما بلغت العظمۃ و زادت شرفًا وکما ومقامًا و بما رکب
    بعضہا بالعظام من رب العالمین۔ والخامس اللحم الذی
    اس کا نام خطاب اور کتاب میں آدم رکھا اس لئے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا اور سارے جہان کی خوبیاں اس میں بھر دیں اور نیز اس کی طینت میں
    دو اُنس رکھ دیئے ایک تو اُسی شے کا اُنس جس سے وہ مخلوق ہوا دوسرا خالق رحمان کا اُنس جیسے بچوں میں ماں باپ کا اُنس پایا جاتا ہے اس لئے اس کا نام انسان رکھا۔ یہ اسم تثنیہ ہے تاکہ ہمیشہ
    کے لئے ان دو اُنسوں کا لفظ ان دو صفتوں کو بتاتا رہے پھر خدا تعالیٰ کے ارادہ سے قانون قدرت میں یوں تبدیلی واقع ہوئی کہ کئی تغیرات کے بعد ماؤں کے رحموں کے معرفت اس کی آفرینش ہونے لگی
    سو پہلے تغیر کا نام ماء دافق اور نطفہ رکھا۔اور دوسرے کا نام جس میں زندگی کا نشان ترقی کرتا ہے علقہ رکھا اور تیسرے کا نام جو درشتی میں ایک لقمہ کے اندازہ کی مانند ہوا مضغہ رکھا اور
    چوتھا تغیر جو صلابت اور قدر میں لقمہ سے ترقی کر گیا اور بڑی بڑی حکمتوں پر اس کا نظام خلقت مشتمل ہوا وہ عظام کے نام سے موسوم ہوا اس لئے وہ عظمت اور شرف اور قدر و مقام میں انتہا کو
    پہنچ گیا اور اس لئے بھی کہ ہڈیوں سے اس کے بعض حصے ترکیب پذیر ہوئے اور پانچویں کا نام لحم ہوا اس لئے کہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 246
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 246
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/246/mode/1up
    زاد علیہا کالحُلّۃ و صار سبب کمال الحسن والزینۃ فسمی لحمًا بما لُوْحِم بالعظام الصلبۃ وصاربھا کذوی اللحمۃ والسادس خلق اٰخر
    و سمی نفسًا لنفاستھا ولطافتہا و سرائتہا فی الاعضاء وعزّتھا۔ وسمی جمیعہا باسم الجنین۔ فَتبارک اللّٰہ اَحْسَنُ الخالقین۔ ثم اذا خرج الجنین من بطن الاُمّۃ۔ و تولّد باذن اللّٰہ ذی القدرۃ فسمی ولیدا فی ھذہ اللہجۃ۔
    ثم اذا صبا الٰی ثدی الاُ مّ للرضاع فسمی صبیّا و رضیعا الی مُدی الارضاع۔ ثم بعد الفطام سمی فطیما وقطیعا فی ھذا اللسان ثم اذا دبّ و نما و ارٰی اکثر اٰثار الحیوان فسمی دارجًا فی ذٰلک الزمان ثم اذا بلغ طولہ
    اربعۃ اشبار فھو رباعی عند اولی الابصار۔ واذا بلغ خمسۃ فھو خماسی۔ واذا سقطت رواضعہ فھو مثغور عند العرب۔ واذا نبتت بعد السقوط فھو ومثغر عند ذوی الادب۔ واذا تجاوز عشر سنین فھو مترعرع عند
    العربیین۔ واذا شارف الاحتلام وکرب الماء لیمطر الجہام فھو یافع ومراھق قد بلغ البلوغ التام۔ واذا احتلملحمعربی میں ایک چیز کے پیوند اور لحوق کو کہتے ہیں جب وہ چیز دوسرے سے ملتی اور پیوند
    کرتی ہے سو گوشت کپڑا کی طرح باقی جسم پر ملتا ہے اور نیز اس لئے بھی کہ گوشت سخت ہڈیوں سے ملتا ہے اور ان کو باہم ملاتا ہے اور خویشی
    قرابت ان میں بخشتا ہے اور چھٹے کو خلق
    آخر کہا اور اسے کمال نفاست اور اعضاء میں سرایت کرنے کے سبب سے نفس بھی کہا اور پھر اس سارے مجموعہ کا نام جنین ہوا پھر جنین جب ماں کے پیٹ سے نکلا تو اس کا نام ولید ہوا پھر جب
    دودھ پینے کو پستان مادر کی طرف جھکا تو صبی نام ہوا اور ایّام شیر خوارگی تک رضیع
    نام ہوا پھر دودھ چھڑانے کے بعد فطیمو قطیع ہوا پھر ذرا نشوونما کے بعد دارج پھر جو چار بالشت کا ہوا تو
    رباعی اور جو پانچ کا ہوا تو خماسی اور جب دودھ کے دانت جھڑ گئے تو مثغور اور جو پھر اُگے تو مثغر اور جو دس برس کا ہوا تو مترعرع اور جو احتلام کے قریب پہنچا تو یافع اور مراہق اور
    جب
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 247
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 247
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/247/mode/1up
    واجتمعت قوتہ وکملت طاقتہ فھو حَزْوَرٌ۔ ثم من الثلٰثین الی الاربعین شاب ففرح مسرور۔ ثم بعد ذٰلک کھل الی ان یستوفی الستین۔ ثم بعد
    ذلک شیخ ثم خرف مفند ومن المستضعفین۔ وکذالک بازاءِ کل حصۃ عمر اسم علحدۃ فی عربی مبین واذا مات فھو المتوفی الذی یختصم فی لفظہ حزب الجاھلین۔ وکذلک کلما تحقق فی الانسان طبعا یوجد فی
    العربیۃ وضعًا و کلما ترٰی فی الحس والعیان تجد بازاۂ لفظًا فی ھذا اللسان و لا تجد نظیرہ فی العالمین۔ و أیُّ حجّۃٍ اکبر من ھٰذا لو کنتم مُبْصرین۔ فتامل تامل المنتقد۔ وا نظر بالمصباح المتقد ۔ واحلل محل
    المستبصرین۔ و ان کنت تقترح ان تسمع منی فی اشتراک
    الالسنۃ فکفاک لفظ الاُمّ والاُمّۃ۔ فان ھذا لفظ تشارک فیہ اللسان الھندیۃ والعربیۃ۔ و کذٰلک
    اللسان الفارسیۃ والانکلیزیۃ۔ بل کلہا کما تشہد
    التجربۃ الصحیحۃ فانظر کالمنقد ین و قد ظہر من وجہ التسمیۃ۔ ان ھذا اللفظ دخل فی الالسن الا عجمیۃ من العربیۃ فان التسمیۃ بحقیقۃ لا تُوجد الَّا فی ھٰذا اللسان۔ و اما غیرہ فلا یخلوا من التصنع فی البیان۔
    فان من شان التسمیۃ
    پوری طاقت اور کمال جوانی کو پہنچا تو حزور پھر تیس سے چالیس تک شباب پھر ساٹھ برس تک سہل پھر شیخ پھر خرف اسی طرح ہریک حصہ عمر کے لئے عربی زبان میں الگ
    الگ نام ہے اور جب مرا تو متوفی نام ہوا اور یہ وہی لفظ ہے جس میں نادانوں کا گروہ اب تک جھگڑ رہا ہے اسی منوال پر انسان کی ہر طبعی حالت کیلئے عربی میں ایک لفظ موضوع ہوگا اور ہریک مشہود
    و محسوس کے لئے اس میں ایک لفظ ضرور ہے جس کی دوسری زبانوں میں نظیر نہیں اور جب اس کی نظیر کہیں نہیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا حجت ہوسکتی ہے دانشمندی کے چراغ لے کر ڈھونڈو
    اور غور کرو اور اگر اشتراک السنہ کی مثال پوچھنا چاہو تو لفظ ام اور امہ کافی ہے یہ لفظ ہندی عربی فارسی انگریزی بلکہ سب زبانوں میں مشترک ہے اور تجربہ اس پر گواہ ہے اور وجہ تسمیہ بتاتی
    ہے کہ یہ لفظ عربی زبان سے عجمی بولیوں میں گیا کیونکہ حقیقی وجہ تسمیہ اسی زبان میں ہے اور اوروں میں بناوٹ اور تکلف ہے کیونکہ حقیقی وجہ تسمیہ
    Ruhani Khazain Volume 9. Page: 248
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۹- منن الرّحمٰن: صفحہ 248
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=9#page/248/mode/1up
    الحقیقیۃ التی ھی من حضرۃ العزۃ۔ ان لا تنفک بزمن من الازمنۃ الثٰلثۃ وتکون للمسمی کالعرض اللازم و ان تجایؤہ فی ھذہ النشأۃ ولا
    یفرض فرض فارض کونہا فی وقت من الامور المنفکۃ و لا تکون کالامور المستحدثۃ المصنوعۃ و لا توجد فیہا ریح التصنعات الانسیّۃ و یقرّ من استشف جوھرھا بانہا من رب العالمین۔ فخذ بیدیک ھٰذا المیزان۔
    ثم اعرف بھا من صدق ومان۔ ولا تتبع سبل المفترین۔ وھٰذا اٰخر ما ارد نا من ایراد المقدمۃ۔ و کتبناھا لِاراۃ النظام فی الرسالۃ و قد وعیتَ ما قصصنا علیک من الادلّۃ۔ ففکّر فیھا واجتن ثمرۃ البراعۃ۔ واحکم بما
    اراک اللّٰہ و لا تکن کالمتجاھلین۔ و لا یختلج فی قلبک ان العربیۃ قد حقرت فی اعین سُکّانِ ھٰذہ البلاد۔ وان جواھرھا قد رمیت بالکساد فان ھذا من فساد اھل الزمان وان قصوی بغیتھم طلب الصریف والعقیان
    وحُمادیٰ ھمتہم ھوی الموائد والجفان وانہم من المفتونین وانی لما اردت ان انضد جواھر الکلام واسلکہا فی سمط الانتظام۔ القی فی روعی ان اکتبہا فی ھٰذہ اللھجۃ۔ و لا اخفی بروقہا فی البُرقۃ الھندیۃ۔ وأسرح
    النواظر فی النواضر الاصلیۃ
    کی شان یہ ہے کہ کسی زمانہ میں بھی وہ مسمّٰی سے الگ نہ ہو اور کبھی بھی کوئی اس سے اس کو الگ نہ کر سکے اور انسانی تصنع کی بُو بھی اس میں نہ پائی جائے
    اور دیکھنے سننے والا اس کی نسبت پکار اٹھے کہ لاریب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میزان سے سچ اور جھوٹ کو وزن کرو اور مفتری کی راہ نہ چلو بس یہی ہے جو اس مقدمہ میں ہم نے
    لکھنا چاہا اور نظام کے دکھانے کو ہم نے یہ سب قلم بند کیا تم سب کچھ سن ہی چکے ہو اب اس سے فائدہ اٹھاؤ اور خدا سے بصیرت مانگو اور اسی کے ساتھ فیصلہ کرو اور اگر عربی زبان کی اس ملک
    کے لوگوں نے قدر نہیں کی۔ تو اس کی کیا پروا ہے اس لئے کہ ان بگڑی طبیعت کے لوگوں کا قبلہ ہمت بجز چاندی سونے اور کھانے پینے کے برتنوں کے اور کچھ نہیں جب میں نے ان موتیوں کو انتظام
    کے سلک میں منسلک کرنا چاہا تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ عربی زبان میں ہی انہیں منضبط کروں اور زبان ہندی میں لکھ کر ان کی آب و تاب کو تباہ نہ کروں اور میں نے چاہا کہ آنکھوں کے مویشی کے
    لئے اصلی چراگاہ پیش کروں جو عربی ہے۔
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں