1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 3 ۔توضیح مرام ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 17, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 3۔ توضیح مرام ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 49
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 50
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اعلان
    اس رسالہ کے بعد ایک اور رسالہ بھی چند روز میں طبع ہو کر طیّار ہو جائے گا جس کا نام ازالہ اوہام ہے
    وہ رسالہ فتح اسلام کا تیسرا حصہ ہے
    المعلن
    مرزا غلام احمد عفی عنہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 51
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
    اَلحَمدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی
    مسیح کا دوبارہ دنیامیں آنا
    مسلمانوں اور عیسائیوںکاکسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ ”حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے“میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں اور نیز یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد درحقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں۔ بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الٰہی یہی عاجز ہے اور مجھے یقینا معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بیّنات الہام سے قائم کیا گیا ہوں بہت سی قلمیں مخالفانہ طور پر اٹھیں گی اور ایک تعجب اور انکار سے بھرا ہوا شور عوام میں پیدا ہو گااور میرا ارادہ تھا کہ بالفعل میں کلام کو طول دینے سے مجتنب رہوں اور اعتراضات کے پیش ہونے کے وقت ان کے دفع رفع کے لیے مفصل وجوہات و دلائل جیسے معترضین کے خیالات کے حالات موجود ہوں پیش کروں لیکن اب مجھے اس ارادہ میں یہ نقص معلوم ہوتا ہے کہ میری کوتاہ قلمی کی حالت میں نہ صرف عوام الناس بلکہ مسلمانوں کے خواص بھی جو اُن کے بعض مولوی ہیں بباعث اپنے قصور فہم کے جو ان کی حالت متنزّلہ کو لازم پڑا ہوا ہے اور نیز بوجہ متاثر ہونے کے ایک پورانے خیال سے خواہ نخواہ میری بات کو رد کرنے کے لیے مدعیانہ کھڑے ہوں گے اور اپنے دعویٰ کے طرف دار بن کر بہرحال اُسی دعویٰ کی سچائی ثابت ہو جانا
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 52
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    چاہیںگےپس مدعی ہو کر مقابل پر کھڑے ہو جانا اُن کے لیے سخت حجاب ہو جائے گا جس سے باہر نکلنا اور اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا ان کے لیے مشکل بلکہ محال ہو گاکیونکہ ہمیشہ یہی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی مولوی ایک رائے کو علی رُﺅسِ الاشہاد ظاہر کر دیتاہے اور اپنا فیصلہ ناطق اُس کو قرار دیتا ہے تو پھر اس رائے سے عود کرنا اس کو موت سے بدتر دکھائی دیتا ہےلہٰذامیں نے ترحماً للہ یہ چاہا کہ قبل اس کے کہ وہ مقابل پر آ کر ہٹ اور ضد کی بلا میں پھنس جائیںآپ ہی ان کو ایسے صاف اور مدلّل طور پر سمجھا دیا جائے کہ جو ایک دانا اور منصف اور طالبِ حق کی تسلی کے لیے کافی ہو اگر بعد میں پھر لکھنے کی ضرورت پڑے گی تو شائد ایسے لوگوں کے لئے وہ ضرورت پیش آوے کہ جو غائت درجہ کے سادہ لوح اور غبی ہیں جن کو آسمانی کتابوں کے استعارات مصطلحات و دقائق تاویلات کی کچھ بھی خبر بلکہ مس تک نہیں اور لَا یَمَسُّہ
    کی نفی کے نیچے داخل ہیں۔
    اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائیبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجودِ عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصوّر کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں ایک یوحنّا جس کا نام ایلیا اور ادریس۱ بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہدقدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کررہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اُتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جُلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن حضرت ادریس۲ کی نسبت جو بائیبل میں یوحنا یا ایلیا کے نام سے پُکارے گئے ہیں انجیل میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ یحییٰ بن زکریا کے پیدا ہونے سے اُن کا آسمان سے اُترنا وقوع میں آگیا ہے چنانچہ حضرت مسیح صاف صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ ’ ’یوحنّا جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو“۔ سو ایک نبی کے محکمہ سے ایک آسمان پر جانے والے اور پھر کسی وقت اُترنے والے یعنی یوحنّا کا مقدمہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 53
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    تو انفصال پاگیا اور دوبارہ اُترنے کی حقیقت اور کیفیت معلوم ہوگئی چنانچہ تمام عیسائیوں کا متفق علیہ عقیدہ جو انجیل کے رو سے ہونا چاہیئے یہی ہے کہ یوحنّا جس کے آسمان سے اُترنے کا انتظار تھا وہ حضرت مسیح کے وقت میں آسمان سے اِس طرح پر اتر آیا کہ زکریا کے گھر میں اُسی طبع اور خاصیّت کا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام یحییٰ تھا۔ البتہ یہودی اُس کے اُترنے کے اب تک منتظر ہیں اُن کا بیان ہے کہ وہ سچ مچ آسمان سے اترے گا۔ اوّل بیت المقدس کے مناروںپر اس کا نزول ہوگا پھر وہاں سے یہودی لوگ اکٹھے ہو کر اس کو کسی نردبان وغیرہ کے ذریعہ سے نیچے اتار لیں گے اور جب یہودیوں کے سامنے وہ تاویل پیش کی جائے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے یوحنا کے اترنے کے بارہ میں کی ہے تو وہ فی الفور غصّہ سے بھر کر حضرت مسیح اور ایسے ہی حضرت یحییٰ کے حق میں ناگفتنی باتیں سناتے ہیں اور اس نبی کے فرمودہ کو ایک ملحدانہ خیال تصور کرتے ہیں بہرحال آسمان سے اترنے کا لفظ جو تاویل رکھتا ہے مسیح کے بیان سے اس کی حقیقت ظاہر ہوئی اور انہی کے بیان سے یوحنا کے آ سمان سے اُترنے کا جھگڑا طے ہوا اور یہ بات کھل گئی کہ آخر اترے تو کس طرح اترے مگر مسیح کے اترنے کے بارہ میں اب تک بڑے جوش سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عمدہ اور شاہانہ پوشاک قیمتی پارچات کی پہنے ہوئے٭فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے۔مگر ان دو قوموں کا اس پر اتفاق نہیں کہ کہاں اتریں گے۔ آیا مکّہ معظمہ میں یا لنڈن کےکسی گرجا میں یا ماسکو کے شاہی کلیسیا میں۔ اگر عیسائیوں کو پرانے خیالات کی تقلید رہزن نہ ہو تو وہ مسلمانوں کی نسبت بہت جلد سمجھ سکتے ہیں کہ مسیح کا اترنا اُسی تشریح کے موافق چاہیئے جو خود حضرت مسیح کے بیان سے صاف لفظوں میں معلوم ہو چکی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ
    یہ پارچات از قسم پشمینہ یا ابریشم ہوں گے ؟ جیسے چوڑیا ۔ گلبدن ۔ اطلس ۔ کمخواب ۔ زربفت ۔ زری ۔ لاہی یا معمولی سوتی کپڑے جیسے نین سوکھ ۔ تن زیب ۔اینگ۔ چکن ۔ گلشن ۔ ململ ۔ جالی ۔ خاصہ ڈوریا چار خانہ اور کس نے آسمان میں بُنے اور کس نے سیئے ہونگے ۔ ابتک کسی نے مسلمانوں یا عیسائیوں میں سے اس کا کچھ پتہ نہیں دیا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 54
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ایک ہی صورت کے دو امر دو متناقض معنوں پر محمول ہوسکیں یہ بات اہل الرائے کے غور کے قابل ہے کہ اگر حضرت مسیح کی وہ تاویل جو انہوں نے یوحنا کے آسمان سے اترنے کی نسبت کی ہے فی الواقع صحیح ہے تو کیا حضرت مسیح کے نزول کے مقدمہ میں جو اسی پہلے مقدمہ کا ہم شکل ہے اسی تاویل کو کام میں نہیں لانا چاہیئے ۔جس حالت میں ایک نبی اس سربستہ راز کی اصل حقیقت کو کھول چکا ہے اور قانون قدرت بھی اُسی کو چاہتا اور اُسی کو مانتا ہے تو پھر اس صاف اور سیدھی راہ کوچھوڑ کر ایک پیچیدہ اور قابل اعتراض راہ اپنی طرف سے کھودنا کیوں کر قبول کرنے کے لائق ٹھہر سکتا ہےکیاذِی علم اور ایماندار لوگوں کا کانشنس جس کو مسیح کے بیان سے بھی پوری پوری مدد مل گئی ہے کسی اور طرف اپنا رُخ کر سکتا ہے اور مسیحی لوگ تو اس وقت سے دس برس پہلے اپنی یہ پیشگوئی بھی انگریزی اخباروں کے ذریعہ سے شائع کر چکے ہیں کہ تین برس تک مسیح آسمان سے اترنے والا ہے۔اب جو خدائے تعالیٰ نے اُس اُترنے والے کا نشان دیا تو مسیحیوں پرلازم ہے کہ سب سے پہلے وہی اس کو قبول کریں تااپنی پیشگوئی کے آپ ہی مکذب نہ ٹھہریں گے۔
    عیسائی لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مسیح اٹھائے جانے کے بعد بہشت میں داخل ہو گئے۔ لوکا کی انجیل میں خود حضرت مسیح ایک چور کو تسلّی دے کر کہتے ہیں کہ ”آج تو میرے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔“ ۱ ا ور عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی متفق علیہ ہے کہ کوئی شخص بہشت میں داخل ہو کر پھر اس سے نکالانہیں جائے گا گو کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا آدمی ہوچنانچہ یہی عقیدہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ اللہ جل شانہ
    قرآن شریف میں فرماتا ہے
    وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ
    یعنی جو لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے ا ورقرآن شریف میں اگرچہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بہ تصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے ۲ اور مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے
    یکھو انجیل لوقا باب ۳۲ آیت ۳۴
    فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ
    دیکھو سورة مائدہ الجزو نمبر ۷
    وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ‌ۚ
    سو رة النساءالجزو نمبر ۶
    اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰىۤ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ
    سورة آل عمران الجزو نمبر ۳
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 55
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کیونکہ برطبق آیت قِيْلَ ادْخُلِ الْجَـنَّةَ -۱ وَادْخُلِىْ جَنَّتِى -۲
    وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں۔ اب مسلمانوں میں اور عیسائیوں دونوں گروہ پر واجب ہے کہ اس امر کو غور سے جانچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیح جیسا مقرّب بندہ بہشت میں داخل کرکے پھر اُس سے باہر نکال دیا جائے ؟کیا اِس میں خدا ئے تعالٰے کے اس وعدہ کا تخلّف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے؟ کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدائے تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا ؟پس یقینا سمجھو کہ ایسا اعتقاد رکھنے میں نہ صرف مسیح پر ناجائز مصیبت وارد کروگے بلکہ ان لغو باتوں سے خدائے تعالیٰ کی کسرِ شان اور کمال درجہ کی بے ادبی بھی ہوگی اس امر کو ایک بڑے غور اور دیدہ
    تعمق سے دیکھنا چاہیئے کہ ایک ادنیٰ اعتقاد سے جس سے نجات پانے کے لئے استعارہ کی راہ موجود ہے بڑی بڑی دینی صداقتیں آپ کے ہاتھ سے فوت ہوتی ہیں اور درحقیقت یہ ایک ایسا فاسد اعتقاد ہے جس میں ہزاروں خرابیاں سخت اُلجھن کے ساتھ گرہ در گرہ لگی ہوئی ہیں اور مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے کے لئے موقعہ ہاتھ آتا ہے۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ یہی معجزہ کفارِ مکہ نے ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاءصلے اللہ علیہ و سلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے روبرو چڑھیں اور روبرو ہی اتریں اور انہیں جواب ملا تھا کہ
    قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ -۳
    یعنی خدائے تعالیٰ کی حکیمانہ شان اِس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دارالابتلا میں دکھاوے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔
    اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے لئے جوا فضل الانبیاءتھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لئے کیوں کر جائز ہو سکتا ہے ؟ یہ کمال بے ادبی ہو گی کہ ہم آنحضرت صلے اللہ علیہ و سلم کی نسبت ایک کمال کو مُستبعد خیال کریں اور پھر وہی کمال حضرت مسیح کی نسبت قریبِ قیاس مان لیں ۔کیا کسی سچے مسلمان سے
    ۱- یٰس:۲۷ ۲- الفجر:۳۱ ۳- بنی اسرائیل: ۹۴
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 56
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ایسی گستاخی ہو سکتی ہے؟ہرگز نہیں اور یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ یہ خیال مذکورہ بالا جو کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے صحیح طور پر ہماری کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں بلکہ احادیث نبویہ کی غلط فہمی کا یہ ایک غلط نتیجہ ہے جس کے ساتھ کئی بے جا حاشیے لگا دیئے گئے ہیں اور بے اصل موضوعات سے ان کو رونق دی گئی ہے اور تمام وہ امور نظرانداز کر دیئے گئے ہیں جو مقصود اصلی کی طرف رہبر ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں نہایت صاف اور واضح حدیث نبوی وہ ہے جو امام محمد اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم یعنی اس دن تمہارا کیا حال ہو گا جب ابن مریم تم میں اترے گا وہ کون ہے؟ وہ تمہارا ہی ایک امام ہو گا جو تم ہی میں سے پیدا ہو گا۔ پس اس حدیث میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا کہ ابن مریم سے یہ مت خیال کرو کہ سچ مچ مسیح بن مریم ہی اتر آئے گا بلکہ یہ نام استعارہ کے طور پربیان کیا گیا ہے ورنہ درحقیقت وہ تم میں سے تمہاری ہی قوم میں سے تمہارا ایک امام ہو گا جو ابن مریم کی سیرت پر پیدا کیا جائے گا۔ اس جگہ پرا نے خیالات کے لوگ اس حدیث کے معنے اس طرح پر کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح آسمان سے اُتریں گے تو وہ اپنے منصب نبوّت سے مستعفی ہو کر آئیں گے۔ انجیل سے انہیں کچھ غرض نہیںہو گی۔ امت محمدیہ میں داخل ہو کر قرآن شریف پر عمل کریں گے۔ پنج وقت نماز پڑھیںگے اور مسلمان کہلائیں گے!!!مگر یہ بیان نہیں کیا گیا کہ کیوں اور کس وجہ سے یہ تنزّل کی حالت انہیں پیش آئے گی بہر حال اس قدر ہمارے بھائیوں مسلمان محمدیوں نے آپ ہی مان لیاہے کہ ابن مریم اس دن ایک مرد مسلمان ہو گا جو اپنے تئیں امت محمدیہ میں سے ظاہر کرے گا اور اپنی نبوت کا نام بھی نہ لے گا جو پہلے اس کو عطاکی گئی تھی ۔ اور درحقیقت یہی ایک بھاری مشکل ہے کہ جو استعارہ کو حقیقت پر حمل کرنے سے ہمارے بھائیوں کو پیش آگئی ہے جس کی وجہ سے اُنہیں ایک نبی کا اپنے منصب نبوت سے محروم ہو جانا تجویز کرنا پڑا۔ اگر وہ ان صاف اور سیدھے معنوں کو
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 57
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    مان لیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک الفاظ سے پائے جاتے ہیں جن کے مطابق پہلے حضرت مسیح یوحنّا نبی کے بارے میں بیان فرماچکے ہیں تو ان تمام پُر تکلف مشکلات سے مخلصیپاجائیں گے نہ حضرت مسیح کی روح کو بہشت سے نکالنے کی حاجت پڑے گی اور نہ اس مقدس نبی کی نبوت کا خلع تجویز کرنا پڑے گا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجو ملیح کے مرتکب ہوں گے اور نہ احکام قرآنی کے منسوخ ہونے کا اقرار کیا جائے گا۔
    شاید آخری عذر ہمارے بھائیوں کا یہ ہو گا کہ بعض الفاظ جو صحیح حدیثوں میں حضرت مسیح کی علامات میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تطبیق کیونکر کریں۔مثلاً لکھاہے کہ مسیح جب آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور جزیہ کو اٹھا دے گا اور خنزیروںکو قتل کر دے گا اور اس وقت آئے گا کہ جب یہودیت اور عیسائیت کی بد خصلتیں مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ مَیں کہتا ہوں کہ صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اُس کا بُطلان ثابت کر کے دکھا دینا مراد ہے جزیہ اٹھا دینے کی مراد خود ظاہر ہے جس سے یہ اشارہ ہے کہ ان دنوں میں دل خود بخود سچائی اور حق کی طرف کھینچے جائیں گے کسی لڑائی کی حاجت نہیں ہو گیخود بخود ایسی ہوا چلے گی کہ جوق در جوق اور فوج در فوج لوگ دین اسلام میں داخل ہوتے جائیں گے پھر جب دین اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کھل جائے گا اور ایک عالم کا عالم اس دین کو قبول کر لے گا تو پھر جزیہ کس سے لیا جائے گا مگر یہ سب کچھ ایک دفعہ واقع نہیں ہو گاہاں ابھی سے اس کی بنا ڈالی جائے گی اور خنزیروں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں خنزیروں کی عادتیں ہیں وہ اس روز حجت اور دلیل سے مغلوب کئے جائیں گے اور دلائل بَیَّنَہ کی تلوار انھیں قتل کرے گی نہ یہ کہ ایک پاک نبی جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔
    اے میری پیاری قوم! یہ سب استعارے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے فہم دیا گیا ہے وہ نہ صرف آسانی سے بلکہ ایک قسم کے ذوق سے اُن کو سمجھ جائیں گے۔ ایسے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 58
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اُتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک دیو کی شکل میں خاکہ کھینچنا ہے بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے خداتعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلم ہے جس قدر استعاروں کو استعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرز لطیف نہیں ہے۔ اب ہر جگہ اور ہر محل میں ان پاکیزہ استعاروں کو حقیقت پر حمل کرتے جانا گویا اس کلام معجز نظام کو خاک میں ملا دینا ہے۔ پس اِس طریق سے نہ صرف خداتعالیٰ کے پُربلاغت کلام کا اصلی منشا درہم برہم ہوتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس کلام کی اعلیٰ درجہ کی بلاغت کو برباد کر دیا جاتا ہے خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا بھی خیال رہے نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنے جو ہجو ملیح کے حکم میںہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے صرف دَہقانی لفظوں تک محدود خیال کرلیا جائے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان نہایت دقیق اسرار کے مقابلہ پر جو خداتعالیٰ کے کلام میں ہونے چاہئیں اور بکثرت ہیں کیوں بد شکل اور موٹے اور کریہہ معنے پسند کئے جاتے ہیں؟ اور کیوں ان لطیف معنوں کی وقعت نہیں جو خدا ئے تعالیٰ کی حکیمانہ شان کے موافق اور اس کے عالی مرتبہ کلام کے مناسب حال ہیں؟ اور ہمارے علماءکے دماغ اس بے وجہ سرکشی سے کیوں پُر ہیں کہ وہ الٰہی فلسفہ کے نزدیک نہیں آنا چاہتے! جن لوگوں نے ان تحقیقوں میں اپنا خون اور پسینہ ایک کر دیا ہے ان کو بے شک ہمارے اس بیان سے نہ انکار بلکہ مزہ آئے گا۔ اور ایک تازہ صداقت ان کو ملے گی جس کو وہ بڑی مَدّوشَدّ کے ساتھ قوم میں بیان کرینگے اور پبلک کو ایک روحانی فائدہ پہنچائیں گے لیکن جنہوں نے صرف سرسری نگاہ تک اپنی فکر اور عقل کو ختم کر رکھا ہے وہ بجز اس کے کہ ناحق کے اعتراضات کی میزان بڑہاویں اور بے جا رست خیز قائم کریں اور کچھ اسلا م کو اپنے وجود سے فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔
    اب ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہادی اور سیّد مولیٰ جناب ختم المرسلین نے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 59
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    مسیح اوّل اور مسیح ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیح ثانی ایک مرد مسلمان ہو گا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم و صلٰوة وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہو گا اور مسلمانوں میں پیدا ہو گا اور ان کا امام ہو گا اور کوئی جداگانہ دین نہ لائے گا اور کسی جداگانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیح اوّل اور مسیح ثانی کے حلیہ میں بھی فرق بیّن ہو گا۔چنانچہ مسیح اوّل کا حلیہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ اور گھنگروالے بال اور سینہ کشادہ ہے دیکھو صحیح بخاری صفحہ۹۸۴ لیکن اسی کتاب میں مسیح ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ گندم گوں ہے اور ا س کے بال گھنگر والے نہیں ہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں ممیز علامتیں جو مسیح اول اور ثانی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمائی ہیں کافی طور پریقین نہیں دلاتیں کہ مسیح اول اورہے اور مسیح ثانی اور ان دونوں کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے جو باعتبار مشابہت طبع اور روحانی خاصیت کے استعمال کیا گیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہو سکتے ہیں اور ایسا ہی دو بد آدمی بھی ایک ہی بد مادہ میں شریک مساوی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قائم مقام کہلا سکتے ہیں مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسیٰ اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں تو درحقیقت اسی تفاول کا خیال انہیں ہوتا ہے جس سے نیک فال کے طور پر یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بچے بھی ان بزرگوں کی روحانی شکل اور خاصیت ایسی اتم اور اکمل طور سے پیدا کرلیں کہ گویا انہی کا روپ ہوجائیں۔
    اِس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثل بھی نبی چاہیئے کیونکہ مسیح نبی تھا۔ تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 60
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔ ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامّہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزّہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیا کی طرح مامور ہوکر آتا ہے اور انبیا کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔
    اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوّت مسدود ہے اور وحی جو انبیاءپر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوّت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر یک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اِس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ مگر اس بات کو بحضور دل یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا نبوّت تامہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کے اقتدا سے ملتی ہے جو مستجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم ارشدک اللّٰہ تعالیٰ انَّ النبی محدث والمحدّث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوت و قد قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یبق من النبوت الا المبشرات ای لم یبق من انواع النبوت الا نوع واحد وھی المبشرات من اقسام الرو
    یا الصادقة والمکاشفات الصحیحة و الوحی الذی ینزل علی خواص الاولیاءوالنور الذی یتجلّٰی علٰی
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 61
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    قلوب قومٍ مُوجع۔ فانظر ایھاالناقد البصیرأیُفھَمُ من ھٰذا سد باب النبوة علی وجہ کلی بل الحدیث یدل علی ان النبوة التامة الحاملة لوحی الشریعة قد انقطعت ولٰٰکن النبوة التی لیس فیھا الا المبشرات فھی باقیة الی یوم القیامة لا انقطاع لھا ابدًا۔ و قد علمتَ و قراتَ فی کتب الحدیث ان الرؤیا الصالحة جزءمن ستة واربعین جزءمن النبوّة ای من النبوة التامة فلما کان للرویا نصیبا من ھٰذہِ المرتبة فکیف الکلام الذی یوحٰی من اللّٰہ تعالٰی الی قلوب المحدثین فاعلم ایدک اللّٰہ ان حاصل کلامنا ان ابواب النبوة الجزئیة مفتوحة ابدًا و لیس فی ھٰذا النوع الا المبشرات او المنذرات من الامور المغیبة او اللطائف القرآنیة والعلوم اللدنیة۔ و اما النبوة التی تامة کاملة جامعة لجمیع کمالات الوحی فقد آمنّا بانقطاعھا من یوم نزل فیہ۔
    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؂۱
    اگریہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دل سوزی اور غم خواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوّت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلی درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اوّل بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کرربِّ قَدِیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر اُن دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ
    ؂۱ الاحزاب:۴۱
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 62
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القُدس ہے سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جب کہ خدائے تعالٰے اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کردیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو باارادہ
    الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدائے تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرّہ امکان کو جو ھالکة الذات، باطلة الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے۔
    لیکن اگر اس جگہ یہ استفسار ہو کہ اگر یہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلّم ہے تو پھر سیّدنا و مولانا سیّد الکل و افضل الرسل حضرت خاتم النبیّن محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے۔ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اُسی ذات کامل الصفات پر ختم ہوگیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے۔
    شان احمد را کہ داند جُز خداوندِ کریم
    آنچناں از خود جدا شد کز میاںافتادمیم
    زاںنمط شد محودلبر کز کمال اتحاد
    پیکر او شد سراسر صورتِ ربِّ رحیم
    بوئے محبوبِ حقیقی میدہد زاں روئے پاک
    ذات حقّانی صفاتش مظہرِ ذات قدیم
    گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحادو ضلال
    چوں دلِ احمد نمے بینم دگر عرشِ عظیم
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 63
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 63
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/63/mode/1up
    منت ایزد راکہ من برر غم اہل روزگار
    صد بلا را مے خرم از ذوق آں عین النعیم
    از عنایاتِ خدا و از فضل آں دادار پاک
    دشمن فرعونیانم بہر عشق آں کلیم
    آںمقام ورتبتِ خاصش کہ برمن شدعیاں
    گفتمے گر دید مے طبعے دریں راہے سلیم
    در رہِ عشق محمد ایں َسر و جانم رَود
    ایں تمنا ایں دعا ایں در دِلم عزم صمیم
    اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ عالیہ کی شناخت کے لئے اس قدر لکھنا ضروری ہے کہ مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں ۔سب سے ادنیٰ درجہ جو درحقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اُس محرور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اُس متاثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو اِس درجہ کی محبت پر جب خدائے تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اِس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت واطمینان اورکبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
    دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کر تی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہوجاتی ہےلیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی ۔فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتاہے
    تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الٰہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اُس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ و ریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبتِ الٰہی لوحِ قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاًاس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے اردگرد کو روزروشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفاتِ کاملہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 64
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 64
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/64/mode/1up
    کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیںکیونکہ یہ ہریک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں اور اس کا نام ذوالافق الاعلٰیبھی ہے کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رَاَیٰ مَارَاَیٰ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان و وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔ اور دائرہ استعدادت بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ درحقیقت پیدائش الٰہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو اِرتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔ حکمتِ الٰہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خِلقت سے اور اَسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالاتِ تامہ کا مظہر سو جیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ و ارفع مقام محبت کا ملا یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کا نام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔ پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اسی پتہ و نشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طورپر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالی شان مقام ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیااور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 65
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 65
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/65/mode/1up
    ایک مثال کو پیش کرکے فرمایا ہے کہ انگورستان کا پھل لینے کے لئے اوّل باغ کے مالک نے (جو خدائے تعالیٰ ہے) اپنے نوکروں کو بھیجا یعنی ابتدائی ۱ کے قرب والوں کو جس سے مراد وہ تمام صلحا ہیں جو حضرت مسیح کے زمانہ میں اور اُسی صدی میں مگر کسی قدر ان سے پہلے آئے پھر جب باغبانوں نے باغ کا پھل دینے سے انکار کیا تو باغ کے مالک نے تاکید کے طور پر اپنے بیٹے کو ان کی طرف روانہ کیا تا اُس کو بیٹا سمجھ کر باغ کا پھل اس کے حوالہ کرےں۔ بیٹے سے مراد اس جگہ مسیح ہے جن کو دوسرا درجہ قرب اور محبت کا حاصل ہے مگر باغبانوں نے اُس بیٹے کو بھی باغ کا پھل نہ دیا بلکہ اپنے زعم میں اسے قتل کردیا بعد اِس کے حضرت مسیح فرماتے ہیںکہ اب باغ کا مالک خود آئے گا یعنی خدائے تعالیٰ خود ظہور فرمائے گاتا باغبانوں کو قتل کرکے باغ کو ایسے لوگوں کو دیدے کہ اپنے وقت پر پھل دے دیا کریں اس جگہ خدائے تعالیٰ کے آنے سے مراد حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ہے جو قرب اور محبت کا تیسرا درجہ اپنے لئے حاصل رکھتے ہیں ٭ اور یہ سب روحانی مراتب ہیں کہ جو استعارہ کے طور پر مناسب حال الفاظ
    ہمارے سیّدو مولیٰ جناب مقدس خاتم الا نبیاءکی نسبت صرف حضرت مسیح نے ہی بیان نہیں کیاکہ آنجناب کادنیا میں تشریف لانا درحقیقت خدا ئے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہے بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیوں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجناب کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجناب کو خدا کر کے پکارا ہے ۔ چنانچہ حضرت داود کے زبور میں لکھا ہے تُو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے ۔ تیرے لبوں میں نعمت بنائی گئی ۔ اس لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا (یعنی تُو خاتم الانبیاءٹھہرا)اے پہلوان تُو جاہ وجلال سے اپنی تلوار حمائل کرکے اپنی ران پر لٹکا امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا ۔ بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 66
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 66
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/66/mode/1up
    میں بیان کئے گئے ہیں یہ نہیں کہ حقیقی ابنیت اس جگہ مراد ہے یا حقیقی الوہیت مراد لی گئی ہے۔
    اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں ہے کیوں کہ محققین اہل اسلام ہر گز اس بات کے قائل نہیں کہ ملاؔ ئک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اتر تے ہیں اور یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے۔
    تیرے تبر تیزی کرتے ہیں ۔ لوگ تیرے سامنے گڑ جاتے ہیں ۔ اے خدا تیرا تخت ابدال آباد ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے ۔ تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنیؔ کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطّر کیا ہے (دیکھو زبور ۴۵)
    اب جاننا چاہیئے کہ زبور کا یہ فقرہ کہ اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے یہ محض بطور استعارہ ہے ۔ جس سے غرض یہ ہے کہ جو روحانی طور پر شانِ محمدی ہے اُس کو ظاہر کر دیا جائے۔ پھر یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے چنانچہ اسکی عبارت یہ ہے ۔
    ’’دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا ۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے میں نے اپنی روح اُس پر رکھی ۔ وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا وہ نہ چلاّئے گا اور اپنی صدا ؔ بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سُنائے گا ۔ وہ مسلے ہوئے سینٹھے کو نہ توڑے گا اور سن کو جس سے دُھؤاں اُٹھتا ہے نہ بجھائے گا جب تک کہ راستی کو امن کے ساتھ ظاہر نہ کرے وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور جزیرے اس کی شریعت کے منتظر ہوویں ......... .خدا وند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اُسکا ئے گا۔ الخ ۱؂
    اب جاننا چاہیئے کہ یہ فقرہ کہ خدا وند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا یہ بھی بطور استعارہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پُر ہیبت ظہور کا اظہار کر رہا ہے ۔ دیکھو یسعیاہ نبیؔ کی کتاب باب ۴۲اور ایسا ہی اور کئی نبیوں نے بھی استعارہ کو اپنی پیشگوئی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
    ۱؂ یسعیاہ : باب ۴۲ آیت ۱ تا ۲۳
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 67
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 67
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/67/mode/1up
    کیوں کہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجاآوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اُترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا۔ مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتاؔ ہے جو مختلف بلادو امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔ اگر ہر یک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر اول پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکتؔ کرکے ایک طُرفۃ العَین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے ہرگز نہیں بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے
    وَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ‏
    وَّاِنَّا لَـنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ‌ۚ‏
    ۱؂سورۃ صافات جزو ۲۳ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہریک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرحؔ روحانیات سماویہ خواہ اُن کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواحِ کواکب سے اُن کو نامزد کریں
    استعمال کیا ہے ۔ مگر چونکہ ان سب مقامات کے لکھنے سے طول ہو جاتا ہے اس لئے بالفعل اسی قدر پر کفایت کرتا ہوں اور میں نے جو اس جگہ تین مراتب قرب اور محبت کے لکھ کر تیسرا مرتبہ کہ جو بزرگ ترین مراتب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ثابت کیا ہے یہ میری طرف سے ایک اجتہادی خیال نہیں بلکہ الہامی طور پر خدا ئے تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ہے ۔ منہ
    ۱؂ الصّٰفّٰت: ۱۶۵، ۱۶۶
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 68
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 68
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/68/mode/1up
    یا نہایت سیدھے اور موحّدانہ طریق سے ملائک اللہ کا انکو لقب دیں* درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بہ حکمت کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہریک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماریؔ مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔ جو چیز کسی عمدہ جوہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگرچہ خاک کا ایک ٹکڑہ ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الماس اور یاقوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔ دساتیر جس کو مجوسی لوگ الہامی مانتے ہیں جس نے اپنی مدت ظہور کی وہ لمبی تاریخ بتلائی ہے جس کا کروڑواں حصہ بھی وید کی مدت ظہور کی نسبت بیان نہیں کیا گیایعنی وید کی نسبت تو صرف ایک ارب چھیانویں کروڑ مدت ظہور محض دوسروں کے وہم اور گمان سے قرار دی گئی ہے مگر دساتیر تین سنکھ سے کچھ زیادہ اپنی مدت ظہور آپ بیان کرتا ہے بلکہ یہ تو ہم نے ڈرتے ڈرتے لکھا ہے وہاں تو سنکھوں کی حد سے زیادہ تین صفر اور بھی درمیان ہیں۔ یہ کتاب ان روحانیات کوجو کواکب اور سماوَات سے تعلق رکھتی ہیں نہ صرف ملائک قرار دیتی ہے بلکہ ان کی پرستش کے لئے بھی تاکید کرتی ہے ایسا ہی وید بھی ان روحانیات کو صرف وسائط اور درمیانی خدمت گذار نہیں مانتابلکہ جابجا اُن کی
    حاشیہؔ
    ملائک اس معنی سے ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں یعنی ان کے قیام اور بقا کے لئے روح کی طرح ہیں اور نیز اس معنے سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 69
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 69
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/69/mode/1up
    اُستت اور مہما کرتا ہے اور ان سے مرادیں مانگنے کی تعلیم دیتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کتابوں میں تحریف اور الحاق کے طور پریہ پُرکفر تعلیمیں زائد کیؔ گئی ہوں جیسی وید میں ایسی اور بھی بہت سی بے جا تعلیمیں پائی جاتی ہیں مثلاً یہ تعلیم کہ اس جہان کا کوئی خالق نہیں ہے اور ہر ایک چیز اپنے اصل مادہ اور اصل حیات کے رو سے قدیم اور واجب الوجود اور اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہے یا یہ تعلیم کہ کسی وجود کو تناسخ کے منحوس چکر سے کبھی اور کسی زمانہ میں مَخلصی حاصل ہو ہی نہیں سکتی یا یہ تعلیم کہ ایک شوہر دار عورت اولاد نرینہ نہ ہونے کی حالت میں کسی غیر آدمی سے ہم بستر ہو سکتی ہے تا اس سے اولاد حاصل کرے یا یہ تعلیم کہ بڑے بڑے مقدس لوگ بھی گو وید کے ہی رشی کیوں نہ ہوں جن پر چاروں وید اُترے ہوں ہمیشہ کی نجات کبھی نہیں پا سکتے اور نہ لازمی طور پر ہمیشہ بزرگوار اور عزت کے ساتھ یاد کرنے کے لائق ٹھہر سکتے ہیں بلکہ ممکن ہے کہ تناسخ کے چکر میں آکر اور اور جانداروں کی طرح کچھ کا کچھ بن جائیں بلکہ شایدبن گئے ہوں اور ان کے زعم میں خواہ کوئی انسان اوتاروں سے بھی زیادہ مرتبہ رکھتا ہو یا وید کے رشیوں سے بھی بڑھ کر ہو اس کے لئے ممکن بلکہ قانون قدرت کے رُو سے ضروری پڑا ہوا ہے ؔ کہ کسی وقت وہ کیڑا مکوڑہ یا نہایت مکروہ اور قابل نفرت جانور بن کر کسی خسیس مخلوق کی نوع میں جنم لیوے۔ یہ سب باطل تعلیمیں ہیں جو انسانوں کے رذیل خیالات نے ایجاد کی ہیں اور جن لوگوں نے یہ تمام بے شرمی کے کام اور دور از عزت انتقالات اپنے بنی نوع بلکہ اپنے بزرگوں اور پیشواؤں کے لئے جائز رکھے ہیں انہوں نے یہ بھی جائزرکھ لیا کہ کواکب کی روحوں سے مرادیں مانگی جائیں ان کی ایسی پرستش کی جائے جیسی خدائے تعالیٰ کی کرنی چاہیئے لیکن قرآن شریف جو ہر یک طور سے توحید اور تہذیب کی راہ کھولتا ہے اس نے ہرگز روا نہیں رکھا کہ اس کے ساتھ کسی مخلوق کی پرستش ہو یا اس کی ربوبیّت کی قُدرت صِرف ناقص اور ناکارہ طور پر تسلیم کریں اور اس کو ہر یک چیز کا مبدء اور سرچشمہ نہ ٹھہرائیں یا کوئی اور بے شرمی کا کا م
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 70
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 70
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/70/mode/1up
    اپنے طریق معاشرت میں داخل کر لیں۔
    اب پھر میں ملائک کے ذکر کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھیؔ اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا۔ قرآن شریف پر بدیدہ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کائنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے اور بعض بعض اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتاہے کہ بعض وہ نفوس طیّبہ جو ملائک سے موسوم ہیں اُن کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں ۔بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیّبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیئے کہ جیسے زمین کا ہر یک جاندار اپنے اندر جان رکھتاہے بلکہ ان نفوس طیّبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نو رانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکُنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگرؔ اُن نفوس طیّبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے توپھر اُن کے تمام قویٰ میں فرق پڑجائے گا انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدائے تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکُلّی فساد راہ پاجانالازمی و ضروری امر ہے اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں غرض یہ نہایت جچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پر چڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 71
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 71
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/71/mode/1up
    اور جمادات اور حیوانات پر آسمانی کواکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے اور جاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہو گا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئےؔ اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثر ہیں اب جبکہ ظاہری سلسلہ کائنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلفہ سے تربیت پارہا ہے تو اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ باطنی سلسلہ پر بھی باذنہ ٖ تعالیٰ وہ نفوس نورانیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔
    اب اِس کے بعد یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اگرچہ بظاہر یہ بات نہایت دورازادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالٰے اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آجائے گا کہ اس میں کوئی سوء ادب کی بات نہیں بلکہ سراسر خدائے تعالیٰ کے اس عام قانون قدرت کے مطابق ہے جو دنیا کی ہریک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہود و محسوس ہو رہا ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اورؔ ظاہری قویٰ کے لحاظ سے انہیں وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی آنکھ بھی گو کیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتی اور بغیر توسط ہوا کے کچھ سُن نہیں سکتے لہٰذایہ بات بھی ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی ان سیارات کے نفوس نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہو گا۔ بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہوگا کیوں کہ جس قدر استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اُسی قدر اثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار اُن کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہریک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 72
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 72
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/72/mode/1up
    خواص ہیں جو باذن حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکلؔ جسمانی متشکّل ہو کر ظاہرہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ تقریر از قبیل خطابیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑ ے گی کیونکہ جب ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور کائنات الارض کی تربیت اجرام سماویہ کی طرف سے ہو رہی ہے اور جہاں تک ہم بطور استقراء اجسام ارضیہ پر نظر ڈالتے ہیں اس تربیت کے آثار ہر یک جسم پر خواہ وہ نباتات میں سے ہے خواہ جمادات میں سے خواہ حیوانات میں سے ہے بدیہی طور پر ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ پس اس صریح تجربہ کے ذریعہ سے ہم اس بات کے ماننے کے لئے بھی مجبور ہیں کہ روحانی کمالات اور دل اور دماغ کی روشنی کا سلسلہ بھی جہاں تک ترقی کرتا ہے بلاشبہ ان نفوس نورانیہ کا اُس میں بھی دخل ہے۔اسی دخل کی رو سے شریعت غرّانے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ظاہر فرمایا ہے جس پر ایمان لانا ضروریات دین میں سے گردانا گیا ہے ۔جن لوگوں نے اپنیؔ نہایت مکروہ نادانی سے اس الٰہی فلسفہ کو نہیں سمجھا جیسے آریہ مذہب والے یا برہمو مذہب والے انہوں نے جلدی سے بباعث اپنے بے وجہ بخل اوربغض کے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے تعلیم فرقانی پر یہ اعتراض جڑدیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ضروری ٹھہراتا ہے اور اس بات کو نہ سمجھا اور نہ خیال کیاکہ خدائے تعالیٰ کا عام قانون تربیت جو زمین پر پایا جاتا ہے اِسی قاعدہ پر مبنی ہے۔ ہندوؤں کے رشی جن پر بقول ہندوؤں کے چاروں وید نازل ہوئے کیا وہ اپنے جسمانی قویٰ کے ٹھیک ٹھیک طور پر قائم رہنے میں تاثیرات اجرام سماویہ کے محتاج نہیں تھے کیا وہ بغیر آفتاب کی روشنی کے صرف آنکھوں کی روشنی سے دیکھنے کا کام لے سکتے تھے یا بغیر ہوا کے ذریعہ کے کسی آواز کو سن سکتے تھے تو اس کا جواب بدیہی طور پر یہی ہو گا کہ ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی اجرام سماویہ کی تربیت اور تکمیل کے بہت محتاج تھے۔ ہندوؤں کے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 73
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 73
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/73/mode/1up
    ویدوں نے ان ملائک کے بارے میں کہاں انکار کیا ہے بلکہ انہوں نے تو ان وسائط کے ماننے اور قابل قدر جاننے میں بہت ہی غلوؔ کیا ہے یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کے درجہ سے ان کا درجہ برابر ٹھہرا دیا ہے ایک رگوید پر ہی نظر ڈال کر دیکھو کہ کس قدر اس میں اجرام سماویہ اور عناصر کی پرستش موجود ہے اور کیسی ان کی اُستت اور مہما اور مدح اور ثنا میں ورقوں کے ورق سیاہ کر دیئے ہیں اور کس عاجزی اور گڑگڑانے سے ان سے دعائیں مانگی گئی ہیں جو قبول بھی نہیں ہوئیں مگر شریعت فرقانی نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ اُن نفوس نورانیہ کو جو اجرام سماویہ سے یا عناصر یا دُخانات سے ایساتعلق رکھتے ہیں جیسے جان کا جسم سے تعلق ہوتا ہے صرف ملائک یا جنّات کے نام سے موسوم کیا ہے اور ان نورانی فرشتوں کو جو نورانی ستاروں اور سیاروں پر اپنا مقام رکھتے ہیں اپنی ذات پاک میں اور اپنے رسولوں میں ایسے طور کا واسطہ نہیں ٹھہرایا جس کے رو سے ان فرشتوں کو بااقتدار یا بااختیار مان لیا جاوے بلکہ ان کو اپنی نسبت ایسا ظاہر فرمایا ہے کہ جیسے ایک بے جان چیز ایک زندہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس سے وہ زندہ جس طور سے کام لینا چاہتا ہے لیتاہے اسی بناء پر بعض مقامات قرآن شریفؔ میں اجسام کے ہر یک ذرّہ پر بھی ملائک کا نام اطلاق کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ سب ذرّات اپنے ربّ کریم کی آواز سنتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا گیا ہو مثلاً جو کچھ تغیرات بدن انسان میں مرض کی طرف یا صحت کی طرف ہوتے ہیں ان تمام مواد کا ذرّہ ذرّہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق آگے پیچھے قدم رکھتا ہے۔
    اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ اس قسم کے وسائط کے ماننے میں جو قرآن شریف میں قرار دیئے گئے ہیں کونسا شرک لازم آتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی شان قدرت میں کونسا فرق آجاتاہے بلکہ یہ تو اسرار معرفت و دقائق حکمت کی وہ باتیں ہیں جو قانون قدرت کے صفحہ صفحہ میں لکھی ہوئی نظر آتی ہیں اور بغیر اس انتظام کے ماننے کے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ ثابت ہی نہیں ہو سکتی اور نہ اس کی خدائی چل سکتی ہے بھلا جب تک ذرّہ ذرّہ اُس کا
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 74
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 74
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/74/mode/1up
    فرشتہ بن کر اس کی اطاعت میں نہ لگا ہوا ہو تب تک یہ سارا کارخانہ اُس کی مرضی کے موافق کیوں کر چل سکتا ہے؟ کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی اور نیز اگر ملائک سماویہ کے نظام روحانی سے خداتعالیٰ کی قادرانہ شان پر کچھ دھبہ لگ سکتاہے توؔ پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ملائک کے نظام جسمانی کے ماننے سے کہ جو نظام روحانی کا بعینہٖ ہم رنگ و ہم شکل ہے خدائے تعالیٰ کی قُدرتِ کاملہ پر کوئی دھبہ نہیں لگ سکتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آریہ وغیرہ ہمارے مخالفوں نے فرط نابینائی سے ایسے ایسے بے جااعتراضات کر دیئے ہیں جن کی اصل بناء بہت سے مشرکانہ حواشی کے ساتھ ان کے گھر میں بھی موجود ہے اور ناحق بوجہ اپنی بے بصیرتی کے ایک عمدہ صداقت کو بطالت کی شکل میں سمجھ لیا ہے۔
    چشم بد اندیش کہ برکندہ باد
    عیب نماید ہنرش در نظر
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کادرجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں ان کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلائل
    ۱ ؂
    نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جل شانہٗ فرماتاہے
    وَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۲
    یعنی وہ خداجس نے سورج اور چاند کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔ مثلاًؔ دیکھنا چاہئے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اِس سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ چٹھی رساں جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے سو خوب سمجھ لو یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادر مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور اُن کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اللہ جل شانہٗ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتصریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے
    ۱؂ ایڈیشن اول میں اسی طرح لکھا ہے جو سہو کتابت ہے۔ درست لفظ ’’دلالت‘‘ ہے۔ ۲؂ ابراہیم :
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 75
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 75
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/75/mode/1up
    فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان اپنے مرتبہ میں سب سے اعلیٰ و ارفع اور سب کا مخدوم ہے جس کی خدمت میں یہ چیزیں لگا دی گئی ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے
    وَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآٮِٕبَيْنِ‌ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيْلَ
    وَالنَّهَارَ ‌ۚ‏ وَاٰتٰٮكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْـتُمُوْهُ‌ؕ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا
    ۱؂
    هُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَـكُمْ مَّا فِىْ الْاَرْضِ جَمِيْعًا
    ۲؂
    اور مسخرؔ کیا تمہارے لئے سورج اورچاند کو جو ہمیشہ پھرنے والے ہیں یعنی جو باعتبار اپنی کیفیات اور خاصیات کے ایک حالت پر نہیں رہتے مثلاً جو ربیع کے مہینوں میں آفتاب کی خاصیت ہوتی ہے وہ خزاں کے مہینوں میں ہرگز نہیں ہوتی پس اس طور سے سورج اور چاند ہمیشہ پھرتے رہتے ہیں کبھی ان کی گردش سے بہار کا موسم آجاتاہے اور کبھی خزاں کا اور کبھی ایک خاص قسم کی خاصیتیں ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں اور کبھی اس کے مخالف خواص ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر آگے فرمایا کہ مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو اور دیا تم کو ہریک چیز میں سے وہ تمام سامان جس کو تمہاری فطرتوں نے مانگا یعنی اُن سب چیزوں کو دیا جن کے تم محتاج تھے اور اگر تم خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہرگز گن نہیں سکو گے۔ وہ وہی خدا ہے جس نے جو کچھ زمین پر ہے تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور پھر ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
    لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ‏
    ۳؂
    یعنی انسان کو ہم نے نہایت درجہ کے اعتدال پر پیدا کیا ہے اور وہ اس صفت اعتدال میںؔ تمام مخلوقات سے احسن و افضل ہے۔ اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے کہ
    اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلاً ۙ‏
    ۴؂
    یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق و محبت الٰہی اور مورد ابتلا ہو کر پھر پوری اطاعت کرنا ہے آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظاہر قوی ہیکل چیزیں تھیں سو ان سب چیزوں نے اُس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اُس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 76
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 76
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/76/mode/1up
    اس کو اٹھا لیا کیونکہ انسان میں یہ دو خوبیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا۔ دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیراللہ کو بکلی فراموش کر دے پھر ایک اور جگہ فرمایا۔
    اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓٮِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِـقٌ ۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ‏
    فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِىْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ‏
    فَسَجَدَ الْمَلٰٓٮِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ
    اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ
    ۱؂ یعنی ؔ یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے ) فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں سو جب میں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کر لوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھو نک دوں تو تم اُس کے لئے سجدہ میں گرو یعنی کمال انکسار سے اُس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ اور ایسی خدمت گذاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان‘ جو اِس سعادت سے محروم رہ گیا۔ جاننا چاہیئے کہ یہ سجدہ کا حکم اُس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیاگیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کرو یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اُترو اور اُس پر صلوٰۃ بھیجو سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے جب کوئی شخصؔ کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی روح اُس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقاباللہ کادرجہ حاصل کر لیتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اُس پر شروع ہو جاتاہے اگرچہ سلوک کی ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 77
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 77
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/77/mode/1up
    شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجا لارہے ہیں ایسا ہی خدائے تعالیٰ نے سورۃ الشمس میں نہایت لطیف اشارات و استعارات میں انسان کامل کے مرتبہ کو زمین آسمان کے تمام باشندوں سے اعلیٰ و برتر بیان فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے
    وَالشَّمْسِ وَضُحٰٮهَا وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰٮهَا وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰٮهَا وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰٮهَا
    وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٮهَا وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاٮهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰٮهَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰٮهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٮهَاؕ‏
    كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٮهَآ اِذِ انۢبَعَثَ اَشْقٰٮهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقْيٰهَاؕ‏ فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ۙ
    فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰٮهَا وَلَا يَخَافُ عُقْبٰهَا‏
    ۱؂ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی اور قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے اور قسم ہے دن کی جب اپنی روشنی کو ظاہر کرے اور قسم ہے اس رات کی جو بالکل تاریک ہو اور قسم ہے زمین کی اور اُس کی جس نے اسے بچھایا اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور اس کی جس نے اسے اعتدال کامل اور وضع استقامت کے جمیع کمالات متفرقہ عنایت کئے اور کسی کمال سے محروم نہ رکھا بلکہ سب کمالات متفرقہ جو پہلی قسموں کے نیچے ذکر کئے گئے ہیں اس میں جمع کر دیے اس طرح پر کہ انسان کامل کا نفس آفتاب اور اس کی دھوپ کا بھی کمال اپنے اندر رکھتا ہے اور چاند کے خواص بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ وہ اکتساب فیض دوسرے سے کر سکتاہے اور ایک نور سے بطور استفادہ اپنے اندر بھی نور لے سکتاہے اور اُس میں روزروشنؔ کے بھی خواص موجود ہیں کہ جیسے محنت اور مزدوری کرنے والے لوگ دن کی روشنی میں کماحقہ اپنے کاروبار کو انجام دے سکتے ہیں ایسا ہی حق کے طالب اور سلوک کی راہوں کو اختیار کرنے والے انسان کامل کے نمونہ پر چل کر بہت آسانی اور صفائی سے اپنی مہمات دینیہ کو انجام دیتے ہیں سو وہ دن کی طرح اپنے تئیں بکمال صفائی ظاہر کر سکتا ہے اور ساری خاصیتیں دن کی اپنے اندر رکھتا ہے۔*
    سورج بہ حکمت کاملہ الٰہی سات سو تیس تعینات میں اپنے تئیں متشکل کر کے دنیا پر * حاشیہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 78
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 78
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/78/mode/1up
    اندھیری رات سے بھی انسان کامل کو ایک مشابہت ہے کہؔ وہ باوجود غایت درجہ کے انقطاع اور تبتل کے جو اُس کو منجانب اللہ حاصل ہے بہ حکمت و مصلحت الٰہی اپنے نفس کی ظلمانی خواہشوں کی طرف بھی کبھی کبھی متوجہ ہو جاتاہے یعنی جوجو نفس کے حقوق انسان پر رکھے گئے ہیں جو بظاہر نورانیت کے مخالف اور مزاحم معلوم ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا سونا اور بیوی کے حقوق اداکرنا یا بچوں کی طرف التفات کرنا یہ سب حقوق بجا لاتا ہے اور کچھ تھوڑی دیر کے لئے اس تاریکی کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے بلکہؔ اس وجہ سے کہ خداوند علیم و حکیم اس کواس طرف توجہ بخشتا ہے تاروحانی َ تعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر ان مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جیسا کہ کسی کا شعر ہے
    چشم شہباز کاردانانِ شکار
    از بہر کشادن ست گردوختہ اند
    سو اسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطر اور گدازش اور ہم و غم کے غلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں تو پھرجسم ناتواں ان کا روح کی رفاقت کے
    لئے
    مختلف قسموں کی تاثیرات ڈالتا ہے اور ہر یک متشکل کی وجہ سے ایک خاص نام اُسکو حاصل ہے اور یکشنبہ دو شنبہ سہ شنبہ وغیرہ درحقیقت باعتبار خاص خاص تعینات و لوازم و تاثیرات کے سورج کے ہی نام ہیں جب یہ لوازم خاصہ بولنے کے وقت ذہن میں ملحوظ نہ رکھے جائیں اور صرف مجرد اور اطلاقی حالت میں نام لیا جائے تو اس وقت سورج کہیں گے لیکن جب اسی سورج کے خاص خاص لوازم اور تاثیرات اور مقامات ذہن میں ملحوظؔ رکھ کر بولیں گے تو اسکو کبھی دن کہیں گے اور کبھی رات ۔ کبھی اسکا نام اتوار رکھیں گے اور کبھی پیر اور کبھی سانون اور کبھی بھا دوں کبھی اسوج کبھی کاتک۔غرض یہ سب سورج کے ہی نام ہیں اور نفس انسان باعتبار مختلف تعینات اور مختلف اوقات و مقامات و حالات مختلف ناموں سے موسوم ہو جاتا ہے کبھی نفس زکیہ کہلاتا ہے اور کبھی امّارہ کبھی اور لوّامہ اور کبھی مطمئنہ ۔ غرض اس کے بھی اتنے ہی نام ہیں جس قدر سورج کے مگر بخوفِ طول اسی قدر بیان کرنا کافی سمجھا گیا ۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 79
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 79
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/79/mode/1up
    ازسر نو قوی اور توانا ہو جاتا ہے اور اس تھوڑی سی محجوبیت کی وجہ سے بڑے بڑے مراحل نورانی طے کر جاتاہے اور ماسوااِس کے نفس انسان میں رات کے اور دوسرے خواص دقیقہ بھی پائے جاتے ہیں جن کو علم ہیئت اور نجوم اور طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو آسمان سے بھی مشابہت ہے مثلاً جیسے آسمان کا پول اس قدر وسیع اور کشادہ ہے کہ کسی چیز سے پُر نہیں ہو سکتا ایسا ہی ان بزرگوں کا نفس ناطقہ غایت درجہ کی وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور باوجود ہزارہا معارف و حقائق کے حاصل کرنے کے پھرؔ بھی ماعرفناک کا نعرہ مارتا ہی رہتا ہے اور جیسے آسمان کا پول روشن ستارو ں سے پُر ہے ایسا ہی نہایت روشن قویٰ اس میں بھی رکھے گئے ہیں کہ جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو زمین سے بھی کامل مشابہت ہے یعنی جیسا کہ عمدہ اور اوّل درجہ کی زمین یہ خاصیت رکھتی ہے کہ جب اُس میں تخم ریزی کی جائے اور پھر خوب قلبہ رانی اور آبپاشی ہو اور تمام مراتب محنت کشادزری کے اس پر پورے کر دیئے جائیں تو وہ دوسری زمینوں کی نسبت ہزار گونہ زیادہ پھل لاتی ہے اور نیز اس کا پھل بہ نسبت اور پھلوں کے نہایت لطیف اور شیریں و لذیذاور اپنی کمیت اور کیفیت میں انتہائی درجہ تک بڑھا ہوا ہوتاہے اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الٰہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذاس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خدائے تعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے سو یہ آیت
    وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاٮهَا
    ۱؂ صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسان کامل اپنے معنے اور کیفیت کے رو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون و صفات و خواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتاہے جیسا کہ اللہ جل شانہٗ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 80
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 80
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/80/mode/1up
    یعنی بطور قسموں کے ان کا ذکر کیا بعد اس کے انسان کامل کے نفس کا ذکر فرمایا تا معلوم ہو کہ انسان کامل کا نفس ان تمام کمالات متفرقہ کا جامع ہے جو پہلی چیزوں میں جن کی قسمیں کھائی گئیں الگ الگ طور پر پائی جاتی ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے ان اپنی مخلوق چیزوں کی جو اس کے وجود کے مقابل پر بے بنیاد و ہیچ ہیں کیوں قسمیں کھائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام عادت و سنت الٰہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بیّن اور کھلا کھلا نظر اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہو سکتا کہ سورج ؔ موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے اور چاند موجود ہے اور وہ نُور آفتاب سے حاصل کرتا ہے اور روز روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا پول بھی سب کی نظرکے سامنے ہے اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کھلے کھلے خواص رکھتی ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اور نفس انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اُس کے وجود میں ہی صد ہا جھگڑے برپا ہو رہے ہیں۔ بہت سے فرقے ایسے ہیں کہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں کہ نفس یعنی روح انسان بھی کوئی مستقل اورقائم بالذات چیز ہے جو بدن کی مفارقت کے بعد ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہے اور جو بعض لوگ نفس کے وجود اور اس کی بقا اور ثبات کے قائل ہیں وہ بھی اُس کی باطنی استعدادات کا وہ قدر نہیں کرتے جو کرنا چاہیئے تھا بلکہ بعض تو اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں آئے ہیں کہ حیوانات کی طرح کھانے پینے اور حظوظِ نفسانی میں عمربسرکریںؔ وہ اس بات کو جانتے بھی نہیں کہ نفس انسانی کس قدر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں اور قوتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور اگر وہ کسب کمالات کی طرف متوجہ ہو تو کیسے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام عالم کے متفرق کمالات و فضائل و انواع پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو سکتا ہے ۔سو اللہ جل شانہٗ نے اس سورہ مبارکہ میں نفس انسان اور پھر اس کے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 81
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 81
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/81/mode/1up
    بے نہایت خواص فاضلہ کا ثبوت دینا چاہا ہے پس اوّل اس نے خیالات کو رجوع دلانے کے لئے شمس اور قمر وغیرہ چیزوں کے متفرق خواص بیان کرکے پھر نفس انسان کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ جامع ان تمام کمالات متفرقہ کا ہے اور جس حالت میں نفس میں ایسے اعلیٰ درجہ کے کمالات و خاصیات بہ تمامہا موجود ہیں جو اجرام سماویہ اور ارضیہ میں متفرق طور پر پائے جاتے ہیں تو کمال درجہ کی نادانی ہوگی کہ ایسے عظیم الشان اور مستجمع کمالات متفرقہ کی نسبت یہ وہم کیا جائے کہ وہ کچھ بھی چیز نہیں جو موت کے بعد باقی رہ سکے یعنی جب کہ یہ تمام خواص جو ان مشہود و محسوس چیزوں میں ہیں جن کا مستقل وجود ماننے میں تمہیںؔ کچھ کلام نہیں یہاں تک کہ ایک اندھا بھی دھوپ کا احساس کرکے آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔ نفس انسان میں سب کے سب یکجائی طور پر موجود ہیں تو نفس کے مستقل اور قائم بالذات وجود میں تمہیں کیا کلام باقی ہے کیا ممکن ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں وہ تمام موجود بالذات چیزوں کے خواص جمع رکھتی ہو اور اس جگہ قسم کھانے کی طرز کو اس وجہ سے اللہ جل شانہٗ نے پسند کیا ہے کہ قسم قائم مقام شہادت کے ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے حکام مجازی بھی جب دوسرے گواہ موجود نہ ہوں تو قسم پر انحصار کر دیتے ہیں اور ایک مرتبہ کی قسم سے وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو کم سے کم دو گواہوں سے اٹھا سکتے ہیں سو چونکہ عقلاً و عرفاً و قانوناً و شرعاً قسم شاہد کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے لہٰذا اسی بنا پر خدائے تعالیٰ نے اس جگہ شاہد کے طور پر اس کو قرار دے دیا ہے پس خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا ہے کہ قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی درحقیقت اپنے مرادی معنے یہ رکھتا ہے کہ سورج اور اس کی دھوپ یہ دونوں نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے کے شاہد حال ہیں کیونکہ سورج میں جو جو خواؔ ص گرمی اور روشنی وغیرہ پائے جاتے ہیں یہی خواص مع شی زائد انسان کے نفس میں بھی موجود ہیں۔ مکاشفات کی روشنی اور توجہ کی گرمی جو نفوس کاملہ میں پائی جاتی ہے اس کے عجائبات سورج کی گرمی
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 82
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 82
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/82/mode/1up
    اور روشنی سے کہیں بڑھ کر ہیں سو جب کہ سورج موجود بالذات ہے تو جو خواص میں اِس کا ہم مثل اور ہم پلّہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یعنی نفس انسان وہ کیوں کر موجود بالذات نہ ہوگا۔ اسی طرح خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے۔ اِس کے مرادی معنے یہ ہیں کہ چاند اپنی اس خاصیت کے ساتھ کہ وہ سورج سے بطور استفادہ نور حاصل کرتا ہے نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے پر شاہد حال ہے کیونکہ جس طرح چاند سورج سے اکتساب نور کرتاہے اسی طرح نفس انسان کا جو مستعد اور طالب حق ہے ایک دوسرے انسان کامل کی پیروی کرکے اس کے نور میں سے لے لیتا ہے اور اس کے باطنی فیض سے فیضیاب ہو جاتا ہے بلکہ چاند سے بڑھ کر استفادہ نور کرتا ہے کیونکہ چاند تو نور کو حاصل کرکے پھر چھوڑ بھی دیتا ہے مگر یہ کبھی نہیں چھوڑتا۔ پس جبکہ استفادہ نور میں یہ چاند کا شریک غالب ؔ ہے اور دوسری تمام صفات اور خواص چاند کے اپنے اندر رکھتاہے تو پھر کیا وجہ کہ چاند کو تو موجود بالذات اور قائم بالذات مانا جائے مگر نفس انسان کے مستقل طور پر موجود ہونے سے بکلی انکار کر دیا جائے۔ غرض اسی طرح خدائے تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو جن کا ذکر نفس انسان کی پہلے قَسم کھا کر کیا گیا ہے اپنے خواص کے رو سے شواہد اور ناطق گواہ قرار دے کر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نفس انسان واقعی طور پر موجود ہے اوراسی طرح ہر یک جگہ جو قرآن شریف میں بعض بعض چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں ان قسموں سے ہر جگہ یہی مدعا اور مقصد ہے کہ تا امر بدیہہ کو اسرار مخفیہ کے لئے جو ان کے ہم رنگ ہیں بطور شواہد کے پیش کیا جائے لیکن اس جگہ یہ سوال ہوگا کہ جو نفس انسان کے موجود بالذات ہونے کے لئے قسموں کے پیرایہ میں شواہد پیش کئے گئے ہیں اُن شواہد کے خواص بدیہی طور پر نفس انسان میں کہاں پائے جاتے ہیں اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ پائے جاتے ہیں۔ اس وہم کے رفع کرنے کے لئے اللہ جل شانہٗ اسکے بعدفرماتاؔ ہے
    فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰٮهَا‏ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰٮهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٮهَاؕ‏
    ۱؂ یعنی خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کرکے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی
    ۱؂ الشمس ۹ تا۱۱
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 83
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 83
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/83/mode/1up
    دونوں راہیں اس کے لئے کھول دی ہیں جو شخص ظلمت اور فجور یعنی بد کاری کی راہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتاہے یہاں تک کہ اندھیری رات سے اس کی سخت مشابہت ہو جاتی ہے اور بجز معصیت اور بدکاری اور پُرظلمت خیالات کے اور کسی چیز میں اس کو مزہ نہیں آتا۔ ایسے ہی ہم صحبت اس کو اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایسے ہی شغل اس کے جی کو خوش کرتے ہیں اور اس کی بد طبیعت کے مناسب حال بدکاری کے الہامات اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی ہر وقت بدچلنی اور بد معاشی کے ہی خیالات اس کو سوجھتے ہیں کبھی اچھے خیالات اس کے دل میں پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر پرہیز گاری کا نورانی راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی خدائے تعالیٰ اس کے دلی نو رکو جو تخم ؔ کی طرح اس کے دل میں موجود ہے اپنے الہامات خاصہ سے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور اس کے روشن مکاشفات کی آگ کو افروختہ کر دیتا ہے تب وہ اپنے چمکتے ہوئے نور کو دیکھ کر اور اس کے افاضہ اور استفاضہ کی خاصیت کو آزما کر پورے یقین سے سمجھ لیتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کی نورانیت مجھ میں بھی موجود ہے اور آسمان کے وسیع اور بلند اور پُر کواکب ہونے کے موافق میرے سینہ میں بھی انشراح صدر اور عالی ہمتی اور دل اور دماغ میں ذخیرہ روشن قو یٰ کا موجود ہے جو ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں تب اسے اس بات کے سمجھنے کے لئے اورکسی خارجی ثبوت کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر سے ہی ایک کامل ثبوت کا چشمہ ہر وقت جوش مارتا ہے اور اس کے پیاسے دل کو سیراب کرتا رہتا ہے اور اگر یہ سوال پیش ہو کہ سلوک کے طور پر کیوں کر ان نفسانی خواص کا مشاہدہ ہو سکے تو اس کے جواب میں اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے:۔
    قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰٮهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٮهَاؕ‏
    ۱؂ یعنی جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکلی رذائلؔ اور اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو کر خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا وہ اس مراد کو پہنچے گا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا مجمع نظر آئے گا
    ۱؂ الشمس ۱۰ تا ۱۱
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 84
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 84
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/84/mode/1up
    لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامراد رہے گا ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الٰہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔ کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔ پھر بعد اس کے اللہ جل شانہٗ ایک مثال کے طور پر ثمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہو ں نے بباعث اپنی جبلّی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس کی تکذیب کے لئے ایک بڑا بدبخت ان میں سے پیش قدم ہوا۔ اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر کہا کہ ناقۃ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی ؔ اونٹنی اور اُس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو مگر انہوں نے نہ مانا اور اونٹنی کے پاؤ ں کاٹے۔ سو اس جرم کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کی مار ڈالی اور انہیں خاک سے ملا دیا اور خدائے تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بے کس عیال کا کیا حال ہو گا۔ یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقۃ اللہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی درحقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تاوہ ناقۃ اللہ کا کام دیوے۔ اس کے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک تجلّی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اونٹنی پر سوار ہوتاہے۔سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں تہدیداور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقۃ اللّٰہکا سقیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یاد الٰہی اور معارف الٰہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقو ف ہے اُس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہوتا ؔ وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے سو اگر تم اپنی خیر مانگتے ہو تو
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 85
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 85
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/85/mode/1up
    وہ زندگی کا پانی اُس پر بند مت کرو اور اپنی بے جاخواہشوں کے تیروتبر سے اس کے پیر مت کاٹو اگر تم ایسا کرو گے اور وہ ناقہ جو خدائے تعالیٰ کی سواری کے لئے تم کو دی گئی ہے مجروح ہو کر مر جائے گی تو تم بالکل نکمّے اور خشک لکڑی کی طرح متصور ہو کر کاٹ دیئے جاؤ گے اور پھر آگ میں ڈالے جاؤ گے اور تمہارے مرنے کے بعد خدائے تعالیٰ تمہارے پس ماندوں پر ہرگز رحم نہیں کرے گا بلکہ تمہاری معصیت اور بدکاری کا وبال ان کے بھی آگے آئے گا اور نہ صرف تم اپنی شامتِ اعمال سے مرو گے بلکہ اپنے عیال و اطفال کو بھی اسی تباہی میں ڈالو گے۔
    ان آیاتِ بیّنات سے صا ف صاف ثابت ہو گیا کہ خداوند کریم نے انسان کو سب مخلوقات سے بہتر اور افضل بنایا ہے اور ملائک اور کواکب اور عناصر وغیرہ جو کچھ انسان میں اور خدائے تعالیٰ میں بطور وسائط کے دخیل ہو کر کام کر رہے ہیں وہ اُن کا درمیانی واسطہ ہونا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا اور وہ اپنے درمیانی ہونے کی وجہ ؔ سے انسان کو کوئی عزّت نہیں بخشتے بلکہ خود ان کو عزت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی شریف مخلوق کی خدمت میں لگائے گئے ہیں سو درحقیقت وہ تمام خادم ہیں نہ مخدوم اور اس بارہ میں حضرت سعدی شیرازی رحمۃاللہ نے کیا اچھا کہا ہے۔
    ابر و باد و َ مہ و خورشید و فلک در کاراند
    تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری
    ایں ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرمانبردار
    شرط انصاف نباشد کہ تو فرمان نہ بری
    اور پھر ہم بقیہ تقریر کی طرف عود کرکے کہتے ہیں کہ ملائک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے نہ ایک ہی قسم کاکام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر یک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لئے مقرر
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 86
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 86
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/86/mode/1up
    کیا گیا ہے۔ دنیا میں جس قدرتم تغیرات و انقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ مُکَمَّن قُوَّۃ سے حیّزِ فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کررہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طورکےؔ اثر ڈالتا ہے مثلاََ جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیّر سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں انہیں خدمات کے موافق جواس کے نیّر سے لئے جاتے ہیں سو وہ فرشتہ اگرچہ ہریک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الٰہی سے مشرف کیا گیا ہو ( نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہیئے) ۔
    لیکن اُس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ نہایت بڑادائرہ اس کی روحانی تاثیرات کا وہ دائرہ ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے جو معارف و حقائق و کمالات حکمت و بلاغت قرآن شریف میں اکمل اور اتم طور پر پائے جاتے ہیں یہ عظیم الشان مرتبہ اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور یہ بھی یادرکھنا چاہیئے ( جیسا کہ پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ) کہ ہریک فرشتہ کی تاثیر انسان کے نفس پر دو قسم کی ہوتی ہے۔ اوّل وہ تاثیر جو رحم میں ہونے کی حالت میں باذنہ ٖ تعاؔ لیٰ مختلف طور کے تخم پر مختلف طور کا اثر ڈالتی ہے پھر دوسری وہ تاثیر ہے جو بعد طیاری وجود کے اس وجود کی مخفی استعدادوں کو اپنے کمالات ممکنہ تک پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔ اس دوسری تاثیر کو جب وہ نبی یا کامل ولی کے متعلق ہو وحی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مستعد نفس اپنے نور ایمان اور نور محبت کے کمال سے مبدء فیوض کے ساتھ دوستانہ تعلق پکڑ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی زندگی بخش محبت اُس کی محبت پر پَرتوہ انداز ہوجاتی ہے تو اس حد اور اس وقت تک جو کچھ انسان کو
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 87
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 87
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/87/mode/1up
    آگے قدم رکھنے کے لئے مقدور حاصل ہوتا ہے یہ دراصل اس پنہانی تاثیر کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالےٰ کے فرشتہ نے انسان کے رحم میں ہونے کی حالت میں کی ہوتی ہے پھر بعد اس کے جب انسان اس پہلی تاثیر کی کشش سے یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہی فرشتہ ازسر نو اپنا اثر نور سے بھرا ہوا اس پر ڈالتا ہے مگر یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بلکہ وہ درمیانی خادم ہونے کی وجہ سے اس نالی کی طرح جو ایک طرف سے پانی کو کھینچتی اور دوسری طرف اس پانی کو پہنچا دیتی ہے خدائے تعالےٰ کا نور فیض اپنے اندر کھینچؔ لیتا ہے پھر عین اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقترانِ محبتیں روح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے معاََ اس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اس وقت جبرئیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے مثلاً جب تم نہایت مصفّٰی آئینہ اپنے مُنہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلا توقف اس میں پڑے گا۔ یہ نہیں کہ تمہارا مُنہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہوکر آئینہ میں رکھ دیا جائیگا۔ بلکہ اس جگہ رہے گا جو رہنا چاہئے صرف اُس کا عکس پڑے گا اور عکس بھی ہریک جگہ ایک ہی مقدار پر نہیں پڑیگا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلبؔ کی ہوگی اسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اگرچہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر یک عضو اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئیگا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لئے کافی ہے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 88
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 88
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/88/mode/1up
    تو تمہارے تمام نقوش اور اعضاء چہرہ کے اپنی اصلی مقدار میں نظر آجائیں گے۔ پس یہی مثال جبریل کی تاثیرات کی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبریل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبریل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔ لیکن ان دونوں وحیوں میں وہی فرق مذکورہ بالا آرسی کے شیشہ اور بڑے آئینہ کا ہے۔ یعنی اگرچہ بظاہر صورت جبریل وہی ہے اور اس کی تاثیرات بھی وہی مگر ہر یک جگہ مادہ قابلہ ایک ہی وسعت اور صفائی کی حالت پر نہیں اور یہ جو اس جگہ میں نے صفائی کا لفظ بھی لکھ دیا تو یہ اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ ؔ جبریلی تاثیرات کا اختلاف صرف کمیت کے ہی متعلق نہیں بلکہ کیفیت کے بھی متعلق ہے۔ یعنی صفائی قلب جو شرط انعکاس ہے تمام افراد ملہمین کے ایک ہی مرتبہ پر کبھی نہیں ہوتے جیسے تم دیکھتے ہو کہ سارے آئینے ایک ہی درجہ کی صفائی ہرگز نہیں رکھتے۔ بعض آئینے ایسے اعلیٰ درجہ کے آبدار اور مصفّٰی ہوتے ہیں کہ پورے طور پر جیسا کہ چاہیئے دیکھنے والے کی شکل ان میں ظاہر ہو جاتی ہے اور بعض ایسے کثیف اور مکدّراور ُ پر غبار اور دود آمیز جیسے ہوتے ہیں کہ صاف طور پر ان میں شکل نظر نہیں آتی بلکہ بعض ایسے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر مثلاً ان میں دونوں لب نظر آویں تو ناک دکھائی نہیں دیتا اور اگر ناک نظر آگیا تو آنکھیں نظر نہیں آتیں۔ سو یہی حالت دلوں کے آئینہ کی ہے جو نہایت درجہ کا مصفّٰی دل ہے اس میں مصفّا طور پر انعکاس ہوتا ہے اور جو کسی قدر مکدّر ہے اس میں اسی قدر مکدّر دکھائی دیتاہے اور اکمل اور اتم طور پر یہ صفائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو حاصل ہے ایسی صفائی کسی دوسرے دل کو ہرگز حاصل نہیں۔
    اسؔ جگہ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ جو علّت العلل ہے جس کے وجود کے ساتھ تمام وجودوں کا سلسلہ وابستہ ہے جب وہ کبھی مربیانہ یا قاہرانہ طور پر کوئی جنبش اور حرکت ارادی کسی امر کے پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے تو وہ حرکت اگر اتم اور
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 89
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 89
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/89/mode/1up
    اکمل طور پر ہو تو جمیع موجودات کی حرکت کو مستلزم ہوتی ہے اور اگر بعض شیون کے لحاظ سے یعنے جزئی حرکت ہو تو اسی کے موافق عالم کے بعض اجزاء میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے عزو جل کے ساتھ اس کی تمام مخلوقات اور جمیع عالموں کا جو علاقہ ہے وہ اس علاقہ سے مشابہ ہے جو جسم کو جان سے ہوتاہے اور جیسے جسم کے تمام اعضاء روح کے ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور جس طرف روح جھکتی ہے اسی طرف وہ جھک جاتے ہیں یہی نسبت خدائے تعالیٰ اور اس کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ میں صا حب فصوص کی طرح حضرت واجب الوجود کی نسبت یہ تو نہیں کہتاکہ خلق الاشیاء وھو عینھا مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ خلق الاشیاء و ھو کعینھا۔ ھذا العالم کصرح ممرّد من قواریر وؔ ماء الطاقت العظمٰی یجری تحتھا و یفعل ما یرید یخیّل فی عیون قاصرۃ کانھا ھو یحسبون الشمس والقمر والنجوم مؤثراتٍ بذاتھاولا مؤثر الّا ھو۔
    حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سربستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع اجزاء کے اس علت العلل کے کاموں او ر ارادوں کی انجام دہی کے لئے سچ مچ اس کے اعضاء کی طرح واقع ہے جو خود بخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس روح اعظم سے قوت پاتاہے۔ جیسے جسم کی تمام قوتیں جان کی طفیل سے ہی ہوتی ہیں اور یہ عالم جو اس وجود اعظم کے لئے قائم مقام اعضاء کا ہے بعض چیزیں اُس میں ایسی ہیں کہ گویا اُس کے چہرہ کا نور ہیں جو ظاہری یا باطنی طور پر اس کے ارادوں کے موافق روشنی کا کام دیتی ہیں اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ گویا اس کے ہاتھ ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ گویا اس کے پیر ہیں اور بعض اس کے سانس کی طرح ہیں۔ غرض یہ مجموعہ عالم خدائے تعالیٰ کے لئے بطور ایک اندام کے واقعہ ہے اور تمام آب و تاب اس اندام کی اور ساری زندگی اسؔ کی اسُی روح اعظم سے ہے جو اُس کی قیوم ہے اور جو کچھ اس قیوم کی ذات میں ارادی حرکت
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 90
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 90
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/90/mode/1up
    پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کل اعضا یا بعض میں جیسا کہ اس قیوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔
    اس بیان مذکور ہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیّلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار َ پیر اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس وجوداعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔ اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضا ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلّی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضا میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہو گا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاکے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے پس یہی ایک عام فہم مثال اسؔ روحانی امر کی ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جزو خدائے تعالےٰ کے ارادوں کی تابع اور اس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے اور کمال درجہ کی اطاعت سے اس کے ارادوں کی راہ میں محو ہو رہی ہے اور یہ اطاعت اس قسم کی ہرگز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو بلکہ ہر یک چیز کو خدائے تعالےٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر یک ذرّہ ایسا بالطبع اس کی طرف جھکا ہوا معلوم ہوتاہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضا اس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس درحقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اس وجود اعظم کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العٰلمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔
    ہر یک ارادہ اس قیوم کا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی دینی ہے یا دنیوی اسی
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 91
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 91
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/91/mode/1up
    مخلوقات کے توسط سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور کوئیؔ ایسا ارادہ نہیں کہ بغیر ان وسائط کے زمین پر ظاہر ہوتا ہو۔ یہی قدیمی قانون قدرت ہے کہ جو ابتدا سے بندھا ہوا چلا آتاہے مگر ان لوگوں کی سمجھ پر سخت تعجب ہے کہ وہ ظاہری بارش ہونے کے لئے جو بادلوں کے ذریعہ سے زمین پر ہوتی ہے بخارات مائیہ کا توسط ضروری خیال کرتے ہیں اور خودبخود قدرت سے بغیر بادل کے بارش ہو جانا محال سمجھتے ہیں لیکن الہام کی بارش کے لئے جو صاف دلوں پر ہوتی ہے ملائک کے بادلوں کا توسط جو عند الشرع ضروری ہے اُس پر جہالت کی نظر سے ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالےٰ بغیر ملائک کے توسط کے خود بخود الہام نہیں کر سکتاتھا۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر توسط ہوا کے آواز سن لینا خلاف قانون قدرت ہے مگر وہ ہوا جو روحانی طور پر خدائے تعالیٰ کی آواز کو ملہموں کے دلوں تک پہنچاتی ہے اس قانون قدرت سے غافل ہیں۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی بصارت کے لئے آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہے مگر وہ روحانی آنکھوں کے لئے کسی آسمانی روشنی کی ؔ ضرورت یقین نہیں رکھتے۔
    اب جبکہ یہ قانون الٰہی معلوم ہو چکا کہ یہ عالم اپنے جمیع قویٰ ظاہری و باطنی کے ساتھ حضرت واجب الوجود کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور ہر یک چیز اپنے اپنے محل اور موقعہ پراعضا ہی کا کام دے رہی ہیں اور ہر یک ارادہ خدائے تعالیٰ کا انہیں اعضا کے ذریعہ سے ظہور میں آتاہے۔ کوئی ارادہ بغیر ان کے تو سط کے ظہور میں نہیں آتا۔ تو اب جاننا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ کی وحی میں جو پاک دلوں پر نازل ہوتی ہے جبریل کا تعلق جو شریعت اسلام میں ایک ضروری مسئلہ سمجھا گیا اور قبول کیا گیا ہے یہ تعلق بھی اسی فلسفہ حقہ پر ہی مبنی ہے جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حسب قانون قدرت مذکورہ بالا یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القا یا ملکہ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدائے تعالیٰ کے الہامی اور روحانی ارادہ کو بمنصہ ظہور
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 92
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 92
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/92/mode/1up
    لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجا لاوے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجالا رہے ہیں سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرؔ ے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے توحسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتاہے اُس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے۔ یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلاارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتاہے کہ جیسا کہ اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔ پس جب جبریلی نور خدائے تعالےٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آجاتاہے تو معاََ اس کی عکسی تصویر جس کو روح القد س کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیئے محبت صادق کے دل میں منقّش ہو جاتی ہے۔ اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائباؔ ت کے دیکھنے کے لئے آنکھو ں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہو نے کے لئے ایک ایسی محرّک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدانہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی طرح ہوتاہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہو۔ لیکن یاد رہے کہ یہ قوت جو روح القدس سے موسوم ہے ہر یک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نور اس پر اثر ڈالتا ہے۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 93
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 93
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/93/mode/1up
    انسان کے دل میں جبریلی نور کے پرَتوہ سے پیداہو جاتی ہے اس کے وجود کے لئے یہ امر لازم نہیں کہ ہر وقت انسان خدائے تعالیٰ کا پاک کلام سنتا ہی رہے یا کشفی طور پر کچھ دیکھتاہی رہے بلکہ یہ تو انوار سماویہ کے پانے کے لئے اسباب قریبہ کی ؔ طرح ہے یا یوں کہو کہ یہ ایک روحانی روشنی روحانی آنکھوں کے دیکھنے کے لئے یا ایک روحانی ہوا روحانی کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے منجانب اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی چیز سامنے موجود نہ ہو مجرد روشنی کچھ دکھا نہیں سکتی۔ اور جب تک متکلّم کے منہ سے کلام نہ نکلے مجرد ہوا کانو ں تک کوئی خبر نہیں پہنچا سکتی۔ سو یہ روشنی یا یہ ہوا روحانی حواس کے لئے محض ایک آسمانی مؤیّد عطا کیا جاتاہے جیسے ظاہری آنکھو ں کے لئے آفتاب کی روشنی اور ظاہری کانوں کے لئے ہوا کا ذریعہ مقرر کیا گیا ہے اور جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتاہے کہ اپنا کلام اپنے کسی ملہم کے دل تک پہنچا وے تو اسکی اس متکلمانہ حرکت سے معاََ جبریلی نور میں القا کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا ملہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے اور اس تموّج یااس حرارت سے بلا توقف وہ کلام ملہم کی آنکھو ں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتاہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاریؔ ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے۔ یہ دونوں قوتیں اس لئے عطاکی جاتی ہیں کہ تاقبل از نزول الہام‘الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جاتا کہ ملہم کا دل حواس روحانی سے محروم ہوتا یا روح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہام الٰہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا۔ سو اسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی سے ملہمین کو عطا کی گئیں۔ اور اس تحقیق سے یہ بھی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وحی کے متعلق جبریل کے تین کام ہیں۔
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 94
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 94
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/94/mode/1up
    اوّل یہ کہ جب رِحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلّشانہٗ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہمانہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے تب ایسے شخص کی فطرت منجانب اللہ الہامی خاصیت پیداؔ کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مل جاتے ہیں۔
    پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آپڑتی ہے تو خدائے تعالےٰ کی مربّیانہ حرکت کی وجہ سے جبریلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہو کر محب صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محب صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اس میں پیداہو جاتی ہے۔جو ایک روشنی یا ہوا یاگرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکۂ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتاہے اور دوسرا ملہم کے دل کے اندر داخل ہوجاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں روح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں۔
    تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آ کر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے سامنے کر دیتا ہے یا حرارت محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیداکر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلا تا ہے۔
    اسؔ جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 95
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 95
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/95/mode/1up
    بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجہ کے آدمی تصور کرتے ہیں ایسے ایسے بد چلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدچلنیوں اور بدمعاشیوں میں چھٹے ہوئے اور شہرہ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیو ں کی کیا فضیلت باقی رہی۔سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ درحقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے اور جبریلی نور کا چھیالیسواں ۴۶ حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اورؔ پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔ بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔ اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسروآشنا ببرکا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئیے کہ ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ جبریلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کی اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دُنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنیٰ سرشت میں بھی ہے۔اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقعہ ہے بھی کیونکہ مجانین بھی جن کو عوام الناس مجذوب کہتے ہیں اپنے بعض حالات میں بوجہ اپنے ایک طور کے انقطاع کےؔ جبریلی نور کے نیچے جاپڑتے ہیں تو کچھ کچھ ان کی باطنی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے تصرفات خفیہ کو کچھ کچھ دیکھنے لگتی ہے مگر ایسی خوابوں یا ایسے مکاشفات
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 96
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 96
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/96/mode/1up
    سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور انکی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا۔کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بیّن ہے کہ جو بدیہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص اور عام کی خوابیں اور وہ مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی و انفصالی میں ہرگزبرابر نہیں ہیں۔ جو لوگ خدائے تعالٰے کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔ دُنیا اُن نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا دریوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ادنیٰ مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھؔ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کرکے دیکھو تو یہ ذرّہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پٹ بیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیںآفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔ سو جاننا چاہیئے کہ درحقیقت تمام فضیلتیں باعتبار اعلیٰ درجہ کے کمال کے جو کمیت اور کیفیت کی رو سے حاصل ہوپیدا ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ایک حرف کی شناخت سے ایک شخص فاضل اجل کا ہم پایہ ہو جائے گا یا اتفاقاً ایک مصرعہ بن جانے سے بڑے شاعروں کا ہم پلّہ کہلائے گا۔ ذرہ مثال شراکت سے کوئی نوع حکمت یا حکومت کی خالی نہیں۔ اگر ایک بادشاہ سارے جہان کی حکومت کرتا ہے تو ایسا ہی ایک مزدور آدمی اپنی جھونپڑی میں اپنے بچوں اوراپنی بیوی پر حاکم ہے۔ رہی یہ بات کہ خدائے تعالیٰ نے نیک بختوں اور بد بختوں میں مشارکت کیوں رکھی اور تخم کے طور پر غافلین کے گروہ کو نعمت غیبی کا کیوں حصہ دیا۔ اسکا جواب یہ ہے کہ الزام اور اتمام حجت کے لئے تا اس تخمی شراکت کی وجہ سے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 97
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 97
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/97/mode/1up
    ہر یک منکر کاملوں کی حالت کا گواہ ہوجائے کیونکہ جب کہ وہ اپنے چھوٹے سے دائرہ استعداد میں کچھ نمونہ ان باتوں کا دیکھتا ہے جو ان کاملوں کی زبان سے سنتا ہے پس اس تھوڑی سی جھلک کی وجہ سے اسکے لئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے سچے دل سے ان الہامی اموؔ ر کو بکلّی غیر ممکن سمجھے۔ سو وہ اس روحانی خاصیت کا ایک ذرا سا نمونہ اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے خدائے تعالےٰ کے الزام کے نیچے ہے جس کے رو سے بحالت انکار وہ پکڑا جائے گا۔ جیسا کہ آجکل کے آریہ خیال کررہے ہیں کہ خدا ئے تعالےٰ نے چاروں وید وں کو نازل کرکے پھر یکلخت ہمیشہ کے لئے الہامات کی صف کو لپیٹ دیا ہے۔مگر خدائے تعالیٰ کا قانونِ قدرت انہیں ملزم کرتا ہے جبکہ وہ بچشم خود دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ انکشافات غیبیہ کا اب تک جاری ہے اور انمیں سے فاسق آدمی بھی کبھی کبھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ وہ خدا جس نے اپنا روحانی فیض نازل کرنے سے اس زمانہ کے فاسقوں اور دُنیا پرستوں کو بھی محروم نہیں رکھا اور ان پر بھی باوجود فقدان کامل مناسبت کے کبھی کبھی رشحاتِ فیض نازل کرتا ہے تواپنے نیک بندوں پر جو اسکی کامل مرضی پر چلیں اور اکمل اور اتم طور پر اس سے مناسبت رکھیں کیا کچھ نازل کرتا نہیں ہوگا اور ایک بھید اس تخمی مشارکت میں یہ ہے کہ تا ہر یک شخص گو وہ کیسا ہی فاسق بدکار یا کافر خونخوار ہو اس مشارکت پر غور کرنے سے سمجھ لیوے کہ خدائے تعالیٰ نے
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 98
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 98
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/98/mode/1up
    اُسے ہلاک کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ اُس نے اُس کے اندر ایک ترقی کی راہ رکھی ہے اور اسکو بھی تخم کے طور پر ایک نمود دیا ہے جس میں وہ آگے قدم بڑھا سکتا ہے اور وہ فطرتاً خدائے تعالیٰ کے خوان نعمت سے محروم نہیں ہیں۔ ہاں اگر آپ بے راہی اختیار کرکے اس نور کو جو اسکے اندر رکھا گیا ہے غیر مستعمل چھوڑ کر آپ محروم بن جائے اور ان طبعی طریقوں کو جو نجات پانے کے طریق ہیں دیدہ و دانستہ چھوڑ دیوے تو یہ خود اس کا ساختہ پرداختہ ہے جس کا بد نتیجہ اسے بھگتنا پڑے گا۔
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 99
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 99
    http://www.alislam.org/library/brow...ain_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/99/mode/1up
    یاد دہانی
    جو کچھ ہم نے رسالہ فتح اسلام میں الٰہی کارخانہ کے بارہ میں جو خداوند عزّوجل کی طرف سے ہمارے سپرد ہوا ہے پانچ شاخوں کا ذکر کرکے دینی مخلصوں اور اسلامی ہمدردوں کی ضرورت امداد کے لئے لکھا ہے اسکی طرف ہمارے بااخلاص اور ُ پرجوش بھائیوں کو بہت جلد توجہ کرنی چاہیئے کہ تا یہ سب کام باحسن طریق شروع ہوجائیں۔
    الراقم
    مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور
    Ruhani Khazain Volume 3. Page: 100
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۳- توضیحِ مرام: صفحہ 100
    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/100/mode/1up
    اطلاع بخدمت علماء اسلام
    جو کچھ اس عاجز نے مثیل مسیح کے بارے میں لکھا ہے یہ مضمون متفرق طور پر تین رسالوں میں درج ہے یعنی فتح اسلام اور توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں۔ پس مناسب ہے کہ جب تک کوئی صاحب ان تینوں رسالوں کو غور سے نہ دیکھ لیں تب تک کسی مخالفانہ رائے ظاہر کرنے کے لئے جلدی نہ کریں۔
    والسلام علٰی من اتبع الھدیٰ
    الراقم
    خاکسار مرزا غلام احمد
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں