1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 8 ۔نور الحق ۔حصہ اول۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 27, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 8۔ نورالحق۔ حصہ اول۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ٹائٹل پیج بار اوّل
    یاھل الکتاب تعالوا الٰی کلمۃ سوآءٍ بیننا وبینکم الا تعبدوا الا اللّٰہ۔
    الحمد للّٰہ الموفق انی کتبت ھذہ الرسالۃ
    والصحیفۃ العاجلۃ لعلاج مرض
    المتنصرین الذی امتدّ مداہ و عرقتھم مُداہ واکلتھم نار انکار الفرقان۔ والصول
    علٰی کتاب اللّٰہ القرآن۔ فاردنا ان ننجیھم من مخلب الحمام۔ ونریھم سوء داء ھم ونہدیھم
    الی دواء السقام۔ فالّفنا ھذا الکتاب مع انعام کثیر لمن اجاب۔ وھو خمسۃ
    اٰلافٍ من الدراھم لکل من اتی بمثلہ واری العجائب۔ وھو بفضل اللّٰہ حسن
    وطیب والطف وادق۔ وسمیتہ الحصۃ الاولٰی من
    نور
    الحقّ
    ’’عسٰی ربّکم ان یرحمکم
    وان عدتم عدنا وجعلنا جہنم
    للکافرین حصیرا ان ھذا القراٰن
    یھدی للتی ھی اقوم ویبشر المؤمنین
    الذین یعملون الصالحات انّ لھم
    اجرًا کبیرًا۔‘‘
    قد طبع
    فی المطبع المصطفائی پریس فی لاھور ۱۳۱۱ ؁ ہجری
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    طوؔ بٰی للذی قام لإعلاء کلمۃ الدین و نہَض یستقری طرق مرضاۃ اللّٰہ النصیر المعین
    الحمد للّٰہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام
    علٰی سیّدِ رسلہ وصفوۃِ أحبّتہ وخِیرتہ مِن خَلقہ ومِن کل ما ذرَأ وبرَأ، وخاتَمِ أنبیاۂ، وفخرِ أولیاۂ، سیّدِنا وإمامنا ونبیِّنا محمد نِ المصطفی الذی ہو شمس اللّٰہ لتنویر قلوب أہل الأرضین، وآلِہ وصحبہ وکلِّ من آمن
    واعتصم بحبل اللّٰہ واتقی، وجمیع عباد اللّٰہ الصالحین۔ أما بعد فاعلموا أیہا الإخوان، بارک اللّٰہ فیکم ولکم وعلیکم، أن فساد زماننا ہذا قد بلغ إلی النہایۃ، وسوّد الشرک والفسق والارتداد وجوہَ کثیر من الناس،
    وانتابت الفتن المبیدۃ والبدعات المُسْحِتۃ، ولم تَخْلُ تَتابعُ إلی أن أدرکَ عَطَبُ الضلالۃ الذین کانوا سفہاءً ا بادیَ الرأی
    مبارک وہ جو دین کی مدد کے لئے کھڑا ہو گیا اور ربانی رضا مندی کی راہوں کو
    ڈھونڈھتا ہوا اٹھا۔
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    تمام تعریفیں خدا کے لئے ثابت ہیں جو تمام عالموں کا پروردگار ہے اور درود اور سلام اس کے نبیوں کے سردار پر
    جو اس کے دوستوں میں سے
    برگزیدہ اور اس کی مخلوق اور ہریک پیدائش میں سے پسندیدہ اور خاتم الانبیاء اور فخر اولیاء ہے
    ہمارا سید ہمارا امام ہمارا نبی محمد مصطفی جو زمین کے باشندوں کے دل روشن کرنے کے لئے خدا
    کا آفتاب ہے اور سلام اور
    درود اس کی آل اور اس کے اصحاب اور ہریک پر جو مومن اور حبل اللہ سے پنجہ مارنے والا اور متقی ہو اور ایسا ہی خدا کے
    تمام نیک بندوں پر سلام۔ بعد اس کے اے
    بھائیو خدا تم میں اور تمہارے لئے اور تم پر برکت نازل کرے
    تمہیں معلوم ہو کہ ہمارے اس زمانہ کا فساد انتہا تک پہنچ گیا اور شرک اور بدکاریوں اور بے ایمانیوں نے بہتوں کے
    منہ کو سیاہ کر
    دیا ہے اور ان ہلاک کرنے والے فتنے اور بیخ کنی کرنے والی بدعتیں یکے بعداز دیگر ے ظاہر
    ہو رہی ہیں ان کا پے در پے آنا کم نہ ہوا یہاں تک کہ ان لوگوں کو موت نے گھیر لیا جو احمق اور موٹی
    عقل والے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    وکانوا من تعالیم اللّٰہ غافلین۔ وأنتم ترون العواصف التی ہبت فی ہذہ الأیام، والشرور التی ہاجت وماجت منؔ کلّ طرف وصُبّت کوابلٍ
    علی الإسلام، حتی حل کلَّ قلب حُبُّ الدنیا وشہواتہا، إلا الّذی عصمہ رحم اللّٰہ، فانثنی بفضل منہ ورحمہ وکان من المحفوظین۔ وترون کیف ذہبت ریح عامۃ المسلمین وتفرّقوا، وانتشروا انتشار الجراد،
    واستنّت نفوسہم الأمّارۃ استنانَ الجِیاد، وترکوا سِیَرَ المتقین المتواضعین۔ ہذہ أحوال العامۃ، وأما حال علماء ہذہ الدیار فہو شرٌّ من ذٰلک، ما بقِی لأکثرہم شغل من غیر أن یُکذّبوا صدوقًا، أو یُکفّروا مؤمنًا، ولیس
    معہم من العلم إلا کنُغْبۃِ طیرٍ أصغرِ الطیور أو أقلّ منہا، ولکن الکبر أکبرُ مِن کِبر الشیاطین۔ یُعلُون أنفسہم بغیر حق، ومن کان تبوّأَ ذروۃً فی الفضل والعلم فہو لیس فی أعینہم إلا جاہِلٌ غَبِی
    اور الٰہی تعلیموں
    سے غافل تھے۔ اور تم دیکھ رہے ہو کہ ان دنوں میں کیسی تیز آندھیاں چل رہی
    ہیں اور کیسی ہریک طرف سے شرارتیں برانگیختہ اور موجزن ہوکر بارش کی طرح اسلام پر گر رہی ہیں
    یہاں تک کہ
    ہریک دل میں دنیا کی محبت اور دنیا کی شہوات گھر کر گئیں اور ان سے
    کوئی نہیں بچ سکا بجز اس کے جس کو خدا کے رحم نے بچا لیا جس پر رحم ہوا وہ فضل اور رحم الٰہی کے ساتھ ان تمام
    بلاؤں سے
    باہر نکل آیا اور بچ گیا۔ اور تم دیکھ رہے ہو کہ کیسی عام لوگوں کی ہوا نکل گئی اور ان میں نااتفاقی اور تفرقہ پیدا ہوگیا اور
    وہ ٹڈیوں کی طرح الگ الگ جا پڑے اور ان کے بیراہ نفسوں
    نے خود رو گھوڑوں کی طرح توسنے شروع کئے اور پرہیز گاروں
    اور فروتنوں کی خصلتیں انہوں نے چھوڑ دیں۔ یہ تو عام لوگوں کا حال ہے مگر اس ملک کے اکثر عالموں کا حال اس سے
    بھی
    بدتر ہے ان میں سے بہتوں کا شغل بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ کسی سچے کو جھوٹا قرار دیں یا
    کسی مومن کو کافر ٹھہرا ویں ان کا علم تو فقط اس قدر ہے جیسے کہ چھوٹے سے بلکہ بہت سے
    کم قدر پرند کی چونچ میں پانی
    سما سکتا ہے مگر تکبر شیطان کے تکبر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ لوگ اپنے تئیں بے وجہ اونچا کھینچتے ہیں
    اور جو شخص درحقیقت فضل اور علم کے بلند ٹیلے پر جا
    گزین ہو وہ ان کی نظر میں ایک جاہل غبی ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ومَن مُلئ قلبہ إیمانًا ومعرفۃ، فہو لیس عندہم إلا کافر دجّال۔ فانظروا کیف عُمِّیتْ علیہم الحقائق، وکذلک یجعل اللّٰہ مآل الزائغین
    المعتدین۔ و قد رأیتم أننا کیف أوذینا من لُسْنِہم إنہم کذّبونا، شتمونا، لعنونا، وما کان لہم علینا ذنب وما کنّا مجرمین۔ ثم ما اقتصروا علیہ بل جاء وا یُہرعون إلینا مشتعلین، وسمَّونا کاؔ فرین۔ وما کان لہم أن
    یتکلموا فی مُسلمین إلا خائفین۔ ولکنہم لا یبالون نَہْیَ ذی الجلال بل لہم أعمال دون ذٰلک یقولون للمسلم لستَ مؤمنا، ویعلمون أنہم ترکوا القرآن بقولہم ہذا واتخذوہ مہجورا، فبعدوا عن الحق فقستْ قلوبہم یفعلون
    ما یشاء ون، ولا یتقون افتراءً ولا زورا، وکذلک افتروا علینا وحثُّوا ناسًا کثیرا من ذوی سفہ علٰی إیذائنا، وکفّرونا من غیر علم ولا برہان مبین۔ وأَمَّہم فی ہذہ الفتاویٰ شیخٌ عاری الجلدۃ من
    اور جو شخص
    درحقیقت ایمان اور معرفت سے بھر گیا وہ ان کے نزدیک ایک کافر دجال ہے۔ سو دیکھو
    کیسے حقیقتیں ان پر چھپ گئیں اور خدا ایسا ہی ان لوگوں کا انجام کرتا ہے جو ٹیڑھے چلتے اور حد سے
    گذرتے ہیں۔
    اور آپ لوگوں نے دیکھا کہ ہم کیسے ان لوگوں کی زبانوں سے ستائے گئے انہوں نے ہمیں جھٹلایا گالیاں نکالیں لعنتیں کیں
    اور ہم نے کوئی ان کا گناہ نہیں کیا تھا اور نہ کوئی جرم
    سرزد ہوا تھا۔ پھر انہوں نے اسی پر قناعت نہ کی
    بلکہ اشتعال طبع سے ہماری طرف سے دوڑے اور ہمارا نام کافر رکھا اور انہیں نہیں چاہیئے تھا کہ بے ڈر ہوکر
    مسلمانوں کے حق میں ایسے
    کلمات منہ پر لاتے مگر وہ لوگ خدا تعالیٰ کی ممانعت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے بلکہ
    وہ تو اور ہی کاموں میں لگے ہوئے ہیں مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ تو مومن نہیں اور جانتے ہیں کہ ایسا کہنے
    سے
    وہ قرآن کو چھوڑتے ہیں اور قرآن کو تو وہ چھوڑ ہی بیٹھے ہیں سو اسی وجہ سے وہ سچائی سے دور جا پڑے اور ان کے دل
    سخت ہو گئے۔ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں نہ افترا سے کچھ پرہیز
    اور نہ جھوٹ سے کچھ خوف اور اسی طرح انہوں نے ہم پر
    افترا کیا اور بہت سے نادان لوگوں کو ہمارے ستانے کے لئے اٹھایا اور ہمیں کافر ٹھہرایا حالانکہ کوئی
    بھی وجہ کفر نہیں تھی اور ان
    فتووں میں پیشوا ان کا ایک شیخ ہے جو انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    الحُلل الإنسانیۃ والدیانۃ الإیمانیۃ، وتبعوہ أمثالہ جہلا وحمقا، وما کنا کمجہول لا یُعْرَف، بل کانوا علی إسلامنا مطّلعین۔ وما صرنا
    بتکفیرہم کافرین عند اللّٰہ، ولکن سُبِرَ إیمانہم وتقواہم ومبلغ فہمہم وعلمہم، وتبیّنَ ما کانوا یسترون، وبَان أنہم کانوا حاسدین۔ یا حسرۃ علیہم ما عطف إلینا أحد منہم لیسأل ما أشکل علیہ حلمًا ورفقًا، وما سمعْنا
    صَکّۃَ مستفتحٍ من المسترشدین۔ وما جاء نا أحد منہم بصدق القلب وصحۃ النیّۃ، بل بادروا إلی التکفیر وکفّروا قبل أن یثبُت کفرنا۔ ثم ما اقتصروا علیہ بل قالوا إن ہؤلاء مرتدون خارجون من الدّین، وفیؔ قتلہم
    أجر عظیم، ونہبُ أموالہم حلالٌ طیب ولو بالسرقۃ، وأخذُ نساۂم وسبیُ ذراریہم عملٌ صالح حسن، ومَن انسل بسُحرۃ وسقط علی أحد من مسافریہم کاللصوص فہو
    اور برہنہ اور ایمانی دیانت سے عاری
    ہے اور اس کے پیرو اسی کی مانند ہیں جو محض جہل اور حمق
    سے اس کے پیچھے ہو لئے اور ہم ایسے نہیں تھے جو ہمارا حال ان سے پوشیدہ ہو بلکہ ہمارے اسلام پر وہ مطلع تھے اور
    ان کے
    کہنے سے ہم خدا کے نزدیک کافر نہیں ہو گئے مگر ان کا ایمان اور ان کا تقویٰ اور ان کا اندازہ
    فہم اور علم سے آزمایا گیا اور جو کچھ وہ چھپاتے تھے وہ سب ظاہر ہوگیا اور کھل گیا کہ وہ حاسد
    ہیں۔
    ان پر افسوس کہ ان میں سے ایک بھی ہماری طرف متوجہ نہ ہوا تا اپنی مشکلات کی نسبت حلم
    اور رفق سے سوال کرتا اور ہم نے کسی کھٹکھٹانے والے کا کھٹکا نہ سنا جو رشد حاصل کرنے
    کا طالب ہو اور کوئی
    ان میں سے ہمارے پاس صدق قلب اور صحت نیت سے نہ آیا بلکہ جھٹ پٹ تکفیر کی طرف دوڑے اور
    قبل اس کے جو ہمارا کفر ثابت ہو کافر ٹھہرایا اور پھر اسی پر بس نہ
    کیا بلکہ یہ کہا کہ یہ لوگ مرتد
    اور دین سے خارج ہیں اور ان کا قتل کرنا بڑے ثواب کی بات ہے اور ان کا مال لوٹنا اگرچہ چوری سے ہی
    کیوں نہ ہو حلال طیب ہے اور ان کی عورتوں کو پکڑ لینا
    اور ان کی اولاد کو غلام بنا لینا عمل صالح میں داخل ہے
    اور جو شخص فجر کو پہلے وقت اٹھے اور جنگل میں نکل جائے اور ان کے مسافروں میں سے کسی پر چوروں کی طرح ڈاکہ
    مارے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    مِن نُخب الصالحین۔ ہذہ أقوالہم وفتاواہم، وما امتنعوا إلی ہذا الوقت من ہذہ الفتن الصمّاء ، وما فاء وا إلی الارعواء ، وما کانوا
    متندّمین۔
    ولولا خوف سیف الدولۃ البرطانیۃ لمزّقونا کلّ ممزّق، ولکن ہذہ الدولۃ القاہرۃ السائسۃ المبارکۃ لنا - جزاہا اللّٰہ منّا خیر الجزاء - تؤوی الضعفاءََ تحت جناح التحنّن والترحم، فما کان لقویٍّ أن
    یظلم الضعیف، فنعیش تحت ظلہا بالأمن والعافیۃ شاکرین۔ وإنّ ہذا فضل اللّٰہ علینا وإحسانہ أنہ ما فوّض أمرنا إلی ملِکٍ ظالمٍ یدوسنا تحت الأقدام ولا یرحم، بل أعطانا ملِکۃً راحمۃً التی تربینا بوابل الإحسان
    والإکرام، وتنہضنا من حضیض الضعف والہوان، فجزاہا اللّٰہ خیر ما جازٰی ملِکًا عادلًا عن رعیتہ، وأجزلَ لہا الأجر وبارکَ فیہا ولہا، وتفضّلَ علیہا بنعماء التوحید والإسلام، ورحمہا کما ہی رحمنا
    تو وہ
    بڑا ہی نیک بخت اور چنے ہوئے نکوکاروں میں سے ہے۔ یہ ان کی باتیں اور یہ ان کے فتوے ہیں اور اب تک ان
    نہائتپُر شر فتنوں سے باز نہیں آئے اور حیا کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ نادم
    ہوئے۔
    اور اگر انگریزی سلطنت کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے لیکن
    یہ دولت برطانیہ غالب اور باسیاست جو ہمارے لئے مبارک ہے خدا اس کو ہماری طرف سے جزاء
    خیر دے۔
    کمزوروں کو اپنی مہربانی اور شفقت کے بازو کے نیچے پناہ دیتی ہے پس ایک کمزور پر زبردست کچھ تعدی نہیں کر سکتا
    سو ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے بڑے آرام اور امن سے
    زندگی بسر کر رہے ہیں اور شکر گذار ہیں
    اور یہ خدا کا فضل اور احسان ہے جو اس نے ہمیں کسی ایسے ظالم بادشاہ کے حوالہ نہیں کیا جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا
    اور کچھ رحم نہ کرتا
    بلکہ اس نے ہمیں ایک ایسی ملکہ عطا کی ہے جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے
    ہماری پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر
    کی طرف اٹھاتی ہے سو خدا اس کو وہ جزاء خیر دے
    جو ایک عادل بادشاہ کو اس کی رعیت پروری کی وجہ سے ملتی ہے اور اس کو بہت ہی بدلہ دے اور اس میں اور اس کے لئے برکت
    نازل
    کرے اور اس پر یہ احسان بھی کرے کہ وہ مسلمان جائے ہو اور توحید اور اسلام کی نعمت اس کو ملے اور اس پر
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    وہوؔ ربنا أرحم الراحمین۔
    وأنتم تعلمون أیہا الإخوان أن فتاوی التکفیر ما کانت مبنیّۃ علی تحقیق وما کان فیہا رائحۃ صدق، بل
    نسجوا کلہا بمنسج الکید والظلم والزور افتراءًً وحسدًا من عند أنفسہم، وکانوا یعرفوننا ویعرفون إیماننا، ویرون بأعینہم أنّا نحن مسلمون، نؤمن باللّٰہ الفرد الصمد الأحد، قائلین لَا إلٰہ إلّا ہو، ونؤمن بکتاب اللّٰہ
    القرآن، ورسولِہ سیدنا محمد خاتم النبیین، ونؤمن بالملائکۃ ویوم البعث، والجنۃ والنار، ونصلی ونصوم، ونستقبل القبلۃ، ونحرّم ما حرّم اللّٰہ ورسولہ، ونُحِلُّ ما أحَلَّ اللّٰہ ورسولہ، ولا نزید فی الشریعۃ ولا
    ننقص منہا مثقال ذرّۃ، ونقبل کل ما جاء بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وإنْ فہِمْنا أو لم نفہَم سِرَّہ ولم نُدرک حقیقتہ، وإنّا بفضل اللّٰہ من المؤمنین الموحّدین المسلمین۔
    رحم کرے جیسا کہ اس نے ہم پر
    رحم کیا اور وہ ہمارا خدا رحم میں سب سے بڑھ کر ہے۔
    اور بھائیو آپ لوگ جانتے ہیں کہ تکفیر کے فتوے کسی تحقیق پر مبنی نہیں تھے
    اور ان میں سچائی کی بُو بھی نہیں تھی بلکہ وہ سب فتوے
    مکر اور
    ظلم اور جھوٹ کیُ تر پر ُ بنے گئے تھے لیکن محض افترا اور نفسانی حسد سے اور یہ لوگ خوب جانتے تھے کہ
    ہم مومن ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں خدائے
    واحد لا شریک پر ایمان لاتے ہیں اور
    کلمہ لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں اور خدا کی کتاب قرآن اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو
    خاتم الانبیاء ہے مانتے ہیں۔ اور فرشتوں اور یوم
    البعث اور دوزخ اور بہشت پر ایمان رکھتے
    ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں اور اہل قبلہ ہیں اور جو کچھ خدا اور رسول نے حرام کیا اس کو حرام
    سمجھتے اور جو کچھ حلال کیا
    اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور نہ ہم شریعت میں کچھ بڑھاتے اور نہ کم کرتے ہیں اور ایک ذرہ
    کی کمی بیشی نہیں کرتے اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں پہنچا اس کو قبول
    کرتے ہیں چاہے ہم اس کو
    سمجھیں یا اس کے بھید کو سمجھ نہ سکیں اور اس کی حقیقت تک پہنچ نہ سکیں اور ہم اللہ کے فضل سے مؤمن موحد مسلم ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    وما خالفْنا المکفّرین إلّا فی وفاۃ عیسی ابن مریم علیہ السلام، فاغتاظوا غیظا شدیدا، ومُلؤا منہ کأنہم لا یؤمنون بآیۃ 333،۱؂ ولا
    یؤمنون بوعدؔ الوفاۃ الذی قد صُرّح فیہا، وکأنہم لا یعرفون آیۃ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنی التی فیہا إشارۃ إلی إنجاز ہذا الوعد ووقوع الموت۔ والآیات بیّنۃ منکشفۃ، فلعلّہم فی شک من کتاب مبین، فنبذوا کتاب اللّٰہ وراء
    ظہورہم بعدما کانوا مؤمنین۔
    وتعجّبتُ۔ ولا تعجُّبَ مِن ختم اللّٰہ وإضلالہ۔ أن أکثر علماء ہذہ الدیار فسدوا حتی عُطّلت حواسّہم، وسُلبت عقولہم، وغُمرت مدارکہم، وکُدّرت آراؤہم، وغُشیت أعینہم۔ فیا عجبًا
    لفعل اللّٰہ وقہرہ کیف أخَذ کلَّ ما کان عندہم من البصیرۃ والمعرفۃ والدرایۃ، وترکہم فی ظلماتٍ لا یبصرون۔ لا یأخذہم رِقّۃٌ علی مصائب الإسلام
    اور جن لوگوں نے ہمیں کافر ٹھہرایا ان سے ہم صرف
    اسبات میں ان کے مخالف ہیں کہ ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات
    کے قائل ہیں وہ لوگ بہت غضبناک ہوئے اور غصہ سے بھر گئے گویا انہیں اسبات پر کچھ ایمان نہیں کہ اے عیسٰے
    میں
    تجھے وفات دوں گا اور نہ وعدہ وفات پر ایمان ہے جس کی اس آیت میں تصریح ہے اور گویا وہ لوگ اس آیت کو بھی پہچانتے نہیں جس میں حضرت عیسٰی کا اقرار ہے کہ تو نے مجھے وفات
    دی یہ وہی آیت فلما توفیتنی ہے جس میں اس وعدہ موت کے پورے ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آیت انی متوفیک میں ہو چکا تھا آیات کھلے کھلے ہیں مگر شاید یہ لوگ قرآن پر یقین نہیں رکھتے اور شک
    میں ہیں اور کتاب اللہ کو انہوں نے ایمان لانے کے بعد اپنی پس پشت پھینک دیا ہے۔
    اور میں نے تعجب کیا اور خدا کے قہر اور اس کے گمراہ کرنے سے کچھ تعجب بھی نہیں کہ اس ملک کے
    اکثر
    مولوی بگڑ گئے یہاں تک کہ ان کے حواس بے کار اور معطل ہوگئے اور ان کی عقلیں مسلوب ہو گئیں اور ان کی
    دماغی قوتیں گم ہوگئیں اور ان کی راؤ ں پر تاریکی چھا گئی اور آنکھوں پر
    پردے پڑ گئے سو دیکھو خدا کا کام اور
    اس کا قہر کس طرح سے اس نے ان کی بصیرت اور معرفت اور دانائی لے لی
    اور ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا ان کا دل اسلام کی مصیبتیں دیکھ کر کچھ
    بھی نرم نہیں ہوتا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    یکفّروننا ویکفّرون کلَّ من خالفہم من المسلمین فی أدنٰی أمر ولو فی بعض مسائل الاستنجاء ، ویَدُعُّون المسلمین بأیدیہم ویریدون أن
    یُقلّلوا الإسلام۔ ویرون بأعینہم أن النصاری قد غلبوا وکثر مذہبہم وامتد إلی أقطار الأرض، وہم ینسلون من کل حدب، واتخذوا العبدَ العاجز إلہًا، ونحتوا ابنًا وأبًا، ورسَوا علی خزعبلا تہم أمثالَ الجبال والرُّبی۔
    وعلماؤنا ہؤلاء عقدوا لجہلا تہم الحُبی، وصارت کلماتہم لزہرِ فِرْیتِہم کالصبا، وجمعوا روایاتٍ واؔ ہیۃ کحاطب لیل أو طالب سیل، ونصروا النصاری بکلماتہم، وقالوا إن المسیح منفرد ببعض صفاتہ، وما وُجد
    فیہ من کمال وجلال وعظمۃ فہو لا یوجد فی غیرہ۔ إنہ کان علی أعلی مراتب العصمۃ، ما مسَّہ الشیطان عند تولُّدہ، ومسَّ غیرَہ من الأنبیاء کلّہم، ولا شریک لہ
    ہمیں کافر ٹھہراتے ہیں اور نہ صرف ہمیں
    بلکہ ہریک مسلمان ان کے نزدیک کافر ہے جبکہ وہ ایک ادنیٰ بات میں بھی
    ان کا مخالف ہو اگرچہ کسی استنجاء کے مسئلہ میں ہی اختلاف ہو مسلمان کو دھکے دے دے کر دین سے باہر نکالتے ہیں
    اور چاہتے ہیں کہ اسلام بہت کم رہ جائے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ نصاریٰ غالب آ گئے اور ان کا مذہب
    زمین پر بہت بڑھ گیا اور زمین کے کناروں تک پھیل گیا اور ہریک بلندی انہیں کے
    حصہ میں آگئی اور
    ایک عاجز بندہ کو انہوں نے خدا ٹھہرایا اور اپنی طرف سے باپ اور بیٹا تراش لیا اور اپنی باطل باتوں پر
    پہاڑوں اور ٹیلوں کی طرح استحکام پکڑ گئے اور یہ ہمارے مولوی
    لوگ ان کے آگے ان کی باطل باتوں کے سننے کے لئے
    زانو باندھ کر بیٹھ گئے اور ان کی باتیں عیسائیوں کے شگوفوں کے لئے باد صبا کے حکم میں ہو گئیں اور بے ہودہ اور سست
    روائتیں انہوں
    نے جمع کیں جیسے کوئی رات کو ہر ایک قسم کی خشک تر لکڑی جمع کرتا ہے یاجیسے کوئی طوفان کا طالب ہوتا ہے اور انہوں نے نصاریٰ کو اپنی باتوں سے مدد دی جیسا کہ انہوں نے کہا کہ مسیح
    ابن مریم اپنی بعض صفات میں بے مثل ہے اور جو کمال
    اور بزرگیاں اس میں پائی جاتی ہیں اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں وہ ہی ایک ہے جو اعلیٰ درجہ پر گناہوں سے پاک ہے
    شیطان نے اس
    کی پیدائش کے وقت اس کو ُ چھؤا نہیں اور بجز اس کے سب نبیوں کو چھوا اور کوئی شیطان کے مس سے بچ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    فی ہذہ الصفۃ حتی خاتم النبیین۔ وقالوا إنہ کان خالق الطیور کخلق اللّٰہ تعالٰی، وجعلہ اللّٰہ شریکہ بإذنہ، والطیور التی توجد فی ہذا
    العالم تنحصر فی القسمین خَلْق اللّٰہ وخَلْق المسیح۔ فانظر کیف جعلوا ابن مریم من الخالقین۔ ویُشیعون فی الناس ہذہ العقائد ولا یدرون ما فیہا من البلایا والمنایا، ویؤیّدون المتنصِّرین۔ وہلک بہا إلی الآن ألوف من
    الناس ودخلوا فی الملّۃ النصرانیۃ بعد ما کانوا مسلمین۔ وما کان فی القرآن ذکرُ خَلْقہ علی الوجہ الحقیقی، وما قال اللّٰہ تعالٰی عند ذکر ہذہ القصۃ فیصیر حیًّا بإذن اللّٰہ، بل قال 33، ۱؂ فانظروا لفظ ’’
    فیَکُونُ‘‘ ولفظ ’’طَیْرًا‘‘، لِمَ اختارہما العلیم الحکیم وترک لفظ ’’یصیر‘‘ و ’’حیًّا‘‘؟ فثبت من ہہنا أنؔ اللّٰہ ما أراد ہٰہنا خلقًا حقیقیا کخلقہ عزّوجل۔ و یؤیّدہ ما جاء فی کتب
    نہ سکا مگر ایک
    مسیح اور اس صفت میں نبیوں میں سے اس کا کوئی بھی شریک نہیں یہاں تک کہ خاتم الانبیاء بھی۔ اور خداتعالیٰ کی طرح وہ پرندوں کا بھی خالق تھا اور خدا تعالیٰ نے اپنے اذن سے اس کو اپنا شریک
    بنایا۔ سو وہ سب پرندے جو
    دنیا میں پائے جاتے ہیں دو قسم کے ہیں کچھ خدا کی پیدائش اور کچھ مسیح کی سو دیکھو کیوں کر
    ابن مریم کو خالق بنا دیا۔ اور لوگوں میں یہ عقائد شائع کرتے ہیں اور
    نہیں جانتے کہ
    ان عقیدوں میں کیا کیا بلائیں اور موتیں ہیں اور نصاریٰ کو مدد پہنچا رہے ہیں۔ اور ان عقائد کی شامت سے اب تک
    ہزاروں انسان ہلاک ہو چکے اور نصرانی مذہب میں داخل ہوگئے
    بعد اس کے جو وہ مسلمان تھے۔
    اور قرآن میں مسیح کے پرندے بنانے کا ذکر حقیقی طور پر کہیں بھی نہیں اور خدا نے اس
    قصہ کے ذکر کرنے کے وقت یہ نہیں فرمایا کہ فیصیر حیا باذن اللّٰہ
    بلکہ یہ فرمایا کہ فیکون طیراباذن اللّٰہ
    سو لفظ فیکون اور لفظ طیرا میں غور کرو کہ کیوں اس علیم حکیم نے انہیں
    دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ فیصیر حیا کو چھوڑ دیا سو اس جگہ ثابت ہوا
    کہ اس جگہ خدا تعالیٰ عزّوجلّ
    کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالقیت مراد نہیں ہے جو اس کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    التفسیر من بعض الصحابۃ أن طیر عیسٰی ما کان یطیر إلا أمام أعین الناس، فإذا غاب سقط علی الأرض ورجع إلی أصلہ کعصا
    موسٰی، وکذٰلک کان إحیاء عیسی، فأین الحیاۃ الحقیقی؟ فلأجل ذلک اختار اللّٰہ تعالی فی ہذا المقام ألفاظًا تناسب الاستعارات لیشیر إلی الإعجاز الذی بلغ إلی حدّ المجاز، وذکر مجازًا لیُبیّن إعجازًا، فحملہ
    الجاہلون المستعجلون علی الحقیقۃ، وسلکوہ مسلکَ خَلْق اللّٰہ مِن غیر تفاوت، مع أنہ کان مِن نفخ المسیح وتأثیر روحہ مِن غیر مقارنۃ دعاء*، فہلکوا وأہلکوا کثیرا من الجاہلین۔ والقرآن لا یجعل شریکا فی
    خلق اللّٰہ أحدًا ولو فی ذباب أو بعوضۃ، بل یقول إنہ واحد ذاتًا وصفاتًا، فاقرء وا القرآن کالمتدبرین۔ فالأمر الذی ثبت عقلا ونقلا واستدلال
    کرتے ہیں جو بعض صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور
    وہ یہ کہ عیسیٰ کا پرندہ اسی وقت تک پرواز کرتا تھا جب تک کہ
    وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا تھا اور جب غائب ہوتا تھا تو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے
    عصا
    موسیٰ کا اور عیسیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا بھی ایسا ہی تھا سو اس جگہ حیات حقیقی کہاں ثابت ہوئی سو اسی لئے
    خدا تعالیٰ نے اس مقام میں وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب حال تھے
    تاکہ اس اعجاز کی طرف اشارہ کرے جو
    مجازکی حد تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو خارق عادت تھا بیان فرماوے پس اس مجاز کو
    جاہلوں نے حقیقت پر
    حمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا جو الٰہی پیدائش کا مرتبہ ہے حالانکہ وہ صرف
    نفخ مسیح اور اس کی روح کی تاثیر سے تھا اور اس کے ساتھ کوئی دعا نہیں تھی سو ایسے سمجھنے والے
    ہلاک ہوئے
    اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔ اور قرآن تو کسی کو خدا کی خالقیت میں شریک نہیں کرتا اگرچہ ایک
    مکھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ خدا ذاتاً
    و صفاتاً واحد لا شریک ہے سو تم قرآن کو
    ایسا پڑھو جیسا کہ تدبر کرنے والے پڑھتے ہیں۔ سو جو امر عقلاً و نقلًا و استدلالًا ثابت ہو گیا۔
    الفائدۃ)کان الاحیاء بالنفخ کالاما تۃ بالنظر پھونک سے زندہ
    کرنا ایسا تھا جیسے نظر سے مارنا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    لا یُنکرہ أحد إلا الذی ما بقی فی رأسہ مِرّۃٌ إنسانیۃ ولحِق بالأخسرین السافلین۔ ولا یقول أحد کمثل ہذہ الکلمات إلا الذی نسی طریق
    التوحید ومال إلی الجاہلیۃ الأولی، وما بلغ نظرہ إلی نتائجہا الضروریۃ ومفاسدہا المخفیۃؔ ، أو الذی رسا علی جہلہ عمدًا وغرق فی لُجّۃ التقلید غرقًا، حتی فقد أثر حریۃ الإنسانیۃ، وسقط فی شبکۃٍ لا
    تخلُّصَ منہا، وتابَعَ أَثَرَ إبلیس اللعین۔ والذی آمنَ بالقرآن وألقی نفسہ تحت ہدایاتہ فلن یرضی بمثل ہذہ العقائد، بل لا یسوغ لہ قولٌ یُخالف القرآن بالبداہۃ ویُعارض بیّناتہ ومُحکَماتہ صریحا۔ وأیُّ ذنب أکبر من ذٰلک
    أن أحدًا یؤمن بالقرآن ثم یرجع ویُنکر بعضہدایاتہ، ویتّبع المتشابہات ویترک المحکمات، ویحرّف القرآن ویغیّر معانیہ من مرکزہا المستقیم، ویؤیّد بأقوالہ قومًا مشرکین؟ ولکن الذی تمسّکَ بکتاب اللّٰہ وآمن
    اس
    کا کوئی انکار نہیں کرسکتا بجز ایسے شخص کے جس کے سر میں انسانی دانشمندی کا مادہ نہیں رہا اور زیاں کاروں اور
    تحت الثریٰ جانے والوں کے ساتھ جا ملا۔ اور ایسی باتیں کوئی منہ پر نہیں
    لائے گا مگر وہی جو توحید کی راہ کو بھول گیا
    اور پہلی جاہلیت کی طرف مائل ہوگیا اور اس کی نظر ان عقیدوں کے لازمی نتیجوں
    اور چھپے ہوئے فسادوں تک نہیں پہنچ سکی یا وہ شخص ایسے
    کلمات کہے گا جو جہالت کی باتوں پر اڑ بیٹھا اور تقلید کے
    دریا میں غرق ہوگیا یہاں تک کہ انسانی آزادی کے نام و نشان کو کھو بیٹھااور ایسے جال میں پھنس گیا جس میں سے نجات نہیں
    اور
    ابلیس لعین کے نشان قدم کا پیرو ہوگیا اور وہ شخص جو قرآن پر ایمان لایا اور اس کی ہدایتوں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا
    سو وہ ایسے عقائد پر کبھی راضی نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی باتوں کو جو صریح
    قرآن کے مخالف اور اس کی محکم آیتوں کے
    کھلے کھلے معارض ہیں ناجائر سمجھے گا اور اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہوگا کہ ایک شخص قرآن پر ایمان
    لا کر پھر رجوع کرے اور اس کی
    بعض ہدایتوں سے انکاری ہو جائے اور متشابہات کی پیروی کرنے لگے
    اور محکمات کو چھوڑ دے اور قرآن کی تحریف کرے اور اس کے معانی کو ان کے مرکز مستقیم سے پھیر دے
    اور اپنی
    باتوں سے مشرکوں کو مدد دے۔ مگر وہ شخص جس نے کتاب اللہ سے پنجہ مارا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بما فیہ صدقا وحقا، فأیّ حرج علیہ وأیّ ضَیْرٍ إنْ ترَک روایات أخری التی تُخالف بیّناتِ القرآن ولیست ثابتۃ من رسول اللّٰہ بثبوت
    قطعی یقینی الذی یُساوی ثبوت القرآن وتواتُرَہ، أو ترَک مثلًا معانی تُخالف نصوصہ، واختار الموافق ولو بالتأویل؟ بل ہذا مِن سِیَر الصالحین المتقین ومِن سِیَر الصدّیقۃِ رضی اللّٰہ عنہا أُمِّ المؤمنین۔ فالواجب
    علی المؤمن المسلم المتورع الذی یتقی اللّٰہ حق التقاۃ، أنؔ یعتصم بحبل اللّٰہ القرآن ولا یبالی غیرَہ الذی یخالفہ، وإذا رأی وانکشف علیہ أن بعض العلماء من السلف أو الخلف غلطوا فی فہم أمر فلیس من
    دیانتہٖ أن یتبع أغلاطہم، ویقبلہا بغضّ البصر، ولا یفارقہا بتفہیمِ مُفہِّمٍ، ویرسو علیہا أبدًا، ولا یلتفت إلی الحق الذی حصحص والرشد الذی تبیّنَ۔ فإن أمرًا إذا ثبت فلا بد من
    باتوں پر ایمان لایا اور سچ
    اور حق سمجھ لیا پس اس پر کونسا حرج اور کونسا مضائقہ ہے اگر وہ ایسی روایتوں کو
    چھوڑ دے جو قرآن کے کھلے کھلے بیانات کی مخالف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے
    قطعی اور
    یقینی طور سے ثابت نہیں جو قرآن کے ثبوت اور تواتر سے برابری کر سکے یا مثلاً کوئی ایسے معانی ترک کرے
    جو نصوص قرآنیہ کے مخالف ہیں اور وہ معنے اختیار کرے جو اس
    کے موافق ہیں اگرچہ تاویل سے ہی سہی بلکہ یہ تو
    نیک بختوں اور متقیوں کا طریق ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مادر مومناں کے طریق اور خصلت میں سے
    ہے پس ایسے
    شخص پر جو مومن مسلمان پرہیز گار ہے اور خدا سے جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے ڈرتا ہے واجب ہے۔
    جو حبل اللہ سے جو قرآن ہے پنجہ مارے اور اس کے غیر کی کچھ پرواہ نہ کرے جو اس کا
    مخالف ہے اور جب دیکھے اور جب
    اس پر کھلے کہ بعض علماء سلف میں سے یا خلف میں سے کسی بات کے سمجھنے میں غلطی میں پڑ گئے ہیں
    تو اس کی دیانت سے بعید ہوگا کہ ان کی
    غلطیوں کی پیروی کرے اور آنکھ بند کرکے ان کو
    قبول کر لیوے اور کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے باز نہ آوے اور ہمیشہ انہیں غلطیوں پر اڑا رہے اور اس
    سچائی کی طرف جو کھل
    گئی اور اس ہدایت کی طرف جو ظاہر ہو گئی التفات نہ کرے کیونکہ جب ایک امر ثابت ہوگیا تو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 14
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/14/mode/1up
    قبولہ ولا مفرّ منہ۔ مثلًا جاء فی حدیث رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا عَدْوَی۔ أی لا تُجاوِزُ علّۃٌ من مریض إلی غیرہ، ولا یُعدِی
    شیءٌ شیءًا، ولکن التجارب الطبیّۃ قد أثبتتْ خلاف ذلک، ونحن نریٰ بأعیننا أن بعض الأمراض، مثلًا داء الجمرۃ التی یُقال لہا فی الفارسیّۃ آتشک یُعدی من امرأۃ مُبتلاۃٍ بہذا المرض رجلا ینکحہا وبالعکس۔
    وکذلک نری فی عمل الإبرۃ الذی مبنی علی خمیرِ مادۃِ مجدَّرٍ فإنہ یُبدی آثار الجُدری فی المعمول فیہ۔ فہذا ہو العدوٰی، فکیف ننکرہ؟ فإن إنکارہ إنکارُ علومٍ حسّیۃ بدیہیۃ التی ثبتت عند مُجرّبی صناعۃِ الطبّ،
    وما بَقِیَ فیہا شک للأطفال اللاعبین فی السکک فضلًا عن رجال عاقلین۔ فلا بُدّ لنا من أن نؤوّل ہٰذاؔ الحدیث ونصرفہ إلٰی معان لا تخالف الحقیقۃ الثابتۃ
    اس کے قبول کرنے سے چارہ نہیں اور اس سے
    کوئی گریز گاہ نہیں مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    نے فرمایا ہے کہ لاعدویٰ یعنے ایک مرض دوسرے کو نہیں لگتی یعنے تجاوز نہیں کرتی ایک چیز دوسری تک
    لاکن طبی تجارب سے اس
    کے مخالف ثابت ہوگیا اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں
    کہ بعض مرضیں مثلاً آتشک کی بیماری ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے
    اور ایک آتشک زدہ عورت سے مرد کو آتشک ہو جاتی ہے اور
    ایسا ہی مرد سے عورت
    کو اور یہی صورت ٹیکا لگانے میں بھی مشاہدہ ہوتی ہے کیونکہ جس پر چیچک والے کے خمیر سے ٹیکا کا عمل
    کیا جاوے اس کے بدن پر بھی آثار چیچک ظاہر ہو جاتے
    ہیں پس یہی توعدوی ہے سو ہم کیوں کر اس کا
    انکار کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا انکار علوم حسیہ بدیہیہ کا انکار ہے جو تجارب طبیہ سے
    ثابت ہو چکے ہیں اور ان میں ان بچوں کو بھی شک نہیں
    رہا جو کوچوں میں کھیلتے پھرتے ہیں
    چہ جائے کہ عقلمند مردوں کو کچھ شک ہو ۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ
    ہم اس حدیث کی تاویل کریں اور ان معانی کی طرف پھیر دیں جو ثابت شدہ
    حقیقت کے مخالف نہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 15
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 15
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/15/mode/1up
    وإنْ لا نفعل کذلک فکأنا دعونا کل مُخالف لیضحک علینا وعلی مذہبنا، فإذنْ أیَّدْنا الساخرین۔ فنقول فی تأویل ہذا الحدیث إن رسول اللّٰہ
    صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما أراد من قولہ لا عَدْوَی نَفْیَ السّرایۃ من کل الوجہ، وکیف وقد حذّر من المجذومین فی حدیث آخر۔ فما کان مرادہ من ہذا القول من غیر أن التأثیرات کلہا بید اللّٰہ تعالٰی، ولا مؤثِّرَ فی ہذا
    العالم الدائر بالکون والفساد إلّا بحُکمہ وإرادتہ ومشیئتہ۔ وإذا أوّلنا کذلک فتخلَّصْنا من شبہات المعترضین۔ والذی نفسی بیدہ۔ إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما أراد قطُّ فی ہذا المقام وأمثالِہ مِن نزول عیسٰی
    وغیرہ إلا معانی تأویلیۃ*
    اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو گویا ہم ایک مخالف کو بلائیں گے تو وہ ہم پر اورہمارے مذہب پر ٹھٹھا کرے اور اس صورت میں
    ہم ٹھٹھا کرنے والوں کے مددگار ٹھہریں
    گے۔ پس ہم اس حدیث کی تاویل یوں کریں گے کہ رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول لاعدویٰ میں ہرگز یہ ارادہ نہیں کیا کہ من کل الوجوہ
    ایک کی مرض دوسرے میں سرایت نہیں کرتی
    اور کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کہہ سکتے تھے جبکہ آپ نے ایک
    دوسری حدیث میں مجذوموں سے پرہیز کرنے کے لئے ممانعت فرمائی ہے اور ان کے چھونے سے ڈرایا پس
    آنحضرت صلعم کی اس حدیث
    سے بجز اس کے کوئی مراد نہیں تھی کہ تمام تاثیریں عدویٰ وغیرہ کی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور بجز اس کے حکم اور ارادہ اور مشیت
    کے اس عالم کون اور
    فساد میں کوئی مؤثر نہیں اور جبکہ ہم نے یہ تاویل کی تو ہم نے اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں سے رہائی پائی اور
    مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ رسول اللہ
    صلعم نے اس مقام اور اس کے مشابہ دوسرے مقاموں میں جیسے نزول حضرت عیسٰے وغیرہ میں بجز تاویلی معنوں کے اور کبھی مراد نہیں لئے
    (الفائدۃ)لو کان المراد من نزول عیسٰی نزولہ
    بذاتہ لقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
    اگر نزول عیسیٰ سے مراد درحقیقت عیسیٰ کا ہی آنا ہوتا تو آپؐ یہ فرماتے کہ
    أنہ سیرجع وما قال انہ سینزل فان لفظ الرجوع مناسب للذی یقدم بعد الذھاب۔
    منہ
    واپس آئے گا نہ یہ کہ اترے گا کیونکہ جانے کے بعد جو شخص آوے اس کو واپس آنا کہتے ہیں نہ اُترنا۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 16
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 16
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/16/mode/1up
    فلا تعجَلْ ولا تُعِنْ فتنَ المفسدین۔ ہذا ہو القول الحق، فاقبَلوا کلمۃ الحق ولو خرج من فم طفل، فإن السعادۃ کلہا فی قبول الحق، فطوبٰی
    للذین یقبلون الحق خاضعین۔ والذین عادَونا فلا یقبلون الحق مع أنہ لیس فیہ دقّۃ وإغماض، بل ہم یعلمون فی قلوبہم أنہ الحق المبین۔ وإذا قیل لہم آمِنوا بالحق الذی تبیّنَ، وبالمعانی التی حصحصت صحتہا، قالوا
    أنؤمن بأمورؔ تخالف أقوال أسلافنا؟ وإنْ کان أسلافہم من الخاطئین المخطئین؟ ونری أنہم قد خُنقوا، وأن ثلوج البخل قد تساقطت علی أرض قلوبہم بشدّتہا ومُداکاتہا، فخنقتْ شَطْأَہا، وردِفہا حَصَی التعصب،
    فسُحقت الاستعدادات تحتہا کالحدید تحت مطرقۃ القَین، أو القطنِ تحت مطرقۃ الطارقین۔ والعجب منہم ومن عقلہم أنہم یرون بأعینہم أن کلماتہم الباطلۃ المضلّۃ
    پس تم مفسدوں کے فتنوں کے مددگار مت
    بنو۔ یہی سچی بات ہے سو سچ کو قبول کرو
    اور اگرچہ ایک بچہ کے منہ سے نکلا ہو کیونکہ تمام سعادت حق کے قبول کرنے میں ہے سو مبارک
    وہ لوگ جو حق کے قبول کرنے کے لئے جھک
    جاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو ہم سے عداوت رکھتے ہیں وہ حق کو قبول نہیں
    کرتے باوجود یکہ کچھ اس میں دقت نہیں بلکہ وہ اپنے دلوں میں خود جانتے ہیں کہ وہ صریح اور صاف حق ہے۔
    اور جب
    ان کو کہا جائے کہ حق تو ُ کھل گیا اب تم اس کو قبول کرو اور ان معانی پر ایمان لاؤ جن کا صحیح ہونا ثابت ہوگیا
    تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسی باتوں کو مان لیں جو ہمارے متقدمین کے اقوال کے
    مخالف ہیں اور اگرچہ ان کے متقدمین نے
    اپنی راؤں میں خطا ہی کی ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ دبائے گئے ہیں اور بخل کی برفیں کثرت کے ساتھ
    اور شدت کے ساتھ ان کے دلوں پر گریں
    اور ان کے سبزہ کو دبا لیا اور پیچھے سے
    تعصب کے سنگریزے ان پر پڑے سو ان کی استعدادیں اس کے نیچے ایسی پیسی گئیں جیسا کہ لوہا لوہار کے
    ہتھوڑے کے نیچے پس جاتا ہے۔ یا روئی
    دُھنئے کے دُھنکے کے نیچے دُھنی جاتی ہے۔ اور ان پر اور ان کی عقل پر
    تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ان کے کلمات باطلہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 17
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 17
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/17/mode/1up
    قد أضرّت الإسلام إضرارًا عظیمًا، والناس باستماعہا یخرجون من دین اللّٰہ أفواجا ویلتحقون بالنصارٰی بما سمعوا من صفات المسیح
    وعصمتہ الخاصۃ وخلودہ إلی ہذا الوقت، وقدرتہ الکاملۃ فی الخَلق والإحیاء علی قدرٍ ما وُجِدَ مثلہ فی أحد من النبیین۔ ویشاہدون (ہذہ العلماء) ہذہ المفاسد کلہا ثم لا یتنبہون، ولا یرتجف فؤادہم، ولا تذوب
    أکبادہم، ولا یأخذہم رحم ورقّۃ علی أمّۃ النبی۔ ونبکی علیہم ونصرخ صرخۃ متموّجۃ، فلا یسمع أحد بکاء نا ولا صراخنا، بل یُکفّروننا مغتاظین۔
    وإنما مثلنا فی ہذہ الأیام أیامِ غربۃ الإسلام کمثل خابط فی واد
    فی اللیلۃ المظلمۃ،ؔ أو صارخ فی اللظی المضرمۃ، فلا نجد مُغیثًا من قومنا إلا الواحد الذی ہو رب العالمین۔ وإنا یئسنا منہم غایۃ الیأس کأنّا وضعناہم فی قبورہم۔ قلنا مرارًا فما سمعوا، وأیقظنا إنذارًا
    اسلام
    کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں اور لوگ ان کی باتوں کو سن کر دین اسلام سے نکلتے
    جاتے ہیں اور نصاریٰ میں داخل ہوتے جاتے ہیں کیونکہ وہ مسیح کی عصمت
    خاصہ اور اس کا اب تک زندہ
    رہنا اور اس کی قدرت کاملہ خالقیت میں اور زندہ کرنے میں
    اس مبالغہ سے سنتے ہیں جس کی نظیر اور نبیوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور یہ مولوی لوگ ان تمام فسادوں کو
    دیکھ رہے ہیں پھر خبردار
    نہیں ہوتے اور ان کے دل نہیں کانپتے اور ان کے جگر نہیں پگھلتے اور
    ان کو امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ بھی رحم نہیں آتا ہم ان پر گریہ کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں
    سو کوئی
    ہمارے گریہ کو نہیں سنتا اور نہ ہماری فریاد کو بلکہ وہ غصہ میں آکر کافر کافر کہتے ہیں۔
    اور ہماری مثل ان دنوں میں جو غرب اسلام کے دن ہیں اس مسافر کی طرح ہے جو جنگل میں
    اور
    اندھیری رات میں بہکتا پھرتا ہے یا اس کی مثل جو بھڑکتی ہوئی آگ میں فریاد کر رہا ہے سو ہم کوئی فریاد رس اپنی
    قوم میں نہیں پاتے مگر وہی ایک جو رب العالمین ہے اور ہم ان لوگوں سے نہایت
    درجہ
    ناامید ہوگئے گویا ہم نے ان کو ان کی قبروں میں دفن کر دیا ہم نے بہت کہا مگر انہوں نے نہیں سنا ہم نے خوف دلانے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 18
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 18
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/18/mode/1up
    فما استیقظوا، وخضعنا أطوارًا فما خضعوا، فقلنا اخسأوا خسءًا: إن اللّٰہ غنی عنکم ولا یعبأ بکم، وسیأتی بقوم ینصرون دینہ ویحبّون
    الصادقین۔
    فحاصل الکلام: إنی إذا رأیت ہذہ الأمراض والسموم ساریۃً فی عروق أکثر علماء الہند، ورأیتہم فی غُنْیۃ من کتاب اللّٰہ ورسولہ، بل رأیتہم ضاربین بعود ومزمار آخر، وکلُّ أحد منہم زمّارٌ بما
    عندہ من الخیالات الباطلۃ، وارتضی بمعازفہ النفسانیۃ متمسّکا بہا، ولا یتوبون ولا یتندّمون، بل أراہم یصرّون ویفخرون علی جہلا تہم ویصفّقون بالأیادی فرحین، ویکفّرون المؤمنین مجترئین کأنہم فی مأمن من
    مؤاخذۃ اللّٰہ ومحاسباتہ، وکأن اللّٰہ لا یسأل عنہم ولا یقول لِم قفوتم ما لم یکن لکم بہ علم، ولا یُنبّۂم بما فی صدورہم
    کے لئے جگایا پر وہ نہ اٹھے ہم کئی مرتبہ جھکے پر وہ نہ جھکے آخر ہم نے کہا دور
    ہو جاؤ دفع ہو جاؤ
    خدا کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں اور وہ ایسی قوم لے آئے گا جو اس کے دین کے مددگار ہوں گے
    اور صادقوں سے پیار کریں گے۔
    اب حاصل کلام یہ ہے کہ جب میں نے
    یہ بیماریاں اور یہ زہریں اس ملک کے
    اکثر مولویوں میں دیکھیں جو ان کی رگوں میں رچ چکی تھیں اور میں نے ان کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے لا پرواہ پایا
    بلکہ میں نے دیکھا کہ وہ تو
    اور ہی بانسلی بجا رہے ہیں اور ہر ایک بانسلی بجانے والا
    اپنے خیالات باطلہ کے طرز پر بجانے میں مشغول ہے اور ہر ایک شخص اپنے نفسانی آلات سرود لئے بیٹھا ہے
    اور ان سے خوش ہے نہ
    توبہ کرتے اور نہ پچھتاتے ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات باطلہ پر اصرار کرتے اور ناز کرتے
    ہیں اور خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور بڑی دلیری سے مومنوں کو کافر ٹھہرا رہے
    ہیں۔ گویا ان کو خدا تعالیٰ کے مؤاخذہ
    سے بکلی امن ہے اور اس کے محاسبہ سے بے غم ہیں گویا خدا ان سے سوال نہیں کرے گا اور نہیں
    کہے گا کہ تم کیوں ایسی بات کے پیچھے پڑے جس کا
    تمہیں قطعی اور یقینی علم نہیں تھا اور ان کے دلی ارادے ان پر ظاہر
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 19
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 19
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/19/mode/1up
    فی یوم ! کلا، بلؔ إنہم من المسؤولین۔
    و رأیت أن الفتن لیست محدودۃ إلٰی أنفسہم، بل العامۃ قد اجتمعوا علی صفیرہم،
    واغترّوا بتقاریرہم الیابسۃ الملمَّعۃ، فاشتعل غیظ العامۃ علینا، وتبوّغَ دمہم بتہییج المفترین، وحسبوہم عالِمین متدیّنین صادقین۔ فلمّا زُلزلت أرض الہند کلہا، وأحسستُ من العلماء البخل والحسد، وضعتُ فی
    نفسی أن أُعرض عنہم فارًّا إلی مکۃ، وأن أتوجّہ إلی صُلحاء العرب ونخباء أُمِّ القُری الذین خُلقوا من طینۃ الحریۃ، وتفوّقوا دَرَّ الأہلیۃ، فألقی اللّٰہ فی قلبی عند مسّ ہذہ الحاجۃ أن أؤلّف کتبا فی لسان عربی
    مبین۔ فألّفتُ بفضل اللّٰہ ورحمتہ وتوفیقہ کتابا اسمہ التبلیغ، ثم کتابا آخر اسمہ التحفۃ، ثم کتابا آخر اسمہ کرامات الصادقین
    نہیں کرے گا ہرگز نہیں بلکہ ان سے باز پرس ہوگی۔
    اور میں نے دیکھا کہ
    فتنے انہیں کی ذات تک محدود نہیں رہے بلکہ عوام الناس اُن کی سیٹی پر
    جمع ہو گئے ہیں اور ان کی خشک اور ملمع باتوں پر فریفتہ ہو گئے۔
    سو عام لوگوں کا غصہ ہم پر بھڑکا اور ان کا خون
    بباعث افترا پردازوں کی انگیخت کے جوش میں آیا۔
    اور ان کو سمجھ لیا کہ یہ لوگ صاحب علم اور دیانتدار اور سچے ہیں۔ پس جب ہند کی زمین میں ایسا زلزلہ آیا کہ
    ساری زمین ہل گئی اور علماء
    میں مَیں نے بخل اور حسد پایا تو میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا کہ ان لوگوں
    سے اعراض کروں اور مکہ کی طرف بھاگوں اور صلحاء عرب اور مکہ کے برگزیدوں کی طرف توجہ کروں
    کیونکہ وہ
    آزادی کی مٹی سے پیدا کئے گئے اور اہلیت کے دودھ سے پرورش پائے ہیں۔
    سو خدا تعالیٰ نے اس حاجت کے پیدا ہونے کے وقت میرے دل میں یہ القا کیا کہ میں کھلی کھلی عربی
    میں چند کتابیں
    تالیف کروں۔ سو میں نے خدا کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی توفیق سے ایک کتاب تالیف کی
    جس کا نام تبلیغ ہے پھر دوسری کتاب تالیف کی جس کا نام تحفہ ہے پھر تیسری کتاب تالیف کی
    جس کا نام کرامات الصادقین ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 20
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 20
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/20/mode/1up
    ثم ألّفتُ بعدہا حمامۃ البشری، فیہ بشرٰی للذین یطلبون الحق وتفصیل کلُّ ما قلنا من قبل، والتی تنہالُ من تلک الرسائل متفرّقا یُعطی
    ہذا الکتابُ مجتمعا للجائعین؛ ونِسبتُہ إلیہا کنسبۃ شجرۃ إلی بذرہا، وجاء بحمد اللّٰہ حسَنًا مبسوطًا مُبارؔ کًا۔ وأما ثمن ہذہ الکتب فہی ہدیۃ لبلاد الحجاز وبلاد الشام والعراق والمصریین والأفریقیین کلہم، ولکل
    من کان عالما منصفا مع صفر الید۔ وأما غیرہم فعلیہم إن أرادوا اشتراء ہا أن یُرسلوا روبیۃ فی ثمن ’’الحمامۃ‘‘، وکذلک فی ثمن ’’الکرامات‘‘، ونصفہا فی ثمن ’’التبلیغ‘‘، وآنَتینِ ’’للتحفۃ‘‘
    إن کانوا مشترین۔ وإنّا نقصنا آنۃً من ثمن ’’التحفۃ‘‘ رعایۃً للشائقین۔
    وما ألّفتُ ہذہ الکتب إلا لأکباد أرض العرب، وکان أعظم مراداتی أن تشیع کتبی فی تلک الأماکن المقدسۃ والبلاد المبارکۃ
    پھر
    چوتھی کتاب تالیف کی جس کا نام حمامۃ البشری ہے اور حمامۃ البشری میں ان لوگوں کے لئے بشارتیں ہیں جو حق کے طالب ہیں اور نیز ہر ایک اس امر کی تفصیل ہے جس کو ہم پہلی کتابوں میں بیان
    کرچکے ہیں اور جو کچھ پہلی کتابوں سے متفرق طور پر
    فوائد علمیہ کی بارش ہوتی ہے یہ کتاب حمامۃ البشریٰ بھوکوں کے لئے ایک ہی جگہ پر پیش کر دیتی ہے اور اس کی نسبت دوسری کتابوں
    کی طرف ایسی ہے جیسی درخت کی اپنے بیج کی طرف اور خدا کی حمد اور شکر ہے کہ یہ کتاب مبسوط اور مبارک ہے اور قیمت کے بارہ میں حال یہ ہے کہ یہ کتابیں ملک حجاز اور بلاد شام اور
    عراق اور مصریوں
    اور افریقیوں کے لئے تو مفت بطور ہدیہ ہیں اور ایسا ہی اس کے لئے بھی جو عالم اور منصف مزاج اور تہیدست ہو اور دوسروں
    کو قیمت سے ملیں گی سو اگر وہ خریدنا
    چاہیں تو لازم ہے کہ حمامۃ البشریٰ کی ایک روپیہ قیمت بھیجیں۔
    اور ایسا ہی ایک روپیہ کرامات الصادقین کے لئے اور آٹھ آنہ تبلیغ کی قیمت اور دو آنہ تحفہ کی
    اگر خریداری کا ارادہ ہو۔ اور ہم
    نے ایک آنہ تحفہ کی قیمت سے بپاس خاطر شائقان کم کر دیا ہے۔
    اور میں نے ان کتابوں کو صرف زمین عرب کے جگر گوشوں کے لئے تالیف کیا ہے اور میری بڑی مراد یہی تھی
    کہ ان مقدس
    جگہوں اور مبارک شہروں میں میری کتابیں شائع ہو جائیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 21
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 21
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/21/mode/1up
    فرأیت أن شیوع الکتب فی تلک البلاد فرعٌ لوجود رجل صالح یُشیعہا، وأیقنت أن شہرۃ کتبی وانتشارہا فی صلحاء العرب أمر مستحیل
    من غیر أن یجعل اللّٰہ من لدنہ ناصرا منہم ومن إخوانہم۔ فکنت أرفع أکُفَّ الضراعۃ والابتہال لتحصیل ہذہ المُنْیۃ، وتحقیق ہذہ البُغْیۃ، حتی أُجیبتْ دعوتی، وأُعطیتْ لی بُغْیتی، وقاد إلیَّ فضل اللّٰہ رجلًا ذا علم
    وفہم ومناسبۃ ومن علماء العرب ومن الصالحین۔ ووجدتہ طیّب الأعراق کریم الأخلاق، مطہّرۃ* الفطرۃ لَوْذَعِیًّا ألْمَعِیًّاؔ
    ومن المتقین۔ فابتہجتُ بلقاۂ الذی کان مرادی ومدعائی، وحسبتُہ باکورۃَ
    دعائی، وتفاء لت بہ بخیر یأتی وفضل یحمی، وازدہانی الفرح وصرت یومئذ من المستبشرین، فہنّیتُ نفسی ہنالک وشکرتُ اللّٰہ وقلتُ الحمد لک یا رب العالمین۔
    پس میں نے دیکھا کہ کتابوں کا ان ملکوں میں
    شائع ہونا ایک ایسے نیک انسان کے وجود کی فرع ہے جو شائع کرنے والا ہو
    اور میں نے یقین کیا کہ میری کتابوں کا صلحاء عرب میں شائع ہونا ایک امر محال ہے بجز اس صورت کے کہ
    خدا تعالیٰ
    اپنی طرف سے میرے لئے ان میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے کوئی مدد دینے والا مقرر
    ؔ کرے سو میں تضرع کے ہاتھ اٹھاتا اور دعائیں عاجزی سے کرتا تھا کہ یہ آرزو اور مراد میرے لئے
    حاصل اور
    متحقق ہو یہاں تک کہ میری دعا قبول کی گئی اور میری مراد مجھے دی گئی اور میری طرف خدا کا فضل ایک ایسے آدمی
    کو کھینچ لایا جو صاحب علم اور فہم اور مناسبت تھا اور نیک
    بختوں میں سے تھا۔
    اور میں نے اس کو پاک اصل اور پسندیدہ خلق والا اور پاک فطرت والا اور دانا اور پرہیز گار پایا
    سو میں اس کی ملاقات سے جو میری عین مراد تھی خوش ہوا اور اپنی دعا کا
    پہلا پھل
    میں نے اس کو خیال کیا اور آنے والی خیر اور بچانے والے فضل کے لئے میں نے اس کو ایک نیک
    فال سمجھا اور کثرت خوشی نے مجھ کو ہلا دیا اور اس دن میں اُن لوگوں میں سے ہوگیا
    جو خوش ہوتے ہیں سو میں نے اپنے نفس کو اس وقت
    مبارک باد دی اور خدا کا شکر کیا اور کہا کہ اے تمام جہانوں کے خدا تیرا شکر ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 22
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 22
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/22/mode/1up
    وتفصیل ذلک أن شابًّا صالحا وَسِمًا جاء نی من بلاد الشام، أعنی من طرابلس، وقادہ الحکیم العلیم إلیَّ ولبث عندی إلی سبعۃ أشہر، أعنی
    إلی ہذا الوقت، فتوسّمتُ فیہ الخیر والرشد، ووجدت فی مِیْسَمہ أنوار الصلاح، ورأیت فیہ سِمۃ الصالحین۔ ثم أمعنتُ فی حالہ وقالہ وتفحصت مِن ظاہرہ وباطن أحوالہ بنور أُعطیَ لی وإلہام قُذف فی قلبی، فآنستُ
    حسن تقاتہ ورزانۃ حصاتہ، ووجدتُہ رجلًا صالحًا تقیّا راکلا علی جذبات النفس وطاردہا ومن المرتاضین۔ ثم أعطاہ اللّٰہ حظًّا من معرفتی فدخل فی المبایعین۔ وقد انفتح علیہ باب عجیب من معارفنا وألّف کتابا
    وسمّاہ إیقاظ الناس، وہو دلیل واضح علی سعۃ عملہ، وحجۃ منیرۃ علی إصابۃ رأیہ، ویکفی لکل مُمار فی مضمار۔ ولما أفضی فی تألیف ذلک الکتاب جمع عندہ
    اور اس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ بلاد
    شام سے ایک جوان صالح خوش رو میرے پاس آیا یعنی
    طرابلس سے اور حکیم و علیم اس کو میری طرف کھینچ لایا اور قریب سات مہینے کے
    یعنی اس وقت تک میرے پاس رہا اور میں نے فراست
    سے اس کے وجود کو باخیر دیکھا اور اس میں رشد پایا اور
    اس کے چہرہ میں صلاحیت کے انوار پائے اور صلحاء کے نشان پائے۔ پھر میں نے اس کے حال اور قال
    میں غور کی اور اس کے
    ظاہر اور باطن میں تفحص کیا اور اس نور اور الہام کے ساتھ دیکھا
    جو مجھ کو عطا کیا گیا ہے سو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ حقیقت میں نیک ہے اور متانت عقلی اس کو حاصل ہے اور آدمی
    نیک
    بخت ہے جس نے جذبات نفس پر لات ماری اور ان کو الگ کر دیا ہے اور ریاضت کش انسان ہے۔ پھر
    خدا نے اس کو کچھ حصہ میری شناخت کا عطا کیا سو وہ بیعت کرنے والوں میں داخل ہوگیا اور
    خدا تعالیٰ نے ہماری
    معرفت کی باتوں میں سے ایک عجیب دروازہ اس پر کھول دیا اور اس نے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام ایقاظ الناس
    رکھا اور وہ کتاب اس کے وسعت معلومات پر دلیل واضح
    ہے اور اس کی رائے صائب پر ایک روشن حجت ہے اور وہ کتاب
    ہر ایک مباحث کے لئے ہر ایک میدان میں کفایت کرتی ہے اور جب اس نے اس کتاب کا تالیف کرنا شروع کیا تو بہت سی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 23
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 23
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/23/mode/1up
    کثیرا من کتب الحدیث واؔ لتفسیر، وفکّر فکرا عمیقًا فی کل أمر، فہو دَرُّ أفکارہ، ونور أنظارہ، ولیس علامۃُ العارف من دون المعارف۔
    وإنی إذا قرأتُ کتابہ وتصفحت أبوابہ ورفعت جلبابہ، فاستملحتُ بیانہ، ومدحتُ شأنہ، وما وجدت فیہ شیئا شانَہ، وأدعو أن یشیع اللّٰہ کتابہ مع کتبی، ویضع فیہ قبولیّۃً ویُدخل فیہ روحا منہ، ویجعل أفئدۃ من
    الناس تہوی إلیہ، وجزاہ فی الدارین وبارک فی مقاصدہ ویدخلہ فی المقبولین۔ ولما فرغ من تألیف کتابہ حملہ إخلاصہ علی أن یکون مُبلِّغَ معارفنا إلی علماء وطنہ، ویخبر فیہم عن أخبارنا، ویکون منادیا ویطلق
    نداءًً فی کل ناحیۃ، ویُشیع الکتب لیتضح الأمر علی أہل تلک البلاد، وہذا ہو المراد الذی کنا ندعو لہ فی اللیل والنہار۔ وأری أنہ رجل صادق القول والوعد، یتّقی الفضول فی الکلام
    کتابیں حدیث اور تفسیر کی
    جمع کیں اور ہر ایک امر میں پوری پوری غور کی سو یہ کتاب اس کے فکروں کا ایک
    دودھ اور اس کی نظروں کا ایک نور ہے اور عارف کی علامت اس کی معرفت کی باتیں ہی ہوتی ہیں اور جب میں
    نے
    اس کی کتاب کو پڑھا اور صفحہ صفحہ کرکے اس کے باب دیکھے اور اس کی چادر اٹھائی تو میں نے اس کے بیان کو
    ملیح پایا اور اس کی شان کی میں نے تعریف کی اور میں نے اس میں
    کوئی ایسی بات نہ پائی کہ جو اس کو بٹّہ لگاوے اور میں دعا کرتا ہوں
    کہ خدا اس کی کتاب کو میری کتابوں کے ساتھ شائع کرے اور اس میں قبولیت رکھ دیوے اور اس میں اپنی طرف سے ایک روح
    داخل کرے اور
    بعض دل پیدا کرے جو اس کی طرف جھک جاویں اور اس کے مؤلف کو دونوں جہانوں میں بدلہ دے اور اس کے مقاصد میں برکت ڈالے
    اور اس کو مقبولوں میں داخل کرے اور جب
    وہ اپنی تالیف سے فارغ ہوا تو اس کے اخلاص نے اس کو اس بات پر آمادہ کیا
    کہ ہماری معرفت کی باتوں کو اپنے وطن کے علماء تک پہنچاوے اور ہماری خبریں ان میں پھیلاوے۔
    اور منادی بن کر
    ہر ایک طرف آوازیں پہنچاوے اور کتابوں کو شائع کرے تا ان لوگوں پر
    حقیقت کھل جاوے اور یہ وہی مراد ہے جس کے لئے ہم دن رات دعائیں کرتے تھے
    اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ شخص اپنے
    قول اور وعدہ میں مرد صادق ہے بے ہودہ کلام سے پرہیز کرتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 24
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 24
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/24/mode/1up
    ولا یرتع اللسان فی کل مرتع بإطلاق الزمام۔ ولقد أدخل اللّٰہ حُبَّنا فی قلبہ، فیحبّنا ونحبّہ، وکلّ ما وعد ہذا الرجل وتکلّمَ فأَتیقّنُ أنہ ہو أہلہ،
    وسینجز کما وعد، وأرجو أن یجعلہ اللّٰہ سببا لریع بذرنا، وسوغ حلبنا، وہو أحسن المسبّبین۔ ورأیتُ أنہ رجل مرتاض صابر لا یشکو ولا یفزع، ورأیت مرؔ ارا أنہ یقنع علی أدنی المأکولات والملبوسات، ولو لم
    یکن لحاف فلا یطلبہ، بل یدفع البرد من التضحی واصطلاء الجمر، ولا یسأل تعفّفًا۔ ووجدتُ فیہ آثار الخشوع والحلم والإنابۃ ورقّۃ القلب، واللّٰہ أعلم وہو حسیبہ۔ وما قلت إلا ما رأیت، فلا تعجبوا من رحمۃ اللّٰہ
    أن تکفکِفَ ما دَہَمَنا مِن حرج بسعی ہذا الرجل، واللّٰہ یفعل ما یشاء ، لا مانع لما أراد، ولا رادّ لما جاد، وہو حافظُ دینہ وناصر کل من ینصر الدین۔
    اور زبان کو ہر ایک چراگاہ میں مطلق العنان نہیں چھوڑتا
    اور خدا تعالیٰ نے ہماری محبت اس کے دل میں ڈال دی
    سو ہم سے وہ محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے اور جو کچھ اس نے کہا اور وعدہ کیا میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس کا
    اہل ہے اور جیسا کہ
    کہا ویسا ہی کرے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا اس کو ہمارے بیج کی نشوونما اور تروتازگی کا باعث
    کرے اور ہمارا دودھ اس کے ذریعہ سے خوشگوار ہو جاوے۔ اور خدا سب مسببوں سے نیک
    تر ہے اور میں نے دیکھا کہ یہ شخص ریاضت کش اور صابر ہے شکوہ اور جزع فزع اس کی سیرت نہیں اور میں نے بارہا دیکھا کہ یہ شخص ادنیٰ چیزوں کے کھانے پر کفایت کرتا ہے اور ایسا ہی
    ادنیٰ ملبوسات پر اگر لحاف نہ ہو تو اس کو مانگتا نہیں بلکہ دھوپ میں بیٹھنے اور آگ سیکنے سے گذارہ کر لیتا ہے اور تکلیف اٹھا کر اپنے تئیں سوال سے باز رکھتا ہے میں نے اس میں فروتنی اور حلم
    اور انابت اور نرمئ دل کو پایا اور خدا بہتر جانتا ہے اور وہ اس کا حسیب ہے میں نے جو دیکھا سو کہا پس خدا کی رحمت سے کچھ تعجب مت کرو کہ وہ اس شخص کی سعی سے ان حرجوں کو
    اٹھادے جو ہمیں پہنچ گئے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو رد نہیں کرسکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں
    کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 25
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 25
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/25/mode/1up
    واعلموا أیہا الإخوان أن أمر إشاعۃ الکتب فی دیار العرب وتبلیغ معارف کتبنا إلیہم لیس بشیء ہیّن، بل أمر ذو بال لا یُتمّہ إلا من ہو
    أہلہ، فإن ہذہ المسائل الغامضۃ التی کُفِّرْنا وکُذِّبْنا لہا لا شک أنہا تصعُب علی علماء العرب کما صعبتْ علی علماء ہذہ الدیار، لا سیما علی أہل البوادی الذین لا یعلمون دقائق الحقیقۃ، ولا یتدبّرون حق التدبّر،
    أنظارہم سطحیۃ وقلوبہم مستعجلۃ، إلا قلیل منہم الذین أنار اللّٰہ فطرتہم وہم من النادرین۔
    فلأجل تلک المشکلا ت التی سمعتم۔ اقتضت المصلحۃ الدینیۃ أن نتخیّر لہذا الأمر عالِمًا مذکورا الذی اسمہ محمد
    سعیدی النشار الحمیدی الشامی*۔ ولا شک أن وجودہ لہذاؔ المہمّ من المغتنمات، ومجیۂ عندنا
    اور بھائیو یہ بھی تمہیں معلوم رہے کہ دیار عرب میں کتابوں کے شائع کرنے کا معاملہ اور ہماری
    کتابوں کے عمدہ مطالب عرب کے لوگوں تک پہنچانا کچھ تھوڑی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے اور
    اس کو وہی پورا کرسکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔ کیونکہ یہ باریک مسائل جن کے لئے ہم
    کافر ٹھہرائے گئے اور جھٹلائے گئے
    کچھ شک نہیں کہ وہ عرب کے علماء پر بھی ایسے سخت گذریں گے جیسا کہ اس ملک کے مولویوں پر سخت گذر رہے
    ہیں بالخصوص عرب کے اہل بادیہ
    کو تو بہت ہی ناگوار ہوں گے کیونکہ وہ باریک مسائل سے بے خبر ہیں اور وہ
    جیسا کہ حق سوچنے کا ہے سوچتے نہیں اور ان کی نظریں سطحی اور دل جلد باز ہیں مگر ان میں
    قلیل المقدار ایسے
    بھی ہیں جن کی فطرتیں روشن ہیں اور ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں۔
    سو ان مشکلات کی وجہ سے جو تم سن چکے مصلحت دینی نے تقاضا کیا جو اس کام
    کے لئے ہم اس عالم مذکور کو منتخب
    کریں جس کا نام محمدؐ سعیدی النشار الحمیدی
    الشامی ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس کا وجود اس مہم کے لئے از بس غنیمت ہے اور اس کا اس جگہ آنا
    * الحاشیۃ: مسکنہ طرابلس شام ملک
    سیریا ویُقال لھا باللغۃ الانکلیزیۃ تربولی وھی مدینۃ عظیمۃ علی ساحل بحر الروم بینھا وبین بیروت ثلٰثون اکواسًا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 26
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 26
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/26/mode/1up
    مِن فضل قاضی الحاجات، وہو خیرٌ قلبًا ونِعْمَ الرجل، مع أن الضرورۃ قد اشتدت، فلعل اللّٰہ یصلح أمرنا علی یدیہ، وہو بہذا التقریب
    یصل وطنہ وینجو من تکالیف السفر العنیف، ویتخلّص من مُفارقۃ المألف والألیف، وتُؤجَرون علیہ من اللّٰہ الرحیم اللطیف۔ وما قلتُ إلَّا لِلّٰہ وما أنا إلا ناصح أمین۔ والذین یظنون أن أہل العرب لا یقبلون ولا
    یسمعون، فلیس عندنا جوابُ ہذا الحمق مِن غیر أن نحولق علی قولہم ونسترجع علی فہمہم۔ ألا یعلمون أن العربیِّین سابقون فی قبول الحق من الزمان القدیم؟ بل ہم کالأصل فی ذلک وغیرہم أغصانہم۔ ثم نقول إن
    ہذا فعلُ اللّٰہ رحمۃً منہ، والعرب أحق وأولی وأقرب برحمتہ، وإنی أجد ریح فضل اللّٰہ، فلا تتکلّموا بکلمات الیأس ولا تکونوا من القانطین۔ ولا تظنوا ظن السوء ، وإن بعض الظن
    خدا تعالیٰ کے فضل میں
    سے ہے اور وہ نیک دل اور بہت اچھا آدمی ہے اور اس طرف ضرورت
    بھی سخت ہے پس شائد خدا اس کے ہاتھ پر ہمارے کام کی اصلاح کرے اور وہ اس تقریب سے اپنے
    وطن میں پہنچ جاوے
    اور سفر کی سخت مشقتوں سے نجات پاوے اور وطن اور دوستوں کی جدائی سے بھی
    رہائی ہو اور تم کو خدا تعالی سے اجر ملے اور میں نے صرف اللہ کے لئے یہ باتیں کی ہیں
    اور میں امانت
    سے نصیحت کرنے والا ہوں۔ اور وہ لوگ جن کا یہ گمان ہے کہ عرب کے لوگ
    قبول نہیں کریں گے اور نہ سنیں گے پس ہمارے پاس اس نادانی کا بجز اس کے اور کوئی جواب
    نہیں کہ ہم ان کے
    اس خیال پر لا حول پڑھیں اور ان کی سمجھ پر انّا للّٰہ کہیں کیا نہیں جانتے کہ عرب کے لوگ حق
    کے قبول کرنے میں ہمیشہ اور قدیم زمانہ سے پیش دست رہے ہیں بلکہ وہ اس بات میں جڑ کی طرح
    ہیں اور
    دوسرے ان کی شاخیں ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے اور عرب کے لوگ الٰہی
    رحمت کے قبول کرنے کے لئے سب سے زیادہ حقدار
    اور قریب اور نزدیک ہیں اور مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کی خوشبو آرہی ہے
    سو تم نو امیدی کی باتیں مت کرو اور ناامیدوں میں سے مت ہو جاؤ اور بدگمانیوں میں مت پڑو اور بعض ظن گناہ
    ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 27
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 27
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/27/mode/1up
    إثم، فاتقوا الظنون الفاسدۃ التی تتزعّجُ منہا أرضُ إیمان الظانین وتنزعجُ النیّۃ الصالحۃ، وتکثُر وساوس الشیاطین۔ وقوموا متوکّلا علی
    اللّٰہ وقَدِّموا من خیر ما استطعتم، وأَعِدُّوا لأخیکم مِن زادٍ یکفیہ لسفرہ البحری والبری، وکان اللّہ ؔ معکم ووفّقکم وہو خیر الموفِّقین۔
    فنرجو مِن إخلاص أہل الثروۃ والمقدرۃ أن یتوجہوا إلی اہتمام ہذا الأمر
    بکل القلب وکل الہمّۃ، ولا حاجۃ إلی أن نُکثِر القول ونبالغ فی الکلام ونستنہض ہمم الأحبّاء والمخلصین ببیانات مملوّ ۃ من التکلفات، فإنّا نعلم أن الإشارۃ کافیۃ لأحبّائنا المتصدّقین۔ فلیُعط کل أحد منہم بقدر قدرتہ
    التی أعطاہ اللّٰہ ولا یستحی ولا یحتشم من أن ینفح بالقلیل، ولیعلم أن الغرض أن یُعطی ولو کانت فلسۃ أو ربعہ أو أقلّ من الفتیل۔ ومن کان ذا عیشۃٍ خضراء فلیعط
    سو تم ایسے ظن مت کرو جن سے بدگمان
    انسان کی ایمانی زمین ہل جاتی ہے اور نیت
    صالحہ میں جنبش آتی ہے اور شیطانی وساوس بڑھتے ہیں۔ اور خدا کے توکل پر کھڑے ہو جاؤ اور
    کوئی نیکی کر لو جو کر سکتے ہو اور اپنے بھائی
    کے لئے کچھ زاد سفر بہم پہنچاؤ جو اس کے سفر بحری
    اور بری کے لئے کافی ہو خدا تمہارے ساتھ ہو اور تمہیں توفیق دے اوروہ بہتر توفیق دہندہ ہے۔
    پس ہم اہل مقدور دوستوں کے اخلاص
    سے امید رکھتے ہیں کہ اس کام کے اہتمام کی طرف
    سارے دل اور ساری ہمت سے مصروف ہوں اور ہمیں کچھ حاجت نہیں کہ ہم زیادہ کہیں اور کلام میں مبالغہ کریں
    اور پُرتکلف بیانوں سے اپنے
    دوستوں اور مخلصوں کو تحریک دیں کیونکہ ہم
    جانتے ہیں کہ ان کے لئے اشارت کافی ہوگیِ للہ کام کرنا ان کی عادت ہے۔
    پس چاہیئے کہ ہر ایک ان میں سے بقدر خدا داد استطاعت دیوے اور اس
    بات سے شرم نہ کرے
    کہ وہ کچھ تھوڑا دیتا ہے اور اس بات کو معلوم کرے کہ غرض اصلی یہ ہے کہ دیوے اگرچہ ایک پیسہ یا اس کا چوتھا
    حصہ یا کھجور کے اندر کے چھلکے سے بھی
    تھوڑا ہو اور جو شخص خوش اوقات کھاتا پیتا ہو سو اگر چاہے تو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 28
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 28
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/28/mode/1up
    بقدر حیثیّتہ إن شاء ، وما ہذا إلا عملُ طلاّبِ وجہ اللّٰہ، ومن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ، ویبارک اللّٰہ فی مالہ وأہلہ وعیالہ، وما تنفقون
    فی سبیل اللّٰہ فہو عائد إلیکم فی الدنیا والآخرۃ ولا ترون خسرا۔ فإن أعطیتم بذرًا فلکم زراعۃٌ، وإن أعطیتم قطرۃً فلکم بحرٌ فضلا من عند اللّٰہ، واللّٰہ لا یضیع أجر المحسنین۔ أم حسبتم أن تُغفَروا ویرضی عنکم
    ربکم ولما یجدکم ساعین لمرضاتہ والطائعین کالمخلصین۔ أیہا الرجال اتقوا اللّٰہ وکونوا من الذین یُؤْثِرونہ علی أنفسہم، واعلموا أن اللّٰہ مع المتقین۔ إنما أموالکم وأولادکم فتنۃ، و ؔ ینظر اللّٰہ أتحبونہ أو تحبون
    أشیاء أخری، وستُبعَدون عن ہذہ اللذات ولا تبقی ہذہ المجالس ونظّارتہا، ثم تُرجَعون إلی اللّٰہ وتُسألون عما عملتم وعما جاہدتم فی سبلہ۔ فقوموا أیہا الناس قوموا، الوقت یذہب۔ قوموا سریعا
    اپنی حیثیت کے
    مناسب دیوے اور یہ کام محض ِ للہ اور اس کی خوشنودی کے لئے ہے اور جو شخص ایک ذرہ کے
    موافق بھی بھلائی کرے گا وہ اس کا اجر پائے گا اور خدا اس کے مال اور اہل اور عیال میں برکت
    دے گا اور
    جو کچھ تم خدا کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہاری طرف دنیا اور آخرت میں پھر لوٹ کر واپس آئے گا اور تم نقصان نہیں اٹھاؤ گے
    پس اگر تم ایک بیج دو گے تو تمہارے لئے ایک
    زراعت ہوگی اگر قطرہ دو گے تو تمہارے لئے دریا ہوگا اور خدا
    نیکوکاروں کا کبھی اجر ضائع نہیں کرتا۔ کیا تم جانتے ہو کہ یونہی بخشے جاؤ اور خدا تم سے راضی ہو جائے
    اور ہنوز اس نے
    تم کو اپنی رضا مندی کی راہوں میں سرگرم نہ پایا ہواور اور تم فرمانبردار اور مخلص اس کی نظرمیں نہ ٹھہرے ہو
    اے لوگو خدا سے ڈرو اور ان لوگوں کی طرح ہو جاؤ جو خدا کو اپنے نفسوں پر
    مقدم کر لیتے ہیں اور یقیناً جانو کہ خدا پرہیز گاروں
    کے ساتھ ہے۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کی جگہ ہیں اور خدا دیکھتا ہے کہ تم اس سے پیار کرتے ہو یا دوسری
    چیزوں سے اوروہ
    وقت آتا ہے کہ تم ان لذتوں سے دور کر دیئے جاؤ گے اور یہ مجلس باقی نہیں رہے گی اور نہ ان کے
    دیکھنے والے پھر تم خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے اور تم سے تمہارے اعمال کا
    سوال ہوگا اور یہ کہ تم نے
    اس کی راہ میں کیا کیا کوششیں کیں پس اٹھو اے لوگو اٹھو وقت جاتا ہے جلد اٹھو اور آرام پسندوں کے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 29
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 29
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/29/mode/1up
    ولا تقعدوا مع المترَفین۔ ولسنا بالموجب حقًّا لمن لا یوجب الحق علٰی نفسہ، ولا یُکلّف اللّٰہ نفسا إلا وُسعہا وما أنا من المتکلّفین۔ وما
    أتوجہ إلا إلی الذی یصدُقنی الوُدَّ، وأترک الذی منعہ البخل فصدَّ، ولحِق بالذین بخلوا فرُدَّ، وعُدَّ من المخذولین۔
    ولیعجل المرسِلون للإرسال فإن الوقت ضیّق، والضیف العزیز مستعدّ للسفر۔ وقد وجب علینا
    إعلام المتغفلین بأسرع أوقات، فلا ینبغی أن تقعدوا کسالی بعدما بیّنتُ لکم ضرورۃ ہذا الأمر، فقدِّموا للمعاضدۃ ولا تأخّروا، وانفُضوا أیدیکم تُؤجَروا، وکونوا فی سبیل اللّٰہ سابقین۔ ولْیُرسِلْ ہہنا فی قادیان مَن کان
    مُرسِلًا من درہم أو دینار، ولیبیّنْ فی مکتوبہ أنہ أرسل لہ، بل الاَولٰی أن یرسل إلیہ باسمہ بلا واسطتی لیجمع عندہ کل ما یجیء ، ولیطمئن بہ قلبہ۔ وإن أنفَسَ القُرُبات
    ساتھ مت بیٹھو اور ہم کسی ایسے شخص
    پر کوئی حق واجب نہیں کرتے جو اپنے نفس پر حق واجب
    نہیں کرتا اور خدا کسی جان کو اسی قدر تکلیف دیتا ہے جو اس کی وسعت میں ہے اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ اور
    میں صرف ایسے شخص کی طرف توجہ کرتا ہوں جو مجھ سے دوستی خالص رکھتا ہے اور میں اس کو ترک کرتا ہوں جس کو بخل نے کارخیر سے منع کر دیا اور بخیلوں سے مل گیا اور رد کیا گیا ور
    محروموں میں سے شمار کیا گیا۔
    اور چاہیئے کہ بھیجنے والے بھیجنے کے لئے جلدی کریں کیونکہ وقت تنگ ہے اور مہمان عزیز سفر کو تیار ہے
    اور ہم پر واجب ہو چکا ہے کہ جو غفلت میں ہیں
    ان کو بہت جلد متنبہ کریں پس مناسب نہیں کہ تم سستی کرکے
    بیٹھے رہو بعد اس کے جو میں نے اس امر کی ضرورت بیان کر دی پس تم مدد کے لئے آگے قدم بڑھاؤ اور
    پیچھے مت ہٹو اور
    ہاتھوں کو جھاڑو تا مدد دیئے جاؤ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک دوسرے سے
    سبقت کرو اور چاہیئے کہ بھیجنے والا اسی جگہ قادیان میں بھیجے جو کچھ درہم یا دینار بھیجنا ہو اور اپنے خط
    میں
    بیان کر دے کہ یہ روپیہ اس کے لئے بھیجا گیا ہے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ اسی کے نام سے بغیر میرے واسطہ کے بھیجے تاکہ
    جو کچھ آوے وہ سب اسی کے پاس جمع ہوتا رہے اور تاکہ
    اس کے دل کواس سے اطمینان ہو اور سبِ للّہی عملوں سے جو خدا تعالیٰ کی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 30
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 30
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/30/mode/1up
    إعلاءُُ کلمۃ الإسلام، وہذا وقتہ، فلا تضیّعوا وقتکم، وقوموا کالخادمین۔
    أیہا المسلمون فِرّوا إلی اللّٰہ، واتقوا الفتن التی ہاجت وماجت
    حولکم وفیکم، واعملوا عملًا ؔ یرضاہ لیکون لکم زُلفٰی لدیہ، ولتأخذکم رقّۃٌ علی دینکم فإنہ ضعُف وبدأ الشیب بفَوْدَیہ، والشیب غیر طبعی حدَث من نوازل الحادثات والتکالیف المتتابعات، ولینظر کل أحدٍ منکم
    عملَہ، ولیُفتّش خطراتِہ، ولیَزِنْ بِضاعتَہ التی أعدّہا للآخرۃ، ولینقدْ دراہمہ التی جمعہا لذلک السفر، ہل ہی وازنۃ جیدۃ أو مغشوشۃ ناقصۃ، ولا یخدع نفسہ، ولا یُغرِّرْ بنفسہ من المغشوشات، ولیتدارکْ قبل ذہاب
    الوقت، ولا تقعد کالغافلین
    أیہا الناس زَکُّوا نفوسکم، وطہِّروا صدورکم، ولا تُفرِحْکم جیفۃُ الدنیا وشحومہا، ولا تجلبکم إلیہا کِلابہا، ولا تموتوا إلا مسلمین
    قربت کیلئے کئے جاتے ہیں کلمہ اسلام کی
    بلندی چاہنا زیادہ ثواب کا موجب ہے پس اپنے وقتوں کو ضائع مت کرو اور خادموں کی طرح اٹھ کھڑے ہو
    اے مسلمانوں خدا کی طرف بھاگو اور ان فتنوں سے جو تمہارے آگے پیچھے اور تم میں
    موجیں مار رہے
    ہیں اور اٹھ رہے ہیں اور وہ عمل کرو جس سے خدا راضی ہو جاوے تا تمہیں خدا تعالیٰ کے نزدیک درجہ ملے اور چاہیئے
    کہ تمہیں اپنے دین پر کچھ شفقت پیدا ہو کیونکہ وہ
    ضعیف ہوگیا اور اس کی کنپٹیوں میں بڑھاپے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں
    اور یہ بڑھاپا غیر طبعی ہے جو حوادث نزلہ کے سبب سے اور تکالیف متواترہ کے باعث سے ظاہر ہو گیا ہے اور چاہیئے
    کہ
    ہر ایک شخص اپنے عملوں کو دیکھے اور اپنے دل کے خیالات کو ٹٹولے اور اپنی اس بضاعت کو تولے جو آخرت کے لئے
    تیار کی ہے اور اپنے اس روپیہ کو کھرا کرے جو اس سفر کے لئے
    تیار کیا ہے کیا وہ پورے وزن کا
    اور کھرا ہے یا کھوٹا اور کم وزن کا ہے اور چاہیئے کہ اپنے نفس کو دھوکا نہ دیوے اور اس کو خطرہ میں
    نہ ڈالے اور چاہیئے کہ وقت سے پہلے تدارک کرے
    اور غافلوں کی طرح مت بیٹھا رہے۔
    اے لوگو اپنے نفسوں کو صاف کرو اور اپنے سینوں کو پاک بناؤ اور تمہیں دنیا کا مردار
    اور اس کی چربی بے ہودہ خوش نہ کرے اور اس کے کتے تمہیں اس
    گوشت کی طرف نہ کھینچیں اور بجز پاک مسلمان ہونے کی حالت کے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 31
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 31
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/31/mode/1up
    مطہَّرین۔ ولا تتقوا لعن المخلوق فإنہ سہل ہیّن، واتقوا لعن اللاعن الذی یسوِّد الوجوہ لعنُہ ویُلقی فی ہُوّۃ السافلین۔ ہذا ما أوصیناکم
    فتذکّروا ما أوصینا، واشہدوا أنّا بلّغْنا، واللّٰہ خیر الشاہدین۔ وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔
    مت مرو اور خلقت کی *** سے مت ڈرو کیونکہ وہ سہل اور آسان ہے اور اس خدا کی *** سے
    ڈرو جس کی *** مونہوں کو کالا کر دیتی ہے اور نیچے گرنے والوں کے گڑہوں میں ڈالتی ہے ہماری یہ نصیحت ہے سو اس نصیحت کو یاد رکھو اور گواہ رہو کہ ہم نے نصیحت کو پہنچا دیا اور خدا
    سب گواہوں سے بہتر ہے اور آخری دعوت ہماری یہی ہے کہ تمام تعریفیں خدا کو ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 32
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 32
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/32/mode/1up
    إؔ علان
    نرجو أن تَتَوجَّہ الدّولۃ البَرِیطانیۃ بمراحَمہا العُظمٰی إلٰی
    ہم امید رکھتے ہیں کہ سرکار انگریزی اپنے عظیم الشان رحم
    کی و جہ سے
    ہذا الإعلان، وتُحَمْلقَ بعَدْلِہا إلی الصِّلِّ الذی یلدَغ
    اِس اعلان کی طرف توجہ کرے گی اور اس مار سیرت کو مورد نظر عتاب فرمائے گی
    نُصحاءَ ہا ویَتَنَضْنَضُ نَضْنَضَۃَ الثُّعبان۔
    جو اس کے خیر خواہوں کو کاٹتا ہے اور سانپوں کی طرح زبان ہلاتا ہے۔
    یا قیصرۃ الہند ! صانَکِ اللّٰہ عن الآفات، وکان لطفہ معک فی کل إرادات الخیرات، وحفِظک عن الدواہی والحادثات، جئناکِ
    مستغیثین بما أُوذینا من لسان رجلٍ وکَلِمِہ المُحفِظات۔ وقد سمعنا أنّک تحلّیتِ بمحاسن الأخلاق، وتخلّیتِ فی عدلک مما یسم
    اے قیصرہ ہند خدا تجھ کو آفتوں سے نگاہ رکھے اور ہریک خیر کے ارادہ میں اس
    کا
    لطف تیرے ساتھ ہو اور خدا تجھ کو حوادث سے بچاوے ہم مستغیث بن کر تیرے پاس
    آئے ہیں کیونکہ ہم ایک شخص کی زبان اور اس کے رنجدہ کلمات سے ستائے گئے ہیں اور
    ہم نے سنا ہے
    کہ تو نیک خلقوں سے آراستہ ہے اور اپنے عدل میں ان باتوں سے خالی ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 33
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 33
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/33/mode/1up
    بالأخلاق، وما زلتِ آخذۃً نفسَک بالرحم والإشفاق، ولا ترضی بجور الجائرین۔
    ہذا ؔ خُلُقکِ، ونحن - مع ظل حمایتک - نُلدَغُ مِن
    شرّ بعض المعادین، ونُعَضُّ من أنیاب العاضّین، ویصول علینا کلُّ ضُلٍّ بن ضُلٍّ ویسُبُّ نبیَّنا الکریم کلُّ جہولٍ مَہینٍ، ویسعی أن نُعَدّ من الباغین۔
    و أما تفصیل ہذا المجمل فاعلم یا قیصرۃ۔ تزایَدَ إقبالُک وبارکَ
    اللّٰہ فی دنیاک وأصلحَ مآلَک۔ أن رجلًا من الذین ارتدوا من دین الإسلام ودخلوا فی الملّۃ النصرانیۃ، أعنی النصرانی الذی یُسمّی نفسہ القسیس عماد الدّین، أَ لّف کتابًا فی ہذہ الأیام لِخَدْعِ العوام، وسمّاہ توزین
    الأقوال، وذکر فیہ بعض حالاتی بافتراءٍ بحتٍ لا أصل لہ، وقال إن ہذا الرجل رجل مفسد ومن أہل العداوۃ، وإنی وجدت فی طریقۃِ مشیِہ
    جن پر داغ عیب ہے اور رحم اور شفقت کو تو نے اپنے نفس کے
    لئے ایک خصلت لازمی ٹھہرا دی ہے اور ظلم کرنے والوں کے ظلم پر راضی نہیں۔
    یہ تیرا خلق ہے اور ہم باوجود ظل حمایت تیری کے بعض دشمنوں کے نیش شرارت سے نیش زدہ اور
    ان کاٹنے
    والوں کے دانتوں سے کاٹے جاتے ہیں اور ہریک ایسا شخص ہم پر حملہ کرتا ہے جس کے باپ داد و ں کوکوئی نہیں پہچانتا
    اور ہر ایک جاہل ذلیل ہمارے نبی کریم کی اہانت کر رہا ہے اور کوشش کرتا
    ہے کہ ہم باغیوں سے گنے جائیں۔
    اور اگر اس مجمل کی تفصیل چاہو تو اے قیصرہ تیرا اقبال زیادہ ہو اور خدا تیری
    دنیا میں برکت دے اور تیرا انجام بھی بخیر کرے۔ تجھے معلوم ہو کہ ایک شخص
    نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے
    نکل کر عیسائی ہوگئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نام سے
    موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دکھوکہ دینے کے
    لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام توزین الاقوال
    رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک
    مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن
    ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 34
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 34
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/34/mode/1up
    آثارَ البغاوۃ، ولیس من نُصحاء الدولۃ، وأتیقّن أنہ سیفعل کذا وکذا وأنہ من المخالفین۔
    فالملخّص أنہ حَثَّ الحکومۃ فی ذٰلک علی
    إیذائی، ومع ذلک فرّغ إناء ہ فی سبّی وازدرائی، وأَفرغ قذر لسانہ علی بعض أحبائی، وأکثر القول فی دیانتنا المقدسۃ، وؔ شتَم خیرَ الرسل وبالَغَ فی التوہین۔ وتکلّمَ بکلمات ترتجف منہا القلوب، وتہیِّج فی الأفئدۃ
    الکروب، وسوف نکتب قلیلًا منہا ونجوّبُ أستار الجاہلین۔
    والآن نُنبّہُ الدولۃ العالیۃ مما افتری علینا وزعم کأنّا من أعداء الدولۃ البرطانیۃ، فلیعلم الدولۃ أن ہذہ المقالات کلہا من قبیل صوغ الزور ونسج
    الشرور، ولیس فیہا رائحۃ الصدق مثقال ذرّۃ، وما حملہ علی ذٰلک إلا بعض المصالح الّتی رأی فی نفس تلک المکائد، ولِیَسُرَّ بہا
    بغاوت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے
    ایسے کام کرے گا
    اور وہ مخالفوں میں سے ہے۔
    پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس شخص نے حکام کو میری ایذا کے لئے برانگیختہ کیا ہے اور ساتھ اس کے مجھے گالیاں دینے اور تحقیر کرنے
    میں اس قدر مبالغہ کیا ہے کہ جو کچھ اس کے برتن میں تھا سب باہر نکال دیا اور نیز اپنی زبان کی پلیدی میرے بعض دوستوں پر ڈالی اور ہمارے دین مقدس کے بارے میں بہت کچھ بے ہودہ باتیں کیں
    اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور توہین میں مبالغہ کیا۔ اور ایسی باتیں کہیں جن سے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان میں بے قراریاں
    جوش مارتی ہیں اور ہم کسی وقت ان میں سے کچھ
    تھوڑا سا لکھیں گے اور جاہلوں کے پردے پھاڑ یں گے۔
    اور اب ہم گورنمنٹ عالیہ کو ان باتوں کی اصل حقیقت سے مطلع کرتے ہیں جو ہم پر اس نے افترا کیں اور گمان کیا کہ گویا ہم دولت برطانیہ
    کے بدخواہ ہیں سو گورنمنٹ کو معلوم ہو کہ یہ تمام باتیں از قبیل آرائش دروغ اور شرارت بافی ہیں اور ایک ذرہ بھی سچائی کی بُو ان میں نہیں اور ان باتوں پر اس کو صرف اس کے بعض مصالح نے
    آمادہ کیا جو اس نے ان فریبوں کے اندر دیکھے ہیں اور ایک یہ بھی اس کی غرض
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 35
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 35
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/35/mode/1up
    أکابرَ القسیسین۔ والحمد للّٰہ أن کلماتہ المفتریات شیء لا تخفی علی الدولۃ حقیقتُہ، فنحن فی مأمن من شرہ، ونری خدماتنا اللامعۃ
    للردّ علیہا کالشہب للشیاطین۔ ولا یخفی علی الحکّام طریقتی وشأنی، ولا أمشی مُواریًا عنہم عِیانی، بل الحکومۃ البرطانیۃ تعرفنی وتعرف آبائی، وتنظر مَہْیَعی ومدّعائی، وتعرف أصلی ومنبعی، ولا تجہل
    بیتی ومربعی، وتعلم أنّا لسنا من المفسدین المعادین ولا الباغین الطاغین۔ وما خرجتُ الآن من مغارۃ لتکون الدولۃ من أمری فی غرارۃٍ، بلؔ الدولۃ علی أمثالنا من المباہین۔ ومن توسّمَ أقوالنا واستشفَّ أفعالنا فلا
    تخفی علیہ أعمالنا وإنّا من الصادقین۔ والدولۃ تغوص إلی أعماقنا ولیس علیہا الخفاء ، ولہا أفکارٌ عادیاتٌ لا تُواہِقُہا وَجْناءُ ، إذا ما ترکض
    ہے کہ تا اپنے بڑے پادریوں کو خوش کرے اور شکرِ خدا کہ اس
    کے خود ساختہ کلمات ایک ایسی چیز ہے جس کی حقیقت اس گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں اور ہم اس کی شرارت سے امن میں ہیں اور ہم اپنی روشن خدمات کو
    اس کی باتوں کے رد کرنے کے لئے ایسی
    دیکھتے ہیں کہ جیسے شہاب ثاقب شیاطین کے دفع کرنے کے لئے
    اور حکام پر میرا طرز اور طریق پوشیدہ نہیں اور میں ان سے چھپ چھپ کر چلتا نہیں بلکہ گورنمنٹ برطانیہ
    مجھے اور میرے
    باپ دادوں کو خوب پہچانتی ہے اور میری راہ اور میرے مدعا کو دیکھ رہی ہے اور میرے اصل اور
    سرچشمہ کو جانتی ہے اور میرے خاندان سے بے خبر نہیں اور جانتی ہے کہ ہم مفسدوں اور
    دشمنوں اور
    باغیوں اور طاغیوں میں سے نہیں۔ اور میں ابھی کسی غار میں سے نہیں نکلا
    تاکہ گورنمنٹ میرے معاملہ سے غافل ہو۔ بلکہ یہ گورنمنٹ ہمارے جیسے خیر خواہوں پر
    ناز کرتی
    ہے اور جو شخص ہماری باتوں کو بنظر غور دیکھے گا اور ہمارے افعال پر ایک عمیق نگاہ دوڑائے گا
    سو اس پر ہماری کار گذاریاں چھپی نہیں رہیں گی اور ہم سچے ہیں اور یہ گورنمنٹ ہمارے
    گہراؤ تک غوطہ مار رہی ہے اور
    اس پر ہمارے امر پوشیدہ نہیں۔ اور اس گورنمنٹ کی فکریں تیز دوڑنے والی ہیں کہ کوئی تیز اور مضبوط اونٹنی ان کا مقابلہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 36
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 36
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/36/mode/1up
    آراؤہا فی أرض مقاصدہا فتفری أدیمَ الأرضین، وکلُّ عقل عندہا إلا عقل الدین۔ ونرجو أن یفتح اللّٰہ علیہا ہذا الباب أیضا کما فتح أبوابا
    أخری، واللّٰہ أرحم الراحمین۔
    ولا یخفی علٰی ہٰذہ الدولۃ المبارکۃ أنّا من خُدّامہا ونُصحاۂا ودواعی خیرہا مِن قدیم، وجئناہا فی کل وقت بقلب صمیم، وکان لأبی عندہا زُلفٰی وخطاب التحسین۔ ولنا لدی ہذہ
    الدولۃ أیدی الخدمۃ ولا نظن أن تنساہا فی حین۔ وکان والدی المیرزا غلام مرتضٰی ابن میرزا عطاء محمد القادیانی من نُصحاء الدولۃ وذوی الخُلّۃ وعندہا من أرباب القُربۃ، وکان یُصدَّر علی تکرمۃ العزۃ،
    وکانت الدولۃ تعرفہ غایۃ المعرفۃ۔ وما کُنّا قطُّ من ذوی الظِّنّۃ، بل ثبت إخلاصنا فی أعین الناس کلہم وانکشف علی الحاکمین، ولْتسطلع الدولۃُ حکّامَہا
    نہیں کر سکتی جس وقت گورنمنٹ اپنے راؤں کو
    مقاصد کی زمین میں دوڑاتی ہے تو وہ رائیں روئے زمین کو کاٹتی ہوئی چلی
    جاتی ہیں اور ہر یک عقل بجز دینی عقل کے اس گورنمنٹ کو حاصل ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ
    یہ دروازہ بھی اس پر
    کھل جائے اور خدا ارحم الراحمین ہے۔
    اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور
    خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم
    حاضر ہوتے رہے ہیں اور
    میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں
    اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو
    بھلا دے گی اور میرا والد میرزا غلام مرتضیٰ ابن
    میرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے
    نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین
    عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب
    پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام
    لوگوں کی نظروں میں ثابت ہوگیا اور حکام پر کھل گیا۔ اور سرکار
    انگریزی اپنے ان حکام سے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 37
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 37
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/37/mode/1up
    الذین جاء ونا ولبثوا بیننا کیف عشنا أمام أعینہم وکیف سبقْنا فیؔ کل خدمۃ مع السابقین۔
    ولا حاجۃ إلی تفصیل ہذہ الحقائق، فإن
    الدولۃ البریطانیۃ مُطّلِعۃ علی مراتب خلوصنا وشؤون خدماتنا والإعانات التی کانت تری منّا وقتًا بعد وقت وفی أیام فساد المفسدین۔ وتعلم الدولۃ أنّ أبی کیف أمدّہا فی حینِ محارباتٍ مشتدّۃِ الہبوب وفتنٍ مشتطّۃِ
    اللّہوب، وأنہ آتی الدولۃ خمسین خیلا مع الفوارس مددًا منہ فی أیام المفسدۃ، وسبَق السابقین فی إمدادات المال عند حلول الأہوال، مع أیام العُسر والإِقلال، وذہابِ عہد الإمارات الآبائیۃ وانقلاب الأحوال۔ فلینظر
    من کان لہ نظر صحیح أو قلبٌ أمین۔
    ولم یزل کان أبی مشغوف الخدمات حتی شاخ وجاء وقت الوفاۃ
    دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی
    زندگی بسر کی اور کس طرح ہم ہریک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔
    اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب
    خلوص
    اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتاً فوقتاً ہم سے
    ظہور میں آئیں خاص کر دہلی کے مفسدہ کے وقت میں۔ اور اس گورنمنٹ
    کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد
    نے کیونکر اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت
    آندھی چل رہی تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے سو میرے والد نے اس مفسدہ
    کے دنوں میں
    پچاس گھوڑے معہ سوار اس گورنمنٹ کو امداد کے طور پر دیئے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد
    میں سب سے بڑھ گیا باوجود یکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور
    ختم ہوکر گردش کے
    دن آ گئے تھے پس جو شخص ایک نظر صحیح اور دل امین رکھتا ہے اس کو چاہیئے کہ سوچے؟
    اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک
    پہنچ گیا اور سفر آخرت
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 38
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 38
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/38/mode/1up
    و وجب الارتحال، ولو قصدنا ذکر خدماتہ لضاق بنا المجال، وعجزنا عن التدوین۔ فالملخص أن أبی لم یزل کان شاءِمَ برقِ الدولۃ،
    وقائمًا علی الخدمۃ عند الضرورۃ، حتی أعزّتہ الدولۃ بمکاتیب رضاۂا، وخصّتہ فی کل وقتٍ بعطاۂا، وأسمحت لہ بمواساتہا، وتفضلت علیہ بمراعاتہا، وحسبتہ من دواعی الخیرؔ ومن المخلصین۔ ثم إذا تُوفی
    أبی فقام مقامہ فی ہذہ السِّیَر أخی المیرزا غلام قادر، وغمرتہ مواہب الدولۃ کما غمرت والدی، وتُوُفی أخی بعد أبی فی بضع سنین۔ ثم بعد وفاتہما قفوتُ أثرہما واقتدیتُ سِیَرَہما وذکرت عصرہما، ولکنی ما کنت
    ذا خصب ونعمۃ وسعۃ وثروۃ ولا ذا أملاک وأرضین، بل تبتّلتُ إلی اللّٰہ بعد ارتحالہما ولحقتُ بقوم منقطعین۔ وجذبنی ربّی إلیہ وأحسن مثوای، وأسبغ علیّ من نعماء الدّین۔ وقادنی مِن تدنّسات
    کا وقت آگیا اور
    اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے
    عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امید وار رہا
    اور عند
    الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز
    کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری
    فرمائی اور اس کی رعایت رکھی
    اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پاگیا تب ان خصلتوں میں
    اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام
    قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے
    شامل حال ہوگئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہوگیا
    پھر ان دونوں کی وفات
    کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا
    لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی وفات کے
    بعد اللہ جلّ شانہٗ کی
    طرف جھک گیا اور ان میں جا ملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا۔ اور میرے رب نے اپنی طرف
    مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی
    آلودگیوں اور مکروہات سے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 39
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 39
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/39/mode/1up
    الدنیا إلٰی حظیرۃ قدسہ، وأعطانی ما أعطانی، وجعلنی من الملہَمین المُحدَّثین۔ فما کان عندی من مال الدنیا وخیلہا وأفراسہا، غیر أنی
    أُعطیتُ جِیاد الأقلام ورُزقتُ جواہر الکلام، وأُعطیتُ مِن نورٍ یؤمّننی العثار، ویبیّن لی الآثار۔ فہذہ الدولۃ الإلہیۃ السماویۃ قد أغنتْنی، وجبرت عَیْلتی وأضاء تنی ونوّرت لیلتی، وأدخلتنی فی المنعَمین۔ فقصدت أن
    أعین الدولۃ البرطانیۃ بہذا المال وإن لم یکن لی من الدراہم والخیل والبغال، وما کنت من المتموّلین۔
    فقمتُ لإمدادہا بقلمی ویدی، وکان اللّٰہ فی مددی، وعاہدت اللّٰہ تعالی مُذ ؔ ذلک العہد أن لا أُؤلّف کتابًا
    مبسوطًا مِن بعد إلا وأذکر فیہ ذکرَ إحساناتِ قیصرۃ الہند وذکرَ مننِہا التی وجب شکرہا علی المسلمین۔ ومع ذلک کان فی خاطری أَنْ أدعو القیصرۃ المکرمۃ إلی الإسلام
    نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا
    اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور
    محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ
    عمدہ گھوڑے
    قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے
    لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے پس اس الٰہی اور
    آسمانی دولت نے مجھے
    غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں
    میں داخل کیا سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ
    گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں اگرچہ
    میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔
    سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا
    اور میں نے اسی زمانہ سے
    خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر
    نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر
    ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔
    اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوت اسلام کروں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 40
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 40
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/40/mode/1up
    و أہدیہا إلی الربّ الذی ہو خالق الأنام، فإِنّہا أحسنت إلینا وإلی آبائنا، وما کان جزاء الإحسان إلا أن ندعو لہا فی الدنیا دعاء الخیر
    والإقبال وفوز المرام، ونسأل اللّٰہ لعُقباہا أن تُرزَق توحید الإسلام، وتنتہج سبل الحق وتؤمن بعظمۃ الملیک العلّام، وتعرف الرب الذی أحدٌ صمدٌ ما ولد وما وُلِد، وتُعطَی نعماء أبد الآبدین۔
    فألّفتُ کُتبًا وحرّرتُ فی
    کل کتاب أن الدولۃ البریطانیۃ مُحسنۃ إلی مسلمی الہند وتنتجعہا ذراری المسلمین، فلا یجوز لأحد منہم أن یخرج علیہا ویسطو کالباغین العاصین، بل وجب علیہم شکرُ ہذہ الدولۃ وإطاعتہا فی المعروف، فإنہا
    تحمی دماء ہم وأموالہم وتحفظہم مِن سطوۃ کل ظالم، وقد نجّتْنا من أنواع الکروب وارتجاف القلوب، فإن لم نشکر فکنا ظالمین۔ فالشکر واجب علینا دینًا ودیانۃ، ومن
    اور اس رب کی طرف سے اس کو
    راہنمائی کروں جو درحقیقت مخلوقات کا رب ہے کیونکہ اس کا احسان ہم پر اور ہمارے
    باپ دادوں پر ہے اور احسان کا عوض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس کی دنیا کی خیر اور
    اقبال کے
    لئے دعا کریں اور اس کے عقبیٰ کے لئے خدا تعالیٰ سے یہ مانگیں کہ اسلامی توحید کی راہ اس کے
    نصیب کرے اور حق کی راہوں پر چلے اور اس بادشاہ کی بزرگی کی قائل ہو جو غیب کی باتیں
    جانتا ہے اور اس رب کو
    پہچانے جو اکیلا اور تمام مخلوق کا مرجع اور نہ مولود اور نہ والد ہے اور اس کو ابدی نعمتیں ملیں۔
    سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہریک کتاب میں میں نے لکھا کہ
    دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے
    اور مسلمانوں کی اولاد کی ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان میں سے جائز نہیں جو اس پر
    خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو بلکہ ان پر
    اس گورنمنٹ کا شکر واجب ہے اور
    اس کی اطاعت ضروری ہے کیونکہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور
    ہریک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے اور
    درحقیقت ہمیں اسی نے بے قراریوں اور دل کے لرزوں
    سے بچایا سو اگر شکر نہ کریں تو ظالم ٹھہریں گے۔ پس شکر ہم پر از روئے دین و دیانت کے واجب ہے اور جو شخص
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 41
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 41
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/41/mode/1up
    لا یشکر الناس ماؔ شکر اللّٰہ، واللّٰہ یحب المقسطین۔ وإنّا لن ننسی أیّامًا وأزمنۃ مضت علینا قبلہا، وواللّٰہ ما کان لنا أمنٌ فیہا إلی
    دقیقتین فضلًا عن یوم أو یومین، وکنا نُمسی ونصبح متخوّفین۔
    فأشعتُ تلک الکتب المحتویۃ علی تلک المضامین فی کل دیار وفی أناس أجمعین، وأرسلتہا إلی دیار بعیدۃ من العرب والعجم وغیرہا، لعل الطبائع
    الزایغۃ تکون مستقیمۃ بمواعظہا، ولعلّہا تکون صالحۃ لشُکر الدولۃ وامتثالہا، وتقلّ غوائل المفسدین، ولعلہم یعلمون أن ہذہ الدولۃ محسنۃ إلیہم فیحبونہا طائعین۔ ہٰذا عملی وہذہ خدمتی، واللّٰہ یعلم نیّتی، وہو
    خیر المحاسبین۔ وما فعلت ذلک خوفًا من ہذہ الدولۃ أو طمعًا فی إنعامہا وإکرامہا، إن فعلتُ إلّا للّٰہ وامتثالا لأمر خاتم النبیین۔ فإن نبیّنا وسیّدنا ومولانا حبیب اللّٰہ
    آدمیوں کا شکر نہیں کرتا اس نے خدا کا بھی
    شکر نہیں کیا اور خداا نہیں کو دوست رکھتا ہے جو طریق انصاف پر چلتے ہیں اور ہم ان دنوں اور ان زمانوں کو بھول نہیں گئے جو اس گورنمنٹ سے پہلے ہم پر گذرے اور بخدا ہمیں ان وقتوں میں دو
    منٹ بھی امن نہیں تھا چہ جائیکہ ایک دن یا دو دن ہو اور ہم ڈرتے ڈرتے شام کرتے اور صبح کرتے تھے۔
    سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے
    اور ان
    کتابوں کو یعنی دور دور کی ولایتوں میں بھیجا ہے جن میں سے عرب اور عجم اور
    دوسرے ملک ہیں تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آ جائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ
    کا
    شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ
    وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے اس کی اطاعت
    کریں۔ یہ میرا کام اور
    یہ میری خدمت ہے اور خدا میری نیت کو جانتا ہے اور وہ سب سے بہتر محاسبہ کرنے والا ہے اور مَیں نے یہ کام
    گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام
    کا امید وار ہوکر کیا ہے بلکہ یہ کام محضِ للہ اور
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کیا ہے کیونکہ ہمارے نبی اور ہمارے سردار اور ہمارے مولا نے جو خدا کا پیارا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 42
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 42
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/42/mode/1up
    وخلیلہ محمدن المصطفٰی صلعم قد أمرَنا أن نثنی علی المنعِمین، ونشکر المحسنین، فلأجل ذلک شکرتہا ونصرتہا ما استطعتُ، وبثثتُ
    مِنَنَہا وأشعتُہا فی کل بلدۃ مِن مُلکنا المعلوم إلی بلاد العرب والروم، وحثثتُ الناس علی إطاعتہا۔ ومن کان فی شک فلیرجع إلی کتابی البراہین، وإن لم یکفِ لِشَکِّہ فلینظر کتابی التبلیغ، وإنؔ لم یطمئن فلیقرأ کتابی
    الحمامۃ، وإن بقی مع ذٰلک شک فلیُفکّر فی کتابی الشہادۃ، ولیس حرام علیہ أن ینظر فی ہذہ الرسالۃ أیضا لیتضح علیہ کیف أعلنتُ بصوت عالٍ فی منع الجہاد والخروج علی ہذہ الدولۃ وتخطیۃ المجاہدین۔
    فلو
    کنتُ عدوًّا لہذہ الدولۃ لفعلتُ أفعالًا خلاف ذلک، وما أرسلتُ ہذہ الکتب وہذہ الاشتہارات إلی دیار العرب وبلاد إسلامیۃ، وما قدّمتُ قدمی لہذہ النصائح۔ فانظروا یا أولی الأبصار، لِمَ فعلتُ
    اور اس کا دوست
    محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعریف کریں جن کے ہم نعمت پرور دہ
    ہیں اور ان کا ہم شکر کریں جن سے ہمیں نیکی پہنچی ہو پس اسی وجہ سے میں نے اس
    گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا کہ تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ
    میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری
    کتاب حمامۃ البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو بھی دیکھے تاکہ اس پر کھل جائے کہ میں
    نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں وہ خطا پر ہیں۔
    پس اگر میں اس گورنمنٹ کا دشمن ہوتا تو میں ایسے کام کرتا جو میری
    اس کارروائی کے مخالف ہوتے اور
    یہ کتابیں اور یہ اشتہار بلاد عرب اور تمام بلاد اسلامیہ کی طرف روانہ
    نہ کرتا اور ان نصیحتوں کے لئے آگے قدم نہ اٹھاتا۔ پس اے آنکھوں والو! تم سوچو
    کہ میں نے یہ کام کیوں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 43
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 43
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/43/mode/1up
    ہٰذہ الأفعال، ولِمَ أرسلتُ ہذہ الکتب التی فیہا منع شدید من الجہاد لہذہ الدولۃ فی دیار العرب وفی غیرہا من البلاد؟ أکنتُ أرجو إنعاما
    من سکان تلک البلاد أو کنت أعلم أنہم یرضون عنی بسماع تلک الکلمات ویزیدون فی الأخوّۃ والاتحاد؟ فإن لم یکن لی غرض من ہذہ الأغراض، بل کانت النتیجۃ البدیہۃ سخط القوم وغضبہم علیَّ وطَعْنَہم
    بالألسنۃ الحِداد، فبعدہ أیُّ شیء حملنی علی ذلک؟ أکانت لنفسی فائدۃ أخری فی إرسال تلک الکتب إلی دیار لیست داخلۃ تحت الحکومۃ البریطانیۃ، بل ہی ممالک الإسلام ولہم خیالات دون ذلک کما لا یخفی علی
    الخواص والعوام؟ فإن کانت فائدۃ مخفیۃ فلیُبیّن لی منؔ کان من المرتابین والمعترضین علیَّ إن کان من الصادقین۔ حاشا، ما کانت فائدۃ من غیر إظہار الحق۔ بل إنی سمعت أن أقوالی ہذہ قد أحفظتْ
    کئے اور
    کیوں یہ کتابیں جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے۔
    ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام
    کی امید رکھتا تھا یا میں یہ جانتا تھا کہ وہ
    ان باتوں سے مجھ سے خوش ہو جائیں گے اور دوستی
    اور برادری میں ترقی کریں گے سو اگر ان غرضوں میں سے کوئی غرض
    نہیں تھی بلکہ کھلا کھلا نتیجہ قوم کی ناراضگی تھی اور ان کی تیز
    زبانی کے
    ساتھ طعن تھے سو اس کے بعد کس غرض نے مجھ کو اس کام پر آمادہ کیا کیا میرے لئے
    ان کتابوں کی ایسے ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے
    بلکہ
    وہ اسلامی ملک تھے اور ان کے خیال بھی اور تھے کچھ اور فائدہ تھا
    اور اگر کوئی فائدہ پوشیدہ تھا تو ایسا شخص جو میرے پر بد ظن رکھتا اور اعتراض کرنے والا ہے اس فائدہ کو
    بیان کرے اگر
    وہ سچا ہے تو سمجھو کہ بجز اظہار حق کے کوئی فائدہ نہیں تھا
    بلکہ میں نے سنا ہے کہ یہ میری باتیں اور یہ تحریریں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 44
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 44
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/44/mode/1up
    بعضَ العلماء ، وکفّرونی کالجہلاء ، فما بالیتُہم بعد تفہُّم الحق وانکشاف طریق الاہتداء ، ورأیت أن ہذا ہو الحق فبیّنتُہا ولو کان قومی
    کارہین۔ فإذا ثبت خلوصی إلی ہذا المقدار، و برہنتُ علیہ بقدرٍ کافٍ لأولی الأبصار، فمن یظن ظن السوء فی أمری بعد إلا الذی خبُث عِرقہ کالفُجّار، وتدرّبَ بالشرّ واللَّذْعِ والأَبْرِ وسِیر الأشرار، وترَک سِیر
    الصالحین۔
    وما کان تألیفی فی العربیۃ إلا لمثل ہذہ الأغراض العظیمۃ، ولم یَخْلُ تنتاب العربیِّین کتبی حتی رأیت فیہم آثار التأثیر، وجاء نی بعض منہم وراسلنی بعض، وبعضہم ہجّنوا، وبعضہم صلُحوا
    ووافقوا کالمسترشدین۔
    وإنی صرفتُ زمانا طویلا فی ہذہ الإمدادات حتی مضت علیَّ إحدی عشر سنۃ فی شغل الإشاعات، وما کنت من القاصرین۔ فلی
    بعض علماء کے غضب ناک ہونے کا موجب ہوئیں
    اور جہالت سے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں نے حق کے سمجھنے کے بعد اور ہدایت کا رستہ کھلنے کے پیچھے ان کی کچھ بھی پروا نہ کی اور میں نے دیکھا کہ یہی حق ہے سو میں نے بیان کر دیا
    اگرچہ میری قوم کراہت کرتی رہی۔ پس جبکہ میرا خلوص اس گورنمنٹ سے اس قدر ثابت ہوا اور میں نے اس قدر دلائل سے اس کو ثابت کر دیا جو دانشمندوں کے لئے کافی ہیں پس جو شخص اس کے
    بعد میرے پر بدگمانی کرے ایسا آدمی بجز ناپاک فطرت اور بجز ایسے شخص کے جس کی عادت میں نیش زنی اور شرارت داخل ہے اور کون ہو درحقیقت یہ اسی کا کام ہے جو شرارت کو پسند کرتا اور
    نیک بختی کی راہ کو چھوڑتا ہے۔
    اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں یہاں تک کہ میں
    نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہوگئے جیسا کہ حق کہ طالبوں کا کام
    ہے۔
    اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے یہاں تک کہ گیارہ برس
    انہی اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 45
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 45
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/45/mode/1up
    أن أدّعی التفردَ فی ہذہ الخدمات، ولی أن أقول إننی وحید فی ہذہ التأییدات، ولی أن أقول إننی حِرْزٌ ؔ لہا وحصنٌ حافظٌ من الآفات،
    وبشّرنی ربی وقال ما کان اللّٰہ لیعذّبہم وأنت فیہم۔ فلیس للدولۃ نظیری ومثیلی فی نصری وعونی، وستعلم الدولۃ إن کانت من المتوسّمین۔
    وأمّا الذین دخلوا فی الملۃ النصرانیۃ تارکین دین الإسلام، وباعدین
    عن ظل خیر الأنام، فما نجدہم قائمین لخدمۃ الدولۃ والمخلصین لہذہ الحضرۃ، بل نجدہم مداہنین منافقین، وما دخلوا أکثرُہم فی دینہم إلا لیستطبّوا لوجعِ الجوع، ولیُفعِموا کأس الولوع، فسینتشرون ذات بُکرۃ إذا
    رأوا أنہم أُخرجوا من روض الرتوع، ویعجبون الناس من وشک الرجوع۔ ونحن نراہم مذ أعوام مناجین للإخفار کلئام، ولا نجد فیہم شیئا من الأوصاف إلا عشق الصَّعْف والصِّحاف وإلْفِ الجیفۃ
    یہ دعویٰ
    کرسکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان
    تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ
    کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری
    نظیر اور مثیل نہیں عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔
    مگر وہ لوگ جو عیسائی دین میں داخل ہوئے اور دین اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا سو ہم
    ان کو
    ایسے نہیں دیکھتے کہ سرکار انگریزی کی کچھ خدمت کرتے ہوں یا مخلص ہوں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ
    وہ مداہنہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور اکثر لوگ دین عیسائی میں محض
    اسی لئے داخل ہوئے ہیں تا اپنی
    درد گرسنگی کا علاج کریں اور اپنے حرص کے پیالوں کو لبالب بھر دیں سو کسی صبح یہ لوگ تتر بتر
    ہو جائیں گے جب دیکھیں گے چراگاہ سے نکالے گئے اور
    لوگوں کو اپنے جلد پھرنے
    سے تعجب میں ڈالیں گے اور ہم تو ان کو کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا مذہبی قول و اقرار توڑنے کو تیار
    ہیں اور ہم ان میں بجز اس کے کوئی خوبی نہیں
    پاتے کہ وہ شراب اور خوش مزہ کھانوں کے جو پیالوں میں بھرے ہوئے ہوں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 46
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 46
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/46/mode/1up
    کالغُداف، وما نجدہم إلا مترَفین، وسیعلم الدولۃ البریطانیۃ کم منہم من المخلصین الصادقین۔ وواللّٰہ إنّا نشاہد بأعیننا أن أکثرہم قد خرجوا
    من الإسلام ودخلوا فی النصاری من التکالیف النفسانیۃ وأثقال الدَّین ولَہَبِ الأجوفَین، وکان المسلمون مطّلعین علی عَرِّہم وشَرِّہم، فماؔ بالوہم لاطّلاعہم علی سبب مفرّہم، فتوجہت ہذہ الطائفۃ إلی قسّیسین بما
    رأوا بصیصَ إقبالہم وزینۃ دنیاہم وکثرۃ مالہم، ومع ذلک وجدوہم غافلین من مقاصدہم کحمقی، وحسبوا الأدیار بُقعۃ النوکَی، فتمایلوا علیہا خادعین۔ وما کان لمسلمی دیارنا أن یربّوا تلک الکسالی، ویکفلوہم فی
    مآکلہم ومشاربہم ولبوسہم ویترکوہم معذورین مستریحین کالحبالی، ویحملوا نفقاتہم علی أنفسہم، ویترکوہم لیأکلوا ویتمتعوا فارغین، فإن المسلمین قوم ضعفاء مُعسِرین، ولا
    عاشق ہیں اور دنیا کے مردار
    کے ایسے دوست ہیں جیسے کوا۔ اور ہم ان کو جانتے ہیں کہ دنیاوی نعمتوں نے ان کو بے راہ
    کر دیا ہے اور عنقریب گورنمنٹ انگریزی جان لے گی کہ کس قدر ان میں مخلص صادق ہیں اور بخدا ہم
    اپنی آنکھوں سے
    مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اکثر ان میں سے محض تکالیف نفسانیہ اور قرض کے بوجھ
    اور پیٹ اور عضو نہانی کی سوزشوں کی وجہ سے اسلام سے خارج اور نصاریٰ میں داخل
    ہوئے
    اور مسلمان لوگ ان کی حرص کی خارش اور ان کی شرارتوں سے مطلع تھے پس انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی سو یہ لوگ پادریوں کی
    طرف متوجہ ہوئے کیونکہ انہوں نے ان کے اقبال کی
    چمک دیکھی اور ان کی زینت دنیا اور کثرت مال کا ملاحظہ کیا اور
    باایں ہمہ ان کو اپنے اصلی مقاصد سے غافل پایا ایسا کہ جیسے احمق ہوتے ہیں اور انہوں نے گرجاؤں کو ایک
    بے وقوف لوگوں
    کا مکان سمجھ لیا سو وہ ان کی طرف دھوکہ دینے کی نیت سے جھک پڑے اور ہمارے ملک کے مسلمان
    ایسے سست اور کاہل لوگوں کی پرورش نہیں کرسکتے تھے اور یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کے
    کھانے پینے اور پہننے کے مصارف
    اپنے ذمہ اٹھا لیں اور ان کو حملد ار عورتوں کی طرح معذور سمجھ کر آرام کرنے دیں اور تمام خرچ ان کے اپنے ذمہ کر لیں
    اور ان کو صرف کھانے پینے
    کے لئے فارغ چھوڑ دیں کیونکہ مسلمان ایک ناتوان اور تنگدست قوم ہے اور ان کے مالوں میں اس قدر
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 47
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 47
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/47/mode/1up
    یَفضُل عنہم ما یصرفون إلی غیرہم، فمن أین وکیف یُفعِمون وِعاءَ البطّالین؟ فلما رأوا أن أہل الإسلام لا یحملون أثقالہم ولا یبالون
    إقلالہم، توجّہوا إلی قسیسین مصطادین۔
    فاجتمعوا فی الکنائس مِن داء الذئب والخَوَی المذیب طمعًا فی أموالہم، وطموحًا إلی إقبالہم، وأخذوا یسرّونہم بإغلاظ الکلام فی شأن خیر الأنام، ویُطْرِفون فی التوہینات
    واختراع الاعتراضات، لیُروہم أنہم متنفرین من الإسلام وفی التنصر متشددین، ولیحصل لہم قُرْبتہم بوسیلتہا ولیقضوا أوطارہم بتوسطہا ویکونوا فی أعینہم صالحین متنصّلین۔ وکذلک صابت سہامہم وحصل
    مرامہم، فتریٰ کیف اصطادوا أکابرہم ونہبوؔ ا أموالہم وختلوا جُہّالہم، فأحبّوہم وأحسنوا إلیہم کأنہم فوج المتقین۔ وفرضوا لہم فی صدقاتہم حصّۃً
    بچت نہیں ہوتی جو کسی دوسرے کو دیں پھر کہاں سے
    اور کیونکر نکمے لوگوں کے برتن بھر سکیں سو مرتد عیسائیوں
    نے جب دیکھا کہ مسلمان ان کے بوجھوں کو اٹھا نہیں سکتے اور فقر و فاقہ کی پروا نہیں رکھتے تو
    شکار ڈھونڈھتے ہوئے پادریوں
    کی طرف دوڑے۔
    سو گرجاؤں میں بھوک کی وجہ سے جو گلاتی جاتی تھی جمع ہوئے اور یہ سب کچھ ان کے مالوں کے لالچ اور ان کے اقبال پر نظر دوڑانے سے ظہور میں آیا اور پھر انہوں نے
    شروع کیا کہ آنحضرت خیر الانام کے حق میں سخت اور نئے نئے درشت کلمے استعمال کرکے پادریوں کو خوش کرتے اور نئی نئی قسم کی اہانتیں اور اختراع اور اعتراض ان کے لئے بناتے تاکہ ان
    کو دکھلاویں کہ وہ اسلام سے متنفر اور عیسائی مذہب میں بڑے پکے ہیں اور تاکہ ان بے ادبی کی باتوں سے ان کے خاص مصاحب بن جائیں اور ان کے توسط سے اپنی حاجتیں پوری کریں اور ان کی
    آنکھوں میں پرہیز گار اور صالح دکھائی دیں اسی طرح ان مرتدوں کے تیر نشانوں پر لگے اور ان کی مرادیں بر آئیں پس تو دیکھتا ہے کہ کیونکر انہوں نے اپنے بڑوں کو شکار کیا اور کیونکر ان کے
    جاہلوں کو دھوکے دیئے سووہ ان سے پیار کرنے لگے اور ان پر احسان کئے گویا یہ ایک پرہیز گاروں کی فوج ہے۔ اور ان کے لئے اپنے خیراتی مالوں میں حصے ٹھہرا دیئے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 48
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 48
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/48/mode/1up
    وجعلوا لہم وظائف، فیأخذ کل أحد منہا ویأکلہا بطّالا ضُجَعۃً نُوَمۃً، وتراہم کیف یتبخترون بالارتداد کتبختُرِ المطلَق من الإسار،
    ویہتزّون ہزّۃ الموسِر بعد الإعسار، ویُتلِفون أموال الناس متنعمین۔ فلیت شعری لو بُنِیَتْ من ہذہ الأموال التی تُسکَبُ کالماء فی تنعّمات السفہاء جسرٌ للعابرین أو خانٌ للمسافرین، لکان خیرًا وأولی وأنفع للناس مِن
    أن یُبذَل علی ہذہ الطائفۃ مَظاہرِ الخنّاسِ التی أتلفتْ نفائسَ أموال الناس فی الخَضْم والقَضْم، وما مسَّہم فکرُ الدنیا ولا فکر الآخرۃ، وما أخرجہم من الإسلام إلا أسباب معدودۃ، وأکبرہا کثرۃ الحمق وقلۃ التدبّر۔ ثم
    مع ذلک سببُ ارتداد الأکثر منہم اضطرامُ الأحشاء والاضطرار إلی العَشاء ، وشُحُّ مطائبِ الطعام، وحرصُ کأس المُدام، والرغبۃُ فی الغِید، والتوقُ إلی الأغارید، والمیلُ إلی مغاداۃ
    اور وظیفے مقرر کر
    دیئے پس ہر ایک کرشٹان ان میں سے لیتا ہے اور محض نکما لیٹے سوتے اس مال کو کھاتا ہے
    اور تو دیکھتا ہے کہ کیونکر مرتد ہونے کی حالت میں وہ لٹکتے پھرتے ہیں جیسے قیدی قید چھوڑ کر لٹکتا
    ہوا چلتا ہے اور
    ایسے خوشی کر رہے ہیں جیسے وہ شخص خوش ہوتا ہے جو تنگی کے بعد فراخی دیکھتا ہے اور لوگوں کا مال عیاشی میں اڑا رہے ہیں۔
    کاش اس مال سے جو ناپاک دلوں کی
    عیاشی کے لئے پانی کی طرح بہایا جاتا ہے کوئی پل دریا کے عبور
    کرنے والوں کے لئے بنایا جاتا یا مسافروں کے لئے کوئی سرا تیار کی جاتی تو بہت ہی مناسب اور بہتر
    اور خلق اللہ کے نفع
    کا موجب تھا بہ نسبت اس کے کہ اس طائفہ شیطان کے اوتار پر یہ مال خرچ ہوتا ایسا طائفہ
    جس نے کھانے چبانے میں لوگوں کے نفیس اور عمدہ مالوں کو ناحق کھو دیا اور ان کو دنیا اور آخرت کا
    فکر چھو
    بھی نہیں گیا اور ان کے دین اسلام سے مرتد ہونے کا بڑا باعث کثرت حمق
    اور قلت تدبر ہے اور پھر باوجود اس کے ان میں اکثر مرتد ہونے کا سبب بھوک کی آگ کا بھڑک
    اٹھنا ہے اور
    رات کی روٹی کے لئے بے قرار ہونا اور اچھے اچھے کھانوں کا لالچ اور شراب کی حرص
    اور نازک اندام عورتوں کی رغبت اور سرود کے شوق اور لطیف بدن عورتوں کو دیکھنے کے لئے صبح
    کو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 49
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/49/mode/1up
    الغادات ومقاناۃ القینات وغیرہا من الہنات، فسقطوا لأجل ذلک علی الدنیا بالقلب الشحیح، کالذباب علی المخاط والقیح، وکانوا من
    العقبٰی غافلین۔ ما بقی لہم شغل من غیر شرب الصہباؔ ء ، وإسبال ثیاب الخیلاء ، وأکل الخبز السمیذ، ومَلْءِ قِرب البطون بکأس النبیذ، وتوہین المقدّسین۔ أری المُدام سکنہم، والغبوق خدینہم، والبطن دینہم،
    ونسوا عظمۃ اللّٰہ مجترئین۔
    لا تتحامٰی لُسْنُہم من الزور والدجل والمَین، ولا یتقون دَرَنَ الکذب والشَّین۔ ہذہ أعمالہم ثم یسُبّون المعصومین۔ نسوا الآخرۃ، وفرغوا مِن ہمّہا بما غرَّہم الکَفّارۃُ، وغلبت علیہم
    النفسُ الأمّارۃ۔ یأکلون ما یشاء ون، ویقولون ما یریدون، لا یعرفون أوصاف الإنصاف، ویرتضعون أخلاف الخِلاف۔ وما حملہم علی ذلک إلا النفس التی کانت
    جانا اور گانے بجانے والی عورتوں سے میل
    ملاپ رکھنا اور ایسا ہی اور بری خصلتیں پس وہ اسی سبب سے لالچ سے بھرے
    ہوئے دل کے ساتھ دنیا پر گرے جیسے مکھی پیپ اور رینٹھ پر گرتی ہے اور عاقبت سے
    بالکل غافل رہے اور ان
    کو بجز اس کے اور کوئی شغل نہیں رہا کہ شراب پیویں اور ناز نخرے کے ساتھ
    لٹکتے ہوئے کپڑے پہنیں اور میدے کی روٹی کھاویں اور پیٹ کی مشک کو شراب کے پیالوں کے ساتھ بھریں
    اور
    پاک لوگوں کی توہین کرتے رہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ دوست آرام دہ ان کا خمر ہے اور آدھی رات کی شراب ان کا
    دلی اور اندرونی یار ہے اور پیٹ ان کا دین ہے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی عظمتوں کو
    دلیری سے بھلا دیا ہے۔
    ان کی زبانیں جھوٹ اور دجالیت اور دروغگوئی سے پرہیز نہیں کرتیں اور نہ دروغگوئی کی میل سے
    بچنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کے عمل ہیں پھر معصوموں کو گالیاں نکالتے
    ہیں آخرت کو بھلا دیا
    اور کفارہ کے دھوکہ سے معاد کی فکر سے فارغ ہو بیٹھے اور نفس امارہ ان پر غالب آگیا جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں
    اور جو دل میں آتا ہے بول اٹھتے ہیں انصاف کی صفتوں
    سے ناشناسا اور
    مخالفت کی چھاتیوں کا دودھ پی رہے ہیں اور اس مخالفت پر کسی اور بات نے ان کو آمادہ نہیں کیا بجز ان کے نفس کے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 50
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/50/mode/1up
    خلیعَ الرسن، مدیدَ الوسن، فمالوا عن الحق إلی الباطل، وترکوا أصحاب الیمین۔ لِم لا ینہاہم أکابرہم عن المنکرات، ولِم لا یمنعونہم مِن
    نقل الخُطُوات إلی خِطط الخطیّات، ولِم یترکونہم فارغین؟ فعندی من الواجبات أن تُکتَب علیہم خدماتٌ تناسبُ قومَ کل أحد وحرفۃَ کل أحد۔ فلیُعطِ للنجّار فاسًا، وللطارق النفّاشِ مِنْسجا جِرفاسا، وللحجّام مِشْراطا
    وموسٰی، وللعصّار معصرۃ عظمٰی، لکی یشتغل کل أحد منہم بما ہو أہلہ، ویمتنع منؔ کل فضولٍ ولغوٍ وتأثیم، ولکی یستریح الخلق من شرہم، وعبادُ اللّٰہ من أذاہم، وفی ذلک نفع عظیم لأکابرہم المغبونین۔
    وأمّا
    ہذا الرجل الذی صال علیَّ، فما صال إلا لحاجۃٍ ألجأتْہ إلٰی ذٰلک، وہو أنہ عجِز عن جوابِ سؤالاتٍ قد أوردناہا علیہ وعلی رفقاۂ فی مباحثۃٍ کانت بیننا وبینہم، وتبیّنَ أنہم علی الباطل
    جو کھلی رسی والا اور
    دراز خواب والا ہے سو وہ حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جھک گئے اور داہنے ہاتھ کی طرف والوں کو چھوڑ دیا۔ ان کے اکابر کیوں ان کو بُری باتوں سے منع نہیں کرتے اور کیوں گناہوں کی طرف قدم
    اٹھانے سے منع نہیں فرماتے اور کیوں ان کو فارغ بٹھا رکھا ہے۔ سو میرے نزدیک واجبات سے ہے کہ کچھ ایسی خدمات ان پر مقرر کی جائیں جو قوم اور پیشہ کے لحاظ سے ان کے مناسب حال ہوں
    پس چاہیئے کہ نجّار کو توتیشہ دیا جائے اور دُہننے کے لئے ایک مضبوط دھنکی (پنجن) اور نائی کو نشتر اور استرا اور تیلی کو ایک بڑا سا کوہلو سپرد ہو تاکہ ہریک شخص ان میں سے اس کام میں
    مشغول ہو جائے جس کا وہ اہل ہے اور تاکہ اس انتظام سے ہر ایک ان میں سے فضول گوئی اور بے ہودہ اور گناہ کی باتوں سے رک جائے تاکہ خلق اللہ اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو ان کی شرارت اور
    ایذا سے راحت حاصل ہو اور اس انتظام میں ان کے اکابر کو جوزیاں رسیدہ ہیں بہت ہی نفع ہے۔
    اور یہ آدمی جس نے مجھ پر حملہ کیا سو اس نے صرف اس اضطرار کی وجہ سے حملہ کیا ہے جو
    اس کو پیش آئے
    اور وہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہوگیا جو ہم نے ایک مباحثہ میں جو ان میں اور ہم میں
    تھا اس پر اور اس کے رفیقوں پر کئے تھے اور کھل گیا کہ وہ
    لوگ باطل
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 51
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/51/mode/1up
    وفی ضلال مبین۔ فتندّمَ غایۃَ التندّم، واضطر کمذبوح واعتاص الأمر علیہ، فما رأی طریقا یُرضی بہ قومہ إلا طریق البہتانات، فاختارہ
    لیستر عُوارہ بتلک المفتریات۔ فأُشرِبَ فی قلبہ أن یستمدّ بوشاۂ من أہل الحکومۃ والولایۃ، ویریش بکلمات الشر نَبْلَ السعایۃ، لعلہم یصلبوننی أو یقتلوننی، ویعلو أمر قوم متنصّرین۔ فمنشأ تحریرا تہ ہذہ الخطرات
    المنسوجات لا غیرہا، وما اختار ہذا إلا لعدم علمہ بمراحم الدولۃ علینا وحقوق مخزونۃٍ لدیہا ولدینا۔ وقد تَہادَینا بأمور تزید الوِفاقَ، وتُخرج من القلوب النفاقَ۔ فلیس علی سمائنا الغمامُ ا لیعزوہ إلی ظلامِ النمّامُ،
    ولیس فی کنانتنا مرماۃ واحدۃ لنخاف المناضلین۔ وما رأی ہذا المتجنّی الغبیّ أن الدولۃ البرؔ طانیۃ فہیمۃ مدبّرۃ تعرف کل کلمۃ وما تحتہا، وتفہم کل افتراء وأہلہ، ولا تتبع رأی کل قَتّاتٍ ضَنینٍ۔ فما کان
    اورکھلی کھلی گمراہی میں ہیں۔ پس یہ شخص نہایت ہی شرمندہ ہوا اور ایسا بے قرار ہوا جیسا کہ کوئی ذبح کیا جاتا ہے اور اس پر کام مشکل ہوگیا پس اس کو کوئی ایسا راہ نہ مل سکا جس سے وہ اپنی
    قوم کو راضی کرسکتا مگر ایک بہتان کا طریق کھلا تھا سو اس کو اس نے اختیار کر لیا تا وہ ان مفتریات سے اپنی پردہ پوشی کرے سو اس کے دل میں یہ خیال رچ گیا کہ سرکار انگریزی کے حکام اور
    اہل حکومت سے بذریعہ اپنی جھوٹی مخبری کے اس کام میں مدد لیوے اور اپنی سخن چینی کے تیر سے شرارت کی باتوں کو پرلگاوے تاکہ حکام مجھ کو پھانسی دے دیں یا قتل کر دیں اور اس طرح سے
    یہ کرشٹان لوگ غالب آ جائیں۔ سو اصل موجب ان تحریرات کا یہ دلی منصوبے ہیں اور کوئی اور سبب نہیں اور اس نے اس راہ کو محض اس سبب سے اختیار کیا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ اس
    گورنمنٹ کی کیسی مہربانیاں ہم پر ہیں اور کیسے باہمی حق ان کے پاس اور ہمارے پاس ہیں اور ہم نے ایسے امور ایک دوسرے کو بطور ہدیہ دیئے ہیں جو موافقت کو زیادہ کرتے ہیں اور نفاق کو دور
    کرتے ہیں سو ہمارے آسمان پر کوئی بادل نہیں تا کوئی نکتہ چین اس کو اندھیرے کی طرف منسوب کرے اور ہمارے ترکش میں صرف ایک ہی تیر نہیں تاہم مخالف تیر اندازوں سے ڈریں۔ اور اس خطا ُ جو
    غبی نے یہ بھی نہ سوچا کہ سرکار انگریزی ایک فہیم اور مدبر گورنمنٹ ہے ایسی کہ ہریک کلمہ کو اور جو کچھ اس کے نیچے ہے پہچان لیتی ہے اور ہریک افترا اور اس کے اہل کو سمجھ جاتی ہے
    اور ہریک نکتہ چین بخیل کی رائے کے پیچھے نہیں لگ جاتی پس
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 52
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/52/mode/1up
    لأحد أن یدلّی بغرورٍ ہذہ الدولۃَ أو یخدعہا، فإنہا تعرف الخائن القتّاتَ، والدُّخْلُلَ الکاذبَ المِقتاتَ، ولا تشتعل کالمخدوعین، بل تُہجِّمُ
    عِقابَہا علی المفترین، وتحملق إلی الذین یسطون علی الضعفاء ولا تترُکَنْ سِیَرَ الظالمین۔ فالحجۃ التی تُبرِّئنا من وشایۃ ہذا الرجل وتُنقِذنا من إبرامہ وتُبعِد علیہ نیلَ مرامہ، فہو ما ذکرنا آنفا۔ واللّٰہ یعلم أنّا نحن
    براءٌ من ہذہ البہتانات، بل نحن مستحقون أن تُسبِغ الدولۃ علینا مِن أعظم العطیّات، وتجزی جزاءً خیرًا بمزایاہا وتعیننا عند الضرورات، وتحسبنا من المحسنین۔ ہذا ہو الأمر الذی لیس فیہ تفاوتٌ مثقال ذرّۃ
    ویعلمہ العالمون۔ ولکن لیس عندنا علاج الواشی الوقیح والزُّمَّحِ المَضِیح، وقد قلنا کلَّ ما ہو مَدْحَرۃ الکاذبین۔
    وأمّا ثناء ہذا الرجل علی الشیخ البطالوی، أعنی صاحب جریدۃ الإشاعۃ
    کوئی شخص اس
    گورنمنٹ کو دھوکا اور فریب نہیں دے سکتا کیونکہ وہ خیانت پیشہ نکتہ چین کو اور ایسے کو جو دخل
    بیجا دینے والا اور جھوٹی مخبری کرنے والا ہو خوب پہچانتی ہے اور دھوکا کھانے والوں
    کی
    طرح نہیں بھڑکتی بلکہ اس کی عقوبت مفتری کو یکدفعہ پکڑ لیتی ہے اور ان کی نظر عتاب ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ضعیفوں پر
    حملہ کرتے ہیں اور ظالموں کی خصلت کو نہیں
    چھوڑتے۔ پس وہ حجت جو اس شخص کی مخالفانہ مخبری سے ہم کو بری کرتی اور اس کی
    مضبوطی فریب سے ہم کو نجات دیتی ہے اور اس کو اپنے مقصود سے ناکام رکھتی ہے سو وہی دلائل
    بریت ہیں جو ہم ابھی لکھ چکے ہیں
    اور خدا تعالیٰ جانتا ہے جو ہم ان بیجا الزاموں سے بری ہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں جو سرکار
    انگریزی اپنے کامل انعام سے ہم کو متمتع فرماوے اور
    ہمارے نیک کام کی جزا بڑھ کر دیوے اور ضرورتوں
    کے وقت ہماری مدد کرے اور ہمیں اپنے احسان کرنے والوں میں سے خیال کرے۔ یہ وہ بات ہے جس میں ایک ذرہ کے برابر
    فرق نہیں اور
    جاننے والے اس کو جانتے ہیں مگر ہمارے پاس ایسے شخص کا علاج نہیں جو نکتہ چین بے حیا
    اور سفلہ اور عیب ڈھونڈھنے والا ہو اور ہم وہ سب باتیں کہہ چکے ہیں جن میں ان جھوٹوں کا رد
    ہے۔
    اور جو اس شخص نے شیخ بٹالوی کی تعریف لکھی ہے یعنی محمد حسین صاحب رسالہ اشاعۃ السنۃ کی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 53
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/53/mode/1up
    محمد حسین، وقولُہ إنہ نِعْمَ الرجل ویستحق التحسین، فما نفہَم سرَّ ہذا الأمر ونتعجّب غایۃ التعجّب، کیف أثنی علیہ الرجلُ الذی یسُبّ
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا یرضی عن مؤمن الذی یحب رسول اللّٰہ، و ؔ یشتم نبیَّنا وسیدنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم بکلمات ترتجف منہا قلوب المسلمین۔ وما ننکر ہذا الثناء ، لعلّ البطالوی یکون عند
    المتنصّرین ہکذا، ولعلہ نطق بکلمۃٍ سرّتْ أعداءََ رسولّ اللّٰہ، ولکنا ما نرٰی أن نتکلم فی ہذا ولا نطوّل الکلام فیہ، وکل أحد یؤخذ بقولہ، واللّٰہُ یری عبادہ الصالحین والطالحین۔
    وأما قول ہذا الواشی وزعمہ کأنی
    أرید ملکوتًا فی الأرض أو إمارۃ فی القوم، فإن ہی إلا افتراءٌ مبین۔ ونُشہد کل من یسمع أنّا لسنا طالبی ملکوت الأرض، ولا نرید إمارۃ ہذہ الدنیا وزینتہا الفانیۃ، إن نرید إلا
    اور کہا کہ یہ شخص اچھا آدمی
    اور قابل تحسین ہے۔ سو ہم اس بات کا بھید نہیں سمجھتے اور ہم نہایت متعجب ہیں کہ کس طرح محمد حسین کی ایسے شخص نے تعریف کی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور کسی
    ایسے مومن سے راضی نہیں جو محب رسول اللہ ہو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کلموں کے ساتھ گالیاں نکالتا ہے جس سے مسلمانوں کے دل کانپ جاتے ہیں اور ہم تعریف سے انکار
    نہیں کرتے شاید شیخ بٹالوی کرشٹانوں کی نظر میں ایسا ہی ہو اور شاید وہ کوئی ایسا کلمہ بول اٹھا ہے جو دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا معلوم ہوا لیکن ہم مناسب نہیں دیکھتے جو اس بارے
    میں کلام کریں اور اس امر میں ہم کلام کو طول دینا نہیں چاہتے اور ہریک اپنے قول سے پکڑا جائے گا اور خدا تعالیٰ نیک بختوں اور بدبختوں کو دیکھ رہا ہے۔
    اور اس نکتہ چین کا یہ قول اور یہ گمان
    کہ گویا میں دنیا کی بادشاہت چاہتا ہوں یا اپنی قوم میں امیر بننے
    کی مجھے خواہش ہے سو یہ باتیں کھلا کھلا افترا ہے۔ اور ہم ہر ایک کو جو سننے والا ہے گواہ کرتے ہیں جو ہم دنیا
    کی بادشاہت کے
    طالب نہیں اور نہ ہم دنیا کی امیری کو چاہتے ہیں اور نہ ہم اس دار فانی کی زینت کے خواہشمند ہیں ہم صرف
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 54
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/54/mode/1up
    ملکوت السماء التی لا تنفد ولا تفنی ولا تنقضی بالموت۔ ولا نطلب قہر الناس بالحکومۃ والسیاسۃ والقضاء ، بل نطلب عزیمۃً قاہرۃ
    الأہواء فی الرّضاء المولٰی الذی ہو أحکم الحاکمین۔ ولیس أصولنا إشاعۃ الفساد والطلاح والتبار، بل ندعو إلی الصلح والصلاح وطریق الأبرار، ونرید أن یتوب الخلق توبۃ الأخیار، وأعظم مدّعائنا أن یطلب
    الناس حقیقۃَ الإیمان، ویرغبوا إلی فہم دقائق العرفان، ویکثر التراحم والتحنّن فیہم، وینتہوا من السیّئات وأنواع الہنات، فنجتہد لتحصیل ہذاؔ المقصد بالمواعظ الحسنۃ، والدعاء والنظر والہمّۃ۔ ہذہ أصولنا،
    فمن عزا إلینا خلاف ذٰلک فقد افتری علینا۔ وما أقامنا علی ہذا إلّا الربّ الذی یرسل نورہ عند غلبۃ الظلام، ویبدی دواءًً عند کثرۃ السقام، وینجّی عبادہ المضطرین۔ ولا شک أن الفتن قد کثرت فی الأرض
    اس
    آسمانی بادشاہت کو چاہتے ہیں جس کا انجام نہیں اور نہ کبھی وہ زوال پذیر ہے اور نہ مرنے سے دور ہوسکتی ہے
    اور ہم نہیں چاہتے کہ حکومت اور سیاست اور فرمانروائی کے ساتھ لوگوں کو
    مغلوب کریں بلکہ ہم ایسے عزم کے طالب ہیں
    جو رضائے مولیٰ احکم الحاکمین کے لئے نفسانی جذبات پر غالب ہو اور ہمار۱ یہ اصول نہیں کہ ہم فساد اور
    بدبختی اور ہلاکت کی راہوں کی اشاعت
    کریں بلکہ ہم ان لوگوں کو صلح اور نیکی اور نکوکاروں کے طریق کی طرف
    بلاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ ایسی توبہ کریں جس طرح نیک لوگ توبہ کرتے ہیں اور ہمارا بڑا مدعا یہی ہے کہ
    لوگ
    ایمان کی حقیقت کو ڈھونڈیں اور دقائق عرفان کی طرف رغبت کریں اور باہم رحم اور مہربانی ان میں
    زیادہ ہو جائے اور بدیوں اور بدکاریوں سے رک جائیں سو ہم ایسے مقصد کے حاصل کرنے کے
    لئے
    مواعظہ حسنہ اور دعا اور نظر اور ہمت کے ساتھ کوشش کر رہے ہیں یہ ہمارا اصول ہے پس جو شخص اس کے برخلاف ہماری طرف کوئی بات نسبت کرے سو اس نے ہم پر افترا کیا اور ہمیں
    اس بات پر صرف اللہ تعالیٰ
    نے قائم کیا ہے وہ خدا جو اندھیرے کے وقت اپنا نور بھیجتا ہے اور بیماری کی کثرت کے وقت دوا ظاہر کرتا ہے
    اور اپنے بندوں کو بے قراری کی حالت میں بچالیتا
    ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ فتنے زمین پر بہت بڑھ گئے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 55
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/55/mode/1up
    وصعدت الأدخنۃ إلی السماء ، وہبّت ریاح مفسدۃ مبیدۃ من کل طرفٍ إلی أقصی الأرجاء ، ولو فصّلنا ہذہ الفتن کلہا لاحتجنا إلی
    المجلّدات، وأبکینا کثیرا من الباکین والباکیات، وزلزلْنا أقدام السامعین۔ وأنتم تعلمون أن لکل داءٍ دواءٌ ، ولکل ظلام ضیاءٌ ، فأراد ربی أن ینیر الدنیا بعد ظلماتہا، واللّٰہ یفعل ما یشاء ، أ أنتم تنکرونہ یامعشر
    العاقلین؟ ومع ذلک لسنا نمیس کالأمراء ، بل نحن نمشی فی الطِّمْر کالفقراء ، ولا نجرّ ثوب الخیلاء ، ونشکر القیصرۃ وحکامہا علی ما أحسنوا إلینا فی أیّام الضرّاء ، وندعو لہا صدقا وحقا ونرسل إلیہا ہدیۃ
    الدعاء ، وندعوہا بقول لیّن إلی الإسلام لتدخل فی نعماء أبد الآبدین۔ بید أننا لا نرضی بمذہبہا، ونحسب أنہا من الخاطئین الضالین۔ وأعجبَنا أنہا مع کمال حزمہا ولطافۃ
    اور بہت سے دخان آسمان کی طرف
    چڑھے ہیں اور بگاڑنے والی اور ہلاک کرنے والی ہوائیں ہریک طرف اور
    ہریک ناحیہ سے چلی ہیں اگر ہم ان تمام فتنوں کی تفصیل کرنا چاہیں تو ہمیں کئی کتابیں لکھے کی طرف حاجت
    پڑے گی اور
    ہم کئی مردوں اور عورتوں کو رلائیں گے اور سننے والوں کے قدم ہلائیں گے
    اور آپ جانتے ہیں کہ ہر یک بیماری کی ایک دوا اور ہریک اندھیرے کے واسطے روشنی
    ہے سو میرے پروردگار نے
    ارادہ کیا کہ دنیا کو اندھیرے کے بعد روشن کرے کیا اے عقلمندو! تمہیں اس سے
    کچھ انکار ہے اور باوجود اس کے ہم امیروں کی طرح ناز سے نہیں چلتے بلکہ
    ہم فقیروں کی طرح پھٹے
    پورانے کپڑوں میں چلتے ہیں اور رعونت کے کپڑے ہم لٹکانا نہیں چاہتے اور قیصرہ اور اس کے حکام کا ان کے ان احسانوں کی وجہ سے شکر کرتے ہیں جو سختی کے زمانوں میں ہم نے دیکھے ہیں
    اور قیصرہ کے لئے ہم صدق دل سے دعا کرتے ہیں اور دعا کا ہدیہ اس کو بھیجتے ہیں مگر یہ بات ہے کہ ہم اس کے مذہب پر راضی نہیں ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ خطا کاروں اور گمراہوں کا مذہب
    ہے اور ہم ادب اور نرمی سے اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ کی نعمتوں میں داخل ہو جائے اور ہمیں تعجب ہے کہ ملکہ مکرمہ باوجود اس قدر ہوشیاری کے اور لطافت
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 56
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/56/mode/1up
    فہمہا فی أمور الدنیا تعبد عبدًا عاجزًا وتحسبہ رب العالمین سبحانہ لا شریک لہ، وإنؔ شاء لخلَق ألوفا مثل عیسٰی أو أکبر وأفضل منہ
    ویخلُق، ومن یعلم أسرارہ؟ فتوبوا واتقوا أن تجعلوا لہ شرکاء وأْتوہ مسلمین۔ وکیف نظن أن عیسٰی ہو اللّٰہ وما قرأنا فلسفۃ یثبت منہا أن رجلا کان یأکل ویشرب ویبول ویتغوّط وینام ویمرض، ولا یعلم الغیب، ولا
    یقدر علی دفع الأعداء ، ودعا لنفسہ عند مصیبۃ مبتہلًا متضرّعا من أول اللیل إلٰی آخرہ فما أجیبت دعوتہ، وما شاء اللّٰہ أن یوافق إرادتہ بإرادتہ، وقادہ الشیطان إلی جبل فأتبعَہ، فما استطاع أن یفارقہ، ومات
    قائلا إیلی إیلی لما سبقتنی، ومع ذلک إلٰہٌ وابن إلہ سبحانہ، إن ہذا إلّا بہتان مبین۔
    وإنی رأیت عیسٰی علیہ السلام مرارًا فی المنام ومرارًا فی الحالۃ
    فہم کے جو اس کو امور دنیا میں حاصل ہے ایک عاجز
    بندہ کی پرستش کرے اور اس کو اپنا رب سمجھے حالانکہ وہ حقیقی معبود
    اور پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اگر چاہے تو ہزاروں عیسٰی بلکہ اس سے افضل اور اعلیٰ پیدا کر دے اور پیدا
    کرسکتا
    ہے اور اس کے بھیدوں کو کون جانتا ہے پس ان باتوں سے توبہ کرو کہ اس کا کوئی شریک ٹھہراؤ اور اس کے فرمانبردار
    بدل بن جاؤ اور کس طرح ہم گمان کریں کہ عیسیٰ ہی خدا ہے اور
    ہم نے تو کوئی ایسا فلسفہ نہیں پڑھا جس سے یہ
    ثابت ہو کہ ایک آدمی کھاتا پیتا بَول کرتا پاخانے جاتا سوتا بیمار ہوتا اور علم غیب سے بے بہرہ
    اور دشمنوں کو دفع کرنے سے عاجز ہو اور
    مصیبت کے وقت شام سے صبح تک دعا کرے
    وہ دعا بھی قبول نہ ہو اور خدا تعالیٰ نہ چاہے کہ اپنے ارادہ کو اس کے ارادہ سے متحد کرے اور شیطان اس کو ایک پہاڑ کی طرف کھینچ لے جائے اور
    وہ اس کو روک نہ سکے اور اس کے پیچھے چلا جائے اور یہ بات کہتا کہتا مر گیا ہو کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور باوجود ان سب نقصانوں کے خدا بھی ہو اور خدا
    کا بیٹا بھی۔ اللہ جلّ شانہ‘ ان عیبوں سے پاک ہے اور یہ صریح بہتان ہے۔
    اور میں نے بارہا عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور بارہا کشفی حالت میں ملاقات ہوئی اور ایک ہی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 57
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/57/mode/1up
    الکشفیۃ، وقد أکل معی علی مائدۃ واحدۃ، ورأیتہ مرّۃ واستفسرتُہ مما وقع قومہ فیہ، فاستوی علیہ الدہش، وذکَر عظمۃ اللّٰہ وطفِق
    یسبّح ویقدّس، وأشار إلی الأرض وقال إنّما أنا ترابیٌّ وبریءٌ مما یقولون، فرأیتہ کالمنکسرین المتواضعین۔ ورأیتہ مرۃ أخرٰی قائما علی عتبۃ بابی وفی یدہ قرطاس کصحیفۃٍ، فأُلقِیَ فی قلبی أن فیہا أسماء عباد
    یحبّون اللّٰہ ویحبّہم وبیان مرؔ ا تب قربہم عند اللّٰہ، فقرأ تُہا فإذا فی آخرہا مکتوب من اللّٰہ تعالٰی فی مرتبتی عند ربی ہو مِنّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی، فکاد أن یُعرَف بین الناس۔ ہذا ما رأیتُ، ویکفیک إن کنت من
    الطالبین۔ لا یقال إنہا رؤیا أو کشف ومن المحتمل أن یتمثل الشیطان فی مثل ہذہ الواقعات، فإن الشیطان لا یتمثل بصورۃ الأنبیاء ، فتقبَّلْ ہذا السّرّ الجلیل، ولا تقبل ما قیل۔
    خوا ان میں میرے ساتھ اس نے کھایا
    اور ایک دفعہ میں نے اس کو دیکھا اور اس فتنہ کے بارے میں پوچھا جس میں اس کی قوم مبتلا ہو گئی ہے پس اس پر دہشت غالب ہوگئی اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا اس نے ذکر کیا اور
    اس کی تسبیح
    اور تقدیس میں لگ گیا اور زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں تو صرف خاکی ہوں اور ان تہمتوں سے بری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں پس میں نے اس کو ایک متواضع اور کسر نفسی کرنے والا
    آدمی پایا اور ایک مرتبہ میں نے اس کو دیکھا کہ میرے دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہے اور ایک کاغذ خط کی طرح اس کے ہاتھ میں ہے سو میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس خط میں ان لوگوں کے نام درج ہیں
    کہ جو خدا تعالیٰ کو دوست رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے اور اس میں ان کے مراتب قرب کا بیان ہے جو عند اللہ ان کو حاصل ہیں پس میں نے اس خط کو پڑھا سو کیا دیکھتا ہوں کہ
    اس کے آخر میں میرے مرتبہ کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید اور عنقریب وہ لوگوں میں مشہور کیا جائے گا یہ ہے جو میں
    نے دیکھا اور یہ تجھے کفایت کرتا ہے اگر تو حق کا طالب ہے۔ یہ کہنا بیجا ہے کہ یہ تو ایک خواب یا کشف ہے اور ممکن ہے کہ ایسے واقعات میں شیطان متمثل ہوکر ظاہر ہو کیونکہ شیطان انبیاء کی
    صورت پر متمثل نہیں ہوتا پس اس بزرگ بھید کو قبول کر اور جو کچھ اس کے مخالف کہا گیا اس کو مت قبول کر
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 58
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/58/mode/1up
    وإنّا قرأنا علیک معارف اللّٰہ، فہل لک أن ترغب الیہا وتکون من الصالحین؟
    منہا قولہ أن قسّیسی ہذا الزمان لیسوا بدجّالین۔ ثم
    بعد ذلک حثَّ الحکومۃ البرطانیۃ علی إیذائی، ویشیر إلی أن ہذا الرجل یعتقد أن ہذہ الدولۃ ہی الدجال المعہود وأنہ من الباغین۔
    أمّا الجواب فاعلم أننا لا نسمی الدولۃ البریطانیۃ دجالا معہودا، بل نعلم
    ونستیقن أن ہذہ الدولۃ محققۃٌ عاقلۃ مفکرۃ فی حقائق الموجودات، وقد رزقہا اللّٰہ منؔ العلم والحکمۃ والفلسفۃ وأنواع الصناعات، وحفّتْ بہا لمعاتُ المعقولات، فہی تعرف الترہات، وتفضّ خَتْمَ سرِّ
    المزوّرات، ولیست من الذین یرضون بالہذیانات۔
    ذکرُ بعض اعتراضات الواشی وردہا
    نکتہ چین مذکور کے بعض اعتراضات کا ذکر اوراُن کا رد
    اور ہم نے تجھ کو معارف الٰہی پڑھ سنائے پس کیا
    تجھے کچھ خواہش ہے کہ ان میں تورغبت کرے اور نیکوں میں سے ہو جائے۔
    ان میں سے ایک یہ اس کا قول ہے کہ اس زمانہ کے پادری دجال نہیں پھر اس کے بعد اس نے
    گورنمنٹ برطانیہ کو
    میرے ایذا کے لئے ترغیب دی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے
    کہ اس شخص کا یہ اعتقاد ہے کہ یہی گورنمنٹ دجال معہود ہے اور یہ شخص باغی ہے۔
    سو اس کے جواب میں جاننا
    چاہیئے کہ ہم اس گورنمنٹ کا نام دجال نہیں رکھتے
    بلکہ ہم یقین رکھتے اور جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ عقلمند اور محقق اور حقائق موجودات میں فکر
    کرنے والی ہے اور خدا نے اس کو علم اور
    حکمت اور فلسفہ اور کئی قسم کی
    صناعتوں سے حصہ دیا ہے اور علم معقول کی چمکیں اس کے محیط ہوگئی ہیں پس اسی وجہ سے یہ گورنمنٹ جھوٹی باتوں کو
    خوب پہچانتی اور جھوٹ کے
    سر بستہ راز کی مہر توڑتی ہے اور ان میں سے نہیں جو بے ہودہ باتوں پر راضی ہو جائیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 59
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/59/mode/1up
    فکیف یمکن أن تؤمن بہذہ الخرافات، بل تحسبہا کسَمْرٍ لا أصل لہ أو کطَیفٍ مرکَّب من الخزعبلات، ومع ذلک لا میل لہا أصلاً إلی
    الدینیات۔ وفتَن قلبہا حبُّ الدنیا وشوق الحکومات، فہی غریقۃ فی دنیاہا من الرأس إلی القدم فی کل الخطوات، ولا تمیل إلی دین، وإذا مالت فإلی الإسلام، فلا تقبل إلا ہذا الدّین وملّۃ خاتم النبیّین۔
    وإنّا نری أنہا
    ترمُقہ بعین المحبّ ولیست علی الضلالۃ کالمکبّ، بل تزجی أیامہا فی التدبر، ولا تعرض کالمُتکبّر، وإنی أجد آثار رشدہا، وأظن أنہا ستمیل إلیہ ولا یترکہا اللّٰہ فی الغافلین الضالین۔ وقد دخل من علماۂم فی دیننا
    طائفۃ من شبان رُوقۃٍ وشارۃ مرموقۃ، وآخرون منہم یکتمون إیمانہم إلٰی حین۔ وإنا نرٰی أن ملکتنا المکرمۃ مرجوّۃ الاہتداء ، وقد أعطیتْ لقلبہا حُبّ الإسلام وشوق ہذا الضیاء ، وعسی أن
    پس کیونکر ممکن
    ہے کہ یہ گورنمنٹ ایسی باتوں پر ایمان لاوے بلکہ یہ تو اس کو ایک بے اصل کہانی سمجھتی ہے اور ایک خواب
    پریشان کی طرح اباطیل کا مجموعہ خیال کرتی ہے اور علاوہ اس کے اس گورنمنٹ
    کو دینیات کی طرف کچھ توجہ
    نہیں اور دنیا کی محبت اور حکومتوں نے اس کے دل کو اپنی طرف کھینچا ہوا ہے سو وہ سر سے قدم تک
    دنیا میں غرق ہے اور کسی دین کی طرف اس کو میل نہیں
    اور اگر کسی وقت میل ہوگی تو
    اسلام کی طرف اور صرف دین اسلام کو قبول کرے گی اور ملت خاتم النبیین میں داخل ہوگی۔
    اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کو بنظر محبت دیکھتی ہے اور گمراہی
    پر نگونسار نہیں بلکہ تدبر میں اپنے دنوں کو بسر
    کرتی ہے اور متکبر کی طرح کنارہ کش نہیں اور میں اس کے رشد کے آثار پاتا ہوں اور گمان کرتا ہوں کہ وہ جلد
    اسلام کی طرف میل کرے گی
    اور خدا اس کو گمراہوں اور غافلوں میں نہیں چھوڑے گا۔ اور ایک طائفہ ان کے
    علماء کا ہمارے دین میں داخل ہوگیا جو جوانان خوشرو اور پسندیدہ صورت ہیں اور ان میں سے ایسے بھی
    ہیں جو
    ایمان ایک وقت تک پوشیدہ رکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ملکہ مکرمہ ہدایت پانے کے لئے امید کی جگہ ہے اور
    اس کے دل کو حب اسلام اور شوق اس روشنی کا دیا گیا ہے اور عنقریب ہے
    کہ خداتعالیٰ اس
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 60
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/60/mode/1up
    یُدخل اللّٰہ نور توحیدہ فی قلب ہذہ الملکۃ الزہراء وقلوب أبناۂا العقلاء ، ولیس علی اللّٰہ بعزیز، بل قدرتہ صالحۃ لہذؔ ہ النور، وہو
    علی کل شیء قدیر، وإنہ یجذب إلیہ قلوب الطالبین۔ وکذٰلک نرٰی أن أعاظم أرکان الدّولۃ یمیلون إلی التوحید یومًا فیومًا، وقد نفرت قلوبہم من مثل ہذہ العقائد الباطلۃ، ولا یلیق بشأنہم أن یعبدوا بشرًا مثلہم فی
    الضعف واللوازم الإنسانیۃ، وکیف وقد أعطاہم اللّٰہ أنواع العلوم وحظًّا وافرًا من الفہم والعقل، ولا نجد فی محققی ہذا القوم رجلا یرضی بہذہ الأباطیل إلا نادرا کالشعرۃ البیضاء فی اللَّمّۃ السوداء ، وإنّی أعلم
    أنہم بَیْضُ الإسلام، وستخرج منہم أفرُخُ ہذہ الملّۃ، وستُصرَف وجوہہم إلی دین اللّٰہ۔ إنہم قوم یفتّشون کل أمر، ولا یغضّون الطرف من الحق الذی حصحص، ولا یَتَّءِبون من قبول الحق ویطلبون ولا یلغبون
    ملکہ نورانی وجہ کے دل اور اس کے شہزادوں کے دلوں میں نور توحید ڈال دے اور خداتعالیٰ پر یہ
    مشکل نہیں بلکہ اس کی قدرت ایسے ہی کام کرتی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر
    ہے اور وہ اپنی
    طرف طالبوں کے دل کھینچ لیتا ہے اور اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے رکن اس
    گورنمنٹ کے دن بدن توحید کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں اور ان کے دل ان عقائد باطلہ سے نفرت
    کر
    گئے ہیں اور ان کی شان کے لائق بھی نہیں کہ اپنے جیسے آدمی کی پرستش کریں جو انسانوں کی طرح صفات میں
    اورتمام لوازم انسانیت میں ان کا شریک ہے اور ایسا شرک ان سے کیونکر ہو سکے
    اور خدا نے ان کو کئی قسم کے علم عطا کئے ہیں
    اور فہم اور عقل عنایت کی ہے اور ہم اس قوم کے محققوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں پاتے جو ان
    واہیات باتوں پر راضی ہو مگر شاذ و نادر
    جو اس ایک بال کی طرح ہے جو سیاہ بالوں میں ہو اور میں جانتا ہوں کہ
    یہ لوگ اسلام کے انڈے ہیں اور عنقریب ان میں سے اس ملت کے بچے پیدا ہوں گے اور ان کے منہ
    الٰہی دین کی طرف
    پھیرے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ایسی قوم ہے کہ جو ہریک بات کی تفتیش کرتی ہے اور اس حق سے آنکھ
    بند نہیں کرتی جو کھل گیا ہو اور حق کے قبول کرنے سے شرم نہیں کرتی اور ڈھونڈتی ہے
    اور تھکتی نہیں اور جو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 61
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/61/mode/1up
    ومن طلب فوجد ولو بعد حین۔
    وأما ما خوّف الواشی المزورُ الحکومۃَ البریطانیۃ عن بغاوتنا فما ہذا إلا وِشاء وشَتْمٌ، ولیس علٰی سِرِّنا
    ختمٌ، والدولۃ أعرَفُ من ہذا الواشی وہی ابن الأیام، وبیتنا عندہا فی ہذہ النواح عَلَمُ الأعلام، وتعلم رعایاہا طبقًا عن طبق، فلا یخفی علیہا غرضُ ہذا الواشی ولیس بمستور علیہا سرُّ فزعہ ومقصد جزعہ، بل ہی
    تعلَم حق العلم أمثالَہ الذین یریدون مخاؔ تلۃ الحکّام مِن سَورۃ تعصُّبہم وفورۃ عداوتہم وفساد فطراتہم، وما فی وعاۂم إلا سمّ الفساد، وما فی قلبہم إلا مقت الارتداد۔ أعرضوا عن المہیمن وجلالہ، وعثوا فی
    الأرض مفسدین۔ وقد کتبْنا غیر مرۃ أنا نحن من نصحاء الدولۃ ودواعی خیرہا، وکیف وقد جبر اللّٰہ مصائبنا بہا، وأزال بہا مرارۃ حیاتنا۔ وکنا فی أرضٍ مَحْیاۃٍ، فأُہلکَ بہا کلُّ حیّۃ کانت
    ڈھونڈے گا پائے گا
    اگرچہ کچھ دیر کے بعد پاوے۔
    اور اس نکتہ چین نے جو دولت برطانیہ کو میری بغاوت سے ڈرایا ہے سو یہ تو ایک صرف سخن چینی اور گالی ہے اس سے زیادہ نہیں اور ہمارے بھید پر تو کوئی مہر
    نہیں ہے اور گورنمنٹ اس نکتہ چین کی نسبت زیادہ واقف اور زمانہ دیدہ ہے اور ہمارا خاندان اس کے نزدیک اس نواح میں اول درجہ کا مشہور ہے اور اپنی رعایا کو وہ درجہ بدرجہ پہچانتی ہے سو
    اس پر نکتہ چین کی غرض پوشیدہ نہیں اور اس پر نکتہ چین کے اس جزع فزع کا اصل مقصد چھپا نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کو خوب جانتی ہے کہ جو حکام کو اپنے جوش تعصب اور عداوت اور فساد
    فطرت سے دھوکا دینا چاہتے ہیں اور ان کے برتن میں بجز فساد کے زہر کے اور کچھ نہیں اور ان کے دل میں بجز مرتد ہونے کے دشمنی کی اور کوئی بات نہیں خدا تعالیٰ اور اس کے جلال سے ان
    لوگوں نے منہ پھیر لیا اور زمین میں فساد پر آمادہ ہو گئے ہیں اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے خیر خواہوں میں سے ہیں اور کیونکر نہ ہوں اور خدا تعالیٰ نے اس کے سبب سے ہماری
    مصیبتوں کو دور کیا اور نیز اس سے ہماری زندگی کی تلخی کو دور فرمایا اور ہم سانپوں والی زمین پر بستے تھے تو اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان سانپوں کو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 62
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/62/mode/1up
    حولنا، وإن لہا علینا إحسانا عظیما فلن ننسی إحسانہا، وإنا من الشاکرین۔
    وأمّا ما ذکر ہذا الواشی قصۃَ جہاد الإسلام، وتظنّی أن
    القرآن یحثّ علی الجہاد مطلقًا من غیر شرط من الشرائط ، فأیُّ زور و افتراء أکبرُ من ذلک إن کان أحد من المتدبرین؟ فلیعلم أن القرآن لا یأمر بحرب أحد إلا بالذین یمنعون عباد اللّٰہ أن یؤمنوا بہ ویدخلوا فی
    دینہ ویطیعوہ فی جمیع أحکامہ ویعبدوہ کما أُمروا۔ والذین یقاتلون بغیر الحق ویُخرجون المؤمنین من دیارہم وأوطانہم ویُدخلون الخَلق فی دینہم جبرًا وقہرًا، ویریدون أن یطفؤا نور الإسلام ویصدّون الناس من أن
    یُسلِموا، أولئک الذین غضب اللّٰہ علیہم ووجب علی المؤمنین أن یحاربوہم إن لم ینتہوا۔ فانظر ہذہ الدولۃَ۔ أیُّ فساد توجدؔ فیہا من ہذہ المفاسد؟ أتمنعنا من صلواتنا وصومنا وحجّنا وإشاعۃ مذہبنا؟ أو تقاتلنا فی
    دیننا أو
    ہلاک کیا جو ہمارے گرد تھے اور اس کا ہم پر بڑا احسان ہے سو ہم اس احسان کو بھول نہیں سکتے اور ہم شکر گزار ہیں۔
    اور جو اس نکتہ چین نے جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا
    ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے
    جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افترا نہیں اگر
    کوئی سوچنے والا ہو۔ سو جاننا چاہیئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی
    کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان
    لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں
    اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے
    دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں
    یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو ان سے لڑیں اگر
    وہ باز نہ آویں
    مگر اس گورنمنٹ کو دیکھو کہ کون فساد ان فسادوں میں سے ان میں پایا جاتا ہے کیا وہ ہمیں ہماری
    نماز اور روزہ اور حج اور اشاعت مذہب سے ہم کو منع کرتی ہے یا دین کے
    بارے میں ہم سے لڑتی ہے یا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 63
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 63
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/63/mode/1up
    تخرجنا من أوطاننا؟ أو یجعل الناس نصاریٰ ظلمًا وجبرًا؟ کلا بل إنہا بریۃٌ من کل ہذہ الإلزامات، بل ہی لنا من المُعینین۔ ثم انظرْ إلی
    أحکامٍ علّمَنا القرآن للذین أحسنوا إلینا، وراعوا شؤوننا وکفلوا شجوننا، ومانُونا وآوَونا، بعدما کنا تاۂین۔ أیمنعنا ربّنا من أن نحسن إلی المحسنین ونشکر المنعمین؟ کلا بل القرآن یأمر بالقسط والعدل والإحسان
    واللّٰہ یحب المقسطین۔ وقد قال فی القرآن ؂، وما قال ولتکن منکم أُمّۃٌ یقتلون الکفّار ویُدخلونہم جبرًا فی دینہم۔ وقال جَادِلْہم (أی جادِل النصاری) بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ، وما قال اقتلوہم بالسیوف
    والصوارم إلا بعد صدّہم عن سبیل اللّٰہ ومکرہم لإطفاء نور الإسلام وقیامہم فی مقام المعادین، فانظُرْ ما قال ربّنا ربّ العالمین۔
    ہمیں ہمارے وطنوں سے نکالتی ہے یا لوگوں کو جبر اور ظم سے عیسائی بناتی
    ہے ہرگز نہیں بلکہ وہ ہمارے لئے
    مددگاروں میں سے ہے پھر قرآن کے ان حکموں پر نظر ڈالو جن میں خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ان
    کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیئے جو ہم پر احسان
    کریں اور ہمارے کاموں کی رعایت رکھیں اور ہماری حاجات کے
    متکفل ہو جائیں اور ہمارے بوجھوں کو اٹھا لیں اور ہمیں پریشان گردی کے بعد اپنی پناہ میں لے آویں کیا خدا تعالیٰ ہم کو
    اس سے
    منع کرتا ہے کہ ہم نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کریں اور دلی نعمتوں کا شکر ادا کریں ہرگز نہیں بلکہ وہ تو انصاف اور عدل اور احسان کرنے کے لئے فرماتا ہے اور وہ انصاف کرنے والوں کو
    دوست رکھتا ہے۔ اور قرآن میں اس نے یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نیکی کی طرف بلاویں اور امر معروف اور نہی منکر کریں اور یہ نہیں کہا کہ تم میں سے لوگ ہمیشہ
    ایسے ہوتے رہیں کہ جو کافرون کو قتل کریں اور ان کو اپنے دین میں جبراً داخل کرتے رہیں اور اس نے یہ تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کرو اور یہ نہیں کہا کہ ان
    کو تلواروں سے قتل کر ڈالو۔ مگر اس حالت میں جبکہ وہ دین سے روکیں اور اسلام کا نور بجھانے کے لئے منصوبے برپا کریں اور دشمنوں
    کے مقام میں کھڑے ہو جائیں پس دیکھ تو سہی ہمارے
    پروردگار نے جو تمام عالموں کا رب ہے کیسا کچھ فرمایا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 64
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 64
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/64/mode/1up
    وقد بیّنّا لک أن الحرب لیس من أصل مقاصد القرآن ولا من جذر تعلیمہ، وإنما ہو جوّز عند اشتداد الحاجۃ وبلوغ ظلم الظالمین إلی انتہاۂ
    واشتعال جور الجائرین۔ و ؔ لکُمْ أسوۃ حسنۃ فی غزوات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، کیف صبر علی ظلم الکفار إلی مدۃ یبلغ فیہ صبیّ إلٰی سن بلوغہ، فصبر۔ وکان الکفار یؤذونہ فی اللیل والنہار۔ ینہبون
    أموال المؤمنین کالأشرار، ویقتلون رجالہم ونساء ہم بتعذیبات تتحدر بتصورہا دموع العیون وتقشعر قلوب الأخیار، وکذلک بلغ الإیذاء إلی انتہاۂ حتی ہمّوا بقتل نبی اللّٰہ، فأمرہ ربّہ أن یترک وطنہ ویہرب إلی
    المدینۃ مہاجرا من مکۃ، فخرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من وطنہ بإخراج قومہ۔ ومع ذلک ما کان الکفار منتہین، بل لم یزل الفتن منہم تستعِرُّ، ومحجّۃ الدعوۃ تَعِرُّ، حتی جلبوا علٰی رسول اللّٰہ صلی
    اللّٰہ
    اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد قران میں سے نہیں اور وہ صرف ضرورت کے
    وقت تجویز کیا گیا ہے یعنی ایسے وقت میں جبکہ ظالموں کا ظلم انتہا تک
    پہنچ
    جائے اور پیروی کرنے کے لئے طریق عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
    بہتر ہے دیکھو کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایذا پر اس زمانہ تک صبر کیا جس میں ایک بچہ
    اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے اور کافر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ دکھ دیتے اور رات دن ستاتے اور
    شریروں کی طرح ان کے مالوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کے مردوں اور
    عورتوں کو قتل کرتے اور ایسے بڑے بڑے
    عذابوں سے مارتے کہ ان کے یاد کرنے سے آنکھوں کے آنسو جاری ہوتے ہیں اور نیک آدمیوں کے دل کانپتے ہیں اور
    اسی طرح دکھ انتہا کو پہنچ گیا
    اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن سے نکالے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا قصد کیا سو اس کے رب نے اس کو حکم دیا تاوہ مدینہ بھاگ
    جائے سو آنحضرت
    اپنے وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے
    بھڑکاتے اور دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں
    تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 65
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 65
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/65/mode/1up
    علیہ وسلم خیلَہم ورَجِلَہم، وضربوا خیامہم فی میادین بدرٍ بفوج کثیر قریبًا من المدینۃ، وأرادوا استیصال الدین۔ فاشتعل غضب اللّٰہ
    علیہم ورأی قبح جفاۂم وشدۃ اعتداۂم، فنزل الوحی علی رسولہ وقال 33۔3333 ۱؂، فأمر اللّٰہ رسولَہ المظلوم فی ہذہ الآیۃ لیحارب الذین ہم بدأوا أول مرۃ بعد أن رأی شدۃ اعتداۂم وکمال حقدہم وضلالہم،
    ورأی أنہم قوم لا یرجی بالمواعظ صلاح أحوالہم۔ فانظر کیف کان حرب رسوؔ ل اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ وما حارب نبی اللّٰہ أعداءََ الدین إلا بعد ما رآہم سابقین فی الترامی بالسہام والتجالد بالحُسام، وما
    کان الکفار مقتولین فقط بل کان یسقط من الجانبین قتلی، وکان الکفار ظالمین ضآلین۔*
    معہ اپنے سواروں اور پیادوں کے چڑھائی کی اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے قریب ہے اپنی فوج کے
    خیمے کھڑے کر دیئے اور چاہا کہ دین کی بیخ کنی کر دیں تب خدا کا غضب ان پر
    بھڑکا اور اس نے ان کے بڑے ظلم اور سختی کے ساتھ حد سے تجاوز کرنا مشاہدہ کیا سو اس نے اپنی وحی
    اپنے
    رسول پر اتاری اور کہا کہ مسلمانوں کو خدا نے دیکھا جو ناحق ان کے قتل کے لئے ارادہ کیا گیا ہے اور وہ مظلوم ہیں
    اس لئے انہیں مقابلہ کی اجازت ہے اور خدا قادر ہے جو ان کی مدد
    کرے سو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول مظلوم کو اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی جن کی طرف سے ابتدا تھی مگر اس وقت اجازت دی
    جبکہ انتہا درجہ کی زیادتی اور
    گمراہی ان کی طرف سے دیکھ لی اور یہ دیکھ لیا کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ بمجرد نصیحتوں سے
    ان کی اصلاح غیر ممکن ہے پس اب سوچو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں کی کیا حقیقت
    تھی اور
    نبی اللہ دشمنان دین سے ہرگز نہیں لڑا مگر جب تک کہ اس نے یہ نہ دیکھ لیا کہ وہ تیر چلانے اور تلوار مارنے میں
    پیش دست اور سبقت کرنے والے ہیں اور نیز یہ تو نہیں تھا کہ صرف
    کفار ہی مارے جاتے تھے بلکہ جانبین سے
    مرنے والے کام آتے تھے اور کفار ظالم اور حملہ آور تھے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 66
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 66
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/66/mode/1up
    فلیتدبّر فی ہذا المقام کل عاقل حفظہ اللّٰہ تعالی عن الحمق وصانہ عن السفاہۃ وسیر اللئام - لیظہر علیہ حقیقۃُ جہاد الإسلام،
    ولینظُرْ أین أثر الظلم فی ہذا الجہاد، وأین إیذاء المحسن ذی الإنعام؟ بل کان رأس الإسلام فی تلک الأیام معرَّضًا لدوس الأقدام، وقد وردت علی المسلمین مصائب إلی حد یُجری الدموع قصّتُہا من المُقْلتین وتشوی
    القلوب بنار الآلام۔ فہل مِن مُنصف ینظرہا ویخاف قہر الربّ العلام، أم انعدم الإنصاف من قلوب المخالفین؟ ہذا ہو الحق ولا نخبّء الحق ولا نسترہ، والنفاق عندنا أکبر الذنوب، والریاء أخطر الخطوب، ومِن
    سِیَرِ الظالمین المشرکین۔
    فخلاصۃ قولنا إن مسألۃ الغزوۃ والجہاد لیست محورَ الإسلام واستقسہ کما فہمہ الجاہلون المخالفون أو المتجاہلون من المسلمین
    پس اس مقام میں ہریک عاقل جس کو خدا نے
    حمق اور سفاہت اور بدوں کی خصلتوں سے نگاہ رکھا ہو
    فکر کرے اور سوچے تاکہ اس پر اسلامی جہاد کی حقیقت ظاہر ہو اور چاہے کہ دیکھے کہ اس جہاد میں ظلم
    کا نشان کہاں ہے اور کہاں
    کسی محسن کو دکھ دیا گیا ہے بلکہ ان دنوں میں تو اسلام کا سر کچلنے کی جگہ میں
    پڑا ہوا تھا اور مسلمانوں پر ایسی مصیبتیں پڑی ہوئی تھیں کہ ان مصیبتوں کا قصہ آنکھوں سے
    آنسو جاری کر
    دیتا ہے اور دلوں کو درد کی آگ سے بریان کرتا ہے
    پس کوئی منصف ہے !!! جو خدا سے ڈرے اور سوچے یا یہ کہ
    انصاف مخالفوں کے دلوں سے اٹھ ہی گیا ہے اور یہی بات
    حق ہے اور
    ہم حق کو پوشیدہ نہیں کرتے اور نہ چھپاتے ہیں اور نفاق ہمارے نزدیک سب گناہوں سے بڑا ہے اور
    ریا سب کاموں سے زیادہ خطرناک ہے اور ظالموں اور مشرکوں کی صفات میں سے ہے۔
    پس
    ہمارے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ دینی لڑائی اور جہاد کا کچھ ایسا مسئلہ نہیں جس کو اسلام کا محور اور
    استقس کہا جائے جیسا کہ جاہل مخالف سمجھتے ہیں یا جیسا کہ بناوٹ سے جاہل
    بننے والے بعض مسلمان خیال کرتے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 67
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 67
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/67/mode/1up
    بل وردت فی کتاب اللّٰہ تصریحاتٌ علٰیؔ خلافہا کما سمعتَ آیاتِ رب العالمین۔ وأما العقیدۃ المشہورۃ۔ أعنی قول بعض العلماء أن
    المسیح الموعود ینزل من السماء ویقاتل الکفار ولا یقبل الجزیۃ بل إما القتل وإما الإسلام۔ فاعلموا أنہا باطلۃ ومملوء ۃ من أنواع الخطأ والزلّۃ ومن أمور تخالف نصوص القرآن، وما ہی إلا تلبیسات المفترین۔ یا
    حسرۃ علیہم إنہم أَطْرَأُوا عیسی مِن غیر حق حتی قال بعضہم إنہ ملَک کریم ولیس من نوع الإنسان وقال بعضہم إن ہو إلّا کلمۃ اللّٰہ وروح اللّٰہ، ولیس فی ہذہ المرتبۃ شریکا لہ۔ وزاد بعضہم علیہ حواشی
    أخری، وقال ہو مخلوق أقرب إلی اللّٰہ وأفضل من الملائکۃ، فإن الملا ئکۃ لا یُرفَعون إلی العرش وہو مرفوع علی العرش لأنہ مرفوع إلی اللّٰہ، فہو أفضل من الملا ئکۃ کلہم ومن کل ما خُلِقَ
    بلکہ کتاب اللہ
    میں اس کے برخلاف تصریحات واقع ہیں جیسا کہ تو نے آیتوں کو سن لیا۔
    اور عقیدہ مشہورہ یعنی قول بعض علماء کا
    جو مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا اور کفار سے لڑے گا اور جزیہ قبول
    نہیں کرے گا
    بلکہ دو باتوں میں سے ایک ہوگی یا قتل یا اسلام پس جاننا چاہیئے کہ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے اور طرح طرح
    کے خطاؤں اور لغزشوں سے بھرا ہوا ہے اور قرآن کی نصوص صریحہ
    سے مخالف پڑا ہوا ہے سو وہ صرف
    مفتریوں کا افترا ہے ان پر افسوس کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو حد سے زیادہ بڑھا دیا
    یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ وہ فرشتہ ہے انسان نہیں اور بعض نے
    کہا
    وہ ایک کلمہ اور روح اللہ ہے اور اس صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور
    بعض نے اس پر اور حاشیئے چڑھائے اور کہا کہ وہ ایک الگ مخلوق ہے جو فرشتوں سے بڑھ کر
    ہے کیونکہ
    ملائک تو عرش پر جا نہیں سکتے مگر وہ عرش پر بیٹھا ہے کیونکہ
    خداتعالیٰ کی طرف اُس کا رفع ہوا ہے اور خدا عرش پر ہے پس وہ ہر یک فرشتہ اور ہر یک مخلوق سے افضل ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 68
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 68
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/68/mode/1up
    و ذُرِئَ۔ ہذا بیان بعض العلماء ، وأما صاحب ’’الإنسان الکامل‘‘ عبدُالکریم الذی ہو من المتصوفین، فبلّغ الأمرَ إلی النہایۃ، وقال
    إن التثلیث بمعنی حق ولا حرج فیہ، وإن عیسٰی کذا وکذا، بل أشار إلی أنہ لیس بمخلوق۔ ومنہم من اعتدی فی کذبہ وقال بسم اللّٰہ الآب والابن وروح القدس۔ کذلک أیّدوا الفِرْیۃ ونصروہا۔ وکان الکذب فی أول
    الأمر قلیلًا، ثمؔ من جاء بعد کاذبٍ ألحقَ بکذبہ کذبا آخر، حتی ارتفعت عمارۃ الکذب، وجُعل ابنُ عجوزۃٍ ابنَ اللّٰہ، وبعد ذلک جُعل إلٰہَ العالمین، ألا لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ إنْ عیسی إلّا نبی اللّٰہ کأنبیاء آخرین،
    وإنْ ہو إلا خادم شریعۃ النبی المعصوم الذی حرّم اللّٰہ علیہ المراضع حتی أقبلَ علی
    ثدی أُمّہ، وکلّمہ ربُّہ علی طور سینین وجعلہ من المحبوبین۔ ہذا ہو موسٰی
    یہ تو بعض علماء کا قول ہے مگر صاحب
    کتاب انسان کامل عبد الکریم نے
    جو متصوفین میں سے ہے اس بارے میں حد ہی کر دی اور کہا کہ تثلیث
    ایک معنی کے رو سے حق ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اور عیسیٰ ایسا ہے اور ایسا ہے
    بلکہ اس طرف اشارہ کر دیا کہ
    وہ خداتعالیٰ کی مخلوق میں سے نہیں ہے اور بعض آدمی جھوٹ بولنے میں بہت بڑھ گئے اور یہ لکھا کہ بسم اللہ الاب و الابن و
    روح القدس اسی طرح انہوں نے
    جھوٹ کی تائید کی اور جھوٹ کو مدد دی اور جھوٹ پہلے پہلے تو
    تھوڑا تھا پھر جو شخص ایک جھوٹے کے بعد آیا اُس نے کچھ اپنی طرف سے بھی پہلے جھوٹ پر زیادہ کیا یہاں تک کہ جھوٹ
    کی
    عمارت بہت اونچی ہو گئی اور ایک بڑھیا عورت کا بچہ خدا کا بیٹا بنایا گیا اور پھر خدا کر کے مانا گیا خبردار رہو کہ
    جھوٹوں پر خدا کی *** ہے عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی
    خدا کا ہے اور وہ
    اُس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں یہاں تک کہ
    اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اُس سے
    ہمکلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا یہ وہی موسیٰ ؑ
    (الفائدۃ) کلّم اللّٰہ موسٰی علی جبل وکلم الشیطٰن عیسٰی علٰی جبل فانظر الفرق بینہما ان کنت من الناظرین ۔ منہ
    خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہمکلام
    ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ سے ہمکلام ہوا سو اس دونوں قسم کے
    مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 69
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 69
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/69/mode/1up
    فتَی اللّٰہ الذی أشار اللّٰہ فی کتابہ إلٰی حیاتہ، وفرض علینا أن نؤمن بأنہ حیٌّ فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین۔
    و أما نزول
    عیسٰی من السّماء فقد أثبتنا بطلانہ فی کتابنا الحمامۃ، وخلاصتہ أنّا لا نجد فی القرآن شیئا فی ہذا الباب من غیر خبر وفاتہ الذی نجدہا فی مقامات کثیرۃ من الفرقان الحمید۔ نعَمْ جاء لفظ النزول فی بعض
    الأحادیث، ولکنہ لفظ قد کثر استعمالہ فی لسان العرب علی نزول المسافرین إذا نزلوا من بلدۃ ببلدۃ أو من مُلک بملک متغربین۔ والنزیل ہو المسافر کما لا یخفی علی العالمین۔
    و أمّا لفظ التوفی الذی یوجد فی
    القرآن فی حق المسیح وغیرہ من بنی آدم فلا سبیل فیہ إلی تآویل أخری بغیر الإماتۃ، وأخذنا معناہ من النبی ومن أجلّ الصحابۃ لاؔ مِن عند أنفسنا۔ وأنت تعلم
    مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے
    کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں
    کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مُردوں میں سے نہیں۔
    مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے سو
    ہم نے اس خیال کا باطل ہونا اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ
    میں بخوبی ثابت کر دیا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ہم قرآن میں بغیر وفات حضرت عیسیٰ ؑ کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے اور
    وفات کا
    ذکر نہ ایک جگہ بلکہ کئی مقامات میں پاتے ہیں۔ ہاں بعض احادیث میں نزول کا
    لفظ آیا ہے لیکن وہ لفظ ایسا ہے کہ زبان عرب میں اکثر استعمال اس کے
    مسافروں کے حق میں ہے جب وہ ایک شہر
    سے دوسرے شہر میں وارد ہوں اور یا ایک ملک سے دوسرے
    ملک میں سفر کر کے آویں اور نزیل تو مسافر کو ہی کہتے ہیں جیسا کہ جاننے والوں پر پوشیدہ نہیں۔
    مگر توفّی کا لفظ جو قرآن میں
    حضرت مسیح اور دوسروں کے حق میں پایا جاتا ہے سو اس میں بغیر معنے مارنے کے
    اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور یہ معنے مارنے کے ہم نے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے بزرگ
    صحابہ سے لئے ہیں یہ نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑے ہیں اور تُو جانتا ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 70
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 70
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/70/mode/1up
    أن الإماتۃ أمر ثابت دائم داخل فی سنن اللّٰہ القدیمۃ، وما من رسول إلا تُوُفّی وقد خلتْ من قبل عیسی الرسلُ۔ فإذا تعارض لفظ التوفی
    ولفظ النزول۔ فإن سلّمنا وفرضنا صحۃ الحدیث فلا بد لنا أن نؤوّل لفظ النزول، فإنہ لیس بموضوع لنزول رجل من السماء ، بل وُضع لنزول مسافر من أرض بأرض، فما کان لنا أن نترک معنی وُضع لہ ہذا اللفظ
    فی لسان العرب ونردّ بیّناتِ القرآن۔ وما نجد ذکر السماء فی حدیث صحیح، وما نجد نظیر النزول فی أمم أولی*، بل یثبت خلافہ فی قصۃ یوحنا۔ فلا شک أن ہذہ العقیدۃ۔ أعنی عقیدۃ نزول المسیح
    مارنا ایک
    امر ثابت دائم الوقوع اور خدا تعالیٰ کی قدیم سنتوں میں داخل ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں جو
    فوت نہ ہوا ہو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں اور جبکہ لفظ
    نزول
    اور لفظ توفی میں معارضہ واقع ہوا پس اگر ہم حدیث کی صحت کو قبول کر لیں تاہم ہمارے لئے ضروری ہے کہ
    نزول کے لفظ کی تاویل کریں کیونکہ وہ دراصل آسمان سے اترنے کے معنوں
    کے لئے موضوع نہیں ہے بلکہ وہ تو
    مسافروں کے نزول کے لئے وضع کیا گیا ہے سو یہ تو ہم سے نہیں ہوسکتا کہ اصل موضوع لہ کو چھوڑ دیں
    اور قرآن کی بینات کو رد کریں اور ہم کسی
    حدیث صحیح میں آسمان
    کا لفظ بھی نہیں پاتے اور ہم اس نزول کی نظیر پہلی امتوں میں بھی نہیں پاتے بلکہ
    قصہ یوحنا میں اس کے خلاف پاتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ اس عقیدہ کو نہ ایک
    بیماری بلکہ کئی
    (الفائدۃ)قال اللّٰہ تعالٰی 3۔3 ۱؂
    ولٰکناقرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہلی کتابوں یعنی تورات اور صحف ابراہیم میں شواہد تعلیم قرآن موجود ہیں مگر لا نجد ذکر
    صعود عیسٰی و ذکر نزولہ فی التورٰۃ ولا مثالا یشابھہ و ان التوراۃ ہم تورات میں حضرت عیسیٰ کے صعود اور نزول کا کچھ نشان نہیں پاتے اور نہ اس کی کوئی مثال پاتے ہیں حالانکہامام لذکر الامثلۃ
    کلھا ولاجل ذٰلک سماہ اللّٰہ اماما فی کتابٍ مبین۔ منہ
    تورات تمام مثالوں کے لئے امام ہے اِسی لئے خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں اس کا نام امام رکھا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 71
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 71
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/71/mode/1up
    من السماء ۔ مبتلاۃ بأمراض لا بمرض واحد یخالف بیّنات القرآن، ویکذّب أمر ختم النبوۃ، ویباین محاورات القوم، ویخالف الآثار التی
    صرحت فیہا موت المسیح۔ فتَفکّروا أیہا الناس إن کنتم من المتفکرین۔
    وأما الشق الثانی أعنی محاربات المسیح الموعود بعد النزول، کما ہو زعم بعض الناس الذی ما کان إلا کالغبی الجہول، فہو لیس مذہبنا،
    بل عندنا ہو خیال باطل لا یصلح للقبول، وبعید عن الحق والیقین وداخلٌ فی نمط الفضول۔ وکفی لبطلانہ الحدیثُ الذی موجود فی البخاری۔ أعنیؔ یضع الحربَ، یعنی لا یقاتل المسیحُ الموعود ولا یحارب، بل
    یفعل کل ما یفعل بالنظر والہمۃ، ویجعل اللّٰہُ فی نظرہ تأثیرات عجیبۃ، وفی أنفاسہ برکات غریبۃ، ویجعل فی فہمہ وعقلہ قوۃ السیف والسنان، ویعطی لہ بیانا مملُوًّا من البرہان، وحججًا قاطعۃ لِعُذْرات أہل
    الطغیان۔ فہذہ
    بیماریاں لگی ہوئی ہیں قرآن کی بینات کا مخالف ہے
    ختم نبوت کے امر کی تکذیب کرتا ہے اور قوم عرب کے محاورات کے مغائر پڑا ہے اور ان احادیث کے
    برعکس ہے جن میں
    حضرت عیسیٰ کی موت کی تصریح ہے پس اے لوگو فکر کرو اگر فکر کر سکتے ہو۔
    اور دوسرا شق یعنی یہ کہ مسیح موعود اترنے کے بعد لڑائیاں کرے گا جیسا کہ بعض جہال کا خیال ہے پس یہ
    ہمارا مذہب نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ خیال باطل اور فضول ہے جو لائق قبول نہیں اور حق اور یقین سے بعید ہے اور اس کے باطل کرنے کے لئے وہ حدیث کافی ہے جو صحیح بخاری میں لکھی ہے
    یعنی قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود کفار سے نہیں لڑے گا اور نہ جنگ کرے گا بلکہ جو کچھ کرے گا اپنی نظر اور ہمت سے کرے گا اور خدا
    اس کی نظر میں عجیب عجیب تاثیرات رکھ دے گا اور اس کے فہم اور عقل کو تلوار اور نیزہ کی قوت دے گا اور اس کو دلائل سے بھرا ہوا بیان عطا کرے گا اور ایسی حجتیں اس کو سکھلائے گا جو
    اہل طغیان کا قطع عذرات کریں پس
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 72
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 72
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/72/mode/1up
    ہی الحربۃ السماویۃ التی ما صنعہا أیدی الإنسان، بل أعطیت من ید اللّٰہ الرحمن، ونزلت من السماء لا من أعمال أہل الأرضین۔
    فالحاصل أن اعتقادنا ہو ہٰذا، لا کما فہِم الواشی الغبیّ والنمّام الدنیّ، فإنہ خطأٌ فاحش عندنا، ونخطّئُ قائلَ تلک الأقوال، وقد أخطأ من قال ووقع فی ضلال مبین۔ فالحق الذی أرانا الحقُّ الحکیمُ وأنبأنا اللطیف العلیم،
    ہو أن حربۃ المسیح الموعود سماویۃ لا أرضیۃ، ومحارباتہ کلہا بأنظار روحانیۃ، لا بأسلحۃ جسمانیۃ، وہو یقتل الأعداء بعقد النظر والہمۃ، أعنی بتصرف الباطن وإتمام الحُجّۃ، لا بالسہام والرماح
    والمَشْرَفیّۃ، ولہ ملکوت السماء لا ملکوت الأرضین۔ وأمّا الذین ینتظرون مسیحًا یأتی بالجنود ویخرج کالأسود، ویقتل کل من لم یؤمن من الکافرین، وینزل کصاعقۃ محرقۃ من السماء ، ولا یکون لہ
    یہی
    آسمانی حربہ ہے جس کو انسان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا بلکہ رحمان کے ہاتھوں سے ملا ہے۔
    اور آسمان سے نازل ہوا ہے نہ زمین کی کارستانیوں سے پس خلاصہ کلام یہ ہے
    جو ہمارا اعتقاد
    یہی ہے جو ہم نے ذکر کر دیا نہ جیسا کہ اس نکتہ چین کند ذہن اور سفلہ مزاج نے سمجھا اور وہ ہمارے
    نزدیک صریح غلطی ہے اور ہم ایسے قائل کا تخطیہ کرتے ہیں بیشک خطا کی جس نے ایسا
    کہا اور صریح
    ضلالت میں پڑ گیا۔ پس وہ حق جو ہم کو حکیم مطلق نے دکھلایا اور لطیف علیم نے بتلایا
    وہ یہی ہے کہ مسیح موعود کا حربہ آسمانی ہے نہ زمینی اور لڑائیاں اس کی
    روحانی
    نظروں کے ساتھ ہیں نہ جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ اور وہ دشمنوں کو نظر اور ہمت سے
    قتل کرے گا یعنی تصرف باطن اور اتمام حجت کے ساتھ نہ تیر اور
    نیزہ اور تلوار سے اور اس کی آسمانی
    بادشاہت ہے نہ زمینی۔ اور
    وہ لوگ جو ایک مسیح کی انتظار کرتے ہیں جو لشکروں کے ساتھ آئے گا اور ہریک کافر کو جو ایمان نہ لاوے
    قتل کر دے گا اور آسمان سے ایک جلانے والی بجلی کی
    طرح نازل ہوگا اور بجز
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 73
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 73
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/73/mode/1up
    شغل مِن غیر سفکؔ الدماء ، ویکون حریصا علی قتل نفس ولو کان خنزیرا، ویأخذ السیف البتّار قبل أن یتمّ حجّتہ علی المنکرین، فنحن
    لسنا منہم ولا نعرف ذلک المسیح ولا نعلم ولا ندری أثرا من تلک الأباطیل فی کتاب اللّٰہ المبین۔ فلا نقبل ہذہ العقیدۃ أبدًا، ولسنا من الذین یقرّون بہ مقلّدین کالعمین۔ فالحاصل أنہ لیس من عقائدنا، بل إنما ہو من
    عقائد شیخ بطّالوی صاحبِ الإشاعۃ مضلِّ الجماعۃ، أعنی محمد حسین وأمثالہ الذین ہُمْ فُلّاح تلک الزراعۃ۔ فالملخص أن ہذا المسلک من مساعیہم التی یسعون، وآراۂم التی ترون، وأنہم قد رسوا علیہ ولیسوا
    بالمنتہین الراجعین، بل یخبرون عنہ علی المنابر ویذکرونہ مُتباشِرین۔ ومِن أعظم مُنْیتہم النفسانیۃ أن یجیء مسیحہم الموہوم کالملیک الجبّار، ویقتل کلَّ من فی الأرض من الکفار، ویجمع غنائم
    خونریزی کے
    اس کا کوئی اور شغل نہ ہوگا اور وہ قتل کرنے پر بڑا حریص ہوگا اگرچہ خنزیر ہی ہو
    اور قبل اس کے جو اپنی حجت منکروں پر پوری کرے آتے ہی تلوار پکڑ لے گا۔ سو ہم
    ان لوگوں میں سے
    نہیں ہیں اور ہم ایسے مسیح کو نہیں پہچانتے اور ہم خدا تعالیٰ کی کلام میں ان عقائد کا کچھ بھی
    نشان نہیں پاتے اور ہم ایسے نہیں کہ ان باتوں کو
    ایک اندھے مقلد کی طرح مان لیں۔ پس حاصل کلام
    یہ ہے کہ یہ باتیں ہمارے
    عقائد میں سے نہیں ہیں بلکہ یہ شیخ بٹالوی کے عقائد ہیں جو صاحب اشاعۃ اور مضل جماعت ہے
    اور ایسا ہی اس کے ہم خیالوں کا جو اس کھیتی کے بونے والے
    ہیں
    یہی عقیدہ ہے پس خلاصہ کلام یہ کہ یہ انہیں کا مسلک ہے جس پر وہ چل رہے ہیں اور یہ انہیں کی رائیں ہیں جو تم دیکھتے ہو
    اور وہ ان خیالات پر خوب جمے ہوئے ہیں اور باز آنے والے
    اور رجوع کرنے والے نہیں ہیں بلکہ منبروں پر
    چڑھ چڑھ کر یہ خبریں بتلاتے ہیں اور ان کو یاد کرکے ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں اور ان کی نفسانی خواہشوں میں سے بڑی خواہش یہ ہے
    کہ ان کا خیالی مسیح دنیا میں آوے اور تمام کافروں کو قتل کرے اور پھر بہت سے لوٹ کے مالوں سے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 74
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 74
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/74/mode/1up
    کثیرۃ قنطارًا علی القنطار، ثم یجعل البطالویَّ وإخوانہ من المتمولین۔ وأما نحن فلا نعتقد کذلک، بل نعلم أنہم أخطأوا فی ہذہ الآراء ،
    وأجنّہم اللیل وبعدوا عن الضیاء ، فما فہموا وما مسّوا مسلک المتبصرین، وما سُقوا من المعارف النبویّۃ والأسرار الإلٰہیۃ، بل أکلوا فُضلاتِ قومٍ ضلوا من قبل ونبذوا کتاب اللّٰہ وراء ظہورہم ورضوا بأقوال
    الختّارین۔ وکان سرّ ہذہ العقیدؔ ۃ من أدق المسائل وأصعبہا، فما فہِمہ آراءٌ سطحیۃ وعقول ناقصۃ، واختاروا طرقًا دون ذلک مستعجلین۔ فتمَّ ما جاء فی فَیْجٍ أعوَجَ مِن أصدقِ الصادقین، وإن فی ہذا بُرہانًا
    للمتفکرین۔ ثم تفضّلَ اللّٰہ علینا وکشف ہذا السرّ فضلًا ورحما وہو أرحم الراحمین۔ یرقّی من یشاء ، ویحطّ من یشاء ، ویجعل من یشاء من العارفین۔ وعلِمنا بتعلیمہ وفہِمنا بتفہیمہ وأُیِّدْنا بتکریمہ
    بٹالوی اور اس
    کے بھائیوں کو مالدار کر دیوے
    مگر ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے بلکہ ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی راؤں میں خطا کی اور ایک رات ان پر پڑ گئی
    اور روشنی سے دور جا پڑے پس انہوں نے
    کچھ نہ سمجھا اور سمجھنے والوں کے مسلک کو چھؤا بھی نہیں
    اور انہوں نے معارف نبویہ اور اسرار الٰہیہ میں سے کچھ بھی نہیں پیا بلکہ انہوں نے ان لوگوں کا فضلہ کھایا جو پہلے
    ان سے
    راہ کو بھول چکے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو انہوں نے پس پشت پھینک دیا اور ان لوگوں کی باتوں پر راضی
    ہوگئے جو دھوکا دینے والے تھے اور اس عقیدہ کا بھید بہت باریک اور مشکل مسائل
    میں سے تھا اس لئے موٹی سمجھ
    اور ناقص عقل والے اس کو سمجھ نہ سکے اور اور راہیں جلدی سے اختیار کر لیں۔ سو وہ
    پیشگوئی پوری ہوئی جو فیج اعوج کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ
    وسلم نے فرمائی تھی اور وہ اصدق الصادقین ہے
    اور فکر کرنے والوں کے لئے اس میں ایک دلیل ہے پھر خدا تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور فضل اور رحم سے یہ بھید ہم پر کھول دیا اور وہ ارحم
    الراحمین ہے جس کو چاہتا ہے اوپر لے جاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نیچے پھینکتا ہے اور جس کو چاہتا
    ہے عارفوں میں داخل کرتا ہے سو ہم نے اس کی تعلیم سے معلوم کیا اور اس کے سمجھانے
    سے سمجھے اور اس
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 75
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 75
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/75/mode/1up
    وہو خیر المؤیّدین۔ وألہمَنا أن الحرب حرب روحانی بنظر روحانی۔ وأعجبنی أنہم یقرّون أن عیسی لا یقاتل یأجوج ومأجوج، بل یدعو
    علیہم عند اشتداد المصائب وہجوم الأعداء کالسہم الصائب، وکذلک یقرأون لفظ النظر فی کتب الأحادیث ثم ینسونہ ولا یتدبرون کالعاقلین۔ ختم اللّٰہ علی قلوبہم، فلا یفہمون دقیقۃ من دقائق المعرفۃ، ولا نکتۃ من
    نکات الحکمۃ، بل نری أن ذہنہم مزمہرّ، ودَجْنُہ مکفہرّ، فلا یستشفّون لآلئَ الحقائق، ولا یُمعِنون فی الدقائق، ویسبَحون علی سطح الألفاظ، ولیسوا فی بحر المعانی غوّاصین۔ ومن یفہّم رجلًا ما فہّمہ اللّٰہُ؟ ومن
    لم یہدہ اللّٰہ فکیف یکون من المہتدین؟
    ہذہ ہی العقیدۃ التی أشہرناہا فی کتبنا غیر مرّۃ، ولأجل ذلک کُفّرنا وأُوذینا وکُذّبنا وأُفْردنا کالذی یُترک فی البوادی والفلوات
    خیر المؤیدین نے ہم کو مدد دی اور
    ہمارے رب نے ہمیں الہام دیا کہ مسیح موعود کی لڑائیاں روحانی لڑائیاں ہیں جو روحانی نظر کے ساتھ ہوں گی اور تعجب کہ یہ لوگ پڑھتے ہیں کہ جو عیسیٰ یاجوج ماجوج سے نہیں لڑے گا بلکہ سخت
    مصیبتوں کے وقت بددعا کرے گا اور نیز وہ لفظ نظر کا کتب احادیث میں پڑھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں اور عاقلوں کی طرح نہیں سوچتے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی پس وہ معرفت
    کے دقیقوں میں سے کسی دقیقہ کواور حکمت کے نکتوں میں سے کسی نکتہ کو بھی نہیں سمجھتے بلکہ ذہن ان کا بہت ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور بادل اس ذہن کا تہ بتہ ہے پس وہ حقیقت کے موتیوں کو عمیق
    نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور الفاظ کی سطح پر تیرتے ہیں اور معانی کے دریا میں غوطہ نہیں مار سکتے اور ایسے آدمی کو کون سمجھائے جس کو خدا نے نہیں سمجھایا اور جس کو خدا نے ہدایت
    نہیں دی وہ کیونکر ہدایت یاب ہو جائے۔
    یہ وہی عقیدہ ہے جس کو ہم نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ ذکر کیا ہے اور انہی امور کے لئے ہم کافر ٹھہرائے گئے اور دکھ دئے گئے اور جھٹلائے گئے اور
    ہم ایسے اکیلے چھوڑے گئے جیسا کہ کوئی جنگل میں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 76
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 76
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/76/mode/1up
    منفردا، فنحن فی ہذہ الأوان کغرؔ یب فی خانٍ، لا کشَغِبٍ فی حمایۃ إخوان۔ لا نرید الریاسۃ بل آثرنا الخصاصۃ، ونبذنا فروۃَ إمارۃ،
    ورضینا بعباء ۃِ فقرٍ وما بالَیْنا طَعْنَ نُظّارۃٍ، ولا لومَ اللا ئمین۔ فلا تُبادِرْ یا لاہِسَ کأسِ قسیسین إلی ظن السوء ، ولا تنفُضْ مِذْرَوَیْک، فإنّ أمرنا متبین واضح ولیس شیء فی یدیک، ولست من الحاکمین۔ فإن کنت تشتاق
    أن تستقری طرق النمیمۃ، فاعلم أنک خائب ولا یحصل لک شیء من غیر ظہور سِیَرِک الذمیمۃ، ولا تقدر أن تُخفی ما أبداہ ربنا، ولا تضرّ مَن حفظہ اللّٰہ وہو خیرالحافظین۔ فأَعرِضْ عنہا واشتغِلْ بنضرۃ دنیاک
    وخضرتہا، واصطبِحْ واغتبِقْ وافرَحْ علی جیفتہا، ولا تدخُلْ فیما لستَ أہلہ، ولا تغضب ولا تشتعل، فإن مقت اللّٰہ أکبر من مقتک، وإن نارہ تحرق الظالمین۔
    والعجب أن أکابر المسیحیین خُدعوا فیک، وما
    عرفوک حق المعرفۃ
    اکیلا چھوڑا جاتا ہے سو ہم اس وقت ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جو سرائے میں اترا ہوا ہو نہ ایسے شخص کی طرح
    جو فساد کرنے والا اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے
    مفسدہ پرداز ہو ہم کسی ریاست کو نہیں چاہتے بلکہ درویشی اختیار
    کی اور ہم نے ریاست کی پوستین کو پھینک دیا اور فقیرانہ گودڑی اختیار کر لی اور دیکھنے والوں کے طعن اور ملامت کی کچھ
    بھی
    پرواہ نہ کی سو اے پادریوں کے پیالے چاٹنے والے بدظنی کی طرف جلدی مت کر اور اپنی ُ سرین مت ہلا کیونکہ ہمارا حال
    روشن ہے اور کوئی بات تیرے اختیار میں نہیں اور نہ تو حاکم ہے۔
    اور اگر تجھے یہی شوق ہے کہ نکتہ چینی کی راہوں
    کو ڈھونڈے پس جان رکھ کہ یہ مطلب تیرا پورا نہیں ہوگا اور تو نامراد رہے گا اگر ہوگا تویہی کہ تیری بُری خصلتیں ظاہر ہوں گی اور تو اس پر
    قادر نہیں ہوسکے گا کہ جس چیز کو خدا نے ظاہر کیا اس کو چھپاوے اور جس کو خدا نگاہ رکھے تو اس کو ضرر نہیں پہنچا سکتا اور خدا سب محافظوں سے بہتر ہے۔ پس تو ان باتوں سے کنارہ کر
    اور اپنی دنیا کی تازگی اورسبزہ میں مشغول رہ اور دن رات شراب پی اور
    دنیا کی ُ مردار پر خوشی کر اور ان باتوں میں دخل مت دے جن کی لیاقت تجھ میں نہیں اور غضب ناک نہ ہو اور مت بھڑک
    کیونکہ خدا تعالٰے کا غضب تیرے غضب سے زیادہ ہے اور اس کی آگ ظالموں کو جلا دیتی ہے۔
    اور تعجب کہ بڑے پادریوں نے تجھ میں دھوکا کھایا اور اس وقت تک تجھ کو نہیں پہچانا جیسا کہ حق
    پہچاننے کا ہے اور
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 77
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 77
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/77/mode/1up
    إلی ہذا الوقت، وعجزوا عن فَضِّ سرِّک وکشفِ دعواک وإدراکِ عمقک، وأَکلتہم کالخادعین۔ یا حسرۃ علیہم لِم یضیّعون أموالہم علی
    أمثالک، ولم لا یرجعون إلی الیقظۃ بعد التجارب المؤلمۃ، ولم لا یعرفون البطّالین؟
    وأما قولک أن قسّیسی ہذا الزمان لیسوا دجّالًا معہودًا، فہذا دجلک الأکبر۔ وؔ سألت عنی دلیلا علیہ فاعلم أن ہذا لیس قولی بل
    قالہ المسیح من قبلی، فانظر فی إنجیل لوقا فی الإصحاح الثالث* من آیۃ ۲۴ إلی ۳۰، فستجد ما قلنا بمزایاہ وہو ہذا یا عدو الطیبین۔ ’’فقال لہم اجتہِدوا أن تدخلوا من الباب الضیق، فإنی أقول لکم إن کثیرین
    سیطلبون أن یدخلوا ولا یقدرون مِن بعدما یکون رب البیت قد قام وأغلق البابَ۔ وابتدأتم تقِفون خارجًا وتقرعون الباب قائلین یا رب، یارب‘ افتحْ لنا۔ یجیب ویقول لکم لا أعرفکم مِن أین أنتم۔ حینئذ تبتدء ون
    نقولون
    تیرے بھید کے پہچاننے اور تیری تہ تک پہنچنے سے قاصر رہے اور تو نے دھوکا دینے والوں کی طرح
    ان کو کھا لیا۔ ان پر افسوس کہ وہ کیوں تیرے جیسے لوگوں پر اپنے مال ضائع کر
    رہے ہیں اور
    کیوں درد ناک تجربوں کے بعد بیدار نہیں ہوتے اور کیوں بطالوں کو نہیں شناخت کرتے۔
    اور تیرا یہ قول کہ اس زمانہ کے پادری دجال نہیں ہیں تو یہ تیری دجالیت ہے
    اور تو نے
    مجھ سے اس دعویٰ کی دلیل پوچھی تھی سو تجھے معلوم ہو کہ یہ فقط میرا ہی قول نہیں بلکہ مجھ سے پہلے
    مسیح نے بھی یہی کہا ہے سو تو انجیل لوقا تیسرے* باب چوبیس آیت میں غور
    کر
    کہ یہی قول ہمارا مع شئے زائد پائے گا اور وہ یہ ہے اے پاکوں کے دشمن۔ پس مسیح نے ان سے یعنی حواریوں سے کہا
    کہ کوشش کرو تا تنگ دروازے سے داخل ہو کیونکہ میں تمہیں کہتا
    ہوں کہ بہتیرے چاہیں گے
    کہ داخل ہوں پر داخل نہیں ہو سکیں گے اس کے بعد گھر کا مالک اٹھا اور دروازہ بند کر لیا اور
    تم نے دروازہ کے باہر کھڑے ہوکر یہ بات کہتے ہوئے دروازہ کو
    کھٹکھٹانا شروع کیا کہ اے ہمارے مالک اے ہمارے مالک ہمارے
    لئے دروازہ کھول وہ جواب دے گا اور کہے گا کہ میں نہیں پہچانتا کہ تم کہاں سے ہو اس وقت تم یہ کہنا شروع کرو گے کہ ہم
    نے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 78
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 78
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/78/mode/1up
    أکَلْنا قدّامک، وعلّمتَ فی شوارعنا۔ فیقول أقول لکم لا أعرفکم من أین أنتم، تباعَدوا عنی یا جمیع فاعلی الظلم۔ ہناک یکون البکاء وصریر
    الأسنان۔ متی رأیتم إبراہیم وإسحاق ویعقوب وجمیع الأنبیاء فی ملکوت اللّٰہ وأنتم مطروحون خارجا ویأتون من المشارق والمغارب ومن الشمال ومن الجنوب ویتّکؤن فی ملکوت اللّٰہ، وہو ذا آخرون یکونون أوّلین،
    وأوّلون یکونون آخرین۔ ہذا ما کتبنا من کتابکم إنجیل لوقا بعبارتہ العربیۃ، وما زدنا وما نقصنا بل رقمنا کما ہو ہو کالناقلین۔
    وللمستنکرین المستعرفین أن یرجعوا إلی ذلک الکتاب إن کانوا من المرتابین۔ فلاؔ
    تضرِبْ عنہ صفحًا ولا یلفَحْک الحقدُ لفحًا، وفکِّرْ کالمُنْصفین۔ وانظر أن المسیح سمّاکم فی ہذہ الآیۃ فاعلی الظلم، وقال أُعرِض عنکم فی یوم القیامۃ وأتصدی بالصدود وأقول لستم منی ولا
    تیرے سامنے کھایا
    اور تو نے ہماری گلیوں میں تعلیم دی پس وہ کہے گا کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ میں تمہیں نہیں پہچانتا
    کہ تم کہاں سے ہو اے ظلم پیشہ لوگو! میرے سامنے سے دور ہو اس وقت رونا اور دانت
    پیسنا ہوگا جب تم
    دیکھو گے کہ ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور تمام انبیاء خدا کی بادشاہت میں داخل ہوئے اور تم
    باہر ڈالے گئے اور مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے آئیں گے
    اور
    خدا کی بادشاہت میں بیٹھیں گے تب جو پچھلے ہیں وہ پہلے ہوں گے اور جو پہلے ہیں وہ پچھلے ہوں گے۔
    یہ وہ مضمون ہے جو ہم نے تمہاری انجیل لوقا میں سے اس کی عربی عبارت میں لکھا ہے
    اور
    نہ ہم نے زیادہ کیا اور نہ کم کیا بلکہ جیسا وہ تھا ویسا ہی نقل کر دیا ہے۔
    اور وہ لوگ جو منکر اور تحقیق کے طالب ہوں ان کو اختیار ہے کہ اگر ان کو ہماری تحریر میں شک ہو تو اس کتاب
    کو
    دیکھ لیں پس اس کے انکار میں منہ ٹیڑھا نہ کر ایسا نہ ہو کہ کینہ تجھ کو جلا دے اور منصفوں کی طرح فکر کر۔
    اور اس بات میں غور کر کہ حضرت مسیح نے اس آیت میں تمہارا نام ظالم
    رکھا ہے اور کہا
    کہ قیامت کے دن تم سے کنارہ کروں گا اور کہوں گا کہ تم میری جماعت میں سے نہیں ہو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 79
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 79
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/79/mode/1up
    من ہذا الجنود، فاخسأوا یا معشر الظالمین الکافرین۔ وأشار إلی أنکم لبَستم الحق بالباطل وترکتم أمرہ وکنتم قومًا دجّالین۔ وأنت تعلم أن
    حقیقۃ الظلم وضعُ الشیء فی غیر موضعہ عمدًا وبالإرادۃ لینتقب وجہُ المحجّۃ ویُسَدّ طریق الاستفادۃ ویلتبس الأمر علی السالکین۔ فالظالم ہو الذی یحلّ محلّ المحرّفین ویبدّل العبارات کالخائنین، ویجترء علی
    الزیادۃ فی موضع التقلیل والتقلیل فی موضع الزیادۃ کَیْفًا وکَمًّا، أو ینقل الکلمات من معنی إلی معنی ظلمًا وزورًا مِن غیر وجودِ قرینۃٍ صارفۃٍ إلیہ، ثم یأخذ یدعو الناسَ إلی مفتریاتہ کالخادعین۔ وما معنی الدجل
    والدجالۃ إلا ہذا، فلیفکّر من کان من المفکّرین۔
    وأُلقِیَ فی روعی أن المسیح سمّی الآخرین من النصاری الدجّالین لا الأولین، وإن کان الأولون أیضًا داخلین فی الضالّین المحرّفین۔ والسرّ
    سو اے ظالمو
    کافرو دور ہو۔ اور اس بات کی طرف اشارہ
    کیا کہ تم نے حق کو باطل کے نیچے چھپا دیا اور تم ایک دجال قوم ہو اور تجھے معلوم ہو کہ
    ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شئے اپنے موقعہ سے اٹھا کر
    عمداً غیر محل پر رکھی جائے تا راہ چھپ جاوے
    اور استفادہ کا طریق بند ہو جاوے اور چلنے والوں پر بات ملتبس ہو جاوے۔ پس ظالم
    اس کو کہیں گے جو محرفوں کا کام کرے اور خیانت پیشہ
    لوگوں کی طرح عبارتوں کو بدلا دے اور جرأت کرکے
    کم کی جگہ زیادہ کرے اور زیادہ کی جگہ کم کر دیوے کیا کیفیت کی رو سے اور کیا کمیت کی رو سے
    اور محض ظلم اور جھوٹ کی راہ
    سے کلموں کو ایک معنے سے دوسرے معنوں کی طرف لے جائے
    حالانکہ اس کے فعل کے لئے کوئی قرینہ مددگار نہ ہو اور پھر اس بناء پر دھوکا دینے والوں کی طرح لوگوں کو اپنے مفتریات
    کی
    طرف بلانا شروع کرے او ر دجالیت کے معنے بجز اس کے کچھ نہیں پس جو شخص فکر کر سکتا ہے اس میں فکر کرے۔
    اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے آخری زمانہ کے
    نصاریٰ کا نام دجال رکھا
    اور ایسا نام پہلوں کا نہیں رکھا اگرچہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل تھے اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے۔ سو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 80
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 80
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/80/mode/1up
    فی ذٰلک أنؔ الأولین ما کانوا مجتہدین ساعین لإضلال الخَلق کمثل الآخرین، بل ما کانوا علیہا قادرین۔ وکانوا کرجل مُصفَّد فی
    السلاسل ومقرَّن فی الحبال وکالمسجونین۔ وأمّا الذین جاء وا بعدہم فی زماننا ہذا ففاقوا أسلافہم فی الدجل والکذب، ووضَع اللّٰہ عنہم أیاصرہم وأغلالہم، ونجّاہم عن السلاسل التی کانت فی أرجلہم ابتلاءً من عندہ،
    وکان قدرًا مقضیًّا من رب العالمین۔ وکان قدرُ اللّٰہ أن یبرزوا بعد ألف سنۃ من الہجرۃ حتی ظہروا فی ہذہ الأیام کغُولٍ خُلِّصَ وأُخرِجَ من السجن، ثم استوی علی راحلتہ لاویًا إلی زافرتہ وحزبٍ خُلقوا علی
    شاکلتہ، وکانوا لقبولہ مستعدّین۔ ثم أشاعوا کیف شاء وا من أنواع الکفر وأصناف الوسواس وکانوا قوما متموّلین۔ وہذا ہو الذی کُتِبَ فی الصحف الأولی۔ أن الثعبان الذی ہو الدجّال یلبث فی السجن إلی ألف سنۃ ثم
    یخرج
    اس میں بھید یہ ہے کہ پہلے نصاریٰ خلق اللہ کے گمراہ کرنے کی ایسی سخت کوششیں نہیں کرتے تھے جیسی پچھلوں نے
    کیں بلکہ وہ ان کوششوں پر قادر نہیں تھے اور ایسے تھے
    جیسے کوئی زنجیروں میں
    جکڑا ہوا اور قیدی ہو۔ مگر وہ لوگ جو ان کے بعد ہمارے اس زمانہ میں آئے وہ
    دجالیت میں اپنے پہلے بزرگوں سے بڑھ گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کا امتحان
    کرنے کے لئے ان کی
    ہتھ کڑیوں اور ان کے طوق گردنوں کو ان سے الگ کر دیا اور ان زنجیروں سے ان کو نجات دے دی
    جو ان کے پیروں میں تھے اور یہی ابتداء سے مقدر تھا اور ایک ہزار
    ہجری گذرنے کے بعد ان کا خروج شروع ہوا
    یہاں تک کہ ان دنوں میں وہ ایک ایسے دیو کی طرح ظاہر ہوئے جو زندان سے نکلا اور
    اپنی سواری پر سوار ہوا اور اپنے ان عزیزوں اور اس گروہ کی
    طرف رخ کر لیا جو اس کے مادہ کے
    موافق اور اس کے قبول کرنے کے لئے مستعد تھے۔ پھر انہوں نے جس طرح چاہا کفروں کو شائع کیا اور طرح طرح کے
    وساوس پھیلائے کیونکہ وہ ایک
    مالدار قوم ہے۔ اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو پہلی کتابوں میں لکھی گئی ہے
    کہ وہ اژدہا جو دجال ہے ہزار برس تک قید رہے گا اور پھر ہزار برس کے بعد
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 81
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 81
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/81/mode/1up
    بفوج من الشیاطین، فلیتذکر من کان من المتذکرین۔ کذٰلک خُلِّصوا بعد الألف وتناسَوا ذمام اللّٰہ ونکثوا عہودہ واحفظوا ربہم مجترئین۔
    وجمعوا کل جہدہم لإضلال الناس، واستجدّوا المکائد کالخنّاس، وجاء وا بسحر مبین۔ وأضاعوا التقویٰ والعمل الصالح، واتّکأوا علیؔ کَفّارۃ لا أصل لہا، واتبعوا کل إثم واستعذبوا کل عذاب، وکذّبوا المقدسین۔
    وتجنَّوا وقالوا نحن عباد المسیح وأحباؤہ، وہیہات أن تُراجع الفاسقین مِقَۃُ الصالحین۔ وقد سمعتَ آنفًا أن المسیح سماہم فاعلی الظلم، وسمعت أن الظلم والدجل شیء واحد، وقد قال اللّٰہ تعالٰی 3 ۱؂، أی لم
    تنقص، وإطلاق الظلم علی النقص الذی کان فی غیر محلہ أو الزیادۃ التی لیست فی موضعہا أمرٌ شائع متعارف فی القوم، وہذا
    شیاطین کی ایک فوج کے ساتھ نکلے گا سو اسی طرح وہ ہزار برس کے بعد
    نکلے۔
    اور خدا کی حرمت اور اس کے عہد کو بھلا دیا اور کل عہدوں کو توڑ دیا اور شوخیاں کرکے اپنے رب کو غصہ دلایا
    اور اپنی تمام کوششوں کو لوگوں کے گمراہ کرنے میں اکٹھا کر دیا اور
    تمام تدابیر کو
    کام میں لائے اور تقویٰ اور نیک عمل کو ضائع کیا اور ایسے کفارہ پر تکیہ
    کر بیٹھے جس کی کچھ بھی اصل نہیں اور ہر ایک گناہ کی انہوں نے پیروی کی اور ہر یک عذاب کو
    شیریں
    سمجھ لیا اور پاک لوگوں کی تکذیب کی اور کوشش کی جو ان کے عیب ڈھونڈیں اور کہا کہ ہم مسیح کے بندے
    اور اس کے پیارے ہیں مگر یہ کہاں ہوسکتا ہے کہ ایسے فاسقوں کے ساتھ نیک
    بختوں کا میل جول ہو۔اور
    تو ابھی سن چکا ہے کہ مسیح نے ان کا نام ظلم کے مرتکب اور بدکار رکھا ہے اور تو نے یہ بھی سن لیا ہے کہ ظلم
    اور دجالیت ایک ہی چیز ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ
    فرماتا ہے کہ اس باغ نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں سے کچھ کم
    نہ کیا اور لفظ ظلم کا ایسی کمی پر اطلاق کرنا غیر محل ہو یا ایسی
    زیادتی پر جو بے موقع ہے ایک ایسا امر ہے جو قوم میں شائع
    متعارف ہے اور اسی کا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 82
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 82
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/82/mode/1up
    ہو الدجل کما لا یخفی علی المتبصرین۔
    فلا شک أن قسّیسی ہذا الزمان دجّالون کذّابون یُہلکون عوامّ الناس من نفثاتِ فیہم، وکلِّ نوعِ
    خداعٍ فیہم۔ الخَتْر یلمع من جبہتم، والتلبیس من صورتہم، ولا نجد فی مکایدہم ودجلہم نظیرہم فی تصاریف الزمان، ولا مثیلَہم فی نوع الإنسان۔ یقتحمون الأخطار لیُضلّوا الدیار، ویبذلون المال للذی رغب إلی
    دینہم ومال، وتجدہم فی کل تلبیس وسیع المورد، وفی کل خداع مبسوطۃ الید، وتجدہم فی کل کید ماہرین۔ وکما أنّ المسیح یسمّیہم الدجالین فاعلی الظلم کذلک القرآن سماہم دجالین، وقال33333333 ۱؂ یعنی
    لم لا تتجافون عن الاشتطاط فی تحریف کلمات اللّٰہ وأنتم تعلمون أن الصدق
    نام دجالیت ہے جیسا کہ سمجھ دار لوگوں پر پوشیدہ نہیں۔
    پس کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ کے پادری دجال کذاب ہیں جو
    عام لوگوں کو
    اپنے منہ کی پھونکوں اور اپنے فریبوں سے ہلاک کر رہے ہیں فریب ان کی پیشانیوں پر چمکتا ہے
    اور حق پوشی ان کی صورت سے ظاہر ہے اور ہم ان کے فریبوں اور ان کی دجالیت
    میں اگلے پچھلے زمانہ میں کوئی
    نظیر نہیں پاتے اور نہ نوع انسان میں ان کی مانند دیکھتے ہیں مشکل جگہوں میں گمراہ کرنے
    کے لئے دھس جاتے ہیں اور بہت سے مال ایک ایسے آدمی پر خرچ
    کر دیتے ہیں جو ان کے دین کی طرف رغبت
    کرے اور ہر ایک فریب میں ان کا ایک بڑا وسیع گھاٹ ہے اور ہریک مکر میں بڑے لمبے ہاتھ ہیں اور وہ
    ہریک منصوبہ میں ماہر ہیں۔ اور جیسا کہ مسیح
    علیہ السلام نے ان کا نام دجال رکھا ہے اسی طرح قرآن بھی ان کو دجال
    کے نام سے موسوم کرتا ہے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے اے اہل کتاب کیوں باطل کے ساتھ حق کو
    مخلوط کرتے ہو اور تم
    دانستہ حق کو چھپا رہے ہو۔ یعنی کیوں تم اس بات سے
    کنارہ نہیں کرتے کہ الٰہی کلمات کی تحریف میں حد سے زیادہ بڑھے جاتے ہو اور تم جانتے ہو کہ سچائی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 83
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 83
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/83/mode/1up
    وسیلۃ الفلاح والکذب من آثار الطلاح؛ وفی التزام الحق نباہۃ وفی اختیار الزور عاہۃ، فإیاکم وطرقَ الکذّابین۔ فأشار اللّٰہ فی ہذا أن
    علماء النصاری ہم الدجّالون المفسدون أعداء الحق وأہلہ۔ نسوا ظلمۃ الرمس فلا یذکرون ما ثَمَّ، وحبُّ الشہوات فیہم عَمَّ وتَمَّ وغاب أثر الدّین۔
    وأُشرِبَ حسّی ونَبَّأَنی حدسی أنہم لا یمتنعون ولا ینتہون حتی
    یروا مثلَ سننِ اللّٰہ التی خلت من قبل، ویروا أبا غمرۃ، الذی یُضرِم فی الأحشاء الجمرۃَ، ویکونوا کجریحٍ نُوِّبَ متألمین۔ فحاصل الکلام أنہم الدجال المعہود وأنا المسیح الموعود۔ وہذا فیصلۃ اتفق علیہا القرآن
    والإنجیل، وأکّدہا الرب الجلیل، فما لکم لا تقبلون فیصلۃً اتفق علیہا حکمین* عدلین۔ أ تفرّون من الأمر الواضح وتَعرِضون عِرضکم
    نجات کا موجب اور جھوٹ تباہی کی علامت ہے اور حق کے اختیار
    کرنے میں نیک نامی اور
    جھوٹ کے اختیار کرنے میں آفت ہے سو تم کذابوں کا طریق چھوڑ دو۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے
    اس طرف اشارہ کیا کہ نصاریٰ کے علماء درحقیقت دجال اور مفسد
    ہیں اور حق اور حق پرستوں کے دشمن ہیں
    قبر کی تاریکی کو بھلا دیا سو وہ اس خوف کو جو اس جگہ ہے یاد نہیں کرتے اور نفسانی شہوتوں کی محبت ان میں
    پھیل گئی اور کمال تک پہنچ گئی اور
    دین کا نشان گم ہوگیا۔
    اور میری دانش اور میری فراست یہ خبر دیتی ہے کہ یہ کرسٹان تو عیسائی فساد سے باز نہیں آئیں گے
    جب تک خدا تعالیٰ کے ان قوانین قدیمہ کو نہ دیکھ لیں جو پہلے گذر
    چکے ہیں اور جب تک ایسی بھوک کو نہ دیکھ لیں جو
    اندر کو جلاتی ہے اور جب تک ایسے درد ناک نہ ہو جائیں جیسا کہ کوئی حوادث کا مارا ہوتا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ
    یہی لوگ دجال
    معہود ہیں اور میں مسیح موعود ہوں اور یہ وہ فیصلہ ہے جس پر قرآن اور
    انجیل دونوں اتفاق رکھتے ہیں اور اس کو موکد طور پر خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے پس کیا وجہ کہ تم ایسے فیصلہ
    کو
    قبول نہیں کرتے جس پر دو عادل حاکموں نے اتفاق کیا ہے کیا تم ایک کھلے کھلے امر سے گریز کرتے اور اپنی آبرو کو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 84
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 84
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/84/mode/1up
    للمفاضِح، وتُعرِضون عن نصاحۃ الناصح، وتسبّون مشتعلین؟ ما لکم لا تتنبہون علی ہذا ولاؔ تخافون، ولا تدمع أجفانکم ولا یبدأ
    رجفانکم ولا تتوبون متندّمین؟ ألا ترون أنکم أغربتم وشذذتم فی ہذہ العقائد، وترکتم الأصل وتمایلتم علی الزوائد، وخالفتم الأوّلین والآخرین؟ لِم لا تسمعون قول الداعی ولا تتبعون الراعی، بل تلدغون کالأفاعی،
    وتثِبون کالذئب الساعی، وتمشون صُمًّا بکمًا عمیًا متکبرین مغرورین؟ وإنما مثلنا فی دعوتکم کمثل الذی یحاور عجماءَ أو ینادی صخرۃً صمّاءَ أو یکلّم المیّتین۔ یا حسرۃ وآہًا علی ہٰٓؤُلاء المتنصرین کیف یعرضون
    عن الحق الصریح، ویضطجعون ضِجْعۃَ المستریح، ویترکون ذیل الصبیح الملیح، ویمیلون إلی الشنیع القبیح، ویأبون اللّٰہ مغمطین۔ نبذوا أمرہ نَبْذَ الحذاء المرقّع، وکفروا بالکتاب الموقّع مجترئین۔
    رسوائیوں کا
    نشانہ بناتے ہو اور ایک نصیحت دینے والے کی مخلصانہ نصیحت سے کنارہ کش اور مشتعل ہوکر گالیاں نکالتے
    ہو تمہیں کیا ہوگیا کہ تم ان باتوں سے متنبہ ہوکر نہیں ڈرتے اور تمہارے آنسو جاری
    نہیں ہوتے اور تمہارے بدن پر
    لرزہ نہیں پڑتا اور پشیمان ہوکر توبہ نہیں کرتے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہونی اور نادر باتیں تمہارے عقیدوں میں
    داخل ہیں اور تم نے اصل کو چھوڑ دیا اور زائید
    اور بے اصل باتوں پر جھک گئے اور پہلوں اور پچھلوں کی تم نے
    مخالفت کی۔ تم کیوں ایک بلانے والے کی آواز کو نہیں سنتے اور چرانے والے کے پیچھے نہیں چلتے بلکہ تم سانپوں کی
    طرح
    کاٹتے اور دوڑنے والے بھیڑیئے کی طرح حملہ کرتے ہو اور تم اپنے چلنے کے وقت نہ سنتے نہ بولتے نہ دیکھ سکتے اور
    تکبر اور غرور میں چلے جاتے ہو۔ اور تمہیں دعوت کرنے کے وقت
    ہماری مثال ایسی ہے جیسے کوئی گونگے سے بات کرے یا
    ایک پتھر سخت کو بلاوے یا مردوں سے بات کرے۔ ہائے ان کرسٹانوں پر افسوس ہے کہ وہ حق سے کنارہ کئے جاتے ہیں
    اور ایسے سو
    رہے ہیں جیسے کوئی بڑے آرام سے سوتا ہے اور خوبصورت عقائد کا دامن چھوڑتے اور مکر وہ عقیدوں
    کی طرف جھکے جاتے ہیں اور ناشکری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں خدا
    تعالیٰ کے حکم کو یوں پھینک دیا جیسے ایک پورانی پھٹی جوتی کو پھینک دیا جائے اور ایسی کتاب سے جس پر الٰہی نشان ہے بڑی شوخی سے انکار کر دیا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 85
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 85
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/85/mode/1up
    إلی الدنیا أوَی حزبُ الأجانی
    وحسبوہا جَنًی حُلْوَ المجََانی
    ان لوگوں نے جو بہت ہی گناہوں میں مبتلا ہیں دنیا کو اپنا جاپناہ
    قرار دیا ہے
    اور دنیا کو ایک شیریں اور سہل الحصول میوہ سمجھ لیا ہے
    نسوا مِن جہلہم یوم المعادِ
    وترکوا الدین مِن حُبّ الدِّنانِ
    اپنی نادانی کے سبب سے معاد کے دن کو بھلا دیا ہے
    اور
    شراب کے خموں سے پیار کر کے دین کو چھوڑدیا ہے
    تراہم مائلین إلی مُدامٍ
    وغِیدٍ والغوانی والأغانی
    تُو دیکھتا ہے کہ شراب کی طرف یہ لوگ جھک گئے
    اور ایسا ہی نازک اندام اور حسین
    عورتیں اور گیت انکے دلوں کو کھینچتے ہیں
    وکمْ منہم أساری عَینِ عِینٍ
    ومشغوفین بالبِیض الحِسانِ
    اور بہتیرے ان میں سے بڑی بڑی آنکھوں والی عورتوں کے قیدی ہیں
    اور بہتیرے سفید رنگ
    عورتوں کے فریفتہ ہیں
    لہنَّ ؔ علی بعولتہن حُکمٌ
    تری کُلاًّ کمنطلق العِنانِ
    وہ عورتیں اپنے خاوندوں پر حکم کرتی ہیں
    اور سب مطلق العنان اور بے پردہ اور شراب خوار ہیں
    دماء العاشقین
    لہنَّ شغلٌ
    بعینٍ أخجلتْ ظَبْیَ القِنانِ
    اپنے عاشقوں کو قتل کرنا اِن عورتوں کا کام ہے
    آلہ قتل اُنکی آنکھ ہے جو پہاڑوں کے ہرنوں کو شرمندہ کرتی ہے
    ومِن عَجَبٍ جفونٌ فاتراتٌ
    أرینَ الخَلْق
    أفعالَ السّنانِِ
    اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ پلکیں جو سست اور نیم خواب ہیں
    لوگوں کو برچھیوں کا کام دکھلا رہی ہیں
    بناظرۃٍ تصید الناسَ لمحًا
    تفوق بلحظہا رُمْحَ الطِّعانِ
    وہ عورتیں اپنی آنکھ
    کی نیم نگاہ سے لوگوں کو شکار کرتی ہیں
    جن کے گوشہ چشم کی ہلکی سی نظر نیزوں کے زخم پر فوقیت رکھتی ہے
    وأَنَّی الأمن من تلک البلایا
    سوی اللّٰہ الذی مَلِکِ الأمانِ
    اور ان بلاؤں سے
    نجات پانا لوگوں کے لئے غیر ممکن ہے
    بجز اس کے کہ اس خدا کا رحم ہو جو امان بخشنے کا بادشاہ ہے
    فعشّاق الغوانی والمثانی
    أضاعوا الدین مِن تلک الأمانی
    سو جو لوگ عورتوں اور
    سرودوں کے عاشق ہیں
    انہوں نے انہیں آرزوؤں کے پیچھے دین ضائع کیا ہے
    یصُدّون الوری مِن کل خیرٍ
    ویغتاظون من تخلیصِ عانی
    لوگوں کو وہ ہر یک نیکی کے کام سے روکتے ہیں
    اور
    اس بات سے غصہ کرتے ہیں کہ کسی قیدی کو رہا کر دیا جائے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 86
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 86
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/86/mode/1up
    عِمایات الرجال تزید منہم
    وفتن الدہر تنمو کل آنِ
    لوگوں میں ان کے سبب سے گمراہی پھیلتی جاتی ہے
    اور فتنے دم بدم
    بڑھتے جاتے ہیں
    وما من ملجأ من دون ربٍّ
    کریم قادرٍ کہف الزمانِ
    اور ان آفتوں سے بچنے کے لئے بجز اس خدا کے کوئی گریز گاہ نہیں
    جو کریم اور قادر اور زمانہ کی پناہ ہے
    فنشکو
    ہاربین من البلایا
    إلی اللّٰہ الحفیظ المستعانِ
    سو ہم ان بلاؤں سے بھاگ کر اسی خدا کی طرف شکایت لے جاتے ہیں
    جو اپنے بندوں کا نگہبان اور بے قراروں کی مدد کرنے والا ہے
    جرتْ حزنًا
    عیونٌ من عیونی
    بما شاہدتُ فتنًا کالدخانِ
    میری آنکھوں سے مارے غم کے چشمے بہ نکلے
    جبکہ میں نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا جو دھوئیں کی مانند اٹھ رہے ہیں
    فہل وجدتْ ثکالٰی مثلَ
    وجدی
    أذًی أم ہل لہا شأن کشانِی
    پس کیا وہ عورتیں جن کے لڑکے مر جائیں ایسا غم کرتی ہیں جو میں کرتا ہوں
    کیا دکھ کے وقت ان کا ایسا حال ہوتا ہے جو میرا حال ہے
    و ؔ کم من ظالم یبغی
    فسادًا
    وقسیسین أصل الافتنانِِ
    بہتیرے ظالم یہی چاہتے ہیں جو دنیا میں فساد اور گناہ پھیلے
    اور توحید میں فتنہ اندازی کی جڑ پادری لوگ ہیں
    تفاحُشہم تجاوزَ کل حدّ
    کأن غذاء ہم فحشُ
    اللسانِ
    پادریوں کی بدگوئی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے
    گویا بدزبانی ان کی غذا ہے۔
    فکنتُ أطالعَنَّ کتابَ سابٍّ
    وتمطُر مُقْلَتی مثل الرَّثانِ
    میں نے ایک ایسے شخص کی پادریوں میں سے کتاب
    دیکھی جس نے گالیاں دی ہیں
    سو میں اس کتاب کو دیکھتا تھا اور میری آنکھوں سے مینہ کی طرح آنسو جاری تھے
    رأینا فیہ کلِمًا مُحفِظاتٍ
    وسبَّ المصطفٰی بحرَ الحنانِِ
    ہم نے اس کتاب میں وہ
    کلمے دیکھے جو غصہ دلانے والے تھے
    اور دیکھا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلعم کو گالیاں نکالی ہیں جو بخشائش کا دریا ہے
    صبرتُ علیہ حتی عِیلَ صبری
    ونار الغیظ صارت فی
    جَنانی
    میں نے اس بات پر صبر کیا یہاں تک کہ صبر کرتا کرتا ہار گیا
    اور غصہ کی آگ مجھ میں بھڑکی
    وتأتی ساعۃٌ إن شاء ربی
    أُقِرُّ العینَ بالخصم المُہانِ
    اور وہ گھڑی آتی ہے کہ انشاء
    اللہ تعالیٰ
    ہم دشمن کی رسوائی دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 87
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 87
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/87/mode/1up
    أخذْنا السبَّ منہم مثلَ دَینٍ
    وعزّتُنا لدیہم کالرِّہانِ
    ان کی گالیاں ہمارے ذمہ قرض کی طرح ہیں
    اور ہماری عزت ان کے
    پاس گرو کی طرح ہے
    سنَغْشاہم ببرہان کعَضْبٍ
    رقیقِ الشفرتین أَخِ السنانِ
    ہم عنقریب دلیل کی تلوار کے ساتھ ان کے سر پر پہنچیں گے
    جو باریک کناروں والے نیزہ کا بھائی ہے
    بفأسٍ نختلی
    تلک الخَلا تا
    ورمحٍ ذابلٍ وقَنا البیانِ
    ہم اس گھاس کو دلائل کے تبر کے ساتھ کاٹیں گے
    اور نیز برچھی باریک نوک والی اور بیان کے نیزوں سے
    بِجمجمۃ العدا قد حلَّ غُولٌ
    فنُخرجہ بآیات
    المثانی
    ان دشمنوں کی کھوپڑی میں ایک بھوت داخل ہوگیا ہے
    سو ہم اس کو سورۃ فاتحہ سے نکالیں گے
    لنا دین ودنیا للنصاری
    ومَقْتُ الضرّتین من العِیانِ
    ہمارے حصہ میں دین آیا اور
    نصاریٰ کے حصہ میں دنیا
    سو یہ دو سوتوں کی دشمنی ہے جس کی حقیقت ہریک کے چشم دید ہے
    سئمنا کلَّ نوعِ الضیم منہم
    ولکن سَبَّہم صلَّی جنانی
    ہم نے ہر یک ظلم ان کا اٹھا لیا
    مگر ان
    کی گالیوں نے ہمارا دل جلایا
    سعواؔ أن یجعلوا أسدًا نِعاجًا
    ولیثُ اللّٰہ لیثٌ لا کضانِ
    انہوں نے کوشش کی کہ تاکسی طرح شیروں کو بھیڑیں بنائیں
    اور شیر شیر ہی ہیں وہ بھیڑ کی طرح نہیں ہو
    سکتے
    ووَثْبَتُہم کسِرْحانٍ ضَرِیٍّ
    وصورتہم کذی حُبٍّ مُقانِ
    اور ان لوگوں کا حملہ اسی بھیڑیئے کی طرح ہے جو شکار کا طالب ہے
    اور صورت ان کی ایک ملنسار دوست کی طرح ہے
    وباطنہم کجوف العَیر قَفْرٌ
    من التقوی وبطنٌ کالجِفانِ
    اور اندر ان کا گدھے کے پیٹ کی طرح تقویٰ سے خالی
    اور پیٹ ان پیالوں کی طرح ہے جو کھانے سے بھرے ہوئے ہوں
    أری وَغْلًا جَہولًا
    وابنَ وَغْلٍ
    یُرِی کالمرہَفات لَظَی اللسانِ
    میں ایک خسیس ابن خسیس جاہل کو دیکھتا ہوں
    جو تیز تلواروں کی طرح اپنی زبان کا شعلہ دکھاتا ہے
    ہریرُ الکلب لا یحثو بنبحٍ
    علی البدر المطہَّر مِن
    عُثانِ
    کتے کی آواز اس چاند پر خاک نہیں ڈال سکتی
    جس کو خدا نے گردوغبار اور دھوئیں سے پاک پیدا کیا ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 88
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 88
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/88/mode/1up
    ألا یا أیہا اللِّحْزُ الشحیحُ
    ہوَیتَ کذی اللُّبانۃ فی الہوانِ
    اے بخیل بد خلق اور حریص
    تو محتاجوں کی طرح ذلت کے گڑھے
    میں گر گیا
    وما تدری الہدی وحملتَ جہلًا
    أناجیلَ النصاری کالاَ تانِ
    اور تو نہیں جانتا کہ ہدایت کیا شے ہے اور محض جہل سے تو نے
    انجیلوں کو اٹھا لیا جیسا کہ ایک گدھی بھار اٹھاتی
    ہے
    تُنَضْنِضُ مثلَ نضنضۃ الأفاعی
    وتہذی مثل عادات الأدانی
    اور تو اس طرح زبان ہلاتا ہے کہ جیسے سانپ
    اور کمینوں اور سفلوں کی طرح بکواس کرتا ہے
    ہَلُمّ إلی کتاب اللّٰہ صدقًا
    وإیمانًا بتصدیق الجنانِ
    خدا کی کتاب کی طرف
    صدق اور دلی ایمان سے آجا
    شُغِفتم أیہا النُّوکَی بشوکٍ
    وأعرضتم عن الزہر الحِسانِ
    بے وقوفو ! تم کانٹوں پر فریفتہ ہو گئے
    اور
    خوبصورت پھولوں سے کنارہ کیا
    وآثرتم أماعِزَ ذاتَ صخرٍ
    علی مُخضرّۃٍ قاعٍ ہِجانِ
    اور تم نے کنکریوں اور بڑی پتھروں والی زمین جو بہت سخت ہے اختیار کی
    اور ایسی زمین کو چھوڑا جو
    پُر سبزہ اور نرم اور نہایت عمدہ اور قابل زراعت ہے
    وما القرآن إلّا مثلَ دُرَرٍ
    فرائدَ زانَہا حسنُ البیانِ
    اور قرآن درحقیقت بہت عمدہ اور یکدانہ موتیوں کی طرح ہے
    جو حسن بیان سے اور
    بھی اس کی زینت اور خوبصورتی نکلی ہے
    ؔ وما مسّتْ أکفُّ الکاشحینا
    معارفَہ التی مثل الحَصانِ
    اور دشمنوں کی ہتھیلیاں ان معارف کو چھوئی بھی نہیں
    جو قرآن میں ایسے طور پر چھپی
    ہوئی ہیں جیسے پردہ نشین پارسا عورت چھپی ہوئی ہوتی ہے
    بہ ما شئتَ مِن علم وعقل
    وأسرارٍ وأبکار المعانی
    اس میں ہریک وہ علم اور عقل ہے جس کا تو طالب ہے
    اور انواع اقسام کے بھید
    اور نئی صداقتیں اس میں بھری ہیں
    یُسکِّت کلَّ مَن یعدو بضغنٍ
    یبکّت کلَّ کذّاب وجانی
    ہر یک ایسے دشمن کا منہ بند کرتا ہے جو مخالفانہ طور پر دوڑ پڑتا ہے
    اور ہر ایک ایسے شخص پر اتمام
    حجت کرتا ہے جو دروغ گو اور گناہ گار ہے
    رأینا دَرَّ مُزْنتِہ کثیرًا
    فدَینا ربَّنا ذا الامتنانِ
    ہم نے اس کے مینہ کا پانی بہت ہی دیکھا ہے
    سو ہم اس خدا پر قربان ہیں جس نے ایسے احسان
    کئے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 89
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 89
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/89/mode/1up
    وما أدراک ما القرآن فیضًا
    خفیرٌ جالبٌ نحو الجِنانِ
    اور تو کچھ جانتا ہے کہ قرآن فیض کے رو سے کیا شے ہے
    وہ ایک
    راہبر ہے جو بہشت کی طرف کھینچتا ہے
    لہ نورانِ نورٌ من علوم
    ونورٌ من بیان کالجُمانِ
    اس میں دو نور ہیں ایک تو علوم کا نور اور دوسرے
    فصاحت اور بلاغت کا نور جو دانہ نقرہ کی طرح
    چمکتا ہے
    کلامٌ فائق ما راقَ طرفی
    جمالٌ بعدہ والنَّیِّرانِ
    وہ ایک ایسا کلام ہے جو ہریک کلام سے فوقیت لے گیا
    اور اس کے بعد مجھے کوئی جمال اچھا معلوم نہ ہوا اور آفتاب اور قمر بھی اچھے
    دکھائی نہ دئے
    أَیاۃُ الشمس عند سَناہ دَخْنٌ
    وما لِلَّعْلِ والسِبْت الیمانی
    آفتاب کی روشنی اس کی چمک کے آگے ایک دھواں سا ہے
    اور لعل سے نری کے سرخ چمڑے کو نسبت ہی کیا ہے گو یمن
    کی ساخت ہو
    وأین یکون للقرآن مِثلٌ
    ولیس لہ بہذا الفضل ثانی
    اور قرآن کی مثال کوئی دوسری چیز کیوں کر ہو
    کیونکہ وہ تو اپنے فضائل میں بے مثل ہے
    ورِثنْا الصُّحْفَ فاقتْ کلَّ کُتْبٍ
    وسبقتْ کلَّ أسفارٍ بشانِ
    ہم اس کتاب کے وارث بنائے گئے جو سب کتابوں پر فائق ہے
    ایسی کتاب جو اپنے کمالات میں تمام کتابوں پر سبقت لے گئی ہے
    وجاء ت بعد ما خرّتْ خیامٌ
    وخُرِّبت
    البیوت مع المبانی
    اور اس وقت آیا جب کہ سب پہلے خیمے منہ کے بل گر چکے تھے
    اور تمام گھر مع بنیاد کی جگہوں کے خراب ہو چکے تھے
    محَتْ کلَّ الطرائق غیرَ بِرٍّ
    وجذّتْ رأسَ
    بدعات الزمانِ
    ہریک راہ کو بغیر نیکی کے راہ کے معدوم کر دیا
    اور ان تمام بدعتوں کا سر کاٹ دیا جو زمانہ میں شائع تھیں
    کأنّؔ سیوفہا کانت کنارٍ
    بہا حُرقتْ مَخاریق الأدانی
    گویا اس کی
    تلواریں ایک آگ کی طرح تھیں
    ان سے وہ تمام گد کے جل گئے جو سفلہ لوگوں کے ہاتھ میں تھے
    إذا استدعی کتابُ اللّٰہ مثلًا
    فعَیَّ القومُ واستتروا کفانی
    جب کتاب اللہ نے اپنی مثل کا مطالبہ
    کیا
    سو قوم مقابلہ سے عاجز ہوگئی اور فنا شدہ چیز کی طرح چھپ گئی
    و سُلبتْ جرأۃُ الإسناف منہم
    مِن الہول الذی حلّ الجَنانِ
    اور پیش قدمی کی ہمت ان سے مسلوب ہوگئی
    اور یہ ہیبت
    الٰہی تھی جو ان کے دل میں بیٹھ گئی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 90
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 90
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/90/mode/1up
    فمِن عجبٍ أکبّوا مثلَ مَیْتٍ
    وقد مرَنوا علی لطف البیانِ
    سو یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ مردہ کی طرح منہ کے بل جا
    پڑے
    حالانکہ وہ فصیح کلمات کی مشق اور عادت رکھتے تھے
    وأنزلَہ مہیمنُنا حُدَیًّا
    ففرّوا کلہم کالمستہانِ
    اور خدا تعالیٰ نے اس کو بے مثل اور طالب معارض نازل کیا
    پس کفار اس کی
    مثل بنانے پر قادر نہ ہوسکے اور سر گردان ہوکر بھاگ گئے
    وصارت عُصْبُہم فِرقًا ثُبَینًا
    فمنہم من أتی بعد الحِرانِ
    اور ان کی جماعتیں کئی فرقے متفرق ہو گئے
    پس بعض ان میں سے تو
    سرکشی سے باز آگئے
    ومنہم من تلبّبَ مستشیطًا
    لحرب الصادقین وللطّعانِِ
    اور بعض نے قرآن کے مقابلہ سے عاجز آکر ہتھیار باندھے
    اور غضب میں آکر راستبازوں کے ساتھ جنگ کرنے
    کے لئے تیار ہوگئے
    فأنتم قد سمعتم ما أصیبوا
    بضعضعۃ السیوف من الہوانِ
    سو تم سن چکے ہو کہ ان کو کیا کیا سزائیں ملیں
    اور تلواروں کی سرکوبی سے کیسی ذلت اٹھائی
    وکان جزاء سَلِّ
    السّیف سَیْفًا
    فذاقوا ما أذاقوا کالجبانِ
    اور تلوار کھینچنے کا بدلہ تلوارہی تھی سو جو کچھ انہوں نے مسلمانوں کو
    چکھایا وہ آپ ہی بزدل ہوکر چکھنا پڑا یعنی تلوار کھینچنے والے تلو ارسے ہی
    مارے گئے
    إذا دارت رحی البلوی علیہم
    فکانوا لُہْوَۃً فوق الدِّہانِ
    اور جبکہ سختی کی چکی ان پر چلی سو ایسے ہوگئے
    جیسا کہ آٹے کی ایک مٹھی چکی کے اس سرخ چمڑے پر ہوتی ہے جو
    چکی کے نیچے بچھایا جاتا ہے
    فطفقوا یہربون کمثل جُبنٍ
    فأُخذوا ثم قُتلوا مثل ضانِ
    سو انہوں نے ایک نامرد کی طرح بھاگنا شروع کیا
    پس پکڑے گئے اور بھیڑوں کی طرح قتل کئے گئے
    إذا
    ما شاہدوا قتلَی کقُنَنٍ
    فرفعوا طاعۃً عَلَمَ الأمانِ
    اور جبکہ انہوں نے اپنے مقتولوں کو ٹیلوں کی طرح دیکھا
    تب انہوں نے امان طلب کرنے کے لئے جھنڈیاں اٹھائیں
    سرؔ اۃُ الحیّ جاء وا
    نادمینا
    فرحِم المصطفٰی بحرُ الحنانِ
    اور قبیلہ کے سردار شرمندہ ہوکر آئے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
    جو دریائے بخشش ہے ان کا گناہ معاف کیا
    وأمّا الجاہلون فما أطاعوا
    فأعدمَہم
    فؤوسُ الاحتفانِ
    مگر جاہلوں نے ان کا حکم نہ مانا
    سو بیخ کنی کے تبروں نے ان کو معدوم کیا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 91
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 91
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/91/mode/1up
    سُقوا کأس المنایا ثم سیقوا
    إلی نارٍ تلوِّحُ وجہَ جانی
    موت کے پیالے ان کو پلائے گئے
    اور پھر وہ اس آگ کی طرف
    کھینچے گئے جو مجرم کا منہ جلاتی تھی
    فہذا أجرُ جہل الجاہلینا
    من الرحمن عند الاستنانِ
    سو یہ جاہلوں کے جہل کی سزا تھی
    یہ سزا خدا تعالٰے کی طرف سے اس وقت ہوئی جب انہوں نے
    فسادوں اور ظلموں میں دوڑنا اختیار کیا
    وما کان الرحیم مُذِلَّ قومٍ
    ولکن بعد ظلم وافتنانِ
    اور خدائے رحیم کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا
    مگر اس وقت جبکہ ظلم اور فتنہ اندازی اختیار کرے
    وہل حُدِّثتَ مِن أنباء أممٍ
    رأوا قبحًا بأفعالٍ حِسانِ
    کیا ایسی قوموں کی تجھے کچھ خبر ہے
    جن کو نیکی کرتے کرتے بدی پیش آئے
    وکل النور فی القرآن لٰکنْ
    یمیل الہالکون إلی الدخانِ
    اور
    تمام اور ہریک قسم کے نور قرآن ہی میں ہیں
    مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں
    بہ نلنا تُراثَ الکاملینا
    بہ سِرْنا إلی أقصی المعانی
    ہم نے اس کے وسیلہ سے کاملوں کی وراثت
    پائی
    ہم نے اس کے وسیلہ سے حقیقتوں کے اخیر تک سیر کیا
    فقُمْ واطلُبْ معارفہ بجہدٍ
    وخَفْ شرَّ العواقب والہوانِ
    پس اٹھ اور کوشش کے ساتھ اس کے معارف طلب کر
    اور انجام بد اور
    ذلت کی بدیوں سے خوف کر
    أتخطُب عزّۃَ الدنیا الدنیّۃْ
    أتطلب عیشہا والعیش فانی
    کیا تو اس دنیا ناکارہ کی عزتوں کا طالب ہے
    کیا تو اس دنیا کے عیشوں کو ڈھونڈتا ہے اور اس کے تمام عیش
    فانی ہیں
    أترضی یا أخی بالخان حمقًا
    وتنسٰی وقت تبدیل المکانِ
    اے بھائی کیا تو سرائے میں رہنے میں اپنے حمق سے راضی ہوگیا
    اور اس وقت کو بھلا دیا جو تبدیل مکانی کا وقت ہے
    علٰی
    بُستان ہذا الدہر فأسٌ
    فکم شجر یجاح من الإہانِ
    اس دنیا کے باغ پر تبر رکھا ہے
    سو بہت سے درخت جڑ سے اکھیڑے جارہے ہیں
    وکمؔ عنقٍ تکسّرہا المنایا
    وکم کفٍّ وکم حسنِ البنانِ
    اور
    موتیں بہت سی گردنوں کو توڑ رہی ہیں
    اور بہت ہتھیلیاں اور بہت سے خوبصورت پوریں ٹوٹی چلی جاتی ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 92
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 92
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/92/mode/1up
    تری فی ساعۃٍ سُرَرًا لرجُلٍ
    وفی الأخری تراہ علی الإرانِ
    اور تو یہ تماشا دیکھ رہا ہے کہ ایک گھڑی ایک مرد کے لئے کئی
    تخت بچھے ہوئے ہوتے ہیں
    اور پھر دوسری گھڑی میں وہی مرد تابوت مردہ پر پڑا ہوا ہوتا ہے
    وإنی ناصح خِلٌّ أمینٌ
    ویدری نورَ علمی من یرانی
    اور میں ایک نصیحت دینے والا دوست اور
    امین ہوں
    اور جو شخص مجھے دیکھے وہ میرے نور علم کو معلوم کر لے گا
    یُکرَّمُ جاہلٌ قبل ابتلاءٍٍ
    وقدرُ الحَبْر بعد الامتحانِ
    جاہل کی تعظیم آزمائش سے پہلے ہوتی ہے
    اور دانا آدمی کی
    تعظیم اس کے امتحان کے بعد کی جاتی ہے
    وکفّرنی عدوّ الحق حمقًا
    فقلتُ اخْسَأْ، یرانی من ہدانی
    اور ایک سچ کے دشمن نے مجھے کافر ٹھہرایا
    سو میں نے کہا دفع ہو جس نے مجھے ہدایت
    دی وہ مجھے دیکھ رہا ہے
    صوارمہ علیّ مسلَّلاتٌ
    وإنی نحو وجہ الحِبِّ رانی
    اس دشمن کی تلواریں میرے پر کھینچی ہوئی ہیں
    اور میں اپنے پیارے اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں
    وإنی قد
    وصلتُ ریاض حِبّی
    ویطلبنی خصیمی فی المَحانی
    اور میں اپنے پیارے کے باغوں میں پہنچا ہوا ہوں
    اور دشمن مجھے جنگلوں میں تلاش کر رہا ہے
    ہوَیتُ الحِبَّ حتی صار روحی
    وأَرْنانی
    جِنانی فی جَنانی
    میں نے اس پیارے سے محبت کی یہاں تک کہ وہ میری جان ہوگیا
    اور میرا بہشت اس نے میرے دل میں ہی دکھا دیا
    بوجہ الحِبّ لستُ حریصَ مُلکٍ
    کفانی ما أری نفسی کفانی
    اس پیارے کی قسم ہے کہ میں کسی ملک کا حریص نہیں
    اور یہ میرے لئے کافی ہے کہ میں اپنے نفس کو فنا کی حالت میں دیکھتا ہوں
    عمود الخشْب لا أبغی لسقفی
    وحِبّی صار لی مثل
    البُوانِ
    میں لکڑی کے ستون اپنے چھت کے لئے نہیں چاہتا
    اور میرا پیارا میرے لئے ایسا ہوگیا ہے جیسا کہ ستون
    ورثنا المجد من ذی المجد حقًّا
    وصُبِّغْنا بمحبوب مُقانی
    ہم نے بزرگی کو
    خدائے ذی المجد سے پایا
    اور اس ملنے والے پیارے کے رنگ سے ہم رنگے گئے
    دخلتُ النار حتی صرت نارًا
    ونخلی فاقَ أفکارَ الأفانی
    میں آگ میں داخل ہوا یہاں تک کہ میں آگ ہی ہوگیا
    اور
    میری کھجور گھات پات کے فکروں سے بہت بلند بڑھ گئی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 93
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 93
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/93/mode/1up
    خموؔ ری منتقاۃ غیرُ کَدَرٍ
    مُشَعْشَعۃٌ بماء الاقترانِ
    اور میری شراب کی ایک چنی ہوئی شراب اور مصفا ہے
    جس میں الٰہی
    محبت کا پانی ملایا گیا ہے
    ولستُ مواریًا عن عین ربّی
    وإن اللّٰہ خلّاقی یرانی
    اور میں اپنے رب کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ہوں
    اور خدا جو میرا پروردگار ہے مجھے دیکھ رہا ہے
    یُدَہْدِءُ رأسَ
    کذّابٍ غیورٌ
    ویُہلکہ کصیدٍ مُستہانِ
    وہ جھوٹے کے سر کو خاک میں رولاتا ہے کیونکہ غیر تمند ہے
    اور اس کو اس شکار کی طرح ہلاک کرتا ہے جو سر اسیمہ اور سر گردان ہو
    وإنا الناظرون
    إلٰی قدیرٍ
    قریب قادرٍ حِبٍّ مُدانی
    اور ہم اس قدیر کی طرف دیکھ رہے ہیں
    جو قریب اور قادر ہے اور جو بندہ اور اس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے
    وإنّا الشاربون کؤوس جدٍّ
    وإنّا الکاسرون
    فؤوس خانی
    اور ہم پر حکمت باتوں کے پیالے پی رہے ہیں
    اور ہم فضول گو کے تبروں کو توڑ رہے ہیں
    وإنّا الواصلون قصور مجدٍ
    وإنّا الفاصلون من الأدانی
    اور ہم بزرگی کے محلوں تک
    پہنچ گئے ہیں
    اور ہم نے ادنیٰ لوگوں سے جدائی اختیار کر لی ہے
    وأبدَرَنا من الرحمن بدرٌ
    فنحن المبدَرون ولا نُمانی
    اور ہمارے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے ایک چاند نکلا ہے
    سو ہم چاند کو
    پانے والے ہیں اور انتظاری کرنے والے نہیں
    ونحن الفائزون کمالَ فوزٍ
    ونحن المنعَمون ولا نعانی
    اور ہم کمال کامیابی تک پہنچ گئے ہیں
    اور ہم نعمتوں میں وقت بسر کرتے ہیں اور سختی نہیں
    اٹھاتے
    وبارزْنا العدا مُتسلّحینا
    ولسنا قاعدین کمثل وانی
    اور ہم مسلح ہوکر مخالفوں کے مقابل پر کھڑے ہوگئے ہیں
    ایک سست آدمی کی طرح ہم بیٹھنے والے نہیں ہیں
    وما جئنا الورٰی فی غیر
    وقت
    وذوحجر یری وقت الرَّثانِ
    اور ہم خلق اللہ کے پاس بے وقت نہیں آئے
    اور عقلمند جانتا ہے کہ بارش کا وقت کونسا ہے
    کخُذْرُوفٍ ندحرجُ رأسَ عجزٍ
    وتُبْنا من ملاعبِ صولجانِ
    اور ہم
    پھر کی کی طرح اپنے عاجزانہ سر کو گردش دے رہے ہیں
    اور صولجان کی بازی گاہ سے ہم دست بردار ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 94
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 94
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/94/mode/1up
    عریفٌ فرسُ نفسی عند حرب
    ویدری السرّ مِن شدّ البِطانِ
    میرے نفس کا گھوڑا لڑائی کے وقت بڑی فراست رکھتا ہے
    اور
    تنگ کو مضبوط کھینچنے سے سمجھ جاتا ہے کہ مطلب کیا ہے
    مِکَرٌّ ینزلنّ کمثل برق
    ولا تمضی علیہ دقیقتانِ
    بڑا حملہ آور ہے جو برق کی طرح اترتا ہے
    اور دو منٹ کی بھی توقف نہیں
    کرتا
    وإنا سوف نُوجَرُ مِن ملیکٍ
    ونُعطَی منہ أجرَ الامتشانِ
    اور ہم عنقریب اپنے بادشاہ سے پاداش پائیں گے
    اور اس سپاہیانہ خدمت کا اجر ہم کو دیا جائے گا
    وکأسٍ قد شربنا فی وِہادٍ
    وأخری نشرَبنْ فوق القِنانِ
    کئی پیالے تو ہم نے نشیب میں پیئے
    اور کئی اور ہیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پئیں گے
    وہذا کلہ مِن فضل ربّی
    ملاذی عاصمی ممّن جفانی
    اور یہ سب میرے رب
    کا فضل ہے
    جو میری پناہ ہے اور ظالم سے مجھے بچانے والا ہے
    أری أشجار رحمتہ عِظامًا
    مفرِّحۃً کزرع الزعفرانِ
    اس کی رحمت کے درختوں کو میں بڑے بڑے دیکھتا ہوں
    خوش
    کرنے والے جیسے زعفران کا کھیت ہوتا ہے
    وقومی کفّرونی مِن عناد
    وإلحادٍ وتحریف البیانِ
    اور میری قوم نے مجھے عناد سے کافر ٹھہرایا
    اور الحاد اور تحریف سے کافر بنانے میں کوشش
    کی
    فیا لَعّانِ لا تہلَکْ عَجولًا
    ولا تہجُرْ فترجِعْ کالمُہانِ
    پس اے *** کرنے والے میرے ، جلدی سے ہلاک مت ہو
    اور مسلمانوں کو اپنے گروہ سے جدا نہ کر کہ اس میں تیری رسوائی ہے
    ووشکُ البَین صعبٌ عند حُرٍّ
    وإن الحرّ کالحانی یقانی
    اور جلد جدا ہو جانا شریف آدمی کے نزدیک ایک سخت بات ہے
    اور شریف آدمی ایک مشفق مہربان کی طرح ملتا ہے
    ولا تعجَبْ لقولی
    وادّعائی
    وقد عُلّمتُ مِن أخفی المعانی
    اور میرے قول اور میرے دعویٰ سے تعجب مت کر
    اور مجھے بہت پوشیدہ معنے بتلائے گئے ہیں
    وللرّحمٰن فی کلِمٍ رموزٌ
    وکم قولٍ أسرَّ کمثل کانی
    اور خدا تعالیٰ اپنے کلمات میں کئی بھید رکھتا ہے
    اور کئی قول اس کے ایسے ہیں جیسے کوئی اشارہ کنایہ سے باتیں کرتا ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 95
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 95
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/95/mode/1up
    وکم کلِمٍ مہفہفۃٍ دُقاقٍ
    ہضیمِ الکشح کالغِید الحِسانِ
    اور بہت سے کلمے نازک اور باریک ہیں
    بہت نازک جیسے نازک اندام
    اور خوبصورت عورتیں ہوتی ہیں
    فیدری الضامراتِ ذوو الضمورِ
    ولا یدری سفیہٌ کالسِّمانِ
    پس باریک باتوں کو وہ لوگ سمجھتے ہیں جو مرتاض اور دقیق الفکر ہیں
    اور ان باتوں کو وہ شخص
    نہیں جانتا جو موٹی عقل والا موٹی عورتوں کی طرح ہو
    فإنؔ تبغی الدقائقَ مثل إبرٍ
    فَلِجْ فی سَمَّہا ودَعِ الأمانی
    پس اگر تو ایسے باریک حقائق چاہتا ہے جیسے سوئیاں
    سو تو سوئی کے ناکہ میں
    داخل ہو جا اور تمام نفسانی جذبات چھوڑ دے
    وإن تستطلِعنْ أنباءَ موتی
    فمُتْ کالمحرَقین وکُنْ کفانی
    اور اگر تو چاہتا ہے کہُ مردوں کی خبریں تجھے معلوم ہوں
    سو تو ان مردوں کی طرح مر جا
    جو جلائے گئے اور نابود ہو گئے
    وبذلُ الجہد قانون قدیم
    مَنی للطالبین قضاء مانی
    اور کوشش کرنا قانون قدیم ہے
    جو مقدر حقیقی نے ڈھونڈھنے والوں کے لئے بنایا ہے
    وإنی مُسلم والسِّلْمُ
    دینی
    فلا تُکفِرْ وخَفْ ربّ الزمانِ
    اور مَیں مسلمان ہوں اور اسلام میرا دین ہے
    سو تُو کافر مت ٹھہرا اور خداتعالیٰ سے خوف کر
    وإن أزمعتَ تکفیری وعذلی
    فقُلْ ما شئت من شوق الجنانِ
    اور اگر تُو نے یہی قصد کیا ہے کہ مجھے کافر کہے اور ملامت کرے
    سو جو تیری مرضی ہو وہ شوق سے کہتا رہ
    ولا نخشی سہام اللاعنینا
    ولا نغتاظ من تکفیر خانی
    اور ہم *** کرنے
    والوں کے تیروں سے نہیں ڈرتے
    اور ایک بے ہودہ گو کی تکفیر سے ہم غصہ نہیں کرتے
    جنحنا کاہلًا منّا ذَلولًا
    لأثقال المطاعن واللِّعانِ
    اور ہم نے اپنا ریاضت کش شانہ
    طعن اور *** کے
    بوجھوں کے لئے جھکا دیا ہے
    فإن شاء المہیمن ذو جلال
    یبرّء رحمۃً مما ترانی
    پس اگر خدائے بزرگ چاہے گا
    تو اپنی رحمت سے مجھے ان الزاموں سے بری کر دے گا جو تو مجھ پر لگاتا
    ہے
    وفی فمّی لسانٌ غیر أنی
    أُحبّ جوابَ ربٍّ مستعانِ
    اور میرے منہ میں بھی زبان ہے
    مگر میں چاہتا ہوں کہ خدائے مددگار تجھ کو جواب دے
    وآخر کلمنا حمدٌ وشکرٌ
    لرب محسن ذی
    الامتنانِ
    اور ہمارا آخر کلام حمد اور شکر ہے
    اس محسن رب کے لئے جس کے احسان مجھ پر ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 96
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 96
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/96/mode/1up
    ومنؔ اعتراضات الواشی الضال، الذی ینوم بنعاس الضلال، اعتراضٌ بنٰی علیہ عقیدتہ الباطلۃ فی کتابہ التوزین. وتفصیلہ أنّہ
    رأی فی القرآن الکریم آیۃ 3 ۱؂،فتلقَّفَ لفظَ الروح کالشحیح، وأراد أن یستنبط منہ نزول المسیح، بل أن یثبت ألوہیتہ کالوقیح، فکتَبہ مستدلا کالمبطلین الفرحین.
    أما الجواب فاعلم أن ہذہ الآیۃ لا
    تفیدہ أصلًا ولا یثبت منہا شیء إلا حمقہ وجہلہ وکونہ من السفہاء المستعجلین۔ ولا یخفی علی الفضلاء الأعلام أن تأویل الروح بعیسی فی ہذا المقام دجلٌ وافتراء ، بل جاء فی کتب التفسیر أنہ جبرائیل علیہ
    السلام، أو ملَکٌ آخر علی اختلاف الروایات کما لا یخفی علی الناظرین۔ ثم منطوق الآیۃ یبدی بالتصریح ویحکم بالتنقیح أن ہذہ الواقعۃ متعلقۃ
    اور یہ گمراہ نکتہ چین جو خواب ضلالت میں سوتا ہے اس کے
    اعتراضات میں سے ایک وہ اعتراض ہے جس کو اس نے اپنی کتاب توزین الاقوال میں اپنے عقیدہ باطلہ کی بنیاد ٹھہرایا ہے اور تفصیل اعتراض یہ ہے کہ اس نے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کو دیکھا
    جو یوم یقوم الروح والملا ئکۃ ہے الخ۔ سو اس نے لفظ روح کو اس جگہ سے اچک لیا جیسے ایک حریص ایک چیز کو اچک لیتا ہے اور چاہا کہ اس سے نزول مسیح پر دلیل قائم کرے بلکہ بے حیائی کی
    وجہ سے یہ بھی چاہا کہ اس سے حضرت مسیح کی الوہیت ثابت ہو جائے پس اس نے استدلال کے خیال سے باطل پرستوں کی طرح بہت خوش ہوکر اس آیت کو لکھا۔
    اب اس کے جواب میں سمجھ
    کہ یہ آیت اس شخص کو کچھ بھی مفید نہیں اور اگر اس سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ یہ شخص احمق اور نادان اور سفیہ اور جلد باز ہے اور مشاہیر
    علماء پر پوشیدہ نہیں کہ اس مقام میں
    روح کے لفظ سے عیسیٰ مراد لینا دجالیت اور
    افترا ہے بلکہ تفسیروں کی رو سے وہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشتہ
    ہے اور دونوں قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں
    پر پوشیدہ نہیں۔ پھر منطوق
    آیت کا بتصریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت سے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 97
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 97
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/97/mode/1up
    بالقیامۃ ولہا کالعلامۃ، فإن اللّٰہ تعالٰی ذکر ہذہ القصۃ فی ذکر قصۃ الجنۃ ونعماۂا العامۃ، ثم صرح بتصریح آخر وقال ذٰلِکَ الْیَوْمُ
    الْحَقُّ، ولفظ الیوم الحق فی القرآن بمعنی القیامۃ، ویعلمہ کلُّ خبیر أمین. فانظر کیف بیّن أنہا واقعۃ من وقائع یوم الدین، ثم انظرْ کیف یفترون الذین فی قلوبہم مرض ولا یخافون اللّٰہ وما کانوا متقین.
    فالحاصل أن الآیۃ لا تؤیّد زعم ہذا الواشی بل تمزّقہ، وبہا یقع القول علیہ وتجعلہ الآیۃ من الکاذبین. فإنہ یقول إن عیسٰی إلٰہ وابن إلٰہ، ویقول إن الروح ہو اللّٰہ وعینہ، والآیۃ تبدی أن ہذا مَیْنُہ، وتبدی أن
    الروح الذی ذُکر ہٰہنا ہو عبد عاجز تحت حکم اللّٰہ وقدرہ، وما کان لہ خِیَرَۃٌ فی أمرہ، وإن ہو إلا من الطائعین، وما کان لہ أن یشفع مِن غیر إذن اللّٰہ، لأن اللّٰہ عزّوجلّ قال فی ہذہ الآیۃ
    متعلق ہے اور اس کے
    لئے علامت کی طرح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو بہشت کے ذکر کے درمیان لکھا
    ہے اور اس کی نعمتوں کے بیان کرنے کے وقت اس کو بیان فرمایا ہے اور پھر اور بھی تصریح کر کے
    فرمایا ہے کہ یہ وہی حق کے کھلنے کا دن ہے اور الیوم الحق قرآن میں قیامت کا نام ہے چنانچہ واقف کار امانت دار اس کو جانتا ہے پس اب غور کر کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے کھول کر بیان کر دیا کہ یہ
    واقعہ قیامت سے متعلق ہے پھر تو غور کر کہ وہ لوگ جن کے دل بیمار
    ہیں اور ان کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں کیونکر افترا پردازیاں کر رہے ہیں اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔
    پس
    حاصل کلام یہ ہے کہ یہ آیت اس نکتہ چین کے زعم کی کچھ مؤ ّ ید نہیں بلکہ یہ تو اس کے قول کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے
    اور اس کے ساتھ بات اسی پر پڑتی ہے اور یہ آیت اس کو جھوٹوں میں سے
    ٹھہراتی ہے کیونکہ اس نکتہ چین کا یہ قول ہے کہ
    عیسیٰ خدا اور خدا کا بیٹا ہے اور کہتا ہے کہ روح خدا کو ہی کہتے ہیں اور روح اور خدا ایک ہی ہے اور آیت ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اس کا
    جھوٹ ہے اور نیز ظاہر کرتی ہے کہ وہ روح جس کا ذکر اس جگہ ہے وہ ایک بندہ عاجز ہے جس کو خدا کے کسی امر میں اختیار نہیں اور کچھ نہیں صرف فرمانبردار ہے اور نیز یہ بھی ظاہر کرتی
    ہے کہ اس روح کو شفاعت کا اختیار نہیں اور شفیع وہی ہوگا جس کو اذن ملے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں صاف فرما دیا ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 98
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 98
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/98/mode/1up
    وأُشیر فی آیۃ ؂ إلی أنہ تعالٰی لا یعطی ہذا المقام المحمود إلّا نبیَّہ وصفیَّہ محمدًا نالمصطفی خیر الرسل وخاتم النبیین. وأُلقِیَ فی
    روعی أن المراد من لفظ الروح فی آیۃ یَومَ یَقُومُ الرُّوحُ جماعۃُ الرسل والنبیین والمحدَُّثین أجمعین الذین یُلقَی الروح علیہم ویُجعَلون مکلَّمین۔ وأما ذِکرہم بلفظ الروح لا بلفظ الأرواح، فاعلم أنہؔ قد یُذکَر الواحد
    فی القرآن ویراد منہ الجمع وبالعکس، سنّۃٌ قد جرتْ فی کتاب مبین. وذکرہم اللّٰہ بلفظ الروح الذی یدل علی الانقطاع من الجسم لیشیر إلی أنہم فی عیشتہم الدنیویۃ کانوا قد فنوا بکل قواہم فی مرضاۃ اللّٰہ،
    وخرجوا من أنفسہم کما یخرج الأرواح من الأبدان، وما بقی لہم النفس وأہواء ھا
    اس روز یعنی قیامت کے دن روح اور فرشتے کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے بارے میں کوئی بول نہیں سکے گا مگر
    وہی جس کو خدا تعالٰے کی طرف سے اجازت ملے اور کوئی نالائق شفاعت نہ کرے اور آیت عسٰی ان یبعث میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ مقام محمود بجز اپنے برگزیدہ نبی محمد مصطفٰے
    صلی اللہ علیہ وسلم کے
    اور کسی کو عنایت نہیں کرے گا اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے
    مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت مراد ہے جن پر روح القدس ڈالا
    جاتا ہے
    اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں مگر یہ شبہ کو روح کے لفظ سے ان کو یاد کیا ارواح کے لفظ سے کیوں
    یاد نہیں کیا۔ پس جان کہ قرآن کا محاورہ ایسا ہے کہ کبھی وہ واحد کے لفظ
    سے جمع مراد لے لیتا ہے اور کبھی جمع سے
    واحد ارادہ رکھتا ہے یہ قرآن شریف کی ایک عادت مستمرہ ہے۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو روح کے لفظ سے یاد کیا
    یعنی ایسے لفظ سے
    جو انقطاع من الجسم پر دلالت کرتا ہے یہ اس لئے کیا کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ مطہر
    لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی تمام قوتوں کی رو سے مرضات الٰہی میں فنا ہوگئے تھے اور
    اپنے نفسوں سے ایسے
    باہر آگئے تھے جیسے کہ روح بدن سے باہر آتی ہے اور نہ ان کا نفس اور نہ اس نفس کی خواہش باقی رہی تھیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 99
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 99
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/99/mode/1up
    وکانوا لا ینطقون من الہوی بل بوحیٍ یُّوحٰی، فکأنہم صاروا روح القدس فقط لا نفسَ معہ ولا أعراضَہا۔ ثم اعلم أن الأنبیاء کنفس
    واحدۃ، لا یقال إنہم أرواح بل یقال إنہم روح، وذلک لشدّۃ اتحادہم الروحانیۃ وتناسُب جوہرہم الإیمانیۃ، وبما أنہم فنوا من أنفسہم وحرکا تہم وسکناتہم وأہواۂم وجذباتہم، وما بقی فیہم إلا روح القدس، ووصلوا
    اللّٰہ متبتّلین منقطعین، فأراد اللّٰہ أن یبین فی ہذہ الآیۃ مقامَ تجرُّدِہم ومراتبَ تقدُّسہم وتطہُّرہم من أدناس الجسم والنفس، فسمّاہم روحًا إظہارًا لجلالۃ شأنہم وطہارۃ جنانہم، وأنہم سیُلقَّبون بہذا اللقب فی یوم
    القیامۃ لیُرِیَ اللّٰہُ خَلْقَہ مقام انقطاعہم، ولیمیز بین الخبیثین والطیّبین۔ ولَعَمْر اللّٰہِ إن ہذا ہو الحق، فتدبَّروا فی کتاب اللّٰہ ولاؔ تنکروا مستعجلین۔ وأمّا عیسٰی
    اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے تھے نہ
    اپنی خواہش سے اور گویا وہ روح القدس ہی ہوگئے تھے جس کے ساتھ نفس کی
    آمیزش نہیں پھر جان کہ انبیاء ایک ہی جان کی طرح ہیں۔ نہیں کہہ سکتے کہ
    وہ کئی روح ہیں بلکہ کہنا چاہیئے کہ
    وہ ایک ہی روح ہے اور یہ اس لئے کہ ان میں روحانی طور پر نہایت درجہ پر اتحاد
    واقع ہے اور جوہر ایمانی کی ان میں مناسبت غایت مرتبہ پر ہے اور نیز اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اپنی جنبش
    اور اپنے
    سکون اور اپنی خواہشوں اور اپنے جذبات سے بکلی فنا ہوگئے اور ان میں بجز روح القدس کے
    کچھ باقی نہ رہا اور سب چیزوں سے توڑ کے اور قطع تعلق کرکے خدا کو جا ملے پس خدا
    تعالیٰ نے چاہا کہ اس آیت میں
    ان کے تجرد اور تقدس کے مقام کو ظاہر کرے اور بیان کرے کہ وہ جسم اور نفس کے میلوں سے کیسے دور ہیں
    پس ان کا نام اس نے روح یعنی روح القدس رکھا
    تاکہ اس لفظ سے ان کی شان کی بزرگی اور ان کے دل کی پاکیزگی
    کھل جائے اور وہ عنقریب قیامت کو اس لقب سے پکارے جائیں گے تاکہ خدا تعالیٰ لوگوں پر ان کا مقام انقطاع
    ظاہر کرے اور
    تاکہ خبیثوں اور طیبوں میں فرق کرکے دکھلاوے۔ اور بخدا یہی بات حق ہے
    پس تم کتاب اللہ میں تدبر کرو اور جلد بازی سے انکار مت کرو۔ مگر عیسیٰ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 100
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 100
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/100/mode/1up
    علیہ السلام فأنت تعلم أن القرآن لا یسمّیہ إلٰہًا ولا ابن إلٰہ، بل یبرّۂ مما قیل، ویردّ الأقاویل إفراطًا کانت أو تفریطًا ویقیم علیہ الدلیل،
    ویبیّن أنہ عبد ومن المقرّبین. وقال فی مقام واشترط قولَ الظالمین بلفظ مِن دونہ لیُخرِج بہ قومًا أصبی الحبُّ قلوبہم وہیّج کروبہم حتی غلبت علیہم المَحْوِیّۃُ والسُّکْر وجنونُ العاشقین، فخرجتْ من أفواہہم
    کلماتٌ فی مقام الفناء النظری والجذبات السماوی، و ورد علیہم وارد فکانوا من الوالہین؛ فقال بعضہم ما فی جُبّتی إلا اللّٰہ، وقال بعضہم إن یدی ہذہ ید اللّٰہ، وقال بعضہم أنا وجہ اللّٰہ الذی وجّہتم إلیہ، وأنا
    جنبُ اللّٰہ الذی فرّطتم فیہ، وقال بعضہم أنا أقول
    علیہ السلام کے بارہ میں تو تو خوب جانتا ہے کہ قرآن ان کا نام خدایا ابن خدا نہیں رکھتا بلکہ اس کو ان تمام قولوں سے بری کرتا ہے جو اس کے حق
    میں بڑھا کر یا گھٹا کر کہے گئے تھے اور دلائل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ بندہ اور مقرب الٰہی ہے۔ اور ایک مقام میں فرماتا ہے کہ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ
    یہ عزت دار بندے ہیں۔ اور جو ان میں سے یہ کہے کہ بدوں خدا کے میں بھی خدا ہوں سو ایسے شخص کی سزا جہنم ہوگی اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں اور قرآن نے جو ظالمین کے
    لفظ کے ساتھ من دونہ کی شرط لگا دی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ میں خدا کے سوا خدا ہوں سو یہ شرط من دونہ کی یعنی سوا کی اس واسطے لگائی ہے تا ان لوگوں کو ظالم ہونے سے
    مستثٰی رکھے جن کے دلوں کو ان کے دوست حقیقی نے اپنی طرف کھینچ لیا اور ان کے دلوں میں بے قراریاں پیدا کر دیں یہاں تک کہ ان کے دلوں پر محویت اور سکر اور عاشقوں ساجنون آگیا سوفنا
    نظری کی حالت اور جذب سماوی کے وقت میں ان کے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئیں اور بعض واردات ان پر ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بے ہوشوں کی طرح ہوگئے سو بعض نے
    اس مستی کی حالت میں کہا کہ میرے جبہ میں خدا ہی ہے اور کوئی نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا یہ ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی وجہ اللہ ہوں جس کی طرف تم نے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 101
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 101
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/101/mode/1up
    وأنا أسمع، فہل فی الدار غیری، وقال بعضہم أنا الحق؛ فہٰؤلاء کلّہم معفّوون، فإنہم نطقوا من غلبۃ کمال المحویۃ والانکسار، لا من
    الرعونۃ والاستکبار، وحفّتْ بہم سُکْرُ صہباء العشق وجذبات الحب المختار، فخرجت ہذہ الأصوات من خوخۃ الفناؔ ء لا من غرفۃ الخیلاء وما نقلوا الأقدام إلی دون اللّٰہ بل فنوا فی حضرۃ الکبریاء ، فلا شک
    أنہم غیر ملومین. ولا یجوز اتّباع کلماتہم وحرص مضاہاتہم، بل ہی کلمٌ یجب أن تُطوَی لا أن تُروی، ولا یؤاخذ اللّٰہ إلا الذین کانوا من المتعمدین المجترئین.
    وعجبتُ للنصاری ولا عَجَبَ من المسرفین،
    أنہم یقرّون بأن عیسٰی کان عبد اللّٰہ وابن آدم، وکان یقول إنی رسول اللّٰہ وعبدہ، وحثَّ الناسَ علی التوحید والاجتناب من الشرک، وانکسر وتواضع
    منہ کیا اور میں ہی جنب اللّٰہ ہوں جس کے حق میں تم نے
    تقصیر کی اور بعض نے کہا کہ میں ہی کہتا ہوں اور میں ہی سنتا ہوں اور میرے سوا اور گھر میں کون ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی حق ہوں سو یہ تمام لوگ مرفوع القلم ہیں کیونکہ وہ کمال محویت
    سے بولے ہیں نہ رعونت اور تکبر سے اور شراب عشق کے نشہ اور دوست برگزیدہ کے جذبات نے ان کو گھیر لیا سو یہ آوازیں
    فنا کی کھڑکی سے نکلیں نہ تکبر کے بالا خانہ سے اور دون اللہ کی
    طرف انہوں نے قدم سے نہیں اٹھایا
    بلکہ حضرت کبریا میں فنا ہوگئے سو کچھ شک نہیں کہ ان پر ان کلمات سے
    کوئی ملامت نہیں۔ اور ان کے ان کلمات کی پیروی جائز نہیں اور نہ یہ روا ہے کہ
    ان کی مشابہت کی
    خواہش کی جائے بلکہ یہ ایسے کلمے ہیں کہ لپیٹنے کے لائق ہیں نہ اظہار کے لائق اور خدا تعالیٰ انہیں سے مواخذہ
    کرتا ہے جو عمداً چالاکی سے ایسے کلمے منہ پر
    لاویں۔
    اور مجھے عیسائیوں سے تعجب آتا ہے اور جو زیادتی کرے اس پر کچھ تعجب بھی نہیں وہ اقرار کرتے ہیں کہ
    عیسیٰ خدا کا بندہ اور ابن آدم تھا اور کہا کرتا تھا کہ مَیں خدا کا بندہ اور اس
    کا رسول ہوں
    اور توحید کے لئے رغبت دیتا تھا اور شرک سے ڈراتا تھا اور کسر نفسی اس میں اتنی تھی کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 102
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 102
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/102/mode/1up
    وقال لا تقولوا لی صالحا، ثم یجعلونہ شریک البارئ ویحسبونہ رب العالمین، ویقولون ما یقولون ولا یخافون یوم الدّین۔ ویظنون أن
    المسیح صُلب ولُعن لأجل معاصیہم وأُخذ لإنجاۂم وعُذّب لتخلیصہم، وأن الخَلْق أحفظَ الأبَ بذنوبہم، وکان الأب فظًّا غلیظ القلب سریع الغضب، بعیدا عن الحلم والکرم، مغتاظًا کالحرق المضطرم، فأراد أن
    یُدخلہم فی النار، فقام الابن ترحمًا علی الفُجّار، وکان حلیما رحیما کالأبرار، فمنَع الأبَ من قہرہ وزیادتہ، فما امتنع وما رجع من إرادتہ، فقال الابن یا أَبَتِ إن کنتَ أزمعتَ تعذؔ یب الناس وإہلاکہم بالفأس، ولا
    تمتنع ولا تغفر، ولا ترحم ولا تزدجر، فہا أنا أحمل أوزارہم وأقبَل ما أَبارَہم، فاغفِرْ لہم وافعَلْ بی ما ترید، إن کان قلیلا أو یزید۔ فرضِی الأب علی أن یصلب
    اس نے کہا کہ مجھے نیک مت کہو پھر یہ لوگ
    اس کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کو
    رب العالمین سمجھتے ہیں اور جو کہتے ہیں سو کہتے ہیں اور قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے۔ اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ
    مسیح ان کے گناہوں
    کے لئے مصلوب اور ملعون ہوا اور ان کے بچانے کے لئے ماخوذ اور معذب ہوا
    اور خلقت نے باپ کو اپنے گناہوں سے غصہ دلایا اور باپ
    سخت دل سریع الغضب تھا حلم اور کرم اس میں نہیں
    تھا
    بلکہ غصے سے آگ کی طرح بھڑکا ہوا تھا سو اس نے چاہا کہ خلقت کو دوزخ میں ڈالے سو بیٹا بدکاروں پر رحم
    کرکے شفاعت کے لئے کھڑا ہو گیا اور بیٹا حلیم اور رحیم اور نیک آدمی تھا
    پس اس نے اپنے باپ کو قہر اور
    زیادت سے منع کیا مگر باپ اپنے ارادہ سے باز نہ آیا سو بیٹے نے کہا کہ اے باپ اگر تیرا یہی ارادہ
    ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرے اور کسی طرح تو ان کو نہیں
    بخشتا اور نہ
    رحم کرتا ہے سو میں تمام لوگوں کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں سو ان کو تو بخش دے اور جو تو نے عذاب
    دینا ہے وہ مجھے عذاب دے سو اس کلمہ سے باپ غضبناک راضی
    ہوگیا اور اس کے حکم سے بیٹا پھانسی دیا گیا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 103
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 103
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/103/mode/1up
    ابنہ لأجل خطایا الناس، فنجّی المذنبین وأخذ المعصومَ وعذّبہ بأنواع البأس کالمذنبین۔ ہٰذا ما قالوا، ولکن العجب من الأب الذی کان
    نشوانًا أو فی السُّبات أنہ نسِی عند صلیب ابنہ ما کتب فی التوراۃ وقال لا أُہْلِکُ إلّا الذی عصانی، ولا آخذ أحدًا مکانَ أحد من العصاۃ، فنکَث العہد وأخلف الوعد، وترک العاصین وأخذ أحدًا من المعصومین۔ لعلہ
    ذہَل قولَہ السابق مِن کبر السن وأرذل العمر وکان من المعمّرین۔
    والعجب من الابن أنہ کان یعلم أن معشر الجن سَبَقَ الإنسَ فی الخطأ ولا ینتہجون محجّۃ الاہتداء ، بل تجاوزوا الحد فی شباء ۃ الاعتداء ، ثم
    تغافلَ من أمر سیآتہم، وما توجّہَ إلی مواساتہم، وما شاء أن ینتفع الجن من کَفّارتہ، ویکون لہم حیاۃٌ من إبارتہ
    تا گناہ گاروں کو چھڑاوے اور گناہ گاروں کی طرح اس معصوم پر
    عذاب ہوا۔ یہ وہ باتیں
    ہیں جو عیسائی کہتے ہیں لیکن باپ سے تعجب ہے کہ وہ اپنے
    بیٹے کو پھانسی دینے کے وقت اپنے اس قول کو بھول گیا جو توریت میں کہا تھا کہ میں اسی کو
    ہلاک کروں گا جو میرا گناہ کرے اور
    میں ایک کی جگہ دوسرے کو نہیں پکڑوں گا سو اس نے
    عہد کو توڑا اور وعدہ کے خلاف کیا اور گناہ گاروں کو چھوڑ دیا اور
    ایسے آدمی کو پکڑا جس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ شاید وہ اپنا پہلا قول
    بباعث بڑھاپے
    اور پیرانہ سالی کے بھول گیا کیونکہ معمر تھا۔
    اور بیٹے سے یہ تعجب ہے کہ وہ خوب جانتا تھا کہ جنّوں کا گروہ آدمیوں سے
    گناہ میں بڑھ گیا ہے اور وہ سیدھا راستہ اختیار
    نہیں کرتے بلکہ بے راہی کی تیزی میں حد سے زیادہ بڑھ
    گئے ہیں پھر اس نے ان کے بارے میں تغافل کیا اور ان کی ہمدردی کے لئے کچھ توجہ نہ کی
    اور نہ چاہا کہ اُس کے کفارہ سے جن کا
    گروہ فائدہ اٹھاوے اور ان کو اس ابدی عذاب سے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 104
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 104
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/104/mode/1up
    ونجاۃ من نار أبدیۃ التی أُعدّتْ لہم، فما نفعہم إبارتہ ولا کفّارتہ، وکانوا یؤمنون بالمسیح کما شہد علیہ الإنجیل بالبیان الصریح،
    فکأنّ الابن ما دعا تلک المذنبین إلی ہذا القِری وتقاعسَ کبخیل وضنین۔ ومنؔ المحتمل أن یکون للأب ابن آخر، صُلِبَ لتلک المعشر، بل من الواجبات أن یکون کذلک لتنجیۃ العُصاۃ، فإنّ ابنًا إذا صُلِبَ لنوع الإنسان
    مع قلۃ العصیان، فکم مِن حریّ أن یُصلَب ابن آخر لنوعٍ جِنِّیٍّ الذی ذنبہم أکبر وأکثر، وإلا فیلزم الترجیح بلا مُرجِّح بالیقین، ویثبت بخل الأب أو بخل البنین۔ ولا شک أن فِکْرَ مغفرۃ قوم عادین والتغافلَ من قوم
    آخرین، عُدولٌ صریح وظلم مبین، بل یثبت مِن ہذا جہلُ الأب المنّان۔ أمَا کان یعلم أن المذنبین قومانِ، ولا یکفی لہم صلیب بل اشتدت الحاجۃ إلی أن یکون ابنان
    نجات ہو جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے سو
    جنوں کو اس کے مصلوب ہونے نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا حالانکہ
    وہ اس پر ایمان لاتے تھے جیسا کہ اس پر انجیل گواہی دے رہی ہے پس گویا بیٹے نے اپنے اس
    کفارہ کی مہمانی کی طرف ان
    گناہ گاروں کو نہیں بلایا اور بخیلوں کی طرح
    تاخیر کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باپ کا کوئی اور بیٹا ہو جو جنّوں کے لئے پھانسی دیا گیا ہو
    بلکہ یہ تو واجبات سے ہے کہ ایسے ہی ہو کیونکہ
    جب ایک بیٹا نوع انسان
    کے لئے جو تھوڑے ہیں پھانسی دیا گیا پس کس قدر لائق ہے کہ ایک دوسرا بیٹا جنّوں کے لئے پھانسی ملے جو
    گناہ اور تعداد کے لحاظ سے بنی آدم سے بڑھے ہوئے ہیں
    ورنہ ترجیح بلا مرحج لازم آئے گی
    اور باپ اور بیٹوں کا بخل ثابت ہوگا اور کچھ شک نہیں کہ ایک قوم کی مغفرت کا فکر
    دوسری قوم سے تغافل صریح ظلم اور بیجا کارروائی ہے بلکہ
    اس سے
    تو باپ کا جہل ثابت ہوتا ہے کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ گناہ گار لوگ دو قومیں ہیں
    صرف ایک قوم تو نہیں سو دو قوموں کے لئے صرف ایک بیٹے کا پھانسی دینا کافی نہیں بلکہ کافی طور پر یہ
    مقصد
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 105
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 105
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/105/mode/1up
    وصلیبان لا یقال إن الابن کان واحدا فرضِی لیُصلَب لنوع الإنسان، وما کان ابن آخر لکفّارۃِ أبناء الجانّ۔ لأنا نقول فی جوابہ إن الأب
    کان قادرًا علی أن یلد ابنا آخر، وما کان کالعاجز الحیران، فلا ریب أنہ ترک الجنَّ عمدًا أو من النسیان، أو ما صلَب ابنًا ثانیًا مخافۃَ بَتْرِہ کالجبان۔ ومن المحتمل أن یکون الابن الآخر أحبَّ من الابن الأوّل إلی
    الأب التَّوْقان، وہذا لیس بعجیب عند ذوی الأذہان، فإنہ قد یتفق أن الأصغر من الأبناء یکون أحبّ إلی الآباء ۔ ففکِّرْ فی ہذہ الآراء ، وفی إلٰہ ہو ذو بنات وبنین۔ وسبحان ربنا عما یخرج من أفواہ الظالمین۔
    ثمؔ
    بعد ذلک نرٰی أن آدم کان أول أبناء اللّٰہ فی نوع الإنسان، وقد أقرّتْ أناجیل النصاری بہذا البیان، ومن المعلوم أن الفضل
    تب پورا ہوسکتا ہے کہ جب دو بیٹوں کو پھانسی دیا جاتا یہ بات کہنے کے لائق نہیں
    کہ بیٹا تو صرف ایک
    ہی تھا وہ اسی پر راضی تھا کہ وہ فقط نوع انسان کے لئے پھانسی دیا جاوے کوئی دوسرا بیٹا تو نہیں تھا کہ تا جنوں کے لئے
    پھانسی دیا جاتا کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باپ اس
    بات پر قادر تھا کہ اس بات کے لئے کوئی اور بیٹا جنے جیسا کہ اس نے پہلا بیٹا
    جنا پس کچھ شک نہیں کہ اس نے جنّوں کے گروہ کو عمداً عذاب ابدی میں چھوڑا اور محض بخل کی راہ سے ان کے
    لئے کوئی
    پھانسی پر نہ لٹکایا اور یہی گمان ہوسکتا ہے کہ چھوٹا بیٹا بڑے بیٹے سے زیادہ پیارا ہو اور یہ کچھ تعجب کی بات
    نہیں کیونکہ کبھی یہ بھی اتفاق ہوجاتا ہے کہ
    چھوٹا بڑے سے باپ
    کو زیادہ زیادہ پیارا ہوتا ہے پس اس بات میں فکر کر
    (اور اس خدا کے بارہ میں) جس کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور ہمارا خدا ان باتوں سے پاک ہے جو
    ظالموں کے منہ سے نکلتی ہیں۔
    پھر
    بعد اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلا بیٹا تو نوع انسان میں سے آدم ہی تھا
    چنانچہ انجیلیں اس بات کا اقرار کرتی ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ بزرگی پہلے ہی کو ہوتی ہے اور وہ تو بزرگ
    نہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 106
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 106
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/106/mode/1up
    للمتقدم لا للذی جاء بعدہ کالمضاہین۔ وقد خلق اللّٰہ آدم بیدہ وعلی صورتہ، ونفخ فیہ روحہ بکمال محبتہ، وأما المسیح فما کان لَبِنۃَ
    أوّلِ الأساس، بل جاء فی أُخریات الناس، وکان من المتأخرین۔
    ثم العجب أن إلہ النصاری ولَد الابنَ ولم یلد البناتِ، کأنہ عاف الأَخْتانَ أو کرِہ أن یصاہر إلا الصِّفْتات، أوْ لم یجد کمثلہ الشرفاء السراۃ۔ فہل من
    أعجوبۃ فی السکاری مثل أطروفۃ النصاری، أم ہل رأیت مثلہم من المغلّسین؟ والأصل الموجب الجالب إلی ہذہ العقیدۃ الفاسدۃ والأمتعۃ الکاسدۃ، انہماکُہم فی الدنیا مع ہجوم أنواع العصیان وشوق نعماء الجِنان
    مع رِجس الجَنان۔ وأنت تعلم أن الشحّ یُعمِی عینَ رؤیۃ الصواب، فلا یفتّش الشحیحُ العَجولُ مِن الوِہاد والحِداب، بل یسعی مستعجلا إلی ملامح السراب، بمجرد
    کہلاتا جو پیچھے سے آوے اور پہلے کی
    ریس سے کوئی بات منہ پر لاوے اور خدا نے تو آدم کو اپنے ہاتھ سے اور
    اپنی صورت پر پیدا کیا تھا اور کمال محبت سے اس میں اپنا روح پھونکا مگر مسیح تو
    پہلی بنیاد کی اینٹ نہیں تھے بلکہ
    وہ تو آخری لوگوں میں آیا اور متاخرین میں سے کہلایا۔ پھر
    تعجب یہ ہے کہ نصاریٰ کے خدا نے بیٹا توجنا مگر بیٹی کوئی نہیں جنی گویا اس نے دامادوں سے
    کراہت کی اور نہ چاہا کہ کوئی غیر
    کفو اس کا داماد ہو یا اپنے جیسا کوئی عزّت دار نہ پایا
    جس کو لڑکی دیوے پس کیا عیسائیوں کے عقیدوں کے اعجوبہ کی طرح کوئی اور بھی اعجوبہ ہے یا ان کی مانند
    تو نے کوئی اور بھی
    اندھیرے میں رات میں چلتا دیکھا۔ اور اصل موجب جس نے عیسائیوں کو اس
    عقیدہ کی طرف کھینچا ان کا دنیا میں غرق ہونا ہے پھر اس کے ساتھ
    قسما قسم کے گناہ اور پھر دل کی پلیدی کے ساتھ
    آخرت کی نعمتوں کا شوق اور تو جانتا ہے کہ لالچ حق بینی کی
    آنکھ کو بند کر دیتا ہے پس لالچی اور شتاب کار آدمی نشیب فراز کو کچھ نہیں دیکھتا
    پس اس ریت کی طرف جلدی سے دوڑتا ہے جو
    پانی کی طرح دکھلائی دیتی ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 107
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 107
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/107/mode/1up
    استماع قول الکذّاب، وإذا بلغہا فلا یجد إلا وادی التباب، فتضطرم نار العطش وتثِب علیہ کالذیاب، ویحترق القلب کاحتراق الجلباب،
    فیسقط علی الأرض من غلبۃ الاضطراب، ویطیر روحہ کالطیر ویلحق بالمیّتین۔
    فمثلُؔ قوم اتّکأُوا علی الکَفّارۃ من کمال الجہل والغرارۃ، کمثل حمقی الذین کانوا من قوم متنصرین۔ طحطَحَ بہم قلّۃُ المال
    وکثرۃ العیال، حتی کان الفقر حَصادَہم والتُرْب مِہادَہم، وطعامہم بعض الأفانی وسَحْناء ہم کالشیخ الفانی، وکانوا من شدۃ بؤسہم مضطرین۔ فقیّض القدر لنَصَبِہم ووَصَبِہم أن جاء ہم شیخ شَخْتُ الخِلْقۃ، دقیق
    الشَرَکۃ، حقیر السَّحْنۃ، وکان توجد فیہ آثار الخصاصۃ والافتقار، ویبیّن حالَہ الحِذاءُ المرقَّعُ وبلی الأطمارِ
    اور ایک جھوٹے کی بات کو سن کر اعتبار کر لیتا ہے اور جب اس ریت پر پہنچتا ہے تو بجز
    ایک جنگل ہلاک کرنے والے کے
    اور کچھ نہیں پاتا تب اس وقت پیاس کی آگ بھڑکتی ہے اور اس پر بھیڑیوں کی طرح حملہ کرتی ہے اور اس کا دل ایسا جلتا
    ہے جیسا کہ ایک چادر کو آگ لگ جاتی
    ہے پس بے قرار ہوکر زمین پر گر پڑتا ہے اور اس کی روح پرند
    کی طرح پرواز کر جاتی ہے اور مردوں سے جا ملتی ہے۔
    پس ان لوگوں کی مثال جو کفارہ پر اپنے جہل اور نادانی کی وجہ سے
    تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان لوگوں کی
    مانند ہیں جو ایک گروہ بے وقوف عیسائیوں کا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ وہ لوگ قلت مال
    اور کثرت عیال کی وجہ سے ایسے پریشان خاطر ہوئے کہ محتاجگی نے
    جس طرح کہ گھاس کاٹا جاتا ہے
    ان کو کاٹ دیا اور زمین ان کا بچھونا ہوگیا اور کھانا ان کا گھاس پات ہوگیا اور ان کی شکل مارے فاقوں کے بڈھوں
    کی سی ہوگئی اور اپنے فقر فاقہ سے وہ سخت
    محتاج ہوئے پس بُری تقدیر نے ان کے لئے یہ اتفاق
    پیش کیا کہ ایک دبلا سا بڈھا ان کے پاس آیا جس کے مکروں کی جالی بہت ہی باریک تھی اور وہ کچھ رو دار صورت
    نہیں تھا اور اس میں
    ناداری اور محتاجگی کے آثار نمایاں تھے اور اس کی پھٹی پرانی جوتی اور پرانی چادریں بتلا رہی تھیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 108
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 108
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/108/mode/1up
    فدخل وعلیہ بُرْدانِ رثّانِ، وفی یدہ سُبحۃ کسبحۃ الرُہبان، وکان سائلا معترًّا، وشَعِثًا مغبرًّا، قد لقِی متربۃً وضرًّا، حتی انثنی محقوقِفًا
    مصفرًّا وکان لبسُہ کثیرَ الانخراق بادیَ الإخریراق، وکانت ہیئتہ تشہد علی أنہ ما أصاب ہِلّۃً ولا بِلّۃً، وإن ہو إلا معروق العظم ومن الطالحین۔ فوَلَجَ حَلْقتَہم بسوء حالہ وأفانینِ مقالہ، لیخدَعہم بزخرفۃِ محالہ،
    فسلّم ثم کلّم، وقال ہل أدلّکم إلی مکسب مال تنجیکم من إقلال، فتکونون ذوی أملاک وریاض، وترفَلون فی ذیلٍ فضفاض، وتُفعِمون صنادیقکم کما یفعم الماء فی حیاض، فتصبحون متنعّمین؟ فرغبوا مِن حمقہم وشدۃ
    شحّہم فی الأموال، وقاؔ لوا مرحبًا لک تعال تعال، ودُلَّنا إلی ہذا المنوال، وإنا نفعل کل ما تأمر، ونحضر أینما تحضر، وستجدنا من المتمثّلین الشاکرین۔ ففرِح الخُدَعۃُ فی قلبہ علی قید الصید وإصابۃ
    کس شان
    کا آدمی ہے پس وہ ان عیسائیوں کے گھر میں داخل ہوا ایسی حالت میں کہ دو پرانی چادریں اس پر تھیں اور ایک
    تسبیح ہاتھ میں جیسا کہ راہبوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دراصل وہ ایک محتاج پریشان
    حال تھا جو کمال درجہ کی محتاجگی
    تک پہنچ چکا تھا یہاں تک کہ وہ زرد رنگ اور خم پشت ہوگیا اور کپڑے جا بجا پھٹے ہوئے تھے جن کو وہ چھپا نہیں سکتا تھا اور اس کی
    صورت کہہ رہی تھی
    کہ ایک ادنیٰ سی بہبودی بھی اس کو حاصل نہیں اور وہ ایک بدبختی کی حالت میں ہے سو اسی حالت میں
    وہ ان کے حلقہ میں داخل ہوا اور لگا باتیں بنانے تاکہ اپنی آراستہ کلام سے ان کو دھوکا دے
    سو اس نے پہلے تو سلام کیا اور
    پھر گفتگو شروع کی اور کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی آمدن کی راہ بتاؤں جو تمہیں ناداری کی حالت سے نجات بخشے اور تم اس سے
    بڑے مال ملک والے ہو
    جاؤ گے اور تمہارے باغ ہوں گے اور فاخرانہ کپڑوں میں لٹکتے پھرو گے اور روپیہ سے اپنے صندوق اس قدر بھر لو گے کہ جس طرح حوضوں میں پانی ہوتا ہے اور بڑے مالدار ہو جاؤ گے سو انہوں
    نے بے وقوف عیسائیوں کے دل اپنی حماقت اور لالچ کی وجہ سے ایسے مال لینے کے لئے للچائے اور کہا کہ مرحبا تشریف لائیے اور ہمیں ایسی راہ بتائیے اور ہم وہی کریں گے جو آپ فرمائیں گے
    اور جس جگہ حاضر ہونے کو کہو گے حاضر ہو جائیں گے اور ہم کو آپ فرمانبردار اور شکر گذار پاؤ گے۔ پس وہ مکار یہ باتیں سن کر اپنے دل میں بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ شکار مارا
    گیا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 109
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 109
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/109/mode/1up
    الکید، وعرَف أنہم سقطوا فی شبکتہ واغترّوا بخدیعتہ، وجاء وا تحت فُخّہ بصفیرہ وزفرتہ، فکلّمہم بأحادیث ملفّقۃٍ، وأکاذیب
    مزخرَفۃٍ، وقال ما لی یأخذنی رقّۃٌ علیکم، ویہوی قلبی إلیکم؟ لعل اللّٰہ قدّر لکم حظًّا فی منہلی، ونُزُلاً فی منزلی، وأراد أن یجعلکم من المتمولین۔ وقد کنتُ أعلم أنکم مِن أکرمِ جرثومۃٍ وأطہرِ أرومۃٍ، ومِن أبناء
    بناۃ المجد وأرباب الجد، والآن أراکم بصفر الید، فأُلقِیَ فی قلبی أن أرحمکم وأشفق علیکم، وأقوم لمواساتکم ودفع آفاتکم، وکذلک وقعتْ شِیمتی، واستمرّت عادتی۔ وخیرُ الناس من ینفع الناس، ویعین ذوی الفاقات
    والمساکین۔ وستَعجُمون عُودَ دعوای وحلاوۃَ جَنای، وإنّی لمن الصادقین۔ فکلوا ہنیءًا مریءًا ہذہ المائدۃ الواردۃ، واستقبِلوا ہذہ الدولۃ الحاردۃ، وخذوا تلک الغنیمۃ الباردۃ شاکرین
    اور فریب چل گیا اور وہ
    احمق اس کے دام میں پھنس گئے اور اس کے فریب میں آگئے اور اس کی سیٹی سن کر اس کے جال کے
    نیچے آبیٹھے سو کہیں کی کہیں لگا کر جھوٹی باتیں سنانے لگا اور کہنے لگا کہ کیا سبب ہے
    کہ مجھ کو تم پر بڑا ہی
    رحم آتا ہے شاید خدا تعالیٰ نے میرے چشمہ میں تمہاری کچھ قسمت لکھی ہے
    اور میرے مہمان خانہ میں تمہاری مہمانی مقدر ہے اور شاید خدا تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو
    مالدار کردے۔ اور مجھے
    پہلے سے معلوم ہے کہ تم لوگ بڑے خاندان کے آدمی اور اصیل ہو اور نیز رئیسوں کے بیٹے اور دولت مندوں
    کی اولاد ہو اور اب میں تم کو افلاس کی حالت میں دیکھتا
    ہوں سو میرے دل میں ڈالا گیا جو میں تم پر رحم اور
    شفقت کروں اور تمہاری ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جاؤں اور اسی طرح میری عادت ہے
    کیونکہ نیک آدمی وہی ہوتا ہے جو لوگوں کو نفع
    پہنچاوے اور مسکین لوگوں کی مدد کرے۔
    اور تم عنقریب میرے دعویٰ کی شاخ کا پھل آزما لو گے اور میرے پھل کی حلاوت تمہیں معلوم ہو جائے گی
    اور میں سچا ہوں سو تم اس کھانے کو جو
    اترا ہے خوب سیر ہو کر مزہ سے کھاؤ اور اس دولت کی طرف رخ کرو
    جس نے تمہاری طرف آنے کا قصد کیا اور اس مال مفت کو شکر کے ساتھ لے لو۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 110
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 110
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/110/mode/1up
    فاذہبوا سارعین مبادرین إلی بیوتکم، لتُعطَوا أجرَ قنوتکم، وأْتونی بماؔ کان عندکم من أثارۃِ مال بقی من زوال، مِن نوع حِلیۃٍ من ذہب
    کان أو فضّۃ، أو حُلی جیرانکم وخلانکم، ولا تترکوا شیئا منہا، وارجعوا مستعجلین۔ وإنی أقرأ علیہا کلماتٍ کرُقْیۃٍ، وأعکف علی ہذا العمل إلی بضع ساعۃ، فتہیج فی الحلی ثورۃُ مَزِیَّۃ، وکلُّ حِلیۃ تربو وتنمو،
    والزیادات فیہا تبدو، حتی تکون الحلی مءۃَ أمثالہا، وتنزل علیہا برکات بکمالہا وتُعجِب الناظرین۔
    ولا تعجبوا لہذا الحدیث، فإن فیہ سر کسرِّ التثلیث، فلا تسألونی عن دلائل کفلسفیین۔ العمل عجیب، والوقت
    قریب، وتکونون من بعد قومًا متنعّمین۔ فاغترّوا بقول الکاذب المکّار، وحسبوا ہذا العمل کالتثلیث من الأسرار، بما لکَزہم حمارُ الجہل
    سو اپنے گھروں کی طرف جلدی کرکے دوڑو تاکہ تم کو اس
    فرمانبرداری کا اجر ملے اور میرے پاس
    وہ سب مال لے آؤ جو از قسم زیور چاندی اور سونے کے تمہارے گھروں میں باقی رہ گیا ہو اور اپنے ہمسائیوں اور
    دوستوں کے بھی زیور لے آؤ اور
    اپنے گھروں میں کچھ نہ چھوڑو اور پھر جلد واپس آ جاؤ۔
    اور میں ان زیوروں پر ایک منتر پڑھوں گا اور چند گھنٹے وہی عمل کرتا رہوں گا تب
    زیوروں میں ایک جوش بڑھنے کا پیدا ہوگا اور ہریک
    زیور پھولے گا اور بڑھے گا اور ان کا بڑھنا صاف
    معلوم ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ زیور سو گنا ہو جائے گا۔ اور اس پر کامل
    برکتیں نازل ہوں گی اور دیکھنے والے تعجب کریں گے۔
    اور اس
    عمل سے کچھ تعجب مت کرو کیونکہ یہ بھی ایک ایسا ہی بھید ہے جیسا کہ تثلیث کا بھید سو تم
    فلسفیوں کی طرح اس کے دلائل مت پوچھو۔ عمل عجیب ہے اور وقت قریب ہے اور تم
    بعد اس کے
    بڑے مالدار ہو جاؤ گے پس وہ لوگ اس فریبی کی بات پر دھوکا کھا گئے
    کیونکہ جہالت کا گدھا ان کو ایسی لات مار چکا تھا جو کاٹنے والی تھی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 111
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 111
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/111/mode/1up
    الجذّارُ، وبتَرہم سیفُ الشحِّ البتّارُ۔ فألقتْ فی الضلالۃ الثانیۃ الضلالاتُ الأولی، وتکونتْ مِن ظلمۃ ظلمۃ أخریٰ، فمالوا إلیہ کما کانوا
    مالوا إلی عقائد المسیحیین۔ قالوا ما نشقّ عصا أمرک، وما نلغی تلاوۃ شکرک، وقد أتیتَنا من الغیب کملائکۃ منجِّین۔ فبادَروا إلی بیوتہم فی فکر قُوْتہم وتنضیر سَبْروتہم، وما شکّوا وما تقاعسوا، بل کلٌّ منہم ذہبؔ
    لیأتی بہ الذہب، وزاب لیزداب، وکانوا فی سکرۃ حرصہم کالمجانین۔ فلما دخلوا ربوعہم مَراحًا، قالوا لأہلہا أنعِموا صباحًا، ثم قصّوا علیہم القصّۃ، وہنّأوہم متبسّمین۔ فصدّقوا قولہم الذین کانوا کمثلہم فی الجہالۃ
    ونظیرہم فی الضلالۃ، وکانوا یتغنون فرحین۔ فنزعوا الحلی من أعضاء نساۂم وآذان إماۂم وآناف بناتہم وأیدی أخواتہم وأرجل
    اور لالچ کی تلوار ان کو دو ٹکڑے کر چکی تھی سو ایک گمراہی نے ان کو
    دوسری
    گمراہی میں ڈال دیا اور ایک اندھیرے سے دوسرا اندھیرا پیدا ہوگیا۔ پس اس کی طرف ایسے مائل
    ہوگئے جیسا کہ وہ مسیحی عقیدوں کی طرف مائل تھے اور کہا کہ ہم تیرے حکم کا انکار
    نہیں کرتے اور تیرے
    شکر کو ہم نہیں چھوڑیں گے اور تُو تو ہمارے لئے غیب سے ایسا اترا جیسا کہ فرشتے نجات دینے والے اترتے
    ہیں پھر وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف دوڑے اس فکر میں کہ
    قوت کا سامان ہو جائے اور زمین خشک سرسبز
    ہوجائے اور کچھ شک نہ کیا اور نہ تاخیر کی بلکہ ہر ایک ان میں سے دوڑا تاکہ سونا لاوے اور چلنے میں جلدی کی تاکہ وہ کچھ بھار
    اٹھا لیوے اور
    اپنی حرص کے نشہ میں سودائیوں کی طرح ہو رہے تھے۔ اور پھر جبکہ وہ اپنے گھروں میں خوش خوش داخل ہوئے
    تو داخل ہوکر کہنے لگے کہ گڈ مارننگ پھر ان لوگوں کو تمام قصہ سے مطلع کیا
    اور ہنس ہنس کر ان کو مبارک باد دی
    پس ان لوگوں نے جو جہالت اور گمراہی میں ویسے ہی تھے ان کی باتوں کی تصدیق کی
    اور مارے خوشی کے گانے لگے۔ پھر ان لوگوں نے اپنی عورتوں کے
    اعضاء
    اور اپنی لونڈیوں کے کانوں اور اپنی بیٹیوں کے ناکوں اور اپنی بہنوں کے ہاتھوں اور اپنی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 112
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 112
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/112/mode/1up
    أمہاتہم، وأشرکوا فی تلک التجارۃ نساءَ أصدقاۂم وأزواج أحبّاۂم، بل نسوانَ جیرانہم وعذاری أقرانہم، وغادروہن کأشجار خالیۃ من
    ثمار وغادر کل أحد بیتہ أنقَی من الراحۃ، طمعًا فی کثرۃ المال وزیادۃ الراحۃ ثم رجعوا مستبشرین، ونبذوا الحلی أمام یدیہ فرحین۔ فلما رأی المکّار امتلاء کیسہ وانجلاء بؤسہ، ورأی حمقہم وجہلہم، فرِح
    فرحًا شدیدًا، ووجد نفسہ غنیًّا صندیدًا، قال أعلم أنکم ذوو حظ عظیم ومن الفائزین، وستجتنون جَنَی عملکم وتعلُون مطاجملِکم، وتذکروننی إلی أبد الآبدین۔
    ثم قال یا معشر الأخیار وأکباد ہذہ الدیار، اعلموا أن ہذا
    العمل من الأسرار، وقد وجب إخفاء ہا من الأغیار، ومن أشراط ہذہ الرُّقْیۃ قراء تُہا فی الزاویۃ علی شاطئ الوادی عندؔ نہر جار فی
    ماؤں کے پیروں سے زیور اتارے اور اس تجارت میں ان لوگوں کو
    بھی شریک کر لیا جو ان کے دوستوں کی عورتیں اور ان کے آشناؤں کی بیویاں تھیں بلکہ اپنے ہمسائیوں کی عورتوں اور اپنے ہم مرتبہ لوگوں کی کنواری لڑکیوں کو بھی اس تجارت میں داخل کیا اور ان
    عورتوں کو ایسی حالت میں چھوڑا جیسا کہ درختوں سے پھل اتارا جاتا ہے اور ہریک نے اپنے گھر کو ہتھیلی کی طرح صفاچٹ چھوڑا اس طمع سے کہ مال بڑھے گا اور بہت آرام ہوگا پھر خوش خوش
    واپس آئے۔ اور آکر اس مکار کے آگے تمام زیور ڈال دیا اور اس حرکت کرنے کے وقت بہت خوش تھے پس جبکہ اس مکار نے دیکھا کہ اس کا تھیلا بھر گیا اور سختی جاتی رہی اور یہ بھی دیکھا کہ یہ
    لوگ کیسے احمق اور جاہل ہیں تو بہت ہی خوش ہوا اور اپنے تئیں ایک غنی رئیس کی طرح پایا کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ بڑے ہی خوش قسمت ہو اور ان میں سے ہو جو مراد پاتے ہیں اور
    عنقریب تم اپنے عمل کا پھل چنو گے اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گے اور ہمیشہ مجھے یاد رکھو گے۔
    پھر کہنے لگا کہ اے نیکوں کے ٹولو اور اس ولایت کے جگر گوشو آپ لوگ یقیناً جانیں کہ یہ
    عمل
    اسرار میں سے ہے اور غیروں سے چھپانا اس کا واجب ہے اور اس کی شرطوں میں سے ہے جو
    اس کو گوشہ خلوت میں پڑھیں کسی جنگل کے کنارہ پر اس جنگل میں جہاں نہر
    بھی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 113
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 113
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/113/mode/1up
    البادیۃ، وکذلک عُلِّمت من المعلِّمین، فہل تأذنونّی أن أفعل کذا، وأرجع إلیکم بذہب کأمثال الرُّبَی، لترجعوا إلی شرکائکم بمال ما رأتہ
    عین الناظرین؟ وسترون قناطیرًا مقنطرۃ من الذہب الخالص والمال الملیح، ولا ترون نظیرہ فی التنجیۃ إلّا کفّارۃ المسیح، ویکفی لدینکم الکفّارۃُ ولدنیاکم ہذہ الإمارۃ، فنجوتم فی الدارینِ من تحریک الیدین ومِن
    جہد الجاہدین۔ قالوا الأمر إلیک والقلب لدیک، وإنک الیوم لدینا مکین أمین۔ قال طوبٰی لکم ستُفتَح علیکم أبواب المسرّۃ وتُعطٰی لکم مفاتیح الدولۃ، بل أعلّمکم رُقْیتی، لکی لا تضطربون عند غیبتی، ولکی تکون لکم
    دولۃ عظمٰی ومُلکٌ لا یبلٰی۔ قالوا لا نستطیع إحصاء شکرک وإنک أکبر المحسنین۔ قال جَیْرَ، ما علّمتُ أحدًا ہذا العمل من قبلکم، ولا أعلِّم بعدکم
    جاری ہو اور اسی طرح مجھے استادوں نے سکھلایا ہے۔ اب کیا
    آپ لوگ اجازت دیتے ہیں کہ میں ایسا ہی
    کروں اور ٹیلوں کی طرح مال لے کر واپس آؤں تا تم وہ مال لے کر اپنے شریکوں کے پاس جاؤ
    جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور عنقریب تم ڈھیروں کے
    ڈھیر سونااور خوبصورت مال دیکھو گے
    اور بجز کفارہ مسیح کے نجات دینے میں اس کی کوئی نظیر نہیں پاؤ گے تمہارے دین کے لئے تو کفارہ مسیح کافی
    ہے اور تمہاری دنیا کے لئے یہ
    امیری مکتفی ہے سو تم دونوں جہانوں میں
    محنت اور کوشش کرنے سے آزاد ہو گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیرے حکم کے تابع ہیں اور
    ہمارے دل تیرے پاس ہیں اور آج تو ہماری نظر میں با
    مرتبہ اور امین آدمی ہے۔ کہا شاباش عنقریب تم پر خوشی کے
    دروازے کھلیں گے اور تمہیں دولت کی کنجیاں دی جائیں گی بلکہ میں تمہیں یہ منتر بھی
    سکھلادوں گا تا میری عدم حاضری میں
    تمہیں کچھ تکلیف نہ پہنچے اور تا تمہیں ایک ایسی دولت ملے جو بہت بزرگ
    دولت ہے اور ایک ایسا ملک ہے جس کا انتہا نہیں انہوں نے کہا کہ ہم تیرا شکر نہیں کر سکتے تو سب احسان کرنے
    والوں سے بزرگ تر ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ تم یقیناًسمجھو کہ یہ عمل مَیں نے تم سے پہلے کسی کو نہیں سکھایا اور نہ بعد تمہارے کسی کو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 114
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 114
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/114/mode/1up
    قومًا آخرین۔ فسألوا عنہ سرَّ ہذا التخصیص وحکمۃَ تحدید ہذا التبصیص، فأقسمَ بالأقنوم الذی یجیر الجانی أنہ ضاہا فی ہذہ العادۃ
    بالأقنوم الثانی، وجعلہم کالمسیح من المتفردین۔ ثم شمّر ذیلہ لیطیر کالعقاب، فغدا بإزعام الذہاب ولا اغتداءََ الغراب، وقال لہم عند الفرار یا سادات الأمصار وصنادید الدیار، سآتیکم إلی نصف النہار،
    فانتظِرؔ ونی قلیلًا من الانتظار، ولا تأخذکم شیء من الاضطرار، فإن الرُقْیۃ طویلۃ والبُغْیۃ جلیلۃ، والطبیعۃ علیلۃ، والمسافۃ بعیدۃ، والبرودۃ شدیدۃ، وما کنت أن أشقّ علی نفسی فی ہذا الضُّعف والنحافۃ،
    وما أجد فی بدنی قوّۃَ قطع المسافۃ، وإنی نبذت عُلَق الدنیا کلہا، وترکت کُثْرَہا وقُلَّہا، وما یسرّنی إلا ذکر المسیح ربّ العالمین ( لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین
    سکھاؤں گا۔ پس انہوں نے اس تخصیص کا بھید اس
    سے دریافت کیا اور اس چمک کے محدود رکھنے کی حکمت پوچھی پس اس نے اس اقنوم کی قسم کھائی جو گناہ گارکو گناہ سے خلاصی بخشتا ہے کہ وہ اس عادت میں اقنوم ثانی سے مشابہ ہے۔ یعنے
    جیسے اقنوم ثانی نے حضرت عیسٰے سے پہلے کسی اور سے تعلق نہیں کیا نہ بعد میں کرے گا ایسا ہی اس نے اس قوم سے یہ تعلق پیدا کیا اور کہا کہ میں نے اقنوم ثانی کی طرح ہو کر تمہیں مسیح
    کی طرح اپنے تعلق سے خاص کر دیا ہے پھر اس نے اپنا دامن اکٹھا کیا تاکہ عقاب کی طرح اڑ جائے پس اس نے چلے جانے کی نیت سے صبح کی ایسی صبح کہ کبھی کوے نے بھی نہ کی ہو اور
    بھاگنے کے وقت ان کو کہنے لگا کہ اے شہروں کے سردارو اور ولائیتوں کے رئیسوں میں دوپہر تک تمہارے پاس آؤں گا سو تم نے کچھ تھوڑی سی میری انتظار کرنا اور تمہیں کچھ بے قراری نہ ہو
    کیونکہ منتر بہت لمبا ہے اور مطلب بہت بڑا ہے اور مراد بہت بڑی ہے اور طبیعت بیمار ہے اور دور جانا ہے اور سردی بہت پڑتی ہے اور میرا دل نہیں چاہتا کہ اس ضعف اور پیرانہ سالی میں یہ
    مشقت اپنے پر اٹھاؤں اور میرے بدن میں یہ قوت بھی نہیں کہ اتنی دور جا سکوں اور میں دنیا کے تمام علاقے چھوڑ بیٹھا ہوں اور مجھے بجز اس کے کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتاجو مسیح کا ذکر کرتا
    رہوں جو رب العالمین ہے۔
    ولٰکنّی کلّفت نفسی لکم بما رأیتکم من قبائل الشرفاء ووجدتکم کأطلال الأمراء وفی الضرّاء بعد النعماء ، وبما تحقّقت المصافاۃ وانعقدت المودّات، فہاجت رحمتی وماجت
    شفقتی، وجذبنی بَخْتُکم المحمود ونجمکم المسعود، فأردت أن أجعلکم کالسلاطین۔ وسأرجع إلیکم مع الجَنی الملتقط، فانتظِروا بالقلب المغتبط، سترون بیضاء وصفراء کحلیلۃ جمیلۃ زہراء ، وأُوافیکم کالمبشّرین
    المستبشرین۔ فذہب وترکہم مغبونین۔ فما فہموا أنہ غَرَّ وطلب المفرّ، وفرحوا بتصور حصول المراد، ولبثوا یرقبونہ رِقبۃَ أہلّۃ الأعیاد، وینتظرونہ انتظارَ أہل الوداد متنافسین، إلی أن تلبست الشمس کالمتندمین
    نقابَہا، وسوّدت کالمحزونین ثیابہا، وألغتْ کالمخدوعین حسابہا، واختفتْ بوجہؔ مصفرّ کالمنہوبین
    مگر میں نے تمہارے لئے یہ کلفت اٹھائی کیونکہ میں نے شریف قبیلوں میں سے تمہیں پایا اور
    میں نے دیکھا کہ تم امیروں کے باقی ماندہ نشان اور بعد نعمت کے سختی میں پڑے ہو اور اس لئے بھی کہ ہم میں اورتم میں
    بہت پیار ہوگیا ہے اور دوستانہ ربط ہوچکا ہے سو میری رحمت اور
    شفقت تمہارے لئے اٹھی
    اور موجزن ہوئی اور تمہارے طالع محمود اور نیک ستارہ نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا سو میں نے چاہا کہ
    تمہیں بادشاہ کی طرح بنا دوں۔ اور میں عنقریب تازہ چنا ہوا
    میوہ لے کر تمہارے پاس آؤں گا سو آرزو مند دل
    کے ساتھ میرے منتظر رہو عنقریب تم سونے اور چاندی کے ایسے جلوہ کو دیکھو گے جیسے کہ ایک خوبصورت
    عورت سامنے آجاتی ہے۔ سو
    اس نے یہ کہا اور چلا گیا اور ان کو ٹوٹے میں چھوڑ گیا۔ سو انہوں نے نہ سمجھا کہ
    وہ دھوکا دے گیا اور بھاگ گیا اور مراد ملنے کے تصور میں وہ خوش ہوئے اور اسی جگہ ٹھہرا کر ایسے طور
    سے اس کی
    انتظار کرتے رہے جیسا کہ عید کے چاند کی انتظار کی جاتی ہے اور جیسا کہ دوست دوست کا منتظر ہوتا ہے یہاں تک کہ
    سورج نے شرمندوں کی طرح اپنا منہ چھپا لیا اور ماتم زدہ
    اور سخت غم ناک لوگوں کی طرح سیاہ کپڑے پہن لئے
    اور اپنے وجود کو دھوکا کھانے والوں کے مال کی طرح حساب سے نظر انداز کر دیا اور منہ زرد کے ساتھ ایسا چھپا جیسا کہ وہ
    فلما
    طال أمد الانتظار، وتجاوز الوقت من موعد المکّار، وأضاعوا فی رِقبۃ الزمانَ، وبانَ أن الرجل قد مانَ، نہضوا کالمجانین، وسعوا إلی کل طرف مفتّشین، وعدَوا إلی الیمین والیسار مرتعدین، بتصوُّر الحلی الکبار
    وفِکْرِ ہتک الأستار۔ فلما استیأَسوا منہ کالثکلی سقطوا کالموتی، وأکبّوا علی وجوہہم باکین، وعرفوا أنہم قد خُدعوا بل جُدعوا ومن القوم قُدعوا، فضربوا علی خدودہم قائلین یا ویلنا إنا کنا منہوبین مخدوعین۔ ثم
    ألقوا علی رؤوسہم غبار الصحراء ، وصعدت صرخہم إلی السماء ، وجمعوا الناس حولہم من شدۃ الجزع والفزع والبکاء ۔ فجاء ہم القوم مُہرَعین، فسألوا عن بلاءٍ نزل وجُرْحٍ ابتزل، وعن مصیبۃ مذیبۃ للقلوب
    وداہیۃٍ مہیّجۃ للکروب، واستفسروا من تفاصیل المصیبۃ وکیفیۃ القصۃ۔ فعافُوا أن یبیّنوا خوفًا من طعن الناس والخزی بین
    لوگ زرد رنگ ہو جاتے ہیں جن کے مال لوٹے جاتے ہیں پس جبکہ انتظار کا زمانہ
    لمبا ہوگیا اور اس مکار کے وعدہ
    سے وقت بڑھ گیا اور جبکہ بہت سا وقت انہوں نے انتظار میں ضائع کیا اور کھل گیا کہ وہ آدمی تو جھوٹ بول گیا تو
    سودائیوں کی طرح اٹھے اور ہریک طرف
    تلاش کرتے ہوئے دوڑے اور دائیں بائیں طرف دوڑتے ہوئے گئے اور بڑے زیوروں
    کا خیال اور پردہ دری کا بھی فکر تھا پس جب کہ اس کے ملنے سے زن فرزند مردہ کی طرح نو امید ہو گئے
    تو
    روتے ہوئے اپنے مونہوں پر گرے اور سمجھ گئے کہ ہمیں دھوکا دیا گیا بلکہ ہمارا ناک کاٹا گیا اور
    قوم سے ہم ہٹائے گئے تب انہوں نے اپنی گالوں پر یہ کہتے ہوئے طمانچے مارے ہمارے پر
    واویلا ہم تو لوٹے گئے
    دھوکا دیئے گئے پھر انہوں نے اپنے سروں پر جنگل کا گھٹا ڈال لیا اور ان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی
    تب قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی آئی اور انہوں نے اس بلا سے نازل
    ہوئی اور اس زخم سے جس کا شگوفہ نکلا
    اور اس مصیبت سے جس نے دلوں کو گلایا اور اس حادثہ سے جس نے بے قراری پیدا کی
    دریافت کیا اور مصیبت کی تفصیل دریافت کی اور اس قصہ
    کی کیفیت پوچھی سو انہوں نے بیان کرنے سے دل چرایا کیونکہ وہ لوگوں کے لطن طعن اور خاص و عام
    العوام والخواص، ومع ذلک کانوا صارخین۔ فقال القوم ما لکم لا ترقأ دمعتکم ولا تسکن
    زفرتکم، أظُلِمْتم من قوم عادین؟ لِم تسترون الحقیقۃ وتزیدون الکربۃ، ألا ترون إلی لوعۃِ کرب المحبّین؟ فصاحوا صیحۃ المغبون، واستحیوا مِن إظہار الکمد المکنون، ثم بیّنوا القصّۃ وأبدوا الغُصّۃ، وماؔ کادوا
    أن یبیّنوا، ولکن عجزوا عن إصرار المصرّین۔ فلامَہم کلُّ أحد من العقلاء ، ومطرت مِن کل جہۃٍ سہامُ العُذلاء ، فنکسوا رؤوسہم متندمین۔ وقال المعیّرون یا معشر الحمقاء وأئمۃ الجہلاء ، ألستم علِمتم أنہ جاء
    کم فقیر بادی الخذلان، وعلیہ بُردانِ رثّانِ کالعُثان؟ فمن کان فی أطمار کیف یہبکم رِیاشَ أفخارٍ، وینجیکم من أسرِ أوطار؟ أما رأیتم علیہ أثر الإفلاس، فکیف شغفتم بہ أکنتم أنعاما أو من الناس؟ ثم کانت ہذہ
    الخرافات بعیدۃ من قانون
    میں رسوا ہونے سے ڈرے مگر باوجود اس کے فریاد کر رہے تھے۔ پس قوم نے کہا کیا سبب کہ تمہارے آنسو
    نہیں تھمتے اور تمہاری چیخیں کم نہیں ہوتیں کیا تم پر کسی
    ظالم نے ظلم کیا کیوں تم حقیقت کو چھپاتے
    اور اپنے دوستوں کی بے قراری کو زیادہ کرتے ہو۔ پس انہوں نے پھر ایک چیخ ماری جو ایک زیاں رسیدہ
    مارتا ہے اور چھپے ہوئے غم کے ظاہر کرنے
    سے شرم کی پھر قصہ کو کھول دیا اور غصہ ظاہر
    کر دیا اور نہیں چاہتے تھے کہ ظاہر کریں لیکن اصرار کرنے والوں کے اصرار سے عاجز آ گئے۔ پس ہریک
    عقلمند نے ان کو ملامت کی اور
    ملامت کرنے والوں کے ہریک طرف
    سے تیر برسے۔ پس انہوں نے شرمندہ ہوکر سر جھکا لئے اور ملامت کرنے والوں نے کہا
    کہ اے احمقو اور جاہلوں کے پیشواؤ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ
    ایک محتاج تمہارے پاس آیا جس کی بے عزّتی کھلی کھلی تھی
    اور اس پر پرانی چادریں دھوئیں کی طرح تھیں سو جو شخص آپ ہی پرانی چادریں رکھتا تھا وہ تمہیں لباس فاخرہ
    کہاں سے دیتا اور
    کیونکر تمہاری حاجت روائی کرتا کیا تم نے افلاس کے آثار اس میں نہیں پائے تھے
    پھر کیوں تم اس کے فریفتہ ہو گئے کیا تم چار پائے تھے یا آدمی تھے پھر قطع نظر اس سے یہ باتیں بھی
    ازقبیل
    القدرۃ وخارجۃ من السنن المستمرۃ، فکیف قبِلتموہا وقائلَہا إن کنتم عاقلین۔
    وکیف نسیتم تجارب الحکماء ، أکنتم أنعامًا أو کنشوانِ الصہباء مخمورین؟ وکیف ظننتم أنہ صدوق أمین مع أنہ خالفَ
    الصادقین أجمعین؟ أما رأیتم أطمارہ؟ أما شاہدتم إزارہ؟ أما سمعتم من قبل قصصَ المکّارین؟ فلا تلوموا أحدًا ولوموا أنفسکم إنکم قد أہلکتم نسوانکم وإخوانکم وخلانکم وجیرانکم، فلیبکِ علی فہمکم من کان من
    الباکین۔
    ہذا مثل المسیحیین وکفّارتہم وجہلہم وغرارتہم، وما قلنا ذلک إلا نصاحۃً للّٰہ لقوم جاہلین۔ ولکن المسیح والصالحین من أصحابہ مبرَّؤون من ذلک المثل وخطابہ، وماؔ نتوجہ إلا إلی الخائنین
    خرافات اور قانون قدرت سے بعید تھیں اور خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ سے دور تھیں پس اگر تم عقلمند تھے تو کیوں اس شخص کو اور اس کی باتوں کو قبول کر لیا۔
    اور کیونکر تم نے حکیموں کے
    تجارب کو فراموش کر دیا کیا تم چار پائے تھے یا شراب سے مست تھے
    اور تم نے کیونکر جانا کہ وہ صادق اور امین ہے حالانکہ اس نے تمام صادقوں کے برخلاف
    بات کہی کیا تم نے اس کی
    پرانی چادریں نہ دیکھیں کیا تم نے مکاروں کے قصے
    نہیں سنے تھے سو تم اپنے آپ کو ملامت کرو نہ کسی دوسرے کو تم نے
    اپنی بیویوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے ہمسائیوں کو
    ہلاک کر دیا پس چاہیئے کہ ہریک
    رونے والا تمہاری سمجھ پر رووے۔
    یہ عیسائیوں اور ان کے کفارہ کی مثال ہے اور ان کی نادانی کا نمونہ ہے اور ہم نے
    محضِ للہ نادانوں کے لئے یہ نصیحت
    بیان کی ہے۔ مگر مسیح اور اس کے نیک اصحاب اس مثیل
    سے مبرا ہیں اور ہمارا خطاب صرف ان خیانت پیشہ لوگوں کی طرف ہے
    الذین سیرتہم سیرۃ السر!حان ولبوسہم لبوس الرُّہبان، وقد
    تبینَ انکفاء!ہم وبرح لیلا ۂم، وتبین أنہم من الضالین المضلین۔ ومن وقاحتہم أنہم مع جہلہم یصولون علی الإسلام، ویضلّون طوائف الأنام، ویشیعون أنواع الآثام، وکانوا قومًا دجّالین۔ فلیندموا علی بادرۃ
    الاعتقاد، ولیخافوا خسرانہم یوم المعاد، وما أنا إلّا نذیر من ربّ العالمین
    جن کی خصلت بھیڑیئے کی خصلت اور لباس راہبوں کا لباس ہے اور ان کی برگشتگی اور ان کی رات کی سختی ظاہر
    ہوچکی
    ہے اور ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ گمراہ اور باطل پرست ہیں۔ اور ان کی کمال بے شرمی ہے
    کہ وہ باوجود اپنی نادانی کے اسلام پر حملہ کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے اور انواع اقسام
    کے
    گناہوں کو پھیلا رہے ہیں اور وہ ایک دجال قوم ہے پس چاہیئے کہ اپنی جلدی کے اعتقاد سے پشیمان ہوں اور
    اپنے آخرت کے ٹوٹے سے ڈریں اور میں تو ایک ڈرانے والا خدا تعالیٰ کی طرف
    سے ہوں۔
    إنّی من اللّٰہ العزیز الأکبرِ
    حقٌّ فہل من خائفٍ مُتدبّرِ
    میں اس خدا کی طرف سے ہوں جو بزرگ اور عزت والا ہے
    یہی بات سچ ہے پس کوئی ہے! جو ڈرے اور سوچے
    جاء ت
    مرابیع الہدی ورِہامُہا
    نزلتْ وجَوْدٌ بعدہا کالعسکرِ
    ہدایت کے بہاری مینہ آ گئے اور ہلکے ہلکے مینہ تو
    اتر آئے اور بڑا مینہ اس کے بعد ایک لشکر کی طرح آنے والا ہے
    جُعلت دیار الہند
    أرضَ نزولہا
    نصرًا بما صارت محلَّ تنصُّرِ
    ان مینہوں کے اترنے کی جگہ ہند کی زمین قرار دی گئی
    مدد کے طور پر کیونکہ عیسائی دین مسلمانوں میں پھیلنے کی یہی جگہ ہے
    فیہا جموع
    یشتمون نبیَّنا
    فیہا زروع من ضلالٍ مُوثَرِ
    اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو ہمارے نبی صلعم کو گالیاں دیتے ہیں
    اس ملک میں گمراہی کی کھیتیاں ہیں جو پسند کی گئی ہیں
    قوم یعادون التُّقٰی مِن
    خبثہم
    ویؤیدون أمورَ ضِدِّ تطہُّرِ
    وہ ایک قوم ہے جو بوجہ اپنے خبث کے پرہیز گاروں سے دشمنی رکھتی ہے
    اور ناپاکی کی باتوں کو شائع کر رہے ہیں
    وتکنّستْ ذاتَ المِرار ظبیُّہمْ
    إذ صُلتُ
    عند تناضُلٍ کغضنفرِ
    اور کئی مرتبہ ان کے ہرن مجھ سے چھپ گئے
    جب کہ میں نے لڑائی کے وقت شیر کی طرح حملہ کیا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 115
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 115
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/115/mode/1up
    منہم خبیث مفسد متفاحش
    أُخبِرتُ عنہ ولیتنی لم أُخبَرِ
    ان میں سے ایک خبیث مفسد بدگو دشنام دہ ہے
    مجھے اس کی
    اطلاع دی گئی ہے کاش کہ نہ دی جاتی یعنی اس کا وجود ہی نہ ہوتا
    غُوؔ لٌ یسبّ نبیَّنا خیرَ الورٰی
    لُکَعٌ ولیس بعالم متبحّرِ
    ایک شیطان ہے جو ہمارے نبی افضل المخلوقات کو گالیاں دیتا ہے
    سفلہ نادان فرومایہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ کوئی عالم متبحر حقائق کی تہ تک پہنچنے والاہو
    یا غُولَ بادیۃِ الضلالۃ والہویٰ
    تہذی ہوًی مِن غیر عینِ تبصُّرِ
    اے گمراہی اور حرص کے جنگل کے
    شیطان
    تُو محض ہوا پرستی سے بکواس کر رہا ہے اور معرفت کی آنکھ تجھ کو حاصل نہیں
    قطّعتَ قلب المسلمین جمیعہم
    کم صارم لک یا عَبِیطُ وخنجرِ
    تو نے تمام مسلمانوں کا دل ٹکڑے ٹکڑے
    کر دیا
    اے دروغگو جنگجو ہمیں یہ تو بتلا کہ تیرے پاس کتنی تلواریں اور خنجر ہیں
    إنا تصبَّرْنا علی إیذائکم
    والنفس صارخۃ ولم تتصبرِ
    ہم نے تو تمہارے دکھ دینے پر بتکلف صبر کیا
    مگر
    جان فریاد کر رہی ہے اور صبر نہیں کر سکتی
    إنا نری فتنًا تذیب قلوبنا
    إنا نری صورًا تہولُ بمنظرِ
    ہم وہ فتنے دیکھ رہے ہیں جو دلوں کو گلاتے ہیں
    ہم وہ منہ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ڈراتے
    ہیں
    جاء وا کمفترس بنابٍ داعسٍ
    دحسًا ککلب نابح متشذّرِ
    وہ ایک شکار مارنے والے کی طرح نیزہ مارنے والے دانتوں کے ساتھ آئے
    قوم میں تفرقہ ڈالنے والے ہیں اس کتے کی طرح جو آواز
    کرتا اور حملہ کرنے کے لئے دم اکٹھی کر لیتا ہے
    کانوا ذیابًا ثم وجدوا سَخْلۃً
    فی البرّ منفردًا أسیرَ تحسُّرِ
    وہ تو بھیڑیئے تھے سو انہوں نے جنگل میں
    ایک اکیلا برہ پایا جو ماندگی کا مارا ہوا
    تھا
    وتری بطون المفسدین کأنہا
    قِربٌ بما نالوا کمالِ تعَجُّرِ
    اور مفسدوں کے پیٹوں کو تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ
    مشکین ہیں کیونکہ پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ ان میں بل پڑتے ہیں
    حاذت مطایاہم علی
    أعناقنا
    حتی تکسّرنَا کعظمٍ أنخَرِ
    انہوں نے اپنی سواریوں کو ہماری گردنوں پر سخت دوڑایا
    یہاں تک کہ ہم بوسیدہ ہڈی کی طرح ہوگئے
    فاض العیون من العیون کأنہا
    ماء جری من عَنْدَمٍ
    متعصّرِ
    آنکھوں سے چشمے جاری ہوگئے گویا کہ وہ
    دم الاخوین کا پانی ہے جو اس کے نچوڑنے کے وقت چک رہا ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 116
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 116
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/116/mode/1up
    فنہضتُ أنصَحہم وکیف نصاحتی
    قومًا أوابدَ معجَبین کضیطَرِ
    پس میں گالیاں دینے والوں کو نصیحت کرنے کے لئے اٹھا اور
    میرا نصیحت دینا
    ایسی قوم کو کیا مفید ہوسکتا تھا جو ایک وحشی اورخودبیں اور فرو مایہ اور بے خبر آدمی کی طرح ہے
    قد غُودِرَ الإسلام مِن جہلا تہم
    وخلَتْ أماعزُ عن سحابٍ ممطرِ
    عوام
    نادان نے ان کے باطل وساوس سے اسلام کو ترک کر دیا
    اور وہ پتھریلی زمین برسنے والے بادل سے محروم رہ گئی
    شاؔ قت قلوبَ الناس ظُعْنُ جِیاۂم
    فتأبّطوا بُرَحاءَ ہم بتخیُّرِ
    لوگوں کے دلوں
    کو ان ہودج نشینوں نے شوق دلایا جو ان کی ہنڈیوں کے سر پوش کے اندر تھیں
    سو انہوں نے ان کی بلا کو دیدہ دانستہ بغل میں لے لیا
    زُجَلٌ عمون منجّسو عرصاتِنا
    فَجَأَتْ طوائحُہم کذِیْبٍ
    مُبکِرِ
    اندھی جماعتیں ہیں جو ہمارے ملک کو پلید کر رہی ہیں
    ان کے حوادث ناگاہ ہم پر بڑے اور وہ ایسے آئے جیسا کہ بھیڑیا فجر کے وقت شکار کے لئے نکلتا ہے
    والعین باکیۃ ولیس
    بکاؤنا
    شیءًا سِوی الفضل المنیر المسفِرِ
    آنکھ تو رو رہی ہے مگر ہمارا رونا کچھ حقیقت نہیں رکھتا
    بجز اس فضل کے جو روشن کرنے والا اور صبح کے وقت آنے والا ہے
    إن البلایا لا یرُدُّ
    رِکابَہا
    إلا یدا ملِکٍ قدیر أکبرِ
    بلاؤں کے اونٹ سواروں کو کوئی رد نہیں کر سکتا
    مگر اس بادشاہ کے دونوں ہاتھ جو قدیر اور اکبر ہے
    إن المہیمن لا یُضِیع عبادہ
    فَافْرَحْ ولا تحزنْ بوقتٍ
    مُضجِرِ
    خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرے گا
    سو تو خوش ہو اور ایسے وقت میں جو دل کو تکلیف دینے والا ہے غمگین مت ہو
    أیہا المتنصّرون والعادون العمون لقد جئتم شیءًا إدًّا، وجُزتم عن
    القصد جدًّا۔ تعبدون من مات وفاتَ، وعظّمتم العظام الرُّفاتَ، وغمصتم الصادقین۔ وفیکم مَن إذا کُلِّمَ کَلَّمَ، وإذا سُلِّمَ ثَلَّمَ۔ تقولون إنا لُقِّنّا الحلمَ، وعُلِّمْنا السلمَ، ولکنا لا نجد فیکم قارع
    اے عیسائیو اور حد سے تجاوز
    کرنے والے اندھو تم ایک عجیب بات لائے اور یقیناً تم نے راہ راست کو چھوڑ دیا
    تم نے اس کو خدا پکڑا جو مر گیا اور گذر گیا اور بوسیدہ ہڈیوں کی تعظیم کی
    اور صادقوں کا تم نے عیب پکڑا اور
    تم میں ایسے شخص بھی ہیں کہ جب ہمکلام ہوں تو بدگوئی سے دلوں کو آزار
    پہنچاویں اور جب بدی کا جواب نہ دیا جاوے اور بے گزند رکھا جائے تو اور بھی رخنہ ڈالیں۔ اپنی زبان سے تو یہ کہتے
    ہو کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 117
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 117
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/117/mode/1up
    ہذہ الصَّفات وقریع ہذہ الصفات، بل نجدکم حریصین علی الضرّ، وراغبین فی إیصال الشرّ۔ تسبّون الأخیار، وتلعنون الأبرار،
    وتختالون من الزہو، وتنصبّون إلی اللَّہو، وما تنصرتم إلا لتکونوا ذوی جُرْدٍ مربو!طۃ وجِدَۃٍ مغبوطۃٍ، ولتمیسوا فی رِیاش، وتتخلصوا من فکر معاش، وتجدوا ما تشتہی الأنفس وتتلذّ الأعین، ولتتجنّوا قطوف
    اللذؔ ات فارغین۔ وواللّٰہ إن فسق النصاری قد عظم فی الدیار، وأخنوا علی الناس بأنواع التبار۔ اتّسخت أبدانہم من أوساخ الذُنوب، فما مالوا إلی الذَنوب، وبلغ أمرہم من کثرۃ الأدران إلی الحِمام، فما عجُّوا إلی
    الحَمّام، وصاروا بادیَ الجردۃ کالأنعام، فما آلوا إلی حلل الإنعام، وأحبوا الذہبَ، والإیمانُ فرَّ وذہَب، فأکبّوا علی الدنیا خائنین۔ وکذلک زادت منہم سموم الطغیان، ورکدت ریح الإیمان، حتی
    ہم کو حلم سکھایا
    گیا ہے اور صلح کاری کی تعلیم ہوئی ہے مگر ہم تم میں ایسا شخص نہیں پاتے جو اس تعلیم کے پتھر کو ٹھوکنے والا اور ان صفتوں کا مالک ہو بلکہ ہم تو تم کو دکھ دینے پر حریص پاتے اور شرارت
    کرنے پر راغب دیکھتے ہیں تم نیکوں کو گالیاں دیتے اور راستبازوں پر *** بھیجتے ہو اور تمہارے ناز کی چال میں تکبر بھرا ہوا ہے اور لہو لعب کی طرف گرے جاتے ہو اور عیسائی ہونے سے
    تمہاری یہی غرضیں ہیں کہ تمہارے طویلوں میں گھوڑے ہوں اور قابل رشک دولت مندی تم کو حاصل ہو اور لباس فاخرہ میں تم لٹکتے پھرو اور معاش کی فکر سے فارغ ہو جاؤ اور تم کو وہ سب چیزیں
    مل جائیں جن کو تمہارے نفس چاہتے ہیں اور جن سے تمہاری آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور تاکہ اپنی لذتوں کے چنے ہوئے پھل فارغ بیٹھ کر کھاؤ۔ اور بخدا نصاریٰ کا فسق ملکوں میں بڑھ گیا ہے
    اور قسم قسم کی ہلاکت میں لوگوں کو ڈال دیا ہے ان کے بدن گناہوں کی میل سے میلے ہو گئے مگر انہوں نے نہ چاہا کہ پانی کا بھرا ہوا بوکا ان کو ملے اور میلوں کی کثرت سے ان کی نوبت موت تک
    پہنچی پس انہوں نے حمام کی طرف رغبت نہ کی اور چارپاؤں کی طرح ننگے ہو گئے اور انعام کے لباس کی طرف توجہ نہ کی اور سونے سے پیار کیا اور ایمان بھاگ گیا سو دین سے نومید ہوکر دنیا پر
    گرے اور اسی طرح ان سے گمراہی کی زہریں پھیلیں اور ایمان کی ہوا تھم گئی یہاں تک کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 118
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 118
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/118/mode/1up
    صار الزمان کلیلۃ حالکۃ الجلباب ہامیۃ الرَّباب، ترکوا طریق الخیر المأثور، ودعَوا إلی الویل والثبور، ثم صار الکذب عادتہم،
    وإشاعۃ الفسق سیرتہم، وتوہین المقدسین خصلتہم، ومالُ الإعانات جَرّتہم۔ لا یبالون صغیرۃ ولا کبیرۃ، ولا یتقون جرأۃ ولا جریرۃ، ویفتِنون قلوب الناس بأنواع الوَسواس، أو ینطقون بالبہتان علی رسل
    الرحمن۔ وشِنْشِنتُہم الانتقالُ مِن صید إلی صید، والرجوعُ من کید إلی کید، فتارۃ یُرُون النساءَ ، وطورا بیضاءَ وصفراء ، ومرۃً مِیاءَہم الغِزار، وأخری الأشجارَ والثمار۔ فنشَب الجہّالُ فی شبکتہم، والفسّاق فی
    ہوّتہم، ونسَلوا مِن کل حدبٍ مصطادین
    زمانہ ایسا ہوگیا جیسی کہ اندھیری رات جس کا بادل برس رہا ہے انہوں نے اس بھلائی کے طریق کو
    چھوڑ دیا جو مسلسل چلی آتی تھی اور موت اور ہلاکت
    کی طرف لوگوں کو بلایا۔ جھوٹ ان کی عادت ہوگیا
    اور فسق ان کی سیرت ہو گیا اور پاکوں کی توہین کرنا ان کی خصلت ہو گئی اور چندہ کا روپیہ ان کا
    جال ہوگیا نہ صغیرہ سے ڈریں اور نہ کبیرہ
    سے نہ دلیری سے اور نہ گناہ سے
    تا اور لوگوں کو قسما قسم کے وساوس سے فتنہ میں ڈالیں اور خدا تعالیٰ کے پیغمبروں پر بہتان
    باندھتے ہیں اور ان کی خصلت یہ ہے کہ ایک شکار سے فارغ
    ہوکر دوسرے شکار کی طرف جائیں اور
    ایک مکر سے دوسرے مکر کی طرف رجوع کریں بعض وقت عورتیں دکھاتے ہیں اور بعض وقت سونا اور چاندی اور
    کبھی اپنے پانی کی کثرت اور کبھی
    درخت اور کبھی پھل۔ سو ان کے جال میں اکثر جاہل پھنس گئے اور اکثر فاسق
    ان کے گڑھے میں جا گرے اور وہ ہریک بلندی سے شکار کرنے کے لئے دوڑے۔
    اُنظُرْ إلی المتنصّرین وذانِہمْ
    وانظُرْ إلی ما بدأ مِن أدرانہمْ
    عیسائیوں کو دیکھو اور ان کے عیبوں کو
    اور ان میلوں کو دیکھ جو ان سے ظاہر ہوئیں
    مِن کل حدب ینسِلون تشذّرًا
    وینجّسون الأرض من أوثانہم
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 119
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 119
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/119/mode/1up
    وہ اپنی زیادتیوں اور تعدیوں کی وجہ سے ہریک بلندی سے دوڑے ہیں
    اور اپنے بتوں سے زمین کو ناپاک کر رہے ہیں
    نشکو
    إلی الرحمن شرَّ زمانہم
    ونعوذ بالقدّوس من شیطانہم
    ہم ان کے زمانے کے شر سے خدا تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں
    اور ان کے شیطان سے پاک پروردگار کی پناہ میں آتے ہیں
    ہل مِن
    صَدوق یُوجدَنْ فی قومہم
    أم ہل عرفتَ الصدق فی بلدانہم
    کیا کوئی راستباز ان کی قوم میں پایا جاتا ہے
    یا تو نے شناخت کیا کہ ان کے شہروں میں سچائی بھی ہے
    ہم یعبدون الآدمی کمثلہم
    ہم
    ینشرون الفسق فی أوطانہم
    وہ اپنے جیسے آدمی کی پرستش کررہے ہیں
    وہ اپنے وطنوں میں بدکاری کو پھیلاتے ہیں
    الماکرون الکائدون من الہوی
    والزور کالأثمار فی أغصانہم
    حرص کی
    وجہ سے مکار اور فریبی ہیں
    اور ان کی شاخوں میں جھوٹ پھلوں کی طرح موجود ہے
    العین باکیۃ علی حالاتہم
    للعقل حسرات علی ہذیانہم
    آنکھ ان کے حالات پر رو رہی ہے
    اور عقل کو
    ان کے بکواس پر حسرتیں ہیں
    مکرٌ علی مکر خیالُ قلوبہم
    کذبٌ علی کذب بیانُ لسانہم
    ان کے دلوں کے خیال مکر پر مکر ہے
    اور ان کی زبان کا بیان جھوٹ پر جھوٹ ہے
    إنی أراہم کالبنین
    لِغُوْلِہم
    إن التطہر لا تحل بخانہم
    میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے ابلیس کے لئے بطور بیٹوں کے ہیں
    اور پاکیزگی ان کے کاروان سرائے میں نہیں اترتی
    کیف الرجاء وقد تأبّطَ قلبُہم
    شرًّا أراہ
    دخیلَ جَذْرِ جنانہم
    کیونکر امید کریں حالانکہ ان کے دل شرارت کو اپنی بغل میں لئے بیٹھے ہیں
    اور وہ شرارت ان کے دلوں کے اندر گھسی ہوئی ہے
    بل کذّبوا بالحق لما جاء ہم
    وتمایلوا حقدًا
    علی بہتانہم
    بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے تکذیب کی
    اور کینہ سے اپنے بہتانوں کی طرف جھک پڑے
    کم مِن سموم ہبَّ عند ظہورہم
    کم مِن جَہول صِیدَ مِن أرسانہم
    ان کے ظاہر
    ہونے سے بہت سی گرم ہوائیں چلی ہیں
    اور ان کی رسیوں سے بہت جاہل شکار ہو گئے
    ہمؔ أنکروا بحر العلوم بخبثہم
    واستغزروا ما کان فی کِیزانہم
    انہوں نے اپنے خبث سے علموں
    کے دریا سے انکار کیا
    اور جو کچھ ان کے پیالوں میں تھا ان کو بہت کچھ سمجھا
    لا یعلم النو!کی دخیلۃَ أمرہم
    مِن غیرِ رقّتہم ولینِ لسانہم
    بے وقوف لوگ ان کی اصل حقیقت کو نہیں
    جانتے
    بس اسی قدر جانتے ہیں کہ وہ زبان کے نرم ہیں
    واللّٰہِ لولا ضنکُ عیشٍ مُقلِقٍ
    ما مالَ مرتدّ إلی أدیانہم
    اور بخدا اگر تنگی رزق کسی کو تکلیف نہ دیتی
    تو کوئی مرتد ان کے دین کی
    طرف میل نہ کرتا
    قد جاء ہم قوم بحرصِ لبانہم
    ولینفُضَنْ ما کان فی أردانہم
    ایک قوم تو ان کے دودھ کی حرص سے ان کے پاس آئی
    تاکہ وہ جو کچھ ان کی آستینوں میں ہے جھاڑ لیں
    کانوا
    کذئب البَرِّ مکلومِ الحشا
    مِن جوعہم فسعوا إلی عمرانہم
    وہ جنگل کے بھیڑیئے کی طرح بھوک سے خستہ اندرون تھے
    پس وہ ان کی آبادی کی طرف دوڑے
    قوم سُقوا کأس الحتوف بوعظہم
    قوم خَروفٌ فی یدَی سِرحانہم
    ایک قوم نے تو موت کے پیالے ان کے وعظ سے پی لئے
    اور ایک دوسری قوم برّہ کی طرح اس بھیڑیئے کے ہاتھوں میں ہے
    عمّتْ بلایاہم وزاد فسادہم
    واشتدّ سیل
    الفتن من طغیانہم
    ان کی بلائیں عام ہو گئیں اور ان کا فساد بڑھ گیا
    اور فتنوں کا سیلاب ان کی بے اعتدالیوں سے بہت سخت ہوگیا
    یا رَبِّ خُذْہم مثلَ أخذِک مفسدًا
    قد أفسدَ الآفاقَ طولُ زمانہم
    اے
    خدا تو ان کو پکڑ جیسا کہ تو ایک مفسد کو پکڑتا ہے
    ان کے طول زمانہ نے دنیا کو بگاڑ دیا
    أدرِکْ رجالًا یا قدیرُ ونسوۃً
    رحمًا ونَجِّ الخَلْق من طوفانہم
    اے قادر تو اپنے رحم سے مردوں اور
    عورتوں کی جلد خبر لے
    اور مخلوق کو اس طوفان سے نجات بخش
    حلّتْ بأرض المسلمین جنودہم
    فسرَتْ غوائلہم إلی نسوانہم
    ان کے لشکر مسلمانوں کی زمین میں اتر آئے
    اور ان کی
    بلاؤں نے مسلمانوں کی عورتوں تک سرایت کی
    یا ربَّ أحمدَ یا إلٰہَ محمّدٍ
    اِعصِمْ عبادک من سموم دخانہم
    اے احمد کے رب اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے الہٰ
    اپنے بندوں کو ان کے دھوؤں
    کی زہروں سے بچا لے
    یا عونَنا انصُرْ مَن سواک ملاذنا
    ضاقت علینا الأرض من أعوانہم
    اے ہمارے مددگار تیرے سوا ہمارا کون جاپناہ ہے
    ہم پر ان لوگوں کے مدد گاروں سے زمین تنگ
    ہو گئی
    کَسِّرْؔ زُجاجتہم إلہی بالصفا
    واعصِمْ عبادک من سموم بیانہم
    اے خدا پتھروں سے ان کے شیشے کو توڑ دے
    اور ان کے بیان کی زہر سے اپنے بندوں کے بچا لے
    سبُّوا نبیَّک
    بالعناد وکذّبوا
    خیرَ الورٰی فانظرْ إلی عدوانہم
    تیرے نبی کو انہوں نے عناد سے گالیاں دیں اور جھٹلایا
    وہ نبی جو افضل المخلوقات سے ہے سو تو ان کے ظلم کو دیکھ
    یا ربّ سحِّقْہم کسحقک
    طاغیًا
    وَانْزِلْ بساحتہم لہدم مکانہم
    اے میرے رب ان کو ایسا پیس ڈال جیسا کہ تو ایک طاغی کو پیستا ہے
    اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے صحن خانہ میں اتر آ
    یا رب
    مَزِّقْہم وفَرِّق شَمْلَہم
    یا ربِّ قَوِّدْہم إلی ذوبانہم
    اے میرے رب ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور ان کی جمعیت کو پاش پاش کر دے
    اے میرے رب ان کو ان کے گداز ہونے کی طرف کھینچ
    قد أزمعوا
    إضلالنا ووبالَنا
    فاضرِبْ مکایدہم علی أبدانہم
    انہوں نے ہمارا گمراہ کرنا اور وبال میں ڈالنا دلوں میں ٹھان لیا ہے
    سو تو ان کے مکر انہیں کے جسموں پر مار
    وإذا رمیتَ فإن سہمک قاتلٌ
    حَدٌّ
    کأسیاف علی شجعانہم
    اور جب تو تیر چلاوے تو تیر تیرا قتل کرنے والا ہے
    تیز ہے اور تلواروں کی طرح ان کے بہادروں پر پڑتا ہے
    صِرْنا حَمولۃَ جورِہم وجفاۂم
    زُمّتْ رکاب الہجر مِن
    وثبانہم
    ہم ان کے ظلم کے شتر باربرادری ہو گئے
    جدائی کے اونٹوں کو ان کے حملوں کے سبب سے مہار دی گئی
    لولا تَعافَیْنا تعاقُبَ سَبِّہم
    لرمیتُ سہم النار عند عُثانہم
    اگر ہم ان کی
    گالیوں کا جواب دینے سے کراہت نہ کرتے
    تو میں ان کے دخان کے مقابل پر آگ کے تیر چلاتا
    ما یظلم الأشرار إلا نفسہم
    ستری بندم القلب عَضَّ بنانِہم
    ظالم کسی پر ظلم نہیں کرتے مگر اپنے
    نفس پر
    سو تو عنقریب دیکھے گا کہ وہ دلی ندامت سے اپنی سرانگشت کاٹیں گے
    ظنّوا بأن اللّٰہ مخلِفُ وعدہ
    فبغوا بأرض اللّٰہ من طغیانہم
    انہوں نے خیال کیا کہ خدا تعالیٰ اپنا وعدہ
    نہیں پورا کرے گا
    تب وہ خدا تعالیٰ کی زمین میں اپنی بے اعتدالی کی وجہ سے باغی ہوگئے
    وقبولُ أمر الحق عارٌ عندہم
    صعبٌ علی السفہاء عطفُ عِنانہم
    سو حق کا قبول کرنا ان کے نزدیک
    عار ہے
    اور نادانوں پر حق کی طرف باگ پھیرنا سخت ہوگیا ہے
    سُودٌ کخافیۃ الغراب قلوبہم
    والخلْقَ مخدوعون من لمعانہم
    ان کے دل ایسے سیاہ ہیں جیسے کوے کے وہ پر جو پیٹھ کی طرف
    ہوتے ہیں
    اور خلقت ان کی ظاہری چمک سے دھوکا کھا رہی ہے
    فارؔ قُبْ إذا صاحبتَہم بمحبّۃٍ
    فتنًا بدینک عند اِسْتحسانہم
    پس جب تو ان کی صحبت اختیار کرے تو تجھے
    بباعث ان کے پسند
    رکھنے کے اپنے دین کے فتنوں کا امیدوار رہنا چاہئے
    ولقد دعوتُ الرب عند تناضُلی
    واللّٰہُ تُرْسی عند ضرب سِنانہم
    اور میں نے اپنے مقابلہ کے وقت اپنے رب کو بلایا
    اور ان کے نیزوں سے
    بچنے کے لئے خدا میری ڈھال ہے
    یا مستعانی لیس دونک مَلجأی
    فانصُرْ وأیِّدْنا لہدم قِنانہم
    اے میرے مددگار تیرے سوا میری کوئی پناہ نہیں
    پس مدد کر اور ان کے پہاڑوں کے توڑنے کے لئے
    ہماری تائید فرما
    یا من یعیّرنی بموت إلٰہہم
    أفلا ترٰی ما جَذَّ أصلَ إہانہم
    اے وہ شخص جو مجھے اس لئے سرزنش کرتا ہے کہ میں ان کے مصنوعی خدا یعنی حضرت عیسٰے کی موت کا قائل
    ہوں
    کیا تو دیکھتا نہیں کہ کس اعتقاد نے ان کی بیخکنی کی ہے
    واللّٰہِ إن حیاۃ عیسی حیّۃٌ
    تسعی لتُہلِک کلَّ مَن فی خانہم
    بخدا حضرت عیسیٰ کی زندگی ایک سانپ ہے
    وہ سانپ دوڑتا ہے تا ان
    سب کو قتل کرے جو ان کی سرائے میں ہیں
    جعَل المہیمن حکمۃً من عندہ
    فی موت عیسی قَطْعَ عرقِ جِرانہم
    خدا تعالیٰ نے اس بات میں حکمت رکھی ہے
    کہ حضرت عیسیٰ کی موت سے ان کا
    مذہب ذبح کیا جائے
    کیف الحیاۃ و قد تُوُفّیَ مثلہ
    حزبٌ وخیرُ الخَلق بعد زمانہم
    یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسٰے زندہ ہوں حالانکہ ان سے پہلے جتنے نبی آئے
    وہ فوت ہو گئے ہیں اور
    جو سب سے بہتر تھا اور پیچھے سے آیا وہ بھی فوت ہوگیا
    ہل غادرَ الحتفُ المفاجئ مرسلًا
    أم ہل سمعتَ الحیّ من أقرانہم
    کیا اچانک پکڑنے والی موت نے کسی رسول کو بھی چھوڑا
    یا تو نے
    کبھی سنا کہ ان کے ہم رتبوں میں سے کوئی زندہ رہا
    أ تغیظُ ربَّک لابن مریم حِشنۃً
    وتحید عن مولی إلی إنسانہم
    کیا تو اپنے رب کو ابن مریم کے لئے غصہ دلاتا ہے کیا کچھ کینہ ہے
    اور مولیٰ کریم سے تو دور ہوکر عیسائیوں کے انسان کی طرف جاتا ہے
    فاطلُبْ ہُداہ وما أخالُک تطلبُ
    فَاخْسَأْ وکُنْ منہم ومن إخوانہم
    سو تو اللہ کی ہدایت کو ڈھونڈ اور مجھے امید نہیں کہ تو
    ڈھونڈے
    پس دفع ہو اور عیسائیوں میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے ہو جا
    یا مَن تظنّی البولَ ماءًً باردًا
    أخطأتَ مِن جہلٍ بِاِسْتِسْمانہم
    اے وہ شخص جس نے بول کو ٹھنڈا پانی سمجھ لیا
    تو
    نے اپنی نادانی سے خطا کی اور لاغروں کو موٹا خیال کیا
    یا ربِّ أَرِنی یومَ کسرِ صلیبہم
    یا ربّ سلِّطْنی علی جدرانہم
    اے میرے رب صلیب کا ٹوٹنا مجھے دکھلا
    اے میرے رب ان کی دیواروں
    پر مجھ کو مسلط کر
    فإذؔ ا تکلَّمْنا فسیفٌ قولُنا
    رمحٌ مبید لا کمِثل بیانہم
    اور جب ہم کلام کریں تو ہماری کلام ایک تلوار ہے
    ایک نیزہ ہلاک کرنے والا ہے نہ ان کے بیان کی طرح
    ولقد أُمرتُ
    من المہیمن بعدما
    ہاجت دخان الفتن من نیرانہم
    اور میں خدا کی طرف سے مامور ہوں
    اس وقت کے بعد جو پادریوں کی آگ سے دھوئیں اٹھے
    ما قلت بل قال المہیمن ہکذا
    ما جئتُہم بل جاء
    وقت ہوانہم
    یہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح کہا
    میں ان کے پاس نہیں آیا بلکہ ان کی ذلت کا وقت آگیا
    طورًا أحارب بالسہام وتارۃً
    أَہوی بأسیاف إلٰی إثخانہم
    کبھی میں ان
    سے تیروں کے ساتھ جنگ کرتا ہوں
    اور کبھی میں اپنی تلواروں کے ساتھ ان کے قتل کثیر کی طرف توجہ کرتا ہوں
    بمہنّدٍ صافِ الحدید جذمتُہم
    وعصایَ قد أفنَتْ قُوَی ثعبانہم
    نہایت عمدہ تلوار
    سے میں نے ان کو کاٹ دیا ہے
    اور میرے عصا نے ان کے سانپ کی تمام قوتیں فنا کر دیں
    روحی بروح الأنبیاء مضمَّخٌ
    جادتْ علیّ الجَودُ من فیضانہم
    میرا روح انبیاء کی روح سے معطر کیا
    گیا ہے
    اور ان کے فیضان کا ایک بڑا مینہ میرے پر برسا
    إنّا نرجّع صوتنا بغناۂم
    إنّا سُقینا من کؤوس دِنانہم
    ہم انہیں کے گیت کو سُروں کے ساتھ گاتے ہیں
    ہم انہیں کے پیالوں میں سے پلائے
    گئے ہیں
    قوم فنوا فی سبلِ مَربَعِ ربّہم
    والعُمی لا یدرون مطلع شأنہم
    وہ ایک قوم ہے جو خدا کی راہ میں فنا ہوگئی
    اور اندھے ان کی شان کے مطلع کو نہیں دیکھتے
    کم من شریر أُہلکوا
    بعنادہم
    ورأوا مُدَی نحرٍ وراء کُبانہم
    بہت شریر ہیں جو بوجہ ان کے عناد کے ہلاک کئے گئے
    اور اپنی بیماری کے بعد ذبح کرنے کی کار دیں انہوں نے دیکھ لیں
    وسیُرغِم اللّٰہُ القدیر
    أنوفہم
    ویُری المہیمن ذُلَّ داءِ خُنانہم
    عنقریب خدا تعالیٰ ان کی ناکوں کو خاک میں ملائے گا
    اور ان کی ناک کی بیماری کی ذلت دکھاوے گا
    الیوم قد فرحوا برجسِ تنصُّرٍ
    والحق لا یخطو إلٰی
    آذانہم
    آج وہ لوگ نصرانیت کی ناپاکی سے خوش ہو رہے ہیں
    اور سچائی ان کے کانوں کی طرف قدم نہیں بڑھاتی
    قوم تمیل مع الہوی أفکارہم
    وعفَتْ نقوشُ الصدق من حیطانہم
    یہ ایک قوم ہے
    جن کے فکر نفسانی خواہش کے ساتھ جھک پڑتے ہیں
    اور سچائی کے نقش ان کی دیواروں سے مٹ گئے ہیں
    ظہرؔ ت کأثر السمّ ثورۃُ وعظہم
    رحلتْ تُقاۃ الخَلق من إدجانہم
    زہر کے اثر کی
    طرح ان کے وعظ کا جوش ظاہر ہے
    ان کے مقام سے لوگوں کی پرہیز گاری کوچ کر گئی
    ہل شاہدتْ عیناک قومًا مثلہم
    أم ہل سمعتَ نظیرہم فی ذانہم
    کیا ایسی قوم تُو نے کوئی اور بھی
    دیکھی
    یا ان کے عیب میں اُن کی کوئی دوسری نظیر بھی سنی
    بطریقۃٍ سنّتْ لہم آباؤہم
    یدعو إلی الجَہْلات صوت کِرانہم
    اس طریق سے جو ان کے باپ دادوں نے مقرر کیا ہے
    ان کا طنبور
    باطل باتوں کی طرف بلا رہا ہے
    فکأنّ أبواب المکائد کلہا
    فُتحتْ لفتنتنا علٰی رُہبانہم
    پس گویا کہ تمام فریبوں کے دروازے
    ان پر اس لئے کھولے گئے کہ تا ہمارا امتحان ہو
    قد آثروا طرق
    الضلال تعمّدًا
    ما زاد خسران علٰی خُسرانہم
    گمراہی کی تمام راہوں کو پسند کر لیا
    جس ٹوٹے میں وہ پڑے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی اور ٹوٹا نہیں
    إن الصلیب سیُکْسَرَنْ ویُدَقَّقَنْ
    جاء الجِیادُ
    وزہَق وقتُ أتانہم
    صلیب تو عنقریب ٹوٹ جائے گا
    گھوڑے آئے اور گدھیاں بھاگیں
    الکذب مجبنۃٌ لکل مُباحث
    لکنہم ترکوا حیاء جنانہم
    جھوٹ بولنا ہریک بحث کرنے والے کے لئے بد
    دلی کا باعث ہوتا ہے
    مگر انہوں نے تو اپنے دل کا حیا ترک کر دیا
    سمٌّ مبید مہلکٌ فی لبنہم
    مَکْرٌ مُضِلُّ الخَلقِ فی ہَدَجانہم
    اُن کے دودھ میں زہر ہے جو ہلاک کرنے والی اور مارنے والی ہے
    ان کی پیرانہ رفتار میں ایک مکر ہے جو خلقت کو گمراہ کرنے والا ہے
    فارْبَأْ بدینک عند رؤیۃ وجہہم
    واقنَعْ بشَوکٍ مِن جَنی بستانہم
    پس جب تو ان کو ملے تو اپنے دین کی نگرانی رکھ
    اور ان
    کے باغ کے پھل سے بیزار ہوکر کانٹے پر قناعت کر
    الموت خیر للفتٰی من خبزہم
    فاصبرْ ولا تجنَحْ إلی تَہْتانہم
    جوانمرد کے لئے مرنا ان کی روٹی سے بہتر ہے
    پس صبر کر اور ان کی ایک
    ساعت کے مینہہ کی طرف مت جھک
    و نضارۃ الدنیا تزول بطرفۃٍ
    فاقنَعْ ولا تنظُرْ إلی أفنانہم
    اور دنیا کی تازگی ایک دم میں دور ہوجاتی ہے
    سو قناعت کر اور ان کی شاخوں کی طرف نظر مت
    کر
    النار تسقط کالصواعق عندہم
    فتجافَ یا مغرورُ عن أحضانہم
    آگ ان کے پاس بجلی کی طرح گر رہی ہے
    پس ان کے کناروں سے اے دھوکا کھانے والے ایک طرف ہو جا
    أینؔ المفرّ من
    القضاء إذا دنا
    إلّا إلٰی رَبٍّ مُزیلِ قِنانہم
    تقدیر سے کہاں بھاگیں جب آگئی
    صرف خدا تعالیٰ کی پناہ ہے جو ان کے ٹیلوں کو دور کرے گا
    یَسْبون جہّالًا برقّۃ لفظہم
    یُصْبون قلب الخَلق من
    إحسانہم
    جاہلوں کو اپنی نرمی سے غلام بنا لیتے ہیں
    اور اپنے احسانوں سے خلقت کے دل اپنی طرف کھینچتے ہیں
    فلذا یُحِبُّ مزوِّرٌ أدیارَہم
    مِن شحّہ میلًا إلی مرجانہم
    اسی لئے ایک مکار ان
    کے گرجاؤں سے پیار کرتا ہے
    اپنے لالچ سے ان کے موتی کی خواہش سے
    ولو انتقدتَ جموعہم فی دَیرہم
    لوجدتَ سقطًا شیخہم کعَوَانہم
    اور اگر تو ان کے گرجاؤں میں ان کی جماعتوں کو
    پَرکھے
    تو ان کے بڈھے کو ایسا ہی ردی پائیگا جیسا کہ ان کے درمیانی عمر والے کو
    ما الفرق بین المشرکین وبینہم
    بل ہم بنوا قصرًا علی بنیانہم
    ان میں اور مشرکین میں فرق کیا
    ہے
    بلکہ انہوں نے تو مشرکوں کی بنیاد کو ایک محل بنا دیا
    یہوی إلیہم کلُّ نِکْسٍ فاسقٍ
    لیبیت شَبْعانًا بلحم جِفانہم
    ہر یک ضعیف فاسق اُن کی طرف گرتا ہے
    تا ان کے پیالوں کے گوشت سے
    پیٹ بھر کے رات گذارے
    فی قلبنا وجعٌ وشوکُ دعابۃٍ
    من نَخْزِہم خبثًا وطولِ لسانہم
    ہمارے دل میں ایک درد اور ان کے ٹھٹھوں کی وجہ سے ایک کانٹا ہے
    کیونکہ انہوں نے اپنی زبان درازی اور
    خبث سے ہمارے دل کو خستہ کیا
    ما إنْ أری أثر الدلائل عندہم
    أصبَوا قلوبَ الخلق من عِقیانہم
    میں ان کے پاس دلائل کا نشان نہیں دیکھتا
    لوگوں کے دل اپنے سونے کی وجہ سے کھینچ لیے ہیں
    قد عاث فی الأقوام ذئب شیو!خہم
    حدثتْ فنون الفسق مِن حدثانہم
    ان کے بڈھوں کے بھیڑئیے نے قوموں میں تباہی ڈالی
    اور ان کے جوانوں سے طرح طرح کے فسق پھیلے
    تعریسہم آثارُ
    عزمِ رحیلہم
    یُخفُون فی الأرْدان حبلَ ظِعانہم
    رات کو اترنا ان کے کوچ کی نشانی ہے
    اور اپنی آستینوں میں لمبے رسے اسباب باندھنے کے چھپا رکھے ہیں
    عارٌ علی الفَطِن الزکیّ
    طعامُہم
    ضارٌ لخلق اللّٰہ ماءُ شِنانہم
    ایک دانا پاک طبع پر عار ہے کہ ان کا کھانا کھاوے
    اور خلق اللہ کے لئے ان پرانی مشکوں کا پانی مضر ہے
    للمرء قربُ المؤذیات جمیعہا
    خیرٌ لحفظ
    الدین من قربانہم
    انسان کے لئے تمام موذی جانوروں کا قرب
    اُن کے قرب سے اپنا دین بچانے کے لئے بہتر ہے
    لکؔ کلَّ یومٍ ربِّ شأنٌ معجِبٌ
    فانصُرْ عبادک ربّ فی میدانہم
    اے میرے رب ہر
    یک دن تیری عجیب شان ہے
    سو تُو اپنے بندوں کی ان کے میدان میں مدد کر
    نَقنِی التضرّعَ والبکاء تصبّرًا
    نأوی إلی الرّحمٰن من رُکبانہم
    ہم صبر کر کے تضرع اور رونے کو لازم پکڑتے
    ہیں
    اور ان کے سواروں سے ہم خدائے تعالیٰ کی پناہ لیتے ہیں
    لِلّٰہِ سہمٌ لا یطیش إذا رمٰی
    للحقِّ سلطان علی سلطانہم
    خدا کا وہ تیر ہے کہ جب چھوٹا تو خطا نہیں جاتا
    اور خدا کا قہر ان
    کے قہر پر غالب ہے
    أَنزِلْ جنودک یا قدیرُ لنصرنا
    إنا لقِینا الموت من لُقْیانہم
    اے قادر ہمارے لے اپنا لشکر اتار
    کیونکہ ہم ان کے ملنے سے موت کو ملے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 120
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 120
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/120/mode/1up
    وأعجبَنی طریق المعترض الفتّان أنہ لا یمتنع من الہذیان، ویہذی کمثل النشوان، ویقول إن عیسٰی ہو الروح الذی یوجد ذکرہ فی جمیع
    مقامات القرآن، وفی کتب أخری التی ہی من اللّٰہ الرحمٰن، وما ہو إلا من الکاذبین۔ فاعلموا یا معشر الطلّاب أنہ یسعٰی إلی السراب ولا یخطو إلی الصواب، وإن فی کلامہ دجل عجیب وتمویہ غریب وکذب مبین۔
    ألا یعلم أن الروح نزل علی عیسٰیؔ کما نزل علی موسٰی ونبیّین آخرین؟ لِم یلبس الحق بالباطل کالدجّال الغالث؟ ألا یقرأ فی الإنجیل متّی الإصحاح الثالث وإذا السماوات قد انفتحت لہ، فرأی روحَ اللّٰہ نازلۃً
    مثل حمامۃ وآتیًا علیہ ۔۔۔ ثم أُصعِدَ یسوع إلی البریۃ من الروح لیجرَّب من الشیطان اللعین۔ فثبت أنّ روح القدس نزل علی المسیح کما نزل علی إبراہیم وإسماعیل الذبیح وغیرہ من المرسلین۔
    اور اس فتنہ
    انگیز معترض کے طریق سے مَیں تعجب کرتا ہوں بکواس سے باز نہیں آتا اور
    شرابیوں کی طرح بکواس کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ عیسیٰ وہی روح ہے جس کا جا بجا قرآن میں ذکر پایا جاتا
    ہے
    اور ایسا ہی دوسری کتابوں میں بھی ذکر پایا جاتا ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں حالانکہ وہ اس دعویٰ میں سراسر
    جھوٹ بول رہا ہے۔ سو اے حق کے طالبو! یقیناًسمجھو کہ
    وہ صرف ریت کی چمک کی طرف دوڑتا ہے جس میں پانی
    نہیں اور حق کی طرف قدم نہیں رکھتا اوراس کی کلام میں ایک عجیب قسم کا دجل ہے اور دھوکا دہی اور
    کھلا کھلا جھوٹ ہے۔ کیا نہیں
    جانتا کہ روح جیسا کہ حضرت عیسیٰ پر نازل ہوا ایسا ہی حضرت موسیٰ پر نازل ہوا
    اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر۔ کیوں حق کے ساتھ جھوٹ ملاتا ہے جیسے کہ دجال اچھے کے ساتھ برے کو
    ملانے والے۔ کیا
    وہ انجیل متی کے تیسرے باب کو نہیں پڑھتا کہ یکدفعہ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل گئے
    سو اس نے خدا کی روح کو کبوتر کی طرح اترتے اور اپنے پر آتے دیکھا۔
    پھر یسوع روح سے جنگل کی طرف چلا گیا
    تا شیطان سے آزمایا جاوے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ روح القدس
    مسیح پر ایسا ہی نازل ہوا جیسا کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور دوسرے نبیوں
    پر
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 121
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 121
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/121/mode/1up
    فاتق ربَّ العباد وفکِّرْ لطلب السَّداد، مجتہدًا لتحصیل الرشاد، وتارکًا سبل الرقاد وجاہدًا، ہل یکون النازل والمنزَل علیہ شیئا واحدا؟
    کلّا بل لا بد من أن یکونا شیئین متغائرین، کما لا یخفی علی ذی العینین، وعلی سائر العاقلین۔ فأیّ دلیل أکبر من ہذا لقوم منصفین، الذین ینثالون إلی الحق موجفین، ولا یترکون الصراط کعمین؟ وأیّ فرق فی
    الروح النازل علی عیسٰی والروح الذی أُعطِیَ لموسٰی کلیم رب العالمین؟ ألا تتفکرون یا معشر الظالمین وتسقطون علی أراجیف الکاذبین؟ ألا تقرأون فی التوراۃ الإصحاح الحادی عشر ما قیل إنہ قول أصدق
    القائلین، وہوؔ أنّ الربّ قالَ لِمُوسٰی فأنزلُ وأنا أتکلم معک، وآخذ من الروح الذی علیک وأضع علیہم، أَیْ علی أکابر أمّتہ، وہم کانوا سبعین۔ وکذلک نزل ہذا الروح علی جد عیسٰی ومُرشدہ داؤد
    سو خدا سے ڈر
    اور حق الامر کے ڈھونڈھنے کی فکر کر مگر اس فکر میں
    کوشش کر اور نیند کی راہوں سے الگ ہو کیا نازل اور منزل علیہ ایک ہی چیز ہو سکتے ہیں
    بلکہ یہ بات ضروری ہے کہ وہ دو متغائر
    چیزیں ہیں جیسا کہ عقلمندوں پر
    پوشیدہ نہیں۔ پس منصفوں کے لئے اس سے بڑھ کر اور کونسی دلیل ہوگی وہ منصف جو
    حق کی طرف متوجہ ہوکر دوڑتے ہیں اور راہ کو اندھوں کی طرح نہیں
    چھوڑتے اور کونسا فرق ان دو روحوں میں ہے
    جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ پر نازل ہوئیں
    اے ظالمو! کیا تم کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور جھوٹوں کی خبروں پر گرے جاتے ہو۔ کیا
    تم
    تورات کے گیارہویں باب میں وہ کلام نہیں پڑھتے جس میں کہا گیا ہے کہ اس خدا کا کلام ہے جو اپنی باتوں میں سب سے بڑھ کر سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ رب نے موسیٰ کو کہا کہ میں اتروں گا
    اور تجھ سے کلام کروں گا اور اس
    روح میں سے لوں گا جو تجھ پر ہے اور ان پر ڈالوں گا یعنی بنی اسرائیل کے اکابر پر جو ستر آدمی
    تھے۔ اور اسی طرح روح حضرت عیسٰے کے دادے اور اس
    کے مرشد یحییٰ پر بھی نازل ہوئی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 122
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 122
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/122/mode/1up
    ویحیی وغیرہما من النبیین۔ ولا حاجۃ إلی أن نطوّل الکلام ونضیع الأوقات ونزید الخصام، فإن الخواص من النصاریٰ والعوام یعرفونہ
    وما کانوا منکرین۔ فلم لا تَسْتشفّ أیہا الجہول والغبی المعذول فی کتب الأولین؟ ولم لا تقبل النصیحۃ، وتعادی العقیدۃ الصحیحۃ، ولا تکون من المسترشدین؟ نعطیک شہدًا یَنْقَع، وتعدو إلی سمّ مُنقَع، أترید أن
    تکون من الہالکین؟
    وأمّا ما ظننتَ أن اللّٰہ یسمّی المسیح فی القرآن روحًا من اللّٰہ الرحمٰن، ولا یسمیہ بشرًا ومن نوع الإنسان، فأعجبنی أنکم لم لا تأنفون من البہتان، ولم لا تستحیون من خرافات وتنضنضون
    نضنضۃ الثعبان، وما کنتم منتہین۔ وتمیسون کالسکاریٰ وجدانًا ووجدًا، ولا ترون غَورًا ولا نَجْدًا، ولاؔ تخافون ہوّۃ السّافلین۔ أجعلتم قرّۃ عیونکم
    اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر۔ اور کچھ ضرورت نہیں کہ ہم
    اس کلام کو طول دیں اور وقت کو ضائع
    کریں اور جھگڑے کو بڑھاویں کیونکہ نصاریٰ ان تمام باتوں کو جانتے ہیں
    اور منکر نہیں ہیں۔ پس اے نادان کیوں اپنی نظر کو پہلی کتابوں میں عمیق حد تک
    نہیں پہنچاتا
    اور کیوں نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور صحیح عقیدے کا دشمن ہو رہا ہے اور ہدایت کی راہ پر نہیں آتا۔ ہم تجھے ایک شہد پیاس بجھانے والا دیتے ہیں اور تو ایک تیز زہر کی طرف دوڑتا
    ہے تا اس کو پی لے کیا تیرا مرنے کا ارادہ ہے۔
    اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں مسیح کا نام روح من اللہ رکھتا ہے
    اور اس کا نام بشر نہیں رکھتا اور منجملہ نوع انسان اس کو
    قرار نہیں دیتا سو مجھے تعجب ہے کہ تم لوگ کیوں بہتان
    سے کراہت نہیں کرتے اور خرافات بکنے کے وقت تمہیں کیوں شرم نہیں آتی اور اژدہا کی طرح
    زبان ہلاتے ہو اور باز نہیں آتے اور تم
    مارے غصہ اور غم کے ایسے چلتے ہو جیسا کہ ایک مست
    چلتا ہے اور نشیب و فراز کو کچھ بھی نہیں دیکھتے اور گڑھے میں گرنے سے نہیں ڈرتے۔ کیا جھوٹ بولنے میں ہی تمہاری
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 123
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 123
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/123/mode/1up
    ومسرّۃ قلوبکم فی الأکاذیب، وطبتم نفسًا بإلغاء طلب الحق وإلقاء حبل اللّٰہ القریب، وکنتم قوما عادین؟ ویل لکم۔ إنکم سقطم علی دِمْنَۃ،
    وأعرضتم عن روضۃ، بل ترکتم شجراءَ وآثرتم مَرْداءََ، ونزلتم عن متن الرکوبۃ، واخترتم طریق الصعوبۃ، وقفوتم أثر المبطلین۔
    وإن کنتم تظنون أن القرآن صدّق قولکم وأعان، وقال فی شأن عیسی ورُوحٌ منہ
    وقبِل أنہ خرَج مِن لدنہ، فما ہذا إلا جہل صریح ووہم قبیح وخطأ مبین۔ ثم إن فُرِضَ أن قولہ تعالی ورُوحٌ منہ یزید شأنَ ابن مریم، ویجعلہ ابن اللّٰہ وأعلی وأکرم، فیجب أن یکون مقام آدم أرفع منہ وأعظم، ویکون
    آدم أول أبناء ربّ العالمین؛ فإن فی شأن آدم بیان أکبر من شأن عیسٰی، فتفکَّرْ فی آیۃ 3 وتدبَّرْ کأولی النہی، وفکِّرْ فی لفظ خلقتُ بیدی ولفظ
    آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی ہے اور تم اس بات پر خوش
    ہو گئے کہ حق کو چھوڑ دو اور
    خدا کے رسہ کو جو بہت نزدیک ہے پھینک دو۔ تم پر افسوس کہ تم ایک مزبلہ پر گرے
    اور باغ سے کنارہ کیا بلکہ تم نے درختوں والی زمین کو چھوڑا اور ویران بے
    درخت زمین کو
    اختیار کیا اور سواری سے تم اتر بیٹھے اور خرابی اور سختی کا راہ اختیار کر لیا اور باطل پرستوں کے پیچھے لگ گئے۔
    اور اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ قرآن تمہارے قول کی
    تصدیق کرتا اور تمہیں مدد دیتا ہے اور عیسیٰ کے بارہ میں کہا ہے کہ
    وہ اس سے روح ہے اور اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ وہ اس سے نکلا ہے تو یہ خیال تمہارا صریح جہل اور مکروہ وہم ہے
    اور
    کھلاکھلا خطا ہے۔ پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ روح منہ کا لفظ حضرت عیسیٰ کی شان بڑھاتا ہے اور اس کو
    ابن اللہ اور بلند تر ٹھہراتا ہے سو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت آدم کا مقام
    حضرت مسیح
    سے زیادہ بلند ہو اور پہلا بیٹا خدا تعالیٰ کا حضرت آدم ہی ہو۔ کیونکہ حضرت آدم کی شان میں
    حضرت عیسیٰ کی نسبت زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے سو عقلمندوں کی طرح لفظ
    فقعوا لہ ساجدین میں غور کر
    اور پھر اس لفظ میں غور کر جو خلقت بیدی اور سوّیتہ اور نفخت فیہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 124
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 124
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/124/mode/1up
    وألفاظ أخری، لیظہَر علیک جلالۃُ آدم وشأنہ الأعلٰی۔ فإن منطوق الآیۃ یدل علی أن روح اللّٰہ نزل فی آدم بنزول أجلی، حتّٰی جعلہ
    مسجودَ الملا ئکۃ ومظہرَ تجلّیاتٍ وأقربَ إلی اللّٰہ الأغنی، وأعلمَ وأفضلَ من الملا!ئکۃ أجمعین، وخلیفۃَ اللّٰہ علی الأرضین۔ وأما الآیۃ التی نزلت فی شأن عیسی فما تجعلہ أرفع وأعلی ولا أصفٰی وأزکٰی، بل
    یثبت منہ أن عیسٰی روحٌ من اللّٰہ وعبدُہ العاجز کأشیاء أخریٰ ومن المخلوقین۔ ما سجَدہ إبلیس، بل أمرہ أن یسجد لہ، ومع ذلک جرّبہ ذلک الخبیث، وسجد لآدم الملا ئکۃ کلّہم أجمعین۔ وإنّ آدم أنبأ الملا ئکۃَ
    بأسماء سائر الأشیاء ، فثبت أنہ أعلم وسِرُّہ محیط علی الأرض والسماء ، ولکن عیسی أقرّ بأنہ لا یعلم الساعۃ، وأشار إلی أن الملا ئکۃ قد فاقوہ علمًا وأکملوا الخوف والطاعۃ، فتفکروا فی ہذا ولا تمشوا
    کقوم
    من روحی ہے اور دوسرے لفظوں کو بھی سوچ تاکہ تیرے پر حضرت آدم کی شان اعلیٰ ظاہر ہو کیونکہ
    منطوق آیت کا دلالت کرتا ہے کہ روح اللہ آدم میں اترا تھا اور وہ اترنا بہت روشن تھا
    یہاں تک کہ آدم
    ملائکہ کا سجدہ گاہ ٹھہرا اور تجلیات عظمیٰ کا مظہر بنا اور خدائے غنی سے بہت قریب ہوا
    اور افضل ٹھہرا۔ اور خدا تعالیٰ کا خلیفہ بنا مگر وہ آیت جو
    حضرت عیسیٰ کی شا
    ن میں نازل ہوئی ہے سو وہ اس کو کچھ بہت اونچا نہیں بناتی اور نہ زیادہ پاک اور صاف بناتی
    ہے بلکہ اس سے تو صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روح
    ہیں جیسا کہ دوسری چیزیں خداتعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ مخلوق ہے شیطان نے اس کو سجدہ نہ کیا بلکہ چاہا کہ وہ شیطان کو سجدہ کرے اور اس کا امتحان لیا اور آدم کو تمام
    فرشتوں نے سجدہ کیا اور آدم نے فرشتوں کو
    تمام چیزوں کے نام بتلائے پس ثابت ہوا کہ وہ ان سے زیادہ عالم تھا اور اس کا سر تمام کائنات پر محیط تھا
    مگر حضرت عیسیٰ نے تو اقرار کیا کہ اس
    کو قیامت کا علم نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی اشارہ کیا کہ ملائک اس سے
    علم اور طاعت میں افضل ہیں سو اس بات کو سوچو اور اندھوں کی طرح مت چلو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 125
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 125
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/125/mode/1up
    عمین۔ ثم إذا دقّقتَ النظر اوأمعنت فیما حضر، فیظہر علیک أن قولہ تعالی رُوحٌ منہ یشابہ قولہ تعالٰی جمیعًا منہ، فمن الغباوۃ أن تُثبِت
    من لفظ رُوحٌ مِنْہُ ألوہیۃَ عیسی، ولا تُقِرّ من لفظ جمیعًا منہ بألوہیۃ أرواح الکلاب والقردۃ والخنازیر وأشیاء أخری، فإن منطوق الآیۃ یشہد علی أنہا جمیعا منہ، فمُتْ من الندامۃ إن کنت من المستحیین وتفکروا
    یا معشر النصاریٰ ألیس فیکم رجل من المتفکرین؟ ولیس لک أن ترفع فی جوابنا الصوتَ وأن تلاقی من فکرک الموتَ، فإن مثل الکاذب کخُذْروفٍ مُدَحْرَجٍ ولا قرار لہ عند الصادقین۔
    ومن اعتراضات ہذا الخائن
    الضنین أنہ ذکر فی توزینہ الذی ہو عُشُّ الشیاطین، أن وحی القرآن کان من الشیطان، وما کان من الرّوح الأمین، وأَوَّلَ لفظَ شَدیدُ الْقُوَی ولفظ ذُو مِرَّۃ بالخُبث
    پھر اگر تو غور سے دیکھے اور واقعات موجودہ
    میں غور کرے تو تیرے پر ظاہر ہو گا کہ اللہ جلّ شانہ‘ کا یہ قول کہ
    روح منہ ایسا ہی قول ہے جیسا کہ اس کا دوسرا قول سو بڑی نادانی کی بات ہے کہ روح منہ
    کے لفظ سے حضرت عیسیٰ
    کی خدائی تو ثابت کرے اور جمیعاً منہ کے لفظ سے
    کتوں اور بلیوں اور سؤروں اور دوسری تمام چیزوں کی خدائی کا اقرار نہ کرے کیونکہ منطوق آیت کا
    دلالت کر رہا ہے کہ ہر یک چیز جمیعاً
    منہ میں داخل ہے یعنی تمام ارواح وغیرہ خدا سے ہی نکلے ہیں پس اب ندامت
    سے مر جا اگر کچھ شرم ہے اور اے نصرانی لوگو! اس میں غور کرو کیا تم میں کوئی بھی غور کرنے والا نہیں ہے
    اور کبھی ممکن نہیں
    جو تو ہمارا جواب دے سکے اگرچہ اسی فکر میں مر جائے کیونکہ جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح
    گردش میں ہوتا ہے اور سچوں کے سامنے اس کو قرار نہیں۔
    اور اس بخیل
    خیانت پیشہ کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے جو وہ اپنی کتاب توزین میں جوشیاطین کا آشیانہ ہے یہ لکھتا ہے کہ وحی قرآن شیطان کی طرف سے تھی اور روح الامین کی طرف سے نہیں تھی اور
    شدید القوٰی اور ذو مرّۃ کے لفظ کی اس نے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 126
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/126/mode/1up
    واتّباع الہوی وبتأویلات بعیدۃ ومکائد عُظمٰی، وآذی قلوب المؤمنین، وکذلک ترَک الحیاء ، ووَدَّعَ الارْعِواء ، وحسِب أفضلَ الرسل
    کالمجنون، وتباعدَ عن الحق تباعُدَ الضبّ من النون، وعادَی المصلحین اللامّین۔ واعترض علٰی فصاحۃ صحف اللّٰہ القرآن وبلاغۃ حبل اللّٰہ الفرقان، ظلمًا وزورًا، لیرضی قومًا بورًا، مع أنہ کان من الجاہلین
    العمین۔ وواللّٰہ إنہ جہول لا یعلم لسان العرب وطرق بیانہ، ولیس فیہ جوہر سوی حصائد لسانہ، ولأجل ذلک لا یوجد فی کتبہ شیء من غیر سبّہ وہذیانہ، وما وسِعہ کتمانُ الحق وتخطءۃُ الأَولی الأحقِّ، فعدا
    کالعِدا إلی التوہین۔ وماؔ قرأنا کتابًا أغیَظَ من کتبہ، وما رأینا عُبابًا أکثرَ مِن عَبَبِ کذبہ، وما سمعنا سبًّا أکبر من سبّہ، ولا خَبًّا کخبِّہ، فنأوی إلی اللّٰہ مِن جُبِّہ وہو خیر الناصرین۔ ونعوذ بہ
    ہوا پرستی کی وجہ
    سے تاویل کی ہے اور تاویلات بعیدہ اور فریبوں سے کچھ کا کچھ بنایا ہے اور مومنوں کے
    دل کو دکھ دیا ہے۔ اسی طرح اس نے حیا کو ترک کیا اور شرم کو رخصت کیا اور افضل الرسل کی نسبت یہ
    گمان
    کیا کہ نعوذ باللہ ان کو جنّ کا آسیب تھا۔ اور حق سے ایسا دور جا پڑا جیسا کہ سوسمار جو خشک زمین میں رہتی ہے مچھلی سے جو
    پانی میں رہتی ہے دور رہتی ہے اور نیک کاموں کے حامی
    مصلحوں کی دشمنی اختیار کی اور قرآن شریف کی بلاغت
    فصاحت پر اعتراض کیا تا ان باتوں سے ایک ہلاک شدہ قوم کو خوش کرے حالانکہ یہ شخص جاہل
    اور اندھوں کی طرح ہے اور بخدا یہ
    شخص سراسر نادان اور زبان عرب سے کچھ بھی واقف نہیں اور سوا زبان درازی
    کے اس میں کچھ بھی جوہر نہیں اس لئے اس کی کتابوں میں بغیر گالیوں اور بکواس کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ
    تو
    اس سے نہ ہو سکا کہ حق کو پوشیدہ اور اس میں کچھ نقص ثابت کرے پس وہ لاچار ہو کر
    دشمنوں کی طرح توہین کی طرف دوڑا اور ہم نے کوئی ایسی کتاب نہیں پڑھی جو اس کی کتاب
    سے
    زیادہ غصہ دلانے والی ہو اور نہ کوئی سیلاب دیکھا جو اس کے جھوٹ سے زیادہ ہو اور اس کی گالیوں جیسی کسی کی
    گالیاں نہیں سنیں اور اس کے فریبوں جیسا کسی میں فریب نہ دیکھا۔
    پس اس کے فتنہ سے ہم خداتعالیٰ کی طرف پناہ لے جاتے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 127
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/127/mode/1up
    من غوائلہ، ونشکو إلیہ من رذائلہ، وما نری أن ینزع عن الغی بغیر الکیّ، وکذلک کانت سِیر المفسدین۔
    وقد صدق فیہ أخوہ الحَفِیُّ
    والودود الولیُّ، القسیس رجب علی، قال قد صنّف أخونا عماد الدین کتبًا فی ردّ الإسلام، وأشاع دلائل التثلیث فی الخواص والعوام، فبما کانت دلائلہ مجموعۃ الأباطیل بعیدۃ من تنقید الدلیل، ندِمنا غایۃ الندامۃ،
    وصِرْنا ہدف الملامۃ، وما وسِعنا بعدہا استحیاءً أن نُرِیَ وجوہَنا المسلمین۔۱؂
    وأما استدلالہ من لفظ شدید القویٰ علی الشیطان، ووہمُہ أن القوۃ کلہ لہذا السرحان، لا للّٰہِ ولا لِمَلَکِ الرحمٰن، فلأجل ذلک خُصّ
    بہذا الاسم فی القرآن، فلا نفہم سرّ ہذہ الأقاویل، ولا نجد فیہا رائحۃ من الدلیل؛ فلعلہ کذلک قرأ فی الإنجیل
    اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے اور اس شخص کی بلاؤں سے ہم اس کی پناہ مانگتے ہیں اور
    اس کی بدیوں سے ہم اس کی طرف شکوہ لے جاتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ یہ شخص بغیر کسی داغ کے اپنی گمراہی سے باز آ جائے۔ اور مفسدوں کی یہی خصلت ہوا کرتی ہے۔
    ’’اور اس کے
    بارے میں اس کے بھائی مہربان اور دوست پادری رجب علی نے سچ کہا ہے چنانچہ اس کا
    قول ہے کہ جب سے ہمارا بھائی عماد الدین اسلام کے رد میں کتابیں تالیف کرنے لگا اور تثلیث کے دلائل
    شائع کئے
    سو اس سبب سے کہ وہ دلائل مجموعہ اباطیل تھے اور ان میں کوئی بھی سچی دلیل نہیں تھی
    ہمیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑا اور ہم ملامت کے نشانہ ٹھہر گئے اور بعد اس کے ہم مارے
    شرم کے
    ایسے ہو گئے کہ اس قابل نہ رہے کہ مسلمانوں کو اپنا منہ دکھا سکیں۔‘‘
    مگر اس شخص کا شدید القویٰ کے لفظ سے شیطان پر استدلال پکڑنا اور یہ وہم کرنا کہ شدید القویٰ
    اس لئے
    قرآن میں شیطان کا نام ہے کہ تمام قوتیں اسی بھیڑئیے کو حاصل ہیں نہ خداتعالیٰ کو اور نہ اس کے کسی
    فرشتہ کو حاصل ہیں سو ہم اس کے اس قول کا بھید نہیں سمجھتے
    اور ہم اس میں کسی دلیل
    کی بو نہیں پاتے پس اس نے شاید اسی طرح انجیل میں پڑھا ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 128
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/128/mode/1up
    الحاشیہ متعلق صفحہ ۱۰۵ ۱؂ نور الحق الحصّۃ الاُولٰی
    و انّا نرٰی ان نکتب ھٰھنا بعض المقالات اھل الاٰراء واٰراء اھل
    الدھاء
    اور ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس جگہ بعض اہل الرائے کے وہ کلمات لکھیں
    فی تصانیف عماد الدّین فنکتبھا بعباراتھم الاصلیۃ فی اللسان الھندیۃ
    جو انہوں نے پادری عماد الدین کے
    تصانیف کے بارے میں تحریر فرمائے ہیں
    اعنی اُردو ناقلین من رسالۃ عقوبۃ الضالین المطبوعۃ فی نصرۃ المطابع
    سو ہم انہیں کی اردو عبارات نقل کر دیتے ہیں جو رسالہ عقوبۃ الضالین مطبوعہ
    نصرۃ المطابع
    دھلی فی ردّ ھدایۃ المسلمین وھو ھٰذا یا معشر المنصفین۔
    دہلی میں درج ہیں اور عقوبۃ الضالین وہ رسالہ ہے جو ایک صاحب نے ردّ ہدایت المسلمین میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے:۔
    رائے ہندو پرکاش امرتسر و آفتاب پنجاب لاہور کہ ان دونوں اخباروں کے مالک اہل ہنود ہیں
    چونکہ پادری عماد الدین صاحب امرتسر میں پادری کا کام کرتے ہیں وہیں کے اخبار ہندو پرکاش جلد۲ نمبر۴
    مطبوعہ ۱۲۔ اکتوبر ۱۸۷۴ ؁ء صفحہ ۱۰و ۱۱ میں جو امرت سر کے اہل ہنود کی طرف سے جاری ہے لکھا ہے کہ پادری عماد الدین کی تصنیفات تاریخ محمدی وغیرہ (وغیرہ سے مراد ہدایۃ
    المسلمین) کچھ اُس کتاب سے شورش انگیزی میں کم تر نہیں کہ جس نے بمبئی کے مسلمانوں اور پارسیوں کے صدہا سالہ اتفاق اور محبت کو نفاق اور عداوت سے مبدل کر دیا اور دونوں کو یکلخت
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 129
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 129
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/129/mode/1up
    ہلاکت کا منہ دکھایا یہاں پادری صاحب کی تصانیف یعنی تاریخ محمدیؐ اور ہدایۃ المسلمین اور تفسیر مکاشفات امن عامہ کی
    خلل اندازی میں کس لئے ناکام رہیں پنجابی مسلمان مفلس کم ہمت اور اکثر جاہل ہیں یا وہ اُن کو سمجھتے نہیں اور صرف مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علت غائی پر تصنیف کی
    گئی ہیں۔ اگر بفرض محال وہ سارے الزامات سچے بھی سمجھے جاویں تاہم بیچارے پادری صاحب کے کام تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے اعتراض سے محفوظ نہیں کیونکہ اس میں ہر ایسے فعل کا
    رفاہ عامہ کی نیت سے ہونا مستثنیٰ کے لئے مشروط ہے۔ مندرجہ بالا فقرے ہم نے اخبار آفتاب پنجاب جلد ۲ نمبر ۳۹ سے انتخاب کئے ہیں جس بنا پر اخبار مذکور کے ایڈیٹر صاحب نے
    وہ تمام
    مضمون لکھا ہے ہم اس سے صرف مقتبس فقروں کی نسبت اپنا اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور جو شکایت صاحب موصوف پادری عماد الدین کی تصنیفات کے بارہ میں کرتےؔ ہیں بلحاظ ملکی مصلحتوں کے
    ہم اتنا زیادہ کہتے ہیں کہ اس کی تصانیف سے جس کا حوالہ اوپر درج ہے بلاشبہ مُلکی امن میں خلل پڑ سکتا ہے اور وہ کچھ عجیب ڈھنگ سے مرتب ہوئی ہیں کہ جن کو فی الجملہ شرارت انگیز بلکہ
    شرر خیز کہنا ذرا بھی غیر حق بات نہیں۔ ایسے ایسے ملکی شور و شر کے حق میں جو اس قسم کی کتابوں سے پیدا ہوتا ہے بقول وقائع نگار موصوف کے سرکار کی طرف سے مناسب انتظام لا بُد ہے۔
    ہم بتلا سکتے ہیں کہ دانشمند گورنمنٹ نے اس طرح کے معاملات میں دخل دیا ہے۔ چنانچہ اسی ہندوستان کے اندر لارڈ وِلزلے صاحب سابق گورنر جنرل نے ۱۷۹۸ ؁ء میں ہندوؤں کی رسم جَل پَروا کو
    حکماً بند کر دیا اور ۱۸۲۷ ؁ء کے اندر لارڈ ولیم بنٹنگ صاحب گورنر جنرل نے ستی کی قدیم رسم کو قانون مرتب کر کے موقوف کروا دیا۔ گورنمنٹ اس بات کو معلوم کر لے کہ کیوں ہندوستان کے
    مسیحی مصنفوں میں سے تمام لوگ پادری عماد الدین کو ہی انگشت نما کرتے ہیں اس کی یہ وجہ ہے کہ وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ میری تالیفات سے عام لوگ مذہبی ولولہ میں آ کر اور حرارت سے
    مغلوب ہو کر بے ادائیاں کریں اور سرکار میں مُفسد شمار ہو جاویں۔ ہم نے سنا ہے کہ پنجاب ٹریکٹ سوسائٹی کی پبلشنگ کمیٹی نے شورش انگیز کتاب مذکور کے دوسرے حصہ کو اسی وجہ سے
    نامنظور کیا ہے کہ اس میں پہلے حصہ سے زیادہ دل شکن باتیں درج ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو بہت خوب کیا۔‘‘ انتہیٰ تمام ہوئی عبارت ہندو پرکاش۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 130
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 130
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/130/mode/1up
    و اؔ ستنبط من قصّۃ إبلیس إذا أتی المسیح کالفیل، وقادہ بقوتہ العظمٰی إلٰی بعض جبال الجلیل، وجرّبہ بالأباطیل، وما استطاع المسیح
    أن لا یمیل إلیہ مِن قَوْدِہ، ولا یخطو إلی طَودہ، ویأخذ بفَودہ، ویزیل لظاہ بجَودہ، بل مشی تِلْوَہ کالضعفاء المستضعفین۔ فإن کان مبدأ الوہم ہذا الخیال، کما أنی أخال، فلا نُنکر واقعۃ المسیح، ونؤمن بہ کالأمر
    الصحیح، ونقرّ بأن شیطان ذٰلک المسیح کان شدید القوی، فلذٰلک قادہ إلی جبال عُلی، وقال اسجدنی۱؂ ، أعطیک دولۃ عظمٰی، ومُلکًا لا یبلٰی، وطمِع فی إیمان ضعیفٍ غریب، ووثب علیہ کذئب رغیب، وما ترکہ إلا
    إلٰی حین ولفظ الحین موجود فی إنجیل لوقا بالیقین، فلینظر من کان من المرتابین۔ ولا شک أن الشیطان إذا أتی بعد زمان، فعلّم التثلیث عند لقاءٍ ثان، وأہلک الہالکین، لأن اللقاء کان من مواعید الشیطان اللعین۔
    وأما
    یا اس خیال کو مسیح کے اس قصہ سے استنباط کیا ہے جب شیطان ہاتھی کی طرح اس کے پا س آیا اور ایک بڑی قوت
    کے ساتھ گلیل کے ایک پہاڑ پر اس کو لے گیا اور اپنے اباطیل کے ساتھ
    اس کی آزمائش کی اور مسیح سے یہ نہ ہوا کہ
    اس کی طرف جانے سے اپنے تئیں روک لے اور اس کے پہاڑ کی طرف قدم نہ اٹھا وے اور اس کے سر کو پکڑ لے اور
    اور اپنے منہ سے اس کی
    آگ کو نابود کرے بلکہ مسیح تو اس کے پیچھے کمزوروں کی طرح چل پڑا پس اگر اس وہم کا اصل موجب یہی خیال ہے جیسا کہ میں گمان کرتا ہوں پس ہم اس واقعہ سے انکار نہیں کرتے اور امر
    صحیح کی طرح اس کو مان لیتے ہیں اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ ایسے مسیح کا شیطان درحقیقت شدید القویٰ ہی تھا اسی وجہ سے تو وہ اس کو پہاڑوں
    کی طرف کھینچ کر لے گیا اور کہا کہ مجھے
    سجدہ کر تجھے دولت اور بڑا ملک دوں گا اور ایک ضعیف
    غریب آدمی کے ایمان میں اس نے طمع کی اور حرص کی وجہ سے بھیڑئیے کی طرح اس پر حملہ کیا اور پھر اس سے
    دوبارہ آنے کا
    پختہ ارادہ رکھ کر دور ہو گیا اور حین کا لفظ انجیل لوقا میں بالیقین موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
    اور کچھ شک نہیں کہ جب شیطان دوسری مرتبہ آیا تو اس نے تثلیث سکھلائی
    اور مرنے
    والوں کو مارا کیونکہ دوسری مرتبہ آنا شیطان کا وعدہ تھا مگر مسیح کے شیطان
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 131
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 131
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/131/mode/1up
    قیاسہ علی أفضل الرسل وخیر الأنبیاء ، فقیاس مع الفارق وبعید عن الحیاء وقد قال نبیّنا صلی اللّٰہ علیہ و سلم لِعُمَرَ ما لقِیک الشیطان
    فی فَجٍّ إلا سلَک فجًّا غیر فجّک، ویثبت من ہذا الدلیل أن الشیطان یفرّ منؔ عمر کالجبان الذلیل، وأما المسیح فیسمّی أفضل صحابتہ شیطانا فی الإنجیل، فانظر الفرقَ بینہما خائفا من الرب الجلیل، ولا تبادر إلی سبل
    الشیاطین۔ ثم إذا کانت القوۃ کلّہ للشیطان فما بال إلٰہکم الضعیف الذی ما لہ قِبَلٌ بہذا السر!حان، بل تبِعہ کالمغلوب أو کمحتاج ذی الکروب، وقادہ الشیطان بمکر عجیب، ودعاہ إلی إغرار غریب۔ والعجب أنہ
    مع دعاوی الألوہیّۃ وإدلال الإبنیّۃ، تبِعہ بحسن الظن وما فہِم أنہ حُوَّلٌ قُلَّبٌ، ووعدہ بَرْقٌ خُلَّبٌ، وہو رئیس الکاذبین۔ وأنتم تعلمون الیہود کانوا یقولون للمسیح إنک ما تُری
    شدید القویٰ کا قیاس آنحضرت صلی
    اللہ علیہ وسلم پر کرنا قیاس مع الفارق ہے اور ایسا قیاس
    حیا سے بعید ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو کہا تھا کہ اگر شیطان تجھ کو کسی راہ
    میں پاوے تو دوسری راہ اختیار
    کرے اور تجھ سے ڈرے۔ اور اس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان
    حضرت عمر سے ایک نامرد ذلیل کی طرح بھاگتا ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے بڑے صحابی کو شیطان فرمایا
    پس خدا کے
    خوف سے دیکھ کہ ان دونوں باتوں میں کس قدر فرق ہے اور شیطانوں کی راہ
    کی طرف مت دوڑ۔ پھر جبکہ تمام قوتیں شیطان کے لئے ہی ٹھہریں تو تمہارے اس کمزور خدا کا
    کیا حال ہے جو اس
    سے مقابلہ نہ کر سکا بلکہ ایک مغلوب اور حاجت مند کی طرح اس کے پیچھے
    لگ گیا اور ایک مکر عجیب کے ساتھ شیطان نے اس کو کھینچا اور ایک عجیب دھوکا کی طرف اس کو بلایا
    اور تعجب
    کہ وہ باوجود خدائی کے دعوے اور ابن اللہ ہونے کے ناز کے پیچھے لگ گیا
    اور نہ سمجھا کہ وہ بڑا حیلہ ساز اور مُتفنی ہے اور اس کا وعدہ برق بے باران ہے اور وہ
    جھوٹوں کا سردار ہے۔ اور
    تم جانتے ہو کہ یہود مسیح کو کہا کرتے تھے کہ توخداتعالیٰ کی طرف
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 132
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 132
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/132/mode/1up
    الخوارق من الرحمٰن بل من الشیطان، ومعک شیطان من الشیاطین۔ ثم إن کان ہذا ہو الحق أعنی إذا فرضنا أن القوۃ کلہ للشیطان
    الذلیل، فما جاء فی الإنجیل بکمال التفصیل أن یسوع رجع بقوۃ الروح إلی الجلیل لا یکون صحیحًا، بل کذبًا صریحًا وتحریف المحرفین، ویکون المراد من الروح شیطانًا من الشیاطین۔
    ثم إنک ظننت أن القرآن
    لیس فی بلاغتہ إلی حد الإعجاز، بل یوجد فیہ رائحۃ التکلف والارتماز، ولا یمیز رقیقَ اللفظ من الجَزْل، والجِدَّ منؔ الہزل، وفیہ ألفاظ و!حشیۃ وکلمات أجنبیۃ، ولیس بعربی مبین۔ أما الجواب فاعلم أن ہذا
    القول منک ومن أمثالک أعجبُ العجائب وأعظم الغرائب، ولا یرضی بہ أحد من المنْصِفین۔ ألا تعلم یا مسکین أنک رجل من الجہّال، وما تدری إلا مکائد الضلال، ولا تعلم
    سے نشان نہیں دکھلاتا بلکہ ایک
    شیطان کی مدد سے دکھاتا ہے۔
    پھر اگر ہم فرض کریں کہ سب قوت شیطان ہی کو ہے تو اس
    صورت میں انجیل کا وہ فقرہ صحیح نہ ہو گا جو یسوع گلیل کی طرف روح کی قوت سے گیا تھا
    بلکہ کہنا پڑے گا کہ روح سے مراد
    شیطان ہے۔
    پھر تو نے یہ گمان کیا ہے کہ قرآن اپنی بلاغت میں حد اعجاز تک نہیں بلکہ
    اس میں تکلف اور اضطراب کی بو پائی جاتی ہے اور وہ ہزل اور
    رقیق لفظوں سے
    خالی نہیں اور اس میں وحشی الفاظ اور اجنبی کلمات ہیں اور فصیح عربی
    نہیںَ سو اب میں تیرا جواب لکھتا ہوں پس جان کہ یہ قول تجھ سے اور اوروں سے جو تیری مانند
    ہیں
    نہایت عجیب ہے اور کوئی منصف اس سے راضی نہیں ہو گا۔
    اے مسکین تُو تو نادانوں میں سے ایک نادان آدمی ہے اور بجز گمراہی کے فریبوں کے اور کچھ تجھے معلوم نہیں اور
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 133
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 133
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/133/mode/1up
    أسالیب لسان العرب وطرق بلاغۃ المقال؟ بل أظن أنک لا تعرف حرفا من العربیۃ، فکیف اجترأت علی ہذہ الغَذْمرۃ الکریہۃ؟ أتصول
    أیہا الجاہل الکاہل علی الذی أفحمَ أکابرَ بلغاء الزمان، وأتمّ الحجۃ علی فصحاء أہل اللسان، وخضعتْ لہ أعناق الأدباء ، وآمن بہ نوابغ الشعراء ، وجاء وا خاضعین مقرّین؟ أأنت أسبَقُ منہم فی معرفۃ مواد
    الأقاویل وتمییز الصحیح من العلیل، أو أنت من المجنونین؟ ألا تعلم أنہم کانوا أہل اللسان، وقد غُذُّوا بلبان البیان، وکان یُصبون القلوب بأفانین العبارات ومُلح الأدب ونوادر الإشارات، وکانوا فی ہذہ السکک وعلمِ
    محاسنہا من الماہرین؟ ألستَ تعلم أن القرآن ما ادّعی إعجاز البلاغۃ إلا فی الریاغۃ، فإن العرب فی زمانہ کانوا فصحاء العصر وبلغاء الدہر، وکان مدار تفاخُرہم علی غُرَر البیان
    تجھے کچھ بھی خبر نہیں
    کہ لسان عرب کے اسلوب کیا ہیں اور بلاغت کی راہیں کون سی ہیں بلکہ میں گمان کرتا ہوں کہ تو
    عربی کا ایک حرف بھی نہیں جانتا۔ پس کیونکر تو نے اس آوازِ مکروہ پر جرأت کی
    اے جاہل کاہل
    کیا تو اس کلام پر حملہ کرتا ہے جس نے بڑے بڑے بلغاءِ زمانہ کو ساکت کر دیا اور
    زمانہ کے مشہور فصیحوں پر اپنی حجت پوری کی اور ادیبوں کی گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور شعراء میں
    بڑے بڑے نابغہ
    اس پر ایمان لائے اور اقراری اور فروتن بن کر اس کی طرف رجوع کر لیا کیا زبان شناسی میں تو ان سے بڑھا ہوا ہے
    اور صحیح اور غیر صحیح میں فرق کرنے میں تو زیادہ
    طاقت رکھتا ہے یا تو دیوانہ ہے ۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ
    وہ لوگ اہل زبان تھے اور خوش تقریری کے دودھ سے پرورش یافتہ تھے اور رنگا رنگ کی عبارات
    اور عجیب اشارات سے دلوں کو اپنی
    طرف کھینچ لیتے تھے اور ان کوچوں میں
    اور علم محاسن بیان میں ماہر تھے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ قرآن نے
    اعجاز بلاغت کا دعویٰ کشتی گاہ کے میدان میں کیا ہے کیونکہ عرب اس کے
    زمانہ میں
    فصحاء عصر اور بلغاء دہر تھے اور ان کے باہم فخر کرنے کا مدار فصیح اور با آب و تاب تقریروں پر تھا
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 134
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 134
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/134/mode/1up
    ودُرَرِہ وثمار الکلام وزہرہ، وکانوا یناضلون بالقصائد المبتکَرۃ والخطب المحبَّرۃ، ولکن ما کان لہم أن یتکلموا فی اللطائف الحِکْمیۃ،
    وما مسّتْ بیانَہم رائحۃُ المعارف الإلہیّۃ، بل کان مسرح أفکارہم إلی الأبیات العشقیۃ، والأضاحیک الملہیۃ، وما کانوا علی ترصیعِ مضامین الحِکم قادرین۔ وکانوا قد مرنوا من سنین علی أنواع النظم والنثّر
    ولطائف البیان، وسُلِّموا وقُبِلوا فی الأقران، وکانوا أہل اللسان وسوابق المیادین۔ فخاطبہم اللّٰہ وقال وقال فعجِز الکفار عن
    اور نیز کلام کے پھلوں اور پھولوں پر ناز کرتے تھے اور ان کی لڑائیاں نو ایجاد
    قصیدوں اور پاکیزہ
    خطبوں کے ساتھ ہوتی تھیں مگر ان کو لطائف حکمیہ میں بات کرنے کا سلیقہ نہ تھا
    اور ان کے بیان کو معارفِ الٰہیہ کی بُو بھی نہیں پہنچی تھی بلکہ ان کے فکروں کا
    چراگاہ
    صرف عشقیہ شعروں اور ہنسانے والے اور غافل کرنے والے بیتوں تک تھا اور مضامین حکمیہ کی
    مرصع نگاری پر وہ قادر نہ تھے حالانکہ وہ ایک زمانہ سے نظم اور
    نثر اور لطائف
    بیان کرنے کے مشتاق تھے اور اپنے ہم جنسوں میں مسلم اور مقبول تھے اور اہل زبان اور
    میدانوں میں سبقت کرنے والے تھے۔ پس خداتعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تمہیں اس کلام
    میں شک ہوجو
    ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو تم بھی کوئی سورت اس کی مانند بنا کر لاؤ اور اگر بنا نہ سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز
    بنا نہیں سکو گے سو اس آگ سے ڈرو جس کے ہیزم افروختنی
    آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔ اور فرمایا کہ اگر تمام جن و انس اس بات کے لئے اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنا لاویں تو
    ہرگز نہیں لا سکیں گے
    اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ پس کفار مقابلہ سے عاجز آ گئے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 135
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 135
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/135/mode/1up
    المقابلۃ وولّوا الدبر کالمغلوبین۔ ولما عجزوا عن النضال فی البیان، مالوا إلی السیف والسنان، متندمین مغتاظین وکثیر منہم أسلموا
    نظرًا علی ہذہ المعجزۃ کلبید بن ربیعۃ العامری، صاحبِ المعلقۃ الرابعۃ، فإنہؔ أدرک الإسلام وتشرّفَ بہ وأری الإخلاصَ التّام، ومات سنۃ إحدی وأربعین۔ وکذٰلک کثیر منہم أقرّوا بأنّ القرآن مملوٌّ من
    العبارات المہذَّبۃ، والاستعارات المستعذَبۃ، والأفانین المستملَحۃ، والمضامین الحِکمیۃ الموشَّحۃ، بل مَن أمعنَ منہم النظرَ فسعی إلی الإسلام وحضر ودخل فی المؤمنین۔ فلو کان القرآن متنزلًا من أعلی مدارج
    الکمال فی فصاحۃ المقال وبلاغۃ الأقوال، لکان الأمر أسہل علی المخالفین، ولقالوا أیہا الرجل إن الکلام الذی عرضتَ علینا والحدیث الذی أتیتَہ لدینا لیس بفصیح بل لیس
    اور مغلوب ہو کر پیٹھیں پھیر لیں
    اور جب خوش تقریری کی لڑائیوں سے عاجز آ گئے
    تو شرمندہ اور غضبناک ہو کر تلوار اور نیزہ کی طرف جھک گئے اور بہت سے ان میں سے
    اعجاز بلاغت قرآن کو تسلیم کر کے ایمان لائے
    جیسا کہ لبید بن ربیعۃ العامری جو معلقہ رابعہ کا مصنف
    ہے اس نے اسلام کا زمانہ پایا اور مشرف باسلام ہوا اور پورا اخلاص دکھایا اور
    سن اکتالیس میں فوت ہوا۔ اور اسی طرح بہتوں نے ان
    میں سے قرآن شریف کی بلاغت
    فصاحت کو قبول کر لیا اور اقرار کر لیا کہ درحقیقت قرآن عبارات پاکیزہ سے پُر اور شیریں استعارات سے مالا مال
    اور ملیح تقریروں اور آراستہ اور حکمیہ
    مضمونوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ جس نے اس میں نظر غور کی
    سو وہ اسلام کی طرف دوڑا اور ایمان والوں میں داخل ہوا۔ پس اگر قرآن
    فصاحت بلاغت کے اعلیٰ مدارج سے متنزل ہوتا تو مخالفوں
    پر بات
    بہت آسان ہو جاتی۔ اور وہ کہہ سکتے تھے کہ اے مرد جو کلام تُو نے پیش کی ہے
    اور جو بات تُو لایا ہے وہ فصیح نہیں ہے بلکہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 136
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 136
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/136/mode/1up
    بصحیح، ولا نجد فیہ غیر المعانی المطروقۃ الموارد والکلام الرقیق البارد، وما جئت بأطیب وأحلی، وفیہ ألفاظ کذا وکذا، وإنک
    أسقطتَ فی کلامک وباعدتَ عن مرامک، ولست من المُجیدین؛ فلا حاجۃ إلی أن نأ تی بمثلہ من الأقوال، أو نتوازن فی المقال، ونتحاذٰی حذو النعال، فإلیک عنّا وتجافَ، واترُک الأوصاف، فإن کلامک سَقََط عند
    الأدباء المشہورین والفصحاء الماہرین۔ ولکنہم ما سرَوا ذلک المسری، وما قدحوا فی ہذا الدعوی، بل قبِلوا أعلٰی مرا تب بلاغتہ، وعجبوا لعلوِّ شأنِ فصاحتہ، وقالوا إنْ ہذا إلّا سحرٌ مبین۔ وأکثرؔ ہم آمنوا
    بإعجازہ وأقرّوا بتناوُش بازِہ، وعجزوا عن درکِ ہِنْدازِہ، وقالوا کلامٌ فاقَ کلماتِ البشر، وکلُّہ لُبٌّ ولیس معہ شیء من القشر، وعلیہ طلاوۃ، وفیہ حلاوۃ، وہو غَدَق لا ینفد مِن شُرب الشاربین۔ وما نبسوا بکلمۃ فی
    قدح شأنہ
    صحیح بھی نہیں ہے اور اس میں معانی مطروقہ الموارد پائے جاتے ہیں اور اس میں الفاظ رقیقہ
    موجود ہیں اور تُو نے اپنی کلام میں غلطی کی ہے اور مطلب سے دور جا پڑا
    ہے اور
    کوئی نکتہ تیری کلام میں نہیں بلکہ اس میں تو ایسے ایسے لفظ ہیں پس کچھ حاجت نہیں
    کہ ہم اس کی کوئی نظیر بناویں یا اس سے نعل بنعل مقابلہ کریں ہم سے الگ ہو اور اپنی کلام کی
    تعریفیں
    چھوڑ دے کیونکہ تیرا کلام مشہور ادیبوں کے نزدیک
    ردّی ہے مگر کفار عرب اس راہ نہیں چلے اور اس دعویٰ میں انہوں نے کچھ
    جرح قدح نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو قرآن کے اعلیٰ مراتب
    بلاغت کو قبول کر لیا اور اس کی عظیم الشان فصاحت سے تعجب
    میں رہ گئے اور کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ اور اکثر ان کے اس قرآنی معجزہ پر ایمان لائے اوراقرار کر لیا کہ اس کے باز کی
    سخت پکڑیں ہیں اور اس کی حقیقت کی دریافت سے عاجز رہ گئے اور کہا کہ یہ ایک کلام ہے کہ کلمات بشر پر غالب آ گیا اور وہ سارے کا سارا مغز ہے اور اس کے ساتھ چھلکا نہیں اور اس پر ایک
    آب و تاب ہے اور اس میں ایک حلاوت ہے اور وہ ایک بے اندازہ اور بکثرت مصفا پانی ہے جو پینے والوں کے پینے سے ختم نہیں ہوتا۔ اور قرآن کے قدح شان
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 137
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 137
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/137/mode/1up
    وما فاہُوا بکلامٍ فی جرح بیانہ، ونسوا جمال الفکر فی میدانہ، ثم رجعوا مرعوبین نادمین، وأکثرہم کانوا یبکون عند سماعہ ویسجدون
    باکین۔
    ہٰذا ما نجد فی القرآن الکریم وأحادیث النبیّ الرؤوف الرّحیم، إیمانًا ودیانۃً وصدقًا وأمانۃً، وما نجد کلمۃً خلاف ذلک من أسلاف النصاری أو المشرکین، وکانوا خیرا منکم فی تنقید الکلمات یا معشر
    الجاہلین۔ وأما ما ظننتَ أن فی القرآن بعض ألفاظ غیر لسان قریش، فقد قلتَ ہذا اللفظ من جہل وطیش، وما کنت من المتبصرین۔ اعلم أیہا الغبی والجہول الدنیّ، أن مدار الفصاحۃ علی ألفاظ مقبولۃ سواء کانت
    من لسان القوم أو مِن کلمٍ منقولۃ مستعمَلۃ فی بلغاء القوم غیرِ مجہولۃ، وسواء کانت من لغۃ قوم واحد ومن محاوراتہم علی الدوام، أو خالطَہا ألفاظٌ استحلاہا بلغاءُ القومؔ ، واستعملوہا
    میں وہ کوئی کلمہ
    منہ پر نہ لائے اور اس کی جرح میں انہوں نے کوئی بات منہ سے نہ نکالی اور اس کے میدان میں انہوں نے فکر کے اونٹ دوڑائے تو سہی مگر خوفناک اور شرمندہ ہو کر رجوع کیا اور اکثر ان کے
    قرآن کو سن کر روتے اور سجدہ کرتے تھے۔
    یہ وہ بیان ہے جو ہم قرآن کریم میں پاتے اور نبی رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں پڑھتے ہیں
    اور ہم نے اس کو ایماناً اور دیانتاً اورامانتاً
    لکھا ہے اور ہم اس کے برخلاف کوئی ایسا قول بھی نہیں پاتے جو اس وقت نصاریٰ
    اور مشرکوں کے منہ سے قرآن کی شان کے برخلاف نکلا ہو اور اے نادانو وہ نصاریٰ قرآن کی پرکھ میں تم سے
    بہتر تھے۔
    اور یہ جو تُو نے خیال کیا کہ قرآن میں بعض ایسے الفاظ ہیں کہ وہ زبان قریش کے مخالف ہیں سو
    یہ بات تیری سراسر جہل اور نفسانی جوش سے ہے اور بصیرت کی راہ سے
    نہیں۔
    اے غبی اور سفلہ نادان تجھے معلوم ہو کہ فصاحت کا مدار الفاظ مقبولہ پر ہوا کرتا ہے
    خواہ وہ کلمات قوم کی اصل زبان میں سے ہوں یا ایسے کلمات منقولہ ہوں جو بلغاء قوم کے استعمال
    میں
    آ گئے ہوں اور خواہ وہ ایک ہی قوم کی لغت میں سے ہوں اور ان کے دائمی محاورات
    میں سے ہوں یا ایسے الفاظ اُن میں مل گئے ہوں جو قوم کے بلغاء کو شیریں معلوم ہوئے اور انہوں نے ان
    کے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 138
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 138
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/138/mode/1up
    فی النظم والنثر من غیر مخافۃ اللَّوْم، مختارین غیر مضطرین۔ فلما کان مدار البلاغۃ علی ہذہ القاعدۃ فہذا ہو معیار الکلمات
    الصاعدۃ فی سماء البلاغۃ الراعدۃ، فلا حرج أن یکون لفظٌ من غیر اللسان مقبولًا فی أہل البیان، بل ربما یزید البلاغۃ من ہذا النہج فی بعض الأوقات، بل یستملحونہ فی بعض المقامات، ویتلذذون بہ أہلُ الأفانین۔
    ولٰکنّک رجلٌ غَمْرٌ جَہولٌ، ومع ذلک معاندٌ وعَجولٌ، فلأجل ذلک ما تعلم شیئا غیر حقدک وجہلک، وما تضع قدمًا إلا فی دَحْلِک، ولا تدری ما لسان العرب وما الفصاحۃ، ولا تصدر منک إلا الوقاحۃ، وما لُقِّنْتَ إلا سبّ
    المطہَّرین۔
    فاترُکْ أیہا الغافل سیرۃ الأشرار، واستحِ وانظرْ وجہک فی مرآۃ الأفکار۔ ہل قرأتَ شیئا فی مدّۃ عمرک من فن الأدب، أو عرفت فی طرقہ أفانینَ الوہد والحدب، أو ألّفتَ قطُّ بین کلمتین، ونظمتَ
    بیتًا
    استعمال اپنی نظم اور نثر میں جائز رکھے ہوں اور کسی ملامت سے نہ ڈرے ہوں اور نہ کسی اضطرار سے وہ الفاظ استعمال کیے ہوں پس جبکہ بلاغت کا مدار اسی قاعدہ پر ہوا پس یہی قاعدہ ان
    عبارات بلیغہ کے لئے معیار ہے جو فصاحت کے آسمان پر چڑھے ہوئے اور بلندی میں گرج رہے ہیں پس اس بات میں کچھ بھی حرج نہیں کہ ایک غیر زبان کا لفظ ہو مگر بلغاء نے اس کو قبول کر لیا ہو
    بلکہ اس طریق سے تو بسا اوقات بلاغت بڑھ جاتی ہے اور کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے بلکہ بعض مقامات میں اس طرز کو فصیح اور بلیغ لوگ ملیح اور نمکین سمجھتے ہیں اور تفنّن عبارات کے عشاق
    اس سے لذت اٹھاتے ہیں مگر تُو تو اے معترض ایک غبی اور جاہل ہے اور باوجود اس کے تُو جلد باز اور دشمن حق ہے اسی لئے تو بغیر کینہ اور جہل کے اور کچھ نہیں جانتا اور بغیر گڑھے کے اور
    کسی جگہ قدم نہیں رکھتا اور تُو نہیں جانتا کہ زبان عرب کیا شے ہے اور فصاحت کسے کہتے ہیں اور صرف بے حیائی تجھ میں ہے نہ اور کوئی لیاقت اور تجھ کو تو کسی نے سکھایا ہے کہ تُو پاکوں
    کو گالیاں دیتا رہے۔
    سو اے غافل شریروں کی خصلت چھوڑ دے اور کچھ شرم کر اور ذرا اپنے منہ کو فکر کے شیشہ میں
    دیکھ کہ کیا تو نے مدت عمر میں کبھی فن ادب سے کچھ پڑھا ہے یا
    رنگینی عبارات کے
    نشیب و فراز تجھے معلوم ہیں یا کبھی تو نے دو عربی کلموں کو جوڑا یا ایک دو بیت بنائے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 139
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 139
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/139/mode/1up
    أو بیتین؟ فَإِنْ ادّعیتَ فَأْتِ ببرہان مبین۔ وأنت تعلم أنی خاطبتک فی البراہین إذ صُلتَ علی القرآن والدّین المتین، وما کان خطابی إلا
    لِأُبْدِیَ علی الناس جہلَک الشدید، وذہنَک البلید، فقلتُ إن کنتَ تزعم أنک تعلم العربیۃ فأَرِنا مہارتک الأدبیۃ، ونحن نقصّ علیک قصّۃً فی لسان فتَرْجِمْہ فی العربیۃ بأحسن بیان إن کنت فیہا من الماہرین۔ وإن ترجمتَ
    فلک خمسون روبیۃ إنعامًا، ثم نقرّ بفضلک ونکرمک إکرامًا، ونحسبُک من الفضلاء المسلمین المرتدّین۔۱؂ ولکنّک سکتَّ کالأنعام، وما مِلتَ إلی الإنعام، وما نبست بکلمۃ الخیر والشرّ خوفًا من ہتک الستر وفضوح
    الحصر، فثبت أنک غبی قصیر الرسن، وما أصابک حظّ من اللسن، وما حرصتَ فی الإنعام لأنّک کنت جاہلًا کالأنعام، وما کان لک حظّ من العربیۃ بل ما کنت من الماسّین۔ فعلمتُ
    پس اگر تُو دعویٰ کرے تو اس
    بات کا ثبوت پیش کر۔ اور تجھے معلوم ہے کہ مَیں نے براہین میں بھی
    تجھے مخاطب کیا تھا جبکہ تُو نے قرآن شریف پر اور دین اسلام پر حملہ کیا تھا اور میرا مخاطب کرنا صرف
    اسی وجہ سے
    تھا کہ تا تیرا کُند ذہن اور سخت جاہل ہونا لوگوں پر ظاہر کروں پس مَیں نے کہا کہ اگر
    تُو یہ گمان کرتا ہے کہ تُو عربی جانتا ہے سو ہمیں اپنی مہارت ادبیہ دکھلاؤ اور ہم ایک قصہ کسی زبان میں تجھ
    کو
    سنائیں گے اور تجھ پر واجب ہو گا کہ تُو اس کی عبارت کو عربی بنا کر دکھلا دے
    پھر ہم تمہاری بزرگی کے اقراری ہو جائیں گے اور تیری تعظیم کریں گے
    اور تجھ کو متبحر فاضلوں
    میں سے تسلیم کریں گے مگر تُو چارپاؤں کی طرح چپ ہو گیا
    اور انعام لینے کی طرف رخ نہ کیا اور تُو جواب میں چپ ہی کر گیا نہ کچھ نیک کہا نہ بد کیونکہ اس میں
    تیری پردہ دری اور رسوائی
    تھی پس ثابت ہوا کہ تُو ایک غبی کم استعداد آدمی ہے اور تجھ کو عربی زبان سے
    کچھ بھی حصہ نہیں اور تُو نے انعام لینے کی طرف رغبت نہ کی کیونکہ تُو ایک جاہل چارپاؤں کی طرح تھا
    اور
    عالموں میں سے نہیں تھا۔ پس مَیں نے قطعی علم
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 140
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 140
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/140/mode/1up
    بعلمٍ قطعی أنک لا تعلم العربیۃ، ولا تستطیع أن تخترق فی مسالکہا وتنصلت فی سبلہا وسِککہا، وما فیک إلا حُمَۃُ لاسعٍ، لا حمیم فہمٍ
    واسعٍ، فلا تَفْجُسْ ولا تَعْلُ یا أسفل السافلین۔ أأنت مع جہلک ہذا تقدَح فی القرآن، وتزری علی کتاب فاق فصاحتہ نوع الإنسان، ولا تری صورتک ولا تنظر إلی مبلغ علمک یا مضیّعَ العقل والدّین؟ وإن کنت تحسب
    نفسک شیئا من الأشیاء ، وتظن أنک من الأدباء ، فہا أنا قمتُ لاستبراء زَنْدِک، واستشفافِ فِرِنْدِک، و اؔ بتدعتُ ہذہ الرسالۃ العُجالۃ فی العربیۃ لہذہ الأغراض الضروریۃ، وہی تحتوی علی غُرر البیان ودُررہ،
    ومُلح الأدب ونوادرہ، ووشّحتُہا بمحاسن الکنایات وبترصیع لآلِی النکات فی العبارات، وفیہا کثیر من الأمثال العربیۃ، واللطائف الأدبیۃ، والأشعار المبتکَرۃ، والقصائد المحبَّرۃ، ولم أودعْہا من الأشعار
    کے
    ساتھ جان لیا کہ تُو زبان عربی بالکل نہیں جانتا اور تجھے طاقت نہیں کہ اس کے کوچوں میں چل سکے اور اس کی
    تنگ راہوں میں گذر سکے اور تجھ میں تو صرف نیش نیش زنندہ ہے اور ایک قطرہ
    بھی علم وسیع کے مینہ میں سے تیرے
    پاس نہیں ہے پس تُو اے اسفل السافلین بزرگ منشی مت دکھلا۔ کیا تو باوجود اپنی اس نادانی کے قرآن میں جرح قدح
    کرتا ہے اور اس کتاب کا عیب ڈھونڈتا ہے
    جس کی فصاحت نوع انسان کی فصاحتوں پر غالب آ گئی اور
    اپنی شکل کو نہیں دیکھتا اور اپنے اندازہ علم کی طرف نگاہ نہیں کرتا اے دین اور عقل کے دشمن یہ تو کیا کرتا ہے۔ اور اگر تو
    اپنے
    نفس کو کچھ چیز سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ تُو بھی ایک ادیبوں میں سے ہے پس خبردار ہو جا کہ تیری پتھری کی آگ
    نکالنے کے لئے مَیں کھڑا ہو گیا ہوں اور تیری تلوار کا جوہر دیکھنے کے
    لئے میں اٹھا ہوں اور رسالہ عجالہ کو مَیں نے
    عربی میں اسی غرض سے تالیف کیا ہے اور یہ رسالہ نادر اور چمکیلے بیانوں سے پُر ہے جو موتیوں
    کی طرح ہیں اور نیز ادب کی نمکین عبارتوں
    پر مشتمل ہے اور مَیں نے اس کو بہت عمدہ کنایات اور نکات لطیفہ
    کے موتیوں سے مرشح اور مرصع کیا ہے اور اس میں امثال عربیہ بہت ہیں اور لطائف
    ادبیہ بکثرت ہیں اور اسی طرح اشعار
    نو طرز اور خوبصورت قصیدے بھی اس میں ہیں اور میں اس کتاب میں اشعار
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 141
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 141
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/141/mode/1up
    الأجنبیۃ بل کلہا نتائج خاطری وثمار شجراء فکری؛ وما فعلتُ ہذا إلا لأسبُر بہ غَوْرَ عقلک ومقدار فضلک، وأریٰ مبلغ علمک وعذوبۃ
    منطقک، وأُرِیَ الخَلْقَ أإنّک صادق فی دعواک وأہلٌ لبلواک، وہل لک حق أن تصول علی کتاب اللّٰہ القرآن وبلاغتہ وسِفْرِ اللّٰہ الرحمٰن وریاغتہ کما أنت زعمت، أو من الکاذبین الدجالین۔ وإنی أُلہمتُ من ربی أنک لا
    تقدر علی ہذا النضال، ویبدی اللّٰہ عجزک ویخزیک ویُثبت أنک أسیر فی الجہل والضلال، ولو اجتمعتْ قومک معک علی ہذا الخیال، فترجعون مغلوبین۔ ہذا مع اعترافی بأن ہذہ الرسالۃ لیست سبّاقَ الغایات فی
    توشیح المقال، بل اقتضبتُہا علی جناح الاستعجال، وأعلم أن الإ تیان بمثلہا أمرٌ ہیّن علی الأدباء ، بل یکفی فی ہذا أد ؔ نَی التِفاتِ البلغاء ۔ فإن اتّسعتَ فی الأدب فلیس من التعجب أن تقول أحلی
    اجنبیہ نہیں
    لایا بلکہ وہ سب میری طبیعت کے نتیجے اور میری زمین کے پھل ہیں اور مَیں نے یہ اس لئے کیا کہ تا
    تیری عقل کا عمق اور تیری فضیلت کا مقدار آزماؤں اور تیرا اندازہ علم اور شیرینی کلام کو
    دیکھوں
    کیا تُو اپنے دعویٰ میں سچا اور اپنے شور و شر کا اہل ہے اور کیا تجھے حق ہے کہ تُو
    کتاب اللہ قرآن پر حملہ کرے اور خداتعالیٰ کے صحیفوں کی بلاغت اور اس کے میدان کشتی گاہ کی
    نسبت نکتہ چینی کرے
    سو مَیں نے چاہا کہ دیکھوں کہ تُو اپنے دعووں میں سچا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے اور مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے الہام
    ہوا ہے کہ تو اس مقابلہ پر قادر نہیں ہو گا اور
    خداتعالیٰ تیرا عجز ظاہر کر دے گا اور تجھے رسو اکر دے گا اور ثابت کرے گا کہ تُو گمراہی میں اسیر ہے اور اگرچہ تیری قوم اس خیال مقابلہ میں تجھ سے متفق ہو جائے مگر آخر تم
    مغلوب ہو
    جاؤ گے یہ باوجود میرے اس اقرار کے ہے کہ یہ رسالہ اپنی بلاغت میں کوئی اعلیٰ درجہ کے
    کمال پر نہیں بلکہ مَیں نے جلد جلد اس کو گھسیٹ دیا ہے اور مَیں جانتا ہوں
    کہ اس کی نظیر بنانا
    ادیبوں پر بہت ہی آسان ہے بلکہ اُن کی ادنیٰ التفات اس کی
    نظیر بنانے کے لئے کافی ہے پس اگر تُو فن ادب میں وسیع مہارت رکھتا ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ ا،س سے زیادہ تر شیریں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 142
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 142
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/142/mode/1up
    وأفصحَ مما قلتُ إلی أسبوع مع أنک تؤلّف بتأییدِ جموع، لأنک لست من إعانتہم بممنوع وإنّی ما اتخذت معینا فی رسالتی ہذہ، وقلتُ ما
    قلتُ من عند نفسی من فضل ربّی فی أیّام معدودۃ کالمقتضبین۔ ومع ذلک إنی أُمہِلک وإخوانَک وجمیع خلا نک وقومک وأعوانک الّذین یقولون إنا نحن المولویون، إلی شہرین کاملین من یوم الإشاعۃ، لتُرِیَ کمال
    البراعۃ، فإن أتیتم بمثلہا فی ہذہ المدۃ التی ہی أقل الآجال، وتوازنتم فی کل أنواع المقال، ونرٰی أن قولکم تحاذَی حذو النعال، فلکم خمسۃ آلافٍ روبیۃ إنعامًا منّا وعدًا مؤکّدًا بقسم اللّٰہ ذی الجلال وإن لم تطمئن
    بالأیمان الإیمانیۃ فنجمع ذہب الشَرْطِ فی خزینۃ الحکومۃ البریطانیۃ لتکون من المطمئنین۔ ونُعاہد اللّٰہ بحلفۃٍ أن نعطی العدوّ حقّہ عند ظہور غلبۃٍ، ولو تخلّفْنا فکنّا کاذبین ونجعل الحکومۃ البرطانیۃ
    اور زیادہ
    تر فصیح بنا لیوے اور تجھ کو یہ اجازت بھی حاصل ہے کہ تو اپنے تمام گروہ کے ساتھ مل کر لکھے کیونکہ ہماری طرف سے
    ان سے مدد لینے کی تجھ کو ممانعت نہیں اور میں نے اس رسالہ میں
    کسی دوسرے سے مدد نہیں لی اور جو کچھ
    مَیں نے کہا وہ خداتعالیٰ کے فضل سے چند دنوں میں حاضر نویس کی طرح اپنی طرف سے کہا ہے۔ اور
    باوجود اس کے مَیں تجھے اور تیرے
    بھائیوں اور تیرے دوستوں اور تیری قوم اور تیرے مددگاروں کو
    جو کہتے ہیں جو ہم مولوی ہیں دو کامل مہینوں کی مہلت دیتا ہوں اور یہ مہلت اشاعت
    کی تاریخ سے ہے تاکہ تم اپنا کمال بلاغت
    دکھلاؤ پس اگر تم اس رسالہ کی مثل بنا لائے اور اس مدت میں جو بڑی
    وسیع مدت ہے تم نے ہر یک مماثلت اور موازنت کے لحاظ سے رسالہ بنا کر پیش کر دیا اور ہم نے دیکھ لیا کہ نعل بنعل تم
    نے
    مقابلہ کر دکھلایا تو اس صورت میں ہم تمہیں پانچ ہزار روپیہ انعام دیں گے یہ وعدہ اللہ جلّ شانہ‘ کی قسم کے ساتھ موکد ہے
    اور اگر تجھے ایمانی قسموں پر اعتبار نہ آوے پس ہم خزانہ
    انگریزی میں روپیہ جمع کرا دیں گے
    تاکہ تجھے اطمینان ہو۔ اور ہم خداتعالیٰ کی قسم کھاتے ہیں کہ فریق ثانی کو
    اس کا حق اس کے غلبہ کے وقت فی الفور دے دیں گے اور اگر ہم نے تخلف کیا تو
    پھر جھوٹے ٹھہریں گے اور ہم حکومت انگریزی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 143
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 143
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/143/mode/1up
    حَکَمًا لہذہ القضیۃ، ومخیَّرًا فی ہذہ الخطّۃ، ولہا أن تعطی إنعامنا کلَّ مَن باری کلامَنا وأری بوفق شرطنا نثرًا کنثرٍ ونظمًا کنظم فی
    القدر
    ؔ والعدّۃ والبلاغۃ والفصاحۃ والتزام الجدّ والحکمۃ، ہذا عہد منا، ولعنۃ اللّٰہ علی الناکثین۔ وللنصارٰی أن یتعاونوا لہذہ المقابلۃ ویقوموا متفقین لتلک المعرکۃ، ویکون بعضہم لبعض ظہیرًا، ولیستفسر
    الجاہل خبیرا، ولیطلبوا لأنفسہم کل نصیر ومعین، وبعید وقرین، ومسیحَہم الّذی ہو ربٌّ فی أعینہم ولا رَبَّ إلا اللّٰہ قیّوم العالمین، ولیستمِدّوا مِن روحہم الذی کان یعلم الألسنۃ إن کانوا صادقین۔
    ہٰذا ما رضینا
    علیہ مِن طیب نفسنا وانشراح صدرنا، ورضینا بالحکومۃِ البَریطانِیۃِ أن تکون حَکَمًا بیننا وبینہم، فإن تجد ہؤلاء الذین یصولون علی بلاغۃ القرآن وفصاحتہ، ویقولون إنا نحن المولویون
    کو اس مقدمہ کے
    فیصلہ کرنے کے حکم مقرر کرتے ہیں اور حکومت انگریزی کو اختیار ہو گا کہ ہمارا انعام اس کو دے دے جو مقابلہ کے وقت پورا اتر آوے اور اس کی شرط کے موافق نظم اور نثر بنا لیوے۔ نظم اپنے
    قدر اور بلاغت اور التزام حق
    اور حکمت میں نظم کے مانند ہو اور نثر نثر کے مانند ہو اور خدا کی *** اُن پر جو عہد پورا نہ کریں۔
    اور نصاریٰ کا اختیار ہو گا کہ اس مقابلہ میں ایک دوسرے کو
    مدد دیویں اور سب متفق ہو کر اس معرکہ کے لئے اٹھیں اور
    بعض بعض کے پشت پناہ بن جائیں اور ایک جاہل با خبر آدمی سے پوچھ لے اور دور و نزدیک سے ہر یک مددگار
    اور معین اپنے لئے بلا
    لیں اور مسیح سے بھی مدد لیں جو اُن کی نظر میں خدا ہے اور کوئی خدا نہیں بجز اس کے
    جو قیوم العالمین ہے اور چاہیئے کہ اپنے اس روح القدس سے بھی مدد لیں جو بولیاں سکھاتا تھا
    اگر
    سچے ہیں۔
    یہ وہ بات ہے جس پر ہم اپنے دل کی خوشی اور انشراح صدر سے راضی ہو گئے اور ہم اس بات پر
    بھی راضی ہو گئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں حَکَم بن
    جائے پس اگر گورنمنٹ ان لوگوں کو اپنے قولوں میں صادق پاوے جو قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت پر حملہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 144
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 144
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/144/mode/1up
    کعلماء المسلمین ولسنا مِن السفہاء الجاہلین ولنا ید طولٰی فی تنقید جِدّ القول وہزلہ وتنقیح رقیق اللفظ وجزلہ - صادقین فی ہذا
    الامتحان وسابقین فی ہذا المیدان، فلتُعْطِہم إنعامنا، ولیُکذَّبْ کلامنا، ولیُشَعْ کمالُ علمہم فی الدیار والبلدان، ولیشتہرْ فضائلہم إلٰی أقاصی البلدان، ولتُکتَب أسماء ہم فی الفاضلین۔ وإن لم تجدہم من العلماء والأدباء ،
    بلؔ وجدتْہم معشرَ الجہلاء والسفہاء ، بعیدِین من ہذا الزُّلال مُبْعَدین عن مثل ہذا الکمال، فنرجو من عدل الحکومۃ البریطانیۃ أن تمنع بعدُ ہؤلاء الکذّابین مِن أن یسمّوا أنفسہم مولویّین، ویصولوا علی بلاغۃ کلام
    اللّٰہ مع کونہم جاہلین۔
    وأوّلُ مخاطَبِنا فی ہذہ الدعوۃ، ومَدْعوُّنا لہذہ المعرکۃ، صاحبُ التوزین
    عماد الدین، فإنہ ینکر بلاغۃ القرآن وفصاحتہ، ویُرِی فی کلّ کتابٍ وقاحتہ
    علماء کی طرح مولوی ہیں اور
    نادان نہیں ہیں اور فصاحت اور عدم فصاحت میں فرق کرنے کے لئے
    ہم میں مادہ ہے اور گورنمنٹ دیکھے کہ وہ اس میدان میں درحقیقت پیش دستی لے جانے والے ہیں
    پس لازم ہوگا کہ گورنمنٹ
    ہمارا انعام ان کو لے دے اور ہمیں کاذب خیال کرے اور ان کے کمال
    علم کو ملکوں اور ولایتوں میں مشہور کرے اور دنیا کے کناروں تک ان کے فضائل مشتہر کر دے
    اور ان کے نام فاضلوں میں
    لکھ لے اور اگر گورنمنٹ ان کو ایسا نہ پاوے بلکہ
    ان کو ایک جاہلوں کا گروہ پائے جو اس قسم کے کمالات سے دور و مہجور ہیں
    پس ہم حکومت برطانیہ کے عدل اور انصاف سے امید رکھتے ہیں
    کہ بعد اس کے
    ان کذابوں کو اس بات سے منع کرے کہ اپنے تئیں مولوی کے نام سے موصوف کریں اور باوجود جاہل ہونے کے قرآن کریم کی بلاغت پر حملہ کریں۔
    اور اس دعوت میں ہمارا اول
    مخاطب اور اس معرکہ میں ہمارا اول مدعو پادری عماد الدین ہے
    کیونکہ وہ قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت سے انکاری ہے اور اپنی ہر ایک کتاب میں بے حیائی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 145
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 145
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/145/mode/1up
    ویقول إنّی عالم جلیل ذہین، وإن القرآن لیس بفصیح بل لیس بصحیح، وما أریٰ فیہ بلاغۃً، ولا أجد براعۃً، کما ہو زعم الزاعمین۔
    ویقول إنی سأکتب تفسیرہ، وکذلک نسمع تقاریرہ، فہو یدّعی کمالہ فی العربیۃ، ویسبّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم بکمال الوقاحۃ والفِرْیۃ، ویتزرّی علی کتاب اللّٰہ وعلی فصاحتہ، کأنہ عمُّ امرء القیس أو
    ابن خالتہ، ویسمّی نفسہ مولویًّا ویمشی کالمستکبرین۔
    ثم بعد ذلک نخاطب کلَّ متنصّر ملقَّب بالمولوی، الذی کتبْنا اسمہ فی الہامش۱؂ وندعو کلّہم للمقابلۃ ولہم خمسۃ آلاف إنعامًا منّا إذا ؔ أَتوا بکتاب کمثل ہذا
    الکتاب، کما کتبنا من قبل فی ہذا الباب،
    دکھلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک عالم بزرگ ہوں اور قرآن فصیح نہیں ہے بلکہ صحیح بھی نہیں ہے اور میں اس میں کوئی بلاغت نہیں دیکھتا اور نہ فصاحت
    جیسا کہ خیال کیا گیا ہے اور کہتا ہے کہ میں عنقریب تفسیر
    شائع کروں گا اور ایسی ہی اور باتیں ہم اس کی سنتے ہیں اور وہ کمال عربی دانی کا دعویٰ کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
    بباعث بے شرمی اور دروغگوئی کے گالیاں نکالتا ہے اور قرآن شریف کی فصاحت کی
    ایسے دعویٰ سے اور غرور سے عیب جوئی کرتا ہے کہ گویا وہ امرا القیس کا چچا یا خالہ زاد بھائی ہے اور
    اپنا نام
    مولوی رکھتا ہے اورمتکبروں کی طرح چلتا ہے۔
    پھر اس کے بعد ہم ہر ایک کرشٹان کو جو اپنے تئیں مولوی کے نام سے موسوم کرتا ہے مخاطب کرتے ہیں اور ان سب کے نام ہم نے حاشیہ
    میں لکھ دیئے ہیں اور ہم ان سب کو مقابلہ کے لئے بلاتے ہیں اگر وہ ایسی کتاب بناویں تو ہماری طرف سے ان کو پانچ ہزار روپیہ انعام ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور بالمقابل کتاب تالیف کرنے
    والوں کے لئے ہماری طرف سے
    ۱؂ مولوی کرم الدین ۔ مولوی نظام الدین۔ مولوی الٰہی بخش۔ مولوی حمید اللہ خان۔ مولوی نور الدین۔
    مولوی سید علی۔ مولوی عبداللہ بیگ۔ مولوی حسام الدین بمبئی۔
    مولوی حسام الدین۔ مولوی نظام الدین۔
    مولوی قاضی صفدر علی۔ مولوی عبدالرحمٰن۔ مولوی حسن علی وغیرہ وغیرہ۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 146
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 146
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/146/mode/1up
    والمہلۃُ منّا ثلا ثۃ أشہر للمعارضین، فإن لم یبارزوا، ولن یبارزوا، فاعلموا أنہم کانوا من الکاذبین۔
    واعلموا أن ہذا الإنعام فی
    صورۃ إذا أتوا برسالۃ کمثل رسالتنا، وعُجالۃ کمثل عجالتنا، وأثبتوا أنفسہم کمماثلین ومشابہین، وأمّا إذا أبوا و ولّوا الدبر کالثعالب، وما استطاعوا علی ہذہ المطالب، وما ترکوا عادۃ توہین القرآن، وما امتنعوا
    من قَدْحِ کتاب اللّٰہ الفرقان، وما تابوا من أن یسمّوا أنفسہم مولویین، وما ازدجروا مِن سبّ رسول اللّٰہ صلی اللّہ علیہ وسلم خاتم النبیّین، وما ازدجروا من قولہم أن القرآن لیس بفصیح، وما ترکوا سبیل التحقیر
    والتوہین، فعلیہم من اللّٰہ ألف لعنۃ فَلْیَقُلِ القوم کلہم آمین۔
    تین مہینہ مہلت ہے اور اگر مقابل پر نہ آویں اور ہرگز نہ آویں گے
    پس یقیناً جانو کہ وہ جھوٹے ہیں۔
    اور یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ انعام
    اس صورت میں ہے کہ جب بالمقابل رسالہ بعینہ ہمارے اس رسالہ کے
    مشابہ ہو اور مماثلت اور مشابہت کو ثابت کریں۔ لیکن اگر بنانے سے انکار کریں
    اور لومڑیوں کی طرح پیٹھیں دکھلاویں اور
    ان مطالب پر قدرت نہ پا سکیں اور نہ توہین قرآن شریف کی
    عادت کو چھوڑیں اور کتاب اللہ کی جرح و قدح سے باز نہ آویں
    اور نہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی دشنام دہی سے رکیں اور نہ
    اس بیہودہ گوئی سے اپنے تئیں
    روکیں کہ قرآن فصیح نہیں ہے اور نہ توہین اور تحقیر کے طریق کو چھوڑیں پس ان پر خدا تعالیٰ
    کی طرف سے ہزار *** ہے پس چاہیئے کہ تمام قوم کہے کہ
    آمین۔
    ۱ *** ۲ *** ۳ *** ۴ *** ۵ *** ۶ ***
    ۷ *** ۸ *** ۹ *** ۱۰ *** ۱۱ *** ۱۲ ***
    ۱۳ *** ۱۴ *** ۱۵ *** ۱۶ *** ۱۷ *** ۱۸ ***
    ۱۹ ***
    ۲۰ *** ۲۱ *** ۲۲ *** ۲۳ *** ۲۴ ***
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 147
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 147
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/147/mode/1up
    ۲۵ؔ *** ۲۶ *** ۲۷ *** ۲۸ *** ۲۹ *** ۳۰ *** ۳۱ ***
    ۳۲ *** ۳۳ *** ۳۴ *** ۳۵ *** ۳۶ ***
    ۳۷ *** ۳۸ ***
    ۳۹ *** ۴۰ *** ۴۱ *** ۴۲ *** ۴۳ *** ۴۴ *** ۴۵ ***
    ۴۶ *** ۴۷ *** ۴۸ *** ۴۹ *** ۵۰ *** ۵۱ *** ۵۲ ***
    ۵۳ *** ۵۴ *** ۵۵
    *** ۵۶ *** ۵۷ *** ۵۸ *** ۵۹ ***
    ۶۰ *** ۶۱ *** ۶۲ *** ۶۳ *** ۶۴ *** ۶۵ *** ۶۶ ***
    ۶۷ *** ۶۸ *** ۶۹ *** ۷۰ *** ۷۱ *** ۷۲ *** ۷۳ ***
    ۷۴
    *** ۷۵ *** ۷۶ *** ۷۷ *** ۷۸ *** ۷۹ *** ۸۰ ***
    ۸۱ *** ۸۲ *** ۸۳ *** ۸۴ *** ۸۵ *** ۸۶ *** ۸۷ ***
    ۸۸ *** ۸۹ *** ۹۰ *** ۹۱ *** ۹۲ *** ۹۳
    *** ۹۴ ***
    ۹۵ *** ۹۶ *** ۹۷ *** ۹۸ *** ۹۹ *** ۱۰۰ *** ۱۰۱ ***
    ۱۰۲ *** ۱۰۳ *** ۱۰۴ *** ۱۰۵ *** ۱۰۶ *** ۱۰۷ *** ۱۰۸ ***
    ۱۰۹ *** ۱۱۰
    *** ۱۱۱ *** ۱۱۲ *** ۱۱۳ *** ۱۱۴ *** ۱۱۵ ***
    ۱۱۶ *** ۱۱۷ *** ۱۱۸ *** ۱۱۹ *** ۱۲۰ *** ۱۲۱ *** ۱۲۲ ***
    ۱۲۳ *** ۱۲۴ *** ۱۲۵ *** ۱۲۶ ***
    ۱۲۷ *** ۱۲۸ *** ۱۲۹ ***
    ۱۳۰ *** ۱۳۱ *** ۱۳۲ *** ۱۳۳ *** ۱۳۴ *** ۱۳۵ *** ۱۳۶ ***
    ۱۳۷ *** ۱۳۸ *** ۱۳۹ *** ۱۴۰ *** ۱۴۱ *** ۱۴۲ *** ۱۴۳
    ***
    ۱۴۴ *** ۱۴۵ *** ۱۴۶ *** ۱۴۷ *** ۱۴۸ *** ۱۴۹ *** ۱۵۰ ***
    ۱۵۱ *** ۱۵۲ *** ۱۵۳ *** ۱۵۴ *** ۱۵۵ *** ۱۵۶ *** ۱۵۷ ***
    ۱۵۸ *** ۱۵۹
    *** ۱۶۰ *** ۱۶۱ *** ۱۶۲ *** ۱۶۳ *** ۱۶۴ ***
    ۱۶۵ *** ۱۶۶ *** ۱۶۷ *** ۱۶۸ *** ۱۶۹ *** ۱۷۰ *** ۱۷۱ ***
    ۱۷۲ *** ۱۷۳ *** ۱۷۴ *** ۱۷۵ ***
    ۱۷۶ *** ۱۷۷ *** ۱۷۸ ***
    ۱۷۹ *** ۱۸۰ *** ۱۸۱ *** ۱۸۲ *** ۱۸۳ *** ۱۸۴ *** ۱۸۵ ***
    ۱۸۶ *** ۱۸۷ *** ۱۸۸ *** ۱۸۹ *** ۱۹۰ *** ۱۹۱ *** ۱۹۲
    ***
    ۱۹۳ *** ۱۹۴ *** ۱۹۵ *** ۱۹۶ *** ۱۹۷ *** ۱۹۸ *** ۱۹۹ ***
    ۲۰۰ *** ۲۰۱ *** ۲۰۲ *** ۲۰۳ *** ۲۰۴ *** ۲۰۵ *** ۲۰۶ ***
    ۲۰۷ *** ۲۰۸
    *** ۲۰۹ *** ۲۱۰ *** ۲۱۱ *** ۲۱۲ *** ۲۱۳ ***
    ۲۱۴ *** ۲۱۵ *** ۲۱۶ *** ۲۱۷ *** ۲۱۸ *** ۲۱۹ *** ۲۲۰ ***
    ۲۲۱ *** ۲۲۲ *** ۲۲۳ *** ۲۲۴ ***
    ۲۲۵ *** ۲۲۶ *** ۲۲۷ ***
    ۲۲۸ *** ۲۲۹ *** ۲۳۰ *** ۲۳۱ *** ۲۳۲ *** ۲۳۳ *** ۲۳۴ ***
    ۲۳۵ *** ۲۳۶ *** ۲۳۷ *** ۲۳۸ *** ۲۳۹ *** ۲۴۰ *** ۲۴۱
    ***
    ۲۴۲ *** ۲۴۳ *** ۲۴۴ *** ۲۴۵ *** ۲۴۶ *** ۲۴۷ *** ۲۴۸ ***
    ۲۴۹ *** ۲۵۰ *** ۲۵۱ *** ۲۵۲ *** ۲۵۳ *** ۲۵۴ *** ۲۵۵ ***
    ۲۵۶ *** ۲۵۷
    *** ۲۵۸ *** ۲۵۹ *** ۲۶۰ *** ۲۶۱ *** ۲۶۲ ***
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 148
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 148
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/148/mode/1up
    ۲۶۳ؔ *** ۲۶۴ *** ۲۶۵ *** ۲۶۶ *** ۲۶۷ *** ۲۶۸ *** ۲۶۹ ***
    ۲۷۰ *** ۲۷۱ *** ۲۷۲ *** ۲۷۳
    *** ۲۷۴ *** ۲۷۵ *** ۲۷۶ ***
    ۲۷۷ *** ۲۷۸ *** ۲۷۹ *** ۲۸۰ *** ۲۸۱ *** ۲۸۲ *** ۲۸۳ ***
    ۲۸۴ *** ۲۸۵ *** ۲۸۶ *** ۲۸۷ *** ۲۸۸ *** ۲۸۹ ***
    ۲۹۰ ***
    ۲۹۱ *** ۲۹۲ *** ۲۹۳ *** ۲۹۴ *** ۲۹۵ *** ۲۹۶ *** ۲۹۷ ***
    ۲۹۸ *** ۲۹۹ *** ۳۰۰ *** ۳۰۱ *** ۳۰۲ *** ۳۰۳ *** ۳۰۴ ***
    ۳۰۵ اللعنۃ
    ۳۰۶ اللعنۃ ۳۰۷ اللعنۃ ۳۰۸ اللعنۃ ۳۰۹ اللعنۃ ۳۱۰ اللعنۃ ۳۱۱ اللعنۃ
    ۳۱۲ اللعنۃ ۳۱۳ اللعنۃ ۳۱۴ اللعنۃ ۳۱۵ اللعنۃ ۳۱۶ اللعنۃ ۳۱۷ اللعنۃ ۳۱۸ اللعنۃ
    ۳۱۹ اللعنۃ ۳۲۰ اللعنۃ ۳۲۱
    اللعنۃ ۳۲۲ اللعنۃ ۳۲۳ اللعنۃ ۳۲۴ اللعنۃ ۳۲۵ اللعنۃ
    ۳۲۶ اللعنۃ ۳۲۷ اللعنۃ ۳۲۸ اللعنۃ ۳۲۹ اللعنۃ ۳۳۰ اللعنۃ ۳۳۱ اللعنۃ ۳۳۲ اللعنۃ
    ۳۳۳ اللعنۃ ۳۳۴ اللعنۃ ۳۳۵ اللعنۃ ۳۳۶ اللعنۃ
    ۳۳۷ اللعنۃ ۳۳۸ اللعنۃ ۳۳۹ اللعنۃ
    ۳۴۰ اللعنۃ ۳۴۱ اللعنۃ ۳۴۲ اللعنۃ ۳۴۳ اللعنۃ ۳۴۴ اللعنۃ ۳۴۵ اللعنۃ ۳۴۶ اللعنۃ
    ۳۴۷ اللعنۃ ۳۴۸ اللعنۃ ۳۴۹ اللعنۃ ۳۵۰ اللعنۃ ۳۵۱ اللعنۃ ۳۵۲
    اللعنۃ ۳۵۳ اللعنۃ
    ۳۵۴ اللعنۃ ۳۵۵ اللعنۃ ۳۵۶ اللعنۃ ۳۵۷ اللعنۃ ۳۵۸ اللعنۃ ۳۵۹ اللعنۃ ۳۶۰ اللعنۃ
    ۳۶۱ اللعنۃ ۳۶۲ اللعنۃ ۳۶۳ اللعنۃ ۳۶۴ اللعنۃ ۳۶۵ اللعنۃ ۳۶۶ اللعنۃ ۳۶۷
    اللعنۃ
    ۳۶۸ اللعنۃ ۳۶۹ اللعنۃ ۳۷۰ اللعنۃ ۳۷۱ اللعنۃ ۳۷۲ اللعنۃ ۳۷۳ اللعنۃ ۳۷۴ اللعنۃ
    ۳۷۵ اللعنۃ ۳۷۶ اللعنۃ ۳۷۷ اللعنۃ ۳۷۸ اللعنۃ ۳۷۹ اللعنۃ ۳۸۰ اللعنۃ ۳۸۱ اللعنۃ
    ۳۸۲
    اللعنۃ ۳۸۳ اللعنۃ ۳۸۴ اللعنۃ ۳۸۵ اللعنۃ ۳۸۶ اللعنۃ ۳۸۷ اللعنۃ ۳۸۸ اللعنۃ
    ۳۸۹ اللعنۃ ۳۹۰ اللعنۃ ۳۹۱ اللعنۃ ۳۹۲ اللعنۃ ۳۹۳ اللعنۃ ۳۹۴ اللعنۃ ۳۹۵ اللعنۃ
    ۳۹۶ اللعنۃ ۳۹۷ اللعنۃ
    ۳۹۸ اللعنۃ ۳۹۹ اللعنۃ ۴۰۰ اللعنۃ ۴۰۱ اللعنۃ ۴۰۲ اللعنۃ
    ۴۰۳ اللعنۃ ۴۰۴ اللعنۃ ۴۰۵ اللعنۃ ۴۰۶ اللعنۃ ۴۰۷ اللعنۃ ۴۰۸ اللعنۃ ۴۰۹ اللعنۃ
    ۴۱۰ اللعنۃ ۴۱۱ اللعنۃ ۴۱۲ اللعنۃ ۴۱۳
    اللعنۃ ۴۱۴ اللعنۃ ۴۱۵ اللعنۃ ۴۱۶ اللعنۃ
    ۴۱۷ اللعنۃ ۴۱۸ اللعنۃ ۴۱۹ اللعنۃ ۴۲۰ اللعنۃ ۴۲۱ اللعنۃ ۴۲۲ اللعنۃ ۴۲۳ اللعنۃ
    ۴۲۴ اللعنۃ ۴۲۵ اللعنۃ ۴۲۶ اللعنۃ ۴۲۷ اللعنۃ ۴۲۸ اللعنۃ
    ۴۲۹ اللعنۃ ۴۳۰ اللعنۃ
    ۴۳۱ اللعنۃ ۴۳۲ اللعنۃ ۴۳۳ اللعنۃ ۴۳۴ اللعنۃ ۴۳۵ اللعنۃ ۴۳۶ اللعنۃ ۴۳۷ اللعنۃ
    ۴۳۸ اللعنۃ ۴۳۹ اللعنۃ ۴۴۰ اللعنۃ ۴۴۱ اللعنۃ ۴۴۲ اللعنۃ ۴۴۳ اللعنۃ ۴۴۴
    اللعنۃ
    ۴۴۵ اللعنۃ ۴۴۶ اللعنۃ ۴۴۷ اللعنۃ ۴۴۸ اللعنۃ ۴۴۹ اللعنۃ ۴۵۰ اللعنۃ ۴۵۱ اللعنۃ
    ۴۵۲ اللعنۃ ۴۵۳ اللعنۃ ۴۵۴ اللعنۃ ۴۵۵ اللعنۃ ۴۵۶ اللعنۃ ۴۵۷ اللعنۃ ۴۵۸ اللعنۃ
    ۴۵۹
    اللعنۃ ۴۶۰ اللعنۃ ۴۶۱ اللعنۃ ۴۶۲ اللعنۃ ۴۶۳ اللعنۃ ۴۶۴ اللعنۃ ۴۶۵ اللعنۃ
    ۴۶۶ اللعنۃ ۴۶۷ اللعنۃ ۴۶۸ اللعنۃ ۴۶۹ اللعنۃ ۴۷۰ اللعنۃ ۴۷۱ اللعنۃ ۴۷۲ اللعنۃ
    ۴۷۳ اللعنۃ ۴۷۴ اللعنۃ
    ۴۷۵ اللعنۃ ۴۷۶ اللعنۃ ۴۷۷ اللعنۃ ۴۷۸ اللعنۃ ۴۷۹ اللعنۃ
    ۴۸۰ اللعنۃ ۴۸۱ اللعنۃ ۴۸۲ اللعنۃ ۴۸۳ اللعنۃ ۴۸۴ اللعنۃ ۴۸۵ اللعنۃ ۴۸۶ اللعنۃ
    ۴۸۷ اللعنۃ ۴۸۸ اللعنۃ ۴۸۹ اللعنۃ ۴۹۰
    اللعنۃ ۴۹۱ اللعنۃ ۴۹۲ اللعنۃ ۴۹۳ اللعنۃ
    ۴۹۴ اللعنۃ ۴۹۵ اللعنۃ ۴۹۶ اللعنۃ ۴۹۷ اللعنۃ ۴۹۸ اللعنۃ ۴۹۹ اللعنۃ ۵۰۰ اللعنۃ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 149
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 149
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/149/mode/1up
    ۵۰۱ؔ اللعنۃ ۵۰۲ اللعنۃ ۵۰۳ اللعنۃ ۵۰۴ اللعنۃ ۵۰۵ اللعنۃ ۵۰۶ اللعنۃ ۵۰۷ اللعنۃ
    ۵۰۸ اللعنۃ ۵۰۹ اللعنۃ ۵۱۰
    اللعنۃ ۵۱۱ اللعنۃ ۵۱۲ اللعنۃ ۵۱۳ اللعنۃ ۵۱۴ اللعنۃ
    ۵۱۵ اللعنۃ ۵۱۶ اللعنۃ ۵۱۷ اللعنۃ ۵۱۸ اللعنۃ ۵۱۹ اللعنۃ ۵۲۰ اللعنۃ ۵۲۱ اللعنۃ
    ۵۲۲ اللعنۃ ۵۲۳ اللعنۃ ۵۲۴ اللعنۃ ۵۲۵ اللعنۃ
    ۵۲۶ اللعنۃ ۵۲۷ اللعنۃ ۵۲۸ اللعنۃ
    ۵۲۹ اللعنۃ ۵۳۰ اللعنۃ ۵۳۱ اللعنۃ ۵۳۲ اللعنۃ ۵۳۳ اللعنۃ ۵۳۴ اللعنۃ ۵۳۵ اللعنۃ
    ۵۳۶ اللعنۃ ۵۳۷ اللعنۃ ۵۳۸ اللعنۃ ۵۳۹ اللعنۃ ۵۴۰ اللعنۃ ۵۴۱
    اللعنۃ ۵۴۲ اللعنۃ
    ۵۴۳ اللعنۃ ۵۴۴ اللعنۃ ۵۴۵ اللعنۃ ۵۴۶ اللعنۃ ۵۴۷ اللعنۃ ۵۴۸ اللعنۃ ۵۴۹ اللعنۃ
    ۵۵۰ اللعنۃ ۵۵۱ اللعنۃ ۵۵۲ اللعنۃ ۵۵۳ اللعنۃ ۵۵۴ اللعنۃ ۵۵۵ اللعنۃ ۵۵۶
    اللعنۃ
    ۵۵۷ اللعنۃ ۵۵۸ اللعنۃ ۵۵۹ اللعنۃ ۵۶۰ اللعنۃ ۵۶۱ اللعنۃ ۵۶۲ اللعنۃ ۵۶۳ اللعنۃ
    ۵۶۴ اللعنۃ ۵۶۵ اللعنۃ ۵۶۶ اللعنۃ ۵۶۷ اللعنۃ ۵۶۸ اللعنۃ ۵۶۹ اللعنۃ ۵۷۰ اللعنۃ
    ۵۷۱
    اللعنۃ ۵۷۲ اللعنۃ ۵۷۳ اللعنۃ ۵۷۴ اللعنۃ ۵۷۵ اللعنۃ ۵۷۶ اللعنۃ ۵۷۷ اللعنۃ
    ۵۷۸ اللعنۃ ۵۷۹ اللعنۃ ۵۸۰ اللعنۃ ۵۸۱ اللعنۃ ۵۸۲ اللعنۃ ۵۸۳ اللعنۃ ۵۸۴ اللعنۃ
    ۵۸۵ اللعنۃ ۵۸۶ اللعنۃ
    ۵۸۷ اللعنۃ ۵۸۸ اللعنۃ ۵۸۹ اللعنۃ ۵۹۰ اللعنۃ ۵۹۱ اللعنۃ
    ۵۹۲ اللعنۃ ۵۹۳ اللعنۃ ۵۹۴ اللعنۃ ۵۹۵ اللعنۃ ۵۹۶ اللعنۃ ۵۹۷ اللعنۃ ۵۹۸ اللعنۃ
    ۵۹۹ اللعنۃ ۶۰۰ اللعنۃ ۶۰۱ اللعنۃ ۶۰۲
    اللعنۃ ۶۰۳ اللعنۃ ۶۰۴ اللعنۃ ۶۰۵ اللعنۃ
    ۶۰۶ اللعنۃ ۶۰۷ اللعنۃ ۶۰۸ اللعنۃ ۶۰۹ اللعنۃ ۶۱۰ اللعنۃ ۶۱۱ اللعنۃ ۶۱۲ اللعنۃ
    ۶۱۳ اللعنۃ ۶۱۴ اللعنۃ ۶۱۵ اللعنۃ ۶۱۶ اللعنۃ ۶۱۷ اللعنۃ
    ۶۱۸ اللعنۃ ۶۱۹ اللعنۃ
    ۶۲۰ اللعنۃ ۶۲۱ اللعنۃ ۶۲۲ اللعنۃ ۶۲۳ اللعنۃ ۶۲۴ اللعنۃ ۶۲۵ اللعنۃ ۶۲۶ اللعنۃ
    ۶۲۷ اللعنۃ ۶۲۸ اللعنۃ ۶۲۹ اللعنۃ ۶۳۰ اللعنۃ ۶۳۱ اللعنۃ ۶۳۲ اللعنۃ ۶۳۳
    اللعنۃ
    ۶۳۴ اللعنۃ ۶۳۵ اللعنۃ ۶۳۶ اللعنۃ ۶۳۷ اللعنۃ ۶۳۸ اللعنۃ ۶۳۹ اللعنۃ ۶۴۰ اللعنۃ
    ۶۴۱ اللعنۃ ۶۴۲ اللعنۃ ۶۴۳ اللعنۃ ۶۴۴ اللعنۃ ۶۴۵ اللعنۃ ۶۴۶ اللعنۃ ۶۴۷ اللعنۃ
    ۶۴۸
    اللعنۃ ۶۴۹ اللعنۃ ۶۵۰ اللعنۃ ۶۵۱ اللعنۃ ۶۵۲ اللعنۃ ۶۵۳ اللعنۃ ۶۵۴ اللعنۃ
    ۶۵۵ اللعنۃ ۶۵۶ اللعنۃ ۶۵۷ اللعنۃ ۶۵۸ اللعنۃ ۶۵۹ اللعنۃ ۶۶۰ اللعنۃ ۶۶۱ اللعنۃ
    ۶۶۲ اللعنۃ ۶۶۳ اللعنۃ
    ۶۶۴ اللعنۃ ۶۶۵ اللعنۃ ۶۶۶ اللعنۃ ۶۶۷ اللعنۃ ۶۶۸ اللعنۃ
    ۶۶۹ اللعنۃ ۶۷۰ اللعنۃ ۶۷۱ اللعنۃ ۶۷۲ اللعنۃ ۶۷۳ اللعنۃ ۶۷۴ اللعنۃ ۶۷۵ اللعنۃ
    ۶۷۶ اللعنۃ ۶۷۷ اللعنۃ ۶۷۸ اللعنۃ ۶۷۹
    اللعنۃ ۶۸۰ اللعنۃ ۶۸۱ اللعنۃ ۶۸۲ اللعنۃ
    ۶۸۳ اللعنۃ ۶۸۴ اللعنۃ ۶۸۵ اللعنۃ ۶۸۶ اللعنۃ ۶۸۷ اللعنۃ ۶۸۸ اللعنۃ ۶۸۹ اللعنۃ
    ۶۹۰ اللعنۃ ۶۹۱ اللعنۃ ۶۹۲ اللعنۃ ۶۹۳ اللعنۃ ۶۹۴ اللعنۃ
    ۶۹۵ اللعنۃ ۶۹۶ اللعنۃ
    ۶۹۷ اللعنۃ ۶۹۸ اللعنۃ ۶۹۹ اللعنۃ ۷۰۰ اللعنۃ ۷۰۱ اللعنۃ ۷۰۲ اللعنۃ ۷۰۳ اللعنۃ
    ۷۰۴ اللعنۃ ۷۰۵ اللعنۃ ۷۰۶ اللعنۃ ۷۰۷ اللعنۃ ۷۰۸ اللعنۃ ۷۰۹ اللعنۃ ۷۱۰
    اللعنۃ
    ۷۱۱ اللعنۃ ۷۱۲ اللعنۃ ۷۱۳ اللعنۃ ۷۱۴ اللعنۃ ۷۱۵ اللعنۃ ۷۱۶ اللعنۃ ۷۱۷ اللعنۃ
    ۷۱۸ اللعنۃ ۷۱۹ اللعنۃ ۷۲۰ اللعنۃ ۷۲۱ اللعنۃ ۷۲۲ اللعنۃ ۷۲۳ اللعنۃ ۷۲۴ اللعنۃ
    ۷۲۵ؔ
    اللعنۃ ۷۲۶ اللعنۃ ۷۲۷ اللعنۃ ۷۲۸ اللعنۃ ۷۲۹ اللعنۃ ۷۳۰ اللعنۃ ۷۳۱ اللعنۃ
    ۷۳۲ اللعنۃ ۷۳۳ اللعنۃ ۷۳۴ اللعنۃ ۷۳۵ اللعنۃ ۷۳۶ اللعنۃ ۷۳۷ اللعنۃ ۷۳۸ اللعنۃ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 150
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 150
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/150/mode/1up
    ۷۳۹ اللعنۃ ۷۴۰ اللعنۃ ۷۴۱ اللعنۃ ۷۴۲ اللعنۃ ۷۴۳ اللعنۃ ۷۴۴ اللعنۃ ۷۴۵ اللعنۃ ۷۴۶ اللعنۃ
    ۷۴۷ اللعنۃ ۷۴۸
    اللعنۃ ۷۴۹ اللعنۃ ۷۵۰ اللعنۃ ۷۵۱ اللعنۃ ۷۵۲ اللعنۃ ۷۵۳ اللعنۃ ۷۵۴ اللعنۃ
    ۷۵۵ اللعنۃ ۷۵۶ اللعنۃ ۷۵۷ اللعنۃ ۷۵۸ اللعنۃ ۷۵۹ اللعنۃ ۷۶۰ اللعنۃ ۷۶۱ اللعنۃ ۷۶۲ اللعنۃ
    ۷۶۳ اللعنۃ
    ۷۶۴ اللعنۃ ۷۶۵ اللعنۃ ۷۶۶ اللعنۃ ۷۶۷ اللعنۃ ۷۶۸ اللعنۃ ۷۶۹ اللعنۃ ۷۷۰ اللعنۃ
    ۷۷۱ اللعنۃ ۷۷۲ اللعنۃ ۷۷۳ اللعنۃ ۷۷۴ اللعنۃ ۷۷۵ اللعنۃ ۷۷۶ اللعنۃ ۷۷۷ اللعنۃ ۷۷۸ اللعنۃ
    ۷۷۹
    اللعنۃ ۷۸۰ اللعنۃ ۷۸۱ اللعنۃ ۷۸۲ اللعنۃ ۷۸۳ اللعنۃ ۷۸۴ اللعنۃ ۷۸۵ اللعنۃ ۷۸۶ اللعنۃ
    ۷۸۷ اللعنۃ ۷۸۸ اللعنۃ ۷۸۹ اللعنۃ ۷۹۰ اللعنۃ ۷۹۱ اللعنۃ ۷۹۲ اللعنۃ ۷۹۳ اللعنۃ ۷۹۴
    اللعنۃ
    ۷۹۵ اللعنۃ ۷۹۶ اللعنۃ ۷۹۷ اللعنۃ ۷۹۸ اللعنۃ ۷۹۹ اللعنۃ ۸۰۰ اللعنۃ ۸۰۱ اللعنۃ ۸۰۲ اللعنۃ
    ۸۰۳ اللعنۃ ۸۰۴ اللعنۃ ۸۰۵ اللعنۃ ۸۰۶ اللعنۃ ۸۰۷ اللعنۃ ۸۰۸ اللعنۃ ۸۰۹ اللعنۃ
    ۸۱۰ اللعنۃ
    ۸۱۱ اللعنۃ ۸۱۲ اللعنۃ ۸۱۳ اللعنۃ ۸۱۴ اللعنۃ ۸۱۵ اللعنۃ ۸۱۶ اللعنۃ ۸۱۷ اللعنۃ ۸۱۸ اللعنۃ
    ۸۱۹ اللعنۃ ۸۲۰ اللعنۃ ۸۲۱ اللعنۃ ۸۲۲ اللعنۃ ۸۲۳ اللعنۃ ۸۲۴ اللعنۃ ۸۲۵
    اللعنۃ ۸۲۶ اللعنۃ
    ۸۲۷ اللعنۃ ۸۲۸ اللعنۃ ۸۲۹ اللعنۃ ۸۳۰ اللعنۃ ۸۳۱ اللعنۃ ۸۳۲ اللعنۃ ۸۳۳ اللعنۃ ۸۳۴ اللعنۃ
    ۸۳۵ اللعنۃ ۸۳۶ اللعنۃ ۸۳۷ اللعنۃ ۸۳۸ اللعنۃ ۸۳۹ اللعنۃ ۸۴۰ اللعنۃ
    ۸۴۱ اللعنۃ ۸۴۲ اللعنۃ
    ۸۴۳ اللعنۃ ۸۴۴ اللعنۃ ۸۴۵ اللعنۃ ۸۴۶ اللعنۃ ۸۴۷ اللعنۃ ۸۴۸ اللعنۃ ۸۴۹ اللعنۃ ۸۵۰ اللعنۃ
    ۸۵۱ اللعنۃ ۸۵۲ اللعنۃ ۸۵۳ اللعنۃ ۸۵۴ اللعنۃ ۸۵۵ اللعنۃ ۸۵۶
    اللعنۃ ۸۵۷ اللعنۃ ۸۵۸ اللعنۃ
    ۸۵۹ اللعنۃ ۸۶۰ اللعنۃ ۸۶۱ اللعنۃ ۸۶۲ اللعنۃ ۸۶۳ اللعنۃ ۸۶۴ اللعنۃ ۸۶۵ اللعنۃ ۸۶۶ اللعنۃ
    ۸۶۷ اللعنۃ ۸۶۸ اللعنۃ ۸۶۹ اللعنۃ ۸۷۰ اللعنۃ ۸۷۱ اللعنۃ
    ۸۷۲ اللعنۃ ۸۷۳ اللعنۃ ۸۷۴ اللعنۃ
    ۸۷۵ اللعنۃ ۸۷۶ اللعنۃ ۸۷۷ اللعنۃ ۸۷۸ اللعنۃ ۸۷۹ اللعنۃ ۸۸۰ اللعنۃ ۸۸۱ اللعنۃ ۸۸۲ اللعنۃ
    ۸۸۳ اللعنۃ ۸۸۴ اللعنۃ ۸۸۵ اللعنۃ ۸۸۶ اللعنۃ ۸۸۷
    اللعنۃ ۸۸۸ اللعنۃ ۸۸۹ اللعنۃ ۸۹۰ اللعنۃ
    ۸۹۱ اللعنۃ ۸۹۲ اللعنۃ ۸۹۳ اللعنۃ ۸۹۴ اللعنۃ ۸۹۵ اللعنۃ ۸۹۶ اللعنۃ ۸۹۷ اللعنۃ ۸۹۸ اللعنۃ
    ۸۹۹ اللعنۃ ۹۰۰ اللعنۃ ۹۰۱ اللعنۃ ۹۰۲ اللعنۃ
    ۹۰۳ اللعنۃ ۹۰۴ اللعنۃ ۹۰۵ اللعنۃ ۹۰۶ اللعنۃ
    ۹۰۷ اللعنۃ ۹۰۸ اللعنۃ ۹۰۹ اللعنۃ ۹۱۰ اللعنۃ ۹۱۱ اللعنۃ ۹۱۲ اللعنۃ ۹۱۳ اللعنۃ ۹۱۴ اللعنۃ
    ۹۱۵ اللعنۃ ۹۱۶ اللعنۃ ۹۱۷ اللعنۃ ۹۱۸
    اللعنۃ ۹۱۹ اللعنۃ ۹۲۰ اللعنۃ ۹۲۱ اللعنۃ ۹۲۲ اللعنۃ
    ۹۲۳ اللعنۃ ۹۲۴ اللعنۃ ۹۲۵ اللعنۃ ۹۲۶ اللعنۃ ۹۲۷ اللعنۃ ۹۲۸ اللعنۃ ۹۲۹ اللعنۃ ۹۳۰ اللعنۃ
    ۹۳۱ اللعنۃ ۹۳۲ اللعنۃ ۹۳۳ اللعنۃ
    ۹۳۴ اللعنۃ ۹۳۵ اللعنۃ ۹۳۶ اللعنۃ ۹۳۷ اللعنۃ ۹۳۸ اللعنۃ
    ۹۳۹ اللعنۃ ۹۴۰ اللعنۃ ۹۴۱ اللعنۃ ۹۴۲ اللعنۃ ۹۴۳ اللعنۃ ۹۴۴ اللعنۃ ۹۴۵ اللعنۃ ۹۴۶ اللعنۃ
    ۹۴۷ اللعنۃ ۹۴۸ اللعنۃ ۹۴۹
    اللعنۃ ۹۵۰ اللعنۃ ۹۵۱ اللعنۃ ۹۵۲ اللعنۃ ۹۵۳ اللعنۃ ۹۵۴ اللعنۃ
    ۹۵۵ اللعنۃ ۹۵۶ اللعنۃ ۹۵۷ اللعنۃ ۹۵۸ اللعنۃ ۹۵۹ اللعنۃ ۹۶۰ اللعنۃ ۹۶۱ اللعنۃ ۹۶۲ اللعنۃ
    ۹۶۳ اللعنۃ ۹۶۴ اللعنۃ
    ۹۶۵ اللعنۃ ۹۶۶ اللعنۃ ۹۶۷ اللعنۃ ۹۶۸ اللعنۃ ۹۶۹ اللعنۃ ۹۷۰ اللعنۃ
    ۹۷۱ اللعنۃ ۹۷۲ اللعنۃ ۹۷۳ اللعنۃ ۹۷۴ اللعنۃ ۹۷۵ اللعنۃ ۹۷۶ اللعنۃ ۹۷۷ اللعنۃ ۹۷۸ اللعنۃ
    ۹۷۹ اللعنۃ ۹۸۰
    اللعنۃ ۹۸۱ اللعنۃ ۹۸۲ اللعنۃ ۹۸۳ اللعنۃ ۹۸۴ اللعنۃ ۹۸۵ اللعنۃ ۹۸۶ اللعنۃ
    ۹۸۷ اللعنۃ ۹۸۸ اللعنۃ ۹۸۹ اللعنۃ ۹۹۰ اللعنۃ ۹۹۱ اللعنۃ ۹۹۲ اللعنۃ ۹۹۳ اللعنۃ ۹۹۴ اللعنۃ
    ۹۹۵ اللعنۃ
    ۹۹۶ اللعنۃ ۹۹۷ اللعنۃ ۹۹۸ اللعنۃ ۹۹۹ اللعنۃ ۱۰۰۰ ***
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 151
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/151/mode/1up
    واُشہِدُؔ الأحرارَ والأُساری، أنی أضَع البر!کۃَ واللعنۃ أمام النصاری، أما البر!کۃ فینالہم بر!کۃ الدنیا عند مقابلۃ الکتاب
    وینالون إنعاما کثیرًا مع الفتح والغِلاب، أو ینالہم برکۃُ الآخرۃ عند التوبۃ وترکِ توہین القرآن وترک صفۃ السِّرحان، وأما اللعنۃ فلا یرد علیہم إلا عند إعراضِہم عن الجواب، ومع ذلک عدمِ امتناعہم عن الشتم
    والسبّ والقدح فی کتاب رب الأرباب رب العالمین۔
    واعلم أنّ کل من ہو مِن وُلْدِ الحلال، ولیس من ذرّیۃ البغایا ونسل الدجال، فیفعل أمرًا من أمرین إمّا کفُّ اللّسان بعدُ وترکُ الافتراء والمَین، وإما تألیف
    الرسالۃ کرسالتنا وترصیع المقالۃ کمقالتنا، ولکن الذی ما ازدجر من القدح فی بلاغۃ القرآن، وما امتنع من الإنکار من فصاحۃ الفرقان، فعلیہ کل ما قلنا وکتبنا فی ہذا القرطاس، وعلیہ
    اور میں آزادوں اور
    قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ مَیں آج برکت اور *** نصاریٰ کے آگے رکھتا ہوں برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کو حاصل ہو گی اور وہ بہت سا انعام مع فتح اور غلبہ کے پائیں
    گے یا برکت سے مراد آخرت کی برکت ہے کہ توبہ اور ترک توہین قرآن سے ان کو ملے گی مگر *** ان پر صرف اس حالت
    میں وارد ہو گی کہ جب بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اور باوجود اس
    کے
    قرآن شریف کی توہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آویں۔
    اور جاننا چاہیئے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں
    اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے وہ دو باتوں میں سے
    ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی
    اور افترا سے باز آ جائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا
    مگر وہ شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسا
    رسالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی جرح قدح سے باز آیا
    اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیجا کرنے سے اپنے تئیں روکا پس اس پر وہ سب باتیں وارد ہوں گی جو ہم اس رسالہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 152
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/152/mode/1up
    لعنۃ اللّٰہ والملا ئکۃ والناس أجمعین۔
    فَلْیَقُلْ القَوْمُ کلُّہم آمین آمین آمین۔
    میں کہہ چکے ہیں اور اس پر خداتعالیٰ کی *** اور
    نیز اس کے تمام فرشتوں اور آدمیوں کی ہے۔
    پس چاہیے کہ ساری قوم کہے آمین آمین آمین
    القصیدۃ فی فضائل القُرآنِ وشأن کتَاب اللّٰہ الرَّحمٰن
    قصیدہ قرآن کے فضائل اور کتاب اللہ کی شان
    میں
    لَمَّا أری الفرقانُ مَیْسمَہ تردَّی مَن طغی
    مَن کان نابِغَ وقتِہ جاء المواطنَ ألثغَا
    جب قرآن نے اپنی شکل دکھلائی تو ہر یک طاغی نیچے گر گیا
    جو شخص اپنے وقت کا فصیح اور جلد گو تھا وہ
    کُند زبان ہو کر میدان میں آیا
    وإذا أری وجہًا بأنوار الجمال مُصبَّغا
    فدَرَی المعارضُ أنہ ألغی الفصاحۃ أو لغا
    اور جب قرآن نے اپنا ایسا چہرہ دکھایا جو انوار جمال سے رنگین تھا
    تو معارض
    سمجھ گیا کہ وہ قرآن کے معارضہ میں فصاحت بلاغت سے دور ہے اور لغو بک رہا ہے
    من کان ذا عینِ النہی فإلی محاسنہ صغٰی
    إلّا الذی مِن جہلہ أبغی الضلالۃ أو بغٰی
    جو شخص عقلمند تھا وہ
    قرآن کے محاسن کی طرف مائل ہو گیا
    ہاں وہ باقی رہا جو گمراہی کا مددگار بنا اور ظلم اختیار کیا
    عینُ المعارف کلّہا آتا ہ حِبٌّ مُبتغٰی
    لا یُنبِئنّ ببحرہ الزخّار کلبًا مولغا
    تمام معارف کا چشمہ
    خداتعالیٰ نے قرآن کو دیا
    اور اس کے بحر زخّار سے اس کتے کو خبر نہیں دی جاتی جس کو تھوڑا سا پانی پلایا جاتا ہے
    اِقْبَلْ عیونَ علومہ أو أَعرِضَنْ مُستولِغا
    واتْبَعْ ہداہ أَوِ اعْصِہ إن کنتَ مُلْغًی
    مُتّغا
    اس کے علموں کے چشمے قبول کر یا بے حیا بیباک کی طرح کنارہ کر
    اور اسکی ہدایت کا فرمانبردار ہو جا یا اگر تُو احمق فحش گو اور دین کو تباہ کرنے والا ہے تو نافرمان بن جا
    ما غادرَ
    القرآنُ فی المیدان شابًا بُرْزَغا
    قتَل العِدا رعبًا وإن باری العدوّ مُسبَّغا
    قرآن نے میدان میں کسی ایسے جوان کو نہ چھوڑا جو جوانی میں بھرا ہوا تھا
    دشمنوں کو اپنے رعب سے قتل کیا اگرچہ دشمن
    زرہ پہن کر آیا
    قد أنکروا جہلًا وما بلغوہ علمًا مَبْلغًا
    حتی انثنَوا کالخائبین وأضرموا نار الوغی
    مخالفوں نے جہل سے انکار کیا اور اس کے مقام بلند تک ان کا علم نہ پہنچ سکا
    یہاں تک کہ
    مقابلہ سے نومید ہو گئے اور جنگ کی آگ کو بھڑکایا
    نورٌ علی نور ہُدًی، یومًا فیومًا فی الثغا
    مَن کان مُنکِرَ نورہ قد جئتُہ متفرّغا
    اس کی ہدایتیں نورٌ علیٰ نور ہیں اور دن بدن وہ نور زیادتی
    میں ہے
    اور جو شخص اس کے نور کا منکر ہے مَیں اسی کے لئے فارغ ہو کر آیا ہوں
    فیہا العلوم جمیعہا وحلیبُہا لمن ارتغا
    فیہا المعارف کلّہا وقلیبُہا بل أبلغا
    اس میں تمام علم ہیں اور اس میں
    علوم کا دودھ ہے اسی کے لئے جو اوپر کا حصہ کھا رہا ہے
    اور اس میں تمام معارف اور ان کا کنواں بلکہ اس سے زیادہ ہے
    أعطی الوری بدِلاۂ ماءً مَعینًا سیِّغَا
    أروی الخلائقَ کلّہم إلا لئیمًا
    أبْدَغا
    اس نے اپنے بوکوں کے ساتھ خلقت کو پانی خوشگوار پلایا
    اور تمام خلقت کو سیراب کیا بجز اس کے جو لئیم اور بدی سے آلودہ تھا
    مَنؔ جاء ہ متبختِرًا وأری مُدًی أو مِبْزَغا
    فتراہ مغلوبًا
    علٰی تُرْبِ الہوان ممرَّغا
    جو شخص اس کے آگے تکبر سے خراماں آیا اور اپنی کاردیں اور نشتر دکھلائے
    پس تو اس کو دیکھے گا کہ وہ مغلوب ہو گیا اور ذلت کی خاک پر لیٹا
    سیفٌ یکسّر ضرسَ
    مَن باری وجاء مُثَغْثِغا
    أسدٌ یمزّق صولُہ إن رَاغَ جملٌ أو رغا
    وہ ایک تلوار ہے جو اس کے دانت توڑتی ہے جو اس کے مقابل پر آیا
    وہ ایک شیر ہے جو اس کا حملہ اس اونٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا
    ہے جس نے اس کی طرف منہ کیا یا آواز کی
    ویلٌ لِکَفّارٍ لدیغٍ لا یفارق مَلدَغا
    ویل لمن بزَغتْ لہ شمس فعادی مَبْزَغا
    اس کافر مارگزیدہ پر واویلا ہے جو اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہوتا جہاں سے
    کاٹا گیا
    اس شخص پر واویلا ہے جس کے لئے سورج چمکا اور پھر وہ مطلع الشمس سے دشمنی کرنے لگا
    مَن فرَّ من فیضانہ الأعلی ومما أفرغا
    ما کان قلبًا تائبا بل کان لحمًا أسْلَغا
    جو شخص
    اس کے فیضان سے اور فیضان شدہ باتوں سے بھاگا
    وہ رجوع کرنے والا دل نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا گوشت تھا جو گداز نہ ہوا
    وأمّا قول المعرض الفتّان أن ذی مِرَّۃٍ اسم الشیطان، وقال أن المِرّۃ ہی
    مادۃ الصفراء ، وباطل کل ما یخالفہ من الآراء ، فہذا کلّہ کذب ودجل وتلبیس، ونعوذ باللّٰہ من الدجّالین المفتّنین۔ بل الأمر الصحیح الذی یوجد نظائرہ فی کلماتِ بلغاء لسان العرب ونوابغ
    مگر معترض فتنہ
    انگیز کا یہ قول کہ ذی مرّۃ شیطان کا نام ہے اور جو اس نے کہا کہ
    مرّہ مادہ صفرا کو کہتے ہیں اور اس کے برخلاف ہر یک رائے باطل ہے پس یہ اس کا تمام کذب
    اور دجل اور تلبیس ہے اور
    دجالوں اور فتنہ انگیزوں سے خدا کی پناہ۔ بلکہ
    وہ امر صحیح جس کی نظیریں اہلِ زبان کے بلیغوں اور فصیحوں کے کلمات میں پائی جاتی ہیں یہ ہے کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 153
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/153/mode/1up
    ذوی الأدب، أن أصل المِرّۃ إحکامُ الفَتْل وإدارۃ الخیوط عند الوصل، کما قال صاحب تاج العروس شارح القاموس، ثم نقلوا ہذا اللفظ
    من الإحکام والإدارۃ إلی نتیجتہ أعنی إلی القوۃ والطاقۃ، فإن الحبل إذا أُحکِمَ فَتْلُہ فلا بد من أن یتقوّی بعد أن یُشَدّ ویُسَوَّی، ویکون کشیء قویّ متین۔ ثم نُقِلَ منہ إلی العقل کنقل الحقل إلی الحقل، لأن العقل طاقۃ
    تحصل بعد إمرار مقدمات وإحکام مشاہدات تُجَلِّیہا الحسُّ المشترک من الحواسّ بإذن ربّ الناس وأحسن الخالقین۔ ثم نُقل ہذا اللفظ فی المرتبۃ الرابعۃ إلی مزاج من الأمزجۃ أعنی الصفراء التی ہی إحدی الطبائع
    الأربعۃ، لشدّۃ قوتہا ولطافۃ مادتہا، ولکونہا مصدرَ أفعال قویّۃ وموجبًا لجُرأۃٍ وشجاعۃ وکلِّ أمر یخالف عاداتِ الجبان ویوافق سِیَر الشجعان، فتفکَّرْ إن کنتَ من الطالبین۔
    تاگہ کو جب بٹ دے کر پختہ
    کرتے ہیں تو اس پختہ کرنے کا نام مرّہ ہے اور مرّہ کے معنوں کااصل یہ ہے کہ اسقدر تاگہ کو بٹ چڑھایا جائے اور مروڑا جائے کہ وہ پختہ ہو جائے جیسا کہ یہی معنے صاحب تاج العروس شارح
    القاموس نے کئے ہیں پھر اس لفظ کو مروڑنے اور بٹ چڑھانے سے منتقل کر کے اس کے نتیجہ کی طرف لے آئے یعنی قوت اور طاقت کی طرف جو بٹ چڑھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب تاگا
    کو بٹ چڑھایا جاوے پس یہ ضروری امر ہے کہ بٹ چڑھانے کے بعد اس میں قوت اور طاقت پیدا ہو جائے اور ایک شے قوی متین ہو جائے۔ پھر یہ لفظ عقل کے معنوں کی طرف منتقل کیا گیا جیسا کہ
    حقل کا لفظ جو بمعنی زمین خوش پاکیزہ ہے حقل یعنے کھیت نوسبزہ کی طرف منتقل ہو گیا کیونکہ عقل بھی ایک طاقت ہے جو بعد محکم کرنے مقدمات اور پختہ کرنے مشاہدات کے پیدا ہوتی ہے اور
    حس مشترک ان مشاہدات کو حواس سے باذن رب الناس لیتی ہے۔ پھر یہ لفظ بمرتبہ رابعہ ایک بدنی مزاج کی طرف منتقل کیا گیا یعنی صفرا کی طرف جو طبائع اربعہ میں سے ایک ہے کیونکہ صفرا اپنی
    شدت اور قوت اور لطافت میں باقی اخلاط سے بڑھ کر ہے اسی واسطے صاحب اس کا مصدر افعال قویہ اور جری اور شجاع ہوتا ہے اور اس سے ایسے امر صادر ہوتے ہیں جو بزدلی کے مخالف ہیں
    پس تُو فکر کر اگر طالبِ حق ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 154
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/154/mode/1up
    وأمّا نظیرہ فی أشعار بُلغاء الجاہلیۃ ونبغاء الأزمنۃ الماضیۃ، فکفاک ما قال امرؤ القیس فی قصیدتہ اللامیّۃ
    دَرِیرٍ کخُذْرُوفِ الوَلِیدِ
    أَمَرَّہُ تَتابُعُ کَفَّیْہ بِخَیْطٍ مُوَصَّلِ
    وکذٰلک بیت لعمرو بن کلثوم التغلبی الذی ہو نابغ فی اللسان العربی، وقال فی القصیدۃ الخامسۃ من السبع المعلقۃ، ونحن نکتبہ نظیرًا لمعنی الإدارۃ، وہو ہذا۔
    تَرَی اللَّحِزَ
    الشَّحِیحَ إِذا أُمِرَّتْ علیہ لما لہ فیہا مہینَا
    ومن عجائب لفظ المِرّۃ اشتراکُہ فی العربیۃ والہندیۃ فی معنی الإدارۃ وإحکام الفتل بالمبالغۃ، فإن الہندیین یقولون للإمرار مروڑنا کما لا یخفی علی الہندیین۔ وہذا
    ثبوت صرؔ یح من غیر شائبۃ المَین لاستخراج أصل حقیقۃ الذی ہو دائر بین اللسانَین، وفیہ نکتۃ تسرّ المحققین۔
    وأمّا لفظ ذِی مِرَّۃ بمعنی العقل، فإن کُنْتَ تطلب منّا نظیرہ مع
    لیکن اگر تو جاہلیت کے نا
    می شعراء اور فصحاء کے اشعار میں سے اس کی نظیر طلب کرے پس تیرے لئے ایک
    شعر امرء القیس کے قصیدہ لامیہ کا کافی ہے کیونکہ اس نے کہا ہے۔
    امرّہ یعنی بٹ دیا اور مروڑ دیا
    اور
    اسی طرح عمرو بن کلثوم تغلبی کا ایک شعر ہے اور وہ بھی اپنے وقت کا بدیہہ گو شاعر تھا اور اس نے یہ شعر قصیدہ خامسہ سبعہ!معلقہ میں کہا ہے کہ
    امرّت یعنی چکر دیا جائے اور پھرایا
    جائے
    اور لفظ مرّہ کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے معنے بٹ دینے اور مروڑ دینے میں عربی اور ہندی میں مشترک ہے
    کیونکہ ہندی لوگ امرار کو مروڑنا کہتے ہیں جیسا کہ
    ہندیوں پر
    پوشیدہ نہیں۔ اور یہ صریح ثبوت بغیر شائبہ کسی تاریکی کے ہے اور اس اصل حقیقت کا استخراج
    اس سے ہوتا ہے جو دو زبانوں میں دائر ہے اور اس میں ایک نکتہ ہے جو محققین کو خوش کرتا
    ہے۔
    لیکن لفظ ذی مرّۃ جو بمعنے عقل کے آتا ہے اگر تصحیح نقل کے لئے اس کی نظیر معلوم کرنا ہو
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 155
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/155/mode/1up
    تصحیح النقل، فاعلم أنّ صاحب تاج العروس شارح القاموس فسّر لفظ ذی مِرّۃ بمعنی ذی الدہاء ، وقال یُقال إنہ لَذُو مِرَّۃ أی عقلٍ فی
    مَثَلِ العرب العرباء وإن لم یکفِک ہذا المثل مع أنہ ہو الأصل، وتطلب منّا نظیرًا آخر من الأیام الجاہلیۃ والأزمنۃ الماضیۃ، فاقرأْ ہٰذا البیت من صاحب القصیدۃ الرابعۃ من السبع المعلّقۃ، وکان من نبغاء الزمان
    وفی البلاغۃ إمام الأقران، وزاد عمرہ علی مءۃ وخمسین، وہو ہذا
    رَجَعا بِأَمرِہِما إِلی ذی مِرَّۃٍ حَصِدٍ وَنُجْحُ صَریمۃٍ إِبرامُہا
    واعلم أن ہذہ القصائد معروفۃ بغایۃ الاشتہار کالشمس فی نصف النہار، وقد
    أجمع کافۃ الأدباء وجہابذ الشعراء علی فضلہا وکمال براعتہا، واتفق عامۃ البلغاء علی حسنہا ونباہتہا، واختارہا الحکومۃ الإنکلیزیۃ لطلباء مدارسہا وسُبقاءِ کوالجہا وشرؔ باء کَیالِجہا لتکمیل
    القارئین
    پس جاننا چاہیئے کہ صاحب تاج العروس نے جو شارح قاموس ہے لفظ
    ذی مرّہکو بمعنے ذی عقل تفسیر کیا ہے اور تمثیل کے طور کہا ہے کہ عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ انہ لذو مرۃ
    اور
    مراد اس سے انہ لذو عقل رکھتے ہیں اور اگر تیرے لئے یہ مثال کافی نہ ہو حالانکہ وہ کافی ہے اور تُو ایامِ جاہلیت
    کا کوئی شعر اس کی تائید میں طلب کرے تو یہ بیت غور سے پڑھ
    جو
    سبعہ معلقہ میں سے چوتھے قصیدہ کا شعر ہے جس کا مؤلف ادباء زمان
    اور فصحاء اقران میں سے تھا اور ڈیڑھ سو برس کی عمر تک پہنچا تھا۔
    وہ دونوں ذی مرّہ کی طرف یعنی ذی عقل کی طرف
    متوجہ ہوئے اور قصد کو پختہ کرنے سے مقاصد حاصل ہو جایا کرتے ہیں اور جاننا چاہیئے کہ یہ قصائد غایت درجہ پر مشہور ہیں جیسے سورج دوپہر کے وقت
    اور تمام جماعت فصیح شعراء نے
    اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ اشعار فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر ہیں اور اس کے حسن اور خوبی پر شعراء کا اتفاق ہے اور گورنمنٹ انگریزی نے اس کتاب کو اپنے مدارس تعلیمیہ میں کالجوں
    کے پڑھنے والوں اور علوم ادبیہ کے پیالے پینے والوں کے لئے ان کی تکمیل تعلیم کی غرض سے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 156
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/156/mode/1up
    ولا ینکرہا إلا الذی مِثلک غبی وشقی کعمین۔
    ہٰذا ما أوردنا لإلزامک وإفحامک من نظائر المتقدمین وکلام المشہورین المقبولین۔ وأمّا
    ما یظہر من سیاق کلام اللّٰہ وسباقہ ومِن عقدِ درِّ حِقاقِہ، فہو طریق أقرب من ذلک للمسترشدین۔ فإنہ تعالٰی کما وصف روح القدس بقولہ 3، ۱؂ کذلک وصفہ فی مقام آخر بذی قوۃ فقال3،۲؂ فقولہ فی مقام ذُو
    مِرَّۃٍ وفی مقام ذُوقُوَّۃ شرح لطیف بأفانین البیان، وکذلک جرت سُنّۃ اللّٰہ فی القرآن، فإنہ یفسّر بعضَ مقاماتہ ببعض آخر لیزید الاطمئنان، ولیعصم کتابہ من تحریف الخائنین۔
    ولقد ذکر اللّٰہ تعالی فی کتابہ
    المحکم وسِفرہ المکرم صفاتٍ أخری للروح الأمین، وبیّن عبارتہ وصدقہ وأمانتہ وقُربہ من رب العالمین
    داخل کیا ہے اورا س سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا بجز اس شخص کے جو تیرے جیسا
    غبی اور شقی اور اندھوں کی طرح ہو۔
    یہ وہ نظائر شعراء متقدمین ہیں جن سے تیرا الزام اور افحام مقصود ہے
    مگر وہ امر جو کلامِ الٰہی کے سیاق سباق اور اس کے
    موتیوں کی لڑیوں کے
    حقہ سے معلوم ہوتا ہے تو وہ طریق ہدایت طلبوں کے لئے بہت قریب ہے۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہ‘
    نے جیسا کہ روح القدس کو ذی مرّہ کے ساتھ موصوف کیا ہے اسی طرح دوسرے مقام میں ذی قوۃ
    کے ساتھ منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ ذو قوۃ عند ذی العرش المکین۔ پس خداتعالیٰ کا ایک مقام میں جبرئیل کو ذو مرّہ کہنا اور دوسرے مقام میں ذومرّہ کی جگہ ذو قوّۃ کہہ دینا یہذومرّہ کے معنے کی
    ایک شرح لطیف ہے جو تبدیل بیان سے کی گئی ہے اور اسی طرح قرآن کریم میں اللہ جلّ شانہٗ کی یہی سنت جاری ہے کہ بعض مقامات قرآن اس کے بعض آخر کے لئے بطور تفسیر ہیں تاکہ خداتعالیٰ
    اپنی کتاب کو خیانت کرنے والوں کی تحریف سے بچاوے۔
    اور خداتعالیٰ نے اپنی محکم کتاب اور بزرگ صحیفوں میں روح القدس کے اور صفات بھی
    بیان کئے ہیں اور اس کی پاکیزگی اور اس کی
    سچائی اور اس کی امانت اور اس کے قرب کا ذکر کیا ہے
    پس اس کو شیطان وہی سمجھے گاجو خود شیطان ہے۔
    اور منجملہ اعتراضات اس سرکش کے جو قیامت کے دن سے غافل ہے ایک یہ ہے
    کہ وہ گمان کرتا ہے کہ گویا قرآن کریم نے مذہب نصاریٰ کے بیان کرنے اور انکے عقیدوں کی تفسیر میں غلطی کی ہے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 157
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/157/mode/1up
    فلا یحسبہ شیطانا إلا الذی ہو شیطان لعین۔
    ومن اعتراضات ہٰذا العاصی الغافل عن یوم یؤخذ المجرمون بالنواصی، أنہ یظنّ کأنّ
    القرآن أخطأ فی بیان مذہب النصاریٰ وعقائدہم، وما فہِم مقصد عمائدہم، وعزا إلیہم ما یخالف عقیدۃ المسیحیین۔ فاعلم أنّ بیانہ ہذا بہتان عظیم وکذب مبین، والحق أن القرآن لما جاء کانت النصاریٰ فرقا
    متفرقین، فبعضہم کانوا یعبدون المسیح، وبعضہم معہ أُمَّہ، وبعضہم کانوا یسجدون لتصاویرہما ویعبدونہما کعبادۃ رب العالمین۔ وکان اللجاج بینہم قد احتدّ والحِجَاج قد اشتدّ، وکان کلّہم قومًا ضالّین، إلا قلیلا
    منہم کانوا موحِّدین مع بدعات أخری وکانوا کالعمین۔ فبیّن القرآن ما رأی وبَکَّتَہم وسَکَّتَہم ببیان أجلی، وقال أنتم تعبدون إنسانا من دون اللّٰہ الأغنٰی، وما تعبدون
    اور گویا قرآن شریف نے نصاریٰ کے عمائد
    کے مطلب کو نہیں سمجھا اور ان کی طرف وہ امر منسوب کیا جو ان کے عقائد کے
    مخالف ہے۔ پس جاننا چاہیئے کہ یہ بیان اس کا سراسر بہتان اور صریح جھوٹ ہے اور
    حق یہ ہے کہ جب
    قرآن کریم نازل ہوا تو نصاریٰ کئی فرقے تھے اور بعض حضرت مسیح
    اور ان کی والدہ کی پرستش کرتے تھے اور بعض ان کی تصویروں کے بھی پجاری تھے اور ان کی ایسی پرستش کرتے تھے
    جیسی خداتعالیٰ کی کرنی چاہیئے اور ان میں باہم لڑائیاں اور جھگڑے بہت تیز ہوئے ہی تھے اور وہ سب کے سب گمراہ تھے۔ مگر تھوڑے ان میں سے موحد بھی تھے مگر انہوں نے اور اور بدعات
    ساتھ ملا رکھی تھیں اور اندھوں کی طرح تھے سو قرآن نے جو دیکھا بیان کر دیا اور ظاہر ظاہر بیان سے ان کو ملزم اور لاجواب کیا اور اپنے لفظوں میں فرمایا کہ تم لوگ خداتعالیٰ کے سوا انسان کی
    پرستش کرتے ہو اور اپنے رب اعلیٰ کی پرستش نہیں کرتے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 158
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/158/mode/1up
    ربکم الأعلی، فما برّء وا أنفسہم بل سکتوا کالمفحَمین المُقِرّین۔ فوقعت علیہم الحجۃ وقام البرہان وثبت أنہم کانوا یعتقدون کما بیّن
    القرآن وکانوا مشرکین۔ ثم جاء بعدہم قوم آخرون من النصاری وقرأوا کتب الفلسفۃ فبُہتوا وصاروا کالسکاریٰ، ورأوا أنفسہم فی الشِرک کالأساری، فتأسّفوا علٰی مذہبہم متندمین۔ ففکَّروا لإصلاح ما فسد وترویج
    ما کسد، فقُتلوا کیف فکّروا وذُکِّروا وما بدّلوا إلا حُلَلَ المقاؔ ل مع اتحاد المآل، فتَعْسًا لقوم ظالمین۔ وغَشِیَہم ما غَشِیَہم من آفات الضلال، وتلاقَوا فی مآل الأقوال، وما کانوا مستشفّین۔ أسخطوا المولٰی لیُرضوا
    عبیدہ، ونسوا وعیدہ ومواعیدہ، ونبذوا وراء ظہورہم تعلیم النبیّین۔ ولا شک أنہم اتخذوا عیسٰی إلٰہًا من دون رب العالمین۔ وہو عندہم مالک یوم الدّین ویقولون
    پس وہ لوگ اپنے نفس کو اس الزام سے بری نہ کر
    سکے بلکہ وہ ایسے ساکت ہوئے جیسا کہ وہ شخص ساکت ہوتا ہے جس پر الزام وارد ہوتا ہے یا اقراری ہو جاتا ہے پس ان پر حجت واقع ہوئی اور دلیل قائم ہو گئی اور ان کی خاموشی سے ثابت ہو گیا کہ
    وہ ایسا ہی اعتقاد رکھتے تھے جیسا کہ قرآن نے فرمایا اور درحقیقت مشرک تھے۔ پھر ان لوگوں کے گذر جانے کے بعد دوسرے نصاریٰ دنیا میں ظاہر ہوئے اور وہ اپنے باپ دادوں کے آثار پر قائم تھے
    پس انہوں نے فلسفہ کی کتابیں پڑھیں اور ان کے مسائل سے عادت پکڑی اور اس کے کوچوں سے خُو پذیر ہو گئے اور اپنے تئیں دیکھا کہ اپنے مذہب میں خطا کی بلکہ نافرمانی کی سرکشی کی پس وہ
    مبہوت ہو گئے اور ایسے ہو گئے جیسا کہ کوئی نشہ میں ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے تئیں شرک میں مبتلا ایسا دیکھا جیسا کہ کوئی قیدی ہوتا ہے پس ان کو اپنے مذہب پر نہایت تاسف ہوا جو شرمندگی
    سے ملا تھا پس وہ اس سوچ میں لگے کہ کسی طرح اپنے ناپاک مذہب کی اصلاح کریں اور اس متاع کم قدر کو رواج دیں مگر خدا نے ان پر تباہی ڈالی انہوں نے اصلاح کے لئے صرف مکارانہ تدبیریں
    سوچیں اور ناپاک عقائد میں سے کچھ بھی نہ بدلا صرف تقریر کا پیرایہ بدلا دیا باوجودیکہ مآل ایک ہی تھا سو ظالموں کی ہلاکی ہو۔ کیسی گمراہیوں کی آفتوں نے ان کو گھیر لیا اور مآل قول میں اپنے پہلے
    بھائیوں میں متحد ہو گئے اور تعمیق نظر سے نہ دیکھا۔ مولیٰ کو ناراض کر دیا تاکہ اس کے بندوں کو راضی کریں اور خداتعالیٰ کے وعدے اور وعید بھلا دیے اور نبیوں کی تعلیموں کو اپنی پیٹھ کے
    پیچھے پھینک دیا۔ اور کچھ شک نہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو من دون اللّٰہخدا بنایا ہے۔ اور وہی ان کے نزدیک سزا جزا کا مالک ہے۔ اور کہتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 159
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/159/mode/1up
    لا أثر یومئذ معہ من البشریّۃ، مع کونہ مجسَّمًا ومرکّبًا من العظم واللحم کالآدمیین۔ ہذہ عقیدتہم وعقیدۃ الذین غلَّسوا قبلہم فی مبادی
    الأیّام أمام أعین الإسلام، ثم فی ہذا الزمن انفتحت أعینہم وقلّت ظلمتُہم بما شاعت فیہم العلوم العقلیۃ والحِکم الفلسفیۃ، فرأوا سَوء ۃَ مذہبہم واستحالۃ مطلبہم، فبادروا إلی التأویلات مخافۃً من الملامات
    والتشنیعات، وتخوّفًا من کلمات المستہزئین، لأنّ الفطرۃ الإنسانیۃ تأبی من قبول ہذہ العقیدۃ الدنیّۃ، والخرافات الردیّۃ الّتی ہی بدیہۃ البطلان عند الرجال والنسوان، خصوصًا فی ہذہ الأیام الّتی مالت العقول
    السلیمۃ إلی التوحید، وہبّتْ من کل طرف ریاحُ التنزیہ للّٰہ الوحید، وکسدتْ سُوقُ المشرکین۔ فأنّی لہم أن یخفوہا بعد إظہارہا ونشرہا وإزاحۃ
    قیامت کے دن اس کے ساتھ بشریت میں سے کوئی صفت نہ ہو
    گی یعنی سراسر وہ خدا ہی ہو گا باوجود
    اس کے جو اس کے ساتھ جسم بھی ہو گا اور ہڈیاں اور گوشت بھی۔ جیسا کہ انسانوں میں ہوتا ہے یہ ان کا عقیدہ ہے
    اور ان لوگوں کا عقیدہ جو ان سے
    پہلے شب تاریک میں چلے اور اسلام کی آنکھوں کے آگے اپنا فساد ظاہر کیا پھر
    جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اس زمانہ میں اُن کی آنکھیں کھلیں اور تاریکی کچھ کم ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں علوم
    عقلیہ
    اور حکم فلسفیہ شائع ہو گئے سو انہوں نے اپنے مذہب کے اور اپنے مطالب کے محالات کو مشاہدہ کیا پس وہ
    تاویلات کی طرف دوڑے تا ملامتوں اور تشنیعوں اور ٹھٹھا کرنے والوں
    سے
    اپنا بچاؤ کریں کیونکہ انسانی فطرت اس کمینہ عقیدہ
    اور خرافات ردّیہ کے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ وہ مَردوں اور عورتوں کے
    نزدیک بدیہی البطلان ہے خصوصاً اس زمانہ
    میں جبکہ عقول سلیمہ
    توحید کی طرف مائل ہو گئی ہیں اور ہر ایک طرف سے تنزیہہ الٰہی کی ہوا چل رہی ہے اور مشرکوں کے
    بازار کسمپرسوں کا مصداق ہو گئے ہیں۔ مگر اب یہ کہاں ممکن ہے
    کہ وہ لوگ ان عقائد کو ان کے شائع ہونے کے بعد پوشیدہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 160
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/160/mode/1up
    قشرہا؟ أیُخفون أمرًا أُشیعَ فی البلاد والأرضین؟ ومثلُ الذین بدّلوا الطیّبات بالخبیثات وتر!کوا الحسنات وبادروا إلی السیئات ولا
    یتقون اللّٰہ فی إخفاء العثرات وتأویل الخرافات، کمثل رجلٍ کان یأکل البُرازَ مِن مدۃ مدیدۃ، ویحسبہ من أغذیۃٍ لطیفۃٍ جدیدۃٍ، ولا یتنبّہ علٰی أنہ رجس وقذر لا من أطعمۃ الآدمیّین، فلاقاہ رجل لطیف نظیف ومع
    ذلک زکی وظریف، فرآہ یأکل الغائط فأَنَّبَہ کما یؤنّب الحَکَمُ المایطَ، وقال ما تفعل ذٰلک؟ أتأکل البراز یا بُرازَ الخبیثین؟ فتندّمَ وفکّرَ فی نفسہ کیف یزیح برص ہٰذہ الملامۃ، وکیف ینجو من شناعۃ الندامۃ، فنَحَتَ
    جوابا کالذین یرون أُجاجَہم کماء مَعینٍ، وقال إنی ما آ کل البراز، وما کنتُ أن أَحْتاز فما أبالی الإفزاز، وما أوعزتُ إلٰی ہٰذا الأمر الذی ہو أکبر المکروہات، وإن ہو
    کر سکیں کیا وہ ایسے امر کو پوشیدہ کر
    سکتے ہیں جو ملکوں اور زمینوں میں مشہور ہو گیا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے
    طیبات کو خبیثات کے ساتھ بدل ڈالا او بدیوں کی طرف دوڑے اور
    اپنی لغزشوں کو پوشیدہ کرنے اور خرافات کی تاویل
    میں خداتعالیٰ سے نہیں ڈرتے ان کی مثال
    ایسی ہے جیسے اس شخص کی جو نجاست کھایا کرتا تھا اور ایک مدت سے اس کا یہی کام تھا اور اس نجاست کو اغذیہ لطیفہ جدیدہ
    میں سے سمجھتا تھا
    اور اس بات سے خبردار نہیں تھا کہ یہ تو پلیدی اور گوہ ہے نہ کہ انسانوں کی غذا۔ پس ایک شخص ایسا
    اس کو ملا جو باریک بین اور پاک طبع تھا اور نیز زیرک اور ظریف بھی تھا پس اس پاک طبع نے
    اس شخص کو دیکھا
    جو گوہ کھا رہا ہے تب اس نے اس کو ایسی سرزنش کی جیسے کہ ایک حاکم ظالم کو سرزنش کرتا ہے اور کہا کہ ایسا مت کر کیا تُو گوہ کھاتا ہے اے خبیثوں کے گوہ۔ پس وہ
    شرمندہ ہوا اور اپنے دل میں سوچنے لگا کہ اس ملامت کے داغ کو کیونکر دور کروں
    اور اس ندامت کے عیب سے کیونکر نجات پاؤں پس اس نے ان لوگوں کی طرح جو تکلف سے اپنے شور آب کو
    عمدہ اور
    میٹھا پانی ظاہر کرنا چاہتے ہیں ایک جواب گھڑا اور کہا کہ مَیں گوہ نہیں کھاتا اور نہ اس کو اکٹھا کرتا ہوں سو مَیں کسی کے ڈرانے کی پرواہ نہیں رکھتا اور مَیں نے اس امر کی طرف جو
    اکبر المکروہات ہے ہرگز پیش قدمی نہیں کی اور یہ صرف
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 161
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/161/mode/1up
    إلا تہمۃُ مَذّاعٍ ذی البہتانات وإنی من المبرَّئین۔ وإن العدوّ ما عرف الحقیقۃ ونسِی الطریقۃ، فإنی آکل أجزاءً غذائیۃن التی تنفصل من
    الہضم الْمَعِدی بإذنِ خالق الأشیاء ، وتدفعہا الطبیعۃ إلی بعض الأمعاء ، فتخرج من المَبرز المعلوؔ م مع قلیل من الصفراء ، فہذا شیء آخر ولیس ببراز کما ہو زعم الأعداء ، بل ہو غذاء أُعِدَّ لمثلنا
    الطیّبین۔
    فاتقوا ہذا المثال وفکِّروا فی سوانح المسیح وفیما قال۔ وکل ما قال عیسٰی نبی اللّٰہ فہو طیب، ولکن تعسًا للذی لا یفہم الأقوال وإنّا نبکی علٰی حال الظالمین والمؤذین الکالمین، بل ندعو اللّٰہ أن یہدیہم
    ویرحمہم وہو خیر الرّاحمین۔ وواللّٰہ إنّا لا نضحک بل نبکی علی حالکم أنکم تسترون الأمر وتتکلّفون أیہا الجائرون۔ ما لکم لا تفہمون؟
    ایک دروغ گو بہتان تراش کی تہمت ہے اور مَیں اس سے بری ہوں۔
    اور دشمن معترض نے
    حقیقت کو نہیں سمجھا اور جلدی کی اور طریقہ کو بھول گیا کیونکہ میں ان اجزاء غذائیہ کو کھاتا ہوں
    جو ہضم معدے سے باذن خالق الاشیاء الگ ہوتی ہیں اور پھر طبیعت ان
    کو
    بعض امعاء کی طرف رد کرتی ہے پس وہ فضلات مبرز معلوم سے نکلتے ہیں اور تھوڑا سا صفراء ان کے ساتھ
    ہوتا ہے پس یہ تو اور چیز ہے گوہ نہیں ہے جیسا کہ دشمنوں نے خیال کیا ہے۔
    بلکہ یہ تو ایک غذا ہے جو ہمارے جیسے
    پاکوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
    پس اس مثال سے ڈرو اور مسیح کے سوانح میں غور کرو اور ان باتوں میں جو اس نے فرمائیں اور جو کچھ عیسیٰ نبی
    اللہ نے فرمایا تھا وہ تو پاک تعلیم تھی مگر ان پر واویلا جنہوں نے ان باتوں کو نہ سمجھا اور تعلیم کو
    بدل دیا اور ہم ظالموں کے حال پر اور دکھ دینے والوں اور دل خستہ کرنے والوں پر روتے ہیں
    بلکہ دعا
    کرتے ہیں کہ خدا ان کو ہدایت دے اور ان کے حال پر رحم کرے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔
    اے ظالمو! تمہیں کیا ہوا کہ تم سمجھتے نہیں
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 162
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/162/mode/1up
    وإنّا نُریکم فلا تنظرون، ونعطیکم فلا تأخذون، وتفترون الکذبَ ولا تستحیون، وأیقظَکم الموقظون فلا تستیقظون۔ ألا تتقون الذی إلیہ
    تُرجعون، أو ظننتم أنکم من المترو!کین؟
    وقد قلتُ آنفا إن القرآن ما بیّن حال النصاریٰ علی نہج واحد، بل جعل بعضہم علی بعض کشاہد، وقال إن بعضہم یعبدون المسیح ویتخذونہ إلٰہًا عمدًا، وبعضہم
    یعبدون معہ أُمَّہ ویحمدونہا حمدًا، وفیہم فرقۃ قلیلۃ یعبدون اللّٰہ ویحسبونہ رحیمًاؔ ورحمانًا، ویحسبون المسیح بشرًا وإنسانًا، وہذہ الفِرق الثلا ثۃ کانوا فی عہد نبیّناصلی اللّٰہ علیہ وسلم موجودین، والقرآن قُرِءَ
    علیہم إلی قرون ومِءِین، فما قال أحد منہم أن القرآن یعزو إلینا ما یخالف عقائدنا وتعالیم عمائدنا، ولا یفہم سرَّ أقانیمنا، ویخطی فی بیان تعالیمنا و إن کنتَ تظن أنہ قال أحد کمثل ہذہ الأقوال، أو وجدتَ
    اور ہم
    تمہیں دکھلاتے ہیں اور تم دیکھتے نہیں اور ہم تمہیں دیتے ہیں اور تم لیتے نہیں اور تم جھوٹ باندھتے ہو اور شرم نہیں
    کرتے اور تمہیں جگایا جاتا ہے اور تم جاگتے نہیں کیا تم اس سے ڈرتے نہیں
    جس کی طرف تم پھیرے جاؤ گے یا
    تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں چھوڑا جائے گا۔
    اورمیں ابھی کہہ چکا ہوں کہ قرآن نے نصاریٰ کا حال ایک طور سے بیان نہیں کیا
    بلکہ بعض کو بعض کا گواہ
    ٹھہرا دیا ہے اور کہا کہ بعض مسیح کی عبادت کرتے ہیں اور اس کوعمداً خدا
    بنا رکھا ہے اور بعض اس کے ساتھ اس کی ماں کی بھی پرستش کرتے ہیں اور اس کی حمد میں مشغول ہیں اور تھوڑا
    سا فرقہ
    ایسا بھی ہے جو موحد ہے اور خداتعالیٰ کو رحیم و رحمان سمجھتے ہیں اور مسیح کو صرف بشر اور انسان سمجھتے ہیں اور
    یہ تینوں فرقے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود
    تھے۔ اور
    صدہا سال ان پر قرآن پڑھا گیا مگر کوئی ان میں سے معترض نہ ہوا کہ قرآن ہماری طرف ایسے عقائد منسوب کرتا ہے
    جو ہمارے عقائد کے مخالف ہیں اور کسی نے نہ کہا کہ قرآن
    ہمارے اقنوموں کے بھیدوں کو نہیں سمجھتا اور
    ہماری تعلیموں کے بیان میں خطا کرتا ہے اور اگر تیرا گمان ہے کہ کسی نے ایسا کہا ہے یا تو نے کوئی ایسی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 163
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/163/mode/1up
    کتابا شاہدا علی ہذا المقال، فأَخْرِجْ لنا کتابک إن کنت من الصادقین۔ وإن لم تستطع فاتق اللّٰہ ولا تتّبع آراء قومٍ فاسقین۔
    واعلموا أنکم
    قد فہمتم فی أنفسکم فی ہذا الزمان الذی ہو زمان التدبّر والإمعان، أن عقائدکم خرافات وفیہا آفات، وتضحک علیکم الصبیان والنسوان، فتریدون أن تلقوا علیہا رداء التأویلات لعلکم تخلصون من الملامات، ومِن
    لعن اللاعنین؛ فزیّنتم الباطل لتدحضوا بہ الحق وکنتم قومًا مسرفین۔ وأمّا خُبث عقائدکم فلیس شیء یخفی علی الناس، أو یخفی مِن عینِ کَیِّسٍ ذی الفہم والقیاس۔ ألستم تعبدون عیسٰی فی ہذا الزمان کما کنتم تعبدون
    فی أیام نزول القرؔ آن؟ ألستم تمجّدونہ وتقدّسونہ وتعظّمونہ کمثل إلٰہ العالمین؟ ألستم تقولون إن کل أمر فُوِّضَ إلی عیسٰی، وہو اللّٰہ فی الأولٰی والأخرٰی، وہو الذی تُرجَعون إلیہ
    کتاب دیکھی ہے جو ان
    باتوں پر شاہد ہو تو تیرے پر واجب ہے کہ ہمارے رو برو وہ کتاب پیش کرے اگر تُو سچا ہے۔
    اور اگر تُو پیش نہ کر سکے تو خداتعالیٰ سے ڈر اور فاسقوں کی راؤں کی پیروی مت کر۔
    اور تم خوب
    یاد رکھو کہ تم نے اس زمانہ میں جو تدبر اور امعان کا زمانہ ہے اپنے دلوں میں سمجھ لیا ہے
    کہ تمہارے عقائد محض خرافات ہیں اور ان میں ایسے آفات ہیں جن پر
    لڑکے اور عورتیں بھی
    ہنستی ہیں پس تم چاہتے ہو کہ ان پر تاویلوں کی چادر ڈال دو
    تاکہ تم ملامتوں اور لعنتوں سے بچ جاؤ۔ پس تم نے باطل کو آراستہ کیا تاکہ تم
    حق کو اس کے ساتھ باطل ٹھہراؤ اور تم ایک حد سے
    نکلنے والی قوم ہو۔ اور تمہارے عقیدوں کا ناپاک ہونا ایسی شے نہیں ہے جو لوگوں پر پوشیدہ رہ سکے یا ایک دانا کی آنکھ اور قیاس سے چھپ سکے کیا تم حضرت عیسیٰ کی
    اس زمانہ میں پرستش
    نہیں کرتے جیسا کہ نزول قرآن کے وقت پرستش کرتے تھے کیا تم خداتعالیٰ کی طرح اس کی
    تمجید اور تقدیس اور تعظیم نہیں کرتے۔ کیا تم یہ نہیں کہتے کہ ہر ایک امر
    عیسیٰ کو سپرد کیا گیا ہے
    اور وہی خدا اِس جہان اور اُس جہان میں ہے اور وہی ہے جس کی طرف رجوع دیے جاؤ گے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 164
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 164
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/164/mode/1up
    وتحضرون لدیہ، ویحکم بینکم کملِکٍ أکرم وأعظم، وتعرفونہ بصورتہ أنہ ابن مریم؟ فموتوا ندامۃً یا معشر المشرکین۔ وکیف تُخفون
    شِر!ککم وقد ظہرت الأسرار وبدت الأخبار، وأشعتم عقائدکم بالاستعجال وزففتم زفیف الرال و إنّا عرَفناکم وعرفنا الکید والفنَّ، فکیف نحسن بکم الظنَّ، بعدما کنا عارفین؟ إنکم قوم تُضلّون الناس بتلبیساتکم
    لیمیلوا إلی جہلا تکم، ویقبلوا خزعبلا تکم ویجیؤکم کمسحورین۔ وإنّا سمعنا منکم سبَّ نبیِّنا مع الافتراء والمَین، وأُحْرِقْنا بالنّارَین، وما نشکو إلا إلی اللّٰہ وہو خیر الناصرین
    اور جس کے پاس حاضر کئے جاؤ
    گے اور جو تم میں بادشاہ کی طرح فیصلہ کرے گا اور تم اس کو اس کی صورت کے ساتھ پہچان لو گے کہ یہ ابن مریم ہے سو اے مشرکو! شرمندگی سے بچ جاؤ۔ اور تم اپنے شرک کو کیونکر چھپا
    سکتے ہو حالانکہ بھید ظاہر ہو گئے اور خبریں آشکارا ہو گئیں اور تم نے جلدی سے اپنے عقائد شائع کر دیے اور ایسے دوڑے جیسا شتر مرغ کا بچہ دوڑتا ہے اور ہم نے تم کو پہچان لیا اور تمہارا
    فریب بھی پہچان لیا پس ہم کیونکر تم پر نیک ظن کریں بعد اس کے جو ہم شناسا ہو گئے۔ تم وہ قوم ہو جنہوں نے خلق اللہ کو مکروں کے ساتھ گمراہ کر دیا تاکہ تمہاری باطل باتوں کی طرف وہ میل کریں
    اور تمہاری خرافات کو قبول کریں اور جادو زدہ لوگوں کی طرح تمہارے پاس آ جائیں۔ اور ہم نے تم سے نبی صلعم کی نسبت گالیاں سنیں اور افتراء اور جھوٹ سنا اور ہم دو قسم کی آگ سے جلائے گئے
    یعنی ایک دشنام اور دوسرے افترا سو ہم کسی کے پاس شکایت نہیں کر تے اور محض اللہ تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں اور وہ خیر الناصرین ہے۔
    القصیدۃ الفریدۃ التی یہُدُّ الأحقاف، ویزیلُ غَینَ
    العَینِ
    ویأخذُ الصَّادَّ ولَوْ عَلا الْقَاف
    قصیدہ نادرہ جو ریت کے تودوں کو ویران کرتاہے اور آنکھ کی تاریکی کو دور کرتا ہے اور منہ پھیرنے والے کو پکڑ لیتا ہے اگرچہ کوہِ قاف پر چڑھ جاوے
    ترکتم أیہا النَّوکی طریقَ الرشد تزویرا
    علی عیسَی افْتریتم مِن ضلالتکم دَقاریِرا
    اے نادانو تم نے رشد کا طریق محض دروغ آرائی کی جہت سے چھوڑ دیا
    اور عیسیٰ علیہ السلام پر تم نے اپنی
    گمراہی سے کئی جھوٹ باندھے
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 165
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 165
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/165/mode/1up
    فقلتمؔ إنہ المختارُ إحیاءً وتدمیرا
    ہو اللّٰہ الذی قد قدّر الأشیاءَ تقدیرا
    پس تم نے کہا کہ وہی مارنے اورزندہ کرنے کا
    مختار ہے
    وہی خدا ہے جس نے تمام چیزوں کی تقدیریں مقرر کیں
    قد اغتاظ الأبُ الحاضِی فقام الابن تذکیرا
    فما نفعتْ نصائحُہ فقَبِلَ الابنُ تعزیرا
    باپ نے اپنے غصہ کو افروختہ کیا پس بیٹا
    نصیحت دینے کے لئے اٹھا
    مگر بیٹے کی نصیحت نے اس کو کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور بیٹے نے تکلیف کو منظور کیا
    أحبَّ الوالدُ المُغتال إہلاکا وتخسیرا
    فجاء الابنُ کالمُنْجِی ونادَی الخَلْقَ
    تبشیرا
    باپ خونی نے لوگوں کو مارنا اور ہلاک کرنا پسند کیا
    پس بیٹا نجات دہندہ آیا اور اس نے لوگوں کو خوشخبری سنائی
    وقلتم إنہ رَدَّ الأمورَ إلیہ تَوقیرا
    کأنّ أباہ قد شاخا ونابَ الابنُ
    تخییرا
    اور تم نے کہا کہ سب اختیارات اس کو دیے گئے
    گویا اس کا باپ بوڑھا ہو گیا اور بیٹے کو اپنا قائمقام کر دیا
    وقلتم إنہ الحامی ونبغی منہ تَخْفِیرَا
    وہذا کلہ شِرکٌ فَدَعْ کذبًا وتَسْحِیرَا
    اور تم نے کہا وہی مددگار ہے اور ہم اس سے مددمانگتے ہیں
    اور یہ سب شرک ہے پس جھوٹ اور دھوکا دینے کو چھوڑدو
    وما فی نورنا ریب ولن تخفوہ تغییرا
    فہل حُرٌّ یخاف اللّٰہ لما جئتُ
    تحذیرا
    اور ہمارے نور میں کوئی دخان نہیں پس تم ان کو ایسا پوشیدہ نہیں کر سکتے جیسے کہ ایک شے پوشیدہ کی جاتی ہے
    اور کیا تم میں کوئی آزاد ہے کہ اللہ سے ڈرے جبکہ مَیں ڈرانے کے
    لئے آیا
    وہذا قولنا حَقٌّ وطہَّرْناہ تطہیرا
    ولکن النصاری آثَروا خُبْثًا وخنزیرا
    اور یہ ہماری بات حق ہے اور پاک کی گئی ہے
    مگر نصاریٰ نے خبث اورخنزیر کو اختیار کیا ہے
    ومِن تلبیسہم قد
    حرَّفوا الألفاظ تفسیرا
    وقد بانتْ ضلالتُہم ولو ألقوا المعاذیرا
    اور ان کی ایک تلبیس یہ ہے کہ تفسیر میں تحریف کرتے ہیں
    اور ان کی گمراہی ظاہر ہو چکی ہے اگرچہ اب عذر پیش کریں
    الإعلان
    تنبیہًا لکلّ من صال علی القرآن
    من النصاری وغیرہم من أہل العدوان
    قد کتبنا مِن غیر مرۃ أن القرآن الکریم قد جمع التعالیم وأکمل التفہیم، وأنہ مشتمل علی علوم الأولین والآخرین، وہو بعُلُوِّہ کأبحرٍ لا
    کحِیاضٍ، وفاق کلَّ لُجّۃٍ بذیل
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 166
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 166
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/166/mode/1up
    فضفاض، وفیہ نور أصفی من نور العین، ونقیٌّ من الدؔ رن والشین۔ صحفٌ مطہّرۃ فیہا کتبٌ قیّمۃ وحِکَمٌ مُعجِبۃ، مع حسنِ بیان
    وبلاغۃ ذی شان تسرّ الناظرین۔ وہو إعجاز عظیم بفصاحۃ کلماتہ، وبلاغۃ عباراتہ، ورفعۃ معارفہ، وباکورۃ نِکاتہ، ولکن النصاری وأتباعہم أنکروا ہذا الکمال، ونحتوا الشکوک وزیّنوا الأقوال، وجاء وا بمکر
    مبین۔ فقال بعضہم إن القرآن فصیح ولا ننکر الفصاحۃ ولا نختار الوقاحۃ، ولکن تعلیمہ لیس بطیّب ونظیف، ولا یوجد فیہ مِن وعظ لطیف، بل ہو یأمر بالمنکر وینہی عن المعروف، وکل ما علّم فہو سَقْطٌ
    کالمریض المَؤُوف، ولا یصلُح للصالحین۔ أقول کل ما ہو قلتم فہو کذب صریح، ولا یقول کمثلہ إلا الذی ہو وقیح، أو من المفترین۔ إنکم لا تستطلعون بعیون الصدق والسداد، ولا تسلکون إلا مسالک العناد، وما
    تعلمون إلا طرق الاعتساف، وما غُذِّیْتم بلبان الإنصاف، وما أراکم إلا ظالمین۔ أَعَرَفْتم حقیقۃ القرآن، مع کونکم محرومین من علم اللسان، ومُبعَدین من سکک العرفان؟ أتظنّیتم البحر سرابًا مستورًا، مع کونکم عُمیًا
    وعُورًا؟ لا تعلمون حرفًا من العلوم العربیۃ، ولا تملکون فتیلا من البساتین الأدبیۃ، بل أراکم کأخی عَیلۃٍ، الماشین فی ظلام لیلۃ، ثم تلک الدعاوی مع مفاقر الجہل والضلال، والإنکارُ من شمس العلوم بأنواع
    المکائد والاحتیال، کبرٌ عظیم وفسقٌ قدیم، فسبحان ربنا کیف یمہل الفاسقین
    أیہا الجہلاء أنتم تصولون علی کلامٍ قد أُودعتْ سِرَّ المعارف أَسِرَّتُہ، ومأثورۃٌ سُمْعتُہ وشُہرتُہ، ومشہورۃٌ عصمتُہ وطہارتہ،
    ومسلَّمٌ نِضارُہ ونَضْرتُہ، واشتہر تأثیرہ وقوّتہ، فلا یُنکرہ إلا من فسدتْ فطرتُہ۔ ألا ترون إلی قصرٍ شادَہ القرآن، وإلٰی علوم أکملہا الفرقان، وإلی أنوارٍ أترعَ فیہ الرحمن
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 167
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 167
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/167/mode/1up
    وواللّٰہ لا نظیرَ لہ فی إحیاء الأموات ونفخِ الروح فی العظام الرفات جاء فی وقتِ انقراضِ حِیَل الصلحاء ، وظَہَرَ بعد اکفہرار اللیلۃ
    اللیلاء ، ووجد الخَلق کمعروق العظم وأخِ العیلۃ، أو کنائم فی اللیلۃ، فنوّر وجہَ الناس ولا کإنارۃ النہار، وناوَلَہم مالًا کثیرًا مِن دُرر العلم وأنواع الأنوار فانظر ہل تری مثلہ فی تأثیر؟ ثم ارجِعِ البصر ہل تریٰ من
    نظیر؟ أنسیتَ ظلمۃَ أیام الإنجیل؟ أما جاء ک خبر من ذلک الجیل؟ کیف کانت إحاطۃ الضلالات علی کل زمان ومکان؟ أما لاحظتَ أو ما سمعتَ مِن ذی عرفان؟ کأنہم کانوا انحطّوا إلی اللحد، ونکثوا کل ما
    عاہدوا من العہد، وأکلتْہم ضلالاتہم کمَیتٍ أکلتْہ الدودُ، ورُمَّ إیمانُہم کمثل ما یُنخَر العود۔ أما قرأتَ أحوال تلک الأزمان؟ ألست تذکرہا وعیناک تہملان؟ فأیّؔ شیء نَوَّرَ الزمنَ بعد الظلام، وذکّر اللّٰہَ بعد ذکر
    الأصنام، وجاء بشربٍ مِن تسنیم بعد حمیمٍ داعٍ إلی الحِمام؟ فاعلم أنہ ہو القرآن المبارک الذی نجّی الخَلق من موت الاجترام، وأنشر الأمواتَ من الرِّجام، وأنزل الجَود بعد أیام الجَہام۔ فمن ہنا نفہَم وجوہَ ضرورۃ
    القرآن ومنافعہ لنوع الإنسان وإن کنتَ لا تترک الإدلال بإنجیلک والاغترارَ بصحّۃ علیلک، ولا تتوب من أقاویلک، فہا أنا أدعوک للنضال، وللتفریق بین الہدی والضلال، مستعیذًا باللّٰہ من شرّ الدجّال؛ فہل لک أن
    تتصدّی لہذا المضمار، لیتبدّی حقیقۃُ الأسرار؟ إنّک ترید أن تُقوِّض مجد القرآن وبنیانہ، ونرید أن نُمزِّق الإنجیل ونُریک أدرانہ، وواللّٰہ إنّا من الصادقین، ولسنا من الکاذبین المزوِّرین وواللّٰہ إن إنجیلکم الموجودۃ
    غبار وتباب ودمار، ولیس بمُعلِّمِ الحکمۃ بل سامرٌ ومِہْذار، فتنزیہُہ ومدحُہ عارٌ، وجُرْحہ جُبار۔ وإنّا لا نجد فیہ خیرًا، بل شرًّا وضیرًا، ونعوذ باللّٰہ من شرّہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 168
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 168
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/168/mode/1up
    وکمال ضرّہ، ونحولقُ علی غفل المادحین۔ کتابٌ مُضِلٌّ یدعو الناس إلی المحظورات بل المہلکات، ویفتح علیہم أبواب الہنات
    والسیئات والإباحات وعبادۃ الأموات، ویجعلہم من المشرکین۔ وأشأَمَ فی بعض المقالات، وأیمنَ فی الأخری، وما تمالکَ أن یقصد فی مشیہ ویختار وسطًا کذوی النہی، ولأجل ذلک طعنوا فیہ فلاسفۃُ القوم،
    ووخَزوہ بأسنّۃ اللوم، وقالوا لا حاجۃ إلی ردّہ، فإنہ کافٍ لرَدِّ نفسِہ، ونراہم قائمین علی فَوہتہم، وہم من النصاری ومن أکابر عصبتہم، بل مِن حکماۂم لا کمثل ہؤلاء مِن جہلتہم، وتجد کثیرا منہم مُلبِّین داعیَ
    الإسلام أفضلَ الرسل وخیرَ الأنام وخاتمَ النبیین۔
    فیا أیہا الأعداء من النصاریٰ وفی الشِرک کالأساریٰ، لِم تتکلمون کالسکاری، وتلبسون الحق بالباطل وتہربون من الذی باریٰ؟ بارِزوا للنضال إن کنتم من أہل
    الکمال ومن الصادقین۔ واعلموا أن تحقیقَ الحق مِن کرم الطبع، والصولَ مِن غیر حق مِن سِیَر السبُع، فعَدُّوا عن اللذع والقذع، وہلمّوا إلی التناضل والثَّلْع۔ ونحن نُحکِّم بعضَ حُکمائکم فی ہذا الأمر، ونعاہد اللّٰہ أنّا
    نقبل کل ما حکموا من غیر العذر فہل لکم أن تُبرزوا لنا تعالیم الإنجیل، وکل ما ہو فیہ من لطائف الأقاویل؟ وکذلک نکتب لکم معارف القرآن ودقائق صحف اللّٰہ الرحمن، فیَزِنَہما الحَکَمُ بمیزان العقل والدہاء ،
    ویحکم بین الخصماء ، فإن کنا نحن المغلوبین، فنقبل لأنفسنا أن نُعذَّب کالمجرمین، ونُقتَل کالفاسقین الکاذبین؛ وإن کنّا من الغالبین، فلا نطلب من المتنصرین إلا أن یکونوا من المسلمین۔
    فیا ؔ عدوَّ الحق إنک
    مدحتَ الإنجیل فہَرَفْتَ، ونَحَتَّ الفِرْیۃَ فأغربتَ وأطرفتَ، فہل بعد الدعاوی فرار، وبعد الإقرار إنکار؟ فأین تفرّ وقد جاء وقت
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 169
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 169
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/169/mode/1up
    افتضاحک، فلا تستر وجہک بوِشاحک، ولک من الورق ألفین، إن کنتَ تُثبتُ فضل الإنجیل بغیر المَیْن۔ وأنَّی لک ہذا یا رئیسَ المزوِّرین؟
    أیہا النصاری ما تنصّرتم لتنویر العین، بل لجَمْعِ العَینِ وجذبات الأَجْوَفَینِ، وترکتم تکالیف الصلاح لمطائب الجِفان ولذّاتِ الراح، وتمدحون فی قلوبکم مَربَعَ اللذّات لا تعلیم عیسی وطریق النجاۃ، وتستو!کفون
    الأکُفَّ بذمّ الطیّبین، لیرشح علی یدکم إناءُ قسّیسین۔ ویلکم إنکم ترکتم مَن عَظُمَ وجَلَّ، وأعرضتم عن الوَبْل واستسقیتم الطَلَّ، وما فکّرتم فی عیسی وصرفتم العمر بعسی ولعلّ۔ أَرُونی کتابا تعلقتم بأہدابہ، أو اسمعوا
    منّی محاسنَ الفرقان ونُخَبَ عُجابہ، وتوبوا مِن ذکر محاسن الإنجیل ولطائف آدابہ۔ أہو یشابہ الفرقانَ فی بیان النکات، أو یتحاذٰی فی الدرجات، أو یتوازن فی دقائق الکلمات؟ کلا۔ إن القرآن قد انفرد فی کمال
    الصفات ومعارف الإلٰہیات، وإراءۃِ الوسط الذی ہو من أعظم الحسنات فما للبدر التام وجُنْحِ الظلام؟ أتعظّمون الکتاب الذی مملوّ من المنکرات، وجاز عن القصد ودعا إلی السیّئات؟ أاغتررتم بزخرفۃ محالہ،
    ومدحتموہ قبل اختبار حالہ؟ مع أنکم رأیتم أنہ لا یُعلِّم طرق الکمالات، ولا سُبل المجاہدات الموصلۃ إلی رب الکائنات، ولا یُفصِّل أحکام الربّ ولا یُرغِّب فی العبادات، بل یدعو الناس إلی التنعم والراح والراحۃ،
    وینہَب حرارۃَ الإیمان ویغادر بیتہم أنقی من الراحۃ۔ فاذکروا الموتَ أیّہا الغافلون، وشمّروا أیہا المقصّرون، وحقّقوا ولا تتبعوا الظنون، وتدبّروا وأمِعنوا کأہل الأنظار، ولا تخالسوا کتخالُس الطَّرّار، وقُوموا
    واسمعوا قول من جاء من حضرۃ الغفّار، ولا تنصلتوا انصلات الفرار، ولا تُؤْثِروا حَرَّ الظہیرۃ علی بَرْدِ الصبح وسیر الحدیقۃ وأکل الثمار۔ قوموا لاستثمار السعادۃ، وأْ تونی بصدق الإرادۃ، واعلموا أن اللّٰہ یعلم
    ما تأتمرون وما تُظہرون
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 170
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 170
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/170/mode/1up
    وما تتخافتون، وقد غمرتکم مواہبہ فی الدنیا فلِم تنسون الآخرۃ کالمتمرّدین؟ أ تخیّرتم الدنیا وما ہی إلا دار فانیۃ، وعجوزۃ زانیۃ،
    وسترجعون إلی اللّٰہ ربّ العالمین، فتفارقون شہوا تکم کمفارقۃ القشر للبِّ، وتُحرَقون بنار الحسرۃ والجَبّ، وتدخلون فی غیابۃ الجُبّ مخذولین۔ وما کتبتُ إلا لاستبراء زَنْدِکم واستشفافِ فِرِنْدِکم، لأکشف ما التبسَ
    علی الناس، وأُنجّی الخَلق من الوسواس الخنّاس۔ فانزِعوا عن الغیّ، وارجِعوا مَنْشَرَکم إلی الطیّ، فإن العاقل یقبل الحق ولا یتأخّر کمن عصی، ولا یحتاج إلی العصا۔ أتریدون أن تُمسکوا رمق الإنجیل، وقدؔ مزّقہ
    سیفُ اللّٰہ الجلیل؟ فلا تُعرضوا کالضنین البخیل، ولا تعثوا فی الأرض مفسدین۔ أتریدون أن ترفعوا ما ہوی، وترقعوا ما مزّق اللّٰہ وأوہی؟ فلا تحاربوا اللّٰہ کالمجانین، وغلِّسوا فی صباح اللّٰہ وبادِروا إلی الحق
    کأہل الصلاح وکالعباد السابقین۔ وادخُلوا البستان واترکوا النیران، وانظروا الرَّوحَ والریحان، واقتطِفوا واتّقوا الشوکَ والشیطان إنکم لا تُمہَلون کما لم تمہَلوا آباؤکم، فلِمَ قست قلوبکم، وطاغت أہواء!کم؟ وسینصر
    اللّٰہ عبدہ ودینہ، ولن تضرّوہ شیئا، ولن تستطیعوا أن تطفؤا نور اللّٰہ ولو مِتُّمْ جہدًا وسعیا وہذا آخر کلامنا وخاتمۃ جولان أقلامنا، وکفاک إن کنت من أہل التقاۃ ومن الطالبین۔ والحمد للّٰہ أوَّلًا وآخرًا، وظاہرًا
    وباطنًاوہو نِعم المولٰی ونعم النصیر۔
    فکِّرْ فی قولی یا من أنکرنی، وحَرِّکْ قدمَک للّٰہِ
    الواحد، ودَعِ التذکر للمعاہد
    أیہا العزیز أقصّ علیک قصّتی إن استمعتَ، وحبّذا أنت لو ا تّبعتَ۔ قد سمعتَ کلام الذین
    بادروا إلی تکفیری، فأوضح لک الآن معاذیری، وإن شئتَ فکُنْ عذیری أو من اللا ئمین۔إنی امرؤ من المسلمین، أؤمن باللّٰہ وکتبہ ورسلہ وخیرِ خَلْقِہ
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 171
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 171
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/171/mode/1up
    خاتَمِ النبیین۔ لستُ من الذین یجترؤن علی خلاف المأثور من خیر الکائنات، بل من الذین یخافون ربہم ویطہّرون الخطراتِ۔ بید أنی
    أُعطیتُ مقاماتِ الرجال، وعلّمنی ربّی فہدانی إلی أحسن المقال، وجعلنی مہدیَّ الوقت ومن المجددین۔ فما فہِم المکفّرون کلامی، وکفّرونی قبل التدبّر فی مرامی، فقلتُ واللّٰہِ لستُ بکافر ویعلم ربّی إسلامی، فما
    ترکوا قول التکفیر، بل أصرّوا علی ما فعلوا وظلموا فی التقریر والتحریر، وقالوا کافر کذّاب، ونتربّص علیہ العذاب۔ واللّٰہ یعلم أنہم من الکاذبین المفترین، أو الجاہلین المستعجلین۔ أافتریتُؔ علی اللّٰہ بعدما
    أفنیتُ عمری فی مساعی الدّین، حتی جاوزت الخمسین؟ وحمانی مُقْلۃُ ربّی من سُبل الشیاطین، وما کانت مُنْیتی فی مدّۃ عمری إلا حمایۃ دینِ خیرِ الأنام وإعلاءِ کلمۃ الإسلام، وکفی باللّٰہ شہیدا وہو خیر
    الشاہدین۔
    یا ربّ یا ربّ الضعفاء والمضطرّین، ألستُ منک؟ فقُلْ وإنک خیر القائلین۔ کثُر اللعنُ والتکفیر، ونُسِبْتُ إلی التزویر، وسمعتَ کلہ ورأیتَ یا قدیر، فافتَحْ بیننا بالحق وأنت خیر الفاتحین۔ ونَجِّنی من
    علماء السوء وأقوالہم، وکِبرہم ودلالہم، ونَجِّنی من قوم ظالمین۔ وأَنْزِلْ نصرًا من السماء ، وأَدْرِکْ عبدک عند البلاء ، ونَزِّلْ رجسک علی الکافرین۔ وصرتُ کأذلّۃٍ مطرودَ القوم ومورد اللوم، فانصرنا کما نصرتَ
    رسولک ببدرٍ فی ذٰلک الیوم، واحفَظْنا یا خیرَ الحافظین۔ إنّک الربّ الرحیم، کتبتَ علٰی نفسک الرحمۃ، فاجعل لنا حظًّا منہا وأَرِنا النصرۃ، وارحمنا وتُبْ علینا وأنت أرحم الراحمین۔ ربّ نجّنی مما یقصدون،
    واحفَظْنی مما یریدون، وأَدْخِلْنی فی المنصورین۔ ربّ فَرِّجْ کربی، وأحسِنْ منقلبی
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 172
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 172
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/172/mode/1up
    وأظفِرْنی بقُصْوٰی طلبی، وأَرِنی أیام طربی، وکُنْ لی یا ربّی، یا عالِمَ ہمّی وأَرَبی، وصافِنی وعافِنی یا إلہَ المستضعَفین۔ کذَّبنی کلُّ أخِ
    الترّہات، وکفّرنی کلُّ أسیر الجہلات، وما بقِی لی إلا أن أنتجع حضرتَک، وأطلب عونک ونصرتک، یا قاضِیَ الحاجات، لعلّک تردّ نہاری بعد أن صغَتْ شمسی للغروب، وضجر القلب من الکروب۔ وواللّٰہ ما تَأَوُّہِی
    لِفَوْتِ أیامِ السرور ولا للتنعم والحبور، بل للإسلام الذی صال علیہ الأعداء ، وأفَلَتْ شموسُہ وطالت اللیلۃ اللیلاء ، وظہرت المداجاۃُ فی فِرق الإسلام والتفرقۃُ فی أمّۃ خیر الأنام۔ وأمّا الکفّار وأحزاب اللیام، فقد
    انتظموا فی سِلک الالتیام۔ والحسرۃ الثانیۃ أن فینا العلماء والفقہاء والأدباء ، ولکنہم فسدوا کلّہم وأحاطت علیہم البلاء ، إلا ما شاء اللّٰہ۔ ربّ فارحَمْ وتقبَّلْ منّا دعاء نا، وإلیک الشکوی والتجاء ۔ یقولون إنّا نحن
    أعلام الدین وعمائد الشرع المتین، ولکنی ما أری فیہم أحدًا کذی مِقْوَلٍ جَرِیٍّ، خادمِ دینِ نبیِّنا کمُحِبٍّ ولیٍّ، بل سقطوا فی الشہوات والأہواء والدعاوی والریاء ، وما أجد أکثرہم إلا فاسقین۔ وکنت أخال فی رَیْقِ
    زمانی أنہم أو أکثرہم من أعوانی، ولکنہم ولّوا دبرہم عند الابتلاء ، وکان ہذا قدرًا مقدّرًا من حضرۃ الکبریاء ، فالآن أُفرِدتُ کإفراد الذی یبیتُ فی البیداء ، أو کالذی یقعد فی أہل الوبر وسکان الصحراء ، فالآن قلّتْ
    حیلتی وضعفت قوّتی، وظہر ہوانی علی قومی
    ؔ وعشیرتی، ولا حول ولا قوّۃ إلا بک یا ربّ العالمین۔ إلیک أنبتُ، وعلیک توکّلتُ، وبک رضیتُ۔ ربّ فاستُرْ عَوراتی، وآمِنْ رَوعاتی، ولا تذَرْنی فردًا وأنت خیر
    الوارثین۔ بِیدک البذلُ والعطاء ، والعزُّ والعلاء
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 173
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 173
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/173/mode/1up
    وإذا أتیتَ فلا یأتی البلاء ، وإذا نزلتَ فلا ینزل الضرّاء ۔ وأشہد أن لا إلہ إلا أنت، ولا رافِعَ إلا أنتَ، ولا دافِعَ إلا أنتَ، علیک توکّلتُ،
    وبحضرتک سقطتُ، وأنت کہف المتو!کلین۔ أَحْسِنْ إلیّ یا مُحسنی، ولا أعلم غیرک من المحسنین وصلِّ وسلِّمْ علی رسولک ونبیّک محمد وعَظِّمْ شأنہ، وأَرِ الخَلق برہانہ، إنّا جئناک لدینہ باکین تعلم ما فی قلوبنا،
    وتنظر ما فی صدورنا، وإنّا معک طوعًا، وما ندّخر عنک صدقًا وروعا، وما کنا أن نہتدی
    لولا أن ہدیتَنا، وما وجدنا إلا ما أعطیتَنا، فلا حَمْدَ إلا لک
    ویرجع إلیک کل حمد الحامدین۔ إنّک ربّ رحیم
    وملِکٌ
    کریم، فمن جاء ک ووالاک وأحبّک
    وصافاک، فلا تجعلہ من الخائبین۔ فبشرٰی
    لعبادٍ أنت ربہم، وقومٍ أنت مولاہم
    سبقتْ رحمتُک غضبَک، ولا تُضیّع
    عبادک المخلصین، فالحمد لک
    أوّلًا وآخرًا
    وفی
    کل حین
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 174
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 174
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/174/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 175
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 175
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/175/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 176
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 176
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/176/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 177
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/177/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 178
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/178/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 179
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/179/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 180
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/180/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 181
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/181/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 182
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/182/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 183
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/183/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 184
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/184/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 185
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/185/mode/1up
    Ruhani Khazain Volume 8. Page: 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 186
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=8#page/186/mode/1up
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں