1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 23 ۔ چشمہ معرفت ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 4, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 1

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 1

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 2

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 2

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    3 ۱؂ ۔ آمین

    اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔


    جب سے خدا نے مجھے مسیح موعود اور مہدی* معہود کا خطاب دیا ہے میری نسبت جوش اور غضب اُن لوگوں کا جو اپنے تئیں مسلمان قرار دیتے ہیں اور مجھے کافرکہتے ہیں انتہا تک پہنچ گیا ہے پہلے میں نے صاف صاف اَدِلّہء کتاب اللہ اور حدیث سے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا مگر قوم نے دانستہ ان دلائل سے منہ پھیر لیا اور پھر میرے خدا نے بہت سے آسمانی نشان میری تائید میں دکھلائے مگر قوم نے اُن سے بھی کچھ فائدہ نہ اُٹھایا اور پھر اُن میں سے کئی لوگ مباہلہ کے لئے اُٹھے اور بعض نے علاوہ مباہلہ کے الہام کا دعویٰ کرکے یہ پیشگوئی کی کہ فلاں سال یاکچھ مدّت تک ان کی زندگی میں ہی یہ عاجز ہلاک ہو جائے گا مگر آخر کار وہ میری زندگی میں خود ہلاک ہوگئے مگر نہایت افسوس ہے کہ قوم کی پھر بھی آنکھ نہ کھلی اور اُنہوں نے یہ خیال نہ کیاکہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ہر ایک پہلو سے وہ مغلوب نہ ہوتے۔ قرآن شریف ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔ معراج کی حدیث اور حدیث امامکم منکم ان کو جھوٹا ٹھہراتی ہے۔ مباہلوں کا انجام ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔ پھر اُن کے ہاتھ میں کیا ہے جو خدا کے اِس فرستادہ کی دلیری سے تکذیب کر رہے ہیں جو تقریباً چھبیس۲۶ برس سے اُن کو حق اور راستی کی طرف بلا رہا ہے کیا اب تک اُنہوں نے

    *

    حاشیہ۔ بعض کم سمجھ لوگ جو کتاب اللہ اور حدیث نبوی میں تدبر نہیں کرتے وہ میرے مہدی ہونے کو سن کر یہ کہا کرتے ہیں کہ مہدی موعود تو سادات میں سے ہوگا ۔ سو یاد رہے کہ باوجود اس قدر جوش مخالفت کے ان کو احادیث نبویہ پر بھی عبور نہیں مہدی کی نسبت احادیث میں چار قول ہیں (۱) ایک یہ کہ مہدی سادات میں سے ہوگا (۲) دوسرے یہ کہ قریش میں سے۔ سادات ہوں یا نہ ہوں (۳) تیسرے یہ حدیث ہے کہ رجل من امتی۔ یعنی مہدی میری امت میں سے ایک مرد ہے خواہ کوئی ہو۔ (۴) چوتھے یہ حدیث ہے کہ لا مہدی اِلَّا عیسٰی یعنی بجز عیسیٰ کے اور کوئی مہدی نہیں ہوگا وہی مہدی ہے جو عیسیٰ کے نام پر آئے گا ۔ اسی آخری قول کے مصدّق وہ اقوال محدثین ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ مہدی کے بارے میں جس قدر احادیث ہیں بجز حدیث عیسیٰ مہدی کے کوئی اُن حدیثوں میں سے جرح سے خالی نہیں مگر عیسیٰ کا مہدی ہونا بلکہ سب سے بڑا مہدی ہونا تمام اہل حدیث اور ائمہ اربعہ کے نزدیک بغیر کسی نزاع کے مسلّم ہے۔ پس میں وہی مہدی ہوں جو عیسیٰ بھی کہلاتا ہے اور اس مہدی کے لئے شرط نہیں ہے کہ حسنی یا حسینی یا ہاشمی ہو۔ منہ

    ۱؂ الاعراف:۹۰



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 3

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 3

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    آیۃ کریمہ3۱؂ کا مزہ نہیں چکھا۔ کہاں ہے مولوی غلام دستگیر جس نے اپنی کتاب فیض رحمانی میں میری ہلاکت کے لئے بددُعا کی تھی اور مجھے مقابل پر رکھ کر جھوٹے کی موت چاہی تھی؟ کہاں ہے مولوی چراغ دین جموں والا جس نے الہام کے دعوے سے میری موت کی خبر دی تھی اور مجھ سے مباہلہ کیا تھا۔ کہاں ہے فقیر مرزا جو اپنے مریدوں کی ایک بڑی جماعت رکھتا تھا جس نے بڑے زور شور سے میری موت کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ عرش پر سے خدا نے مجھے خبردی ہے کہ یہ شخص مفتری ہے آئندہ رمضان تک میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔لیکن جب رمضان آیا تو پھر آپ ہی طاعون سے ہلاک ہوگیا۔ کہاؔ ں ہے سعد اللہ لودہانوی؟ جس نے مجھ سے مباہلہ کیا تھا اور میری موت کی خبر دی تھی۔ آخر میری زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہوگیا۔ کہاں ہے مولوی محی الدین لکھو کے والا؟ جس نے مجھے فرعون قرار دے کر اپنی زندگی میں ہی میری موت کی خبر دی تھی اور میری تباہی کی نسبت کئی اور الہام شائع کئے تھے آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دُنیا سے گذر گیا۔ کہاں ہے بابو الٰہی بخش صاحب مؤلّف عصائے موسیٰ اکونٹنٹ لاہور؟ جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دے کر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنی زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسیٰ پر جھوٹ اور افترا کا داغ

    لگاکر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا۔ اور ان تمام لوگوں نے چاہا کہ میں اس آیت کا مصداق ہو جاؤں کہ 3۲؂ ۔ لیکن وہ آپ ہی اس آیت ممدوحہ کا مصداق ہوکر ہلاک ہوگئے اور خدا نے اُن کو ہلا ک کرکے مجھ کو اس آیت کا مصداق بنا دیا۔33۳؂ ۔ کیا اِن تمام دلائل سے خدا تعالیٰ کی حجت پوری نہیں ہوئی۔ مگر ضرور تھا کہ مخالف لوگ انکار سے پیش آتے کیونکہ پہلے سے یعنی آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا کی یہ پیشگوئی موجود ہے دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ سو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے حملوں کو نہیں روکے گا اور نہ

    ۱؂ ، ۲؂ ، ۳؂ المومن:۲۹

    َِ


    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 4

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 4

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    بس کرے گا جب تک کہ دُنیا پر میری سچائی ظاہر نہ ہوجائے۔

    لیکن آج ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ ؁ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اور طریق فیصلہ کا ہے شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اُٹھاوے اور انکار کے خطرناک گرد اب سے نکل آوے اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافراور کذّاب سمجھتا ہو* وہکم سے کم دس۱۰ نامی مولوی صاحبوں یا دس۱۰ نامی رئیسوں کی طرؔ ف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں یعنی اِس طرح پر کہ دو خطرناک بیمار لے کر جو جدا جدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دُعا کے لئے تقسیم کرلیں۔ پھر جس فریق کا بیمار بکلی اچھا ہو جاوے یادوسرے بیمار کے مقابل پر اس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔ یہ

    سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور میں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرکے یہ خبر دیتا ہوں کہ جو بیمار میرے حصہ میں آوے گا یا تو خدا اُس کو بکلّی صحت دے گا اور یا بہ نسبت دوسرے بیمار کے اُس کی عمر بڑھا دے گا۔ اور یہی امر میری سچائی کا گواہ ہوگا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ لیکن یہ شرط ہوگی کہ فریق مخالف جو میرے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ خود اور ایسا ہی دس ۱۰ اور مولوی یا دس ۱۰ رئیس جو اس کے ہم عقیدہ ہوں یہ شائع کردیں کہ درحالت میرے غلبہ کے وہ میرے پر ایمان لائیں گے اور میری جماعت میں داخل ہوں گے اور یہ اقرار تین نامی اخباروں میں شائع کرانا ہوگا۔ ایسا ہی میری طرف سے بھی یہی شرائط ہوں گی ۔۔۔ اِس قسم کے مقابلہ سے فائدہ یہ ہوگا کہ کسی خطرناک بیمار کی جو اپنی زندگی سے نومید ہوچکا ہے خدا تعالیٰ جان بچائے گا۔ اور احیاء موتٰی کے رنگ میں ایک نشان ظاہر کرے گا۔ اور دوسرے یہ کہ اس طور سے یہ جھگڑا بڑے آرام اور سہولت سے فیصلہ ہو جائے گا۔ وَالسّلام علٰی من اتّبع الھدیٰ

    المشتھر میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ ؁ء


    *حاشیہ۔ یہ بھی شرط ہے کہ وہ شخص عام لوگوں میں سے نہ ہو بلکہ قوم میں خصوصیت اور علمیت اور عزت اور تقویٰ کے ساتھ مشہور ہو جس کا مغلوب ہونے کی حالت میں دوسروں پر اثر پڑسکے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 5

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 5

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اگرچہ میں نے اپنی کئی کتابوں میں آریہ صاحبوں کے اُن تمام حملوں کا جواب دیا ہے جو اسلام پر وہ کیا کرتے ہیں چنانچہ میں نے اُس زمانہ میں بھی اُن کے شبہات کے ردّ میں اپنی کتاب براہین احمدیہ کو شائع کیا تھا جب کہ پنجاب میں آریہ مذہب کی ابھی تخم ریزی ہوئی تھی اور براہین احمدیہ کی تالیف کا یہ باعث ہوا تھا کہ پنڈت دیانند نے سرنکالتے ہی اسلام پر زبان کھولی اور اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بے ادبی کی اور قرآن شریف کا بہت توہین کے ساتھ ذکر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جس پر آج سے قریباً اٹھائیس۲۸ برس گذر گئے۔ امید تھی کہ آریہ لوگ میری اُس کتاب کے بعد اپنی زبان بند کر لیتے لیکن افسوس! کہ آریہ صاحبوں کے ایسے دل ہیں کہ وہ اپنی عادت سے باز نہ آئے بلکہ دن بدن بڑھتے گئے اور جب اُن کی بدزبانی انتہا تک پہنچ گئی۔۔۔ تو اُن میں ایک شخص لیکھرام نام پیدا ہوا۔ اور لیکھرام نے صرف بدزبانی پربس نہ کی بلکہ اپنی موت کے لئے مجھ سے پیشگوئی چاہی چنانچہ میں نے اس کے بار بار کے اصرار کی وجہ سے خدائے عزّوجلّ سے اطلاع پاکر اُس کو خبر کردی کہ وہ چھ۶ برس کے اندر مر جائے گا مگر اُس نے اِس پر کفایت نہ کرکے مجھ سے تحریری مباہلہ کیا اور ایسے وقت میں اُس نے مباہلہ کیا جب کہ خدا کے نزدیک اس کی زندگی کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ اُس نے اپنے مباہلہ میں جو اس کی کتاب خبط احمدیہ میں درج ہوکر اس کے مرنے سے ایک مُدت پہلے شائع ہوگیا تھااِس مضمون کی دعا کی جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ اے پرمیشر ! میں جانتا ہوں کہ ؔ چاروں وید سچے ہیں اور

    ۱؂ الشوریٰ :۴۲



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 6

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 6

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    قرآن شریف (نعوذ باللہ) جھوٹا ہے اور اسی بناء پرمیں مرزاغلام احمد قادیانی سے مباہلہ کرتا ہوں پس اگر میں اِس عقیدہ میں سچا نہیں ہوں تو اے پرمیشر ! میری مُراد کے مخالف فیصلہ کر اور جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے سچے کے زندگی میں ہی اُس کو سزا دے اور اپنے قطعی فیصلہ سے سچائی کو ظاہر فرما۔ چنانچہ خدا نے اُس مباہلہ کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ لیکھرام کو میری زندگی میں ہی ہلاک کردیا۔ اور اب اُس کی موت پر بارھو۱۲اں سا ل گذر رہا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ آریوں نے خدا تعالیٰ کے اِس صریح اور کھلے کھلے نشان سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ ان کی شوخی پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی۔

    بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ دسمبر ۱۹۰۷ ؁ء کے مہینہ میں ان کی طرف سے مذہبی جلسہ کے لئے ایک اشتہار نکلا اور وہ اشتہار خصوصیت سے میری طرف بھیجا گیا اور میری جماعت کے بہت سے معزز لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔ جس کا حاصل مطلب یہ تھا کہ ایک مذہبی جلسہ ہوگا آپ صاحب تشریف لائیں اور اپنے مذہب کی تائید میں لکھ کر مضمون لاویں۔ مضامین میں یہ شرط ہے کہ کسی فریق کا کوئی مضمون خلاف تہذیب نہ ہو اورعلاوہ اس کے میری طرف کئی انکساری کے خط لکھے کہ ہم لوگ آپ کے درشن کے بھی مشتاق ہیں۔ چونکہ مومن سادگی سے خالی نہیں ہوتا میں اس اشتہار اور ان خطوط کو پڑھ کر بہت خوش ہوا اور دِل میں سوچا کہ آریہ صاحبوں نے آخرکار زمانہ کی ہوا دیکھ کر اپنی بدکلامی اور بدتہذیبی سے توبہ کرلی ہے اور یہ بھی خیال آیا کہ چونکہ بعض آریوں کی بعض حرکات کی وجہ سے گورنمنٹ کو اس فرقہ کی نسبت کچھ شکوک و شبہات پیدا ہوگئے تھے اِس لئے غالباً یہ جلسہ ان شکوک کے ازالہ کے لئے ہے تا گورنمنٹ کو معلوم ہوکہ اب یہ آریہ قوم وہ آریہ نہیں ہیں جو پہلے تھے بلکہ اُنہوں نے اس گوشمالی کے بعد بڑی تبدیلی اپنے اندر حاصل کرلی ہے اور تہذیب کو اپنا پیرایہ بنا لیا ہے اوروہ اس جلسہ سے گورنمنٹ عالیہ کواپنی تہذیب کا نمونہ دکھانا چاہتے ہیں۔ سو اِس خیال سے نہ صرف مجھے خوشی ہوئی بلکہ ہر ایک فرد میری جماعت کا بہت خوش تھا اور میرے عزیز ڈاکٹر میرزا یعقوب بیگ صاحب اسسٹنٹ سرجن لاہور تو گویا قسم کھانے کو اِس بات کے لئے تیار تھے کہ یہ جلسہ بڑی تہذیب سے ہوگا اور انہوں نے کئی مرتبہ مجھے کہا کہ آپ آریوں کی پہلی حالت پر خیال نہ کریں۔ ابؔ توان کے اندر بڑی تبدیلی معلوم ہوتی ہے۔ اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 7

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 7

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    میں نے ان کو کہا بھی کہ عادت کا بدلنا مشکل ہے اور تجربہ ہوچکا ہے کہ اُن کی قلموں سے بجز گند کے اور کچھ نہیں نکل سکتا اور وہ ضرور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے مضمون میں توہین کریں گے اور قرآن شریف کا ذکر تکذیب اور ہتک کے الفاظ سے کریں گے۔ مگر ڈاکٹر صاحب موصوف مکار آریوں کے ایسے دھوکہ میں آچکے تھے کہ وہ باربار یہی کہتے تھے کہ وہ زمانہ گذر گیا اور اب میں دیکھتا ہوں کہ اُن کی کلام میں بڑی تہذیب اور شرافت پائی جاتی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ بڑی تہذیب سے یہ جلسہ ہوگا۔ دراصل میں تو نہ آریوں کے ملمع دار اشتہار پر اعتماد کرسکتاتھا اور نہ ان کے انکساری کے خطوط مجھے یہ تسلی دے سکتے تھے کہ وہ شرافت اور تہذیب سے مضمون سنائیں گے لیکن سادہ طبع ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے بار بارکے بیان سے میں دھوکہ میں آگیا۔ بہرحال میں نے خطوط کے ذریعہ سے کئی سو۱۰۰ اپنے مرید کو اطلاع دے دی کہ وہ آریہ صاحبوں کے جلسہ پر حاضر ہوں اور اُن کو تسلی دی کہ آریہ صاحبان بڑی شرافت اور تہذیب سے مضمون سنائیں گے چنانچہ تاریخ مقررہ پر کئی سو معزز میری جماعت کے دُور دراز ملکوں سے ہزارہا روپیہ خرچ کرکے اُس جلسہ میں شامل ہوئے اور فی کس ۴؍ کے حساب سے جلسہ کی مقررہ فیس بھی آریوں کو دی اور بہت سے روپیہ کے ساتھ اُن کا کیسہ پُر کردیا۔ اور ہماری طرف سے جو مضمون پڑھا گیا وہ اِس کتاب کے ساتھ شامل ہے۔ اور پڑھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ وہ کس تہذیب سے لکھا گیا تھا اور عجیب تر یہ بات ہے کہ جب میں مضمون ختم کرچکا تھا تو ساتھ ہی مجھ کو یہ الہام خدا کی طرف سے ہوا تھا انھم ماصنعوا ھوکید ساحر۔ ولا یفلح الساحر حیث اتٰی۔ انت منّی بمنزلۃ النّجم الثاقب۔ ترجمہ۔ آریہ لوگوں نے جو یہ جلسہ تجویز کیا ہے یہ مکار لوگوں کی طرح ایک مکر ہے اور اس کے نیچے ایک شرارت اور بدنیتی مخفی ہے مگر فریب کرنے والا میرے ہاتھ سے کہاں بھاگے گا؟ جہاں جائے گا میں اُس کو پکڑوں گا اور میرے ہاتھ سے چھٹکارا نہیں پائے گا۔ تومجھ سے ایسا ہے جیسا کہ وہ ستارہ جو شیطان پر گرتا ہے۔

    یہ وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہے جو اُس مضمون کے ساتھ ہی چھاپ کر اس مذہبی جلسہ میں سنائیؔ گئی تھی۔ اگر آریوں کے دلوں میں کچھ خدا کا خوف ہوتا اور کچھ شرافت ہوتی تو اس الہام الٰہی کو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 8

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 8

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    سن کر وہ توہین اور تکذیب سے باز آجاتے مگر دوسرے دن جو اُن کا مضمون تھا اُس میں اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر توہین کی کہ سارا مضمون گالیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اگر میری طرف سے اپنی جماعت کے لئے صبر کی نصیحت نہ ہوتی اور اگر میں پہلے سے اپنی جماعت کواس طور سے تیار نہ کرتا کہ وہ ہمیشہ بدگوئی کے مقابل پر صبرکریں تووہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا مگر یہ صبرکی تعلیم تھی کہ اُس نے ان کے جوشوں کو روک لیا۔ آریوں نے اُن معزز لوگوں کے منہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور اسلام کی سخت توہین کی لیکن وہ سب معزز مسلمان چپ رہے۔ وہ سخت طور پر دُکھ دئیے گئے مگر اُنہوں نے دم نہ مارا۔ صرف اتنا کیا کہ آریوں کے مضمون کے نوٹ بڑی احتیاط سے لکھ کر لے آئے اور میں نے دیکھا کہ ان کو آریوں کے مضمون سے بڑا صدمہ پہنچا۔ خاص کر ا س وجہ سے کہ گھر پر بلاکر گالیاں دی گئیں۔ اگر اپنے طور پر کوئی کتاب شائع کرتے تو اور بات تھی۔ اُن کے دل پاش پاش ہوگئے اور ان کو جھوٹ بول کردھوکہ دیا گیا نہ معلوم یہ آریہ لوگ کس فطرت کے انسان ہیں۔ ہر ایک شخص دوسرے کی حالت کو اپنے پر قیاس کرسکتا ہے۔ کیا وہ توہین جو انہوں نے مسلمانوں کو گھر پر بلاکر اسلام کی کی۔ کیا وہ بدزبانی جو اُنہوں نے آنحضرت صلعم کی بالمواجہ کی وہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ ہم نے کیا کیا۔ اگر ہم اپنے مضمون میں جو اُن کے جلسہ میں سنایا گیایہی گالیاں اُن کے رشیوں کو دیتے جن کو بقول ان کے پرمیشر کی طرف سے وید ملا تھا اور یا وید کی نسبت توہین سے پیش آتے تو کیا وہ ہمارے اس مضمون سے خوش ہوتے؟ یقیناًسمجھو کہ اُس انسان سے زیادہ تر خبیث اور ناپاک طبع کوئی نہیں ہوتا کہ جو مہمانوں کو گھر پر بلاوے اور پھر فیس کے طور پر بہت سا روپیہ بھی وصول کرے اور آخر گالیاں دے کر اور دل دُکھا کر رخصت کرے۔ بعض نے آریوں میں سے مضمون سنا چکنے کے بعد یہ بھی کہا کہ بیشک یہ مضمون جو آریوں کی طرف سے سنایا گیا ہے یہ گندہ ہے اور اس میں توہین اور گالیاں ہیں مگر اس کی ہمیں اطلاع نہیں تھی مگر کوئی عقلمند اس عذر کو باور نہیں کرے گا کہ یہ گندہ مضمون بغیر مشورہ اِن معزز ممبروں کے سنایا گیا تھا۔ غرض وہ نوٹ جو بڑی احتیاط سے لکھے گئے تھے اُنہیں کی بنا پر یہ رسالہ لکھا گیا ہے جس میں آریوں کے اعتراضات کا جواب ہے اگرچہ اُن کا رسالہ بھی مجھے پہنچ گیا ہے۔ مگر جن گندی باتوں کو ہزارہا لوگوں نے سنا تھا اس کاجواب اس رسالہ میں دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے مطبوعہ رسالہ میں کمی بیشی کی ہو۔اس کو خود ناظرین پڑھ لیں گے۔ میں نے یہ رسالہ دو غرض سے لکھا ہے۔ (۱) ایک یہ کہ تا اُن اعتراضوں کا جواب پبلک کو معلوم ہوجائے(۲) دوسری یہ کہ تا مسلمانوں کے دلوں میں جو آریہ لوگوں کی سخت گوئی کی وجہ سے ایک جوش ہے وہ جوش جواب تر کی بتر کی سن کر کم ہو جائے اور شائد آریہ لوگ آئندہ شرارتوں سے باز آجائیں۔ والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔

    الراقم میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود۔

    ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ ؁ء ۔مطابق ۱۴ ؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ ؁ ہجری موافق ۱۵؍ بیساکھ سمت ۱۹۶۵ بکرمی۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 9

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 9

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    آریہ سماج لاہور کا جلسہ ۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ ؁ء کے بعد جو رات تھی اس میں ختم ہوگیا۔ جو لوگ ہمارے مضمون کے پڑھے جانے کے وقت حاضر تھے اُن کو معلوم ہوگا کہ کس تہذیب اور نرمی اور صلح کاری کا وہ مضمون تھا اور کس ادب سے ہم نے اُن کے رشیوں اور اوتاروں اور اُن لوگوں کے نام لئے جن کی طرف وید منسوب کئے جاتے ہیں اور جو اُن کی قوم کے پیشوا اور رہبر خیال کئے جاتے ہیں۔ لیکن بقول شخصے کہ ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اُس کے اندر ہے۔ آریہ صاحبوں نے اپنے مضمون میں وہ گند ظاہر کیا اور اس قدر توہین اور تحقیر انبیاء علیہم السلام کی کی جو اس سے بڑھ کر متصور نہیں ہوسکتی بالخصوص ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وہ د لآزار اور گندے لفظ اور توہین اور تحقیر کے کلمے اور سراسر دروغ اور جھوٹی تہمتیں اور بے جاالزام جو سراسرگالیاں تھیں اِس قدر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 10

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 10

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    بار ؔ بار آواز بلند سے تمام مجمع کو سنائیں جو تین ہزارآدمی سے کم نہ تھا اور ایسے طور سے سمجھا سمجھا کر اپنے ناپاک اور فتنہ انگیز بیان کو ادا کیا کہ اگر پاک طبع مسلمانوں کو اپنی تہذیب کاخیال نہ ہوتا اور بموجب قرآنی تعلیم کے صبر کے پابند نہ رہتے اور اپنے غصہ کو تھام نہ لیتے تو بلاشبہ یہ بدنیّت لوگ ایسی اشتعال دہی کے مرتکب ہوئے تھے کہ قریب تھا کہ وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔ مگر ہماری جماعت پر ہزار آفرین ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ نمونہ صبر اور برداشت کا دکھایا اوروہ کلمات آریوں کے جو گولی مارنے سے بدتر تھے اُن کو سن کر چپ کے چپ رہ گئے۔ دراصل ہماری جماعت نے جو اُن کی دعوت جلسہ کو قبول کیا تو وہ اپنی سادگی اور نیک ظنی سے اُن کے دھوکہ میں آگئی۔ پیچھے سے پتہ لگ گیا کہ اُن کا اس جلسہ میں بلانے سے اور ہی ارادہ تھا۔ پر ان مہذب لوگوں کے صبر اور برداشت نے اس بدارادہ کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اگر آریہ لوگ بغیر انعقاد جلسہ کے اپنے طور سے کوئی کتاب لکھتے اور یہ گالیاں اُس کتاب میں چھاپتے جیسا کہ سفلہ طبع لیکھرام نے اسی کام میں اپنی عمر گذاری جب تک کہ اس کی زبان کی چُھری نے اِس دنیا سے اُس کو اُٹھا لیا تو یہ اور صورت تھی لیکن ا ن لوگوں نے تو اپنے جلسہ میں مہمان کے طور پر ہمیں مدعو کیا اور میری طرف چھ۶ یا سا۷ت انکساری کے خط لکھے اور منافقانہ طور

    پر عجز و نیاز ظاہر کرکے یہ چاہا کہ ہم اس جلسہ میں شریک ہوں اوروعدہ کیا کہ کوئی بے تہذیبی نہیں ہوگی اور ہر ایک کے لئے مہذبانہ طرز کو شرط ٹھہرادیا۔ اور مجھے ترغیب دی کہ جہاں تک ممکن ہوسکے آپ کی جماعت سننے کے لئے آوے۔ میں اُن کے خطوں کے پڑھنے سے جو سراسر نرمی سے لکھے گئے تھے بہت خوش ہوا اور دل میں خیال کیا کہ اگرچہ آریہ صاحبوں کی حالت جس قدر آج تک تجربہ میں آچکی ہے وہ یہی ہے کہ بجز اپنے وید اور اس کے چار رشیوں کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام کو نہایت سخت گالیاں دیتے اور طرح طرح کی توہین کرتے ہیں۔ اور اس طرح پر کروڑہا مسلمانوں کے دل دُکھاتے ہیں۔ لیکن کیا تعجب کہ اب ایک تازہ تنبیہ کی وجہ سے جو ان کے بعض افراد کی شوخیوں کی نسبت ضرورتاً گورنمنٹ کی طرف سے عمل میں آئی ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 11

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 11

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اُنؔ کے دل کسی قدر درست ہوگئے ہوں اور اس تنبیہ سے کسی قدر انہوں نے سبق حاصل کرلیا ہو اور صلح پسندی کی خواہش ظاہر کی ہو۔ مگر پیچھے سے معلوم ہوا کہ یہ خیال ہمارا سراسر غلط تھا اور خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کی نسبت اُن کی بد زبانی اب پہلے سے بھی بہت بڑھ کر ہے کیونکہ پہلے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کسی جلسۂ مذاہب میں جو اپنی طرف سے انہوں نے قائم کیا ہو مسلمانوں کو مدعو کیا ہو اور پھر عین جلسہ کے وقت میں اُن کے بزرگ اور برگزیدہ پیغمبروں کو گالیاں دی ہوں ۔پس یہ پہلا موقعہ ہے جس میں آریوں نے اپنے مکان پر ہمیں بُلاکراور اُس مجمع میں پا۵۰۰نسو سے زیادہ مسلمان اکٹھے کرکے پھر گندی گالیوں کے ساتھ اُن کا دل دُکھایا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس کو وہ کسی طرح پوشیدہ نہیں کرسکتے۔

    بارہا یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ لوگ تمام برگزیدہ نبیوں کے دشمن ہیں نہ حضرت آدم کو بدگوئی سے چھوڑیں نہ حضرت نوح کو نہ حضرت ابراہیم کو نہ حضرت یعقوب کو نہ حضرت موسیٰ کو نہ حضرت داؤد کو نہ حضرت عیسیٰ کو نہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کہ اُن کی کتابوں سے ظاہر ہے مگر افسوس کہ یہ بیباکی اور بدگوئی کا تخم بدقسمت دیانند اس ملک میں لایا اور دوسرے آریہ حسب مناسبت اس کے وارث ہوئے۔ خاص کر لیکھرام پشاوری جو محض نادان اور ابلہ تھا اُس کا خاص چیلا بنا۔ خیر وہ زمانہ تو گذر گیا مگر اس وقت مجھے بار بارافسوس آتا ہے کہ آریوں کے حال کے جلسہ میں کس قدر ہم نے نرمی اور ملائمت سے اُن کے بزرگوں کا ذکر کیا تھا جو سراسر صلح کاری سے بھرا ہوا تھا۔ اگر ان لوگوں میں ایک ذرّہ بھی حیا ہوتی اور کچھ بھی شرافت ہوتی تو مسلمانوں کے رُوبرو جو چار ۴۰۰سو کے قریب معزز اور شریف لوگ اُن کے مضمون کو سن رہے تھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اوردوسرے انبیاء علیہم السلام کو مسلمانوں کے ایک مجمع کثیر کے رُوبرو اس قدر گندی گالیاں نہ دیتے کہ بجز نہایت خبیث آدمی کے کوئی شخص ایسے دلآزار اور پُرتوہین الفاظ زبان پر نہیں لاسکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کا تکبّر اور آریوں کی شوخی اور آریوں کی شرارت انتہا تک پہنچ گئی ہے اور اب وہ خدا کی اصلاح اور اس کے آسمانی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 12

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 12

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    کاموں کے محتاج ہیں۔ انسانی وعظ و نصیحت ہرگز اُن کو کچھ کارگرنہ ہوگی۔ اُن کو سوچنا چاہیئے کہ اگر ہم بھی اپنے مضمون میں وہی طریق گالیوں کا اختیارکرتے اور اُن کے وید کے رشیوں کی نسبت وہی گندے اور ناپاک لفظ اس مجمع میں استعمال میں لاتے تو کیا وہ خوش ہوتے۔ اور میں خیال نہیں کرسکتا کہ وہ لوگ ایسے احمق اور نادان ہیں کہ اس بات کو محسوس نہیں کرسکتے کہ وہ الفاظ جو استعمال کئے گئے نہایت درجہ رنج دِہ اورجوش پیدا کرنے والے اورخطرناک تھے نہیں نہیں بلکہ وہ ضرور محسوس کرتے ہیں مگر عمداً چاہتے ہیں کہ دُکھ دیں اور فساد پیدا کریں عجیب تر یہ کہ اُن کے جلسہ کے پُررونق ہونے کے لئے ہماری جماعت ہی کے بڑے بڑے معزز آدمی باعث ہوئے تھے اور وہ ان کی لاف و گزاف پر بھروسہ کرکے دُور دُور سے ریل اور یکوں کے ہزارہا روپیہ کے اخراجات اُٹھاکر اور اپنے کاموں کاحرج کرکے ان کے جلسہ میں شریک ہوئے تھے اورہر ایک نے چار چار آنہ چندہ بھی ادا کیا تھا اور چونکہ وہ چار سو۴۰۰ کے قریب آدمی

    تھے اِ س لئے اس جماعت کے چندوں سے بھی آریوں کو ایک سو روپیہ نقد وصول ہوگیا تھا۔ یہ تمام خرچ اور حرج ہماری جماعت نے محض اس لئے کیا تھا کہ آریوں نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے جو ہندوستان سٹیم پریس لاہور میں چھاپا گیا تھا تمام فرقوں کو اپنے جلسہ میں بلایا تھا اور تسلی دی تھی کہ اس جلسہ میں کوئی مضمون خلاف تہذیب نہ پڑھا جائے گا۔ اور میری جماعت کے حاضر ہونے کے لئے خاص کر میری طرف چھ۶سات۷ خط لکھے تھے جن میں محض منافقانہ طور پر بہت انکسار ظاہر کیا گیا تھا مگر جب مہمانوں کے طور پر ہماری جماعت اُن کے جلسہ میں حاضر ہوئی تو آریوں کی طرف سے یہ مہمان نوازی کی گئی کہ ان کے پیارے اور بزرگ نبی علیہ السلام کی نسبت گندی گالیاں سنائی گئیں اور وہ لوگ آریوں کی بدزبانی سے نہایت دردمند اور زخمی دلوں کے ساتھ اپنے وطنوں کی طرف روانہ ہوئے۔

    کیا یہی لوگ ہیں جو آئے دن صلح صلح کرتے ہیں۔ ہرایک شخص جو اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے اور اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ غیرت رکھتا ہے اس کو خوب یاد رہے کہ یہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 13

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 13

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/13/mode/1up


    لوگ سانپوں سے بدتر ہیں ان کو مناسب تھا کہ اگرہمارے انبیاء علیہم السلام کی نسبت ایسا ہی دشنام آمیز مضمون سنانا تھا تووہ یہ کہہ کرمسلمانوں کو رخصت کر دیتے کہ ہمارا مضمون ایک گندہ مضمون ہے اس لئے ہم پسند نہیں کرتے کہ آپ لوگ اس مضمون کو سنیں۔ بلکہ انہوں نے تو اپنے مضمون کے سنانے کے لئے بلند آواز سے سب کو کہا کہ کل آپ لوگ ہمارا مضمون ضرور آکر سنیں اور ضرور آویں۔ مگر اُنہوں نے تہذیب کے وعدہ کو پورا نہ کیا بلکہ ۳؍دسمبر ۱۹۰۷ ؁ء کے مضمون کے بعد جو ہماری طرف سے تھا پھر جب ہماری جماعت جو چار سو۴۰۰ کے قریب آدمی تھے اُن کا مضمون سننے کے لئے اُن کے جلسہ میں آئے تو اُنہوں نے نہایت بلند آواز سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو وہ گالیاں دیں جن سے قریب تھا کہ جگر پھٹ جاتے۔ اُن میں سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میری خلاف مرضی وہ مضمون عام جلسہ میں سنا گیا تھا بلکہ کچھ شک نہیں کہ اِس پر لے درجہ کی شرارت اور بدگوئی میں وہ سب شریک تھے اور اُن کے مشورہ سے یہ کام ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ایسے مضمون کو انہوں نے فی الفور روک نہ دیا بلکہ اکثر اُن کے ہنستے اور اُس گندے مضمون کے پڑھنے سے بہت خوش ہوتے اور کہتے تھے کہ بہت اچھا لکھا ہے اور خوب لکھا ہے۔

    یہ ہے آریہ صاحبوں کی توحید اور وید کی سَتْ وِدّیا۔ جوشخص ہمارے مضمون کو پڑھے گاجو آریوں کے جلسہ میں ۳ ؍ دسمبر ۱۹۰۷ ؁ء کی رات میں سنایا گیا اور پھر بمقابل اُس کے اُن کے اس مضمون کو دیکھے گا جو اُنہوں نے ۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ ؁ء کی رات کو پڑھا تو اس پر واضح ہو جائے گا کہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ اگر دُنیا میں کوئی بدی کرنے والی قوم ہے تو یہی قوم ہے۔ پادری صاحبان بھی اگرچہ خدا تعالیٰ کے مقدس اور برگزیدہ نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے میں دن رات مشغول ہیں لیکن انہوں نے اب تک کبھی ایسا نہیں کیا کہ مسلمانوں کو اپنے مکان میں مدعو کرکے اور مہذّبانہ تقریروں کا وعدہ دے کر پھر کوئی مضمون گندہ اور توہین آمیز سنایا ہو۔ اس قسم کی شوخ چشمی اور بدزبانی اور بیباکی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 14

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 14

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/14/mode/1up


    خاص آریوں کے حصہ میں ہے مگر ہم تمام قوم کو بدنام نہیں کرتے۔ سناتن دھرم والے بھی تو قدیم آریہ ہیں جن کی کثرت کے مقابل پر یہ چھوٹا سا گروہ نئے آریوں کا کچھ بھی چیز نہیں مگر ہزارہا لوگ اُن میں ایسے ہیں کہ جو شرافت سے کلام کرتے ہیں اور کسی نبی کی توہین نہیں کرتے اور بے حیائی اور بدزبانی سے پرہیز کرتے ہیں۔ مگر ان لوگوں کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ بدزبانی میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ اگر پاک باطنی اور رُوحانیت کا کچھ حصہ نہیں تو آخر شرافت اور تہذیب بھی کچھ چیز ہے۔ مسلمان ان کے قدیم ہمسایہ تھے ان کا دل کھلے کھلے طور پر دُکھانا اور گالیوں کے ساتھ پیش آنا روا نہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ یوں تو یہ لوگ وید وید کرتے ہیں مگر سچی پاکیزگی اور رُوحانیت اور خدا ترسی ان کے دلوں سے اُٹھ گئی ہے اور اخلاق فاضلہ کے عوض کینہ اور شرارت اور بُغض اور بد اندیشی اور دل آزاری نے جگہ لے لی ہے جس کا انجام اچھا نہیں۔ خدا کو پسند نہیں کہ یہ بدزبانیاں اس کے پاک رسولوں کے ساتھ کی جائیں۔ ان بدقسمت ظالموں کو ایک ذرّہ حقیقت اسلام معلوم نہیں اور نہ وہ پاک تعلیم معلوم ہے جس کو قرآن شریف لے کر آیا ہے صرف محض پادریوں کی کاسہ لیسی سے جن کا دن رات تحریف و تبدیل کام ہے دشمن اسلام ہوگئے ہیں۔

    قرآنی تعلیم وہ تعلیم ہے جس کی ایک بات بھی حق اور حکمت سے باہر نہیں اور جو سراسر پاکیزگی سکھاتا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ اُس کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں جو ایک ذرّہ ذرّہ کو غیر مخلوق ہونے میں خدا کے برابر کرتے ہیں اور خدا کی نسبت یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ کسی روح اور کسی ایک ذرّہ کا بھی پیدا کرنے والا نہیں اور ایسا بخیل طبع ہے جو اپنے عاشقوں اور سچے پرستاروں کے گذشتہ گناہ نہیں بخشتا۔ اور باوجودیکہ اس کی راہ میں کوئی جان بھی دے دے تب بھی پر انا کینہ نکالتا ہے اورضرور اُس کو سزا دیتا ہے پس جن کے خیالات خدا تعالیٰ کی نسبت یہ ہیں اور پھر انسانوں کے لئے یہ تعلیم ہے کہ گویا وہ حکم دیتا ہے کہ اولاد پیدا کرنے کے لئے ایک آریہ اپنی منکوحہ بیوی کو عین اس حالت میں کہ اُس کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 15

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 15

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/15/mode/1up


    نکاح میں ہے دوسرے سے ہم بستر کراوے۔ بلکہ ایک مدّت دراز تک ۔۔۔ دس۱۰ شخصوں سے ہمبستر کرا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں سے افسوس ہی کیا ہے اگر وہ اپنے سخت الفاظ سے ہمارا دِل دُکھاویں تو ہمیں صبر کرنا چاہیئے۔ جب تک کہ ہمارا اور اُن کا خدا تعالیٰ فیصلہ کرے۔ اور اِسی صبر کے لئے خدا تعالیٰ کے قرآن شریف میں یہ تعلیم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3

    33۱؂(اٰل عمران ع۱۹) (ترجمہ) البتہ تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤگے اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت دل آزار باتیں سنوگے اور اگر تم صبر کروگے اور جوش اور اشتعال سے اپنے تئیں بچاؤگے تو یہ بات ہمت کے کاموں سے ہے۔

    اور یاد رہے کہ آریہ صاحبوں نے جو ہمارے مضمون سے اپنے مضمون کا پڑھنا آخری دن پر رکھا تو اُن کی یہ غرض تھی کہ تا اپنے مضمون میں جہاں تک بس چل سکے ہماری کسی بات کاردّ لکھ دیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضمون میں ایسا کرنا چاہا مگر پھر بھی اپنی پردہ دری کرائی۔ اگر وہ بے جاحملہ نہ کرتے تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ ہم اُن کے اس غلط بیان کا پردہ کھولتے جو انہوں نے وید کی اعلیٰ تعلیم ہونے کے بارے میں پیش کیا ہے۔ مگر اب ہمیں اُن کے جھوٹ کا پردہ کھولنے کے لئے پبلک کے آگے اس بات کو ظاہرکرنا پڑا کہ اُن کا بیان وید کی تعلیم کی نسبت کہاں تک صحیح اور راست ہے۔ اور بعد اس کے ہم اُن حملوں کا جواب دیں گے جو نادان معترض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف اور اسلام پر کئے ہیں۔ سو ہم اپنی تحریر کو دو حصوں پر منقسم کرتے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 16

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 16

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/16/mode/1up


    حصہؔ اوّل

    اُس بیانِ دروغ کے ردّ میں جو وید کی حمایت میں اور اُس کی خوبیوں کے اظہار کی غرض سے کیا گیا ہے۔


    مضمون کے سنانے والے نے وید کے حوالہ سے اپنے مضمون میں بڑے زور سے بیان کیا کہ پرمیشر روح اور مادّہ کا مالک ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تو سچ ہے کہ وہ صانع عالم جان اور اجسام کے ہر ایک ذرّہ کا مالک ہے مگر آریہ صاحبوں کے اصول کی رُو سے وہ مالک نہیں ٹھہرتا کیونکہ پرمیشر نے نہ ارواح کو پیدا کیا اور نہ ذرّاتِ عالم کو بلکہ وہ یعنی رُوح اور مادّہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ پرمیشر کی طرح قدیم اورانادی اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں۔ تو پھر کیونکر پرمیشر اُن کا مالک ٹھہر سکتاہے جن پر اُن کا کوئی بھی حق نہیں۔ کیا پرمیشر نے رُوحوں اور ذرّاتِ عالم کو اپنے پاس سے قیمت دے کر کسی سے خریدا تھا۔ کیونکہ وہ اُن کاخالق تو نہیں۔ پس کوئی اور وجہ بیان کرنی چاہیئے جس کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں کا جو اُس کی طرح قدیم اور خود بخود ہیں مالک سمجھا جاوے کیونکہ بلاوجہ تو ہم کسی کی نسبت نہیں کہہ سکتے کہ وہ فلاں چیز کا مالک ہے اگر کہو کہ ملکیّت پُرانے قبضہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے جیسا کہ قانون انگریزی کا اصول ہے۔ اور کبھی ملکیّت اِس طرح بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ ایک سلطنت دوسری سلطنت سے جنگ کرکے اُس پر غالب آجاتی ہے۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ کیاخدا کی ملکیّت کا مفہوم انسانی ملکیّت کے مفہوم سے برابر ہے۔ ظاہر ہے کہ چونکہ انسان ناقص ہے اس لئے انسان اُن تمام چیزوں کو جو اپنی ملکیّت ٹھہراتا ہے وہ لفظ ملکیّت بھی ناقص معنوں میں ہی لیا جاتا ہے مگر کسی چیز کو خدا تعالیٰ کی ملکیّت اُن معنوں کے رُو سے قرار دینا جن معنوں سے انسان کی ملکیّت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 17

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 17

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/17/mode/1up


    قراؔ ر دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا قرار داد ہے جس کی رُو سے خدا تعالیٰ انسان کے برابر ٹھہر جاتا ہے حالانکہ انسان اُس کی کسی صفت میں اُس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ غرض آریوں کے پاس اِس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ کیوں رُوح اور مادّہ کو پرمیشر کی ملکیّت ٹھہراتے ہیں لیکن قرآن شریف نے وید کی طرح بے وجہ اور محض زبردستی کے طور پر اللہ جلّ شانہٗ کو تمام ارواح اور ہر ایک ذرّہ ذرّہ اجسام کا مالک نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کی ایک وجہ بیان کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3۱؂۔3۲؂۔ (ترجمہ) یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیّت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اُسی نے پیدا کی ہیں اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کردی ہے تا محدود چیزیں ایک محدّد پر دلالت کریں جو خدا تعالیٰ ہے سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقیّد ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہوسکتے اِسی طرح ارواح بھی مقیّد ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کرسکتے۔ اب پہلے ہم اجسام کے محدود ہونے کے بارہ میں بعض مثالیں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مثلاً چاند ایک مہینہ میں اپنا دورہ ختم کرلیتا ہے یعنی انتیس۲۹ یا تیس۳۰ دن تک مگر سورج تین سو چو۳۶۴سٹھ دن میں اپنے دورہ کو پورا کرتا ہے اور سورج کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے دورہ کو اِس قدر کم کردے جیسا کہ چاند کے دورہ کامقدار ہے اور نہ چاند کی یہ طاقت ہے کہ اس قدر اپنے دورہ کے دن بڑھادے کہ جس قدر سورج کے لئے دن مقرر ہیں اور اگر تمام دنیا اِس بات کے لئے اتفاق بھی کرلے کہ ان دونوں نیرّوں کے دَوروں میں کچھ کمی بیشی کردیں تو یہ ہرگز اُن کے لئے ممکن نہیں ہوگا اور نہ خود سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کہ اپنے اپنے دَوروں میں کچھ تغیر تبدّل کرڈالیں۔

    پس وہ ذات جس نے ان ستاروں کو اپنی اپنی حد پر ٹھہرا رکھا ہے یعنی جو اُن کا محدّد اور حد باندھنے والا ہے وہی خدا ہے۔ ایسا ہی انسان کے جسم اور ہاتھی کے جسم



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 18

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 18

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/18/mode/1up


    میں ؔ بڑا فرق ہے اگر تمام ڈاکٹر اس بات کے لئے اکٹھے ہوں کہ انسان اپنی جسمانی طاقتوں اور جسم کی ضخامت میں ہاتھی کے برابر ہو جاوے تو یہ اُن کے لئے غیر ممکن ہے۔اور اگر یہ چاہیں کہ ہاتھی محض انسان کے قد تک محدود رہے تو یہ بھی اُن کے لئے غیرممکن ہے پس اس جگہ بھی ایک تحدید ہے یعنی حد باندھنا جیسا کہ سورج اور چاند میں ایک تحدید ہے اوروہی تحدید ایک محدّد یعنی حد باندھنے والے پر دلالت کرتی ہے یعنی اُس ذات پر دلالت کرتی ہے جس نے ہاتھی کو وہ مقدار بخشا اور انسان کے لئے وہ مقدار مقرر کیا۔ اور اگر غور کرکے دیکھا جائے تو ان تمام جسمانی چیزوں میں عجیب طور سے خدا تعالیٰ کاایک پوشیدہ تصرّف نظر آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حدبندی مشاہدہ ہوتی ہے۔ اُن کیڑوں کی مقدار سے لے کرجو بغیر دُوربین کے دکھائی نہیں دے سکتے اُن بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں۔ حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے کوئی جانور اپنے جسم کی رُو سے اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتا۔ ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتے۔ پس یہ حد بندی دلالت کر رہی ہے کہ درپردہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔ یہی معنی اس مذکورہ بالا کی آیت کے ہیں کہ 3 ۱؂ ۔

    اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کرسکتا ہے یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کرسکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی رُوح کو باوجود ضخیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہوسکتے۔ اِسی طرح ہر ایک حیوان کی رُوح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کرسکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرراور مقدّر ہیں۔ پس جس طرح اجسام کی حدبندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے۔اسی طرح ارواح کی طاقتوں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 19

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 19

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/19/mode/1up


    کی ؔ حد بندی اِس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اُن کا بھی کوئی خالق اور حدباندھنے والا ہے۔ اور اس جگہ تناسخ کا لغو اور بیہودہ جھگڑا پیش کرنا خدا تعالیٰ کے کاموں میں اختلاف ڈالنا ہے کیونکہ عقل صریح شہادت دیتی ہے کہ یہ دونوں حد بندیاں ایک ہی انتظام کے ماتحت ہیں اور ان دونوں حد بندیوں سے ایک ہی مقصود ہے اوروہ یہ کہ تاحدبندی سے حد باندھنے والے کا پتہ لگ جائے اور تا معلوم ہو جائے کہ جیسا کہ وہ اجسام کا خالق اور حد باندھنے والا ہے ایسا ہی وہ ارواح کا خالق اور حد باندھنے والا ہے۔

    پس آریہ صاحبوں کی یہ عجیب چالاکی ہے کہ دراصل تو وہ پرمیشر کو مالک ہونے سے جواب دیتے ہیں اور ہر ایک رُوح اور ذرّہ کو خودبخود سمجھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ ہر ایک چیز کا مالک ہے۔ مالک تو تب ہوتاکہ ہر ایک کی حد بندی کرنے والا وہی ٹھہرتا۔ اور پھرہم کہتے ہیں کہ حیوانات کی طاقتوں اور قوتوں کی تفاوت کا سبب تناسخ اور آواگون کو قرار دینا خدائے حکیم کے علم اور ست وِدّیا کو ضائع کرنا اور اس کی وحدت نظامی کو درہم وبرہم کرنا ہے۔ جس حالت میں تم مثلاً ستاروں اور سورج اور چاند پر نظر ڈال کر اپنے منہ سے اقرار کرتے ہوکہ وہ تفاوت جو ان ستاروں کی قوت اور طاقت اور تمام لوازم میں واقع ہے وہ کسی تناسخ اور آواگون کا موجب نہیں بلکہ حکمت او ر مصلحت الٰہیہ نے یہی چاہا تا ہر ایک چیز اپنی اپنی حد بندی کی رُو سے حد باندھنے والے پر دلالت کرے اور اس طرح اس غیب الغیب اور وراء الوراء پر ایک دلیل قائم ہو جائے تو پھر کیوں اُسی منہ سے وہ تفاوت جو حیوانات میں پایاجاتا ہے اس کو تم تناسخ اور آواگون کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہو۔ یا تویہ مان لو کہ کل تفاوت اور باہمی فرق طاقتوں اور قوتوں اور خاصیتوں کا جو آسمان کے ستاروں اور زمین کے جمادات نباتات حیوانات میں پایا جاتا ہے ان سب کا سبب تناسخ اور آواگون ہے اور یا یہ مان لو کہ یہ تمام تفاوت اور مختلف قسم کی حدبندیاں تمام عالم کی چیزوں میں خواہ وہ حیوانات ہیں یا غیر حیوان یہ صرف اسی وجہ سے ہیں کہ تاان حد بندیوں سے ایک ذات حد باندھنے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 20

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 20

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/20/mode/1up


    والیؔ کا پتہ لگ جائے یہ کیاحماقت ہے کہ ان حدبندیوں کی دلیل بیان کرنے کے وقت ایک جگہ کچھ بیان ہے اور دُوسری جگہ اس کے مخالف بیان ہے اس قسم کا تناقض خدا کے کلام میں نہیں ہوسکتا اور جو کلام اس تناقض کو پیش کرے اُس کی رد اور کھنڈن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی وحدت نظامی کے برخلاف ہے۔ بھلا ہمیں بتاؤ کہ کیا وید میںیہ وحدت نظامی کی تعلیم پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ وہ تمام تفاوت قوتوں اور طاقتوں اور خاصیتوں کاجو ستاروں اور دُوسری نباتات اورروحوں کی قوتوں میں پایا جاتاہے از رُوئے تعلیم وید وہ محض اس لئے ہے کہ تا وہ مختلف طور کی حد بندی کہ جو ان تمام چیزوں کی قوتوں اور طاقتوں اور اجسام کی شکلوں اور رنگوں اور مقداروں میں پائی جاتی ہے ایک حدبست کرنے والے پرپختہ اور کامل دلیل ہو۔ یاد رہے کہ انسان کو صرف خدا کی شناخت کے لئے پیدا کیا گیا ہے پس اگر یہ نظام عالم کا اس طرح پر واقع ہو کہ خدا کے وجود پر دلالت نہ کرے تو تمام مصنوعات کا ایک فضول وجود ہوگا جس پر نظر ڈالنے سے ہم اپنے خدا کو شناخت نہیں کرسکتے۔ پس فقط اسی حالت میں خدا تعالیٰ کی شناخت کے لئے یہ نظام عالم مفید ہوسکتا ہے جب کہ اس کی وحدت نظامی پر نظر کرکے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل قائم ہوسکے اوروہ صورت

    صرف یہی صورت ہے کہ اجسام اور حیوانات میں جو جو تفاوت مقدار اور طاقت اور قوت میں پایا جاتا ہے اعمال کانتیجہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ تمام امور خدا کی ذات پر استدلال کرنے کے لئے اس کے قدرتی کام سمجھے جائیں اور یہ تمام حد بندی اس کی محض اس ارادہ سے اور اس غرض سے سمجھی جائے کہ تا اس قادر کے وجود پر جو حد باندھنے والا ہے ایک دلیل ہو اور تا اس کی مخلوقات کو محض اُس کی صنائع قرار دے کر اس پہلو سے بھی اس کے وجود پر دلیل قائم ہوسکے کہ اُس نے نہ تناسخ کی مجبوری سے بلکہ خود عمداً ارادہ کیا ہے کہ انسان کی نسل زمین پر پھیلے اور جو کچھ انسانی وجود کے لئے آرام اور راحت اور دوا اور غذا کے لئے ضرورتیں ہیں سب اس کے لئے مہیا ہوں اگر ایسا سمجھا جائے تو بلاشبہ یہ تمام چیزیں اس کے وجود پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؂

    برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 21

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 21

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/21/mode/1up


    لیکنؔ اگر یہ تما م چیزیں جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے یا جن پر بقائے نسل موقوف ہے محض اتفاقی طور پر تناسخ کے ذریعہ سے پیدا ہوگئی ہیں تو پھر یہ چیزیں خدا کے وجود پر ہرگز دلالت نہیں کریں گی کیونکہ وہ تناسخ کی مختلف ہواؤں سے اختلاف پذیر ہوکر ایک نظام کے شیرازہ میں منضبط نہیں رہیں گی اور اس صورت میں انسانی آرام اور آسائش کے لئے ان چیزوں پر بھروسہ کرنا نہایت خطرناک ہوگا۔ مثلاً اگر یہ بات سچ ہے کہ نوع انسان میں سے جو بعض مرد ہیں اور بعض عورت یہ اختلاف آواگون یعنی تناسخ کی شامت سے ہے تو اس صورت میں امان اُٹھ جاتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ بعض زمانوں میں انسانوں کے ایسے اعمال واقع ہوں کہ کوئی روح اعمال کی رُو سے مرد بننے کے لائق ہی نہ ہو۔ یا کوئی رُوح عورت بننے کے لائق نہ ہو۔ اِسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بعض ضروری چیزیں کہ جو انسان کی خوراک یا آرام اور آسائش کے لئے ضروری ہیں جیسے گائے بیل گھوڑے وغیرہ وہ بباعث نہ ہونے اعمال تناسخ کے زمین پر سے مفقود ہو جائیں یعنی نوع انسان سے ایسے اعمال ہی ظہور میں نہ آئیں جن کی وجہ سے اُن کو گائے یا بیل یاگھوڑا بننا پڑے۔ پس ظاہرہے کہ اگر یہ تمام چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں اُن کا وجود محض اتفاقی ہوتا تو یہ سلسلہ کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتا اور نہ اس سلسلہ کو خدا کے وجود پر کوئی دلالت رہتی۔

    اِس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ آریوں کے اصول کی رُو سے خدا تعالیٰ اُن تمام مختلف اشکال کے حیوانات کاحقیقی مالک نہیں ہے اور نہ اس کے اپنے ارادہ اور خواہش سے یہ مختلف اشکال کے حیوان زمین پر پیدا ہوگئے ہیں اور نہ اس کی مصلحت اور حکمت کی رُو سے ان کا وجودزمین پر ضروری ہے بلکہ اُن تمام حیوانات کا زمین پر ہونا یا نہ ہونا صرف اُن اعمال پر موقوف ہے جو تناسخ کے چکر میں ڈالتے ہیں اور جب کہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کو اپنی ذات میں دوام نہیں ہوسکتا بلکہ ہر ایک حیوان کا وجود وابستہء تناسخ ہے تو اس صورت میں ایسی چیزوں کو جو محض تناسخ کی وجہ سے ظہور پذیر ہیں کیونکر خدا تعالیٰ کے وجود پر دلالت ہوسکتی ہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 22

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 22

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/22/mode/1up


    اورؔ کیونکر عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ ہر ایک حیوان کی تناسخی صورت ہمیشہ دنیا میں رہے گی۔ اگر کہو کہ ان تمام حیوانات کا مجموعہ ابتدا سے چلا آتا ہے اور یہی دلیل ان کی آئندہ کے بقاء پرہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ دلیل تو ہمارے لئے ہے نہ تمہارے لئے۔ کیونکہ جب کہ بقول تمہارے کروڑہا برسوں بلکہ کروڑہا اربوں سے گائیاں زمین پر چلی آتی ہیں اور ایسا ہی گھوڑے اور ایسا ہی مرد عورتیں بھی پس اگر محض تناسخ کے اتفاقی اسباب سے ان چیزوں کا وجود ہوتا تو کبھی نہ کبھی بہت سی چیزیں ان میں سے مفقود بھی ہوجاتیں اور کبھی ایسا بھی اتفاق ہوتا کہ مرد ہی پیدا ہوتے یا محض عورتیں ہی پیدا ہوتیں۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ آریوں کے عقیدہء تناسخ کے رُو سے اُن کا پرمیشر اس دُنیا کا مالک نہیں ٹھہر سکتا۔

    یاد رہے کہ کوئی آریہ اپنی وید کی تعلیم کے رُو سے نہیں کہہ سکتا کہ ارواح اور ذرات پرمیشر کی ملکیت ہیں اور وہ اُن کا مالک ہے بلکہ آریوں کا اقرار ہے کہ پرمیشر رُوحوں کی طاقتوں اور قوتوں اور خواص میں دخل دینے سے بکلی قاصر اورعاجز ہے۔ کیونکہ پرمیشراُن کاخالق نہیں اور روحوں کی تمام طاقتیں اور قوتیں قدیم سے خود بخود ہیں اور ہرایک رُوح اپنے وجود کا آپ ہی پرمیشر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ روحیں پرمیشر کے لئے ایک پیدا کردہ ملکیت کی طرح ہیں اور نہ پرمیشر کا اُن پر مالکانہ اختیار نافذ ہے۔ ہاں حاکمانہ اختیار ہے یعنی حکّام کی طرح اُن کو اعمال کی جزا سزا دیتا رہتا ہے۔ پس اگر پرمیشر کورُوحوں اور ذرّات کی طرف کچھ نسبت ہے تووہ صرف اِس طور کی نسبت ہے جو ایک بادشاہ کو اپنی رعیت کی طرف ہوتی ہے لیکن مالکانہ رنگ میں پرمیشر کوروحوں اور ذرات سے کچھ بھی نسبت اور تعلق اور واسطہ نہیں ہے کیونکہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ پورے طور پر مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی ملکیت پر پور ا پورا اختیار رکھتا ہو مثلاً کسی کے پاس کسی قدر اپنی ملکیت کی زمین ہے تو وہ اختیار رکھتا ہے کہ چاہے تو اُس زمین پر پایخانہ بناوے یا روٹی پکانے کی جگہ بناوے۔ پس مالک کے مقابل پر وہ جو اُس کا مملوک ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 23

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 23

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/23/mode/1up


    یعنیؔ بندہ ہے کوئی حق پیش نہیں کرسکتا اور انصاف جوئی کی بناء پرکوئی اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔

    یادرہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے۔ جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے اِس صورت میں اپنے مالک کو یہ کہنا اس کے لئے ناجائز ہو جاتا ہے کہ فلاں مالی یا جانی معاملہ میں میرے ساتھ انصاف کر۔ کیونکہ انصاف حق کو چاہتا ہے اور وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو چکا ہے۔ اِسی طرح انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے مقابل پر اپنا نام بندہ رکھایا اور3 ۱؂ کا اقرار کیا یعنی ہمارا مال۔ جان۔ بدن۔ اولاد سب خدا کی مِلک ہے۔ تو اِس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے۔ اِسی وجہ سے وہ لوگ جو درحقیقت عارف ہیں باوجود صدہامجاہدات اور عبادات اور خیر ات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجا لائے ہیں۔کیونکہ درحقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان نیکی کرسکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔ پس انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ قرآن شریف کی رُو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزا دیتا ہے ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے۔ جیسا کہ مقتضائے مالکیت ہونا چاہیئے۔ اور اگروہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تاغافل انسان متنبہ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔وَمَاۤ اَصَابَكُمْ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 24

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 24

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/23/mode/1up


    ؕ‏ ۱ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍؕ‏ ؂ دیکھوسورۃالشوریٰ(ترجمہ) اور جو کچھ تمہیں کچھ مصیبت پہنچتی ہے پس تمہاری بداعمالی کے سبب سے ہے اورخدا بہت سے گناہ بخش دیتاہے۔ اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔ اور پھر اسی سورت میں یہ آیت بھی ہے۔ ۲؂ وَهُوَ الَّذِىْ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَعْفُوْا عَنِ السَّيِّاٰتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کومعاف کر دیتا ہے کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّر ۳؂ یعنی جو شخص ایک ذرّہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔ پس یاد رہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شرّ سے وہ شرّ مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔ اسی غرض سے اِس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا تا معلوم ہوکہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ ورنہ سارا قرآن شریف اِس بار ہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترکِ اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ ۴؂ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ‏ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور نیز اُن لوگوں سے پیار کرتا ہے کہ جو اِس بات پر زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح گناہ سے پاک ہو جائیں۔ غرض ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگذر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اُس نے قرآن شریف کی پہلی سورت میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے اور فرمایا کہ ۵؂ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِؕ یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو یعنی چاہے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے پھر ایک اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 25

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 25

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/25/mode/1up


    جگہؔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی عذاب تو میرا خاص صورتوں میں ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر ایک چیز تک پہنچ رہی ہے۔ اور پھر سورۃ آل عمران میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دُعا سکھلائی ہے اور وہ یہ ہے 3 ۲؂ یعنی اے ہمارے خدا ہمارے گنا ہ بخش اور جو اپنے کاموں میں ہم حد سے گذر جاتے ہیں وہ بھی معاف فرما۔ پس ظاہر ہے کہ اگر خدا گناہ بخشنے والا نہ ہوتا تو ایسی دُعا ہرگز نہ سکھلاتا اور پھر سورۃ البقرہ کے آخر میں خدا تعالیٰ نے مندرجہ ذیل دُعا سکھلائی ہے اوروہ یہ ہے3 33الخ۳؂ یعنی اے ہمارے خدا نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں مت پکڑ جن کو ہم بھول گئے اور بوجہ نسیان ادا نہ کرسکے اور نہ اُن بدکاموں پر ہم سے مؤاخذہ کر جن کا ارتکاب ہم نے عمداً نہیں کیا بلکہ سمجھ کی غلطی واقع ہوگئی اور ہم سے وہ بوجھ مت اُٹھوا جس کو ہم اُٹھا نہیں سکتے اور ہمیں معاف کر اور ہمارے گناہ بخش اور ہم پر رحم فرما۔ پس اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے یہی دُعا سکھلائی ہے کہ ہم اُس سے گناہوں کی معافی مانگیں۔ پھر سورہ آل عمران میں فرمایا ہے3 33

    3الخ۴؂

    اوروہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اپنے ایسے حال



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 26

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 26

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/26/mode/1up


    میں اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اور اُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہ کریں اُن کا خداآمرز گار ہوگا اور گنہ بخش دے گا۔

    پس ان تمام آیتوں سے ظاہر ہے کہ جیسے خدا انسان کا اس طور سے مالک ہے کہ اگر چاہے تو اُس کے گناہ پر اُس کو سزا دے۔ ایسا ہی اِس طور سے بھی اُس کا مالک ہے کہ اگرچاہے تو اُس کا گناہ بخش دے کیونکہ ملکیّت تبھی متحقق ہوتی ہے کہ جب مالک دونوں پہلوؤں پر قادر ہو بلکہ ان تمام آیات سے بڑھ کر ایک اور آیت ہے اور وہ یہ ہے:۔ 3 3 ۱؂ یعنی اے وہ لوگو جنہوں نے اسراف کیا یعنی گناہ کیا تم خدا کی رحمت سے نوامید مت ہو وہ تمہارے سارے گناہ بخش دے گا یعنی وہ اِس بات سے مجبور اورعاجز نہیں کہ گنہ گار کو بغیر سزادینے کے چھوڑ دے کیونکہ وہ اس کا مالک ہے اور مالک کو ہر ایک اختیار ہے۔ یہ تو وہ قادر اور کریم خدا ہے جس کو قرآن شریف نے ہم پر ظاہر کیا اور اس کے کرم اور عفو کی صفتیں ہمیں سنائیں لیکن آریوں کا پرمیشر اپنی حیثیت کی رو سے ایک مجسٹریٹ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا جو جرم اور عدم جرم کی بنا پر سزا دیتا یا بری کرتا ہے مالکانہ اختیار اُس کو کچھ بھی حاصل نہیں یہاں تک کہ نعوذ باللہ وہ انسان سے بھی گیا گزرا ہے مثلاً ہم اپنے خطا کار نوکر کا گنہ بخش سکتے ہیں مگر آریوں کا پرمیشر اپنے کسی گنہ گار کا گنہ بخش نہیں سکتا۔ ایسا ہی ہم اپنے نوکر کی خدمات کے علاوہ جس قدر چاہیں بطور جودو احسان اُس کو دے سکتے ہیں مگر آریوں کا پرمیشر اپنے پرستار کو اُس کے حق واجب سے زیادہ کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ اِسی وجہ سے وہ دائمی مکتی نہیں دے سکتا۔

    پنڈت دیانند کی ستیارتھ پرکاش اُردو کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے پس اُس نے مان لیا ہے کہ پرمیشر محض ایک جج کی طرح ہے مالکانہ حیثیت اُس کو حاصل نہیں۔ ایسا ہی پنڈت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 27

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 27

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/27/mode/1up


    دیانند نے اپنی کتاب ترجمہ شدہ کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں دے سکتا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر وہ مالکانہ اختیار رکھتا ہے تو محدود خدمت کے عوض میں غیر محدود ثمرہ دینے میں اُس کا کیاحرج ہے کیونکہ مالک کے کاموں کے ساتھ انصاف کو کچھ تعلق نہیں۔ ہم بھی اگر کسی مال کے مالک ہوکر سوالیوں کو کچھ دیناچاہیں تو کسی سوالی کا حق نہیں کہ یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص کو زیادہ دیا اور مجھے کم دیا۔ اِسی طرح کسی بندہ کا خدا تعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اُس سے انصاف کا مطالبہ کرے کیونکہ جس حالت میں جو کچھ بندہ کا ہے وہ سب کچھ خدا کا ہے۔ تو نہ تو یہ بندہ کا حق ہے کہ انصاف کی رُو سے اُس سے فیصلہ چاہے اور نہ خدا کی یہ شان ہے کہ اپنی مخلوق کا یہ مرتبہ تسلیم کرلے کہ وہ لوگ اُس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے مجاز ہیں۔ پس درحقیقت جو کچھ خدا تعالیٰ بندہ کو اُس کے اعمال کی جزائیں دیتا ہے وہ اُس کا محض انعام اکرام ہے ورنہ اعمال کچھ چیز نہیں بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال کب ہوسکتے ہیں۔ پھر ماسوا اس کے جب ہم خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کی طرف نظرڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیاکیا ہے یا کرتا ہے وہ دو قسم کی بخشش ہے۔

    ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں۔ اور ایک ذرّہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اُس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج چاند۔ ستارے۔ زمین۔ پانی۔ ہوا۔ آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ان چیزوں کو انسانوں کے وجود اور ان کے عملوں پر تقدم ہے اورانسان کا وجود ان کے وجود کے بعد ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رُو سے رحمانیت کہتے ہیں یعنی ایسی جود وعطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔

    دو۲سری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیّت کہتے ہیں یعنی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 28

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 28

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/28/mode/1up


    وہ اؔ نعام اکرام جو بنام نہاد پاداش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔ پس جس خدا نے اپنی فیاضانہ مالکیت کا وہ نمونہ دِکھلایا کہ عاجز بندوں کے لئے زمین و آسمان اور چاند سورج وغیرہ بنا دئیے اُس وقت میں جبکہ بندوں اور اُن کے اعمال کا نام و نشان نہ تھا کیااُس کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ بندوں کا مدیون ہوکر صرف اُن کے حقوق ادا کرتا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ؟ کیا بندوں کا کوئی حق تھا کہ وہ اُن کے لئے زمین وآسمان بناتا اور ہزاروں چمکتے ہوئے اجرام آسمان پر اور ہزارہا آرام او رراحت کی چیزیں زمین پر مہیا کرتا۔ پس اس فیاض مطلق کو محض ایک جج کی طرح فقط انصاف کرنے والا قرار دینا اور اس کے مالکانہ مرتبہ او ر شان سے انکار کرنا کس قدر کفرانِ نعمت ہے۔ اور اگر کہو کہ ہم اُس کو مالک سمجھتے ہیں تو اِس کا یہی جواب ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم ہرگز اُس کو مالک نہیں سمجھتے۔ یہ صرف دکھانے کے دانت ہیں جو تم دکھلا رہے ہو۔ مالک اُسی کو کہتے ہیں کہ دونوں پہلوؤں سزا اور درگذر اور عطا اور ترک عطا پر قادر ہو۔ پس کہاں تم اپنے پرمیشر کو ایسا سمجھتے ہو۔ بلکہ بقول تمہارے پرمیشران دونوں پہلوؤں پر ہرگز قادر نہیں اور اس کی مخلوق اس سے اپنے حقوق کا ایسا ہی مطالبہ کرسکتی ہے جیسا کہ ایک قرض خواہ اپنے قرضدار سے۔ اور وہ کسی کا گناہ نہیں بخش سکتا اور جب تم نے اس کانام بمقابلہ مخلوقات کے منصف رکھا تو بتلاؤ کہ منصف کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے یا نہیں؟ کہ وہ لوگوں کے حقوق اپنے ذِمّہ تسلیم کرے اور ہر ایک فردبشر اپنے حق واجب کا اُس سے مطالبہ کرسکے اور پھر اگر حقوق کو ادا نہ کرے تو ظالم کہلاوے۔ اور ظاہر ہے کہ جب یہ تسلیم کیا گیا کہ پرمیشر کو اپنے بندوں کے مقابل پر منصف سے بڑھ کر اور کوئی حیثیت نہیں تو پھر پرمیشر مخلوقات کامالک نہ ٹھہرا کیونکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ بیان کرچکے ہیں مالک کے مقابل پر مملوک کا کوئی حق نہیں ہوتا لیکن ابھی ہم بیان کرچکے ہیں کہ خدا کا مالک ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ جو کچھ اُس نے ہزارہا قسم کی نعمتیں انسان کو دی ہیں یہاں تک کہ زمین کی چیزیں اور آسمان کے روشن اجرام اس کے لئے بنائے ہیں یہ تمام



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 29

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 29

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/29/mode/1up


    اس ؔ کا جود و احسان ہے کسی حق کے ادا کرنے کے لئے نہیں۔

    واضح ہوکہ وہ تعلیم جو وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے بڑی بھاری غلطی اُس کی یہی ہے کہ پرمیشر کو صرف ایک منصف تصوّر کرکے مخلوقات کے حقوق کا اُس کے سر پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور دوسری طرف خواہ نخواہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ مخلوقات بھی اپنے حق سے زیادہ کسی عطا اور جود کی مستحق نہیں ہے۔ یہ ہے وید ودّیا جس پر آریوں کو بڑا ناز ہے۔ ایک قدیم زمانہ وید کا جو اس کی طرف منسوب کیاجاتا ہے اگر فرض بھی کرلیں کہ وہ اتنا لمبا زمانہ ہے جیساکہ آریوں نے بغیرکسی قطعی دلیل کے خیال کیا ہے تب بھی وید بموجب نمونہ پیش کردہ آریوں کے ایک ایسے لمبے او ر اُونچے پہاڑ سے مشابہ ہوگا جس میں سے کوئی قسم جواہرات کی کبھی نہیں نکلی اور بہت کھودنے کے بعد آخر نکلا تو ایک چوہا نکلا۔

    افسوس اگر وید خدا تعالیٰ کو درحقیقت ارواح کاخالق تسلیم کرتا تو یہ غلطی کبھی واقع نہ ہوتی کیونکہ اس صورت میں واقعی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ پرمیشر رُوحوں کا مالک ہے اور جب کہ مالک ہے تو اُس کے مقابل پر کسی کودعویٰ نہیں پہنچتا کہ اُس سے اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے کیونکہ پیدا کردہ پیدا کنندہ کی ایک ملکیت ہے اور درحقیقت مکتی کے مسئلہ میں یعنی نجات کے بارہ میں جو کچھ آریوں نے غلطیاں کھائی ہیں وہ بھی اِسی بنا پر ہیں۔ مثلاً وہ دائمی نجات کے قائل نہیں ہیں اور ان کو سخت مجبوری کی وجہ سے ماننا پڑتا ہے کہ ایک مُدّت مقررہ کے بعد پرمیشر اپنے بندوں کو گوویدوں کے رشی ہی کیوں نہ ہوں مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے۔اور ناکردہ گناہ طرح طرح کی جونوں میں ڈال دیتا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پرمیشر اس مجبوری سے کہ ایک مُدّت کے بعد رُوحوں کو مکتی خانہ سے باہر نکالنا ضروری ہے بہانہ جوئی کے طو رپر ایک ذرہ گناہ اُن کا باقی رکھ لیتا ہے اور وہی الزام



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 30

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 30

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/30/mode/1up


    اُنؔ کے سر پر تھاپ کرمکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے مگر اب سوچنے کا مقام ہے کہ اسی ذرّہ سے گنہ کے عوض میں ایک تو انسان بنایا جاتا ہے اور دُوسرا کتے کی جون میں ڈالا جاتا ہے اور تیسرے کو گھوڑا بناتے ہیں۔ اور اسی گنہ کے عوض میں کوئی گائے بن جاتا ہے اور کوئی بکری اور کوئی مرغی اور کوئی نجاست کا کیڑا اور کوئی مرد اور کوئی عورت۔ پس یہ پرمیشر کے نیاؤ یعنی انصاف کا نمونہ ہے کہ گناہ تو صرف ایک ذرہ کی مقدار تھا اِسی گنہ کے عوض میں ایک تو وید کے رشی پیدا ہوئے جن کے دِلوں پر خدا نے الہام کا پرکاش کیا اور پھر اسی گناہ کے عوض میں بعض کتے اور سؤر اور بندر بنائے گئے۔ کیا یہی انصاف ہے یہی وید کا فلسفہ ہے اور یہی وید مقدس کی وِدّیا ہے کوئی صاحب ہمیں جواب دیں۔

    اور میعادی مکتی یعنی نجات پر یہ دلیل لاتے ہیں کہ محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں ہوسکتا گویا پرمیشر تو دائمی نجات دینے پر قادر تھا مگر کیا کرے اعمال محدود ہیں دیکھو یہ کیسا مکر ہے کہ اس بات کو پرمیشر چھپاتا ہے کہ اس میں خود ہی یہ طاقت نہیں کہ دائمی نجات دے سکے۔ دِل میں کچھ اور زبان پر کچھ اور عجیب تر یہ کہ آریہ صاحبا ن اِس بات کے قائل ہیں کہ چند روزہ نیکی اور عبادت کے عوض میں کئی ارب تک پرمیشر مکتی خانہ میں رکھ سکتا ہے۔ پس وہ اپنے اس قول سے ملزم ہوسکتے ہیں کیونکہ جس پرمیشر نے یہ گوارا کیا کہ تھوڑی مدّت کے عوض میں اس قدر مدّت پاداش عمل کی رکھی تواگر وہ دائمی نجات عطا کر دیتا تو کونسا الزام اس پر وارد ہوتا تھا جس سے وہ بچ گیا۔ انسانی گورنمنٹ بھی کسی کو پنشن دے کر اس بہانہ سے ضبط نہیں کرسکتی کہ خدمت کے ایّام سے پنشن کے ایّام زیادہ ہوگئے ہیں۔

    اور پھر مکتی دینے کے وقت ایک گنہ باقی رکھ لینا اور آخر اسی گناہ کو مکتی یافتوں کے ذمہ لگاکر مکتی خانہ سے باہر نکالنا اور پھر بعضوں کی رعایت کرنا اور بعض



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 31

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 31

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/31/mode/1up


    کو ؔ ردّی سے ردّی جون میں ڈالنا اور بیجا پکش پات اور طرفداری کو استعمال میں لانا کیا ایسا مکروہ فریب اور مکر اُس بے عیب ذات کی طرف منسوب ہوسکتا ہے جو بے انتہا فیضوں کا سرچشمہ ہے۔ جس حالت میں درحقیقت پرمیشر دائمی نجات دینے پر قادر ہی نہیں تو اس فضول عذر پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ محدود اعمال کی غیرمحدود جزا نہیں ہوسکتی۔ واقعی بات کو چھپانا اور محض اپنی پردہ پوشی کے طور پر اور اور عذرات پیش کرنا کیا وید میں یہی صفات پرمیشرکے لکھے ہیں۔ واقعی بات تو یہ تھی کہ بقول آریہ وید کے اصول کی رُو سے پرمیشر کسی روح کو دائمی نجات دے ہی نہیں سکتا کیونکہ جب کہ تمام ارواح غیر مخلوق ہیں اور بموجب اصول وید کے یہ بھی ضروری کہ سلسلہ دنیا کا ہمیشہ جاری رہے تو اس صورت میں اگر پرمیشر روحوں کو دائمی نجات دیتا تواس کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا کہ ہرایک رُوح جو دائمی نجات پالیتی وہ ہمیشہ کے لئے پرمیشر کے ہاتھ سے نکل جاتی اور رفتہ رفتہ آخر وہ زمانہ آجاتا کہ ایک روح بھی پرمیشر کے ہاتھ میں نہ رہتی اور پھر مجبوراً پرمیشر خالی ہاتھ بیٹھ جاتا اور جیسا کہ وید کی رُو سے مانا گیا ہے آئندہ دُنیا کا سلسلہ چل نہ سکتا کیونکہ پرمیشر کسی رُوح کے پیدا کرنے پر تو قادر نہ تھا تا نئی روحوں سے دُنیا کا سلسلہ چلاتا اور جب کہ پہلی رُوحیں دائمی نجات پاکر آواگون کے سلسلہ سے ہمیشہ کے لئے مَخلصی پا جاتیں تو اِس صورت میں پرمیشر اُس شخص کی مانند ہوتا جس کا دیوالہ نکل جاتا ہے۔ ناچار اس مجبوری سے اس کو آواگون کا سلسلہ ختم کرنا پڑتا اور ایسا کرنا وید کی رُو سے اس کے مقرر کردہ اصول کے مخالف تھا پس درحقیقت محدود مکتی کا یہ راز تھا مگر پرمیشر نے دنیا داروں کے رنگ میں جو اپنا پول ظاہر کرنا نہیں چاہتے اصل حقیقت کو چھپایا۔ بھلا کوئی ایسی شُرتی پیش توکرو جس میں پرمیشر نے یہ کہا ہو کہ میں دائمی نجات دینے پر قادر تو تھا لیکن میں نے نہ چاہا کہ محدود اعمال کاغیر محدود بدلہ دوں۔ ہم ایسے کسی آریہ کو ہزار روپیہ نقد دینے کو تیار ہیں کہ اپنے اصول کو ملحوظ رکھ کر پھر ایسی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 32

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 32

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/32/mode/1up


    رؔ تی وید میں سے ہمیں دکھلادے۔

    نادان آریہ قرآن شریف پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام3 ۱؂ رکھا ہے یعنی ایسا مکر کرنے والا جس میں کوئی شر نہیں مگر اس جگہ تو وید کا پرمیشر شرالماکرین ٹھہرتا ہے کیونکہ جھوٹے بہانوں سے مکتی یافتوں کو بار بار آواگون میں ڈالتا ہے اور پھر جونوں کی تقسیم میں انصاف کا پابند نہیں رہتا اور دائمی نجات نہ دینے کے بارے میں ایک جھوٹا عذر پیش کرتا ہے اور اپنی ناحق کی شیخی دکھلانے کے لئے اصل واقعہ کو چھپاتا ہے اور سچائی کی پابندی سے یہ نہیں کہتا کہ دراصل میں دائمی مکتی دینے پر قادر ہی نہیں اوریہ جھوٹا بہانہ پیش کرتا ہے کہ محدود اعمال کا پاداش صرف محدود چاہیئے کیونکہ مکر بموجب تشریح قرآن شریف کے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ نیک مکر اور بدمکر لیکن وید کا پرمیشر اپنی مذکورہ بالا کارروائی کی رُو سے بد مکر کو استعمال کرتا ہے کیونکہ اپنی کمزوری چھپاکر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے کہ محدود عمل کا ثمرہ کیونکر غیر محدود دیا جائے حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ وہ نجات دینے پر قدرت ہی نہیں رکھتا اور پھر یہ بھی سراسر دھوکہ دہی ہے کہ اعمال محدود ہیں کیونکہ راستباز لوگ کسی محدود زمانہ تک خدا کو یاد کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہمیشہ کی اطاعت کے لئے دل میں عہد رکھتے ہیں اور یہ تو اُن کے اختیار میں نہیں کہ موت آجائے۔ موت کا بھیجنا تو خدا کا کام ہے اُن کا اِس میں کیا قصور ؟

    پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ آریوں کے اصول کی رُو سے اُن کے پرمیشر کا نام مالک ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کہ بغیر کسی کے حق واجب کے اُس کو بطور اکرام انعام کچھ دے سکے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی مال کامالک ہوتا ہے وہ اختیار رکھتا ہے کہ جس قدر اپنے پاس سے چاہے کسی کو دے دے۔ مگر پرمیشر کی نسبت آریوں کا یہ اصول ہے کہ نہ وہ گناہ بخش سکتا ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 33

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 33

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/33/mode/1up


    اورؔ نہ جودو عطا کے طور پر کسی کو وہ کچھ دے سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرے تواس سے بے انصافی لازم آتی ہے لہٰذا تناسخ کے ماننے والے کسی طرح کہہ نہیں سکتے کہ پرمیشر مخلوقات کا مالک ہے۔ یہ تو ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ مالک کی نسبت انصاف کی پابندی کی شرط لگانا بالکل بیجاہے ہاں ہم مالک کی صفات حسنہ میں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ رحیم ہے وہ جواد ہے وہ فیاض ہے وہ گنہ بخشنے والا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے زرخرید غلاموں اور گھوڑوں اور گائیوں کی نسبت منصف مزاج ہے کیونکہ انصاف کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جبکہ دونوں طرف ایک ہی قسم کی آزادی حاصل ہو۔ مثلاً ہم مجازی سلاطین کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ منصف ہیں اور رعایا کے ساتھ انصاف کا سلوک کرتے ہیں اور جب تک رعایا اُن کی اطاعت کرے اُن پر بھی انصاف کا قانون یہ واجب کرتا ہے کہ وہ بھی رعایا کی اطاعت اور خراج گذاری کے عوض میں اُن کے مال و جان کی پوری نگہبانی کریں اور ضرورتوں کے وقت اپنے مال میں سے اُن کی مدد کریں۔ پس ایک پہلو سے سلاطین رعایا پرحکم چلاتے ہیں اور دوسرے پہلو سے رعیت سلاطین پر حکم چلاتی ہے۔ اور جب تک یہ دونوں پہلو اعتدال سے چلتے ہیں تب تک اس ملک میں امن رہتا ہے اورجب کوئی بے اعتدالی رعایاکی طرف سے یا بادشاہوں کی طرف سے ظہور میں آتی ہے تبھی ملک میں سے امن اُٹھ جاتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہے کہ ہم بادشاہوں کو حقیقی طور پر مالک نہیں کہہ سکتے کیونکہ اُن کو رعایا کے ساتھ اور رعایا کو اُن کے ساتھ انصاف کا پابند رہنا پڑتا ہے مگر ہم خدا کو اس کی مالکیت کے لحاظ سے رحیم تو کہہ سکتے ہیں مگر منصف نہیں کہہ سکتے۔ کوئی شخص مملوک ہوکر مالک سے انصاف کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہاں تضرّع اور انکسار سے رحم کی درخواست کرسکتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمام قرآن شریف میں اپنا نام منصف نہیں رکھا کیونکہ انصاف دو طرفہ برابری اور مساوات کو چاہتا ہے۔ ہاں اِس طرح پر خدا تعالیٰ منصف ہے کہ بندوں کے باہم



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 34

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 34

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/34/mode/1up


    حقوؔ ق میں انصاف کرتا ہے لیکن اس طرح منصف نہیں کہ کوئی بندہ شریک کی طرح اس سے کوئی حق طلب کرسکے کیونکہ بندہ خدا کی ملک ہے اور اُس کو اختیار ہے کہ اپنی مِلک کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرے جس کو چاہے بادشاہ بناوے اور جس کو چاہے فقیر بناوے اور جس کو چاہے چھوٹی عمر میں وفات دے اور جس کو چاہے لمبی عمر عطا کرے اور ہم بھی تو جب کسی مال کے مالک ہوتے ہیں تواُس کی نسبت پوری آزادی رکھتے ہیں۔ ہاں خدا رحیم ہے بلکہ ارحم الراحمین ہے وہ اپنے رحم کے تقاضا سے نہ کسی انصاف کی پابندی سے اپنی مخلوقات کی پرورش کرتاہے کیونکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ مالک کا مفہوم منصف کے مفہوم سے بالکل ضد پڑا ہوا ہے جبکہ ہم اُس کے پیدا کردہ ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اُس سے انصاف کا مطالبہ کریں۔ ہاں نہایت عاجزی سے اُس کے رحم کی ضرور درخواست کرتے ہیں اور اس بندہ کی نہایت بدذاتی ہے جو خدا سے اُس کے کاروبار کے متعلق جو اس بندہ کی نسبت خدا تعالیٰ کرتا ہے انصاف کا مطالبہ کرے جب کہ انسانی فطرت کا سب تارو پود خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تمام قوےٰ روحانی جسمانی اُسی کی عطا کردہ ہیں اور اُسی کی توفیق اور تائید سے ہر ایک اچھاعمل ظہور میں آسکتا ہے تو اپنے اعمال پر بھروسہ کرکے اُس سے انصاف کا مطالبہ کرنا سخت بے ایمانی اورجہالت ہے اور ایسی تعلیم کو ہم ودّیا کی تعلیم نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ تعلیم سچے گیان سے بالکل محروم اور سراسر حماقت سے بھری ہوئی تعلیم ہے سو ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو قرآن شریف ہے یہی سکھایا ہے کہ بندہ کے مقابل پر خدا کا نام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ کفر صریح ہے ہاں جب وہ خود ایک وعدہ کرتا ہے تو اس وعدہ کا پورا کرنا اپنے پر ایک حق ٹھہرا لیتا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔

    ۱؂

    یعنی ہم جو ابتدا سے مومنوں کے لئے نصرت اور مدد کا وعدہ دے چکے ہیں اس لئے ہم اپنے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 35

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 35

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/35/mode/1up


    پر یہؔ حق ٹھہراتے ہیں کہ اُن کی مدد کریں ورنہ دوسرا شخص اُس پر کوئی حق نہیں ٹھہراسکتا۔

    مبارک وہ جو اپنی کمزوریوں کا اقرار کرکے خدا سے رحم چاہتا ہے اور نہایت شوخ اور شریر اور بدبخت وہ شخص ہے جو اپنے اعمال کو اپنی طاقتوں کا ثمرہ سمجھ کر خدا سے انصاف چاہتا ہے اور ابھی میں بیان کرچکا ہوں کہ آریہ صاحبوں نے جو اپنے اعمال کے مقابل پر خدا کانام منصف رکھا ہے۔ یہ غلطی محض اس وجہ سے واقع ہوئی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ارواح اور اُن کی تمام قوتوں کو اور ایسا ہی اپنے اجسام اور اُن کی طاقتوں کو خدا کی طرح قدیم اور انادی اور غیر مخلوق سمجھ لیا ہے جو پرمیشر کی طرف سے نہیں بلکہ خود بخود ہیں۔ اور اگر وہ مخلوق کی نسبت قدامت نوعی کے قائل ہوتے نہ قدامت شخصی کے تو اس کفر میں نہ پڑتے مگر انہوں نے قدامت شخصی کا اعتقاد رکھ کر یعنی یہ کہہ کر کہ ارواح اور ذرّاتِ اجسام سب انادی ہیں مخلوق نہیں ہیں ایک بھاری کفر اپنے لئے سہیڑ لیا۔

    غرض وہ لوگ قدامت شخصی کے قائل ہوکر پرمیشر کے مقابل پر اُس کے شریکوں کی طرح اپنے تئیں تصور کرتے ہیں یا مثلاً اس طرح تصور کرتے ہیں جیسا کہ رعایا کو اپنے بادشاہ کے مقابل پر خیال ہوتا ہے اور جیسا کہ رعایا اپنے بادشاہ سے اپنے حقوق طلب کرسکتی ہے اور اگر کوئی ظالم بادشاہ اُن کے حقوق کو پامال کرنا چاہے تو اپنے حقوق پیش کرکے اُس سے انصاف چاہتی ہے یا ناچار بغاوت کے لئے سر اُٹھاتی ہے اور آریہ صاحبوں کے اصول کے رُو سے یہ بات سچ بھی ٹھہرتی ہے کیونکہ جس حالت میں تمام روحیں اور جسموں کے تمام ذرّات پرمیشر کے پیدا کردہ نہیں ہیں تو کیوں نہ اُس سے اپنے حقوقِ خدمت طلب کئے جائیں اور کیوں نہ اُس کو انصاف دینے کے لئے مجبور کیا جائے اِس حالت میں وہ ہوتا کون ہے جو حقوق دباکر بیٹھا رہے بلکہ اگر وہ واجب حقوق کو ادا نہ کرے تو اگر آسمان کے نیچے اُس کے اُوپر کوئی دوسری عدالت ہوتی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 36

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 36

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/36/mode/1up


    اپیلؔ کے وقت ضرور مع خرچہ اُس پر ڈِگری ہوسکتی تھی۔ 3 ۱؂

    سو اے ہموطن پیارو ! یہ وید وِدّیا کا ایک نمونہ ہے جو ہم نے اس جگہ پیش کیا ہے اور آگے چل کر انشاء اللہ اور بھی کئی نمونے بیان کریں گے۔ تم خود سوچ لوکہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اوّل خدا کو مالک قرار دینا اور اقرار کرنا کہ وہ مالکانہ تصرّفات اپنی مخلوق میں کرسکتا ہے اور پھر اُسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ مالک نہیں ہے بلکہ وہ صرف ایک بادشاہ کے درجہ پر ہے اور اس کی مخلوقات محض رعایا کی مانند ہے اور جیسا کہ رعایا اپنے حقوق اپنے بادشاہ سے طلب کرسکتی ہے ایسا ہی اس کے بندے حق رکھتے ہیں کہ انصاف کرنے کے لئے اس کو مجبور کریں کہ ہماری نسبت ایسا تو نے کیوں کیا اور ایسا کیوں نہ کیا اوروہ مجبور ہوکر یہ جواب دیتا ہے کہ یہ کمی بیشی میری طرف سے نہیں بلکہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے۔ یہ امر واقعی ہے کہ ہر ایک شخص جو اپنی نسبت خدا کو منصف ٹھہراتا ہے وہ اپنے ذہن میں اپنا حق خدا پر ٹھہرالیتا ہے جو واجب الادا ہے اور دل میں خیال کرلیتا ہے کہ میں نے خدا کی اس قدر جو اطاعت کی۔ یہ میرا ایک حق خدمت ہے جس کا عوض ادا کرنا اس کا فرض ہے۔ اور اگر وہ حق کو ادا نہ کرے تو ناانصافی کے جرم کامرتکب ہوگا لیکن قرآن شریف نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسان مع اپنی رُوح اور تمام قوتوں اور ذرہ ذرہ وجود کے خدا کی مخلوق ہے جس کو اُس نے پیدا کیا۔ لہٰذا قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے ہم خدا تعالیٰ کے خالص مِلک ہیں اور اُس پر ہمارا کوئی بھی حق نہیں ہے جس کا ہم اُس سے مطالبہ کریں یا جس کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ملزم ٹھہر سکے اِ س لئے ہم اپنے مقابل پر خدا کانام منصف نہیں رکھ سکتے بلکہ ہم بالکل تہیدست ہونے کی وجہ سے اُس کا نام رحیم رکھتے ہیں۔ غرض منصف کہنے کے اندر یہ شرارت مخفی ہے کہ گویا ہم اس کے مقابل پر کوئی حقوق رکھتے ہیں اور اُس حق کے ادا نہ کرنے کی صورت میں اُس کو حق تلفی کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ سو قرآن کی تعلیم اس جگہ آریوں کی تعلیم کے سراسر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 37

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 37

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/37/mode/1up


    برخلاؔ ف ہے اور یہی سچی تعلیم ہے تم دونوں تعلیموں پر نظر ڈال کر خود سوچ لو اور پھر اُس تعلیم کو اختیار کرو جو سچے گیان اور سچی معرفت کی رُو سے صحیح ٹھہرتی ہے۔ خدا تمہیں ہدایت دے۔ آمین

    پھر آریہ صاحبوں کی طرف سے جو مضمون سنایا گیا اُس میں ایک یہ بھی فقرہ تھا کہ پرماتما یعنی پرمیشر سب میں ہے جاہلوں سے دُور عقلمندوں سے نزدیک۔ اس عبارت میں جو تناقض ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک فقرہ عبارت میں تووید کی تعلیم یہ بیان کرتی ہے کہ پرماتما سب میں ہے اور پھر دوسرے فقرہ میں یہ بیان ہے کہ وہ جاہلوں سے دور ہے۔ علاوہ اس کے چونکہ بموجب اصول آریہ سماج کے کوئی رُوح یا کوئی اجسام کا ذرّہ پرمیشر کا بنایا ہوا نہیں اور پرمیشر کو قرب مخلوق کا وہ موقعہ بھی نہیں ملا جو بنا نے والے کو اُس چیز کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کو وہ بناتا ہے تو پھر کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پرماتما سب میں ہے جب کہ اُس کو قدیم اور انادی چیزوں سے کچھ بھی تعلق نہیں اور نہ پرمیشر ان کے اندر جاکر اُن کی قوتوں کو اصل تعداد سے بڑھاسکتا ہے اور نہ اصل تعداد سے گھٹا سکتا ہے تو اس مداخلت بیجاکے کیا معنی ہوئے کہ پرماتما سب میں ہے ہر ایک شخص سوچ سکتا ہے کہ محض فضول طور پر پرمیشر کا اندر ہونا سراسر ایک لغو حرکت ہے جس سے اگر ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ پرمیشر نے مخلوق کے اندر داخل ہوکر اپنا محدود ہونا ثابت کردیا ہے کیونکہ جو چیز کسی محدود چیز کے اندر سما سکتی ہے وہ بھی بلاشبہ محدود ہے آریہ صاحبوں کی یہ عجیب عقل ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے معنوں کو نہ سمجھ کر محض جہالت سے یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا خدا محدود اور عرش کا محتاج ہے اور دوسری طرف خود اپنے پرمیشر کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام مخلوق چیزوں کے اندر ہے اور جب کہ وہ تمام چیزوں کے اندر ہے تو کیا وہ اُن بتوں اور مورتیوں کے اندر نہیں ہے جن کی بت پرست لوگ پرستش کرتے ہیں بلکہ آریوں کو تو چاہئیے کہ بت پرستوں سے زیادہ مخلوق پرستی کریں کیونکہ بت پرست تو پرمیشر کا مظہر صرف اُن بتوں کو خیال کرتے ہیں کہ جو اُن کی مذہبی رسم کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 38

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 38

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/38/mode/1up


    مواؔ فق آباہن کے منتر کی رُو سے شُدّھ کئے جاتے ہیں اور پھر بعد اس کے یہ خیال کیا جاتاہے کہ اب پرمیشر اُن کے اندرداخل ہوگیا ہے مگر آریوں کے اصول کے موافق پرمیشر ہرایک چیز کے اندر ہے خواہ وہ چیز پاک ہے یا ناپاک اور کسی منتر کی ضرورت نہیں۔ پھر اس جگہ یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ اگر پرمیشر ہر ایک چیز میں پورے طور پر یعنی بتمام و کمال اندر ہے تو اس سے تعدّد لازم آتا ہے یعنی ایک پرمیشر نہیں بلکہ کروڑہا پرمیشر ہوگئے اور اگر پورے طور پر کسی کے اندر نہیں تو اس سے پرمیشر ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے اوردونوں امر باطل۔

    پھر اسی مضمون میں یہ فقرہ ہے کہ ’’ پرمیشر عالم الغیب ہے ‘‘ ہم کہتے ہیں کہ بلا شبہ خدا تعالیٰ عالم الغیب تو ہے مگر خدا کی کتاب کا یہ منصب نہیں ہے کہ محض ایک قصہ گو کی طرح خدا تعالیٰ کو عالم الغیب قرار دے بلکہ اُس کا یہ منصب ہے کہ خدا کے عالم الغیب ہونے کے لئے اُس کاکوئی نمونہ پیش کرکے ثابت کرے یعنی ایسے ایسے آئندہ کے واقعات پیشگوئی کے طور پر بیان فرماوے جن سے یقین ہو جاوے کہ حقیقت میں خدا عالم الغیب ہے تا خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لاکر ظنی ایمان یقین کے درجہ تک پہنچ جائے۔ کیونکہ ظنی طورپر تو دُنیا کے اکثر لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور اُس کو عالم الغیب بھی خیال کرتے ہیں تو پھر اُن کے علم اور اس علم میں جو وید پیش کرتا ہے فرق کیا ہوا۔ پس اگر وید میں یقینی علم کی تعلیم دینے کے لئے کوئی پیشگوئی بیان کی گئی ہے اور وہ پوری ہوچکی ہے تو اس شرتی کو پیش کرناچاہیئے ورنہ وید کے بیان اور ایک گنوار نادان کے بیان میں کچھ فرق نہیں۔ اور یہ ضروری امر ہے کہ جو کتاب خدا کی کتاب کہلاتی ہے وہ خدا کا عالم الغیب ہونا صرف زبان سے بیان نہ کرے بلکہ اُس کاثبوت بھی دے کیونکہ بغیر ثبوت کے نرایہ بیان کہ خدا عالم الغیب ہے انسان کے ایمان کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا اور ایسی کتاب کی نسبت شبہ ہوسکتا ہے کہ اُس نے صرف سنی سنائی باتیں لکھی ہیں۔ اِسی وجہ سے قرآن شریف خدا تعالیٰ کی ایسی صفات کے بیان کرنے کے وقت صرف قصہ گو کی طرح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 39

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 39

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/39/mode/1up


    بیانؔ نہیں فرماتا بلکہ نمونہ کے طورپر اپنا علم غیب ظاہر کرتا ہے اور اپنی ہر ایک صفت کا ثبوت دیتا ہے مگر وید صرف قصہ کے رنگ میں خدا کی صفات کا ذکر کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے قصّے اُس نے کسی دوسرے سے سنے ہیں اور اُن کی نقل کردی ہے۔

    پس ایسی کتاب کسی انسان کو تازہ گیان اور تازہ معرفت نہیں بخش سکتی بلکہ اپنی مجبوری ظاہرکرکے رفتہ رفتہ ایسے لوگوں کو جو اُس کے پیرو ہیں دہریّت کی طرف کھینچتی ہے اور انجام کار اپنا درماندہ ہونا دِکھلاکر اُن کے معمولی ایمان کے لئے بھی سِمِّ قاتل ہوجاتی ہے کیونکہ آخر کار اُن کے ذہن اس طرف منتقل ہوجاتے ہیں کہ اگر مثلاً پرمیشر عالم الغیب ہوتا تو اس کا بیان عالم الغیب ہونے کے بارہ میں صرف قصّہ کے طور پر نہ ہوتا بلکہ وہ اپنے علم غیب کا کوئی نمونہ پیش کرتا۔ کیا وید کا پرمیشر صرف قصّوں کے رنگ میں اپنی صفات پیش کرکے یہ اُمید رکھتا ہے کہ اُس کی اُن بے ثبوت صفات کو مان لیا جاوے اور بغیر کسی پیش کردہ دلیل کے اُس کو عالم الغیب سمجھ لیا جائے یا ایسا ہی دوسری صفات اُس کی تسلیم کرلی جائیں۔ خدا کی کتاب کا تو یہ مقصد ہونا چاہیئے کہ انسان کے معمولی علم سے جو خدا تعالیٰ اور اُس کی صفات کی نسبت محض قصوں کے رنگ میں ہے ترقی دے کر یقینی علم تک اُس کو پہنچاوے نہ کہ وہ علم ناقص جو انسانوں کو پہلے ہی سے حاصل ہے وہی اس کے سامنے پیش کرے۔ خصوصاً اِس زمانہ میں جب کہ عام حالت اکثر انسانوں کی دہریت تک پہنچ گئی ہے ایسی قصہ گوئی بجز اِس کے کیا فائدہ دے سکتی ہے کہ دہریہ طبع لوگ اور بھی اُس پر ہنسی ٹھٹھا کریں۔ ہر ایک واقف کار جانتا ہے کہ آجکل خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں نہایت تیز مخالفت کی گئی ہے اور اُس کی ہستی کی نسبت ہزارہا اعتراض اُٹھائے گئے ہیں پس اِس زمانہ میں وہی خدا کی کتاب بگڑی ہوئی طبیعتوں کو سیدھا کرسکتی ہے کہ اس بھڑکتی ہوئی آگ پر اپنے زبردست نشانوں کے ساتھ پانی کا کام دے۔ جب کہ صرف قصّے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 40

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 40

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/40/mode/1up


    پہلےؔ ہی سے دہریوں اور بے قید لوگوں کی نظر میں زیر مواخذہ ہیں تو کیا وید کا قصہ گوئی سے یہ مطلب ہے کہ اُسی زندان میں اپنے تئیں بھی ڈال دے جس میں دوسرے قصہ گو بھی پڑے ہوئے ہیں۔

    اے ہموطن پیارو! یہ بُرا ماننے کی بات نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسی نقصان سے جو وید میں پایاجاتا ہے۔ آریہ ورت کے لاکھوں ہندوجو جَین مَت وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں منسوب کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہوگئے کیونکہ انہوں نے خدا کے وجود اور اس کی صفات کی نسبت وید کی تعلیم سے کوئی تسلی نہیں پائی۔ بعض پنڈتوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ہم نے چاروں وید پڑھے مگر ہمیں اب تک یقینی طور پر معلوم نہیں ہوا کہ کہیں وید میں خدا کا ذکر بھی ہے۔ بعض نے اِس دعویٰ کی ذمہ واری اِس قدر اپنے ذمہ قبول کرلی ہے کہ اگر وید میں کوئی خدا کا ذکر ثابت کرکے دکھلاوے تو ہم اُس کو اپنی لڑکی دینے کو تیار ہیں اور یہ عذر پیش کرنا فضول ہے کہ وید ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے لہٰذا اُس وقت وید نے یہ غیر ضروری سمجھا کہ خدا کی ہستی اور اس کی صفات کا ملہ کا تازہ طور پر ثبوت دے۔ اور اُس کے علم غیب اور دوسری صفات کے تازہ نمونہ دکھلاوے کیونکہ بلاشبہ جیسا کہ انسان اِس زمانہ میں اس بات کامحتاج ہے کہ خدا کی صفات کے تازہ نمونے دیکھے اُس وقت بھی محتاج تھا کیونکہ انسان محض تاریکی میں پیدا ہوتا ہے اور پھر خدا کی کلام کے ذریعہ سے اُس کو روشنی ملتی ہے۔ اور پھر اس دعوے کا ثبوت کہاں ہے کہ وید ابتدائی زمانہ کی کتاب ہے بلکہ خود وید سے پتہ ملتا ہے کہ مختلف زمانوں میں اس کامجموعہ تیار ہوا ہے اوروہ درحقیقت بہت سے رشیوں کے اقوال ہیں نہ صرف چار کے۔چنانچہ سکتوں کے عنوان پر جابجا یہ اشارہ پایاجاتا ہے۔ ماسوا اس کے پارسیوں کو اپنی کتاب کی قدامت کی نسبت آریوں سے بڑھ کر دعوےٰ ہے۔ پس ان غیر مثبت دعووں کو پیش کرنا جائے شرم ہے۔ اوّل آریوں کو یہ چاہیئے کہ کسی عدالت میں پارسیوں پر نالش کرکے ویدوں کی قدامت کی نسبت اپنے حق میں ڈگری کرالیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 41

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 41

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/41/mode/1up


    اورؔ پھر قدامت کادعویٰ کریں اور بغیر ایسے فیصلہ کے جو ناطق ہو تمہیں کیا معلوم ہے کہ قدامت کے دعویٰ میں تم سچے ہو یا پارسی سچے ہیں۔

    علاوہ اس کے خدا کا کلام صرف ابتدائے زمانہ کے لئے نہیں ہوتا بلکہ وہ توحاجت کے وقت پر انسانی نسل کے درست کرنے کے لئے آتا ہے پس یہ عذر بدتر از گناہ ہے اور ہرگز قبول کرنے کے لائق نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اور تو اور ان رشیوں کا ایمان بھی خدا کے وجود پر محض شکی اور ظنی درجہ پرہوگا جن پر خدا کی ہستی اور اس کی صفات کے بارے میں کوئی یقینی حقیقت نہیں کھولی گئی اور محض قصے ان کے آگے رکھ دئیے گئے کہ پرمیشر عالم الغیب ہے اور پرمیشر سرب شکتی مان ہے اور پرمیشر دیالو ہے۔ ایک دانشمند جو سچی معرفت کا پیاسا ہے سمجھ سکتا ہے کہ بھلا ان قصوں سے کیا بن سکتا ہے؟

    پھر مضمون خواں صاحب نے یہ سنا کہ’’ وہ پرمیشر سب پر حاکم انادی پرجا کو اپنی سناتن وِدّیا سے گیان دینے والا ہے‘‘ مگر اس کی وجہ کوئی پیش نہیں کی کہ کیوں سب پرحاکم ہے کیا کسی جابرانہ قبضہ سے یہ حکومت اُس کو میسر آئی ہے یا فتحیاب بادشاہ کی طرح روحوں کی فوج پر اُس نے فتح پاکر اپنا مطیع اور منقاد اُن کو بنا لیا ہے کیونکہ وہ حکومت تو اُس کو میسر نہیں جو پیدا کنندہ کو اپنی پیدا کردہ چیزوں پر ہوتی ہے کوئی اور وجہ حکومت ہوگی اور جب تک اُس کی حکومت کی کوئی وجہ بیان نہ کی جائے تب تک یہ دعویٰ کہ پرمیشر اپنی پرجا یا رعیت پر حاکم ہے فضول اور بے معنی ہے۔ باقی رہا یہ کہ پرمیشر اپنی سناتن ودّیا سے گیان دینے والا ہے اگرگیان سے یہی مراد ہے کہ وہ کسی رُوح یا رُوح کی کسی قوت کا پیدا کرنے والا نہیں اور سب روحیں خودبخود ہیں اور ایسا ہی ہر ایک ذرہ اجسام کا اور اُن کی قوتیں خود بخود ہیں اور پرمیشر کو نہ کبھی طاقت ہوئی اور نہ ہوگی کہ وہ ایک رُوح یا ایک ذرہ پیدا کرسکے تو خدا نہ کرے کہ ایسا گیان کسی ایمان دار کو نصیب ہو بلکہ ایسی باتیں تو وہ کرے گا جو لوگوں کو دہریہ بنانے کے لئے کوشش کرتا ہے اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ پرمیشر نے وید میں نیک عملوں کی ہدایت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 42

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 42

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/42/mode/1up


    کی ؔ ہے وہی وید کا گیان ہے تو تناسخ کے عقیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشر پاکیزگی کی راہوں پر چلانا نہیں چاہتا کیونکہ تناسخی جنم کے ساتھ کوئی فہرست پر میشر نہیں بھیجتا جس سے معلوم ہوکہ دوبارہ آنے والی رُوح فلاں شخص کی ماں ہے اور فلاں شخص کی دادی اور فلاں شخص کی بہن اور اس طرح پر محض پرمیشر کی لاپروائی کی وجہ سے لوگ دھوکہ کھاکر حرام کاری میں پڑجاتے ہیں کیونکہ جس مرد کی کسی عورت سے شادی ہوئی اور شادی سے ایک مدّت دراز پہلے اس کی ماں اور دادی اور ہمشیرہ مرچکی ہیں تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس عورت سے شادی کی گئی ہے شاید وہ اُس کی ماں ہی ہو یا دادی ہو یا ہمشیرہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حرامکاری پھیلنے کی پرمیشر کو کچھ پروا نہیں بلکہ وہ عمداً چاہتا ہے کہ ناپاکی دُنیا میں پھیلے ورنہ کیا اس بات کی قدرت نہ تھی کہ وہ ہر ایک نوزاد بچہ کے ساتھ ایک تحریر بھیجتا جس میں ظاہر کیا گیا ہوتا کہ اس بچہ کو فلاں فلاں شخص سے فلاں فلاں رشتہ ہے یا اُس بچہ کو یہ قدرت بخشتا کہ وہ آپ ہی بتلا دیتا کہ مثلاً میں فلاں فلاں کی دادی یا ماں ہوں مگر چونکہ پرمیشر نے ایسا نہیں کیا اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کے پرمیشر کے نزدیک ہر ایک بدعملی جائز ہے۔ اس پر ایک اور بھی دلیل ہے کہ وید صرف اِسی قسم کی حرامکاری کو جائز نہیں رکھتا بلکہ ایک اور قسم کی حرامکاری بھی وید کی رُو سے جائز قرار دی گئی ہے اور وہ عقیدہ نیوگ ہے جو آریہ صاحبوں کے نزدیک وید کے نہایت قیمتی خیالات ہیں یا یوں کہو کہ وید کے تمام گیان کی جڑھ اور سرچشمہ وہی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وید کی تمام تعلیم کا نفس مضمون وہی ہے جس کے ذریعہ مکتی حاصل ہوتی ہے اور جس پر پوشیدہ طور پر آریہ قوم میں عمل ہو رہا ہے۔

    اورخلاصہ تعلیم نیوگ یہ ہے

    کہ جس آریہ کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو یا صرف لڑکیاں پیدا ہوں تواس کے لئے وید کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے ہم بستر کراکر اولاد حاصل کرے بغیر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 43

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 43

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/43/mode/1up


    اِس ؔ کے اُس کو مکتی نہیں ملے گی۔ سوچنے کا مقام ہے کہ بازاری عورتیں بھی اگرچہ ایسے گندے کام کرتی ہیں مگر پھر بھی وہ ایسی عورتوں سے ناپاکی میں کمتر ہیں جو باوجود خاوندوں کے ہونے کے دوسروں سے ہم بستر ہوتی ہیں۔ اور اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور وہ عورت قطع تعلق کے بعد دوسرے سے نکاح کرے تو اس پر عند العقل کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ نکاح ٹوٹنے کے بعد مُطلّقہ سے نکاح کرنا کوئی اعتراض کی جگہ نہیں۔وجہ یہ کہ اس صورت میں وہ اس پہلے شخص کی بیوی نہیں رہی مگر اس بے غیرتی کو دنیا کی کوئی قوم بجز آریوں کے پسند نہیں کرتی اور اس سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ اپنی منکوحہ بیوی ہونے کی حالت میں دوسرے سے ہمبستر کراویں اِس عقیدہ سے ظاہرہے کہ وید کی رُو سے حرامکاری کا وقوع میں آنا کچھ مضائقہ نہیں ہاں یہ ضروری ہے کہ کسی طرح لالہ صاحب کے گھر میں اولاد پیدا ہو جاوے۔

    پس جو لوگ وید کی تعلیم کے پابند ہوکراپنی عورتوں کو دوسروں سے ہمبستر کراتے ہیں اور بیرج داتا کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ایسے لوگ اگر خدا کے پاک نبیوں کی توہین کریں تو کوئی محل شکایت نہیں کیونکہ جب کہ اُن کی فطرت سے پاکیزگی کی حس ہی جاتی رہی ہے تو وہ تمام دُنیا کو اپنے نفس پر خیال کر لیتے ہیں اور عجیب تر یہ کہ اِس ناپاک مراد کے لئے کوئی یقینی راہ کامیابی کی بھی نہیں۔ بہتیری آریہ زاد ایسی عورتیں ہیں کہ د۱۰س د۱۰س برس تک بہ بہانہ نیوگ حرام کاری کراتی رہتی ہیں اور رات کو خاوندوں کو چھوڑ کر غیر مردوں کے ساتھ جاسوتی ہیں پھر بھی کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوتا اور بجائے کوئی لڑکا پیدا ہونے کے ایک خراب عادت اُن میں پیدا ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ چونکہ ایک مدت دراز تک غیر مردوں کے ساتھ وہ تعلق کرتی رہتی ہیں اور دل میں جانتی ہیں کہ وہ اُن کے خاوند نہیں ہیں مگر پھر بھی اُن سے ہمبستر ہو جاتی ہیں آخر کار اِس دائمی مشق سے تمام شرم و حیا اُن کی اُٹھ جاتی ہے ہم اس سے زیادہ اس جگہ کچھ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 44

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 44

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/44/mode/1up


    نہیںؔ لکھ سکتے۔ ناظرین خود سوچ لیں اور سمجھ لیں کہ جس مذہب نے پرمیشر کی خدائی پر وہ داغ لگایا ہے کہ گویا اُس کو پرمیشر ہونے سے ہی جواب دے دیا اور پھر انسانی پاکیزگی پر وہ داغ لگایا کہ آریہ ورت کی کروڑہا شریف عورتوں کو غیر مردوں سے ہمبستر کرا دیا اور ان کی عفّت کو خاک میں ملا دیا۔ کیا ایسے مذہب سے کوئی پاک گیان یا پاک ہدایت سکھلانے کی توقع ہوسکتی ہے ؟ مگر پھر بھی ہم یہ الزام وید پر لگانا نہیں چاہتے اصل بات یہ ہے کہ بعض جوگی یا سنیاسی جو بظاہر مجردانہ زندگی بسر کرتے تھے اور اندر سے سخت ناپاک تھے انہوں نے نا محرم عورتوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے نادان لوگوں کو یہ باتیں سکھائی تھیں اور ظاہر کیا تھا کہ گویا وید کی یہی ہدایتیں ہیں اور تا اُن کے لئے بدکاری کا دروازہ کھل جائے اور اس طرح پر و ہ اپنے نفسانی جذبات کو پورا کرلیں اس بارے میں

    ڈاکٹر برنیئر نے

    اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھا ہے اور اُس نے بیان کیا ہے کہ میں نے جگن ناتھ کے مقام میں ہزاروں ہندو عورتیں دیکھی ہیں جن کی جوگیوں اور سنیاسیوں سے آشنائی تھی اور حماقت سے یہ سمجھتی تھیں کہ وہ آشنائی اُن کے لئے مکتی کا موجب ہوگئی ہے۔

    پھر مضمون خواں صاحب نے اپنے مضمون میں بیان کیا کہ پرماتما کی کوئی شکل اور صورت نہیں حالانکہ وید نے اُسی پرماتما کے نام اگنی۔ وایو۔ جل۔ دھرتی۔ سورج۔ چاند وغیرہ رکھے ہیں اور وہی محدود صفات آگ اور ہوا وغیرہ کے اس میں قائم رکھے ہیں پھر کیونکر وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کوئی شکل اور صورت نہیں۔ کیا ہوا اپنے کُرّہ میں اور آگ اپنے کُرّہ میں اور ایسا ہی سورج اور چاند شکل اور صورت سے خالی ہیں۔ جو شخص چند ورق رگ وید کے پڑھے گا اس کو معلوم ہو جائے گا کہ وید کی تعلیم کی رُو سے یہ سب عناصر واجرام فلکی خدا ہی ہیں اور پھر مخلوق بھی ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بڑا حصہ اُن شرتیوں کا لکھ دیا ہے جن میں یہ ذکر ہے ا س لئے دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وید کا خواہ کچھ مطلب تھا مگر آریہ ورت کے کروڑہا ہندوؤں نے اور بڑے بڑے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 45

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 45

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/45/mode/1up


    پنڈؔ توں نے یہی سمجھ لیا تھا کہ آگ اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ سب خدا ہی ہیں۔ اِسی وجہ سے یہ تمام فرقے آریہ ورت میں پیدا ہوگئے۔ اگر وید جل کی پوجا کی ہدایت نہ کرتا تو گنگا مائی کے پوجنے والے کیوں پیدا ہوجاتے۔ ہر دو ار وغیرہ مقامات کے بڑے بڑے میلوں پر جاکر دیکھنا چاہیئے کہ کس صدق اور ارادت سے کئی لاکھ ہندو گنگا کی پوجا کرتے ہیں اور گنگا کے لاکھوں برہمنوں کا اُن کے چڑھاووں پر گذارہ ہے اور گنگا سے انواع اقسام کی مرادیں مانگی جاتی ہیں اور یہ سب لوگ وید کے پَیرو کہلاتے ہیں اگر وہ وید کے ماننے والے نہ ہوتے تو ہندو مذہب میں شمار نہ کئے جاتے۔ بلاشبہ اب بھی ایک بڑا حصہ ہندوؤں کا گنگا کو پرمیشر کرکے مانتا ہے یہاں تک کہ یہ قدیم سے رسم ہے کہ پہلا بچہ اپنا گنگا مائی کی نذ ر کیا جاتا تھا جس کو جل پروا کہتے ہیں اور اس طرح پر نہایت بے رحمی سے گنگا میں ڈال کر اُس کو ہلاک کر دیتے تھے مگر گورنمنٹ انگریزی نے اپنے خاص حکم سے اِس بد رسم کو دُور کردیا اور لاکھوں جانوں کو ہلاکت سے بچایا۔

    اب ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ آریہ ورت کے ہندو جو درحقیقت ایک ہی قوم ہے کیوں عناصر اور اجرام پرستی میں گرفتار ہوگئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ویدوں میں اُنہوں نے ایسا ہی لکھا پایا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ درحقیقت یہی ویدوں کی تعلیم ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو ہم اس رسالہ میں ایسا ذکر کریں گے تو اُس سے مراد یہی ہے کہ غلطی سے یہی تعلیم ویدوں کی سمجھی گئی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس پر حاشیے چڑھائے گئے یہاں تک کہ مخلوق پرستی اصل مذہب آریہ ورت کا قرار دیا گیا اور یہ فتنہ جو آریوں میں مخلوق پرستی کا پیدا ہوا دراصل تمام الزام اس کا وید کی تعلیم پر ہے کیونکہ جب کہ رگوید اور دوسرے ویدوں میں صریح صریح اورکھلے طور پر آتش پرستی اور آب پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی وغیرہ مخلوق پرستیوں کا ذکر ہے تو پھر جن لوگوں نے یہی تعلیم وید کی سمجھ لی اُن کا کیا قصور ہے؟ اگر ویدوں میں صاف اور صریح لفظوں میں مخلوق پرستی کی ممانعت ہوتی تو ویدوں کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 46

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 46

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/46/mode/1up


    ماننےؔ والے اور پڑھنے پڑھانے والے پنڈت کیوں مخلوق پرستی میں گرفتار ہوجاتے اور کیوں بڑے بڑے پنڈت جن کو وید کنٹھ تھے اِس بلا میں پھنس جاتے ؟ اور کیوں ہندو لوگ بُت شکن بادشاہوں کے جانی دشمن بن جاتے اور کیوں وہ لڑائیاں ہوتیں جو سلطان محمود غزنوی کے مقابل سومنات کے بُت کی حمایت کے لئے ہندو راجوں نے کیں اور باہمی لڑائیوں سے خون کی ندیاں بہ گئیں؟ پس یہ تمام گمراہ فرقے اور بُت پرستی کے حامی درحقیقت وید سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔

    پھر اُسی مضمون میں جو جلسہ میں پڑھا گیا مضمون کے پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ پرمیشر غضب اور کینہ اور بغض اورحسد سے الگ ہے۔ شاید اِس تقریر سے اُس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی نسبت غضب کا لفظ آیا ہے تو گویا وہ اپنے اس مضمون میں قرآن شریف کے مقابل پر وید کو اس تعلیم سے مبّرا کرتا ہے کہ خدا غضب بھی کیا کرتا ہے مگر یہ اُس کی سراسر غلطی ہے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف میں کسی بیجا اور ظالمانہ غضب کی طرف خدا تعالیٰ کو منسوب نہیں کیا گیا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ بوجہ نہایت پاکیزگی اور تقدس کے خدا تعالیٰ میں ہمرنگ غضب ایک صفت ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ نافرمان کو جو سرکشی سے باز نہیں آتا اس کی سزادی جائے اور ایک دوسری صفت ہمرنگ محبت ہے اوروہ تقاضا کرتی ہے کہ فرمانبردار کو اس کی اطاعت کی جزادی جائے*۔ پس سمجھانے کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اوردوسری صفت کانام محبت رکھا گیا ہے لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت


    * تیسری صفت خدا تعالیٰ میں ایک رحم بھی ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ رجوع کرنے والوں کا گناہ بخش دیا جائے ۔ پس یہ تین صفت ہیں غضب۱ ۔ محبت۲ ۔ر۳حم ۔جو خدا تعالیٰ کی ذات میں موجود ہیں مگر نہ انسانی صفات کی طرح بلکہ اس طرح جو خدا کی شان کے لائق ہے ۔ من



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 47

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 47

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/47/mode/1up


    انسانی محبت کی طرح جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔

    ۱؂

    یعنی خدا کی ذات اور صفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ آریوں کے وید کی رُو سے اُن کا پرمیشرکیوں گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے یہاں تک کہ انسانی جون سے بہتؔ نیچے پھینک کر کُتّا۔ سُؤر۔ بندر۔ بلا بنا دیتا ہے۔ آخر اُس میں ایک ایسی صفت ماننی پڑتی ہے کہ جو اس فعل کے لئے وہ محرک ہو جاتی ہے۔ اسی صفت کا نام قرآن شریف میں غضب ہے۔ چنانچہ رگوید بھی اس غضبی صفت سے جو پرمیشر میں پائی جاتی ہے بھرا پڑا ہے جیسا کہ رگوید میں مندرجہ ذیل شُرتیاں درج ہیں۔

    (۱) اے اِندر اور اگنی بجّر گھمانے والو شہروں کے غارت کرنے والو ہمیں دولت عطا کرو۔ لڑائیوں سے ہماری مدد کرو۔

    (۲) اے اِندر جو سب دیوتاؤں میں اوّل درجہ کا دیوتا ہے ہم تجھے بلاتے ہیں۔ تو نے لڑائیوں میں فتوحات حاصل کی ہیں۔ ایسا ہوا کہ اِندر کار ساز غضبناک جو تمام مانع چیزوں کا جڑھ سے اُُکھاڑنے والا ہے۔ ہمارے رتھ کو لڑائیوں میں سب سے آگے رکھے۔

    (۳) تو اے اندر فتح کرتا ہے لیکن لوٹ کو نہیں روکتا۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں اور بڑی سخت لڑائیوں میں ہم تجھے اے میگو اہن اپنی حفاظت کے لئے تیز کرتے ہیں۔

    (۴) اے اجیت اندر ایسی لڑائیوں میں ہماری حفاظت کر جہاں سے بہت لوٹ ہمارے ہاتھ آوے۔

    (۵) اے اگنی ہمارے دشمنوں کو جلادے۔ تو بہتوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے


    * حاشیہ۔ ان تمام شُریتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے آریہ لوگ ان عناصر وغیرہ کو اپنے زعم میں

    پرمیشر سمجھتے تھے اور غضب وغیرہ تمام صفات خدا تعالیٰ کے ان کی طرف منسوب کرتے تھے پھر نہ معلوم کہ کیوں اور کس وجہ سے مضمون سنانے والے نے وید کی تعلیم کے مخالف جلسہ میں یہ مضمون سنایا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 48

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 48

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/48/mode/1up


    اور ؔ ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ پرمیشر کا نام رُدّر ہے یعنی بُرے کام کرنے والوں کو رُلاتا ہے۔ ایسا ہی لکھا ہے کہ پرمیشر کا نام اریما بھی ہے۔ یعنی جزا سزا دینے والا۔ اور ایسا ہی پرمیشر کا نام انّ بھی لکھا ہے یعنی تمام دُنیا کوکھانے والا۔ پس ان ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرمیشر میں ایک غضبی صفت ضرور ہے جس کے تقاضا سے وہ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے اور جس کے تقاضا سے وہ قصورواروں کو کتا بِلّابناتا ہے اگر اُس میں اس قسم کی صفت موجود


    بقیہ حاشیہ۔ کہ پرمیشر میں غضب نہیں اور وہ جوگناہگاروں کو سزا دیتا ہے اس کی بنا کسی ذاتی تقاضا پر نہیں اور اس میں یہ صفت موجود ہی نہیں کہ اس کی ذات تقاضا فرماوے کہ نافرمان کو سزا دے گویا نعوذ باللہ صرف مجانین اور دیوانوں کی طرح اس سے یہ حرکت صادر ہو تی ہے ۔ کہ ؔ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے ورنہ دراصل اُس کی ذات میں کوئی ایسی صفت نہیں جو تقاضا فرماوے کہ نافرمان کو سزا دی جاوے ۔ یہ ہے آریہ لوگوں کی وید ودّیا جو اندھو ں کی طرح باتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس صفت کے بیان کرنے میں محض قرآن شریف مخصوص نہیں بلکہ ویدوں کی صد ہا شرتیاں گواہی دے رہی ہیں کہ پر میشر میں ضرور ایک صفت غضبی ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ ویدوں میں پر میشر کا نام تک نہیں ہے اور تمام ویدوں میں بجائے پرمیشر کے اگنی اور وایو اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات کی اُستت ومہما و تعریف موجود ہے اور انہیں چیزوں کی نسبت غضب کی صفات بیان کی گئی ہیں۔پس اگر آریہ صاحبان یہ کہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کو جن کی پرستش ویدوں میں موجود ہے (یعنی اگنی وغیرہ کو) پرمیشر نہیں مانتے لہٰذا ان چیزوں کا غضب اور کینہ وغیرہ جو وید میں لکھا ہے یہ قول ہم پر حجت نہیں یہ دکھلاؤ کہ کہاں وید میں لکھا ہے کہ پرمیشر بھی غضب کرتا ہے ؟

    پس اے ہموطن پیارو !جب کہ تمام ویدوں میں پرمیشر کا نام تک نہیں تو ہم ویدوں میں سے پرمیشرکا لفظ کہاں سے نکالیں ۔ تمہارا پر میشر وید کی رو سے جو کچھ ہے وہ یہی چیزیں ہیں اور کوئی پرمیشر نہیں۔ ہاں اس سے ہمیں بھی تو تعجب ہے کہ ویدوں میں ان چیزوں کے صفات بیان کرنے میں عجیب تناقض سے کام لیا ہے ۔ اگر ذرّہ غور سے دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ تمام بیان وید کا ایک مخبط الحواس انسان کی طرح ہے ۔ شرتیوں کا مضمون ایسا بے سروپا اور مہمل ہے کہ فقرہ فقرہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 49

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 49

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/49/mode/1up


    نہیںؔ کہ وہ تقاضا کرتی ہے کہ پرمیشر گنہ گاروں کو سزا دے تو پھر کیوں پرمیشر کی طبیعت سزا دینے کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ آخر اُس میں ایک صفت ہے جو بدلہ دینے کے لئے توجہ دلاتی ہے پس اُسی صفت کا نام غضب ہے لیکن وہ غضب نہ انسان کے غضب کی مانند ہے بلکہ خدا کی شان کی مانند۔ اِسی غضب کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے اور جیسا کہ قرآن شریف نے نافرمانوں کے حق میں غضب کا لفظ فرمایا ہے۔ ایسا ہی فرمانبرداروں کے حق میں محبت کا لفظ فرمایا ہے اور ذکر کیا ہے کہ یہ دونوں صفتیں خدامیں موجود ہیں لیکن نہ اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے اور نہ اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے بلکہ اس کی یہ دو پاک صفتیں ہر ایک نقص سے مبرّا ہیں جب وہ ایک اچھے عمل کرنے والے پر اپنا انعام و اکرام وارد کرتا ہے توکہا جاتا ہے کہ اُس نے اُس سے محبت کی اور جب وہ ایک بُراعمل کرنے والے کو سزا دیتا ہے تو کہا جاتاہے کہ اُس نے اُس پر غضب کیا۔ غرض جیسا کہ ویدوں میں غضب کا ذکر ہے ایسا ہی قرآن شریف میں بھی ذکر ہے صرف یہ فرق ہے کہ ویدوں نے خدا کے غضب کو اس حد تک پہنچا دیا کہ یہ تجویز کیا کہ وہ شدت غضب کی وجہ سے انسانوں کو گناہ کی وجہ سے کیڑے مکوڑے بنا دیتا ہے مگر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس حد تک نہیں پہنچایا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا باوجود


    بقیہ حاشیہ۔ میںؔ باہمی تناقض پایاجاتا ہے مثلاََ ایک فقرہ میں اگنی کو خدا بنایا گیا ہے اور اس کی اُستت

    اور مَہما گائی گئی ہے اور اس سے مرادیں مانگی گئی ہیں اور خدائی طاقت اس کی طرف منسوب کی گئی ہے اور پھر دوسرے فقرہ میں اسی اگنی کو مخلوق قرار دیا گیا ہے اور بیان کیا گیا کہ اے اگنی تو بہتوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ اسی طرح بعض مقامات میں اِندر کی طرف خدائی صفات منسوب کئے گئے ہیں اور پھر بعض مقامات میں اسی اِندر کو کسی رشی کا بیٹا قرار دیا گیا ہے گویا بیان کرنے والے کے حواس قائم نہیں اور یا اس کی قوت حافظہ مفقود ہے کہ پہلے جو کچھ کہتا ہے پھر دوسری دفعہ اپنے پہلے بیان کے مخالف بولتا ہے ۔ خدا کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا اور نہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی جگہ مخلوق کی پرستش کی جاوے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 50

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 50

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/50/mode/1up


    سزاؔ دینے کے پھر بھی انسان کو انسان ہی رکھتا ہے کسی اور جون میں نہیں ڈالتا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی رُو سے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت اُس کے غضب سے بڑھ کر ہے اور وید کی رُو سے گنہ گاروں کی سزا نا پیدا کنار ہے اور پرمیشر میں غضب ہی غضب ہے رحمت کا نام و نشان نہیں مگر قرآن شریف سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ انجامکار دوزخیوں پر ایسا زمانہ آوے گا کہ خدا سب پر رحم فرمائے گا۔ لیکن وید کی رُو سے اگر پرمیشر کا ارادہ دیکھنا ہو تو ایک نظر اُن حیوانات پر ڈالو جو جنگلوں اور دریاؤں اور آسمان کی فضا اور آبادیوں میں موجود ہیں اور اُن کیڑوں پر نظر ڈالو جو ایک ایک قطرہ پانی میں جس سے سمندر اور دریا بھرے پڑے ہیں ہزارہا موجود ہیں توکیا اس سے سمجھا جاتا ہے کہ مکتی دینے میں پرمیشر کی نیت بخیر ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ اے آریہ صاحبان ! خوب یاد رکھو کہ پرمیشر ان تمام انسانوں کے جونوں کو انسان بنانے کا ہرگز ارادہ نہیں رکھتا اگر ارادہ رکھتا تو پرمیشر اُسی قدر زمین کو فراخ بناتا جس قدر تمام کیڑوں مکوڑوں کو انسان بنانے کی حالت میں فراخ بنانے کی حاجت پیش آنے والی تھی۔

    یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دُنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف وید ہی کا ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے پرمیشر کو پرغضب اور کینہ ور قرار دیتا ہے اور اس بات کا سخت مخالف ہے کہ خدا تعالیٰ تو بہ اور استغفار سے اپنے بندوں کا گناہ بخش دیتا ہے اور عجیب تر یہ کہ اس مذہب میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پرمیشر تمام مخلوقات کامالک ہے اور تمام مخلوق جانداروں کی قسمت اس کے ہاتھ میں ہے اور وہی ایک ہے جس کے سامنے تمام گنہ گار پیش کئے جاتے ہیں۔ لیکن انسانوں کی بدقسمتی کی وجہ سے اس میں یہ صفت غضب توموجود ہے جو گناہ کو دیکھ کر اس کی سخت سے سخت سزا دیتا ہے لیکن اس میں یہ دُوسری صفت موجود نہیں کہ کسی گنہ گار کی توبہ اور تضرع سے اس کا گنہ بھی بخش سکتا ہے بلکہ جس سے ایک ذرہ بھی قصور ہوگیا۔ پھر نہ اُس کی توبہ قبول نہ تضرّع عاجزی قابلِ التفات۔ حالانکہ یہ بات ظاہر ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 51

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 51

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/51/mode/1up


    کہؔ انسان ضعیف البنیان بوجہ اپنی فطرتی کمزویوں کے گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور قدم قدم پر ٹھوکر کھانا اس کی فطرت کا خاصہ ہے مگر وید نے انسان کی حالت پر رحم کرکے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیابلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گنہ کے لئے بھی ایک لمبا اور ناپیدا کنار سلسلہ جو نوں کا تیار کر رکھا ہے* حالانکہ گنہگار اس وجہ سے بھی قابل رحم ہے کہ اس کی کمزور قوتیں جن سے گناہ صادر ہوتا ہے اس کی طرف سے نہیں بلکہ اُسی خدا نے پیدا کی ہیں۔ پس اِس حالت میں عاجز بندے اِس بات کے مستحق تھے کہ اس مجبوری کا بھی ان کو فائدہ دیا جاتا۔ مگر بقول آریہ صاحبان پرمیشر نے ایسا نہیں کیا اور سزا دینے کے وقت یہ امر ملحوظ نہیں رکھا کہ آخر گناہ کے ارتکاب میں اس کا بھی تو کچھ دخل ہے اور وید نے مکتی دینے کے بارہ میں یہ شرط رکھی ہے کہ تب مکتی ملے گی کہ جب انسان گناہ سے بالکل پاک ہوجاوے مگر اس شرط کو جب قانون قدرت کے معیار کے ساتھ آزمایا جاوے تو ثابت ہوگا کہ اس شرط سے عہدہ برآ ہونا بالکل انسان کے لئے غیر ممکن ہے کیونکہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کے تمام حقوق ادانہ کرلے تب تک نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے فرمانبرداری کے تمام دقائق کو ادا کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ قانون قدرت صاف یہ شہادت دے رہا ہے اور انسان کا صحیفہ فطرت اس شہادت پر اپنے دستخط کر رہا ہے اور بزبانِ حال بیان کر رہا ہے کہ انسان کسی مرتبہ ترقی اور کمال میں اس قصور سے مبرّا نہیں ہوسکتا کہ وہ بمقابل خدا کی نعمتوں اور اس کے حقوق کے شکر نہیں کرسکا اور اس کے احکام کی کامل پیروی اور پوری بجا آوری میں بہت قاصر رہا۔ پس اگر انسان کی نجات صرف اِسی صورت میں ہے کہ جیسا کہ چاہیء


    * دنیا کے تفاوت مراتب اور دکھ سکھ کی حالت کو دیکھ کر اس کو اواگون یعنی تناسخ کی دلیل بتانا سراسر نادانی ہے کیونکہ جب دوسرا عالم آنے والا ہے تو دکھ پانے والے کو وہاں اس کے عوض میں سکھ مل جائے گا ۔ ایسے بھی تو لوگ ہیں کہ جَپ تَپ سے اپنے لئے آپ ہی دکھ پیدا کرتے ہیں تا دوسرے عالم میں سکھ اٹھاویں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 52

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 52

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/52/mode/1up


    تمام حقوق خدا تعالیٰ کے اس سے اداہو جاویں اور کسی پہلو سے ایک ذرّہ قصور باقی نہ رہے اور اطاعت کی راہ میں ایک ذرّہ بھی لغزش اِس سے صادر نہ ہو تو یہ طریق نجات تعلیق بالمحال ہے نہ اس درجہ کی عہدہ برآئی کسی کو حاصل ہوگی اورنہ وہ نجات پائے گا۔ پس ایسا حکم ؔ خدا کا حکم نہیں ہو سکتا جو محال سے وابستہ اور صریح قانون قدرت کے برخلاف اور صحیفہء فطرت کے منافی ہے بھلا تم تمام مشرق و مغرب میں تلاش کرکے کوئی آدمی پیش تو کرو جو صغائر وکبائر اور کسی قسم کی غفلت سے بکلی پاک اور مبرّا ہو اور جس نے تمام حقوق بندہ پروری ادا کر دئیے ہیں اور جس کا یہ دعویٰ ہو کہ وہ تمام دقائق فرمانبرداری اور شکر گذاری کے بجا لاچکا ہے اور جب اس زمانہ میں کوئی موجود نہیں تو یقیناًسمجھو کہ ایسا آدمی کبھی دُنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوا اور نہ آئندہ اُس کے پیدا ہونے کی اُمید ہے اور جب کہ اپنے زور بازو سے تمام حقوق خدا تعالیٰ کے ادا کرنا اور ہر ایک نہج سے شکر گذاری کے طریقوں میں عہدہ برآ ہونا قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت کی رُو سے غیر ممکن ہے اور خود تجربہ ہر ایک انسان کا اس پر گواہ ہے تو پھر مکتی کی بنا ایسے امر پر رکھنا کہ خود وہ محال اور ناشدنی ہے کسی ایسی کتاب کے شان کے مناسب نہیں ہے جوخدا تعالیٰ کی طرف سے ہو مگر ممکن ہے کہ جیسا کہ اور کئی باتوں میں وید میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں یہ خرابی بھی کسی زمانہ میں پیدا ہوگئی ہو اور ممکن ہے کہ دراصل یہ وید کی تعلیم نہ ہو بلکہ محرف مبدّل ہو۔

    اور پھر باوجود متذکرہ بالاخرابی کے جو قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت کے مخالف آریوں کے مندرجہ بالا اصول میں پائی جاتی ہے۔ جب مکتی کی طرف دیکھا جائے تووہ بھی اپنے اندر ایک نفرتی طریق مخفی رکھتی ہے جو خدائے کریم کے شان کے شایان نہیں اور وہ یہ کہ مکتی پانے والے انجام کار مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں پس کس طرح قبول کیا جائے کہ یہ طریق اُس خدا کا مقرر کردہ ہے جو سرچشمہ تمام رحمتوں کا ہے اور بخیل اور حاسد نہیں ہے خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ اپنے سچے پرستاروں کو ایک مرتبہ اپنی قرب اور محبت کی عزت دے کر پھر کتّے بلّے بناوے اور کیڑوں مکوڑوں کی جونوں میں ڈالے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 53

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 53

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/53/mode/1up


    اور پھر ہم جب اس پہلو کو دیکھتے ہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ایک مدت کے بعد تمام لوگ مکتی خانہ سے نکالے جاتے ہیں تو ہمیں اور بھی وید کی تعلیم پر افسوس آتا ہے کہ وہ کسؔ قدر خلاف حق خدائے کریم کی ذات پر بخل اور بغض اور نادانی کی تہمت لگارہی ہے ۔ یعنی یہ عذر بیان کیا جاتا ہے کہ پرمیشر جو مکتی دے کرپھر مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے تو وہ اس اخراج کے لئے پہلے سے مکتی یابوں کا ایک ذرہ سا گناہ باقی رکھ لیتا ہے اور آخر اُسی گناہ پر دوبارہ مواخذہ کرکے سب کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے۔ اب خود سوچ لو کہ کیا یہ نہایت بداور قابل نفرت مکر خداوند کریم کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ جہاں اور گناہوں کے دور کرنے کے لئے ایک مدت تک جونوں میں رکھا تھا اس تھوڑے سے گناہ کے لئے بھی چند روز آواگون کے چکر میں رکھتا اور پھر دائمی مکتی دیتا اور پھر اس جگہ منصفین کے لئے یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ گناہ تو صرف ایک ذرہ تھا پھر اس کی سزا میں انسانوں کو بڑے بڑے گناہوں کی سزا کے موافق کتّے بِلّیاں بنانا اور مختلف طور کی جونوں میں ڈالنا یہ کس قسم کا انصاف ہے اور پھر یہ بھی سوچو کہ وہ گناہ جو صرف ایک ذرہ کے مقدار تھا اس کی سزا میں بعض کے لئے بڑی سزائیں اور بعض کے لئے چھوٹی سزائیں کیونکر تجویز کی گئیں یعنی اُسی ایک ذرہ گناہ کی وجہ سے ایک گروہ کو تو مکتی خانہ سے نکال کر انسان کی جون میں ڈالا گیا

    مگر پھر بھی بعض کو مرد اور بعض کو عورت بنایا اور پھر اُسی ایک ذرہ گناہ کی وجہ سے دوسرے گروہ کو کتّے اور تیسرے کو سؤر اور چوتھے کو بندر بنایا گیا۔ حالانکہ گناہ صرف ایک ذرہ تھا۔ اوّل تو ایک ذرہ گناہ چیز ہی کیا تھا کہ اس کی وجہ سے انسان کو کسی جون میں ڈالا جاتا کیونکہ

    اگر پرمیشر کی نظر میں وہ گناہ قابلِ بیزاری ہوتا تو باوجود ایسے گناہ کے کیوں پرمیشر لوگوں کو مکتی خانہ میں داخل کرتا۔ کیا وہ گناہ بھی کچھ وزن رکھتا ہے جو مکتی دینے کے وقت نظر انداز کیا گیا تھا۔ او راگر ایسی بے رحمی ہی منظور تھی تو صرف ایک ذرہ گناہ سے ایک ہی جون میں ڈالنا چاہیئے تھا تا کسی کی رعایت نہ ہو۔ مگر اس میں تو صریح پکش پات اور طرف داری ہے کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 54

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 54

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/54/mode/1up


    تمام لوگ جو مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں گناہ تو سب کا برابر ہوتا ہے کم و بیش نہیں ہوتا یعنی صرف ایک ذرہ۔ مگر جونیں برابر درجہ کی نہیں ہوتیں اُسی گناہ سے مرد بنایا جاتاؔ ہے اور اُسی سے عورت اور اُسی سے بندر اور اُسی گناہ سے نجاست کا کیڑا۔ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ وید کی یہ فلاسفی کس قسم کی ہے۔ کیا اب بھی پرمیشر کا نام نیا کار اور منصف رکھوگے پھر یہ بھی ظاہرہے کہ جونوں کی مختلف صورتیں چاہتی ہیں کہ گناہ بھی مختلف صورتوں کے ہوں پس اس سے لازم آتا ہے کہ جس قدر دُنیا میں جاندار کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں اُسی قدر گناہ بھی ہوں اور اس بات کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ تمام سطح زمین اور فضا اور سمندر مختلف جانداروں اور کیڑوں مکوڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ اسی قدر گناہ بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ مختلف حالتوں کے جاندار زمین پر نظر آتے ہیں تو آریہ صاحبوں کایہ فرض ہے کہ وید میں سے نکال کر اُن گناہوں کی ایک فہرست ہمیں دیویں تا ہم مقابلہ کرکے دیکھ لیں کہ جس قدر زمین پر اور سمندر میں اور آسمان کی فضا میں اور زمین کے اندر جانور کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں کیا اسی کے موافق ٹھیک ٹھیک تعداد گناہوں کی وید میں لکھی گئی ہے۔ کیونکہ اگر یہ فہرست گناہوں کی اُن تمام جانوروں کی تعداد کے برابر نہیں ہوگی تو اس صورت میں ہمیں تناسخ اور نیز وید کے باطل ٹھہرانے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں ہوگی سو یہ بارِ ثبوت آریہ صاحبوں پر ہے کہ گناہوں کی فہرست اسی انداز اور تعداد کی پیش کریں جس قدر مختلف جانور زمین میں پائے جاتے ہیں۔

    اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جب کہ آریہ صاحبوں کا پرمیشر ایسا سخت دل ہے کہ عفو اور درگذر اوررحم اور کرم کی اس میں عادت ہی نہیں اور نیز اُس کی مکتی میں بھی ایک مخفی دغا ہے تو بلاشبہ یہی اخلاق آریہ صاحبوں کے ہوں گے اور ہونے چاہئیں کیونکہ یہ سخت بدذاتی ہے کہ انسان وہ اخلاق اختیار کرے جو اُس کے خدا کے اخلاق کے برخلاف ہیں اور ظاہر ہے کہ انسان کا کمال یہی ہے کہ صفت تخلّق باخلاق اللہ سے متّصف ہو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 55

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 55

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/55/mode/1up


    پس جبکہ وید اُن کو پرمیشر کے یہی اخلاق سکھاتا ہے کہ ہرگز ہرگز کسی کا گناہ معاف نہیںؔ کرنا چاہیئے اور کرم اور جود اور احسان کسی کی نسبت ہرگز نہیں کرنا چاہیئے تو اس صورت میں آریہ صاحبوں کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے دِلوں کو سخت رکھیں اور درگذر اور معافی کانام نہ لیں اور جود و احسان کو حرام سمجھیں لیکن ایک سچے مسلمان کے اخلاق اس کے برخلاف ہوں گے۔ اور وہ چونکہ قرآن شریف میں پڑھتا ہے کہ خدا تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ اس معافی کے لئے وہ اس بات کامحتاج نہیں کہ کوئی ناکردہ گناہ سولی پر کھینچا جائے تا وہ گناہ معاف کرے بلکہ وہ صرف توبہ اور تضرّع اور استغفار سے گناہ معاف کردیتا ہے اس لئے ایک صادق مسلمان بھی اپنے قصورواروں کے قصور اسی طرح معاف کرتا ہے اور اس معافی کے لئے کسی کوسولی پر چڑھا نے کی شرط پیش نہیں کرتا۔ بلکہ ایک قصوروار کی توبہ اور رجوع کی حالت میں وہ تمام قصور بخش دیتا ہے کیونکہ اُس کا خدا بھی اسی طرح قصوروں کو بخشتا ہے اور وہ تمام لوگوں سے مروّت اور احسان سے پیش آتا ہے کیونکہ اُس کا خدا بھی جوّاد اور کریم اور رحیم ہے۔ لیکن جن لوگوں کا پرمیشر بجز غضب اور بخل اور بغض کے گنہگاروں کے ساتھ اور کوئی معاملہ نہیں کرسکتا اُن پر ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اخلاق فاضلہ اختیار کریں گے جو ان کے پرمیشر میں موجود نہیں ہیں۔

    ہرایک مسلمان کو چاہیئے کہ ان کی دوستی سے پرہیز کرے ایسا نہ ہو کہ وہ دوستی کے ایام میں اپنے پرمیشر والے اخلاق ظاہر کردیں کیونکہ بموجب وید کے جس کو آریہ صاحبان پیش کرتے ہیں پرمیشر کے یہ اخلاق ہیں کہ کسی کے ایک ذرہ گناہ پر بھی سخت مؤاخذہ کرتا ہے اور بے شمار برسوں تک پلید اور گندی جونوں میں ڈالتا رہتا ہے اور پھر اگر ایک گنہگار دِلی درد اور پشیمانی سے اُس کے آگے رو وے چلّاوے نہایت عاجزی سے ناک رگڑے اور نہایت درجہ رنج اور غم کے ساتھ اپنے پر ایک موت وارد کرلے اور آئندہ کے لئے سچے دل سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 56

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 56

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/56/mode/1up


    دؔ کرے کہ پھرایسا گناہ نہیں کرے گا مگر پھر بھی کیا ممکن کہ وہ گناہ جو خفیف سے خفیف ہے پرمیشر چھوڑ دے اور چشم پوشی فرماوے اور اگر کروڑوں اورکئی ارب کے بعد مکتی بھی دے گا تو وہ بھی ایک زمانہ محدود تک ہوگی اور پھر بعد اس کے جونوں کے عذاب میں ڈال دے گا اور نہیں چاہے گاکہ اس کے بندے ہمیشہ کاآرام پاویں۔ شاید اس کا یہ سبب ہے کہ روحوں اور پرمیشر میں خالق اور مخلوق کا تعلق نہیں۔ پرمیشر قدیم سے الگ اور روحیں قدیم سے الگ ہیں لہٰذا پرمیشر صرف ایک مجسٹریٹ کی حیثیت سے اُن سے معاملہ کرتا ہے نہ ماں باپ کی طرح اور یہ سچ ہے کہ رحم تعلق سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ ایک ماں بوجہ اس تعلق کے جو اپنے بیٹے سے رکھتی ہے اورجانتی ہے کہ وہ بیٹا اس کے پیٹ سے نکلا ہے اور اس کی چھاتیوں کا دودھ پیا ہے اُس کے لئے ایک رحمت کا دریا ہوتی ہے پس جب کہ رُوحوں اور پرمیشر میں خالق اور مخلوق کا تعلق ہی نہیں اور اس کے ہاتھ سے رُوح پیدا ہی نہیں ہوئی تو اس کی بلا سے اگر وہ ہمیشہ کے عذاب سے مریں تو بیشک مریں کونسا درمیان تعلق ہے جس کی وجہ سے اُس کا رحم جوش مارے؟ مگر قرآن شریف میں جو خدا نے یہ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے بندو مجھ سے نو میدمت ہومیں رحیم و کریم اور ستارو غفار ہوں اور سب سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہوں اور اِس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرے گا جو میں کرتا ہوں۔ اپنے باپوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ درحقیقت میں محبت میں اُن سے زیادہ ہوں اگر تم میری طرف آؤ تو میں سارے گناہ بخش دُوں گا اور اگر تم توبہ کرو تومیں قبول کروں گا۔ اور اگر تم میری طرف آہستہ قدم سے بھی آؤ تو میں دوڑکر آؤں گا۔ جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے گا وہ میرے دروازہ کو کھلا پائے گا میں تو بہ کرنے والے کے گنہ بخشتا ہوں خواہ پہاڑوں سے زیادہ گنہ ہوں میرا رحم تم پر بہت زیادہ ہے اورغضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو میں نے تمہیں پیدا کیا اِس لئے میرا رحم تم سب پر محیط ہے۔

    یہ ہے خلاصہ قرآن شریف کی تعلیم کا۔اور یاد رہے کہ درحقیقت رحم تعلق سے ہی پیدا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 57

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 57

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/57/mode/1up


    ہوتاؔ ہے اور جب کہ یہ بات ہے کہ کہیں کا پرمیشر اورکہیں کی رُوحیں نہ تعلق نہ واسطہ نہ جوڑنہ رشتہ نہ اُس کے پیدا کردہ بندے۔ تا بباعث اس تعلق کے محبت اور رحم جوش مارے اور یاد آوے کہ آخر یہ بیچارے میرے پیدا کردہ ہیں تو پھر پرمیشر اُن پر کیوں رحم کرے وہ لگتے کیا ہیں۔

    خیال کرنا چاہیئے کہ اس سختی اور غضب کی بھی کوئی حد ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے اس دُنیا کو کروڑہا برس گذر گئے مگر اب تک پرمیشر نے حیوانات اور کیڑوں کو انسان بنانے میں کوئی قابل قدر کارروائی نہیں کی۔ تمام سطح زمین کا حیوانات اور کیڑوں مکوڑوں سے بھرا ہوا ہے اور پھر جب دیکھو کہ اُن کے مقابل پرانسان کتنے ہیں تو اتنے بھی معلوم نہیں ہوتے کہ جیسے سمندر میں سے ایک قطرہ بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانوں کی توالد تناسل بھی بہت ہی کم ہے اس کے مقابل پر ایک رات میں اس قدر نئے کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں کہ ایک لاکھ برس میں اس قدر انسان پیدا نہیں ہوسکتے۔ نہ معلوم پرمیشر کو کہاں کا انسان سے یہ بغض ہے کہ اُس کے بارے میں نہایت سخت قواعد رکھے ہیں اور انجام کار جو مکتی دی جاتی

    ہے وہ بھی دراصل ماتم کی جگہ ہے۔ خیر یہ تو پرمیشر کا حکم معلوم ہی ہوچکا ہے مگر ایک اور بے انصافی یہ ہے کہ پرمیشر سب کو ایک ہی مقررہ مدت گذرنے کے بعد مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے لیکن جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں باہر نکالنے کے وقت بھی نا انصافی سے کام لیتا ہے اور باوجود اختلاف اعمال کے جو اختلاف زمانہ اجر کا موجب ہونا چاہیئے تھا سب کو ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں مکتی خانہ سے باہر دفع کرتا ہے اور پھر بے انصافی یہ کہ گناہ تو صرف اسی قدر ہیں جو وید میں لکھے گئے ہیں مگر ان معدود اور محدود گناہوں کے عوض میں جو وید کے ایک ورق پر آسکتے ہیں تمام سطح زمین کا کروڑہا جانوروں اور بے شمار کیڑوں مکوڑوں سے بھر رکھا ہے اور وید کی تعلیم تناسخ یعنی جونوں کے متعلق یہ ہے کہ ہر ایک گناہ ایک خاص جون کو چاہتا ہے۔ کیونکہ پرمیشر تو گناہوں کی سزا میں اپنے ارادہ کا کچھ دخل ہی نہیں دیتا اور ہر ایک گنہگار



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 58

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 58

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/58/mode/1up


    جو اؔ پنے گنہ کی وجہ سے کسی خاص جون کو چاہتا ہے وہی جون پرمیشر اُس کو دے دیتا ہے۔ پس اس صورت میں لازم آتا ہے کہ سطح زمین پر جس قدر پرند چرند درند خزند اور کیڑے مکوڑے ہیں اُسی قدر انسان کے گناہ بھی ہوں مگر وید نے کوئی اس قدر لمبی چوڑی فہرست گناہوں کی پیش نہیں کی اور عقل سلیم تو خود اس خیال کو سراسر لغو اور بیہودہ اورخلاف واقعہ سمجھتی ہے۔ پس یہ وید ودیا کے نمونے ہیں جو ہم ظاہر کرتے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی جگہ یہ ہے کہ پرمیشر باوجود مالک کہلانے کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اپنے زور بازو سے کوئی نجات پاوے تو پاوے ورنہ آریوں کو پرمیشر کے فضل اور رحم سے ہاتھ دھو لینا چاہیئے۔ ہم پرمیشر کی اس خصلت سے جس قدر تعجب میں ہیں کسی دوسری خصلت سے ہمیں تعجب نہیں یعنی جب کہ وہ جانتا ہے کہ انسانی فطرت کمزور ہے اور انسانی فطرت اُسی کی ایک کل بنائی ہوئی ہے اور اس کل کے تمام پرزے پرچے اُسی کی طرف سے ہیں تو اس قدر سخت دلی اُس کے تقدس کے برخلاف کیوں ہے۔ اگر وہ ایسا کمزور تھا کہ نہ تو گناہ بخش سکے نہ رُوحوں کو پیدا کرسکے نہ جاودانی مکتی دے سکے تو کیوں اس نے یہ نازک کام خدائی کا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ کیا ایسا پرمیشر جو نیک اخلاق سے کچھ بھی حصہ نہیں رکھتا اور بات بات میں اس کا غضب اور کینہ ظاہر ہے برداشت تو ذرہ نہیں پھر کیونکر اُس کو کینہ اور غضب سے مبرّا سمجھ سکتے ہیں کیا غضب کرنے والوں اورکینہ وروں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں اور اگر وہ توبہ کرنیوالوں اور عجز و نیاز سے اس کی راہ میں گداز ہونیوالوں اور آتش محبت میں بھسم ہونے والوں کے گنہ بخش نہیں سکتا اورخواہ انسان تضرّع کرتا کرتا موت تک پہنچ جائے اس کا دل نرم ہی نہیں ہوتا اور بدلہ لینے سے باز نہیں آتا تو اگر اُس کو غضب کرنیوالا اورکینہ ور نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے اور اگر وہ دائمی مکتی باوجود قدرت کے اُن بندوں کو نہیں دے سکتا جن کا ایمان چند روزہ نہ تھا بلکہ ہمیشہ کے لئے تھا تو کیا اس کے حق میں یہ کہنا بے جا ہوگا کہ وہ حاسدوں کی طرح اپنے صادق پرستاروں کا آرام نہیں چاہتا کیا بار بار پاس کرکے پھر فیل کرنا اور عزت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 59

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 59

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/59/mode/1up


    دےؔ کر پھر بے گناہ ذلیل کرنا اور رحم اور کرم سے معاملہ نہ کرنا کیا اس شخص کی عادت ہوسکتی ہے جس کی طبیعت غضب اور حسد اور کینہ اور بُغض سے خالی ہے جب کہ مکتی پانے والے لوگ اپنے زور بازو سے مکتی حاصل کرتے ہیں نہ پرمیشر کی کسی مروّت اور احسان سے تو کیا روا تھا کہ ان کو مکتی خانہ سے باہر نکالا جاوے اور کون کہتا ہے کہ اُن کے محدود اعمال ہیں بلکہ موت تو ایک عارضہ تھا کہ پرمیشر کی طرف سے ان کو لاحق ہوگیا ورنہ ان کا ارادہ غیر محدود اعمال کا تھا۔ پس چاہیے تھا کہ پرمیشر اُن کی نیت کے موافق ان کے ساتھ عمل کرتا نہ کہ وہ وجہ پیش کرتا جوکہ خود اس کے اپنے فعل سے پیدا ہوئی ہے نہ اُن کی نیت اور اختیار سے۔ افسوس وید نے ایک ایسا حلیہ پرمیشر کا دکھلایا ہے کہ گویا ہر ایک عیب اور غضب اور کینہ وری اور بے رحمی میں اس کی کوئی نظیر نہیں نہ قدرت کامل نہ رحم نہ اخلاق نہ اپنے وجود کا پتہ دے سکا کہ میں موجود ہوں کیونکہ اس کے وجود کا پتہ یا تواس کی خالقیت سے ملتا تا مصنوع کو دیکھ کر صانع کو شناخت کیا جاتا مگر بموجب تعلیم وید کے وہ ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کنندہ نہیں اور یا اُس کے وجود کا پتہ اس کے تازہ نشانوں اور معجزات سے ملتا سو وہ نشانوں کے دکھلانے پر قادر نہیں۔ پس درحقیقت آریوں کا ایسے پرمیشر پر احسان ہے کہ باوجود یکہ اُس نے کوئی ثبوت اپنی ہستی کا نہیں دیا پھر بھی اُس کو مانتے ہیں۔

    ہم آریہ صاحبوں کو اس بات کی طرف نہایت تاکید سے توجہ دلاتے ہیں کہ وہ صرف بیہودہ گو پنڈتوں کی باتوں پر اعتماد کرکے کسی ودّیا کو وید کی طرف منسوب نہ کریں موجودہ وید میں کوئی ودّیا نہیں نہ دین کی نہ دُنیا کی۔ جس وید نے خدا کے وجود پر ہی کوئی دلیل قائم نہیں کی اور پہلا قدم ہی اُس کاغلط نکلا اس کے دوسرے علوم و فنون تلاش کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ بموجب تعلیم وید کے پرمیشر روحوں اور ان کی طاقتوں کا پیدا کرنے والا نہیں اور ایسا ہی ذرات اور اُن کی طاقتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو پھر کیونکر شناخت کیا جائے کہ پرمیشرموجود بھی ہے اور یہ کہنا کہ پرمیشر روحوں اور جسموں کو باہم ملاتا ہے یہ قول کوئی دلیل نہیں جو روحیں اور ذرات خود بخود ہیں وہ خود بخود مل بھی سکتے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 60

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 60

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/60/mode/1up


    اور ؔ پھر جس وید نے یہ خیال اپنا ظاہر کیاکہ سطح زمین کے تمام حیوانات اور آسمان کی فضا اور زمین کے اندر کے جانور اور تمام برّی بحری پر ند چرند خزنداور پانی کے کیڑے جو سمندر اور دریاؤں کے ہر ایک قطرہ میں ہزارہا ہیں یہ سب آدمی ہیں اس وید کو حق اور حکمت سے کیا تعلق ہے کیونکہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ ان جانوروں کا کروڑم حصہ بھی کسی وقت آدمی بن کر اس زمین پر آباد ہوگا تب بھی ایسا فرض کرنا سراسر محال اور بالکل محال ہے بلکہ اگر زمین پر سے تمام سمندر اور تمام دریا اُٹھ جائیں اور تمام پہاڑ زمین سے ہموار ہو جاویں اور تمام زمین ایک صاف میدان آبادی کے لائق ہو جاوے تب بھی اگرکروڑم حصہ زمین کے جانداروں اور کیڑوں مکوڑوں کا انسان بن جائے اور ان کو زمین پر آباد کرنا چاہیں اور زمین بھی اندازہ موجودہ سے د۱۰ہ چند سے زیادہ ہو جائے پھر بھی اُن جانداروں کی بصورت آدمی بن جانے کے زمین پر گنجائش نہیں ہوسکتی۔ ہر ایک شخص جو ایک گروہ مہمانوں کا کسی گھر میں بلانا چاہتا ہے تو اوّل وہ دیکھ لیتا ہے کہ وہ گھر اُن کے لئے گنجائش بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ پس

    اگر پرمیشر کا فی الحقیقت یہ ارادہ تھا کہ ان تمام جانداروں کو انسان بناکر زمین پر آباد کرے تو اس ارادہ کے مطابق زمین کو اس قدر فراخ بنانا چاہیئے تھا جس میں ان تمام انسانوں کی گنجائش ہوسکتی جو کیڑوں مکوڑوں کی جونوں سے انسان کے جون میں آنے والے تھے اور صاف ظاہر ہے کہ پرمیشر کااس قدر چھوٹی زمین بنانا کہ جس میں ایک کوئیں کے کیڑے بھی اگر آدمی بنائے جائیں سما نہیں سکتے۔ اُس کا یہ فعل اس کے اِس ارادہ پر دلالت کر رہا ہے کہ اُس کا منشاء ہی نہیں کہ یہ تمام کیڑے مکوڑے آدمی بن جائیں۔ ہاں اگر یہ کہو کہ پرمیشر سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ صحیح اندازہ زمین اور تمام جانداروں کا نہیں کرسکا تو ایسے جواب سے نہ وید نہ وید کا پرمیشر اور نہ وید کا مذہب قائم رہ سکتا ہے۔

    ایک اور وید ودّیا کا نمونہ ہم پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے زمین کی آبادی صرف ایک رُبع مسکون ہے جو نہایت قلیل



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 61

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 61

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/61/mode/1up


    آبادؔ ی ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ وہ لوگ جو ایک مقررہ مدّت کے بعد مکتی خانہ سے نکالے جاتے ہیں اور شمار میں زمین سے ہزارہا حصہ زیادہ ہوتے ہیں اُن کی اس زمین پرکیونکر گنجائش ہوسکتی ہے کیونکہ جو لوگ مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں وہ صرف ایک صدی کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ بموجب اصول قرار دادہ آریہ صاحبوں کے کروڑہا صدیوں کے آدمی ہوتے ہیں۔ پس وہ زمین جس کی سطح پر صرف ایک صدی کے آدمی بمشکل آباد ہیں اس پر کروڑہا صدیوں کے آدمی کیونکر سما سکتے ہیں۔ کیا کوئی آریہ صاحب وید کے اِس عجیب و غریب فلسفہ سے ہمیں اطلاع دے سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ اعتراض اسلام کے عقیدہ پر نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام کے عقیدہ کے رُو سے پہلے آدمی اور پچھلے آدمی زمین پر کبھی جمع نہیں کئے گئے مگر وید کی رُو سے تو تمام پہلی پچھلی روحیں مکتی خانہ سے باہر نکالی جاتی ہیں اور پھر وہ تمام رُوحیں زمین پر طرح طرح کے حیوانوں کی شکل میں آجاتی ہیں۔ اب جب وہ تمام جاندار جو وقتاً فوقتاً زمین پر سے کوچ کر گئے تھے ایک ہی وقت میں زمین پر جمع ہوتے ہیں تو کوئی ہمیں سمجھائے کہ کیونکر اس زمین پر ان کی گنجائش ہوسکتی ہے* اور پھر تمام مکتی پانے والوں کا ایک ہی وقت میں مکتی خانہ سے باہر نکالنا ایک عجیب بات ہے جو سمجھ نہیں آتی کیونکہ جب مکتی پانے والے مختلف زمانوں میں زمین سے انتقال کرکے مکتی خانہ میں داخل کئے جاتے ہیں تو چونکہ مکتی کا زمانہ محدود ہے اس لئے یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ ان مختلف زمانوں کے لوگوں کو ایک ہی دفعہ مکتی خانہ سے باہر نکالنا بے انصافی ہوگی۔ بلکہ یہ لازم آتا ہے کہ جیل کے قیدیوں کی طرح جس مکتی یافتہ کی میعاد پوری ہو جائے اور وہ اِس لائق ٹھہرے کہ مکتی خانہ سے باہر نکال دیا جاوے اُس کو فی الفور نکال دیا جاوے اور وہ دوسرا جس کی ابھی میعاد پوری نہیں ہوئی اس کو میعاد کے پورے ہونے تک مکتی خانہ میں رکھا جائے۔ غرض


    *حاشیہ۔ اسلام میں جو حشر اجساد کی نسبت خبر دی گئی ہے یعنی یہ کہ قبروں میں سے مُردے جی اٹھیں گے ساتھ ہی یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اُس دن زمین اس قدر پھیلائی جائے گی کہ جو کروڑ ہا درجہ اس زمین سے بڑھ کر ہوگی۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 62

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 62

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/62/mode/1up


    وید ودّیا کے نمونے یہ ہیں جو ہم نے بیان کئے ہیں۔ اور اگر کوئی آریہ صاحب اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے زیادہ کے مشتاق ہوں گے تو ہم اور بھی لکھیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔

    آریوں کی حالت پر بڑا افسوس ہے کہ وہ محض اپنی نادانی اور تعصب کی وجہ سے قرآن شریف پر جو سرچشمۂ معارف اور حقائق ہے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے وید کی خبر نہیں لیتے کہ کس تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس کی باتیں ایسی خلاف عقل اور بیہودہ ہیں جو یقیناًاس سے بڑھ کر کسی قوم کی کتاب میں ایسی باتیں نہیں ہوں گی۔ وید نے پرمیشر کو سراسر غضب اورکینہ وری کا پتلا ٹھہرا دیا ہے جو کسی حالت میں سزا کے ارادہ کو نہیں چھوڑتا لیکن قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس طور سے بیان نہیں کیا جو وید بیان کرتا ہے بلکہ وہ غضب ایک رُوحانی فلسفہ اپنے اندر رکھتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سزا دہی کی کیفیت کے بارہ میں ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی دوزخ کیا چیز ہے دوزخ وہ آگ ہے جو دِلوں پر بھڑکائی جاتی ہے۔ یعنی انسان جب فاسد خیال اپنے دل میں پیدا کرتا ہے اور وہ ایسا خیال ہوتا ہے کہ جس کمال کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہوتا ہے۔ تو جیسا کہ ایک بھوکا یا پیاسا بوجہ نہ ملنے غذا اور پانی کے آخر مر جاتا ہے۔ ایسا ہی وہ شخص بھی جو فساد میں مشغول رہا اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کی غذا اور پانی کو نہ پایا وہ بھی مر جاتا ہے۔ پس بموجب تعلیم قرآن شریف کے بندہ ہلاکت کا سامان اپنے لئے آپ تیار کرتا ہے خدا اُس پر کوئی جبر نہیں کرتا اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی اپنے حجرہ کے تمام دروازے بند کردے اور روشنی داخل ہونے کے لئے کوئی کھڑکی کھلی نہ رکھے تو اس میں شک نہیں کہ اس کے حجرہ کے اندر اندھیرا ہو جائے گا۔ سو کھڑکیوں کا بند کرنا تو اُس شخص کا فعل ہے مگر اندھیرا کر دینا یہ خدا تعالیٰ کا فعل اُس کے قانون قدرت کے موافق ہے۔ پس اِسی طرح جب کوئی شخص خرابی اور گناہ کا کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے قانون قدرت کی رُو سے اُس کے اِس فعل کے بعد کوئی اپنا فعل ظاہر کر دیتا ہے جو اس کی سزا ہو جاتا ہے لیکن باایں ہمہ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا مثلاً جب ایک شخص نے اپنے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 63

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 63

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/63/mode/1up


    ایسے ؔ حجرہ کی کھڑکی کھول دی جس کو اُس نے بند کردیا تھا تو معًاخدا تعالیٰ اُس گھر میں روشنی داخل کرے گا۔ پس قرآن شریف کی رُو سے خدا کے غضب کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ انسان کی طرح اپنی حالت میں ایک مکروہ تغیر پیدا کرکے خشمناک ہو جاتا ہے کیونکہ انسان توغضب کے وقت میں ایک رنج میں پڑجاتا ہے اور اپنی حالت میں ایک دُکھ محسوس کرتا ہے اور اس کا سرور جاتا رہتا ہے مگر خدا ہمیشہ سرور میں ہے اُس کی ذات پر کوئی رنج نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے غضب کے یہ معنی ہیں کہ وہ چونکہ پاک اور قدوس ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے بندے ہوکر ناپاکی کی راہیں اختیار کریں اور تقاضا فرماتا ہے کہ ناپاکی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاوے پس جو شخص ناپاکی پر اصرار کرتا ہے آخر کار وہ خدا ئے قدوس اپنے فیض کو جو مدار حیات اور راحت اور آرام ہے اس سے منقطع کر لیتا ہے اور یہی حالت اُس نافرمان کے لئے موجب عذاب ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک باغ ہے جو ایک نہر کے پانی سے سرسبز اور شاداب ہوتا تھا اور جب باغ والوں نے نہر کے مالک کی اطاعت چھوڑ دی تو مالک نہر نے اس باغ کو اپنے نہر کے پانی سے محروم کردیا اور بند لگا دیا تب باغ خشک ہوگیا۔

    اب واضح ہو کہ ضرورت الہام کو بیان کرنا اُس قوم کاکام نہیں ہے جو الہام کو کسی گذشتہ زمانہ تک محدود سمجھ بیٹھی ہے۔ کیونکہ جو چیز واقعی طور پر ضروری ہے اُس کی ہمیشہ اور ہر وقت ہمیں ضرورت ہے۔ اور اگر کہیں کہ پہلے زمانوں میں الہام کی ضرورت تھی اور اب نہیں ہے تو گویا ہم خود ضرورت الہام کے منکر ہیں۔ مثلاً ہمیں زندگی کے لئے سانس لینے کی ضرورت ہے پس نہیں کہہ سکتے کہ کل وہ ضرورت تھی مگر آج نہیں ہے اور آج ہم کسی دوسرے کو سانس لیتے دیکھ کر جی سکیں گے۔ بلکہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو خدا کو نزدیک کرکے ہمیں دکھلا دیتا ہے اور ہمارا رشتہ خدا سے محکم کر دیتا ہے اور ہم جیسے پہلے آسمان سے آئے تھے الہام دوبارہ ہمیں آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔

    اب جاننا چاہیئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے ایک لِمّی ،اور لِمّی دلیل اُس کو کہتے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 64

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 64

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/64/mode/1up


    ہیںؔ کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگالیں جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دُھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا۔ اور دوسری دلیل کی قسم اِنّی ہے اور اِنّی اُس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں جیسا کہ ہم نے ایک شخص کو شدید تَپ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں تیز صفر ا موجود ہے جس سے تَپ چڑھ گیا۔ سو اس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔

    سو پہلے ہم لِمّی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اوروہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور رُوحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ خداوند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگادی ہیں ان کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیا کئے ہیں چنانچہ انسان کا جسم بباعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا سو اس کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان بباعث پیاس کے پانی کا محتاج تھا سو اس کے لئے کوئیں اورچشمے اور نہریں پیدا کردئیے ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا سو اس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دُوسری اقسام کی روشنی پیدا کردی ہے۔ اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ سانس لے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کو سن سکے ہوا کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے ہوا پیدا کردی ہے۔ ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا سوخدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کردیا ہے غرض خدا تعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگادی ہیں اُن کے لئے تمام سامان بھی پیدا کردیا ہے۔ پس اب سوچنا چاہیئے کہ جب کہ انسانی جسم کو باوجود اس کے فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے تو انسان کی رُوح کو جو دائمی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دئیے گئے ہوں گے۔ سو وہی سامان خدا کی وحی ہے اور اُس کے تازہ نشان ہیں جو ناقص العلم انسان کو یقینِ تام تک پہنچاتے ہیں۔ خدا نے جیسا کہ جسم کو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 65

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 65

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/65/mode/1up


    اسؔ کی خواہشوں کا سامان دیا ایسا ہی رُوح کو بھی اُس کی خواہشوں کا سامان دیا تا جسمانی اور رُوحانی نظام دونوں باہم مطابق ہوں۔

    جن کو رُوحانی حِسدی گئی ہے وہ اِس بات کومحسوس کرتے ہیں کہ رُوح اپنی تکمیل کے لئے ایک روحانی غذا اور پانی کی محتاج ہے جس سے روحانی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔ رُوحانی زندگی کیا چیز ہے؟ وہ اپنے محبوب حقیقی کی محبت اور اُس سے قطع تعلق ہو جانے کا خوف ہے اور محبت سے مُراد وہ حالت ہے کہ بکلی دِل اُسی کی طرف کھینچا جائے اور اُس کے مقابل پر کوئی دُوسرا باقی نہ رہے۔ اور روحانی خوف سے یہ مراد ہے کہ قطع تعلق کے اندیشہ سے گناہ کا مادہ جل جائے اورروح میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جائے اور دنیا میں کوئی ایسی انسانی رُوح نہیں جو روحانی زندگی کی طالب نہیں۔ ہاں جو لوگ محض دنیا کے کیڑے ہیں ان کی رُوح کی بصارت قریباً مردار پڑجاتی ہے اوروہ خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے اورصرف دُنیا کو اپنی اصلی غرض سمجھنے لگتے ہیں مگر تاہم کسی خوفناک نظارہ کے وقت جیسا کہ سخت زلزلہ یا کسی خطرناک بیماری کی وجہ سے ایک بجلی کی طرح اُس مالک حقیقی کی ہیبت کی چمک اُن کے سامنے بھی آجاتی ہے اور غافل ہو جاتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ فقط یہ کہنا کہ جس خدا نے جسم کی حاجتوں کے موافق اس کو سامان دئے ہیں ایسا ہی رُوح کو اس کی حاجتوں کے موافق سامان دئیے ہوں گے جیسا کہ مضمون پڑھنے والے آریہ نے بیان کیا یہ وجود الہام پر کامل دلیل نہیں ہے کیونکہ مخالف کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ انسان کو ایک چیز کی ضرورت تو ہو مگر وہ چیز اُس کو حاصل نہ ہو۔ پس سچ تو یہ ہے کہ یہ دلیل جو لمّیہے پوری نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ساتھ انّی دلیل نہ ہو یعنی جب تک تازہ نمونہ الہام کا نہ دیکھا جائے بلا شبہ ضرورت کا محسوس کرنا اور چیز ہے اور پھر اس ضرور ت کو حاصل بھی کر لینا یہ اور امر ہے پس آریوں کے مضمون پڑھنے والے نے جو ضرورت الہام کے لئے صرف یہ چند فقرے بیان کئے کہ جس طرح خدا انسان کی جسمانی خواہشوں کو پورا کرتا ہے مثلاً



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 66

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 66

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/66/mode/1up


    پیاسؔ کے وقت پانی عطا کرتاہے اور بھوک کے وقت طرح طرح کی غذائیں عنایت کرتا ہے اِسی طرح خدا روحانی خواہشوں کا بھی پورا کرنے والا ہے اور وہ الہام ہے یہ کامل دلیل نہیں ہے اور اگر یہ کامل ہے تو تم جسمانی اور روحانی قانون قدرت ہمیں مطابق کرکے دکھاؤ جن کے واقعات میں ایک ذرہ تفاوت نہ ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ اس زمانہ میں تمہارے جسم کے لئے غذا اور پانی دونوں موجود ہیں یہ نہیں کہ فقط کسی پہلے زمانہ میں تھیں اور اب نہیں ہیں مگر جب الہام اوروحی کا ذکر آتا ہے تو پھر تم کسی ایسے پہلے زمانہ کا حوالہ دیتے ہو جس پر کروڑہا برس گذر چکے ہیں مگر موجود کچھ نہیں دکھلا سکتے۔ پھر خدا کا جسمانی اور رُوحانی قانون قدرت باہم مطابق کیونکر ہوا۔ ذرا ٹھہر کر سوچو یونہی جلدی سے جواب مت دو۔ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ جسمانی خواہشوں کے سامان تو تمہار ے ہاتھوں میں موجود ہیں مگر رُوحانی خواہشوں کے سامان تمہارے ہاتھوں میں موجود نہیں بلکہ صرف قصے تمہارے ہاتھوں میں ہیں جو بودے اور باسی ہوچکے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ اس زمانہ تک تمہارے جسمانی چشمے بند نہیں ہوئے جن کا تم پانی پی کر پیاس کی جلن اور سوزش کو دُور کرتے ہو اور نہ جسمانی کھیتوں کی زمین ناقابلِ زراعت ہوگئی ہے جن کے اناج سے تم دو وقت پیٹ بھرتے ہو۔ مگر وہ روحانی چشمے اب کہاں ہیں جو الہام الٰہی کا تازہ پانی پلاکر پیاس کی سوزش کو دور کرتے تھے اور اب وہ رُوحانی اناج بھی تمہارے پاس نہیں ہے جس کو کھاکر تمہاری روح زندہ رہ سکتی تھی۔ اب تم گویا ایک جنگل میں ہو جس میں نہ اناج ہے نہ پانی ہے۔ تم سوچ کر دیکھ لو کہ کیا صرف اناج کے نام سے تمہارا پیٹ بھر سکتا ہے یا صرف پانی کے خیال سے تمہاری پیاس کی سوزش دور ہوسکتی ہے ہم نے قبول کیا کہ تمہارے رشی روحانی اناج کھاتے تھے اور روحانی پانی پیتے تھے۔ مگر تم تو اس سے محروم ہو اور اب تو تمہاری وہ مثال ہے کہ کسی نے کسی شخص سے پوچھا تھا کہ کیا تو نے کبھی کنک کی روٹی کھائی ہے تو اُس نے جواب دیا کہ میں نے تو کبھی نہیں کھائی مگر میرے دادا صاحب بات کیا کرتے تھے کہ انہوں نے ایک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 67

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 67

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/67/mode/1up


    صؔ کو کھاتے دیکھا تھا۔

    اے غافلو تمہیں ان قصوں سے کیا فائدہ کہ وید کے رشیوں کو الہام ہوتا تھا اب تمہارے لئے وہ سب قصے ہیں اور تمہاری یہ حماقت ہے کہ ضرورت الہام کے مطالبہ کے وقت صرف قصے پیش کر دیتے ہو۔ یاد رکھو کہ الہام کا ثبوت طلب کرنے کے وقت صرف یہ بات پیش کرنا کہ ویدوں کے رشیوں کو الہام ہوتا تھا یہ الہام کے وجود کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک دوسرا دعویٰ ہے۔ کسی کو کیا خبر کہ اُن کو الہام ہوتا تھا یا نہ ہوتا تھا۔ صاحبو ! جو کچھ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اُس کے سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ عقل کی ضرورت نہیں بلکہ میں آپ کی بات سے ہی آپ کو ملزم کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کا یہ اصول ہے کہ الہام چاروں ویدوں سے ہی خاص تھا اور بقول آپ کے الہام کا زمانہ آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے آپ لوگ خدا تعالیٰ کے مقدس نبیوں کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ مگر اب آپ اپنے اس اصول کی پروا نہ رکھ کر بقول شخصے کہ دروغ گو را حافظہ نبا شد خدا کے روحانی انتظام کو جسمانی انتظام کے مطابق قرار دیتے ہیں اورہم قبول کرتے ہیں کہ یہ آپ کا قول سچ ہے کیونکہ قانون قدرت تطابق ہی چاہتا ہے مگر کیا یہ سچ ہے کہ جیسا کہ یہ تمہاری جسمانی خواہشیں بھوک اور پیاس کی جو تمہیں ہر روز لگتی ہیں موجودہ اناج اور پانی سے پوری کی جاتی ہیں ایسا ہی رُوحانی خواہشیں بھی رُوحانی موجودہ غذا اور پانی سے پوری ہو رہی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ آپ لوگ خدا کے الہام کو ہر گزثابت نہیں کرسکتے جسمانی حاجتوں کے وقت تو ہمیں آپ پانی اور اناج دکھا دیتے ہیں مگر رُوحانی حاجتوں کے وقت آپ صرف قصے پیش کرتے ہیں کیا صرف قصوں کو کوئی کھاوے یا پیوے۔ مگر ہم صرف قصیّ پیش نہیں کرتے بلکہ آپ کو تازہ بتازہ الہام دکھلا دیتے ہیں۔ وہ خدا کا الہام ہی تھا جس نے لیکھرام کے قتل ہونے کی پانچ برس پہلے خبردی تھی اوروہ خدا کا الہام ہی تھا جس نے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 68

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 68

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/68/mode/1up


    نؔ شریر آریوں کی نسبت جو قادیان کے آریہ اخبار شبھ چنتک کے ایڈیٹر اور منتظم تھے اور سخت بدگوتھے خبر دی تھی کہ وہ طاعون سے ہلاک ہوں گے۔ چنانچہ وہ اس پیشگوئی سے دوسرے یا تیسرے دن طاعون سے ہی مرے۔ آپ کے پرمیشر کو کیا چیز سمجھیں وہ تو صرف قصوں سے طفل تسلی دیتا ہے مگر ہمارے خدا نے خود ہمیں الہام سے مشرف کردیا۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے وید کی تائید میں یہ سنایا کہ الہام آدسرشٹی یعنی ابتدائے زمانہ آفرینش سے ہونا چاہیئے مگر اس بات پر دلیل نہیں بیان کی کہ کیوں ابتدائے آفرینش سے ہونا چاہیئے اور کیوں بعد اس کے الہام نازل کرنا حرام ہے۔ پس واضح ہوکہ یہ بات ضروری ہے اور ہم مانتے ہیں کہ دُنیا کی ابتدا میں انسان کو خدا سے الہام پانے کی ضرورت ہے مگر ہم یہ نہیں مانتے کہ وہ ضرورت صرف ابتدائے زمانہ میں پیش آتی ہے اور بعد اس کے کبھی پیش نہیں آتی۔ ابتدائے زمانہ میں خدا کے الہام کی طرف صرف اس لئے انسان محتاج ہے کہ وہ محض بے خبری کی حالت میں پیدا ہوتا ہے اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور اعمال صالح کن اعمال کو کہتے ہیں مگر یہ بے خبری کچھ ابتدائے زمانہ پر موقوف نہیں بلکہ انسان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہے کہ گو اس کے باپ دادے راہِ راست سے بے خبر نہ تھے اور ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بجا لاتے تھے مگر انسان ایک مدت درازگذرنے کے بعد اُن کے طریق کو بھول جاتا ہے اور اُن کے مخالف طریق اختیار کرتا ہے اور بسا اوقات و ہ کتاب محرّف و مبدّل ہو جاتی ہے جس سے پہلے لوگ ہدایت پاتے تھے اور بعض اوقات پیچھے آنے والے لوگوں کو اُن کے معنی سمجھنے میں غلطیاں پیدا ہوجاتی ہیں جیسا کہ یہی غلطیاں وید کے پڑھنے والوں کو پیش آئیں کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وید مخلوق پرستی سکھاتا ہے اِسی وجہ سے تمام ہندو مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں۔ اور تمام آریہ ورت بُت پرستی اور آتش پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی اور آب پرستی اور انسان پرستی سے بھرا ہوا ہے بلکہ دُنیا میں کوئی مخلوق پرستی کی قسم نہیں جو ہندوؤں نے اختیار نہیں کر رکھی۔ یہاں تک کہ بعض درختوں کی بھی پوجا ہوتی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 69

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 69

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/69/mode/1up


    ہےؔ اور بعض ہندو سانپوں کی بھی پرستش کرتے ہیں۔ اور ایک قسم کی نہایت گندی پوجا بھی کرتے ہیں جس کو لِنگ پوجا کہتے ہیں اور کالیستھ قوم کے پڑھے لکھے ہندو قلم کی پوجا کرتے ہیں ایسا ہی اور کئی قسم کی پوجا ہیں جو اس قوم میں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ہندوؤں نے بہت سے دیوتا بھی بنا رکھے ہیں کہ شایدتینتیسکروڑ یا اس سے بھی زیادہ ہیں ان سب کی پوجا ہوتی ہے اور اس میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے پنڈت اور عالم فاضل ہندو مذہب کے قریباً سب کے سب مخلوق پرست ہیں۔ یہ تو وہ اعمال ہیں جن میں خدا کا حق مخلوق کو دیا گیا ہے۔ ماسوا اس کے ہندوؤں میں قومی تفریق اس قدر ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نہایت تحقیر سے دیکھتی ہے برادرانہ ہمدردی کا نام و نشان نہیں۔ ایک ہندو دوسرے ہندو کو بغیر سُود کے قرضہ نہیں دے سکتا اور باہمی اختلاط کا یہ حال ہے کہ ایک ہندو دوسرے ہندو ادنیٰ قوم کو کُتے کی طرح سمجھتا ہے۔ کیا مجال کہ اُس کا پس خوردہ کھا سکے بلکہ کتوں کے پس خوردہ میں بھی کچھ مضائقہ نہیں دیکھتے۔ اور جو ادنیٰ ذات کے ہندو ہیں جیسے حجام۔ نجار۔ زرگر وغیرہ وہ نہایت ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ اور شاستروں کے رُو سے اگر وہ برہمن کا مقابلہ کریں تو ان کی جان کی خیر نہیں۔ اور اگر مقابلہ کے وقت کچھ بولیں تو اُن کی زبان کاٹ دی جاوے۔ اور اگر برابری کریں تو جان سے مارے جائیں اور برہمنوں کو وہ حق دئیے گئے ہیں کہ دوسری قوموں کو وہ حق حاصل نہیں ہیں یہاں تک کہ نیوگ کے بیرج داتا بھی برہمن ہی قرار دئیے جاتے ہیں۔ یہ حکم ہے کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو تو وہ اپنی عورت کو برہمن سے ہمبستر کراوے۔ اور وید کا پڑھنا پڑھانا بھی برہمنوں سے خاص ہے اگر دوسری قومیں وید کو پڑھیں تو اُن کے لئے سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تا وید برہمنوں کے ہی ہاتھ میں رہے اوروہ جو کچھ چاہیں بیان کردیا کریں اور دوسرے لوگ اُن کی چالاکیوں پر اطلاع نہ پاویں بلکہ وہ سب ان کے دست نگر رہیں۔

    پس وید کے اِس نمونہ سے ظاہرہے کہ ایک مدت گذرنے کے بعد کس قدر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 70

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 70

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/70/mode/1up


    اؔ بوں میں تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں اور کس قدر خرابیاں ظہور میں آجاتی ہیں۔ پس سچ تو یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جب کہ انسانی نفوس سادہ اور شر سے خالی ہوتے ہیں ایسی سخت ضرورت الہامی کتاب کی نہیں ہوتی جیسا کہ اس فاسد زمانہ میں الہامی کتاب کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ دنیا میں حد سے زیادہ بد عقیدگی اور بدچلنی پھیل جاتی ہے اور ہر ایک قسم کے عیب اور بدکاری اور شرک اور ہر ایک قسم کا ظلم اور انواع اقسام کے معاصی اور جرائم اور مخلوق پرستی طبیعت میں جم جاتی ہے اور سینہ میں نقش ہو جاتی ہے اور دل میں گھر کر جاتی ہے اور پھر سچائی سے اس قدر بغض ہو جاتا ہے کہ ایسے مفسد لوگ اپنے واعظ اور ناصح کے جانی دشمن ہو جاتے ہیں اور مرنے مارنے پر طیار ہو جاتے ہیں اور دُکھ دیتے ہیں اور سخت مقابلہ کرتے ہیں۔

    پس ایسے وقت پر جو خدا کا کوئی رسول اصلاح کے لئے آتا ہے تو اس پر بڑی مشکلیں پڑتی ہیں لیکن جو شخص ابتدائے زمانہ میں خدا کا رسول ہوکر آتا ہے اس کا تو صرف یہ کام ہے کہ جیسا کہ ماں بچوں کو پرورش کرتی ہے ایسا ہی وہ بھی ابتدائے پیدائش کے لوگوں کو رُوحانی طور پر بچوں کی طرح پرورش کرتا ہے اور ہنسی خوشی میں اپنی تعلیم اُن کے دلوں میں ڈال دیتا ہے*۔ کیونکہ ابتدائے آفرینش کے وقت دل سادہ ہوتے ہیں


    *حاشیہ۔ جو کتاب ابتدائے آفرنیش کے وقت آئی ہوگی اس کی نسبت عقل قطعی طور پر تجویز کرتی ہے کہ وہ

    کامل کتاب نہیں ہوگی بلکہ وہ صرف اس استاد کی طرح ہوگی جو ابجد خواں بچوں کو تعلیم دیتا ہے صاف ظاہر ہے کہ ایسی ابتدائی تعلیم میں بہت لیاقت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہاں جس زمانہ میں انسانی تجربہ نے ترقی کی اور نیز نوع انسان کئی قسم کی غلطیوں میں پڑ گئی تب باریک تعلیم کی حاجت پڑی ۔ بالخصوص جب گمراہی کی تاریکی دنیا میں بہت پھیل گئی اور انسانی نفوس کئی قسم کی علمی اور عملی ضلالت میں مبتلا ہوگئے تب ایک اعلیٰ اور اکمل تعلیم کی حاجت پڑی اور وہ قرآن شریف ہے۔ لیکن ابتدائے زمانہ کی کتاب کے لئے اعلیٰ درجہ کی تعلیم کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ابھی انسانی نفوس سادہ تھے اور ہنوز ان میں کوئی ظلمت اور ضلالت جاگزیں نہیں ہوئی تھی ۔ ہاں اس کتاب کے لئے اعلیٰ تعلیم کی ضرورت تھی جو انتہائی درجہ کی ضلالت کے وقت ظاہر ہوئی اور ان لوگوں کی اصلاح کیلئے آئی جن کے دلوں میں عقائد فاسدہ راسخ ہو چکے تھے اور اعمال قبیحہ ایک عادت کے حکم میں ہو گئے تھے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 71

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 71

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/71/mode/1up


    اورؔ وہ انواع اقسام کی گمراہی جو رفتہ رفتہ پیچھے سے لاحق حال ہو جاتی ہے اور دلوں پر مَیل کی طرح جم کرجامہ ناپاک کی طرح کردیتی ہے اُس وقت موجود نہیں ہوتی بلکہ دل سفید کپڑے کی طرح ہوتے ہیں مگر بعد میں رفتہ رفتہ طرح طرح کے بُرے کام اور انواع اقسام کے گناہ پیدا ہوجاتے ہیںیہاں تک کہ کثرت گناہوں کے سبب سے لوگ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتے ہیں اور بُری عادتیں اُن کے دلوں میں جم جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ خراب عقیدوں اور خراب عادتوں کو اپنا ایک مذہب بنا لیتے ہیں اور پھر اُن باطل طریقوں کی حمایت کے لئے ان کے دلوں میں تعصّب اور حمیّت پیدا ہو جاتی ہے اور ان بدعقیدوں اور بدرسوم کا چھوڑنا اس لئے بھی اُن پر مشکل ہو جاتا ہے کہ قومی تعلقات اِس سے مانع ہوجاتے ہیں اور باہمی رشتہ ناطہ کی بھاری زنجیریں اس بات سے روکتی ہیں کہ قومی مذہب کو ترک کیاجاوے۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسے وقت میں جو کوئی رسول خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا۔ تا ایسے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کرے تو کس قدر مشکلات کا اُس کو سامنا کرنا پڑے گا اور کس قدر ضروری ہوگا کہ ایسے پُر آشوب اور پُر فساد زمانہ میں خدا تعالیٰ نوعِ انسان پر رحم فرماکر اُن کی اصلاح کے لئے کوئی رسول بھیجے۔ کیا ہم گمان کرسکتے ہیں کہ ابتداءِ آفرینش کے زمانہ میں جب کہ یہ تمام مفاسد اور نہایت گندے عقیدے اور گندے گناہ دنیا میں موجود نہ تھے تب تو خدا تعالیٰ نے نوع انسان پر رحم کرکے کوئی الہامی کتاب اُن کو عنایت فرمائی لیکن جب زمین ناپاکی سے بھر گئی اور وہ پہلی کتاب اصلاح نہ کرسکی بلکہ صدہا بد عقیدے اس کی غلط فہمی سے پیدا ہوگئے اور نیز اُس کی تعلیم سے بہت سے حصے دُنیا کے بے خبر رہے اور انہوں نے بے خبری کی حالت میں جو کچھ عقیدہ اور عمل چاہا اختیار کیا اور ہر ایک بُرے کام سے حصہ لیا۔ ایسے زمانہ میں کوئی الہامی کتاب خدا نے نازل نہ کی اور کیا ہم یہ خیال کرسکتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش کے زمانہ میں تو خدا تعالیٰ کو یہ طاقت اور قدرت حاصل تھی کہ لوگوں کو اپنے احکام پر قائم ہونے کے لئے کوئی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 72

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 72

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/72/mode/1up


    الہاؔ می کتا ب نازل فرماتا۔ مگر بعد میں ایک ایسے زمانہ میں کہ جب ایک طوفان گناہوں کا برپا ہوا یہ طاقت اُس کی مسلوب ہوگئی اور اُس کو قدرت نہ رہی کہ انسانوں کی موجودہ حالت کے موافق اُن کی اصلاح کے لئے کوئی کتاب بھیجتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں تو کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہیں مگر جب کہ زمانہ پُر فساد اور گمراہی غالب آگئی ہو اور بدعقیدگی اور بدکاری کے جذام سے روحانیت کا خون بگڑ گیا ہو تو اس صورت میں الہامی کتاب کی اشد ضرورت پیش آئے گی۔۔۔ لیکن جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں نوع انسان ابتدائے آفرینش میں اصلاح کی ایسی محتاج نہیں جیسا کہ اس زمانہ میں محتاج ہے جس میں ایک طوفان بدعقیدگی اور بدکاری کا برپا ہو خاص کر جب کہ بقول آریوں کے ابتدائے آفرینش میں مکتی پانے کا زمانہ قریب تھا اور بوجہ قرب زمانہ مکتی کے پہلی تمام ہدایتیں اور گیان اور معرفت کی باتیں خوب یاد تھیں اور ابھی دل خراب نہیں ہوئے تھے اور عملی حالت بگڑی نہیں تھی تو ایسے پاک دلوں کو جو ابھی کسی بدعقیدگی اور بدعملی میں مبتلا نہیں ہوئے تھے کسی مصلح اور کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہ تھی اور یہ تو ہم مانتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش میں بھی اُس وقت کے انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی کتاب دی تھی مگر یہ نہیں مانتے کہ وہ کتاب وید ہی ہے اور نہ وید نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے۔ بلکہ رِگ وید جابجا اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ وید سے پہلے کئی راستباز گذر چکے ہیں اور وید میں جابجا ایسی چیزوں کا ذکر ہے جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وید اُس زمانہ کی کتاب ہے جب کہ دنیا ہر ایک نیک و بد سے خوب آباد ہوچکی تھی اور اہل دُنیا کے تمام ضروری اسباب پیدا ہوچکے تھے اور ہم اس دلیل کو بھی نہیں مانتے کہ جو وید کے الہامی ہونے پر اِس طور سے پیش کی جاتی ہے کہ اوّل صرف دعوے کے طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ابتدائے آفرینش میں انسانوں کو دی گئی اور پھر بعد اس کے یہ کہا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 73

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 73

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/73/mode/1up


    جاتاؔ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ بجز خدا کے کسی نے افترا کے طور پر کتاب بنائی ہو کیونکہ اُس زمانہ میں بولی سکھلانے والا محض خدا تھا اُس کے سوا کوئی نہ تھا سو اُس نے ویدک سنسکرت سکھلائی اور ظاہر ہے کہ بغیر سکھلانے کے کوئی بولی یاد نہیں آسکتی۔ اگر کسی نوزاد بچہ کو کچھ بھی نہ سکھلایا جائے تو وہ گُنگا رہ جاتا ہے۔

    یہ عجیب دلیل ہے کہ جوآریہ مضمون سنانے والے نے پیش کی ہے کہ پہلے تو وہ لوگوں کو اِس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ تم بلا دلیل مان لو کہ وید ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے اور پھر اپنے مذکورہ بالا بیان کے ساتھ وید کو الہامی کتاب ٹھہراتا ہے۔ سو اس کی یہ دلیل محض اِس طور کی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ اول تم بلا دلیل اس بات کو مان لو کہ پنڈت دیانند کے جسم پر پرندوں کی طرح پَر بھی تھے جو عقاب کے پَروں کی طرح نہایت قوی اور مضبوط تھے اور پھر ہم یہ بات ثابت کردیں گے کہ آریہ ورت میں جس قدر اُس نے دورہ کیا اُس تمام دورہ میں وہ ریل وغیرہ کا محتاج نہ تھا بلکہپرواز کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر تک جاتا تھا۔ افسوس یہ لوگ نہیں جانتے کہ ایک بلا دلیل دعویٰ پیش کرکے پھر اُسی دعویٰ کی بناء پر کوئی بکواس کرکے اُس کا نام دلیل رکھنا عقلمندوں کا کام نہیں سو یاد رہے کہ پہلے تو یہی بارثبوت آریہ صاحبوں کی گردن پرہے کہ وہ وید کو ابتدائے آفرینش کی کتاب ثابت کریں اور پھر بعد اس کے کوئی بات کریں۔

    اور پھر یہ کہنا کہ بغیر سکھلانے کے کوئی بولی یاد نہیں آسکتی۔ یہ امر بھی بموجب اصول آریہ کے پہلے زمانہ کے نیا جنم لینے والے لوگوں پر صادق نہیں آسکتا کیونکہ وہ اپنے مکتی کے زمانہ سے قریب العہد ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ مکتی خانہ سے باہر آتے ہیں اور چونکہ وہ ایسے گھر سے دُنیا کی طرف آتے ہیں جس میں بقول آریہ سماج داخل ہونے والے پورے طور پر وید کی ہدایتوں کے پابند ہوتے ہیں اور وید ان کو کنٹھ ہوتا ہے اس لئے اُن کی نسبت یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ اُن بچوں کی طرح ہوں جو کئی لاکھ برس گذرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 74

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 74

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/74/mode/1up


    بھلاؔ عقل اس بات کو قبول کرسکتی ہے کہ جو لوگ نہایت قریب زمانہ میں مکتی خانہ سے باہر نکلتے ہیں اُن کے حافظہ اور علوم اور معارف پر ایسے پتھر پڑجائیں کہ جو لوگ کروڑہا برس بعد آتے ہیں اُن کے ساتھ برابر ہو جائیں؟ غرض ہم یہ تو مانتے ہیں کہ جو لوگ مکتی کے زمانہ سے کروڑہا برس بعد میں آتے ہیں وہ بوجہ زمانہ دراز کی غفلت کے وید ودّیا کو یاد نہیں رکھتے اور نہ سنسکرت کو یاد رکھتے ہیں سب کچھ بھول جاتے ہیں اوریہ بات بالکل سچ ہے کہ ایسے بچوں کو اگر اُن کے پیدا ہونے کے بعد زبان نہ سکھائی جائے تو وہ بالکل گنگے رہ جاتے ہیں مگر کیا وہ لوگ بھی گنگے ہی رہ سکتے ہیں جو تازہ بتازہ مکتی خانہ سے باہر آتے ہیں اُن کے لئے تو ضرور ہے کہ بغیر حاجت الہام کے سنسکرت کی زبان یاد ہو جو مکتی خانہ میں باہم بولتے تھے اور نیز ضروری ہے کہ سب کو ویداَزبَر ہو کیونکہ وہ مکتی خانہ میں وید ہی تو دن رات پڑھتے رہتے تھے اور کیا کام تھا ؟

    پھر ہم اصل مدعا کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ یہ بات فی الواقع صحیح اور درست ہے کہ ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان کو ملی تھی مگر وہ وید ہرگز نہیں ہے اور موجودہ وید کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اُس پاک ذات کی توہین ہے۔

    اِس جگہ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ابتدائے زمانہ میں صرف ایک الہامی کتاب* انسانوں کو کیوں دی گئی ہر ایک قوم کے لئے جُدا جُدا کتابیں کیوں نہ دی گئیں اِس کا جواب یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں انسان تھوڑے تھے اور اس تعداد سے بھی کمتر تھے


    *حاشیہ۔ یاد رہے کہ الہام یا الہامی کتاب کا لفظ جو بار بار اس رسالہ یا دوسری کتابوں میں ہم نے لکھا ہے صرف عام فہم کرنے کے لئے یہ لفظ لکھا گیاہے ورنہ الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالاجاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الٰہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو ۔ اس وحی سے آریہ سماج والے بالکل بے خبر ہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 75

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 75

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/75/mode/1up


    جو اؔ ن کو ایک قوم کہا جائے اِس لئے اُن کے لئے صرف ایک کتاب کافی تھی پھر بعد اس کے جب دُنیا میں انسان پھیل گئے اور ہر ایک حصہ زمین کے باشندوں کا ایک قوم بن گئی اور بباعث دور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہوگئی ایسے زمانوں میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرمایا کہ ہر ایک قوم کے لئے جُداجُدا رسول اور الہامی کتابیں دی جائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور پھر جب نوع انسان نے دُنیا کی آبادی میں ترقی کی اور ملاقات کے لئے راہ کھل گئی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے سامان میسرّ آگئے اور اس بات کا علم ہوگیا کہ فلاں فلاں حصہ زمین پر نوع انسان رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر ان کو جمع کیا جاوے*۔ تب خدا نے تمام ملکوں کے لئے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہنچے اُن کا فرض ہوگا کہ اُن کو قبول کرلیں اور اُس پر ایمان لاویں اور وہ

    کتاب قرآن شریف ہے

    جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آئی ہے۔ قرآن سے پہلی سب کتابیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لئے ہی آتی تھیں۔ چنانچہ شامی۔ فارسی۔ ہندی۔ چینی۔ مصری۔ رومی۔ یہ سب قومیں تھیں جن کے لئے جو کتابیں یا رسول آئے وہ صرف اپنی قوم تک


    *حاشیہ۔ ایک قوم بنانے کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ کہف میں موجو د ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

    3 ۱؂ یعنی ہم آخری زمانہ میں ہر ایک قوم کو آزادی دیں گے تا اپنے مذہب کی خوبی دوسری قوم کے سامنے پیش کرے اور دوسری قوم کے مذہبی عقائد اور تعلیم پر حملہ کرے اور ایک مدت تک ایسا ہوتا رہے گا پھر قرنامیں ایک آواز پھونک دی جائے گی تب ہم تمام قوموں کو ایک قوم بنادیں گے اور ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 76

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 76

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/76/mode/1up


    محدؔ ود تھے دوسری قوم سے اُن کو کچھ تعلق اور واسطہ نہ تھا مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے اور کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے ہے ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی اُمّت کے لئے آیاجو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بننا چاہتی تھی سو اب زمانہ کے لئے ایسے سامان میسر آگئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کارنگ بخشتے جاتے ہیں۔ باہمی ملاقات جو اصل جڑھ ایک قوم بننے کی ہے ایسی سہل ہوگئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہوسکتی ہے او ر پیغام رسانی کے لئے وہ سبیلیں پیدا ہوگئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کسی دور دراز ملک کی خبر نہیں آسکتی تھی وہ اب ایک ساعت میں آسکتی ہے۔ زمانہ میں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف رُخ کرلیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دُنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنادے اور ہزارہا برسوں کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملادے اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔3 33۱؂ یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لئے رسول ہوکر آیا ہوں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ 3 ۲؂ یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کرکے بھیجا ہے۔ اور پھر فرماتا ہے۔33۳؂ یعنی ہم نے اِس

    لئے بھیجا ہے کہ تمام دُنیا کو ڈرا وے۔ لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دُنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اُس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ ’’میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا‘‘ اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعویٰ تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 77

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 77

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/77/mode/1up


    وقت ؔ تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ 33 ۱؂ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوتِ اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوتِ دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اور اُس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔

    جو کچھ قرآن شریف نے توحید کا تخم بلاد عرب۔ فارس۔ مصر۔ شام۔ ہند۔ چین۔ افغانستان کشمیر وغیرہ بلاد میں بودیا ہے اور اکثر بلاد سے بُت پرستی اور دیگر اقسام کی مخلوق پرستی کا تخم جڑھ سے اُکھاڑ دیا ہے یہ ایک ایسی کارروائی ہے کہ اس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جاتی مگر بمقابل اس کے جب ہم وید کی طرف دیکھتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ آریہ ورت کی بھی اصلاح نہیں کرسکا اور اس ملک کے انسانوں پر نیک اثر ڈالنے میں نہایت نکمّا ثابت ہوا ہے اور نہ صرف ہمارے اس زمانہ میں بلکہ اس ملک کی ایک لمبی تاریخ پر نظر ڈال کر ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی اس ملک میں وید کے ذریعہ سے توحید نہیں پھیلی بلکہ بجائے اُس کے نفع کے اُس کا ضررقریباً تمام آرین لوگوں کو ہلاک کرتا رہا ہے اور جب وید کے پیرو لوگوں کے عقائد اور اعمال پر نظر ڈالی جاوے تو نہایت درد اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ویدایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے۔ کون اس واقعہ سے انکار کرسکتا ہے کہ جس قدر مخلوق پرست فرقے ہندوؤں کے اِس ملک میں پائے جاتے ہیں اور یا جس قدر نہایت گندے اور ناپاک مذہب اس ملک میں رائج ہوگئے ہیں جیسے شاکت مت وغیرہ وہ سب وید ہی کے ذریعہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر وید میں یہ لیاقت ہوتی کہ وہ کھلے کھلے طور پر بیان کرتا کہ سورج چاند اور پانی اور آگ وغیرہ کی پرستش مت کرو اور بدکاری اور زناکاری



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 78

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 78

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/78/mode/1up


    کواؔ پنا مذہب مت بناؤ۔ تو کیوں آریہ قوم ساری کی ساری ان چیزوں کی پرستش میں مشغول ہو جاتی اور کیوں اس قدر بدکاری آریہ قوم میں پھیلتی مگر وید نے تو بجائے منع کرنے کے بیگانہ عورتوں سے تعلق پیدا کرنے کی راہ بذریعہ نیوگ کھول دی اور سورج وغیرہ کی پرستش کی ترغیب دی اورجابجا اجرام سماوی اورعناصر کو معبود ٹھہرا کر ان کی مدح و ثنا کی۔ اسی طرح جوالامکھی کی آگ کے پجاری اور گنگا کے پرستار اور سورج کے آگے ہاتھ جوڑنے والے اِس ملک میں کروڑہا شخص پیدا ہوگئے۔ اگر کہو کہ ان کروڑہا لوگوں نے جن میں ہزارہا پنڈت و عالم و فاضل ہیں وید کے معنی اچھی طرح نہیں سمجھتے تو میں کہتا ہوں کہ اگر یہ عذر مان بھی لیں تب بھی وید کا ہی قصور ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس حالت میں اس کی عبارت غیر فصیح اور مبہم اور مشتبہ اور معمّا کی طرح ماننی پڑتی ہے تبھی توکئی کروڑ آریہ ورت کے پنڈتوں کو سمجھ نہ آسکی اور کروڑہا انسان وید کی نسبت یہی خیال کرتے گذر گئے کہ وہ مخلوق پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور جب کہ بہتوں نے اس کے سمجھنے میں غلطی کھائی تو پھر کیونکر سمجھا جائے کہ ایک تھوڑا سا فرقہ

    آریوں کا کہ جو اُن کے مقابل پر ایک ذرہ کے موافق بھی نہیں غلطی سے بچا رہا ہے۔ تم سچ کہو اور اپنے دھرم سے کہو کہ کیا وید میں کہیں لکھا ہے کہ سورج اور چاند اور ہَوا اور اگنی اور جَل وغیرہ کی پوجا مت کرو؟ اور بجز خدا کے جو غیب الغیب اور نہاں در نہاں ہے کسی کو اپنا معبود مت قرار دو اور جو چیزیں تمہیں آسمان پر یا زمین پر دکھائی دیتی ہیں وہ تمہارے خدا نہیں ہیں بلکہ خدا وہی ہے جس نے اِن چیزوں کو پیدا کیا۔ اگرکہیں لکھا ہے توہمیں بتاؤ۔ لیکن قرآن شریف تو سارا اِس بات سے بھرا پڑا ہے کہ بجز خدا کے کسی کی پرستش جائز نہیں بلکہ کلمہ لَا اِلٰہ الَّا اللّٰہ کے ہی یہی معنے ہیں کہ تمہارا معبود بجز خدا کے اور کوئی نہیں اور یہ بھی قرآن شریف فرماتاہے3 ۱؂ یعنی نہ تم سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی بلکہ اُس ذات کی پرستش کرو کہ جو ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر وید میں اس آیت کے ہم معنے کوئی شُرتی ہوتی تو کروڑہا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 79

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 79

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/79/mode/1up


    آدؔ می مخلوق پرستی سے ہلاک نہ ہوتے۔ دیانند نے جس قدر وید کی حمایت میں تکلّفات کئے ہیں وہ سب بیہودہ اور لچر ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ دیانند نے اصلی وید کی طرف آرین لوگوں کو رجوع نہیں دلایا بلکہ اُس نے زمانہ کی ہوا کو دیکھ کر ایک نیاوید بناکر پیش کیا ہے چونکہ کئی کروڑ ہندو وید سے بیزار ہوکر مسلمان ہوچکے تھے اِس لئے اُس نے خواہ نخواہ وید میں توحید کو دِکھلانا چاہا۔ سواِس بات کے ثابت کرنے سے وہ نامراد مرا۔ وید کی حالت آزمانے کے لئے سہل طریق یہ ہے کہ ایک تحت اللفظ ترجمہ اُس کا جس میں بطور شرح اپنی طرف سے کوئی فقرہ نہ ملایا جائے کسی غیر قوم کی طرف بھیج دو تو پھر اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ وید کی ان عبارتوں سے توحید ثابت ہوتی ہے یا مخلوق پرستی۔

    اور پھر ہم اپنے مضمون کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ ہماری اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ خیال کہ صرف ابتدائے آفرینش میں ہی الہامی کتاب انسانوں کو دی گئی ہے بعد میں کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ یہ خیال جیسا کہ ثابت شدہ واقعات کے برخلاف ہے ایسا ہی عقل کے بھی برخلاف ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے جسمانی قانون قدرت کو بھی دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ نوع انسان ہمیشہ اپنی موجودہ حالت کے موافق ہر ایک زمانہ میں خدا کی تربیت کی محتاج ہے کیونکہ اگر موجودہ حالت میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جائے کہ جو پہلے زمانہ میں نہیں تھی تو کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کی تربیت اس تبدیلی کے موافق ہونی چاہیئے۔ مثلاً تم غور کرلو کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس وقت سے اُس زمانہ تک کہ وہ جوان ہوتا ہے کس قدر تبدیلیاں اُس کی خوراک اور پوشاک میں ظہور میں آتی ہیں اور پھر جب انسانی بدن صحت سے منحرف ہوکر طرح طرح کے امراض میں گرفتار ہو جاتا ہے تو کس قدر نئی اور خاص تدبیریں عمل میں لانا مقتضائے ہمدردی ہوتا ہے یہی حال انسان کی رُوحانی حالت کا ہے اور جیسا کہ انسان اُس روٹی سے جی نہیں سکتا کہ کسی وقت اُس نے پہلے زمانہ میں کھائی تھی بلکہ ہمیشہ اُس کو بھوک کے وقت ایک تازہ روٹی کی ضرورت ہے ایسا ہی انسان کو ضرورت کے زمانہ میں تازہ وحی اور الہام کی ضرورت ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 80

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 80

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/80/mode/1up


    تا اُؔ س کے ذریعہ سے تکمیل معرفت ہو۔ خدا کا نام مُلہم اور منزّلُ الوحی بھی ہے اور خدا کی صفات کی نسبت تعطل اور بیکاری جائز نہیں بلکہ جیسا کہ جسمانی تربیت کے لحاظ سے خدا ہمیشہ رزّاق ہے ایسا ہی اُس کا رُوحانی رزق بھی رُوحانی تربیت کے لئے کبھی منقطع نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ ہمارے پہلے بزرگوں کی خوراک کے لئے زمین سے اناج پیدا ہوتا تھا۔ آسمان سے بارش ہوتی تھی۔ اب ہمارے زمانہ میں اُس قانونِ قدرت میں فرق نہیں آیا بلکہ ہمارے لئے بھی زمین اناج پیدا کرنے کے لئے موجود ہے بشرطیکہ ہم خود سعی اور کوشش میں کاہل نہ ہو جائیں۔ اور پانی بھی اپنے وقتوں پر ضرور برستا ہے اور یہ الگ امر ہے کہ ہم خود اُس پانی سے فائدہ نہ اُٹھاویں۔ پھر جب کہ خدا تعالیٰ کا جسمانی قانون قدرت ہمارے لئے اب بھی وہی موجود ہے جو پہلے تھا۔ تو پھر رُوحانی قانون قدرت اس زمانہ میں کیوں بدل گیا؟ نہیں ہرگز نہیں بدلا۔ پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وحی الٰہی پر آئندہ کے لئے مہر لگ گئی ہے وہ سخت غلطی پر ہیں ہاں خدا کے احکام جو امر اور نہی کے متعلق ہیں وہ عبث طور پر نازل نہیں ہوتے بلکہ ضرورت کے وقت خدا کی نئی شریعت نازل ہوتی ہے یعنی ایسے زمانہ میں نئی شریعت نازل ہوتی ہے جب کہ نوع انسان پہلے زمانہ کی نسبت بدعقیدگی اور بدعملی میں بہت ترقی کر جائے اور پہلی کتاب میں اُن کے لئے کافی ہدایتیں نہ ہوں لیکن یہ امر ثابت شدہ

    ہے کہ قرآن شریف نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کردیا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔3 33 ۱؂ یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی ہے اور میں اسلام کو تمہارا دین مقرر کرکے خوش ہوا۔ سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف بیان کرچکا اب صرف مکالماتِ الٰہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخود نہیں بلکہ سچے اور پاک مکالمات جو صریح اور کھلے طور پر نصرت الٰہی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور بہت سے امور غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں وہ بعد تزکیہ نفس محض پَیروی قرآنِ شریف اور اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 81

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 81

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/81/mode/1up


    اِس ؔ جگہ اس نکتہ کا ذکر کرنا بیجا نہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ابتدائے آفرینش سے لے کر اخیر تک نوع انسان کے زمانہ کو چار مختلف حالتوں اور مختلف زمانوں پر تقسیم کیا ہے۔

    (۱) پہلے اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب صرف ایک انسان معہ اپنے قلیل مقدار کنبہ کے دُنیا میں موجود تھا اور ایک وحدت قومی ان کو حاصل تھی اور ایک مذہب تھا۔

    (۲) دوسری اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب وہ وحدت دور ہوکر تفریق پیدا ہوگئی اور انسان کی نسل مختلف قوموں اور مختلف مذہبوں کے رنگ میں ہوکر تمام دنیا میں پھیل گئی اور وہ دُنیا کے ایسے دور دور کونوں میں جابسی کہ ایک دوسری کے حالات سے بے خبر ہوگئی اور ایک قوم سے ہزاروں قومیں بن گئیں اور ایک مذہب سے ہزاروں مذہب نکل آئے۔

    (۳) تیسری اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب پھر کچھ کچھ شناسائی ایک قوم کی دوسری قوم سے ہوئی اور بہت سی مشقّت سفر اُٹھاکر ملاقات کی راہ کُھل گئی اور مختلف قوموں کے پھر باہمی تعلقات پیدا ہونے لگے اور ایک قوم دوسری قوم کے مذہب کو اختیار کرنے لگی مگر بہت کم۔

    (۴) چوتھے بطور پیشگوئی یہ بیان فرمایا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ جب سفر کرنے کے سامان سہل طور پر میسر آجائیں گے او ر اُونٹنیوں کی سواری کی حاجت نہیں رہے گی اور سفر میں بہت آرام اور سہولیت میسر آجائے گی اور ایک ایسی نئی سواری پیدا ہو جائے گی کہ ایک حصہ دُنیا کو دوسرے حصہ سے ملا دے گی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں سے اکٹھے کر دے گی جیسا کہ یہ د۲و آیتیں ایسی پیشگوئی پر مشتمل ہیں اور وہ یہ ہیں۔ 3 ۱؂ ۔ 3 ۲؂ یعنی وہ زمانہ آتا ہے کہ اُونٹنیاں بیکار کردی جائیں گی۔ جاننا چاہیئے کہ عرب کی تجارت اور


    حاشیہ۔ قیامت کے قرب اور مسیح موعود کے آنے کا وہ زمانہ ہے جبکہ اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی یہ آیت صحیح مسلم کی اس حدؔ یث کی مصدّق ہے جہاں لکھا ہے کہ و یترک القلاص فلا یسعٰی علیہا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی اوران پر کوئی سوار نہیں ہوگا ۔ یہ ریل گاڑی پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب کوئی اعلیٰ سواری میسر آتی ہے تبھی ادنیٰ سواری کو چھوڑتے ہیں ۔ اور دوسری آیت گویا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 82

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 82

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/82/mode/1up


    سفرؔ کا مدار تمام اُونٹنیوں پر ہے اس لئے اُونٹوں کا ہی ذکر کیا یہ تو ہر ایک شخص جانتا ہے کہ مکہ معظمہ سے مدینہ منورّہ تک حاجیوں کے پہنچانے کے لئے تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے صرف اونٹنیوں کی سواری چلی آتی ہے پس اس جگہ خدا تعالیٰ یہ خبر دیتا ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ وہ سواری موقوف کردی جائے گی اور بجائے اُس کے ایک نئی سواری ہوگی جو آرام اور جلدی کی ہوگی۔ اور یہ بات اس سے نکلتی ہے کہ جوبدل اختیار کیا جاتا ہے وہ مُبدّل منہ سے بہتر ہوتا ہے۔

    دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ جبکہ بچھڑے ہوئے لوگ باہم ملا دئیے جائیں گے اور اس قدر باہمی ملاقاتوں کے لئے سہولتیں میسر آجائیں گی اور اس کثرت سے ان کی ملاقاتیں ہوں گی کہ گویا مختلف ملکوں کے لوگ ایک ہی ملک کے باشندے ہیں سو یہ پیشگوئی ہمارے اِس زمانہ میں پوری ہوگئی جس سے ایک عالمگیر انقلاب ظہور میں آیا گویا دنیا بد ل گئی کیونکہ دُخانی جہازوں اور ریلوں کے ذریعہ سے وہ روکیں جو پہاڑوں کی مانند حائل تھیں سب اُٹھ گئیں اور ایک دنیا


    بقیہ حاشیہ

    اس کا نتیجہ ہے اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں بعض آدمی بعض سے ملائے جائیں گے اور ظاہری تفرقہ قوموں کا دور ہو جائے گا اور چونکہ صحیح مسلم میں کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا مسیح موعود کا زمانہ ہے اس لئے قرآن شریف کی آیت 3 ۱؂ جو حدیث یترک القلاص کے ہم معنے ہے بدیہی طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعہ ریل جاری ہونے کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظہور میں آئے گا ۔ اسی لئے میں نے 3 کے یہی معنے کئے ہیں کہ وہ مسیح موعود کا زمانہ ہے کیونکہ حدیث نے اس آیت کی شرح کر دی ہے اور چونکہ ریل کے جاری ہونے پر ایک مدت گذر چکی ہے جو مسیح موعود کی علامت ہے اس لئے ایک مومن کو ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہے اور جب کہ ایک واقعہ نے ممدوحہ بالا آیت اور حدیث کے معنے کھول دئیے ہیں تواب ظاہر شدہ معنوں کو قبول نہ کرنا صریح الحاد ااور بے ایمانی ہے ۔ سوچ کر دیکھو کہ جب مکہ اور مدینہ میں اونٹ چھوڑ کر ریل کی سواری شروع ہو جائے گی تو کیا وہ روز اس آیت اور حدیث کے مصداق نہ ہو گا ؟ ضرور ہوگا اور تمام دل اس دن بول اٹھیں گے کہ آج وہ پیشگوئی مکہ اور مدینہ کی راہ میں کھلے کھلے طور پر پوری ہوگئی ۔ ہائے افسوس ان نام کے مسلمانوں پر کہ جو نہیں چاہتے کہ (میرے بغض کی وجہ سے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی پوری ہو ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 83

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 83

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/83/mode/1up


    مشرؔ ق سے مغرب کو اور مغرب سے مشرق بلا د کو آتی ہے اور اس پیشگوئی کے ساتھ قرآن شریف میں ایک اور بھی پیشگوئی ہے جو جسمانی اجتماع کے بعد رُوحانی اجتماع پر دلالت کرتی ہے اوروہ یہ ہے33۱؂ یعنی اُن آخری دنوں میں جو یا جوج ماجوج کا زمانہ ہوگا دُنیا کے لوگ مذہبی جھگڑوں اورلڑائیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم پر مذہبی رنگ میں ایسے حملے کرے گی جیسے ایک موج دریا دوسری موج پر پڑتی ہے ا وردوسری لڑائیاں بھی ہوں گی اور اس طرح پر دنیا میں


    بقیہ حاشیہ

    یہ آیت سورۃ کہف میں یاجوج ماجوج کے ذکر میں ہے ۔ کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیلی نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یاجوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہوسکتا ۔ اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدّل ہیں ۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کہے گا جو خودقرآن شریف سے بے خبر ہے ۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ 3 ۲؂ یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی ناجائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فرماتا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں ۔ حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتب سابقہ کے بیان تین قسم کے ہیں ۔

    (۱)ایک تو وہ باتیں ہیں جو واجب التصدیق ہیں ۔ جیسا کہ خدا کی توحید اور ملائک کا ذکر اور بہشت و دوزخ کے وجود کی نسبت بیان ۔ اگر ان کا انکار کریں تو ایمان جائے ۔

    (۲)دوسری وہ باتیں ہیں جو رد کرنے کے لائق ہیں جیسا کہ وہ تمام امور جو قرآن شریف کے مخالف ہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 84

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 84

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/84/mode/1up


    بڑا ؔ تفرقہ پھیل جائے گا اور بڑی پھوٹ اور بغض اور کینہ لوگوں میں پیدا ہو جائے گا۔ اور جب یہ باتیں کمال کو پہنچ جائیں گی تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے جو اُس کی قرنا ہے ایک ایسی آواز دنیا کو پہنچائے گا جو اس آواز کے سننے سے سعادت مند لوگ ایک ہی مذہب پر اکٹھے ہو جائیں گے اور تفرقہ دُور ہو جائے گا اور مختلف قومیں دُنیا کی ایک ہی قوم بن جائیں گی۔ اور پھر دوسری آیت میں فرمایا۔ 3 333 ۱؂ ۔ اور اُس دن جو لوگ مسیح موعود کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے


    بقیہ حاشیہ

    (۳ؔ )تیسری قسم کی وہ باتیں ہیں جو قرآن شریف میں اگرچہ ان کا ذکر مفصل نہیں مگر وہ باتیں قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو بالکل مطابق ہیں جیسے مثلاََ یاجوج ماجوج کی قوم کہ اجمالی طور پر ان کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں تمام زمین پر ان کا غلبہ ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے3 ۲؂ اور یہ خیال کہ یاجوج ماجوج بنی آدم نہیں بلکہ اور قسم کی مخلوق ہے یہ صرف جہالت کا خیال ہے کیونکہ قرآن میں ذوالعقول حیوان جو عقل اور فہم سے کام لیتے ہیں اور مورد ثواب یا عذاب ہو سکتے ہیں وہ دو ہی قسم کے بیان فرمائے ہیں (۱) ایک نوع انسان جو حضرت آدم کی اولاد ہیں ( ۲) دوسرے وہ جو جنّات ہیں انسانوں کے گروہ کا نام معشر الا نس رکھا ہے اور جنّاتکے گروہ کا نام معشر الجنّ رکھا ہے ۔ پس اگر یاجوج ماجوج جس کے لئے مسیح موعود کے زمانہ میں عذاب کا وعدہ ہے معشر الانس میں داخل ہیں یعنی انسان ہیں تو خواہ نخواہ ایک عجیب پیدائش ان کی طرف منسوب کرنا کہ ان کے کان اس قدر لمبے ہوں گے اور ہاتھ اس قدر لمبے ہوں گے اور اس کثرت سے وہ بچے دیں گے ان لوگوں کا کام ہے جن کی عقل محض سطحی اور بچوں کی مانند ہے اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت ہو تو وہ محض استعارہ کے رنگ میں ہو گی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کی قومیں ان معنوں میں ضرور لمبے کان رکھتی ہیں کہ بذریعہ تار کے دور دور کی خبریں ان کے کانوں تک پہنچ جاتی ہیں اور خدا نے برّی اور بحری لڑائیوں میں اُن کے ہاتھ بھی نبرد آزمائی کی وجہ سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 85

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 85

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/85/mode/1up


    اُنؔ کے سامنے ہم جہنم کو پیش کریں گے یعنی طرح طرح کے عذاب نازل کریں گے جو جہنم کا نمونہ ہوں گے اور پھر فرمایا 3 3 ۱؂ یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے اُن کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ اُس کی باتوں کو سن بھی نہیں سکیں گے اور سخت بیزار ہوں گے اِس لئے عذاب نازل ہوگا۔ اِس جگہ صُور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اس کی صُور ہوتے ہیں یعنی قرنا۔ جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے یہی محاورہ پہلی


    بقیہ حاشیہ

    اس ؔ قدر لمبے بنائے ہیں کہ کسی کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں اور توالد تناسل بھی ان کا ایشیائی قوموں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہے ۔ پس جبکہ موجودہ واقعات نے دکھلادیا ہے کہ ان احادیث کے یہ معنے ہیں اور عقل ان معنوں کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ان سے لذت اٹھاتی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ خواہ نخواہ انسانی خلقت سے بڑھ کر ان میں وہ عجیب خلقت فرض کی جائے جو سراسرغیر معقول اور اس قانون قدرت کے بر خلاف ہے جو قدیم سے انسانوں کے لئے چلا آتا ہے اور اگر کہو کہ یاجوج ماجوج جِنّات میں سے ہیں انسان نہیں ہیں تو یہ اور حماقت ہے کیونکہ اگر وہ جِنّات میں سے ہیں تو سَدِّ سکندری اُن کو کیونکر روک سکتی تھی جس حالت میں جِنّاتآسمان تک پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ آیت 3 ۲؂ سے ظاہر ہوتا ہے تو کیا وہ سَدِّ سکندری کے اوپر چڑھ نہیں سکتے تھے جو آسمان کے قریب چلے جاتے ہیں اور اگر کہو کہ وہ درندوں کی قسم ہیں جو عقل وفہم نہیں رکھتے تو پھر قرآن شریف اور حدیثوں میں ان پر عذاب نازل کرنے کا کیوں وعدہ ہے کیونکہ عذاب گنہ کی پاداش میں ہوتا ہے اور نیز ان کا لڑائیاں کرنا اور سب پر غالب ہو جانا اور آخر کار آسمان کی طرف تیرچلانا صاف دلالت کرتا ہے کہ وہ ذوالعقول ہیں بلکہ دنیاکی عقل میں سب سے بڑھ کر ۔

    حدیثوں میں بظاہر یہ تناقض پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کے وقت ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ یاجوج ماجوج تمام دنیا میں پھیل جائیں گے اور دوسری طرف یہ بیان ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 86

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 86

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/86/mode/1up


    کتاؔ بوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی قرنا قرار دیا گیاہے۔ یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے اسی طرح خدا اُن کے دِلوں میں آواز پھونکتا ہے اوریاجوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یاجوج ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا۔


    بقیہ حاشیہ

    کہ ؔ تمام دنیا میں عیسائی قوم کا غلبہ ہوگا جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ صلیبی قوم کا اس زمانہ میں بڑا عروج اور اقبال ہوگا ۔ ایسا ہی ایک دوسری حدیث سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اس زمانہ میں رومیوں کی کثرت اور قوت ہوگی یعنی عیسائیوں کی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رومی سلطنت عیسائی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ 3 ۱؂ اس جگہ بھی روم سے مراد عیسائی سلطنت ہے اور پھر بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت دجّال کا تمام زمین پر غلبہ ہوگا اور تمام زمین پر بغیر مکہ معظمہ کے دجّال محیط ہوجائے گا ۔

    اب کوئی مولوی صاحب بتلاویں کہ یہ تناقض کیونکر دور ہو سکتا ہے اگر دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا تو عیسائی سلطنت کہاں ہوگی۔ ایسا ہی یاجوج ماجوج جن کی عام سلطنت کی قرآن شریف خبر دیتا ہے وہ کہاں جائیں گے ۔ سو یہ غلطیاں ہیں جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں جو ہمارے مکفّر اور مکذّب ہیں۔ واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ دونوں صفات یاجوج ماجوج اور دجال ہونے کی یورپین قوموں میں موجود ہیں کیونکہ یاجوج ماجوج کی تعریف حدیثوں میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ لڑائی میں کسی کو طاقت مقابلہ نہیں ہوگی اور مسیح موعود بھی صرف دعا سے کام لے گا اور یہ صفت کھلے کھلے طور پر یورپ کی سلطنتوں میں پائی جاتی ہے اور قرآن شریف بھی اس کا مصدّق ہے ۔ جیسا کہ وہ فرماتاہے 3 ۱؂ ۔ اور دجّال کی نسبت حدیثوں میں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 87

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 87

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/87/mode/1up


    ابؔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب کہ ایک طرف بائبل سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یورپ کے عیسائی فرقے ہی یاجوج ماجوج ہیں اور دوسری طرف قرآن شریف نے یاجوج ماجوج کی وہ علامتیں مقرر کی ہیں جو صرف یورپ کی سلطنتوں پر ہی صادق آتی ہیں جیسا کہ یہ لکھا ہے کہ وہ ہر ایک بلندی پر سے دوڑیں گے یعنی سب طاقتوں پر غالب ہو جائیں گے اور ہر ایک پہلو سے دنیا کا عروج اُن کومل جا ئے گا۔ اور حدیثوں میں بھی یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ کسی سلطنت کو اُن کے ساتھ تاب مقابلہ نہیں ہوگی۔ پس یہ تو قطعی فیصلہ ہوچکا ہے کہ یہی قومیں یاجوج ماجوج ہیں اور اس سے انکار کرنا سراسر تحکّم اور خدا تعالیٰ کے فرمودہ کی مخالفت ہے۔ اس میں کس کو کلام ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق یہی قومیں ہیں جو اپنی دنیوی طاقت میں تمام قوموں پر فوقیت لے گئی ہیں۔ جنگ اور لڑائی کے داؤ پیچ اور ملکی تدابیر کے امور میں دُنیا میں اُن کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور انہیں کی کلوں اور ایجادوں نے کیا لڑائیوں میں اور کیا کسی قسم کے دُنیا کے آرام کے سامانوں میں


    بقیہ حاشیہ

    یہ بیان ہے کہ وہ دجل سے کام لے گا اور مذہبی رنگ میں دنیا میں فتنہ ڈالے گا ۔ سو قرآن شریف میں یہ صفت عیسائی پادریوں کی بیان کی گئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3 ۱؂ اِس تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ تینوں ایک ہی ہیں ۔ اسی وجہ ہے سورۃ الفاتحہ میں دائمی طور پر یہ دعاسکھلائی گئی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو یہ نہیں کہا کہ تم دجّال سے پناہ مانگو پس اگر کوئی اور دجّال ہوتا جس کا فتنہ پادریوں سے زیادہ ہوتا تو خدا کی کلام میں بڑا فتنہ چھوڑ کر قیامت تک یہ دعا نہ سکھلائی جاتی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو اور یہ نہ فرمایا جاتا کہ عیسائی فتنہ ایسا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں ۔ پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ۔ بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ دجالی فتنہ ایسا ہے جس سے قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں ۔ بڑے فتنے کو چھوڑ کر چھوٹے فتنہ سے ڈرانا بالکل غیر معقول ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 88

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 88

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/88/mode/1up


    ایکؔ نیا نقشہ دُنیا کا ظاہرکردیا ہے اور انسان کی تمدنی حالت کو ایک حیرت انگیز انقلاب میں ڈال دیا ہے اور تدبیر امور سیاست اور درستی سامان رزم بزم میں وہ یدطولیٰ دکھلایا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی پس خدا کے بزرگ نبی کی پیشگوئی سے صدہا سال بعد جو واقعہ اُس پیشگوئی کی مقرر کردہ علامتوں کے موافق ظہور میں آیا ہے وہ یہی واقعہ یورپین طاقتوں کا ہے۔ سو جس طور سے خدا نے یاجوج ماجوج کے معنی ظاہر کردئیے اور جس قوم کو موجودہ واقعہ نے اُن علامات کا مصداق ٹھہرادیا اُس کو قبول نہ کرنا ایک کھلے کھلے حق سے انکار کرنا ہے۔ یوں توانسان جب انکار پر اصرار کرے تو اُس کا منہ کون بند کرسکتا ہے لیکن ایک منصف مزاج آدمی جو طالبِ حق ہے وہ اِن تمام امور پر اطلاع پاکر پورے اطمینان اور ثلج صدر سے گواہی دے گا کہ بلاشبہ یہی قومیں یاجوج ماجوج ہیں۔

    اور جب یہ ثابت ہوا کہ یہی قومیں یاجوج ماجوج ہیں تو خود یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود یاجوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا جیسا کہ قرآن شریف نے بھی یاجوج ماجوج کے غلبہ اور طاقت کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے 3 ۱؂ یعنییاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب اُن دنوں میں خدا تعالیٰ اس پھوٹ کے دُور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اورمحض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صُور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا اپنی پُرہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خدا تعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کردے گا۔

    اور احادیث صحیحہ صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ یاجوج ماجوج کا زمانہ مسیح موعود کازمانہ ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب قوم یاجوج ماجوج اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ تمام قوموں پر غالب آجائے گی اور ان کے ساتھ کسی کو تاب مقابلہ نہیں رہے گی۔ تب مسیح موعود کو حکم ہوگا کہ اپنی جماعت کو کوہِ طور کی پناہ میں لے آوے یعنی آسمانی نشانوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 89

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 89

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/89/mode/1up


    اور ؔ خدا کی زبردست اور ہیبت ناک عجائبات سے مدد لے اُن نشانوں کی مانند جو بنی اسرائیل کی سرکش قوم کے ڈرانے کے لئے کوہ طور میں دکھلائے گئے تھے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ3 ۱؂ یعنی کوہ طور میں نشان کے طریق پر بڑے بڑے زلزلے آئے اور خدا نے طور کے پہاڑ کو یہود کے سروں پر اس طرح پر لرزاں کرکے دکھلایا کہ گویا اب وہ ان کے سروں پر پڑتا ہے تب وہ اس ہیبت ناک نشان کو دیکھ کر بہت ڈر گئے۔ اسی طرح مسیح موعود کے زمانہ میں بھی ہوگا۔

    اور جو ہم نے چار مختلف زمانے بیان کئے ہیں اُن سے بھی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں جو آخری زمانہ ہے مسیح موعود کا آنا ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب کہ پہلے زمانہ میں کہ دنیا میں تھوڑے سے آدمی تھے اور صرف ایک ہی قوم تھی بلکہ قوم سے بھی کمتر تھی اور شرک اور کفر اور انواع و اقسام کے گناہوں کا نام و نشان نہ تھا اور انسانی طبیعتیں سادہ اور پاک اور نفسانی جذبات سے محفوظ تھیں۔ تو اُس ابتدائی زمانہ میں خدا نے رسول بھیجا تا ظاہر کرے کہ جیسا کہ ایک انسان سے ایک قوم پیدا ہوئی ایساہی خدا بھی اُن کا ایک ہے اور وہی ان کا مالک اور وہی اُن کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی اُن کا معبود ہے اُسی نے پیدا کیا تا ان کو اپنی معرفت بخشے اور اُن کی عبادت کے ذریعہ سے اُن پر انعام و اکرام کرے اور اپنی مرضی کی راہ سکھلاکر ان کو ہمیشہ کا آرام دے۔ اور ایسا ہی جب ایک قوم سے کئی قومیں بن گئیں اور ایک دوسرے سے الگ ہوکرمختلف ملکوں میں پھیل گئے اور گناہ اور شرک کا گندہ مادہ بھی اُن میں پیدا ہوگیا گو ابھی کمال تک نہ پہنچا۔ تب اُس وقت بھی خدا تعالیٰ نے ہر ایک قوم کی اصلاح کے لئے ہر ایک ملک میں رسول بھیجے تا نبوت کی روشنی کو دنیا کے ہر ایک کونہ میں چمکا کر مختلف شہادتوں سے اپنی ہستی اور اپنے وجود اور اپنی وحی کا ثبوت دے اور تا مختلف کتابوں کی گواہیوں سے اِس بات کا ثبوت دے کہ فلاں فلاں امر اُس کے نزدیک گناہ اور قابل نفرت اور مکروہ ہے اور فلاں فلاں امر اس کی رضامندی کا موجب ہے اور تا اس طرح پر انسان یقین کے درجہ تک پہنچ کر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 90

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 90

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/90/mode/1up


    اپنیؔ علمی اور عملی حالت میں قوت پیدا کرے کیونکہ وہ خدا جس کو کسی نے بھی نہیں دیکھا اُس پر یقین لانے کے لئے بہت گواہوں اور زبردست شہادتوں کی حاجت ہے جیسا کہ دو آیتیں قرآن شریف کی اس واقعہ پر گواہ ہیں۔ اور وہ یہ ہیں:۔

    3 ۱؂ 3۲؂

    یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ڈرانے والا نبی نہیں بھیجا گیا یہ اس لئے کہ تا ہر ایک قوم میں ایک گواہ ہو کہ خدا موجود ہے اوروہ اپنے نبی دنیا میں بھیجا کرتا ہے۔ اور پھر جب اُن قوموں میں ایک مُدّت دراز گذرنے کے بعد باہمی تعلقات پیدا ہونے شروع ہوگئے اور ایک ملک کا دوسرے ملک سے تعارف اور شناسائی اور آمد و رفت کا کسی قدر دروازہ بھی کھل گیا اور دُنیا میں مخلوق پرستی اور ہر ایک قسم کا گناہ بھی انتہا کو پہنچ گیا۔ تب خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا تا بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بناوے اور جیسا کہ وہ واحد لا شریک ہے اُن میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گئی یعنی جس کا خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا۔ یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے واحد لا شریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے اس لئے اپنے تمام نظام جسمانی اور روحانی میں وحدت کو دوست رکھتا ہے۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اورآپ خاتم الانبیاء ہیں اِس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گذرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 91

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 91

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/91/mode/1up


    قومؔ کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمّت میں سے ایک نائب مقرر کیا

    جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اُسی کا نام خاتم الخلفاء ہے

    پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دُنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اوروہ یہ ہے۔3 ۱؂

    یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجاتا اُس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اورچونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلّف ہو اس لئے اِس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں وہ پائے نہیں گئے۔

    (۱) اول یہ کہ پورے اور کامل طور پر مختلف قوموں کے میل ملاقات کے لئے آسانی اور سہولت کی راہیں کھل جائیں اور سفر کی ناقابل برداشت مشقتیں دور ہوجائیں اور سفر بہت جلدی طے ہوسکے گویا سفر سفر ہی نہ رہے اور سفر کو جلد طے کرنے کے لئے فوق العادت اسباب میسرّ آجائیں کیونکہ جب تک مختلف ممالک کے باشندوں کے لئے ایسے اسباب اور سامان حاصل نہ ہوں کہ وہ فوق العادت کے طور پر ایک دوسرے سے مل سکیں اور بآسانی ایک دوسرے کی ایسے طور سے ملاقات کرسکیں کہ گویا وہ ایک ہی شہر کے باشندے ہیں تب تک ایک قوم کے لئے یہ موقعہ حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ اُن کا دین تمام دنیا کے دینوں پر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 92

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 92

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/92/mode/1up


    غالب ؔ ہے کیونکہ غلبہ دکھلانے کے لئے یہ شرط ہے کہ ان تمام مذاہب کا لوگوں کو علم بھی ہو جن پر غالب ہونے کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور نیز جن کو مغلوب سمجھا گیا ہے وہ بھی اِس بات کا علم رکھتے ہوں کہ ہم اِس الزام کے نیچے ہیں۔ اوریہ تو تبھی ہوسکتا ہے کہ مختلف ممالک کے لوگ ایسے باہم قریب ہوجائیں کہ گویا وہ ایک ہی محلہ میں رہتے ہیں اور ظاہرہے کہ یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ظہور میں نہیں آسکا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کئی قومیں زمین کے دور دراز کناروں پر آباد تھیں اور پیغام پہنچانے اور سفرکرنے اور باہمی جلد ملاقات کرنے کے وہ سامان موجود نہ تھے کہ جو اب اِس وقت ہمارے اِس زمانہ میں موجود ہیں۔

    (۲) دوسرا امر جو اس بات کے سمجھنے کے لئے شرط ہے کہ ایک دین دوسرے تمام دینوں پر اپنی خوبیوں کے رو سے غالب ہے یہ ہے جو دنیا کی تمام قومیں آزادی سے باہم مباحثات کرسکیں اور ہر ایک قوم اپنے مذہب کی خوبیاں دوسری قوم کے سامنے پیش کرسکے اور نیز تالیفات کے ذریعہ سے اپنے مذہب کی خوبی اور دوسرے مذاہب کا نقص بیان کرسکیں اور مذہبی کشتی کے لئے دُنیا کی تمام قوموں کو یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک ہی میدان میں اکٹھے ہوکر ایک دوسرے پر مذہبی بحث کے حملے کریں اور جیسا کہ دریا کی ایک لہر دُوسری لہر پر پڑتی ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں مشغول ہوں اور یہ مذہبی کشتی نہ ایک دو قوم میں بلکہ عالمگیر کشتی ہو جو دُنیا کی قوموں میں سے کوئی قوم اِس کشتی سے باہر نہ ہو۔ سو اس قسم کا غلبہ اسلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں میسر نہیں آسکا۔ کیونکہ اوّل تو اُس زمانہ میں دُنیا کی تمام قوموں کا اجتماع ناممکن تھا اور پھر ماسوا اِس کے جن قوموں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ پڑا اُن کو مذہبی امور میں دلائل سننے یا دلائل سنانے سے کچھ غرض نہ تھی بلکہ اُنہوں نے اُٹھتے ہی تلوار کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہا اور عقلی طور پر اس کے رد کرنے کے لئے قلم نہیں اُٹھائی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس زمانہ کی کوئی ایسی کتاب نہیں پاؤگے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 93

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 93

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/93/mode/1up


    جسؔ میں اسلام کے مقابل پر عقل یا نقل کے رنگ میں کچھ لکھا گیا ہو بلکہ وہ لوگ صرف تلوار سے ہی غالب ہونا چاہتے تھے اِس لئے خدا نے تلوار سے ہی اُن کو ہلاک کیا مگر ہمارے اِس زمانہ میں اسلام کے دشمنوں نے اپنے طریق کو بدل لیا ہے اور اب کوئی مخالف اسلام کا اپنے مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھاتا اور یہی حکمت ہے کہ مسیح موعود کے لئے یضع الحرب کا حکم آیا یعنی جنگ کی ممانعت ہوگئی اور تلوار کی لڑائیاں موقوف ہوگئیں اور اب قلمی لڑائیوں کا وقت ہے اور چونکہ ہم قلمی لڑائیوں کے لئے آئے ہیں اِس لئے بجائے لوہے کی تلوار کے لوہے کی قلمیں ہمیں ملی ہیں۔ اور نیز کتابوں کے چھاپنے اور دُور دراز ملکوں تک اُن تالیفات کے شائع کرنے کے ایسے سہل اور آسان سامان ہمیں میسر آگئے ہیں کہ گذشتہ زمانوں میں سے کسی زمانہ میں اُن کی نظیر پائی نہیں جاتی۔ یہاں تک کہ وہ مضمون جو برسوں تک لکھنے ناممکن تھے وہ دنوں میں لکھے جاتے ہیں۔ ایسا ہی وہ تالیفات جن کا دوردراز ملکوں میں پہنچانا مدت ہائے دراز کا کام تھا وہ تھوڑے ہی دنوں میں ہم دنیا کے کناروں تک پہنچا سکتے ہیں اور اپنی حجت بالغہ سے تمام قوموں کو مطلع کرسکتے ہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ اشاعت اور اتمام حجت ناممکن تھی کیونکہ اُس وقت نہ کتابوں کے چھاپنے کے آلات تھے اور نہ دوسرے ممالک میں کتابوں کے پہنچانے کے لئے سہل اور آسان طریق میسر تھے۔

    (۳) تیسرا امر جو اِس بات کو تمام دنیا پر واضح کرنے کے لئے شرط ہے کہ فلاں دین بمقابل دنیا کے تمام دینوں کے خاص طور پر خدا سے تائید یافتہ ہے اور خدا کا خاص فضل اور خاص نصرت اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ بمقابل دنیا کی تمام قوموں کے ایسے طور سے تائید الٰہی کے آسمانی نشان اُس کے شامل ہوں کہ دوسرے کسی دین کے شامل حال نہ ہوں اور بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے خدا دوسرے دینوں کو تباہ کرتا جائے اور ان کے اندر سے روحانی برکت اُٹھالے مگر وہ دین دوسرے دینوں کے سامنے خدا کے چمکدار نشانوں سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 94

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 94

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/94/mode/1up


    اپنی ؔ ممتاز حالت ثابت کرے اور دُنیا کے اِس سرے سے اُس سرے تک کوئی مذہب نشانِ آسمانی میں اُس کا مقابلہ نہ کرسکے باوجود اِس بات کے کہ کوئی حصہ آبادی دُنیا کا اِس دعوت مقابلہ سے بے خبر نہ ہو۔ یہ امر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کامل طور پر ظہور پذیر ہوناناممکن تھا کیونکہ اس کے لئے یہ شرط تھی کہ دنیاکی تمام قوموں کو جو مشرق اور مغرب اور جنوب اور شمال میں رہتی ہیں یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل پر اپنے مذہب کی تائید میں خدا سے چاہیں جو آسمانی نشانوں سے اس مذہب کی سچائی پر گواہی دے مگر جس حالت میں ایک قوم دوسری قوم سے ایسی مخفی اور محجوب تھی کہ گویا ایک دوسری دنیا میں رہتی تھی تو یہ مقابلہ ممکن نہ تھا اور نیز اس زمانہ میں ابھی اسلام کی تکذیب انتہا تک نہیں پہنچی تھی اور ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خدا کی غیرت تقاضا کرے کہ اسلام کی تائید میں آسمانی نشانوں کی بارش ہو مگر ہمارے زمانہ میں وہ وقت آگیا کیونکہ اس زمانہ میں گندی

    تحریروں کے ذریعہ سے اس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کی گئی ہے کہ کبھی کسی زمانہ میں کسی نبی کی توہین نہیں ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو ثابت نہیں ہوتا کہ کسی عیسائی یا یہودی نے اسلام کے رد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں دو یا تین ورق کا رسالہ بھی لکھا ہو مگر اب اِس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور اسلام کے رد میں کتابیں لکھی گئیں اور اشتہار شائع کئے گئے اور اخباریں تمام دنیا میں پھیلائی گئیں کہ اگر وہ تمام جمع کی جائیں تو وہ ایک بڑے پہاڑ کے برابر طومارہوتا ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ ان اندھوں نے اسلام کو ہر ایک برکت سے بے بہرہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آسمانی نشان نہیں دکھلایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا میں اسلام کا نام و نشان نہ رہے اور ایک عاجز انسان کی خدائی ثابت کرنے کے لئے خدا کے پاک دین اور پاک رسول کی وہ توہین کی گئی ہے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی دین اور کسی رسول کی ایسی توہین نہیں ہوئی اور درحقیقت یہ ایسا زمانہ آگیا ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 95

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 95

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/95/mode/1up


    کہؔ شیطان اپنے تمام ذُرّیات کے ساتھ ناخنوں تک زور لگا رہا ہے کہ اسلام کو نابود کردیا جاوے اور چونکہ بلاشبہ سچائی کا جھوٹ کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے اس لئے یہ زمانہ بھی اِس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کامامور آوے۔ پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے۔ اور زمانہ حق رکھتا تھا کہ اس نازک وقت میں آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی دنیا پر حجت پوری ہو سو آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔ اورآسمان جوش میں ہے کہ اس قدر آسمانی نشان ظاہر کرے کہ اسلام کی فتح کا نقّارہ ہر ایک ملک میں اور ہر ایک حصہ دُنیا میں بج جائے۔ اے قادر خدا !تو جلد وہ دن لاکہ جس فیصلہ کا تونے ارادہ کیا ہے وہ ظاہر ہوجائے اور دُنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے دین اور تیرے رسول کی فتح ہو۔ آمین ثم آمیْن۔

    اب ہم پھر اصل مقصد کی طرف رجوع کرکے باقی ماندہ مضمون کی نسبت جو آریہ صاحبوں کی طرف سے جلسہ میں پڑھا گیا تھا کچھ لکھتے ہیں۔ چنانچہ مضمون خوان نے اسلام پر ایک یہ بھی اعتراض کیا کہ گویا اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن شریف اسی طرح کاغذوں پر یا پتھروں پر لکھا ہوا آسمان پر سے نازل ہوا تھا اور پھر خود ہی اس عقیدہ پر ٹھٹھا اُڑاکر کہتا ہے کہ اول تو خدا آسمان پر بیٹھا ہوا نہیں اور پھر اگر ہم فرض بھی کرلیں تو ایسی کتاب اکاش سے گذرتی ہوئی جل سڑ جائے گی۔ لیکن افسوس کہ یہ لوگ اس جہالت اور بے خبری کے ساتھ جو اسلام کی نسبت رکھتے ہیں پھر بھی جلدی سے اعتراض کر دیتے ہیں معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف کاغذ پر لکھا ہوا آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اِس بات کو تو ایک ناخواندہ مسلمان بھی جانتا ہے کہ قرآن شریف کا نازل ہونا اس طور سے مانا جاتا ہے کہ وہ خدا کا پاک کلام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِل پر نازل ہوا اور اِسی طرح ہم اب بھی خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 96

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 96

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/96/mode/1up


    مشاؔ ہدہ کرتے ہیں جس مشاہدہ کے ہم خود گواہ رویت ہیں کہ یہی سنت اللہ اور قانون قدرت ہے کہ خدا کا کلام مع الفاظ دل پر نازل ہوتا اور زبان پر جاری ہوتا ہے وہ صرف مفہوم نہیں ہوتا بلکہ اُس کے ساتھ لفظ بھی ہوتے ہیں اور جیسا کہ خدا کا فعل بے نظیر ہے ایسا ہی وہ خدا کا کلام بھی بے مثل ہوتا ہے اِس طرح پر کہ نہایت درجہ کی بلاغت فصاحت کے ساتھ امور غیبیہ سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک طاقت اور برکت اور کشش ہوتی ہے جو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ایک نور ہوتا ہے جو تاریکی کو دُور کرتا ہے اور پیروی کرنے والے کو اُس نور سے منور کرتا ہے اور اُس کو خدا سے نزدیک کر دیتا ہے اور اُس کے ذریعہ سے پیروی کرنے والا گندی زندگی سے نجات پاکر بغیر اس کے جو ہزاروں جونوں میں ڈالا جائے اُسی پہلی جون میں ہی نجات پا لیتا ہے مگر افسوس !کہ وید میں نہ وہ طاقت ہے نہ وہ نور ہے نہ وہ کشش ہے اسی وجہ سے وید کے ذریعہ مکتی پانے والے اب تک سب کے سب کیڑے مکوڑے اورسؤر بندر ہی نظر آتے ہیں اور صرف تھوڑے سے انسان ہیں باقی تمام سطح زمین اور سمندر اور اکاش کا فضا کیڑوں مکوڑوں اور حیوانات سے بھرا پڑا ہے جن کا شمار بجز خدا کے کسی کی طاقت اور قدرت کے اندر نہیں۔ اور پھر یہ عجیب بات ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ کیڑے کو بھی دیکھ کر ہم یقین کامل سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ خدا کا بنایا ہوا ہے مگر وید میں ہمیں کوئی ایسی فوق العادت بات نظر نہیں آتی کہ ہمیں اِس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرے کہ وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔ اور ایک مکھی کو دیکھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی ہے لیکن اگر ہم تمام و ید اول سے آخر تک پڑھ جائیں تو ہمیں کوئی خدائی صنعت اس میں ایسی معلوم نہیں ہوتی جس سے ہمیں خیال آسکے کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے ہے۔ نہ اس میں کسی معجزہ کا ذکر ہے اور نہ اس میں کوئی پیشگوئی ہے اور نہ اس میں انسانی طاقت سے بڑھ کرعلوم ہیں بلکہ صرف موٹے خیالات ہیں جو جا بجا غلطیوں سے بھرے ہوئے ہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 97

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 97

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/97/mode/1up


    پس ؔ ایسی کتاب کیونکہ قبول کرنے کے لائق ہے جو اپنی حیثیت اور مرتبہ میں ایک مکھی کے برابر بھی نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ؟ کہ مکھی کو دیکھ کر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کے بنانے پر انسان قادر نہیں ہوسکتا۔ مگر کیا وید کو کوئی عقلمند پڑھ کر کہہ سکتا ہے ؟ کہ اس کے بنانے پر بھی انسان قادر نہیں۔ پس اگر مکھی کے موافق بھی جو ایک ذلیل تر جاندار ہے وید میں کوئی اعجوبہ نہیں تو عقل تجویز نہیں کرسکتی کہ وہ اُس خدا کا کلام ہے جس کا قول ایسا بے نظیر ہونا چاہیئے جیسا کہ اُس کا فعل بے نظیر ہے۔

    رہا یہ قول مضمون خواں صاحب کا کہ اس کے خیال کے موافق اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ گویا خدا انسان کی طرح آسمان پر بیٹھا ہوا ہے سو یہ محض اس کی ناواقفی ہے چونکہ ہندو لوگ محض اپنی جہالت اور بخل اور تعصب کی راہ سے قرآن شریف پر ایک نظر تدبر بھی نہیں ڈالتے اس لئے ایسے ایسے شیطانی اعتراض ان کو سوجھتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہےزمین پر بھی ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے 3 3 ۱؂ یعنی زمین میں وہی خدا ہے اوروہی آسمان میں خدا اور فرمایا کہ کسی پوشیدہ* مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے 3 ۲؂ یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے3 ۳؂ یعنی ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں اور یہ بھی ایک جگہ فرمایا کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور یہ بھی فرمایا کہ 3۴؂ یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ 3 ۵؂ یعنی خدا وہ ہے جو زمین و آسمان میں اُسی کے چہرہ کی چمک ہے اور اس کے بغیر سب تاریکی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ33 ۶؂ یعنی ہر ایک وجود ہلاک ہونے والا


    *حاشیہ۔ قرآن شریف کی اس بارہ میں یہ آیت ہے مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ ۷؂ یعنی تین شخص کوئی ایسا پوشیدہ مشورہ نہیں کرتے جس کا چوتھا خدا نہ ہو اور نہ پانچ کرتے ہیں جن کا چھٹا خدا نہ ہو ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 98

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 98

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/98/mode/1up


    تغیر پذیر ہے اور ؔ وہ جو باقی رہنے والا ہے وہی خدا ہے یعنی ہر ایک چیز فنا قبول کرتی ہے اور تغیر قبول کرتی ہے مگر انسانی فطرت اِس بات کے ماننے کے لئے مجبور ہے کہ اس تمام عالم ارضی اور سماوی میں ایک ایسی ذات بھی ہے کہ جب سب پر فنا اور تغیر وارد ہو اس پر تغیر اور فنا وارد نہیں ہوگی وہ اپنے حال پر باقی رہتا ہے وہی خدا ہے۔ لیکن چونکہ زمین پر گناہ اور معصیت اور ناپاک کام بھی ظاہر ہوتے ہیں اور خدا کو صرف زمین تک محدود رکھنے والے آخر کار بُت پرست اور مخلوق پرست ہو جاتے ہیں جیسا کہ تمام ہندو ہوگئے۔ اِس لئے قرآن شریف میں ایک طرف تویہ بیان کیا کہ خدا کا اپنی مخلوق سے شدید تعلق ہے اوروہ ہرایک جان کی جان ہے اور ہر ایک ہستی اُسی کے سہارے سے ہے۔ پھر دوسری طرف اِس غلطی سے محفوظ رکھنے کے لئے کہ تا اس کے تعلق سے جو انسان کے ساتھ ہے کوئی شخص انسان کو اُس کا عین ہی نہ سمجھ بیٹھے جیسا کہ ویدانت والے سمجھتے ہیں۔ یہ بھی فرما دیا کہ وہ سب سے برتر اور تمام مخلوقات سے وراء الوراء مقام پر ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں عرش کہتے ہیں اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے صرف وراء الوراء مرتبہ کا نام ہے نہ یہ کہ کوئی ایسا تخت ہے جس پر خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح بیٹھا ہوا تصور کیا جائے بلکہ جو مخلوق سے بہت دور اور تنزہ اور تقدس کا مقام ہے اس کو عرش کہتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ سب کے ساتھ خالقیت اور مخلوقیت کا تعلق قائم کرکے پھرعرش پر قائم ہوگیا یعنی تمام تعلقات کے بعد الگ کا الگ رہا اور مخلوق کے ساتھ مخلوط نہیں ہوا۔

    غرض خدا کا انسان کے ساتھ ہونا اور ہر ایک چیز پر محیط ہونا یہ خدا کی تشبیہیصفت ہے۔ اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا ہے کہ تا وہ انسان پر اپنا قرب ثابت کرے اور خدا کا تمام مخلوقات سے وراء الوراء ہونا اور سب سے برتر اور اعلیٰ اور دُور تر ہونا اور اس تنزّہ اور تقدّس کے مقام پر ہونا جو مخلوقیت سے دُور ہے جو عرش کے نام سے پکارا جاتا ہے اُس صفت کا نام تنزیہی صفت ہے اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا تا وہ اس سے اپنی توحید اور اپنا وَحدہٗ لَاشَریک ہونا اورمخلوق کی صفات سے اپنی ذات



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 99

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 99

    http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/99/mode/1up


    ا منزہ ہونا ثابت کرے۔ دوسری قوموں نے خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت یا تو تنز یہی صفت اختیار کی ہے یعنی نرگن کے نام سے پکارا ہے اور یا اس کو سرگن مان کر ایسی تشبیہ قرار دی ہے کہ گویا وہ عین مخلوقات ہے اور ان دونوں صفات کو جمع نہیں کیا۔ مگر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں صفات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دکھلایا ہے اور یہی کمال توحید ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے اس اعتراض کے ساتھ یہ اعتراض بھی جڑ دیا ہے کہ مسلمانوں کے اعتقاد میں حجرِاَسود ایک ایسا پتھر ہے جو آسمان سے گرا تھا معلوم نہیں کہ اس اعتراض سے اُس کو کیا فائدہ ہے۔ استعارہ کے رنگ میں بعض یہ روایتیں ہیں کہ وہ بہشتی پتھر ہے۔ مگر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بہشت میں کوئی پتھر نہیں ہے بہشت ایسا مقام ہے کہ اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اور اس دنیا کی کوئی چیز بھی بہشت میں نہیں ہے بلکہ بہشتی نعمتیں ایسی نعمتیں ہیں کہ جو نہ کبھی آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں اور نہ دل میں گذریں اور خانہ کعبہ کا پتھر یعنی حجر اسود ایک روحانی امر کے لئے نمونہ قائم کیا گیا ہے*۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو نہ خانہ کعبہ بناتا اور نہ اس میں حجر اسود رکھتا لیکن چونکہ اس کی عادت ہے کہ روحانی اُمور کے مقابل پر جسمانی اُمور بھی نمونہ کے طور پر پیدا کر دیتا ہے تا وہ روحانی اُمور پر دلالت کریں اسی عادت کے موافق خانہ کعبہ کی بنیاد ڈالی گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور عبادت دو قسم کی ہے۔ (۱) ایک تذلّل اور انکسار (۲) دوسری محبت اور ایثار۔ تذلل اور انکسار کے لئے اُس نماز کا حکم ہوا جو جسمانی رنگ میں انسان کے ہر ایک عضو کو خشوع اورخضوع کی حالت میں ڈالتی ہے یہاں تک کہ دِلی سجدہ کے مقابل پر اس نماز میں جسم کا بھی سجدہ رکھا گیا تا جسم اور رُوح دونوں اس عبادت میں شامل ہوں اور واضح ہو کہ جسم کا سجدہ بیکار اور لغو نہیں اوّل تو یہ امر مسلّم ہے کہ خدا جیسا کہ


    *حاشیہ ۔ خدا تعالیٰ نے شریعت اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو ۔ پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے333 ۱؂ یعنی خدا کو تمہاری قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اورنہ خون پہنچتا ہے مگر تمہاری تقویٰ اس کو پہنچتی ہے ۔ یعنی اس سے اتنا ڈرو کہ گویا اس کی راہ میں مر ہی جاؤ اور جیسے تم اپنے ہاتھ سے قربانیاں ذبح کرتے ہو ۔ اسی طرح تم بھی خدا کی راہ میں ذبح ہو جاؤ ۔ جب کوئی تقویٰ اس درجہ سے کم ہے تو ابھی وہ ناقص ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 100

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 100

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/100/mode/1up


    روح کا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی وہ جسم کا بھی پیدا کرنے والا ہے اوردونوں پر اُس کا حق خالقیت ہے ماسوا اس کے جسم اور رُوح ایک دوسرے کی تاثیر قبول کرتے ہیں بعض وقت جسمؔ کا سجدہ رُوح کے سجدہ کا محرک ہو جاتا ہے اور بعض وقت روح کا سجدہ جسم میں سجدہ کی حالت پیدا کر دیتا ہے کیونکہ جسم اور رُوح دونوں باہم مرایا متقابلہ کی طرح ہیں۔ مثلاً ایک شخص جب محض تکلف سے اپنے جسم میں ہنسنے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات وہ سچی ہنسی بھی آجاتی ہے کہ جو رُوح کے انبساط سے متعلق ہے ایسا ہی جب ایک شخص تکلف سے اپنے جسم میں یعنی آنکھوں میں ایک رونے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات حقیقت میں رونا ہی آجاتا ہے جو رُوح کی درد اوررقت سے متعلق ہے۔ پس جبکہ یہ ثابت ہوچکا کہ عبادت کی اس قسم میں جو تذلل اور انکسار ہے جسمانی افعال کا رُوح پراثر پڑتا ہے اورروحانی افعال کا جسم پر اثر پڑتا ہے۔ پس ایسا ہی عبادت کی دوسری قسم میں بھی جو محبت اور ایثار ہے انہیں تاثیرات کا جسم اوررُوح میں عوض معاوضہ ہے۔ محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجرِ اسود میرے آستانہ کا پتھر* ہے اور ایسا حکم اِس لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کردے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اُس گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بناکر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔زینت دُور کردیتے ہیں سر منڈوا دیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بناکراس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کرکے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ رُوحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے اور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور رُوح اُس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتی ہے اور اس کے رُوحانی آستانہ کو چومتی ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پاکر بھی اُس کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجر اسود


    *حاشیہ۔ خدا کا آستانہ مصدر فیوض ہے یعنی اسی کے آستانہ سے ہریک فیض ملتا ہے پس اسی کے لئے معبّرینلکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں حجر اسود کو بوسہ دے تو علوم روحانیہ اس کو حاصل ہوتے ہیں کیونکہ حجر اسود سے مراد منبعِ علم و فیض ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 101

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 101

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/101/mode/1up


    سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قراردادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے وبس۔ جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہؔ بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ مگر اُس محبوب کے ہاتھ کا ہے جس نے اُس کو اپنے آستانہ کا نمونہ ٹھہرایا۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ جس کتاب میں قانونِ قدرت کے برخلاف تعلیم ہو وہ کتاب الہامی نہیں ہوسکتی۔ اس تقریر سے اُس نے وید پر حملہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل وہ وید پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اگر درحقیقت الہامی کتاب کے لئے یہی شرط ہے جو اُس نے بیان کی ہے تو اس شرط کو ہرگز وید نے پورا نہیں کیا۔ کیونکہ وید خدا کے قانون قدرت سے ہرایک پہلو میں مخالف ہے مثلاً وید آئندہ زمانہ کے لئے جو وید کے بعد زمانہ ہے یہ اقرار نہیں کرتا کہ خدا کے الہام کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ قانون قدرت شہادت دیتا ہے کہ ضرور الہام کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیئے وجہ یہ کہ قانون قدرت کی رُو سے خدا تعالیٰ کے نظام جسمانی اور رُوحانی میں تطابق پایا جانا ضروری ہے تا وہ تطابق اس بات پر دلالت کرے کہ ان دونوں نظاموں کا بنا نے والا ایک خدا ہے مگر الہام کو صرف ایک خاص زمانہ تک ختم کرکے تطابق باقی نہیں رہتا کیونکہ اِس بات سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ جسمانی ضرورتوں کے لئے ہمیشہ خدا نے اپنے فیضان کا دروازہ کھلا رکھا ہے چنانچہ بھوک کے لئے اِس زمانہ میں بھی اناج موجود ہے جیسا کہ پہلے موجود تھا اور پیا س کے لئے اب بھی آسمان سے پانی برستا ہے جیسا کہ پہلے برستا تھا جس سے زمینی پانی دریاؤں اورکنووں کے بکثرت ہوجاتے ہیں پھر روحانی حاجتوں کا کیوں دروازہ بند کیا گیا۔ کیا روحانی پیاسوں کو اب اس پانی کی ضرورت نہیں ہے جو روحانی طور پر سیراب کرتا ہے یعنی کیا اب اس بات کی حاجت نہیں کہ نوع انسان خدا کے تازہ بتازہ نشانوں اورمعجزات کے ذریعہ سے شکوک و شبہات سے نجات پاکر اور یقین کے مرتبہ تک پہنچ کر پوری تسلی پاویں۔ کیا یہی وید ودّیا پیش کی جاتی ہے کہ جسمانی حاجات کے پورا کرنے کا تو اب تک خدا نے دروازہ بند نہیں کیا مگر روحانی حاجات کے پورا کرنے کا دروازہ بند کردیا ہے۔ غرض وید تو اس جگہ تطابق دکھلانے سے رہ گیا۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 102

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 102

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/102/mode/1up


    مگر یہ جسمانی اور روحانی تطابق قانون قدرت کا قرآن شریف نے دکھلا دیا جیسا کہ وہ ؔ فرماتا ہے۔3333 ۱؂ (الجزونمبر۳۰ سورۃ الطارق) یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے مینہ نازل ہوتا ہے اور قسم ہے زمین کی جو پھوٹ کر اناج نکالتی ہے۔ یہ کلام یعنی قرآن شریف حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے اور بے فائدہ نہیں یعنی اس کلام کی ایسی ہی ضرورت ثابت ہے جیسا کہ جسمانی نظام میں مینہ کی ضرورت ثابت ہے۔ اگر مینہ نہ ہو تو آخر کارکنویں بھی خشک ہو جاتے ہیں اور دریا بھی اور پھر نہ پینے کے لئے پانی رہتا ہے اور نہ کھانے کے لئے اناج۔ کیونکہ ہر ایک برکت زمین کی آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔ اِس دلیل سے خدا نے ثابت کیا ہے کہ جیسا کہ پانی اوراناج کی ہمیشہ ضرورت ہے ایسا ہی خدا کی کلام اور اس کے تسلی دینے والے معجزات کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ کیونکہ محض گزشتہ قصوں سے تسلی نہیں ہوسکتی۔

    پس آریہ صاحبوں کو سمجھنا چاہیئے کہ محض وید کے ورق چاٹنے سے نہ روحانی پیاس دور ہوسکتی ہے اور نہ وہ تسلی مل سکتی ہے جو خدا کے تازہ بتازہ معجزات سے ملتی ہے اور آیت ممدوحہ بالا میں جو خدا نے قسم کھائی پس جاننا چاہیئے کہ خدا کی قسمیں انسان کی قسموں کی طرح نہیں ہیں بلکہ عادت اللہ اس طرح واقعہ ہوئی ہے کہ وہ قرآن شریف میں قسم کھاکر جسمانی نظام کو روحانی نظام کی تصدیق میں پیش کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قسم شہادت کی قائم مقام وضع کی گئی ہے۔ پس اس جگہ خدا کی کلام میں جسمانی امور کی قسم کھانے سے اشارہ یہ ہے کہ جو قسم کے بعد روحانی امور بیان کئے گئے ہیں جسمانی اُمور ان کی سچائی کے گواہ ہیں۔ پس جس جگہ تم قرآن شریف میں اس طور کی قسمیں پاؤگے ہر ایک جگہ اُن قسموں سے یہی مراد ہے کہ خدا تعالیٰ اول جسمانی امور پیش کرکے ان امور کو روحانی امور کے لئے جو بعد میں لکھتا ہے بطور گواہ کے پیش کرتا ہے مگر افسوس ہمارے نادان اور اندھے مخالف اپنی جہالت سے قرآن شریف کی ان قسموں پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف ایک ایسی پُرحکمت کتاب ہے جس نے طبِّ رُوحانی کے قواعد کلیہ کو یعنی دین کے اصول کو جو دراصل طبِّ رُوحانی ہے طبِّ جسمانی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 103

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 103

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/103/mode/1up


    کےؔ قواعد کلیہ کے ساتھ تطبیق دی ہے اور یہ تطبیق ایک ایسی لطیف ہے جو صدہا معارف اور حقائق کے کھلنے کا دروازہ ہے اور سچی اورکامل تفسیرقرآن شریف کی وہی شخص کرسکتا ہے جو طبِّ جسمانی کے قواعد کلیہ پیش نظر رکھ کر قرآن شریف کے بیان کردہ قواعد میں نظر ڈالتا ہے ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طبِّ جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور ستّہ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے اس سے معلوم ہوا کہ عِلْمُالاَبْدَاناور عِلْمُ الاَدْیان میں نہایت گہرے اورعمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدّق ہیں اور جب میں نے اُن کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طب جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طبِّ جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں اور اگر خدا نے چاہا اور زندگی نے وفا کی تو میرا ارادہ ہے کہ قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھ کر اس جسمانی اورروحانی تطابق کو دکھلاؤں۔

    غرض آسمان کے نیچے کوئی دوسری کتاب نہیں پائی جاتی کہ جو طبِّ جسمانی اور طبِّ روحانی میں اس قدر تطابق دکھلاکر قانون قدرت کے معیار کو اپنی پیروی کرنے والوں کے ہاتھ میں دیدے۔ اس لئے میں پورے یقین سے سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب ہلاک شدہ ہیں۔ وہ مُنہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ الہامی کتاب کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ وہ قانون قدرت کے مطابق ہو مگر مطابق کرکے دکھلاتے نہیں اور اُن کو یہ بھی سمجھ نہیں کہ قانون قدرت کے آلہ کو استعمال کرنے کے لئے طریق کیا ہے۔ وہ خدا کے قانون قدرت کو مروڑ توڑ کر اپنے مسلّمہ عقائد کے مطابق کرنا چاہتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ درحقیقت وہ مطابق بھی ہیں یا نہیں۔

    اور پھر مجھے یہ تعجب ہے کہ آریہ صاحبان قانون قدرت کا ذکر ہی کیوں کرتے ہیں۔ کیونکہ جس حالت میں اُن کے پرمیشر میں یہ قدرت ہی نہیں کہ ایک روح بناسکے یا کسی روح میں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 104

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 104

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/104/mode/1up


    کوئیؔ قوت پیدا کرسکے یا کوئی ذرّہ اجسام بناسکے یا کوئی علم غیب اپنی شناخت کے لئے اپنی کتاب میں بیان کرسکے یا دلوں کو تسلی دینے کے لئے اپنا کوئی معجزہ دکھلا سکے تو پھر یہ کہنا کہ اُس کا کوئی قانونِ قدرت ہے سراسر لغو اور بے معنی بات ہے۔ قانون کا مرتب کرنا قدرت کے بعد ہے اور جب قدرت ہی نہیں تو یہ کہنا چاہیئے کہ قانون عجز او ر بے قدرتی۔ نہ کہ قانون قدرت ۔وہ پرمیشر جو مکتی دائمی نہیں دے سکتا اور کسی کا گنہ نہیں بخش سکتا اور اپنی ہستی ثابت کرنے کے لئے کوئی قدرت کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اس کی نسبت قانون قدرت کو کیونکر منسوب کرسکتے ہیں۔

    پھرمضمون خواں نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا اپنے قانون کو بدل سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ اپنے صفات کو بھی بدل سکتا ہے۔ اب غور کرنا چاہیئے کہ یہ کیسا بیہودہ جواب ہے یہ تو سچ ہے کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہے اس کی صفات بھی غیر متبدّل ہیں اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اُس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے۔ اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق درعمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اُس کے قانون میں ہی داخل ہے جب ایک شخص اُس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضامندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جنا ب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اُس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قوی ہوں۔ اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میّت ہے خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہوکر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مرگیا ہے۔ مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 105

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 105

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/105/mode/1up


    کرؔ تا ہے اور چونکہ کوئی شخص اُس کے قانون کی حد بست نہیں کرسکتا اس لئے جلدی سے بغیر کسی قطعی دلیل کے جو روشن اور بدیہی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امر قانون قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حدبست نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کرسکتا ہے ؟ ہاں قطعی اور یقینی طور پر جو باتیں ثابت ہوچکی ہیں اُن سے انکار کرنا ایک قابل شرم جہالت ہے جیسا کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خداواحد لا شریک ہے اور وہ ان تمام باتوں پر قادر ہے جو اس کے تقدس اور کمال کے برخلاف نہیں ہیں اور قانون قدرت کا تو یہ حال ہے کہ پہلے زمانہ میں خدا نے انسان کو محض مٹی سے پیدا کیا یہ بھی ایک قانون قدرت تھا اور پھر اب نطفہ سے پیدا کرتا ہے تو یہ امر بھی قانون قدرت ہے اور پھر اگر ایک زمانہ کے بعد کسی اور طور سے انسان کو پیدا کرے توکیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ طور اس کے قانون قدرت سے باہر ہے جو غیر محدود ہے۔ یہ خیالات سب جہالتیں ہیں سچ تو یہ ہے کہ نہ کسی نے اب تک اُس کی حد بست کی اور نہ اُس کے قانون کی۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے اپنے مضمون میں یہ بھی بیان کیا کہ خدا کا قانون یعنی الہامی کتاب بدل نہیں سکتی۔ ہاں انسانی قوانین ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسان کا علم محدود ہے مثلاً گورنمنٹ جو آج قانون بناتی ہے تو کل اُسے بدلنا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے کرنی پڑتی ہے کہ گورنمنٹ کامل علم نہیں رکھتی بلکہ بہت محدود علم رکھتی ہے۔ چونکہ علم تجربہ سے بڑھتا ہے اس لئے گورنمنٹ کے قانون میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے مگر خدا کا علم کامل ہے اس لئے اُس کو اپنی کتاب کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔

    اس تقریر میں گویا مضمون پڑھنے والے نے ان تمام کتابوں پر حملہ کیا ہے جو بجز ویدکے خدا کی الہامی کتابیں قوموں میں پائی جاتی ہیں اور اس حملہ کے وقت پہلے اُس نے اپنے دل میں بغیر کسی دلیل کے فرض کرلیا ہے کہ سب الہامی کتابیں وید کے بعد ہیں اور پھر یہ فرض کرلیا ہے کہ وید کامل کتاب ہے اور اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 106

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 106

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/106/mode/1up


    اور ؔ پھر اس فرض کرنے کے بعد تمام دوسری الہامی کتابوں کو نعوذ باللہ انسان کا افترا قرار دیا ہے حالانکہ ایسا اعتراض پیش کرنے کے وقت پہلے اس کے لئے ضروری تھا کہ وید کا ابتدائے زمانہ میں نازل ہونا ثابت کرتا اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر کوئی دلیل پیش کرتا لیکن اُس نے کوئی دلیل پیش نہیں کی اور نہ کرسکتا تھا بلکہ جس خدا کو وید نے پیش کیا ہے اُس کے وجود کا بھی اُس نے کچھ ثبوت نہیں دیا تو پھر وید کی سچائی کا ثبوت کہاں سے میسر آوے اور پھر اگر فرض بھی کرلیں کہ وید ابتدائے زمانہ کا ہے تب بھی اُس کا ابتدائے زمانہ میں ہونا سچائی کی دلیل نہیں ہے۔ کیا ابتدائے زمانہ میں افترا کرنا اور جھوٹ بولنا انسان کو نہیں آتا تھا اور کیا صرف بعد میں افترا کا طریق نکلا ہے بلکہ جیسا کہ اول زمانہ میں سانپ بندر سؤر سب موجود تھے ایسا ہی شریر انسان بھی موجود تھے ہاں تعداد میں کم تھے۔

    پھر ماسوا اس کے یہ کہنا کہ خدا کے قانون میں تبدیلی غیر ممکن ہے ہاں انسانی قوانین بباعث کمی تجربہ اورکمی علم کے بدلائے جاتے ہیں یہ قول بھی ایسے لوگوں کا قول ہے کہ جنہوں نے انسانی قوانین پر بھی کبھی غور نہیں کی۔ اگر مضمون پڑھنے والا گورنمنٹ کے کسی واضح قانون سے ہی ملاقات کرتا اور اُس سے دریافت کرلیتا کہ کیا ہمیشہ نیا قانون بنانے کا یہی ایک سبب ہوتا ہے کہ دراصل اس قانون میں کوئی غلطی ہوتی ہے اور پھر تجربہ کے بعد پتہ لگتا ہے کہ دراصل ہم نے فلا ں فلاں امر میں غلطی کھائی ہے اور دوسرا کوئی بھی سبب نیا قانون بنانے کا نہیں ہوتا۔ تو ایسا بیہودہ اور احمقانہ خیال کبھی اُس کے منہ سے عام جلسہ میں نہ نکلتا بلکہ تبدیل قانون کا بھاری سبب وہ تبدیلیاں ہوتی ہیں جو انسان کے ذاتی حالات اور چال چلن اور ذہنی قویٰ اور اموال اور املاک اور اس کی تمدنی صورتوں یا جنگی طریقوں میں ظہور میں آتی ہیں۔ مثلاً ایک وہ زمانہ تھا جو تیرو کمان یا تلوار سے لڑائی ہوتی تھی اور دوسرے زمانہ میں بندوق وغیرہ وہ ہتھیار پیدا ہوگئے جنہوں نے تیروکمان کو بیکار کردیا اور ساتھ ہی لڑائی کا قانون بھی بدل گیا۔ ایسا ہی جب ایک ملک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 107

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 107

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/107/mode/1up


    اپنیؔ آبادی کے لحاظ سے اپنی کاشتکاری کے لحاظ سے اور اپنی تجارت کے لحاظ سے ادنیٰ درجہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اکثر زمین بنجر اور ناقابل زراعت ہوتی ہے اور لوگ جاہل اور وحشیوں کی طرح ہوتے ہیں تو اس صورت میں بہت نرمی سے اُن کی نسبت قانون بنایا جاتا ہے اور سرکاری لگان بہت کم مقرر کیا جاتا ہے اور تجارتی اُمور میں بھی نرم ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن جب ایک مدت کے بعد زمین کی ایک عمدہ حالت پیدا ہوجاتی ہے اور ہزارہا گھماؤں بنجر توڑ کر آباد کیا جاتا ہے اور خوش حیثیتی بہت بڑھ جاتی ہے اور ایسا ہی تجارتی کاروبار بھی ترقی پذیر ہو جاتے ہیں تو پھر قانون بدلنا پڑتا ہے اور یہ تبدیلی گورنمنٹ کے قانون پر ہی موقوف نہیں تعلیمی صیغہ میں بھی ضروری طور پر یہی تبدیلی پیش آتی ہے۔ جو بچے ابتدائی مرحلہ میں مدرسہ میں بٹھائے جاتے ہیں اُن کے لئے اور کتابیں ہوتی ہیں اور پھر جب اچھی طرح حروف شناس ہوجاتے ہیں تو پھر اورکتابیں اُن کو دی جاتی ہیں اور پھر جب استعداد اُس سے بھی بڑھ جاتی ہے تو دوسری کتابیں حسب استعداد ان کو دی جاتی ہیں اور سب کے بعد انتہائی کتاب کا وقت آتا ہے اور چونکہ خدا اپنی تعلیم میں گڑبڑ ڈالنا نہیں چاہتا اس لئے پیش از وقت کوئی قانون الہامی انسانوں کو نہیں دیتا کیونکہ جن تغیرات کا ابھی انسان کو علم ہی نہیں اُن تغیرات کے موافق انسان کو قانون دینا گویا اس کو سخت پریشانی میں ڈالنا ہے۔

    ایسا ہی ہر ایک بیمار جو طبیب کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اس کے علاج میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور جو بیمار کی ایک خاص حالت میں نسخہ تجویز کیا جاتا ہے وہ نسخہ دوسری حالت کے شروع ہونے پر بدلایا جاتا ہے اور جب بیما ر میں تیسری حالت پیدا ہوجائے تو پھر اُسی حالت کے موافق نسخہ لکھا جاتا ہے اورخدا کی کتاب کو جو طبِّ رُوحانی ہے طبِّ جسمانی سے اُس کو بہت مناسبت ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ پس جس حالت میں طبِّ جسمانی میں یہ تبدیلیاں ایک لازمی امر ہے تو پھر طبِّ روحانی میں کیوں لازمی نہ ہوگا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 108

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 108

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/108/mode/1up


    سؔ ایسا شخص جو ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتا ہے اگر وہ بیمار ہوکر کسی طبیب کی خدمت میں حاضر ہو تو اُس کو سوچنا چاہئے کہ کیا جب طبیب بیماری کے عوارض بدلنے کی وجہ سے نسخہ کو بدلانا چاہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اے طبیب ! تو بیوقوف ہے کیونکہ یہ دوسرا نسخہ تجھے بعد میں ایک غلطی کرکے سوجھا ہے پہلے تو نے یہ نسخہ کیوں نہ لکھا۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے جاہل اور نادان ہیں کہ جو انسانی فطرت کو تبدیلیاں لازم ہوئی ہیں اُن سے بھی بے خبر ہیں۔ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ نوع انسان مختلف زمانوں میں اپنے اخلاق اور اعمال اور عقائد اور اپنی تمدنی صورتوں اور قومی عادات میں بڑے بڑے پلٹے کھاتے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہر ایک انقلاب کے موافق اپنی طرف سے کوئی کتاب بھیجتا رہاہے کیا یہ ایسی باتیں ہیں جو سمجھ نہیں آسکتی تھیں بلکہ اکثر آدمی محض تعصب اور شرارت سے سچائی کے دشمن بن جاتے ہیں ایک بوڑھی عورت بھی جو چنداں عقل اور ہنر نہیں رکھتی اپنے بچے کی عمر اور موسم کی تبدیلی کے ساتھ اُس کے طریق تعہد میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہے ایک وہ زمانہ ہوتا ہے جو بچہ صرف دودھ پینے کے قابل ہوتا ہے۔ اور پھر دوسرا زمانہ آتا ہے کہ کچھ نرم نرم غذا بھی دینا شروع کرتی ہے۔ اور پھر تیسرا زمانہ آتا ہے کہ قطعاً اُس کو دودھ دینا بند کر دیتے ہیں اور بچہ گو روتا رہے مگر اس کی کچھ بھی پروا نہیں کی جاتی۔ اور پھر اوائل میں جو بچہ کو پاجامہ پہنایا جاتا ہے آگے پیچھے سے ایک چاک چھوڑ دیتے ہیں۔ تا پیشاب کرنے اور پاخانہ پھرنے میں اُس کو تکلیف نہ ہو اور پھر جب کچھ ہوش سنبھل جاتا ہے تو پھر وہ چاک بند کیا جاتاہے۔ اسی طرح تبدیلیاں وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ تبدیلی محض لا علمی کی وجہ سے ہوتی ہے ایک تدبر کی نظر سے دیکھنا چاہیئے کہ خدا نے انسان کے جسمانی رزق پیدا کرنے میں بھی جو قانون قدرت رکھا ہے وہ بھی تبدیلیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک موسم اُس نے بارشوں کے لئے مقرر کیا ہے اور پھر دوسرا موسم دُھوپ کا ہے کیونکہ اگر بارشیں ہی ہوتی رہیں اور دُھوپ کی نوبت نہ آئے تو تمام تخم جو بویا گیا ہے پانی میں بہ جائے۔ اور اگر دُھوپ ہی رہے اور بارشیں نہ ہوں تو تخم



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 109

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 109

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/109/mode/1up


    جلؔ جائیں اور قحط پڑ جائے۔ اب سوچ لو کہ کیا کبھی کسی عقلمند نے اعتراض کیا ہے کہ خدا کے جسمانی قانون قدرت میں اِس قدر تبدیلیاں کیوں ہیں تو پھر رُوحانی قانون قدرت پر اعتراض کرنا اگر سراسر جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟ دیکھو کبھی دن ہوتا ہے اور کبھی رات۔ اور رات بھی دو قسم کی ہے کبھی چاند کی روشنی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ اور دن میں کبھی صبح ہوتی ہے کبھی دوپہر کبھی شام اور پھر کبھی موسم گرما آجاتا ہے اورکبھی موسم سرما۔ اسی طرح خدا کے جسمانی نظام میں ہزاروں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ پس اگر خدا نے روحانی قانون قدرت میں تبدیلیاں رکھ دیں تو کیا غضب آگیا۔ بلکہ ایسی الہامی کتاب جو خدا تعالیٰ کے جسمانی قانون قدرت کے ساتھ موافقت نہیں رکھتی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتی۔

    خلاصہ کلام یہ کہ یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ کسی قانون کے تبدیل کرنے کا صرف یہی سبب نہیں ہوتا کہ کوئی غلطی اور فروگذاشت ہوگئی ہے بلکہ قانون کی کمی بیشی اور تبدیل تغییر کا یہ بھی سبب ہوا کرتا ہے کہ انسان کے خود حالات بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسان کیا جسمانی وضع کی رُو سے اور کیا روحانی وضع کی رُو سے تغیّر تبدّل کے چکر میں پڑا ہوا ہے اورچونکہ کمالِ تام جو کسی حالت منتظرہ کا محتاج نہیں صرف خدا تعالیٰ سے مخصوص ہے اور انسان رفتہ رفتہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے اس لئے اُس کو تبدیلیوں سے چارہ نہیں ہے اور جیسا کہ ایک انسان اپنی ابتدائے پیدائش سے اخیر تک اپنی فطرت کی رُو سے معرض تبدّل و تغیّر میں پڑا ہوا ہے۔ اور پیدائش سے اخیر عمر تک صدہا تغیّر اس پر وارد ہوتے ہیں۔ اسی طرح نوع انسان اپنے ابتدائی زمانہ سے اخیر تک تغیّر اور تبدّل کا نشانہ ہے۔ مثلاً کسی وحشیانہ زمانہ میں ہندو مذہب کو نسل بڑھانے کے لئے نیوگ کی حاجت تھی اور ایک ہندو بڑی خوشی سے اپنی عورت کو دوسرے اجنبی مرد سے جس کے ساتھ نکاح نہیں ہے ہم بستر کرا دیتا تھا اور اب اِس زمانہ میں ہزارہا غیرت مند ہندو ایسے ہیں کہ اگر دیا نند جیسا کوئی برہمن نیوگ کا شائق



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 110

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 110

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/110/mode/1up


    اُنؔ سے اُن کی بیوی کے بارے میں نیوگ کی درخواست کرے تو غالباً اُس کو جان سے مار دیں گے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ معلوم شدہ قوانین نامعلوم قوانین سے برخلاف نہیں ہوسکتے اِس سے اُس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے تمام قوانین معلوم ہی ہیں مگر یہ بات تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ جہالت اور ناواقفی تمام قوم آریہ میں ہے یا خاص طور پر اِسی شخص کا یہ قول ہے۔ واضح ہو کہ بڑے بڑے فلاسفر جو دُنیا میں گذرے ہیں وہ یہ اقرار کرچکے ہیں کہ انسان کا علم خدا کے نا متناہی علم کے مقابل پر اس قدر بھی نہیں ہے جیسا کہ ایک سوئی کو سمندر میں ڈبوکر اُس کی کچھ تری سوئی میں رہ جاتی ہے۔ سچے عارفوں کا تو یہ قول ہے کہ چونکہ قوانین الٰہیہ کی حد بست ہو ہی نہیں سکتی اِس لئے حدبست سے پہلے کسی امر کی نسبت ایک حد لگا دینا دو متناقض اقرار کو اپنی کلام میں جمع کرنا ہے۔ انسانی علوم جو انسانی عقل کے ماتحت ہیں وہ محض بذریعہ حواس خمسہ ظاہری یا بذریعہ حواس خمسہ باطنی کے معلوم ہوتے ہیں اور یہ آلہ قوانین قدرت کی شناخت کا خود محدود ہے اورظاہر ہے کہ غیر محدود بذریعہ محدود کے دریافت نہیں ہوسکتا۔ پس جن قوانین کو ہم معلوم شدہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ بھی دراصل کامل طور پر معلوم نہ ہوں کیونکہ کارخانہ قدرت وراء الوراء پڑا ہوا ہے۔ انسان صرف کنوئیں کے مینڈک کی طرح ایک سمندر کو اپنے تھوڑے سے پانی کے برابر سمجھ لیتا ہے اور انسان کی تحقیقاتیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں مثلاً جو کچھ طبعی اور ہیئت جدیدہ کے ذریعہ صدہا اسرار اب معلوم ہوئے ہیں پہلے اُن کا نام و نشان نہ تھا۔ پس ظاہر ہے کہ جن امور کو وہ قانون قدرت سمجھ رہے تھے وہ قانون قدرت اب اس زمانہ میں ہنسی کے لائق ہے اور ممکن ہے کہ بعد اس کے ایک اور زمانہ اس موجودہ طبعی اور ہیئت کو بھی نئی تحقیقاتوں کے ذریعہ سے منسوخ کردے۔ پس انسان کا قانون قدرت ایک ریت کا طو مار ہے جو ایک پُرزور ہوا سے اپنی جگہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ یہ تو ہم نے محض ظاہری ترقی علوم اور تجربہ کا ذکر کیا ہے لیکن ایسے رُوحانی امور بھی ہیں جن کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 111

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 111

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/111/mode/1up


    اؔ بل پر طبعی قانون قدرت کا شیرازہ درہم برہم ہوجاتا ہے۔

    مثلاً طبعی تحقیق کے لحاظ سے نیند آنے کے اسباب محض مادی ہیں اور جب وہ کم ہو جاتے ہیں تو نیند بھی کم ہو جاتی ہے۔ اور اُن کے بحال کرنے کے لئے مُسَکِّن دماغ اور مُرطّب چیزیں استعمال کرتے ہیں جیسے برومائڈ اورروغن خشخاش اور روغن تخم کدو اور روغن بادام وغیرہ مگر مکالمہ الٰہیہ کے وقت میں جو انسان کو ایک قسم کی نیند اورغنودگی آتی ہے جس غنودگی کی حالت میں خدا کا کلام دل پر نازل ہوتا ہے وہ غنودگی اسباب مادیہ کی حکومت اور تاثیر سے بالکل باہر ہے اور اس جگہ طبعی کے تمام اسباب اور علل معطل اور بیکار رہ جاتے ہیں مثلاً جب ایک صادق انسان جس کا درحقیقت خدا تعالیٰ سے محبت اور وفا کا تعلق ہے اپنے اُس جوشِ تعلق میں اپنے رب کریم سے کسی حاجت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ ابھی اُسی دُعا میں مشغول ہوتاہے کہ ناگاہ ایک غنودگی اس پر طاری ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی آنکھ کھل جاتی ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس سوال کاجواب اُس غنودگی کے پردہ میں نہایت فصیح بلیغ الفاظ میں اُس کو مل جاتا ہے وہ الفاظ اپنے اندر ایک شوکت اورلذت رکھتے ہیں اور اُن میں اُلوہیت کی طاقت اورقوت چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور میخ آہنی کی طرح دل کے اندر دھنس جاتے ہیں اور وہ الہامات اکثر غیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک سوال کے بعد وہ صادق بندہ اُسی پہلے سوال کے متعلق کچھ اورعرض کرنا چاہتا ہے یا کوئی نیا سوال کرتا ہے تو پھر غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ایک سیکنڈ تک یا اُس سے بھی کمتر حالت میں وہ غنودگی کھل جاتی ہے اور اُس میں سے پھر ایک پاک کلام نکلتا ہے جیسے ایک میوہ کے غلاف میں سے اُس کا مغز نکلتا ہے جو نہایت لذیذ اور پُرشوکت ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ خدا جو نہایت کریم اور رحیم اور اخلاق میں سب سے بڑھا ہوا ہے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہے اور جواب دینے میں نفرت اور بیزاری ظاہر نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ اگر ساٹھ۶۰ یا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 112

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 112

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/112/mode/1up


    ر۷۰ یا سو ۱۰۰دفعہ سوال

    کیاؔ جائے تو اس کا جواب اُسی صورت اور اُسی پیرایہ میں دیتا ہے یعنی ہر ایک سوال کے وقت ایک خفیف سی غنودگی وارد حال ہو جاتی ہے اور کبھی ایک بھاری غنودگی اور ربودگی طاری حال ہو جاتی ہے کہ گویا انسان ایک غشی کی حالت میں پڑ گیا ہے اور اکثر عظیم الشان امور میں اس قسم کی وحی ہوتی ہے اور یہ وحی کی تمام قسموں میں سے برتر و اعلیٰ ہے۔ پس ایسے حالات میں جو سوال اور دُعا کے وقت لحظہ لحظہ پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور اس غنودگی کے پردہ میں وحی الٰہی نازل ہوتی ہے یہ طرز غنودگی اسباب مادیّہ سے برتر ہے اور جو کچھ طبعی والوں نے خواب کے متعلق قانونِ قدرت سمجھ رکھا ہے اُس کو پاش پاش کرتی ہے ایسا ہی صدہا رُوحانی امور ہیں جو ظاہری فلسفہ والوں کے خیالات کو نہایت ذلیل ثابت کرتے ہیں بسا اوقات انسان کشفی رنگ میں کئی ہزار کوس کی دُور چیزوں کو ایسے طور سے دیکھ لیتا ہے کہ گویا وہ اُس کی آنکھ کے سامنے ہیں اور بسا اوقات اُن روحوں سے جو فوت ہوچکے ہیں عین بیداری میں ملاقات کرتا ہے۔ اب بتلاؤ کہ ہم ظاہری عقلمندوں کے کس قانون قدرت میں ان باتوں کو تلاش کریں جن کی عقل محض طبعی اور طبابت کے قوانین کے اندر محدود ہے اور ان روحانی امور کو سمجھ نہیں سکتی اور محض ظلم کے طور پر تکذیب کرکے خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے جواب دے دیا ہے ، غرض جس قانونِ قدرت کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قانون قدرت سے وہ نسبت رکھتا ہے جیسا کہ سمندر کے ساتھ ایک قطرہ کا ہزارم حصہ نسبت رکھتا ہے۔ بعض جاہل خدا کے رُوحانی قانون قدرت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ الہام کچھ بھی چیز نہیں صرف اصلیت یہ ہے کہ انسان کے دماغ کی بناوٹ ہی اس طرح واقع ہے کہ وہ خوابیں دیکھا کرتا ہے یا الہام ہوتے ہیں اور یہ کوئی اعجوبہ نہیں تمام دنیا اس میں شریک ہے۔ اس طور کی باتوں سے اُن کا مُدعا یہ ہوتا ہے کہ خدا کے الہام اوروحی کے سلسلہ کی کسر شان کرکے الہام اور وحی کو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 113

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 113

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/113/mode/1up


    ایک معمولی بات اورعام طور پر انسانی فطرت کے لئے ایک طبعی امر ٹھہراویں لیکن ظاہر ہے

    کہ ؔ آفتاب پر تھوکنے سے اُس کی روشنی کم نہیں ہوسکتی۔ یہ تو صحیح بات ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ایک کمزور درجہ پر اور نہایت ضعیف مرتبہ پر اکثر آدمی خوابیں بھی دیکھتے ہیں اور الہام بھی ہوتا ہے مگر وہ خوابیں اور وہ الہام کسی راستبازی اورتزکیہ نفس کا نتیجہ نہیں ہوتے اورکوئی فوق العادت امر اُن میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس طرز سے الہام ہوتے ہیں۔ کہ الہام پانے والوں کو ایک لمبے سلسلہ وحی سے جو دُعا کے بعد ایک ہی وقت میں سوال کے طور پر ہو عزت دی جائے اور نہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیاں اُن الہاموں کے اندر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ کھلے کھلے طور پر دُنیا میں ممتاز کئے جائیں یعنی ایسی پیشگوئیاں جو دُعا قبول ہونے کے بعد اہم کاموں میں اُن ملہموں کی قبولیت ظاہر کرنے کے لئے پوری کی گئی ہوں اور اُن پیشگوئیوں کی عظمت اور ہیبت دلوں میں بٹھائی گئی ہو غرض خدا کے قانون قدرت سے اگر کوئی واقف ہے تو صرف وہ لوگ ہیں جو علاوہ ظاہری علوم کے روحانی امور میں کامل حصہ رکھتے ہیں۔ جس نے اُس عالم میں سے کچھ بھی نہیں دیکھا اُس نے قانون قدرت کا کیا دیکھا ؟

    ماسوا اِس کے مضمون پڑھنے والے کا یہ دعویٰ کہ صرف وید قانون قدرت کے موافق اوردوسری کتابیں قانون قدرت کے مخالف ہیں یہ صرف دعوےٰ ہے اگر وہ درحقیقت وید کو سچا اور قرآن شریف کو خلاف حق اور خلاف قانون قدرت سمجھتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ ایسی دو فہرستیں پیش کرے جن میں سے ایک میں یہ دکھاوے کہ وید کی کُل تعلیمیں اور کل عقائد قانون قدرت کے موافق ہیں۔ اوردوسری فہرست میں یہ دکھاوے کہ قرآن شریف کی کل تعلیمیں اور کل عقائد یا بعض تعلیمیں اور بعض عقائد قانون قدرت کے مخالف ہیں۔ ہم تو جابجا اس رسالہ میں وید کے نمونے ظاہر کرتے آئے ہیں اور اُن سے ایک طالبِ حق



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 114

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 114

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/114/mode/1up


    معلوم کرسکتا ہے کہ کہاں تک وید قانون قدرت سے موافقت رکھتا ہے وید کے حامیوں کو

    تو مناسب تھا کہ وہ اس بحث میں اپنے تئیں نہ ڈالتے اور چپ ہی رہتے اور خواہ نخواہ اپنے موجودہ وید کی پردہ دری نہ کراتے۔ جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اِندر آریوں کا پرمیشر کشلّیا کا بیٹا ہے۔

    اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پرمیشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ اِن تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ہے یعنی یہ کہ پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے( سمجھنے والے سمجھ لیں ) ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی پہلے زمانہ میں یہی وید تھا۔ بلکہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ ایک محرّف مبدّل کتاب ہے کچھ تو باعتبار الفاظ کے اور کچھ باعتبار معنوں کے۔ اور ہمارے نزدیک ممکن اور اغلب ہے کہ کوئی اصل کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی پھر کچھ کم کی گئی ہے اور کچھ زیاد ہ کی گئی اور صورت بدلائی گئی ہے اورموجودہ وید بلاشبہ ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے جس میں پرمیشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اِس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے پس جس جگہ ہم وید پرکوئی حملہ کرتے ہیں یا اس کی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اُس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرّف مبدّل ہے نہ وہ اصل وید جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی اُس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہوگا مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فرقے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے۔ اور انسانی پاکیزگی کی نسبت جو کچھ وید نے سکھایا ہے اس کا عمدہ نمونہ نیوگ ہے یہ نیوگ کی ہی پاک کارروائیوں میں سے ہے کہ آریہ قوم میں اِس بات کا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 115

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 115

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/115/mode/1up


    صاؔ حب بیرج داتا کی طفیل سے ہیں۔ جو نیوگ کے قابل تحسین طریق سے وجود پذیر ہوئے ہیں کیونکہ جب کہ نیوگ کئی لاکھ برس سے چلا آتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اگر ہم نیوگ کی پیدائش کا بہت ہی کم عدد رکھیں تاہم نصف کے قریب نیوگ کی اولاد ضرور ہوگی۔ اگر یہی وید وِدّیا ہے تو کسی کی کیا مجال ہے کہ اس میں دم مارے۔

    ایک اور نمونہ وید کے قانون قدرت کا یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ پنڈت دیانند جن کا وید بھاش آریوں کے نزدیک بہت اعتبار کے لائق ہے وہ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھتے ہیں کہ جب کوئی جیؤ یعنی رُوح بدن سے نکلتی ہے تو اکاش میں گھومتی پھرتی ہے اور آخر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر گرتی ہے اور کوئی مرد اُس رُوح کو کھا لیتا ہے اورعورت سے ہم بستر ہوتا ہے تب بچہ پیدا ہوتا ہے مگر وید کو یہ سمجھ نہ آیا کہ اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ رُوح دو ٹکڑے ہوکر کسی گھاس پات پر گرتی ہے کیونکہ انسان کا بچہ صرف مرد کے نطفہ سے ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ عورت کا نطفہ بھی اُس کے ساتھ شامل ہوتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ بچہ کچھ اخلاق اور صورت باپ کی لیتا ہے اور کچھ ماں کی۔ پس وید کے قانون قدرت پر قربان جائیں جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ بچہ میں دو نطفوں کا اشتراک ہے اور جس کے نزدیک رُوح بھی دو ٹکڑے ہوسکتی ہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ وید کا خدا مکر نہیں کرتا۔ کرسی پر نہیں بیٹھتا۔ جھوٹ نہیں بولتا۔ سو واضح ہوکہ اس نادان نے اپنے خیال میں وید کے ان صفات کے بیان کرنے میں قرآن شریف پر زَد کی ہے اور اِس تحریر سے بھی اُس کی غرض یہ ہے کہ گویا قرآن شریف خدا تعالیٰ کو ایسی صفات کی طرف منسوب کرتا ہے جو اُس کی شان کے لائق نہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اِس زمانہ میں بجز قرآن شریف کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 116

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 116

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/116/mode/1up


    کوئیؔ ایسی کتاب جو الہامی سمجھی جاتی ہے صفحہ زمین پر پائی نہیں جاتی جو خدا تعالیٰ کو تمام صفاتِ کاملہ سے متّصف اور تمام عیوب اور نقصانوں سے پاک سمجھتی ہو۔ ہاں قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی صفات میں اس قسم کا مکر بھی داخل رکھا ہے جو اُس کی ذات پاک کے منافی نہیں اور جس میں کوئی امر اُس کے تقدس اور اُس کی بے عیب ذات کے مخالف نہیں اور جس پر خدا کا قانون قدرت بھی گواہی دیتا ہے اور اس کی قدیم عادت میں پایا جاتا ہے اور خدا کا مکر اس حالت میں کہا جاتا ہے اور اُس کے اِس فعل پر اطلاق پاتا ہے کہ جب وہ ایک شریر آدمی کے لئے اُسی کے پوشیدہ منصوبوں کو اُس کے سزایاب ہونے کا سبب ٹھہراتا ہے۔ قرآن شریف کے رُو سے یہی خدا کا مکر ہے جو مکر کرنے والے کے پاداش میں ظہور میں آتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

    3۱؂

    یعنی کافروں نے ایک بدمکر کیا کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومکّہ معظمہ سے نکال دیا اور خدا نے اُن کے مقابل پر ایک نیک مکر کیا کہ وہی نکالنا اُس رسول کی فتح اور اقبال کا موجب ٹھہرا دیا۔ پس خدا نے اس جگہ اپنا نام خیر الماکرین رکھا یعنی ایسا مکر کرنے والا جو نیک مکر ہے نہ بد مکر۔ اور کافروں کے مکر کو بدمکر قرار دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مکر کو دو قسم پر تقسیم کیا ہے۔ ایک۱ بد مکر اور ایک۲ نیک مکر۔ پس خدا نے نیک مکر اپنی صفات میں داخل کیا ہے اور بد مکر کافروں اور شریر لوگوں کی عادات میں قرار دیا۔

    اب اے ہندو زادو ! جنہوں نے بدذاتی سے خدا کے مقدس رسول اور مقدس کتاب کو گالیاں دینی شروع کی ہیں کچھ حیا کرکے بتلاؤ کہ اِس قسم کے مکر میں کونسی خدا تعالیٰ کی کسرِ شان ہے اورخدا کی کن صفات کے وہ مخالف ہے۔ کیا خدا کا قانونِ قدرت اِس پر گواہی نہیں دیتا کہ شریر لوگوں کے ہلاک کرنے کے لئے جو بد مکروں سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 117

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 117

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/117/mode/1up


    باز ؔ نہیں آتے۔ خدا کے اِس قسم کے کام بھی پائے جاتے ہیں کہ جس گڑھے کو ایک بدذات ایک شریف آدمی کے لئے کھودتا ہے خدا اسی کے ہاتھ سے اُسی گڑھے میں اُس کو ڈال دیتا ہے۔ اور انسانوں میں بھی یہی طریق جاری ہے کہ وہ مکر کرنے والے کو مکر کے ساتھ ہی سیدھاکرتے ہیں۔ مثلاً جب چور اور ڈاکو نہایت باریک مکروں کے ساتھ گورنمنٹ کی رعیت کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اُن کے پکڑنے کے لئے پولیس کو بھی کوئی مکر کرنا پڑتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ چوروں کا بدمکر ہے جس میں خلقِ خدا کو ضرر پہنچانا مقصود ہے اور پولیس کے ملازموں کا نیک مکر ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ان بدذات چوروں کے ضرر سے گورنمنٹ کی رعیت کو بچایا جائے۔

    ایسا ہی ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ بعض نمک حرام آریوں نے اِس گورنمنٹ عالیہ کے مقابل پر ایک بہت باریک مکر کیا تھا۔ اگر وہ چل جاتا تو یہ گورنمنٹ بڑی تشویش میں پڑتی اور شاید اس کا نتیجہ ۱۸۵۷ ؁ء سے بھی بدتر ہوتا۔ مگر خدا نے اس گورنمنٹ پر فضل کیا کہ وہ اس بدمکر کی تہ تک پہنچ گئی تب اُس کے لائق آفیسروں نے اِن شریر آریوں کے بدمکر کے مقابل پر ان کی گرفتاری کے لئے ایک نیک مکر اختیار کیا یعنی بہت احتیاط اور خاموشی سے اِن کے سرغنوں کو گرفتار کرلیا اور ایسی حکمت عملی سے گرفتار کیا کہ آریوں کی طرف سے کوئی شور برپا نہ ہوسکا۔ تب بعض کو اِسی ملک کے جیل میں داخل کیا اور بعض کو گرفتار کرکے مانڈلے کے قلعہ کی ہوا چکھائی اس طور سے گورنمنٹ اپنے نیک مکر میں کامیاب ہوگئی مگر شریر آریہ اپنے بدمکر میں ناکام رہے اوراپنے لئے ہمیشہ کی تباہی سہیڑلی۔

    اب بتلاؤ کہ کیا تم گورنمنٹ کے اِس مکر کو مورد اعتراض سمجھتے ہو یا اس کو گورنمنٹ کے پسندیدہ کاموں میں داخل کرتے ہو اور اگر تم پسندیدہ نہیں سمجھتے تو ہنوز تم درست کرنے کے لائق ہو۔ اور اگر پسندیدہ سمجھتے ہو تو تم پر ہزار افسوس! کہ آسمانی بادشاہت پر تو اعتراض کرتے ہو کیونکہ تم خیال کرتے ہو کہ خدا پکڑنے میں دھیما ہے لیکن انسانی گورنمنٹ کے مکر پر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 118

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 118

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/118/mode/1up


    تم کچھ بھی اعتراض نہیں کرتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ اس اعتراض کے وقت تمہاری خیر نہیں ہے پس یقیناًسمجھو کہ نیک مکر سے نہ خدا پر اعتراض ہوتا ہے نہ کسی گورنمنٹ پر۔ مناسب ہے کہ تم ذرا وید سے الگ ہوکر جو تمہیں گمراہی میں ڈالتا ہے محض عقل سلیم سے کام لے کر سوچو کہ کیا اس قسم کے مکر خدا کے قانون قدرت میں نہیں پائے جاتے؟ کیا وہ بدوں کے بد منصوبے جو نہایت باریک مکر کے طور پر کئے جاتے ہیں اُنہیں کے ہلاکت کے اسباب نہیں کر دیتا۔ کیا بدذات مکر کرنے والا جب اپنے بدمکر سے ایک نیک آدمی کو ناحق تباہ کرنا چاہتا ہے تو کیا خدا کی عادت نہیں ہے کہ اس نیک مظلوم کو یا گورنمنٹ کو جو عدالت کی کرسی پر بیٹھی ہے کوئی ایسی بات سجھا دیتا ہے اور کوئی ایسی مخفی شہادت پیدا کر دیتا ہے جس سے وہ بدمکر کرنے والا پکڑا جاتا ہے اور غریب مظلوم اس الزام سے بری کیا جاتا ہے۔ خدا کے یہ نیک مکر عدالتوں کے ذریعہ سے ہر روز ظاہر ہوتے ہیں اور شریر مکاروں کے تہ درتہ پردے کھولے جاتے ہیں چنانچہ کسی پر مخفی نہیں ہیں مگر آنکھ کے اندھوں کا کیا علاج۔ درحقیقت اس نادان معترض نے خدا کے نیک مکر کو قابلِ اعتراض ٹھہرانے کے لئے خود بدمکر استعمال کیا ہے کہ مکر کی دو قسم کو صرف ایک ہی قسم قرار دے کر لوگوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے۔

    ہم تقریر مذکورہ بالا میں مکر کی نسبت بقدر کفایت بیان کرچکے ہیں اب دوسرا اعتراض معترض کا یہ ہے کہ قرآن شریف میں خدا کا کرسی پر بیٹھنا بیان کیا گیا ہے*۔ سو واضح ہو کہ قرآن شریف میں اس طرح توکہیں ذکر نہیں ہے جیسا کہ معترض کا بیا ن ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ


    * خدا تعالیٰ کی کرسی کے بارہ میں یہ آیت ہے 3 3 ۱؂ یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے ۔ ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی کنہ تک پہنچ نہیں سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں ہیچ ہیں ۔ یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلانا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت ناپیدا کنار ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 119

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 119

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/119/mode/1up


    کے اِسْتوا کاذکر ہے جو عرش پر ہوا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔

    3

    3 ۱؂

    یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے چھ۶ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی اوّل اس نے اس دُنیا کے تمام اجرام سماوی اور ارضی کو پیدا کیا اور چھ۶ دن میں سب کو بنایا ؔ (چھ۶ دن سے مراد ایک بڑا زمانہ ہے ) اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی تنزّہ کے مقام کو اختیار کیا۔ یاد رہے کہ استوا کے لفظ کاجب علٰی صلہ آتا ہے تو اُس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کا اس مکان پر قرار پکڑنا جو اس کے مناسب حال ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے۔

    3۲؂

    یعنی نوح کی کشتی نے طوفان کے بعد ایسی جگہ پر قرار پکڑا جو اُس کے مناسب حال تھا یعنی اُس جگہ زمین پر اُترنے کے لئے بہت آسانی تھی سواسی لحاظ سے خدا تعالیٰ کے لئے اِسْتوا کا لفظ اختیار کیا یعنی خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کی تنزّہ اور تقدس کے مناسب حال تھی چونکہ تنزّہ اور تقدس کا مقام ماسوی اللہ کے فنا کو چاہتا ہے سو یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے خدا بعض اوقات اپنی خالقیّت کے اسم کے تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر دوسری مرتبہ اپنی تنزّہ اور وحدتِ ذاتی کے تقاضا سے اُن سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے۔ غرض عرش پر قرار پکڑنا مقام تنزّہ کی طرف اشارہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ خدا اور مخلوق کو باہم مخلوط سمجھا جائے۔ پس کہاں سے معلوم ہوا کہ عرش پر یعنی اُس وراء الوراء مقام پر مقید کی طرح ہے اور محدود ہے۔ قرآن شریف میں تو جابجا بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3۳؂ یعنی جہاں کہیں تم ہو اُسی جگہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ اِسی طرح قرآن شریف میں فرمایا ہے 33۴؂ یعنی خدا سب سے پہلے ہے اور باجود پہلے ہونے کے پھر سب سے آخر ہے اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 120

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 120

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/120/mode/1up


    وہ سب سے زیادہ ظاہر ہے اور پھر باوجود سب سے زیادہ ظاہر ہونے کے سب سے پوشیدہ ہے اور پھر فرمایا3 ۱؂ یعنی خدا ہر ایک چیز کا نور ہے۔ اُسی کی چمک ہر ایک چیز میں ہے خواہ وہ چیز آسمان میں ہے اور خواہ وہ زمین میں اور پھر فرمایا کہ3 3 ۲؂ یعنی خدا ہر ایک چیز پر احاطہ کرنے والا ہے اور پھر فرمایا3 3۳؂ یعنی ہم انسان کی رگ جان سے بھی اس سے نزدؔ یک تر ہیں اور پھر فرمایا3۴؂ یعنی وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔ اِس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذّات وہی خدا ہے ۔ پس جب کہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذّات ہے تو اِس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اُسی کی ذات سے قائم ہے۔ اور پھر فرمایا 3 ۵؂ یعنی وہی خدا زمین میں ہے اور وہی خدا آسمان میں اور پھر فرمایا 33

    3۶؂ الخ یعنی جب تین آدمی کوئی پوشیدہ باتیں کرتے ہیں تو چوتھا اُن کا خدا ہوتا ہے اور جب پانچ کرتے ہیں تو چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی بہت سی اور آیات میں باربار فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے یہاں تک کہ وہ ہرایک جان کی بھی جان ہے اور ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اِسی ایک پہلو تک معرفت الٰہی کے مسئلہ کو ختم کرتا کہ خدا مخلوق سے الگ نہیں تو ہندوؤں کی طرح پر مسلمانوں میں بھی مخلوق پرستی شروع ہو جاتی کیونکہ اس صورت میں خدا میں اور مخلوق میں کوئی مابہ الامتیاز باقی نہ رہتا۔

    اور یہی وجہ ہے کہ آخر کار وید کے ذریعہ مخلوق پرستی شروع ہوگئی کیونکہ ہر جگہ اگنی اور وایو اور سورج اورچاند کو بطور معبود بیان کیا گیا ہے آخر لوگوں نے ان چیزوں کو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 121

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 121

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/121/mode/1up


    خدا ہی سمجھ لیا اور فرض کروکہ اگنی وغیرہ پرمیشر کے نام ہی تھے لیکن پھر بھی خدا کا یہ اسم اعظم کہ وہ ہر ایک مخلوق سے وراء الوراء مقام پر ہے اور مصنوعات سے برتر و بلند ہے وید میں بیان نہیں کیا گیا۔ پس اِسی وجہ سے یہ تمام باطل مذہب وید کے ذریعہ سے پیدا ہوگئے۔ بلکہ ویدبات بات میں مخلوق پرستی کی طرف کھینچتا ہے اور خدا تعالیٰ کو محدود ٹھہراتا ہے۔ چنانچہ یجر وید ادھیا نمبر ۳۱ منتر ۱۹ میں لکھاؔ ہے کہ پرمیشر حمل کے اندر رہتا ہے اور تولّد ہوکر بہت سی صورتیں اور شکلیں ہو جاتا ہے اور فاضل لوگ اُس پرمیشر کو جو رحم میں رہتا ہے ہر طرف سے دیکھتے ہیں۔ اب دیکھو کہ وید نے پرمیشر کو کیسا محدود کر رکھا ہے کہ ہر ایک محدود چیز کا کام اُس کو دیا گیا اور بموجب بیان رگ وید کے سورج۔ اگنی۔ وایو۔ سب پرمیشر ہی ہیں۔ اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ جیسے پرمیشر رحم میں رہتا ہے ایسا ہی وہ سورج کے سنہری پردہ میں بھی رہتا ہے جیسا کہ یجر وید کے ایش اپنشد منتر ۱۵ و ۱۶ سے ظاہر ہے اور ایسا ہی وہ ناف سے د۱۰س انگلی کے فاصلہ پر بھی ہے جس سے ہندوؤں میں لِنگ پوجا شروع ہوگئی۔ پس اگر وید قرآن شریف کی طرح خدا تعالیٰ کی تنزیہی صفات بھی لکھتا اور صرف تشبیہی صفات پر حصر نہ رکھتا تو یہ طوفان مخلوق پرستی کا اس کے ذریعہ سے پیدا نہ ہوتا۔ قرآن شریف اِسی وجہ سے ہر ایک دھوکہ دہی کی بات سے محفوظ ہے کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی آلائش سے بکلّی پاک رہتی ہے کیونکہ اول اُس نے خدا تعالیٰ کے وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر وہ انسان سے قریب ہے اور کیونکر اُس کے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے ان صفات کا نام تو تشبیہی صفات ہیں۔ پھر کیونکہ تشبیہی صفات سے یہ اندیشہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محدود خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے اس لئے ان اوہام کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری صف



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 122

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 122

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/122/mode/1up


    بیان کردی یعنی عرش پر قرار پکڑنے کی صفت جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا سب مصنوعات سے برتر و اعلیٰ مقام پر ہے کوئی چیز اُس کی شبیہ اور شریک نہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کی توحید کامل طور پر ثابت ہوگئی۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے تیسری صفت وید کے پرمیشر کی یہ بیان کی کہ ؔ وید کو دینے والا پرمیشر جھوٹ نہیں بولتا۔ مگر ہمیں معلوم نہیں کہ اس شخص کی اس مقولہ سے کیا غرض ہے کیا خدا جھوٹ بھی بولا کرتا ہے؟ شاید وہ اس تقریر سے وید کے بعض کلمات کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے۔ سو اُس کی یاد دہانی سے جب ہم نے وید کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت وید کے پرمیشر نے کئی جگہ وید میں جھوٹ بولا ہے چنانچہ وید کا یہ صریح جھوٹ ہے جو پنڈت دیانند اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں وید کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب رُوح بدن سے نکلتی ہے تو وہ اکاش میں پہنچ کر پھر رات کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اس گھاس کو کوئی کھا لیتا ہے تو وہ روح نطفہ کی شکل میں ہوکر عورت کے اندر

    چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بتلاؤ کہ اس سے زیادہ کونسا جھوٹ ہوگا کہ رُوح کو ایک جسمانی چیز بنا دیااور نیز اگر یہ بات سچ ہے کہ رُوح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ رُوح دو ٹکڑے ہوکر زمین پر گرتی ہے کیونکہ اِس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ بچہ کو رُوحانی اخلاق کچھ تو باپ سے حاصل ہوتے ہیں اور کچھ ماں سے جیسا کہ اس کی جسمانی صورت بھی باپ اور ماں میں مشترک ہوتی ہے۔ پس اگر مثلاً کسی بچہ کا باپ لاہور کا رہنے والا تھا اور ماں کلکتہ کی رہنے والی اور ریل کے ذریعہ سے ان دونوں کو کسی مقام میں ایک ہی دن میں اجتماع اور ہم بستری نصیب ہوگئی اور اُس بچہ کانطفہ ٹھہر گیا اور اس نطفہ کی غذا لاہور کے رہنے والے نے لاہور میں کھائی تھی اور کلکتہ والی نے کلکتہ میں۔ پس اِس سے لازم آئے گا کہ وہ روح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 123

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 123

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/123/mode/1up


    کسی گھاس پات پر دو ٹکڑے ہوکر گری ہو یعنی ایک ٹکڑہ اُس کا تو لاہور میں گرا۔ دوسرا ٹکڑہ کلکتہ میں۔ کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں روحانی اخلاق بچہ کے ماں اور باپ کے اخلاق میں مشترک ہوتے ہیں اور یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہوکر گری اور یہ امر باطل ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ روح کا شبنم کی طرح گرنا بھی باطل اور جھوٹ ہے۔

    واضح ہو کہ یہ ایک وید کا ایسا مسئلہ ہے جس سے تمام وید جھوٹا ٹھہرتا ہے کیونکہ موجودہ وید کا تمام مدار آواگون یعنی جونوں پر ہے اور اسی آواگون یعنی تناسخ کی رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ دُنیا کے تمام چرند۔ پرند۔ درند اور تمام کیڑے مکوڑے انسان ہی ہیں اور اسی آواگون کی رُو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ جاودانی مکتی غیر ممکن ہے اور اسی آواگون کی رُو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کسی کی توبہ قبول نہیں ہوتی اور گناہ نہیں بخشے جاتے۔ اور اسی آواگون کی رُو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ روحوں کو خدا نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ سب خدا کی طرح قدیم اورانادی ہیں۔ غرض تناسخ کا مسئلہ تمام وید کا خلاصہ ہے اور یہ ایسا ستون ہے جس کے سہارے سے تمام عقاید وید کے کھڑے ہیں اور اُس کے ٹوٹنے سے تمام اصول وید کے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تناسخ جو اصل جڑھ آواگون کی ہے صرف اِسی بنا پر یہ قائم رہ سکتا ہے کہ جبکہ بقول دیانند یہ بات ثابت ہو جائے کہ رُوح بدن سے نکل کر اکاش میں چڑھ جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے مگر جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں یہ بات بکلّی محال ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہوکر گری۔ ماسوا اس کے ایک اور پختہ دلیل اِس بات پر یہ ہے کہ جیسا کہ روح کا گرنا اِس طرح سے مستلزم محال ہے کہ اس سے روح کا دو ٹکڑے ہونا لازم آتا ہے ایسا ہی اس طرح سے بھی مستلزم محال ہے کہ وہ واقعات ثابت شدہ کے مخالف ہے کیونکہ ثابت شدہ واقعات یقینی اور قطعی طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ خود نطفہ مرد اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 124

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 124

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/124/mode/1up


    عورت کا بغیر اِس کے کہ اُس پر شبنم کی طرح آسمان کی فضا سے رُوح گرے رُوح پیدا ہونے کی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے۔ پھر جب مرد اور عورت کا نطفہ باہم مل جاتا ہے تو وہ استعداد بہت قوی ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ استعداد بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب بچہ کا پورا قالب طیار ہو جاتا ہےؔ تو خدا تعالیٰ کی قدرت اور امر سے اُسی قالب میں سے رُوح پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ واقعات ہیں جو مشہود اور محسوس ہیں۔ اسی کو ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی کیونکہ ہم روح کو جسم اور جسمانی نہیں کہہ سکتے اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رُوح اُسی مادہ میں سے پیدا ہوتی ہے جو بعد اجتماع دونوں نطفوں کے رحم مادر میں آہستہ آہستہ قالب کی صورت پیدا کرتا ہے اور اس مادہ کے لئے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی کسی قسم پر رُوح شبنم کی طرح گرے اور اس سے رُوح کا نطفہ پیدا ہو بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہوسکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو یا مچھلی کا یا ایسی مٹی ہو جو زمین کی نہایت عمیق تہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈکیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ ہاں بلاشبہ یہ خدا کی قدرت کا ایک راز ہے کہ وہ جسم میں سے ایک ایسی چیز پیدا کرتا ہے کہ وہ نہ جسم ہے اور نہ جسمانی۔ پس واقعات موجودہ مشہودہ محسوسہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آسمان سے رُوح نہیں گرتی بلکہ یہ ایک نئی رُوح ہوتی ہے جو ایک مرکب نطفہ میں سے بقدرت قادر پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی جب رحم میں قالب انسانی تیار ہو جاتا ہے تو پھر ہم ایک نئی پیدائش سے اُس کو مکمل کرتے ہیں یعنی ہم اس مادّہ کے اندر سے جس سے قالب تیار ہو ا ہے رُوح پیدا کر دیتے ہیں۔

    پھر ایک اور جگہ یعنی سورۃ الدھر میں جو جزو اُنتیس۲۹ میں ہے اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 3۲ ؂ یعنی ہم انسان کو ملے ہوئے نطفہ سے پیدا کرتے ہیں یعنی مرد اور عورت کے نطفہ سے۔ پس جیسا کہ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمایا ہے۔ اِسی طرح کروڑہا انسانوں کا مشاہدہ گواہ ہے کہ اِسی طرز سے رُوح پیدا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 125

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 125

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/125/mode/1up


    ہوتی ہے اورجب کہ محض گوشت سے بھی نطفہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے اولاد پیدا ہوتی ہے توکیا ہم گمان کرسکتے ہیں؟ کہ مثلاً روح کسی بکری پر بھی پڑتی ہے اور اس کی کھال میں دھنس کر اُس کے گوشت میں رَچ جاتی ہے اور پھر بعد اس کے کسی خاص بوٹی میں وہ رُوح داخل ہوؔ تی ہے اور اُس کے اندر سرایت کر جاتی ہے اور پھر اُس بوٹی کے دو ٹکڑے ہوکر ایک ٹکڑا مرد کھا لیتا ہے اور دوسرا ٹکڑا عورت۔ گو وہ عورت اس مرد سے کتنے ہی فاصلہ پر ہو اور خواہ وہ گوشت بھی نہ کھاتی ہو۔ اور کیا ہم گمان کرسکتے ہیں کہ وہ درندے جو صرف گوشت ہی کھاتے ہیں جیسے شیر۔ بھیڑیا۔ چیتا۔ ان کی پیدائش کی روح بکریوں اور گائیوں وغیرہ حیوانات کی کھال پر بطور شبنم پڑتی ہے اورکیا یہ خیال گزر سکتا ہے؟ کہ پانی کی مچھلیوں کی روح اور دُوسرے تمام جاندار جو پانی کے اندر غرق رہتے ہیں اُن کی روح شبنم کی طرح ہوکر پانی میں پڑتی ہے اور سب سے غور کے لائق وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو بیس۲۰ بیس۲۰ تیس۳۰ تیس۳۰ ہاتھ زمین کو کھود کر اُس کے عمیق پردہ کے اندر سے نکلتے ہیں اور ایسا ہی وہ نہایت چھوٹے کیڑے جو اُس کنوئیں کے پانی سے نکلتے ہیں جو نیا کھودا جاتا ہے اور ایک ایک قطرہ میں ہزارہا کیڑے ہوتے ہیں کہاں سے اور کس راہ سے یہ شبنمی روح ان کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ پس اگر کوئی شخص مذہبی تعصب سے دیوانہ اورسودائی اور پاگل ہوجائے تو یہ اور بات ہے ورنہ ان تمام مثالوں کی رُو سے جو ذکر ہوچکی ہیں ماننا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ آریوں کا کہ گویا رُوح آسمان سے شبنم کی طرح ہوکر کسی گھاس پات پر پڑتی ہے بالکل جھوٹا ہے۔ اگر تم مثلاً دودھ کو جو باسی ہوکر سڑنے کو ہے ہاتھ میں لو اورخوب اس دُودھ میں نظر لگائے رکھو تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزارہا کیڑے بن جائیں گے۔ ایسا ہی اگرکوئی دال ماش یا چنے وغیرہ کی جو خوب پکائی جائے جس کے اندر کے کیڑے بھی مرگئے ہوں جب وہ دال باسی ہوجائے اور سڑ جائے تو اس میں بھی ہزارہا کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

    اب عقلمند کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگرکسی مادہ میں جان پڑنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 126

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 126

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/126/mode/1up


    شبنم کی طرح کوئی روح کسی گھاس پات پر گرے تو یہ قاعدہ کیسے صحیح اور درست ہوسکتا ہے جو لوگ اِس بات کے قائل ہیں جو نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی اور بدن سے نکلی ہوئی روح پھر کسی راہ سے واپس آسکتی ہے اُن کا یہ فرض ہے کہ اس بات کو ثابت کریں کہ کس راہ سے اور کس طور سے روحؔ باہر سے اندر داخل ہوجاتی ہے اوروہ اس مواخذہ سے بَری نہیں ہوسکتے اور اس بار ثبوت سے اُن کے لئے سبکدوشی ممکن نہیں جب تک کہ وہ ہمیں یہ دکھلا نہ دیں کہ جس طرح اور جس طریق سے مثلاً ایک انسان کی روح اس کے جسم سے باہر نکل جاتی ہے اور اس کے نکلنے میں کسی کو شک اور اختلاف نہیں ہوتا اسی طرح وہ روح کس راہ سے واپس آجاتی ہے؟ مگر ہمارے ذمّہ اِس بات کا ثبوت نہیں کہ کیونکر روح پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ہم پیدا ہونے کا مشاہدہ کرا دیتے ہیں اور اس بارہ میں ہم ہزارہا نمونے پیش کرتے ہیں جیسا کہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں۔ مگر ہمارے مخالف آریہ جو اُسی پہلی رُوح کو واپس لاتے ہیں یہ بار ثبوت ان کی گردن پر ہے کہ واپسی کی راہ ہمیں دکھلادیں۔ اگر وہ یہ بھی اقرار کریں کہ دیانند نے جھوٹ بولا ہے اورغلطی کی ہے تو صرف اس قدر اقرار سے اُن کا پیچھا چھوٹ نہیں سکتا بلکہ یہ بات اُن کے ذمّہ ہے کہ رُوح کی واپسی کی راہ ہمیں ثابت کرکے دکھلا دیں ورنہ حیااور شرم سے سوچیں کہ ہم تو اُن کو دکھلا رہے ہیں کہ روح پیدا ہوتی ہے مگر وہ ہمیں دکھلا نہیں سکتے کہ باہر سے آتی ہے۔ یہی اُن کا ایک عقیدہ ہے جس سے سارا وید رد ہو جاتا ہے۔

    مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بمقام ہوشیارپور مجھے ایک آریہ مرلیدھر نام سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور میں نے اُس کے آگے یہی بات پیش کی کہ دیانند کا یہ قول کہ رُوح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اُس کو کوئی شخص کھا لیتا ہے تو روح اس ساگ کے ساتھ ہی اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے یہ سراسر باطل قول ہے اوراس سے روح کا دو ٹکڑہ ہونا لازم آتا ہے اور اس تقریر میں مَیں نے ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دیا جو دیانند کی ایک کتاب ہے تب مرلیدھر نے ستیارتھ پرکاش پیش کی کہ کہاں اس میں ایسا لکھا ہے تب میرے دِل



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 127

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 127

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/127/mode/1up


    میں خیال گذرا کہ ضرور اس شخص نے کوئی چالاکی کی ہے جو یہ کتاب پیش کرتا ہے میں نے وعدہ کیا کہ چونکہ میں ناگری نہیں پڑھ سکتا اس لئے بعد میں تلاش کرکے وہ موقعہ اپنی کتاب میں لکھ دوں گا۔ پھر میں قادیان آیا اور ایک برہمو صاحب جو نیک طبع اور بے تعصّب تھے اور ؔ اُن کا نام نوبین چندر تھا میں نے ان کی طرف ایک خط لکھا کہ کیا آپ مجھے بتلا سکتے ہیں؟ کہ ایسا مضمون ستیارتھ پرکاش کے کس موقعہ پر ہے۔ اُن کا جواب آیا کہ یہ مضمون ستیارتھ پرکاش میں موجود ہے مگر یہ آریہ لوگ بڑے چالاک اور افترا پرداز ہیں۔ انہوں نے پہلی کتاب جس میں یہ مضمون تھا تلف کردی ہے اور نئی کتاب چھپوائی ہے اور اُس میں سے یہ مضمون نکال دیا ہے اور لکھا کہ وہ پہلی کتاب میرے پاس موجود ہے مگر اب میں لاہور سے جانے والا ہوں اور میں نے تمام کتابیں وطن کی طرف بھیج دی ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بیس۲۰ دن کے اندر ستیارتھ پرکاش کے اُس مقام کی نقل کرکے بھیج دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اُس مقام کی نقل بھیج دی اور میں نے اُس کو اپنی کتاب سُرمہ چشم آریہ میں درج کردیا لیکن اب میں کہتا ہوں کہ گو آریوں نے ستیارتھ پرکاش سے وہ مقام اُڑا دیا تب بھی اُن کے اس عقیدہ کا جھوٹ ایسا صاف طور پرکھل گیا ہے کہ اب اس پر کوئی پردہ نہیں پڑ سکتا۔ کیونکہ تمام بروبحر میں جس طور سے ہر ایک حیوان کے بچوں میں جان پڑتی ہے وہ ایک ایسا طریق ہے جس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک روح اندر سے ہی پیدا ہو جاتی ہے باہر سے کوئی گذشتہ روح ہرگز نہیں آتی جیسا کہ ہم کئی مثالیں اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔

    دوسرا جھوٹ وید کے پرمیشر کا جس کا وہ خود اقراری ہے اُس کا یہ قول ہے کہ وہ سرب شکتی مان ہے یعنی قادر مطلق ہے حالانکہ بقول آریہ سماج وید میں اُس نے اپنی کمزوری کا اعتراف کرکے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ نہ روحیں پیدا کرسکتا ہے نہ ذرات عالم پیدا کرسکتا ہے پس جب کہ وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتا تو کس بات کا قادر مطلق ہے کیا یہ سفید جھوٹ نہیں ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وید کے پرمیشر کے نزدیک ایک اور پرمیشر ہے جو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 128

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 128

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/128/mode/1up


    درحقیقت قادر مطلق ہے کیونکہ جبکہ مذکورہ بالا دلائل سے جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوگیا کہ رُوحیں انادی اور قدیم نہیں ہیں بلکہ وہ پیدا ہوتی ہیں اور وید کا پرمیشر کہتاؔ ہے کہ میں اُن روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں ہوں تو اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُس کے نزدیک ایک اور پرمیشر ہے جو رُوحوں کو پیدا کرتا ہے اور اگر کہو کہ اگر پرمیشر کو عام طور پر قادر مطلق مانا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ پرمیشر اپنا ثانی بھی پیدا کر سکتا ہے اور خودکشی بھی کرسکتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں امر اس کی صفات کاملہ کے منافی ہیں چونکہ وہ پہلے سے بتلاچکا ہے کہ وہ واحدلاشریک ہے اور نیز بتلا چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے موت اس پر وارد نہیں ہوتی اور یہ دونوں امر اُس کی صفات قدیمہ میں داخل ہیں تو وہ اپنی صفات قدیمہ کے برخلاف کوئی کام کیوں کرے گا؟اور چونکہ کمال تام اس کا واحد لاشریک ہونے اور ازلی ابدی ہونے میں ہے۔ پس وہ ایسے کام کی طرف کیوں متوجہ ہوگا جو اس کے کمال تام کے منافی ہے اور وہ اس بات سے برتر و اعلیٰ ہے کہ کوئی نقص اپنے لئے روا رکھے کیونکہ کسی قسم کا نقص اس کی ذات بے عیب کے برخلاف ہے مگر پیدا کرنا تو اس کی ذات بے عیب کے برخلاف نہیں بلکہ پہلی صفت تو اس کی صفات کاملہ میں سے پیدا کرنا ہی ہے اور وہی عقلی طور پر اس کی شناخت کے لئے ایک ذریعہ ہے اگر وہ پیدا ہی نہیں کرسکتا اور ارواح اور ذرات سب خودبخود ہیں تو کیونکر معلوم ہو؟ کہ وہ موجود بھی ہے ۔ کیا صرف ارواح اور ذرات کے جوڑنے سے اس کی ذات کا پتہ لگ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ جو چیزیں قدیم سے خودبخود ہیں اور تمام قوتیں ان کی خود بخود ہیں تو وہ چیزیں بذریعہ اپنی انہیں قوتوں کے اتصال اور انفصال کی بھی قدرت رکھ سکتی ہیں۔ غرض خدا کی شناخت کی ضروری اور اوّل صفت یہی ہے کہ وہ پیدا کنندہ ہو۔ اور تبھی وہ قادر مطلق اور سرب شکتی مان کہلا سکتا ہے کہ یہ قوت اُس میں پائی جائے۔ پس جب کہ وید کا پرمیشر پیدا کرنے پر قادر نہیں اور پھر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں سرب شکتی مان ہوں۔ تو اِس میں کیا شک ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹ بھی ایسا کہ خود اُس کے اقرار سے ثابت ہے۔ اور کہنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی اس لئے پرمیشر روحوں کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 129

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 129

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/129/mode/1up


    پیدا کرنے سے معذور ہے یہ دوسرا جھوٹ ہے کیونکہ ابھی ہم ثابت کر آئے ہیں کہ ؔ نیست سے ہست ہوتا ہے کیونکہ رُوحوں کے بارے میں صرف دو پہلو تجویز ہوسکتے ہیں۔

    (۱) ایک تو یہ کہ ایساخیال کیا جاوے کہ روح پیدا نہیں ہوتی بلکہ جسم سے نکل کر پھر واپس آتی ہے اور شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑ کر کسی مرد کی غذا ہو جاتی ہے اور اس طرح پیٹ کے اندر چلی جاتی ہے۔ سو ہم ابھی ثابت کر آئے ہیں کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے اور مشاہدہ بالکل اِس کے برخلاف گواہی دے رہا ہے اور نیز اس سے رُوح کی تقسیم لازم آتی ہے۔

    (۲) دوسرا پہلو روح کے بارے میں یہ ہے کہ وہ پیدا ہوتی ہے باہر سے نہیں آتی۔ اس پہلو کی سچائی دو طور سے ثابت ہوچکی ہے۔ اوّل اِس طور سے کہ جب روح کاواپس آنا ممتنع اور محال ثابت ہوا تو پھر دوسرا پہلو باقی رہ گیا کہ وہ پیداہوتی ہے۔ اور دوسرے اِس طور سے کہ چشم دید مشاہدات گواہی دے رہے ہیں کہ ضرور روح پیدا ہوتی ہے اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ مثلاً جو حیوان گوشت ہی کھاتے ہیں یا وہ کیڑے مکوڑے جو زمین کے اندر پیدا ہوتے ہیں اُن پر تو کوئی رُوح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی نہیں بلکہ یہ ا مر بھی محسوس و مشہود ہے کہ ہرایک مادہ جو سڑجاتا ہے تو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہزاروں کیڑے اُس میں پیدا ہو جاتے ہیں اور کوئی روح آسمان سے اُ ن پر گرتی نظر نہیں آتی۔ پس اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور رُوح پیدا ہوتی ہے۔ غرض جبکہ یہ امر محسوس و مشہود ہے اور ہم بچشم خود روح کا پیدا ہونا ہر روز دیکھتے ہیں مگر آسمان سے گرنا نہیں دیکھتے تو جس کتاب میں یہ بات درج ہے کہ وہ شبنم کی طرح ہوکر آسمان سے برستی ہے ایسی کتاب کے جھوٹے ہونے میں کیا کلام ہے جبکہ یہ ثابت ہوگیا کہ روح آسمان سے نہیں گرتی تو اب اس بحث کی ضرورت نہیں کہ خدا کیونکر نیست سے ہست کر لیتا ہے کیونکہ جبکہ نیست سے ہست ہونا ہرروز مشاہدہ میں آتا ہے تو پھر کسی بے حیا کا کام ہے جو مشہود و محسوس سے انکار کرے۔ درحقیقت خدا کے سارے کام انسان کے فہم سے برتر ہیں مثلاً ایک بچہ انسان کا صرف ایک قطرہ منی سے پیدا کیا جاتا ہے اور ہم بالکل نہیں سمجھ سکتے کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 130

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 130

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/130/mode/1up


    ایک قطرہ سے انسان کیونکر پیدا ہو جاتا ہے اور ہم سمجھ نہیں سکتے کہ دیکھنے والی آنکھیں کیوؔ نکر اس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ہم اس بات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے کہ سننے والے کان کیونکر اس میں بنائے جاتے ہیں اور ہمارے خیال میں نہیں آتا کہ انسان کی صورت اور ہاتھ اور پَیر اور دل اور دماغ اور جگر اور تمام اعضا کیونکر اس میں بن جاتے ہیں۔ پس بلاشُبہ یہ تمام امور ہمارے نزدیک ایسے ہی محال ہیں جیسے نیست سے ہست ہونا کیونکہ ہم اُن کے بنانے پر قادر نہیں اور ہماری عقل کوئی فلسفی دلیل اس بات پر قائم نہیں کرسکتی کہ کیونکر یہ تمام اعضا بن جاتے ہیں۔ پس جیسا کہ ان تمام اعضاء کا بننا ہماری عقل سے برتر ہے ایسا ہی رُوح کا بھی پیدا ہونا ہماری عقل سے برتر ہے اور جبکہ ہم واقعی طور پر ثابت کرچکے ہیں اور بچشم خود دیکھ چکے ہیں کہ رُوح پیدا ہوتی ہے تو پھر امور مشہودہ محسوسہ سے ہم انکار کیوں کریں؟ ہماری عقل اور فہم سے جیسا کہ روح کا پیدا ہونا برتر ہے ایسا ہی ایک قطرہ سے انسان کا اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بننا برتر ہے۔ پس یہ کمال بے حیائی ہے کہ جو ایک محال ہمارے نزدیک ہے اُس کو تو جائز سمجھ لینا اور جو دوسرا امر یعنی روحوں کا پیدا ہونا ہماری عقل اور فہم سے بر تر ہے اس کومحال اور ممتنع قرار دینا۔ خدا کے کارخانہ قدرت میں انسان کی مجال نہیں کہ کچھ دست اندازی کرسکے۔ ہزارہا اسرار ربوبیّت ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے اور پھر مشاہدات کے ذریعہ سے ہمیں ماننے ہی پڑتے ہیں ۔ پس کیا

    ابھی تک اس میں کچھ شک ہے کہ مشاہدات ہمیں اس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرتے ہیں کہ روحیں پیدا ہوتی ہیں اُوپر سے نہیں آتیں۔ مثلاً زمین کے نیچے کا طبقہ جو ستر۷۰ اسی۸۰ ہاتھ تک کھود کر پھر دکھائی دیتا ہے اس میں جاندار پائے جاتے ہیں۔ پس کیا کوئی عقل تجویز کرسکتی ہے کہ رُوح شبنم بن کر نیچے چلی جاتی ہے۔ پس جب کہ سچا واقعہ یہی ہے کہ رُوح پیدا ہوتی ہے تو اس نفس الامر کے برخلاف وید کے پرمیشر کا یہ بیان کہ رُوح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے یہ ایسا جھوٹا اور خلاف واقعہ بیان ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسے گا۔ کیا وہ جانور جو صرف گوشت کھاتے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 131

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 131

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/131/mode/1up


    ہیں اُن کے بچے نہیں ہوتے۔ کیا زمین کے نیچے کے طبقہ میں رہنے والے کیڑے جو کبھی ؔ باہر نہیں آتے اُن کی کسی غذا پر شبنم کے طور پر روح برستی ہے۔ پس مجھے تعجب ہے کہ جو لوگ ایسے وید پر ایمان لاتے ہیں جو سراسر خلاف واقعہ باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے اس کلام پر ا عتراض کرتے ہیں جو سراسر حق اور حکمت سے مملو ہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ جس کتاب میں قوانین قدرت کے خلاف تعلیم ہو وہ الہامی نہیں ہوسکتی مگر افسوس! کہ ان لوگوں کو کچھ بھی شرم اور حیا نہیں۔ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں کہ وید کی تعلیم قانون قدرت کے برخلاف ہے اور برخلاف بھی ایسی کہ کھلی کھلی سچائی سے انکار ہے جیسا کہ وہ اُس بات کا قائل ہے کہ رُوح دوبارہ کسی گھاس پات کے ذریعہ سے پیٹ میں چلی جاتی ہے حالانکہ یہ امرثابت شدہ ہے کہ رُوح پیدا ہوتی ہے جیسا کہ ہم کئی بار لکھ چکے ہیں۔ پس قرآن شریف کی تعلیم پر یہ اعتراض کرنا کہ وہ قانونِ قدرت کے برخلاف ہے یہ نری جہالت ہی نہیں بلکہ بیحیائی اورجہالت دونوں ملے ہوئے ہیں۔ اور ان لوگوں کا یہ قول کہ معلوم شدہ قوانین کا رد نا معلوم قوانین سے کیونکر ہوسکتا ہے۔ یہ اعتراض تو درحقیقت وید پر ہی عائد ہوتا ہے کیونکہ جبکہ معلوم ہوچکا ہے کہ آسمان سے کوئی روح نہیں برستی بلکہ بقدرت قادر اندر سے ہی پیدا ہو جاتی ہے تو پھر وید کا یہ قول کہ آسمان سے بطور شبنم برستی ہے یہ قول تو اِس لائق بھی نہیں کہ اس کو نامعلوم قوانین میں بھی داخل کریں کیونکہ امور محسوسہ و مشہودہ سے اس کا بُطلان ثابت ہوچکا ہے۔ پس کیا یہی وید ہے جس پر ناز کیا جاتا ہے۔ افسوس !!

    مضمون پڑھنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ وید میں لکھا ہے کہ جانوروں سے پیار کرو کیونکہ وہ سب انسان ہیں۔ لیکن افسوس ! کہ ہم ایسا پیار مشاہدہ نہیں کرتے۔ اگر کسی آریہ کے کسی حصہ بدن پر پھوڑا ہو اور ڈاکٹر اُس کا علاج جوکیں بتلاوے تو فی الفور جوکیں لگائی جاتی ہیں جو بعض اوقات اس زہر کو چوس کر سب کی سب مر جاتی ہیں اور کوئی آریہ یہ خیال نہیں کرتا کہ میں مر جاؤں تو بہتر ہے ایک عاجز جونک کو کیوں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 132

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 132

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/132/mode/1up


    ہلاکؔ کروں آخر وہ بھی تو دراصل انسان ہے کیا یہ پیار ہے؟ ایسا ہی شہد کی مکھیوں کے ہزاروں بچے تلف کرکے شہد نکالتے ہیں کیا یہ پیار ہے؟ گائیوں کا دُودھ جو اُن کے بچوں کا حق ہے آپ پی لیتے ہیں کیا یہ پیار ہے؟ ہر ایک قطرہ پانی میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں جو دراصل بقول اُن کے انسان ہیں وہ پانی پی کر اُن کیڑوں کو ہلاک کرتے ہیں کیا یہ پیار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وید نے انسانوں کی ہمدردی بھی نہیں سکھلائی۔ سکھوں کے عہد میں ہزاروں غریب مسلمان صرف گائے کے ذبح کا شبہ ہونے کی وجہ سے قتل کئے گئے تھے۔ ایسا ہی صدہا ہندو لوگ ہزارہا من گیہوں وغیرہ اناج کھاتوں میں دفن رکھتے ہیں اور انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کوئی سخت قحط پڑے اور خلق اللہ پر تباہی آوے تب وہ غلہ فروخت کرکے مالدار ہو جائیں پس جس وید نے یہ نہیں سکھلایا کہ انسانوں سے پیار کیا جاوے اور اُن کا بُرانہ مانگا جاوے اس پر کیونکر اُمید رکھیں ؟ کہ اُس نے یہ سکھلایا ہوگا کہ دوسرے جانوروں سے پیار کرو۔ مگر جیسا کہ قرآن شریف کی رُو سے یہ منع ہے کہ کسی قوم سے سُود مت لو خواہ وہ مسلمان ہیں یا ہندو یا عیسائی۔ ایسا ہی قرآن شریف نے اِس بات

    سے بھی منع کیا ہے کہ اناج کو اپنے طمع اور غرض نفسانی سے لوگوں سے روک رکھیں اور اس کے فروخت کے لئے کسی قحط کے منتظر رہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ نجس اور خبیث لوگوں کا کام ہے مگر افسوس! کہ ایسے لوگ آریوں میں لاکھوں پائے جاتے ہیں۔ اگر وید میں ممانعت ہوتی تو اس کثرت سے یہ بُرے کام ہندوؤں میں ہرگز نہ ہوتے۔ وہ شخص سخت چنڈال اور پلید ہوتا ہے جو اپنے نفس کی بھلائی کے لئے تمام دُنیا کا بدخواہ ہو اور اگر اِس کے برخلاف وید کی کوئی تعلیم ہے تو ہمیں دکھلاؤ بلکہ میں نے سنا ہے کہ بعض اِس قسم کے ہندوجن کے پاس بہت غلہ ہے روغنی روٹیاں پکاکر باہر لے جاتے ہیں اور اُن پر پاخانہ پھرتے ہیں تا اُس کام سے پرمیشر ناراض ہو جاوے اور قحط زیادہ پڑے۔ ایسا ہی قرضہ کے وقت سُود پر سُود چڑھا کر انجام کار غریب زمینداروں کی زمینیں اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 133

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 133

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/133/mode/1up


    وؔ رنمنٹ کو آخرکار ایک قانون جاری کرنا پڑا۔

    دوسرا حصہ

    اُن حملوں کے ردمیں جو آریہ مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں

    أ

    مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ تو بہ کا مسئلہ خلاف قانون قدرت ہے اس سے مطلب اُس کا قرآن شریف پر حملہ کرنا ہے۔ گویا قرآن شریف میں خلاف قانون قدرت کے تعلیم پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ہم توبہ کے بارے میں اس سے پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں مگر پھر مختصر طورپر بیان کرنا مضائقہ نہیں۔ یاد رہے کہ ہمیں بار بار افسوس آتا ہے کہ تعصب کی وجہ سے ان لوگوں کی عقل کیوں ماری گئی ہے۔ واضح ہو کہ توبہ لغت عرب میں رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام بھی توّاب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان گناہوں سے دستبردار ہو کر صدق دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ امر سراسر قانونِ قدرت کے مطابق ہے کیونکہ جب کہ خدا تعالیٰ نے نوع انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جب ایک انسان سچے دل سے دوسرے انسان کی طرف رجوع کرتا ہے تو اُس کا دل بھی اُس کے لئے نرم ہو جاتا ہے تو پھر عقل کیونکر اِس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بندہ تو سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے مگر خدا اس کی طرف رجوع نہ کرے بلکہ خدا جس کی ذات نہایت کریم و رحیم واقع ہوئی ہے وہ بندہ سے بہت زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اِسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 134

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 134

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/134/mode/1up


    توّاب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا سو بندہ کا رجوع تو پشیمانی اور ندامت اور تذلل اور انکسار کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا رجوع رحمت اور مغفرت کے ساتھ اگر رحمت خدا تعالیٰ کی صفات میں سے نہ ہو تو کوئی مَخلصینہیں پاسکتا۔ افسوس! کہ ان لوگوں نے خد ا تعالیٰ کی صفات پر غور نہیں کی اور تمام مدار اپنے فعل اور عمل پر رکھا ہے مگر وہ خدا جس نے بغیر کسی کے عمل کے ہزاروں نعمتیں انسان کے لئے زمین پر پیدا کیں۔ کیا اس کا یہ خُلق ہوسکتا ہے کہ انسان ضعیف البنیان جب اپنی غفلت سے متنبہ ہوکر اس کی طرف رجوع کرے اور رجوع بھی ایسا کرے کہ گویا مر جاوے اور پہلا ناپاک چولہ اپنے بدن پر سے اُتار دے اور اُس کی آتشِ محبت میں جل جائے تو پھر بھی خدا اس کی طرف رحمت کے ساتھ توجہ نہ کرے کیا اِس کا نام خدا کا قانون قدرت ہے ؟ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔

    مضمون پڑھنے والے نے اس بات پر کئی جگہ زور دیا کہ الہامی کتاب کے مندرجہ ذیل نشان ہیں۔

    (۱) وہ ابتدائے آفرینش میں ہو۔ (۲) اس میں کوئی بات خلاف قانون قدرت نہ ہو۔

    (۳) اُس کی تعلیم عالمگیر ہو۔ (۴) وہ کسی خاص ملک کی زبان نہ ہو۔

    (۵)کوئی تاریخی واقعہ اس میں درج نہ ہو۔(۶) وہ تمام دینی دنیوی علوم کا سرچشمہ ہو۔

    (۷) ملہمین کی زندگیاں پوتّر یعنی پاک ہوں۔(۸) ایشر کے اعلیٰ درجہ کے صفات اس میں درج ہوں۔

    (۹) اُس میں اعلیٰ اخلاق سکھلائے گئے ہوں۔ (۱۰) وہ کتاب اپنے آپ میں مکمل ہو۔

    (۱۱) اُس میں اختلاف نہ ہو۔ (۱۲) کسی کی اُس میں طرفداری نہ ہو۔

    (۱۳) اُس میں ایسی باتیں نہ ہوں کہ فلاں موقع پر بے انصافی کی۔ اور فلاں کام کرکے پچھتایا۔ فلاں کام میں مکاری کی۔ دوسروں کے لوٹنے کا حکم دیا۔ پیدائش او رفنا کے بارے میں صحیح صحیح حالات درج ہوں۔ (۱۴) راجا پرجا اور والدین اور اولاد وغیرہ سب کے حقوق انصاف سے درج ہوں۔ (۱۵) اس میں ترمیم و تنسیخ نہ ہو اور نہ ہونے کی ضرورت ہو۔ وہ خاص ایشر کی زبان ہو۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 135

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 135

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/135/mode/1up


    واضح ہو کہ یہ تمام نشانیاں الہامی کتاب کی جو مضمون پڑھنے والے نے قرار دی ہیں وہ اس لئے قرار نہیں دیں کہ عقل اور انصاف کا مقتضٰی یہی ہے بلکہ وید کی نسبت جو کچھ ان کا خیال ہے وہی نشانیاں قرار دیدی ہیں اور پھر بعد اس کے قرآن شریف پر حملے کئے ہیں یہ شخص اپنے نہایت تعصب کی وجہ سے اِس قدر دیوانہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا لیکھرام کا بھی دادا ہے۔ تعصب اور نادانی بھی کیا بلا ہے کہ دونوں مل کر ایک خود غرض شخص کو اندھا کر دیتی ہیں۔ دراصل الہامی کتاب کے لئے دو نشانیاں ہی کافی تھیں اور وہ یہ کہ (۱) الٰہی طاقت اُس کے اندر موجود ہو (۲) جس غرض کے لئے آئی ہے اُس غرض کو اُس کی تعلیم پوری کرسکے یعنی انسان کو خدا تک پہنچنے کے لئے جو ضرورتیں ہیں اُن تمام ضرورتوں کا سامان اس میں موجود ہو اور ایسے کھلے کھلے دلائل ہوں جو یقین دلا سکیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کی ہستی کا اُن دلائل کے ساتھ پتہ دے جو انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اور اُس کے اندر ایک ایسی طاقت ہو کہ وہ دور افتادہ انسانوں کو خدا تک پہنچا سکے اور ان کے اندرونی گندوں کو دُور کرسکے اور اُن کو ایک پاک حالت بخش سکے اور صاف ظاہرہے کہ بڑی اوراوّل علامت طبیب کی یہی ہے کہ وہ اکثر بیماروں کو اچھا کردے اور صحت زائلہ کو بحال کرکے دکھلاوے اور دُور شدہ

    تندرستی کو دوبارہ قائم کردے سو انبیاء علیہم السلام طبیب رُوحانی ہوتے ہیں اِس لئے روحانی طور پر ان کے کامل طبیب ہونے کی یہی نشانی ہے کہ جو نسخہ وہ دیتے ہیں یعنی خدا کا کلام۔ وہ ایسا تیر بہدف ہوتا ہے کہ جو شخص بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے اس نسخہ کو استعمال کرے وہ شفا پا جاتا ہے اور گناہوں کی مرض دور ہو جاتی ہے اور خدا ئے تعالیٰ کی عظمت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کی محبت میں دل محو ہو جاتا ہے کیونکہ جس چیز کا نام عذاب رکھا گیا ہے وہ یہی توعذاب ہے کہ انسان کا خدا سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ اپنی نفسانی خواہشوں سے تعلق شدید ہو جاتا ہے اور ان نفسانی خواہشوں کی ایسی پرستش کرتا ہے اور ایسے طورسے اُن کی طلب میں لگا رہتا ہے کہ گویا وہی نفسانی خواہشیں اُس کا خدا ہے۔ پس جو کتاب اِن سفلی آلائشوں کو دُور کرتی ہے اور خدا تعالیٰ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 136

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 136

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/136/mode/1up


    کی محبت کا ایک سچا جوش دل میں پیدا کر دیتی ہے درحقیقت وہی خدا کی کتاب ہے کیونکہ جب ایک طبیب اندھوں کو آنکھیں بخشتا ہے اور بہروں کے کان کھولتا ہے اور فالج زدہ لوگوں کو اچھا کرتا ہے اور سخت بگڑے ہوئے مریض اُس کے ہاتھ سے شفا پاتے ہیں توبس اِسی ایک نشان سے ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ درحقیقت حاذق طبیب ہے اور اس کے بعد اس کے حاذق طبیب ہونے میں کلام کرنا کسی عقلمند اور بھلے مانس کا کام نہیں ہوتا لیکن افسوس ! کہ اس شخص نے ان نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور محض اپنے دعوے کو بطور نشانیوں کے پیش کردیا ہے حالانکہ وہ صرف اس کے دعوے ہیں جن پرکوئی دلیل پیش نہیں کی اور وہ بھی بے تعلق اس لئے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ گو کتاب میں کسی قدر طول ہو مگر ہم انشاء اللہ اس کی پیش کردہ نشانیوں کو ایک ایک کرکے دکھلائیں گے کہ وہ کیسے بیہودہ دعوے اور باطل خیالات ہیں جو وید میں ہرگز نہیں پائے جاتے۔ اگر یہ شخص ایک عام جلسہ میں خدا تعالیٰ کے پاک رسول اور پاک کتاب کی نسبت اس قدر توہین نہ کرتا اور اس قدر گالیاں نہ دیتا توہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ آریہ مذہب کی نسبت قلم اُٹھاتے کیونکہ دین اسلام کی خوبیاں بھی بیان کرنا ایک ایساامر ہے کہ جس سے باطل مذہب رد ہو جاتے ہیں مگر اس شخص نے اپنی بدزبانی کو انتہا تک پہنچا دیا آخر ہمیں ضرورت پڑی کہ ایسے وحشیانہ دانتوں کو توڑا جائے اس شخص کو اِس بات کے کہنے سے حیانہیں آئی کہ وید کا نام مکمل کتاب رکھتا ہے حالانکہ وید کی رُو سے پرمیشر کا ہی کچھ پتہ نہیں کہ ہے یا نہیں۔ بُت پرستی کی اور عناصر پرستی کی جڑھ یہی وید ہے اِسی سے آریہ ورت میں یہ سب گند پھیلے ہیں اور ہم تو دس۱۰ ہزار روپیہ کی جائیداد ایسے شخص کو دے سکتے ہیں کہ جو وید کی رُو سے پرمیشر کا وجود ثابت کرکے دکھلا دے ورنہ خالی وید وید کرنا سراسر جائے شرم!!

    اب ہم مضمون پڑھنے والے کی ان نشانیوں مقرر کردہ کی نسبت ذیل میں ایک مکمل بیان لکھیں گے جو اُس نے الہامی کتاب کی علامات مقرر کی ہیں تا معلوم ہو کہ کہاں تک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 137

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 137

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/137/mode/1up


    وہ صحیح اور درست ہیں لیکن قبل اِس کے ہم اِس قدر تحریر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تمام نشانیاں الہامی کتاب کی اپنے عقیدہ کو پیش نظر رکھ کر اس نے لکھی ہیں مثلاً چونکہ بغیر کسی دلیل کے ہندوؤں کا یہ خیال ہے کہ وید ابتدائے آفرینش میں پر میشر کی طرف سے آیا ہے۔ پس مضمون پڑھنے والے نے اپنے مذہب کی فتح مدّنظر رکھ کر الہامی کتاب کے لئے یہ ایک نشانی ٹھہرا دی کہ وہ ابتدائے آفرینش میں ہو۔ اور چونکہ اُس نے دیکھا کہ وید میں کوئی ذکرمعجزات اور پیشگوئیوں کا نہیں اور صرف معمولی باتیں اس میں درج ہیں جومعمولی انسان سے ہو سکتی ہیں اور جو انبیاء علیہم السلام فوق العادت نشان دکھلایا کرتے ہیں اُن نشانیوں کاوید میں نام و نشان نہیں سو اُس نے وید کی حالت کو مدّنظر رکھ کر یہ دوسری علامت الہامی کتاب کی

    ٹھہرادی کہ وہ قانون قدرت کے مخالف نہ ہو یعنی جو کچھ عام انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ معمولی رنگ میں اپنے افعال ظاہرکرتا ہے اس سے بڑھ کر اس کتاب میں کچھ نہ ہو گویا خدا کاقانون قدرت صرف اس حد تک ہے جوعام لوگوں کے ساتھ پایاجاتا ہے حالانکہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت دو قسم کے ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ اور قانون قدرت ہے اور خاصوں کے ساتھ اور قانون قدرت ہے۔ چنانچہ آریہ مضمون پڑھنے والا خود اس بات کا ا قراری ہے کہ جو الہام چار رشیوں پر ہوا وہ دوسروں کو نہیں ہوسکتا گو کیسے ہی پاک اور پوتّر ہو جائیں۔ پس اپنے اس عقیدہ کی رُو سے وہ خود مانتا ہے کہ خدا کا ایک ہی رنگ کا قانون قدرت نہیں ہے اور فی الواقع سچی اور کامل معرفت کی رُو سے یہی ثابت ہوگیا ہے کہ انسانوں کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایک قسم کا نہیں بلکہ جس درجہ پر انسان کی حالت ہے اُسی درجہ پر خدا کا قانون قدرت اس کی نسبت ہوتا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ہر ایک قسم کی معصیت دلیری سے کر لیتے ہیں گویا اُن کے نزدیک خدا نہیں ہے اور ایک وہ لوگ ہیں جو خدا کی اطاعت اور محبت میں مر ہی رہتے ہیں اور خدا کی رضا جو ئی کے لئے آگے سے آگے قدم رکھتے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 138

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 138

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/138/mode/1up


    جاتے ہیں گو اس راہ میں بکلی نیست و نابود ہو جائیں اور معمولی اور رسمی عقیدہ پرخوش نہ ہوکر یہ چاہتے ہیں کہ پورے اور کامل طور پر خدا تعالیٰ کی معرفت اُن کو حاصل ہو اور چمکتے ہوئے نشانوں کی روشنی کے ساتھ وہ خدا کو دیکھ لیں اور یہ بھوک اور پیاس بشدت اُن میں بڑھ جاتی ہے اور اس خواہش کے لئے وہ سب کچھ فدا کرتے ہیں اور موت کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھتے۔ پس وہ خدا جو ان کی اِس حالت کو دیکھتا ہے اُن کا مطلوب اُن کو عطا کرتا ہے اور یہ کیونکر ہو کہ اُس کی کامل معرفت ڈھونڈنے والے محروم رہ جائیں۔ اس لئے خدا کا قانون قدرت جو ایسے لوگوں کے لئے قدیم سے چلا آتا ہے یہی ہے کہ وہ اُن کی دستگیری فرماتا ہے اور خدا تعالیٰ کے زبردست نشان جو فوق العادت ہیں اُن کا یقین کامل کرنے کے لئے اُن پر ظاہر ہوتے ہیں یعنی وہ نشان جو خدا کی اس عادت کے برخلاف ہیں جو عام لوگوں کے لئے مقرر ہے اُن کو دکھائے جاتے ہیں۔

    غرض خدا کا قانون قدرت ایک نہیں ہے جیسا کہ انسانی تعلقات بھی خدا کے ساتھ ایک درجہ پر نہیں ہیں انسان کے ہر ایک رنگ میں خدا بھی اُس کے ساتھ رنگ بدلتا ہے اُس کے اسرار بے پایاں ہیں جیسی جیسی کسی کی محبت بڑھتی ہے اور قوت اخلاص ترقی پکڑتی ہے ویسا ہی خدا بھی ایک نئے طور پر اُس سے معاملہ کرتاہے۔ پس اُس سے زیادہ اندھا کون ہے جو مختلف قسم کے بندوں کے ساتھ ایک ہی قانون قدرت خدا تعالیٰ کا سمجھتا ہے اصل بات تو یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ دن رات دنیا کے مُردار پر سرنگوں ہیں اور کچھ بھی خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں رکھتے اور محض قومی تعصّب سے زبان چلا رہے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے اسرار کے بارے میں اُن کی حس مفقود ہے اور وید کی بدقسمتی ایک یہ بھی ہے کہ اُس کے حامی ایسے لوگ ہیں۔

    غرض مضمون پڑھنے والے کی نشانیاں پیش کردہ جو الہامی کتاب کے لئے وہ ٹھہراتا ہے سب اسی قسم کی ہیں کہ جو کچھ اس کے عقیدہ میں داخل ہے وہی الہامی کتاب کی نشانی وہ ٹھہرا دیتا ہے مگر وہ اس بات کا ذکر کرنا بھول گیا کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 139

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 139

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/139/mode/1up


    جسؔ میں یہ مذکور ہو کہ رُوح بدن سے نکل کر پھر شبنم کی طرح گھاس پات پر پڑتی ہے اور دو۲ ٹکڑے ہوکر مرد اورعورت کے اندر چلی جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِس نشانی کاذکر کرنے سے وہ اِس وجہ سے ڈر گیا کہ اس سے وید کی پورے طور پر پَردہ دَری ہو جائے گی کیونکہ تمام دنیا جانتی ہے کہ وید نے یہ صریح صریح جھوٹ بولا ہے اورخدا کے مقرر و معیّن قانون کے برخلاف بیان کیا ہے اور جھوٹ بھی ایسا کھلا کھلا جھوٹ کہ بدیہی اور مشہودہ محسوسہ امور کی مخالفت کی ہے۔ طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ زمین کی ہر ایک چیز میں ایک جاندار کیڑے کا مادہ موجود ہے یہاں تک کہ زنگ خوردہ لوہے میں بھی کیڑا پیدا ہو جاتا ہے اور عجیب تر یہ کہ بعض پتھروں میں بھی کیڑا دیکھا گیا ہے اور ہر ایک قسم کے اناج اورہر ایک قسم کے پھل جب بہت مدّت تک رکھے جائیں تو ان میں بھی کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب انسان موت کے بعد دفن کیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ تمام بدن اُس کا کیڑوں سے بھر جاتا ہے اور سب سے عجیب تر یہ کہ ایک مشہور درخت ہے جس کو گولر کہتے ہیں اُس کا پھل جب تک سبز ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا اور جیسے جیسے پکتا جاتاہے اسی کے مادہ میں سے کیڑے پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ اور جب اس پھل کو چیرا جائے تو وہ کیڑے پرواز بھی کر جاتے ہیں اور بعض وقت ایک انڈے میں جو مرغی اور بطخ وغیرہ کا ہو جب سڑ جائے تو بجائے ایک بچہ کے صدہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام امور دلالت کر رہے ہیں کہ یہ راز ہی اور ہے۔ یہ وہی راز ہے جس کی نسبت ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی۔ مثلاً گولر کا ایک پھل چیرکر دیکھواُس میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا اور ہندو مسلمان سب اس کو کھاتے ہیں اور پھر جب پک جاتا ہے تو وہی مادہ کیڑے بن جاتے ہیں۔ اب اس کو اگر نیستی سے ہستی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ اسی طرح ہم نیستی سے ہستی مانتے ہیں۔ جس پر مشاہدہ گواہ ہے یہی قانون قدرت ہے۔ اس میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے جو ہرگز معافی کے لائق نہیں۔ کیا ایسے وید کو ہم قانونِ قدرت کے مطابق کہہ سکتے ہیں ؟



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 140

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 140

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/140/mode/1up


    غرض اسی وجہ سے مضمون پڑھنے والے نے اس نشانی کا ذکر نہیں کیا کہ یہ وید کا بیان ایک غلط بیان ہے۔ غالباً اُس کو یہ بات سوجھ گئی ہے کہ اس نشانی کے پیش کرنے سے وید کا تمام تاروپود جھوٹ کا مجموعہ ثابت ہوگا اور نہ صرف جھوٹ بلکہ اس کی جہالت اور ناواقفیت بھی ثابت ہوگی کہ ایسا خدا کے قانون قدرت سے بے خبر ہے کہ رُوح کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر نازل کرتا ہے حالانکہ گھاس پات کے مادہ کے اندر خود کیڑے موجود ہیں اُن پر کونسی شبنم پڑی تھی۔ اِس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ زمین کے سب نباتات جمادات حیوانات کیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں اور زمینی مادہ کے سب کچھ اندر ہے اوپر سے کچھ نہیں آتا۔ کیا وید کے رشیوں کے معدہ اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں کیڑے نہیں تھے؟ اورمرد اور عورت کی منی بھی کیڑوں سے خالی نہیں۔ اور زمین پر یا زمین کے نیچے کونسا ایسامادہ ہے جو کیڑوں سے خالی ہے۔ آریوں کو خیال کرنا چاہئے تھا کہ کب اور کس راہ سے اُن پر شبنمی رُوح پڑگئی۔ آخر جھوٹ کی کوئی حد ہے لیکن وید تو جھوٹ بولنے میں حد سے بڑھ گیا اور اس نے خدا کے بدیہی اور محسوس و مشہود اور قدیم قانون قدرت کو ایسا اپنے ہاتھ سے پھینک دیا جیسا کہ کوئی ایک کاغذ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دے۔

    اور مضمون پڑھنے والے کو ایک اور نشانی الہامی کتاب کی پیش کرنی چاہئے تھی اور اُس کا پیش کرنا تو بہت ضروری تھا معلوم نہیں کہ اُس نے وہ نشانی کیوں پیش نہ کی شاید بھول گیا اور وہ نشانی نیوگ ہے یعنی یہ کہنا چاہئے تھا کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ وہ نیوگ کی تعلیم دے یعنی اس میں یہ تعلیم پائی جائے کہ جب کسی شخص کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو تو وہ اپنی پیاری بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کراوے اور جب تک لڑکا پیدا نہ ہو اِسی طرح ہمیشہ غیر مردوں سے اپنی بیوی کی مٹی پلید کراتا رہے اور شاید یہ نشانی الہامی کتاب کی اِس لئے اُس نے ذکر نہیں کی کہ اس کو محسوس ہوگیا کہ یہ دیّوثی کی بات ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 141

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 141

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/141/mode/1up


    اور ؔ بڑی بے غیرتی کا کام ہے کہ باوجودیکہ نکاح کا تعلق بدستور ہے اپنی بیوی کو دوسرے سے ہمبستر کراوے اور نہ صرف ایک دو دن کے لئے بلکہ ایک دراز مدّت کے لئے غیروں کے بستر پر اُس کو لٹاتا رہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وید کے چاروں رشی نیوگ کے پاک عمل کے ضرور کاربند ہوں گے۔ اور شاید اُن کے پوتر ہونے کی یہی نشانی ہوگی تبہی تو انہوں نے دوسروں کو وہی تعلیم دی جس پر آپ کا ربند تھے۔

    مگر اس زمانہ کے اکثر ہندو دیکھے گئے ہیں کہ جب کہیں نیوگ کا ذکر آتا ہے تو مارے ندامت کے منہ چھپاتے ہیں یا بھاگنے لگتے ہیں۔ ایک کتاب میں مَیں نے پڑھا ہے کہ ایک بنگالی صاحب بڑے شوق سے آریہ سماج میں داخل ہوئے تھوڑے دنوں کے بعد ان کا کوئی پرانا دوست برہمو مذہب کا ان کی ملاقات کے لئے گیا اور آہستہ آہستہ بات چلاکر اُس نے نیوگ کا ذکر کردیا وہ بیچارہ بنگالی آریوں کے پنجہ میں توگرفتار تھا اس نے کہا کہ نیوگ کیا ہوتا ہے تب برہمو صاحب نے اس کی تفصیل سنادی کہ آریوں کے لئے وید کا یہ حکم ہے کہ اگر نرینہ اولاد پیدا نہ ہو تو اپنی عورت کو بغیر اس کے جو طلاق دی جائے دوسرے سے ہمبستر کراویں اور جب تک اولاد نہ ہو اسی طرح اپنی بیوی کا غیر مرد سے منہ کالا کراتے رہیں جب اس غریب بنگالی نے یہ بات سنی تو چونک اٹھا اور کہا کہ یہ آریہ سماج پر سراسر تہمت ہے بھلا ایسی بے حیائی اور ناپاکی کی تعلیم ویدمیں کیونکر ہوسکتی ہے ؟ اور وید کے چار رشی جو پوتر تھے ایسی گندی تعلیم کیونکر دے سکتے تھے؟ تب برہمو صاحب نے بہت ادب اور نرمی سے ستیارتھ پرکاش اور وید بھاش پنڈت دیانند کا اپنی بغل میں سے نکال کر دونوں ان کی خدمت میں پیش کر دئیے اور نہایت ملائمت سے عرض کیا کہ آپ نیوگ کے بارہ میں یہ چند سطریں پڑھ لیں جب اُس بنگالی نے جو شریف اور غیرتمند تھا وہ مقام پڑھا جہاں پنڈت دیانند وید کی شرتیوں کے حوالہ سے یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر لڑکا نہ ہو تو ضرور تم لوگ اپنی استریوں کو غیر لوگوں سے ہمبستر کراؤ اور اس طرح پر نرینہ اولاد حاصل کرو ورنہ تمہاری مکتی نہیں ہوگی یہ تعلیم پڑھتے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 142

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 142

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/142/mode/1up


    ہی ؔ وہ شریف آدمی آگ بگولا ہوگیا اور غصہ میں آکر اُن کتابوں کو اپنے ہاتھ سے ایک ردّی اور ناپاک چیز کی طرح پھینک دیا اور کہا کہ میں ایسے مذہب پر *** بھیجتا ہوں جس میں اس قدر ناپاکی اور بے حیائی کی تعلیم ہے اور اُس اپنے دوست کا شکر کیا جس نے اُس کو اِس گندسے نکالا۔

    اب ہم مضمون پڑھنے والے کی اُن نشانیوں کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کرتے ہیں جو اُس نے اپنے عقیدہ کے موافق الہامی کتاب کے لئے مقرر کی ہیں۔ سو اُن میں سے پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ کتاب ابتدائے آفرینش سے ہو۔ اس نشانی کے ذکر کرنے سے اس شخص کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف ابتدائے زمانہ میں نہیں آیا اس لئے وہ خدا کی کتاب نہیں لیکن اس کی اس تقریر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گو یا وید کا پرمیشر ابتدائے زمانہ کے بعد ہمیشہ کے لئے اپنا الہام نازل کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے اور الہام کرنے کی قوت اُس کی ذات میں سے مفقود ہو جاتی ہے یہاں تک کہ گو کیسے ہی مصالح جدیدہ الہام کے مقتضی ہوں اور کیسے ہی مفاسد زمین میں پھیل جائیں اور کیسے ہی کسی پہلی کتاب میں تغیرات اور تحریفات دخل کرجائیں اور کیسے ہی دور دراز ملکوں کے رہنے والے اس پہلی کتاب سے بے خبر ہوں مگر پرمیشر قسم کھالیتا ہے کہ وہ

    پہلی کتاب کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں کرے گا اور صاف ظاہر ہے کہ یہ طریق اور یہ عادت خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو جسمانی طور پر انسان کے جسمانی معالجات کے لئے پایا جاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جسمانی ضرورتوں کے موافق ہمیشہ تازہ بتازہ سامان ہمیں دئیے جاتے ہیں اور ہمیں صرف اُن قصوں کے ذریعہ سے خوش نہیں کیا جاتا کہ کسی پہلے زمانہ میں ایسے پھل تھے جو لوگ کھاتے تھے اور ایسا اناج تھا جو لوگ استعمال کرتے تھے اور ایسی دوائیں تھیں جن کے ذریعہ سے علاج ہوتا تھا بلکہ وہ سب چیزیں اب بھی ہمارے لئے پیدا کی جاتی ہیں جیسا کہ پہلے پیدا کی جاتی تھیں تو پھر روحانی قانونِ قدرت کیوں بدل گیا۔ کیاہم گمان کرسکتے ہیں کہ پہلے خدا تعالیٰ بولنے پر قادر تھا اور اب قادر نہیں اور پہلے اس کو الہام دینے کی طاقت تھی مگر اب وہ طاقت باقی نہیں رہی اور کیا سچ نہیں کہ خدا پہلے زمانہ میں جیسا کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 143

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 143

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/143/mode/1up


    سنتاؔ تھا اب بھی سنتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہمارے اس زمانہ میں خدا کی قوتِ شنوائی تو بدستور بحال ہے لیکن قوتِ کلام مفقود ہوگئی اور کیا یہ سچ نہیں کہ پہلے زمانہ کے بعد جو زمانے آئے اُن میں دن بدن معصیت اور گناہ بڑھتا گیا اور اس قدر نئے نئے گناہ پیدا ہوئے جو پہلے زمانہ میں ان کانام و نشان نہ تھا تو کیا ایسی حالت میں یہ ضروری نہ تھا کہ خدا تعالیٰ تازہ گناہوں اور نوپیدا خراب عقیدوں کے لئے کوئی نئی کتاب بھیجتا جو موجودہ مفاسد کے دور کرنے کے لئے پورے زور سے اپنی زبردست ہدائتیں پیش کرتی اور اپنے خوفناک نشانوں کے ساتھ خدا کی طرف توجہ دلاتی نہ یہ کہ خدا اس قدر طوفان دیکھنے کے بعد بالکل چپ ہی ہو جاتا اور یہ کہتا کہ وید کے ورق چاٹا کرو اور اس سے بڑھ کر کوئی ہدایت میر ے پاس نہیں اور آئندہ کسی نئی ہدایت کی امید نہ رکھو ! اور اگر یہ کہو کہ وید میں پہلے سے یہ سب احکام موجود ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں ہوگا کیونکہ تم خود اقراررکھتے ہو اور عقل بھی یہی تجویز کرتی ہے کہ پہلا زمانہ ان گناہوں اور بدعقیدوں سے خالی تھا جو پیچھے سے پیدا ہوئے تو پھر جب پہلے زمانہ میں بدعقیدے اور گناہ موجود ہی نہیں تھے تواُن سے منع کرنا کیا معنی رکھتا ہے بلکہ یہ تو نامعلوم بدکاری اور بد عقیدہ کا یاد دلانا ہے اور اگر کہو کہ وید نے

    بطور پیشگوئی سب بُرے احکام اور بُرے عقیدے بیان کر دئیے ہیں کہ آئندہ ایسا ہوگا تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ تم خود اقرار رکھتے ہوکہ وید میں کوئی پیشگوئی نہیں علاوہ اس کے ہم تو اس فیصلہ پر بھی راضی ہیں کہ جس قدر قرآن شریف نے بدعقیدوں اور بد اعمال کا حال بیان کیا ہے یا وہ عقیدے جو قرآن شریف نے بیان فرمائے مگر وید کی رو سے بدعقیدے ہیں ایسا ہی وہ بداعمال جو دنیا کے مختلف حصوں میں پائے جاتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں مفصل مذکور ہے آریہ لوگ وید میں سے ہم کو نکال دیں ایسے طور سے کہ جیسے غیر فرقے قرآن شریف کو پڑھ کر اس کے قائل ہیں کہ یہ سب باتیں اس میں مذکور ہیں وید کی نسبت بھی یہی اقرار کرسکیں ایسا ہی خدا کی ہستی اور توحید کے دلائل جو قرآن شریف میں لکھے ہیں جو مخالف فرقے اِس کے قائل ہیں یہ سب آریہ صاحبان وید میں سے نکال کر ہم کو دکھلاویں تو ہم 3ہزار روپے نقد ان کو دینے کو تیار ہیں۔ افسوس! کہ یہ کس قدر جھوٹ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 144

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 144

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/144/mode/1up


    ہےؔ کہ وید کی طرف وہ کمال منسوب کیا جاتا ہے جو اس میں پایا نہیں جاتا۔

    علاوہ اس کے کون شخص اس سے انکار کرسکتا ہے کہ ابتدائے زمانہ کے بعد دنیا پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔ پہلے زمانہ کے لوگ تھوڑے تھے اور زمین کے چھوٹے سے قطعہ پر آباد تھے اور پھر وہ زمین کے دُور دُور کناروں تک پھیل گئے اور زبانیں بھی مختلف ہوگئیں اور اس قدر آبادی بڑھی کہ ایک ملک دوسرے ملک سے ایک علیحدہ دنیا کی طرح ہوگیا تو ایسی صورت میں کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک ملک کے لئے الگ الگ نبی اور رسول بھیجتا اورکسی ایک کتاب پر کفایت نہ رکھتا۔ ہاں جب دنیا نے پھر اتحاداور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہوگئے اورباہمی تعارف کے لئے انواع واقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے۔ تب وہ وقت آگیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے تب خدا نے سب دُنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تاوہ جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی آخر میں بھی ایک ہی قوم بنادے۔

    اوریہ ہمارا بیان جیسا کہ واقعات کے موافق ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے موافق ہے جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اگرچہ اُس نے زمین کو الگ تاثیرات بخشی ہیں اور چاند کو الگ اور ہر ایک ستارہ میں جُداجُدا قوتیں رکھی ہیں مگر پھر بھی باوجود اس تفرقہ کے سب کو ایک ہی نظام میں داخل کردیا ہے اور تمام نظام کا پیشرو آفتاب کو بنایا ہے جس نے ان تمام سیاروں کو انجن کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا ہے پس اس سے غور کرنے والی طبیعت سمجھ سکتی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے اور درمیانی تفرقہ قوموں کا جو بباعث کثرت نسل انسان نوع انسان میں پیدا ہوا وہ بھی دراصل کامل وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک تمہید تھی کیونکہ خداؔ نے یہی چاہا کہ پہلے نوعِ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 145

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 145

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/145/mode/1up


    انسان میں وحدت کے مختلف حصے قائم کرکے پھر ایک کامل وحدت کے دائرہ کے اندر سب کولے آوے سو خدا نے قوموں کے جُدا جُدا گروہ مقرر کئے اور ہر ایک قوم میں ایک وحدت پیدا کی اور اس میں یہ حکمت تھی کہ تا قوموں کے تعارف میں سہولت اور آسانی پیدا ہو اور ان کے باہمی تعلقات پیدا ہونے میں کچھ دقّت نہ ہو اور پھر جب قوموں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعارف پیدا ہوگیا تو پھر خدا نے چاہا کہ سب قوموں کو ایک قوم بنا وے جیسے مثلاً ایک شخص باغ لگاتا ہے اور باغ کے مختلف بوٹوں کو مختلف تختوں پر تقسیم کرتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد تمام باغ کے ارد گرد دیوار کھینچ کر سب درختوں کو ایک ہی دائرہ کے اندر کر لیتاہے اِسی کی طرف قرآن شریف نے اشارہ فرمایا ہے اوروہ یہ آیت ہے۔3۱؂ یعنی اے دنیا کے مختلف حصوں کے نبیو ! یہ مسلمان جو مختلف قوموں میں سے اس دنیا میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ تم سب کی ایک اُمّت ہے جو سب پر ایمان لاتے ہیں اور میں تمہارا خدا ہوں سو تم سب مل کر میری ہی عبادت کرو۔ (دیکھو الجزو نمبر۱۷ سورۃ الانبیاء) اس تدریجی وحدت کی مثال ایسی ہے جیسے خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر ایک محلہ کے لوگ اپنی اپنی محلہ کی مسجدوں میں پانچ وقت جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ تمام شہر کے لوگ ساتویں دن شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوں یعنی ایسی وسیع مسجد میں جس میں سب کی گنجائش ہوسکے اور پھر حکم دیا کہ سال کے بعد عیدگاہ میں تمام شہر کے لوگ اور نیز گردونواح دیہات کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ عمر بھر میں ایک دفعہ تمام دنیا ایک جگہ جمع ہو یعنی مکّہ معظمہ میں۔ سو جیسے خدا نے آہستہ آہستہ امّت کے اجتماع کو حج کے موقع پر کمال تک پہنچایا۔ اوّل چھوٹے چھوٹے موقعے اجتماع کے مقرر کئے اوربعد میں تمام دنیا کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دیا سو یہی سنت اللہ الہامی کتابوں میں ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوع انسان کی وحدت کا دائرہ کمال تک پہنچادے۔ اوّل تھوڑے تھوڑے ملکوں کے حصوں میں وحدت پیدا کرے اور پھر آخر میں حج کے اجتماع کی طرح سب کو ایک جگہ




    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 146

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 146

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/146/mode/1up


    جمع ؔ کردیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے کہ333 ۱؂ یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کردے گا جیسا کہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تاکہ اول اورآخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔

    غرض پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے اُن کے سہولت تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کردیا اور ہر ایک قوم کے لئے اُس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33۲؂ (الجزو نمبر۲۶ سورۃ الحجرات)

    اور پھر فرماتا ہے

    3

    3۳؂ الجزو نمبر ۶ سورۃ المائدۃ (ترجمہ) اے لوگو! ہم نے مرد اور عورت سے تمہیں پیدا کیا ہے اورہم نے تمہارے کنبے اور قبیلے مقرر کئے یہ اس لئے کیا کہ تاتم میں باہم تعارف پیدا ہو۔ اور ہر ایک قوم کے لئے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے ظاہرکردیں پس تم اے مسلمانو! تمام بھلائیوں کو دوڑ کرلو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔غرض مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر خدا نے نوع انسان کو کئی قوموں پر منقسم کردیا۔ پہلے زمانہ کے لوگ تو آبائی رشتہ کے سلسلہ میں منسلک تھے اور ان میں وحدت قرابت حاصل تھی اور پھر جب بہت سی قومیں بن گئیں تو ہر ایک قوم میں وحدت قائم کرنے کے لئے کتابیں بھیجی گئیں اور اُس زمانہ میں ہر ایک حصہ ملک میں صرف قومی وحدت حاصل ہوسکتی تھی اس سے زیادہ نہیں یعنی تمام دنیا کی وحدت غیر ممکن تھی۔ اور پھر تیسرا زمانہ ایسا آیا جس میں اقوامی وحدت کے سامان پیدا ہوگئے یعنی تمام دنیا کی وحدت کے سامان ظہور میں آگئے اور ہر ایک زمانہ جو نوع انسان پر آیا وہ اس بات کا مقتضی تھا جو اِسی زمانہ کے مطابق کتاب دی جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی وحدت کا جب خدا نے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 147

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 147

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/147/mode/1up


    ارادؔ ہ کیا تب ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول بھیجا اور یہ قومی وحدت اقوامی وحدت سے مقدم تھی اور حکمتِ ربّانی اس امر کی مقتضی تھی کہ اول ہر ایک ملک میں قومی وحدت قائم کرے اور جب قومی وحدت کا دور ختم ہوچکا تب اقوامی وحدت کا زمانہ شروع ہوگیا اوروہی زمانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا تھا۔ اور یاد رہے کہ کسی رسول اور کتاب کی اسی قدر عظمت سمجھی جاتی ہے جس قدر اُن کو اصلاح کاکام پیش آتا ہے اور جس قدر اس اصلاح کے وقت مشکلات کا سامنا پڑتا ہے سو یہ بات ظاہر ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جو کتاب نازل ہوئی ہوگی وہ کسی طرح کامل مکمل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ابتدائے زمانہ میں اِن مشکلات کا وہم و گمان بھی نہیں آسکتا جو بعد میں پیدا ہوئیں ایسا ہی قومی وحدت کے زمانہ میں اس وقت میں اس وقت کے نبیوں اور رسولوں کو وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آسکتی تھیں جو اقوامی وحدت کے زمانہ میں اس نبی کو پیش آئیں جس کو یہ حکم ہوا کہ جو تمام قوموں کوایک وحدت پر قائم کرو۔

    خلاصہ کلام یہ کہ دنیا پر تین انقلاب آئے ہیں اور ہر ایک انقلاب ایک خاص طور کی ہدایت کو چاہتا تھا چنانچہ ابتدائے آفرینش کا زمانہ ایک ایسا سادہ زمانہ تھا کہ اُس میں اِن معاصی اور گناہوں اور بدعقائد کی تفصیل کی ضرورت نہ تھی جوبعد میں پیدا ہوئی چونکہ اس زمانہ میں کامل طور پر نوع انسان میں بدی اور بدعقیدگی نہیں پھیلی تھی اس لئے اس وقت کسی کامل کتاب کی ضرورت نہ تھی لہٰذا جس کتاب کو ہم تسلیم کریں کہ وہ ابتدائے آفرینش کی کتاب ہے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ناقص کتاب ہے۔ یہ بات ہر ایک عقلِ سلیم قبول کرلے گی کہ کمال اصلاح کی نوبت کمال فساد کے بعد آتی ہے۔ طبیب کا یہ کام نہیں کہ وہ چنگے بھلے لوگوں کو وہ دوائیں دے جو عین بیماری کے غلبہ کے وقت دینی چاہیئیں۔ اِسی لئے قرآن شریف نے پہلے یہ بیان کردیا کہ3 ۱؂ یعنی تمام دنیا میں فساد پھیل گیا او ر ہر ایک قسم کے گناہ اور معاصی کا طوفان برپا ہوگیا اور ؔ پھر ہرایک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 148

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 148

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/148/mode/1up


    بد عقیدگی اور بدعملی کے بارے میں مکمل ہدایتیں پیش کرکے فرمایا کہ :۔33 ۱؂ آج میں نے تمہارا دین کامل مکمل کردیا مگر کسی پہلے زمانہ میں جس میں ابھی طوفان ضلالت بھی جوش میں نہیں آیا تھا مکمل کتاب کیونکر انسانوں کو مل سکتی ہے۔

    ماسوا اس کے یہ سراسر جھوٹ ہے کہ وید ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے جو شخص صرف رگوید کے پہلے حصہ کو اوّل سے آخر تک پڑھے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ جابجا وید خود اِس بات کا اقراری ہے کہ وہ پہلے زمانہ کی ہرگز کتاب نہیں ہے یہ رگوید اردو میں بمقام دہلی چھپ چکا ہے اور انگریزی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے اور ہرایک شخص خواہ انگریزی خوان ہے یا اُردو خوان بآسانی اس کو پڑھ سکتا ہے۔

    دوسری نشانی الہامی کتاب کی مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کی کہ وہ خلاف قانون قدرت نہ ہو مگر یہ نشانی بھی وید میں ہرگز پائی نہیں جاتی۔ ہم وید کی تعلیمات کے بارے میں ذیل میں چند نمونے لکھتے ہیں ناظرین خود سمجھ لیں کہ جس وید میں ایسے ایسے بیان ہیں کیا وہ خدا کے قانون قدرت کے مطابق ہے چنانچہ رگوید میں ایک یہ شرتی ہے۔ اے اندر کو سیکارشی کے پوتر جلدآ* اور مجھ رشی کو مالدار کردے۔ اس فقرہ کی شرح میں وید کے بھاشی کاروں نے لکھا ہے کہ کوسیکا کا بیٹا ویشوا متر تھا پھر اِندر اس کا بیٹا کیونکر بن گیا۔ اس کی وجہ سیانا وید کا بھاشیکار وہ قصہ بیان کرتا ہے جو وید کے تتمہ انوکر امیتکا میں درج ہے اوروہ یہ ہے کہ کوسیکا اشراتھا کے پوتر نے یہ دل میں خواہش کرکے کہ اِندر کی توجہ سے میرے گھر میں بیٹا ہوا تپ جپ اختیارکیا تھا جس تپ کے جلدو میں خود اِندر ہی نے اس کے گھر میں جنم لے لیا۔ اور چونکہ اِندر بموجب عقاید آریہ سماج والوں کے پرمیشر کا نام ہے اس سے معلوم ہوا کہ خود پرمیشر کوسیکارشی کی بیوی کے رحم میں داخلؔ ہوگیا تھا اور پیدا ہونے کے بعد


    * بعض جگہ اس سے پہلے بجائے کو سیکارشی کے کشلّیا لکھا گیا ہے اور یہ سہو کاتب ہے پس گذشتہ مقامات میں جہاں اُس قصہ کے متعلق جو اوپر لکھا گیا ہے کشلّیاکا لفظ ہو اس کو کوسیکا سمجھ لینا چاہیئے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 149

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 149

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/149/mode/1up


    اس کا نام وِشْوا مِتّر رکھا گیا۔ پس ایسا وید جو پرمیشر کوکوسیکا رشی کا پوتر قرار دیتا ہے کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی باتیں قانون قدرت کے مطابق ہیں ؟ اور اگر اسی طرح پرمیشر کی یہ عادت ہے کہ وہ اولاد دینے کے لئے خود ہی عورتوں کے رحم میں داخل ہو جایا کرتا ہے تو پھر ایسی صورت میں نیوگ کی پلید رسم کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو بہت سہل طریق ہے کہ جس آریہ کے گھر میں اولاد نہ ہو خود پرمیشر ہی اس کی بیوی کے رحم میں داخل ہو جائے۔ اِس طرح پر اُس ناپاک رسم کی بیخ کنی ہوسکتی ہے جو نیوگ کے نام سے مشہور ہے۔

    ہم تو حیران ہیں کہ جس وید میں ایسے قصّے ہیں اس کی نسبت کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ قانون قدر ت کے موافق ہے ایسا ہی وید کی یہ تعلیم قانون قدرت کے مخالف ہے کہ گوشت کھانا سخت ممنوع اور پرمیشر کے منشاء کے برخلاف ہے کیونکہ اگر دنیا کے ہر ایک جاندار پر وسیع نظرڈالی جاوے تو معلوم ہوگا کہ زمین کی سطح پر اور دریاؤں میں جو جاندار پائے جاتے ہیں اکثر گوشت خوار ہی ہیں۔ اور گوشت خواروں کی نسبت وہ جانور جو صرف نباتی چیزیں کھاتے ہیں نہایت ہی قلیل ہیں گویا کچھ بھی نہیں پہلے ہم اگر انسانوں پر ہی نظر ڈالیں تو ثابت ہوگا کہ یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے کل انسان بجز قلیل مقدار اُن ہندوؤں کے جو گوشت نہیں کھاتے سب گوشت خوار ہیں گویا تمام دنیا کی فطرت کا تقاضا گوشت خواری ہے اور جو تھوڑا سا گروہ ہندوؤں کا گوشت نہیں کھاتا ان میں سے قوت شجاعت اور غیرت بالکل مفقود ہے اِسی وجہ سے نیوگ جیسی ناپاک رسم کو انہوں نے قبول کرلیا اور وہ اس لائق بھی نہیں ہوتے کہ جنگی فوجوں میں داخل ہوں کیونکہ سخت بزدل ہوتے ہیں۔

    اور جب ہم دوسرے جانداروں کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی بجز چند بزدل قسم جانوروں کے جیسے بکری اور گائے باقی سب گوشت خور ہی ثابت ہوتے ہیں اور بحری جانور تو کُل گوشت خوار ہیں اور چھوٹے چھوٹے دریاؤں کا تو ذکر کیا ہے۔ بحر محیط یعنی ؔ سمندر جس نے زمین کا ایک بڑا حصہ روکا ہوا ہے و ہ بھی گوشت خوار جانوروں سے بھرا ہوا ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 150

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 150

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/150/mode/1up


    یہ جاندار کروڑہا درجہ انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہیں پس جو کچھ ہماری نظر کے سامنے فعل الٰہی موجود ہے وہ صاف بتلا رہاہے کہ خدا کا قانون قدرت یہی ہے اور اس کے جواب میں یہ کہنا کہ جو جاندار گوشت خوار ہیں وہ کسی پہلی جون میں بہت برے آدمی تھے پرمیشر نے بطور سزا کے اُن کو گوشت خوار بنایا اس جواب سے ہر ایک عقلمند تعجب کرے گا کہ یہ کیسی سزا ہے کہ سزا کے طور پر ایک عمدہ اور مقوّی غذا ان کو دے دی۔ ماسوا اس کے ایک ثابت شدہ امر کے مقابل پر صرف اپنا ایک خیال پیش کرنا جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں یہ کس قسم کی منطق ہے ظاہر ہے کہ یہ تو کھلے کھلے طور پر ثابت شدہ امر ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکثر مخلوق دنیا میں گوشت خوار ہی ہے اور یہ صریح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ مخلوق کے لئے خدا نے یہی پسند کیا ہے اور جو بعض پرند اور چرند گوشت نہیں کھاتے۔ وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ و ہ شکار کرنے سے عاجز ہیں ورنہ وہ سب کچھ کھا سکتے ہیں اور جب یہ بات ثابت ہوچکی تو ماننا پڑا کہ مخلوق کے لئے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ گوشت کھایا کریں اور بہت سے اسباب صحت گوشت کھانے پر ہی موقوف رکھے گئے ہیں اسی لئے ہند کی طبابت میں بھی بعض امراض کے علاجوں میں گوشت کا ذکر ہے۔ اب اس کے مقابل پر یہ وہم پیش کرنا کہ گوشت خوار جاندار صرف سزا کے طور پر گوشت خوار بنائے گئے ہیں یہ صرف ایک دعویٰ ہے جس کا کچھ ثبوت نہیں ایسا ہی یہ لوگ ہر ایک جگہ دلیل کی جگہ دعویٰ ہی پیش کر دیتے ہیں نہ معلوم کہ ایسی باتوں سے یہ لوگ عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا اب تک یہ لوگ دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں کرسکتے۔ راجہ رام چندر اور کرشن سب گوشت کھاتے تھے اگر وہ گوشت کھانا خلاف قانونِ قدرت سمجھتے تو ایسا کیوں کرتے ؟

    پھر جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں وید کا یہ دعویٰ کہ تمام روحیں قدیم اور انادی ہیں اور وہی باربار شبنم کی طرح زمین پر بذریعہ غذا انسانوں کے پیٹ میں جاتیں اور بچہ بنتی ہیں یہ بھی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 151

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 151

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/151/mode/1up


    سراسر خلاف قانون قدرت ہے اور چونکہ ہم اس رسالہ میں اس امر کا خلافِ قانونِ قدرت ہونا دلائل مشہودہ محسوسہ سے ثابت کرچکے ہیں لہٰذا اب اس کے لکھنے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔

    تیسری نشانی جو مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کے لئے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی تعلیم عالمگیر ہو لیکن ظاہر ہے کہ وید کی تعلیم ہرگز عالمگیر نہیں بلکہ عالمگیر ہونا تو الگ انسانی فطرت بھی اس کو قبول نہیں کرسکتی کیا دنیا میں کوئی غیرت مند انسان قبول کرسکتا ہے کہ اس کی منکوحہ عورت باوجود قائم ہونے نکاح کے دوسرے سے مُنہ کالا کراوئے انسانی غیرت نے ایسے ناجائز کاموں کے وقت دنیا میں خون کی ندیاں بہا دی ہیں۔ پس ایسی بے حیائی کی تعلیم عالمگیر کیونکر ہوسکتی ہے؟ مضمون پڑھنے والے کو اگر یہ دعویٰ ہو کہ یہ تعلیم عالمگیر بن سکتی ہے تو پہلے اس آریہ ورت میں ہی اس تعلیم کو جاری کرکے دکھلاوے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ قطعی اور یقینی طورپر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیوگ کی تعلیم درحقیقت اُن سنیاسیوں کی خود ایجاد ہے کہ جو دراصل اُن کا نفس شہوات سے ایسا بھرا ہوا تھا جیسا کہ ایک بڑا پھوڑا پیپ سے بھرا ہوتا ہے اور دوسری طرف اُن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ بغیر عورت کے بسر کرسکتے تھے آخر نفس اُن کا قابو سے نکل گیا۔ سو ابتدا میں ایسے ہی سنیاسیوں نے نیوگ کے مسئلہ کو ایجاد کیا ہے اور اُس کے ذریعہ سے اپنی نفسانی خواہشیں پوری کی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ہدایت ویدمیں بھی درج کی گئی اور عام طور پر آریہ ورت میں اس پر عمل ہونے لگا سو خدا نہ کرے کہ وید کی یہ تعلیم عالمگیر ہو اور جس وقت یہ ناپاک تعلیم عالمگیر ہوجائے گی سو اُس وقت قیامت آجائے گی۔ اور یہ بھی ہم نے سنا ہے کہ ویدوں کے جغرافیہ میں یہ لکھا ہے کہ کوہ ہمالہ کے پرے کوئی آبادی نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں عالم سے مراد یہی آریہ ورت مراد ہے پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اوّل آریوں پر فرض ہے کہ ویدوں کی شُرتیوں کے مواؔ فق عالم کی فہرست پیش کریں۔ میں تو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 152

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 152

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/152/mode/1up


    یہ بات نہیں مانتا کہ ویدوں کے رشیوں کو یہ خبر بھی ہو کہ سوائے آریہ ورت کے دنیا میں اور ملک بھی ہے۔

    ماسوا اِس کے وید کی یہ تعلیمیں کہ گوبر کھانا اورپیشاب پینا اور اپنی منکوحہ عورتوں کو بغیر طلاق کے نامحرم مردوں سے ہمبستر کرانا اورخدا کے خالق ہونے سے انکار کرنا اورآگ اور پانی اور چاند اور سورج وغیرہ اجرام کی پرستش کے لئے حکم دینا جس سے تمام آریہ ورت بھرا پڑا ہے۔ یہ ایسی خراب تعلیمیں ہیں کہ کوئی پاک اور صحیح فطرت ان کو قبول نہیں کرسکتی اور ویدوں پر خود یہ تہمت ہے کہ کسی زمانہ اور کسی وقت میں اُن کی تعلیم عالمگیر تھی جس قدر اب دنیا میں ممالک موجود ہیں اس زمانہ سے پہلے کسی کی بلا کو بھی خبر نہ تھی کہ وید کیا چیز ہیں۔ جب اِس ملک میں گورنمنٹ انگریزی کی عملداری ہوئی تب بعض انگریزوں نے ویدوں کے ترجمے کئے اور یورپ اور امریکہ میں اس کانام پہنچایا معلوم نہیں کہ خواہ نخواہ منصوبے کے طور پر ایسی باتیں کرنا ان لوگوں کو کس نے سکھایا۔ اِس سے حاصل کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو آسان ہے کہ صرف یورپ کے محققوں سے ہی دریافت کرلوکہ ویدوں کے نام سے تم کب سے واقف ہو اور کس زمانہ سے آشنا ہو۔ ماسوا اِس کے وید کی تعلیم کو تعلیم کہہ بھی نہیں سکتے۔ تعلیم تو وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے نجات کی راہ مل سکے مگر جبکہ وید کی رُو سے توبہ اور استغفار کا دروازہ ہی بند ہے اور تمام مدار تناسخ پر ہے تو وید کے ماننے سے کیا فائدہ اور نہ ماننے سے کیا نقصان ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی لکھی ہے کہ وہ کسی ملک کی زبان نہ ہو یعنی زمین کے باشندوں میں سے کوئی شخص اُس زبان کو نہ بول سکتا ہو نہ سمجھ سکتا ہو۔ اب ہمیں اس نشانی کے بارہ میں کچھ بیان کرنا ضروری نہیں خود ناظرین سوچ لیں کہ ایسی زبان میں الہامی کتاب نازل کرنے سے کیا فائدہ ہوگا اور جبکہ کوئی شخص اس زبان کو نہ بول سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے تو اس کی ہدایتوں پر عمل کرنا کیونکر ممکن ہوگا ایسی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 153

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 153

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/153/mode/1up


    صوؔ رت میں بلا شبہ رشیوں کے دلوں پر ایسی کتاب کا نازل کرنا یا نہ نازل کرنا برابر ہوگا کیونکہ اس جگہ یہ سوال پیش ہوگا کہ جب کہ انسان اسی زبان کو سمجھ سکتا ہے جس کو بول سکتا ہے تو وید کے رشیوں کو ایسی زبان کیونکر سمجھ آسکتی تھی جس کو وہ بول نہ سکتے تھے۔

    اور اگر کہو کہ پرمیشرنے رشیوں کو اُن کی اپنی زبان کے ذریعہ سے اس نامعلوم زبان کے معنے سمجھا دئیے تھے تو یہ عذر بھی دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرارہے کہ پرمیشر انسان کی زبان میں الہام کرتا ہے بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرمیشر ایسی زبان میں الہام کرنے سے پچھتایا جس کو وید کے رشی سمجھ نہیں سکتے تھے اور جب اس کواپنی غلطی محسوس ہوئی تو آخر اس نے انسانوں کی زبان کے ذریعہ سے اس زبان کے معنی وید کے رشیوں کو سمجھائے پس کیا ایسی لغو حرکت سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ پرمیشر بھی اپنی جلد بازی سے غلطی کر بیٹھتا ہے اور اس پر اعتراض ہوگا کہ جس بات کو اس نے مجبور ہوکر آخر کو اختیار کیا وہ بات پہلے ہی کیوں اختیار نہ کی۔

    ماسوا اس کے جب کہ ہم خوداس بات کے گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اب بھی دوسری زبانوں میں الہام کرتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس گروہ میں داخل کیا ہے جو خدا تعالیٰ کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوتے ہیں تو پھر ہم امور مشہودہ ثابت شدہ سے کیونکر انکار کرسکتے ہیں کیا آریہ سماج والوں کو خبر نہیں کہ وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے چھ۶ برس پہلے لیکھرام کی نسبت خبر دی تھی کہ وہ چھ۶ برس کی مدت تک عید سے ایک دن بعد بذریعہ قتل اس دنیا سے کوچ کرے گا اوروہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے خبردی تھی کہ مسمّی سومراج اور اس کے د۲و ساتھی جو قادیان میں بدگوئی سے باز نہیں آئے تھے طاعون کے عذاب سے مریں گے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنے اخبار شُبھ چنتک کے ذریعہ سے گالیاں دینا اپنا شیوہ بنا رکھا تھا آخر طاعون نے دو تین دن میں ہی اُن کا قصہ پاک کیا۔ ایسا ہی وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے تمام دنیا کے سخت زلازل کی خبرؔ دی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 154

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 154

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/154/mode/1up


    اور نیز ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ ؁ء کے زلزلہ کی خبر دی تھی۔ ایسا ہی اور صدہا الہامی پیشگوئیاں ہیں جو ظہور میں آئیں اور پوری ہوئیں پھر ہم اپنی چشم دید باتوں سے کیونکر انکار کرسکتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے جیسا کہ وہ ہر ایک زبان میں لوگوں کی آواز سنتا ہے۔ مخلوق کی زبانیں دراصل خدا کی ہی زبان ہے۔ ہر ایک قوم اپنی اپنی زبان میں اس کی درگاہ میں دعائیں کرتی ہے۔

    ویدک سنسکرت کی نسبت اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مردہ زبان ہے چونکہ اب وہ بولی نہیں جاتی تو نادان لوگوں نے سمجھ لیا کہ گویا وہ پرمیشر کی زبان ہے ورنہ ہر ایک عقل سلیم سمجھ سکتی ہے کہ چونکہ خدا سرب شکتی مان ہے اور قادر مطلق اور عالم الغیب ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک زبان کا اس کو علم ہو اور ہر ایک زبان کے بولنے پروہ قادر ہو اور اگر وہ ہر ایک زبان کے بولنے پر قادر تو ہے مگر اس کو بولنا اپنی شان کے برخلاف سمجھتا ہے تو اُن زبانوں میں لوگوں کی دعائیں کیوں سنتا ہے کیا اس میں اس کی کسر شان نہیں ؟ اس میں بھی یہ شرط لگا دینی چاہئے کہ دعا تب سنی جائے گی کہ جب اُسی زبان میں جو پرمیشر کی زبان ہے لوگ دعا کریں اور بغیر اس کے ہرگز ہرگز پرمیشر کسی کی دُعا کو نہیں سنے گا۔ تعجب کہ ان لوگوں کی عقل کیسی ماری گئی ہے کہ پرمیشر کے لئے ایک خاص زبان ٹھہراتے ہیں گویا جیسا کہ ہر ایک قوم کی الگ زبان ہے ایسا ہی پرمیشر کی بھی ایک الگ زبان ہے حالانکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ انسانوں کا پیدا کرنے والا ہے ایساہی ان کی زبانوں کا بھی وہی پیدا کرنے والا ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ ان کی زبانوں سے بے خبر ہے یا اُن میں بولنے پر قادر نہیں اورکوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ہے کہ پرمیشر کو دوسری زبانوں میں الہام ہونے سے کیوں نفرت اور بیزاری ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ دوسری زبانوں میں دُعا کو سن تو لیتا ہے مگر بول نہیں سکتا۔

    علاوہ اس کے ہم نے ایک بڑی عمیق تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ جس قدر دنیا میں زبانیں ہیں ان سب کی ماں عربی ہے اور اس وقت ہم طول کے اندیشہ کی وجہ سے ؔ اس بارے میں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 155

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 155

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/155/mode/1up


    کچھ لکھنا نہیں چاہتے لیکن پھر کسی آریہ کی تحریک سے ہم انشاء اللہ اس بارے میں ایک مفصل مضمون تحریر کریں گے۔

    مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی لکھی ہے کہ*اِس میں کوئی قصہ درج نہ ہو مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کے ہوش و حواس قائم نہیں ہیں جو کچھ بیان کرتا ہے وہ صرف دعویٰ ہی ہوتا ہے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ خدا جو عالم الغیب اوررحیم اور سرچشمہ تمام علوم ہے اس کی مربیانہ عادات میں یہ بھی داخل ہے کہ متاخرین کو متقدمین کے اخلاق اور عادات سے اطلاع دیتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ پہلے اس سے ایسے ایسے صادق وفادار مومن گذر چکے ہیں جنہوں نے شدائد اور مصائب پر صبر کیا اوربڑے بڑے امتحانوں میں پڑکر پورے نکلے اور انہوں نے خدا کی راہ میں آگے سے آگے قدم رکھا اور خدانے اُن کی وفاداری کو دیکھ کر ان پر بڑے بڑے فضل کئے اور ہر ایک امر میں ان کو کامیابی بخشی اور اپنے برگزیدہ بندوں میں ان کو داخل کیا اور ان کے مقابل پر ایک اور لوگ بھی گذرے ہیں جو خدا سے برگشتہ رہے اور دلیری سے ہر ایک قسم کے گناہ کئے اورخدا کے بندوں کو دُکھ دیئے اور آخر وہ پکڑے گئے اور عذاب شدید میں مبتلا ہوئے۔ اور ایسے قصوں کے لکھنے سے خدا تعالیٰ کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ تا لوگ اس راہ سے بھی متنبہ ہوں اور بدی کو چھوڑیں اور نیک نمونہ اختیار کریں۔ اب کوئی عقلمند سوچے کہ ایسے قصے بیان کرنے کیوں حرام ہوگئے جن میں انسانوں کے لئے ایک صریح فائدہ متصوّر ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ اچھے اور نیک آدمیوں کے قصّے سن کر جنہوں نے خدا کی راہ میں بڑی بڑی وفاداری دکھلائی اور اس وفاداری کے بڑے بڑے اجر پائے ان کاموں کے کرنے کے لئے اس کے دل میں رغبت پیدا ہوتی ہے اور ایسے آدمیوں کے قصّے سن کر جو اپنے شامتِ اعمال


    *حاشیہ۔ باوانانک صاحب جو ایک بزرگ آدمی تھے وید کی نسبت ان الفاظ سے لکھتے ہیں کہ ’’ چاروں

    وید کہانی ‘‘ یعنی چاروں وید محض کہانیاں ہیں ان میں کوئی حقیقت اور مغز نہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 156

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 156

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/156/mode/1up


    سے سزا یاب ہوئے ایسے کاموں کے کرنے سے دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ مبادا ہم بھی پکڑےؔ جائیں سو ترغیب اور ترہیب کے لئے یہ ایک طریق ہے جس طریق سے انسانی فطرت ہمیشہ متاثر ہوتی چلی آتی ہے سوخدا تعالیٰ کی کامل کتاب کی ہی نشانی ہے جو انسانوں کو حق پر قائم کرنے کے لئے کسی مؤثر طریق کو اٹھانہ رکھے اور ہر ایک طریق کو بیان کردے سو قرآن شریف نے ان تمام طریقوں کو استعمال کیااوّل کھول کھول کر سنا دیا کہ اچھے کام یہ ہیں اور بُرے کام یہ ہیں اور پھر اچھے کاموں کے نتیجے اور بُرے کاموں کے نتیجے کھول کر بتلادئیے اور پھر اُن امور کے بارے میں ان لوگوں کے حالات سنا دئیے جو پہلے زمانوں میں گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ نیک اعمال اور نیک اخلاق کی طرف مائل ہونے اور بدطریق کو ترک کرنے کے لئے قصوں کو بڑا دخل ہے یہاں تک کہ ناول پڑھنے والے بھی ان فرضی اور مصنوعی قصوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور درحقیقت اصلاح چلن اور تبدیل اخلاق کے لئے یہ ایک علمی ذریعہ ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس ذریعہ سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی اٹھاتے ہیں۔ مگر ہم آریوں کے موجودہ وید کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ وہ اس علمی ذریعہ کا بھی دشمن ہے۔

    ماسوا اس کے قرآن شریف میں جس قدر قصے بیان کئے گئے ہیں ان کی تحریر سے صرف یہی غرض نہیں کہ گذشتہ لوگوں کے نیک کام اور بدکام پیش کرکے اُن کا انجام سنا دیا جاوے تاوہ رغبت یا عبرت کا ذریعہ ہوں بلکہ یہ بھی غرض ہے کہ ان تمام قصوں کو پیش گوئی کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے اور جتلایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں بھی ظالم اور شریر لوگوں کو انجام کار ایسی ہی سزائیں ملیں گی جیسی پہلے شریر لوگوں کو ملی تھیں اور صادقوں اور راستبازوں کی ایسی فتح ہوگی جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوئی تھی۔ مجھے تعجب ہے کہ مضمون پڑھنے والے نے ایسی بیہودہ اور باطل نشانی الہامی کتاب کی لکھ کر کیوں ویدکی پردہ دری کرائی اور کیوں عقلمندوں کووید پر ہنسنے کا موقعہ دیا۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ وید میں قصے بھی موجود ہیں کیا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 157

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 157

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/157/mode/1up


    کوسیکا رشی کا قصہ وید میں موجود نہیں ؟ ایسا ہی اور کئی قصے ہیں جو رگوید کی شُرتیوں میںؔ اُن کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ نادان دوست کے حکم میں ہیں کہ اپنی طرف سے الہامی کتاب کے لئے بیہودہ شرطیں لگاکروید کے منہ پر سیاہی کا دھبّہ لگاتے ہیں۔ خود تاریخ کو ایک علمی ذریعہ سمجھا گیا ہے پھر ایسے قصے کیوں قابل اعتراض ہیں جن کے ذکر سے نہ صرف تاریخی امور معلوم ہوتے ہیں بلکہ وہ قصے عمدہ عمدہ مثالوں اور نظیروں کو پیش کرکے نیکی اور صلاحیت کی طرف کھینچتے ہیں اور بدوں اور بدکاروں کا انجام ذکرکرکے بدی سے روکتے ہیں گویا وہ ایک بھاری فوج ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے اور کمزوری کو دور کرتی اور نیک کاموں کے لئے قوت دیتی ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی لکھی ہے کہ وہ کتاب تمام دینی علوم کا سرچشمہ ہو ۔ اُس کی اِس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ درپردہ وید کا سخت مخالف ہے کیونکہ ایسی باتیں کرتا ہے جو وید میں پائی نہیں جاتیں دنیوی امور کے بارے میں تو ذکر کرنا ہی فضول ہے کیونکہ آریوں میں سے جس قدر لوگوں نے حال کی نئی سائنس اور ہیئت کو پڑھا ہے وہ اپنے دل میں خوب جانتے ہوں گے کہ اس ترقی علوم کے زمانہ میں طبعی اور ہیئت کے علوم میں انواع و اقسام کے تجارب کے ذریعہ سے وہ اسرار کھلے ہیں جو نہ وید کو معلوم تھے اور نہ وید کے رشیوں کو بلکہ وید کو علوم دنیوی سے کچھ بھی علاقہ نہیں اوروہ اس وحشیانہ زمانہ کی کتاب ہے جبکہ ان علوم سے لوگ محض ناآشنا تھے یہاں تک کہ اُن کو یہ بھی توفیق نہ ہوئی کہ اپنے خالق اور مالک کو شناخت کرسکیں اورنہ صرف اس قدر بلکہ انسانی طہارت اور تہذیب سے بھی بالکل بے بہرہ تھے۔ چنانچہ نیوگ کا عقیدہ ظاہر کر رہا ہے کہ جیسا کہ جنگلوں کے درند چرند وغیرہ بغیر قید نکاح کے نر مادہ باہم مل جاتے ہیں یہی طریق اس زمانہ میں آریوں کا تھا بلکہ حیوانات سے بدتر کیونکہ حیوانات کو تو خدا نے عقل نہیں دی اوروہ معذور ہیں مگر یہ لوگ باوجود عقل رکھنے کے حیوانات سے بھی بڑھ گئے۔ ان کے مذہب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 158

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 158

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/158/mode/1up


    میں ایک کی بیاہتا بیوی دوسرے سے ہمبستر ہو جاتی ہے اس سے زیادہ تر وحشیانہ حالت کی اورؔ کونسی نظیر ہوسکتی ہے مگر جب انسان میں شرم اور حیا نہیں رہتی تو وہ ناپاکی کو بھی ایک پاک طریق سمجھ لیتا ہے۔ اور دنیوی علوم کے ذکر کرنے کے وقت یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ لوگ تاریخ کے نہایت کچے ہیں اور اسلامی زمانہ تک تو اُن کی تاریخ کا کچھ تھوڑا سا پتہ لگتا ہے مگر پھر جب اسلامی زمانہ سے اوپر چڑھیں تو ان کے تاریخی حالات میں تاریکی شروع ہو جاتی ہے اور پھر اگر ہزار برس تک آگے چلے جائیں تو ایسی تاریکی معلوم ہوتی ہے کہ بجز شاعروں کی گپ اور لاف و گزاف کے اور کسی صحیح تاریخ کا پتہ نہیں لگتا۔ او ر یہ بات نہ صرف ہم کہتے ہیں بلکہ جس قدر دنیا کے عقل مندوں نے ان کے تاریخی حالات پر غور کی ہے سب کی بالاتفاق یہی رائے ہے۔

    رہی یہ بات کہ وید روحانی علوم کا سرچشمہ ہے یہ حقیقت تو ہمیں اس دن سے معلوم ہے جب کہ ستیارتھ پرکاش میں ہم نے یہ پڑھا تھا کہ ویدنے اپنا روحانی علم یہ ظاہر کیا ہے کہ روحیں بدنوں سے نکل کر پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہیں۔ سوجس وید کے رُوحانی علموں کا یہ نمونہ ہے وہ کیوں نہ سرچشمہ علوم ہو عقلمند انسان تو ایک نقطہ سے تمام حالات معلوم کرسکتا ہے رُوحوں کا مخلوق ہونا کروڑہا مشاہدات سے ثابت ہے مگر وید کہتا ہے کہ مخلوق نہیں اورخدا تعالیٰ کی طرح وہ قدیم سے خود بخود ہیں پس ایک طرف تو وید اپنے پرمیشر کو خالق ہونے سے جواب دیتا ہے اور دوسری طرف امر مشہود محسوس کا انکار کرتا ہے یہ اس کا فلسفہ ہے اور یہ روحانی علوم ہیں۔ مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ روحیں انادی اور غیر مخلوق نہیں اور دو نطفوں کی ایک خاص ترکیب سے وہ پیدا ہوتی ہیں اور یادوسرے کیڑوں مکوڑوں میں ایک ہی مادہ سے پیدا ہو جاتی ہیں اور یہی سچ ہے کیونکہ مشاہدہ اس پر گواہی دیتاہے جس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں اور امورمحسوسہ مشہودہ سے انکار کرنا سراسر جہالت ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ رُوح نیست سے ہست ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اوّل وہ کچھ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 159

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 159

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/159/mode/1up


    بھی نہیں تھا بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے لئے کوئی ایسا مادہ نہیں تھا کہ انسان اپنی قوت سے اس میں سے رُوح نکال سکتا اور اس کی پیدائش صرف اس طور سے ہے کہ محض الٰہی قوت اور حکمت اور قدرت کسی مادہ میں سے اس کو پیدا کر دیتی ہے اسی واسطے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ روح کیا چیز ہے توخدا نے فرمایا کہ تو ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے ا س بارے میں آیت قرآنی یہ ہے کہ :۔

    3 ۱؂

    یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ رُوح کیا چیز ہے اور کیونکر پیدا ہوتی ہے۔ اُن کو جواب دے کہ رُوح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے یعنی وہ ایک رازِ قدرت ہے اور تم لوگ رُوح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھوڑا سا یعنی صرف اس قدر کہ تم رُوح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ ہم بچشم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھ کے سامنے کسی مادہ میں سے کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔

    اورانسانی رُوح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دو نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے تو جیسے چند ادویہ کے ملنے سے اُس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پر پیدا نہیں ہوتی اسی طرح اُس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کامجموعہ ہے ایک خاص جوہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا ہے اور جب تجلّی الٰہی کی ہو ا کُنْکے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو یکدفعہ وہ افروختہ ہوکر اپنی تاثیر اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلّی ربّی سے پیدا ہو جاتی ہے اسی کا نام رُوح ہے اوروہی کلمۃ اللہ ہے اور اس کو اَمْرِ رَبِّی سے اس لئے کہا جاتا ہے کہ جیسے ایک حاملہ عورت کی طبیعت مدبّرہ بحکم قادر مطلق تمام اعضاء کو پیدا کرتی ہے اور عنکبوت کے جالے کی طرح قالب کو بناتی ہے اس روح میں اس طبیعت مدبّرہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ رُوح محض خاص تجلی الٰہی سے پیدا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 160

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 160

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/160/mode/1up


    ہوتی ہے اور گو روح کا فاسفرس اُس مادہ سے ہی پیدا ہوتا ہے ؔ مگر وہ روحانی آگ جس کانام رُوح ہے وہ بجز مس نسیم آسمانی کے پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ سچا علم ہے جوقرآن شریف نے ہمیں بتلایا ہے تمام فلاسفروں کی عقلیں اس علم تک پہنچنے سے بیکار ہیں اور وید بھی بَید بے ثمر کی طرح اس علم سے محروم رہا وہ قرآن شریف ہی ہے جو اس علم کو زمین پر لایا سو اس طور سے ہم کہتے ہیں کہ رُوح نیست سے ہست ہوتی ہے یا عدم سے وجود کا پیرایہ پہنتی ہے۔ یہ نہیں ہم کہتے کہ عدم محض سے رُوح کی پیدائش ہوتی ہے کیونکہ تمام کارخانہ پیدائش سلسلہ حکمت اور علل معلولا ت سے وابستہ ہے۔

    اور یہ کہنا کہ اگر روح مخلوق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ فنا بھی ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رُوح بیشک فناپذیر ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ جو چیز اپنی صفات کو چھوڑتی ہے اس حالت میں اس کو فانی کہا جاتا ہے اگر کسی دوا کی تاثیر بالکل باطل ہو جائے تو اس حالت میں ہم کہیں گے کہ وہ دوا مرگئی ایسا ہی روح میں یہ امر ثابت ہے کہ بعض حالات میں وہ اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے بلکہ اس پر جسم سے بھی زیادہ تغیرات وارد ہو تے ہیں انہیں تغیرات کے وقت کہ جب وہ روح کو اُس کی صفات سے دُور ڈال دیتی ہیں کہا جاتا ہے کہ رُوح مرگئی کیونکہ موت اسی بات کا نام ہے کہ ایک چیز اپنی لازمی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تب کہا جاتا ہے کہ وہ چیز مرگئی اور یہی بھید ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فقط اُنہیں انسانی رُوحوں کو بعد مفارقتِ دنیازندہ قراردیاہے جن میں وہ صفات موجود تھے جو اصل غرض اورعلّت غائی ان کی پیدائش کی تھی یعنی خدائے تعالیٰ کی کامل محبت اور اس کی کامل اطاعت جو انسانی روح کی جان ہے اور جب کوئی رُوح خدا تعالیٰ کی محبت سے پُرہوکر اور اس کی راہ میں قربان ہوکر دنیا سے جاتی ہے تو اُسی کوزندہ روح کہاجاتاہے باقی سب مُردہ روحیں ہوتی ہیں۔ غرض رُوح کا اپنی صفات سے الگ ہونا یہی اس کی موت ہے چنانچہ حالت خواب میں بھی جب جسم انسانی مرتا ہے تو روح بھی ساتھ ہی مر جاتی ہے یعنی اپنی صفات موجودہ کو جو بیداری کی حالت میں تھیں چھوڑ دیتی ہے اور ایک قسم کی موت اُس پر وارد ہو جاتی ہے کیونکہ خواب میں وہ صفات اس میں باقی نہیں رہتیں جو بیداری میں اُس کو حاصل ہوتی ہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 161

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 161

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/161/mode/1up


    سو یہ بھی ایک قسم موت کی ہے کیونکہ جو چیز اپنی صفات سے الگ ہو جائے اس کو زندہ نہیں کہہ سکتے۔ اکثر لوگ موت کے لفظ پر بہت دھوکہ کھاتے ہیں موت صرف معدوم ہونے کا نام نہیں بلکہ اپنی صفات سے معطل ہونے کا نام بھی موت ہے ورنہ جسم جو مر جاتا ہے بہر حال مٹی اس کی تو موجود رہتی ہے اسی طرح روح کی موت سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ اپنی صفات سے معطل کی جاتی ہے جیسا کہ عالم خواب میں دیکھا جاتاہے کہ جیسے جسم اپنے کاموں سے بیکار ہو جاتا ہے ایسا ہی روح بھی اپنی ان صفات سے جو بیداری میں رکھتے تھے بکلّی معطل ہو جاتی ہے مثلاً ایک زندہ کی روح کسی میّت سے خواب میں ملاقات کرتی ہے اور نہیں جانتی کہ وہ میت ہے اور سونے کے ساتھ ہی بکلّی اس دُنیا کو بھول جاتی ہے اور پہلا چولہ اُتار کر نیاچولہ پہن لیتی ہے اور تمام علم جو رکھتی تھی سب کے سب بیکبار گی فراموش کر دیتی ہے اور کچھ بھی اس دنیا کا یاد نہیں رکھتی بجز اس صورت کے کہ خدا یاد دلاوے اور اپنے تصرّفات سے بکلّی معطل ہو جاتی ہے اور سچ مچ خدا کے گھر میں جاپہنچتی ہے اور اس وقت تمام حرکات اور کلمات اور جذبات اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات کے نیچے ہوتے ہیں اور اس طور سے خدا تعالیٰ

    کے تصرفات کے نیچے وہ مغلوب ہوتی ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ جو کچھ عالم خواب میں کرتی یا کہتی یا سنتی یا حرکت کرتی ہے وہ اپنے اختیار سے کرتی ہے بلکہ تمام اختیاری قوت اس کی مسلوب ہو جاتی ہے اور کامل طور پر موت کے آثار اس پر ظاہر ہو جاتے ہیں سو جس قدر جسم پر موت آتی ہے اس سے بڑھ کر رُوح پر موت وارد ہو جاتی ہے مجھے ایسے لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی حالت خواب پر بھی غور نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ اگر رُوح موت سے مستثنےٰ رکھی جاتی تو وہ ضرور عالم خواب میں بھی مستثنےٰ رہتی ہمارے لئے خواب کا عالم موت کے عالم کی کیفیت سمجھنے کے لئے ایک آئینہ کے حکم میں ہے جو شخص رُوح کے بارے میں سچی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ خواب کے عالم پر بہت غور کرے کہ ہر ایک پوشیدہ راز موت کا خواب کے ذریعہ سے کھل سکتا ہے اگر تم عالم خواب کے اسرار پر جیسا کہ چاہیئے توجہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 162

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 162

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/162/mode/1up


    کروگے اور جس طور سے عالم خواب میں رُوح پر اؔ یک موت وارد ہوتی ہے اور اپنے علوم او ر صفات سے وہ الگ ہو جاتی ہے اس طور پر نظر تدبر ڈالوگے تو تمہیں یقین ہوجائے گا کہ موت کامعاملہ خواب کے معاملہ سے ملتا جلتا ہے پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ روح مفارقتِ بدن کے بعد اُسی حالت پر قائم رہتی ہے جو حالت دنیا میں وہ رکھتی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ایسی ہی موت اس پر وارد ہو جاتی ہے جیسا کہ خواب کی حالت میں وارد ہوئی تھی بلکہ وہ حالت اِس سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر ایک صفت اس کی نیستی کی چکّی کے اندر پیسی جاتی ہے اور وہی رُوح کی موت ہوتی ہے اور پھر جو لوگ زندہ ہونے کاکام کرتے تھے وہی زندہ کئے جاتے ہیں کسی روح کی مجال نہیں کہ آپ زندہ رہ سکے۔ کیا تم اختیار رکھتے ہو کہ نیند کی حالت میں تم اپنے ان صفات اورحالات اور علوم کو اپنے قبضہ میں رکھ سکو جو بیداری میں تم کو حاصل ہیں؟ نہیں بلکہ آنکھ بند کرنے کے ساتھ ہی روح کی حالت بدل جاتی ہے اور ایک ایسی نیستی اُس پر وارد ہوتی ہے کہ تمام کارخانہ اُس کی ہستی کا اُلٹ پلٹ ہو جاتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ رُوح کی موت کے بارے میں قرآن شریف میں فرماتا ہے۔


    ۱؂ الجزو نمبر۲۴ سورۃ الزمر۔

    (ترجمہ) خدا جانوں کو جب اُن کی موت کاوقت آتا ہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے یعنی وہ جانیں بے خود ہوکر الٰہی تصرّف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آجاتی ہیں اور زندگی کی خود اختیاری اور خودشناسی اُن سے جاتی رہتی ہے اورموت ان پر واردہو جاتی ہے یعنی بکلّی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفات حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی رُوح جو دراصل مرتی نہیں مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے وہ رُوح کی وہ حالت ہے کہ جب انسان سوتا ہے تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے اور ایسی حالت میں بھی رُوح خدا تعالیٰ کے قبضہ اور تصرف میں آجاتی ہے اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 163

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 163

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/163/mode/1up


    ایساؔ تغیر اس پر وارد ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر باقی نہیں رہتی۔ غرض موت اورخواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرف رُوح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خود شناسی ہے بکلی جاتی رہتی ہے پھر خدا ایسی رُوح کو جس پر درحقیقت موت وارد کردی ہے واپس جانے سے روک رکھتا ہے اور وہ رُوح جس پر اُس نے درحقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر ایک مقررہ وقت تک دُنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔ اس ہمارے کاروبار میں اُن لوگوں کے لئے نشان ہیں جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں۔ یہ ہے ترجمہ معہ شرح آیت ممدوحہ بالا کا۔ اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے کہ جیسی جسم پر موت ہے روحوں پر بھی موت ہے لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اوراخیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں۔ کوئی تین دن کے بعد کوئی ہفتہ کے بعد کوئی چالیس۴۰ دن کے بعد۔ اور یہ حیات ثانی نہایت آرام اور آسائش اور لذت کی اُن کو ملتی ہے۔ یہی حیات ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے نیک بندے اپنی پوری قوت اور پوری کوشش اور پورے صدق و صفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور نفسانی تاریکیوں سے

    باہر آنے کے لئے پورا زور لگاتے ہیں اورخدا کی رضاجوئی کے لئے تلخ زندگی اختیار کرتے ہیں گویا مر ہی جاتے ہیں۔ غرض جیسا کہ آیت موصوفہ بالا بیان فرما رہی ہے رُوح کو بھی موت ہے جیسا کہ جسم کو اگر چہ اُس عالَم کی نہایت مخفی کیفیتیں اس تاریک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بلاشبہ عالم رؤیا یعنی خواب کا عالَم اُس عالَم کے لئے ایک نمونہ ہے اور جو موت اِس عالَم میں رُوح پر وارد ہوتی ہے اس موت کا نمونہ عالم خواب میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاً آنکھ بند ہونے کے ساتھ ہی ہماری رُوح کی تمام صفات اُلٹ پلٹ ہو جاتی ہیں اور اس بیداری کا تمام سلسلہ فراموش ہو جاتا ہے اور تمام رُوحانی صفات اور تمام علوم جو ہماری روح میں تھے کالعدم ہوجاتے ہیں اور حالت خواب میں وہ نظارے رُوح کے ہمارے پیش نظر آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتاؔ ہے کہ اب وہ ہماری رُوح کچھ اور ہی ہے اور تمام صفات اس کے جو بیداری میں تھے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 164

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 164

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/164/mode/1up


    کھوئے گئے ہیں اور یہ ایک ایسی حالت ہے جو موت سے مشابہ بلکہ ایک قسم کی موت ہے اور یہ قطعی اور یقینی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ موت جو جسم کی موت کے ساتھ روح پر وارد ہوتی ہے وہ ایسی موت کے ساتھ مشابہ ہے جو نیند کی حالت میں روح پر وارد ہوتی ہے مگر وہ موت اس موت کی نسبت بہت بھاری ہے*۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ وید نے اس بارے میں بڑی غلطی کی ہے روحوں کو بھی خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ابدی قرار دیا ہے پس اس شخص سے زیادہ تر نادان کون ہے کہ جو ایسے ویدوں کو جو سراسر غلطیوں سے بھرے ہوئے اور مخلوق کو خدا کے برابر ٹھہرا کر شرک کی تعلیم دیتے ہیں۔ سرچشمہ علوم ٹھہراتا ہے مگر قرآن شریف رُوحوں کو ازلی ابدی نہیں ٹھہراتا ہے اُن کو مخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی۔ جیسا کہ وہ روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ 3 ۱؂ یعنی جب قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس کی تیاری کے بعد اُسی قالب میں سے ہم ایک نئی پیدائش کر دیتے ہیں یعنی روح اور ایساہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرمایا ہے 33 ۲؂ ۃ یعنی روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے اور تم کو اس کا بہت تھوڑا علم ہے اور کئی محل میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جس مادہ سے رُوح پیدا ہوتی ہے اسی مادہ کے موافق رُوحانی اخلاق ہوتے ہیں جیسا کہ تمام درندوں چرندوں پر ندوں اورحشرات الارض پرغور کرکے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ نطفہ کامادہ ہوتا ہے اسی کے مناسب حال رُوحانی اخلاق اس جانور کے ہوتے


    * حالت خواب میں روحانی نظارے عجیب و غریب ہوتے ہیں مثلاً کبھی انسان ایک بچہ کی طرح اپنے تئیں دیکھتا ہے اور بیداری کا یہ واقعہ کہ وہ درحقیقت جوان ہے یا بوڑھا ہے اور اس کی اولاد ہے اور اس کی بیوی ہے بالکل فراموش کر دیتا ہے سو یہ تمام نظارے جو عالم خواب میں پیدا ہوتے ہیں صاف دلالت کرتے ہیں کہ روح خواب کی حالت میں اپنے حافظہ اور یادداشت اور اپنی بیداری کی صفات سے الگ ہو جاتی ہے اور یہی اس کی موت ہے ۔ منہ

    ۃحاشیہ۔ اس آیت کے معنی کئی طور کے مفسرین نے لکھے ہیں اور یہ معنی بھی ان میں شامل ہیں۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 165

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 165

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/165/mode/1up


    ہیں۔ غرض آیات ممدوحہ بالا سے رُوحوں کا مخلوق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور ایک اور آیت بھی روحوں کا مخلوق ہونا ثابت کرتی ہے اوروہ یہ ہے 3 ۱؂ الجزو نمبر ۱۸ سورۃ الفرقان۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اورکوئی چیز اس کی پیدائش سے باہر نہیں اور اُس نے پیداؔ کرکے ہر ایک کے جسم اور طاقتوں اور قوتوں اور خواص اور صورت اور شکل کو ایک حد کے اندر محدود کردیا تا اس کا محدود ہونا محدد پر دلالت کرے جو ذاتِ باری عزّاسمہٗ ہے مگر آپ وہ غیر محدود ہے اس لئے اس کی نسبت سوال نہیں ہوسکتا کہ اس کا محدد کون ہے۔ غرض آیت ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے صاف فرمادیا کہ ہر ایک چیز جو ظہور پذیر ہوئی ہے مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے خدا کی پیدا کردہ ہے پس یہی کامل توحید ہے جو خدا تعالیٰ کو تمام فیوض کا سرچشمہ قرار دیتی ہے اور کوئی ایسی چیز قرار نہیں دیتی جو اس کی پیدا کردہ نہیں یا اسی کے سہارے سے جیتی نہیں۔

    پھر دوسرا حصہ اس توحید کا یہ ہے کہ جیسا کہ کوئی چیز بجز خدا کے خود بخود موجود نہیں ایسا ہی ہر ایک چیز بجز خدا کے اپنی ذات میں فانی اور ہلاک ہونے سے بَری نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3 ۲؂ یعنی ہر ایک چیز معرض ہلاکت میں ہے اور مرنے والی ہے بجز خدا کی ذات کے کہ وہ موت سے پاک ہے اور اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا3۳؂یعنی ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا پس جیسا کہ خدا نے اس آیت میں کہ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْ ءٍ ہے لفظ کُلَََّ کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لئے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کردیا۔ ایسا ہی اس لفظ کُل کے ساتھ اس آیت میں جو 3 ہے اور نیز اس آیت میں کہ 3ہے ہر ایک چیز کے لئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرادی۔ پس جیسا کہ جسمی ترکیب میں اِنحلال ہو کر جسم پرموت آتی ہے ایسا ہی رُوحانی صفات میں تغیرات پیدا ہوکر رُوح پر موت آجاتی ہے مگرجو لوگ وجہ اللہ میں محو ہوکر مرتے ہیں وہ بباعث اس اِتّصَال کے جو اُن کو حضرت عزت سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 166

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 166

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/166/mode/1up


    ہو جاتا ہے دوبارہ زندہ کئے جاتے ہیں اور اُن کی زندگی خدا کی زندگی کا ایک ظِل ہوتا ہے اور پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کے لئے ایک حس پیدا کی جاتی ہے مگر وہ نہ مردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تووہ بد حواسی کی زندگی اس کے لئے موت کے برابر ہوتی ہے اورزمین و آسمان اُس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں انہیں کے بارہ میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے3 3 ۱؂ یعنی جو شخص اپنے ربّ کے پاس مجرم ہوکر آئے گا اس کے لئے جہنم ہے وہ اس جہنم میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا اور خود انسان جب کہ اپنے نفس میں غور کرے کہ کیونکر اس کی رُوح پر بیداری اورخواب میں تغیرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح رُوح بھی تغیر پذیر ہے اور موت صرف تغیر اور سلب صفات کا نام ہے ورنہ جسم کے تغیر کے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغیر کی وجہ سے جسم پر موت کا لفظ اطلاق کیاجاتاہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ کہتاہے 3۲؂ یعنی کیا تم اپنی جانوں میں غور نہیں کرتے۔ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی روح میں بڑے بڑے عجیب و غریب خواص اور تغیرات رکھے گئے ہیں کہ وہ اجسام میں نہیں اور روحوں پر غور کرکے جلد تر انسان اپنے ربّ کی شناخت کر سکتا ہے* جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ یعنی جس نے


    * جس قدر تغیرات اجسام پر آتے ہیں انسان زیادہ تر ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ جسمانی چیزیں جلد تر عادت میں داخل ہو جاتی ہیں لیکن روح کے تغیرات خاص کر مجاہدات کے وقت میں اور عالم کشف کی حالتیں ایسی عجیب ہیں کہ انسان کو گویا خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھادیتی ہیں اور معرفت کی منازل کو طے کرنے والے ہر یک اپنے مرتبہ ترقی کے وقت محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پہلی حالت روح کی گویا ایک موت تھی اور جو دوسری حالت میں روح کو علم اور ادراک کا حصہ نصیب ہوا وہ پہلی حالت میں ہر گز نہ تھابلکہ ظاہری علوم کی تحصیل کرنے والے بھی اس بات کے قائل ہو سکتے ہیں کہ روح بچپن کی حالت میں کس نیند میں غرق تھی اور جب اس کو بہت سے علوم سے حصہ ملا تو کیسی نئی روشنی اس کے اندر آگئی ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 167

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 167

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/167/mode/1up


    اپنے نفس کو شناخت کرلیا اُس نے اپنے رب کو شناخت کرلیا۔ پھر ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے 3 ۱؂ یعنی میں نے رُوحوں کو پوچھا کہ کیا میں تمہارا پیدا کرنے والا نہیں تو تمام روحوں نے یہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ اس آیت کامطلب یہ ہے کہ روحوں کی فطرت میں یہی منقش اور مرکوز ہے کہ وہ اپنے پیدا کنندہ کی قائل ہیں اور پھر بعض انسان غفلت کی تاریکی میں پڑکر اور پلید تعلیموں سے متاثر ہوکر کوئی دہریہ بن جاتاہے اور کوئی آریہ اور اپنی فطرت کے مخالف اپنے پیدا کنندہ سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے باپ اور ماں کی محبت رکھتا ہے یہاں تک کہ بعض بچے ماں کے مرنے کے بعد مر جاتے ہیں پھر اگر انساؔ نی رُوحیں خدا کے ہاتھ سے نہیں نکلیں اور اس کی پیدا کردہ نہیں تو خدا کی محبت کا نمک کس نے اُن کی فطرت پر چھڑک دیا ہے اور کیوں انسان جب اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور پردۂ غفلت دُور ہوتا ہے تو دل اُس کا خدا کی طرف کھینچا جاتا ہے اور محبت الٰہی کا دریا اس کے صحن سینہ میں بہنے لگتا ہے آخر ان روحوں کاخدا سے کوئی رشتہ توہوتا ہے جواُن کو محبت الٰہی میں دیوانہ کی طرح بنا دیتاہے وہ خدا کی محبت میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ تمام چیزیں اس کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب تعلق ہے ایسا تعلق نہ ماں کا ہوتاہے نہ باپ کا۔ پس اگر بقول آریوں کے رُوحیں خود بخود ہیں تو یہ تعلق کیوں پیدا ہوگیا اور کس نے یہ محبت اور عشق کی قوتیں خدا تعالیٰ کے ساتھ روحوں میں رکھ دیں یہ مقام سوچنے کا مقام ہے اور یہی مقام ایک سچی معرفت کی کنجی ہے۔

    یہ بھی طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ تین۳ سال تک انسان کا پہلا جسم تحلیل پاجاتا ہے اور اس کے قائم مقام دوسرا جسم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ یقینی امر ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کسی بیماری کی وجہ سے نہایت درجہ لاغر ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مشت اِستخوان رہ جاتا ہے تو صحت یابی کے بعد آہستہ آہستہ پھر وہ ویسا ہی جسم تیار ہو جاتا ہے۔ سو اسی طرح ہمیشہ پہلے اجزاء جسم کے تحلیل پاتے جاتے ہیں اور دوسرے اجزاء ان کی جگہ لیتے ہیں۔ پس جسم پر گویا ہرآن ایک موت ہے اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 168

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 168

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/168/mode/1up


    ایک حیات ہے ایسا ہی جسم کی طرح روح پر بھی تغیرات وارد ہو تے رہتے ہیں اور اس پر بھی ہر آن ایک موت اور ایک حیات ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ جسم کے تغیرات ظاہر اور کھلے کھلے ہیں مگر جیسا کہ رُوح مخفی ہے ایسا ہی اس کے تغیرات بھی مخفی ہیں اور رُوح کے تغیرات غیر متناہی ہیں جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ رُوح کے تغیرات غیرمحدود ہیںیہاں تک کہ بہشت میں بھی وہ تغیرات ہوں گے مگر وہ تغیرات روبہ ترقی ہوں گے اور رُوحیں اپنی روحانی صفات میں آگے سے آگے بڑھتی جائیں گی اور پہلی حالت سے دوسری حالت ایسی دُور اور بلند تر ہو جائے گی گویا پہلی حالت بہ نسبت دوسری حالت کے موت کے مشابہ ہوگی۔

    آریہ مذہب کے لوگ یہ بھی رُوحوں کے انادی ہونے پر ایک دلیل پیش کرتے ہیں کہ پرمیشر قدیم ہے اور اس کی صفات بھی قدیم ہیں اور روحوں کے حادث ماننے سے پرمیشر کے صفات کا بھی حادث ہونا لازم آتا ہے اس لئے ماننا پڑا کہ رُوحیں حادث نہیں ہیں۔ مگر معلوم نہیں کہ یہ لوگ کس قدر جہالت میں غرق ہیں کہ منہ سے تو کچھ نکلتا ہے اور عقیدہ کچھ اور ہوتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں رُوحیں اُن کے نزدیک پرمیشر کی پیدا کردہ نہیں اور قدیم سے خود بخود اور پرمیشر کی طرح ازلی اورانادی ہیں اور پرمیشر کاہاتھ اُن کو چھو بھی نہیں گیا تو پھر پرمیشر کی صفات سے اُن کو کیا تعلق ہے اور اُن کو قدیم ماننے سے پرمیشر کی کونسی صفت ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ پرمیشر سے بالکل بے تعلق ہیں*۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ خدا کی صفات خالقیت رازقیت وغیرہ سب قدیم ہیں حادث نہیں ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طورپر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتاچلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف


    *حاشیہ۔ بعض صفات باری کی نسبت اضافی حد وث مانا جاتا ہے جیسا کہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو خدا کا علم جو واقع کے مطابق ہونا چاہیئے وہ یہ ہے کہ وہ پیٹ میں ہے اور جب بچہ پیدا ہو کر اپنی حالت میں ایک تغیر پیدا کرتا ہے تو خدا کے علم میں بھی وہ تغیر آجاتا ہے مگر باوصف اس کے خدا کی سب صفات قدیم ہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 169

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 169

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/169/mode/1up


    نے ہمیں سکھایا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ انسان سے پہلے کیاکیاخدا نے بنایا۔ مگراس قدر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئے* اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کرکے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے مگر قدامت شخصی ضروری نہیں۔

    آرؔ یوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ خدا کی بے انتہا قدرتوں اور بے انتہا اسرار کو اپنے نہایت محدود علم کے پیمانہ سے ناپتے ہیں اور جو باتیں انسان کے لئے غیر ممکن ہیں وہ خدا کے نزدیک بھی غیرممکن ٹھہراتے ہیں۔ اسی بِنا پر اُن کااعتراض ہے کہ روحیں کہاں سے پیدا ہوئیں اور مادہ کہاں سے پیداہوا۔ تعجب کہ وہ پہلے کیوں اس سوال کو حل نہیں کرتے کہ خدا کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوا۔ جب کہ اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ خدا کی قدرتیں ناپیدا کنار ہیں اور اس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور ہمارے مشاہدات اس کے گواہ ہیں تو پھر یہ بیہودہ منطق خدا تعالیٰ کی قدرت کی نسبت کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ جس حالت میں دُنیا کے لو گ بھی اپنی عجیب درعجیب ایجادوں کے ساتھ لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں اور ایسے عمیق اسرار سائنس کے نکلتے آتے ہیں کہ ہزاروں فلاسفر اس زمانہ سے پہلے ایسے گذر گئے ہیں کہ ان خواص کو از قبیل محالات سمجھتے تھے تو پھر خدا تعالیٰ کے عمیق اسرار پر کیوں اعتراض کئے جاتے ہیں؟ جو کچھ ہمارے مشاہدہ میں ہر روز آتا ہے کیا ہم اپنے عقلی ہتھیاروں کے ذریعہ اس کی تہ تک پہنچ سکتے ہیں؟ زمین میں مثلاً ایک کنک کا دانہ بویاجاتاہے پھر اس میں سے سبزہ نکلتا ہے اور ٹہنیاں پیدا ہوتی ہیں اورخوشہ لگتا ہے اور ایک دانہ سے کئی دانہ ہوجاتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتاہے کہ اتنی چیزیں صرف ایک دانہ سے کیونکر پیدا ہو جاتی ہیں اگر صرف ہست سے ہست ماناجائے توایک دانہ کے عوض میں صرف بقدر ایک دانہ پیدا ہوناچاہئے باقی سب نیست سے ہست قبول کرنے پڑتے ہیں۔ ایسا ہی اگر آم کاایک پھل


    * ہم نے ہمیشہ کے لئے اس لئے شرط لگا دی ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک وحدت بھی ہے کیونکہ اس کی ذات کے لئے کسی دوسری چیز کا وجود ضروری نہیں اس لئے وہ بھی زمانہ آئے گا کہ خدا کل نقش موجودات کا مٹا دے گا تاا پنی وحدت کی صفت کو ثابت کرے اور ایسا ہی پہلے بھی زمانہ آچکا ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 170

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 170

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/170/mode/1up


    زمین میں بویاجاوے تو اس سے ایک بڑا درخت آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے اور بہت سی شاخیں نکالتا ہے اور پھول لاتا ہے اورآخر ہزاروں آم اُس پر لگتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کیاماجرا ہے آم جو بویا گیا وہ تو صرف ایک تھا پس یہ انبار لکڑیوں اور پتوں اور پھولوں کا کہاں سے پیدا ہوگیا۔ کیا اگر یہ نیستی سے ہستی نہیں تو اورکیا ہے؟ پس سچ تو یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اناج اور پھلوں کے پیدا کرنے میں نیستی سے ہستی نہ کرتا اور ایک دانہ کے عوض میں صر ف ایک دانہ پیدا ہوتا تو تھوڑے ہی دنوں میں سب لوگ مر جاتے۔ عقلی طور پر تو صرف یہ ماننا پڑتا ہے کہ ایک دانہ کی جگہ صرف ایک ہی دانہ پیدا ہو باقی جوکچھ خدا تعالیٰ پیدا کرکے دکھاتا ہے وہ سب عقل سے برتر اور نیستی سے ہستی ہے مگر افسوس ان کافر نعمت لوگوں پر جو ہمیشہ نیستی سے ہستی دیکھتے ہیں اور وہی اناج اور پھل جو نیست سے ہست ہوتے ہیں ان کو کھاکر وہ زندہ رہتے ہیں لیکن پھر وہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کی قدرتوں سے منکر ہو جاتے ہیں اور اعتراض شروع کردیتے ہیں کہ خدا نیست سے کیونکر ہست کر دیتا ہے اورمنہ سے کہتے ہیں کہ خدا سرب شکتی مان اور قادر ہے مگر دراصل وہ اُس کو قادر نہیں سمجھتے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب تک خدا اپنی قدرتیں نہ دکھلا وے اس کا قادر ہوناکیونکر ثابت ہو اور اگر انسانی قدرت کی حد تک ہی اُس کی قدرتیں ہوں تو اس میں اور انسان میں فرق کیا ہوا؟ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ ایک جگہ مثال کے طور پر فرماتا ہے۔

    3 ۱؂ ۔س بقرہ

    یعنی خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں اُن کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویاجاتاہے تو گو وہ ایک ہی ہوتا ہے مگرخدا اس میں سے سا۷ت خوشے نکال سکتا ہے اور ہرایک خوشہ میں سو۱۰۰ دانے پیدا کرسکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور درحقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں اور اگرخداپنی اپنی طرف سے کسی چیز کوزیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 171

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 171

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/171/mode/1up


    پر باقی نہ رہتا۔ پس خدا کی اسی قدرت نے جو نیست سے ہست کرنا ہے تمام دنیا کو بچا رکھا ہے انسان کی سخت بدذاتی ہے جو اس کو اپنی قدرت نمائی میں عاجز سمجھے اور اس کو نیست سے ہست کرنے پر قادر خیال نہ کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ایجادیں بھی بعض ایسے کام دکھاتی ہیں کہ گویا نیست سے ہست کرتی ہیں مثلاً فونو گراف میں جو آواز بند کی جاتی ہے اوروہ اُس انسان کے ٹھیک ٹھیک لہجہ پرجس کی آواز بند کی گئیؔ ہے نکلتی ہے کیا اس ایجاد سے پہلے کسی کو سمجھ آسکتا تھا کہ آوازمیں یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ خاص قسم کے ظروف میں بند ہوسکتی ہے اور پھر اصل آواز کی طرح پیدا ہوکر سنائی دیتی ہے اور سالہا سال اور مدتہائے دراز تک بند رہ سکتی ہے اور پھر جب اُس آواز کا سنانا منظور ہو تو ایسے طور سے نکلتی ہے کہ گویا وہ انسان جس کی آواز بند کی گئی ہے بول رہا ہے کیا یہ نیست سے ہست نہیں اگر اس طبعی راز کا کسی کو علم نہ ہو تو وہ ایسی آواز سے ڈرے گا اور خیال کرے گا کہ شاید اس میں کوئی جن بول رہا ہے۔

    اسی طرح اس زمانہ میں ہزارہا سائنس کے اسرار کا پردہ کھلتا جاتا ہے جو کسی زمانہ میں نیست کے طور پر سمجھے جاتے تھے اور وہ عمیق در عمیق علم طبعی کے خواص نئی ایجادوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے جاتے ہیں کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پھر تعجب آتا ہے کہ ایسے زمانہ میں وہ نادان بھی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے اسرار قدرت پراعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح نیست سے کیونکر ہست ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاً ایک دھات جو بالکل نیست ہو جاتی ہے اور مر جاتی ہے وہ شہد اور سہاگہ اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے کسی نے پنجابی میں کہا ہے شہد سہاگہ گھی۔ موئی دھات دا ایہو جی یعنی شہد سہاگہ اور گھی جو ہے مری ہوئی دھات کی یہی جا ن ہے۔ اور اسرار قدرت الٰہی میں سے ایک یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گلہری کو پتھر یا سوٹے سے مارا جائے اور وہ بظاہر بالکل مر جائے مگر ابھی تازہ ہو تو اگر اس کے سر کو گوبر میں دبا یا جائے تو چند منٹ میں و ہ زندہ ہو کر بھاگ جاتی ہے مکھی بھی اگر پانی میں مرجائے تو وہ بھی زندہ ہوکر پرواز کرجاتی ہے اور بعض جانور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 172

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 172

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/172/mode/1up


    جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی کے ایام میں مر جاتے ہیں اور زمین میں یا دیواروں کے سوراخوں میں چمٹے رہتے ہیں اور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہو جاتے ہیں ان اسرار کو بجز خدا تعالیٰ کے کون سمجھ سکتا ہے؟ ایسا ہی بعض نباتی او ر معدنی چیزؔ یں علیحدہ علیحدہ ہونے کی حالت میں توایک خاصیت نہیں رکھتیں مگر ترکیب کے بعد ان میں ایک نئی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً شورہ اور گندھک اورکوئلہ ایک خاص ترکیب سے بارود بن جاتا ہے اور اگر چاہیں کہ صرف شورہ یا صرف گندھک یا صرف کوئلہ سے بارود بنایا جائے تو یہ غیر ممکن ہوتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ترکیب سے ایک نئی چیز پیدا ہوسکتی ہے اور شاید اسی بنا پر کیمیا کے طالب سونا اور چاندی بنانے کے سودا میں لگے رہتے ہیں مگر کوئی کیمیا ایسی نہیں جیسا کہ خدا کی محبت اور خدا کی طرف ایسا جھکناجیسا کہ شیرخوار بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ تمام دنیا پر نظر ڈال کر ہر ایک طرف سے گواہی ملتی ہے کہ نیست سے ہست ہوتا ہے پس اسی طرح خدا مرد اور عورت کے نطفہ سے رُوح کو پیدا کر دیتا ہے سچا فلسفہ یہی ہے اور سچا علم یہی ہے جس پر ہزارہا تجارب گواہی دے رہے ہیں۔ پس وید جو اس کے مخالف تعلیم دیتا ہے اسی بات سے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ سرچشمہ علوم ہرگز نہیں ہے بلکہ گمراہیوں اور غلطیوں کا سرچشمہ ہے۔ عجیب بات ہے کہ وید نے ہر ایک پہلو سے راہ راست کو چھوڑ دیا ہے چنانچہ ظاہر ہے کہ خدائے عزّوجلّ کی عبادت دو۲ قسم کی ہے۔ (۱) ایک توبہ و استغفار یعنی اس کے آستانہ پر جھک کر اپنے گناہوں کا اقرار کرنا اور نہایت تذلّل اور انکسار اور فنا کی حالت بناکر اس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہنا اور طہارت و تقویٰ کے حصول کے لئے اس کی مدد کی درخواست کرنا اور سچے دل سے اس کی جناب میں عہد کرنا کہ پھر ایسا گناہ نہ کریں گے (۲) دوسری قسم کی عبادت یہ ہے کہ اُس کی تمام خوبیوں اور کمالات کا ذکر کرکے اس کو یاد کرنا اور اس کی صفات ذاتیہ اور اضافیہ کا اقرار کرکے اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہنا۔ صفاتِ ذاتیہ یہ کہ وہ اپنے کمال ذات اور ابدیت اور ازلیت اور تمام قدرتوں اور طاقتوں اور علم میں واحد لاشریک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 173

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 173

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/173/mode/1up


    ہے اور صفات اضافیہ یہ کہ اُس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے تا اپنی خالقیت ثابت کرے اور اس نے بغیر کسی کے عمل کے زمین و آسمان کی ہزاؔ روں نعمتیں انسانوں کے لئے مہیا کی ہیں تا اپنی رازقیت ثابت کرے اور وہ اسی دنیا میں عبادت اورمجاہدہ کرنے والوں کو ایک خاص عزت بخشتا اور خاص تائید کے ساتھ اُن میں اور اُن کے غیروں میں فرق کرکے دکھلا دیتا ہے اوراپنے قرب اور مکالمہ مخاطبہ کا شرف اُن کو بخشتا ہے تا اپنی رحیمیت ثابت کرے اور قیامت کو ہر ایک فرمانبردار اورنافرمان کو اپنی مرضی کے موافق جزاوسزا دے گا تا اپنا مالک جزا و سزا ہونا ثابت کرے۔ یہ ہیں دونوں قسم عبادت کے جو اصل حقیقت پرستش ہے اور ظاہر ہے کہ وید دونوں قسموں کا مخالف اورمنکر ہے چنانچہ اس کے نزدیک توبہ کرنا محض فضول اور بے فائدہ ہے اور استغفار سراسر بے سُود اور بیکار ہے ایسا ہی دوسری قسم کی عبادت کا حال ہے کیونکہ بموجب آریہ سماج کے اصول کے اُن کا پرمیشر اپنی ازلیت ابدیت میں واحد لاشریک نہیں اور اس صفت میں تمام رُوحیں اُس کی شریک ہیں اور نیز وہ پیدا کرنے والا ارواح و ذراتِ عالم کا نہیں اور اس میں نہ رحمانیت کی صفت ہے اور نہ رحیمیت کی صفت۔ اور نہ وہ مالکوں کی طرح

    جزا سزا دینے پر قادر ہے لہٰذا وہ کسی قسم کی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور نہ کوئی اس میں خوبی ہے ایسا ہی وید نے خدا کی معرفت کا کوئی طریقہ نہیں بتلایا اور وید کی رُو سے ثابت نہیں ہوتا کہ پرمیشر موجود بھی ہے کیونکہ جب کہ وہ پیدا کرنے والا ہی نہیں توکس دلیل سے اُس کا موجود ہونا شناخت کیا جاوے غرض وید کے ذریعہ سے نہ خداتعالیٰ کی شناخت ممکن ہے اور نہ عبادت ہوسکتی ہے پھرنہ معلوم کہ وید کو سرچشمہ علوم کن معنوں سے کہتے ہیں اور اس کی تعلیم کو عالمگیر کیوں کہا جاتا ہے شاید ان معنوں سے کہتے ہوں کہ چونکہ وید آگ اور پانی اور چاند اور سورج اور دوسرے عناصر کی پرستش کی تعلیم دیتا ہے اور یہ چیز یں ہر ایک حصہ ملک میں بکثرت پائی جاتی ہیں اور عالمگیر ہیں اس لئے ماننا پڑا کہ وید کی تعلیم عالم گیر ہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ شرط بھی پیش کی کہ ملہمین کی زندگی پوتّر ہو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 174

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 174

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/174/mode/1up


    یعنی پاک ہو۔ اس سے اس کایہ مطلب تھا کہ نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ؔ زندگی پوتر نہیں تھی جیسا کہ آگے چل کر اُس نے اپنے اس دلی گند کو کھلے کھلے طور پر ظاہر کردیا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کسی کی پاک اورپوتر زندگی کو کوئی نہیں جانتا مگر خدا جو عالم الغیب ہے جن لوگوں نے خدا کے پاک نبیوں کو مفتری اور شریر قرار دیا اور طرح طرح کے گناہوں سے اُن کو آلودہ سمجھا وہ اُس دن تک اپنی غلطیوں کو سچ سمجھتے رہے جب تک کہ خدا کے ہاتھ نے اُن کو ہلاک نہ کیا۔ موسیٰ نبی کے زمانہ میں فرعون کے دل میں یہی خیال سما گیا تھا کہ موسیٰ جھوٹا اور مفتری ہے آخر خدا نے اس کو مع اس کی فوج کے دریا ئے نیل میں غرق کرکے یہ ثابت کردیا کہ فرعون جھوٹا اور موسیٰ سچا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو جھوٹا قرار دیا اور ناپاک تہمتیں اُن پر اور اُن کی ماں پر لگائیں آخر خدا نے اُن کے منصوبوں سے حضرت عیسیٰ کو بچا لیا اور اُن کو انواع و اقسام کے عذاب سے ہلاک کیا۔ اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور اس زمانہ کے شریر اور حرامکار لوگ آنجناب کے دشمن ہوگئے اور مفتری اور کذاب سمجھنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی کے وقت میں ایک شخص مسمّی عمرو بن ہشّام نے جس کا نام پیچھے سے ابوجہل مشہور ہوا جو کفار قریش کا سردار اور سرغنہ تھا ان الفاظ سے دُعا کی کہ اللّٰھُمَّ مَنْ کان منّا افسدَ فی القوم واقطعَ للرّحم فاحنہ الیوم یعنی اے خدا جو شخص ہم دونوں میں سے (اس لفظ سے مراد اپنے نفس اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا) تیری نگہ میں ایک مفسد آدمی ہے اور قوم میں پھوٹ ڈال رہا ہے اور باہمی تعلقات اور حقوق قومی کو کاٹ کر قطع رحم کا موجب ہو رہا ہے آج اُس کو تُو ہلاک کردے اور ان کلمات سے ابوجہل کا یہ منشاء تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مفسد آدمی ہیں اور قوم میں پھوٹ ڈال کر ناحق قریش کے مذہب میں ایک تفرقہ پیدا کر رہے ہیں اور نیز انہوں نے تمام حقوق قومی تلف کر دئیے ہیں اور قطع رحم کا موجب ہوگئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل کو یہی یقین تھا کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 175

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 175

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/175/mode/1up


    پوتّر اورؔ پاک نہیں ہے۔ تبھی تو اس نے دردِ دل سے دُعا کی لیکن اس دُعا کے بعد شاید ایک گھنٹہ بھی زندہ نہ رہ سکا اور خدا کے قہر نے اسی مقام میں اس کا سرکاٹ کر پھینک دیا اور جن کی پاک زندگی پر وہ داغ لگاتا تھا وہ اس میدان سے فتح اور نصرت کے ساتھ واپس آئے *پس کسی بدذات دہریہ کا یہ کام ہے کہ باوجودیکہ خود خدا نے اس نبی کی پوتّر اور پاک زندگی پر شہادت دی مگر پھر بھی وہ خدا کی گواہی کو قبول نہ کرے یہ بات ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ انسان کی پاکی یا پلیدی ہزاروں پر دوں کے اندر ہوتی ہے اور اس کوکوئی نہیں جانتا مگر محض خدا اور جیسا کہ ایک ناپاک طبع آدمی اپنی ناپاکی کو پوشیدہ رکھتا ہے تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اُس پر اطلاع پاوے ایسا ہی وہ آدمی جو پاک سرشت ہے اور خدا کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتا ہے وہ اپنے ان مخفی تعلقات کو ظاہر نہیں کرتا جو خدا کے ساتھ ہیں اور ایسا چھپاتا ہے جیسا کہ گنہگار اپنے گنہ کو اور اگر کوئی ا س کے ان پوشیدہ اسرار پر اطلاع پائے جوخدا کے ساتھ وہ رکھتا ہے تووہ ایسا شرمندہ ہوتا ہے کہ جیسا کہ ایک بدکار عین بدکاری میں پکڑا جائے خالص محبت الٰہی اور خالص عشق الٰہی اخفاء کو چاہتا ہے اس لئے پاک لوگوں کے اندرونی اسرار پر کوئی واقف نہیں ہوسکتا۔ ہاں خدا نہیں چاہتا کہ وہ مخفی رہیں اور وہ اپنے دوستوں کے لئے اس قدر غیر ت مند ہے کہ کوئی دنیا میں ایسا غیرتمند


    *حاشیہ ۔ اسی پاک زندگی کے ثبوت کے لئے ایک اور تاریخی واقعہ ہے جو مسلمانوں کی کتابوں میں متواترات سے ہے اور وہ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کی طرف خط لکھے کہ میں خدا کا رسول ہوں تم مجھ پر ایمان لاؤ تو منجملہ ان بادشاہوں کے خسرو پرویز بھی تھا جو اپنے تئیں عجم اور عرب کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس خط کو سن کر بہت ناراض ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب خیال کر کے گرفتاری کا حکم دیا کیونکہ عرب کا ملک بھی اس کی حکومت کے متعلق تھا جو یمن کے صوبہ کے ماتحت تھا جب اس کے سپاہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا کہ کل صبح جواب دوں گا ۔ جب وہ صبح کے وقت حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم کس کے پاس مجھے لے جانا چاہتے ہو آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے اور قتل کے لئے اسی کے بیٹے کو اس پر مسلّط کیا ۔ پس پاک زندگی اس کو کہتے ہیں جس کے لئے خدا دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے کیا وید کے رشیوں میں اس کا کوئی نمونہ ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 176

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 176

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/176/mode/1up


    نہیں ہوگا وہ اُن کے لئے بڑے بڑے کام دکھاتا ہے اور اُن کی عزت کو تمام دنیا میں شہرت دیتا ہے نادان دشمن چاہتا ہے کہ وہ معدوم ہو جائیں اُن کا نام و نشان نہ رہے وہ ذلیل اور بدنام ہو جائیں اور اُن کی زندگی ناپاک اور ملوث ثابت ہو اور ہزاروں تہمتوں کا انبار لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے مگر وہ جو اُن کے دل کو دیکھتا ہے اور اُن کے پاک تعلق پر اطلاع رکھتا ہے وہ اس شریر دشمن کے مقابل پر آپ کھڑا ہو جاتا ہے اور اُس کی غیرت اپنے اُس پیارے کے لئے جوش مارتی ہے تب وہ لاکھوں تہمتوں کو ایک ہی کرشمہء قدرت سے کالعدم کر دیتا ہے۔

    اور اگر کہو کہ ابوجہل کے مارے جانے کا معاملہ دور دراز کا معاملہ ہے جس پر تیرہ۱۳۰۰ سو برس گذؔ ر گئے ہم کیونکر یقینی طور پر سمجھ لیں کہ ابوجہل نے درحقیقت ایسی بد دعا مباہلہ کے رنگ میں کی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اُسی دن وہ خود ہی قتل کیا گیا تھا شاید یہ قصہ ہی غلط ہو جو مسلمانوں نے آپ بنا لیا ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہ قصہ صحیح ہے اور بہت پرانی کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے اور کسی مخالف نے اس سے انکار نہیں کیا اور بہت سے طریقوں سے یہ قصہ ثابت ہے یہاں تک کہ لسان العرب میں بھی جو اسلام کی ایک پرانے زمانہ کی لُغت کی کتاب ہے اس میں بھی یہ قصہ لکھا ہے پھر ایسی متواترات سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے؟۔

    اور اگر کسی نادان دشمن کی اب بھی تسلّی نہ ہو تو ہم ایک تازہ ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پوتر اور پاک ہونے کا لکھتے ہیں جس پر لیکھرام آریہ نے اپنے مارے جانے سے مہر لگادی ہے واضح ہو کہ مضمون پڑھنے والے نے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے ہیں وہ صرف آنکھیں بند کرکے لیکھرام کی کتابوں میں سے لکھے ہیں اور یہ لیکھرام کا ہی دعویٰ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتّر اور پاک نہیں تھی۔ اور اُس کے نزدیک ویدوں کے رشیوں کی زندگی پاک تھی۔ اسی نفسانی خیال کی وجہ سے وہ قادیان میں آیا میں نے اُس کو سمجھایا کہ خدا کے پاک نبی پر حملہ کرنا اچھا نہیں مگر وہ خدا کی عظمت اور قدرت کا منکر تھا اس کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 177

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 177

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/177/mode/1up


    تھی کہ خدا سے ڈرے او رراہِ راست کو انصاف کے ساتھ دیکھے اور اُس کی شوخی حد سے بڑھ گئی تھی اور بجز ٹھٹھے اور ہنسی اور گالی کے کوئی اس کا شیوہ نہ تھا آخر میں نے اُس کو مباہلہ کے لئے بلایا یعنی اس بات کے لئے کہ وہ بجائے خود اور میں بجائے خود دعا کروں کہ خدا جھوٹے کو ہلاک کرے اور اس طر ح پر مجھ میں اور اس میں فیصلہ کردے۔ پس بد دعا کے وقت مجھ کو خدانے اس کی نسبت بشارت دے دی کہ وہ چھ۶ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے جو اناں مرگ مرے گا اور عید کے بعد جو دن آتا ہے اس میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ ایسا ہی لیکھرام نے میرے مقابل پر اپنا مباہلہ چھپوا دیا یعنی یہ دُعا کہ سچے کے حق میں خدا فیصلہ کرے او ر جھوٹے پر اپنا قہر نازل کرے یہ دُعا اُس نے اپنی کتاؔ ب میں ابوجہل کی طرح بڑے درد دل سے لکھی ہے اور خدا سے فیصلہ چاہا ہے پس خدا نے اُس کے قتل کئے جانے سے یہ فیصلہ کردیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں جھوٹا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت پوتّر اور پاک اور صادق ہیں او رنیز یہ کہ موجودہ ویدوں کی تعلیم صحیح نہیں ہے پھر نہ معلوم کہ اس خدائی فیصلہ کے بعد مضمون پڑھنے والے نے دوبارہ اعتراض کیوں پیش کردیا کیا اس کو خدائی فیصلہ سے تسلی نہ ہوئی اور اگرچہ ہم لیکھرام کا یہ مباہلہ اپنی

    کتاب حقیقۃ الوحی میں درج کرچکے ہیں مگر پھر بھی آریہ صاحبوں کی خاطر سے اس جگہ بھی درج کردیتے ہیں اور ہم اُن کو متنبہ کرتے ہیں کہ پوتر اور پاک کی یہ نشانی ہے جو خدا کی گواہی سے اُس کا پاک ہونا ثابت ہو نہ صرف دعویٰ۔ جیسا کہ وید کے رشیوں کے بارے میں کیا جاتا ہے بھلا بتلاؤ کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے؟ کہ وید کے رشی پوتر تھے کو نسی خدا نے گواہی اُن کے پوتر ہونے کے بارے میں دی ہے اُن کی گندی تعلیمیں نیوگ وغیرہ صاف بتلا رہی ہیں کہ انہوں نے پاک راہ کی طرف ہدایت نہیں کی پھر وہ آپ کیونکر پاک او ر پوتر ٹھہر سکتے ہیں۔ اب ہم ذیل میں لیکھرام کا مباہلہ درج کرتے ہیں۔

    مضمون مباہلہ

    میں نیاز التیام لیکھرام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شرما مصنف تکذیب براہین احمدیہ و رسالہ ہٰذا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 178

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 178

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/178/mode/1up


    اقرارصحیح بدرستی ہوش و حواس کرکے کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اُس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا بلکہ اُن کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ہٰذا میں شائع کیا۔ میرے جی میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہ کیا اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں۔ میں اپنے جگت پتا پرمیشر کو ساکھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہر چہار وید مقدس میں ارشاد ہدایت بنیاد ہے اُس پر میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میری رُوح اور تمام اروا ح کو کبھی نیستی یعنی قطعی ناش نہیں ہے اور نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔ میری رُوح کو کسی نے نیست سے ہست نہیں کیا (یعنی میری رُوح کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ خود بخود قدیم سے ہے) بلکہ ہمیشہ سے پرماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا*۔ ایسا ہی میرا جسمی مادہ یعنی پرکرتی یا پرمانو بھی قدیمی یا انادی پرماتما کے قبضہ قدرت میں موجود ہیں کبھی مفقود نہیں ہوں گے اور تمام جگت کا سرجن ہار


    *حاشیہ۔ یہ کیسا فضول فقرہ ہے کہ ہمیشہ سے پرماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا ظاہر ہے کہ جبکہ

    ارواح بقول آریہ سماج کے اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ قدیم سے خود بخود ہیں تو پھر ان کو پر میشر کی قدرت کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ان قوتوں کو نہ پر میشر بڑھا سکتا ہے نہ گھٹا سکتا ہے اور نہ ان میں کسی طرح کا تصرف کر سکتا ہے وہ تمام ارواح تو بقول آریوں کے اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشر ہیں اور ایک ذرہ پرمیشر کا ان پر احسان نہیں پس یاد رہے کہ یہ مقولہ لیکھرام اور اس کے دوسرے ہم مذہبوں کا کہ ارواح پرماتما کی انادی قدرت میں رہتے ہیں اور رہیں گے یہ صرف اپنے غلط مذہب کی پردہ پوشی کے لئے بولا جاتا ہے کیونکہ انسان کا کانشنس اس کو ہر وقت ایسے بیہودہ عقاید پر ملزم کرتا ہے اگر خدا روحوں اور ان کی قوتوں اور ذرات عالم اور ان کی قوتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو پھر وہ ان کا خدا بھی نہیں ہو سکتا اور یہ کہنا کہ اگرچہ ہم ارواح کو ان کے تجرد کی حالت میں خدا کے بندے اور مخلوق نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس نے ان کو نہیں بنایا لیکن جب پرمیشر ارواح کو اجسام میں ڈالتا ہے تو اس قدر اپنی کارروائی سے ان کا پرمیشر بن جاتا ہے یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ جس پرمیشر نے ارواح اور پرمانو کو معہ ان کی تمام قوتوں کے پیدا نہیں کیا کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی ہے کہ وہ ان کے جوڑنے پر قادر ہے اور محض بعض کا بعض



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 179

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 179

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/179/mode/1up


    ایک ہی کرتا رہے دوسرا کوئی نہیں۔ میں پرمیشر کی طرح تمام دنیا کا مالک یا صانع نہیں ہوں اور نہ سرب بیاپک ہوں اور نہ انتریامی بلکہ اس مہان شکتی مان کا ایک ادنیٰ سیوک ہوں مگر اُس کے گیان اور شکتی میں ہمیشہ سے ہوں معدوم کبھی نہیں ہوا اور نہ کوئی عدم خانہ کہیں ہے بلکہ کسی چیز کو عدم نہیں۔ اس لئے وید کی اس انصافانہ تعلیم کو بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مکتی یعنی نجات کرموں کے مطابق مہما کلب تک ملتی ہے(یعنی دائمی نجات نہیں صرف ایک مقررہ


    بقیہ حاشیہ

    سے جوڑنا اس کو پرمیشر بننے کا حق نہیں بخش دے گابلکہ اس صورت میں تو وہ اس نانبائی کی طرح ہے جس نے آٹا بازار سے لیا اور لکڑی کسی لکڑی فروش سے اور آگ ہمسایہ سے اور پھر روٹی پکائی اور اس صورت میں پرمیشر کے وجود پر کوئی بھی ثبوت نہیں کیونکہ اگر ارواح مع اپنی تمام قوتوں کے قدیم سے خودبخود ہیں تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ ارواح او رپرمانوؤں کا اِتّصال اور اِنْفِصَال بھی قدؔ یم سے خودبخود نہیں جیسا کہ دہریوں کا خیال ہے اس لئے آریہ سماج والے اپنے پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے اور نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے ۔ یہ ہے خلاصہ وید کے گیان کا جس پر فخر کیا جاتا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دو قسم کے دلائل قائم ہو سکتے ہیں اوّل اس حالت میں دلیل قائم ہوتی ہے کہ جب اس کی ذات کو سر چشمہ تمام فیوض کا مان لیا جائے اور اسی کو ہر ایک ہستی کا پیدا کنندہ تسلیم کر لیا جاوے تو اس صورت میں خواہ ذرات عالم پر نظر کریں یا ارواح پر یا اجسام پر ضروری طور پر ماننا پڑے گا کہ ان تمام مصنوعات کا ایک صانع ہے ۔

    دوسرا طریق خدا تعالیٰ کی شناخت کا اس کے تازہ بتازہ نشانات ہیں جو انبیاء اور اولیاء کی معرفت ظاہر ہوتے ہیں ۔ سو آریہ سماج والے ان سے بھی منکر ہیں اس لئے ان کے پاس اپنے پرمیشر کے وجود پر کوئی بھی دلیل نہیں ۔ عجیب بات ہے کہ آریہ لوگ یوں تو بات بات میں اپنے پرمیشر کو پِتا پِتا کر کے پکارتے ہیں جیسا کہ ابھی لیکھرام نے اپنے مضمون مباہلہ میں لکھا ہے مگر معلوم نہیں وہ کس طور کا پِتا ہے کیا اس طور کا پِتا جیسا کہ ایک متبنّٰی ایک اجنبی شخص کو اپنا باپ کہہ دیتا ہے یا ایسا پِتا جو نیوگ کے ذریعہ سے فرضی طور پر بنایا جاتا ہے اور ایک آریہ کی عورت اپنی پاکدامنی کو خاک میں ملا کر دوسرے سے اپنا منہ کالا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 180

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 180

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/180/mode/1up


    مدت تک ہے ) بعد اس کے پرماتما کی نیا کے مطابق پھر جسم انسانی لینا پڑتا ہے محدود کرموں کا بے حد پھل نہیں (کرم تومحدود ہیں مگر وفادار پرستار کی نیّت محدود نہیں ہوتی اور نیز کرم کا محدود ہونا اُس کی مرضی سے نہیں ) میں ویدوں کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ پرمیشر گناہوں کو بالکل نہیں بخشتا۔ (عجیب پرمیشر ہے) میرا کسی شفاعت یا سفارش پر بھروسہ نہیں (یعنی کسی کی دُعا کسی کے حق میں قبول


    بقیہ حاشیہ

    کراتی ہے اور اس طرح پر اس عورت کا خاوند اس بچہ کا پِتا بن جاتا جو نیوگ کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے پس اگر پرمیشر آریوں کا ایسا ہی پِتا ہے تب تو ہمیں کلام کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اگر اس طرح کا پِتا ہے کہ ارواح اور ذرات عالم معہ اپنی تمام قوتوں کے اس کے ہاتھ سے نکلے ہیں اور اسی سے وجود پذیر ہیں تو یہ بات آریوں کے اصول کے برخلاف ہے اگر پوچھو کہ کیوں ان کے اصول کے برخلاف ہے ؟ تو ؔ واضح ہو کہ آریوں کے اصول کے مطابق تمام ارواح پرمیشر کی قدیمی شریک ہیں جو اس سے وجود پذیر نہیں ہوئیں تو پھر ہم پرمیشر کو ان کا پِتا کیونکر کہہ سکتے ہیں وہ تو خودبخودہیں جیسے کہ پرمیشر خودبخود مگر یہ اصول غلط ہے۔ معرفت کی آنکھ سے دیکھنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ جیسا باپ میں قوتیں اور خاصیتیں اور خصلتیں ہوتی ہیں ویسی ہی بیٹے میں بھی ہوتی ہیں ۔ پس اسی طرح چونکہ ارواح خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں ان میں ظلّی طور پر وہ رنگ پایا جاتا ہے جو خدا کی ذات میں موجود ہے اور جیسے جیسے خدا کے بندے اس کی محبت اور

    پرستش کے ذریعہ سے صفوت اور پاکیزگی میں ترقی کرتے ہیں وہ رنگ ظاہر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ظلّی طور پر ایسے انسانوں میں خدا کے انوار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔ صاف طور پر ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ انسانی فطرت میں خدا کے پاک اخلاق مخفی ہوتے ہیں جو تزکیہ نفس سے ظاہر ہوجاتے ہیں مثلاََ خدا رحیم ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد رحم کی صفت سے حصہ لیتا ہے ۔ خدا جوّاد ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ ء نفس کے بعد جود کی صفت سے حصہ لیتاہے ایسا ہی خدا ستار ہے خدا کریم ہے خدا غفور ہے اور انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد ان تمام صفات سے حصہ لیتا ہے پس کس نے یہ صفات فاضلہ انسان کی روح میں رکھ دئے ہیں ۔ اگر خدا نے رکھے ہیں تو اس سے ثابت ہے کہ وہ ارواح کا خالق ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ خودبخود ہیں تو اس کا جواب یہی کافی ہے کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 181

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 181

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/181/mode/1up


    نہیں ہوتی) میں خدا کو راشی یاظالم نہیں جانتا (لفظ مرتشی ہے جس کے معنے ہیں رشوت لینے والا۔ راشی لفظ نہیں ہے لیکھرام کی علمیت کا یہ نمونہ ہے کہ بجائے مرتشی کے راشی لکھتا ہے) اور میں وید کی رُو سے اس بات پر کامل و صحیح یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشر کا گیان ہے ان میں ذرا بھی غلطی یا جھوٹ یا کوئی قصہ کہانی نہیں۔ ان کو ہمیشہ ہر نئی دنیا میں پرماتما جگت کی ہدایت عام کے لئے پرکاش کرتا ہے اس سرشٹی کے آغاز میں جب انسانی خلقت شروع ہوئی پرماتما نے ویدوں کو شری اگنی۱۔ شری۲ وایو۔ شری ۳آدت۔ شری۴ انگرہ جیو چار رشیوں کے آتماؤں میں الہام کیا مگر جبرئیل یا کسی اور چٹھی رسان کی معرفت نہیں بلکہخود ہی*کیونکہ وہ آسمان یا عرش پر نہیں بلکہ


    *حاشیہ ۔ جسمانی نظام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہوا کے ذریعہ سے سنتا ہے اور سورج کے

    ذریعہ سے دیکھتا ہے پھر جسمانی نظام میں یہ دو چٹھی رساں کیوں مقرر کئے گئے حالانکہ خدا کا جسمانی روحانی قانون باہم مطابق ہونا چاہیئے افسوس وید کا گیان ہر جگہ پر صحیفہ قدرت کے مخالف پڑا ہوا ہے اور کون کہتا ہے کہ خدا ہر جگہ نہیں بلکہ وہ ہر جگہ بھی ہے اور ذوالعرش بھی ہے نادان اس معرفت کے نکتہ کو نہیں سمجھتا ۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگرچہ اس عالم میں سب کچھ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے مگر پھر بھی اس نے اپنے قضا و قدر کے نافذ کرنے کے وسائط رکھے ہیں ۔مثلاََ ایک زہر جو انسان کو ہلاک کرتی ہے اور ایک تریاق جو فائدہ بخشتا ہے کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ یہ دونوں خودبخود انسان کے بدن میں تاثیر کرتے ہیں ؟ ہر گز نہیں بلکہ وہ خدا کے حکم سے تاثیر مخالف یا موافق کرتے ہیں پس وہ بھی خدا کے ایک قسم کے فرشتے ہیں بلکہ ذرہ ذرہ عالم کا جس سے انواع و اقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں اور توحید پوری نہیں ہوتی جب تک ہم ذرہ ذرہ کو خدا کے فرشتے مان نہ لیں کیونکہ اگر ہم تمام مؤثرات کو جو دنیا میں پائی جاتی ہیں خدا کے فرشتے تسلیم نہ کرلیں تو پھر ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ تمام تغیرات انسانی جسم اور تمام عالم میں بغیر خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ اور مرضی کے خودبخود ہو رہے ہیں اور اس صورت میں خدا تعالیٰ کو محض معطل اور بے خبر ماننا پڑے گا ۔ پس فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے توحید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تاثیر کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے باہر ماننا پڑتا ہے اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلّم ہے تو پھر جبرئیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے ؟ منہ ۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 182

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 182

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/182/mode/1up


    سرب بیاپک ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ وید ہی سب سے کامل او ر مقدس گیان کے پستک ہیں۔ آریہ ورت سے ہی تمام دنیا نے فضیلت سیکھی۔ آریہ لوگ ہی سب کے استاد اوّلؔ ہیں۔ آریہ ورت سے باہر جو بقول مسلمانوں کے ایک لاکھ چوبیس۲۴۰۰۰ ہزار پیغمبر ۵۔۶ ہزار سال سے آئے ہیں اور توریت۔ زبور۔ انجیل۔ قرآن وغیرہ کتب لائے ہیں۔ میں دلی یقین سے ان پُستکوں کو مطالعہ کرنے سے اور سمجھنے سے ۔۔۔ اُن کی تمام مذہبی ہدایتوں کو بناوٹی اور جعلی اصلی الہام کے بدنام کرنے والی تحریریں خیال کرتا ہوں ۔۔۔ ان کی سچائی کی دلیل سوائے طمع یانادانی یا تلوار کے ان کے پاس کوئی نہیں ۔۔۔ اور جس طرح میں اور راستی کے برخلاف باتوں کو غلط سمجھتا ہوں ایسا ہی قرآن اور اُس کے اصولوں اور تعلیموں کو جو وید کے مخالف ہیں اُن کو غلط اور جھوٹا جانتا ہوں (لعنۃ اللہ علی الکاذبین) لیکن میرا دوسرا فریق میرزا غلامِ احمد ہے وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا اور اُس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے ۔اور جس طرح میں قرآن وغیرہ کو پڑھ کر غلط سمجھتا ہوں ایسے ہی وہ اُمّی محض سنسکرت اور ناگری سے محروم مطلق بغیر پڑھنے یا دیکھنے ویدوں کے ویدوں کو غلط سمجھتا ہے*۔ اے پرمیشر ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر۔ کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔

    راقم آپ کا ازلی بندہ لیکھرام شرما سبھا سد آریہ سماج پشاور

    حال اڈیٹر آریہ گزٹ فیروزپور پنجاب


    *حاشیہ ۔ اگر میں نے وید نہیں پڑھے بھلا یہ تو غنیمت ہے کہ لیکھرام نے چاروں وید کنٹھ کر لئے تھے اس جگہ بھی

    بجزلعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین کیا کہہ سکتے ہیں ۔ بحث اصولوں پر ہوتی ہے جب کہ آریہ سماج والوں نے اپنے ہاتھ سے وید کے اصول شائع کر دئیے تو ان پر بحث کرنا ہر ایک عقلمند کا حق ہے اور یہ سراسر غلط ہے کہ میں وید نہیں پڑھا میں نے وید کے وہ ترجمے جوملک میں شائع ہوئے اول سے آخر تک دیکھے ہیں پنڈت دیانند کا وید بھاش بھی دیکھا ہے اور عرصہ قریباََ پچیس۲۵ سال سے برابر آریوں سے میرے مباحثات ہوتے رہے ہیں پھر یہ کہنا کہ وید کی مجھے کچھ بھی خبر نہیں کس قدر جھوٹ ہے اور اگر آریہ صاحبوں کے پنڈت اب بھی لیکھرام کو وید کا فاضل تسلیم کر چکے ہیں تو میں وہ سر ٹیفکیٹ دیکھنے کا مشتاق ہوں بلکہ لیکھرام کا رتبہ ذرا بھی اس سے بڑھ کر نہیں جوخدا نے اُس کے لئے فرمایا عجل جسد لہ خوار ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 183

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 183

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/183/mode/1up


    ابؔ مباہلہ کی اِس دُعا کے بعد جو پنڈت لیکھرام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے صفحہ ۳۴۴ سے ۳۴۷ تک لکھی ہے جو کچھ خدا نے آسمان سے فیصلہ کیاہے اور جس طرح اُس نے کاذب کی ذلت ظاہر کی اور صادق کی عزت وہ یہ ہے جو ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ ؁ء کو بروز شنبہ دن کے ۴ بجے کے بعد ظہور میں آیا۔



    دیکھو یہ خدا کا فیصلہ ہے جس فیصلہ کو لیکھرام نے اپنے پرمیشر سے مانگا تھا

    تاصادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہوجائے سو وہ فرق ظاہر ہوگیا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 184

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 184

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/184/mode/1up


    یہ باؔ ت یاد رہے کہ اس جگہ ایک نشان نہیں بلکہ دو نشان ہیں (۱) ایک یہ کہ لیکھرام کے مارے جانے کی بذاتِ خود ایک عظیم الشان پیشین گوئی ہے جس میں اس کے مارے جانے کا دن بتلایا گیا ہے موت کی قسم بتلائی گئی۔ مدت بتلائی گئی وقت بتلایا گیا۔ (۲) دوسری یہ کہ باوجود ہزار کوشش اور سعی کے قاتل کا کچھ بھی پتہ نہیں لگا گویا وہ آسمان پر چڑھ گیا یا زمین کے اندر مخفی ہو گیا اگر قاتل پکڑا جاتا اور پھانسی مل جاتا تو پیشگوئی کی یہ وقعت نہ رہتی بلکہ اس وقت ہر ایک کہہ سکتا تھا کہ جیسے لیکھرام مارا گیا قاتل بھی مارا گیا مگر قاتل ایسا گم ہوا کہ نہیں معلوم کہ آیا وہ آدمی تھا یا فرشتہ تھا جو آسمان پر چڑھ گیا۔

    مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ نشانی الہامی کتاب کی پیش کی کہ اس میں اعلیٰ درجہ کے صفات پرمیشر کے درج ہوں۔ سو ہم اس نشانی کو قبول کرتے ہیں لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ ویدکے پرمیشر میں یہ نشانیاں موجود ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں ایک ذاتی دوسری اضافی۔ ذاتی صفات اُن صفات کا نام ہے کہ جو بغیر حاجت وجود مخلوق کے پائی جاتی ہیں جیسا کہ اُس کی وحدانیت اُس کا علم اُس کا تقدس (۲) اور اضافی صفات ان صفات کا نام ہے جن کا تحقّق اور وجود خارج میں پایا جانا مخلوق کے وجود کے بعد ہوتا ہے جیسے خدا تعالیٰ کی خالقیت۔ رازقیت۔ رحمت اور اس کا توّاب ہونا اور اس کی صفت مکالمہ مخاطبہ۔ سو وید اِن دونوں قسم کی صفات کامنکر ہے۔ کیونکہ بموجب قول آریہ سماج والوں کے خدا اپنے ازلی۔ ابدی ہونے میں واحد لا شریک نہیں ہے بلکہ ذرہ ذرہ مخلوق کا انادی ہونے اور ازلیت اور ابدیت میں اس کے ساتھ برابر ہے اور پرمیشر کی طرح روحوں پر موت نہیں آتی اور ہمیشہ اِس جہان میں واپس آتی ہیں اور کبھی دوسرے جہان میں چلی جاتی ہیں مگر تعجب کہ اگر روحیں فنا کے تغیرات سے محفوظ ہیں جیسا کہ پرمیشر محفوظ ہے اور نیز تمام صفات میں ازلی ابدی ہیں جیسا کہ پرمیشر ازلی ابدی ہے تو پھر کیا وجہ کہ خواب کی حالت میں بھی اُن پر ایسا تغیر آجاتا ہے کہ تمام کارخانہ اُن کی حالت کا اُلٹ پُلٹ ہو جاتا ہے اور وہ جدید نظارے اُن کو پیش آجاتے ہیں کہ جن کا بیداری میں اُن کو کچھ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 185

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 185

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/185/mode/1up


    بھی خیال و گمان نہیں ہوتا ایسا ہی بموجب عقیدہ آریوں کے جب رُوح آواگون کے طو رپر واپس آتی ہے تو تمام علوم و فنون اور وید کی تعلیم اور گیان کو فراموش کرکے جنم لیتی ہے پس اگر فرض محال کے طور پر تناسخ سچ ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ رُوحوں کی زندگی جھوٹ ہے کیونکہ اگر پرمیشر کی طرح اُن میں ابدی زندگی ہوتی تو اُن پر یہ پتھر کیوں پڑتے کیا پرمیشر بھی اپنے علوم کو بھول جایا کرتا ہے؟ پس جو حادثہ رُوحوں کو اُن کے وہ علوم فراموش کرا دیتا ہے جو تمام عمر میں اُنہوں نے حاصل کئے تھے اسی حادثہ کا نام موت ہے * مگر آریہ کہتے ہیں کہ رُوحوں پرموت نہیں مگر ہم تعجب کرتے ہیں کہ کیاموت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ظاہر ہے کہ جب اُن پر اتناتغیر آتا ہے کہ تمام عمرکی کمائی اُن کی ایک دم میں کھو دیتا ہے تو کیاموت کا لفظ اب تک اُن پر صادق نہیں آتا۔ یہ سچائی کس قدر ثابت ہے کہ آفتاب کی طرح چمکتی ہے مگر پھر بھی وید دائمی زندگی میں رُوحوں کو پرمیشر کے ساتھ برابر ٹھہراتا ہے۔ کیا یہ پرمیشر کی اعلیٰ درجہ کی صفت ہے کہ اُس کا زندگی میں غیر بھی شریک ہے ؟

    اگرچہ اسلام بھی مخلوق کی نوعی قدامت کا قائل ہے مگراسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک چیز مخلوق ہے اور ہر ایک چیز خدا کے سہارے سے قائم او رموجود ہے اور نیز اسلام ا س بات کا قائل ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جو خدا کے ساتھ کوئی نہ تھا اور صرف وحدت اپنا جلوہ دکھلا رہی تھی اور خدا


    *حاشیہ ۔ انسانی روح نیند کی حالت میں اکثر دو حالتوں میں ہوتی ہے (ا) ایک تو اس پر ایسے بھاری

    تغیرات آتے ہیں کہ وہ بیداری کے علوم اور واقعات کو بالکل فراموش کر دیتی ہے اور نئے نظارے جو اس کے ارادہ اور اختیار سے باہر ہوتے ہیں اس کے سامنے آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی ارادی طاقتوں سے معطّل ہو کر مُردہ کی طرح ہوجاتی ہے (۲) دوسری بعض صورتوں میں ایسی سخت نیستی کی حالت اس پر وارد ہوتی ہے کہ اس کی ہستی کے صفات بکلی محو ہوجاتے ہیں مثلاََ اگر کسی کو کلورافارم سے انتہائی درجہ تک بیہوش کیا جائے تو اس قدر روح پر اور اس کے آثار پر نیستی وارد ہوتی ہے کہ اگر ایسے بیہوش کا کوئی عضو بھی کاٹ دیا جائے تو اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہوتی پس جب کہ ایسی تمام صورتوں میں اپنی تمام حالتوں میں اپنی صفات سے روح معطل ہوجاتی ہے اور قطعاََ اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تو یہی صورت موت کی ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 186

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 186

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/186/mode/1up


    ایک پوشیدہ خزانہ کی طرح تھا۔ پھر خدا نے چاہا کہ میں شناخت کیا جاؤں تو اُس نے اپنی شناخت کے لئے انسان کو پیدا کیا مگر ہم نہیں جانتے کہ کتنی دفعہ وحدت الٰہی کا زمانہ آچکا ہے اس کا علم خدا کو ہے لیکن جیسا کہ دوسری صفات ہمیشہ کے لئے معطل نہیں رہ سکتیں ایسا ہی وحدت الٰہی کی صفت بھی ہمیشہ معطل نہیں رہتی اور کبھی کبھی اس کا دور آجاتا ہے اور کبھی ذات الٰہی دنیا کو ہلاک کرنا چاہتی ہے اور کبھی پیدا کرنا کیونکہ احیاءؔ اور اماتت دونوں صفات اُس کے ہیں اس لئے ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ خدا ہر ایک جاندار کو ہلاک کرے گا یہاں تک کہ آسمان اور زمین کا بھی ایسے طور پر تختہ لپیٹ دے گا جیسا کہ ایک کاغذ لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس صورت میں تعطّل صفات کا لازم نہیں آتا کیونکہ بعض صفات کی جب تجلّی ہوتی ہے تو دوسری صفات جو اُن کے مقابل پر ہیں اور ان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں وہ کسی دوسرے وقت میں ظاہر ہوتی ہیں اور اس وقت کی منتظر رہتی ہیں اور یہ ایک سلسلہ قدرت کاواقعی ہے جس سے اہلاک کے بعد احیاء لازم پڑاہوا ہے پس انہیں معنوں سے ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کوئی صفت معطل نہیں ہوتی وہ قدیم سے مُحْیِیْ بھی ہے اور مُمِیْت بھی ہے اور کوئی صفت اُس کی ایسی نہیں ہے کہ پہلے تھی اور اب نہیں ہے یا اب ہے اور پہلے نہیں تھی۔ غرض ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی چیز خدا تعالیٰ کی وحدت کے ساتھ مزاحمت نہیں

    رکھتی محض اُسی کی ذات قائم بنفسہ اور ازلی اور ابدی ہے اور باقی سب چیزیں ہالکۃ الذّات اور باطلۃ الحقیقت ہیں۔ اور یہی خالص توحید ہے جس کے مخالف عقیدہ رکھنا سراسر شرک ہے۔ پس اس سے ظاہرہے کہ وید کے پیروپکے مشرک ہیں اور ذرّہ ذرّہ کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھر مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات کے منکر ہوکر اور صریح طور پر اُن صفات کا انکار کرکے کیونکر کہہ دیتے ہیں کہ الہامی کتاب کی یہ شرط ہے کہ اعلیٰ درجہ کے صفات پرمیشر کے اُس میں درج ہوں۔ اے نادانو ! کیا یہ صفت خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی نہیں ہے کہ اُس کی ازلیت ابدیت میں کوئی شریک نہ ہو پھر کیوں وید اُس کی ازلیت ابدیت میں دوسری چیزوں کو شریک کرتا ہے۔ ہائے افسوس! تم کیوں نہیں سمجھتے کہ اس صفت کے نہ ماننے سے پرمیشر ہی ہاتھ سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 187

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 187

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/187/mode/1up


    جاتاہے اورکوئی دلیل اُس کے وجود پر قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر پرمیشر درحقیقت صفت خالقیّت سے معطّل ہے اور کوئی چیز بجز جوڑنے اور پیوند دینے کے اُس نے پیدا ہی نہیں کی اور تمام چیزیں یعنی تمام روحیں اور تمام ذرّات اجسام جن کو پرمانو یا پرکرتی کہتے ہیں خود بخود ہیں اور اپنی ذات سے بغیر پیدا ہونے کےؔ ازلی ابدی ہیں تو پھر پرمیشر کے وجود پر کونسی دلیل قائم ہوسکتی ہے اور کیا صرف جوڑنا اور باہم پیوند دینا اس کے وجود پر ایک ایسی دلیل ہے جس پر دل مطمئن ہوسکے ؟ اور اگر رُوحیں اور ذرات عالم پرمیشر کی طرح قدیم اور انادی اور غیر مخلوق ہیں تو کیوں نہ کہا جائے کہ ایسا ہی اُن کا اِتّصال اور اِنفصال بھی طبعی طور پر اُن کی قدیمی صفت ہے جس میں پرمیشر کے وجود کی اسی طرح ضرورت نہیں جیسا کہ اُن کے پیدا ہونے میں پرمیشر کے وجود کی ضرورت نہیں پس اس کتاب سے زیادہ گمراہ کرنے والی کونسی کتاب ہے ؟ کہ جو ایسی تعلیم دے جو خدا سے منکر بنانے کے لئے مدد دیتی ہے بلکہ منکر بنانے کے لئے خود اغوا کرتی ہے۔

    اورپھردوسری طرف جیساکہ وید خدا تعالیٰ کی صفت ذاتی سے برگشتہ اورمنکر ہے یعنی وہ اعلیٰ صفت خدا تعالیٰ کی جو وحدت فی الازل والا بدکی خصوصیّت ہے اس سے انکاری ہے ایساہی وید خدا تعالیٰ کی خالقیت سے بھی انکاری ہے جیسا کہ ابھی ذکر ہوچکا ہے۔

    اسی طرح وید خدا تعالیٰ کے رازق اور منعم اور رحمن ہونے سے بھی انکاری ہے کیونکہ ہر ایک نعمت جو انسان کو ملتی ہے اُن سب نعمتوں کو وید انسانوں کے لئے اُنہیں کے اعمال کا نتیجہ قرار دیتاہے اور خدا کے فضل اور انعام اورر حمت کاکچھ ذکر نہیں کرتا۔ پس جبکہ ہر ایک نعمت انسانوں کی وید کے رُو سے صرف اُن کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ ہندوؤں کا پرمیشر رازق اور منعم اور رحمن نہیں ہے بلکہ رازق اور منعم اوررحمن اُن کے اعمال ہیں اور پرمیشر کچھ بھی نہیں اس صورت میں ظاہر ہے کہ بموجب تعلیم وید کے صفت رازق اور منعم اور رحمن ہونے کی بھی پرمیشر میں نہیں ہے پس یہ عجیب بات ہے کہ پہلے تو وید نے خدا تعالیٰ کی اس صفت سے جو وحدت فی الازل والا بد ہے انکار کیا اور پھر اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 188

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 188

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/188/mode/1up


    کی صفت خالقیت سے انکار کیا اور بعد اس کے خدا تعالیٰ کی صفت رازقیت اور رحمانیت سے وید منکر ہوبیٹھا۔ اس طرح پر وید نے خدا تعالیٰ کی ؔ تمام صفات کی صفائی کر دی اور اعلیٰ صفات کا تو ذکر کیا کل تمام صفات سے ہی جواب دیا۔ اس لئے ہم بزور کہتے ہیں کہ وید کے رُو سے ہندوؤں کا پرمیشر ہر ایک صفت سے معطل ہے نہ قادر ہے نہ خالق ہے نہ واحد لاشریک ہے نہ رازق ہے نہ رحمن ہے نہ منعم ہے بلکہ تمام مدار اپنے اپنے اعمال پر ہے پرمیشر میں کوئی صفت نہیں۔ پس خیال کرناچاہئے کہ کہاں تو یہ دعویٰ کہ الہامی کتاب کی یہ نشانی ہے کہ جس میں اعلیٰ درجہ کے صفات پر میشر کے درج ہوں اور کہاں یہ حالت کہ ہندوؤں کے پرمیشر کی ایک صفت بھی ثابت نہیں ہوتی۔

    اورخدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تکلّم بھی ہے کیونکہ وہی ذریعہ فیضان اور ہدایتوں کا ہے لیکن بموجب عقیدہ آریوں کے کروڑہا برس کی مدت گذر گئی کہ وہ صفت بھی پرمیشر میں سے مفقود ہوگئی ہے اور اب نعوذ باللہ پرمیشر ہمیشہ کے لئے گُنگے کے طور پر ہے اور کلام کرنے پر قادر ہی نہیں اور اس صفت کے مسلوب ہونے سے دو نقصان ہوئے ہیں (۱) ایک یہ کہ پرمیشر ہمیشہ کے لئے ناقص ٹھہر گیا گویا اُس کی صفات کے اعضا میں سے ایک عضو کٹ گیا (۲) دوسرے یہ کہ اُس کے فیضان الہامی سے ہمیشہ کے لئے آریہ ورت کے لوگ محروم رہ گئے* اور اُن کے مذہب کا تمام مدار صرف قصوں کہانیوں پررہا۔ مگر اسلام کلام الٰہی کی صفت کو کبھی معطل نہیں کرتا اور اسلام کی رُو سے جیسا کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص


    * اگر بعض جاہل اور نادان جو نام کے مسلمان ہیں یہ عقیدہ رکھیں کہ اسلام میں بھی مکالمہ مخاطبہ الہٰیہ کا

    سلسلہ بند ہے تو یہ ان کی اپنی جہالت ہے کیونکہ قرآن شریف مکالمہ مخاطبہ الہٰیہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے 3 ۱؂ ۔ یعنی خدا جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ 3 ۲؂ ۔ یعنی مومنوں کے لئے مبشر الہام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہوگئی ہے کیونکہ عمر دنیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 189

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 189

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/189/mode/1up


    بندوں سے مکالمہ مخاطبہ کرتاتھا اب بھی کرتا ہے اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے اُن کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اُس کے زمانہ میں اُس کی کوئی نظیر نہ ہو اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں۔ کیونکہ نبی اُس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں۔ لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی و الہام ہو۔ اور ہم سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شریعت قرآن شریف پر ختم ہوگئی ہے صرف مبشرات یعنی پیشگوئیاں باقی ہیں۔

    اور پھر خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تقدّس بھی ہے یعنی یہ کہ وہ ہر ایک عیب اور نقصان سے پاک ہے لیکن ظاہر ہے کہ گونگا ہونا ایک عیب ہے۔ ایسا ہی باوجود دعوےٰ قدرت کے ایک رُوح کو بھی پیدا نہ کر سکنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے کوئی پختہ اورمحکم دلائل پیش نہ کرنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اُس کے مقابل پر ازلی اور ابدی طور پر کوئی اور وجود بھی ہونا یہ بھی اس کے لئے عیب ہے۔ پس باوجود اس قدر عیبوں کے تقدس کہاں رہ سکتا ہے۔ 3 ۱؂ ۔

    ایک اور ضروری صفت خدا تعالیٰ کی ہے جس کو وید اندر ہی اندر ہضم کرگیا ہے اور وہ اُس کا توّاب اور غفور ہونا ہے اور توّاب اورغفور کے یہ معنی ہیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے صدہا احکام کا اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے پس اُس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے اور کبھی نفسِ امّارہ کی بعض خواہشیں اُس پرغالب آجاتی ہیں پس وہ اپنی کمزور فطرت کی رُو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 190

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 190

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/190/mode/1up


    وہ توبہ اور استغفار کرے تو خدا کی رحمت اُس کو ہلاک ہونے سے بچالے اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ اگر خدا توبہ قبول کرنے والا نہ ہوتا تو انسان پر یہ بوجھ صدہا احکام کا ہرگز نہ ڈالا جاتا*۔ اِس سے بلاشبہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا توّاب اور غفور ہے اور توبہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگروہ آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہرگز نہیں کرے گا۔ پس جب انسان اس صدق اور عزم محکم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے وہ اس گناہ کی سزا معاف کردیتا ہے اور یہ ؔ خداکی اعلیٰ صفات میں سے ہے کہ توبہ قبول کرکے ہلاکت سے بچا لیتا ہے اور اگرانسان کو توبہ قبول کرنے کی امید نہ ہوتو پھر وہ گناہ سے باز نہیں آئے گا۔ عیسائی مذہب بھی توبہ قبول کرنے کا قائل ہے مگر اس شرط سے کہ توبہ قبول کرنے والا عیسائی ہو لیکن اسلام میں توبہ کے لئے کسی مذہب کی شرط نہیں ہے۔ ہرایک مذہب کی پابندی کے ساتھ توبہ قبول ہوسکتی ہے اورصرف وہ گناہ باقی رہ جاتا ہے جو کوئی شخص خدا کی کتاب اور خدا کے رسول سے منکر رہے اور یہ بالکل غیرممکن ہے کہ انسان محض اپنے عمل سے نجات پاسکے بلکہ یہ خدا کا احسان ہے کہ کسی کی وہ توبہ قبول کرتا ہے اور کسی کو اپنے فضل سے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ وہ گناہ کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی بیان کی کہ اس میں اعلیٰ اخلاق سکھلائے گئے ہوں۔ مگر مجھے تعجب ہے کہ اتنی جلدی کیوں یہ لوگ وید کی تعلیم کو


    * توبہ کرنے والے اپنا صدق ظاہر کرنے کے لئے صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ

    خدمات مالی اور جانی بجا لاتے ہیں اور مجاہدہ اور اعمال صالحہ کی آگ سے اپنے تئیں جلا دیتے ہیں اور نہایت درجہ کی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرتے ہیں اور موت تک اپنے تئیں پہنچا دیتے ہیں اور پھر وید کہتا ہے کہ توبہ ان کی قبول نہیں ہوتی گویا وید اپنے پرمیشر کو اس سخت دل انسان کی طرح قرار دیتا ہے جس کو اپنے جاں نثار خادم کی کچھ بھی پروا نہیں مگر کیا انسانی فطرت قبول کر سکتی ہے کہ درحقیقت وہ خدا جس کے رحم کے سوا ایک دم بھی ہم جی نہیں سکتے ایسا ہی ہے ہر گز نہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 191

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 191

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/191/mode/1up


    بھول جاتے ہیں۔ کیا ایسا پرمیشر کہ جو کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اور کسی کو محض جو داور سخا کے طور پر کچھ دے نہیں سکتا وہ دوسروں کو باوجود اپنے اس ذاتی نقص کے کب اعلیٰ اخلاق سکھلا سکتا ہے؟ جس حالت میں خود پرمیشر میں صفت رحمت اورمغفرت کی موجود ہی نہیں ہے اور جود وسخا اُس کی عادت ہی نہیں ہے تو پھر وہ دوسروں کو یہ اخلاق فاضلہ کیسے سکھلائے گا۔ اب اگر آریہ لوگ یہ جواب دیں کہ یہ صفات اعلیٰ اخلاق میں داخل نہیں ہیں اور یہ بُری صفات ہیں اچھی نہیں ہیں تو اس سے اُن کو ماننا پڑے گا کہ وہ خود ان اخلاق کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُن کے پابند نہیں ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اُن کا کانشنس اس بات کوناپسند کرتا ہے کہ اگر اُن سے کوئی جرم صادر ہو جائے اور کوئی راہ مَخلصی کی نہ ہو تو وہ معافی کے لئے اپنے تئیں گورنمنٹ کے حوالہ کریں یا گورنمنٹ خود ہی اُن کو معاف کردے اور کیا وہ درحقیقت نہیں چاہتے کہ کوئی ثابت شدہ جرم اُن کا گورنمنٹ بخش دے پس جب کہ اُن کی فطرت میں درحقیقت یہ تقاضا موجود ہے جس کو ایسے وقتوں میں بے اختیار ظاہرکرتے ہیں کہ جب وہ گورنمنٹ کے کسی مواخذہ میں ہوتے ہیں پس اُن کو سوچنا چاہئے کہ یہ فطرتی تقاضا کس نے اُن کے اندر پیدا کیا ہے ؟اور اگر خدا تعالیٰ کا ارادہ یہ نہ ہوتا کہ توبہ کرنے والوں پر رحم کرکے اُن کو بخش دیا کرے تو انسانوں کی فطرت میں یہ تقاضا کیوں رکھتا ؟ اور درحقیقت تمام اخلاق میں سے اعلیٰ خلق یہی ہے کہ انسان اپنے قصورواروں کے قصور معاف کرے اور اپنے گنہ کرنے والوں کے گناہ بخش دے۔ پس اگر پرمیشر میں یہ خلق نہیں ہے تواُس سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟ اور جس حالت میں انسان کے لئے یہ امرمحال ہے کہ اُس کے تمام حقوق ادا کرکے اور تمام خطاؤں سے بچ کر بکلّی نیک اور پاک ہونے کا دعویٰ کرے تو اس صورت میں یہ کہنا کہ نجات اِسی امر پرموقوف ہے کہ انسان بکلّی گناہوں سے بذریعہ سزا کے صاف ہوکر ایسے جنم میں وجود پذیر ہوکہ تمام عمر کوئی گناہ نہ کرے۔ یہ قول محض ایک ایسے پاگل اور دیوانہ کا قول ہوسکتا ہے کہ جو انسانی فطرت کی کمزوری سے بے خبر ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسانی




    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 192

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 192

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/192/mode/1up


    کمزوری درحقیقت ایک سچا اور واقعی زہر ہے ؟ اور درحقیقت خدا کا نام توّاب یعنی توبہ قبول کرنے والا اِسی انسانی کمزوری کے تقاضا سے ظہور پذیر ہے اور معاف کرنا ایک ایسا فعل ہے کہ وقت مناسب پر انسانی فطرت اُس کو قبو ل کرتی ہے اس لئے عقل سلیم کے نزدیک ایک سخت گیر انسان جو کبھی اپنے نوکروں کے قصور معاف نہیں کرتا قابل ملامت ہوتا ہے تو پھر پرمیشر جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام اخلاق حسنہ کاجامع ہے اور ہرایک خلق میں کامل اور سب سے بڑھ کر ہے کس قدر اُس کی شان سے دور ہے کہ وہ اپنے گنہ گاروں کے مقابل پر معافی اور بخشش کا کبھی نام نہ لے اور ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں سزا دینے کے لئے تیار ہو جائے اور نیز اس میں جود و سخا کی صفت نہ ہو انسان صرف ایک مزدور کی طرح جس قدر مزدوری کرے اسی قدر بدلہ لے۔ ایسے پرمیشر سے کہاں توقع ہوسکتی ہے ؟کہ وہ کسی وقت احسان اورمروّت سے پیش آوے اور کسی لغزش کے وقت قصور معاف فرمادے بلکہ انسانوں کے لئے اُسؔ کی حکومت خطرناک اور اپنی سخت بدقسمتی کا موجب ہے۔

    یاد رہے کہ توبہ اور مغفرت سے انکار کرنا درحقیقت انسانی ترقیات کے دروازہ کو بند کرنا ہے کیونکہ یہ بات تو ہر ایک کے نزدیک واضح اور بدیہیات سے ہے کہ انسان کامل بالذّات نہیں بلکہ تکمیل کا محتاج ہے اور جیسا کہ وہ اپنی ظاہری حالت میں پیدا ہوکر آہستہ آہستہ اپنے معلومات وسیع کرتا ہے پہلے ہی عالم فاضل پیدا نہیں ہوتا۔ اِسی طرح وہ پیداہوکر جب ہوش پکڑتا ہے تواخلاقی حالت اُس کی نہایت گری ہوئی ہوتی ہے چنانچہ جب کوئی نو عمر بچوں کے حالات پرغور کرے تو صاف طور پر اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر بچے اس بات پر حریص ہوتے ہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ نزاع کے وقت دوسرے بچہ کو ماریں اور اکثر اُن سے بات بات میں جھوٹ بولنے اور دوسرے بچوں کو گالیاں دینے کی خصلت مترشح ہوتی ہے اور بعض کو چوری اور چغلخوری اور حسد اور بخل کی بھی عادت ہوتی ہے اور پھر جب جوانی کی مستی جوش میں آتی ہے تو نفس امّارہ اُن پر سوار ہو جاتا ہے اور اکثر ایسے نالائق اورناگفتنی کام اُن سے ظہور میں آتے ہیں جو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 193

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 193

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/193/mode/1up


    صریح فسق وفجور میں داخل ہوتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اکثر انسانوں کے لئے اوّل مرحلہ گندی زندگی کا ہے اور پھر جب سعید انسان اوائل عمر کے تُند سیلاب سے باہر آجاتا ہے تو پھر وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتا ہے اور سچی توبہ کرکے ناکردنی باتوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اپنے فطرت کے جامہ کو پاک کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ یہ عام طورپر انسانی زندگی کے سوانح ہیں جو نوع انسان کو طَے کرنے پڑتے ہیں۔ پس اِس سے ظاہر ہے کہ اگر یہی بات سچ ہے کہ توبہ قبول نہیں ہوتی تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہی نہیں کہ کسی کو نجات دے۔ پس جب کہ خدا نومیدی کا جواب دے چکا ہے اور کسی پلید جون میں ڈالنے کا اُس کا پختہ ارادہ ہے تو ایسی حالت میں جس کو یہ خواہش ہو کہ وہ گندی زندگی سے رُستگار ہوکر اسی زندگی میں واصلانِ الٰہی میں سے ہو جاوے وہ کیونکر برخلاف خدا کے ارادہ کے اس خواہش کو پوری کرسکتا ہے؟ اور کیونکر وہ ؔ خدا کی راہ میں کوئی معاہدہ کرسکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ میرے لئے خدا کے فضل کا دروازہ قطعاً بند ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اب بہرحال میرے لئے کوئی کتّا یا بلّا یا سؤر بننا ضروری ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی پیش کی کہ وہ کتاب اپنے آپ میں مکمل ہو یعنی اپنے بعد کسی دوسری کتاب کی اُس کو حاجت نہ ہو۔ اب اِس چالاکی کی طرف خیال کرو کہ یہ کس قسم کی نشانی لکھی ہے۔ چونکہ آریوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ اُس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی اس لئے اُس نے اپنی غرض پوری کرنے کیلئے اس عقیدہ کو الہامی کتاب کی نشانیوں میں داخل کردیا۔ تنقیح طلب تو یہ امر ہے کہ کیا درحقیقت وید ایک ایسی کامل مکمل کتاب ہے کہ اس کے بعدکسی دوسری کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔ سوجب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ وید کو ایسی صفت سے موسوم کرنا سراسر اس پر تہمت ہے۔ وید کے ذریعہ سے جو کچھ آریہ ورت میں ظاہر ہوا ہے وہ یہی عناصر پرستی اور مخلوق پرستی اور سورج اورچاند کی پوجا ہے یانیوگ ہے اور کئی مرتبہ ہم لکھ چکے ہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 194

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 194

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/194/mode/1up


    کہ وید توحید اور معرفت الٰہی کا سخت مخالف اور دشمن ہے اور ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے پس جس کتاب نے ایسی گندی تعلیم پھیلائی ہے کہ نہ تو حید کو باقی چھوڑا اور نہ عمل صالح کی ترغیب دی اور نہ ایک ذرہ بھر اُس میں کوئی خوبی ہے اُس کی ایسی تعریف کرنا کہ گویا اس کے بعد کسی الہامی کتاب کی حاجت نہیں یہ سراسر بے حیائی ہے اور خواہ نخواہ خدا کی کتابوں پر بے جا حملہ ہے۔ ہم پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ چونکہ انسانی حالت ایک طور پر نہیں رہی اور نوعِ انسان پر بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں پس مصلحت اور حکمت الٰہی کا یہی تقاضا تھا کہ ہر ایک تغیر کے مناسب حال کتاب نازل ہو۔ جیسا کہ بہت آسانی سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ ابتدائے زمانہ میں کسی کامل کتاب کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ابتدائے زمانہ میں نہ گناہوں کا زور ہوتا ہے۔ نہ بدعقیدگی کا طوفان برپا ہوتا ہے اور لوگ سیدھے سادے ہوتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جسمانی طور پر بھی جہاں تندرست اور صحیح سالم لوگ موجود ہوں وہاں چنداں طبیب کی حاجت نہیں ہوتی کیونکہ جہاں بیمار ہیں طبیب بھی وہیں جاتا ہے پس عندالعقل زمانہ تین قسم پر تقسیم ہوسکتا ہے۔

    (۱) ایک صلاحیت کا زمانہ جوابتدائی زمانہ تھا۔

    (۲) دوسرا نیک و بد کی برابری کا زمانہ جس کو درمیانی زمانہ کہہ سکتے ہیں۔

    (۳) تیسرا معاصی اور مفاسد کا زمانہ جس کو ہندی میں کلجگ کہتے ہیں سو وہ زہریلا زمانہ طوفان معاصی کا اس لائق تھا کہ کامل کتاب اس میں بھیجی جاوے سو وہ قرآن شریف ہے۔

    وید نے جو کچھ کمال ظاہر کیا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں (۱) اس نے اپنے پرمیشر کو خالق ہونے سے جواب دے دیا (۲) اُس نے رُوحوں کو اُن کی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ خود بخود سمجھ لیا (۳) اُ س نے تمام ذرّات عالم کو مع اُن کے خواص اور طاقتوں کے پرمیشر کی طرح اپنے وجود کے آپ ہی خدا مان لیا(۴) اُس نے خدا کی صفت وحی اور الہام کو ہمیشہ کے لئے معطل قراردیا (۵) اُس نے اُن تمام دلائل سے انکار کیا جن سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے (۶) اُس نے پرمیشر کو ایک بخیل اور پکش پات اور طرفداری کرنے والا ٹھہرایا کہ جو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 195

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 195

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/195/mode/1up


    ہمیشہ آریہ ورت سے ہی تعلق رکھتا ہے اور انہیں پر الہام نازل کرتا ہے دوسروں پر بے وجہ ناراض ہے گویا اُسی قوم سے اُس کا رشتہ اور قرابت ہے اور گویا دوسرے ملکوں کے لوگ اس کے بندے ہی نہیں یا اُن کے وجود سے ہی بے خبر ہے (۷) اُس نے نیوگ کے ناپاک طریق کے لئے تاکیدی حکم دے کر ہزاروں عورتوں کی عفت میں خلل ڈالا(۸) اُس نے تناسخ کا عقیدہ پیش کرکے آریوں کو کوئی ایسا قاعدہ نہ بتلایا جس سے سمجھا جاتا ہے کہ مثلاً دوبارہ آنے والی کوئی لڑکی اُسی شخص کی ماں یادادی تو نہیں جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے (۹) اُس نے یہ عقیدہ ظاہر کیا کہ گویا پرمیشرکو ایک ایسا بدمکر کرنے کی عادت ہے جو مکتی دینے کے وقت پوشیدہ طور پر مکتی یاب کے ذمّہ ایک گناہ رکھ لیتا ہے اور پھر اُسی گناہ کا الزام دے کر مکتی خانہ سے اُس کو باہر نکالتا ہے (۱۰) اُس نے اپنے پرمیشر پر یہ نہایت قابل شرم دھبہ لگایا کہ وہ جاودانی مکتی دینے پر قادر نہیں ہے اور پھر جھوٹ یہ بولا کہ اعمال محدود ہیں اس لئے جزا بھی محدود ہی چاہیئے حالانکہ یہ بیان خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ بموجب اصول آریوں کے پرمیشر اِس لئے مکتی خانہ سے ہر ایک رُوح کو باہر نہیں کرتا کہ اعمال محدود ہیں بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ اُس کو یہ قدرت ہی نہیں ہے کہ کسی کو دائمی مکتی دے سکے وجہ یہ کہ اگر دائمی مکتی سب رُوحوں کو دیدے تو پھر آئندہ اپنا کام کیونکر چلاوے اور پھر نئی پیدائش ظاہر کرنے کے لئے کہاں سے نئی رُوحیں لاوے؟ حالانکہ بموجب عقیدہ وید کے یہ ضروری امر ہے کہ ہمیشہ سلسلہ جونوں کا جاری رہے مگر جو لوگ ہمیشہ کے لئے آواگون سے نجات پاچکے وہ کیونکر دوبارہ جونوں کے چکر میں آسکتے ہیں؟ پس پرمیشر پر یہ مصیبت پڑی کہ ہمیشہ کی مکتی دینے سے اُس کا تمام کاروبار بند ہو جاتاہے کیونکہ نئی روحوں کے پیدا کرنے پر تووہ قادر ہی نہیں۔ اس صورت میں وہ کہاں سے نئی روحیں لاتا؟ ناچار میعادی مکتی قراردی گئی تا کسی طرح اُس کے راج اور حکومت میں فرق نہ آوے۔ یہ ہے ہندوؤں کا پرمیشر اور یہ ہیں وید کی ہدایتیں جن کی بِناء پر مضمون پڑھنے والے نے کہا کہ وید کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں۔ پس درحقیقت




    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 196

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 196

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/196/mode/1up


    ویدنے اپنے قابل شرم اصولوں کے ساتھ نہ پرمیشر کی عزت کا پاس کیا نہ آریوں کی آبرو کا خیال رکھا نیوگ کے عقیدہ کے ساتھ آریوں کی پگڑی اُتاری اور پرمیشر کی سلبِ قدرت اور سلبِ خالقیت کے عقیدہ کے ساتھ اُس نے اپنے پرمیشر کو بے عزت کیا۔ پس جس وید نے اپنے پرمیشر اور اپنے پیروی کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک کیا اُس سے دوسروں کو کیا توقع ہے ؟ وہ تو درحقیقت اس شعر کا مصداق ہے ؂

    تو بخویشتن چہ کردی کہ بماکنی ظہیری حقاکہ واجب آمد ز تو احتراز کردن

    مضموؔ ن پڑھنے والے نے ایک اور نشانی الہامی کتاب کی یہ پیش کی کہ اس میں اختلاف نہ ہو۔ ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ واقعی یہ نشانی الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کیونکہ اگر بیان میں تناقض پایا جاوے اور قواعد مقررہ منطق کے رُو سے درحقیقت وہ تناقض ہو تو ایسا بیان اس عالم الغیب کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا جس کی ذات غلطی اور نقص اور خطا سے پاک ہے کیونکہ تناقض سے لازم آتاہے کہ دو متناقض باتوں میں سے ایک جھوٹی ہو یا غلط ہو اور اس دونوں قسم کی منقصت سے خدا تعالیٰ کی شان بلند و برتر ہے لیکن بعض نادان اپنی کوتہ اندیشی اور حماقت سے ایسے امور میں بھی تناقض سمجھ لیتے ہیں جن کو درحقیقت تناقض سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ زید مُردہ ہے یعنی باعتبار روحانی حیات کے اور یہ کہنا کہ زید زندہ ہے یعنی باعتبار جسمانی حیات کے۔ ان دونوں فقروں میں کچھ اختلاف اور تناقض نہیں کیونکہ اعتبار الگ الگ ہیں۔ایسا ہی یہ کہنا کہ زید جو خالد کا بیٹا ہے بہت شریر آدمی ہے اور یہ کہنا کہ زید جو ولید کا بیٹا ہے بہت نیک اور بھلامانس آدمی ہے اس میں بھی کچھ تناقض اور اختلاف نہیں۔ کیونکہ موضوع یعنی وہ لوگ جن کے حالات کا بیان ہے وہ الگ الگ ہیں اور ایسا ہی یہ کہنا کہ زید صبح کے وقت جنگل میں تھا اور یہ کہنا کہ زید شام کے وقت گھر میں تھا ان دونوں فقروں میں بھی کچھ تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ اوقات الگ الگ ہیں اور ایسا ہی یہ کہنا کہ زید بغداد میں کبھی نہیں گیا اور یہ کہنا کہ زید دمشق میں گیا تھا ان دونوں فقروں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 197

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 197

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/197/mode/1up


    میں بھی کوئی تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ مکان الگ الگ ہیں اور یہ کہنا کہ زید کو میں دو روپیہ اُجرت دوں گا بشرطیکہ وہ سارا دن میرا کام کرے اور یہ کہنا کہ زید کو میں صرف آٹھ آنہ اُجرت دوں گا بشرطیکہ وہ صرف ایک پہر میرا کام کرے۔ ان دونوں فقروں میں بھی کوئی تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ شرطیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ غرض جب تک ان تمام امور متذکرہ بالا میں وحدت نہ پائی جائے اور ہر ایک قسم کی زمانی مکانی وغیرہ تفریق سے دو بیان خالی نہ ہوں تب تک نہیں کہا جائے گا کہ وہ دو بیان متناقض ہیں۔

    لیکنؔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس تناقض سے وید بھرا ہوا ہے جیسا کہ ایک طرف تو وید خد ا تعالیٰ کو قادر مطلق مانتا ہے اور اُس کو سرب شکتی مان جانتا ہے اور دوسری طرف اس کی قدرت کے تمام کاموں سے انکاری ہے اس کے خالق ارواح اور اجسام ہونے سے منکر ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ کھلے کھلے طور پر یہ عقیدہ سکھلاتا ہے کہ کیا ارواح اورکیا اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں اور اُن کے عجیب خواص سب خود بخود ہیں اور پرمیشر نے اُن کو پیدا نہیں کیا ایسا ہی اجسام کے ذرّات اور اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں خود بخود ہیں۔

    اب ظاہر ہے کہ یہ کس قدر تناقض ہے کہ ایک طرف تو پرمیشر کی کامل قدرت کو ماننا اور دوسری طرف سرے سے تمام قدرتی کاموں سے اُس کو جواب دے دینا ؟

    ایسا ہی ایک طرف تو وید اقراری ہے کہ پرمیشر تمام فیضوں کامنبع اور سرچشمہ ہے اور دوسری طرف قطعاً اس بات سے انکاری ہے کہ کوئی فیض پرمیشرکا جاری ہے کیونکہ جس حالت میں روحوں کی تمام طاقتیں اور قوتیں اور اجسام کی تمام طاقتیں اور قوتیں قدیم سے خودبخود ہیں اور انہیں طاقتوں کے ذریعہ سے وہ علوم و فنون حاصل کرتی ہیں۔ تو کیا اس سے ثابت نہ ہوا کہ پرمیشر کا اُن پر ذرہ فیض نہیں ؟ اور اگرکہو کہ اگرچہ وہ قوتیں تو خودبخود ہیں لیکن علوم اورمعارف کا فیض تو پرمیشر کی طرف سے ہوتا ہے اِس کا جواب یہ ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے پرمیشر اپنی طرف سے کوئی نیکی اور خیر اور فیض انسان کو نہیں پہنچا سکتا اور جو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 198

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 198

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/198/mode/1up


    کچھ انسان کو کوئی بہتری اور خیر اور فیض پہنچتا ہے وہ تمام اُس کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جو کچھ وید کے رشیوں پر الہام ہوا ہے وہ پرمیشر کا کچھ بھی احسان اور فیضان نہیں بلکہ خود ان رشیوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔پس یہ عجیب پرمیشر ہے نہ روحوں کو اُس نے پیدا کیا اور نہ اُن کو کوئی فیض پہنچا سکتا ہے اور پھر یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ تمام فیوض کا منبع ہے۔ کیا یہ صریح تناقض اور اختلاف بیانی وید میں موجود ہے یا نہیں ؟

    ایسا ہی وید کی طرف سے یہ دعویٰ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ توحید کی دعوت کرتا ہے حالاؔ نکہ دوسری طرف وید کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خدا اپنی ازلیت و ابدیت میں واحد نہیں بلکہ ذرّہ ذرّہ اس عالم کا اور نیز تمام روحیں ازلیّت و ابدیّت میں اُس کی شریک ہیں اور نیز ایک طرف تو وید کی طرف توحید کو منسوب کیا جاتا ہے اور دوسری طرف کھلے کھلے طور پر وہ مخلوق پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور اگنی وایو وغیرہ کی پرستش سے سارا وید بھرا پڑا ہے۔

    پس جس حالت میں وید کی اختلاف بیانی اور تناقض کا یہ حال ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وید نے اس شرط کو پورا نہیں کیا اور نہ اس نے ایسا دعویٰ کیا کہ اس میں اختلاف بیان نہیں لیکن قرآن شریف یہ دعوےٰ کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3 3 ۱؂ یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں تدبّر نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔ اور ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں تو اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ اگراُن کے نزدیک کوئی اختلاف تھا تو وہ پیش کرتے مگر سب ساکت ہوگئے اور کسی نے دم نہ مارا۔ او راختلاف کیونکر اور کہاں سے ممکن ہے جس حالت میں تمام احکام ایک ہی مرکزکے گرد گھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرایہ میں خدا کی توحید پر قائم کرنا اور ہواو ہوس چھوڑا کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا یہی قرآن کا مدّعا ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے ایک او رنشانی الہامی کتاب کی یہ پیش کی کہ اس میں کسی کی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 199

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 199

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/199/mode/1up


    طرفداری نہ ہو اس تحریر سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص ہوش و حواس کی قائمی سے بات نہیں کرتا کیونکہ جس قدر وید پکش پات اور طرفداری سے بھرا ہوا ہے اس کا نمونہ دوسری جگہ ملنا ناممکن ہے مثلاً اس سے بڑھ کر طرفداری کیا ہوگی کہ باوجودیکہ کروڑہا اربوں بلکہ بے شمار مدتوں سے دنیا چلی آتی ہے لیکن اب تک پرمیشر نے اس طرفداری اور پکش پات کو نہیں چھوڑا کہ ہمیشہ آریہ ورت میں ہی وید کو نازل کرتا رہا ہے اور سنسکرت زبان میں ہی نازل کرؔ تا ہے اور ہمیشہ اُس کی پارلیمنٹ میں ملہم بننے کے لئے اگنی۔ وایو۔ آدت۔ انگرا ہی انتخاب کئے جاتے ہیں۔ پس کیا اس طرفداری سے بڑھ کر کوئی اور بھی طرفداری ہوگی کہ جو وید میں پائی جاتی ہے کہ ہمیشہ الہامی کتاب کے لئے آریہ ورت کو ہی اختیار کرتا ہے اور قدیم سے سنسکرت زبان میں ہی الہام کرتا چلا آیا ہے ایسا ہی اُس کو الہام دینے کے لئے اگنی۔ وایو۔ انگرا۔ آدت ہی پسند آتے ہیں۔ اور ہمیشہ ایسی اعلیٰ جون اُن کو دیتا ہے کہ جو لائق الہام پانے کے ہوتی ہے اور یہ معاملہ نہ ایک دفعہ نہ د و دفعہ نہ تین دفعہ ظہور میں آتا ہے بلکہ بیشمار اربوں تک اس پر گذر چکے ہیں کہ وہ ایسا ہی کرتا ہے اور جس طرح گورنمنٹ برطانیہ کے افسروں کو گرمی کے دنوں میں شملہ پسند آیا ہوا ہے پرمیشر کو آریہ ورت پسند آگیا ہے۔ دوسرے ملکوں کے باشندوں سے بے وجہ ناراض ہے یا اب تک اس کو اُن کے وجود کا علم ہی نہیں۔ اب کوئی آریہ صاحب انصاف سے فرماوے کہ کیا یہ طریق پرمیشر کا طرفداری اور پکش پات ہے یا کوئی اور بات ہے ؟ اور اگر کوئی اور بات ہے تومع دلائل اُس کو بیان کردیں۔

    مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی بتلائی کہ اس میں ایسی باتیں نہ ہوں کہ خدا نے فلاں کام میں مکّاری کی۔ اس کا جواب ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مکر اُن باریک تدبیروں اور تصرفات کو کہتے ہیں کہ وہ ایسے مخفی اور مستور ہوں کہ جس شخص کے لئے وہ تدابیر عمل میں لائی گئی ہیں وہ اُن تدبیروں کو شناخت نہ کرسکے اوردھوکا کھاجائے پس مکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔

    (۱) اوّل وہ کہ جن کے عملدرآمد سے ارادہ خیر اور بہتری کا کیا گیا ہے اور کسی کو نقصان پہنچانا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 200

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 200

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/200/mode/1up


    منظور نہیں ہے جیسا کہ ماں اپنے بچہ کو اس مکر سے دوا پلا دیتی ہے کہ وہ ایک شربت شیریں ہے اور میں نے بھی پیا ہے بڑا میٹھا ہے اور اس مکر سے بچہ کے دل میں ایک خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دوا کو پی لیتا ہے اور جیسا کہ پولس کے بعض لوگوں کو یہ خدمت سپرد ہے کہ وہ پولس کی وردی نہیں رکھتے اور عام لوگوں کی طرح سفید پوش رہتے ہیں اور پردؔ ہ میں بدمعاشوں کو تاڑتے رہتے ہیں۔ پس یہ بھی ایک قسم کا مکر ہے مگر نیک مکر۔ ایسا ہی طالب علم یا وکلاء یا ڈاکٹروں کاامتحان لینے والے یا کسی اور صیغہ میں جو ممتحن ہوتے ہیں وہ بھی نیک نیتی سے سوال بنانے کے وقت ایک حد تک مکر کرتے ہیں۔ پس اسی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ مکر جو خدا کی شان کے مناسب حال ہیں وہ اس قسم کے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ نیکوں کو آزماتا ہے اور بدوں کو جو اپنی شرارت کے مکر نہیں چھوڑتے سزا دیتا ہے اور اُس کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مخفی رحمتیں یا مخفی غضب

    اس کے قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مکّار شریر آدمی جو اپنے بدمکروں سے باز نہیں آتا بعض اسباب کے پیدا ہونے سے خوش ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ان اسباب کے ذریعہ سے جو میرے لئے میسر آگئے ہیں ایک مظلوم کو انتہا درجہ کے ظلم کے ساتھ پیس ڈالوں گا مگر انہیں اسباب سے خدا اسی کو ہلاک کردیتا ہے اور یہ خدا کا مکر ہوتا ہے جو شریر آدمی کو اُن کاموں کے بد نتیجے سے بے خبر رکھتا ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ اس مکر میں اُس کی کامیابی ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ایسے کام خدا تعالیٰ کے دنیا میں ہزارہا پائے جاتے ہیں کہ وہ ایسے شریر آدمی کو جو بد مکروں سے بے گناہوں کو دُکھ دیتا ہے اپنے نیک اور عدل کے مکر سے سزا دیتا ہے۔

    اب ہم عام فائدہ کے لئے کتاب لسان العرب سے جو ایک پرانی اور معتبر کتاب لغت کی ہے مکر کے معنے لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے المکر احتیال فی خفیۃ۔ وان الکید فی الحروب حلالٌ۔ وا لمکر فی کل حلا ل حرام۔ قال ا للّٰہ تعا لٰی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 201

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 201

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/201/mode/1up


    قال اھل العلم بالتأْویل المکرمن اللّٰہ تعالٰی جزاء سمی باسم مکر المجازی۔ ترجمہ۔ مکر اس حیلہ کو کہتے ہیں جو پوشیدہ رکھا جائے۔ جنگوں میں اس قسم کے حیلے حلال ہیں۔ اور ہر ایک حلال امر کو حیلہ کرکے ٹالنا یہ حرام ہے اور قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں نے اپنی دانست میں ایک بڑا مکر کیا اور ہم نے بھی مکر کیا اور وہ ہمارے مکر سے بے خبر تھے اور اہل علم کہتے ہیں کہ خدا کا مکر یہ ہے کہ مکّاؔ ر کو مکر کی سزا دینا۔ اور قرآن شریف میں پوری آیت یہ ہے۔

    وَكَانَ فِىْ الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِىْ الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ۔قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۔وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْاؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاَيَةً لِّـقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔ وَاَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔؂ (الجزو نمبر۱۹ سورۃ النمل رکوع ۱۸و۱۹) ترجمہ۔ اور شہر میں نو۹ شخص ایسے تھے جن کا پیشہ ہی فساد تھا اور اصلاح کے روادار نہ تھے انہوں نے باہم قسمیں کھائیں کہ رات کو پوشیدہ طور پر شبخون مارکر اس شخص کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کردو اور پھر ہم اس کے وارث کو جو خون کا دعویدار ہوگا یہ کہیں گے کہ ہم توان لوگوں کے قتل کرنے کے وقت اس موقع پر حاضر نہ تھے اور ہم سچ سچ کہتے ہیں یعنی یہ بہانہ بنائیں گے کہ ہم تو قتل کرنے کے وقت فلاں فلاں جگہ گئے ہوئے تھے جیسا کہ اب بھی مجرم لوگ ایسے ہی بہانے بنایا کرتے ہیں تا مقدمہ نہ چلے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو دیکھ کہ اُن کے مکر کا انجام کیا ہوا ہم نے اُن کو اور اُن کی تمام قوم کو ہلا ک کردیا۔ اور یہ گھر جوویران پڑے ہوئے ہیں یہ اُنہیں کے گھر ہیں ہم نے اس لئے ان کو یہ سزادی کہ یہ ہمارے برگزیدہ بندوں پر ظلم کرتے تھے اور باز نہیں آتے تھے۔ پس ہمارا یہ عذاب ان لوگوں کے لئے ایک نشان ہے جو جانتے ہیں۔ اور ہم نے اُن ظالم لوگوں کے ہاتھ سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 202

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 202

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/202/mode/1up


    اُن ایمانداروں کو نجات دے دی جو متقی اور پرہیزگار تھے۔ سو خدا کا مکر یہ تھا کہ جب شریر آدمی شرارت میں بڑھتے گئے تو ایک مدت تک خدا نے اپنے ارادہ عذاب کو مخفی رکھا۔ اور جب اُن کی شرارت نہایت درجہ تک پہنچ گئی بلکہ انہوں نے ایک بڑا مکر کرکے خدا کے برگزیدوں کو قتل کرنا چاہا۔ تب وہ پوشیدہ عذاب خدا نے اُن پر ڈال دیا جس کی اُن کو کچھ بھی خبر نہ تھی اور اُن کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس طرح ہم نیست و نابود کئے جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندوں کو ستانا اچھا نہیں آخر خدا پکڑؔ تا ہے کچھ مدت تک تو خدا اپنے ارادہ کو مخفی رکھتا ہے اوروہی اُس کا ایک مکر ہے مگر جب شریر آدمی اپنی شرارت کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تب خدا اپنے ارادہ کو ظاہرکردیتا ہے پس نہایت بدقسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ بندوں کے مقابل پر محض شرارت کے جوش سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُن کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں آخر خدا اُن کو ہی ہلاک کرتا ہے۔ اِس کے بارہ میں رومی صاحب کا یہ شعر نہایت عمدہ ہے۔

    تا دلِ مردِ خدا نامد بدرد ہیچ قومے را خُدا رُسوا نہ کرد

    پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اُس میں کسی کا مال لوٹنے کے لئے حکم نہ دیا گیا ہو ہم اس سے بھی یہی بات نکالتے ہیں کہ یا تو یہ شخص وید سے ناواقف ہے اور یا وید کے رشیوں کا پکّا دشمن ہے۔ کیونکہ بار بار وہی باتیں بیان کرتا ہے جو وید کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ ناظرین کے لئے رگوید کی چند شُرتیاں لوٹ کے بارے میں لکھ دیتے ہیں اوروہ یہ ہیں:۔ اگنی کے آگے ایک دعا کرکے آخری فقرہ شُرتی کا یہ ہے۔ ایسا ہو کہ ہم لڑائیوں میں اپنے دشمنوں سے لوٹ حاصل کریں اے اِندر گو ہم مستحق نہ ہوں پر توہمیں ہزارہا گوئیں اور گھوڑے دے کر مالا مال کر۔ اے خوبصورت اور طاقتور اِندر خوراک کے مالک تیری شفقت ہمیشہ قائم رہتی ہے ہزاروں عمدہ گھوڑے اور گوئیں ہمیں دے ہرایک کو جو ہمیں گالی دیتا ہے غارت کر یعنی اُن کا مال گوئیں وغیرہ ہمیں دے دے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 203

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 203

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/203/mode/1up


    اے اندر اور اگنی بجر گھمانے والو شہروں کے غارت کرنے والو ہمیں دولت عطا کرو۔ لڑائیوں میں ہماری مدد کرو یعنی بہت سا لوٹ کا مال ہمیں دو۔ اے اندر جو سب دیوتاؤں میں اول درجہ کا دیوتا ہے ہم تجھے بلاتے ہیں تو نے لڑائیوں میں بہت سا لوٹ کا مال حاصل کیا ہے۔ اے اجیت اندر ایسی لڑائیوں میں ہماری حفاظت کر جہاں سے بہت لوٹ ہمارے ہاتھ آوے۔ ہم اندر کو جو ہمارے دشمنوں کے مقابل پر بجر گھماتا ہے اور جو ہمارا مدد گار ہے بے شمار دولت حاصل کرنے کے لئے بلاتے ہیں۔ (وید کی تعلیم کی رُو سے لوٹ کا مال اکثر اندر ہی دیا ؔ کرتا ہے) اے اگنی ہم نے تجھے کبھی کا ہوم کرکے بلایا ہے ہمارے دشمنوں کو جلا دے۔

    اب کوئی آریہ صاحب بتلاویں کہ یہ شُرتیاں وید میں ہیں یا قرآن شریف میں۔ قرآن شریف میں تو کہیں نہیں لکھا کہ اپنے دشمنوں کو آگ سے جلادو اور اُن کا مال لوٹ لو۔ یہ ایک سخت بدذاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام پر ناحق تہمت لگائی جاتی ہے۔ قرآن شریف میں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور اُن کا مال لوٹا اور اُن کو وطن سے نکالا تم بھی بعوض اس نقصان کے اُن کا مال لوٹ لو۔ اور جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ لڑائیوں کی وضع اسی طرح چلی آئی ہے کہ فتح کرنے والے مغلوب فریق کامال لوٹ لیتے ہیں بلکہ اُن کے ملک پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں۔ آج کل بھی فتح پانے والے بادشاہوں میں یہی رسم جاری ہے مگر قرآن شریف نے ظلم اور زیادتی کی تعلیم نہیں دی اور صرف مظلوموں کی نسبت لڑائی کرنا جائز رکھا ہے اور نیز یہ کہ جس طرح دشمن نے اُن کامال لوٹ لیا ہے وہ بھی لوٹ لیں زیادتی نہ کریں۔ پس کس قدر بے حیائی بے شرمی بے ایمانی ہے کہ ناحق قرآن شریف پر یہ تہمت تھا پ دی جاتی ہے کہ گو یا اُس نے آتے ہی بغیر اس کے کہ فریق ثانی سے مجرمانہ حرکتیں صادر ہوں لوٹ اور قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ ہمیں ایسی کوئی آیت سارے قرآن شریف میں نہیں ملتی اگر آریوں نے کوئی ایسی آیت دیکھی ہے جس سے یہ پایا جاتا ہو کہ بغیر فریق ثانی کے ظلم اورمجرمانہ حرکات کے اُن کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم ہو تو ان پر کھانا حرام ہے جب تک وہ آیت پیش نہ کریں۔ یوں ہی کسی آیت کا سرپیر کاٹ کر اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 204

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 204

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/204/mode/1up


    اپنے مطلب کے موافق بناکر پیش کردینا یہ تو اُن لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گُنڈے کہلاتے ہیں۔ خدا تو قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُ ۱؂ یعنی جن مسلمانوں پر ناحق قتل کرنے کے لئے چڑھائی کی جاتی ہے خدا نے دیکھا کہ وہ مظلوم ہیں اس لئے خدا بھی اُن کو مقابلہ کرنے کے لئے اجازت دیتا ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے ایک نشانی الہامی کتاب کی یہ بیان کی کہ پیدائش اور فنا کے ؔ بارے میں اس میں صحیح صحیح حالات درج ہوں۔ واضح ہو کہ اس نشانی کی حقیقت بیان کرنے کے بارے میں ہم چنداں ضرورت نہیں دیکھتے۔ کیونکہ پہلے بھی وضاحت کے ساتھ ہم لکھ چکے ہیں کہ ان دونوں نشانیوں میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے۔ کیونکہ بموجب قول آریہ سماج کے وید کی یہ تعلیم ہے کہ ارواح اورذرات اجسام انادی اور غیر مخلوق اور قدیم سے پرمیشر کی طرح خود بخود ہیں اور اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں بھی خود بخود ہیں۔ اور انسان کے مرنے کے وقت میں اُس کی رُوح آسمان کی فضا میں چلی جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور وہ گھاس کوئی کھا لیتا ہے اور اس طرح پر نطفہ کے اندر ہوکر وہ رُوح کسی عورت کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔ یہ ہے وید کی فلاسفی جو پیدائش اور فنا کے متعلق ہے اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کرچکے ہیں کہ یہ ایسا بدیہی البطلان عقیدہ ہے کہ ایک بچہ بھی اُس پر ہنسے گا۔ اگر رُوحیں خود بخود ہیں اور اُن کی طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر پرمیشر پرمیشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کرانے کے لئے اس کاکوئی حق ٹھہرتا ہے اور اس کا رُوحوں پر حکومت کرنا صرف قبضہ جابرانہ ہوگا اور ہم کوئی دوسرانام اس قبضہ کا نہیں رکھ سکتے۔ ایسا ہی اس عقیدہ سے اس کی توحید تمام درہم برہم ہو جاتی ہے اور قدامت میں ذرّہ ذرّہ اُس کے وجود کے ساتھ برابر ہو جاتا ہے۔ اور نیز بڑی خرابی یہ ہے کہ اس صورت میں وہ منبع فیوض نہیں ٹھہرسکتا کیونکہ جب کہ رُوحیں خودبخود ہیں اور اُن کی طاقتیں خودبخود ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ اُن کے ادراک مجہولات



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 205

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 205

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/205/mode/1up


    کی قوت بھی خودبخود ہوگی۔ اس صورت میں اُن کو ادراک مجہولات کے لئے پرمیشر کی کچھ بھی حاجت نہ رہی اور اس سے ماننا پڑے گا جیسا کہ رُوحیں قدیم سے خودبخود ہیں ایسا ہی علوم ضرور یہ کے تمام دروازے بھی قدیم سے اُن پر کھلے پڑے ہیں۔ پس اس صورت میں پرمیشر کی کچھ بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر یہ کہو کہ رُوحیں تو خودبخود ہیں مگر اُن کے صفات خودبخود نہیں تو یہ خیال خود غلط ہے کیونکہ کسی چیز کا تحقق وجود بغیر تحقق صفات کے ممکن نہیں غرض اس عقیدہ سے پرمیشر سرچشمہ فیوض نہ رہا۔ اور اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگیا اور نیز اُس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں رہی جس سے سمجھا جائے کہ وہ موجود بھی ہے اور نیز اس عقیدہ سے پرمیشر تمام تعریفوں کا مستحق نہ رہا کیونکہ جب روحیں مع اپنی طاقتوں کے اور ایسا ہی ذرات اجسام مع اپنی طاقتوں کے قدیم سے خودبخود ہیں اور پرمیشر کا اُن میں دخل نہیں تو پھر پرمیشر تمام تعریفوں کا کیونکر مستحق ہوسکتا ہے؟ اور جن اپنی قدیم قوتوں کے ذریعہ سے کوئی شخص اعمال بجا لاتا ہے اُن اعمال کی بجا آوری میں بھی پرمیشر کا کچھ دخل قرارنہیں پاسکتا کیونکہ پرمیشر کے فیض کا اُن میں ایک ذرہ دخل نہیں اور یہ خود آریوں کے نزدیک مسلّم امر ہے کہ پرمیشر اپنی طرف سے عطیہ کے طور پر کچھ نہیں دے سکتا بلکہ سب کچھ جو انسان کو ملتا ہے وہ محض اعمال کا نتیجہ ہے پس کسی آریہ کو یہ توفیق نہیں مل سکتی کہ وہ الحمد للّٰہکہہ سکے یعنی یہ کہ تمام محامد اور تمام تعریفیں خدا سے خاص ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک جیسا کہ پرمیشر میں خوبیاں ہیں ایسا ہی روحوں اور ذرّات اجسام میں بھی خوبیاں ہیں کیونکہ وہ پرمیشر کی طرح قدیم سے خود بخود ہیں اور جن طاقتوں کو وہ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ بھی پرمیشر کی طاقتوں اور صفات کی طرح خود بخود ہیں اور انسان محض اپنی ذاتی طاقت سے اچھے اعمال بجا لاتا ہے نہ پرمیشر کی کسی مدد سے کیونکہ اوّل تو پرمیشر کو مدد دینے کے لئے قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ پرمیشر کی مدد کی ضرورت ہی نہیں خود بخود سب کچھ حاصل ہے۔ ماسوا اس کے اگر وہ انسانوں کو نیک اعمال کے بجا لانے پر کچھ مدد دے تو اس سے آریہ سماج کا اصول ٹوٹتا ہے اوروہ یہ کہ پرمیشر بغیر عوض اعمال کے کچھ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 206

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 206

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/206/mode/1up


    نہیں دے سکتا*۔ اس کے مقابل پر وہ عقیدہ دیکھو کہ قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے جیسا کہ وہ فرماتاہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ۔نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ

    صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔‏ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ (ترجمہ) تمام تعریفیں اور تمام مدح اور تمام استت اور مہماخدا کے لئے مسلّم اور مخصوص ہے جو تمام چیزوں کا پیدا کرنے والااور پرورش کرنے والا ہے۔ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جو اُسؔ کی پیدا کردہ نہیں اور اُس کی پرورش کردہ نہیں۔ وہ رحمن ہے یعنی وہ بغیر عوض اعمال کے اپنے تمام بندوں کو خواہ کا فر ہیں خواہ مومن اپنی نعمتیں دیتا ہے اور اُن کی آسائش اور آرام کے لئے بے شمار نعمتیں اُن کو عطا کر رکھی ہیں اور وہ رحیم ہے یعنی پہلے تو وہ اپنی رحمانیت سے جس میں انسان کی کوشش کا دخل نہیں ایسے قویٰ اور طاقتیں اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے جن سے نیک اعمال بجا لاسکیں اور تکمیل اعمال کے لئے ہر ایک قسم کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور پھر جب اُس کی رحمانیت سے انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ اعمال نیک بجا لاسکے تو ان اعمال کی جزا کے لئے خدا تعالیٰ کا نام رحیم ہے۔ اور جب انسان خدا تعالیٰ کی رحیمیت سے فیضیاب ہو کر اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف سے ابدی انعام و اکرام پاوے تو اس ابدی انعام و اکرام کے دینے کے لئے خدا تعالیٰ کا نام مالک یوم الدین ہے پھر بعد اس کے فرمایا کہ اے وہ خدا جو ان صفات کا تو جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ نیک امور میں تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔ اور اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیرے غضب کے نیچے ہیں (یعنی ایسی شوخی اور شرارت کے کام کرتے ہیں جو اسی دنیا میں مورد غضب ہو جاتے ہیں) اور ہمیں اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیری راہ کو بھول


    * اگر پرمیشر خود بخود کچھ دے سکتا تو پھر آریوں کی مکتی محدود کیوں ٹھہرتی ؟ پرمیشر میں یہ صفت ہی نہیں تھی کہ

    اپنی طرف سے بطور فیاضی کچھ عطا کر سکتاتبھی تو مکتی بھی محدود رکھنی پڑی کیسے بدقسمت وہ لوگ ہیں جن کا پرمیشر ایسا کمزور اور صفت جودو سخا سے محروم ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 207

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 207

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/207/mode/1up


    گئے ہیں اوروہ راہیں اختیار کرتے ہیں جو تیری مرضی کے موافق نہیں۔ آمین۔

    اب دیکھو کہ قرآن شریف کی یہ سورۃ جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے کیسی توحید سے پُر ہے جو کسی جگہ انسان کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ میں خود بخود ہوں اورخدا کا پیدا کردہ نہیں اور نہ یہ دعویٰ ہے کہ میرے اعمال اپنی قوت اور طاقت سے ہیں اور وید کی طرح اُس میں یہ دُعا نہیں کہ ’’اے پرمیشر ہمیں بہت سی گوئیں دے اور بہت سے گھوڑے دے اور بہت سا لوٹ کا مال دے‘‘ بلکہ یہ دعا ہے کہ ہمیں وہ راہ دکھاجس راہ سے انسان تجھے پالیتا ہے اور تیرا رُوحانی انعام واکرام اسے نصیب ہوتا ہے اور تیرے غضب سے بچتا ہے اور گمراہی کی راہوں سے محفوظ رہتا ہے۔

    اسیؔ طرح قرآن شریف میں یہ تعلیم نہیں ہے کہ جب ایک انسان مر جاتا ہے تو اُس کی رُوح دو ٹکڑے ہوکر شبنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اورہم پہلے اس سے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے بلکہ رُوح اور اُس کی تمام طاقتیں خدا کی پیدائش ہے اور کوئی رُوح واپس نہیں آتی۔ اس سے ظاہرہے کہ وید نے روحوں کی پیدائش اور فنا کے بارہ میں دونوں پہلو سے سخت غلطی کی ہے چاہئے کہ اس بارہ میں ہمارے گذشتہ بیان کو غور سے پڑھیں۔

    پھرمضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ الہامی کتاب کی ایک نشانی یہ ہے کہ اُس میں راجا پرجا اور والدین اور اولاد کے سب حقوق انصاف سے درج ہوں مگر مجھے تعجب ہے کہ یہ شخص اس قدر جلدی دیا نند کی اس تعلیم کو کیوں بھول گیا جو ویدوں کی رُو سے ستیارتھ پرکاش میں درج ہے جس میں لکھا ہے کہ اُسی راجا کو ماننا چاہئے جو ویدوں کی تعلیم کے موافق چلتا ہو اس تعلیم میں اس نے صاف اشارہ کیا ہے کہ جو بادشاہ آریہ مذہب کا پابند نہ ہوگو وہ کیسا ہی عادل ہو کیسا ہی رحم کرنے والا ہو کیسا ہی شرائط رعیت پروری پورا کرنے والا ہو اُس کو ہرگز قبول نہیں کرناچاہئے۔ اور یہی تعلیم تھی جس نے انہیں ایام میں بڑے عقلمند اور سمجھ دار اور تعلیم یافتہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 208

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 208

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/208/mode/1up


    آریوں کو باغیانہ حرکت کامرتکب کیا۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ بعض وحشی مسلمان جو تعلیم قرآنی سے بالکل بے خبر ہیں باوجود رعیت کہلانے کے باغیانہ حرکت کر بیٹھتے ہیں مگر ہم ایک تعلیم یافتہ قوم کو جاہلوں کے ساتھ برابر نہیں کرسکتے۔ جاہلوں کی نسبت یہ مقولہ امیر عبد الرحمن خان کا بہت صحیح ہے کہ افغان برنصف قرآن عمل میکنند۔ قرآن شریف میں صاف اور صریح طور پر فرمایا گیا ہے کہ عادل بادشاہوں کی فرمانبرداری کرو اور بغاوت سے پرہیز کرو۔ اور جس بادشاہ یاجس کسی سے احسان دیکھو اس کا شکر کرو اور سب سے بھلائی کرو۔ مگر وید کی ہدایت اس کے برخلاف ہے اگر چاہو تو ستیارتھ پرکاش میں دیکھ لو۔

    اسؔ نشانی کادوسرا فقرہ مضمون پڑھنے والے نے یہ لکھا ہے کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ والدین اور اولاد کے سب حقوق انصاف سے اُس میں درج ہوں۔ سبحان اللہ ان لوگوں کی حالت تعصب کی وجہ سے کہاں تک پہنچ گئی ہے کہ محض اس غرض سے الہامی کتاب کی نشانیاں اپنی طرف سے تراشتے ہیں کہ تا قرآن شریف پر کوئی زد پیدا ہو جائے مگرخدا کی کلام پر کیونکر زد پیدا ہو اس لئے اُن کی وہ زد اُلٹ کروید ہی پر پڑتی ہے۔ قرآن شریف نے جس قدر والدین اور اولاد اور دیگر اقارب اور مساکین کے حقوق بیان کئے ہیں۔ میں نہیں خیال کرتا کہ وہ حقوق کسی اور کتاب میں لکھے گئے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ 3333 ۱؂ الجزو نمبر۵ سورۃ النساء۔(ترجمہ) تم خدا کی پرستش کرو۔ اور اُس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ۔ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دُور کے تمام رشتہ دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسا ن کرو۔ اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 209

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 209

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/209/mode/1up


    رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اوروہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔ خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔ مگر افسوس ! کہ ایک آریہ بجز عوض معاوضہ کے کسی پر رحم نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ صفت اُس کے پرمیشر میں بھی موجود نہیں کیونکہ وہ بھی صرف اعمال کی جزا دے سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں اور اسی وجہ سے مکتی محدود ہے نہ دائمی*۔

    اور ؔ پھر والدین کے حقوق کی بجاآوری کے لئے قرآن شریف میں ایک اور جگہ حکم فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ 33 33


    * ایک دوسری جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 33333 ۱؂ (الجزو نمبر ۲۶ سورۃ الاحقاف ) (ترجمہ ) اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے یہ اس وجہ سے کہ مشکل سے اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں اس کو رکھا اور مشکل ہی سے اس کو جنا اور یہ مشکلات اس دور دراز مدت تک رہتی ہیں کہ اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کے دودھ کا چھوٹنا تیس مہینہ میں جا کر تمام ہوتا ہے یہاں تک کہ جب ایک نیک انسان اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ اے میرے پروردگارمجھ کو اس بات کی توفیق دے کہ تونے جو مجھ پر اور میرے ماں باپ پر احسانات کئے ہیں تیرے ان احسانات کا شکریہ ادا کرتا رہوں اور مجھے اس بات کی بھی توفیق دے کہ میں کوئی ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو جائے اور میرے پر یہ بھی احسان کر کہ میری اولاد نیک بخت ہو اور میرے لئے خوشی کا موجب ہو اور میں اولاد پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ ہر یک حاجت کے وقت تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں ان میں سے ہوں جو تیرے آگے اپنی گردن رکھ دیتے ہیں نہ کسی اور کے آگے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 210

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 210

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/210/mode/1up


    ۱؂ الجزو نمبر ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل (ترجمہ) تیرے ربّ نے یہ حکم کیاہے کہ تم فقط میری ہی پرستش کرو او ر ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں پس تو اُن کی نسبت کوئی بیزاری کا لفظ منہ پر مت لا اور اُن کو مت جھڑک اور سخت لفظ مت بول اور جب تو اُن سے بات کرے تو تعظیم اور ادب سے کر اور مہربانی کی راہ سے اُن دونوں کے آگے اپنے بازو جھکا دے اور دعا کرتا رہ کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ انہوں نے بچپن کے زمانہ میں رحم کرکے میری پرورش کی۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے 33333۲؂ (الجزو نمبر۲ سورۃ البقرہ) ترجمہ۔ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاوے تو اگر اُس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو چاہئے کہ ماں باپ کے لئے اس مال میں سے کچھ وصیت کرے ایسا ہی خویشوں کے لئے بھی معروف طورپر جو شرع اور عقل کے رُو سے پسندیدہ

    ہے اور مستحسن سمجھا جاتا ہے وصیت کرنی چاہئے یہ خدا نے پرہیز گاروں کے ذمہ ایک حق ٹھہرادیاہے جس کو بہرحال ادا کرنا چاہئے یعنی خدا نے سب حقوق پر وصیت کو مقدم رکھا ہے اور سب سے پہلے مرنے والے کے ؔ لئے یہی حکم دیا ہے کہ وہ وصیت لکھے۔ اور پھر فرمایا کہ جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمداً مرتکب ہوں۔ تحقیق اللہ سنتا اور جانتا ہے یعنی ایسے مشورے اُس پر مخفی نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں کہ اُس کا علم ان باتوں کے جاننے سے قاصر ہے اور پھر فرمایا کہ جس شخص کو یہ خوف دامنگیر ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ کجی اختیار کی ہے یعنی بغیر سوچنے سمجھنے کے کچھ غلطی کر بیٹھا ہے یا کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے یعنی عمداً کوئی ظلم کیا ہے اور اُس نے اس بات پر اطلاع پاکر جن کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 211

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 211

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/211/mode/1up


    لئے وصیت کی گئی ہے اس میں کچھ مناسب اصلاح کردے تو اس پر کوئی گناہ نہیں تحقیق اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

    اور پھر حقوق اولاد کے بارہ میں ایک جگہ فرمایا۔ 33 3 ۱؂ الجزو نمبر ۲ سورۃ البقرۃ (ترجمہ) یعنی ماؤں کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو دو برس کامل تک دودھ پلاویں اگر وہ مدت رضاعت کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔ اور اُن کی خوراک پوشاک اس مرد کے ذمہ ہے جس کے وہ بچے ہیں۔

    اور پھر ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔

    لِّلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبَىٰ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا‏۔وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوْا اللّٰهَ وَلْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا‏۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِىْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا۔ يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِىْۤ اَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُؕ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِىْ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لَـكُمْ نَفْعًا فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا۔‏وَلَـكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَمِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 212

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 212

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/212/mode/1up


    مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْمِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍؕ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِىْ الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍۙ غَيْرَ مُضَآرٍّۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌؕ۔۔الجزو نمبر۴ سورۃ النساء ۔ ترجمہ۔ مردوں کے لئے اُس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ ایسا ہی عورتوں کے لئے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ اس میں سے کسی کا حصہ تھوڑا ہو یا بہت ہو بہرحال ہر ایک کے لئے ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور جب ترکہ کے تقسیم کے وقت ایسے قرابتی لوگ حاضر آویں جن کو حصہ نہیں پہنچتا۔ ایسا ہی اگر یتیم اور مسکین بھی تقسیم کے موقع پر آجاویں تو کچھ کچھ اس مال میں سے اُن کو دے دو اور اُن سے معقول طور پر پیش آؤ یعنی نرمی اور خلق کے ساتھ پیش آؤ ۔اور سخت جواب نہ دو۔ اور وارثان حق دار کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ مرتے تو اُن کے حال پر اُن کو کیسا کچھ ترس نہ آتا اور کیسی وہ اُن

    کی کمزوری کی حالت کو دیکھ کر خوف سے بھر جاتے پس چاہئے کہ وہ کمزور بچوں کے ساتھ سختیؔ کرنے میں اللہ سے ڈریں اور اُن کے ساتھ سیدھی طرح بات کریں یعنی کسی قسم کے ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق خورد برد کرتے ہیں وہ مال نہیں کھاتے بلکہ آگ کھاتے ہیں۔ تمہاری اولاد کے حصوں کے بارے میں خدا کی یہ وصیت ہے کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو*۔ پھر اگر لڑکیاں دو یا دو سے بڑھ کر ہوں تو جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے اُس مال میں سے اُن کا حصہ تہائی ہے اور اگر لڑکی اکیلی ہو تو وہ مال متروکہ میں سے نصف کی مستحق ہے اور میّت کے ماں باپ کو یعنی دونوں میں سے ہر ایک کو اس مال میں سے جو میّت نے چھوڑا


    * یہ اس لئے ہے کہ لڑکی سسرال میں جا کر ایک حصہ لیتی ہے پس اس طرح سے ایک حصہ ماں باپ کے گھر سے پاکر اور ایک حصہ سسرال سے پاکر اس کا حصہ لڑکے کے برابر ہوجاتا ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 213

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 213

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/213/mode/1up


    ہے چھٹا حصہ ہے اور یہ اس حالت میں کہ مرنے والا کچھ اولاد چھوڑ گیا ہو۔ اور اگر مرنے والا لا ولد مرا ہو اور اُس کے وارث صرف ماں باپ ہوں تو ماں کا حصہ صرف ایک تہائی ہے۔ باقی سب باپ کا۔ اگر ماں باپ کے علاوہ میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہوں تو اس صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہوگا۔ لیکن یہ حصہ وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد دینا ہوگا۔ تمہارے باپ ہوں یا بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ اُن میں سے باعتبار نفع رسانی کے کونساتم سے زیادہ قریب ہے پس جو حصے خدا نے قرار دے دیئے ہیں اُن پر کاربند ہو جاؤ۔ کیونکہ وہ صرف خدا ہی ہے جس کا علم غلطی اور خطا سے پاک ہے اور جو حکمت سے کام کرتا اور ہرایک مصلحت سے واقف ہے اور جو ترکہ تمہاری بیبیاں چھوڑ مریں پس اگر وہ لا ولد مرجاویں تواُن کے ترکے میں سے تمہارا آدھا حصہ ہے اور اگر تمہاری بیبیوں کی اولاد ہے تو اس حالت میں اُن کے ترکہ میں سے تمہارا حصہ چوتھائی ہے مگر وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد۔ اور اگر تم مر جاؤ اور تمہاری کچھ اولاد نہ ہو تو تمہاری بیبیوں کا حصہ تمہارے مال میں سے چوتھائی ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو اُن کا حصہ تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ہے مگر اس امر کے بعد کہ پہلے اُن کی وصیت کی تعمیل کی جائے یا جوکچھ اُن کے سر پر قرضہ ہے وہ ادا کیا جائے۔

    اور اگر کسی مرد یاعورت کی میراث ہو اور وہ ایسا ہو کہ اُس کانہ باپ ہو نہ بیٹا اور اُسؔ کے بھائی یا بہن ہو تو اُن بھائی یا بہنوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تواس صورت میں ایک تہائی میں سب شریک ہوں گے مگر ضروری ہوگا کہ پہلے وصیت کی تعمیل کی جائے یا اگر مرنے والے کے ذمہ قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے لیکن اس وصیت اور اس قرض میں ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ اس وصیت یا اس قرضہ کے ذریعہ سے مرنے والے نے کسی کو نقصان پہنچانا نہ چاہا ہو۔ اس طرح پر کہ ایک ثلث سے زیادہ کی وصیت کردی ہو یا ایک فرضی قرضہ ظاہر کیا ہو۔ یہ خدا کاحکم ہے وہ خدا جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اوروہ حلیم ہے اس لئے وہ باوجود علم کے نافرمان کو جلدی سزانہیں دیتا یعنی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 214

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 214

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/214/mode/1up


    وہ سزا دینے میں دھیما ہے۔ پس اگر کسی ظلم اور خیانت کے وقت کوئی شخص اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچے تو اُس کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ خدا کو اس کی اس مجرمانہ حرکت کی خبر نہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ بباعث خدا کے حکم کے یہ تاخیر واقع ہوئی ہے اور آخر شریر آدمی کو وہ سزا دیتاہے جس کے وہ لائق ہوتا ہے ؂

    ہاں مشومغرور برحلم خدا

    دیر گیر دسخت گیرد مرتر

    اب ان تمام آیات سے صاف ظاہر ہے کہ کیسے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدین کے حق کو تاکید کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے اورایسا ہی اولاد کے حقوق بلکہ تمام اقارب کے حقوق ذکر فرمائے ہیں اور مساکین اور یتیموں کو بھی فراموش نہیں کیا بلکہ ان حیوانات کا حق بھی انسانی مال میں ٹھہرایا ہے جو کسی انسان کے قبضہ میں ہوں۔ اس کے مقابل پر وید نے اہل حقوق کی بہت حق تلفی کی ہے یہاں تک کہ ایک ناجائز ولادت کا بچہ جو بذریعہ نیوگ پیدا کیاجاتا ہے وہ بھی وید کے رُو سے کسی شخص کا ایسا ہی وارث ٹھہرتا ہے جیسا کہ اُس کا صلبی بچہ۔ یہ کس قدر بے انصافی ہے اور پھر کسی کی موت کے بعد اس کے بعض وارثوں کی وید کے حکم سے حق تلفی کی جاتی ہے اور اُن کو صاف جواب دیا جاتا ہے مگر قرآن شریف کی رُو سے حصہ کشی کے وقت ایک ہی مجلس میں سب کے حقوق دئیے جاتے ہیں کوئی محروم نہیں رکھا جاتا۔

    پھر ؔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اس میں ترمیم تنسیخ نہ ہو اور نہ ہونے کی ضرورت ہو۔ اب ہم اس کے جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں یہ شخص ناحق وید کی پردہ دری کراتاجاتاہے۔ ابھی تک اس کو یہ بھی خبر نہیں کہ انسانی فطرت معرض تبدل اور تغیر میں پڑی ہوئی ہے پس خدا کی طرف سے وہی کتاب ٹھہر سکتی ہے جو ان تغیرات کا لحاظ رکھے۔ جو شخص طبیب کہلاکر ایک شیر خوار بچہ کو اسی قدر اور اُسی درجہ کی دوا دیتا ہے جو ایک جوان کو دینے کے لائق ہے وہ ایک نادان آدمی ہے طبیب نہیں ہے اور جیسا کہ ایک طبیب کو موسموں کے لحاظ سے ایک دوا کی کمی بیشی کرنی پڑتی ہے یا ایک دو ا ترک کرکے دوسری دوا اختیار



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 215

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 215

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/215/mode/1up


    کرنی پڑتی ہے یہی قاعدہ طب رُوحانی میں ہے یعنی خدا کی شریعت میں ایک مریض جب علاج کرانے کے لئے طبیب کے پاس حاضر ہوتاہے تو اگر وہ حاذق طبیب ہے تو مرض کے تمام درجوں پر ایک ہی دوا نہیں دیتا۔ بلکہ ابتدائی حالت میں کچھ تجویز کرتا ہے اور جب مرض ابتدا سے ترقی کرکے تزائد کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے یعنی زیادہ ہونا شروع کرتی ہے تو اُسی درجہ کے مناسب حال نسخہ کو بدل دیتا ہے اور جب مرض تزائد سے انتہا کے درجہ پر پہنچتی ہے یعنی اُس کا زور و شور کمال تک پہنچ جاتا ہے تب طبیب حاذق اسی شدت مرض کے مطابق نسخہ تجویز کرتا ہے اور پھر جب مرض کے انحطاط کا وقت آتا ہے یعنی مرض گھٹنی شروع ہوتی ہے تو طبیب بھی اپنے نسخہ کو نرم کرلیتا ہے اور جب کسی مرض میں بغیر اپریشن یعنی جراحی کے چارہ نہیں ہوتا اور اندیشہ موت ہوتا ہے تو طبیب کا یہ فرض ہوتا ہے کہ فوراً اپریشن پر کمر بستہ ہو اور اس بات کا لحاظ نہ رکھے کہ بیمار کو کچھ تکلیف ہوگی۔ بعض اوقات طبیب کو جان بچانے کے لئے مریض کا پیٹ چیرنا پڑتا ہے یا سریا جبڑہ کی کوئی ہڈی نکالنی پڑتی ہے توان تمام تجاویز میں طبیب کو ظالم نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ان تدابیر میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ جان کو بچانا چاہتا ہے۔

    ایسا ہی اگر تم سوچ کر دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ انسان کی زندگی ہر ایک پہلو سے تغیرؔ ات سے بھری ہوئی ہے اور جیسا کہ انسان جسمانی طور پر تختہ مشق تغیرات ہے ایسا ہی رُوحانی طور پر بھی اُس کو تغیرات سے چارہ نہیں۔ ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ اکتوبر مہینہ کے شروع ہوتے ہی ہمیں اپنے لباس میں کچھ کچھ تغیرکرنا پڑتا ہے اور پھر دسمبر کے مہینہ میں ہم پورے طور پر اس ہلکے لباس کو چھوڑ دیتے ہیں جو پہلے رکھتے تھے۔ اور بجائے اُس کے پشم وغیرہ کے موٹے موٹے کپڑے پہننے شروع کرتے ہیں جو دفع سردی کے لئے کافی ہوں۔ اور پھر جب اپریل کا مہینہ آتا ہے تو پھر ہم باریک کپڑے پہننے شروع کرتے ہیں۔ اور جون جولائی میں پنکھے اور ٹھنڈے پانیوں کی شدید حاجت ہوتی ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ یہی تغیرات انسان کی رُوحانی زندگی میں بھی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 216

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 216

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/216/mode/1up


    واقع ہیں ایک متعصب اور جاہل آدمی تواعتراض کے طورپر جلدی کے ساتھ منہ سے ایک بات نکال لیتا ہے گویا وہ اس کامنہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی بے اختیار ی کی حالت ہوتی ہے جیسا کہ زحیر کے بیمار کو پیچش کے ساتھ بے اختیار دست آجاتا ہے۔ غرض تعصّب نہایت سخت بلا ہے اور پھر جب یہی تعصب نادانی اور جہالت کے ساتھ مرکب ہو جاتا ہے تو ایک ایسی زہریلی تاثیراس میں پیدا ہو جاتی ہے کہ اکثر وہ ایسے انسان کو جو متعصّب ہو ہلاک بھی کردیتی ہے۔

    ہندوؤں میں سے ایک شخص یعنی باوا نانک صاحب بے تعصّب انسان پیدا ہوئے ہیں چونکہ وہ شخص دل کا پاک تھا اِس لئے خدا نے اُس کو دکھا دیا کہ اسلام سچا ہے اُس کے شعروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام پر فدا شدہ ہے۔ میں نے ڈیرہ نانک میں خود جاکر باوا صاحب کے چولا صاحب کو دیکھا ہے۔ انہوں نے اس چولہ میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہیں اور جابجا صاف اقرار کیا ہے کہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور ہر ایک موقعہ پر لکھا ہے کہ بجز اسلام کے کوئی مذہب قبول کرنے کے لائق نہیں۔ اور میں نے ملتان میں وہ مسجددیکھی ہے جہاں باوا صاحب نماز پڑھا کرتے تھے اور اُن کے ہاتھ سے یہ لفظ ملتان کی خانقاہ پر میں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ یَا اللّٰہُ ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ باوا صاحب پاک دل تھے ؔ اور انہوں نے اسلام کی سچائی کے بارے میں بار بار گواہی دی سو کروڑہا ہندوؤں میں سے ایک یہی شخص پیدا ہوا جس کو خدا نے آنکھ کا نور بخشا اور دل کو صاف کیا اور اپنی محبت عطا کی مگر افسوس کہ پنڈت دیانند نے اُن کی شان میں بہت کچھ ناملائم اور توہین کے الفاظ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں جن کا نقل کرنا بھی میرے نزدیک بے ادبی ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے ایک الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ وہ خاص ایشور کی ہی زبان ہو مگر افسوس کہ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ جس حالت میں بموجب اصول آریہ کے نوع انسان قدیم سے ہے تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ اُن کی زبانیں بھی قدیم ہیں تو پھر قدامت کی وجہ سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 217

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 217

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/217/mode/1up


    اُن زبانوں میں فرق کیا ہوا اور ویدک کی سنسکرت میں کونسی خاص علامت ہے جس سے وہ ایشور کی زبان سمجھی جاوے۔ ہاں چونکہ اب وہ اِس زمانہ میں مُردہ زبان ہے اور کوئی قوم اس کو بولتی نہیں اس لئے ایک نادان خیال کرسکتا ہے کہ وہ زبان چونکہ انسانی استعمال سے الگ ہے اس لئے وہ ایشور کی زبان ہوگی مگر متروک الاستعمال ہونا یہ امر سنسکرت سے ہی خاص نہیں بلکہ اور کئی زبانیں ہیں جو اول بولی جاتی تھیں اب متروک الاستعمال ہیں تو کیا اس وجہ سے وہ تمام زبانیں ایشورکی زبان بن جائیں گی اور اگر ویدک سنسکرت کسی اور دلیل سے ایشور کی زبان کہلاتی ہے اور ایشور کسی خاص اپنی کچہری میں وہ زبان بولاکرتا ہے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے ورنہ جو کچھ عبری زبانوں اور فارسی زبانوں اور دوسرے ممالک کی زبانوں میں انواع اقسام کے تغیرات آکر بعض زبانیں تو بالکل مُردہ ہوگئیں اور بعض میں اس قدر تغیرآئے کہ پہلے الفاظ بہت ہی تھوڑے اُن میں باقی رہ گئے اور نئے الفاظ اور نئے محاورات اُن میں داخل ہوگئے اگر اس قسم کے نمونوں کا شوق ہو تو ہم اس بارے میں ایک بڑی لمبی فہرست پیش کرسکتے ہیں پس اگر کوئی زبان متروک الاستعمال ہونے کی وجہ سے ایشر کی زبان ہوسکتی ہے تو پھر ان تمام دوسری زبانوں نے کیا گناہ کیا ہے جو متروک الاستعمال ہیں کہ اُن کو ایشور کی زبانیں نہ کہا جائے۔ آریوں کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ دوسری زبانیں بھی قدؔ یم ہیں کیونکہ جب کہ یہ دُنیا کا سلسلہ قدیم ہے تو کیا وجہ کہ نوع انسان کی آبادی کروڑہا اربوں سے صرف آریہ ورت تک ہی محدود رہی اور اُن کی ایک ہی زبان رہی۔ اس بات کو تو کوئی عقلمند نہیں مانے گا کیونکہ یہ قانون قدرت کے برخلاف ہے اور جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دو۲ تین سو برس گذرنے تک ایک زبان میں کچھ تغیر پیدا ہو جاتا اور ایسا ہی جب ایک جگہ سے مثلاً سو کوس کے فاصلہ پر آگے نکل جائیں تو صریح زبان کا تغیر محسوس ہوتا ہے تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اِختلَافِ اَلْسِنَۃ ایک قدیمی امر ہے جس پر موجودہ حالت گواہی دے رہی ہے پس ماننا پڑتا ہے کہ جس نے انسان کو بنایا اُسی نے اُن کی زبانوں کو بنایا ہے اور وقتاً فوقتاً وہی اُن



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 218

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 218

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/218/mode/1up


    میں تغیرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہوجس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے پس جب کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اُس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے اور پھر خدا کا ایسی بیگانہ زبان میں اُن کو الہام کرنا گو یادیدہ دانستہ اُن کو اپنی تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ اور اگر کہو کہ خدا اُن کو اُن کی زبان میں سمجھادیتا تھا کہ اِن عبارتوں کے یہ معنی ہیں تو اس صورت میں پرمیشر کا یہ عہد بحال نہیں رہے گا کہ انسانی زبان میں اُس کو بولنا حرام ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ ان نہایت کچی اور خام باتوں کے پیش کرنے سے آریوں کو فائدہ کیا ہے کیا جو کچھ انسان کا ہے وہ سب کچھ پرمیشر کا نہیں ہے تو پھر کونسی پرمیشر کی ہتک عزت ہے کہ انسان کو اُسی کی زبان میں سمجھا دے کیا ہمارا خدا ہماری دعائیں ہماری زبان میں ہی نہیں سنتا۔ پس جب کہ ہماری زبان میں ہی ہماری دعا سننے سے اُس کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا تو پھر ہماری زبان میں ہی ہمیں کوئی راہ راست سمجھانے سے کیوں اُس کی شان میں فرق آئے گا۔

    پس یاد رکھنا چاہئے کہ قدیم سنت اللہ کے موافق تو یہی عادت الٰہی ہے کہ وہ ہر اؔ یک قوم کے لئے اُسی زبان میں ہدایت کرتا ہے لیکن اگر کوئی زبان ایسی ہو کہ ملہم کو خوب یا د ہو اور گویا اُس کی زبان کے حکم میں ہو تو بسا اوقات ملہم کو اس زبان میں الہام ہوجاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے بعض الفاظ سے یہ سند ملتی ہے کیونکہ اوّل قرآن شریف قریش کی زبان میں ہی نازل ہونا شروع ہوا تھا کیونکہ اوّل مخاطب قریش ہی تھے مگر بعد اس کے قرآن شریف میں عرب کی اور اور زبانوں کے بھی الفاظ آگئے ہیں اور ہم لوگ جو قرآن شریف کے پیرو ہیں اور ہماری شریعت کی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن شریف ہے اس لئے ہم خدا تعالیٰ سے اکثر عربی میں الہام پاتے ہیں تا وہ اس بات کا نشان ہوکہ جوکچھ ہمیں ملتا ہے وہ آنحضرت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 219

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 219

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/219/mode/1up


    صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتا ہے اور ہم ہر ایک امر میں اُسی ذریعہ سے فیضیاب ہیں اور چونکہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کاارادہ ہے کہ تمام انسانوں کو ایک ہی قوم بناوے اس لئے ہم کبھی دوسری زبانوں میں الہام پاتے ہیں مگر اکثر خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ عربی میں ہی ہوتا ہے بلکہ بہت حصہ خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا قرآن شریف کی آیتوں کے ساتھ ہوتا ہے جس سے یہ ظاہرکرنا مقصود ہوتا ہے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور اس طور پر ایک نئے طریق سے ملہم کو یقین دلایا جاتا ہے کہ جس رسول پروہ ایمان رکھتا ہے وہ سچا رسول ہے اور جس کتاب کو وہ مانتا ہے یعنی قرآن شریف کو وہ خدا کی کتاب ہے۔ غرض جبکہ اب بھی مختلف زبانوں میں الہام ہوتا ہے اور صدہا پیشگوئیاں اُس الہام کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہیں تو کیا اب تک ثابت نہ ہوا کہ خدا ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے کیا سچی خوابیں خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں کیا اُن میں بھی ویدک سنسکرت لازمی امر ہے۔

    اب ہم مضمون پڑھنے والے کی پیش کردہ نشانیوں کو اختصار کے ساتھ بیان کرچکے اور اس کے بعد ہم اُن اعتراضات کا جواب دیں گے جو اُس نے اپنی تجویز کردہ نشانیوں کی بنا پر قرآن شریف پر کئے ہیں۔

    اول یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن شریف آغاز دنیا میں ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا ہم ؔ پہلے بھی اِس اعتراض کا جواب لکھ آئے ہیں کہ چونکہ قرآن شریف امر معروف اور نہی منکر میں کامل ہے اور خدا نے اُس میں یہی ارادہ کیا ہے کہ جو کچھ انسانی فطرت میں انتہا تک بگاڑ ہو سکتا ہے اور جس قدر گمراہی اور بدعملی کے میدانوں میں وہ آگے سے آگے بڑھ سکتے ہیں اُن تمام خرابیوں کی قرآن شریف کے ذریعہ سے اصلاح کی جائے اس لئے ایسے وقت میں اُس نے قرآن شریف کو نازل کیا کہ جب کہ نوع انسان میں یہ تمام خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں اور رفتہ رفتہ انسانی حالت نے ہر ایک بدعقیدہ اور بدعمل سے آلودگی اختیار کرلی تھی اور یہی حکمتِ الٰہیہ کا تقاضا تھا کہ ایسے وقت میں اُس کا کامل کلام نازل ہو کیونکہ خرابیوں کے پیدا ہونے سے پہلے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 220

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 220

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/220/mode/1up


    ایسے لوگوں کو ان جرائم اور بدعقائد کی اطلاع دینا کہ وہ اُن سے بکلی بے خبر ہیں یہ گویا اُن کو ان گناہوں کی طرف خود میلان دیتا ہے۔ سو خدا کی وحی حضرت آدم سے تخم ریزی کی طرح شروع ہوئی اوروہ تخم خدا کی شریعت کا قرآن شریف کے زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ کر ایک بڑے درخت کی طرح ہوگیا اور ہم لکھ چکے ہیں کہ وید پر یہ سراسر تہمت ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے۔ بلکہ وہ متفرق وقتوں کا ایک مجموعہ ہے جیسا کہ محققین اس کی نسبت رائے ظاہرکر چکے ہیں۔ اور ابتدائے زمانہ کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے اُس کے رد کرنے کے لئے وید ہی کافی ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ وید کے ذریعہ سے جو کچھ آریوں کو فیض پہنچا وہ تویہی ہے کہ اس ملک کے کروڑہا ہندو لوگ مخلوق پرستی کی بلا میں گرفتار ہوگئے۔ اِن لوگوں نے مخلوق پرستی میں حد ہی کردی کہ نہ پانی چھوڑا نہ آگ۔ نہ سورج نہ چاند۔نہ پتھر نہ انسان نہ درخت بلکہ ہر ایک عجیب چیز کو خدا سمجھ لیا۔ آخر جب قرآن شریف کا اس مُلک میں مبارک قدم پڑا تو کروڑہا ہندوؤں کو اُس نے مخلوق پرستی کی بلا سے نجات دی اور دے رہاہے مگر پھر یہ لوگ ناشکر گذار ہیں اور ناحق وید وید کر رہے ہیں۔ شاید وید کے پہلے ہاتھ جو ان کو لگ چکے ہیں وہ بھول گئے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر ایک یہ اعتراض کیا کہ اُس میں سینکڑؔ وں باتیں قانون قدرت کے برخلاف ہیں جب تک مسلمان لوگ اُن کی مطابقت قانونِ قدرت سے نہ کر دکھائیں تب تک ایمان لانے کے لئے ہم لوگوں کو مدعو نہ کریں۔ اس بیہودہ اعتراض کا ہم پہلے بھی جواب دے آئے ہیں کہ خدا کے قانون قدرت کی وہ شخص حد بست کر سکتا ہے جو خدا سے بھی بڑھ کر ہو ورنہ یہ خیال نہایت بے ادبی اور بے ایمانی ہے کہ وہ خدا جس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح ناپیدا کنار ہیں اُس کے عجائبات قدرت کو کسی حد تک محدود کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے تو پھر اُس کی صفات کیونکر محدود ہو جائیں گی ہاں جو امر اُس کے ثابت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 221

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 221

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/221/mode/1up


    شدہ صفات کے برخلاف ہو یا اس کے ذکر کردہ عہد کے منافی ہو وہی اُس کے قانونِ قدرت کے برخلاف سمجھا جائے گا۔ مثلاً اُس کی صفات ثابت شدہ سے یہ امر ہے کہ اُس کا کوئی ثانی نہیں اور یہ امر ہے کہ اس پرموت وارد نہیں ہوسکتی اور نیز یہ امر ہے کہ اپنی صفات کے مطابق وہ کسی بات کے کرنے سے عاجز نہیں اور یا مثلاً اس کا یہ عہد ہے کہ جو شخص مرجائے پھر اس کو دُنیا میں آباد کرنے کے لئے واپس نہیں لاتا۔سوجو بات ان ثابت شدہ صفات اور عہد کے برخلاف ہو اس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا۔ وہ اپنا ثانی کسی کو نہیں بناتا وہ خودکشی نہیں کرتا اور کسی پرموت وارد کرکے پھر اُس کو دنیا میں لاکر آباد نہیں کرتا اور اِن امور کے سوا وہ سب کچھ کرسکتا ہے کس کی یہ مجال ہے کہ وہ یہ کہے کہ صرف فلاں حد تک اُس کی قدرتیں ہیں آگے نہیں یا فلاں فلاں امور اُس کے احاطہ اقتدار سے باہر ہیں اور وہ اُن کے کرنے سے عاجز ہے۔ ہاں اُس کی عجائب قدرتیں ہر ایک کے ساتھ یکساں نہیں جیسے جیسے انسان اس سے تعلق محبت اور اخلاص پیدا کرتا ہے اسی قدر اُس پر قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں اور جو اُس کے کام عوام کے لئے محال ہیں اور ظاہر نہیں ہوتے وہ خواص کے لئے بباعث اُن کے تعلق کے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ غرض اُس کی ذات میں بے شمار عجائب قدرتیں ہیں مگر اسی پر ظاہر ہوتی ہیں جو اُس کی محبت میں گم ہو جاتاہے وہ ان کے لئے وہ کام دکھاتا ہے جو ایک اندھا فلسفی اسؔ کام کومحال سمجھتا ہے وہ اپنے صادق محبوں کے لئے وہ عجائبات ظاہر کرتا ہے جو دنیا کے عقلمند اُس کو فوق العادت سمجھتے ہیں اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور صرف ایسی بات وہ نہیں کرتا جو اس کا عہد یا اُس کے صفات روکتے ہوں۔ مبارک وہ جو اُس کی قدرتوں کی نسبت اپنے ایمان کو ترقی دیں ورنہ بے ایمان کی دُعا بھی قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ اپنی شیطانی نیچریت کی وجہ سے اُس کو قادر نہیں جانتا۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 222

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 222

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/222/mode/1up


    کُنْسے سب کچھ پیدا کرلیا اور چھ دن میں زمین و آسمان بنایا اور ساتویں دن آرام کیا حالانکہ علم جیالوجی سے ثابت ہے کہ لاکھوں برسوں میں زمین بنی۔ سو ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس میں کیا شک ہے کہ سب کچھ کُن سے یعنی حکم سے ہی پیدا کیا گیا ہے خواہ لاکھوں برسوں میں ایک چیز بنے اور خواہ کروڑوں برسوں میں مگر اول خدا کا حکم ہونا ضروری ہے ہر ایک شخص جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اس سے انکار نہیں کرسکتا جو ہر ایک محو واثبات حکم الٰہی سے وابستہ ہے ہاں جو شخص دہریہ اور خدا تعالیٰ سے منکر ہے اس کا یہ قول ہوگا کہ ہر ایک چیز بغیر ضرورت حکم کے خود بخود بن جاتی ہے مگر جب کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے ارادہ کے ظہور پذیر نہیں ہوسکتی تو اس سے ہر ایک ایماندار کو ماننا پڑتا ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے ارادہ کے ظہور پذیر

    نہیں ہوسکتی کسی طاقت کی مجال نہیں ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے حکم کے کچھ کام کرسکے اور جس آیت میں کُنْکا لفظ ہے وہ آیت یہ ہے۔ 3 ۱؂ یعنی خدا کا حکم اس طرح پر ہوتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ فی الفور بلا توقف ہو جاتی ہے کیونکہ آیت میں فی الفور کا لفظ نہیں ہے بلکہ آیت اطلاق پر دلالت کرتی ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ چاہے تو خدا تعالیٰ اس امر کو جلدی سے کردے اور چاہے تو اس میں دیر ڈال دے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ؔ بھی یہی مشہود و محسوس ہے کہ بعض امور جلدی سے ہو جاتے ہیں اور بعض دیر سے ظہور میں آتے ہیں۔ پس یہ کونسا محل اعتراض ہے ا ور اگر انسان کے دل میں کچھ شرم اور حیا ہو تو ایسے اعتراض کی حقیقت سوچ کر شرمندگی سے مرہی رہے گا مگر ان لوگوں کو کچھ شرم بھی تو نہیں ہے۔

    رہی یہ بات کہ خدا نے چھ۶ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا اور ساتو۷یں دن آرام کیا سو اوّل تو واضح ہو کہ آرام کا لفظ قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا۔ ہاں توریت میں یہ لفظ ہے سو وہ کوئی استعارہ ہوگا لیکن اس دھوکہ کے دُور کرنے کے لئے اس موقعہ پر قرآن شریف نے ایک



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 223

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 223

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/223/mode/1up


    اور لفظ اختیار کیا ہے اوروہ یہ ہے 3 ۱؂ یعنی ہم نے چھ۶ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ہم اس سے تھکے نہیں۔ یہ لفظ گویا اُس لفظ کا ردہے کہ خدا نے ساتویں دن آرام کیا۔ کیونکہ ظاہری معنے اگر لئے جاویں تو اس سے خدا کا تھکنا ہی پایا جاتا ہے وجہ یہ کہ آرام وہی کرتا ہے جو تھکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تھکنے سے پاک ہے۔ کوئی نقص اُس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔ رہی یہ بات کہ خدا تعالیٰ نے چھ۶ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا۔ سو قرآن سے ہی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خدا کے دن انسان کے دنوں کے برابر نہیں۔ ایک جگہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا کا دن ایسا ہے جیسا کہ تمہارا ہزار برس اور ایک جگہ خدا کا دن پچاس ہزار برس کا لکھا ہے۔ پس ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان چھ دنوں سے کتنی مدت مُراد ہے ہاں ہم یقیناًکہتے ہیں کہ ان چھ۶ دنوں سے مُراد وہ دن نہیں ہیں جو انسان کے دن ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب سورج اور چاند اور زمین اور آسمان کا ہی کچھ وجود نہ تھا توان انسانی دنوں کا کیونکر اورکہاں سے وجود تھا۔ اور پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے خود تو ضیح سے فرما دیا کہ انسانی دن اور ہوتے ہیں اور خدا کے دن اور تو پھر اعتراض محض شرارت یا حماقت ہے۔

    پھر ماسوا اس کے جیالوجی کی تحقیقات پر کونسی سچائی کی مُہر چمکتی ہوئی نظر آتی ہے یہ تمام خیالات ظنی بلکہ محض شکی اور وہمی ہیں اور آئے دن ان میں تغیر تبدّل ہوتا رہتا ہے پہلے ؔ حکماء یونانیوں نے اِن تمام امور میں جو تحقیقاتیں کی تھیں وہ تو سائنس وغیرہ علوم جدیدہ نے جو بعد میں ظاہر ہوئے خاک میں ملا دیں اور اُن کا نام و نشان نہ رہا۔ ایسا ہی جو حال کی تحقیقاتیں ہیں وہ بھی کسی آئندہ زمانہ میں کسی اور جدید تحقیقات سے خاک میں مل جائیں گی۔ اب تک جو حکماء کی رائیں ظاہر ہوئی ہیں اُن میں کبھی آسمان کو گردش دی گئی اور کبھی زمین کو اور شاید آئندہ کوئی تیسرا مذہب نکل آوے جو آسمان و زمین دونوں کو طاق میں رکھ دے اور کوئی اور ہی بات بتلاوے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض قرآن شریف پر سنایا کہ آدم کی پسلی سے عورت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 224

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 224

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/224/mode/1up


    پیدا کی گئی۔ عورتوں سے مرد پیدا ہوا کرتے ہیں اور یہاں مرد سے عورت پیدا ہوئی اور وہ بھی صرف ایک پسلی سے۔ خون سے گوشت اور پھر ہڈی بنتی ہے یہاں ہڈی سے گوشت بنا۔ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔

    جاننا چاہئے کہ اس بارے میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے 33۔۔۔33 ۱؂ ۔ الجزونمبر ۲۳ سورۃ الزمر (ترجمہ )خدا نے تم لوگوں کوایک وجود سے پیدا کیا۔ پھر اُسی وجود سے اُس کا جوڑا بنایا ۔۔۔ وہی تم کو تین اندھیروں میں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے۔ ایک قسم کی پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سو اس آیت میں تو کہیں پسلی اور ہڈی وغیرہ کاذکر نہیں۔ صرف اِسی قدر لکھاہے کہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو پیدا کیا۔ ہاں یہ ذکر پایا جاتا ہے کہ خدا نے اپنا پہلا قانون بدلا دیا کیونکہ پہلے انسان نطفہ سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ ایک وجود سے دوسرا وجود پیداکیا گیا تھا تا نوعیت میں فرق نہ آوے اور پھر بعد میں یہ دوسرا قانون قدرت شروع ہوا کہ انسان نطفہ سے پیدا ہونے لگے اور یہ محل اعتراض نہیں کہ خدا نے پہلا قانون قدرت کیوں منسوخ کردیا*۔ کیونکہ خدا اپنے قانون کو اس لئے منسوخ کرتا ہے کہ تا اُس کی انواع و اقسام کی قدرتیں ظاہرہوں۔

    ممدوؔ حہ بالا آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ کئی قسم کی پیدائش کے بعد رحم کے اندر پورا انسان بنتا ہے اور تین اندھیر میں اس کی پیدائش ہوتی ہے(۱) پیٹ (۲) رِحم(۳) جھلی جس کے اندر بچہ پیدا ہوتا ہے۔

    اور یاد رہے کہ پسلی اور ہڈی سے خدا کی کتابوں میں قریبی رشتے بھی مُراد لئے گئے ہیں


    * اس جگہ یہ ثبوت ملتا ہے کہ خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ بعض امور کو منسوخ کرکے دوسرے امور پیدا کرتا ہے پس جو لوگ تنسیخ کے منکر ہیں ان کو غور کرنی چاہیئے ۔ منہ




    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 225

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 225

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/225/mode/1up


    جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدم اور حوّا کارشتہ نہایت قریب تھا مگر چونکہ ہم خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر قادر سمجھتے ہیں اس لئے ہم اس امر کو بھی کچھ بعید نہیں سمجھتے کہ حوّا آدم کی پسلی سے یاآدم حوّا کی پسلی سے پیدا ہوگیا ہو۔ خداکا کلام اس جگہ نہایت وسیع معنوں پر مشتمل ہے آیت کے معنے وسیع طور پر یہ ہیں کہ ایک سے ہم نے دوسرے کو پیدا کیا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ پسلی سے پیدا کرنا قانون قدرت کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نطفہ سے پیدا ہونا بھی اُس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو بموجب اصول آریہ کے پہلے ظہور میں آیا۔ پس جس نے ایک قانون قدرت بدلا کر دوسرا قانون قدرت پیدائش کے لئے مقرر کیا تو پھر کیا اُس کی شان سے کچھ تعجب کی جگہ ہے کہ جس طرح اُس نے بموجب اصول آریہ کے پہلی پیدائش میں کھمبوں کی طرح انسانوں کو پیدا کیا ایسا ہی اس نے بموجب اصول اسلام کے پہلی پیدائش میں ایک انسان کی پسلی سے دوسرا انسان پیدا کردیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ نوح کے طوفان کے وقت ایسی کشتی میں جو صرف بیس ہاتھ چوڑی اور تیس ہاتھ اونچی تھی تمام دنیا کے چرند پرند کے جوڑے کیونکر سما گئے اس کے جواب میں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ قرآن شریف میں اس کشتی کا کوئی مقدار نہیں لکھا کہ اتنی چوڑی اور اتنی لمبی اور اس قدر اونچی تھی اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے عام طوفان تھا بلکہ اُسی ملک میں طوفان تھا جس ملک کے لوگوں کے لئے حضرت نوح بھیجے گئے تھے اورجو کچھ اس بارے میں توریت میں ہے وہ تحریف تبدیل سے خالی نہیں اورخدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبردی ہے کہ وہ کتابیں محرّف مبدّل ہوگئی ہیں اسؔ لئے یہ اعتراض محض لغو اور سراسر بے اصل ہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ مریم کیونکر روح القدس سے حاملہ ہوگئی اور کیونکر صرف مریم سے یسوع پیدا ہوگیا۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اُسی خدا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 226

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 226

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/226/mode/1up


    اُس کو پیدا کیا جو بموجب قول آریہ سماج کے ہر ایک ابتدا دنیا میں لاکھوں انسان کو یوں ہی مولی گاجر کی طرح زمین میں سے نکالتا ہے جب کہ وید کے بیان کی رو سے کروڑہا مرتبہ بلکہ بے شمار مرتبہ خدا نے اسی طرح دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس بات کا محتاج نہیں رہا کہ مرد عورت باہم ملیں تا بچہ پیدا ہو۔ تو پھر اسی طرح اگر یسوع بھی پیدا ہوگیا تو اس میں حرج کیا ہے۔ اس اعتراض کی جڑھ تو صرف اسی قدر ہے کہ بغیر مرد اورعورت کے ملنے کے کیونکر انسان پیدا ہو گیا۔ مگر جو شخص اپنا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس سے پہلے کروڑہا بلکہ بے شمار مرتبہ ایسا اتفاق ہو چکا ہے کہ اِسی دنیا میں یہی انسان جواب موجود ہیں بغیر مرد اورعورت کے ملنے کے پیدا ہوتے رہے ہیں وہ کس مُنہ سے کہہ سکتاہے اور اس کا کیونکر یہ حق ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ اعتراض کرے کہ یسوع کی پیدائش خلافِ قانونِ قدرت ہے۔ بڑے بڑے محقق طبیبوں نے جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں اس قسم کی پیدائش کی مثالیں لکھی ہیں اور نظیریں دی ہیں اور اُن کی تحقیق کے رُو سے بعض اس قسم کی بھی عورتیں ہوتی ہیں کو قوت رجولیت اور انثیت دونوں اُن میں جمع ہوتی ہے اور کسی تحریک سے جب اُن کی منی جوش مارے تو حمل ہوسکتا ہے۔ اور ہندوؤں کی کتابوں میں بھی ایسی قصے پائے جاتے ہیں جیسا کہ خود وید میں یہ شُرتی موجود ہے کہ اے اِندر کو سیکارشی کے پوتر جس کو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ پس جب کہ اس قسم کا قصہ وید میں بھی موجود ہے اور سیانا بھاشیکار نے وضاحت سے اس قصہ کو لکھا ہے تو پھر اعتراض کرنا حیا سے دور ہے۔ نہایت کارتم یہ جواب دوگے کہ ہم اس شُرتی کے اس طرح پر معنی نہیں کرتے تو یہ جواب درست نہیں ہے کیونکہ جب کہ ایک پرانا بھاشیکار یعنی سیانا یہی معنی کر چکا ہے تو تمہاری کیا مجال کہ اُس سے روگردانی کرو۔ کیا سیانا بھاشیکار کے مقابل پر دیانند کی کچھؔ حقیقت ہے کوئی دانا سیانا بھاشیکار کے مقابل پر دیا نند کو طفلِ مکتب بھی نہیں کہہ سکتا اور پھر وہ بھاشیکار پرانے زمانہ کا ہے اور پھر بطریق تنزل کہتے ہیں کہ جب کہ وید کی مذکورہ بالا شُرتی کے سیانا بھاشیکار یہ معنے کرچکا ہے خواہ تم اب ان معنوں کو قبول کرو یا نہ کرو تو بہرحال



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 227

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 227

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/227/mode/1up


    وہ معنی تم پر ایک حجت ہے کیونکہ اس زمانہ سے پہلے وہ معنی شائع ہوچکے ہیں اور یہ بات کہ کوشیکار شی کی بیوی کے پیٹ میں خود اِندر داخل ہوگیا یہ محض صرف اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے استعارہ ہے کہ بغیر اس کے کہ کوسیکا اپنی بیوی کے پاس جاتا خود بیوی کی منی سے بچہ پیدا ہوگیا تھا اور یہ خود تعجب کی جگہ نہیں کیونکہ جس حالت میں برسات کے ایام میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود مٹی سے ہی پیدا ہو جاتے ہیں تو اگر خدا نے کوئی ایسا نمونہ نوعِ انسان میں بھی پیدا کیا تو کیوں اس کو انکار کی نظر سے دیکھا جائے اور کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ یہ امر خدا کے قانون قدرت کے بَرخلاف ہے حالانکہ جس قانون قدرت پر زور دے کر اعتراض کیا جاتا ہے وہ تو بقول آریہ سماج کے اوّل دفعہ ہی ٹوٹ چکا ہے اور کروڑہا دفعہ خدا نے ابتدائے دنیا میں اس موجودہ قانون کی پابندی چھوڑ دی ہے۔پس ایسا قادر خدا جو ابتداءِ دنیا میں صرف مٹی سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے پھر اگر وہ کسی انسان کو صرف عورت کے نطفہ سے ہی پیدا کرے تو یہ کونسی تعجب کی جگہ ہے۔ ظاہر ہے کہ نطفہ بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے بہت قریب استعداد رکھتا ہے اور مٹی کی استعداد ایک استعداد بعیدہ ہے پس جب کہ تمہارا یہ اقرار ہے کہ جو چیز استعداد بعید رکھتی ہے اس سے انسان پیدا ہوسکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ جو چیز بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے استعداد قریب رکھتی ہے اس سے بچہ پیدا نہیں ہوسکتا اگر یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۱؂ یعنی عیسیٰ کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے کیونکہ خدا نے آدم کو مٹی سے بناکر پھر کہا کہ تو زندہ ہو جاپسؔ وہ زندہ ہوگیا۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ اُس میں لکھا ہے کہ عیسیٰ مسیح معہ گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اوّل تو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 228

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 228

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/228/mode/1up


    خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے ماسوا اس کے یہ خیال سراسر غلط ہے کہ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چڑ ھ گئے تھے۔ قرآن شریف میں کئی جگہ صاف فرما دیا ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا بلکہ تمام زندگی زمین پر بسر کریں گے۔ یہ خدا کا وعدہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3 3 ۱؂ یعنی زمین پر ہی تم زندہ رہوگے اور زمین پر ہی تم مروگے اور زمین میں سے ہی تم نکالے جاؤگے۔ پس اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کامع جسم عنصری آسمان پر جانا اِس وعدہ کے برخلاف ہے اورخدا پر تخلّف وعدہ جائز نہیں اور اس وعدہ میں کوئی استثناء نہیں۔ اور پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے33 ۲؂ یعنی کیا ہم نے زمین کو ایسے طور سے پیدا نہیں کیا جو اپنے تمام باشندوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے خواہ وہ زندوں میں سے ہوں اورخواہ مُردوں میں سے ہوں اور یہ بھی خدا کا وعدہ ہے۔ اور پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 3۳؂ یعنی تمہارا زمین پر ہی قرار ہوگااور تم زمین پر ہی اپنے موت تک زندگی بسر کروگے۔ یہ بھی خداکاوعدہ ہے اور پھر ایک موقع پر قرآن شریف میں یہ ذکر ہے کہ کفار قریش نے ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معجزہ طلب کیا کہ اُن کے روبرو آسمان پر چڑھ جائیں تو آپ کو خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا کہ3 3۴؂ یعنی ان لوگوں کو یہ جواب دے کہ خدا تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اپنے وعدہ میں تخلّف کرے (وعدہ کا بھی ذکر ہوچکا ہے) اور میں تو صرؔ ف ایک انسان ہوں جو تمہاری طرف بھیجا گیا۔

    اب اِن تمام آیات سے ظاہرہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے یہ عقیدہ اسلام میں صرف اُن عیسائیوں کے ذریعہ سے آیا ہے جو ابتداءِ اسلام میں مسلمان ہوگئے تھے ورنہ قرآن شریف میں اس کا ذکر کہیں نہیں اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 229

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 229

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/229/mode/1up


    کسی صحیح حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ حضرت عیسیٰ معہ جسم آسمان پر چلے گئے تھے ہاں یہ ذکر ہے کہ مسیح کے نام پر ایک شخص آنے والا ہے جو اسی اُمّت میں سے ہوگا مگر یہ کہیں ذکر نہیں کہ وہ آسمان پر گیا تھا اور پھر آسمان سے واپس آئے گا۔ نزول کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت حدیثوں میں موجود ہے وہ اعزاز کے طور پرہے اگر کوئی شخص آسمان سے واپس آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پررجوع کا لفظ ہونا چاہئے تھا نہ نزول کا لفظ۔ اکثر نادان اس سے دھوکا کھاتے ہیں کہ نُزول اُترنے کو کہتے ہیں اور پھر اس فقرہ کے ساتھ آسمان کا لفظ اپنی طرف سے جوڑ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ آنے والا آسمان سے اُترے گا حالانکہ تمام حدیثیں پڑھ کر دیکھ لو کسی صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ نہیں پاؤگے اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے کہ ایک زبان کا یہ محاورہ ہے کہ ایک شخص کی آمد کو جب بطور اکرام و اعزاز بیان کیاجاتا ہے تو یہی کہتے ہیں کہ وہ فلاں جگہ اترا ہے جیسا کہ ہم معزز انسان کو کہہ سکتے ہیں کہ آپ کہاں اُترے ہیں۔ پس اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ آسمان سے اُترے ہیں اسی وجہ سے عربی زبان میں نزیل مسافر کو کہتے ہیں اور جو راہ میں مسافروں کے اُترنے کی جگہ ہوتی ہے اس کو منزل کہتے ہیں اور واپس آنے والے کے لئے رجوع کا لفظ بولا جاتا ہے نہ نزول کا۔

    ماسوا اس کے قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت صاف فرما دیا ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے بطور حکایت ذکر کرکے فرماتا ہے3 3 ۱؂ یعنی قیامت کو خدا تعالیٰ عیسیٰ سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی قوم کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کرکے ماناکرو تو وہ جواؔ ب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں اُن کو یہی تعلیم دیتا رہا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں اور پھر جب تُو نے مجھ کو وفات دے دی تو بعد اُس کے مجھے اُن کے عقائد کا کچھ علم نہیں۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ اپنی وفات کا صاف اقرار کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی اقرار ہے کہ میں دنیا میں واپس نہیں گیا کیونکہ اگر وہ دنیا میں واپس آئے ہوتے تو پھر اس صورت میں قیامت کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 230

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 230

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/230/mode/1up


    دن یہ کہنا جھوٹ تھا کہ مجھے اپنی اُمت کی کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کونسا طریق اختیار کیا کیونکہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کریں گے تو پھر قیامت کے دن انکار کرکے یہ کہنا کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں سراسر جھوٹ ہوگا۔ نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْہُ

    پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ شقُّ القمر خلاف قانون قدرت ہے اور ایسا ہی پتھر سے پانی نکلنا جو قرآن شریف میں مذکور ہے وہ بھی خلاف قدرت ہے سو اول ہم پتھر کی نسبت جواب دیتے ہیں کہ مضمون خواں کو پتھروں کے اقسام معلوم نہیں۔ صرف انکار کے جوش سے ایک نادان بچہ کی طرح باتیں کررہا ہے۔ بعض ایسے پتھر اب تک پائے جاتے ہیں جن میں یہ خاصیت ہے کہ اگر اُن پرکوئی شربت ڈال دیا جائے تو پانی پتھر کے اندر سے نیچے آجاتا ہے اور شیرینی کا حصہ اوپر رہ جاتا ہے بعض پتھر ایسے ہیں کہ اُن میں پرندوں کی تصویر جم جاتی ہے۔ اور بعض پتھر لو ہے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اوربعض پتھروں میں یہ خاصیت دیکھی گئی ہے کہ سرکہ میں ڈالنے سے ایک زندہ چیز کی طرح جست کرکے باہر آجاتے ہیں اور بعض پتھر تریاق اور بعض زہر ہوتے ہیں اور وہ بھی پتھر ہی ہوتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کا ہیرا بن کر اُن میں سے روشنی کی شعاع نکلتی ہے اور یاقوت نیلم وغیرہ سب پتھر ہی ہیں جو بقدرت قادر مطلق عجیب و غریب خواص اپنے اندر رکھتے ہیں۔ حکیموں کا پرانا مقولہ مشہور ہے کہ خَوَاصُ الْاَ شْیَاءِ حَقٌّ یعنی یہ حق بات ہے کہ ہر ایک چیز میں ایک خاصیت ہوتی ہے اور ؔ انہیں خواص پر اطلاع پاکر انسانوں نے ایجادیں کی ہیں اور کر رہے ہیں او ر خداکی مخلوق میں اس قدر خواص پائے جاتے ہیں کہ جو کچھ اب تک دریافت ہوا ہے گویا وہ ایک دریا میں سے ایک قطرہ ہے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کونسی عقلمندی ہے کہ مضمون خواں نے خواص اشیاء سے انکارکردیا۔ کیا یہ تعجب کی جگہ ہے کہ ایک پتھر ہو جس کے نیچے بہت پانی ہو اور پتھر کے پھٹنے سے پانی نکل آوے۔ پتھر کوپانی سے ایسا تعلق ہے جیسا کہ مچھلی کو دریا سے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 231

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 231

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/231/mode/1up


    پھر ماسوا اس کے اگر اس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے کہ یہ امر خارق عادت ہے توکیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الٰہی ہونا یہ خارق عادت امر نہیں ہے پس جبکہ لیکھرام کی موت نے اس بات کو ثابت کردیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون قدرت کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت دریا بُرد ہوگیا اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا اور اگر لیکھرام والی پیشگوئی سے تسلی نہیں ہوئی تو پھر درخواست کرنے سے اور کوئی ذریعہ تسلّی کا پیدا ہوسکتا ہے اورخدا تعالیٰ کی صدہا الہامی پیشگوئیاں جو پوری ہوچکی ہیں تسلّی دے سکتی ہیں۔ غرض وید کا قانون قدرت ایسا جھوٹا ثابت ہوا کہ ساتھ ہی وید کو بھی لے ڈوبا پھر اسی بنا پر اعتراض کرنا حیا سے بعید ہے۔ ظاہرہے کہ وید نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعد خدا کی قوتِ تکلّم ہمیشہ کے لئے مسلوب رہے گی مگر ہم نے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ ثابت کردیا کہ وید نے جو کچھ دعویٰ کیا ہے اور جو کچھ آئندہ کے لئے خدا کے الہام کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ محال اور قانون قدرت کے برخلاف ہے وہ سراسر جھوٹ اور خلافِ حق ہے بلکہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کو الہام کرتا ہے تو پھر بتلاؤ کہ اس کے بعد بار بار اُس وید کو پیش کرنا جس کے قانون قدرت کا نمونہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ کس قدر خلاف حیا و شرم ہے۔

    غرض لیکھرام کی موت نے ثابت کردیا کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے کہ اس کے بعد الہاؔ م نہیں ہے تو پھر وید کے مقرر کردہ قانون قدرت پر اعتبار کیا رہا خدا تعالیٰ کے کروڑہا قانون قدرت ابھی مخفی ہیں اور آہستہ آہستہ ظاہرہو رہے ہیں مگر افسوس ان لوگوں پر کہ دانستہ آنکھ بندکر لیتے ہیں اگر یورپ کا کوئی شخص یہ بات ظاہر کرے کہ میں پتھر میں سے پانی نکال سکتا ہوں یا تمام پتھر کو پانی بنا سکتا ہوں تو اُس کے مقابل پر یہ لوگ دم بھی نہ ماریں اور فی الفور آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہنے لگیں مگر خدا کے کلام نے جو کچھ بیان کیا اس کو نہیں مانتے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 232

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 232

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/232/mode/1up


    رہا اعتراض شقُّ القمر تو ہم پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ یہ وہ معجزہ ہے کہ جو عرب کے ہزاروں کافروں کے روبرو بیان کیا گیا ہے پس اگر یہ امرخلاف واقعہ ہوتا تو یہ اُن لوگوں کا حق تھا کہ وہ اعتراض پیش کرتے کہ یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا خاص کر اس حالت میں کہ شقُّ القمر کی آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکّا جادو ہے جو آسمان تک پہنچ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے 3 33 ۱؂ یعنی قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور جب یہ لوگ خداکاکوئی نشان دیکھتے ہیں توکہتے ہیں کہ ایک پکّا جادو ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتا تو اُن کاحق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادوکہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا جس کانام شق القمر رکھا گیا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیشگوئیوں کے ہیں اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتاہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ایک استعارہ ہے۔

    مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف میں لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا حکم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو نہ اپنی ذاتی کچھ عقل ہے اونہ علم صرف پادریوں کا کاسہ لیس ہے چونکہ پادریوں نے اپنے نہایت کینہ اور بغض سے جیسا کہ اُنؔ کی عادت ہے محض افترا کے طورپر اپنی کتابوں میں یہ لکھ دیا ہے کہ اسلام میں جبراً مسلمان بنانے کا حکم ہے سو اُس نے اور اُس کے دوسرے بھائیوں نے بغیر تحقیق اور تفتیش کے وہی پادریوں کے مفتریانہ الزام کو پیش کردیا۔ قرآن شریف میں توکھلے کھلے طور پر یہ آیت موجود ہے 33۲؂ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے تحقیق ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہوگیا ہے پھر جبر کی کیا حاجت ہے تعجب کہ باوجودیکہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 233

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 233

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/233/mode/1up


    قرآن شریف میں اس قدر تصریح سے بیان فرمایا ہے کہ دین کے بارے میں جبر نہیں کرناچاہئے پھر بھی جن کے دل بغض اور دشمنی سے سیاہ ہو رہے ہیں ناحق خدا کے کلام پر جبر کا الزام دیتے ہیں۔ اب ہم ایک اورآیت لکھ کر منصفین سے انصاف چاہتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈرکر ہمیں بتلاویں کہ کیا اس آیت سے جبر کی تعلیم ثابت ہوتی ہے یا برخلاف اس کے ممانعت جبر کا حکم بپایہء ثبوت پہنچتا ہے اور وہ یہ آیت ہے۔ 3 3 ۱؂ ۔ الجزنمبر ۱۰ سورۃ التوبۃ (ترجمہ) اگر تجھ سے اے رسول کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دیدو اور اُس وقت تک اُس کو اپنی پناہ میں رکھو کہ وہ اطمینان سے خدا کے کلام کو سن سمجھ لے اور پھر اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر واپس پہنچا دو۔ یہ رعایت ان لوگوں کے حق میں اس وجہ سے کرنی ضرور ہے کہ یہ لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ اب ظاہرہے کہ اگر قرآن شریف جبر کی تعلیم کرتا تو یہ حکم نہ دیتا کہ جو کافر قرآن شریف کو سننا چاہے تو جب وہ سن چکے اور مسلمان نہ ہو تو اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر پہنچا دینا چاہئے بلکہ یہ حکم دیتا کہ جب ایسا کافر قابو میں آجاوے تو وہیں اُس کو مسلمان کرلو۔

    اب ہم ایک اور بات اِن جاہلوں کو سناتے ہیں کہ جو خواہ نخواہ جبر کا الزام خدا کے کلام پر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مکّے کے رہنے والے کل کفار اور نیز دیہاتی اور گرد و نواح کےؔ لوگ ایسے تھے کہ جنہوں نے اس زمانہ میں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ معظمہ میں تھے اور کوئی جنگ شروع نہ تھا کئی مسلمان ناحق قتل کردئیے تھے اور ان مظلوموں کا خون اُن کی گردن پر تھا اور درحقیقت وہ سب اس گناہ میں شریک تھے کیونکہ بعض قاتل اور بعض ہمراز اور بعض اُن کے معاون تھے اس وجہ سے وہ لوگ خدا کے نزدیک قتل کے لائق تھے کیونکہ اُن کی اس قسم کی شرارتیں حد سے گذر گئی تھیں۔ علاوہ اس کے سب سے بڑا گناہ اُن کا یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے مرتکب تھے اور انہوں نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 234

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 234

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/234/mode/1up


    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں پس ان گناہوں کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں واجب القتل ٹھہر چکے تھے اور اُن کا قتل کرنا عین انصاف تھا کیونکہ وہ جرم قتل اور اقدام قتل کے مرتکب ہوچکے تھے*اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو برابر تیرہ۱۳ برس اُن میں رہ کر وعظ کرتے رہے اور نیز آسمانی نشان دکھلاتے رہے اس صورت میں خدا کی حجت اُن پر پوری ہوچکی تھی اس وجہ سے خدا نے جورحیم و کریم ہے اُن کی نسبت یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگرچہ اپنے جرائم کی وجہ سے بہرحال قتل کرنے کے لائق ہیں لیکن اگر کوئی اُن میں سے خدا کی کلام کو سن کر اسلام قبول کرے تو یہ قصاص اس کو معاف کیا جاوے ورنہ اپنے گناہوں کی سزا میں جو قتل اور اقدام قتل ہے وہ بھی قتل کئے جائیں گے اب بتلاؤ کہ اس میں کونسا جبر ہے؟ جس حالت میں وہ لوگ جرم قتل اور اقدام قتل کی وجہ سے بہرحال قتل کے لائق تھے اور یہ رعایت قرآن شریف نے اُن کودی کہ اسلا م لانے کی حالت میں وہ قصاص دور ہوسکتا ہے تو اس میں جبر کیا ہوا؟ اور اگر یہ رعایت نہ دی جاتی تو ان کا قتل کرنا بہرحال ضروری تھا کیونکہ وہ قاتل اور اقدام قتل کے مرتکب تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے 33 ۱؂ یعنی

    ہم اُن لوگوں کو جو ناحق قتل کئے جاتے ہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب وہ بھی قاتلوں کا مقابلہ کریں یعنی ایک مدت تک تومومنوں کو مقابلہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اوروہ مدت تیرہ ۱۳ برس تھی اور جب بہت سے مومن قتل ہوچکے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےؔ اقدام قتل کے بھی کافر لوگ مرتکب ہوئے تب تیرہ۱۳ برس کے مصائب اٹھانے کے بعد مقابلہ کی اجازت دی گئی۔ اور پھر دوسری آیت یہ ہے 33 ۲؂ الجزونمبر۹ سورۃ الانفال(ترجمہ ) اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب کافر لوگ تجھ پر داؤ چلانا چاہتے


    *دیکھو کتاب سوانح عمری حضرت محمد صاحب صفحہ ۲۵ جس کو ایک برہمو صاحب نے انصاف کی راہ سے حال ہی میں تالیف کرکے شائع کیا ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 235

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 235

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/235/mode/1up


    تھے تاکہ تجھے گرفتار کر رکھیں یا تجھے مار ڈالیں اور یا تجھے جلاوطن کردیں اورحال یہ تھا کہ کافرتو قتل کے لئے اپنا داؤ کر رہے تھے اور خدا اُن کو مغلوب کرنے کے لئے اپنا داؤ کررہا تھا اور خدا سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے جس کے داؤ میں سراسر مخلوق کی بھلائی ہے۔

    اِسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیا تو تمام کفار گرفتار کرکے آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو کفار نے خود اپنے منہ سے اس وقت اقرار کیا کہ ہم بباعث اپنے سخت جرائم کے واجب القتل ہیں اور اپنے تئیں آپ کے رحم کے سپرد کرتے ہیں تو آپ نے سب کو بخش دیا اور اس موقع پر معافی کے لئے اسلام کی بھی شرط نہ لگائی۔ لیکن وہ لوگ یہ اخلاق کریمانہ دیکھ کر خود بخود مسلمان ہوگئے اور تاریخ سے ثابت ہوتاہے کہ مکّہ معظمہ میں کئی مرتبہ کفّارِ قریش آنحضرتؐ کے اقدام قتل کے مرتکب ہوئے تھے اور ہر ایک مرتبہ میں ناکام رہے پس اُن کے یہ جرائم تھے جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں واجب القتل تھے اور اُن کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ اگروہ بُت پرستی سے بازآجائیں اور خدا کی کتاب کو قبول کرلیں تو سزائے موت سے اُن کومعافی دی جائے گی۔ ایسا ہی اُن جرائم میں عرب کے تمام بُت پرست اُن کے مددگار اور معاون تھے اور اُن کے ہاتھ سے صدہا مومن بے گناہ قتل ہوچکے تھے سو اُن خون ریزیوں کے جرائم کے پاداش میں اُن پر قتل کا حکم تھا پر خدا وندکریم نے جو سزا دینے میں دھیما ہے اُن سے نرمی کی اورفرمایا کہ اگر اطاعت کرلیں اور بغاوت چھوڑ دیں تو اُن کے گناہ معاف کئے جائیں گے سو اوّل اوّل تو بہتوں نے اُن میں سے اطاعت اختیار نہ کی لیکن جب اسلام کا ستارہ چمکا اور خدا کی نصرت اور مدد روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوگئی تب ان لوگوں نے بھی اطاعت اختیار کی چنانچہ خدا تعالیٰ اُن کے حق میں قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے3 3۱؂الجزونمبر۲۶سورۃ الحجرات (ترجمہ) عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ان کو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے ایمان تو اور ہی چیز ہے سو تم یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کے لئے گردن ڈال دی اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 236

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 236

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/236/mode/1up


    ایمان کا تو ہنوز تمہارے دلوں میں گذر تک نہیں ہوا۔ سو خدا نے یہ معافی محض اطاعت کے لئے دی تھی تا ملک میں سے بغاوت دُور ہو او ر اس طرح پر اُن کو سوچنے سمجھنے کا زیادہ موقعہ ملے اور درحقیقت اس معافی سے کفار کو بڑا فائدہ ہوا۔ پہلے تو انہوں نے اطاعت کرلی اور مقابلہ چھوڑ دیا اور پھر خدا تعالیٰ کے کلام پر غور کرکے اور خدا کی نصرت اور فضل کے تازہ نشان دیکھ کر اُن کے دلوں میں ایمان رچ گیا اور وہ لوگ ایسے کامل الایمان ہوگئے کہ فرشتوں کے ساتھ ہاتھ جا ملائے۔

    ہمارے مخالف جو خواہ نخواہ اسلام پر جبر کا الزام لگاتے ہیں اُن کو یہ دو باتیں ضرور سوچنی چاہئیں۔ (۱) اول یہ کہ جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے صحابہ کے دلوں میں تبدیلی پیدا ہوئی اور جس قدر وہ بُت پرستی او رہر ایک مشرکانہ رسم سے متنفر ہوگئے کیا ایسی تبدیلی اور ایسی شرک سے بیزاری اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے کہ جو جانتا ہے کہ مجھے جبراً مسلمان کیا گیا ہے* (۲) دوسری وہ تائید اسلام جو انہوں نے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر دکھلائی یہاں تک کہ پچا۵۰س برس کی مدت ابھی نہیں گذری تھی کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہوگیا اور مختلف ممالک میں پھیل گیا اور انہوں نے اسلام کی تائید میں وہ کام حیرت انگیز دکھائے کہ جب تک انسان کا دل کسی اپنے ہادی کی راہ میں فدا شدہ نہ ہو ایسے کام ہرگز نہیں دکھلا سکتا ز۔ تاریخ پڑھنے


    *حاشیہ۔ اس جگہ آریہ صاحبوں کو چاہیئے کہ اپنے ایک ہندو بھائی برہمو کی کتاب یعنی سوانح عمری حضرت محمد صاحب صفحہ ۳۴ غور سے مطالعہ کریں ۔ منہ


    ز محققین یورپ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جس صدقِ دل اور دلی جوش سے عربوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کیا وہ ایک فوق العادت امر ہے اور اسی سچے ایمان اور اخلاص کا نتیجہ تھا کہ تھوڑی ہی مدت میں ان کو دنیا میں وہ فتوحات حاصل ہوئیں جو آج تک کسی قوم کو حاصل نہیں ہوئیں اور ایک حیرت ناک امر یہ ان سے ظہور میں آیا کہ یا تو وہ لوگ اُمّی اور ناخواندہ تھے اور یا عُلوم و فُنون میں وہ فوقیت حاصل کی جو قدیم علموں کو زندہ کیا ۔ اور بہت سے نئے علوم ایجاد کئے ۔ عراق اور شام ۔ اسپین اور دیگر ممالک اسلامیہ کی یونیورسٹیاں مشہور تھیں

    (بقیہ حاشیہ دیکھیں صفحہ نمبر ۲۳۷ پر)



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 237

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 237

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/237/mode/1up


    سے ہر ایک کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا کیا مصیبتیں اسلام کی راہ میں اٹھائیں اور کیسی استقامت دکھلائی اور باوجود بھوکے اور فاقہ کش ہونے کے کیسے دشمنوں سے مقابلے کئے یہاں تک کہ بُتپرستی کی تاریکی کو اپنے خونوں سے دُنیا کے کئی حصوں میں سے اٹھا دیا اور خدا کے دین کی خدمت میں چین کے ملک تک پہنچے اور کروڑہا انسانوں کو بت پرستی سے تائب کرکے توحید کے نور سے منور کیا اور ہر ؔ ایک میدان میں اور ہر ایک موقعہ میں آزمائش میں ایسا اپنا صدق دکھلایا کہ اس کے تصور سے رونا آتا ہے تو کیا اُن کی نسبت کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ وہ جبراً مسلمان کئے گئے تھے۔ فی الواقع ایمانی مراتب میں انہوں نے وہ ترقی کی تھی کہ اُن کا نمونہ ملنا مشکل ہے اُن کے صدق اور اخلاص نے تمام ممالک کو فتح کرکے دکھلا دیا اور جس جلدی سے انہوں نے دنیا میں اسلام کو پھیلا یا وہ بھی درحقیقت ایک معجزہ ہی تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ وید کے خادم جو برہمن اور پنڈت کہلاتے ہیں اگر اُن پاک لوگوں کے مقابل پر دیکھے جائیں تو ضرور ہمیں کہنا پڑے گا کہ یہ لوگ محض دنیا پرست اور نفسانی انسان تھے تبھی تووہ کسی دل کو فتح نہ کرسکے اور دنیا میں نہایت

    بدنمونہ مخلوق پرستی وغیرہ کا چھوڑ گئے اور آریہ ورت کی نسل کو آتش پرستی اور بت پرستی اورآب پرستی اور آفتاب پرستی سے نہ روک سکے۔ اگر وہ لوگ رُوحانی آدمی ہوتے تو ضرور اُن کا اثر آریہ ورت پر پڑتا مگر جو کچھ آریہ ورت کی حالت مذہبی اعتقاد کی رو سے اب تک دیکھی جاتی ہے وہ صاف بتلا رہی ہے کہ یہ تمام لوگ خدا کی محبت سے بے بہرہ تھے انسان کی عملی حالت سے بڑھ کر کوئی امر اُس کے خالص ایمان پر گواہ نہیں ہوسکتا۔ عملی حالت انسان کی اس کے ایمان پر ایک مستحکم شہادت ہے۔ آج جو بیس۲۰ کروڑ کے قریب یا اس سے زیادہ دنیا میں مسلمان پائے جاتے ہیں یہ اُنہیں لوگوں


    بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۳۶۔ یورؔ پ کے علماء صدق دل سے اقرار کرتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کو عرب کی شاگردی

    کا فخر ہے پس کیا یہ ترقیات وہ قوم کرسکتی ہے جو جبراََ تلوار سے مسلمان کئے گئے اور ابتدا میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض اکیلے تھے تو پھر جبر کرنے والی فوج کہاں سے نکل آئی ؟ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 238

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 238

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/238/mode/1up


    کی پاک کوششوں کا نتیجہ ہے جن کی نسبت سیاہ دل دشمن کہتے ہیں کہ وہ جبراً مسلمان کئے گئے تھے۔ اے اندھو ! جن لوگوں نے اپنے خونوں سے مہریں لگادیں کہ اسلام سچا ہے کیاوہ جبراً مسلمان کئے گئے تھے؟ حیف تمہاری زندگی پر خدا تعالیٰ نے اُن کی تعریفیں قرآن شریف میں کی ہیں اور اُن کا نام مخلص اور صادق اور وفادار رکھا ہے اور اُن کی جاں نثاری کی گواہی دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۱؂ (ترجمہ) یہ لوگ جو ایمان لائے دو قسم کے ہیں پہلے تو وہ ہیں جو جاں نثاری کے عہد کو پورا کرچکے اور خدا کی راہ میں شہید ہوگئے اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو شہادت کے منتظر ہیںؔ اور چاہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں جانیں دیں اور انہوں نے اپنی بات میں ذرا بھی ردّ و بدل نہیں کی اور اپنے عہد پر قائم رہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جومسلمان نہیں ہوتا اُن کے ساتھ جنگ کرو مگر ابھی ہم قرآن شریف کی یہ آیت لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ دین میں جبر نہیں ہے ہاں بعض آیات قرآن شریف میں ایسی ہیں کہ جاہل اور متعصب مخالف اُن کے معنوں کو بگاڑ کر اعتراض کے طور پر پیش کردیتے ہیں جیسا کہ یہ آیت ہے 33 3۲؂ (ترجمہ) وہ اہل کتاب کہ جو نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نہ خدا اور اُس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دیانت اور سچائی کی راہ کو اختیار کرتے ہیں اُن سے تم لڑو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں۔

    یہ آیات ہیں جن سے نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ کا حکم مسلمان کرنے کے لئے ہے لیکن ان آیات کو اخیر تک پڑھ کر دیکھ لو۔ ان آیات میں مسلمان کرنے کاکہیں بھی حکم نہیں بلکہ اگر تم ان آیات کو آیت 3تک پڑھو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ اُن اہل کتاب کا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 239

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 239

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/239/mode/1up


    ذکر ہے کہ جو کھلے کھلے طور پر جرائم پیشہ ہوگئے تھے اور عیسائیت اور یہودیت صرف نام کے لئے تھی ورنہ اُن کوخدا پر بھی ایما ن نہیں رہا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3333 ۱؂ ۔ 33 ۲؂ (ترجمہ) اور اکثر اہل کتاب کو تو دیکھے گا کہ گناہ کے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں کیا ہی بُرے یہ کام اور بد اعمالیاں ہیں کہ ؔ یہ لوگ کررہے ہیں اُن کے مشائخ اور علماء کیوں ان بُرے کاموں سے اُن کو منع نہیں کرتے اور دیکھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے اور جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں پھر بھی چپ رہتے ہیں۔ پس یہ اُن کے علماء بھی بُرے کام کر رہے ہیں کہ خاموش رہ کر اُن کی بدی میں آپ بھی شریک ہیں۔ اے پیغمبر! تو یہود اور نصاریٰ کو کہہ دے کہ جب تک تم توریت اور انجیل کے احکام پر نہ چلواور ایساہی اُن دوسری تمام کتابوں پر قائم نہ ہو جاؤ جو خدا کی طرف سے تمہیں دی گئی ہیں تب تک تمہاراکچھ بھی مذہب نہیں محض لا مذہب ہوکراپنے نفسوں کی پیروی کر

    رہے ہو پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عرب کے یہود اور عیسائی ایسے بگڑ گئے تھے اور اس درجہ پر وہ بدچلن ہوگئے تھے کہ جو کچھ خدانے اُن کی کتابوں میں حرام کیا تھا یعنی یہ کہ چوری نہ کریں لوگوں کاناحق مال نہ کھاویں۔ ناحق کا خون نہ کریں۔ جھوٹی گواہی نہ دیں۔ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ یہ تمام ناجائز کام ایسی دلی رغبت سے کرتے تھے کہ گویا اُن بُرے کاموں کو انہوں نے اپنا مذہب قراردے دیا تھا جیسا کہ پادری فنڈل صاحب نے بھی اپنی کتاب میزان الحق میں جو اس ملک میں مدت تیس۳۰ سال سے شائع ہوچکی ہے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ درحقیقت ملک عرب میں جو عیسائی اور یہودی تھے وہ سخت بدچلن ہوگئے تھے اور ملک کے لئے اُن کا وجودخطرناک تھا اور اُن کے مفاسد حد سے بڑھ گئے تھے بعد اس کے وہ پادری اپنی شرارت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 240

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 240

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/240/mode/1up


    سے لکھتا ہے کہ نعوذ باللہ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی تو نہیں تھے مگر خدا نے اس ملک کے بدچلن یہودیوں اور عیسائیوں کو سزا دینے کے لئے آپ کوغلبہ بخشا اور خدا نے بطور تنبیہ کے یہ قرین مصلحت قرار دیا کہ اس طرح پر اُن بدچلن فرقوں کو آئندہ بدچلنیوں اور بداعمالیوں سے روکا جاوے۔ یہ وہ گواہی ہے جو ایک سخت دشمن اسلام کا یعنی پادری فنڈل اپنی کتاب میزان الحق میں دیتا ہے اور باوجود سخت متعصب ہونے کے اس قدر سچ اُس کے منہ سے نکل گیا کہ اس وقت کے عیسائی اور یہودی سخت بدچلن اور بداعمال اورجرائم پیشہ تھے۔ پس ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ امن عامہ قائم کرنے کے لئے ایسے جرائم پیشہ لوگوں کا تدارک ضروری تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف پیغمبری کاعہدہ رکھتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بادشاہ با اختیار کی طرح ملکی مصالح قائم رکھنے کے ذمہ وار ٹھہرائے گئے تھے اس صورت میں آپ کا فرض تھا کہ بحیثیت ایک بادشاہ اور والی ملک کے شریروں اور بدمعاشوں کا قرار واقعی بندوبست کریں اور مظلوموں کو جو اُن کی شرارتوں سے تباہ ہوگئے تھے اُن کے پنجہ سے چھڑاویں پس یوں سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے دو عہدے تھے ایک عہدۂ رسالت کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا تھا وہ لوگوں کو پہنچا دیتے تھے اور

    دوسرا عہدہ بادشاہت اور خلافت کا۔ جس عہد کی رُو سے وہ ہر ایک مفسد اورمخل امن کو سزا دے کر امن عامہ کو ملک میں قائم کر دیتے تھے اور ملک عرب کا اُن دنوں میں یہ حال تھا کہ ایک طرف تو خود عرب کے لوگ اکثر لٹیرے اور قزاق اور طرح طرح کے جرائم کرنے والے تھے اور دوسری طرف جو اہل کتاب کہلاتے تھے وہ بھی سخت بدچلن تھے اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کامال کھاتے تھے اگر عرب رات کو لوٹتے تھے تو یہ لوگ دن کو ہی غریب لوگوں کی گردن پر چھری پھیرتے تھے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوملک عرب کی بادشاہی دی تو بلاشبہ آنجناب کا یہ فرض تھا کہ بدمعاشوں اورمجرموں اورچوروں اور ڈاکوؤں اور مفسدوں کا بندوبست کریں اور جو لوگ جرائم سے باز نہیں آتے اُن کو سزا دیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 241

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 241

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/241/mode/1up


    اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ بادشاہ کے لئے ایساکرنا ضروری ہے کہ مثلاً اگر کسی بادشاہ کی رعایا پر لوگ ڈاکہ ماریں اور اُن کا مال لوٹ کرلے جاویں یا نقب لگاکرمال لے جاویں یا طمع نفسانی سے لوگوں کو قتل کریں توکیا اس بادشاہ کا فرض نہیں ہوگا کہ ایسے مفسد لوگوں پر چڑھائی کرے اور ایسے مفسد لوگوں کو قرار واقعی سزا دے کرملک میں امن قائم کردے سو یہ لڑائی اہل کتاب سے اس وجہ سے نہیں تھی کہ اُن کو مسلمان کیا جائے بلکہ اس وجہ سے تھی کہ اُن کی شرارتوں سے ملک کو بچایا جائے اس بات کا قرآن شریف میں بتصریح ذکر ہے کہ اُن کی بدچلنی نہایت درجہ تک پہنچ گئی تھی۔ چنانچہ ان بدچلنیوں کے بارے میں قرآن شریف میں یہ آیات موجود ہیں۔ 3 33 3 ۱؂ (الجزو نمبر۱۰ سورۃ ا لتوبۃ) (ترجمہ) مسلمانو ! اہل کتاب کے اکثر عالم اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق کھاتے ہیں یعنی ناجائز طور پر اُن کا روپیہ اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں اور خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے رہتے ہیں اور اس طرح پر ناجائز طور پر لوگوں کے مال لے کر سونا اور چاندی جمع کر لیتے ہیں اور خداکی راہ میں کچھ بھی خرچ نہیں کرتے سو اُن کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔

    پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی بدچلنی کی نسبت خوب وضاحت سے فرماتا ہے اور وہ آیات یہ ہیں۔33 33 ۱؂ الجزونمبر ۳ سورۃ آل عمران۔(ترجمہ) اور اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر اُن کے پاس زَرِنقد کا ایک ڈھیر بھی امانت رکھی جائے توجب تو مانگے وہ سب مال تیرے حوالہ کریں گے اور بعض اہل کتاب ایسے ہیں کہ اگر ایک اشرفی بھی تو اُن کے حوالہ بطور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 242

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 242

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/242/mode/1up


    امانت کرے تووہ کبھی حوالہ نہ کریں گے مگر صرف اُس وقت کہ تو اُن کے سر پر کھڑا ہوگا۔ یہ بدمعاملگی اس لئے کرتے ہیں کہ وہ کھلے کھلے طورپر کہتے ہیں کہ عرب کے اَنْ پڑھ لوگوں کا حق مار لینے میں ہم سے کوئی باز پُرس نہیں ہوگی اور دیدہ دانستہ خدا پر جھوٹ بولتے ہیں۔

    غرض عرب کے مشرکوں کی طرح اس ملک کے اہل کتاب بھی جرائم پیشہ ہوگئے تھے عیسائیوں نے تو کفارہ کے مسئلہ پر زور دے کر اور اس پر بھروسہ کرکے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم پر سب جرائم حلال ہیں اور یہودی کہتے تھے کہ ہم ارتکاب جرائم کی وجہ سے صرف چند روز دوزخ میںؔ پڑیں گے اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 3 3 ۱؂ ۔الجزو نمبر ۳ سورۃ آل عمران (ترجمہ) یہ دلیری اورجرأت اِ س سے اُن کو پیدا ہوئی کہ اُن کا یہ قول ہے کہ دوزخ کی آگ اگر ہمیں چھوئے گی بھی تو صرف چند روز تک رہے گی اور جو افترا پر دازیاں وہ کرتے ہیں انہیں پرمغرور ہوکر اُن کے یہ خیالات ہیں۔

    پس جب کہ اہل کتاب اور مشرکین عرب نہایت درجہ بدچلن ہوچکے تھے اور بدی کرکے سمجھتے تھے کہ ہم نے نیکی کاکام کیا ہے اور جرائم سے باز نہیں آتے تھے اور امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے توخدا تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہاتھ میں عنانِ حکومت دے کر اُن کے ہاتھ سے غریبوں کو بچانا چاہا اور چونکہ عرب کا ملک مطلق العنان تھا اور وہ لوگ کسی بادشاہ کی حکومت کے ماتحت نہیں تھے اِس لئے ہر ایک فرقہ نہایت بے قیدی اور دلیری سے زندگی بسرکرتا تھا اور چونکہ اُن کے لئے کوئی سزا کا قانون نہ تھا اِس لئے وہ لوگ روز بروز جرائم میں بڑھتے جاتے تھے پس خدا نے اس ملک پر رحم کرکے ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ملک کے لئے نہ صرف رسول کرکے بھیجا بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی بنا دیا اور قرآن شریف کوایک ایسے قانون کی طرح مکمل کیا جس میں دیوانی فوجداری مالی سب ہدایتیں ہیں سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک بادشاہ ہونے کے تمام فرقوں کے حاکم تھے اور ہر ایک مذہب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 243

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 243

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/243/mode/1up


    کے لوگ اپنے مقدمات آپ سے فیصلہ کراتے تھے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا آنجناب کی عدالت میں مقدمہ آیا تو آنجناب نے تحقیقات کے بعد یہودی کو سچا کیا اور مسلمان پر اُس کے دعوے کی ڈگری کی۔ پس بعض نادان مخالف جو غور سے قرآن شریف نہیں پڑھتے وہ ہر ایک مقام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے نیچے لے آتے ہیں حالانکہ ایسی سزائیں خلافت یعنی بادشاہت کی ؔ حیثیت سے دی جاتی تھیں۔

    بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد نبی جُدا ہوتے تھے اور بادشاہ جُدا ہوتے تھے جو امور سیاست کے ذریعہ سے امن قائم رکھتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ دونوں عہدے خدا تعالیٰ نے آنجناب ہی کو عطاکئے اور جرائم پیشہ لوگوں کو الگ کرکے باقی لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ تھا وہ آیت مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے3 3 ۱؂ الجزو نمبر۳ سورۃ آل عمران (ترجمہ)اور اے پیغمبر اہل کتاب اورعرب کے جاہلوں کوکہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔ پس اگر اسلام قبول کرلیں توہدایت پاگئے اور اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الٰہی پہنچا دو۔ اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم اُن سے جنگ کرو۔ اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یاامن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھانہ بحیثیت رسالت۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے 33 ۲؂ ۔ الجزو نمبر ۲ سورۃ البقرہ۔ (ترجمہ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔ یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔ خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف کا ذکر کرکے تعدّدِ ازواج پر اعتراض کیا اس کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 244

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 244

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/244/mode/1up


    جواب میں اس قدر ہم لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ اگرچہ آریہ سماج والے تعدّد ازواج کو نظرِ نفرت سے دیکھتے ہیں مگر بلاشبہ وہ اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں جس کے لئے اکثرانسان تعدّد ازواج کے لئے مجبور ہوتا ہے اور وہ یہ کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ اپنی نسل باقی رہنے کے لئے کوئی احسن طریق اختیار کرے اور ؔ لاولد رہنے سے اپنے تئیں بچاوے اور یہ ظاہر ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی سے اولادنہیں ہوتی اور یا ہوتی ہے اور بباعث لاحق ہونے کسی بیماری کے مرمر جاتی ہے اور یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں مرد کو دوسری بیوی کی نکاح کے لئے ضرورت پیش آتی ہے خاص کر ایسے مرد جن کی نسل کامفقود ہونا قابل افسوس ہوتا ہے اور اُن کی ملکیت اور ریاست کو بہت حرج اور نقصان پہنچتا ہے۔ ایسا ہی اور بہت سے وجوہ تعدّدِ نکاح کے لئے پیش آتے ہیں مگر بالفعل ہم صرف یہ ایک ہی وجہ بیان کرکے قرآن شریف کی اس تعلیم کا جو تعدد ازواج کی ضرورت پیش کرتی ہے وید کی اس تعلیم سے مقابلہ کرتے ہیں جو ضرورت مندرجہ بالا کے پورا کرنے کے لئے وید نے پیش کی ہے۔

    سنو ! جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں قرآن شریف میں انسانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے تعدّدِ ازواج کو روا رکھا ہے اور منجملہ ان ضرورتوں کے ایک یہ بھی ہے کہ تا بعض صورتوں میں تعدّدِ ازواج نسل قائم رہ جانے کاموجب ہو جائے کیونکہ جس طرح قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے اسی طرح نسل سے بھی قومیں بنتی ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ کثرت نسل کے لئے نہایت عمدہ طریق تعدّدِ ازواج ہے پس وہ برکت جس کادوسرے لفظوں میں نام کثرت نسل ہے اس کا بڑا بھاری ذریعہ تعدّدِ ازواج ہی ہے یہ تووہ ذریعہ کثرت نسل کا ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اور اس کے برخلاف جو وید نے ذریعہ پیش کیا ہے جس کو وہ نہایت ضروری سمجھتاہے وہ نیوگ ہے یعنی یہ کہ اگر کسی کے گھر میں پہلی بیوی سے اولاد نہ ہو تو اولاد حاصل کرنے کے لئے دو طریق ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 245

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 245

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/245/mode/1up


    (۱) ایک یہ کہ اُس کی اپنی بیوی کسی دوسرے مرد سے منہ کالا کراوے نہ ایک دن نہ دودن بلکہ قریباً چو۱۴دہ سال تک کسی دوسرے مرد سے ناجائز تعلق رکھے یا کم و بیش اور جو اُس غیر مرد سے اولاد ہو وہ مرغیوں کے بچوں کی طرح نصفا نصف تقسیم ہو جائے گی۔ یعنی نصف بچے تو اُس پاکدامن کے خاوند کو ملیں گے اور نصف دیگر اُس کو ملیں گے جس کے ساتھ یارانہ اولاد کے لئے لگایا گیا۔ اب اگرچہ آریہ صاحبان اس کام سے کچھ بھی نفرت نہیں کرتے مگر میں جانتا ہوں کہ اب بھی کئی کروڑ ہندو اِسی آریہ وَرت میں ایسے ہوں گے کہ وید کی اِس تعلیم کو اُن کا دل ہرگز منظور نہیں کرتا ہوگا اور مسلمانوں کی طرح ضرورت کے وقت دوسری شادی کرتے ہوں گے اِس سے ظاہر ہے کہ شریف ہندوؤں کی فطرت نے بھی ضرورت کے وقت نکاح ثانی کو پسند کیا ہے اگر تم پنجاب میں ہی تلاش کرو توہزارہا دولت مند اور امیر ہندو ایسے نکلیں گے کہ وہ دو دو تین تین بیویاں رکھتے ہوں گے مگر بجز اس قلیل گروہ آریوں کے کوئی شریف باعزت ہندو اس بات کو منظور نہیں کرے گا کہ اپنی جوان خوب صورت بیوی کو رات کو دوسرے کے ساتھ ہمبستر کرادے اگر یہ بے غیرتی نہیں تو پھر بے غیرتی اور بے شرمی کس چیز کا نام ہے؟ مگر کئی بیویاں کرنے کا طریق مسلمانوں کی طر ح ہندوؤں میں بھی ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور اس وقت کے ہندو راجے بھی برابر اس کے کاربند ہیں اورہم بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ کئی بیویاں کرنے کا طریق فقط اس زمانہ میں ہندوؤں میں پیدا نہیں ہوا بلکہ ہندوؤں کے وہ بزرگ جو اوتار کہلاتے تھے اُن کا تعدّدِ ازواج بھی ثابت ہے۔ چنانچہ کرشن جی کی ہزاروں بیویاں بیان کی جاتی ہیں اوراگر ہم اس بیان کو مبالغہ خیال کریں تواس میں شک نہیں کہ دس بیس تو ضرور ہوں گی۔ راجہ رامچندر کے باپ کی بھی دو بیویاں تھیں اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے وید میں کہیں تعدّدِ ازواج کی ممانعت نہیں پائی جاتی ورنہ یہ بزرگ لوگ ایسا کام کیوں کرتے جو وید کے برخلاف تھاایسا ہی باوا نانک صاحب جو ہندو قوم میں ایک بڑے مقدس آدمی شمار کئے گئے ہیں اُن کی بھی دو بیویاں تھیں۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 246

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 246

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/246/mode/1up


    اس جگہ مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدّدِ ازواج میں یہ ظلم ہے کہ اعتدال نہیں رہتا۔ اعتدال اِسی میں ہے کہ ایک مرد کے لئے ایک ہی بیوی ہو مگرمجھے تعجب ہے کہ وہ دوسروں کے حالا ت میں کیوں خواہ نخواہ مداخلت کرتے ہیں جب کہ یہ مسئلہ اسلام میںؔ شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں او ر ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ اُن عورتوں کاحق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ اُن کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا۔ لیکن اگرکوئی عورت ایسی شرط نہ لکھا وے اور حکم شرع پر راضی ہووے تواس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہوگا اور اس جگہ یہ مثل صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی توکیاکرے گا قاضی۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تو تعدّد ازواج فرض واجب نہیں کیا ہے خدا کے حکم کی رو سے صرف جائز ہے پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ قانون کی رُو سے ہے اور اُس کی پہلی بیوی

    اُس پر راضی نہ ہو تو اس بیوی کے لئے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کاارادہ ہے اُس نکاح پر راضی نہ ہو تو اُس کے لئے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کوانکاری جواب دے دے۔ کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس نکاح پر راضی ہوجاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اوراعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ کیا اُس مردنے اُن عورتوں سے نکاح کرنا ہے یا اس آریہ سے۔ جس حالت میں خدا نے تعدّدِ ازواج کو کسی موقعہ پرانسانی ضرورتوں میں جائز رکھا ہے اور ایک عورت اپنے خاوند کے دوسرے نکاح میں رضامندی ظاہر کرتی ہے اور دُوسری عورت بھی اس نکاح پرخوش ہے تو کسی کا حق نہیں ہے کہ اُن کے اس باہمی فیصلہ کو منسوخ کردے اور اس جگہ یہ بحث پیش کرنا کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا پہلی بیوی کے حق میں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 247

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 247

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/247/mode/1up


    ظلم ہے اور طریق اعتدال کے برخلاف ہے یہ اُن لوگوں کاکام ہے جن کی تعصّب سے عقل ماری گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ حقوقِ عباد کے متعلق ہے اور جو شخص دو بیویاں کرتاہے اس میں خدا تعالیٰ کاحرج نہیں اگر حرج ہے تو اس بیوی کاجو پہلی بیوی ہے یادوسری بیوی کا۔ؔ پس اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی سمجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پاسکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ خلع کراسکتی ہے اور اگر دوسری بیوی اپنا کچھ حرج سمجھتی ہے تو وہ اپنے نفع نقصان کو خود سمجھتی ہے پس یہ اعتراض کرنا کہ اس طور سے اعتدال ہاتھ سے جاتا ہے خواہ نخواہ کا دخل ہے اور باایں ہمہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو وصیت فرمائی ہے کہ اگر اُن کی چند بیویاں ہوں تو اُن میں اعتدال رکھیں ورنہ ایک ہی بیوی پر قناعت کریں۔

    اور یہ کہنا کہ تعدّدِ ازواج شہوت پرستی سے ہوتا ہے یہ بھی سراسر جاہلانہ اور متعصبانہ خیال ہے ہم نے تو اپنی آنکھوں کے تجربہ سے دیکھا ہے کہ جن لوگوں پر شہوت پرستی غالب ہے اگر وہ تعدد ازواج کی مبارک رسم کے پابند ہو جائیں تب تو وہ فسق و فجور اور زناکاری اور بدکاری سے رُک جاتے ہیں اور یہ طریق اُن کو متقی اور پرہیزگار بنا دیتاہے ورنہ نفسانی شہوات کا تند اور تیز سیلاب بازاری عورتوں کے دروازہ تک اُن کو پہنچا دیتا ہے آخر آتشک اور سوزاک خریدتے یا اور کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ کام فسق و فجور کے چھپے چھپے اور کھلے کھلے اُن سے صادر ہوتے ہیں جن کی نظیر اُن لوگوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی جن کی دو دو تین تین دل پسند بیویاں ہوتی ہیں۔ یہ لوگ تھوڑی مدت تک تو اپنے تئیں روکتے ہیں آخر اس قدر یک دفعہ اُن کی ناجائز شہوات جوش میں آتی ہیں کہ جیسے ایک دریا کا بند ٹوٹ کر وہ دریا دن کو یارات کو تمام ارد گرد کے دیہات کو تباہ کر دیتا ہے سچ تو یہ ہے کہ تمام کام نیت پر موقوف ہیں جو لوگ اپنے اندر یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسری بیوی کرنے سے اُن کے تقویٰ کا سامان پورا ہو جائے گا اور وہ فسق و فجور سے بچ جائیں گے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 248

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 248

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/248/mode/1up


    یا یہ کہ وہ اس ذریعہ اپنی صالح اولاد چھوڑ جائیں گے تو اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ ضرور اس بابرکت کام سے حصہ لیں خدا کی جناب میں بدکاری اور بدنظری ایسے ناپاک گناہ ہیں جن سے نیکیاں باطل ہو جاتی ہیں اور آخر اسی دُنیا میں جسماؔ نی عذاب نازل ہو جاتے ہیں۔ پس اگرکوئی تقویٰ کے محکم قلعہ میں داخل ہو نے کی نیت سے ایک سے زیادہ بیویاں کرتا ہے اس کے لئے صرف جائز ہی نہیں بلکہ یہ عمل اس کے لئے موجب ثواب ہے۔ جو شخص اپنے تئیں بدکاری سے روکنے کے لئے تعدّدِ ازواج کا پابند ہوتا ہے وہ گویا اپنے تئیں فرشتوں کی طرح بنانا چاہتاہے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ اندھی دنیا صرف جھوٹی منطقوں اور جھوٹی شیخیوں میں گرفتار ہے وہ لوگ جو تقویٰ کی تلاش میں لگے نہیں رہتے کہ کیونکر حاصل ہو اور تقویٰ کے حصول کے لئے کوئی تدبیر نہیں کرتے اور نہ دعا کرتے ہیں اُن کی حالتیں اُس پھوڑے کی مانند ہیں جو اُوپر سے بہت چمکتا ہے مگر اُس کے اندر بجز پیپ کے اور کچھ نہیں۔ اور خدا کی طرف جھکنے والے جو کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے وہ تقویٰ کی راہوں کو یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں جیسا کہ ایک گدا روٹی کو۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مصیبتوں کی آگ میں پڑتے ہیں جن کا دل

    ہر وقت مغموم رہتاہے اور خدا کی راہ میں بڑے مقاصد مگر دشوار گذار اُن کی رُوح کو تحلیل کرتے اور کمر کو توڑتے رہتے ہیں اُن کے لئے خدا خود تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنے دن یا رات میں سے چند منٹ اپنی مانوس بیویوں کے ساتھ بسر کریں اور اس طرح پر اپنے کو فتہ اور شکستہ نفس کو آرام پہنچا ویں اور پھر سرگرمی سے اپنے دینی کام میں مشغول ہو جاویں۔ ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھتا مگر وہ جو اس راہ میں مذاق رکھتے ہیں۔میں نے ہندوؤں کی ہی پُستک میں یہ ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک شخص کسی بہت ضروری کام کے لئے کسی طرف جاتا تھا اورراہ میں اس کے ایک خونخوار دریا تھا اور کوئی کشتی نہیں تھی اور جانا ضروری تھا۔ جب وہ دریا کے کنارہ پر پہنچا تو ایک فقیر کو اُس نے دیکھا جس کی سو۱۰۰ بیوی تھی تب اُس نے اُس کی خدمت میں عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ میں کسی طرح اس دریا سے پار ہو جاؤں۔ اس فقیر نے کہا کہ تو دریا کے کنارہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 249

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 249

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/249/mode/1up


    پر جا اور اس دریا کو کہدے کہ میں تیرے آگے اُس فقیر مجرد کا واسطہ ڈالتا ہوں جو تیرے کنارہ پر بیٹھا ہے جس نے ساری عمر میں کسی عورت کو چھوا بھی نہیں۔ پس اگر یہ بات سچ ہے تو مجھے راہ دیدے۔ جبؔ اس شخص نے یہ پیغام اس دریاکو پہنچایا تو یہ سنتے ہی دریا نے راہ دے دی اور وہ دریا سے پار ہوگیا۔ اور آتے وقت پھر وہی مشکل تھی اور دوسرے کنارہ پر اور فقیر بیٹھا ہوا تھا جو ہر روز ایک دیگ پلاؤ کی کھاتا تھا یہ شخص اُس کے پاس گیا اور اپنی مشکل بیان کی اُس نے کہا کہ دریا کو میری طرف سے جاکر کہہ دے کہ میں تیرے آگے اس فقیر کاواسطہ ڈالتا ہوں جو تیرے کنارہ پر بیٹھا ہے جس نے کبھی ایک دانہ اناج کا بھی نہیں کھایا اگر یہ بات سچ ہے تو مجھے راہ دیدے تب فی الفور دریا نے راہ دے دی ؂

    تو مردان آن راہ چوں بنگری کہ از کینہ و بغض کور و کری

    چہ دانی کہ ایشان چسان می زیند زدنیا نہان در نہان می زیند

    فداگشتہ در راہ آن جان پناہ زکف دل زسر اوفتادہ کلاہ

    ولے ریش رفتہ بکوئے دِگر زتحسین و لعنِ جہاں بے خبر

    چوبیت المقدس دردن پُر زتاب رہا کردہ دیوار بیرون خراب

    اور مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے قریبی رشتہ داروں میں شادی ہوتی ہے مگر میں نہیں جانتا کہ ایسا لغو اعتراض کیوں کیا گیا ہے ۔یوں تو نوعِ انسان سب آپس میں قریبی ہیں اسی وجہ سے ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں باقی یہ بحث کہ نہایت قریبی کون کون ہیں جن کا باہم نکاح حرام ہے سو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تفصیل سے بتلا دیا ہے اور وہ آیات یہ ہیں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 250

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 250

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/250/mode/1up


    الجزو نمبر ۴ سورۃ النساء (ترجمہ) اورجن عورتوں کے ساتھ تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو تم اُن کے ساتھ نکاح مت کرو اورجو ہوچکا اس پرکچھ مواخذہ نہیں (یعنی جاہلیت کے زمانہ کی خطا معاف کی گئی) اور پھر فرماتا ہے کہ باپ کی منکوحہ عورت کو کرنا یہ بڑی بے حیائی اور غضب کی بات تھی اور بہت ہی بُرادستور تھا تم پر یہ سب رشتے حرام کئے گئے ہیں جیسے تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور دائیاں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ شریک بہنیں اور تمہاری عورتوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پائیں اور تمہارے گھروں میں رہیں مگر عورتوں سے وہ عورتیں مراد ہیں جو تم سے ہم بستر ہوچکی ہوں اور اگر تم نے اُن عورتوں سے صحبت داری نہ کی ہو تو اس صورت میں تمہیں نکاح کرنے میں مضائقہ نہیں اور ایسا ہی تمہارے بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں مگر وہ بیٹے جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں متبنّٰی نہیں ہیں اور یہ حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح کرو اوردونوں تمہارے نکاح میں ہوں مگر جو پہلے اس سے گذر گیا۔ اُس پرکچھ مواخذہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہر بان ہے اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو دوسروں کے قید نکاح میں ہیں*۔ مگر وہ عورتیں جو شرعی طور پر ظالم


    *حاشیہ۔ افسوس کہ وید کی تعلیم ایسی عورتوں کو بھی حلال کرتی ہے جو دوسروں کے نکاح میں ہوں اگر تمام آریہ ورت کی عورتیں لاولد رہ جائیں یا لڑکیاں ہوں تو وید کی رو سے جائز ہے کہ ایک ہی رات میں کروڑوں عورتیں اپنے خاوندوں کو چھوڑ کر دوسروں سے ہمبستر ہوجائیں افسوس جن کا یہ مذہب ہے وہ اسلام پر حملہ کرتے ہیں ۔ اسلام نے کب جائز رکھا ہے کہ نکاح والی عورت دوسرے سے ہمبستر ہوجائے ؟ اگر یہ صریح حرام کاری نہیں تو اور کیا ہے ؟ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 251

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 251

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/251/mode/1up


    کافروں کی لڑائی میں قید ہوکر تمہارے قبضہ میں آئی ہوں۔ یہ خدا کاحکم تحریری ہے جو تم پر لازم کیا جاتا ہے۔ ان عورتوں کے سوا جو ذکر ہوچکیں باقی سب عورتیں تم پر حلال ہیں مگر اس شرط سے کہ وہ تعلق صرف شہوت رانی کا ناجائز تعلق نہ ہو بلکہ نیک اور پاک مقاصد کی بنا پر نکاح ہو۔

    یہ ہیں وہ عورتیں جو خدا کے قانون نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں اوریہ محض خدا کا حق ہے کہ جن چیزوں کو چاہے حلال کرے اور جن چیزوں کو چاہے حرام کرے اورؔ وہی اپنے مصالح کو خوب جانتا ہے۔ اب آریوں کا خدائی قانون میں خواہ نخواہ بغیر کسی حجت اور روشن دلیل کے دخل دینا صرف شوخی اور کمینگی ہے۔ اور ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ جو لوگ حیوانات کا پیشاب اور گوبر بھی کھا جاتے ہیں ا ورحرام حلال کا یہ حال ہے کہ اپنی بیوی کو بنام نہاد نیوگ دوسروں سے ہمبسترکراتے ہیں وہ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قریبی رشہ داروں سے کیوں نکاح کیا جاتا ہے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ وہ خدا کے نزدیک ایسے قریبی نہیں ہیں جو تمہارے خیال خام میں قریبی معلوم ہوتے ہیں۔ جن کو خدا نے قریبی ٹھہرایا ہے اُن کا ذکر اپنی کتاب میں کردیا ہے اوروہ نکاح حرام کئے گئے ہیں جیسا کہ ابھی ہم ذکر کرآئے ہیں مگر اس کا کیا جواب ہے کہ وید کے پرمیشر نے ایک بڑا اندھیر مارا ہے (جس کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ بسا اوقات ماؤں اور بہنوں سے بھی شادی کر لیتے ہیں) اور وہ تناسخ یعنی آواگون کادھوکا دینے والا طریق ہے کیونکہ جس حالت میں دوبارہ آنے والی رُوح کے ساتھ پرمیشرکی طرف سے کوئی ایسی فہرست پیٹ میں سے ساتھ نہیں نکلتی جس سے معلوم ہوکہ فلاں عورت سے پیدا ہونے والی درحقیقت فلاں شخص کی ماں ہے یا دادی ہے یا نانی ہے یا بیٹی ہے یا بہن ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ بسا اوقات ایک آریہ شادی کرنے والا اپنی ماں سے نکاح کرلیتا ہوگا؟یا بیٹی سے یا بہن سے یا دادی سے۔ اگر کہو کہ یہ تو پرمیشر کا قصور ہے ہمارا قصور نہیں تو اس کاجواب یہ ہے کہ پھرتم ایسے پرمیشر پر کیوں ایمان لاتے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 252

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 252

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/252/mode/1up


    ہو؟ جو تمہیں دیدہ دانستہ ایسی ایسی ناپاکی میں ڈالتا ہے اور اگر وہ ان رشتوں کو تمہارے لئے حلال سمجھتا ہے تو پھر تم کیوں اپنے پرمیشر کی نافرمانی کرتے ہو اور کیوں شاکت مت کی طرح جو ہندوؤں کی ایک شاخ ہے ماؤں بہنوں کو اپنے پر حلال نہیں کر لیتے۔ یہ کمال ناسمجھی اور کمزوری ہے کہ جن چیزوں کو پرمیشر تمہارے لئے حلال ٹھہراتا ہے تم ان چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہو۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف میں لونڈیوں سے ہمبستر ہونا لکھا ہے مگر اس معترض کو اول یہ سوچنا چاہئے تھا کہ کیا یہ امر نیوگ کے برابر ہے؟ نیوگ کی تو یہ حقیقت ہے کہ ایک بے گناہ شریف زادی جو کسی کے نکاح میں ہو وہ محض اس وجہ سے دوسرے سے ہمبستر کرائی جاتی ہے کہ تا اس غریب کے پیٹ سے کسی طرح لڑکا پیدا ہو جائے جب دیکھتے ہیں کہ اُن کی عورت کو لڑکا پیدا نہیں ہوتا یا صرف لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں یا محض بانجھ ہوتی ہے تو ان تمام صورتوں میں اُس آریہ عورت کا کسی دوسرے سے منہ کالا کرایا جاتا ہے پس وہ عورت لڑکے کی خواہش سے کسی بیگانہ شخص سے حرامکاری کراتی ہے اور اس کے خاوند کو ایک ذرّہ غیرت نہیں آتی کہ اُس کے گھر میں ایک بے گانہ شخص اُس کی عورت سے حرامکاری کر رہا ہے بلکہ وہ خوش ہوتا ہے کہ اب شاید اس فعل شنیع سے حمل ٹھہر جائے گا اور لڑکا پیدا ہو گا اور وہ لڑکا مفت میں اُس کا لڑکا بن جائے گا۔ افسوس جن لوگوں کو اپنی عورت کی نسبت غیرت نہیں وہ دوسروں کے ساتھ کس طریق پر پرہیزگاری برت سکتے ہیں۔

    رہا یہ امر کہ کافروں کی عورتوں اور لڑکیوں کو جو لڑائیوں میں ہاتھ آویں لونڈیاں بناکر اُن سے ہمبستر ہونا تو یہ ایک ایسا امر ہے جو شخص اصل حقیقت پر اطلاع پاوے وہ اس کو ہرگز محل اعتراض نہیں ٹھہرائے گا۔

    اور اصل حقیقت یہ ہے کہ اُس ابتدائی زمانہ میں اکثر چنڈال اور خبیث طبع لوگ ناحق اسلام کے دشمن ہوکر طرح طرح کے دُکھ مسلمانوں کو دیتے تھے اگر کسی مسلمان کو قتل کریں تو اکثر اس میّت کے ہاتھ پیر اور ناک کاٹ دیتے تھے اور بے رحمی سے بچوں کو بھی قتل کرتے تھے اور اگر کسی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 253

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 253

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/253/mode/1up


    غریب مظلوم کی عورت ہاتھ آتی تھی تو اُس کو لونڈی بناتے تھے اور اپنی عورتوں میں (مگر لونڈی کی طرح) اُس کو داخل کرتے تھے اور کوئی پہلو ظلم کا نہیں تھا جو انہوں نے اٹھا رکھا تھا۔ ایک مدت دراز تک مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم ملتا رہا کہ ان لوگوں کی شرارتوں پر صبر کرو مگر آخرکار جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو خدا نے اجازت دے دی کہ اب ان شریر لوگوں سے لڑو اور جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اس سے زیادہ نہ کرو* لیکن پھر بھی مُثلہ کرنے سے منع کیا یعنی منع فرمادیا کہ کافروں کے کسی مقتول کی ناک کان ہاتھ وغیرہ نہیں کاٹنے چاہئیں اور جس بے عزتی کو مسلمانوں


    *حاشیہ۔ یاد رہے کہ نکاح کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی کی اور نیز مرد کی بھی رضا مندی لی جاتی ہے لیکن جس حالت میں ایک عورت اپنی آزادی کے حقوق کھو چکی ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ وہ ان ظالم طبع جنگجو لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں پر بے جا ظلم کئے ہیں تو ایسی عورت جب گرفتار ہو کر اپنے اقارب کے جرائم کی پاداش میں لونڈی بنائی گئی تو اس کی آزادی کے حقوق سب تلف ہوگئے لہٰذا وہ اب فتحیاب بادشاہ کی لونڈی ہے اور ایسی عورت کو حرم میں داخل کرنے کے لئے اس کی رضا مندی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے جنگجو اقارب پر فتحیاب ہو کر اس کو اپنے قبضہ میں لانا یہی اس کی رضا مندی ہے۔ یہی حکم توریت میں بھی موجود ہے ہاں قرآن شریف میں فَکُّ رَقَبَۃٍ یعنی لونڈی غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام بیان فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو رغبت دی ہے کہ ؔ اگر وہ ایسی لونڈیوں اور غلاموں کو آزاد کردیں تو خدا کے نزدیک بڑا اجر حاصل کریں گے ۔ اگرچہ مسلمان بادشاہ ایسے خبیث اور چنڈال لوگوں پر فتح یاب ہو کر غلام اور لونڈی بنانے کا حق رکھتا ہے مگر پھر بھی بدی کے مقابل پر نیکی کرنا خدا نے پسند فرمایا ہے ۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کاطریق چھوڑ دیا ہے ۔ اس لئے اب مسلمانوں کے لئے بھی روا نہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بنادیں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے جو تمؔ جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کافر لوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بناویں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں اس لئے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا ناجائز اور حرام ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 254

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 254

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/254/mode/1up


    کے ؔ لئے وہ لوگ پسند کرتے تھے اس کا بدلہ لینے کے لئے حکم دے دیا۔ اسی بنا پر اسلام میں یہ رسم جاری ہوئی کہ کافروں کی عورتیں لونڈی کی طرح رکھی جائیں اور عورتوں کی طرح استعمال کی جائیں یہ تو انصاف اور طریق عدل سے بعید تھا کہ کافر تو جب کسی مسلمان عورت کو اپنے قبضہ میں لاویں تو اُس کو لونڈی بناویں اور عورتوں کی طرح اُن کو استعمال کریں اور جب مسلمان اُن کی عورتوں اور اُن کی لڑکیوں کو اپنے قبضہ میں کریں تو ماں بہن کرکے رکھیں۔خدا بے شک حلیم ہے مگر وہ سب سے زیادہ غیرت مند ہے اُس کی غیرت ہی تھی جو نوح کے طوفان کا باعث ہوئی۔ اُسی کی غیرت نے ہی انجام کار فرعون اور اُس کے تمام لشکر کو دریا میں غرق کردیا۔ اُسی کی غیرت نے لوط کی قوم پر زمین کا تختہ اُلٹا دیا۔ اور اُسی کی غیرت اب جابجا ہیبت ناک زلزلے دکھلا رہی ہے اور لاکھوں انسانوں کو طاعون سے ہلاک کررہی ہے اور اسی کی غیرت نے لیکھرام کو جو بدزبانی سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا اُسی کی زبان کی چھری سے آخر لوہے کی چھری غیب سے پیدا کردی اورجواناں مرگ مارا اور بڑے دُکھ سے اُس کو اُس کی قوم میں سے اُٹھا لیا اور کوئی اس کو بچانہ سکا اورخدا نے اپنی پیشگوئی اُس میں پوری کردی۔ پس اسی طرح جب عرب کے خبیث فطرت ایذا اور دُکھ دینے سے باز نہ آئے اور نہایت بے حیائی اور بے غیرتی سے عورتوں پر بھی فاسقانہ حملے کرنے لگے تو

    خدا نے اُن کی تنبیہ کے لئے یہ قانون جاری کردیا کہ اُن کی عورتیں بھی اگر لڑائیوں میں پکڑی جائیں تو اُن کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے۔ پس یہ تو بموجب مثل مشہور کہ عوض معاوضہ گلہ ندارد کوئی محل اعتراض نہیں۔ جیسی ہندی میں بھی یہ مثل مشہورہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی مگر یہ دوسری بات درحقیقت نہایت بے رحمی۔ دیوثی اور بے حیائی کا کام ہے کہ انسان اپنی عورت سے محض لڑکا پیدا ہونے کی خواہش سے زنا کراوے یہ ایک ایسی ناپاکی کی راہ اورگندی نظیر ہے کہ تمام دنیا میں اگر تلاش کرو تو ہرگز ہرگز اُس کی نظیر نہیں ملے گی۔ پھر ماسوا اس کے اسلام اس بات کا حامی نہیں کہ کافروں کے قیدی غلام اور لونڈیاں بنائی جائیں بلکہ غلام آزاد کرنے کے بارہ میں اِس قدر قرآن شریف میں تاکید ہے کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ غرض ابتدا غلام لونڈی بنانے کی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 255

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 255

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/255/mode/1up


    کافرؔ وں سے شروع ہوئی اور اسلام میں بطور سزا کے یہ حکم جاری ہوا اور اُس میں بھی آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اب ہم اس جگہ مذکورہ بالا بیان کی شہادت کے لئے ایک برہمو صاحب کی کتاب سے ذیل میں چند عبارتیں اختصار کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ برہمو صاحب کا نام پَرکاش دیوجی ہے جو برامھ دھرم لاہور کے پرچارک ہیں اور کتاب کا نام سوانح عمری حضرت محمد صاحب ہے اور اِس پُر آشوب زمانہ میں کہ ہر ایک فرقہ خواہ آریہ ہیں خواہ پادری صاحبان دیدہ دانستہ کئی طور کے افترا کرکے ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور اسلام کی تحقیر کو بڑا ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں ایسے وقت میںآریہ قوم میں سے ایسا منصف مزاج پیدا ہونا جو برہمو مذہب رکھتے ہیں نہایت عجیب بات ہے مؤلف کتاب نے اپنی دیانت داری اور انصاف پسندی اور حق گوئی اور بے تعصبی کا عمدہ نمونہ دکھلایا ہے۔ میرے نزدیک مناسب ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ایک ایک نسخہ اس کتاب کا خرید لیں قیمت بھی بہت کم ہے اوروہ عبارتیں برہمو صاحب کی کتاب کی خلاصہ کے طورپر یہاں لکھی جاتی ہیں اوروہ یہ ہیں*۔

    اہل عرب آنحضرت ؐ کے ظہور کے وقت میں بہت ہی بدرسوم کے مروّج تھے چنانچہ فسق و فجور رہزنی قزاقی وغیرہ اس درجہ تک اُ ن میں بڑھی ہوئی تھی کہ اُن کے حالات پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ یتیموں کا مال کھا لیتے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرتے تھے۔ شراب خوری کی یہ کثرت تھی کہ بچہ نے دودھ چھوڑا اور شراب پینی شروع کی۔ مرد جس قدر چاہتا تھا عورتیں کر لیتا تھا جب چاہتا تھا بلا عذر چھوڑ دیتا تھا۔ کینہ۔ حسد۔ بغض بہت بڑھا ہوا تھا۔ بُت پرستی سے کوئی گھر خالی نہ تھا اور مکہ گویا ایک بُت پرستی کا تیرتھ بنا ہوا تھا اور جتنے اُن لوگوں کے چلن تھے سب وحشیانہ تھے اور لوٹ اور مار میں یگانہ تھے قتل


    *حاشیہ ۔ برہموصاحب کی کتاب میں ایک دو جگہ خفیف غلطی پائی گئی ہے یہ بشریت ہے ۔مگر یہ تو ممکن نہیں تھا کہ ایک مسلمان کی طرح ان کی تقریر ہوتی ۔ ایسی صورت میں شبہات پیدا ہوتے اور کچھ اثر نہ ہوتا ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 256

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 256

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/256/mode/1up


    اور غارت میں درندوں سے بڑھ کر تھے اور عیاشی اور غفلت کا کوئی حساب نہ تھا اور ہر ایک حرام کو حلال سمجھ رکھا تھا۔ غرض جس وقت عرب کی یہ حالت تھی جو اوپر مذکور ہوئی تب حضرت محمدؐ صاحب عرب کے ایک مشہور اور معروف قبیلہ قریش کی شاخ بنی ہاشم میں پیدا ہوئے اور چونکہ آپ کے والدین بچپن میں ہی فوت ہوچکے تھے اِس لئے آپ کو اس قدر تعلیم پانے کا بھی موقع نہ ملا وہ ماں باپ کے زیر سایہ اپنی مادری زبان کو سیکھ سکتے بلکہ پیدا ہوتے ہی دودھ پلانے کے لئے ایک دیہاتی اور گنوار دایہ کے سپرد کئے گئے اور دن رات ایک گنواری زبان سے اُ ن کو واسطہ پڑا شاید اس میں یہی حکمت خدا تھی کہ جو شخص جو ان ہوکر کلام کامعجزانہ نمونہ پیش کرنے والا تھا وہ بچپن میں یوں گنواروں اور چرواہوں میں پلے تاخدا کی قدرت کا نمونہ ظاہر ہو۔ خدا نے جو اُن پر پیدا ہوتے ہی یہ مصیبتیں ڈالیں تو شاید اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اُن کے مزاج میں اعلیٰ درجہ کاحلم اور صبر اور رحم پیداہو جائے اور تا وہ ہمدردی بُردباری اور غم خواری سے اپنے ہم وطنوں کو چاہِ گمراہی سے باہر نکالیں۔ آپ نیپینتیس۳۵ برس کی عمر میں ہمدردی نوع انسان کا یہ نمونہ دکھایا کہ زید بن حارث کسی لڑائی میں پکڑا گیا تھا اوروہ غلام بناکر خدیجہؓ کے بھتیجے کے ہاتھ فروخت کردیا گیا تھا اور خدیجہؓ کے بھتیجے نے اُس غلام کو اپنی پھوپھی کی نذر کیا تب آپ نے اُس غلام کو خدیجہ سے مانگ کر آزاد کردیا اور آپ کادل اپنے ملک کو تاریکی اور جہالت میں ڈوبا ہوا دیکھ کر بہت درد مند رہتا تھا اور عورتوں کے حال زار اور معصوم لڑکیوں کو زندہ درگور ہوتے ہی دیکھ کر جگر پاش پاش ہوتا تھا۔ فی الواقع آنحضرت کی ذات سے جو جو فیض دنیا کو پہنچے اُن کے لئے نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کو اُن کا شکر گذار ہونا مناسب ہے۔ کون کونسی تکلیفیں ہیں جو اس بزرگ نے نسل انسان کے لئے اپنے اوپر برداشت نہیں کیں اور کیا کیا مصیبتیں ہیں جو اُن کو اس راہ میں اٹھانی نہیں پڑیں۔ عرب جیسے ایک وحشی اور کُندۂ ناتراش ملک کو توحید کی راہ دکھانا اور اُن بدیوں سے روکنا جو عادت میں داخل ہوگئی تھیں کچھ سہل کام نہ تھا تنگ دل اور متعصب لوگ ایسے بزرگ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 257

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 257

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/257/mode/1up


    کی نسبت کچھ ہی کہیں لیکن جو لوگ انصاف پسند اورکشادہ دل ہیں وہ کبھی محمدؐ صاحب کی اِن بے بہا خدمات کو جووہ نسل انسان کے لئے بجا لائے بھلاکر احسان فراموش نہیں ہوسکتے وہ اپنی فضیلت کا ایسا جھنڈا کھڑا کر گئے ہیں جس کے نیچے اب تیرہ۱۳ چودہ۱۴ کروڑ دنیا کے آدمی پناہ گزین ہیں اور اُن کے نام پر جان دینے کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔ قریش نے ایک مرتبہ یہ سوچا کہ محمدؐ صاحب کو کوئی زبردست دنیاوی لالچ دے کر اس کام سے باز رکھیں چنانچہ پہلے اُن کے وکیل نے آپ کے پاس آکربہت سے مال اور دولت کے طمع دیئے مگر آپ نے کچھ توجہ نہ کی اور پھر یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو اپنا سردار اور پیشوا مقرر کر لیتے ہیں اور آخر کو جب یہ بھی نہ مانا گیا تو یہ کہا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ قبول کرتے ہیں مگر آپ نے اس کے جواب میں قرآن شریف کی چند آیتیں سنائیں جو خدا کی توحید پر مشتمل تھیں۔ آخر قریش کا قاصد ناکام واپس آیا۔

    اور جب قریش اپنے اس حیلہ میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کو بے انتہا اذیتیں اور تکلیفیں پہنچانی شروع کیں۔ عزیزوں کا لہو سفید ہوگیا۔ سگا چچا ابولہب دشمن جانی بن گیا۔ سگی چچی کا یہ حال تھا کہ وہ بہت سے کانٹے گو کھڑو سمیٹ لیتی اور جن جن راہوں سے آپ گذرتے وہاں وہ گو کھڑو اور کانٹے بکھیر دیتی اور آپ کے پاؤں زخمی ہوجاتے تب آپ بیٹھ جاتے اپنے پاؤں سے بھی کانٹے نکالتے اور راستہ میں سے بھی دور کرتے تا دوسرے چلنے والے بھی اُس اذیّت سے بچیں۔ آپ جب وعظ کہنے کے لئے کھڑے ہوتے اور قرآن مجید پڑھتے تو لوگ غل مچاتے تا کوئی شخص اُن کی بات کو نہ سن سکے۔ آپ کو کہیں کھڑا نہ ہونے دیتے اور جب آپ تنگ آکرچلے جاتے تو اُن پر پتھر اور ڈھیلے پھینکے جاتے یہاں تک کہ آپ کے ٹخنے اور پنڈلیاں زخمی ہوجاتیں۔

    ایک دفعہ چند دشمنوں نے آپ کو تنہا پاکر پکڑ لیا اور آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر اُسے مروڑنا شروع کیا۔ قریب تھا کہ آپ کی جان نکل جائے کہ اتفاق سے ابوبکر آنکلے اور انہوں نے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 258

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 258

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/258/mode/1up


    مشکل سے چھڑایا۔ اس پر ابوبکر کو اس قدر مار ا پیٹا کہ وہ بیہوش ہوکرزمین پر گر پڑے۔

    حضرت کے اُوپر جو ظلم ہوتا تھا اُسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ برداشت کرتے تھے مگر ؔ اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر اُن کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا اور بیتاب ہوجاتا تھا اُن غریب مومنوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ لوگ اُ ن غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کرکے جلتی تپتی ریت میں لٹادیتے اور اُن کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔ مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔ بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔ انہیں مظلوموں میں سے ایک شخص عمّار تھا جسے اس حوصلہ و صبر کی وجہ سے جو اُس نے ظلموں کی برداشت میں ظاہر کیا حضرت عمّار کہنا چاہئے ان کی مُشکلیں باندھ کر اُسی پتھر یلی تپتی زمین پر لٹاتے تھے اور اُن کی چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ محمدؐ کو گالیاں دو اور یہی حال اُن کے بڈھے باپ کا کیا گیا۔

    اُن کی مظلوم بی بی سے جس کا نام سمیّہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریاد زبان پر لائی اس پروہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے روبرو اُس کے شوہر اور جوان بچے پر ظلم کیا جاتا تھا برہنہ کی گئی اور اُسے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی*۔

    (دیکھو صفحہ ۲۵ سوانح عمری حضرت محمدؐ صاحب)


    *حاشیہ۔ جو ظالم طبع لوگ مسلمانوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے لڑائیوں میں کافروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنایا تھا وہ اس تھوڑے سے قصہ پر ہی غور کریں جو ایک منصف مزاج برہمو نے اپنی کتاب مسمی سوانح عمری حضرت محمدؐ میں لکھا ہے ۔ یہ قصہ اس کتاب کے صفحہ ۵ژ۲ میں درج ہے جو اس جگہ مصنف کی عبارت میں نقل کردیا ہے۔ اور قصہ پر (بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۵۹ پر دیکھیں)



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 259

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 259

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/259/mode/1up


    انؔ ایمانداروں پر عذاب کا ایک باقاعدہ سلسلہ قائم کیا گیا اور عجیب مصیبت میں اُن بے چاروں کی جان پھنس گئی۔ محمد صاحب اپنی آنکھوں سے اُن بے چاروں پر یہ ظلم ہوتا دیکھ کر اُن کا جگر مظلوموں کی ہمدردی میں پاش پاش ہوتا تھا مگر کچھ نہ کرسکتے تھے۔

    مومنوں کی یہ حالت دردناک دیکھ کر آپ نے انہیں یہ صلاح دی کہ تم نے راہِ خدا میں قدم رکھا ہے تم ان تکلیفوں سے نہ گھبراؤ۔ اور اللہ کا نام لے کر ابے سینیاکی طرف ہجرت کر جاؤ چنانچہ اُن کے کہنے کے بموجب چند قبیلوں کے لوگ جو اپنی جان سے بھی تنگ تھے مع اپنے عیال و اطفال کے اپنا گھر بار چھوڑ کر ابے سینیا کی طرف روانہ ہوگئے اور اُن کے بعد اور بہت سے لوگوں نے ترکِ وطن اختیار کیا۔ جلاوطنی جس کومسلمانوں نے ہجرت کے نام سے موسوم کیا ہے پانچویں سال نبوت میں وقوع میں آئی۔

    جب قریش کو یہ خبر پہنچی کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تو انہوں نے وہاں تک تعاقب کیا*۔اور نجاشی شاہ ابے سینیا کی خدمت میں پہنچے اور بعض کی نسبت یہ بیان کیا کہ


    قیہ حاشیہ صفحہ۲۵۸۔ کیاؔ موقوف ہے جو شخص اسلامی تاریخ پڑھے گا اس کو معلوم ہوگا کہ صدہا قصے اسی طرح کی بے رحمی کے ہیں ۔ علاوہ اس سختی کے جو مردوں سے کی گئی پاکدامن عورتوں کے ذلیل کرنے اور بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہ رکھی ۔ پس چونکہ خدا کا نام غیور بھی ہے لہٰذا اس نے تیرہ۱۳ برس تک صبر کر کے خبیث کافروں کو ان کے خُبْث کا مزہ چکھایا ۔ ظالم طبع لوگوں کا کام ہے کہ وہ یک طرفہ قصہ سنا کر ایک اعتراض بنا لیتے ہیں لیکن اگر انصاف کے پابند ہوتے تو ان کو یہ بھی دیکھنا چاہیئے تھا کہ مسلمانوں پر کیا کیا ظلم کیا گیا ہے ۔ منہ


    * حاشیہ۔ یاد رؔ ہے کہ یہ عبارتیں ہم رسالہ مسمی بہ سوانح عمری حضرت محمدصاحب سے نقل کر رہے ہیں جوایک منصف مزاج برہمو نے ( جو پرچارک براہم دھرم ہیں ) لکھ کر شائع کیا ہے ۔ یہ رسالہ رفاہ عام سٹیم پریس لاہور میں چھپا ہے جس کا جی چاہے منگوا کر دیکھ لے ۔ اس سے ایک بے تعصب آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جو اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ اوراس کے دوسرے لوازم غلام اور لونڈیاں بنانا ظہور میں آئے ان تمام امور میں پہلے کفار کی طرف سے سبقت تھی اور جب ان کی شرارت اور ظلم انتہا تک پہنچ گیا تب خدا نے جو صرف ( بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۶۰پر دیکھیں )



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 260

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 260

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/260/mode/1up


    وہ ہمارے بھاگے ہوئے غلام ہیں اور ہمیں اُن کی گرفتاری کاحق حاصل ہے۔

    شاہ حبشہ نے ان جلاوطنوں کو اپنے روبرو طلب کیا اور اُن کے دشمنوں نے جو کچھ بیان کیا تھا وہ پیش کیا تب جعفر ابن ابی طالب جو حضرت علیؓ کے حقیقی بھائی تھے بادشاہ کی خدمت میں آگے بڑھے اور سب کی طرف سے اپنا حال یوں بیان کیا۔

    اےؔ بادشاہ ! ہمارا یہ حال ہے کہ ہم جہالت اور گمراہی کے گڑہے میں گرے ہوئے تھے ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے۔گندی فحش باتیں بکتے تھے۔ مردار کھایا کرتے تھے۔ ہم میں کوئی انسانیت کی خوبی نہ تھی۔ خدا وند تعالیٰ نے جس کا فضل تمام جہان پر چھایا ہوا ہے محمد ؐ کو اُس پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو ہمارے لئے رسول کرکے بھیجا۔ اُس کی شرافت نسب اور راست گفتاری صفا باطنی اور دیانت داری سے ہم خوب آگاہ ہیں۔ اُس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی ظاہر فرمائی اوروہ اللہ کا پیغام لے کر ہمارے پاس آیا کہ صرف ایک خدا پر ایمان رکھو۔ اُس کی ذات اور صفات میں اور کسی کو شریک مت کرو۔ اور بتوں کی پرستش مت کرو۔ راست گفتاری اپنا شعار ٹھہراؤ۔ امانت میں کبھی خیانت نہ کرو۔ اپنے تمام ابنائے جنس سے ہمدردی رکھو۔ پڑوسیوں کے حقوق کی نگہداشت کرو۔ عورت ذات کی عزت کرو۔ یتیموں کا مال نہ کھاؤ۔پاکیزگی اور پرہیزگاری کی زندگی اختیارکرو۔ خدا کی عبادت کرو۔ اُس کی یاد میں کھانا پینا تک بھول جاؤ۔ راہِ خدا میں غریبوں کی مدد کے لئے خیرات کرو۔

    اے بادشاہ ! صرف اس ایمان لانے پر ہمیں وہ ایذائیں دی گئی ہیں کہ ہمیں جلاوطن ہونا اور راہِ غربت اختیار کرنا پڑا ہے ہمیں اپنے دیس میں کہیں پناہ نہ ملی۔ تیرے انصاف


    بقیہ حاشیہ صفحہ۲۵۹ ۔ حلیم نہیں بلکہ اپنے خاص بندوں کے لئے غیرت بھی رکھتا ہے ظالموں کو پکڑا کیا بد زبان مخالفوں کی یہ بد ذاتی اور خباثت نہیں کہ کافروں کو جو تکلیف دی گئی وہ تو پُرزور لفظوں سے بیان کی جاتی ہے اور جو کافروں نے ظلم اور شرارت میں سبقت کی اور درندوں کی طرح بے گناہ مومنوں کو دکھ دیا اس کا نام بھی نہیں لیا جاتا اگر یہ بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ مَن مؤلف ہٰذا الکتاب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 261

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 261

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/261/mode/1up


    اوررحم سے ہمیں امید ہے کہ تو ہم غریبوں پر ظلم نہ ہونے دے گا۔

    جعفر نے اِس رقت بھرے دل سے اس تقریر کو ادا کیا کہ نجاشی پر اُس کا بہت اثر ہوا اور اُس کا دل اُس رسول عربی کی کچھ تعلیم سننے کا آرزو مند ہوا۔ اُس نے جعفر کو کہا کہ جو کلام تمہارے نبی پر اُترا ہے اس میں سے بھی کچھ پڑھ کر سناؤ تب جعفر نے سورۂ مریم کی چند ابتدائی آیتیں جو ولادت مسیح کے باب میں تھیں پڑھ کر سنائیں*۔

    انؔ آیتوں کو سن کر نیک دل شاہِ حبش کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور دل سوزاں وہ بول اُٹھا کہ یہ اُسی نور کی شعاعیں ہیں جس کا جلوہ موسیٰ پر ہوا تھا یہ کہہ کر اس نے مظلوم مسلمانوں کو دشمنوں کے سپرد کرنے سے انکار کردیا وہ بار بار جعفر سے پوچھتا تھا کہ تم مسیح کی نسبت کیا عقیدہ رکھتے ہو۔ جعفر کہتے کہ وہ ایک برگزیدہ بندۂ خدا تھا جسے اللہ نے اپنا نبی اور رسول بنا کر بنی اسرائیل کے لئے بھیجا تھا۔


    *حاشیہ ۔ میں نے یہ بھی ایک روایت میں دیکھا ہے کہ کفار قریش نے شاہ حبشہ کو افروختہ کرنے کے لئے یہ بھی اس کے آگے کہہ دیا تھا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کو گالیاں دیتے اور توہین کرتے ہیں اور ان کا وہ درجہ نہیں مانتے جو آپ کے نزدیک مسلّم ہے مگر نجاشی نے جس کو حق کی خوشبو آرہی تھی ان لوگوں کی شکایت کی طرف کچھ توجہ نہ کی ۔ مجھے تعجب ہے کہ وہی شکایتیں جو کفار قریش نے حضرت مسیح کا نام لے کر مسلمانوں کو گرفتار کرانے کے لئے نجاشی کے سامنے کی تھیں بعینہٖ وہ تہمتیں اس وقت کے مخالف مسلمان ہم پر کر رہے ہیں اگر ہم نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوگئے ہیں تو اس میں ہماراکیا گناہ ہے ؟ ہمارے وجود سے صد ہابرس پہلے خدا تعالےٰ ان کی موت قرآن شریف میں ظاہر کر چکا ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں ان کو فوت شدہ نبیوں میں دیکھ چکے ہیں ۔ عجیب تر تو یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب ان کی موت کے قائل بھی ہو چکے ہیں اور کتاب تاریخ طبری کے صفحہ ۷۳۹ میں ایک بزرگ کی روایت سے حضرت عیسیٰ کی قبرکا بھی حوالہ دیا ہے جو ایک جگہ دیکھی گئی یعنی ایک قبر پر پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ عیسی ٰ کی قبر ہے ۔ یہ قصہ ابن جریرنے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر اور اَئمہ حدیث میں سے ہے مگر افسوس! کہ پھر بھی متعصب لوگ حق کو قبول نہیں کرتے ۔ من مؤلف ھٰذاالکتاب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 262

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 262

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/262/mode/1up


    ان تمام تقریروں اور مباحثہ کے بعد نجاشی صداقت کا قائل ہوگیا تھا اور کہا کہ اگر مہمات شاہی مہلت دیتیں تو میں خود عرب کو جاتا اور اس شاہِ عرب کا چاکر بنتا۔

    اس طرف ابوطالب کے مرنے کے بعد قریش نے آپ کو بہت دُکھ دینا شروع کیا تب آپ نے یہ ٹھانی کہ آؤ اس شہر سے طائف کو چلیں اوروہاں کے لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں چنانچہ آپ زید بن حارث کو اپنے ساتھ لے کر طائف کو چلے۔ تقدیر کی بات ہے وہاں کے لوگ آپ کی وعظ سے ایسے برافروختہ ہوئے کہ انہوں نے آپ کو وہاں ٹھہرنے تک کی اجازت نہ دی اور پتھر روڑے اور اینٹیں مار مارکر اور لڑکے پیچھے لگاکر اسی وقت شہر سے نکال دیا۔ آپ کے پاؤں ٹخنے پنڈلیاں پتھروں سے زخمی ہوگئیں۔ پنڈلیوں کا خون پونچھتے جاتے تھے اور آبدیدہ ہوکر اپنے خدا کی درگاہ میں نہایت عاجزی سے دعا کرنے لگے۔

    کہ اے خداوند ! میں اپنے ضعف و ناتوانی اور مصیبت اور پریشانی کاحال تیرے سوا کس سے کہوں مجھ میں صبر کی طاقت اب تھوڑی رہ گئی ہے مجھے اپنی مشکل حل کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی۔ میں سب لوگوں میں ذلیل اور رُسوا ہوگیا ہوں تیرا نام ارحم الراحمین ہے تو رحم فرما۔

    غرض آنحضرت وہاں سے ناکام آئے اُس وقت قریش نے طیش میں آکر مکہ کے دار الندوہ میں جو اُن کا کمیٹی گھر تھا ایک جلسہ کیا جس میں قریش مکہ اور آس پاس کے قبیلوں کے کل سردار جمع ہوئے اتنا جم غفیر اس سے پہلے اس مطلب کے لئے مکہ میں کبھی جمع نہیں ہوا تھا۔ ابؔ ہر ایک شخص اپنی اپنی رائے ظاہر کرتا تھا کہ محمد صاحب کو عمر بھر کے لئے قید کرنا چاہئے کوئی کہتا تھا کہ اِسے جلاوطن کرنا چاہیئے مگر فیصلہ اس پر ہوا کہ انہیں قتل کر کے ملک کو مصیبتوں سے نجات دینی چاہیئے۔ اور ابوجہل نے یہ تجویز پیش کی کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی دفعہ محمد ؐ صاحب کے سینہ میں خنجر ماریں تاکہ قتل کا الزام کسی شخص پر نہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 263

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 263

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/263/mode/1up


    آنے پائے یہ تجویز سب نے پسند کی اور قریش رات ہوتے ہی محمد صاحب کے گھر کے آگے ڈٹ گئے کہ جس وقت وہ دروازہ سے نکلیں یہیں اُن کا ڈھیر کردیا جائے مگر کسی جاں نثار خادم نے آپ کو وقت پر خبر کردی آپ پچھلی طرف سے کود کر ابوبکر کے ہاں چلے گئے اور وہاں سے دونوں راتوں رات بھاگ کر ایک غار میں پناہ گزین ہوئے۔

    علی الصّباح جب قریش نے دیکھا کہ محمد ؐ صاحب بھاگ گئے* اوروہ اپنے ارادہ میں


    *حاشیہ ۔ یاد رہے کہ پا۵نچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا اگر آنجناب درحقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرورہلاک کئے جاتے ۔ ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیااور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے (۲) دوسرا وہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکر کے چھپے ہوئے تھے ( ۳) تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔ (۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دیدی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا(۵)پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسروپرویز شاہِ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھااور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے* ۔ پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پُرخطرموقعوں سے نجات پا نا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہوجاناایک پڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت (بقیہ حاشیہ صفحہ۲۳۶پر دیکھیں)


    *حاشیہ در حاشیہ ۔ یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی ( ۱) اول وہ موقع جب کہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا ( ۲) دوسرے وہ موقع جب کہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورکی کچہری میں میرے پر چلایا تھا (۳) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا (۴) چھوتے وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا (۵) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی کی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں ۔ مگر وہ تمام مقدمات میں نامراد رہے ۔ من المؤلف



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 264

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 264

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/264/mode/1up


    ناکام رہے تو مارے غصہ کے دیوانہ ہوگئے اور ہر طرف اُن کی تلاش کرنے لگے انہوں نے یہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص محمد ؐ صاحب کا سر کاٹ کر لائے گا اُس کو سو۱۰۰ اونٹ انعام دیاؔ جائے گا۔چاروں طرف سے اُن کی جان کے پیاسے تلاش میں پھرتے تھے۔ ایک دفعہ دشمن اُس غار کے منہ تک بھی پہنچ گئے ابوبکر کادل لوگوں کے پاؤں کی آہٹ سے بہت گھبرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف دو آدمی ہیں اب ضرور مارے جائیں گے مگر محمدؐ صاحب نے اُن کو تسلی دی اور کہا نہیں ہم دو نہیں ہیں بلکہ تین ہیں اور تیسرا ہمارے ساتھ وہ ہے جو سب سے زیادہ زور آور اور صاحب طاقت ہے۔ حقیقت میں وہ تیسرا اُن کے ساتھ تھا*۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن بائبل کی نقل ہے اس سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی بیباکی اور دروغ گوئی میں کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے دنیا میں کوئی شخص اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن شریف تیئس۲۳ برس برابر یہود و نصاریٰ کے رُوبرو اترتا رہا مگر کسی نے یہ اعتراض نہ کیا کہ قرآن شریف بائبل کی نقل ہے او ر خود ظاہر ہے کہ


    بقیہ حاشیہ صفحہ۲۳۶۔ آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا اور یہ قول برہمو صاحب کا کہ جب گھر کا قتل کے لئے محاصرہ کیا گیا تو کسی جاں نثار خادم نے آپ کو اطلاع دے دی تھی یہ قول صحیح نہیں ہے بلکہ وہ خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا اس نے خود اطلاع دی تھی ۔ چونکہ برامھ مذہب اس معرفت کی منزل تک نہیں پہنچا کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی طرف سے وحی ہوا کرتی ہے ۔ لہٰذا انہوں نے ایسا ہی لکھ دیا ۔ من المؤلف


    *حاشیہ ۔ یہ خوب سوچ لینا چاہئے کہ کس قدر ظالم طبع کافروں کی شرارت بڑھ گئی تھی اور کیسے وہ ایک معصوم بے گناہ کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے ۔ یہ واقعہ برہمو صاحب کی کتاب سوانح عمری کے صفحہ۵۷ میں لکھا ہے جس کو ہم نے اس جگہ انہیں کی کتاب کی عبارت میں نقل کردیاہے ا ور یہ تحریر صرف انہیں کے ہاتھ سے نہیں نکلی بلکہ ان سے پہلے بہت سے فاضل انگریزوں نے جو پادری نہ تھے ان تمام حالات کو بہ تفصیل بیان کیا ہے کہ کیسی تیرہ۱۳ برس تک اہل اسلام کے مردوں اور عورتوں نے کافروں کے ہاتھ سے تکلیفیں اٹھائیں اور بہت سے لوگ بھیڑوں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے افسوس کہ اس زمانہ کے ظالم طبع دشمنِ اسلام ان واقعات کو چھپانا چاہتے ہیں ۔ من مؤلف ہٰذاالکتاب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 265

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 265

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/265/mode/1up


    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمّی تھے اور نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے او ر نصاریٰ اور یہود کے علماء سخت دشمن تھے اس صورت میں کیونکر ممکن تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصاریٰ اور یہود کی کتابوں میں سے کچھ نقل کرسکتے تھے چنانچہ اس بارے میں قرآن شریف میں یہ آیات ہیں۔ 3 3۔ 3۔3 3۔33 ۱؂ الجزو نمبر ۲۱

    سورۃ العنکبوت (ترؔ جمہ) اور اے پیغمبر ! جس طرح اگلے پیغمبروں پر ہم نے کتابیں اتاری تھیں اسی طرح تجھ پر یہ کتاب اُتاری ہے۔ پس جن کو تجھ سے پہلے ہم نے کتاب دی ہے اُن کے سمجھدار اور سعید لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان مشرکین اہلِ مکہ سے بھی سوچنے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان دونوں فرقوں میں سے وہ لوگ ایمان نہیں لاتے جنہوں نے دیدہ و دانستہ کفر کو اپنے لئے اختیار کرلیا ہے۔ اور اے پیغمبر ! قرآن سے پہلے نہ تو تم کوئی کتاب ہی پڑھتے تھے اور نہ تم اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ سکتے تھے اگر ایسا ہوتا تو ان بے دین لوگوں کو شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہوتی مگر اب تو اُن کا شبہ سراسر ہٹ دھرمی ہے یعنی جبکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض ناخواندہ اور اُمّی تھے اور کوئی نہیں ثابت کر سکا کہ آپ لکھ سکتے یا پڑھ سکتے تھے تو پھر ایسے شبہات ایمانداری کے برخلاف ہیں اور پھر فرمایا کہ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو قرآن شریف کے حقائق اور معارف کا علم دیا گیا ہے اُن کے نزدیک تو قرآن شریف خدا کے کھلے کھلے نشان ہیں یعنی اعتراض وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن شریف میں کچھ تدبر نہیں کرتے اور اس کے معجزانہ مرتبہ سے بے خبر ہیں اور تدبّر کرنے والے تو ایک ہی نظر سے شناخت کرجاتے ہیں کہ یہ کلام انسانی طاقتوں سے برتر ہے کیونکہ وہ اعجازی صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔ علاوہ اس کے یہ کہ وہ عین ضرورت کے وقت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 266

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 266

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/266/mode/1up


    آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جبکہ دنیا خدا کے راہ کو بھول چکی تھی اور جن بیماروں کے لئے آیا اُن کو اس نے چنگا کرکے دکھلا دیا اور نہ توریت اور نہ انجیل وہ اصلاح کرسکی جو قرآن شریف نے کی۔ کیونکہ توریت کی تعلیم پر چلنے والے یعنی یہودی ہمیشہ بار بار بُت پرستی میں پڑتے رہے چنانچہ تاریخ جاننے والے اس پر گواہ ہیں اور وہ کتابیں کیا باعتبار علمی تعلیم کے اور کیا باعتبار عملی تعلیم کے سراسر ناقص تھیں اس لئے اُن پر چلنے والے بہت جلد گمراہی میں پھنس گئے۔ انجیل پر ابھی تیس۳۰ برس بھی نہیں گذرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی یعنی حضرت عیسیٰ خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرادیا کہ ؔ اُن کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے پس کیا یہی کتابیں تھیں جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ردّی کی طرح ہوچکی تھیں اوربہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدّل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جبکہ بائبل محرف مبدّل ہوچکی تھی اور جو بائبل کے حامی تھے وہ بقول پادری فنڈل اور دوسرے محقق عیسائیوں کے اس زمانہ میں نہایت درجہ بدچلن ہوچکے تھے اور زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی تھی اور آسمان کے نیچے بجز معصیت اور مخلوق پرستی کے اور کوئی عمل نہ تھا اس طرف آریہ ورت بھی خراب ہوچکا تھا۔ اُس کے لئے پنڈت دیانند کی گواہی ستیارتھ میں کافی ہے اور قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت پیش کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کی بدچلنی اور بداعتقادی اور بدکاری زمین کے رہنے والوں پر محیط ہوگئی تھی تو اب خدا کا خوف کرکے سوچنا چاہئے کہ کیا باوجود جمع ہونے اتنی ضرورتوں کے پھر بھی خدا نے نہ چاہا کہ اپنے تازہ اور زندہ کلام سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 267

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 267

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/267/mode/1up


    دنیاکو نئے سرے زندہ کرے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی شریف اور بھلا مانس اس دلیل پر غور نہیں کرتا کہ قرآن شریف تو خود فرماتا ہے کہ 33 ۱؂ یعنی اے انسانو ! تمہیں معلوم ہو کہ زمین مرچکی تھی اور خدا نئے سرے اب اُس کو زندہ کررہا ہے۔ پس قرآن شریف کا یہی ایک نور تھا جس کے آنے سے پھر دنیا نے توحید کی طرف پلٹا کھایا اور تمام جزیزہ عرب توحید سے بھر گیا اور ممالک ایران کی آتش پرستی بھی دُور ہوگئی پس اے عزیزو ! کچھ تو خدا کا خوف کرو او ر ایسے گُنڈوں اور شُہدوں کی طرح آفتاب پر مت تھوکو جن میں کوئی بھی شرم اور حیا کا مادہ نہیں رہتا۔ قرآن شریف نے تو توریت انجیل کی اصلاح کی اور ان دونوں کتابوں کے نقصان کو پورا کیا تو پھر وہ اُن کی نقل کیونکر ہوگیا؟ ظاہر ہے کہ توریت کی تعلیم یہ تھی کہ دانت کے ؔ بدلہ دانت اور آنکھ کے بدلہ آنکھ اور ناک کے بدلہ ناک اور انجیل کی یہ تعلیم تھی کہ شرکا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔ لیکن قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں کو ناقص ٹھہرایا اور فرمایا کہ 33۲؂ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ دراصل بدی کی جزا اُسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی ایسے طور سے اپنے گنہگار کو معاف کرے کہ اس معافی سے اُس کی کچھ اصلاح ہو جائے یعنی وہ معافی اس کے لئے مفید پڑے تو وہ اپنا بدلہ پائے گا۔

    ایسا ہی ان دونوں کتابوں کے پیروؤں میں شراب اور قماربازی کی کوئی حد نہیں رہی تھی کیونکہ ان کتابوں میں یہ نقص تھا کہ ان خبیث چیزوں کو حرام نہیں ٹھہرایا اور عیاش لوگوں کو اُن کے استعمال سے منع نہیں کیا تھا اسی وجہ سے یہ دونوں قومیں اس قدر شراب پیتی تھیں کہ جیسے پانی اور قماربازی بھی حد سے زیادہ ہوگئی تھی مگر قرآن شریف نے شراب کو جو اُمُّ الخبائث ہے قطعاً حرام کردیا اور یہ فخر خاص قرآن شریف کو ہی حاصل ہے کہ ایسی خبیث چیز جس کی خباثت پرآج کل تمام یورپ کے لوگ فریاد کراٹھے ہیں وہ قرآن شریف نے ہی قطعاً حرام کردی ایسا ہی قمار بازی کو قطعاً حرام کیا۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 268

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 268

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/268/mode/1up


    ایسا ہی توریت توحید کے بیان کرنے میں ناقص تھی اور انجیل بھی ناقص تھی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ عیسائیوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا اگر توریت اور انجیل میں وہ تعلیم موجود ہوتی جو قرآن شریف میں موجود ہے تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ اس طرح پر عیسائی گمراہ ہوجاتے۔ مجھے تعجب ہے کہ وہ کامل اور پاک کتاب جس نے توریت اور انجیل کا ناقص ہونا بکمال صفائی ثابت کردیا اور اُن کے محرف اور مبدّل ہونے پر مطلع کیا اور بدچلنی اور شرک کو اس ملک سے اٹھا دیا اور ایک تازہ نورسے دنیا کو منور کیا اُس کتاب کو یہ لوگ انجیل توریت کی نقل سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کانام ہم کیا رکھیں *؟


    *حاشیہ ۔ قرآن شریف کی اعجازی خوبیوں میں سے ایک بلاغت فصاحت بھی ہے جو انسانی بلاغت فصاحت سے بالکل ممتاز اور الگ ہے کیونکہ انسانی بلاغت فصاحت کا میدان نہایت تنگ ہے۔ اور جب تک کسی کلام میں مبالغہ یا جھوٹ یا غیر ضروری باتیں نہ ملائی جائیں تب تک کوئی انسان بلاغت فصاحت کے اعلیٰ درجہ پر قادر نہیں ہوسکتا (۲)دوسرے قرآن شریف کی ایک معجزانہ خوبی یہ ہے کہ جس قدر اس نے قصے بیان کئے ہیں درحقیقت وہ تمام پیشگوئیاں ہیں جن کی طرف جابجا اشارہ بھی کیا ہے ۔ (۳)تیسرے قرآن شریف میں یہ معجزانہ خوبی ہے کہ اس کی تعلیم انسانی فطرت کو اس کے کمال تک پہنچانے کے لئے پورا پورا سامان اپنے اندر رکھتی ہے اور مرتبہ یقین حاصل کرنے کے لئے جن دلائل اور نشانوں کی انسان کو ضرورت ہے سب اس میں موجود ہیں (۴)چوتھے ایک بڑی خوبی اس میں یہ ہے کہ وہ کامل پیروی کرنے والے کو خدا سے ایسا نزدیک کر دیتا ہے کہ وہ مکالمہ الہٰیہ کا شرف پالیتا ہے اور کھلے کھلے نشان اس سے ظاہر ہوتے ہیں اور تزکیہ نفس اور ایمانی استقامت اس کو حاصل ہوتی ہے اور قرآن شریف کا یہ نکتہ نہایت ہی یادداشت کے لائق ہے کہ مومن کامل پر جو فیضان آسمانی نشانوں کا ہوتا ہے۔ وہ تو ایک خدا کا فعل ہے ۔ اس کی وجہ سے کوئی اپنی خوبی قرار نہیں دے سکتا ۔ مومن کامل کی اپنی ذاتی خوبی تقویٰ طہارت اور قوت ایمان اور استقامت ہے مثلاََ جیسے اگر کسی دیوار پر آفتاب کی روشنی پڑے تو وہ روشنی اس دیوار کی خوبیوں میں داخل نہیں کیونکہ وہ اس سے الگ بھی ہو سکتی ہے ۔ بلکہ دیوار کی خوبی یہ ہے کہ اس کی بنیاد ایک مضبوط پتھر پر ہو اور ایسی پختہ اور ریختہ کی عمارت ہو کہ گو کیسے ہی سیلاب آویں اور تُند ہوائیں چلیں اور طوفان کی طرح مینہ برسیں اس دیوارمیں جنبش نہ آوے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 269

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 269

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/269/mode/1up


    توریت انجیل کو تو الگ رہنے دو۔ وید جس کی اشاعت کی نسبت کروڑوں برسوں کا دعویٰ کیاؔ جاتا ہے اُس نے اتنی مدت میں کیا بنایا اور خواہ نخواہ اگنی۔ وایو۔ پانی اور چاند۔ سورج کی عظمتیں بیان کرکے آریہ ورت کے لوگوں کو عناصر پرست اور آفتاب پرست بنادیا۔ بھلا کوئی بتلاوے کہ اگر آریہ ورت میں اِس آتش پرستی اور آفتاب پرستی اور گنگا وغیرہ کی پوجا کی اصل جڑھ وید نہیں ہے تو پھر وہ کونسی کتاب ہے جس نے یہ گند آریہ ورت میں پھیلا دیا؟ ہر ایک دانشمند رگوید کا پہلا صفحہ ہی دیکھ کر بلکہ پہلی سطر ہی دیکھ کر ضرور اس بات کا اقرار کرے گا کہ بلاشبہ یہ سب گند وید کے ذریعہ سے ہی پھیلا ہے وید نے ایک جگہ بھی یہ بیان نہیں کیا کہ ان چیزوں کی پرستش نہ کرو۔ اگر فرض کے طور پر یہ سب پرمیشر کے نام تھے تو وید نے اس تصریح سے کیوں اپنا منہ پھیر رکھا؟ اور کیوں خواہ نخواہ لوگوں کو ہلاک کیا۔ آخر قرآن شریف ہی تھا جس نے وید کی تعلیم پر حملہ کر کے بلند آواز سے کہا 33 ۱؂ ترجمہ۔ یعنی تم نہ سورج کی پوجا کرو اور نہ چاند کی پوجا کرو بلکہ اس ذات کی پوجا کرو جس نے ان سب چیزوں کو پید ا کیا۔ ایسا ہی دوسری طرف قرآن شریف نے بار بار عیسائیوں کو سمجھایا کہ مسیح ابن مریم صرف خدا کا رسول ہے تم خواہ نخواہ اُس کو خدامت بناؤ۔ پھر مجوسیوں کو اُن کے شرک اور آتش پرستی سے روکا اور سب کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور اپنا کام کرکے دکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک انتقال فرما نہ ہوئے جب تک ہر ایک قسم کے شرک اور بت پرستی سے عرب کے جزیرہ نما کو صاف نہ کردیا اور باقی ماندہ ممالک کو ا پنے خلفاء کے ذریعہ سے مخلوق پرستی سے نجات دی اور یہ کامیابی کسی کو حاصل نہیں ہوئی اورآریہ ورت پر بھی قرآن شریف کا ہی احسان ہے کہ یہ ملک جو مخلوق پرستی سے پُر ہوچکا تھا اور اُس کی حالت ایک متعفن مردار کی طرح ہوگئی تھی اُس نے اسی قوم میں سے کئی کروڑ موحد پیدا کر دئیے پھر بھی کفر انِ اِحسان کرتے ہیں یہ اُن کا خاصۂ فطرت ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 270

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 270

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/270/mode/1up


    قرآؔ ن شریف وہ کتاب ہے جو عین ضرورت کے وقت آئی اور ہر ایک تاریکی کو دُور کیا اور ہر ایک فساد کی اصلاح کی اور توریت و انجیل کے غلط اور محرّف بیانات کو رد کیا اورعلاوہ معجزات کے توحید باری پر عقلی دلائل قائم کیں۔ تو اب یہ لوگ ہمیں بتلاویں کہ قرآن شریف نے کس بات میں توریت و انجیل کی نقل کی ؟ کیا قرآن شریف کی تعلیم وہی ہے جو توریت کی تعلیم ہے ؟ کیا توریت کی طرح قرآن شریف کا یہ حکم ہے کہ ضرور دانت کے بدلے دانت نکال دو یا آنکھ کے بدلے آنکھ نکال دو یا کیا قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ شراب پی لیا کرو؟ یا یہ حکم ہے کہ بجز اپنی قوم کے دُوسروں سے سُود لے لیاکرو ؟

    اور کیا عیسائیوں کے عقیدہ کی طرح قرآن شریف بھی حضرت عیسیٰ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتا ہے؟ یا شراب پینے کا فتویٰ دیتا ہے یا یہ تعلیم دیتاہے کہ بہرحال بدی کا مقابلہ نہ کرو ؟ پس یہ کس قدر خباثت اور بدذاتی ہے کہ قرآن شریف کو توریت اور انجیل کی نقل قرار دیا جاتا ہے اگر قرآن شریف توریت و انجیل کی نقل ہے تو پھر اس قدر اسلام اور ان فرقوں میں اختلاف کیوں پیدا ہوئے ؟ اس صورت میں تو اسلام عین یہودیت اور یاعین عیسائیت ہونا چاہئے تھا (نقل جو ہوئی) اور اگر یہی حالت تھی کہ قرآن شریف توریت اور انجیل کی تعلیم کی نقل ہے تو کیوں یہودیوں اور عیسائیوں نے اس قدر اسلام کو مغائرت کی نظر سے دیکھا اور اس قدر مقابلہ سے پیش آئے کہ خون کی ندیاں بہ گئیں ؟ ہاں یہ سچ ہے کہ دُنیا کے تمام مذاہب بعض باتوں اور بعض احکام میں مشترک ہوتے ہیں۔ مگر کیا ہم اس اشتراک کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض کی نقل ہیں۔ مثلاً ہر ایک مذہب کی یہی تعلیم ہے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ چوری نہ کرو۔ ناحق کا خون نہ کرو۔ لوگوں سے ہمدردی کرو پس اگر اس توارد کی وجہ سے کسی کتاب پر چوری کا الزام آسکتا ہے تو پھر وید اس الزام سے کہاں بری ٹھہر سکتا ہے۔ مجوسیوں کا اب تک یہ الزام چلا آتا ہے کہ وید اُن کی پاک کتابوں کے مضامین چوراکر لکھا گیا ہے اور بیاس کا ایران پہنچنا اورؔ ان بزرگوں کی شاگردی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 271

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 271

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/271/mode/1up


    اختیار کرنا اس پر ایک دلیل بھی ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا چونکہ وید میں کوئی ذاتی روشنی نہیں ہے اور نہ کوئی ذاتی معجزانہ طاقت ہے اور صرف ایسی باتیں ہیں جو دوسری کتابوں سے نقل ہوسکتی ہیں اس لئے وید کا اس الزام سے بری ہونا مشکل ہے خاص کر ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ وید میں اگنی کی پوجا فارس کے گبروں سے لی گئی ہے اسی طرح رگوید کی بہت سی تعلیمیں ژند کی تعلیم کی سرقہ معلوم ہوتی ہیں لیکن قرآن شریف تو بجائے خود ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور نہ صرف معجزانہ بلاغت و فصاحت رکھتا ہے بلکہ معجزات اور پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے اور جن قوی دلائل سے وہ خدا تعالیٰ کے وجودکا ثبوت دیتا ہے وہ ثبوت نہ توریت کی رُو سے مل سکتا ہے نہ انجیل کی رو سے حاصل ہوسکتا ہے* اور جو کچھ عالم معاد کی نسبت قرآن شریف نے بیان کیا ہے وہ معارف و حقائق نہ توریت میں پائے جاتے ہیں نہ انجیل میں نہ کسی اورکتاب میں۔

    اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی درحقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرار دے دیاہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں۔ غرض قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریا ہے اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے۔ اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالیٰ پر یقین لاسکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اُس کی کامل پیروی سے وہ پردے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک مذہب والامحض


    *حاشیہ ۔ قرآن شریف کی معجزانہ تاثیرات سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی کامل پیروی کرنے والے درجہ قبولیت کا پاتے ہیں اور ان کی دعائیں قبول ہو کر خدا تعالےٰ اپنی کلام لذیذ اور پُر رُعب کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دیتا ہے اور خاص طور پر دشمنوں کے مقابل پر ان کی مدد کرتاہے اور تائید کے طور پر اپنے غیب خاص پر ان کو مطلع فرماتا ہے ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 272

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 272

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/272/mode/1up


    قصّہ کے طور پر خدا کانام لیتا ہے مگر قرآن شریف اس محبوب حقیقی کاچہرہ دکھلا دیتا ہے اور یقین کانور انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے اوروہ خدا جو تمام دنیا پر پوشیدہ ہے وہ محض قرآن شریف کے ذریعہ سے دکھائی دیتا ہے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیاکہ اس میں لکھا ہے کہ خدا عرش پرکُرسی نشین ہے۔ اس لغو اعتراض کاجواب پہلے ہم مبسوط اور مفصل طور پر لکھ آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عاجز انسانوں کو اپنی کامل معرفت کا علم دینے کے لئے اپنی صفات کو قرآن شریف میں دو رنگ پر ظاہر کیا ہے۔(۱) اوّل اس طور پر بیان کیا ہے جس سے اُس کی صفات استعارہ کے طریق پر مخلوق کی صفات کی ہم شکل ہیں جیسا کہ وہ کریم رحیم ہے محسن ہے اور وہ غضب بھی رکھتا ہے اور اُس میں محبت بھی ہے اور اُس کے ہاتھ بھی ہیں اور اُس کی آنکھیں بھی ہیں اور اس کی ساقین بھی ہیں اور اُس کے کان بھی ہیں اور نیز یہ کہ قدیم سے سلسلہ مخلوق کا اُس کے ساتھ چلا آیا ہے مگر کسی چیز کو اُس کے مقابل پر قدامت شخصی نہیں ہاں قدامت نوعی ہے۔ اور وہ بھی خدا کی صفت خلق کے لئے ایک لازمی امر نہیں کیونکہ جیسا کہ خَلَقْ یعنی پیدا کرنا اُس کی صفات میں سے ہے ایسا ہی کبھی اور کسی زمانہ میں تجلی و حدت اور تجرد اس کی صفات میں سے ہے اور کسی صفت کے لئے تعطّل دائمی جائز نہیں ہاں تعطّل میعادی جائز ہے۔

    غرض چونکہ خدا نے انسان کو پیدا کرکے اپنی اُن تشبیہی صفات کو اس پر ظاہر کیا جن صفات کے ساتھ انسان بظاہر شراکت رکھتا ہے جیسے خالق ہونا کیونکہ انسان بھی اپنی حد تک بعض چیزوں کا خالق یعنی موجد ہے۔ ایسا ہی انسان کو کریم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک کرم کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور اسی طرح انسان کو رحیم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک قوت رحم بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور قوتِ غضب بھی اُس میں ہے اور ایسا ہی آنکھ کان وغیرہ سب انسان میں موجود ہیں۔ پس اِنؔ تشبیہی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 273

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 273

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/273/mode/1up


    صفات سے کسی کے دل میں شبہ پیدا ہوسکتا تھاکہ گویا انسان ان صفات میں خدا سے مشابہ ہے اور خدا انسان سے مشابہ ہے اس لئے خدا نے ان صفات کے مقابل پر قرآن شریف میں اپنی تنز یہی صفات کا بھی ذکر کردیا یعنی ایسی صفات کا ذکر کیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو اپنی ذات اور صفات میں کچھ بھی شراکت انسان کے ساتھ نہیں اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کچھ مشارکت ہے۔ نہ اُس کا خَلَقْ یعنی پیدا کرنا انسان کے خَلَقْ کی طرح ہے نہ اُس کا رحم انسان کے رحم کی طرح ہے نہ اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے نہ اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے نہ وہ انسان کی طرح کسی مکان کا محتاج ہے۔

    اور یہ ذکر یعنی خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے جیسا کہ ایک یہ آیت ہے 33 ۱؂ یعنی کوئی چیز اپنی ذات اور صفات میں خدا کی شریک نہیں اوروہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا۔3 3 3۔33۔3 3۔33 ۲؂ ۔ ترجمہ۔ حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لئے ہیں کوئی اُن میں اُس کا شریک نہیں وہی بذاتہٖ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعہ سے ہیں۔ اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اُس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اُس پرجائز نہیں ایسا ہی ادنیٰ درجہ کا تعطّل حواس بھی جو نیند اور اُونگھ سے ہے وہ بھی اُس پر جائز نہیں مگر دوسروں پر جیساکہ موت وارد ہوتی ہے نیند اورؔ اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔ جو کچھ تم زمین میں دیکھتے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 274

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 274

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/274/mode/1up


    ہو یاآسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے کون ہے جو بغیر اُس کے حکم کے اُس کے آگے شفاعت کرسکتا ہے وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اُس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے اور کوئی اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کرسکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔ اُس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے۔ وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ نہیں کہ کسی چیز نے اُس کو اُٹھا رکھا ہے اوروہ آسمان و زمین اور اُن کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اُس کی طرف منسوب کی جائے۔

    اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے 33 ۱؂ ۔(ترجمہ) تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ۶ دن میں پیدا کیا پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا یعنی اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کرکے اور تشبیہی صفات کا ظہور فرماکر پھر تنز یہی صفات کے ثابت کرنے کے لئے مقام تنزّہ اور تجرّد کی طرف رُخ کیا جو وراء الوراء مقام اور مخلوق کے قرب وجوار سے دور تر ہے وہی بلند تر مقام ہے جس کو عرش کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے تو تمام مخلوق حیّز عدم میں تھی اورخدا تعالیٰ وراء الوراء مقام میں اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا جس کا نام عرش ہے یعنی وہ مقام جو ہر ایک عالم سے بلند تر اور برتر ہے اور اسی کا ظہور اور پرتو تھا اور اُس کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا اور جب مخلوق ظاہر ہوئی تو پھر اُس نے اپنے تئیں مخفی کرلیا اور چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ سے شناخت کیاجائے۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر تعطّل صفاتِ الٰہیہ کبھیؔ نہیں ہوتا اور بجز خدا کے کسی چیز کے لئے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لئے تعطّل دائمی تو نہیں مگر تعطّل میعادی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 275

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 275

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/275/mode/1up


    کا ہونا ضروری ہے اور چونکہ صفت ایجاد اور صفت اِفْنَاء باہم متضاد ہیں اس لئے جب اِفْنَاء کی صفت کا ایک کامل دور آجاتا ہے تو صفت ایجاد ایک میعاد تک معطّل رہتی ہے۔ غرض ابتدا میں خدا کی صفتِ وحدت کا دَور تھا اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس دور نے کتنی دفعہ ظہور کیا بلکہ یہ دَور قدیم اور غیر متناہی ہے بہرحال صفتِ وحدت کے دَور کو دُوسری صفات پر تقدّم زمانی ہے پس اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں خدا اکیلا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی نہ تھا اور پھر خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُ ن میں ہے پیدا کیا اور اسی تعلق کی وجہ سے اُس نے اپنے یہ اسماء ظاہر کئے کہ وہ کریم اور رحیم ہے اورغفور اور توبہ قبول کرنے والا ہے مگر جو شخص گناہ پر اصرار کرے اور باز نہ آوے اُس کو وہ بے سزا نہیں چھوڑتا اور اُس نے اپنا یہ اسم بھی ظاہر کیا کہ وہ توبہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور اُس کا غضب صرف انہیں لوگوں پر بھڑکتا ہے جو ظلم اورشرارت اورمعصیت سے باز نہیں آتے اور اُس نے اپنی یہ صفات اپنی کتاب میں بیان فرمائیں کہ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور محبت کرتا ہے اور غضب کرتا ہے اور اپنے ہاتھ

    اور پیر اور آنکھ اور کان کا بھی ذکر کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اُس کا دیکھنا انسان کے دیکھنے کی طرح نہیں اور اُس کا سننا انسان کے سننے کی طرح نہیں اور اس کا محبت کرنا انسان کے محبت کرنے کی طرح نہیں اور اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح نہیں اور اُس کے ہاتھ پیر اور آنکھ کان مخلوق کے اعضاء کی طر ح نہیں بلکہ وہ ہر ایک بات میں بے مثل ہے اور بار بار صاف فرمادیا کہ یہ اُس کی تمام صفات اُس کی ذات کے مناسب حال ہیں انسان کی صفات کی مانند نہیں اور اُس کی آنکھ وغیرہ جسم اور جسمانی نہیں اور اُس کی کسی صفت کو انساؔ ن کی کسی صفت سے مشابہت نہیں مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اُس کا سرور دور ہوکر ایک جلن سی اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادّہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 276

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 276

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/276/mode/1up


    حالت میں پیدا ہو جاتا ہے مگر خدا اِن تغیرات سے پاک ہے اور اُس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اُس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے لہٰذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اُس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیٰحدہ اور جُدا ہونے سے اُس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے ایسا ہی اُس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دور ہوتا ہے اور باوجود دور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ 3۱؂ یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں۔

    اب ناظرین با انصاف پر ظاہر ہو کہ اسی مطلب کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ 333۲ ؂ یعنی خدا وہ ہے جس نے سب کچھ چھ۶ دن میں پیدا کرکے پھر اپنے مقام وراء الوراء کی طرف توجہ کی*اور عرش پر قرا ر پکڑا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ عرش سے مراد قرآن شریف میں ؔ وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدّس اور تنزّہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا

    *حاشیہ ۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس آیت سے مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی تشبیہی صفات کا اظہار فرماکر پھر اس مقام کی طرف توجہ کی جو بے مثل و مانند ہونے کا مقام ہے جس کو زبان شرع میں عرش کہتے ہیں جو تمام عالموں سے بر تر اور وہم و خیال سے بلند تر ہے اور عرش کوئی مخلوق چیز نہیں ہے بلکہ محض وراء الوراء مقام کا نام عرش ہے جس سے مخلوق کو کوئی اشتراک نہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 277

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 277

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/277/mode/1up


    اُس پر بیٹھا ہوا ہے اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلّی کرتا ہے۔ ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلّی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہرایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اُٹھایا ہوا ہے۔ اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنز یہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنز یہی۔ اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت اِس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ آنکھ محبت غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ3کہہ دیا اور بعض جگہ 3 کہہ دیا جیسا کہ سورہ رعد جزو نمبر ۱۱ میں بھی یہ آیت ہے 33 ۱؂ (ترجمہ) تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا۔ اِس آیت کے ظاہری معنی کے رُو سے اِس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا۔ اِس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اُس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہرایک چیز کو پیدا کیا اور ظلّی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دئیے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہرایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزّہ کا ذکر کردیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیداؔ کرکے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پرہے اور پھر سورۃ طٰہٰ جزو نمبر ۱۶ میں یہ آیت ہے 3 ۲؂ (ترجمہ) خدا رحمن ہے جس نے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 278

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 278

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/278/mode/1up


    عرش پر قرار پکڑا اس قرار پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ اگرچہ اُس نے انسان کو پیدا کرکے بہت سا قرب اپنا اُس کو دیا مگر یہ تمام تجلیات مختص الزمان ہیں یعنی تمام تشبیہی تجلیات اُس کی کسی خاص وقت میں ہیں جو پہلے نہیں تھیں مگر ازلی طور پر قرار گاہ خدا تعالیٰ کی عرش ہے جو تنزیہ کا مقام ہے کیونکہ جو فانی چیزوں سے تعلق کرکے تشبیہہ کا مقام پیدا ہوتا ہے وہ خدا کی قرار گاہ نہیں کہلا سکتا وجہ یہ کہ وہ معرضِ زوال میں ہے اور ہرایک وقت میں زوال اُس کے سر پر ہے بلکہ خدا کی قرارگاہ وہ مقام ہے جو فنا اور زوال سے پاک ہے پس وہ مقام عرش ہے۔

    اِس جگہ ایک اور اعتراض مخالف لوگ پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ قرآن شریف کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے جس سے اشارۃ النَّص کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چار فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں اور اب اس جگہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ تو اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی اُس کے عرش کو اٹھاوے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ ابھی تم سن چکے ہو کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے جو اٹھائی جائے یا اٹھانے کے لائق ہو بلکہ صرف تنزّہ اور تقدّس کے مقام کا نام عرش ہے اسی لئے اِس کو غیر مخلوق کہتے ہیں۔ ورنہ ایک مجسم چیز خدا کی خالقیت سے کیونکر باہر رہ سکتی ہے اور عرش کی نسبت جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب استعارات ہیں۔ پس اسی سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا اعتراض محض حماقت ہے۔ اب ہم فرشتوں کے اٹھانے کا اصل نکتہ ناظرین کو سناتے ہیں اوروہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے تنزّہ کے مقام میں یعنی اس مقام میں جب کہ اُس کی صفت تنزّہ اُس کی تمام صفات کو روپوش کرکے اُس کو وراء الوراء او رنہاں در نہاں کر دیتی ہے۔ جس مقام کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں عرش ہے تب خدا عقول انسانیہ سے بالاتر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اُس کو دریافت کرسکے تب اُس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے ؔ نام سے موسوم کیا گیا ہے جو دُنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں*۔ (۱) اوّل ربوبیّت جس کے ذریعہ سے وہ انسان

    * حاشیہ۔ ملاحظہ ہو صفحہ ۲۷۹



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 279

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 279

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/279/mode/1up


    کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ رُوح اور جسم کا ظہور ربوبیّت کے تقاضا سے ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اُس کے خارق عادت نشان ظہورمیں آناربوبیّت کے تقاضا سے ہے(۲) دوم خدا کی رحمانیّت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اُس نے بغیر پاداش اعمال بیشمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۳) تیسری خدا کی رحیمیّت ہے اوروہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اوّل توصفت رحمانیّت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیّت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر اُن کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہرکرتی ہے (۴) چوتھی صفت مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے یہ بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔ یہ چاروں صفتیں ہیں جو اُس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اُس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہوجائے گی گویا بجائے چار ۴ کے آٹھ۸ فرشتے ہو جائیں گے۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ دُنیا کی پیدائش کا طریقہ قرآن شریف میں غلط بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس اعتراض سے معترض کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں یہ لکھا ہے کہ ہر ایک چیز خدا کے حکم سے پیدا ہوئی ہے اور کسی چیز کے وجود کو خدا کے حکم کے ساتھ وابستہ کرنا علمِ طبعی کے قواعد کے برخلاف ہے تو یہ پوچ اور لغو اعتراض ہے کیونکہ جو شخص

    حاشیہ صفحہ ۲۷۸۔ خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی و ارضی پیدا کرکے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے اور یہ ایسانہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چا۴ر صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ لگتا یعنی ربوبیّت۱ ۔ رحما۲نیّت ۔ رحیمیّت۳ ۔ مالک۴ یوم الجزاء ہونا ۔ سویہ چا۴روں صفات استعارہ کے رنگ میں چا۴ر فرشتے خدا کی کلام میں قرار دئیے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلارہے ہیں ورنہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 280

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 280

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/280/mode/1up


    خدا تعالیٰ کی ہستی کو مانتا ہے اور ہر ایک چیز کا وجود اُس کے ارادہ سے جانتا ہے اُس کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ بغیر حکم خدا تعالیٰ کے کوئی چیز ظہور پذیر نہیں ہوسکتی اور اگر خدا کے وجود کو نہیں مانتا تو دلائل قویّہ بدیہیہ اُس کو ملزم کرتے ہیں اور اگر کہو کہ اعتراض یہ ہے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک د م میں خدا تعالیٰ نے سب کچھ پیدا کیا تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ قرآن شریف سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ چھ دن میں ؔ پیدا کیا اور چھ۶ دن سے مراد وہ دن نہیں ہیں جو انسانوں کے دن ہیں بلکہ بموجب تصریح قرآن شریف کے ہر ایک دن سے ہزارہا برس مراد ہیں اور اگر کہو کہ قرآن شریف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے اجسام ارضی اور اجرام سماوی کو فلاں فلاں مادہ سے پیدا کیا تو یہ خدا کی قدرتوں میں بیجا دخل ہے۔ یاد رکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کرسکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں۔ اورانسان کو صرف اپنے اس قدر علم پرمغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اُس کو کسی حد تک سلسلہ علل و معلولات کامعلوم ہوگیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑم حصہ قطرہ کا* اور حق بات یہ ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ خود

    *حاشیہ ۔ یہ خیال ہی سراسر حماقت ہے کہ جس قدر قانون قدرت ظاہر ہوچکا ہے اسی پر خداکے مخفی ارادوں اور مخفی قدرتوں کا قیاس کرنا چاہیئے کیونکہ قیاس کرنے کے لئے کم سے کم نسبت مساوات تو ضرور چاہیئے لیکن جس حالت میں انسان کا علم خدا کی قدرتوں کی نسبت اس قدر بھی نہیں جیسا کہ ایک سوئی کی نوک کی تری ایک بحر اعظم کے پانی سے نسبت رکھتی ہے تو پھر اس قدر قلیل علم انسان کا ان مخفی قدرتوں کے لئے معیار کیونکر ہو سکتا ہے جو غیر متناہی ہیں ۔ اگر خدا کی اسی قدر قدرتیں ہیں جو انسان کے احاطہ علم میں ہوچکی ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں تو اس صورت میں خدا محدود ہوجائے گا اور نیز اس کی قدرتیں بھی انسان کے علم سے زیادہ نہیں ہوں گی ۔ لیکن انسان کا خدا کی قدرتوں پر محیط ہونا ایسا ہے جیسا کہ خدا پر محیط ہو جانا ۔ وہ خدا جس نے انسان کو مولی گاجر کی طرح زمین سے پیدا کیا ۔ پھر اس پہلے قانون کو توڑ دیا ۔ پس اگر وہ کسی زمانہ میں اس موجودہ قانون قدرت کو بھی توڑ دے تو اس کو کون روک سکتاہے اور کس دلیل سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے تو وہ تبدیل قانون قدرت پر قادر تھا۔ مگر اب قادر نہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 281

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 281

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/281/mode/1up


    ناپیدا کنار ہے ایساہی اُس کے کام بھی ناپیدا کنار ہیں اور اُس کے ہر ایک کام کی اصلیت تک پہنچنا انسانی طاقت سے برتر اور بلند تر ہے ہاں ہم اُس کی صفات قدیمہ پر نظر کرکے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی معطّل نہیں رہتیں اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے مگر شخصی قدامت باطل ہے اور باوجود اس کے خدا کی صفت افناء اور اہلاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے وہ بھی کبھی معطل نہیں ہوئی اور اگرچہ نادان فلاسفروں نے بہت ہی زور لگایا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام کی پیدائش کو اپنے سائینس یعنی طبعی قواعد کے اندر داخل کرلیں اور ہر ایک پیدائش کے اسباب قائم کریں مگر سچ یہی ہے کہ وہ اس میں ناکام اور نامراد رہے ہیں اور جوکچھ ذخیرہ اپنی طبعی تحقیقات کا انہوں نے جمع کیا ہے وہ بالکل ناتمام اور نامکمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اپنے خیالات پر قائم نہیں رہ سکے اور ہمیشہ اُن کے خود تر اشیدہ خیالات میں تغیر تبدّل ہوتا رہا ہے اور معلوم نہیں کہ آگے کس قدر ہوگا اور چونکہ اُن کی تحقیقاتوں کی یہ حالت ہے کہ تمام مدار اُن کا صرف اپنی عقل اور قیاس پر ہے اورخدا سے کوئی مدد اُن کونہیں ملتی اس لئے وہ تاریکی سے باہر نہیں آسکتے اور درحقیقت کوئی شخص خدا کو شناخت نہیں کرسکتا جب تک اس حد تک اُس کی معرؔ فت نہ پہنچ جائے کہ وہ اس بات کو سمجھ لے کہ خدا کے بیشمار کام ایسے ہیں کہ جو انسانی طاقت اور عقل اور فہم سے بالاتر اور بلند تر ہیں اور اس مرتبہ معرفت سے پہلے یا تو انسان محض دہریہ ہوتا ہے اورخدا کے وجود پر ایمان ہی نہیں رکھتا اور یا اگر خدا کو مانتا ہے تو صرف اس خداکو مانتا ہے کہ جو اُس کے خود تراشیدہ دلائل کا ایک نتیجہ ہے نہ اُس خدا کو جو اپنی تجلّی سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور جس کی قدرتوں کے اسرار اِس قدر ہیں کہ انسانی عقل اُن کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء لَایُدرک ہیں تب سے میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں پکے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں میرا خود ذاتی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 282

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 282

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/282/mode/1up


    مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ اُن کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام ان کاہم رکھ نہیں سکتے جیسا کہ ان نشانوں کی بعض مثالیں بعض موقعہ پر میں نے لکھ دی ہیں۔ جس نے یہ کرشمۂ قدرت نہیں دیکھا اُس نے کیا دیکھا ؟ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں بلکہ ہم اُس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح غیر محدود اور ناپیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔ ایسا ہی اُس کی قدرت کا یہ راز ہے کہ وہ نیست سے ہست کرتا ہے جیسا کہ اِس بات پر ہزاہا نمونے ہماری نظر کے سامنے ہیں۔ بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پھل جیسے جیسے پکتے جاتے ہیں وہ پردار کیڑوں کی طرح بنتے جاتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں کہ اُن کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہو جاتے ہیں اُن میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اُس کی نظیریں ہزارہا ہیں نہ صرف ایک دو۔ پس اس جگہ بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیستی سے ہستی ہے اور یہ ایک ایساراز قدرت ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے اور کیا یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ناچیز انسان خدا کے تمام اسرار پر اطلاع بھی پاجائے اور اس کی تمام قدرتوں پرمحیط ہو جائے۔ یہ ؔ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر علم سائینس یعنی طبعی خدا تعالیٰ کے تمام عمیق کاموں پر احاطہ کرلے تو پھر وہ خداہی نہیں۔ جس قدر انسان اُس کی باریک حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے وہ انسانی علم اس قدر بھی نہیں کہ جیسے ایک سُوئی کو سمندر میں ڈبویا جائے اور اُس میں کچھ سمندر کے پانی کی تری باقی رہ جائے اور یہ کہنا کہ اُس کی تمام باریک قدرتوں پر اطلاع پانے کے لئے ہمارے لئے راہ کشادہ ہے اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں باوجود یکہ ہزارہا قرن اس دُنیا پر گذر چکے ہیں پھر بھی انسان نے صرف اس قدر خدا کی حکمتوں پر اطلاع پائی ہے جیسا کہ ایک عالمگیر بارش میں سے صرف اس قدر تری جو ایک بال کی نوک کو بمشکل ترکر سکے۔ پس اس جگہ اپنی حکمت اور دانائی کا دم مارنا جھوٹی شیخی اور حماقت ہے۔ انسان باوجودیکہ ہزارہا برسوں سے اپنے علوم طبعیہ اور ریاضہ کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 283

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 283

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/283/mode/1up


    ذریعہ سے خدا کی قدرتوں کے دریافت کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے مگر ابھی اس قدر اُس کے معلومات میں کمی ہے کہ اس کو نامراد اور ناکام ہی کہنا چاہئے۔ صدہا اسرار غیبیہ اہل کشف اور اہل مکالمہ الٰہیہ پر کھلتے ہیں اورہزاہا راستباز اُن کے گواہ ہیں مگر فلسفی لوگ اب تک اُن کے منکر ہیں جیسا کہ فلسفی لوگ تمام مدار ادراک معقولات اور تدبر اور تفکر کادماغ پر رکھتے ہیں مگر اہل کشف نے اپنی صحیح رؤیت اورروحانی تجارب کے ساتھ معلوم کیا ہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دِل ہے جیسا کہ میں پینتیس ۳۵برس سے اس بات کا مشاہدہ کر رہا ہوں کہ خدا کا الہام جو معارف رُوحانیہ اور علوم غیبیہ کا ذخیرہ ہے دل پر ہی نازل ہوتا ہے بسا اوقات ایک ایسی آواز سے دل کا سرچشمہء علوم ہونا کھل جاتا ہے کہ وہ آواز دل پر اس طور سے بشدّت پڑتی ہے کہ جیسے ایک ڈول زور کے ساتھ ایک ایسے کنوئیں میں پھینکا جاتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے تب وہ دل کا پانی جوش مارکر ایک غنچہ کی شکل میں سربستہ اوپر کو آتا ہے اور دماغ کے قریب ہوکرپھول کی طرح کھل جاتا ہے اور اس میں سے ایک کلام پیدا ہوتا ہے وہی خدا کاکلام ہے۔ پس ان تجارب صحیحہ رُوحانیہ سے ثابت ہے کہ دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں ہاں اگر دماغ صحیح واقعہ ہو* اور ؔ اس میں کوئی آفت نہ ہو تو وہ دل کے علوم مخفیہ سے مستفیض ہوتا ہے اور دماغ چونکہ منبتِ اَعصاب ہے اس لئے وہ ایسی کَل کی طرح ہے جو پانی کو کنوئیں سے کھینچ سکتی ہے اور دل وہ کنواں ہے جوعلوم مخفیہ کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ راز ہے جو اہلِ حق نے مکاشفاتِ صحیحہ کے ذریعہ سے معلوم کیا ہے جس میں مَیں خود صاحبِ تجربہ ہوں۔

    ایسا ہی جدید سائنس یعنی طبعی کی تحقیقات میں یہ ایک غلطی ہے کہ قطعی طورپر یہ خیال کیا گیا ہے جو ہر ایک مادی چیزوں میں جو کیڑے پڑجاتے ہیں وہ ہوا سے آتے ہیں یعنی ہوا کے کیڑے اس چیز میں داخل ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ قاعدہ کئی جگہ ٹوٹ جاتا ہے مثلاً جو نطفہ سے


    *حاشیہ ۔ چونکہ دماغ منبتِ اَعصاب ہے اس لئے علوم قلبیہ کا محسوس کرنا اس کا کام ہے اور اگر دماغ میں کوئی آفت پیدا ہو تو وہ علوم پردہ میں آجاتے ہیں جیسا کہ اگر ڈول یا اس کی رسّی ناتمام ہو تو پانی کنوئیں میں سے نہیں آسکتا ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 284

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 284

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/284/mode/1up


    مثانہ کے اندر کیڑا بنتا ہے وہ سائنس والوں کے اقرار کی رُو سے ہوا سے نہیں بنتا اور ہوا کو اس

    میں کوئی دخل نہیں ایسا ہی جو گولر کے پھل میں چھوٹے چھوٹے کیڑے پَردَار بن جاتے ہیں جن سے گولر کا پھل بگڑتا نہیں بلکہ شیریں اور کھانے کے لائق ہو جاتا ہے اُن کو بھی ہوا سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے گولر کا کچا پھل اُن کے لئے بطور نطفہ کے ہوتا ہے اور جب تک وہ کچا ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا دکھائی نہیں دیتا اور لوگ پکا پکاکر اس کو کھاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے آہستہ آہستہ وہ پکتا جاتا ہے تو اُسی کے مغز میں سے چھوٹے چھوٹے جانور پَردار کسی قدر سبز چمکدار بنتے جاتے ہیں اور لوگ مع کیڑوں کے اُس پھل کو کھا جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ان جانداروں کا محض ایک پھل میں سے بن جانا ایک نرالا قانونِ قدرت ہے جس کو نیستی سے ہستی کہنا چاہئے کیونکہ یہ اُن کیڑوں کی طرح نہیں ہوتے جو ایک متعفن چیز میں پائے جاتے ہیں جو ایک قسم کے زہریلے کیڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دال یا دودھ یا گوشت وغیرہ میں اُس قسم کے کیڑے پڑتے ہیں تو وہ چیز سخت متعفن ہو جاتی ہے اور اُس میں سے نہایت گندی بدبُو آتی ہے اور اس میں ایک قسم کی زہر پڑجاتی ہے اسی وجہ سے اس کاکھانا مضر صحت ہوتا ہے لیکن یہ کیڑے گولر کے پھل کو مضر صحت نہیں کرتے بلکہ وہ پھل تبھی کھانے کے لائق ہوتا ہے جب وہ کیڑے اس میں پیدا ہو جاتے ہیں ایسا ہی ہم اسؔ جگہ بہت سی ایسی مثالیں پیش کرسکتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے کیڑے ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ ہوا کا اُن میں کچھ بھی تعلق نہیں یہ بات توہر ایک عقلمند سمجھ سکتاہے کہ گندی ہوا سے گندی چیزیں ہی پیدا ہوتی ہیں نہ ایسی پاک اور مفیدِ صحت چیزیں جو کھانے کے لائق ہوں۔ پس یہ عقیدہ کہ تمام کیڑے جو پیداہوتے ہیں وہ دراصل ہوا کے کیڑے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ اس جگہ یہ سوال بھی پیش ہوسکتا ہے کہ دراصل ہوا کیڑوں سے پاک ہے۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ جیسے کسی اُونچے پہاڑ کی بلندی پر چڑھیں جس کی سطح کھلی اور ہر ایک روک سے محفوظ ہو وہ ہوا کیڑوں سے خالی ہوتی ہے یا یوں کہو کہ بہت ہی کم



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 285

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 285

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/285/mode/1up


    اس میں کیڑے ہوتے ہیں اسی وجہ سے ایسے پہاڑوں پر سِل کی بیماری والوں کو فائدہ ہوتا ہے اور اس سے اُوپر کے طبقہ کی ہوا ایسی ہوتی ہے جو بالکل کیڑوں سے خالی ہوتی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ جو ہوا سطح زمین کے نزدیک ہے خاص کر جب وہ آفتاب کی حرارت سے پورا حصہ نہیں لیتی یا برف کی شدید سردی سے متاثر نہیں ہوتی وہی ہوا کیڑوں سے پُر ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی بساطت پر باقی نہیں رہتی۔ پس اس سے ثابت ہے کہ دراصل ہوامیں کوئی کیڑا نہیں ہے بلکہ جب ایک عارضی غلاظت اوررطوبت اُس سے مل جاتی ہے تو اس سے وہ کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اورچونکہ یہ ہوا تمام چیزوں پر محیط ہے اس لئے یہ گندی ہوا جب دوسری چیزوں پر اثر کرے گی تو اُن میں بھی کیڑے پیدا ہو جائیں گے اور عجیب تر یہ ہے کہ اگر مثلاً ایک جگہ پچاس سنگترہ یا اور قسم کے میوے دیر تک رکھے رہیں تو بعض پھل تو بگڑ جاتے ہیں اور بعض مدت تک نہیں بگڑتے حالانکہ وہ ایک ہی ہوا کے اثر کے ماتحت ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ جس قدر ہوا لطیف ہوگی اُسی قدر کیڑے کم پیدا ہوں گے۔ اس سے ثابت ہے کہ کیڑے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو گندی ہوا کی تاثیر سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اورحکمت سے محض کسی سرسبز پتے یا سرسبز پھل سے پیدا ہوتے ہیں جیسے گولر کا پردار کیڑا یا آک کا جانور جو ملخ کے برابر ہوتا ہے اور جیسے نطفہ کا کیڑا اور جیسے وہ کیڑے جوزمین کے نہایت ہی عمیق طبقوں میں پائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ کیڑے ہیں جو گندی ہوا سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسی ہوا جب کسی ایسی غذا پر اپنا اثر کرتی ہے جس میں کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں تو اس ہوا کے اثر سے ہزارہا کیڑے اس غذا میں پیدا ہوجاتے ہیں پس یہ سائینس والوں کی غلطی ہے کہ وہ ہرایک پیدا ہونے والے کیڑے کو گندی ہوا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب یہ بات بھی بحث طلب ہے کہ وہ کیڑے جو دال وغیرہ چیزوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ کہا ں سے پیدا ہوتے ہیں؟ پس اصل بات تو یہ ہے کہ جب وہ گندی ہوا جس میں کیڑے پیدا ہوچکے ہیں کسی کھانے والی یا کسی دوسری چیز پر اثر کرتی ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 286

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 286

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/286/mode/1up


    تو اس کے اثر سے اس چیز میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اگر محض یہی بات ہوتی کہ اُس ہوا کے کیڑے اس کھانے کے اندر داخل ہوجاتے ہیں تو کوئی کھانا کیڑوں سے بچ نہ سکتا۔ ایک طرف ہم ایک کھانا تیار کرکے اپنے سامنے رکھتے ۔۔۔ اور ایک طرف فی الفور ہزارہا کیڑے بلا توقف اُس میں پڑ جاتے کیونکہ جب کیڑے پہلے سے ہوا میں موجود ہیں اور کھانا بھی کھلا پڑا ہے تو پھر توقف کی کوئی وجہ نہیں اور اگر کہو کہ اول حالت میں باریک ہوتے ہیں تو پھر تم خوردبین کے ذریعہ سے ہمیں دکھلاؤ کہ اس تازہ کھانے میں کہاں کیڑے ہیں۔ غرض یہ بھی سائنس والوں کی ایک موٹی غلطی ہے وہ لوگ خداکے اسرار کامعما کھولنا چاہتے ہیں آخر منہ کے بل گرتے ہیں*۔

    مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض قرآن شریف پر پیش کیا کہ خاوند کی مرضی پر طلاق رکھی ہے اس سے شاید اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ عقل کی رُو سے مرد اور عورت درجہ میں برابر ہیں تو پھر اس صورت میں طلاق کا اختیار محض مرد کے ہاتھ میں رکھنا بلاشبہ قابل اعتراض ہوگا۔ پس اس اعتراض کا یہی جواب ہے کہ مرد اورعورت درجہ میں ہرگز برابر نہیں۔ دنیا کے قدیم تجربہ نے یہی ثابت کیا ہے کہ مرد اپنی جسمانی اور علمی طاقتوں میں


    *حاشیہ ۔ یاد رہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید نے ہر ایک جانور کو خواہ وہ کیڑا ہے یا اور جاندار انسان قرار دیا ہے یعنی یہ تعلیم دی ہے کہ وہ دراصل انسانی روح ہے جو کسی اور جون میں واپس آئی ہے مگر وید نے جو واپس آنے کا طریق بیان کیا ہے وہ ایسا بیہودہ اور خلاف عقل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وید کے بنانے والے علم اور عقل سے محض بے نصیب تھے اس بات کا بارِ ثبوت وید کے ذمہ تھا کہ وہ روح جو بدن سے نکل گئی تھی وہ کیونکر اور کس طریق سے واپس آتی ہے اور کیونکر انسانی نطفہ سے اس کاپیوند ہو جاتاہے اور یہ خیال کہ وہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر گرتی ہے اس سے زیادہ اور کوئی خیال بیوقوفی کا نہیں ہو گا کیونکہ نطفہ صرف گھاس پات نہیں بلکہ صدہا مختلف طریقوں سے طیار ہوتا ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں ۔ ایک دال کی طرف دیکھو جو اکثر آریوں کی غذا ہے اول وہ آگ پر گداز کی جاتی ہے اور کیڑے مرجاتے ہیں اور اگر باسی ہوجائے تو ہزار ہا کیڑے اس میں پڑ جاتے ہیں ۔ تو کیا یہ خیال ہوسکتا ہے کہ وہ کیڑے بھی شبنم سے ہی غذا میں داخل ہوتے ہیں اور وہ سب انسان ہیں ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 287

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 287

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/287/mode/1up


    عورتوں سے بڑھ کر ہیں اور شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے پس جب مرد کا درجہ باعتبار اپنے ظاہری اور باطنی قوتوں کے عورت سے بڑھ کر ہےؔ تو پھر یہی قرین انصاف ہے کہ مرد اور عورت کے علیحدہ ہونے کی حالت میں عنانِ اختیار مرد کے ہاتھ میں ہی رکھی جائے مگر تعجب ہے کہ یہ اعتراض ایک آریہ نے کیوں پیش کیا؟ کیونکہ آریوں کے اصول کی رُو سے تو مرد کادرجہ عورت سے اس قدر بڑھ کر ہے کہ بغیر لڑکا پیدا ہونے کے نجات ہی نہیں ہوسکتی۔ اِسی بنا پر ایک آریہ کی عورت باوجود موجود ہونے خاوند کے دوسرے مرد سے منہ کالا کراتی ہے تا کسی طرح لڑکا پیدا ہو جائے۔ پس ظاہرہے کہ اگر اُن کے نزدیک مرد اور عورت کا درجہ برابر ہوتا تو اس رسوائی اور فضیحت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ لیکن یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ اگر ایک آریہ کی چالیس۴۰ لڑکیاں بھی ہوں یا فرض کرو کہ ۱۰۰سو لڑکی ہو تب بھی وہ اپنی نجات کے لئے فرزند نرینہ کا خواہشمند ہوتا ہے اور اُس کے مذہب کی رُو سے ۱۰۰سو لڑکیاں بھی ایک لڑکے کے برابر نہیں ہوسکتیں۔ پس اس سے ثابت ہے کہ آریہ

    مذہب کی رُو سے جس قدر لڑکے کو یعنی فرزند نرینہ کو دُختر پر ترجیح دی گئی ہے وہ اس قدر ترجیح ہے کہ دختر کو اپنی قدر و منزلت میں فرزند نرینہ کاسوا۱۰۰ں حصہ بھی قرار نہیں دیا گیا ورنہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر مذہب کی رُو سے لڑکی اور لڑکا ایک درجہ پر سمجھے جاتے تو پھر لڑکا ہونے کے لئے یہ بے غیرتی کیوں روا رکھی جاتی کہ اپنی منکوحہ عورت جس کے لئے غیرت مند لوگ مرنے مارنے پر طیار ہو جاتے ہیں وہ دوسروں سے ہمبستر کرائی جاتی ؟ اور کیوں اس قدر لڑکا پیدا ہونے کے لئے حرص بڑھائی جاتی کہ یہ روا رکھا جاتا کہ گو اُس بدقسمت عورت کو تمام دُنیا کے مردوں سے ہمبستر کرایا جائے مگر لڑکا ضرور پیدا ہونا چاہئے۔

    ماسوا اس کے منوشا ستر کو پڑھ کر دیکھ لو کہ اس میں بھی صاف لکھا ہے کہ اگر عورت مرد کی دشمن ہوجائے یا زہر دیناچاہے یا اور کوئی ایسا سبب ہو تو مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اور عملی طور پر تمام شریف ہندوؤں کا یہی طریق ہے کہ اگرعورت کو بدکار اور بدچلن پاویں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 288

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 288

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/288/mode/1up


    تو اُس کو طلاق دے دیتے ہیں اور تمام دنیا میں انسانی فطرت نے یہی پسند کیا ہے کہ ضرورتوں کے وقت میں مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اورمرد کا عورت پر ایک حق زائد بھی ہے کہ مرد عورت کی زندگی کے تمام اقسام آسائش کا متکفّل ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی یہ بات مردوں کے ذمہ ہے کہ جوعورتوں کو کھانے کے لئے ضرورتیں ہوں یا پہننے کے لئے ضرورتیں ہوں وہ سب اُن کے لئے مہیا کریں۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرد عورت کا مربی اور محسن او رذمہ وار آسائش کا ٹھہرایا گیا ہے اور وہ عورت کے لئے بطور آقا اور خداوند نعمت کے ہے اسی طرح مرد کو بہ نسبت عورت کے فطرتی قویٰ زبردست دئیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے مرد عورت پر حکومت کرتا چلا آیا ہے اور مرد کی فطرت کو جس قدر باعتبار کمال قوتوں کے انعام عطا کیا گیا ہے وہ عورت کی قوتوں کو عطا نہیں کیا گیا۔ اور قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ اگرمرد اپنی عورت کو مروّت اور احسان کی رُو سے ایک پہاڑ سونے کا بھی دے تو طلاق کی حالت میں واپس نہ لے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام میں عورتوں کی کس قدر عزت کی گئی ہے ایک طور سے تو مردوں کو عورتوں کا نوکر ٹھہرایا گیا ہے اور بہرحال مردوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ 3 ۲؂ یعنی تم اپنی عورتوں سے ایسے حسن سلوک سے معاشرت کرو کہ ہر ایک عقلمند معلوم کرسکے کہ تم اپنی بیوی سے احسان اور مروّت سے پیش آتے ہو۔

    علاوہ اِس کے شریعت اسلام نے صرف مرد کے ہاتھ میں ہی یہ اختیار نہیں رکھا کہ جب کوئی خرابی دیکھے یا ناموافقت پاوے تو عورت کو طلاق دے دے بلکہ عورت کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بذریعہ حاکم وقت کے طلاق لے لے۔ اور جب عورت بذریعہ حاکم کے طلاق لیتی ہے تواسلامی اصطلاح میں اس کانام خُلع ہے۔ جب عورت مرد کو ظالم پاوے یا وہ اُس کو ناحق مارتا ہو یا اور طرح سے ناقابلِ برداشت بدسلوکی کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے ناموافقت



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 289

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 289

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/289/mode/1up


    ہو یا وہ مرد دراصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں آباد رہنا ناگوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہئے کہ حاکم وقتؔ کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کردے اور نکاح کو توڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلانا ضروری ہوگا کہ کیوں نہ اُس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔

    اب دیکھو کہ یہ کس قدر انصاف کی بات ہے کہ جیسا کہ اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے جو اُس کا باپ یا بھائی یا اور کوئی عزیز ہوخود بخود اپنانکاح کسی سے کرلے ایسا ہی یہ بھی پسند نہیں کیا کہ عورت خود بخود مرد کی طرح اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے بلکہ جدا ہونے کی حالت میں نکاح سے بھی زیادہ احتیاط کی ہے کہ حاکم وقت کا ذریعہ بھی فرض قرار دیا ہے تا عورت اپنے نقصان عقل کی وجہ سے اپنے تئیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔ مگر وید میں یہ منصفانہ طریق کہاں ہے؟ میں اس معترض کی حالت سے نہایت تعجب میں ہوں کہ کس قدر یہ شخص سچائی کادشمن ہے جس سے بمجبوری ہمیں کچھ وید کا حال بیان کرنا پڑتا ہے اگر یہ شخص ایسا بیہودہ اور لغو اعتراض نہ کرتا تو ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ہم وید کا ذکر کرتے ؟ ان لوگوں کی عجیب حالت ہے کہ اپنے وید کی خرابیوں پر کچھ بھی اطلاع نہیں رکھتے اور چاند پرتھوک رہے ہیں۔ افسوس !!!

    پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآنی تعلیم سورج اورچاند کی ماہیت سے بے علم ہے۔ اس بات کا جواب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ اس بارے میں قرآنی تعلیم کو وید کی تعلیم کے ساتھ مقابلہ کرکے دیکھنا چاہئے۔ قرآن شریف نے سورج اورچاند کو خدا کی مخلوق ٹھہرایا ہے مگر وید ان دونوں کو خدا قرار دیتا ہے اور اُن کی پرستش کاحکم کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ گویا وہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور قادر ہیں اور ہرایک جو اُن کی پوجا کرے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 290

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 290

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/290/mode/1up


    اُن کو مرادیں عطا کرتے ہیں جس کو اس بارے میں شک ہو وہ رگوید کی شُرتیاں غور سے پڑھے افسوس ! جن لوگوں کا وید بجائے خدا تعالیٰ کے سورج چاند کو خدا قرار دیتا ہے اُن کو ایسی باتوں سے کچھ ؔ حیا کرنی چاہئے تھی کہ وہ ایسی کتاب پر حملہ کریں جو سورج اور چاند کو خدا نہیں بناتی بلکہ خدا کی پیدائش قرار دیتی ہے۔ قرآن شریف میں ایک شاہزادی بِلْقِیس نام کا ایک عجیب قصہ لکھا ہے جو سورج کی پوجا کرتی تھی شاید وید کی پیرو تھی۔ حضرت سلیمان نے اُس کو بلایا اور اُس کے آنے سے پہلے ایسامحل طیّار کیا جس کا فرش شیشہ کا تھا اور شیشہ کے نیچے پانی بہ رہاتھا جب بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس جانے کا قصد کیا تو اُس نے اُس شیشہ کو پانی سمجھا اور اپنا پاجامہ پنڈلی سے اُوپر اٹھا لیا۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ دھوکا مت کھا یہ پانی نہیں ہے بلکہ یہ شیشہ ہے پانی اس کے نیچے ہے۔ تب وہ عقلمند عورت سمجھ گئی کہ اس پیرایہ میں میرے مذہب کی غلطی انہوں نے ظاہر کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ سورج اور چاند اوردوسرے روشن اجرام شیشہ کی مانند ہیں اور ایک پوشیدہ طاقت ہے جو ان کے پردہ کے نیچے کام کر رہی ہے اور وہی خدا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اس جگہ فرمایا 3 ۱؂ * سودُنیا کو خدا نے شیش محل سے مثال دی ہے جاہل ان شیشوں کی پرستش کرتے ہیں اور دانا اس پوشیدہ طاقت کے پرستار ہیں مگر وید نے اس شیش محل کی طرف کچھ اشارہ نہیں کیا اور ان ظاہری شیشوں کو پرمیشور سمجھ لیا اور پوشیدہ طاقت سے بے خبر رہا۔

    اور پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 33 3۲؂ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جب سورج کی پیرو ی کرے یعنی چاند بغیر پیروی کے کچھ بھی چیز نہیں اور اس کا نور سورج کے نور سے مستفاض ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان گو کیسا ہی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے مگر جب تک وہ کامل طور پر خدا کی اطاعت نہ کرے اُس کو کوئی نور نہیں ملتا۔ مگر افسوس !


    * یعنی یہ ایک محل ہے شیشوں سے بنایا گیا ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 291

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 291

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/291/mode/1up


    کہ وید کو یہ بھی خبر نہیں کہ چاند اپنی روشنی سورج سے لیتا ہے اور اِسی وجہ سے اُس نے برابر طور پر دونوں سورج اور چاند کو معبود ٹھہرایا ہے۔

    پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ معترض تو تعصب کی دیوانگی کی وجہ سے سورج چاند تک پہنچ گیا ہے جو آسمانی اجرام ہیں مگر اس کے وید نے توزمین کی چیزوں میں بھی غلطی کھائی ہے اوروہ رُوح جس سے جاندار انسان زندہ ہوتے ہیں اُس کی کیفیت صحیح طورپر بیان نہیں کرسکا پس اس معترض پر تو یہ شعر صادق آتا ہے ؂

    تو کار ز میں را نکو ساختی ؟

    کہ باآسمان نیز پرداختی

    کیا یہ وید کی فلاسفی درست ہے کہ رُوحیں مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے انادی اور غیر مخلوق ہیں

    اور وہی باربار دُنیا میں آتی ہیں اور کیا یہ بات عقل سلیم کے نزدیک سچ ٹھہر سکتی ہے کہ رُوح انسان کے مرنے کے وقت اکاش میں چلی جاتی ہے اور پھر رات کے وقت کسی گھاس پات پر گرتی ہے اور وہ گھاس پات کوئی مرد کھاتا ہے تو نطفہ کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اس سے لازم آتا ہے کہ رُوح دو ٹکڑے ہوکرگرتی ہو ایک ٹکڑا ایسی گھاس پر گرتا ہو جس کو مرد کھاتا ہو اور دوسرا ٹکڑا ایسی گھاس پات پر پڑتا ہو جس کو عورت کھاتی ہو۔ کیونکہ پیدا ہونے والے بچہ میں رُوحانی اخلاق صرف مرد کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ عورت کی طرف سے بھی ہوتے ہیں۔ ماسوا اِس کے وہ گھاس پات کچا تو نہیں کھایا جاتا بلکہ بخوبی آگ پر پکایاجاتا ہے اِس صورت میں ظاہرہے کہ جوکچھ شبنم کی طرح گھاس پات پر پڑا تھا وہ آگ سے جل جاتا ہوگا اور اگر کیڑا تھا تو وہ مر جاتا ہوگا۔

    اور پھر ماسوا اس کے جو گوشت کھانے والی قومیں ہیں جو صرف مچھلی یا مثلاً بکرا یا بھیڈ کا گوشت کھاتے ہیں کیا وہ رُوح جو شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے وہ بکرے یا بھیڈ کی کھال پر پڑتی ہے۔ پس جس وید کی یہ فلاسفی ہے جو قدم قدم پر ٹھوکرکھاتاہے اُس کے ساتھ فخر کرنا ایک بھارے نادان کا کام ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 292

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 292

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/292/mode/1up


    افسوس ! یہ لوگ نہیں سوچتے کہ اگر گھاس پات پر رُوح شبنم کی طرح پڑتی ہے تو اگر فرض کرلیں کہ وہ رُوح اس گھاس پات میں ایک کیڑے کی طرح پیدا ہوجاتی ہے لیکن پکانے کے بعد وہ کیڑا مر جاتا ہے اور پھر اگر وہ ساگ دو چار دن رکھا جائے اور سڑ جائے اورؔ اس میں کیڑے پڑ جائیں تو وہ کیڑے کس شبنم سے آتے ہیں اور کیا اُس گندے ساگ کے کھانے سے جس میں ہزارہا کیڑے ہیں اتنے ہی بچے پیدا ہوجائیں گے۔ افسوس !!! دنیا میں خدا ایک دانہ سے صدہا دانے پیدا کر دیتا ہے پھر بھی وید کہتا ہے کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوتی اے نادان ! اگر یہ نیستی سے ہستی نہیں تو تم بھی ایسا کرکے دکھلاؤ۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ عورتیں کھیتوں کی مانند صرف شہوت رانی کا ذریعہ ہیں اب دیکھنا چاہئے کہ یہ ناپاک طبع ہندو افترا میں کہاں تک بڑھتا جاتا ہے اور کیسے اپنی طرف سے الفاظ تراش کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتاہے ایسے مفتری کے مقابل پر بجز اس کے ہم کیاکہہ سکتے ہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ قرآن شریف میں صرف یہ آیت ہے۔ 3 ۱؂ یعنی تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا ہونے کے لئے ایک کھیتی ہیں۔ پس تم اپنی کھیتی کی طرف جس طور سے چاہو آؤ۔ صرف کھیتی ہونے کا لحاظ رکھو یعنی اس طور سے صحبت نہ کرو جو اولاد کی مانع ہو۔ بعض آدمی اسلام کے اوائل زمانہ میں صحبت کے وقت انزال کرنے سے پرہیز کرتے تھے اور باہر انزال کر دیتے تھے۔ اس آیت میں خدا نے اُن کو منع فرمایا اور عورتوں کانام کھیتی رکھا یعنی ایسی زمین جس میں ہر قسم کا اناج اُگتا ہے پس اس آیت میں ظاہر فرمایا کہ چونکہ عورت درحقیقت کھیتی کی مانند ہے جس سے اناج کی طر ح اولاد پیدا ہوتی ہے سو یہ جائز نہیں کہ اُس کھیتی کو اولاد پیدا ہونے سے روکا جاوے۔ ہاں اگرعورت بیمار ہو اور یقین ہوکہ حمل ہونے سے اُس کی موت کا خطرہ ہوگا ایسا ہی صحتِ نیّت سے کوئی اور مانع ہو تو یہ صورتیں مستثنیٰ ہیں ورنہ عند الشرع ہرگز جائز نہیں کہ اولاد ہونے سے روکا جائے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 293

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 293

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/293/mode/1up


    غرض جب کہ خدا تعالیٰ نے عورت کا نام کھیتی رکھا تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اسی واسطے اُس کا نام کھیتی رکھا کہ اولاد پیدا ہونے کی جگہ اُس کو قرار دیا اور نکاح کے اغراض میں سے ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تااس نکاح سے خدا کے بندے پیدا ہوں جو اُس کو یاد کریں۔ دوسری غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مرد اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بدنظری اور بدعملی سے محفوظ رہے۔ تیسری غرض یہ بھی قرار دی ہے کہ تا باہم اُنس ہوکر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔ یہ سب آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں ہم کہاں تک کتاب کو طول دیتے جائیں۔

    پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ خدا نے شیطان کو کیوں بنایا اُس کو سزا کیوں نہ دی ؟ اِس کاجواب یہ ہے کہ یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ ہر ایک انسان کے لئے دو جاذب موجود ہیں یعنی کھینچنے والے۔ ایک جاذبِ خیر ہے جو نیکی کی طرف اُس کو کھینچتا ہے۔ دوسرا جاذبِ شر ہے جو بدی کی طرف کھینچتا ہے جیسا کہ یہ امر مشہودو محسوس ہے کہ بسا اوقات انسان کے دل میں بدی کے خیالات پڑتے ہیں اور اُس وقت وہ ایسا بدی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا اُس کو کوئی بدی کی طرف کھینچ رہا ہے اور پھر بعض اوقات نیکی کے خیالات اس کے دل میں پڑتے ہیں اور اُس وقت وہ ایسا نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا کوئی اُس کو نیکی کی طرف کھینچ رہا ہے اور بسا اوقات ایک شخص بدی کرکے پھر نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نہایت شرمندہ ہوتا ہے کہ میں نے بُراکام کیوں کیا اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی کو گالیاں دیتا او رمارتا ہے اور پھر نادم ہوتا ہے او ردل میں کہتا ہے کہ یہ کام میں نے بہت ہی بیجا کیا اور اُس سے کوئی نیک سلوک کرتا ہے یا معافی چاہتا ہے سو یہ دونوں قسم کی قوتیں ہر ایک انسان میں پائی جاتی ہیں اور شریعت اسلام نے نیکی کی قوت کا نام لمّہء ملک رکھا ہے اور بدی کی قوت کو ۔۔۔ لمّہء شیطان سے موسوم کیا ہے۔ فلسفی لوگ تو صرف اس حد تک ہی قائل ہیں کہ یہ دونوں قوتیں ہر ایک انسان میں ضرور موجود ہیں مگر خدا جو وراء الوراء



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 294

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 294

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/294/mode/1up


    اسرار ظاہر کرتا ہے اور عمیق اور پوشیدہ باتوں کی خبر دیتا ہے اُس نے ان دونوں قوتوں کو مخلوق قرار دیا ہے جونیکی کا القاء کرتاہے اُس کا نام فرشتہ اوررُوح القدس رکھا ہے اور جو بدی کا القاء کرتاہے اُس کا نام شیطان اور ابلیس قرار دیا ہے مگر قدیم عقلمندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے* کہؔ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور لغو نہیں ہے۔ بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں۔ نیکی کاالقاء اور بدی کا القاء۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں القاء انسان کی پیدائش کا جزو نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ باہم متضاد ہیں اور نیز انسان اُن پر اختیار نہیں رکھتا اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں القاء باہر سے آتے ہیں اور انسان کی تکمیل اُن پر موقوف ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے وجود یعنی فرشتہ اور شیطان کو ہندوؤں کی کتابیں بھی مانتی ہیں اور گبر بھی اس کے قائل ہیں بلکہ جس قدر خدا کی طرف سے دُنیا میں کتابیں آئی ہیں سب میں ان دونوں وجودوں کا اقرار ہے۔ پھر اعتراض کرنا محض جہالت اور تعصب ہے اور جواب میں اس قدر لکھنا بھی ضروری ہے کہ جو شخص بدی اور شرارت سے باز نہیں آتا وہ خود شیطان بن جاتا ہے جیسا کہ ایک جگہ خدا نے فرمایا ہے کہ انسان بھی شیطان بن جایا کرتے ہیں۔ اور یہ کہ خدا اُن کو کیوں سزا نہیں دیتا اس کا جواب یہی ہے کہ شیطانوں کو سزا دینے کے لئے قرآن شریف میں وعدہ کا دن مقرر ہے پس اس وعدہ کے دن کے منتظر رہنا چاہئے کئی شیطان خدا کے ہاتھ سے سزا پا چکے اور کئی پائیں گے۔


    *حاشیہ ۔ یہ دونوں قوتیں جو ہر ایک انسان میں موجود ہیں خواہ تم ان کو یا دو قوتیں کہو اور یا روح القدس اور شیطان نام رکھو مگر بہرحال تم ان دونوں حالتوں کے وجود سے انکار نہیں کرسکتے اور ان کے پیدا کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا انسان اپنے نیک اعمال سے اجر پانے کا مستحق ٹھہر سکے کیونکہ اگر انسان کی فطرت ایسی واقع ہوتی کہ وہ بہرحال نیک کام کرنے کے لئے مجبور ہوتا ا