1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 4 ۔نشان آسمانی ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 4 ۔نشان آسمانی ۔ یونی کوڈ

    +Ruhani Khazain Volume 4. Page: 355
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 355
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 356
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 356
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اطلاؔ ع
    بخدمت جمیع احباب
    ہر ایک دوست کی خدمت میں جو یہ رسالہ نشان آسمانی روانہ کیا جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ قیمت پر بھیجا گیا ہے اور جہاں تک ممکن ہو بلا توقف قیمت اس کی جو تین آنے ہے اور محصور ڈاک آدھا آنہ ہے یعنی کل ۳؍۶ پائی بذریعہ منی آرڈر روانہ کر دیں تا دوسرے رسالہ دافع الوساوس کے لئے سرمایہ جمع ہو جاوے اور جو صاحب اور نسخے خریدنا چاہیں وہ بھی اطلاع بخشیں تا جس قدر طلب کریں بھیجے جائیں۔ والسّلام علٰی من الطبع الھُدٰی۔
    راقم خاکسار میرزا غلام احمداز قادیان ضلع گورداسپور از پنجاب
    یکم جون ۱۸۹۲ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 357
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 357
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بسم اللّٰہِ الرحمٰن الرحیم
    قدرتِ کردگار مے بینم
    حالتِ روزگار مے بینم
    ازنجوم این سخن نمے گویم
    بلکہ از کردگار مے بینم
    درخراسان و مصر و شام و عراق
    فتنہ و کار زار مے بینم
    ہمہ را حال مے شود دیگر
    گر یکے در ہزار مے بینم
    قصہ بس غریب مے شنوم
    غصۂ در دیار مے بینم
    غارت و قتل لشکر بسیار
    از یمین و یسار مے بینم
    بس فرو مایگان بے حاصل
    عالم و خواند کار مے بینم
    مذہب دین ضعیف می یا بم
    مبدع افتخار مے بینم
    دوستان عزیز ہر قومے
    گشتہ غمخوار و خوار مے بینم
    منصب و عزل و تنگچی عمال
    ہریکے را دوبار مے بینم
    ترک و تاجیک رابہم دیگر
    خصمی و گیر دار مے بینم
    مکر و تزویر و حیلہ در ہر جا
    ازصغار و کبار مے بینم
    بقعۂ خیر سخت گشت خراب
    جائے جمع شرار مے بینم
    اندکے امن گر بود امروز
    در حدِ کوہسار مے بینم
    گرچہ مے بینم این ہمہ غم نیست
    شادیء غمگسار مے بینم
    بعد امسال و چند سال دگر
    عالمے چوں نگار مے بینم
    بادشاہ مشام دانائے
    سرورِ باوقار مے بینم
    حکم امثال صورتے دگرست
    نہ چو بیدار وار مے بینم
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 358
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 358
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    غین ورے سال چوں گذشت از سال
    بوالعجب کاروبار مے بینم
    گر درِ آئینہ ضمیر جہان
    گرد و زنگ و غبار مے بینم
    ظلمتِ ظلم ظالمانِ دیار
    بے حد و بے شمار مے بینم
    جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد
    درمیان و کنار مے بینم
    بندہ را خواجہ وش ہمے یابم
    خواجہ را بندہ وار مے بینم
    ہرکہ ادبار یار بود امسال
    خاطرش زیر بار مے بینم
    سکّہء نو زنند بررُخِ زَر
    درہمش کم عیار مے بینم
    ہریک از حاکمان ہفت اقلیم
    دیگرے را دوچار مے بینم
    ماہ را رُوسیاہ مے نگرم
    مہر را دل فگار مے بینم
    تاجر از دور دست و بے ہمراہ
    ماندہ در رہگذار مے بینم
    حال ہند و خراب مے یابم
    جور ترک تبار مے بینم
    بعض اشجار بوستان جہان
    بے بہار و ثمار مے بینم
    ہمدلیء و قناعت و کنجے
    حالیا اختیار مے بینم
    غم مخور زانکہ من دریں تشویش
    خرّمی وصل یار مے بینم
    چوں زمستاں بے چمن بگذشت
    شمسِ خوش بہار مے بینم
    دَورِ اوچوں شود تمام بکام
    پسرش یادگار مے بینم
    بندگانِ جناب حضرت او
    سربسر تاجدار مے بینم
    بادشاہِ تمام ہفت اقلیم
    شاہ عالی تبار مے بینم
    صورت و سیرتش چو پیغمبر
    علم و حلمش شعار مے بینم
    یدِ بیضا کہ با او تابندہ
    باز با ذوالفقار مے بینم
    گلشنِ شرع راہمے بویَم
    گل دین را ببار مے بینم
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 359
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 359
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    تاچہل سال اے برادرِ من
    دورِ آں شہسوار مے بینم
    عاصیاں از امام معصومم
    خجل و شرمسار مے بینم
    غازی دوستدار دشمن کش
    ہمدم و یار غار مے بینم
    زینتِ شرع و رونقِ اسلام
    محکم و استوار مے بینم
    گنجؔ کسریٰ و نقد اسکندر
    ہمہ بر روئے کارمے بینم
    بعد ازان خود امام خواہد بود
    بس جہان را مدار مے بینم
    اح م و دال مے خوانم
    نام آں نامدار مے بینم
    دین و دنیا از و شود معمور
    خلق زو بختیار مے بینم
    مہدی وقت و عیسٰی ؑ دوراں
    ہر دو را شہسوار مے بینم
    ایں جہاں راچو مصرمے نگرم
    عدل او را حصارمے بینم
    ہفت باشد و زیر سلطانم
    ہمہ را کامگار مے بینم
    برکف دست ساقی وحدت
    بادۂ خوشگوار مے بینم
    تیغ آہن دلاں زنگ زدہ
    کند و بے اعتبار مے بینم
    گرگ با میش شیر با آہو
    در چرا باقرار مے بینم
    * ترک عیار سُست مے نگرم
    خصم اُو درخمارمے بینم
    نعمت اللہ نشست برکنجے
    از ہمہ برکنارمے بینم
    * اس جگہ منشی محمد جعفر صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ شعر یعنی ترک عیار گویا اس عاجز کی تکذیب کی نسبت پیشگوئی ہے۔ لیکن ایک عقل مند جو انصاف اور تدبر سے کچھ حصہ رکھتا ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ شعر اس قصیدہ کے مضامین کا ایک آخری مضمون ہے اور قصیدہ کی ترتیب سے یہ ببداہت معلوم ہوتا ہے کہ اول مسیح موعود کا ظہور ہو اور پھر اسکے بعدکوئی ایسا واقعہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 360
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 360
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پیش آوے جو ترک عیار سست نظر آوے اور اس کا دشمن بھی خمار میں دکھلائی دے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں بجز اس عاجز کے کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تا اسکے دعویٰ کے بعد ایک ناقص الفہم اس عاجز کو ترک قرار دے پس اس شعر کے صحیح معنے یہ ہیں کہ اس مسیح کے ظہور کے بعد ترکی سلطنت کچھ سست ہوجاوے گی اور سلطنت کا مخالف بھی یعنی روس فتح یابی کا کچھ اچھا پھل نہیں دیکھے گا اور آخرکار فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خمار رہ جائے گا اور نیز یہ شعر یعنی مہدئ وقت و عیسٰی ؑ دوراں صاف دلالت کرتا ہے کہ وہی مہدی موعود مسیح موعود بھی ہوگا۔ حالانکہ سید احمد صاحب نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود بھی ہوں۔ اور حدیثوں کی رو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہوجائے گی اور عرب کے بعض حصوں میں نئی سلطنت کے لئے کچھ تدبیریں کرتے ہوں گے اور ترکی سلطنت کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں گے سو یہ علامات مہدی موعود اور مسیح موعود کی ہیں جس نے سوچنا ہو سوچے۔ محمد جعفر صاحب کی سمجھ پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس مصرعہ پر بھی غور نہیں کی کہ پسرش یادگارمے بینم۔ یہ پیشگوئی سید احمد صاحب پر کیونکر صادق آسکتی ہے۔ اگر آج یعنی ۲۷؍ جنوری ۹۶ء کو زندہ ہو کر آجائیں تو ایک سو بارہ برس کے ہوں گے تو کیا اس عمر میں جو رو کریں گے اور لڑکا پیدا ہوگا۔ پھر ماسوا اسکے یہ لڑکا پیدا ہونا اور جو رو کرنا مسیح موعود کی بہت حدیثوں میں لکھا ہے اور اسکے مطابق نعمت اللہ صاحب کا الہام ہے کیونکہ مسیح موعود کی بہت حدیثوں میں ہے کہ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ۔ لیکن سید صاحب نے تو کبھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ پس وہ کیونکر اس پیشگوئی کے مصداق ہوسکتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ مصرعہ ترک عیار میں لفظ عیار کا محل ذم میں نہیں ہے بلکہ یہ لفظ فارسیوں کے استعمال میں محل مدح میں آتا ہے۔ حافظ فرماتے ہیں ؂
    خیال زلف تو پختننہ کار خامان ست
    کہ زیر سلسلہ رفتن طریق عیاری ست
    منہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 361
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 361
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بِسْمؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اَلْحَمْدُلِلّٰہِ وسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
    امابعد واضح ہو کہ ان چند اوراق میں ان بعض اولیاء اور مجاذیب کی شہادتیں درج ہیں جنہوں نے ایک زمانہ دراز اس عاجز سے پہلے اس عاجز کی نسبت خبر دی ہے منجملہ ان کے ایک مجذوب گلاب شاہ نام کی پیشگوئی ہے جو ہمارے اس زمانہ سے تیس یا اکتیس برس پہلے اس عالم گذران سے گذر چکا ہے اور اگرچہ یہ پیشگوئی ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۰۷ میں مجمل طور پر شائع ہوچکی ہے لیکن اب کی دفعہ صاحب بیان کنندہ نے تمام جزئیات کو خوب یاد کر کے بہ تفصیل تمام اس پیشگوئی کو بیان کیا ہے اور چاہا ہے کہ الگ طور پر وہ پیشگوئی ایک اشتہار میں شائع کردی جائے۔
    بیان کنندہ یعنے میاں کریم بخش جس قدر اس پیشگوئی کو نہایت یقین اور ایمانی جوش کے ساتھ بیان کرتا ہے اس کو اگر کوئی طالب حق متوجہ ہو کر سنے تو ممکن نہیں کہ اس کا ایک کامل اور عجیب اثر اسکے دل پر پیدا نہ ہو۔ میں نے میاں کریم بخش کو اب ماہ مئی ۱۸۹۲ ؁ء میں دوبارہ لدھیانہ میں بلا کر اس پیشگوئی کی اُس سے مکررًاتفتیش کی اور کئی مجلسوں میں اس کو قسم دے کر پوچھا گیا کہ اس بارے میں جو یقینی طور پر راست راست بات ہے اور خوب یاد ہے وہی بات بیان کرے ایک ذرہ مشتبہ بات بیان نہ کرے اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایک سرُِمو کوئی خلاف واقعہ بات
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 362
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 362
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    یا کوئی مشتبہ امر بیان کرے گا جو ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہا تو خدائے تعالیٰ کے سامنے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ بلکہ سچائی کے امتحان کی غرض سے نہایت سختی سے اس پیر مرد کو کہا گیا کہ آپ اب اس بات کو خوب سوچ لیں اور سمجھ لیں کہ اگر آپ کے بیان میں ایک لفظ بھی خلاف واقعہ ہوگا تو اؔ س کا بوجھ آپ کی گردن پر ہوگا اور حشر کے دن میں وہ طوقِ *** گردن میں پڑے گا جو مفتریوں کی گردن میں پڑا کرتا ہے۔ پھر بار بار کہا گیا کہ اے میاں کریم بخش آپ پیر مرد آدمی ہیں اور جیسا کہ سنا جاتا ہے تقویٰ اور صوم و صلٰوۃ کی پابندی سے آپ کا زمانہ گذرا ہے اب اس بات کو یاد رکھو کہ اگر یہ پیشگوئی میاں گلاب شاہ کی جو اس عاجز کی نسبت آپ بیان کرتے ہیں ایک مشتبہ امر ہے یا خلاف واقعہ ہے تو اسکے بیان کرنے سے تمام اعمال خیر سابقہ تمہارے ضائع اور برباد ہوجائیں گے اور ناراض نہ ہونا یقیناً سمجھو کہ اس افترا کی سزا میں تم جہنم میں ڈالے جاؤگے۔ اگر یقینی طور پر یہ امر واقعی نہیں تو میرے لئے اپنے ایمان کو ضائع مت کرو میں نہ اس جہاں میں تمہارے کام آسکتا ہوں نہ اُس جہان میں۔ جو مجرم بن کر خدائے تعالیٰ کے سامنے جائے گا اس کیلئے وہ جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ بدبخت ہے وہ انسان جو افترا کر کے اپنے مالک کو ناراض کرے اور سخت بدنصیب ہے وہ شخص کہ ایک مجرمانہ کام کر کے ساری عمر کی نیکیاں برباد کر دیوے اور یاد رکھو کہ اگر کوئی میرے لئے کسی قسم کا خدائے تعالیٰ پر افترا کرے گا اور کوئی خواب یا کوئی الہام یا کشف میرے خوش کرنے کیلئے مشہور کردے گا تو میں اس کو کتوں سے بدتر اور سؤروں سے ناپاک تر سمجھتا ہوں اور دونوں جہانوں میں اس سے بیزار ہوں کیونکہ اس نے ایک ذلیل خلق کیلئے اپنے عزیز مولیٰ کو جھوٹ بول کر ناراض کردیا۔ اگر ہم بے باک اور کذاب ہوجائیں اور خدائے تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نہ ڈریں تو ہزار ہا درجے ہم سے کتے اور سور اچھے ہیں۔ سو اگر گناہ کیا ہے۔ تو توبہ کرو تا ہلاک نہ ہوجاؤ اور یقیناً سمجھو کہ خدا ئے تعالیٰ مفتری کو بے سزا نہیں چھوڑے گا اور اس عاجز کا کاروبار کسی انسان کی شہادت پر موقوف نہیں۔ جس نے مجھے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 363
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 363
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہے اور میں اسکے ساتھ ہوں میرے لئے وہی پناہ کافی ہے یقیناً وہ اپنے بندہ کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور اپنے فرستادہ کو برباد نہیں کردے گا۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو کئی دفعہ میاں کریم بخش کو کئی مجلسوں میں کہی گئیں۔ لیکن اس نے ان سب باتوں کو سن کر ایک درد سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ایسا جواب دیا جس سے رونا آتا تھا اور اسکے لفظ لفظ سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خدا کے خوف سے بھر کر نہایت سچائی سے بیان کررہا ہے اور اسکے بیان کرنے میں جو چشم ُ پرآب ہو کر ایک رِقّت کے ساتھ تھا اؔ یک ایسی تاثیر تھی جس کے اثر سے بدن پر لرزہ آتا تھا پس اس روز یقین قطعی سے سمجھا گیا کہ یہ پیشگوئی اس شخص کے رگ و ریشہ میں اثر کر گئی ہے اور اسکے ایمان کو اس سے اعلیٰ درجہ کا فائدہ پہنچا ہے چنانچہ ہم ذیل میں اس کا وہ اشتہار جو اس نے اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر ایک ُ پر درد بیان میں لکھایا ہے درج کریں گے اسکے پڑھنے سے ناظرین جو باانصاف اور حقیقت شناس ہیں سمجھ لیں گے کہ کیسی اعلیٰ شان کی وہ شہادت ہے۔
    ماسوا اسکے ایک اور پیشگوئی ہے جو ایک مرد با خدا نعمت اللہ نام نے جو ہندوستان میں اپنی ولایت اور اہل کشف ہونے کا شہرہ رکھتا ہے اپنے ایک قصیدہ میں لکھی ہے اور یہ بزرگ سات سو انچاس برس پہلے ہمارے زمانہ سے گذر چکے ہیں اور اسی قدر مدت ان کے اس قصیدہ کی تالیف میں بھی گذر گئی ہے جس میں یہ پیشگوئی درج ہے مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید دہلوی جس زمانہ میں اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح ان کے مرشد سید احمد صاحب مہدیء وقت قرار دیئے جائیں اس زمانہ میں انہوں نے اس قصیدہ کو حاصل کر کے بہت کچھ سعی کی کہ یہ پیشگوئی ان کے حق میں ٹھہر جائے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے ساتھ بھی اس کو شائع کردیا لیکن اس پیشگوئی میں وہ پتے اور نشان دیئے گئے تھے کہ کسی طرح سید احمد صاحب ان علامات کے مصداق نہیں ٹھہر سکتے تھے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق کا نام اَحْمَدْ لکھا ہے یعنی اس آنے والے کا نام احمد ہوگا اور نیز یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ ملک ہند میں ہوگا اور نیز یہ بھی لکھا ہے کہ وہ تیرھویں صدی میں ظہور کرے گا۔ پس بنظر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 364
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 364
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سرسری خیال گذر سکتا ہے کہ سید احمد صاحب میں یہ تینوں علامتیں تھیں لیکن ذرہ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس پیشگوئی کو سید احمد صاحب موصوف سے کچھ بھی تعلق نہیں کیونکہ اول تو ان اشعار سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ مجدّد موعود تیرھویں صدی کے اوائل میں نہیں ہوگا بلکہ تیرھویں صدی کے اخیر پر کئی واقعات اور حادثات اور فتن کے ظہور کے بعد ظہور کرے گا یعنی چودھویں صدی کے سر پر ہوگا مگر ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب نے تیرھویں صدی کے نصف تک بھی زمانہ نہیں پایا پھر چودھویں صدی کا مجدّد ان کو کیونکر ٹھہرایا جائے ماسوا اسکے سید موصوف نے یہ دعویٰ جو ان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے اپنی زبان سے کہیں نہیںؔ کیا اور کوئی بیان ان کا ایسا پیش نہیں ہوسکتا جس میں یہ دعویٰ موجود ہو اور ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ امر ہے کہ شیخ نعمت اللہ ولی نے ان اشعار میں اس آنے والے کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ مہدی اور عیسیٰ بھی کہلائے گا حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب نے کبھی عیسیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ پھر انھیں اشعار میں ایک یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ اسکے بعد اسکے رنگ پر آنے والا اس کا بیٹا ہوگا کہ اس کا یادگار ہوگا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب نے ایسے کامل بیٹے کی نسبت کوئی پیشگوئی نہیں کی اور نہ کوئی ان کا ایسا بیٹا ہوا کہ وہ عیسوی رنگ سے رنگین ہو۔ پھر انہیں اشعار میں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ وہ مبعوث ہونے کے وقت سے چالیس برس تک عمر پائے گا۔ مگر ظاہر ہے کہ سید احمد صاحب اپنے ظہور کے وقت سے صرف چند سال زندہ رہ کر اس دنیا فانی سے انتقال کر گئے لیکن براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ظاہر ہوگا کہ یہ عاجز تجدید دین کیلئے اپنی عمر کے سن چالیس میں مبعوث ہوا جس کو گیاراں برس کے قریب گذر گیا اور باعتبار اس پیشگوئی کے جو ازالہ اوہام میں درج ہے یعنی یہ کہ ثمانین حولًا او قریباً من ذٰلک ایام بعثت چالیس برس ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
    اور سید صاحب کے پھر دوبارہ آنے کی امید رکھنا اسی قسم کی امید ہے جو حضرت ایلیا اور مسیح کے آنے پر رکھی جاتی ہے اور نہایت سادہ اور بے خبر آدمی اپنے وقتوں کو اُس امید
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 365
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 365
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پر ضائع کررہے ہیں۔ اس کی صرف اس قدر اصلیت معلوم ہوتی ہے کہ قدیم سے خدائے تعالیٰ کی یہ سنت جاری ہے کہ بعض اوقات وہ ایک کامل فوت شدہ کے دنیا میں دوبارہ آنے کی نسبت کسی اہل کشف کے ذریعہ سے خبر دے دیتا ہے اور اس سے مراد صرف یہ بات ہوتی ہے کہ اس شخص کی طبع اور سیرت پر کوئی شخص پیدا ہوگا چنانچہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ملا کی نبی نے بھی یہ خبر دی تھی کہ ایلیا نبی جو آسمان پر اٹھایا گیا ہے پھر دنیا میں آئے گا اور جب تک ایلیا دوبارہ دنیا میں نہ آوے تب تک مسیح نہیں آسکتا۔ اس خبر کے ظاہر الفاظ پر یہود ظاہر پرست اس قدر جم گئے کہ انہوں نے حضرت مسیح کو ان کے ظہور کے وقت قبول نہ کیا اور ہر چند حضرت مسیح نے انہیں کہا کہ ایلیا سے مرادؔ یو حنا ز کر یا کا بیٹا ہے جو یحییٰ بھی کہلاتا ہے لیکن ان کی نظر تو آسمان پر تھی کہ وہ آسمان سے نازل ہوگا۔ پس اس ظاہر پرستی کی وجہ سے انہوں نے دو نبیوں کا انکار کردیا یعنی عیسیٰ اور یحییٰ کا اور کہا کہ یہ سچے نبی نہیں ہیں۔ اگر یہ سچے ہوتے تو ان سے پہلے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتابوں میں خبر دی تھی ایلیا نبی آسمان سے نازل ہوتا۔سو یہودی لوگ اب تک آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب ایلیا نبی اس سے اترتا ہے اور ان بدنصیبوں کو خبر نہیں کہ ایلیا نبی تو آسمان سے اتر چکا اور مسیح بھی آچکا افسوس کہ خشک ظاہر پرستی نے کس قدر دنیا کو نقصان پہنچائے ہیں پھر بھی دنیا نہیں سمجھتی۔
    ایک صحیح حدیث میں ہے کہ اے مسلمانوں تم آخری زمانہ میں بکلی یہودیوں کے قدم بہ قدم ہریک بات میں چلو گے یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے اپنی ماں سے زناکیا ہوگا تو تم بھی کرو گے یہ حدیث اور ایلیا نبی کا قصہ مسیح موعود کے قصہ کے ساتھ جس پر آج طوفان برپا ہو رہا ہے ملا کر پڑھو اور غور کرو اور ذرہ عقل سے کام لے کر سوچو کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا خیال جو یہودیوں کے اہل سنت و الجماعت میں بالاتفاق قائم ہوچکا تھا آخر وہ حضرت عیسیٰ کی عدالت سے کیونکر فیصلہ ہو کر پاش پاش ہوگیا۔ کہاں گیا ان کا اجماع سوچ کر دیکھو کہ آیا سچ مچ ایلیا نبی آسمان سے اتر آیا یا ایلیا سے یحییٰ بن زکریا مراد لیا گیا۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 366
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 366
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خدا ئے تعالیٰ قرآن کریم میں بار بار فرماتا ہے کہ تم اے مسلمانوں ان ٹھوکروں سے بچو جو یہودی لوگ کھا چکے ہیں اور ان خیالات سے پرہیز کرو جن پر جمنے سے یہودی لوگ کتّے اور سؤر بنائے گئے۔ دانا وہ ہے جو دوسرے کے حال سے نصیحت پکڑے اور جس جگہ دوسرے کا پیر پھسل چکا ہے اس جگہ قدم رکھنے سے ڈرے افسوس کہ آپ لوگ اپنے لئے اور اپنی قوم کیلئے وہی غاریں کھود رہے ہیں جو یہودیوں نے کھودی تھیں۔ ذرہ تکلیف اٹھائیں اور یہود کے علماء کے پاس جائیں اور پوچھیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ کو قبول کیوں نہ کیا تو یہی جواب پائیں گے کہ سچے مسیح کے آنے کی آسمانی کتابوں اور بنی اسرائیل کی احادیث میں یہی نشانی لکھی ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے اترے گا اور نیز مسیح بادشاہ اور صاحب لشکر ہوگا سو چونکہ ایلیا نبی آسمان سے نہیں اترا اور نہ ابن مریم کو ظاہری بادشاہی ملیؔ اسلئے مریم کا بیٹا سچا مسیح نہیں ہے۔
    اب آپ لوگ سوچیں اور خوب سوچیں کہ یہ قصہ ایلیا کا مسیح موعود کے قصہ سے کس قدر ہم شکل ہے اور اس بات کو سمجھ لیں کہ گو مسیح کے پہلے کئی نبی ہوئے مگر کسی نے یہ ظاہر نہ کیا کہ ایلیا سے مراد کوئی دوسرا شخص ہے۔ مسیح کے ظہور کے وقت تک یہود کے تمام فقیہوں اور مولویوں کا اسی پر اتفاق رہا کہ ایلیا نبی پھر دنیا میں آئے گا۔ اور تعجب یہ کہ ان کے ملہموں کو بھی یہ الہام نہ ہوا کہ یہ عقیدہ سراسر غلط ہے اور آسمانی کتاب کے ظاہر لفظ بھی یہی بتلاتے رہے کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میںآئے گا۔ لیکن آخر کار حضرت مسیح پر خدائے تعالیٰ نے یہ راز سربستہ کھول دیاکہ ایلیا نبی دوبارہ نہیں آئے گا بلکہ اسکے آنے سے مراد اسکے ہم صفت کا آنا ہے جو یحییٰ نبی ہے اصل بات یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں بہت سے اسرار ہوتے ہیں کہ جو اپنے وقت پر کھلتے ہیں اور بغیر پہنچنے وقت کے بڑے بڑے عارف بھی ان کی اصل حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد ۔ وَ کَمْ مِنْ عِلْمٍ تَرَکَ الْاَوَّلُوْنَ لِلْاٰخِرِیْنَ۔ اسی طرح یہ بات قرین قیاس ہے کہ سید احمد صاحب یا اس کے کسی صالح مرید کو یہ الہام ہوا ہو کہ احمد پھر دنیا میں آئے گا اور انہوں نے اسکے یہ معنی سمجھے ہوں کہ یہی سید احمد صاحب کچھ مدت دنیا سے محجوب رہ کر پھر دنیا میں آجائیں گے۔ اس
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 367
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    قسم کے دھوکوں کے نمونے دوسری قوموں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ لوگ عادت اللہ کی طرف خیال نہیں کرتے اور وہ معنے جو مسنون اللہ اور قرین قیاس ہیں ترک کر کے ایک بے ہودہ اور بے اصل معنے قبول کر لیتے ہیں سو سید احمد صاحب کا دوبارہ آنا جو ہمارے اکثر موحد بھائی بڑے ذوق و شوق سے انتظار کررہے ہیں درحقیقت اسی قسم کے خیالات میں سے ہے اے حضرات!احمد آنے والا آگیا۔ اب تم بھی سمجھ لو کہ سید احمد آگیا کیونکہ مومن کنفسٍ واحدۃٍ ہوتے ہیں۔ ولِلّٰہِ دَرّالقائل۔
    انبیاء در اولیاء جلوہ دہند
    ہر زمان آیند در رنگے دگر
    ہائے افسوس لوگ اس بات سے کیسے بے خبر ہیں کہ ہر ایک فرد بشر کو موت لگی ہوئی ہے اور دوبارہ آنا کسی فوت شدہ کا۔ یعنی حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ ہرگز تجویز نہیں کرتا اور کوئی صالح آدمی دو موتوں اور دو جان کندنوں سے ہرگز معذب نہیں ہوسکتا۔ اس بے ہودہ خیال سے کہ مسیحؔ ابن مریم زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بڑے بڑے فتنے دنیا میں پڑ گئے ہیں دراصل عیسائیوں کے پاس مسیح کو خدا ٹھہرانے کی یہی بنیاد ہے اور اس کو زندہ ماننے سے رفتہ رفتہ انکا یہ خیال ہوگیا کہ اب باپ کچھ نہیں کرتا سب کچھ اس نے اپنے بیٹے کو جو زندہ موجود ہے سپرد کررکھا ہے۔ غرض یہی اول دلیل مسیح کے خدا ہونے کی عیسائیوں کے پاس ہے۔ جس کی ہمارے علماء تائید کررہے ہیں مگر حق بات یہی ہے کہ وہ فوت ہوگئے قرآن کریم ان کے فوت پر انہیں لفظوں سے شاہد ہے جو دوسرے موتی کیلئے استعمال کئے گئے ہیں بخاری میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی موت کی تصدیق کرتے ہیں ابن عباس جیسے جلیل الشان صحابی اس آیت توفّی عیسیٰ کے بھی موت ہی معنے بیان کرتے ہیں اور طبرانی اور حاکم حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ عیسیٰ ایک سو بیس برس تک زندہ رہا۔ اسی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ عیسیٰ سے میری عمر آدھی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے تو غالباً ہمارے نبی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 368
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    صلی اللہ علیہ و سلم بھی اب تک زندہ ہی ہوں گے۔
    ایک اور نکتہ ہے جو کلام الٰہی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب انسان خدائے تعالیٰ کے جذبات سے ہدایت پا کر دن بدن حق اور حقانیت کی طرف ترقی کرتا ہے اور نفس اور نفسانی امور کو چھوڑتا جاتا ہے تو آخر انتہائی نقطہ اسکے تصفیہ نفس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ بکلی ظلمت نفس اور جذبات نفسانیہ سے باہر آکر اور جسم کو جو تخت گاہ نفس ہے ادخنہ جسمانیہ سے دھو کر ایک مصفا قطرہ کی طرح ہوجاتا ہے اس وقت وہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں فقط ایک روح مجرد ہوتا ہے جو گدازش نفس کے بعد باقی رہ جاتا ہے اور اطاعت کاملہ مولیٰ میں ملائک سے ایک مشابہت پیدا کر لیتا ہے تب اس مقام پر پہنچ کر عند اللہ اس کا حق ہوتا ہے جو اس کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ کہا جائے یہ معنی ایک طور سے اس حدیث سے بھی نکلتے ہیں جو ابن ماجہ اور حاکم اپنی کتابوں میں لائے ہیں کہ لَامَھْدِیْ اِلَّا عِیْسٰی یعنی مہدی کے کامل مرتبہ پر وہی پہنچتا ہے جو اول عیسیٰ بن جائے۔ یعنی جب انسان تبتّل الٰی اللّٰہ میں ایسا کمال حاصل کرے جو فقط روح رہ جائے تب وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک روح اللہ ہوجاتا ہے اور آسمان میں اس کا نام عیسیٰ رکھا جاتا ہے اور خدا تعاؔ لیٰ کے ہاتھ سے ایک روحانی پیدائش اس کو ملتی ہے جو کسی جسمانی باپ کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل کا سایہ اس کو وہ پیدائش عنایت کرتا ہے۔ پس در حقیقت تزکیہ اور فنا فی اللہ کا کمال یہی ہے کہ ظلمات جسمانیہ سے اس قدر تجرد حاصل کرے کہ فقط روح باقی رہ جائے یہی مرتبہ عیسویت ہے جس کو خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کامل طور پر عطا کرتا ہے۔ اور مرتبہ کاملہ دجالیت یہ ہے کہ حسب مضمون ۱؂ نفسانی نشیبوں کی طرف زیادہ سے زیادہ جھکتا جائے یہاں تک کہ گہری تاریکیوں کے غاروں میں پڑ کر تاریکی مجسم ہوجائے اور بالطبع ظلمت کا دوست اور روشنی کا دشمن ہوجائے عیسوی حقیقت کے مقابل پر دجّالیت کی حقیقت کا ہونا ایک امر لازمی ہے کیونکہ ضد ضد سے شناخت کی جاتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت سے ہی یہ دونوں حقیقتیں شروع ہیں۔ ابن صیّاد کا آپ نے دجّال نام رکھا۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کہا کہ تجھ میں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 369
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    عیسیٰ کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ سو عیسیٰ اور دجّال کا تخم اسی وقت سے شروع ہوا اور مرور زمانہ کے ساتھ جیسی جیسی ظلمت فتنہ کی دجالیت کے رنگ میں کچھ زیادتی آتی گئی ویسی ویسی عیسویت کی حقیقت والے بھی اسکے مقابل پر پیدا ہوتے گئے یہاں تک کہ آخری زمانہ میں بباعث پھیل جانے فسق اور فجور اور کفر اور ضلالت اور بوجہ پیدا ہوجانے ان تمام بدیوں کے جو کبھی پہلے اس زور اور کثرت سے پیدا نہیں ہوئی تھیں بلکہ نبی کریم نے آخری زمانہ میں ہی ان کا پھیلنا بطور پیشگوئی بیان فرمایا تھا دجالیت کاملہ ظاہر ہو گئی پس اس کے مقابل پر ضرور تھا کہ عیسویت کاملہ بھی ظاہر ہوتی یاد رہے کہ نبی کریم نے جن بد باتوں کے پھیلنے کی آخری زمانہ میں خبر دی ہے اسی مجموعہ کا نام دجالیت ہے جس کی تاریں یا یوں کہو کہ جس کی شاخیں صدہا قسم کی آنحضرت نے بیان فرمائی ہیں چنانچہ ان میں سے وہ مولوی بھی دجالیت کے درخت کی شاخیں ہیں جنہوں نے لکیر کو اختیار کیا اور قرآن کو چھوڑ دیا۔ قرآن کریم کو پڑھتے تو ہیں مگر ان کے حلقوں کے نیچے نہیں اترتا۔ غرض دجالیت اس زمانہ میں عنکبوت کی طرح بہت سی تاریں پھیلا رہی ہے۔ کافر اپنے کفر سے اور منافق اپنے نفاق سے اور میخوار میخواری سے اور مولوی اپنے شیوہ گفتن و نہ کردن اور سیہؔ دلی سے دجالیت کی تاریں ُ بن رہے ہیں ان تاروں کو اب کوئی کاٹ نہیں سکتا بجز اُس حربہ کے جو آسمان سے اترے اور کوئی اس حربہ کو چلا نہیں سکتا بجز اس عیسیٰ کے جو اسی آسمان سے نازل ہو سو عیسیٰ نازل ہوگیا۔ وکان وعداللّٰہ مفعولًا۔
    اب ہم ذیل میں ان پیشگوئیوں کو لکھتے ہیں جن کے لکھنے کا وعدہ تھا لیکن ہم بوجہ تقدم زمان مناسب سمجھتے ہیں کہ پہلے نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی معہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئی کے لکھی جائے ۔پھر بعد اسکے میاں گلاب شاہ کی پیشگوئی جیسا کہ میاں کریم بخش نے لکھائی ہے درج کی جائے وباللہ التوفیق۔ واضح ہو کہ نعمت اللہ ولی رہنے والے دہلی کے نواح کے اور ہندوستان کے اولیا ء کاملین میں سے مشہور ہیں۔ ان کا زمانہ پانسو ساٹھ ہجری ان کے دیوان کے حوالہ سے بتلایا گیا ہے اور جس کتاب میں ان کی یہ پیشگوئی لکھی ہے اسکے طبع کا سن بھی ۲۵ محرم الحرام ۱۸۶۸ء *ہے اس حساب سے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 370
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 370
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/370/mode/1up
    اکتالیس۴۱ برس ان ابیات کے چھپنے پر بھی گذر گئے اور یہ ابیات رسالہ اربعین فی احوال المہدیّین کے ساتھ شامل ہیں جو مطبوعۂ تاریخ مذکورہ بالا ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ آئے ہیں۔ ان بیتوں کو رسالہ اربعین سے شامل کرنا اسی غرض سے ہے کہ تا کسی طرح سید احمد صاحب کا منجملہ مہدیوں کے ایک مہدی ہونا ثابت کیا جائے اگرچہ اس میں کچھ شک نہیں کہ احادیث میں جہاں جہاں مہدی کے نام سے کسی آنے والے کی نسبت پیشگوئی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی درج ہے اسکے سمجھنے میں لوگوں نے بڑے بڑے دھوکے کھائے ہیں اور غلط فہمی کی وجہ سے عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ ہر ایک مہدی کے لفظ سے مراد محمّد بن عبداللّٰہ ہے جس کی نسبت بعض احادیث پائی جاتی ہیں لیکن نظر غور سے معلوم ہوگاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کئی مہدیوں کی خبر دیتے ہیں منجملہ ان کے وہ مہدی بھی ہے جس کا نام حدیث میں سلطان مشرق رکھا گیا ہے جس کا ظہور ممالک مشرقیہ ہندوستان وغیرہ سے اور اصل وطن فارس سے ہونا ضرور ہے درحقیقت اسی کی تعریف میں یہ حدیث ہے کہ اگر ایمان ثریا سے معلق یا ثریا پر ہوتا تب بھی وہ مرد وہیں سے اس کو لے لیتا اور اسی کی یہ نشانی بھی لکھی ہے کہ وہ کھیتی کرنے والا ہوگا۔ غرض یہ بات بالکل ثابت شدہ اور یقینی ہے کہ صحاح ِ ستہّؔ میں کئی مہدیوں کا ذکر ہے اور ان میں سے ایک وہ بھی ہے جس کا ممالک مشرقیہ سے ظہور لکھا ہے مگر بعض لوگوں نے روایات کے اختلاط کی وجہ سے دھوکا کھایا ہے لیکن بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی زمانہ قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں اور چودھویں صدی کا اس کو مجدّد قرار دیا ہے جیسا کہ ہم آئندہ انشاء اللہ بیان کریں گے بہرحال اگرچہ یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر ملک ہند میں ایک عظیم الشان مجدّد پیدا ہونے والا ہے لیکن یہ سراسر تحکم ہے کہ سید احمد صاحب کو اس کا مصداق ٹھہرایا جائے کیوں کہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 371
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 371
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/371/mode/1up
    جیساؔ کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں سید صاحب نے چودھویں صدی کا زمانہ نہیں پایا۔ اب چند اشعار نعمت اللہ ولی کے جو مہدی ہند کے متعلق ہیں معہ شرح ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔
    ابیات
    قدرت کردگار مے بینم
    حالت روزگار مے بینم
    از نجوم این سخن نمے گویم
    بلکہ از کردگار مے بینم
    یعنی جو کچھ میں ان ابیات میں لکھوں گا وہ منجمانہ خبر نہیں بلکہ الہامی طور پر مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا ہے۔
    غینورے سال چوں گذشت از سال
    بُوالعجب کاروبار مے بینم
    یعنی بارہ سو سال کے گذرتے ہی عجیب عجیب کام مجھ کو نظر آتے ہیں مطلب یہ کہ تیرھویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایک انقلاب دنیا میں آئے گا اور تعجب انگیز باتیں ظہور میں آئیں گی اور ہجرت کے باراں سو سال گذرنے کے ساتھ ہی َ میں دیکھتا ہوں کہ بوالعجب کام ظاہر ہونے شروع ہوجائیں گے۔
    گر در آئینۂِ ضمیرِ جہان
    گرد و زنگ و غبار می بینم
    یعنی تیرھویں صدی میں دنیا سے صلاح و تقویٰ اٹھ جائے گی فتنوں کی گرد اٹھے گی گناہوں کا زنگ ترقی کرے گا اور کینوں کے غبار ہر طرف پھیلیں گے یعنی عام عداوتیں پھیل جائیں گی تفرقہ اور عناد بڑھؔ جائے گا اور محبت اور ہمدردی اٹھ جائے گی۔ مگر ان باتوں کو دیکھ کر غم نہیں کرنا چاہئے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 372
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 372
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/372/mode/1up
    ظلمتِ ظلم ظالمانِ دیار
    بیحد و بے شمار مے بینم
    یعنی ملکوں میں ظلم کا اندھیرا انتہا کو پہنچ جائے گا حاکم رعیت پر اور ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر اور شریک شریک پر ظلم کرے گا اور ایسے لوگ کم ہوں گے جو عدل پر قائم رہیں۔
    جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد
    درمیان و کنار مے بینم
    یعنی ہندوستان کے درمیان میں اور اسکے کناروں میں بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے اور جنگ ہوگا اور ظلم ہوگا۔
    بندہ را خواجہ وش ہمی یا بم
    خواجہ را بندہ وارمی بینم
    یعنی ایسے انقلاب ظہور میں آئیں گے کہ خواجہ بندہ اور بندہ خواجہ ہوجائے گا۔ یعنی امیر سے فقیر اور فقیر سے امیر بن جائے گا۔
    سکّۂِ نوزنند بر رخ زر
    درہمش کم عیارمے بینم
    یعنی ہندوستان کی پہلی بادشاہی جاتی رہے گی اور نیا سکہ چلے گا جو کم عیار ہوگا اور یہ سب کچھ تیرھویں صدی میں سلسلہ وار ظہور میں آجائے گا۔
    بعض اشجار بوستان جہان
    بے بہار و ثمار می بینم
    یعنی قحط پڑیں گے اور باغات کو پھل نہیں لگیں گے۔
    غم مخور زانکہ من دریں تشویش
    خرمی وصل یارمے بینم
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 373
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 373
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/373/mode/1up
    یعنی اس تشویش اور فتنہ کے زمانہ میں جو تیرھویں صدی کا زمانہ ہے غم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ وصل یار کی خوشی بھی ان فتنوں کے ساتھ اور ان کے درمیان ہے مطلب یہ کہ جب تیرھویں صدی کے یہ تمام فتنے کمال کو پہنچ جائیں گے تو وصل یار کیؔ خوشی اخیر صدی میں ظاہر ہوگی یعنی خدائے تعالیٰ رحمت کے ساتھ توجہ کرے گا۔
    چوں زمستان بے چمن بگذشت
    شمس خوش بہار مے بینم
    یعنی جب کہ زمستان بے چمن مراد یہ ہے کہ جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گذر جائے گا تو چودھویں صدی کے سر پر آفتاب بہار نکلے گا یعنی مجدّدِ وقت ظہور کرے گا۔
    دور او چوں شود تمام بکام
    پسرش یادگار مے بینم
    یعنی جب اسکا زمانہ کامیابی کے ساتھ گذر جائے گا تو اسکے نمونہ پر اسکا لڑکا یادگار رہ جائے گا یعنی مقدریوں ہے کہ خدائے تعالیٰ اسکو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اسی کے نمونہ پر ہوگا اور اُسی کے رنگ سے رنگین ہوجائے گا اور وہ اسکے بعد اسکا یادگار ہوگا یہ درحقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے۔
    بندگانِ جناب حضرتِ او
    سر بسر تاج دار مے بینم
    یعنی یہ بھی مقدر ہے بالآخر اُمرا اور ملوک اسکے معتقد خاص ہوجائیں گے اور اس کی نسبت ارادت پیدا کرنا بعضوں کیلئے دنیوی اقبال اور تاجداری کا موجب ہوگا۔ یہ اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو اس عاجز کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ملی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو مخاطب کر کے کہا کہ میں تجھ پر اس قدر فضل کروں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور ایک جگہ فرمایا کہ تیرے دوستوں اور محبوں پر بھی احسان کیا جائے گا۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 374
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 374
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/374/mode/1up
    گلشن شرع را ہمی بویم
    گلِ دیں راببار مے بینم
    یعنی اس سے شریعت تازہ ہوجائے گی اور دین کے شگوفوں کو پھل لگیں گے۔ یہ اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸ میں درج ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر یک دین پر بذریعہ اس عاجز کے دین اسلام غالب کیا جائے گا اور پھر صفحہ ۴۹۱ براہین میں یہ الہام ہےؔ کہ خدا تجھ کو ترک نہیں کرے گا جب تک کہ خبیث اور پاک میں فرق کر کے دکھلائے۔
    تاچہل سال ای برادرِمن
    دورآن شہسوار می بینم
    یعنی اس روز سے جو وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا چالیس برس تک زندگی کرے گا اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کیلئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی۸۰ برس تک یا اسکے قریب تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس برس کامل گذر بھی گئے دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۸۔ وَاللّٰہ علٰی کل شیء قدیر۔اگرچہ اب تک حضرت نوح کی طرح دعوت حق کے آثار نمایاں نہیں لیکن اپنے وقت پر تمام باتیں پوری ہوں گی۔
    عاصیاں از امامِ معصومم
    خجل و شرمسار می بینم
    اس بیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس امام کے جو چودھویں صدی کے سر پر آئے گا مخالف اور نافرمان بھی ہوں گے جن کیلئے آخر خجالت اور شرمساری مقدر ہے اسی کی طرف اس الہام میں اشارہ ہے جو فیصلہ آسمانی میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں فتّاح ہوں تجھے فتح دوں گا ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور سجدہ گاہوں میں گریں گے یعنی مخالف لوگ یہ کہتے ہوئے کہ خدایا ہمیں بخش کہ ہم خطا وار تھے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 375
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 375
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/375/mode/1up
    یدِبیضا کہ با او تابندہ
    باز با ذوالفقار می بینم
    یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذر گیا کہ جب ذوالفقار علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا اس طرح پر کہ اسکے چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہوگئی ہے یہ اس بات کی طرف اشارؔ ہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی یہ پیشگوئی بعینہٖ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذوالفقار علی۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اسی بناء پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
    غازی دوست دار دشمن کش
    ہمدم و یارِغار مے بینم
    وہ خداتعالیٰ کی طرف سے ایک غازی ہے دوستوں کو بچانے والا اور دشمنوں کو مارنے والا۔
    صورت و سیرتش چو پیغمبر
    علم و حلمش شعارمے بینم
    یعنی ظاہرو باطن اپنا نبی کی مانند رکھتا ہے اور شان نبوت اس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اس کا شعار ہے مراد یہ کہ بباعث اپنی اتباع نبی کریم کے گویا وہی صورت اور وہی سیرت اس کو حاصل ہوگئی ہے یہ اس الہام کے مطابق ہے جو اس عاجز کے بارے میں براہین میں چھپ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 376
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 376
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/376/mode/1up
    چکا ہے اور وہ یہ ہے جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء یعنی فرستادہ خدا در حلّہ ہائے انبیاء۔
    زینتِ شرع و رونق اسلام
    محکم و استوار مے بینم
    یعنی اسکے آنے سے شرع آرایش پکڑ جائے گی اور اسلام رونق پر آجائے گا اور دینِ متین محمدی محکم اور استوار ہوجائے گا۔ یہ اس الہام کے مطابق ہے جو اس عاجز کی نسبت اس وقت سے دس برس پہلے براہین میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ اور نیز یہ الہام ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالھُدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدّین کلّہٖ دیکھو صفحہ ۲۳۹ براہین احمدیہ حاشیہ۔
    ا حؔ م و دال مے خوانم
    نام آن نامدار مے بینم
    یعنی کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا ہے کہ نام اس امام کا احمد ہوگا۔
    دین و دنیا ازو شود معمور
    خلق زو بختیار مے بینم
    یعنے اسکے آنے سے اسلام کے دن پھریں گے اور دین کو ترقی ہوگی اور دنیا کو بھی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ اسکے ساتھ بدل و جان ہوجائیں گے خدائے تعالیٰ ان کے گناہ بخش دے گا اور دین میں استقامت عطا کرے گا اور وہی اسلام کی دنیوی ترقی کا بھی پودہ ٹھہریں گے کہ خدا ان کو نشوونما دے گا اور ان میں اور ان کی ذریت میں برکت رکھے گا یہاں تک کہ دنیا میں بھی وہ ایک بااقبال قوم ہوجائے گی اسی کے مطابق براہین احمدیہ میں الہام درج ہے وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الٰی یوم القیامۃ اور یہ جو اشارہ کیا کہ اسکے آنے سے اسلام کی دینی و دنیوی حالت صلاحیت پر آجائیں گی اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ اسلام کیلئے رحمت ہو کر آتا ہے اور اسی کے ساتھ جلد
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 377
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 377
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/377/mode/1up
    یا دیر سے رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے مگر اوائل میں قحط اور وبا وغیرہ کی تنبیہیں بھی اترا کرتی ہیں اور اہل کشف انجام کا حال بیان کرتے ہیں نہ ابتدائی واقعات کا۔
    بادشاہ تمام ہفت اقلیم
    شاہ عالی تبار می بینم
    یعنی مجھ کو کشفی نظر میں وہ ایک شاہ عالی خاندان ہفت اقلیم کا بادشاہ نظر آتا ہے۔ یہ مطابق اس پیشگوئی کے ہے جو ازالہ اوہام میں درج ہوچکی ہے اور وہ یہ ہے:۔
    حکم اللّٰہ الرَّحمٰنِ لِخَلِیفۃ اللّٰہِ السُّلطَان سیؤتی لہ الملک العظیم الخیہ اس عاجز کی نسبت الہام ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ خلیفۃ اللہ بادشاہ جس کو ایک ملک عظیم دیا جائے گا اور جس پر زمین کے خزانے کھولے جائیں گے۔ اس بادشاہی سے مرادؔ اس دنیا کی ظاہری بادشاہی نہیں بلکہ روحانی بادشاہی ۱؂ہے۔
    مہدیِء وقت و عیسیٰ دوران
    ہر دو را شہسوار می بینم
    یعنی وہ مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی دونوں صفات کا حامل ہوگا اور دونوں صفات سے اپنے تئیں ظاہر کرے گا یہ آخری بیت عجیب تصریح پر مشتمل ہے جس سے صاف طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہ خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے حکم پا کر عیسیٰ ہونے کا بھی دعویٰ کرے گا اور ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے آج تک کسی نے بجز اس عاجز کے نہیں کیا کہ عیسیٰ موعود میں ہوں۔
    یہ چند اشعار ہیں جو ہم نے نعمت اللہ ولی کے قصیدہ سے جو طول طویل ہے برعایت اختصار لکھے ہیں ہر ایک کو چاہئے جو اپنی تسلی کیلئے اصل ابیات کو دیکھ لے۔
    وَالسَّلام علٰی من اتَّبع الھُدٰی
    ۱؂ حضرت عیسیٰ کی نسبت بھی پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا اور اسکے ساتھ لشکر ہوگا مگر آخر مسیح غریبوں اور مسکینوں کے لباس میں ظاہر ہوا اور یہودی بوجہ نہ پائے جانے ظاہری نشانوں کے منکر ہوگئے۔ ۱۲
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 378
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 378
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/378/mode/1up
    ہمارے سید و مقتدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی
    پیشگوئی
    جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ خدائے تعالیٰ اس امت کی اصلاح کیلئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اسکے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کیلئے یعنی اس بشارت کے بار ہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہوسکتا ہاں اسکے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ ظہور کرے گا تو علما اسکے کفر کا فتویٰ دیں گے اور نزدیک ہے کہ اس کو قتل کردیں۔ چنانچہ مولوی صدیق حسن صاحب بھی حجج الکرامہ کے صفحہ ۳۶۳ اور صفحہ ۳۸۲ میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ علماء وقت کہ جو خوگر تقلید فقہاء و مشائخ ہیں اس مہدی کی تعلیم کو سن کر یوں کہیں گے کہ یہ تو دین اسلام کی بیخ کنی کررہا ہے اور اس کی مخالفت کیلئے اٹھیں گے اور اپنی قدیمی عادت کے موافق اس کی تکفیر اور تضلیل کریں گے یعنی کافر اور ضال اور دجال اورؔ گمراہ اس کا نام رکھیں گے مگر تلوار کی ہیبت سے ڈریں گے اور مولویوں سے زیادہ تر دشمن اس کا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ اسکے ظہور سے ان کی وجاہتوں اور ریاستوں میں فرق آجائے گا اور اگر تلوار نہ ہوتی تو اس کے حق میں قتل کا فتویٰ دیتے اور اگر اس کو قبول بھی کریں گے تو دل میں اس کا کینہ رکھیں گے۔ اس کی پیروی جس قدر عام لوگ کریں گے خاص نہیں کریں گے۔ عارف لوگ جو اہل شہود و کشف ہیں اسکے سلسلہ بیعت میں داخل ہوجائیں گے۔
    اس بیان میں صدیق حسن صاحب نے تلوار کے معنے الٹے سمجھے ہیں بلکہ مطلب
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 379
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 379
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/379/mode/1up
    یہ ہے کہ اگر گورنمنٹ کی تلوار سے خوف نہ ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے تلوار کو مہدی کی طرف منسوب کرنا حدیث کے اصل منشاء میں تحریف ہے اگر اس مہدی کے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو پھر کیونکر یہ بزدل علما جِیفہ خوار دنیا کے اس کو ملعون اور کافر اور دجال کہہ سکتے۔ کافروں کی تو سو سو خوشامد کر کے اپنا دین برباد کر لیں تو پھر یہ نامرد گروہ تلوار کی چمک دیکھ کر ایک مومن کو کیونکر کافر اور دجال کہہ سکیں اور نیز اس جگہ صدیق حسن صاحب اپنی طرف سے یہ زیادت لگا گئے ہیں کہ اس امام موعود کے منکر اور مکفّر حنفی وغیرہ مقلّدین ہوں گے ہم لوگ نہیں ہوں گے۔ حالانکہ یہی موحدین اول المکفرین ہیں اور مقلدین ان کے اتباع سے ہیں اور صدیق حسن صاحب کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ اس امام موعود سے محمد بن عبداللہ مہدی مراد ہیں کیونکہ وہ تو بقول ان کے خونی مہدی صاحب سیف و سنان ہیں اور ماسوا اس کے ان کیلئے بقول ان علماء کے آسمان سے آواز آئے گی اور بڑے بڑے خوارق اُس سے ظہور میں آئیں گے اور حضرت مسیح آسمان سے اتر کر اسکے پیروؤں اور مبایعین میں داخل ہوں گے اور مکفرین کی سزا کیلئے ان کے پاس تلوار ہوگی- پھر مولویوں کی خواہ وہ موحّد ہوں یا مقلّد کیا مجال ہے کہ ان کو ضال اور بے ایمان اور کافر اور دجال کہہ سکیں یہ پیشگوئی تو اس غریب مہدی کیلئے ہے جس کی بادشاہی اس دنیا کی بادشاہی نہیں اور جس کو تلواروں سے کچھ غرض نہیں۔ خونی مہدی جب کہ ادنیٰ ادنیٰ بدعتوں پر بقول صدیق حسن خاں صاحب کے لوگوں کو قتل کردے گا تو پھر مولوی اس کو کافر اور دجال اور بے ایمان کہہ کر اور اسکے کفر کی نسبت فتوے لکھ کر کیونکر اس کے ہاتھ سے بچیں گے اور کیا ان مولویوں کا حوصلہ ہے کہ ایک زبردست بادشاہ کوؔ جس کی تلوار سے خون چکے کافر اور دجال کہہ سکیں اور اس کی نسبت فتویٰ لکھ سکیں ۔دراصل بات یہ ہے کہ احادیث میں کئی قسم کے مہدیوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور مولویوں نے تمام احادیث کو ایک ہی جگہ خلط ملط کر کے گڑ بڑ ڈال دیا ہے اور اختلاط روایات کی وجہ سے اور نیز قلّت تدبّر کے باعث سے ان پر امر مشتبہ ہوگیا ہے ورنہ چودھویں صدی کا مہدی جس کا نام سلطان المشرق بھی ہے خصوصیت کے ساتھ احادیث میں بیان
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 380
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 380
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/380/mode/1up
    کیا گیا ہے جس کے جہاد روحانی جہاد ہیں اور جو دجالیت تامہ کے پھیلنے کی وجہ سے عیسیٰ کی صفت پر نازل ہوا ہے حجج الکرامہ کے صفحہ ۳۸۷ میں لکھا گیا ہے کہ حافظ ابن القیم منار میں فرماتے ہیں کہ مہدی کے بارے میں چار قول ہیں ان میں سے ایک یہ قول ہے کہ مہدی مسیح ابن مریم ہے میں کہتا ہوں کہ جب کہ دلائل کاملہ سے ثابت ہوگیا کہ اصل مسیح عیسیٰ بن مریم فوت ہوگیا ہے اور مسیح موعود اس کا ظل ہے اور اس کا نمونہ ہے جو بوجہ پھیلنے دجالیت کے اس نام پر مبعوث ہوا تو پھر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ اپنے وقت کا مہدی بھی ہے اور عیسیٰ بھی۔ کیونکہ جب کہ ہر ایک صالح ہدایت یافتہ کو مہدی کہہ سکتے ہیں تو کیا وہ شخص جس نے تزکیہ کاملہ کی برکت سے روح فقط کا مرتبہ پا کر عیسیٰ اور روح اللہ کا نام حاصل کیا ہے وہ مہدی کے نام سے موسوم نہیں ہوسکتا اور مجھے سخت تعجب ہے کہ ہمارے علماء عیسیٰ کے لفظ سے کیوں چڑتے ہیں اسلام کی کتابوں میں تو ایسی چیزوں کا نام بھی عیسیٰ رکھا گیا ہے جو سخت مکروہ ہیں۔ چنانچہ برہان قاطع میں حرف عین میں لکھا ہے کہ عیسیٰ دہقان کنایہ شراب انگوری سے ہے اور عیسیٰ نوماہہ اس خوشہ انگور کا نام ہے جس سے شراب بنایا جائے اور شراب انگوری کو بھی عیسیٰ نوماہہ کہتے ہیں۔
    اب غضب کی بات ہے کہ مولوی لوگ شراب کا نام تو عیسیٰ رکھیں اور تالیفات میں بے مہابا اس کا ذکر کریں اور ایک پلید چیز کی ایک پاک کے ساتھ اِسمی مشارکت جائز قرار دیں اور جس شخص کو اللہ جلّ شانہٗ اپنی قدرت اور فضل خاص سے دجّالیت موجودہ کے مقابل عیسیٰ کے نام سے موسوم کرے وہ ان کی نظر میں کافر ہو۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 381
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 381
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/381/mode/1up
    (میاؔ ں گلاب شاہ مجذوب کی پیشگوئی جیسا کہ میاں کریم بخش
    نے قسم کھا کر بیان کی ہے یہاں لکھی جاتی ہے)
    کریم بخش جمال پوری کی طرف سے للّٰہی ہمدردی کی غرض سے
    مسلمانوں کی آگاہی کے لئے ایک سچی گواہی کا
    اظہار
    تمام مسلمان بھائیوں پر واضح ہو کہ اس وقت میں محض اپنے بھائیوں کی خیر خواہی اور ہمدردی کیلئے اس اپنی سچی شہادت کو جس کا ذکر میں نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۰۷ میں پہلے اس سے لکھایا تھا بہ تفصیل تام میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی نسبت ظاہر کرنا چاہتا ہوں تا لوگوں کو میری طرف سے خاص طور پر اطلاع ہوجائے اور تا ادائے شہادت کے فرض سے مجھ کو سبکدوشی حاصل ہو اور قبل اس کے کہ میں اس شہادت کو بیان کروں اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میری شہادت بالکل صحیح اور ہریک شک اور شبہ سے بالکل منزّ ہ ہے اگر اس شہادت کے بیان کرنے میں جو ذیل میں بیان کروں گا کچھ میری طرف سے افترا ہے یا کچھ کم و بیش میں نے اس میں کردیا ہے تو خدا ئے تعالیٰ اسی جہان میں میرے پر عذاب نازل کرے۔ میں خوب سمجھتا ہوں کہ اگر میں خلا ف واقعہ بیان کروں گا اور خدائے تعالیٰ پر افترا باندھوں گا تو جہنم کے سرگروہوں میں داخل کیا جاؤں گا اور خدائے تعالیٰ کا غضب اور اس کی *** دنیا اور آخرت میں میرے پر وارد ہوگی۔ میں نے اس گواہی کو جو ابھی بیان کروں گا بہت ضبط سے یاد رکھا ہے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 382
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 382
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/382/mode/1up
    اور نہ میں نے بلکہ خدائے تعالیٰ نے یاد رکھنے میں مجھ کو مدد دی ہے تا ایک گواہی جو میرے پاس تھی اپنے وقت پر ادا ہوجائے ہر چند کہ میں ابتدا سے خوب جانتا ہوں کہ اس گواہی کے ادا کرنے سے میں اپنی عزیز قوم کو سخت ناراض کروں گا اور وہؔ کفر جو علماء کے دعوت خانہ سے تقسیم ہورہا ہے اس کا ایک وافر حصہ مجھ کو بھی ملے گا اور اپنے بھائیوں کی میل ملاقات سے ترک کیا جاؤں گا اور سب وشتم اور لعن و طعن کا نشانہ بنوں گا لیکن ساتھ اس کے مجھے اس بات پر بھی یقین کلی ہے کہ اگر اس دینی گواہی کو اس ُ پر فتنہ کے وقت میں پوشیدہ رکھوں گا تو اپنے رب کریم کو ناراض کردوں گا اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوجاؤں گا اور اس جلتی ہوئی آگ میں ڈالا جاؤں گا جس کا کچھ انتہا نہیں۔ سو میں نے دونوں طور کے نقصانوں کو جانچا آخر یہ نقصان مجھ کو خفیف اور ہیچ معلوم ہوا کہ میری سچی گواہی کی وجہ سے میری برادری کے معزز لوگ مجھ کو چھوڑ دیں گے یا میں مولویوں کے فتووں میں کافر کافر کر کے لکھا جاؤں گا اب میں بڈھا ہوں اور قریب موت کمال بدنصیبی ہوگی کہ اس عمر تک پہنچ کر پھر میں غیر اللہ سے ڈروں مجھ کو اس کفر اور معصیت سے خوف آتا ہے جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ہے اور میں جہنم کی آگ کی کسی طرح برداشت نہیں کرسکتا۔ پھر میں کیوں چار دن کی زندگی کیلئے مولویوں یا برادری کی خاطر روز حشر میں اپنا مونہہ سیاہ کروں خدا ئے تعالیٰ مجھے ایمان پر موت دے میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اگر وہ راضی ہو تو پھر دنیا کی ہر ایک رسوائی درحقیقت ایک عزت ہے اور ہر ایک درد ایک لذت۔ بھائیوں کی جدائی سے بھی اپنے اللہ کی راہ میں مجھے اندیشہ نہیں میری اب آخری عمر ہے۔ بہت سے عزیزوں کو موت نے مجھ سے جدا کردیا اور میں بھی جلد اس مسافر خانہ سے سفر کر کے باقی ماندہ عزیزوں سے جدا ہونے والا ہوں پھر اگر خدا ئے تعالیٰ کیلئے اور اس کی راہ میں اور اس کے راضی کرنے کیلئے جدا ئی ہو تو زہے قسمت کہ ایسا ثواب مجھ کو حاصل ہو۔ بھائیو! یقیناً سمجھو کہ اگر یہ گواہی میرے پاس نہ ہوتی اور اس وقت سے تیس یا اکتیس برس پہلے اگر ایک ربّانی مجذوب میرے پر یہ راز نہ کھولتا کہ آنے والا عیسیٰ موعود
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 383
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 383
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/383/mode/1up
    کون ہے تو آج میں بھی اپنے بھائیوں کی طرح میرزا غلام احمد قادیانی کا ایک اشد مخالف ہوتا اگرچہ میں قتل بھی کیا جاتا تاہم بالکل غیر ممکن اور محال تھا کہ میں میرزا صاحب کو مسیحِ موعود قبول کر کے اپنے اس محکم عقیدہ کو چھوڑ دیتا جس کو میں اپنے خیال میں اہل سنت والجماعت کا مذہب اور سلف صالح کا اعتقاد اور اپنے علماء کا عقیدہ مسلمہ سمجھتا تھا۔ لیکن یہ خدائے تعالیٰ کی میرؔ ے حق میں ایک رحمت تھی جو اس نے اس واقعہ سے تیس برس پہلے ایک باخدا مرد اور بیابان کے پھرنے والے ایک مجذوب کی زبان سے وہ باتیں میرے کانوں تک پہنچادیں جو اب میرے لئے ایک عظیم الشان نشان ہوگئیں اور ان پیشگوئیوں نے میرے دل کو مرزا صاحب کی سچائی پر ایسا قائم کردیا کہ اگر اب کوئی ٹکڑہ ٹکڑہ بھی کرے تو مجھے اس راہ میں اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہیں جیسے روز روشن جب نکلتا ہے تو کسی کو اس میں کچھ شک نہیں رہتا ایسا ہی مجھ پر ثابت ہوگیا ہے کہ میرزا غلام احمد قادیانی وہی مسیح موعود ہیں جن کے آنے کا وعدہ تھا جن کا کتابوں میں عیسیٰ نام رکھا گیا ہے اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ عیسیٰ نبی علیہ السلام مر گیا اور پھر نہیں آئے گا۔ جس کے آنے کی رسول کریمؐ نے بشارت دی تھی وہ یہی امام ہے جو اسی امت سے پیدا ہوا۔ سو میں نے چاہا کہ اس سچائی کو اوروں پر بھی ظاہر کروں۔ اور ناواقف لوگوں کو حق پر قائم کرنے کیلئے مدد دوں اور خدا میرے دل کو دیکھ رہا ہے کہ میں سچا ہوں اور اگر میں سچا نہیں تو خدا میرے پر تباہی ڈالے۔ پس اے بھائیو ڈرو اور ناحق کی بدظنی سے اپنے بھائی کی گواہی رد مت کرو کہ وہ دن ہم سب کیلئے قریب ہے جس سے ہم کسی طرف بھاگ نہیں سکتے۔ وہ گواہی جو میرے پاس ہے یہ ہے کہ میرے گاؤں جمال پور میں جو ضلع لودھیانہ میں واقع ہے ایک بزرگ مجذوب باخدا آدمی تھے جن کا نام گلاب شاہ تھا میں ان کی صحبت میں اکثر رہتا اور ان سے فیض حاصل کرتا تھا اور اگرچہ میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور مسلمان کہلاتا تھا لیکن میں اس امر کے اظہار سے رہ نہیں سکتا کہ درحقیقت انہوں نے ہی مجھے طریق اسلام سکھلایا اور توحید کی صاف اور پاک راہ پر میرا قدم جمایا۔ اس بزرگ درویش نے ایک دفعہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 384
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 384
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/384/mode/1up
    میرے پاس بیان کیا کہ عیسیٰ جوان ہوگیا ہے اور لدھیانہ میں آوے گا اور قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور فیصلہ قرآن کے ساتھ کرے گا اور پھر فرمایا کہ فیصلہ قرآن پر کرے گا اور مولوی انکار کریں گے اور پھر فرمایا کہ مولوی لوگ سخت انکار کریں گےَ میں نے ان سے پوچھا کہ قرآن تو خدائے تعالیٰ کا کلام ہے کیا اس میں بھی غلطیاں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں بن گئیں اور شاعری زبان پھیل گئی اس لئے غلطیاں پڑ گئیں(یعنیؔ مبالغہ پر مبالغہ کر کے حقیقتوں کو چھپایا گیا جیسے شاعر چھپاتے ہیں) عیسیٰ جب آئے گا تو ان سب غلطیوں کو نکالے گا اور فیصلہ قرآن سے کرے گا پھر کہا کہ فیصلہ قران پر کرے گا اس پر میں نے کہا کہ مولوی تو قرآن کے وارث ہیں وہ کیوں انکار کریں گے تب انہوں نے جواب دیا کہ مولوی سخت انکار کریں گے پھر میں نے بات کو دوہرا کر کہا کہ مولوی کیوں انکار کریں گے وہ تو وارثِ قرآن ہیں اس پر وہ بہت طیش میںآکر اور ناراض ہو کر بولے کہ تو دیکھے گا کہ اس وقت مولویوں کا کیاحال ہوگا وہ سخت انکار کریں گے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ عیسیٰ جوان تو ہوگیا مگر وہ کہاں ہے انہوں نے کہا کہ بیچ قادیان کے(یعنی قادیان میں) تب میں نے کہا کہ قادیان تو لدھیانہ سے تین کوس کے فاصلہ پر ہے اس جگہ عیسیٰ کہاں ہیں اس وقت انہوں نے اس کا جواب نہ دیا مگر دوسرے وقت میں انہوں نے اس بات کا جواب دے دیا جس کو بباعث امتداد مدت کے میں پہلے لکھانہ سکا اب یاد آیا کہ آخر میں کئی دفعہ انہوں نے فرمایا کہ وہ قادیان بٹالہ کے پاس ہے اس جگہ عیسیٰ ہے اور جب انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ عیسیٰ قادیان میں ہے اور اب جوان ہوگیا تو میں نے انکار کی راہ سے ان کو کہا کہ عیسیٰ مریم کا بیٹا تو آسمان پر زندہ موجود ہے اور خانہ کعبہ پر اترے گا یہ کون عیسیٰ ہے جو قادیان میں ہے اور جوان ہوگیا۔ اس کے جواب میں وہ بڑی نرمی اور سلوک کے ساتھ بولے اور فرمایا کہ وہ عیسیٰ بیٹا مریم کا جو نبی تھا مر گیا ہے وہ پھر نہیں آئے گا اور میں نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا مر گیا ہے وہ پھر نہیں آئے گا اللہ نے مجھے بادشاہ کہا ہے میں سچ کہتا ہوں جھوٹ نہیں کہتا۔ پھر انہوں نے تین مرتبہ خودبخود کہا کہ وہ عیسیٰ جو آنے والا ہے اس کا نام غلام احمد ہے اور میں نے اگرچہ بہت سی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 385
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 385
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/385/mode/1up
    پیشگوئیاں گلاب شاہ کی پوری ہوتی دیکھیں تھیں لیکن اس پیشگوئی کے باب میں کہ آنے والا عیسیٰ قادیان میں ہے اور اس کا نام غلام احمد ہے ہمیشہ میں گلاب شاہ کا مخالف ہی رہا جب تک کہ اس کو پورے ہوتے دیکھ لیا اور اگرچہ میں ان کو بزرگ اور باخدا جانتا تھا مگر میں اس پیشگوئی کو بوجہ اس کے کہ وہ جیسا کہ میں خیال کرتا تھا اہل سنت والجماؔ عت کے عقیدہ کے مخالف تھی کسی طرح سے قبول نہیں کرسکتا تھا اس لئے پہلے دن جب میں نے ان کے منہ سے یہ بات سنی تو بڑے جوش و خروش سے میں نے ان کا جواب دیا لیکن پھر میں نے بلحاظ ادب ظاہری تکرار چھوڑ دیا اور دل میں مخالف رہا کیونکہ اور بھائیوں کی طرح بڑی مضبوطی سے میرا یہ اعتقاد تھا کہ عیسیٰ آسمان سے اترے گا اور زندہ آسمان پر بیٹھا ہے مرا نہیں ہے اور انہوں نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ جب عیسیٰ لدھانہ میں آئے گا تو ایک سخت کال پڑے گا جیسا کہ میں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ جب اس دعویٰ کے بعد مرزا صاحب لدھانہ میں آئے تو حقیقت میں سخت کال لدھیانہ میں پڑا۔ غرض اس بزرگ نے قریباً تیس یا اکتیس برس پہلے مجھ کو وہ خبریں دیں جو آج ظہور میں آئیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ سب باتیں پوری ہوگئیں جو گلاب شاہ نے آج سے تیس یا اکتیس برس پہلے مجھ کو کہی تھیں۔
    میں اس بات کا لکھنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے بارہا اور بتکرار اس بات کا مشاہدہ ہوچکا ہے کہ یہ بزرگ صاحب خوارق و کرامات تھا۔َ میں نے بچشم خود دیکھا کہ ایک دفعہ ایک جنگل میں موضع رام پور کے قریب انہوں نے نشان کیا کہ اس جگہ دریا چلے گا اور دریا چلنے کی کوئی جگہ نہ تھی اس لئے ہم نے انکار کیا مگر ایک مدت کے بعد اسی جگہ نہر چلی جہاں نشان لگایا تھا۔ ایک جگہ معمار ایک کنواں بنا رہے تھے اور طیار ہوچکا تھا کچھ تھوڑا باقی تھا۔ گلاب شاہ کی اس پر نظر پڑی کہا ناحق اس کنوئیں کو بناتے ہو یہ تو تمام نہیں ہوگا اور بظاہر یہ ان کی بات خلاف عقل تھی کیونکہ کنواں تو بن چکا تھا کچھ تھوڑا سا باقی تھا مگر ان کا کہنا سچ ہوگیا اور اسی اثنا میں وہ کنواں نیچے بیٹھ گیا اور اس کا نشان نہ رہا۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 386
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 386
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/386/mode/1up
    ایک دفعہ انہوں نے علی بخش نام ایک شخص کو بلایا کہ کوٹھہ پر سے جہاں وہ بیٹھا تھا دوسری طرف چلا آ۔ اور علی بخش اس کوٹھہ پرسے الگ ہونے سے سستی کرتا تھا آخر انہوں نے جھڑک کر اس کو کوٹھہ پر سے اٹھایا۔ پس اسی دم جو علی بخش کوٹھہ پر سے الگ ہوا کوٹھہ بیک دفعہ گر پڑا۔ ایک دفعہ مجھے پوچھنے لگے کہ کیا تیرے باپ کا ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا تھا میں نے کہا کہ ہاں تب انہوں نے فرماؔ یا کہ وہ بہشت میں داخل ہوگیا۔ میرا باپ مدت سے فوت ہوچکا تھا اور ان کو اس کے دانت کی کچھ بھی خبر نہیں تھی کیونکہ وہ اس زمانہ کے بعد ہمارے گاؤں میں آئے تھے سو دانت ٹوٹنے کی خبر انہوں نے الہام کے رُو سے دی اور عالم کشف سے اس کے بہشتی ہونے کی مجھے بشارت دی۔ یہ بھی بیان کے لائق ہے کہ گلاب شاہ ایک مرد باخدا پاک مذہب موحد تھا اور مجذوب ہونے کی حالت میں توحید کا چشمہ ان کی زبان پر جاری تھا میں نے دین اسلام کی راہ اور توحید کا طریقہ انہیں سے سیکھا اور انہیں کی تعلیم کے موافق ذکر الٰہی کرتا رہا یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں میرا قلب جاری ہوگیا اور عبادت کی لذت آنے لگی اور ایسا ہوگیا کہ جیسا ایک مرا ہوا زندہ ہو جاتا ہے سچی خوابیں آنے لگیں جو خواب دیکھتا وہ پوری ہوجاتی اور الہامات صحیحہ مجھ کو ہونے لگے۔ یہ سب کچھ ان کی توجہ کی برکت تھی وہ بارہا فرمایا کرتے تھے کہ ہر ایک برکت اللہ اور رسول کی پیروی میں ہے اور چار مذہب اور چار سلسلے جو لوگوں نے مقرر کررکھے ہیں ان کو دراصل کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے اور ہمیشہ اور ہرحال میں اپنا مدعا یہ رکھنا چاہئے کہ واقعی طور پر اللہ اور رسول کی پیروی ہوجائے۔ جو بات اللہ اور رسول سے ثابت نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے گو اس کا کوئی قائل ہو اور فرمایا کرتے تھے کہ جیسے ایک شاگرد کہے کہ میں اپنے ہی استاد کا کہا مانوں گا نہ کسی اور کا۔ یہی چار مذہب کے ان مقلدوں کی مثال ہے جو اتباع نبوی سے اپنے اَئمہ کی متابعت مقدم سمجھتے ہیں۔ حق خالص پر وہ لوگ ہیں جو قرآن اور حدیث پر غور کرتے ہیں اور کلام اللہ سے سچائی کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں چار مذہب کا خواہ نخواہ فرمودہ خدا کا مخالف بن کر بھی پیرو بن جانا یا چار سلسلوں میں ہی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 387
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 387
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/387/mode/1up
    خدا ئے تعالیٰ کے فیض کو محدود سمجھنا دین داروں کا کام نہیں یہ دین نہیں ہے بلکہ نفسانی باتیں ہیں۔ دین وہی ہے جو قرآن لایا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلایا۔ میں نے ایک دفعہ کہا کہ آپ کا مرید بننا چاہتا ہوں اجازت دیں تا مٹھائی لاؤں فرمایا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے مٹھائی منگوایا کرتے تھے ہر ایک نعمت محبت سے حاصل ہوتی ہے۔ بارہا مجذوبانہ حالت میں کہتے کہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیاؔ ر کاکی درویش تھے اور میں بادشاہ ہوں اور امراء سے سخت نفرت رکھتے اور غریبوں سے محبت اور پیار سے پیش آتے اور بسنے کیلئے کوئی مکان نہیں بنایا تھا آزاد طبیعت تھے جہاں چاہتے رہتے اور بیماروں کا علاج کرتے اور کسی سے ہرگز سوال نہ کرتے اور محبت الٰہی سے بھرے ہوئے تھے۔
    ان کی تاثیر صحبت سے جو مجھ کو نعمتیں ملیں ان میں سے ایک بڑی نعمت میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت میں جو بڑے بڑے علماء ٹھوکر کھا کر مُنہ کے بل گر پڑے۔ مجھ کو خدائے تعالیٰ نے مرزا صاحب کی نسبت ٹھوکر کھانے سے بچا لیا یہ استقامت میری قوت سے ظہور میں نہیں آئی یہ اس پیشگوئی کا اثر ہے جو ایک عمر پہلے اس زمانہ سے سن چکا ہوں انہوں نے مجھ کو فرمایا تھا کہ تو دیکھے گا کہ جب عیسیٰ آئے گا اس وقت مولویوں کا کیا حال ہوگا۔ اس کلمہ میں انہوں نے میری طول عمر کی طرف بھی اشارہ کیا تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ تیس برس تک تیری زندگی وفا کرے گی میں اس وقت تک زندہ نہیں رہوں گا مگر تو رہے گا اور ان کی فیض صحبت سے جس قدر مجھ کو رؤیا صالحہ آئیں ان کو اس جگہ میں مفصل لکھ نہیں سکتا۔ میں اکثر مولویوں سے تعلقات محبت و اخلاص رکھتا اور ان کی ہمدردی کرتا۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ ان مولویوں کا حال بھی دیکھا کچھ عرصہ کے بعد خواب میں مجھ کو بعض مولوی نظر آئے جن کے کپڑے نہایت چرکیں اور بدن نہایت دبلے تھے اور حالت ذلیل اور خوار تھی اور وہ اسی شہر لدھیانہ کے تھے جن کو میں جانتا ہوں جو اب تک زندہ ہیں اور جن علماء کی صحبت سے وہ مجھ کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ ان کی صحبت میں رہو ان کے اچھے حالات مجھ پر خواب میں کھلتے تھے۔ چنانچہ مولوی محمد شاہ صاحب والد بزرگوار
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 388
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 388
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/388/mode/1up
    مولوی محمد حسن صاحب رئیس اعظم لودیانہ کی خدمت میں میرا آنا جانا بہت تھا وہ ایک دفعہ مجھ کو خواب میں نظر آئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک جماعت میں بیٹھے ہیں اور لباس ان کا نہایت سفید ہے اور بہت عمدہ اور خوبصورت ہے اور جس قدر ان کی محفل ہے تمام محفل کے لوگ سفید پوش ہیں اس وقت میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ مولوی محمد شاہ صاحب دین اور شریعت پر استقامت رکھتے ہیں اس لئے یہ لباس نظر آتا ہے۔ ایک دفعہ مجھ کو یہ خواب آیا کہ کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ تجھے ستر۷۰ ایمان بخشے گئے ہیں۔ یہ خواب میں نے مولوی محمد شاہ صاحب موصوف کے پاس بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایمان تو ایک ہی ہوتا ہے مگر یہ کمال ایمان کی طرف اشارہ ہے اور ستر ۷۰کے عدد سے قوت ایمان اور خاتمہ بالخیر کا ظاہر کرنا مقصود ہے۔ سو الحمد للہ کہ اس طوفان کے وقت میں میں نے حقؔ کو پہچان لیا اور خدا ئے تعالیٰ نے بچا لیا۔
    میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تمام برکات گلاب شاہ صاحب کی صحبت کی ہیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میری صحبت میں رہنے سے کسی کو کچھ بھی فائدہ نہ ہو تو یہ فائدہ تو ضرور ہوگا کہ اس کی عبادت میں حلاوت و قبولیت پیدا ہوگی یعنی خطرہ سلب ایمان سے بچ جائے گا۔ سو خدا تعالیٰ نے اس فتنہ کے زمانہ میں مجھے ٹھوکر سے محفوظ رکھا اور مرزا صاحب کی سچائی پر میرے دل کو قائم کردیا۔
    بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اگرچہ میں نے اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر یہ اشتہار شائع کیا ہے لیکن جیسا کہ میں ازالہ اوہام میں لکھوا چکا ہوں میرے چال چلن کے واقف اس نواح میں بہت لوگ ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ میری زندگی کیسی صلاح اور تقویٰ سے گذری ہے اور ہمیشہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو ناپاک طریقوں جھوٹ اور افترا سے محفوظ رکھا ہے اور شہر لودیانہ کے سرگروہ موحدین حضرت مولوی محمد حسن صاحب جن کے دادا صاحب کے وقت سے میں اس خاندان کے ساتھ تعلق محبت و ارادت رکھتا ہوں اور ہم قومی کا شرف بھی مجھ کو حاصل ہے وہ میرے حال سے خوب واقف ہیں۔ وہ باوجود اختلاف رائے کے پھر بھی میرے لئے قرآن شریف اٹھا کر قسم کھا سکتے ہیں کہ کریم بخش
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 389
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 389
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/389/mode/1up
    یعنی یہ عاجز ہمیشہ نیک نامی اور دینداری کے ساتھ عمر بسر کرتا رہا ہے اور دروغ و افتراء جو بدمعاشوں اور اوباشوں کا کام ہے کبھی اس سے ظہور میں نہیں آیا۔ اور اگر میرے مخدوم مولوی محمد شاہ صاحب آج زندہ ہوتے تو وہ بھی میرے صلاح و تقویٰ کی گواہی دیتے علاوہ اس کے ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ مجھے مرزا صاحب کے معاملہ میں ناحق کا جھوٹ بولنے اور افترا کرنے سے بجز *** خلق و خالق اور کیا حاصل تھا۔ ایک عظیم الشان خاندان اسلام سے میرا قدیمی تعلق دوستی وبرادری ہے یعنی خاندان مولوی محمد حسن صاحب رئیس لودیانہ پس جس حالت میں مولوی صاحب مرزا صاحب سے کنارہ کر گئے اور ایک جہان ان کو کافر کافر کہنے لگا تو مجھے کیا حاصل تھا کہ میں مرزا صاحب کی طرف رجوع کر کے اپنا دین بھی برباد کرتا اور اپنی دنیا بھی اور اپنے معزز بھائیوں کو چھوڑتا اور اپنی قوم سے بھی علیحدہ ہوتا سو جس چیز نے مجھے مرزا صاحب کی طرف رجوع کیا اور خلقت کے لعن و طعن کو میں نے اپنےؔ پر گوارا کر لیا اور اپنے قدیم مخدوم کو ناراض کیا وہ مرزا صاحب کی سچائی ہے جو گلاب شاہ کی پیشگوئی سے مجھ پر کھل گئی اور پھر میں کہتا ہوں کہ میرے چال چلن کی حضرت مولوی محمد حسن صاحب سے قسم دے کر تفتیش کرنی چاہئے میرے خیال میں وہ متقیوں کی اولاد اور نجیب و شریف اور اہل علم اور باکمال مردوں کی ذرّیت ہیں وہ میرے حال سے واقف اور میں ان کی خاندانی شرافت اور نجابت سے واقف ہوں اور ان کے والد بزرگوار کے وقت سے میری ان سے ملاقات ہے یہ سب میں نے محض للہ لکھا ہے کیونکہ گمراہی کی ایک آگ بھڑک رہی ہے۔ اگر ایک شخص بھی میری اس گواہی سے راہِ راست پر آجاوے تو انشاء اللہ مجھے اس کا اجر ملے گا۔ میں بڈھا ہوگیا اور اب موت کے دن بہت قریب ہیں کیا تعجب کہ رب کریم نکتہ نواز اس نیک مرد کی طرح جس کا اس نے ذکر خیر اپنے پاک کلام میں لکھا ہے۔ ۱؂ میرے پر صرف اس قدر عمل صالح سے فضل کر دیوے اور وہ غفور و رحیم ہے۔ اب میں نے جو کہنا تھا کہہ چکا اور اس اشتہار کو ختم کرتا ہوں۔
    گرنیائد بگوش رغبت کس
    بر رسولاں بلاغ باشد و بس
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 390
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 390
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/390/mode/1up
    بٹالوی صاحب کا ہمارے رسالہ آسمانی فیصلہ
    پر جرح اور اس کا جواب اور نیز آسمانی
    نشانوں کے پیش کرنے سے اتمام ُ حجت
    شیخ بٹالوی نے جو رسالہ جواب فیصلہ آسمانی میں لکھا ہے اس کے صفحہ ۲۷و۵۰و۵۱و۵۲ وغیرہ میں بہت کچھ ہاتھ پیر مارے ہیں تا کسی طرح لوگوں کی نظر میں ہماری اس درخواست مقابلہ کو جو حقیقی ایمان کی آزمائش کیلئے میاں نذیر حسین دہلوی اور ان کے ہم خیال لوگوں کی خدت میں پیش کی گئی تھی خلاف انصاف ثابت کر کے دکھلاویں مگر ہر ایک باخبر اور منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے بجائے اس بات کے کہ ہماری حجت کو اپنے اور اپنے شیخ دہلوی کے سر پر سے دور کرسکتے اور بھیؔ زیادہ اپنی تحریر سے اس بات کو ثابت کردیا کہ ان کو سچائی کی طرف قدم مارنا اور اپنے شیطانی اوہام سے نجات پا جانا کسی طرح منظور ہی نہیں۔ تمام لوگ جانتے ہیں اور شیخ جی کے کفر نامہ کو پڑھ کر ہریک شخص معلوم کرسکتا ہے کہ ان حضرت اور نذیر حسین نے بڑے اصرار اور قطع اور یقین سے اس عاجز کی نسبت کفر اور بے ایمانی کا فتویٰ لکھا ہے اور دجال اور ضال اور کافر نام رکھا ہے۔ ان الزامات کی نسبت اگرچہ میں نے بار بار بیان کیا اور اپنی کتابوں کا مطلب سنایا کہ کوئی کلمہ کفراِن میں نہیں ہے نہ مجھے دعویٰ نبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور نہ لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے خاتم النبییّن ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی صلعم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کیلئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک ُ شعشہُ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ہاںُ محدّث آئیں گے جو
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 391
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 391
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/391/mode/1up
    اللہ جلّ شانہٗسے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلّی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں۔ لیکن ان بزرگوں نے میرے ان بیانات کو نہ سمجھاخاص کر نذیر حسین پر بہت افسوس ہے جس نے پیرانہ سالی میں اپنی تمام معلومات کو خاک میں ملا دیا۔ غرض میں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ قرآن اور حدیث کو چھوڑتے ہیں اور کلام الٰہی کے الٹے معنے کرتے ہیں تب میں نے ان سے بکلّی نومید ہو کر خدائے تعالیٰ سے آسمانی فیصلہ کی درخواست کی اور جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے میرے دل پر القا کیا وہ صورت فیصلہ کیلئے میں نے پیش کردی۔ اگر ان لوگوں کے دل میں انصاف اور حق طلبی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کرتے یہ درخواست کس قدر فضول ہے کہ ایک سال کے عرصہ کو جو ایک الہامی امر ہے خودبخود بدلا دیا جائے اور ایک یا دو ہفتے بجائے اس کے مقرر کئے جائیں یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ میعاد منجانب اللہ ہے اور انسان تو اپنے اختیار سے کبھی جرأت ہی نہیں کرسکتا کہ خوارق کے دکھلانے کیلئے کوئی میعاد مقرر کرسکے انبیاء نے بھی ایسا نہیں کیا اور اگر کوئی میعاد اپنی طرف سے مقرر کیؔ تو عتاب ہوا تو پھر کیونکر ایک سال ایک ہفتہ سے بدل سکتا ہے میں سوچ میں ہوں کہ ان لوگوں کے دعاوی علم اور معرفت کہاں گئے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ میعادوں کا مقرر کرنا انسان کا کام نہیں اگر ان میں سے کسی ملہم کو دو ہفتہ میں کرامت دکھلانے کا الہام ہوگیا ہے تو بہت اچھا وہی اپنی کرامت ظاہر کرے میں اس کو قبول کروں گا۔ اور اگر میں اس کے مقابلہ سے عاجز رہا تو وہ سچے ٹھہریں گے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام دروغ گوئی اور فضول گوئی ہے اصل بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں کو سخت کردیا اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اس لئے وہ نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ منصفو! سوچو کہ جو شخص ملہم ہوتا ہے کیا وہ اپنی طرف سے کچھ کہہ سکتا ہے پھر کیونکر میں اس میعاد کو بدل سکتا ہوں جس پر خدائے تعالیٰ نے مجھ کو ان کے مقابل پر اطلاع دی ہاں اگر وہ خود بدل دے تو اس کا اختیار ہے انسان کا
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 392
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 392
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/392/mode/1up
    اختیار نہیں اور نہ اس پر کسی کا حکم ہے طلب گارباید صبور و حمول۔ اگر ان میں سچی طلب ہے اور جہنم کا خوف ہے تو ایک سال کیا دور ہے اور نیز اس جگہ ایک سال سے مراد یہ نہیں کہ سال کے تمام دن پورے ہوجائیں بلکہ خدائے تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس میعاد کے اندر ہی فیصلہ کردے گا۔ اور قادر ہے کہ ابھی دو ہفتہ بھی نہ گذریں اور نشان ظاہر ہو۔ میں نے مقابلہ کیلئے اس لئے لکھا تھا کہ یہ لوگ نذیر حسین اور بٹالوی وغیرہ اس عاجز کو کھلے کھلے طور پر کافر اور مردود اور ملعون اور دجال اور ضال لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک میرے پر اعتقاد رکھنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے تو پھر اس صورت میں ضرور تھا کہ ایمانی نشانوں کی آزمائش ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مومنوں کو خدائے تعالیٰ خاص نشانوں سے ممتاز کردیتا ہے چنانچہ وہ ان آسمانی نشانوں کی رو سے اپنے غیر سے خواہ وہ کافر ہو یا منافق یا فاسق امتیاز کلی پیدا کر لیتے ہیں۔ سو اسی کی طرف ان لوگوں کو بلایا گیا تھا تا معلوم ہوجاوے کہ عنداللہ کون مومن اور کون موردسخط و غضب الٰہی ہے اگر ان حضرات کو اپنے ایمان پر کچھ بھروسا ہوتا تو مقابلہ سے فرار نہ کرتے لیکن آج تک کسی نے میدان میں آکر مقابل کا نام بھی نہیں لیا اور اخیر عذریہ پیش کیا کہ آپ دکھلادیں ہم قبول کریں گے اور اس کے ساتھ بھی یہ شرطیں لگادیں کہ تب قبول کریں گے کہ جب آسمان سے من وسلویٰ نازل ہو یا کوئی مجذوم اچھا ہوجائے یا ایک کانے کو دوسری آنکھ مل جائے یا لکڑی کا سانپؔ بن جائے یا جلتی آگ میں کود پڑیں اور بچ جائیں دیکھو صفحہ ۵۰ جواب فیصلہ آسمانی۔
    ان تمام واہیات باتوں کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ان سب باتوں پر قادر ہے اور اس کے علاوہ بے شماراور نشانوں پر بھی قادر ہے مگر اپنی مصلحت اور مرضی کے موافق کام کرتا ہے پہلے کفار نے یہی سوال کیا تھا۔ ۱؂ یعنی اگر یہ نبی سچا ہے تو موسیٰ وغیرہ انبیاء بنی اسرائیل کے نشانوں کی مانند نشان دکھاوے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 393
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 393
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/393/mode/1up
    اور مشرکین نے یہ بھی کہا کہ ہمارےُ مردے ہمارے لئے زندہ کر دیوے یا آسمان پر ہمارے روبرو چڑھ جاوے اور کتاب لاوے جس کو ہم ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں وغیرہ وغیرہ مگر خدائے تعالیٰ نے محکوموں کی طرح ان کی پیروی نہیں کی اور وہی نشان دکھلائے جو اس کی مرضی تھی یہاں تک کہ بعض دفعہ نشان طلب کرنے والوں کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تمہارے لئے قرآن کا نشان کافی نہیں۔ اور یہ جواب نہایت ُ پر حکمت تھا کیونکہ ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کہ ان میں اور سحر و مکر و دست بازی وغیرہ میں تفرقہ و تمیز کرنا نہایت مشکل بلکہ محال ہوتا ہے اور دوسرے وہ نشان ہیں جو اِن مغشوش کاموں سے بکلّی تمییز رکھتے ہیں اور کوئی شائبہ یا شبہ سحر یا مکریادست بازی اور حیلہ گری کا ان میں نہیں پایا جاتا۔ سو اسی دوسری قسم میں سے قرآن کریم کا معجزہ ہے جو بکلّی روشن اور ہر یک پہلو اور ہر ایک طور سے لعل تاباں کی طرح چمک رہا ہے۔ لکڑی کا سانپ بنانا کوئی ممیز نشان نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ نے بھی سانپ بنایا اور ساحروں نے بھی اور اب بھی بنائے جاتے ہیں مگر اب تک معلوم نہیں ہوا کہ سحر کے سانپ اور معجزہ کے سانپ میں مابہ الامتیاز کیا ہے۔ اسی طرح سلب امراض میں عمل الترب میں مشق کرنے والے خواہ وہ عیسائی ہیں یا ہندو یا یہودی یا مسلمان یا دہریہ اکثر کمال رکھتے ہیں اور البتہ بعض اوقات جذام وغیرہ امراض مزمنہ کو بمشیت الٰہی اسی عمل کی تاثیر سے دور کردیتے ہیں سو صرف شفاء امراض پر حصر رکھنا ایک دھوکہ ہے جب تک اس کے ساتھ پیشگوئی شامل نہ ہو اسی طرح آج کل بعض تماشا کرنے والے آگ میں بھی کودتے ہیں اور اس کے اثر سے بچ جاتے ہیں سو کیا اس قسم کے تماشوں سے کوئی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے۔ من سلویٰ کا تماشاشاید آپ نے کبھی دیکھا نہیں ایک ایک پیسہ لے کر کشمش وغیرہ برسا دیتے ہیں اگر آپ آج کل کے یورپ کے تماشائیوں کو دیکھیںؔ جو ایک مخفی فریب کی راہ سے سرکاٹ کر بھی پیوند کردیتے ہیں تو شاید آپ ان کے دست بیع ہوجائیں۔ مجھے یاد ہے کہ جالندھر کے مقام میں ایک شعبدہ باز تھا مہتاب علی نام نے جو آخر توبہ کر کے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 394
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 394
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/394/mode/1up
    اس عاجز کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوگیا میرے مکان پر ایک مجلس میں شعبدہ دکھلایا تب آپ جیسے ایک بزرگ بول اٹھے کہ یہ تو صریح کرامت ہے۔ حضرت ایسے کاموں سے ہرگز حقیقت نہیں کھلتی بلکہ اس زمانہ میں تو اور بھی شک پڑتا ہے۔ بہتیرے ایسے تماشا کرنے والے اور طلسم دکھلانے والے پھرتے ہیں کہ اگر آپ ان کو دیکھیں تو کراماتی نام رکھیں لیکن کوئی عقل مند جس کی آج کل کے شعبدوں پر نظر محیط ہو۔ ایسے کاموں کا نام نشان بیّن نہیں رکھ سکتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک کاغذ کے پرچہ کو اپنی بغل میں پوشیدہ کر کے پھر بجائے کاغذ کے اس میں سے کبوتر نکال کر دکھلا دے تو پھر آپ جیسا کوئی آدمی اگر اس کو صاحب کرامات کہے تو کہے مگر ایک عقل مند جو ایسے لوگوں کے فریبوں سے بخوبی واقف ہے ہرگز اس کا نام کرامت نہیں رکھے گا بلکہ اس کو فریب اور دست بازی قرار دے گا اسی وجہ سے قرآن کریم اور توریت میں سچے نبی کی شناخت کیلئے یہ علامتیں قرار نہیں دیں کہ وہ آگ سے بازی کرے یا لکڑی کے سانپ بناوے یا اسی قسم کے اور کرتب دکھلاوے بلکہ یہ علامت قرار دی کہ اس کی پیشگوئیاں وقوع میں آجائیں یا اس کی تصدیق کیلئے پیشگوئی ہو۔ کیونکہ استجابت دعا کے ساتھ اگر حسب مراد کوئی امر غیب خدا تعالیٰ کسی پر ظاہر کرے اور وہ پورا ہوجائے تو بلاشبہ اس کی قبولیت پر ایک دلیل ہوگی اور یہ کہنا کہ نجومی یار مّال اس میں شریک ہیں یہ سراسر خیانت اور مخالف تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؂* پس جب کہ خدا تعالیٰ نے امور غیبیہ کو اپنے مرسلین کی ایک علامت خاصہ قرار دی ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔ ۲؂
    * نوٹ : خدائے تعالیٰ بجز ان لوگوں کے جن کو وہ ہدایت خلق کیلئے بھیجتا ہے کسی دوسرے کو اپنے غیب پر مطلع نہیں کرتا۔
    ** ۔ اگر یہ رسول سچا ہے تو اس کی بعض پیشگوئیاں جو تمہارے حق میں ہیں پوری ہوں گی یعنی پیشگوئیوں کا پورا ہونا سچائی کی نشانی ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 395
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 395
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/395/mode/1up
    تو پھرپیشگوئی کو استخفاف کی نظر سے دیکھنا اور لکڑی کا سانپ بنانےؔ کیلئے درخواست کرنا انہیں مولویوں کا کام ہے جنہوں نے قرآن کریم میں خوض کرنا چھوڑ دیا اور نیز زمانہ کی ہوا سے بے خبر ہیں۔
    بہرحال چونکہ میری طرف سے آسمانی فیصلہ میں ایمانی مقابلہ کیلئے درخواست ہے تو پھر مقابلہ سے دستکش ہوکر خاص مجھ سے نشانوں کیلئے استدعا کرنا اس صورت میں میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کا حق پہنچتا ہے کہ جب حسب تحریر میری اول اس بات کا اقرار شائع کریں کہ ہم لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں اور دراصل ایمانی انوار و علامات ہم میں موجود نہیں کیونکہ یک طرفہ نشانوں کے دکھلانے کیلئے بغرض کبر شکنی ان کی کے میں نے یہی شرط آسمانی فیصلہ میں قرار دی ہے اور نیز ظاہر بھی ہے کہ ان لوگوں کو بجائے خود مومن کامل اور شیخ الکل اور ملہم ہونے کا دعویٰ ہے اور مجھ کو ایمان سے خالی اور بے نصیب سمجھتے ہیں تو پھر بجز مقابلہ کے اور کونسی صورت فیصلہ کی ہے ہاں اگر اپنے ایمانی کمالات کے دعویٰ سے دست بردار ہوجائیں تو پھر یک طرفہ ثبوت ہمارے ذمہ ہے۔ اس بات کا جواب میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کے ذمہ ہے کہ وہ باوجود دعویٰ مومن کامل بلکہ شیخ الکل ہونے کے کیوں ایسے شخص کے مقابلہ سے بھاگتے ہیں جو ان کی نظر میں کافر بلکہ سب کافروں سے بدتر ہے اور کس بنا پر یک طرفہ نشان مانگتے ہیں۔ اگر فیصلہ آسمانی کے جواب میں یہ درخواست ہے تو حسب منشاء اس رسالہ کے درخواست ہونی چاہئے یعنی اگر اپنی ایمانداری کا کچھ دعویٰ ہے تو مقابلہ کرنا چاہئے جیسا کہ آسمانی فیصلہ میں بھی شرط درج ہے ورنہ صاف اس بات کا اقرار کر کے کہ ہم حقیقی ایمان سے خالی ہیں یک طرفہ نشان کی درخواست کریں۔
    بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں میاں گلاب شاہ اور نعمت اللہ ولی کی اس عاجز کے حق میں حسب منشا قرآن کریم کے نشان صریح ہیں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 396
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 396
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/396/mode/1up
    جس میں کسی دست بازی اور مکر اور فریب کی گنجائش نہیں۔ اب اگر کوئی صوفی پردہ نشین جو پردہ سے نکلنا نہیں چاہتا بقول بٹالوی صاحب اور میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے بالمقابل نشان دکھلانے کو طیار ہے تو وہ بھی ایسی ہی دو پیشگوئیاں ان ہی ثبوتوں کے ساتھ اپنے حق میں کسی گذشتہ ولی کی طرف سے پیش کرے۔ ہم خدائے تعالیٰ کی قسم یاد کر کے وعدہ کرتے ہیں کہؔ اگر یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ بھی ایسے ہی نشان اور اسی درجہ ثبوت پر اور ایسی عظمت کے ساتھ باعتبار اپنے بعد زمانہ کے پائے گئے ہیں تو ہم سزائے موت اٹھانے کیلئے بھی طیّار ہیں۔ اور اس عاجز کی اپنی گذشتہ پیشگوئیاں تین ہزار کے قریب ہیں جو اکثر استجابت دعا کے بعد ظہور میں آئی ہیں۔ ان میں سے دلیپ سنگھ کے روکے جانے کی پیشگوئی ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے قصد ارادہ پنجاب سے ناکام رہے گا۔ یہ پیشگوئی اجمالی طور پر اشتہار میں چھپ چکی ہے اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنائی گئی۔ اسی طرح پنڈت دیانند کے فوت ہونے کی نسبت پیشگوئی اور شیخ مہر علی صاحب رئیس کے ابتلا اور پھر رہائی کی نسبت پیشگوئی*۔ بٹالوی صاحب کے مخالف ہوجانے کی نسبت پیشگوئی وغیرہ پیشگوئیاں جن کا مفصل ذکر موجب طول ہے۔ اگر فریق مخالف کے مولویوں میں کچھ ایمان ہے تو ان پیشگوئیوں کے بارے میں بھی ایک جلسہ مقرر کر کے اول ہم سے ثبوت لیں اور پھر اس کے موافق اپنی طرف سے پیشگوئیوں کا ثبوت دیں اور اگر بباعث اپنی تہی دستی کے ان دونوں طوروں مقابلہ سے عاجز آجائیں تو یہ بھی اختیار ہے کہ ایک سال کی مہلت پر آئندہ کیلئے آزمائش کر لیں کسی بڑے جھگڑے کی ضرورت نہیں ہر یک پیشگوئی جو کسی دعا کی قبولیت سے ظاہر ہو کسی اخبار میں بقید اس کے وقت ظہور کے چھپوادیں اور اس طرف سے بھی یہی کارروائی ہو سال گذرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون مؤیدمن اللہ اور کون مخذول اور مردود ہے۔ اگر یہ بھی نہ کریں تو سب لوگ یاد رکھیں کہ ان ُ ملاؤں کا ارادہ صرف حق پوشی اور بخل اور
    *نوٹ : ۔ شیخ مہر علی صاحب کے ہاتھ میں قرآن شریف دے کر اس پیشگوئی کی نسبت ان کو قسم دینی چاہئے کیونکہ اگر کوئی زمانہ سازی یا مولویوں کے خوف سے انکار کرے تو قسم کے بعد تو ہرگز نہیں کرسکتا۔ اگر کرے تو حلف دروغی کے وبال سے جلد رسوا ہوجاتا ہے۔(یہ حاشیہ ایڈیشن ۱۸۹۲ء کے صفحہ ۳۶ پر ہے۔ ناشر)
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 397
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 397
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/397/mode/1up
    تعصب ہے ۔حق جوئی سے کچھ غرض نہیں اگر ان کو سمجھ ہو تو ایک بڑا نشان یہ بھی ہے کہ یہ لوگ دن رات اس نور الٰہی کے بجھانے کیلئے کوشش کررہے ہیں اور ہر قسم کے مکر عمل میں لارہے ہیں اور لوگوں کو بہکارہے ہیں اور ناخنوں تک حق کو مٹانے کیلئے زور لگا رہے ہیں کفر کے فتوے لکھ رہے ہیں اور آزار دہی کے تمام منصوبے گھڑ رہے ہیں یہاں تک کہ بٹالوی صاحب نے لوگوں کو برانگیختہ کیا ہے کہ گورنمنٹ کے سامنے جاکر سیاپا کریں غرض کوئی دقیقہ مکر اور فریب اور سعی اور کوشش کا اٹھا نہیں رکھا اور ایک جہان اپنے ساتھ کر لیا ہے اورؔ جیسا کہ میں نے بٹالوی صاحب کو ان تمام واقعات سے پہلے اس الہام کی خبر دی تھی کہ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے۔ اب وہی صورت پیدا ہورہی ہے لوگوں نے یہاں تک دشمنی کی ہے کہ رشتہ ناطہ کو چھوڑ دیا ہے۔ باوجود ان تمام کار سازیوں کے جو کمال کو پہنچ گئی ہیں بالآخر ہم فتح پا جائیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا نشان ہوگا۔
    اور اگر کسی کی آنکھیں ہوں تو اس عاجز پر جو کچھ عنایات اللہ جلّ شانہٗ کی وارد ہورہی ہیں وہ سب نشان ہی ہیں۔ دیکھو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افترا کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔ لیکن اس عاجز کے دعویٰ مجدد اور مثیل مسیح ہونے اور دعویٰ ہم کلام الٰہی ہونے پر اب بفضلہ تعالیٰ گیارھواں برس جاتا ہے کیا یہ نشان نہیں ہے اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ کاروبار نہ ہوتا تو کیونکر عشرہ کاملہ تک جو ایک حصہ عمر کا ہے ٹھہر سکتا تھا۔ پھرَ میں کہتا ہوں کہ کیا یہ نشان نہیں ہے کہ الہامی پیشگوئیوں کے بالمقابل آزمائش کیلئے کوئی اس عاجز کے سامنے نہیں آسکتا اور اگر آوے تو خدائے تعالیٰ اس کو سخت ذلیل کرے ایسا ہی صدہا تائیدات الہٰیہ شامل حال ہورہی ہیں۔ میں حضرت قدس کا باغ ہوں جو مجھے کاٹنے کا ارادہ کرے گا وہ خود کاٹا جائے گا مخالف رو سیاہ ہوگا اور منکر شرمسار یہ سب نشان ہیں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 398
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 398
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/398/mode/1up
    مگر ان کیلئے جو دیکھ سکتے ہیں۔
    اے سخت اسیر بدگمانی
    وے بستہ کمر بہ بد زبانی
    سوزم کہ چسان شوی مسلمان
    واین طرفہ کہ کافرم بخوانی
    تبلیغ روحانی
    لََھُمُ الْبُشْریٰ فِی الْحَیٰوۃ الدُّنْیَا
    اگرخود آدمی کاہل نباشد در تلاشِ حق
    خدا خود راہ بنماید طلب گارِ حقیقت را
    یہ بات قرآن اور حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ مومن رؤیا صالحہ مبشرہ دیکھتا ہے اور اس کیلئے دکھائی بھی جاتی ہیں۔ بالخصوص جب کہ مومن لوگوں کی نظر میں مطرود اور مخذول اور ملعون اور مردود اورکافر اور دجال بلکہ اکفر اور شرّ البریّہ ہو۔ اس کوفت اور شکست خاطر کے وقت میںؔ جو کچھ مکالمات ُ پر از لطف و احسان خدا تعالیٰ کی طرف سے مومن کے ساتھ واقعہ ہوتے ہیں اس کو کون جانتا ہے۔
    رحمتِ خالق کہ حِرزِ اولیاست
    ہست پنہان زیر *** ہائے خلق
    یہ عاجز خدائے تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتا کہ اس تکفیر کے وقت میں کہ ہر ایک طرف سے اس زمانہ کے علماء کی آوازیں آرہی ہیں کہ لست مومنا اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ ندا ہے کہ قل انّی اُمِرْت وَانا اوّل المؤمنین ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیخ کنی کرو اور ایک طرف الہام ہوتا ہے یتربصون علیک الدّوائر علیھم دائرۃ السّوءِ اور ایک طرف وہ کوشش کررہے ہیں کہ اس
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 399
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 399
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/399/mode/1up
    شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں اور ایک طرف خدا وعدہ کررہا ہے کہ انّی مُھِیْن من اراداھانتک۔ اللّٰہ اجرک۔ اللّٰہ یعطیک جَلالکاور ایک طرف مولوی لوگ فتوے پر فتوے لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم عقیدگی اور پیروی سے انسان کافر ہوجاتا ہے اور ایک طرف خدا ئے تعالیٰ اپنے اس الہام پر بتواتر زور دے رہا ہے کہ قل ان کنتم تحبّون اللّٰہ فاتبعونی یُحْبِبْکُم اللّٰہُ۔ غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدا تعالیٰ سے لڑ رہے ہیں اب دیکھئے کہ فتح کس کی ہوتی ہے۔
    بالآخر واضح ہو کہ اس وقت میرا مدعا اس تحریر سے یہ ہے کہ بعض صاحبوں نے پنجاب اور ہندوستان سے اکثر خوابیں متعلق زیارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور نیز الہامات بھی اس عاجز کے بارہ میں لکھ کر بھیجی ہیں جن کا مضمون قریباً اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا ہے اور یا بذریعہ الہام کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کو قبول کرو چنانچہ بعض نے ایسی خوابیں بھی بیان کیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نہایت غضب کی حالت میں نظر آئے اور معلوم ہوا کہ گویا آنحضرت روضہ مقدسہ سے باہر تشریف رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمام ایسے لوگ جو اس شخص یعنی اس عاجز کو عمداًستا رہے ہیں قریب ہے جو اُن پر غضب الٰہی نازؔ ل ہو۔ اوّل اوّل اس عاجزنے ان خوابوں کی طرف التفات نہیں کی مگراب میں دیکھتا ہوں کہ کثرت سے دنیا میں یہ سلسلہ شروع ہوگیا یہاں تک کہ بعض لوگ محض خوابوں کے ہی ذریعہ سے عناد اور کینہ کو ترک کر کے کامل مخلصین میں داخل ہوگئے اور اسی بنا پر اپنے مالوں سے امداد کرنے لگے سو مجھے اس وقت یاد آیا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۱ ۲۴ میں یہ الہام درج ہے جس کو دس برس کا عرصہ گذر گیا اور وہ یہ ہے۔ینصرک رجال نوحی الیھم من السّماء۔یعنی ایسے لوگ تیری مدد کریں گے جن پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے سو وہ وقت آگیا۔ اس لئے میرے نزدیک قرین مصلحت ہے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 400
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 400
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/400/mode/1up
    کہ جب ایک معقول اندازہ ان خوابوں اور الہاموں کا ہوجائے تو ان کو ایک رسالہ مستقلہ کی صورت میں طبع کرکے شائع کیا جائے۔ کیونکہ یہ بھی ایک شہادت آسمانی اور نعمت الٰہی ہے اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۱؂ لیکن پہلے اس سے ضروری طور پر یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آئندہ ہر ایک صاحب جو کوئی خواب یا الہام اس عاجز کی نسبت دیکھ کر بذریعہ خط اس سے مطلع کرنا چاہیں تو ان پر واجب ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قسم کھاکر اپنے خط کے ذریعہ سے اس بات کو ظاہر کریں کہ ہم نے واقعی اور یقینی طور پر یہ خواب دیکھی ہے اور اگر ہم نے کچھ اس میں ملایا ہے تو ہم پر اسی دنیا اور آخرت میں *** اور عذاب الٰہی نازل ہو اور جو صاحب پہلے قسم کھاکر اپنی خوابیں بیان کر چکے ہیں ان کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں مگر وہ تمام صاحب جنہوں نے خوابیں یا الہامات تو لکھ کر بھیجے تھے لیکن وہ بیانات ان کے موکد بقسم نہیں تھے ان پر واجب ہے کہ پھر دوبارہ ان خوابوں یا الہامات کو قسم کے ساتھ موکد کرکے ارسال فرماویں اور یاد رہے کہ بغیر قسم کے کوئی خواب یا الہام یا کشف کسی کا نہیں لکھا جاوے گا۔ اور قسم بھی اس طرز کی چاہئے جو ہم نے ابھی بیان کی ہے۔
    اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مواخذہ الٰہی سے ڈرتے ہیں وہ بلاتحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے مولویوں سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اورؔ ان کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہوجاویں کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں اور اگر اس عاجز پر شک ہو اور وہ دعویٰ جو اس عاجز نے کیاہے اس کی صحت کی نسبت دل میں شبہ ہو تو میں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اول توبہ نصوح کرکے رات کے وقت دو رکعت نماز پڑھیں جس کی پہلی رکعت میں سورۃ یٰسین اور دوسری رکعت میں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 401
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 401
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/401/mode/1up
    اکیس مرتبہ سورۃ اخلاص ہو اور پھر بعد اس کے تین سو مرتبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اے قادر کریم تو پوشیدہ حالات کو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور مقبول اور مردود اور مفتری اور صادق تیری نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس ہم عاجزی سے تیری جناب میں التجا کرتے ہیں کہ اس شخص کا تیرے نزدیک کہ جو مسیح موعود اور مہدی اور مجدّد الوقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیا حال ہے۔ کیا صادق ہے یا کاذب اور مقبول ہے یا مردود۔ اپنے فضل سے یہ حال رؤیا یا کشف۔ یا الہام سے ہم پر ظاہر فرما تا اگر مردود ہے تو اس کے قبول کرنے سے ہم گمراہ نہ ہوں اور اگر مقبول ہے اور تیری طرف سے ہے تو اس کے انکار اور اس کی اہانت سے ہم ہلاک نہ ہوجائیں۔ ہمیں ہر ایک قسم کے فتنہ سے بچا کہ ہر ایک قوت تجھ کو ہی ہے۔ آمین۔ یہ استخارہ کم سے کم دو ہفتے کریں لیکن اپنے نفس سے خالی ہو کر۔ کیونکہ جو شخص پہلے ہی بُغض سے بھرا ہوا ہے اور بدظنی اس پر غالب آگئی ہے اگر وہ خواب میں اس شخص کا حال دریافت کرنا چاہے جس کو وہ بہت ہی ُ برا جانتا ہے تو شیطان آتا ہے اور موافق اس ظلمت کے جو اس کے دل میں ہے اور ُ پر ظلمت خیالات اپنی طرف سے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ پس اس کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ سو اگر تو خدائے تعالیٰ سے کوئی خبر دریافت کرنا چاہے تو اپنے سینہ کو بکلّی بغض اور عناد سے دھو ڈال اور اپنے تئیں بکلی خالی النفس کر کے اور دونوں پہلوؤںُ بغض اور محبت سے الگ ہو کر اس سے ہدایت کی روشنی مانگ کہ وہ ضرور اپنے وعدہ کے موافق اپنی طرف سے روشنی نازل کرے گا جس پر نفسانی اوہام کا کوئی دخان نہیں ہوگا۔ سو اےؔ حق کے طالبو۔ ان مولویوں کی باتوں سے فتنہ میں مت پڑو اٹھو اور کچھ مجاہدہ کر کے اس قوی اور قدیر اور علیم اور ہادی مطلق سے مدد چاہو اور دیکھو کہ اب میں نے یہ روحانی تبلیغ بھی کردی ہے آئندہ تمہیں اختیار ہے۔
    والسلام علی من اتبع الھدٰی
    المبلّغ غلام احمد عفی عنہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 402
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 402
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/402/mode/1up
    شیخ بٹالوی صاحب کے فتویٰ تکفیر کی
    کیفیت
    اس فتویٰ کو میں نے اول سے آخر تک دیکھا۔ جن الزامات کی بنا پر یہ فتویٰ لکھا ہے انشاء اللہ بہت جلد ان الزامات کے غلط اور خلاف واقعہ ہونے کے بارے میں ایک رسالہ اس عاجز کی طرف سے شائع ہونے والا ہے جس کا نام دافع الوساوس ہے باایں ہمہ مجھ کو ان لوگوں کے لعن و طعن پر کچھ افسوس نہیں اور نہ کچھ اندیشہ بلکہ میں خوش ہوں کہ میاں نذیر حسین اور شیخ بٹالوی اور ان کے اتباع نے مجھ کو کافر اور مردود اور ملعون اور دجّال اور ضال اور بے ایمان اور جہنمی اور اکفر کہہ کر اپنے دل کے وہ بخارات نکال لئے جو دیانت اور امانت اور تقویٰ کے التزام سے ہرگز نہیں نکل سکتے تھے اور جس قدر میری اتمام حجت اور میری سچائی کی تلخی سے ان حضرات کو زخم پر زخم پہنچا۔ اس صدمہ عظیمہ کا غم غلط کرنے کیلئے کوئی اور طریق بھی تو نہیں تھا بجز اس کے کہ لعنتوں پر آجاتے مجھے اس بات کو سوچ کر بھی خوشی ہے کہ جو کچھ یہودیوں کے فقیہوں اور مولویوں نے آخرکار حضرت مسیح علیہ السلام کو تحفہ دیا تھا وہ بھی تو یہی لعنتیں اور تکفیر تھی جیسا کہ اہل کتاب کی تاریخ اور ہر چہار انجیل سے ظاہر ہے تو پھر مجھے مثیل مسیح ہونے کی حالت میں ان لعنتوں کی آوازیں سن کر بہت ہی خوش ہونا چاہئے کیونکہ جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو حقیقت دجّالیہ کے ہلاک اور فانی کرنے کے لئے حقیقت عیسویہ سے متصف کیا۔ ایسا ہی اس نے اس حقیقت کے متعلق جو جو نوازل و آفات تھے ان سے بھی خالی نہ رکھا لیکن اگر کچھ افسوس ہے تو صرف یہ کہ بٹالوی صاحب کو اس فتوے کے طیار کرنے میں یہودیوں کے فقیہوں سے بھی زیادہ خیانت کرنی پڑی اور وہ خیانت تین قسم کی ہےؔ اول یہ کہ بعض لوگ جو مولویّت اور فتویٰ دینے کا منصب نہیں رکھتے وہ صرف
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 403
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 403
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/403/mode/1up
    مکفرین کی تعداد بڑھانے کیلئے مفتی قرار دیئے گئے۔ دوسرے یہ کہ بعض ایسے لوگ جو علم سے خالی اور علانیہ فسق و فجور بلکہ نہایت بدکاریوں میں مبتلا تھے وہ بڑے عالم متشرع متصور ہو کر ان کی مہریں لگائی گئیں۔ تیسرے ایسے لوگ جو علم اور دیانت رکھتے تھے مگر واقعی طور پر اس فتوے پر انہوں نے مہر نہیں لگائی بلکہ بٹالوی صاحب نے سراسر چالاکی اور افتراء سے خودبخود ان کا نام اس میں جڑ دیا۔ ان تینوں قسم کے لوگوں کے بارے میں ہمارے پاس تحریری ثبوت ہیں۔ اگر بٹالوی صاحب یا کسی اور صاحب کو اس میں شک ہو تو وہ لاہور میں ایک جلسہ منعقد کر کے ہم سے ثبوت مانگیں۔ تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔ یوں تو تکفیر کوئی نئی بات نہیں ان مولویوں کا آبائی طریق یہی چلا آتا ہے کہ یہ لوگ ایک باریک بات سن کر فی الفور اپنے کپڑوں سے باہر ہوجاتے ہیں اور چونکہ خدائے تعالیٰ نے یہ عقل تو ان کو دی ہی نہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچیں اور اسرار غامضہ کی گہری حقیقت کو دریافت کرسکیں اس لئے اپنی نافہمی کی حالت میں تکفیر کی طرف دوڑتے ہیں اور اولیاء کرام میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ ان کی تکفیرسے باہر رہا ہو۔ یہاں تک کہ اپنے مُنہ سے کہتے ہیں کہ جب مہدی موعود آئے گا تو اس کی بھی مولوی لوگ تکفیر کریں گے اور ایسا ہی حضرت عیسیٰ جب اتریں گے تو ان کی بھی تکفیر ہوگی۔ ان باتوں کا جواب یہی ہے کہ اے حضرات آپ لوگوں سے خدا کی پناہ۔ اوسبحانہ خود اپنے برگزیدہ بندوں کو آپ لوگوں کے شر سے بچاتا آیا ہے ورنہ آپ لوگوں نے تو ڈائن کی طرح امت محمدیہ کے تمام اولیاء کرام کو کھا جاناچاہا تھا اور اپنی بد زبانی سے نہ پہلوں کو چھوڑا نہ پچھلوں کو۔ اور اپنے ہاتھ سے ان نشانیوں کو پوری کررہے ہیں جو آپ ہی بتلارہے ہیں۔ تعجب کہ یہ لوگ آپس میں بھی تو نیک ظن نہیں رکھتے۔ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ موحدین کی بے دینی پر مدار الحق میں شاید تین سو کے قریب مہر لگی تھی پھر جب کہ تکفیر ایسی سستی ہے تو پھر ان کی تکفیروں سے کوئی کیونکر ڈرے مگر افسوؔ س تو یہ ہے کہ میاں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 404
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 404
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/404/mode/1up
    نذیر حسین اور شیخ بٹالوی نے اس تکفیر میں جعل سازی سے بہت کام لیا ہے اور طرح طرح کے افترا کر کے اپنی عاقبت درست کر لی ہے اس مختصر رسالہ میں ہم مفصّل ان خیانتوں کا ذکر نہیں کرسکتے جو شیخ بٹالوی نے حسب منشاء شیخ دہلوی اپنے کفرنامہ میں کام میں لا کر اپنا نامہ اعمال درست کیا ہے۔ صرف بطور نمونہ ایک مولوی صاحب کا خط معہ ان کے اشعار کے ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔
    بحضور فیض گنجور حضرت مجدّد وقت مسیح الزمان مہدی دوران حضرت
    مرزا غلام احمد صاحب دام برکاتہ
    پس از سلام سنت اسلام گذارش حال اینکہ۔ غریب نواز پٹیالہ سے حضور کے تشریف لے جانے کے بعد سکنائے بلدہ نے مجھ کو نہایت تنگ کیا یہاں تک کہ مساجد میں نماز اداکرنے سے بند کیا گیا میں نے اپنے بعض دوستوں کو ناحق کا الزام دور کرنے کیلئے یہ لکھ دیا کہ میرا عقیدہ اہلسنت والجماعت کے موافق ہے اور انکار ختم نبوت اور وجود ملائکہ و معجزات انبیاء ولیلتہ القدر وغیرہ موجب کفر والحاد سمجھتا ہوں۔ وہی تحریر میری مولوی محمد حسین مہتمم اشاعۃ السنۃ نے لے کر اپنے کفر نامہ میں جو آپ کیلئے تیار کیا تھا درج کردی میں نے خبر پا کر مولوی محمد حسین صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ جو میری طرف سے فتویٰ تکفیر پر عبارت لکھی گئی ہے وہ کاٹ دینی چاہئے کیونکہ میں حضرت مرزا صاحب کے مکفر کو خود کافرو ملحد سمجھتا ہوں۔ مولوی صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں بھیجا پیچھے سے مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے میرا نام مکفرین کے زمرہ میں چھاپ کر شائع کردیا۔ سو میرے فتوے کی یہ حقیقت ہے۔ یہ نالائق حضور سے بیعت ہوچکا ہے ِ للہ اس عاجز کو اپنی جماعت سے خارج تصور نہ فرماویں۔ میں اس ناکردہ گناہ سے خدا وند تعالیٰ کی درگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور حضور سے معافی مانگتا ہوں اور چند ابیات محبت اور عقیدت کے جوش سے میں نے حضور کے بارہ میں تالیف کئے ہیں وہ بھی ذیل میں تحریر کرتاؔ ہوں۔ اور امیدوار ہوں کہ میری یہ تمام تحریر معہ اشعار کے طبع کرا کر شائع کردی جاوے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 405
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 405
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/405/mode/1up
    اشعار یہ ہیں
    موجبِ کفر است تکفیر تو ای کانِ کرم
    واین مواہیر و فتاوے رہزنِ راہ ارم
    آرزو دارم کہ جان و مال قربانت کنم
    این تمنایم برآرد کار ساز قادرم
    چون بتابم رو ز تو حاشا وکلا این کجا
    من فداے روے تو ای رہبرِ دین پرورم
    دین مردہ را بقالب جان درآمد از دمت
    چون ازین انفاس اعراضی کنم ایم مہترم
    من کجا وایں طور بدعہدی و بیراہی کجا
    خادمم تازندہ ہستم و از دل و جان چاکرم
    حملہ ہاکردند ایں غولانِ راہِ حق بہ من
    رہ زدندی گرنبودے لطفِ یزدان رہبرم
    ایں یہودی سیرتان قدر ترا نشناختند
    چوں نبیّناصری نفرین شنیدی لاجرم
    ہر کہ تکفیرت کند کافر ہمان ساعت شود
    حق نگہدارد مرازین زمرۂ نا محترم
    برمن اعمی بہ بخش ای حضرت مہر منیر
    گر خطا دیدی ازاں بگذرکہ من مستغفرم
    تار وانم ہست درتن از دل و جانم غلام
    لطف فرما کز تذلّل بر در تو حاضرم
    نورِ ماہِ دینِ احمد بر وجودت شد تمام
    آمدی درچاردہ اے بدر تام و انورم
    حسب تبشیر نبی بروقتِ خود کردی ظہور
    السلام ای رحمتِ ذات جلیل و اکبرم
    مشکلاتِ دینِ حق بردست تو آسان شدند
    مے کنی تجدید دین از فضل رب ذوالکرم
    از رہِ منت درونم را مسلماں کردۂ
    گرنباشم جان نثار آستانت کافرم
    راقم خاکسار مولوی حافظ عظیم بخش پیٹالوی۔۲۴؍ مئی ۱۸۹۲ ؁ء
    اگر کوئی جگہ حضور کے رسالہ میں خالی ہووے تو یہ اشتہار مندرجہ ذیل میرے مکرم و شفیق استاد کا بھی طبع فرما کر ممنون فرمائیں
    اشتہار
    جو فتویٰ بحق امامنا۔ مخدومنا- مسیحنا و مسیح الدنیا میرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔ محمد حسین بٹالوی۔ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا ہے۔ اس کے علماء پٹیالہ کی فہرست میں میرے بعض احباب نے میرے ہم نام مولوی عبداللہ پٹیالوی کے نام کو میرا نام خیال کیا ہے۔ اور ؔ بعض نے دریافت کیلئے میرے نام عنایت نامہ جات بھی ارسال فرمائے ہیں۔ ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ناظرین کو اور بھی شبہ میں ڈالا کہ اس نام پر یہ نوٹ ایزاد کیا کہ’’ یہ مولوی صاحب بھی میرزا صاحب کے پہلے معتقد تھے‘‘۔ لہٰذا میں جمیع احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ مولوی عبداللہ پٹیالوی اور شخص ہیں اور وہ کبھی پہلے مرزا صاحب کے معتقدنہ تھے اور نہ ہیں۔ باقی رہا نیاز مند سو میں اسی طرح اس فدائے قوم و کشتہ اسلام کا معتقد و نیازمند ہوں۔
    المشتہر
    خاکسار محمد عبداللہ خاں. دوم مدرس عربی
    مہندر کالج پٹیالہ۔ ۴؍ ذیعقدہ ۱۳۰۹ ؁ھ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 406
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 406
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/406/mode/1up
    ضروری گذارش
    ان باہمت دوستوں کی خدمت میں جو کسی قدر
    امداد امور دین کے لئے مقدرت رکھتے ہیں
    اے مردان بکوشید و برائے حق بجوشید
    اگرچہ پہلے ہی سے میرے مخلص احباب للّہی خدمت میں اس قدر مصروف ہیں کہ میں شکر ادا نہیں کرسکتا اور دعا کرتا ہوں کہ خدا وند کریم ان کو ان تمام خدمات کا دونوں جہانوں میں زیادہ سے زیادہ اجر بخشے۔ لیکن اس وقت خاص طور پر توجہ دلانے کیلئے یہ امر پیش آیا ہے کہ آگے تو ہمارے صرف بیرونی مخالف تھے اور فقط بیرونی مخالفت کی ہمیں فکر تھی اور اب وہ لوگ بھی جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ مولوی اور فقیہ کہلاتے ہیں سخت مخالف ہوگئے ہیں یہاں تک کہ وہ عوام کو ہماری کتابوں کے خریدنے بلکہ پڑھنے سے منع کرتے اور روکتے ہیں۔ اس لئے ایسی دقتیں پیش آگئی ہیں جو بظاہر ہیبت ناک معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن اگر ہماری جماعت سست نہ ہوجائے تو عنقریب یہ سب دقتیں دور ہوجائیں گی اس وقت ہم پر فرض ہوگیا ہے کہ بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کی خرابیوں کی اصلاح کرنے کیلئے بدل و جان کوشش کریں اور اپنی زندگی کو اسی راہ میں فدا کردیں اور وہ صدق قدم دکھلاویں جس سے خدائے تعالیٰ جو پوشیدہ بھیدوں کو جاننے والا اور سینوں کی چھپی ہوئی باتوں پر مطلع ہے راضی ہوجائے۔ اسی بنا پر میں نے قصد کیا ہے کہ اب قلم اٹھا کر پھر اس کو اس وقت تک موقوف نہ رکھا جائے جب تک کہ خدائے تعالیٰ اندرونی اور بیرونی مخالفوں پر کامل طور پر حجت پوری کر کے حقیقت عیسویہ کے حربہ سے حقیقت دجّالیہ کوؔ پاش پاش نہ کرے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 407
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 407
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/407/mode/1up
    لیکن کوئی قصد بجز توفیق و فضل و امداد و رحمت الٰہی انجام پذیر نہیں ہوسکتا اور خدائے تعالیٰ کی بشارات پر نظر کر کے جو بارش کی طرح برس رہی ہیں اس عاجز کو یہی امید ہے کہ وہ اپنے اس بندہ کو ضائع نہیں کرے گا اور اپنے دین کو اس خطرناک پراگندگی میں نہیں چھوڑے گا جو اب اس کے لاحق حال ہے مگر برعایت ظاہری جو طریق مسنون ہے ۱؂ یہی کہنا پڑتا ہے۔ سو بھائیو جیسا میں ابھی بیان کرچکا ہوں سلسلہ تالیفات کو بلافصل جاری رکھنے کیلئے میرا پختہ ارادہ ہے اور یہ خواہش ہے کہ اس رسالہ کے چھپنے کے بعد جس کا نام نشان آسمانی ہے رسالہ دافع الوساوس طبع کرا کر شائع کیا جاوے اور بعد اس کے بلا توقف رسالہ حیات النبی وممات المسیح جو یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بھی بھیجا جائے گاشائع ہو اور بعد اس کے بلا توقف حصہ پنجم براہین احمدیہ جس کا دوسرا نام ضرورت قرآن رکھا گیا ہے ایک مستقل کتاب کے طور پر چھپنا شروع ہو لیکن میں اس سلسلہ کے قائم رکھنے کیلئے یہ احسن انتظام خیال کرتا ہوں کہ ہر یک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو میرے ذی مقدرت دوست اس کی خریداری سے مجھ کو بدل و جان مدد دیں اس طرح پر کہ حسب مقدرت اپنی ایک نسخہ یا چند نسخے اس کے خریدلیں جن رسائل کی قیمت تین آنہ یا چار آنہ یا اس کے قریب ہو۔ ان کو ذی مقدرت احباب اپنے مقدور کے موافق ایک مناسب تعداد تک لے سکتے ہیں اور پھر وہی قیمت دوسرے رسالہ کے طبع میں کام آسکتی ہے۔ اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جو ان پر بوجہ املاک و اموال و زیورات وغیرہ کے زکٰوۃ فرض ہو تو ان کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی بھی نہیں اور زکوٰۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے اور عنقریب ہے جو منکر زکوٰۃ کافر ہوجائے پس فرض عین ہے جو اسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوٰۃ دی جاوے زکوٰۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم کی جائیں اور میری تالیفات بجز ان رسائل کے اور بھی ہیں جو نہایت مفید ہیں جیسے رسالہ احکام القرآن اور اربعین فی علامات المقربین اور سراج منیر اور تفسیر کتاب عزیز۔ لیکن چونکہ کتاب براہین احمدیہ کا کام از بس ضروری ہے اسلئے بشرط فرصت کوشش کی جائے گی کہ یہ رسائل بھی درمیان میں طبع ہو کر شائع ہوجائیں آئندہ ہر ایک امر اللہ جلّ شانہٗ کے اختیار میں ہے یَفْعَلُ مَایَشَآءُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔
    خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۸؍ مئی ۱۸۹۲ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 408
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 408
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/408/mode/1up
    ضرؔ وری اشتہار
    اس عاجز کا ارادہ ہے کہ اشاعتِ دین اسلام کیلئے ایسا احسن انتظام کیا جائے کہ ممالک ہند میں ہرجگہ ہماری طرف سے واعظ و مناظر مقرر ہوں اور بندگان خدا کو دعوت حق کریں تا حجت اسلام روئے زمین پر پوری ہو لیکن اس ضعف اور قلت جماعت کی حالت میں ابھی یہ ارادہ کامل طور پر انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ بالفعل یہ تجویز کیا ہے کہ اگر حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو ایک فاضل جلیل اور امین اور متقی اور محبت اسلام میں بدل و جان فدا شدہ ہیں قبول کریں تو کسی قدر جہاں تک ممکن ہو یہ خدمت ان کے سپرد کی جائے۔ مولوی صاحب موصوف بچوں کی تعلیم اور درس قرآن و حدیث اور وعظ و نصیحت اور مباحثہ و مناظرہ میں َ یدُِ طولیٰ رکھتے ہیں نہایت خوشی کی بات ہے اگر وہ اس کام میں لگ جائیں لیکن چونکہ انسان کو حالت عیالداری میں وجوہ معیشت سے چارہ نہیں اس لئے یہ فکر سب سے مقدم ہے کہ مولوی صاحب کے کافی گذارہ کیلئے کوئی احسن تجویز ہوجائے یعنی یہ کہ ہر ایک ذی مقدرت صاحب ہماری جماعت میں سے دائمی طور پر جب تک خدائے تعالیٰ چاہے ان کے گذارہ کیلئے حسب استطاعت اپنے کوئی چندہ مقرر کریں اور پھر جو کچھ مقرر ہو بلا توقّف ان کی خدمت میں بھیج دیا کریں۔ دنیا چند روزہ مسافر خانہ ہے۔ آخرت کیلئے نیک کاموں کے ساتھ تیاری کرنی چاہئے مبارک وہ شخص جو ذخیرہ آخرت کے اکٹھا کرنے کیلئے دن رات لگا ہوا
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 409
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 409
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/409/mode/1up
    ہے۔ اس اشتہار کے پڑھنے پر جو صاحب چندہ کیلئے طیار ہوں وہ اس عاجز کو اطلاع دیں۔
    والسلام علی من اتبع الھدٰی
    المشتہر
    غلام احمد از قادیان
    ۲۶؍ مئی ۱۸۹۲ء
    رسالہنشانِ آسمانی
    کی امداد طبع کیلئے جو مخلص دوستوں کی طرف خط لکھے گئے تھے ان کا خلاصہ جواب
    خلاصہ خط اخویم مولوی سیّد تفضل حسین صاحب تحصیلدار علی گڑھ ضلع فرخ آباد سلمہ اللہ تعالیٰ
    ’’۲دو والاؔ نامے بندگان عالی شرف و رد ولائے باعث عزت ہوئے مجھ کو بہت شرم ہے کہ عرصہ سے میں نے کوئی عریضہ حضور میں نہیں بھیجا مگر ہر وقت یاد بندگان والا میں رہا کرتا ہوں۔ حضور کا نام نامی میرا وظیفہ ہے اور اکثر حضور کی کتب دیکھا کرتا ہوں اور ان کو ذریعہ بہتری دارین سمجھتا ہوں پچاس جلد رسالہ نشان آسمانی یا جس قدر حضور خود چاہیں میرے پاس بھجوادیں میں ان کو خرید لوں گا اور اپنے دوستوں میں تقسیم کردوں گا مجھے حضور کی کتابوں کی اشاعت سے دلی خوشی پہنچتی ہے اور میرے سب اہل وعیال خوش اور اچھے ہیں اور حضور کو یاد کیا کرتے ہیں۔
    عریضہ نیاز کمترین تفضل حسین از علی گڑھ ضلع فرخ آباد ۳۱ مئی ۲ ۱۸۹ ؁ء
    مولوی صاحب موصوف چندہ امدادی دیتے ہیں اور امداد کے طور پر اپنی تنخواہ میں سے رقم کثیر دے چکے ہیں۔
    خلاصہ خط اخویم نواب محمد علی خان رئیس کوٹلہ مالیر سلمہ اللہ تعالیٰ
    جناب کا عنایت نامہ پہنچا۔ بندہ رسالہ نشان آسمانی کی دو۲ سو جلد فی الحال خرید کر ے گا۔ راقم محمد علی خان
    نواب صاحب موصوف ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ پانچسو روپیہ کی کتابیں اس عاجز کی خرید کر کے محض ِ للہ تقسیم کرچکے ہیں۔
    خلاصہ خط اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی سلمہ اللہ تعالیٰ
    سات ۷۰۰سو جلد رسالہ نشان آسمانی نابکار کے خرچ سے چھپوایا جائے اور فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت حضور اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ فرمائیں بیس۲۰ روپیہ معہ بقیہ چندہ دو۲
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 410
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 410
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/410/mode/1up
    روپیہ محمد صاحب عرب ابھی ارسال خدمت ہیں اور مابعد میں عنقریب ایک سو روپیہ یا اس سے دس بیس روپیہ زائد بھیجتا ہوں یا جلد تر خود لے کر باریاب خدمت ہوں گا ورنہ منی آرڈر بھیج دوں گا۔
    ( ایک سو روپیہ پہنچ گیا) حکیم صاحب موصوف پہلے بھی تخمیناً سات سو روپیہ امداد کے طور پر دے چکے ہیں۔
    خلاصہ خط اخویم حضرت مولوی حکیم نورِ دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ معالج ریاست جموں
    نحمدہ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم معالتسلیمامابعد ایک خاکسار بالکل نابکار اور خاکساری کے ساتھ
    نہایت ہی شرمسار بحضور حضرت مسیح الزمان عرض پرداز۔ اس خادم بااخلاص اور دلی مرید کا جو کچھ ہے بتمامہ آپ ہی کا ہے۔ زن و فرزند روپیہ آبرو وجان۔ میریؔ یہی سعادت ہے کہ تمام خرچ میرا ہو پھر جس قدر حضور پسند فرماویں۔ برادرم فصیح بھی اس وقت موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر میرے مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں حضور رسالہ کو طبع فرماویں تو چہارم حصہ قیمت کا منافع رہے گا۔ مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور للہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں۔ کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے مولوی صاحب موصوف اب تک تین ہزار روپیہ کے قریب ِ للہ اس عاجز کو دے چکے ہیں اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔ اگرچہ یہ طریق دنیا اور معاشرت کے اصولوں کے مخالف ہے مگر جو شخص خدائے تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر اور دین اسلام کو ایک سچا اور منجانب اللہ دین سمجھ کر اور باایں ہمہ اپنے زمانہ کے امام کو بھی شناخت کر کے اللہ جلّ شانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن کریم کی محبت اور عشق میں فانی ہو کر محض اعلاء کلمہ اسلام کیلئے اپنے مال حلال اور طیّت کو اس راہ میں فدا کرتا ہے اس کا جو عنداللہ قدر ہے وہ ظاہر ہے اللہجلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱ ؂
    خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار
    جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار
    اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
    کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب
    اُسے دے چکے مال و جان بار بار
    ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 411
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 411
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/411/mode/1up
    لگاتے ہیں دل اپنا اس پاک سے
    وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے
    خدائے تعالیٰ اس خصلت اور ہمت کے آدمی اس امت میں زیادہ سے زیادہ کرے آمین ثم آمین
    چہ خوش بودے اگر ہریک زامت نور دین بودے
    ہمیں بودے اگر ہر دل ُ پر از نورِ یقین بودے
    طبّؔ روحانی
    یہ کتاب حضرت حاجی منشی احمد جان صاحب مرحوم کی تالیفات میں سے ہے۔ حاجی صاحب موصوف نے اس کتاب میں اس علم مخفی سلب امراض اور توجہ کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے جس کو حال کے مشائخ اور پیرزادے اور سجادہ نشین پوشیدہ طور پر اپنے خاص خاص خلیفوں کو سکھلایا کرتے تھے اور ایک عظیم الشان کرامت خیال کی جاتی تھی اور جس کی طلب میں اب بھی بعض مولوی صاحبان دور دور کا سفر اختیار کرتے ہیں۔ اس لئے محض للہ عام و خاص کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس کتاب کو منگوا کر ضرور ہی مطالع کریں کہ یہ بھی منجملہ ان علوم کے ہے جو انبیاء پر فائض ہوئے تھے بلکہ حضرت مسیح کے معجزات تو اسی علم کے سرچشمہ میں سے تھے۔
    کتاب کی قیمت ایک روپیہ ہے صاحبزادہ افتخار احمد صاحب جو لدھیانہ محلہ جدید میں رہتے ہیں۔ ان کی خدمت میں خط و کتابت کرنے سے قیمتاً مل سکتی ہے۔
    کتب موجودہ حضرت اقدس مہدی و مسیح موعود علیہ السلام
    حصہ چہارم براہین احمدیہ۸؍ للعہ+ سرمہ چشم آریہ۱۲؍+شحنہ حق۶؍+فتح اسلام۴؍+ توضیح مرام۴؍+ ازالہ اوہام ؍+ الحق مباحثہ لودیانہ۱۲؍+ الحق مباحثہ دہلی عہ۔ فیصلہ آسمانی ۲؍+ نشان آسمانی ۳؍۔ آئینہ کمالات اسلام معہ تبلیغ عربی معہ ترجمہ فارسی ۔ برکات الدعا ۲؍۔ شہادتؔ القرآن ۶؍۔ تحفہ بغداد عربی ۲؍۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 412
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- نشانِ آسمانی: صفحہ 412
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/412/mode/1up
    حجۃ الاسلام ا؍۔ سچائی کا اظہار؍۔ جنگ مقدس ۷؍۔ حمامۃ البشریٰ عربی عہ۔ نور الحق عربی حصہ اول معہ ترجمہ اردو ۱۲؍۔ نور الحق عربی حصہ دوم معہ ترجمہ اردو ۶؍ اتمام الحجہ ۳؍۔ کرامات الصادقین عہ۔ سر الخلافہ عربی ۸؍۔ ست بچن و آریہ دھرم دریک جلد ۸ عہ؍ ۔نور القرآن حصہ اول ۴؍۔ نور القرآن حصہ دوم ۸؍۔
    المشتہر سراج الحق از قادیان ضلع گورداسپور
    یہ ان علماء و فضلاء و صوفیہ ہندوستان و پنجاب وغیرہ کی اسماء گرامی ہیں جنہوں نے حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی دام فیضہ کو مسیح و مہدی موعود اور مجدد چودہویں صدی تسلیم کیا ہے اور بیعت کی ہے اور حضرت مسیح ابن مریم عیسٰی علیہ السلام کو متوفّی جان کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم الانبیاء بصدق دل مانا ہے۔ سراج الحق از قادیان حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیرہ۔ حضرت مولوی قاضی سید امیر حسین صاحب بھیرہ ۔حضرت مولوی حکیم فضل الدین صاحب بھیرہ۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹ۔ حضرت مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب بھیرہ۔ حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلم۔ حضرت مولوی محمدقاری صاحب ؍؍۔ حضرت مولوی فضل حق صاحب۔ ح مولوی خان ملک صاحب کہیوال ضلع جہلم۔ ح مولوی عبد الرحمن صاحب۔ ح مولوی حبیب شاہ صاحب خوشاب۔ ح مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں ضلع گجرات۔ ح مولوی محمد افضل صاحب موضع کملہ گجرات۔ ح مولوی محمد اکرم صاحب؍؍۔ حضرت مولوی محمد قاری صاحب ؍؍ ۔ حضرت مولوی فضل حق صاحب۔ ح مووی خان ملک صاحب کہیوال ضلع جہلم۔ مولوی محمد شریف صاحب۔ ح م قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹ۔ ح م حافظ احمد الدین صاحب موضع چک باسریا۔ ح مولوی صاحب دین صاحب طحال۔ ح مولوی شیر محمد صاحب ہجن ۔ح مولوی قطب الدین صاحب بدو ملی۔ ح مولوی غلام حسن صاحب پشاور۔ ح مولوی محمد حسین صاحب کپورتھلہ۔ ح مولوی نور محمد صاحب مانگٹ۔ حضرت مولوی غلام حسین لاہور۔ حضرت مولوی مرزا خدا بخش صاحب اتالیق نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ۔ ح مولوی محمد یوسف صاحب سنور۔ حضرت مولوی حافظ عظیم بخش صاحب پٹیالہ۔ ح مولوی محمد صادق صاحب جموں۔ ح مولوی خلیف نور الدین صاحب ؍؍ ۔ ح مولوی محمد زمان صاحب دہنی گہیپ۔ ح مولوی نور احمد صاحب لودی ننگل۔ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی۔ ح مولوی انوار حسین خان صاحب رئیس شاہ آباد۔ حضرت مولوی سید تفضل حسین صاحب۔ ح مولوی سید محمد عسکری خان صاحب۔ حضرت مولوی سید مردان علی صاحب حیدر آباد نظام۔ ح م سید ظہور علی صاحب۔ ح م سید محمد السعید طرابلسی شامی۔ ح م عبد الحکیم صاحب ۔ باقی اسماء کی گنجائش نہیں۔ کسی اور موقعہ پر لکھے جاویں گے۔ سراج الحق نعمانی فقط
     

اس صفحے کو مشتہر کریں