1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 4 ۔الحق لدھیانہ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 17, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 4۔ الحق لدھیانہ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 1
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 2
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 3
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    انٹرؔ وڈکشن
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِ الشَّفِیْعِ الْمُشَفَّعِ الْمُطَاعِ الْمَکِیْنِ وَعَلٰی اٰ لِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
    مباحثات و مناظرات نفس الامر میں بہت ہی مفید امور ہیں۔ فطرتِ انسانی کی ترقی جسے طبعاً کورانہ تقلید سے کراہت ہے اور جسے ہر وقت جدید تحقیقات کی دھن لگی رہتی ہے اسی پر موقوف ہے۔ انسان کی طبیعت میں جذبات اور جوش ہی ایسے مخمر کئے گئے ہیں کہ کسی دوسرے ہم جنس کی بات پر سرِتسلیم جھکانا اسے سخت عار معلوم ہوتا ہے ایام جاہلیت ( جو اسلام کی اصطلاح میں کفر کا زمانہ ہے اور جو ہمارے ہادی کامل آفتاب صداقت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے) میں بڑی حمیت والے شدید الکفر سردار ان عرب اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں جو کسی کی بات مانا نہیں کرتے درحقیقت یہ ایک سرّ ہے جو ایک بڑی بھاری غرض کیلئے حکیم حمید نے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ غرض اس سے یہ ہے کہ یہ ہستی بہائم کی طرح صمّ وبکمٌ اور مقلد محض نہ ہو بلکہ ایک کی بات دوسرے کی جدت پسند ایجادی طبیعت کے حق میں زبردست محرک اور اشتعال انگیز ہو۔ اگر عادت اللہ یوں جاری ہوتی کہ ایک نے کہی اور دوسرے نے مانی تو یہ نیر نجات و عجائبات سے بھرا ہوا عالم ایک سنسان ویرانہ اور وحشت آباد بیابان سے زیادہ نہ ہوتا۔ مگر حکیم خدا نے اپنا جلال ظاہر کرنے کیلئے ہر چیز کے وجود کے ساتھ شرکاء کا وجود بھی لازم کر رکھا ہے۔ کم ہی کوئی ایسی شے ہوگی جو زوجین یا ذووجہین نہ ہو۔ اس قابل فخر فضیلت کو بھی اسی قاعدہ کلیہ کے موافق بڑی سخت قبیح رذیلت یعنی تعصب بیجا اصرار معاندانہ ضد‘فرضی مسلمات قومی کی پچ۔ خلاف حق نفسانیت نے اس کے محققانہ بلند مرتبہ سے گرا کر۔ اور عامیانہ اخلاق کی پست اور ذلیل سطح پر اتار کر اس کو عالم میں بے اعتبار کردیا۔ نہ صرف بے اعتبار بلکہ مہیب خونخوار بنادیا۔ یوں ایک سچی اور صحیح اور ضروری اصل کو انسان کے بے جا استعمال کی دراز دستی نے ایسا بگاڑا۔ ایسا بدنام کیا کہ اس
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 4
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    آلہؔ ترقی و اصلاح کو ہر قسم کے مفسدات‘ شرور اور تمدن و معاشرت کی خرابیوں کا منبع کہا گیا۔ بدقسمتی سے بدعمل بنی آدم نے جہاں مباحثہ و مناظرہ کی مجلس قائم کی بس طرفۃ العین میں اسے تاریک وقتوں کی کشتی پنجہ زنی اور نبرد آزمائی کے خوفناک دنگل کی صورت سے بدل دیا۔ تو اریخ عامہ کو چھوڑ کر مقدس تاریخ (کتب السیر) کو اٹھاکر دیکھو۔ صحابہ میں بھی امور پیش آمدہ اور مسائل مہمہ کے بارہ میں جن میں کسی قسم کا اشکال و ابہام ہوتا اور کتاب و سنت کی نورانی چمک اس کی تاریکی کو اٹھادینے کی متکفل نہ ہوتی۔ مباحثے ہوتے۔ بڑے بڑے اہل علم فقہا جمع ہوتے۔ مگر وہ اس سچے نور سے منور تھے اور راہ حق میں نفسانی جذبات کو نیست و نابود کرچکے تھے۔ بڑی آشتی و لطف سے امر متنازعہ فیہ کی الجھن کو سلجھا لیتے وللّٰہ درمن قال
    جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا
    خلاف آشتی سے خوش آئند تر تھا
    حضرت مقدسہ مطہرہ عائشہ صدیقہ( رضی اللہ عنہا ) بڑی مناظرہ کرنے والی تھیں۔ اکثر واقعات میں صحابہ نے ان کی خدمت کی طرف رجوع کیا اور مباحثات کے بعد حضرت صدیقہ کے مذہب کو اختیار کیا۔
    الغرض مباحثہ کوئی بدعت اور دراصل فساد انگیز شے نہ تھی۔ مگر مغلوب الغضب۔ بہائم سیرت متنازعین کی بے اندامیوں نے اسے بدعت و طغیان کی حد سے بھی کہیں پرے کردیا ہے۔
    کچھ مدت سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے(رب جلیل کے القاء و اعلام سے) یہ دعو ٰی کیا ہے(۱) کہ حضرت مسیح اسرائیلی صاحب انجیل اپنے دوسرے بھائیوں(انبیاء علیہم السلام) کی طرح فوت ہوچکے ہیں۔ قرآن کریم ان کی وفات کی قطعی اور جزمی شہادت دے چکا ہے۔ اور (۲) دوبارہ دنیا میں آنے والے ابن مریم سے مراد مثیل المسیح کے وجود سے ہے نہ مسیح اصیل سے اور (۳) َ میں مسیح موعود ہوں جو بشارتِ الٰہیہ کی بنا پر دنیا میں اصلاح خلق کے لئے آیا ہوں۔
    حضرت مرزا صاحب نے اسی سنت اللہ کے موافق جو انبیاء اور محدثین کی سیرت سے عیاں ہے ان دعا وی خصوصاً و مہتماً ان دو دعووں کی اجابت کی طرف کافۃ الناس کو بآواز بلند و ندائے عام بلایا۔ اہل پنجاب سے(بحکم آیۃ شریفہ وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِىٍّ الایۃ)۱؂ بٹالہ کے شیخوں میں کے ایک بزرگ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب اس دعوت کی تردیدپر کھڑے ہوئے۔لوگوں کے اعتقاد کے موافق ان جدید دعووں نے عقائد قدیمہ کی دنیا میں فوق العادت رستخیز پیدا
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 5
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کرؔ رکھی تھی۔ اور ہر ایک سرسری دیکھنے والے کو بھی وہ عمارتیں جو سراسرریت پر اٹھائی گئی تھیں اس پر زور سیلاب کی رَو کے صدمہ سے بہتی نظر آنے لگیں۔ مدت کی مانی ہوئی بات کی الفت نے کسی حامی و معاون کی مشتاقانہ تلاش میں نگاہیں چاروں طرف دوڑا رکھی تھیں۔ مولوی محمد حسین کے وجود میں انہیں مغتنم حامی اور عزیز حریف مقابل نظر آیا۔ سچی ارادت اور مضبوط عقیدت نے متفقًا ہر طرف سے منقطع ہو کر اب مولوی ابو سعید صاحب کو امید وبیم کا مرجع قرار دیا۔ پنجاب کے اکثر مساجد نشین علماء نے(جو بظاہر اپنے تئیں غیر مقلد و محقق کہتے ہیں) ایک آواز ہو کر بڑے فخر سے ہمارے بٹالوی مولوی صاحب کو اپنا وکیل مطلق قرار دیا۔ سب سے پہلے لاہور کی ایک برگزیدہ جماعت نے جنہوں نے اب تک اپنی عملی زندگی سے ثبوت دیا ہے کہ وہ اسلام کے سچے خیر خواہ اور حق پسند و حق بیں لوگ ہیں میرے شیخ و حقیقی دوست مولوی نور الدین کو جبکہ وہ لودیانہ میں اپنے مرشد حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر تھے بڑے خلوص اور بڑے اصرار و الحاح سے لاہور میں بلایا کہ وہ انہیں ان مسائل مشکلہ کی کیفیت پر آگاہ کریں۔ مولوی نور الدین صاحب کی تشریف آوری پر طبعاً وہ اس طرف متوجہ ہوئے کہ مولوی ابو سعید صاحب کو جو ان دعاوی کے بطلان کے مدعی ہیں ان کے مقابل کھڑا کر کے جانبین کے اسلامیانہ مباحثہ اور صحابیانہ طرز مناظرہ سے حق دائر کو پالیں۔ مگر افسوس ان کے زعم کے خلاف ایک حلیم‘ متواضع اور دل کے غریب مولوی کے مقابلہ میں جناب مولوی ابو سعید صاحب نے صحابہ کے طرز مناظرہ کا ثبوت نہ دیا مشتاقین کی تڑپتی روحوں کے تقاضا کے خلاف اصل بنائے دعوٰی کو چھوڑ کر مولوی ابو سعید صاحب نے ایک خانہ ساز طومار اصول موضوعہ کا پیش کر کے حاضرین اور بے صبر مشتاقین کے عزیز وقت اور قیمتی آرزوؤں کا خون کردیا اور معاملہ جوں کا توں رہ گیا۔
    اس کے بعد حضرت مرزا صاحب کے دعا وی کی تائید میں کتابیں اور رسالے یکے بعد دیگرے شائع ہونے شروع ہوئے اور فوج فوج حق طلب لوگ اس روحانی اور پاک سلسلہ میں داخل ہونے لگے۔ مدافعین و مخالفین نے بجائے اس کے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کی نسبت قرآن کریم اور حدیث صحیح صریح کی بنا پر استدلال کر کے اپنے پرانے عقیدہ کی حمایت کرتے اور لوگوں پر اس جدید دعوٰی کی کمزوری کو ثابت کرتے عادتاً تکفیر بازی کی پتنگیں اور کنکوّے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 6
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اِدھرؔ اُدھر اڑانے شروع کئے جو حقانیت کی تندباد کی زد سے ٹوٹ کر اور پھٹ کر نابود ہوگئے۔
    کچھ عرصہ کے بعد بعض زبردست احباب کی ناقابل تردید انگیخت اور ان کے بار بار کے شرم دلانے سے پھر مولوی صاحب نے کروٹ لی اور آخرکار زورآور دھکوں سے کر ھًالودیانہ میں پہنچائے گئے۔ اب سے اس مباحثہ کی بنا پڑنے لگی جو الحق کے ان چاروں نمبروں میں درج ہے۔
    لودھیانہ والے مباحثہ پر چند ریمارکس
    ہمارے مقصد میں داخل نہیں کہ ہم اس وقت یہاں مباحثہ کے جزوی و کلی حالات اور دیگر متعلقات سے تعرض کریں۔ اس مضمون پر ہمارے معزز و مکرم دوست منشی غلام قادر صاحب فصیح اپنے گرامی پرچہ پنجاب گزٹ کے ضمیمہ مورخہ ۱۲ ؍اگست میں پوری روشنی ڈال چکے ہیں۔ ہمیں بحث کی اصلی غرض اور علتِ غائی اور آخر کار اس کے نتیجہ واقع شدہ سے تعلق ہے۔ الحاصل مولوی ابو سعید صاحب لودیانہ لائے گئے۔ اسلامی جماعتوں میں ایک دفعہ پھر حرکت پیدا ہوئی اور ہر ایک نے اپنے اپنے مشتاق خیال کے بلند ٹیلہ پر چڑھ کر اور تصور کی دور بین لگا کر اس مقدس جنگ کے نتیجہ کا انتظار کرنا شروع کیا۔
    آخر مباحثہ شروع ہوا۔ ۱۲ روز تک اس کارروائی نے طول پکڑا۔ مگر افسوس نتیجہ پر لودیانہ کے لوگ بھی پورے معنوں میں اپنے بھائیوں اہل لاہور کی قسمت کے شریک رہے۔ مولوی صاحب نے اب بھی وہی اصول موضوعہ پیش کردیئے۔ حالانکہ نہایت ضروری تھا کہ وہ بہت جلد اس فتنہ کا دروازہ بند کرتے جو ان کے زعم کے موافق اسلام و مسلمانان کے حق میں شدید مضر ثابت ہورہا تھا یعنی اگر راستی و حقانیت پر اپنی انہیں پوری بصیرت اور وثوق کامل تھا تو وہی سب سے پہلے ہر طرف سے ہٹ کر اور لایعنی امور سے منہ موڑ کر حضرت مرزا صاحب کے اصل بنائے دعویٰ یعنی وفات مسیح کی نسبت گفتگو شروع کرتے۔ یہ تو کمزور اور بے سامان کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کے لئے اِدھر اُدھر پنجے مارتا اور ہاتھ اڑاتا ہے۔ ان پر واجب تھا کہ فوراً قرآن کریم سے کوئی ایسی آیت پیش کرتے جو حضرت مسیح کی حیات پر دلیل ہوتی۔ یا ان آیات کے معانی پر جرح کرتے اور ان دلائل
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 7
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کوؔ قرآن سے یا حدیث صریح صحیح سے توڑ کر دکھلاتے جو حضرت مرزا صاحب نے مسیح کی موت پر لکھی ہیں۔ مگر اس دلی شعور نے کہ وہ واقعی بے سلاح ہیں انہیں اس طرف مائل کیا کہ وہ جوں توں کر کے اپنے منہ کے آگے سے اس موت کے پیالہ کو ٹال دیں وہ نہ ٹلا۔ اور آخر مولوی صاحب پر ذلت کی موت وارد ہوئی !
    فَاعْتَبِرُوا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ ۔ اب امید ہے کہ وہ حسب قاعدہ کلیہ اس دنیا میں پھر نہ اٹھیں گے۔ چنانچہ لاہوری برگزیدہ جماعت نے بھی انہیں مردہ یقین کر کے اس درخواست میں اوراور بظاہر زندہ مولویوں کو مخاطب کیا ہے اور ان پر فاتحہ پڑھ دی ہے۔ ہم بھی انہیں روح میں مردہ سمجھتے اور ان کی موت پر تاسف کرتے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    اسلامی پبلک حیران ہے کہ کیوں مولوی ابو سعید صاحب نے اس بحث اور گزشتہ بحث میں قرآن کریم کی طرف آنے سے گریز کرنا پسند کیا اور کیوں وہ صاف صاف قرآن کریم اور فرقان مجید کی رو سے وفات وحیات مسیح کے مسئلہ کی نسبت گفتگو کرنے کی جرأت نہ کرتے یا عمداً کرنا نہ چاہتے تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی نصوص قطعیہ بیّنہ کا جرار وکرار لشکر اور ان گنت لشکر لے کر حضرت مرزا صاحب کی تائید پر آمادہ ہے۔ دو سو آیت کے قریب حضرت مسیح کی وفات پر بالصراحۃ دلالت کررہی ہیں۔ مولوی ابو سعید صاحب نے نہ چاہا(اگر وہ چاہتے تو جلد فیصلہ ہوجاتا) کہ قرآن مجید کو اس نزاع میں جلد اور بلاواسطہ حکم اور فاصل بناویں اسلئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ سارا قرآن حضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہے اور وہ اس خواہ نخواہ معاندانہ کارروائی سے زک اٹھائیں گے۔ لیکن پیش بندی یہ مشہور کرنا اور بات بات میں یہ کہنا شروع کردیا کہ مرزا صاحب حدیث کو نہیں مانتے۔ نعوذ باللّٰہ۔ ہم اس امر کا فیصلہ اہل تحقیق ناظرین پر چھوڑتے ہیں وہ دیکھ لیں گے اور مرزا صاحب کے جابجا اقراروں سے بخوبی سمجھ لیں گے کہ حدیث کی سچی اور واقعی عزت حضرت مرزا صاحب ہی نے کی ہے۔ ان کا مدعا ومنشا یہ ہے کہ حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں جو کسی صورت میں کتاب اللہ الشریف کے مخالف نہ پڑیں بلکہ حدیث کی عزت قائم رکھنے کیلئے اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہو جو بظاہر نظر کتاب اللہ کی مخالفت کا احتمال رکھتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسے قرآن کے ساتھ توفیق و تطبیق دینے کی سعی بلیغ کرتے ہیں اگر ناچار کوئی ایسی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 8
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    حدؔ یث(متعلق قصص۔ ایام و اخبار) ہو کہ قرآن کریم کے سخت مخالف پڑی ہو تو وہ کتاب اللہ کو بہمہ وجوہ واجب الادب واجب التعظیم اور واجب التفضیل سمجھ کر اس حدیث کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔ اور ٹھیک حضرت صدیقہؓ کی طرح جیسا کہ انہوں نے اس روایت کو اِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَاءِ اَھْلِہٖ قرآن کریم کی آیت لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرَىٰؕ ۱؂ کے مقابلہ میں رد کردیا تھا۔ حضرت اقدس مرزا صاحب(جن کا اصلی مشن اور منصبی فرض قرآن مجید کی عظمت کا دنیا میں قائم کرنا اور اسی کی تعلیم کا پھیلانا ہے) بھی ایسی مخالف و معارض قرآن حدیثوں کو(اگر ہوں اور پھر جس کتاب میں ہوں) قرآن کے مقابلہ میں بلاخوف لومۃ لائم کے رد کردیتے ہیں۔
    اے ناظرین۔اے ناظرین۔ اے عاشقان کتاب رب العٰلمین! للہ سوچو! اس اعتقاد میں کیا قباحت ہے! اس پر یہ کیسا ناشدنی ہنگامہ ہے جو ابنائے روزگار نے مچا رکھا ہے! لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ نہیں ہوا۔ گو بالصراحت چونکہ اس اصل متنازع فیہ مسائل میں گفتگو نہیں ہوئی نہ کہا جاسکے کہ بین فیصلہ ہوا مگر مرزا صاحب کے جوابات کے پڑھنے والوں پر پوری وضاحت سے کھل جائے گا کہ احادیث کی دو قسمیں کر کے دوسری قسم کی حدیثوں کو جو تعامل کی قوت سے تقویت یافتہ نہ ہوں اور پھر قرآن کریم سے معارضہ کرتی ہوں حضرت مرزا صاحب نے تردید کرکے درحقیقت امر متنازع فیہ کا قطعی فیصلہ کردیا ہے۔ گویا صاف سمجھا دیا ہے کہ قرآن مجید صریح منطوق سے حضرت مسیح کی موت کی خبر دیتا ہے اور یہ ایک واقعہ ہے۔ اب اگر کوئی حدیث نزول ابن مریم کی خبر دیتی ہو تو لا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مثیل مسیح کی خبر دیتی ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہوگا جو بوجہ من الوجوہ قرآن سے تطبیق نہ دیا جاسکے تو وہ ضرور ضرور ردّ کی جائے گی۔ پس بہرحال قرآن کریم اکیلا بلا کسی منازع و حریف کے میدان اثبات دعویٰ میں کھڑا رہا اور حق بھی یہی ہے کہ وہ تنہا بلا کسی مد مقابل کے اپنی نصوص کی صداقت ثابت کرنے والا ہو اور کسی کتاب کسی نوشتہ اور کسی مجموعہ کی کیا طاقت کیا مجال ہے کہ اس کے دعاوی کو توڑنے کا دم مارسکے۔ اور یہی مرزا صاحب کا مدعا ہے۔ سو دراصل وہ فیصلہ دے چکے اور کرچکے ہیں۔ ہمارا ارادہ تھا کہ مولوی ابو سعید صاحب کے اشتہار لودیانہ مورخہ یکم اگست کی ان باتوں پر توجہ کرتے جن کے جواب کی تحریر کا
    ۱؂ فاطر : ۱۹
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 9
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ایماؔ معزز ایڈیٹر پنجاب گزٹ نے اپنے ضمیمہ میں ہماری طرف کیا تھا مگر ہم نے اس اثناء میں اپنے وسیع تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ معزز اور ذی فہم مسلمان اس بے بنیاد اشتہار کو بتمامہ سخت حقارت سے دیکھنے لگ گئے ہیں۔ ہمارا اس کی طرف اب متوجہ نہ ہونا ہی اسے گمنامی کے اتھاہ کنوئیں میں پھینک دینا ہے۔
    آخر میں ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ اگر مولوی ابوسعید صاحب معنیً بھی سعید ہوتے تو یاد کرتے اپنے اس فقرہ کو جو وہ ریویو براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے۔
    ’’مؤلّف براہین الوہیت غیبی سے تربیت پاکر مورد الہامات غیبیہ و علوم لدنیہ ہوئے ہیں‘‘۔ پھر لکھتے ہیں۔’’ کیا کسی مسلمان متبع قرآن کے نزدیک شیطان کو بھی قوت قدسی ہے کہ وہ انبیاء و ملائکہ کی طرح خدا کی طرف سے مغیبات پر اطلاع پائے اور اس کی کوئی بات غیب و صدق سے خالی نہ جائے؟‘‘ یعنی مرزا صاحب صاحب قوت قدسیہ ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں مغیبات پر اطلاع دیتا ہے۔
    باوجود اس تصدیق اور ایسے اقرار سابق کے مناسب نہ تھا کہ اسی قلم سے کاذب‘ مفتری‘ نیچری اور مغالطہ دہندہ وغیرہ الفاظ نکلتے ! رَبَّنَا اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بِھَا مَنْ تَشَآءُ
    ناظرین پر مخفی نہ رہے کہ الحق آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے پراسپکٹس کے موافق مضامین شائع کیا کرے گا۔ درحقیقت یہ ایک صورت میں حضرت اقدس مرزا صاحب کی کارروائیوں کو جو سراسر صدق و صلاح پر مبنی ہیں ہر قسم کی ممکن اور محتمل غلط فہمیوں اور ناجائز نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے بڑی وضاحت سے بیان کیا کرے گا۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ۔
    عَبْدُالْکَرِیْم
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 10
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    مُباؔ حَثَہ
    مَابَیْن
    حضرت اقدس مسیح موعود جناب مرزا غلام احمدؐ صاحب قادیانی
    اور
    مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی
    سوال نمبر ۱
    مولوی صاحب
    میں آپ کے چند عقائد و مقالات پر بحث کرنا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے چند اصول کی تمہید ضروری ہے آپ اجاز ت دیں تو میں ان اصول کو پیش کروں۔
    دستخط ابو سعید محمد حسین ۲۰ ؍جولائی ۱۸۹۱ء ؁
    مرزا صاحب
    آپ کو اجازت ہے۔ بخوشی پیش کریں۔ لیکن اگر یہ عاجز مناسب سمجھے گا تو آپ سے بھی چند اصول تمہیدی دریافت کرے گا۔ دستخط غلام احمد ۲۰؍ جولائی ۱۸۹۱ء ؁
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 11
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سوؔ ال نمبر ۲
    مولوی صاحب
    میرے ان اصول کو جن کو میں رسالہ نمبر۱ جلد ۱۲ میں بیان کرچکا ہوں اور ان کو آپ کے حواری حکیم نور الدین نے تسلیم کیا ہے آپ بھی تسلیم کرتے ہیں یا کسی اصول کے تسلیم میں عذر ہے۔
    دستخط ابو سعید محمد حسین ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء
    مرزا صاحب
    مجھے ان اصول کی اطلاع نہیں پہلے مجھے بتلائے جائیں تب ان کی نسبت بیان کروں گا۔
    دستخط غلام احمد ۲۰ ؍جولائی ۱۸۹۱ء ؁
    پرچہ نمبر ۱
    مولوی صاحب
    وہ اصول یہ ہیں جو رسالہ میں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ ان اصول میں سے جس اصول کی آپ کو تسلیم یا عدم ظاہر کرنا ہو تو آپ ظاہر کریں۔ چونکہ رسالہ چھپا ہوا ہے لہٰذا ان اصول کے دوبارہ تحریر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ایک ایک اصول پر یکے بعد دیگرے کلام کریں۔
    دستخط ابوسعید محمد حسین ۲۰ ؍جولائی ۹۱ ؁ء
    مرزا صاحب
    کتاب و سنت کے حجج شرعیہ ہونے میں میرا یہ مذہب ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔ جس امر میں احادیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 12
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    وہ ؔ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جوکتاب اللہ کی نص بیّن سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہوسکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے کیونکہ اللہ جلَّ شانہٗ فرماتا ہے فَبِاَىِّ حَدِيْثِۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ۱؂ یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جاوے اور منشاء اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے۔ فَبِاَىِّ حَدِيْثِۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ۲؂ ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنی ہیں اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔ سو آیات متذکرہ بالا کے رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شرطی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذہب ہے۔
    (۲) اور آپ کے دوسرے امر مندرجہ صفحہ ۱۹ اشاعۃ السنہ کی نسبت علیحدہ جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا جواب اسی میں آگیا ہے یعنی جو امر قول یا فعل یا تقریر کے طور پر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم اس امر کو بھی اسی محک سے آزمائیں گے اور دیکھیں گے کہ حسب آیہ شریفہفَبِاَىِّ حَدِيْثِۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ۳؂ وہ حدیث قولی یا فعلی قرآن کریم کی کسی صریح اور بین آیت سے مخالف تو نہیں۔ اگر مخالف نہیں ہوگی تو ہم بسر و چشم اس کو قبول کریں گے اور اگر بظاہر مخالف نظر آئے گی تو ہم حتی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کیلئے کوشش کریں گے اور اگر ہم باوجود پوری پوری کوشش کے اس امر تطبیق میں ناکام رہیں گے اور صاف صاف کھلے طور پر ہمیں مخالف معلوم ہوگی تو ہم افسوس کے ساتھ اس حدیث کو ترک کردیں گے۔ کیونکہ حدیث کا پایہ قرآن کریم کے پایہ اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ قرآن کریم وحی متلو ہے۔ اور اس کے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں وہ اہتمام بلیغ کیا گیا ہے کہ احادیث کے اہتمام
    ۱؂ الجاثیۃ: ۷ ۲؂۔۳؂ الاعراف: ۱۸۶
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 13
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کو اؔ س سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ اکثر احادیث غایت درجہ مفید ظن ہیں اور ظنی نتیجہ کی منتج ہیں اور اگر کوئی حدیث تواتر کے درجہ پر بھی ہوتا ہم قرآن کریم کے تواتر سے اس کو ہرگز مساوات نہیں بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے۔
    دستخط غلام احمد ۲۰؍ جولائی ۹۱ء ؁
    پرچہ نمبر ۲
    مولوی صاحب
    آپ کے کلام میں میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں*ہے آپ نے قبولیت و حجیت حدیث یا سنت کی ایک شرط بتائی ہے۔ یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس حدیث یا سنت میں جو کتب حدیث خصوصاً صحیحین میں ہے جن کا ذکر اصول سیوم میں ہے پائی جائے متحقق ہے یا نہیں بناءً علیہ وہ حدیث یا سنت جو ان کتب میں ہے حجت شرعی ہے یا نہیں علاوہ براں اس کلام میں آپ نے جو شرط حجیت و قبولیت بیان کی ہے وہ شرط قانون درایت ہے نہ قانون روایت۔ اب آپ یہ بیان کریں کہ اصول روایت کے رو سے کتب حدیث خصوصاً صَحِیْحَین جن کا ذکر اصل سیوم میں ہے مثبت سنت نبویہ ہیں یا نہیں اور ان کتابوں کی احادیث بلاوقفہ و شرط واجب العمل والاعتقاد ہیں یا ان کتابوں میں ایسی احادیث بھی ہیں جن پر بلاتحقیق صحت بحسب اصول روایت عمل و اعتقاد جائز نہیں۔
    ابو سعید محمد حسین ۲۰؍ جولائی ۱۸۹۱ ؁ ء
    مرزا صاحب
    مولوی صاحب کا جواب سن کر میں عرض کرتا ہوں کہ میرے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہریک حدیث
    * مولوی صاحب کی سمجھ پر ہمیں حیرت آتی ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے تو صاف اور قطعی جواب دے دیا ہے آپ ایک مخفی غرض کو سینہ میں دبا کر کیوں لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مرزا صاحب صاف فرماتے ہیں۔’’ جو امر قول یا فعل یا تقریر کے طور پرالخ ‘‘ خواہ وہ احادیث صَحِیْحَیْں کی ہوں یا غیر صحیحین کی228 اڈیٹر۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 14
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خواہؔ وہ بخاری کی ہو یامسلم کی ہو اس شرط سے ہم کسی خاص معنوں میں جو بیان کئے جاتے ہیں قبول کریں گے کہ وہ حدیث ان معنوں کے رو سے قرآن کریم کے بیان سے موافق ومطابق ہو۔ اب زبانی بیان سے معلوم ہوا کہ آپ یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ’’ اصول روایت کی رو سے کتب حدیث خصوصاً صحیحین مثبت سنت نبویہ ہیں یا نہیں۔ اور ان کتابوں کی احادیث بلاوقفہ واجب العمل والاعتقاد ہیں یا ان کتابوں میں ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر عمل واعتقاد جائز نہیں۔‘‘ اس کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ چونکہ حدیثوں کا جمع ہونا ایسے یقینی اور قطعی طور سے نہیں کہ جس سے انکار کرنا کسی طور سے جائز نہ ہو اور جس پر ایمان لانا اسی پایہ اور مرتبہ کا ہو جیسا کہ قرآن کریم پر ایمان لانا۔ لہٰذا ہمارا یہ مذہب ہرگز ایسا نہیں ہے کہ روایت کے رو سے بھی حدیث کو وہ مرتبہ یقینی دیں جیسا کہ ہم قرآن کریم کا مرتبہ اعتقاد رکھتے ہیں*ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ حدیثیں غایت کار ظنی ہیں اور جب کہ وہ مفید ظن ہیں تو ہم کیونکر روایت کی رو سے بھی ان کو وہ مرتبہ دے سکتے ہیں جو قرآن کریم کا مرتبہ ہے۔ جس طور سے حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس طریق پر ہی نظر ڈالنے سے ہریک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ ہم اس یقین کے ساتھ انکی صحت روایت پر ایمان لاویں کہ جو قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں مثلاً اگر کوئی حدیث بخاری یامسلم کی ہے لیکن قرآن کریم کے کھلے کھلے منشاء سے برخلاف ہے تو کیا ہمارے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہم اسکی مخالفت کی حالت میں قرآن کریم کو اپنے ثبوت میں مقدم قرار دیں؟ پس آپ کا یہ کہنا کہ احادیث اصول روایت کی رو سے ماننے کے لائق ہیں۔ یہ ایک دھوکا دینے والا قول ہے کیونکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حدیث کے ماننے میں جو مرتبہ یقین کا ہمیں حاصل ہے وہ مرتبہ قرآن کریم کے ثبوت سے ہموزن ہے یا نہیں؟ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مرتبہ ثبوت کا قرآن کے مرتبہ ثبوت سے ہم وزن ہے تو بلاشبہ ہمیں اسی پایہ پر حدیث کو مان لینا چاہئے مگر یہ تو کسی کا بھی مذہب نہیں تمام مسلمانوں کا یہی مذہب ہے کہ اکثر احادیث مفید ظن ہیں۔ وَالظَّنُّ لَایُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْءًا مثلاً اگر کوئی شخص
    اس قسم کی قسم کھاوے کہ اس حدیث کے تمام الفاظ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے
    *نوٹ:۔ لیجئے مولوی صاحب فیصلہ شد۔ اب اس سے زیادہ صاف جواب آپ اور کیا چاہتے ہیں امید ہے کہ آئندہ آپ شکایت نہ کریں گے۔ اڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 15
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 15
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/15/mode/1up
    ہیںؔ اور تمام الفاظ وحی الٰہی سے ہیں تو اس قسم کے کھانے میں وہ جھوٹا ہوگا۔ اور خود حدیثوں کا تعارض جو ان میں واقع ہے صاف دلالت کررہا ہے کہ وہ مقامات تحریف سے خالی نہیں ہیں پھر کیونکر کوئی مومن یہ اعتقاد رکھ سکتا ہے کہ حدیثیں روایتی ثبوت کے رو سے قرآن کریم کے ثبوت سے برابر ہیں! کیا آپ یا کوئی اور مولوی صاحب ایسی رائے ظاہر کرسکتے ہیں کہ ثبوت کے رو سے جس مرتبہ پر قرآن کریم ہے اُسی قرینہ پر حدیثیں بھی ہیں؟ پھر جب کہ آپ خود مانتے ہیں کہ حدیثیں اپنے روایتی ثبوت کی رو سے اعلیٰ مرتبہ ثبوت سے گری ہوئی ہیں اور غایت کار مفید ظن ہیں تو آپ اس بات پر کیوں زور دیتے ہیں کہ اسی مرتبہ یقین پر انہیں مان لینا چاہئے جس مرتبہ پر قرآن کریم مانا جاتا ہے۔ پس صحیح اور سچا طریق تو یہی ہے کہ جیسے حدیثیں صرف ظن کے مرتبہ تک ہیں بجز چند حدیثوں کے۔ تو اسی طرح ہمیں ان کی نسبت ظن کی حد تک ہی ایمان رکھنا چاہئے اور ہر ایک مومن خود سمجھ سکتا ہے کہ حدیثوں کی تحقیقات روایت کے نقص سے خالی نہیں کیونکہ ان کے درمیانی راویوں کے چال چلن وغیرہ کی نسبت ایسی تحقیقات کامل نہیں ہوسکی اور نہ ممکن تھی کہ کسی طرح شک باقی نہ رہتا۔ آپ خود اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ چکے ہیں کہ احادیث کی نسبت بعض اکابر کا یہ مذہب ہوا ہے۔ ’’کہ ایک ملہم شخص ایک صحیح حدیث کو بالہام الٰہی موضوع ٹھہرا سکتا ہے اور ایک موضوع حدیث کو بالہام الٰہی صحیح ٹھہرا سکتا ہے۔‘‘ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم مان لیں گے ؟ ہاں یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ ظنی طور پر بخاری اور مسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالباً اکثر ان میں صحیح ہوں گی۔ لیکن کیونکر ہم اس بات پر حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں جب کہ وہ صرف ظنی طور پر صحیح ہیں نہ یقینی طور پر تو پھر یقینی طور پر ان کا صحیح ہونا کیونکر مان سکتے ہیں!
    الغرض میرا مذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ظنی طور پر صحیح ہیں۔ مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہوجائے گی۔ آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں تھی۔ بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا ادعائے باطل ہے۔ دنیا میں جو اس قدر مخالف فرقے اہل اسلام میں ہیں خاص کر مذاہب اربعہ ان چاروں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 16
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 16
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/16/mode/1up
    مذہبوؔ ں کے اماموں نے اپنے عملی طریق سے خود گواہی دے دی ہے کہ یہ احادیث ظنی ہیں۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اکثر حدیثیں ان کو ملی ہوں گی مگر ان کی رائے میں وہ حدیثیں صحیح نہیں تھیں۔ بھلا آپ فرماویں کہ اگر کوئی شخص بخاری کی کسی حدیث سے انکار کرے کہ یہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ اکثر مقلدین انکار کرتے ہیں تو کیا وہ شخص آپ کے نزدیک کافر ہوجائے گا؟ پھر جس حالت میں وہ کافر نہیں ہوسکتا تو آپ کیونکر ان حدیثوں کو روایتی ثبوت کے رو سے یقینی ٹھہرا سکتے ہیں؟ اور جب کہ وہ یقینی نہیں ہیں تو اس حالت میں اگر ہم کسی حدیث کو قرآن کریم کے مخالف پاویں گے اور صریح طور پر دیکھ لیں گے کہ وہ قرآن کریم سے صریح طور سے مخالف ہے اور کسی طور سے تطبیق نہیں دے سکتے تو کیا ہم ایسی صورت میں قرآن کریم کی اس آیت کو ساقط الاعتبار کردیں گے؟ یا اس کے کلام الٰہی ہونے کی نسبت شک میں پڑیں گے؟ کیا کریں گے؟ آخر یہی تو کرنا ہوگا کہ اگر ایسی حدیث کسی طور سے کلام الٰہی سے تطبیق نہیں کھائے گی تو اس کو بغیر خوف زید و عمرو کے وضعی قرار دیں گے۔ بلاشبہ آپ کا نور قلب *اس بات پر شہادت دیتا ہوگا کہ حدیثیں اپنی روایتی ثبوت کی رو سے کسی طور سے قرآن کریم سے مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ اسی وجہ سے گو وہ وحی الٰہی میں ہوں نماز میں بجائے کسی سورۃ کے ان کو نہیں پڑھ سکتے۔ اور ایک نقص حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ بعض حدیثیں اجتہادی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی ہیں اسی وجہ سے ان میں باہم تعارض بھی ہوگیا ہے۔ جیسا کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت جو حدیثیں ہیں وہ حدیثیں ان حدیثوں سے صریح اور صاف طور پر معارض ہیں جو گرجا والے دجال کی نسبت ہیں جن کا راوی تمیم داری ہے۔ اب ہم ان دونوں حدیثوں میں سے کس حدیث کو صحیح سمجھیں؟ دونوں حضرت مسلم صاحب کی صحیح میں موجود ہیں۔ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت یہاں تک وثوق پایا جاتا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ و سلم کے روبرو قسم کھا کر بیان کیا کہ دجال معہود یہی ہے تو آپ چپ رہے ہرگز انکار نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ نبی کا قسم کھانے کے وقت میں چپ رہنا گویا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا قسم کھانا ہے اور پھر ابن عمر کی حدیث میں صریح اور صاف لفظوں میں موجود ہے کہ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ دجال معہود یہی ابن صیاد ہے اور جابر نے بھی قسم کھا کر کہا کہ دجال معہودیہی ابن صیاد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ بھی فرمایا کہ میں اپنی امت پر ابن صیاد کے دجال معہود
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 17
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 17
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/17/mode/1up
    ہونےؔ کی نسبت ڈرتا ہوں۔ پھر ایک اور حدیث مسلم میں ہے جس میں لکھا ہے کہ صحابہ کا اس پر اتفاق ہوگیا تھا کہ دجال معہود ابن صیاد ہی ہے۔ لیکن فاطمہ کی حدیث تمیم داری جو اسی مسلم میں موجود ہے صریح اس کے مخالف ہے۔ اب ہم ان دونوں دجالوں میں سے کس کو دجال سمجھیں ؟ صدیق حسن صاحب جیسا کہ میرے ایک دوست نے بیان کیا ہے ابن صیاد کی حدیث کو ترجیح دیتے ہیں اور تمیم داری کی حدیث کو اپنی کتاب آثار القیامۃ میں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ بہرحال اب یہ مصیبت اور رونے کی جگہ ہے یا نہیں کہ ایک ہی کتاب میں جو بعد بخاری کے اَصَحُّ الْکُتب سمجھی گئی ہے دو متعارض حدیثیں ہیں !!! جب ہم ایک کو صحیح مانتے ہیں تو پھر دوسری کو غلط ماننا پڑتا ہے۔ ماسوا اس کے تمیم داری کی حدیث میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ وہی دجال جو تمیم داری نے دیکھا تھا کسی وقت خروج کرے گا۔ لیکن اسی مسلم کی تین حدیثیں صاف صاف ظاہر کررہی ہیں کہ سو برس کے عرصہ تک کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا بلکہ پہلی حدیث میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے کہ اس وقت سے سو برس تک کوئی جاندارزمین پر زندہ نہیں رہے گا۔ اب اگر ابن صیاد اور گرجا والا دجال جاندار اور مخلوق ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ مر گئے ہوں۔ اب یہ دوسری مصیبت ہے جو دونوں حدیثوں کے صحیح ماننے سے پیش آتی ہے ! آپ فرماویں * کہ ہم کیونکر ان دونوں کو باوجود سخت تعارض کے صحیح مان سکتے ہیں؟ پس اب بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ ہم ایک حدیث کو غیر صحیح سمجھیں۔ غرض کہاں تک بیان کیا جاوے جس قدر بعض احادیث میں تعارض و تخالف پایا جاتا ہے اس کے بیان کرنے کیلئے تو ایک رسالہ چاہئے۔ مگر اس جگہ اس قدر کافی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر تمام حدیثیں روایت کے طور سے یقینی الثبوت ہوتیں تو یہ خرابیاں کاہے کو پڑتیں۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں آپ کے سوال کا پورا پورا جواب دے چکا ہوں۔ کیونکہ جس حالت میں یہ ثابت ہوگیا کہ حدیثیں بوجہ اپنی ظنی حالت اور تعارض اور دوسری وجوہ کے یقین کامل کے مرتبہ پر نہیں ہیں۔ اس لئے وہ بجز شہادت و موافقت قرآن کریم یا عدم خلاف اس کے حجت شرعی کے طور سے کام میں نہیں آسکتیں۔ اور قانون روایت کے رو سے ان کا وہ پایہ ہرگز تسلیم نہیں ہوسکتا جو قرآن کریم کا پایہ ہے۔ سو بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے۔ دستخط غلام احمد ۲۰ جولائی ۹۱ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 18
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 18
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/18/mode/1up
    پرؔ چہ نمبر ۳
    مولوی صاحب
    نوٹ: اس کے بعد مولوی صاحب نے چند سطر کا پھر ایک سراسر فضول جواب جس میں اعادہ پہلے ہی بیان کا تھا۔ دیا۔ جس کا ماحصل یہ تھا کہ میرا جواب آپ نے اب تک نہیں دیا۔ چونکہ وہ پرچہ بہت مختصرا ورصرف چند سطریں تھا۔ غالباً انہیں کے ہاتھ میں رہا یا گم ہوگیا بہرحال اس کا مفصل جواب لکھا جاتا ہے اور اس سے مولوی صاحب کے پرچہ کا مضمون بھی بخوبی ذہن نشین ہوجائے گا۔ افسوس مولوی صاحب کی یہ شکایت کہ ان کے سوال کا جواب نہیں ملا ساتھ ساتھ لگی جاتی ہے۔ ناظرین غور کریں۔ ایڈیٹر
    میرزا صاحب
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
    نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
    آپ نے پھر میرے پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے آپ کے سوال کا جواب صاف نہیں دیا میں حیران ہوں کہ میں کن الفاظ میں اپنے جواب کو بیان کروں یا کس پیرایہ میں ان گزارشوں کو پیش کروں تا آپ اس کو واقعی طور پر جواب تصور فرماویں * آپ کا سوال جو اس تحریر اور پہلی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے یہ ہے
    * نوٹ-: عالی جناب!(روح من فدائے تو) آپ کیوں حیرت میں پڑنے کی تکلیف اٹھاتے ہیں مولوی صاحب تو یہی بے تکی ہانکے چلے جائیں گے جب تک آپ ان کے ما فی البطن کے میلان کے موافق یا یوں کہیئے کہ جب تک آپ خلاف صدق و سداد کے جواب نہ دیں۔ اہل بصیرت تسلیم کرچکے ہیں کہ آپ صاف مدلل اور مسکت جواب دے چکے ہیں اور کئی بار دے چکے ہیں۔ آپ نے اس قوم کے بودے تار وپود کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اسی بات کا دلی شعور مولوی صاحب کو بے قرار کر کے ان کے منہ سے یہ مجنونانہ فقرہ نکلواتا ہے وہ یاد رکھیں کہ ان کی مغالطہ دہی کا وقت جاتا رہا۔ اڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 19
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 19
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/19/mode/1up
    کہؔ احادیث کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم صحیح و واجب العمل ہیں یا غیر صحیح و ناقابل عمل۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے منہ سے یہ کہلایا چاہتے ہیں کہ میں اس بات کا اقرار کروں کہ یہ سب کتابیں صحیح اور واجب العمل ہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو غالباً آپ خوش ہوجائیں گے اور فرمائیں گے کہ اب میرے سوال کا جواب پورا پورا آگیا۔ لیکن میں سوچ میں ہوں کہ میں کِس شرعی قاعدہ کے رو سے ان تمام حدیثوں کو بغیر تحقیق و تفتیش کے واجب العمل یا صحیح قرار دے سکتا ہوں ؟ طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کاملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ کیا جاوے اللہ جلَّ شانہٗ فرماتا ہے۔لَا تَقْفُ مَا لَـيْسَ لَـكَ بِهٖ عِلْمٌؕ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤٮِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلاً‏ ۱؂ سو اگر میں دلیری کر کے اس معاملہ میں دخل دوں اور یہ کہوں کہ میرے نزدیک جو کچھ محدثین خصوصاً امامین بخاری اور مسلم نے تنقید احادیث میں تحقیق کی ہے اور جس قدر احادیث وہ اپنی صحیحوں میں لائے ہیں وہ بلاشبہ بغیر حاجت کسی آزمائش کے صحیح ہیں تو میرا ایسا کہنا کن شرعی وجوہات و دلائل پر مبنی ہوگا؟ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام ائمہ حدیثوں کے جمع کرنے میں ایک قسم کا اجتہاد کام میں لائے ہیں اور مجتہد کبھی مصیب اور کبھی مخطی بھی ہوتا ہے۔ جب میں سوچتا ہوں کہ ہمارے بھائی مسلمان موحدین نے کس قانون قطعی اور یقینی کی رو سے ان تمام احادیث کو واجب العمل ٹھہرایا ہے؟ تو میرے اندر سے نور قلب یہی شہادت دیتا ہے کہ صرف یہی اک وجہ ان کے واجب العمل ہونے کی پائی جاتی ہے کہ یہ خیال کر لیا گیا ہے کہ علاوہ اس خاص تحقیق کے جو تنقید احادیث میں ائمہ حدیث نے کی ہے۔ وہ حدیثیں قرآن کریم کی کسی آیہ محکمہ اور بیّنہ سے منافی اور متغائر نہیں ہیں اور نیز اکثر احادیث جو احکام شرعی کے متعلق ہیں تعامل کے سلسلہ سے قطعیت اور یقین تام کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں۔ورنہ اگر ان دونوں وجوہ سے قطع نظر کی جائے تو پھر کوئی وجہ ان کے یقینی الثبوت ہونے کی معلوم نہیں ہوتی۔ ہاں یہ ایک وجہ پیش کی جائے گی کہ اسی پر اجماع ہوگیا ہے لیکن آپ ہی ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۳۰ میں اجماع کی نسبت لکھ چکے ہیں کہ اجماع اتفاقی دلیل نہیں ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ:۔
    ’’اجماع میں اولاً یہ اختلاف ہے کہ یہ ممکن یعنی ہو بھی سکتا ہے یا نہیں بعضے اس کے امکان کو ہی نہیں مانتے۔ پھر ماننے والوں کا اس میں اختلاف ہے کہ اس کا علم ہوسکتا ہے یا نہیں۔ ایک جماعت امکان علم کے بھی منکر ہیں۔ امام فخر الدین رازی نے کتاب محصول میں یہ اختلاف بیان کر کے فرمایا ہے
    ۱؂ بنی اسرائیل : ۳۷
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 20
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 20
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/20/mode/1up
    کہؔ انصاف یہی ہے کہ بجز اجماع زمانہ صحابہ جب کہ مومنین اہل اجماع بہت تھوڑے تھے اور ان سب کی معرفت تفصیلی ممکن تھی اور زمانہ کے اجماعوں کے حصول علم کی کوئی سبیل نہیں۔‘‘
    اسی کے مطابق کتاب حصول المامول میں ہے جو کتاب ارشاد الفحول شوکانی سے ملخص ہے اس میں کہا۔ ’’جو یہ دعویٰ کرے کہ ناقل اجماع ان سب علماء دنیا کی جو اجماع میں معتبر ہیں معرفت پر قادر ہے وہ اس دعویٰ میں حد سے نکل گیا اور جو کچھ اس نے کہا اٹکل سے کہا۔‘‘ خدا امام احمد حنبل پر رحم کرے کہ انہوں نے صاف فرما دیا ہے کہ جو دعویٰ اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے۔ فقط۔
    اب میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ بخاری اور مسلم کی احادیث کی نسبت جو اجماع کا دعویٰ کیا جاتا ہے یہ دعویٰ کیونکر راستی کے رنگ سے رنگین سمجھ سکیں؟ حالانکہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ صحابہ کے بعد کوئی اجماع حجت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ آپ امام احمد صاحب کا قول پیش کرتے ہیں کہ جو وجود اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم کی صحت پر بھی ہرگز اجماع نہیں ہوا۔ چنانچہ واقعی امر بھی ایسا ہی ہے کہ بہت سے فرقے مسلمانوں کے بخاری اور مسلم کی اکثر حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتے۔ پھر جب کہ ان حدیثوں کا یہ حال ہے تو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ بغیر کسی شرط کے وہ تمام حدیثیں واجب العمل اور قطعی الصحت ہیں ؟ ایسا خیال کرنے میں دلیل شرعی کونسی ہے؟ کیا کوئی قرآن کریم میں ایسی آیت پائی جاتی ہے کہ تم نے بخاری اور مسلم کو قطعی الثبوت سمجھنا؟ اور اس کی کسی حدیث کی نسبت اعتراض نہ کرنا ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی کوئی وصیت تحریری موجود ہے جس میں ان کتابوں کو بلالحاظ کسی شرط اور بغیر توسط محک کلام الٰہی کے واجب العمل ٹھہرایا گیا ہو؟ جب ہم اس امر میں غور کریں کہ کیوں ان کتابوں کو واجب العمل خیال کیا جاتا ہے تو ہمیں یہ وجوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے حنفیوں کے نزدیک اس بات کا وجوب ہے کہ امام اعظم صاحب کے یعنی حنفی مذہب کے تمام مجتہدات واجب العمل ہیں! لیکن ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ یہ وجوب شرعی نہیں بلکہ کچھ زمانہ سے ایسے خیالات کے اثر سے اپنی طرف سے یہ وجوب گھڑا گیا ہے جس حالت میں حنفیمذہب پر آپ لوگ یہی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نصوص بیّنہ شرعیہ کو چھوڑ کر بے اصل اجتہادات کو محکم پکڑتے اور ناحق تقلید شخصی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں ہوسکتا کہ آپ بھی کیوں بے وجہ تقلید پر زور مار رہے ہیں ؟ حقیقی بصیرت اور معرفت کے کیوں طالب نہیں ہوتے ؟ ہمیشہ آپ لوگ بیان کرتے تھے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہے اس پر عمل کرنا
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 21
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 21
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/21/mode/1up
    چاہئےؔ اور جو غیر صحیح ہو اس کو چھوڑ دینا چاہئے۔اب کیوں آپ مقلدین کے رنگ پر تمام احادیث کو بلا شرط صحیح خیال کر بیٹھے ہیں ؟ اس پر آپ کے پاس شرعی ثبوت کیا ہے؟ کہاں سے امام محمد اسمعیل یا مسلم کی معصومیت ثابت ہوگئی ہے؟ کیا آپ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس کو خداتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے فہم قرآن عطا کرے اور تفہیم الٰہی سے وہ مشرف ہوجاوے اور اس پر ظاہر کردیا جائے کہ قرآن کریم کی فلاں آیت سے فلاں حدیث مخالف ہے اور یہ علم اس کا کمال یقین اور قطعیت تک پہنچ جائے تو اس کیلئے یہی لازم ہوگا کہ حتی الوسع اول ادب کی راہ سے اس حدیث کی تاویل کر کے قرآن شریف سے مطابق کرے۔ اور اگر مطابقت محالات میں سے ہو اور کسی صورت سے نہ ہوسکے تو بدرجہ ناچاری اس حدیث کے غیر صحیح ہونے کا قائل ہو۔ کیونکہ ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم بحالت مخالفت قرآن شریف حدیث کی تاویل کی طرف رجوع کریں۔ لیکن یہ سراسر الحاد اور کفر ہوگا کہ ہم ایسی حدیثوں کی خاطر سے کہ جو انسان کے ہاتھوں سے ہم کو ملی ہیں اور انسانوں کی باتوں کا ان میں ملنا نہ صرف احتمالی امر ہے بلکہ یقینی طور پر پایا جاتا ہے قرآن کو چھوڑ دیں !!! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تفہیم الٰہی میرے شامل حال ہے اور وہ عزّاسمہٗ جس وقت چاہتا ہے بعض معارف قرآنی میرے پر کھولتا ہے اور اصل منشاء بعض آیات کا معہ ان کے ثبوت کے میرے پر ظاہر فرماتا ہے اور میخ آ ہنی کی طرح میرے دل کے اندر داخل کردیتا ہے اب میں اس خداداد نعمت کو کیونکر چھوڑ دوں اور جو فیض بارش کی طرح میرے پر ہورہا ہے کیونکر اس سے انکار کروں!
    اور یہ بات جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمائی ہے کہ اب تک کسی حدیث بخاری یا مسلم کو میں نے موضوع قرار دیا ہے یا نہیں۔ سو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ میں نے اپنی کتاب میں کسی حدیث بخاری یا مسلم کو ابھی تک
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 22
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 22
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/22/mode/1up
    موضوؔ ع قرار نہیں دیا۔ بلکہ اگر کسی حدیث کو میں نے قرآن کریم سے مخالف پایا ہے تو خداتعالیٰ نے تاویل کا باب میرے پر کھول دیا ہے اور آپ نے یہ سوال جو مجھ سے کیا ہے کہ صحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کاکون امام ہے۔ میری اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ اس بات کا بار ثبوت میرے ذمہ نہیں۔ بلکہ میں تو ہر ایک ایسے شخص کو جو قرآن کریم پر ایمان لاتا ہے خواہ وہ گذر چکا ہے یا موجود ہے اسی اعتقاد کا پابند جانتا ہوں کہ وہ احادیث کے پرکھنے کیلئے قرآن کریم کو میزان اور معیار اور محک سمجھتا ہوگا کیونکہ جس حالت میں قرآن کریم خود یہ منصب اپنے لئے تجویز فرماتا ہے اور کہتا ہے فَبِاَىِّ حَدِيْثِۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ۱؂ اور فرماتا ہے اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ ۲؂ اور فرماتا ہےوَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا ۳؂ اور فرماتا ہے ۴؂ اور فرماتا ہے ۵؂ اور فرماتا ہے۔ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ ۶؂ لَا رَيْبَ ۛۚ ۖ فِيْهِ ۷؂ تو پھر اس کے بعد کون ایسا مومن ہے جو قرآن شریف کو حدیثوں کے لئے حکم مقرر نہ کرے؟ اور جب کہ وہ خود فرماتا ہے کہ یہ کلام حکم ہے اور قول فصل ہے اور حق اور باطل کی شناخت کیلئے فرقان ہے اور میزان ہے تو کیا یہ ایمانداری ہوگی کہ ہم خداتعالیٰ کے ایسے فرمودہ پر ایمان نہ لائیں؟ اور اگر ہم ایمان لاتے ہیں تو ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر اسی مشکٰوۃ وحی سے نور حاصل کرنیوالے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں۔ سو چونکہ مومنؔ کیلئے یہ ایک ضروری امر ہے کہ قرآن کریم کو احادیث کا حکم مقرر کرے اس لئے ثبوت اس بات کا کہ سلف صالحین نے قرآن کریم کو حکم مقرر نہیں کیا آپ کے ذمہ ہے نہ میرے ذمہ۔ اس جگہ مجھے یہ افسوس بھی ہے کہ آپ قرآن کریم کا مرتبہ بخاری اور مسلم کے مرتبہ کے برابر بھی نہیں سمجھتے کیونکہ اگر کوئی حدیث کسی کتاب کو بخاری اور مسلم
    *نوٹ:۔یعنی سچے اور حقیقی معنوں کا۔ عوام الناس نے جو علم الٰہی سے مطلق ناآشنا ہیں تاویل کو مرادف وہم پلہ تحریف و تسویل کے سمجھ رکھا ہے یہ محض ان کی کوتہ فہمی ہے انہیں اس لغت کے معنی خود قرآن کریم سے سمجھنا چاہئے جہاں حق سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُۘ ۸؂ وْمَ يَاْتِىْ تَاْوِيْلُهٗ ۹؂ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منشا یہ ہے کہ جہاں کوئی ایسی حدیث آئی ہے جو بظاہر خلاف قرآن معلوم ہوتی تھی اللہ جلّ شانُہٗ نے الہاماً مجھ پر اس کے حقیقی معنے کھول دیئے۔ ایڈیٹر
    ؂ الاعراف:۱۸۶ ۲؂ البقرۃ:۱۲۱ ۳؂ آل عمران : ۱۰۴ ۴؂ البقرہ : ۱۸۶ ۵؂ الشوریٰ:۱۸ ۶؂ الطارق:۱۴ ۷؂ البقرۃ:۳ ۸؂ ال عمران : ۸ ۹؂ الاعراف :۵۴
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 23
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 23
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/23/mode/1up
    یؔ کسی حدیث سے مخالف اور مبائن پڑے اور کسی طور سے تطبیق نہ ہوسکے تو آپ صاحبان فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے مگر کمال افسوس کی جگہ ہے کہ یہ مذہب قرآن کریم کی نسبت آپ اختیار کرنا نہیں چاہتے !!!
    اور اجماع کی نسبت جو آپ نے دریافت فرمایا ہے میں تو پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ابن صیاد جو مسلمان ہوگیا تھا بیان کرتا ہے کہ لوگ مجھے ایسا کہتے ہیں کہ اس کی شہادت میں کوئی اشتباہ نہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ عام طور پر صحابہ کا یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے ماسوا اس کے حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کا یہ مذہب ہوگیا تھا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے اس صورت میں دوسرے صحابیوں کا خاموش رہنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ وہ اس مذہب کو مان چکے تھے اور اگر ان کی طرف سے کوئی مخالفت اور انکا رہوتا تو ضرور وہ انکار ظاہر ہوجاتا۔ پس صحابہ کے اجماع کیلئے اسی قدر کافی ہے۔ بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو قسم کھا کر بیان کرنا کہ درحقیقت ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صریح دلیل اجماع پر ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ سے اکیلے نہیں ہوتے تھے اور غالباً جس وقت حضرت عمررضی اللہ عنہ نے قسم کھائی ہوگی اس وقت بہت سی جماعت صحابہ کی موجود ہوگی۔ پس ان کی خاموشی صریح اجماع پر دلیل ہے۔
    پھر آپ نے بیان فرمایا ہے کہ شرح السنّہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے حضرت اس کے جواب میں اس قدر کہنا کافی ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک تو صحابی کا قول بھی ایک قسم کی حدیث ہوتی ہے گو منقطع ہی سہی۔ صاف ظاہر ہے کہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء نہیں کرسکتا اور ڈرنے کی بات ایک ایسی بات ہے کہ جب تک آنحضرت صلعم اشارۃً یا صراحتاً بیان نہ فرماتے تو صحابی کی کیا مجال تھی کہ خودبخود آنجناب پر افترا کر لیتا۔ بلاشبہ اس نے سنا ہوگا تب ہی تو اس نے ذکر کیا سو جو کچھ اس نے سنا۔ اگرچہ آنحضرت صلعم کے الفاظ سے ظاہر نہیں کیا لیکن ایک بچہ کو بھی سمجھ آسکتی ہے کہ اس نے ضرور سنا تب ہی بیان کیا۔ پس ظاہر ہے کہ یہ افترا نہیں بلکہ بیان واقعہ ہے۔ کیا آپ اس صحابی پر حسن ظن نہیں رکھتے؟ اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ بغیر سننے کے ہی اس نے کہہ دیا ! آپ فرماتے ہیں کہ اس نے خیال ظاہر کیا ! میں کہتا ہوں کہ آنحضر ت صلعم کے ما فی الضمیر پر اس کو کیا علم تھا جب تک آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم اشارۃً یا صراحتاً آپ ظاہر نہ فرماتے ؟
    راقم خاکسار غلام احمد عفی عنہ بقلم خود ۲۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 24
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 24
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/24/mode/1up
    پھرؔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے اشاعۃ السّنّہ میں محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے اور آخر میں مَیں نے لکھ دیا ہے کہ ہم الہام کو حجت اور دلیل نہیں جانتے‘‘۔ اس کے جواب میں بادب ملتمس ہوں کہ آپ اگر اس قول کے مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے؟ غایت کار آپ کے کلام میں تناقض ہوگا کیونکہ اول صاف تسلیم کر آئے ہیں کہ الہام ملہم کیلئے حجت شرعی کے قائم مقام ہوتا ہے علاوہ اس کے آپ تو صاف طور پر مان چکے ہیں بلکہ بحو الہ حدیث بخاری بہ تصریح بیان کرچکے ہیں کہ الہام محدث کا شیطانی دخل سے منزہ کیا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے میں اس بات کیلئے آپ کو مجبورنہیں کرتا کہ آپ الہام کو حجت سمجھ لیں مگر یہ تو آپ اپنے ریویو میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ ملہم کیلئے وہ الہام حجت ہوجاتا ہے۔ سو میرا دعویٰ اسی قدر سے ثابت ہے۔ میں بھی آپ کو مجبور کرنا نہیں چاہتا۔
    غلام احمد بقلم خود
    پرچہ نمبر ۴ ! مولوی صاحب !
    آپ نے بایں ہمہ تطویل میرے سوال کا جواب پھر بھی صاف نہ دیا* اور آپ کے اس کلام میں وہی اضطراب و اختلاف پایا جاتا ہے جو پہلے کلام میں موجود ہے آپ شرط صحت کو جو آپ کے خیال میں ہے پیش نظر رکھ کر صاف صاف الفاظ میں دو حرفی جواب دیں کہ احادیث و کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم بِلا تفصیل صحیح و واجب العمل ہیں یا بلا تفصیل غیر صحیح و ناقابل عمل یا اس میں تفصیل ہے بعض احادیث صحیح ہیں اور بعض غیر صحیح و موضوع۔ اس کے ساتھ آپ یہ بھی بتادیں کہ آپ نے اپنی تصانیف میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو غیر صحیح و موضوع کہا ہے یا نہیں؟
    (۲) آپ نے جو میرے اس سوال کا کہ سلف میں آپ کا کون امام ہے جواب دیا ہے وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے ابن صیاد کی نسبت وہ سوال نہیں کیا تھا بلکہ آپ کے اس اعتقاد کی نسبت سوال کیا تھا کہ صحت احادیث کا معیار قرآن ہے اور جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ موضوع ہے اب بھی آپ فرماویں۔
    (اگرؔ آپ کا اعتقاد فرقہ نیچریہ ضالہ کے موافق نہیں ہے) کہ صحت احادیث کا معیار توافق قرآن کو ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔
    (۳) اجماع کی تعریف میں جو آپ نے کہا ہے یہ کس کتاب اصول وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ تین چار صحابہ کے اجماع کو علمائے اسلام سے کون شخص قرار دیتا ہے۔
    * نوٹ-: مولوی صاحب! آپ کی یہ تان کہیں ٹوٹے گی بھی! ذرا بغض و عناد کے بخار سے دماغ کو خالی فرماویں۔ آپ کو صاف معلوم ہوجائے گا کہ آپ کو صاف اور کافی جواب دیا گیا ہے۔ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 25
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 25
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/25/mode/1up
    (اگر آپ کا اعتقاد فرقہ نیچریہ ضالہ کے موافق نہیں ہے) کہ صحت احادیث کا معیار توافق قرآن کو ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔
    (۳) اجماع کی تعریف میں جو آپ نے کہا ہے یہ کس کتاب اصول وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ تین چار صحابہ کے اجماع کو علمائے اسلام سے کون شخص قرار دیتا ہے۔
    (۴) شرح السّنّة سے جو حدیث آپ نے نقل کی ہے اس میں آنحضرت صلعم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے جو اس کے فہم میں آیا ہے اس قول صحابی کو آنحضرت کا قول قرار دینا آنحضرت پر افترا نہیں تو کیا ہے۔
    (۵) اشاعة السنة میں جو میں نے محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے کیا اس کی نسبت میں نے آخر ریویو میں بصفحہ ۵۴۳ یہ ظاہر نہیں کیا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے اس صفحہ میں کیا یہ عبارت درج نہیں ہے؟یہی جتانا اس امر سوم کے بیان سے ہمارا مقصود تھا اس سے اس امر کا اظہار مقصود نہیں ہے کہ ہم خود بھی اس الہام کو حجت و دلیل جانتے ہیں اور غیر ملہم کو کسی ملہم(غیر نبی) کے الہام پر عمل کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ ہم صرف کتاب اللہ و سنت کے پیرو ہیں اور اسی کو حجت ودستور العمل اور عام راہ جانتے ہیں نہ خود الہامی ہیں نہ کسی اور کشفی الہامی غیر نبی کے(متقدمین سے ہو خواہ متاخرین سے) متبع و مقلّد ہیں۔ پھر مجھ کو اس قول ابن عربی کا امکانی قائل بنانا مجھ پر افترا نہیں تو کیا ہے؟ آیات قرآن جو آپ نے نقل کی ہیں ان کو امر متنازعہ فیہ سے کچھ تعلق نہیں ہے میں اس امر کو اپنے تفصیلی جواب میں بیان کروں گا جب سوالات مذکورہ کا جواب پاﺅں گا۔ ابو سعید فقط
    مرزا صاحب ! میری طرف سے مکرر گزارش یہ ہے کہ ائمہ حدیث جس طور سے صحیح اور غیرصحیح حدیثوں میں فرق کرتے ہیں اور جو قاعدہ تنقید احادیث انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ تو ہر ایک پر ظاہر ہے کہ وہ راویوں کے حالات پر نظر ڈال کر باعتبار اُن کے صدق یاکذب اور سلامت فہم یا عدم سلامت اور باعتبار اُن کے قوت حافظہ یاعدم حافظہ وغیرہ امور کے جن کا ذکر اس جگہ موجب تطویل ہے کسی حدیث کے صحیح یاغیر صحیح ہونے کی نسبت حکم دیتے ہیں مگر ان کا کسی حدیث کی نسبت یہ کہنا کہ یہ صحیح ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ حدیث من کل الوجوہ مرتبہ ثبوت کامل تک پہنچ گئی ہے جس میں امکان غلطی کا نہیں بلکہ ان کا مطلب صحیح کہنے سے صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وہ بخیال ان کے ان آفات اور عیوب سے مبرّا ہے جو غیر صحیح حدیثوں میں پائی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 26
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 26
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/26/mode/1up
    جاتیؔ ہیں اور ممکن ہے کہ ایک حدیث باوجود صحیح ہونے کے پھر بھی واقعی اور حقیقی طور پر صحیح نہ ہو غرض علم حدیث ایک ظنّی علم ہے جو مفید ظن ہے۔ اگر کوئی اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اگر احادیث صرف مرتبہ ظن تک محدود ہیں تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ صوم و صلوٰۃ و حج و زکوٰۃ وغیرہ اعمال جو محض حدیثوں کے ذریعہ سے مفصل طور پر دریافت کئے گئے ہیں وہ سب ظنی ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بڑے دھوکے کی بات ہے کہ ایسا سمجھا جائے کہ یہ تمام اعمال محض روایتی طور پر دریافت کئے گئے ہیں و بس۔ بلکہ ان کے یقینی ہونے کا یہ موجب ہے کہ سلسلہ تعامل ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اگر فرض کر لیں کہ یہ فن حدیث دنیا میں پیدا نہ ہوتا پھر بھی یہ سب اعمال و فرائض دین سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتے۔خیال کرنا چاہئے کہ جس زمانہ تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں کیا اس وقت لوگ حج نہیں کرتے تھے؟ یا نماز نہیں پڑھتے تھے؟ یا زکوٰۃ نہیں دیتے تھے؟ ہاں اگر یہ صورت پیش آتی کہ لوگ ان تمام احکام و اعمال کو یک دفعہ چھوڑ بیٹھتے اور صرف روایتوں کے ذریعہ سے وہ باتیں جمع کی جاتیں تو بے شک یہ درجہ یقینی و ثبوت تام جو اب ان میں پایا جاتا ہے ہرگز نہ ہوتا سو یہ ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کے ذریعہ سے صوم و صلوٰۃ وغیرہ کی تفاصیل معلوم ہوئی ہیں بلکہ وہ سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے معلوم ہوتی چلی آئی ہیں اور درحقیقت اس سلسلہ کو فن حدیث سے کچھ تعلق نہیں وہ تو طبعی طور پر ہر ایک مذہب کو لازم ہوتا ہے۔ اور میرا مذہب احادیث بخاری اور مسلم کی نسبت یہ نہیں ہے کہ میں خواہ نخواہ ان کی کسی حدیث کو موضوع قرار دوں۔ بلکہ میں ہر ایک حدیث کو قرآن کریم ؔ پر پیش کرنا ضرور سمجھتا ہوں۔ اگر قرآن کریم کی کوئی آیت صاف اور کھلے کھلے طور پر ان کی مخالف نہ ہو تو میں بسر و چشم اس کو قبول کروں گا۔ بلکہ اگر مخالف بھی ہو تو کوشش کروں گا کہ وہ مخالفت اٹھ جائے لیکن اگر کسی طور سے مخالفت دور نہ ہوسکے تو پھر البتہ میں کہوں گا کہ اس حدیث کے بیان کرنے میں تغیّر الفاظ یا پیرایہ بیان میں کچھ فرق آگیا ہوگا یا جو کچھ کسی صحابی نے بیان فرمایا ہوگا اس کے تمام الفاظ تابعی وغیرہ کے حافظہ میں محفوظ نہیں رہے ہوں گے۔ مگر اب تک تو مجھے ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ بخاری یا مسلم کی کوئی حدیث صریح مخالف قرآن مجھ کو ملی ہو جس کی میں کسی وجہ سے تطبیق نہ کرسکا بلکہ جو کچھ بعض احادیث میں کچھ تعارض پایا جاتا ہے خدا تعالیٰ اس تعارض کے دور کرنے کیلئے بھی میری مدد کرتا ہے۔ ہاں میں دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں تعارض کو دور کرسکتا ہوں کیونکہ جو حقیقی اور واقعی تعارض ہوگا اس کو میں کیونکر دور کرسکتا ہوں یا کوئی اور شخص کیونکر دور کرسکتا ہے۔
    اورؔ آپ نے یہ جو مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ جو ’’تعارض ابن صیاد والی حدیث اور گرجا والے دجال والی حدیث میں پایا جاتا ہے اس تعارض کے ماننے میں کون تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ اس سوال سے میں متعجب ہوں کہ جس حالت میں مدلل اور موجّہ طور پر میں تعارض کو ثابت کرچکا ہوں۔ تو پھر میرے لئے ضرورت کیا ہے کہ میں اپنے لئے اس بصیرت خداداد میں کسی کی سلف میں سے تقلید ضروری سمجھوں اور آپ بھی تو ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۱۰ میں اس بات کو قبول کرچکے ہیں کہ بلاتقلید غیرے استدلال منع نہیں۔ چنانچہ آپ اس صفحہ میں فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے معاصرین جو باوجود ترک تقلید تقلید کے خوگر ہیں بلاواسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے تمسک نہیں کرتے اور جو بلاواسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے استدلال کریں اس کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘
    اور آپ کا یہ فرمانا کہ ’’میرے کس لفظ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ میں احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کے مرتبۂ صحت سے برابر سمجھتا ہوں۔‘‘ یہ مجھے آپ کے فحوائے کلام سے خیال گزرا تھا اگر آپ کا یہ منشاء نہیں ہے اور آپ میری طرح احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کریم کے مرتبہ صحت سے متنزل سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو امام قرار دیتے ہیں اور محک صحت احادیث ٹھہراتے ہیں تو پھر میری غلطی ہے کہ میں نے ایسا خیال کیا۔ لیکن اگر آپ درحقیقت قرآن کریم کا اعلیٰ مرتبہ مانتے ہیں اور اس کو واقعی طور محک صحت احادیث قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کی حالت ؔ میں کسی حدیث کو قبول نہیں کرتے تو پھر تو آپ مجھ سے متفق الرائے ہیں۔ پھر اس لمبے چوڑے تکرار سے فائدہ کیا ہے!
    اور یہ جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے کیا مطلب ہے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اس جگہ اجتہاد سے مراد اس عاجز کی اجتہاد فی الوحی ہے کیونکہ یہ تو ثابت ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلعم وحی مجمل میں اجتہادی طور پر دخل دے دیا کرتے تھے اور بسااوقات وہ تفسیر اور تشریح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صحیح اور سچی ہوتی تھی اور بعض اوقات غلطی بھی ہوجاتی تھی چنانچہ اس کی نظیریں بخاری اور مسلم میں بہت ہیں اور حدیث فذھب وھلیبھی اس کی شاہد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بعزم طواف کعبہ سفر کرنا یہ بھی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 27
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 27
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/27/mode/1up
    اورؔ آپ نے یہ جو مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ جو ’’تعارض ابن صیاد والی حدیث اور گرجا والے دجال والی حدیث میں پایا جاتا ہے اس تعارض کے ماننے میں کون تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ اس سوال سے میں متعجب ہوں کہ جس حالت میں مدلل اور موجّہ طور پر میں تعارض کو ثابت کرچکا ہوں۔ تو پھر میرے لئے ضرورت کیا ہے کہ میں اپنے لئے اس بصیرت خداداد میں کسی کی سلف میں سے تقلید ضروری سمجھوں اور آپ بھی تو ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۱۰ میں اس بات کو قبول کرچکے ہیں کہ بلاتقلید غیرے استدلال منع نہیں۔ چنانچہ آپ اس صفحہ میں فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے معاصرین جو باوجود ترک تقلید تقلید کے خوگر ہیں بلاواسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے تمسک نہیں کرتے اور جو بلاواسطہ سابقین کسی آیت یا حدیث سے استدلال کریں اس کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘
    اور آپ کا یہ فرمانا کہ ’’میرے کس لفظ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ میں احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کے مرتبۂ صحت سے برابر سمجھتا ہوں۔‘‘ یہ مجھے آپ کے فحوائے کلام سے خیال گزرا تھا اگر آپ کا یہ منشاء نہیں ہے اور آپ میری طرح احادیث کا مرتبہ صحت قرآن کریم کے مرتبہ صحت سے متنزل سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو امام قرار دیتے ہیں اور محک صحت احادیث ٹھہراتے ہیں تو پھر میری غلطی ہے کہ میں نے ایسا خیال کیا۔ لیکن اگر آپ درحقیقت قرآن کریم کا اعلیٰ مرتبہ مانتے ہیں اور اس کو واقعی طور محک صحت احادیث قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کی حالت ؔ میں کسی حدیث کو قبول نہیں کرتے تو پھر تو آپ مجھ سے متفق الرائے ہیں۔ پھر اس لمبے چوڑے تکرار سے فائدہ کیا ہے!
    اور یہ جو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے کیا مطلب ہے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اس جگہ اجتہاد سے مراد اس عاجز کی اجتہاد فی الوحی ہے کیونکہ یہ تو ثابت ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلعم وحی مجمل میں اجتہادی طور پر دخل دے دیا کرتے تھے اور بسااوقات وہ تفسیر اور تشریح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صحیح اور سچی ہوتی تھی اور بعض اوقات غلطی بھی ہوجاتی تھی چنانچہ اس کی نظیریں بخاری اور مسلم میں بہت ہیں اور حدیث فذھب وھلیبھی اس کی شاہد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بعزم طواف کعبہ سفر کرنا یہ بھی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 28
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 28
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/28/mode/1up
    ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ کا کہاں اجماع تھا۔ اس کے جواب میں عرض کرتا ہوں کہ
    یہ اجماع مسلم کی حدیث سے جوابی سعید الخدری سے بیان کی ہے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں ابن صیاد کہتا ہے کہ لوگ کیوں مجھے دجال معہود کہتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اس وقت کہنے والے صرف صحابہ تھے اور کون لوگ تھے ؟ جو اس کو دجال کہتے تھے۔ یہ حدیث صاف بتلارہی ہے کہ صحابہ کا اس بات پر اجماع تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ صحابہ کی کوئی ایسی بڑی جماعت نہ تھی جن کے اجماع کا حال معلوم ہونا محالات میں سے ہوتا بلکہ ان کا اجماع بباعث وحدت مجموعی ان کی کے بہت جلد معلوم ہوجاتا تھا۔ پھر تین صحابیوں کا قسم کھانا کہ حقیقت میں ابن صیاد ہی دجال معہود ہے صاف اجماع پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان کے مخالف منقول نہیں!
    پھر بعد اس کے آپ دریافت فرماتے ہیں کہ اجماع کی حقیقت کیا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سوال سے آپ کا مطلب کیا ہے؟ ایک جماعت کا ایک بات کو باِلاتفاق مان لینا ہی اجماع کی حقیقت ہے جو صحابہ میں بآسانی محقق ہوسکتی تھی اگرچہ دوسروں میں نہیں۔
    اور یہ جو آپ نے دریافت فرمایا ہے کہ کہاں یہ حدیث ہے کہ’’ آنحضرت صلعم ابن صیاد کے دجال ہونے پر ڈرتے تھے۔‘‘ سو واضح ہو کہ وہ حدیث مشکوٰۃ میں بحوالہ شرح السنّہ موجود ہے اور اصل عبارت حدیث کی یہ ہے۔ فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلعم مُشْفِقًا اَنَّہٗ ھُوَالدَّجَّالُ ۔
    اور آپ نے جو دریافت فرمایا تھا کہ بعض اکابر کا قول اشاعۃ السنّہ میں کہاں ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ بعض موضوع حدیثیں کشف کے ذریعہ سے صحیح ہوسکتی ہیں اور صحیح موضوع ٹھہر سکتی ہیں سو وہ قول ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۴۰ میں موجود ہے جس میں آپ نے بتائید اپنے خیال کے شیخ ابن عربی صاحب کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ ’’ہم اس طریق سے آنحضرت صلعم سے احادیث کی تصحیح کرالیتے ہیں۔ بہتیری حدیثیں ایسی ہیں جو اس فن کے لوگوں کے نزدیک صحیح ہیں اور وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں ان کے نزدیک موضوع ہیں اور آنحضرت صلعم کے قول سے بذریعہ کشف صحیح ہوجاتی ہیں۔‘‘ اب اگرچہ میں اس بات پر زور نہیں دیتا کہ ایمانی طور پرآں مکرم کا یعنی آپ کا یہی عقیدہ ہے لیکن میں آپ کے فحوائے بیان سے سمجھتا ہوں بلکہ ہریک تدبر کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ امکانی طور پر ضرور آپ کا یہی عقیدہ ہے کیونکہ اگر یہ امر بکلی آپ کے عقیدہ سے باہر تھا تو پھر اس کا ذکر کرنا بطور لغو ہوتا ہے جو آپ کی شان سے بعید ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 29
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 29
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/29/mode/1up
    انسانؔ جس کسی کا قول یا مذہب اپنے ریویو میں بطور نقل کے ذکر کرتا ہے وہ یا اپنے مؤیدات دعویٰ اور رائے کی مدد میں لاتا ہے یا اس کی رد کی غرض سے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ آپ اس قول کو اپنے مؤیدات دعویٰ کے ضمن میں لائے ہیں۔ آپ نے بجز اس کے اسی دعویٰ کی تائید کیلئے ایک بخاری کی حدیث بھی لکھی ہے کہ محدث کا الہام دخل شیطانی سے محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ وہاں تو آپ نے کھلے طور ظاہر کردیا ہے کہ آپ اسی قول کے حامی ہیں گو ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر ضرور حامی ہیں اور میرے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کیونکہ میرا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حدیثیں اگرچہ صحیح بھی ہوں لیکن ان کی صحت کا مرتبہ ظن یا ظن غالب سے زیادہ نہیں۔ سو ان حدیثوں کی حقیقی صحت کا پرکھنے والا قرآن شریف ہے۔ اور قرآن شریف جس قدر اپنے محامد اور اپنے کمالات بیان کرتا ہے ان پر نظر غور ڈالنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے تئیں اپنے ماسوا کی تصحیح کیلئے محک ٹھہرایا ہے اور اپنی ہدایتوں کو کامل اور اعلیٰ درجہ کی ہدایتیں بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی شان میں فرماتا ہے۔
    اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کئی قسم کی خصوصیتیں اور حقیقتیں قرآن کریم کی بیان فرمائی ہیں۔ از انجملہ ایک یہ کہ وہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 30
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 30
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/30/mode/1up
    تمامؔ صداقتوں پر مشتمل ہے۔(۲) وہ مفصل کتاب ہے(۳) وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے اور دارالسلام کے طالب ہیں(۴) وہ ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور نامعلوم باتیں سکھاتا ہے(۵) ہدایت اسی کی ہدایت ہے(۶) باطل اس کی طرف کسی طور سے راہ نہیں پاسکتا(۷) جس نے اس سے پنجہ مارا اس نے عروہ وثقی سے پنجہ مارا(۸) وہ سب سے زیادہ سیدھی راہ بتلاتا ہے(۹) وہ حق الیقین ہے اس میں ظن اور شک کی جگہ نہیں(۱۰) وہ حکمت بالغہ ہے اس میں ہریک چیز کا بیان ہے(۱۱) وہ حق ہے اور میزان حق ہے یعنی آپ بھی سچا ہے اور سچ کی شناخت کیلئے محک بھی ہے(۱۲) وہ لوگوں کیلئے ہدایت ہے اور ہدایتوں کی اس میں تفصیل ہے اور حق اور باطل میں فرق کرتا ہے(۱۳) وہ قرآن کریم ہے کتاب مکنون میں ہے جس کے ایک معنے یہ ہیں کہ صحیفہ فطرت میں اس کی نقلیں منقوش ہیں یعنی اس کا یقین فطری ہے جیسا کہ فرمایا ہے ۱؂(۱۴) وہ قول فصل ہے اس میں کچھ بھی شک نہیں(۱۵) وہ اختلافات کے دور کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے(۱۶) وہ ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ اب فرمایئے کہ یہ عظمتیں اور خوبیاں کہ جو قرآن کریم کی نسبت بیان فرمائی گئیں احادیث کی نسبت ایسی تعریفوں کا کہاں ذکر ہے؟ پس میرا مذہب ’’فرقہ ضالہ نیچریہ ‘‘کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ اور قال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں۔ ایسے نکتہ چینی کرنے والوں کو ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں بلکہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خداتعالیٰ کی طرف سے ہم کو پہنچایا ہے اس سب پر ایمان لاتا ہوں صرف عاجزی اور انکسار کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پرکھنے کیلئے وہ محک ہے اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کیلئے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشاء قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں اور اگر اس خدمت گذاری میں علماء وقت کا میرے پر اعتراض ہو اور وہ مجھ کو فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرف منسوب کریں تو میں ان پر کچھ افسوس نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ وہ بصیرت انہیں عطا فرماوے جو مجھے عطا فرمائی ہے۔ نیچریوں کا اول دشمن میں ہی ہوں اور ضرور تھا کہ علماء میری مخالفت کرتے کیونکہ بعض احادیث کا یہ منشا پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو علماء اس کی مخالفت کریں گے اسی کی طرف مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے آثار القیامہ میں اشارہ کیا ہے اور حضرت مجدد صاحب سرہندی نے بھی اپنی کتاب کے صفحہ(۱۰۷) میں لکھا ہے کہ ’’مسیح موعود جب آئے گا تو علماء وقت اس کو اہل الرائے کہیں گے یعنی یہ خیال کریں گے کہ یہ حدیثوں کو چھوڑتا ہے اور صرف قرآن کا پابند ہے اور اس کی مخالفت پر آمادہ ہوجائیں گے۔‘‘ والسلام علی من ابتع الھدی
    غلام احمد قادیانی ۲۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 31
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 31
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/31/mode/1up
    پرچہؔ نمبر۵! مولوی صاحب!
    میں افسوس کرتا ہوں کہ آپ نے پھر بھی میرے سوال کا جواب صاف* الفاظ میں نہیں دیا آپ نے بیان کیا ہے کہ میں آپ سے ان کتب کی صحت تسلیم کرانا چاہتا ہوں اور آپ اس تسلیم کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ اس کو ایک غلط اصول فرضی و خیالی اجماع پر مبنی قرار دیتے ہیں پھر صاف الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ صحیحین کے جملہ احادیث بلاوقفہ و نظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں ہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے جب تک آپ ایسے صریح الفاظ میں اس مطلب کو ادا نہ کریں گے اس سوال کے جواب سے سبکدوش نہ ہوں گے خواہ برسوں گذر جائیں آپ حدیث اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَایَعْنِیْہِکو پیش نظر رکھ کر خارج از سوال باتوں سے تعرض کرنا چھوڑ دیں اور دو حرفی جواب دیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں۔ (۲) آپ فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کسی حدیث صحیح بخاری یا مسلم کو موضوع نہیں کہا(لفظ موضوع آپ کے کلام میں غیر صحیح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے) اور یہ امر کمال تعجب کا موجب ہے کہ آپ جیسے مدعیان الہام ایسی بات خلاف واقعہ کہیں۔ آپ نے رسالہ ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۲۰ میں دمشقی حدیث کی نسبت کہا ہے۔ ’’یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدّثین امام محمد اسمٰعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔‘‘ اب انصاف سے فرماویں کہ اس حدیث صحیح مسلم کو آپ نے ضعیف قرار دیا ہے یا نہیں اور اگر آپ یہ عذر کریں کہ میں صرف ناقل ہوں اس کو ضعیف کہنے والے امام بخاری ہیں تو آپ تصحیح نقل کریں اور صاف فرماویں کہ امام بخاری نے اس کو فلاں کتاب میں ضعیف قرار دیا ہے یا کسی اور امام محدث سے نقل کریں کہ انہوں نے امام بخاری سے اس حدیث کی تضعیف نقل کی ہے ورنہ آپ اس الزام سے بری نہ ہوسکیں گے کہ آپ نے صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف قرار دیا اور پھر اس اپنی تحریر میں اس سے انکار کیا۔ ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۲۶ میں آپ فرماتے ہیں۔ ’’اب بڑے مشکلات یہ درپیش آتے ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانہ میں اتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں موضوع ٹھہرتی ہیں۔ اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر اس کا موضوع ہونا ماننا پڑتا ہے اور اگر یہ متعارض ومتناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں صرف دوسری صحیحوں میں ہوتیں تو شاید ہم ان دونوں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کر کے ان دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے مگر اب مشکل تو یہ آپڑی کہ ان ہی دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسم کی حدیثیں موجود ہیں۔
    * نوٹ اللہ اللہ ! چشم بازو گوش باز وایں ذکا 228 خیرہ ام درچشم بندی ءِ خدا۔ آپ کا یہ افسوس ختم ہونے میں نہیں آتا اور شائد موت(یعنی اختتام مباحثہ) تک اس افسوس سے نجات نصیب نہ ہو۔ اچھا دیکھیں۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 32
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 32
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/32/mode/1up
    ابؔ جب ہم ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑجاتے ہیں کہ کس حدیث کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح۔ تب ہم کو عقل خداداد یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں صحیح سمجھنا چاہئے۔‘‘ اور ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے مسلم کی اس حدیث کو جس میں یہ بیان ہے کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا جو بخاری میں بصفحہ ۱۰۵۶ مروی ہے یہ کہہ کر اڑا یا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی اس حدیث کے مخالف ہے جس میں یہ وارد ہے کہ یہ دجال مشرف باسلام ہوچکا تھا ایسا ہی آپ نے صحیحین کی ان احادیث کو اڑایا ہے جن میں دجّال کے ان خوارق کا بیان ہے کہ اسکے ساتھ بہشت اور دوزخ ہونگے اور اسکے کہنے سے زمین شور سرسبز ہوجائے گی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا اس مقام میں یہ کہنا کہ میں نے صحیحین کی کسی حدیث کو موضوع یا غیر صحیح قرار نہیں دیا اور ان احادیث کے صحیح معنے بیان کرنے میں خداتعالیٰ میری مدد کرتا ہے خلاف واقعہ نہیں تو کیا ہے؟
    آپ صحیحین کی احادیث کو موضوع جانتے ہیں اور ساکت الاعتبار سمجھتے ہیں۔ پھر اس اعتقاد کو طولانی تقریروں اور ملمع سازیوں سے چھپاتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جن باتوں کو آپ چھاپ چکے ہیں وہ کب چھپتی ہیں۔
    (۳) آپ لکھتے ہیں کہ قرآن کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں امام کے نشان دہی کا بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان تصحیح احادیث کا معیار قرآن کو سمجھتا ہے میں آپ کے اس دعویٰ کا بھی منکر ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مسلمان جن کے اقوال سے استناد کیا جاتا ہے اس بات کا قائل نہیں۔ آپ کم سے کم ایک مسلمان کا علماء سلف سے نام لیں جو آپ کے خیال کا شریک ہو اور اگر باوجود ان دعاوی کے آپ پر بارثبوت نہیں ہے تو آپ یہ امر کسی منصف سے(مسلمان ہو یا غیر مذہب) کہلادیں۔ اس باب میں جو آیات آپ نے نقل کی ہیں ان کوآپ کے دعاوی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی تفصیل جواب تفصیلی میں ہوگی۔ انشاء اللّٰہ تعالٰی۔
    (۴) اجماع کے باب میں میرے کسی سوال کاآپ نے جواب نہیں دیا براہ مہربانی میرے سوال پر نظرثانی کریں اوران باتوں کا جواب دیں کہ اجماع کی تعریف جو آپ نے لکھی ہے کس کتاب میں ہے اور بعض صحابہ کے اتفاق کو کون شخص اجماع سمجھتا ہے۔ سکوت کل کا جوآپ نے دعویٰ کیا ہے یہ بھی محتاج نقل وثبوت ہے آپ بہ نقل صحیح ثابت کریں کہ حضرت عمر وغیرہ نے ابن صیاد کو دجال کہا تواس وقت جملہ
    اصحاب یافلاں فلاں موجود تھے اورانہوں نے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 33
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 33
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/33/mode/1up
    اسؔ پرسکوت کیا۔ یاوہ قول جس صحابی کوپہنچا اس نے انکار نہ کیا یہ بات صرف ’’غالباً اورہونگی‘‘ کے الفاظ سے ثابت نہیں ہوسکتی ایسے دعاوی عظیمہ میں ائمہ نقل سے نقل بکار ہے نہ صرف تجویز۔ عقل اجماع کے باب میں جوکچھ ائمہ سے منقول ہے وہ آپکی تحریر میں موجود ہے پھر تعجب ہے کہ اس پر آپ کی توجہ نہ ہوئی اور صرف اٹکل سے آپ نے کاربرآری کی۔
    (۵) مضمون حدیث شرح السنہ کے متعلق آپ نے بڑے زور سے دعویٰ کیا تھا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ میں ابن صیاد کے دجال ہونے سے خوف کرتا ہوں اور ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے لکھا ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا ہے کہ ہمیں اس کے حال میں بھی اشتباہ ہے یعنی اس کے دجال ہونے کا ہم کو خوف ہے۔ ان اقوال کا آپ نے آنحضرت صلعم کو یقیناً قائل قرار دیا ہے۔ اب آپ یہ کہتے ہیں کہ صحابی نے آنحضرت سے سنا ہوگا تب ہی آنحضرت کی طرف اس امر کو منسوب کیا کہ آپ ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے تھے۔ اب انصاف کو اور صدق و دیانت کو پیش نظر رکھ کر فرماویں کہ احتمال موجب یقین ہوسکتا ہے؟ کیا یہ امکان نہیں ہے کہ آنحضرت صلعم کے ان معاملات سے جو ابن صیاد کی نسبت بارہا وقوع میں آئے جیسے اس کا امتحان کرنا یا چھپ کر اس کے حالات معلوم کرنا وغیرہ وغیرہ جن کا صحیحین میں ذکر ہے اس صحابی کو یہ خیال پیدا ہوگیا ہوکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دجال سمجھتے تھے اس امکان و احتمال کے ساتھ جو حسن ظنی بحق صحابی پر مبنی ہے کیا یہ یقین ہوسکتا ہے؟ کہ اس صحابی نے آنحضرت کو وہ باتیں کہتے ہوئے سنا جو آپ نے برخلاف واقع آنحضرت کی طرف منسوب کیں اور بلا حصول یقین آنحضرت صلعم کو ان اقوال کا قائل قرار دینا اور بلا کھٹکا یہ کہہ دینا کہ آپ ایسا فرماتے تھے جائز ہے؟ اور مسلمانان سلف سے یہ امر وقوع میں آیا ہے آپ کم سے کم ایک مسلمان کا نام بتلاویں جس سے یہ جرات ہوئی ہو۔
    (۶) آپ لکھتے ہیں کہ قول ابن عربی کے آپ مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے اور اسکے ذکر سے آپ کے کلام میں تناقض پیدا ہوتا ہے آپ کا یہ مفہوم میری عبارت کے صریح منطوق کے جو میں نے نقل کی ہے برخلاف ہے لہٰذا لائق لحاظ والتفات نہیں ہے اور وہ آپ کو الزام افترا سے بری نہیں کرسکتا اور نہ میری وہ تصریحات جو میں نے محدث کی نسبت کی ہیں آپ کو اس الزام سے بری کرسکتے ہیں میری کسی تصریح یاکلام میں قول ابن عربی کی تصدیق وتائید پائی نہیں جاتی اور میرا صریح اظہار کہ میں الہام غیر نبی کو حجت نہیں سمجھتا کتاب وسنت کا پیرو ہوں نہ کسی الہامی کشفی کا مقلّد۔ صاف شاہد ہے کہ آپ نے مجھ پر افترا کیا ہے۔ رہاالزام تعارض واظہار خلاف عقیدت سو اسکا جواب اسی صفحہاشاعۃ السنہ میں موجود ہے کہ میں نے ان اقوال ابن عربی وغیرہ کو اس غرض سے نقل کیا ہے کہ الہام کو حجت ماننے میں صاحب براہین منفرد نہیں ہے اور یہ مسئلہ ایسا نیا اور انوکھا نہیں جس کاکوئی قائل نہ ہو جس سے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 34
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 34
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/34/mode/1up
    صاؔ ف ثابت ہے کہ میں نے ان اقوال کو نقل کرنے سے صاحب براہین کو تفرد سے بچانا چاہا تھا نہ یہ جتانا کہ میں بھی ایسے الہاموں کو لائق سند سمجھتا ہوں۔*
    آپ کی تحریرات میں بہت سے مطالب زائد اور خارج از بحث ہوتے ہیں جن سے میں عمداً تعرض نہیں کرتا ان سے تعرض اس تفصیلی جواب میں کروں گا جو بعد طے ہونے امور مستفسرہ کے قلم میں لاؤں گا۔ اب میں آپ کو پھر اپنے سوالات سابقہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ براہ مہربانی بنظر حفظ اوقات فریقین میرے سوالات کا صاف اور مختصر الفاظ میں جواب دیں اور زائد باتوں کی طرف توجہ نہ کریں میں بنظر آپ کے رفع تکلیف کے پھر اپنے سوال کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔
    خلاصہ سوال اول یہ کہ آپ صراحت کے ساتھ کہیں کہ جملہ احادیث صحیحین صحیح اور واجب العمل ہیں یا جملہ غیر صحیح اور موضوع یا مختلط اور اب تک آپ نے کسی حدیث صحیحین کو موضوع یا ضعیف نہیں کہا۔
    دوم قرآن کوصحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں جملہ مسلمان آپ کے ساتھ ہیں یا کوئی امام ائمہ سلف سے۔
    سوم اجماع کی تعریف اور یہ کہ چند اصحاب کا اتفاق شرعاً اجماع کہلاتا ہے اور حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال کہنے کے وقت جملہ اصحاب موجود تھے یا فلاں فلاں اور اس پر انہوں نے سکوت کیا اور یہ سکوت فلاں فلاں ائمہ حدیث نے نقل کیا۔
    چہارم آنحضرت صلعم کے اصحاب آنحضرت کی طرف کوئی حکم یا خیال منسوب نہ کرتے جب تک کہ وہ آپ سے سن نہ لیتے اور آنحضرت صلعم کے وقائع اور قضایا سے کوئی امر استنباط کر کے آنحضرت کی طرف منسوب نہ کرتے جیسے بعض صحابہ سے منقول ہے فیض یا شفعت للجار۱؂ یا یہ کہ صرف خیال و استنباط سے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمادیتے کہ آپ نے ایسا ارشاد کیا ہے۔
    پنجم میرے اس منطوق کے ہوتے وہ مفہوم قابل اعتبار ہے جو آپ کے خیال میں ہے و بناءً علیہ میں ابن عربی کا مصدق ہوں اور آپ اس دعویٰ میں صادق ہیں۔
    راقم ابو سعید محمد حسین ۲۱؍ جولائی ۹۱ ؁ ء
    * نوٹ: اہل بصیرت ناظرین یہاں غور کرنے کیلئے تھوڑی دیر توقف کریں۔ اگر حضرت مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں متفرد نہیں ہیں تو ان پر الزام ہی کیا آسکتا ہے بہرصورت اس میں تو کلام نہیں کہ مولوی صاحب جہد بلیغ سے حضرت مسیح موعود کو تفرد کے الزام سے بچا چکے ہیں وھذا ھوالمقصود فافھم۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 35
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 35
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/35/mode/1up
    مرزؔ ا صاحب
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ * ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نحمدہ ٗونصلی علیٰ رسولہ الکریم
    حضرت مولوی صاحب۔ آپ پھرسہ کر رشکوہ کے طور پر تحریر فرماتے ہیں کہ میرے سوال کا اب بھی جواب صاف الفاظ میں نہیں دیا اور آپ فرماتے ہیں کہ ’’صاف الفاظ میں کہنا چاہئے کہ صحیحین کی جملہ احادیث بلاوقفہ و نظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے اور آپ اس بات کا جواب مجھ سے مانگتے ہیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں‘‘۔ فقط
    اماالجواب پس واضح ہو کہ احادیث کے دو حصہ ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کی پناہ میں کامل طور پر آگیا ہے۔ یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔ جس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور عقود اور معاملات اور احکام شرع متین داخل ہیں۔ سو ایسی حدیثیں تو بلاشبہ یقین اور کامل ثبوت کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور جو کچھ ان حدیثوں کو قوت حاصل ہے وہ قوت فن حدیث کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوئی اور نہ وہ احادیث منقولہ کی ذاتی قوت ہے اور نہ وہ راویوں کے و ثاقت اور اعتبار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ قوت ببرکت و طفیل سلسلہ تعامل پیدا ہوئی ہے۔ سو میں ایسی حدیثوں کو جہاں تک ان کو سلسلۂ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک تسلیم کرتا ہوں لیکن دوسرا حصہ حدیثوں کا جن کو سلسلۂ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں ہے اور صرف راویوں کے سہارے سے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں ان کو میں مرتبہ ظن سے بڑھ کر خیال نہیں کرتا اور غایت کار مفید ظن ہوسکتی ہیں کیونکہ جس طریق سے وہ حاصل کی گئی ہیں۔ وہ یقینی اور قطعی الثبوت طریق نہیں ہے بلکہ بہت سی آویزش کی جگہ ہے۔ وجہ یہ کہ ان حدیثوں کا فی الواقع صحیح اور راست ہونا تمام راویوں کی صداقت اور نیک چلنی اور سلامت فہم اور سلامت حافظہ اور تقویٰ و طہارت وغیرہ شرائط پر موقوف ہے۔ اور ان تمام امور کا کماحقہ اطمینان کے موافق فیصلہ ہونا اور کامل درجہ کے ثبوت پر جو حکم رویت کا رکھتا ہے پہنچنا حکم محال کا رکھتا ہے اور کسی کو طاقت نہیں کہ ایسی حدیثوں کی نسبت ایسا ثبوت کامل پیش کرسکے۔ کیا آپ ایسی کسی حدیث کی نسبت حلفاًبیان کرسکتے ہیں کہ اس کے مضمون کی صحت کی نسبت کامل اطمینان اور سکینت مجھ کو حاصل ہے؟ اگر آپ حلف اُٹھانے پر مستعد بھی ہوں تاہم میں خیال کروں گا کہ آپ ایک پرانے خیال اور عادت سے متاثر ہو کر ایسی جرأت کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں ورنہ آپ کو بصیرت کی راہ سے ہرگز قدرت نہیں ہوگی کہ کسی ایسی حدیث کے لفظ لفظ کی صحت قطعی اور یقینی کی نسبت دلائل شافیہ جو غیر قوم کے لوگ بھی سمجھ سکیں پیش کرسکیں۔ سو چونکہ واقعی صورت یہی ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 36
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 36
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/36/mode/1up
    وہ ؔ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیضیابی کے یقین کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں لیکن باقی حدیثیں ظن کے مرتبہ سے زیادہ نہیں۔غایت کار بعض حدیثیں ظن غالب کے مرتبہ تک ہیں- اس لئے میرا مذہب بخاری اور مسلم وغیرہ کتب حدیث کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کردیا ہے یعنی مراتب صحت میں یہ تمام حدیثیں یکساں نہیں ہیں۔ بعض بوجہ تعلق سلسلہ تعامل یقین کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ اور بعض بباعث محروم رہنے کے اس تعلق سے ظن کی حالت میں ہیں۔ لیکن اس حالت میں مَیں حدیث کو جب تک قرآن کے صریح مخالف نہ ہو موضوع قرار نہیں دے سکتا۔ اور میں سچے دل سے اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ حدیثوں کے پرکھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی معیار ہمارے پاس نہیں۔ ہر چند محدثین نے اپنے طریق پر روات کی حالت کو صحت یا غیر صحت حدیث کیلئے معیار مقرر کیا ہے۔ لیکن کبھی انہوں نے دعویٰ نہیں کیا کہ یہ معیار کامل اور قرآن کریم سے مستغنی کرنے والاہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی اگرکوئی فاسق کوئی خبر لاوے تو اس کی اچھی طرح تفتیش کرلینی چاہئے۔ اور ظاہر ہے کہ بوجہ اس کے کہ بجز نبی کے اور کوئی معصوم ٹھہر نہیں سکتا اور امکانی طور پر صدور کذب وغیرہ ذنوب کا ہر یک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔لہٰذا روات کے حالات صدق وکذب ودیانت وخیانت کے پرکھنے کیلئے بڑی کامل تحقیقات درکار تھی تا ان حدیثوں کو مرتبہ یقین کامل تک پہنچاتی لیکن وہ تحقیقات میسر نہیں آسکی۔ کیونکہ اگرچہ صحابہ کے حالات روشن تھے۔ اور ان لوگوں کے حالات بھی جنہوں نے ائمہ حدیث تک حدیثوں کو پہنچایا لیکن درمیانی لوگ جن کو نہ صحابہ نے دیکھا تھا اور نہ ائمہ حدیث ان کے اصلی حالات سے پورے اور یقینی طور پر واقف تھے ان کے صادق یا کاذب ہونے کے حالات یقینی اور قطعی طور پر کیوں کر معلوم ہوسکتے تھے ؟
    سوہر یک منصف اور ایماندار کو یہی مذہب اور عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ بجز ان حدیثوں کے جو آفتاب سلسلۂ تعامل سے منور ہوتی چلی آئی ہیں۔ باقی تمام حدیثیں کسی قدر تاریکی سے پُرہیں اور ان کی اصلی حالت بیان کرنے کے وقت ایک متقی کی یہ شان نہیں ہونی چاہئے کہ چشم دید یاقطعی الثبوت چیزوں کی طرح ان کی نسبت صحت کا دعویٰ کرے۔ بلکہ گمان صحت رکھ کر واللّٰہ اَعلم کہہ دیوے۔ اور جو شخص ان حدیثوں کی نسبت واللّٰہ اعلم بالصواب نہیں کہتا اور احاطۂ تام کا دعویٰ کرتا ہے وہ بلاشبہ جھوٹا ہے خداوند کریم ہرگز پسند نہیں کرتا کہ انسان علم تام سے پہلے علم تام کا دعویٰ کرے۔ اسی قدر دعویٰ کرنا چاہئے جس قدر علم حاصل ہو پھر زیادہ اس سے اگر کوئی سوال کرے تو واللّٰہ اعلم بالصوابکہہ دیا جائے۔ سو میں آپ کی خدمت میں کھول کر گزارش کرتا ہوں کہ میں حصہ دوم حدیثوں کی نسبت خواہ وہ حدیثیں بخاری کی ہیں یامسلم کی ہیں ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ وہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 37
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 37
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/37/mode/1up
    میرؔ ے نزدیک قطعی الثبوت ہیں۔ اگر میں ایسا کہوں تو خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں۔ ہاں اگر کوئی ایسی حدیث قرآن کریم سے مخالف نہ ہو تو پھر میں اس کی صحت کاملہ کی نسبت قائل ہوجاؤں گا۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن کریم کو کیوں محک صحت احادیث ٹھہراتے ہو۔ سو اس کا جواب میں بار بار یہی دوں گا کہ قرآن کریم مہیمن اور امام اور میزان اور قول فصل اور ہادی ہے۔ اگر اس کو محک نہ ٹھہراؤں تو اور کس کو ٹھہراؤں ؟ کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہئے جو مرتبہ وہ خود اپنے لئے قرار دیتا ہے؟ دیکھنا چاہئے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ ۱؂ کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کیلئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ اور پھر فرماتا ہے۔ ۲؂ یعنی جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہوتو اس کیلئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائے گا۔ اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے مخالف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہوگئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔ پھر ایک جگہ فرماتا ہے ۳؂ ۴؂ یعنی قرآن کریم کو ہرایک امر میں دستاویز پکڑو۔ تم سب کا اسی میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستاویز پکڑو اور اسی کو مقدم رکھو۔اب اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔ اور پھر فرماتا ہے ۵؂ یعنی جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کردیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیرتا ہے اور نابینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اب اگر ہم کسی ایسی حدیث کو قبول کرلیں جو صریح قرآن کی مخالف ہے تو گویا ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہمارا دن رات کا رفیق ہوجائے اور اپنے وساوس میں ہمیں گرفتار کرے اور ہم پر نابینائی طاری ہو اور ہم حق سے بے نصیب رہ جائیں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ ۶؂ یعنی ذالک الکتاب کتابا متشابہ یشبہ بعضہ بعضا لیس فیہ تناقض ولا اختلاف مثنی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 38
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 38
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/38/mode/1up
    فیہؔ کل ذکر لیکون بعض الذکر تفسیرا لبعضہ تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم یعنی یستولی جلالہ وھیبتہ علی قلوب العشاق لتقشعر جلودھم من کمال الخشیۃ والخوف یجاھدون فی طاعۃ اللہ لیلا ونھارا بتحریک تاثیرات جلالیۃ و تنبیہات قھریۃ من القرآن ثم یبدل اللہ حالتھم من التألم الی التلذّذ فیصیر الطاعۃ جزو طبیعتھم و خاصۃ فطرتھم فتلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ۔ یعنی لیسیل الذکر فی قلوبھم کسیلان الماء ویصدرمنھم کل امر فی طاعۃ اللہ بکمال السہولۃ والصفاء لیس فیہ ثقل ولا تکلف ولا ضیق فی صدورھم بل یتلذذون بامتثال امرالھھم ویجدون لذۃ وحلاوۃ فی طاعۃ مولاھم وھذا ھوالمنتھی الذی ینتھی الیہ امر العابدین والمطیعین فیبدل اللہ آلامھم باللذات*اب ان تمام محامد سے جو قرآن کریم اپنی نسبت بیان فرماتا ہے صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد عظیمہ کی آپ تفسیر فرماتا ہے اور اس کی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں بھی حدیثوں کا محتاج ہے۔ بلکہ صرف ایسے امور جو سلسلۂ تعامل کے محتاج تھے وہ اسی سلسلہ کے حوالہ کردیئے گئے ہیں اور ماسوا ان امور کے جس قدر امور تھے ان کی تفسیر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ ہاں باوجود اس تفسیر کے حدیثوں کی رو سے بھی
    *۔ ترجمہ یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ان میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں۔ ہر ذکر اور وعظ اس میں دوہرا دوہرا کر بیان کی گئی ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہوجائے۔ اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہوجاتی ہے اس لئے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہوجائیں وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے ہیں پھر ان کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت و سرور سے بدل ڈالتا ہے۔ چنانچہ اس وقت طاعت الٰہی ان کی جزو بدن اور خاصہ فطرت ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دلوں اور بدنوں پر رقت اورلینت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہوجاتا ہے اور ہر بات طاعت الٰہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے امر کی فرمانبرداری میں لذت حاصل کرتے ہیں اور اپنے مولیٰ کی طاعت میں انہیں حلاوت آتی ہے پس عابدوں اور مطیعوں کی غایت کار اور معراج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو لذتوں سے بدل ڈالے۔ ایڈیٹر۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 39
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 39
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/39/mode/1up
    عوامؔ کے سمجھانے کیلئے جو لایمسّہ کے گروہ میں داخل ہیں زیادہ تر وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔لیکن جو اس امت میں الّا المطھرون کا گروہ ہے۔ وہ قرآن کریم کی اپنی تفسیروں سے کامل طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ لکھنا چنداں ضروری نہیں ضروری امر تو صرف اسی قدر ہے کہ ہر یک حدیث مخالف ہونے کی حالت میں قرآن کریم پر پیش کرنی چاہئے۔چنانچہ یہ امر ایک مشکوٰۃ کی حدیثؔ سے بھی حسب منشاء ہمارے بخوبی طے ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے وعن الحارث الا عور قال مررت فی المسجد فاذا الناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علیؓ فاخبرتہ فقال اوقدفعلوھا قلت نعم قال اما انی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول الا انھا ستکون فتنۃ قلت ماالمخرج منھا یارسول اللہ قال کتاب اللہ فیہ خبر ماقبلکم وخبرمابعدکم وحکم ما بینکم ھوالفصل لیس بالھزل من ترکہ من جبار قصمہ اللہ ومن ابتغی الھدی فی غیرہ اضلہ اللہ وھوحبل اللہ المتین ۔۔۔ من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجر ومن حکم بہ عدل ومن دعا الیہ ھدی الی صراط مستقیم۔ یعنی روایت ہے حارث اعور سے کہ میں مسجد میں جہاں لوگ بیٹھے تھے اور حدیثوں میں خوض کررہے تھے گزرا۔ سو میں یہ بات دیکھ کر کہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر دوسری حدیثوں میں کیوں لگ گئے۔ علی کے پاس گیا اور اس کو جاکر یہ خبر دی۔ علیؓ نے مجھے کہا کہ کیا سچ مچ لوگ احادیث کے خوض میں مشغول ہیں اور قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ تب علیؓ نے مجھے کہا کہ یقیناً سمجھ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ عنقریب ایک فتنہ ہوگا یعنی دینی امور میں لوگوں کو غلطیاں لگیں گی اور اختلاف میں پڑیں گے اور کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھیں گے تب میں نے عرض کی کہ اس فتنہ سے کیونکر رہائی ہوگی تب آپ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ذریعہ سے رہائی ہوگی اس میں تم سے پہلوں کی خبر موجود ہے اور آنے والے لوگوں کی بھی خبر ہے اور جو تم میں تنازعات پیدا ہوں ان کا اس میں فیصلہ موجود ہے وہ قول فصل ہے۔ ہزل نہیں۔ جو شخص اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اور اس کو حکم نہیں بنائے گا ۔خداتعالیٰ اس کو گمراہ کردے گا۔ وہ حبل اللّٰہ المتین ہے جس نے اس کے حوالہ سے کوئی بات کہی اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ ماجور ہے اور جس نے اس کے رو سے حکم کیا اس نے عدالت کی اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے راہ راست کی طرف بلایا۔ رواہ الترمذی والدّارمی۔ اب ظاہر ہے کہ اس حدیث میں صاف اور صریح طور پر خبر دی گئی ہے کہ اس وقت میں فتنہ ہوجائے گا اور لوگ طرح طرح کی ہدایت نکال لیں گے اور انواع واقسام کے اختلافات اس وقت میں باہم پڑجائیں گے تب اس فتنہ سےَ مخلصی پانے کیلئے قرآن کریم ہی دلیل ہوگا جو شخص اس کو محک
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 40
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 40
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/40/mode/1up
    اورؔ معیار اور میزان قرار دے گا وہ بچ جائے گا اور جو اس کو محک قرار نہیں دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔ اب ناظرین انصاف فرماویں کہ کیا یہ حدیث بآواز بلند نہیں پکارتی کہ احادیث وغیرہ میں جس قدر اختلاف باہمی پائے جاتے ہیں۔ ان کا تصفیہ قرآن کریم کے رو سے کرنا چاہئے۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ اسلام میں تہتر کے قریب فرقے ہوگئے ہیں ہریک اپنے طور پر حدیثیں پیش کرتا ہے اور دوسرے کی حدیثوں کو ضعیف یا موضوع قرار دیتا ہے۔ چنانچہ دیکھنا چاہئے کہ خود حنفیوں کو بخاری اور مسلم کی تحقیق احادیث پر اعتراض ہیں تو اس حالت میں کون فیصلہ کرے؟ آخر قرآن کریم ہی ہے کہ اس گرداب سے اپنے مخلص بندوں کو بچاتا ہے اور اسی عروہ وثقٰی کے پتہ سے اس کے سچے طالب ہلاک ہونے سے بچ جاتے ہیں۔
    اور آپ نے جو یہ دریافت فرمایا ہے کہ اس مذہب میں تمہارا کوئی دوسرا ہم خیال بھی ہے تو اس میں یہ عرض ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ قرآن کریم درحقیقت حکم اور رہنما اور امام اور مہیمن اور فرقان اور میزان ہے وہ سب میرے ساتھ شریک ہیں۔ اگر آپ قرآن کریم کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ بھی شریک ہیں ۔اور جن لوگوں نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے کہ ایک فتنہ واقع ہونے والا ہے۔ اس سے خروج بجز ذریعہ قرآن کریم کے ممکن نہیں وہ لوگ بھی میرے ساتھ شریک ہیں اور عمر فاروق جس نے کہا تھا حسبنا کتاب اللہ وہ بھی میرے ساتھ شریک ہیں اور دوسرے بہت سے اکابر ہیں جن کے ذکر کرنے کیلئے ایک دفترچاہئے صرف نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں۔ تفسیر حسینی میں زیر تفسیر آیت ۱؂ لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ ’’جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو۔ اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ورنہ نہیں‘‘۔ سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تیس سال اس بارہ میں فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت ملی وَ ۲؂ اب چونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ پہلوں میں سے کسی ایک کا نام لو جو قرآن کریم کو محک ٹھہراتا ہے۔ سو میں نے بحوالہ مذکورہ بالا ثابت کردیا ۔یا تو آپ کو ضدچھوڑ کر مان لینا چاہئے * اور صاف ظاہر ہے کہ چونکہ یہ تمام حدیثیں سلسلہ تعامل کی تقویت یاب نہیں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 41
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 41
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/41/mode/1up
    صرفؔ ظن یا شک کے درجہ پر ہیں اور فن حدیث کی تحقیقاتیں ان کو ثبوت کامل کے درجہ تک نہیں پہنچا سکتیں اس صورت میں اگر ہم اس محک مقدس سے ان کی تصحیح کیلئے مدد نہ لیں تو گویا ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ وہ حدیثیں صحت کاملہ کے درجہ تک پہنچ سکیں۔ میں متعجب ہوں کہ آپ اس بات کے ماننے سے کیوں اور کس وجہ سے رکتے ہیں کہ قرآن کریم کو ایسی احادیث کیلئے محک و معیار ٹھہرایا جاوے؟ کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارے میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں؟ آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بخاری اور مسلم کے صحیح ہونے پر اجماع ہوچکا ہے! اب ان کو بہرحال آنکھیں بند کر کے صحیح مان لینا چاہئے! لیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ اجماع کن لوگوں نے کیا ہے اور کس وجہ سے واجب العمل ہوگیا ہے؟ دنیا میں حنفی لوگ پندرہ کروڑ کے قریب ہیں وہ اس اجماع سے منکر ہیں۔ ماسوا اس کے آپ صاحبان ہی فرمایا کرتے ہیں کہ حدیث کو بشرط صحت ماننا چاہئے اور قرآن کریم پر بغیر کسی شرط کے ایمان لانا فرض ہے۔ اب اگرچہ اس بات پر تو ہمارا ایمان ہے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہوجائے وہ واجب العمل ہے۔ لیکن اس بات پر ہم کیونکر ایمان لے آویں کہ ہر یک حدیث بخاری اور مسلم کی بغیر کسی شک اور شبہ کے واجب العمل ماننی چاہئے۔ یہ وجوب کس سند شرعی یا نص صریح سے ہوا کرتا ہے۔ کچھ بیان تو کیا ہوتا۔ تفسیر فتح العزیز میں زیر آیت ۱؂ کے لکھا ہے کہ ’’چنانچہ عبادت غیر خدا مطلقاً شرک و کفراست اطاعت غیراو تعالیٰ نیز بالاستقلال کفراست و معنے اطاعت غیر بالاستقلال آنست کہ ربقۂ تقلید اودر گردن انداز دو تقلید او لازم شمارد باوجود ظہور مخالفت حکم اوبحکم اوتعالیٰ۔‘‘
    اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بھی اپنے ایک خط میں جو آپ ہی کے نام ہے جو لاہور کی گول سڑک کے باغ میں آپ نے مجھے دیا تھا قرآن کریم کی نسبت چند شرطیں اسی امر کی تائید میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ
    فقیر رااز ابتداء حال میلان بکلام رب عزیز بودو دعاء میکردم کہ یاالہ العالمین دروازہ ہائے کلام خودبریں عاجز بازکن۔ سالہا شدو مصیبت بسیار شدتا بحدے کہ ہر جا کہ مے رفتم بلوامے شدو دل تنگ شد ناگاہ القاشد
    ۲؂ بعد ازاں رو بقرآن شدو آیاتے کہ درباب توجہ بقرآن بود القامے شد مانند ۳؂ وامثال آن تا بحدیکہ یک روز دیدم کہ قرآن مجید پیش رویم نہادہ شدو القاشد ھٰذَا کِتَابِیْ وَ ھٰذَا عِبَادِیْ فَاقْرَءُ وْا کِتَابِیْ عَلٰی عِبَادِیْ۔پس یہ آیت جو کہ مولوی صاحب اپنے القاء کے رو سے ذکر فرماتے ہیں کہ کیسے فیصلہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 42
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 42
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/42/mode/1up
    کرؔ نے والی آیت ہے جس سے صریح اورصاف طورپر صاف ثابت ہوتا ہے کہ اول توجہ مومن کی قرآن کریم کی طرف ہونی چاہئے پھر اگر اس توجہ کے بعد کسی حدیث یاقول من دونہ میں داخل دیکھے تو اس سے منہ پھیر لیوے۔
    پھر آپ مجھ سے دریافت فرماتے ہیں بلکہ مجھے الزام دیتے ہیں کہ میں نے مسلم کی حدیث کو اس وجہ سے ضعیف ٹھہرایا ہے کہ بخاری نے اس کو چھوڑ دیا ہے اس کے جواب میں میری طرف سے یہ عرض ہے کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے اور اس کا ضعیف ہونا اور بات اور چونکہ دمشقی حدیث ایک ایسی حدیث ہے جو اس کے متعلق کی حدیثیں بخاری نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں مگر اس طولانی حدیث کو چھوڑ دیا ہے اس لئے بوجہ تعلقات خاصہ اس حدیث کے جو دوسری حدیثوں سے ہیں یہ شک ہرگز نہیں ہوسکتا کہ بخاری صاحب اس حدیث کے مضمون سے بے خبر رہے ہیں بلکہ ذہن اسی بات کی طرف انتقال کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی رائے میں اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ سو یہ میری طرف سے یہ ایک اجتہادی امر ہے اور میں ایسا ہی سمجھتا ہوں اس کو موضوع ہونے سے کچھ تعلق نہیں اور یہ بحث اصل بحث سے خارج ہے اس لئے میں اس میں طول دینا نہیں چاہتا آپ کا اختیار ہے جو چاہیں رائے قائم کریں پڑھنے والے خود میری اور آپ کی رائے میں فیصلہ کر لیں گے میرے پر اس امر کا کوئی الزام عاید نہیں ہوسکتا اور پھر آپ نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۲۶ کا حوالہ دے کر ناحق ایک طول اپنی کلام کو دیا ہے میری اس تمام کلام کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے فیصلہ کے طور پر کسی حدیث مسلم یا بخاری کو موضوع قرار دے دیا ہے بلکہ میرا مطلب صرف تناقض کو ظاہر کرنا ہے اور یہ دکھلانا ہے کہ اگر تناقض کو دور نہ کیا جاوے تو یہ دونوں طور کی حدیثوں میں سے ایک کوموضوع ماننا پڑے گا۔ سو میرے اس بیان میں فیصلہ کے طور پر کوئی حکم قطعی نہیں کہ درحقیقت بلاریب فلاں حدیث موضوع ہے بلکہ میرا تو ابتدا سے مذہب یہی ہے کہ اگر کسی حدیث کی قرآن کریم سے کسی طور سے تطبیق نہ ہوسکے تو وہ حدیث موضوع ٹھہرے گی یا وہ حدیثیں جو سلسلہ تعامل کی متواترہ حدیثوں سے یا جو ایسی حدیثوں سے مخالف ہوں جو کمّی اور کَیفی طور پر اپنے ساتھ کثرت اور قوت رکھتی ہیں وہ موضوع ماننی پڑیں گی۔ اگر میں کسی حدیث کو مخالف قرآن ٹھہراؤں اور آپ اس کو موافق قرآن کر کے دکھلادیں تو میں اگر فرض کے طور پر اس کو موضوع ہی قرار دوں تب بھی عندالتطابق اپنے مذہب سے رجوع کر لوں گا۔ میری غرض تو صرف اس قدر ہے کہ حدیث کو قرآن کریم سے مطابق ہونا چاہئے۔ہاں اگر سلسلہ تعامل کے رو سے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر منافی معلوم ہو تو اس کو بھی تسلیم کرسکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل حجت قوی ہے۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ ان باتوں کی فکر کو جانے دیں اور اس ضروری بات پر توجہ کریں کہ کیا ایسی حالت میں جب کہ ایک حدیث صریح قرآن کریم کے مخالف معلوم ہو اور سلسلہ تعامل سے باہر ہو تو اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ میں آپ پر اپنا اعتقاد بار بار ظاہر کرتا ہوں کہ میں صحیح بخاری اور مسلم کی حدیثوں کو یونہی بلاوجہ ضعیف اور موضوع قرار نہیں دے سکتا بلکہ میرا ان کی نسبت حسن ظن ہے ہاں جو حدیث قرآن کریم کے مخالف معلوم ہو اور کسی طرح اس سے مطابقت نہ کھا سکے میں اس کو ہرگز منجانب
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 43
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 43
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/43/mode/1up
    رسوؔ ل کریم یقین نہیں کروں گا۔ جب تک کوئی مجھ کو مدلل طور پر سمجھا نہ دیوے کہ درحقیقت کوئی مخالفت نہیں ہاں سلسلہ تعامل کی حدیثیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔
    پھر آپ فرماتے ہیں کہ’’ قرآن کریم کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں کوئی علماء سلف میں سے تمہارے ساتھ ہے۔ ‘‘ سو حضرت میں توحوالہ دے چکا اب ماننا نہ ماننا آپ کے اختیار میں ہے۔
    پھر آپ مجھ سے اجماع کی تعریف پوچھتے ہیں میں آپ پر ظاہر کرچکا ہوں کہ میرے نزدیک اجماع کا لفظ اس حالت پر صادق آسکتا ہے کہ جب صحابہ میں سے مشاہیر صحابہ ایک اپنی رائے کو شائع کریں اور دوسرے باوجود سننے اس رائے کے مخالفت ظاہر نہ فرماویں تو یہی اجماع ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اسی صحابی نے جو امیر المومنین تھے ابن صیاد کے دجال معہود ہونے کی نسبت قسم کھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے روبرو اپنی رائے ظاہر کی اور آنحضرت نے اس سے انکار نہیں کیا اور نہ کسی صحابی نے اور پھر اسی امر کے بارے میں ابن عمر نے بھی قسم کھائی اور جابر نے بھی اور کئی صحابیوں نے یہی رائے ظاہر کی تو ظاہر ہے کہ یہ امر باقی صحابہ سے پوشیدہ نہیں رہا ہوگا۔ سو میرے نزدیک یہی اجماع ہے۔ اور کون سی اجماع کی تعریف مجھ سے آپ دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے نزدیک یہ اجماع نہیں تو آپ جس قدر ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ نے قسمیں کھا کر اس کا دجال معہود ہونا بیان کیا ہے یا بغیر قسم کے اس بارے میں شہادت دی ہے دونوں قسم کی شہادتیں بالمقابل پیش کریں اور اگر آپ پیش نہ کرسکیں تو آپ پر حجت من کل الوجوہ ثابت ہے کہ ضرور اجماع ہوگیا ہوگا کیونکہ اگر انکار پر قسمیں کھائی جاتیں تو ضرور وہ بھی نقل کی جاتیں آنحضرت صلعم کا قسم کو سن کر چپ رہنا ہزار اجماع سے افضل ہے اور تمام صحابہ کی شہادت ہے پھر اگر یہ چھیڑ چھاڑ فضول نہیں تو اور کیا ہے!
    پھر آپ فرماتے ہیں کہ’’ ابن صیاد کے دجال ہونے پر کب آنحضرت صلعم نے اپنی زبان سے اپنا ڈرنا ظاہر فرمایا ہے۔‘‘ َ میں کہتا ہوں کہ تمام باتیں تصریح سے ہی ثابت نہیں ہوتیں اشارہ سے بھی ثابت ہوجاتی ہیں جس حالت میں صحابی کا یہ قول ہے کہ جس وقت تک آنحضرت صلعم بعد دیکھنے ابن صیاد کے زندہ رہے اس بات سے ڈرتے رہے کہ وہی دجال معہود ہوگا جیسے لَمْ یَزَل کے لفظ سے ظاہر ہے اس صورت میں کوئی دانا خیال کرسکتا ہے کہ اس طول طویل مدت کا ڈر ایک احتمالی بات تھی ؟ اور اس لمبی مدت میں کبھی آنحضرت ؐ نے اپنے منہ سے نہیں فرمایا تھا۔ جس حالت میں آنحضرتؐ آپ ہی فرماتے ہیں کہ ہر ایک نبی دجال سے ڈراتا رہاہے اور میں بھی ڈراتا ہوں تو اس صورت میں کیونکر سمجھ آسکتی ہے کہ جو ڈر آنحضرت ؐ کے دل میں مخفی تھا وہ کسی ایسی مدت میں کسی صحابی پر ظاہر نہیں کیا۔ ماسوا اس کے جب ایک ادنیٰ قال سے ایک شخص ایک بات بیان کر کے اس کا قائل ٹھہرتا ہے ایسا ہی اپنے اشارات اور ایماء ات اور حالات سے اس کو ادا کر کے اس کا قائل قرار پاتا ہے سو یہ کونسی بڑی بات ہے جس کی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 44
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 44
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/44/mode/1up
    وجہ ؔ سے آپ مجھ کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ آپ کو ڈرنا چاہئے۔ انسان جو بے وجہ تہمت اپنے بھائی کی نسبت تجویز کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی جناب میں اس لائق ہوجاتا ہے کہ کوئی دوسرا وہی تہمت اس پر کرے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو پختہ طور پر اس بات پر یقین ہے کہ اگر لَمْ یَزَل کا لفظ حدیث میں صحیح اور مطابق واقعہ ہے تو اس کا مصداق مجرد نگرانی حالات ہرگز نہیں ٹھہر سکتا مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میں زید کو دس برس سے برابر دیکھتا ہوں کہ وہ دہلی جانے کا ہمیشہ ارادہ رکھتا ہے تو کیااس سے یہ سمجھا جائے گا کہ زید نے کبھی زبان سے اس مدت دس برس میں دہلی جانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور بفرض محال اگر یہ اجمالی امر ہے تو جیسا اجمال اس بات کا ہے کہ زبان سے کچھ نہ کہا ہو یہ احتمال بھی تو ہے کہ زبان سے کہا ہو لیکن لم یزل کا لفظ احتمال کے امر کو دور کرتا ہے ایک مدت تک کسی امر کی نسبت وہ حالت بنائے رکھنا جس کا ادا کرنا زبان کا کام ہے صریح اس بات پر دلیل ہے کہ اتنی لمبی مدت میں کبھی تو زبان سے بھی کام لیا ہوگا۔
    پھر آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ کہنا آپ ابن عربی کے مخالف تھے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کیا۔ باطل ہے۔ کیونکہ میرے کلام کے صریح منطوق سے مختلف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے کلام کا آپ کے ابتدائی بیان میں یہ صریح منطوق بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ابن عربی کے مؤیدہیں؟ اگر آپ مؤید ہیں تو آپ نے صحیح بخاری کی حدیث کیوں نقل کی ہے؟ جس میں لکھا ہے کہ محدث بھی نبی کی طرح مرسل ہے اور آپ نے کیوں محمد اسماعیل صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ محدث کی وحی نبی کی طرح دخل شیطانی سے منزّ ہ کی جاتی ہے۔ اگر آپ بخاری کی حدیث کو نہیں مانتے تو گزشتہراصلوٰۃ ابھی اقرار کردیں کہ میں محدث کی وحی کو دخل شیطانی سے منزّ ہ ہونے والی نہیں سمجھتا! تعجب کہ ایک طرف تو آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور ایک طرف اس کے برخلاف چلتے ہیں! پھر جب کہ آپ کا بخاری پر ایمان ہے کہ اس کی سب حدیثیں صحیح ہیں تو اس صورت میں تو آپ کو ابن عربی سے اتفاق کرناپڑے گا کیونکہ اگر کسی محدث پر یہ کھل جائے کہ فلاں حدیث موضوع ہے اور وہ باربار کی وحی سے اس پر قائم کیا جائے تو کیا اب حسب منشاء بخاری یہ اعتقاد نہیں کریں گے کہ محدث کو وہ حدیث موضوع مان لینی چاہئے۔ پھر جب کہ آپ کا یہ اعتقاد ہے تو میں نے آپ پر کیا افترا کیا ؟ حضرت مولوی صاحب آپ ایسے الفاظ کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ ا تقوا اللہ کے مضمون کو کیوں اپنے دل میں قائم نہیں کرتے۔ مفتری‘ ملعون اور دین سے خارج ہوتے ہیں۔ اجتہادی طور کی بات کو کسی نہج سے گو غلط ہی سہی سمجھ لینا اور چیز ہے اور عمداً ایک واقعہ معلومۃ الحقیقت کے برخلاف کہنا یہ اور امر ہے۔(۱) آپ کے خلاصہ سوال کی نسبت میرا یہی بیان ہے کہ میں اس طرح سے کہ جیسے حنفی لوگ امام اعظم صاحبؒ پر محض تقلید کے طور پر ایمان رکھتے ہیں بخاری اور مسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ ان کی صحت کو ظن کے طور پر مانتا ہوں اور اَلغیب عنداللّٰہ کہتا ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں رویت کی مانند علم نہیں ہے۔ اگر کسی حدیث کو مخالف کتاب اللہ پاؤں گا تو بغیر تطبیق اور فیصلہ کے ہرگز اس کو قول رسول کریم نہیں سمجھوں گا۔ گو حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور قرآن کے معیار ٹھہرانے میں پہلے عرض کر آیا
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 45
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 45
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/45/mode/1up
    ہوںؔ اور سب کچھ بیان کرچکا ہوں۔ حاجت اعادہ نہیں ہے۔ فقط میرزا غلام احمد ۲۲؍ جولائی ۱۸۹۱ء
    پرچہ نمبر ۶! مولوی صاحب۔ افسوس آپ نے پھر بھی میرے اصل سوال کا جواب صاف اور قطعی نہ دیا * اور نہ فرمایا کہ صحیح بخاری و مسلم کی احادیث جملہ صحیح ہیں۔(۱) یا جملہ موضوع یا مختلط یعنی بعض ان میں صحیح ہیں بعض موضوع باوجودیکہ میرا یہ سوال آپ نے شروع تحریر میں نقل کردیا جس سے یہ گمان کہ آپ نے مطلب سوال نہ سمجھاہو رفع ہوگیا۔ ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح کہہ دی ہے کہ اگر میں کسی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کو کتاب اللہ کے
    مرزا صاحب کے جوابات ہمارے سوالات کے مقابلہ میں بعض رؤساء لدھیانہ نے سنے تو اس کی نظر میں ایک چشم دیدحکایت بیان کی۔ اس حکایت کا اس مقام میں نقل کرنا لطف سے خالی نہیں رئیس مذکور نے بیان کیا کہ ایک رسالہ کے ایک کمان افسر ایک یورپین صاحب تھے جو رات کو دو گھنٹے دربار کیا کرتے اور اس میں اپنی فوج کے سرداروں کے معروضات اور رسالہ کے یومیہ واقعات سنتے۔ ایک دن ایک سردار کی اونٹنی کھوئی گئی۔ صاحب کمان افسر کو یہ حال معلوم ہوا تو انہوں نے رات کے دربار میں سردار اونٹنی کے مالک سے کہا کہ سردار صاحب اس واقعہ کے متعلق مجھے آپ صرف تین باتوں کا جواب دیں اور کچھ نہ فرماویں یہ اس لئے کہہ دیا تھا کہ صاحب بہادر کو اس بات کا علم تھا کہ سردار صاحب بڑے باتونی ہیں وہ مطلب کی بات کا جواب جلد نہ دیں گے۔ وہ تین باتیں یہ ہیں کہ اونٹنی کس پڑاؤ پر کھوئی گئی اور کس وقت و تاریخ۔ سردار صاحب نے یہ تمہید شروع کی کہ حضور وہ اونٹنی میں نے ساڑھے تین سو روپیہ کو خریدی تھی مگر اس کے پانسو روپیہ مانگے جاتے تھے۔ صاحب نے کہا کہ سردار صاحب میں نے یہ بات آپ سے نہیں پوچھی جو میں نے آپ سے پوچھا ہے اس کا جواب دیں۔ سردار صاحب نے فرمایا کہ حضور وہ اونٹنی میں نے بیکانیر کی منڈی سے خریدی تھی۔ اس پر پھر صاحب بہادر نے فرمایا کہ سردار صاحب یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔ آپ میرے سوالات کا جواب دیں۔ سردار صاحب نے فرمایا کہ ہاں حضور جواب دیتا ہوں وہ اونٹنی سو کوس روز چلتی تھی اس پر صاحب نے پھر وہی عذر کیا کہ سردار صاحب آپ اور تکلیف نہ کریں صرف میرے سوالات کا جواب دیں اس پر سردار صاحب نے ان تینوں سوالوں کا جواب کوئی نہ دیا۔ اور اپنی اونٹنی کے وقائع عمری شمار کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ دربار کا وقت مقرری گذر گیا اور ان سوالات ثلٰثہ کا جواب نہ دیا۔ (ابو سعید(
    مولوی صاحب کی طبعزادیا مولوی صاحب کے کسی فرضی رئیس کی اس خانہ ساز کہانی پر ہم سوائے اس کے اور کچھ کہنا نہیں چاہتے کہ دقیقہ رس ناظرین خود ہی فیصلہ کرلیں گے کہ یہ داستان کہاں تک بجا اور باموقع ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مولوی صاحب کے ناحق کے افسوس سے کوئی سچی ہمدردی کرنے والا پیدا نہ ہوگا۔ ایک ناشکرگذار بے صبر کی طرح انہیں سیری بخش سامان مل رہا ہے اور وہ افسوس و شکایت کئے جارہے ہیں۔ معلوم نہیں ایسا کفور مبین بننے سے آپ کیا اپنے تئیں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مولوی صاحب ایسے صاف اور مسکت جواب آپ کو مل رہے ہیں کہ ان کی قوت و سطوت نے آپ کو مختل الحواس بنادیا ہے ورنہ آپ خود ہی اس جملہ پر جو
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 46
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 46
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/46/mode/1up
    مواؔ فق نہ پاؤں گا تو اس کو موضوع قرار دوں گا۔ کلام رسول صلعم نہ سمجھوں گا(۲) اور اپنے پرچہ نمبر۴ میں آپ صاف کہہ چکے ہیں کہ ان کتابوں کے وہ مقامات جن میں تعارض ہے تحریف سے خالی نہیں۔ مگر اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے یانہیں جس کو آپ اس اصول کی شہادت سے موضوع قرار دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ ان مقامات ازالۃ الاوہام میں جو میرے پرچہ نمبر۷ میں منقول ہوئے ہیں آپ صحیحین کی بعض احادیث کو موضوع قرار دے چکے ہیں مگر آپ پرچہ نمبر۸ میں اس سے انکار کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ میں نے وہاں کہا ہے شرطیہ طور پر کہا ہے کہ بشرط تعارض وعدم موافقت ومطابقت وہ احادیث موضوع ہیں۔ میرا وہ قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ باوجودیکہ ان مقامات میں آپ نے یہ شرط نہیں لگائی بلکہ ان احادیث کا باہم تعارض خوب زور سے ثابت کیا اور پھر ان کو موضوع قرار دیا ہے۔ آپ کے میرے اصل سوال کا صاف جواب نہ دینے اور ازا لۃ الاوہام کی تصریحات مذکورہ پرچہ نمبر۷ سے انکار کرجانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس سوال کے دونو شق جواب میں پھنستے ہیں اور کوئی شق قطعی طور پر اختیار نہیں کرسکتے اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ وہ احادیث سب کی سب صحیح ہیں تو اس سے آپ پر سخت مصیبت عائد ہوتی ہے کیونکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث آپ کے عقائد مستحدثہ جدیدہ کے صریح خلاف ہیں ان احادیث کو صحیح مان کر آپ کا کوئی عقیدہ جدیدہ قائم وثابت نہیں رہ سکتا اس وجہ سے آپ نے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ احادیث صحیحین کو بلاوقفہ نظر صحیح تسلیم کرنا اندھا پن اور تقلید بلا دلیل ہے اور اگر آپ یہ شق جواب اختیار کریں کہ حدیث صحیحین سب کی سب موضوع یاازاں جملہ بعض صحیح اور بعض موضوع ہیں تو اس سے عام اہل اسلام اور خصوصاً اہل حدیث جن کے بعض عوام آپ کے دام میں پھنس گئے ہیں آپ سے بے اعتقاد ہوتے اور کفر یافسق اور بدعت کا فتویٰ لگانے کو تیار ہوتے ہیں یہی* ۱؂ وجہ ہے کہ آپ میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں دیتے صرف شرطی
    شروع مضمون میں آپ نے لکھا ہے۔ غور کر کے سمجھ سکتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب آپ کو جواب باصواب دے چکے ہیں اور وہ جملہ یہ ہے۔ ’’ہر چند آپ نے یہ بات بتصریح‘‘۔الخ ایڈیٹر
    مولویؔ صاحب کی تیز فہمی ملاحظہ کے قابل ہے مولوی صاحب کے نزدیک گویا مرزا صاحب نے جواب کی شق ثانی اختیار نہیں کی بایں خیال کہ مبادا عوام مسلمان اور اہل حدیث کا فتویٰ لگانے کو طیار نہ ہوجائیں مگر حیرت ہے کہ اس پر بھی ہمارے آتشیں مزاج مولوی صاحب کی زبان کی ایذا سے حضرت مرزا صاحب بچ نہ سکے۔ مولوی صاحب نے پہلے ہی سے اس بات کو جو سائر اہل حدیث کو کبھی مرزا صاحب کے جواب کی شق ثانی کے اختیار کرنے پر سوجھتی اپنے ذہن میں شدہ ٹھان کر مرزا صاحب کے حق میں وہ فتوے جڑ دیئے اور یوں اہلحدیث کی پیٹھ پر سے ایک فرض کفایہ کا بوجھ ہلکا کردیا آفرین ؂ ایں کا راز تو آید و مرداں چنیں کنند۔ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 47
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 47
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/47/mode/1up
    طور ؔ پر کہتے ہیں کہ اگر کتاب بخاری ومسلم کی احادیث کو موافق قرآن نہ پاؤں گا تو میں اس کو موضوع قرار دوں گا ورنہ مجھے بخاری ومسلم سے حسن ظن ہے میں خواہ مخواہ یعنی قبل ازوقت وبلا ضرورت ان کی احادیث کو موضوع قرار دینا ضروری نہیں سمجھتا ضرورت ہوگی یعنی قرآن سے ان کی موافقت نہ ہوسکے تو موضوع قرار دوں گا۔
    ہر چند آپ کے اس شرطی جواب پر کبھی حق و اختیار حاصل ہے کہ میں آپ سے اس سوال کے جواب کا مطالبہ کروں لیکن اب میری یہ امید کہ آپ میرے سوال کا جواب دیں گے قطع ہوگئی اور میں یہ بھی جان چکا ہوں کہ میرے اس مطالبہ پر بھی آپ ۲۶ صفحہ یا اس سے دو چند ۵۲ صفحہ بھی ایسے ہی لایعنی اور فضول باتوں کا اعادہ کریں گے جو اس وقت تک مکررسہ کرر تحریر کرچکے ہیں جن سے آپ کا تو یہ فائدہ ہے کہ آپ کے مرید حاضر مجلس یہ کہیں گے اور کہہ رہے ہیں سبحان اللہ *۲؂ ہمارے حضرت مسیح اقدس کس قدر طولانی تحریرات کرتے ہیں اور کتنے صفحہ کاغذات ُ پرکرتے ہیں اور بیسوں آیات قرآن تحریر فرماتے جاتے ہیں اور یہی فائدہ اس تحریر سے آپ کو پیش نظر ہے مگر میرے اوقات کا کمال حرج ہے مجھے اس بحث کے علاوہ اوربھی بہت سے اہم کام دامنگیر ہیں لہٰذا اب میں آپ سے اس سوال کے جواب کا مطالبہ نہیں کرتا اور میں ناظرین اور سامعین کو آپ کی طولانی تحریرات کے وہ نتائج بتانا چاہتا ہوں جن نتائج کے جتانے کی غرض سے میں اب تک آپ کے جواب پر نکتہ چینیاں کرتا رہا ہوں میرا یہ مقصود نہ ہوتا تو میں آپ کے پرچہ نمبر ۳ کے جواب میں لکھ چکا تھا کہ آپ نے قبولیت حدیث کی شرط بتائی ہے مگر یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ شرط احادیث صحیحین میں پائی جاتی ہے یا نہیں۔ وبناءً علیہ وہ حدیث صحیح ہیں یا نہیں اس پر اکتفا کرتا اور اس کے جواب دینے پر آپ کو مجبور کرتا اور دوسری کوئی بات آپ کی نہ سنتا کیونکہ ہر شخص جس کو فن مناظرہ میں ادنیٰ مس ہو یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جب کوئی اپنے مناظر و مخاطب سے اصول تسلیم کرانا چاہے کہ کوئی اصول پیش کر کے اس سے دریافت کرے کہ آپ اس اصول کو مانتے ہیں یا نہیں تو اس کے مخاطب کا فرض صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرے یا اس سے انکار کرے اس سے زیادہ کسی اصول کے تسلیم یا عدم تسلیم کی وجہ بیان کرنا اس کا فرض نہیں ہوتا یہ اس صورت میں اور اسی وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا مقابل صاحب تمہید اس کی تسلیم یا عدم تسلیم کے خلاف کا مدعی ہو اور اپنے ممہّدہ اصول پر دلائل قائم
    ؂* اللہ اللہ! مولوی صاحب کے بغض و عناد کی کوئی حد باقی نہیں رہی بات بات پر جلے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ ناظرین اس راز کو ہم کھول دیتے ہیں غور سے سنیئے اور انصاف کیجئے جس دن حضرت مرزا صاحب نے مضمون نمبر ۵ سنایا چونکہ ایک عارف ملہم مؤید من اللہ کے کلام میں قدرتی تاثیر ہوتی ہے اکثر حاضرین کے منہ سے بے اختیار سبحان اللہ نکل گیا اور عموم حاضرین کے چہروں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا تھا کہ استیلائے اثر سے وجدو رقت ان پر طاری ہورہی ہے ہمارے زاہد خشک مولوی صاحب کو یہ نظارہ بھی سخت جانگزا گذرا۔ یہ کہہ دینا اور عمداً ایمان کے خلاف اظہار کرنا کہ وہ مریدین کی جماعت تھی بڑی آسان بات ہے اس سے مرزا صاحب کے مضامین کی خداداد خوبی اور قدر کم نہیں ہوسکتی۔مضامین موجود ہیں خود پبلک دیکھ لے گی۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 48
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 48
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/48/mode/1up
    کرےؔ ۔ آپ نے میرے اصول کی نسبت تسلیم یاعدم تسلیم تو قطعی طور پر ظاہر نہیں کی مگر ان اصول کا خلاف ثابت کرنے پر مستعد ہوگئے سو بھی ایسے طور پر کہ اصل سوال سے غیر متعلق اور فضول باتوں میں خامہ فرسائی شروع کردی اس صورت میں مجھ پر لازم نہ تھا کہ میں آپ کی کسی بات کا جواب دیتا یا اس پر کوئی سوال کرتا مگر اسی غرض سے اب تک آپ کے جوابات کے متعلق خدشے و سوالات کرتا رہا ہوں کہ آپ کی کلام سے وہ نتائج پیدا ہوں جن کو میں عام اہل اسلام پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس غرض سے میں اب آپ کی تحریرات سابقہ و حال پر تفصیلی نکتہ چینی کرتا ہوں جس کا وعدہ اپنی تحریرات سابقہ میں دے چکا ہوں اس نکتہ چینی میں بالاستقلال تو آپ کا پرچہ نمبر ۵ نشانہ ہوگا مگر اس کے ضمن میں آپ کی جملہ تحریرات سابقہ کا جواب آجائے گا۔ بحول اللّٰہ و قوّتہ۔
    آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ جو تعامل میں آچکا ہے اس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں یہ حصہ بلاشبہ صحیح ہے مگر اس کی صحت نہ روایت کی رو سے ہے بلکہ تعامل کے ذریعہ سے۔ دوسرا وہ حصہ جس پر تعامل نہیں پایا گیا یہ حصہ یقیناً صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا مدار صرف اصول روایت پر ہے اور اصول روایت سے صحت کا ثبوت اور کامل اطمینان نہیں ہوسکتا ہاں اس حصہ کی قرآن کریم سے موافقت ثابت ہو تو یہ بھی یقیناً صحیح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اس قول سے ثابت ہے اور یہ ہی جتانا اس وقت مدنظر ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایت اور قوانین درایت سے محض ناواقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے ناآشنا۔
    آپ یہ نہیں جانتے کہ ضروریات دین اصطلاح علماء اسلام میں کس کو کہتے ہیں اور تعامل کی کیا حقیقت ہے اور وہ جملہ احادیث معاملات احکام سے متعلق کیونکر ہوسکتا ہے اور اہل اسلام کے نزدیک اصول تصحیح روایت کیا ہیں۔
    خاکسار ہر ایک امر سے آپ کو اور دیگر ناواقف ناظرین کو مطلع کر کے یہ جتانا چاہتا ہے کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ ناواقفی پر مبنی ہے اور وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہوسکتا۔
    پس واضح ہو کہ ضروریات دین وہ کہلاتے ہیں جو دین سے ضرورۃً یعنی بداہۃً اور بلافکر معلوم ہوں اور نہ وہ امور جن کی طرف دین کی ضرورت یعنی حاجت متعلق ہو۔
    ضرورت سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت کی کوئی حدیث خارج و مستثنیٰ نہیں ہوتی۔ آنحضرت ؐ نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت و ضرورت کے متعلق ہے اس صورت میں دوسرا حصہ احادیث جس کو آپ یقیناً صحیح نہیں جانتے ضروریات دین میں داخل ہوجاتا ہے۔
    اگرآپ یہ کہیں کہ ضروریات سے میری مراد بھی وہی ہے جو تم نے بیان کی ہے تو پھر جملہ احکام معاملات و عقود کو ضروریات میں شامل کرنا غلط قرار پاتا ہے۔
    احکام متعلقہ معاملات بلکہ عبادات جملہ ایسے نہیں جو بداہۃً دین سے ثابت ہوں کسی حکم یا امر پر تعامل کی صورت یہ ہے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 49
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/49/mode/1up
    کہ ؔ وہ حکم عام لوگوں کے عمل میں آجاوے اس کی مثال ہم احکام شرع سے صرف ان اتفاقی امور کو ٹھہرا سکتے ہیں جو جملہ اہل اسلام میں علیٰ سبیل الاشتراک عمل میں آگئے ہیں۔
    جیسے نماز یا حج یا صوم۔ کہ اتفاقی ارکان ہیں۔
    بلالحاظ ان کے قیودات و خصوصیات کے کہ نماز رفع یدین والی ہو یا بلارفع اور اس میں ہاتھ سینہ پر باندھے جاویں یا زیر ناف یا ارسال یدین عمل میں آوے وعلیٰ ھٰذا القیاس اور اگر ان کے قیود و خصوصیات کا لحاظ کیا جاوے تو ان پر تعامل کا ادّعا محض غلط ہے اور کوئی فریق یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ہمارا طریق تعامل عام اہل اسلام سے ثابت ہے۔
    ان امور پر تعامل عام ہوتا تو ان میں اختلاف ہرگز واقع نہ ہوتا جو آپ کے نزدیک وضع و عدم صحت کی دلیل ہے۔لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ احادیث کا حصہ متعلق عبادات و معاملات تعامل سے ثابت ہے محض ناواقفی پر مبنی ہے۔
    اور اگر تعامل سے آپ کی مراد خاص خاص فرقوں یا شہروں یا اشخاص کا تعامل ہے اور اس تعامل کو قطعی صحت کی دلیل سمجھتے ہیں تو آپ پر سخت مصیبت پڑے گی کیونکہ یہ تعامل خاص ہر ایک قوم و شہر و مذہب کا باہم مختلف ہے یہ موجب یقین ہو تو چاہئے کہ جملہ احادیث مختلفہ جن پر یہ تعامل ہائے خاص خاص پائے جاتے ہیں یقینی اور صحیح ہوں اور یہ امر نہ صرف آپ کے مذہب کے بالکل مخالف ہے بلکہ حق اور نفس الامر کے بھی مخالف ہے۔ اصول تصحیح روایت محققین اہل اسلام کے نزدیک یہ نہیں جو آپ نے قرار دیا ہے کہ وہ تو افق قرآن ہے یا تعامل امت بلکہ وہ اصول شروط صحت ہیں جن کا مدار چار امور سے عدل۱؂ ۔ ضبط۲؂ عدم۳؂ شذوذ و عدم علت ۴؂ ۔ ان شروط میں جو آپ نے سلامت فہم راوی کو داخل کیا ہے یہ بھی آپ کی فنون حدیث سے ناواقفی پر دلیل ہے۔
    فہم معنے ہر ایک حدیث کی روایت کیلئے شرط نہیں ہے بلکہ خاص کر اس حدیث کی روایت کیلئے شرط ہے جس میں بالمعنٰی حکایت ہو اور جس حدیث کو راوی بعینہٖ الفاظ سے نقل کردے اس میں راوی کے فہمِ معانی کو کوئی شرط نہیں ٹھہراتا۔ کتب اصول حدیث شرح نخبہ وغیرہ ملاحظہ ہوں۔
    اس کے جواب میں شاید آپ کہیں گے کہ احادیث سب ہی بالمعنے روایت ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کے مقتدا سید احمد خاں نے(جس کی تقلید سے آپ نے قرآن کو معیار صحت احادیث ٹھہرایا ہے چنانچہ عنقریب ثابت ہوگا) کہا ہے تو اس پر آپ کو اہل حدیث جو فن حدیث سے واقف ہیں محض ناواقف کہیں گے۔
    سلف نے احادیث نبویہ کو بعینہٖ الفاظ سے روایت کیا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں شک راوی موجود ہے اگر صحابہ وغیرہ رواۃ سلف میں حکایت بالمعنے کا رواج ہوتا تو دو ہم معنے لفظوں کو جیسے ’’مومن‘‘ و ’’ مسلم ‘‘
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 50
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/50/mode/1up
    شکؔ سے بلفظ ’’مومن اور مسلم‘‘ روایت نہ کیا جاتا۔ اس مسئلہ کی تحقیق کتب اصول فقہ و اصول حدیث میں ہے۔ اور ہماری تالیفات اشاعۃ السنہ وغیرہ میں آپ ان کو ملاحظہ فرماویں۔
    آپ شروط صحت کی تحقیق و ثبوت کو شکی فرماتے ہیں و بناءً علیہ صرف اصول روایت کو مثبت صحت قرار نہیں دیتے یہ امر بھی فن حدیث سے آپ کی ناواقفی کا مثبت ہے۔ مہربانِ من شروط کی تحقیق و ثبوت میں محدثین نے ایسی تحقیق کی ہے کہ اس سے علم طمانیت حاصل ہوجاتا ہے۔
    محدثین نے ہر ایک راوی کے تحقیق حال میں کہ وہ کب پیدا ہوا کہاں کہاں سے سفر کر کے اس نے حدیث حاصل کی کس کس سے حدیث سنی کس کس نے اس سے حدیث سنی کون سی حدیث میں وہ منفرد رہا کس حدیث میں اس سے وہم ہوگیا ہے اور کس شخص نے اس کی حدیث کو بلحاظ تحقق شروط صحیح کہا۔ کس نے ضعیف قرار دیا ہے وغیرہ وغیرہ دفتروں کے دفتر لکھ دیئے ہیں وبناءً علیہ ہر ایک حدیث کی نسبت جس کو ائمہ محدثین خصوصاً امامین ہمامین بخاری و مسلم نے صحیح قرار دیا ہے اور عام اہل اسلام نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا ہے ظن غالب صحت حاصل ہوجاتا ہے بلکہ ابن صلاح وغیرہ ائمہ حدیث کے نزدیک شیخین کی اتفاقی حدیث جس پر کسی نے کچھ کلام نہیں کیا مفید یقین ہے۔ آپ یقین کو مانیں خواہ نہ مانیں ظن غالب سے تو انکار نہیں کرسکتے کیونکہ اپنی تحریرات میں اس کا اقرار کرچکے ہیں۔
    اس پر جو آپ نے باستدلال آیت ۱؂ اعتراض کیا ہے وہ بھی آپ کے اصول دین سے ناواقفی پر مبنی ہے۔ مہربانِ من ظن غالب عملیات میں لائق اعتبار ہے اور قرآنِ مجید کی آیت مذکورہ اور دیگر آیات میں جہاں ظن کے اتباع سے ممانعت وارد ہے اس سے اعتقاد کے متعلق ظن مراد ہے۔ کیا آپ کو یہ مسائل معلوم نہیں یا کسی عالم سے نہیں سنے کہ اگر نماز میں بھول ہوجاوے کہ رکعت ایک پڑھی ہے یا دو تو نمازی تحرّ ی کرے اور جو ظن غالب ہو اس پر عمل کرے یا اگر وضو کے ٹوٹ جانے میں شک واقع ہو تو ظن غالب پر عمل کرے۔ اسی وجہ سے جملہ علماء اسلام کا حنفی ہیں یا شافعی‘ اہلحدیث ہیں خواہ اہل فقہ اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے حالانکہ خبر واحد ہر ایک کے نزدیک موجب ظن ہے نہ مثبت یقین۔ اسی وجہ سے خاص کر صحیحین کی نسبت علماء اسلام نے جن میں مقلدو مجتہد فقیہ و محدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی احادیث واجب العمل ہیں اور امام ابن صلاح نے فرمایا کہ ان کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں لہٰذا ان کے مضمون پر اعتقاد بھی واجب ہے اور اکابر ائمہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی قسم کھالے کہ جو احادیث صحیحین میں ہیں وہ صحیح نہ ہوں تو اس کی عورت پر طلاق ہے تو اس کی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی اور وہ اس قسم میں جھوٹا نہیں ہوتا امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے اتفق العلماء رحمھم اللّٰہ تعالی علی ان اصح الکتب بعد القرآن العزیز الصحیحان البخاری و مسلم و تلقتھم الامت بالقبول و کتاب البخاری اصحھما صحیحا و اکثرھما فوائد و معارف
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 51
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/51/mode/1up
    ظاھرؔ ۃ وغامضۃ وقدصح ان مسلمًا کان ممن یستفید من البخاری و یعترف بانہ لیس لہ نظیر فی علم الحدیث وھذا الذی ذکرنا من ترجیح کتاب البخاری ھوالمذھب المختار الذی قالہ الجماھیر واھل الاتقان والحذق والغوص علی اسرار الحدیث۔ شیخ الاسلام حافظ ذہبی نے تاریخ اسلام میں فرمایا ہے اما جامع البخاری الصحیح فاجل کتب الاسلام وافضلھا بعد کتاب اللہ وھو اعلٰی فی وقتنا یعنی سنۃ ثالث عشر بعد سبع ماءۃ و من ثلا ثین سنۃ یفرحون العلماء بعلو سماعہ فکیف الیوم فلورحل شخص لسماعہ من الف فرسخ لماضاعت رحلتہ۔ قسطلانی نے شرح بخاری میں کہا ہے واما تالیفہ یعنی البخاری فانھا سارت مسیر الشمس ودارت فی الدنیا فماجحد فضلھا الا الذی یتخبطہ الشیطان من المس واجلھا واعظمھا الجامع الصحیح ۔ شیخ حافظ ابن کثیر نے کتاب البدایہ و النہایہ میں فرمایا ہے وکتابہ الصحیح یسستسقی بقرائتہ الغمام واجمع علی قبولہ و صحتہ مافیہ اھل الاسلام۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃاللہ البالغہ میں فرمایا ہے۔ا ماالصحیحان فقد اتفق المحدثون علی ان جمیع ما فیھما من المتصل المرفوع صحیح بالقطع وانھما متواتران الی مصنفیھما وانہ کل من یھون امرھمافھو مبتدع متبع غیر سبیل المومنین۔ اور صاحب درا سات نے فرمایا ہے وکونھما اصح کتاب فی الصحیح المجرد تحت ادیم السماء وانھما اصح الکتب بعد القرآن العزیز باجماع من علیہ التعویل فی ھذا العلم الشریف قاطبتہ فی کل عصر واجماع کل فقیہ مخالف و موافق۔ امام ابن صلاح نے فرمایا ہے وھذا القسم یعنی المتفق علیہ مقطوع بصحتہ والعلم الیقینی النظری واقع بہ خلافًا لقول من نفی ذلک محتجًا بانہ لایفیدالا الظن وانما تلقتہ الامت بالقبول لانہ یجب علیہ العمل بالظن والظن قد یخطئ وقدکنت امیل الی ھذا واحسبہ قویا ثم بان لی ان المذھب الذی اخترناہ اولاھوالصحیح لان الظن من ھو معصومًا من الخطاء لایخطی والامۃ فی اجماعھا معصومۃ من الخطاء لھذا کان الاجماع المبنی علی الاجتھاد حجتہ مقطوعۃ بھا واکثر اجماعات العلماء کذالک۔ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا ہے۔ قد قال امام الحرمین لوحلف انسان بطلاق امرأتہٖ ان ما فی کتابی البخاری و مسلم مما حکما بصحۃ من قول النبی صلعم لمالزمتہ الطلاق ولاحنثتہ لاجماع علماء المسلمین علی صحتھما۔۱؂
    ؂ ۔ مولوی صاحب کو عجلت اور شدت طیش وغضب شاید فرصت نہیں لینے دیتی کہ وہ اپنے بیانات کے تناقض پر غور کریں اور سوچیں کہ جو الزام وہ اپنے حریف پر لگاتے ہیں وہ خود انہیں پر لگتا ہے۔ آپ جابجا شکایت کرتے ہیں کہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 52
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/52/mode/1up
    اسؔ مضمون کے اقوال بکثرت موجود ہیں جن کی نقل سے تطویل ہوتی ہے اس کے مقابلہ میںآپ کا یہ کہنا کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے۔ یہ محض ایک عامیانہ بات ہے، عامی لوگ جن کی تعداد مردم شماری کے کاغذات سے آپ نے بتائی ہے بخاری کو نہ مانتے ہوں تو اس کا اعتبار نہیں ہے عالم حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے انکار نہیں کرتے۔ آپ اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین سے نام بتادیں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صحیح یا موضوع کہا ہو۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث صحیح بخاری کو ان پر اطلاع پاکر چھوڑ دیا۔ یہ بھی ایک عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم صاحب کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی۔ مہربانِ من امام اعظم صاحب ڈیڑھ سو سنہ ہجرت میں انتقال کرکے داخل فردوس ہوئے اور صحیح بخاری دو سو سنہ کے بعد تالیف ہوئی۔۲؂ صحیح بخاری امام صاحب کے وقت میں تالیف ہوتی تو امام اعظم صاحب اس کو آنکھ پر رکھ لیتے۔ امام شعرانی میزان کبریٰ کے صفحہ۷۲۷ وغیرہ میں فرماتے ہیں۔ اعتقادناواعتقاد کل منصف فی الامام ابی حنیفہ رضی اللہ عنہ بقرینۃ ما
    مرزا صاحب غیر ضروری طویل بیانات اور نقل آیات سے مضمون کو بڑھاتے ہیں حالانکہ خود بے جا اور بے محل صحیحین خصوصًا صحیح بخاری کی مدح پر خامہ فرسائی کی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اپنے عوام ہم خیالوں کو دھوکا دینے کی راہ نکالیں اور انہیں اشتعال دلائیں کہ مرزا صاحب صحیح بخاری کو نہیں مانتے۔ سنئے مولوی صاحب! آپ نے خود صحیحین کی صحیح قرار دادہ حدیث پر بلحاظ صحت ظن غالب کا لفظ اطلاق کیا ہے اور بس۔
    حضرت مرزا صاحب بھی اسی کے قائل ہیں چنانچہ مضمون۶؂ میں جو آخری اور قطعی مضمون ہے فرماتے ہیں۔ ’’ اور ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صحیح سمجھتے ہیں۔‘‘ اب فرمائیے نزاع کس بات کی ہے؟ فیصلہ شد۔
    مولوی صاحب شدت بغض کی وجہ سے وھو علیھم عمیً کا مصداق ہورہے ہیں! افسوس آنکھیں کھلی ہیں پر دیکھتے نہیں۔ کہاں مرزا صاحب نے بخاری کو امام صاحب کا معاصر یا اُن سے مقدم بیان کیا ہے۔ جس سے مستنبط ہوسکتا ہے کہ ان کی جامع امام صاحب کے وقت موجود تھی! ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حدیثیں جو مجموعی طور پر جامع بخاری میں مدوّن ہیں متفرق طور پر امام صاحب کے عصر میں اور ان سے قبل بھی موجود تھیں اور یہ کہنا صحیح ہے۔ کوئی منصف مولوی صاحب سے پُوچھے (ہمیں امید ہے کہ پوچھنے والے ضرور پوچھیں گے کیونکہ مولوی صاحب کی ہمہ دانی کا پردہ تو اب اور اس میدان میں پھٹا ہے۔ آگے تو اس گلستان والے بدرقہ کی طرح گھر کی چاردیواری میں پہلوان بنے بیٹھے تھے) کہ اتنی دراز نفسی آپ کی کس مصرف کی ہے؟ جب اصل بنا ہی خام ہے تو اس پر جو متفرع ہوا سب ہی نکما اور فضول ٹھہرا۔ یہ نکتہ چینی مرزا صاحب کے کس بیان کے متعلق ہے؟ فافہم۔ ایڈیٹر۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 53
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/53/mode/1up
    رویناؔ انفا عنہ من ذم الرای والتبری منہ ومن تقدیمہ النص علی القیاس انہ لو عاش حتّٰی دونت احادیث الشریعت بعد رحیل الحفاظ فی جمعھا من البلاد والثغور والظفر بھا لاخذ بھا و ترک کل قیاس کان قاسہ وکان القیاس قل فی مذھبہ کما قل فی مذھب غیرہ بالنسبت الیہ لکن لما کانت ادلۃ الشریعت مفرقۃ فی عصرہ مع التابعین و تابع التابعین فی المدائن و القریٰ والثغور کثر القیاس فی مذھبہ بالنسبت الی غیرہ من الائمۃ ضرورۃ لعدم وجود النص فی تلک المسائل حتی قاس فیھا بخلاف غیرہ من الائمۃ فان الحفاظ قد رحلوا فی طلب الاحادیث و جمعھا فی عصرھم من المدائن والقری و دونوھا فجادبت احادیث الشریعت بعضھا بعضا فھٰذاکان سبب کثرۃ القیاس فی مذھبہ و قلتہ فی مذاہب غیرہ۔ انتھٰی۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ کتب احادیث امام ابوحنیفہ کے بعد تالیف ہوئیں۔ امام صاحب ان احادیث کو پاتے تو ضرور قبول فرماتے۔ اور اس سے پہلے ایک جگہ فرماتے ہیں فلو ان الامام ابا حنیفۃ ظفر بحدیث من مس فرجہ فلیتوضا لاخذبھا۔ واضح رہے کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے بلکہ اس سے کم مرتبہ کتب سنن میں ہے۔ اس تحقیق سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اہل حدیث کا صحیحین کو بلاوقفہ و نظر واجب العمل سمجھنا تقلید بے دلیل نہیں ہے بلکہ اس میں ان دلائل و اصول کا اتباع ہے جو تصحیح حدیث میں مرعی رکھے گئے ہیں۔ اجماع مخالفین و موافقین جس کو مخالف و موافق نقل کرتے ہیں ان احادیث کی صحت پر بڑی روشن دلیل ہے آپ اجماع کے لفظ سے گھبرا تے ہیں تو اس کی جگہ تلقی و تداول امت کو جو تعامل و توارث کا ہموزن ہے قبول کریں اور یقین کے ساتھ مان لیں کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم پر جملہ فرقہائے اہل سنت کا عمل واستدلال چلا آیا ہے اس پر جو آپ کا یہ سوال ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم مسلمانوں میں اتفاق کے ساتھ مسلم چلے آئے ہیں تو بعض علماء حنفیہ وغیرہ نے ان احادیث کا خلاف کیوں کیا اور سبھی نے ان کے مطابق کوئی مذہب کیوں اختیار نہ کرلیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خلاف فہم معانی میں اختلاف پر مبنی ہے یا بعض وجوہات ترجیح پر آپ کتب اصول و فروع اسلام میں نظر نہیں رکھتے آپ فتح القدیر کو جو حنفی مذہب کی مشہور کتاب ہے یا برہان شرح مواہب الرحمن کو جو عرب و عجم میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ایک دوروز مطالعہ کرکے دیکھیں کہ ان میں کس عزت و ادب کے ساتھ صحیحین کی حدیثوں سے استدلال کیا گیا ہے اور جس حدیث سے اختلاف کیا ہے اس کو ضعیف سمجھ کر اختلاف کیا ہے؟ یا اس کے معانی میں اختلاف کرکے یا اور وجوہات خارجیہ سے دوسری احادیث کو ترجیح دے کر اختلاف کیا ہے؟
    آپ فرماتے ہیں کہ احادیث پرکھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر ہمارے پاس کوئی معیار نہیں۔ محدثین نے گو
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 54
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/54/mode/1up
    معیاؔ ر صحت قوانین روایت کو ٹھہرایا ہے مگر انہوں نے اس کو کامل معیار نہیں کہا اور نہ قرآن کریم سے مستغنی کرنے والا بتایا ہے اور اس دعوے کی تائید میں متعدد تحریروں میں متعدد آیات کو ذکر کیا ہے جن میں قرآن مجید کے محامد علیہ و فواضل سنیہ مسلمہ اہل اسلام کا ذکر ہے۔
    مہربانِ من محدثین کیا کوئی محقق مسلمان حنفی یا شافعی مقلد یا غیر مقلد تصحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھیراتا اور یہ نہیں کہتا کہ جب کسی حدیث کی صحت پرکھنی ہو تو اس کو قرآن کریم کی موافقت یا مخالفت سے صحیح یا غیر صحیح قرار دیں بلکہ معیار تصحیح وہ قوانین روایت ٹھہراتے ہیں کہ از انجملہ کسی قدر بیان ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ معاذ اللہ ثم عیاذاً باللہ یہ نہیں کہ قرآن مجید مسلمانوں کا حکم و مہیمن نہیں یا وہ امام حبل المتین نہیں۔ کوئی مسلمان جو قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے یہ نہیں سمجھتا اور اگر کوئی ایسا سمجھے تو وہ سخت کافر ہے ۔ابوجہل کا بڑا بھائی نہ چھوٹا کیونکہ ابوجہل نے تو قرآن مجید کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا یہ کافر قرآن پر ایمان لا کر اس کو اپنا نہیں بناتا اور حکم نہیں سمجھتا۔ ایسا شخص درحقیقت قرآن پر ایمان نہیں رکھتا اگر بظاہر مدعی ایمان ہو۔* آپ نے ناحق و بلاضرورت ان آیات قرآنیہ کو ہمارے سوال کے جواب میں پیش کیا جن میں قرآن مجید کے یہ محامد علیہ وارد ہیں اور ان کے بے ضرورت نقل و بیان سے اپنی اور ہماری اوقات کا خون کیا بلکہ توافق قرآن کو معیار صحت نہ ٹھہرائے اور اس باب میں اصول روایت کی طرف رجوع کرنے کی دو وجہ ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ جو احادیث ان اصول روایت سے صحیح ہوچکی ہوں وہ خودبخود قرآن مجید کے موافق ہوتی ہیں اور ہرگز ہرگز وہ قرآن کے مخالف نہیں ہوتیں۔ قرآن امام ہے اور وہ احادیث خادم قرآن اور اس کی وجوہات کے مفسر و مبین اور ان وجوہات معانی قرآن کے جو کم فہم و قاصر الفکر لوگوں کے خیال میں متعارض معلوم ہوتی ہیں فیصلہ کرنے والی ہیں جس حالت میں ایک حدیث صحیح دوسری حدیث صحیح کے مخالف نہیں ہوتی اور ان کی باہم تطبیق ممکن ہے۔ چنانچہ امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے۔ لااعرف انہ روی عن النبی صلعم حدیثان باسنادین صحیحین متضادین فمن کان عندہ فلیاتینی بہ لأولف بینھما تو پھر کسی حدیث صحیح کا مخالف قرآن ہونا کیونکر ممکن ہے۔ جو شخص کسی حدیث صحیح کو قرآن کے مخالف سمجھتا ہے وہ نافہم ہے اور اپنی نافہمی سے حدیث کو مخالف قرآن قرار دیتا ہے۔ محققین اسلام و محدثین و فقہا ایسے نہیں ہیں کہ صحیح حدیث کو مخالف قرآن سمجھیں اس لئے ان کو تصحیح حدیث کیلئے اس امر کی ضرورت نہیں ہے کہ موافقت یا مخالفت قرآن سے اس کا امتحان کریں یہی وجہ ہے
    حاشیہ* مولوی صاحب کے اس ایمان بالقرآن پر ٹھیک وہی پنجابی مثل صادق آتی ہے’’ پینچاں دا آکھیا سرمتھے تے پر پرنالہ اساں اوتھے ای رکھناں اے‘‘۔
    اس زبانی ایمان سے کیا فائدہ جب کہ عملدرآمد اس کے برخلاف ہے۔ سبحان اللہ !بے شک قریب قیامت کا زمانہ ہے اور ضرور تھا
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 55
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/55/mode/1up
    کہؔ علماء اسلام قاطبۃً حدیث کی صحت قوانین روایت سے ثابت کرتے ہیں اور بعد تسلیم صحت و حصول فراغ از تصفیہ صحت اس حدیث کے قرآن سے تطبیق کرتے ہیں وہ بھی ایسے طور پر کہ امام قرآن ہی رہے اور احادیث اس کی خادم و مفسر و مترجم و فیصلہ کنندہ وجوہ اختلاف درنظر اشخاص قاصر الانظاررہیں۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ صرف توافق مضمون کسی حدیث کا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں اس کے مقابلہ میں جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن خود اپنا مفسر ہے حدیث اس کی مفسر نہیں ہوسکتی اس سے بھی آپ کی ناواقفیت اصول مسائل اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے خود حدیث کو اپنا خادم ومفسر قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض احکام ایسے طور پر بیان کئے ہیں کہ وہ بلاتفصیل صاحب حدیث صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی مسلمان مخاطب قرآن کی سمجھ میں نہ آتی اور نہ وہ دستور العمل ٹھہرائی جاسکتی ایک حکم نماز ہی کودیکھ لو قرآن میں اس کی نسبت صرف یہ ارشاد ہے- اَقیمو الصلٰوۃ اور کہیں اس کی تفسیر نہیں ہے کہ نماز کیونکر قائم کی جائے صاحب الحدیث آنحضرت صلعم(بابی ھو وامی) نے قولی و فعلی حدیثوں سے بتایا کہ نماز یوں پڑھی جاتی ہے تو وہ حکم قرآن سمجھ و عمل میں آیا۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیفیت نماز تعامل سے ثابت ہے اس پر سوال کیا جائے گا کہ تعامل کب سے شروع ہوا اور جس طریق پر تعامل ہوا وہ طریق کس نے بتایا۔
    کہ مسیح موعود اس وقت آتا۔ قرآن کے نام سے چڑ اور ضد پیدا ہوتی ہے وہ جو دوسروں کو قدم قدم پر بے باکی سے مشرک کہتے تھے اب خود شرک بالقرآن کی مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں حق تو یہ تھا اور ادب کی غایت یہ تھی کہ اس جملہ کو سن کرکہ قرآن معیار احادیث کی صحت کا ہے۔ تادب قرآن کی نظر سے توقف کرتے کونسی چیز انہیں ستاتی ہے کونسی پیش بندی ان کی بغلوں میں گدگدی کرتی ہے کہ وہ انسانی ہاتھوں کی فرسودہ اور غیر معصوم کتابوں کی حمایت کی خاطر کلام اللہ شریف کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ گئے ہیں۔ واویلا! وامصیبتاہ ! ۱؂ اب عامہ مقلدہ کی کیا شکایت ہے جو کہا کرتے ہیں کہ قرآن کے معنے کرنے اور صرف قرآن پر چلنے سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ اے مولوی صاحب کاش آپ مینڈک کی طرح کنوئیں سے باہر نکل کر دنیا کے جدیدہ علوم اور مذاہب عالم اور ان کے اسلام پر اعتراضات سے واقف ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آپ اس اصول سے جو قرآن کو حدیث سے موخر کررہے ہیں کیسی خرابی اسلام میں پیدا کررہے ہیں اور اسلام کو لاجواب اعتراضات کا مورد بنارہے ہیں حضرت وہ قرآن کریم ہے جسے ہاتھ میں لے کر ہم مذاہب باطلہ عالم کا مقابلہ کرسکتے ہیں نادان دوستوں سے خدا بچائے۔(ایڈیٹر)
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 56
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/56/mode/1up
    اسؔ کے جواب میں اخیر یہی کہو گے کہ حدیث یا صاحب حدیث نے۔ دوسرا یہ سوال کہ وہ تعامل کن کن صورتوں پر ہوا ہے اتفاقی پر یا اختلافی پر ۔صرف اتفاقی صورتوں میں اس کو منحصر کرو گے تو آپ کو نماز پڑھنا مشکل ہوجائے گا۔ اختلافی صورتوں پر تعامل کا دعویٰ کرو گے تو اختلاف موجب تساقط ہوگا یا آخر اس اختلاف کا تصفیہ احادیث صحیحہ سے ہوگا جو آپس میں متوافق ہوسکتی ہیں۔ اب ہم ایک دو ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ کو تعامل کا اشتباہ نہ ہو قرآن کریم نے حرام جانوروں کو(جیسے خنزیر‘ منخنقہ وغیرہ) حرام فرما کر ان کے ماسوا جانوروں کو حلال کردیا ہے۔ آیت ۱؂ الایۃ۔ ۲؂ ملاحظہ ہوں۔
    اور بعض جانوروں کی حرمت کا بیان اپنے خادم حدیث یا صاحب الحدیث صلعم کے حوالہ کردیا۔ وبناء علیہ ا س نے ظاہر کردیا کہ علاوہ ان جانوروں کے جن کی حرمت کا بیان قرآن میں ہے گدھا اور درندے حرام ہیں۔ اب فرمایئے اس حکم گدھے اور درندوں کی حرمت کی تفسیر قرآن کریم نے خود کہاں فرمائی ہے اس پر وقوع تعامل کابھی آپ دعویٰ نہیں کرسکتے گدھے وغیرہ درندوں کی حرمت کا اعتقاد یا اس کے استعمال کا ترک کوئی عمل نہیں ہے جس پر تعامل کا ادعا ہوسکے حدیث کو یہ خدمت تفسیر و فیصلہ وجوہات قرآن کریم نے خود عطا فرمائی ہے اور صاحب الحدیث صلعم نے بھی اپنے کلام میں جس کو حدیث کہا جاتا ہے اس خدمت کے عطا ہونے کا اظہار کیاہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ ۳؂ اس مضمون کی آیات قرآن میں اور بہت ہیں مگر ہم آپ کی طرح ان سب کو شمار کر کے تطویل کلام نہیں کرنا چاہتے۔* یعنی اے مسلمانو! جو کچھ
    مولوی صاحب آیتیں نہیں لکھتے تطویل کلام سے ڈرتے ہیں مگر حدیثیں اتنی گن دی ہیں اور ان پر تفریعات اس قدر کی ہیں کہ مبصر اور کلام برمحل کا شیفتہ ملول ہوجاتا ہے۔ اللہ اللہ! من ضحک ضحک خدا جانے ہمارے شیخ صاحب کی دانش کو کیا ہوگیا ہے کوئی ان سے پوچھے اس قدر نقل اقوال سے آپ کا مدعا کیا ہے کیایہ سب حدیثیں تعامل کے سلسلہ کی نہیں ہیں؟ اور یہ سب اقوال مرزا صاحب کی تقسیم احادیث کی مؤید نہیں؟ مولوی صاحب آپ کا سرمایہ علمی یہی نقل اقوال ہے اگر اقوال آپ کے مضمون سے کوئی نکال لے تو غالباً آپ کا طبع زاد اصلی مضمون چند سطریں رہ جاوے۔ فضول گوئی سے باز آیئے اور سچے ولی اللہ کے حضور میں(جسے آپ پہلے بصدق دل مان چکے ہیں) زانوئے استفاضہ واستفادہ ٹیک کر بیٹھئے۔ انصاف سے دیکھئے کیا وسیع مضمون لکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم و تفہیم سے لکھا ہے نہ یہ کہ زید و عمر کی کتابوں اور بہمان و فلاں کے اقوال سے اپنے مضمون کو بے قدر کیا ہو۔ اس مجدد کا سرمایہ اور گل سرسَبَد فرقان حمید اور قرآن مجید ہے وہ اسی سے لیتا ہے اور اسی سے لے کر دیتا ہے وہ ان علموں کو جن پر آپ ایسے لوگوں کو ناز ہے اور جن کا دوسرا نام نقل اقوال علماء ہے حقارت سے دیکھتا ہے اور فرماتا ہے۔ علم آں بود کہ نور فراست رفیق اوست۔ ایں علم تیرہ رابہ پشینرے نمے خرم۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 57
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/57/mode/1up
    رسوؔ ل صلی اللہ علیہ و سلم تم کو دے۔ قرآن ہو خواہ وحی غیر متلو حدیث وہ لے لو اور جس سے روکے یعنی جو حکم کسی چیز کے عدم استعمال کی نسبت دے گو وہ حکم قرآن میں نہ ہو اس سے رک جاؤ۔ اس ارشاد قرآن کی ہدایت و شہادت سے حضرت ابن مسعود نے وشم(جسم کو گود نے) پر *** کی و عید کو جو صرف حدیث میں وارد ہے قرآن میں داخل قرار دیا۔ اس پر ایک عورت اُمّ یعقوب نے اعتراض کیا کہ یہ *** قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جس حالت میں *** حدیث میں وارد ہے تو بحکم آیت ۱؂یہ قرآن کریم میں وارد ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔ عن عبداللہ قال لعن اللہ الواشمات والمستوشمات۲؂ والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات لخلق اللہ قال فبلغ ذٰلک امرأۃ من بنی اسد یقال لھا ام یعقوب وکانت تقرأ القراٰن فاتتہ فقالت ماحدیث بلغنی عنک انک *** الواشمات والمستوشمات۲؂ والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات لخلق اللہ۔ فقالؔ عبداللہ ومالی لا العن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وھو فی کتاب اللہ عزوجل فقالت امرأۃ لقد قرات مابین لوحی المصحف فماوجدتہ فقال لئن کنت قراتیہ لقد وجدتیہ قال اللہ عزّوجل ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔جناب صاحب الحدیث صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی ارشاد قرآنی کے موافق ارشاد کیا ہے وعن المقداد ابن معدیکرب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الا انی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ الایوشک رجل شبعان علی اریکۃ یقول علیکم بھذا القران فماوجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وانما حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کما حرم اللہ الا لایحل لکم الحمارالاھلی ولاکل ذی ناب من اسباع ولا لقطۃ معاھدالا ان یستغنی عنھا صاحبھا ومن نزل بقوم فعلیھم ان یقروہ فان لم یقرؤہ فلہ ان یعقبھم بمثل قرأہ رواہ ابوداؤد ۔طیبی نے شرح مشکوٰۃ میں کہا ہے فی ھذا الحدیث توبیخ و تقریع ینشأ من غضب عظیم علی من ترک السنۃ وما عمل بالحدیث استغنأ عنھا بالکتٰب۔ اس حدیث کو دارمی نے بھی نقل کیا ہے اور اس سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللّٰہ۔یعنی حدیث ان وجوہات اختلافات قرآن کا فیصلہ کرنے والی ہے جو کتاب کے معانی مختلفہ سے لوگوں کے خیال میں آتے ہیں پھر امام یحییٰ ابن ابی کثیر سے نقل کیا ہے قال السنۃ قاضیۃ علی القراٰن ولیس القراٰن بقاضٍ علی السنۃ یعنی حدیث قرآن کے وجوہات اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور قرآن ایسا نہیں کرتا کہ وہ حدیث کے وجوہ اختلاف کا فیصلہ کرے یعنی اس لئے کہ خدمت خادم کا کام ہے نہ مخدوم کا۔ اور دارمی نے حسانؓ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 58
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/58/mode/1up
    سے ؔ نقل کیا ہے۔ قال کان جبرئیل ینزل علی النبی صلعم بالسنۃ کماینزل علیہ بالقراٰن یعنی حضرت جبرئیل جیسا کہ آنحضرت صلعم پر قرآن اتارتے ویسے ہی حدیث۔ اور سعید بن جبیرؓ سے نقل کیا ہے انہ حدث یوما بحدیث عن النبی صلعم فقال رجل فی کتاب اللہ مایخالف ھٰذا‘ قال لا ارانی احدثک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و تعرض فیہ بکتاب اللہ کان رسول اللہ صلعم اعلم بکتاب اللّٰہ منک۔
    امام شعرانی نے منہج المبین میں کہا ہے اجتمعت الاُ مَّۃ علی ان السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللہ۔ ان ہدایات قرآنی و اقوال نبوی و آثار سلف کے مقابلہ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہے وہ حدیث زندیقوں یعنے چھپے۔۔۔ مرتدوں کی بنائی ہوئی ہے اور اگر اس حدیث کو بطور فرض محال صحیح فرض کر لیا جائے تو وہ خود اپنے مضمون کے مکذب و مبطل ہے۔ہم اس حدیث کے رو سے پہلے اسی کو قرآن پر پیش کرتے ہیں تو بحکم آیت ومااٰتاکم الرسول وغیرہ اس کو موضوع پاتے ہیں یہ بات میں صرف اپنی رائے سے نہیں کہتا بلکہ ائمہ محدثین و فقہاء اصولیین کی کتابوں میں پاتا ہوں۔
    کتاب تلویح میں ہے وقد طعن فیہ المحدثون بان فی روایۃ یزید بن ربیعۃ وھو مجھول۔ وترک فی اسنادہ واسطۃ بین الاسعث وثوبان فیکون منقطعا۔ وذکر یحي بن معین انہ حدیث وضعتہ الذنادقۃ ۔ مولانا بحر العلوم نے شرح مسلّم الثبوت میں فرمایا ہے قال صاحب سفر السعادت انہ من اشدّالموضوعات۔ قال الشیخ بن حجر العسقلانی قدجاء بطرق لاتخلوعن المقال وقال بعضھم قدوضعتہ الذنادقۃ وایضا ھو مخالف لقولہ تعالٰی مااٰتاکم الرسول فخذوہ فصحت ھذا الحدیث لیستلزم وضعہ وردہ فھو ضعیف مردود۔
    ابن طاہر حنفی صاحب مجمع البحار تذکرہ میں فرماتے ہیں وما اوردہ الاصولیون فی قولہ اذاروی عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافقہ فاقبلوہ وان خالفہ ردوہ قال الخطابی وضعتہ الزنادقۃ ویدفعہ حدیث انی اوتیت الکتب وما یعدلہ ویروی ومثلہ وکذاقال الصغانی وھوکما قال انتھٰی۔ قاضی محمد بن علی الشو کانی فواید مجموعہ میں فرماتے ہیں۔حدیث اذاروی عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فاذا وافقہ فاقبلوہ وان خالفہ فردوہ۔ قال الخطابی وضعتہ الذنادقۃ ویدفعہ انی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ وکذا قال الصغانی قلت وقد سبقھما الی نسبتہ الی الزنادقۃ ابن
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 59
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/59/mode/1up
    معینؔ کماحکاہ الذھبی علی ان فی ھذاالحدیث الموضوع نفسہ مایدل علی ردہ لانا اذا عرضناہ علی کتاب اللہ خالفہ ففی کتاب اللہ عزوجل ما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔ ونحوہ من الایات انتھٰی۔اور جو حدیث حارث اعورآپ نے پیش کی ہے وہ بھی اولاً صحیح نہیں جس کتاب مشکوٰۃ سے آپ نے وہ حدیث نقل کی ہے اس میں اس کا جرح موجود ہے جس کو آپ نے سرقہ و خیانت سے نقل نہیں کیا اس میں منقول ہے۔ قال الترمذی ھذا حدیث اسنادہ مجھول و فی الحارث مقال۔ایسا ہی تقریب التہذیب میں حارث اعور کو مجہول کہا ہے اور اس حارث کا حال ہم کتب اسماء الرجال سے بہ تفصیل نقل کریں تو ایک دفتر ہوجائے۔ یہ اعور بھی ایک دجال تھا اور اگر بطور فرض محال اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیں تو اس کے وہ معنی نہیں جو آپ نے بطور تحریف کئے ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ لوگ دلائل شرعیہ یعنی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض رائے والی باتوں میں خوض کریں تو اس فتنہ سے نجات قرآن سے متصور ہے اور احادیث و آثار سابقہ سے ظاہر ہوچکا ہے کہ حدیث بھی مثل قرآن ہے۔ بناءً علیہ اس حدیث کے یہ معنے ہوں گے کہ اس فتنہ سے نجات قرآن و حدیث دونوں کی اتباع سے متصور ہے نہ یہ کہ حدیث نبوی فتنہ ہے اور اس سے نجات مطلوب ہے۔ آپ نے اس حدیث کے ترجمہ میں لفظ احادیث کا ترجمہ لفظ حدیثوں سے کیا اور مسلمانوں کو پورا دھوکہ دیا روئے زمین میں ایسا کوئی مسلمان نہ ہوگا جو اس کلام میں احادیث سے نبوی حدیثیں مراد لیتا ہو۔ یہاں احادیث سے لوگوں کی باتیں مراد ہیں جو اس کے لغوی معنے ہیں اور بہت سی احادیث نبویہ میں یہ لغوی معنے پائے جاتے ہیں ایک حدیث میں ہے ایاک والظن فان الظن اکذب الحدیث۔ ایک حدیث میں ذکر ہے کفابالمرء کذبًا ان یحدث بکل ماسمع یہاں بھی حدیث سے بات کرنا مراد ہے جس حدیث میں بوقت قضاء حاجت دو شخصوں کی آپس میں باتیں کرنے سے ممانعت وارد ہے اس حدیث میں بھی لفظ یحدثان بولا گیا ہے کیا ان سب احادیث میں حدیث سے حدیث نبوی کی تحدیث مراد ہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ نے اس حدیث اعور کے معنے میں تحریف کرنے کے وقت یہ غور نہ کیا کہ حدیث کے لغوی معنے کیا ہیں یا کہ دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ دیا۔ حضرت عمرؓ کے قول حسبنا کتاب اللہ سے جو آپ نے تمسک کیا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہ احادیث صحیح مسلم الصحۃ والثبوت کو چھوڑ کر کتاب اللہ کو کافی سمجھنا چاہئے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں ہمارے پاس سنت صحیحہ نبویہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کو کافی سمجھیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ امر ناممکن ہے کہ قرآن کریم میں اس کا بیان کافی نہ ہوا ہو۔ قرآن میں اس کا بیان نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں ضرور اس کی تفصیل پائی جاتی اس پر روشن دلیل جس سے کوئی مسلمان انکار نہ کرے یہ ہے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 60
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/60/mode/1up
    کہؔ حضرت عمر فاروق نے اپنی تمام عمر میں اپنے سے چھوٹے رتبہ کے لوگوں کی روایات کو قبول کیا ہے اور ان روایات سے مستغنی ہو کر عمل کتاب اللہ کو کافی نہیں سمجھا اس کی تفصیل ہمارے ضمیمہ جات ۱۸۷۸ ؁ء سے بخوبی ہوچکی اس مقام میں اس کی چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں۔
    (۱) قرآن مجید سے بیٹی کی وراثت کا یہ حکم بیان ہوا ہے کہ کسی شخص کی ایک بیٹی ہو تو وہ نصف مال کی وارث ہے اس حکم قرآنی کے مفسریا یوں کہیں کہ مخصص آنحضرت کی یہ احادیث ہیں گروہ انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جس کے دستاویز سے حضرت صدیق اکبر نے حضرت فاطمہ زہرا کو آنحضرت کے خالص مال سے ورثہ نہ دیا باوجودیکہ انہوں نے مطالبہ بھی کیا اور آنحضرت صلعم نے بیٹی بیٹے وغیرہ وارثوں کو اس حالت میں محروم الارث ٹھہرایا ہے جب کہ وہ اپنے مورث کو قتل کردیں یا وارث و مورث کے مذہب میں اختلاف ہوجاوے۔ حضرت عمر فاروق نے ان احادیث کو قبول فرمایا اور ان پر عمل کیا اور ان احادیث سے مستغنی ہوکر آیت میراث کے عمل پر اکتفا نہ کیا۔
    (۲) قرآن مجیدمیں ان عورتوں کو جن کا نکاح مرد پر حرام ہے شمار کر کے فرمایا ہے ۱؂ یعنی ان عورتوں کے سوا جن کا حکم حرمت نکاح قرآن میں بیان ہوا ہے سب عورتیں تم پر حلال ہیں اس حکم قرآن کی تفسیریا یوں کہیں کہ تخصیص میں آنحضرت کا یہ ارشاد ہے کہ جو روکی خالہ اور پھوپھی جورو کے نکاح میں ہونے کی حالت میں نکاح میں نہ لائی جاوے چنانچہ فرمایا ہے لا تنکح المرأۃ علی عمتھا ولا خالتھا آنحضرت کے جملہ اصحاب نے جن میں حضرت عمرؓ بھی داخل و شامل ہیں اس حدیث نبوی کو قبول فرمایا ہے اور اس کو مخالف قرآن سمجھ کر اس کے عمل سے استغنا اور عمل قرآن پر اکتفا نہیں کیا۔
    فاضل قندھاری نے کتاب مغتنم الحصول میں کہا ہے ان الصحابۃ خصّصوا واحل لکم ما وراء ذالکم بلا تنکح المرأۃ علی عمتھا ولا علی خالتھا ویوصیکم اللہ فی اولادکم ولایرث القاتل ولایتوارثان اھل الملتین ونحن معشر الانبیاء لا نرث ولا نورث۔
    (۳) حضرت عمر فاروق نے ایک بادیہ نشین راوی کی اس حدیث کو قبول فرمایا جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عورت کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث کیا باوجودیکہ قرآن مجید اس عورت کو دیت کا وارث نہیں بناتا کیونکہ وہ دیت بعد موت شوہر کا مال ہوتا ہے اور عورت بعد موت شوہر اس کی عورت نہیں رہتی وبناءً علیہ حضرت عمر فاروق کی رائے یہ تھی کہ وہ عورت اس مال سے وراثت کی مستحق نہیں مگر جب آپ کو حدیث مذکور معلوم ہوئی تو اپنی رائے کو چھوڑ دیا اور حدیث کو قبول فرمایا۔ کان عمر بن الخطاب یقول الدیۃ علی العاقلۃ ولا ترث المرأۃ من دیۃ زوجھا شیءًا حتی قال لہ الضحّاک بن سفیان
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 61
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/61/mode/1up
    کتبؔ الی رسول اللہ صلعم ان ورث امرأۃ اشبع الضبابی من دیۃ زوجھا فرجع عمر رواہ الترمذی وابوداؤد۔
    (۴) دیت جنین کی حدیث کو دو شخصوں کی روایت و شہادت سے آپ نے قبول کیا اور اس بات میں قرآن کریم کے حکم قصاص پر اکتفانہ فرمایا۔عن ھشام عن ابیہ ان عمر بن الخطاب نشد الناس من سمع النبیؐ قضی فی السقط فقال المغیرۃ انا سمعتہ قضی فی السقط بغرۃ عبداوامۃ قال ائت من یشھد معک علی ھذا فقال محمد بن مسلمۃ انا اشھد علی النبی صلعم بمثل ھذا رواہ البخاری صفحہ ۱۰۲۰۔
    وزاد ابوداؤد فقال عمر بن الخطاب اللہ اکبر لولم اسمع بھذا لقضینا بغیرھذا۔
    (۵) سب ہی انگلیوں کے خون بہا کے برابر ہونے کی حدیث آپ نے قبول فرمائی باوجودیکہ آپ کی رائے اس میں یہ تھی کہ چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی کی دیت نو۹ اونٹ ہونا چاہئے۔ بیچ والی اور اس کے ساتھ والی سبابہ کے بارہ۱۲ اونٹ۔ انگوٹھے کے پندرہ ۱۵ اونٹ جو بظاہر ان کی مختلف قوتوں اور مقداروں کی نظر سے انصاف و عدل معلوم ہوتی ہے جس کا قرآن میں حکم ہے مگر آپ نے حدیث سنی تو قبول فرمائی اور قرآن سے اس کے مطابق کرنے کی کچھ پرواہ نہ کی صحیح بخاری صفحہ ۱۰۱۸ میں ہے۔ عن النبی صلعم قال ھذہ وھذہ یعنی الخنصر والابھام سواء اور مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت میں ہے وترک عمررأیہ فی دیۃ اصابع وکان رأیہ فی الخنصر والبنصر تسعًا وفی الوسطیٰ وفی المسبحۃ اثنا عشرو فی الابھام خمسۃ عشر کل ذٰلک فی التیسیر قال الشارح وکذا ذکر غیرہ والذی فی روایتہ البیہقی انہ کان یری فی المسبحۃ اثنا عشرو فی الوسطی ثلث عشر بخبر عمر بن حزم فی کل اصبع عشر من الابل۔اس مضمون کی اور بہت مثالیں ہیں مگر ہم آپ کی طرح تطویل پسند نہیں کرتے ۔ان امثلہ کو دیکھ کر کس و ناکس بشرطیکہ ادنیٰ فہم و انصاف رکھتا ہو ہرگز نہ کہے گا کہ حضرت عمر نے جو فرمایا ہے کہ ہم کو کتاب اللہ کافی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ حدیث نبوی کی ہم کو حاجت نہیں اور قرآن اس کی جگہ کافی ہے۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ جب تک کسی حدیث کی شہادت قرآن میں نہ پائی جاوے وہ لائق قبول نہیں بلکہ اس سے مراد صرف وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ جس مسئلہ میں سنت صحیحہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کافی ہے اس قول فاروقی کے مورد کو دیکھا جائے تو اس سے بھی یہی معنے سمجھ میں آتے ہیں۔ مگر اس کی بحث و تفصیل میں تطویل ہوتی ہے کیونکہ اس میں شیعہ سنیوں کے باہمی اختلاف کو جو اس قول کی نسبت ان میں پایا جاتا ہے ذکر کرنا پڑتا ہے جس سے بحث مقصود سے خروج لازم آتا ہے۔ امکان تضعیف و توہین حدیث صحیحین پر آپ نے ایک یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 62
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/62/mode/1up
    جبؔ کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لاوے تو تم اس کی تفتیش کرو۔ یہ دلیل بھی آپ کی ناواقفی پر ایک دلیل ہے۔ احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سے بری ہیں اور ان کی عدالت ثابت و محقق ہوچکی ہے۔ اس نظر سے ان کتابوں کی احادیث اتفاق اہل اسلام کے ساتھ صحیح تسلیم کی گئی ہیں۔ امام ابن حجر مقدمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں۔ ینبغی لکل منصف ان یعلم ان تخرج صاحب الصحیح لای راوی کان مفض لعدالتہ عندہ وصحۃ ضبطہ وعدم غفلتہ ولا سیما الی ذلک من اطلاق جمھورالائمۃ علی تسمیۃ الکتابین بالانصاف بالصحیحین وھذا لمعنٰی لم یحصل بغیر من خرج عنہ فی الصحیحین فھونھایۃ اطباق الجمہور علی تعدیل من ذکر فیہما ھذا اذا اخرج لہ فی الاصول فاما ان اخرج فی المتابعات والشواھد والتعالیق فھذا یتفاوت درجات من اخرج لہ فی الضبط وغیرہ مع حصول اسم الصدق لہم وحینئذٍ اذا وجد نالغیرہ فی احدمنھم طعنا فذالک الطعن مقابل للتعدیل لھذا الامام فلا یقبل الامبین السبب مفتقرا بقادح یقدح فی عدالتہ ھذا الراوی و فی ضبطہ مطلقا او فی ضبطہ الخبر بعینہ لان الاسباب الحاملۃ للائمۃ علی الجرح متفاوتۃ منھاما یقدح و منھا ما لایقدح وقد کان الشیخ ابوالحسن المقدسی یقول فی الرجل الذی یخرج عنہ فی الصحیح ھذا جاز القنطرۃ یعنی بذالک انہ لایلتفت الی ماقیل فیہ قال الشیخ ابو الفتح القشیری فی مختصرہ وھٰکذا معتقدوبہ اقول ولایخرج عنہ الالحجۃ ظاھرۃ و بیان شیاف یزید فی غلبۃ الظن علی المعنی الذی قدمناہ من اتفاق الناس بعد الشیخین علی تسمیۃ کتابیھما بالصحیحین ومن لوازم ذٰلک تعدیل رواتھاقلت فلایقبل الطعن فی احدمنھم الابقادح واضح ۔ اس کے مقابلہ میں جو آپ نے لکھا ہے کہ امکانی طور پر صدور کذب وغیرہ ذنوب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے یہ آپ کی ناواقفی پر ایک اور دلیل ہے آپ یہ نہیں جانتے کہ روایت اور شہادت کا حکم ایک ہے جس میں فعلی صدور کذب مانع قبول و اعتبار ہے نہ امکانی اور اگر امکانی کذب بھی مانع قبول و اعتبار ہوتا تو خداتعالیٰ کسی گواہ کی شہادت بجز نبی معصوم قبول نہ کرتا اور نہ عدالت شہود کا نام لیتا اور مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دیتا وَ ۱؂ یعنی دو گواہ عادل گواہ بناؤ اور نہ فرماتا ۲؂ یعنی ان لوگوں کو گواہ بناؤ جن کو پسند کرو۔ یعنی بلحاظ عدل ان کے و استقامت کے اچھا سمجھو بلکہ صاف یہ فرمایا کہ ہر معاملہ میں نبی معصوم کو گواہ کرلیا کرو کیونکہ امکان کذب وغیرہ ذنوب بقول آپ کے بجز نبی معصوم کے ہر ایک گواہ میں موجود ہیں اور امید ہے کہ بات آپ بھی نہ کہیں گے کہ امکان کذب کی نظر سے شہادت بجز نبی معصوم کسی کی مقبول نہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 63
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 63
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/63/mode/1up
    پھرؔ اس امکان کذب کی نظر سے روایت احادیث کیوں ناقابل اعتبار ٹھہراتے ہیں۔ آپ کے ایسے دلائل و اقاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل ناآشنائی ہے۔ آپ کو کتب حدیث پر اتفاقی نظر بھی نہیں پڑی۔ صحیح مسلم کا چھٹا صفحہ اگر آپ کی نظر سے گذرا ہوا ہوتا تو آپ ہرگز اس آیت سے اپنے دعوے پر استدلال نہ کرتے۔ یہ آیت تو اس امر کی دلیل ہے کہ جب راویوں یا ناقلوں کے ظاہری صدق و عدالت کا حال معلوم نہ ہو تو ان کو بلاتحقیق قبول نہ کرو۔ نہ یہ کہ جن کا صدق و عدالت تم کو ثابت ہو ان کو نقل روایت میں اس خیال سے کہ ان سے صدور کذب ممکن ہے بلاتحقیق جدید نہ مانو۔
    صحیح مسلم صفحہ ۶ میں ہے واعلم وفقک اللہ ان الواجب علی کل احد عرف التمیزبین صحیح الروایات وسقیمھا وثقات ناقلین لھا من المتھمین ان لایروی منھا الا ماعرف صحۃ مخارجہ والستارۃ فی ناقلیہ وان یتقٰی منھا ماکان منھا عن اھل التھم والمعاندین من اھل البدع والدلیل علی ان الذی قلنا من ھذا ھواللازم دون ما خالفہ قول اللہ تبارک و تعالٰی ذکرہ یاایھا الذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی مافعلتم نادمین وقال جل ثناء ہ ممن ترضون من الشھداء وقال واشھدوا ذوی عدل منکم مدل بماذکرنا من ھذہ الاٰیِ ان خبر الفاسق ساقط نجر مقبول و ان شھادۃ غیر العدل مردودۃ والخبران فارق معناہ معنی اشھادہ فی بعض الوجوہ فقد یجتمعان فی اعظم معنیھما اذکان خبر الفاسق غیر مقبول عند اھل العلم کما ان شھادتہ مردودۃ عند جمیعھم میرے اس سوال کے جواب میں کہ قرآن مجید کو احادیث صحیحہ کا معیار صحت ٹھہرانے میں آپ کا کوئی شخص امام یا موافق ہے جو آپ نے فرمایا ہے کہ تمام مسلمان جو قرآن کو امام جانتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اس مسئلہ میں میرے موافق ہیں۔ اور خاص کر صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی میرا موافق ہے جنہوں نے آنحضرت کے اس حکم سے کہ جو کچھ مجھ سے روایت کرو اسے کتاب اللہ پر عرض کرو حدیث من ترک الصلٰوۃ متعمدا فقد کفر کو قرآن پر عرض کیا اور تیس سال کے بعد اس کو آیت ۱؂ کے مطابق پایا۔ تو اس حدیث کو قبول کیا۔
    اس کے پہلے حصہ کا جواب تو سابقاً گذر چکا ہے کہ مسلمانوں کا قرآن کو امام ماننا اور اس پر ایمان لانا یہ نہیں چاہتا کہ وہ کوئی حدیث صحیح جب تک کہ اس کو قرآن پر عرض نہ کریں قبول نہ کریں بلکہ وہ ایمان ان کو یہ سکھلاتا ہے کہ وہ حدیث کو جب اس کی صحت بقوانین روایت ثابت ہو فوراً قبول کریں اور اس کو قرآن مجید کی مانند
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 64
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 64
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/64/mode/1up
    واجبؔ العمل سمجھیں صرف قرآن مجید کو کافی سمجھ کر۱؂ اس حدیث سے استغنا نہ کریں۔ رہا جواب دوسرے حصہ کا کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپکے اعتقاد کے موافق عمل کیا ہے اور حدیث من ترک الصلٰوۃ متعمدا کو قبول نہ کیا جب تک کہ اس کو آیت اقیموا الصلٰوۃ کے مطابق و موافق نہ پایا۔ سو اسکا جواب یہ ہے کہ کلام صاحب حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کا مطلب بیان کرنے میں آپ نے دو وجہ سے دھوکا کھایا یا دیدہ ودانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے وجہ اول یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپ کی مانند یہ عام اصول نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہوجانے کے بعد اس کی صحت کا امتحان اس اصول سے کیا جائے اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھنا چاہئے ان کے کلام میں اس عام اصول کا نام ونشان بھی نہیں ہے اور نہ آپ نے یہ عام اصول ان سے نقل کیا ہے انہوں نے صرف ایک حدیث من ترک الصلٰوۃ کو کتاب اللہ پر عرض کیا اور اگر اس حدیث کے سوا اور احادیث کو بھی انہوں نے اسی غرض کے ذریعہ سے صحیح قرار دیا ہے تو آپ یہ امر ان سے بہ نقل صحیح ثابت کریں ورنہ آپ پر یہ الزام قائم ہے کہ آپ جزئی واقع کو عام اصول بناتے ہیں اور خود دھوکہ کھاتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے ہیں اس پر اگر یہ سوال کرو کہ ان کے نزدیک یہ اصول تصحیح روایات عام مقرر نہ تھا تو انہوں نے اس حدیث
    اس گستاخی اور شوخی کی بھی کوئی حد ہے! اے اہل ایمان اے عاشقان کلام پاک رحمان تمہارے بدنوں پر رونگٹے نہیں کھڑے ہوتے تمہارے کلیجے دہل نہیں جاتے ! کیسا اندھیر پڑ گیا ! قرآن کریم کو ناکافی غیر مکمل اور ناقابل حکومت کہا جاتا ہے۔ وہ کتاب جس نے علانیہ دعویٰ کیا ہے کہ میں کامل مہیمن اور تمام صداقتوں اور تمام دینی ضرورتوں کی حاوی و جامع کتاب ہوں۔ اور میں حکومت اور فیصلہ کرنے والی ہوں شرارت دیکھو اسے ناکافی کہا جاتا ہے! کوئی اس بے باک گروہ سے پوچھے کہ اگر قرآن کو کسی تکملہ۔تتمہ۔ ذیل۔ مستدرک اور ضمیمہ کی ضرورت تھی تو کیوں صاحب الوحی مہبط القرآن علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ان کے حکم سے قرآن کے علاوہ اور ان کے ملفوظات کی کتابت و تدوین کا شدید اور اکیداہتمام نہ کیا گیا کیوں بالصراحت آپ نے نہ کہہ دیا کہ قرآن(معاذ اللہ) مجمل و ناکافی ہے۔ حدیثیں ضرور ضرور لکھ لیا کرو۔ ورنہ قرآن ادھورا ناقص اور بے معنے رہ جائے گا۔ اللہ اللہ! قرآن کا تو وہ اہتمام ہو کہ بمجر د آیت کے نزول کے کاتب تیار بیٹھے ہوں اور ہڈیوں اور رقّ وغیرہ پر جھٹ پٹ لکھ لیں اور احادیث کے اہتمام کی کسی کو پرواہ نہ ہو۔ افسوس جس امر کا دعو یٰ تحدی خود صاحب الحدیث نے نہیں کیا آپ لوگ اس سے بڑھ کر کیوں قدم مارتے ہیں قرآن کریم کی نسبت بے شک دعویٰ کیا گیا ہے ۱؂ ا حادیث کی نسبت یہ تحدی اور دعویٰ کہاں کیا گیا ہے۔ فتدبر۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 65
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 65
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/65/mode/1up
    منؔ ترک الصلٰوۃ کو قرآن پر کیوں عرض کیا تو جواب یہ ہے کہ اس حدیث کی صحت معنے میں ان کو کچھ شک ہوگا۱؂ اس شک کو رفع کرنے کی غرض سے انہوں نے یہ عمل کیا یا یہ کہ باوجود تسلیم صحت و عدم شک انہوں نے حصول مزید طمانیت کیلئے ایسا کیا اور اس حدیث کے اعتقاد کو اور پختہ کیا۔ اس کے جواب میں اگر یہ کہو کہ اس مسئلہ کا عام اصول ہونا خود اس حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے اس صورت میں یہ اصول گویا آنحضرت کا مجوزہ اصول ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا آنحضرت سے ثابت نہ ہونا بلکہ زندیقوں۲؂ چھپے کافروں کی بناوٹ ہونا سابقاً بخوبی ثابت ہوچکا ہے لہٰذا اس مسئلہ کا بحکم نبوی عام اصول ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ دوسری وجہ یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کے کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ جب تک شیخ طوسی نے اس حدیث کو آیت اقیموالصلٰوۃ کے موافق نہ کر لیا تھا تب تک اس کو غیر صحیح یا وضعی سمجھا تھا۔ یا تیس سال کے عرصہ تک اس حدیث کی صحت یا عدم صحت کی نسبت کوئی فیصلہ نہ کیا تھا کیوں جائز نہیں کہ وہ اس حدیث کو مان چکے تھے مگر مزید اطمینان کیلئے وہ تیس برس تک قرآن مجید سے اس کا موافق ہونا تلاش کرتے رہے آپ سچے ہیں تو اس احتمال کو دلیل سے اٹھاویں اور بہ نقل صریح ثابت کریں کہ شیخ طوسی تیس سال تک اس حدیث کو غیر صحیح یاموضوع سمجھتے رہے یا اس کی صحت میں متردد و متوقف رہے۔ اس احتمال کو بدلائل اٹھا کر اس امر کو بہ نقل صریح ثابت کرنے کے بغیر آپ کا اس قول شیخ طوسی سے استدلال کرنا اور اس پر یہ درخواست کرنا کہ میں نے ایک آدمی کا نام اپنے موافقین سے بتادیا۔ اب آپ ضد چھوڑ دیں کمال تعجب کا محل ہے اور شرم کا موجب ثبت العرش ثم النقش آپ شیخ محمد اسلم طوسی سے اس عرض کا عام اصول صحت احادیث ہونا یا تیس۳۰ سال کا خاص کر حدیث من ترک الصلٰوۃ کی صحت میں متوقف رہنا ثابت کریں تو ہمارے انکار کو ضد کہیں۔ یہ نہ ہوسکے تو اس حدیث کی صحت ہی ثابت کریں پھر ہم شیخ محمد اسلم طوسی سے ان امور کا ثبوت بہم
    ؂ ناظرین مولوی صاحب کی اس’’ ہوگا‘‘ کو خوب یاد رکھیں۔ آپ نے اسی ہوگا کے باعث مرزا صاحب پر اعتراض کیا ہے۔ یہاںآپ نے نہ معلوم۔’’ ہوگا‘‘ کو کس قسم کے یقین کا مثبت قرار دیا ہے۔ایڈیٹر
    ۲؂ اے بیچارے مسکین مسلمانو! اے اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بندو! تمہیں زندیق۔ منافق اور چھپے کافر صرف اس وجہ سے کہا گیا کہ تم نے کلام اللہ کا ادب کیا۔ اس کی قرار واقعی تعظیم کی۔ تم نے یہ کہا کہ خلاف کتاب اللہ کے جو حدیث ہو وہ قابل اعتبار نہیں! تم نے یہ بڑا ظلم کیا قرآن کریم کو معیار صحت حدیث ٹھہرایا! پیارو! ظالموں نے تمہیں اس جرم پر کافر اور اور کیا کچھ کہا۔ نہیں نہیں تم قرآن کا ۔ ہمارے محبوب کا ادب کرنے والے ہو۔ تم ہمارے سرتاج ہو۔ آؤ تمہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں۔ قرآن کے چھپے دشمن تمہیں جو چاہیں کہیں۔ پر ہم تو تمہیں سچا مسلمان جانتے اور یقین کرتے ہیں۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 66
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 66
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/66/mode/1up
    پہنچاؔ نے کے طالب نہ رہیں گے اور اس حدیث کو جس کا مضمون خود ایک اصول ہے تسلیم کرکے اپنے انکار سے رجوع کریں گے واللّٰہ ثم باللّٰہ ثم تاللّٰہ و کفٰی باللّٰہ شھیدا وکفٰی باللّٰہ وکیلا۔اور اگر آپ صحت حدیث ثابت نہ کرسکیں یا شیخ طوسی سے امور مذکورہ بہ نقل صریح ثابت نہ کریں تو آپ اپنے مخترعہ مستحدثہ ۱؂ اصول پر اصرار و ضد چھوڑدیں۔ زیادہ ہم کیا کہیں۔
    (۵) آپ لکھتے ہیں کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارہ میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں یہ کمال دھوکہ دہی ہے اور وہ اپنے پرچہ نمبر میں میرا یہ اقرار کہ میں قرآن کو امام جانتا ہوں اور احادیث صحیحین کو قرآن کے برابر نہیں سمجھتا نقل کرنے کے بعد یہ استفسار ایک افترا ہے جس سے مقصود صرف اپنے بے علم حاضرین مریدوں کو میری طرف سے بدظن کرنا ہے اور یہ جتانا ہے کہ یہ شخص قرآن کو نہیں مانتا۔ اس کا جواب میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ جو شخص قرآن کو حکم و امام نہ مانیں وہ کافر ہے۔ اب پھر کہتا ہوں کہ قرآن ہمارا حکم امام میزان معیار قول فصل وغیرہ ہے۔ مگر آپ اپنے غیر پر یعنی لوگوں کے باہمی اختلافات و تنازعات پر جو رائے پر مبنی ہوں اور حدیث صحیح تو خادم و مفسر قرآن اور وجوب عمل میں مثل قرآن ہے وہ اس سے مخالف و متنازع نہیں اور کسی مسلمان کا اس کی صحت قبول کرنے میں اختلاف نہیں تو پھر قرآن اس کی صحت کا حکم و معیار و محک کیونکر ہوسکتا ہے۔ اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔ مسلمانوں کو دھوکہ میں نہ ڈالو قرآن و حدیث صحیح ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں تو پھرایک کا دوسرے کے محک و معیار ہونا کیا معنے رکھتا ہے۲؂ آپ لکھتے ہیں کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے ضعیف ہونا اور ہے اور میں نے صحیح مسلم کی حدیث د مشقی کے ضعیف
    ۱؂ اہل ایمان۔ خدا ترس ناظرین پر واضح رہے کہ مولوی صاحب مرزا صاحب کے اس اصول کو کہ ’’قرآن کریم صحت احادیث کا معیار ہے۔‘‘ مخترعہ۔ مستحدثہ اصول قرار دیتے ہیں۔ بے شک حضرت مرزا صاحب کا بڑا بھاری جرم ہے کہ وہ اختلاف کے وقت قرآن مجید کو حکم قرار دیتے ہیں مولوی صاحب اس پر جس قدر ناراض ہوں بجا ہے۔ آفرین۔ مولوی صاحب!۔ ایڈیٹر
    ۲؂ مولوی صاحب! ہوش سے بولئے۔ آپ دہائی کیوں دیتے ہیں۔ مرزا صاحب کب کہتے ہیں کہ حدیث صحیح قرآن کی معارض و مخالف ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کا یہ قول ہے کہ ہر ایک حدیث کو قرآن مجید کی محک پر کسنا چاہئے جو اس امتحان پر پوری اترے وہ صحیح ہوگی اور پھر وہ لامحالہ قرآن کی مصدق ہوگی اور قرآن اور اس کا مضمون باہم متوافق ہوگا۔ آپ کا یوں چلانا بے سود ہے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر’’ اس کی صحت کا قرآن کیونکر معیار و حکم بن سکتا ہے۔‘‘ ہم کہتے ہیں کہ وہ صحیح جب ہی ہوگی جب قرآن کے معیار کے موافق کامل المعیار ثابت ہوگی پہلے اس کی صحت تو ثابت ہونی چاہئے۔ بات تو بڑی آسان ہے کچھ یونہی سا پھیر ہے۔ مولوی صاحب اگر غور کریں تو شاید سمجھ جائیں۔ یاد رکھیئے کہ قرآن کی مفسر و خادم بھی وہی حدیث ہوسکے گی جوقرآن کی میزان میں پوری اترے گی۔ مولوی صاحب! بتایئے تو آپ کو اس فضول پچ نے کیوں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 67
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 67
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/67/mode/1up
    ہوؔ نے کا امام بخاری کو قائل قرار دیا ہے انہوں نے اس حدیث کی روایت کو ترک کیا تو اس سے مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھا ہے جس کو موضوع ہونے سے کوئی تعلق نہیں اس قول میں ایک تو آپ نے دھوکہ دیا ہے دوسرا اپنی ناواقفی کا اظہار کیا ہے۔ دھوکہ یہ کہ یہاں آپ ضعیف اور موضوع میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ آپ کے نزدیک جو حدیث موافق قرآن نہ ہو وہ موضوع ہے اور کلام رسول ہونے سے خارج نہ اور قسم کے ضعیف یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے پرچہائے نمبر میں ایسی حدیثوں کو کبھی موضوع کہتے ہیں کبھی غیر صحیح و ضعیف جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کی اصطلاح میں موضوع وضعیف ایک ہے اور صحیح مسلم کی حدیث دمشقی کوبھی آپ قرآن کریم کے مخالف سمجھتے ہیں اور رسالہ ازالہ میں اس کی وجوہ مخالفت بڑے زور سے بیان کرچکے ہیں لہٰذا وہ آپ کے نزدیک موضوع ہے نہ اور قسم کی ضعیف۔ یہاں آپ اس اعتقاد کو جتا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس ناواقفی کا آپ نے اظہار کیا ہے وہ یہ ہے کہ روایت صحیح مسلم کو امام بخاری کے ترک کرنے سے آپ نے یہ اجتہاد کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے صحیح سمجھتے تو وہ اس کو ضرور اپنی کتاب میں لاتے۔
    یہ بات وہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے ہی کبھی گذر نہ ہوا ہوگا۔ امام بخاری نے بہت سی احادیث صحیحہ کو اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا اور یہ فرما دیا ہے کہ میں نے ان کو بخوف طوالت ترک کردیا ہے۔*صحیح بخاری کے مقدمہ میں ہے وروی من جھات عن البخاری قال صنفت کتاب الصحیح بِستّ عشر سنۃ اخرجتہ من ستۃ مأیۃ الف حدیث وجعلتہ حجۃ بینی و بین اللّٰہ۔ وروی عنہ قال رأیت النبی صلعم فی المنام وکأنی واقفت بین یدیہ وبیدی مروحۃ اذب عنہ فسألت بعض المعبرین فقال انت تذب عنہ الکذب فھو الذی حملنی علی اخراج الصحیح۔ وروی عنہ قال ما ادخلت فی کتاب الجامع الا ماصح و ترکت کثیرا من الصحاح لحال الطول۔*امام بخاری
    پکڑ رکھا ہے۔ کہیں قرآن کے سوا کسی اور کتاب یا مجموعہ کی نسبت فاتو بسورۃ من مثلہ کہا گیا ہے ؟ وہ کلام جس کا لٹریچر غیر متلو ہو اور مختلف مونہوں کے سانسوں سے مشوب ہو کر دائر و سائر ہوا ہو کبھی محفوظ رہ سکتا ہے۔ جانے دو ناحق کی ضد کو۔ ایڈیٹر
    * اس سوئے ادب اور افترا کا جو امام ہمام بخاری کی نسبت اس نادان دوست نے کیا ہے حضرت مرزا صاحب کا جواب بڑی غور سے ملاحظہ ہو۔ مولوی صاحب آپ نے بخاری کو دین کی ایک کثیر صحیح حصہ کا عمداً تارک قرار دیا ہے! کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم۔ الآیۃ الہٰی ان دوستوں سے بچائیو۔ ایڈیٹر
    * مولوی صاحب! ان منقولات کو جن پر حقیقۃً حضرت امام بخاری ؒ کی کوئی مہر یا دستخط نہیں۔ کون بے ادب
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 68
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 68
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/68/mode/1up
    سےؔ یہ بھی منقول ہے کہ مجھے دو لاکھ حدیثیں غیر صحیح اور ایک لاکھ صحیح یاد ہیں۔ باوجودیکہ صحیح بخاری میں چار ہزار حدیثیں منقول ہیں جس سے ثابت ہے کہ چھیانویں ہزار حدیث اور امام بخاری کے نزدیک صحیح ہیں جن کو وہ اپنی کتاب میں نہیں لائے۔ وجملۃ ما فی الصحیح البخاری من الاحادیث المسندۃ سبعۃ الاف ومئتان و خمسۃ و سبعون حدیثا بالاحادیث المکررۃ و بحذف المکررۃ نحواربعۃ الا ف کذا ذکر النووی فی التھذیب والحافظ بن حجر فی مقدمۃ فتح الباری۔
    شیخ عبدالحق نے مقدمہ شرح مشکوٰۃ میں کہا ہے ونقل عن البخاری انہ قال حفظت من الصحاح ماءۃ الف حدیث ومن غیر الصحاح مأ تی الف۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ امام بخاری کا کسی حدیث صحیح کی روایت کو ترک کرنا اس امر کا مثبت نہیں ہے کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا۔ امام بخاری کا ترک روایت حدیث مسلم کیونکر موجب ضعف ہو۔ امام مسلم نے خود اپنی کتاب میں بہت سی احادیث کو جن کو وہ صحیح سمجھتے ہیں ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ مقدمہ شرح مشکٰوۃ میں ہے۔ قال مسلم الذی
    تسلیم کرسکتا ہے بمقابلہ اس شدید اور لاجواب الزام کے جو بخاری ؒ پر عائد ہوتا ہے(درصورتیکہ ان منقولات کو واقعی منقول عن البخاری تسلیم کیا جاوے) کہ اس نے(بخاری) دین کے اکثر سے اکثر حصہ کو اور صحیح اور ثابت شدہ حصہ کو یعنی کلام نبوی کو جس کی تبلیغ اس پر فرض تھی عمداً کسل اور طوالت کی وجہ سے ترک کردیا اور خوف طوالت کا نہایت بودہ اورناقابل سماعت عذر پیش کردیا ۔دھیان میں لاؤ ان شاقہ محنتوں اور دراز مصائب کو جن کے بہ تفصیل سننے سے ایک صاحب عزم آدمی کی روح کانپ اٹھتی ہے اور جنہیں حضرت امام بخاری نے جمع احادیث کی خاطر مختلف سفروں میں گوارا کیا اور ان زمانوں میں صحراہائے دشوارگذار قطع کئے جب کہ قدم قدم پر ہلاکت کا اندیشہ تھا اور پھر جب کئی لاکھ احادیث کو جمع کر کے ایک لاکھ صحیح ان میں سے چھانٹیں۔ تو’’ نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کے مقولہ پر عمل کر کے بلاوجہ کسی ترجیح کے چار ہزار کو رکھ لیا اور باقی چھیانویں ہزار کو نیست و نابود کردیا!!! ابلہ گفت و دیوانہ باور کرد۔ اے سنگدل مولویو! تمہیں کس نے دین کی حمایت کرنا سکھایا۔ تم تو خدا کی‘ اس کے برگزیدہ رسول کی‘ خدام کرام رسول کی توہین کررہے ہو۔ ۱؂ سچ ہے اہل اللہ کے مقابلہ میں جو لوگ آویں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مسخ کر ڈالتا ہے ان کی عقلیں تاریک ہوجاتی ہیں۔ اے مولائے کریم ہمیں اس سے بچانا کہ ہم تیرے برگزیدوں سے لڑائی کی ٹھہرائیں۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 69
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 69
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/69/mode/1up
    اورؔ دت فی ھذا الکتب من الاحادیث صحیح ولااقول ان ماترکت ضعیف۔
    امام مسلم نے خود اپنی کتاب صحیح میں فرمایا ہے لیس کل شئ عندی صحیح وضعتہ ھنا یعنی فی کتاب الصحیح وانما وضعت ھھناما اجمعوا علیہ آپ دل میں سو چ کر انصاف سے کہیں کہ امام بخاری یا خود امام مسلم کی کسی حدیث کی روایت کو ترک کرنے سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح نہ ہو۔آپ اٹکل پچو ایسی باتیں کہہ کر یہ ظاہر کررہے ہیں کہ فن حدیث سے آپ کو کوئی تعلق اور کچھ مس نہیں اس الزام دھوکہ دہی و ناواقفی کو آپ مانیں خواہ نہ مانیں آپ کے کلام سے یہ تو ثابت ہوتا ہے جس کے ماننے سے آپ کو بھی انکار نہیں کہ حدیث دمشقی صحیح مسلم کو آپ نے اپنے اجتہاد سے ضعیف قرار دیا ہے اورآپ کے اعتقاد مخفی توہیں۔ صحیحین کے اظہار کیلئے اس مقام میں اسی قدر بس ہے۔
    اہل حدیث* جو آپ کے پنجہ میں گرفتار ہیں آپ کے اس قول وا قرار سے یقین کریں گے کہ آپ حدیث صحیح مسلم کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور اس پر جو فتویٰ لگائیں گے وہ مخفی نہیں ہے۔
    (۶) آپ لکھتے ہیں کہ ازالۃ الاوہام میں احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی نسبت میں نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا کہ وہ موضوع ہیں بلکہ شرطیہ طور پر کہا ہے کہ اگر ان کے باہمی تناقض کو دور نہ کیا جائے گا تو ایک جانب کی حدیثوں کو موضوع ماننا پڑے گا۔ یہ آپ کی محض حیلہ سازی ہے۔ جس مقام میں آپ نے ان حدیثوں کو موضوع کہا وہاں شرط تناقض بیان نہیں کی بلکہ بڑے زور سے پہلے ان کا تعارض ثابت کیا ہے پھر ان پر موضوع ہونے کا حکم لگادیا ہے جس سے صاف ثابت ہے
    مولوی صاحب! عجب و پندار چھوڑدو۔ کبریا اللہ تعالیٰ کی چادر ہے۔ یہاں شیخی کام نہیں آسکتی۔ آپ کو اپنے خیالی علم نے پاتال کے تاریک اور گندھک کے کنوئیں میں ڈال رکھا ہے۔ آپ ان لوگوں کو بارہا حقارت سے یاد کرچکے جو حضرت مسیح موعود۔ مجدد۔محدث حضرت مرزا صاحب(سلمہ الرحمن) کی جناب میں عقیدت رکھتے ہیں ان کا حق ہے کہ آپ کو فوراً یہ سنائیں ۱؂ ’’پنجہ میں گرفتار ہیں‘‘ کیسا حقارت آمیز جملہ ہے! حضرت مسیح موعود کو اجلۃ الفضلا ء (مولانا رفیقی و انیسی مولوی نور الدین صاحب۔ حضرت مولوی محمد احسن صاحب بھوپالوی مولانا مولوی غلام نبی صاحب خوشابی وغیر ھم جن میں سے اکثر کی فہرست حضرت اقدس نے ازالہ اوہام کے آخر میں شائع کی ہے) مانتے ہیں۔ ان پر جان و دل سے فدا ہیں۔ بڑے بڑے خدا کے نیکوکار بندے متقی۔ صاحب تقو ٰی و انابت و خشیۃ و طہارت حضرت اقدس کو خلوص قلب سے خادم دین اللہ اعتقاد کرتے ہیں۔ ایک یہ خاکسار گنہگار عبدالکریم بھی ہے جو کتاب و سنت پر علیٰ بصیرت مطلع ہو کر حضرت ممدوح کو اپنا مخدوم و مرشد مانتا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 70
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 70
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/70/mode/1up
    کہؔ آپ کے نزدیک ان احادیث میں تعارض و تناقض متحقق ہے وبناءًً علیہ وہ احادیث آپ کے نزدیک موضوع ہیں۔ ہاں آپ نے ان احادیث میں کچھ کچھ تاویلیں بھی کی ہیں جن سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ تاویل بغرض صحت احادیث مذکورہ آپ کرتے ہیں آپ کے کلام سے صاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ احادیث اول تو آپ کے نزدیک صحیح نہیں موضوع ہیں اور اگر بالفرض وہ صحیح مانی جائیں تو پھر وہ آپ کے نزدیک تاویلات سے مأول ہیں۔ یہ مطلب آپ کی ان عبارات ازالہ اوہام سے جو ہم پرچہ نمبر میں نقل کرچکے ہیں ان میں بلا شرط آپ نے ان احادیث کو موضوع کہا ہے صاف ثابت ہے۔ آپ اس کے خلاف کے مدعی اور اپنے دعویٰ حال میں سچے ہیں تو اس مضمون کی عبارت نقل کریں جس میں پہلے آپ نے قطعی اور صاف طور پر ان احادیث کو صحیح مان لیا ہو پھر اس بیان صحت کے بعد شرطیہ طور پر یہ کہا ہو کہ ان احادیث کی تاویل نہ کی جائے تو یہ موضوع ٹھہرتی ہیں۔ آپ اپنی کتاب سے یہ تصریح نکال دیں گے تو ہم آپ کو اس الزام سے کہ آپ نے صحیحین کی احادیث کو موضوع قرار دیا ہے بری کردیں گے۔ ورنہ کس و ناکس کو یقین ہوگا کہ درحقیقت آپ صحیح بخاری و مسلم کی حدیثوں کو موضوع ٹھہرا چکے ہیں۔ مگر آپ اتباع عوام اہل حدیث کے خوف سے ان کو موضوع کہنے سے انکار کرتے ہیں تاکہ وہ عوام آپ کو منکر احادیث نہ کہیں اور زمرہ اہل سنت سے خارج نہ کریں۔
    (۷) آپ لکھتے ہیں میرے نزدیک اجماع کا لفظ اس حالت پر صادق آسکتا ہے کہ جب صحابہ میں سے مشاہیر صحابہ اپنی رائے کو شائع کریں اور دوسرے باوجود سننے کے اس رائے کی مخالفت ظاہر نہ فرماویں سو یہی اجماع ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمرؓ و جابرؓ نے ابن صیاد کو دجال کہا تو یہ امر باقی صحابہ سے پوشیدہ نہ رہا ہوگا۔ سو میرے نزدیک یہی اجماع ہے آپ کے نزدیک یہ اجماع نہیں تو آپ بتاویں کہ کس صحابی نے ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار کیا ہے۔ پھر آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال کہنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے سکوت کیا ہے اور یہ ہزار اجماع سے افضل ہے ان عبارات میں آپ نے میرے سوالات کانمبر۱ کہ یہ تعریف اجماع جو آپ نے لکھی ہے
    دیکھو! مولوی صاحب اللہ کے بندوں کو حقیر جاننا و خامت عاقبت کا موجب ہوا کرتا ہے جلا دو ان فضول کتابوں کی الماریوں کو جو حق شناسی کی راہ میں حجاب الاکبر بن رہی ہیں۔ ڈر جاؤ کہیں اس جماعت میں داخل نہ ہوجاؤ جن پر یحمل اسفارا بولا گیا ہے آخر ہمارا بھی یوم الدین پر اس کی جز او سزا پر ایمان ہے۔ ہم اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنے افعال و اعمال کا جواب دہ یقین کرتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ آپ غرور و کبر سے مسلمانوں کو استحقار کی نظر سے دیکھیں ! اتقوااللّٰہ اتقوااللّٰہ ایھا المفرطون المعتدون! ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 71
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 71
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/71/mode/1up
    وہ ؔ کس کتاب میں ہے۔ نمبر ۲ بعض صحابہ کے اتفاق کو کون اجماع کہتا ہے نمبر ۳ سکوت باقی صحابہ پر نقل صحیح کی کہاں شہادت پائی جاتی ہے اس کو نقل کریں غالباً اور ہوگا سے کام نہ لیں ۔کچھ جواب نہ دیا اور پھر اپنے خیالات سابقہ کو دوبارہ نقل کردیا جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ علمی سوالات کو سمجھ نہیں سکتے اور مسائل متعلقہ اجماع سے واقف نہیں یا دیدہ ودانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دہی کی غرض سے ان کے جو اب سے جو آپ کے دعاوی کے مبطل ہیں چشم پوشی کرتے ہیں اب میں ان سوالات کا پھر اعادہ نہیں کرتا کیونکہ میں آپ سے جواب ملنے کی امید نہیں رکھتا۔*اور بجائے اس کے آپ کی باتوں کا خود ایسا جواب دیتا ہوں جس سے ثابت ہو کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ آپ کی ناواقفی پر مبنی ہے اور وہ میرے سوالات کا جواب نہیں ہوسکتا۔ آپ نے پرچہ نمبر میں تین شخصوں کی جماعت کے اتفاق کو اجماع قرار دیا تھا جو محض غلط اور ناواقفی پر مبنی ہے علماء اسلام جو اجماع کے قائل ہیں اجماع کی تعریف یہ کرتے ہیں وہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین کے جن میں ایک شخص بھی متفردو مخالف نہ ہو اتفاق کا نام ہے۔ توضیح میں ہے ھو اتفاق المجتھدین من امۃ محمد صلعم فی عصر علی حکم شرعی۔کتب اصول میں یہ بھی مصرح ہے کہ خلاف الواحد مانع یعنی ایک مجتہد بھی اہل اتفاق کا مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہ ہوگا۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے۔ قیل اجماع الاکثرمع ندرۃ المخالف اجماع کغیرا بن عباس اجمعوا مایقول علی العول وغیرابی موسی الاشعری اجمعوا علی نقض النوم الوضوء وغیر ابی ھریرۃ وابن عمر اجمعوا علی جواز الصوم فی السفر والمختارانہ لیس باجماع لانتفاع الکل الذی ھو مناط العصمۃ اور نیز اس میں ہے لاینعقد الاجماع باھل البیت وحدھم لانھم بعض الامۃ خلافا للشیعۃ اور نیز اس میں ہے ولاینعقد بالخلفاء الاربعۃ خلافا لاحد الامام۔ سکوت باقی اصحاب سے آپ نے اجماع استنباط کیا ہے۔ مگر اس کا ثبوت نہیں دیا بلکہ الٹا ہم سے ثبوت مخالفت طلب کیا ہے یہ ثبوت پیش کرنا ہمارا فرض نہ تھا۔ مگر ہم آپ پر احسان کرتے ہیں۔ آپ کو سکوت کل کا ثبوت پیش کرنا معاف کر کے خود ثبوت خلاف پیش کرتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ ابن صیاد کو
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 72
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 72
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/72/mode/1up
    دجالؔ موعود نہ سمجھنے والے ایک ابوسعید خدری صحابی ہے ان سے صحیح مسلم میں منقول ہے قال صحبت ابن صیاد الی مکۃ فقال لی ماقدلقیت من الناس یزعمون الی الدجال الست سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول انہ لایولدلہ قال قلت بلی قال فقد ولد لی اولیس سمعت رسول اللہ صلعم یقول لایدخل المدینۃ ولامکۃ قلت بلی قال فقد ولدت بالمدینۃ وھاانا اریدمکۃ قال ثم قال لی فی اخر قولہ اماواللہ انی لاعلم ولدہ ومکانہ واین ھو قال فلبّسنی۔ ابو سعید خدری کا یہ لفظ لبسنی صاف مشعر ہے کہ وہ دجال ابن صیاد کو یقیناً دجال موعود نہ سمجھتے تھے بلکہ اس میں ان کو لبسیعنی شبہ تھا۔ دوسرے تمیم داری جو دجال کو اپنی آنکھ سے ایک جزیرہ میں مقید دیکھ کر آئے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔
    وفی روایۃ فاطمۃ بنت قیس قالت سمعت نداء المنادی رسول اللہ صلعم ینادی الصلٰوۃ جامعۃ فخرجت الی المسجد فصلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکنت فی صف النساء الذی یری ظھور القوم فلما قضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلٰوتہ جلس علی المنبروھو یضحک فقال لیلزم کل انسان مصلاہ ثم قال اتدرون لم جمعتکم قال اللہ و رسولہ اعلم قال انی و اللہ ما جمعتکم لرغبۃ و لا لرھبۃ و لکن جمعتکم۔لان تمیم الداری کان رجلا نصرانیا فجاء فبایع فاسلم وحدثنی حدیثا وافق الذی کنت احدثکم عن مسیح الدجال حدثنی انہ رکب فی سفینۃ بحریۃ مع ثلثین رجلا من الخم وجزام فلعب بھم الموج شھرا فی البحرثم رفعوا الی جزیرۃ فی البحرحین تغرب الشمس فجلسوا فی اقرب السفینۃ فدخلوا الجزیرۃ فلقیتھم دابۃ اھلب کثیر الشعر لا یدرون ماقبلہ من دبرہ من کثرۃ الشعر فقالوا ویلک ماانت فقالت اناالجساسۃ قالوا وماالجساسۃ قالت یا ایھا القوم انطلقوا الی ھذا الرجل فی الدیر فانہ الی خبرکم بالاشواق قال لما سمت لنا رجلا فرقنا منھا ان تکون شیطانۃ قال فانطلقنا سراعاً حتی دخلنا الدیر فاذا فیہ اعظم انسان رأیناہ قط خلقا و اشد وثاقا مجموعۃ یداہ الی عنقہ ما بین رکبتیہ الی کعبیہ بالحدید قلنا ویلک ما انت قال قدرتم علی خبری فاخبرونی ما انتم قالوا نحن اناس من العرب رکبنا فی سفینۃ بحریۃ فصادفنا البحر حین اغتلم فلعب بنا الموج شھرا ثم رقینا الی جزیرتک ھذہ فجلسنا فی اقربھا فدخلنا الجزیرۃ فلقینا دابۃ اھلب کثیر الشعر لاندری ما قبلہ من دبرہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 73
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 73
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/73/mode/1up
    منؔ کثرۃ الشعر فقلنا ویلک ما انت فقالت انا الجساسۃ قلنا ما الجساسۃ قالت اعمدوالی ھذا الرجل فی الدیر فانہ الی خبرکم بالاشواق فاقبلنا الیک سراعا وفزعنا منھاولم نطمئن ان تکون شیطانۃ فقال اخبرونی عن نخل بیسان قلنا عن ای شاھنا تستخبر قال اسئلکم عن نخلھا ھل یثمر قلنا لہ نعم قال اماانھا یوشک ان لاتثمر قال اخبرونی عن بحیرۃ طبریۃ قلنا عن ای شاھنا تستخبر قال ھل فیھا ماء قالوا ھی کثیرۃ الماء قال اما ان ماء ھا یوشک ان یذھب قال اخبرونی عن عین زغرقالوا عن ای شاھنا تستخبر قال بل فی العین ماء وھل یزرع اھلھا بماء العین قلنا لہ نعم ھی کثیرۃ الماء واھلھا یزرعون من ماء ھا قال اخبرونی عن نبی الامیین مافعل قالوا قد خرج من مکۃ ونزل بیثرب قال ا قاتلہ العرب قلنانعم قال کیف صنع بھم فاخبرناہ انہ قدظھر علی من یلیہ من العرب واطاعوہ قال لھم قد کان ذاک قلنا نعم قال اماان ذاک خیرلھم یطیعوہ وانی مخبرکم عنی انی اناالمسیح الدجال وانی اوشک ان یوذن لی فی الخروج فاخرج فاسیر فی الارض فلا ادع قریۃ الاھبطتھا فی اربعین لیلۃ غیرمکۃ و طیبۃ فھما محرمتان علی کلماتھا کلما اردت ان ادخل واحدۃ او واحدا منھما استقبلنی ملک بیدہ السیف سلطایصدنی عنھا وان علی کل نقب منھا ملائکۃ یجرسونھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وطعن بمخصرتہ فی المنبرھذہ طیبۃ ھذہ طیبۃ یعنی المدینۃ الاھل کنت حدثتکم ذالک فقال الناس نعم فانہ اعجبنی حدیث تمیم انہ وافق الذی کنت احدثکم عنہ و عن المدینۃ ومکۃ الا انہ فی بحرالشام اوبحرالیمن لابل من قبل المشرق ماھو من قبل المشرق ماھو اومی بیدہ الی المشرق قالت فحفظت ھذا من رسول اللہ صلعم اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ تمیم داری نے دجال کو آنکھ سے دیکھا پھر کیونکر ممکن تھا کہ وہ قول ابن عمر کے موافق ابن صیاد کو دجال سمجھتے آپ نے اس حدیث کا ضعف ایک دوست کے حوالہ سے نواب صدیق حسن خاں صاحب مرحوم سے نقل کیا ہے۔ اس کا جواب ہم اس وقت دیں گے جب آپ نواب صاحب کا اصل کلام نقل کریں گے۔
    تیسرے وہ لوگ جو حضرت ابن عمر کے منہ پر ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار کرچکے تھے چنانچہ صحیح مسلم کے صفحہ ۳۹۹ میں حضرت ابن عمر سے منقول ہے فقلت لبعضھم ھل تحدثون انہ ھو قال لا واللہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 74
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 74
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/74/mode/1up
    قالؔ قلت کذبتنی واللہ لقد اخبرنی بعضکم انہ لایموت حتی یکون اکثر مالا وولدا فذالک ھو زعم الیوم یعنی حضرت ابن عمر نے کہ میں نے بعض لوگوں کو(جن سے ان کے معاصر اصحاب مراد ہیں) کہا کہ کیا تم کہتے ہو کہ ابن صیاد دجال ہے تو وہ بولے بخدا ہم نہیں کہتے میں نے کہا تم مجھے جھوٹا کرتے ہو بخدا تم ہی سے بعض نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ دجال صاحب اولاد ہوکر مرے گا اور اب وہ(ابن صیاد) ایسا ہی صاحب اولاد ہے یہ قول ابن عمر اس امر پر نص صریح ہے کہ ابن صیاد کو اور لوگ حضرت ابن عمر کے معاصر دجال نہیں جانتے ہیں اور ان کے سامنے ان کی رائے سے خلاف ظاہر کرتے تھے۔
    صرف حضرت ابن عمر ہی کا یہ ایسا قول تھا کہ جس میں ابن صیاد کو دجال موعود بلفظ مسیح الدجال کہا گیا ہے کیونکہ جابر و حضرت عمر کے قول سے یہ تصریح نہیں ہے کہ وہ دجال موعود ہے بلکہ انہوں نے ابن صیاد کو صرف دجال کہا ہے جس سے منجملہ تیس ۳۰دجالوں کے ایک دجال مراد ہوسکتا ہے۔ چنانچہ عنقریب اس کا ثبوت آتا ہے اور جب کہ حضرت ابن عمر کے صریح قول پر انکار مانا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر خلاف کے تصریح آپ کیا چاہیں گے۔ آپ کے حواری حکیم نور الدین نے ہمارے سوال نمبر ی ۲۱ کے جواب میں اس اختلاف کو تسلیم کیا اور یہ کہا ہے کہ دجال کی نسبت مختلف خیال ہیں۔
    آپ نے بڑا غضب ڈھایا کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر لیا اپنے حواری سے تو مشورہ کر لیا ہوتا آخر میں جو آپ نے قول فاروقی پر آنحضرت صلعم کے سکوت کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر نے جو آنحضرت کے سامنے ابن صیاد کو دجال کہا اور اس پر قسم کھائی تھی اس میں یہ تصریح نکمی ہے کہ ابن صیاد ہی وہ دجال ہے جس کے آنے کی آنحضرت نے علامات خاصہ بیان کر کے خبر دی تھی اور جملہ انبیاء سابقین نے اپنی امت کو ڈرایا تھا لہٰذا ممکن و محتمل۱؂ہے کہ حضرت عمر کے اس قول سے یہ مراد ہو کہ ابن صیاد منجملہ ان تیس۳۰ دجالوں کے ہے جن کے خروج کی آنحضرت نے خبرد ی ہے اس صورت میں آنحضرت کا سکوت آپ کیلئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ یہ سکوت ابن صیاد آخری دجال کہنے پر نہ ہوا بلکہ کوئی اور دجال منجملہ دجاجلہ ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکٰوۃ میں کہا ہے۔ قیل لعل عمر اراد بذالک ان ابن صیاد من الدجالین الذین یخرجون فیدعون
    ۱؂ حاشیہ ناظرین! ممکن و محتمل کا لفظ قابل غورہے ! ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 75
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 75
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/75/mode/1up
    النبوؔ ت ویضلون الناس ویلبسون علیھم اس پر شاید آپ یہ اعتراض کریں کہ جابر کے قول ابن صیاد الدجال میں جو حضرت عمر کی طرف بھی منسوب ہوا ہے لفظ دجال پر الف ولام بتارہا ہے کہ دجال سے ان کی مراد خاص دجال ہے نہ کہ کوئی دجال اور علماء معنے و بیان نے کہا ہے کہ خبر معرف بلام ہوتو اس کا مبتدا میں قصر ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دجال سے آخری دجال مراد نہ لیں بلکہ منجملہ تیس۳۰ دجال کے ایک دجال مراد ٹھہرائیں تو اس صورت میں بھی خاص دجال کی طرف الف ولام کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ رہا جواب قصر سو یہ ہے کہ خبر معرف بلام مقدم ہو جیسا کہ ابن عمر کے قول المسیح الدجال ابن صیاد میں ہو تو بے شک و بلااختلاف خبر کا مبتدا پر قصر ہوتا ہے مگر درصورتیکہ خبر موخر ہو تو اس کا مفید قصر ہونا محل اختلاف ہے۔ صاحب کشاف نے فایق میں اس سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ فاضل عبدالحکیم سیالکوٹی نے مطول کے حاشیہ میں کہا ہے قال مال صاحب الکشاف الی التفرقۃ بینھما حیث ذکر فی الفائق ان قولک اللہ ھو الدھر معناہ انہ الجالب للحوادث لاغیر الجالب و قولک الدھر ھو اللہ معناہ ان الجالب للحوادث ھواللہ لاغیرہ۔ بناءً علیہ لام الدجال سے قصر ثابت نہیں ہوتا۔ لام کو عہدی کہو یا جنسی اور قول جابرؓ یا حضرت عمر کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے نہ کچھ* اور یہ معنے نہیں ہیں کہ دجال وہی ہے نہ کوئی اور مگر ان باتوں کے سمجھنے کیلئے علم بیان و ادب و معانی میں دخل درکار ہے جس سے آپ اس احتمال کو کہ حضرت عمر نے دجال سے تیس۳۰ دجالوں میں سے ایک دجال مراد رکھا تھا کسی دلیل سے الٹا دیں اور ان کے صریح الفاظ سے ثابت کریں کہ دجال سے ان کی مراد آخری دجال تھا تو پھر ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ آنحضرت صلعم نے حضرت عمر کو جب انہوں نے ابن صیاد کو قتل کرنا چاہا تھا یہ فرمایا تھا کہ ابن صیاد وہ دجال ہے تو تجھے اس کے قتل پر قدرت نہ ہوگی اس کے قاتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہے فقال عمر بن الخطاب ذرنی یارسول اللہ اضرب عنقہ فقال لہ رسول اللہ صلعم ان یکنہ فلن تسلط علیہ وان لم یکنہ فلا خیرلک فی قتلہ۔ابوداؤد کی روایت میں یوں آیا ہے ان یکن فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسی ابن مریم وان لایکن ھوفلیس لک ان تقتل رجلا من اھل الذمۃ ا س قول آنحضرت صلعم سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر کو اس خیال سے
    * ناظرین ان تاویلات رکیکہ پر ذرا غور سے نظر ڈالنا۔ اس پر حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ و تحدی ملاحظہ ہو۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 76
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 76
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/76/mode/1up
    )انہوؔ ں نے بالفرض ظاہر کیا ہو خواہ دل میں رکھا ہو) ابن صیاد دجال موعود ہے روک دیا اور بناءً علیہ اس کے قتل سے منع کردیا۔ اس قول نبوی کے کتب احادیث میں موجود ہونے کے ساتھ یہ کہنا کہ آنحضرت نے حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال موعود کہنے یا سمجھنے پر سکوت کیا اسی شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو۔
    اس بیان سے صاف ثابت ہے کہ آپ نے جو کچھ اس باب میں لکھا ہے وہ فن حدیث اصول فقہ علم معانی و بیان و ادب وغیرہ سے ناواقفی پر مبنی ہے۔
    (۸) آپ لکھتے ہیں کہ کسی کو کسی بات کا قائل ٹھہرانا تصریح پر موقوف نہیں اس امر کی نسبت اس کے اشارات پائے جانے سے بھی اس کو قائل بنایا جاتا ہے۔ آنحضرت کا ایک مدت طویل تک ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے رہنا احتمال امر نہیں۔ آنحضرت نے زبان سے ڈر سنایا ہوگا تب ہی صحابی نے لم یزل کا لفظ فرمایا آنحضرتؐ اور سبھی انبیاء ؑ دجال سے ڈراتے آئے ہیں۔
    ایک شخص کا دس برس سے دہلی کی طیاری کرنا کوئی بیان کرے تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس شخص نے دہلی جانے کا ارادہ کبھی زبان سے بتایا ہوگا۔
    اور اگر یہی احتمال مسلم ہو کہ آنحضرت کے حالات سے ان کا ڈرنا صحابی نے اس کا ڈرنا سمجھ لیا تھا تو یہ بھی احتمال ہے کہ زبان سے سنا ہو اور لفظ لم یزل سے یہ احتمال قوی ہوتا ہے۔ اس صورت میں آپ کا مجھ کو مفتری کہنا بے جا ہے۔
    اس سے آپ کا افتراء سابق اور پختہ و متیقن ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے جو پہلے کہا تھا وہ خطاءً نہیں کہا عمداً افتراء کیا ہے اور اس پر آپ کو اب تک ایسا اصرار ہے کہ جتانے سے بھی باز نہیں آتے اور اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے محدثین نے بیان کیا ہے کہ جو شخص ر وایت حدیث میں غلطی پر متنبہ کیا جاوے اور پھر اس سے باز نہ آئے وہ ساقط العدالت ہوجاتا ہے۔
    آپ کا یہ کہنا کہ اشارات سے بھی ایک شخص کو ایک امر کا قائل بنایا جاتا ہے تب آپ کے حق میں مفید ہو جب کہ صحابی آنحضرت کو اس قول کا قائل بناتا جس کا قائل آنحضرت کو آپ نے بنادیا ہے صحابی نے آنحضرت کو قائل قول مذکور نہیں بنایا بلکہ اپنا خیال بیان کیا ہے تو پھر اس کہنے سے آپ کو کیا فائدہ ہے کہ اشارات سے بھی قائل بنایا جاتا ہے آنحضرت کی طرف کسی قول کو منسوب کرنا اسی صورت و پیرایہ میں حلال ہے جس صورت
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 77
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 77
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/77/mode/1up
    وپیرؔ ایہ میں آپ نے فرمایا ہو اشارۃً ہوتو اشارۃً صراحۃً ہوتو صراحۃً آنحضرت نے فرمایا۔ اتقوا عنی الا ماعلمتم فمن کذب علی متعمدا فلیتبوء مقعدہ من النارآپ کی کتب حدیث میں اگر نظر ہوتو آپکو معلوم ہو کہ آنحضرت کے اصحاب آپ سے کوئی ایسا لفظ نقل نہ کرتے جو آپ نے نہ فرمایا ہوتا اور اگر ان کو اصل لفظ حضرت رسالت میں شک واقع ہوجاتا تو شک و تردد کے ساتھ الفاظ بیان کرتے آپ نے باوجودیکہ آپ کو یہ علم نہ تھا کہ آنحضر ت صلعم نے وہ الفاظ فرمائے ہیں جو آپ نے نقل کئے ہیں اور اب تک اس کا علم پر یقین نہیں صرف خیالی احتمال ہے پھر آپ نے اس لفظ کو آنحضرت کی طرف منسوب کیا تو بجز افتراعمدی اور کیا ہوسکتا ہے۔
    آنحضرت کے ابن صیاد کے ڈرنے کو احتمالی کون کہتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس سے اور اصحاب اس امر کو ملاحظہ کرتے تب ہی ایک صحابی نے یہ کہہ دیا کہ ہمیشہ آنحضرت ڈرتے تھے لفظ ہمیشہ(مالم یزل) کو یہ لازم نہیں ہے کہ آپ زبان سے بھی یہ فرما دیا کرتے کہ میں ڈرتا ہوں۔
    پہلے انبیاء اور آنحضرت صلعم اجمعین نے بے شک دجال موعود سے ڈرایا ہے مگر اس سے یہ نکالنا کہ آپ نے ابن صیاد کو دجال کہہ کر ڈرایا ہے آنحضرت پر ایک اور افترا ہے دجال سے ڈرانا ابن صیاد سے ڈرانا نہیں ہے خدا سے ڈرو آنحضرت پر افترا نہ کرتے جاؤ۔
    تیاری دہلی کی مثال میں آپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ایک شخص کو دس برس سے اگر کوئی دیکھے کہ وہ وقتاً فوقتاً دہلی کا ٹکٹ خرید کر واپس کر آتا ہے اور ایسی حالت میں آخری برس تک وہ رہا ہے تو اس کی نسبت یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ دس برس سے تیار ہے۔ گو تیاری کا حرف کبھی زبان پر نہ لاوے ہم سے ایک اور مثال سنیئے ایک شخص مدت العمر نمازوں اور دعاؤں میں زاری کرتا رہے احکام شریعت کا پابند ہو خدا کا اور بندوں کا حق تلف نہ کرے اس کی نسبت کس و ناکس بشرطیکہ فاتر الحواس نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے گو وہ منہ سے کبھی نہ کہے کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔
    ایک احتمال کے مقابل دوسرا احتمال ہوتو مدعی کو اس سے استدلال درست نہیں ہے اس کے خصم منکر کو پہنچتا ہے کہ وہ اس احتمال سے تمسک کرکے بحکم اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال۔ مدعی کے استدلال کو توڑ دے۔ آپ اس امر سے ناواقف ہیں تب ہی مدعی ہوکر احتمال سے استدلال کرتے ہیں۔
    افترا آپکی قدیم سنت ۱؂ہے ان افتراؤں کے علاوہ جو ثابت کئے گئے ہیں آپ نے رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۰۱
    ۱؂ کیا اسی وقت سے جب کہ آپ نے ان کو ولی اللہ۔ ملہم۔ مجدد اور محدث مانا اور ان کی بے مثل کتاب البراہین کی اخص
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 78
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 78
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/78/mode/1up
    میںؔ حدیث کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم کا ترجمہ کیا تو اس میں اس سوال و جواب کا رسول اللہ صلعم پر افترا کیا ہے کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا اور تم میں سے ہی(اے امتی لوگو) پیدا ہوگا۔ آپ نے عمداً رسول اللہ پر یہ افترا نہیں کیا تو بتائیں کس حدیث کے کس طریق یا وجہ میں یہ سوال و جواب وارد ہیں۔
    رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۱۸ میں آپ نے دجال موعود کے محل نزول میں اختلاف علماء بیان کیا تو اس میں علماء اسلام پر یہ افترا کیا کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ نہ بیت المقدس میں اترے گا نہ دمشق میں بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا۔ آپ اس قول کے بیان میں مفتری نہیں تو بتادیں کہ کس عالم کا یہ قول ہے کہ وہ نہ بیت المقدس میں اتریں گے نہ دمشق میں۔
    آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعو ٰی میں سچے نہیں اور جو تارو پود آپ نے پھیلا رکھا ہے سب افترا ہے۔
    (۹) آپ لکھتے ہیں کہ آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور بخاری کی یہ حدیث اپنے رسالہ میں نقل کرچکے ہیں کہ محدث کی بات میں شیطان کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔ بخاری پر آپ کا ایمان ہے تو اس حدیث کی تسلیم سے ابن عربی کا قول آپ کے نزدیک مسلم ہے پھر میں نے آپ پر کیا افترا کیا۔
    اس میں آپ نے مجھ پر ایک اور افترا کیا اور مسلمانوں کو دھوکہ دیا۔ مہربان من میں صحیح بخاری کو تسلیم کرتا ہوں اور اس حدیث پر جو صحیح بخاری میں محدث کے شان میں مروی ہے میں ایمان رکھتا ہوں و مع ھٰذا یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ جو شخص محدث کہلاوے اور صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو بشہادت الہام خود موضوع قرار دے وہ محدث نہیں ہے۔ شیطان کی طرف سے مخاطب ہے واقعی محدث و ملہم وہی شخص ہے جس کے تحدیث والہام قدیم قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے مخالف نہ ہو اور جو شخص محدث یا ملہم ہونے کا دعو ٰی کرے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ مجھے فرشتوں نے کیا ہے یا خدا نے الہام کیا یارسول اللہ صلعم نے فرمایا ہے
    برکات میں شامل ہونے کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی؟ دیکھو ریویو براہین کا آخری حصہ شیخ صاحب بقول شیخ سعدیؒ بڑی سبک سری اور دنائت ہے:۔
    ’’باندک تغیر خاطر از مخدوم قدیم برگشتن و حقوق نعمت سالہا درنوشتن۔‘‘
    شیخ صاحب ایسی ضد سے باز آجاؤ۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 79
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 79
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/79/mode/1up
    کہؔ صحیحین کی حدیثیں موضوع ہیں میں اسکو شیطان کا مخاطب اور اس کی طرف سے محدث بلکہ شیطان مجسم سمجھتا ہوں ایسا جعلی محدث بعینہٖ ویسا ہے جو محدث بن کر کہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ قرآن مجید خدا کا کلام نہیں ہے جسکو امید ہے کہ آپ بھی محدث تسلیم نہ کریں گے۔
    یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے مسلمان جو بخاری کو مانتے ہیں آپکے دعویٰ محدثیت کو قبول نہیں کرتے کیا وہ اس انکار سے اس حدیث بخاری کے منکر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔
    خدا سے ڈرو اور مسلمانوں کو مغالطہ نہ دو یہ آپکے کلام کا مختصر جواب ہے جس سے آپ کے مغالطات اور ناواقفی اور دھوکہ دہی کا بخوبی اظہار ہوگیا۔
    بعض مطالب پرچہ آخری اور پرچہائے سابق کے جوابات ونتائج کو بخوف تطویل عمداً چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ ہمارے حصول مطلب کیلئے کافی ہے ان باتوں کو ہمارے اصل مدعا سے ایسا تعلق نہیں ہے کہ وہ بلا بیان ان باتوں کے وہ مدعا حاصل نہ ہوتا ان باتوں کا اظہار صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ آپ نے اصل سوال کا جواب نہ دیا اور ان باتوں کے بیان سے جنکا جواب ہم نے دیا ہے جواب کو ٹلایا۔ آئندہ اپنی طرز تحریر اور تطویل و دفع الوقتی کو چھوڑ دیں تو اس طرف سے بھی اس قسم کی باتوں سے قلم روک لیا جائے گا اور اگر اسی تحریر کے جواب میں آپ نے پھر وہی روش اختیار کی تو آپ دیکھ لیں کہ اس طرف سے بھی ایسا ہی سلوک ہوگا۔ آپ کیلئے بہتر ہے کہ اس روش کو بدل دیں اور میرے اصل سوال کا جواب اتنی سطروں میں دیں جتنی سطروں میں میرا سوال ہے میں سردست جواب با دلائل نہیں چاہتا مجرد جواب کا طالب ہوں جس وقت میں کسی مسئلہ میں آپ سے بحث و دلائل کا طالب ہوں گا۔ اس وقت آپ تفصیلی بحث کریں۔ میری یہ نصیحت منظور ہوتو آپ مختصراً بتادیں کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث جملہ صحیح ہیں یا جملہ موضوع ناقابل العمل یا مختلط جن میں بعض صحیح ہوں بعض موضوع۔ اس سوال کا جواب دو حرفی آپ نے دیا تو پھر میں اور سوال کروں گا اور اسی طرح اختصار آپ نے مدنظر رکھا تو ایک دن میں مباحثہ انشاء اللہ تعالیٰ ختم ہوگا۔ کماتدین تدان۔
    ابو سعید محمد حسین۔ ۲۶ ؍جولائی ۹۱ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 80
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 80
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/80/mode/1up
    مرؔ زاصاحب
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہٗ و نصلّی علٰی رسولہٖ الکریم
    حضرت مولوی صاحب میں نہایت افسوس سے تحریر کرتا ہوں کہ جس سوال کے جواب کو میں کئی دفعہ آپ کی خدمت میں گذارش کرچکا ہوں وہی سوال آپ بار بار بہت سی غیر متعلق باتوں کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اچھی طرح میری تحریرات پر غور بھی نہیں کی اور نہ میری کلام کو سمجھا اسی وجہ سے آپ ان امور کا بھی الزام میرے پر لگاتے ہیں جن کا میں قائل نہیں لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ برعایت اختصار پھر آپ کو اپنے عقیدہ اور مذہب سے جو حدیثوں کے بارہ میںَ میں رکھتا ہوں اطلاع دوں۔
    سو مہربان من آپ پر ظاہر ہو کہ میں اپنی تحریر نمبر چہارم و پنجم میں بہ تفصیل و تصریح بیان کرچکا ہوں کہ احادیث کے دو حصے ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کے پناہ میں آگیا ہے یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے۔
    اور دوسرا وہ حصہ ہے جن کو سلسلہ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں اور صرف راویوں کے سہارے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں سو اگرچہ میں صحیحین کی حدیثیں اس قوت اور مرتبہ پر نہیں سمجھتا کہ باوجود مخالفت آیات صریحہ و بینہ قرآن ان کو صحیح سمجھ سکوں۔ لیکن سلسلہ تعامل کی حدیثیں میری اس شرط سے باہر ہیں چنانچہ میں اپنی تحریر کے نمبر پنجم میں بتصریح لکھ چکا ہوں اگر سلسلہ تعامل کی حدیثوں کے روسے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر مغائر معلوم ہو تو میں اس کو تسلیم کرسکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل کی حدیثیں حجت قوی ہیں اور قرآن کو معیار ٹھہرانے سے سلسلہ تعامل کی حدیثیں مستثنیٰ ہیں دیکھو تحریر نمبر پنجم بجواب آپ کی تحریر کے۔
    آپ میری تحریر نمبر پنجم کے پڑھنے کے بعد اگر فہم اور تدبر سے کام لیتے تو بیہودہ اور غیر متعلق باتوں سے اپنی تحریر کو طول نہ دیتے میں نے کب اور کہاں یہ اعتقاد ظاہر کیا ہے کہ سنت متوارثہ متعاملہ اور حدیث مجرد دونو اس بات کی محتاج ہیں کہ قرآن کریم سے اپنی تحقیق صحت کیلئے پرکھی جائیں بلکہ میں تو نمبر مذکور میں صاف طور پر لکھ چکا کہ سلسلہ تعامل کی حدیثیں بحث مانحن فیہ سے خارج ہیں۔
    اب مکرر آواز بلند کے ساتھ آپ پر کھولتا ہوں کہ سلسلۂ تعامل کی حدیثیں یعنی سنن متوارثہ متعاملہ جو عاملین اور آمرین کے زیرنظر چلی آئی ہیں اور علیٰ قدر مراتب تاکید مسلمانوں کی عملیات دین میں قرناً بعد قرنٍ وعصراً بعد عصرٍ داخل رہی ہیں وہ ہرگز میری آویزش کا مورد نہیں اور نہ قرآن کریم کو انکا معیار ٹھہرانے کی ضرورت ہے اور اگر انکے ذریعہ سے کچھ زیادت تعلیم قرآن پر ہوتو اس سے مجھے انکار نہیں۔ ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 81
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 81
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/81/mode/1up
    اپنیؔ تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے اور پھر فرماتا ہے ۲؂ یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الٰہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الٰہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمیٰ مدد دیئے گئے ہوں۔ سو ایسے لوگوں کیلئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہوسکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جو سنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں بلاتامل و توقف قبول کر لیں۔ اور جو لوگ وحی ولایت عظمیٰ کی روشنی سے منور ہیں اور الاالمطہرون کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلاشبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً د قائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کردیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہرگز نہیں دی۔ بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہوجاتی ہے جو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔اگرچہ علماء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے۔ لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو ملہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ تام کے جو درحقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح نہیں مل سکتی۔ بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و ناتمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدود صداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائمی اور تمام تر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں جن میں صاف صاف اللہ جلّ شانہٗ نے فرمایا ہے کہ قرآن جمیع تعلیمات دینیہ کا جامع ہے !!!
    اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے سنن متوارثہ متعاملہ کو اپنے پرچہ نمبر پنجم و چہارم میں ایک علیحدہ حصہ بتصریح بیان کردیا ہے اور میرے نمبر پنجم کے پڑھنے سے ظاہر ہوگا کہ میں نے ان سنن متوارثہ متعاملہ کو ایک ہی درجہ یقین پر قرار نہیں دیا بلکہ میں ان کے مراتب متفاوتہ کا قائل ہوں جیسا کہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 82
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 82
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/82/mode/1up
    میرؔ ے نمبر پنجم کے صفحہ ۳ میں یہ عبارت ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں وہ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیض یابی کے یقین کے درجہ تک پہنچتے ہیں یعنی کوئی ان میں سے اول درجہ کے یقین پر پہنچ جاتی ہے اور کوئی اوسط تک اور کوئی ادنیٰ تک جس کو ظن غالب کہتے ہیں لیکن وہ تمام حدیثیں بغیر اس کے کہ محک قرآن سے آزمائی جائیں بوجہ جمع ہونے دونوں قوتوں تعامل اور صحت روایت کے اطمینان کے لائق ہیں۔مگر ایسی احاد حدیثیں جو سنن متوارثہ متعاملہ میں سے نہیں ہیں اور سلسلۂ تعامل سے کوئی معتدبہ تعلق نہیں رکھتیں وہ اس درجہ صحت سے گری ہوئی ہیں۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حدیثیں صرف اخبار گزشتہ و قصص ماضیہ یا آئندہ ہیں جن کو نسخ سے بھی کچھ تعلق نہیں یہ میرا وہ بیان ہے جو میں اس تحریر سے پہلے لکھ چکا ہوں یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے کسی پرچہ میں ان دوسرے حصہ کی احادیث کا نام سنن متوارثہ متعاملہ نہیں رکھا بلکہ ابتدائے تحریر سے ہر جگہ حدیث کے نام سے یاد کیا جس سے میری مراد واقعات ماضیہ و اخبار گزشتہ یا آئندہ تھیں اور ظاہر ہے کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور احکام متداولہ کے نکالنے کے بعد جو احادیث بکلی فرضیت تعامل سے باہر رہ جاتے ہیں وہ یہی واقعات و اخبارو قصص ہیں جو تعامل کے تاکیدی سلسلہ سے باہر ہیں اور ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ بحث احکام کے اختلافات کی وجہ سے شروع نہیں کی گئی۔ اور میں تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کسی ایک حکم میں بھی دوسرے مسلمانوں سے علیحدگی نہیں جس طرح سارے اہل اسلام احکام بینہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ و قیاسات مسلمہ مجتہدین کو واجب العمل جانتے ہیں اسی طرح میں بھی جانتا ہوں۔ صرف بعض اخبار گزشتہ و مستقبلہ کی نسبت الہام الٰہی کی وجہ سے جس کو میں نے قرآن سے بکلی مطابق پایا ہے بعض اخبار حدیثیہ کے میں اس طرح پر معنی نہیں کرتا جو حال کے علماء کرتے ہیں کیونکہ ایسے معنے کرنے سے وہ احادیث نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ٹھہرتی ہیں بلکہ دوسری احادیث کی بھی جو صحت میں ان کے برابر ہیں مغائر و مبائن قرار پاتی ہیں۔ سو دراصل یہ تمام بحث ان اخبار سے متعلق ہے جن کی نسخ کی نسبت کوئی سلف و خلف میں سے قائل نہیں۔ کوئی باسمجھ انسان ایسا نہیں جس کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے حدیثوں سے منسوخ ہوچکی ہیں۔ یا یہ عقیدہ ہو کہ حدیثیں اپنی صحت میں ان سے بڑھ کر ہیں۔ بلکہ اس راہ میں بحالت انکار بجز اس طریق کے مجال کلام نہیں کہ یہ کہا جائے کہ وہ آیتیں پیش کرو ہم حدیثوں سے مطابق کردیں گے سوائے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 83
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 83
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/83/mode/1up
    کاشؔ آپ نے دیانت و امانت کو مدنظر رکھ کر وہی طریق مقصود اختیار کیا ہوتا! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ جو احادیث تعامل کے سلسلہ میں داخل ہوں ان کو میں بحث متنازع فیہ سے باہر کرچکا ہوں؟ اور اگر معلوم تھا تو پھر کیوں آپ نے گدھے کے حرام ہونے کی حدیث پیش کی؟ کیا کسی چیز کا حرام یا حلال کرنا احکام میں سے نہیں؟ اور کیا احکام اکل و شرب کے تعامل الناس سے باہر ہیں؟ اور پھر آپ نے *** علی الواشمات والمستوشمات کی بھی حدیث پیش کردی اور آپکو کچھ خیال نہ آیا کہ یہ تو سب احکام ہیں جن کیلئے تعامل کے سلسلہ کے نیچے داخل ہونا ضروری ہے! آپ سچ کہیں کہ ان تمام غیر متعلق باتوں سے آپ نے اپنا اور سامعین کا وقت ضائع کیا یاکچھ اور کیا؟ لوگ منتظر تھے کہ اصل بحث کے سننے سے جس کا ایک دنیا میں شور پڑگیا ہے فائدہ اٹھاویں اور حق اور ناحق کا فیصلہ ہو لیکن آپ نے نکمی اور فضول اور بے تعلق باتیں شروع کردیں شاید ان باتوں سے وہ لوگ بہت خوش ہوئے ہونگے جن میں اصل مقصود کی شناخت کرنے کا مادہ نہیں لیکن میں سنتا ہوں کہ حقیقت شناس لوگ آپ کی اس تقریر سے سخت ناراض ہوئے اور آپ کی مناظرانہ لیاقت کا مادہ انہوں نے معلوم کر لیا کہ کہاں تک ہے بہرحال چونکہ آپ اپنے اس دھوکہ دینے والے مضمون کو ایک جلسہ عام میں سنا چکے ہیں اسلئے میں مواضع مناسبہ سے آپ کے اقوال قولہ۔ اقول کے طرز پر ذیل میں بیان کرتا ہوں تا منصفین پر کھل جائے کہ کہاں تک آپ نے دیانت ورا ستی و تہذیب اور طریق مناظرہ کا التزام کیا ہے۔ وباللہ التوفیق۔
    قولہ۔آپ نے میرے سوال کا جواب صاف اور قطعی نہیں دیا کہ احادیث جملہ صحیح ہیں یا جملہ موضوع یا مختلط۔
    اقول۔ حضرت میں آپ کو کئی دفعہ جواب دے چکا ہوں کہ حصہ دوم احادیث کا جو تعامل کے سلسلہ سے یا یوں کہو کہ سنن متوارثہ متعاملہ سے باہر ہے صرف ظن کے درجہ پر ہے اور یہی میرا مذہب ہے اور چونکہ اس حصہ سے جو اخبار گزشتہ یا مستقلہ کی قسم میں سے ہے نسخ بھی متعلق نہیں اس لئے در حالت مخالفت نصوص بینہ قرآن قابل تسلیم نہیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث نص قطعی بین قرآن سے مخالف ہوگی تو قابل تاویل ہوگی یا موضوع قرار پائے گی۔
    قولہ ۔ صحیح بخاری و مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے جو بوجہ تعارض موضوع ٹھہر سکتی ہے؟
    اقول۔ بے شک حصہ دوم کے متعلق ایسی حدیثیں ہیں جن میں سخت تعارض پایا جاتا ہے جیسا کہ وہی حدیثیں جو نزول ابن مریم کے متعلق ہیں کیونکہ قرآن قطعی طور پر فیصلہ دیتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور صحیحین کی بعض حدیثیں بھی اس فیصلہ پر شاہد ناطق ہیں اور ایک گروہ صحابہ اور علماء امت کا بھی قرناً بعد قرنٍ اسی بات کا مقرّ ہے اور نصاریٰ کا یونی ٹیرین فرقہ بھی اسی بات کا قائل ہے اور یہودیوں کابھی یہی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 84
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 84
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/84/mode/1up
    اعتقاؔ د ہے اب اگر ان مخالف حدیثوں کی جو قرآن اور احادیث صحیحہ کے برخلاف ہیں ہماری طرز پر تاویل نہ کی جائے تو پھر بلاشبہ موضوع ٹھہریں گی۔ اور خود وہ حدیثیں پکار پکار کر بتلارہی ہیں کہ ابن مریم کا لفظ ان میں حقیقت پر محمول نہیں لیکن اس زمانہ کے اکثر مولوی صاحبان اور خاص کر آپ کی مرضی معلوم ہوتی ہے کہ قرآن سے ان کی تطبیق نہ دی جائے گو وہ بوجہ اس مخالفت کے موضوع ہی ٹھہر جائیں آپ کا دعویٰ تطبیق کا ہے۔ لیکن اس فضول دعویٰ کو کون سنتا ہے جب تک آپ اس بحث کو شروع کر کے تطبیق کر کے نہ دکھلائیں ایسا ہی کئی حدیثیں اور بھی ہیں جن میں سخت تعارض باہمی پایا جاتا ہے مثلاً بخاری کے صفحہ ۴۵۵ میں جو معراج کی حدیث بروایت مالک لکھی ہے وہ دوسری حدیثوں سے جو اسی بخاری میں درج ہیں بالکل مختلف ہے صرف نمونہ کے طور پر دکھاتا ہوں کہ اس حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت موسیٰ ؑ کوچھٹے آسمان پر دیکھا۔ لیکن بخاری کے صفحہ ۴۷۱ میں ابو ذر کی روایت سے بجائے موسیٰ ؑ کے ابراہیم کا چھٹے آسمان پر دیکھنا لکھا ہے ! اور پھر وہ حدیث بخاری کی جو باب صلٰوۃ میں ہے اور نیز امام احمد کی مسند میں بھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج بیداری میں تھا اور اسی پر اکثر اکابر صحابہ کا اتفاق بھی ہے لیکن بخاری کی حدیث صفحہ ۴۵۵ جو مالک کی روایت سے ہے اور نیز بخاری کی وہ حدیث جو شریک بن عبداللہ سے ہے صاف بیان کررہی ہیں کہ وہ اسراء یعنی معراج نیند کی حالت میں تھا۔ اور تینوں حدیثوں میں محلِّ نزول جبرئیل مختلف لکھا ہے کسی میں عندالبیت اور کسی میں اپنا گھر ظاہر کیا ہے اور شریک کی حدیث میں قبل ان یوحٰیکا لفظ بھی درج ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت کی پیغمبری سے پہلے معراج ہوا تھا حالانکہ اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ اسراء بعد بعثت ہوا ہے تبھی تو نمازیں بھی فرض ہوئیں۔ اور خود حدیث بھی بعد البعث پر دلالت کررہی ہے جیسا کہ اسی حدیث میں جبرئیل کا قول بوّابُ السماء کے اس سوال کے جواب میں کہ أَبُعِثَ۔ نَعَمْ لکھا ہے۔ ان اختلافات کا اگر یہ جواب دیا جائے کہ یہ اسراء متعدد اوقات میں واقع ہوا ہے اسی وجہ سے کبھی موسیٰ کو چھٹے آسمان میں دیکھا اور کبھی ابراہیم کو تو یہ تاویل رکیک ہے کیونکہ انبیاء اور اولیا بعد موت کے اپنے اپنے مقامات سے تجاوز نہیں کرتے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے۔
    ماسوا اس کے معراج کے متعدد ماننے میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بعض احکام ناقابل تبدیل اور مستمرہ کا فضول طور پر منسوخ ماننا پڑتا ہے اور حکیم مطلق کو ایک لغو اور بے ضرورت تنسیخ کا مرتکب قرار دے کر پھر پشیمانی کے طور پر پہلے ہی حکم کی طرف عود کرنے والا اعتقاد کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اگر قصہ معراج کئی مرتبہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 85
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 85
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/85/mode/1up
    واقعؔ ہوا ہے جیسا کہ احادیث کا تعارض دور کرنے کیلئے جواب دیا جاتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ اعتقاد ہونا چاہئے کہ مثلاً پہلی دفعہ کی معراج کے وقت میں نمازیں پچاس فرض کی گئیں اور ان پچاس میں تخفیف کرانے کیلئے کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے موسیٰ اور اپنے رب میں آمد و رفت کی۔ یہاں تک کہ پچاس نماز سے تخفیف کراکر پانچ منظور کرائیں۔ اور خداتعالیٰ نے کہہ دیا کہ اب ہمیشہ کیلئے غیر مبدل یہ حکم ہے کہ نمازیں پانچ مقرر ہوئیں اور قرآن پانچ کیلئے نازل ہوگیا پھر دوسری دفعہ کی معراج میں یہی جھگڑا پھر ازسرنو پیش آگیا کہ خداتعالیٰ نے پھر نمازیں پچاس مقرر کیں اور قرآن میں جو حکم وارد ہوچکا تھا اس کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا اور منسوخ کردیا مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی دفعہ کے معراج کی طرح پچاس نمازوں میں کچھ تخفیف کرانے کی غرض سے کئی دفعہ حضرت موسیٰ ؑ اور اپنے رب میں آمد ورفت کرکے نمازیں پانچ مقرر کرائیں اور جناب الٰہی سے ہمیشہ کیلئے یہ منظوری ہوگئی کہ نمازیں پانچ پڑھا کریں اور قرآن میں یہ حکم غیر متبدل قرار پاگیا لیکن پھر تیسری دفعہ کے معراج میں وہی پہلی مصیبت پھر پیش آگئی اور نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور قرآن کریم کی آیتیں جو غیر متبدل تھیں منسوخ کی گئیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت سی دقت اور بار بار کی آمد ورفت سے پانچ نمازیں منظور کرائیں مگر منسوخ شدہ آیتوں کے بعد پھر کوئی نئی آیت نازل نہ ہوئی!!! اب کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خداتعالیٰ ایک دفعہ تخفیف کرکے پھر پانچ سے پچاس نمازیں بنادے اور پھر تخفیف کرے اور پھر پچاس کی پانچ ہوجائیں ! اور بار بار قرآن کی آیتیں منسوخ کی جائیں اور حسب منشاء ۱؂ اور کوئی آیت ناسخ نازل نہ ہو! درحقیقت ایسا خیال کرنا وحی الٰہی کے ساتھ ایک بازی ہے! جن لوگوں نے ایسا خیال کیا تھا انکا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح تعارض دورہو لیکن ایسی تاویلوں سے ہرگز تعارض دور نہیں ہوسکتا بلکہ اور بھی اعتراضات کا ذخیرہ بڑھتا ہے ایسا ہی اور کئی حدیثوں میں تعارض ہے۔
    قولہ۔ آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ حصہ جو تعامل میں آچکا ہے جس میں وہ تمام ضروریات دین ا ورعبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں دوسرا وہ حصہ جو تعامل سے تعلق نہیں رکھتا یہ حصہ یقینی طور پر صحیح نہیں ہے اور اگر قرآن سے مخالف نہ ہو تو صحیح تسلیم ہوسکتا ہے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایات اور قوانین درایت سے محض ناواقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے ناآشنا۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 86
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 86
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/86/mode/1up
    اقوؔ ل۔ آپ کا یہ ثابت کرنا اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ علاوہ حدیث دانی کے سخن فہمی کا بھی آپ کوبہت سا ملکہ ہے *۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے جو کچھ اپنی پہلی تحریروں کے نمبر چہارم و پنجم میں بیان کیا ہے وہ عام لوگوں کے سمجھانے کیلئے ایک عام فہم عبارت ہے اسی لئے میں نے اہل حدیث کی اصطلاح سے کچھ سروکار نہیں رکھا۔ کیونکہ جو مضمون عام جلسہ میں پڑھا جائے وہ حتی الوسع عوام کے فہم اور استعداد کے موافق ہونا چاہئے نہ کہ ملاؤں کی طرح لفظ لفظ میں اپنے علم کی نمائش ہو۔ اور یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ فی الواقعہ احادیث کے دو ہی حصے ہیں ایک وہ جو احکام اور ایسے امور سے متعلق ہیں جو اصل تعلیم اسلام اور تعامل سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک وہ جو حکایات اور واقعات اور قصص اور اخبار ہیں جن کا سلسلہ تعامل سے کچھ ایسا ضروری تعلق قرار نہیں دیا گیا سو میں نے ضروریات دین کے لفظ سے انہی امور کو مراد لیا ہے جن کا سلسلہ تعامل سے ضروری تعلق ہے اور آپ اپنی حدیث دانی دکھلانے کیلئے اس صاف اور سیدھی تقریر پر بے جا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں اور ناحق ضروریات کے لفظ کو پکڑ لیا ہے۔ کیا آپ کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ ہر ایک شخص اپنے لئے اصطلاح قرار دینے کا مجاز ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ اگر ضروریات سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی حدیث خارج و مستثنیٰ نہیں رہتی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت اور ضرورت کے متعلق ہے لیکن افسوس کہ آپ دانستہ حق پوشی کررہے ہیں۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اخبارو قصص کو جو امر متنازعہ فیہ ہے سلسلۂ تعامل سے کوئی معتدبہ تعلق نہیں جو کچھ ہمیں مسلمان بننے کیلئے ضرورتیں ہیں وہ احکام فرمودہ اللہ اور رسول سے حاصل ہیں اور وہی احکام تعامل کی صورت میں عصراً بعد عصرٍ صادر ہوتے رہتے ہیں مسلم اور بخاری میں کئی جگہ بنی اسرائیل کے قصے اور انبیاء اور اولیاء اور کفار کی بھی حکایتیں ہیں جن پر بجز خاص خاص لوگوں کے جو فن حدیث کا شغل رکھتے ہیں دوسروں کو اطلاع تک نہیں اور نہ حقیقت اسلامیہ کی تحقیق کیلئے ان کی اطلاع کچھ ضروری ہے سو وہی اور اسی قسم کے
    * حضرت مرشدنا! مولوی صاحب کی سخن فہمی اور سخن دانی کاایک یہ خاکسار بھی قائل ہے اور ثبوت میں مولوی صاحب کا یہ نادر شعر پیش کرتا ہوں۔
    آنکس کہ خود زضعف ومرض لاغری کند اللہ اللہ ! صدق من قال وہوالقائل العزیز ۔۱؂ الاٰیۃ۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 87
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 87
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/87/mode/1up
    اورؔ امور ہیں جن کا نام میں احادیث مجردہ رکھتا ہوں۔ سنن متوارثہ کے نام سی انہیں موسوم نہیں کرتا اور وہی ہیں جو سلسلۂ تعامل سے خارج ہیں اور مسلمانوں کو تعامل کی حدیثوں کی طرح ان کی کوئی بھی ضرورت نہیں اگر اسی مجلس میں بعض قصص بخاری یا مسلم کے حاضر الوقت مسلمانوں سے دریافت کی جائیں تو ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے نکلیں گے جن کو وہ تمام حالات معلوم ہوں بلکہ بجز کسی ایسے شخص کے جو اپنی معلومات کے بڑھانے کی غرض سے دن رات احادیث کا شغل رکھتا ہے اور کوئی نہیں ہے جو بیان کرسکے لیکن ہریک مسلمان ان تمام احکام اور فرائض کو جو ہم پہلے حصہ میں داخل کرتے ہیں عملی طور پر یاد رکھتا ہے کیونکہ وہ مسلمان بننے کی حالت میں دائمی طور پر اس کو کرنی پڑتی ہیں یا کبھی کبھی کرنے کیلئے وہ مجبور کیا جاتا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ تعامل کے متعلق جو احکام ہیں وہ سب ثبوت کے لحاظ سے ایک درجہ پر نہیں جن امور کی مواظبت اور مداومت بلافتور و اختلاف چلی آئی ہے وہ اول درجہ پر ہیں اور جس قدر احکام اپنے ساتھ اختلاف لے کر تعامل کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں وہ بحسب اختلاف اس پہلے نمبر سے کم درجہ پر ہیں مثلاً رفع یدین یا عدم رفع یدین جود و طور کا تعامل چلا آتا ہے ان دونوں طوروں سے جو تعامل قرن اول سے آج تک کثرت سے پایا جاتا ہے اس کا درجہ زیادہ ہوگا اور بااینہمہ دوسرے کو بدعت نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ ان دونوں عملوں کی تطبیق کی غرض سے یہ خیال ہوگا کہ باوجود مسلسل تعامل کے پھر اس اختلاف کا پایا جانا اس بات پر دلیل ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہفت قرأت کی طرح طرق ادائے صلوٰۃ میں رفع تکلیف امت کیلئے وسعت دیدی ہوگی اور اس اختلاف کو خود دانستہ رخصت میں داخل کردیا ہوگا تا امت پر حرج نہ ہو۔ غرض اس میں کون شک کرسکتا ہے کہ سلسلہ تعامل سے احادیث نبویہ کو قوت پہنچتی ہے اور سنت متوارثہ متعاملہ کا ان کو لقب ملتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جو نمبر اول پر سلسلہ تعامل احکام ہے وہ اختلاف سے بکلی محفوظ ہے۔ کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دو رکعت ہیں اور مغرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار اور کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ ہریک نماز میں بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو قیام اور قعود اور سجود اور رکوع ضروری ہے اور سلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا چاہئے ایسا ہی خطبہ جمعہ اور عیدین اور عبادت اور اعتکاف عشرہ اخیرہ رمضان اور حج اور زکوٰۃ ایسے امور ہیں جوبہ برکت تعامل اپنے نفس وجود میں محفوظ چلی آتی ہیں۔ اور ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ ہر ایک حکم نبوی اور تعلیم مصطفوی یکساں طور پر سلسلہ تعامل میں آگئی ہے ہاں جو کامل طور پر آگیا ہے وہ کامل طور پر ثبوت کا نور اپنے ساتھ رکھتا ہے ورنہ جس قدر یا جس مرتبہ تک کوئی حکم سلسلہ تعامل سے فیض یاب ہوا ہے اسی قدر ثبوت اور یقین کے رنگ سے رنگین ہوگیا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 88
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 88
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/88/mode/1up
    قوؔ لہ۔ آپ نے جو سلامت فہم راوی شرط ٹھہرایا ہے یہ آپ کے فنون حدیث کی ناواقفی پر دلیل ہے فہم معنے ہریک حدیث کی روایت کے لئے شرط نہیں ہے بلکہ خاص کر اس حدیث کی روایت کیلئے شرط ہے جس میں بالمعنے روایت ہو۔
    اقول۔ حضرت میں نے سلامت فہم کو شرط ٹھہرایا ہے نہ فہم معنی کو خدا تعالیٰ آپ کو سلامت فہم ۱؂ بخشے۔ سلامت فہم تو یہ ہے کہ قوت مدرکہ میں کوئی آفت نہ ہو۔ اختلال دماغ نہ ہو۔ اور یہ بھی سراسر آپ کی کم فہمی معلوم ہوتی ہے کہ حدیث کے راویوں نے محض الفاظ سے غرض رکھی ہے یہ ظاہر ہے کہ جب تک لفظ کے سننے سے اس کے معنی کی طرف ذہن انتقال نہ کرے اور مجرد الفاظ بغیر معانی کے یاد ہوں جیسے ایک شخص انگریزی سے محض ناآشنا اس کے چند لفظ سن کر یاد کر لیوے ایسا شخص مبلغین میں داخل نہیں ہوسکتا۔صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کی احادیث کے مبلغ تھے اور تبلیغ کیلئے کم سے کم اس قدر تو فہم ضروری ہے کہ لغوی طور پر ان عبارتوں کے معنے معلوم ہوں۔ اور جو شخص اس قدر فہم بھی نہیں رکھتا کہ مجھے جو دوسرے تک پہنچانے کیلئے ایک بات کہی گئی وہ کس زبان میں ہے کیا عربی ہے یا انگریزی یا ترکی یا عبری اور اس کے معنے کیا ہیں ایسا شخص کیا خاک اس پیغام کی تبلیغ کرے گاا ور اگر حدیثوں کے ایسے ہی مبلغ تھے کہ ان کیلئے ذرہ بھی یہ شرط نہیں تھی کہ الفاظ کے لغوی معنی بھی انہیں معلوم ہوں تو ایسے مبلغوں سے خدا حافظ ۲؂ اور ایسوں سے جو فن حدیث کی شان کو دھبہ لگتا ہے وہ پوشیدہ نہیں جو شخص ایک ایسا پیغام پہنچاتا ہے جو بکلی قوت مدرکہ اس کے اس پیغام کے الفاظ سمجھنے سے بے نصیب ہے وہ ان الفاظ کے یاد رکھنے میں بھی کب اور کیونکر محفوظ رہ سکتا ہے؟ جیسے وہ شخص جو انگریزی زبان سے بکلی ناواقف ہے وہ انگریزی عبارتوں کو کئی مرتبہ سن کر بھی یاد نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک لفظ بھی اس لہجہ پر ادا نہیں کرسکتا اور یہ آپ کا دعویٰ بھی بالکل فضول ہے کہ حدیثیں بعینہٖ الفاظ سے نقل ہوئی ہیں بجز اس صورت کے کہ صحابی نے بالمعنے
    ۱؂ اس کی تو بہت کم توقع ہے اب ضرور ہے کہ عجلت مزاج مولوی صاحب ان تمام عواقب اور عوارض اور لوازم کو اپنے اوپر وارد ہوتا دیکھیں جو ایک اولو العزم جری اللہ ولی اللہ کی مخالفت و معادات کا اٹل نتیجہ ہیں سچ ہے من عادیٰ لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب ۔سلامت طبع۔ سلامت حواس اور معقول پسندی بالمرہ مولوی صاحب سے رخصت ہوگئی ہے ان کی تحریرات موجودہ اس کی شاہد ہیں۔ ایڈیٹر
    ۲؂ مولوی صاحب کے ہوش و حواس کو کیا ہوگیا مولوی صاحب نے ٹھیک اس وقت نادان دوست کا روپ بھرا ہوا ہے خدارا وہ غور کریں کہ وہ علٰی غفلۃٍ حدیث کی حمایت کی آڑ میں اس کی تردید کررہے ہیں۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 89
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 89
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/89/mode/1up
    حکاؔ یت کا اقرار کردیا ہو کیونکہ اگر آپ کا یہی اعتقاد ہے تو آپ پر بڑی مصیبت پڑے گی اور آپ اس تعارض کو جو محض الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے جو بعض حدیثوں میں پیدا ہوتا ہے کسی طرح دور نہیں کرسکیں گے۔ مثلاً بخاری کی انہیں حدیثوں کو دیکھو جن میں قطع اور جزم کے طور پر بعض جگہ معراج کی رات میں حضرت موسیٰ ؑ کو چھٹے آسمان میں بتلایا ہے اور بعض جگہ حضرت ابراہیم کو۔ پھر جس حالت میں باقرار آپ کے احادیث کے مبلغ فہم احادیث سے فارغ تھے یعنی ان کیلئے ان الفاظ کا سمجھنا جو ان کے منہ سے نکلے تھے ضروری نہیں تھا اور حافظہ کا یہ حال تھا کہ کبھی موسیٰ کو چھٹے آسمان پر جگہ دی اور کبھی ابراہیم کو تو پھر ایسے مبلغین کی وہ شہادتیں جو حدیث کے ذریعہ سے انہوں نے پیش کیں کس قدر وزن رکھتی ہیں ! جائے شرم ہے ! آپ کیوں ناحق ان بزرگوں پر ایسے الزام لگاتے ہیں جو معمولی انسانیت سے بھی بعید ہوں! صاف ظاہر ہے کہ جس کی قوت فہم بکلی مسلوب ہو وہ نیم مجنون یا مدہوش کاحکم رکھتا ہے ایسا کون عقل مند ہے کہ ایسے مخبط الحواس کے منہ سے کوئی حدیث سن کر پھر اس کو واجب العمل قرار دے یا اس کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز ہو! افسوس کہ آپ نے یہ بھی نہیں سمجھا کہ اگر سلامت فہم راوی کیلئے شرط نہیں تو پھر عدم سلامت فہم جو فساد عقل کے ہم معنی ہیں کسی راوی میں پایا جاناجائز ہوگا۔ اس صورت میں مجانین اور ُ سکاریٰ کی روایت بلادغدغہ جائز اور صحیح ہوگی! کیونکہ سلامت فہم سے مراد یہ ہے کہ قوت فاہمہ باطل اور مختل نہ ہو۔ آپ اپنے بیان میں راوی کیلئے عدل کی شرط لگاتے ہیں اور صفت عدل کی صفت سلامت فہم کے تابع ہے اگر سلامت فہم میں آفت ہو صفت درست فہمی میں اختلال راہ پاوے تو پھر کسی کے قول اور فعل میں عدل بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ ہمیشہ عدل کو سلامت فہم مستلزم ہے اب بھی اگر آپ ضد سے باز نہ آئیں تو پھر آپ پر فرض ہوگا کہ آپ کسی معتبر کتاب کا حوالہ دیں جس سے ثابت ہو جو مختل الفہم لوگوں کی روایت بھی محدثین کے نزدیک قبول کے لائق ہے تا آپ کی حدیث دانی ثابت ہو ورنہ وہ تمام الفاظ عدم علم جو اپنی عادت کی لاچاری سے آپ اس عاجز کی نسبت استعمال کرتے ہیں آپ پر وارد ہوں گے اور میں تو محدثین کا متبع اور شاگرد ہو کر گفتگو نہیں کرتا تا میرے لئے ان کے نقش قدم پر چلنا یا ان کی اصطلاحوں کا پابند ہونا ضروری ۱؂ ہو بلکہ الٰہی تفہیم سے گفتگو کرتا ہوں لیکن میں آپ کے اس بار بار کی تحقیر کے الفاظ سے جو آپ فرماتے
    ۱؂ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محدثین کی اصطلاحات توقیفی ہیں اور شارع علیہ السلام کی تصدیق کی مہر ان پر لگی ہوئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جیسے اورعلوم وفنون کی مصطلحات انسانوں نے اپنے ذہنوں کی صفائی سے تراشی ہیں۔اس مقدس
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 90
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 90
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/90/mode/1up
    ہیںؔ جو تم فن حدیث سے محض ناآشنا ہو کچھ آپ پر افسوس نہیں کرتا کیونکہ جس حالت میں آپ اس استخفاف کی عادت سے ایسے مجبور ہیں کہ امام بزرگ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی جنہوں نے بعض تابعین کو بھی دیکھا تھا اور جو علم دین کے ایک دریا تھے آپ کی تحقیر سے بچ نہیں سکے*اور آپ نے ان کی نسبت بھی کہہ دیا کہ باوجود قرب مکان اور زمان حدیث نبوی کے پانے سے محروم رہے اور ناچاری سے قیاسی اٹکلوں پر گزارہ رہا تو پھر اگر مجھے
    علم کی(جس پر بوجہ امتداد زمانہ اور اختلافات فرق اور بنی عباس اور بنی امیہ‘ بنی فاطمہ کی باہمی خانہ جنگیوں اور بغض و معاندت کی سخت تاریکی چھاگئی تھی) تحقیق و تنقید کیلئے جودت فہم سے نہ الہام الٰہی اور وحی سے اصول اور قواعد تراشے۔ بنا برآں ہرگز ضروری نہیں کہ ایک مؤ یّد من اللہ اور ملہم اور صاحب الوحی شخص کو انکی پابندی لازمی ہو۔ ایڈیٹر
    * ٹھیک اسی طرح پر جس طرح جناب مسیح علیہ السلام کی نسبت سنگدل یہود نے نہایت حقارت سے ذکر کرنا اور ان پر ناگفتہ بہ الزامات لگانے کا سلسلہ جاری کررکھا تھا اور کوئی بھی صاحب بصیرت اور غیرت کا حامی ایسا نہ تھا جو جناب روح اللہ کی عزت و آبرو کو ان بے ایمانوں کے ہاتھ سے بچانے کی کوشش کرتا اور آخر کار بنی آدم کا ایک حقیقی خیر خواہ اور تمام راستبازوں کا زبردست حامی (اللّٰھم صل علیہ وعلی آلہ واجعلنی فداہ ووفقنی لاشاعۃ ماجاء بہ صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلم دنیا میں آیا جس نے ۱؂ کی بشارت سنا کر ان کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر بحال کیا۔ امام ابوحنیفہ ؒ کی سخت بے عزتی۔ سخت حقارت۔ سخت ہتک اس سنگدل۔ خشک اور بے مغز گروہ(غیر مقلدین) نے اپنی تحریرات و تقریرات میں کی۔ ان کے علم و فضل۔ ان کی کتاب و سنت کی واقفیت پر بڑی جرأت سے نکتہ چینیاں کیں۔ آخر اسی احمدؐ۔ محمدؐ (علیہ افضل الصلوات و التسلیمات) کا خادم اور سچا خادم آیا اور ایک خدا کے برگزیدہ بندے۔ حقیقی متبع السنہ کی عزت وآبرو کو چند بے باک شوخوں شیخوں کی دست برد سے بچایا۔ اور یہ بات قدرتی طور پر اس لئے ہوئی کہ اس مسیح موعودعلیہ السلام کو حضرت امام ہمام ابوحنیفہ سے ایک زبردست مشابہت اور تامہ ملابست ہے کیونکہ جناب امام رحمۃ اللہ بھی قرآن کریم سے استنباط و استخراج مسائل کے کرنے میں ممتاز ملکہ اور خاص خداداد استعداد رکھتے تھے اور تابمقدور تمام مسائل و واقعات پیش آمدہ کا مدار و مناط قرآن کریم ہی کو بناتے تھے اور بہت کم اور نہایت ہی کم احادیث کی طرف بوجہ ان کے غیر محفوظ ہونے اور اضطراب و ضعف کے توجہ کرتے تھے۔ ایسا ہی ہمارے مرشد وہادی حضرت مرزا صاحب بھی قرآن کریم سے دقائق و معارف اور علوم الٰہیہ کے استنباط کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اور قرآن کریم کے ساتھ جو شرک کیا گیا ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 91
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 91
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/91/mode/1up
    بھیؔ آپ انہیں القاب سے ملقب کریں تو دراصل مجھے خوشی کرنی چاہئے کہ جو کچھ امام صاحب کی نسبت آپ کی زبان نے حق درازی کا دکھلایا وہی باتیں میرے حق میں بھی ظہور میں آئیں۔
    قولہ۔ شاید آپ کہیں گے کہ احادیث سبھی بالمعنی روایت ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کے مقتدا سید احمد خاں نے کہا ہے جس کی تقلید سے آپ نے قرآن کو معیار صحت احادیث ٹھہرایا۔
    اقول۔ یہ آپ کا سراسر افترا ہے کہ سید احمد خاں کو اس عاجز کا مقتدا ٹھہراتے ہیں۔ میرا مقتدا اللہ جلّ شانہٗ کا کلام ہے اور پھر اس کے رسول کا کلام۔ میں نے کس وقت کہا ہے کہ احادیث سبھی بالمعنی روایت ہوتی ہیں؟ بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ حتی الوسع صحابہ اہتمام حفظ اصل الفاظ نبی علیہ السلام کیلئے ساعی تھے تاہر یک شخص ان متبرک الفاظ پر غور کرسکے اور نبی علیہ السلام کا اصل مطلب سمجھنے کیلئے وہ الفاظ مؤیّد ہوں ہاں ان کی روایتوں پر اور ایسا ہی دوسروں کی روایت پر اعتماد کامل کرنے کیلئے سلامت فہم ضروری شرط ہے کیونکہ اگر فہم میں بباعث پیرانہ سالی یا اختلال دماغ کے کوئی آفت پیدا ہوجائے تو مجرد حفظ
    کہؔ اس کی حقیقی عزت اور بلا اشتراک عزت اس سے چھین کر اور اور غیر معصوم کتابوں کو دی گئی ہے اس ناقابل مغفرت شرک مٹانے کیلئے آئے ہیں۔ خاکسار کے روبرو بڑی مجلس میں حضور نے فرمایا تھا کہ اگر دنیا کی تمام کتابیں۔ فقہ۔ حدیث۔ علم کلام وغیرہ وغیرہ جو انسان کی تمدنی- معاشرتی مجلسی اور سیاسی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں اور جنہیں لوگ ضروری اور لابدی کہتے ہیں بالفرض دنیا سے یک قلم اٹھادی جائیں۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں اللہ کی مدد و توفیق سے ان تمام ضروریات اور متجددہ احتیاجات کو قرآن کریم سے استنباطاً پورا کر کے دکھا دوں گا۔ سبحان اللہ! واقعی آپ کا دعو ٰی بجا دیکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ براہین احمدیہ اور بالآخر ازالہ اوہام کے پڑھنے والے اس دعوے کی تصدیق میں ذرا بھی تذبذب نہ دکھائیں گے- کہاں اور کس تفسیر و کتاب میں وہ عجائب نکات و دقائق ہیں جو اس مجدد۔ محدث اور جری اللہ نے قرآن کریم سے نکال کر دکھائے ہیں؟ یہ الزام تراشنا کہ امام ہمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف حنفیوں کو خوش کرنے کیلئے کی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس کے جواب سے اعراض کیا جاوے۔ اس لئے کہ ہر ایک عقل مند جانتا ہے کہ مرزا صاحب اپنے بلند اور سچے دعاوی سے کہاں تک ملل و نحل کو خوش کررہے ہیں۔(ایڈیٹر(
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 92
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 92
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/92/mode/1up
    الفاظؔ کافی نہیں بلکہ اس صورت میں تو الفاظ میں بھی شک پڑتا ہے کہ شاید اختلال دماغ کے سبب سے اس میں بھی کچھ تصرف ہوگیا اور قرآن کریم کے معیار بنانے سے آپ کیوں چڑتے ہیں؟ جب کہ قرآن حق و باطل میں فرق کرنے کیلئے آیا ہے۔ پھر اگر وہ معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ بلاشبہ قرآن کریم تمام صداقتوں پر حاوی ہے اور تمام علوم میں جہاں تک صحت سے ان کو تعلق ہے قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن وہ عظمتیں اور وہ کمالات جو قرآن میں ہیں مطہرین پر کھلتے ہیں جن کو وحی الٰہی سے مشرف کیا جاتا ہے اور ہر ایک شخص تب مومن بنتا ہے کہ جب سچے دل سے اس بات کا اقرار کرے کہ درحقیقت قرآن کریم احادیث کیلئے جو راویوں کے دخل سے جمع کی گئی ہیں معیار ہے۔ گو اس معیار کے تمام استعمال پر عوام کو فہمی قدرت حاصل نہیں صرف اخص لوگوں کو حاصل ہے لیکن قدرت کا حاصل نہ ہونا اور چیز ہے اور ایک چیز کا ایک چیز کیلئے واقعی طور پر معیار ہونا یہ اور امر ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جو صفات اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن کریم کیلئے آپ بیان فرمائی ہیں کیا ان پر ایمان لانا فرض ہے یا نہیں؟ اور اگر فرض ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس سبحانہٗ نے قرآن کریم کا نام عام طور پر قول فصل اور فرقان اور میزان اور امام اور حکم اور نور نہیں رکھا؟ اور کیا اس کو جمیع اختلافات کے دور کرنے کا آلہ نہیں ٹھہرایا؟ اور کیا یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل ہے؟ اور ہر یک امر کا بیان ہے اور کیا یہ نہیں لکھا کہ اس کے فیصلہ کے مخالف کوئی حدیث ماننے کے لائق نہیں؟ اور اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو کیا مومن کیلئے ضروری نہیں جو ان پر ایمان لاوے اور زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے؟ اور واقعی طور پر اپنا یہ اعتقاد رکھے کہ حقیقت میں قرآن کریم معیار اور حکم اور امام ہے۔ لیکن محجوب لوگ قرآن کریم کے دقیق اشارات اور اسرار کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط اور استخراج کرنے پر قادر نہیں اس لئے وہ احادیث صحیحہ نبویہ کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ قرآن کریم پر کچھ زواید بیان کرتی ہیں یا بعض احکام میں اس کی ناسخ ہیں۔ اور نہ زواید بیان کرتی ہیں بلکہ قرآن شریف کے بعض مجمل اشارات کی شارح ہیں۔ قرآن کریم آپ فرماتا ہے۔ ۱؂ یعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت ویسی ہی یا اس سے بہتر نہیں لاتے۔ پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرمادیا ہے کہ نسخ آیت کا آیت سے ہی ہوتا ہے اسی وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ نسخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے ہاں علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کے رو سے مشہور حدیث سے آیت
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 93
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 93
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/93/mode/1up
    منسوخ ؔ ہوسکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محدثین خبر واحد سے بھی نسخ آیت کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہوجاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے نور الانوار جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ ۹۱ میں لکھا ہے۔ روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم بعث معاذا الی الیمن قال لہ بماتقضی یامعاذ فقال بکتاب اللہ قال فان لم تجد قال بسنۃ رسول اللہ قال فان لم تجد قال اجتھد برأی فقال الحمدللہ الذی وفق رسولہ بما یرضی بہ رسولہ لایقال انہ یناقض قول اللہ تعالی ما فرطنا فی الکتاب من شیءٍ فکل شیءٍ فی القرآن فکیف یقال فان لم تجد فی کتاب اللہ لانّا نقول ان عدم الوجدان لایقضی عدم کونہ فی القرآن ولھٰذا قال صلی اللہ علیہ و سلم فان لم تجد‘ ولم یقل فان لم یکن فی الکتاب۔ اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے مؤیّد ہیں بیان کئے جائیں تو اس کیلئے ایک دفتر چاہئے- لہٰذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یااس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔ کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظلّی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہریک کا کام نہیں اوراس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلّی طورپر عنایات الٰہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ کا وعدہ ہے لَا ۱؂ اور جیسا کہ وعدہ ہے یُؤْتِی ۲؂ ا س جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔ سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کرلیتے ہیں۔ گو عوام اور علماء ظواہر کو اسکی طرف راہ نہیں لیکن ان کا اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مرویہ کیلئے بھی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 94
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 94
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/94/mode/1up
    معیارؔ اور محک ہے گو عام طور پر بوجہ عدم بصیرت اس معیار سے وہ کام نہیں لے سکتے لیکن حدیث کے دونوں حصوں میں جو ہم بیان کر آئے ہیں حصہ ثانی کی نسبت جو اخبار اور واقعات اور قصص اور وعدے وغیرہ ہیں جن پر نسخ جاری نہیں بے شک وہ کھلے کھلے طور پر قرآن کریم کے محکمات اور بینات اور قطعی اور یقینی فیصلجات کو احادیث مرویہ کے پرکھنے کیلئے محک اور معیار ٹھہرا سکتے ہیں بلکہ ضرور ٹھہرانا چاہئے تا وہ اس علم سے مستفید ہوجائیں جو ان کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے۔ اور جو شخص علم ہوتے ہوئے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے ۱؂ ۲؂
    قولہ۔ آپ نے جو باستدلال آیت ۳؂ احادیث پر اعتراض کیا ہے یہ آپ کی ناواقفی پر مبنی ہے۔
    اقول۔ آپ کیوں بار بار اپنی نافہمی ظاہر کرتے ہیں میرا عام طور پر احادیث پر اعتراض نہیں بلکہ ان احادیث پر اعتراض ہے جو ادلہ قطعیّہ بیّنہ صریحہ قرآن کریم سے مخالف ہوں۔
    قولہ۔ علماء اسلام کا حنفی ہوں یا شافعی اہل حدیث ہوں یا اہل فقہ اس بات پر اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے۔
    اقول۔ آپ کی علمیّت اور لیاقت اور واقفیت بات بات میں ظاہر ہورہی ہے۔ حضرت سلامت حنفیوں کا ہرگز یہ مذہب نہیں کہ مخالفت قرآن کی حالت میں خبر واحد واجب العمل ہے اور نہ شافعی کا یہ مذہب ہے بلکہ فقہ حنفیہ کا تو یہ اصول ہے کہ جب تک اکثر قرنوں میں تواتر حدیث کا ثابت نہ ہو۔ گو پہلے قرن میں نہیں مگر جب تک بعد میں اخیر تک تواتر نہ ہو تب تک ایسی حدیث کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز نہیں اور شافعی کا یہ مذہب کہ اگر حدیث آیت کے مخالف ہو تو باوجود تواتر کے بھی کالعدم ہے پھر آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ان سب کے نزدیک خبر واحد بہرحال واجب العمل ہے؟ اگر یہ کہو کہ ہمارا منشاء اس کلام سے یہ ہے کہ اگر خبر واحد مخالف قرآن کے نہ ہو تو اس صورت میں ان بزرگوں کے نزدیک واجب العمل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کاکب اور کس دن یہ منشاء ہوا تھا؟ اگر آپ کا یہ منشاء ہوتا تو آپ اس بحث کو کیوں طول دیتے !
    قولہ۔ اسی وجہ سے(جو خبر واجب العمل ہے) علماء اسلام نے جس میں مقلد ومحدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی حدیثیں واجب العمل ہیں اور موافقین اور مخالفین کا ان پر اجماع ہے۔
    اقول۔ میں نہیں جانتا کہ اس سفید جھوٹ سے آپ کی غرض کیا ہے اگر علماء مقلدین کے نزدیک بخاری اورمسلم کی حدیثیں بغیرکسی عذرنسخ وغیرہ کے بہرحال واجب العمل ہوتیں تو وہ بھی آپکی طرح خلف امام فاتحہ پڑھتے اور ان
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 95
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 95
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/95/mode/1up
    کی ؔ مسجدیں بھی آپ کی مساجد کی طرح آمین کے شور سے گونج اٹھتیں اور نیز وہ رفع یدین اور ایسا ہی تمام اعمال حسب ہدایت بخاری و مسلم بجا لاتے اور آپ کا یہ کہنا کہ وہ لوگ حدیث کو مسلّم اور واجب العمل ٹھہراتے صرف دوسرے طور پر معنے کرتے ہیں یہ دوسرا جھوٹ ہے حضرت وہ تو صریح ضعیف یا منسوخ قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ اس بات میں سچے ہیں تو شہر لدھیانہ کے علماء جمع کر کے اپنے قول کی شہادت ان سے دلاؤ ورنہ یہ آپ کا افترا ایسا نہیں ہے جس سے آپ کچے عذروں کے ساتھ بری ہوسکیں۔
    قولہ۔ امام ابن الصلاح نے فرمایا ہے کہ صحیحین کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں اور امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے کہ اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیحین ہیں۔
    اقول۔ کسی ایک یاد و شخص کا اپنی طرف سے رائے ظاہر کرنا حجت شرعی نہیں ہوسکتا پس اگر امام ابن الصلاح نے صحیحین کے اتفاقی حدیثوں کو عام طور پر موجب یقین مان لیا ہے تو مانا کرے ہمارے لئے وہ کچھ حجت نہیں۔ اگر ایسی متفق رائیں حجت ٹھہر سکتی ہیں تو پھر ان لوگوں کی رائیں بھی حجت ہونی چاہئیں جنہوں نے بخاری اور مسلم کی بعض حدیثوں کا قدح کیا ہے۔ چنانچہ تلویح میں لکھا ہے کہ بخاری میں یہ حدیث ہے تکثرلکم الاحادیث من بعدی فاذاروی لکم حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالی فماوافقہ فاقبلوہ وما خالفہ فردوہ یعنی میرے بعد حدیثیں کثرت سے نکل آئیں گی سو تم یہ قاعدہ رکھو کہ جو حدیث تم کو میرے بعد پہنچے یعنی جو حدیث ما اتاکم الرسول کے زمانہ کے بعد ملے اس کو کتاب اللہ پر عرض کرو اگر اس کے موافق ہو تو اس کو قبول کرو اور اگر مخالف ہو تو رد کرو۔ ھذا مانقلناہ من کتاب التلویح والعھدۃ علی الراوی*اور منہاج شرح صحیح مسلم میں حافظ ابوزکریا بن شرف النووی نے حدیث شریک پر جو مسلم اور بخاری دونوں میں ہے جرح کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فقرہ کہ ذلک قبل ان یوحی الیہ ہے غلط صریح ہے
    صحیح بخاری کے جس قدر مطبوعہ نسخے ہم نے دیکھے ہیں ان میں یہ حدیث بایں الفاظ پائی نہیں جاتی۔ گو دوسری حدیثیں ایسی بخاری میں موجود ہیں جو اپنے مآل اور ماحصل اور مفہوم میں اس حدیث کے معانی کے ممدو مقوی ہیں۔ اور مسلم میں ہے اما بعد فان خیر الحدیث کتاب اللہ۔ انما ھلک من کان قبلکم باختلافھم فی الکتاب۔ اور دار قطنی میں ہے۔ کلامی لاینسخ کلام اللہ۔ المراء فی القراٰن کفررواہ احمد وابوداؤد۔ وفی البخاری قال عمر رضی اللہ عنہ حسبنا کتاب اللہ لیکن مطبوعہ نسخوں میں اس حدیث کابالفاظہٖ نہ پایا جانا اس پر دلالت نہیں کرتا کہ علامہ تفتازانی نے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 96
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 96
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/96/mode/1up
    سوؔ یہ علامہ نووی کا جرح آپ لوگوں کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ علامہ نووی کی شان فن حدیث میں کسی پرمخفی نہیں اورعلامہ تفتازانی نے اپنی تلویح میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کو موضوع قرار دیاہے اور ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صحیح سمجھتے ہیں واللہ اعلم بالصواب۔ اور شرح مسلم الثبوت میں لکھا ہے۔ابن الصلاح وطائفۃ من الملقبین باھل الحدیث(زعموا ان روایۃ الشیخین محمدابن اسماعیل البخاری ومسلم بن الحجاج صاحبی الصحیحین یفیدالعلم النظری للاجماع علی ان للصحیحین مزیۃ علی غیر ھماوتلقت الامۃ بقبولھما والاجماع قطعی وھٰذابھت فان من راجع الی وجدانہ یعلم بالضروریۃ ان مجرد روایتھما لایوجب الیقین البتۃ وقد روی فیھما اخبارٌ متناقضۃ فلوا فاد روایتھما علمالزم تحقق النقیض فی الواقع وھذا ای ماذھب الیہ ابن الصلاح واتباعہ بخلاف ماقالہ الجمھور من الفقھاء والمحدثین لان انعقاد الاجماع علی المزیۃ علی غیرھما من مرویات ثقات اٰخرین
    عمدؔ اً کذب اور افترا کیا ہے کیونکہ احتمال قوی ہے کہ حضرت علامہ موصوف نے کسی قلمی نسخے میں بخاری شریف کی یہ حدیث ضرور دیکھی ہوگی۔ بخاری کے مختلف نسخوں پر گہری نگاہ ڈالنے سے اب تک ثابت ہوتاہے کہ باوجود سخت کوشش تصحیح و تطبیق کے پھر بھی بعض الفاظ بعض نسخوں کے بعد دوسرے نسخوں کے الفاظ سے مغائر ہیں۔ پھر کیا تعجب کا مقام ہے کہ کسی پرانے قلمی نسخے بخاری میں جو علامہ موصوف کی نظر سے گذرا یہ حدیث موجود ہو بلکہ یقین کا پلہ اسی جانب کو جھکتا ہے کہ ضرور کسی نسخے میں یہ حدیث لکھی ہوگی ایک ایسے مسلمان کی شہادت جو اکابر فقہائے حنفیہ میں سے ہے ہرگز ساقط الاعتبارنہیں ہوسکتی کس کاایسا دل گردہ ہے اور کس کااسلام و ایمان اس امر کو روا رکھتا ہے کہ ایسے بزرگ علماء اسلام ایسے خدا ترس فاضلوں کو کذب وافترا اور فاحش دروغ بافی کی تہمت لگائی جائے۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر یہ شہادت خلاف واقعہ ہوتی تو علامہ کی زندگی میں ہی یہ مقام تلویح کا ترمیم کے لائق ٹھہرتا نہ یہ کہ اب تک یہ عبارت تلویح میں محفوظ چلی آتی۔ غرض جس حالت میں صاحب تلویح کی شہادت سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بخاری کے کسی نسخے میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی تو جب تک دنیا کے تمام قلمی نسخے دیکھ نہ لئے جائیں یہ احتمال ہرگز اٹھ نہیں سکتا۔ اور بخاری کے کسی قلمی نسخے میں اسکا موجود ماننا بہت آسان ہے بہ نسبت اسکے کہ ایک برگزیدہ عالم کی نسبت افترا واختلاق کی تہمت لگائی جائے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 97
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 97
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/97/mode/1up
    ممنوؔ ع والاجماع علی مزیتھما فی انفسھما لایفید لان جلالۃ شانھما وتلقی الامۃ بکتابھما لوسُلّم لایستلزم ذالک القطع والعلم فان القدر المسلم المتلقی بین الامۃ لیس الا ان رجال مرویاتھما جامعۃ للشروط التی اشترطھا الجمہور بقبول روایتھم وھذا لایفید الاالظن واما ان مرویاتھما ثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فلا اجماع علیہ اصلا کیف ولا اجماع علی صحتہ جمیع ما فی کتابھما لان رواتھما منھم قدریون وغیرھم من اھل البدع و قبول روایۃ اھل البدع مختلف فیہ فاین الاجماع علی صحۃ مرویات القدریۃ غایۃ مایلزم ان احادیثھا اصح الصحیح یعنی انھا مشتملۃ علی الشروط المعتبرۃ عند الجمھور علی الکمال وھذا لایفیدالاالظن القوی ھذا ھوالحق المتبع ولنعم ماقال الشیخ ابن الھمام ان قولھم بتقدیم مرویاتھم علی مرویات الائمۃ الاٰخرین قول لایعتدبہ ولایقتدی بل ھو من محکماتھم الصرفۃ کیف لاوان الاصحۃ من تلقاء عدالۃ الرواۃ وقوۃ ضبطھم واذاکان رواۃ غیرھم عادلین ضابطین فھما وغیرھما علی السواء لا سبیل للتحکم بمزیتھا علی غیرھما الاتحکما والتحکم لایتلفت الیہ فافھم۔ خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ صاحب مسلم الثبوت جو بحرالعلوم سے ملقّب ہے فرماتا ہے کہ ابن الصلاح اور ایک طائفہ اہل حدیث نے یہ گمان کیا ہے کہ روایت شیخین محمد ابن اسماعیل البخاری اور مسلم کی جو صحیحین میں ہے علم نظری کی مفید ہے کیونکہ اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم کو ان کے غیر پر فضیلت ہے اور امت ان دونوں کو قبول کرچکی ہے اور اجماع قطعی ہے۔پس واضح ہو کہ ان دونوں کتابوں کی صحت پر اجماع ہونا بہتان ہے۔ ہر ایک شخص اپنے وجدان کی طرف رجوع کر کے ضروری طور پر معلوم کرسکتا ہے کہ ان دونوں کی مجرد روایت موجب یقین نہیں یعنی کوئی بات ایسی نہیں جس سے خواہ نخواہ ان کی روایت موجب یقین سمجھی جائے بلکہ حال اس کے مخالف ہے
    بناؔ ء علی ہذا جو شخص اپنی بیوی کو ان لفظوں سے مطلقہ قرار دے کہ اگر بخاری میں یہ حدیث ہے تو میری عورت پر طلاق ہے تو اگرچہ یقینی طور پر طلاق نہ پڑے لیکن کچھ شک نہیں کہ ظن غالب کے طور پر ضرور طلاق پڑگئی۔ کیونکہ ہم مامور ہیں کہ مومن پر حسن ظن کریں اور اس کی شہادت کو ساقط الاعتبار نہ سمجھیں۔ فتدبر۔ ایڈیٹ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 98
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 98
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/98/mode/1up
    کیونکہؔ ان دونوں کتابوں میں متناقض خبریں موجود ہیں جو ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ان دونوں کی روایت علم قطعی اور یقینی کا موجب ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نقیضین فی الواقع سچی ہوں اور یاد رہے کہ ابن الصلاح اور اس کے رفیقوں کی رائے جمہور فقہاء اور محدثین کے برخلاف ہے کیونکہ یہ ایک امر ممنوع ہے جس کو کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ بخاری اور مسلم کو اپنی روایت کے رو سے دوسروں پر زیادتی ہے اور امام بخاری اور مسلم کی عظمتِ شان اور ان کی کتابوں کا امت میں قبول کیا جانا اگر مان بھی لیا جاوے تب بھی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ وہ کتابیں قطعی اور یقینی ہیں۔ کیونکہ امت نے ان کے مرتبہ قطع اور یقین پر ہرگز اجماع نہیں کیا بلکہ صرف اسقدر مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ دونوں کتابوں کے راوی ان شرطوں کے جامع ہیں جو جمہور نے قبول روایت کیلئے لگادی ہیں اور ظاہر ہے کہ صرف اسقدر تسلیم سے قطع اور یقین پیدانہیں ہوتا بلکہ صرف ظن پیدا ہوتا ہے اور یہ بات کہ درحقیقت صحیح بخاری اور مسلم کی مرویات ثابت ہیں اور جس قدر حدیثیں ان میں روایت کی گئی ہیں وہ درحقیقت جرح سے مبرّا ہیں اس پر امت کا ہرگز اجماع نہیں بلکہ اس اجماع کا تو کیا ذکر اس بات پر بھی اجماع نہیں کہ جو کچھ ان دونوں کتابوں میں ہے وہ سب صحیح ہے کیونکہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں میں سے قدری بھی ہیں اور بعض اہل بدع بھی راوی ہیں جنکی روایت قبول نہیں ہوسکتی۔ پس جب کہ یہ حال ہے تو اجماع کہاں رہا! کیا مرویات قدر یہ پر بھی اجماع ہوجائے گا؟ غایت مافی الباب یہ ہے کہ ان کی حدیثیں اصح ہیں اور شروط معتبرہ جمہور پر علیٰ وجہ کمال مشتمل ہیں سو اس سے بھی صرف ایک ظن قوی پیدا ہوتا ہے نہ کہ یقین۔ پھر جو ہم نے بخاری اور مسلم کے صحیحوں کی نسبت بیان کیا ہے یہی حق بات ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے اور شیخ ابن الہمام نے کیا اچھا فرمایا ہے کہ یہ قول محدثین کا کہ مرویات صحیحین ان کے ماسوا پر مقدم ہیں ایک ایسا بے معنی قول ہے جو قابل اعتماد والتفات نہیں اور ہرگز پیروی کے لائق نہیں بلکہ صریح اور صاف تحکم ہے انہیں تحکمات میں سے جو کھلے کھلے طور پر ان لوگوں نے کئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اصحیت کا مدار عدالت اور ضبط پر ہے تو کیا ایسی کتابیں جن میں یہ شرط پائی جاتی ہے کم درجہ پر ہوں گی۔ سو ان دونوں کتابوں کی زیادتی پر حکم لگانا محض تحکم ہے اور تحکم قابل التفات نہیں فافہم۔ اور شرح نووی کی جلدثانی صفحہ۹۰ میں زیر تشریح اس مسلم کی حدیث کے کہ یا امیرالمؤمنین اقض بینی وبین ھذا الکاذب الاٰثم الغادر الخائن۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ جب ان الفاظ کی تاویل سے ہم عاجز آجائیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اسکے راوی جھوٹے ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 99
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 99
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/99/mode/1up
    ابؔ اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جو کچھ صحیحین کے مرتبہ قطع اور یقین کی نسبت مبالغہ کیا گیا ہے وہ ہرگز صحیح نہیں اور نہ اس پر اجماع ہے اور نہ ان کی تمام حدیثیں جرح قدح سے خالی سمجھی گئی ہیں اور نہ وہ مخالفت قرآن کی حالت میں بالاجماع واجب العمل خیال کی گئی ہیں بلکہ ان کی صحت پر ہرگز اجماع نہیں ہوا۔
    قولہ۔ یہ آپ کی عامیانہ بات ہے کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے بلکہ عام حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے ہرگز انکار نہیں کرتے۔
    اقول۔ اس کا جواب ہوچکا ہے کہ علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کالعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے۔ دیکھو صفحہ ۱۵۰ کتاب نورالانوار اصول فقہ۔
    اس صورت میں جو کچھ ان اماموں کی نظر میں درصورت قرآن کے مخالف ہونے کے احادیث کی عزت ہوسکتی ہے عیاں ہے خواہ اس قسم کی حدیثیں اب بخاری* میں ہوں یامسلم میں۔ یہ ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور جب احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں تو اب فرمائیے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وہ حدیثیں بہرحال واجب العمل ہیں؟ اول حنفیوں اور مالکیوں وغیرہ سے ان سب پر عمل کرائے اور پھر یہ بات منہ پر لائے۔
    قولہ۔ آپ اگر اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین میں سے نام بتاویں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صحیح یا موضوع کہا ہو۔
    اقول۔ جن اماموں کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اور یقینی طور پر صحیحین کی احادیث کو واجب العمل سمجھتے تو آپ کی طرح ان کا بھی یہی مذہب ہوتا کہ خبر واحد سے قرآن پر زیادت مان لینا یا آیت کو منسوخ سمجھ لینا واجبات سے ہے لیکن میں بیان کرچکا ہوں کہ وہ خبر واحد کو قرآن کی مخالفت کی حالت میں ہرگز قبول نہیں کرتے اس سے ظاہر ہے کہ وہ صرف قرآن کریم کے سہارے سے اور بشرط مطابقت قرآن صحیحین کے احاد کو جو کل سرمایہ صحیحین کا ہے مانتے ہیں اور مخالفت کی حالت میں ہرگز نہیں مانتے۔آپ تلویح کی عبارت سن چکے ہیں کہ انما یرد خبرالواحد من معارضۃ الکتاب یعنی اگر کوئی حدیث احاد میں سے قرآن کے مخالف پڑے گی تو وہ رد کی جائے گی۔ اب دیکھئے کہ وہ نیا جھگڑا جو اب تک آپ نے محض اپنی نافہمی کی وجہ سے کیا ہے کہ قرآن
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 100
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 100
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/100/mode/1up
    احادیثؔ کا معیار نہیں کیونکہ صاحب تلویح نے آپکو اس بارہ میں جھوٹاٹھہرایا ہے! اور تینوں امام اسی رائے میں آپکے مخالف ہیں! اور میں بیان کرچکا ہوں کہ میرا مذہب بھی اسی قدر ہے کہ باستثناء سنن متوارثہ متعاملہ کے جو احکام اور فرائض اور حدود کے متعلق ہیں باقی دوسرے حصہ کی احادیث میں سے جو اخبار اور قصص اور واقعات ہیں جن پر نسخ بھی وارد نہیں ہوتا اگر کوئی حدیث نصوص بینہ قطعیہ صریحۃ الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہرگز اس کی خاطر اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔ میں بار بار اپنے مذہب کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ تا آپ اپنی عادت کے موافق پھر کوئی تازہ افترا اور بہتان میرے پر نہ لگاویں اور نہ لگانے کی گنجائش ہو* ۔اور ظاہر ہے کہ یہ میرا مذہب امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے موکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے اس لائق قرار دیتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں۔ مگر یاد رہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان انا انزلنا الکتاب تبیانالکل شیء پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کرچکا ہوں- اب آپ سمجھ سکتی ہیں کہ میں اس مذہب میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اپنے ساتھ کم سے کم تین یار غالب رکھتا ہوں جن کا عقیدہ میرے موافق بلکہ مجھ سے بڑھ چڑھ کر ہے۔
    قولہ ۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث بخاری کو چھوڑ دیا یہ بھی عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی۔
    اقول۔ جناب مولوی صاحب آپ ایمان کے ساتھ جواب دیں کہ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ صحیح بخاری امام اعظم رحمۃ اللہ کے زمانے میں موجود تھی؟ ان فضول مفتریانہ تحریروں سے آپ کی صرف یہ غرض ہے کہ عوام کے سامنے ہریک بات میں اس عاجز کیُ سبکی
    کیوؔ نکہ اگر یہ مدوّ نات ان کے روبرو ہوتیں تو انہیں اپنا عقیدہ اور مسلمہ قاعدہ ان کتابوں کی مخالف الکتاب احادیث پر(اگر ہوں) جاری کرنے میں کون مانع ہوسکتا تھا۔
    حضرؔ ت مرشدنا آپ ہزار پیش بندیاں کیا کریں۔ سو سو بار ایرپھیر کر اپنا مطلب بیان کریں۔ دلیر مولوی صاحب کب افترا سے باز آنے والے ہیں۔ ایڈیٹر۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 101
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 101
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/101/mode/1up
    اورؔ خفت اور لاعلمی ظاہر کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ مجھے بعض ملاؤں کی طرح لوگوں کی مدح وثنا کی طرف خیال نہیں اور نہ عوام کی تحسین ونفرین کی کچھ پروا۔ ہریک دانا بلکہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ صحیح بخاری کی حدیثیں امام محمد اسمٰعیل کا اپنا ایجاد تو نہیں تایہ اعتراض ہوکہ جب تک کوئی متقدمین سے امام بخاری کا زمانہ نہ پاتا اور انکی کتاب کو نہ پڑھتا تب تک محال تھا کہ ان حدیثوں پر اس کو اطلاع ہوتی بلکہ حدیثوں کے رواج اور زبانی شیوع کا زمانہ اسی وقت یعنی قرن اول سے شروع ہوا ہے جب کہ امام بخاری صاحب کے جدامجد بھی پیدا نہیں ہوئے ہوں گے تو پھر کیا محال تھا کہ وہ حدیثیں جن کی تبلیغ کی صحابہ کو تاکید تھی امام اعظم ؒ کو نہ پہنچتیں بلکہ قریب یقین کے یہی ہے کہ ضرور پہنچی ہوں گی کیونکہ ان کا زمانہ قرن اول سے قریب تھا اور بہت حفاظ حدیث کے زندہ تھے اور خاص اسی ملک میں رہتے تھے جو سرچشمہ حدیث کا تھا۔ پھر تعجب کہ بخاری ؒ جو زمانی اور مکانی طور پر امام اعظم صاحب سے کچھ نسبت نہیں رکھتے تھے ایک لاکھ حدیث صحیح اکٹھی کرلیں۔ اور ان میں چھیانوے ہزار صحیح حدیث کو ردی مال کی طرح ضائع کردیں۔ اور امام اعظم صاحب کو باوجود قرب زمان اورمکان کے سو حدیث بھی نہ پہنچ سکے۔ کیا کسی کا نور قلب یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک شخص بخارا کا رہنے والا جو بہت دور حدود عرب سے اور نیز دو سو برس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پیدا ہو وہ لاکھ حدیث صحیح حاصل کرلے اور امام اعظم صاحب جیسے بزرگوار فانی فی سبیل اللہ کو نماز کے بارہ میں بھی دو چار صحیح حدیثیں باوجود قرب زمان اور مکان کے نہ مل سکیں! اور ہمیشہ بقول مولوی محمد حسین صاحب کے اٹکلوں سے کام لیتے رہے! اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابوحنیفہ ؒ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہوتا تو آپ اس قدرُ سبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں وہ ایک بحراعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابوحنیفہؒ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں یدطولیٰ تھا خداتعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 102
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 102
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/102/mode/1up
    قولہؔ ۔ محقق مسلمان حنفی ہو یا شافعی مقلد ہو یا غیر مقلد تصحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھہراتا۔
    اقول۔ اس بات کا جواب ابھی مفصل گزر چکا ہے کہ علماء مذاہب ثلاثہ نے احاد حدیث کو گو وہ بخاری کی ہوں یا مسلم کی اس شرط سے قبول کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے معارض اور مخالف نہ ہوں تلویح کی عبارت ابھی میں نے سنائی آپ کو یاد ہوگی کہ جس حالت میں ائمہ ثلاثہ ان حدیثوں سے جو احادہیں اور مخالف قرآن ہیں خدمت نہیں لیتے اور معطل کی طرح چھوڑ دیتے ہیں تو اگر وہ قرآن کریم کو معیار قرار نہیں دیتے تو حدیثوں کو اس کی مخالف پا کر کیوں چھوڑتے ہیں۔ کیا معیار ماننا کچھ اور طور سے ہوتا ہے؟ جب کہ ان لوگوں نے یہ اصول ہی ٹھہرالیا ہے کہ خبر واحد بحالت مخالفت قرآن ہر گز قبول کے لائق نہیں گو اسکا راوی مسلم ہو یا بخاری ہو تو کیا اب تک انہوں نے قرآن کریم کو معیار قبول نہیں کیا؟اتقوا اللہ ولاتغلوا!
    قولہ۔ امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے لااعرف انہ روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم حدیثان باسنادین صحیحین متضادین فمن کان عندہ فلیاتینی بہ لالّف بینھمایعنی امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے کہ میں ایسی دو حدیثوں کو شناخت نہیں کرتا جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کی گئی ہوں اور پھر متضاد ہوں اگر کسی کے پاس ایسی حدیثیں ہوں تو میرے پاس لاوے َ میں ان میں تالیف کردوں گا۔
    اقول۔ امام ابن خزیمہ تو فوت ہوگئے اب ان کے دعویٰ کی نسبت کچھ کلام کرنا بے فائدہ ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اپنے مضمون کے سنانے کے وقت بڑے جوش میں آکر فرمایا تھا کہ ابن خزیمہ تو امام وقت تھے میں خود دعویٰ کرتا ہوں کہ دو متعارض حدیثوں میں جو دونو صحیح الاسناد تسلیم کی گئی ہوں توفیق و تالیف دے سکتا ہوں اور ابھی دے سکتا ہوں؟ آپکا یہ دعویٰ ہر چند اس وقت ہی فضول سمجھا گیا تھا لیکن برعایت شرائط قرار یافتہ مناظرہ اس وقت آپ کی تقریر میں بولنا ناجائز اور ممنوع تھا۔ چونکہ آپ کی خودستائی حد سے گذر گئی ہے اور عجز و نیاز اور عبودیت کا کوئی خانہ نظر نہیں آتا اور ہر وقت انا اعلم کا جوش آپکے نفس میں پایا جاتا ہے اسلئے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی دعویٰ کے رو سے آپ کے کمالات کی آزمائش کروں جس آزمائش کے ضمن میں میری اصل بحث بھی لوگوں پر ظاہر ہوجائے۔ میں بالطبع اس سے کارہ ہوں کہ کسی سے خواہ نخواہ آویزش کروں لیکن چونکہ آپ دعویٰ کر بیٹھے ہیں اور دوسروں کو تحقیر اور ذلت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ آپکے خیال میں امام اعظم ؒ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 103
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 103
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/103/mode/1up
    کوؔ بھی حدیث دانی میں آپ سے کچھ نسبت نہیں۔ اسلئے بقول سعدی ؒ
    ندارد کسے باتو ناگفتہ کار
    ولیکن چوگفتی دلیلش بیار
    چاہتا ہوں کہ چھ سات حدیثیں بخاری اور مسلم کی یکے بعد دیگرے جن میں میری نظر میں تعارض *ہے آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ اگر آپ ان میں توفیق و تالیف امام ابن خزیمہ کی طرح کر دکھائیں گے
    * مولوی صاحب لیجئے۔ سردست کسی قدر تعارض کا نمونہ یہ عاجز پیش کرتا ہے۔ موقع ہے۔ موقع ہے۔ اپنی حدیث دانی کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کیجئے۔(۱) معراج کی حدیث بروایت شریک کے حاشیہ پر فتح الباری کی یہ عبارت لکھی ہے۔ قال النووی جاء فی روایۃ شریک اوہام انکرہا العلماء من جملتہاانہ قال ذالک قبل ان یوحی الیہ و ھو غلط لم یوافق علیہ احد و ایضا اجمعوا علی ان فرض الصلٰوۃ کانت لیلۃ الاسراء فکیف یکون قبل الوحی- و قول جبرائیل فی جواب بواب السماء۔ اذ قال ابعث؟ نعم۔ صریح فی انہ کان بعد البعث۔ترجمہ۔ نووی کہتا ہے کہ شریک کی روایت میں کتنے وہم ہیں جن پر علماء نے اعتراض کیا ہے ازاں جملہ ایک یہ کہ شریک کی روایت میں قبل ان یوحی الیہ لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج بعثت سے پہلے ہوئی اور یہ صریح غلط ہے جس پر کسی نے اتفاق نہیں کیا۔ علاوہ اسکے علماء اس پر اتفاق کرچکے ہیں کہ نمازیں معراج کی رات میں فرض کی گئی تھیں! پھر قبل از وحی کیونکر فرض ہوسکتیں تھیں!! اور عجب تر اس حدیث میں یہ تعارض ہے کہ حدیث کے سر پر تو یہ لکھا ہے کہ قبل از بعثت و نبوت معراج ہوئی اور پھر آئندہ عبارتیں حدیث کی اپنی صریح منطوق سے ظاہر کررہی ہیں کہ یہ معراج بعد از بعثت ہوئی اور اسی حدیث میں نمازوں کی فرضیت کا ذکر بھی ہے سو یہ حدیث کتنے تعارض سے بھری ہے۔(۲) پھر بخاری کی کتاب التفسیر صفحہ ۶۵۲ میں ایک حدیث ہے جس کی یہ عبارت ہے۔ مامن مولود یولد الا والشیطان یمسہ فیستہل صارخامن مس الشیطان ایاہ الامریم وابنہا یعنی کوئی ایسا بچہ نہیں جو پیدا ہوا اور پیدا ہونے کے ساتھ شیطان اس کو نہ چھو جائے اور وہ بوجہ شیطان کے چھونے کے چیخیں نہ مارے بجز مریم اور اس کے بیٹے کے جاننا چاہئے کہ یہ حدیث صفحہ ۷۷۶ کی حدیث سے معارض پڑتی ہے اور شارح بخاری صفحہ ۶۵۲ کی حدیث کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ زمخشری کو اس حدیث کی صحت میں کلام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے معارض ہے وجہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ اس آیت سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ بغیر خصوصیت مریم اور ابن مریم کے تمام عباد مخلصین مس شیطان سے محفوظ رکھے جاتے ہیں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 104
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 104
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/104/mode/1up
    تو ؔ میں تاوان کے طور پر آپ کو پچیس روپیہ نقد دوں گا اور نیز مدت العمر تک آپکے کمالات کا قائل ہوجاؤں گا اور اپنا مغلوب اور شکست یافتہ ہونا قبول کرلوں گا اور بباعث اس کے جو مجھ سے پچیس روپیہ بطور تاوان لئے جائیں گے۔ آپ کے کمالات حدیث دانی کے بخوبی نقش قلوب ہوجائیں گے اور ہمیشہ صفحہ روزگار میں عزت کے ساتھ یادگار رہیں گے لیکن اس میں انتظام یہ چاہئے کہ تین منصف بتراضی فریقین مقرر کئے جائیں جو فہم تقریر اور وزن دلائل کا مادہ رکھتے ہوں اور فریقین سے کسی قسم کا تعلق ان کو نہ ہو۔ نہ رشتہ۔ نہ مذہب۔ نہ دوستی اور اگر من بعد تعلق ثابت ہوتو وہ فیصلہ فسخ کیا جائے ورنہ فیصلہ ناطق قرار دے کر بحالت غالب ہونے پچیس روپیہ آپکے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن منصفوں کی آزمائش لیاقت کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اخیری روبکار کی طرح فیصلہ تحریری بوجوہات شافیہ قلمبند کرکے فریقین کو جلسہ عام میں سنادیں اور ادلہ قطعیہ سے اس فریق کا غالب ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کریں۔ جس کو اپنی رائے میں انہوں نے غالب سمجھا ہے یہ شرائط کچھ مشکل نہیں ہیں۔ ایسی لیاقت کے بہت آدمی ہیں بالخصوص ایسے حکام جن کو ہر وقت فیصلجات دینے کی مشق ہے اور ثابت اور غیر ثابت میں تمیز کرنے کا ملکہ ہے بڑی آسانی سے منصفی کیلئے پیدا ہوسکتے ہیں اور اگر آپ کو منصفوں کے فیصلہ کی نسبت پھر بھی کچھ دل میں دھڑکا رہے تو منصفوں کیلئے حلف کی قید بھی لگا سکتے ہیں۔ اب اگر آپ میری اس درخواست سے گریز کریں گے تو پھر بلاشبہ آپکے وہ سب دعاوی فضول قرار پاکر وہ تمام توہین و تحقیر اور ہتک کی باتیں جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی تحریرات میں خود نمائی کی غرض سے کی ہیں آپ پروارد سمجھی جائیں گی۔ تحریر کے ذریعہ سے ایک ہفتہ تک آپ اس کا جواب دیں۔
    قولہ۔ اگر صرف قرآن سے مضمون کسی حدیث کا موافق ہونا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں۔
    اقول۔ حضرت یہ آپ نے میری کس عبارت سے نکالا ہے کہ میں قانون روایت محدثین کو بے مصرف اور فضول خیال کر کے اول حالت سے ہی ہریک بے سند قول کیلئے تصدیق قرآن کریم کو حدیث بنانے کیلئے
    اور یحییٰ علیہ السلام کے حق میں فرماتا ہے ۱؂ پس اگر یوم تولد مس شیطان کا یوم ہے تو سلام کا لفظ جو سلامتی پر دلالت کرتا ہے کیونکر اس پر صادق آسکتا ہے۔ پھر علامہ زمخشری نے تاویل کی ہے کہ اگر مریم اور ابن مریم سے مراد خاص یہی دونو نہ رکھے جائیں بلکہ ہر ایک شخص جو مریم اور ابن مریم کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اس کو بھی مریم اور ابن مریم ہی قرار دیا جاوے تو پھر اس حدیث کے معنے بلاشبہ صحیح ہوجائیں گے۔ فافہم و تدبر۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 105
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 105
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/105/mode/1up
    کافیؔ جانتا ہوں۔ اگر میرا یہی مذہب ہوتا تومیں کیوں کہتا کہ میں ظنی طور پر صحیحین کو صحیح سمجھتا ہوں اور جن حدیثوں کے ساتھ تعامل کا سلسلہ قرناً بعد قرنٍ پایا جاتا ہے۔ ان کو نہ صرف ظنی بلکہ حسب مراتب تعلق تعامل قطعیت کے رنگ سے رنگین خیال کرتا ہوں!۔ اور اگرچہ میں دوسرے حصہ احادیث کو ظنی طور پر صحیح خیال کرتا ہوں لیکن اگر ان کی صحت پر قرآن کی شہادت ہے تو وہ صحت ظن قوی ہوجاتا ہے۔ مگر جب کہ قرآن کریم صریح اس کے مخالف ہو اور تطبیق کی کوئی راہ نہ ہو تو میں ایسی حدیث کو جو حصہ دوم کی قسم میں سے ہے قبول نہیں کرتا کیونکہ اگر میں قبول کر لوں تو پھر قرآن کی خبر کو مجھے منسوخ ماننا پڑے گا۔ مثلاً قرآن نے خبر دی ہے کہ سلیمان داؤد کا بیٹا تھا اور اسحاق ابراہیم کا اور یعقوب اسحاق کا۔ اب اگر کوئی حدیث اس کے مخالف ہے اور یہ بیان کرے کہ داؤد سلیمان کا بیٹا تھا اور ابراہیم لاولد تھا میں کیونکر سمجھ لوں کہ جو کچھ قرآن نے فرمایا تھا وہ منسوخ ہوگیا ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ تاریخی واقعات اور اخبار وغیرہ پر ہرگز نسخ وارد نہیں ہوتا ورنہ اس سے خدا تعالیٰ کا کذب لازم آتا ہے! سو میں یہ تو نہیں کہتا کہ صحت حدیث کیلئے قانون روایت کی حاجت نہیں۔ ہاں یہ میں ضرور کہتا ہوں کہ جب اس قانون کے استعمال کے بعد کوئی روایت حدیث نبوی کے نام سے موسوم ہو۔ پھر اگر وہ احادیث کے حصہ دوم میں سے ہے تو اس کی تکمیل صحت کیلئے یہ ضروری ہے کہ تصریحات قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔
    قولہ۔ جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن کریم اپنا آپ مفسر ہے حدیث اسکی مفسر نہیں۔ اس سے بھی آپکی ناواقفیت اصول اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔
    اقول۔ اے حضرت آپ نے اس قدر افتراؤں پر کیوں کمر باندھ لی ہے میں نے کہاں اور کس جگہ لکھا ہے کہ حدیث قرآن کی مفسر نہیں۔ میں نے تو بحوالہ آیت اس قدر بیان کیا ہے کہ اول مفسر قرآن کا خود قرآن ہے پھر بعد اسکے نمبر دوم پر حدیث مفسر ہے اس سے میرا یہ مطلب تھا کہ حدیث کی تفسیر دیکھنے کے وقت قرآن کی تفسیر نظر انداز نہ ہو اور اگر کوئی ایسا مسئلہ جو حدیث کے دونوں حصوں میں سے حصہ دوم میں داخل ہو یعنی اخبار و واقعات وغیرہ میں سے جس سے نسخ معلوم نہیں ہوسکتا اور نہ اس پر زیادت متصور ہے تو ایسی صورت میں کسی مجمل آیت کی وہ تفسیر مقدم اور قابل اعتبار ٹھہرے گی جو قرآن نے آپ فرمائی ہے اور اگر حدیث کی تفسیر اس تفسیر کے مخالف ہو تو قبول کے لائق نہیں ہوگی۔
    قولہ۔ آیت ۱؂ صاف دلالت کرتی ہے کہ قرآن میں صرف یہ چند چیزیں حرام کی گئی ہیں۔ لیکن حدیث کے رو سے گدھا اور درندے بھی حرام کردیئے گئے۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 106
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 106
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/106/mode/1up
    اقوؔ ل۔ حضرت یہ قصہ آپ نے ناحق چھیڑ دیا۔ میں کہتے کہتے تھک بھی گیا کہ حصہ اول کی حدیثیں جو احکام دین اور تعلیم دین اور فرائض اور حدود اسلام کے متعلق ہیں جن کا سلسلہ تعامل سے کثیر یا قلیل طور پر تمدن مذہبی میں ایک لازمی طور پر تعلق پڑا ہوا ہے وہ میری بحث سے خارج ہیں۔ بلکہ میری بحث سے خاص طور پر وہ امور علاقہ رکھتے ہیں جن کو نسخ اور کمی اور زیادت سے کچھ تعلق نہیں جیسے اخبارات۔ واقعات۔ قصص لیکن آپ نے ہرگز میرے مدعا کو نہ سمجھا اور ناحق کاغذات کو سیاہ کر کے چند پیسوں کا نقصان کیا۔ باوجود اس کے میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قرآن ناقص ہے اور حدیث کا محتاج ہے بلکہ وہ ۱؂ کا تاج لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تبیانا لکل شی کے وسیع اور مرصع تخت پر جلوہ افروز ہے۔ قرآن میں نقصان ہرگز نہیں اور وہ داغ ناتمام اور ناقص ہونے سے پاک ہے۔لیکن تقاصر افہام کی وجہ سے اس کے اسرار عالیہ تک ہر ایک فہم کی رسائی نہیں! ولنعم ماقیل۔
    وکل العلم فی القرآن لٰکن
    تقاصر منہ افہام الرجال
    خود نبی صلعم نے بوحی الہٰی استنباط احکام قرآن کر کے قرآن ہی سے یہ مسائل زائدہ لئے ہیں جس حالت میں قرآن کریم صاف ظاہر کرتا ہے کہ کل خبائث حرام کئے گئے تو کیا آپ کے نزدیک درندے اور گدھے طیبات میں سے ہیں؟ جن کے حرام کرنے کیلئے کسی حدیث کی واقعی طور پر ضرورت تھی! گدھے کی مذمت خود اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۲؂ پھر جو اس کی نظر میں کسی وجہ سے منکر اور مکروہ اور خبائث میں داخل ہے وہ کس طرح حلال ہوجاتا؟ اور تمام درندے بدبو سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ چڑیا گھر میں جا کر دیکھو کہ شیر اور بھیڑیا اور چیتا وغیرہ اس قدر بدبو رکھتے ہیں کہ پاس کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے! پھر اگر یہ خبائث میں داخل نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ اسی طرح میں آپ کی ہر ایک حدیث پیش کردہ کا جو احکام زائدہ کے بارہ میں آپ نے لکھی ہے جواب دے سکتا ہوں اور قرآن سے انکا منبع دکھلا سکتا ہوں مگر یہ باتیں بھی بحث سے خارج ہیں۔ میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا تھا کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور ایسے احکام جو تعامل کے سلسلہ مستمرہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔بنظر ظاہر حدیثوں کو ان کے منسوخ یا زیادہ کرنے میں دخل نہیں۔ افسوس آتا ہے کہ آپ نے ناحق بات کو طول دے کر اپنے اور لوگوں کے اوقات کا خون کیا۔ حضرت پہلے سمجھ تو لیا ہوتا کہ میرا مدعا کیا ہے جس بات کو میں نے نشانہ رکھ کر یعنی وفات حیات مسیح کے مسئلہ کو۔ یہ تقریر پیش کی تھی۔ افسوس کہ اس بات کی طرف بھی آپ کو خیال نہ آیا کہ وہ منجملہ اخبار ہے یا از قبیل احکام ہے۔ آئندہ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 107
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 107
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/107/mode/1up
    ایسیؔ شتاب کاری سے احتیاط رکھیں ؂ پشیمان شو ازاں عجلت کہ کردی
    قولہ۔ امام شعرانی سے منہج المبین میں لکھا ہے اجمعت الامۃ علی ان السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللّٰہ۔
    اقول۔ اجماع کا حال آپ معلوم کرچکے ہیں کہ امام مالک نے خبر واحد پر قیاس کو مقد م رکھا ہے۔ چہ جائیکہ آیت اللہ اس پر مقدم ہو۔ اور حنفیہ کے نزدیک احادیث اگر قرآن کے مخالف ہوں تو سب متروک ہیں اور امام مالک کے نزدیک حدیث متواتر بھی کتاب اللہ کی مخالفت کی حالت میں ہیچ ہے۔ پھر جبکہ یہ ائمہ جنکے کروڑہا لوگ مقتدی اور پیرو ہیں یہ فیصلہ دیتے ہیں تو اجماع کہاں ہے؟
    قولہ۔ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں۔
    اقول۔ حضرت وہ تو دراصل بقول صاحب تلویح بخاری کی حدیث *ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی تلویح کی عبارت نقل کرچکے ہیں پھر کیا بخاری بھی موضوعات سےُ پر ہے؟ اور اگر کہو کہ وہ آیت اللہ ۱؂ سے مخالف ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہرگز مخالف نہیں مااتکم الرسول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں۔ اول یہ تو دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی حدیث فی الواقع مااتاکم میں داخل ہے یانہیں۔ مااتاکم میں تو وہ داخل ہوگا جسکو ہم شناخت کرلیں کہ درحقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث کا نام سننے سے مااتاکم میں اس کو داخل کردیں؟اور یہ حدیث تو بخاری میں بقول تلویح موجود ہے نہ بھی ہو منشاء قرآن کے تو مطابق ہے اور ائمہ ثلٰثہ نے قریباً اسی کے مطابق اپنا اصول فقہ قائم رکھا ہے تو پھر اسکو کیوں قبول نہ کریں؟ اور اگر یزید بن ربیعہ کا اس کے راویوں میں سے ہونا اس کو ضعیف کرتا ہے تو ایسا ہی قرآن کے منشاء سے اس کا مطابق ہونا اسکے ضعف کو دور کرتا ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۲؂ یعنی بعد اللہ جلّ شانہٗ کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ ہر ایک قول اور حدیث کتاب اللہ پر
    * ہم اس سے پہلے ایک نوٹ میں لکھ آئے ہیں کہ موجودہ مطبوعہ نسخ بخاری میں باللفظ یہ حدیث مذکور نہیں۔ نہ سہی نقاد بصیر سمجھ سکتا ہے کہ صحاح میں اس معانی کی مؤ یّد و شاہد احادیث وارد ہیں تو کیا حرج ہے۔ اگر ان لفظوں میں بخاری کے اندر یہ حدیث نہ ہو۔ لفظوں سے اتنا تعرض کرنے کی کیا جگہ ہے۔ کیا نفس الامر میں یہ مضمون صحیح نہیں کہ صرف کتاب اللہ کی موافقت و مخالفت حدیث کے قبول و ردّ کی معیار ہوسکتی ہے؟ قرآن اسی کا شاہد ہے ائمہ ثلاثہ کا مذہب بھی یہی ہے تو پھر بایں الفاظ صد بار نہیں ہزار بار ایک کتاب بخاری میں نہ ہو! ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 108
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 108
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/108/mode/1up
    عرضؔ کر لینا چاہئے۔ اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور مؤ یّد دے دیاہے جو قابل تغیر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائرہ صحت سے خارج ہوگی جو اسکے مخالف ہے۔ لیکن اگر کتاب اللہ فیصلہ مؤ یّدہ اور ناقابل تبدیل نہیں دیتی تو پھر اگر وہ حدیث قانون روایت کے رو سے صحیح ثابت ہو تو ماننے کے لائق ہے۔ غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے۔ جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادا ن ہے۔بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انی اوتیت الکتاب و مثلہ سے آپکے خیال کو کیا مدد پہنچ سکتی ہے؟ آپکو معلوم نہیں کہ وحی متلوکا خاصہ ہے جو اسکے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی۔
    اول۔ مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ گویا خبر کو معائنہ کردیتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔ اور ان گزشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قرآن حمید میں ذکر کیا گیا تھا۔ ایسا ہی بہت سی معاد کی خبریں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔ تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہوجائے۔
    دوئم۔ وحی متلوکے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو نبی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رؤ یا کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تا علم استعارات کا جو رؤیا پر غالب ہے وحی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہو اور تاکشف اور رؤیا اور وحی بباعث تعدد طرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔
    سوئم۔ وحی متلوکے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تفہیمات الٰہیہ سے نامزد ہوسکتی ہے یہی وحی ہے جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں۔ اس وحی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلوکے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے أُوتیت الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر ہٰذا صاحب تجربہ* ہے یہ مؤیدات ثلثہ یعنی کشف اور ر ؤیا اور وحی خفی دراصل
    مولوی صاحب ایسے ولی اللہ کے مقابلہ کیلئے آپ نے کمر کسی ہوئی ہے! مولوی صاحب اہل ظن اور صاحب یقین برابر نہیں ہوسکتے۔ وقت ہے۔ باز آجایئے۔ ورنہ دانت پیسنا اور رونا ہوگا۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 109
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 109
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/109/mode/1up
    اموؔ ر زائدہ نہیں ہوتے بلکہ وحی متلوکے جو متن کی طرح ہے مفسر اور مبین ہوتے ہیں۔ فتدبّر۔
    قولہ۔ حدیث حارث اعور کی صحیح نہیں ہے اور یہ اعور بھی ایک دجال ہے۔
    اقول۔ افسوس کہ دجال کی حدیث اب تک مشکوٰۃ اور دوسری مقدس کتابوں میں درج ہوتی چلی آئی۔ آپ جیسے کسی بزرگ نے اس پر قلم نسخ نہ پھیرا۔ جس حالت میں وہ حدیث صریح جھوٹی ہے اور اسکا راوی دجال ہے! تو وہ کیوں نہیں خارج کی جاتی؟ میں نہیں جانتا کہ خبیث کو طیب سے کیا علاقہ ہے! مگر اس حدیث کی ترک سے ہمارا کچھ نقصان نہیں۔ اس مضمون کے قریب چند حدیثیں بخاری میں بھی ہیں جیسا کہ کسی قدر تبدیل یا کمی بیشی الفاظ سے یہ حدیث بخاری میں موجود ہے۔انی ترکت فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلواکتاب اللہ و سنتی*اور آپ سرقہ کا مجھ کو الزام دیتے ہیں حالانکہ میں نے فی الحارث مقال کے لفظ کو ایک حرج بے ہودہ
    اس حدیث کی ہم معنی جو حدیثیں بخاری میں موجود ہیں از انجملہ ایک وہ حدیث ہے جو بخاری کی کتاب الاعتصام میں لکھی ہے اور وہ یہ ہے وھذا الکتاب الذی ھدی اللہ بہ رسولکم فخذوابہ تھتدوا۔ ازاں جملہ یہ حدیث ہے و کان وقّافًا عند کتاب اللہ صفحہ ۱۷۹ از انجملہ یہ حدیث ہے ما عندنا شیء الا کتاب اللّٰہ ۔ ازانجملہ یہ حدیث ہے ماکان من شرط لیس فی کتاب اللّٰہ فھو باطلٌ قضاء اللّٰہ احق۔ صفحہ ۳۷۷ ۔ ازانجملہ یہ حدیث ہے! ا وصی بکتاب اللّٰہ ۷۵۱۔ازانجملہ یہ حدیث ہے جو بخاری کے صفحہ ۱۷۲ میں ہے کہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ زخم کاری سے مجروح ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے ان کے پاس گئے کہ ہائے میرے بھائی۔ ہائے میرے دوست۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے صہیبؓ مجھ پر تو روتا ہے کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ میت پر اسکے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے پھر حضرت عمرؓ وفات پا گئے تو حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے یہ سب حال حدیث پیش کرنے کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکو سنایا تو انہوں نے کہا کہ خدا عمر پر رحم کرے بخدا کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا بیان نہیں فرمایا کہ مومن پر اسکے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے اور فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن کافی ہے۔ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱؂ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ نے باوجود محدود علم کے فقط اسلئے قسم کھائی کہ اگر اس حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں کہ خواہ نخواہ ہر ایک میت اسکے اہل کے رونے سے معذب ہوتی ہے تو یہ حدیث قرآن کے مخالف اور معارض ٹھہرے گی اور جو حدیث قرآن کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔ کان النبی صلعم بین رجلین
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 110
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 110
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/110/mode/1up
    سمجھ ؔ کر عمداً ترک کیا ہے کیونکہ جس قدر کمالات قرآنیہ کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے وہ اہل کشف اور اہل باطن پر درحقیقت ظاہر ہوچکے ہیں اور ہوتے ہیں اور حارث کی روایت کی ہر ایک زمانہ میں تصدیق ہو رہی ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ قرآن کریم بلاشبہ جامع حقائق و معارف اور ہر زمانہ کی بدعات کا مقابلہ کرنے والا ہے۔ اس عاجز کا سینہ اس کی چشم دید برکتوں اور حکمتوں سے ُ پر ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ حارث اس حدیث کے بیان کرنے میں بے شک سچا ہے بلاشبہ ہماری بھلائی اور ترقی علمی اور ہماری دائمی فتوحات کیلئے قرآن ہمیں دیا گیا ہے اور اس کے رموز اور اسرار غیر متناہی ہیں جو بعد تزکیہ نفس اشراق اور روشن ضمیری کے ذریعہ سے کھلتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جس قوم کے ساتھ کبھی ہمیں ٹکرا دیا اس قوم پر قرآن کے ذریعہ سے ہی ہم نے فتح پائی وہ جیسا ایک اُمّی دیہاتی کی تسلی کرتا ہے ویسا ہی ایک فلسفی معقولی کو اطمینان بخشتا ہے یہ نہیں کہ وہ صرف ایک گروہ کیلئے اترا ہے دوسرا گروہ اس سے محروم رہے۔ بلاشبہ اس میں ہر یک شخص اور ہریک زمانہ اور ہریک استعداد کیلئے علاج موجود ہے۔جو لوگ معکوس الخلقت اور ناقص الفطرت نہیں وہ قرآن کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے انوار سے مستفید ہوتے ہیں۔ جس حارث کے منہ سے ہمارے پیارے قرآن کی یہ تعریفیں نکلیں َ میں تو اس منہ کے قربان ہوں۔ آپ اس کو دجال سمجھیں تو آپکا اختیار ہے۔ کل احد یوخذ من قولہ ویترک۔
    رہی یہ بات کہ آپ نے میر انام چور رکھا تو میں اپنا اور آپکا فیصلہ حوالہ بخدا کرتا ہوں۔ اگر قرآن کیلئے میں چور کہلاؤں تو میری یہ سعادت ہے ۔یہ تو ایک لفظ کی کمی کا نام سرقہ رکھا گیا ہے۔ لیکن خدا وند کریم بہتر جانتا ہے کہ اس واقعی سرقہ یا اس کی اعانت کا مرتکب کون ہے۔ جس کے ارتکاب سے ایک درم کی مالیت پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ فتفکر فی سر ھذا الکلام واخش اللہ المحاسب العلام۔
    قولہ۔ احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سی بری ہیں۔ سو آیت پیش کرنا جب کوئی فاسق خبر لاوے تو اس کی تفتیش کرو۔ آپ کی ناواقفی پر ایک دلیل ہے۔
    اقول۔ میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں پر تہمت اہل بدع ہونے کی کی
    بجمع من قتلے احد ثم یقول ایھما احفظ للقرآن فاذااشیرلہ الی احد ھما قدمہ فی اللحد( بخاری صفحہ۱۰۰) اللہ اللہ! آپ نے کس قدر رعایت اور عزت قرآن کی کی ہے۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 111
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 111
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/111/mode/1up
    گئیؔ ہے جو فاسق کے حکموں میں ہیں۔ جیسا کہ مسلم الثبوت کا حوالہ دے چکا ہوں جس میں صحیحین کی نسبت یہ عبارت ہے۔ لان رواتھما قدریون وغیرھم اھل البدع یعنی بعض راوی مسلم اور بخاری کے قدری اور بدعتی ہیں۔ اب یا حضرت فرمایئے کہ آپ کی ناواقفی ثابت ہوئی یا میری۔ اور اگر آپ کہیں کہ دوسری طرق سے وہ حدیثیں ثابت ہیں تو یہ بار ثبوت آپکے ذمہ ہے کہ من کل الوجوہ پورا مفہوم اور منطوق ان حدیثوں کا دوسری طرق روایت سے ثابت کر کے دکھلاویں۔ تلویح میں لکھا ہے کہ’’ بعض موضوع حدیثیں جو زنا دقہ کا افترا معلوم ہوتی ہیں بخاری میں موجود ہیں‘‘۔ اور امام نووی نے حدیث عباس اور علی کی نسبت جو کہا ہے وہ پہلے لکھ چکا ہوں اور میرا یہ کہنا کہ امکانی طور پر صدور کذب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے۔ اس اعتراض کا مورد نہیں ہوسکتا کہ امکان کذب کی وجہ سے شہادت رد نہیں کی جاسکتی اور نہ کمزور ہوسکتی ہے کیونکہ امکان دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مترقب الوقوع اور ایک مستبعد الوقوع۔ اس کی یہ مثال ہے کہ جیسے ایک شخص کیلئے جو زمین کھود رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اس زمین سے کسی قدر مال کا دفینہ نکل آوے۔ اور امکان مترقب الوقوع کی یہ مثال ہے کہ جیسے ایک ایسے گھر میں کتا اندر چلا جائے جس میں طرح طرح کے کھانے کھلے کھلے ہوئے ہیں سو ممکن ہے کہ وہ کتا کھانا شروع کرے اسی طرح انسان دو گروہ ہیں ایک وہ جو ذنوب سے آزاد کئے جاتے ہیں اور تقویٰ اور ایمان ان کی محبوب طبیعت کیا جاتا ہے۔ دوسرے وہ گروہ ہیں کہ اگرچہ تکلف سے نیکی کرتے ہیں اور متقی کہلاتے ہیں مگر جذبات نفس سے ایمن اور محفوظ نہیں ہوتے اور اغراض نفسانی کے موقعہ پر پھر پھسلنا انکا امکان ترقبی میں داخل ہوتا ہے کیونکہ اعمال صالح ان کی طبیعت کے جزو نہیں ہوتے- یہ بات شہادتوں میں بھی ملحوظ رہتی ہے۔ اس وجہ سے ایک ایسے گواہ کی شہادت جو فریق ثانی سے جس پر وہ گواہی دیتا ہے سخت عداوت رکھتا ہے اور بالجہر درپے آزار ہے اور فریق اول کا جس کیلئے گواہی دیتا ہے۔ قریبی رشتہ دار اور اس کی حمایت پر اس کو سخت اصرار ہے کمزور بلکہ قابل رد سمجھی جاتی ہے۔ کیوں سمجھی جاتی ہے؟ اسی وجہ سے کہ اس کی دروغگوئی کے بارے میں امکان ترقبی کا احتمال قوی پیدا ہوجاتا ہے۔ اور بوجہ اس امکان کے اس کی گواہی وہ وزن نہیں رکھتی جو قابل ذوی عدل شواہد کی رکھتی ہے۔ اور کسی طور سے پورے اعتماد کے لائق نہیں ٹھہر سکتی۔ خاص کر ایسے زمانہ میں جو فسق اور کذب کا شیوع ہو۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا خوارج اور قدریوں کی شہادت میں بوجہ ان کے مذاہب زائغہ کے دروغگوئی کا امکان ترقبی پیدا ہے یا نہیں؟ اور یہی میرا مطلب تھا۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 112
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 112
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/112/mode/1up
    قولہؔ ۔ آپ کے ایسے دلائل و اقاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل ناآشنائی ہے۔
    اقول۔ حضرت مولوی صاحب اس زمانہ میں جو صحیحین اردو میں ترجمہ ہوچکی ہیں فن حدیث کا کوچہ کوئی ایسا دشوارگذار راہ نہیں رہا جس پر خاص طور پر آپ کا ناز زیبا ہو۔ عنقریب زمانہ آنے والا ہے بلکہ آگیا ہے کہ اردو میں حدیثوں کا توغل رکھنے والے اپنی دماغی اور دلی روشنی کی وجہ سے عربی خوان غبی طبع ملاؤں پر ہنسیں گے اور استاد بن کر انہیں دکھائیں گے۔ میں حضرت محض لِلّٰہ آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ اب آپ اپنی علمی نمائش کو کم کردیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک فضیلت تقویٰ میں ہے۔ اس ناحق کی نفسانی خودستائی اور دوسرے کی تحقیر سے حاصل کیا؟ اور طرفہ تر یہ کہ آپ تو میرے پر نادانی اور نالیاقتی کا الزام لگانا چاہتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ وہی الزام لوٹا کر آپ پر نازل کرنا چاہتا ہے۔من اراد ھتک ستراخیہ ھتک اللہ سترہ ان اللہ لایحب کل مختالٍ فخور واللہ بصیرٌ بالعباد ولا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الامن ظلم۔
    قولہ۔ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے حدیث کو قرآن پر عرض کرنے کے بارہ میں آپ کی مانند یہ اصول تو نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہوجانے کے بعد ان کی صحت کا امتحان قرآن سے کیا جائے۔ اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن ثابت نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھا جائے۔
    اقول۔ تفسیر حسینی کی عبارت سے یہ ظاہر ہے کہ شیخ محمد ابن اسلم طوسی تیس۳۰ سال تک اس بارہ میں فکر کرتے رہے کہ حدیث ترک صلوٰۃ کی تصدیق جس کا مضمون یہ ہے کہ جو کوئی نماز کو عمداً چھوڑے وہ کافر ہوجاتا ہے قرآن سے ثابت ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ حدیث قانون روایت کے لحاظ سے ان کے نزدیک موضوع ہوتی تو پھر اس کی مطابقت کیلئے قرآن کی طرف توجہ کرنا ایک فضول امر اور بیہودہ کام تھا۔ کیونکہ اگر حدیث موضوع تھی تو پھر اس کا خیال دل سے دفع کیا ہوتا۔ کیا یہ قریب قیاس ہے کہ کوئی دانا ایک حدیث کو موضوع سمجھ کر پھر اس موضوع کی تصدیق کیلئے تیس ۳۰ سال تک اپنا وقت ضائع کرے۔ ظاہر ہے کہ جس حدیث کو پہلے سے موضوع سمجھ لیا پھر اس کی تصدیق قرآن سے طلب کرنا چہ معنے دارد! بلکہ حق اور واقعی بات جو قرائن موجودہ سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو شیخ محمد اسلم طوسی کو اس حدیث کی صحت پر وثوق کامل تھا اور دوسری طرف بظاہر نظر قرآن کے عام تعلیم سے اس کو مخالف پاتا تھا اسلئے اس نے صحیح بخاری کی اس حدیث کے موافق جس میں عرض علی القرآن کا ذکر ہے کتاب اللہ سے اس کی موافقت
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 113
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 113
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/113/mode/1up
    چاہیےؔ ؟ ۱؂ اور خدا جانے کس قدر اس کو ترک صلوٰۃ کی حدیث کی صحت پر پختہ یقین تھا کہ باوجودیکہ انتیس سال تک یا کچھ اس سے زیادہ اس حدیث کی مصدق کوئی آیت اس کو قرآن کریم میں نہ ملی تاہم اس نے تلاش اور طلب سے ہمت نہ ہاری۔ یہاں تک کہ آیت ۲؂ اسکو مل گئی یہ طلب اور تلاش بجز اسکے اور کس غرض کیلئے تھی کہ ایک طرف تو شیخ اسلم طوسی کو ترک صلوٰۃ کی حدیث میں اس کی صحت کے بارہ میں کچھ کلام نہ تھا اور دوسری طرف عبارت اس کی قرآن کریم کی ظاہر تعلیم سے مخالف معلوم ہوتی تھی اور اس بات کو ایک ادنیٰ فہم والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر شیخ موصوف کو حدیث اور ظاہر قرآن میں کچھ مخالفت دکھائی نہیں دیتی تھی تو پھر تیس ۳۰سال تک کس غوطہ میں رہا! اور کونسی چیز گم ہوگئی تھی جس کو وہ تلاش کرتا رہا؟ آخر یہی تو سبب تھا کہ وہ اس حدیث کے موافق کوئی آیت نہ پاتا تھا اور اسی خیال سے وہ قرآن کی آیات کو اس حدیث کے مخالف خیال کرتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ شیخ مذکور کی کلام میں قرآن کے معیار ٹھہرانے کا نام و نشان نہیں‘‘۔ مگر آپ کی سمجھ پر نہ خود میں بلکہ ہریک عاقل تعجب کرے گا کہ اگر شیخ کی رائے میں قرآن ایسی حدیثوں کی تصدیق کیلئے کہ بظاہر مخالف قرآن معلوم ہوں معیار نہیں تھا تو پھر شیخ نے تیس ۳۰سال تک تصدیق کیلئے کیوں ٹکریں ماریں؟ تیس ۳۰سال کا عرصہ کچھ تھوڑا نہیں ہوتا ایک جو ان اس عرصہ میں بڈھا ہوجاتا ہے۔ کیا کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ بغیر ارادہ کسی بھاری مرحلہ کے طے کرنے اور بغیر قصد نجات کے ایک سخت مشکل سے یوں ہی کوئی ایک زائد اطمینان کیلئے اس قدر عرصہ دراز عمر عزیز کا ضائع کرے۔ پھر آپ دریافت کرتے ہیں کہ کیا شیخ محمد اسلم نے بجز اس حدیث ترک صلوٰۃ کے کسی اور حدیث کو بھی قرآن پر عرض کیا؟ یہ کیسا پر خبط سوال ہے! کیا عدم علم سے عدم شے لازم آتا ہے؟ پس ممکن ہے کہ عرض کیا ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مشکل اور حدیثوں میں انہیں پیش نہ آئی ہو۔ اور ان کی نظر میں کوئی اور حدیث ایسے طور سے مخالف قرآن نہ ہو جس سے قرآن کی کامل اور غیر مبدل ہدایتوں کو ضرر پہنچ سکے اور اگر یہ کہو کہ اس تیس۳۰ سال کے عرصہ تک یعنی جب تک کہ آیت نہیں ملی تھی حدیث ترک صلوٰۃ کی صحت کی نسبت شیخ کا کیا اعتقاد تھا تو جواب یہ ہے کہ شیخ اس میں حسب قانون روایت صحت کے آثار صحت پاتا تھا لیکن بوجہ مخالفت ظاہری قرآن حیرت اور سرگشتگی میں تھا اور کوئی رائے استقلال کے ساتھ قائم نہیں کرسکتا تھا اور آیت کے مل جانے کا زیادہ تر امیدوار تھا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ آپ ضد چھوڑ دیں* اور خداتعالیٰ
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 114
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 114
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/114/mode/1up
    سےؔ شرم کریں۔ آپ نے صرف ایک آدمی کا پتہ مانگا تھا جو احادیث مختلفہ کی نسبت عرض علی القرآن کا قائل ہو۔ لیکن ہم نے کئی امام اور بزرگوار اس عقیدہ کے رکھنے والے پیش کردیئے۔ مکرر یہ کہ آپ یاد رکھیں کہ شیخ طوسی کا تیس۳۰ سال تک آیت کی طلب و تلاش میں لگے رہنا شیخ کے اس مذہب کو ظاہر کررہا ہے جو اسکا حدیث ترک الصلوٰۃ کے صحت کی نسبت اور پھر تصدیق قرآنی کی ضرورت کی نسبت تھا۔ اگر آپ قرائن موجودہ سے نہیں سمجھیں گے تو اور سمجھنے والے دنیا میں بہت ہیں انہیں کو فائدہ ہوگا۔
    قولہ۔ میں قرآن کو امام جانتا ہوں228
    اقول۔ یہ سراسر خلاف واقع ہے اگر آپ قرآن کو امام اور ہادی اول جانتے تو آپ کے انکار اور ضد کی یہ نوبت کیوں پہنچتی؟ آپ فرماتے ہیں کہ ’’میرے پر یہ افترا ہے کہ میری نسبت بیان کیا گیا کہ میں قرآن کے امام ہونے کا منکر ہوں‘‘۔ اس آپ کی دلاوری کا میں کیا جو اب دوں خود لوگ معلوم کرلیں گے !۔
    قولہ۔ اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔
    اقول۔ حضرت کچھ آپ بھی تو ڈر کریں* ۱؂
    قولہ۔ یہ گمان کہ امام بخاری نے دمشقی حدیث کو ضعیف جان کر چھوڑ دیا ہے یہ بات وہ ہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی کبھی گذر نہیں ہوا۔
    اقول۔ حضرت آپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اس کوچہ میں خود گذر نہیں آپ نہیں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 115
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 115
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/115/mode/1up
    جانتےؔ ؟ کہ ایک شخص امام بخاری جیسا معلومات کاملہ کا دعویٰ رکھنے والا جس نے تین لاکھ حدیث حفظ کی تھی۔ اس کی نسبت ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ تمام احادیث مدوّنہ مکتوبہ صحاح ستہ کی اس کو معلوم تھیں کیونکہ جس قدر کل حدیثیں صحاح ستہّ میں مندرج ہیں وہ معلومات بخاری کا چھٹا حصہ بھی نہیں۔ بلکہ ان سب کو معلومات امام بخاری میں داخل کر کے پھر بھی اڑھائی لاکھ احادیث ایسی رہ جاتی ہیں جن کے ضبط اور حفظ میں کوئی دوسرا امام بخاری سے شریک نہیں پس اس دلیل سے بظن غالب معلوم ہوتا ہے کہ دمشقی حدیث ضروری امام بخاری کو یاد ہوگی اور ان تمام حدیثوں کے لکھنے کے وقت جو امام بخاری نے مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کی نسبت لکھی ہیں بخاری کا یہ فرض تھا کہ اس ناتمام قصہ کی تکمیل کیلئے جس کی تبلیغ کیلئے سب سے بڑھ کر تاکید نبی کریم ہے وہ دمشقی حدیث بھی لکھ دیتا جو مسلم میں درج ہے۔حالانکہ بخاری نے اپنی حدیثوں میں بعض ٹکڑے اس قصہ کے لئے ہیں اور بعض ترک کردیئے ہیں۔ پس صحیح بخاری کا ان قصص متعلقہ سے خالی ہونا اس بات پر حمل نہیں ہوسکتا کہ امام بخاری ان باقی ماندہ ٹکڑوں سے بے خبر رہاکیونکہ اس کو تین لاکھ حدیث کے ضبط کا دعویٰ ہے اور چالیس ہزار مجر ٰے دے کر پھر بھی دو لاکھ ساٹھ ہزار بخاری کے پاس خاص ذخیرہ حدیثوں کا ماننا پڑتا ہے آخر قرائن موجودہ جو بخاری کے احاطہ احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتے وہ ایک محقق کو کشاں کشاں اس طرف لے آئیں گے کہ امام بخاری نے بعض متعلقات اس قصہ کو جو دمشقی حدیث میں پائی جاتی ہیں عمداً ترک کیا۔ یہ گمان ہرگز نہیں ہوسکتا کہ نواس بن سمعان کی حدیث بخاری کو نہیں ملی۔ بلکہ یہ گمان بھی نہیں ہے کہ علاوہ حدیث نو اس بن سمعان کے ایسی روایت کے متعلق اور بھی حدیثیں ملی ہوں جن کو اس نے متروک البیان رکھا۔ لیکن یہ خیال کسی طرح طمانیت بخش نہیں کہ بخاری نے اس حدیث کو بھی اسی کنز مخفی میں شامل کردیا جو تین لاکھ حدیث کا خزانہ اس کے دل میں تھا کیونکہ اس کے ذکر کرنے کے ضروری دواعی پیش تھے اور قصہ کی تکمیل اس بقایا ذکر پر موقوف تھی۔سو بجز اس کے صحیح اور واقعی جواب جو جلالت شان بخاری کے مناسب حال ہے اور کوئی نہیں کہ بخاری نے وہ حدیث نو اس بن سمعان کی اس مرتبہ پر نہ سمجھی جس سے وہ اپنی صحیح میں اس کو دخل دیتا۔ اس پر ایک اور بھی ثبوت ہے اور وہ یہ ہے کہ بخاری کی بعض حدیثیں اگر غور سے دیکھی جائیں تو اس دمشقی حدیث سے کئی امور میں مخالف ثابت ہوتی ہیں تو یہ بھی ایک وجہ تھی کہ بخاری نے اس حدیث کو نہیں لیا تا اپنی صحیح کو تعارض اور تناقض سے بچاوے اور معلوم ہوتا ہے کہ باقی حدیثیں بھی جو چھیانوے ہزار کے قریب بخاری
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 116
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 116
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/116/mode/1up
    کو ؔ یاد تھیں وہ باوجود اپنی صحت اسناد کے صحیح بخاری کی حدیثوں سے کچھ تعارض رکھتی ہونگی جبھی تو بخاری جیسے حریص اشاعت سنت رسول نے ان کو کتاب میں درج نہیں کیا۔ اور نہ کسی دوسری کتاب میں ان کو لکھا ورنہ بخاری جیسے عاشق قول رسول پر ایک ناقابل دفع اعتراض ہوگا کہ اس نے رسول اللہ کی حدیثوں کو پا کر کیوں ضائع کیا! کیا اس کی شان سے بعید نہیں کہ سولہ برس مصیبت اٹھا کر ایک لاکھ حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جمع کی اور پھر ایک نکمے خیال سے کہ کتاب میں طول ہوتا ہے اس خزانہ کو ضائع کردے؟
    چہ عقل است صد سال اندوختن
    پس انگاہ دریک دمے سوختن
    خداداد علم اور حکمت کو ضائع کرنا بالاتفاق معصیت کبیرہ ہے پھر کیونکر یہ حرکت بے جا ایسے امام سے ممکن ہے! سواگرچہ کسی مخفی وجہ کی نسبت سے امام بخاری نے ظاہر نہیں کیا اور یا ظاہر کیا اور محفوظ نہیں رہا لیکن بہرحال یہی سبب ہے اور یہی عذر شرعی ہے جس کے تجویز کرنے سے امام محمد اسماعیل کی غم خواری دینی کا دامن کسل اور لاپروائی کی آلائش سے پاک رہ سکتا ہے۔
    قولہ۔ آپ نے اجماع کے بارے میں کہ اجماع کس کو کہتے ہیں کچھ جواب نہ دیا جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ علمی سوالات کو کچھ سمجھ نہیں سکتے۔ اجماع کی تعریف یہ ہے کہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین جن سے ایک شخص بھی متفرد و مخالف نہ ہو ایک حکم شرعی پر اتفاق کر لیں اگر ایک مجتہد بھی مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہیں ہوگا۔
    اقول۔ میرے سیدھے سیدھے بیان میں ماحصل اجماع کی تعریف کا موجود ہے۔ ہاں میں نے اصولیوں کی مصنوعہ مخترعہ طرز پر جو دقت سے خالی نہیں اس بیان کو ظاہر نہیں کیا تا عوام الناس فہم سخن سے بے نصیب نہ رہیں۔ لیکن آپ نے اصطلاحی طور پر اجماع کی تعریف کرنے کا دعویٰ کرکے پھر اس میں خیانت کی ہے اور پورے طور پر اسکا بیان نہ کیا جس سے آپکے دل میں یہ اندیشہ ہوگا کہ جن شرائط کو اصول فقہ والوں نے اجماع کی تحقیق کیلئے ٹھہرایا ہے ان تمام شرائط کے لحاظ سے آپکے مسلمہ اجماعوں میں سے کوئی اجماع صحیح ٹھہر نہیں سکتا۔ اور یا یہ مطلب ہوگا کہ جو امور اس میں میرے مفید مطلب ہوں ان کو پوشیدہ رکھا جاوے اور وہ اجماع معہ اس کی شرائط کے اس طرح پر بیان کیا گیا ہے الاجماع اتفاق مجتھدین صالحین من امۃ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم فی عصرٍ واحدٍ والا ولی ان یکون فی کل عصر علی امرقولی اوفعلی ورکنہ نوعان عزیمۃ و
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 117
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 117
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/117/mode/1up
    ھوؔ التکلم منھم بمایوجب الاتفاق بان یقولوا اجمعنا علی ھذا ان کان ذلک الشیء من باب القول اوشروعھم فی الفعل ان کان ذالک الشیء من باب الفعل والنوع الثانی منہ رخصۃ وھو ان یتکلم اویفعل البعض من المجمعین دون البعض ای یتفق بعضھم علی قول او فعل ویسکت الباقون منھم ولایردون علیھم الی ثلثۃ ایام اوالی مدۃ یعلم عادۃ انہ لوکان ھناک مخالف لاظھر الخلاف ویسمی ھذا اجماعا سکوتیا و لابد فیہ من اتفاق الکل خلافا للبعض وتمسکا بحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و ذھب بعضھم الی کفایۃ قول العوام فی انعقاد الاجماع کالباقلانی و کون المجمعین من الصحابۃ اومن العترۃ لا یشترط وقال بعضھم لااجماع الاللصحابۃ و بعضھم حصر الاجماع فی اھل قرابۃ رسول اللہ و عند البعض کونھم من اھل المدینۃ یعنی مدینۃ رسول اللہ شرط ضروری و عند بعضھم انقراض عصرھم شرط لتحقق الاجماع وقال الشافعیؒ یشترط فیہ انقراض العصر وفوت جمیع المجتھدین فلایکون اجماعھم حجۃ مالم یموتوا لان الرجوع قبلہ محتمل ومع الاحتمال لایثبت الاستقراء ولابدلنقل الاجماع من الاجماع والاجماع اللاحق جائز مع الاختلاف السابق والاولی فی الاجماع ان یبقی فی کل عصر وقال بعض المعتزلۃ ینعقد الاجماع باتفاق الاکثر بدلیل من شذشذ فی النار۔ قال بعضھم ان الاجماع لیس بشیء ولایتحقق لجمع شرائط یعنی اجماع اس اتفاق کا نام ہے جو امت محمدیہ کے مجتہدین صالحین میں زمانہ واحد میں پیدا ہو اور بہتر تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں پایا جائے اور جس امر پر اتفاق ہو برابر ہے کہ وہ امر قولی ہویافعلی۔ اور اجماع کی دو نوع ہیں ایک وہ ہے جس کو عزیمت کہتے ہیں اور عزیمت اس بات کانام ہے کہ اجماع کرنیوالے صریح تکلم سے اپنے اجماع کا اقرار کریں کہ ہم اس قول یافعل پر متفق ہوگئے۔ لیکن فعل میں شرط ہے کہ اس فعل کا کرنا بھی وہ شروع کردیں۔ دوسری نوع اجماع کی وہ ہے جس کو رخصت کہتے ہیں اور وہ اس بات کانام ہے کہ اگر اجماع کسی قول پر ہے تو بعض اپنے اتفاق کو زبان سے ظاہر کریں اور بعض چپ رہیں اور اگر اجماع کسی فعل پر ہے تو بعض اسی فعل کا کرنا شروع کردیں اور بعض فعلی مخالفت سے دستکش رہیں۔ گو اس فعل کو بھی نہ کریں اور تین دن تک اپنی مخالفت قول یا فعل سے ظاہر نہ کریں یا اس مدت تک مخالفت ظاہر نہ کریں جو عادتاً اس بات کے سمجھنے کیلئے دلیل
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 118
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 118
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/118/mode/1up
    ہوؔ سکتی ہے کہ اگر کوئی اس جگہ مخالف ہوتا تو ضرور اپنا خلاف ظاہر کرتا اور اس اجماع کا نام اجماع سکوتی ہے اور اس میں یہ ضروری ہے کہ کل کا اتفاق ہے۔ مگر بعض سب کے اتفاق کو ضروری نہیں سمجھتے تا من شذشذ کی حدیث کا مورد باقی رہے اور حدیث باطل نہ ہوجائے اور بعض اس طرف گئے ہیں کہ مجتہدین کاہونا ضروری شرط نہیں بلکہ انعقاد اجماع کیلئے عوام کا قول کافی ہے جیسا کہ باقلانی کا یہی مذہب ہے اور بعض کے نزدیک اجماع کیلئے یہ ضروری شرط ہے کہ اجماع صحابہ کا ہو نہ کسی اور کا۔ اور بعض کے نزدیک اجماع وہی ہے جو عترت یعنی اہل قرابت رسول اللہ کا اجماع ہو۔ اور بعض کے نزدیک یہ لازم شرط ہے کہ اجماع کرنے والے خاص مدینہ کے رہنے والے ہوں۔ اور بعض کے نزدیک تحقیق اجماع کیلئے یہ شرط ہے کہ اجماع کا زمانہ گذر جائے۔ چنانچہ شافعی کے نزدیک یہ شرط ضروری ہے وہ کہتا ہے کہ اجماع تب متحقق ہوگا کہ اجماع کے زمانہ کی صف لپیٹی جائے اور وہ تمام لوگ مر جائیں جنہوں نے اجماع کیا تھا اور جب تک وہ سب نہ مریں تب تک اجماع صحیح نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے قول سے رجوع کرے اور یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ کسی نے اپنے قول سے رجوع تو نہیں کیا اور نقل اجماع پر بھی اجماع چاہئے۔ یعنی جو لوگ کسی امر کے بارہ میں اجماع کے قائل ہیں ان میں بھی اجماع ہو اور اجماع لاحق مع اختلاف سابق جائز ہے یعنی اگر ایک امر پہلے لوگوں نے اجماع نہ کیا اور پھر کسی دوسرے زمانہ میں اجماع ہوگیا ہو تو وہ اجماع بھی معتبر ہے اور بہتر اجماع میں یہ ہے کہ ہر زمانہ اس کا سلسلہ چلا جائے اور بعض معتزلہ کا قول ہے کہ اتفاق اکثر سے بھی اجماع ہوسکتا ہے بدلیل من شذشذ فی النار اور بعض نے کہا ہے کہ اجماع کوئی چیز نہیں اور اپنی جمیع شرائط کے ساتھ متحقق نہیں ہوسکتا۔ دیکھو کتب اصول فقہ ائمہ اربعہ۔
    اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ علماء کا اس تعریف اجماع پر بھی اجماع نہیں اور انکار اور تسلیم کے دونوں دروازے کھلے ہوئے ہیں لہٰذا میں نے جب بعض اقوال کے ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر بلاشبہ اجماع سکوتی کا ثبوت دے دیا ہے۔ ابو سعید نے ہرگز ہرگز ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا ایک امر کا کسی پر مشتبہ ہونا اور چیز ہے تمیم داری کا بھی انکار ثابت نہیں کیونکہ تمیم داری نے گرجا والے دجال کی نسبت اپنا یقین ظاہر نہیں کیا صرف ایک خبر سنادی اور بمجرد خبر سنانے کے انکار لازم نہیں آتا اور وہ خبر جرح سے خالی بھی نہیں کیونکہ تمیم داری کہتا ہے کہ اس دجال نے غیب کی باتیں اور آئندہ میں ظاہر ہونے والی پیشگوئیاں کھلے کھلے طور پر سنائیں
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 119
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 119
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/119/mode/1up
    اور ؔ یہ امر قرآن کے مخالف ہے۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱ ؂ یعنی خدا ئے تعالیٰ کھلے کھلے طور پر کسی کو اپنے غیب پر بجز رسولوں کے یعنی بجز ان لوگوں کے جو وحی رسالت یا وحی ولایت کے ساتھ مامور ہوا کرتے ہیں اور منجانب اللہ سمجھے جاتے ہیں مطلع نہیں کرتا مگر دجال نے تو اس جگہ غیب کی پکی پکی خبریں سنائیں* اب سوال یہ ہے کہ وہ رسولوں کی کس قسم میں سے تھا؟ کیا وہ حقیقی طور پر منصب رسالت رکھتا تھا یا نبی تھا یا محدث تھا؟ ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کلام میں کذب ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو تمیم داری کے قول کی تصدیق کی یہ تصدیق درحقیقت اس شخص اور معین آدمی کی نہیں جو تمیم داری کے ذہن میں تھا بلکہ عام طور پر ان واقعات کی تصدیق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے کہ دجال آئے گا اور مدینہ اور مکہ میں نہیں جاسکے گا۔ اور اس جگہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا کہ وحی الٰہی کے رو سے آنحضرت نے تمیم داری کی تصدیق کی۔ بلکہ معمولی طور پر اور بشری عادت کی طرز سے بغیر لحاظ کسی خصوصیت کے چند واقعات کی تصدیق کی تھی اور حدیث کے لفظوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمیم داری کے اس لفظ کی جو دجال ایک جزیرے میں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تصدیق نہیں کی بلکہ ایک طور سے انکار کیا کیونکہ لفظ حدیث کے یہ ہیں۔
    موحدین نام رکھوا کر شرم کرنی چاہئے! جب مخلوق کو(اور مخلوق بھی کافر دجال! یا للعجب!) خدائی طاقتیں اور صفتیں حاصل ہوگئیں تو خالق اور مخلوق میں باب ۲؂ ا لامتیاز کیا رہا ؟
    افسوس یہ خشک مغز لفظ پرست قوم کچھ بھی کلام الٰہی میں غور نہیں کرتی گویا انہیں کلام الٰہی سے کوئی انس و مناسبت ہی نہیں۔ توحید توحید زبان سے پکارتے ہیں اور سخت شرک میں گرفتار ہیں حضرت مسیح ایسے عبد ضعیف کو۔ خالق۔ شافی۔ محی اور حيّ و قیوم اعتقاد کررکھا ہے!!۔ اس پر غضب یہ کہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں کو مبتدع اور مشرک کے سوائے اور کوئی لقب دینا گوارا نہیں کرتے۔ مبارکی ہو اس برگزیدہ الٰہی‘ اس مسیح موعود کو جس نے اصل سرّ توحید کا دنیا پر روشن کیا اور اقسام اقسام اشراک خفیہ سے اہل اسلام کو آگاہ کیا اور قرآن کریم کے نور سے منور ہو کر صفات باری تعالیٰ کے چشمہ کو شرک کے خس و خاشاک سے پاک و صاف فرمایا۔ اے اللہ! اے میرے مولا! مجھے اسکے خادموں میں شامل رکھ کر اس کی برکات سے مستفیض فرما! آمین۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 120
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 120
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/120/mode/1up
    الاؔ انہ فی بحرالیمن لا بل من قبل المشرق ماھو واومابیدہ الی المشرق یعنی آگاہ ہوکیا تحقیق دجال اس وقت شام کے دریا میں ہے یا یمن کے دریا میں۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ ماھوکے لفظ میں اشارہ کیا کہ بذاتہ ٖ وہ نہ نکلے گا بلکہ اس کا مثیل نکلے گا۔ تمیم داری نصاریٰ کی قوم میں سے تھا اور نصاریٰ ہمیشہ ملک شام کی طرف سفر کرتے ہیں۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تمیم داری کے اس خیال کو رد کردیا کہ وہ شام کے دریا میں کسی جزیرہ میں دجال کو دیکھ آیا ہے اور فرمایا کہ دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا جس میں ہندوستان داخل ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھو کہ معمولی تصدیق میں جو بغیر وحی کے ہو نبی سے بھی خطا فی الاجتہاد ممکن ہے جیسا کہ اس خبر کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تصدیق کر لی تھی کہ قیصر روم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس تصدیق کی وجہ سے عین موسم گرما میں دور دراز کا سفر بھی اختیار کیا۔ آخر وہ خبر غلط نکلی۔ اور تواریخ صحابہ میں ایسی خبروں کے اور بہت سے نمونے ہیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچائی گئیں اور آنحضرت نے ان کی فکر کی لیکن آخر وہ صحیح نہ نکلیں۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں قیصر کے حملہ کی خبر سن کر آنجناب شدت گرما میں بلا توقف مع ایک لشکر صحابہ کے روم کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اگر تمیم داری کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے نور فراست کے آگے کسی قدر آثار صداقت رکھتی تو آنجناب ایسے عجیب دجال کے دیکھنے کیلئے ضرور اس جزیرہ کی طرف سفر کرتے تا نہ صرف دجال بلکہ اس کی نادر الشکل جسامت بھی دیکھی جاتی جس حالت میں آنجناب صلی اللہ علیہ و سلم ابن صیاد کے دیکھنے کے لئے گئے تھے تو اس عجیب الخلقت دجال کے مشاہدہ کیلئے کیوں تشریف نہ لے جاتے بلکہ ضرور تھا کہ جاتے۔ یہ مسئلہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا چشم دید ہو کر بکلّی تصفیہ پاجاتا۔ اور یہ بھی آپکو یاد رکھنا چاہئے کہ گرجا والے دجال کی تصدیق اس درجہ پر ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی جیسے ابن صیاد کا دجال ہونا! حضرت عمر وغیرہ صحابہ کی قسموں سے ثابت ہوگیا ہے۔ گرجا والے دجال کی تصدیق قسم کھا کر کس نے کی جس کی تعریف اجماع کو میں نے پیش کیا ہے۔ جو متفرق اقوال کتب اصول فقہ کا خلاصہ ہے۔ کیا کوئی بھی حصہ اس تعریف کا ابن صیاد کے اجماع کی نسبت ثابت نہیں ہوتا؟ بے شک ثابت ہوتا ہے اور آپکا نقض فضول ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اخیر مدت تک اپنے قول سے رجوع ثابت نہیں اور حدیث ابو سعید سے کم سے کم یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی ابن صیاد
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 121
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 121
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/121/mode/1up
    کےؔ دجال ہونے کے قائل تھے۔ اور اگر فرض کے طور پر کوئی فرد باہر رہا ہے تو جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اجماع کامخل نہیں۔ الدجال کے لفظ کی نسبت جس قدر آپ نے بیان کیا ہے وہ سب لغو ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ دجال معہود کیلئے الدجال ایک نام مقرر ہوچکا ہے۔ دیکھو صحیح بخاری صفحہ ۱۰۵۵۔ اگر آپ الدجال صحیح بخاری میں بجز دجال معہود کے کسی اور کی نسبت اطلاق ہونا ثابت کردیں تو پانچ روپیہ آپ کی نذر ہوں گے۔ ورنہ اے مولوی صاحب ان فضول ضدوں سے باز آؤ ! ۱؂ آ پ اگر کچھ حدیث سمجھنے کا ملکہ رکھتے ہیں تو الدجال کے لفظ سے استعمال صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں بغیر دجال معہود کے کسی اور میں ثابت کریں۔ورنہ بقول آپ کے ایسی باتیں کرنا اس شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ آپ ہی کا فقرہ ہے آپ ناراض نہ ہوں۔ ایں ہمہ سنگ است کہ برسرے من زدی۔
    قولہ ۔ آپکا یہ عذر کہ کسی کو(امارات قول دیکھ کر) کسی بات کا قائل ٹھہرانا افترا نہیں اس سے آپکا افترا اور ثابت ہوتا ہے۔
    اقول۔ اگر یہی بات ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے فعلی امر کا نام کیوں حدیث رکھ کر لیتے ہیں؟ اور کیوں بخاری نے کہا کہ میں نے تین لاکھ حدیث رسول اللہ کی تقریر کی ؟ ظاہر ہے کہ حدیث بات اور قول کو کہتے ہیں۔ مگر احادیث میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں نہیں اقوال بھی تو ہیں آپ نے ان افعال کا نام اقوال کیوں رکھا کیا یہ افترا ہے یا نہیں ؟ اگر کہو کہ بطور مسامحت یہ اصطلاح فن حدیث میں جاری ہوگئی۔ تو اسی طرح آپکو سمجھ لینا چاہئے کہ بہت سی باتیں بطور مسامحت انسان کرتا ہے اور ان کو افترا نہیں کہا جاتا۔ اگرکوئی شخص فقط ہاتھ کے اشارہ سے کسی کو کہے کہ بیٹھ جا تو ناقل اس امر کا بسا اوقات کہہ سکتا ہے کہ اس نے مجھے بیٹھنے کیلئے کہا۔ ایک شخص کسی کو کہتا ہے کہ تو شیر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا کہ تو نے افترا کیا۔ اگر یہ شیر ہے تو کہاں شیر کی طرح اس کی کھال ہے اور شیر کی طرح پنجے کہاں ہیں دم کہاں ہے۔ ایسا ہی اپنے اجتہاد کے اتباع کا ہریک کو اختیار ہے جو شخص اجتہاد کے روسے ایک ظنی امر کو یقینی سمجھ لیتا ہے خواہ اس کی نسبت کچھ کہا جائے مگر اس کو مفتری تو نہیں کہا جاتا۔ میرا اور آپ کا بیان اب جلد پبلک کے سامنے آئے گا لوگ خود اندازہ کر لیں گے۔ حدیث کے راویوں کی احتیاطیں صرف اس غرض سے تھیں کہ ان کا قول حدیث شمار کیا جاتا تھا مگر میرا قول تو حدیث نہیں میں تو صاف کہتا ہوں کہ یہ میرا اجتہاد ہے اور میں اجتہادی طور پر کہتا ہوں ضرور آنحضرت نے ابن صیاد کے دجال ہونے پر خوف ظاہر کیا اور میں نے قرآئن موجودہ سے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 122
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 122
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/122/mode/1up
    استنباؔ ط کیا ہے کہ اس خوف کا اظہار ضرور کلام کے ذریعہ سے ہوگا۔ چنانچہ اصول فقہ کے رُو سے سکوت بھی کلام کا حکم رکھتا ہے۔ اور آنحضرت کے صریح کلام سے بھی جو مسلم میں موجود ہے مترشح ہو رہا ہے کہ آنحضرت ابن صیاد کے دجال ہونے کی نسبت ضرور اندیشہ میں تھے۔مسلم کی دوسری حدیثیں غور سے دیکھو تاآپ پر حق کی روشنی پڑے۔
    قولہ۔ ایک آپ کا افترایہ ہے کہ آپ نے رسالہ ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۰۱ میں حدیث وامامکم کے ترجمہ میں اپنی عبارت ملا دی ۔
    اقول۔مَیں کہتاہوں کہ یہ آپ کے فہم کا قصور ہے یا بحالت افہم ایک افترا ہے کیونکہ ہمیشہ اس عاجز کی عادت ہے کہ ترجمہ کی نیت سے نہیں بلکہ تفسیر کی نیت سے معنے کیا کرتا ہے مگر اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی کھول کر سنایاجاتا ہے جو اصل عبارت میں ہوتاہے ۔بیشک اس جگہ وامامکم کی واؤ پہلے فقرہ کی تفسیر کے لئے ہے جس وقت آپ سے یہ بحث شروع ہوگی اسوقت آپ کو قواعد نحو کے رو سے سمجھا دیاجائیگا۔ ذرا صبر کیجئے اور میری کتاب براہین احمدیہ کو دیکھئے ہمیشہ تفسیر کی طرزپر میراترجمہ ہوتاہے۔ افسوس کہ باوجود ریویو لکھنے کے ان تراجم پر آپ نے اعتراض نہیں کیا اور کسی جگہ افترانام نہ رکھا۔ اس کی اصل وجہ بجز اسکے اور کوئی نہیں کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اور تھیں اور اَب اور ہیں۔ خدائے تعالیٰ آپ کی پہلی بینائی آپ کو بخشے۔ وھو علٰی کل شیءٍ قدیر۔ اور آپ کو یاد رہے کہ بیت المقدس یادمشق میں نزولِ عیسیٰ کا ذکر بھی محض تفسیرکے طور پر مَیں نے کیا ہے مجرّد ترجمہ نہیں ہے۔
    قولہ۔آپ نے مجھے یہ الزام دینے سے کہ میرا بخاری کی حدیثوں پر ایمان ہے افترا کے طور پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مَیں کسی ایسے ملہم کو بھی مانتا ہوں کہ جو بخاری یا مسلم کی کسی حدیث کو موضوع کہیں۔
    اقول ۔ بیشک آپ نے ایسے ملہم کو جو کسی صحیح حدیث کو اپنے کشف کے رو سے موضوع جانتا ہویاموضوع کو صحیح قرار دیتاہو۔ اپنی کتاب اشاعۃ السُنّۃ میں مخاطب الشیطان نہیں ٹھہرایا۔ یہ آپ کا سراسر افترااور مشت بعد ازجنگ ہے کہ اب آپ اپنی تحریر میں یہ لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک ایسا محدث شیطان کی طرف سے مخاطب ہے اور جو شخص کسی صحیح حدیث کو جو صحیحین میں سے ہو موضوع کہے نہ صرف وہ شیطان کا مخاطب بلکہ شیطان مجسم ہے آپ نے اشاعۃ السُنّۃ میں ان بزرگوں کانام جنہوں نے ایسے مکاشفات یاایسا عقیدہ اپنا بیان کیا تھا شیطان مجسّم ہرگز نام نہیں رکھا بلکہ مدح کی محل اور مورد میں انکاذکر لائے ہیں مثلًا آپ نے جو میری تائید کے لئے ابن عربی کا قول لکھا اور فتوحات میں سے یہ نقل کیا کہ بعض حدیثیں کشفی طور پر موضوع ظاہر کی جاتی ہیں سچ کہوکہ آپ کی اس وقت کیا نیت تھی کیا یہ نیت تھی کہ نعوذ باللہ ابن عربی
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 123
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 123
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/123/mode/1up
    کافرؔ اور شیطان مجسم ہے ؟ کیا اکابر کا لفظ جو اس محل میں ہے یہی دلالت کر رہا ہے کہ وہ لوگ اکابر کفر تھے؟ آپ ایک خط میں محی الدین عربی کو رئیس المتصوفین اور اولیاء اللہ میں داخل کر چکے ہیں۔ وہ خط تو اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دوسرا خط ہے جس سے بھی یہی مطلب نکلتا ہے جسکو آپ نے مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم کی طرف لکھا تھا جسکی یہ عبارت ہے۔’’علم دو قسم است یکے ظاہری کہ بکسب و اکتساب ونظر و استدلال حاصل میشود دوم باطنی کہ غیب الغیب بہم مے رسد چنانچہ انبیاء علیہم السلام ومن بعدھم اولیاء کرام را حاصل بود کما قال الشیخ المحي الدین العربی فی الفتوحات وقع لی اولًا الخ فرمائیے کہ آپ نے ایسے محل میں کہ اولیاء الرحمن کے کلام کا حوالہ دینا چاہیئے تھا محی الدین عربی کا کیوں ذکر کیا؟ اگر وہ بزرگ آپ کے آزاد دل کی نسبت نعوذ باللہ شیطان مجسم تھا تو کیا آپ نے اپنے خط میں جو اپنے مرشد کی طرف لکھا تھا ایک شیطان کا حوالہ دینا تھا !ماسوا اس کے آپ کا وہ پرچہ اشاعۃ السنۃ موجود ہے مَیں اپنے پر سَو روپیہ تاوان قبول کرتا ہوں اگر منصفین اس پرچہ کو پڑھ کر یہ رائے ظاہر کریں کہ آپ نے ان اولیاء کو جنہوں نے ایسا رائے ظاہر کیا تھا کافر اور شیطان ٹھہرایا تھا اور ان کے ملہمات کو شیطانی مخاطبات میں داخل کیا تھا تو میں سَو روپیہ داخل کر دُونگا۔ آپ اپنے شائع کردہ ریویو کے منشاء سے بھاگنا چاہتے ہیں* اور ایک پرانی قوم کی عادت پر تحریفوں پر زور مار رہے ہیں وانّٰی لکم ذالک ولات حین مناص۔
    قولہ۔آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعوے میں سچے نہیں اور جو تارو پود آپ نے پھیلا رکھا ہے وہ سب افترا ہے۔
    اقول۔ مَیں آپ کی ان باتوں سے آزردہ نہیں ہوتا اور نہ کچھ رنج کرتاہوں ۔ کیونکہ جو لوگ حق کے مخالف تھے ۔ ہمیشہ ارباب حق اور اہل اللہ بلکہ انبیاء کی نسبت ایسے ایسے ہی ظن کرتے آئے ہیں حضرت موسیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ حضرت عیسیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ ہمارے سید مولیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ بہت سے اولیاء کا نام مفتری رکھا گیا۔ پھر اگر میرا نام بھی آپ نے مفتری رکھ لیا تو کونسی رنج کی بات ہے ؟ ۱؂ مَیں آپ کو سچ سچ کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں اورخداوند کریم نے جو ہمیشہ مصلحت عباد کی رعایت رکھتا ہے مجھے حقًّا و عدلًا مامور کر کے بھیجا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے اور اب سن رہا ہے کہ اُس نے مجھے ضرور بھیجا ہے تامیرے ہاتھ پر ان خرابیوں کی اصلاح ہو جو مولویوں کی کج فہمی سے امت محمدیہ میں شائع ہو گئی ہیں اور تا مسلمانوں میں سچے ایمان کا تخم پھر نشو و نما کرے سو مَیں بفضلہ و رحمتہ ٖتعالیٰ سچا ہوں اور سچائی کی تائید کیلئے آیا ہوں اور ضرور تھا کہ میرا انکار کیاجاتا۔ کیونکہ براہین احمدیہ میں الٰہی الہام میرے حق میں یہ درج ہوچکا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 124
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 124
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/124/mode/1up
    نہ ؔ کیا ۔لیکن خدا اسے قبول کریگا او ر بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔سو مَیں جانتا ہوں کہ میرا خدا ایسا ہی کرے گا ۔ مَیں کسی کے منہ کی پُھونکوں سے معدوم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جس نے مجھے بھیجا ہے میرے ساتھ ہے وہ میری حمایت کریگا ضرور حمایت کریگا۔ اور میری صداقت میرے آسمانی نشان دیکھنے والوں پر ظاہر ہے گو آپ پر ظاہر نہ ہو۔ اسی مجلس میں بعض لوگ ایسے موجودہیں کہ وہ حلف اُٹھاکر کہہ سکتے ہیں کہ آسمانی نشان انہوں نے مجھ سے دیکھے ہیں ۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور بھی حلف اٹھا کر یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ مَیں نے چھ مہینہ پہلے ان پر ایک بلا نازل ہونے کی ان کو اطلاع دی اور عین اس وقت میں کہ جب پھانسی کا حکم ان کے لئے صادر ہو چکا تھا ان کے انجام بخیر اور نجات پا جانے کی خبر استجابت دعا کے بعد ان تک پہنچا دی ۔مَیں نے سنا ہے کہ یہ خبر ہوشیارپور اور اس ضلع میں اس کثرت سے پھیل گئی کہ ہزاروں آدمی اس کے گواہ ہیں ۔پھر مَیں نے اپنی زبان سے دلیپ سنگھ کی ناکامی اور ہندوستا ن میں نہ داخل ہونے کی پیش از وقت خبر دی اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنایا اور اشتہار شائع کیا اور پنڈت دیانند کے تین مہینہ تک فوت ہونے تک پہلے سے خبر دے دی اور اللہ جلّ شانہ‘ خوب جانتا ہے کہ شاید تین ہزار کے قریب ایسے امور میرے پر ظاہر ہوئے ہیں کہ وہ ٹھیک ٹھیک ظہور میں آگئے ہیں ۔ مَیں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ کبھی میرے مکاشفات میں غلط فہمی کی وجہ سے خطا واقع نہیں ہوتی کیونکہ اس وجہ سے تو نبیوں کے مکاشفات میں بھی کبھی کبھی خطا واقع ہوجاتی ہے بخاری کی حدیث فذھب وھلی بہتوں کو یاد ہو گی حضرت مسیح کی غلط پیشگوئی یہودا اؔ سکریوطی کی نسبت کہ وہ بارہویں تخت کا مالک ہے ابتک کسی عمدہ تاویل کے رو سے صحیح نہیں ہو سکی لیکن کثرت کی طرف دیکھنا چاہیئے جو لوگ مجھے مفتری سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں صاف پاک اور متقی قرار دیتے ہوں مَیں ان کے مقابل پر اس طور کے فیصلہ کیلئے راضی ہوں کہ چالیس۴۰ دن مقرر کئے جائیں اور ہر ایک فریق ۱؂ پر عمل کر کے خدا تعالیٰ سے کوئی آسمانی خصوصیت اپنے لئے طلب کرے ۔جو شخص اس میں صاد ق نکلے اور بعض مغیبات کے اظہار میں خدا ئے تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہوجائے وہی سچا قرار دیاجائے۔ اے حاضرین اسوقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ مَیں اللہ جلّ شانہ‘ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلا سکیں جو مَیں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کریں اور جو تاوان چاہیں میرے پر لگا دیں۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا او ر بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردیگا۔ بالآخر میں لکھتا ہوں کہ اب میں یہ موجودہ بحث*
    * اے حق پژدہ ناظرین لِلّٰہ غور کر کے اس جملہ کو اور آئندہ جملہ ’’اب ان تمہیدی امور میں ‘‘ الخ کو پڑھیئے گا اور پھر مقابلہ کیجئے گا مولوی محمد حسین صاحب کے لدھیانہ والے اشتہار کے ساتھ جس میں آپ نے کس بے باکی سے حضرت مرزا صاحب کا آئندہ اجرائے بحث سے فرار کر نا لکھ مارا ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کا کیا مطلب اور کیا منشا ہے اور مولوی صاحب اسے کس قالب میں ڈالتے ہیں ۔ ۔ ۲؂ ایڈیٹر ۔
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 125
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 125
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/125/mode/1up
    ختمؔ کر چکا ہوں اگر مولوی صاحب کو کسی بات کے ماننے میں کچھ عذر ہو تو علیحدہ طور پر اپنے رسالہ میں درج کریں اب ان تمہیدی امور میں زیادہ طول دینا ہرگز مناسب نہیں ۔ ہاں اگر مولوی صاحب نفس دعویٰ میں جو مَیں نے کیا ہے بالمقابل دلائل پیش کرنے سے بحث کرنا چاہیں تو میں طیار ہوں اور اگر وہ خاص بحثیں جنکی درخواست اس تحریر میں کی گئی ہے پسند خاطر ہوں تو ان کیلئے بھی حاضر ہوں اَب انشاء اللہ یہ کاغذات چھپ جائیں گے اور مولوی صاحب نے جس قد ر تیز زبانی سے نا حق کو حق قرار دیا ہے پبلک کو اس پر رائے لگانے کیلئے موقعہ ملے گا۔ واٰخر دعوٰنا ان الحمد للّٰہ رب العٰلمین۔
    راقم خاکسار غلام احمد ۲۹ جولائی ۱۸۹۱ء ؁ ۱؂
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 126
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 126
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/126/mode/1up
    لاہور کے عمائدِ اہل اسلام کی
    مخلصانہ درخواست تحقیق کیلئے بنام
    مولوی۱؂ محمد صاحب لکھو کے ۔ مولوی۲؂ عبد الرحمٰن صاحب لکھو کے۔ مولوی۳؂ عبید اللہ صاحب تبتی ۔ مولوی۴؂ رشید احمد صاحب گنگوی ۔ مولوی۵؂ غلام دستگیر صاحب قصوری ۔ مولوی عبد الجبار صاحب امرتسری ۔ مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب دہلوی ۔ مولویؔ عبد العزیز صاحب لدھیانوی ۔ مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری۔ مولوی محمد سعید صاحب بنارسی۔ مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی۔ از طرف اہلِ اسلام لاہور بالخصوص حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار و خواجہ امیر الدین صاحب و منشی عبد الحق صاحب و محمد چٹو صاحب و منشی شمس الدین سیکرٹری حمایت اسلام و مرزا صاحب ہمسایہ خواجہ امیر الدین صاحب و منشی کرم الٰہی صاحب وغیرہ وغیرہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘ ۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو دعاوی حضرت مسیح علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی موت اور خو د مسیح موعود ہونے کی نسبت کئے ہیں آپ سے مخفی نہیں۔ ان کے دعاوی کی اشاعت اور ہمارے ائمۂ دین کی خاموشی نے مسلمانوں کو جس تردد اور اضطراب میں ڈالدیا ہے وہ بھی محتاج بیان نہیں اگرچہ جمہورعلماء موجود کی بے سود مخالفت اورخود مسلمانوں کے پرانے عقیدے نے مرزاصاحب کے دعاوی کا اثر عام طور پر پھیلنے نہیں دیا مگر تاہم اِس امر کے بیان کرنے کی بلا خوف تردید جرأت کی جاتی ہے کہ اہلِ اسلام کے قدیمی اعتقاد نسبت حیات ونزول عیسیٰ ابن مریم میں بڑا بھاری تزلزل واقع ہو گیاہے۔ اگر ہمارے پیشوایانِ دین کا سکوت یا ان کی خارج ازبحث تقریر اور تحریر نے کچھ اور طول پکڑا تو احتمال کیابلکہ یقین کامل ہے کہ اہلِ اسلام علی العموم اپنے پُرانے اور مشہور عقیدے کو خیر باد کہہ دیں گے اور پھر اس صورت اور حالت میں حامیان دین متین کو سخت تر مشکل کا سامنا پڑے گا۔ ہم لوگوں نے جن کی طرف سے یہ درخواست ہے اپنی تسلی کے لئے خصوصًا اور عامہ اہل اسلام کے فائدہ کے لئے عمومًا کمال نیک نیتی سے بڑی جدوجہد کے بعد ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کومولوی حکیم نور الدین صاحب کے
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 127
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 127
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/127/mode/1up
    ساتھؔ ( جو مرزا صاحب کے مخلص معتقدین میں سے ہیں ) مرزا صاحب کے دعویٰ پر گفتگو کرنے کیلئے مجبور کیا تھا مگر نہایت ہی حیرت ہے کہ ہماری بدقسمتی سے ہمارے منشاء اور مُدعا کے خلاف مولوی ابو سعید صاحب نے مرزا صاحب کے دعووں سے جو اصل مضمون بحث تھا قطع نظر کرکے غیر مفید امور میں بحث شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ مترددین کے شبہات کو اور تقویت ہو گئی اور زیادہ تر حیرت میں مبتلا ہو گئے اسکے بعد لدھیانہ میں مولوی ابو سعید صاحب کو خود مرزا صاحب سے بحث کرنے کا اتفاق ہؤا ۔تیرہ روز گفتگو ہوتی رہی اسکا نتیجہ بھی ہمارے خیال میں وہ ہی ہوا جو لاہور کی بحث سے ہوا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تر مضر کیونکہ مولوی صاحب اس دفعہ بھی مرزا صاحب کے اصل دعویٰ کی طرف ہرگز نہ گئے اگرچہ (جیسا کہ سنا گیا ہے اور پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے) مرزا صاحب نے اثناء بحث میں بھی اپنے دعووں کی طرف مولوی صاحب کو متوجہ کرنے کے لئے سعی کی چونکہ علماء وقت کے سکوت اور بعض بے سود تقریرو تحریر نے مسلمانوں کو علی العموم بڑی حیرت اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے اور اسکے سوا انکو اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے امامان دین کی طرف رجوع کریں لہذا ہم سب لوگ آپ کی خدمت میں نہایت مؤدبانہ اور محض بنظر خیر خواہی برادرانِ اسلام درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس فتنہ و فساد کے وقت میدان میں نکلیں اور اپنی خدا دا د نعمت علم و فضل سے کام لیں ۔ خدا کے واسطے مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعاوی پر بحث کر کے مسلمانوں کو ورطہ تذبذب سے نکالنے کی سعی فرما کر عند الناس مشکور و عند اللہ ماجور ہوں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ جن کی ذات پر مسلمانوں کو بھروسہ ہے خاص لاہور میں مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعاوی میں بالمشافہ تحریری بحث کریں مرزا صاحب سے ان کے دعاوی کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسول صلعم سے لیا جاوے یا ان کو اس قسم کے دلائل بینہ سے توڑا جاوے۔ ہماری رائے میں مسلمانوں کی تسلی اور رفع تردد کے واسطے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ۔ا گر آپ اس طریق پر بحث کو منظور فرماویں اور امید واثق ہے کہ آپ اپنا ایک اہم منصبی اور مذہبی فرض یقین کرکے محض ابتغاءً لوجہ اللہ وہداے خلق اللہ ضرور قبول فرماویں گے تو اطلاع بخشیں تاکہ مرزا صاحب سے بھی اس بارہ میں تصفیہ کر کے تاریخ مقرر ہوجائے اور آپکو لاہور تشریف لانے کی تکلیف دی جاوے تمام انتظام متعلّقہ قیام امن وغیرہ ہمارے ذمہ ہوگا اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ صاحبوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے گی جو اب سے جلد سر فراز فرماویں۔ والسلام
    نوٹ: ہمارے پاس ایک اور بھی طویل درخواست لدھیانہ کے مسلمانوں کی آئی ہے جس پر ایک سو نو اشخاص کے نام درج ہیں اور جو انہوں نے مشاہیر علماء کے پاس مذکورہ بالا غرض سے کی ہے اور ساتھ ہی ایک اقرار نامہ کی نقل ہے جو حضرت مرزا صاحب نے ان درخواست کنندوں کے ساتھ کیا ہے اور جس کا لب لباب یہ ہے کہ مرزا صاحب ان کی درخواست کے بموجب اکابر اور مشاہر علماء سے ظاہری اور باطنی طور پر مباحثہ کرنے کے لئے طیار ہیں اور لاہور کو ہی اس مباحثہ کا صدر مقام پسند کرتے ہیں۔ درخواست مذکور میں یہ بھی مندرج ہے کہ اگر مخاطبین مولوی صاحبان ایک ماہ تک انکی درخواست کے بموجب مباحثہ کرنے کے لئے نہیں آئیں گے تو وہ مرزا صاحب کے دعاوی کو بلا تذبذب صحیح و صادق تسلیم کرلیں گے اور مولوی صاحبان کی گریز کو عام پر مشتہر کردیں گے۔ چونکہ اس درخواست کا منشاء مذکورہ بالا درخواست کے مطابق ہے اس لئے ہم نے اس کے اندراج کی ضرورت نہیں سمجھی۔ ایڈیٹر
    Ruhani Khazain Volume 4. Page: 128
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۴- الحق لدھیانہ: صفحہ 128
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=4#page/128/mode/1up
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں