1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 4 ۔الحق دہلی ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 17, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 4۔ الحق دہلی ۔ یونی کوڈ


    خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں
    (تقریر فرمودہ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۴۴ء برموقع چھٹا سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ)
    تشہّد ،تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    مجھے مسوڑھوں کی سوزش اور دانتوں کے درد کی وجہ سے بولنا تو نہیں چاہئے لیکن چونکہ مَیں گزشتہ سال بھی خدام الاحمدیہ کے جلسہ میں تقریر نہیں کر سکا اِس لئے باوجود تکلیف کے مَیں نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے کچھ نہ کچھ اِس موقع پر ضرور آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنا چاہئے۔ جب مَیں گھر سے چلنے لگا تو قدرتی طور پر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مَیں آج کس مضمون پر تقریر کروں؟ اِس خیال کے پیدا ہوتے ہی دو مضمون میرے ذہن میں آئے جن میں سے ایک مضمون فوراً ہی اپنی ارتقائی منازل کو طے کرتے ہوئے ایسی صورت اختیار کر گیا کہ مَیں نے سمجھا نہ یہ موقع اِس مضمون کے مناسبِ حال ہے اور نہ وقت اتنا ہے کہ میں اِس مضمون کے متعلق اپنے خیالات پوری طرح ظاہر کر سکوں۔ وہ مضمون اپنی ذات میں ایک کتابی صورت کی تمہید بننے کے قابل ہے تھوڑے سے وقت میں اُس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا جا سکتا تب مَیں نے دوسرا مضمون لے لیا۔ درحقیقت میرا منشاء یہ تھا کہ یہ دوسرا مضمون اُس تمہید کی تفصیل ہو لیکن وہ تمہید ایسا رنگ اختیار کر گئی کہ میرے نزدیک وہ زیادہ اہم کتاب کی تمہید بننے کے قابل ہے اِس لئے مَیں نے دوسرے حصہ کو جسے میں اُس تمہید کی تفصیل کے طور پر بیان کرنا چاہتا تھا منتخب کر لیا اور میں نے سمجھا کہ اِس مضمون کو مَیں چھوٹا بھی کر سکتا ہوں اور بچوں کے لحاظ سے اِس کا بیان کرنا زیادہ مناسب بھی ہے۔
    میں نے بار ہا بیان کیا ہے کہ ہماری جماعت کی تنظیم درحقیقت دو حصے رکھتی ہے جن میں سے ایک حصہ اِس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ ہماری جماعت دوسری جماعتوں سے مختلف ہے اور دوسرا حصہ اِس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ اِس کے بغیر کوئی قوم فعّال نہیں بن سکتی۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم کسی مقصد کو لے کر کھڑی نہیں ہوتی نہ اُس میں اپنے کام کے متعلق جوش پیدا ہوتا ہے اور نہ اُس کا ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ قدم بڑھ سکتا ہے۔ اِسی طرح اگر کسی قوم میں صحیح قوت عملیہ نہ پائی جائے اور وہ اُن طریقوں کو اختیار نہ کرے جن کے ذریعہ قوم اپنے خیالات اور اپنے عقائد کو کامیاب طور پر دنیا میں پھیلا سکتی ہے تو اُس وقت تک بھی وہ قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پس ایک طرف ہمارے لئے اِس اَمر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ آیا کوئی اہم مقصد ہمارے سامنے ہے یا نہیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم نے کیا کہنا ہے اور دوسری طرف ہماری تربیت اِس رنگ میں ہونی چاہئے کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔ ہر قوم کی ترقی کے لئے بنیادی طور پر یہ اَمر نہایت ضروری ہے کہ اُس کا ہر فرد اِن دو فقروں کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہو کہ ’’ہم نے کیا کہنا ہے‘‘ جس کے اندر ’’ہم نے کیا کرنا ہے‘‘ بھی شامل ہے اور دوسرے یہ کہ ’’ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے‘‘۔ جب یہ دونوں باتیں حل ہو جائیں اور پھر جو کچھ ہم نے کہنا ہو وہ اپنے اندر اہمیت بھی رکھتا ہو تو ہماری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جسے یورپ کے لوگ آجکل خاص طور پر اہمیت دیتے ہیں بِالخصوص اخبارات کے نمائندے جب کسی لیڈر سے ملتے ہیں تو اُس سے کہتے ہیں آپ کا پیغام کیا ہے یعنی آپ دنیا کو وہ کونسی بات بتانا چاہتے ہیں جسے وہ جانتی نہیں۔ یا جس کو وہ بھولی ہوئی ہے اور اُسے یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ لیکن چونکہ وہ ایک عظیم الشان مضمون کو چند لفظوں میں بیان کرانا چاہتے ہیں اِس لئے بسا اوقات بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ درحقیقت یہ غلط فہمی یوروپین نامہ نگاروں اور یوروپین مصنفین کو مسیحیت سے لگی ہے۔ مسیحیت نے یہ کہہ کر کہ شریعت *** ہے۱؎ تمام مذہبی تفصیلات کو بے کار قرار دے دیا ہے اور صرف اِس ایک نقطہ نگاہ کو پیش کیا ہے کہ خدا محبت ہے۔۲؎ اِس ایک نقطہ کو لے کر انہوں نے باقی ساری چیزوں کو ترک کر دیا ہے اور پھر ’’خدا محبت ہے‘‘ کی ترجمانی بھی انہوں نے خدا کے سپرد نہیں کی بلکہ اپنے ذمہ لے لی ہے۔
    پس چونکہ اُنہوں نے مذہب کے معنی ایک فقرہ کے کر لئے ہیں اور چونکہ اِس ایک فقرہ کے نتیجہ میں اُنہوں نے خدا اور اُس کے رسولوں کو مذہب کی تفصیلات بیان کرنے سے چھٹی دے دی ہے اور اُن کو اِس کام سے بالکل معطّل کر دیا ہے اِس لئے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ باقی مذاہب بھی کسی ایک لفظ یا کسی ایک فقرہ میں ساری تفصیلات کو بیان کر سکتے ہیں۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ باقی مذاہب کے بھی بعض خلاصے ہیں مگر اُن مذاہب کے پیروؤں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے اُن خلاصوں کو اتنا پھیلایا نہیں کہ دنیا اُن خلاصوں سے ہی سمجھ سکتی کہ وہ مذاہب دنیا کے سامنے کون سا پیغام لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً اسلام کو لے لو۔ اسلام بھی کہتا ہے کہ خدا محبت ہے اور اسلام نے بھی اپنے مذہب کا ایک خلاصہ اِن الفاظ میں پیش کیا ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ مگر جس طرح عیسائیت نے ’’خدا محبت ہے‘‘ کی تشریح، مختلف جہتوں اور مختلف شعبوں سے مختلف عبارتوں میں انسانی جذبات سے وابستہ کر کے کی ہے اُس طرحلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی تشریح نہیں کی گئی اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب ’’خدا محبت ہے‘‘ کی ایک چھوٹی سی تشریح بھی کسی نامہ نگار کے سامنے بیان کی جاتی ہے تو وہ متأثر ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ دنیا کے لئے کار آمد باتیں ہیں لیکن اگر تم کسی نامہ نگار کے سامنے یہ کہو کہ مَیں دنیا کے لئے یہ پیغام لایا ہوں کہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ توچونکہ اِس کی بار بار اور مختلف پیراؤں سے تشریح نہیں کی گئی اِس لئے اِس خلاصہ سے تعلق رکھنے والے کئی مضامین کی باریکیاں اُس کی وسعتیں اور اُس کے وسیع دائرے اُس کے ذہن میں نہیں آتے۔ وہ حیران ہو جاتا ہے اور وہ اِس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ وہ اسلام جس کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا ایک ہے اور جس کا یہ دعویٰ ہے کہ محمد رسول اللہﷺ اُس کے رسول ہیں اُس کے اِس فقرہ میں دنیا کے لئے نیا پیغام کونسا ہے۔ یہ تو وہی پُرانی بات ہے جو ایک لمبے عرصہ سے اسلام کی طرف سے پیش کی جا رہی ہے حالانکہ خدا ایک ہے اتنا وسیع مضمون ہے کہ اِس کا کروڑواں حصہ بھی اِس فقرہ میں بیان نہیں کیا گیا کہ ’’خدا محبت ہے‘‘ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے مقابلہ میں اِس فقرہ کی اتنی حیثیت بھی نہیں جتنی ہاتھی کے مقابلہ میں مچھر کی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ فقرہ یاد کرایا گیا ہے اور یہ فقرہ یاد نہیں کرایا گیا۔ اُس فقرہ کے مطالب کو با ربار لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور اِس فقرہ کے مطالب کو بار بار لوگوں کے سامنے نہیں رکھاگیا۔ـ اِسی وجہ سے جب ہم لوگوں کے سامنے یہ وسیع مضمون بیان کرتے ہیں تو وہ حیران ہو جاتے ہیں کہ ہم اِس بات کو جو دنیا کو پہلے بھی معلوم ہے ایک نیا پیغام کس طرح قرار دے رہے ہیں حالانکہ اصل کوتاہی اُن کی اپنی نظر کی ہوتی ہے۔ چنانچہ اِس کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ جب اُن کے سامنے اِن تمام وسیع مضامین کا ایک مجموعہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ متأثر نہیں ہوتے لیکن جب اُن کے سامنے اسلام کے اِس خلاصہ کا ہزارواں بلکہ کروڑواں حصہ نکال کر پیش کیا جاتا ہے اور اُس کی کوئی ایک تشریح اُن کے سامنے کی جاتی ہے تو وہ اِس سے متأثر ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز واقعہ میں ایسی ہے جو دنیا کے لئے ایک نیا پیغام کہلا سکتی ہے۔
    یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا سے تعلق پیدا کیا جائے اور بنی نوع انسان سے شفقت کی جائے۔ یہ خلاصہ اگر ہم لوگوں کے سامنے بیان کریں تو تمام یوروپین مصنف اور نامہ نگار اِسے ایک نیا پیغام قرار دیں گے۔ وہ اِس سے متأثر ہوں گے اور وہ تسلیم کریں گے کہ یہ نظریہ یقینا ایسا ہے جو دنیا کے سامنے بار بار آنا چاہئے اور جس کو قائم کرنے کے لئے ہمیں اپنی انتہائی کوششیں صرف کرنی چاہئیں لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ خلاصہ آگے پھر خلاصہ ہے لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا۔ درحقیقت لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ بہت سے وسیع مضامین پر مشتمل ہے جن میں سے صرف ایک مضمون کا خلاصہ وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمایا ہے لیکن اسلام کے اس پیش کردہ خلاصہ کو نہ جاننے کی وجہ سے یوروپین نامہ نگارلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ سے متأثر نہیں ہوں گے۔ ہاں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اِس خلاصہ کو پیش کیا جائے کہ مذہب کی اہم اغراض دو ہیں ’’خدا سے تعلق اور بنی نوع انسان سے محبت‘‘ تو ساری دنیا اِس سے متأثر ہو گی اور وہ سمجھے گی کہ ترقی کا یہ ایک نیا پہلو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے اور ایک نئی چیز ہے جو ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔ عیسائی اگر کوشش کریں تو وہ بھی ’’خدا محبت ہے‘‘ میں سے یہ دونوں باتیں نکال سکتے ہیں لیکن وہ اِس اَمر سے انکار نہیں کر سکتے کہ یہ ایک نیا طریق بیان ہے جس سے بنی نوع انسان کو نیکی کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔
    پس ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہئے کیونکہ کسی مقصد کو اپنے سامنے رکھے بغیر انسان کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ دنیا کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اُسے کوئی پیغام دیں اور گو مغربی لوگ اِس پیغام کا دائرہ نہایت محدود رکھتے ہیں لیکن بہرحال اِس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ایک مختصر پیغام دنیا میں عظمت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے تو تفصیلی پیغام یقینا زیادہ عظمت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ـ ضرورت صرف اِس اَمر کی ہے کہ ہم اپنے مقاصد کی اہمیت کو سمجھیں اور اُن کے مطابق دنیا میں تغیر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
    پس سب سے پہلی چیز جس کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے کوئی مقصد ہونا چاہئے جس کی بناء پر ہم کہہ سکیں کہ ہم نے لوگوں سے کچھ کہنا ہے۔ـ دوسرے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔ کس طرح کہنے میں بھی بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ـ سکول کا کورس ایک ہوتا ہے، یونیورسٹی ایک ہوتی ہے مگر اِس فرق کی وجہ سے کہ ایک شخص جانتا ہے اُس نے جو کچھ کہا ہے وہ کس طرح کہنا چاہئے اور دوسرا اِس اَمرسے ناواقف ہوتا ہے۔ ایک شخص تو ترقی کرتے کرتے محکمہ تعلیم کا ڈائریکٹر مقرر ہو جاتا ہے اور دوسرا اِسی ڈگری کا شخص سکول کی مدرّسی میں ہی اپنی ساری عمر گزار دیتا ہے۔ اِسی امتیاز کی وجہ سے دنیا میں قابلیت کے الگ الگ مدارج تجویز کر دیئے گئے ہیں۔ کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے پرائمری رکھا ہوا ہے، کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے مڈل رکھا ہوا ہے اور کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے انٹرنس رکھا ہوا ہے اور کسی درجہ کی قابلیت کا نام لوگوں نے ایف اے اور بی اے رکھا ہوا ہے تو کس طرح کہنے کا فرق بھی زمین و آسمان کا تغیر پیدا کر دیا کرتا ہے۔ پرائمری کے بعض طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو آئندہ مڈل میں تعلیم پانے والوں کے لئے نمونہ بننے والے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ادنیٰ سے ادنیٰ سکول کیلئے بھی ذلّت کا موجب ہوتے ہیں۔ کچھ پرائمری کے ماسٹر اِس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ اُن کو ترقی دے کر مڈل کی تعلیم اُن کے سپرد کی جائے اور بعض ماسٹر کچھ کہنے سے اِس طرح ناواقف ہوتے ہیں کہ اُن کا پرائمری میں رکھا جانا بھی انسپکٹروں کی ناواقفی یا جنبہ داری اور لحاظ کی بناء پر ہوتا ہے ذاتی قابلیت کا اُس میں دخل نہیں ہوتا۔ تو کہنے کے طریق سے بھی انسان کی عملی زندگی میں بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہیـ۔ وہ کتابیں مقرر ہوتی ہیں جن سے پرائمری کا امتحان پاس کیا جا سکتا ہے، وہ کتابیں مقرر ہوتی ہیں جن سے مڈل اور انٹرنس اور ایف اے اور بی اے کے امتحانات پاس کئے جا سکتے ہیں لیکن پڑھانے والوں کے نقص یا اُن کی خوبی کی وجہ سے بعض کے شاگرد بالکل نالائق رہتے ہیں اور بعض کے شاگرد اعلیٰ درجہ کی قابلیت حاصل کر لیتے ہیں تو صرف اتنا ہی ضروری نہیں کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم نے کچھ کہنا ہے بلکہ اِس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے اور وہ طریق ہمارے فرائض کی ادائیگی میں ممد ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
    یہی دو چیزیں ہیں جن کو گزشتہ تقاریر میں مختلف پیراؤں میں مَیں نے خدام الاحمدیہ کے سامنے رکھا اور یہی وہ چیز ہے جسے آج میں پھر خدام الاحمدیہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ـ جس طرح پُرانی شراب نئی بوتلوں میں پیش کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کے لئے وہ دلکشی اور جاذبیت کا موجب ہو سکے اِسی طرح آج مَیں اُسی پُرانی شراب کو جسے مَیں بارہا پیش کر چکا ہوںنئی بوتلوں میں تمہارے سامنے رکھ رہا ہوں ۔
    یہ اَمر اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جب تک خدام الاحمدیہ کے کارکن اور خدام الاحمدیہ کے تمام رُکن اِس بات کو مدنظر نہیںرکھیں گے کہ ہم نے کیا کہنا ہے اور پھر جو کچھ کہنا ہے اِس کے متعلق تمام خدام کے ذہنوں میں یہ امرمستحضر نہیں ہو گا کہ اِسے کس طرح کہنا ہے اُس وقت تک اِس انسٹی ٹیوٹ اور اِس محکمہ یا ادارہ کی کامیابی قطعاً غیر یقینی اور شکی ہو گی بلکہ بعض صورتوں میں یہ لاعلمی نہایت خطرناک نتائج پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اگر ہماری جماعت کے نوجوانوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اُنہوں نے کیا کہنا ہے تو وہ قومی خیالات کو مٹانے والے ہوں گے اور اگر اُنہیں یہ معلوم نہیں ہو گا کہ انہوں نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے اور اِس کے پیش کرنے کا صحیح طریق کیا ہے تب بھی جس مقصد کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں اُس کو وہ قائم نہیں کر سکتے۔ جس طرح چھت پر پڑے ہوئے پانی کو نکالنے کے لئے جب صحیح راستہ اختیار نہیںکیا جاتا تو وہ چھت میں سوراخ بنا کر مکان کو گرانے کا موجب بن جاتا ہے اِسی طرح اگر نوجوانوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے تو اُس وقت تک بھی وہ قوم کی صحیح خدمت کبھی سرانجام نہیں دے سکتے۔ پس یہ دونوں باتیں خدام الاحمدیہ کے لئے ضروری ہیں۔ اِن کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اسلام کی مکمل واقفیت ہو اور اِن کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اسلام کو پیش کرنے کا صحیح طریق معلوم ہو کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ سب کا سب اسلام میں بیان ہو چکا ہے۔ اگر خدام الاحمدیہ اسلام کے مفہوم اور اِس کی تعلیم کو اچھی طرح سمجھ لیں تو اِن کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہ سکتی کیونکہ اسلام حاوی ہے تمام اعلیٰ تعلیموں پر۔ اور جو شخص اسلام کی تعلیم سے مکمل طور پر آگاہ ہو اُسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ اُس نے دنیا سے کیا کہنا ہے۔ـ
    پس اصل چیز اسلام ہی ہے اگر ہم اِس کا نام احمدیت رکھتے ہیں تو اِس لئے نہیں کہ احمدیت، اسلام کے علاوہ کوئی اور چیزہے بلکہ اسلام کا نام ہم احمدیت اِس لئے رکھتے ہیں کہ لوگوں نے اسلام کو ایک غلط رنگ دے دیا تھا اور ضروری تھا کہ اسلام کے غلط مفہوم کو واضح کرنے اور اسلام کی حقیقت کو روشن کرنے کیلئے کوئی امتیازی نشان قائم کیا جاتا اور وہ امیتازی نشان احمدیت کے نام کے ذریعہ قائم کیا گیا ہیـ ورنہ اسلام کا ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جسے کوئی شخص بدل سکے بلکہ ایک شوشہ تو کیا ایک زبر اور ایک زیر بھی ایسی نہیں جو تبدیل کی جا سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو کچھ فرمایا وہ سب کا سب خدا کے کلام اور رسول کریمﷺ کے کلام سے ماخوذ ہے بلکہ نہ صرف آپ نے جو کچھ کہا وہ قرآن کریم اور حدیث سے ماخوذ ہے بلکہ آپ نے وہی کچھ کہا جو قرآن کریم میں موجود ہے اور وہی کچھ جو حدیث میں موجود ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں بیان کردہ اسلامی تعلیم سے الگ ہو کر ایک شوشہ بھی بیان کیا جائے بلکہ ایک زبر اور ایک زیر کا بھی اضافہ کیا جائے تو وہ یقینا کفر ہو گا، الحاد ہو گا اور اُس کی اشاعت سے دنیا میں علم نہیں پھیلے گا بلکہ جہالت اور بے دینی میں ترقی ہو گی۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآنی تعلیم کو سمجھیں اور اِس کو اپنے دلوں اور دماغوں میں پوری مضبوطی سے قائم کریں۔
    میں نے کہا تھاکہ ہر احمدی نوجوان کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔ اصل میں تو یہ ہراحمدی نوجوان کا فرض ہے کہ وہ عربی جانتا ہو لیکن کم سے کم اتنا تو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہے اور خدا ہم سے کن باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ عربی جاننے سے یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ اور اِس کا مفہوم سمجھنے کی منزلیں جلد طے ہو جاتی ہیں لیکن اگر کوئی شخص زیادہ عربی نہ جانتا ہو تو اُسے کم سے کم اتنی عربی تو ضرور آنی چاہئے کہ قرآن کریم کے ترجمہ کو وہ سمجھ سکے۔ میں نے ۱۹۴۲ء کے اجتماع کے موقع پر سوال کیا تھا کہ کتنے خدا م ہیں جنہیں قرآن کریم کا سارا ترجمہ آتا ہے؟ اُس وقت سات آٹھ سَو میں سے قادیان کے خدام میں سے ۱۵۲ اور بیرونی خدام میں سے ۳۲ کھڑے ہوئے تھے۔۳؎ اَب مَیں دو سال کے بعد پھر یہی سوال کرتا ہوں۔ میرے اِس سوال کے مہمان مخاطب نہیں بلکہ صرف خدام اور اطفال مخاطب ہیں۔ جو خدام اور اطفال اِس وقت پہرے پر یا کسی اور ڈیوٹی پر مقرر ہیں وہ بیٹھ جائیں تاکہ تعداد شمار کرنے میں کوئی غلطی نہ ہو۔
    (حضور کے اِس ارشاد پر سب بیٹھ گئے تو حضور نے فرمایا۔)
    قادیان کے خدام الاحمدیہ یا اطفال الاحمدیہ کے وہ ممبر جو قرآن کریم کا سارا ترجمہ پڑھ چکے ہیں کھڑے ہو جائیں ۔
    (حضور کے اِس ارشاد پر ۱۸۸ دوست کھڑے ہوئے۔ حضور نے فرمایا۔)
    بیرونی خدام کو شامل کر کے ساری تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔ پس اِس کے معنی یہ ہوئے کہ قادیان کے خدام میں سے قریباً اکیس فی صدی نوجوان قرآن کا ترجمہ جانتے ہیں۔
    اَب جو دوست باہر سے بطور نمائندہ آئے ہوئے ہیں اور جن کی تعداد ایک سَو ہے اِن میں سے جنہوں نے سارا قرآن ترجمہ سے پڑھا ہوا ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔
    (۲۳ دوست کھڑے ہوئے فرمایا۔)
    یہ تعداد قادیان والوں سے بھی زیادہ رہی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ قادیان والوں میں ۲۷۰ کے قریب اطفال بھی ہیں۔
    یہ تعداد بھی نہایت افسوسناک ہے۔ قرآن شریف ہی تو وہ چیز ہے جس پر ہمارے دین کی بنیاد ہے اگر ہمارے چنیدہ نوجوانوں میں سے بھی صرف ۲۰ فیصدی قرآن جانتے ہوں اور ۸۰فیصدی قرآن نہ جانتے ہوں تو اِس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ اگر ہم ساروں کو شامل کر لیں تو غالباً چارپانچ فیصدی نوجوان ایسے نکلیں گے جو قرآن کو جانتے ہوں گے اور پچانوے فیصدی ایسے نوجوان نکلیں گے جو قرآن کا ترجمہ نہیں جانتے ہوں گے۔ تم خود ہی سوچ لو جس قوم کے صرف چار پانچ فیصدی نوجوان قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں اور ۹۵فیصدی نہ جانتے ہوں کیا اُس کی کامیابی کی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے؟
    ہم اپنی قوتِ واہمہ کو کتنا ہی وسیع کر لیں اور اِس وہم کو شک بلکہ خیالِ فاسدہ کی حد تک لے جائیں تب بھی جس قوم کے پچانوے فیصدی افراد قرآن نہ جانتے ہوں اور صرف ۵ فیصدی قرآن کا ترجمہ جانتے ہوں اُس کی ترقی اور کامیابی کی کوئی صورت انسانی واہمہ اور خیال میں بھی نہیں آ سکتی۔ مَیں نے بار ہا توجہ دلائی ہے کہ جب تک قرآن کریم سے ہر چھوٹے بڑے کو واقف نہیں کیا جا سکتا اُس وقت تک ہمیں اپنی کامیابی کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے اور اگر ہم رکھتے ہیں تو ہم ایک ایسا نقطۂ نگاہ اپنے سامنے رکھتے ہیں جو عقلمندوں کا نہیں بلکہ مجنونوں اور پاگلوں کا ہوتا ہے۔ آج مَیں اِس امر کی طرف جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں اور نوجوانوں کو خصوصیت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی جلد سے جلد کوشش کرنی چاہئے۔
    مَیں نے اعلان کیا تھا کہ جو انجمنیں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کی خواہش کریں گی اور وہ اپنی اِس خواہش سے ہمیں اطلاع دیں گی اُن کو مرکز کی طرف سے قرآن کریم پڑھانے والے بھجوا دیئے جائیں گے مگر تجربہ سے یہ طریق کامیاب ثابت نہیں ہوا اِس لئے اَب میں یہ ہدایت دیتا ہوں کہ ہر سال مرکز کی طرف سے باہر سے آنے والے خدام کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کا انتظام کیا جائے اور ہر جماعت کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا ایک ایک نمائندہ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجے۔ یہاں اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کا باقاعدہ انتظام کیا جائے گا اور اِس کے بعد اُن کو اِس اَمر کا ذمہ وار قرار دیا جائے گا کہ وہ باہر اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم کا درس جاری کریںاورجن کو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھائیں یہاں تک کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے نہ بچہ، نہ جوان، نہ بوڑھا جسے قرآن کریم کا ترجمہ نہ آتا ہو۔پس آج مَیں یہ نئی ہدایت دیتا ہوں کہ ہر خدام الاحمدیہ کی جماعت میں سے ایک ایک نمائندہ قرآن کریم کے اِس درس میں شامل ہونے کے لئے بُلویا جائے تاکہ وہ اور لوگوں کو اپنی جماعت میں تعلیم دے سکیں۔مَیں ابھی یہ نہیں کہتا کہ جبرًا ہر جماعت میں سے ایک ایک نمائندہ بُلوایا جائے مگر مَیں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مرکز کو اپنی کوشش ضرور کرنی چاہئے جو جبر کے قریب قریب ہو۔گویا جبر بھی نہ ہو اور معمولی کوشش بھی نہ ہو بلکہ پوری کوشش کی جائے کہ ہر جماعت کے نمائندے قادیان بُلوائے جائیں اور اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا جائے۔ اِس غرض کے لئے ہر سال ایک ماہ کی مدت کافی ہے۔ اِس ایک مہینہ میں باہر سے آنیوالے نمائندگان کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے جماعت کے چوٹی کے علماء مقرر کئے جاسکتے ہیں اور خدام الاحمدیہ اگر چاہیں تو اِس بارہ میں مجھ سے مدد لے سکتے ہیں۔ ہم اِس ایک مہینہ کے درس کے لئے اُنہیں اپنی جماعت کے چوٹی کے عالم دے دیں گے جو آنے والوں کو قرآن کریم پڑھا دیں گے۔ یہ ضروری نہیں کہ پہلے سال میں اُنہیں قرآن کریم کا مکمل ترجمہ پڑھا دیا جائے اگر ایک مہینہ میں دس یا پندرہ سیپارے بھی پڑھائے جا سکیں تو اگلے ایک یا دو سالوں میں وہ سارا ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔ اِس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو تین سال کے اندر اندر ہر جماعت میں ایسے آدمی پیدا ہو جائیں گے جو قرآن کریم کو اچھی طرح جانتے ہوں گے اور دوسروں کو بھی قرآن کریم پڑھا سکیں گے۔ قرآن کریم کے ترجمہ اور اِس کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے کسی قدر صرف ونحو کی بھی ضروت ہوا کرتی ہے اِس غرض کے لئے ایک کورس مقرر کر دیا جائے گا تاکہ وہ صرف ونحو سے بھی واقف ہوجائیں ممکن ہے صرف ونحو کے اِس کورس کی وجہ سے قرآن کریم کا ترجمہ زیادہ نہ پڑھایا جاسکے لیکن اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آئندہ سالوں میں صرف ونحو جاننے کی وجہ سے وہ زیادہ عمدگی سے قرآن کریم کا بقیہ حصہ پڑھ سکیں گے اور زیادہ عمدگی سے پڑھا سکیںگے۔ جب تک تھوڑی بہت صرف ونحو نہ آتی ہو اُس وقت تک دوسروں کو پڑھانا آسان نہیں بلکہ مشکل ہوتا ہے۔
    دوسری ہدایت تعلیمی نقطہ نگاہ سے یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ کا نہ صرف قرآن کے ترجمہ سے بلکہ بعض اور دینی علوم سے بھی واقف ہونا ضروری ہے مگر وہ علوم آہستہ آہستہ ہی حاصل ہو سکتے ہیں فوری طور پر اُن کا حاصل ہونا ناممکن ہے۔ اور اصل بات تو یہ ہے کہ سارے علوم قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اگر انسان کو قرآن کا صحیح علم ہو تو اُسے اَور علوم خود بخود حاصل ہوجاتے ہیں اور اِسی مقصد کے لئے میں نے یہ ہدایت دی ہے کہ ہر سال یہاں بیرونی جماعتوں سے آنے والے نمائندگان کو قرآن پڑھانے کاا نتظام ہونا چاہئے۔ مگر جب تک یہ سکیم مکمل نہیں ہوتی اور جب تک دو تین سال کے بعد یہاں سے تعلیم حاصل کر کے لوگ اپنی اپنی جماعتوں میں درس شروع نہیں کردیتے اُس وقت تک ضروری ہے کہ دینی علوم سے جماعت کے لوگوں کو واقف رکھنے کے لئے بعض اور ذرائع پر بھی عمل کیا جائے۔ جب اُنہیں دینی لحاظ سے مکمل واقفیت حاصل ہو جائے گی تو اِس کے بعد یہ سوال پیدا ہوگا کہ اُنہوں نے جو کچھ سیکھا ہے اُسے لوگوں کے سامنے کس طرح پیش کرنا چاہئے۔ خدام الاحمدیہ نے دینی واقفیت بڑھانے کے لئے کچھ عرصہ سے ایک طریق جاری کیا ہوا ہے جو بہت مفید ہے اور وہ طریق یہ ہے کہ ہر سال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا یا میری لکھی ہوئی کتابوں میں سے کسی ایک کتاب کا وہ امتحان لیتے ہیں۔ یہ طریق یقینا مفید ہے اور اِس میں شامل ہو کر ہر شخص اپنی دینی معلومات میں بہت کچھ اضافہ کر سکتاہے۔ اِس کے علاوہ مَیں آجکل حدیث کی ایک نئی کتاب مرتب کرارہاہوں جس میں ایک ہزار حدیثیں جمع ہوں گی۔آٹھ سَو حدیثیں منتخب کی جا چکی ہیں صرف دو سَو حدیثیں باقی ہیں اُن کا بھی اِنْشَائَ اللّٰہُ جلدی انتخاب کر لیا جائے گا۔ اور پھر اس کتاب کو شائع کر کے اِسے مدرسہ احمدیہ کے نصاب میں شامل کر دیا جائے گا ۔حدیث کی اس کتاب کا امتحان ہر خادم کے لئے لازمی قرار دیا جائے تاکہ ہم میں سے ہر شخص کومعلوم ہو کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہماری عملی زندگی کے متعلق کیا ہدایات دی ہیں۔جس طرح میری سکیم کے ماتحت آئندہ قرآن کریم کا درس ہوا کرے گا اِسی طرح حدیث کی اِس کتاب کو بھی اِنْشَائَ اللّٰہُ پڑھایا جائے گا تاکہ حدیث سے بھی ہر شخص کو مس اور مؤانست پیدا ہو جائے۔ گویا دینی واقفیت کے لئے یہ تین چیزیں ضروری ہیں۔
    اوّل قرآن کریم کا ترجمہ۔
    دوم حدیث
    اور سوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب ۔ـ
    حدیث کی واقفیت کے لئے میں نے بتایا ہے کہ کتاب لکھی جارہی ہے اور عنقریب چھپنے والی ہے۔ ہر خادم کے لئے اُس کتاب کا پڑھنا اور پھر اُس کتاب کے امتحان میں شامل ہونا لازمی ہوگا کیونکہ اُس کتاب میںایسی ہی حدیثیں جمع کی گئی ہیں جو اعلیٰ درجہ کے کیریکٹر کے متعلق ہیںیا انسانی فرائض اور ذمہ داریوں سے تعلق رکھتی ہیں اور یا پھر ہمارے عقائد کے متعلق ہیں۔ اکثر حدیثیں منتخب کر لی گئی ہیں صرف تھوڑا سا حصّہ باقی ہے جس کے متعلق مَیں امید کرتا ہوں کہ وہ بھی جلد پورا ہوجائے گا۔ اِس کے علاوہ میری یہ بھی خواہش ہے کہ علماء کی مجلس سے مشورہ لے کر ایک مختصر کورس شائع کیا جائے جو عقائد،فقہ اور اخلاق پر مشتمل ہو یعنی کتاب تو ایک ہو مگر اُس کا ایک باب علم العقائد کے متعلق ہو، ایک باب علم الاعمال کے متعلق ہو جس میں فقہی کتابوں سے موٹے موٹے عنوانات لے لئے جائیں اور اُن کے متعلق جو ضروری مسائل ہیں وہ جمع کر دیئے جائیں اور تیسرا حصہ علم الاخلاق کے متعلق ہو جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اخلاق کے متعلق کیا تعلیم دی ہے۔ میرا منشاء یہ ہے کہ ایک مختصر سی کتاب تیار ہو جائے جواڑھائی تین سَو صفحوں سے زائد نہ ہو اور جس میں یہ تینوں باب الگ الگ ہوں تاکہ پڑھنے اور یاد کرنے میں سہولت ہو اور پھر اِس کورس کا بھی ہر خادم کے لئے پڑھنا ضروری قرار دیا جائے۔
    دوسرا حصّہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے اُس کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے کس طرح کہنا ہے۔ درحقیقت ہمارے اخلاق کبھی بھی درست نہیں ہوسکتے جب تک ہم اِس امر کو اچھی طرح ذہن نشین نہیں کرلیتے کہ ہمیں دوسرے سے کوئی بات کس طرح کہنی چاہئے۔مگر یہ امر یاد رکھو کہ ’’کہنا چاہئے‘‘ میں ’’کرنا چاہئے‘‘ بھی شامل ہے۔ جس طرح ہم نے’’ کیاکہنا ہے‘‘ میں ’’کیا کرنا‘‘بھی شامل ہے اسی طرح’’ کس طرح کہنا چاہئے‘‘ میں ’’کس طرح کرناچاہئے‘‘ بھی شامل ہے۔ اِس کی طرف بھی بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ علمی حصّہ کی کمی بعض اور ذرائع سے بھی پوری ہوتی رہتی ہے مثلاً سلسلہ کی طرف سے مختلف کتابیں چھپتی رہتی ہیں،اخبار شائع ہوتا ہے اور اِس طرح علمی لحاظ سے جماعت کے سامنے ہمیشہ مفید معلومات پیش ہوتی رہتی ہیں لیکن ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا چاہئے اور کس طرح کرنا چاہئے اِس کی خالص ذمہ داری خدام الاحمدیہ پرعائد ہوتی ہے مگر مَیں دیکھتا ہوں اِس لحاظ سے ابھی بہت بڑی کمزوری پائی جاتی ہے۔ مثلاً عملی لحاظ سے تبلیغ ہمارا سب سے اہم فرض ہے مگر تبلیغ اچھی طرح تبھی ہو سکتی ہے جب تبلیغ کرنے والے کا عملی نمونہ اعلیٰ درجہ کا ہو مگر مَیں نے دیکھا ہے ابھی تک اِس قسم کی شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ نوجوان جب کہیں باہر سفر پر جاتے ہیں تو اُن میں سے بعض ریلوں کے ٹکٹ نہیں لیتے، بعض غلط ڈبوں میںبیٹھ جاتے ہیں یا دوسروں سے دوستی پیدا کر کے سنیما دیکھنے چلے جاتے ہیں یا آپس میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو جلدی غصہ میں آجاتے ہیںیا جلدی لڑائی شروع کردیتے ہیں یا اگر انہیں قاضی کے سامنے کسی معاملہ میں بیان دینا پڑے اور وہ بیان اُن کے کسی دوست کے خلاف پڑتا ہو یا اُن کے ما ں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف پڑتا ہو تو وہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ یااگر اُنہیں کسی ذمہ داری کے کام پر مقرر کیا جائے تو پوری طرح اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے یا اگر روپیہ اُن کے ہاتھ میں دیا جائے تو وہ دیانت دار ثابت نہیں ہوتے۔ چنانچہ اِس قسم کی شکایات میرے پاس کثرت کے ساتھ پہنچتی رہتی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ خدام الاحمدیہ کے قیام کی وجہ سے اِن شکایتوں میں کوئی کمی آئی ہو حالانکہ اصل کام یہی ہے کہ خدام الاحمدیہ کے عہدہ دار نوجوانوں کے اخلاق کی نگرانی رکھیں اور اُن کو اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کریں۔ میرایہ مطلب نہیں کہ وہ تعلیمی حصہ کی طرف توجہ نہ کریں یا اس میں سُستی اور غفلت سے کام لیں میرا مطلب یہ ہے کہ تعلیمی حصہ بعض اور ذرائع سے بھی جماعت کے سامنے بار بار آتا رہتا ہے مگر عملی نگرانی کاکام سُست ہے۔یعنی ہم نے جو کچھ کہنا ہے اُسے کس طرح کہنا چاہئے اور جو کچھ کرنا ہے وہ کس طرح کرنا چاہئے یہ کام ہے جو خدام الاحمدیہ کا ہے۔ پس اُس کے ہر فرد کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون سے اخلاق ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں جن کے بعد ہم اپنی تعلیم دنیا تک صحیح رنگ میں پہنچا سکتے ہیں۔ اگر ہمارے اندر سچائی نہیں، اگر ہمارے اندر دیانت نہیں، اگر ہمارے اندر محنت کی عادت نہیں، اگر ہمارے اندر عقل نہیں، اگر ہمارے اندر عزم نہیں، اگر ہمارے اندر قربانی اور اثیار کا مادہ نہیں تو ہم اپنے پیغام کو خواہ کتنے ہی شاندار الفاظ میں دنیا کے سامنے پیش کریںاور خواہ کس قدر اُس کی تشریح اور تفصیل بیان کریں ہرگز ہرگزاورہرگز ہم دنیا پر غالب نہیں آسکتے اور ہماری ناکامی اور نامرادی اور شکست میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔پس ضروری ہے کہ اِس پہلو کو نمایاں کیا جائے اور نوجوانوں کے اخلاق کی نگرانی رکھی جائے۔ جہاں وہ لوگ جو بڑی عمر کے ہیں اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی پہلو کو نمایاں کریں وہاں خدام الاحمدیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ عملی پہلو کو نمایاں کریں کیونکہ آئندہ تمام کام نوجوانوں کو ہی کرنا پڑے گا۔
    پس خدام الاحمدیہ کی نگرانی کی جائے اور اُن میں قوتِ عملیہ پیدا کی جائے۔مجھے افسوس کے ساتھ بیان کرنا پڑتا ہے کہ نوجوانوں کے متعلق مجھے بعض نہایت ہی تلخ تجارب ہوئے ہیں شاید اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت سندھ کی زمینوں کا کام اِسی لئے میں نے اپنے ذمہ لے لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اِس کے ذریعہ سے مجھ پر اپنی جماعت کے نوجوانوں کے اخلاق کی حقیقت منکشف کرناچاہتا تھا ۔باوجود اِس کے کہ مجھے فرصت نہیں تھی اور باوجود اس کے کہ اور کاموں کے علاوہ تحریک جدید کابوجھ بھی مجھ پر پڑاہواتھا پھر بھی میں نے سندھ کی زمینوں کا کام اپنی نگرانی میں لے لیا اور مجھے نہایت ہی افسوس کے ساتھ معلوم ہوا کہ ابھی تک دیانت بھی بعض احمدیوں میں نہیں پائی جاتی اور ابھی تک کام کرنے کا صحیح مفہوم بھی کئی نوجوان نہیں جانتے۔ ایسے ایسے آدمی بھی ہماری جماعت میں ہیں کہ اگر اُن کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ چوبیس گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ بھی اپنا فرضِ منصبی ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ایسے بھی ہیں جو سلسلہ کی ضروریات کیلئے اپنے اوقات کی ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔ چنانچہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ باوجود اس کے کہ سلسلہ کے نفع اور نقصان کا سوال درپیش تھا بعض نوجوان چھ سات گھنٹہ کام کرنے کے بعد گھروں میں بیٹھ گئے اور سلسلہ کا دس بیس ہزار روپیہ کا نقصان ہو گیا۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جو مجاہد کہلاتے ہیں اور وہ بھی شامل جو مجاہد تو نہیں کہلاتے مگر عام خدام میں سے ہیں۔ پس یہ حصہ نہایت ضروری ہے اور قوم کے نوجوانوں میں محنت سے کام کرنے کی عادت پیدا کرنا خدام الاحمدیہ کا اہم فرض ہے۔ مرکزی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ ایسے طریق ایجاد کریں جن سے انہیں معلوم ہو سکے کہ ہر احمدی جو مجلس خدام الاحمدیہ کا ممبر ہے وہ کیا کام کرتا ہے اور اگر کسی کے متعلق معلوم ہو کہ وہ کوئی کام نہیں کررہا تو اُسے کسی نہ کسی کام پر مجبور کیا جائے۔ اسی طرح آپ لوگوں کو سکولوں اور بورڈنگوں وغیرہ کا معائنہ کر کے افسروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور ایسی سکیمیں سوچنی چاہئیں جن سے لڑکے پڑھائی میں غفلت نہ کریں۔ اِسی طرح کھیل کود میں بھی وہ باقاعدگی سے حصہ لیں۔ آپ لوگوں کو اِس امر کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ کسی محلہ میں کوئی لڑکا آوارہ نہ پھرے۔ آپ لوگوں کو اس امر کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ کون کون سے نوجوان ہیں جو لغو باتیں کرنے کے عادی ہیں اور پھر ان نوجوانوں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ لوگوں کو اِس امر کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ دُکانوں پر خریدو فروخت کرتے ہوئے دُکاندار اورتاجر دیانت داری سے کام لیتے ہیں یانہیں اسی طرح اور معاملات میں اُن کی دیانت اور امانت کا کیا حال ہے۔ یہ عام امور ایسے ہیں جن کی نگرانی رکھنا خدام الاحمدیہ کا کام ہے مگر اب تک اس لحاظ سے خدام الاحمدیہ نے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح محسوس نہیں کیا۔ میرے پاس رپورٹیں پہنچ رہی ہیںکہ کئی مہینوںسے قادیان میں بلیک مارکیٹ جاری ہے اور دُکان دار دھوکا سے گراں قیمت پر اپنی اشیاء فروخت کرتے رہتے ہیں۔ اگر گوئی شخص دُکان پر گاہک بن کر آئے تو وہ انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فلاں چیز نہیں ہے لیکن اگر وہ ایک کی بجائے دوروپے دے دے تو چوری چھپے وہ اُسے چیز لاکر دے دیتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ خدام الاحمدیہ کانظام اتنا وسیع بنا دیاگیا ہے کہ ہر پندرہ سے چالیس سالہ عمر کے نوجوان کا اِس مجلس میں شامل ہونا لازمی ہے پھر بھی اِس حرکت کا انسداد نہیں کیا گیا بلکہ جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے کئی مہینوںسے قادیان میں ایسا ہو رہا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ قادیان میں مجلس خدام الاحمدیہ کے آٹھ سَو ممبر ہیں مَیں اِس تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کہتا ہوں اگرمجلس خدام الاحمدیہ اپنے فرائض کو پوری خوش اسلوبی سے ادا کر رہی ہوتی اور اگر اُس کے آٹھ سَو جاسوس قادیان کے گلی کوچوں میں موجود ہوتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ ان آٹھ سَوجاسوسوں کے ہوتے ہوئے قادیان میں بلیک مارکیٹ جاری رہتی اور دھوکا بازی سے گراں قیمت پر اشیاء فروخت ہوتی رہتیں۔ دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہے یاتو ان آٹھ سَو جاسوسوں میں سے ایک حصہ کو اپنی قوم کا غدّار کہنا پڑے گا اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ اُن کو اپنے فرائض سے ایسا غافل رکھا گیا ہے کہ اُنہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ اُنہیں کام کس طرح کرنا چاہئے ورنہ اگر یہ بات ہو رہی ہے اور جیسا کہ کہاجاتاہے کہ کچھ عرصہ سے قادیان کے دُکانداروں میں یہ عادت پیدا ہوگئی ہے اور دوسری طرف قادیان مجلس خدام الاحمدیہ کے آٹھ سَو یا آٹھ سَو پچاس جاسوس موجود ہوتے تو یہ ناممکن تھا کہ اُن کی موجودگی میں یہ بات جاری رہتی ۔ میں جاسوس کا لفظ اُن کی اہمیت کو نمایاںکرنے کے لئے استعمال کر رہا ہوں ورنہ جاسوس کا لفظ جس قسم کے لوگوں کے لئے آجکل استعمال کیا جاتا ہے اس قسم کی جاسوسی اسلام میں منع ہے۔ میں نے صرف اُن کے فرائض پر زور دینے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے ورنہ صحیح الفاظ یوں ہیں کہ اگر احمدیت کے اخلاق کے آٹھ سَو نمائندے قادیان میں موجود ہوتے اور کوئی گھر ایسا نہ ہوتا جس میں ایک نمائندہ موجود نہ ہوتا یا اگر کوئی ایک گھر خالی ہوتا تو اس کے قریب کے گھر میں اخلاقِ احمدیت کا نمائندہ موجود ہوتا تو اِس قسم کے حالات کے پیدا ہونے پر اُن میں سے ہر شخص آگے بڑھتا اور کہتا میں اپنے باپ کے خلاف شہادت دیتا ہوں یا اپنے چچا کے خلاف شہادت دیتا ہوں یا اپنے دوست کے خلاف شہادت دیتا ہوں کہ وہ گراں قیمت پر چوری چھپے اشیاء فروخت کررہا ہے۔ جس طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ اگر تمہیں اپنے باپ یا اپنی ماںیا بھائی یا اپنے کسی اور رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تو تم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے نڈر ہو کر گواہی دے دو اور رشتہ داری کی کوئی پرواہ نہ کرو۔ اِسی طرح اگر خدامِ خلق یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کر چکے ہوتے تو ہر محلہ میں سے ایسے نوجوان نکل کر کھڑے ہو جاتے جو ہمارے پاس آکر کہتے ہمارے باپ کے پاس فلاں چیز موجود ہے مگر وہ دُکان پر تو یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس نہیں لیکن جب کوئی چوری چھپے زیادہ قیمت دے دیتا ہے تو اُسے وہ چیز دے دیتا ہے۔ اِسی طرح کو ئی اور نوجوان نکلتا اور کہتا کہ میری ماں جو کپڑا بیچا کرتی ہے وہ دُکان پر تو یہ کہہ دیتی ہے کہ میرے پاس فلاں کپڑا نہیں لیکن جب کوئی گھر میںآکر زیادہ قیمت دے دیتا ہے تو اِس قیمت پر وہ کپڑا نکال کر اسے دے دیتی ہے۔ اگر خدام الاحمدیہ نے اپنے فرائض کو ادا کیا ہوتا اور ہر نوجوان کے دل میں اخلاق کی اہمیت کو قائم کیا ہوتا توہمیں آج اپنے اندر وہی نظارہ نظر آتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں صحابہ کے اخلاق کا نظر آیا کرتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک منافق نے کہہ دیا کہ مدینہ چل لینے دو وہاں سب سے زیادہ معزز آدمی یعنی (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) عبداللہ بن ابی ابن سلول سب سے زیادہ ذلیل شخص یعنی نَعُوْذُ بِاللّٰہِ محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مدینہ سے نکال دے گا۔جب اُس نے یہ بات کہی تو اس کے بعد سب سے پہلا شخص جو یہ شکایت لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچا اِسی عبداللہ بن ابی ابن سلول کا بیٹا تھا۔ اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میرے باپ نے ایسا کہا ہے اور اُس کے اِس فعل کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میں صرف یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ میرے باپ کے قتل کا حکم نافذ فرمائیں تو مجھے اُس کے قتل پر مقرر کیا جائے کسی اور کو مقرر نہ کیا جائے کیونکہ اگر کسی اور نے میرے باپ کو قتل کیا تو ممکن ہے میرے دل میں اُس کے خلاف جوش پیدا ہو اور میں کسی خلافِ شریعت فعل کا ارتکاب کر بیٹھوں۔ تو اگر واقعہ میں خدامِ خلق میں یہ جذبہ پیدا ہو چکا ہوتا اور وہ جرائم کی شناعت کو سمجھتے تو بجائے اِس کے کہ اس موقع پر ہمیں تحقیق کرنی پڑتی کہ کون کون لوگ ایسے ہیں جو اِس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں ہر شخص آگے بڑھتا اور کہتا کہ میرا باپ یا میرا بھائی یا میری ماں یا میرا فلاں رشتہ دار یہ جرم کر رہا ہے اور میں اس کے خلاف اپنی شہادت پیش کرتا ہوں۔
    فردی جرم بے شک ایسی چیز ہے جس پر پردہ ڈالا جا سکتاہے لیکن قومی جرائم پر کبھی پردہ نہیں ڈالا جا سکتا اگر قومی جرائم پر بھی پردہ ڈالا جائے تو قوم کی ترقی با لکل رُک جائے اور اس کے افراد اعلیٰ اخلاق کو بالکل کھو دیں۔ قومی جرائم کے ارتکاب کے لئے یہ ضروری ہوتاہے کہ ہر محلہ بلکہ ہر گھر میں سے لوگ نکلیںاور بدی کا ارتکاب کرنے والوں کے راز کھول دیں۔جب قومی جرائم کے ارتکاب پر اِس طرح راز کھولے جائیںتوجن لوگوں کی اصلاح اَور ذرائع سے نہیں ہو سکتی اُن کی اصلاح اس طریق سے ہو جا تی ہے اور جبری طور پر اُن میں نیکی پیدا ہو جا تی ہے۔بدی پر جرأت انسان کواُسی وقت ہوتی ہے جب اُسے یقین ہو تا ہے کہ میرے دوست یا میرے رشتے دار میرے راز کو ظاہر نہیں کریںگے لیکن اگر اسے یقین ہو کہ میں نے جو بھی بُرا فعل کیا اُسے میرے دوست خود بخود ظاہر کر دیں گے تو وہ کبھی بُرے افعال کے ارتکاب کی جرأت نہیں کر سکتا۔ دیکھ لو چور ہمیشہ رات کی تاریکی میں چوری کرنے کی کوشش کیا کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا انتظام ہوتا کہ جونہی کوئی چور سیندھ لگاتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان پر کوئی ستارہ ایسا ظاہر ہوتا جس کی چمک اور روشنی کی وجہ سے لوگ فوراً دیکھ لیتے کہ کون شخص چوری کر رہا ہے تو کیا اِس کے بعد کسی ایک شخص کو بھی چوری کی جراء ت ہو سکتی؟ یقینا کوئی شخص چوری نہ کرتا کیونکہ وہ ڈرتا کہ اِدھر میں نے چوری کی تو اُدھر ساتھ ہی میری گرفتاری عمل میں آ جائے گی اور لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ اِس فعل کا ارتکاب کس نے کیا ہے۔ اِسی طرح اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی سوسائٹی کے لئے ایک چمکتا ہوا ستارہ بن جائے تو کمزور لوگوں کو اخلاق اور شریعت کے خلاف افعال کرنے کی جراء ت نہ رہے اور وہ بھی نیکی اور تقویٰ کے لباس میں ملبوس ہو جائیں۔ یہی امید خداتعالیٰ اپنے مومن بندوں سے رکھتا ہے کہ وہ سب کے سب ہدایت اور رہنمائی کے چمکتے ہوئے ستارے بنیں اور جب بھی کوئی شخص کسی بُرائی کا ارتکاب کرے وہ اُس پر اُسی وقت اپنی روشنی ڈال دیں تاکہ آئندہ وہ اپنی اصلاح کر سکے اور قومی ترقی میں روک واقع نہ ہو۔ یہی خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء کے ذریعہ ایک روحانی جماعت قائم کرنے سے منشاء ہوتا ہے۔
    پس تم کو اپنا نور اتنا پھیلانا چاہئے اتنا پھیلانا چاہئے کہ تمہاری وجہ سے تاریکی کا کہیں نشان تک نہ رہے اور اگر بعض لوگ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے قومی جرائم کا ارتکاب کریں تو تمہارا فرض ہے تم اِن کو فوراً ظاہر کرو۔ بے شک اگر کسی شخص میں کوئی فردی کمزوری پائی جاتی ہے تو تم اُس کے عیب کو ظاہر نہ کرو بلکہ علیحدگی میں اُسے سمجھاؤ اور دل میں اُس کی ہدایت اور اصلاح کے لئے دعائیں کرتے رہو۔ تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم فردی کمزوریوں کا لوگوں میں ذکر کرتے پھرو لیکن جس طرح فردی جرائم کا ظاہر کرنا گناہ ہے اِسی طرح قومی جرائم کا چھپانا گناہ ہے۔ جب تمہیں قومی جرائم کا علم ہو تو تمہارا فرض ہے کہ اُن جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو ظاہر کرو۔
    میرے نزدیک اِس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہر مجلس اصلاحِ اخلاق کے سلسلہ میں اپنے پاس ریکارڈ رکھے جس سے یہ ظاہرہو سکے کہ کن کن اخلاق کی طرف ہمیں زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ فردی جرائم میں صرف نصیحت کرنا کافی ہے جرم کرنے والے کے نام کو ظاہر کرنا ضروری نہیں لیکن ریکارڈ میں بغیر نام ظاہر کرنے کے اِس اَمر کی صراحت کی جا سکتی ہے کہ ہم نے اتنے لوگوں کو فلاں فلاں قسم کے فردی جرائم کی بناء پر نصیحت کی اور اُن کو اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اِسی طرح جب کوئی قومی جرم کا ارتکاب کرے تو اُس کا بھی ریکارڈ میں ذکر آنا چاہئے۔ اِس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہر مجلس یہ بتا سکے گی کہ سَو میں سے اتنے فیصدی فلاں جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، اتنے فیصدی لوگوں میں فلاںقسم کی کمزوری پائی جاتی ہے اور اتنے فیصدی لوگ فلاں عیب میں مبتلاء ہیں۔ بے شک اگر اِن لوگوں کا نام ظاہر کیا جائے گا تو شریعت کے خلاف ہو گا لیکن بغیر نام کی صراحت کے ایک عام ریکارڈ کے ذریعہ یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کن کن اخلاق کی نوجوانوں میں کمی ہے اور کن امور کی طرف ہمیں زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً سچائی ہے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہر مجلس میں کتنے فیصدی نوجوان سچائی اختیار کرنے میں اعلیٰ نمونہ نہیں دکھا رہے۔ یا اشاعتِ فحش ایک جرم ہے ہمیں معلوم ہوناچاہئے کہ اِس جرم کا ارتکاب کرنے والے کتنے لوگ ہمارے اندر موجود ہیں۔ بہرحال اخلاق کی نگہداشت خدام الاحمدیہ کا اہم فرض ہے اور ہر رُکن کے لئے اِس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ قومی جرم کا چھپانا ایک خطرناک جرم ہے۔ جس طرح فردی جرم کو ظاہر کرنا جرم ہے۔
    قومی جرم سے مراد درحقیقت دو قسم کے جرائم ہوتے ہیں۔
    اوّل وہ جرم جو قوم کے خلاف ہوتے ہیں اور جن کا قومی لحاظ سے شدید نقصان ہوتا ہے۔
    دوسرے وہ افعال جو کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کسی دوسرے پر قاتلانہ حملہ کرنے کے متعلق کوئی بات کر رہا ہو اور اُس کا علم کسی اَور شخص کو ہو جائے تو یہ فردی جرم نہیں ہو گا بلکہ قومی جرم ہو گا کیونکہ اِس کا نقصان قوم کے ایک فرد کو پہنچنے کا امکان ہے۔ اِس صورت میں اگر وہ اخفاء سے کام لیتا ہے اور دوسرا شخص حملہ کر کے قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ جس نے بات کو سنا تھا اور جسے اِس سازش کا پہلے سے علم ہوچکا تھا مگر اُس نے ظاہر نہیں کیا وہ بھی اِس قتل میں شریک سمجھا جائے گا۔ـ اگر وہ وقت پر بتا دیتا تو اصلاح کی جا سکتی تھی لیکن چونکہ اُس نے وقت پر نہ بتایا اِس لئے وہ بھی قاتل سمجھا جائے گا اور شریعت کے نزدیک مجرم ہو گا۔ پس قومی جرم سے مراد وہ جرم ہیں جن کا ضرر کسی دوسرے انسان کو پہنچ سکتا ہو اور فردی جرم سے مراد وہ جرم ہیں جن کا ضرر کسی دوسرے کو نہ پہنچتا ہو یا کسی کے ایسے گزشتہ جرم کا ذکر کرنا جوخواہ اپنی ذات میں قومی جرم ہی ہو لیکن وہ حال سے منقطع ہو چکا ہو وہ بھی فردی جرم ہی سمجھا جائے گا۔ مثلاً فرض کرو ایک شخص نے آج سے دس سال پہلے کوئی چوری کی تھی اَب چوری کرنا ایک قومی جرم ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی کے دس سالہ گزشتہ چوری کے واقعہ کا ذکر کرتا ہے تو اِس چوری کو قومی جرم نہیں بلکہ فردی جرم قرار دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں ضروری ہو گا کہ وہ دوسرے کے فعل پر پردہ ڈالے اور اِس کا لوگوں میں اظہار نہ کرے۔ دس سال پہلے اگر اُس نے کسی کی پنسل چرا لی تھی یا ایسی ہی کوئی اور چیز چرالی تھی تو گو چوری کے لحاظ سے اِس کا یہ جرم کچھ کم نہیں تھا مگر چونکہ اِس پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اِس لئے اَب اِس کا اظہار کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ اَب ایسی چوری کا علاج سوائے اِس کے کچھ نہیں کہ انسان توبہ کرے۔ اپنے گزشتہ قصور پر استغفار کرے اور آئندہ کے لئے عہد کرے کہ وہ ایسا فعل کبھی نہیں کرے گا۔ بہرحال اتنا لمبا عرصہ گزرنے پر اِس کا یہ فعل قومی جرم نہیں رہا بلکہ ایک فردی جرم بن گیا ہے۔ پس ہر وہ جرم جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا یا جس فعل کے دوبارہ ہونے کا امکان نہیں وہ فردی جرم ہے۔ اور ہر وہ جرم جس کا ازالہ ہو سکتا ہے اور جس کا اثر قوم پر پڑتا ہے وہ قومی جرم ہے۔ پس قومی اور فردی جرائم میں جو فرق ہے وہ بار بار نوجوانوں کو بتانا چاہئے تاکہ ایک طرف جہاں لوگوں میں تجسس کا مادہ پیدا نہ ہو وہاں دوسری طرف لوگوں کے اخلاق کی نگرانی ہو سکے اور معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اخلاقی حصوں پر عمل کرنے میں سُستی سے کام لے رہے ہیں۔ اگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے اِس رنگ میں اصلاحِ اخلاق کی کوشش کی جاتی تو میرے سامنے یہ ذکر نہ آتا کہ قادیان میں مخفی طور پر بعض لوگ گراں قیمت پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ قادیان میں ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا لیکن اگر ہوتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ خدام الاحمدیہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ اِن کے نمائندے ہر محلہ میں موجود ہیں، ہر گھر میں موجود ہیں اور وہ اگر چاہتے تو اِس نقص کا آسانی کے ساتھ ازالہ کر سکتے تھے لیکن چونکہ انہوں نے اِس طرف توجہ نہیں کی اِس لئے میں سمجھتا ہوں اِس کی ذمہ داری خدام الاحمدیہ کے کارکنوں پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ باتیں باربار اپنے نمائندوں کے سامنے نہیں رکھیں ورنہ اِس سُستی اور غفلت کا ان کی طرف سے مظاہرہ نہ ہوتا۔
    تیسری چیز لڑائی جھگڑا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ عادت بھی ابھی برابر جاری ہے۔ ذراسی بات ہوتی ہے لیکن اِس پر آپس میں لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی ایک خطرناک نقص ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔ بسااوقات انسان ہنسی مذاق میں کوئی بات کہہ رہاہوتا ہے مگر دوسرا اِس مذاق کو برداشت نہ کرکے لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا کردیتا ہے حالانکہ ایسے حالات میں بات کو ہنسی میں ٹال دینا زیادہ مناسب ہوا کرتا ہے۔مگر بعض دفعہ ایک شخص غصیلا ہوتا ہے اور مذاق کو برداشت نہ کر کے وہ لڑپڑتا ہے۔ جہاں ایسی صورت پیدا ہو وہاں دوسرے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ خاموش رہے اور وہاں سے اُٹھ کر چلا جائے۔ ہر بات جو ناپسند ہے اُس پر لڑائی شروع کر دینا معاملہ کو بِلا وجہ طول دینا اور تفرقہ وشقاق کی صورت پیدا کر کے مقاطعہ تک نوبت پہنچانا اور بول چال بند کر دینا ہرگز ایک مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اگر ہر شخص کو اِس امر کی اجازت دی جائے کہ وہ جس سے چاہے بول چال بند کر دے جس سے چاہے تفرقہ اختیار کر لے تو قوم کی ٹوٹتے ٹوٹتے کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ باتیں ہیں جن کی طرف خدام الاحمدیہ کو میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں اور ہدایت کرتا ہوں کہ انہیں جہاں بھی پتہ لگے کہ دو احمدی نوجوان کسی وجہ سے آپس میں گفتگو نہیں کرتے تو اُن کے اِس فعل کو قومی جرم قرار دیا جائے اور انہیں نصیحت کی جائے کہ مقاطعہ کرنا یا بول چال بند کردینا جائز نہیں ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں جن کی طرف میں اِس وقت خصوصیت سے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں اور اصل بات تو یہ ہے کہ درد کی وجہ سے مضمون کا تسلسل بھی قائم نہیں رہا اور اب مزید کچھ کہنا میرے لئے ناممکن ہے اس لئے میں انہی تین شقوں پر آج کی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے کارکنو ںاور تمام خدام اور اطفال کو اپنی اپنی ذمہ داری کے سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قدم پر وہ آپ لوگوں کی راہنمائی فرمائے تاکہ وہ باتیں جو آپ لوگوں کو معلوم ہیں اُن پر آپ عمل کر سکیں اور جو باتیں معلوم نہیں وہ خداتعالیٰ خود آپ لوگوں کو سکھائے تاکہ آپ دین کی باتوں کو اچھی طرح جانیں اور ہمیشہ ان پر عمل کرتے رہیں ۔ (الفضل ۹؍ نومبر ۱۹۴۴ء)
    ۱؎ گلتیوں باب۳ آیت ۱۳۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء
    ۲؎ ۱۔ یوحنا باب۴ آیت ۸۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء
    ۳؎ الفضل ۸؍ نومبر ۱۹۴۲ء صفحہ۲


    تمام جماعتوں میںانصار اللہ کی
    تنظیم ضروری ہے




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    تمام جماعتوں میں انصار اللہ کی تنظیم ضروری ہے
    (تقریر فرمودہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۴۴ء برموقع سالانہ اجتماع انصار اللہ قادیان)
    تشہّد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضو رنے فرمایا:-
    مَیں صرف مجلس انصار اللہ کی خواہش کے مطابق اِس جلسہ کے افتتاح کے لئے آیا ہوں اور صرف چند کلمات کہہ کر دعا سے اِس جلسہ کا افتتاح کر کے واپس چلا جاؤں گا۔ انصارللہ کی مجلس کے قیام کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اَب تک اِس مجلس میں زندگی کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ زندگی کے آثار پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ:
    اوّل تنظیم کامل ہو جائے۔
    دوسرے متواتر حرکتِ عمل پیدا ہو جائے۔
    اور تیسرے اِس کے کوئی اچھے نتائج نکلنے شروع ہو جائیں۔
    مَیں اِن تینوں باتوں میں مجلس انصار اللہ کو ابھی بہت پیچھے پاتا ہوں۔ انصار اللہ کی تنظیم ابھی ساری جماعتوں میں نہیں ہوئی، حرکتِ عمل ابھی اِن میں پیدا ہوتی نظر نہیں آتی نتیجہ تو عرصہ کے بعد نظر آنے والی چیز ہے مگر کسی اعلیٰ درجہ کے نتیجہ کی امید تو ہوتی ہے اور کم از کم اِس نتیجہ کے آثار کا ظہور تو شروع ہو جاتا ہے مگر یہاں وہ امید اور آثار ابھی نظر نہیں آتے۔
    غالباً مجلس انصار اللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع ہے مَیں امید کرتا ہوں کہ اِس اجتماع میں وہ اِن کاموں کی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور قادیان کی مجلس انصارللہ بھی اور بیرونی مجالس بھی اپنی اِس ذمہ واری کو محسوس کریں گی کہ بغیر کامل ہوشیاری اور کامل بیداری کے کبھی قومی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی اور ہمسایہ کی اصلاح میں ہی انسان کی اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ اِس کے ہمسایہ کا اثر اِس پر پڑتا ہے۔ نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنے پاس کی چیز سے متأثر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاس پاس کی چیزیں ایک دوسرے کے اثر کو قبول کرتی ہیں بلکہ سائنس کی موجودہ تحقیق سے تو یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں وغیرہ کے رنگ اُن پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔ مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں اِس لئے اُن کا رنگ پانی کی وجہ سے اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے جو پانی پر پڑتی ہیں سفید اور چمکیلا ہو گیا، مینڈک کناروں پر رہتے ہیں اِس لئے اُن کا رنگ کناروں کی سبز سبز گھاس کی وجہ سے سبزی مائل ہو گیا، ریتلے علاقوں میں رہنے والے جانور مٹیالا رنگ کے ہوتے ہیں، سبز سبز درختوں پر بسیرا رکھنے والے طوطے سبز رنگ کے ہو گئے، جنگلوں اور سُوکھی ہوئی جھاڑیوں میں رہنے والے تیتروں وغیرہ کا رنگ سُوکھی ہوئی جھاڑیوں کی طرح ہو گیا غرض پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے اور ان کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سے پرندوں کے رنگ بھی اُسی قسم کے ہو جاتے ہیں۔ پس اگر جانوروں اور پرندوں کے رنگ پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے بدل جاتے ہیں حالانکہ اُن میں دماغی قابلیت نہیں ہوتی تو انسانوں کے رنگ جن میں دماغی قابلیت بھی ہوتی ہے پاس کے لوگوں کی وجہ سے کیوں نہیں بدل سکتے۔ خداتعالیٰ نے اِسی لئے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ۔ ۱؎ یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اِس کا گُر یہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تا کہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو جائے جو اُس میں پایا جاتا ہے۔ پس جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اِس روح کو زندہ رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں ہی اُس کی اپنی اصلاح ہے۔ ہر شخص جو اپنے آپ کو اِس سے مستغنی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔ بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کا محتاج ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخر دم تک ۲؎ کی دعا کرتے رہے۔ پس اگر خدا کا وہ نبی جو پہلوں اور پچھلوں کا سردار ہے جس کی روحانیت کے معیار کے مطابق نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہو گا اور جس نے خداتعالیٰ کا ایسا قُرب حاصل کیا کہ اِس کی مثال نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے اگر وہ بھی مدارج پر مدارج حاصل کرنے کے بعد پھر مزید روحانی ترقی کا محتاج ہے اور روزانہ خداتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے، اکیلا نہیں بلکہ ساتھیوں کو ساتھ لے کر کہتا ہے تو آج کون ایسا انسان ہو سکتا ہے جو خداتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر کہنے سے اور جماعت میں کھڑے ہو کر کہنے سے اپنے آپ کو مستغنی قرار دے۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اِس سے مستغنی قرار دیتا ہے تو وہ اپنے لئے ایک ایسا مقام تجویز کرتا ہے جو مقام خداتعالیٰ نے کسی انسان کے لئے تجویز نہیں کیا۔ پس جو شخص اپنے لئے ایسا مقام تجویز کرتا ہے وہ ضرور ٹھوکر کھائے گا کیونکہ اِس قسم کا استغناء عزت نہیں بلکہ ذلت ہے، ایمان کی علامت نہیں بلکہ وہ شخص کفر کے دروازے کی طرف بھاگا جا رہا ہے۔
    پس تنظیم کے لئے ضروری ہے کہ اپنے متعلقات اور اپنے گردوپیش کی اصلاح کی کوشش کی جائے اِسی سے انسان کی اپنی اصلاح ہوتی ہے، اِسی سے قوم میں زندگی پیدا ہوتی ہے اور کامیابی کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ دعائیں بھی وہی قبول ہوتی ہیں جو خداتعالیٰ کے قانون کے ماتحت کی جائیں۔ خداتعالیٰ نے ہمارے دعا مانگنے کے لئے میں جمع کا صیغہ رکھ کر ہمیں بتا دیا ہے کہ اگر تم روحانی طور پر زندہ رہنا اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے صرف اپنی اصلاح کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کی اصلاح کرنا اور مجموعی طور پر اِس کے لئے کوشش کرنا اور مل کر خدا سے دعا مانگنا ضروری ہے۔ چنانچہ اِسی غرض کے لئے میں نے مجلس انصار اللہ، لجنہ اماء اللہ، مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ قائم کی ہیں۔ پس میں امید کرتا ہوں کہ مجلس انصار اللہ مرکزیہ اِس اجتماع کے بعد اپنے کام کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ کر پوری تندہی اور محنت کے ساتھ ہر جگہ مجالس انصاراللہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اِن کی اصلاحی کوششیں صرف اپنے تک ہی محدود نہ ہوں بلکہ گردوپیش کی اصلاح کیلئے بھی ہوں اور اِن کی کوششیں دریا کی طرح بڑھتی چلی جائیں اور دنیا کے کونے کونے کو سیراب کر دیں۔
    اَب میں دعا کے ذریعہ جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں۔ خدا کرے مجلس انصارللہ کا آج کا اجتماع اور آج کی کوششیں بیج کے طور پر ہوں جن سے آگے خداتعالیٰ ہزاروں گنا اور بیج پیدا کر ے اور پھر وہ بیج آگے دوسری فصلوں کے لئے بیج کا کام دیں یہاں تک کہ خدا کی روحانی بادشاہت اُسی طرح دنیا پر قائم ہو جائے جس طرح کہ اُس کی مادی بادشاہت دنیا پر قائم ہے۔ اٰمِیْنَ
    (الفضل ۶؍ اگست ۱۹۴۵ء)
    ۱؎ التوبۃ: ۱۱۹ ۲؎ الفاتحۃ: ۶،۷


    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۴ء





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۴ء
    وہ وقت آ گیا ہے جب ہمارا قدم نہایت بلند مقام کی طرف اُٹھے گا یا نیچے گر جائے گا
    (تقریر فرمودہ ۲۶ ؍دسمبر ۱۹۴۴ء برموقع افتتاح جلسہ سالانہ قادیان)
    تشہّد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    ہم پھر ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر لَبَّیْکَ کہتے ہوئے اُس کے دین کی خدمت اور اُس کے محبوب محمد رسول اللہﷺ کے حضور میں اپنی عقیدت کے پھول پیش کرنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج وہ حسین ترین چہرہ جس سے سورج اور چاند روشن ہیں دنیا کی نگاہوں میں تاریک نظر آرہا ہے۔ کیا مسلمان اور کیا غیرمسلمان سب کی نگاہیں آج اُس چہرہ سے ہٹ کر دوسری چیزوں پر پڑ رہی ہیں۔ وہ محبت اور وہ اخلاص اور وہ تعلق جو کسی زمانہ میں مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا آج اِس میں بے انتہاء کمی آ چکی ہے۔ ایک وقت جس کے معمولی اشارے پر لوگ بڑھ بڑھ کر اپنی جانیں قربان کرنے میں فخر سمجھتے تھے آج اُس کی آواز اور اُس کی پکار کو سننے کے لئے بھی کان تیار نہیں ہیں۔ آسمان سے اور عرش سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پکارتا ہے اور جنت سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی روح آوازیں دے رہی ہے مگر مسلمان ہیں کہ اپنے کانوں میں روئی ڈالے ہوئے ہیں نہ اِن پر عرش کی پکار کا اثر ہوتا ہے اور نہ جنت کی آوازیں سنتے ہیں۔ یا سُن سکتے ہی نہیں بلکہ لہو ولعب اور دنیا کے کاروبار سے انہیں فرصت ہی نہیں۔ کفر روز بروز اسلام کو کھائے جا رہا ہے، اسلامی روحانیت کُچلی گئی ہے، شیطان پھر آزاد ہو گیا ہے اور اُس نے پھر اسلام پر حملہ شروع کر دیا ہے۔ مسلم ہر جگہ اور ہر میدان میں اور ہر ملک میں اور ہر علاقہ میں شکست کھا رہا ہے، اسلام کا جھنڈا سرنگوں ہو رہا ہے اور کفر کا جھنڈا اونچے مقام پر لہرا رہا ہے مگر پھر بھی مسلمانوں کے دلوں میں کوئی جوش، کوئی حرارت اور کوئی غیرت پیدا نہیں ہوتی۔ اسلام دن بدن کمزور ہو رہا ہے اور روز بروز گرتا جا رہا ہے ایسی حالت میں صرف اور صرف ایک ہی جماعت ہے جس نے اسلام کی امداد اور حفاظت کا بیڑہ اُٹھایا ہے اور وہ جماعت احمدیہ ہے۔
    آج سے پچاس سال پہلے اسلام کی خدمت اور حفاظت کا اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا اور آج کے دن تک کوئی گھڑی ،کوئی لمحہ اور کوئی ساعت ایسی نہیں گزری کہ جس میں آپ یا آپ کی جماعت کی طرف سے اسلام کی خدمت نہ ہوئی ہو مگرجس حالت میں اِس وقت آپ کی جماعت ہے اِس کی تعداد اور طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی نہیںکہہ سکتا کہ یہ کمزور اور قلیل التعداد جماعت زبردست اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے کفر کو زیر کرلے گی اور اِس پر غالب آ جائے گی لیکن خداتعالیٰ کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں اور کوئی طاقت اِن کو روک نہیں سکتی۔ ہمیں وہ نظارے بھی یاد ہیں جب دو چار آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ تھے اور آج ہم یہ نظارہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خداتعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں، دنیا کی ہر قوم میں، ہر نسل میں اور ہر زبان بولنے والوں میں احمدی موجود ہیں اور اِن میں ہمت اور اخلاص اور فداکاری کے جذبات اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور وہ قربانی کے انتہائی مقام پر پہنچے ہوئے ہیں۔ آج خداتعالیٰ کا ہاتھ اِن کو روک رہا ہے ورنہ وہ آگے بڑھ کر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پروانے موجود ہیں شمع ہی انہیں قربان ہو جانے سے روک رہی ہے اور وہ جل جانے کی خواہش اور تمنا میں جل رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت تھوڑی سے بڑھ کر اَب اِس مقام پر پہنچ چکی ہے اور اِتنا وسیع کام اِس کے سامنے ہے کہ جو قومیں اِس مقام پر پہنچ جاتی ہیں وہ یا تو اوپر نکل جاتی اور سب رُکاوٹوں کو توڑ ڈالتی ہیں یا پھر تنزّل کے گڑھے میں گر جاتی ہیں۔ دراصل یہ مقام سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے بہت لوگ یہاں سے جب گرتے ہیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں چلے گئے مگر بہت اِس مقام سے آگے بڑھ کر اِس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اُنہیں خداتعالیٰ کا عرش نظر آنے لگتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سنتے اور اِس کے خاص انعامات کے مورد بنتے ہیں۔ خدا اُن کا ہو جاتا ہے وہ خدا کے ہو جاتے ہیں۔
    پس اِس نازک وقت اور نازک مقام کی وجہ سے جماعت کی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور آج آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ یا تو ہمارا قدم نہایت بلند مقام کی طرف اُٹھے گا یا پھر نیچے کو گِر جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیّت اور ارادہ کے ماتحت اِس بات کا ارشا دفرمایا کہ مَیں اعلان میں اقرار کروں کہ مَیں وہی ہوں جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اعلان میں خبر دی ہے اور جس کے متعلق لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
    ’’میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایۂ قبولیت جگہ دی‘‘۔۱؎
    پھر فرمایا:۔
    ’’تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذرّیت و نسل ہو گا‘‘۔ ۲؎
    سو خداتعالیٰ کے اِس ارشاد کے ماتحت مَیں نے پہلے بھی اعلان کیا اور اِس موقع پر بھی اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اِس پیشگوئی کا میں ہی مصداق ہوں مجھے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں اور کسی عزت کی خواہش نہیں۔ میری تو ایک ہی خواہش ہے اور وہ یہ کہ خداتعالیٰ کے دین کی خدمت میں جان دے دوں اور محمدﷺ کی کھوئی ہوئی وراثت آپ کے حضور پیش کر دوں۔
    میں نے بارہااپنے مولیٰ سے التجا کی ہے اور ہمیشہ کرتا رہتا ہوں کہ الٰہی! اگر میری مٹی بھی کسی ذلیل ترین مقام پر پھینک دینے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کچھ خدمت ہو سکتی ہے تو میری کسی لحاظ سے بھی کوئی پرواہ نہ کر اور محمدﷺ کے مقام کی عزت کے لئے جو بھی قربانی لی جانی ضروری ہو وہ مجھ سے لے اور مجھے توفیق دے کہ میری زندگی اور میری موت تیرے لئے اور تیرے رسول کے لئے ہو اور میری ہی نہیںمیرے دوستوں اور میرے عزیزوں کی زندگیاں بھی اِسی کے لئے ہوں۔ ہم تیرے دین کے لئے تیرے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے قائم کرنے والے ہوں۔
    پس مَیں اَب دعا کر کے اِس جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے ہمارے دلوں میں کامل یقین اور ایمان پیدا کرے، ہم سب کو روحانی بینائی عطا کرے۔ کوئی ہم میں سے نابینانہ مرے۔ وہ ہماری آنکھیں اِس طرح کھول دے کہ ہمارے سوتے جاگتے، زندہ رہتے اور مرتے وقت خداتعالیٰ ہمارے سامنے رہے اور وہ کسی وقت بھی ہم سے مخفی نہ ہو کیونکہ اُس سے ایک منٹ کی دوری بھی تباہی ہے۔ مادی ہزار آنکھ بھی اگر پھوٹ جائے تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں مگر دین کی آنکھ ضائع نہ ہو۔ ہر حسین چہرہ ہم سے اوجھل ہو جائے تو ہو جائے مگر خداتعالیٰ کا چہرہ اوجھل نہ ہو۔ سب دوست دعا میں شریک ہوں کہ اللہ تعالیٰ اِس اجتماع کو بابرکت بنائے۔ خداتعالیٰ کا چہرہ ہمیں اِس شان سے نظر آئے کہ پھر وہ ہم سے اوجھل نہ ہو۔ اسلام کو اِس قدر بلندی حاصل ہو کہ آج جس مقام پر کفر ہے اسلام اِس سے بہت بلند مقام پر پہنچے۔ دنیا کا ایک ہی بادشاہ ہو یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ایک ہی خالق اور ربّ ہو یعنی اللہ۔
    (تمام مجمع سمیت دعا کرنے کے بعد فرمایا۔)
    دوستوں کو میں یاد دلاتا ہوں کہ یہ ایام خاص دعاؤں کے ہیں تمام احمدی جماعتوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا کام ہے کہ اپنی جماعت کے سب لوگوں کو دین کے کام میں لگائے رکھیں اور اِدھر اُدھر نہ پھرنے دیں۔
    اِسی طرح لجنہ اماء اللہ کو چاہئے کہ عورتوں میں یہ تبلیغ جاری رکھیں کہ نمازوں کی پوری طرح پابندی کریں، دعاؤں میں مصروف رہیں، پردہ کا خیال رکھیں، ایسے ہجوم میں پردہ کا خیال کم رکھا جاتا ہے لیکن اگر ہمارا کام اسلام کو قائم کرنا ہے تو اِسی صورت میں قائم کرنا ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا ورنہ اگر کسی اور شکل میں قائم کریں گے تو یہ اسلام کی خدمت نہ ہو گی بلکہ اسلام کی دشمنی ہو گی اور ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے خادم نہ ہوں گے بلکہ آپ کے دشمن ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے افعال سے بچائے جو خدا اور اُس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہوں اور ایسے افعال کی توفیق دے جو خدا اور اُس کے رسول کو خوش کرنے والے ہوں۔ (الفضل ۳۰؍ دسمبر ۱۹۴۴ء)
    ۱،۲؎ تذکرہ صفحہ۱۳۶،۱۳۷ ۔ایڈیشن چہارم


    لجنہ اماء اللہ کی تنظیم سے متعلق
    ضروری ہدایات




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    لجنہ اماء اللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات
    (تقریر فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۴۴ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان)
    تشہّد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    چونکہ اَب ایسا انتظام موجود ہے کہ باہر (مردانہ جلسہ) سے بھی یہاں تقریریں سُن لی جاتی ہیں اور باہر بھی مجھے تقریر کرنی ہوتی ہے اِس لئے عورتوں اور مردوں میں مشترک تقریریں ہو جاتی ہیں اور جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا تھا ضرورت تو نہیں تھی کہ مَیں عورتوں کے جلسہ میں الگ تقریر کروں مگر پھر بھی چونکہ بعض امور ایسے ہوتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی طرف عورتوں کو توجہ دلانا ضروری ہوتا ہے اِس لئے بعض دفعہ ضرورت پیش آ سکتی ہے کہ مَیں عورتوں کے جلسہ میں الگ تقریر بھی کروں مگر گزشتہ سالوں میں عورتوں کی طرف سے اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مَیں ضرور اُن کے جلسہ میں الگ تقریر کیا کروں۔ یہ ایک فطرتی تقاضا ہے کہ ہر انسان اپنا حق چاہتا ہے۔ مَیں اِس تقاضا کو بھی ردّ نہیں کر سکتا لیکن میرے گلے کی حالت اِس قسم کی ہے کہ تقریر ابھی شروع نہیں کی اور گلا بیٹھ گیا ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ اِس دفعہ مَیں کیونکر اپنی تقریریں مناسب طور پر کر سکوں گا۔ بہرحال مَیںکچھ نہ کچھ عورتوں کے جلسہ میں بھی کہنا چاہتا ہوں خصوصاً اِس لئے کہ اِس دفعہ بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔
    ہماری الہامی کتاب یعنی قرآن مجید ایک ایسی زبان میں نازل ہوئی ہے جو زبان اپنے اندر معنی رکھتی ہے۔ یعنی اِس میں ہر نام کے کوئی معنی ہوتے ہیں۔ باقی زبانوں میں اگر کسی چیز کا نام بدل کر اُس کی جگہ اور نام رکھ لیا جائے تو اُس کے معنوںمیں فرق نہیں پڑے گا لیکن عربی کا نام اگر بدل کر اور نام رکھ دیا جائے تو یقینا اِس کے معنوں میں فرق پڑ جائے گا۔ مثلاً اُمّ کا لفظ لے لو۔ اُمّ کے معنی عربی زبان میں جڑ اور مقصود کے ہیں یعنی ایسی چیز جس میں سے اور چیزیں نکلیں اور جس کی طرف دوسرے متوجہ ہوں۔ اب اگر ماں کے لئے اُمّ کی جگہ عربی میں کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے تو یہ معنی بالکل بدل جائیں گے لیکن اگر پنجابی میں یا اُردو میں ماں کی جگہ کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے مثلاً پاںؔ کہہ لیا یا تاںؔ کہہ لیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چاہے ب۔ الف۔ن کہہ لیں یا ت۔ الف۔ نکہہ لیں یا د۔ الف۔ ن کہہ لیںاور جو چاہیں اِس سے مراد لے لیں معنوں پر اِس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن عربی کے لحاظ سے اگر ہم نام کو بدل دیں تو وہ نام بے معنی ہو جائے گا۔ وہ صرف علامت ہو گی اُس کے کوئی معنی نہیں ہوں گے جیسے اُمّ کا لفظ ہے اِس کی بجائے عربی میں اگر ہم کُم کہہ دیں گے تو وہ صرف علامت رہ جائے گی اِس کے وہ معنی نہیں ہوں گے جو اُمّ کے لفظ میں پائے جاتے ہیں۔ ماں کو عربی میں اُمّ اِس لئے کہتے ہیں کہ یہ بطور جڑ ہے بچوں کیلئے۔ دوسرے بچے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اِس کے محتاج ہوتے ہیں۔ پس اُمّ کے معنی عربی زبان میں اُس چیز کے ہیں جو بطور جڑ کے ہو اور جس کی طرف دوسرے لوگ متوجہ ہوں اور ماں کو اِسی لئے اُمّ کہتے ہیں کہ یہ بطور جڑ ہے نیز بچوں کی تربیت کا مرکزی مقام ہے جس کی طرف بچے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متوجہ ہوتے ہیں۔ اَب اگر اُمّ کا لفظ بدل کر اِس کی جگہ پر کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے تو اِس لفظ سے ہرگز یہ معنی پیدا نہیں ہوں گے جو اُمّ کے لفظ سے پیدا ہوتے ہیں صرف ایک علامت رہ جائے گی۔ اِسی طرح ہمارے قرآنِ مجید میں بنی نوع یعنی مرد اور عورت کا جو مشترکہ نام ’’انسان‘‘ رکھا ہے۔یہ ’’انسان‘‘ کا لفظ بھی ایک بامعنٰی لفظ ہے۔ اصل میں یہ لفظ اُنُسَانِہے جس کے معنی ہیں دو محبتیں۔ پس یہ لفظ جو مرد اور عورت دونوں پر مشتمل ہے اِس کے معنی ہیں ایسا وجود جو دو محبتوں کا ظاہر کرنے والا ہے۔ یعنی ایک طرف یہ لفظ اُس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو خدا اور بندے کے درمیان ہے اور دوسری طرف اُس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو بندوں کو بندوں سے ہے۔
    پس انسان کے معنی ہیں وہ وجود جو ایک طرف خدا سے محبت کرنے والا ہو اور دوسری طرف بندوںسے محبت کرنے والا ہو۔ ایسا وجود سوائے انسان کے دنیا میں اور کوئی نہیں۔ انسان میں اگر حیات پائی جاتی ہے تو دوسرے جانوروں میں بھی حیات پائی جاتی ہے، انسان دیکھتا ہے تو دوسرے جانوروں کی بھی آنکھیں ہوتی ہیں اور وہ بھی دیکھتے ہیں، انسان کے کان ہیں تو دوسرے جانوروں کے بھی کان ہوتے ہیں، جس طرح انسان کھاتا پیتا ہے، اِسی طرح وہ بھی کھاتے پیتے ہیں، انسان میں چلنے اور دَوڑنے کی صفت پائی جاتی ہے تو باقی جانور بھی چلتے پھرتے اور دَوڑتے ہیں، انسان کے نرومادہ ہوتے ہیں تو باقی جانوروں میں بھی نرو مادہ ہوتے ہیں اور وہ بھی بچے جنتے ہیں اور پالتے ہیں لیکن ایک چیز جو انسان کو باقی جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور جو چیز باقی جانوروں میں نہیں پائی جاتی وہ اُنسیت ہے جو بندے کو خدا سے ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہی وہ لوگ نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور اُن کو خداتعالیٰ سے محبت کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ ایک منٹ کے لئے بھی اُس کے دروازہ سے الگ نہیں ہوتے لیکن کسی حیوان میں یہ ملکہ نہیں پایا جاتا اِس لئے حیوان اِسی دنیا میں اپنی زندگی کو پورا کر لیتے ہیں اور مرنے کے بعد اُن کو دوبارہ زندگی نہیں ملتی لیکن انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتاہے اور اپنی دائمی زندگی گزارنے کے لئے وہ ایک نئی سڑک پرقدم مارتا ہے جو سٹرک کبھی جنت میں سے ہو کر گزرتی ہے اورکبھی دوزح میں سے ہو کر گزرتی ہے۔
    پس انسان کے معنی ہیں دو محبتیں رکھنے والا وجود۔ ایک خداتعالیٰ سے محبت اور دوسرے بنی نوع انسان سے محبت ۔چنانچہ اِسی نام کی وجہ سے اسلام نے مذہب کی جو حقیقت بیان کی ہے وہ یہی ہے کہ مذہب اس لئے دنیا میں آتا ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اور انسان کو بنی نوع انسان سے ہمدردی اور محبت کرنا سکھائے۔مذہب کی ساری تفاصیل یا خدا تعالیٰ سے محبت اور تعلق پیدا کرنے کے متعلق ہو تی ہیں اور یا بنی نوع انسان سے نیک تعلق رکھنے کے متعلق ہوتی ہیں۔ نماز کیا ہے یہ اُس تعلق کا اور اُس محبت کا اظہار ہے جو بندسے اور خدا کے درمیان ہوتی ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو یاد کرتی ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کو یاد کرتا ہے، جس طرح بھائی بھائی کو یاد کرتا ہے، جس طرح دوست دوست کو یاد کرتا ہے، جس طرح خاوند بیوی کو یاد کرتاہے، جس طرح بیوی خاوند کو یاد کرتی ہے اِسی طرح ایک نیک انسان اپنے خدا کو فراموش نہیں کرتا اور دن میں متعدد بار اپنے خدا کو یاد کرتا ہے۔ اِسی کا نام عبادت ہے اور یہی نماز ہے۔ ہم دیکھتے ہیں جہاں حقیقی محبت ہو وہاں کوئی شخص کسی کو اُس کی یاد سے روک نہیں سکتا۔ ایک ماں کو کتنا ہی سمجھاؤ کہ وہ اپنے بچہ کی یاد چھوڑدے، بچہ کو کتناہی کہو کہ وہ اپنی ماں کو یادنہ کرئے، دوست کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے دوست کو یاد نہ کرئے، بھائی کو کتنا ہی کہو وہ اپنے بھائی کو یاد نہ کرے، باپ کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے بیٹوں کو یاد نہ کرے، بیٹوں کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے باپ کو یاد نہ کریں، بیوی کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے خاوند کو یاد نہ کرے یا خاوند کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنی بیوی کو یاد نہ کرے وہ قطعاً اِس بات کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ جن کے ساتھ اُن کو محبت ہے وہ اُن کی یاد چھوڑ دیں کیونکہ اُن میں حقیقی محبت ہوتی ہے مگر انسانوں میں سے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ایسے ہیں جو اپنے اندر انسانیت کی حقیقت نہیں رکھتے۔ وہ اپنے خدا کو بھُلا بیٹھے ہیں اور وہ اِس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ اُن کو یاد دلایا جائے کہ اُن کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہی اُن کا حقیقی مالک ہے۔ اگر اُن کو یہ بات یاد کرادی جائے تو پھر وہ اِس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ اُن کے دل میں خداتعالیٰ کی یاد تازہ رکھی جائے اور پھر وہ اِس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ یاد دلادلا کر خداتعالیٰ سے اُن کا تعلق مضبوط کیا جائے یہ ایک کمزوری ہے جو انسان میں حیوانیت کی وجہ سے آئی ہے۔ انسان چونکہ پیدائش کے لحاظ سے حیوانوں سے تعلق رکھتا ہے اِس لئے جب اس پر حیوانیت غالب آجاتی ہے تو جہاں ہمیں ایسے انسان نظر آتے ہیں جو ہر قسم کے تعلقات پر خدا تعالیٰ کو ترجیح دیتے ہیں اور دنیا کی محبت پر خداتعالیٰ کی محبت کو مقّدم رکھتے ہیں وہاں اِس حیوانیت کے غالب آجانے کی وجہ سے ایسے انسان بھی نظر آتے ہیں جو خداتعالیٰ کی محبت اور اُس کے تعلق کو بھُلا کر حیوانوں کی طرح کھانے پینے، عیش اور آرام کرنے، عمدہ اور آرائش کے سامان مہیّا کرنے، سیروتفریح کرنے اور دنیا کی لذّات حاصل کرنے میں ہی زندگی سمجھتے ہیں اور اُخروی زندگی سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اُن کی ساری کی ساری خواہشات اِس دنیا کی زندگی سے وابستہ ہوتی ہیں۔ مجھے اِس پر تعجب آتا ہے۔ جس طرح ہر انسان موت سے ڈرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور جس طرح موت کو اپنے سے دُور رکھنے کے لئے ایک انسان ہزاروں اور لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے اگر ہماری زندگی صرف اِسی دنیا کے ساتھ وابستہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ موت سے بچنا چاہتا ہے۔ ہمیں اِس زندگی میں ہزار ہا بلکہ کروڑ ہا انسان ایسے نظر آتے ہیں جن کے پاس دنیا کے بہترین سامانوں سے مال و دولت، آرام وآسائش اور اِس دنیا کی باقی تمام لذّتوں سے کچھ بھی موجود نہیں مگر باوجود اِس کے وہ اِس دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ اُن کے اندر اِس خواہش کا پایا جانابتاتا ہے کہ کسی اَوراہم مقصد کو پورا کرنے کے لئے اُن کو پیدا کیا گیا ہے۔ اگر کسی اَور اہم مقصد کے لئے اُن کو پیدا نہیں کیا گیا تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو باوجود تکالیف کے اُن کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور زندہ رہنے کی اور موت سے بھاگنے کی تلقین کرتی ہے۔ پس یہ وہی خواہش اور وہی حس ہے جو خداتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے کہ ۱؎ کہ جِنّ واِنس کو صرف اِس لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ وہ عبادتِ الٰہی میں اپنا وقت گزاریں اور آئندہ زندگی کے لئے روحانی آنکھیں پیدا کریں جو خداتعالیٰ کو دیکھنے کے قابل ہوں ۔ خداتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ۲؎ یعنی جو شخص اِس دنیا میں اندھا ہے اور اُس کی روحانی آنکھیں نہیں جو خداتعالیٰ کو دیکھ سکیں آخرت میں بھی وہ اندھا ہی اُٹھایا جائے گا کیونکہ آخرت میں اُس کی روحانی آنکھیں اِسی دنیا کی رؤیتِ الٰہی سے پیدا ہوں گی۔ پس جس نے اِس دنیا میں خدا تعالیٰ کو دیکھنے والی روحانی آنکھیں پیدا نہ کی ہوں گی وہ اگلے جہان میں بھی نابینا اُٹھایا جائے گا اور خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکے گا۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ اِس قسم کے لوگ جب اندھے اُٹھائے جائیں گے تو وہ کہیں گے ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا تو خدا تعالیٰ اُن کو یہ جواب دے گا کہ تم پچھلے جہان میں اندھے تھے اور تم نے میرے دیکھنے والی آنکھیں پیدا نہیں کیں جو اِسی جہان میں پیدا ہوتی ہیں اِس لئے اَب تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔اُس وقت ایسے لوگ کہیں گے کہ اگر ہم تجھے دیکھنے کے قابل نہیں تو ہماری اِس زندگی کا فائد ہ ہی کیا ہے۔ پس یہ خداسے تعلق پیدا کرنے اور دائمی زندگی حاصل کرنے کی خواہش انسان کے اندر مخفی ہے جسے یہ ظاہر میں بُھلا بیٹھا ہے مگر یہی خواہش اُس کو اندرہی اندر زندہ رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خودکشی سے منع کیا ہے۔ اگر انسان کو کھانے پینے کے لئے ہی پیدا کیاگیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر اِس کو خود کشی پر سزا ملتی ہے؟ ایک انسان کی اپنی مرضی ہے خواہ وہ کھانے پینے کے لئے زندہ رہے خواہ زندہ نہ رہے اُس کو اِس دنیا سے جُدا ہونے پر سزا دینے کی وجہ کیا ہے؟ یہی اور صرف یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس لئے پیدا کیا ہے کہ اِس دنیا میں انسان اگلے جہان کے لئے تیاری کرے۔ اگر وہ اگلے جہان کے لئے تیاری کرنے میں سُستی یا غفلت کرتا ہے اور اِس وقت کو ضائع کر دیتا ہے تو وہ مجرم ہے کیونکہ یہ وقت ایسا ہی ہے جس طرح سکول میں طالبِ علم کی پڑھائی کا وقت ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالبِ علم کلاس سے غیرحاضر رہے تو اُس کو سزا ملتی ہے کہ اُس نے اپنے پڑھائی کے وقت کو ضائع کیا اور تعلیم حاصل کرنے میں کوتاہی کی۔ اِسی طرح اگر کوئی شخص اس دنیا کی زندگی میں اگلی زندگی کے لئے تیاری نہیں کرتا تو وہ سزا کا مستحق ہے کہ اُس نے اپنے وقت کو ضائع کر دیا۔
    پس انسان کے لفظ میں خدا تعالیٰ نے اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا نام انسان اِس لئے رکھا گیا ہے کہ تم دو محبتیں اور دو تعلق پیدا کرو۔ ایک خدا سے محبت کرو اور اُس سے تعلق پیدا کرو اور دوسرے بنی نوع انسان سے محبت اور اُس سے تعلق پیدا کرو۔ عبادت کے جتنے حصے ہیں وہ سارے کے سارے پہلی شق کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یعنی خداتعالیٰ سے محبت کرنے کے ساتھ اُن کا تعلق ہے۔ اور باقی جتنے اس قسم کے احکام ہیں کہ جھوٹ نہ بولو، چوری نہ کرو، خیانت نہ کرو، فریب نہ کرو، دھوکا نہ دو، غیبت نہ کرو، چغل خوری نہ کرو، ترش روئی سے پیش نہ آؤ، ہشاش بشاش رہو، نیک سلوک کرو، بزرگوں کی عزت کرو، اپنے اموال میں مستحقین کا حصہ قائم کرو، دوسروں کے دُکھوں اور غموں میں شریک ہو، عدل و انصاف کا معاملہ کرو، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو یہ سارے کے سارے احکام ایسے ہیں جو بنی نوعِ انسان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پس انسان اُس وجود کا نام ہے جو دو محبتیں اور دو تعلق رکھنے والا ہو ایک خدا سے اور دوسرے بنی نوع انسان سے۔ اگر یہ دونوں باتیں اُس میں پائی جاتی ہیں تو وہ انسان ہے اور اگر یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں تو وہ حیوان ہے خواہ اُس کی شکل انسانوں جیسی ہو کیونکہ خالی شکل کوئی چیز نہیں صرف حقیقت ہی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے ورنہ خالی شکل تو ایسی ہی ہے جس طرح کسی چیز کی تصویر ہوتی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ بڑے سے بڑے پہلوان کی تصویر ایک بچہ پھاڑ کر پھینک سکتا ہے اگر رستم کی تصویر کاغذ پر بنی ہوئی ہو تو دو سال کا بچہ آسانی سے اُسے پھاڑ سکتا ہے۔ پس وہ انسان جس کے اندر انسانیت والی یہ دو باتیں نہیں پائی جاتیں وہ بھی محض ایک تصویر ہے جس کی خداتعالیٰ کے نزدیک کوئی قدر اور کوئی عزت نہیں۔
    آگے پھر انسان کے دو حصے ہیں ایک آدم کہلاتا ہے اور ایک کو کا نام دیا گیا ہے اور جب ہم آدمی کا لفظ بولتے ہیں تو اِس کے معنی ہوتے ہیں آدم کی اولاد، مرد ہو یا عورت۔ بچوں کو ڈرانا ہو تو عورتیں کا نام لے کر ڈراتی ہیں وہ بھی یہی ہے۔ بعض بُڑھیا عورتیں جن کے دانت نِکل چکے ہوں کمر خمیدہ ہو چکی ہو اُس کے قریبی رشتہ دار بچے بھی اُس کو دیکھ کر ڈرنے لگتے ہیں یہ خیال کر کے کہ اتنے ہزار سال پہلے کی دادی اگرآ جائیں تو یقینا اُس کو دیکھ کر ڈر کے مارے بچے بھاگتے پھریں۔ کہہ کر عورتیں اپنے بچوں کو ڈراتی ہیں مگر یہ دراصل وہی دادی ہیں جو آدم علیہ السلام کی بیوی تھیں۔ آدم علیہ السلام کا نام تو قرآن مجید میں آتا ہے اور کا نام اسلامی لٹریچر اور احادیث وغیرہ میں مذکور ہے۔ یہ دونوں نام یعنی آدم اور بامعنی لفظ ہیں۔ آدم کے معنی ہیں سطح زمین پر رہنے والا جو کھیتوں میں کام کرتا ہے، تجارتیں کرتا ہے، سفر کرتا ہے۔ عربی میں اَدِیمُ الارْض سطح زمین کو کہتے ہیں اور آدم اُس وجود کا نام ہے جو سطح زمین پر رہتا ہے اور میدانوں میں کام کر کے اپنی روزی کماتا ہے۔ اور کا لفظ حَوٰی یَحْوِیْ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ڈھانپ لینا۔ کسی چیز کو جمع کر لینا یا کسی چیز کا مالک ہو جانا تو کے معنی ہیں جو بچوں کو گھیر کر اپنے اِردگرد جمع کر لیتی ہے اور اُن پر حکومت کرتی ہے اور گھر کی مالکہ کہلاتی ہے۔ پس یہ دونوں نام بامعنی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس کو ہم آدم کہتے ہیں واقعہ میں اُس کا نام ہی آدم تھا یا اُس کی اِن صفات کی وجہ سے اُس کا نام آدم رکھا گیا ہے اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں میں جس وجود کا نا م رکھا گیا ہے واقعہ میں اُس کا نام ہی تھا یا اُس کی اِن صفات کو ظاہر کرنے کے لئے اِس کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ بہرحال جو کچھ بھی ہو اگر فی الواقعہ یہ اُن کے نام تھے تو اُن کے یہ نام حقیقت کو ظاہر کرنے والے تھے اور اگر یہ اُن کی صفات تھیں تو پھر تو صفات ہی تھیں۔ پس آدم کے معنی ہیں جو محنت کرے، میدانوں میں کام کاج کرے، کھیتوں میں ہل چلائے اور زمین کو درست کر کے رہنے کے قابل بنائے۔ اور کے معنی ہیں وہ عورت جو گھر میں بیٹھتی ہے، بچوں کی نگرانی کرتی ہے اور گھر کی رانی کہلاتی ہے۔ پس ہر عورت جو آج بھی اِن صفات کو اپنے اندر رکھتی ہے یعنی گھر کی نگرانی کرتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے وہ ہے اور ہر شریف آدمی جو محنت کرتا ہے اور کام کرتا ہے اور زمین کو رہنے کے قابل بناتا ہے وہی انسان صحیح معنوں میں آدمی ہے۔ اور جو لوگ غفلت کی وجہ سے گھر میں بیٹھے مکھیاں مارتے ہیں اور محنت نہیں کرتے یا بعض امراء اور عیاش لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے باپ دادا کی کمائیاں کھاتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے وہ آدمی تو ہیں مگر صرف نام کے، کام کے آدم نہیں کیونکہ آدم کے معنی ہیں جو باہر نکل کر کام کرے اور زمین کی درستی کر کے اُسے رہنے کے قابل بنائے۔ اِسی طرح وہ عورتیں جو گھر کی خبر گیری نہیں کرتیں، بچوں کی تربیت نہیں کرتیں، گھر کے تمام سامانوں کا انتظام نہیں کرتیں اور اپنی اولاد کی تربیت اِس رنگ میں نہیں کرتیں کہ آئندہ نسل نیک، متقی، بہادر اور جری اور دین کی خاطر ہر طرح کی قربانی کرنے والی اور دین کا علم حاصل کرنے والی ہو وہ اَور ہیں کی بیٹیاں صرف نام کی ہیں کام کی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے اِرد گرد جمع نہیں کیا اور صحیح طور پر گھر کی مالکہ ہونے کا ثبوت نہیں دیا اور جیسا کہ گھر کی مالکہ کا حق تھا۔ بچوں کی بہتری اور اُن کی تربیت کا خیال رکھے اِس حق کو ادا نہیں کیا اور اولاد کی نگرانی کا جو اُن پر فرض تھا اِس فرض کو ادا نہیں کیا۔ پس وہ عورت جو بچوں کو اپنے اِرد گرد جمع کر کے اُن کی بہتری اور اُن کی تربیت کے سامان نہیں کرتی اور گھر کے کاموں کی نگرانی نہیں کرتی وہ ہے مگر صرف نام کی نہ کہ کام کی۔
    پس اگر ایک عورت کی حقیقی بیٹی کہلانا چاہتی ہے تو اُس کا فرض ہے کہ گھر کے انتظام کو درست رکھے، اولاد کی صحیح تربیت کرے، ایسی تربیت کہ وہ گھر کی مالکہ کہلانے کی مستحق ہو۔ مالک کے یہ معنی ہیں کہ اِس کے ماتحت اِس کے فرمانبردار ہوں لیکن اگر ایک عورت بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں کرتی تو اولاد نافرمان ہو گی کیونکہ صحیح تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں یہ عادت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بات نہیں مانتے اور پھر اُن میں بدی کی عادت ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔
    کہتے ہیں ایک آوارہ گرد لڑکا تھا۔ اُس کی ماں اُس سے بہت محبت کرتی تھی جو محبت غلط قسم کی تھی وہ اُس کو کسی بُرائی سے نہیں روکتی تھی۔ شروع شروع میں جب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی چوری کرتا تو وہ اُسے منع نہ کرتی اور اگر کوئی اُس کی ماں سے شکایت کرتا تو کہہ دیتی کہ میرا بچہ تو ایسا نہیں۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اُس نے بڑی بڑی چوریاں شروع کر دیں اور قتل و غارت تک نوبت پہنچی۔ آخر کسی کو قتل کرنے کے جرم میں پکڑا گیا اور اُس کو پھانسی کی سزا ملی۔ جب پھانسی کا وقت قریب آیا تو حُکّام نے کہا اگر تمہاری کوئی خواہش ہو یا کسی سے ملنا چاہو تو ہم اِس کا انتظام کر دیں۔ اُس نے کہا ہاں میری ماں کو بُلوا دو مَیں اُس سے ملنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ جب اُس کی ماں کو بُلوایا گیا تو اُس نے اپنی ماں سے کہا مَیں کان میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ ماں نے جب اپنا کان اُس کے قریب کیا تو اُس نے اتنے زور سے اُس کے کان پر کاٹا کہ وہ تڑپ اُٹھی۔ جیل کے ملازم جو قریب ہی کھڑے تھے یہ نظارہ دیکھ کر کہنے لگے ارے ظالم! تم ابھی چند منٹ کے اندر پھانسی کے تختے پر چڑھنے والے ہو پھر بھی ایسا ظلم کر رہے ہو یہ کہاں کی شرافت ہے کہ تم نے اِس آخری وقت میں اپنی ماں کا کان کاٹ کھایا۔ اُس نے کہا آج اِسی ماں کی وجہ سے تو مجھے پھانسی کی سزا ملی ہے اگر یہ میری صحیح تربیت کرتی تو آج مَیں بھی نیک انسان ہوتا لیکن اِس نے میری صحیح تربیت نہ کی۔ بچپن میں جب مَیں غلطیاں کرتا تو یہ ماں اُن غلطیوں پر پردہ ڈالتی اگر مَیں کسی کی کوئی چیز اُٹھا لاتا اور وہ اُس کی تلاش میں میرے پیچھے آتے تو یہ کہہ دیتی کہ میرا بچہ تو تمہاری چیز نہیں لایا۔ اِسی طرح آہستہ آہستہ میرے اخلاق بگڑتے گئے یہاں تک کہ مَیں ظالم، چور اور ڈاکو بن گیا اور آج مَیں اِن گناہوں کی وجہ سے پھانسی کی سزا پانے والا ہوں۔
    پس عورت اِسی صورت میں صحیح معنوں میں کی بیٹی کہلاسکتی ہے جب وہ بچوں کی صحیح تربیت کرے اور اُن کے اخلاق کی نگرانی کرے۔ اگر بچوں کے اخلاق کی نگرانی نہیں کرتی تو وہ ہرگز کی بیٹی اور گھر کی مالکہ کہلانے کی مستحق نہیں ۔ پس کی بیٹیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح رنگ میں تربیت کریں۔
    قوم میں جنت ماؤں کے ذریعہ ہی آتی ہے
    رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ماں کے قدموں
    کے نیچے جنت ہے۔۳؎ یہ کتنا لطیف فقرہ ہے اورآنحضرت ﷺنے ماں کی کتنی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ عام طور پر لوگ اِس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ ماں کی اطاعت اور فرمانبرداری میں جنت ملتی ہے یہ بھی درست ہے لیکن اِس کے اصل معنی یہ ہیں کہ در حقیقت قوم میں جنت تبھی آتی ہے جب مائیں اچھی ہوں اور اولاد کی صحیح تربیت کرنے والی ہوں۔اگر مائیں اچھی نہ ہوں اور اولاد کی صحیح تربیت نہ کریں تو اولاد بھی کبھی اچھی نہیں ہوگی اور جس قوم کی اولاد اچھی نہیں ہوگی اُس قوم میں جنت بھی نہیں آئے گی۔ پس درحقیقت قوم میں جنت ماؤں کے ذریعہ سے ہی آتی ہے۔ قوم کی مائیں جس رنگ میں بچوں کی تربیت کریں گی اُسی رنگ میں اُس قوم کے کاموں کے نتائج بھی اچھے یا بُرے پیدا ہوں گے۔اگر مائیں بچوں کی صحیح تربیت کریں گی تو اُس قوم کے کاموں کے نتائج اچھے پیدا ہوں گے اور وہ قوم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی اور اگر مائیں بچوں کی صحیح تربیت نہیں کریں گی تو اس قوم کے کاموں کے نتائج بھی اچھے پیدا نہیں ہوںگے اور وہ قوم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کی تعلیم پر خاص زور دیا ہے۔ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ وعظ فرمارہے تھے کہ اگر کسی شخص کے ہاں تین لڑکیاں ہوںاور وہ اُن کو اچھی تعلیم دلائے اور اچھی تربیت کرے تو وہ شخص جنت کا مستحق ہو جائے گا۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اگر کسی کے تین لڑکیاں نہ ہوں بلکہ دو ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کے دو لڑکیاں ہوں اور وہ اُن کو اچھی تعلیم دلائے اور اچھی تربیت کرے تو وہ بھی جنت کا مستحق ہو جائے گا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کے ہاں ایک ہی لڑکی ہو اوروہ اُس کو اچھی تعلیم دلائے اور اچھی تربیت کرے تو وہ جنت کا مستحق ہو جائے گا۔۴؎
    اَب دیکھورسول کریم ﷺ نے عورتوں کو تعلیم دلانے کی کتنی اہمیت بیان فرمائی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ عورتوں کی تعلیم وتربیت کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ مجھے خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا ہے کہ اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہوجائے گی۔ گویا خداتعالیٰ نے اسلام کی ترقی کو تمہاری اصلاح کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ جب تک تم اپنی اصلاح نہ کر لو ہمارے مبلّغ خواہ کچھ کریں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک دنیا پر یہ ظاہر نہ کر دیا جائے کہ اسلام نے عورت کو وہ درجہ دیا ہے اور عورتوں کو ایسے اعلیٰ مقام پر کھڑا کیا ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اِس میں اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتی اُس وقت ہم غیروں کو اسلام کی طرف لانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ ایک غیر مذہب کا آدمی قرآنِ مجید کا مطالعہ اور اِس پر غور اور اِس پر عمل تو تب کرے گا جب وہ مسلمان ہو جائے گا۔ مسلمان ہونے سے پہلے تو وہ ہمارے عمل اور ہمارے نمونہ سے ہی اسلام کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔ پس عورتوں کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔قادیان میں تو اِس کام کے لئے ہر قسم کی جدوجہد ہو رہی ہے۔ یہاں تعلیم کا انتظام بھی موجود ہے۔ لڑکیوں کے لئے مدرسہ اور دینیات کا کالج بھی ہے مگر جیساکہ مَیں بتا چکا ہوں اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یہ کام ہمارے بس کا نہیں بلکہ یہ کام تمہارے ہاتھوں سے ہو سکتا ہے جب تک تم ہماری مد د نہ کرو اور ہمارے ساتھ تعاون نہ کرو اور جب تک تم اپنی زندگیوں کو اسلام کے فائدہ کے لئے نہ لگاؤ گی اُس وقت تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کے دو حصے کر کے اِس کے اندر الگ الگ جذبات پیدا کئے ہیں۔ عورت مرد کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتی اور مرد عورت کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا پس چونکہ ہم ایک دوسرے کے جذبات پہچاننے سے قاصر ہیں اِس لئے مردوں کی صحیح تربیت مرد ہی کرسکتے ہیں اور عورتوں کی صحیح تربیت عورتیں ہی کر سکتی ہیں۔ ہم عورتوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکتے ہمارے دلوں میں تو مردوں والے جذبات ہیں عورتوں کے دُکھ اور اُن کی ضروریات عورتیں ہی سمجھ سکتی ہیںاور وہی اُن کے شکوک کا ازالہ اور اُن کی مشکلات کاحل اور اُن کی صحیح اصلاح کر سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید فرماتا ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے وہی مذہب مفید ہو سکتا ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے ہو۔ اگر انسان مذہب بنائے گا اور اُس مذہب کا بنانے والا مرد ہوگاتو وہ صرف مردوں کے جذبات اور مردوں کے خیالات کو ہی ملحوظ رکھے گا وہ عورتوں کے جذبات اور عورتوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکے گا۔ اور اگر اُس مذہب کو بنانے والی عورت ہوگی تو وہ صرف عورتوں کے جذبات اور عورتوں کے خیالات کو ملحوظ رکھ سکے گی اور مردوں کے جذبات اور مردوںکے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکے گی۔ پس اِس خلیج کو جو مرداور عورت کے درمیان حائل ہے اگر کوئی وجود پاٹ سکتا ہے تو وہ خداتعالیٰ ہی ہے اور وہی مذہب ساری دنیا کے لئے مفید ہو سکتا ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے ہو۔ خداتعالیٰ ہی ہے جس نے مردوں کو بھی پیدا کیا ہے اور عورتوں کو بھی، اور جو عورتوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اور مردوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کی خوبیوں سے بھی واقف ہے اور مرودں کی خوبیوں سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کی قابلیت سے بھی واقف ہے اور مردوں کی قابلیت سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کے جذبات کو بھی سمجھتا ہے اور مردوں کے جذبات کوبھی جانتا ہے قرآن مجید میں آتا ہے۔ ۵؎ کہ اِس دنیا میں دو دریا پاس پاس اور اکٹھے بہتے ہیں مگر باوجود پاس پاس اور اکٹھے بہنے کے وہ آپس میں ملتے نہیں۔ یہ دو دریا مرد اور عورت ہی ہیں جو ایک دوسرے کے پاس پاس رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے اُن کو محبت اور پیار بھی ہوتاہے۔ بہن بھائی سے محبت کرتی ہے اوربھائی بہن سے محبت کرتاہے، خا وند بیوی سے محبت کرتا ہے اور بیوی خاوند سے محبت کرتی ہے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کی خاطر بعض دفعہ اپنی جا نیں بھی قربان کردیتے ہیں لیکن پھر بھی عورت عورت ہی ہے اور مرد مرد ہی ہے اِــــــــــــن دونوںکے درمیان ایک پردہ حائل ہے اور یہ ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے سوائے اِس کے کہ خدا تعالیٰ میں ہو کر آپس میں مل جا ئیںیہی ایک رشتہ ہے جو ایک دوسر ے کوآپس میں ملاتا ہے۔خدا تعا لیٰ نے اِس لئے مجھے کہا ہے کہ عورتوں کی اصلاح کروکہ مَیں امام ہوں لیکن جیسا کہ مَیں نے بتا یا ہے یہ کام تمہاری مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔تم ہی ہو جو یہ کام کر سکتی ہو ۔تم ہی ہو جواسلام کی ترقی کی داغ بیل ڈال سکتی ہو۔یہ کام صرف تمہا رے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے اور تمہا ری مدد اور تعاون کے بغیر اِس کام میں کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ پس مَیںیہ اللہ تعا لیٰ کا پیغام تم تک پہنچاتا ہوںکہ اگر تم پچاس فیصدی عورتوںکی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حا صل ہو جا ئے گی۔پس جو عورتیں اِسلام کا درد رکھتی ہیں اور اس کی ترقی چاہتی ہیںاور اپنے اندر اخلاص رکھتی ہیںاُن کا فرض ہے کہ عورتوں کی اصلاح کے لئے کھڑی ہوں۔
    مَیں نے عورتوں کی اصلاح کے لئے لجنہ اماء اللہ قائم کی ہوئی ہے لجنہ کو چاہئے کہ وہ اپنی تنظم کومکمل کرے اور عورتوں کی اصلاح اور اُن کی تربیت اور اُن کے اخلاق کی درستی کی کوشش کرے اور عورتوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے جن سامانوں کی ضروت ہے وہ سامان مہیا کرے۔ قادیان میں تو لجنہ اماء اللہ دیر سے قائم ہے باقی سارے ہندوستان میں چالیس پچاس لجنائیں ہیں حالانکہ اِس کے مقابل مردوں کی آٹھ سَو سے اوپر انجمنیں ہیں۔ جہاں مردوں کی آٹھ سَو سے اُوپر انجمنیں ہیں وہاں عورتوں کی چالیس پچاس لجناؤں کے معنی یہ ہیں کہ ابھی تک عورتوں کا بیسواں حصہ بھی منظم نہیں ہوا۔ کام کا سوال تو دوسری چیز ہے پہلا کام تو یہی ہوتا ہے کہ تنظیم مکمل کی جائے جب تک تنظیم کے سامان ہی پیدا نہ ہوں اُس وقت تک آگے کام کس طرح ہو سکتا ہے۔ پس آج مَیں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جتنی عورتیں یہاں جلسہ پر آئی ہوئی ہیں اگر اُن کے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم نہیں ہے تو وہ یہاں سے واپس جا کر لجنہ اماء اللہ قائم کریں اور اگر وہاں لجنہ اماء اللہ قائم کرنے کے سامان نہ ہوں مثلاً وہاں کوئی پڑھی لکھی عورت نہ ہو جو کام کرسکے تو وہ مرکزی لجنہ اماء اللہ سے مِل کر بات کرتی جائیں اور ہدایات لے لیں اور اپنا نام و پتہ وغیرہ اُن کو لکھاتی جائیں تاکہ ان کے ہاں لجنہ کے قیام کا سامان کیا جائے۔اگر ہم عورتوں کی اصلاح کا کام کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ جہاں ایک سے زیادہ عورتیں ہوں وہاں لجنہ اماء اللہ قائم کی جائے۔ لجنہ کے معنی ہیں کمیٹی۔ اردو میں جس کو کمیٹی کہتے ہیں عربی میں اس کانام لجنہ ہے پس ہر احمدیہ جماعت میں مستورات کی ایک کمیٹی ہو جہاں پڑھی لکھی عورتیں موجود ہوں وہ لجنہ اماء اللہ مرکزیہ سے خط وکتابت کر کے قواعد وغیرہ منگوالیں اور اپنے ہاں کی عورتوں کو جمع کر کے اُن کو وہ قواعد وغیرہ سُنائیں اور لجنہ قائم کریں۔ اورجہاں پڑھی لکھی عورتیں موجود نہ ہوں وہ کسی مرد سے خط لکھوالیں اور مرکزی لجنہ کو اطلاع دیں اور اپنی ضروریات اُن کے سامنے بیان کریں اور اگر وہ عورتیں یہاں جلسہ پر آئی ہوئی ہوں تو وہ خود لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی کارکنوں سے مل کر اپنی ضرورتیں ان کے سامنے بیان کریں تاکہ مرکزی لجنہ اُن کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے مسئلہ کو حل کر سکے اور ہر جماعت میں لجنہ قائم ہو سکے۔ پس جب تک تمام عورتوں تک آواز نہ پہنچائی جاسکے اُس وقت تک کام نہیں ہو سکتا اور آواز پہنچانے کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تمام عورتوں کو منظم کیا جائے اور ہر گاؤں اور ہر قصبہ اور ہر شہر میں لجنائیں قائم کی جائیں۔ اِس وقت ہندوستان سے باہر بھی بعض جگہوں پر لجنائیں قائم ہیں لیکن نہ تو ہندوستان کے اند ر پوری طرح کام ہو رہا ہے اور نہ باہر ہی کام ہو رہا ہے پس مَیں جماعت کی خواتین کو خصوصیّت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہاں سے یہ پُختہ ارادہ کر کے جائیں کہ اپنے شہر اور اپنے گاؤں میں لجنہ قائم کئے بغیر وہ دم نہیں لیں گی اور اگر اُن کے ہاں پڑھی لکھی عورتیں نہ ہوں اور خط وکتابت کرنے میں دِقت ہو تو وہ کسی مرد سے خط لکھوالیں اور لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کو اطلاع دیں اور اپنی ضروریات اُن کے سامنے بیان کریں یا مجھے خط لکھوا دیں مَیں اُن کی ضروریات پوراکرنے کا انتظام کرادوںگا۔ میرا منشاء ہے مبلّغین کے سپرد بھی یہ کام کیا جائے کہ جہاں جہاں وہ جائیں وہاں لجنہ اماء اللہ ضرور قائم کریں اور اِس سال کے اندر اندر ہر گاؤں ،ہر قصبہ اور ہر شہر میں یہ کام ہو جائے۔ اِس وقت گاؤں تو الگ رہے کئی شہروں میں بھی ابھی لجنائیں قائم نہیں۔ پس اِس سال اِس کے لئے پوری پوری کوشش ہونی چاہئے کہ ۱۹۴۵ء کے اندر اندر ہر جماعت میں عورتوں کی تنظیم اور لجنہ کا قیام ہو جائے تا کہ خدا تعالیٰ تو فیق دے تو دوسرے سال ہم عورتوں کی اصلاح اور تربیت کی طرف قدم اُٹھاسکیں۔
    لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کو بھی مَیں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے دفتر کو مضبوط کرے اور اپنے کام کی اہمیت کو سمجھے۔ اِس وقت تک قادیان کی لجنہ اماء اللہ کو ہی لجنہ مرکزیہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ قادیان کی لجنہ دوسرے شہروں کی لجناؤں کی طرح الگ ہو اور لجنہ مرکزیہ الگ ہو۔ پھر لجنہ مرکزیہ چھ سات مختلف کاموں کے لئے مختلف سیکرٹری مقرر کرے اور اُن کے الگ الگ دفاتر بنا کر جن جماعتوں کا اُنہیں پتہ ہو اُن کے ساتھ خط وکتابت کریں اور جن جماعتوں کا اُنہیں علم نہ ہواُن کا پتہ صدر انجمن احمدیہ کے دفتر سے لے لیں اور پھر وہاں کے مرد سیکرٹری سے خط وکتابت کر کے وہاں کی عورتوں کے متعلق دریافت کر لیں اور پھر وہاں پر لجنہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ پس ایک طرف تو مَیں ہر عورت کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہاں سے وہ اِس ارادہ کے ساتھ اپنے وطن واپس جائے کہ وہاں جاکر ضرو رلجنہ اماء اللہ قائم کرے گی اور دوسری طرف مَیں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کو اِس ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اِس سال کے اندر اندر ہندوستان کے ہر شہر ،ہر قصبہ اور ہرگاؤں میں ضرور لجنہ اماء اللہ قائم کردے گی اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ہندوستان سے باہر بھی لجنائیں قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔مَیں دونوں کواِس لئے توجہ دلاتا ہوں کہ بعض دفعہ افراد سُستی کر جاتے ہیں اور بعض دفعہ مرکز سُستی کرجاتا ہے اِس لئے مَیں نے دونوں کو توجہ دلادی ہے کہ اگر مرکز سُستی کرے گا توافراد اِس سُستی کو دُور کرنے کی طرف مرکز کو توجہ دلاسکیںگے اور اگر افراد سُستی کریں گے تو مرکزاُن کی اصلاح کی کوشش کرے گا۔ اِس وقت تک مرکزی لجنہ کا قصور ہے اور اُن کی غلطی ہے کہ ابھی تک اُنہوں نے اپنے دفتر کو منظم نہیں کیا۔ بڑے کام بغیر کسی عملہ کے نہیں ہوسکتے مَیں نے کئی دفعہ لجنہ کی عورتوں کو توجہ دلائی کہ وہ دفتر میں ایسی مستقل کارکن عورتیں مقرر کریں جوپورا وقت دفتر میں کام کریں۔ آخر عورتیں مدرسوں میں پڑھاتی ہیں۔ ڈاکٹری کرتی ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ مستقل طور پر کام کرنے والی عورتیں دفتر کو نہ مل سکیں۔ پس مَیں سمجھتا ہوں کہ ایسی عورتیں مِل سکتی ہیں جو مناسب گزارہ پر کلر ک یا سیکرٹری کے طور پر باقاعدہ دفتر میں کام کریں اور باہر کی لجنات سے خط وکتابت کریں۔ اِس وقت یہ کام ایسی عورتوں کے سپرد ہے جن کو کبھی فرصت ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی اِس لئے وہ اِس رنگ میں کام نہیں کر سکتیں جس رنگ میں کہ ہونا چاہئے۔ مَیں نے خدام کو بھی شروع شروع میں نصیحت کی تھی کہ اپنے دفتر میں مستقل کارکن رکھو اور اِس بات کی پرواہ نہ کرو کہ ایسے کارکنوں کو گزارے کے لئے کچھ رقم دینی پڑے گی کیونکہ جب تک تم مستقل کارکن نہیں رکھوگے اُس وقت تک تم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ خدام نے ایسے کارکن رکھے اور بہت حد تک ہندوستان میں اُن کی تنظیم ہوچکی ہے اِسی طرح لجنہ بھی جب تک مستقل کارکن دفتر میں مقرر نہیں کرے گی اُس وقت تک وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ـیہ خیال بالکل غلط ہے کہ بغیر مستقل طور پر کام کرنے والی عورتوں کے وہ اِس کام میں کامیاب ہو سکیں گی۔ شاید عورتیں آج سے پانچ سال پہلے منظم ہو جاتیں اگر مرکزی دفتر میں مستقل طور پر کام کرنے والی کلرک عورتیں مقرر ہوتیں جو باقاعدہ باہر کی عورتوںسے خط وکتابت کرتیں۔ پس مَیںلجنہ اماء اللہ مرکزیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنوری ۱۹۴۵ء میں وہ اپنے کام کی سکیم مرتب کر لیں اور ایسی کلرک عورتیں اپنے دفتر میں مقرر کریں جن کا یہ کام ہو کہ وہ ہر روز بیرون جات کی عورتوں سے خط وکتابت کریں اور جہاں کے پتے ان کو معلوم نہ ہوں صدر انجمن کے ذریعہ سے وہاں کے مرد سیکرٹریوں کے پتے دریافت کرکے اُن کو خط لکھ کر وہاں کی عورتوں کے متعلق دریافت کرلیں اورپھر ان عورتوں سے خط وکتابت کر کے وہاں لجنہ قائم کریں۔ اِس طرح جب ہر جگہ لجنہ اماء اللہ قائم ہوجائے گی تو اُن کی ضرورتوں کا لجنہ مرکزیہ کو علم ہوتا رہے گا اور اُن کی اصلاح اور تربیت کی طرف توجہ ہو سکے گی۔ اگر کسی جگہ قرآن مجید جاننے والی کوئی عورت نہ ہوگی تو وہاں کی عورتیں لجنہ مرکزیہ کو لکھیں گی کہ ہمارے لئے اُستانی مقرر کرو جو ہمیں قرآنِ شریف پڑھائے۔اگر کسی جگہ اُردوجاننے والی کوئی عورت نہیں ہوگی تو وہاں کی عورتیں، لجنہ مرکزیہ کو لکھیں گی کہ کسی اُستانی کا انتظام کیا جائے جو ہمیں اُرود پڑھائے تاکہ ہم سلسلہ کے اخبار اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھ سکیں۔ تو وہاں کی لجنہ، مرکزی لجنہ سے خط وکتابت کر کے اپنی ضرورتیں اُن کے سامنے بیان کرے گی اور لجنہ مرکزیہ کا کام ہوگا کہ اُن کی اِس قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ پس جب تک عورتوں کی تربیت کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک کام نہیں بن سکتا۔
    عورت نہایت قیمتی ہیرا ہے لیکن اگر اِس کی تربیت نہ ہو تو اس کی قیمت کچے شیشہ کے برابر بھی نہیں کیونکہ شیشہ تو پھر بھی کسی نہ کسی کام آسکتا ہے لیکن اُس عورت کی کوئی قیمت نہیں جس کی تعلیم و تربیت اچھی نہ ہو اور وہ دین کے کسی کام نہ آسکے ۔ پس جب تک افراد کی درستی نہ ہواُس وقت تک قوم کبھی درست نہیں ہو سکتی کیونکہ قوم افراد کے مجموعہ کا نام ہے پس لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے بہت بڑا کام کرنا ہے جو یہ ہے کہ جماعت کی تمام عورتوں کو اِس قابل بنادیا جائے کہ وہ دین کی باتوں کو پڑھ کر اُن پر غور کر سکیں اور اُن کو سمجھ سکیں ـ۔جب دینی باتوں کی تفصیلات پر غور کرنے کامادہ اُن کے اندر پیدا ہو جائے گا اِس کے بعدپھر یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ سکیں اور دین کے لئے مفیدکام کر سکیں۔ جس طرح انسان کا ہاتھ ہی ہوتا ہے جو سارے کام کرتا ہے لیکن بندھا ہوا یا زخمی ہاتھ کیا کام کر سکتا ہے اسی طرح عورتیں بے شک قیمتی اور مفید وجود ہیں جو بہت کام کر سکتی ہیں لیکن پہلے ان کو مفید اورکام دینے کے قابل بنانا پڑے گا۔ اور جس طرح پہلے ہیرے کو تراشا جاتا ہے اور پھر وہ مفید اور زینت کا موجب ہوتا ہے اِسی طرح عورتوں کی بھی اصلاح کرنی پڑے گی پھر وہ دین کے لئے مفید ہوسکیں گی۔ پس لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے ابھی بہت لمبی منزل طے کرنی ہے اور بہت بڑا کام اُس کے سامنے ہے جس کے لئے رات اور دن قربانی کی ضرورت ہے اور ایسی عورتوں کی ضرورت ہے جو اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کریں جس طرح مرودں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔ پس مَیں لجنہ مرکزیہ کو ایک مہینہ تک کی مُہلت دیتا ہوں کہ اِس مہینہ کے اندر اندر یعنی جنوری ۱۹۴۵ء ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کر لیں۔
    دفتر کے لئے زمین بھی خریدی جاچکی ہے جو اُمِّ طاہر مرحومہ کی یاد گار ہے اِس کی قیمت قرض لے کر ادا کر دی تھی۔ یہ جگہ دارالانوار کو جاتے ہوئے پریس کے قریب ہے جہاں سٹرک کا موڑ ہے وہاں لجنہ کے دفاتر اچھی طرح بن سکتے ہیں۔ یہ جگہ خالص احمدی علاقہ میں ہے جہاں عورتوں کو جمع ہونے میں کوئی تکلیف نہیںہو سکتی اور پھر صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر بھی وہاں سے قریب ہیں جہاں سے ضرورت کے موقع پر ہر قسم کی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ جنگ کی وجہ سے پیدا شُدہ مشکلات کی وجہ سے ہم فی الحال وہاں پر عمارت تو نہیں بنا سکتے زمین وقت پر ملک عمر علی صاحب سے خرید لی گئی تھی جو اُس وقت ملک صاحب نے سلسلہ کی خاطر قربانی کر کے چارہزار روپیہ میں دیدی تھی جو اُس وقت کی قیمتوں کے لحاظ سے بھی سَستی تھی اگر وہ اِس سے زیادہ قیمت کا مطالبہ کرتے تو اُن کا حق تھا ۔میں نے اُمِّ طاہر مرحومہ سے کہا کہ تم ملک صاحب سے کہو کہ سلسلہ کے لئے اِس زمین کی ضرورت ہے بغیر کسی نفع کے وہ یہ زمین سلسلہ کے لئے دید یں۔ چنانچہ اُنہوں نے بغیر کسی نفع لئے دیدی حالانکہ اُس وقت بھی اس کی قیمت اس رقم سے زیادہ تھی جو انہوں نے لی اور اَب تو موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے وہ پچیس تیس ہزار روپیہ کی ہے۔ اگر جنگ کے بعد وہاں عمارت بنائی جائے تو میرا ندازہ ہے کہ تیس چالیس ہزاز روپیہ عمارت پر خرچ آئے گا جس میں کچھ کمرے دفاتر کے لئے مخصوص ہوں، تقریروں وغیرہ کے لئے ایک ہال ہو جس میں ہزار ڈیڑھ ہزار عورتیں جمع ہو کر اپنے اجلاس وغیرہ کر سکیں، کچھ کمرے بطور مدرسہ کے ہوں، کچھ کواٹر بن جائیں تاکہ دفاتر وغیرہ میں کام کرنے والیاں وہاں رہ سکیں، ایک لائبریری بھی ہو اِن سب کاموں کے لئے کم ازکم پندرہ بیس کمرے ہوں اور ایک ہال ہو جس میں اجلاس وغیرہ ہو سکیں۔ میرا اندازہ ہے کہ غالباً تیس چالیس ہزار روپیہ اِس عمارت پر خرچ آئے گا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی مستورات کے لئے اِس رقم کا جمع کرناکوئی بڑی بات نہیں۔ مَیں نے دیکھا ہے باوجود اِس کے کہ گو ہماری جماعت کی مستورات دوسری مستورات سے تعلیم میں زیادہ نہیں ہیں مگر ان کے اندر خدا کے فضل سے قربانی کی ایسی روح اور ایسا اخلاص پایا جاتا ہے کہ چندہ کی جو تحریک بھی ان کے سامنے پیش کی جائے فوراً ہی وہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے۔
    آج سے بیس سال قبل مَیں نے برلن میں مسجد بنانے کے لئے جماعت کی عورتوں میں چندہ کی تحریک کی تو اُس میں نمایاں کامیابی ہوئی اور فوراً ہی ستّر ہزار روپیہ عورتوں نے جمع کر دیا۔مَیں سمجھتا ہوں ہندوستان میں کسی قوم کی عورتیں بھی ایسی نہیں جن کے اندر قربانی کا ایسا مادہ پایا جاتا ہو جیسا کہ ہماری جماعت کی عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ اگر ہندوستان کی چھوٹی سے چھوٹی قوم کے برابر بھی ہماری تعداد ہوتی تو آج خدا کے فضل سے ہمارے مرد تو مرد ہماری عورتیں بھی دین کی خاطر اتنی رقم پیش کر دیتیں کہ یورپ کے مال دار ممالک کے لوگ بھی مذہب کی خاطر اتنی رقم پیش نہ کر سکتے اور نہیں کیا کرتے۔ اِس وقت ہمار ی کل تعداد چار پانچ لاکھ ہے اور سِکّھوں کی تعداد جو ہندوستان میں سب سے چھوٹی اقلیت ہیں چالیس لاکھ ہے گویا ہم اُن سے بھی آٹھواں دسواںحصہ ہیں لیکن اگر ہماری تعداد سکّھوں کے برابربھی ہوتی تو ہماری جماعت کی عورتیں مذہب کی خاطر اتنا چندہ جمع کر دیتیں کہ یورپ کی بڑی بڑی مالدار قومیں بھی مذہب کی خاطر اتنا چندہ جمع نہ کرسکتیں اور نہیں کیا کرتیں۔ پس قربانی کا مادہ تو ہماری جماعت کے اندر خداتعالیٰ کے فضل سے پایا جاتا ہے اور وہ ایمان بھی اِسے حاصل ہے جو قربانی کرایا کرتا ہے۔ صرف ہماری طرف سے ہی کوشش میں کوتاہی ہوتی ہے۔
    پس یہ سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ روپیہ کہاں سے آئے گا کیونکہ جب ہم خداتعالیٰ کے دین کی خاطر کسی کام کا ارادہ کرتے ہیںاور چاہتے ہیں کہ یہ کام ہو جائے تو خداتعالیٰ فرماتا ہے کُنْ اور وہ کام ہو جاتا ہے۔پس روپیہ کی دِقّت نہیں روپیہ تو ہماری جماعت کی عورتیں خداتعالیٰ کے فضل سے آسانی سے ادا کر دیں گی۔ ضرورت صرف اِس بات کی ہے کہ لجنہ اماء اللہ کے مرکزی دفتر کو منظم کیا جائے اور مستقل کام کرنے والی عورتیں دفتر میں رکھی جائیں اور ہر جگہ کی عورتوں کے پتے دریافت کر کے اُن کے ساتھ خط و کتابت کی جائے اور ہر جگہ لجنہ قائم کی جائے اور وہاں کی عورتوں کو منظم کیا جائے۔
    اِس کے بعد جس طرح مردوں کے دو اجتماع ہوتے ہیں ایک یہ جلسہ سالانہ اور ایک مجلسِ شوریٰ اسی طرح عورتیں بھی اِس جلسہ کے علاوہ کسی اور موقع پر اپنا ایک دوسرا اجتماع کیا کریں اور ہندوستان کی تمام لجنات کی طرف سے نمائندہ عورتیں اِس اجتماع میں شامل ہو کر اپنے کاموں پر غور کریں اور ایسے قواعد مرتب کریں جن سے وہ مزید ترقی کر سکیں۔ لجنہ مرکزیہ کو چاہئے کہ اِس موقع (جلسہ سالانہ) پر جو عورتیں باہر سے آئی ہوئی ہیںاُن سے مل کر مشورہ کرے کہ وہ اجتماع کس موقع پر رکھا جائے۔ اگر وہ اجتماع مجلسِ شورٰی کے موقع پر رکھ لیا جائے اور تمام لجنات کی مختلف کاموں کی سیکرٹریوں کو اُس موقع پر بُلا لیا جائے تو شاید مَیں بھی اُس موقع پر وقت نکال کر انہیں ہدایات دے سکوں کہ وہ کس طرح اپنے کام کو منظم بنا سکتی ہیں۔ جب وہ منظم ہو جائیں گی تو پھر اُن کی اصلاح کے لئے اگلا قدم یہ اُٹھایا جائے گا کہ ہر ایک عورت اپنی مروّجہ زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھ لے۔ درحقیقت جس قوم کو اپنی زبان میں لکھنا اور پڑھنا آ جائے اُس کیلئے باقی سارے علوم حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جس کو ہم منطق یا لاجک (LOGIC)کہتے ہیں یہ وہی چیز ہے جو ہر مرد اور ہر عورت روزمرہ کی بول چال میں استعمال کرتے ہیں۔ جب تم کسی کی بیوقوفی پر ہنستی ہو تو اِس کی یہی وجہ ہوتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اِس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ تم اُس کی بات کو غیر منطقی یا اَن لاجیکل (UN-LOGICAL)سمجھتی ہو۔ جب تم کسی بات پر کہتی ہو کہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی یا یہ بات خلافِ عقل ہے تو اِسی کا نام غیرمنطقی یا اَن لاجیکل رکھ کر تمہیں ڈرایا جاتا ہے۔ ورنہ وہ کوئی اور علم نہیں جو مردوں کو آتا ہے اور تمہیں نہیں آتا بلکہ یہ وہی چیز ہے جو تم روزمرہ کی بول چال میں استعمال کرتی ہو۔ اِسی قسم کی ہزارہا باتیں ہیں جن کا نام تم غیرزبان میں سُن کر حیران اور مرعوب ہو جاتی ہو ورنہ وہ کوئی اور چیز نہیں ہوتی وہی چیز ہوتی ہے جو تمہاری عام بول چال میں پائی جاتی ہے۔ پس اگر تم اپنی اُردو زبان میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ لو تو اُن تمام باتوں کو تم آسانی سے سمجھ سکتی ہو اور ہر علم سے فائدہ اُٹھا سکتی ہو اور آج جن علوم کے بڑے بڑے نام رکھ کر تمہیں مرعوب کیا جاتا ہے اُردو جان لینے پر اِن تمام باتوں کا سمجھنا تمہارے لئے بالکل معمولی معلوم ہو گا۔ پس لجنہ اماء اللہ کا
    پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب اُن کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے پھر
    دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز،روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دیئے جائیں اورپھر
    تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تاکہ اُن کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر اُن کو یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور
    آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو باترجمہ قرآنِ مجید آ جائے اور چند سالوں کے بعد ہماری جماعت میں سے کوئی عورت ایسی نہ نکلے جو قرآنِ مجید کا ترجمہ نہ جانتی ہو۔
    اِس وقت شاید ہزار میں سے ایک عورت بھی نہیں ہو گی جس کو قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہو۔ میری حیثیت اُستاد کی ہے اِس لئے کوئی حرج نہیں اگر مَیں تم سے یہ پوچھ لوں کہ جو عورتیں قرآنِ مجید کا ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں اور جن کو ترجمہ نہیں آتا وہ بیٹھی رہیں۔ مَیں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں اِس لئے جو ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں ۔
    (حضور کے ارشاد پر بہت سی عورتیں کھڑی ہو گئیں جن کو دیکھ کر حضور نے فرمایا)
    بہت خوشکن بات ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ۔ اَب بیٹھ جاؤ۔ میرے لئے یہ خوشی عید کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔ میرا اندازہ تھا کہ جتنی عورتیں کھڑی ہوئی ہیں اِس کے دسویں حصہ سے بھی کم عورتیں ہوں گی جو قرآنِ مجید کا ترجمہ جانتی ہوں مگر خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہوئی ہیں مگر میرے لئے یہ تسلی کا موجب نہیں۔ میرے لئے تسلی کا موجب تو یہ بات ہو گی جب تم میں سے ہر ایک عورت قرآنِ مجید کا ترجمہ جانتی ہو گی اور مجھے خوشی اُس وقت ہو گی جب تم میں سے ہر ایک عورت صرف ترجمہ ہی نہیں جانتی ہو بلکہ قرآن مجید کو سمجھتی بھی ہو۔ اور مجھے حقیقی خوشی اُس وقت ہو گی جب تم میں سے ہر ایک عورت دوسروں کو قرآن مجید سمجھا سکتی ہو اور پھر اِس سے بھی زیادہ خوشی کا دن تو وہ ہو گا جس دن خداتعالیٰ تمہارے متعلق یہ گواہی دے گا کہ تم نے قرآنِ مجید کو سمجھ لیا ہے اور اِس پر عمل بھی کیا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں اِس تقریر سے میری جو غرض تھی وہ پوری ہو چکی ہے پرسوں سے نزلہ میرے گلے میں گِر رہا ہے جس کی وجہ سے آواز بیٹھی جا رہی ہے۔ ابھی مَیں نے باہر جا کر مردوں میں لمبی تقریر کرنی ہے جو یہاں بھی آپ سُن لیں گی اِس لئے اَب میں اِسی پر بس کرتا ہوں اور جو باتیں مَیں نے بیان کی ہیں انہیں پھر دُہرا دیتا ہوں کہ:
    (۱) آپ میں سے ہر خاتون یہاں سے اِس ارادہ کے ساتھ اپنے وطن واپس جائے کہ جاتے ہی اپنے ہاں لجنہ قائم کرے گی۔
    (۲) اور لجنہ اماء اللہ مرکزیہ ایک ماہ کے اندر اندر منظم ہو جائے اور ایسی کوشش اور محنت کے ساتھ کام کرے کہ اِس سال کم از کم تمام عورتوں کی تنظیم ہو جائے اور تمام ممالک میں بِالخصوص ہندوستان میں ہر گاؤں، ہر قصبہ اور ہر شہر میں لجنہ اماء اللہ قائم ہو جائے۔
    اِس کے بعد مَیں یہ اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں مَیں نے جو قرآنِ مجید کے سات زبانوں میں تراجم کی تحریک کی تھی اُس میں سے ایک زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا خرچ اور کسی ایک اسلامی کتاب کا ایک زبان میں ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا خرچ یعنی اُٹھائیس ہزار روپیہ مَیں نے عورتوں کے ذمہ لگایا تھا اور مَیں نے کہا تھا کہ جرمن زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کرانے اور جرمن زبان میں اِس کے چھپوانے کا خرچ اورجرمنی زبان میں کسی ایک اِسلامی کتاب کا ترجمہ کرانے اور جرمن زبان میں اُس کے چھپوانے کا خرچ جس کے لئے اُٹھائیس ہزار روپیہ کااندازہ ہے یہ رقم جماعت کی عورتیں مل کر ادا کریں۔ چنانچہ ہماری جماعت کی عورتوں نے اپنی قدیم روایتوں کو قائم رکھا ہے اور اِس وقت تک ۳۴ ہزار روپے کے وعدے ہو چکے ہیں۔ گو خداتعالیٰ کے فضل سے رقم پوری ہو چکی ہے بلکہ جتنا مطالبہ کیا گیا تھا اُس سے زائد وعدے ہو چکے ہیں لیکن ابھی جماعت کی عورتوں کا ایسا حصہ باقی ہے جنہوں نے اِس میں حصہ نہیں لیااور مَیں چاہتا ہوں کہ ہر ایک عورت اِس میں شامل ہو جائے وہ ایک ادھنی یا ایک پائی ہی دے مگر اِس نیکی میں شامل ہونے سے محروم نہ رہے اِس لئے مَیں چاہتا ہوں کہ جن عورتوں نے ابھی تک حصہ نہیں لیا وہ بھی ضرور حصہ لیں۔ اگر کوئی عورت ادھنی دے سکتی ہے تو وہ ادھنی دے کر ہی اِس نیکی میں شامل ہو جائے کیونکہ رقم کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جس وقت جرمن زبان میں یہ ترجمہ شائع ہو گا تو ہر آدمی جو اِس ترجمہ سے فائدہ اُٹھائے گا وہ اِن عورتوں کو دعا دے گا کہ اُن پر خداتعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں جن کے ذریعہ یہ نعمت ہم تک پہنچی اور جو شخص بھی اِس ترجمہ کے ذریعہ مسلمان ہو گا اُس کے ایمان لانے کی وجہ سے خداتعالیٰ کی رحمتیں اُن عورتوں پر نازل ہوں گی جنہوں نے اِس ترجمہ میں حصہ لیا ہو گا۔ پس مَیں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی عورت بھی اِس ثواب سے محروم نہ رہے او رتم میں سے کوئی عورت بھی ایسی نہ رہے جو اِن رحمتوں سے حصہ لینے والی نہ ہو۔ اگر وہ ایک کوڑی دینے کی ہی حیثیت رکھتی ہے تو ایک کوڑی دے کر ہی اِس میں شامل ہو جائے۔ اگر کسی کی حیثیت کوڑی دینے کی ہی ہے تو خداتعالیٰ کے نزدیک اُس کی کوڑی ہی کروڑ روپیہ کے برابر ہے کیونکہ خداتعالیٰ اِس رقم کو نہیں دیکھتا کہ وہ کتنی ہے بلکہ خداتعالیٰ اُس اخلاص اور اُس نیت کو دیکھتا ہے جس اخلاص اور جس نیت کے ساتھ وہ دی گئی ہے۔
    اِس کے علاوہ مَیں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری گولڈ گوسٹ کی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ اَب وہاں ایک زنانہ سکول بھی جاری کیا جائے جس کے لئے وہاں کے ایک احمدی نے پندرہ ہزار روپیہ کی زمین دے دی ہے اور اَب وہاں کی لجنہ نے فیصلہ کیا ہے کہ عورتیں چندہ جمع کر کے وہاں سکول بنائیں مجھے وہاں سے چٹھی آئی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی احمدی بہنوں سے کہیں کہ وہ بھی اِس کام میں ہماری مدد کریں۔ چنانچہ مَیں نے اِس کے متعلق لجنہ اماء اللہ مرکزیہ سے بات کی ہے اور اُنہوں نے چار ہزار روپیہ بھجوانے کا وعدہ کیا ہے۔ اِس چار ہزار میں سے پندرہ سَو کا وعدہ تو دہلی کی لجنہ اماء اللہ نے چوہدری سر ظفراللہ خان صاحب کی معرفت کیا ہے اور باقی رقم لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے مختلف لجناؤں پر ڈال دی ہے جس کی اطلاع ہر ایک لجنہ کے پاس پہنچ جائے گی۔ بہت تھوڑی تھوڑی رقم لجنات کے ذمہ ڈالی گئی ہے حتیّٰ کہ بعض کے ذمہ تو صرف چار چار پانچ پانچ روپے ڈالے گئے ہیں۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ جب اِس کی اطلاع ہر ایک لجنہ کے پاس پہنچے گی تو اِس چندہ میں بھی وہ ضرور حصہ لیں گی۔ گویہ چار ہزار روپیہ کی رقم اتنی تھوڑی ہے کہ مَیں اگر چاہتا تو قادیان سے ہی بھجوائی جاسکتی تھی لیکن مَیں چاہتا ہوں کہ ساری جماعت کے اندر قربانی کی روح اور بیداری پیدا کی جائے اور اِس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ایک فرد کو دین کے کاموں میں شامل کیا جائے اِس لئے مَیں نے یہ رقم جماعت کی مستورات پر پھیلا دی ہے۔ـ ہر لجنہ کو اِس کی اطلاع پہنچ جائے گی جب اِن کو یہ اطلاع ملے تو ہر ایک عورت اِس میں شامل ہو تاکہ وہ ثواب سے محروم نہ رہے۔
    گولڈ کوسٹ مغربی افریقہ کے اُس علاقہ میں ہے جہاں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جو ننگے پھرتے ہیں اور کچی چیزیں کھاتے ہیں اور درختوں کے نیچے رہتے ہیں وہاں ہمارے مبلّغ خداتعالیٰ کے فضل سے ایسا عظیم الشان کام کر رہے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے لئے سکول اور بورڈنگ جاری ہیں جس میں وہ لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ننگے پھرنے والے کپڑے پہن رہے ہیں، درختوں کے نیچے رہنے والے مکان بنا رہے ہیں اور حبشی قرآنِ مجید اور نمازیں پڑھتے ہیں اور اِس طرح وہاں اسلام ترقی کر رہا ہے اور رسولِ کریمﷺ کا جھنڈا وہاں گاڑا جا رہا ہے اور ہمارے مبلّغوں کے سامنے عیسائی مبلّغ بھاگ رہے ہیں۔ پس اِس چندہ میں جس سے اِس ملک میں زنانہ سکول جاری کیا جائے گا ہر ایک عورت ضرور حصہ لے اور یہ سمجھ کر حصہ لے کہ اِس چندہ سے جو سکول بنے گا اُس کے ذریعہ سے ایسی جاہل عورتیں دین کی تعلیم حاصل کریں گی جو رسولِ کریم ﷺ کے نام سے بھی واقف نہیں تھیں۔
    ایک اور بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ اِس سال قادیان میں زنانہ بورڈنگ کے قیام کے لئے کوشش شروع کر دی جائے۔ باہر کے لوگ ہمیشہ یہ شکایت کیا کرتے تھے کہ قادیان میں زنانہ بورڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری لڑکیاں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں اَب میں اعلان کرتا ہوں کہ اِس سال اِنْشَائَ اللّٰہ یہ کام شروع ہو جائے گا۔ مَیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ بورڈنگ کی عمارت بھی بن جائے گی کیونکہ جنگ کی وجہ سے عمارت بنانے میں بہت سی مشکلات ہیں بہرحال اِس سال بورڈنگ شروع کر دیا جائے گاـ ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ سے زیادہ توفیق دے کہ تم دینی تعلیم حاصل کرو اور سلسلہ کے لئے ایسا مفید وجود بنو کہ جب تک تم دنیا میں رہو تو دنیا تم سے علم سیکھے اور فائدہ اُٹھائے اور جب تم خدا کے پاس جاؤ تو خداتعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنو اور دنیا تمہاری نیکیوں کی وجہ سے تمہارے لئے دعائیں کرتی رہے۔
    اَب مَیں دعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اندر سچی محبت اپنی پیدا کرے اور سچی محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدا کرے اور سچی محبت قرآن اور دین اسلام کی پیدا کرے اور سچی محبت بنی نوع انسان کی پیدا کرے اور تم دنیا میں ایسا بہترین وجود بنو کہ دنیا میں تمہاری مثال نہ ہو اور جب تم اِس دنیا سے جاؤ تو خدا تعالیٰ بھی تم سے خوش ہو، خداتعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تم سے خوش ہو، گھر والے بھی تم سے خوش ہوں، محلے والے بھی تم سے خوش ہوں اور دنیا بھی تم سے خوش ہو۔ تم میں سے کئی مائیں ہیں اور کئی مائیں بننے والی ہیں اور جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے خدا کرے تم حقیقی مائیں بنو اور تمہارے ذریعہ سے اِس دنیا میں ہماری قوم میں جنت پیدا ہو اور جب تم اِس دنیا سے جدا ہو کر اگلے جہان میں جاؤ تو خداتعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں تم پر نازل ہوں اور تم خدا کی جنت حاصل کرنے والی بنو۔ آمین (الفضل ۱۶،۱۸؍ جنوری ۱۹۴۵ء)
    ۱؎ الذّٰریٰت: ۵۷ ۲؎ بنی اسرائیل: ۷۳
    ۳؎ مسند احمد بن حنبل جلد۳ صفحہ ۴۲۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء
    ۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی فضل من عال یتمی
    ۵؎ الرَّحْمٰن: ۲۰،۲۱


    بعض اہم اور ضروری امور
    (۱۹۴۴ء)





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    بعض اہم اور ضروری امور
    (تقریر فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۴۴ء برموقع جلسہ سالانہ بمقام قادیان)
    تشہّد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    بے شک ہمیں بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے مگر ہم اپنے خدا کی رضا پر راضی ہیں اور اِس کے فضلوں پر یقین رکھتے ہیں
    سب سے پہلے مَیں اُن دو نقصانات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اِس سال سلسلہ احمدیہ کو پہنچے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ میری ذات کو پہنچے ہیں۔ یعنی ایک اُمِّ طاہر مرحومہ کی وفات
    اور ایک میر محمد اسحق صاحب کی وفات۔ جہاں تک آپس کی نسبت کا سوال ہے نہ صرف دونوں میرے عزیز تھے اور اِس طرح آپس میں بھی عزیز تھے بلکہ اِن دونوں میں ایک صفت مشترک بھی پائی جاتی تھی اور وہ یہ کہ دونوں غرباء کا بہت خیال رکھتے تھے۔ میر صاحب جب فوت ہوئے تو اِن کو دفن کرنے کے بعد جب مَیں واپس آ رہا تھا تو مَیں نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ابھی چند روز ہوئے عورتیں یتیم ہو گئی تھیں اور آج ہم مرد بھی یتیم ہو گئے۔ یہ ایک جذباتی بات ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خدائی جماعتیں کبھی یتیم نہیں ہوتیں۔
    مومن کا خدا ایسا ہے کہ اِس پر کسی انسان کے پیدا ہونے یا مرنے سے کوئی اثر نہیں ہوتا۔ دنیا آتی بھی ہے اور جاتی بھی ہے، لوگ پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں مگر خداتعالیٰ کی بادشاہت چلتی ہی چلی جاتی ہے اور جو لوگ خود اپنے لئے خداتعالیٰ کی ذات کو مار نہیں لیتے اِن کا زندہ خدا ہمیشہ اِن کا وارث ہوتا ہے۔
    خداتعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اور اُس پر موت کبھی وارد نہیں ہو سکتی مگر اُس کا سلوک اپنے بندوں سے یہی ہے کہ کوئی بندہ اُسے جیسا سمجھتا ہے وہ اُس کے لئے ویسا ہی ہوجاتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سنایا کرتے تھے کہ اُن کے ایک اُستاد بھوپال میں تھے انہوں نے رؤیا میں خداتعالیٰ کو کوڑھی کی شکل میں دیکھا جو چلنے پھرنے سے معذور تھا، تمام جسم پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں اور وہ شہر سے باہر ایک پُل پر پڑا تھا۔ اُنہوں نے اُسے دیکھا اور کہا خدایا! میں تو تیری تعریفیں قرآن و حدیث میں پڑھ کر تجھے کچھ اور ہی سمجھتا تھا۔ مَیں تو سمجھتا تھا کہ تو سارے دُکھوں کا دور کرنے والا اور سب خوبیوں سے متصف ہے مگر تُو تو خود بیماریوں سے سٹر رہا ہے اور بیکسی کی حالت میں پڑا ہے۔ یہ سُن کر اُس نے اُن سے کہا کہ جو تو سمجھتا ہے وہ بھی ٹھیک ہے اور جو تو دیکھتا ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔قرآن کریم کا خدا ویسا ہی ہے جیسے تو نے پڑھا مگر جسے تو یہاں پڑا دیکھتا ہے یہ بھوپال کا خدا ہے۔ تو انسان جہاں خداتعالیٰ کی حکومت کے تابع ہے، جہاں خداتعالیٰ نے اُسے پیدا کیا اور اُس کی تمام ضروریات مہیا کرتا ہے وہاں یہ بھی سچ ہے کہ انسان اپنے لئے خدا کو خود پیدا کرتا ہے اور اُسے صفات بخشتا ہے۔ یعنی جیسا اُس کا یقین خداتعالیٰ کے متعلق ہوتا ہے ویسا ہی خداتعالیٰ اُس سے معاملہ کرتا ہے۔ اگر انسان خداتعالیٰ کو ایک بے کار محض وجود سمجھتا ہے تو اُس کے معاملات میں خداتعالیٰ بھی بے کار محض ہو جاتا ہے، جو انسان اُس کی قدرتوں کا انکار کرتا ہے خداتعالیٰ اُس کے لئے اپنی قدرتیں کبھی نہیں دکھاتا لیکن جو انسان خداتعالیٰ کو قادر یقین کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کے لئے اپنی قدرتیں دکھاتا ہے،جو اُسے زندہ خدا یقین کرتا ہے خدا بھی اُس کے لئے زندگی کا ثبوت مہیا کرتا ہے، جو اُسے ربّ العٰلمین سمجھتا ہے خدا اُس کا مربی اور نگران بن جاتا ہے اور جو خدا کو رحمن مانتا ہے وہ بھی اُس پر رحمانیت کی بارشیں برساتا ہے۔ اگر انسان خدا کو رحیم مانتا ہے تو وہ بھی رحیم بن کر اُس پر ظاہر ہوتا ہیـ۔
    پس جہاں تک خداتعالیٰ کا تعلق ہے مومن کے لئے زندہ خدا کے بعد اور کسی چیز کی ضرورت نہیں مگر دیرینہ تعلقات اور محبتیں اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں اور انسان جسے اللہ تعالیٰ نے روح کے باوجود جسم بھی عطا فرمایا ہے بسااوقات اُس کی روح تندرست ہوتی ہے مگر اُس کا جسم زخمی ہوتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ جو دن اُن کو صلیب دیئے جانے کے لئے مقرر تھا اُس رات اُنہوں نے دعا مانگی کہ:۔
    ’’اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ تاہم جیسا میں چاہتا ہوں ویسا نہیں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہو‘‘۔۱؎
    پس ہمارے دل تو راضی ہیں مگر نفس بوجھ محسوس کرتے ہیں اور ہم اپنے خدا سے یہی کہتے ہیں کہ تیری ہی مرضی ہو کہ ہمارے لئے اِسی میں برکت ہے۔ خداتعالیٰ کا مومن بندہ اِسی قسم کی کیفیات کے ساتھ اُس کے حضور کھڑا ہوتا ہے۔ انسان ہونے کے لحاظ سے ہم زخموں کا انکار نہیں کر سکتے، بہتے ہوئے خون کو بند نہیں کر سکتے مگر خدا تعالیٰ کے فضلوں پر یقین رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بات جسے ہم تکلیف سمجھتے ہیں اِسے وہ ہمارے لئے اور ہمارے دوستوں کے لئے برکت کا موجب بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دُکھ کے نیچے اپنے فضلوں کے خزانے مخفی رکھے ہیں جس طرح دُنیوی خزانے بڑی بڑی چٹانوں کے نیچے مخفی ہوتے ہیں۔ بے شک غموں کا اُٹھانا اور دُکھوں کا برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے مگر جس طرح چٹانوں کو اُٹھائے بغیر قیمتی خزائن بھی حاصل نہیں کئے جاسکتے اِن دُکھوں کو اُٹھائے بغیر اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل نہیں ہو سکتیں۔ـ
    پس ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پور ی ہوئی اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اِسی میں ہماری بہتری ہو گیـ۔ ہم اُس کے بندے ہیں اور اُس کی بادشاہی کی طرف باوجود اپنی کمزوریوں اور اپنے نقائص کے کوئی بدی منسوب نہیں کر سکتے اور یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا مہربان آقا جو کرتا ہے ہماری بہتری اور بھلائی کے لئے کرتا ہے اور دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی حکمتوں اور رحمتوں کو سمجھنے کی توفیق دے اور اگر ہم اِن کے سمجھنے میں کوتاہی کریں تو ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور ہمیں ہمت اور حوصلہ عطا کرے تاکہ ہم ہر گھڑی اور ہر لحظہ اُس کی یاد کو سب یادوں پر مقدم کر سکیں، اُس کی محبت کو سب محبتوں اور اُس کے کام کو سب کاموں پر مقدم کرنے والے ہوں۔ ہماری زندگی بھی اور ہماری موت بھی اُس کے لئے ہو تا جب ہم اُس کے حضور جائیں تو ہمارا جانا ہمارے عزیزوں کے لئے دُکھ اور غم کا موجب ہو ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو کہ ہم ادنیٰ کو چھوڑ کر اعلیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور چھوٹے پیارکرنے والوں کو چھوڑ کر بڑے پیارے کرنے والوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ (الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۶۳ء)
    اِس کے بعد مَیں اللہ تعالیٰ کا اِس امر پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمارے ایک کھوئے ہوئے مبلّغ کے متعلق جن کی زندگی کے بارہ میں اکثر دوست مایوس تھے حال ہی میں یہ اطلاع آئی ہے کہ وہ جاپانیوں کی قید میں ہیں۔ جہاز کے غرق ہونے کے بعد جن لوگوں کو بچا لیا گیا اُن کی فہرست میں ان کا نام بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اپنے فضل سے محفوظ رکھے اور خیر وعافیت سے واپس لائے۔ اسلام کا یہ سپاہی بے وقت اپنی جان نہ کھوئے اور اس کے تجربات سے جو اس نے یورپ کے مختلف ممالک میں حاصل کئے اسلام اور احمدیت پورا پورا فائدہ اُٹھا سکیں ۔ مولوی محمد الدین صاحب اگرچہ انگریزی علوم سے ناواقف تھے اور اُن کو تجربہ بھی نہ تھا مگر یورپ میں تبلیغ کے زمانہ میں ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ وہ پہلے البانیہ گئے اور وہاں تبلیغ شروع کی متعدد لوگ داخلِ اسلام بھی ہوئے مگر مخالفین نے حکومت کے پاس شکایات کیں کہ یہ شخص مذہب کو بگاڑ رہا ہے۔ البانیہ کی حکومت مسلمان تھی مسلمانوں نے شور کیا اور کنگ زدعذ نے آرڈر دے دیا کہ مولوی صاحب کو وہاں سے نکال دیا جائے۔ پولیس ان کو پکڑ کر سرحد پر چھوڑ آئی۔ وہاں سے نکالے جانے پر انہوں نے یونان میں تبلیغ شروع کر دی اور میرے لکھنے پر وہاں سے یوگو سلاویہ چلے گئے۔ البانیہ کی سرحد یوگوسلاویہ سے ملتی ہے۔ میں نے لکھا کہ وہاں بھی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی تبلیغ سے بعض ایسے لوگ بھی مسلمان ہوئے جو مسلمانوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل تھے۔ حکومت یوگوسلاویہ کو حکومت البانیہ نے توجہ دلائی اور تحریک کی کہ مولوی صاحب کو وہاں سے بھی نکال دیا جائے۔ چنانچہ انہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ اِس پر وہ اٹلی آگئے اور پھر وہاں سے مصر اور وہاں سے ہندوستان واپس آگئے۔ پھر ان کو مغربی افریقہ بھیجا گیا تھا اور وہ وہاں جا رہے تھے کہ ان کا جہاز ڈوب گیا اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ زندہ ہیں حالانکہ اکثر دوست یہی خیال کرتے تھے کہ وہ فوت ہو چکے ہوں گے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس مردہ کو جسے اس نے زندہ کیا ہے بہت سے روحانی مردوں کو زندہ کرنے کا موجب بنائے۔
    اِس کے بعد مَیں ایک ایسی بات کا ذکر کرتا ہوں جو میرے اصل مضمون کا تو حصہ نہیں مگر تازہ پیدا ہوئی ہے اِس لئے اِس کے متعلق بھی کچھ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ پرسوں یہاں پر ایک جلسہ کیا گیا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو جماعت سے نکالے ہوئے ہیں یا نکالے گئے ہیں۔ اِس جلسہ میں ہمارے خلاف بہت کچھ سبّ وشتم سے کام لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے سلسلہ کے بعض کارکن بہت غصہ میں تھے۔ انہوں نے مجھے اِس امر کی رپورٹ کی اور دریافت کیا کہ ہم اِس کا ازالہ چاہتے ہیں کیا کارروائی کریں۔ میرا خیال ہے ہماری جماعت کے دوست بعض دفعہ بھول جاتے ہیں کہ خدائی جماعتیں ہوتی ہی گالیاں کھانے کے لئے ہیں۔ جب تک وہ اِس حقیقت کو یاد نہ رکھیں گے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مشہور مثل ہے کہ ’’ ایاز قدرے خودشناس‘‘ مومنوں کی جماعت ہمیشہ گالیاں کھانے کیلئے ہوتی ہے۔ اگر وہ گالیاں نہ کھائیں تو دوسروں کا حق ہے کہ یہ اعتراض کریں کہ اگر تم صداقت پر ہو تو کیوں تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جاتا جو خداتعالیٰ کی جماعتوں سے ہوتا آیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاںدی گئیں ، مارا گیا، صحابہؓ کو گالیاں ملتی تھیں اور تکالیف پہنچائی جاتی تھیں کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بُرا مناتے تھے اور کیا اسلام میں اس سے کوئی فرق آتا تھا؟ پھر ہم کیوں اِن گالیوں پر بُرا منائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اِن ہی رستوں پر چل کر خدا تعالیٰـ کو پا سکتے ہیں جن پر چل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کو پایا، جن پر چل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خداتعالیٰ کو حاصل کیا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ۲؎کی دعا سکھائی ہے۔ جسکے معنی یہ ہیں کہ ہم کو اُس رستہ پر چلا جو سیدھا اور تیرے نبیوں کا رستہ ہے آگے فرمایا ۳؎ گویا مومن کہتا ہے کہ میں جانتاہوں اِس رستہ میں خطرات بھی ہوتے ہیں مگر میں اِن خطرات سے نہیں گھبراتابلکہ اِن کو برادشت کرنے لئے تیار ہوں۔ میں تو منعم علیہ گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں اِن تکالیف سے نہیں گھبراتا جو تیرے بندوں کو پہنچتی رہی ہیں۔
    اِس تازہ انکشاف کے بعد جو مصلح موعود کی پیشگوئی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا ہے لازمی طور کچھ عرصہ کے لئے مخالفت کا بڑھ جانا ضروری ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اِس انکشاف کے بعد مَیں روزانہ دشمن کی طرف سے بیداری کا منتظر رہتا تھا اور اگر دشمن کی طرف سے مخالفت نہ ہوتی تو میرے دل میں پوری طرح تسلی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اِس قسم کی باتوں کا پیدا ہونا انسان کے لئے بھی اور خداتعالیٰ کی شان کے اظہار کے لئے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم آرام کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں اور دشمن کوئی مخالفت نہ کرے تو خداتعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ کہا ں نظر آئے۔ خدا تعالیٰ اِس طرح اپنا ہاتھ دکھانا اور اپنے آپ کو روشناس کرانا چاہتا ہے اور خطرات پیدا کر کے اپنی طاقت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ جب تک تکالیف پیش نہ آئیں خدا تعالیٰ کی قدرت ظاہر نہیں ہوتی۔ پس مخالفت کا جو نیا دَور احراریوں کی طرف سے شروع ہوا ہے یا قادیان کے مخالفین نے جو مخالفت ازسر نو شروع کی ہے یہ اِس بات کی علامت ہے کہ خداتعالیٰ پھر اپنی قدرت کا ہاتھ دکھانا چاہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اِس سے اچھی بات ہمارے لئے اور کیا ہوسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت ظاہر کرے اور نشان دکھائے۔ اُس کی قدرت مخالفت کے زمانہ میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔
    میں نے حضرت مسیح موعود سے بارہا سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابوجہل گو بہت گندا تھا لیکن اگر وہ گندانہ ہوتا تو قرآن کریم بھی نہ ہوتا۔ ابوبکرؓ جیسوں کے لئے تو صرف ہی کافی تھا۔ اتنا قرآن کریم تو مختلف مدارج رکھنے والے، طرح طرح کی تاریکیوںاور ظلمتوں میں پڑے ہوئے اور جہالتوں میں مبتلا لوگوں کے لئے ہی نازل ہوا ورنہ مومن کے لئے تو ہی کافی تھا۔ تو اِس قسم کی مخالفتیں بہت فائدہ کا موجب ہوئی ہیں اور ضروری ہیں ان سے گھبرانا مومن کی شان کے خلاف بات ہے۔ بلکہ ہمیں تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ وہ خود کوئی نشان دکھائے۔ اِن گالیوں کو سُننا اور اِن تکالیف کو برداشت کرنا چاہئے اِن پر بگڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی خطرہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کمزور اِس سے گمراہ نہ ہو جائے لیکن جو شخص ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے گمراہ ہو سکتا ہے وہ ہمارے اندر رہ کر بھی کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ ایمان تو ایسی چیز ہے کہ اِس راہ میں قدم مارنے والوں کو جان ہتھیلی پر لے کر چلنا پڑتا ہے۔ صرف کثرت کوئی خوبی کی بات نہیں ہم کتنے تھوڑے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے کس قدر قربانی ہم کر رہے ہیں اور کتنی خدمت اسلام کی بجا لا رہے ہیں۔ چالیس کروڑ مسلمان مل کر بھی اسلام کے لئے وہ قربانی نہیں کر سکتے جتنی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم چار پانچ لاکھ کر رہے ہیں۔ اور اِس لحاظ سے ایک احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ہزار مسلمانوں کے برابر ہے۔ ہزار مسلمان مل کر اتنی قربانی نہیں کرتے جتنی کہ ایک احمدی کرتا ہے۔مسٹر جناح نے مسلم لیگ کے لئے سات کروڑ مسلمانوں سے دس لاکھ روپیہ چندہ طلب کیا تھا اور مسلمانوں میں ایسے ایسے لوگ ہیں کہ ایک ایک کروڑ کروڑ روپیہ دے سکتا ہے۔ مگر سال چھ ماہ کے بعد جب آمد دیکھی گئی تو صرف تین لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا۔ اِس کے بِالمقابل ہماری جماعت جو بِالعموم غریبوں کی جماعت ہے اِس میں کس طرح ہر تحریک محض خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو رہی ہے اور ہماری جماعت میں ایسے ایسے مخلص لوگ ہیں کہ جو خود فاقے کرتے ہیں، اپنے بیوی بچوں کو فاقے کراتے ہیںمگر خدا تعالیٰ کے خزانہ میں چندہ لاکر دے دیتے ہیں یہ چیز ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ پس ہم بھی اگر چار پانچ نہیں چالیس لاکھ ہو جائیں مگر ویسے ہی سُست ہوں جیسے دوسرے مسلمان تو اِس کثرت کا ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ پس یہ گالیاں اور یہ تکالیف ہمیں کھرا کرنے کے لئے ہیں۔ اِن سے کھوٹا کھرا الگ الگ ہو جائیں گے۔ اگر مخالفوں کی مخالفت کے نتیجہ میں کوئی دھوکا کھاتا اور ہم سے الگ ہوتا ہے تو ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے آخر ہمیں خود بھی تو بعض ــکو نکالنا پڑتا ہی ہے۔ مصری صاحب اور ان کے ساتھیوں کو مَیں نے خود ہی نکال دیا تھا۔ پس اگر کوئی خود دھوکا کھا کر الگ ہوتا ہے تو یہ تو ہمارے لئے اچھا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اُسے الگ کرنے کی مصیبت سے بچا لیا اور جو گندا تھا وہ خود بخود نکل گیا۔ کسی انسان کے جسم پر کوئی پھوڑا نکلے تو کیا وہ خود پسند کرتا ہے کہ خود بخود پھوٹ کر بہہ جائے؟ یا ڈاکٹر کے چاقو سے اُس کا چیرا جانا پسندکرتا ہے؟ ہر عقلمند اس بات کو پسند کرتا ہے کہ پھوڑا خود بخود پھوٹ جائے اِسی طرح اگر کوئی گندا آدمی ہم میں سے خود بخود الگ ہوتا ہے تو اِسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھنا چاہئے اور اُس کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اُس نے ہمیں اپنے ساتھی کو خود الگ کرنے کے الزام سے بچا لیا۔
    ایک اور بات جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کا ایک چیلنج مجھے دیا گیا ہے کہ جو اُن کی طرف سے جلسہ کے موقع پر تقسیم کیا گیا ہے اُنہوں نے لکھا ہے کہ وہ مجھے بار بار مقابلہ کے لئے بُلاتے ہیں مگر میں سامنے نہیں آتا۔ اِس موقع پر جبکہ یہاں پر بہت سے غیر مسلم، ہندو، سکھ اور غیراحمدی معززین بھی جمع ہیں میں اِس امر کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے اگر کسی کو خدا تعالیٰ توفیق دے تو وہ اِس معاملہ میں دخل دے کر اِس عقدہ کو حل کرادیں۔ میں شروع سے ہی اِن کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ان امور کے بارے میں جن کے متعلق ہمار ے مابین اختلاف ہے وہ میرے ساتھ فیصلہ کر لیں۔ مگر وہ ہر بار کوئی نہ کوئی ایسی شرط پیش کر دیتے ہیں کہ جسے ماننے کے لئے میں ہرگز تیار نہیں ہو سکتا۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مذہبی امور کا فیصلہ کرنے کے لئے کوئی جج ہو اور یہ ایک ایسی شرط ہے جسے میں نہیں مان سکتا۔ میں کبھی یہ بات نہیں مان سکتا کہ مذہب کسی کی خاطر بدلا جا سکتا ہے۔ اگر مذہب کے بارہ میں کسی کی رائے کو مانا جا سکے تو ماں باپ کا سب سے زیادہ حق ہے اُن کی رائے مان لی جائے۔ مگر مذہب کے بارہ میں توماں باپ کی رائے کو ماننے کی بھی اجازت اسلام نے نہیں دی۔ جب کوئی شخص مذہب کو تبدیل کرنے لگے تو اُس کے ماں باپ اور بہن بھائی اُس کی مخالفت کرتے اور اُسے یہی مشورہ دیتے ہیں کہ ایسا نہ کرے۔ اب اگر مذہب کے بارہ میں جائز ہو تو ماں باپ کی رائے کو کیوں نہ مانا جائے۔ اگر مذہب کے بارہ میں ججی جائز ہو تو کوئی شخص مذہب کو تبدیل کر ہی نہیں سکتا۔ جب بھی کوئی مذہب تبدیل کرنے لگے اُس کے ماں باپ اور بھائی بہن یہی کہتے ہیں کہ وہ غلطی کرنے لگا ہے اور اگر کسی غیر شخص کو مذہب کے معاملہ میں جج ماننا جائز ہو تو ماں باپ کی رائے کو ہی کیوں نہ مانا جائے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں کسی صورت میں نہیں مان سکتا میری تو یہ حالت ہے کہ باوجودیکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر میں پیدا ہوا۔ ابھی میری عمر گیارہ برس کی تھی کہ میں نے ایک دن خیال کیا کہ کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اِس لئے مانتا ہوں کہ میں اُن کا بیٹا ہوں یا میرے پاس اُن کی صداقت کے ثبوت ہیں۔ میں اُس وقت گھر سے باہر تھا اور میں نے خیال کیا کہ اگر میرے پاس ان کی صداقت کے ثبوت نہیں ہیں تو میں گھر میں واپس نہ جاؤں گا بلکہ یہیں سے اِسی وقت کہیں باہر چلا جاؤں گا۔ جب میں نے اپنے دل میں اِس سوال کو حل کرنا شروع کیا کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے دعویٰ میں سچے ہیں یا نہیں؟ تو میں نے اِس سوال کو قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں حل کرنا چاہا۔ اِس پر مجھے خیال آیا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کے ثبوت میرے پاس ہیں؟ یا میں ان کو بھی اِسی لئے سچا سمجھتا ہوں کہ میں نے ماں باپ سے سنا ہے کہ یہ سچے ہیں۔ تب میں نے اپنے دل میں اس سوال پر بحث شروع کی کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم سچے ہیں؟ اِس سوال پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کیا توحیدِ الٰہی کے ثبوت میرے پاس ہیں؟ یا میں اسے صرف اس لئے مانتا ہوں کہ میرے ماں باپ اس کے قائل ہیں۔ تب میں نے خداتعالیٰ کی پیدا کی گئی کائنات اور اُس کی قدرتوں سے اِس سوال کو حل کرنا شروع کیا اور توحیدِ الٰہی پر غور کرتا گیا حتیّٰ کہ میرا دماغ تھک گیا اور آرام کرنا چاہا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ یا تو میں اِس سوال کو حل کر کے چھوڑوں گا اور یا میں گھر میں داخل نہ ہوں گا۔ اُس وقت آسمان صاف تھا اور یہ آخری سوال تھا جسے میں حل کرنا چاہتا تھا میں نے خیال کیا کہ جب ہر چیز کہیں نہ کہیں جا کر ختم ہو جاتی ہے تو پھر خداتعالیٰ کو غیرمحددو ماننا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کو غیر محدود ماننا درست ہے تو دوسری چیزوں کے متعلق بھی ایسا کیوں نہ سمجھا جائے۔ اور میری طبیعت یہاں آکر رکی کہ خدا تعالیٰ کا غیرمحدود ہونا سمجھ میں نہیں آسکتا اور محدود خدا نہیں ہو سکتا۔ میری نظر ستاروں پر پڑی اور وہ بہت خوبصورت نظر آتے تھے۔ میں نے خیال کرنا شروع کیا کہ ان کے پیچھے اور کیا ہوگا؟ میرے نفس نے جواب دیا کہ اور ستارے ہوں گے پھر میں نے خیال کیا کہ ان کے پیچھے اور کیا ہوگا؟ اور پھر میرے نفس نے جواب دیا کہ اور ستارے ہونگے۔ اور ان کے پیچھے؟ تب میرے نفس نے جواب دیا کہ یہ تو ایک لامتناہی سلسلہ بن گیا یہ کہاں ختم ہوگا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ محدود دماغ میں نہیں آسکتا اور اِس کی حد بندی نہیں کی جا سکتی۔ تب میرا دماغ واپس لوٹا اور میں سمجھ گیا کہ خدا تعالیٰ اپنے آپ کو اپنی قدرتوں سے ظاہر کرتا ہے اور مجھے پتہ لگ گیا کہ اِسی سوال کو حل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اِس دنیا کو پیدا کیا ہے۔ ہم ستاروں کے بارہ میں جب یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے اور زمین کے بارہ میں بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اس کی جگہ پہلے کیا تھا؟ کہا جاتا ہے پہلے پانی ہی پانی تھا تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اِس سے پہلے کیا تھا اور پھر اس سے پہلے کیا تھا، یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے کہ جسے سمجھنا ممکن نہیں مگر ہم اِن دونوں چیزوں کا انکار بھی نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی ان کا انکار کرے تو لوگ اُسے پاگل کہیں گے اور ان کی موجودگی میں خداتعالیٰ کے بارہ میں شبہ کرنا بھی ویسا ہی پاگلانہ خیال ہے اور اِس طرح یکدم مجھے خدا تعالیٰ کا ثبوت مل گیا۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید سے آپ کے سچے ہونے کا ثبوت مل گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت مل گیا۔ تو میں جس نے مذہب کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی بغیر ثبوت کے حَکم ماننا تسلیم نہ کیا وہ کسی اور کو مذہبی عقائد کے بارہ میں جج کیوں کر مان سکتا ہے؟
    پھر مولوی محمد علی صاحب ایک اور بات پیش کرتے ہیں۔ بعض ایسے امور ہیں جو عقائد سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان کے بارہ میں بھی میں چاہتا ہوں کہ فیصلہ ہو جائے اور ان کے متعلق مَیں ان کی جج بنائے جانے کی شرط کو ماننے کو تیار ہوں۔ مگر وہ اس بارہ میں بھی ایک عجیب بات پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تین جج میری جماعت میں سے ہوں اور تین اُن کے ساتھیوں میں سے ہوں لیکن جماعت احمدیہ میں سے تین آدمی وہ نامزد کریں اور اُن کے ساتھیوں میں سے تین مَیں کروں حالانکہ یہ بات بھی بالکل غیر معقول ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ دو آدمیوں میں کوئی مقدمہ ہو اور ایک جا کر عدالت میں کہے کہ مجھے اختیار دیا جائے کہ دوسرے فریق کی طرف سے وکیل مَیں مقرر کروں اور میری طرف سے وہ کرے یہ ایک ایسی بات ہے جسے کوئی معقول آدمی منظور نہیں کر سکتا۔ صحیح طریق یہ ہے کہ میں اپنے نمائندے مقرر کروں اور وہ اپنے کریں مگر وہ اُلٹی بات کہتے ہیں یعنی یہ کہ میرے نمائندے وہ مقرر کریں اور اُن کے مَیں کروں۔ اور جب میں اِس کا انکار کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ تم بات کو نہیں مانتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہاری جماعت میں منافق ہیں اِس لئے ڈرتے ہو اور یہ کہ میرے ساتھیوں میں چونکہ منافق نہیں ہیں اِس لئے مَیں نہیں ڈرتا مگر اِس کی وجہ یہ کیوں نہ سمجھی جائے کہ مولوی صاحب ہماری جماعت کے منافقوں سے تعلقات رکھتے ہیں اور میں ایسا نہیں کرتا۔ یا وہ منافق بنا کرہماری جماعت میں داخل کرتے ہیں گو میں یہ بھی نہیں کرتا۔ پھر اِس کا ایک اور پہلو بھی ہے یہ ایمان یا منافقت کا سوال نہیں ہر شخص بات کو سمجھنے اور اُسے حل کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔ بعض لوگ تفقہ کے لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ مومن نہیں منافق ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بہت سے مسائل یاد تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ وہ تفقہ میں کمزور تھے۔ پس اگر وہ ہماری جماعت میں سے کسی ایسے آدمی کو مقرر کر دیں جو تفقہ کے لحاظ سے کمزور ہو یا ہمارے نقطۂ نگاہ کو واضح نہ کر سکے تو اِس میں ہمارا نقصان ہوگا۔ پس یہ منافقت کا سوال نہیں تفقہ اور بات کو سمجھنے اور سمجھانے کی اہلیت کا سوال ہے۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ جب میں اِس شرط کو اپنے لئے مانتا ہوں تو آپ کیوں نہیں مانتے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اُن کو مجھ پر حسن ظنی ہے کہ میں اِس بارہ میں دیانتداری سے کام لوں گا مگر مجھے اِن پر نہیں۔ ان کے پچھلے طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے میں یہی سمجھنے پر مجبور ہوں کہ وہ ضرور کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کریں گے تو اُن کی ایسی ہی باتیں ہیں جو فیصلہ نہیں ہونے دیتیں۔ وہ کیوں اسی طرح فیصلہ نہیں کرتے جس طرح دنیا ہمیشہ کرتی آئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عمل بھی یہی تھا۔ آپ جاتے تھے اور اپنے دلائل سناتے تھے ماننے والے مان لیتے تھے اور انکار کرنے والے انکار کر دیتے تھے۔ وہ بھی کیوں اس طرح نہیں کر لیتے؟ وہ اپنے دلائل بیان کریں میں اپنے کروں گا۔ وہ ایسا طریق کیوں اخیتار کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا، جو حضرت موسیٰؑ نے اختیار نہیں کیا بلکہ جو کسی بھی نبی نے اختیار نہیں کیا۔ نئے نئے طریقے پیش کرنے کے معنی تو یہی ہیں کہ وہ کوئی چالاکی کرنا چاہتے ہیں۔ پس اِس وقت جبکہ غیر مذاہب کے بھی بہت سے معزز اصحاب موجود ہیں میں اُن سے کہتا ہوں کہ ان میں سے کوئی صاحب مہربانی کر کے مولوی صاحب کو فیصلہ پر آمادہ کریں اور ان سے بات چیت کر کے مجھے اطلاع دیں اور انہیں سمجھائیں کہ فیصلہ کا جو طریق ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اُس کے مطابق وہ کیوں فیصلہ پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اُن کی یہ بات کہ مذہب کے فیصلہ کے لئے جج مقرر ہوں بالکل ناجائز ہے۔ یا ایسے امور کے فیصلہ کیلئے جو عقائد میں داخل نہیں میرے جج مقرر کئے جانے کی شرط مان لیتے۔ پر اُن کا یہ کہنا کہ میرے نمائندے وہ مقرر کریں اور اُن کے میں کروں بالکل خلافِ عقل بات ہے۔ پھر میں تو فیصلہ کے نہایت آسان طریق ان کے سامنے پیش کر چکا ہوں۔ مثلاً میں نے کئی بار کہا ہے کہ:۔
    ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں جماعت کے جو عقائد تھے اور جن کی اشاعت کی جاتی تھی وہی عقائد صحیح ہو سکتے ہیں۔ میں اُن کو اُس زمانہ کی تحریروں میں سے اُن کے عقائد نکال دیتا ہوں اور وہ میری اِس زمانہ کی تحریروں میں سے میرے عقائد نکال لیں۔ ان کو اکٹھا شائع کر دیا جائے اور ہم دونوں اُن کے نیچے لکھ دیں کہ آج بھی ہمارے یہی عقائد ہیں وہ میرے حوالے نکال دیں میں اُن کے نکال دیتا ہوں اپنی طرف سے کوئی کچھ نہ لکھے۔ ہاں اگر کوئی فریق دوسرے کے حوالہ کو ادھورے رنگ میں پیش کرے تو اُسے حق ہے کہ اُسے مکمل طور پر درج کرنے کا مطالبہ کرے اور اس کے ساتھ اُس حصہ کو شامل کراسکے جس سے اُس کی عبارت پوری طرح واضح ہوتی ہو اور دونوں نیچے لکھ دیں کہ یہ ہمارے عقائد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں تھے اور آج بھی ہم اِن پر قائم ہیں اور اِس سے سارا جھگڑا ختم ہو جائے گا مگر وہ اِس طریق کی طرف بھی نہیں آتے۔
    ۲۔پھر ایک اور طریق یہ ہے کہ وہ جب بعض حوالے پیش کرتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں کہ ان کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آخری زمانہ میں ’’ ایک غلطی کا ازالہ ‘‘ نامی رسالہ میں کی ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ جو بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نبوت کے بارہ میں شروع میں تھا اور جو تشریح آپ اِس کی شروع میں فرماتے تھے وہی اِس رسالہ میں ہے۔ اور میں نے ان کے سامنے فیصلہ کا یہ طریق پیش کیا ہے کہ دونوں اِس رسالہ پر دستخط کر دیں اور لکھ دیں کہ یہی ہمارا عقیدہ ہے اور پھر اِسے شائع کر دیں۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریر پر دستخط کرنے کو تیار ہوں گا مگر وہ نہیں کرتے۔ میں کہتا ہوں کہ اِس رسالہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کی تشریح میں تبدیلی کی ہے مگر وہ اِس بات کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ اِس میں بھی وہی بات دُہرائی گئی ہے جو آپ اس سے پہلے بیان فرماتے رہے۔ اور میں نے کئی بار فیصلہ کا یہ طریق ان کے سامنے پیش کیا ہے کہ دونوں اِس پر دستخط کر دیں اور لکھ دیں کہ ہمارا یہی عقیدہ ہے اور پھر اِس رسالہ کو مشترکہ خرچ سے لاکھ دو لاکھ کی تعداد میں شائع کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ میں تو فیصلہ کے کئی طریق پیش کرتا ہوں مگر وہ پہلے کھڑے ہو کر میں نہ مانوں میں نہ مانوں کہہ دیتے ہیں اور بجائے کسی فیصلہ کے لئے تیار ہونے کے میرے متعلق سخت کلامی پر اُترآتے ہیں حالانکہ میں نے ان کے متعلق کبھی سخت کلامی نہیں کی۔ وہ کئی بار مجھے یزید کہہ چکے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اِس پربُرا منانے کی کوئی وجہ نہیں۔ یزید ایک بادشاہ تھا یہ تو عزت افزائی ہے اور اتنا نہیں سوچتے کہ نمرود اور فرعون بھی تو بادشاہ تھے اگر اُن کو اِن ناموں سے مخاطب کیا جائے تو کیا وہ خوش ہوں گے اور اسے اپنی عزت افزائی سمجھیں گے یا بُرا منائیں گے۔
    پس اِس وقت جو غیر احمدی یا غیر مسلم دوست بیٹھے ہیں میں ان کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی صاحب ایسے ہوں جو اِن پر کوئی اثر رکھتے ہیں تو وہ ان کو توجہ دلائیں کہ ان طریقوں میں سے کسی کے مطابق فیصلہ کر لیں اور نہیں تو وہ جسے مامور الٰہی سمجھتے ہیں اُس کی تحریر پر دستخط کردیں۔
    ۳۔ پھر ایک اور طریق فیصلہ کا بھی ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں انہوں نے عدالت میں ایک شہادت دی تھی وہ ان کی اپنی شہادت ہے میری نہیں وہ اُسی پر دستخط کر دیں اور لکھ دیں کہ آج ان کا عقیدہ وہی ہے میں اُس پر دستخط کر دوں گا اور لکھ دوں گا کہ میرا عقیدہ بھی یہی ہے ۔ گویا ان کے اپنی ہی شہادت پر دستخط کر دینے سے بات ختم ہو جاتی ہے۔ یہ کیسے سہل طریق ہیں اور جائز اور تقویٰ کے مطابق ہیں مگر وہ اِن کی طرف نہیں آتے اور عجیب عجیب شرطیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میرے وکیل وہ مقرر کریں اور اُن کے میں کروں۔ اِس طرح تو بٹیر لڑانے والے بھی نہیں کرتے کہ میرا بیٹرا تو لڑا اور تیرا میں لڑاؤں اور جو طریق بیٹر باز بھی اختیار نہیں کرتے مَیں دینی امور کے بارہ میں اُسے کس طرح اختیار کر لوں۔
    اب میں اِس سال کے بعض کاموں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تا جماعت کو مجموعی طور پر ان کی طرف توجہ ہو۔ اِس سال دو نئے ادارے قائم کئے گئے ہیں ایک تعلیم الاسلام کالج ہے اور ایک فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔ کالج کی پہلی جماعت یعنی ایف اے کا پہلا سال شروع ہو چکا ہے اور آئندہ سال کوشش کی جائے گی کہ بی اے کا پہلا سال بھی شروع کیا جا سکے۔ خیال یہ تھا کہ چونکہ پہلا سال ہے اور اعلان بھی پوری طرح نہیں ہو سکا اس لئے ۴۰،۵۰ طالب علم بھی آجائیں تو بہت ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ۸۰ طالب علم آگئے ہیں جن میں دس بارہ ہندو اور سکھ بھی ہیں۔ گویا کالج کی ابتداء نہایت خوش کن ہے اور امید ہے کہ اگر جماعت نے اِس روح کے ماتحت کام کیا تو یہ بہت ترقی کر جائے گا اور اگر اس سال ۸۰ طالب علم آئے ہیں تو اگلے سال اور بھی زیادہ آئیں گے۔ اس سال پندرہ سولہ طالب علم تو ایسے آئے ہیں کہ جنہوں نے تعلیم ختم کر رکھی تھی یعنی میٹرک پاس کرنے کے بعد دو دو چار چار سال سے بیٹھے تھے۔ جب یہاں کالج شروع ہوا تو وہ آکر داخل ہوگئے۔ ان کے والدین نے ان کو یہاں بھیج دیا اور اس طرح گویا یہ طالب علم کالج کو مفت مل گئے اور جو نئے آئے ہیں اُن کی تعداد قریباً ۶۵ ہے۔ پھر کوئی ادارہ نیا نیا جاری ہوتا ہے تو لوگوں میں نیا نیا جوش بھی ہوتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اِس کا تجربہ کرے مگر کچھ عرصہ کے بعد نئے ہونے کی لذت جاتی رہتی ہے۔ یہ وہ نقطۂ نگاہ ہے جس کی طرف مَیں منتظمین کو توجہ دلاتا ہوں کہ اِس کا خیال رکھیں اور جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ اب کالج کھل چکا ہے اُن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ طلباء کو بھجوائیں تا وہ اعلیٰ درجہ کی دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کر سکیں۔ یہاں اخراجات بھی باہر کی نسبت کم ہوں گے اور ان کے بچے دوسرے شہروں کی مسموم ہوا سے بھی محفوظ رہیں گے۔ بِالعموم جب طالب علم کالجوں میں جاکر داخل ہوتے ہیں تو اُن کی عمر چھوٹی ہوتی ہے اور اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زہریلی ہوا اُن پر اثر کرتی ہے لیکن اگر یہاں بی اے تک کی تعلیم وہ پاسکیں تو پھر وہ ہوا جو اِباحت اور بے دینی پیدا کرتی ہے اُن پر اثر نہ کر سکے گی خواہ وہ کہیں چلے جائیں ۔ کیونکہ یہاں وہ اُن لوگوں سے تعلیم حاصل کریں گے جو ان اعتراضات اور مسائل کو حل کرنے والے ہوں گے جو نوجوانوں کے اندر بے دینی اور لا مذہبیت پیدا کرتے ہیں اور پھر یورپین فلسفہ کا اثر اُن پر بہت کم ہوگا یا بالکل نہیں ہوگا۔ یہاں کالج کا جاری کرنا ضروری تھا کیونکہ جس قسم کے حملہ کی تیاریاں باہر ہو رہی ہیں اُس کے دفاع کا انتظام اِس کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ جو نوجوان ملازمت اختیار کر لیتے ہیں یا دوسرے کام کاج میں لگ جاتے ہیں اُن کو مطالعہ کا موقع بہت کم ملتا ہے اور اگر وہ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو صرف لطف اُٹھانے کے لئے، اور اس طرح ان پر اثر کم ہوتا ہے۔ لیکن کالج کے طالب علموں کا چونکہ یہی کام ہوتا ہے اور پھر ان کے پروفیسر وغیرہ بھی اِس قسم کے ہوتے ہیں اور دن رات اُن کو ایسے لوگوں میں رہنا پڑتا ہے جو عام طور پر بے دین ہوتے ہیں اس لئے باہر کی مسموم ہوا کا اُن پر زیادہ اثر ہوتا ہے اس لئے یہاں کالج کا ہونا ضروری تھا تا جہاں ہزاروں پروفیسر اسلام کے خلاف مواد جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور یورپین علوم کو اسلام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں وہاں کم سے کم پندرہ سولہ ہی ایسے ہوںجو اِن ہی علوم کو اسلام کی تائید میں استعمال کریں اور اِن سے اسلامی مسائل کی تائید کا پہلو نکالیں۔ میں نے کالج کے منتظمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی مختلف سوسائٹیاں قائم کریں کہ جو سائنس اور مختلف علوم کے نظریات سے اسلام کے مسائل کی تائید کے پہلوؤں پر غور کریں۔ پہلے اِن سوالات کو جمع کیا جائے جو اسلام پر پڑتے ہیں اور پھر ان کے جوابات سوچیں۔ باہر سے مشہور پروفیسروں کو یہاں منگوائیں اور اُن سے ایسی تقریریں کرائیں جو مذہب کے خلاف ہوں اور پھر اُن کے جواب تیار کریں اور وہ جواب باہر کے پروفیسروں کو بھجوائیں اور لکھیں کہ اب تک یہاں تک بحث فلاں فلاں بات کے متعلق ہو چکی ہے اگر آپ اِن پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں تو ڈالیں تا مزید غور اِن کے متعلق ہو سکے اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہے تا جب یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد طالب علم باہر جائیں تو وہ سارے سوالات جو اسلام پر کئے جاتے ہیں اُن کے سامنے آچکے ہوں اور ان کے جواب بھی اِن کو معلوم ہوں۔ ایسے مضامین شائع بھی کئے جا سکتے ہیں تا باہر کے جو لوگ بھی چاہیں تو اِن میں حصہ لے سکیں۔
    ریسرچ کی غرض
    فضل عمر سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ سائنس کے بعض مسائل ایسے ہیں کہ ایک حد تک سائنس پہنچتی
    ہے اور اُس کے بعد مذہب کی تائید کا پہلو اُس میں سے نکلتا ہے اور اِس انسٹی ٹیوٹ کی غرض یہ ہے کہ سائنس کے جن مسائل کا مذہب پر اثر پڑتا ہے اُنہیں حل کر کے دنیا کے سامنے پیش کریںاور بتائیں کہ ان سے اسلام کی تائید ہوتی ہے۔ اِس کے متعلق بھی میں نے ایک سوسائٹی کے قیام کی ہدایت کی ہے جو باہر سے اہل علم لوگوں کو بُلائے گی اور مذہب کے ساتھ تعلق رکھنے والے مسائل میں ان کی تقریریں کرائے گی۔ پھر ان کے جواب میں تقریروں کا انتظام کرے گی اور پھر باہر کے لوگوں کو جواب الجواب کا موقع دے گی۔ یہ مضامین بھی شائع کئے جائیں گے اور لکھا جائے گا کہ فلاں مسئلہ سے اِس حد تک مذہب کی تائید ہوتی ہے اگر گوئی اِس کے خلاف تقریر کرنا چاہے تو آکر کر سکتا ہے۔ یا اگر کوئی یہاں نہ آسکے تو لکھ کر بھیج سکتا ہے۔ اور بعض اوقات ایسے لوگوں کو جو تقریریں وغیرہ کرنے کے سلسلہ میں آئیں کرایہ وغیرہ بھی دیا جائے گا۔ گویا کہ کالج کے ذریعہ اسلام کو ڈیفنس کرنے کا انتظام کیا جائے گااور اِس سے دیگر مذاہب کے خلاف جارحانہ کارروائی کا سامان مہیا کیا جائے گا۔
    پھر اِس کا یہ بھی کام ہوگا کہ ایسی مختلف چیزوں کو دریافت کرے جو تجارتی لحاظ سے مفید ہوسکیں گویا مادی حصہ کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ اِس کام کا ایک حصہ شروع ہو چکا ہے اور امید ہے اگلے سال تک تیاری مکمل ہو جائے گی۔ اگر خدا تعالیٰ اِس کام میں کامیابی بخشے تو بعض ایجادات کا فائدہ تحریک جدید کو پہنچ سکتا ہے۔ بعض میں دوسرے افراد کو بھی اگر ضرورت ہو تو شامل کیا جا سکے گا اور بعض ایسی بھی ہو سکتی ہیں جنہیں ہم خود نہ چلا سکتے ہوں انہیں فروخت کر کے ریزرو فنڈ کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ ایک خیالی بات معلوم ہوتی ہے مگر جس حد تک بعض کارروائیاں ہو چکی ہیں اُن سے امید کی جا سکتی ہے کہ مادی طور پر بھی اس کام کو مفید بنایا جا سکتاہے۔
    کالج کے لئے میں نے دو لاکھ روپیہ چندہ کی اپیل کی تھی۔ پہلی تحریک ایک لاکھ پچا س ہزار کی تھی مگر بعد میں دو لاکھ کی کی تھی اور اب تک ایک لاکھ ستاون ہزار روپیہ کے وعدے آچکے ہیں اور ۴۳ ہزار باقی ہے احباب کو چاہئے کہ اِس رقم کو جلد از جلد پورا کریں۔ میں نے جہاں تک غور کیا ہے کالج کے چندہ کا بوجھ صرف چند لوگوں نے اُٹھایا ہے اکثر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اِس میں حصہ نہیں لیا۔ بیت المال پھر تحریک کر رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ جماعت کے دوست ۴۳ہزارروپیہ جلد از جلد پورا کر دیں گے۔ اگر دوست تھوڑا تھوڑا بھی حصہ لیں تو یہ رقم نہایت آسانی سے پوری ہو سکتی ہے۔ مستقل اخراجات کیلئے چالیس پچاس ہزار روپیہ کی مزید ضرورت ہوگی اور بی اے ۔ بی ایس سی کی کلاسیں جاری کرنے کے لئے ایک لاکھ کے قریب روپیہ کی ضرورت ہوگی مگر اس کے لئے اعلان ۱۹۴۵ء کے کسی حصہ میں کیا جائے گا۔ سردست دو لاکھ روپیہ میں سے جتنا باقی ہے اسے پورا کر دیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی باقاعدہ چندے بھی درست با شرح اور باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے رہیں تا سلسلہ کے دوسرے کاموںپر کوئی اثر نہ پڑے۔ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جس کا مَیں نے ذکر کیا ہے اِسے صحیح طور پر چلانے کے لئے تو کم از کم تیس لاکھ روپیہ چاہئے اِس میں ۲۵،۳۰ ایم ایس سی یا بی ایسی سی کام کرنے والے ہونے چاہئیں۔ ہم بِالعموم زندگیاں وقف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر فی کس دو سَو روپیہ بھی سب کو وظیفہ دیا جائے تو ۷۲ ہزار روپیہ سالانہ تو صرف تنخواہوں کا خرچ ہو گا۔ اِس کے علاوہ آلات کا خرچ ہے، کیمیکلز کا خرچ ہے، دھاتوں وغیرہ کا خرچ ہے، بجلی کا خرچ ہے اور اِس قسم کے کئی دوسرے اخراجات ہیں۔ جن کے لئے کافی روپیہ چاہئے تو یہ سب سے زیادہ اخراجات والی چیز ہے۔ مگر چونکہ یہ ادارہ خود بھی آمد پیدا کرے گا۔ اِس لئے امید ہے کہ اِس کے لئے زیادہ چندوں کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ بہرحال کچھ عرصہ کے بعد پتہ لگ سکے گا کہ ہم اِس سکیم کو کس طرح چلا سکتے ہیں۔ اِس سکیم کے ماتحت پانچ نوجوان ایم ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک دوست جو پہلے گورنمنٹ سروس میں تھے استعفیٰ دے کر یہاں آچکے ہیں اِس سال اُن کو P.H.Dکی ڈگری حاصل ہوئی ہے اور اب وہ D.S.Cکا امتحان دینے والے ہیں۔ بعض نوجوان ابھی چھوٹی جماعتوں میں تعلیم پا رہے ہیں اور ابھی کہا نہیں جا سکتا کہ کب تیار ہوں گے بہرحال اِس کے لئے بہت اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے امید ہے کہ وہ اسے مکمل کرا دے گا اور کوئی نہ کوئی ایسے ذرائع پیدا کر دے گا کہ یہ کام اچھی طرح چل سکے اور ہم اس کے ذریعہ ایک مضبوط ریزرو فنڈ قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ اِس کے علاوہ یہ ادارہ تبلیغ کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہوگا اِس سے ہم یورپ اور امریکہ کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرا سکیں گے اِس کام کی طرف مجھے اِس لئے بھی توجہ ہوئی کہ ساری قومیں سائنس میں ترقی کر رہی ہیں اور ایسے ادارے قائم کر کے اپنی اپنی قوم کی مادی ترقی میں کوشاں ہیں مگر مسلمانوں کا کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے حالانکہ قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ نیچر کے مسائل پر غور کرنا چاہئے مگر مسلمان اس سے غافل تھے۔ اِس لئے مَیں نے ضروری سمجھا کہ ہم ہی اِسے شروع کر دیں۔ سردست یہ کام قرض لے کر شروع کر دیا گیا ہے۔
    تجارتی تنظیم
    اِس کے ساتھ یہ بھی ضروی ہے کہ جماعت کی تجارتی تنظیم بھی ہو جائے۔ اس کے بارہ میں مَیں نے ایک خطبہ بھی پڑھا تھا مگر عمر بھر میں
    میرا کوئی اور خطبہ ایسا نہیں جس پر اِس قدر بے توجہی سے جماعت نے کام لیا ہو جتنا اِس پر لیا ہے۔ باہر سے کسی تاجر کا کوئی خط نہیں آیا جس میں کوئی مشورہ دیا گیا ہو یا تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہو۔ میری زندگی کا یہ پہلا تجربہ ہے کہ جو تحریک جماعت کو مخاطب کر کے کی گئی اُس پر کوئی توجہ نہیں ہوئی۔ ممکن ہے اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ میں نے کہا تھا کہ اِس کیلئے مرکز میں ایک ادارہ قائم کر دیا جائے گا۔ مگر وجہ خواہ کچھ ہو عملی طور پر ہوا یہی ہے کہ بعض ایسے تجربہ کار لوگوں نے جن کا تجارت کے پیشہ کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں بعض بڑی بڑی لمبی اور تفصیلی سکیمیں ارسال کی ہیں۔ یہ بھی ایک مرض ہے کہ جب بھی کوئی نئی بات پیش ہوتی ہے بعض ایسے لوگ جن کا کوئی واسطہ اُس سے نہیں ہوتا لمبی لمبی تفاصیل اِس کے متعلق لکھ کر بھیج دیتے ہیں اوربڑی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ اِسی طرح اِس تحریک کے متعلق ہوا ہے بعض ایسے لوگوں کی طرف سے جن کا اِس فن سے کوئی تعلق نہیں بہت سی تجاویز آئی ہیں ایسی تجاویز جن پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ مگر جو ماہرینِ فن ہیںانہوں نے اِس طرف کوئی توجہ نہیں کی بہرحال اب میں نے مرکز میں اِس کے لئے ایک ادارہ بھی قائم کر دیا ہے اور سیکرٹری مقرر کر دیا ہے کیونکہ ریسرچ انسٹی ُٹیوٹ کے ساتھ تجارتی تنظیم کا کام بہت ضروری ہے۔ اب بعض چیزیں قریباً تیار ہیں مگر اُنہیں کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اِس قسم کی چیزوں میں دلچسپی لینے والے تاجر کون ہیں جن کے پاس اِن کو فروخت کیا جاسکتا ہے یا جن کے ساتھ مل کر کام کو چلایا جاسکتا ہے۔ اگر دوست اِس کام میں دلچسپی لیں تو خود اُن کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اور سب سے بڑی چیز جو میرے مد نظر ہے یہ ہے کہ تاجروں کو منظم کر کے تبلیغ کے کام کو
    وسیع کیا جائے۔ بعض سکیمیں ایسی ہیں کہ جن سے تاجروں کو بھی کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور تبلیغ کے کام میں بھی مدد مل سکتی ہے مگر میں اُن کو پبلک میں بیان نہیں کر سکتا۔ اگر ان کو پبلک میں بیان کر دیا جائے تو مخالف بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں یہ سب باتیں میں اسی صورت میں بیان کر سکتا ہوں کہ تجارتی تنظیم مکمل ہو جائے اور احمدی تاجروں کی انجمن قائم ہو جائے۔ جماعتی تعاون تجارت میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کئی ایسے لوگ ہیں جو تجارتی کاموں میں پڑنا چاہتے ہیں مگر اُن کو واقفیت نہیں ہوتی کہ کیا کام شروع کریں، کس طرح کریں اور کہاں سے کریں۔ بعض کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا، بعض کے پاس سرمایہ تو تھوڑا بہت ہوتا ہے مگر اُنہیں کام کرنے کا ذریعہ معلوم نہیں ہوتا۔ اگر جماعت کی تجارتی تنظیم ہو جائے تو ایک دوسرے کو بہت مدد مل سکتی ہے۔ پھر کئی ایسے ممالک ہیں کہ اگر احمدی تاجر وہاں جائیں تو بہت جلد ترقی کی امید کر سکتے ہیں مگر یہ سب معلومات پبلک میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ اگر پبلک میں یہ باتیں بیان کر دی جائیں تو دوسرے لوگ فائدہ اُٹھالیں گے اور اُن علاقوں کے تاجر بھی سمجھیں گے کہ یہ لوگ بِالا رادہ اور ایک سکیم کے ماتحت یہاں آئے ہیں اور اس لئے وہ زیادہ مخالفت کریں گے۔ پس میں جماعت کے تاجروں کو اپنے اِس خطبہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ تبلیغ سلسلہ کے لئے اُن کا جلداز جلدمنظم ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اِس وقت مزدوروں اور کارخانہ داروں کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں لیکن ہم ایسے رنگ میں اِس سکیم کو چلانا چاہتے ہیں کہ ایسے جھگڑے پیدا ہی نہ ہوں اور دونوں ترقی کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور ہم اِس کیلئے بہت سی باتیں بتا سکتے ہیں مگر پبلک میں ان کا بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاجر احباب جلدسے جلد اپنی انجمن بنا لیں جس کے سامنے میں یہ باتیں بیان کر دوں گا۔ احمدی تاجروں کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے نام تحریک جدید کے دفتر میں بھجوادیں اور جس قسم کا تعاون کر سکیں کریں۔اِن کاموں کے چلانے کے لئے واقفین کی بھی ضرورت ہے اور نوجوانوں کو چاہئے کہ اِن کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں۔
    ۱۸۰مربعہ اراضی
    گزشتہ سال میں نے اعلان کیا تھا کہ سندھ سے ۱۸۰ مربعہ اراضی آزاد کرائی جا چکی ہے اِس سال تک یہ رقبہ تین سَو مربعہ یعنی
    ساڑھے سترہ ہزار ایکڑ کے قریب ہے جو آزاد کرایا جا چکا ہے دوہزار ایکڑ کے قریب باقی ہے جس میں سے ہزار ڈیڑھ ہزار ایکڑ کے قریب زمین خریدی جاچکی ہے اور باقی کی خرید کے معاہدے ہو چکے ہیں۔ جو خریدی جا چکی ہے اُسے قریبی عرصہ میں آزد کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ پانچ چھ سَو ایکڑ تو عنقریب ہی آزاد ہو جائے گی۔ اِس کے علاوہ کچھ رقبہ ایسا ہے جس کے متعلق خیال ہے کہ وہ خریدنے کے قابل ہی نہیں۔ امید ہے کہ ۱۹۴۵ء میں ساری کی ساری زمین جو ہم خریدنا چاہتے ہیں ہم خرید کر آزاد کرا سکیں گے۔تحریک جدید کے دس سالہ دَور میں کل قریباً ساڑھے نو ہزار ایکڑاراضی خریدی گئی ہے اِس کی قیمت میں ساڑھے تین لاکھ روپیہ قرض لے کر ادا کیا گیا ہے اور باقی تحریک جدید کے چندوں سے۔ سندھ میں چونکہ کاشت کرنے والے بہت کم ہیں اِس لئے وہاں زمینوں کی قیمتیں پنچاب کی نسبت بہت کم ہیں پھر بھی سندھ کی موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے یہ جائداد ساڑھے بائیس لاکھ روپیہ کی ہے اور اگر پنجاب میں زمینوں کی قیمتوں پر اندازہ کیا جائے تو یہ ساٹھ سے اسّی لاکھ تک مالیت کی ہے۔ مگر صوبہ سندھ زراعت میں پنجاب سے بہت پیچھے ہے اور وہاں کاشت کرنے والے بھی کم ہیں۔ پنجاب میں تو یہ حالت ہے کہ مزارعین مالکانِ اراضی کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں مگر وہاں مالکان مزارعین کے پیچھے پھرتے ہیں اور وہ زیادہ پروا نہیں کرتے۔ یہاں تو مزارعین پیشگی دے کر ٹھیکے اور کاشت پر مربعے لیتے ہیں مگر وہاں مالکان مزارعین کو پیشگی رقوم دے کر آمادہ کرتے ہیں کہ کاشت کریں۔ پھر یہاں تو زمیندار زمین کو ایسا تیار کرتے ہیں کہ وہ بہت پیداوار دیتی ہے مگر وہاں کسان اتنی محنت نہیں کرتے وہ صرف بیج پھینک آتے ہیں اور باقی سارا کام مالک خود کراتے ہیں۔ پھر بھی حالات بدل رہے ہیں۔ ۱۹۳۴ ء میں جب میں نے پہلی دفعہ سندھ کا سفر کیا تھا تو گھوڑوں پر کیا تھا اور حالت یہ تھی کہ کئی جگہ رستہ نہیں ملتا تھا اور اِردگرد آدمی بھیج کر دریافت کرانا پڑتا تھا کہ راستہ کس طرف ہے مگر اب وہاں ریل جاری ہو گئی ہے اور بعض ریلوں میں اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ جگہ نہیں ملتی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ علاقے آباد ہو رہے ہیں اور امید ہے آہستہ آہستہ وہاں بھی زمینوں کی قیمت پنجاب جتنی ہی ہو جائے گی مگر سرِدست کم ہے۔ پھر بھی ساڑھے بائیس لاکھ روپیہ کی یہ جائداد ہے اور اگر باقی کی زمین بھی آزاد ہو جائے تو گویا تیس لاکھ روپیہ کا ریزرو فنڈ قائم ہو جائے گا۔ وہاں کام کرنے کے لئے بھی کارکنوں کی بہت ضرورت ہے اور میں تحریک کرتا ہوں کہ وہاں کام کرنے کے لئے بھی ایسے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں جو زمیندارہ کام سے واقف ہوں۔ ان کے لئے اکاؤنٹنٹ،مینیجر اور منشیوں کا کام کرنے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے اور جو لوگ وہاں خدمت سرانجام دیں گے وہ بھی سلسلہ کے ایسے ہی خادم سمجھے جائیں گے جیسے سلسلہ کے مبلّغ ہیں۔ جو شخص وہاں جا کر منشی کا کام کرتاہے وہ ثواب کا ویسا ہی مستحق ہے جیسے امریکہ کا مبلّغ، اس لئے میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ بیس سے تیس سال تک کی عمر کے نوجوان جو پرائمری یا مڈل تک تعلیم رکھتے ہوں سندھ کی اراضیات پر کام کرنے کے لئے اپنے نام پیش کریں اور زندگیاں وقف کریں تا اُنہیں کام کے لئے تیار کر کے وہاں بھجوایا جا سکے۔ پھر وہاں مینیجروں کی بھی ضرورت ہے اِس کے لئے دو گریجوایٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہم ایم ایس سی کی دوسرے کو بی ایسی سی کی تعلیم دلا رہے ہیں۔ اور بھی ایسے نوجوان جو بی اے یا بی ایس سی ہوں اور جنہیں زمیندارہ کام کا تجربہ ہو اگر اپنے نام پیش کریں تو بہت اچھا ہے۔
    دفتری نظام
    ایک اور خطرہ جو ہمارے دفتری کاموں کے سلسلہ میں ہے میں اُس کا ذکر بھی کر دینا مناسب سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ موجودہ ناظر جب سے مقرر
    ہوئے ہیں وہی کام کر رہے ہیں اِن کا کوئی قائم مقام تیار نہیں ہوا۔ یہی چند ایک لوگ ہیں جو بیس بیس سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہے ہیں اور آگے ہمارے پاس کوئی ایسے آدمی نہیں ہیں جو اِن کی جگہ لے سکیں۔ میں نے مجلس مشاورت کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ میں تحریک جدید کے واقفین میں سے ایسے آدمی دوں گا جنہیں ایسے رنگ سے ٹریننگ دی جائے کہ وہ آئندہ جا کر نظارتوں کا کام کر سکیں۔ چنانچہ میں نے واقفین میں سے چھ نوجوان صدر انجمن احمدیہ کو دئیے ہیں کہ اِنہیں مختلف محکموں میں ٹریننگ دی جائے تا جب کسی ناظر کی کوئی جگہ خالی ہو تو وہ کام کو سنبھال سکیں۔ یہ نوجوان واقفین میں سے دیئے گئے ہیں۔ ہم اِن کو صرف گزارہ دیں گے جو صدر انجمن احمدیہ تحریک جدید کو ادا کر دیا کرے گی۔ اِن کو ترقیات اور گریڈ وغیرہ کوئی نہیں دیئے جائیں گے کیونکہ وہ واقف ہیں۔
    تبلیغ کے کام کو وسعت دینے کے لئے اس سال کراچی، بمبئی اور کلکتہ میں باقاعدہ مشن کھول دیئے گئے ہیں۔ میری عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ ان مقامات پر مشن کھولے جائیں جو ہندوستان …… مگر افسوس کہ اب تک اِس طرف توجہ نہ دی گئی۔ اب یہ مشن کھل گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی کامیابی ہو رہی ہے خصوصاً کلکتہ میں زیادہ کامیابی ہو رہی ہے وہاں اب تک ایک درجن اچھے کام کرنے والے آدمی سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیںاور درجنوں ہیں جو تیار ہو رہے ہیں اور قریب آ رہے ہیں۔ کراچی میں بھی بیداری کے آثار نظر آتے ہیں کچھ لوگ وہاں بھی احمدی ہوئے ہیں اور امید ہے کہ وہاں جلد مرکز مضبوط ہو کر زیادہ اچھے نتائج پیدا ہو سکیںگے۔ بمبئی میں دیر سے مشن قائم ہوا ہے ابھی موزوں جگہ بھی نہیں مل سکی مگر وہاں نیر صاحب بطور مبلّغ گئے ہیں جو پُرانے تجربہ کار آدمی ہیں وہ کوشش بھی کر رہے ہیں اور امید ہے اِنْشَائَ اللّٰہَ وہاں بھی جلد کامیابی ہو جائے گی۔ اِس کے بعد مدراس اور پشاور رہ جائیں گے اگر وہاں بھی مشن قائم ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سرحدیں مضبوط ہو جائیں گی۔ کوئٹہ کو میں نے پہلے شامل نہیں کیا تھا مگر اب اِسے بھی شامل کرنا ہے وہاں بھی مشن کا قائم ہونا ضروری ہے۔ وہاں سے بھی افغانستان کو آنے جانے والے قافلے گزرتے ہیں اور اگر وہاں بھی ہمارا مشن ہو تو خداتعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو تبلیغ ہو سکتی ہے ۔
    مساجد کی تحریک
    اِس کے بعد میں مساجد کی تحریک کا ذکر کرتا ہوں۔ میں نے اِس سال یہ تحریک کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اِس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔
    اُمِّ طاہر احمد مرحومہ کی وفات کے بعد میں نے مسجد مبارک کی توسیع کی تحریک کی تھی اور احباب نے دیکھ لیا ہوگا کہ اب کیسی شاندار مسجد بن چکی ہے۔ پہلے تو اندازہ تھا کہ اِس پر ۱۲،۱۳ ہزار روپیہ خرچ آئے گا اور میرا یہ بھی ارادہ تھا کہ بیرونی دوستوں کو بھی اِس میں حصہ لینے کا موقع دوں گا۔ مگر میں نے عصر کی نماز کے بعد یہ تحریک کی کہ میں چاہتا ہوں اِس مسجد کو وسیع کیا جائے اور عشاء کی نماز تک سولہ ہزار کی بجائے قادیان کی جماعت نے ہی ۲۴ ہزار روپیہ جمع کر دیا۔ اِس تحریک کے نتیجہ میں مسجد مبارک پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور ابھی بعض اور سامان بھی اُس کی وسعت کے ہیں اور خداتعالیٰ چاہے تو اِس سے بھی وسیع ہوسکتی ہے۔ اِس کے علاوہ اس امر کی ضرورت ہے کہ مسجد اقصیٰ کو وسیع کیا جائے ۔ چند ہی سال ہوئے ہم نے اِس مسجد کو بڑھایا تھا۔ شیخ محمدیوسف صاحب ایڈیٹر نورنے مہربانی کر کے اپنا مکان انجمن کے پاس فروخت کردیا جسے مسجد میں شامل کر لیا گیا۔ بعض نادانوں نے اُس وقت اعتراض بھی کیا تھا کہ اُنہوں نے مکان بہت مہنگا دیا مگر یہ اعتراض صحیح نہیں۔ انہوں نے جو قیمت لی وہ واجبی تھی اورمیں سمجھتا ہوں اُنہوں نے اپنا مکان دے کر قربانی ہی کی تھی ورنہ جس مکان میں آدمی ایک عرصہ سے رہ رہا ہو اُسے دے دینا آسان نہیں ہوتا۔ اب وہ مسجد بھی تنگ ہوگئی ہے دوسری طرف باہر کے دوستوں کی طرف سے میرے پاس یہ شکایت پہنچتی ہے کہ مسجد مبارک کے چندہ کی تحریک میں انہیں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا اب اگر مسجد اقصیٰ میں تو سیع کی تحریک کی گئی تو باہر کے دوستوں کو ضرور اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا مگر ابھی اس تحریک کا موقع نہیں۔ اگر اس مسجد کو بڑھایا گیا تو میرا خیال ہے اِس پر پچاس ہزار روپیہ بلکہ ممکن ہے ایک لاکھ روپیہ خرچ ہو۔اب جن عمارات کو اِس میں شامل کر کے اِسے وسعت دی جا سکتی ہے وہ بہت قیمتی جائدادیں ہیں۔ اِس لئے اِسے وسیع کرنے پر کافی خرچ آئے گا اور جب اِس کا موقع آئے گا میں تحریک کر دوں گا اور باہر کی جماعتوں کو اِس میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔
    اِس سال میں نے یہ تحریک بھی کی تھی کہ ہندوستان کے سات اہم مقامات پر مساجد تعمیر کرنا چاہئیں یعنی پشاور، لاہور، کراچی، دہلی، بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں۔ اور یہ تحریک بھی خداتعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو رہی ہے۔ دہلی کے دوستوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور سب نے ایک ایک ماہ کی آمد چندہ میں دی اور اِس طرح اِس مد میں تیس ہزار روپیہ کے وعدے ہو چکے ہیں اور کچھ روپیہ امانت فنڈ سے دے دیا گیا ہے۔ دوکنال زمین خرید لی گئی ہے جس کی قیمت پچاس ہزار روپیہ ہے یہ نواب پٹواری کی جائداد ہے۔ ستّر ہزار روپیہ عمارت کی تعمیر پرخرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ جگہ جو خریدی گئی ہے یہاں پہلے عیسائیوں کا مشن بنا تھا۔
    مجھے اِس سلسلہ میں ایک بات یاد آئی جس سے بہت لطف آیا۔ قریباً تیس سال پہلے مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ہائی سکول اور بورڈنگ کی عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ ہم تو قادیان سے جارہے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ اِن عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ اُن کی یہ بات تو خداتعالیٰ نے غلط ثابت کر دی اور ہمیں توفیق دی کہ دہلی میں عین اُس مقام پر ہم مسجد بنا رہے ہیں جہاں سب سے پہلے عیسائیوں نے اپنا مشن قائم کیا تھا اور اِس طرح بجائے اِس کے کہ عیسائی ہماری عمارتوں پر قبضہ کر سکتے ہم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جگہ دے دی جہاں اُنہوں نے پہلے اپنا مشن قائم کیا۔ امید ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ میں وہاں ایک مسجد اور ایک ہال تعمیر ہو جائے گا۔ میرا تو اندازہ تھا کہ کم سے کم سَوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہوگا مگر دہلی کے دوستوں نے بتایا ہے کہ بعض تجاویز ایسی ہیں کے اِنْشَائَ اللّٰہُ انہیں سامان سستا مِل سکے گا اور اِس طرح بہت جلد وہاں مسجد، ہال اور ایک مہمان خانہ تعمیر ہو سکے گا اور ہندوستان کے سیاسی مرکز میں ہمارا تبلیغی مرکز قائم ہو جائے گا۔
    دوسری جماعت جس نے جماعت دہلی سے بھی بڑھ کر اِس تحریک میں حصہ لیا ہے وہ کلکتہ کی جماعت ہے۔ ابھی پانچ سات سال کی بات ہے کہ کلکتہ کی جماعت کا چندہ دو چار ہزار روپیہ سے زیادہ نہ ہوتا تھا مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہوا ہے کچھ نئے آدمی وہاں گئے اور جو پہلے سے وہاں موجود تھے اُن میں سے بعض کی حالت سُدھر گئی اور اب یہ حالت ہے کہ اِس جماعت نے ۶۶ ہزار روپیہ چندہ مسجد کے لئے دیا ہے اور ان میں سے بعض نے تحریک کی ہے کہ اِس چندہ کو ڈبل کیا جائے گویا ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب۔ ایک جگہ بھی انہوں نے مسجد کیلئے تجویز کی ہے جو امید ہے ساٹھ پینسٹھ ہزار میں مل جائے گی۔ ایک اور ٹکڑہ زمین کا شہر کے اندر ہے مگر اُس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہے میں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ شہر کے باہر کے علاقہ میں بنائیں۔ باہر کے علاقہ میں تبلیغ میں سہولت ہوتی ہے وہاں مخالفت بھی بڑی ہوتی ہے تو اِس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے کلکتہ میں سامان ہو رہا ہے اور جماعت نے ۶۶ ہزار روپیہ جمع کر دیا ہے۔
    بمبئی میں ابھی جگہ خریدی نہیں گئی مگر وہاں بھی سامان ہو رہا ہے۔ وہاں قبرستان کے لئے بھی جگہ حاصل کی جا رہی ہے۔ بعض ممبروں کے دستخط بھی ہو چکے ہیں صرف ایک کے باقی ہیں۔ فی الحال بمبئی میں زمین خریدنے کے لئے روپیہ مرکز سے بھجوایا گیا ہے۔
    پشاور میں پہلے سے مسجد ہے مگر چھوٹی ہے وہاں مبلّغ کے لئے مکان اور لیکچر ہال کی بھی ضرورت ہے اور میں صوبہ سرحد کے احمدیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ کسی ایسی جگہ کا خیال رکھیں جہاں پاس آبادی بھی ہو اور جگہ کھلی مل سکے تا اگر ہو سکے تو وہاں عربی مدرسہ بھی جاری کیا جاسکے۔
    کراچی میں چار کنال کے قریب زمین مَیں دیر سے خرید چکا ہوا ہوں یہ دراصل اراضیاتِ سندھ کے سلسلہ میں خریدی گئی تھی کیونکہ خیال تھا کہ کراچی میں شاید …… رکھنا پڑے گا جوکہ حُکّام وغیرہ سے …… کچھ تو مَیں نے ذاتی طور پر خریدی تھی اور کچھ انجمن کی طرف سے خریدی تھی۔
    لاہور میں بھی اچھے موقع پر سات ایکڑ زمین خریدلی گئی ہے مگر اب حکومت کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے اور وہ اِسے واپس لینا چاہتی ہے کوشش کی جائے گی کہ وہ واپس نہ لے کیونکہ ہمارے پاس تو وہاں اور کوئی زمین ہے نہیں اور اگر انصاف سے کام لیا گیا تو ہم سے یہ زمین جبراً نہ لی جائے گی۔
    مدراس میں کوئی کوشش نہیں کی گئی اگر وہاں بھی مسجد بن سکتی تو تبلیغ کا بہت اچھا موقع پیدا ہو سکتا تھا۔
    حیدر آباد بھی ہندوستان میں ایک اہم جگہ ہے سیٹھ عبداللہ الہٰ دین صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور اُنہوں نے ۲۵،۳۰ ہزار روپیہ صرف کر کے وہاں ایک احمدیہ جوبلی ہال تعمیر کرایا ہے۔ ہے تو وہ مسجد ہی مگر کہلاتی ہال ہے اب انہوں نے اسے اور بڑا کر دیا ہے اور وہ اب تک اس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد میں بیرونی مشنوں کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔
    بیرونی مشنوں کے متعلق
    اس سال جنگی مشکلات کے باوجود انگلستان، امریکہ اور افریقہ میں تبلیغی لحاظ سے اچھی کامیابی ہوئی ہے۔
    انگلستان اور امریکہ وغیرہ ممالک میں یہ حالت ہے کہ قریباً تمام مرد جنگی خدمات کے سلسلہ میں بھرتی ہو چکے ہیں۔ یا تو وہ فوج میں کام کرتے ہیں اور یا کارخانوں میں، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انگلستان میں مولوی جلال الدین صاحب شمس کو توفیق دی اور انہوں نے انگلستان کے بڑے طبقہ کے لوگوں میں احمدیت کو روشناس کرا دیا۔ اِسی طرح امریکہ میں بھی اچھی کامیابی ہوئی ہے مگر سب سے زیادہ کامیابی افریقہ میں ہوئی ہے۔ وہاں اِس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تین مشن ہیں (۱)نائیجریا میں۔ جو ہندوستان کے بعد سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی دس کروڑ کے قریب ہے اور وہاں دو تین کروڑ ہے۔
    (۲)گولڈ کوسٹ۔ یہاں بھی کثرت سے مسلمان آباد ہیں۔
    (۳) سیرالیون۔ یہاں بھی مسلمان آباد ہیں ان علاقوں میں عیسائیوں نے مشن کھول رکھے ہیں اور عیسائی حکومت بھی ان کی مدد کرتی ہے۔ حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ عیسائیوں کے سکولوں کے سِوا کسی سکول کو کوئی امداد نہ دی جائے۔ ہم نے بھی وہاں کئی سکول قائم کئے ہیں اور لڑ بھڑ کر حکومت سے امداد بھی لی ہے اِن تینوں علاقوں میں ہمارے مدارس قائم ہیں جن میں ہزاروں طالب علم تعلیم پا رہے ہیں اور ایسی کامیابی سے تبلیغ ہو رہی ہے کہ ہزاروں لوگ خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔ وہاں جماعت کی ترقی کا اندازہ اِس سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک کانفرنس میں تین ہزار نمائندے شریک ہوئے تھے۔ صرف ایک مُلک میں مردم شماری کرائی تو تعداد ۲۵ہزار تھی۔ بعض علاقوں میں تو یہ حالت ہے کہ امراء شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری طرف تبلیغ کیوں نہیں کرتے۔ ایک چیف کی بہت خواہش تھی کہ کوئی احمدی مبلّغ اُس کی ریاست میں آئے وہ دو سال انتظار کرتا رہا مگر کوئی نہ جا سکا اب وہ فوت ہو چکا ہے۔ تو وہاں لوگوں کے دلوں میں تڑپ پائی جاتی ہے کہ ہماری باتیں سنیں مگر ہمارے مبلّغ اُن تک پہنچ نہیں سکتے۔ وہاں تبلیغ میں بعض مشکلات بھی ہیں وہاں نئے نئے قوانیں رائج ہیں مثلاً عدالت میں بیان دیتے وقت ایک سٹول پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانی پڑتی ہے۔ احمدیوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم ایک زندہ خدا کے ماننے والے ہیں اور اُس کے سِوا کسی کی قسم نہیں کھا سکتے۔ ان کے ساتھ سختیاں بھی کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پُرانے قانون کو احمدیوں کے لئے توڑا نہیں جا سکتا اور جو احمدی انکار کرتا اُسے جیل بھیج دیا جاتا۔ مگر احمدی دلیری سے جیل میں جانے لگے اور اب حکومت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ احمدیوں کو خدا کی قسم کھانے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ کئی احباب نے دیکھا ہوگا نیر صاحب ان علاقوں کے لوگوں کی تصویریں دکھایا کرتے ہیں۔ پہلے وہاں ہزاروں لوگ ننگے پھرا کرتے تھے مگر اب وہ کپڑے پہننے لگے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے سیرالیون کے مبلّغ واپس آرہے ہیں۔ حیفا سے اُن کا تار آیا ہے کہ ویزاچونکہ جلدی نہیں مل سکا اِس لئے جلسہ سالانہ پر نہیں پہنچ سکا۔ اب وہ عراق کی طرف روانہ ہوگئے ہیںوہ جلسہ پر نہیں پہنچ سکے ورنہ میں چاہتا تھا کہ وہ خود اپنی مشکلات پیش کرتے۔ وہاں تبلیغ کا میدان بہت وسیع ہے اور درجنوں مبلّغ ہوں تو کام دے سکتے ہیں۔ چھ چھ ماہ کے بعد اِن مبلّغوں کا خرچ مقامی لوگ برداشت کر سکتے ہیں وہاں بہت سے افریقن مبلّغ بھی کام کرتے ہیں۔ کچھ دن ہوئے مجھے ایک مقامی مبلّغ کا خط آیا تھا اُس نے لکھا تھا کہ :۔
    مولوی نذیر احمد صاحب
    مولوی نذیر احمد صاحب کے کام کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے وہ بہت جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ یہاں
    کام کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ملیریا بہت ہے اور مچھر بہت ہیں۔ راستے بھی دُشوار گزار ہیں مگر مولوی صاحب اِن سب مشکلات کے باوجود بہت محنت سے کام کرتے ہیں اور انہوں نے بعض علاقوں میں جو بالکل جنگلی ہیں سَو سَو اور دو دو سَو میل لمبے سفر پیدل کئے ہیں گو وہ اِس کے عادی نہ تھے۔ اِس مقامی مبلّغ نے لکھا تھا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسی قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارے مبلّغین کی اِن جانفشانیوں کا نتیجہ ہے کہ ان ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو ترقی حاصل ہو رہی ہے اور کالے چمڑے والے قیامت کے دن سفید شکلوں میں اُٹھیں گے۔ ان کے دل نور ایمان سے منور ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور اِس مُلک پر وسیع طور پر پھیل جائے گا اور گری ہوئی اقوام جلد ترقی کریں گی۔
    ٹانگا نیکا میں نئی احمدیہ مسجد تعمیرہوئی ہے اور مدرسہ بھی کھل چکا ہے وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی بیداری پیدا ہو رہی ہے کہ حکومت نے کہا ہے کہ اگر جماعت احمدیہ حبشیوں کی آبادی میں سکول کھولے تو وہ مدد دے گی اور وہاں کے تاجروں نے جو غیر احمدی ہیں ہزاروں روپیہ کی امداد کا وعدہ کیا ہے چنانچہ وہاںسکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حبشہ میں سب سے پہلے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو تبلیغ کی توفیق اللہ تعالیٰ نے دی تھی تو اُن کی تبلیغ سے تو اس ملک کا کوئی باشندہ احمدی نہ ہوا تھا مگر فلسطین کے مبلّغ نے اطلاع دی ہے کہ رسالہ البشریٰ پڑھ کر حبشہ کے ایک صاحب احمدی ہوئے ہیں جو مصری پولیس میں انسپکٹر تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیںاور سوڈان میں رہتے ہیں۔ گویا وہ تین مُلکوں سے نسبت رکھتے ہیں حبشہ کے باشندہ ہو نے کی وجہ سے، مصری حکومت میں ملازمت کرنے کی وجہ سے اور سوڈان میں بودوباش رکھنے کی وجہ سے۔ سوڈان میں پہلے بھی ایک دوست احمدی تھے احمدیت کی وجہ سے وہاں اُن کو دکھ دیئے گئے اس لئے وہ عدن آگئے تھے۔ جنگ کی وجہ سے بعض احمدی ایبیسینیا گئے اور اُن کو تبلیغ کا موقع ملا اور اِس طرح جنگ کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے مفت تبلیغ کے راستے ہمارے لئے کھول دئیے۔
    ایک اور نوجوان جزیرہ لکا دیپ کے رہنے والے اب قادیان آئے ہیں۔ سٹریٹ سیٹلمینٹس اور ہندوستان کے درمیان بعض چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں اِن میں سے ایک جزیزہ سے ایک جہاز ہندوستان کی طرف آرہا تھا کہ چاپانی آب دوز نے تار پیڈ و مار کر غرق کر دیا تمام مسافر سوائے تین کے ڈوب گئے۔ یہ تینوں بمبئی پہنچے وہاں پہنچ کر دو مر گئے اور ایک بچا۔ اسے ایک احمدی دوست مل گئے جب اِس نوجوان نے اپنے حالات جہاز کی غرقابی اور مصائب اُٹھا کر بمبئی پہنچنے کے واقعات بیان کئے تو اُس احمدی دوست نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کے نتیجہ میں دُنیا پر عذاب آرہے ہیں۔ اِس نوجوان نے پوچھا کہ مسیح موعود کون ہیں؟ اور اس طرح اس احمدی کو موقع مل گیا کہ اسے تبلیغ کرے چنانچہ اب وہ نوجوان یہاں پہنچ گیا ہوا ہے۔ یہ نوجوان اپنے جزیزہ کے سلطان کے وزیر کا لڑکا ہے۔ بعد میں وہاں سے کچھ اور لوگ ہندوستان آئے ہیں یہ اطلاع ملی ہے اِس نوجوان کے متعلق وہاں یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو اِس طرح اللہ تعالیٰ تبلیغ کے نئے نئے راستے کھول رہا ہے اور سامان وسیع کر رہا ہے۔
    دیہاتی مبلّغ
    اِس سال پندرہ دیہاتی مبلّغ تیار کئے گئے ہیں اِن کو قرآن کریم کا ترجمہ، موٹے موٹے دینی مسائل اور طب وغیرہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ اِن کے
    علاقے بھی مقرر کر دیئے گئے ہیں۔ تین ضلع سیالکوٹ میں، تین ضلع گورداسپور، دو ضلع لاہور ،دو ضلع سرگودھا ،ایک ضلع ملتان، ایک ضلع کرنال، ایک ضلع امرتسر اور دو ضلع گوجرانوالہ میں لگائے گئے ہیں یہ سکیم مَیں پہلے شائع کر چکا ہوں۔ میرا منشاء یہ ہے کہ دس پندرہ یا بیس دیہات کے لئے ایک مبلّغ مقرر کیا جائے۔ یوں تو بہت سے دیہاتی مبلّغین کی ضرورت ہے اگر صرف ان مقامات پر ہی دیہاتی مبلّغ رکھے جائیں جہاں جماعتیں ہیں تو بھی آٹھ سَو جماعتیں ہیں۔ اگر ہر دیہاتی مبلّغ کا حلقہ چار چار جماعتوں پر پھیلا ہوا ہو تو بھی دو سَو دیہاتی مبلّغ درکار ہوں گے۔ لیکن اگر دو سَو دیہاتی مبلّغ بھی مہیا کئے جائیں تو اُن پر سَوا لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ اگر ہر مبلّغ کا خرچ پچاس روپیہ بھی سمجھ لیا جائے تو اِس کے معنی ہوں گے دس ہزار روپیہ ماہوار۔ یعنی ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ سالانہ۔ مگر ابھی ہم اتنا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اس لئے میری تجویز ہے کہ فی الحال پچاس تیار کئے جائیں۔ اس کے لئے بھی بیس سے تیس سال تک کی عمر کے نوجوان جن کی تعلیم مڈل کے درجہ تک ہو اپنے نام پیش کریں۔ چالیس سال تک کی عمر کے وہ لوگ بھی لئے جاسکتے ہیں جو اس کام کے لئے موزوں سمجھے جائیں۔
    ترجمۃ القرآن
    ایک کام ترجمۃ القرآن کا بھی ہے جس کے لئے میں نے چندہ کی تحریک کی تھی۔ مگر بعض جماعتوں کو اس کا علم نہیں ہو سکا اور وہ حصہ نہیں لے
    سکیں۔ یہ سوال نہیں کہ کوئی کتنی رقم دے کر اِس میں حصہ لیتا ہے بلکہ ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو کچھ بھی وہ دے سکے دے کر شامل ہو تا کوئی بھی اِس ثواب سے محروم نہ رہے۔ میں نے اس کام کے لئے ایک لاکھ ۹۴ ہزار روپیہ چندہ کی تحریک کی تھی اور الگ الگ حلقے مقرر کر دیئے تھے۔ ایک حلقہ قادیان، ایک لجنہ اماء اللہ کا حلقہ، لاہور کا حلقہ، صوبہ سرحد کا حلقہ، دہلی کا حلقہ، کلکۃ کا حلقہ اور ساتواں حیدر آباد کا حلقہ۔ یہ سات حلقے مقرر کئے گئے تھے۔ ان پر کلکتہ اور حیدر آباد دکن کی جماعتوں نے فوراً اطلاع دی کہ وہ اِس ذمہ داری کو بخوشی اُٹھاتی ہیں اور مقررہ رقم جمع کر کے دینے کی ذمہ دار ہیں خواہ اُن سے ملحقہ جماعتیں پوری طرح حصہ لیں یا نہ لیں وہ مقررہ رقم ضرور پوری کر دیں گی۔ دہلی ، صوبہ سرحد اور لاہور کی جماعتوں نے بھی رقوم پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ پشاور کے دوست باوجود یکہ مالدار نہیں ہیں پھر بھی انہوں نے اخلاص کا نمونہ دکھلایا ہے اور کہا ہے کہ چاہے کچھ ہو وہ رقم پوری کریں گے۔ اِن کے وعد ے بیس ہزار کے آگئے ہیں۔ لاہور کا وعدہ ابھی کم ہے مگر شاید وہ ابھی اپنے طور پر کوشش کر رہے ہوں۔قادیان کا وعدہ ۲۳ ہزار تک کا ہے مگر ابھی خاص قادیان میں کوشش جاری ہے اور باہر کی بعض جماعتیں ابھی باقی ہیں۔ اب تک کُل وعدے دو لاکھ ۱۲ ہزا ر کے ہو چکے ہیں حالانکہ بہت سے جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے ابھی حصہ نہیں لیا۔ اور میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اِس تحریک میں ضرور حصہ لیں خواہ ایک دھیلہ ہی دے سکیں تا جہاں جہاں قرآن کریم کے یہ تراجم چھپ کر جائیں ثواب میں اُن کا حصہ بھی ہو۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ایک کوڑی دیکر بھی آدمی حصہ لے سکتا ہے اتنی رعایت کے باوجود بھی جو حصہ نہیں لیتا وہ اپنے آپ کو بہت بڑے انعام سے محروم رکھتا ہے۔ پس ہر دوست اِس میں حصہ لے خواہ ایک پیسہ یا ایک دھیلہ دے کر ہی حصہ لے سکے ۔ غرض یہ ہے کہ ہر شخص اِس ثواب میں شامل ہو سکے۔
    اُترسوں مجھے بذریعہ تار انگلستان سے اطلاع ملی ہے کہ جرمن، روس اور انگریزی زبانوں میں بارہ بارہ سیپاروں کا ترجمہ ہو چکا ہے ڈچ، اطالوی اور سپنیش میں آٹھ اور دس سیپاروں کے درمیان ہو چکے ہیں اور اب تک کچھ اور کام بھی ہو چکا ہوگا بقیہ…… اور امید کی جاتی ہے کہ ۱۹۴۵ء میں اِنْشَائَ اللّٰہُ سات زبانوں میں تراجم کا کام مکمل ہو جائے گا اور اس کے بعد طباعت کا انتظام کیا جائے گا۔ چندہ کی رقم خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہو چکی ہے بلکہ زیادہ ہو چکی ہے اور جو رقم بچ جائے گی اُسے تراجم اور تبلیغی کتب کا سیٹ چھپوانے پر صرف کیا جائے گا۔ میں نے چندہ کی جو رقم مقرر کی تھی اُس میں قرآن کریم کے ترجمہ اور طباعت کے ساتھ ایک کتاب کے ترجمہ اور طباعت کے اخراجات بھی شامل ہیں مگر جو روپیہ زائد آئے گا اُسے دوسری کتابوں کے تراجم اور طباعت پر خرچ کیا جائے گا۔ اِسی طرح اِس سال ہم نے ستیار تھ پر کاش کا جواب لکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو لکھا جا رہا ہے بہت سے باب لکھے گئے ہیں اور باقی لکھے جا رہے ہیں امید ہے دو ماہ تک یہ مکمل ہو جائے گی۔چودھویں باب کا جواب جس میں اسلام پر اعتراضات ہیں مَیں خود لکھوں گا۔ یہ کتاب ہزار پندرہ سَو صفحات کی ہوگی اور خدا تعالیٰ چاہے تو جلد شائع ہو جائے گی۔ اصول اِس جواب میں یہ رکھا گیا ہے کہ مصنف نے جو اعتراضات کئے ہیں خواہ وہ کسی مذہب پر ہیں خواہ وہ سکھوں پر ہیں یا عیسائیوں پر یابُدھوں اور جینیوں پر اور خواہ دوسرے ہندوؤں پر وہ اگر غلط ہیں تو ان سب کے جواب دئیے جائیں گے۔
    ایک ہزار احادیث کا مجموعہ
    اس کے علاوہ ایک ہزار منتخب احادیث کا مجموعہ بھی شائع کرنے کا ارادہ ہے جس میں عام مسائل
    آجائیں گے ساڑھے سات سَو احادیث مَیں نے منتخب کر کے دی ہیں اور باقی بعض اور دوستوں کے سپرد کی ہیں اِس میں یہ امر مد نظر ہے کہ تمام اہم امور کے متعلق احادیث جمع ہو جائیں جو تحقیق شدہ ہوں یہ مجموعہ یہاں کے سکولوں میں پڑھایا جائے گا اِس مجموعہ میں بہت سے اخلاقی اور علمی مسائل آجائیں گے یہ مجموعہ بھی اِنْشَائَ اللّٰہُ جلد شائع ہو جائے گا۔
    عربی بول چال کی کتاب
    اِسی طرح عربی بول چال کی ایک کتاب بھی شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ
    والسلام کا منشاء تھا کہ ایک ایسی کتاب ہونی چاہئے یہ بھی تیار ہورہی ہے اور مولوی ابوالعطاء صاحب کے سپرد اِس کی تیاری کا کام کیا گیا ہے۔ کچھ اَسباق میں نے بھی دیئے ہیں جو اِس میں شامل کئے جائیں گے۔
    بعض سکیمیں
    اِس کے بعد میں بعض سکیموں کا ذکر کرتاہوں جن کو آئندہ سال جاری کرنے کا ارادہ ہے۔
    گورمکھی اور ہندی رسالے
    اِن میںسے ایک تو یہ ہے کہ اگر کاغذ کی اجازت مل جائے تو گورمکھی اور ہندی میں مؤقف الشیوع
    رسالے شائع کئے جائیں تا کہ گورمکھی جاننیوالے سکھوں اور ہندی جاننے والے ہندوؤں میں تبلیغ ہو سکے اور اُن تک بھی ہمارے خیالات بآسانی پہنچ سکیں اور اسلام کے متعلق غلط فہمیاں دُور ہو سکیں۔ پنجاب میں سکھوں اور مسلمانوں میں کئی مقامات پر نماز اور اذان پر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ سکھ صرف ناواقفی کی وجہ سے اذان وغیرہ پر اعتراض کرتے ہیں۔ اگر اذان گورمکھی میں ہو اور سکھوں کو معلوم ہو سکے کہ یہ کیا چیز ہے تو وہ کبھی اِس پر اعتراض نہ کریں بلکہ اذانیں دِلوانے میں مدد کریں۔ اِسی طرح ہندی زبان میں تبلیغ کا انتظام کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں ہندوؤں کی کثرت ہے۔ ہندوستان میں ۷۵ فیصدی ایسے لوگ ہیں جو اُردو پڑھنا نہیں جانتے اور ان میں تبلیغ کیلئے ضروری ہے کہ ہندی میں لٹریچر ہو۔ پس میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کاغذ کی اجازت مل جائے تو اِن دونوں زبانوں میں رسالے جاری کئے جائیں تا سکھوں اور ہندوؤں میں تبلیغ ہو سکے۔ چاہے شروع میں یہ رسالے سہ ماہی ہی ہوں۔ بعد میں ان کو ہفتہ وار بھی کیا جا سکتا ہے مگر شروع میں ہی اِس رنگ میں کام کرنا مناسب نہیں کہ جس کا بوجھ نہ اُٹھایا جا سکے۔ بہرحال خواہ سہ ماہی ہی شائع ہوں مگر ہوں ضرور۔
    مزید دیہاتی مبلّغ تیار کئے جائیں
    دوسرے میرا ارادہ ہے کہ مزید مبلّغ تیار کئے جائیں اور دیہاتی مبلّغین کی نئی کلاس
    جاری کرنے کا ارادہ ہے۔ پندرہ پہلے تیار ہو چکے ہیں جو جلد اپنے اپنے حلقوں میں کام کرنے کیلئے چلے جائیں گے۔ اب نئی کلاس کیلئے مزید نوجوان زندگیاں وقف کریں۔ کم از کم پچاس نوجوان اِس کلاس میں لئے جائیں گے۔ اِس سکیم کیلئے اخراجات کی بھی ضرورت ہے۔ اگر ان میں سے ہر ایک کا زمانہ تعلیم میں ۲۵ روپیہ ماہوار خرچ رکھا جائے تو قریباً پندرہ ہزار روپیہ سالانہ خرچ ان پر ہوگا۔ مگر اس خرچ کو اُٹھانے کے نتیجہ میں پچاس نئے حلقے تبلیغ کے کھل جائیں گے یہ اتنی عظیم الشان چیز ہے کہ یہ خرچ اُس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اور امید ہے کہ مغربی افریقہ میں کچھ عرصہ کے بعد مقامی جماعتیں مبلّغین کا خرچ برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہیں یہاں بھی ایسا ہو سکے گا۔ اور ان مبلّغین کی کوششوں سے جب جماعتیں ترقی کریں گی تو وہ بوجھ بھی برداشت کر سکیں گی۔ میری تجویز ہے کہ جن جماعتوں میں یہ مبلّغ لگائے جائیں اُن کا موجودہ چندہ نوٹ کر لیا جائے اور پھر اِس میں جو اضافہ ہوتا جائے اُس کا آدھا اُن ہی جماعتوں کو مقامی تبلیغ کے کام کو وسیع کرنے کیلئے دے دیا جائے۔
    مَیں امید کرتا ہوں کہ نوجوان بہت جلد اپنے نام زندگیاں وقف کرنے کیلئے پیش کریں گے۔ مجھے افسوس ہے کہ مختلف علاقوں کے ایسے نوجوانوں نے ابھی تک زندگیاں وقف نہیں کیں جو اِن علاقوں کی زبانیں جانتے ہوں۔ اب ایسے علاقوں کی جو جماعتیں ملاقات کیلئے آتی رہی ہیں میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ اُنہوں نے واقفین میں کتنے آدمی دیئے ہیں؟ اور وہ اِس سوال پر شرمندہ ہو جاتی رہی ہیں۔ مثلاً صوبہ سرحد میں ایسے ہی نوجوان کامیابی سے تبلیغ کر سکتے ہیں جو پشتو اور فارسی جانتے ہوں۔ صوبہ سرحد میں اگر صحیح رنگ میں تبلیغ کی جائے تو بہت کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔ وہاں بعض لوگ علمی خاندانوں کے داخلِ سلسلہ ہوئے ہیں اور بعض اچھے زمینداروں میں سے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صوبہ سرحد میں جس نسبت سے جماعت میں داخل ہوئے ہیں اُس کے لحاظ سے پنجاب میں بہت کم ہیں۔ یہاں بِالعموم درمیانی طبقہ کے لوگ جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بہت کم ہیں۔ شاید ہزار دو ہزار میں ایک ہو۔ مگر صوبہ سرحد میں جماعت کی نسبت کے لحاظ سے اعلیٰ خاندانوں یا بڑی بڑی جائدادیں رکھنے والے یا اُن کے رشتہ دار جو داخل ہوئے ہیں اُن کی نسبت میرے خیال میں آٹھ دس فیصدی ہے۔ پس میں اِس صوبہ میں تبلیغ کو خاص اہمیت دیتا ہوں مگر اب تک اس صوبہ سے ہمیں ایسے نوجوان نہیں مل سکے جو دینی تعلیم حاصل کر کے وہاں تبلیغ کا کام کریں۔ اب سید عبداللطیف صاحب شہید کے خاندان کا ایک بچہ آیا ہے اور ایک اَور بھی پڑھ رہا ہے۔ اگر یہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کے کاموں میں نہ لگ گئے تو امید ہے اِن سے تبلیغ کے کام میں مدد مل سکے گی۔ اِس صوبہ کے آدمی وہاں کامیابی سے تبلیغ کر سکتے ہیں۔ پنجابیوں کے اور ان کے تمدّن میں بہت فرق ہے اِس لئے پنجابی مبلّغ وہاں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔
    اسی طرح صوبہ سندھ سے بھی بہت کم طالب علم آتے ہیں جو آئے بھی ہیں وہ یا تو بیچ میں ہی تعلیم کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور یا اگر پوری تعلیم حاصل کی تو پھر دُنیاوی کاموں میں لگ گئے ہیں تبلیغ کے کام کیلئے زندگیاں وقف کرنے والے اِن صوبوں سے بہت کم آئے ہیں۔
    اِسی طرح صوبہ بہار کے دوست جب ملنے آئے تو اُنہوں نے مبلّغ مانگا اور میں نے اُن سے یہی سوال کیا کہ آپ لوگوں نے اپنے صوبہ سے کتنے طالب علم بھیجے ہیں کہ انہیں تعلیم دے کر وہیں تبلیغ کیلئے بھیجا جا سکے۔ بنگال سے بھی کوئی طالب علم نہیں آیا۔ صوفی مطیع الرحمن صاحب نے زندگی وقف کی مگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد۔ یوپی کا خانہ بھی خالی ہے۔ اگر ذوالفقار علی خاں صاحب کو علیحدہ رکھا جائے تو صوبہ یوپی کا خانہ بالکل خالی ہے۔ بمبئی کے صوبہ سے بالکل کوئی طالب علم نہیں آیا۔ مالابار نے بے شک ہمت دکھائی ہے گو وہاں جماعت کم ہے مگر وہاں سے آدمی ملتے رہے ہیں اور مل رہے ہیں تو ہر صوبہ سے ایسے طالب علم یہاں آنے چاہئیں جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے صوبوں میں جا کر کام کر سکیں۔
    ہمارے دوستوں کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے آسمان سے فرشتے آ کر نہیں کریں گے اور احمدیوں نے ہی کرنا ہے۔ یہ کام ایسا نہیں کہ غیر قوموں کے آدمی اس کیلئے ملازم رکھ لئے جائیں۔ صوبہ پنجاب نے قربانی کی ہے مگر بعض اضلاع پنجاب کے بھی خالی ہیں۔ مثلاً اضلاع فیروز پور اور منٹگمری ہیں اِن اضلاع کے دوست جب ملنے آئے تو اُن سے بھی میں نے یہی سوال کیا کہ انہوں نے کتنے آدمی دیئے ہیں۔
    پس میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ دوست زندگیاں وقف کریں اور اپنے نام پیش کریں۔ ہر علاقہ کے لوگ ایسے آدمی دیں۔ یہ ٹھیک نہیں کہ دوسرے علاقوں کے لوگ ان کے وہاں جا کر کام کریں۔ ایک علاقہ کے لوگ جب مبلّغ مانگتے ہیں تو اُن کا فرض ہے کہ وہ ایسے آدمی دیں جن کو تعلیم دِلا کر وہاں بھیجا جا سکے۔ پہلے تو مبلّغ بننے کیلئے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنا ضروری تھا مگر اب تو ہم مڈل پاس نوجوانوں کو لے رہے ہیں اور انہیں سال ڈیڑھ سال تعلیم دِلا کر کام پر لگا رہے ہیں۔ انہیں موٹے موٹے دینی مسائل سکھا دیئے جاتے ہیں اور کچھ طبّ پڑھا دی جاتی ہے تا وہ اپنی مدد آپ کرنے کے بھی قابل ہو سکیں۔ انہیں طبیبوں اور عطاروں سے کام سکھایا جاتا ہے اور اس لئے اب مبلّغ بننے کیلئے اتنی قربانی کی ضرورت نہیں جتنی پہلے کرنی پڑتی تھی۔ پھر بھی اگر کسی علاقہ کو مبلّغ نہ ملے تو اُسے مرکز پر شکوہ نہ کرنا چاہئے بلکہ اپنے آپ سے شکوہ کرنا چاہئے۔
    دیہاتی مبلّغین کی نئی کلاس کیلئے پچاس نوجوانوں کی ضرورت ہے اِس لئے اگر سَو دو سَو درخواستیں آئیں تو ان میں سے پچاس منتخب کئے جا سکیں گے۔ کیونکہ ہر شخص جو اپنا نام پیش کرتا ہے وہ کام کے قابل نہیں ہوتا۔ اگر پچاس نوجوان مل جائیں تو پندرہ جو تیار ہو چکے ہیں اُن کو مِلا کر تمام مُلک میں اچھا خاصا شور تبلیغ کا مچایا جا سکتا ہے۔
    گرلز ہوسٹل
    ایک اور سکیم یہ ہے کہ جس کا مَیںعورتوں میں بھی اعلان کر آیا ہوں۔ دوستوں کی طرف سے متواتر یہ تحریک ہو رہی تھی کہ قادیان میں ایک
    زنانہ بورڈنگ ہونا چاہئے تا باہر سے لڑکیاں آ کر دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔ دوستوں کو یہ شکایت تھی کہ باہر وہ لڑکیوں کیلئے تعلیم کا انتظام نہیںکر سکتے اور یہاں ان کی رہائش کا کوئی انتظام نہیں اور وہ چاہتے تھے کہ یہاں زنانہ بورڈنگ قائم کیا جائے۔ اب تک تو مَیں انکار ہی کرتا رہا ہوں کیونکہ ہمارے پاس ایسی تعلیم یافتہ عورتیں نہ تھیں جو نگرانی کر سکتیں۔ مگر اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہے تو اِس سال زنانہ بورڈنگ جاری کر دیا جائے تا جو دوست باہر اپنی لڑکیوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے یہاں بھیجنا چاہیں وہ بھیج کر دینی تعلیم دِلوا سکیں یا جو زنانہ ہائی سکول میں تعلیم دِلانا چاہیں وہ بھی دِلوا سکیں۔
    کمیونزم کا خطرہ
    اس کے بعد ایک اور ضروری امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توبہ دلانا چاہتا ہوں۔ میں چنددن ہوئے اس کا اعلان کر چکا ہوں جو
    الفضل ۲۵؍ دسمبر ۱۹۴۴ء میں شائع ہو چکا ہے۔ اِس وقت سب جگہوں کے دوست یہاں جمع ہیں اِس لئے میں پھر اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ کمیونزم کا خطرہ ہے۔ جماعت کو اِس خطرہ کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جانا چاہئے۔ ہمیں آخری لڑائی اسی فتنہ کے ساتھ لڑنی پڑے گی کیونکہ اِس کی بنیاد دہریت پرہے یہ فتنہ ہر جگہ پھیل رہا ہے اور ہمارے صوبہ میں بھی زور پکڑ رہا ہے اور ہمیں اطلاع ملی ہے کہ کمیونسٹ قادیان پر خصوصیت کے ساتھ حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی یہاںاس فتنہ کو پھیلانے کی کوشش کی جا چکی ہے۔
    ایک دفعہ یہاں سکھ کمیونسٹ آیا اور مسلمان بن کر رہا اور ایک غیر احمدی، احمدی بن کر رہا۔ انہوں نے آہستہ آہستہ یہاں اپنے خیالات پھیلانے کی کوشش کی لیکن …… مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہاں لوگ خصوصیت کے ساتھ قادیان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ہماری جماعت کو اِس فتنہ کے مقابلہ کیلئے پوری طرح تیار ہو جانا چاہئے۔ اِس فتنہ کی بنیاد دہریت پر ہے اور یہ لوگ اِس طرح اللہ تعالیٰ کی ہنسی اُڑاتے ہیں کہ ایک مومن سُننا بھی پسند نہیں کر سکتا۔ مثلاً روس میں ایسے ڈرامے کئے جاتے ہیں کہ ایک شخص جج بنتا ہے اور اس کے سامنے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدا تعالیٰ کو ملزم کی حیثیت میں پیش کیا جاتا ہے اور اُس پر یہ الزام لگائے جاتے ہیں کہ اُس نے دنیا میں امراء پیدا کئے ہیں اور بعض کو غریب پیدا کیا ہے اور کہ یہ دنیا پر مصائب نازل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ اور جج اُس کے متعلق فیصلہ دیتا ہے کہ اُسے پھانسی دے دیا جائے۔ اور پھر ایک مجسمہ کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اس فتنہ کو مذہب کے مقابل پر کھڑا کیا جا رہا ہے۔ مگریہ لوگ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ مذہب میں کوئی دخل نہیں دیتے اور اس میں بچوں کو ماؤں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور پھر اُن کو دہریت کی تعلیم دی جاتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہم ان کو آزاد خیال بناتے ہیں تو اِس کا مقابلہ ہمیں سب سے زیادہ کرنا پڑے گا۔
    دہریت اور عیسائیت سے ہمارا مقابلہ
    عیسائیت سے بھی ہمارا مقابلہ ہے اِس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کا شریک
    بناتی ہے اور اسے صفت خلق سے جواب دیتی ہے مگر یہ لوگ تو خدا تعالیٰ کو خدائی سے ہی جواب دیتے ہیں۔ پس یہ سب سے بڑے دشمن ہیں اور ہمیں اِن کا پوری طرح مقابلہ کرنا ہوگا۔ میں جماعت کے مصنّفین اور مضمون نگاروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اِن کا لٹریچر پڑھیں اور جماعت کو اِس سے اچھی طرح آگاہ کریں۔ یہ اپنے آپ کو بظاہر… غریبوں کے ہمدرد ہیں مگر حقیقت یہ نہیں۔ شیطان بھی تو جنت میں اچھی شکل میں داخل ہوا تھا تا آدم کو ورغلاسکے۔ پس اِن لوگوں کے دھوکوں سے ہمارے دوستوں کو اچھی طرح آگاہ رہنا چاہئے۔ اِن کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہونا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کشف ہے کہ میں نے دیکھا کہ زارِ روس کا عصا میرے ہاتھ میں دیا گیا۴؎ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فتنہ ہمارے ہی ہاتھوں سے کچلا جائے گا مگر تبلیغ کے ذریعہ نہ کہ مادی طاقت سے۔ سیاسیات سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں جب خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ سے تلوار چھین ہی لی ہے تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ اب ہم نے تلوار سے کام نہیں لینا بلکہ تبلیغ کے ذریعہ دلوں کو فتح کرنا ہے۔ اِس وقت روس برطانیہ کا اتحادی ہے اور اِس لئے جنگ میں اِس کی فتح برطانیہ کی فتح ہے۔
    روسی ہمارے دشمن نہیں ہیں
    روسی ہمارے دشمن نہیں ہیں مگر جہاں تک مذہب کے متعلق اِن کے عقائد کا تعلق ہے یہ ہمارے
    بدترین دشمن ہیں اور جماعت کو ان کے عقائد کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار رہنا چاہئے۔
    سیاسیات سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں
    اس کے بعد میں اپنے ملک کی سیاسیات کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حقیقت
    یہ ہے کہ حقیقی سیاسیات سے ہمارا کوئی واسطہ ہی نہیں۔ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے اور اگر ہم سیاسیات میں پڑ جائیں تو اپنا اصل کام نہیں کر سکیں گے مگر چونکہ ہماری جماعت خداتعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اِس لئے کوئی نہ کوئی سوال لازماً ہمارے سامنے آ ہی جاتا ہے۔ اس وقت زمیندارہ لیگ اور مسلم لیگ کی ایک نئی کشمکش مسلمانوں میں شروع ہوگئی ہے اور ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اِس میں شامل کرنے کی بعض لوگ کوشش کرتے ہیں۔ مجھے باہر سے خطوط آ تے رہتے ہیں کوئی لکھتا ہے کہ بعض لوگ آتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ مسلم لیگ میں شامل ہو جاؤ۔ بتایا جائے کہ ہم …… اور کوئی لکھتا ہے کہ بعض سرکاری حُکّام زور دیتے ہیں کہ زمیندارہ لیگ میں شریک ہو جاؤ، ہمیں بتائیں کہ ان کو کیا جواب دیں ہر ایک اپنا سیاسی اثر ڈالنا چاہتا ہے۔ میں دوستوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ان میں سے کسی میں بھی کوئی حصہ نہ لیں۔
    مسلم لیگ میں جو طبقہ برسرِاقتدار ہے اس کا کوئی اصول نہیں وہ تھالی کے بینگن کی طرح ہیں۔ پنجاب میں جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کا کوئی متفقہ پروگرام ہی نہیں ہے۔ ان میں کمیونسٹ پروپیگنڈا کرنے والے بھی شامل ہیں اور ان کو کمیونسٹوں کی امداد بھی حاصل ہے ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بعض امور میں کانگرس کی بھی تائید کرتے ہیں۔ مثلاً سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سوال ہے وہ اِس مطالبہ میں کانگرس کی حمایت کرتے ہیں اور یہ حمایت کرنے والے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے مشورہ سے کانگرسی قید کئے گئے تھے۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ مصلحتِ وقت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ پنجاب کی مسلم لیگ کا کوئی مقصد ہی نہیں۔ نام تو مسلم لیگ ہے مگر وہ بعض کانگرسی مطالبات کی تائید بھی کرتی ہے جیسا کہ کانگرسی قیدیوں کی رہائی کے سوال کا میں نے ذکرکیا ہے۔ پھر اِس میں کمیونسٹوں کے حامی بھی ہیں گویا وہ ہر دلعزیز بننے کی کوشش کرتی ہے۔ دوسری پارٹی مسلمانوں کی جو ہے اِس میں زیادہ سنجیدہ لوگ ہیں مگر وہ بھی بعض خرابیاں کر رہی ہے اور اس کی طرف سے بعض ایسی حرکات ہوتی ہیں کہ جن کے نتیجہ میں سرکاری افسروں کی اخلاقی حالت گر رہی ہے۔ خواہ کوئی اس امر کا اقرار کرے یا نہ کرے یہ واقعہ ہے کہ اِس پارٹی کی طرف سے سرکاری افسروں پر ایسا دباؤ ضرور ڈالا جاتا ہے کہ وہ اِس کی تقویت کیلئے کام کریں اور اس کی حمایت کریں۔ مجھے ایک بڑے سرکاری افسر نے کہا کہ میں نے اِس پارٹی کیلئے چندہ جمع کرنا ہے اور اتنی رقم پیش کرنی ہے کیونکہ مجھ سے فلاں بڑے آدمی نے یہ خواہش کی تھی کہ اِس پارٹی کو چندہ دلاؤں اور میرے نزدیک سرکاری حُکّام کا پارٹی بازی میں حصہ لینا نہایت ہی خطرناک بات ہے۔ میں یہ مان لیتا ہوں کہ بعض وزراء کا اِس میں دخل نہ ہوگا لیکن اِس میں شک نہیں کہ سرکاری حُکّام سے اِس پارٹی کی حمایت کا کام ضرور لیا جاتا ہے جو نہایت ہی بُری بات ہے۔ برطانوی سیاست اِسی لئے کامیاب ہے کہ انگریز حکّام کسی سیاسی پارٹی میں حصہ نہیں لیتے جو بھی پارٹی برسرِاقتدار ہو اُس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگر لبرلوں کی حکومت ہو تو اُس کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر لیبر پارٹی کی حکومت ہو تو اُس کی اطاعت کرتے ہیں خود کسی پارٹی میں شامل نہیں ہوتے۔
    سیاسیات میں حکومت کے افسران کا شامل ہونا خطرناک ہے
    سرکاری حُکّام کا سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونا بہت خطرناک نتائج پیدا کرنے والی بات ہے۔ یونان میں اِس وقت جو
    فسادات ہو رہے ہیں اِس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ سرکاری حُکّام کو سیاسی پارٹیوں میں گھسیٹا گیا۔ اگر کوئی سرکاری افسر آج زمیندارہ لیگ کے لئے چندہ جمع کرتا ہے تو کل اگر مسلم لیگ کی حکومت بن جائے گی تو وہ کہے گی کہ تم نے زمیندارہ لیگ کو سات لاکھ چندہ جمع کر کے دیا تھا اب ہمیں دس لاکھ کر کے دو۔ اور اگر کوئی اور پارٹی برسرِاقتدار آ جائے گی تو وہ کہے گی ہمیں پندرہ لاکھ جمع کر کے دو۔ اور اگر اسی طرح سیاسی پارٹیوں کیلئے چندہ جمع ہوتا رہے تو غریب زمینداروں کی تو شامت آ جائے گی۔ اب تو زمیندار سرکاری حُکّام کے کہنے پر زمیندارہ لیگ کیلئے چندے دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ معمولی بات ہے تھوڑا سا چندہ دے کر افسروں کو خوش کریں مگر جہاں ڈیماکریسی ہو وہاں کبھی کسی ایک پارٹی کی حکومت نہیں رہ سکتی۔ یہ بات نا ممکن ہے کہ پنجاب میں ہمیشہ زمیندارہ لیگ ہی کی حکومت رہے۔ آج اس کی حکومت ہے تو اگلے انتخابات میں کسی اور پارٹی کی ہو سکتی ہے اور اس سے اگلے میں کسی اور کی۔ اِس طرح حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر افسر نہیں بدلتے وہ تو مستقل ہوتے ہیں۔ اور اگر افسروں کی اخلاقی حالت بگڑ جائے تو انتظام کا قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اپنے ملک کی بہتری کیلئے ہر مسلمان، ہر ہندو اور ہر سکھ کا فرض ہے کہ اگر وہ وزیر ہو یا کسی دوسری بڑی پوزیشن کا تو کبھی کسی سرکاری حاکم کو اپنی پارٹی کی مدد کیلئے نہ کہے۔ سیاسی آدمی تو ہمیشہ بدلتے رہیں گے مگر سرکاری افسر مستقل ہوتے ہیں اور ملک کے فائدہ کیلئے ضروری ہے کہ اُن کو پارٹیوں سے آزاد رکھا جائے اور اُن پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہونا چاہئے۔ ورنہ ان کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور ہمارا اپنا تجربہ ہے کہ سرکاری حکّام پارٹی بازی میں حصہ لیتے ہیں۔ ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس ہمارے آدمیوں کا ایک وفد گیا اور اسے توجہ دلائی کہ اس ضلع میں ہمارے خلاف شورش ہوئی ہے اُسے دبائیں۔ ہماری جماعت ہمیشہ حکومت سے تعاون کرتی ہے اور وفادار ہے۔ اُس ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کبھی ایسا ہوگا اب تو آپ لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کی جماعت حکومت کی وفادار ہے اور اس سے تعاون کرتی ہے۔ کیونکہ فلاں چوہدری صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جماعت کے فلاں آدمی کو زمیندارہ لیگ کی سیکرٹری شپ پیش کی گئی تھی مگر اُس نے انکار کر دیا پھر آپ لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی جماعت حکومت کی وفادار ہے۔ تو سرکاری حکّام کو سیاسیات میں گھسیٹنے سے ان کے اخلاق ضرور خراب ہوتے ہیں۔ پھر اس پارٹی میں ایک نقص یہ بھی ہے کہ اس کا اپنا کوئی قومی پروگرام نہیں۔ اس میں ہندو بھی ممبر ہیں جو ہندوؤں کے نمائندہ ہیں، سکھ بھی ہیں جو سکھوں کے نمائندے ہیں اور ان کی پارٹیوں کے اپنے مقررہ پروگرام ہیں اور اس پارٹی کو اِن سب کے پروگراموں کو سمجھ کر چلانا پڑتا ہے۔ اِس پارٹی کا اپنا کوئی پروگرام نہیں۔ اِس میں جو مسلمان ممبر ہیں وہ پہلے مسلم لیگ میں تھے مگر اب اُس میں نہیں رہے اور ان کا اپنا کوئی پروگرام ہے نہیں۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب یہ پارٹی ٹوٹی تو اِن لوگوں کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا سوائے اِس کے کہ جہاں کسی کے سینگ سمائیں شامل ہو جائے اور یا پھر ’’نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے‘‘ والی حالت ان کی ہوگی۔
    میں سندھ گیا تو ریلوے سٹیشن پر ایک ہندو سیٹھ نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔ اُس زمانہ میں وہاں خاں بہادر اللہ بخش وزیر اعظم بنے تھے۔ میں نے باتوں باتوں میں اُن سے دریافت کیا کہ ٹھاکر صاحب! آپ کس کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرے اِس سوال پر وہ مسکرائے اور جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب سر غلام حسین کی حکومت تھی ہم اُس کے ساتھ تھے اب اللہ بخش کی حکومت ہے تو اُس کے ساتھ ہیں۔ مسلمانوںکے متعلق تو میرا پہلے سے یہ تجربہ تھا کہ ان میں سے بہت سے لوگ اس اصل پر چلتے ہیں کہ جس کی حکومت بنی اُسی کے ساتھ ہوگئے مگر ہندوؤں کے متعلق ایسا نہ سمجھتا تھا مگر ان کی بات سن کر مجھے معلوم ہوا کہ اِن میں بھی ایسے لوگ ہیں۔ ان کا جواب سن کر میں نے کہا کہ ٹھاکر صاحب! پھر خواہ غلام حسین کی وزارت ٹوٹے اور خواہ اللہ بخش کی، آپ کی وزارت کبھی نہ ٹوٹے گی۔ تو ایسے لوگ اپنی وزارت رکھنا چاہتے ہیں کوئی اصول ان کا نہیں ہوتا۔ پس اگر یہی حالات رہے جو اِس وقت پنجاب میں ہیں تو اخلاقی حالت بہت گر جائے گی۔ اگر زمیندارہ لیگ کسی وقت ٹوٹی تو ہندو اور سکھ ممبر تو اپنی اپنی پارٹیوں میں جا کر شامل ہو جائیں گے مگر مسلمان ممبروں کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔ مسلم لیگ کو تو یہ لوگ پہلے جواب دے چکے ہیں اور دوسری کوئی ایسی مجلس ہے نہیں جس میں یہ شامل ہو سکیں۔ جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے ہم ہندوستان کی کسی مجلس میں بھی شامل نہیں ہو سکتے اور پنجاب میں جو دو پارٹیاں اِس وقت ہیں ان میں سے بھی ہم کسی کے ساتھ نہیں مل سکتے۔ کیونکہ ایک تو ان میں سے بداصول ہے اور دوسری بے اصول۔ ایک کا پروگرام تو ہے مگر غلط ہے اور وہ ابن الوقتی کا ثبوت دے رہی ہے اور دوسری کا کوئی پروگرام ہے ہی نہیں۔ اور سرکاری حکّام کے اخلاق اِس کی وجہ سے بگڑ رہے ہیں میں ان لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حکّام کو آزاد رہنے دیں۔ ہمارے صوبہ کیلئے وہ دن بہت بُرا ہوگا جب سرکاری حکّام کو سیاسی پارٹیوں میں گھسیٹا جائے گا۔ جو سرکاری افسر احمدی ہیں اُن کو میرا حکم ہے کہ وہ کسی پارٹی میں شامل نہ ہوں اور جو شامل ہوگا وہ بددیانت ہوگا اور بددیانتی کی روٹی کھانے والا ہوگا۔ وہ جو سرکاری ملازمت میں ہوتے ہوئے زمیندارہ لیگ یا کسی اور سیاسی پارٹی کی مدد کرے گا یا مخالفت کرے گا وہ بددیانتی کرنے والا ہوگا۔ اُن کے لئے نہ تو کسی سیاسی پارٹی کی مدد کرنا جائز ہے اور نہ مخالفت کرنا۔ ملازم کیلئے صرف اُس حکم کی تعمیل کرنی ضروری ہے جو اُسے سرکاری طور پر ملے۔ اگر کسی سرکاری افسر سے کوئی کہے کہ کسی سیاسی پارٹی کیلئے چندہ کر کے دو تو اُسے چاہئے کہ ایسا کہنے والے سے کہے کہ مجھے لکھ کر یہ حُکم دے دیں۔ اور اگر کوئی ایسا حکم دے دے تو اسے پبلک میں شائع کر دے۔ سرکاری ملازم کا یہ کام ہرگز نہیں کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی مدد کرے یا اُس کی مخالفت کرے۔ پس احمدی سرکاری ملازم کسی پارٹی کی حمایت نہ کریں اور نہ ہی کسی کی مخالفت کریں۔ اِسی طرح افرادِ جماعت بھی کسی پارٹی میں شامل نہ ہوں۔ باقی رہا چندہ دینے کا سوال تو اگر افسر مجبور کرکے چندہ لینا چاہیں تو ’’دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے کوئی معمولی سی رقم دے کر چھٹکارا حاصل کر لیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اِس طرح کرنا چاہے تو ہم اسے روکتے نہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اب دنیا پر ایسا نازک وقت آ رہا ہے کہ ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں اور ہندوستان کی دوسری قوموں میں جو سیاسی جھگڑے ہیں وہ سب ختم ہو جانے چاہئیں اور اسی طرح انگریزوں اور ہندوستانیوں میں جو جھگڑے ہیں وہ بھی ختم کر دینے کا وقت آ گیا ہے۔ اِس سے پہلے اِن جھگڑوں میں زیادہ خطرہ کی بات نہ تھی مگر اب ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ جو لوگ الہامی کتابوں سے فائدہ اُٹھانے کے عادی نہیں ہیں اگر تہران کانفرنس کے حالات ہی انہوں نے پڑھے ہیں تو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا پر ایسی مصائب آنے والی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی قوموں کازندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ اور اگر یورپ اور ایشیا میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات ہندوستان میں بسنے والے لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ دنیا میں زندہ رہنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ اِسی طرح انگریزوں کے گردوپیش جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اُن کے پیش نظر ضروری ہے کہ انگریزیت اور ہندوستانیت کے سوال کو کسی نہ کسی طرح جلد از جلد حل کر لیا جائے۔ اِس وقت دونوں کی زندگی کا انحصار ایک دوسرے کی اِعانت پر ہے اور اگر دیانتداری سے دونوں نے اپنے اختلافات دُور کرنے کی کوشش نہ کی تو بہت ہی تھوڑے عرصہ کے بعد دونوں کی زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی اور پھر دونوں کو بیٹھ کر رونا ہوگا۔ اِس سوال کی زیادہ وضاحت تو میں نہیں کر سکتا مگر پُرانی کتب میں بھی ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں اور میرے بعض کشوف بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کیلئے بہت نازک دن آنے والے ہیں۔ میں زیادہ وضاحت سے اِس بات کو یہاں اِس لئے بیان نہیں کر سکتا کہ ممکن ہے بعض انگریز افسروں کے نزدیک میراایسا کرنا مناسب نہ ہو۔ یہاں جو ایک انگریز افسر آتے ہیں وہ بِالعموم تیسرے درجہ کے ہوتے ہیں وہ خود بھی اعلیٰ درجہ کے سیاست دان نہیں ہوتے اور فوراً اعتراض کا پہلو اُن کو نظر آنے لگتا ہے اِس کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہوچکا ہے۔
    مَیں نے ایک دفعہ ایک مضمون لکھا جو الفضل میں شائع ہوا تھا تو پنجاب سی آئی ڈی نے رپورٹ کی کہ یہ مضمون ضبط ہونا چاہئے بہت خطرناک ہے۔ مگر اُس زمانہ میں جو صاحب پنجاب کے گورنر تھے وہ چونکہ ذاتی طور پر مجھے جانتے تھے اُنہوں نے کہا کہ نہیں ایسے آدمی نہیں کہ اِن کے مضامین قابلِ ضبطی ہوں۔ وہی مضامین ہمارے ایک بنگالی رسالہ میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئے تو وہاں کی حکومت نے ایڈیٹر و پرنٹر کو نوٹس دیا کہ ایسے خطرناک مضامین کیوں شائع کئے گئے ہیں؟ اور حُکم دیا کہ آئندہ سنسر کرا کر مضمون شائع کیا کرو۔ اُنہوں نے بہتیرا کہا کہ ہماری جماعت ایسی جماعت نہیں ہے کہ اِس پر حکومت کی مخالفت کا شُبہ کیا جائے مگر کسی نے اس بات پر غور نہ کیا۔ لیکن وہی مضامین جب ولایت میں پہنچے تو ہمارے مبلّغ نے ان کا انگریزی میں ترجمہ کر کے وہاں کے بڑے بڑے سیاسی آدمیوں کو بھجوایا تو انہوں نے بہت پسند کیا۔ لارڈ زیلنڈ نے لکھا کہ یہ نہایت اعلیٰ مضامین ہیں اور شکریہ ادا کیا۔ مسٹر چیمبر لین کے سیکرٹری نے ان کی طرف سے لکھا کہ یہ مضامین لکھ کر امام جماعت احمدیہ نے بہت بڑی خدمت کی ہے۔ تو یہاں جو افسر ہوتے ہیں وہ چونکہ تھرڈ گریڈ طبقہ سے عام طور پر ہوتے ہیں اِس لئے ایسے مضامین بھی اِن کو پسند نہیں آتے جنہیں برطانیہ کے وزیر اعظم بہت بڑی خدمت قرار دیتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پس میں اِس مضمون کو اِس لئے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہاں بیان نہیں کر سکتا کہ ہندوستان کے انگریز سیاست دان کہیں گے کہ یہ کیا بم گرا دیا گیا ہے۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ اب حالات بدل گئے ہیں اور دونوں کو چاہئے کہ اپنے سیاسی نقطۂ نظر میں تبدیلی کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح کرنے کیلئے قدم اُٹھائیں۔ اور میں اپنی جماعت کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم اس بارہ میں پورا پورا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہندوستانیوں کی اور انگریزوں کی اور ہندوستان کی مختلف قوموں کی آپس میں صلح نہایت ضروری ہے اور اِسے کرانے کیلئے ہم ہر قسم کی مدد دینے کیلئے تیار ہیں۔ پُرانے اختلافات کو اب نئے نقطۂ نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے۔
    بعض نئے فتنوں کی بنیادیں
    مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ بعض نئے فتنوں کی بنیادیں پیدا ہو چکی ہیں اور مَیں نے جو رؤیا اِس
    بارہ میں دیکھا تھا اُس کے بعد ہی یہ سب بنیادیں بنی ہیں اور ہندوستان اور انگلستان دونوں کیلئے مشکلات پیدا ہونے والی ہیں اور دونوں کا فائدہ اِسی میں ہے کہ ایک دوسرے سے صلح کر لیں۔ انگلستان کو بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر غور کرنا چاہئے کہ وہ ہندوستان کو کہاں تک آزادی دے سکتا ہے اور ہندوستانیوں کو ان حالات کے پیش نظر یہ سوچنا چاہئے کہ اگر وہ انگریزوں کی کوئی بات مان لیں تو ان کے لئے بہت فائدہ ہوگا۔ اور اسی طرح ہندومسلمان بھی بدلنے والے حالات کے پیش نظر اپنے نقطۂ نگاہ میں تبدیلی کر لیں تو ان کیلئے بہت اچھا ہوگا۔ اور اِس بات پر غور کریں کہ جب ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جو بہت خطرناک ہیں تو وہ اگر کسی غیر کی بجائے اپنے بھائی کو کچھ دے دیں تو کیا حرج ہے۔ اِس نقطۂ نگاہ کے ماتحت ان کو چاہئے کہ اپنی سیاسیات میں تبدیلی پیدا کر لیں۔
    ہندو سیاست کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی
    ہندوؤں کی سیاست کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ جب مُلک میںان کی اکثریت
    ہے اور ایک مسلمان کے مقابلہ میں تین ہندو ہیں تو ان کو مسلمانوں سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ بہرحال اب وقت ایسا ہے کہ سب اختلافات کو نظر انداز کر کے صلح کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔(ماخوذ از رجسٹر فضل عمر فاؤنڈیشن)
    حلف الفضول کے اصول
    اَب میں اپنے ایک رؤیا کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو جولائی ۱۹۴۴ء میں مَیں نے دیکھا اور
    جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔
    ’’میں نے دیکھا کہ میں گویا اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کچھ کہہ رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ جس طرح حلف الفضول رسول کریمﷺ کے زمانہ میں ہوتی تھی ایسا ہی ایک معاہدہ میری اولاد کرے۔ تو اِس کے نتیجہ میں اُس پر خدا کے فضل خاص طور پر نازل ہوں گے اور وہ کبھی تباہ نہ ہو گی۔‘‘۵؎
    حلف الفضول ایک معاہدہ تھا جو رسول کریمﷺ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے آپس میں کیا تھا۔ اِس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین ایسے آدمی تھے جن کے نام فضل تھے اور اِسی وجہ سے اِسے حلف الفضول کہتے ہیں۔
    اِس کا مقصد یہ تھا کہ حلف الفضول والے مل کر یا اکیلے اکیلے مظلوم کا حق دلوایا کریں گے۔ رسول کریمﷺ نے اُس زمانہ میں ابھی دعویٰ نہیں کیا تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اُس نے تحریک کی کہ آپ بھی اِس میں شریک ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نیک کام ہے اور مَیں اِس میں ضرور شامل ہوں گا۔ چنانچہ آپ اِس میں شامل ہوئے اور آپ اِس کی پوری طرح پابندی کرتے رہے۔ حتیّٰ کہ جب آپ نے دعویٰ کیا اور اہلِ مکہ آپ کی مخالفت کر رہے تھے تو اُس زمانہ میں کسی گاؤں کا ایک آدمی مکہ میں آیا جس سے ابوجہل نے کوئی مال خریدا تھا اور وہ اُس کی قیمت ادا نہ کرتا تھا۔ وہ حلف الفضول میں شامل ہونے والے لوگوں میں سے ہر ایک کے پاس باری باری گیا اور اُن سے کہا کہ ابوجہل سے میری رقم دِلوادیں مگر سب نے اُس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ہر ایک ابوجہل جیسے بدگو آدمی کے پاس جانے سے ڈرتا تھا۔ لوگوں نے اُس شخص کو مشورہ دیا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤ۔ وہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ بھی اِس معاہدہ میں شامل ہیں آپ میرے ساتھ چلیں اور ابوجہل سے میری رقم دِلوادیں۔ جن لوگوں نے اُسے آپ کے پاس جانے کا مشورہ دیا وہ جانتے تھے کہ ابوجہل آپ کا سخت مخالف ہے اِس لئے آپ اُس کے پاس نہ جائیں گے مگر جب اُس شخص نے آ کر آپ سے کہا کہ میرے ساتھ چلیں۔ تو آپ نے فرمایا چلو۔ چنانچہ آپ اُس کے ساتھ ابوجہل کے مکان پر گئے اور جا کر دروازہ پر دستک دی۔ ابوجہل باہر آیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ نے اِس شخص کی کچھ رقم دینی ہے؟ اُس نے کہا ہاں دینی تو ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر دے دیں آپ بڑے آدمی ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ اِس کی رقم نہ دیں۔ یہ سن کر ابوجہل فوراً اندر گیا اور رقم لا کر اُس کے حوالہ کر دی۔ لوگ اِس بات کے منتظر تھے کہ ابوجہل آپ کی بات ہرگز نہ مانے گا اور اُن کو موقع مل جائے گا کہ کہیں کہ دیکھو! یہ نبی بنے پھرتے ہیں کیا ابوجہل سے اِس شخص کی رقم دِلوا دی؟ مگر جب وہ شخص واپس آیا تو لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اُس نے کہا کہ میری رقم مجھے مل گئی ہے۔ اُنہوں نے پوچھا کس طرح؟ اُس نے سارا واقعہ سنا دیا۔ اِس پر لوگ بہت حیران ہوئے اور ابوجہل کے پاس گئے اور کہا تم ہم لوگوں کو تو کہتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بات تک نہ کرو، اُن پر ظلم کرو، خوب تنگ کرو، مگر خود تم نے اُن کے کہنے پر اِس شخص کی رقم فوراً ادا کر دی ہے۔ ابوجہل نے کہا کہ تمہیں پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اِس شخص کے ساتھ آئے اور اُنہوں نے دروازہ پر دستک دی تو میں باہر آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس شخص کی رقم اگر تمہارے ذمہ ہے تو ادا کر دو۔ میں چاہتا تو تھا کہ یہی جواب دوں کہ تم کون ہو جو مجھے نصیحت کرنے آئے ہو مگر مجھے یوں معلوم ہوا کہ اِن کے دائیں اور بائیں دو مست اونٹ ہیںجو مجھ پر حملہ آور ہونے لگے ہیں اور مجھ سے سوائے اِس کے کچھ جواب نہ بن پڑا کہ ٹھہرئیے ابھی لا دیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے رقم لا کر اُس شخص کو دے دی۔۶؎
    مدینہ کی زندگی میں ایک دفعہ آنحضرتﷺ سے کسی نے حلف الفضول کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سنا ہے آپ بھی اِس میں شامل ہوئے تھے آپ نے فرمایا ہاں اگر جاہلیت کی کسی ایسی ہی چیز کی طرف جس طرح کہ حلف الفضول تھی مجھے بلایا جائے تو مَیں اُس کو ضرور قبول کروں اور اُس میں شامل ہوں۔
    تو یہ رؤیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ میری اولاد تباہ نہیں ہو گی اگر وہ حلف الفضول کا معاہدہ کرے ۔ گو رؤیا میں مَیں نے اپنے بیٹوں کو دیکھا مگر اولاد سے مراد روحانی اولاد بھی ہوتی ہے اور جب میں نے رؤیا میں اپنی اولاد کو مخاطب کیا تو گویا روحانی اولاد کو خطاب کیا ہے۔ اِس رؤیا کے شائع ہونے کے بعد بعض دوستوں نے اپنے نام اِس میں شامل ہونے کے لئے مجھے لکھے مگر مَیں نے مناسب نہ سمجھا کہ اِس تحریک کو شروع کروں اور یہی مناسب سمجھا کہ مَیں ایسے وقت میں اِس کی تحریک کروں گا جب میری روحانی اولاد کا ایک کثیر حصہ سامنے ہو گا۔ سو اَب کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو یہاں جمع کیا ہے اور مجھے آپ لوگوں کے لئے بمنزلہ والد بنایا ہے اور آپ لوگ میری روحانی اولاد ہیں مَیں آپ کے سامنے حلف الفضول والا معاہدہ پیش کرتا ہوں مگر اِس کیلئے کچھ شرطیں ہیں جو مَیں بیان کرتا ہوں کیونکہ ہر ایک اِس بار کو نہیںاُٹھا سکتا۔ معاہدہ یہ ہوگا کہ:۔
    اِس میں شریک ہونے والا یہ عہد کرے گا کہ وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ مظلوم کی مدد کرے گا خواہ مظلوم اُس کا یا اُس کی اولاد کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اِس میں کسی قرابت اور دوستی کی پروا نہیں کرے گا اور مظلوم خواہ اُس کا دشمن ہی کیوں نہ ہو اُس کی حمایت کرے گا اور اگر جماعت کے دوست ایسا معاہدہ کریں تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رؤیا میں بتایا ہے وہ تباہ نہیں ہو گی۔ جو اِس معاہدہ میں شامل ہونا چاہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ سات دن تک مسلسل بغیر ناغہ کے استخارہ کرے، نمازِ عشاء میں دعا کرے یا عشاء کی نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کرے کہ الٰہی! اگر میں اِس کو نباہ سکتا ہوں اور اِسے توڑ کر تیرے غضب کو اپنے لئے بھڑکانے والا نہ ہوں گا تو مجھے اِس میں شامل ہونے کی توفیق دے۔ پس جو دوست اِس میں شامل ہونا چاہیں وہ سات روز تک مسلسل استخارہ کرنے کے بعد مجھے اطلاع دیں۔
    دوسرے اِس میں شامل ہونے والوں کو یہ عہدکرنا ہو گا کہ کسی بھائی سے خواہ اُن کا کتنا شدید اختلاف کیوں نہ ہو مرکزی حُکم کے بغیر اُس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا ترک نہ کریں گے۔ اور اگر وہ دعوت کرے گا تو اُسے ردّ نہ کریں گے۔ اور خواہ کسی سے جائداد کا جھگڑا ہو خواہ کوئی اور جھگڑا ہو، کسی نے اُن کو یا اُن کے بیوی بچوں کو کتنی تکلیف کیوں نہ دی ہو اور خواہ اُس سے اِن کے مقدمات چل رہے ہوں وہ بات چیت کرنا ترک نہ کریں گے۔ اُس کی دعوت کو ردّ نہ کریں گے اور نماز پڑھانے والے امام کے ساتھ اگر اِن کا جھگڑا ہو تو اُس کے پیچھے نماز پڑھنے سے ہرگز گریز نہ کریں گے جو دوست یہ وعدہ کرنے کو تیار ہوں وہ اپنے نام پیش کریں ورنہ نہیں۔
    تیسرا اقرار جو اُن کو کرنا ہو گا اور جو دراصل ہر احمدی بیعت میں شامل ہوتے وقت بھی کرتا ہے یہ ہے کہ سلسلہ کی طرف سے اُن کیلئے جو ذریعہ اصلاح تجویز کیا جائے اُسے بخوشی قبول کریں گے۔
    چوتھے یہ کہ اِس کام کو وہ نفسانیت اور ذاتی نفع نقصان اور قرابت و رشتہ داری کے خیالات کے ماتحت ہرگز نہ کریں گے اور ہمیشہ مظلوم کی مدد کے جذبہ کے ماتحت کھڑے ہوں گے اور یہ بھی خیال نہ کریں گے کہ مظلوم اُن کا رشتہ دار اور عزیز ہے یا دوست ہے بلکہ اُس کی مدد خالصۃً اِس لئے کریں گے کہ وہ مظلوم ہے۔ پھر مظلوم کے معنی احمدی یا مسلمان کے ہی نہیں ہیں بلکہ مظلوم خواہ کسی مذہب اور کسی فرقہ اور کسی مُلک کا ہو اُس کی مدد کریں گے جو شخص اِن شرائط کو پورا کرنے کا عہد کرے گا اُس کے شامل کرنے کے متعلق مَیں غور کروں گا اَور کسی کے متعلق نہیں۔ آگے مدد کس طرح کرنی ہو گی یہ سب تفاصیل بعد میں بتائی جائیں گی۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے اور عقلی طور پر بھی میں سمجھتا ہوں اگر جماعت کا معتدبہ حصہ اِس میں شامل ہو جائے اور عمدگی سے کام کرے تو خدا تعالیٰ جماعت کو یقینا ہر قسم کی تباہی سے بچائے گا اور ہماری ترقی کی نئی نئی راہیںکھول دے گا۔ (الفضل ۲۹؍ ستمبر ۱۹۶۰ء)
    ۱؎ متی باب ۲۶ آیت:۳۹ (مفہوماً)
    ۲؎ الفاتحۃ: ۶
    ۳؎ الفاتحۃ: ۷
    ۴؎
    ۵؎ الفضل ۲۲؍ جولائی ۱۹۴۴ء
    ۶؎


    الموعود





    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    الموعود
    (تقریر فرمودہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۴۴ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان)
    تشہّد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل قرآنی دعائیں پڑھیں۔
    ۱۔
    ۔۱؎
    ۲۔
    ۔
    ۳۔
    ۔
    ۴۔

    ۲؎
    ۵۔
    ۔۳؎
    ۶۔
    ۔۴؎
    ۷۔
    ۔۵؎
    ۸۔
    ۶؎
    ۹۔

    ۷؎
    اس کے بعد فرمایا:
    آج میرا گلا بالکل بیٹھا ہوا ہے گو کَل کی نسبت رات سے کسی قدر فرق ہے ۔ رات کو تو آواز بالکل ہی نہیں نکلتی تھی اور اَب نکلتی تو ہے مگر زور اور تکلیف کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق دے کہ مَیں اپنا مضمون آج بیان کر سکوں کیونکہ سینہ میں مجھے اِس قسم کی جلن اور سوزش ہے کہ مَیں ڈرتا ہوں شاید میں زیادہ دیر تک بول نہ سکوں اور مضمون اِس قسم کا ہے کہ دو تین گھنٹہ سے کم میں اِس کا بیان ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے بلکہ ممکن ہے اِس سے بھی زیادہ وقت صرف ہو جائے۔
    کَل مَیں بعض باتیں بیان کرنا بھول گیا تھا اور تقریر کے بعض حصے مجھے چھوڑنے بھی پڑے تھے کیونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا۔ آج میں اُن باتوں میں سے دو تین باتوں کا ذکر کر دیتا ہوں۔
    رسالہ ’’فرقان‘‘
    سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رسالہ ’’فرقان‘‘ کے متعلق مَیں نے یہ اجازت دی ہے کہ اِسے دو سال تک اور شائع کیا جائے مگر آئندہ
    صرف غیرمبائعین کے ساتھ تعلق رکھنے والے مضامین کا ہی اِس میں جواب نہ دیا جائے بلکہ بہائیوں کے زہر کا بھی ازالہ کیا جائے۔ گویا آئندہ ’’فرقان‘‘ دونوں قسم کے مضامین پر مشتمل ہو گا۔ کچھ تو پیغامیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے مضامین ہوں گے اور کچھ بہائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے مضامین ہوں گے۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ احباب جس طرح پہلے اِس کی اشاعت کے ثواب میں شامل ہوتے ہیں اِسی طرح اِس دوسرے دَور میں بھی وہ ’’فرقان‘‘ جاری رکھنے والوں کی ہمت افزائی کریں گے اور اِس رسالہ کی اشاعت کر کے اِن دونوں فتنوں کے ازالہ کی کوشش کریں گے۔
    سیرت حضرت اماں جان کا دوسرا حصہ
    ایک بات مجھے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے کہی ہے کہ مَیں
    سیرت حضرت اماں جان کی خریداری کے متعلق دوسروں کو تحریک کروں۔ غالباً اِن کی مراد یہ ہے کہ سیرت حضرت اماں جان کا دوسرا حصہ جو اِن کی طرف سے شائع ہو رہا ہے دوست اِس کی خریداری میں اور زیادہ سے زیادہ اشاعت میں حصہ لیں۔ میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اِس کتاب کی خریداری کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ دوسرا حصہ شیخ محمود احمد صاحب مرحوم کا لکھا ہوا ہے یا شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اِسے مرتب کیا ہے بہرحال پہلی جلد کو مرتب کرنے میں بہت بڑی محنت سے کام لیا گیا تھا اور جماعت کے دوستوں نے بھی اِسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ احباب اِس دوسری جلد کی اشاعت میں بھی اِن کی امداد کریں گے۔
    افریقہ میں زنانہ بورڈنگ مدرسہ
    سلسلہ کے آئندہ تبلیغی کاموں کے متعلق بھی بعض باتیں کَل کی تقریر میں رہ گئی تھیں جن
    میں سے چند باتوں کا ذکر کر دیتا ہوں ایک اعلان تو مَیں نے کر دیا تھا کہ افریقہ میں بھی زنانہ بورڈنگ مدرسہ جاری کرنے کا ہمارا ارادہ ہے۔ مجھے یاد نہیں مَیں نے اِس کے ساتھ ہی اِس امر کا ذکر کیا تھا یا نہیں کہ افریقہ کے ایک دوست نے اِس غرض کے لئے پندرہ ہزار روپیہ کی زمین وقف کر دی ہے اور وہاں کی احمدی مستورات چندہ جمع کر کے اِس سکول کو جاری کرنا چاہتی ہیں۔ اِن کا خط میرے نام آیا ہے جس میں اُنہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ہندوستان کی احمدی خواتین بھی اِس تحریک میں حصہ لیں۔ مَیں نے لجنہ اماء اللہ کو تحریک کی تھی کہ وہ اِس میں حصہ لے چنانچہ لجنہ نے اِس غرض کے لئے چار ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اِس کے علاوہ وہاں اِنْشَائَ اللّٰہُ ایک ایسا سکول جاری کرنے کا بھی ارادہ ہے جو لنڈن میٹرک یا سینئر کیمبرج کا لڑکوں کو امتحان دلا سکے۔ یہاں ہندوستان میں تو الگ الگ یونیورسٹیاں ہیں اور ہر یونیورسٹی سے لوگ امتحان دے کر ملازمت حاصل کر سکتے ہیں مگر مغربی افریقہ میں یونیورسٹیاں نہیں ہیں۔ اِس وقت وہاں ہماری جماعت کی طرف سے صرف مڈل سکول قائم ہیں اور مغربی افریقہ کے قانون کے مطابق مڈل پاس لڑکوں کو معمولی ملازمتیں تو مل جاتی ہیں مگر اچھی ملازمتیں نہیں ملتیں ہمارے ہاں تو آجکل مڈل بلکہ انٹرنس کا بھی کوئی سوال نہیں لیکن ایک زمانہ ہندوستان پر بھی ایسا گزرا ہے جب مڈل پاس لڑکوں کو یہاں ملازمتیں مل جاتی تھیں اور وہاں ابھی وہی زمانہ ہے۔ وہ لوگ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں بلکہ وہاں کے باشندوں کا ایک حصہ ایسا ہے جو ننگا پھرا کرتا تھا پھر احمدی مبلّغوں کے زور دینے پر انہوں نے کپڑے پہننے شروع کئے۔ وہاں چونکہ جماعت کے لڑکوں کو تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اُنہیں تحریک کی جاتی ہے کہ وہ جماعت کے مدارس میں داخل ہوں اور ہمارے مدرسوں میں انگریزی کی وہ اعلیٰ تعلیم نہیں دی جاتی جو دوسرے عیسائی مدرسوں میں دی جاتی ہے اِس لئے ملازمتوں کے معاملہ میں ہماری جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ کی ملازمتیں ہماری جماعت کے نوجوانوں کو نہیں ملتیں۔ اَب تجویز یہ ہے کہ لنڈن میٹرک یا سینئر کیمبرج کے اصول پر وہاں ایک سکول جاری کیا جائے۔ جس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکے اِن امتحانات کو پاس کر کے اعلیٰ درجہ کی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔ واقفین میں سے ایک نوجوان کو اِس غرض کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے اور وہ پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ پہلے انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جائیں گے اور جب وہ تعلیم سے فارغ ہو جائیں گے تو اُنہیں ویسٹ افریقہ میں مقرر کر دیا جائے گا۔ امید ہے کہ وہ دو تین ماہ تک یہاں سے انگلستان روانہ ہو جائیں گے۔
    مغربی افریقہ کیلئے ایک اَور مبلّغ کا مطالبہ
    ایک اور درخواست افریقہ سے میرے پاس پرسوں ہی پہنچی ہے
    جس کا مجھے پہلے علم نہیں تھا۔ مَیں نے مغربی افریقہ میں جو مبلّغین بھجوائے ہیں اُن کے علاوہ حکیم فضل الرحمن صاحب مبلّغ نے ایک اَورمبلّغ کا بھی مطالبہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ نائیجریا کے ایک حصہ میں عیسائی مشنوں نے اتنا کام کیا ہے کہ قریباً سب کے سب لوگ عیسائی ہو چکے ہیں۔ چنانچہ جو وہاں کے اصل باشندے ہیں اُن میں سے بمشکل ایک فیصدی کوئی مسلمان نظر آئے گا ورنہ سب کے سب عیسائی ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے بیشک آٹھ دس فیصدی مسلمان ہیں مگر وہ مسلمان ایسے ہیں جو دوسرے علاقوںسے وہاںآئے ہوئے ہیں اصل باشندے نہیں۔ پس انہوں نے درخواست کی ہے کہ ایک مبلّغ جو کم سے کم بی اے ہو اور اگر ایم اے ہو تو زیادہ اچھا ہے اُس علاقہ میں تبلیغ کیلئے بھجوایا جائے۔ سو اِنْشَائَ اللّٰہُ اِس سال وہاں ایک گریجوایٹ مبلّغ بھجوانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ عیسائیت کا مقابلہ کرے۔
    تفسیر القرآن کے متعلق اعلان
    مَیں یہ بھی اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اِس وقت قرآن کریم کی تفسیر کی دو جلدیں تیار ہو رہی
    ہیں۔ ایک جلد آخری پارہ کی ہے جو نصف کے قریب ہو چکی ہے اور ایک جلد پہلے پارہ کی ہے جو نصف سے زیادہ ہو چکی ہے۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہوا تو جلسہ سالانہ کے بعد دو چار ماہ کے اندر اندر آخری پارہ کی تفسیر لکھی جائے گی اور پھر دو تین مہینہ کے اندر شائع کر دی جائے گی ۔ اِس کے بعد اِنْشَائَ اللّٰہُ پہلے پارہ کی تفسیر شائع کی جائے گی۔ پہلے میرا منشاء تھا کہ ابتدائی پانچ پاروں کی تفسیر اکٹھی شائع ہو مگر جب تفسیر لکھنے لگا تو پہلے پارہ کی تفسیر ہی بہت بڑھ گئی کیونکہ شروع میں بہت سے مضامین کو کھول کر بیان کرنا پڑتا ہے اور اِس کے لئے زیادہ وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر مَیں نے ارادہ کیا کہ سورہ بقرہ کی تفسیر ایک جلد میں شائع ہو جائے مگر اِس ارادہ کو بھی منسوخ کرنا پڑا کیونکہ ابھی تک نصف پارے سے کچھ اوپر تفسیر لکھی گئی ہے اور چھ سَو سے زیادہ صفحات ہو چکے ہیں اگر اگلے نصف حصہ کی تفسیر کو مختصر کر دیا جائے تو بھی آٹھ نو سَو بلکہ ہزار صفحہ تک ایک پارہ کی تفسیر پہنچ جائے گی اور اگر سورہ بقرہ کی تمام تفسیر کو پہلی جِلد میں شامل کیا جائے تو دو ہزار صفحات سے کم میں یہ تفسیر نہیں آ سکے گی۔
    پچھلی تفسیر جب شائع ہوئی تو بعض نوابوں کی طرف سے مجھے پیغام پہنچا کہ ہمیں تفسیر پڑھنے کا بڑا شوق ہے مگر ہماری عادت یہ ہے کہ ہم سوتے وقت کتاب پڑھتے ہیں کوئی ہلکی سی کتاب ہوئی اُسے سینہ پر رکھ لیا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ پڑھتے پڑھتے جب نیند آ گئی تو سو گئے مگر آپ نے اتنی بڑی کتاب لکھ دی ہے کہ سینہ پر اُسے رکھنے سے درد شروع ہو جاتا ہے اور ہم اِسے نہیں پڑھ سکتے۔ اگر آپ نے تفسیر ہمیں بھی پڑھانی ہے تو ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو سَو صفحہ کی کتاب لکھیں جو آسانی سے ہم لوگ پڑھ سکیں اور آسانی سے اُٹھا بھی سکیں اتنی بڑی کتاب نہ اُٹھائی جاتی ہے نہ آسانی سے پڑھی جاتی ہے۔ اگر سورہ بقرہ کی ہی دو اڑھائی ہزار صفحات میںتفسیر شائع ہو تو اِس قسم کے لوگ اَوروں کو بھی ڈرا دیں گے اِس لئے مَیں سمجھتا ہوں ہمیں پہلے پارہ کی تفسیر الگ شائع کرنی پڑے گی۔ بہرحال یہ دونوں تفسیریں اِنْشَائَ اللّٰہُ جلد شائع ہو جائیں گی۔ آخری پارہ کی تفسیر کے متعلق میری یہ خواہش تھی کہ جلسہ سالانہ تک اِس کے تین چار سَو صفحے چھپ جائیں مگر مشکل یہ ہوئی کہ قادیان میں کوئی پریس اِس غرض کے لئے فارغ نہیں تھا اُن کے پاس اور بہت سے کام تھے یا اُن کی چھپوائی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی اچھی چھپوائی ہم تفسیر کی چاہتے ہیں۔ دو مہینے کی بات ہے کچھ کاپیاں ایک پریس پر لگائی گئیں تو وہ سب کی سب اُڑ گئیں۔ اَب میں نے تحریک جدید کی طرف سے ایک پریس خرید لیا ہے اور دس ہزار روپیہ اُس پر صرف آیا ہے اور اِنْشَائَ اللّٰہُ جنوری میں فٹ ہو کر تفسیر کی چھپوائی شروع ہو جائے گی۔ یہ دقتیں تھیں جن کی وجہ سے تفسیر شائع نہ ہو سکی ورنہ اگر پہلے چھپ سکتی تو جس طرح پہلے سال میں نے شائع شدہ تفسیر کا کچھ حصہ دوستوں کے لئے دفتر میں رکھوا دیا تھا اِسی طرح اِس سال بھی میں اُس کا کچھ حصہ رکھوا دیتا مگر پریس کی مشکلات کی وجہ سے باوجود اِس کے کہ مضمون تیار ہے اور باوجود اِس کے کہ کاپیاں لکھنے والے فارغ ہیں اور کچھ کاپیاں لکھی ہوئی بھی موجود ہیں ہم اِس کا کوئی حصہ چھپوا نہیں سکے جس کی وجہ سے احباب کو تفسیر کا نمونہ دکھانے سے ہم قاصر رہے ہیں۔ (الفضل ۲۵؍ جنوری ۱۹۴۵ء)
    (اس کے بعد اصل مضمون ’’الموعود‘‘ کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔)
    براہین احمدیہ کی اشاعت سے غیر مذاہب میں تہلکہ
    ۱۸۸۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظیم الشان کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی آخری جِلد شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے شائع ہونے پر
    قدرتی طور پر غیر مذاہب کے وہ مشنری اور مبلّغ جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم اسلام کو کھا جائیں گے، اُن کے اندر بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہوگئی کیونکہ اس سے پہلے ایک طرف تو عیسائی یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمان ہمارا شکار ہیں اور دوسری طرف ہندوؤں میں پنڈت دیانند صاحب بانی آریہ سماج کی کوششوں کی وجہ سے ایک مذہبی بیداری پیدا ہو رہی تھی اور وہ بھی یہ خیال کر رہے تھے کہ مسلمان اب ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتے۔ اِسی طرح برہمو سماج والے بھی اسلام کے خلاف کوشش کر رہے تھے اور اپنی اِس جدوجہد میں انہیں کامیابی حاصل ہو رہی تھی۔ ایسے وقت میں جب عیسائی، ہندو، آریہ اور برہمو سب یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمان ہمارا شکار ہیں اب ہم اُن کو اسلام سے منحرف کر کے اپنے مذہب میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ شائع ہوئی۔ اِس کتاب میں آپ نے تین سَو دلائل کے ساتھ اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔ چار جلدیں اِس کتاب کی شائع ہوئیں، ایک جلد اشتہار کے طور پر اور تین جلدیں اصل مضمون کے طور پر اور پھر یہ تین جلدیں جو آپ کی طرف سے شائع ہوئیں اِن میں بھی اسلام کی صداقت کی دراصل ایک ہی دلیل بیان ہوئی تھی اور وہ بھی مکمل طور پر نہیں بلکہ دلیل ابھی جاری تھی کہ کتاب بند ہوگئی۔ اِس آدھی دلیل سے ہی جو براہین احمدیہ کی تین جلدوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے غیر مذاہب میں ایسا تہلکہ مچ گیا کہ یا تو اُن مذاہب کے لیڈروں اور ان مذاہب کے پیروئوں کے دلوں میں یہ خیال قائم ہو گیا تھا کہ وہ اسلام کو کھا جائیں گے اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے معدوم کر دیں گے یا اب اُن کو یہ فکر پیدا ہو گیا کہ کہیں اسلام دنیا پر غالب نہ آ جائے اور ہمارے اپنے بھائی اسلام کی طرف نہ کھینچے جائیں۔ چنانچہ اِس کتاب کے شائع ہوتے ہی دشمنانِ اسلام نے حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ’’ہونہار بِروا کے چکنے چکنے پات‘‘ کے مطابق اپنے لئے ایک مستقل خطرہ کا الارم سمجھ کر اپنے تیروں کا ہدف بنانا شروع کر دیا اور وہ سب کے سب آپ پر ٹوٹ پڑے۔ اُس وقت آپ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا نہیں تھا، صرف اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں آپ نے یہ کتاب لکھی تھی۔ جب اِس کتاب کو لکھتے لکھتے آپ چوتھی جلد تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے الہامات سے آپ سمجھ گئے کہ اب الٰہی منشاء کسی اور رنگ میں آپ سے خدمتِ دین لینے کا ہے۔ چنانچہ آپ نے ’’براہین احمدیہ جلد چہارم‘‘ کے ٹائٹل پیج پر ’’ہم اور ہماری کتاب‘‘ کے زیر عنوان اعلان فرما دیا کہ:-
    ’’ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اِس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اِس کے قدرتِ الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اِس احقر عباد کو موسٰی کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔ یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شبِ تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردۂ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اِس کتاب کا متولی اور مہتمم ظَاہِراً وَّ بَاطِناً حضرت ربّ العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اِس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اُس نے جلد چہارم تک انوارِ حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اِتمام حجت کیلئے کافی ہیں اور اُس کے فضل و کرم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ جب تک شکوک اور شبہات کی ظلمت کو بکلّی دُور نہ کرے اپنی تائیدات غیبیہ سے مددگار رہے گا۔ اگرچہ اِس عاجز کو اپنی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں لیکن اِس سے نہایت خوشی ہے کہ وہ حی و قیوم کہ جو فنا اور موت سے پاک ہے ہمیشہ تا قیامت دینِ اسلام کی نصرت میں ہے اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ ایسا اُس کا فضل ہے کہ جو اِس سے پہلے کسی نبی پر نہیں ہوا‘‘۔۸؎
    بہرحال یہ کتاب چونکہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کو ایک نئے رنگ میں دنیا پر ظاہر کرنے والی تھی، اِس لئے آریوں، ہندوئوں، عیسائیوں اور برہموئوں وغیرہ نے مل کرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر حملہ کر دیا اور افسوس یہ ہے کہ مسلمان بھی اِس حملہ میں اُن کے ساتھ مل گئے حالانکہ یہ ایک موٹی بات تھی جس کو وہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کہ اسلام کی تائید میں یہ پہلی کتاب نہیں تھی جو شائع ہوئی ہو بلکہ اِس سے پہلے خود مسلمان بیسیوں کتابیں اسلام کی تائید میں شائع کر چکے تھے مگر اُن کتابوں سے نہ عیسائیوں میں کوئی جوش پیدا ہوا ،نہ ہندوئوں میں کوئی جوش پیدا ہوا، نہ آریوں میں کوئی جوش پیدا ہوا اور نہ برہموؤں میں کوئی جوش پیدا ہوا۔ پھر وجہ کیا تھی کہ اُن کتابوں سے تو اُن کے دلوں میں کوئی جوش پیدا نہ ہوا لیکن اِس کتاب کے نکلتے ہی عیسائی بھی جوش میں آگئے، ہندو بھی غصہ سے بھرگئے، آریہ بھی مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے، برہمو سماجی بھی اِس کے اثر کو باطل کرنے کی طرف متوجہ ہوگئے او رتمام غیر مذاہب کے مشنری اور مبلّغ اشتہاروں، ٹریکٹوں اور کتابوں کے ذریعہ اُس کا جواب دینے لگ گئے۔ یہاں تک کہ بعض نے اچھا خاصا گند اُچھالا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت کے وہ دلائل جو براہین احمدیہ میں حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائے تھے اُن کے خلاف انہوں نے پے در پے لکھنا شروع کر دیا۔ یہ شور جو غیر مذاہب کے مشنریوں اور اُن کے مبلّغوں میں پیدا ہوا اور جس نے اُن کی صفوں میں ایک تزلزل پیدا کر دیا مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا اور وہ اگر ذرا بھی غور اور تدبر سے کام لیتے تو اِس حقیقت کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کہ اِس کتاب میں کوئی ایسی چیز ضرور ہے جس سے مسیحی مبلّغ اور آریہ مشنری سخت گھبراتے ہیں۔ اگر کوئی ایسی چیز اِس کتاب میں موجود نہ ہوتی تو وہ سب کے سب آپ کے پیچھے کیوں پڑ جاتے۔
    مخالفت کا اصل راز
    اصل بات یہ ہے کہ دشمن کی توجہ ہی صحیح حقیقت کا انکشاف کیا کرتی ہے اور بااثر طبقہ کی طرف سے مخالفت ہی کسی چیز کی
    اہمیت کا ثبوت ہوا کرتی ہے۔ اگر کوئی چیز دشمن کے مقابلہ میں پیش کی جائے تو خواہ پیش کرنے والا اُسے کتنا ہی بڑا کامیاب حربہ قرار دے اگر دشمن اُس کی مخالفت نہیں کرتا، اگر وہ اُس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تو یہ قطعاً نہیں کہا جا سکتا کہ وہ چیز فی الواقع دشمن کے لئے خطرناک ہے یا بہت بڑا کامیاب حربہ ہے لیکن اگر وہ فوراً مخالفت شروع کر دیتا ہے تو یہ اِس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اُس پر کاری حملہ ہوا ہے اور اب اُسے اپنے بچائو کا فکر لاحق ہوگیا ہے۔ پس مخالفین اسلام کا گھبرانا، اُن کا شور مچانا، اُن کا گند اُچھالنا، اور اُن کا براہین احمدیہ کی اشاعت پر اِس کی تردید کے لئے کمربستہ ہو جانا خود اِس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اِس کتاب کو اپنے لئے ایک زبردست خطرہ سمجھنے لگ گئے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر اسلام کی حفاظت کا یہ سلسلہ اِسی رنگ میں جاری رہا تو اسلام غالب آ جائے گا اور ہم مغلوب ہوجائیں گے۔ مگر مسلمانوں نے اِس نکتہ کو نہ سمجھا اور انہوں نے خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر حملے شروع کر دیئے اور اِس طرح عیسائیت اور آریہ سماج کا ہاتھ مضبوط کرنے لگ گئے۔
    پنڈت لیکھرام اور منشی اندرمن مراد آبادی کا مقابلہ
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب یہ حالات دیکھے تو آپ نے اشتہاروں کے ذریعہ دشمنوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔ اِس
    مخالفت میں خصوصیت کے ساتھ اُس وقت کی آریہ سماج کے لیڈر پنڈت لیکھرام صاحب اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی پیش پیش تھے۔ بِالخصوص پنڈت لیکھرام صاحب نے اِس مخالفت میں نمایاں حصہ لیا اور انہوں نے تکذیب براہین نامی کتاب بھی لکھی۔ یہ حالات بتاتے ہیں کہ آریہ سماج نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حملہ کی سختی اور طاقت کو محسوس کر لیا تھا ورنہ اُن کے لیڈر کو اپنی عمر آپ کی تردید میں اِس طرح خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کاش! مسلمان اِس حقیقت کو سمجھتے تو وہ وقت پر خطرہ سے آگاہ ہو جاتے۔ مگر اُنہوں نے خود بھی آپ کی مخالفت میں حصہ لے کر دشمنان اسلام کے ہاتھ کو مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اُس وقت اپنا کوئی دعویٰ نہیں تھا جس کی تردید کے لئے یہ لوگ کھڑے ہوئے ہوں بلکہ اُس وقت آپ کا صرف اتنا دعویٰ تھا کہ اسلام سچا مذہب ہے لوگوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا اور غور نہ کرنے کی وجہ سے ہی وہ اِس کی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں اب میں قرآن کریم کی تعلیم کو ایسے رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کروں گا کہ لوگوں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسی بدلائل اور پاکیزہ کتاب دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اِس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ مخالفینِ اسلام کا اصل حملہ آپ پر نہیں تھا کیونکہ آپ تو محض اسلام کے ایک وکیل کی حیثیت سے دنیا میں کھڑے ہوئے تھے اُن کا اصل حملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن کریم کی حقانیت پر تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ دنیا میں قرآن کریم کا نور ظاہر ہو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی راستبازی کا دنیا کو علم ہو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چِلّہ کشی کا ارادہ
    جب آپ نے دیکھا کہ غیر مسلم تو الگ رہے خود مسلمانوں میں
    بھی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جس نے آپ کے خلاف لکھنا شروع کر دیا ہے حالانکہ آپ اسلام کی تائید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کے اظہار کیلئے کھڑے ہوئے تھے تو آپ کے دل میں سخت درد پیدا ہوا اور آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگنی شروع کیں کہ تُو مجھے اپنی تائید سے ایسا موقع بہم پہنچا کہ مَیں اُن تمام وساوس کو جو اسلام کے خلاف پھیلائے جاتے ہیں اور اُن تمام حملوں کو جو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے جاتے ہیں کامیابی سے دُور کر سکوں اور اسلام کی محافظت اور دشمنوں کے حملوں کے دفاع کا فرض پوری خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے سکوں۔ اِس غور وفکر میں آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں چالیس دن تک چِلّہ کروں اور کسی علیحدہ مقام پر خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کروں کہ وہ ایسی تائیدات کے سامان میرے لئے مہیا فرمائے جن سے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اسلام کی صداقت کا کامل اور روشن تر ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر سکوں۔ چنانچہ آپ نے دعائوں اور استخاروں سے کام لینا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ الٰہی! بعض مقامات بھی خاص طور پر بابرکت ہوتے ہیں اور ان مقامات کے ساتھ تیرے خاص فضل وابستہ ہوتے ہیں۔ وہاں اگر دعائیں کی جائیں تو وہ اور دعاؤں کی نسبت زیادہ شان سے اور قریب ترین عرصہ میں شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں۔ تو اپنے خاص فضل سے اِس بارہ میں بھی میری راہنمائی فرما کہ میں یہ دعائیں کہاں کروں اور کس جگہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کیلئے دعائیں کرنے کے لئے جائوں۔
    ہوشیار پور کے حالات
    اِن دعائوں اور استخارہ کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا گیا کہ آپ ہوشیار پور میں چِلّہ کریں۔
    مولوی عبداللہ صاحب سنوری اُس وقت آپ کے معتقد تھے۔ اُنہیں جب معلوم ہوا کہ آپ چالیس دنوں تک خاص دعائیں کرنا چاہتے ہیں تو اُنہوں نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ جب آپ چِلّہ کریں تو مجھے بھی اطلاع دیں کہ کس جگہ چِلّہ کیا جائے گا تاکہ میں بھی خدمت کا ثواب حاصل کر سکوں۔ وہ اُس وقت پٹیالہ میں پٹواری ہوا کرتے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ ہوشیارپور کے مقام پر چِلّہ کرنا پسندکرتا ہے تو آپ نے مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو لکھا کہ مَیں چِلّہ کیلئے ہوشیارپور جا رہا ہوں آپ بھی فوراً پہنچ جائیں تا کہ قادیان سے ہم اکٹھے روانہ ہو سکیں۔ چنانچہ مولوی عبداللہ صاحب سنوری قادیان پہنچ گئے اور آپ ۲۱؍جنوری ۱۸۸۶ء کو ہوشیار پور روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صرف تین آدمی تھے۔
    اوّل مولوی عبداللہ صاحب سنوری۔
    دوم حافظ شیخ حامد علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بہت پُرانے خادموں میں سے تھے اور لمبے عرصے تک آپ کی خدمت کرتے رہے ہیں۔
    سوم فتح خاں صاحب جو رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کے ایک زمیندار دوست تھے۔
    آپ نے جانے سے پہلے شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کو جو آپ کے واقفوں اور دوستوں میں سے تھے ایک خط لکھا کہ مَیں وہاں دو ماہ کے لئے آنا چاہتاہوں آپ میرے لئے کسی مکان کا انتظام کریں جہاں ٹھہر کر مَیں علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکوں۔ آپ نے یہ بھی لکھا کہ مَیں نہیں چاہتا ان ایام میں لوگ مجھ سے ملنے کے لئے آئیں۔ مَیں صرف اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا چاہتا ہوں اِس لئے مکان ایسا ہو جو شہر کے ایک طرف ہو اور اُس میں بالاخانہ بھی ہو تاکہ دعا اور توجہ الی اللہ میں کوئی نقص واقع نہ ہو۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنا ایک خاندانی مکان جو کسی وقت طویلے ۹؎کے طور پر کام آتا تھا اور اسی نام سے مشہور تھا آپ کے لئے خالی کرا دیا اور لکھا کہ میں نے آپ کے لئے ایک مکان کا انتظام کر دیا ہے جو شہر سے باہر ہے لیکن اتنی دور بھی نہیں کہ شہر سے چیزیں لانے میں تکلیف محسوس ہو آپ جب چاہیں تشریف لے آئیں۔ اِس اطلاع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ۲۱؍جنوری ۱۸۸۶ء کو روانہ ہوئے اور راستہ میں ایک رات رسول پور ٹھہرتے ہوئے ۲۲؍جنوری جمعہ کے دن وہاں پہنچ گئے۔ جاتے ہی آپ نے شیخ مہر علی صاحب کے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا اور پھر اُن تینوں دوستوں کو جو آپ کے ساتھ تھے الگ الگ ڈیوٹیوں پر مقرر فرما دیا۔ مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے سپرد کھانا پکانے کا کام ہوا۔ فتح خان صاحب کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سَودا وغیرہ لایا کریں اور حافظ شیخ حامد علی صاحب کا یہ کام مقرر کیا گیا کہ وہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والوں کی مہمان نوازی کریں۔ آپ نے یہ بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں سے بھی کوئی شخص مجھے نہ بُلائے نہ اوپر بالا خانہ میں کوئی میرے پاس آئے۔ میرا کھانا اوپر پہنچا دیا جائے مگر اِس بات کا انتظار نہ کیا جائے کہ مَیں نے کھانا کھا لیا ہے یا نہیں بلکہ کھانا رکھ کر فوراً کھانا لانے والا واپس چلا جائے اور خالی برتن دوسرے وقت لے جایا کرے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان ایام میں کسی اور کام کی طرف توجہ کروں۔ چنانچہ چالیس دن آپ نے اِس بالا خانہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور علیحدگی میں دعائیں کیں۔ اِس دَوران میں آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض عظیم الشان انکشافات ہوئے جن کی بناء پر ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کو ہفتہ کے دن ہوشیارپور میں ہی آپ نے ایک اشتہار لکھا اور اُسے شائع کر کے مختلف علاقوں میں بھجوا دیا۔
    مصلح موعود کے متعلق خدا تعالیٰ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس وقت جو اشتہار لکھا اُس کا کچھ حصہ یہ ہے جو میرے آج کے مضمون کے ساتھ تعلق رکھتا ہے
    آپ فرماتے ہیں:-
    ’’پہلی پیشگوئی بالہام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عزّو جل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے جَلَّ شَأْنُہٗ وَ عزَّاِسْمُہٗ مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرعات کو سُنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لُدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلیدتجھے ملتی ہے ۔ اے مظفر! تجھ پر سلام۔ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں۔ اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ مَیں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اُس کی کتاب اور اُس کے پاک رسول محمد مصطفی کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اُس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اُس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اُس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحبِ شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔ وہ دنیا میں آئے گااور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علومِ ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گااور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اِس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزندِ دلبند گرامی ارجمند۔ مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَالْآخِرِ مَظْہَرُ الْحَقِّ وَ الْعَلاَئِ کَأَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اُس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کاسایہ اُس کے سَر پر ہو گا۔ وہ جَلد جَلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اُس سے برکت پائیں گے۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘
    پیشگوئی کی غرض و غایت
    یہ وہ اشتہار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہوشیار پور میں شائع فرمایا۔ اس اشتہار سے ظاہر ہے کہ
    یہ پیشگوئی اِس لئے کی گئی تھی کہ:-
    (۱) جوزندگی کے خواہاں ہیں موت سے نجات پائیں اور جوقبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں۔
    (۲) تادینِ اسلام کا شرف ظاہر ہو اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔
    (۳) تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔
    (۴) تا لوگ سمجھیں کہ خدا قادر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
    (۵) اور تا وہ یقین لائیں کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ہے۔
    (۶) اورتاانہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور اُس کے دین اور اُس کی کتاب اور اُس کے پاک رسول محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے۔
    (۷) اور مجرموں کی راہ ظاہر ہوجائے۔
    دشمنانِ سلسلہ کی طرف سے اعتراضات
    جب یہ اشتہار شائع ہواتو دشمنوں نے اِس پر بھی اعتراضات کا ایک
    سلسلہ شروع کر دیا۔ تب۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء کو آپ نے ایک اور اشتہار شائع فرمایا۔ دشمنوں نے اعتراض یہ کیا تھا کہ ایسی پیشگوئی کا کیا اعتبار کیا جا سکتا ہے کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ کیا ہمیشہ لوگوں کے ہاں لڑکے پیدا نہیں ہوا کرتے۔ شاذونادر کے طور پر ہی کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جس کا کوئی لڑکا نہ ہو یا جس کے ہاں لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں۔ ورنہ عام طور پر لوگوں کے ہاں لڑکے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کبھی اُن کی پیدائش کو کوئی خاص نشان قرار نہیں دیا جاتا۔پس اگر آپ کے ہاں بھی کوئی لڑکا پیدا ہو جائے تو اِس سے یہ کیونکر ثابت ہو گا کہ دنیا میں اِس ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا کوئی خاص نشان ظاہر ہوا ہے۔ آپ نے لوگوں کے اِس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ۲۲؍مارچ کے اشتہار میں تحریر فرمایا کہ :-
    ’’یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جَلَّ شَاْنُہٗنے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا۔‘‘۱۰؎
    پھر اِسی اشتہار میں آپ نے تحریر فرمایا:۔
    ’’بفضلہ تعالیٰ واحسانہٖ وببرکت حضرت خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خداوند کریم نے اِس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی با برکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی‘‘۔۱۱؎
    بات یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ہاںمحض ایک بیٹاپیدا ہونے کی خبر دیتے تب بھی یہ خبر اپنی ذات میں ایک پیشگوئی ہوتی کیونکہ دنیا میں ایک حصّہ خواہ وہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو بہرحال ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ دوسرے آپ نے جب یہ اعلان کیا اُس وقت آپ کی عمر پچاس سال سے اُ وپر تھی اور ہزاروں ہزار لوگ دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں جن کے ہاں پچاس سال کے بعد اولاد کی پیدائش کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے اور پھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ہاں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ہاں لڑکے تو پیدا ہوتے ہیں مگر پیدا ہونے کے تھوڑے عرصہ ہی بعد مر جاتے ہیں۔ اور یہ سارے شبہات اِس جگہ موجود تھے۔ پس اوّل تو کسی لڑکے کی پیدایش کی خبر دینا کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہوسکتا۔ لیکن آپ بطور تنزّل اِس اعتراض کو تسلیم کرکے فرماتے ہیں کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ محض کسی لڑکے کی پیدائش کی خبر دینا پیشگوئی نہیں کہلاسکتا۔ تو سوال یہ ہے کہ میں نے محض ایک لڑکے کی پیدائش کی کب خبر دی ہے۔میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا بلکہ میں نے یہ کہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری دعائوں کو قبول فرما کر ایک ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری اور باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔
    آپ کے دشمن یہ تو کہہ سکتے تھے کہ سَو میں سے ننانوے لوگوں کے ہاں اولاد پیدا ہو جاتی ہے مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ سَو نہیں ہزار انسانوں میں سے ایک کے ہاں ضرور ایسی اولاد پیدا ہوتی ہے جو تمام زمین میں شہرت پا جاتی ہے اور اُس کی ظاہری اور باطنی برکتیں تمام لوگوں میں پھیل جاتی ہیں بلکہ وہ تو اتنا بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ لاکھ میں سے ایک شخص کی اولاد ضرور ساری دنیا میں مشہور ہو جاتی ہے بلکہ اِس کو بھی جانے دو وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ کروڑ لڑکوںمیں سے ایک لڑکا ضرور ایسا ہوتا ہے جو ساری دنیا میں شہرت پا جاتا ہے۔ غرض آپ کے دشمن تو یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ دنیا میں سَو میں ننانوے پیشگوئی کا مصداق ہوسکتے ہیں اِس لئے یہ کوئی پیشگوئی نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام نے جواب دیا کہ میں نے جو پیشگوئی کی ہے اِس کے مطابق سَو میں سے ننانوے نہیں کروڑ انسانوں میں سے ایک شخض کی اولادبھی اِس کا مصداق ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ پیشگوئی یہ ہے کہ ایسا لڑکا پیدا ہوگا جو دینی لحاظ سے تمام زمین میں شہرت پائے گا۔ اور دینی لحاظ سے تمام زمین میں شہرت پاجانے کی اس زمانہ میں ایک مثال بھی دشمنوں کی طرف سے پیش نہیں کی جا سکتی کیونکہ اِس زمانہ میں مادیت اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے۔ بیشک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دینی لحاظ سے تمام دنیا میں شہرت حاصل کی لیکن آپ تو اِس پیشگوئی کا جزو اعظم تھے۔ آپ کے علاوہ کوئی اَور ایسا شخص نہیں جسے دینی لحاظ سے شہرت کا یہ مقام حاصل ہوا ہو۔ اگر دو ارب دنیا کی آبادی سمجھ لی جائے اور اس میں سے ایک ارب عورتوں اور بچوں کو نکال دیا جائے تو باقی ایک ارب لوگوں میںسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی جس نے دینی لحاظ سے تمام دنیا میں شہرت حاصل کی ہو۔ یہ بالکل واضح اور نمایاں بات ہے کہ اگر دینی لحاظ سے بعض لوگوں نے زمین کے کناروں تک شہرت حاصل کی ہو تو جتنی نسبت ایسے شہرت پانے والے شخصوں کی دنیا کی باقی آبادی کے مقابلہ میں ہوگی وہی نسبت اِس پیشگوئی کی عظمت یا اِس کی عدمِ عظمت کے درمیان سمجھی جائے گی۔ فرض کرو ساری دنیا میں سے دس آدمی ایسے پیش کئے جا سکتے ہوں جنہوں نے دینی لحاظ سے تمام دنیامیں شہرت پائی ہو تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسی پیشگوئی کی جو بیس کروڑ میں سے ایک پر پوری ہو سکتی ہے اور جہاں بیس کروڑ چانس نفی کے ہوں کیا وہاں ایک منٹ کے لئے بھی کوئی شخص ایسی پیشگوئی کرنے کی جرأت کر سکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں گزشتہ پچاس سال کے عرصہ میں کوئی ایک مثال بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے سلسلہ کے باہر ایسی پیش نہیں کی جا سکتی کہ کسی شخص نے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت کرکے مذہبی لحاظ سے ساری دنیا میں شہرت حاصل کی ہو۔ عیسائی ہیں انہیں دُنیوی لحاظ سے بڑی طاقت حاصل ہے اور اُن کے بادشاہوں کی شہرت بھی دنیا کے کناروں تک پھیلی ہوئی ہے لیکن اُن کو اِس مثال کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہاں یہ شرط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور اسلام کی متابعت کرتے ہوئے ساری دنیا میں شہرت حاصل کرے گااور یہ بات ایسی ہے جو اُن میں سے کسی کو حاصل نہیں۔وہ طاقتور ہیں، وہ غالب اقوام میں سے ہیں اور اپنی طاقت اور غلبہ کے زور سے دنیا میں شہرت حاصل کر رہے ہیں اِس لئے شہرت حاصل نہیں کررہے کہ انہوں نے اسلام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔ اِسی طرح کئی سیاسی لیڈر ہیں جن کی شہرت دینا کے کناروں تک پھیلی ہوئی ہے۔مثلاً ہمیں اِس سے ہرگز انکار نہیں کہ مسٹر چرچل، مسٹر ایڈن، لارڈ ہیلی فیکس یا مسٹر روز ویلٹ وغیرہ کو تمام دنیا میں شہرت حاصل ہے اگر ان میں سے کسی کا نام کوئی شخص پیش کر دے یا مسٹر سٹالن کا نام لے اور کہے کہ تم نے کونسی نرالی پیشگوئی کی ہے یہ لوگ دنیا میں ایسے موجود ہیں جو بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ بیشک اِن لوگوں کو اور اِسی طرح اور بیسیوں لوگوں کو شہرت حاصل ہوئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو پیشگوئی فرمائی ہے اُس میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ کے ہاں ایک ایسا بیٹا پیدا ہو گا جو دینِ اسلام کی خدمت اور قرآن کو پھیلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہوگاحالانکہ دین ایک ایسی چیز ہے جسے آج دنیا میں سب سے زیادہ نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسلام وہ مذہب ہے جس کی طرف آج کسی کو بھی توجہ نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ رسول ہیں جن کی آج سب سے زیادہ تحقیر کی جاتی ہے لیکن آپ فرماتے ہیں اِس دین کی غلامی کرتے ہوئے، اس مذہب کی اشاعت کرتے ہوئے اور اِس پاک رسول کے نام کو بلند کرتے ہوئے وہ ساری دنیا میں شہرت پائے گا اور زمین کے کناروں تک عزّت کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ اِن شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص بتادے کہ گزشتہ پچاس یا سَو سال میں سے کسی ایک شخص نے ہی اسلام کی خدمت کرتے ہوئے دنیا کے کناروں تک شہرت حاصل کی ہو اور قوموں نے اُس سے برکت پائی ہو۔ اگر ایک ارب دنیا کی آبادی سمجھی جائے اور پچیس سال ایک نسل کی اوسط عمر سمجھی جائے تو اِس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ چار ارب آدمیوں میں سے ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جا سکتی کہ کسی نے دین کی خدمت کرتے ہوئے ساری دنیا میںشہرت حاصل کی ہو اور جو مثال اتنی نایاب ہو کہ چار ارب میں سے کوئی ایک شخص بھی اِس پر پورا نہ اُترسکتا ہو اُسے انسانی واہمہ یا قیاس کا نتیجہ کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسی پیشگوئی کی جائے تو ہر سمجھدار انسان کو ماننا پڑے گا کہ یہ پیشگوئی قیاس سے نہیں کی گئی کیونکہ اِس میںایسی شرائط موجود ہیں جو چار ارب میں سے کسی ایک پر پوری نہیں ہو سکتیں ۔پھر فرماتے ہیں ۔
    ’’جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مُرتد ہیں وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ اُن کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا‘‘۔۱۲؎
    اِس سے بھی ظاہر ہے کہ آپ نے دنیا کے سامنے اِس حقیقت کو پیش فرمایاتھا کہ یہ نشان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہوگا اور اِس سے دنیا پر آپ کے معجزات کا سچا ہونا ثابت ہو جائے گا۔
    مصلح موعود کی پیدائش کیلئے نو سال کی میعادکا تقرر
    اِسی طرح آپ نے اشتہار میں لکھا کہ:۔
    ’’ ایسا لڑکا بموجب وعدۂ الٰہی ۹ برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگاخواہ جلد ہو خواہ دیر سے بہر حال اِس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا‘‘۔۱۳؎
    اِس طرح آپ نے پیشگوئی میں ایک اور شرط بڑھا دی۔ پہلے تو کسی میعاد کی تعیین نہیں تھی۔ انسان کہہ سکتا تھا کہ ممکن ہے دس یا پندرہ یا بیس سال میں لڑکا پیدا ہو جائے مگر اِس اشتہار کے ذریعہ آپ نے ایک مزید شرط کا اعلان فرما دیااور بتا دیا کہ الہامِ الٰہی سے یہ خبر معلوم ہوئی ہے کہ وہ لڑکا جس کی پہلے اشتہار میں خبر دی گئی تھی ۹ سال کے عرصہ میں پیدا ہو جائے گا خواہ جلد ہو یا دیر سے بہر حال اِس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔ اِس پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ ۹ سال تو بہت لمبی میعاد ہے اتنے عرصہ میں کسی لڑکے کا پیدا ہوجانا کونسی بعید بات ہے۔ جب آپ کو یہ اعتراض پہنچا تو آپ نے ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کو ایک اور اشتہار شائع کیا جس میںلکھا کہ:-
    ’’جن صفاتِ خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی معیاد سے گو ۹ برس سے بھی دو چند ہوتی اُس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ صریح دلی انصاف ہر یک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخص آدمی کے تولد پر مشتمل ہے انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے‘‘۔۱۴؎
    یعنی ہم صرف ایک لڑکے کی پیدائش کی خبر نہیں دے رہے بلکہ ایک ایسے لڑکے کی پیدائش کی خبر دے رہے ہیں جو ۹ سال میںپیدا ہو گا، دین اسلام کی خدمت کرے گا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو پھیلائے گا اور دین کی خدمت کرتے ہوئے زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔
    قریب زمانہ میں پیدا ہونے والے ایک اَور لڑکے کی خبر
    پھر اسی اشتہار میں آپ نے
    لکھا کہ:-
    ’’توجہ کی گئی تو آج آٹھ اپریل ۱۸۸۶ء میں اللہ جل شانہٗ کی طرف سے اِس عاجزپر اِس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والاہے جو ایک مدتِ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا اِس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بِالضرور اس کے قریب حمل میں لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اَب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اَور وقت میں ۹ بر س کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔ اور پھر بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں‘‘۔۱۵؎
    غرض اِس اشتہار کے ذریعہ سے جو ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کو شائع کیا گیا تھا آپ نے لوگوں کے اعتراض کاجواب دے دیا کہ اوّل تو تم جو اعتراض کرتے ہو کہ کسی لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر دینا پیشگوئی نہیں کہلا سکتا اِس لحاظ سے درست نہیں کہ میں نے صرف ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر نہیں دی بلکہ ایک ایسے لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر دی ہے جو اپنے ساتھ کئی قسم کی صفات رکھتا ہوگا اور اُن صفاتِ خاصہ کے ساتھ کسی کی پیدائش کی خبر دینا انسانی قیاس کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے تم نے یہ اعتراض کیا تھا کہ ۹برس بہت لمبی معیاد ہے اِس قدر لمبے عرصہ میں تو بہرحال کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے ۔پس تمہارا یہ اعتراض بھی باطل ہو گیا کہ ۹برس بہت لمبی میعاد ہے۔ اتنے عرصہ میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو ہی سکتا ہے کیونکہ میںایک ایسے لڑکے کی بھی خبر دیتا ہوں جو قریب زمانہ میں پیدا ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ کی طر ف سے یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو لڑکا اب قریب ترین عرصہ میں پیدا ہونے والا ہے یہ وہی موعود لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں ۹برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔ غرض جس قدر اعتراضات لوگوں کی طرف سے ہوئے اُن تمام کے جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے متواتر اپنے اشتہارات میں دیئے اور دشمنانِ اسلام پر ہر طرح اِتمامِ حُجّت کر دیا۔
    بشیراوّل کی پیدائش
    اِن پیشگوئیوں کے شائع ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا
    ( دیکھواشتہار ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء )جس کا نام آپ نے بشیر رکھااور اسے ۸ ؍اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں جو ایک اورلڑکے کی پیشگوئی تھی جو قریب مدت میں پیدا ہونے والا تھا اُس کا مصداق قرار دیا۔۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں پیشگوئی کے یہ الفاظ تھے کہ:۔
    ’’اِس عاجز پر اس قدر کھل گیاکہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدتِ حمل سے تجاوز نہ کرے گا۔ اِس سے ظاہر ہے کہ ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بِالضرور اِس کے قریب حمل میں لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اَب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں ۹ برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا اور پھر اِس کے بعد الہام ہوا کہ آنے والایہی ہے یاہم دوسرے کی راہ تکیں ‘‘۔ ۱۶؎
    اِس عبارت سے ظاہر ہے کہ لوگوں کے ان اعتراضات کی وجہ سے کہ ۹ بر س میں پیدا ہونے والے لڑکے کے لئے جو مدت مقرر کی گئی ہے وہ بہت لمبی ہے اِس عرصہ میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا ہو ہی جاتا ہے آپ نے دعا کی تو آپ پر یہ ظاہر کیا گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونیوالا ہے۔ ’’ایک ‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں ظاہر فرمایا کہ جو لڑکا قریب ہی ہونے والا ہے وہ وہی ۹ سالہ میعاد میں پیدا ہونے والا موعود لڑکا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اَور ہو۔
    اس پیشگوئی کی اصل غرض دشمنوں کے اِس اعتراض کو دُور کرنا تھی کہ لمبی مدت میں لڑکے کا ہونا عجیب بات نہیں پیشگوئی قریب زمانہ کے متعلق ہونی چاہئے۔گو اُن کے اعتراض کا اصل جواب تو یہ دیا گیا کہ جس شان کا لڑکا موعود ہے اس شان کا لڑکا ۹ چھوڑ اٹھارہ سال میں بھی اگر ہو جائے تو پیشگوئی کی عظمت میں فرق نہیں آتا لیکن اُن کے اعتراض کو خود اُن کے دعووں کے مطابق ہی ردّ کرنے کے لئے یہ دوسرا طریق اختیار کیاگیا کہ بہت اچھا! ہم ایک لڑکے کی قریب مدت میں بھی خبر دے دیتے ہیں اِس کے بعد تم کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
    اِس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نوٹ بھی اپنی طرف سے لکھ دیا کہ یہ نہیںکہہ سکتے کہ جولڑکا قریب مدت میں ہوگا وہی موعود ہوگا یا یہ کہ یہ پیشگوئی بالکل الگ ہے اور ایک دوسرے لڑکے کی خبردیتی ہے ۔یعنی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے ۹ سالہ میعاد کو مختصر کر کے قریب مدت سے محصور کر دیا ہے یا یہ کہ ۹ سالہ میعاد الگ قائم ہے اور یہ پیشگوئی الگ ہے۔بہرحال اِس نوٹ سے دشمن کو اعتراض کا کوئی حق نہ پہنچتا تھا کیونکہ دشمن کا اعتراض صرف یہ تھا کہ مدت لمبی ہے تھوڑا وقت مقرر ہونا چاہئے چنانچہ آپ نے ایک مدت حمل میں لڑکا پیدا ہونے کا اعلان کر دیا۔یہ لڑکا خواہ وہی موعود لڑکا ہوتا جس کی خبر ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں دی گئی تھی یا دوسرا لڑکا ہوتا، دشمن کا اعتراض بہرحال اِس قریب مدت میں لڑکا پیدا ہو جانے سے دور ہو جاتا تھا۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ لکھنا کہ نامعلوم قریب مدت میں پیدا ہونے والا لڑکا موعود ہے یا نیا لڑکا، صرف یہ فائدہ دیتا ہے کہ اِس پیشگوئی میںدونوں امکان ہیں یہ بھی کہ ایک اور لڑکے کی خبر بھی دی گئی ہے جو جلد پیدا ہو گااور یہ بھی کہ شاید مصلح موعود کی میعادکو گھٹا کر کم کر دیا گیا ہے۔
    دوسرا الہام اِس اشتہار میں یہ درج ہے کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں یعنی لوگ اُس کی پیدائش پر سوال کریں گے کہ کیا یہی لڑکا جو قریب مدت میں پیدا ہوا ہے آنے والا موعود ہے یاوہ اِس کے بعد پیدا ہو گا ۔اِس الہام کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ پیشگوئی دولڑکوں کی پیدائش کا امکان اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ اگر دو لڑکوں کا امکان اِس سے پیدا نہ ہوتا تو لوگوں کی زبان سے یہ فقرہ نہ کہلوایا جاتا کہ آنے والا یہی ہے یاہم دوسرے کی راہ تکیں۔یہ فقرہ اُسی وقت کہا جاتا ہے جب کہ ایک سے زیادہ وجودوں کی خبر ہو جن میں سے ایک خاص علامات رکھنے والا وجود ہو۔ جب ایک وجود اس خبر کے بعد ظاہر ہو تو طبعاً لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ یہ وجود عام موعود ہے یا خاص موعود ہے۔ اِس لڑکے یعنی بشیر اوّل سے پہلے اور آٹھ اپریل ۱۸۸۶ء والے اشتہار کے چند ماہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی تھی جس کا نام آپ نے عصمت رکھا تھا۔ اُس لڑکی کی پیدائش پر دشمنوں نے شور مچایا کہ لڑکے کی پیشگوئی غلط نکلی کیونکہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ حالانکہ الہام یہ تھا کہ پیدا ہونے والا لڑکا ایک مدت حمل سے تجاوزنہ کرے گا اور مدتِ حمل نو اور دس ماہ کے درمیان ہوتی ہے۔ جو لڑکی پیٹ میں تھی اور دو تین ماہ میں پیدا ہونے والی تھی اُس کی نسبت یہ الفاظ استعمال کرنے تو بالکل لغو ہو جاتے ہیں اگر اس حمل کی طرف اشارہ ہوتا۔ تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار محک اخیار میں لکھا ہے’’ اس حمل‘‘ کے الفاظ چاہئے تھے نہ کہ ’’مدت حمل ‘‘ کے۔
    بشیر اوّل کی وفات پر لوگوں کے اعتراضات
    پھر یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو بشیر اوّل کی وفات پر آپ نے وہ اشتہار شائع
    فرمایا جو سبز اشتہار کہلاتا ہے۔اِس میں آپ نے لوگوں کے اُس شور وشرکا جواب دیا جو بشیر اوّل کی وفات پر پیدا ہوا تھا کہ پیشگوئی تو ایک بہت بڑی شان اور عظمت رکھنے والے لڑکے کے متعلق کی گئی تھی مگر وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیا ۔ یہ شورش سراسر غلط تھی کیونکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے الہامات میں ایک لفظ بھی ایسا نہ تھا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ پہلا بشیر اِس پیشگوئی کا مصداق تھا۔ الہامات میں تو صرف ایک خاص صفات والے لڑکے کی خبر تھی جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ ۹ سال کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔ہاں ایک اور لڑکے کی بھی خبر تھی جس کے متعلق یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایک مدت حمل میں پیدا ہوگا اور تشریح کر دی گئی تھی کہ اس وقت حضرت اماں جان حاملہ ہیں یا اس حمل میں یا اِس کے قریب کے حمل میں وہ پیدا ہو جائے گا۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق بشیر اوّل پیدا ہوا۔ اور ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی کے ہی ایک دوسرے حصّہ کے مطابق جس میںاُسے مہمان قرار دیا گیا تھاوہ ۴؍ نومبر ۱۸۸۸ء کو فوت ہوگیا۔
    ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء والی پیشگوئی کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کی الہامی تصریح
    ’’سبزاشتہار‘‘ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں درحقیقت دو پیش گوئیاں
    تھیں۔ ’’مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے‘‘ اِن الفاظ تک بشیر اوّل کے متعلق پیشگوئی تھی اور ’’اُس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘‘ اِن الفاظ سے وہ پیشگوئی شروع ہوتی ہے جو مصلح موعود کے متعلق ہے۔ گویا یہ پیشگوئی جو پہلے صرف ایک لڑکے کے متعلق سمجھی گئی تھی اِس کے متعلق بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً یہ بات معلوم ہوئی کہ اِس کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ پیشگوئی کا یہ ہے کہ:۔
    ’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ذرّیت و نسل ہو گا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔‘‘
    پیشگوئی کے اِس حصہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا کہ یہ پہلے بشیر کے متعلق ہے۔
    دوسرا حصہ پیشگوئی کا وہ ہے جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ حصہ اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ ’’اس کے ساتھ فضل ہے۔ جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘‘ اور ’’کَانَ اَمْراً مَّقْضِیًّا‘‘ تک جاتا ہے۔
    پھر آپ نے اِسی اشتہار میں جو یکم دسمبر۱۸۸۸ء کو آپ نے شائع فرمایا یہ بھی تحریر فرمایا کہ ہم نے اپنے کسی اشتہار میں یہ نہیں لکھا کہ بشیر اوّل ہی مصلح موعود ہے۔ چنانچہ میں نے تمام حوالجات سنا دیئے ہیں۔ اِن میں اشارۃً بھی یہ ذکر نہیں آتا کہ بشیر اوّل ہی مصلح موعود ہے۔ صرف ایک جگہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ:۔
    ’’غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بِالضرور اِس کے قریب حمل میں‘‘
    لیکن وہاں آپ نے صراحتاً تحریر فرما دیا تھا کہ مجھ پر:
    ’’یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اَب پیدا ہو گا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں ۹برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔‘‘
    ہاں آپ لکھتے ہیں کہ بوجہ بشیر اوّل کے اُن ذاتی کمالات کے جو الہامات میں بیان ہوئے تھے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید یہی وہ لڑکا ہو مگر اِس کے باوجود اِس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر کو پہنچے گا کیونکہ وہ استعدادی کمالات جو بشیر اوّل کے بیان کئے گئے تھے ایسے نہیں تھے جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا بلکہ وہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب تھے۔ اِسی سلسلہ میں آپ نے تحریر فرمایا۔
    ’’اگر ہم اس خیال کی بناء پر کہ الہامی طور پر ذاتی بزرگیاں پسرِ متوفی کی ظاہر ہوئی ہیں اور اس کا نام مبشر اور بشیر اور نور اللہ اور صیّب اور چراغ دین وغیرہ اسماء مشتمل کاملیت ذاتی اور روشنی فطرت کے رکھے گئے ہیں کوئی مفصّل و مبسوط اشتہار بھی شائع کرتے اور اس میں بحوالہ اُن ناموں کے اپنی یہ رائے لکھتے کہ شاید مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا ہو گا تب بھی صاحبانِ بصیرت کی نظر میں یہ اجتہادی بیان ہمارا قابلِ اعتراض نہ ٹھہرتا کیونکہ اُن کا منصفانہ خیال اور ان کی عارفانہ نگاہ فی الفور انہیں سمجھا دیتی کہ یہ اجتہاد صرف چند ایسے ناموں کی صورت پر نظر کر کے کیا گیا ہے جو فِیْ حَدِّ ذَاتِہٖ صاف اور کُھلے کُھلے نہیں ہیں بلکہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب ہیں۔‘‘۱۷؎
    اِس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتایا کہ بیشک مبشر اور بشیر اور نور اللہ اور صیّب اور چراغ دین وغیرہ اسماء متوفی لڑکے کے رکھے گئے تھے مگر یہ سب کی سب اِس کی صفات ذاتیہ تھیں۔ اس کے عمر پانے کی کوئی شرط الہام میں مذکور نہیں تھی بلکہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی میں ہی یہ لکھا ہوا تھا کہ:۔
    ’’خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے‘‘
    اور مہمان وہی ہوتا ہے جس کا قیام عارضی اور چند روزہ ہو۔ ہاں اُس کی ذاتی فضیلت کے متعلق جو الہامات تھے اور جن میں اُسے مبشر اور بشیر اور نوراللہ اور صیّب اور چراغ دین وغیرہ قرار دیا گیا تھا اُن سے صرف اتنا پتہ لگتا تھا کہ وہ استعدادِ ذاتی میں اعلیٰ درجہ کا ہو گا یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ زندہ بھی رہے گا اور لمبی عمر پائے گا۔ آپ نے فرمایا یہ بات ایسی ہی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر فرمایا لَوْعَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقاً نَبِیّاً۔۱۸؎
    اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی بن جاتا۔ اَب یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺاپنے پاس سے ابراہیم کو نبوت کا مقام نہیں دے سکتے تھے کیونکہ نبی خدا بناتا ہے انسان نہیں بناتا اور جبکہ آپ اُسے اپنی طرف سے نبوت کا مقام نہیں دے سکتے تھے تو آپ کا یہ فرمانا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی بن جاتا صاف بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً بتایا تھا کہ ابراہیم کی ذاتی قابلیت نبوت کی مستحق ہے مگر خداتعالیٰ کے نزدیک وہ عمر پانے والا نہیں تھا۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتایا کہ بشیر اوّل بیشک اپنے ذاتی کمالات کے لحاظ سے مبشر تھا، بشیر تھا، نور اللہ تھا،صیّب تھا، چراغ دین تھا مگر خدا کی مشیت میں وہ عمر پانے والا نہیں تھا جیسا کہ خدا کی طرف سے ہی بتایا گیا تھا کہ وہ مہمان کی طرح تمہارے پاس صرف چند دنوں کے لئے آئے گا۔ لیکن بعد کی خبریں اس بچہ کے متعلق ہیں جس کے متعلق یہ خبر ہے کہ وہ مصلح موعود ہو گا اور اسلام اور رسول کریمﷺ کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔ـ
    ظُلمت کے بعد روشنی کے ظہور کی خبر
    پھر فرمایا۔
    ’’الہامی… عبارت کی ترتیبِ بیانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسر متوفی کے قدم اُٹھانے کے بعد پہلے ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق۔ اِس ترتیب کے رُو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلاء کی ظلمت وارد ہوئی (یعنی جب وہ فوت ہو گیا تو کئی لوگوں کو ٹھوکر لگی۔ اُن کے دلوں میں کئی قسم کے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے اور انہوں نے سمجھا کہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں لوگوں کے یہ اعتراضات اُن کی کم فہمی کا نتیجہ تھے۔ اس ظلمت کا پہلے وارد ہونا الہامات کے رُو سے ضروری تھا) اور پھر اس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے۔‘‘ ۱۹؎
    یعنی بشیر اوّل کی وفات سے جو ابتلا کی ظلمت پیدا ہو گئی تھی وہ اَب دُور ہو گی اور اِس کے بعد رعد اور روشنی کا ظہور ہو گا یعنی وہ لڑکا پیدا ہو گا جو زندہ رہنے والا ،اسلام کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچانے والا اور رسول کریم ﷺکی شان اور آپ کی عظمت کو بلند کرنے والا ہو گا اور وہ تمام کام سرانجام دے گا جن کا پیشگوئی میں تفصیلاً ذکر آتا ہے۔
    پھر اور زیادہ وضاحت سے تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’صاف ظاہر کیا گیا کہ ظُلمت اور روشنی دونوں اِس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں یعنی اُس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے، اُن کا آنا ضرور ہے۔ سواے وے لوگو! جنہوں نے ظُلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اِس کے بعد اب روشنی آئے گی۔‘‘۲۰؎
    پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے نام اپنے ایک خط میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’وفاتِ بشیر پر لوگوں کی شورش پر یہ الہام ہوا۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوآ اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ۔ وَقَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضاً اَوْتَکُوْنَ مِنَ الْھَالِکِیْنَ۔ شَاھَتِ الْوُجُوْہُ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ۔ اِنَّ الصَّابِرِیْنَ یُوَفّٰی لَھُمْ اَجْرُھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔۲۱؎ (یعنی کیا لوگ یہ سمجھے ہیںکہ اللہ تعالیٰ اُن کو بغیر امتحان لینے کے یونہی چھوڑ دے گا ایسا نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے خاص بندوں کے زمانہ میں لوگوں کے ایمانوں کا امتحان لیا کرتا ہے اور اِس زمانہ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ چنانچہ اِسی وجہ سے یہ پیشگوئی بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنی کیونکہ انہوںنے غلط اجتہاد سے کام لیا اور اِس خیال میں مبتلا ہو گئے کہ پیشگوئی سچی ثابت نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لوگ تجھے کہیں گے کہ جس کی خبر تو دے رہا ہے وہ تجھے کبھی نہیں ملے گا جس طرح یوسفؑ کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ تو اِسی طرح یوسفؑ کا ذکر کرتا رہے گا یہاں تک کہ تیری عقل یا تیرے جسم میں بیماری پیدا ہو جائے گی اور یا تُو اِسی غم میں ہلاک ہو جائے گا۔ اِس زمانہ کے لوگ بھی تجھے کہیں گے کہ تیرے ہاں کوئی ایسا بیٹا پیدا نہیں ہو گا تُو اِسی طرح اِس کا ذکر کرتے کرتے مرجائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔ اِن کہنے والوں کے منہ کالے ہو جائیں گے۔ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ۔ کچھ دیر کے لئے تُو ان سے منہ پھیر لے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اِس پیشگوئی کو پورا کرے گا۔ اِنَّ الصَّابِرِیْنَ یُوَفّٰی لَھُمْ اَجْرُھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اِس پیشگوئی کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو اعلیٰ سے اعلیٰ اجر عطا فرمائے گا۔)
    پھر اِسی خط میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’ایک الہام میں اِس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیر رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔ یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسرا نام محمود ہے۔ جس کی نسبت فرمایا اولوالعزم ہو گا اور حُسن اور احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔ یَخْلُقُ مَایَشَائُ ‘‘۲۲؎
    اِن الہامات اور حوالوں سے ثابت ہے کہ جس موعود کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دی گئی تھی، اُس نے یقینا ایسے ہی زمانہ کے لوگوں میں آنا تھا جو اِس پیشگوئی کے مخاطب تھے کیونکہ جو سات اغراض اِس پیشگوئی کی ظاہر کی گئی ہیں وہ اِسی زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ سات اغراض میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ لیکن اِس موقع پر پھر اُن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
    پیشگوئی مصلح موعود کی سات اہم اغراض
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار
    میں ذکر فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمایا ہے کہ یہ پیشگوئی جو دنیا کے سامنے کی گئی ہے، اِس کی کئی اغراض ہیں۔
    اوّل یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت سے نجات پائیں اور جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ اِس پیشگوئی نے چار سَو سال کے بعد پورا ہونا ہے تو اِس کے معنی یہ بنیں گے کہ مَیں نے یہ پیشگوئی اِس لئے کی ہے کہ جو آج زندگی کے خواہاں ہیں وہ بے شک مرے رہیں چار سَو سال کے بعد اُن کو زندہ کر دیا جائے گا۔ یہ فقرہ بِالبداہت باطل اور غلط ہے۔ آپ فرماتے ہیں یہ چِلّہ اِس لئے کیا گیا ہے تاکہ وہ لوگ جو دینِ اسلام سے منکر ہیں، اُن کے سامنے خداتعالیٰ کا ایک زندہ نشان ظاہر ہو اور جو رسول کریمﷺ کی کرامت کا انکار کر رہے ہیں ان کو ایک تازہ اور زبردست ثبوت اس بات کا مل جائے کہ اب بھی خدا تعالیٰ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے۔ وہ الہامی الفاظ جو اِس پیشگوئی کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہیں یہ ہیں کہ:
    ’’خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں‘‘۔
    اَب اگر اُن لوگوں کے نظریہ کو صحیح سمجھ لیا جائے جو یہ کہتے ہیں کہ مصلح موعود تین چار سَو سال کے بعد آئے گا تو اِس فقرہ کی تشریح یوں ہوتی ہے کہ یہ پیشگوئی اِس لئے کی گئی ہے تاکہ وہ لوگ جو آج زندگی کے خواہاں ہیں مرے رہیں چار سَو سال کے بعداُن کی نسلوں میں سے بعض لوگوں کو زندہ کر دیا جائے گا مگر کیا اِس فقرہ کو کوئی شخص بھی صحیح تسلیم کر سکتا ہے۔
    دوسرے یہ پیشگوئی اِس لئے کی گئی تھی تادینِ اسلام کا شرف ظاہر ہو اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر عیاں ہو۔ اِس فقرہ کے صاف طور پر یہ معنی ہیں کہ دین اسلام کا شرف اِس وقت لوگوں پر ظاہر نہیں۔ اِسی طرح کلام اللہ کا مرتبہ اِس وقت لوگوں پر ظاہر نہیں۔ مگر کہا یہ جاتا ہے کہ خدا نے یہ پیشگوئی اِس لئے کی ہے تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ آج سے تین سَو سال کے بعد یا چار سَو سال کے بعد جب یہ لوگ بھی مر جائیں گے، اِن کی اولادیں بھی مر جائیں گی اور اُن کی اولادیں بھی مر جائیں گی، لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔ جب نہ پنڈت لیکھرام ہو گا نہ منشی اندرمن مراد آبادی ہو گا نہ اِن کی اولادیں ہوںگی اور نہ اُن اولادوں کی اولادیں ہوں گی۔ اُس وقت دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کیا جائے گا۔ بتاؤ کہ کیاکوئی بھی شخص اِن معنوں کو درست سمجھ سکتا ہے؟
    تیسرے آپ نے فرمایا یہ پیشگوئی اِس لئے کی گئی ہے تاکہ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔ اِس کے معنی بھی ظاہر ہیں کہ حق اِس وقت کمزور ہے اور باطل غلبہ پر ہے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایسا نشان ظاہر ہو کہ عقلی اور علمی طور پر دشمنانِ اسلام پر حُجّت تمام ہو جائے اور وہ لوگ اِس بات کو ماننے پر مجبور ہو جائیں کہ اسلام حق ہے اور اس کے مقابل میں جس قدر مذاہب کھڑے ہیں وہ باطل ہیں۔
    چوتھی غرض اِس پیشگوئی کی یہ بیان کی گئی تھی کہ تا لوگ سمجھیں کہ مَیں قادر ہوں اور جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ اَب یہ غور کرنے والی بات ہے کہ لوگ خداتعالیٰ کو اِس صورت میں کس طرح قادر سمجھ سکتے تھے اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ تین سَو سال کے بعد یا چار سَو سال کے بعد ایک ایسا نشان ظاہر ہو گا جس سے تم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ اسلام کا خدا قادر ہے، ایسی پیشگوئی کو لیکھرام کیا اہمیت دے سکتا تھا یا وہ لوگ جو اُس وقت دین اسلام پر اعتراضات کر رہے تھے، رسول کریم ﷺ کے نشانات کو باطل قرار دے رہے تھے، اسلام کو ایک مُردہ مذہب قرار دے رہے تھے اُن پر کیا حُجّت ہو سکتی تھی کہ تم چار سَو سال کے بعد خدا تعالیٰ کو قادر سمجھنے لگ جاؤ گے۔ـ چار سَو سال کے بعد پوری ہونے والی پیشگوئی سے وہ لوگ خداتعالیٰ کو کس طرح قادر سمجھ سکتے تھے۔ وہ تو یہی کہتے کہ ہم اِن زبانی دعووں کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ چار سَو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا۔ یہ تو ہر کوئی کہہ سکتا ہے بات تب ہے کہ ہمارے سامنے نشان دکھایا جائے اور اسلام کے خدا کا قادر ہونا ثابت کیا جائے۔
    پانچویں غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ اگر اِس پیشگوئی نے چار سَو سال کے بعد ہی پورا ہونا تھا تو اُس زمانہ کے لوگ یہ کس طرح یقین کر سکتے تھے کہ خداتعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ہے۔
    چھٹی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا اُنہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور اُس کے دین اور اُس کی کتاب اور اُس کے پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کُھلی نشانی ملیـ۔ اِس کے معنی بھی یہی بنتے ہیں کہ وہ لوگ جو میرے زمانہ میں اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں، اُن کے سامنے میں یہ پیشگوئی کرتا ہوںکہ اُنہیں اسلام کی صداقت کی ایک بڑی کھلی نشانی ملے گیـ مگر ملے گی چار سَو سال کے بعد۔ جب موجودہ زمانہ کے لوگوں بلکہ اِن کی اولادوں اور اُن کی اولادوںمیں سے بھی کوئی زندہ نہیں ہو گا۔
    ساتویں آپ نے بیان فرمایا کہ یہ پیشگوئی اِس لئے کی گئی ہے تاکہ مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے اور پتہ لگ جائے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ چار سَو سال کے بعد آنے والے وجود سے اِس زمانہ کے لوگوں کو کیونکر پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بو ل رہے تھے۔
    نو سالہ میعاد
    پھر اشتہارات میں آپ نے یہ بھی تحریر فرما دیا تھا کہ ایسا لڑکا بموجب الہام الٰہی ۹ سال کے عرصہ میں ضرور پیدا ہو جائے گا۔ اِس سے صاف ظاہر
    ہے کہ الہام الٰہی اِس کی پیدائش کو ۹ سال میں ضروری قرار دیتا ہے۔ یہاں اجتہاد کا کوئی سوال نہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ الہام ہے کہ وہ لڑکا ۹ سال کے اندر ضرور پیدا ہو جائے گا۔ پس تین یا چار سَو سال کے بعد اگر کوئی شخص اِس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعویٰ کرے تو بہرحال ایسا شخص ہی اِس کے مصداق ہونے کا اعلان کر سکتا ہے جو پیدا ۹ سال میں ہوا ہو لیکن ظاہر تین سَو یا چار سَو سال کے بعد ہوا ہو کیونکہ الہام اِس بات کی تعیین کرتا ہے کہ آنے والے موعود کو بہرحال ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء سے ۲۰؍ فروری ۱۸۹۵ء تک کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہو جانا چاہئے اِس عرصہ کے بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص اِس پیشگوئی کا مصداق نہیں ہو سکتا ۔
    مصلح موعود کی پیدائش
    بشیر اوّل کے ساتھ مقدر تھی
    پھر فرمایا کہ الہامِ الٰہی نے بتایا تھا کہ:-
    ’’اُس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘‘۔ اِس سے بھی ظاہر ہے کہ مصلح موعود
    کی پیدائش بشیر اوّل کے ساتھ وابستہ ہونی چاہئے ورنہ یہ کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ بشیر اوّل فوت ہو جائے اور اِس کے تین یا چار سَو سال کے بعد مصلح موعود ظاہر ہو اور اُس کے متعلق یہ کہا جائے کہ یہ بشیر اوّل کے ساتھ آیا ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا جو دو مختلف زمانوں میں پیدا ہونے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ آنے والا کہہ سکے۔ پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ بشیر اوّل جو پیدا ہو کر فوت ہو گیا اُس کے ساتھ آنے والا اُس شخص کو قرار دیا جائے جو تین یا چار سَو سال کے بعد ظاہر ہو۔ اگر اِس طرح ایک کی پیدائش دوسرے کے ساتھ وابستہ سمجھی جا سکتی ہے تو پھر تو کوئی شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ مَیں آدم کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ مگر ہر شخص جانتا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔ ’’ساتھ‘‘ کے مفہوم میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ دوسرا پیدا ہونے والا اتنا قریب ہو کہ اُسے پہلے کے ساتھ کہا جا سکے۔
    ظلمات اور رعدوبرق
    پھر فرمایا کہ اَوْکَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَائِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌّ وَّبَرْقٌ کے الہام میں ظلمات سے مراد بشیر اوّل کی موت ہے
    اور رعدوبرق سے مراد دوسرے بشیر کا ظہور ہے۔ اِس الہام میں ایک ہی نام دونوں کے رکھ کر یعنی صَیِّبٌ قرار دے کر دو ظہوروں کی خبر دینا بتاتا ہے کہ دونوں ایک ہی زمانہ میں ہوں گے۔ بشیر اوّل کا ظہور فِیْہِ ظُلُمٰتٌ والے حصہ کی صداقت کا ثبوت ہو گا اور بشیر ثانی کا ظہور رعد اور برق والے حصہ کی صداقت کا ثبوت ہو گا۔ گویا بادل تو ایک ہی ہے مگر اِس کے نتائج تین ہیں۔ ہر بادل جو آسمان پر آتا ہے اُس کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ تاریکی پیدا کر دیتا ہے اِس کے بعد جب بارش برستی ہے تو اِس کے نتیجہ میں رعد پیدا ہوتی ہے اِسی طرح بجلی کے چمکنے سے روشنی ظاہر ہوتی ہے گویا صَیِّبٌ تو ایک ہوتا ہے مگر اِس کے نتائج تین ہوتے ہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے بادل ایک رکھا ہے مگر اِس کے نتائج تین بیان کئے ہیں۔ یعنی ظلمات، رعد اور برق۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ اِس صیب کا ایک نتیجہ جو ظلمات سے تعلق رکھتا ہے بشیر اوّل ہے اور دوسرا نتیجہ جو رعد اور برق سے تعلق رکھتا ہے بشیر ثانی ہے۔ اگر یہ معنی لئے جائیں گے کہ بشیر ثانی تین سَو سال کے بعد ظاہر ہو گا تو اِس کے معنی یہ بنیں گے کہ بادل تو آج آیا ہے اور اِس بادل کی ظلمات بھی آج ظاہر ہو گئی ہیں مگر اِس بادل کی رعد اور برق تین سَو سال کے بعد ظاہر ہوں گی۔ حالانکہ یہ بالکل عقل کے خلاف ہے کہ ایک بادل کی ظلمات آج ظاہر ہوں اور اُس کی رعد اور برق تین چار سَو سال کے بعد ظاہر ہوں۔ بیشک مثال مثال ہی ہوتی ہے مگر مثال کے چسپاں کرنے کے لئے دونوں میں مشابہت کا پایا جانا تو ضروری ہوتا ہے۔ اگر مشابہت نہ ہو تو مثال دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بادل کی مثال دی ہے اور غور کر کے دیکھ لو دنیا میں کوئی بادل ایسا نہیں ہوتا جس کی تاریکی آج ظاہر ہو اور اُس کی رعد اور برق چار سَو سال کے بعد ظاہر ہو۔ اِس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رعد اور برق ظلمت کے بعد اتنے قریب ترین عرصہ میں ظاہر ہونی چاہئے کہ اِن تینوں کا ایک ہی زمانہ قرار دیا جائے اور ایک کو دوسرے کے ساتھ وابستہ سمجھا جائے یعنی بشیر اوّل کی موت کے بعد دوسرا بشیر قریب ترین عرصہ میں پیدا ہو جائے تاکہ دوسرے بشیر کو پہلے بشیر کے ساتھ قرار دیا جا سکے۔
    پھر فرماتے ہیں الہام سے ظاہر ہے کہ ظلمت اور روشنی دونوں بشیر اوّل کے قدموں کے نیچے ہیں۔ یعنی اُس کی موت کے بعد یہ دونوں امر ظاہر ہوں گے۔ اِس سے بھی ظاہر ہے کہ بشیر ثانی کا ظہور بشیر اوّل کی موت کے ساتھ ہی ہونے والا تھاـ ورنہ اُس کے قدموں کے نیچے ہونا ایسے امر کو کس طرح کہا جا سکتا تھا جو تین سَو سال کے بعد ہونے والا تھا۔
    ایک شُبہ کا ازالہ
    یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کے سلسلہ میں بعض دفعہ ایک نبی کو دوسرے نبی کے ساتھ آنے والا قرار دے دیا جاتا ہے خواہ اِن دو نبیوں کے
    درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو مگر یہاں اِس مثال کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اِس لئے کہ بشیر اوّل مامور نہیں تھا۔ اگر ایک مامور دنیا میں آئے تو اِس کے بعد دوسرے مامور کی بعثت تک کا تمام زمانہ ایک ہی سمجھا جاتا ہے اور جب دوسرا مامور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مامور فلاں مامور کے ساتھ آیا۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آئے اور انہوں نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔ اَب اُن کا زمانہ صرف اتنا ہی نہیں تھا جتنے عرصہ تک وہ زندہ رہے بلکہ چھ سَو سال تک اُن کا زمانہ جاری رہایہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے۔ پس بیشک انبیاء علیہم السلام میں بعض دفعہ ایک نبی کو دوسرے نبی کے ساتھ آنے والا قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ اُن دونوں کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہوتا ہے لیکن یہاں اِس مثال کو اِس لئے پیش نہیں کیا جا سکتا کہ بشیر اوّل مامور نہیں تھا بلکہ ایک بچہ تھا جو چند دن زندہ رہ کر فوت ہو گیا اِس کے ذریعہ کوئی ایسا نشان قائم نہیں ہوا جو تین سَو سال تک جاری رہتا۔ اگر تو بشیر اوّل زندہ رہتا، مأموریت کا دعویٰ کرتا اور پھر تین سَو سال کے بعد دوسرا مأمور آجاتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ دوسرا مأمور پہلے مأمور کے ساتھ آیا۔ـ درمیانی تین سَو سال کے عرصہ کو بشیر اوّل کی ماموریت کا زمانہ قرار دے دیا جاتا۔ مگر جس شخص کو صرف جسمانی حیات حاصل ہوئی ہے، ماموریت نہیں ملی، اُس کے ساتھ آنے والا کبھی ایسے شخص کو نہیں کہا جا سکتا جو تین سَو سال کے بعد ظاہر ہو۔ پس بشیر اوّل اور بشیر ثانی کا تین سَو سال کا وقفہ کسی طرح بھی درست ثابت نہیں ہو سکتا۔
    خوشی سے اُچھلنے کے الفاظ سے استنباط
    پھر فرماتے ہیں۔
    ’’اَے لوگو! جنہوں نے ظُلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو۔ بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اِس کے بعد اَب روشنی آئے گی‘‘۔
    اِس فقرہ کو بھی اگر اُس تشریح کی روشنی میں دیکھا جائے جس میں تین سَو سال کے بعد مصلح موعود کا ظاہر ہونا بتایا جاتا ہے تو اِس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ اے لوگو! تم حیرانی میں کیوں پڑتے ہوئے ہو آج سے تین سَو سال کے بعد روشنی آنے والی ہے اور اے لوگو! جو ظلمت میں اپنی عمریں گزار رہے ہو تم خوشی سے اُچھلو اور کُودو کیونکہ تین سَو سال کے بعد روشنی ظاہر ہو گی۔ اِس کے جواب میں کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم کیوں اُچھلیں اور کُودیں۔ اگر اُچھلنے کی ضرورت ہے تو وہ نسلیں اُچھلیں گی جن کے زمانہ میں یہ روشنی ظاہر ہو گی ہم سے یہ کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہم اِس ظلمت میں ہی اُچھلنے اور کُودنے لگ جائیں۔ ہمارے سامنے تو اسلام پر اعتراضات ہو رہے ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا سے مٹایا جا رہا ہے، قرآن کریم کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ایک ناقابلِ عمل کتاب قرار دیا جا رہا ہے مگر کوئی روشنی ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہوئی جو اِس ظلمت کو دُور کر دے۔ اگر کسی آنے والی روشنی پر اُچھلنا ضروری ہے تو وہی لوگ خوشی سے اُچھل سکتے ہیں جو اِس روشنی کو دیکھ لیں۔ ہم نے تو اِس روشنی کو دیکھا ہی نہیں پھر ہم کس طرح خوشی منا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ ہی کہ:۔
    ’’اے لوگو!جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اِس کے بعد اَب روشنی آئے گی۔‘‘
    صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والے ہزاروں لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ یہ روشنی ظاہر ہو جائے گی اِس لئے وہ لوگ جو اِس روشنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اُن سے کہا گیا کہ وہ خوش ہوں اور خوشی سے اُچھلیں۔ غرض یہ الفاظ بھی اِس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اِس زمانہ کے لوگوں کے لئے ہی خوشی سے اُچھلنے اور کُودنے کا وقت ہے کیونکہ یہ روشنی اُن کے سامنے ظاہر ہو گی۔
    شَاھَتِ الْوُجُوْہُ
    پھر حضرت خلیفۃ اوّل کے نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے خط میں ایک الہام تحریر فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لوگ
    کہتے ہیں تُو یوسف کی یاد کرتے کرتے یا تو دیوانہ ہو جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا یعنی تیرے زمانہ میں وہ ظاہر نہیں ہو گا مگر فرماتا ہے۔ شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔ اِن دشمنوں کے منہ کالے ہو جائیں گے اور تُو ضرور یوسف کو دیکھے گا۔ـ اِس سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں اِ س موعود کا پیدا ہونا ضروری ہے ورنہ حضرت یوسفؑ اور حضرت یعقوبؑ کی مثال کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ اور حضرت یعقوبؑ کی مثال اِسی صورت میںچسپاں ہو سکتی تھی جب آپ کو بھی اپنا یوسف زندگی میں مل جاتا کیونکہ حضرت یعقوبؑ نے حضرت یوسفؑ کو اپنی زندگی میں دیکھ لیا تھا۔ـ یہ نہیں ہوا کہ اُن کی وفات کے تین سَو سال کے بعد کہیں اِن کی نسل کو یوسف کا پتہ لگا ہو۔ یہ پیشگوئی صاف بتا رہی تھی کہ لوگ اعتراض کریں گے اور کہیں گے کہ تُو یوسف کی یاد کرتے کرتے یا دیوانہ ہو جائے گا یا اِسی حالت میں مَر جائے گا تیرے زمانہ میں وہ ظاہر نہیں ہو گا لیکن فرماتا ہے شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔ اللہ تعالیٰ اِن دشمنوں کے منہ کالے کر دے گااور تُو اپنی زندگی میں یوسف کو دیکھ لے گا یعنی یہ پیشگوئی کسی اور زمانہ میں نہیں بلکہ تیرے زمانہ میں اور تیری زندگی میں ہی پوری ہو جائے گی۔
    بشیر ثانی اور محمود ایک ہی ہیں
    پھر فرماتے ہیں ایک دوسرے بشیر کا وعدہ ہے جس کا نام محمود بھی ہے۔ چنانچہ فرمایا۔
    ’’خداتعالیٰ نے اِس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے وہ اپنے کاموں میں الوالعزم ہو گا۔ یَخْلُقُ اللّٰہُ مَایَشَائُ ‘‘ ۲۳؎
    اِسی طرح پندرہ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’ایک اور لڑکاہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہوگا‘‘۔۲۴؎
    اِس سے معلوم ہوا کہ بشیر ثانی اور محمود ایک ہی ہیں اور محمود کی نسبت یہ وعدہ ہے کہ وہ ’’قریب مدت‘‘ میں پیدا ہو گا۔ گویا اِس میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں۔
    اوّل یہ کہ بشیر ثانی اور محمود ایک ہی ہیں۔دوسرے یہ کہ وہ بشیر اوّل کے بعد ’’قریب مدت‘‘ میں پیدا ہو گا۔ اِن الہامات کے مطابق لازماً بشیر اوّل کی وفات کے بعد قریب مدت میں اِس موعود کا پیدا ہونا ضروری تھا۔
    اِن تمام الہامات سے جو اوپر بیان کئے جا چکے ہیں ثابت ہوتا ہے کہ مصلح موعود کا ۹ سال میں اور قریب مدت میں بشیر اوّل کے قریب زمانہ میں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اور اُن لوگوں کی زندگی میں جن کو بشیر اوّل کی وفات کا صدمہ ہوا تھا اور بہت سے اُن دشمنوں کی زندگی میں جو اسلام کی اُس وقت مخالفت کر رہے تھے اور اسلام کی فتح سے گھبراتے تھے پیدا ہونا ضروری تھا اور یقینا مصلح موعود ۹ سال کے عرصہ میں، قریب مدت میں، بشیر اوّل کے قریب زمانہ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی پیدا ہوا اور اُن لوگوں کی زندگی میں ظاہر ہواجن کو بشیر اوّل کی وفات کی وجہ سے لوگوں کے طعنے سُننے پڑتے تھے اور بہت سے اُن دشمنوں کی زندگی میں پیدا ہوا جو اسلام کی صداقت کا کوئی نشان دیکھنا چاہتے تھے، جو اسلام کی اُس وقت شدید ترین مخالفت کر رہے تھے اور اسلام کی فتح سے سخت گھبراتے تھے۔
    مصلح موعود کی احادیث میں خبر
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مصلح موعود کی خبر دیتے ہیں اور اُس کا ظہور زمانہ مسیح موعود میں ہی
    بتاتیہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ ۲۵؎
    مسیح موعود شادی کرے گا اور اُس کے ہاں اولاد پیدا ہو گی۔ اَب اِس کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ مسیح موعود کے ہاں ویسی ہی معمولی اولاد پیدا ہو جائے گا جیسی اور لوگوں کے ہاں پیدا ہوتی ہے کیونکہ اگر اِس کے یہی معنی ہوں تو پھر اِس پر وہی اعتراض پیدا ہو گا جو غیراحمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی پر کیا کرتے تھے کہ اولاد ہونا کونسی بڑی بات ہے، دنیا میں ہر شخص کے ہاں اولاد ہوا ہی کرتی ہے اور یہ ہم بھی مانتے ہیں کہ اگر محض اِتنی خبر دی جائے کہ ایک لڑکا پیدا ہو گا تو یہ کوئی خاص پیشگوئی نہیں کہلا سکتی۔ اِسی طرح جب رسول کریمﷺ نے یہ فرمایا کہ مسیح موعود کے ہاں اولاد پیدا ہو گی تو اِس کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ اُس کے ہاں معمولی اولاد پیدا ہو گی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو رسول کریمﷺ کو خاص طور پر یہ خبر دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن آپ کا یہ خبر دینا بتاتا ہے کہ رسول کریمﷺ کا منشاء یہ تھا کہ اُس کے ہاں خاص اولاد پیدا ہو گی ویسے ہی کمالات اور ویسے ہی اوصاف رکھنے والی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔
    پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رِجَالٌ مِنْ ھٰؤُلَائِ ۲۶؎
    بخاری کتاب التفسیر میں بھی یہ حدیث آتی ہے اور وہاں الفاظ یہ ہیں کہ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رِجَالٌ اَوْ رَجَلٌ مِنْ ھٰؤُلَائِ ۲۷؎
    یعنی اگر ایمان ثریا پر بھی جا چکا ہوگا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اُسے زمین پر واپس لائیں گے۔ پس صرف مسیح موعودؑ کے متعلق ہی رسول کریم ﷺنے پیشگوئی نہیں فرمائی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے بعض اور افراد کے متعلق بھی پیشگوئی فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ تمام افراد مل کر ثریا سے ایمان واپس لائیں گے۔ اَب اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے تین سَو سال کے بعد پوری ہو گی اور دوسرا رَجُل آئندہ کسی اور زمانہ میں آئے گا تو اِس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ مسیح موعود کے ذریعہ پیشگوئی کا ایک حصہ پورا ہونے کے بعد پھر ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا اور پھر بشیر ثانی اُس کو آسمان سے واپس لائے گا حالانکہ خود مولوی محمد علی صاحب کا بھی یہ عقیدہ نہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ تین سَو سال تک یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا درمیان میں کوئی گمراہی اور ضلالت کا دَور نہیں آئے گا اور جبکہ یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا تو انتہائی ترقی کے دَور میں مصلح موعود کا آنا بے معنی ہو جاتا ہے۔ مصلح موعود تین سَو سال کے بعد اِسی صورت میں آ سکتا ہے جب مسیح موعود کے ذریعہ پہلے ہدایت کا بیج بویا جائے، پھر گمراہی اور ضلالت کادَور آ جائے اور پھر ایک فارسی الاصل انسان ایمان کو ثریا سے واپس لائے۔ حالانکہ غیر مبائعین بھی یہ تسلیم نہیں کرتے کہ تین سَو سال تک ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا۔ بہرحال مصلح موعود کا زمانہ مسیح موعود میں ہی ظاہر ہونا ضروری تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بھی یہی ثابت ہوتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات اور آپ کی تشریحات سے بھی یہی ثابت ہوتا تھا۔ـ
    ایک عظیم الشان رؤیا
    اِس پیشگوئی کو جماعت کے کئی افراد مجھ پر چسپاںکیا کرتے تھے مگر مَیں سنجیدگی سے کبھی اِس مسئلہ پر غور نہیں کرتا تھا، کیونکہ جیسا
    کہ مَیں نے بار ہا بتایا ہے مَیں سمجھتا تھا اگر اِس پیشگوئی کے مصداق کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ الہامِ الٰہی سے دعویٰ کرے تو مجھے اپنی طرف سے اِس دعویٰ کی ضرورت نہیں۔ اگر خدا میری زبان سے اِس کے متعلق کوئی اعلان کرانا چاہے گا تو وہ خود کرا لے گا اور اگر اِس کے مصداق کے لئے کسی الہام کی ضرورت نہیںتو مجھے بھی کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں۔ بہرحال یہ ایک پیشگوئی ہے جس پر غور کر کے لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر اِس کے لئے الہام کی ضرورت ہے تو میں بغیر الہام کے دعویٰ کر کے کیوں گنہگار بنوں۔ جسے الہام ہو گا وہ خود دعویٰ کر دے گا اور اگر اِس کیلئے الہام کی ضرورت نہیںتو پھر دعویٰ کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں تک کہ جنوری ۱۹۴۴ء کے دوسرے ہفتہ میں مجھے ایک رؤیا ہوا۔
    پہلے میں نے کہا تھا کہ یہ رئویا’’غالباً پانچ اور چھ( جنوری )کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی۔‘‘ مگر اب تحقیق سے معلوم ہواہے کہ یہ رئویا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہوا۔ کیونکہ یہ رئویا میں نے اپنی بیوی مریم صدیقہ کے ہسپتال جانے کے بعد دیکھا تھا اور مریم صدیقہ کا آپریشن لاہور میںجمعہ ۷؍جنوری کو ہوا تھا اور اُس دن وہ ہسپتال میں داخل ہو چکی تھیں۔ پس یہ رؤیا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہوا۔ اُس رات وہ میرے کمرہ میں نہیں تھیں بلکہ آپریشن کے لئے ہسپتال میں داخل تھیں ۔ یہ رؤیا میں نے دوسرے ہی دن چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کو سُنا دیا تھا اور اِس کے ایک دن بعد اُن کے برادر نسبتی کا ولیمہ تھا جو معلوم ہوا ہے کہ اتوار کو تھا۔ بہرحال یہ رؤیا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو میں نے دیکھا۔
    یہ رؤیا میں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں مگر اِس موقع پر مَیں وہ رؤیا ایک بار پھر دوستوں کو سُنا دیتا ہوں۔
    میں نے دیکھا کہ میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہورہی ہے۔ وہاں کچھ عمارتیں ہیں نہ معلوم وہ گڑھیاں ہیں یا ٹرنچز۲۸؎ (TRENCHES)ہیں۔ بہرحال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق مَیں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کے لوگ ہیں یا یونہی مجھے اُن سے تعلق ہے، مَیں اُن کے پاس ہوں اِتنے میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اُس فوج سے کہ جس کے پاس میں ہوں برسر پیکار ہے یہ معلوم کر لیا ہے کہ مَیں وہاں ہوں اور اُس نے اُس مقام پر حملہ کر دیا ہے اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اُس جگہ کی فوج نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔ یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اور فوج تھی، اِس کا مجھے اُس وقت کوئی خیال نہیں آیا۔ بہرحال وہاں جو فوج تھی اُس کو جرمنوں سے دبنا پڑا اور اُس مقام کو چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔جب وہ فوج پیچھے ہٹی تو جرمن اُس عمارت میں داخل ہو گئے جس میں مَیں تھا۔ تب میں خواب میں کہتاہوں دشمن کی جگہ پر رہنادرست نہیں اور یہ مناسب نہیں کہ اَب اِس جگہ ٹھہرا جائے، یہاں سے ہمیں بھاگ چلنا چاہئے۔ اُس وقت مَیں رؤیا میں صرف یہی نہیں کہ تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دَوڑتا ہوں۔ میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں اور وہ بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہیں اور جب میں نے دوڑنا شروع کیا تو رؤیا میں مجھے یوں معلوم ہوا جیسے مَیں انسانی مقدرت سے زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑ رہا ہوں اور کوئی ایسی زبردست طاقت مجھے تیزی سے لے جا رہی ہے کہ میلوں میل ایک آن میں مَیں طے کرتا جا رہا ہوں۔ اُس وقت میرے ساتھیوں کو بھی دوڑنے کی ایسی ہی طاقت دی گئی مگر پھر بھی وہ مجھ سے بہت پیچھے رہ گئے اور میرے پیچھے ہی جرمن فوج کے سپاہی میری گرفتاری کے لئے دوڑتے آ رہے ہیں مگر شاید ایک منٹ بھی نہیں گزرا ہو گا کہ مجھے رؤیا میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جرمن سپاہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں چلتا چلا جاتا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے یہاں تک کہ مَیں ایک ایسے علاقہ میں پہنچا جو دامنِ کوہ کہلانے کا مستحق ہے۔ ہاں جس وقت جرمن فوج نے حملہ کیا ہے، رؤیا میں مجھے یاد آتا ہے کہ کسی سابق نبی کی کوئی پیشگوئی ہے یا خود میری کوئی پیشگوئی ہے اُس میں اِس واقعہ کی خبر پہلے سے دی گئی تھی اور تمام نقشہ بھی بتایا گیا تھاکہ جب وہ موعود اُس مقام سے دَوڑے گا تو اِس اِس طرح دوڑے گا اور پھر فلاں جگہ جائے گا۔ چنانچہ رؤیا میں جہاں میں پہنچا ہوں وہ مقام اُس پہلی پیشگوئی کے عین مطابق ہے اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ پیشگوئی میں اِس اَمر کا بھی ذکر ہے کہ ایک خاص رستہ ہے جسے مَیں اختیار کروں گا اور اُس رستہ کے اختیار کرنے کی وجہ سے دنیا میں بہت اہم تغیرات ہوں گے اور دشمن مجھے گرفتار کرنے میں ناکام رہے گا۔ چنانچہ جب مَیں یہ خیال کرتا ہوں تو اُس مقام پر مجھے کئی ایک پگ ڈنڈیاں نظر آتی ہیں جن میں سے کوئی کسی طرف جاتی ہے اور کوئی کسی طرف۔ میں اُن پگ ڈنڈیوں کے بالمقابل دوڑتا چلا گیا ہوں تا معلوم کروں کہ پیشگوئی کے مطابق مجھے کس راستہ پر جانا چاہئے اور میں اپنے دل میں یہ خیال کرتا ہوں کہ مجھے تو یہ معلوم نہیں کہ مَیں نے کس راستہ سے جانا ہے اور میرا کس راستہ سے جانا خدائی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ ایسا نہ ہو میں غلطی سے کوئی ایسا راستہ اختیار کر لوں جس کا پیشگوئی میں ذکر نہیں۔ اُس وقت میں اُس سڑک کی طرف جارہا ہوں جو سب کے آخر میں بائیں طرف ہے۔ اُس وقت میں دیکھتا ہوں کہ مجھ سے کچھ فاصلہ پر میرا ایک اور ساتھی ہے اور وہ مجھے آواز دے کر کہتا ہے کہ اِس سڑک پر نہیں، دوسری سڑک پر جائیں اور میں اُس کے کہنے پر اُس سڑک کی طرف جو بہت دُور ہٹ کر ہے واپس لوٹتا ہوں۔ وہ جس سڑک کی طرف مجھے آوازیں دے رہا ہے انتہائی دائیں طرف ہے اور جس سزک کو میں نے اختیار کیا تھا وہ انتہائی بائیں طرف تھی۔ پس چونکہ میں انتہائی بائیں طرف تھا اور جس طرف وہ مجھے بُلا رہا تھا وہ انتہائی دائیں طرف تھی اِس لئے میں لوٹ کر اُس سڑک کی طرف چلا مگر جس وقت مَیں پیچھے کی طرف واپس ہٹا ایسا معلوم ہوا کہ میں کسی زبردست طاقت کے قبضہ میں ہوں اور اِس زبردست طاقت نے مجھے پکڑ کر درمیان میں سے گزرنے والی ایک پگ ڈنڈی پر چلا دیا۔ میرا ساتھی مجھے آوازیں دیتا چلا جاتا ہے کہ اُس طرف نہیں اِس طرف، اُس طرف نہیں اِس طرف۔ مگر مَیں اپنے آپ کو بالکل بے بس پاتا ہوں اور درمیانی پگ ڈنڈی پر بھاگتا چلا جاتا ہوں۔(اس جگہ کی شکل رؤیا کے مطابق اِس طرح بنتی ہے)




    جب میں تھوڑی دُور چلا تو مجھے وہ نشانات نظر آنے لگے جو پیشگوئی میں بیان کئے گئے تھے اور میں کہتا ہوں میں اُسی راستہ پر آ گیا جو خداتعالیٰ نے پیشگوئی میں بیان فرمایا تھا۔ اُس وقت رؤیا میں مَیں اِس کی کچھ توجیہہ بھی کرتا ہوں کہ میں درمیانی پگ ڈنڈی پر جو چلا ہوں تو اِس کا کیا مطلب ہے۔ چنانچہ جس وقت میری آنکھ کُھلی معاً مجھے خیال آیا کہ دایاں اور بایاں راستہ جو رؤیا میں دکھایا گیا ہے، اِس میں بائیں رستہ سے مراد خالص دُنیوی کوششیں اور تدبیریں ہیں اور دائیں رستہ سے مراد خالص دینی طریق، دعا اور عبادتیں وغیرہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کی ترقی درمیانی راستے پر چلنے سے ہو گی۔ یعنی کچھ تدبیریں اور کوششیں ہوں گی اور کچھ دعائیں اور تقدیریں ہوں گی۔ اور پھر یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ دیکھو! قرآن شریف نے اُمت محمدیہ کو اُمَّۃً وَسَطاً ۲۹؎ قرار دیا ہے ۔ اِس وسطی راستہ پر چلنے کے یہی معنی ہیں کہ یہ اُمّت اسلام کا کامل نمونہ ہو گی اور چھوٹی پگ ڈنڈی کی یہ تعبیر ہے کہ درمیانی راستہ گو درست راستہ ہے مگر اِس میں مشکلات بھی ہوتی ہیں۔
    غرض مَیں اُس راستہ پر چلنا شروع ہوا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ دشمن بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اِتنی دُور کہ نہ اُس کے قدموں کی آہٹ سُنائی دیتی ہے اور نہ اُس کے آنے کا کوئی امکان پایا جاتا ہے۔ مگر ساتھ ہی میرے ساتھیوں کے پیروں کی آہٹیں بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں دوڑتا چلا جاتا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے۔ اُس وقت میں کہتا ہوں کہ اِس واقعہ کے متعلق جو پیشگوئی تھی اُس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اِس رستہ کے بعد پانی آئے گا اور اُس پانی کو عبور کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اُس وقت میں رستے پر چلتا تو چلا جاتا ہوں مگر ساتھ ہی کہتا ہوں وہ پانی کہاںہے؟ جب میں نے کہا وہ پانی کہاں ہے تو یکدم میں نے دیکھا کہ میں ایک بہت بڑی جھیل کے کنارے پر کھڑا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اِس جھیل کے پار ہو جانا پیشگوئی کے مطابق ضروری ہے۔ مَیں نے اُس وقت دیکھا کہ جھیل پر کچھ چیزیں تَیر رہی ہیں ۔ وہ ایسی لمبی ہیں جیسے سانپ ہوتے ہیں اور ایسی باریک اور ہلکی چیزوں سے بنی ہوئی ہیں جیسے بیے۳۰ ؎ وغیرہ کے گھونسلے نہایت باریک تنکوں کے ہوتے ہیں وہ اوپر سے گول ہیں جیسے اژدہا کی پیٹھ ہوتی ہے اور رنگ ایسا ہے جیسے بیے کے گھونسلے سے سفیدی، زردی اور خاکی رنگ ملا ہوا ہو، وہ پانی پر تَیر رہی ہیں اور اُن کے اوپر کچھ لوگ سوار ہیں جو اُن کو چلا رہے ہیں۔ خواب میں مَیں سمجھتا ہوں یہ بُت پرست قوم ہے اور یہ چیزیں جن پر یہ لوگ سوار ہیں، اُن کے بُت ہیں اور یہ سال میں ایک دفعہ اپنے بتوں کو نہلاتے ہیں اور اَب بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو نہلانے کی غرض سے مقررہ گھاٹ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جب مجھے اور کوئی چیز پار لے جانے کے لئے نظر نہ آئی تو مَیں نے زور سے چھلانگ لگائی اور ایک بُت پر سوار ہو گیا۔ تب مَیں نے سُنا کہ بتوں کے پُجاری زور زور سے مشرکانہ عقائد کا اظہار منتروں اور گیتوں کے ذریعہ سے گرنے لگے۔ اِس پر مَیں نے دل میں کہا کہ اِس وقت خاموش رہنا غیرت کے خلاف ہے اور بڑے زور زور سے مَیں نے توحید کی دعوت اُن لوگوں کو دینی شروع کی اور شرک کی بُرائیاں بیان کرنے لگا۔ تقریر کرتے ہوئے مجھے یوں معلوم ہوا کہ میری زبان اُردو نہیں بلکہ عربی ہے۔ چنانچہ میں عربی میں بول رہا ہوں اور بڑے زور سے تقریر کر رہا ہوں۔ رؤیا میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ اِن لوگوں کی زبان تو عربی نہیں، یہ میری باتیں کس طرح سمجھیں گے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ گو اِن کی زبان کوئی اور ہے مگر یہ میری باتیں خوب سمجھتے ہیں۔ چنانچہ میں اِسی طرح اُن کے سامنے عربی میں تقریر کر رہا ہوں اور تقریر کرتے کرتے بڑے زور سے اُن کو کہتا ہوں کہ تمہارے یہ بُت اِس پانی میں غرق کئے جائیں گے اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی۔ ابھی میں یہ تقریر کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ اِسی کشتی نما بُت والا جس پر میں سوار ہوں یا اُس کے ساتھ کے بُت والا بُت پرستی کو چھوڑ کر میری باتوں پر ایمان لے آیا ہے اور موحّد ہو گیا ہے۔ اِس کے بعد اثر بڑھنا شروع ہوا اور ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں شخص میری باتوں پر ایمان لاتا، مشرکانہ باتوں کو ترک کرتا اور مسلمان ہوتا چلا جاتا ہے۔ اتنے میںہم جھیل پار کر کے دوسری طرف پہنچ گئے۔ جب ہم جھیل کے دوسری طرف پہنچ گئے تو مَیں اُن کو حکم دیتا ہوں کہ اِن بُتوں کو جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا پانی میں غرق کر دیا جائے۔ اِس پر جو لوگ موحّد ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی موحّد تو نہیں ہوئے مگر ڈھیلے پڑ گئے ہیں، میرے سامنے جاتے ہیں اور میرے حکم کی تعمیل میں اپنے بُتوںکو جھیل میں غرق کر دیتے ہیں اور مَیں خواب میں حیران ہوں کہ یہ تو کسی تیرنے والے مادے کے بنے ہوئے تھے یہ اِس آسانی سے جھیل کی تَہہ میں کس طرح چلے گئے۔ صرف پجاری پکڑ کر اُن کو پانی میں غوطہ دیتے ہیںاور وہ پانی کی گہرائی میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اِس کے بعد مَیں کھڑا ہو گیا اور پھر انہیں تبلیغ کرنے لگ گیا۔ کچھ لوگ تو ایمان لا چکے تھے مگر باقی قوم جو ساحل پر تھی ابھی ایمان نہیں لائی تھی اِس لئے مَیں نے اُن کو تبلیغ کرنی شروع کر دی، یہ تبلیغ میں اُن کو عربی زبان میں ہی کرتا ہوں۔ جب میں اُنہیں تبلیغ کر رہا ہوں تا کہ وہ لوگ بھی اسلام لے آئیں تو یکدم میری حالت میں تغیر پیدا ہوتا ہے اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب میں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جا رہی ہیں جیسے خطبہ الہامیہ تھا، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا۔ غرض میرا کلام اُس وقت بند ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے۔بولتے بولتے میں بڑے زور سے ایک شخص کو جو غالباً سب سے پہلے ایمان لایا تھا، غالباً کا لفظ مَیں نے اِس لئے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہی شخص پہلے ایمان لایا ہو۔ ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان لانے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے با اثر اور مفید وجود تھا۔ بہر حال میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور میں نے اُس کا اسلامی نام عبدالشکور رکھا ہے۔ میں اُس کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیاہے، میں اب آگے جائوں گا اِس لئے اے عبدالشکور! تجھ کو میں اِس قوم میں اپنا نائب مقرر کرتا ہوں۔ تیرا فرض ہوگا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں توحید کو قائم کرے اور شرک کو مٹا دے اور تیرا فرض ہوگا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بنائے؟ میں واپس آکر تجھ سے حساب لوں گااور دیکھوں گا کہ تجھے میں نے جن فرائض کی سرانجام دہی کے لئے مقرر کیا ہے اُن کو تو نے کہاں تک ادا کیا ہے۔ اِس کے بعد وہی الہامی حالت جاری رہتی ہے اور مَیں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اُسے توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تیرا فرض ہوگا کہ ان لوگوں کو سکھائے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اُس کے بندہ اور رسول ہیں۔ اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اِس کے سکھانے کا اُسے حکم دیتا ہوں ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور سب لوگوں کو اِس ایمان کی طر ف بُلانے کی تلقین کرتا ہوں۔ جس وقت مَیں یہ تقریر کر رہا ہوں (جو خود الہامی ہے) یوں معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے اور آپ فرماتے ہیں۔ ’’اَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘
    اِس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذکر پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور آپ فرماتے ہیں۔’’اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ ‘‘
    اِس کے بعد میں ان کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ چنانچہ اُس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہو اوہ یہ ہے۔
    ’’وَاَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ‘‘
    اور میں بھی مسیح موعود ہوں۔یعنی اُس کا مثیل اور اُس کا خلیفہ ہوں۔ تب خواب میں ہی مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا اور اِس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں؟ اُس وقت معاً میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اِس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ مَثِیْلُہٗ میں اس کا نظیرہوں۔ وَ خَلِیْفَتُہٗ اور اُس کا خلیفہ ہوں ۔ یہ الفاظ اِس سوال کوحل کر دیتے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حُسن واحسان میں تیرا نظیر ہو گا اِس کے مطابق اور اِسے پورا کرنے کے لئے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اُس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میںمَیں بھی مسیح موعودؑ ہی ہوں۔ کیونکہ جو کسی کا نظیر ہو گا اور اُس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گاوہ ایک رنگ میں اُس کا نام پانے کا مستحق بھی ہوگا۔
    پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنیس سَو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔ اور جب میں کہتا ہوں ۔’’میں وہ ہوں جس کے لئے اُنیس سوسال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں‘‘تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورتیں اور جو سات یا ۹ہیں جن کے لباس صاف ستھرے ہیں دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں۔ مجھے اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہتی اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لئے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں’’ہاں ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم اُنیس سَو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں۔‘‘ اِس کے بعد میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جسے علومِ اسلام اورعلومِ عربی اور اِس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اُس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔
    رؤیا میں جو ایک سابق پیشگوئی کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تھی، اُس میں یہ بھی خبر تھی کہ جب وہ موعود بھاگے گا تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا جہاں ایک جھیل ہو گی اور جب وہ اُس جھیل کو پار کر کے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہو گی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اُس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جائے گی۔ تب وہ دشمن جس سے وہ موعود بھاگے گا،اُس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اِس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے مگر وہ قوم انکار کر دے گی اور کہے گی ہم لڑکر مر جائیں گے مگر اِسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم اِن کو ہمارے حوالے کر دو۔ اُس وقت میں خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے مگر وہ قوم باوجود اِس کے کہ ابھی ایک حصہ اِس کا ایمان نہیں لایا، بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز اِن کو تمہارے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم لڑکرفنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اِس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ تب مَیں کہتا ہوں دیکھو! وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔
    اِس کے بعد میں پھر اُن کو ہدایتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دے کر اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔ اِس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اِس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں چنانچہ اِسی لئے میں اُس شخص سے جسے میں نے اُس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں جب میں واپس آؤں گا تو اے عبدالشکور! میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے، موحّد ہو چکی ہے اور اسلام کے تمام احکام پر کاربند ہو چکی ہے۔۳۱؎
    یہ رؤیا سات آٹھ جنوری ۱۹۴۴ء کی درمیانی شب خداتعالیٰ نے مجھے دکھایا جس سے یہ بات آسمانی طور پر مجھ پر ظاہر ہو گئی کہ وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک بیٹے کے متعلق فرمائی تھی اور جس کے متعلق یہ تعیین فرمائی تھی کہ وہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء سے ۹ سال کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ اُسے آپ کا جانشین بنائے گا، اُس سے آپ کے کام کی تکمیل کروائے گا اور اُس کے وجود میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں کو بھی پورا کرے گا،وہ مَیں ہی ہوں۔ چنانچہ ۲۸؍جنوری کو قادیان کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے دن میں نے اپنے خطبہ میں اِس کا اعلان کر دیا اور چونکہ خداتعالیٰ کی طرف سے مجھ پر یہ انکشاف کیا گیا ہے اِس لئے گو مَیں پہلے بھی مختلف مقامات پر اِس کا اعلان کر چکا ہوں مگر اَب جبکہ ساری جماعت یہاں جمع ہے مَیں اِس کے سامنے ایک بار پھر یہ اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے اِذن اور اِسی کے انکشاف کے ماتحت میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ وہ مصلح موعود جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت دنیا میں آنا تھا اور جس کے متعلق یہ مقدرتھا کہ وہ اسلام اور رسول کریمﷺ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا، اور اس کا وجود خداتعالیٰ کے جلالی نشانات کا حامل ہو گا، وہ مَیں ہی ہوں اور میرے ذریعہ ہی وہ پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک موعود بیٹے کے متعلق فرمائی تھیں۔ یاد رہے کہ میں کسی خوبی کا اپنے لئے دعوے دار نہیں ہوں۔ میں فقط خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہے۔ اِس سے زیادہ نہ مجھے کوئی دعویٰ ہے نہ مجھے کسی دعویٰ میں خوشی ہے۔ میری ساری خوشی اِسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آ جائے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر راضی ہو جائے اور میرا خاتمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔
    مجھے کسی دعوے کا شوق نہیں ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کے انبیاء بھی جب خدا اُن کو کہتا ہے تو وہ دعوے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ خود اُن کو دعویٰ کرنے کا شوق نہیں ہوتا۔ میری ذاتی کیفیت تو جیسا کہ میں نے بارہا کہا ہے یہ ہے کہ اگر خدا مجھ سے دین کی خدمت کا کام لے لے تو چاہے کوئی شخص میرا نام چوڑھا یا چوڑھے سے بھی بدتر رکھ دے مجھے اِس کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی مگر چونکہ خدا نے مجھے دعویٰ کرنے کیلئے کہا ہے اور چونکہ اس اجتماع میں بعض ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جن کو میرے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع نہ ملا ہو اور وہ اس امر کو نہ سمجھتے ہوں کہ مَیں سچ بولنے والا ہوں یا جھوٹ بولنے والا ہوں اس لئے جس طرح پہلے مختلف مقامات پر میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس امر کا اعلان کر چکا ہوں اِسی طرح اب جب کہ جماعتوں کے نمائندے یہاں ہزاروں کی تعداد میں چاروں طرف سے جمع ہیں اور غیر بھی سینکڑوں کی تعداد میں یہاں موجود ہیں مَیں اللہ تعالیٰ کی جو زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔ جس نے مجھے بھی پیدا کیا اور میرے آباؤ اجداد کو بھی۔ جس کی بادشاہت سے کوئی چیز باہر نہیں۔ جس کا مقابلہ کرنا انسان کو *** بنا دیتا اور دینی اور دُنیوی تباہیوں کا مستوجب بنا دیتا ہے مَیں اُسی وحدہٗ لاشریک خدا کی جو قرآن، اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خدا ہے قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کاکام ہے کہ میں نے اس وقت جو رؤیا بیان کیا ہے وہ میں نے حقیقتاً اِسی رنگ میں دیکھا تھا اور میں نے بغیر کسی قطع و برید کے اور بغیر کسی زیادتی کے (سوائے اس کے کہ رؤیا کو بیان کرتے ہوئے کوئی لفظ بدل گیا ہو) اس کو اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رؤیا دکھایا گیا۔ اگر میں اپنے اس بیان میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹوں کی سزا دے لیکن میں جانتا ہوں کہ جو کچھ مَیں نے بیان کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی مجھے دکھایا گیا ہے اور خداتعالیٰ خود ایک نظارہ دکھا کر اپنے کسی بندہ کو ذلیل نہیں کیا کرتا۔
    مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی خبر اَب تک نہیں ملی کہ میرے ذمہ کوئی کام باقی ہے یا نہیں لیکن خواہ میری زندگی میں سے ایک منٹ بھی باقی رہتا ہو میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دشمن خواہ کتنا زور لگا لے وہ اسلام کی تاریخ سے میرا نام نہیں مٹا سکتا کیونکہ میں راستباز ہوں اور میں نے خداتعالیٰ سے خبر پا کر دنیا کو یہ اطلاع دی ہے اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں کی۔
    پیشگوئی کے وہ حصے جو غیروں کیلئے بھی حُجّت ہیں
    اَب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اصل پیشگوئی کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم الشان نشان
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔
    اصل پیشگوئی بڑی تفصیلی پیشگوئی ہے۔ جس میں آنے والے موعود کی کئی علامات بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ ۹ سال کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا۔ اَب اِس علامت سے صرف اتنی ہی بات ثابت ہو سکتی ہے کہ ۹ سال کے عرصہ میں جو بچے پیدا ہوں اُن میں سے کسی ایک پر یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی لیکن یہ علامت اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ پیشگوئی کا مصداق زید ہے یا بکر یا کوئی اور ہے اِس لئے میں اِس قسم کی علامتوںکو چھوڑتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک اِن سے میعاد کی تعیین تو ہو جاتی ہے لیکن کسی فرد کی تعیین نہیں ہوتی۔
    پھر پیشگوئیوں کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن کو مومن تو مان سکتے ہیں مگر وہ غیروں کیلئے حجت نہیں ہو سکتے۔ مثلاً یہ علامت کہ اُسے خدا کا قرب حاصل ہو گا اور اللہ تعالیٰ اُس سے محبت اور پیار کرے گا۔ یہ علامت محض مومنوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ جو لوگ ماننے والے ہیں وہ تو کہیں گے کہ واقعہ میں فلاں شخص کو خدا کا قرب حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ اُس سے محبت اور پیار کرتا ہے لیکن دوسرے لوگ اِس بات کو نہیں مان سکتے۔ وہ کہیں گے کہ یہ محض ڈھکوسلا ہے کہ فلاں کو خدا کا قرب حاصل ہے، ہم اِس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ لیکن بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جو غیروں کے لئے بھی دلیل اور حجت ہوتے ہیں اور وہ پیشگوئیوں میں اِس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ غیروں سے بھی منوایا جائے کہ یہ پیشگوئی فلاں شخص کے ذریعہ پوری ہو گئی ہے۔ میں اِس وقت بعض ایسے حصے ہی اِس پیشگوئی کے لیتا ہوں جو میرے نزدیک غیروں کیلئے بھی دلیل بن سکتے ہیں اور دشمن سے دشمن بھی پیشگوئی کے اِن حصوں کے پورا ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔
    آنے والے موعود کی باون علامات
    جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں یہ بڑی تفصیلی پیشگوئی ہے اور اِس سے ظاہر ہے کہ آنے
    والا اپنے اندر کئی قسم کی خصوصیات رکھتا ہو گا۔ چنانچہ اگر اِس پیشگوئی کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس پیشگوئی میں آنے والے موعود کی یہ یہ علامتیں بیان کی گئی ہیں۔
    پہلی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قدرت کا نشان ہو گا۔
    دوسری علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ رحمت کا نشان ہو گا۔
    تیسری علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قربت کا نشان ہو گا۔
    چوتھی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فضل کا نشان ہو گا۔
    پانچویں علامتیہ بیان کی گئی ہے کہ وہ احسان کا نشان ہو گا۔
    چھٹی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ صاحبِ شکوہ ہو گا۔
    ساتویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ صاحبِ عظمت ہو گا۔
    آٹھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ صاحبِ دولت ہو گا۔
    نویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مسیحی نفس ہو گا۔
    دسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔
    گیارھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کلمۃ اللہ ہو گا۔
    بارھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ خداتعالیٰ کی رحمت اور غیوری نے اُسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہو گا۔
    تیرھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سخت ذہین ہو گا۔
    چودھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سخت فہیم ہو گا۔
    پندرھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دل کا حلیم ہو گا۔
    سولہویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ علوم ظاہری سے پُر کیا جائے گا۔
    سترھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ علوم باطنی سے پُر کیا جائے گا۔
    اٹھارویں علامت یہ بیان کی ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔
    اُنیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ دوشنبہ کا اِس کے ساتھ خاص تعلق ہو گا۔
    بیسیویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فرزندِ دلبند ہو گا۔
    اکیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ گرامی ارجمند ہو گا۔
    بائیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مظہر الاوّل ہو گا۔
    تئیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مظہر الآخر ہو گا۔
    چوبیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مظہر الحق ہو گا۔
    پچیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مظہر العلاء ہو گا۔
    چھبیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ کا مصداق ہوگا۔
    ستائیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اُس کا نزول بہت مبارک ہو گا۔
    اٹھائیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اِس کا نزول جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔
    اُنتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نور ہوگا ۔
    تیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کی رضا مندی کے عطر سے ممسوح ہو گا۔
    اکتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ خدا اُس میں اپنی روح ڈالے گا۔
    بتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ خدا کا سایہ اُس کے سر پر ہوگا ۔
    تینتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔
    چونتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔
    پینتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔
    چھتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ قومیں اِس سے برکت پائیں گی۔
    سینتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔
    اَڑتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دیر سے آنے والا ہو گا۔
    اُنتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دُور سے آنے والا ہو گا۔
    چالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فخر رُسل ہو گا۔
    اکتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اُس کی ظاہری برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔
    بیالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اُس کی باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔
    تینتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ یوسفؑ کی طرح اُس کے بڑے بھائی اس کی مخالفت کریں گے۔
    چوالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بشیر الدولہ ہو گا۔
    پینتالیسویںعلامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شادی خاں ہو گا۔
    چھیالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ عالَمِ کباب ہو گا۔
    سینتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حُسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نظیر ہوگا۔
    اَڑتالیسویںعلامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کلمۃ العزیز ہو گا۔
    اُنچاسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کلمۃ اللہ خان ہوگا۔
    پچاسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ناصر الدین ہو گا۔
    اکیاونویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فاتح الدین ہو گا۔
    باونویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بشیر ثانی ہو گا۔
    یہ علامتیں ہیں جو اِس پیشگوئی میں آنے والے کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔ اِن میں سے کچھ علامتیں تو ایسی ہیں جو صرف مومنوں کے متعلق ہیں اور وہی اِن کی صداقت کی گواہی دے سکتے ہیں۔ لیکن بعض علامتیں ایسی ہیں جو نہ ماننے والوں کے متعلق ہیں اور اُن علامات کو پیش کر کے اُن پر حُجّت تمام کی جا سکتی ہے۔ میں اِس وقت ایسی ہی علامات کو لیتا ہوں جن کے پورا ہونے کا دشمن سے دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا۔
    مصلح موعود کا علوم ظاہری سے پُر کیا جانا
    پہلی پیشگوئی یہ کی گئی تھی کہ وہ علومِ ظاہری سے پُر کیا جائے
    گا۔ اِس پیشگوئی کامفہوم یہ ہے کہ وہ علومِ ظاہری سیکھے گا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اُسے یہ علوم سکھائے جائیں گے۔ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ علومِ ظاہری میں خوب مہارت رکھتا ہو گا بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ وہ علوم ظاہری سے پُر کیا جائے گا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی اور طاقت اُسے یہ علومِ ظاہری سکھائے گی۔ اُس کی اپنی کوشش اور محنت اور جدوجہد کا اِس میں دخل نہیں ہو گا۔ یہاں علومِ ظاہری سے مُراد حساب اور سائنس وغیرہ علوم نہیں ہو سکتے کیونکہ یہاں ’’پُر کیا جائے گا‘‘ کے الفاظ ہیں جو ظاہر کرتے ہیںکہ خداتعالیٰ کی طرف سے اُسے یہ علوم سکھائے جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سائنس اور حساب اور جغرافیہ وغیرہ علوم نہیں سکھائے جاتے بلکہ دین اور قرآن سکھایا جاتا ہے۔ پس پیشگوئی کے اِن الفاظ کا کہ وہ علومِ ظاہری سے پُر کیا جائے گا یہ مفہوم ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علومِ دینیہ اور قرآنیہ سکھلائے جائیں گے اور خدا خود اُس کا معلّم ہو گا۔
    میری تعلیم جس رنگ میں ہوئی ہے وہ اپنی ذات میں ظاہر کرتی ہے کہ انسانی ہاتھ میری تعلیم میںنہیں تھا۔ میرے اساتذہ میں سے بعض زندہ ہیں اور بعض فوت ہو چکے ہیں۔ میری تعلیم کے سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا ہے۔ آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اِس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اِس قابل نہیں کہ میںکتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں اِس لئے آپ کا طریق تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے میاں! مَیںپڑھتا جاتا ہوں تم سُنتے جاؤ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھوں میں سخت ککرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دُکھتی رہیں اور ایسی شدید تکلیف ککروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا اِس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔ اِس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میری صحت کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شرو ع کر دیئے۔ مجھے اِس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے۔ بہرحال تین یا سات روزے آپ نے رکھے۔ جب آخری روزے کی آپ افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لئے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے لیکن اِس بیماری کی شدت اور اِس کے متواتر حملوںکا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔ چنانچہ میری بائیںآنکھ میں بینائی نہیں ہے۔ میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔ دو چار فٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اُس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہو تو مجھے اُس کی شکل نظر نہیں آ سکتی۔ صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگراُس میں بھی ککرے پڑ گئے اور ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے میرے اُستادوںسے کہہ دیا تھا کہ اِس کی پڑھائی اِس کی مرضی پر ہو گی۔ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اِس پرزورنہ دیا جائے کیونکہ اِس کی صحت اِس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بار ہا مجھے صرف یہی فرماتے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لو۔ اِس کے علاوہ آپ نے مجھے کچھ اور پڑھنے کے لئے کبھی کچھ نہیں کہا۔ ہاں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔ماسٹر فقیراللہ صاحب جن کو خداتعالیٰ نے اِسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ہمارے حساب کے استاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ جتنی دُوربورڈ تھا اُتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی اور پھرزیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی۔ اِس وجہ سے مَیں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔ کبھی جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ ماسٹر فقیراللہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضوریہ کچھ پڑھتا نہیں۔ کبھی مدرسہ میں آ جاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ شکایت کی تومیں ڈر کے مارے چُھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں لیکن حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جب یہ بات سُنی تو آپ نے فرمایا آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سُن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدرسے چلا جاتا ہے ورنہ میرے نزدیک تو اِس کی صحت اِس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔ پھر ہنس کر فرمانے لگے اِس سے ہم نے آٹے دال کی دُکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اِسے حساب سکھایا جائے۔ حساب اِسے آئے یا نہ آئے کوئی بات نہیں۔ آخر رسول کریم ﷺ یا آپ کے صحابہؓ نے کونسا حساب سیکھا تھا۔ اگر یہ مدرسہ میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اِسے مجبورنہیں کرنا چاہئے۔یہ سُن کر ماسٹر صاحب واپس آ گئے۔ میں نے اِس نرمی سے اور بھی فائدہ اُٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسہ میں جاناہی چھوڑ دیا۔ کبھی مہینہ میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔ غرض اِس رنگ میں میری تعلیم ہوئی اور میں درحقیقت مجبور بھی تھا کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا۔ چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یاساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا۔ پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی۔ـ ریڈآئیو ڈائیڈ آف مرکری (MERCURY)کی تلی کے مقام پر مالش کی جاتی تھی۔ اِسی طرح گلے پر بھی اِس کی مالش کی جاتی کیونکہ مجھے خنازیر کی بھی شکایت تھی۔ غرض آنکھوں میں ککرے، جگر کی خرابی، عظم طحال کی شکایت اور پھر اِس کے ساتھ بخار کا شروع ہو جانا جو چھ چھ مہینے تک نہ اُترتا اور میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا فیصلہ کر دینا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھ لے اِس پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔اِن حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہو گا۔
    ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب نے میرا اُردو کا امتحان لیا۔ مَیں اَب بھی بہت بدخط ہوں مگر اُس زمانہ میں تو میرا اتنا بدخط تھا کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھاکہ مَیں نے کیا لکھا ہے۔ اُنہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتہ لگائیں میں نے کیا لکھا ہے مگر اُنہیں کچھ پتہ نہ چلا۔ میرے بچوں میں سے اکثر کے خط مجھ سے اچھے ہیں۔ میرے خط کا نمونہ صرف میری لڑکی امۃ الرشید کی تحریر میں پایا جاتا ہے۔ اُس کا لکھا ہوا ایسا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ ہم نے امۃ الرشید کے لکھے ہوئے پر ایک روپیہ انعام مقرر کر دیا تھا کہ اگر خود امۃ الرشید بھی پڑھ کر بتا دے کہ اُس نے کیا لکھا ہے تو اُسے ایک روپیہ انعام دیا جائے گا۔ یہی حالت اُس وقت میری تھی کہ مجھ سے بعض دفعہ اپنا لکھا ہوا بھی پڑھا نہیں جاتا تھا۔ جب میر صاحب نے پرچہ دیکھا تو وہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے یہ تو ایسا ہے جیسے لنڈے لکھے ہوئے ہوں۔ اُن کی طبیعت بڑی تیز تھی۔ غصہ میں فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس پہنچے۔ مَیں بھی اتفاقاً اُس وقت گھر میں ہی تھا۔ ہم تو پہلے ہی اُن کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اَب نہ معلوم کیا ہو۔ خیر میر صاحب گئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں۔ مَیں نے اِس کا اُردو کا امتحان لیا تھا، آپ ذرا پرچہ تو دیکھیں اِس کا اتنا بُرا خط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑ ھ سکتا۔ پھر اِسی جوش کی حالت میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے آپ بالکل پرواہ نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میرصاحب کو اِس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا بُلاؤ حضرت مولوی صاحب کو۔ جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تو ہمیشہ حضرت خلیفہ اوّل کو بُلا لیا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اوّل کو مجھ سے بڑی محبت تھی ۔ آپ تشریف لائے اور حسب معمول سرنیچے ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مولوی صاحب! میں نے آپ کو اِس غرض کے لئے بُلایا ہے کہ میر صاحب میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا بالکل پڑھا نہیں جاتا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اِس کا امتحان لے لیا جائے۔ یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اُٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا اِس کو نقل کرو۔ بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا۔ مَیںنے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر اُس کو نقل کر دیا۔ اوّل تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیںتھی دوسرے مَیں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے اور پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔ الف اور با وغیرہ احتیاط سے ڈالے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس کو دیکھا تو فرمانے لگے مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا مگر اِس کاخط میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل پہلے ہی میری تائید میںاُدہار کھائے بیٹھے تھے فرمانے لگے حضور! میر صاحب کو یونہی جوش آ گیا ورنہ اِس کا خط تو بڑااچھا ہے۔
    حضرت خلیفہ اوّل مجھے فرمایا کرتے تھے کہ میاں! تمہاری صحت ایسی نہیںکہ تم خود پڑھ سکو۔ میرے پاس آ جایا کرو میں پڑھتا جاؤں گا اور تم سُنتے رہا کرو۔ چنانچہ اُنہوں نے زور دے دے کر پہلے قرآن پڑھایا اور پھر بخاری پڑھا دی۔ یہ نہیںکہ آپ نے آہستہ آہستہ مجھے قرآن پڑھایا ہو بلکہ آپ کا طریق یہ تھاکہ آپ قرآن پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ اِس کا ترجمہ کرتے جاتے۔ کوئی بات ضروری سمجھتے تو بتا دیتے ورنہ جلدی جلدی پڑھاتے چلے جاتے۔ آپ نے تین مہینہ میں مجھے سارا قرآن پڑھا دیا تھا۔ اِس کے بعد پھر کچھ ناغے ہونے لگ گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد آپ نے پھر مجھے کہا کہ میاں! مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔ دراصل مَیں نے آپ کو بتا دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لو۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی مَیں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنی شروع کر دی تھی گو ناغے ہوتے رہے۔ اِسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔ طب کا سبق میں نے اور میر محمد اسحق صاحب نے ایک دن ہی شروع کیا تھا بلکہ میر صاحب کا ایک لطیفہ ہے جو ہمارے گھر میں خوب مشہور ہوا کہ دوسرے ہی دن میر محمد اسحاق صاحب اپنی والدہ سے کہنے لگے اماں جان! مجھے صبح جلدی جگا دیںکیونکہ مولوی صاحب دیر سے مطب میں آتے ہیں۔ مَیں پہلے مطب میں چلا جاؤں گا تاکہ مریضوں کو نسخے لکھ لکھ کر دوں حالانکہ ابھی ایک ہی دن اُن کو طب شروع کئے ہوا تھا۔
    غرض میں نے آپ سے طب بھی پڑھی اور قرآن کریم کی تفسیر بھی۔ قرآن کریم کی تفسیر آپ نے دو مہینے میں ختم کرا دی۔ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور کبھی نصف اور کبھی پورا پارہ ترجمہ سے پڑھ کر سُنا دیتے۔ کسی کسی آیت کی تفسیر بھی کر دیتے۔ اِسی طرح بخاری آپ نے دو تین مہینہ میں مجھے ختم کرا دی۔ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں آپ نے سارے قرآن کا درس دیا تو اس میں بھی میں شریک ہو گیا۔ چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ غرض یہ میری علمیت تھی مگر اُنہی دنوں جب میں یہ کورس ختم کر رہا تھا مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا دکھایا۔
    قرآنی علوم کا انکشاف
    مَیں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں۔ مشرق کی طرف میرا منہ ہے کہ آسمان پر سے مجھے ایسی آواز آئی جیسے گھنٹی
    بجتی ہے یا جیسے پیتل کا کوئی کٹورہ ہو اور اُسے ٹھکوریں تو اُس میں سے باریک سی ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ـ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز پھیلنی اور بلند ہونی شروع ہوئی یہاں تک کہ تمام جوّ میں پھیل گئی۔ اِس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ آواز متشکل ہو کر تصویر کا چوکٹھا بن گئی۔ پھر اُس چوکٹھے میں حرکت پیدا ہونی شروع ہوئی اور اُس میں ایک نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی تصویر نظر آنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ تصویر ہلنی شروع ہوئی اور پھر یکدم اُس میں سے کُود کر ایک وجود میرے سامنے آ گیا اور کہنے لگا کہ میں خدا کا فرشتہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اِس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہیں سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں۔ میں نے کہا سکھاؤ۔ وہ سکھاتا گیا، سکھاتا گیا اور سکھاتا گیا۔ یہاں تک کہ جب وہ ۳۲؎ تک پہنچا تو کہنے لگا آج تک جس قدر مفسرین گزرے ہیں، اُن سب نے یہیں تک تفسیر کی ہے لیکن میں تمہیں آگے بھی سکھانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا سکھاؤ۔ چنانچہ وہ سکھاتا چلا گیا یہاں تک کہ ساری سورۃ فاتحہ کی تفسیر اُس نے مجھے سکھادی۔
    جب میری آنکھ کُھلی تو اُس وقت فرشتہ کی سکھائی ہوئی باتوں میں سے کچھ باتیں مجھے یاد تھیں مگر میں نے اُن کو نوٹ نہ کیا۔ دوسرے دن حضرت خلیفہ اوّل سے مَیں نے اِس رؤیا کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے کچھ باتیں یاد تھیں مگر مَیں نے اُن کو نوٹ نہ کیا اور اَب وہ میرے ذہن سے اُتر گئی ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل پیار سے فرمانے لگے کہ آپ ہی تمام علم لے لیا کچھ یاد رکھتے تو ہمیں بھی سُناتے۔
    یہ رؤیا اصل میں اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بیج کے طور پر میرے دل اور دماغ میں قرآنی علوم کا ایک خزانہ رکھ دیا ہے۔ چنانچہ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا، کبھی کسی ایک موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سورہ فاتحہ پر غور کیا ہو یا اُس کے متعلق کوئی مضمون بیان کیا ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے سے نئے معار ف اور نئے سے نئے علوم مجھے عطا نہ فرمائے گئے ہوں۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے قرآن کریم کے تمام مشکل مضامین مجھ پر حل کر دیئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض ایسی آیات جن کے متعلق حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اُن کے معانی کے متعلق پوری تسلی نہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان آیات کے معانی بھی مجھ پر کھول دیئے گئے ہیںاور اَب قرآن کریم میں کوئی بات ایسی موجود نہیں جس کے مضمون کو مَیں ایسے واضح طور پر نہ بیان کر سکوں کہ دشمن سے دشمن کیلئے بھی اُس پر اعتراض کرنا ناممکن ہو۔ـ یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی شخص اپنی شکست تسلیم نہ کرے لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ میں قرآن کریم کے رُو سے دشمن پر حجت تمام نہ کر دوں اور اُس کے اعتراضات کا ایسا جواب نہ دوں جو عقلی طور پر مُسکِتْ اور لاجواب ہو۔ـ
    تفسیر القرآن کے متعلق دنیا کو چیلنج
    مَیں نے اِس بارہ میں بار بار لوگوں کو چیلنج دیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر میں میرا مقابلہ
    کر لیں مگر آج تک کسی کو جراء ت نہیں ہوئی کہ وہ قرآنی تفسیر میں میرا مقابلہ کر سکے۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب میرے اِس چیلنج کے مقابلہ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ اُن کے دلوں میں دیانتداری کے ساتھ یہ جراء ت نہیں پائی جاتی کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر کے متعلق میرے چیلنج کو قبول کریں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب اِس کے جواب میں یہ لکھ دیا کرتے ہیں کہ میری طرف سے صرف اتنی شرط ہے کہ بے ترجمہ قرآن کریم اور کاغذ، قلم، دوات لے کر ہم ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ جائیں اور قرآن کریم کی تفسیر لکھیں۔ مجھے اُن کی اِس بات سے ہمیشہ یہ شُبہ پیدا ہوتا ہے کہ غالباً اُن کو یہ یقین ہے کہ مجھے قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا۔ اگر سادہ قرآن کریم میرے ہاتھ میں دے دیا گیا تو میں کہوں گا کہ اَب میں کیا کروں مجھے تو ترجمہ ہی نہیں آتا، میں تفسیر کِس طرح لکھوں۔ حالانکہ جب میں قرآن کریم کی تفسیر کے متعلق چیلنج دے رہا ہوں اور دنیاکے تمام علماء سے کہتا ہوں کہ اگر اُن میں ہمت ہے تو وہ میرا مقابلہ کر لیں، تو اُنہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا ترجمہ تو مجھے بہرحال آتا ہوگا مگر معلوم ہوتا ہے مولوی ثناء اللہ صاحب باوجود اِس کے کہ میری طرف سے تفسیر نویسی کا چیلنج دیا جا رہا ہے سمجھتے ہیں کہ اگر میرے پاس سادہ قرآن ہوا تو میں کچھ نہ لکھ سکوں گا۔ بہرحال وہ ہمیشہ یہی بات پیش کر کے خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ میرا اصل چیلنج جو پہلے بھی شائع ہو چکا ہے اور اَب بھی قائم ہے، یہ ہے کہ :۔
    ’’غیراحمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارفِ روحانیہ بیان کریں جو پہلے کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔ پھر میں اُن کے مقابلہ پر کم سے کم دُگنے معارفِ قرآنیہ بیان کر وں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھے ہیں اور اِن مولویوں کو تو کیا سُوجھنے تھے پہلے مفسرین و مصنّفین نے بھی نہیں لکھے۔ اگر میں کم سے کم دُگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں۔ طریق فیصلہ یہ ہو گا کہ مولوی صاحبان معارفِ قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اِس کے بعد مَیں اُس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی۔ اِس مدت میں جس قدر باتیں اُن کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں اُن کو مَیں پیش کروں گا۔ اگر ثالث فیصلہ کر دیں کہ وہ باتیں واقعہ میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اُس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ اُن کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارفِ قرآنیہ بیان ہوں جو پہلی کتب میں نہیں پائے جاتے۔ اِس کے بعد چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارفِ قرآنیہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا جو پہلے کسی مصنّف اسلامی نے نہیںلکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اُس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ اِن کی جرح کا منصف تسلیم کریں اُس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ اُن کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ میرے بیان کردہ معارفِ قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے لئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں گے، اِن علماء کے معارفِ قرآنیہ سے کم از کم دُگنے ہیں یا نہیں جو اُنہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں۔ اگر میں ایسے دُگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں۔ لیکن اگر مولوی صاحبان اِس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔ یہ ضروری ہو گا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معاً بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھیج دے۔ مولوی صاحبان کو مَیں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دُگنی چوگنی قیمت کا، وی پی میرے نام کر دیں ۔ اگر مولوی صاحبان اِس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اِس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں اور وہ تین دن تک اُس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوںاور میں بھی اُسی ٹکڑے کی اِسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اُس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اِس سے پہلے کسی مفسر یا مصنّف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اُس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے۔‘‘ ۳۳؎
    یہ ہے اصل چیلنج جو میری طرف سے دیا گیا لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب اِس کے جواب میں یہ لکھ دیتے ہیں کہ صرف سادہ قرآن اور کاغذ، قلم، دوات لے کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہو گا کسی اور کتاب کے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی حالانکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کیسی غیرمعقول بات ہے اوّل تو ترجمہ یا بے ترجمہ قرآن کریم کا کوئی سوال ہی نہیں ہو سکتا لیکن معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کی عقل اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ باوجود اِس کے کہ اُنہوں نے میری متعدد کتابیں پڑھی ہوں گی پھر بھی وہ سمجھتے ہیںکہ جب میرے ہاتھ میں بے ترجمہ قرآن آیاتو میں اُن کے مقابلہ میں بالکل رہ جاؤں گا۔
    دوسرے یہ کہنا کہ اپنے پاس قرآن کریم کے علاوہ اور کوئی تفسیر کی کتاب نہ رکھی جائے یہ بھی بے معنی بات ہے۔ اِس لئے کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ مَیں ایسی تفسیر لکھوں گا جس میں نئے مضامین ہوں گے پُرانے مضامین نہیں ہوں گے۔ مَیں نے یہ نہیں کہا کہ مَیں پُرانی تفسیروں کا حافظ ہوں۔ وہ اگر اپنے آپ کو پُرانی تفسیروں کا حافظ سمجھتے ہیں تو بے شک اِس کا اعلان کر دیں۔ لیکن مَیں پُرانی تفسیروں کا حافظ نہیں اور جب میرا دعویٰ یہ ہے کہ مَیں اپنی تفسیر میں ایسی نئی باتیں لکھوں گا جو پُرانے مفسرین نے نہیں لکھیں تو اِس لحاظ سے ضروری ہے کہ اِس وقت میرے پاس تفسیریں بھی موجود ہوں تاکہ میں صرف وہ مضامین بیان کروں جو نئے ہوں کوئی ایسا مضمون بیان نہ کروں جو پہلے کسی تفسیر میں لکھا ہوا ہو۔ پھر میں نے اِس اَمر کی طرف بھی اُن کو توجہ دلائی ہے کہ اگر تفسیروں کے موجود ہونے سے یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید میں اُن تفسیروں میں سے کچھ چُرا لوں تو پھر تو اُن کو بڑا اچھا موقع میسر آ سکتا ہے اور وہ ساری دنیا میں شورمچا سکتے ہیں کہ دیکھ لو دعویٰ تو یہ تھا کہ مَیں ایسے معارف بیان کروں گا جو جدید ہوں گے مگر فلاں فلاں مضمون، فلاں فلاں تفسیر سے چُرا لیا گیا ہے اِس صورت میں تو اُن کی فتح اور کامیابی یقینی ہے کیونکہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں ایسی باتیں بیان کروں گا جو پہلی تفسیروں میں نہیں آئیں۔ پس اگر میں اِن تفسیروں میں سے کچھ چُرا لوں گا تو وہ اعلان کر دیں گے کہ دعویٰ تو یہ کیا گیا تھا کہ میںنئے علوم اور نئے معارف پیش کروں گا مگر فلاں فلاں بات امام رازی یا علامہ ابن حیان بھی بیان کر چکے ہیں اِس صورت میں میرا چیلنج خود بخود باطل ہو جائے گا۔ پھر سوال یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ خیال کیونکر پیدا ہو گیا ہے کہ مجھے پُرانی تفسیروں میں سے کچھ چُرانا زیادہ آتا ہے اور اُن کو نہیںآتا۔ وہ پکے مولوی ہیں۔ اگر میرے سامنے وہ تفاسیر ہوں گی تو آخروہ تفاسیر اُن کے سامنے بھی تو ہوں گی۔ اگر میں نے اُن سے کچھ چُرا لینا ہے تو مولوی صاحب بھی تو چُرا سکتے ہیں۔ علومِ جدیدہ کی میرے پاس کوئی خاص تفاسیر تو نہیں ہیں جو میں نے چھپا رکھی ہیں۔
    پھر ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم تو عربی میں ہے اور تفسیریں بھی عربی میں ہیں۔ اُن کے نزدیک جب میں عربی جانتا ہی نہیں اور اِسی لئے وہ بے ترجمہ قرآن رکھنے کی شرط پیش کرتے ہیںتو اُن کو یہ کیونکر خیال پیدا ہو گیا کہ میں عربی تفسیروں سے مضمون چُرالُوں گا۔
    پھر قرآن تو صرف عربی میں ہے مگر تفاسیر میں علم صرف کے مضامین بھی آتے ہیں، علمِ نحو کے مضامین بھی آتے ہیں، علمِ کلام کے مضامین بھی آتے ہیں، علم فلسفہ کے مضامین بھی آتے ہیں، علمِ منطق کے مضامین بھی آتے ہیں۔ اگر ایک شخص قرآن کریم کا ترجمہ تک نہیں جانتا تو وہ اِن تفسیروں سے مختلف مضامین کس طرح چُرا سکتا ہے۔ پس میں نہیں سمجھتا کہ ایسی شرائط کو پیش کرنے سے اُن کی غرض کیا ہے۔ سوائے اِس کے کہ وقت ضائع کیا جائے مگر مجھے خداتعالیٰ نے اِس لئے کھڑا نہیں کیا کہ میں کھیل میں اپنے وقت کو ضائع کردوں۔
    مجھے بعض دفعہ یہ بھی خیال آیا کرتا ہے کہ ممکن ہے اُن کا خیال ہو کہ میں بعض ایسی تفسیریں اپنے ساتھ چھپا کر لے جاؤں گا جو اُن کے پاس نہیں ہوں گی اور اِس طرح مَیں غالب آ جاؤں گا۔ اگر اُن کو یہ خیال ہو تو مَیں اعلان کرتا ہوں کہ مجلس میں بیٹھ کر اگر وہ میری تفسیروں کو دیکھنا چاہیں تو وہ اُن کو دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اُن سب کے نام نوٹ کر لیں اور پھر حوالہ دیکھنے کے لئے جس کتاب کی ضرورت ہو وہ بیشک مجھ سے مانگ لیں میں اُن کو وہ کتاب حوالہ دیکھنے کے لئے عاریتاً بھجوا دوں گا۔
    مَیں جیسا کہ بتا چکا ہوں ہمیشہ یہ شرط پیش کیا کرتا ہوں کہ قرعہ ڈال کر قرآن کریم کے بعض رکوع نکال لئے جائیں اور پھر وہ بھی بیٹھ جائیں اور میں بھی بیٹھ جاؤں اور ہم دونوں قرآن کریم کے اُن رکوعوں کی تفسیر لکھیں۔ مگر شرط یہ ہو گی کہ تفسیر میں ایسے ہی مضامین بیان کئے جائیں جو پہلی تفسیروں میں نہ آ چکے ہوں اور پھر صرف، نحو اور لغت وغیرہ علوم کے لحاظ سے وہ معنی درست ہوں۔ اِسی طرح قرآن کریم کے سیاق و سباق کے لحاظ سے بھی وہ معنی صحیح ہوںـ۔
    مَیں اِس بات کے لئے بھی تیار ہوں کہ اِس غرض کے لئے بعض لوگ بطور قاضی یا جج مقرر کر دیئے جائیں جو بعد میں غور کر کے فیصلہ کر دیں کہ کس فریق نے قرآن کریم کے ایسے نئے علوم بیان کئے ہیں جو پہلی کسی تفسیر میں بیان نہیں ہوئے لیکن یہ ضروری ہو گا کہ وہ بادلائل فیصلہ لکھیں۔ یہ کوئی عقائد سے تعلق رکھنے والی بات نہیں جس میں ججوں کا مقرر کرناخلافِ اصول ہو۔ یہ محض ایک علمی چیز ہے اور اِس کے لئے ججوں کو فیصلہ کے لئے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ـ
    مَیں جس فیصلہ کرنے والے بورڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کرتا ہوں اور وہ ایسا بورڈ ہوتا ہے جس کے متعلق کہاجاتا ہے کہ وہ عقائد کے متعلق فیصلہ کرے گا اور مَیں اِس بات کو ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ عقائد کے تصفیہ کے متعلق کوئی بورڈ مقرر کیا جا سکتا ہے یا کسی اور کا فیصلہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ عقائد کے بارہ میں کسی شخص کی کوئی بات تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ لیکن یہ ایک علمی مقابلہ ہے اس میں بعض لوگ اگر بطور جج مقرر ہو جائیں تو میرے نزدیک اِس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ مَیں نے جو طریق فیصلہ پیش کیا ہے اِس میں مخالف علماء کو کیا شُبہ ہے اور میں اُن سے کس طرح دھوکا کر لوں گا۔
    مولوی محمد علی صاحب کا جواب
    تفسیر نویسی کے اِس چیلنج کے جواب میں مولوی محمد علی صاحب نے ایک مضمون لکھا ہے۔ اسی طرح مصری صاحب
    نے بھی اِس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اِن میں سے ایک نے ۳۴؎کی آیت کو اور دوسرے نے۳۵؎والی آیت کو پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ اِن آیات کی تفسیر میں مقابلہ کر لیا جائے حالانکہ یہ سیدھی بات ہے کہ جو آیتیں ایسی ہیں کہ اِن کے معانی کے بیان کرنے میں ہم میں اور غیراحمدیوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اُن میں کوئی لطیف سے لطیف بات بھی مخالفین کے دلوں کو مطمئن نہیں کر سکتی۔ خواہ ہم آیت خاتم النبیین کے کیسے ہی لطیف معنی کریں یا کی کتنی اعلیٰ درجہ کی تشریح کریں غیراحمدی ہمارے معنوں کو ضرور ناپسند کریں گے اِس لئے ایسے اختلافی مسائل کے متعلق اُن کی رائے صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی۔ اُن کی رائے ایسے ہی امور کے بارہ میں صحیح طور پر معلوم ہو سکتی ہے جو عام مضامین سے تعلق رکھتے ہوں۔ اِسی غرض کے لئے میں نے کہا ہے کہ قرعہ ڈالو اور قرآن کریم کے کوئی رکوع نکال لو۔ اگر اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی ہو گی کہ آیت خاتم النبیین یاآیت کی تفسیر کی جائے تو قرعہ میں یہی آیات نکل آئیں گی۔ اِنہیں گھبرانے اور پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے وہ سیدھی طرح مقابلہ میںآئیں اور قرعہ کی تجویز کو منظور کر لیں جو رکوع بھی قرعہ کے نتیجہ میں نکل آیا اُس کی مَیں تفسیر لکھ دوں گا۔ اور اگر وہ قرعہ کی تجویز کو بھی منظور نہیں کرتے تو اِس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اُن کو اپنے دلوں میں یقین ہے کہ خدا میرے ساتھ ہے۔ اگر ہم نے قرعہ بھی ڈالا تو وہی آیات نکلیں گی جن کی تفسیر اِس کو اچھی آتی ہو گی لیکن ہمیں اِن کی تفسیر نہیں آتی ہو گی اور اگر یہ بات نہیں تو وہ ڈرتے کیوں ہیں۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اِس کے کئی سَو رکوع ہیں وہ قرعہ ڈال لیں پھر جو بھی آیات نکل آئیں گی مَیں اُن کی تفسیر لکھنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر قرعہ کا طریق نظر انداز کر دیا جائے اور جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں اُن آیات کی تفسیر لکھی جائے جن کے معانی میں ہم میں اور غیراحمدیوں میں اختلاف پایا جاتا ہے تو یہ لازمی بات ہے کہ اُس تفسیر کے متعلق فیصلہ کرنے میں اُن کا دماغ آزاد نہیں ہو گا۔ اور وہ آسانی سے فیصلہ نہیں کر سکیں گے کہ کس کی تفسیر زیادہ اعلیٰ ہے۔ـ لیکن اگر اختلافی مسائل سے تعلق رکھنے والی آیت نہ ہو تو اُس کی تفسیر کے متعلق اُن کا دماغ آزاد ہو گا اور آسانی سے وہ فیصلہ کر سکیں گے کہ میری تفسیر زیادہ اعلیٰ درجے کی ہے یا مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر زیادہ اعلیٰ درجے کی ہے۔قرعہ میں یہ بھی کوئی شرط نہیں کہ اگر آیت خاتم النبیین یا نکلی تو اِس کی تفسیر نہیں لکھی جائے گی۔ اگر وہ سمجھتے ہیںکہ خداتعالیٰ کی تائید اُن کو حاصل ہے تو کیوں وہ خداتعالیٰ پر یہ یقین نہیں رکھتے کہ خداتعالیٰ قرعہ میں اُن کے حسبِ منشاء آیات نکلوا دے گا اور اِس طرح اُن کے غلبہ اور تفوق کے سامان پیدا فرما دے گا۔ اُن کا بار بار ایسی ہی آیات کو تفسیر کے لئے پیش کرنا جن کے متعلق ہم میں اور غیراحمدیوں میں اختلاف پایا جاتا ہے بتاتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں اِس حقیقت کو خوب جانتے ہیں کہ ہم تفسیر میں مقابلہ نہیں کر سکتے اِسی لئے وہ اِن آیات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں جن میں ہمارا غیراحمدیوں کے ساتھ اختلاف پایا جاتا ہے تاکہ اگر وہ معارف یا علوم کے لحاظ سے غالب نہ آ سکیں تو کم از کم غیراحمدیوں کی تائید تو اُن کو حاصل ہو جائے۔ دوسرے اُن کا قرعہ سے گھبرانا اور اِس طریق کو قبول نہ کرنا اِس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں سمجھتے ہیں خدا اِس کے ساتھ ہے اگر ہم نے قرعہ کا طریق منظور کر لیا تو خدا قرعہ میں ایسی ہی آیات نکلوائے گا جن کی تفسیر اِس کو اچھی طرح آتی ہو گی اور ہم شَاھَتِ الْوُجُوْہُ کے مصداق بن کر رہ جائیں گے۔
    باقی رہے مصری صاحب سو وہ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ وہ ایک لمبا عرصہ یہاں رہے ہیں اور میرے سامنے شاگردوں کی طرح بیٹھتے رہے ہیں جب بھی مَیں جلسہ سالانہ کے بعد تقریر سے فارغ ہو کر گھر جاتا تو مصری صاحب دروازہ پر ہی مجھے روک لیتے اور کہتے حضور نوٹ عنایت فرماویں۔ میں کہتا کہ نوٹوں کی کیا ضرورت ہے تقریر چھپ جائے گی۔ اِس پر وہ کہتے کہ کون تقریر کے چھپنے کا انتظار کرے آپ اپنے نوٹ مجھے دے دیں جب تک تقریر شائع نہیں ہوتی میں اِن معارف سے فائدہ اُٹھاتا رہوں گا۔ وہ شخص جو اِس طرح لمبے عرصہ تک میرے علوم سے فائدہ اُٹھاتا رہا ہے اور شاگردوں کی طرح میرے سامنے بیٹھتا رہا ہے، اَب وہ مجھے تفسیر نویسی کا چیلنج دے رہا ہے۔ اِن کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں ہرگز کوئی نیابتی پوزیشن حاصل نہیں ہے اور نہ وہ اِس قابل ہیں کہ انہیں تفسیر نویسی کا اہل سمجھا جائے۔ بہرحال تفسیر نویسی کا جو راستہ میں نے بتایا ہے وہ نہایت منصفانہ ہے۔ قرعہ ڈالنے میں کسی کو کوئی خاص رعایت نہیں ملتی۔ غیراحمدیوں کا کوئی نمائندہ جو فی الواقع نمائندہ کی حیثیت رکھتا ہو یا مولوی محمدعلی صاحب اِس طرح مقابلہ کر لیں اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا اور صداقت کو ظاہر کر دے گا۔
    اِس کے علاوہ قرآن کریم کے بہت سے حصوں کی تفسیر میری طرف سے لکھی ہوئی موجود ہے۔ اِس شائع شدہ تفسیر سے بھی اِس پیشگوئی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بعض دشمن اِس موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں غیرمبائعین میں سے بھی اور دوسروں میں سے بھی کہ ہم مانتے ہیں آپ بہت ذہین ہیں، باتیں خوب نکال لیتے ہیں اور مناسب مضمون اخذ کر لیتے ہیں۔ مگر اِس اعتراض سے بھی میری صداقت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اِس اعتراف کے معنی یہ بن جائیں گے کہ مرزاصاحب نے ایک پیشگوئی کی تھی کہ ۹ سال کے عرصہ میں میرے ہاں ایک ایسا لڑکا پیدا ہوگا جو بہت ذہین ہوگا اور بڑا چالاک ہوگا اور پُرانی تفسیروں میں سے ایسے ایسے علوم چُرانے کا اُسے ملکہ حاصل ہو گا کہ اُس وقت کے بڑے بڑے تجربہ کار بھی اِس قسم کی علمی چوری میں اُس کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور پھر وہ زندہ بھی رہے گا اور اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے ساری دنیا میں مشہور ہو جائے گا۔ اگر یہی نتیجہ نکالا جائے تو میں کہتا ہوں کہ کیا کسی انسان کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ ایسی پیشگوئی کر سکے اور کہہ سکے کہ ۹ سال کے اندر میرے ہاں ایک ایسا لڑکا پیدا ہو گا جو ایسا ذہین اور ہوشیار ہو گا کہ بڑے بڑے مولوی بھی اُس کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کی جراء ت نہیں کر سکیں گے پھر کیا وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایسالڑکا زندہ رہے گا۔ اور کیا وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایسالڑکا اپنی چالاکی سے ساری دنیا میں مشہور ہو جائے گا؟ اگر وہ یہ بہانہ کرتے ہیں تو بیشک وہ میرا نام چالاک رکھ دیں، مجھے ہوشیار اور تجربہ کار کہہ لیں۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام کی صداقت میں شُبہ نہیں ہو سکتا اور ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو خبر دی تھی کہ آپ کے ہاں ایک ایسا لڑکا پیدا ہو گا جو مولویوں کو شکست دے گا، وہ خبر سچی ثابت ہوئی۔ خدا نے مجھے ایسی مدد دی ہے اور میری تائید میں اپنے نشانات کو اِس طرح پَے درپَے نازل کیا ہے کہ آج دشمن میرے مقابل پر سوائے آئیں بائیں شائیں کرنے کے کوئی بھی معقول اور صحیح بات اپنی زبان پر نہیں لا سکتا اور اِس طرح اپنی شکست کو تسلیم کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اِس پیشگوئی کی صداقت کو وہ اپنے عمل سے واضح کر رہا ہے۔
    میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا یہ چیلنج ہر اُس شخص کے لئے اَب بھی قائم ہے جو مقابلہ کا اہل ہو۔ یعنی وہ اِس حیثیت کا ہو کہ اُس سے مقابلہ کرنا کوئی فائدہ رکھتا ہو۔ ورنہ یوں تو ہر آدمی چیلنج کو قبول کرنے کا اعلان کر سکتا ہے اور وقت کے ضیاع سے زیادہ اِس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔
    مصلح موعود کا علوم باطنی سے پُر کیاجانا
    دوسری خبر اِس پیشگوئی میں یہ دی گئی تھی کہ وہ باطنی علوم سے پُر کیا جائے گا۔ باطنی علوم سے
    مراد وہ علومِ مخصوصہ ہیں جو خداتعالیٰ سے خاص ہیں جیسے علم غیب ہے جسے وہ اپنے ایسے بندوں پر ظاہر کرتا ہے جن کو وہ دنیا میں کوئی خاص خدمت سپرد کرتا ہے تاکہ خداتعالیٰ سے اُن کا تعلق ظاہر ہو اور وہ اُن کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان تازہ کر سکیں۔ سو اِس شِق میں بھی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر خاص عنایت فرمائی ہے اور سینکڑوں خوابیں اور الہام مجھے ہوئے ہیں جو علومِ غیب پر مشتمل ہیں مگر مَیں مثال کے طور پر صرف چند کا اِس جگہ ذکر کرتا ہوں۔
    مبائعین کے مقابلہ میں غیرمبائعین کی ناکامی کی خبر
    (۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی جبکہ خلافت کا کوئی سوال بھی ذہن میں پیدا نہیں ہو سکتا تھا مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف
    سے یہ الہام ہوا کہ یعنی وہ لوگ جو تجھ پر ایمان لائیں گے اُن لوگوں پر جو تیرے مخالف ہوں گے قیامت تک غالب رہیں گے۔یہ الہام مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سُنایا اور آپ نے اِسے لکھ لیا۔ یہ وہی آیت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتی ہے مگر وہاں الفاظ یہ ہیں۔۔ ۳۶؎ کہ میں تیرے منکروں پر تیرے مومنوں کو قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔ مگر مجھے جو الہام ہوا وہ یہ ہے کہ ۔ جو پہلے سے زیادہ تاکیدی ہے یعنی میںاپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں یقینا تیرے ماننے والوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔ یہ الہام جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سُنایا اور آپ نے اِسے لکھ لیا۔ میں عرصہ دراز سے یہ الہام دوستوں کو سُناتا چلا آ رہا ہوں۔ اِس کے نتیجہ میں دیکھو کہ کس کس طرح میری مخالفت ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح دی۔ غیر مبائعین نے حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں یہ کہہ کہہ کر کہ ’’ ایک بچہ ہے جس کی خاطر جماعت کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘ پراپیگنڈہ کیا مگر بالکل بے اثر ثابت ہوا۔ مَیں اِن باتوں سے اُس وقت اتنا ناواقف تھا کہ ایک دن صبح کی نماز کے وقت میں حضرت اماں جان کے کمرہ میں جو مسجد کے بالکل ساتھ ہے نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھاکہ مسجد میں سے مجھے لوگوں کی اُونچی اُونچی آوازیں آنی شروع ہوگئیں جیسے کسی بات پر وہ جھگڑ رہے ہوں۔ اُن میں سے ایک آواز جسے میں نے پہچانا وہ شیخ رحمت اللہ صاحب کی تھی۔ مَیںنے سُنا کہ وہ بڑے جوش سے یہ کہہ رہے ہیںکہ تقویٰ کرناچاہئے، خدا کا خوف اپنے دل میں پیدا کرنا چاہئے ایک بچہ کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے، ایک بچہ کی خاطر یہ سارا فساد برپا کیا جا رہا ہے۔ میں اُس وقت اِن باتوں سے اِس قدر ناواقف تھا کہ مجھے اُن کی یہ بات سُن کر سخت حیرت ہوئی کہ وہ بچہ ہے کون جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جا رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر غالباً شیخ یعقوب علی صاحب سے پوچھا کہ آج مسجد میں یہ کیسا شور تھا اور شیخ رحمت اللہ صاحب یہ کیا کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کی خاطر یہ سارا فساد برپا کیا جا رہا ہے۔ وہ بچہ ہے کون جس کی طرف شیخ صاحب اشارہ کر رہے تھے؟ وہ مجھے ہنس کر کہنے لگے وہ بچہ تم ہی تو ہو اور کون ہے۔ گویا میری اور اُن کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کہتے ہیں کہ ایک نابینا اور بینا دونوں کھانا کھانے بیٹھے۔ نابینا نے سمجھا کہ مجھے تو نظر نہیں آتا اور اِسے سب کچھ نظر آتاہے، لازماً یہ مجھ سے زیادہ کھا رہا ہو گا۔ چنانچہ یہ خیال آتے ہی اُس نے جلدی جلدی کھانا، کھانا شروع کر دیا۔ پھر اُسے خیال آیا کہ میری یہ حرکت بھی اِس نے دیکھ لی ہو گی اور اَب یہ بھی جلدی جلدی کھانا کھانے لگ گیا ہو گا میں کیا کروں؟ چنانچہ اُس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔ پھر سمجھا کہ اَب یہ بھی اِس نے دیکھ لیا ہو گا اور اِس نے بھی دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کردیا ہو گا، میں اَب کس طرح زیادہ کھاؤں؟ اِس خیال کے آنے پر اُس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کیا اور دوسرے ہاتھ سے چاول اپنی جھولی میںڈالنے شروع کر دیئے ۔ پھر اُسے خیال آیا کہ میری یہ حرکت بھی اُس نے دیکھ لی ہو گی اور اُس نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ہو گا۔ یہ خیال آنے پر اُس نے تھالی اُٹھا لی اور کہنے لگا بس اب میرا حصہ ہی رہ گیا ہے تم اپنا حصہ لے چکے ہو اور اُس بیچارے کی یہ حالت تھی کہ اُس نے ایک لقمہ بھی منہ میں نہیںڈالا تھا۔ وہ اِس نابینا کی حرکات دیکھ دیکھ کر ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ یہ کیا کر رہاہے۔
    یہی میرا اور اُن کا حال تھا۔ یہ بھی اُس نابینا کی طرح ہمیشہ سوچتے رہتے کہ اَب یہ یوں کر رہا ہو گا، اَب یہ اِس طرح جماعت کو ورغلانے کی کوشش کر رہا ہو گا اور مجھے کچھ پتہ ہی نہیں تھا کہ میرے خلا ف کیا کچھ ہو رہا ہے۔ میں سوائے خداتعالیٰ کی ذات پر توکّل رکھنے کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھااور حالات سے ایسا ناواقف تھاکہ سمجھتا تھا کوئی اور بچہ ہے جس کا یہ ذکر ہو رہاہے۔ مگر باوجود اِس کے کہ یہ لوگ اُس وقت بڑا رسوخ رکھتے تھے اور جماعت پر اِن کا خاص طور پر اثر تھا، اللہ تعالیٰ نے اُن کے تمام پراپیگنڈہ کو بے اثر ثابت کیا اور مجھے اُس نے فتح اور کامرانی عطا کی۔
    غیر مبائعین کی ایک اور عبرتناک ناکامی
    (۲) پھر میری خلافت کے وقت جب مسجد نور میں جماعت کے لوگوں نے
    میری بیعت کی۔ انہوں نے ’’الوصیۃ‘‘ کے ایک حوالہ کے ماتحت جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ
    ’’جس شخص کی نسبت چالیس مومن اتفاق کریں گے کہ وہ اِس بات کے لائق ہے کہ میرے نام پر لوگوں سے بیعت لے۔ وہ بیعت لینے کا مجاز ہو گا۔‘‘۳۷؎
    کوشش کی کہ میرے مقابل میںکسی کو خلیفہ بنا لیں۔ اِس حوالہ کے تو اور معنی ہیں مگر بہرحال انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ کسی طرح خلافت کو چھوڑ نہیں سکتے تو انہوں نے چاہا کہ ہم بھی مقابل میں ایک خلیفہ بنا لیں۔ چنانچہ ماسٹر عبدالحق صاحب جنہوں نے پہلے پارے کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا اور جنہوں نے شروع میں میری بیعت نہ کی تھی بلکہ وہ اِن لوگوں کے ساتھ تھے، بعد میں بتایا کہ مولوی صدرالدین صاحب رات کے وقت ہاتھ میں لالٹین لے کر دو ہزار احمدیوں کے مکانوں پر ماسٹر عبدالحق صاحب اور ایک اور صاحب سمیت چکر لگاتے رہے کہ چالیس آدمی ہی اِس خیال کے مل جاویں مگر اتنے آدمی بھی اُن کو نہ ملے جو اُن کا ساتھ دیتے بلکہ اُن کی روایت تھی کہ صرف تیرہ آدمی ملے جو اِس خیال کے حامی تھے، چالیس کی تعداد پوری نہ ہوئی۔
    اَب دیکھو یہ خداتعالیٰ کی کیسی عظیم الشان قدرت ہے کہ اُس وقت سارا کام اِن لوگوں کے ہاتھ میںتھا۔ انجمن پر اِن کا قبضہ تھا، تصانیف اِن کے ہاتھ میں تھیں، عہدے ان کے قبضہ میں تھے۔ مگر سارا زور لگا کر قادیان میں سے تیرہ سے زیادہ آدمی نہ نکلے جو اِس بات پر متفق ہوں کہ میرے مقابل میں کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ انہوں نے اِس غرض کے لئے سید عابد علی شاہ صاحب کا نام تجویز کیا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ اُن کی خلافت کے لئے چالیس آدمی تیار کئے جائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کو نہ صرف اِس طرح شرمندہ کیا کہ اتنے بڑے مجمع میں سے ساری رات گشت لگانے کے باوجود چالیس آدمی بھی نہ مل سکے اور وہ ناکام اپنے گھروں کو واپس لوٹے بلکہ خدا نے اُن کو اِس طرح بھی شرمندہ کیا کہ آخر سیدعابد علی شاہ صاحب نے میری بیعت کر لی۔ مگر بعد میں اُن کو جنون ہو گیا اور دماغی نقص کی وجہ سے انہوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور اعلان کر دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میرے گھر میں طاعون نہیں آئے گی لیکن اِس اعلان کے بعد وہ خود ہی طاعون سے مَر گئے۔
    غرض قوم کے لیڈر میرے مقابل میں کھڑے ہوئے جن کے ہاتھ میں سلسلہ کا خزانہ تھا اور جن کاجماعت کے قلوب پر اِس قدر رُعب تھا کہ اِسی مسجد نور میں کھڑے ہو کر ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب نے جماعت کے سامنے چندے کی تحریک کی تو بعض احمدی اُٹھ کر کسی کام کے لئے باہر جانے لگے۔ مولوی محمد علی صاحب جن کی طبیعت جوشیلی ہے یہ دیکھ کر غصہ میں آ گئے اور کہنے لگے اَب میں نے چندے کی تحریک کی ہے تو تم بھاگنے لگے ہو۔ یاد رکھو کہ میں تم سے جوتیوں سے چندہ وصول کروں گا۔ اِن الفاظ سے اُن کے اخلاق کا جو نمونہ ظاہر ہوتا ہے وہ تو عیاں ہی ہے لیکن میں جس بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ انہوں نے اتنے سخت الفاظ جماعت کو مخاطب کر کے کہے مگر کسی ایک شخص نے بھی چوں تک نہیں کی اور سب خاموش رہے۔ غرض اُن کا اُس وقت اتنا رُعب تھا اور اِس قدر رُسوخ اُن کو حاصل تھا کہ جماعت کے معززین کو اگر وہ یہ بھی کہہ دیتے کہ میں جوتیاں مار کر تم سے چندہ وصول کروں گا تو پھر بھی وہ خاموش رہتے تھے۔
    تاریخوں میںلکھا ہے۔ نپولین کو ایک دفعہ شکست ہوئی۔ اُس کی فوج کے سپاہی اور جرنیل بھاگتے چلے آرہے تھے کہ راستے میں ایک جرنیل نے کہا۔
    ’’وہ جرمن فوج آ گئی‘‘۔ جرمن فوج واقعہ میں پیچھے سے آ رہی تھی اور اُس نے جو کچھ کہا درست تھا مگر نپولین نے اُسے جواب دیا۔
    کُتّا! تم کو ہر وقت جرمن ہی نظر آتے ہیں۔
    وہ کہتا ہے اگر میرا باپ بھی مجھے یہ الفاظ کہتا تو میں اُسی وقت تلوار اُس کے پیٹ میں گھونپ دیتا۔ مگر نپولین کیلئے ہم کتے ہی تھے وہ ہمیں بُوٹ مارتا اور ہم اُس کے پاؤں چاٹتے۔
    شریف اور معزز احمدی سامنے بیٹھے ہیں اور مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ میں جوتیاں مار مار کر تم سے چندہ وصول کروں گا۔ بعد میں بعض احمدیوں نے مجھے یہ بات پہنچائی تو مَیں نے کہا میں امید نہیں کرتاکہ اُنہوں نے یہ الفاظ کہے ہوں مگر کئی لوگوں نے شہادت دی کہ واقعہ میں انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے۔ غرض وہ شخص جسے اتنا بڑا رُعب حاصل تھا میرے مقابل میں آیا تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی کوئی بات نہ چلنے دی اور اُسے خائب و خاسر کر دیا۔
    احرار کی شکست
    (۳) اِسی طرح احرار میرے مقابل میں اُٹھے۔ احرار کو بعض ریاستوں کی بھی تائید حاصل تھی۔ کیونکہ کشمیر کمیٹی کی صدارت جو میرے سپرد کی
    گئی تھی اِس کی وجہ سے کئی ریاستوں کو یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ اِس زور کو توڑنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ کسی اور ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں یا پھر کشمیر کے خلاف ہی اپنی جدوجہد کو شروع کر دیں۔ چنانچہ احرار نے ۱۹۳۴ء میں شورش شروع کی اور اِس قدر مخالفت کی کہ تمام ہندوستان کو ہماری جماعت کے خلاف بھڑکا دیا۔ اُس وقت مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر میں نے اپنے ایک خطبہ میںاعلان کیا کہ تم احرار کے فتنہ سے مت گھبراؤ۔
    ’’خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا کیونکہ خدا نے جس راستہ پر مجھے کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے۔ جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کے اختیار کرنے کی اُس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و بامراد کرنے والے ہیں۔ اِس کے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں اُن کی شکست کو اُن کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔ وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں، اتنی ہی نمایاں مجھے اُن کی موت دکھائی دیتی ہے۔‘‘ ۳۸؎
    چنانچہ ابھی دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ شہید گنج کا واقعہ ہو گیا اور یا تو وہ ساری دنیا میں ہمارے خلاف شور مچاتے تھے اور لوگ انہیں بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یا پھر لاہور میں جو اُن کا مرکز تھا وہ ایسے ذلیل اور رُسوا ہوئے کہ دو سال تک لوگوں نے اُن کو جلسہ نہ کرنے دیا۔ بیشک ہماری جماعت کی مخالفت ہوتی چلی آئی ہے اور اَب بھی ہیـ۔ لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہر قدم پر خداتعالیٰ ہماری جماعت کو بڑھاتا ہے اور کسی ایک موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ دشمن کے حملہ کی وجہ سے ہماری جماعت کم ہو گئی ہو۔ ہم تو خداتعالیٰ کے فضل سے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور کوئی ایک دن بھی ہم پر ایسا نہیں چڑھا جب ہماری تعداد میں پہلے سے اضافہ نہ ہو گیا ہو ۔ پس کامیابی ہماری ہے اور ناکامی ہمارے دشمن کی۔
    اِس موقع پر بعض غیرمبائعین یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہام ہے۔ اِس لئے یہ زیادتی اور ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت ہے تمہارا اِس سے اپنی صداقت کے متعلق کوئی استدلال کرنا درست نہیں ہو سکتا۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ سلسلہ کی تمام ترقیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف ہی منسوب ہوں گی۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا الہام میں یہ بھی ذکر تھا کہ یہ الہام ایک جھوٹے کے ذریعہ پورا ہو گا۔ مولوی محمد علی صاحب جو سچے ہوں گے اُن کے ذریعہ پورا نہیں ہو گا۔ آخر وہ کیا ہے کہ ایک کاذب کے ذریعہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا یہ الہام پورا ہو رہا ہے اور جماعت احمدیہ اکنافِ عالَم میں پھیلتی جا رہی ہے مگر صادق کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔
    مبائعین کے غلبہ کا ایک بیّن ثبوت
    ایک دفعہ غیرمبائعین نے لکھا کہ ہماری جماعت میں علمی لوگ زیادہ ہیں مگر تمہاری
    جماعت میں علمی لوگ کم ہیں۔ میں نے اُس وقت چیلنج دیا کہ تم اپنی جماعت کے تمام بی۔اے اور ایم۔اے تعلیم یافتہ لوگو ں کی فہرست شائع کر دو۔ مَیں اپنی جماعت کے بی۔اے اور ایم۔ اے پاس افراد کی فہرست شائع کر دوں گا۔ پھر خود بخود پتہ لگ جائے گا کہ علمی لوگ ہماری جماعت میں زیادہ ہیں یا تمہاری جماعت میں۔ اِسی طرح انہوں نے صحابہؓ کا ذکرکیا کہ ہماری جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ زیادہ شامل ہیں۔ میں نے کہا کہ تم اپنی جماعت کے صحابہ کی فہرست شائع کر دو میں اپنی جماعت کے صحابہ کی فہرست شائع کر دوں گا۔ پھر خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ صحابہ کی اکثریت کس طرف ہے۔ مگروہ اِس مقابلہ میں نہ نکلے اور نہ نکل سکتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری جماعت ہر لحاظ سے اُن پر فوقیت رکھتی ہے اور یہ اُس الہام کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی مجھے ہوا کہ
    غیر مبائعین میں افتراق پیدا ہونے کی خبر
    (۲) دوسرے اللہ تعالیٰ نے غیر مبائعین کے فتنہ کے شروع
    میںہی مجھے خبر دی تھی۔ لَیُمَزِّقَنَّھُمْ۔ اللہ تعالیٰ اِن لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ چنانچہ یہ الہام اُسی وقت میں نے اُس ٹریکٹ میںشائع کر دیا تھا جس کا نام ہے’’کون ہے جو خدا کے کام روک سکے۔‘‘ یہ الہام بھی پورا ہوا، یہاں تک کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ۹۵فیصدی کہا کرتے تھے اُن کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ وہ واقعہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہیںـ۔ اُن میں اتنے شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور آپس میں ایسی ایسی سخت مخالفتیں ہوئیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی اِس الہام کی صداقت کا اقرار کیا۔ خواجہ صاحب میرے اُستاد تھے کیونکہ اُنہوں نے سکول میں مجھے دو دن پڑھایا تھا۔ اُن کے متعلق یہ روایت ہے جو اُن کے بعض واقفوں نے مجھے پہنچائی کہ وہ اپنی وفات سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ میاں محمود کی کوئی اور بات سچی ہو یا نہ ہو مگر اُن کا یہ الہام تو پورا ہو گیا ہے کہ لَیُمَزِّقَنَّھُمْ اور ہم واقعہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ اِس الہام سے پہلے مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی یہ حالت تھی کہ وہ دانت کاٹی روٹی کھایا کرتے تھے۔ مگر جب وہ میرے مقابل میں کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اِس الہام کے مطابق اُن میں ایسا تفرقہ پیدا کر دیا کہ خواجہ کمال الدین صاحب کو بہت کچھ بُرا بھلا کہا گیا اور اُن کی اور مولوی محمد علی صاحب کی آپس میں شدید مخالفت ہو گئی۔ اِسی طرح ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے ایک دفعہ احمدیہ مسجد میں کھڑے ہو کر یہ الفاظ کہے کہ ایسا ایسا آدمی یہاں آئے تو سہی مَیں اُس کی ٹانگیں نہ توڑ دُوں اور اِس سے اُن کی مراد مولوی محمد علی صاحب تھے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب سے بھی اُن کی مخالفت ہوئی اور وہ اِس قدر بیزار ہوئے کہ اُنہوں نے اپنی وفات سے پہلے مجھے کہلا بھیجا کہ میرے اِرد گرد سخت اندھیرا ہے اور میں اپنے خیالات کا پورے طور پر اظہار نہیں کر سکتا۔ آپ میری طرف اپنا کوئی آدمی بھیجیں، مَیں اُس کے ذریعہ آپ تک بعض باتیں پہنچانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر کو خط دے کر لاہور بھیجا مگر اُس وقت بیماری کی وجہ سے اُن کے تمام رشتہ دار اکٹھے تھے وہ کوئی گفتگو نہ کر سکے۔
    گزشتہ جنگ عظیم کے متعلق رؤیا
    (۳) تیسرے گزشتہ جنگ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت جبکہ اٹلی اور ٹرکی
    دونوں جنگ میں شامل نہیں تھے ایک رؤیا دکھایا۔ میں نے دیکھا کہ جرمنی سے ٹرکی کی طرف کنکشن ہوا ہے اور کوئی خبر ہے جو ٹرکی کے نام جرمنی کی طرف سے پہنچائی جا رہی ہے۔ اِسی دوران میں کسی نے آلہ میرے کان میں لگا دیا اور مَیں نے سُنا کہ جرمن حکومت ٹرکی سے یہ گفتگو کر رہی ہے کہ اٹلی ہمارے خلاف انگریزوں سے ملنے والا ہے، تم ہمارے ساتھ مل جاؤ۔ یہ رؤیا مجھے اُس وقت ہوا جبکہ اٹلی جرمنی کا حلیف تھااور آسٹریا، جرمنی اور اٹلی تینوں کا آپس میں معاہدہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے، اِسی لئے اُن کو TRIPLE ALLIANCE (ٹریپل الائنس) یعنی تین طاقتوں کااتحاد قرار دیا جاتا تھا۔ مگر اِس رؤیا کے عین مطابق واقعہ یہ ہوا کہ اٹلی انگریزوں سے جا ملا اورٹرکی جرمنوں کے ساتھ شامل ہو گیا۔ گویا دو پہلو تھے جو اِس رؤیا میں بتائے گئے تھے ایک یہ کہ اٹلی جرمنوں سے غداری کرے گا اور دوسرا یہ کہ ٹرکی اِس کے مقابلہ میں جرمنوں سے جا ملے گا۔ دنیا میں کوئی بڑے سے بڑا سیاست دان بھی قبل از وقت ایسی بات نہیں کر سکتا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ خبر بتائی اور جیسا کہ مجھے دکھایا گیا تھا ویسا ہی وقوع میں آگیا۔
    ایک اور اہم رؤیا
    (۴) اِسی طرح گزشتہ جنگ کے موقع پر جب بیلجیئم پر حملہ ہوا اور جرمن بڑے زور سے آگے بڑھ رہے تھے۔ مَیں نے رؤیا میں
    دیکھا کہ ایک طرف انگریز اور فرانسیسی ہیں اور دوسری طرف جرمن اور دونوں میں فٹ بال کا میچ ہو رہا ہے۔ جرمن فٹ بال کو لاتے لاتے گول کے قریب پہنچ گئے مگر گول ہو نہیں سکا۔ اتنے میں پھر اتحادی ٹیم نے طاقت پکڑ لی اور انہوں نے فٹ بال کو دوسری طرف دھکیل دیا۔ جرمن یہ دیکھ کر واپس دوڑے اور انگریز بھی فٹ بال لیکر دوڑنے لگے۔ مگر جب وہ گول کے قریب پہنچ گئے تو وہاں انہوں نے کچھ گول گول سی چیزیں بنا لیں جن کے اندر وہ بیٹھ گئے اور باہر یہ بھی بیٹھ گئے۔ بعینہٖ اِسی طرح گزشتہ جنگ میں جرمن لشکر نے جب حملہ کیا تو اِس کی فوجیں بڑھتے بڑھتے پیرس تک پہنچ گئیں یہاں تک گورنمنٹ کے ذخائر بھی دوسری جگہ تبدیل کر دیئے گئے مگر پھر اُسے واپس لوٹنا پڑا اور جب وہ سرحد پر واپس لوٹ آیا تو وہاں اِس نے ٹرنچز (TRENCHES) بنا لیں اور اُس کے اندر بیٹھ گیا اور اِس طرح چار پانچ سال تک وہاں لڑائی ہوتی رہی۔
    مشکلات کے ہجوم میں خداتعالیٰ کے فضل اور رحم پر بھروسہ رکھنے کی تلقین
    (۵) پانچویں خواب جو میں ہمیشہ سے سُناتا چلا آ رہا ہوں اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری بھی اِس کے گواہ ہیں۔ وہ یہ ہے کہ
    میں نے ۱۹۱۳ء میں جبکہ میں شملہ کے مقام پر تھا، رؤیا میں دیکھا کہ کوئی بہت بڑا اور اہم کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ میرے راستہ میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔ ایک فرشتہ میرے پاس آتا ہے اور وہ مجھے کہتا ہے کہ اِس کام کی تکمیل کے راستہ میں بہت سی رُکاوٹیں حائل ہوں گی اور شیطان اور ابلیس مختلف طریقوں سے تمہیں ڈرائیں گے اور تمہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیں گے مگر اُن کا کوئی خیال نہ کرنا بلکہ جب بھی کوئی ایسی روک دکھائی دے تم نے یہ کہنا شروع کر دینا کہ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ چنانچہ میں چل پڑا۔ میرا راستہ دو پہاڑیوں کے درمیان میں سے گزرتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ میں جنگل میں سے جا رہا ہوں۔ بالکل سنسان بیانان ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت خطرہ اور خوف کی جگہ ہے۔ مَیں اِسی طرح جا رہا ہوں کہ دُور سے شور سنائی دیتا ہے اور مختلف قسم کی آوازیں میرے کانوں میں آنے لگتی ہیں۔ کوئی مجھے گالی دیتا ہے اور کوئی مجھ سے بیہودہ سوال کرتا ہے لیکن میں اُن کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا اور ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ کہتا ہوا آگے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں اور جب میں یہ الفاظ کہتا ہوں تو وہ شور بند ہو جاتا ہے۔ مگر تھوڑی دُور اور آگے گیا تو مجھے بعض عجیب قسم کے وجود نظر آنے لگے اور اُن کی عجیب عجیب شکلیں دکھائی دینے لگیں، کسی کے کئی کئی ہاتھ ہیں، کسی کا سر بہت بڑا ہے اور کسی کا بہت چھوٹا۔کوئی وجود تو انسان کا ہے مگر اُس کا سر ہاتھی کا ہے اور کسی کا دھڑ شیر کا ہے اور سر انسان کا ہے، کہیں خالی دھڑ ہی دھڑ ہیں اور کہیں خالی سر ہی سر ہیں۔ یہ سب کے سب مجھے ڈراتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور مجھے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں مگر جب بھی میں کہتا ہوں۔ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ تو یہ سب شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ اِس کے تھوڑی دیر بعد بعض اور بھیانک نظارے نظر آنے لگ گئے ۔ کوئی ہاتھ کٹا ہوا علیحدہ نظر آتا ہے، کوئی سر بغیر دھڑ کے دکھائی دیتا ہے اور کوئی دھڑ بغیر سر کے نظر آتا ہے، کوئی شکل ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی لمبی سی زبان باہر نکلی ہوئی ہے، کسی کے بال کُھلے ہوئے ہیں، کسی کی آنکھیںحلقوں سے باہر نکل رہی ہیں اور وہ شکلیں طرح طرح سے مجھے ڈرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر میں ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ کہتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہوں اور جب میں یہ الفاظ کہتاہوں تو یہ تمام جن اور بھوت غائب ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ میں منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔
    یہ رؤیا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی زندگی میں ۱۹۱۳ء کے شروع میں مَیں نے دیکھا تھا۔ اُس وقت میں نے سمجھا کہ میری زندگی میں کوئی ایسا تغیر پیدا ہونے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص کام میرے سپرد کیا جائے گا۔ دشمن مجھے اُس کام سے غافل کرنے کی کوشش کرے گا وہ مجھے ڈرائے گا، دھمکائے گا اور گالیاں دے گا مگر مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ میں اُن کی گالیوں کی طرف توجہ نہ کروں اور ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ کہتا ہوا منزلِ مقصود کی طرف بڑھتا چلا جاؤں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے ہر مضمون پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں کہ :
    ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘
    اِس رؤیا کو دیکھو کہ کس طرح میری زندگی میںاِس کا ایک ایک حرف پورا ہوا۔ بارہالوگوں نے چاہا کہ وہ مجھے اپنی باتوں میں اُلجھا کر اصل مقصد سے غافل کردیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی مجھے اِس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ مَیں اُن کے منصوبوں میں نہ آؤں اور خدا تعالیٰ نے میرے سپرد جو کام کیا ہے اُس کو کرتا چلا جاؤں۔ مولوی محمد علی صاحب یا مولوی ثناء اللہ صاحب لغو اور بیہودہ شرائط پیش کر کے کہتے رہتے ہیں کہ ہمارے چیلنج کو قبول نہیں کیا جاتا مگر میں اُن کی اِن باتوں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میرے خدا نے مجھے کہا کہ میں لغو باتوں میں اپنا وقت ضائع نہ کروں اور’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ کہتا ہوا منزلِ مقصود کی طرف بڑھتا چلا جاؤں۔ آخر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کتنی لغو بات ہے کہ عقائد پر بحث ہو تو میری جماعت میں سے جج مولوی محمد علی صاحب مقرر کریں اور اُن کی جماعت سے مَیں مقرر کروں۔ بچے بھی ایسی بیہودہ بات نہیں کرتے مگر مولوی محمدعلی صاحب ہمیشہ ایسی ہی باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں اور اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ میں بھی اِن باتوں میں اُلجھ جاؤں یا کفر و اسلام وغیرہ مسائل میں کوئی کمزوری دکھاؤں یا غیراحمدیوں کے جنازہ کے متعلق یا اُن کے رشتہ ناطہ کے متعلق کوئی ایسی بات کہہ دوں جو میرے عقائد کے خلاف ہو مگر میںایسے لغو امور پر اپنے وقت کو ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ اگر صفائیِ نیت کے ساتھ سیدھے طور پر بحث کرنے کے لئے وہ تیار ہوں تو مجھے اُن سے بحث کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اگر وہ لغو شرائط اور بیہودہ باتیں پیش کرنا شرو ع کر دیں تو میں اُن شراط کی طرف توجہ نہیں کر سکتا کیونکہ میرے خدا نے مجھے اِن باتوں سے منع کیا ہوا ہے۔ یہی بات میں نے رؤیا میں دیکھی تھی کہ جب میں چلا تو راستے میں ایک بڑا جنگل آ گیا اور مختلف قسم کی رُوحوں نے مجھے اپنے مقصد سے منحرف کرنے کی کوشش کی اور بعض نے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں مگر مَیں نے اُن کی طرف کوئی توجہ نہ کی ۔ پھر بڑھا تو عجیب عجیب شکلوں نے میرے سامنے ناچنا کُودنا شروع کر دیا۔ کسی کا منہ جانور کا تھا اور دھڑ انسان کا اور کسی کا دھڑ انسان کا تھا مگر سر گدھے کا۔ میں نے پھر بھی توجہ نہ کی اور یہ یہی کہتا چلا گیا کہ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ اِس رؤیا پر میں نے ہمیشہ عمل کیا اور اَب بھی میرا عمل اِسی کے مطابق ہے۔ اگر مَیں شکست خوردہ ہوں، اگر مَیں میدانِ مقابلہ سے بھاگنے والا ہوں، اگر مَیں بہانے بنا بنا کر بحثوں کو ٹالنے والا ہوں تو مخالفین کو آخر سوچنا چاہئے کہ وجہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی لاتا ہے میرے پاس لاتا ہے۔ وہ ہمارے راستہ میں اِس طرح بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح منکرین انبیاء کے راستہ میں بیٹھا کرتے ہیں۔ مگر اِس کے باوجود اُن کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور جو بھی آتا ہے میرے پاس آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ پیر پرست تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے کو جب اُنہوں نے خلیفہ بنتے دیکھا تو فوراً اُسے مان لیا۔ مگر مَیں کہتا ہوں وہ لوگ تو ساری جماعت کا دسواں حصہ بھی نہیں ہیں۔ اگر انہوں نے پیرپرستی کی وجہ سے مجھے مان لیا تھا تو سوال یہ ہے کہ اَب جو لوگ غیروں میں سے لاکھوں کی تعداد میں آ رہے ہیں یہ کونسی پیرپرستی کی وجہ سے آ رہے ہیں۔ یہ تو تمہاری باتیں سُن کر اور تمہارے فتووں کو پڑھ کر میری طرف آئے ہیں اور اِن کی تعداد اُن لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہے جن کے متعلق یہ کہاجاتا ہے کہ وہ پیرپرستی کی وجہ سے میری بیعت میں شامل ہوئے تھے۔
    میرے پاس ایک دفعہ اوکاڑہ کے ایک تاجر آئے اور کفرو اسلام اور نبوت وغیرہ مسائل پر بڑی بحث کرتے رہے۔ وہ حاجی تھے اور بڑی عمر کے تھے جب وہ بہت بحث کر چکے تو میں نے اُن سے کہاکہ آپ مرزا صاحب کو تو مانتے ہیں صرف آپ کو نبوت یا کفرواسلام وغیرہ چند مسائل میں ابھی اطمینان نہیں۔ جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانتے ہیںتو کم از کم پہلا قدم تو اُٹھائیے اور اگر میری بیعت نہیں کر سکتے تو لاہورمیں جا کر مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لیجئے۔ وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے۔ میری یہ بات سُن کر وہ بے تاب ہو کر کہنے لگے میں بیعت کروں گا تو آپ کی ہی کروں گا آدھے راستے میں تو مَیں نہیں ٹھہر سکتا۔ گویا وہ جو اُن کے ہم خیال ہیں وہ بھی اُن کی بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں اور اُن کے دل میںبھی یہی بات پائی جاتی ہے کہ اگر ہم نے بیعت کی تو قادیان میں ہی جا کر کریں گے۔ قلوب پر یہ عظیم الشان تصرف جو نظر آ رہا ہے، اُنہیں سوچنا چاہئے کہ آخر اِس کی وجہ کیا ہے۔ لوگوں کو اشتعال وہ دلاتے ہیں، الزام وہ لگاتے ہیں، جوش وہ دلاتے ہیں مگر اِس کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر میری طرف لا رہا ہے اور وہ خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔ کوئی اِکاّ دُکاّ اُن کی طرف چلا جائے تو علیحدہ بات ہے۔ گویا ہماری اور اُن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جال والا اپنے جال کے ذریعہ بہت سی مچھلیاں پکڑ کر لے آتا ہے اور دوسرا شخص لہر کی پھینکی ہوئی مُردہ مچھلی کو اُٹھا کر اپنے گھروں میں لے جاتا ہے۔
    سیٹھ عبداللہ بھائی کے متعلق ایک عجیب رؤیا
    (۶) پھر چھٹی پیشگوئی جو خداتعالیٰ نے مجھ سے کروائی
    وہ بھی اپنی ذات میں ایک زندہ ثبوت اِس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے اخبارِ غیبیہ سے اطلاع دیتا اور اُن کو نہایت ہی شان کے ساتھ پورا کرتا ہے۔
    ۱۹۱۵ء یا ۱۹۱۶ء کی بات ہے کہ ہمارے مبلّغ حیدر آباد دکن گئے اور وہاں سے انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ ایک خوجہ قوم کے تاجر ہیں جن کا نام عبداللہ بھائی ہے۔ ہم انہیں تبلیغ کرنے گئے تھے انہوں نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں جو آپ کی خدمت میں بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر اُن کی تسلی ہو گئی تو وہ احمدی ہو جائیں گے۔ جب مجھے یہ خط پہنچا مَیں نے اُن سوالات کے جواب لکھوائے اور ساتھ ہی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اُن کو ہدایت عطا فرمائے۔ رات کو مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک میدان ہے جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے اور اُس پر سیٹھ عبداللہ بھائی بیٹھے ہیں۔ ساتھ ہی میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ آسمان مَیں سے ایک کھڑکی کُھلی ہے اور اُس میں سے نور کے بورے بھر بھر کر فرشتے اُن پر ڈال رہے ہیں۔ مَیں نے اُسی وقت اِس رؤیا کی اپنے دوستوں کو اطلاع دے دی۔ چنانچہ چند دنوں کے بعد ہی اُنہوں نے بیعت کر لی۔ یوں تو بیسیوں تاجر ہماری جماعت میں داخل ہوتے رہتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ مجھے اُن کے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلی کوئی خواب آیا ہو۔ لیکن سیٹھ عبداللہ بھائی ابھی ہماری جماعت میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق رؤیا دکھایا کہ آسمان میں سے خدا کا نور اُن پر چاروں طرف سے برس رہا ہے جس کے معنی یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ اُن سے خاص طور پر خدمتِ دین کا کام لے گا اور اُنہیں اسلام کا نور دنیا میں پھیلانے کی توفیق عطا کرے گا۔
    سیٹھ عبداللہ بھائی کی علمی قابلیت زیادہ اعلیٰ درجہ کی نہیں بلکہ اُن کی اُردو بھی درحقیقت ہمارے نقطۂ نگاہ سے صحیح نہیں۔ انگریزی میں بھی اُن کی تعلیم بہت معمولی ہے۔ وہ ابھی چھوٹے بچے تھے کہ اُن کے والد فوت ہوگئے اور انہیں تعلیم کی بجائے تجارت کے کام کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ مگر باوجود اِس کے کہ اُن کی تعلیم معمولی تھی، اُن کی انگریزی تعلیم بھی زیادہ نہ تھی اور اُردو بھی زیادہ صحیح نہ لکھ سکتے تھے اللہ تعالیٰ نے اِس رؤیا کو ایسی شان کے ساتھ پورا کیا کہ اِسے دیکھ کر اُس کی قدرت اور طاقت کا نقشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ اِس رؤیا کے بعد وہ احمدی ہوئے اور اُنہوں نے سلسلہ کی کتابیں پڑھیں اور پھر تبلیغ کی طرف ایسے جوش کے ساتھ متوجہ ہوگئے کہ اِس وقت تک ڈیڑھ لاکھ روپیہ وہ سلسلہ کی کتابوں اور تبلیغی لٹریچر کی اشاعت وغیرہ پر خرچ کر چکے ہیں۔ اب دیکھو ایک شخص ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھایا جاتا ہے کہ اُس پر آسمان سے خدا کا نور برس رہا ہے۔ پھر اس رؤیا کے عین مطابق اللہ تعالیٰ اُسے توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ روحانی علوم کو دنیا میں پھیلائے اور لوگوں کو احمدیت میں داخل کرے۔ پھر باوجود اِس کے کہ اُن کی صحت کمزور تھی، خدا نے اُن کو لمبی زندگی خدمتِ دین کے لئے عطا فرمائی۔ اُن کے کان اتنے خراب تھے کہ آلہ لگا کر لوگوں کی باتیں سنتے تھے مگر خداتعالیٰ نے بعد میں اپنے فضل سے اُن کی شنوائی کو درست کر دیا اور وہ بغیر آلہ کے ہی باتیں سننے لگ گئے۔ یہ کتنی عظیم الشان خبر ہے کہ ایسی حالت میں جب کہ نہ انہیں احمدیت کا علم تھا نہ اُن کا علمی مذاق تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی اور پھر اِس کے بعد آپ ہی آپ اُن کے دل میں القاء اور الہام ہوا اور اُنہوں نے سلسلہ کی تائید میں کتابیں لکھنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ اُن کی کتب اور اشتہارات وغیرہ کی اشاعت دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو مختلف زبانوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انگریزی میں بھی اور اُردو میں بھی اور گجراتی میں بھی۔ اِسی طرح اب تک وہ ایک لاکھ روپیہ انعام دینے کے اشتہارات شائع کر چکے ہیں بشرطیکہ مخالف اُن کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق اختلافی مسائل کا تصفیہ کرنے پر آمادہ ہوں۔ لوگ دس دس، بیس بیس اور سَو سَو روپیہ کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں مگر وہ ہزاروں روپے انعام دیتے ہیں اور کوئی شخص لینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ یہ کیسی زبردست پیشگوئی ہے جو سیٹھ عبداللہ بھائی کے ذریعہ پوری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تاجر قوم میں سے ، ایک ایسی قوم میں سے جو اُردو بھی صحیح نہیں جانتی اور جس کی انگریزی تعلیم بھی بہت معمولی ہے، ایک شخص احمدیت میں داخل ہوگا وہ بظاہر علمی دنیا سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہوگا مگر خدا اُسے قبول کرے گا اور آسمان سے نور کے بورے بھربھر کر اُس پر برسائے گا۔ چنانچہ پھر وہ شخص سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہے اور تبلیغ کا ایسا جنون اُس کے اندر پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دس لاکھ کتابیں اور اشہارات سلسلہ کی تائید کے لئے شائع کرتا اور علاوہ اور چندوں میں حصہ لینے کے یہ تمام اخراجات اپنی گرہ سے ادا کرتا ہے۔
    سرسکندر حیات خاں کے متعلق ایک رئویا
    (۷) پھر دس بارہ سال کی بات ہے میں نے رئویا میں دیکھا کہ
    سر سکندر حیات خاں کی طرف سے ایک آدمی آیا ہے جس نے ایسی وردی پہنی ہوئی ہے جیسے پنجاب گورنمنٹ کے وزراء کے اردلیوں کی ہوتی ہے اور اُس کے ہاتھ میں ایک لفافہ ہے جو تار کی شکل کا ہے مگر ہے خط۔ وہ کہتا ہے کہ یہ چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کے لئے ہے۔ میں نے اُسے کہا کہ لائو یہ خط مجھے دے دو۔ اُس نے مجھے دے دیا۔ میں نے اُسے دیکھاتو اُس میں سرسکندر حیات خاں نے چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کو یہ لکھا تھا کہ میں کسی کام کے متعلق آپ سے مشورہ لینا چاہتا ہوں، آپ مجھے ملیں۔ اِس خواب کا ایک حصہ تو اُسی وقت پورا ہو گیا کیونکہ سرسکندر حیات خاں جو اُس وقت بہاولپور میں وزیر تھے اُن کا چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کے نام تار آیا کہ میں بھوپال گورنمنٹ کے ایک کام کے لئے بمبئی جا رہا ہوں اور آپ سے بھی مشورہ لینا چاہتا ہوں آپ مجھے ملیں۔ لیکن اِس خواب کا ایک دوسرا حصہ بھی تھا اور وہ یہ کہ وہ پنجاب گورنمنٹ میں وزارت کے عہدے پر پہنچیں گے کیونکہ میں نے اُن کے اردلی کو ایسی وردی پہنے دیکھا تھا جو پنجاب گورنمنٹ کے وزراء کے اردلیوں کی ہوتی ہے۔ خواب کا یہ حصہ بعد میں اِس طرح پورا ہوا کہ وہ پہلے ریونیو ممبر بنے اور پھر پنجاب گورنمنٹ کی وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر فائز ہوگئے۔
    سرسکندر حیات خاں نے بے شک اپنی زندگی کامیاب طور پر بسر کی ہے مگر اُن کی پہلی زندگی ایسی کامیاب نہیں تھی۔ جب سرمانٹیگو آئے تو اُس وقت مَیں بھی دہلی گیا۔ سرسکندر حیات اُس وقت نوجوان تھے ۲۴،۲۵ سال اُن کی عمر تھی اور وہ دہلی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ مجھ سے ملنے کیلئے آئے اور کہنے لگے کہ خان بہادر راجہ پائندہ خاں جنجوعہ کو آپ اجازت دیں کہ وہ زمینداروں کے اُس وفد میں شامل ہوں جو ہماری طرف سے سرمانٹیگو کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ میں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری طرف سے بھی ہوں اور آپ کی طرف سے بھی۔ ممکن ہے آپ کے میمورنڈم میں کوئی ایسی باتیں ہوں جو ہمارے نزدیک درست نہ ہوں اور ہم اُن کے خلاف اپنے میمورنڈم میں اظہار خیالات کر چکے ہوں۔ وہ کہنے لگے پھر کیا کیا جائے اُن کا شامل ہونا نہایت ضروری ہے۔ میں نے کہا پھر ایک شرط ہے اپنا میمورنڈم لائیے تا کہ میں اُسے دیکھ لوں۔ اگر اس میں کوئی اختلافی بات ہوئی تو میں اُسے کاٹ دوں گا۔ پھر بے شک وہ آپ کی طرف سے بھی پیش ہو سکتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بات منظور کر لی۔ وہ میمورنڈم لائے اور میں نے اُس میں سے پانچ سات غلطیاں نکالیں جن کو اُنہوں نے تسلیم کیا اور اُن کی اصلاح کی۔ غرض اُس وقت اُن کی حیثیت بالکل طالب علمانہ تھی اور مجھ سے اِس طرح مشورہ لیتے تھے جس طرح شاگرد اپنے اُستاد سے مشورہ لیتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق جس کی سیاسی دنیا میں کوئی خاص شہرت نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خبریں دیں ایک تو یہ کہ وہ چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کو اپنے کسی کام کے لئے بلائیں گے اور دوسری یہ کہ وہ گورنمنٹ پنجاب میں وزارت کے عہدہ پر آ جائیں گے۔ اِن میں سے ایک خبر تو معاً اُنہی دنوں میں پوری ہو گئی اور دوسری خبر کچھ عرصہ کے بعد جا کر پوری ہوئی۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کی خبر
    (۸) آٹھویں خبر مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل
    کی وفات کے متعلق ملی۔ مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں سے آ رہا ہوں کہ راستہ میں مجھے کسی نے بتایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح وفات پا گئے ہیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جبکہ حضرت خلیفہ اوّل بیمار تھے۔ اُنہی ایام میں مجھے ایک ضروری کام کے لئے لاہور جانے کی ضرورت محسوس ہوئی مگر اِس رؤیا کی وجہ سے میں نے لاہور جانا ملتوی کر دیا اور میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ میں جانے سے اِس لئے ڈرتا ہوں کہ مجھے رؤیا میں گاڑی میں سوار ہونے کی حالت میں حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کی خبر ملی ہے ایسا نہ ہو کہ میں باہر جاؤں اور یہ واقعہ ہو جائے۔ پس میں نے اپنے سفر کو ملتوی کر دیا تاکہ یہ خواب کسی طرح ٹل جائے۔ مگر انسان خداتعالیٰ کے فیصلہ سے بچنے کی خواہ کس قدر کوشش کرے بعض دفعہ تقدیرپوری ہو کر رہتی ہے۔ آپ کی بیماری کے ایام میں آپ کے حکم کے ماتحت جمعہ بھی اور دوسری نمازیں بھی مَیں ہی پڑھایا کرتا تھا۔ ایک دن جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد اقصیٰ میں گیا اور نماز سے فارغ ہو کر تھوڑی دیر کے لئے مَیں اپنے گھر چلا گیا۔ اتنے میں خان محمد علی خان صاحب کا ایک ملازم میرے پاس اُن کا پیغام لے کر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور اُن کی گاڑی کھڑی ہے۔ چنانچہ میں اُن کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر اُن کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی ہم راستہ میں ہی تھے کہ ایک شخص دَوڑتا ہوا آیا اور اُس نے کہاکہ حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے ہیں ۔ اِس طرح وہ رؤیا پورا ہو گیا جو میں نے دیکھا تھا کہ میں گاڑی میں کہیں سے آ رہا ہوں کہ مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔ میں نے محض اِس لئے کہ یہ خواب ٹل جائے باہر جانے سے اپنے آپ کو روکا مگر خدا تعالیٰ نے قادیان میں ہی اِس کو پورا کر دیا۔
    دیوار گرائے جانے کی خبر
    (۹) پھر مَیں ابھی بچہ ہی تھا کہ ہمارے شرکاء نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شدید مخالف
    تھے، مسجد کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر کے اُس کا دروازہ بند کر دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کے لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اُوپر سے چکر کاٹ کر اور سخت تکلیف اُٹھا کر آتے۔ اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سب لوگوں کو دعا کرنے کے لئے کہااور مجھے بھی دعا کا ارشاد فرمایا۔ میری عمر اُس وقت پندرہ سال کی تھی میں نے دعا کی تو مجھے ایک رؤیا ہوا جس میںمَیں نے دیکھا کہ میںبڑی مسجد سے آ رہاہوں کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔ میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بھی تشریف لا رہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جا رہی ہے۔ خداتعالیٰ کی قدرت ہے پہلے ایک مقدمہ ہوا جس میں ناکامی ہوئی پھر دوسرا مقدمہ ہوا اور اُس میں ناکامی ہوئی آخر تیسرے مقدمہ میںکامیابی ہوئی اور عدالت نے دیوار گرائے جانے کا حکم دے دیا۔ مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اوّل اُس روز درس دے رہے تھے۔ جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔ مَیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ اوّل آ رہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جا رہی ہے۔ـ گویا جس طرح میں نے خواب میں نظارہ دیکھا تھا ویسا ہی وقوع میں آ گیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے یہ خواب حضرت خلیفہ اوّل کو سُنایا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ نے اُس وقت میری بات سُن کر فرمایا لو میاں تمہاری خواب پوری ہو گئی۔ یہ دیوار اُس مقام پر تھی جہاں آ جکل محاسب کا دفتر ہے۔
    ڈاکٹر مطلوب خان صاحب کے متعلق ایک حیرت انگیز رؤیا
    (۱۰) پھر پچھلی جنگ کا واقعہ ہے۔ ہم اُن دنوں حضرت اماں جان کے گھر تینوں بھائی کھانا کھایاکرتے تھے۔ اُس وقت ہمارا دستور یہ تھا
    کہ ہم ایک وقت کا کھانا اُن کے ہاں کھایا کرتے تاکہ اُن کا دل بہلا رہے ۔ جب ہم تینوں بھائی وہاں اکٹھے تھے تو میاں شریف احمد صاحب نے (جن سے ماسٹر محمد نذیر خاں صاحب نے یہ بات بیان کی تھی)ذکر کیا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے متعلق یہ اطلاع آئی ہے کہ وہ جنگ میں مارے گئے ہیں۔ اِس سے ایک ہفتہ پہلے ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کی والدہ اور اُن کے والد قادیان میں آئے تھے۔ میں نے گھر میں اُن کی والدہ کو دیکھا تھا اور باہر جبکہ میں ایک خطبۂ نکاح پڑھا رہا تھا، مَیں نے اُن کے والد کو دیکھا تھاوہ اُس وقت میرے سامنے ہی بیٹھے تھے اور اُس وقت اتنے کمزور اور منحنی تھے کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب تو بتاتے ہیں کہ اُن کی عمر اُس وقت پینسٹھ سال تھی مگر مجھے وہ پچھتر سال کے نظر آتے تھے اور بہت ہی ضعیف ہو چکے تھے۔ سات آٹھ دن کے بعد جب میں نے سُنا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب فوت ہو گئے ہیں تو مجھے یہ خبر سُن کر شدید صدمہ ہوا۔ مجھے اُس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے علاوہ اُن کے اور بھی لڑکے ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ اُن کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ بہرحال مَیں نے جب اِس خبر کو سُنا تو مجھے بہت تکلیف ہوئی کہ اِس عمر میں اکلوتے بچے کی وفات کا اُنہیں بہت ہی صدمہ ہوا ہو گا۔ چنانچہ میں کھانا تو کھاتا جاؤں مگر بار بار دل سے دعا نکلے کہ خدایا! وہ زندہ ہی ہوں۔ پھر میں اپنے دل کو سمجھاؤں کہ کیا مُردے بھی کبھی زندہ ہو سکتے ہیں۔ مگر باوجود اِس علم کے کہ مُردے زندہ نہیں ہو سکتے، دل سے بار بار یہی دعا اُٹھے کہ خدایا! وہ زندہ ہی ہوں۔ یہی کیفیت مجھ پر طاری رہی۔ رات کو جب میں سویا تو میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا ہے اور وہ آ کر کہتا ہے کہ ڈاکٹر مطلوب خاں چند دن فوت رہنے کے بعدزندہ ہو گئے ہیں۔ دوسرے دن پھر میں نے اسی مجلس میں ذکر کیا کہ ہمارے نزدیک تو مُردہ زندہ نہیں ہو سکتا مگر ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو گئے ہیں۔ معلوم نہیں اِس خواب کا کیا مطلب ہے، حالانکہ اُن کے متعلق تو اطلاع بھی آ چکی ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔ ماسٹر محمد نذیر خاں صاحب کو یہ خبر مرزا معظم بیگ صاحب نے بتائی تھی جو آجکل گلگت میں قونصل خانہ کے ہیڈ کلرک ہیں اور اُن دنوں وہ بغداد میں تھے اور بصرہ کے راستے واپس ہندوستان آئے تھے انہیں بصرہ ہسپتال سے معلوم ہوا تھا کہ ڈاکٹر مطلوب خان صاحب مارے گئے ہیں اور انہوں نے ہی ماسٹر نذیر خاں صاحب کو اِس کی اطلاع دی۔ ماسٹر صاحب نے میاں بشیر احمد صاحب یا میاں شریف احمد صاحب سے اِس کاذکر کیا اور اُنہوں نے یہ بات میرے آگے بیان کی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی تھی کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب چند دن کے بعد پھر زندہ ہو گئے ہیں اِس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان کئے کہ بعد میں گورنمنٹ کی طرف سے اطلاع آ گئی کہ ڈاکٹر مطلوب خان صاحب کی موت کی خبر غلط ہے، وہ زندہ ہی ہیں۔ چونکہ اُنہیںعرب لوگ قید کر کے لے گئے تھے اور اِس پارٹی کے قریباً تمام آدمیوں کو عربوں نے قتل کر دیا تھا، اِس لئے اُن کو بھی مردہ سمجھ لیا گیا تھا ورنہ دراصل وہ زندہ تھے۔
    پہلے میری سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ اُن کی موت کی خبر کس طرح مشہور ہو گئی مگر اترسوں ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کو بُلا کر میں نے اُن سے تفصیلی حالات پوچھے تو مجھے اِس حقیقت کا علم ہوا۔ اُنہوں نے بتایا کہ ۱۹۲۰ء میں جب عراق میں بغاوت ہوئی تو مجھے ناصریہ سے جہازوں کے ایک قافلہ کے ہمراہ دریائے فرات کی طرف روانہ کیا گیا تاکہ ایک فوجی جہاز ’’گرین فلائی‘‘ جو دریائے فرات کے کنارہ پر ریت میں پھنس گیا تھا اور ایک ماہ سے اُس کے آدمی بغیر راشن کے تھے اُن کو ضروری راشن اور روپیہ وغیرہ دیا جائے اور اگر ہو سکے تو جہاز کو بھی کھینچ کر نکالا جائے۔ اِسی طرح سماوہ میں ایک انگریزی فوج گھری ہوئی تھی اِس کو بھی راشن، روپیہ اور گولہ بارود پہنچانا ہمارا کام تھا۔ وہ کہتے ہیں راستہ میں عربوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے جہاز کے چند آدمی خطرناک طور پر زخمی ہو گئے۔ اُن کو مرہم پٹی کرتے وقت میرا جسم بھی خون سے لتھڑ گیا بلکہ کارتوسوں کے کچھ چھرّے میرے جسم پر بھی لگے جن سے خون جاری ہو گیا۔ دوسرے جہاز جو ساتھ آئے تھے وہ بھی اِس جہاز کو چھوڑ کر آگے نکل گئے۔ عربوں نے جب دیکھا کہ یہ جہاز اکیلا کنارے پر رہ گیا ہے تو وہ اپنے مورچوں سے باہر نکل آئے اور پھر تختۂ جہاز پر چڑھ کر لُوٹ مچا دی۔ کسی کو خنجر سے مارا، کسی کو گولی سے اور کسی کو تلوار سے اور جس قدر سامان تھا سب لُوٹ لیا۔
    ڈاکٹر مطلوب خاں کہتے ہیں مَیں نے ایک عرب کی جو ایک گاؤں کا شیخ تھا، پناہ لی اور آخر جہاز سے اُنہوں نے مجھے نکالا اور قید کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ چونکہ جہاز میںزخمیوں کی مرہم پٹی کرتے وقت اور کچھ گولیوں کی بوچھاڑ کی وجہ سے ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کا جسم سر سے پَیر تک لہولہان ہو گیا تھا اِس لئے ایک جمعدار نے جو وہاں سے بھاگ نکلا تھا اور زخمی ہو کر بصرہ ہسپتال میںاپنے علاج کے لئے داخل ہوا تھا، اُس سے ہسپتال کے ڈاکٹر نے پوچھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں کا کیا حال ہوا؟ تو اُس نے بتایا کہ وہ سخت زخمی تھے اور غالباً مارے گئے ہیں۔ اُس نے چونکہ اُن کو خون میں لتھڑا ہوا دیکھا تھا، اس لئے کچھ بات اپنے پاس سے ملا کر کہہ دیا کہ وہ غالباً مر چکے ہیں۔ اُس ڈاکٹر نے اپنے ایک دوست کو جو دھرم سالہ چھاؤنی ہسپتال میں کام کرتا تھا، اطلاع دی کہ ڈاکٹر مطلوب خاںصاحب کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ مار ے گئے ہیں۔ دھرم سالہ میں ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے ماموں اور اُن کے سُسرال تھے۔ـ انہیں اُس ڈاکٹر سے اس بات کاعلم ہوا اور پھر رفتہ رفتہ یہ بات قادیان میں مجھ تک پہنچ گئی۔ اُن کے والد صاحب نے گورنمنٹ کو لکھا تھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں کے بارہ میں کیا اطلاع ہے۔ گورنمنٹ نے جواب دیا کہ اُن کی موت کی خبر مصدقہ نہیں وہ مسنگ لِسٹ (MISSING LIST) پر ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہوائی جہاز اِس علاقہ میں گئے جہاں وہ قید تھے اور اُنہوں نے اوپر سے بمباری کی۔ ساتھ ہی انگریزی فوج کی کمک بھی پہنچ گئی اور وہاں دو دن تک سخت مقابلہ ہوا۔ تیسرے دن برطانیہ کو فتح ہوئی۔ اُس وقت ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، میں نے عرب شیخ سے کہا کہ اَب وہ مجھے چھوڑ دے۔ اُس نے کہا دو تین دن تک ٹھہرو میں تمہیں گھوڑے پر سوار کر کے بھیجوں گا۔ مگر میں نے کہا کہ مجھے پیدل چلنے میں کوئی تکلیف نہیں۔ آخر اُس نے ایک شخص کے ہمراہ بہت خاطر مدارات کے ساتھ انہیں واپس کیا اور اِس طرح ایک مُردہ خداتعالیٰ کے فضل سے زندہ ہو گیا۔
    اَب دیکھو ایک شخص کے متعلق خبر آتی ہے کہ وہ مارا گیا ہے۔ گورنمنٹ بھی شک میں پڑی ہوئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ ہم نے اس کا نام مسنگ لسٹ میں رکھا ہوا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ مگر خداتعالیٰ بتاتا ہے کہ وہ چند دنوں کے بعد زندہ ہو جائے گا۔ـ چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ کچھ عرصہ کے بعد وہاں ہوائی جہاز پہنچتے ہیں، وہ بمباری کرتے ہیں اور اِس طرح انہیں آزاد ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ خداتعالیٰ کی قدرت اور اُس کی طاقت کا کیسا زندہ نشان ہے اور کس طرح اُس نے ایک مُردہ کو زندہ کر کے دکھا دیا۔
    انگلستان پر جرمنی کے حملہ اور انگریزی اور فرانسیسی حکومتوں کے الحاق کی خبر
    (۱۱) پھر انگلستان اور جرمنی کی ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ مَیں نے دھرم سالہ میں جہاں میں اُن دنوں
    تبدیل آب و ہوا کے لئے مقیم تھا رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوں اور میرا منہ مشرق کی طرف ہے کہ ایک فرشتہ آیا اور اُس نے جیساکہ سرشتہ دار ہوتے ہیں بعض کاغذات میرے سامنے پیش کرنے شروع کر دیئے۔ وہ کاغذات انگلستان اور فرانس کی باہمی خط و کتابت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ مختلف ڈاکیومنٹس(DOCUMENTS) کے بعدایک ڈاکیو منٹ میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے اُسے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک چٹھی ہے جو انگریزی حکومت کی طرف سے فرانسیسی حکومت کو لکھی گئی ہے اور اُس کا مضمون یہ ہے کہ ہمارا ملک سخت خطرہ میں گھِر گیا ہے۔جرمنی اُس پر حملہ آور ہونے والا ہے اور قریب ہے کہ اُسے مغلوب کر لے۔ اِس لئے ہم آپ سے خواہش کرتے ہیں کہ انگریزی اور فرانسیسی دونوں حکومتوں کا اِلحاق کر دیا جائے، دونوںایک نظام کے ماتحت آ جائیں اور دونوں کو آپس میں اِس طرح ملا دیا جائے کہ دونوں کے شہریت کے حقوق یکساں ہوں۔ یہ چٹھی پڑھ کر خواب میں مَیں سخت گھبرا گیا اور قریب تھاکہ اِسی گھبراہٹ میں میری آنکھ کُھل جاتی کہ یکدم مجھے آواز آئی کہ یہ چھ ماہ پہلے کی بات ہے یعنی اِس حالت کے چھ ماہ بعد حالات بالکل بدل جائیں گے اور انگلستان کی خطرہ کی حالت جاتی رہے گی۔ یہ رؤیا میں نے اُنہی دنوں بعض دوستوں کو سُنا دیا تھا۔ جب مَیں نے یہ رؤیا دیکھا اُس وقت لوگوں کو ابھی جنگ کے شروع ہونے کا بھی یقین نہیں آتا تھا۔ لوگ عام طور پر کہتے تھے کہ ہٹلر ڈراوے دے رہا ہے۔ یہ رؤیا دھرم سالہ میں جو لائی ۱۹۳۹ء کے آخر یا اگست کے شروع میں مَیں نے دیکھا تھا۔ اِس کے بعد ستمبر ۱۹۳۹ء میں جنگ شروع ہوئی اور وہ بھی ایسے رنگ میں کہ مارچ تک کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہٹلر غالب آ جائے گا۔ بِالعموم یہ خیال کیا جاتا تھا کہ برابر کی ٹکر ہے۔ مارچ کے آخر تک یہی حالت رہی مگر اِس کے بعد جرمنی نے نہایت شدت سے حملہ کیا اور ڈنمارک، ناروے، ہالینڈ اور بیلجیئم پر قبضہ کر لیا۔ پھر وہ فرانس کی طرف بڑھا اور اُس پر بھی شدید حملہ کیا۔ جب فرانس گِرنے لگا تو اُس وقت برطانیہ نے خیال کہ اگر فرانس صلح نہ کرے تو کچھ نہ کچھ مزاحمت اِس کی طرف سے جاری رہے گی۔اُس کے جہاز بھی لڑتے رہیں گے اور اُس کی نوآبادیاں بھی جنگ کو کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھیں گی لیکن اگر وہ صلح کر لے تو اُس کے جہاز بھی جرمنی کو مل جائیں گے نوآبادیاں بھی اُسے مل جائیں گی اور اس صورت میں جرمنی کے حملے کا سارا زور ہم پر آپڑے گا۔ چنانچہ اِس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ برطانیہ نے وہ کام کیا جس کی نظیر جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک نہیں ملتی۔ یعنی اُس نے ۱۷؍ جون ۱۹۴۰ء کو فرانسیسی حکومت کو تار دیا کہ دونوں مُلکوں کی حکومت ایک کر دی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے اِلحاق کر دیا جائے۔ حکومت ایک ہو، پارلیمنٹیں بھی ملا دی جائیں اور خوراک کے ذخائر اور خزانہ کو بھی ایک ہی سمجھا جائے۔ ۳۹؎
    میں دنیا کے تمام تاریخ دانوں کو موقع دیتا ہوں کہ وہ دنیا کی تاریخ پر غور کریں اور اِس قسم کی کوئی ایک مثال ہی پیش کریں کہ دو زبردست طاقتوں میں سے ایک نے دوسری کے سامنے یہ تجویز رکھی ہو کہ دونوں حکومتوں کو ایک بنا دیا جائے۔ یہ وہ واقعہ ہے جس کی آدم سے لیکر اَب تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور جس کی ایک بھی مثال دنیا کی ہزاروں سال کی تاریخ میں نہ ملتی ہو اُسے یقینا انسانی دماغ نہیں بنا سکتا۔ اُس وقت انگریزوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ مسٹر چرچل نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا اَب وہ دن آ گیا ہے کہ ہماری قوم پر جرمن حملہ آور ہوں۔ ہم سمندر کے کناروں پر جرمنوں کا مقابلہ کریں گے اور اگر سمندر کے کناروں پر مقابلہ نہ ہو سکا اور وہ اندر داخل ہو گئے تو ہم اپنے شہر میں اُن کا مقابلہ کریں گے۔ ہم لندن کی گلیوں میں اُن کا مقابلہ کریں گے اور اگر پھر بھی ہم دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ ہمارے ملک پر قابض ہو گیا تو ہم کینیڈاچلے جائیںگے اور وہاں سے اُس کا مقابلہ کریں گے۔ گویا برطانیہ کا وزیراعظم بھی اِس بات کا امکان سمجھتا تھا کہ جرمن ساحلِ انگلستان پر حملہ کرے گا اور اِس میں کامیاب ہو جائے گا۔ پھر لندن پر حملہ کرے گا اور اِس میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اِس بات کا بھی امکان سمجھتے تھے کہ حکومت لندن سے بھاگ جائے اور کینیڈا چلی جائے۔ مگر ایسی حالت میں خداتعالیٰ نے مجھے دوسری خبر یہ دی کہ یہ چھ مہینے پہلے کی بات ہے یعنی چھ ماہ کے بعدانگریزوں کی حالت بدل جائے گی۔ اُس وقت چوہدری ظفراللہ خاں صاحب سے جیسا کہ اُنہوں نے بعد میں سنایا وائسرائے نے یا کسی اور نے ایک دفعہ پوچھا کہ ظفراللہ خاں! تم اِس جنگ کا کیا نتیجہ سمجھتے ہو؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے امام نے خواب دیکھا ہوا ہے کہ چھ ماہ کے بعد یہ حالات بدل جائیں گے اِس لئے میں تو یقین رکھتا ہوںکہ چھ ماہ تک یہ خطرہ کی حالت دُور ہو جائے گی۔ـ چنانچہ عین چھ ماہ کے بعد ۱۵؍دسمبر کو اٹلی کو پہلی شکست ہوئی اور انگریزوں کی حالت میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو گئی اور ۱۹؍ دسمبر ۱۹۴۰ء کو پرائم منسٹر نے ہاؤس آف کامنز میں اعلان کیا کہ
    ’’اَب ہم پہلے سے محفوظ ہو گئے ہیں اور ہم نے ایک ایسی حالت سے ترقی کی ہے جبکہ ہمارے بہترین دوست بھی اِس بات سے مایوس ہو چکے تھے کہ ہم مقابلہ جاری رکھ سکیں گے۔‘‘ ۴۰؎
    یہ دو دھاری تلوار تھی جو مجھے عطا کی گئی کہ ایک رؤیا کے ذریعہ دو خبریں دی گئیں۔ ایک خبر تو ایسی دی گئی کہ جس کی دنیا کی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی اور دوسری خبر یہ دی گئی کہ چھ ماہ کے بعد یہ خطرہ کی حالت جاتی رہے گی۔ چنانچہ ٹھیک چھ ماہ کے بعدحالات میں تبدیلی رونماہوئی اور مسٹر الیگزینڈر جو انگریزوں کے وزیر بحری تھے،انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جون جولائی میں (جب حکومت برطانیہ نے حکومتِ فرانس کو تار دیاتھا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کر دی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے اِلحاق ہو جانا چاہئے) ہر وہ شخص جو جنگی فنون سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہم پھر امن میں آجائیں گے۔ اگر کوئی ایسی بات کہتا تو یا تو میںاُسے سیاست سے بالکل نابلد اور ناواقف کہتا اور یا میں اُسے احمق اور پاگل خیال کرتا۔ گویا انگریزوں کی حالت اِتنی ناز ک اور خراب تھی کہ اُن کے نزدیک اِس قسم کا خیال کرنا بھی کہ اُن کی حالت چھ ماہ تک بدل جائے گی، احمقانہ اور مجنونانہ خیال تھا۔ مگر جبکہ حکومت کے بڑے بڑے مدبریہ کہہ رہے تھے کہ انگریز خطرہ میں گھِر گئے ہیں، اَب اُن کے لئے سِوائے اِس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ کینیڈا چلے جائیں اور مقابلہ جاری رکھیں، خدا نے مجھے خبر دی کہ ۱۵دسمبر تک یہ حالات بدل جائیں گے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ عین ۱۵ دسمبر کو حالات نے یکدم پلٹا کھایا اور انگریزوں کے قدم مضبوط ہو گئے۔
    انگلستان کو امریکہ سے اٹھائیس سَو ہوائی جہاز بھجوائے جانے کی خبر
    (۱۲) ایک اور خبر جو اللہ تعالیٰ نے مجھے اِس جنگ کے متعلق بتائی اور نہایت ہی عجیب رنگ میں پوری ہوئی، وہ یہ ہے کہ میں نے
    ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میں انگلستان گیا ہوں اور انگریزی گورنمنٹ مجھ سے کہتی ہے کہ آپ ہمارے ملک کی حفاظت کریں۔ مَیں نے اُس سے کہاکہ پہلے مجھے اپنے ذخائر کا جائزہ لینے دو، پھر میں بتا سکوں گا کہ مَیں تمہارے مُلک کی حفاظت کاکام سرانجام دے سکتا ہوں یا نہیں۔ اِس پر حکومت نے مجھے اپنے تمام جنگی محکمے دکھائے اور میں اُن کو دیکھتا چلا گیا۔آ خر میںمَیں نے کہاکہ صرف ہوائی جہازوں کی کمی ہے۔ اگر مجھے ہوائی جہاز مل جائیں تو میں انگلستان کی حفاظت کا کام کر سکتاہوں۔ جب میں نے یہ کہا تو معاً میں نے دیکھا کہ امریکہ کی طرف سے ایک تار آیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ:-
    ‏ The American Government has delivered 2800 aeroplanes to the British Government.
    یعنی امریکن گورنمنٹ نے دو ہزار آٹھ سَو ہوائی جہاز برطانوی گورنمنٹ کو دیئے ہیں۔ اِس کے بعد میری آنکھ کُھل گئی۔
    یہ رؤیا میں نے چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کو بتا دیا تھا اور اُنہوں نے آگے اپنی کئی انگریزدوستوں سے اِس کا ذکر کر دیا۔ یہاں تک کہ سر کلوجو اُس وقت ریلوے کے وزیر تھے اور بعد میں آسام کے گورنر مقرر ہوئے، اُن کو بھی چوہدری صاحب نے یہ رؤیا بتا دیا تھا۔ اِ س رؤیا کے چھ ہفتہ کے بعد ایک دن عصر کی نماز کے بعد مَیں مسجد مبارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک ضروری فون آیا ہے میں گیا اور امرتسر والوں سے مَیں نے پوچھا کہ مجھے کون بُلا رہا ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ شملہ یا دہلی سے کوئی دوست بات کرنا چاہتے ہیں۔ تھوڑی دیر گزری تو چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کی آواز آئی۔ اُن کا پہلا فقرہ یہ تھا کہ کیا آپ نے وہ خبر پڑھ لی ہے اور دوسرا فقرہ یہ تھا کہ مبارک ہو آپ کی خوا ب پوری ہو گئی۔ میں نے کہا کیا بات ہے۔ وہ کہنے لگے ابھی ابھی وہ تار آیا ہے جو برطانوی نمائندہ نے امریکہ سے انگریزی حکومت کو بھجوایا ہے اور وہ میرے سامنے پڑا ہوا ہے۔ اِس کے الفاظ یہ ہیں:۔
    ‏ The American Government has delivered 2800 aeroplanes to the British Government.
    یعنی امریکن گورنمنٹ نے دو ہزار آٹھ سَو ہوائی جہاز برطانوی حکومت کو بھجوائے ہیں۔ پھر چوہدری صاحب کہنے لگے میں نے اُسی وقت اُن تمام لوگوں کو فون کیا ہے جن کو میں پہلے سے یہ خبر بتا چکا ہوں کہ دیکھو! امام جماعت احمدیہ نے جو خواب دیکھی اور جو میں نے تمہیں قبل از وقت بتا دی تھی، کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ چونکہ اُنہوں نے سرکلو سے بھی اِس رؤیا کا ذکر کیا ہوا تھا، انہوں نے سرکلو کو بھی فون کیا کہ کیا آج کا تار تم نے پڑھا ہے؟ـ وہ کہنے لگا میں نے ابھی نہیں پڑھا۔ چوہدری صاحب نے کہا پڑھو۔ اُس نے پڑھا تو کہنے لگا ظفراللہ خاں! تار تو آیا ہے مگر جہازوں کی جتنی تعداد تم نے بتائی تھی اُتنی تعداد کا تو اِس میں ذکر نہیں۔ چوہدری صاحب نے کہاتمہیں کیا یاد ہے؟ وہ کہنے لگا تم نے تو ۲۸ سَو ہوائی جہازوں کا ذکر کیا تھا اور تار میں پچیس سَو لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے اُس نے جلدی میںاٹھائیس سَو کو پچیس سَو پڑھ لیا۔ چوہدری صاحب کہنے لگے تار کو پھر پڑھو۔ اُس نے دوبارہ تار پڑھی تو کہنے لگا اوہو! اِس میں تو اٹھائیس سَو ہوائی جہازوں کا ہی ذکر ہے۔
    اَب دیکھو چھ ہفتے پہلے خداتعالیٰ نے یہ کیسی عظیم الشان خبر مجھے دی جو اُسی شکل میں پوری ہوئی جس شکل میں مجھے بتائی گئی تھی۔ گورنمنٹ کے بڑے بڑے ذمہ دار افسر دو چار دن پہلے تک یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ امریکہ ۲۸ سَو ہوائی جہاز بھجوائے گا۔ مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے چھ ہفتے پہلے بتا دیا کہ تار آئے گا، تار امریکن گورنمنٹ کی طرف سے آئے گا اور تار کا مضمون یہ ہو گا کہ امریکہ ۲۸سَو ہوائی جہاز برطانیہ کے لئے بھجوائے رہا ہے۔ گویا تار بتا دیا، تار کا مضمون بتا دیا، یہ بتا دیا کہ تار کس کی طرف سے آئے گا، یہ بتا دیا کہ چیز کیا ہے اور پھر یہ بتا دیا کہ اِس چیز کی تعداد کیا ہے۔
    حکومتِ امریکہ کے جنگ میں شامل ہونے کی خبر
    (۱۳) پھر ۱۹۴۰ء میں مَیں نے رؤیا بیان کیا تھا کہ میں نے دیکھا ہمارے باغ اور قادیان کے درمیان جو تالاب ہے اُس میں قوموں کی لڑائی ہو رہی ہے مگر
    بظاہر چند آدمی رسہ کشی کرتے نظر آتے ہیں اور کوئی شخص کہتاہے کہ اگر یہ جنگ یونان تک پہنچ گئی تو یکدم حالات میں تغیر پیدا ہو جائے گا اور جنگ بہت اہم ہو جائے گی۔ اِس کے بعد میں نے دیکھا کہ اعلان ہوا ہے کہ امریکہ کی فوج ملک میں داخل ہو گئی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ کی فوج بعض علاقوں میں پھیل گئی ہے مگر وہ انگریزی حلقۂ اثر میں آنے جانے میںکوئی رُکاوٹ نہیںڈالتی۔
    یہ رؤیا ۱۹۴۰ء کے شروع میں مَیں نے اُس وقت دیکھا تھا جب کسی کے وہم اور گمان میں بھی یہ بات نہیں آتی تھی کہ امریکن گورنمنٹ اِس لڑائی میں شامل ہو جائے گی۔ مگر پھر ایسے حالات بدلے کہ امریکہ کو اِس جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ یہاں تک کہ امریکن فوجیں ہندوستان میں آ گئیں چنانچہ اَب کراچی اور بمبئی میں جگہ جگہ امریکن سپاہی دیکھے جاسکتے ہیں۔
    بیلجیئم کے بادشاہ کے معزول ہونے کی خبر
    (۱۴) پھر ۲۶مئی۱۹۴۰ء کو ہزاروں لوگوں کے مجمع میں مَیں نے اپنے ایک کشف کا ذکر کیا تھا جو تین دن کے اندر اندر پورا ہوگیا۔ میں ۲۵؍مئی کو کراچی کے سفر سے واپس
    آ رہا تھا کہ میں نے کشفی حالت میں دیکھا ایک میدان ہے جس میں اندھیرا سا ہے اور اُس میں ایک شخص سیاہی مائل سبز سی وردی پہنے کھڑا ہے جس کے متعلق مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بادشاہ ہے۔ـ پھر الہام ہوا ’’ایب ڈی کیٹڈ‘‘(ABDICATED) میں نے اپنے اِس کشف کا ذکر ۲۶؍مئی کو ایک بہت بڑے مجمع میں کر دیا تھا جبکہ لوگ حکومت برطانیہ کی کامیابی کے متعلق دعا کرنے کے لئے جمع تھے اور میں نے اِس کی تعبیر یہ کی تھی کہ کوئی بادشاہ اِس جنگ میں معزول کیا جائے گا یا کسی معزول شدہ بادشاہ کے ذریعہ کوئی تغیر واقعہ ہو گا۔ـ چنانچہ اِس الہام پر ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ خداتعالیٰ نے بیلجیئم کے بادشاہ لیو پولڈ کو ناگہانی طور پر معزول کر دیا۔ ایب ڈی کیٹڈ کے لغت کے لحاظ سے یہ معنی کہ کوئی ایسا شخص جو اپنے اختیارات کو چھوڑ دے BY DENOUNCEMENT کسی اعلان کے ذریعہ سے OR DEFAULT یا عملاً اپنے فرائض منصبی کو ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے۔ گویا یا تو وہ خود کہہ رہے ہیں کہ مَیں بادشاہت سے الگ ہوتا ہوں یا ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ وہ بادشاہت کے فرائض کو ادا نہ کر سکے۔ بعینہٖ یہی الفاظ بیلجیئمگورنمنٹ نے استعمال کئے اور اُس نے کہا کہ ہمارا بادشاہ جرمن قوم کے ہاتھ میں ہے اور اَب وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کر سکتا۔ پس اَب بیلجیئمکی قانونی گورنمنٹ ہم ہیں نہ کہ لیوپولڈ۔ اِس لئے بیلجیئم کے لوگوں کو لیو پولڈ کی بات نہیں ماننی چاہئے بلکہ ہماری بات ماننی چاہئے۔ تم غور کرو یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے جو خداتعالیٰ نے دکھایا۔ تین دن پہلے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ خبر دی اور منگل کی رات کو بغیر اِس کے کہ کسی اور کو علم ہو بیلجیئم کے بادشاہ نے اپنے آپ کو جرمنوں کے سپرد کر دیااور وہ معزول ہوگیا۔ یہ وہ خبر تھی جو ہزاروں آدمیوں کی مجلس میں مَیں نے قبل ازوقت سُنا دی تھی۔
    لیبیا کے محاذ پر انگریزی فوجیوں کی کامیابی کی خبر
    (۱۵) پھر ستمبر ۱۹۴۰ء کی بات ہے۔ مَیں چند
    دنوں کے لئے شملہ گیا اور وہاں چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کے مکان پر ٹھہرا۔غالباً ۲۰دسمبر کے دو چار دن بعد کی کوئی تاریخ تھی کہ میں نے رات کو رئویا میں دیکھاکہ میں مصر میں ہوں اور لیبیا کے محاذ پر دشمن کی فوجوں اور انگریزی فوجوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ اُس وقت لڑائی کا میدان مجھے اِس شکل میں دکھایا گیا کہ گویا انگریزی علاقہ ایک ہال کی طرح ہے۔ اُس ہال میں ایک طرف سے سیڑھیاں اُترتی ہیں۔ چوڑی چوڑی سیڑھیاں کچھ دُور تک سیدھی جاکر پھر ایک طرف کو مُڑ جاتی ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس ہال میں آنے کا راستہ ہے۔ میں نے دیکھا کہ انگریزی فوج دشمن کے دبائو کو برداشت نہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹتی ہے۔ وہ بڑی بہادری سے لڑتی ہے مگر دشمن کا زور اتنا زیادہ ہے کہ وہ اُس کا مقابلہ نہیں کرسکتی رائفلیں دونوں فریق کے ہاتھ میں ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر BAYONET CHARGE کرتی ہیں۔میں نے دیکھا کہ پہلے تو انگریزی فوجیں سیڑھیوں کے دوسرے سِرے پر دشمن سے لڑ رہی ہیں مگر آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر سے اُترنا شروع ہوگئیں۔ دشمن اُس کے پیچھے پیچھے آتا جاتا ہے یہاں تک کہ سیڑھیاں ختم ہوگئیں اور انگریزی فوجیں ہال میں اُتر آئیں دشمن کی فوج بھی اُن کے پیچھے اُترنا شروع ہوگئی۔ اِس نظارہ کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ انگریزی فوج کمزور حالت میں ہے اور میں اپنے دل میں جوش محسوس کرتا ہوں کہ اُن کی مدد کروں۔ اِس خیال کے آنے پر میں تیزی سے گھر کی طرف آتا ہوں اور گھر پہنچ کر میاں بشیر احمد صاحب کی تلاش کرتا ہوں وہ مجھے ملے تو میں نے اُن سے کہا ہم فوج میں تو داخل نہیں ہو سکتے مگر ہمارے پاس رائفلیں اور بندوقیں ہیںوہی لے کر ہم اپنے طور پر دشمن پر حملہ کر دیں یہ کہہ کر میں اُن کو ساتھ لے کر گیا ہوں۔ خواب کا نظارہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ اُس وقت گو لڑائی ہال میں ہو رہی ہے مگر ہم باہر کھڑے ہو کر اندر کا تمام نظارہ دیکھ رہے ہیں اور ہال کی دیواریں اِس نظارہ میں روک نہیں بنتیں۔ وہاںایک جھاڑی دیکھ کر مَیں لیٹ گیا یا دوزانو ہو گیا اور میں نے کچھ فائر کئے ۔ یہ یاد نہیں کہ میاں بشیر احمد صاحب نے بھی کوئی فائر کیا ہے یا نہیں۔ بہرحال میں نے دیکھا کہ اِن فائروں کے بعد انگریزی فوج اٹلی والوں کو دبانے لگی اور اُنہوں نے پھر اُنہی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا جن پر سے وہ اُتری تھی۔ دشمن کی فوج پیچھے ہٹتے ہوئے نہایت سختی سے مقابلہ کرتی ہے مگر پھر بھی انگریزی فوج اُسے دباتے ہوئے سیڑھیوں تک لے گئی اور پھر اُسے ہٹاتی ہوئی دوسرے سِرے تک چڑھ گئی۔ جب میں نے یہ نظارہ دیکھاتو اُس وقت مجھے آواز آئی کہ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے۔ گویا دو تین دفعہ دشمن اِسی طرح انگریزی فوج کو دبا کر لے آیا ہے اور پھر انگریزی فوج اُسے دباتی ہوئی اپنے علاقہ سے باہر لے گئی ہے۔
    یہ وہ وقت تھا جب لیبیا میں انگریزی فوج نے کوئی پیش قدمی نہیں کی تھی۔اٹلی کی فوجیں مصر میں تھوڑا ساآگے بڑھ آئی تھیں اور دونوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔ دوسرے دن میں نے یہ رؤیا چوہدری ظفراللہ خاں صاحب کو سُنایا۔ وہ اُس وقت وائسرائے کی کونسل کے اجلاس میں شامل ہونے کے لئے جا رہے تھے۔ جب واپس آئے تو اُنہوں نے کہاکہ میں نے آپ کے اِس رؤیا کا علاوہ اور لوگوں کے ہِزایکسی لنسی وائسرائے کے پرائیوٹ سیکرٹری سرلیتھویٹ سے بھی ذکر کیا تھا اور اُنہوں نے اِس کو سُن کر بہت تعجب کیا۔ اگلے دن اُنہوں نے چوہدری صاحب کے ہاں چائے پر آنا تھا۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ انہوں نے خواہش کی تھی کہ میں یہ رؤیا خود اُن کی زبان سے بھی سُننا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اُن کی خواہش پر مَیں نے اُن سے یہ مکمل رؤیا بیان کر دیا اور جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اِس جنگ میں ایسا ہی دد تین بار ہوا۔ پہلے ۱۹۴۰ء کے شروع میں اطالوی فوجیں آگے بڑھیں اور اُنہوں نے انگریزی فوجوں کو پیچھے ہٹا دیا۔ لیکن ۱۹۴۰ء کے آخر میں پھر انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اور اطالوی فوجیں شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئیں۔ ۱۹۴۱ء میں دشمن پھر آگے بڑھا اور انگریزی فوجوں کو دھکیلتا ہوا مصر کی سرحد پر لے آیااور ۱۹۴۱ء کے آخر میں انگریز پھر بڑھے اور دشمن کی فوجوں کو شکست دیتے ہوئے کئی سَو میل تک لے گئے۔ جون ۱۹۴۲ء میں پھر دشمن کی فوجیں انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سرحد پر لے آئیں اور ایسا شدید حملہ کیا کہ العالمینؔ ۲۹؎کے مقام پر انگریزوں کی حالت ایسی نازک ہو گئی کہ اُن کا بچنا مشکل نظر آتا تھا۔ مسٹر چرچل خود اِس محاذ پر پہنچے اور انگریز مدبرین کو سخت فکر لاحق ہوگیا۔ مگر اُس وقت جب انگریز یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم اَب شکست کھا جائیں گے، العالمین کی جنگ سے چند دن پہلے میںنے اپنے خطبہ میں اعلان کیاکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اِس قسم کا رؤیا دکھایا ہوا ہے اِس کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ آخری حملہ میں انگریزوں کو ہی کامیابی ہو گی۔ـ چنانچہ چند دن کے اندر اندر العالمین کے مقام پر دشمن کو اللہ تعالیٰ نے ایسے رنگ میں شکست دی کہ خود انگریز حیران رہ گئے کہ حالات میں یکدم یہ کیسا غیر متوقع تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ العالمین کے مقام پر انگریزوںکی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اِس بات کا شدید خطرہ محسوس کیا جا رہاتھا کہ انگریز اِس مقابلہ میں رہ جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک دن دشمن فوجوں نے انگریزی صفیں توڑ ڈالیں اور وہ اپنے ٹینک اور فوجی آگے لے آئے۔ قریب تھا کہ انگریز بالکل شکست کھا جاتے کہ انگریزی فوج کا ایک تازہ دم دستہ جو مدد کے لئے آیا تھاوہ آگے بڑھااور اُس سے کچھ مُڈبھیڑ ہوئی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی لڑائی ہوئی تھی کہ یکدم مخالف فوج کے ٹینک پیچھے ہٹ گئے اور باقی سپاہیوں نے مقابلہ کرنا بند کر دیا۔ جب انگریزی فوج کے سپاہی اُن کے پاس پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اُن کی زبانیں لٹکی ہوئی ہیں، حلق خشک ہیں اور ایسی بُری حالت میں ہیں کہ ایک منٹ کے مقابلہ کی بھی وہ اپنے اندر تاب نہیں رکھتے۔
    واقعہ یہ بتایا جاتا ہے کہ جب دشمن کی فوج انگریزی صفوں کو توڑ کر آگے بڑھی تو اُس نے ایک پمپ پر قبضہ کر لیا۔ لیکن چونکہ خدا نے اُس کو شکست دینی تھی اِس لئے ایسا اتفاق ہوا کہ انگریز افسروں نے پمپ کا تجربہ کرنے کیلئے اُس میں سمندر کا نمکین پانی چھوڑا ہوا تھا کیونکہ میٹھا پانی قیمتی ہوتا ہے اور اُسے تجربوں پر ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ دشمن فوج کو اِس کا علم نہیں تھا جب اس کے سپاہی وہاں پہنچے تو گرمی کی وجہ سے اُنہیں شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ اُنہوں نے یہ پانی پینا شروع کر دیا اور چونکہ سمندر کا پانی شدید نمکین ہوتا ہے اِس لئے بجائے پیاس بجھنے کے اُن کی زبانیں باہر نکل آئیں اور اُن کی مقابلہ کی سکت بالکل جاتی رہی۔ اِس طرح یہ لڑائی ایک خدائی فعل کی وجہ سے دشمن کی شکست اور انگریزی فوجوں کی فتح کی صورت میں بدل گئی ورنہ انگریزوں کی کامیابی کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ گویا وہی نظارہ جو خدا نے مجھے دکھایا تھا کہ میرے فائروں کی وجہ سے جرمن فوجوں کو شکست ہوئی، اِس رنگ میں پورا ہو گیا کہ میری دعا کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ باوجود اِس کے کہ جرمن فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں وہ اِس بات پر مجبور ہو گئیں کہ انگریزی فوجوں کے مقابلہ میں اپنی شکست کو تسلیم کرلیں۔
    مثالیں تو اور بھی بہت سی ہیں مگر یہ چند واقعات جو بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں، یہ بھی اِس بات کو ثابت کرنے کیلئے بہت کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو یہ خبر دی گئی تھی کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو علاوہ اور کمالات رکھنے کے علومِ باطنی سے بھی پُر کیا جائے گا، وہ بڑی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔
    مصلح موعود کی زمین کے کناروں تک شہرت اور اسلام کی اکنافِ عالَم میں اشاعت
    ۳۔ تیسری پیشگوئی یہ کی گئی تھی کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کی تبلیغ اُس کے ذریعہ سے مختلف ملکوں میں ہوگی۔ یہ پیشگوئی بھی ایسے رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اِس کا انکار نہیں کر سکتا۔
    جب خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا اُس وقت جماعت کی حالت یہ تھی کہ خزانہ میں صرف چند آنے تھے اور اٹھارہ ہزار روپیہ قرض تھا۔ مالی حالت ایسی کمزور تھی کہ وہ اشتہارات جو ہم غیر مبائعین کے جواب میں شائع کرنا چاہتے تھے، اُن کے لئے بھی ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔ اشتہارات تو ہم لکھ سکتے تھے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اُن اشتہارات کے شائع ہونے کی کیا صورت ہوگی۔ ابتدا ء ہونے کی وجہ سے چندہ کی تحریک بھی نہیں کی جا سکتی تھی کیونکہ ڈر تھا کہ لوگ گھبرا نہ جائیں۔ اِسی فکر میں مَیں تھا کہ ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے شاید تمہیں اشتہارات کے متعلق یہ خیال ہوگا کہ اُن کی اشاعت کیلئے روپیہ کہاں سے آئے گا۔ میرے پاس اِس وقت دارالضعفاء کا چندہ ہے یہ لے لو جب روپیہ آئے تو واپس کر دینا۔ چنانچہ اُنہوں نے پانچ سَو روپیہ کی تھیلی میرے سامنے رکھ دی۔ اِس طرح جو چندہ ملا اُس سے وہ پہلا اشتہار شائع کیا گیا جس کا عنوان ہے۔
    ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘
    پھر ایسی حالت میں جب کہ جماعت کے بڑے بڑے لیڈر مخالف تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ یہ اعلان کرایا کہ لَیُمَزِّقَنَّھُمْ اللہ تعالیٰ اُن کو ٹکڑے کر دے گا۔ غرض ایک طرف تو یہ اعلان شائع ہوا کہ ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘ اور دوسری طرف یہ اعلان کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور اُن کی جمعیت کو پراگندہ کر دے گا۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما دیئے کہ نہ صرف اُس نے ہمیں اپنی حالت کو سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائی بلکہ باہر کی جماعتوں کو مضبوط کرنے کی بھی اُس نے طاقت دی۔ اُس وقت غیرمبائعین اپنے متعلق عَلَی الْاِعْلَان کہا کرتے تھے کہ ہمارے ساتھ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ ہے اور ان کے ساتھ صرف پانچ فیصدی ہے۔ مگر اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں قوت عطا فرمانی شروع کر دی اور ایسے علماء اُس نے اپنے فضل سے مجھے عطا فرمائے جو میرے حکم پر غیرممالک میں نکل گئے اور اُنہوں نے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام پہنچایا۔ اِس سے پہلے صرف افغانستان ہی ایک ایسا مُلک تھا جہاں کسی اہمیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام پہنچا تھا، باقاعدہ جماعت اور کسی ملک میں قائم نہیں تھی۔ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب بے شک انگلستان گئے مگر وہاں اُنہوں نے احمدیت کا ذکر سمِ قاتل قرار دے دیا اِس لئے اُن کے ذریعہ انگلستان میں جو مشن قائم ہوا وہ احمدیت کی تبلیغ اور اُس کی اشاعت کا موجب نہیں ہوا۔ اگر نام پھیلا تو خواجہ صاحب کا نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا۔ بہرحال بیرونی ممالک میں سے سِوائے افغانستان کے اور کوئی مُلک ایسا نہیں تھا جہاں میری خلافت سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام پہنچا ہو۔ مگر جب میرا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے (۱)سیلون (۲)ماریشس (۳)سماٹرا (۴) جاوا (۵) سٹریٹس سیٹلمینٹس۴۱؎ (۶) چین (۷) جاپان (۸)بخارا (۹) روس (۱۰) ایران (۱۱) عراق (۱۲) شام (۱۳) فلسطین (۱۴) مصر (۱۵) سوڈان (۱۶) ابی سینیا (۱۷) مراکو (۱۸) سیرالیون (۱۹) نائیجیریا (۲۰)گولڈکوسٹ (۲۱) نٹال۴۲؎ (۲۲)انگلستان (۲۳) جرمنی(۲۴) سپین(۲۵) فرانس (۲۶)اٹلی (۲۷) ہنگری (۲۸)یونان (۲۹) البانیا (۳۰) پولینڈ (۳۱) زیکوسلواکیہ (۳۲)یوگوسلاویا (۳۳)یونائیٹڈسٹیٹس امریکہ (۳۴) ارجنٹائن اور اِسی طرح اَور کئی علاقوں میں تبلیغِ اسلام اور احمدیت پھیلائی اور ہزاروں مسیحی میرے ذریعہ سے اسلام میں داخل ہوئے۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ ۔
    اِس طرح میرے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی جو تبلیغ ہوئی ہے وہ ساری دنیا پر حاوی ہوجاتی ہے۔ اِن میں سے کئی مقامات ایسے ہیں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی بڑی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ انگلستان میں ہماری بڑی جماعت ہے اِسی طرح اٹلی میں بھی جماعت کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ہنگری میں بھی جماعت کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ عراق میں بھی جماعت کے لوگ پائے جاتے ہیں۔فلسطین میںبھی نہایت اعلیٰ درجہ کا اخلاص رکھنے والی جماعت پائی جاتی ہے۔ وہ لوگ اپنا رسالہ نکالتے اور عربی ممالک میں تبلیغِ احمدیت کا کام بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔ اِسی طرح مصر میں بھی ہماری جماعت پائی جاتی ہے اور اب تو سوڈان اور ابی سینیا میں بھی ایک ایک دو دو احمدی خدا تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہو گئے ہیں۔ ویسٹ افریقہ میں تو ہماری اتنی بڑی جماعت قائم ہے کہ اِس کی تعداد ۷۵ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ غرض دنیا کے چاروں کونوں میں احمدیت میرے زمانہ میں اور میرے ذریعہ سے پھیلی اور ہزارہا لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام سے آشنانہ تھے ــــ،جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے آشنا نہ تھے ، جو اسلام کے دشمن،عیسائی مذہب کے پیرو یا بُت پر ست تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کو میرے ذریعہ سے اسلام میں داخل کیا اور اِس طرح مجھے اُس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنایا جو مصلح موعود کے متعلق کی گئی تھی کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اُس سے برکت پائیں گی۔وہ مبلّغ جو میرے زمانۂ خلافت میں بیرونی مالک میں بھیجے گئے اُن میں سے بعض اِس وقت یہاں موجود ہیں۔ میں اِ ن سب مبلّغین سے کہتا ہوں کہ وہ یہاں سٹیج پر آجائیں اور مختصر طور پر اپنے تبلیغی کوائف کا ذکر کریں۔
    مبلّغین سلسلہ کی تقاریر
    حضور کے اس ارشاد پر مندرجہ ذیل مبلّغین نے جو جلسہ سالانہ کے موقع پر موجود تھے۔سیٹج پرکھڑے ہو کر بتایا کہ حضرت
    خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد کے ماتحت وہ غیر ممالک میں گئے اور انہوں نے اسلام اور احمدیت کا نام بلند کیا۔
    ۱۔جناب ملک غلام فریدصاحب ایم ۔ اے جرمنی
    ۲۔ مولوی ظہور حسین صاحب مولوی فاضل روس
    ۳۔ جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ناظر اعلیٰ انگلستان
    ۴۔ عبدالاحد خان صاحب افغان کابل
    ۵۔خافظ صوفی غلام محمد صاحب بی ۔اے ماریشس
    ۶۔جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب شام
    ۷۔خاں صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب انگلستان
    ۸۔ جناب مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے انگلستان
    ۹۔ جناب مولوی ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ فلسطین
    ۱۰۔مولوی محمد یار صاحب عارفؔ مولوی فاضل انگلستان
    ۱۱۔ مسٹر محمد مدثر صاحب ایم ۔اے (جو مغربی افریقہ کے باشندہ ہیں) نائیجیریا
    (انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی اُس پیشگوئی کو پورا کرنے والا ہوں جس میں آپ کو بتایا گیاتھا کہ دنیا کے کناروں سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ چنانچہ میں مغربی افریقہ سے یہاں آیا ہوںاور مجھے خوشی ہے کہ خدا تعالیٰ نے آج مجھے اِس دوسری پیشگوئی کے سننے کا بھی موقع عطاء فرما دیا جو مصلح موعود کے متعلق تھی)
    ۱۲۔ مولوی محمد سلیم صاحب مولوی فاضل مِصر
    ۱۳۔ جناب ماسٹر عبدالرحمن صاحب (سابق مہر سنگھ) سیلون۔ انڈیمان جزائرنکو باراور برما
    ۱۴۔ (پروفیسر ) محمد ابراہیم صاحب ناصرؔ ہنگری
    ۱۵۔ جناب اے۔ پی ابراہیم صاحب مالاباری سیلون
    ۱۶۔ بابو فقیر علی صاحب ایران
    ۱۷۔ مولوی عبداللہ صاحب مالاباری مالا بار
    ۱۸ ۔شیح عبدالواحدصاحب واقفِ زندگی چین
    ۱۹ ۔جناب مولوی محمد دین صاحب امریکہ
    ۲۰ ۔ جناب صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی ۔اے جاپان
    ۲۱۔ مولوی احمد خان صاحب نسیم مولوی فاضل برما
    ۲۲۔ محمد زُہدی صاحب سٹریٹس سیٹلمنٹ
    ان تقاریر کے بعد حضور نے فرمایا۔
    بعض ممالک کے مبلّغ چونکہ اِس وقت جنگ کی وجہ سے قیدہیں اور بعض قادیان میں موجودنہیں اِس لئے اُن کا ذکر اِس وقت نہیں کیا گیا۔ بہر حال تیس کے قریب مختلف ممالک ہیں جن میں اسلام احمدیت اور قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے مبلّغ بھجوانے کی توفیق عطافرمائی۔ باوجو د اِس کے کہ ہماری جماعت بہت قلیل ہے اور باوجود اِس کے کہ ہماری جماعت مالی لحاظ سے بے طاقت ہے اُس نے نہ صرف ہندوستان میں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کیا بلکہ دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت کا نام پہنچا دیا۔ ارجنٹائن (جنوبی امریکہ)میں مولوی رمضان علی صاحب ہماری جماعت کی طرف سے تبلیغ کا کام کر رہے ہیں ۔ البانیہ ،یوگو سلاویہ اور زیکوسلواکیہ میں مولوی محمد دین صاحب تبلیغ کرتے رہے ہیں۔ پولینڈ میں حاجی احمد خاں صاحب ایاز نے کام کیا۔ لندن میں اِس وقت مولوی جلال الدین صاحب شمس کام کر رہے ہیں۔ امریکہ میں صوفی مطیع الرحمن صاحب کام کر رہے ہیں۔ ملک محمد شریف صاحب اٹلی میں کام کرتے رہے ہیں اور چوہدری محمد شریف صاحب مصر ، فلسطین اور شام میں تبلیغی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور مشرقی افریقہ میں شیخ مبارک احمد صاحب اور سماٹرا جاوا اور ملایامیںمولوی رحمت علی صاحب ،مولوی محمد صادق صاحب، مولوی غلام حسین صاحب ایاز ، ملک عزیز احمد صاحب اور سیّد شاہ محمد صاحب کام کر رہے ہیں۔ اِسی طرح مغربی افریقہ یعنی سیرالیون ،گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں ہمارے بہت سے مبلّغ کام کر رہے ہیں جن میں مولوی نذیر احمد صاحب ابن بابو فقیر علی صاحب ،مولوی نذیر احمد صاحب مبشر ،حکیم فضل الرحمن صاحب اور مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری خاص طور پر ذکر کے قابل ہیں۔ اِس وقت ویسٹ افریقہ کے ایک نمائندہ دوستوں کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ اور اُنہوں نے اپنی زبان سے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اِس پیشگوئی کو کس طرح پورا کیا۔
    غرض جماعت کی قلت اور اِس کی غربت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو پورا کیا اور اس نے میرے ذریعہ سے دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت کا نام روشن کیا۔
    اسیروں کی رستگاری
    ۴۔ ایک پیشگوئی یہ کی گئی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کاموجب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اِس پیشگوئی کو بھی میرے ذریعہ
    سے پورا کیا۔ اوّل تو اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے اُن قوموں کو ہدایت دی جن کی طرف مسلمانوں کو کوئی توجہ ہی نہیں تھی اور وہ نہایت ذلیل اور پست حالت میں تھیں۔ وہ اسیروں کی سی زندگی بسر کرتی تھیں۔ نہ اُن میں تعلیم پائی جاتی تھی، نہ اُن کا تمدّن اعلیٰ درجے کا تھا، نہ اُن کی تربیت کا کوئی سامان تھا جیسے افریقن علاقے ہیںکہ اُن کو دُنیانے الگ پھینکا ہوا تھا اور وہ صرف بیگار اور خدمت کے کام آتے تھے۔ ابھی مغربی افریقہ کے ایک نمائندہ آپ لوگوں کے سامنے پیش ہوچکے ہیں اِس ملک کے بعض لوگ تو تعلیم یافتہ ہیں لیکن اندرونِ ملک میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کپڑے تک نہیں پہنتے تھے اور ننگے پھرا کرتے تھے ایسے وحشی لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے ذریعہ ہزار ہا لوگ اسلام میں داخل ہوئے ۔ وہاں کثرت سے عیسائیت کی تعلیم پھیل رہی تھی اور اب بھی بعض علاقوں میں عیسائیوں کا غلبہ ہے لیکن میری ہدایت کے ماتحت اِن علاقوں میں ہمارے مبلّغ گئے اور اِنہوں نے ہزاروں لوگ مشرکوں میں سے مسلمان کئے اور ہزاروں لوگ عیسائیت میں سے کھینچ کر اسلام کی طرف لے آئے۔ اِس کا عیسائیوں پر اس قدر اثر ہے کہ انگلستان میں پادریوں کی ایک بہت بڑی انجمن ہے جو شاہی اختیارات رکھتی ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے عیسائیت کی تبلیغ اور اس کی نگرانی کے لئے مقر ر ہے۔ اُس نے ایک کمیشن اِس غرض کے لئے مقرر کیا تھا کہ وہ اِس امر کے متعلق رپورٹ کرے کہ مغربی افریقہ میں عیسائیت کی ترقی کیوں رُک گئی ہے۔ اُس کمیشن نے اپنی انجمن کے سامنے جو رپورٹ پیش کی اُس میں درجن سے زیادہ جگہ احمدیت کا ذکر آتا ہے اور لکھا ہے کہ اِس جماعت نے عیسائیت کی ترقی کو روک دیا ہے۔ غرض مغربی افریقہ اور امریکہ دونوں مُلکوں میں حبشی قومیں کثرت سے اسلام لارہی ہیں۔ اِس طرح اللہ تعالیٰ نے اِن قوموں میں تبلیغ کا موقع عطا فرما کرمجھے اِن اسیروں کا رستگار بنایا اور اِن کی زندگی کا معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
    آزادیٔ کشمیر کے لئے جدوجہد
    پھر اسیروں کی رستگاری کے لحاظ سے کشمیر کا واقعہ بھی اِس پیشگوئی کی صداقت کا ایک زبردست
    ثبوت ہے اور ہر شخص جو اِن واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے، یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی کشمیریوں کی رستگاری کے سامان پیدا کئے اوران کے دشمنوں کو شکست دی۔ کشمیر کی قوم اِس طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی کہ گورنمنٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ زمین اُن کی نہیں بلکہ راجہ صاحب کی ہے گویا سارا مُلک ایک مزارع کی حیثیت رکھتا تھا اور راجہ صاحب کا اختیار تھا کہ جب جی چاہا اُن کو نکال دیا۔ اُنہیں نہ درخت کاٹنے کی اجازت تھی اور نہ زمین سے کسی اور رنگ میں فائدہ حاصل کرنے کی۔ بے گارکا یہ حال تھا کہ ۱۹۰۹ء میں مَیں کشمیر گیا تو ایک مقام سے چلتے وقت میں نے تحصیلدار سے کہا کہ ہمارے لئے کسی مزدور کا انتظام کر دیا جائے۔ اُس نے رستہ میں سے ایک شخص کو پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دیا کہ اِس کے سر پر اَسباب رکھوادیں ہم نے اُسے سامان دے دیا مگر ہم نے دیکھا کہ وہ راستہ میں باربار ہائے ہائے کرتا تھا۔ آخر ایک جگہ پہنچ کر اُس نے تھک کر ٹرنک نیچے رکھ دیا۔ میں نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے بڑا تعجب ہوااور میں نے اُس سے کہا کہ کشمیر ی تو بہت بوجھ اُٹھانے والے ہوتے ہیں تم سے یہ معمولی ٹرنک بھی نہیں اُٹھایا جاتا۔ وہ کہنے لگا میَں مزدور نہیں ہوں میں تو زمیندار ہوں اپنے گائوں کا معزز شخص ہوں اور دولہا ہوں جو برات میں جارہاتھا کہ مجھے راستہ میں تحصیلدار نے پکڑ لیا اور اَسباب اُٹھانے کے لئے آپ کے پاس بھیج دیا۔ میں نے اُسی وقت اُسے چھوڑ دیا کہ تم جائو ہم کوئی اور انتظام کر لیں گے۔ اِس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ کس قدر ادنیٰ اور گری ہوئی حالت میں تھے۔ میں نے خود کشمیرمیں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سَودوسَو کے قریب مسلمان جمع ہیںاور ایک ہندواُن کو ڈانٹ رہا ہے اور وہ بھی کوئی افسر نہیں تھا بلکہ معمولی تاجر تھا اور وہ سارے کے سارے مُسلمان اُس کے خوف سے کانپ رہے تھے۔
    تحریک کشمیر کے واقعات
    جب تحریک کشمیر کاآغاز ہوا اُس وقت شملہ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں مَیں بھی شامل ہوا۔سراقبال اُس
    وقت زندہ تھے وہ بھی شریک ہوئے سر میاں فضل حسین صاحب بھی موجود تھے۔ ان سب نے مجھ سے کہا کہ اِس بارہ میں آپ وائسر ائے سے ملیں اور اس سے گفتگو کر کے معلوم کریں کہ وہ کس حد تک کشمیر کے معاملات میں دخل دے سکتا ہے جس حد تک دہ دخل دے سکتا ہو اُس حد تک ہمیں یہ سوال اُٹھانا چاہئے۔ چونکہ گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ ریاستی معاملات میں زیادہ دخل نہ دیا جائے اِس لئے وائسرائے سے پہلے مِل لینا ضروی ہے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ وہ کس حد تک اِن معاملات میں دخل دے سکتے ہیں۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں اِس مجلس میں اِس شرط پر شریک ہو سکتا ہوں کہ وائسرائے سے نہیں بلکہ ہم کشمیریوںسے پوچھیں گے کہ تمہارے کیامطالبات ہیں اور پھر ہم کو شش کریں گے کہ گورنمنٹ اُن مطالبات کو منظور کرے۔ یہ طریق درست نہیں کہ وائسرائے سے پوچھا جائے کہ وہ کس حد تک دخل دے سکتا ہے بلکہ ہم سب سے پہلے کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور پھراُن کے مطالبات کو پورے زور کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے رکھیں گے۔ سر اقبال کہنے لگے پھر آپ ہی اِس کمیٹی کے پریذیڈنٹ بن جائیں ہمیں آپ کی صدارت پر اتفاق ہے۔ میں نے کہا میں پریذیڈنٹ بنا تو لوگ شور مچادیں گے کہ ایک کافر کو پریذیڈنٹ بنا لیا گیا ہے کسی اور کوبنا لیجئے۔ وہ کہنے لگے میں تو تیار ہوں کہ آپ کو پریذیڈنٹ تسلیم کروں دوسرے لوگوں نے بھی اِس پر زور دیا اور آخر مَیں پریذیڈنٹ بن گیا کیونکہ خدا چاہتا تھا کہ میرے ذریعہ سے اسیروں کی رستگاری ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی پوری ہو۔ جب میں صدر بنا تو اِس کے بعد لارڈ ولنگڈن سے میَں اِس غرض سے مِلا۔ پہلے تو وہ بڑی محبت سے باتیں کرتے رہے جب میںنے کشمیر کا نام لیا تو وہ اپنے کوچ سے کچھ آگے کی طرف ہو کر کہنے لگے کہ کیا آپ کو بھی کشمیر کے معاملات میں انٹرسٹ ہے آپ تو مذہبی آدمی ہیں مذہبی آدمی کا ان باتوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا مَیں بے شک مذہبی آدمی ہوںاور مجھے مذہبی امور میں ہی دخل دینا چاہئے مگر کشمیر میں تو لوگوں کو ابتدائی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں اور یہ وہ کام ہے جو ہر مذہبی شخص کر سکتا ہے بلکہ اُسے کرنا چاہئے اس لئے مذہبی ہونے کے لحاظ سے بھی اور انسان ہونے کے لحاظ سے بھی میرا فرض ہے کہ میں انہیں وہ ابتدائی انسانی حقوق دلوائوں جو ریاست نے چھین رکھے ہیں۔ـآپ اِس بارہ میں کشمیر کے معاملات میں دخل دیں تا کہ کشمیریوں پر جو ظلم ہو رہے ہیں اُن کا انسداد ہو۔ وہ کہنے لگے آپ جانتے ہیں کہ ریاستوں کے معاملات میں ہم دخل نہیں دیتے۔ میں نے کہا میں یہ جانتا تو ہوں مگر کبھی کبھی آپ دخل دے بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے کہا کیا حیدرآباد میں آپ نے انگریزوزیر بھجوائے ہیں یا نہیں؟ کہنے لگے تو کیا آپ کو پتہ نہیںنظام حیدرآباد کیسا بُرا مناتا ہے؟ میں نے کہا یہی بات تو مَیں کہتا ہوں کہ آخر وجہ کیا ہے کہ نظام حیدرآباد بُرا منائیں تو آپ اُن کی کوئی پرواہ نہ کریں اور مہاراجہ صاحب کشمیر بُرا منائیںتوآپ ـاُن کے معاملات میںدخل دینے سے رُک جائیں۔ یہ ہندو مسلم میں سوتیلے بیٹوں والا فرق آپ کیوں کرتے ہیں؟ آخر یا تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ گورنمنٹ ریاستی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی اور یا کہنے لگے کہ جب مجھے وائسرائے مقرر کیا گیا تھا تو وزیر ہند نے مجھ سے کہا کہ ہندوستان کی سیاسی حالت سخت خراب ہے کیا تم اِس کو سنبھال لو گے؟ میں نے کہا کہ میں سنبھال تو لوں گا مگر شرط یہ ہے کہ مجھے چھ مہینہ کی مہلت دی جائے اور مجھ پر اعتراض نہ کیا جائے کہ تم نے کوئی انتظام نہیں کیا۔ ہاں اگر چھ مہینے کے بعد بھی میں انتظام نہ کر سکا تو آپ بے شک مجھے الزام دیں۔ انہوں نے کہا بہت اچھا۔ چھ مہینے یا سال نہیں میں آپ کو ۱۸ مہینے کی مہلت دیتا ہوں آپ اِس عرصہ کے اندر یہ کام کر کے دکھادیں۔ لارڈ ولنگڈن کہنے لگے وزیر ہند نے تو مجھے ۱۸ مہینے کی مہلت دی تھی اور آپ مجھے کچھ بھی مہلت نہیں دیتے بلکہ چاہتے ہیں کہ فوری طور پر میں یہ کام کردوں۔میں نے کہا اگر یہی بات ہے تو پھر جھگڑے کی کوئی بات ہی نہیں۔ انہوں نے تو ۱۸ مہینے کی آپ کو مہلت دی ہے میں آپ کو ۱۸ سال کی مہلت دینے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ آپ مجھے یقین دلائیں کہ کشمیر کے مسلمانوں کی حالت سُدھر جائے گی۔انہوں نے کہا پانچ چھ ماہ تک مجھے حالات دیکھنے دیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اِس عرصہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں کروں گا اور کشمیر کے مسلمانوں کو اُن کے حقوق دلانے کی پوری پوری کوشش کروں گا۔ چنانچہ اِس کے بعد بڑے بڑے واقعات ہوئے جن کو تفصیل کے ساتھ سُنایا نہیں جا سکتا۔ بہر حال میں نے کوشش جاری رکھی یہاں تک کہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسی طاقت عطا فرما دی کہ کشمیر کی گورنمنٹ سخت گھبرا گئی اور اُس نے دو دفعہ مجھے پیغام بھیجا کہ آپ جموں آئیں اور مہاراجہ صاحب سے مِل کر فیصلہ کر لیں۔آپس کی گفتگوکے بعد جن حقوق کے متعلق اتفاق ہوگا وہ کشمیر کے مسلمانوں کو دے دیئے جائیں گے۔ میں نے کہامیرے فیصلے کا کوئی سوال نہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کا فیصلہ ہونا ہے اور یہ فیصلہ کشمیر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں مَیں نہیں کر سکتا۔ مَیں یہ نہیں چاہتا کہ میں آئوں اور آپ سے باتیں کر کے کچھ فیصلہ کر لوں بلکہ مَیں یہ چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کے حقوق کا سوال ہے اُن کے نمائندوں کو بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ آخر وہی وائسرائے جنہوںنے کہا تھا کہ میں اِن معاملات میں دخل نہیں دے سکتا جب بار بار اُن کو واقعات بتائے گئے تو اُنہوں نے بھی تسلیم کیا کہ کشمیر میں بہت سی خرابیاں ہیں جن کو دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔چنانچہ گورنمنٹ آف اِنڈیا نے بھی کشمیر گورنمنٹ پر زور دینا شروع کردیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سر ہری کشن کو ل جو وزیراعظم تھے اِس بات پر مجبور ہوئے کہ میری طرف توجہ کریں اور آخر اُنہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ آپ اپنے آدمی بھجوادیں جن سے بات کر کے وہ حقوق جو مسلمانوں کو دیئے جا سکتے ہوں اُن کو دے دیئے جائیں ۔
    لارڈ ولنگڈن کا ایک خط
    میں اِس وقت دو خطوط سُنا تا ہوںجن میں سے ایک لارڈولنگڈن کے پرائیویٹ سیکرٹری کا ہے۔لوگ عام طور
    پر کہتے ہیں کہ کشمیریوں کو جو حقوق ملے ہیں وہ دوسروں کی کوشش کے نتیجہ میں ملے ہیں حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ چنانچہ اس کے ثبوت کے طور پر میں یہ خط پیش کرتا ہوں جو لارڈ ولنگڈن کے پرائیویٹ سیکرٹری الکیوٹٹدآئیلے کا لکھا ہوا ہے۔ اور ۳۱؍نومبر ۱۹۳۱ء کا ہے ۔ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں ۔
    ‏D. O. No. 10407 G.M
    ‏The Viceroy's House,
    ‏New Delhi,
    ‏13th. November 1931.
    ‏ Your Holiness
    ‏ His Excellency wishes me to thank you for your letter of the 7th November. He regrets very much to learn that you are dissatisfied with his previous reply and feel that the efforts made by you and your community in the interests of peace in Kashmir have received scanty appreciation or attention from the Government of India. His Excellancy is sure that this is due to some misunderstanding for it has certainly never been his intention to be liltle in any way the loyal assistance which your community is always ready to render to Government. You will recognise, however, that in the internal affairs of an Indian State it is practically impossible for Government to insist upon the State dealing with any outside committee however wellintentioned and representative and the negotiations must take place, if the Ruler so desires, direct with the Government of India.
    ‏ His Excellency wishes me to assure you that he has throughout given the Kashmir question his most anxious and sympathetic consideration and has left nothing un-done which in his view could lead to a peaceful and satisfactory solution of the present troubles. He would be the last to say that all Government action has been exactly right or has been taken at exactly the right moment but he does claim that it has been with the one purpose of obtaining an early and satisfactory settlement between the Maharaja and his Moslem subjects. He trusts that his efforts in this direction will soon begin to have effect and that confidence will be restored among the Muslim community in Kashmir.
    ‏ His Excelloncy wishes me to thank you for the frank and candid expression of your views and opinions which will be of much value to him in appreciating and dealing with a very difficult situation. His Excellency is assured that he can rely upon you and the other members of the All-India Kashmir Committee to use your best efforts to produce the peaceful atmosphere. Which will go far to assist an early and satisfactory solution.
    ‏ Yours Sincerely
    ‏To
    ‏His Holiness
    ‏M. B. Mahmud Ahmad,
    ‏Head of The Ahmadiyya Community
    ‏and President, All India Kashmir Committee,
    ‏`Al- Faiz`, 6, Lytton Road, Lahore.
    اِس خط کا ترجمہ یہ ہے۔
    ہِزایکسی لنسی حضور وائسرائے نے فرمایا ہے کہ مَیں آپ کے خط مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۳۱ء کا شکریہ ادا کروں۔ ہِزایکسی لنسی کو اِس بات کے معلوم ہونے پر افسوس ہوا کہ آپ اُن کے پہلے جواب کو ناتسلی بخش خیال فرماتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو آپ نے اور آپ کی جماعت نے کشمیر میں اَمن کی خاطر کوششیں فرمائی ہیں۔ اُن کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا اور یہ کہ حکومتِ ہند نے اُس کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ ہِزایکسی لنسی کو یقین ہے کہ اِس کا باعث کوئی غلط فہمی ہے کیونکہ اُن کا ہرگز کبھی یہ ارادہ نہیںہوا کہ آپ کی اور آپ کی جماعت کی اِس وفادارانہ امداد کو جو آپ ہمیشہ حکومت کی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں کسی طرح اِستخفاف کی نظر سے دیکھا جائے۔ لیکن آپ اِس بات کو تسلیم فرمائیں گے کہ حکومت کے لئے یہ بات عملاً ناممکن ہے کہ کسی ہندوستانی ریاست کے اندرونی معاملات کے متعلق ریاست پر یہ زور دے کہ وہ کسی بیرونی کمیٹی کے ساتھ معاملہ کرے خواہ وہ کمیٹی کیسی ہی نیک نیت اور نمائندہ حیثیت رکھتی ہو اور اگر والی ریاست ایسا چاہے تو اِس صورت میں ضروری ہے کہ اِس بارہ میں براہِ راست حکومتِ ہند کے ساتھ گفت وشنید کی جائے۔
    حضور وائسرائے نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مَیں آپ کو یقین دلاؤں کہ انہوں نے شروع سے ہی سوالِ کشمیر پر پورے فکر اور ہمدردی کے ساتھ غور کیا ہے اور انہوں نے موجودہ مشکلات کے تسلی بخش اور پُرامن حل کا ذریعہ نکالنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا۔ حضور وائسرائے آخری آدمی ہوں گے جو یہ کہیں کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ یا یہ کہ وہ صحیح وقت کیا گیا ہے۔ لیکن وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کیا گیا ہے اِس کا واحد مقصد یہی تھا کہ مہاراجہ صاحب اور اُن کی مسلمان رعایا کے مابین جلد سے جلد اور تسلی بخش تصفیہ ہو جائے اور اُنہیں امید ہے کہ اِس معاملہ میں اُن کی کوششیں جلد ہی نتیجہ پیدا کریں گی اور یہ کہ مسلمانانِ کشمیر میں پھر اعتماد پیدا ہو جائے گا۔
    حضور وائسرائے فرماتے ہیں کہ مَیں آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے نہایت صفائی سے اپنے خیالات اور آراء کو ظاہر فرما دیا ہے اور یہ اُن کے لئے ایک مشکل سوال کے صحیح طور پر سمجھنے اور اِس کے حل کرنے میں بہت مفید اور قیمتی ثابت ہو گا۔ ہِزایکسی لنسی کو یقین ہے کہ وہ آپ پر اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے ممبروں پر یہ اعتماد رکھ سکتے ہیںکہ آپ اپنی بہترین کوششوں کے ساتھ ایک پُرامن ماحول پیدا کریں گے جس سے جلد اور تسلی بخش حل کرنے میںبہت بڑی مدد ملے گی۔
    پرسنل اسسٹنٹ وزیراعظم کشمیر کا خط
    دوسرا خط وزیراعظم کشمیر کے پرسنل اسسٹنٹ کا ہے جو انہوں نے میرے
    پرائیوٹ سیکرٹری کے نام لکھا وہ خط یہ ہے۔
    سرینگر کشمیر
    مؤرخہ ۱۰؍نومبر۱۹۳۱ء
    مکرم پرائیوٹ سیکرٹری صاحب
    تسلیم۔ آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۳؍ نومبر ۱۹۳۱ء جناب حضور والا شان پرائم منسٹر صاحب بہادر کے ملاحظہ سے گزرا۔ مختصراً جواب عرض کرتا ہوں کہ ابتدا سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانانِ کشمیر کو ابتدائی جائز حقوق دینے میں بے حد جلدی کی جاوے اور خاص طور پر گزشتہ ایک ہفتہ سے تو شب و روز سوائے اِس کام کے پرائم منسٹر صاحب کسی دوسرے کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ البتہ دو تین روز کے لئے جموں کے واقعات نے مجبور کیا کہ وہاں پرائم منسٹر صاحب خود تشریف لے جاویں۔ جموں کے واقعات نے جس کے ذمہ دار احرار ہیں۔ معاملۂ مطالبات کو قدرے التواء میں ڈال دیا اور صدر صاحب کے ساتھ گفت و شنید یا خط و کتابت میں بھی دیر محض اِسی وجہ سے ہوئی (لوگ کہتے ہیں کہ احرار کی وجہ سے کشمیر میں کامیابی حاصل ہوئی اوروہ یہ کہتے ہیں کہ احرار کی وجہ سے معاملۂ مطالبات کے منظور ہونے میں دیر ہو گئی ورنہ بات جلدی طے ہو جاتی) علاوہ بریں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نمائندگان مقیمی سرینگر عبدالرحیم صاحب درد اور مولانا اسماعیل غزنوی صاحب کے ساتھ اکثر تبادلۂ خیالات ہوتا رہتا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ آپ کو بتلا سکیں گے کہ حکومتِ ہند نے اِس معاملہ میں کس قدر دلچسپی لی ہے۔ (دراصل گورنمنٹ کشمیر نے مجھے لکھا تھا کہ اپنے دو نمائندے یہاں بھجوا دیں جن سے ہم وقتاً فوقتاً گفتگو کرتے رہیں۔ اِس پر میں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے اور مولوی محمد اسمعٰیل صاحب غزنوی کو بطور نمائندہ بھجوا دیا تھا) کسی قدر یہ ہمیں تسلی بھی تھی کہ صدر صاحب خود ریاست کی سرحد پر آ کر اپنے نمائندگان سے مل گئے ہیں اور تمام حالات معلوم کر گئے ہیں۔ (یہ درست ہے مَیں ہزارے کی طرف جا کر کشمیر کے نمائندوں سے ملا تھا اور اُن سے میں نے تمام حالات معلوم کئے تھے) صدر صاحب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ مساجد وغیرہ کے اعلان میں صدر صاحب اور ہماری منشاء کے خلاف ہمیں اعلان کو جلد شائع کرنے کے لئے کس طرح سے رائے دی گئی۔ جو مجبوری کی حد تک پہنچ گئی (میں نے اُنہیں کہا تھا کہ تم نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے اِس پر وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں کشمیر کے نمائندوں نے مجبور کیا تھا کہ ہم اِس قسم کا اعلان کر دیں) آپ نے صدر صاحب کے خیال کو اِس شکل میں رکھا ہے کہ وہ سمجھتے ہیںکہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ کسی مفید نتیجہ پر پہنچنے کی غرض سے گفتگو کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ یہ محض غلط فہمی ہے افسوس ہے کہ صدرصاحب نے ہماری مصروفیت اور مشکلات کا اندازہ نہیں کیا لیکن ہر بات کا علاج وقت اور میعاد ہے۔ صدر صاحب عنقریب یقین کرنے پر تیار ہو جاویں گے کہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں یا مختصر اور کہاں تک اِس کے مشورۂ صائب کے مطابق عمل کررہے ہیں۔ آپ کے لکھنے کے مطابق صدر صاحب کی خواہش محض مسلمانانِ کشمیر کو حقوق دلوانے کی ہے جس میں حکومت پورے طور سے خود مصروف ہے۔
    آپ کا صادق
    جیون لعل
    پرسنل اسسٹنٹ
    اِن خطوط سے معلوم ہو سکتا ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا بھی میری تحریک پر کام کر رہی تھی اور کشمیر گورنمنٹ کے وزیراعظم بھی میرے مشورہ سے ہی کام کرتے تھے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب ہمیں کامیابی حاصل ہوئی تو انہوں نے احرار کو اپنے ساتھ ملا کر اِس معاملہ کو خراب کرنا شروع کر دیا۔ مَیں نے پھر زور سے مقابلہ شروع کر دیا۔
    مہاراجہ صاحب کشمیر کا ملاقات کرنے سے انکار
    آخر سرہری کشن کول نے مجبور ہو کر مجھے لکھاکہ آپ
    اپنے چیف سیکرٹری کو بھیج دیں مہاراجہ صاحب کہتے ہیں مَیں خود اُن سے بات کر کے اِن معاملات کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو بھیج دیا مگر ساتھ ہی اُنہیں کہہ دیا کہ یہ پرائم منسٹر کی کوئی چال نہ ہو۔ تیسرے دن اُن کا تار پہنچا کہ مَیں یہاں تین دن سے بیٹھا ہوا ہوں مگر مہاراجہ صاحب ملاقات میں لیت ولعل کر رہے ہیں۔مَیں نے کہا آپ اُن پر حُجّت تمام کر کے واپس آ جائیں۔ چنانچہ اُنہوں نے ایک دفعہ پھر ملاقات کی کوشش کی مگر جب اُنہیں کامیابی نہ ہوئی تو وہ میری ہدایت کے ماتحت واپس آ گئے۔
    چوہدری صاحب کے واپس آنے کے بعد سر ہری کشن کول کا خط آیا کہ مہاراجہ صاحب تو ملنا چاہتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ مرزا صاحب خود آتے تو میں اُن سے ملاقات بھی کرتا۔ اُن کے سیکرٹری سے ملاقات کرنے میں تو میری ہتک ہے۔ اتفاق کی بات ہے اِس کے چند دن بعد ہی مَیں لاہور گیا تو سرہری کشن کول مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ مہاراجہ صاحب خود آتے تو میں اُن سے ملاقات بھی کرتا آپ تو اُن کے سیکرٹری ہیں اور آپ سے ملنے میں میری ہتک ہے۔ میرا یہ جواب سُن کر وہ سخت گھبرایا۔ میں نے کہا پہلے تو مَیں تم سے ملتا رہا ہوں کیونکہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ سیکرٹری کے ساتھ ملنے سے انسان کی ہتک ہو جاتی ہے لیکن اَب مجھے معلوم ہوا کہ اگر سیکرٹری سے ملاقات کی جائے تو ہتک ہو جاتی ہے؟ اِس لئے میں اَب تم سے نہیں مل سکتا۔ گویا خدا نے فوری طور پر اُن سے بدلہ لینے کا موقع عطا فرما دیا۔
    چوہدر ی افضل حق صاحب کی مخالفت
    آخر اِسی دوران میں ایک دن سرسکندر حیات خاں صاحب نے مجھے کہلا
    بھیجا کہ کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اِس بارہ میں دونوں میں تبادلۂ خیالات ہو جائے۔ کیا آپ ایسی مجلس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ مَیں نے کہا مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔ چنانچہ یہ میٹنگ سرسکندر حیات خاں کی کوٹھی پر لاہور میں ہوئی اور میں بھی اِس میںشامل ہوا۔ چوہدری افضل حق صاحب بھی وہیں تھے۔ باتوں باتوں میں وہ جوش میں آ گئے اور میرے متعلق کہنے لگے کہ اِنہوں نے الیکشن میں میری مدد نہیں کی اور اَب تو ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمدیہ جماعت کو کُچل کر رکھ دیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا اگر جماعتِ احمدیہ کسی انسان کے ہاتھ سے کچلی جا سکتی تو کبھی کی کچلی جا چکی ہوتی اور اَب بھی اگر کوئی انسان اِسے کچل سکتا ہے تو یقینا یہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔ پھر مَیں نے کہا یہ بھی درست نہیں کہ مَیں نے الیکشن میں آپ کی مدد نہیں کی ایک الیکشن میں مَیں نے آپ کی مخالفت کی ہے اور ایک الیکشن میں آپ کی مدد کی ہے۔ سرسکندر حیات خاں بھی کہنے لگے۔ افضل حق! تم بات بھول گئے ہو اِنہوں نے ایک الیکشن میں تمہاری مدد کی تھی صرف ایک الیکشن میں اِنہوں نے تمہاری مخالف کی ہے۔ وہ کہنے لگے میری بڑی ہتک ہوئی ہے اور اَب تو مَیں نے احمدیت کو کُچل کر رکھ دینا ہے۔
    مسلمانانِ کشمیر کی جلد بازی
    جب اِس طرح کوئی فیصلہ نہ ہوا تو گورنمنٹ آف اِنڈیا نے ایک والی ریاست کو اِس غرض کے لئے مقرر
    کیا کہ کسی طرح اِس جھگڑے کا وہ فیصلہ کروا دیں۔ انہوں نے میری طرف آدمی بھیجے اور کہا کہ جب تک آپ دخل نہیں دیں گے یہ معاملہ کسی طرح ختم نہیں ہو گا۔ میں نے کہا مجھے تو دخل دینے میں کوئی اعتراض نہیں میری تو اپنی خواہش ہے کہ یہ جھگڑا دُور ہو جائے ۔ آخر اُن کا پیغام آیا کہ آپ دہلی آئیں۔میں دہلی گیا چوہدری ظفراللہ خاں صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ دو دفعہ ہم نے کشمیر کے متعلق سکیم تیار کی اور آخر گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ فیصلہ ہوا کہ اِن اِن شرائط پر صُلح ہو جانی چاہئے۔ اُس وقت کشمیر میں بھی یہ خبر پہنچ گئی اور مسلمانوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے فیصلہ میں دیر کی تو تمام کریڈٹ جماعت احمدیہ کو حاصل ہو جائے گا۔ چنانچہ پیشتر اِس کے کہ ہم اپنی تجاویز کے مطابق تمام فیصلے کروا لیتے مسلمانوں نے اُن سے بہت کم مطالبات پر دستخط کر دیئے۔ حالانکہ اُن سے بہت زیادہ حقوق کا ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ فیصلہ کروا چکے تھے۔
    غرض کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کا تمام کام میرے ذریعہ سے ہوا اور اِس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اِس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنایا کہ مصلح موعود اسیروں کا رستگار ہو گا۔
    سر ہری کشن کول کی وزارت سے علیحدگی
    اُنہی ایام میں آخری دفعہ جب میں لاہور گیا تو سرہری کشن کول بھی وہاں
    آئے ہوئے تھے۔ اُن کا میرے نام پیغام آیاکہ اپنے آدمی بھیج دیں تاکہ شرائط کا اُن کے ساتھ تصفیہ ہو جائے۔ مَیں نے کہلا بھیجا کہ تصفیہ اِن اِن شرائط پر ہو گا اگر مان لو تو صُلح ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔ وہ کہنے لگے یہ شرائط تو بہت سخت ہیں اگر اِن کو تسلیم کر لیا گیا تو ہماری قوم بگڑ جائے گی۔ میں نے کہا یہ تمہاری مرضی ہے چاہو تو صُلح کر لو اور چاہو تو نہ کرو۔ درد صاحب اُس کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے آخر رات کے گیارہ بجے اُس نے کہہ دیا کہ اِن شرائط پر صُلح نہیں ہو سکتی۔ مجھے درد صاحب نے یہ بات پہنچائی تو مَیں نے اُن سے کہا آپ سر ہری کشن کول سے جا کر کہہ دیں کہ اگر اِن شرائط پر وہ صلح کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھروہ بھی وزیر نہیں رہ سکتے۔ درد صاحب نے یہ بات اُسے کہی تو وہ کہنے لگا مَیں تجربہ کار ہوں میں ایسے بَلفْ (BLUFF) سے نہیں ڈرا کرتا۔ مَیں نے درد صاحب سے کہا آپ اُن سے دریافت کریں اور پوچھیں کہ کرنل بکسر جموں گیا ہے یا نہیں؟ اگر وہ جموں گیا ہے اور مہاراجہ صاحب سے ملا ہے تو آپ یہ بتائیں کہ کیا مہاراجہ صاحب نے آپ کو وہ باتیں بتائی ہیں؟ اگر نہیں بتائیں حالانکہ مہاراجہ آپ کو اپنا باپ کہا کرتا ہے تو اِس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کو الگ کرنا چاہتا ہے چنانچہ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اَب آپ کا زمانہ گزر چکا ہے اَب آپ وزیراعظم نہیں رہ سکتے۔ مہاراجہ صاحب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ کو الگ کر دیا جائے اور کالون صاحب کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ یہ سُنتے ہی اُس کا رنگ فق ہو گیا او رکہنے لگا بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ پھر اُسی وقت اُس نے اپنا موٹر تیار کیا اور درد صاحب سے کہا کہ آپ اُن سے اجازت لے کر آئیں اور میرے ساتھ چلیں جو شرائط بھی آپ لکھیں گے میں اُن پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اُنہوں نے کہا اَب دستخط کرنے کا وقت نہیں رہا کل صبح تم پرائم منسٹر ہو گے ہی نہیں۔ اُس کو ایسا فکر ہوا کہ وہ اُسی وقت راتوں رات موٹر پر جموں گیا مگر جب صبح ہوئی تو مہاراجہ نے اُسے کہہ دیا کہ تمہیں وزارت سے الگ کیا جاتا ہے۔
    غرض کشمیر کے لوگوں کو جو کچھ ملا وہ میری جدوجہد کے نتیجہ میں ملا اور واقعہ یہ ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ جلدی نہ کرتے تو گورنمنٹ آف اِنڈیا کی معرفت جو سمجھوتہ ہوتا اُس میں اُنہیں زیادہ حقوق مل جاتے اور گائے کا سوال بھی حل ہو جاتا۔
    مَیں نے اِن واقعات کے بیان کرنے میں بہت سی باتیں چھوڑ دی ہیںاور بعض والیانِ ریاست کا نام بھی نہیں لیا۔ اگر مَیں آخر ی مرحلہ کی تفصیل بیان کروں تو شاید بعض والیان ریاست اِسے اپنی ہتک خیال کریں۔ مگر چونکہ یہ واقعہ اَب گزر چکا ہے اِس لئے اِس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
    جلالِ الٰہی کا ظہور
    ۵۔ پانچویں خبر یہ دی گئی تھی کہ اُس کا نزول جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ یہ خبر بھی میرے زمانہ میں ہی پوری ہوئی۔چنانچہ
    میرے خلافت پر متمکن ہوتے ہی پہلی جنگ ہوئی اور اَب دوسری جنگ شروع ہے۔ جس سے جلالِ الٰہی کا دنیا میں ظہور ہو رہا ہے۔ شاید کوئی شخص کہہ دے کہ اِس وقت لاکھوں کروڑوں لوگ زندہ ہیں اگر اِن لڑائیوں کو تم اپنی صداقت میں پیش کر سکتے ہو تو اِس طرح ہر زندہ شخص اِن کو اپنی تائید میں پیش کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ یہ جنگیں میری صداقت کی علامت ہیں۔
    اِس کے متعلق میرا جواب یہ ہے کہ اگر اُن لاکھوں کروڑوں لوگوںکو جو اِس وقت زندہ ہیں اِن جنگوں کی خبریں دی گئی ہیں تو یہ ہر زندہ شخص کی علامت بن سکتی ہیں اور اگر اُن کو اِن لڑائیوں کی خبریں نہیں دی گئیں تو پھر جس کو اِن جنگوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اِسی کے متعلق جلالِ الٰہی کا یہ ظہور کہا جائے گا۔
    مصلح موعود کا نام ’’عالَمِ کباب‘‘ بھی رکھا گیا ہے اور گو یہ پیر منظور محمد صاحب کے لڑکے کا نام رکھا گیا تھا لیکن اِس کے معنی یہی تھے کہ وہ لڑکا منظورِ محمد یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہو گا اور محمدی بیگم سے مراد سیّدانی کی اولا دہے۔ ہر سیّدانی بوجہ آنحضرت ﷺ کی ذرّیت ہونے کے محمدی بیگم ہے یعنی محمد رسول اللہﷺ کی طرف نسبت ذریت رکھنے والی بیگم۔ دوسرے معنی اِس کے یہ بھی تھے کہ سب سے پہلے مصلح موعود کا اعلان پیر منظور محمد صاحب کریں گے اور چونکہ اِس لحاظ سے وہ اِس خیال کو سب سے پہلے بحث میں لانے والے تھے اور تصنیف مصنف کی معنوی اولاد ہوتی ہے اِس لئے پیشگوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ رنگ اختیار کیا اور بتایا کہ جماعت میں سب سے پہلے اِس پیشگوئی کی حقیقت کی طرف پیر منظور محمد صاحب اشارہ کریں گے۔
    مخالفین کی ارادۂ قتل میں ناکامی
    ۶۔ چھٹی خبر یہ دی گئی تھی کہ خدا کا سایہ اُس کے سر پر ہو گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اُس کا حافظ و ناصرہوگا اور اُسے
    دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا ۔ اَب دیکھو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اِس الہام کی صداقت میں متواتر میری حفاظت اور نصرت کی ہے۔ مجھے اِس وقت تک کوئی ایسا الہام نہیں ہوا جس کی بناء پر میں کہہ سکوں کہ میں انسانی ہاتھوں سے نہیں مروں گا لیکن بہرحال میں اِس یقین پر قائم ہوں کہ جب تک میرا کام باقی ہے اُس وقت تک کوئی شخص مجھے مار نہیں سکتا۔ میرے ساتھ متواتر ایسے واقعات گزرے ہیں کہ لوگوں نے مجھے ہلاک کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے اُن کے حملوںسے مجھے محفوظ رکھا۔
    پہلا واقعہ
    ایک گزشتہ جلسے کا واقعہ ہے مَیں تقریر کر رہا تھا اور تقریر کرتے کرتے میری عادت ہے کہ میں گرم گرم چائے کے ایک دو گھونٹ پی لیا کرتا ہوں تاکہ گلا
    درست رہے کہ اِسی دَوران میں جلسہ گاہ میں سے کسی شخص نے ملائی کی ایک پیالی دی اور کہا کہ یہ جلدی حضرت صاحب تک پہنچا دیں کیونکہ حضور کو تقریر کرتے کرتے ضعف ہو رہا ہے چنانچہ ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو اور تیسرے نے چوتھے کو وہ پیالی ہاتھوں ہاتھ پہنچانی شروع کر دی یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ سٹیج پر پہنچ گئی۔ سٹیج پر اتفاقاً کسی شخص کو خیال آگیا اور اُس نے احتیاط کے طور پر ذرا سی ملائی چکھی تو اُس کی زبان کٹ گئی۔ تب معلوم ہوا کہ اِس میں زہر مِلی ہوئی ہے اَب اگر وہ ملائی مجھ تک پہنچ جاتی اور میں خدانخواستہ اُسے چکھ لیتا تو اور کچھ اثر ہوتا یا نہ ہوتا اتنا ضرور ہوتا کہ تقریر رُک جاتی۔
    دوسرا واقعہ
    دوسرا واقعہ یہ ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک دیسی عیسائی آیا جس کا نام جے میتھیوز تھااور اُس کا ارادہ تھا وہ مجھے قتل کر دے۔ یہاں سے جب
    وہ ناکام واپس لَوٹا تو اُس کا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور اُس نے اُسے قتل کر دیا۔ اِس پر عدالت میں مقدمہ چلا اور اُس نے سیشن کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرا ارادہ اپنی بیوی کو ہلاک کرنے کا نہیں تھا بلکہ میں مرزا صاحب کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ میں نے ایک جگہ کسی مولوی کی تقریر سُنی جس نے ذکر کیا کہ قادیان کے مرزا صاحب بہت بُرے آدمی ہیں اور اُن میں یہ یہ بُرائیاں ہیں۔ مَیں نے اُس کی تقریر کے بعد فیصلہ کیا کہ میں قادیان جا کر مرزا صاحب کو مار ڈالوں گا۔ چنانچہ میں پستول لے کر قادیان گیا اتفاقاً اُس روز جمعہ تھا۔ جمعہ کے خطبہ میںچونکہ بہت لوگ اکٹھے تھے اِس لئے مجھے اُن پر حملہ کرنے کی جرأ ت نہ ہوئی۔ دوسرے دن میں نے سُنا کہ وہ پھیرو چیچی چلے گئے ہیں۔ میں پستول لے کر اُن کے پیچھے پیچھے پھیروچیچی گیا اور مَیں نے سمجھا کہ وہاں آسانی سے میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکوں گا۔ مگر وہاں بھی میں نے دیکھا کہ اُن کے دروازہ پر ہر وقت پہرہ دار بیٹھے رہتے ہیں اِس لئے مَیں واپس آگیا۔ گھر آ کر میرا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور میں نے اُسے مار ڈالا۔ یہ سارا واقعہ اُس نے عدالت میں خود بیان کیا حالانکہ ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ کوئی شخص کس نیت اور ارادہ کے ساتھ ہمارے پاس آیا ہے لیکن ہر موقع پر اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور اُسے حملہ کرنے میں ناکام رکھا۔
    تیسرا واقعہ
    تیسرا واقعہ یہ ہے کہ احرار کی شورش کے ایام میں مَیں ایک دن اپنی کوٹھی دارالحمد میں تھا کہ ایک افغان لڑکا آیا اور اُس نے کہلا بھیجا کہ مَیں آپ سے
    ملنا چاہتا ہوں۔ میرے چھوٹے بچے اندر آئے اور اُنہوں نے بتایا کہ ایک لڑکا باہر کھڑا ہے اور وہ ملنا چاہتا ہے۔ میں باہر نکلنے ہی والا تھا کہ میںنے شور کی آواز سُنی۔ میں حیران ہوا کہ یہ شور کیسا ہے۔ چنانچہ میں نے دریافت کرایا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ یہ لڑکا قتل کے ارادہ سے آیا تھا مگر عبدالاحد صاحب نے اُسے پکڑ لیا اور اُس سے ایک چھرا بھی اُنہوں نے برآمد کر لیا ہے۔ میں نے عبدالاحد صاحب سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگ گیا کہ یہ قتل کے ارادہ سے آیاہے؟ وہ کہنے لگا کہ یہ لڑکا پٹھان تھا اور ہم پٹھانوں کی عادات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ جب یہ باتیں کر رہا تھا تو باتیں کرتے کرتے اِس نے اپنی ٹانگوںکو اِس طرح ہِلایا کہ میں فوراً سمجھ گیا کہ اُس نے چھرا چھپایا ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے ہاتھ ڈالا تو چھرا نکل آیا۔ پولیس نے اُس پر مقدمہ بھی چلایا تھا اور غالباً اُس نے اقرار کیا تھا کہ میں قتل کی نیت سے ہی قادیان آیا تھا۔
    (اِس موقع پر حضور نے فرمایا کہ میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس جیل خانہ میں قید تھا جہاں میں افسر لگا ہوا تھا اور وہ کہتا تھا کہ میں پہلے دھرم سالہ تک اِن کو قتل کرنے لئے گیا تھا مگر مجھے کامیابی نہ ہوئی۔ آخر مَیں قادیان گیا اور پکڑا گیا)
    چوتھا واقعہ
    چوتھا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ اُمِّ طاہر کے مکان کی دیوار پھاند کر ایک شخص اندر کُودنا چاہتا تھا کہ لوگوں نے اُسے پکڑ لیا۔ پولیس والے چونکہ ہمارے
    خلاف تھے اِس لئے اُنہوں نے یہ کہہ کر اُسے چھوڑ دیا کہ یہ پاگل ہے۔
    پانچواں واقعہ
    پانچواں واقعہ بالکل تازہ ہے جو کل ہی ہوا ہے۔ کل ہمارے گھر میں دودھ رکھا ہوا تھا کہ میری بیوی کو شُبہ پیدا ہوا کہ کسی نے دودھ میں کچھ
    ڈال دیا ہے چنانچہ اِس شُبہ کی وجہ سے اُنہوں نے کہہ دیا کہ اِس دودھ کو استعمال نہ کیا جائے۔ ایک دوسری عورت جسے اِس کا علم نہیں تھا یا اُس نے خیال کیا کہ یہ محض وہم ہے اُس نے وہ دودھ پی لیا اور اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُسے اَب تک متواتر قئیں آ رہی ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ جو شُبہ کیا گیا تھا وہ درست تھا۔
    لیکن باوجود اِس کے کہ لوگوں نے مجھے ہلاک کرنے کی کئی کوششیں کیں اور ہر رنگ میں اُنہوں نے زور لگایا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ خدا کا سایہ میرے سَر پر ہو گا اِس لئے وہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا اور اُس وقت تک کرتا رہے گا جب تک وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے اپنی تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔
    قبولیت دعا کا نشان
    خدا کا سایہ سَر پر ہونے کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُس کی کثرت سے دعائیں سُنے گا۔ یہ علامت بھی اتنی بیّن اور واضح
    طور پر میرے اندر پائی جاتی ہے کہ اِس اَمر کی ہزاروں نہیں، لاکھوں مثالیں مل سکتی ہیں کہ غیرمعمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے میری دعائیںسنیں۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ
    پھریہ نہیں کہ میری دعاؤں کی قبولیت کے صرف احمدی گواہ ہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہزاروں عیسائی،ہزاروں ہندو اور ہزاروں غیراحمدی بھی اِس بات کے گواہ ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق میری دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا اور اُن کی مشکلات کو دُور کیا۔ ’’الفضل‘‘ میں بھی ایسے بیسیوں خطوط وقتاً فوقتاً چھپتے رہتے ہیںکہ کس طرح مخالف حالات میں لوگوں نے مجھے دعاؤں کے لئے لکھااور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُن کی مشکلات کو دُور کر دیا۔ اِس معاملہ میںبھی مَیں نے بار بار چیلنج دیا ہے کہ اگر کسی میںہمت ہے تو وہ دعاؤں کی قبولیت کے سلسلہ میں ہی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔ مگر کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اِس رنگ میں دنیا کو مقابلہ کا چیلنج دے چکے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔
    ’’میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہو وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اِس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے۔ جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں۔ یعنی اِس طرح پر کہ دو خطرناک بیمار لے کر جو جُدا جُدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کے لئے تقسیم کر لیں۔ پھر جس فریق کا بیمار بکلّی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اُس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔‘‘۴۲؎
    یہ چیلنج میری طرف سے بھی ہے اگر لوگ اِس معاملہ میں میری دعاؤںکی قبولیت کو دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بعض سخت مریض قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کر لیں اور پھر دیکھیں کہ کون ہے جس کی دعاؤں کو خداتعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کس کے مریض اچھے ہوتے ہیں اور کس کے مریض اچھے نہیں ہوتے ۔
    یوسفِ ثانی کی خبر
    ۷۔ ساتویں اُس کا نام یوسف رکھا گیا تھااور یوسف کا واقعہ بھی یہی ہے کہ اُس کے بڑے بھائیوں نے اُسے گم کر دیا اور پھر باپ
    کو کہنے لگے کہ اب وہ نہیں ملتا تم اُس کی یاد میں مر جائو گے لیکن اُسے نہ پائو گے اِسی طرح میرے ساتھ ہوا۔ ہماری جماعت میں جو بڑے لوگ تھے اُنہوں نے انکار کیا اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں یوسف ؑ نے ظاہر نہیں ہونا۔ صرف فرق یہ ہے کہ یوسف کے بھائی آخر تائب ہوئے اور وہ یوسف ؑپر ایمان لے آئے۔ مگر میرے یہ بڑے بھائی جو یوسف ؑ کے بھائیوں سے بھی مخالفت میں بڑھ گئے ہیں ایمان نہیں لائے اور درحقیقت ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں تو یہ خبر دی گئی تھی کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند یوسف ؑ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ مگر یہاں یہ خبرنہیں دی گئی کہ وہ بڑے بھائی سجدہ کر یں گے بلکہ یہاں یہ خبر دی گئی تھی کہ شَاہَتِ الْوُجُوْہُ۔۴۴؎ اُن کے منہ کالے کر دیئے جائیں گے دیکھو! یہ پیشگوئی کتنا بڑا نشان اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا کیسا عظیم الشان ثبوت ہے ۔ آپ فرماتے ہیں یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ اور پھر فرماتے ہیں اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیاتو لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِنْ ھٰؤُ لَائِ فارسی الاصل لوگوں میں سے بعض رِجَال اُسے واپس لے آئیں گے اب ایک آنے والے کی خبر سُن کر جھوٹا شخص بھی فائدہ اُٹھانے کے لئے دعویٰ کر سکتا ہے مگر وہ اِن دو باتوں کا ثبوت کہاں سے لائے گا کہ اولاد بھی ہو اور اُس کے کام کو چلانے والی اوراسلام کو پھیلانے والی ہو اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی کا یہ کیسا زبر دست ثبوت ہے کہ لڑکا ہوا، پھر وہ ایسے حالات میں سے گزرا کہ اُس کی عمر خطرہ میں اور اُس کا علم صفر تھا، پھر خداتعالیٰ نے اس کی مخالفت کروائی اور بڑے بڑے لوگوں کو اُس کے خلاف کھڑا کر دیا جنہوں نے یہاں تک کہا کہ ہم تو جاتے ہیں مگر چند دنوں کے بعد ہی تم دیکھو گے کہ یہاں عیسائی قبضہ کر لیں گے۔ مگر ایک ایک کر کے وہ سب مخالفتیں ختم ہو گئیں اور آج اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم الشان نشان نظر آرہا ہے کہ ہزاروں لوگ یہاں جمع ہیں۔ پس ایک ایک آدمی جو یہاں بیٹھا ہے وہ میری سچائی کا نشان اور اِس بات کا ثبوت ہے کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔
    مولوی محمد علی صاحب کا پہلا اعتراض
    مولوی محمد علی صاحب نے اِس پیشگوئی کے متعلق لکھا ہے کہ موعود تین سَو سال
    کے بعد آئے گا اِس کا جواب میں دے چکا ہوں۔
    دوسرے انہوں نے کئی مخالف دلائل اِس اصل پر دیئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریرات سے سندیا تو غلط ہے یا مستند نہیں۔ میں اِس بحث میں پڑتا ہی نہیں کہ وہ سند درست ہے یا نہیں کیونکہ میں تو صرف الہامات اور اُن کے مفہوم کو لیتا ہوں باقی انہوں نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اِس پیشگوئی کو مبارک احمد پر چسپاں کیا اور وہ اجتہاد غلط نکلا۔ میں اِس بارہ میںمولوی صاحب کی بات کو تسلیم کر لیتا ہوں کہ چلو وہ پیشگوئی آپ نے مبار ک احمد پر لگائی اور آپ کا اجتہاد غلط نکلا کیونکہ میری تشریح کا سب دارومدار تو اللہ تعالیٰ کی وحی پر ہے نہ کہ مأمور کے اجتہاد پر۔ مگر اِسی سلسلہ میں انہوں نے ایک نہایت افسوسناک حرکت کی ہے اور وہ یہ کہ اُنہوں نے اِس جوش میں کہ وہ ہماری جماعت کو جھوٹا کہیں اپنی پانچویں دلیل کا ہیڈنگ یہ قائم کیا ہے کہ۔
    ’’الہام الٰہی کے بغیر مصلح موعود کی تعیین کرنے والے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے *** کی ہے‘‘۔
    اور اِس کا ثبوت اُنہوں نے یہ دیا ہے کہ:۔
    ’’ حضرت مسیح موعودؑ نے جس زور سے پسر موعود کے بارے میںالہام کا مطالبہ اپنے مخالفین سے کیا ہے اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدوں کھلے کھلے الہامِ الٰہی کے کسی کو مصلح موعود قرار دینا ایک خطرناک غلطی ہے۔ ’’حُجَّۃُ اللّٰہ‘‘ میں جو’’سراجِ منیر‘‘ کے بعد طبع ہوئی ذیل کے الفاظ آج ہمار ے احباب کو بہت غور سے پڑھنے چاہئیں اور سوچنا چاہئے کہ وہ کن لوگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں صفحہ ۱۰ پر فرماتے ہیں ۔
    ’’ہاں اگر اِس پیشگوئی میں کوئی ایسا الہام مَیں نے لکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ الہام نے اسی کو موعود لڑکا قرار دیا تھاتو کیوں وہ الہام پیش نہیں کیا جاتا ۔ پس جبکہ تم الہام کے پیش کرنے سے عاجز ہو تو کیا یہ *** تم پر ہے یاکسی اور پر……اور بِالفرض اگر میری یہی مراد ہوتی تو میرا کہنا اور خدا کا کہنا ایک نہیں ہے۔ میں انسان ہوں ممکن ہے کہ اجتہاد سے ایک بات کہوں اور وہ صحیح نہ ہو پَر میں پوچھتا ہوں کہ وہ خدا کاالہام کو نساہے کہ میں نے ظاہر کیا تھاکہ پہلے حمل میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے گا یا جودوسرے میں پیدا ہوگا وہ درحقیقت وہی موعود لڑکا ہوگا اور وہ الہام پورا نہ ہوا۔ اگر ایسا الہام میرا تمہارے پاس موجود ہے تو تم پر *** ہے اگر وہ الہام شائع نہ کرو۔‘‘۴۵؎
    اِس حوالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو یہ فرما رہے ہیں کہ جو لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے الہام کے مطابق بشیر اوّل کو اپنا موعود لڑکا قرار دے دیا تھا وہ جھوٹ بولتے ہیںاور جھوٹ بولنا لعنتیوںکا کام ہوتاہے۔ اگر اُن کے پاس میرا کوئی ایسا الہام ہے تو اُن پر *** ہے اگر وہ اُس الہام کو شائع نہ کریں۔یہ نہیں فرما تے کہ الہامِ الٰہی کے بغیر تعیین کرنا *** ہوتی ہے اس طرح تو مولوی محمد علی صاحب خود بھی زیرِ الزام آجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے بائبل کی کئی پیشگوئیوں کو رسول کریم ﷺپر چسپاں کیا ہے اور ریویو آف ریلیجنز اُردو کے گزشتہ مضامین اس امر پر شاہد ہیں۔ وہ بار بار ان مضامین میںلکھتے رہے ہیں کہ بائبل کی فلاں پیشگوئی رسول کریم ﷺ پر چسپاں ہوتی ہے کیا انہوں نے یہ تعیین الہامِ الٰہی کے مطابق کی تھی یا بغیر الہامِ الٰہی کے۔ اگر الہامِ الٰہی کے بغیر تعیین کر نا لعنتیوں کا کام ہوتا ہے تو پھر یہ *** کا کام مولوی محمد علی صاحب نے کیوں کیا؟ لیکن سب سے زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ اِس فقرہ کے لکھنے کے چند صفحات بعد اِسی کتاب میں،یہ نہیں کہ کسی دوسری کتاب میں یا اِسی کتاب کے کسی دوسرے ایڈیشن میں بلکہ اسی کتاب اور اسی ایڈیشن میں یہ لکھنے کے بعد کہ :۔
    ’’الہامِ الٰہی کے بغیرمصلح موعود کی تعیین کرنے والے پر حضرت مسیح موعود ؑ نے *** کی ہے‘‘
    محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔
    ’’خدا را غور کرو کہ مصلح موعود کی تعیین حضرت مسیح موعود ؑنے کس کے حق میں کی ہے۔ یاد رکھو کہ مصلح موعود صرف ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی کے دوسرے حصہ کا موعود ہے اور اُس کو اپنی ساری تحریروں میں حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک دفعہ بھی سوائے مبارک احمد کے اور کسی لڑکے پر نہیں لگایا‘‘۔ ۴۶؎
    اب ایک طرف تو کہتے ہیں کہ الہامِ الٰہی کے بغیر مصلح موعود کی تعیین کرنے والے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے *** کی ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بغیر الہامِ الٰہی کے مصلح موعود کی تعیین کی اور اِس پیشگوئی کو مبارک احمد پر چسپاں کیایہ کتنی کور باطنی ہے کہ ایک شخص مرید ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر ایک طرف توکہتا ہے کہ جو شخص بغیر الہامِ الٰہی کے مصلح موعود کی تعیین کرتا ہے وہ *** ہے اور دوسری طرف وہ اُسی شخص کو جس کا وہ مرید ہے لکھتا ہے کہ اُس نے بغیر الہامِ الٰہی کے مبارک احمد کے متعلق تعیین کی اور کہا کہ وہ اِس پیشگوئی کامصداق ہے۔
    دوسرا اعتراض
    مولوی صاحب نے تین کو چار کرنے والے الہام پر بہت زور دیاہے اور میرے متعلق لکھا ہے کہ یہ علامت اُن پر کسی طرح بھی چسپاں
    نہیں ہو سکتی۔ میں جیسا کہ پہلے بھی بتا چکا ہوں حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود لکھا ہے کہ’’اِس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے‘‘جب کہ آپؑ پر اِس کے معنی ہی حل نہیں ہوئے تو اگر کسی جگہ آپ نے اِس کے کوئی ایسے معنی لئے ہیں جو میرے خلاف پڑتے ہیںتو بہرحال وہ آپ کا ایک اجتہاد سمجھا جائے گا جسے اُن معنوں کے قطعی حل کی حیثیت سے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔ مگر مولوی محمد علی صاحب کی عادت ہے کہ اگر میرے خلاف کوئی حوالہ پڑتا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسا لکھ دیا ہے تو ہم اِس کے خلاف کس طرح کہہ سکتے ہیں اور اگر میری تائید میں کوئی حوالہ ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اجتہاد تھا اور اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے حالانکہ اگر اجتہاد میں ایک جگہ غلطی ہو سکتی ہے تو دوسری جگہ کیوں نہیں ہو سکتی۔
    پھر یہ بھی صحیح نہیں کہ تین کو چار کرنے والے کی علامت مجھ پر چسپاں نہیں ہوتی۔ میں خداتعالیٰ کے فضل سے کئی رنگ میں تین کو چار کرنے والا ہوں۔
    اوّل اِس طرح کہ مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب ،مرزا افضل احمد صاحب ،اور بشیر اوّل پیدا ہوئے اور چوتھا مَیں ہوا۔
    ـدوسرے اِس طرح کہ میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے اور اِس طرح میں نے اُن تین کو چار کر دیا یعنی مرزا مبارک احمد ، مرزا شریف احمد، مرزا بشیر احمد اور چوتھا میں ۔
    تیسرے اِس طرح بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندہ اولاد میں سے ہم صرف تین بھائی یعنی مَیں، مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا شریف احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان رکھنے کے لحاظ سے آپ کے روحانی بیٹوں میں شامل تھے۔ مرزا سلطان احمد صاحب آپ کی روحانی ذریت میں شامل نہیں تھے۔ اُنہیں حضرت خلیفہ اوّل پر بڑا اعتقاد تھا مگر باوجود اعتقاد کے آپ کے زمانہ میں وہ احمدی نہ ہوئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ایک رؤیا سے معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ہدایت مقدر کی ہوئی ہے وہ رؤیا یہ ہے آپ نے دیکھا کہ۔
    ’’مرزا نظام الدین کے مکان پر مرزا سلطان احمد کھڑا ہے اور سب لباس سرتاپاسیاہ ہے۔ ایسی گاڑھی سیاہی کہ دیکھی نہیں جاتی اُسی وقت معلو م ہوا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے اُس وقت میںنے گھر میں مخاطب ہو کر کہاکہ یہ میرا بیٹا ہے‘‘۔۴۷؎
    آپ کامرزا سلطان احمد صاحب کے متعلق یہ کہنا کہ ’’یہ میرا بیٹا ہے‘‘بتا رہا تھا کہ اُن کے لئے آپ کی روحانی ذرّیت میں شامل ہونا مقدر ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے زمانہ میں وہ احمدیت میں داخل نہ ہوئے ۔ جب میرا زمانہ آیاتو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ وہ میرے ذریعے سے احمدیت میں داخل ہوگئے۔ اِس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں میرے ہاتھ پربیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی حالانکہ وہ میرے بڑے بھائی تھے اور بڑے بھائی کے لئے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے چنانچہ بیعت کے بعد اُنہوں نے خود بتایا کہ مَیں ایک عرصہ تک اِسی وجہ سے بیعت کرنے سے رُکتا رہا کہ اگر میں بیعت کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرتا یا حضرت خلیفہ اوّل کی کرتا جن پر مجھے بڑا اعتقاد تھااپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کر لوں مگر کہنے لگے آخر میں نے کہا یہ پیالہ مجھے پینا ہی پڑے گا۔چنانچہ اُنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے تین کو چار کرنے والا بنادیا۔کیونکہ پہلے روحانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذرّیت میں ہم صرف تین بھائی تھے مگر پھر تین سے چار ہوگئے۔
    پھر اِس لحاظ سے بھی میں تین کو چار کرنے والا ہوں کہ میں الہام کے چوتھے سال پیدا ہوا۔ ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ پیشگوئی کی تھی اور ۱۸۸۹ء میں میری پیدائش ہوئی۔ ۱۸۸۶ء ایک ،۱۸۸۷ء دو،۱۸۸۸تین، اور ۱۸۸۹ء چار ۔گویا تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ میری پیدائش پیشگوئی سے چوتھے سال ہوگی اور اس طرح میں تین کو چار کرنے والا بنوں گاچنانچہ ایسا ہی ہوا۔۱۸۸۶ء میں پیشگوئی ہوئی اور ۱۸۸۹ء میں اِس پیشگوئی کے عین مطابق میری ولادت ہوئی۔
    تیسرا اعتراض
    ایک اعتراض مولوی صاحب نے یہ کیا ہے کہ مامور کی پہلی زندگی پر اعتراض نہیں ہوتے لیکن میاں صاحب کی زندگی پر بڑے بڑے
    اعتراض ہوئے ہیں ۔ اُن کے دوست اور اُن کے نہایت مخلص مُرید ایک دو نہیں ،بیسیوں کی تعداد میں اُن پر نہایت گندے الزام لگاتے رہے ہیں۔ مولوی صاحب نے یہ اعتراض کرتے ہوئے جس قسم کے الفاظ میرے متعلق استعمال کئے ہیں مجھے اُن کا شکوہ نہیںکیونکہ انسان کے جیسے اخلاق ہوتے ہیں ویسی ہی اس سے حرکات سر زد ہوتی ہیں۔
    میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مولو ی صاحب نے اپنے خیال میں یہ دلیل میرے خلاف دی ہے لیکن ہے میرے حق میں اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
    ’’تمہیں یاد رہے کہ ہر ایک کی شناخت اُس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل ازوقت ممکن ہے کہ وہ معمولی انسان دکھائی دے۔ یابعض دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے قابلِ اعتراض ٹھہرے‘‘۔۴۸؎
    یہ پیشگوئی تھی جو میرے متعلق پائی جاتی تھی کہ بعض دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے مجھے قابلِ اعتراض ٹھہرایاجائے گا۔ اگر مولوی صاحب یہ اعتراض نہ کرتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوتی۔ پس اُن کے اِس اعتراض کے صرف اتنے معنی ہیں کہ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور پیشگوئی پوری ہو گئی۔
    چوتھا اعتراض
    ایک اعتراض مولوی صاحب نے یہ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آنے والے کی نسبت لکھا ہے کہ:۔
    ’’میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اُس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا۔‘‘۴۹؎
    گویا وہ موعود الہامِ الٰہی سے کھڑا ہو گا اور ماموریت کامدعی ہو گا۔ نہ یہ کہ خلافت کی طرح اُس کا انتخاب ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔
    ’’اللہ تعالیٰ اُس کو اپنے اَمر سے کھڑا کرے گا پس اُس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا نشان یہ ہو گا کہ وہ مامور ہو گا‘‘۔
    مگر اِس کا جواب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’الوصیت‘‘ میں دے چکے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔
    ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خداتعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑاکر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا‘‘۔۵۰؎
    اَب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہاں وہی الفاظ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق استعمال کئے ہیں جو مولوی محمد علی صاحب نے مصلح موعود کے متعلق استعمال کئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے یہ الفاظ استعمال کئے کہ:۔
    ’’میں تیری جماعت کیلئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا۔‘‘
    اور مولوی محمد علی صاحب نے اِن کی تشریح کرتے ہوئے لکھا کہ:۔
    ’’اللہ تعالیٰ اُس کو اپنے اَمر سے کھڑا کرے گا‘‘
    بعینہٖ یہی الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق استعمال کر دیئے اور فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات پر جب صحابہؓ کو شدید صدمہ ہوا اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے۔
    ’’تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کھڑا کیا‘‘
    اِسی طرح اگر مَیں کھڑا ہوا تو میرے کھڑے ہونے کو خداتعالیٰ کا کھڑا کرنا کیوں نہ کہا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جن معنوں میںحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اُنہی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا بلکہ ایک زائد اَمر یہ ہے کہ اُنہوں نے الہام سے کھڑے ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اِس دعویٰ کے بارہ میں مجھے الٰہی اشارہ ہوا اور مَیں نے الہاماً دنیا کے سامنے اپنے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ پیش کیا۔
    پانچواں اعتراض
    ایک اعتراض مولوی صاحب نے یہ کیا ہے کہ مجھے خواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ مَیں مصلح موعود ہوں یہ تو مَیں نے اجتہادکیا ہے۔ مگر یہ
    اعتراض بھی درست نہیں۔ خواب میں صراحتاً یہ باتیں موجود ہیں۔ چنانچہ رؤیا میں میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ:
    اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ
    میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی مسیح موعود کا مثیل اور اُس کا خلیفہ۔ اور میں نے بتایا ہے کہ خواب میں ہی یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ میں اِس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میںحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اِس پیشگوئی کا مصداق ہوں جو آپ نے ایک موعود کے متعلق فرمائی تھی اور جس کے متعلق بتایا تھاکہ وہ حُسن واحسان میں میرا نظیر ہو گا۔ـ اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو مصلح موعود کے متعلق ہے۔
    پس یہ کہنا کہ خواب میں اِس اَمر کا کہیں ذکر نہیں کہ مجھے مصلح موعود قرار دیا گیا ہے، غلط ہے۔ یہ الہامی الفاظ اور پھر اِن الفاظ کی تشریح سب خواب کا حصہ ہیں اور مَثِیْلُہٗ میں اِسی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔
    چھٹا اعتراض
    ایک اعتراض مولوی صاحب کا یہ ہے جو پہلے بھی کئی دفعہ کر چکے ہیں کہ خوابوں کا کیا ہے خوابیں تو کنچنیوں کو بھی آجایا کرتی ہیں۔
    مولوی صاحب جب میرے متعلق سنتے ہیں کہ انہیں فلاں فلاں خوابیں آئی ہیں یا فلاں فلاں الہامات ہوئے ہیں تو اُنہیں بُرا لگتا ہے اور وہ یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیںکہ خوابوں کا کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو لکھا ہے بعض فاسق اور فاجر بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ اُن کو کبھی کبھی سچی خوابیں آ جاتی ہیںبلکہ کنچنیاں بھی بعض دفعہ سچی خوابیں دیکھ لیتی ہیں اِس لئے خوابوں کا آنا کوئی قابلِ فخر بات نہیں۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ مولوی صاحب یہ اعتراض تو مجھ پر کرتے ہیں مگر کیا اُنہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ خدا جو کنچنیوں پر بھی رحم کر دیتا ہے باوجود اِس کے کہ وہ سخت گنہگار ہیں وہ اُن پر جو مفسرقرآن ہیں کیوں رحم نہیں کرتا اور کیوں اُن سے وہ سلوک نہیں کرتا جو وہ کنچنیوں سے بھی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ وہ مجھ پر تو چوٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوابوں کا کیا ہے خوابیں کنچنیوں کو بھی آ جاتی ہیں مگر انہیں یہ کبھی خیال نہیںآتا کہ خدا نے اُن کو کیسا محروم رکھا ہے کہ اُن پر وہ الہام بھی نہیں ہوتا جو کنچنیوں پر ہو سکتا ہے اگر ایک مفسر قرآن پر خدا اِتنا بھی رحم نہیں کرتا جتنا رحم وہ کنچنیوں پر کیا کرتا ہے تو اِس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اُن سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہوا ہے جس نے اُنہیں اِس نعمت سے محروم کر دیا ہے۔
    ساتواں اعتراض
    ایک اعتراض مولوی صاحب نے یہ کیا ہے کہ تم جو کہتے ہو ہم نے بڑی ترقی کی اور یہ ترقی ہماری سچائی کا ثبوت ہے یہ بالکل غلط
    ہے۔تمہارے ساتھ ایک بڑی جماعت ہے اور ہمارے ساتھ صرف چندآدمی۔ چندآدمیوں کا کام کر کے دکھا دینا زیادہ قیمتی ہوتا ہے بہ نسبت ایک جماعت کے کام کرنے کے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ ہم صرف یہ نہیں کہتے کہ ہمارے ساتھ جماعت ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے شدید مخالفت کے باوجود ترقی کی ہے اور یہ ترقی ہماری صداقت کا ثبوت ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ مسیلمہ کے ساتھ بھی ایک بڑی جماعت تھی یا اسود عنسی کے ساتھ بھی ایک بڑی جماعت تھی مگر سوال یہ ہے کہ مسیلمہ کی کس نے مخالفت کی یا اسودعنسی کی کس نے مخالفت کی؟ وہ اُٹھے اور بغیر مخالفت کے انہیں لاکھوں لوگ مل گئے۔ گو تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ خود بھی مٹ گئے اور اُن کی جماعتوں کا بھی نام و نشان نہ رہا لیکن بہرحال اُن کی مخالفت نہیں ہوئی۔ یہ نہیں ہوا کہ اُنہوں نے دعویٰ کیا ہو تو اُن کی شدید مخالفت ہوئی ہو اور پھر وہ دنیا پر غالب آ گئے ہوں لیکن ہماری جماعت وہ ہے جس کی شدید مخالفت ہوئی اپنوں نے بھی کی غیروں نے بھی کی اور جماعت کے بڑے بڑے لیڈروں نے بھی کی۔ـ ایسے حالات میں جبکہ جماعت کی ترقی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر الہام نازل کیااور فرمایاکہ مَیں تیرے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔میں تیری تمام مشکلات کو دور کروں گا اور تجھے غلبہ اور کامیابی عطا کروں گا چنانچہ باوجود اِس کے کہ قدم قدم پر مشکلات حائل تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ہماری جماعت کو ترقی دی اور ایسی ترقی دی کہ وہ جو اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے آج اپنے آپ کو پانچ فیصدی بلکہ اِس سے بھی کم قرار دے رہے ہیںاور ہمارے متعلق تسلیم کرتے ہیں کہ اِس جماعت کی تعداد زیادہ ہے، اِس کی طاقت زیادہ ہے اور اِس میں کام کرنے والے آدمی زیادہ ہیں۔ یہ ترقی یقینا ہماری صداقت کا ثبوت ہے۔ کیونکہ یہ وہ ترقی ہے جو مخالف حالات میں ہوئی۔ دنیا نے چاہا کہ ہمیں مٹا دے مگر خدا نے ہمیں کامیاب کیا اور ہمیں ہر لحاظ سے غلبہ و اقتدار عطا فرمایا اور وہ دشمن جو ہماری تباہی کے منصوبے سوچ رہے تھے خداتعالیٰ نے اُن کو ناکام و نامراد کیا۔ یہ چیز ہے جسے ہم اپنی صداقت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ چیز ایسی ہے جس کا کوئی دشمن سے دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا۔
    آٹھواں اعتراض
    پھر مولوی صاحب نے ایک اوراعتراض یہ کیا ہے کہ تم جو کہتے ہو ہم نے بڑی ترقی کی، یہ بالکل غلط ہے۔ ترقی تو ہم نے کی ہے کہ
    ہماریپہلے سال آمد صرف سات ہزار روپیہ تھی جو اَب ترقی کر کے سَوا چار لاکھ روپیہ تک جا پہنچی ہے اور تمہاری پہلے سال دو لاکھ روپیہ آمد تھی جو اَب ترقی کر کے چھ لاکھ تک پہنچی ہے۔
    گویا تم نے صرف تین گنا ترقی کی اور ہم نے ساٹھ گنا کی۔ چنانچہ مولوی صاحب لکھتے ہیں۔
    ’’آمدنی جو سال اوّل میں صرف سات ہزار روپے تھی ترقی کر کے سَوا چار لاکھ تک پہنچی جو سالِ اوّل سے ساٹھ گنا ہے اور قادیانی جماعت اپنے سارے بلند بانگ دعاوی کے ساتھ دو لاکھ آمدنی سے ترقی کرکے صرف چھ لاکھ سالانہ آمدنی تک پہنچی۔ جو ابتدائی حالت سے تگنی ہے۔ کجا ساٹھ گنی ترقی اور کہاں تگنی۔‘‘۵۱؎
    مولوی صاحب کی عادت ہے کہ وہ واقعات کو بگاڑے بغیر نہیںرہ سکتے۔ اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بڑھیا تھی جسے چوری کی عادت تھی۔ ایک دفعہ وہ کسی کے گھر گئی تو ایک آدمی اُس کے ساتھ ساتھ رہا تاکہ وہ کوئی چیز چُرا نہ سکے۔ جب وہ واپس آنے لگی تو اُس نے دہلیز سے ذرا سی مٹی اُٹھا لی۔ کسی نے اُس سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا ہے؟ وہ کہنے لگی عادت جو پوری کرنی ہوئی اور کوئی چیز نہیں ملی تو میں نے کہا چلو مٹی ہی اُٹھا لیں۔ یہی بات مولوی صاحب میں پائی جاتی ہے کہ وہ حوالوں میں کتربیونت یا واقعات کو مسخ کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ جب بھی کوئی بات پیش کریں گے اُس میں ضرور کوئی نہ کوئی غلط بات شامل کر دیں گے۔
    اوّل تو ہم کہتے ہیں کہ اگر مولوی صاحب کی یہ بات درست ہے کہ اُن کا پہلے سال کا بجٹ صرف سات ہزار روپیہ کا تھا تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اُن کے ساتھ تھے اُن کے ایمان نہایت کمزور تھے اور وہ دین کے لئے قربانی کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے تھے کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر بشارت احمد صاحب، ڈاکٹر غلام محمد صاحب اور اِسی طرح ان کے دوسرے ساتھی بڑی بڑی آمدنیںرکھتے تھے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب ہی تین سَو روپیہ ماہوار چندہ دیا کرتے تھے۔ اگر صرف اُن کا چندہ ہی شامل کر لیا جائے تو سال کا ۳۶۰۰ روپیہ بن جاتا ہے۔ پھر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر بشارت صاحب اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب وغیرہ کی آمدنیں بھی تین تین چار چار ہزار روپیہ سالانہ سے کم نہیں تھیں ۔ اگر اِن میں سے ایک ایک شخص کے سالانہ چندہ کی اوسط ۱۸۰ روپیہ سمجھی جائے تو اِس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ ۹۰۰ روپیہ سالانہ صرف پانچ ڈاکٹروںکی طرف سے ہی آ جاتا تھا۔ ۳۶۰۰ وہ اور ۹۰۰ روپیہ یہ ساڑھے چار ہزار روپیہ ہو گیا۔ پھر لائل پور کے شیخ مولا بخش صاحب ہیں۔ اِسی طرح وزیرآباد کے شیخ نیاز احمد صاحب ہیں اِن سب کی آمدنیوں کو ملا لیا جائے تو کئی لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔ لائل پور کے تاجر ملک التجار کہلاتے ہیں اور بعض لوگ بتاتے ہیں کہ اُن کو ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ تک آمد ہو جاتی ہے۔ اگر اِس میں کچھ مبالغہ بھی ہو اور اُن کی بیس لاکھ روپیہ سالانہ آمد سمجھ لو تب بھی سَوا لاکھ روپیہ تو انہیں صرف ایک خاندان سے مل سکتا تھا۔ اگر اِس قدر دولت رکھنے والے لوگوں کے باوجود اِن کا سالانہ چند صرف سات ہزار روپیہ تھا تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کمزور طبیعت کے تھے۔ ایمان اور اخلاص کے ساتھ وہ مولوی صاحب کے ساتھ شامل نہیںہوئے تھے۔
    غیر مبائعین کا ۳۸۔۱۹۳۷ء کا بجٹ
    پھر مولوی صاحب کی طرف سے جو کہا جاتا ہے کہ اُن کا چندہ ترقی کر کے اَب
    سَوا چار لاکھ روپیہ تک جا پہنچا ہے یہ بھی درست نہیں۔ میرے پاس اِس وقت اُن کی انجمن کا ۳۸۔۱۹۳۷ء کا بجٹ ہے۔ اِس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ انجمن کے کتنے صیغے ہیں اور ہر صیغہ کے آمد و خرچ کی کیا نسبت ہے۔ اِس نقشہ میں ۳۸۔۱۹۳۷ء کا اصل آمد و خرچ ۳۸۔۱۹۳۷ء کا تخمینہ بجٹ اور ۳۸۔۱۹۳۷ء کا ۹ ماہ کا اصل آمد و خرچ اور تین ماہ کا تخمینہ آمد و خرچ دکھایا گیا ہے جو یہ ہے۔
    تخمینہ بجٹ آمد صیغہ جات احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور
    تفصیل
    اصل آمد ایک سال بابت ۳۷۔۱۹۳۶ء
    تخمینہ آمد بابت سال ۳۸۔۱۹۳۷ء
    اصل آمد نو ماہ از یکم نومبر ۱۹۳۷ء تا آخر جولائی ۱۹۳۸ء
    تخمینہ آمد ۳ ماہ از یکم اگست ۱۹۳۸ء تا آخر اکتوبر ۱۹۳۸ء
    میزان اصل آمد نوماہ معہ تخمینہ آمد
    تین ماہ
    صیغہ اغراض عام
    ۴۔۱۳۔۶۱۲۱۴
    ۷۹۱۵۰
    ۵۔۶۔۳۹۹۳۷
    ۱۰۲۲۹
    ۵۔۶۔۴۹۴۶۶
    صیغہ تالیف و تصنیف
    ۷۔۱۔۱۵۰۶۳
    ۱۷۶۰۰
    ۱۰۔۱۴۔۱۱۴۹۳
    ۴۳۰۰
    ۱۰۔۱۴۔۱۵۷۹۴
    صیغہ اراضی اسلام آباد
    ۹۔۱۔۲۱۵۴۴
    ۲۸۲۰۰
    ۹۔۱۰۔۱۵۸۰۳
    ۶۰۳۵
    ۹۔۱۰۔۲۱۸۳۸
    صیغہ لاہور سکول
    ۹۔۰۔۲۰۲۲۶
    ۲۰۹۰۰
    ۹۔۱۲۔۱۶۵۰۲
    ۵۱۰۲
    ۹۔۱۲۔۲۱۶۰۴
    صیغہ بدوملہی سکول
    ۱۱۔۷۔۶۶۸۷
    ۱۰۲۱۵
    ۹۔۱۱۔۶۱۶۱
    ۱۷۰۱
    ۹۔۱۱۔۷۸۶۲
    صیغہ متفرق غیر معمولی
    ۵۰۰۰۰٭
    ۰۔۰۔۴۰۰
    ۴۵۰۰۰
    ۰۔۰۔۴۵۴۰۰
    میزان
    ۴۔۹۔۱۲۴۸۳۵
    ۲۰۶۰۶۵
    ۶۔۸۔۹۰۲۹۹
    ۷۲۳۶۷
    ۶۔۸۔۱۶۲۶۶۶
    اِس بجٹ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ۳۸۔۱۹۳۷ء میںصیغہ اغراضِ عام میں ۵۔۶۔۴۹۴۶۶ آئے۔ کتابیں فروخت کرنے سے اُنہیں ۱۵۷۹۴ روپے ۱۴آنے ۱۰ پائی آمد ہوئی۔ صیغہ اراضی اسلام آباد میں ۲۱۸۳۸ روپے ۱۰ آنے ۹ پائی آئے۔ صیغہ لاہور سکول میں ۲۱۶۰۴
    ٭ یہ صیغہ احتیاطاً فرضی طور پر رکھا جاتا ہے کہ اگر دورانِ سال میںکوئی خاص ضرورت چندہ وغیرہ کی پڑ جائے تو اِس صیغہ کے آمد و خرچ سے وہ پوری ہو۔
    روپے ۱۲آنے ۹ پائی کی آمد ہوئی۔ صیغہ بدوملہی سکول میں ۷۸۶۲ روپے ۱۱ آنے ۹ پائی آئے اور صیغہ متفرق غیرمعمولی میں ۵۰۰۰۰ کا تخمینہ بتایا گیا مگر یہ پچاس ہزار روپیہ محض بجٹ کو زیادہ دکھانے کیلئے رکھا جاتا ہے۔ اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ اگر دورانِ سال میںکوئی خاص ضرورت پیش آ جائے تو وہ اِس صیغہ سے پوری کی جائے۔
    بہرحال ۳۸۔۱۹۳۷ء میں ۲۰۶۰۶۵ آمد کا تخمینہ بتایا گیا۔ لیکن اصل آمد جو ۹ ماہ میں ہوئی وہ آئندہ تین ماہ کی آمد کے تخمینہ کے ساتھ صرف ۱۶۲۶۶۶ روپے۸ آنے ۶ پائی ہے۔ اِس ایک لاکھ باسٹھ ہزار چھ سَو چھیاسٹھ روپیہ میں سے اگر پچاس ہزار دستِ غیب والی آمد نکال دی جائے تو ایک لاکھ بارہ ہزار چھ سَوچھیاسٹھ روپیہ رہ جاتا ہے اور یہ روپیہ وہ ہے جس میں کتب کی آمد بھی شامل ہے، سکولوں کی آمد بھی شاملِ ہے، زمینوںکی آمد بھی شامل ہے او رچندہ عام کا ۹ ماہ کا ۹۰۲۹۹ روپے ۸ آنے ۶ پائی بھی شامل ہے۔ گویا اصل میں اُن کی آمد صرف ایک لاکھ کے قریب قریب ہے۔ جسے انہوں نے سَوا چار لاکھ روپیہ قرار دیا ہے اور اِسے اپنی ساٹھ گنا ترقی کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔
    مجھے بعض معتبر ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اُن کا اغراضِ عامہ کا بجٹ اِس سال نوے ہزار روپیہ کا ہے اور باقی دوسری مدات کا۔ جن میں سے کچھ وقتی چندے ہیںاور کچھ فرضی۔ـ اِس کے مقابلہ میں اُنہوں نے ہمارا بجٹ اوّل تو صرف چھ لاکھ روپیہ سالانہ کا بتایا ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ ہمارا بجٹ آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ کا ہوتا ہے۔
    پھر یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ صدرانجمن احمدیہ کی آمد و خرچ کے بجٹ میں ہماری زمینوں کی آمد کا بجٹ شامل نہیں ہوتا۔ اِسی طرح تحریک جدید کا چندہ اِس سے علیحدہ ہوتا ہے۔ اگر تحریک جدید کا چندہ اِس میں شامل کیا جائے تو وہ سَوا تین لاکھ روپیہ کے قریب ہوتا ہے۔ آٹھ لاکھ وہ اور سَوا تین لاکھ یہ سَوا گیارہ لاکھ روپیہ ہو گیا۔ پھر کالج کا چندہ اِس میں شامل نہیں جو ڈیڑھ لاکھ کے قریب اکٹھا ہوا۔ مساجد کا چندہ اِس میں شامل نہیں حالانکہ تیس ہزار روپیہ کے وعدے تحریک مساجد میں صرف دہلی کی جماعت نے پیش کئے اور ۶۶ ہزار روپیہ کلکتہ والوں نے جمع کیا مسجد مبارک کی توسیع کے لئے جو چندہ ہوا وہ اِس سے علیحدہ ہے۔ اِسی طرح تین لاکھ ہماری زمینوں کی آمد کا بجٹ ہوتا ہے۔ سترہ لاکھ کے قریب یہ بن گیا۔ پھر انہوں نے اپنے بجٹ میں لاہور اور بدوملہی کے سکولوں کی آمد بھی شامل کی ہے۔ لیکن ہمارے مقامی سکولوں کے بجٹ اِس میں شامل نہیں ہوتے حالانکہ افریقہ، امریکہ اور دوسری جگہوں کے اخراجات ملاؤ تو دو لاکھ یہ بڑھ جائیں گے۔ غرض اِس طرح اگر تمام اخراجات اور ہر قسم کے چندے شامل کئے جائیں تو ہمارے بجٹ کا اندازہ ۲۴،۲۵ لاکھ تک جا پہنچتا ہے۔ مگر مولوی صاحب نے حسبِ عادت دونوں طرف سے دخل اندازی کی ہے۔ ایک طرف کی ڈنڈی اُنہوں نے اونچی کر دی اور دوسری طرف کی نیچی کر دی۔ ہمارے ۲۴،۲۵ لاکھ کے بجٹ کو اُنہوں نے چھ لاکھ کا بجٹ قرار دے دیا اور اپنے ایک لاکھ کے بجٹ کو سَوا چار لاکھ کا بجٹ کہہ دیا۔
    دعویٰ مصلح موعود کے متعلق حلفیہ اعلان اور
    مخالفین کو مباہلہ کی دعوت
    خلاصہ یہ کہ مولوی صاحب کے تمام اعتراضات بے حقیقت ہیں اور خداتعالیٰ کے اِس تازہ انکشاف کے بعد تو وہ اور بھی بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اور خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے اُن پیشگوئیوں کا مورد بنایا ہے جو ایک آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائیں۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ میں نے افتراء سے کام لیا ہے یا اِس بارہ میں جھوٹ اور کذب بیانی کا ارتکاب کیا ہے وہ آئے اور اِس معاملہ میں میرے ساتھ مباہلہ کر لے اور یا پھر اللہ تعالیٰ کی موکّدبعذاب قسم کھا کر اعلان کر دے کہ اُسے خدا نے کہا ہے کہ مَیں جھوٹ سے کام لے رہا ہوں پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اپنے آسمانی نشانات سے فیصلہ فرما دے گا کہ کون کاذب ہے اور کون صادق۔
    اور اگر وہ کہتے ہیں کہ خواب تو سچا ہے جیسا کہ مصری صاحب نے کہا تو پھر اِس کی حقیقت پر وہ مضمون لکھیں۔ میں اُن کے اِس مضمون کا جواب دوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر وہ اِس مقابلہ میں آئے تو ایسی منہ کی کھائیں گے کہ مدتوں یا درکھیں گے۔
    غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رحم سے وہ پیشگوئی جس کے پورا ہونے کا ایک لمبے عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کے متعلق اپنے الہام او راعلام کے ذریعہ مجھے بتا دیا ہے کہ وہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہو چکی ہے اور اَب دشمنانِ اسلام پر خداتعالیٰ نے کاملِ حجت کر دی ہے اور اُن پر یہ اَمر واضح کر دیا ہے کہ اسلام خداتعالیٰ کا سچا مذہب، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے سچے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خداتعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اسلام کو جھوٹا کہتے ہیں ۔ کاذب ہیں وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب کہتے ہیں۔ خدا نے اِس عظیم الشان پیشگوئی کے ذریعہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
    بھلا کس شخص کی طاقت تھی کہ وہ ۱۸۸۶ء میں آج سے پورے اٹھاون سال قبل اپنی طرف سے یہ خبر دے سکتا کہ اُس کے ہاں ۹ سال کے عرصہ میں ایک لڑکا پیدا ہو گا، وہ جلد جلد بڑھے گا، وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا، وہ اسلام اور رسول کریمﷺ کا نام دنیا میں پھیلائے گا، وہ علومِ ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے گا، وہ جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا اور خداتعالیٰ کی قدرت اور اُس کی قربت اور اُس کی رحمت کا وہ ایک زندہ نشان ہو گا۔ یہ خبر دنیا کا کوئی انسان اپنے پاس سے نہیں دے سکتا تھا۔ خدا نے یہ خبر دی اور پھر اُسی خدا نے اِس خبر کو پورا کیا۔ اُس انسان کے ذریعہ جس کے متعلق ڈاکٹر یہ اُمید نہیں رکھتے تھے کہ وہ زندہ رہے گا یا لمبی عمر پائے گا۔
    میری صحت بچپن میں ایسی خراب تھی کہ ایک موقع پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہہ دیا کہ اِسے سِل ہو گئی ہے کسی پہاڑی مقام پر اِسے بھجوا دیا جائے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے شملہ بھجوا دیا مگر وہاں جا کر میں اُداس ہو گیا اور اِس وجہ سے جلدی ہی واپس آ گیا۔ غرض ایساانسان جس کی صحت کبھی ایک دن بھی اچھی نہیں ہوئی؟ اُس انسان کو خدا نے زندہ رکھا اور اِس لئے زندہ رکھا کہ اُس کے ذریعہ اپنی پیشگوئیوں کو پورا کرے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے مہیا کرے۔ پھر میں وہ شخص تھا جسے علومِ ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا؟ مگر خدانے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لئے بھجوایا اور مجھے قرآن کے اُن مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آ سکتے تھے۔ وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایا وہ چشمہ روحانی جو میرے سینہ میں پُھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اِس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ خداتعالیٰ کی طرف سے اُسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اُس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔ خدا نے مجھے علمِ قرآن بخشا ہے اور اِس زمانہ میں اُس نے قرآن سکھانے کے لئے مجھے دنیا کا اُستاد مقرر کیا ہے۔ خدا نے مجھے اِس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہﷺ اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤںاور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل اَدیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔ دنیا زور لگا لے، وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کر لے۔ عیسائی بادشاہ بھی اور اُن کی حکومتیں بھی مِل جائیں، یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے، دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقت ور قومیں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اِس مقصد میں ناکام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوںکہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے اُن کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اِس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریمﷺ کے نام کے طفیل اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اُس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول اللہﷺ کو پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم نہ کر لیا جائے۔
    اے میرے دوستو! میں اپنے لئے کسی عزت کا خواہاں نہیں نہ جب تک خداتعالیٰ مجھ پر ظاہر کرے کسی مزید عمر کا امیدوار ۔ ہاں خداتعالیٰ کے فضل کا میں امیدوار ہوں اور میں کامل یقین رکھتا ہوںکہ رسول کریم ﷺ اور اسلام کی عزت کے قیام میں اور دوبارہ اسلام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور مسیحیت کے کُچلنے میں میرے گزشتہ یا آئندہ کاموں کا اِنْشَائَ اللّٰہ بہت کچھ حصہ ہو گا اور وہ ایڑیاں جو شیطان کا سر کُچلیں گی اور مسیحیت کا خاتمہ کریں گی اُن میں سے ایک ایڑی میری بھی ہو گی۔ اِنْشَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
    میں اِس سچائی کو نہایت کُھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خداکی آواز ہے۔ یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے۔ یہ سچائی نہیں ٹلے گی، نہیں ٹلے گی اور نہیں ٹلے گی۔ اسلام دنیا پر غالب آ کر رہے گا۔ مسیحیت دنیا میں مغلوب ہو کر رہے گی۔ اَب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچا سکے۔ خدا میرے ہاتھ سے اِس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اِس کو اِس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سر اُٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہو گا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مُرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اُڑتا ہوا دکھائی دے گا۔
    میں اِس موقع پر جہاں آپ لوگوں کو یہ بشارت دیتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُس پیشگوئی کو پورا کر دیا جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔ وہاں میں آپ لوگوں کو اُن ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جو آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں۔ آپ لوگ جو میرے اِس اعلان کے مصدق ہیں آپ کا اوّلین فرض یہ ہے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اسلام اور احمدیت کی فتح اور کامیابی کے لئے بہانے کو تیار ہو جائیں۔ بیشک آپ لوگ خوش ہو سکتے ہیں کہ خدا نے اِس پیشگوئی کو پورا کیا بلکہ میں کہتا ہوں آپ کو یقینا خوش ہونا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود لکھا ہے کہ تم خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اِس کے بعد اَب روشنی آئے گی۔ پس میں تمہیں خوش ہونے سے نہیں روکتا۔ میں تمہیں اُچھلنے کودنے سے نہیں روکتا۔ بیشک تم خوشیاں مناؤ اور خوشی سے اُچھلو اور کُودو۔ لیکن میں کہتا ہوں اِس خوشی اور اُچھل کُود میں تم اپنی ذمہ داریوں کو فراموش مت کرو۔ جس طرح خدا نے مجھے رؤیا میں دکھایا تھا کہ میں تیزی کے ساتھ بھاگتا چلا جا رہا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی جا رہی ہے اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے الہاماً میرے متعلق یہ خبر دی ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا۔ پس میرے لئے یہی مقدر ہے کہ میں سُرعت اور تیزی کے ساتھ اپنا قدم ترقیات کے میدان میں بڑھاتا چلا جاؤں مگر اِس کے ساتھ ہی آپ لوگوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے قدم کو تیز کریں اور اپنی سُست روی کو ترک کر دیں۔ مبارک ہے وہ جو میرے قدم کے ساتھ اپنے قدم کو ملاتا اور سُرعت کے ساتھ ترقیات کے میدان میں دَوڑتا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرے اُس شخص پر جو سُستی اور غفلت سے کام لے کر اپنے قدم کو تیز نہیں کرتا اور میدان میں آگے بڑھنے کی بجائے منافقوں کی طرح اپنے قدم کو پیچھے ہٹا لیتا ہے۔ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھتے ہو تو قدم بقدم اور شانہ بشانہ میرے ساتھ بڑھتے چلے آؤ تاکہ ہم کُفر کے قلب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا گاڑ دیں اور باطل کو ہمیشہ کے لئے صفحۂ عالم سے نیست و نابود کر دیں اور اِنْشَائَ اللّٰہُ ایسا ہی ہو گا۔ زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خداتعالیٰ کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔ (مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ ۱۹۶۱ء)
    ۱؎ البقرۃ: ۲۰۲ ۲،۳؎ البقرۃ: ۲۸۷
    ۴؎ آل عمران: ۱۹۴ ۵؎ آل عمران: ۱۹۵ ۶؎ آل عمران: ۹
    ۷؎ البقرۃ: ۱۳۷
    ۸؎ براہین احمدیہ۔ جلد چہارم روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۶۷۳
    ۹؎ طویلے: طویلہ۔ گھوڑوں کا تھان۔ اصطبل
    ۱۰؎ مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۱۴
    ۱۱،۱۲؎ مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۱۵
    ۱۳؎ مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۱۳
    ۱۴،۱۵؎ مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۱۷
    ۱۶؎ مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۶۷
    ۱۷؎ سبز اشتہار صفحہ۴،۵ روحانی خزائن جلد۲ صفحہ۴۵۰،۴۵۱
    ۱۸؎ ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ الخ
    ۱۹؎ سبز اشتہار صفحہ۱۶،۱۷۔ روحانی خزائن جلد۲ صفحہ۴۶۲،۴۶۳
    ۲۰؎ سبز اشتہار صفحہ۱۷۔ روحانی خزائن جلد۲ صفحہ۴۶۳
    ۲۱؎ خلافت محمود مصلح موعود صفحہ۵۴ مطبوعہ ۱۹۱۴ء مصنفہ میر قاسم علی
    ۲۲؎ خلافت محمود۔ مصلح موعود صفحہ۵۵ مطبوعہ ۱۹۱۴ء مصنفہ میر قاسم علی
    ۲۳؎ سبز اشتہار صفحہ۱۷ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد۲ صفحہ۴۶۳ حاشیہ
    ۲۴؎ مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۶۲
    ۲۵؎ مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ
    ۲۶؎ مسند احمد بن حنبل جلد۲ صفحہ۴۱۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء
    ۲۷؎ بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الجمعۃ
    ۲۸؎ ٹرنچز: خندقیں
    ۲۹؎ البقرۃ: ۱۴۴
    ۳۰؎ بیے: بیا۔ چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ۔ اس کا گھر بنانا بڑا مشہور ہے۔
    ۳۱؎ الفضل یکم فروری ۱۹۴۴ء
    ۳۲؎ الفاتحہ: ۵
    ۳۳؎ الفضل ۱۶ ؍جولائی ۱۹۲۵ء
    ۳۴؎ الصف: ۷ ۳۵؎ احزاب: ۴۱ ۳۶؎ آل عمران: ۵۶
    ۳۷؎ الوصیت صفحہ۸ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۶ حاشیہ
    ۳۸؎ الفضل ۳۰ مئی ۱۹۳۵ء صفحہ۵
    ۳۹؎ لندن ٹائمز مؤرخہ ۱۸؍ جون ۱۹۴۰ء
    ۴۰؎ لندن ٹائمز مؤرخہ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۴۰ء
    ۴۱؎ سٹریٹ سیٹلمنٹس (STRAITS SETTLEMENTS) ملایا میں برطانیہ کی سابق شاہی نو آبادی۔ ۱۸۲۶ء سے ۱۸۵۸ء تک برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے پینانگ، ملکا اور سنگاپور کو ایک انتظامی جزو کی حیثیت سے سنبھالے رکھا۔ بعد ازاں قلیل مدت کیلئے انڈیا آفس نے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ۱۸۶۷ء میں یہ نو آبادی قائم کی گئی اور ۱۹۴۶ء میں ختم کر دی گئی۔ اب سنگاپور ایک الگ کالونی ہے مگر باقی حصے ملایا کے اتحاد میں شامل ہوگئے ہیں۔
    (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۱صفحہ۷۴۱مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)
    ۴۲؎ نٹال: مشرقی و جنوبی افریقہ کا صوبہ۔ ۱۸۳۷ء میں بوئر نقل مکان کر کے نٹال پہنچے اور زولو قبیلے کو ۱۸۳۸ء میں شکست دے کر جمہوریہ نٹال کی بناء ڈالی۔ ۱۸۴۲ء میں برطانیہ نے نٹال کا الحاق کر لیا۔ ۱۸۵۶ء میں یہ شاہی نو آبادی بنا اور ۱۸۹۷ء میں زولینڈ کو شامل کر لیا۔ ۱۹۱۰ء میں یہ جنوبی افریقہ کا صوبہ بنا۔
    (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد۲ صفحہ۱۷۰۹ لاہور ۱۹۸۸ء)
    ۴۳؎ چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ۴
    ۴۴؎ تذکرہ صفحہ۱۶۳ ۔ ایڈیشن چہارم
    ۴۵؎ حجۃ اللّٰہ صفحہ۲۰۔ روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ۱۵۸
    ۴۶؎ المصلح الموعود صفحہ۲۱۔ ایڈیشن اوّل
    ۴۷؎ تذکرہ صفحہ۵۳۲ ۔ ایڈیشن چہارم
    ۴۸؎ الوصیت صفحہ۸ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۶ حاشیہ
    ۴۹؎ الوصیت صفحہ۷۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۵
    ۵۰؎ الوصیت صفحہ ۴،۵ روحانی خزائن جلد۲۰
    ۵۱؎ پیغام صلح ۲۶؍ جولائی ۱۹۴۴ء صفحہ۲
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں