1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 23 ۔ پیغام صلح ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 4, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 437

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 437

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 438

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 438

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 439

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 439

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمـٰنِ الرَّحِيمِ

    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم


    اے میرے قادر خدا اے میرے پیارے رہنما تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق و صفا۔ اور ہمیں اُن راہوں سے بچا جن کا مدّعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا۔

    امّا بعد اے سامعین ہم سب کیا مسلمان اور کیا ہندو باوجود صدہا اختلافات کے اُس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جو دنیا کا خالق او رمالک ہے اور ایسا ہی ہم سب انسان کے نام میں بھی شراکت رکھتے ہیں۔ یعنی ہم سب انسان کہلاتے ہیں۔ اور ایسا ہی بباعث ایک ہی ملک کے باشندہ ہونے کے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں۔ اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایکؔ دوسرے کے اعضاء بن جائیں۔

    اے ہموطنو!! وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا۔ مثلاً جو جو انسانی طاقتیں اور قوتیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیں۔ وہی تمام قوتیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اور یورپ اور امریکہ کی قوموں کو بھی عطا کی گئی ہیں سب کے لئے خدا کی زمین فرش کا کام دیتی ہے اور سب کے لئے اُس کا سورج اور چاند اور کئی اور ستارے روشن چراغ کا کام دے رہے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 440

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 440

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اور دوسری خدمات بھی بجا لاتے ہیں۔ اس کی پیدا کردہ عناصر یعنی ہَوَا اور پانی اور آگ او ر خاک اور ایسا ہی اُس کی دوسری تمام پیدا کردہ چیزوں اناج اور پھل اور دوا وغیرہ سے تمام قومیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ پس یہ اخلاق ربّانی ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم بھی اپنے بنی نوع انسانوں سے مروّت اور سلوک کے ساتھ پیش آویں اور تنگ دل اور تنگ ظرف نہ بنیں۔

    دوستو !! یقیناًسمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی اور اس کے پاک خلقوں کے برخلاف اپنا چال چلن بنائے گی تو وہ قوم جلد ہلا ک ہو جائے گی۔ اور نہ صرف اپنے ؔ تئیں بلکہ اپنی ذُرّیت کو بھی تباہی میں ڈالے گی جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی ہے تمام ملکوں کے راستباز یہ گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدا کے اخلاق کا پیرو ہونا انسانی بقاء کے لئے ایک آبِ حیات ہے۔ اور انسانوں کی جسمانی اور رُوحانی زندگی اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ خدا کے تمام مقدّس اخلاق کی پیروی کرے جو سلامتی کا چشمہ ہیں

    خدا نے قرآن شریف کو پہلے اسی آیت سے شروع کیا ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے کہ3 ۱؂ یعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیں جو تمام عالموں کا ربّ ہے۔ عالم کے لفظ میں تمام مختلف قومیں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں۔ اور اس آیت سے جو قرآن شریف شروع کیا گیا۔ یہ درحقیقت اُن قوموں کاردّ ہے جو خدا تعالیٰ کی عام ربوبیت اور فیض کو اپنی ہی قوم تک محدود رکھتے ہیں۔ اور دوسری قوموں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہی نہیں۔ اور گویا خدا نے اُن کو پیدا کرکے پھر ردّی کی طرح پھینک دیا ہے۔یا اُن کو بھول گیا ہے۔ اور یا (نعوذ باللہ) وہ اس کے پیدا کردہ ہی نہیں۔ جیسا کہ مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کا اب تک یہی خیال ہے کہ جس قدر خدا کے نبی اور رسول آئے ہیں۔ وہ صرف یہود کے خاندان سے آئے ہیں۔ اور ؔ خدا دوسری قوموں سے کچھ ایساناراض رہا ہے کہ اُن کو گمراہی اور غفلت میں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 441

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 441

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    دیکھ کر پھر بھی اُن کی کچھ پروا نہیں کی۔ جیسا کہ انجیل میں بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں صرف اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آیا ہوں۔ اس جگہ ہم ایک فرض محال کے طور پر کہتے ہیں کہ خدائی کا دعویٰ کرکے پھر ایسا تنگ خیالی کاکلمہ بڑے تعجب کی بات ہے۔ کیا مسیح صرف اسرائیلیوں کاخدا تھا اور دوسری قوموں کاخدا نہ تھا جو ایسا کلمہ اُس کے منہ سے نکلا کہ مجھے دوسری قوموں کی اصلاح او ر ہدایت سے کچھ غرض نہیں۔

    غرض یہودیوں اور عیسائیوں کا یہی مذہب ہے کہ تمام نبی اور رسول انہیں کے خاندان سے آتے رہے ہیں۔ اور انہیں کے خاندان میں خدا کی کتابیں اُترتی رہی ہیں۔ اور پھر بموجب عقیدہ عیسائیوں کے وہ سلسلہ الہام اور وحی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوگیا۔ اورخدا کے الہام پر مُہر لگ گئی۔

    انہیں خیالات کے پابند آریہ صاحبان بھی پائے جاتے ہیں یعنی جیسے یہود اور عیسائی نبوت اور الہام کو اسرائیلی خاندان تک ہی محدود رکھتے ہیں اور دوسری تمام قوموں کو الہام پانے کے فخر سے جواب د ے رہے ہیں۔ یہی عقیدہ نوع انسان کی بدقسمتی سے آریہ صاحبان نےؔ بھی اختیار کر رکھا ہے یعنی وہ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا کی وحی اور الہام کا سلسلہ آریہ ورت کی چار دیواری سے کبھی باہر نہیں گیا۔ ہمیشہ اسی ملک سے چار رشی منتخب کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ وید ہی بار بار نازل ہوتا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی اس الہام کے لئے خاص کی گئی ہے۔

    غرض یہ دونوں قومیں خدا کو ربّ العالمین نہیں سمجھتیں ورنہ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جس حالت میں خدا ربّ العالمین کہلاتا ہے نہ صرف ربّ اسرائیلیاں یا صرف ربّ آریاں تو وہ ایک خاص قوم سے کیوں ایسا دائمی تعلق پیدا کرتا ہے جس میں صریح طور پر طرف داری اور پکش پات پائی جاتی ہے۔ پس ان عقائد کے ردّ کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ3 ۱؂ اور جابجا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 442

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 442

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اُس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خدا کے نبی آتے رہتے ہیں۔ بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا۔ اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے اُن کے مناسب حال اُن کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہےؔ ۔ ایساہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو رُوحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے۔ جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے۔3 ۱؂ یا کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔

    سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہرایک بندہ کا فرض ہے وہ ربّ العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں۔ اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا ربّ ہے اور تمام زمانوں کا ربّ ہے۔ اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی ربّ ہے اور تمام فیضوں کاوہی سرچشمہ ہے۔ اور ہر ایک جسمانی اور رُوحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں۔ اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔

    خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کاموقعہ نہ ملے۔ اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا۔ مگر ہم پرنہ کیا۔یا فلاں قو م کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور ؔ معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہاپس اُس نے عام فیض دکھلاکر ان تمام اعتراضات کو دفع کردیا۔ اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا۔ اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 443

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 443

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    پس جب کہ ہمارے خدا کے یہ اخلاق ہیں۔ تو ہمیں مناسب ہے کہ ہم بھی اُنہیں اخلاق کی پیروی کریں لہٰذا اے ہم وطن بھائیو! یہ مختصر رسالہ جس کانام ہے پیغام صلح بادب تمام آپ صاحبوں کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔ اور بصدق دل دُعا کی جاتی ہے کہ وہ قادر خدا آپ صاحبوں کے دلوں میں خود الہام کرے۔ اور ہماری ہمدردی کاراز آپ کے دلوں پر کھول دے تا آپ اس دوستانہ تحفہ کو کسی خاص مطلب اور نفسانی غرض پر مبنی تصور نہ فرماویں۔ عزیزو !! آخرت کا معاملہ توعام لوگوں پر اکثر مخفی رہتا ہے اور اُنہیں پر عَالم عُقبیٰ کا راز کھلتا ہے جو مرنے سے پہلے مرتے ہیں مگر دنیا کی نیکی اور بدی کو ہر ایک دور اندیش عقل شناخت کرسکتی ہے۔

    یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلائیں جو کسی طرح دُور نہیں ہوسکتیں اوروہ مشکلات جو کسی تدبیر سے حل نہیں ہوسکتیں وہ اتفاق سے حل ہو جاتی ہیں۔ پس ایک عقلمند سے بعیدؔ ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے۔ ہندو اور مسلمان اس ملک میں دو۲ ایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیالِ محال ہے کہ کسی وقت مثلاًہندو جمع ہوکر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہوکر ہندوؤں کو جلاوطن کردیں گے بلکہ اب تو ہندو مسلمانوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہو رہا ہے۔ اگر ایک پر کوئی تباہی آوے تو دوسر ا بھی اس میں شریک ہوجائے گا۔ اور اگر ایک قوم دوسری قوم کو محض اپنے نفسانی تکبر اور مشیخت سے حقیر کرنا چاہے گی تو وہ بھی داغِ حقارت سے نہیں بچے گی۔ اور اگر کوئی اُن میں سے اپنے پڑوسی کی ہمدردی میں قاصر رہے گا تو اس کانقصان وہ آپ بھی اُٹھائے گا جو شخص تم دونوں قوموں میں سے دوسری قوم کی تباہی کی فکرمیں ہے اُس کی اس شخص کی مثال ہے کہ جو ایک شاخ پر بیٹھ کر اُسی کو کاٹتا ہے۔ آپ لوگ بفضلہ تعالیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوگئے۔ اب کینوں کو چھوڑ کر محبت میں ترقی کرنا زیبا ہے اور بے مہری کو چھوڑ کر ہمدردی اختیار کرنا آپ کی عقلمندی کے مناسب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 444

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 444

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/444/mode/1up


    حال ہے۔ دنیا کی مشکلات بھی ایک ریگستان کا سفر ہے کہ جو عین گرمی اور تمازتِ آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے پس اس دشوار گذار راہ کے لئے باہمی اتفاق کے اس سردپانی کی ضرورت ہے جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈی کرؔ دے اور نیز پیاس کے وقت مرنے سے پچاوے۔

    ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کے لئے بلاتا ہے جب کہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔ دنیا پر طرح طرح کے ابتلا نازل ہو رہے ہیں۔ زلزلے آرہے ہیں۔ قحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا۔ اور جو کچھ خدا نے مجھے خبردی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی بدعملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے توبہ نہیں کرے گی تو دنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی۔ اور ایک بلا ابھی بس نہیں کرے گی کہ دوسری بلا ظاہر ہو جائے گی۔ آخر انسان نہایت تنگ ہو جائیں گے کہ یہ کیاہونے والا ہے۔ اور بہتیری مصیبتوں کے بیچ میں آکر دیوانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ سو اے ہموطن بھائیو! قبل اس کے کہ وہ دن آویں ہوشیار ہوجاؤ۔ اور چاہیئے کہ ہندومسلمان باہم صلح کرلیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہے جو وہ صلح کی مانع ہو اس زیادتی کو وہ قوم چھوڑ دے۔ ورنہ باہم عداوت کا تمام گناہ اسی قوم کی گردن پر ہوگا۔

    اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر وقوع میں آسکتا ہے کہ صلح ہو جائے۔ حالانکہ باہم مذہبی اختلاف صلح کے لئے ایک ایسا امر مانع ہے جو دن بدن دلوں میں پھوٹ ڈالتا جاتا ہے۔

    میںؔ اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ درحقیقت مذہبی اختلاف صرف اُس اختلاف کا نام ہے جس کی دونوں طرف عقل اور انصاف اور اُمور مشہودہ پر بنا ہو۔ ورنہ انسان کو اسی بات کے لئے تو عقل دی گئی ہے کہ وہ ایسا پہلو اختیار کرے جوعقل اور انصاف سے بعید نہ ہو اور امور محسوسہ مشہودہ کے مخالف نہ ہو۔ اور چھوٹے چھوٹے اختلاف صلح کے مانع نہیں ہوسکتے۔ بلکہ وہی اختلاف صلح کامانع ہوگا جس میں کسی کے مقبول پیغمبر اور مقبول الہامی کتاب پر توہین اور تکذیب کے ساتھ حملہ کیا جائے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 445

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 445

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/445/mode/1up


    ماسوا اس کے صلح پسندوں کے لئے یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔ مثلاً اگرچہ نوخیز مذہب آریہ سماج کا یہ اصول رکھتا ہے کہ ویدوں کے بعد الہام الٰہی پر مُہر لگ گئی ہے مگر جو ہندو مذہب میں وقتاً فوقتاً اوتار پیدا ہوتے رہے ہیں جن کے تابع کروڑہا لوگ اسی ملک میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اُس مہر کو اپنے دعوئے الہام سے توڑ دیا ہے جیسا کہ ایک بزرگ اوتار جو اس ملک اور نیز بنگالہ میں بڑی بزرگی اور عظمت کے ساتھ مانے جاتے ہیں جن کا نام سری کرشن ہے۔ وہ اپنے ملہم ہونے کا دؔ عویٰ کرتے ہیں اور ان کے پیرو نہ صرف اُن کو ملہم بلکہ پرمیشر کرکے مانتے ہیں۔ مگر اس میں شک نہیں کہ سری کرشن اپنے وقت کا نبی اور اوتار تھااور خدا اس سے ہمکلام ہوتا تھا۔

    ایسا ہی اس آخری زمانہ میں ہندو صاحبوں کی قوم میں سے بابا نانک صاحب ہیں جن کی بزرگی کی شہرت اس تمام ملک میں زبان زدعام ہے۔ اور جن کی پیروی کرنے والی اس ملک میں وہ قوم ہے جو سکھ کہلاتے ہیں جو بیس لاکھ سے کم نہیں ہیں۔ باوا صاحب اپنی جنم ساکھیوں اور گرنتھ میں کھلے کھلے طور پر الہام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک جگہ وہ اپنی ایک جنم ساکھی میں

    لکھتے ہیں کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ دین اسلام سچا ہے۔ اِسی بنا پر انہوں نے حج بھی کیا۔ اور تمام اسلامی عقائد کی پابندی اختیار کی اور بلاشبہ یہ بات ثابت ہے کہ اُن سے کرامات اور نشان بھی صادر ہوئے ہیں اور اس بات میں کچھ شک نہیں ہوسکتا کہ باوا نانک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا۔ اور ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عزّوجلّ اپنی محبت کا شربت پلاتا ہے۔ وہ ہندوؤں میں صرف اس بات کی گواہی دینے کے لئے پیدا ہوا تھا کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے۔ جو شخص اس کے وہ تبرکات دیکھےؔ جو ڈیرہ نانک میں موجود ہیں جن میں بڑے زور سے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 446

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 446

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/446/mode/1up


    اُس نے کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دی ہے۔ اور پھر وہ تبرکات دیکھے جو بمقام گروہر سہائے ضلع فیروزپور میں موجود ہیں۔ جن میں ایک قرآن شریف بھی ہے تو کس کو اس بات میں شک ہوسکتا ہے کہ باوا نانک صاحب نے اپنے پاک دل اور پاک فطرت اور اپنے پاک مجاہدہ سے اس راز کو معلوم کرلیا تھا جو ظاہری پنڈتوں پر پوشیدہ رہا۔ اور اُنہوں نے الہام کا دعویٰ کرکے اور خدا کی طرف سے نشان اور کرامات دکھلاکر اس عقیدہ کا خوب کھنڈن اور رَدّ کردیا جو کہا جاتا ہے کہ وید کے بعد کوئی الہام نہیں اور نہ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔بلاشبہ باوا نانک صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے خدا کی طرف سے ایک رحمت تھی۔ اوریوں سمجھو کہ وہ ہندو مذہب کا آخری اوتار تھا جس نے اس نفرت کو دور کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی۔ لیکن اس ملک کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہندو مذہب نے باوا نانک صاحب کی تعلیم سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا۔ بلکہ پنڈتوں نے اُن کو دُکھ دیا کہ کیوں وہ اسلام کی تعریف جابجا کرتا ہے۔وہ ہندو مذہب اور اسلام میں صلح کرانے آیا تھا۔ مگر افسوس کہ اس کی تعلیم پر کسی نے توجہ نہیں کی۔ اگر ؔ اُس کے وجود اور اُس کی پاک تعلیموں سے کچھ فائدہ اٹھایا جاتا تو آج ہندو اور مسلمان سب ایک ہوتے۔ ہائے افسوس ہمیں اس تصور سے رونا آتا ہے کہ ایسا نیک آدمی دنیا میں آیا اور گذر بھی گیا۔ مگر نادان لوگوں نے اُس کے نور سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی۔

    بہرحال وہ اس بات کو ثابت کرگیا کہ خدا کی وحی اور اس کا الہام کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ اور خدا کے نشان اس کے برگزیدوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور اِس بات کی گواہی دے گیا کہ اسلام کی دشمنی نور کی دُشمنی ہے۔

    ایسا ہی میں بھی اس بات میں صاحب تجربہ ہوں کہ خدا کی وحی اور خدا کا الہام ہرگز اس زمانہ سے منقطع نہیں کیا گیابلکہ جیسا خدا پہلے بولتا تھااب بھی بولتا ہے۔ اور جیسا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 447

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 447

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/447/mode/1up


    کہ پہلے سنتا تھااب بھی سنتا ہے۔ یہ نہیں کہ اب وہ صفات قدیمہ اُس کی معطل ہوگئی ہیں۔ میں تخمیناً تیس۳۰ برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں۔ اور میرے ہاتھ پر اُس نے اپنے صدہا نشان دکھائے ہیں جو ہزارہا گواہوں کے مشاہدہ میں آچکے ہیں۔ اور کتابوں اور اخباروں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اور کوئی ایسی قوم نہیں جو کسی نہ کسی نشان کی گواہ نہ ہو۔

    ابؔ باوجود اس قدر متواتر شہادتوں کے یہ تعلیم آریہ سماج کی جو خوانخواہ ویدوں کی طرف منسوب کی جاتی ہے کیونکر قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تمام سلسلہ خدا کے کلام اور الہام کا ویدوں پر ختم ہوچکا ہے اور پھر بعد اس کے صرف قصوں پر مدار ہے اور اسی اپنے عقیدہ کو ہاتھ میں لیکر وہ لوگ کہتے ہیں کہ ویدوں کے سوا جس قدر دنیا میں کلام الٰہی کے نام پر کتابیں موجود ہیں وہ سب نعوذ باللہ انسانوں کے افترا ہیں حالانکہ وہ کتابیں وید سے بہت زیادہ اپنی سچائی کا

    ثبوت پیش کرتی ہیں۔ اور خدا کی نصرت اور مدد کاہاتھ اُن کے ساتھ ہے۔ اور خدا کے فوق العادت نشان اُن کی سچائی پر گواہی دیتے ہیں۔ پھرکیا وجہ کہ وید تو خدا کاکلام مگر وہ کتابیں خدا کا کلام نہیں ؟ اور چونکہ خدا کی ذات عمیق در عمیق اور نہاں در نہاں ہے۔ اس لئے عقل بھی اس بات کو چاہتی ہے کہ وہ اپنے وجود کے ثابت کرنے کے لئے صرف ایک کتاب پر کفایت نہ کرے بلکہ مختلف ملکوں میں سے نبی منتخب کرکے اپنا کلام اور الہام اُن کو عطا کرے تا انسان ضعیف البنیان جو جلد تر شبہات میں گرفتار ہوسکتا ہے دولتِ قبول سے محروم نہ رہے۔

    اور اس بات کو عقل سلیم ہرگز قبول کرنے کے لئے طیار نہیں ہے کہ وہ خدا جو تمام دُنیا کا خدا ہے جو اپنے آفتاب سے مشرق اور مغرب کو ؔ روشن کرتا ہے۔ اور اپنے مینہ سے ہر ایک ملک کو ہرایک ضرورت کے وقت سیراب فرماتا ہے۔ وہ نعوذ باللہ رُوحانی تربیت میں ایسا تنگ دل اور بخیل ہے کہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 448

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 448

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/448/mode/1up


    اورایک ہی زبان اُس کو پسند آگئی ہے اور میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کس قسم کی منطق اور کس نوع کا فلسفہ ہے کہ پرمیشر ہر ایک آدمی کی دُعا اور پرارتھنا کو اس کی زبان میں سمجھ تو سکتا ہے اور نفرت نہیں کرتا مگر اس بات سے سخت نفرت کرتا ہے کہ بجز ویدک سنسکرت کے کسی اور زبان میں دلوں پر الہام کرے۔ یہ فلاسفی یا وید وِدّیا اس سربستہ معمّا کی طرح ہے جو اب تک کوئی انسان اس کو حل نہیں کرسکا۔

    میں وید کو اس بات سے مُنزّہ سمجھتا ہوں کہ اس نے کبھی اپنے کسی صفحہ پر ایسی تعلیم شائع کی ہو کہ جو نہ صرف خلاف عقل ہو بلکہ پرمیشر کی پاک ذات پر بخل اور پکش پات کا داغ لگاتی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی الہامی کتاب پر ایک زمانہ دراز گذر جاتا ہے تو اُس کے پیرو کچھ تو بباعث نادانی کے اور کچھ بباعث اغراض نفسانی کے سہواً یا عمداً اس کتاب پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا دیتے ہیں۔ اور چونکہ حاشیہ چڑہانے والے متفرق خیالات کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ایک مذہب سے صدہا مذہب پیدا ہو جاتے ہیں۔

    اورؔ یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح آریہ صاحبان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ آریہ خاندانوں اور آریہ ورت تک ہی الہام الٰہی کا سلسلہ محدود رہا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی الہام الٰہی کے لئے خاص رہی ہے اور وہ پرمیشر کی زبان ہے۔ یہی یہود کا خیال اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی نسبت ہے۔ اُن کے نزدیک بھی خدا کی اصلی زبان عبرانی ہے اور ہمیشہ خدا کے الہام کا سلسلہ بنی اسرائیل اور انہیں کے ملک تک محدود رہا ہے۔ اور جو شخص اُن کے خاندان اور اُن کی زبان سے الگ ہونے کی حالت میں نبی ہونے کا دعویٰ کرے اُس کو وہ نعوذ باللہ جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

    پس کیا یہ توارد تعجب انگیز نہیں ہے کہ ان دونوں قوموں نے اپنے اپنے بیان میں ایک ہی خیال پر قدم مارا ہے۔ اسی طرح دنیا میں اور بھی کئی فرقے ہیں جو اسی خیال



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 449

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 449

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/449/mode/1up


    کے پابند ہیں جیسے پارسی۔ جو اپنے مذہب کی بنیاد وید سے کئی ارب سال پہلے بتلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال (کہ ہمیشہ کے لئے اپنے ملک اور اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی زبان کو ہی خدا کی وحی اور الہام سے مخصوص کیا گیا ہے) محض تعصب اور کمی معلومات سے پیدا ہوا ہے۔چونکہ پہلے زمانے دنیا پر ایسے گذرے ہیں کہ ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے ؔ اور ایک ملک دوسرے ممالک کے وجود سے بکلی بے خبر تھی پس ایسی غلطی سے ہر ایک قوم کو جو خدا کی طرف سے کوئی کتاب ملی یا کوئی خدا کا رسول اور نبی اس قوم میں آیا تو اس قوم نے یہی خیال کرلیا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہدایت ہونی چاہیئے تھی وہ یہی ہے اور خدا کی کتاب صرف انہیں کے خاندان اور انہی کے ملک کو دی گئی ہے اور باقی تمام دنیااس سے بے نصیب پڑی ہے۔

    اس خیال نے دنیا کو بہت نقصان پہنچایا۔ اور دراصل باہمی کینوں اور بغضوں کے بیج جو قوموں میں بڑھتے گئے یہی خیال تھا۔ ایک مدت تک تو ایک قوم دوسری قوم سے پردہ میں رہی اور ایک ملک دوسرے ملک سے مخفی اور مستور رہا۔ یہاں تک کہ آریہ ورت کے فاضلوں کا یہ خیال تھا کہ کوہ ہمالہ کے پرے کوئی آبادی نہیں۔

    پھر جب کہ خدا نے درمیان سے پردہ اٹھا لیا اور زمین کی آبادی کے متعلق کسی قدر لوگوں کے معلومات وسیع ہوگئے تووہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ وہ تمام غلط خصوصیتیں جو الہامی کتابوں اور اپنے رشیوں اور رسولوں کی نسبت لوگوں نے اپنے ہی دلوں سے تراش کر اپنے عقائد میں داخل کرلی تھیں وہ ان کے دلوں میں خوب راسخ اور پتھر کے نقش کی طرح ہوگئیں۔اور ہر ایک قوم یہی خیال کرتی تھی کہ خدا کا صدر مقام ہمیشہ انہیں کے مُلک میں ؔ رہا ہے۔ اور چونکہ اُن دنوں میں اکثر قوموں پر وحشیانہ خصلتیں غالب تھیں۔ اور ایک پرانی رسم کے مخالف کو تلوار کے ساتھ جواب دیا جاتا تھا۔ اس لئے کس کی مجال تھی کہ ہر ایک قوم کی خود ستائی کے جوشوں کو ٹھنڈا کرکے اُن کے درمیان صلح کراتا۔ گوتم بدھ نے اس صلح کا ارادہ کیا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 450

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 450

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/450/mode/1up


    تھا۔ اور وہ اس بات کا قائل نہ تھا۔ کہ جو کچھ ہے وید ہے آگے کچھ نہیں۔ اور نہ وہ قوم اور ملک اور خاندان کی خصوصیت کااقراری تھا یعنی یہ مذہب اس کانہیں تھا کہ گویا وید پر ہی سب کچھ حصر ہے اور یہی زبان اور یہی ملک اور یہی برہمن پرمیشر کے الہام کے لئے ہمیشہ کے لئے اس کی عدالت میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اُس نے اس اختلاف سے بڑا دُکھ اٹھایا اور اس کا نام ایک دہریہ اور ناستک مت والا رکھا گیا۔ جیسا کہ آج کل یورپ اور امریکہ کے تمام محقق جو حضرت عیسیٰ کی خدا ئی کو منظور نہیں کرتے۔ اور اُن کے دل اس بات کو نہیں مانتے کہ خدا کو بھی سُولی دے سکتے ہیں۔ وہ تمام لوگ حضرات پادری صاحبوں کے خیال میں دہریہ ہیں۔

    سو اسی قسم کا بدھ بھی دہریہ ٹھہرایا گیا۔ اور جیسا کہ شریر مخالفوں کا دستور ہے عام لوگوں کو نفرت دلانے کی بہت سی تہمتیں اس پر لگائی گئیں۔ آخر انجام یہ ہوا کہ بدھ آریہ ورت سے جوؔ اس کی زادوبوم اور وطن تھا نکالا گیا۔ اور اب تک ہندو لوگ بدھ مذہب اور اس کی کامیابی کو بڑی نفرت او رحقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر حسب قول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں دوسرے ملک کی طرف بدھ نے ہجرت کرکے بڑی کامیابی حاصل کی۔ جیسا کہ بیان کیاجاتا ہے کہ تیسرا حصہ دنیا کا بدھ مذہب سے پُر ہے اور کثرت پیروؤں کے لحاظ سے اس کااصل مرکز چین اور جاپان ہے۔ اگرچہ وہ جنوبی رُوس اور امریکہ تک پھیل گیا ہے۔

    اب پھر ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ جن زمانوں میں ایک مذہب دوسرے مذہب سے بے خبر تھا۔ اس بے خبری کے عالم میں یہ ایک لازمی امر تھا کہ ہر یک قوم اپنے مذہب اور اپنی کتاب پر ہی حصر رکھتی مگر اس حصر کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ جب ایک ملک دوسرے ملک کے وجود سے اطلاع پاگیا۔ اور ممالک مختلفہ کے لوگ ایک دوسرے کے مذہب سے مطلع ہوگئے۔ تب اُن کے لئے یہ مشکل پڑی کہ ایک ملک کامذہب دُوسرے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 451

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 451

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/451/mode/1up


    ملک کے مذہب کی تصدیق کرسکے۔ کیونکہ ہر ایک مذہب کے لئے جو شاعر انہ طور پر مبالغہ کرکے خصوصیتیں اور فضیلتیں مقررہوچکی تھیں اُن کا دُورؔ کرنا کچھ سہل کام نہ تھا۔ اس لئے ہریک اہل مذہب نے دوسرے مذہب کی تکذیب پر کمربستہ کی۔ ژند واستا کے مذہب نے ہمچومن دیگرے نیست کا جھنڈا کھڑا کردیا۔ اور سلسلہ پیغمبری کو اپنے خاندان تک ہی محدود رکھا اور اپنے مذہب کی اتنی لمبی تاریخ بتلائی کہ وید کی تاریخ بتلانے والے اُن کے سامنے شرمندہ ہیں۔

    ادھر عبرانیوں کے مذہب نے حد ہی کردی کہ ہمیشہ کے لئے خدا کا تخت گاہ ملک شام ہی قرار دیا گیا اور ہمیشہ انہیں کے خاندان کے برگزیدہ لوگ اس لائق قرار پائے کہ وہ ملک کی اصلاح کے لئے بھیجے جائیں۔ مگر حکمًا وہ اصلاح بنی اسرائیل تک ہی محدود رہی۔ اور انہیں کے خاندان پر الہام اور خدا کی وحی کی مہر لگ گئی اور جودوسرا اٹھے وہ کاذب کہلاوے۔

    ایسا ہی آریہ ورت میں بھی بعینہٖ یہی خیالات شائع ہوگئے جو اسرائیلیوں میں شائع ہوئے اور اُن کے عقیدہ کی رُو سے پرمیشر صرف آریہ ورت کا ہی راجہ ہے اور راجہ بھی ایسا جس کو دوسرے ملکوں کی خبر ہی نہیں اور بغیر کسی دلیل کے یہ مانا جاتا ہے کہ جب سے پرمیشر ہے اس کو آریہ ورت کی ہی آب و ہوا پسند آگئی ہے۔ وہ ہرگز چاہتا نہیں کہ دوسرے ملکوں میں بھی کبھی دورہ کرے اور کبھی ان بیچاروں کی خبر بھی لے جن کو وہ پیدا کرکے بھول گیا۔

    دوستوؔ ! برائے خدا یہ سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ عقائد ایسے ہیں جن کو انسانی فطرت قبول کرسکتی ہے یا کوئی کانشنس ان کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کی عقلمندی ہے کہ ایک طرف خدا کو تمام دنیا کا خدا ماننا اور پھر اسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ تمام دنیا کی ربوبیت کرنے سے دستکش ہے۔ اور صرف ایک خاص قوم اور ایک خاص ملک پر اس کی نظر رحم ہے۔ عقلمندو !! خود انصاف کرو کہ کیا خدا کے جسمانی قانون قدرت میں اس کی کوئی شہادت ملتی ہے۔ پھر اس کا روحانی قانون کیوں ایسی طرفداری پر مبنی ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 452

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 452

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/452/mode/1up


    اور اگر عقل سے کام لیا جائے تو ہر ایک کام کی بھلائی یا بُرائی اس کے نتیجہ سے بھی معلوم ہوسکتی ہے۔ پس مجھے اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ خدا کے ان بزرگ نبیوں کی ہتک اور ان کو گالیاں دینا جن کی غلامی اور اطاعت کے حلقہ میں ہر طبقہ کے کروڑہا انسان داخل ہیں اس کا نتیجہ کیسا ہے۔ اور انجام کار اس کا پھل کیا ہے کیونکہ کوئی ایسی قوم نہیں کہ جو ایسے نتیجہ کو کچھ نہ کچھ دیکھ نہ چکی ہو۔

    اے عزیزو !! قدیم تجربہ اور بار بار کی آزمائش نے اس امر کو ثابت کردیا ہے کہ مختلف قوموں کے نبیوں اور رسولوں کو توہین سے یاد کرنا اور اُن کو گالیاں دینا ایکؔ ایسی زہر ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے بلکہ رُوح کو بھی ہلاک کرکے دین اور دُنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے۔ وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کرسکتا جس کے باشندے ایک دوسرے کے رہبرِ دین کی عیب شماری اور ازالہ حیثیت عرفی میں مشغول ہیں۔ اور ان قوموں میں ہرگز سچا اتفاق نہیں ہوسکتا جن میں سے ایک قوم یا دونوں ایک دوسرے کے نبی یا رشی اور اوتار کو بدی یا بد زبانی کے ساتھ یاد کرتے رہتے ہیں۔ اپنے نبی یا پیشوا کی ہتک سن کر کس کو جوش نہیں آتا۔ خاص کر مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ وہ اگرچہ اپنے نبی کو خدایا خدا کا بیٹا تو نہیں بناتی مگر آنجناب ؐ کو ان تمام برگزیدہ انسانوں سے بزرگ تر جانتے ہیں کہ جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے پس ایک سچے مسلمان سے صلح کرنا کسی حالت میں بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ اُن کے پاک نبی کی نسبت جب گفتگو ہو تو بجز تعظیم اور پاک الفاظ کے یاد نہ کیا جائے۔

    اور ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہرگز بد زبانی نہیں کرتے۔ بلکہ ہم یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس قدر دنیا میں مختلف قوموں کے لئے نبی آئے ہیں اور کروڑہا لوگو ں نے ان کو مان لیاہے اور دنیا کے کسی ایک حصہ میں اُن کی محبت اور عظمت جاگزیں ہوگئی ہے اور ایک زمانہ دراز اس محبت اور اعتقاد پر گذر گیا ہے تو بس یہی ایک دلیل اُن کی سچائی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 453

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 453

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/453/mode/1up


    کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ قبولیت کروڑہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی خدا اپنے ؔ مقبول بندوں کی عزت دوسروں کو ہرگز نہیں دیتا اور اگر کوئی کاذب اُن کی کرسی پر بیٹھنا چاہے تو جلد تباہ ہوتا اور ہلاک کیا جاتا ہے۔

    اسی بنا پر ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اُس کے رشیوں کو بزرگ اور مقدس سمجھتے ہیں اگرچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وید کی تعلیم پورے طور پر کسی فرقے کو خدا پرست نہیں بنا سکی اور نہ بنا سکتی تھی۔ اور جو لوگ اس ملک میں بُت پرست یا آتش پرست یا آفتاب پرست یا گنگا کی پوجا کرنے والے یا ہزارہا دیوتاؤں کے پوجاری یا جَین مَت یا شَاکَت مَت والے پائے جاتے ہیں۔ وہ تمام لوگ اپنے مذاہب کو وید ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور وید ایک ایسی مجمل کتاب ہے کہ یہ تمام فرقے اُسی میں سے اپنے اپنے مطلب نکالتے ہیں تاہم خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسان کاافترا نہیں ہے۔ انسان کے افترا میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑہا لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے اور پھر ایک دائمی سلسلہ قائم کردے اور اگرچہ ہم نے وید میں پتھر کی پرستش کا ذکر تو کہیں نہ پڑھا لیکن بلاشبہ اگنی وایو اور جَل اور چاند اور سورج

    وغیرہ کی پرستش سے وید بھرا ہوا ہے اور کسی شُرتی میں ان چیزوں کی پرستش کے لئے ممانعت نہیں۔ اب اس کاکون فیصلہ کرے کہ دوسرے تمام قدیم فرقے ہندوؤں کے جھوٹے ہیں اور صرف نیا فرقہ آریوں کا سچااور جو لوگ وید کے حوالہ سے ؔ ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اُن کے ہاتھ میں یہ دلیل پختہ ہے کہ ان چیزوں کی پرستش کا وید میں صریح ذکر ہے اور ممانعت کہیں بھی نہیں اور یہ کہنا کہ یہ سب پرمیشر کے نام ہیں۔ ہنوز یہ ایک دعویٰ ہے کہ جو ابھی صفائی سے طے نہیں ہوااو راگر طے ہو جاتا تو کچھ وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ بڑے بڑے پنڈت بنارس اور دوسرے شہروں کے آریوں کے عقیدوں کو قبول نہ کرتے باوجود تیس پینتیس برس کی کوششوں کے بہت ہی کم ہندوؤں نے آریہ مذہب اختیار کیا ہے اور بمقابلہ سناتن دھرم اور دُوسرے ہندو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 454

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 454

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/454/mode/1up


    فرقوں کے آریہ مذہب والے اس قدر تھوڑے ہیں کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ اور نہ اُن کا دوسرے ہندو فرقوں پرکوئی وسیع اثر ہے۔ ایسا ہی جو نیوگ کی تعلیم وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے یہ بھی وہ امر ہے کہ جو انسانی غیرت اور شرافت اُس کو قبول نہیں کرتی۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے ہم قبول نہیں کرسکتے کہ درحقیقت یہ وید ہی کی تعلیم ہے بلکہ ہماری نیک نیتی بڑے زور سے ہمیں اس بات کی طرف مائل کرتی ہے کہ ایسی تعلیمیں کسی نفسانی غرض سے بعد میں وید کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ اورچونکہ وید پر ہزارہا برس گذر گئے ہیں اس لئے ممکن ہے کہ مختلف زمانوں میں بعض وید کے بھاشکاروں نے کئی قسم کی کمی بیشی کی ہوگی۔پس ہمارے لئے وید کی سچائی کی یہ ہی ایک دلیل کافی ہے کہ آریہ ورت کے کئی کروڑ آدمی ہزارہا برسوں سے اِس کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور ممکن نہیں کہ یہ عزت کسی ایسے کلام کو دی جائے جو کسی مفتری کا کلام ہے۔

    اور پھر جب کہ ہم باوجود ان تمام مشکلات کے خدا سے ڈرکر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور جو کچھ اس کی تعلیم میں غلطیاں ہیں وہ وید کے بھاشکاروں کی غلطیاں سمجھتے ہیں تو پھر قرآن شریف جو اول سے آخر تک توحید سے بھرا ہوا ہے اور کسی جگہ اس میں سورج اور چاند وغیرہ کی پرستش کی تعلیم نہیں کی بلکہ صاف لفظوں میں فرمایا ہے۔ 3 3 ۱؂ یعنی نہ سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی اور نہ کسی اور مخلوق کی۔ اور اس کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔ علاوہ اس کے قرآن شریف خدا کے قدیم نشانوں اور تازہ نشانوں کی گواہی اپنے ساتھ رکھتا ہے اور خدا کا وجود دکھلانے کے لئے ایک آئینہ ہے۔ کیوں وحشیانہ طور کے اس پر حملے کئے جائیں۔ اور کیوں وہ معاملہ ہم سے نہیں کیاجاتا جو ہم آریہ صاحبوں سے کرتے ہیں اور کیوں دشمنی اور عداوت کا تخم ملک میں بویا جاتا ہے۔ کیاامید کی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا ہوگا۔ کیا یہ نیک معاملہ ہے کہ ایک شخص جو پھول دیتا ہے اس پر پتھر پھینکا جائے اور جو دودھ پیش کرتا ہے اس پر پیشاب گرایا جائے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 455

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 455

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/455/mode/1up


    اگر اس قسم کی صلح تام کے لئے ہندو صاحبان اور آریہ صاحبان طیار ہو ں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ توہین اور تکذؔ یب چھوڑدیں تو میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر طیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور اُس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی ہندو صاحبوں کی خدمت میں ادا کریں گے۔ اور اگر ہندو صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایساہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کردیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے۔

    یاد رہے کہ ہماری احمدی جماعت اب چار لاکھ سے کچھ کم نہیں ہے۔ اس لئے ایسے بڑے کام کیلئے تین لاکھ روپیہ چندہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اور جو لوگ ہماری جماعت سے ابھی باہر ہیں دراصل وہ سب پراگندہ طبع اور پراگندہ خیال ہیں۔ کسی ایسے لیڈر کے ماتحت وہ لوگ نہیں ہیں جو اُن کے نزدیک واجب الاطاعت ہے۔ ا س لئے میں اُن کی نسبت کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ابھی تو وہ لوگ مجھے بھی کافر اور دجّال قرار دیتے ہیں۔ لیکن میں اُمید رکھتا ہوں کہ جب ہندو صاحبان میرے ساتھ ایسا معاہدہ کرلیں گے تو یہ لوگ بھی ہر گز ایسی ؔ بیجا حرکت کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ کہ ایسی مہذب قوم کی کتاب اور رشیوں کو بُرے الفاظ سے یاد کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دلائیں۔ ایسی گالیاں تو درحقیقت انہیں لوگوں کی طرف سے منسوب کی جائیں گی جو اس حرکت کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 456

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 456

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/456/mode/1up


    مرتکب ہوں گے۔ اور چونکہ ایسی حرکت حیا اور شرافت کے برخلاف ہے۔اس لئے میں اُمید نہیں رکھتا کہ اس معاہدہ کے بعد وہ لوگ اپنی زبان کھولیں۔ لیکن یہ ضروری ہوگا کہ معاہدہ کی تحریرکو پختہ کرنے کے لئے دونوں فریق کے دس دس ہزار سمجھدار لوگوں کے اس پر دستخط ہوں۔

    پیارو !! صلح جیسی کوئی بھی چیزنہیں۔ آو ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہو جائیں۔ اور ایک قوم بن جائیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ باہمی تکذیب سے کسی قدر پھوٹ پڑگئی ہے۔ اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے۔ آؤ اب یہ بھی آزما لو کہ باہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں۔ بہترین طریق صلح کایہی ہے۔ ورنہ کسی دوسرے پہلو سے صلح کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ ایک پھوڑے کو جو شفاف اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے اسی حالت میں چھوڑ دیں اور اس کی ظاہری چمک پرخوش ہوجائیں۔ حالانکہ اس کے اندر سڑی ہوئی اور بدبو دار پیپ موجود ہے۔

    مجھے اِس جگہ ان باتوں کا ذکر کرنے سے کچھ غرض نہیں کہ وہ نفاق اور فساد جو ہندواور مسلمانوں میں آج کل بڑھتا جاتاہے۔ ا س کے وجوہ صرف مذہبی اختلافات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دُوسری اغراض اس کی وجوہ ہیں جو دُنیا کی خواہشوں اور معاملات سے متعلق ہیں۔ مثلاً ہندوؤں کی ابتدا سے یہ خواہش ہے کہ گورنمنٹ اور ملک کے معاملات میں ان کا دخل ہو یاکم سے کم یہ کہ ملک داری کےؔ معاملات میں ان کی رائے لی جائے اور گورنمنٹ ان کی ہر یک شکایت کو توجہ سے سنے۔ اور بڑے بڑے گورنمنٹ کے عہدے انگریزوں کی طرح ان کو بھی ملا کریں۔ مسلمانوں سے یہ غلطی ہوئی کہ ہندوؤں کی ان کوششوں میں شریک نہ ہوئے اور خیال کیا کہ ہم تعداد میں کم ہیں اور یہ سوچا کہ ان تمام کوششوں کا اگر کچھ فائدہ ہے تو وہ ہندوؤں کے لئے ہے نہ کہ مسلمانوں کے لئے۔ اس لئے نہ صرف شراکت سے دستکش رہے۔ بلکہ مخالفت کرکے ہندوؤں کی کوشش کے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 457

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 457

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/457/mode/1up


    سدّ راہ ہوئے جس سے رنجش بڑھ گئی۔

    میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان وجوہ سے بھی اصل عداوت پر حاشیے چڑھ گئے ہیں۔ مگر میں ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ اصل وجوہ یہی ہیں۔ اور مجھے ان صاحبوں سے اتفاق رائے نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کی باہمی عداوت اور نفاق کا باعث مذہبی تنازعات نہیں ہیں اصل تنازعات پولٹیکل ہیں۔

    یہ بات ہریک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس بات سے کیوں ڈرتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق کے مطالبات میں ہندوؤں کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ اور کیوں آج تک اُن کی کانگریس کی شمولیت سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اور کیوں آخر کار ہندوؤں کی درستی رائے محسوس کرکے اُن کے قدم پر قدم رکھا۔ مگر الگ ہوکر اور اُن کے مقابل پر ایک مسلم انجمن قائم کردی مگر اُن کی شراکت کو قبول نہ کیا۔

    صاحبو! اِس کا باعث دراصل مذہب ہی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں اگر آج وہی ہندو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ پڑھ کر مُسلمانوں سے آکر بغلگیر ہوجائیں یامسلمان ہی ہندو بن کر اگنی وایو وغیرہ کی پرستش وید کے حکم کے موافق شروع کردیں اور اسلام کو الوداع کہہ دیں تو جن تنازعات کا نام اب پولٹیکل رکھتے ہیں وہ ایک دم میں ایسے معدوم ہو جائیں کہ گویا کبھی نہ تھے۔

    پسؔ اس سے ظاہر ہے کہ تمام بُغضوں اور کینوں کی جڑھ دراصل اختلاف مذہب ہے۔ یہی اختلافِ مذہب قدیم سے جب انتہا تک پہنچتا رہا ہے تو خُون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔ اے مسلمانوں جب کہ ہندو صاحبان تمہیں بوجہ اختلاف مذہب کے ایک غیر قوم جانتے ہیں اور تم بھی اِس وجہ سے اُن کوایک غیر قوم خیال کرتے ہو۔ پس جب تک اِس سبب کا ازالہ نہ ہوگا کیوں کر تم میں اوراُن میں ایک سچی صفائی پیدا ہوسکتی ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ مُنافقانہ طور پر باہم چند روز کے لئے میل جول بھی ہوجائے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 458

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 458

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/458/mode/1up


    مگر وہ دِلی صفائی جس کو در حقیقت صفائی کہنا چاہئے۔ صرف اسی حالت میں پیدا ہوگی جب کہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کرلوگے۔ اور ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دُور کرکے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرلیں گے یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ تم میں اور ہندو صاحبوں میں سچی صلح کرانے والا صرف یہی ایک اصول اور یہی ایک ایسا پانی ہے جو کدورتوں کو دھودے گا اور اگر وہ دن آگئے ہیں کہ یہ دونوں بچھڑی ہوئی قومیں باہم مل جائیں۔ تو خدا اُن کے دِلوں کو بھی اس بات کے لئے کھول دے گا جس کے لئے ہمارا دل کھول دِیا ہے۔

    مگر اس کے ساتھ ضرور ہوگاکہ ہندو صاحبان کے ساتھ سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ اور سلوک اور مروّت اپنی عادت کرو۔ اور ایسے کاموں سے اپنے تئیں باز رکھو جن سے اُن کو دُکھ پہنچے۔ مگر وہ کام ہمارے مذہب میں نہ واجبات سے ہوں اور نہ فرائض مذہب سے۔ پس اگر ہندو صاحبان اپنے صدق دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی مان لیں۔ اور ان پر ایمان لاویں تو یہ تفرقہ جو گائے کی وجہ سے ہے۔ اس کو بھی درمیان سے اُٹھا دیا جائے۔ جس چیز کو ہمؔ حلال جانتے ہیں۔ ہم پر واجب نہیں کہ ضرور اس کو استعمال بھی کریں۔ بہتیری ایسی چیزیں ہیں کہ ہم حلال تو جانتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے استعمال نہیں کیں۔ ان سے سلوک اور احسان کے ساتھ پیش آنا ہمارے دین کی وصایا میں سے ایک وصیت ہے۔ خدا کو واحد لاشریک جاننا۔ پس ایک ضروری اور مفید کام کے لئے غیر ضروری کو ترک کرنا خدا کی شریعت کے مخالف نہیں۔ حلال جاننا اور چیز ہے اور استعمال کرنا اور چیز۔ دین یہ ہے کہ خدا کی منہیات سے پرہیز کرنا اور اس کی رضامندی کی راہوں کی طرف دوڑنا اور اس کی تمام مخلوق سے نیکی اور بھلائی کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا اور



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 459

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 459

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/459/mode/1up


    دنیاکے تمام مقدس نبیوں اور رسولوں کواپنے اپنے وقت میں خدا کی طرف سے نبی اور مصلح ماننا اور اُن میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ اور ہریک نوع انسان سے خدمت کے ساتھ پیش آنا۔ ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔ مگر جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہوکر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ہیں۔ ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کرسکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔

    میں اس وقت کسی خاص قوم کو بے وجہ ملامت کرنا نہیں چاہتا۔ اور نہ کسی کا دل دُکھانا چاہتا ہوں بلکہ نہایت افسوس سے آہ کھینچ کر مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ اِسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا۔ اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہرایک قوم کے نبی کو مان لیا۔ اور تمام دُنیا میں یہ فخر خاص قرآن شریف کوؔ حاصل ہے۔ جس نے دُنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی کہ 3 ۱؂ یعنی تم اے مسلمانو! یہ کہو کہ ہم دُنیا کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان میں تفرقہ نہیں ڈالتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو رد کردیں۔ اگرایسی صلح کار کوئی اور الہامی کتاب ہے تو اس کا نام لو قرآن شریف نے خدا کی عامہ رحمت کو کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔ اسرائیلی خاندان کے جتنے نبی تھے کیا یعقوب اور کیا اسحٰق اور کیا موسیٰ اور کیا داؤد اور کیا عیسیٰ سب کی نبوت کو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 460

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 460

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/460/mode/1up


    مان لیا اورہر ایک قوم کے نبی خواہ ہند میں گذرے ہیں اور خواہ فارس میں کسی کو مکار اور کذّاب نہیں کہا بلکہ صاف طور پر کہہ دیا کہ ہر ایک قوم اور بستی میں نبی گذرے ہیں اور تمام قوموں کے لئے صلح کی بنیاد ڈالی ۔ مگر افسوس کہ اس صلح کے نبی کو ہر یک قوم گالی دیتی ہے اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے ۔

    اے ہموطن پیارو! ! میں نے یہ بیان آپ کی خدمت میں اس لئے نہیں کیاکہ میں آپ کو دکھ دوں یا آپ کی دل شکنی کروں بلکہ میں نہایت نیک نیتی سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن قوموں نے یہ عادت اختیار کر رکھی ہے اور یہ ناجائز طریق اپنے مذہب میں اختیار کرلیا ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بد گوئی اور دشنام دہی کے ساتھ یاد کریں وہ نہ صرف بیجا مداخلت سے جس کے ساتھ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں خدا کے گنہگار ہیں ۔ بلکہ وہ اس گنہ کے بھی مرتکب ہیں کہ بنی نوع میں نفاق اور دشمنی کابیج بوتے ہیں ۔ آپ دل تھام کر اس بات کا مجھے جواب دیں کہ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے یا اس کی ماں پر کوئی تہمت لگاوے تو کیا وہ اپنے باپ کی عزت پر آپ حملہ نہیں کرتا۔اور اگر وہ شخص جس کو ایسی گالی دی گئی ہے جواب میں اسی طرح گالیؔ سنادے تو کیا یہ کہنا بے محل ہوگا کہ بالمقابل گالی دیئے جانے کا دراصل وہی شخص موجب ہے جس نے گالی دینے میں سبقت کی اور اس صورت میں وہ اپنے باپ اور ماں کی عزت کا خود دشمن ہوگا ۔

    خدا تعالےٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ33 ۱؂ (سورۃ الانعام الجزو نمبر ۷)یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے ۔ کیوں کہ وہ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 461

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 461

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/461/mode/1up


    اس خدا کو جانتے نہیں ۔ اب دیکھو کہ باوجودیکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بُت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر بھی خدامسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بدگوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھاؤ ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جاؤ ۔ پس ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اسلام کے اس عظیم الشان نبی کو گالیاں دیتے اور توہین کے الفاظ سے اس کو یاد کرتے اور وحشیانہ طریقوں سے اس کی عزت اور چال چلن پر حملہ کرتے ہیں۔ وہ بزرگ نبی

    جس کانام لینے سے اسلام کے عظیم الشان بادشاہ تخت سے اُترتے ہیں اور اس کے احکام کے آگے سر جھکاتے اور اپنے تئیں اس کے ادنیٰ غلاموں سے شمار کرتے ہیں۔ کیا یہ عزت خدا کی طرف سے نہیں ۔ خدا ؔ داد عزت کے مقابل پر تحقیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو خداسے لڑنا چاہتے ہیں ۔ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے وہ برگزیدہ رسول ہیں جن کی تائید اور عزت ظاہر کرنے کے لئے خدانے دنیا کوبڑے بڑے نمونے دکھائے ہیں ۔ کیا یہ خداکے ہاتھ کا کام نہیں جس نے بیس کروڑانسانوں کا محمدی درگاہ پر سر جھکارکھا ہے۔اگرچہ ہر ایک نبی اپنی نبوت کی سچائی کے لئے کچھ ثبوت رکھتاہے لیکن جس قدر ثبوت آنجناب کی نبوت کے بارے میں ہیں جو آج تک ظاہر ہورہے ہیں ۔ ان کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی ۔

    آپ لوگ اس دلیل کو نہیں سمجھ سکتے ! کہ جب زمین گناہ اور پاپ سے پلید ہوجاتی ہے ۔ اور خدا کے ترازو میں بدکاریاں اور بد چلنیاں اور بے باکیاں نیک کاموں سے بہت بڑھ جاتی ہیں تب خدا کی رحمت تقاضا کرتی ہے کہ ایسے وقت میں کسی اپنے بندے کو بھیج کرزمین کے فسادوں کی اصلاح کی جائے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 462

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 462

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/462/mode/1up


    بیماری طبیب کو چاہتی ہے ۔ اور آپ لوگ اس بات کے سمجھنے کے لئے سب سے زیادہ استعداد رکھتے ہیں کیونکہ جیسا کہ بقول آپ صاحبوں کے وید ایسے وقت میں نہیں آیا جبکہ گناہ کا طوفان برپا تھا بلکہ ایسے وقت آیا جبکہ زمین پر گناہ کا کوئی سیلاب نہ تھا ۔ تو کیا آپ صاحبوں کی نظر میں یہ بات قیاسؔ سے دور ہے کہ ایسے وقت میں کوئی نبی ظاہر ہو جبکہ گناہ کا تُند سیلاب ہر ایک ملک میں اپنی تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہو ۔

    میں نہیں امید رکھتا کہ آپ لوگ اس تاریخی واقعہ سے بے خبر ہوں گے کہ جب ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسند رسالت کو اپنے وجود سے عزت دی تو وہ زمانہ ایک ایسا تاریک زمانہ تھا کہ کوئی پہلو دنیا کی آبادی کا بد چلنی اور بد عقیدگی سے خالی نہ تھا ۔ اور جیسا کہ پنڈت دیانند صاحب اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھتے ہیں اُس زمانہ میں اس ملک آریہ ورت میں بھی بُت پرستی نے خدا پرستی کی جگہ لے لی تھی ۔ اورویدک مذہب میں بہت سا بگاڑ ہو گیا تھا۔

    ایسا ہی پادری فنڈل صاحب مصنف میزان الحق جو عیسائی مذہب کا سخت حامی ایک یورپین انگریز ہے وہ اپنی کتاب میزان الحق میں لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سب قوموں سے زیادہ بگڑی ہوئی عیسائی قوم تھی ۔اور ان کی بد چلنیاں عیسائی مذہب کی عار اور ننگ کا موجب تھیں ۔ اور خود قرآن شریف بھی اپنے نزول کی ضرورت کے لئے یہ آیت پیش کرتاہے :۔

    3 ۱؂ ۔یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے ۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ کوئی قوم خواہ وحشیانہ حالت رکھتی ہیں اور خواہؔ عقلمندی کا دعوےٰ کرتی ہیں فساد سے خالی نہیں ۔

    اب جب کہ تمام شہادتوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 463

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 463

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/463/mode/1up


    کے زمانہ کے لوگ کیا مشرقی اور کیا مغربی اور کیا آریہ ورت کے رہنے والے اور کیا عرب کے ریگستان کے باشندے اور کیا جزیروں میں ا پنی سکونت رکھنے والے سب کے سب بگڑ گئے تھے ۔ اور ایک بھی نہیں تھا جس کا خدا کے ساتھ تعلق صاف ہو ۔اور بد عملیوں نے زمین کو ناپاک کردیا تھا تو کیا ایک عقلمند کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی کہ یہ وہی وقت اور وہی زمانہ تھا جس کی نسبت عقل تجویز کرسکتی ہے کہ ایسے تاریک زمانہ میں ضرور کوئی عظیم الشان نبی آنا چاہیئے تھا ۔

    رہا یہ سوال کہ اس نبی نے دنیا میں آ کر کیا اصلاح کی ۔ اس سوال کا جواب جیسا کہ ایک مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے بارے میں دے سکتا ہے میں زور سے کہتاہوں کہ ایسا صاف اور مدلل جواب نہ کوئی عیسائی دے سکتا ہے اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی آریہ ۔

    پہلا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب کی اصلاح تھی ۔ اورعرب کاملک اُس زمانہ میں ایسی حالت میں تھا کہ بمشکل کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان تھے ۔ کونسی بدی تھی جو ان میں نہ تھی ۔ اور کونسا شرک تھا جو ان ؔ میں رائج نہ تھا چوری کرنا ڈاکہ مارناان کا کام تھا اور ناحق کا خون کرنا ان کے نزدیک ایک ایسا معمولی کام تھا جیسا کہ ایک چیونٹی کو پیروں کے نیچے کچل دیا جائے ۔ یتیم بچوں کو قتل کر کے اُن کا مال کھالیتے تھے ۔ لڑکیوں کو زندہ بگور کرتے تھے ۔ زنا کاری کے ساتھ فخر کرتے اور علانیہ اپنے قصیدوں میں اُن گندی باتوں کا ذکر کرتے تھے ۔ شراب خواری اُس قوم میں اِ س کثرت سے تھی کہ کوئی گھر بھی شراب سے خالی نہ تھا اور قمار بازی میں سب ملکوں سے آگے بڑھے ہوئے تھے ۔ حیوانوں کی عار تھی اور سانپوں اور بھیڑیوں کی ننگ ۔

    پھر جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے اور اپنی باطنی توجہ سے ان کے دلوں کو صاف کرنا چاہا تو اُن میں تھوڑے ہی دنوں



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 464

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 464

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/464/mode/1up


    میں ایسی تبدیلی پیدا ہو گئی کہ وہ وحشیانہ حالت سے انسان بنے اور پھر انسان سے مہذب انسان ۔ اور مہذب انسان سے باخدا انسان ۔ اور آخر خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے محو ہوگئے کہ انہوں نے ایک بے حس عضو کی طرح ہر ایک دکھ کو برداشت کیا۔ وہ انواع اقسام کی تکالیف سے عذاب دیئے گئے اور سخت بے دردی سے تازیانوں سے مارے گئے اور جلتی ہوئی ریت میں لٹائے گئے اور قید کئے گئے اور بھوکے اور پیاسے رکھ کر ہلاکت تک پہنچائے گئے ۔ مگرؔ انہوں نے ہر یک مصیبت کے وقت آگے قدم رکھا ۔ اور بہتیرے ان میں ایسے تھے کہ ان کے سامنے ان کے بچے قتل کئے گئے اور بہتیرے ایسے تھے کہ بچوں کے سامنے وہ سُولی دیئے گئے۔ اور جس صدق سے انہوں نے خدا کی راہ میں جانیں دیں اُس کا تصور کرکے رونا آتا ہے ۔ اگر ان کے دلوں پر یہ خدا کا تصرف اور اس کے نبی کی توجہ کا اثر نہ تھا تو پھر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو اسلام کی طرف کھینچ لیا۔ اور ایک فوق العادت تبدیلی پیدا کر کے ان کو ایسے شخص کے آستانہ پر گرنے کی رغبت دی کہ جو بیکس اور مسکین اور بے زری کی حالت میں مکہ کی گلیوں میں اکیلا اور تنہا پھرتا تھا۔ آخر کوئی روحانی طاقت تھی جو ان کو سفلی مقام سے اٹھا کر اوپر کو لے گئی۔ اور عجیب تر بات یہ ہے کہ اکثر ان کے ان کی کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن اور آنجناب کے خون کے پیاسے تھے ۔ پس میں تو اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ نہیں سمجھتا کہ کیونکر ایک غریب مفلس تنہا بیکس نے ان کے دلوں کو ہریک کینہ سے پاک کرکے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہاں تک کہ وہ فخریہ لباس پھینک کر اور ٹاٹ پہن کر خدمت میں حاضر ہوگئے ۔

    بعض ناسمجھ جو اسلام پرجہاد کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ؔ سب لوگ جبراََ تلوار سے مسلمان کئے گئے تھے ۔ افسوس ہزار افسوس کہ وہ اپنی بے انصافی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 465

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 465

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/465/mode/1up


    اور حق پوشی میں حد سے گذر گئے ہیں ۔ ہائے افسوس ان کو کیا ہوگیا کہ وہ عمداً صحیح واقعات سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ملک میں ایک بادشاہ کی حیثیت سے ظہور فرما نہیں ہوئے تھے تا یہ گمان کیا جاتا کہ چونکہ وہ بادشاہی جبروت اور شوکت اپنے ساتھ رکھتے تھے اس لئے لوگ جان بچانے کے لئے ان کے جھنڈے کے نیچے آگئے تھے ۔

    پس یہ سوال تو یہ ہے کہ جبکہ آپ کے لئے اپنی غریبی اور مسکینی اور تنہائی کی حالت میں خدا کی توحید اور اپنی نبوت کے بارے میں منادی شروع کی تھی تو اس وقت کس تلوار کے خوف سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ اور اگر ایمان نہیں لائے تھے تو پھر جبر کرنے کے لئے کس بادشاہ سے کوئی لشکر مانگا گیا تھا اور مدد طلب کی گئی تھی ۔ اے حق کے طالبو! ! تم یقیناًسمجھو کہ یہ سب باتیں ان لوگوں کی افترا ہیں جو اسلام کے سخت دشمن ہیں ۔ تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا

    باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔ اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکرؔ یاں بھی چرائیں اور بجز خداکے کوئی متکفّل نہ تھا۔ اور پچیس برس تک پہنچ کر بھی کسی چچا نے بھی آپ کو اپنی لڑکی نہ دی ۔ کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا آپ ا س لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متحمل ہوسکیں۔ اور نیز محض اُمّی تھے اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے ۔ پھر جب آپ چالیس برس کے سن تک پہنچے تویک دفعہ آپ کا دل خداکی طر ف کھینچا گیا۔ ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے ۔ جس کا نام حرا ہے ۔ آپ اکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چھپ جاتے اور اپنے خدا کو یاد کرتے ۔ ایک دن اُسی غار میںآپ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 466

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 466

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/466/mode/1up


    پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے۔ اور زمین گنہ سے آلودہ ہو گئی ہے ۔ اس لئے میں تجھے اپنا رسول کرکے بھیجتا ہوں ۔ اب تُو اور لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں ۔ اس حکم کے سننے سے آپ ڈرے کہ میں ایک اُمّی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں اور عرض کی کہ میں پڑھنانہیں جانتا ۔ تب خدا نے آپ کے سینہ میں تمام روحانی علوم بھردیئے اور آپ کے دل کو روشن کیا تھا ۔ آپ کی قوت قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقہ اطاعت میں آنے شروع ہوگئے ۔ اور جو بڑے بڑے آدمی تھے انہوں سے دشمنی پر کمر باندھ لی ۔ یہاں تک کے آخر کار آپ کو قتل کرنا چاہا ۔ اور کئی مرداور کئی عورتیں بڑے عذاب کے ساتھ قتلکرؔ دیئے گئے۔ اور آخری حملہ یہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ مگر جس کو خدا بچاوے اس کو کون مارے ۔ خدا نے آپ کو اپنی وحی سے اطلاع دی کہ آپ اس شہر سے نکل جاؤ ۔ اور میں ہر قدم میں تمہارے ساتھ ہوں گا ۔ پس آپ شہر مکہ سے ابو بکرکو ساتھ

    لے کر نکل آئے اور تین رات تک غار ثور میں چھپے رہے ۔ دشمنوں نے تعاقب کیا اور ایک سراغ رسان کو لے کر غار تک پہنچے اس شخص نے غار تک قدم کا نشان پہنچا دیا اور کہا کہ اس غار میں تلاش کرو اس کے آگے قدم نہیں ۔ اور اگر اس کے آگے گیا ہے تو پھر آسمان پر چڑھ گیا ہوگا مگر خدا کی قدرت کے عجائبات کی کون حد بست کرسکتا ہے ۔ خدا نے ایک ہی رات میں یہ قدرت نمائی کی کہ عنکبوت نے اپنی جالی سے غار کا تمام منہ بند کردیا اور ایک کبوتری نے غارکے منہ پر گھونسلا بنا کر انڈے دیدیئے اور جب سراغ رساں نے لوگوں کو غار کے اندر جانے کی ترغیب دی تو ایک بڈھا آدمی بولا کہ یہ سراغ ر ساں تو پاگل ہوگیا



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 467

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 467

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/467/mode/1up


    ہے ۔ میں تو اس جالی کو غار کے منہ پر اس زمانہ سے دیکھ رہا ہوں جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ اس بات کو سن کر سب لوگ منتشر ہوگئے اور غارکا خیال چھوڑدیا ۔

    اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ طور پر مدینہ میں پہنچے اورؔ مدینہ کے اکثر لوگوں نے آپ کو قبول کرلیا۔ اس پر مکہ والوں کا غضب بھڑکا اور افسوس کیاکہ ہمارا شکار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور پھر کیا تھادن رات انہیں منصوبوں میں لگے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں۔ اور کچھ تھوڑا گر وہ مکّہ والوں کاکہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا وہ بھی مکّہ سے ہجرت کرکے مختلف ممالک کی طرف چلے گئے۔ بعض نے حبشہ کے بادشاہ کی پناہ لے لی تھی۔ اور بعض مکّہ میں ہی رہے۔ کیوں کہ وہ سفر کرنے کے لئے زادِ راہ نہیں رکھتے تھے اوروہ بہت دُکھ دیئے گئے۔ قرآن شریف میں اُن کا ذکر ہے کہ کیوں کر وہ دِن رات فریاد کرتے تھے۔

    اور جب کفار قریش کا حدسے زیادہ ظلم بڑھ گیا۔ اور انہوں نے غریب عورتوں اور یتیم بچوں کو قتل کرنا شروع کیا۔اوربعض عورتوں کو ایسی بیدردی سے مارا کہ اُن کی دونوں ٹانگیں دو رسوں سے باندھ کر دو اُونٹوں کے ساتھ وہ رسے خوب جکڑ دیئے اور پھر اُن اُونٹوں کو دو مختلف جہات میں دوڑایا اور اِس طرح پر وہ عورتیں دوٹکڑے ہوکر مرگئیں۔

    جب بے رحم کافروں کا ظلم اِس حد تک پہنچ گیا۔ خدا نے جوآخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔ اپنے رسول پر اپنی وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ ؔ گئی۔ آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تم بھی اُن کامقابلہ کرو اور یاد رکھو کہ جو لوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے جائیں گے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 468

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 468

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/468/mode/1up


    مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

    یہ ہے حقیقت اسلام کے جہاد کی جس کو نہایت ظلم سے بُرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔ بیشک خد ا حلیم ہے۔ مگر جب کسی قوم کی شرارت حد سے گذر جاتی ہے۔ تو وہ ظالم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ اور آپ اُن کے لئے تباہی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خدا توقرآن شریف میں فرماتا ہے۔3 ۱؂ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبرکاحکم دیا۔ اور جبر کے کونسے سامان تھے۔ اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں اُن کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں۔ اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دے دیں۔ اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیڑوں بکریوں کی طرح سرکٹا دیں۔اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کردیں۔ اور ؔ خدا کی توحید کے

    پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اُٹھاکر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلادیں۔ اور پھر ہریک قسم کی صعوبت اُٹھاکر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوتِ اسلام کریں جس کانتیجہ یہ ہو کہ اُن کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہوجائیں۔ اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کردیں۔ اور یورپ کی حدود تک لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی آواز پہنچا ویں۔ تم ایماناً کہو کہ کیا یہ کام اُن لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کئے جاتے ہیں جن کادل کافر اور زبان مومن ہوتی ہے؟



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 469

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 469

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/469/mode/1up


    نہیں بلکہ یہ اُن لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔

    پھر ہم اس طرف رجوع کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ واضح ہو کہ اسلام کا بڑا بھاری مقصد خدا کی توحید اور جلال زمین پر قائم کرنا اور شرک کا بکلّی استیصال کرنا۔ اور تمام متفرق فرقوں کو ایک کلمہ پر قائم کرکے اُن کو ایک قوم بنا دینا ہے۔ اور پہلے مذاہب جس قدر دنیا میں گذرے ہیں اور جس قدر نبی اور رسول آئے ہیں اُن کی نظرؔ صرف اپنی قوم اور اپنے ملک تک محدود تھی۔ اور اگر انہوں نے کچھ اخلاق بھی سکھلائے تھے۔ تو اس اخلاقی تعلیم سے اُن کا مقصد اس سے زیادہ نہ تھا کہ اپنی ہی قوم کو اُن کے اخلاق سے بہرہ یاب کریں۔ چنانچہ حضرت مسیح نے صاف صاف کہہ دیا کہ میری تعلیم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے۔ اور جب ایک عورت نے جو اسرائیلی خاندان میں

    داخل نہ تھی بڑی عاجزی سے اُن سے ہدایت چاہی۔ تو اُنہوں نے اُس کو رد کیا۔ اور پھر وہ غریب عورت کتیا سے اپنے تئیں مشابہت دے کر دوبارہ ہدایت کی مستدعی ہوئی تو وہی جواب اُس کو ملا کہ میں صرف اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ آخر وہ چپ رہ گئی۔ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں نہیں کہا کہ میں صرف عرب کے لئے بھیجا گیا ہوں بلکہ قرآن شریف میں یہ ہے۔3 3 ۱؂ یعنی لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمام دُنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ مگر یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ کا اُس عورت کو صاف جواب دینا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ اِس میں حضرت عیسیٰ کا کوئی گناہ تھا۔ بلکہ عام ہدایت کا ابھی وقت نہیں آیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم تھا کہ تم خاص بنی اسرائیل کے لئے بھیجے گئے ہو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 470

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 470

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/470/mode/1up


    اوروں سے تمہیں کچھ غرض نہیں۔ پس جیسا کہ ابھی ؔ میں نے بیان کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی اخلاقی تعلیم بھی محض یہودیوں تک محدود تھی۔ بات یہ تھی کہ توریت میں یہ احکام تھے کہ دانت کے بدلہ دانت اور آنکھ کے بدلہ آنکھ اور ناک کے بدلہ ناک اور اس تعلیم سے صرف یہ غرض تھی کہ تا یہودیوں میں عدل کا مسئلہ قائم کیاجائے اور تعدّی اور زیادتی سے روکا جائے۔ چونکہ بباعث اس کے کہ وہ چار ۴۰۰سو برس تک غلامی میں رہ چکے تھے۔ ان میں ظلم اور سفلہ پن کی خصلتیں بہت پیدا ہوگئی تھیں۔ پس خدا کی حکمت نے یہ تقاضا کیا کہ جیسا کہ انتقام اور بدلہ لینے میں اُن کی فطرتوں میں ایک تشدد تھا اس کے دُور کرنے کے لئے ایک تشدد کے ساتھ اخلاقی تعلیم پیش کی جائے۔ سو وہ اخلاقی تعلیم انجیل ہے جو صرف یہودیوں کے لئے ہے نہ تمام دنیا کے لئے کیونکہ دوسری قوموں سے حضرت عیسیٰ کو کچھ بھی غرض نہ تھی۔

    مگر واقعی بات یہ ہے کہ اس تعلیم میں جو حضرت عیسیٰ نے پیش کی صرف یہی نقص نہیں کہ وہ دنیا کی عام ہمدردی پر مبنی نہیں بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ جیسا کہ توریت تشدّد و انتقام کی تعلیم میں افراط کی طرف مائل ہے۔ ایسا انجیل عفو اور درگذر کی تعلیم میں تفریط کی طرف جھک گئی ہے۔ اور ان دونوں کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کا کچھ لحاظ نہیں کیا بلکہ اس درخت کی ایک شاخ کو تو توریت پیش کرتی ہے۔ اور دوسری شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے۔ اور دونوں تعلیمیں اعتدال سے گری ہوئی ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ ہر وقت اور ہر موقعہ پر انتقام لینا اور سزا دینا قرین مصلحت نہیں ایسا ہی ہر وقت اور ہر موقعہ پر عفو اور درگزر کرنا انسانی تربیت کے مصالح سے بالکل مخالف ہے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں کو رد کرکے یہ فرمایا ہے ۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 471

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 471

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/471/mode/1up


    3 ۱؂ یعنی بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جوکی جائے۔ جیسا کہ توریت کی تعلیم ہے۔ مگر جو شخص عفو کرے جیسا کہ انجیل کی تعلیم ہے۔ تو اِس صورت میں وہ عفو مستحسن اور جائز ہوگی جبکہ کوئی نیک نتیجہ اس کا مرتب ہو۔ اور جس کو معاف کیا گیا کوئی اصلاح اس کی اس عفو سے متصور ہو۔ ورنہ قانون یہی ہے جو توریت میں مذکور ہے۔















    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 472

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 472

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/472/mode/1up

    _



    ذیلؔ میں وہ متفرق یاد داشتیں دیجاتی ہیں جو حضرت اقدس نے اس مضمون

    کے متعلق لکھی تھیں اور مجھے اُن کے مسودات سے دستیاب ہوئیں*

    *

    آیات قرآن شریف جو اِس مضمون میں انشاء اللہ لکھی جائیں گی

    ۱؂ ۔صفحہ ۵۶

    ۲؂ اگر تم ظاہر کرو خیرات کو تو وہ اچھا ہے۔ اور اگر تم خیرات کو چھپاؤ تو وہ بہت ہی اچھا ہے۔ ایسی خیرات تمہاری بُرائیاں دور کرے گی۔صفحہ ۶۰

    33۳؂ صفحہ ۶۱

    33۴؂ تاکہ اُن کا بھلا ہو۔ صفحہ ۳۷ سورۃ البقرۃ الجزو نمبر۲چاہیئے کہ میرے حکموں کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لاویں۔ تاکہ اُن کا بھلا ہو۔

    3۵ ؂ صفحہ ۴۱ الجزو سورۃ البقرۃ۔ تم محبت سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ خدا کو یاد کرو۔


    نوٹ:۔ یہ حوالجات صفحات غالباً اس قرآن مجید کے ہیں جو حضور علیہ السلام کے پاس بوقت تحریر پیغام صلح تھا۔ (کمال الدین)


    * یہ یاداشتیں براہین احمدیہ حصہ پنجم کے آخر میں بھی من و عن درج ہیں۔ ان کے بارہ میں جلد ہٰذا کے پیغام صلح کے تعارف کے تحت صفحہVIپر ملاحظہ کیا جائے۔ (ناشر)



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 473

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 473

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/473/mode/1up


    جیساؔ کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔

    وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِىْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ‌ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌ ۢ بِالْعِبَادِ ۱؂ صفحہ ۴۲ الجزو نمبر ۲ البقرہ۔ بعض ایسے ہیں کہ اپنے نفسوں کو خدا کی راہ میں بیچ دیتے ہیں۔ تا کسی طرح وہ راضی ہو۔

    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ادْخُلُوْا فِىْ السِّلْمِ کَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ‌ اِنَّهٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ

    ؂ صفحہ ۴۲۔ اے ایمان والو خدا کی راہ میں اپنی گرد ن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیارمت کرو کہ شیطان تمہارادشمن ہے۔ اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں۔

    وَلَا تَجْعَلُوْا اللّٰهَ عُرْضَةً ۳؂صفحہ ۴۶

    ٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى صفحہ ۵۸۔ كَالَّذِىْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ۴؂ ۔صفحہ۵۸

    قرآن شریف میں یہ خاص حکم ہے۔ کہ اس کی اخلاقی تعلیم تمام دُنیا کیلئے ہے مگر انجیل کی اخلاقی تعلیم صرف یہود کے لئے ہے۔


    اِسؔ بیان میں کہ قرآن شریف دُوسری اُمتوں کے نیکوں کی بھی تعریف کرتا ہ

    لَـيْسُوْا سَوَآءً‌ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآٮِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيْلِ وَ هُمْ يَسْجُدُوْنَ ۔ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسٰرِعُوْنَ فِىْ الْخَيْرٰتِ ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۵؂ ۔صفحہ۸۵ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ‌ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوٰهِهِمْ ۖۚ وَمَا تُخْفِىْ صُدُوْرُهُمْ


    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ‌ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوٰهِهِمْ ۖۚ وَمَا تُخْفِىْ صُدُوْرُهُمْ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 474

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 474

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/474/mode/1up


    اَكْبَرُ‌ؕ قَدْ بَيَّنَّا لَـكُمُ الْاٰيٰتِ‌ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ هٰۤاَنْتُمْ اُولَاۤءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ‌ۚ وَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ‌ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۱؂ صفحہ ۸۷

    اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ‌ؕ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّىْ مَنْ يَّشَآءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلاً‏ ۲؂ صفحہ ۱۱۴

    اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهْلِهَاۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعَۢا بَصِيْرًا‏۳ ؂ صفحہ ۱۱۵

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہودی اور مسلمان میں اس کے متعلق ہے۔

    مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّهٗ نَصِيْبٌ مِّنْهَا‌ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ مُّقِيْتًا۴؂۔سورۃ النساء الجز نمبر۵۔ اور اللہ ہرچیز پر نگہبان ہے۔

    وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا ۵؂۔ سورۃ النساء صفحہ ۱۲۳ الجز نمبر۵

    وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا‌ۚ ۶؂(۱۲۳ سورۃ النساء)

    وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ‌ ۷؂ صفحہ ۱۳۰۔ الجزو نمبر ۵ سورۃ النساء رکوع نمبر ۱ؕ

    وَالصُّلْحُ خَيْرٌ‌ؕ ۸؂ ۔ صفحہ ۱۳۰۔رکوع نمبر ۱۵ سورۃ النساء

    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوَّامِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ‌ؕ ۹؂ ۔ الجزو نمبر ۵ سورۃ النساء صفحہ ۱۳۶



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 475

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 475

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/475/mode/1up


    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِىْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِىْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ‌ؕ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاًۢ بَعِيْدًا‏ ۱؂ صفحہ ۲ ۱۳

    قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا۔۔۔وَمَآ اُوْتِىَ مُوْسَىٰ وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِىَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ‌ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۲؂۔ صفحہ۲۷سورۃ البقرۃ

    3 3۳؂ صفحہ ۲۷ سورۃ البقرۃ۔

    اگر وہ ایسا (ایمان*)لائیں جیسا کہ تم ایمان لائے۔ تو وہ ہدایت پاچکے اور اگر ایسا ایمان نہ لاویں تو پھر وہ ایسی قوم ہے کہ جو مخالفت چھوڑنا نہیں چاہتی اور صلح کی خواہاں نہیں۔

    33۴؂ ۔ صفحہ ۱۳۷ سورۃ النساء الجز نمبر۶

    33 3۔3 3۵؂ ۔صفحہ ۱۳۵ سورۃ النساء۔

    333۶؂۔ صفحہ ۱۳۳۔

    33 ۷؂۔ صفحہ ۱۳۵

    اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ‌ اَلْقٰٮهَاۤ اِلٰى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ‌ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ‌



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 476

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 476

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/476/mode/1up


    انتَهُوْا خَيْرًا لَّـكُمْ‌ ۱ ؂۔ صفحہ ۱۳۹ سورۃ النساء الجزو نمبر ۶

    33۲؂۔ صفحہ ۱۴۱

    333۳؂ ۔ صفحہ ۱۴۳۔ سورۃ المائدۃ الجز نمبر۶

    3۴؂ ۔ 3 33۵؂ ۔ (صفحہ ۱۶۱ ۔المائدۃ)

    3۶؂ ۔

    3۷؂ صفحہ ۱۹۹۔الاعراف الجزو نمبر۸

    3۸؂ ۔۔۔۔33۹؂ (صفحہ ۲۰۸)

    3333۔3 3۔33۱۰؂ ۔ صفحہ ۲۰۹ سورۃ الاعراف

    33۱۱؂۔ سورۃ الاعراف صفحہ ۲۱۵



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 477

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 477

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/477/mode/1up


    اور ہم نے کسی بستی میں کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر ہم نے اُن کو انکار کی حالت میں قحط اور وبا کے ساتھ پکڑا۔ تا اس طرح پر وہ عاجزی کریں۔

    33۱؂۔صفحہ ۲۱۵ سورۃ الاعراف الجز نمبر ۹

    33۲؂۔صفحہ۲۱۵۔ الاعراف

    333۳؂ ۔ صفحہ ۲۱۵

    3333۴؂ ۔ صفحہ ۲۲۵ ۔الاعراف الجزو نمبر ۹

    یعنی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں۔ اور اُن باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے۔ اور پاک چیزوں کو حلال کرتاہے۔ او رناپاک کو حرام ٹھہراتا ہے۔ اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں۔ اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہوسکتی تھیں۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے۔ اور اس کی مدد کریں گے۔ اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اُتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 478

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 478

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/478/mode/1up


    3 ۱ ؂ صفحہ ۲۲۵۔ الاعراف الجزو نمبر ۹

    333۲ ؂ ۔ صفحہ ۲۲۸۔ اور جو لوگ محکم پکڑتے ہیں کتاب کو اور نماز کو قائم کرتے ہیں اُن کے ہم اجر ضائع نہیں کرتے۔

    3۳ ؂ صفحہ ۲۲۹۔ رُوحوں کے قویٰ جن میں خدا تعالیٰ کا حق پیدا ہوا ہے بزبان حال گواہی دے رہے ہیں جو وہ خدا کے ہاتھ سے نکلے ہیں۔

    پس اگر یہ سوال پیش ہو کہ ہم کس طرح قرآن شریف پر ایمان لاویں کیونکہ دونوں تعلیموں میں تناقض درمیان ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی تناقض نہیں وید کی شرتیوں کی ہزارہا طورپر تفسیریں کی گئی ہیں۔ اور منجملہ ان کے ایک تفسیر وہ بھی ہے جو قرآن کے مطابق ہے۔

    3

    جوشخص خدا سے نہیں ڈرتا۔ وہ ایک حق الامر کے بارے ایسا مقابلہ سے پیش آتا ہے کہ گویا اُس کو موت کی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔ اور وہ اپنی جان بچا رہا ہے۔

    3۴؂ صفحہ۲۳۹۔سورۃ الانفال الجزو نمبر ۹۔3۵ ؂ ۔(ترجمہ) اے ایمان والو ! اگر تم تقویٰ اختیار کرو۔ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خداایک فرق رکھ دے گا اور تمہیں پاک کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہارا خدا صاحب فضل بزرگ ہے۔

    یادداشت۔ دین مذہب صرف زبانی قصہ نہیں بلکہ جس طرح سونا اپنی علاؔ متوں سے شناخت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سچی ہدایت کا پابند اپنی روشنی سے ظاہر ہوجاتا ہے۔

    خدا ہلاک کرتا ہے اس شخص کو جو دلیل کے ساتھ ہلاک ہوچکا۔ اور زندہ رکھتا ہے



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 479

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 479

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/479/mode/1up


    اُس شخص کو جو دلیل کے ساتھ زندہ ہے۔

    33۱؂ صفحہ ۲۴۴۔ سورۃ الانفال نمبر۸۔ اور اگر مخالف لوگ صلح کے واسطے جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ اور خدا پر توکل کرو۔

    33۲؂ ۔ صفحہ ۲۴۴ سورۃ الانفال۔

    اور اگر صلح کے وقت دل میں دغا پر ہیں۔ تو اس دغا کے تدارک کے لئے خدا تجھے کافی ہے۔

    3

    33۳ ؂ ۔سورۃ التوبہ الجزو نمبر ۱۰۔

    3 33333۴؂ ۔ صفحہ ۲۵۲۔ سورۃ التوبہ الجزو نمبر۹

    3۵؂ ۔ صفحہ ۲۶۸۔ التوبہ نمبر ۹

    33



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 480

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 480

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/480/mode/1up


    3۱؂ ۔ صفحہ ۲۷۱۔ التوبہ۔ الجزو نمبر ۱۱

    (ترجمہ) وہ لوگ خوش وقت ہیں۔جو سب کچھ چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور خدا کی پرستش میں مشغول ہوتے ہیں اور خدا کی تعریف میں لگے رہتے ہیں۔ اور خدا کی راہ کی منادی کے لئے دُنیا میں پھرتے ہیں۔ اورخدا کے آگے جھکتے رہتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں وہی مومن ہیں جن کونجات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ صفحہ ۲۷۸

    خدا نے اپنے قانون قدرت میں مصائب کو پانچ قسم پر منقسم کیا ہے۔ یعنی آثار مصیبت کے جو خوف دلاتے ہیں۔ اور پھر مصیبت کے اندر قدم رکھنا۔ اور پھر ایسی حالت جب *۔۔۔۔۔۔ پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر زمانہ تاریک مصیبت کا اور پھر صبح رحمت الٰہی کی۔ یہ پانچ وقت ہیں جن کے نمونہ پانچ نمازیں ہیں۔

    3۔33۲؂

    3۳؂

    *

    ذیل میں چند اعتراضات اورچند حقائق درج کئے جاتے ہیں جو حضور علیہ السلام کی یاد داشتوں میں جو پیغام صلح کے متعلق آپ نے لکھی ہوئی تھیں مجھے ملے۔ ان اعتراضات کو رد کرنے کااور اُن حقائق پر بموجب تعلیم قرآن روشنی ڈالنے کا آپ کا ارادہ تھا۔ ایسا ہی بعض امور بدھ کی ایک کتاب سے لئے معلوم ہوتے ہیں۔ جو اُن دِنوں آپ کے زیر مطالعہ تھی جس کے متعلق آپ کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ (کمال الدین)

    اعتراضات (۱) جتنی الہامی کتابیں ہیں اُن میں کونسی ایسی نئی بات ہے جو پہلے معلوم نہ تھی۔


    * نوٹ۔ پڑھا نہیں گیا۔( کمال الدین )۔ البتہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ ۴۲۲ پر ’’ نومیدی ۔۔۔ پیدا ہوتی ہے ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ (ناشر)



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 481

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 481

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/481/mode/1up


    (۲) کس ایسی سائنس کے عقدہ کو نبیوں نے حل کیا جو پہلے لاینحل تھا۔

    (۳) نبیوں نے رُوح کی کیفیت و ماہیت کچھ نہیں بتلائی۔ اورنہ آئندہ زندگی کا کچھ حال بتلایا۔ نہ خدا کا ہی مفصل حال بیان کرسکے۔ لیکن انبیاء نے بیان کیا ہے کہ نیند کے اور اسباب تھے۔ فن طبعی میں نیند کو اسباب طبعیہ میں رکھا ہے۔

    (۴) سابقہ مغالطوں کو رفع نہیں کیا اور نہ پیچیدہ مسائل کو سلجھایا۔ بلکہ اور بھی اُلجھن میں ڈال دیا۔

    (۵) بُدھ کی اخلاقی تعلیم سب سے اعلیٰ ہے۔

    (۶) جس چیز سے انسان پیار کرتا ہے اس سے اگر جدا کیا جائے تو یہی اس کے لئے ایک عذاب ہو جاتا ہے۔

    (۷) اور جس چیز سے اگر پیار کرے۔ اگر وہ میسر آجائے تو یہی اُس کی راحت کا موجب ہو جاتا ہےؔ ۔ 3۱؂

    (۸) خواہش کا نابود کرنا ذریعہ نجات ہے۔

    (۹) دنیا میں کبھی علم صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی عمل صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی قول صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی فعل صحیح سے نجات ملتی ہے۔ اور کبھی بنی نوع سے معاملہ پاک موجب نجات ہو جاتا ہے اور کبھی خدا سے معاملہ نیک درد و دکھ چھڑاتا ہے اور کبھی ایک درد دوسری دردوں کے لئے کفارہ ہو جاتی ہے۔

    (۱۰) سچ کہو جھوٹ نہ بولو۔ بیہودہ باتوں سے پرہیز کرو۔ اور اپنے فعل یا اپنے قول سے کسی کو نقصان مت پہنچاؤ۔ اپنی زندگی کو پاک رکھو۔ غیبت نہ کرو۔ اور کسی پر بہتان مت لگاؤ۔ نفسانی شہوات اپنے پر غالب نہ ہونے دو۔ کینہ اور حسد سے پرہیز کرو۔ بغض سے اپنا دل صاف رکھو۔ اپنے دشمن سے بھی وہ معاملہ نہ کرو جو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ ایسی نصیحتیں دوسروں کو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 482

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 482

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/482/mode/1up


    مت کرو جن کے تم خود پابند نہیں۔ معرفت کی ترقی میں لگے رہو۔ جہل سے دِل کو پاک کرو۔ جلدی سے کسی پر اعتراض مت کرو۔

    نفرت کرنے سے نفرت رفع نہیں ہوتی بلکہ اور بھی بڑھتی ہے۔ محبت نفرت کو ٹھنڈا کرکے رفع کر دیتی ہے۔

    333۱؂ ۔ یعنی دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔ گوشت اورخون سچی قربانی نہیں۔جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قرباؔ نی کرتے ہیں۔ خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں۔

    مگر خدا نے یہ قربانیاں بھی بند نہیں کیں تا معلوم ہو کہ ان کی قربانیوں کا بھی انسان سے تعلق ہے۔

    خدا نے بہشت کی خوبیاں اِس پیرایہ میں بیان کی ہیں جو عرب کے لوگوں کو چیزیں دل پسند تھیں وہی بیان کردی ہیں۔ تا اس طرح اُن کے دل اس طرف مائل ہو جائیں۔ اور دراصل وہ چیزیں اور ہیں یہی چیزیں نہیں۔ مگر ضرور تھا کہ ایسا بیان کیا جاتا۔ تاکہ دِل مائل کئے جائیں۔ 3۲؂ ۔

    وہ جو ا پنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ وہ سراسر اپنی بیخ کنی کرتا ہے لیکن وہ جو سچے راستہ پر چلتا ہے اُس کا نہ صرف بدن بلکہ رُوح بھی نجات کو پہنچے گی۔

    وہ جو ا پنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے میں لگا رہتا ہے وہ سراسر اپنی بیخ کنی کرتا ہے اور نہ صرف جسم کو ہلاکت میں ڈالتا ہے بلکہ رُوح کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ مگر وہ جو راہ راست پر چلتا ہے اور نفسانی جذبات کا پیرو نہیں ہوتا۔ وہ نہ صرف اپنے جسم کو ہلاکت سے بچاتا ہے بلکہ اپنی رُوح کو بھی نجات تک پہنچا دیتا ہے۔ 3 3۳؂ ۔

    ایک گاؤں میں سو گھر تھے۔ اور صرف ایک گھر میں چراغ جلتا تھا۔ تب جب



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 483

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 483

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/483/mode/1up


    لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ اپنے اپنے چراغ لے کر آئے۔ اور سب نے اُس چراغ سے اپنے چراغ روشن کئے۔ اسی طرح ایک روشنی سے کثرت ہوسکتی ہے۔ اسی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کرکے فرماتا ہے۔ 3 3 ۱؂ ۔

    انساؔ ن تو اپنی جان کا بھی مالک نہیں چہ جائیکہ وہ دولت کا مالک ہو۔ ایک چمچہ شربت کا مزہ نہیں پاسکتا۔ اگرچہ کئی بار اس میں پڑتا ہے۔ شیرینی ہاتھوں کے ذریعہ سے منہ تک پہنچتی ہے۔ لیکن ہاتھ شیرینی کا مزہ نہیں پاسکتے اِسی طرح جس کو خدا نے حواس نہیں دیئے وہ ذریعہ بن کر بھی کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔3 3 ۲؂ 3۳؂ ۔

    ایک بڑی لذّت چھوٹی لذّت سے غنی کر دیتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3۴؂۔ 3۵؂ ۔

    (۱) ایمان بیج ہے۔ (۲) نیک کام مینہ ہے (۳) مجاہدات ہل ہیں جو جسمانی اور ظاہری طور پر کئے جاتے ہیں۔ نفس مرتاض بیل ہے جو نفسِ لوّامہ ہے۔ شریعت اس کے چلانے کے لئے ڈنڈا ہے اور وہ اناج جو اس سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ دائمی زندگی ہے۔

    ذات سے خارج وہ ہوتا ہے۔ جو نیک صفات سے خالی ہو۔ کیونکہ انسان کی نیک صفات ہی اُس کی ذات ہے۔ اپنے دل کے جذبات کو سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں وہ جن چیزوں میں اپنی خوشحالی دیکھتے ہیں۔ درحقیقت وہ خوشحالی کا موجب نہیں ہوتیں۔

    جو شخص بدی کے مقابل پر بدی نہیں کرتا اور معاف کرتا ہے وہ بلاشبہ تعریف کے لائق ہے۔ مگر اس سے زیادہ وہ شخص تعریف کے لائق ہے جو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 484

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 484

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/484/mode/1up


    عفو یا انتقام کا مقید نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوکر مناسب وقت کام کرتا ہے۔ کیونکہ خدا بھی ہر ایک کے مناسب حال کام کرتا ہے۔ جو سزا کے لائق ہے اُس کو سزا دیتاہے جو معافی کے لائق ہے اس کو معافی دیتاہے۔ 333 ۱؂ ۔

    دنیا میں دو فرقے بہت ہیں۔ ایک تو وہ جو عدل کو پسند کرتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو احسا ن کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں۔ اور تیسرا فرقہ وہ ہے جو سچی ہمدردی اِس قدر اُن پر غالب آجاتی ہے کہ وہ عدل اور احسان کا پابند نہیں رہتا۔ بلکہ سچی ہمدردی کی رہنمائی سے مناسب وقت عمل کرتا ہے۔ جیسا کہ ماں اپنے بچے کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ کہ شیریں اور لذیذ غذائیں بھی اُس کو اور پھر مناسب وقت پر تلخ ادویہ بھی دیتی ہے۔ اوردونوں حالتوں میں اُس کی۔۔۔۔۔۔*

    میرے بیان میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہوگا جوکہ گورنمنٹ انگریزی کے برخلاف ہو اور ہم اس گورنمنٹ کے شکر گذار ہوں۔ کیونکہ ہم نے اس سے امن اور آرام پایا ہے۔ میں اپنے دعوےٰ کی نسبت اِس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کے انتخاب سے بھیجا گیا ہوں تا میں مغالطوں کو رفع کروں اور پیچیدہ مسائل کو صاف کردوں اور اسلام کی روشنی دُوسری قوموں کو دکھلاؤں اور یاد رہے کہ جیسا کہ ہمارے مخالف ایک مکروہ صورت اسلام کی دکھلا رہے ہیں۔ یہ صورت اسلام کی نہیں ہے بلکہ وہ ایسا چمکتا ہوں ہیرا ہے جس کا ہر ایک گوشہ چمک رہا ہے۔ ایک بڑے محل میں بہت سے چراغ ہوں اور کوئی چراغ کسی دریچہ


    * یہاں بھی عبارت چھوٹی ہوئی ہے۔ (مصحح)



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 485

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 485

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/485/mode/1up


    سے نظر آوے اور کوئی کسی کو نہ سے۔ یہی حال اسلام کا ہے کہ اس کی آسمانی روشنی صرف ایک ہی طرف سے نظر نہیں آتی بلکہ ہر ایک طرف سے اس کے ابدی چراغ نمایاں ہیں۔ اس کی تعلیم بجائے خود ایک چراغ ہے۔ اور اس کے ساتھ جو خدا کی نصرت کے نشان ہیں وہ ہر یک نشان چراغ ہے۔ او رجو شخص اس کی سچائی کے اظہار کے لئے خدا کی طرف سے آتا ہے وہ بھی ایک چراغ ہوتا ہے۔ میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گذرا ہے مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی کسی تعلیم کو خواہ اُس کا عقائد کا حصہ اورؔ خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔ اور یہ قول میرا اس لئے نہیں کہ میں ایک شخص مسلمان ہوں بلکہ سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ اور یہ میری گواہی بے وقت نہیں بلکہ ایسے وقت میں جبکہ

    دُنیا میں مذاہب کی کشتی شروع ہے۔ مجھے خبردی گئی ہے کہ اس کشتی میں آخر اسلام کو فتح ہے۔ میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔ زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید انجام کار عیسائی مذہب دنیا میں پھیل جائے یا بدھ مذہب تمام دنیا پر حاوی ہو جائے۔ مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ یاد رہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے۔ سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا۔ اس مذہبی جنگ میں مجھے حکم ہے کہ میں حکم کے طالبوں کو ڈراؤں۔ اور میری مثال اُس شخص کی ہے کہ جو ایک خطرناک ڈاکوؤں کے گروہ کی خبر دیتا ہے۔ جو ایک گاؤں کی



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 486

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 486

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/486/mode/1up


    غفلت کی حالت میں اس پر ڈاکہ مارنا چاہتے ہیں۔ پس جو شخص اُس کی سنتا ہے وہ اپنا مال اُن ڈاکوؤں کی دست برد سے بچا لیتا ہے۔ اور جو نہیں سنتا وہ غارت کیا جاتا (ہے)۔ ہمارے وقت میں دو قسم کے ڈاکو ہیں۔ کچھ تو باہر کی راہ سے آتے ہیں اور کچھ اندر کی راہ سے اوروہی مارا جاتا ہے جو اپنے مال کو محفوظ جگہ میں نہیں رکھتا۔ اس زمانہ میں ایمانی مال کے بچانے کے لئے محفوظ جگہ یہ ہے کہ اسلاؔ م کی خوبیوں کا علم ہو۔ اِسلام کی قوتِ رُوحانی کا علم ہو۔ اسلام کے زندہ معجزات کا علم ہو اور اُس شخص کا علم ہو جو اِسلامی بھیڑوں کے لئے بطور گلہ بان مقرر کیا جائے۔ کیونکہ پرانا بھیڑیا اب تک زندہ ہے وہ مرا نہیں ہے۔ وہ جس بھیڑ کو اُس کے چرانے والے سے دُور دیکھے گا وہ ضرور اُس کو لے جائے گا۔

    اے بندگانِ خدا ! آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب امساک باران ہوتا ہے اور ایک مُدّت تک مینہ نہیں برستا تو اس کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئیں بھی خشک ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ پس جس طرح جسمانی طور پر آسمانی پانی بھی زمین کے ہاتھوں میں جوش پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح رُوحانی طور پر جو آسمانی پانی ہے یعنی خدا کی وحی۔ وہی سفلی عقلوں کو تازگی بخشتا ہے۔ سو یہ زمانہ بھی اس رُوحانی پانی کا محتاج تھا۔

    میں اپنے دعویٰ کی نسبت اِس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں عین ضرورت کے وقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ جبکہ اس زمانہ میں بہتوں نے یہود کا رنگ پکڑا۔ اور نہ صرف تقویٰ طہارت کو چھوڑا بلکہ ان یہود کی طرح جو



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 487

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 487

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/487/mode/1up


    حضرت عیسیٰ کے وقت میں تھے سچائی کے دشمن ہوگئے تب بالمقابل خدا نے میرا نام مسیح رکھ دیا۔ نہ صرف یہ کہ میں اس زمانہ کے لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں بلکہ خود زمانہ نے مجھے بلایا ہے۔




    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 488

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- پَیغامِ صُلح: صفحہ 488

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/488/mode/1up


    (نقل اشتہار جس میں پیغام صلح کامضمون پڑھے جانے کا اعلان کیا گیا)

    ایک عظیم الشان جلسہ

    بروز اتوار بتاریخ ۲۱ ماہ جون ۱۹۰۸ ؁ء

    ٹھیک بوقت ۷ بجے صبح جس میں پنجاب یونیورسٹی ہال متصل عجائب گھر میں وہ

    پیغامِ صُلح

    پڑھا جاوے گا

    جو

    اعلیٰ حضرت والا مناقب جناب مرزا غلام احمد صاحب قدّساللّٰہ سرّہنے اپنی زندگی کے آخری دو تین دنوں میں اس ملک سے نفاق اور پھوٹ کو دُور کرنے کے لئے لکھا اِس مبارک پیغام کے مخاطب علی الخصوص ہند و معززین ملک ہیں۔

    اہل ہند میں امن اور صلح کے خواہاں ضرور تشریف لاویں۔

    الداعیان

    خان بہادر محمد شفیع بیرسٹراٹ لا۔ چوہدری نبی بخش بی اے وکیل چیف کورٹ پنجاب۔ میاں فضل حسین بی اے۔ کیمبرج یونیورسٹی بیرسٹراٹ لاو شیخ گلاب دین وکیل چیفکورٹ پنجاب۔ میاں محمد شاہنواز بی اے کیمبرج یونیورسٹی بیرسٹراٹ لا (مولوی) احمد دین بی اے۔ وکیل شیخ فضل الٰہی بیرسٹراٹ لا۔ مرزا جلال الدین بیرسٹرایٹ لا۔ شیخ محمد عبد العزیز بی اے ایڈیٹر ابزرور لاہور۔ میاں عبد العزیز بیرسٹرایٹ لا۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 489

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 489

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    انڈیکس

    روحانی خزائن جلدنمبر۲۳


    مرتبہ: مکرم نوراللہ خان صاحب

    زیر نگرانی

    سید عبدالحی

    آیات قرآنیہ ۳

    احادیث نبویہ ﷺ ۹

    الہامات و رؤیاحضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰

    مضامین ۱۱

    اسماء ۴۰

    مقامات ۵۱

    کتابیات ۵۴



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 490

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 490

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 491

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 491

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    آیات قرآنیہ

    الفاتحۃ

    الحمد للّٰہ رب العالمین (۲) ۴۴۰،۴۴۱

    الحمد للّٰہ رب العالمین۔۔۔۔ولاالضّالین(۲تا۷) ۲۰۶

    مالک یوم الدین (۴) ۲۴

    البقرۃ

    صمٌّ بکمٌ عمیٌ فھم لایرجعون۔(۱۹) ۴۸۳

    ولکم فی الارض مستقر ومتاعٌ الٰی حین۔(۳۷) ۲۲۸

    ورفعنا فوقکم الطور۔(۶۴) ۸۹

    قولُوا اٰمَنّاباللّٰہ وماانزل الینا۔۔۔(۱۳۷) ۴۷۵

    قولوا اٰمنّاباللّٰہ وماانزل الیناوماانزل الٰی ابراہیم۔۔۔(۱۳۷تا۱۳۹) ۳۷۶

    فان اٰمنوابمثل مااٰمنتم بہٖ فقداھتدوا۔۔۔(۱۳۸) ۴۷۵

    اناللّٰہ واناالیہ راجعون (۱۵۷) ۲۳،۳۰۰

    کتب علیکم اذاحضراحدکم الموت ان ترک خیراً الوصیّۃ۔۔۔(۱۸۱تا۱۸۳) ۲۱۰

    واذاسالک عبادی عنّی فانّی قریب۔۔۔(۱۸۷) ۴۷۲

    وقاتلوا فی سبیل اللّٰہ الذین یقاتلونکم۔۔۔(۱۹۱) ۲۴۳،۳۹۲

    فاذکروا اللّٰہ کذکرکم اٰباءَکم اواشدّذکراً۔(۲۰۱) ۴۷۲

    ومن الناس من یشری نفسہُ ابتغآء مرضات اللّٰہ۔۔۔(۲۰۸) ۴۷۳

    یٰایّھاالّذین اٰمنواادخلوافی السّلم کآفّۃً۔۔۔۔(۲۰۹) ۴۷۳

    ان اللّٰہ یحب التوابین ویحب المتطھّرین۔(۲۲۳) ۲۴

    نسآء کم حرث لکم فاتواحرثکم انّٰی شئتم۔(۲۲۴) ۲۹۲

    لاتجعلوااللّٰہ عرضۃًلّایمانکم۔(۲۲۵) ۴۷۳

    والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین۔۔۔ (۲۳۴) ۲۱۱

    وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن۔(۲۳۴) ۲۸۸

    فضّلنابعضھم علی بعض۔(۲۵۴) ۳۴۷

    اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔۔۔ (۲۵۶) ۱۲۰،۲۷۳

    وسع کرسیّہُ السمٰوٰت والارض ولایؤْدہ حفظھما وھوالعلی العظیم۔(۲۵۶) ۱۱۸ح

    لااکراہ فی الدین۔۔۔ (۲۵۷) ۲۳۲،۴۶۸،۴۷۲

    کمثل حبّۃ انبتت سبع سنابل فی کلّ سنبلۃ مأۃ

    حبۃ۔ (۲۶۲) ۱۷۰

    یٰایھاالذین اٰمنوالاتبطلواصدقاتکم بالمنّ والاذٰی۔۔۔(۲۶۵) ۴۷۳

    ان تبدوا الصدقات فنعمّاھی۔۔۔(۲۷۲) ۴۷۲

    الّذین ینفقون اموالھم بالّیل والنّھار سرًّا

    وّعلانیۃً۔۔۔(۲۷۵) ۴۷۲

    اٰمن الرسول بما انزل الیہ من رّبہ والمؤمنون۔۔۔(۲۸۶) ۳۷۷

    ربنالاتؤاخذناان نسینا اواخطأنا ربناولاتحمل علینا اصراً۔۔۔(۲۸۷) ۲۵

    اٰل عمران

    وقل للذین اوتوا الکتٰب والامیّین أاسلمتم۔۔۔(۲۱) ۲۴۳

    ذالک بانھم قالوالن تمسّنا النّارالاایّاماً معدودٰت۔(۲۵) ۲۴۲

    قل ان کنتم تحبّون اللّٰہ فاتّبعونی یحببکم اللّٰہ۔(۳۲) ۴۷۶

    ومکرواومکراللّٰہ واللّٰہ خیرالماکرین۔(۵۵) ۳۲،۱۱۶

    ان مثل عیسٰی عنداللّٰہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثمّ

    قال لہ کن فیکون۔(۶۰) ۲۲۷

    لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔(۶۲) ۱۸۲،۲۹۲،۲۹۵

    ومن اھل الکتٰب من ان تأمنہ بقنطار یؤدّہٖ الیک۔۔۔(۷۶) ۲۴۱

    لانفرق بین احدٍ منھم ونحن لہ مسلمون۔(۸۵) ۴۵۹

    لیسواسوآءً من اھل الکتٰب امّۃٌ قآئمۃٌ یتلون

    اٰیات اللّٰہ۔۔۔(۱۱۴،۱۱۵) ۴۷۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 492

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 492

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    یٰایّھاالذین اٰمنوالاتتّخذوابطانۃً من دونکم۔۔۔(۱۱۹) ۴۷۳،۴۷۴

    والکاظمین الغیظ والعافین عن النّاس(۱۳۵) ۳۹۵

    والذین اذافعلوافاحشۃ اوظلمواانفسھم ذکروااللّٰہ فاستغفروا لذنوبھم۔۔۔۔(۱۳۶،۱۳۷) ۲۵

    ربّنااغفرلناذنوبناواسرافنافی امرنا۔(۱۴۸) ۲۵

    لتُبلونَّ فی اموالکم وانفسکم ولتسمعُن من الّذین اوتوا الکتٰب

    من قبلکم ومن الّذین اشرکوا اذیً کثیراً۔۔۔(۱۸۷) ۱۵

    النساء

    للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون۔۔۔(۸تا۱۳) ۲۱۱،۲۱۲

    عاشروھن بالمعروف۔(۲۰) ۲۸۸

    ولاتنکحواما نکح اٰباء کم من النساء الّاماقد سلف۔۔۔(۲۳تا۲۵) ۲۴۹،۲۵۰

    واعبدوااللّٰہ ولاتشرکوابہ شیئاً وبالوالدین احساناً۔۔۔۔(۳۷) ۲۰۸

    فکیف اذاجئنا من کلّ امۃ بشھیدٍ۔(۴۲) ۹۰

    یحرفون الکلم عن مواضعہ۔(۴۷) ۸۷ح

    الم ترالی الذین یُزکُّون انفسھم۔۔۔۔(۵۰) ۴۷۴

    ان اللّٰہ یامرکم ان تؤدُّوا الامانات الٰی اھلھا۔۔۔(۵۹) ۴۷۴

    افلایتدبّرون القراٰن ولوکان من عند غیراللّٰہ

    لوجد وا فیہ اختلافاً کثیراً۔(۸۳) ۱۹۸

    من یشفع شفاعۃً حسنۃً یکن لّہٗ نصیبٌ منھا۔۔۔(۸۶) ۴۷۴

    ومن یقتل مؤمناً متعمّداً فجزآءُ ہٗ جھنّم خالداً فیھا۔۔۔(۹۴) ۴۷۴

    ولاتقولوالمن القٰی الیکم السلٰم لست مؤمناً۔(۹۵) ۴۷۴

    ومن احسن دیناً ممّن اسلم وجھہٗ لِلّٰہ۔۔۔(۱۲۶) ۴۷۴

    کان اللّٰہ بکلّ شی ءٍ محیطاً۔(۱۲۷) ۱۲۰

    والصّلح خیرٌ۔(۱۲۹) ۴۷۴

    یٰایّھاالذین اٰمنواکونوا قوّامین بالقسط شھدآء لِلّٰہ۔۔۔(۱۳۶) ۴۷۴

    یٰایّھاالذین اٰمنوااٰمنُوا باللّٰہِ ورسولہٖ والکتٰب الّذی نزّل علٰی رسولہٖ۔۔۔ (۱۳۷) ۴۷۵

    وقدنزل علیکم فی الکتٰب اَن اذاسمعتم اٰیات اللّٰہ یکفربھا ویستھزءُ بھا۔۔۔(۱۴۱) ۴۷۵

    مایفعل اللّٰہ بعذابکم ان شکرتم واٰمنتم۔۔۔(۱۴۸) ۴۷۵

    انّ الذین یکفرون باللّٰہ ورسلہٖ ویریدون ان یفرقوابین اللّٰہ ورسلہٖ۔۔۔(۱۵۱،۱۵۲) ۴۷۵

    رسلاً مبشرین ومنذرین لئلایکون للناس علی اللّٰہ حجّۃ۔۔۔(۱۶۶) ۴۷۵

    انّما المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللّٰہ وکلمتہٗ۔۔۔(۱۷۲) ۴۷۵،۴۷۶

    المائدۃ

    الیوم اکملت لکم دینکم وا تممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً۔(۴) ۸۰،۱۴۸،۴۷۶

    یٰایّھاالذین اٰمنواکونوا قوّامین لِلّٰہِ شھدآءَ بالقسط۔۔۔ (۹) ۴۷۶

    من قتل نفساً بغیرنفسٍ اوفسادًا فی الارض فکانّما قتل النّاس جمیعاً۔(۳۳) ۳۹۴

    لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجاً۔۔۔(۴۹) ۱۴۶

    وتریٰ کثیراً منھم یسارعون فی الا ثم۔۔۔(۶۳،۶۴) ۲۳۹

    قل یٰاھل الکتٰب لستم علٰی شی ءٍ حتّٰی تقیموا

    التوراۃ والانجیل۔۔۔(۶۹) ۲۳۹

    یٰایھاالذین اٰمنواانّما الخمرو المیسروالانصاب والازلام رجسٌ من عمل الشیطٰن۔۔۔(۹۱) ۴۷۶

    فلماتوفّیتنی کنت انت الرقیب علیھم۔(۱۱۸) ۲۲۹

    الانعام

    سبحانہٗ وتعالی عمّایصفون۔(۱۰۱) ۱۸۹

    لاتدرکہ الابصاروھویُدرک الابصار۔(۱۰۴) ۹۷،۴۳۰،۴۳۴

    لاتسبّوا الذین یدعون من دون اللہ۔۔۔(۱۰۹) ۴۶۰

    اللّٰہ اعلم حیث یجعل رسالتہٗ(۱۲۵) ۴۸۳

    قل انَّ صلا تی ونسکی ومحیای ومماتی لِلّٰہ ربّ العٰلمین۔(۱۶۳) ۳۰۰،۴۷۶



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 493

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 493

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    الاعراف

    فیھاتحیون وفیھاتموتون ومنھا تخرجون۔(۲۶) ۲۲۸

    انّ ربکم الذی خلق السمٰوٰت والارض فی ستّۃ ایّام ثم استویٰ علی العرش۔(۵۵) ۱۱۹،۲۷۴،۲۷۶

    وھوالذی یرسل الرّیاح بشراً بین یدی رحمتہٖ۔۔۔(۵۸،۵۹) ۴۷۶

    ربّنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔(۹۰) ۲

    وماارسلنا فی قریۃٍٍ من نبیٍّ الااخذنا اھلھا بالباسآءِ۔۔۔(۹۵) ۴۷۶

    ثم بدلنامکان السیّءۃ الحسنۃ حتّٰی عفواوّقالواقدمسّ اٰبآء ناالضّرّاء۔۔۔(۹۶) ۴۷۷

    ولوانّ اھل القُرٰی اٰمنوا واتّقوا لفتحناعلیھم برکٰت من السّمآء والارض۔۔۔(۹۷) ۴۷۷

    افامن اھل القرٰی ان یاتیھم باسنا بیاتاً وھم نآئمون۔۔۔(۹۸،۹۹) ۴۷۷

    عذابی اصیب بہ من اشاء ورحمتی وسعت کل

    شی ء۔(۱۵۷) ۲۵

    یامرھم بالمعروف وینھٰھم عن المنکر۔۔۔(۱۵۸) ۴۷۷

    قل یٰایّھاالنّاس انّی رسول اللّٰہ الیکم جمیعاًً۔(۱۵۹) ۷۶،۷۷،۳۸۸،۳۹۵،۴۶۹،۴۷۸

    والذین یمسّکون بالکتٰب واقاموا الصلٰوۃ۔۔۔(۱۷۱) ۴۷۸

    الست بربّکم قالوا بلٰی۔(۱۷۳) ۱۶۷،۴۷۸

    اولٰئک کالانعام بل ھم اضلّ(۱۸۰) ۴۲۴

    الانفال

    ان اللّٰہ یحول بین المرء وقلبہ۔(۲۵) ۹۷

    یٰایّھاالذین اٰمنواان تتقوااللّٰہ یجعل لکم فرقاناً۔۔۔(۳۰) ۴۱۰،۴۷۸

    واذیمکربک الذین کفروالیثبتوک اویقتلوک اویخرجوک۔۔۔(۳۱) ۲۳۴

    ان اولیآءُ ہٗ الاالمتّقون۔(۳۵) ۴۷۸

    وان جنحواللسلم فاجنح لھا۔۔۔(۶۲) ۳۹۴،۴۷۹ح

    وان یریدوا ان یخدعوک فانّ حسبک اللّٰہ۔۔۔(۶۳) ۴۷۹ح

    التوبۃ

    وان احدمن المشرکین استجارک فاجرہٗ۔۔۔(۶) ۲۳۳،۳۹۳

    اَلاتقاتلون قوماًنکثوا ایمانھم۔۔۔(۱۳)

    ۳۹۴،۴۷۸،۴۷۹

    قل ان کان اٰبآءُ کم وابناء کم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم واموال اقترفتموھا۔۔۔(۲۴) ۴۷۹

    قاتلوا الذین لایؤمنون باللّٰہ ولابالیوم الاٰخر۔۔۔(۲۹) ۲۳۸

    یٰایّھاالذین اٰمنواان کثیراً من الاحبار والرھبان۔۔۔(۳۴) ۲۴۱

    ان عدّۃ الشھور۔۔۔(۳۶) ۲۳۸

    وصلّ علیھم انّ صلٰوتک سکنٌ لھُم۔(۱۰۳) ۴۷۹

    التّائبوُن العابدون الحامدون السّائحون الرّاکعون السّاجدون الاٰمرون بالمعروف والنّاھُون عن المنکر۔(۱۱۲) ۴۷۹

    والحافظون لحدوداللّٰہ وبشرالمؤمنین۔(۱۱۲) ۴۸۰

    یونس

    لھم البشریٰ فی الحیٰوۃ الدنیا۔(۶۵) ۱۸۸ح،۴۱۰،۴۲۳

    ھود

    واستوت علی الجودی۔(۴۵) ۱۱۹

    الرعد

    اللّٰہ الذی رفع السمٰوٰت بغیر عمدترونھاثم

    استویٰ علَی العرش۔(۳) ۲۷۷

    ان اللّٰہ لایغیرمابقومٍٍ حتّٰی یغیروامابانفسھم۔(۱۲) ۴۰۴

    الابذکراللّٰہ تطمئن القلوب۔(۲۹) ۴۸۳

    النحل

    فاسئلوااھل الذکران کنتم لاتعلمون۔(۴۴) ۸۳ح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 494

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 494

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    ان اللّٰہ یامربالعدل والاحسان وایتاءِ ذی القربٰی۔۔۔(۹۱) ۳۸۸

    بنی اسرائیل

    وقضٰی ربک الاتعبدواالاایاہ وبالوالدین احساناً۔۔۔۔(۲۴،۲۵) ۲۰۹،۲۱۰

    من کان فی ھٰذہٖ اعمٰی فھو فی الاٰخرۃ اعمٰی(۷۳) ۴۱۶،۴۷۶

    یسئلونک عن الروح قل الروح من امرربّی ومااوتیتم من العلم الا قلیلاً۔(۸۶) ۱۵۹،۱۶۴

    قل سبحان ربی ھل کنت الابشراًًرسولاً۔(۹۴) ۲۲۸

    الکھف

    وترکنابعضھم یومئذٍیموج فی بعض ونفخ فی الصورفجمعنا ھم جمعاً۔(۱۰۰) ۷۵ح

    وعرضناجہنم یومئذٍللکافرین عرضاً۔(۱۰۱) ۸۴

    الذین کانت اعینھم فی غطاء عن ذکری وکانوالایستطیعون سمعاً۔(۱۰۲) ۸۵

    طٰہٰ

    الرحمٰن علی العرش استوٰی۔(۶) ۲۷۷

    والسلام علٰی من اتبع الھدٰی۔(۴۸) ۴،۸،۴۳۶

    انہ من یأت ربّہ مجرماًفانّ لہ جھنّم لایموت فیھاولایحيٰ(۷۵) ۱۶۶

    الانبیاء

    انّ ھٰذہ امّتکم امۃً واحدۃً واناربّکم فاعبدون۔(۹۳) ۱۴۵

    وھم من کلّ حدب ینسلون۔(۹۷) ۸۴ح،۸۶ح

    وماارسلنٰک الارحمۃ للعالمین۔(۱۰۸) ۷۶،۳۸۸

    الحج

    لن ینال اللّٰہ لحومھاولادماء ھاولٰکن ینالہ التقویٰ منکم۔(۳۸) ۹۹ح،۴۷۲

    ان اللّٰہ یدافع عن الذین اٰمنوا۔۔۔۔(۳۹،۴۰) ۳۹۱

    اذن للّذین یقاتلون بانّھم ظلمواوانّ اللّٰہ علٰی نصرھم لقدیر۔(۴۰) ۲۰۴،۲۳۴

    ولولادفع اللّٰہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع۔۔۔۔(۴۱) ۳۹۳

    المومنون

    ثمّ انشاناہ خلقاً اٰخرفتبارک اللّٰہ احسن الخالقین۔(۱۵) ۱۲۴،۱۶۴

    سبحان اللّٰہ عمّایصفون۔(۹۲) ۳۶

    النّور

    ولیعفواولیصفحوا الاتحبون ان یغفر اللّٰہ لکم

    واللّٰہ غفوررحیم۔(۲۳) ۳۸۷

    اللّٰہ نورالسمٰوٰت والارض۔(۳۶) ۹۷،۱۲۰

    الفرقان

    لیکون للعالمین نذیراً۔(۲) ۷۶

    خلق کلّ شی ءٍ فقدرہٗ تقدیرا۔(۳) ۱۷،۱۸،۱۶۵

    یاکل الطعام ویمشی فی الاسواق۔(۸) ۲۹۷ح

    الشعراء

    وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکافرین۔(۲۰) ۳۴۷

    النمل

    صرحٌ ممردٌمن قواریر۔(۴۵) ۲۹۰

    وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض۔۔۔ (۴۹تا۵۴) ۲۰۱

    ومکروامکراًومکرنامکراًوھم لایشعرون۔(۵۱) ۲۰۰

    القصص

    کلّ شی ءٍ ھالک الا وجھہ۔(۸۹) ۱۶۵

    العنکبوت

    ولذکراللّٰہ اکبر۔(۴۶) ۴۸۳

    وکذالک انزلناالیک الکتٰب فالذین اٰتینٰھم الکتٰب یومنون بہ۔۔۔(۴۸تا۵۰) ۲۶۵

    والذین جاھدوافینالنھدینھم سبلنا۔(۷۰) ۴۲۵،۴۲۶



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 495

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 495

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    الروم

    اآمّغلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد

    غلبھم سیغلبون۔۔۔(۲تا۵) ۸۶،۸۶ح،۳۲۰

    ظھرالفساد فی البرّوالبحر۔(۴۲) ۱۴۷،۳۷۹،۴۶۲

    حقًّاعلینا نصرالمؤمنین۔(۴۸) ۳۴

    الاحزاب

    من المؤمنین رجال صدقواماعاھدوا اللّٰہ فمنھم

    من قضٰی نحبہٗ ومنھم من ینتظر۔۔۔(۲۴) ۲۳۸

    وداعیاً الی اللّٰہ باذنہٖ وسراجاً منیراً۔(۴۷) ۴۸۳

    ان اللّٰہ وملائکتہ یصلون علی النبیّ یاایّھا الذین اٰمنواصلّواعلیہ وسلّمواتسلیماً۔(۵۷) ۳۰۲

    سبا

    وحیل بینھم وبین مایشتھون۔(۵۵) ۴۸۱

    فاطر

    وان من امّۃ الاخلافیھا نذیر۔۔۔(۲۵) ۹۰،۳۷۶،۴۴۲

    فمنھم ظالمٌ لنفسہٖ ومنھم مقتصد۔۔۔(۳۳) ۴۲۴

    یٰسٓ

    یاحسرۃ علی العباد مایأتیھم من رسولٍ

    الاکانوابہ یستھزء ون۔(۳۱) ۳۳۴

    انّماامرہ اذاارادشیءًا ان یقول لہ کن فیکون۔(۸۳) ۲۲۲

    الصّٰفّٰت

    فاتبعہٗ شھاب ثاقب۔(۱۱) ۸۵ح

    الزمر

    خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھازوجھا۔۔۔(۷) ۲۲۴

    اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا۔۔۔(۴۳) ۱۶۲

    قل یاعبادی الذین اسرفواعلٰی انفسھم لاتقنطوامن رحمۃ اللّٰہ۔۔۔(۵۴) ۲۶

    المومن

    یلقی الروح من امرہ علٰی من یشاء من عبادہٖ۔(۱۶) ۱۸۸ح

    ان یّک کاذباًفعلیہ کذبہ وان یک صادقاًیصبکم بعض الذی یعدکم۔(۲۹) ۳

    منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک۔۔۔(۷۹) ۳۸۲

    حٰمٓ السجدۃ

    ادفع بالتی ھی احسن۔۔۔(۳۵) ۳۹۵

    لاتسجدواللشمس ولاللقمرواسجدوا للّٰہ الذی خلقھن۔(۳۸) ۷۸،۲۶۹،۴۵۴

    الشوریٰ

    لیس کمثلہ شی ءٌ وھوالسمیع البصیر۔(۱۲) ۴۷،۲۷۳،۲۷۶

    وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہٖ ویعفواعن السیّءٰات۔(۲۶) ۲۴

    مااصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفوا

    عن کثیر۔(۳۱) ۲۳،۲۴

    جزاء سیّءۃٍ سیّءۃ مثلھا۔۔۔(۴۱) ۲۶۷،۴۱۳،۴۷۱،۴۸۴

    ولمن انتصر بعدظلمہ فاولٰئک ماعلیھم من سبیل۔(۴۲) ۵

    الزخرف

    ھوالذی فی السماء الٰہ وفی الارض الٰہ۔(۸۵) ۹۷،۱۲۰

    الاحقاف

    ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً۔۔۔(۱۶) ۲۰۹ح

    محمد

    مثل الجنّۃ التی وعدالمتقون۔(۱۶) ۴۸۲

    الحجرات

    یٰایھاالناس اناخلقناکم من ذکروانثیٰ وجعلنٰکم شعوباً وقبائل لتعارفوا۔(۱۴) ۱۴۶

    قالت الاعراب اٰمناقل لم تومنوا۔۔۔(۱۵) ۲۳۵

    آ

    ونحن اقرب الیہ من حبل الورید۔(۱۷) ۹۷،۱۲۰



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 496

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 496

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    ومامسنامن لُّغوبٍ۔(۳۹) ۲۲۳

    الذّٰریٰت

    وفی انفسکم افلا تبصرون۔(۲۲) ۱۶۶

    القمر

    اقتربت السّاعۃ وانشقّ القمر۔۔۔(۲،۳) ۴۱۱

    الرحمٰن

    کلّ من علیھافانٍ ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔(۲۷،۲۸) ۹۷،۱۶۵

    الحدید

    لہ ملک السمٰوٰت والارض۔(۳) ۱۷

    ھوالاوّل والاٰخروالظاھروالباطن۔(۴) ۱۱۹

    وھومعکم این ماکنتم۔(۵) ۱۱۹

    اعلموا ان اللّٰہ یحي الارض بعد موتھا۔(۱۸) ۲۶۷

    المجادلۃ

    مایکون من نجوٰی ثلٰثہٍ الاھورابعھم ولاخمسۃٍ الاھوسادسھم۔(۸) ۹۷ح،۱۲۰

    وایّدھم بروحٍ منہٗ(۲۳) ۴۱۰

    الحشر

    فاعتبروایٰاولی الابصار۔(۳) ۳۲۴

    الممتحنۃ

    لاینھٰکُمُ اللّٰہ عن الذین لم یقا تلوکم فی الدین۔۔۔(۹) ۳۹۳

    الصف

    یٰایّھاالذین اٰمنوالِمَ تقولون مالا تفعلون۔۔۔(۳،۴) ۴۸۰

    ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلّہ۔(۱۰) ۹۱

    القیامۃ

    فاذابرق البصر۔(۸) ۳۶۱ح

    وجمع الشمس والقمر۔(۱۰) ۳۲۱ح

    یقول الانسان یومئذٍاین المفرکلالاوزر۔(۱۱،۱۲) ۳۲۱ح

    الدھر

    اناخلقناالانسان من نطفۃ امشاجٍ(۳) ۱۲۴

    المرسلٰت

    الم نجعل الارض کفا تاً احیاءً وامواتاً۔(۲۶،۲۷) ۲۲۸

    التکویر

    واذاالجبال سیّرت۔(۴) ۳۲۳

    واذاالعشار عطّلت۔(۵) ۸۱،۸۲ح،۳۲۱

    واذاالنفوس زوّجت۔(۸) ۸۱،۳۲۲

    واذاالصحف نشرت۔(۱۱) ۳۲۲

    الانفطار

    واذاالبحارفجّرت۔(۴) ۳۲۳

    الطارق

    والسماء ذات الرجع والارض ذات الصدع

    انہٗ لقول فصل وماھوبالھزل۔(۱۲تا۱۵) ۱۰۲

    البلد

    فک رقبۃ۔(۱۴) ۲۵۳ح

    الشمس

    والشمس وضحٰھاوالقمراذاتلٰھا۔(۲،۳) ۲۹۰

    قدافلح من زکّٰھا۔۔۔(۱۰،۱۱) ۴۷۶،۴۸۲

    الزلزال

    ومن یعمل مثقال ذرۃٍ شرّایرہٗ۔(۹) ۲۴

    الھمزۃ

    ناراللّٰہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ(۷،۸) ۶۲



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 497

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 497

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اخرجت عبادًالی لایدان لقتالھم لاحدٍفاحرز

    عبادی الی الطور ۳۹۷

    الاٰیاتُ بعد المائتین ۳۳۳

    امامکم منکم۔ ۲

    رجل من اُمتی۔ ۲ح

    سبحان ربّی الاعلٰی سبحان ربی العظیم۔ ۳۴۹

    کان فی الھندنبیًّااسودَ اللّون اسمہٗ کاھِنَا۔ ۳۸۲

    لامھدی الاعیسٰی۔ ۲ح

    من عرف نفسہٗ فقدعرف ربّہٗ۔ ۱۶۶

    ویترک القلاص فلایسعٰی علیھا۔ ۸۱ح،۸۲ح،۳۲۱

    یضع الحرب۔ ۹۳،۳۹۵

    یکسرالصلیب ۸۶ح

    احادیث بالمعنی

    حجراسود کے بہشتی پتھر ہونے کی روایات استعارہ کے رنگ میں ہیں ۹۹

    آنحضرت ؐ کی پیٹھ پر چٹائی کے نشان دیکھ کر حضرت عمرؓ کے

    رونے پر آپؐ اور حضرت عمرؓ کی گفتگو ۳۰۰

    آنحضرتؐ کاجنگ کے دوران زخمی ہونے والی انگلی سے خطاب ۲۹۹

    مہدی کی نسبت حدیث کے چار اقوال

    ۱۔ سادات میں سے ہونا۔۲۔قریش میں سے ہونا۔

    ۳۔امت میں سے ایک مرد۔۴۔عیسیٰ کاہی مہدی ہونا ۲ح

    علامات مسیح ومہدی موعودکی نسبت احادیث

    رمضان میں کسوف و خسوف ہونا ۳۲۹

    مہدی کے وقت میں دو مرتبہ کسوف وخسوف کا واقع ہونا ۳۲۹ح

    ملک میں طاعون کا پھیلنا ۳۲۹

    ذوالسنین(دنبالہ دار) ستارہ کا نکلنا ۳۳۰ح

    مسیح موعود کے ظہور کے وقت دجّال کا مکہ معظمہ کے سوا تمام

    زمین پر غلبہ ہونا ۸۶ح

    مسیح موعود کے ظہور کے وقت یاجوج وماجوج کا دنیامیں

    پھیل جانا ۸۵ح

    مسیح موعود کے ظہور کے وقت عیسائی اقوام کا غلبہ ہونا ۸۶ح

    مسیح موعود کے ظہور کے وقت رومی عیسائیوں کی کثرت اور

    قوت میں ہونا ۸۶ح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 498

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 498

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اذاجاء نصراللّٰہ والفتح۔۔۔ ۴۰۵

    القیتُ علیک محبّۃ منّی۔۔۔ ۴۰۵

    الیس ھٰذابالحقّ۔ ۴۰۵

    انت منّی بمنزلۃ روحی۔ ۴۳۶

    انت منّی بمنزلۃ النّجم الثّاقب۔ ۷،۴۲۷ح،۴۳۶

    ان الذین صدّواعن سبیل اللّٰہ ردَّعلیھم رجلٌ

    من فارس۔۔۔ ۳۳۱ح

    انک انت المجاز ۳۳۸

    انھم ماصنعواھوکیدساحر ولایفلح الساحر

    حیث اتٰی۔ ۷،۴۳۶

    اِنّی احافظ کل من فی الدّار۔ ۴۰۴

    اِنّی جاعلک للناس اماماً۔ ۴۰۵

    اِنّی مع الرسول اقوم۔۔۔ ۴۰۴

    جاء الحقّ وزھق الباطل۔ ۴۳۶

    خذواالتّوحیدالتوحید یا ابناء الفارس۔ ۳۳۱ح

    شکراللّٰہ سعیَہٗ۔ ۳۳۱ح

    عجل جسدلہٗ خوار۔ ۱۸۲ح

    قلنایانارکونی بردًاوّسلاماً۔ ۴۰۹

    لوکان الایمان معلّقاًبالثریالنالَہٗ رجلٌ من فارس۔ ۳۳۱ح

    لولاالاکرام لھلک المقام۔ ۴۰۴

    من ذاالذی یشفع عندہٗ الّا باذنہٖ۔ ۳۳۸

    وافطرُواصوم۔ ۴۰۴

    ولاتصعّرلخلق اللہ۔۔۔ ۴۰۵

    ولن ابرح الارض الی الوقت المعلوم۔ ۴۰۴

    یاتون من کل فجّ عمیق۔۔۔ ۴۰۵

    ینصرک رجالٌ نوحی الیھم من السماء۔ ۴۰۵

    اردو الہام

    دنیا میں ایک نذیر آیا۔۔۔ ۳،۳۹۸

    میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔۔۔ ۳۹۸

    اے سیف اپنا رخ اس طرف پھیرلے ۳۳۹

    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے فرزند عبدالحی کی پیدائش کے

    متعلق الہام ’’ایک لڑکا پیدا ہوگا‘‘۔ ۳۳۷

    آپ کے کشوف ورؤیا

    آپ ؑ کو ایک کشف میں حاذق اطباء کی کتب (خاص کر حکیم قرشی کی کتاب) دکھایاجانا ۱۰۳

    عالم کشف میں خدائے ذوالجلال کی تمثلاً رؤیت (سرخی کے چھینٹوں والا واقعہ) ۴۳۲

    لالہ بشمبرداس اور خوشحال چند کے مقدمہ کے متعلق ایک رؤیا ۴۰۷



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 499

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 499

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    11

    مقامات

    آ، ا،ب

    آباہن

    ایک منتر جس سے نئے بت شدھ کرکے قابلِ عبادت

    بنائے جاتے ہیں ۳۸

    آریہ

    آریوں کی ابتداء ۵

    آریوں کے مسلمہ عقائد ۱۷۸تا۱۸۲

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ شق القمر کا معجزہ

    خلاف قانون قدرت ہے ۲۳۲

    آریوں کا نبوت کو اپنے تک محدود رکھنے کے عقیدہ کا ردّ ۴۴۱

    یہ عملاً مرد اور عورت کی مساوات کے قائل نہیں ۲۸۷

    آریہ فاضلوں کاخیال کہ کوہ ہمالیہ کے پرے آبادی نہیں ۴۴۹

    یہ لوگ تمام برگزیدہ نبیوں کے دشمن ہیں ۱۱

    ہندووں میں ناستک مت(دہریہ) کے پیرووں کی

    کثرت کی وجہ ۴۳۴

    آریوں کے قرآن کریم پر اعتراضات کے جوابات ۲۱۹تا۳۰۴

    آریوں کی طرف سے جلسہ منعقدہ ۱۹۰۷ء میں شمولیت

    کی درخواست اور وعدہ خلافی ۶تا۸،۱۰

    آریوں کو صحیح تعلیم کو اختیار کرنے کی نصیحت ۳۷

    ان کو اہل اسلام سے صلح کی دعوت اور اس کی شرائط ۴۵۵

    آریہ پنڈت لیکھرام کی دعائے مباہلہ اور اس کی ہلاکت ۵

    مسیح موعود ؑ کا آریوں کو لیکھرام والی پیشگوئی سے تسلی نہ ہونے کی صورت میں اور کوئی ذریعہ تسلی پیدا ہونے کی تجویز ۲۳۱

    بعض آریوں کی گورنمنٹ کے خلاف سازش ۱۱۷

    روح کے متعلق نظریات

    اللہ کو ارواح کا خالق نہ ماننے سے آریوں کے عقائد میں فساد ۳۵

    ان کے عقیدہ کی رو سے ارواح انادی اور قدیم ہیں ۱۶۸

    آریوں کے اس عقیدہ کا ردّ کہ روح انادی اور قدیم ہے ۱۲۸

    روح کے مخلوق نہ ماننے کی وجہ سے آریوں کو دائمی نجات

    سے انکار کرنا پڑا ہے ۳۱

    دیانند کا روح کے انسانی جسم میں حلول کے متعلق عقیدہ ۱۱۵،۱۲۲

    ان کے عقیدہ کی رو سے ارواح مع جملہ صفات کے ازلی اور

    غیر مخلوق ہیں ۲۲

    روح کو ازلی ماننے سے خدا کی صفات کا انکار مستلزم ہے ۲۰۴

    آریہ اور ہستی باری تعالیٰ

    اللہ تعالیٰ کے متعلق آریوں کے نظریات ۱۴

    آریوں کے عقائد کی رو سے پرمیشر کی صفات اور ان کا ردّ ۵۸

    آریوں کے اصول کی رو سے پرمیشر مالک نہیں ٹھہرسکتا ۳۲

    آریوں کے خدا تعالیٰ سے متعلق عقائد سے قانون قدرت

    کی حیثیت باقی نہیں رہتی ۱۰۳

    آریہ مذہب خدا کے قانون قدرت کے مخالف ہے ۳۴۳

    ان کے عقیدہ کی روسے پرمیشر روح اور مادہ کا مالک

    ثابت نہیں ہوتا ۱۶

    صفت تکلّم کو بند کردینے کے نقصانات (آریوں کے لئے) ۱۸۸

    ارواح اور پرمیشر میں خالق و مخلوق کا تعلق نہ سمجھنے کے نتائج ۵۶

    آریوں کا پرمیشر ایک مجسٹریٹ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا

    جو جرم اور عدم جرم کی بناء پر سزادیتا ہے ۲۶

    پرمیشر کسی کا گناہ نہیں بخش سکتا ۲۶،۵۸

    ایک آریہ بجز معاوضہ کے کسی پر رحم نہیں کرسکتا کیونکہ یہ

    صفت اس کے پرمیشر میں موجود نہیں ۲۰۹

    آریہ اور نجات

    آریوں کا نجات دائمی کے متعلق عقیدہ ۲۹،۳۰

    مکتی خانہ سے نکالے جانے والوں کو بحیثیت انسان

    زمین میں دوبارہ بھیجے جانے کے عقیدہ کا ردّ ۶۰،۶۱



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 500

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 500

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    12

    وید کی مکتی کے لئے انسان کے گناہ سے بالکل پاک ہونے

    کی شرط غیر ممکن ہے ۵۱

    مکتی خانہ سے نجات یافتہ لوگوں کو باہر نکالنے کے لئے

    پرمیشر کی تدبیر ۵۳

    آریوں کا پرمیشر دائمی مکتی نہیں دے سکتا ۲۶

    پرمیشر باوجود مالک کہلانے کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا

    اپنے زوربازو سے کوئی نجات پاوے تو پاوے ۵۸

    مکتی کی بناء محال امر پر رکھنا الہٰی کتاب کی شان کے

    مناسب نہیں ۵۲

    آواگون کی رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ جاودانی مکتی غیر ممکن ہے ۱۲۳

    آریہ اور سنسکرت

    آریوں کا عقیدہ کہ ابتدا میں خدانے انسان کو سنسکرت سکھائی ۷۳

    آریوں کے نزدیک سنسکرت الہام کے لئے خاص کیاجانا ۴۴۱

    اس عقیدہ کی تردید کہ خدا صرف سنسکرت میں کلام کرتا ہے ۴۴۸

    سنسکرت متروک الاستعمال اور مردہ زبان ہے ۱۵۴،۲۱۷

    گناہ اور اسکی سزا کے متعلق آریوں کے عقائد اور انکا ردّ ۲۹تا۳۲

    ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں

    سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے ۲۶

    آریہ اورالہام

    الہام کے متعلق آریوں کا عقیدہ ۶۶

    آریوں کے اصول کی رو سے الہام ناممکن ہے ۳۷۴

    آریوں کے نزدیک الہامی کتاب کی صفات ۱۳۴

    ان کا عقیدہ کہ کروڑہاکروڑ برس سے خدا نے کلام نہیں

    کیا۔ کے دونقصانات ۱۸۸

    آریہ خدا کے الہام کو ہرگز ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ اُنکے عقیدہ کی رو سے صرف وید کے رشیوں کو الہام ہوا تھا اس کے بعد بند ہے ۶۷

    آریوں کے اس خیال کا ردّ کہ الہام کا دروازہ بند ہے ۴۴۷

    وحی یعنی خدا کے کلام کا مع الفاظ کسی پر نزول سے آریہ سماج والے بالکل بے خبر ہیں ۷۴ح

    آریوں کا وحی والہام کو اپنے تک محدود رکھنے کے عقیدہ کا ردّ ۴۴۱

    مسیح موعود ؑ کا آریوں کے متعلق عربی الہام ۷

    آواگون (نیز دیکھئے عنوان تناسخ)

    آواگون کا دھوکہ دینے والا طریق ۲۵۱

    اس کی رو سے تمام حیوانی مخلوقات کو انسان، جاودانی مکتی

    غیرممکن، توبہ کا قبول نہ ہونا اورروحوں کو غیرمخلوق اور

    انادی ماننا پڑتا ہے ۱۲۳

    اتفاق

    اتفاق کی برکات وفوائد ۴۴۳

    ایک دوسرے کے نبی یا رشی کو بدزبانی سے یادکرنے والی

    اقوام میں اتفاق ممکن نہیں ۴۵۲

    احیائے موتیٰ

    مسیح موعود ؑ کے لئے احیائے موتیٰ کے نشان کی صحیح صورت ۴

    استغفار

    قرآن کریم میں استغفار کی تعلیم ۲۴،۲۵

    اسلام ۱۵،۹۷،۱۳۶،۱۸۸،۱۹۰،۲۲۸،۲۳۳،۲۳۵،

    ۲۳۸،۲۷۰،۲۷۱،۲۹۲

    مذہب اسلام کا خلاصہ ۴۵۹

    اسلام پاک اور صلح کار مذہب ۴۵۹

    زندہ مذہب صرف اسلام ہے ۴۲۸

    سورۃ نور میں مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدۂ خلافت اور

    اس کی برکات ۳۳۳ح

    بابا نانک کو الہام میں بتایا جانا کہ اسلام سچا ہے ۴۴۵

    اسلام کا مقصد

    خداکی توحید اورجلال کازمین پر قیام، شرک کا استیصال

    اور متفرق قوموں کو ایک قوم بنانا ۴۶۹

    اسلام وحدت اقوام کے لئے آیا ہے ۹۰

    اسلام کی خصوصیات

    اسلام میں معمولی مذاہب سے زیادہ کیابات ہے؟ ۳۱۱تا۳۴۴

    صرف اسلام ہی کے ذریعہ خدا کی ہستی کا ظہور اور شناخت

    ہو سکتی ہے ۳۱۴۳۱۲،۳۲۴،۴۲۸



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 501

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 501

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    13

    اسلام ہی زندہ نشانوں کی چھری سے دہریت کے بھوت

    کو ذبح کرتا ہے ۳۱۳

    روحانی مدد قدم بقدم اسلام کے ساتھ ہے ۳۱۲

    بجز اسلام نبوت کا سمجھنا اور معجزات کا ممکنات میں سے

    ہونا محال تھا ۳۸۱

    مسیح موعود ؑ کے ذریعے نشانات کے ظہور کا اصل مقصد دنیا

    پر محبت اسلام قائم کرنا ہے ۳۳۰

    اسلام کی تعلیمات

    عفو اور احسان کی اسلامی تعلیم کا عیسائیت کی تعلیم

    سے موازنہ ۳۸۷تا۳۸۹،۴۱۳

    اسلام مخلوق کی نوعی قدامت کا قائل ہے ۱۸۵

    اسلام کی تعلیم اور وید ۳۷۲

    اسلامی تعلیم کا وید کی تعلیم میں موجود ہونا ۴۴۵

    اسلام اور غلامی ۲۵۲،۲۵۴

    لونڈیوں سے نکاح پر اعتراض کا جواب ۲۵۲

    اس اعتراض کا جواب کہ اسلام میں قریبی رشتہ داروں میں نکاح کرنا جائز ہے ۲۴۹

    تعدد ازدواج کے احکامات پر اعتراضات کا جواب ۲۴۴،۲۴۹

    اسلام میں عورتوں کی عزت اورحقوق کا تحفظ ۲۸۸

    غیر قوموں سے ہمدردی اور احترام کے متعلق اسلام کی تعلیم ۳۸۷

    احسان سے پیش آنا دین کی وصایا میں سے ایک وصیت ہے ۴۵۸

    اسلام اور جبر

    دین اسلام میں جبر نہیں ۴۶۸

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ اسلام بزورشمشیر

    پھیلا ہے ۲۳۲

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا؟ ۴۶۴،۴۶۸

    ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر کفار کے مظالم کی تفصیل

    ایک ہندو کے قلم سے ۲۵۵تا۲۶۴

    اسلام پر جبر کا الزام لگانے والوں کے لئے سوچنے والی دوباتیں ۲۳۶،۴۶۵،۴۶۸

    اسلام میں جہاد کی تعلیم کی صحیح صورت ۳۹۰تا۳۹۷

    ابتدائے اسلام میں اہل کتاب یا کفار کو سزائیں

    دینے کی وجہ ۲۴۰،۲۴۲،۲۴۳

    کفار عرب کے لئے اسلام لانے کی شرط بطور رعایت تھی

    نہ بطور جبر ۲۳۴،۳۹۶

    اسلام عیسائیوں کے گرجاؤں اوریہودیوں کے معبدوں کا

    ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا ہے ۳۹۴

    موجودہ زمانہ میں اسلام کا حال

    اسلام پر اندرونی اور بیرونی مصائب کی تفصیل ۳۲۴تا۳۲۷

    مسلمانوں کی عملی اور اعتقادی حالت اور منکرین حدیث کا فتنہ ۳۲۵

    پیروں سجادہ نشینوں اور علماء کی حالت ۳۲۶

    مسلمانوں کے امیر طبقہ کی دینی حالت ۳۲۷

    اہل اسلام میں ارتداد کی وباء ۳۲۷

    عیسائیت کی طرف سے اسلام کی کی گئی توہین ۹۴

    اسلام کے اکثر امراء کا مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے بدترحال اورسلام کا جواب نہ دینا ۳۲۷

    اسلام کا مستقبل

    اسلام کو ازسرنوتازہ کرنے کے لئے خدا کا ارادہ ۳۳۹

    اسلام کے عالمگیر غلبہ کا زمانہ اور اس کیلئے تین ضروری امور ۹۱تا۹۳

    دنیا میں اسلام کی فتح کا نقارہ بجانے کے لئے آسمانی جوش ۹۵

    بموجب نص صریح قرآن شریف کے اسلام کا دَور دنیا کے آخری دنوں تک ہے ۳۳۳ح

    اہل اسلام اور ہندومذہب

    مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے آریوں اور ہندوؤں کو

    اہلِ اسلام سے صلح کی دعوت اور اس کی شرائط ۴۵۵

    ایک سچے مسلمان سے صلح کرنے کی واحد صورت ۴۵۲

    مسلمانوں کو ہندوؤں سے سچی ہمدردی اورمروّت کی تلقین ۴۵۸



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 502

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 502

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/502/mode/1up

    14

    مسلمانوں کی آنحضرت ﷺ کے لئے غیرت اور احترام ۴۶۱

    بابانانک کی اسلام کی صداقت پر گواہی ۲۱۶

    اشتہارات(اس جلدمیں موجود اشتہارات)

    اشتہار ’’قابل توجہ ناظرین‘‘ ۳۶۹تا۳۷۲

    پیغام صلح کے مضمون کے پڑھا جانے کے اشتہار کی نقل ۴۸۸

    آریوں کی طرف سے مذہبی جلسہ کے اشتہار کی اشاعت ۶

    شریر دشمن کا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے بیٹے کی وفات

    پر خوشی کا اشتہار ۳۳۷

    اعتراضات

    منکرکو تہذیب اورشرافت کے ساتھ اعتراض کا حق حاصل ہے ۳۷۰

    قرآن کریم پر اعتراضات کے جوابات (دیکھئے عنوان قرآن کریم)

    آنحضرت ؐ پراعتراضات کے جوابات(دیکھئے اسماء میں حضرت محمد ؐ)

    افتراء

    انسان کے افتراء میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑہا لوگوں کو

    اپنی طرف کھینچ لے ۴۵۳

    مفتری کو قبولیت فی الارض حاصل نہیں ہوتی ۳۷۹

    القاء

    القاء اور اس کی دو قسمیں

    ۱۔نیکی کا القاء۔۲۔بدی کا القاء ۲۹۴

    اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ

    اللہ تعالیٰ محدود المکان نہیں۔ قرآنی شواہد ۹۷

    خدا کی معرفت وشناخت کا صحیح طریق ۴۳۴

    بجزخدا کے کسی کے لئے قدامتِ شخصی نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے ۱۸۵

    اللہ کے عرش سے مراد اس کا مرتبہ و راء الورا اور تنزہ و تقدس ہے ۹۸

    اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش سے مراد ۱۱۹

    اللہ کااسم اعظم اور مخلوق سے وراء الورا مقام ۱۲۱

    خدا کا کلام حاجت کے وقت انسانی نسل کے درست کرنے کے لئے آتا ہے ۴۱

    قرآنی تعلیم کی رو سے ہم خدا کی خالص ملک ہیں اور ہمارا

    کوئی حق نہیں جس کا مطالبہ کریں ۳۳

    بندہ خدا کی مِلک ہے اور اس کو اختیار ہے کہ اپنی مِلک کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرے ۳۴

    انصاف کے حقیقی معنی اور خدا تعالیٰ پر اس کا اطلاق ۳۳

    بندہ کے مقابل پر خدا کانام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ

    کفر صریح ہے ۳۴

    کسی بندہ کا خداتعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اس سے

    انصاف کا مطالبہ کرے ۲۷

    اللہ نے انسان کو استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور

    اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونکے ۲۷۷

    اس سوال کا جواب کہ کیا خدا کے قانون میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے ۱۰۴تا۱۰۶

    اللہ تعالیٰ کی قسموں کی فلاسفی ۱۰۲

    قرآن میں مذکور اللہ کے خیرالماکرین ہونے کی تشریح

    اور آریوں کے اعتراض کا جواب ۱۱۵

    اللہ تعالیٰ کے مکر سے مراد ۲۰۱،۲۰۲

    اللہ تعالیٰ تمام خوشیوں کا سرچشمہ ۳۰۵

    خدا کی راہ میں کوشش کرنے کے لئے امید کا پایا جانا ضروری ہے ۳۰۹

    مبارک وہی کتاب ہے کہ جو اپنے تازہ نشانوں سے اُمید

    کو دن بدن بڑھاتی ہے ۳۱۰

    خدا ہمیشہ سرور میں ہے اس کی ذات پر کوئی رنج نہیں ہوتا ۶۳

    انسان کی جسمانی و روحانی زندگی اس امر سے وابستہ ہے

    کہ وہ خدا کے تمام مقدس اخلاق کی پیروی کرے ۴۴۰

    درحقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی نیکی

    کرسکتا ہے جو صرف خدا ہے ۲۳

    اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کے لئے غیرت مند ہے ۱۷۵

    اللہ کا دن ایک ہزار اورپچاس ہزار برس کا ہوتا ہے ۲۲۳

    اللہ تعالیٰ کے متعلق آریوں کے نظریات ۱۴

    وید کی تعلیم کی رو سے سب عناصر و اجرام فلکی خدا ہی ہیں ۴۴

    انسانی روحوں کی فطرت میں اپنے خالق کی محبت منقوش ہے ۱۶۷



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 503

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 503

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/503/mode/1up

    15

    روحوں اور اللہ میں خالق و مخلوق کا تعلق نہ سمجھنے کے نقصانات ۵۶

    اللہ کو ارواح کا خالق نہ ماننے سے آریوں کے عقائد میں فساد ۳۵

    ویدوں کی روسے پرمیشر روح و مادہ کا مالک نہیں ٹھہرتا ۱۶

    روح کے ازلی ماننے سے خدا کی جملہ صفات کا انکار لازم آتا ہے ۲۰۴

    تناسخ کو ماننے سے اللہ حیوانات کا حقیقی مالک نہیں ٹھہرتا ۲۱

    دلائل ہستی باری تعالیٰ

    خدا نے قرآن شریف میں زبردست نشانوں کے ساتھ اپنی ذات و صفات کو ثابت کیا ہے ۴۳۵

    بجز قرآن کے کوئی ایسی کتاب نہیں جو خدا کو تمام صفات کاملہ سے متصف اور تمام عیوب سے پاک سمجھتی ہو ۱۱۶

    خداتعالیٰ کی ہستی پر دوقسم کے دلائل ۱۷۹ح

    محدودچیزوں کا ایک محدّد پر دلالت کرنا ۱۷،۱۶۵

    خدا کا وجود ایسا عمیق درعمیق اور نہاں در نہاں ہے کہ بجز

    خدا کے ہاتھ کے جلوہ نما نہیں ہوسکتا ۳۱۱

    صفات بار ی تعالیٰ

    اللہ تعالیٰ کی صفات تشبیہی و تنزیہی ۹۸،۲۸۲

    خدا نے قرآن کریم میں ان دونوں صفات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دکھایا ہے اور یہی توحید ہے ۹۹

    اللہ کی صفات کی دو اقسام ۱۔ذاتی،۲۔اضافی ۱۸۴

    اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ اور صفاتِ اضافیہ ۱۷۲،۱۷۳

    خدا تعالیٰ کی صفتِ تکلّم ۱۸۸

    خدا کا نام ملہم اور منزل الوحی بھی ہے اور اس کی صفات کی

    نسبت تعطل اور بیکاری جائز نہیں ۸۰

    خدا کی قدرت مطلقہ کا صحیح مفہوم ۱۰۴،۲۲۱

    خداقادر مطلق ہے تو فرشتوں کے بنانے کی کیا ضرورت

    پیش آئی ۴۳۵

    خدا ان تمام باتوں پر قادر ہے جو اس کے تقدس اور کمال

    کے برخلاف نہیں ہیں ۱۰۵

    نیست سے ہست ہونے پر خدا کے قادر ہونے کے

    ثبوت و دلائل ۱۷۰،۴۳۱تا۴۳۳

    اللہ کی صفت وحدت اور اس کی تفصیل ۱۶۹ح،۱۸۵،۱۸۶

    چار بنیادی صفات الہیہ اور ان کی تفصیل ۲۷۸،۲۷۹

    رحمت الہٰی کی دو اقسام۔ ۱۔رحمانیت۔ ۲۔رحیمیت ۲۷

    خدا کی صفت رحم اور اس کا تقاضا ۴۶ح

    صفات رحیمیت ورحمانیت کی تفسیر ۲۰۶

    بندہ کے مقابل خدا کا نام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ کفر صریح ہے ۳۴

    خداکو مالکیت کے لحاظ سے رحیم کہہ سکتے ہیں مگر منصف نہیں ۳۳

    لفظ مالک کا صحیح مفہوم اور خدا کے کامل طور پر مالک ہونے

    کی وضاحت ۲۲تا۲۶

    اللہ کو محض جج کی طرح منصف قرار دینا اس کے مالکانہ

    مرتبہ وشان سے انکار اور کفران نعمت ہے ۲۸

    خدا کی عام ربوبیت کو محدود کرنے والی اقوام کا ردّ ۴۴۰

    ہر ملک و قوم کے لئے خدا کا فیض اور ربوبیت عامہ

    اور اس کی غرض ۴۴۲

    صفات رحیم و کریم ،ستّار وغفّار کے متعلق قرآنی تعلیم ۵۶

    صفات تقدس، توّاب اور غفور ۱۸۹

    بے ثبوت خدا کا عالم الغیب ہونا انسان کے ایمان کو

    ترقی نہیں دیتا ۳۸

    ویدکا اللہ کی صفات خالق، رزاق، منعم اور رحمن سے

    انکاری ہونا ۱۸۷

    خدا کی صفت غضب کامفہوم اور اس کا تقاضا ۴۶،۶۳

    تین صفات غضب، رحم، محبت خدا کی ذات میں موجود ہیں مگر انسانی صفات کی طرح نہیں ۴۶ح

    قرآن کریم کی رو سے صفات غضب و محبت کا مفہوم ۴۹،۵۰

    رگ وید بھی پرمیشر کی غضبی صفت سے بھرا پڑا ہے ۴۷

    اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے کے قرآنی دلائل ۱۱۹،۱۲۰

    اللہ کی صفات استعارہ کے رنگ میں فرشتے قراردی گئی ہیں ۲۷۹ح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 504

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 504

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/504/mode/1up

    16

    اللہ تعالیٰ کی صفات کا اہل اللہ میں ظہور ۱۸۰ح

    انبیاء اللہ کی صفات کے مظہر ہیں ۲۹۶

    بعض صفات باری کی نسبت اضافی حدوث مانا جاتا ہے ۱۶۸ح

    خدا تعالیٰ کی صفات میں تعطّل نہیں ۱۸۶

    خدا اور اس کی صفات غیر متبدل ہیں مگرانسانی تبدیلیوں

    کے مقابل اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں ۱۰۴

    اللہ صفات قدیمہ یا کمال تام کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا ۱۲۸

    الوہیت مسیح(دیکھئے اسماء میں عیسیٰ ؑ )

    الہام

    الہام کی عرفی اور لفظی تعریف ۷۴ح

    الہام کی فلاسفی ۳۷۴

    ہر ایک فطرت میں خدا کے الہام کی تخمریزی کرنے کی غرض ۳۱۶

    ضرورتِ الہام کے دلائل

    قرآن کریم سے الہام کی ضرورت کا اثبات ۱۰۲

    ضرورتِ الہام پر لمّی دلائل ۶۴

    ضرورتِ الہام کے اثبات کیلئے دلیل لمّی ہی کافی نہیں

    بلکہ دلیل اِنّی کاہونا بھی ضروری ہے ۶۵

    ضرورتِ الہام پردلائل اِنّی و لمّی ۶۳،۷۵

    دنیا کی ابتدا اور بعد میں انسان کے لئے الہام کی ضرورت ۶۸

    ابتدائی زمانہ کی نسبت بعد کے انسانی ادوار میں الہام کی

    زیادہ ضرورت ہے ۷۱،۷۲

    الہام کی ضرورت نوع انسان کو ہمیشہ رہے گی ۷۹،۸۰

    خدا کے احکام جواوامراور نہی سے متعلق ہوتے ہیں

    عبث طور پر نازل نہیں ہوتے ۸۰

    خدا کے کلام کی خصوصیات ۹۶،۳۹۹

    سچے ملہمین کے ساتھ نصرتِ الہٰی کا ہونا ۳۱۵ح

    مکالمات الہٰیہ کاشرف حاصل کرنے کی شرائط ۳۱۴

    مکالمات الہیہ بعد تزکیہ نفس پیروی قرآن اوراتباع

    آنحضرت ﷺ سے حاصل ہوتے ہیں ۸۰

    الہام الہٰی اور حدیث النفس میں فرق ۳۱۴

    نزول کی کیفیت

    الہام کا مع الفاظ دل پر نازل اور زبان پر جاری ہونا ۹۶،۲۸۳

    الہام کے نزول کی کیفیت ۳۱۴ح

    مکالمہ الہٰیہ اورعظیم الشان وحی کے نزول کی کیفیت ۱۱۱،۱۱۲

    حالت وحی میں سوال وجواب ۱۱۱،۱۱۲

    مکالمۂ الہٰیہ کے وقت نیند اور غنودگی ۱۱۱

    اس شک کا ازالہ کہ الہام انسانی دماغ کی بناوٹ کاطبعی نتیجہ ہے ۱۱۲

    الہام ذریعۂ علم ہے

    عقل سے بالاتر امور کی دریافت کے لئے وحی اور کشف

    کا ذریعہ ۳۱۷

    وحی اور تازہ نشان ناقص العلم انسان کو یقینِ تام تک پہنچاتے ہیں ۶۴

    الہام کا دروازہ کھلا ہے

    خدا کا نام مُلْہِم اور مُنَزِّل الوحی بھی ہے اور خدا کی صفات

    کی نسبت تعطل اور بے کاری جائز نہیں ۸۰

    خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تکلّم ہے ۱۸۸

    صفت تکلّم کو بند کردینے کے نقصانات (آریوں کے لئے) ۱۸۸

    کسی بھی زمانہ میں الہام کو بند ماننے سے نظام جسمانی

    اور نظام روحانی میں تطابق قائم نہیں رہتا ۱۰۱

    خدا کاالہام سے دنیا کے تمام حصوں کو منوراور مستفیض کرنا

    اور کسی قوم سے بخل نہ کرنا ۳۷۵

    آدم ؑ سے وحی کی تخم ریزی اور قرآن شریف کے زمانہ میں

    اپنے کمال کو پہنچ کر ایک بڑے درخت کی طرح ہوجانا ۲۲۰

    نزول قرآن کے بعد صرف مکالماتِ الہٰیہ کادروازہ کھلا ہے ۸۰

    قرآن شریف مکالمۂ مخاطبہ الہٰیہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا (دو آیات سے استدلال) ۱۸۸ح

    الہام کے متعلق متفرق مذہبوں اورفرقوں کے مختلف

    نظریات ۳۷۴،۳۷۵

    یہودونصاری اورآریوں کا نبوت اور الہام کو اپنے تک

    محدود رکھنے کے عقیدہ کا ردّ ۴۴۱

    آریوں کے عقیدہ کی رو سے الہام بند ہونے کی وجہ ۳۷۴



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 505

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 505

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/505/mode/1up

    17

    آریہ خدا کے الہام کو ہرگز ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ اُنکے عقیدہ کی رو سے صرف وید کے رشیوں کو الہام ہوا تھا اس کے بعد بند ہے ۶۷

    آریوں کے اس خیال کا ردّ کہ الہام کا دروازہ بند ہے ۴۴۷

    ہندوؤں میں الہام کے مدعی سری کرشن اور بابانانک ۴۴۵

    باوانانک کو خدا کا الہام اسلام کی طرف کھینچ لایا ۳۵۵

    خداتعالیٰ ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے ۱۵۴

    مسیح موعود ؑ کا دوسری زبانوں میں الہام پر گواہ ہونا ۱۵۳

    یہ بالکل غیر معقول امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی

    اور ہواور الہام اس کو کسی اورزبان میں ہو ۲۱۸

    الہامات میں آیات قرآنیہ کے نزول کی حکمت ۲۱۹

    مختلف ممالک سے انبیاء کو کلام و الہام عطا کرنے کی الہٰی غرض ۴۴۷

    امن(ملکی)

    سلاطین اور رعایا میں حکم چلانے کے دو پہلو اور ان پہلوؤں کے اعتدال سے ملک میں امن کا قیام ۳۳

    انجیل ۱۸۲،۲۳۹،۲۶۷،۲۶۹تا۲۷۱،۳۶۰،۳۶۳،

    ۳۸۷،۳۹۵،۴۴۱،۴۷۳

    توحید کے بیان میں ناقص ہونا ۲۶۸

    علمی و عملی اعتبار سے اس کی تعلیم کا ناقص ہونا ۲۶۶

    انجیل کی اخلاقی تعلیم اور اس کی غرض ۴۷۰

    نیکی،احسان اور معافی کی انجیلی تعلیم کا بنی اسرائیل تک محدود ہونا ۳۸۸

    طلاق کے متعلق قرآن کریم اور انجیل کی تعلیم کا موازنہ ۴۱۳

    عفو کے متعلق توریت، انجیل اور قرآن کی تعلیم کا موازنہ ۲۷۰

    انسان

    انسان کی پیدائش کی غرض، خدا کی شناخت ۲۰

    انسان کی روح کے پیدا کیے جانے کا مقصد ۶۴

    انسانی جسم اور روح کی پیدائش کے متعلق قرآنی تصریحات ۱۲۳،۱۲۴

    اللہ تعالیٰ کا انسان کو استعارہ کے طورپر اپنی شکل پر پیدا کرنا

    اور اخلاق کریمہ پھونکنا ۲۷۷

    انسان کا کمال یہی ہے کہ صفت تخلّق باخلاق اللہ سے متصف ہو ۵۴

    انسانی فطرت میں خدا کے پاک اخلاق مخفی ہوتے ہیں

    جو تزکیہ نفس سے ظاہر ہوجاتے ہیں ۱۸۰ح

    انسان کا الہامی کتاب کا محتاج ہونے کی وجہ ۴۰۰

    انسان کو کامل طور پر خدا کی اطاعت کیے بغیر کوئی نور نہیں ملتا ۲۹۰

    وہ انسان انسان نہیں جس میں ہمدردی کا مادہ نہیں ۴۳۹

    انسان کا سائنس کے پوشیدہ اسرار و خواص کو عملی رنگ میں

    لاکر دکھلانا ۴۰۷

    قرآن کریم میں ذوالعقول حیوانوں کے جوموردِثواب یا

    عذاب ہوسکتے ہیں کے دو گروہ۔۱۔نوع انسان۔۲۔جنات ۸۴ح

    انسان کی پیدائش کے متعلق قوانین قدرت ۲۲۴

    بچہ میں دو نطفوں کا اشتراک ۱۱۵

    انسان کا جسمانی اور روحانی نظام ایک ہی قانون قدرت

    کے ماتحت ہے ۶۴

    فطرت کے لحاظ سے تمام نفوس انسانیہ استعدامیں برابر نہیں ۳۴۸

    نوع انسان کی چار حالتیں اور ان کی تفصیل ۸۱

    ابتدائے زمانہ میں انسان کے لئے صرف ایک کتاب کافی ہونے کی وجہ ۷۴،۷۵

    انسانی فطرت معرض تبدّل وتغیر میں پڑی ہوئی ہے ۲۱۴

    بوجہ فطری کمزوری انسان کا بعض احکام کے ادا کرنے سے

    قاصر رہنا اور بشرط توبہ و استغفار خدا کی رحمت کا حق دار بننا ۱۸۹

    انسان کیلئے گناہ سے بالکل پاک ہونا ناممکن ہے ۵۱

    نوع انسان ہمیشہ اپنی موجودہ حالت کے موافق ہرزمانہ

    میں خدا کی تربیت کی محتاج ہے ۷۹

    بندہ خدا کی مِلک ہے اور اس کو اختیار ہے کہ اپنی مِلک کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرے ۳۴

    کسی بندہ کا خداتعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اس کے

    انصاف کا مطالبہ کرے ۲۷

    خدا نے جو خواہشیں انسانی جسم کو لگا دی ہیں ان کے لئے

    تمام سامان بھی پیدا کردیا ہے ۶۴

    تمام اقوام کو انسانی طاقتیں اوردنیاوی اشیاء دینے کا خدا

    کا مساویانہ سلوک ۴۳۹



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 506

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 506

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/506/mode/1up

    18

    انسان کی جسمانی و روحانی زندگی کس امر سے وابستہ ہے؟ ۴۴۰

    آنحضرت ؐ کی اصلاح سے عربوں کا مہذب وباخدا انسان بننا ۴۶۴

    انصاف

    انصاف کے حقیقی معنی اور خدا تعالیٰ پر اس کا اطلاق ۳۳

    بندہ کے مقابل پر خدا کانام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ

    کفر صریح ہے ۳۴

    انگریزی گورنمنٹ

    مسیح موعود ؑ کا بوجہ مذہبی آزادی گورنمنٹ کا شکرگزار ہونا ۳۷۳

    ہندووں کے سود لینے کی وجہ سے قانون جاری کرنا ۱۳۳

    بعض آریوں کی گورنمنٹ کے خلاف سازش ۱۱۷

    جل پروا کی رسم کے متعلق انگریزی گورنمنٹ کا خاص حکم ۴۵

    اونٹ

    آخری زمانہ میں اونٹ کے متروک ہونے اور تیز رفتار سواریوں کے ایجاد ہونے کی پیشگوئی ۳۲۱

    قلاص اورعشار کا فرق ۳۲۳

    اولاد

    حقوق اولاد اور حقوق والدین کے متعلق قرآن شریف کی تعلیمات ۲۰۸تا۲۱۴

    اہل کتاب

    ظہورِاسلام کے وقت عرب کے عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی اور عملی حالت (پادری فنڈل کا اعتراف) ۲۳۹

    رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اہل کتاب کو سزائیں دینے کا جواز ۲۴۱

    ان کا نبوت و الہام کو اپنے تک محدود کرنا ۴۴۱

    اہنسا

    اہنسا کا ردّ ۱۳۱،۱۳۲

    گوشت نہ کھانے کے متعلق وید کی تعلیم کا ردّ ۱۴۹

    ایمان

    ایمان داروں کی تین اقسام

    ۱۔ظالم۔۲۔مقتصد۔۳۔سابق بالخیرات ۴۲۴

    ایمان میں کمزور شخص کے ساتھ خدا کا سلوک ۴۲۶

    انسان کی عملی حالت اس کے ایمان پر ایک مستحکم شہادت ہے ۲۳۷

    بغیر ثبوت کے نرا یہ بیان کہ خداعالم الغیب ہے انسان کے ایمان کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا ۳۸

    آنحضرت اور قرآن پر ایمان کے نتیجہ میں روح القدس کی تائید سے انعام کاملنا ۴۲۶

    بائیبل ۲۶۴

    بائیبل اور قرآن کریم کا موازنہ ۲۶۶

    توریت وانجیل کا توحید کے بیان میں ناقص ہونا ۲۶۸

    بائیبل کی رو سے یاجوج وماجوج سے مراد عیسائی

    یورپی اقوام ۸۳ح،۸۷

    بائیبل کے محرف و مبدّل ہونے کے متعلق محقق انگریزوں

    کا شہادت دینا ۲۶۶

    اس میں نوح ؑ کے واقعات محرف و مبدّل ہیں ۲۲۵

    بائیبل کے تین قسم کے بیانات اور ان کی تفصیل ۸۳ح،۸۴ح

    صحابہ اور تابعین کا آنحضرت ؐ کی نسبت بائیبل کی پیشگوئیوں

    کو بطور حجت پیش کرنا ۸۳ح

    قرآن کریم اور بائیبل کی تعلیمات کا اختلاف ۴۷۰

    قرآن کریم ، تورات اور انجیل کی تعلیمات کا موازنہ

    (عفو، غض بصراورطلاق وغیرہ) ۴۱۳،۴۷۱،۴۷۳

    بدنظری

    بدکاری اور بدنظری ایسے ناپاک گناہ ہیں جن سے نیکیاں باطل ہو

    جاتی ہیں اور آخر اسی دنیا میں جسمانی عذاب نازل ہوتے ہیں ۲۴۸

    برہمن

    ویدوں کا پڑھنا پڑھانا برہمنوں سے خاص ہے ۶۹

    شاستروں کی روسے اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہوتواپنی عورت کو برہمن سے ہمبستر کرادے ۶۹

    شاستروں کی رو سے اگر نیچ ذات والا برہمن کے مقابلہ میں بولے تو اُس کی زبان کاٹ دی جائیگی ۶۹



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 507

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 507

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/507/mode/1up

    19

    بہادر

    بہادر وہی لوگ ہیں جو(بیوی بچوں سے) تعلقات کے ساتھ ایسے ہیں کہ گویا بے تعلق ہیں ۲۹۸

    بہشت

    روح کے تغیرات غیر محدود ہیں یہاں تک کہ بہشت میں

    بھی وہ تغیرات ہونگے ۱۶۸

    بہشت اور اس کی نعماء ۹۹

    اللہ کی کامل بصیرت اور محبت وہ بہشت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد تلخی اور رنج و عذاب دور ہوجاتا ہے ۳۰۵

    پادری

    پادریوں کے نزدیک دہریہ لوگ ۴۵۰

    قرآن کریم میں پادریوں کی بیان کی گئی صفت ۸۷ح

    پارسی

    ان کا اپنی کتاب کی قدامت کی نسبت آریوں سے بڑھ کر دعویٰ ۴۰

    یہ اپنے مذہب کی بنیاد کئی ارب سال پہلے بتاتے ہیں ۴۴۹

    پرمیشر

    مسیح موعود ؑ کا وید کی رُو سے پرمیشر کا وجود ثابت کرنے

    والے کو دس ہزار روپے دینے کا چیلنج ۱۳۶

    مسیح موعود ؑ کا خدا کی ہستی اور توحید کے قرآنی دلائل آریہ صاحبان کے وید میں سے دکھانے پر ہزار روپے نقد دینے کا چیلنج ۱۴۳

    یجروید اور رگ وید میں خدا کا تصّور ۱۲۱،۱۲۲

    وید کی رُوسے پرمیشر کی صفات اور اُن پر تنقید ۱۹۴

    وید کی رُو سے پرمیشر سرب شکتی مان ثابت نہیں ہوتا ۱۲۷

    اگررُوحیں خود بخود ہیں تو پھر پرمیشر پرمیشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کرانے کا اسے حق ٹھہرتاہے ۲۰۴

    ہندووں کا پرمیشر کوناراض کرنے کے لئے روغنی روٹیوں

    پر پاخانہ پھیرنا ۱۳۲

    پیشگوئیاں

    صحابہؓ کا آنحضرت کی نسبت بائیبل کی پیشگوئیاں کو بطور

    حجت پیش کرنا ۸۳ح

    آنحضرت ؐ کی ہجرت سے نوشتوں کی پیشگوئی کا پورا ہونا ۳۹۱

    مسیح موعود اور آپ کے زمانہ کی نسبت مجدد الف ثانی

    کی پیشگوئیاں ۳۳۰ح،۳۳۶

    مسیح موعود کے متعلق محی الدین ابن عربی کی پیشگوئیاں ۳۳۰،۳۳۴

    الہٰی بخش بابو، چراغ دین جمونی اور محی الدین لکھوکے والا

    کی مسیح موعود ؑ کی ہلاکت کی جھوٹی پیشگوئیاں ۳

    مرزا فقیر دولمیالی کی مسیح موعود ؑ کی موت کی پیشگوئی ۳۳۶

    (نیز دیکھئے زیرعنوان قرآن کریم، محمدصلی اللہ علیہ وسلم و

    مرزا غلام احمد قادیانی ؑ )

    تزکیہ

    انسانی نفس تزکیہ کے بعد ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے اور تزکیہ

    کیلئے تمام نفوس انسانیہ کی استعدادیں برابر نہیں ۳۴۸

    تعدد ازدواج

    تعدّد ازدواج کے اسلامی حکم کی حکمتیں ۲۴۴

    کثرت ازدواج کثرتِ اولاد کا موجب ہے جو ایک

    برکت ہے ۲۹۷

    بدکاری کے مواقع سے بچنے کے لئے زیادہ شادیاں کرنا موجب ثواب ہے ۲۴۸

    تعددازدواج ظلم نہیں ۲۹۸

    خدا نے تعددازدواج فرض یا واجب نہیں کیا صرف جائز ہے ۲۴۶

    کسی حالت میں بھی دوسری بیوی نہ کرنے کی شرط پر مرد

    سے نکاح کرنے کا عورت کا حق ۲۴۶

    تعددازدواج پر آریوں کے اعتراضات کا جواب ۲۴۳

    اس اعتراض کا جواب کہ تعددازدواج شہوت پرستی سے ہوتا ہے ۲۴۷

    نیوگ اورتعددازدواج کے احکام کا موازنہ ۲۴۵

    کرشن، رام چندر کے والد اور بابانانک کی ایک سے

    زیادہ بیویاں تھیں ۲۴۵

    آنحضرت ؐ پر کثرت ازدواج کے اعتراض کا جواب ۲۹۹

    کثرت ازدواج خدا کے تعلق کی کچھ حارج نہیں ۲۹۸

    تفسیر القرآن

    الحمدللہ رب العالمین کی لطیف تفسیر ۴۴۰



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 508

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 508

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/508/mode/1up

    20

    سورۃ فاتحہ کی مختصر تفسیر ۲۰۶

    سورۃ فاتحہ توحید سے پُر ہے ۲۰۷

    اگرسورۃ فاتحہ میں مذکور خداتعالیٰ کی چار صفات ظہور پذیر

    نہ ہوتیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ چلتا ۲۷۹ح

    سورۃ فاتحہ میں فتنہ عیسائیت کے متعلق دعا کا سکھایاجانا ۸۷ح

    سورۃ الکھفمیں صُور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے ۸۵

    سورۃ الکھف میں یاجوج ماجوج کا ذکر ۸۳

    نساء کم حرث لکم کی لطیف تفسیر ۲۹۲

    والقمر اذاتلھا کی تفسیر ۲۹۰

    خلافت کے قیام کا الہٰی وعدہ اور اسکی برکات ۳۳۳ح

    تناسخ

    تناسخ کا مسئلہ تمام وید کا خلاصہ ہے جس کے سہارے تمام

    عقائد وید کے کھڑے ہیں ۱۲۳

    تناسخ کا عقیدہ دراصل ازواج کے غیر مخلوق اورازلی

    ہونے کے عقیدہ کا لازمی نتیجہ ہے ۳۱

    تناسخ کے نتیجہ میں یہ خرابی لازم آسکتی ہے کہ انسان اپنی

    ہی ماں یا بہن سے شادی کرلے ۲۵۱

    دنیا کے تفادتِ مراتب اوردُکھ سکھ کی حالت کو دیکھ کر اس

    کو تناسخ کی دلیل بتانا سراسر نادانی ہے ۵۱ح

    تناسخ کا صفاتِ الہٰیہ اور معقولیت کے خلاف ہونے کی بحث ۵۷

    ردّ تناسخ کے دلائل ۲۱،۳۱۳ح،۴۱۵

    حیوانات کی طاقتوں کے تفاوت کا سبب تناسخ اور آواگون

    کوقرار دینا خدائے حکیم کے علم کو ضائع کرنا ہے ۱۹

    تناسخ کے ماننے والے کسی طرح نہیں کہہ سکتے کہ پرمیشر مخلوقات کا مالک ہے ۳۳

    تناسخ کی غیر معقولیت ۵۳،۵۴

    مکتی پانے کے بعد دوبارہ تناسخ اور جونوں کا چکر ۵۳

    آواگون کی رُو سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ جاودانی مکتی غیر ممکن ہے ۱۲۳

    تناسخ سے بدعملی کی ترویج کی تفصیل ۴۲

    تناقض

    تناقض کی منطقی تعریف ۱۹۶،۱۹۷

    وید میں تناقض ۴۸ح،۱۹۷

    مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق متناقض احادیث کی تطبیق ۸۵،۸۶ح

    توبہ

    توبہ اور استغفار کی نسبت قرآنی تعلیم ۲۴

    عبادت کی دو قسموں میں سے پہلی قسم توبہ و استغفار ۱۷۶

    گناہ بے شک ایک زہر ہے مگر توبہ اور استغفار کی آگ

    اس کو تریاق بنا دیتی ہے ۴۱۵

    توبہ اور مغفرت سے انکار کرنا درحقیقت انسانی ترقیات کے دروازہ کو بند کرنا ہے ۱۹۲

    اسلام اور عیسائیت میں توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کیے جانے کی نسبت الگ الگ تصور ۱۹۰

    وید کے نزدیک توبہ کرنا فضول اور بے فائدہ ہے ۱۷۳

    توبہ کے متعلق قرآنی تعلیم پر آریوں کے اعتراضات

    کا جواب ۱۳۳

    توریت ۱۸۲،۲۲۲،۲۲۵،۲۳۹،۲۶۹،

    ۲۷۱،۳۶۰،۳۶۳،۴۷۱

    اس کا یہود میں عدل قائم کرنے کی تعلیم میں تشددوانتقام میں افراط کی طرف مائل ہونا ۴۷۰

    توریت توحید کے بیان کرنے میں ناقص تھی ۲۶۸

    اس کی علمی و عملی تعلیم کا ناقص ہونا ۲۶۶

    توریت میں خدا کے زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد

    ساتویں دن آرام کرنے کا قرآنی دلیل سے ردّ ۲۲۳

    عفو کے متعلق توریت، انجیل اور قرآن کی تعلیمات کا موازنہ ۲۷۰

    توحید

    کوئی چیز خدا تعالیٰ کی وحدت کے ساتھ مزاحمت نہیں رکھتی

    محض اسی کی ذات قائم بنفسہٖ ہے ۱۸۶

    خدا کا تنزیہی و تشبیہی صفات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دکھلانا

    کمالِ توحید ہے ۹۹

    اسلام کا بڑا بھاری مقصد خدا کی توحید اور اس کا جلال زمین

    پر قائم کرنا ہے ۴۶۹



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 509

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 509

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/509/mode/1up

    21

    سورۃ فاتحہ توحید سے پُر ہے ۲۰۷

    قرآن کریم اوّل سے آخر تک توحید سے بھرا ہے ۴۵۴

    قرآن کریم کی مختلف ممالک میں توحید کی تخم ریزی کی

    بے مثال کارروائی کا ذکر ۷۷

    ثواب وعذاب

    قرآن میں ذوالعقول حیوانوں کے موردِ ثواب وعذاب دوگروہ ۔۱۔معشرالانس ۔۲۔معشرالجن ۸۴ح

    جراثیم اور کیڑے

    جراثیم اور کیڑوں کی پیدائش کے متعلق نادر معلومات ۲۸۳تا۲۸۵

    جل پروا ۳۷۱

    ہندوؤں کی ایک قدیم رسم جس میں پہلے بچہ کو گنگا کی نذر

    کیا جاتا تھا ۴۵

    جماعت احمدیہ

    آریوں کے جلسہ میں جماعت احمدیہ کے صبر کا عمدہ نمونہ ۸،۱۰

    جماعت اب چار لاکھ سے کم نہیں ۴۵۵

    مسیح موعود ؑ کے ان صحابہ کی فہرست جنہوں نے بابا نانک ؒ

    کے تبرکات کی ۴اپریل۱۹۰۸ء کوزیارت کی ۳۵۳،۴۴۶

    جنگ

    دین کے معاملہ میں لڑائی کرنا جائز نہیں ۳۹۶

    آنحضرت ﷺ کو جنگ کی اجازت کی اغراض ۳۹۱

    خداتعالیٰ قرآن شریف میں پیش دستی کر کے لڑائی کرنا ایک سخت مجرمانہ فعل قراردیتا ہے ۳۹۵

    جنگ کے متعلق اسلامی احکامات ۲۵۳

    جنگ کے بعد مفتوحہ علاقوں میں تمام مذاہب کے معبدوں

    کی حفاظت کا حکم ۳۹۳،۳۹۴

    رِگ وید کی رُو سے دشمن کا مال لوٹنا اور املاک نذر آتش کرنا

    جائز ہے قرآن کریم کی تعلیم سے موازنہ ۲۰۲،۲۰۳

    احادیث میں خبرکہ مسیح موعود ؑ جنگ موقوف کرے گا ۳۹۵

    جہاد

    اسلام پر جہاد کے الزام کا جواب ۴۶۴

    اسلام میں جہاد کی صحیح صورت ۳۹۰تا۳۹۷

    اسلامی جہادکی حقیقت ۴۶۸

    دین کے معاملہ میں لڑائی کرنا جائز نہیں ۳۹۶

    اسلامی جنگ خدا کی چمکدار تائیدوں کے ساتھ ہے نہ

    لوہے کی تلوار کے ساتھ ۳۹۶

    آنحضرت ﷺ کی جنگیں مدافعانہ تھیں ۹۲

    مومنوں کو تیرہ برس کے مظالم برداشت کرنے کے بعد

    مقابلہ کی اجازت دی گئی ۲۳۴

    کفار کے لئے اسلام لانے کی شرط بطور رعایت تھی نہ بطور جبر ۳۹۶

    مسیح موعود کے لئے یضع الحرب کا حکم اور قلمی لڑائیوں کا وقت ۹۳

    جہاد پر اعتراضات کا جواب ۴۶۴تا۴۶۸

    جہنم

    دوزخ دلوں پر بھڑکائی جانے والی آگ ۔ اس کی تفصیل ۶۲

    قرآن شریف کے مطابق انجام کار دوزخیوں پر رحم کیاجانا ۵۰

    جین مت

    خداکے وجود سے منکر ہندو جنہوں نے خدا کے وجود اور اس

    کی صفات کی نسبت وید کی تعلیم سے تسلی نہیں پائی ۴۰

    چاند

    والقمر اذا تلٰھا کی تفسیراور اس کا نور سورج کے نور سے مستفاض ہونا ۲۹۰

    حج

    حج ایک عاشقانہ عبادت ہے ۱۰۰

    حج کا اجتماع امتِ محمدیہ کی وحدت کا مقام کمال ہے ۱۴۵

    یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کردیتا ہے ۱۰۰

    حجراسود

    حجراسود خدا کے آستانہ کا پتھر ہے ۱۰۰



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 510

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 510

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/510/mode/1up

    22

    حجراسود ایک روحانی امر کے لئے نمونہ قائم کیا گیا ہے ۹۹

    حج کے دوران حجراسود کو چومنے کی وجہ ۱۰۱

    خواب میں حجراسود دیکھنے کے معنی ۱۰۰ح

    حجراسود کے متعلق آریوں کے اعتراضات کا جواب ۹۹

    حدیث

    مہدی کی نسل کے متعلق چار قسم کی احادیث کی وضاحت ۲ح

    مہدی کے خاص نشان کسوف وخسوف کی حدیث کی تشریح ۲۹

    یکسرالصلیب سے صلیبی قوم کا عروج واقبال سمجھاجانا ۸۶ح

    یاجوج و ماجوج کے متعلق احادیث کی تشریح ۸۴،۸۵ح

    حسن سلوک

    حسن سلوک کے تین مدارج-:

    ۱۔عدل۔۲۔احسان۔۳۔ایتاء ذی القربیٰ ۳۸۸

    حشراجساد ۶۱

    حیوان

    قرآن کریم کے نزدیک وہ حیوانات جو کسی انسان کے

    قبضہ میں ہوں ان کا اس کے مال میں حق ہے ۲۱۴

    خاندانی منصوبہ بندی

    خاندانی منصوبہ بندی کی نسبت مسیح موعود ؑ کی رائے ۲۹۲

    کثرت ازدواج کثرت اولاد کا موجب ہے جو ایک برکت ہے ۲۹۷

    عزل کی ممانعت ۲۹۲

    خلافت

    سورۃ نور میں مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدۂ خلافت اور

    اس کی برکات ۳۳۳ح

    خلع

    خلع کی وجوہات واسباب ۲۸۸

    خلع کی درخواست کی صورت میں حاکم وقت کا مرد کوعدالت میں بلانا ضروری ہے ۲۸۹

    خلق/اخلاق

    قرآن، توریت اور انجیل کی اخلاقی تعلیمات کا موازنہ ۴۷۰

    درحقیقت تمام اخلاق میں سے اعلیٰ خلق یہی ہے کہ انسان

    اپنے قصورواروں کے قصور معاف کرے ۱۹۱

    نیک اخلاق کے متعلق نصائح ۴۸۱

    خواب

    فاسق اور فاجر کو بھی سچی خواب آسکتی ہے ۳۱۶

    خواب میں حجراسود دیکھنے کے معنی ۱۰۰ح

    دارالندوہ

    سردارانِ قریش کا اکٹھے ہو کر آنحضرت ؐ کے خلاف مشورہ کرنا ۲۶۲

    دُعا

    خدا تعالیٰ ہر زبان میں دعا سنتا ہے ۱۵۴

    مسیح موعود ؑ کی صداقت کا ایک نشان قبولیت دُعا کے معجزات ۳۳۲

    مسیح موعود ؑ کی قبولیت دُعا کے چند نشانات ۳۳۷تا۳۳۹

    مسیح موعود ؑ کے دعائیہ الفاظ ۴۳۹

    بے ایمان کی دُعا بھی قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ اپنی شیطانی نیچریت کی وجہ سے اس کو قادر نہیں جانتا ۲۲۱

    دل

    انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دل ہے خدا کاالہام دل

    پر ہی نازل ہوتا ہے ۲۸۳

    دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں ۲۸۳

    دلیل

    دلیل کی دو قسمیں:لمّی و اِنّی ۶۳

    دلیل لمّی ،دلیل اِنّی سے تکمیل پاتی ہے ۶۵

    بلا دلیل دعویٰ کر کے اس کا نام دلیل رکھنا عقلمندی کا کام نہیں ۷۳

    سمجھ نہ آنے والے اسرار ربوبیت کو بذریعہ مشاہدات ماننا ۱۳۰

    دین

    دین کا مطلب و مقصد ۴۵۸

    درحقیقت دین وہی دین ہے جس کے ساتھ سلسلہ معجزات اورنشانوں کا ہمیشہ رہے ۳۳۵

    وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو ۴۳۹



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 511

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 511

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/511/mode/1up

    23

    دین کے معاملہ میں لڑائی کرنا جائز نہیں ۳۹۶

    رحمت

    خداتعالیٰ کی صفت رحمت نہ ہوتو کوئی مخلصی نہیں پاسکتا ۱۳۴

    رحمت کی دو اقسام۔۱۔رحمانیت۔۲۔رحیمیت ۲۷

    درحقیقت رحم تعلق ہی سے پیدا ہوتا ہے ۵۶

    رُوح

    روح کے امرربی اور کلمۃ اللہ ہونے سے مراد ۱۵۹

    اگر خدا روح کا خالق نہیں تو اس کے تزکیہ کے لئے دعاعبث ہے ۴۳۳

    روح کا پیدا ہونا ہماری عقل و فہم سے برتر ہے ۱۳۰

    روح کے نیست سے ہست ہوجانے کا صحیح مفہوم ۱۵۹

    روح پیداہوتی ہے باہر سے نہیں آتی ۱۲۹

    روح اسی مادہ سے پیدا ہوتی ہے جو بعد اجتماع دونوں نطفوں کے رحم مادر میں آہستہ آہستہ قالب کی صورت پیدا کرتا ہے ۱۲۴

    جسم میں سے پیدا ہونے کے باوجود روح کو جسم اور جسمانی نہیں کہہ سکتے ۱۲۴

    روح فنا پذیر ہے ۱۶۰

    روح کے انادی اور قدیم ہونے کے متعلق وید کے نظریہ کا ردّ ۱۲۸

    روح کی پیدائش کے متعلق وید کی تعلیمات کا ردّ ۱۳۹

    روح کے مخلوق نہ ماننے کی وجہ سے آریوں کو دائمی نجات

    سے انکار کرنا پڑا ہے ۳۱

    قرآن شریف کے نزدیک روحیں انادی اور غیرمخلوق نہیں ۱۵۸

    قرآن روحوں کو ازلی ابدی نہیں ٹھہراتا ان کو مخلوق اور فانی

    مانتا ہے ۱۶۴

    روح کی زندگی اور موت ۱۶۰،۱۶۱

    دیانند کا روح کے انسانی جسم میں حلول کے متعلق عقیدہ ۱۱۵،۱۲۲

    روح کے تغیرات غیرمحدود ہیں۔ یہاں تک کہ بہشت

    میں بھی وہ تغیرات ہونگے ۱۲۸

    قرآن شریف میں بعد مفارقت دنیا زندہ قرار دی جانی

    والی انسانی روحیں ۱۶۰

    مفارقت بدنی کے بعد روح پر وارد ہونے والی حالت ۱۶۲

    جیسی جسم پر موت ہے روحوں پربھی موت ہے ۱۶۳

    ارواح میں ظلّی طور پر الہٰی رنگ پائے جانے کی وجہ ۱۸۰ح

    روح کی فطرت میں اس کے خالق کی محبت منقوش ہے ۱۶۷

    جس مادہ سے روح پیدا ہوتی ہے اسی مادہ کے موافق روحانی اخلاق ہوتے ہیں ۱۶۴

    روح کے بارے میں سچی معرفت حاصل کرنے کا طریق ۱۶۱

    حالتِ خواب میں روح پر ایک قسم کی موت وارد ہوتی ہے ۱۶۰

    نیند کی حالت میں انسانی روح میں دو قسم کے تغیّرات ۱۸۵ح

    روح کا خواب کی حالت میں حافظہ، یاداشت اور بیداری

    کی صفات سے الگ ہونا ۱۶۴ح

    روح القدس

    اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نیکی کا القاء کرنے والی قوت ۲۹۴

    روح القدس کی تائید کا الہٰی انعام اور اس کے حصول کے ذرائع ۴۲۵

    روحانی زندگی

    روحانی زندگی محبوبِ حقیقی کی محبت اور اس کے قطع تعلق

    ہوجانے کا خوف ہے ۶۵

    ریلوے

    ریلوے اور دیگر سواریوں کی ایجاد کے متعلق قرآن و

    حدیث کی پیشگوئی ۸۱،۸۲

    بین الاقوامی مفاہمت پیدا کرنے میں ریلوے اور دوسری سواریوں کا کردار ۸۲،۸۳

    زبان

    زبانوں کا بنایا جانا اور ان میں تغیّرات کا پیداہونا ۲۱۷،۲۱۸

    اختلاف السنہ قدیمی امر ہے ۲۱۷

    زراعت

    اناج اور پھلوں کا نیست سے ہست ہونا خداتعالیٰ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے ۱۶۹

    بعض درختوں میں حیوانی شعور ۳۴۲



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 512

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 512

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/512/mode/1up

    24

    سائنس

    یہ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر سائنس خداتعالیٰ کے تمام

    عمیق کاموں کا احاطہ کرلے تو پھر وہ خدا ہی نہیں ۲۸۲

    سجادہ نشین

    اکثر پیر اور سجادہ نشینوں کا بدعملی میں حد سے بڑھے ہونا اور مکروفریب کی حالت ۳۲۶

    سجدہ

    جسم اور روح کے سجدہ کا باہمی تعلق ۱۰۰

    نماز میں دلی سجدہ کے مقابل جسم کا سجدہ رکھاجانا ۹۹

    سکھ مذہب

    سکھوں کیلئے مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام ۳۵۵

    ہندوؤں میں الہام کے مدعی سری کرشن اور بابانانک ۴۴۵

    باوانانک ؒ کے تبرکات میں قرآن شریف قلمی کی موجودگی ۳۵۳

    سلام(السلام علیکم)

    السلام علیکم ایک پیارا کلمہ اورسلامت رہنے کیلئے دعا ۳۲۷

    سناتن دھرم ۴۵۳

    آریوں کی نسبت ان کے ہزارہالوگ شرافت سے کلام

    کرتے ہیں اور نبیوں کی توہین نہیں کرتے ۱۴

    سنسکرت ۱۸۲،۱۹۹

    انسان کو ابتداء میں سنسکرت زبان سکھائی جانے کا آریوں

    کا دعویٰ ۷۳

    آریوں کے نزدیک اسے الہام کے لئے خاص کیاجانا ۴۴۱

    اس عقیدہ کی تردید کہ خدا صرف سنسکرت میں کلام کرتا ہے ۴۴۸

    سنسکرت متروک الاستعمال اور مردہ زبان ہے ۱۵۴،۲۱۷

    سود

    قرآن کریم میں سود کی ممانعت ۱۳۲

    اسلام میں جیسا کہ اپنی قوم سے سود لینا حرام ہے ایسا ہی

    دوسری قوموں سے بھی سود لینا حرام ہے ۳۸۷

    شاکت مت

    ہندوؤں کا ایک فرقہ جو ماں، بہن اور بیٹی سے شادی جائز

    قرار دیتا ہے ۷۷،۲۵۲،۳۷۲

    شراب

    قرآن شریف نے شراب کو جوام الخبائث ہے قطعاً حرام کردیا ۲۶۷

    شریعت

    آنحضرت ؐ کی شریعت خاتم الشرائع ہے ۳۴۰

    شریعت قرآن شریف پر ختم ہوگئی صرف مبشرات یعنی پیشگوئیاں باقی ہیں ۱۸۹

    خدا کی شریعت کا آدم ؑ سے آغاز ہونا اور قرآن شریف کے زمانہ میں کمال کو پہنچنا ۲۲۰

    نئی شریعت کب نازل ہوتی ہے؟ ۸۰

    شفاعت

    شفاعت اور اس کی حقیقت ۴۱۸

    شفاعتِ رسول کے بارہ میں باوانانک کا فرمان ۳۶۵

    شق القمر

    قرآن شریف میں مذکور شق القمر کے معجزہ کو خلاف علم ہئت

    کہنا سراسر فضول باتیں ہیں ۴۱۱

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ شق القمر کا معجزہ

    خلاف قانون قدرت ہے ۲۳۲

    اگر یہ واقعہ نہ ہوا ہوتا تو کفار اعتراض کرتے ۴۱۱

    بعض کا لکھنا کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا ۲۳۲

    شیطان

    شیطان کی پیدائش کی ضرورت ۲۹۳

    کیا اللہ تعالیٰ نے شیطان کو پیداکرکے خود انسان کو گمراہ

    کرنے کا سامان کیا ہے؟ ۴۳۵

    شریعت اسلام نے بدخیالی اور بدی کی قوت کولمّہ شیطان

    سے موسوم کیا ہے ۲۹۳،۴۹۵

    جو شخص بدی اورشرارت سے باز نہیں آتا وہ خود شیطان بن

    جاتا ہے ۲۹۴



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 513

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 513

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/513/mode/1up

    25

    صحابہ ؓرسول

    یورپی محققین کا تسلیم کرنا کہ جس صدق دل سے عربوں نے آنحضرت ؐ کوقبول کیا وہ ایک فوق العادت امر ہے ۲۳۶ح

    فی الواقعہ ایمانی مراتب میں انہوں نے وہ ترقی کی تھی کہ

    ان کا نمونہ ملنا مشکل ہے ۲۳۷

    صحابہ رضی اللہ عنہم کی قربانیاں ۲۳۶

    قرآنی تعلیم اور آنحضرت ؐ کی صحبت کا ان پر پہلا اثر ۴۲۴

    صحابہ کی پاک روح کے ساتھ الہٰی تائید اور گناہ سے

    بکلی بیزاری ۴۲۵

    صحابہ پر کفار مکہ کے انتہائی مظالم پر اللہ کا جہاد بالسیف

    کی اجازت دینا ۴۷۶

    صحابہؓ کا آنحضرت کی نسبت بائیبل کی پیشگوئیاں کو بطور

    حجت پیش کرنا ۸۳ح

    صلح

    قرآن کریم کی صلح کی تعلیم ۴۵۹،۴۷۴،۴۷۹

    ہندوؤں اور مسلمانوں کو باہم صلح کی تلقین ۴۴۴

    صلح جیسی کوئی بھی چیز نہیں ۴۵۶

    سچے مسلمان سے صلح کی اصل صورت ۴۵۲

    مسلمانوں اور ہندوؤں میں سچی صلح کرانے والا اصول ۴۵۸

    صلح پسندوں کے لئے خوشی کامقام ۴۴۵

    صلح کے وقت دل میں دغا اور اس کا تدارک ۴۷۸

    دوسری قوموں کے بزرگوں کو عزت سے یاد کرنے کی

    پیاری تعلیم دنیا میں صلح کی بنیاد ہے ۳۸۳

    صلح کی بنیاد ڈالنے کے لئے پاک اصول اور اس کے

    بغیر صلح کا ناممکن ہونا ۳۸۴،۳۸۵

    اسلام میں کفار سے جہاد کا حکم ہے توپھرکیسے یہ صلح

    کاری کا مذہب ٹھہرا؟ ۳۹۰

    آخری زمانہ میں مسیح موعود کا دنیا کو صلح کاری کا پیغام ۳۹۵

    انبیاء کی شان میں بدگوئی کرنے والوں سے صلح نہ کرنے کا

    مسیح موعود ؑ کا فرمان ۳۸۶

    مسیح موعود ؑ کا آنحضرت ؐ کے متعلق بدزبانی کرنے والوں

    سے صلح نہ کرنا ۴۵۹

    صور(قرنا)

    خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں یعنی قرنا جن کے دلوں

    میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے ۸۵

    طاعون

    براہین احمدیہ میں طاعون کی پیشگوئی کی اشاعت ۴۰۳

    طاعون کی نسبت الہام اور اس کی وضاحت ۴۰۴

    مسیح موعود ؑ سے مباہلہ کرنے والے چند مخالفین کی طاعون

    سے ہلاکت ۳

    مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کے مطابق قادیان کے آریہ اخبار

    شبھ چنتک کے ایڈیٹر و منتظمین کی طاعون سے ہلاکت ۶۸،۱۵۳

    طب(علم الابدان)

    علم الابدان اور علم الادیان میں عمیق تعلقات اور ایک

    دوسرے کا مصدق ہونا ۱۰۳

    پہاڑوں پر سل کی بیماری والوں کو فائدہ ہوتا ہے ۲۸۵

    ہند کی طبابت میں بعض امراض کے علاجوں میں گوشت کا ذکر ۱۵۰

    گولرکے کیڑے پھل کو مضرصحت نہیں کرتے ۲۸۴

    طلاق

    طلاق کے متعلق قرآن کریم اور انجیل کی تعلیم کا موازنہ ۴۱۳

    طلاق کے متعلق آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ یہ

    عورت و مرد کی مساوات کے منافی ہے ۲۸۶

    عورت کو بھی خلع کا اختیار دیا گیا ہے ۲۸۸

    منوشاستر کی رُو سے مرد کو بعض صورتوں میں طلاق دینے

    کا حق حاصل ہے ۲۸۷

    عارف

    حقیقی عارف باوجود صدہامجاہدات، عبادات اورخیرات کے اپنے تیءں خدا کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اعمال کو کچھ چیز نہیں سمجھتے ۲۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 514

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 514

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/514/mode/1up

    26

    عالَم

    لفظ عالَم سے مراد ۴۴۰

    عبادالرحمن

    عبادالرحمن کی علامات ۳۴۶

    یہ اجنبی لوگوں کی نگاہوں سے محجوب ومستتررکھے جاتے ہیں ۳۴۷

    پاک سرشت انسان کا خداکے ساتھ اپنے مخفی تعلقات کو

    ظاہر نہ کرنا ۱۷۵

    عبادت

    اللہ تعالیٰ عبادت اور مجاہدہ کرنے والوں کی اسی دنیا میں خاص عزت

    اور تائید کے ساتھ اُن میں اور غیروں میں فرق کر کے دکھلاتاہے ۱۷۳

    خدائے عزّوجلّ کی عبادت کی دو قسمیں

    ۱۔توبہ و استغفار۲۔الہٰی صفات ذاتیہ و اضافیہ کا اقرار کر کے

    اُس کی حمد وثنا میں مشغول رہنا ۱۷۲

    عبادت کی اقسام اور ان کی تفصیل ۹۹،۱۰۰

    ۱۔تذلل و انکسار جیسے نماز۲۔محبت و ایثار جیسے حج

    عبرانی

    یہود کا عقیدہ کہ خدا کی اصل زبان عبرانی ہے ۴۴۸

    عذاب

    عذاب کی حقیقت ۱۳۵

    بلاؤں کے ٹلنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ ہر ایک قسم کی بدچلنی سے باز آئیں ۴۰۴

    عربی زبان

    مسیح موعود ؑ کا بذریعہ تحقیق عربی کو زبانوں کی ماں ثابت کرنا ۱۵۴

    خدا کاکلام پُر شوکت ہوتا ہے اور اکثر عربی میں ہوتا ہے ۳۱۴

    عرش

    قرآن کریم میں عرش سے مراد ۲۷۶

    عرش اورآیۃ الکرسی میں مذکور کرسی سے مراد ۱۱۸ح

    عرش کوئی مخلوق چیز نہیں بلکہ وراء الورٰی مقام کا نام ہے ۲۷۶ح

    شرعی اصطلاح میں عرش کے معنی اور اللہ کی صفت تنزیہی ۹۸

    قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی تفسیر ۲۷۸

    عفو

    تمام اخلاق میں سے اعلیٰ خلق ۱۹۱

    اسلام میں عفو عام کا حکم ۳۸۷

    عفو کے متعلق اسلام اور عیسائیت کی تعلیمات کا

    موازنہ ۳۸۷تا۳۸۹،۴۱۳

    عفو کے متعلق توریت، انجیل اور قرآن کی تعلیم کا موازنہ ۲۷۰

    عقلِ سلیم کے نزدیک ایک سخت گیر انسان کا قابل ملامت ہونا ۱۹۲

    عقل

    عقل کے بارہ میں فلاسفروں اور اہل کشف کی رائے ۲۸۳

    عقل سے بالاتر امور کی دریافت کیلئے اللہ تعالیٰ کے پیدا

    کردہ ذرائع ۳۱۷

    آج تک محض عقل کے ذریعہ خدا کی شناخت نہیں ہوسکی ۳۱۹

    علم

    انسانی علوم جو انسانی عقل کے ماتحت ہیں وہ محض بذریعہ حواس خمسہ ظاہری یا بذریعہ حواس خمسہ باطنی کے معلوم ہوتے ہیں اور یہ آلہ قوانین قدرت کی شناخت کا خود محدود ہے ۱۱۰

    علماء

    مسلمانوں کے اکثر علماء کی ناگفتہ بہ حالت ۳۲۶

    اہل علم صالح اور رشید طبع تھوڑے ہیں ۳۲۷

    عمل

    انسان کی عملی حالت، اس کے ایمان پرمستحکم شہادت ۲۳۷

    اعمال کچھ چیز نہیں بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال

    کب ہوسکتے ہیں ۲۷

    نہایت شوخ اور شریر اور بدبخت وہ شخص ہے جو اپنے اعمال

    کو اپنی طاقتوں کاثمرہ سمجھ کرخدا سے انصاف چاہتا ہے ۳۵

    حقیقی عارف اپنے اعمال کو کچھ چیز نہیں سمجھتے ۲۳

    اعمال پر بھروسہ کر کے خدا سے انصاف کا مطالبہ کرنا سخت

    بے ایمانی اورجہالت ہے ۳۴



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 515

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 515

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/515/mode/1up

    27

    آریوں کے نزدیک محدود اعمال کا بدلہ غیر محدود نہیں دیا جاسکتا ۳۰،۳۱

    یہ بھی سراسر دھوکا ہے کہ اعمال محدود ہیں ۳۲

    عورت

    اسلام میں عورت کی عزّت اور حقوق کا تحفظ ۲۸۸

    نساء کم حرث لکم پر اعتراض اور اس کا جواب ۲۹۲

    بعض عورتوں میں قوت رجولیت اور انثیت کا جمع ہونا ۲۲۶

    عیسائیت

    عیسائیت کے عروج و اقبال کا زمانہ ۸۶

    سورۃ فاتحہ میں عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگنے کی دعا ۸۷ح

    توریت و انجیل کا توحید کے بیان کرنے میں ناقص ہونا ۲۶۸

    عیسائیت کی جملہ تعلیمات صرف ایک قوم کے لئے ہیں ۳۸۷

    عیسائیت اور اسلام میں عفوو احسان کی تعلیمات کا موازنہ ۳۸۷تا۳۸۹

    عفو کے متعلق قرآن اور انجیل کی تعلیمات کا موازنہ ۴۱۳

    عیسائی مذہب بھی توبہ قبول کرنے کا قائل ہے مگر اِس شرط

    کے ساتھ کہ توبہ کرنے والا عیسائی ہو ۱۹۰

    پادریوں کے نزدیک دہریہ لوگ ۴۵۰

    قرآن شریف میں عیسائی پادریوں کی بیان کردہ صفات ۸۷ح

    نجات کے متعلق عیسائیت کے عقیدہ کا ردّ ۴۱۴

    عیسیٰ پر وحی والہام ختم ہونے کا عیسائی عقیدہ ۴۴۱

    مسیح کی خدائی ثابت کرنے کے لئے اسلام اور آنحضرت

    کی توہین کرنا ۹۴

    غضب

    قرآنی تعلیمات کے رُو سے خدا کی صفت غضب کا مفہوم ۴۶،۶۳،۲۷۶

    وید کا پیش کردہ پرمیشر اور اس کا غضب ۵۸

    رگ وید کی بعض شرتیاں جن میں پرمیشر کو غضب کرنے

    والا بتلایا گیا ہے ۴۷

    ستیارتھ پرکاش میں پرمیشر کی صفات غضبیہ کا ذکر ۴۸

    خدا کی صفت غضب کے متعلق وید اور قرآن شریف کی تعلیمات کا موازنہ ۴۹

    غلامی

    جنگ میں قیدیوں کو غلام بنانے کے متعلق اسلامی تعلیم ۲۵۳

    غلاموں سے حسنِ سلوک اور آزاد کرنے کا حکم ۲۵۳ح

    لونڈی کی تعریف ۲۵۰

    لونڈیوں سے نکاح کے متعلق اسلامی تعلیمات پر اعتراض

    کا جواب ۲۵۲

    لونڈیوں سے نکاح کے جواز اور نیوگ کا باہمی موازنہ ۲۵۲تا۲۵۵

    اس زمانہ میں لونڈیاں اور غلام نہ بنانے کی وجہ ۲۵۳ح

    قومی غلامی کے نتیجہ میں اخلاقی گراوٹ ۴۷۰

    فلاسفر

    نیچریوں اور فلسفیوں کی حالت ۳۲۵

    فلسفی لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کی رائے کہ وہ پکے کافر اور چھپے ہوئے دہریہ ہیں ۲۸۱

    قدامت

    قدامت کی اقسام ۔۱۔قدامت نوعی ۔۲۔قدامت شخصی ۳۵

    قرآن کریم ۱۵،۲۳،۳۳،۴۷،۸۳،۸۵ح،۸۷ح،۹۷،

    ۱۱۳،۱۱۸،۱۲۴،۱۳۱،۱۳۵،۱۴۳،۱۴۶،۱۵۸،۱۶۴،

    ۲۱۵،۲۲۴،۲۲۸،۳۱۴،۳۴۰،۳۶۳،۳۸۵،۳۸۷،۳۹۰

    بموجب قرآنی تعلیم بندہ ہلاکت کا سامان خود کرتا ہے۔ خدا اس پر کوئی جبر نہیں کرتا ۶۲

    قرآن شریف کے مطابق انجام کار دوزخیوں پر رحم کیاجانا ۵۰

    خدا نے قرآن کریم میں صفات تشبیہی و تنزیہی کے آئینہ

    میں اپنا چہرہ دکھایا ہے اور یہی توحید ہے ۹۹

    قرآن کریم میں ذوالعقول حیوانوں کے جوموردِثواب یا

    عذاب ہوسکتے ہیں کے دو گروہ۔۱۔نوع انسان۔۲۔جنات ۸۴ح

    باوانانک ؒ کے تبرکات میں قرآن شریف قلمی کی موجودگی ۳۵۳

    قرآن کی خصوصیات

    قرآن کریم کے منجانب اللہ اورزندہ کتاب ہونے کے ثبوت ۴۰۲

    اس سوال کا جواب کہ ہم نے کس طرح شناخت کیا کہ

    قرآن شریف خدا کا کلام ہے ۳۹۹



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 516

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 516

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/516/mode/1up

    28

    قرآن کریم کی چار اعجازی صفات ۲۶۸ح

    قرآن کریم اعجازی صفت اپنے اندر رکھتا ہے ۲۶۵

    خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں زبردست نشانوں کے ساتھ اپنی ذات اور صفات کو ثابت کیا ہے ۴۳۵

    قرآن کا اپنے پیروی کرنے والوں کو ظنّی معرفت سے یقینی معرفت تک پہنچانا ۴۰۲

    قرآن کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق کا دیاجانا ۴۰۹

    قرآنی تعلیم تمام طبائع انسانیہ کا خیال رکھتی ہے ۴۱۳

    قرآنی تعلیم تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے ۹۰

    قرآن کا دعویٰ کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کیلئے آیا ہے ۷۶

    قرآن نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی ۴۵۹

    قرآن تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آیا ہے ۷۵

    قرآن سے پہلے تمام کتابیں مختص القوم تھیں ۷۵

    قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں میں سے اسکی تعلیم بھی ہے ۴۱۳

    قرآن کی مختلف ممالک میں توحید کی تخم ریزی اورمخلوق پرستی کے منافی قرآنی تعلیم ۷۷،۷۸

    قرآن کی سچی اورکامل تفسیر اور طب جسمانی کے قواعد کلیہ ۱۰۲،۱۰۳

    قرآن کی اکملیت

    قرآن شریف کی اکملیت ۳۰۵تا۳۱۱

    قرآن کریم نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کردیا ہے ۸۰

    شریعت قرآن شریف پر ختم ہوگئی ہے صرف مبشرات یعنی پیشگوئیاں باقی ہیں ۱۸۹

    خدا کی وحی کی تخم ریزی کا آدم ؑ سے آغاز اورقرآن کے زمانہ میں کمال کو پہنچنا ۲۲۰

    بجز قرآن کے کوئی ایسی کتاب نہیں جو خدا کو تمام صفاتِ کاملہ سے متصف اورتمام عیوب سے پاک سمجھتی ہو ۱۱۶

    قرآن کریم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں کامل ہے ۲۱۹

    قرآن کریم ایک اعلیٰ اور اکمل تعلیم ۷۰ح

    کلجگ(معاصی کازمانہ) اس لائق تھا کہ کامل کتاب اس

    میں بھیجی جائے سووہ قرآن شریف ہے ۱۹۴

    جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف

    بیان کرچکا ۸۰

    قرآنی برکات

    قرآن کی پیروی کرنے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ ۴۲۳

    ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجزذریعہ قرآن شریف کے

    پورے طور پر خداتعالیٰ پر یقین لاسکے ۲۷۱

    جو شخص قرآن شریف کا پیرو ہو کر محبت او ر صدق کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے وہ ظلّی طور پر خداتعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوجاتا ہے ۴۲۷

    قرآن کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب ہلاک شدہ ہیں ۱۰۳

    قرآن کریم کا اعجاز

    قرآن کریم کی چاراعجازی خوبیاں ۲۶۸ح

    قرآن کی معجزانہ تاثیرات سے ایک کامل پیروی کرنے

    والے کا قبولیت کا درجہ پانا ۲۷۱ح

    اس کے ذریعہ خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہوجاتی

    ہے اور دنیا کی محبت سرد ہوجاتی ہے ۳۰۷

    قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا کا خود اپنی

    قدرتیں دکھلانا اور اپنی ہستی کی خبر دینا ۳۰۸

    تازہ نشانوں سے امید بڑھانا اورخداتعالیٰ کے ملنے کے

    آثار ظاہر کرنا ۳۱۰

    قرآن شریف سر چشمۂ معارف و حقائق ہے ۶۲

    قرآنی تعلیم

    قرآن کی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں میں اس کی تعلیم ہے جو فطرت انسانی کے مطابق ہے ۴۱۳

    قرآنی تعلیم کی کوئی ایک بات بھی حق اور حکمت سے باہر نہیں ۱۴

    اس میں دیوانی، فوجداری، مالی سب ہدایتیں موجود ہیں ۲۴۲

    والدین،اولاد کے حقوق اقرباء سے حسن سلوک کے متعلق تعلیمات ۲۰۸تا۲۱۴

    مسلمانوں کیلئے جنگ کے قرآنی احکامات ۳۹۲تا۳۹۵

    قرآن کریم کی وراثت کے متعلق تعلیم ۲۱۲،۲۱۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 517

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 517

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/517/mode/1up

    29

    نیکی، احسان اور معافی کی قرآنی تعلیم ۳۸۸

    حیوانات جو کسی انسان کے قبضہ میں ہوں ان کے متعلق قرآنی تعلیم ۲۱۴

    قرآن شریف نے شراب کو جوام الخبائث ہے قطعاً حرام کردیا ۲۶۷

    قرآن کریم میں بتوں کو گالی دینے کی ممانعت ۴۶۰

    طلاق کے متعلق قرآن کریم اور انجیل کی تعلیم کا موازنہ ۴۱۳

    قرآن کریم کی آمد سے توحید کا قیام ۲۶۷

    بائیبل اور وید کے برعکس قرآن کے ذریعہ توحید کا قیام ۲۶۹

    اگر توریت اور انجیل میں وہ تعلیم موجود ہوتی جو قرآن شریف میں موجود ہے تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ اس طرح پر عیسائی گمراہ ہوجاتے ۲۶۸

    اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اور عفو کے متعلق قرآن کریم کی تعلیم ۵۶

    خدا کی صفت مالکیت کے متعلق وید و قرآن کی تعلیمات کا موازنہ ۱۷

    قرآن شریف ہی ہے جوروحانی پیدائش کے علم کو زمین پرلایا ۱۶۰

    نجات کے بارہ میں قرآن کریم کی تعلیم ۴۱۶

    قرآن کریم اور بائیبل کی تعلیمات کا اختلاف ۴۷۰

    قرآن کریم اور بائیبل کا موازنہ ۲۶۶

    قرآن کریم ، تورات اور انجیل کی تعلیمات کا موازنہ (عفو،

    غض بصراورطلاق وغیرہ) ۴۱۳،۴۷۱،۴۷۳

    قرآن کریم میں مذکور قسموں کی فلاسفی ۱۰۲

    دوسروں کے ادب واحترام کی قرآنی تعلیم ۴۶۰

    قرآن شریف کے بعد صرف مکالماتِ الہٰیہ کا دروازہ کھلا ہے ۱۰۲

    کیاوید اورقرآنی تعلیم میں تناقض ہے ۴۷۸

    عفو کے متعلق توریت، انجیل اور قرآن کی تعلیم کا موازنہ ۲۷۰

    خدا کی صفت غضب کے متعلق وید اور قرآن شریف کی تعلیمات کا موازنہ ۴۹

    قرآن کریم میں پیشگوئیاں اور علمِ غیب

    قرآن شریف کا خدا تعالیٰ کی صفت عالم الغیب کے بیان کرنے کے وقت علم غیب ظاہر کرنا ۳۸

    قرآن کریم میں مختلف قصّے بیان کرنے کی حکمت ۱۵۶

    قرآن کریم کے قصّے درحقیقت عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں ۶۷۱

    قرآن کریم میں ایرانیوں پر رومیوں کی فتح کی پیشگوئی

    اور اس کا نوسال کے اندر پورا ہونا ۳۲۰،۴۱۱

    قرآن کریم میں وحدتِ اقوام کی پیشگوئی ۱۴۶

    روحانی اجتماع پر دلالت کرنے والی ایک قرآنی پیشگوئی ۸۳

    آخری زمانہ کے متعلق پوری ہونے والی قرآنی پیشگوئیاں ۳۲۱

    قرآن کریم پر اعتراضات اور ان کے جوابات

    آریوں کے مختلف اعتراضات اور ان کے جوابات ۲۱۹تا۲۹۲

    نزول قرآن کے متعلق آریوں کا ایک خودساختہ مفروضہ ۹۵

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ قرآن بائیبل کی نقل ہے ۲۶۴

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ قرآن شریف میں سینکڑوں باتیں خلافِ قانونِ قدرت ہیں ۲۲۰

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ پتھر سے پانی نکلنا جو قرآن شریف میں مذکور ہے خلاف قانونِ قدرت ہے ۲۳۰

    قرآنی نظریہ تخلیق کائنات پر آریوں کے اعتراض کا جواب ۲۲۲

    قرآن شریف میں اختلاف اور تناقض نہیں ۱۹۸

    اس اعتراض کا جواب کہ قرآن کریم ابتدائے آفرینش میں نازل نہیں ہوا ۲۱۹

    مَکر کا انتساب اللہ تعالیٰ کی طرف کیا حقیقت رکھتا ہے؟ ۱۱۵

    قربانی

    اپنے وجود اورتمام قوتوں کوخدا کی راہ میں قربان کرنے کا

    حکم اور ظاہری قربانیوں کی غرض ۹۹ح

    قسم

    قرآن شریف میں مذکور خداتعالیٰ کی قسموں کی فلاسفی اور

    قسم کا شہادت کے قائم مقام ہونا ۱۰۲

    قلم

    مسیح موعود کا زمانہ قلمی جہاد کازمانہ ہے ۹۳

    کایستھ قوم کے پڑھے لکھے قلم کی پوجاکرتے ہیں ۶۹

    قانونِ قدرت

    انسانی علوم قوانینِ قدرت کااحاطہ نہیں کرسکتے ۱۱۰



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 518

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 518

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/518/mode/1up

    30

    خدا کے قانونِ قدرت کی وہ شخص حدبست کرسکتا ہے جو

    خدا سے بھی بڑھ کر ہو ۲۲۰

    خدا کے قانونِ قدرت سے واقف لوگ ۱۱۳

    کیا قانون قدرت میں تبدیلی ممکن ہے ۱۰۲تا۱۱۰

    خداتعالیٰ کا دوقسم کا قانون قدرت ۱۳۷

    اللہ تعالیٰ کااپنے خاص بندوں کیلئے اپنا قانون بدلنا ۱۰۴

    ایسے روحانی امور بھی ہیں جن کے مقابل پر قانونِ قدرت

    کا شیرازہ درہم برہم ہوجاتا ہے ۱۱۰

    وید کی تعلیم قانون قدرت کے خلاف ہے ۱۳۱

    آریوں کے خدا تعالیٰ سے متعلق عقائد سے قانون قدرت

    کی حیثیت باقی نہیں رہتی ۱۰۳

    قانونِ ملکی

    ملکی قانون میں تبدیلی کے اسباب ۱۰۶تا۱۰۹

    قومیّت

    وحدتِ اقوام

    قرآن کریم میں قومیت کے تصور کی حدود ۱۴۶

    نوعِ انسانی کی تین وحدتیں-: ۱۴۶

    ۱۔وحدتِ قرابت۔۲۔ وحدتِ قومیت۔۳۔ وحدتِ اقوام

    قوموں کے جدا جدا گروہ مقرر کیے جانے میں حکمت ۱۴۵

    قوموں میں مساوات ۴۳۹

    خداتعالیٰ نے کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں

    سے محروم نہیں رکھا ۴۴۲

    قرآن کریم نے قوموں میں صحیح صلح کی بنیاد ڈالی ۴۵۹

    وحدتِ اقوام کا نظام تدریجی ہے ۱۴۵

    بین الاقوای مفاہمت

    تمام اقوام عالمِ کو ایک قوم بنانے کا الہٰی ارادہ ۷۶،۲۱۹

    اسلام اور بین الاقوامیت

    قرآن کریم میں وحدتِ اقوام کی پیشگوئی ۱۴۶

    وحدتِ اقوام خدائے واحد لاشریک کے وجود اور وحدانیت

    پر شہادت ہوگی ۹۰

    جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ

    نوعِ انسان میں بھی وحدت کو ہی چاہتا ہے ۱۴۴

    قرآن کا تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آنا ۷۵

    قرآن کا دعویٰ کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے ۷۶

    اسلام وحدتِ اقوام کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے ۱۴۴

    آنحضرتؐ کی بعثت کی غرض وحدت اقوام ہی ہے ۹۰،۱۴۷

    وحدت اقوامی کی خدمت نائب النبوت (مسیح موعود) کے

    عہد سے وابستہ کی گئی ہے ۹۱

    یاجوج و ماجوج کے زمانہ میں قوموں اور مذاہب کے درمیان شدیدتفرقہ کی پیشگوئی اور پھر مسیح موعود کے ہاتھ سے تمام

    اقوام کا ایک مذہب پرمتحد ہونا ۸۸

    مسیح موعود کے ذریعہ دنیا کی قوموں کو ایک ہی قوم بنایاجانا ۸۴

    آخری زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں کہ ذرائع رسل ورسائل

    کے نتیجہ میں مشرق و مغرب کو ملادیاجائے گا ۸۱تا۸۳

    قرآن شریف میں ایک اور پیشگوئی بھی ہے جو (بین الاقومی) جسمانی اجتماع کے بعد روحانی اجتماع پر دلالت کرتی ہے ۸۳

    کسی دین کے عالمگیر غلبہ اوروحدت اقوام کیلئے تین شرائط ۹۱تا۹۵

    بین الاقوامی مفاہمت پیدا کرنے میں ریلوے اور دیگر

    ذرائع رسل ورسائل کا کردار ۸۲تا۸۳

    کائنات

    کائنات کی پیدائش کے متعلق چھ ایام سے مراد ہمارے دن

    نہیں خدا کا دن ایک ہزار اور پچاس ہزار کا ہوتاہے ۲۲۳

    کتاب اللہ

    کتاب اللہ کی ضرورت

    اس سوال کا تفصیلی جواب کہ دنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے تو کونسی؟ ۳۷۳تا۴۳۶

    انسان الہامی کتاب کا کیوں محتاج ہے؟ ۴۰۰

    علمی اور عملی فساد کی انتہاء کے زمانہ میں الہامی کتاب

    کی ضرورت ۴۲۹

    الہٰی کتب کی اغراض

    الہامی کتابوں کی اصل غرض ۳۰۵تا۳۱۱



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 519

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 519

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/519/mode/1up

    31

    الہامی کتاب کے لئے دونشانیاں ۱۳۵

    آسمانی کتاب کی اصل غرض ۳۰۵

    لوگوں کی اصلاح کرنا ۱۴۷

    خدا کی کتاب کے دو مقصد ۳۹

    خداتعالیٰ کی کامل کتاب کی نشانی ۱۵۶

    الہٰی کتب کی خصوصیات

    کتاب اللہ کی صداقت کی علامات ۳۹۹

    خدا کی کتاب کا یہ منصب ہے کہ خدا کے عالم الغیب ہونے

    کیلئے اس کا کوئی نمونہ پیش کرکے ثابت کرے ۳۸

    الہامی کتاب میں الہٰی طاقت کاپایا جانا ضروری ہے ۴۰۰

    کتاب اللہ کے لئے مبدء ومعاد کی خبریں دیناکیوں ضروری ہے ۳۱۸

    ایسی الہامی کتاب جو خداتعالیٰ کے جسمانی قانون قدرت کے ساتھ موافقت نہیں رکھتی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتی ۱۰۹

    الہامی کتاب کیلئے ضروری ہے کہ اس میں قواعد مقررہ منطق

    کی رو سے کوئی تناقض نہ پایا جائے ۱۹۶

    کتاب اللہ کیلئے قدیم ترین ہونا ضروری نہیں ۴۰۱

    نجات کی بناء محال امر پر رکھنا الہٰی کتاب کی شان کے

    مناسب نہیں ۵۲

    آریوں کے نزدیک الہامی کتاب کی صفات ۱۳۴

    آریوں کے مسلّمہ عقائد کی رُو سے سوائے وید کے تمام

    کتب بناوٹی ہیں ۱۸۲،۱۷۰

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ الہامی کتاب ابتدائے آفرینش میں ہی نازل ہونی چاہیئے ۱۴۲

    کتاب اللہ کے غیرانسانی زبان میں نازل ہونے کے

    عقیدہ کاردّ ۱۵۲

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ الہامی کتاب میں

    قصے درج نہیں ہونے چاہئیں ۱۵۵

    ابتدائے زمانہ میں جو کتاب نازل ہوئی ہوگی وہ کسی طرح

    کامل اور مکمل نہیں ہوسکتی ۱۴۷

    ابتدائے آفرنیش کے وقت آنے والی کتاب کی نسبت عقل

    کی قطعی رائے ۷۰

    ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان

    کو ملی تھی مگر وہ وید ہرگز نہیں ہے ۷۲،۷۴

    اس سوال کا جواب کہ ابتداء میں نوع انسان کو صرف ایک

    ہی الہامی کتاب کیوں دی گئی ۷۴،۷۵

    الہامی کتب کے تین ادوار اور ان کی تفصیل ۷۵

    الہامی کتب میں تعلیم کے اختلاف کا سبب ۱۰۶تا۱۱۰

    مسیح موعود ؑ کو پہلی کتب کے صحت پر قائم نہ ہونے کا بتایا جانا ۳۸۵

    مسیح موعود ؑ کا تمام الہٰی کتب بشمول وید جو ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا، پر ایمان لانا ۱۱۴

    ویدوں کے بیانات میں تناقض ۴۸ح

    قرآن سے پہلے تمام کتابیں مختص القوم تھیں ۷۵

    کرسی

    آیۃ الکرسی میں کرسی سے مراد ۱۱۸ح

    کسوف و خسوف

    دارقطنی کی حدیث کسوف وخسوف کی وضاحت ۳۲۹ح

    آخری زمانہ کے متعلق قرآن کریم کی پیشگوئی کہ ایک

    خاص وضع کا کسوف و خسوف ہوگا ۳۲۱

    لم تکونا سے مراد اٰیٰتین ہے نہ کہ کسوف و خسوف ورنہ

    لم یکونا کے الفاظ ہوتے ۳۲۹ح

    بعض نے شق القمر کو ایک قسم کا خسوف قراردیا ہے ۲۳۲

    کعبہ

    خانہ کعبہ کی تعمیر کی غرض ۹۹

    یہ جسمانی طور پرمحبّانِ صادق کے لئے نمونہ دیاگیا ہے ۱۰۰

    حجرِاسود کے متعلق آریوں کے اعتراضات کا جواب ۹۹

    کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجرِ اسود

    سے مرادیں مانگتا ہے ۱۰۰

    کفارہ

    اللہ تعالیٰ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی ناکردہ گناہ سولی پر

    کھینچا جائے تا وہ دوسروں کے گناہ معاف کرسکے ۵۵



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 520

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 520

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/520/mode/1up

    32

    کلالہ

    علمِ وراثت میں کلالہ کی تشریح ۲۱۳

    کلمہ طیبہ

    لاالٰہ الا اللہ کے معنی ۷۸

    باوانانک کے چولہ پر کلمہ لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

    کا لکھا ہونا ۲۱۶،۳۵۴

    کیمیا

    مری ہوئی دھاتوں کو زندہ کرنے کا نسخہ ۱۷۱

    نباتی اور معدنی مفردات کی ترکیب کی صورت میں نئے کیمیاوی خواص نیست سے ہست کا ثبوت ہیں ۱۷۲

    کوئی کیمیا ایسی نہیں جیسا کہ خدا کی محبت اور اس کی طرف

    جھکنا جیسا کہ شیر خوار بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے ۱۷۲

    گناہ

    گناہ سے نجات کیسے ممکن ہے؟ ۳۰۶

    قرآن کریم کی پیروی گناہ سے نجات دیتی ہے ۳۰۸

    خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین ہی گناہ سے بچاتا ہے ۴۲۱

    گناہ سے بے خوف ہونے کی اصل وجہ ۴۲۳

    جس صلیب پر عیسائیوں کا بھروسہ ہے وہ گناہ سے نہیں چھڑاسکی ۳۱۲

    خداتعالیٰ میں رحم کی صفت تقاضا کرتی ہے کہ رجوع کرنے والوں کا گناہ بخش دیاجائے ۴۶ح

    اس سوال کا جواب کہ انسان خدا کے گناہ سے کیوں پرہیز

    نہیں کرتا ۴۲۲

    روحانی خوف سے یہ مراد ہے کہ قطع تعلق کے اندیشہ سے گناہ

    کا مادہ جل جائے اور روح میں ایک پاک تبدیلی آجائے ۶۵

    گناہ بے شک ایک زہرہے مگر توبہ اور استغفار کی آگ

    اس کو تریاق بنا دیتی ہے ۴۱۵

    قران شریف اس بارہ میں بھراپڑا ہے کہ ندامت اور توبہ

    اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں ۲۴

    گناہ اور اسکی سزا کے متعلق آریوں کے عقائد اور انکا ردّ ۲۹تا۳۲

    وید توبہ و استغفار سے گناہوں کی بخشش کے مخالف ہے اس

    کی رو سے گناہگاروں کی سزاناپیدا کنار ہے ۵۰

    ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں

    سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے ۲۶

    بمطابق وید پرمیشر گناہ پر سخت مؤاخذہ کرتا ہے ۵۵

    پرمیشر باوجود مالک کہلانے کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا

    اپنے زوربازو سے کوئی نجات پاوے تو پاوے ۵۸

    انسان کیلئے گناہ سے بالکل پاک ہوجانا ناممکن ہے ۵۱

    گناہ سے بچنے کے لئے انسان کو خدا اور اس کی سزا پر یقین

    کامل کیسے پیدا ہو؟ ۴۲۳

    خدااکثر گناہ بخش دیتا ہے البتہ تنبیہہ کی غرض سے کسی گناہ

    کی سزا بھی دیتا ہے ۲۳

    ذنب اور شرّ میں فرق ۲۴

    گنگا

    اگر وید جل کی پوجا کی ہدایت نہ کرتا تو گنگامائی کے پوجنے والے کیوں پیدا ہوجاتے ۴۵،۷۸

    گوشت خوری

    گوشت خوری فطرتی تقاضا ہے وید کی تعلیمات کا ردّ ۱۴۹

    بہت سے اسباب صحت کاگوشت کھانے پر ہی موقوف ہونا ۱۵۰

    راجہ رام چندر اور کرشن سب گوشت کھاتے تھے ۱۵۰

    لنگ پوجا

    نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ۲۹،۱۱۴،۱۲۱

    لنگرخانہ مسیح موعود ؑ

    ۱۹۰۸ء میں پندرہ سوروپیہ ماہوار خرچ تھا ۴۰۶

    ماء الحیات

    مری ہوئی دھات کو زندہ کرنے کا نسخہ ۱۷۱

    مباہلہ

    جنگ بدر کے موقع پر ابوجہل کی دعائے مباہلہ ۱۷۴تا۱۷۵

    مسیح موعود ؑ سے مباہلہ کرکے ہلاک ہونے والے چند مخالفین ۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 521

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 521

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/521/mode/1up

    33

    لیکھرام کی دعائے مباہلہ ۱۷۷تا۱۸۲

    لیکھرام کا مباہلہ ۳۰۳تا۳۰۴

    مُثلہ

    جنگ میں مقتول دشمنوں کے ناک کان کاتنے اورلاش کی

    بے حرمتی کرنے کی ممانعت ۲۵۳

    مجاہدہ

    خدائے عزّوجلّ کی لدنی ہدایت بجز مجاہدہ کے نہیں ملتی ۴۲۶

    محبت

    محبت سے مراد ۶۵

    انسانی رُوح ابدی اور دائمی محبت کے لئے پیدا کی گئی ہے ۶۴

    معشوق سے محبت کا محرک امر ۴۲۹

    مذہب

    مذہبی تاریخ کے چار دَور اور ان کی تفصیل ۸۱

    وید کی طرف منسوب ہونے والے مختلف مذاہب ۴۵۳

    بدھ مذہب کا دنیا کے تیسرے حصہ پر نفوذ اور اصل مرکز ۴۵۰

    ہندوؤں اور مسلمانوں میں اصل وجہ اختلاف مذہب ہے ۴۵۷

    سچے مذہب کے ساتھ تائیدالہٰی کے آسمانی نشانات ہوتے ہیں ۹۳

    مذہبی اختلاف سے مراد ۴۴۴

    مذہبی آزادی ۹۲

    مسلمان

    انبیاء کے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ ۴۵۲

    مسلمانوں اور ہندوؤں کو نصائح ۴۴۳

    مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفاق اورمخالفت کی وجوہ ۴۵۶

    اکثر علماء کی ناگفتہ بہ حالت ۳۲۶

    اہل علم صالح اور رشید طبع تھوڑے ہیں ۳۲۷

    مسیح موعود ؑ

    مسیح موعود ؑ کے لئے احیائے موتیٰ کے نشان کی صحیح صورت ۴

    معجزہ

    معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں ۴۱۲

    قرآن کریم کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق

    کا دیا جانا ۴۰۳،۴۰۹

    مسیح موعود ؑ کو ایک لاکھ سے زیادہ معجزات کا دیاجانا ۴۰۳

    الہام میں چمکار دکھلانے سے مراد جلالی معجزات ہیں ۳۹۸

    مکر

    مکرکی تعریف ۱۹۹

    لسان العرب سے لفظ مکر کے معنے ۲۰۰

    مکر کی اقسام ۳۲،۱۹۹

    ملائکہ

    اللہ تعالیٰ کی صفات کا نام ملائکہ ۲۷۸،۲۷۹

    وہ قوت جونیک خیال کا منبع ہے وہ فرشتہ ہے ۴۳۵

    جاذبِ خیر اور نیکی کا القاء کرنیوالی قوت کا نام فرشتہ ہے ۲۹۴

    ذرّہ ذرّہ عالم کا جس سے انواع و اقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں ۱۸۱ح

    فرشتوں پر ایمان لانے کا راز ۱۸۱ح

    ملائکہ کے وجود پر دلائل ۱۸۱ح،۴۳۵

    مومن

    مومن کامل پر فیضان آسمانی اوراس کی ذاتی خوبیاں ۲۶۸ح

    مومن سادگی سے خالی نہیں ہوتا ۶

    مومن کے شامل حال روح القدس کی تائید محض الہٰی انعام

    ہے اور اس کا عطاہونا ۴۲۵،۴۲۶

    مہدی

    مہدی کی نسبت احادیث سے چار اقوال اور مسیح موعود ؑ

    کا عیسیٰ مہدی ہونے کا دعویٰ ۲ح

    مہدی کے خاص نشان کسوف وخسوف کی حدیث کی تشریح ۲۹

    ناستک مت ۴۵۰

    ناگری زبان ۱۲۷،۱۸۲

    نباتات

    بعض نباتات میں حیوانی شعور ۳۴۲،۳۴۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 522

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 522

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/522/mode/1up

    34

    نبوت

    نبوت اور نبی کی تعریف ۱۸۹

    سچے انبیاء کی علامات ۳۷۸

    انبیاء کی صداقت کا معیار خدا کی نصرت اور فوق العادت نشانات ۲۹۷

    تمام گزشتہ انبیاء کا صدق آنحضرتؐ اور قرآن شریف

    کے ذریعہ ہی ثابت ہے ۳۰۲

    مقام نبوت

    انبیاء کی بعثت کی بڑی غرض ۳۰۶

    خداکے نبی اُس کی صُور یعنی قرناء ہوتے ہیں جن کے دلوں

    میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے ۸۵

    انبیاء کا زمین پر خدا کے قائم مقام ہونا ۲۹۶

    انبیاء کا طبیب روحانی ہونا اور اس کی نشانی ۱۳۵

    انبیاء علیہم السلام کی پاک زندگی کا ثبوت ۱۷۴،۱۷۵

    انبیاء کی توہین جسم ورُوح کی ہلاکت کا باعث ہے ۴۵۲

    انبیاء کی صفات

    انبیاء علیہم السلام کی صفات ۲۹۵،۲۹۶

    نبی کے زمانہ میں اس کی صفات کا ظہور سب مدعیوں سے

    پہلے ہوتا ہے ۳۱۵ح

    خدا کے سچے رسول مبداومعاد کے اخبار کے ساتھ دنیا کے

    متعلق بہت سے اخبار غیبیہ بتلاتے ہیں ۳۱۸

    خداکے نبیوں کی زندگی سادہ ہوتی ہے ۲۹۵

    خدا کے برگزیدوں کا ایک معجزہ ۳۱۶

    تمام انبیاء و رسل پر کفر کے فتاویٰ ۳۴۷

    تمام اقوام میں انبیاء کی بعثت

    دنیا کے تمام ملکوں میں انبیاء کی بعثت ۳۸۲

    تمام اقوام میں انبیاء کی بعثت کی قرآنی دلیل ۴۴۲

    خداکا ہر ایک قوم کی اصلاح کیلئے ہر ملک میں رسول بھیجنا ۸۹

    اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا

    فرض ہے ۳۹۰

    قرآن شریف ان تمام نبیوں کا ماننا جن کی قبولیت دنیا

    میں پھیل چکی ہے مسلمانوں پر فرض ٹھہراتا ہے ۳۷۸

    دیگر اقوام کے انبیاء کی صداقت کی دلیل ۳۷۸،۴۵۳

    مسیح موعود ؑ کا ہندوستان میں خدا کے نبی ہونے پر ایمان ۳۷۲

    مسیح موعود ؑ کا دنیا کے تمام نبیوں اور ان کی کتابوں کا ادب کرنا ۴۲۸

    یہود ونصارٰی کے خیال کا ردّکہ نبی صرف یہود

    سے آئے ہیں ۴۴۰،۴۴۱

    امتی نبوت

    امت محمدیہ میں امتی نبوت ۳۸۰

    جونبوت آنحضرتؐ کی کامل پیروی سے ملتی ہے وہ ختم نہیں ہوئی ۳۴۰

    آنحضرتؐ کے بعدمستقل طور پرکوئی نبوت نہیں ۳۴۰ح

    نجات

    نجات کی فلاسفی ۴۱۸

    نجات کے ذرائع ۴۸۱

    نجات اعمال سے نہیں محض فضل سے ملتی ہے ۴۱۵

    کامل محبت ہی نجات ہے ۴۱۹

    نجات محبتِ تامہ پر موقوف ہے ۴۲۹

    محبت الہٰی نجات کی جڑ ہے ۳۰۵

    نجات کے بارہ میں قرآن کی تعلیم ۴۱۶

    نجات ایک ایسا امر ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہوجاتا ہے ۴۱۶

    نجات یا فتگان کی صفات ۴۱۶،۴۲۶

    نجات یافتگان کی پیشگوئیوں کا امتیاز ۴۲۰

    انسان کو حقیقی طور پر کب نجات یافتہ کہہ سکتے ہیں؟ ۴۱۶

    نوع انسان کی نجات خدا تعالیٰ کے زندہ نشانوں پر موقوف ہے ۳۱۲

    نجات کے متعلق عیسائیت اور آریہ عقائد کا ردّ ۴۱۴

    مکتی کے متعلق وید کی تعلیم جو خدا کی صفات اور حقائق کے خلاف ہے اور اس کا ردّ ۵۸

    مکتی خانہ سے نکالے جانے والوں کو بحیثیت انسان

    زمین میں دوبارہ بھیجے جانے کے عقیدہ کا ردّ ۶۰،۶۱

    وید کی مکتی کے لئے انسان کے گناہ سے بالکل پاک ہونے

    کی شرط غیر ممکن ہے ۵۱



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 523

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 523

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/523/mode/1up

    35

    مکتی خانہ سے نجات یافتہ لوگوں کو باہر نکالنے کے لئے

    پرمیشر کی تدبیر ۵۳

    آریوں کا پرمیشر دائمی مکتی نہیں دے سکتا ۲۶

    پرمیشر باوجود مالک کہلانے کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اپنے زوربازو سے کوئی نجات پاوے تو پاوے ۵۸

    مکتی کی بناء محال امر پر رکھنا الہٰی کتاب کی شان کے

    مناسب نہیں ۵۲

    آواگون کی رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ جاودانی مکتی غیر ممکن ہے ۱۲۳

    آریہ دائمی نجات کے قائل نہیں ۲۹

    آریوں کے میعادی نجات کے قائل ہونے کی وجہ ۳۰

    نحو

    خدا تعالیٰ کاکلام انسانی نحوسے ہر ایک جگہ موافق نہیں ہوتا ۳۳۱ح درح

    نظامِ عالم

    اگر یہ تمام چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں ان

    کا وجود محض اتفاقی ہوتا تو یہ سلسلہ کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتا ۲۱

    خدا تعالیٰ کی شناخت کے لئے نظامِ عالم کیسے مفید ہوسکتا ہے؟ ۲۰

    نکاح

    نکاح کی تین اغراض اور ان کی تفصیل ۲۹۳

    نکاح میں بنیادی شرط یہ ہے کہ صرف شہوت رانی مقصد نہ ہو ۲۵۱

    اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے

    خود بخود اپنا نکاح کسی سے کرلے ۲۸۹

    اسلام میں نکاح کے احکام پر آریوں کے اعتراض کا جواب ۲۴۹

    نماز

    نمازوں کے اوقات میں حکمت و فلاسفی ۴۸۰

    نماز میں آنحضرت ؐ کے تسبیحی کلمات ۳۴۹

    جسمانی و روحانی افعال کا رُوح اور جسم پر اثر ۱۰۰

    تذلل و انکسار کے لئے نماز کا حکم ۹۹

    باوانانک کی رات کو ایک پہر عبادت کرنے کی تلقین ۳۶۳

    نیوگ

    نیوگ کا ذکر ۱۴،۱۰۹،۱۴۰،۱۴۱،۱۴۹،۱۵۷

    نیوگ کی تعلیم کا خلاصہ ۴۲

    یہ وہ امر ہے جس کو انسان کی غیرت وشرافت قبول نہیں کرتی ۴۵۴

    وید کا بجائے منع کرنے کے بیگانہ عورتوں سے تعلق پیدا

    کرنے کی راہ بذریعہ نیوگ کھولنا ۷۸

    نیوگ کی وجہ سے آریوں کی نسل مشتبہ ہے ۱۱۴،۱۱۵

    نیوگ کے پھیلنے کی اصل وجہ ۴۴

    نیوگ شہوت پرست سنیاسیوں کی ایجاد ۱۵۱

    برہمن وید کی رو سے نیوگ کے بیرج داتاہیں ۶۹

    نیوگ اورتعددازدواج کے احکامات کا موازنہ ۲۴۵

    نیوگ اور لونڈیوں کے مسائل کا موازنہ ۲۵۲

    نیوگ اور وراثت کے مسائل ۲۱۴

    ڈاکٹر برنیئر کی کتاب میں نیوگ سے متعلق ذکر ۴۴

    نیند ۴۸۱

    نیند کے طبعی اسباب اور نیند بحال کرنے والی ادویہ ۱۱۱

    نیند اور بے ہوشی کی حالت میں رُوح میں دو قسم کے تغیرات ۱۸۵ح

    حالتِ خواب میں رُوح پر بھی ایک قسم کی موت وارد ہوتی ہے ۱۶۰

    مکالمہ الہٰیہ کے وقت انسان کی غنودگی اور نیند ۱۱۱

    خواب کا عالم موت کے عالم کی کیفیت سمجھنے کے لئے ایک

    آئینہ کے حکم میں ہے ۱۶۱

    والدین

    والدین اور اقرباء سے حسنِ سلوک کے بارہ میں قرآن کریم

    کی تعلیمات ۲۰۸،۲۱۴

    وراثت

    ورثہ کے متعلق اسلام کی جامع تعلیمات ۲۱۲،۲۱۳

    لڑکے کی نسبت لڑکی کا نصف حصہ ہونے کی وجہ ۲۱۲ح

    کلالہ کی تشریح ۲۱۳

    وید

    وید کی صداقت

    درحقیقت ویدوں کی یہ تعلیم نہیں بلکہ غلطی سے یہ تعلیم

    ویدوں کی سمجھی گئی ہے ۴۵



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 524

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 524

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/524/mode/1up

    36

    مسیح موعود ؑ کا ویداوراُس کے رشیوں کی نسبت عقیدہ ۴۵۳

    وید کی سچائی کی کافی دلیل ۴۵۴

    موجودہ وید کی گمراہ کن تعلیم کی نسبت مسیح موعود ؑ کا عقیدہ ۱۱۴،۳۷۲

    موجودہ وید کو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اس پاک

    ذات کی توہین ہے ۷۴

    وید میں خداتعالیٰ کاکلام ہونے کی کوئی فوق العادت بات

    نظر نہیں آتی ۹۶

    ویدکی قدامت

    آریوں کے اس دعویٰ کا ردّ کہ وید ابتدائی کتاب ہے ۱۴۸

    اس دعویٰ کا ثبوت کہاں ہے کہ وید ابتدائی زمانہ کی کتاب ہے ۴۰

    آریوں کا اس کے باربار نزول کا عقیدہ ۴۴۱

    ہندوؤں کے نزدیک وید کے آنے کا وقت ۴۶۲

    وید کے متعلق محققین کی رائے کہ یہ متفرق وقتوں کا مجموعہ ہے ۲۲۰

    ابتدائے آفرینش کے وقت آنے والی کتاب کامل کتاب

    نہیں ہوسکتی ۷۰ح

    وید نے ابتدائے زمانہ کی کتاب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ۷۲،۷۴

    وید پر سرقہ کاالزام

    مجوسیوں کا الزام کہ وید ان کی پاک کتابوں کے مضامین

    چراکر لکھاگیا ہے ۲۷۰

    رگ وید کی بہت سی تعلیمیں ژند کی تعلیم کی سرقہ معلوم ہوتی ہیں ۲۷۱

    وید کی ناقص تعلیم

    وید کی تعلیم کے دس بڑے بڑے نقائص ۱۹۴،۱۹۵

    ویدکی تعلیم قانون قدرت کے خلاف ہے ۱۳۱

    وید میں مختلف اشیاء کی پرستش کا ذکر ۴۵۳

    ویدوں میں تناقض ۴۸ح،۱۹۷

    وید کا صریح جھوٹ ۱۲۲

    وید طرفداری سے بھراپڑاہے ۱۹۹

    وید کی غیر فطری تعلیمات ۱۵۲

    وید کی تعلیم عالمگیر نہیں ۱۵۱

    وید علوم جدیدہ وقدیمہ سے ناآشنا ہے ۱۵۷

    وید کے معنے اچھی طرح نہ سمجھنے کا عذر وید کو ہی قصوروار

    ٹھہراتا ہے ۷۸

    پیدائش و فنا کی نسبت ویدکی فلاسفی ۲۰۴

    وید میں سود اور احتکار منع نہیں ۱۳۲

    وید میں اخبار غیبیہ کی غیر موجودگی ۳۱۸

    وید میں معجزات اور پیشگوئیوں کا ذکر نہیں ہے ۱۳۷

    لاکھوں ہندوؤں کے خداتعالیٰ کے وجود سے منکر ہونے کاباعث ۴۰

    وید کا بجائے منع کرنے کے بے گانہ عورتوں سے تعلق پیدا کرنے کی راہ بذریعہ نیوگ کھولنا ۷۸

    وید کی طرف منسوب کردہ نیوگ کی تعلیم ۴۵۴

    وید میں گوشت خوری کے ممنوع ہونے کا ردّ ۱۳۱،۱۳۲،۱۴۹

    ویدکے اس نظریہ کا ردّ کہ تمام جاندار مخلوق انسان بن سکتی ہے ۶۰

    وید توبہ و استغفار سے گناہوں کی بخشش کے مخالف ہے اس

    کی رو سے گناہگاروں کی سزاناپیدا کنار ہے ۵۰

    نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ۲۹،۱۱۴،۱۲۱

    مکتی کے متعلق وید کی تعلیم جو خدا کی صفات اور حقائق کے خلاف ہے اور اس کا ردّ ۵۸

    وید اور نجات

    وید توبہ اور استغفار سے خدا کا بندوں کے گناہ بخشنے کے سخت

    مخالف ہے اورویدکی رو سے گناہگاروں کی سزاناپیدا کنار ہے ۵۰

    وید کے نزدیک توبہ واستغفار فضول اور بے فائدہ ہے ۱۷۳

    وید کی مکتی کے متعلق تعلیم اور اس کا ردّ ۵۷

    ممکن ہے یہ وید کی تعلیم (نجات کے متعلق) نہ ہو بلکہ

    محرف و مبدّل ہو ۵۲

    وید کی رُو سے نجات تبھی مل سکے گی کہ انسان گناہ سے بکلّی

    پاک ہو جائے ۵۱

    ویدکی رُو سے مکتی پانے والے بھی آخر کار مکتی خانہ سے باہر

    نکالے جائیں گے ۵۲

    ویدوں کے اس نظریہ کا ردّ کہ مکتی خانہ سے لوگوں کو نکال کرانسانوں کی جون میں زمین پر بھیجا جائیگا ۶۱



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 525

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 525

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/525/mode/1up

    37

    ویدوں کی رُو سے پرمیشر کامعمولی گناہ پر بھی شدید مؤاخذہ کرنا ۵۵

    وید اور خداکی ہستی

    یجروید اور رگ وید میں خدا کا تصّور ۱۲۱،۱۲۲

    وید کی رُوسے پرمیشر کی صفات اور اُن پر تنقید ۱۹۴

    اگررُوحیں خود بخود ہیں تو پھر پرمیشر پرمیشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کرانے کا اسے حق ٹھہرتاہے ۲۰۴

    ہندووں کا پرمیشر کوناراض کرنے کے لئے روغنی روٹیوں

    پر پاخانہ پھیرنا ۱۳۲

    بائیبل اور وید کے مقابل بذریعہ قرآن کریم توحید کا قیام ۲۶۹

    دیانندویدوں میں توحید ثابت کرنے سے نامراد مراہے ۷۹

    وید کی رو سے سب عناصر و اجرام فلکی خدا ہیں ۴۴

    ویدوں میں پرمیشر کا نام تک نہیں اور بجائے پرمیشر کے اگنی وایو،

    جل،چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات کی تعریف موجود ہے ۴۸ح

    ویدکی رُو سے پرمیشر کا وجود ثابت کرنے والے کیلئے

    دس ہزار روپے کا انعامی چیلنج ۱۳۶

    پرمیشر کے متعلق وید کا تصور ۱۱۴

    ویدوں کی تعلیم کی رو سے پرمیشر روح و مادہ کا مالک نہیں ٹھہرتا ۱۶

    وید نے پیش کردہ خدا کے وجود کا کچھ ثبوت نہیں دیا ۱۰۶

    خدا کی ہستی اور توحید کے قرآنی دلائل کو وید سے نکال کر دکھلانے پر آریوں کو ہزار روپے کا انعامی چیلنج ۱۴۳

    موجودہ وید میں کوئی ودّیا نہیں۔ نہ دین کی نہ دنیا کی ۵۹

    وید صرف قصہ کے رنگ میں خدا کی صفات کا ذکر کرتا ہے ۳۹

    ویدنے پرمیشر کا ایک ایسا حلیہ دکھلایا ہے کہ گویا ہر ایک عیب،

    غضب ، کینہ وری اور بے رحمی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ۵۹

    وید کی رُو سے پرمیشر عفوو درگذر اور رحم وکرم کا عادی نہیں ۵۴

    وید میں پرمیشر کا مالک کی بجائے منصف کا درجہ ہے ۲۹

    وید میں پرمیشر کے سرب شکتی مان (قادر مطلق) نہ

    ہونے کا وید سے ہی ردّ ۱۲۷

    خدا کی خالقیت، رزاقیت اور منعم ورحمن ہو نے سے انکاری ہونا ۱۸۷

    وید نے خداتعالیٰ کی معرفت کا کوئی طریقہ نہیں بتایا ۱۷۳

    وید کا پیش کردہ پرمیشر اور اس کا غضب ۵۸

    رگ وید کی بعض شرتیاں جن میں پرمیشر کو غضب کرنے

    والا بتلایا گیا ہے ۴۷

    خدا کی صفت غضب کے متعلق وید اور قرآن شریف کی تعلیمات کا موازنہ ۴۹

    بمطابق وید پرمیشر گناہ پر سخت مؤاخذہ کرتا ہے ۵۵

    وید خداتعالیٰ کو ارواح کا خالق تسلیم نہیں کرتا ۲۹

    وید اور رُوح

    وید کی رُوح کے متعلق غیرمعقول تعلیم اور اس کا ردّ ۲۹۱

    رُوح کے متعلق وید کے نظریہ کاردّ ۱۲۴تا۱۳۰

    وید اور مخلوق پرستی

    وید میں لاتسجدوا للشمس ولاللقمر کے ہم معنی کوئی شرتی ہوتی تو کروڑہا آدمی مخلوق پرستی سے ہلاک نہ ہوتے ۷۸

    دیانندویدوں میں توحید ثابت کرنے سے نامراد مرا ۷۹

    وید میں مخلوق پرستی کی تعلیم ۱۲۰

    وید کی رُو سے عناصر و اجرامِ فلکی خدا ہیں اور پھر مخلوق بھی ہیں ۴۴

    موجودہ وید کی تعلیم سے توحید ثابت نہیں ہوتی ۷۸،۷۹

    رگ وید اور دوسرے ویدوں میں صریحاً مخلوق پرستی کی تعلیم ۴۵

    اگر وید جل کی پوجاکی ہدایت نہ کرتا تو گنگا مائی کے پوجنے والے کیوں پیداہوجاتے ۴۵،۷۸

    پیدائش وفنا کے متعلق وید کی غیر معقول تعلیم ۲۰۴

    وید کے اس نظریہ کاردّ کہ جانوروں سے پیار کرو کیونکہ وہ

    انسان ہیں ۱۳۱

    قرآن کریم سے موازنہ

    وید اور قرآن کریم کا موازنہ ۳۰۸

    خداکے مالک ہونے کے متعلق وید اور قرآن کا موازنہ ۱۷

    وید میں خداتعالیٰ کے متعلق یقینی علم دینے کیلئے کوئی پیشگوئی موجود نہیں ۳۸

    پیرووں کی اصلاح اور نیک اثرات کے لحاظ سے وید و

    قرآن کاموازنہ ۷۷



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 526

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 526

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/526/mode/1up

    38

    متفرق مضامین

    ویدکا پڑھنا پڑھانا برہمنوں سے خاص ہے۔ اگر دوسری

    قومیں وید کو پڑھیں تو اُن کے لئے سخت سزائیں مقرر ہیں ۶۹

    وید کے روسے کوسیکارشی کی بیوی کابغیر خاوند کے ملنے

    سے حاملہ ہونا ۲۲۶

    ویدوں کے مطابق کوہ ہمالیہ سے پرے کوئی آبادی نہیں ۱۵۱

    وید کے غیر انسانی زبان میں نازل ہونے کے عقیدہ کا ردّ ۱۵۲

    وید ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے ۷۷

    وید توبہ استغفار سے خدا کااپنے بندوں کے گناہ بخشنے کے

    سخت مخالف ہے ۵۰،۱۸۹،۱۹۳

    حضرت مسیح موعود ؑ کا ویدوں کے تراجم کا وسیع اور گہرا مطالعہ ۱۸۲ح

    وید کے متعلق گوتم بدھ کاعقیدہ ۴۵۰

    باوانانک ؒ نے ویدوں میں بہت غور کیا مگر اُن کی کچھ تسلی نہ ہوئی ۳۵۱

    بابانانک ؒ نے وید کے متعلق لکھا ہے-:

    چاروں وید کہانی ۔ یعنی ان میں حقیقت اور مغز نہیں ہے ۱۵۵ح

    لیکھرام کی موت نے ثابت کردیا کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے کہ اس کے بعد الہام نہیں ۲۳۱

    رگ وید ۱۵۷،۲۶۹

    اردو اور انگریزی میں اس کی اشاعت ۱۴۸

    اس کے مطالعہ سے لگتاہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی کتاب نہیں ۱۴۸

    رگ وید جابجا اس مضمون سے بھراپڑا ہے کہ وید سے پہلے کئی راستباز گذرچکے ہیں ۷۲

    خدا اور اُس کی صفات واشکال کا ذکر ۴۴

    پرمیشر کی صفت غضب کا ذکر ۴۷

    خلافِ قانونِ قدرت تعلیمات ۱۴۸

    مخلوق پرستی کی تعلیم ۴۵

    سورج اگنی وایو سب پرمیشر ہیں ۱۲۱

    سورج وچاند کو دیوتا قرار دیا گیا ہے ۲۹۰

    وہ شرتیاں جن کی رو سے دشمنوں کا مال لوٹنا اور

    دشمن کی املاک کو نذر آتش کرنا جائز ہے ۲۰۲

    یجروید

    یجروید کا حوالہ کہ پرمیشر رحم میں رہتا ہے ۱۲۱

    ہجرت

    آنحضرت ؐ کی ہجرت مدینہ کا واقعہ ۴۶۶

    مسلمانوں کی حبشہ اور دیگر ممالک کو ہجرت کا ذکر ۴۶۷

    گوتم بدھ کا ہجرت کے نتیجہ میں کامیابی حاصل کرنا ۴۵۰

    ہمدردی

    دین و دنیا میں ایک دوسرے کی ہمدردی کرنے کی تلقین ۴۳۹

    عیسیٰ کی تعلیم دنیا کی عام ہمدردی پر مبنی نہیں ۴۷۰

    وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو اور

    نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو ۴۳۹

    ہندومذہب

    ہندوؤں اور اسرائیلیوں کی عقائد میں مماثلت ۴۵۱

    ہندو قوم میں سود اور احتکار کی عادت ۱۳۲

    ان میں قومی تفریق اور ذات پات ۶۹

    ہندوقوم کے متعلق دوالہامات کا ذکر ۶۷

    گوشت نہ کھانے کے متعلق وید کی تعلیم کا ردّ ۱۳۱،۱۴۹

    ہندوؤں کی تاریخ تاریکی میں پڑی ہوئی ہے ۱۵۸

    ہندوؤں میں مروج مختلف اشیاء کی پوجا ۶۸،۶۹

    ہندوؤں کے دیوتا شاید تینتیس کروڑ یا اس سے بھی زیادہ ہیں ۶۹

    ہندوؤں میں الہام کے مدعی سری کرشن اور بابانانک ۴۴۵

    راجہ رام چندر اور کرشن سب گوشت کھاتے تھے ۱۵۰

    ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہم نفرت کے اسباب ۴۵۶

    ان کا گوتم بدھ کو وطن سے نکالنا اور آپ کے مذہب

    سے نفرت کرنا ۴۵۰

    ان میں برادرانہ ہمدردی کا فقدان ۶۹

    جل پروا کی رسم اور اس کے متعلق انگریزی گورنمنٹ کا خاص حکم ۴۵

    مسیح موعود ؑ کی ہندوؤں کو صلح کے اقرارنامہ کی تجویز ۴۵۵

    ہندوؤں کو مسلمانوں سے صلح کی دعوت ۴۴۳

    ہندوؤں سے سچی ہمدردی کی نصیحت ۴۵۸



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 527

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 527

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/527/mode/1up

    39

    ایک سچے مسلمان سے صلح کرنے کی واحد صورت ۴۵۲

    آباہن منتر جس سے نئے بت شدھ کرکے قابل عبادت

    بنائے جاتے ہیں ۳۸

    سناتن دھرم ۱۴،۴۵۳

    ہندوؤں میں ناستک مت کے پیرووں کی کثرت کی وجہ ۴۳۴

    ہندوؤں کا شاکت مت فرقہ ماں، بہن اور بیٹی سے شادی

    جائز قراردیتا ہے ۷۷،۲۵۲،۳۷۲

    مسیح موعود ؑ کا وید کی رُو سے پرمیشر کا وجود ثابت کرنے

    والے کو دس ہزار روپے دینے کا چیلنج ۱۳۶

    مسیح موعود ؑ کا خدا کی ہستی اور توحید کے قرآنی دلائل آریہ صاحبان کے وید میں سے دکھانے پر ہزار روپے نقد دینے کا چیلنج ۱۴۳

    یجروید اور رگ وید میں خدا کا تصّور ۱۲۱،۱۲۲

    وید کی تعلیم کی رو سے سب عناصرا ور اجرام فلکی خداہیں ۴۴

    وید کی رُوسے پرمیشر کی صفات اور اُن پر تنقید ۱۹۴

    وید کی رُو سے پرمیشر سرب شکتی مان ثابت نہیں ہوتا ۱۲۷

    اگررُوحیں خود بخود ہیں تو پھر پرمیشر پرمیشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کرانے کا اسے حق ٹھہرتاہے ۲۰۴

    ہندووں کا پرمیشر کوناراض کرنے کے لئے روغنی روٹیوں

    پر پاخانہ پھیرنا ۱۳۲

    آواگون کا دھوکہ دینے والا طریق ۲۵۱

    اس کی رو سے تمام حیوانی مخلوقات کو انسان، جاودانی مکتی

    کوغیرممکن، توبہ کا قبول نہ ہونا اورروحوں کو غیرمخلوق اور

    انادی ماننا پڑتا ہے ۱۲۳

    تناسخ کے نتیجہ میں یہ خرابی لازم آسکتی ہے کہ انسان اپنی

    ہی ماں یا بہن سے شادی کرلے ۲۵۱

    یاجوج و ماجوج

    سورۃ الکھف میں یاجوج و ماجوج کا ذکر ۸۳

    یاجوج اور ماجوج بنی نوع انسان میں سے ہیں تفصیلی دلائل ۸۴ح

    بائیبل اور قرآن کریم کی رو سے یاجوج وماجوج سے مراد لوگ ۸۷

    کتب سابقہ میں ان سے مراد یورپ کی عیسائی اقوام ۸۳ح

    احادیثِ صحیحہ کے مطابق یاجوج و ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا ۸۶

    ان کے لئے مسیح موعود کے زمانہ میں عذاب کاوعدہ ۸۴ح

    ان کے زمانہ عروج میں قوموں اور مذاہب میں تفرقہ ۸۸

    یاجوج و ماجوج دنیا کی عقل میں سب سے بڑھ کر ۸۵ح

    یادداشتیں

    مسیح موعود ؑ کی تحریر فرمودہ متفرق یادداشتیں جو آپ کے مسودات سے دستیاب ہوئیں ۴۷۲تا۴۸۰

    براہین احمدیہ جلد پنجم کے ضمیمہ کے تتمہ کیلئے مسیح موعود علیہ السلام کی

    چند یادداشتیں جو آپ کے مسودات سے دستیاب ہوئیں ۴۸۰تا۴۸۷

    یقین

    یقین کامل کے مرتبہ کے حصول کا طریق اور یقین کی تین

    اقسام کا ذکر ۴۲۳

    یہود

    توریت و انجیل کا توحید کے بیان کرنے میں ناقص ہونا ۲۶۸

    یہودونصارٰی کے نبوت اور الہام کو اسرائیلی خاندان تک

    محدود رکھنے کے خیال کا ردّ ۴۴۰،۴۴۱

    یہود کو تورات کی انتقامی تعلیم دیئے جانے کی وجہ ۴۷۰

    ان کے نزدیک خدا کی اصلی زبان عبرانی ہے ۴۴۸

    عرب یہودیوں کا کہنا کہ ہم ارتکاب جرائم کی وجہ سے صرف چند روز دوزخ میں پڑیں گے اس سے زیادہ نہیں ۲۴۲

    آنحضرت ﷺ کا ایک مقدمہ میں یہودی کے حق میں فیصلہ ۲۴۳

    اسرائیلیوں اور ہندوؤں کے عقائد میں مماثلت ۴۵۱



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 528

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 528

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/528/mode/1up

    40

    اسماء

    آ،ا،ب،پ،ت

    آدم علیہ السلام ۱۱،۸۴ح،۲۲۰،۲۲۳،۲۲۵،۲۲۷

    آدم کی پسلی سے حوا کی پیدائش کی حقیقت ۲۲۴

    ابراہیم علیہ السلام ۱۱،۳۷۶

    ابن صیّاد(جھوٹا مدعی نبوت) ۳۱۵ح

    ابوبکرؓ حضرت ۲۵۷،۲۶۳،۲۶۴،۳۶۵

    ہجرت کے موقع پر آنحضرت ؐ کی رفاقت ۲۵۸،۳۹۰،۴۶۶

    ابوجہل (عمربن ہشام) ۱۷۷

    اس کی اپنے اورآنحضرتؐ کی نسبت دعا کے عربی الفاظ

    اور اس دعا کا نتیجہ ۱۷۴،۱۷۵

    اس کی دعائے مباہلہ کاذکر لسان العرب میں ۱۷۶

    آنحضرت ؐ کو شہید کرنے کی اس کی تجویز ۲۶۲

    ابوحنیفہ امام اعظم ۳۶۶

    ابوطالب ۲۶۲

    ابولہب ۲۵۷

    اجیت سنگھ گرو(باوانانک کا گدی نشین) ۳۵۲

    احمدبن حنبل امام ۳۶۵

    ارسطو ۴۰۱

    اسحق علیہ السلام ۳۷۶،۴۵۹

    اسماعیل علیہ السلام ۳۷۶

    اسود عنسی (جھوٹا مدعی نبوت) ۳۱۵ح

    افلاطون ۴۰۱

    الہٰی بخش بابو(مؤلف عصائے موسیٰ)

    مسیح موعود ؑ کے طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی

    مگر خود طاعون کا شکارہوا ۳

    امیر سنگھ گرو(باوانانک کا گدی نشین) ۳۵۲

    امیر علی شاہ سید سب انسپکٹر

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والے ۳۵۳

    اِندر(دیوتا) ۲۲۷

    اندر کی صفات رگ وید کی رو سے ۴۷

    وید میں اندر کی طرف خدائی صفات منسوب کرنا اور اسے

    رشی کا بیٹا قراردیاجانا ۹۴ح

    وید کے نزدیک اندر آریہ پرمیشر کشلّیا کا بیٹا ہے ۱۱۴

    رگ وید میں اسے کوسیکارشی کا بیٹا قرار دیاگیا ہے ۱۴۸

    برنیئر ڈاکٹر ۴۴

    بشمبرداس

    لالہ شرمپت کا بھائی مسیح موعود ؑ کی قبولیت دعا کا مورد ۴۰۷

    بشن سنگھ گرو

    یہ سکھ بزرگ گورورام داس کی اولاد سے تھے۔ بابانانک کے تبرکات قرآن کریم اور تسبیح ان کے قبضہ میں تھے ۳۵۲

    بلعم باعور

    موسیؑ کے مقابل پر آنے سے اس کے روحانی تنزل کی حالت ۳۴۹

    بلقیس ملکہ سبا

    یہ سورج پرست تھی اس کے موحد ہونے کا واقعہ ۲۹۰

    بیاس گرو

    مجوسیوں کا الزام کہ بیاس گرو نے مجوسی بزرگوں کی شاگردی اختیار کرکے ان کی کتب سے مضامین چرا کر وید لکھا ۲۷۰

    بین چندر

    ایک نیک طبع آریہ جس نے مسیح موعود ؑ کو ستیارتھ پرکاش

    کا پہلا ایڈیشن بھجوایا ۱۲۷

    پرکاش دیوجی مصنف سوانح عمری حضرت محمدصاحب

    آریہ شاخ برا مھ دھرم لاہور کے پرچارک تھے مسیح موعود ؑ کااس کی

    تعریف فرمانا اور اس کی کتاب کا طویل اقتباس نقل کرنا ۲۵۵تا۲۶۴



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 529

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 529

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/529/mode/1up

    41

    تاراسنگھ شرماپنڈت( لیکھرام کا باپ) ۱۷۷

    ج،چ،ح،خ

    جبرائیل ؑ ۱۸۱ح

    جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

    آپ کی نجاشی شاہ حبشہ سے گفتگو ۲۶۰

    جیون مل گرو

    گاؤں کا نام اپنے بیٹے گروہرسہائے کے نام پر رکھنا ۳۵۲

    چراغ دین جمونی

    الہام کے دعویٰ سے مسیح موعود ؑ کی موت کی خبردی اورخود

    آپ ؑ کی زندگی میں ہلاک ہوا ۳،۳۳۶

    حوّا ۲۲۵،۳۶۷

    حواکی پیدائش کے متعلق صحیح نظریہ ۲۲۴

    خدیجہ رضی اللہ عنہا ام المومنین ۲۵۶

    خسروپرویز(کسریٰ ایران) ۲۶۳ح

    آنحضرت ؐ کی پیشگوئی کے مطابق اس کی ہلاکت ۱۷۵ح

    خوشحال چند ۴۰۸

    اس کے ایک فوجداری مقدمہ میں مسیح موعود ؑ کوبذریعہ الہام فیصلہ سے آگاہ کیاجانا ۴۰۷

    د،ڈ،ر،ز

    داؤد علیہ السلام ۱۱،۴۵۹

    دیانند پنڈت بانی آریہ سماج و مصنف ستیارتھ پرکاش

    ۱۱،۱۰۹،۱۲۳،۱۴۱،۱۸۲ح،۲۲۶،۲۶۶

    اس کا آنحضرت ؐ کی بے ادبی اور قرآن کریم کی

    توہین کرنا ۵،۲۶،۷۳،۱۲۶

    آنحضرت ؐ کی بعثت کے وقت آریہ ورت کی گمراہی

    کا اعتراف ۴۶۲

    روح کے دوبارہ انسانی جسم میں آنے کے متعلق اس کا عقیدہ ۱۱۵،۱۲۲

    ستیارتھ پرکاش میں بابانانک کے متعلق توہین کے الفاظ لکھنا ۲۱۶

    دیانند وید میں توحید ثابت کرنے سے نامراد مرا ۷۹

    ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور

    مسیح موعود ؑ پر آپ کی عدالت میں فوجداری مقدمہ ۲۶۳ح در ح

    ڈوئی ڈاکٹر جان الیگزینڈر

    مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کے مطابق اس کی ہلاکت کانشان ۳۳۵

    رام چندر راجہ

    آپ مقدس بزرگ تھے ۳۸۳

    آپ کے باپ کی دوبیویاں تھیں ۲۴۵

    آپ گوشت کھاتے تھے ۱۵۰

    رام داس گرو(گروہرسہائے کے گدی نشین خاندان کے مورث اعلیٰ)

    باوانانک کے بعد سکھوں کے چوتھے گرو ۳۵۲

    رکن دین قاضی ۳۶۰،۳۶۳

    آپ اور باوانانک کی مکہ میں ملاقات ۳۵۸

    باوانانک کا آپ کے سوال کا جواب ۳۶۱

    رومی جلال الدین ۲۰۲

    زیدبن حارث ۲۶۲

    آپ پہلے حضرت خدیجہؓ کے غلام تھے ۲۵۶

    س،ش،ص،ط

    سعداللہ لدھیانوی

    نظم و نثر میں مسیح موعود ؑ کو گالیاں دینے والا آپ ؑ سے مباہلہ کرنے پر جلد طاعون سے ہلاک ہوا ۳،۳۳۶

    سقراط ۴۰۱

    سلطان محمود غزنوی ۴۶

    سلیمان علیہ السلام

    حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا واقعہ ۲۹۰

    سمیّہ رضی اللہ عنہا(حضرت عمارؓ کی والدہ)

    بے دردی سے کفار کا آپ کو شہید کرنا ۲۵۸

    سومراج(قادیان کا ایک آریہ)

    مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کے مطابق طاعون سے ہلاک ہوا ۱۵۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 530

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 530

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/530/mode/1up

    42

    سیانا بھاشیکار(وید کا ایک قدیمی مفسر)

    اس نے کوسیکارشی کی بیوی کو بغیر خاوند کے چھونے کے

    حمل ہونا تسلیم کیا ۲۲۶

    شافعی امام ۳۶۶

    شرمپت لالہ ۴۰۸

    مسیح موعود ؑ کے ابتدائی حالات گمنامی کے گواہ ۴۰۶

    قبولیت دعا اور ایک الہام کے سچاہونے کا گواہ ۴۰۷

    شیرویہ (خسروپرویز شاہ ایران کا قاتل بیٹا) ۱۷۵

    صدیق حسن خان نواب

    اپنی کتاب حجج الکرامہ میں مسیح موعود کے زمانہ

    میں ستارہ ذوالسنین کا ظاہر ہونا لکھنا ۳۳۰ح

    طبری امام ابن جریرمولف تاریخ طبری

    ایک بزرگ کی روایت سے عیسیٰ کی قبر کا حوالہ دینا ۲۶۱ح

    ع،غ

    عائشہ رضی اللہ عنہاحضرت (ام المومنین) ۳۰۰

    عبدالحکیم خان پٹیالوی ڈاکٹر

    بیس برس تک مسیح موعود ؑ کا مرید رہنے کے بعد مرتد ہوکر آپؑ کی موت کی پیشگوئی کی اور آپ ؑ کی طرف سے اس کی ہلاکت کی پیشگوئی ۳۳۶

    عبدالحی

    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے فرزند عبدالحی کی پیدائش

    کے متعلق پیشگوئی ۳۳۸

    عبدالرحمن خاں امیرکابل

    اس کا یہ قول بہت صحیح ہے کہ افغان برنصف قرآن عمل میکنند ۲۰۸

    عبدالرحیم نومسلم شیخ (سابق جگت سنگھ)

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والے ۳۵۳

    عبدالرحیم خان

    نواب محمد علی خانؓ کے فرزند عبدالرحیم خان کی بیماری سے شفایابی کے متعلق پیشگوئی کا پورا ہونا ۳۳۸

    عبداللہ سنوریؓ مولوی

    سرخی کے چھینٹوں والے کشف کے گواہ ۴۳۲

    آپ کا مسیح موعود ؑ سے سرخ چھینٹوں والا کرتہ تبرکاً لینا ۴۳۳

    عثمانبن عفان رضی اللہ عنہ ۳۶۵،۳۶۶

    علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ۲۶۰،۳۶۵،۳۶۶

    عمّار بن یاسررضی اللہ عنہ

    آپ اور آپ کے والدین پر کفار کے مظالم کا ذکر ۲۵۸

    عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ۳۰۰،۳۶۵،۳۶۶

    آنحضرت ؐ کی سادہ زندگی اور تکالیف دیکھ کر آپ کا

    آبدیدہ ہونا ۲۹۹

    عمر بن ہشام (دیکھئے ابوجہل)

    عیسیٰ علیہ السلام ۱۱،۲۶۹،۲۷۰،۳۰۲،۳۷۷،۳۸۳،۴۵۹

    آپ کا موسوی سلسلہ کا خاتم الخلفاء ہونا اورموسیٰ کے

    چودہ سو سال بعد آنا ۳۳۳ح

    آپ کے وقت ستارہ دنبالہ دار نکلا تھا ۳۳۰ح

    آپ کا قول کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں ۴۵۰

    عیسیٰ کے کفارہ کے خلاف قرآنی تعلیم ۴۱۴

    ڈوئی کا عیسیٰ کے خدا ہونے پر اصرار ۳۳۵

    یہودیوں کی طرف سے آپ پر کفر کا فتویٰ ۳۴۷

    آپ اور آپ کی والدہ کو مخالفین کی تہمتوں سے بَری ثابت کرنے کیلئے مخالفین کی ہلاکت ۱۷۴

    دربار نجاشی میں آپ کی نسبت جعفرؓ کی گفتگو ۲۶۱

    آپ کی پیدائش

    عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مثال آدم سے ۲۲۷

    آپ کی بن باپ پیدائش کے متعلق آریوں کے

    اعتراضات کا جواب ۲۲۵،۲۲۶

    اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے کہ ایک دم میں ہزار

    مسیح ابن مریم بلکہ اس سے بہتر پیدا کرے ۳۱۲



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 531

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 531

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/531/mode/1up

    43

    آپ کی رسالت

    آپ کاصرف بنی اسرائیل کے لئے بھیجا جانا ۷۶

    آپ کی ہمدردی صرف بنی اسرائیل تک محدود ہونا ۳۸۷،۳۹۵

    انجیل میں آپ کا فرمان کہ مَیں صرف اسرائیل کی بھیڑوں

    کیلئے آیا ہوں ۴۴۱

    آپ کی تعلیم

    آپ کی تعلیم کے نقائص ۴۷۰

    اپنی تعلیم کو بنی اسرائیل تک محدود رکھنا ۴۶۹

    رفع عیسیٰ

    آپ کے آسمان پر بجسدِ عنصری جانے کے عقیدہ کاردّ ۲۲۸

    کسی صحیح حدیث میں آپ کے مع جسم عنصری آسمان پر

    چلے جانے کا ذکر نہیں ۲۲۹

    جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کا عقیدہ ابتدائی مسلمان

    ہونے والے عیسائیوں کے ذریعہ مسلمانوں میں آیا ۲۲۸

    نزول مسیح

    نزول کے معنے اورمسیح کے لئے اس کے استعمال کی وجہ ۲۲۹

    وفات مسیح

    وفات مسیح کے متعلق قرآنی دلائل ۲۲۹

    تاریخ طبری میں حضرت عیسیٰ کی قبر کے کتبہ کا ذکر ۲۶۱ح

    XXXXXXX

    حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہودعلیہ السلام ۱،۶،۸،۱۸۲،۳۷۲،۴۳۶،۴۳۷

    اللہ تعالیٰ کا عاشق ہونے کا دعویٰ ۴۳۱

    آنحضرت ؐ کے لئے غیرت ۴۵۹

    ابتدائی زمانہ کی گمنامی اورپھر الہٰی بشارات کے مطابق قبولیت ۴۰۵

    آپ کی زندگی کے پانچ نازک مواقع ۲۶۳ح درح

    مبایعین کی تعداد چارلاکھ کے قریب ۴۰۶

    ڈیرہ بابانانک جاکر چولہ بابانانک دیکھنا ۲۱۶

    ملتان جاکر وہ مسجد جس میں بابانانکؒ نے نماز پڑھی تھی اور خانقاہ جس پر بابانانک نے یا اللہ لکھاتھا دیکھنا ۲۱۶،۳۵۱

    مسیح موعود کیلئے احیائے موتی ٰکے نشان کی صحیح صورت ۴

    زمانہ اور علامات

    مسیح موعود کے متعلق قرآن کریم میں ذکر ۳۳۳ح

    مسیح موعود کازمانہ چودھویں صدی سے تجاوز نہ کرنے کے

    متعلق اولیا کااتفاق ۳۳۳

    زمانہ کی اصلاح کے لئے آپ کا مامور ہوکر آنا ۹۵

    مسیح موعود کے زمانہ میں دمدارستارہ کے نکلنے اورشہب ثاقبہ

    کی بارش کی پیشگوئی ۳۳۰ح

    زمانہ مسیح موعود کی علامت نئی سواریوں کی ایجاد ۸۱

    حدیث یکسرالصلیب سے صلیبی قوم کا اس زمانہ میں

    بڑا عروج واقبال ثابت ہوتا ہے ۸۶ح

    ان مختلف احادیث کے تناقض کا حل جن میں ذکر ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ساری دنیا پر

    ۱۔یاجوج و ماجوج کا غلبہ ہوگا۲۔ عیسائی اقوام کا غلبہ ہوگا

    ۳۔رومیوں (عیسائیوں) کا غلبہ ہوگا

    ۴۔ دجال کا غلبہ ہوگا ۸۵تا۸۶ح

    مسیح موعود کے زمانہ میں یاجوج وماجوج کے لئے عذاب

    کا وعدہ ہے ۸۴ح

    مجدد الف ثانی ؒ اور حضرت محی الدین ابن عربی ؒ نے لکھا ہے کہ مہدی معہود جب ظاہر ہوگا تولوگ اس کو کافر کہیں گے ۳۳۴

    مسیح موعود کے متعلق حضرت محی الدین ابن عربی ؒ کی پیشگوئی کہ وہ صینی الاصل ہوگا اور اس کی پیدائش توام ہوگی ۳۳۰تا۳۳۱

    مسیح موعود ؑ بیک وقت صینی الاصل اور فارسی الاصل

    کس طرح ہیں؟ ۳۳۱ح

    مسیح موعود ؑ کاتوام کے طور پر جمعہ کے دن صبح کے وقت پیدا ہونا ۳۳۱

    مسیح موعود کے لئے یضع الحرب کا حکم ۹۳

    احادیث میں مسیح موعود کے جنگ کو موقوف کرنے کی خبر ۳۹۵

    یاجوج ماجوج کے غلبہ کے وقت مسیح موعود کو اپنی جماعت

    کو کوہ طور کی پناہ میں لے جانے کا مطلب ۸۸

    صحیح مسلم کی حدیث فاحرزعبادی الی الطور سے مسیح موعود کے جنگ نہ کرنے کا ثبوت اور اس میں الطور سے مراد ۳۹۷

    مسیح موعود کے زمانہ میں سچائی کی جھوٹ کے ساتھ آخری جنگ ۹۵



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 532

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 532

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/532/mode/1up

    44

    آپ ؑ کی نبوت

    آپ کا نام نبی رکھا جانا اورظلی طور پر نبوتِ محمدیہ کا آپ

    میں منعکس ہونا ۳۴۰ح

    آپ کی نبوت اور اس کامقصد ۳۴۱

    آپ کی نسبت وحی میں نبوت اور رسالت کے الفاظ کا

    استعمال اوران سے مراد ۳۴۱

    آپ پر مستقل نبوت کے دعویٰ کے صدہا اعتراضات کئے گئے ۳۳۴

    خاتم الخلفاء

    مسیح موعود خاتم الخلفاء ہے ۹۱

    مسیح خاتم الخلفاء کو بھی آثارِ قیامت سے ٹھہرایا گیا ہے ۳۲۱ح

    خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے ناموں میں سے ایک

    نام خاتم الخلفاء ہے ۳۳۳ح

    آپ کو خدانے اس امت کا خاتم الخلفاء ٹھہرایا ۳۳۰

    حضرت ابن عربی ؒ کی پیشگوئی کہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہوگا ۳۳۱

    مسیح موعود نائب النبوت اور خاتم الخلفاء ہے ۹۱

    آدم سے لیکر آنحضرت ؐ تک تمام انبیاء کے نام مسیح موعود کے نام رکھے جانا ۳۲۸

    بعثت کی اغراض

    خداکااصلاح کرنے کے لئے مامور کر کے بھیجنا ۳۲۸

    مسیح موعود کے ذریعہ خداتعالیٰ کا تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کرنا ۸۸

    آیت ھوالذی ارسل رسولہ میں مذکور دین کے عالمگیر غلبہ کے لئے مسیح موعود کے زمانہ میں پائے جانے والے تین امور ۹۱تا۹۵

    ۱۔ذرائع رسل و رسائل۲۔مذہبی تبادلہ خیالات کی آزادی

    ۳۔آسمانی نشانات کی عالمگیر حجت

    سعادت مند لوگوں کا ایک ہی مذہب پر اکٹھے ہوکر تفرقہ دُور

    ہونا اور دنیا کی اقوام کا ایک ہی قوم بننا ۸۴،۲۱۰

    عام دعوت کی تحریک جو آنحضرت ؐ سے شروع ہوئی کا

    مسیح موعود کے ہاتھ سے کمال تک پہنچنا ۷۷

    نشاناتِ صداقت

    مخالفین کو نشانات وخوارق میں مقابلہ کاچیلنج ۴۰۹

    اسلام کی حقانیت کے نشانات دیکھنے کے لئے تمام مخالفین

    کوکم سے کم دو ماہ قیام کی دعوت ۴۲۸

    آپ کے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت کے لئے کثرت

    سے نشان دکھلائے جانا ۳۳۲

    آپ کے ذریعہ نشانات کے ظہور کا اصل مقصد ۳۳۰

    قرآن کریم کی پیروی کے نتیجہ میں معجزات ۴۰۳

    آپ کی صداقت کے نشانات کی پانچ اقسام

    ۱۔غیب پر مشتمل پیشگوئیاں۔۲۔قبولیتِ دُعا کے معجزات ۳۳۲

    ۳۔ مباہلوں میں دشمنوں کی ہلاکت۔۴۔صلحاء امت کی پیشگوئیاں جو پوری ہوئیں ۳۳۳

    ۵۔تمام انبیاء کی طرف سے زمانہ کی تعیین ۳۲۸

    آپؐ کی صداقت کے چند نشانات ۳۳۷تا۳۳۹

    قبولیت دعا

    مخالفین سے فیصلہ کا ایک طریق ۴

    روئے زمین کے تمام کفار کی دعا کے مقابل آپ کی دعا

    کا قبول ہونا ۳۳۹تا۳۴۰

    نشانوں اور خوارق کے مقابلہ میں آپ کا تمام مخالفین پر

    غالب رہنا ۴۰۹تا۴۱۰

    اسلام کی فتح کے لئے آپ کی دعا ۹۵

    قبولیت دعا کے چند نشانات ۳۳۷تا۳۳۹

    قبولیت دعا کے نشانات متعلقہ لالہ شرم پت اور ملاوامل ۴۰۷تا۴۰۹

    آپ کی پیشگوئیاں

    آپ کے معجزات میں سے بڑے بڑے غیب کے امور پر

    مشتمل پیشگوئیاں ہیں ۳۲۸

    پانچ برس پہلے لیکھرام کے قتل کی الہامی خبر ۶۷

    لیکھرام کی ہلاکت میں دو عظیم الشان نشان ۱۸۴

    پیشگوئی کے مطابق ایک آسمانی نشان کا ظہور ۴۱۲

    آپ کے چند الہامات اور پیشگوئیوں کا ذکر ۱۵۳

    ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کی پیشگوئی کا ذکر ۱۵۳



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 533

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 533

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/533/mode/1up

    45

    دنیا کے بد عملی سے باز نہ آنے پر سخت بلائیں آنے کی پیشگوئی ۴۴۴

    آپ کی پیشگوئی کے مطابق ڈاکٹر ڈوئی کی ہلاکت ۳۳۵

    براہین احمدیہ میں درج ایک عظیم الشان پیشگوئی ۳۹۴

    طاعون پھیلنے، مری پڑنے، زلزلے اور آفتیں آنے

    کی پیشگوئیاں ۳۹۸،۳۹۹

    گمنامی کے وقت دنیا میں شہرت پانے کی پیشگوئی ۴۰۵

    آریہ صاحبوں کی نسبت ظہور میں آنے والی پانچ پیشگوئیاں ۴۰۹

    آریوں کے جلسہ میں سنائی جانے والی الہامی پیشگوئی ۷

    آپ کے وہ نشانات جن کے گواہ قادیان کے آریہ ہیں ۴۰۷

    آئندہ زمانہ میں طاعون اور زلازل کی پیش خبری ۴۰۳

    مسیح موعود ؑ کی تائید میں جو کچھ ظہور میں آیا اس کا اصل مقصود ۳۳۰

    مسیح موعود ؑ اور مباہلہ

    مباہلہ سے ہلاک ہونے والے چند مخالفین ۳۳۵،۳۳۶

    مباہلہ کے نتیجہ میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہونے والے مخالفین ۳

    آپ کے مقابل پرلیکھرام کی دعائے مباہلہ ۱۷۷تا۱۸۲

    مسیح موعود کی دعوت قبول نہ کرنے والوں کا انجام ۸۴تا۸۵

    مسیح موعود اور معجزات

    مسیح موعود ؑ کوپیروئ قرآن کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زیادہ معجزات دکھائے جانا ۴۰۳

    غیب کے امور پرمشتمل آپ کی پیشگوئیاں آپ کے معجزات ہیں ۳۲۸

    آپ کی قبولیت دعا کے معجزات ۳۳۲

    آپ اور وحی والہام

    تخمیناتیس برس سے خدا کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہونا ۴۴۷

    اکثر عربی میں الہام پانے کی حکمت ۲۱۸

    وحی والہام کے منقطع نہ ہونے پر صاحب تجربہ ہونا ۴۴۶

    مسیح موعود ؑ کے الہام میں عید کے دوسرے روز لیکھرام

    کی ہلاکت ۱۵۳،۱۷۷

    مسیح موعود ؑ اور آریہ

    آریوں کے متعلق عربی الہام ۷

    آنحضرت ؐکے خلاف آریوں کی بدزبانی پرآپؑ کے جذبات ۸

    لیکھرام کی تحریری دعائے مباہلہ اوراس کا انجام ۵

    ویدوں کے جملہ تراجم کا وسیع اور گہرا مطالعہ ۱۸۲ح

    ویداور اس کے رشیوں کے متعلق عقیدہ ۴۵۳

    ہندوؤں کو صلح کاری کی دعوت ۳۸۴

    ہندوستان کے ہندوؤں کو مسلمانوں سے صلح کی پُر خلوص

    دعوت ۴۴۳تا۴۴۴

    ہندوؤں کو اقرارنامہ کی تجویز اور اس کا مضمون ۴۵۵

    پیشگوئی کے مطابق قادیان کے تین شریرآریوں کی

    طاعون سے ہلاکت ۶۸

    آریوں کو لیکھرام والی پیشگوئی سے تسلی نہ ہونے کی صورت

    میں اور کسی ذریعہ تسلی کا چیلنج ۲۳۱

    آریوں کو انعامی چیلنج ۳۱

    XXXXXXX

    غلام دستگیر قصوری مؤلف فیض رحمانی

    مسیح موعود ؑ کی ہلاکت کی دُعا کی لیکن آپ کی زندگی میں طاعون سے ہلاک ہوا ۳،۳۳۶

    ف، ق، ک،گ

    فتح سنگھ گرو (باوانانک کا گدی نشین) ۳۵۲

    فتح محمد چودھری طالبعلم گورنمنٹ کالج لاہور

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والے ۳۵۳

    فرعون ۳،۲۵۴

    موسیٰ کی صداقت کے لئے فرعون کی ہلاکت ۱۷۴

    اس کا موسیٰ کو کافر کہہ کر پکارنا ۳۴۷

    فقیر مرزا دوالمیالی

    اس نے مسیح موعود ؑ کی موت کی پیشگوئی کی لیکن خود طاعون

    سے ہلاک ہوا ۳۳۶

    فنڈل پادری(مصنف میزان الحق) ۲۴۰

    اس کا اعتراف کہ نزولِ قرآن کے وقت اہل کتاب بگڑ

    چکے تھے ۲۳۹،۲۶۶،۴۶۲



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 534

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 534

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/534/mode/1up

    46

    قرشی حکیم

    مسیح موعود ؑ کو کشف میں حکیم قرشی کی کتاب کا دکھایا جانا ۱۰۳

    قیصر روم ۳۰۰

    ایرانیوں کے ہاتھوں اس کی مغلوبیت کے بعد فتح یاب

    ہونے کی قرآنی پیشگوئی ۴۱۱

    کرشن

    کرشن مقدس لوگوں میں سے تھے ۳۸۳

    آپ کے نبی ہونے کے متعلق آنحضرت ؐ کی حدیث ۳۸۲

    نبی، اوتار اور ملہم تھے خدا آپ سے ہمکلام ہوتا تھا ۴۴۵

    آپ کی ہزاروں بیویاں بیان کی جاتی ہیں ۲۴۵

    آپ گوشت کھاتے تھے ۱۵۰

    کرم الدین

    اس کا مسیح موعود ؑ پر جہلم اور گورداسپور میں فوجداری

    مقدمے کرنا ۲۶۳ح درح

    کسریٰ ایران

    اس کا روم کے ایک حصہ پر قبضہ کے بعد شکست کھانا ۴۱۱

    کشلّیا

    کشلّیا سے مراد کوسیکارشی ۱۴۸ح

    وید کے مطابق اِندر پرمیشر کشلّیا کا بیٹا ہے ۱۱۴

    کوسیکارشی

    اسے رگ وید میں اندر کاباپ کہاگیا ہے ۱۴۸،۱۴۹،۱۵۷،۲۲۶

    اس کی بیوی کے متعلق وید میں ہے کہ خدا اس کے رحم

    میں حلول کرگیا تھا ۲۲۷

    کوسیکااشراتھا ۱۴۸

    گلاب سنگھ گرو(باوانانک کاگدی نشین) ۳۵۲

    گوتم بدھ

    آپ کے عقائد ۴۵۰

    آپ کا وید، قوم ، ملک اورخاندان کی خصوصیت کا قائل نہ ہونا ۴۴۹

    آپ پر دہریہ ہونے کا الزام محض تہمت ہے اوروطن سے

    ہجرت پر کامیابی ۴۵۰

    گیان سنگھ جی گیانی بھائی ۳۶۷،۳۶۸

    ل،م،ن

    لوط علیہ السلام ۲۵۴

    لیکھرام پنڈت ۱۰،۶۸،۱۳۵،۲۵۴،۲۶۳ح درح،۲۹۵

    لیکھرام کا رتبہ بمطابق الہام عجل جسد لہ خوار ۱۸۲ح

    لیکھرام کی علمیت کا نمونہ ۱۸۱

    بذریعہ الہام لیکھرام کے قتل ہونے کی پانچ برس پہلے خبر ۶۷

    لیکھرام کا قادیان آنا ۱۷۶

    اس کا اپنی موت کیلئے پیشگوئی چاہنا اور مباہلہ کا مضمون

    کتاب خبط احمدیہ میں شائع کرنا ۵

    مسیح موعود ؑ کے مقابل پر لیکھرام کی دُعائے مباہلہ ۱۷۷تا۱۸۲

    لیکھرام کا مباہلہ ۳۰۳،۳۰۴

    آنحضرت ؐ کی زندگی پاک نہ ہونے کا دعویٰ ۱۷۶

    اسکی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ وہ خوب سمجھتا تھا کہ

    خدا نے اسکی موت سے اسلام کی سچائی پرمہر لگادی ۳۰۹

    لیکھرام کی ہلاکت آنحضرتؐ کی پاک زندگی کا تازہ ثبوت ہے ۱۷۶،۳۰۳

    لیکھرام کی موت نے ثابت کردیا کہ ویدکی یہ تعلیم سراسر غلط

    ہے کہ اس کے بعد الہام نہیں ہے ۲۳۱

    لیکھرام کے قتل ہوجانے میں دو عظیم الشان نشان ۱۸۴

    پیشگوئی کے مطابق عید کے دوسرے روزہلاکت ۱۵۳،۳۳۵

    لیکھرام کی میت کی مع آریہ صاحبان تصویر ۱۸۳

    مالک امام ۳۶۵

    مارٹن کلاک ڈاکٹرپادری

    مسیح موعود ؑ پر خون کا جھوٹا مقدمہ دائر کرنا ۲۶۳ح درح

    مجدد الف ثانی ؒ

    اپنی کتاب میں مسیح موعود کے زمانہ میں ستارہ ذوالسنین

    کے ظاہر ہونے کانشان لکھاہے ۳۳۰ح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 535

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 535

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/535/mode/1up

    47

    آپ کا لکھنا کہ مسیح موعود کو لوگ کافر کہیں گے ۳۳۴

    حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۷تا۱۵،۸۳،۸۷،

    ۹۲،۹۵،۱۳۳،۱۵۹،۲۲۸،۲۳۳،۲۳۷ح،۲۵۵،

    ۲۵۸،۲۶۴،۲۶۶،۲۷۱،۳۱۴،۳۲۳،۳۶۲،۳۷۰،

    ۳۸۴،۳۹۶،۴۵۵،۴۵۷،۴۵۹

    آپؐ کامقام

    آنحضرت ؐکااَرفع مقام ۳۰۲،۳۰۳

    آنحضرتؐ ہزار مسیح بن مریم بلکہ اس سے بھی بہتر ۳۱۲

    ہم نے سب سے بہتر اورسب سے اعلیٰ اور سب سے

    خوب تر اس مردِ خدا کو پایا ہے جسکا نام ہے محمدؐ ۳۰۱

    وہ ایک نور تھا جو دنیا میں آیا اور تمام نوروں پر غالب آگیا ۳۱۲

    وہ اقبال اور عزت اور خدا کی مدد اور نصرت جو ان کو ملی

    اور کسی نبی کو حاصل نہیں ہوئی ۳۷۹

    آپ کی بعثت سے گزشتہ انبیاء کے صدق کی تصدیق ۳۰۲

    تجلیاتِ عظیمہ اور ربوبیتِ عالیہ کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ

    کا ربّ سب سے اعلیٰ ہے ۳۴۹

    وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ۳۸۱

    محمد ؐ عربی بادشاہ ہردوسرا ۳۰۲

    آپ کی بعثت

    آپ کی بعثت تمام دنیا کے لئے ۳۸۸

    آپؐ کی بعثت کے زمانہ میں دنیا شدید ترین ضلالت میں

    مبتلا تھی ۳۷۹تا۳۸۰،۴۶۲

    آنحضرت ؐ کی بعثت کے وقت زمانے کے بگاڑ کے متعلق

    بعض مصنفین کی آراء ۴۶۲

    آپ کی بعثت کے وقت جھوٹے مدعیان نبوت کانام ونشان نہ تھا ۳۱۵ح

    آپ کی قوت قدسیہ

    آپؐ کی قوتِ قدسیہ اورصحبت کا اثر ۴۲۴

    آنحضرتؐ نے اس دنیا میں آکر کیا اصلاح کی ۴۶۳

    آپؐ کی قوتِ قدسیہ سے عربوں میں روحانی انقلاب ۴۶۴

    آنحضرتؐ کی پیروی کرنے کے اثرات ۴۲۳

    مکالمہ الہٰیہ کا شرف اتباع آنحضرتؐ سے حاصل ہونا ہے ۸۰

    مسیح موعود ؑ کوجو کچھ ملا آنحضرت ؐ کے ذریعہ سے ملا ۲۱۸

    نبوت و تبلیغ

    آپ ؐ کوتمام قوموں کو ایک وحدت پر قائم کرنے کا حکم ۱۴۷

    بڑے بادشاہوں کی طرف دعوتِ اسلام کے خط لکھنا ۷۷

    کیا یہ خدا کے ہاتھ کاکام نہیں جس نے بیس کروڑ انسانوں

    کا محمدی درگاہ پر سرجھکارکھا ہے ۴۶۱

    آپ ؐ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے ۹۰

    آپ کے معجزات

    آنحضرتؐ کے معجزات تمام انبیاء ورسل سے بڑھ کر ہیں ۳۲۳

    آپؐ کے نشان اور معجزات صرف اس زمانہ تک محدود نہ تھے

    بلکہ قیامت تک ان کا سلسلہ جاری ہے ۳۸۰

    آپؐ کی پیشگوئیاں

    آنحضرتؐ کی صداقت کا ثبوت اخبارِ غیبیہ ۳۱۸،۳۱۹

    مکہ میں گمنامی کے زمانہ میں اسلام کے عروج کی خبر ۳۱۹

    حدیث یضع الحرب میں مذکور پیشگوئی ۳۹۵

    مسیح موعود کے یورپی طاقتوں سے جنگ نہ کرنے کی پیشگوئی ۳۹۷

    مہدی کے زمانہ میں رمضان میں کسوف و خسوف اور طاعون

    کے پھیلنے کی پیشگوئی ۳۲۹

    مسیح موعود کے وقت اونٹنیاں ترک ہونے کی پیشگوئیاں ۳۲۱

    خسروپرویزشاہ ایران کی ہلاکت کی پیشگوئی ۱۷۵ح

    خاتم النبیین

    آپ خاتم الانبیاء ہیں ۹۰

    آپ ؐ کن معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں ۳۸۰

    تمام نبوتیں آپ پر ختم ہیں اور آپ کی شریعت خاتم الشرائع ۳۴۰

    آنحضرتؐ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد مستقل

    نبوت کا مدعی بلاشبہ بے دین اور مردود ہے ۳۴۰ح

    آپ کو خاتم الانبیاء سمجھنے والے سے خدا کا پیار کرنا ۳۴۰



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 536

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 536

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/536/mode/1up

    48

    حالات زندگی

    آپ کی بحالت یتیمی پیدائش اور ابتدائی حالات ۴۶۵

    آنحضرت ؐ کی بعثت سے قبل کی زندگی ۴۶۵

    بعثت کے بعد ابتدائی سالوں کے حالات ۴۶۶

    آپ ؐ کی پاک زندگی اور من جانب اللہ ہونے کے ثبوت ابوجہل اور خسروپرویز کی ہلاکت ۱۷۴،۱۷۵

    لیکھرام کی موت آنحضرتؐ کی صداقت کانشان ہے ۳۰۳

    لیکھرام کی ہلاکت آپ ؐ کی پاکیزہ زندگی کا ثبوت ہے ۱۷۶،۲۹۵

    آپؐ کی سچائی کیلئے یہ ایک عظیم الشان نشان ہے کہ آپ نے تیرہ سوسال پہلے ایک نئی سواری کی خبر دی ہے ۳۲۲

    آپ کو پیش آمدہ پانچ نہایت نازک مواقع ۲۶۳ح

    دنیا میں ایک مسافر کی حیثیت ۳۰۰

    آنحضرتؐ کو قتل کرنے کیلئے کفارمکہ کے منصوبے ۲۳۵

    آنحضرت ؐ اور آپ کے صحابہؓ پر مظالم ۴۶۷

    مکی زندگی میں حضور ؐ اور آپ کے صحابہؓ پر مظالم ۳۹۰

    آنحضرت ؐ کی ہجرت سے نوشتوں کی یہ پیشگوئی کہ وہ نبی

    اپنے وطن سے نکالا جائے گاپوری ہوئی ۳۹۱

    آپ ؐ کی ہجرت ۴۲۲

    آنحضرت ؐ کا اپنے گیارہ بیٹوں کی وفات پر صبر کانمونہ ۲۹۹

    آنحضرت ؐ کی دوحیثیتیں۔ رسول اور بادشاہ ۲۴۰

    بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد نبی اوربادشاہ جدا

    ہوتے تھے مگر آپ کو خدا نے دونوں عہدے عطا کیے ۲۴۳

    بحیثیت سربراہ مملکت ملکی مصالح کے قیام کے لئے

    آنحضرت ؐ کا بعض مجرموں کو سزادینا ۲۴۰

    ایک مقدمہ میں ایک یہودی کے حق میں فیصلہ دینا ۲۴۳

    آنحضرت ؐ محض ناخواندہ اور امی تھے ۲۶۵

    آنحضرت ؐ کا فارسی زبان میں الہام ۳۸۲

    اس زمانہ میں گندی تحریروں کے ذریعہ سے آنحضرت ؐ اور اسلام کی توہین ۹۴

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہندو قوم پر آنحضرت ؐ کی صداقت کی شہادت کیلئے بابا نانک ؒ کا ظہور ۳۵۰

    آپؐ کی ذات پر اعتراضات کا جواب

    آپ پر تین ہزار سے بھی زیادہ اعتراضات ۳۴۷

    اس اعتراض کا جواب کہ آنحضرت ؐ نے جنگوں میں مکروفریب سے کام لیا ۳۰۳

    آنحضرت ؐ کی کثرتِ ازدواج پر اعتراض کا جواب ۲۹۸،۲۹۹

    آپ ؐ کا تعدد ازدواج سے اہم اور مقدم مقصود ۳۰۰

    بجز حضرت عائشہؓ کے آپ ؐ کی بیویاں سن رسیدہ تھیں ۳۰۰

    XXXXXXX

    محمد صادق مفتی اڈیٹر اخبار بدرقادیان

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والوں میں سے۳۵۳

    محمد علیؓ نواب

    آپ کی اور آپ کے بھائیوں کی مشکل کشائی کے متعلق

    قبولیت دعا کانشان ۳۳۹

    آپ کے بیٹے کے لئے مسیح موعود ؑ کی دعا ۳۳۸

    محمدعلی ایم اے مولوی اڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلجینز

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والے ۳۵۳

    محمود احمد مرزا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والے ۳۵۳

    محی الدین ابن عربی ۳۳۱

    مسیح موعود کے صینی الاصل اور توام پیدائش ہونے کے

    متعلق آپ کی پیشگوئی ۳۳۰

    مسیح موعود کو لوگوں کے کافر کہنے کی پیشگوئی ۳۳۴

    محی الدین لکھوکے والا

    مسیح موعود ؑ کو فرعون قراردے کر آپ کی نسبت تباہی کے

    کئی الہام شائع کئے مگر آپ کی زندگی میں مرا ۳

    مُرلی دھرماسٹر

    ماسٹر مرلی دھر آریہ سے ہوشیارپور میں مناظرہ کا ذکر ۱۲۶

    مریم علیہا السلام

    آریوں کے اس اعتراض کا جواب کہ مریم ؑ روح القدس

    سے کیونکر حاملہ ہوگئی؟ ۲۲۵



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 537

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 537

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/537/mode/1up

    49

    کوسیکارشی کی بیوی کے حاملہ ہونے کا واقعہ مریم ؑ سے ملتا ہے ۲۲۶

    مسیلمہ کذاب(جھوٹا مدعی نبوت) ۳۱۵ح

    ملاوامل لالہ ۹

    مسیح موعود ؑ کے ابتدائی حالات گمنامی کے گواہ ۴۰۶

    مسیح موعود ؑ کی دعا سے دق کی مرض سے شفا پانے اور

    قبولیت دعا کا گواہ ۴۰۸

    موسیٰ علیہ السلام ۳،۱۱،۲۴۳،۲۶۱،۳۰۲،۳۷۷،

    ۳۸۳،۳۹۷،۴۵۹

    آپ پر فرعون کی طرف سے کافر ہونے کا فتویٰ ۳۴۷

    آپ کی صداقت کے لئے فرعون کی ہلاکت ۱۷۴

    آپ کے مقابلہ میں آکر بلعم بعور کی ہلاکت ۳۴۹

    آپ کو خدا کا تجلی دکھانا جسے آپ برداشت نہ کرسکے ۳۹۸

    آپ کے سلسلہ میں عیسیٰ خاتم الخلفاء تھے ۳۳۳ح

    میکائیل ؑ ۱۸۱ح

    نانک ؒ گروباوا

    آپ کی ہندوؤں میں پیدائش کی غرض ۴۴۵

    نانک ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عزّوجل اپنی

    محبت کا شربت پلاتا ہے ۴۴۵

    وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے

    صاف کرتا ہے ۳۵۰

    آپ کی کلمہ طیبہ کی گواہی ۴۴۶

    شفاعتِ رسول کے بارہ میں باوانانک کا فرمان ۳۶۵

    ہندوؤں میں سے آپ ایک بے تعصب انسان تھے خدا

    نے آپ کو دکھلایا کہ اسلام سچا ہے ۲۱۶

    آپ کا مدعی الہام ہونااور الہاماً اسلام کاسچا بتایا جانا ۳۵۵،۴۴۵

    آنحضرتؐ کی صداقت کے شاہد ۳۵۰

    حضرت بابانانک ؒ کی گواہی اسلام کی نسبت ۳۵۰تا۳۶۸

    آپ کے دعویٰ الہام سے وید کے بعد الہام نہ ہونے

    کے عقیدہ کاردّ ۴۴۶

    مسلمان اولیاء اللہ کی صحبت ۳۵۱

    ملتان کی ایک مسجد میں آپ کا نماز پڑھنا اور ایک خانقاہ

    میں یا اللّٰہ لکھنا جو اَب تک موجود ہے ۲۱۶،۳۵۱

    مکہ معظمہ کا حج اور مدینہ منورہ کی زیارت ۳۵۵

    آپ کے حج پر جانے کے متعلق خالصہ تاریخ مؤلفہ بھائی

    گیان سنگھ جی کاحوالہ ۳۶۷

    بابانانک ؒ کے تبرکات میں چولہ صاحب کی تفصیل ۳۵۴

    باوانانک ؒ کے تبرکات میں قرآن شریف قلمی کی موجودگی ۳۵۳

    موضع گوروہر سہائے ضلع فیروز پور میں باواصاحب کے

    تبرکات تسبیح و قرآن شریف وغیرہ کی موجودگی ۳۵۱

    مسیح موعود ؑ کے ان صحابہ کی فہرست جنہوں نے باوانانک ؒ

    کے تبرکات موجودہ موضع گورو ہر سہائے دیکھے ۳۵۳

    عوام کی نظر سے پوشیدہ رہنے میں حکمت ۳۵۵

    آپ کا وجود تمام ہندوؤں پر خداتعالیٰ کی ایک حجت ہے

    خاص کر سکھّوں پر ۳۵۴

    وہ ہندومذہب کاآخری اوتار تھا جس نے اس نفرت کو دُور

    کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی ۴۴۶

    ویدوں کے مطالعہ سے تسلی نہ پانا ۳۵۱

    وید کے متعلق بابانانک لکھتے ہیں چاروں وید کہانی یعنی

    اُن میں حقیقت اور مغز نہیں ۱۵۵ح

    آپ کی معرفت سے بھری ہوئی ہدایات اور اسلام کی تائید

    میں شلوک ۳۵۶تا۳۶۸

    نجاشی (شاہ حبشہ) ۲۵۹

    نجاشی کے دربار میں حضرت جعفرؓ کی گفتگو ۲۶۰

    کفار کا مسلمانوں کے خلاف نجاشی کو اکسانا ۲۶۱ح

    نجاشی کا آنحضرت ؐ کی صداقت کا اقرار ۲۶۲

    نوح علیہ السلام ۱۱،۱۱۹،۲۵۴

    حضرت نوح ؑ کی کشتی کے متعلق قرآن کریم میں مذکورہ

    تفاصیل پر آریوں کے اعتراض کا جواب ۲۲۵

    نورالدین حضرت حکیم مولوی خلیفۃ المسیح الاوّلؓ

    آپ کے فرزند عبدالحی کی پیدائش کے متعلق پیشگوئی اور

    اس کا پورا ہونا ۳۳۷



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 538

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 538

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/538/mode/1up

    50

    دعاکے اثر سے تین بیٹوں کی پیدائش ۳۳۸

    نور محمد لاہوری حکیم ڈاکٹر مالک کارخانہ ہمدم صحت

    تبرکات باوانانک ؒ بمقام گروہرسہائے کی زیارت کرنے والے ۳۵۳

    و،ہ،ی

    وشوامتّر ۱۴۸،۱۴۹

    ہرسہائے گرو

    آپ کا اپنے باپ جیون مل کے بعد گدی نشین ہونا ۳۴۲

    یاسرؓ حضرت(حضرت عمار کے والد)

    آپ پر کفار کے مظالم کا ذکر ۲۵۸

    یسوع مسیح ۲۲۵،۲۲۶،۲۲۷

    یعقوب علیہ السلام ۱۱،۳۷۶،۴۵۹

    یعقوب بیگ ڈاکٹر مرزا

    آپ کے اصرار پر مسیح موعود ؑ نے احباب جماعت کو آریوں

    کے جلسہ میں جانے کی اجازت دی ۶،۷

    یعقوب علی تراب شیخ ۱



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 539

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 539

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/539/mode/1up

    51

    مقامات

    ا، ب،پ،ت

    ابے سینیا ۲۵۹

    افریقہ ۴۶۸،۳۴۳

    افغانستان ۷۷

    امرتسر ۳۵۲،۴۰۶،۴۰۷

    امریکہ ۱۴۹،۴۵۰

    امریکہ میں کسوف وخسوف کا واقع ہونا ۳۲۹ح

    ایران ۲۶۷،۲۷۰،۴۱۱

    روم کے ایران کی سلطنت پر غالب آنے کی قرآنی پیشگوئی ۳۲۰

    ایشیا ۱۴۹

    بدر(مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ)

    بدر کی لڑائی کے موقع پر ابو جہل کی دُعا جھوٹے کی ہلاکت کے لئے ۱۷۴

    برطانیہ ۱۹۹،۳۷۳،۴۰۴

    بغداد ۱۹۶

    بنارس ۴۵۳

    بنگالہ ۴۴۵

    پٹیالہ (ریاست) ۳۳۶،۳۵۲،۴۳۲

    پشاور ۱۸۲

    پنجاب ۵،۱۸۲،۲۴۵،۳۲۵،۳۷۱،۴۰۷

    تبّت

    یہاں روشن ستارہ کاگرتے دیکھاجانا ۴۱۲

    ج،چ،ح

    جاپان ۴۵۰

    جلال آباد(افغانستان) ۳۵۳

    جگن ناتھ ۳۷۱

    ڈاکٹر برنیئر کی کتاب میں اس مقام کا ذکر ۴۴

    جموں ۳،۳۳۶

    جہلم ۲۶۳ح درح

    چونیاں ضلع لاہور ۳۵۲

    چین ۷۷،۲۳۷،۴۵۰

    چین میں اشاعتِ اسلام، مسلمانوں کی تعداد اور

    خاندان مغلیہ کا صینی الاصل ہونا ۳۳۱ح

    حبشہ ۲۵۹،۲۶۰،۲۶۱،۴۶۷

    د،ڈ،ر

    دمشق ۱۹۶،۳۲۲

    دہلی ۱۴۸

    ڈیرہ اسماعیل خان ۳۵۲

    ڈیرہ بابانانک ۴۴۵

    یہاں چولہ بابانانک کی موجودگی اور اس کی تفصیل ۳۵۴

    مسیح موعود ؑ کا اس جگہ جاکر چولہ دیکھنا ۲۱۶

    ڈیرہ غازی خان ۳۵۲

    راولپنڈی ۳۵۲

    روس ۴۵۰

    روم ۴۱۱

    روم کے ایرانی سلطنت پرغالب آنے کی قرآنی پیشگوئی ۳۲۰

    س،ش،ط،ع،غ

    سپین ۲۳۶ح

    سدّسکندری

    اگر یاجوج وماجوج انسان نہیں تو سدّ سکندری اُن کو روک نہیں سکتی ۸۵ح



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 540

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 540

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/540/mode/1up

    52

    سنور(ریاست کپورتھلہ) ۴۳۲

    سومنات ۴۶

    سیالکوٹ ۳۵۲

    شام ۷۷،۲۳۶ح،۳۲۲،۴۵۱

    شملہ ۱۹۹

    طائف(عرب)

    تبلیغ کے لئے آنحضرت ؐ کا جانا اور کفار کانازیباسلوک ۲۶۲

    عجم(غیرعرب ممالک) ۱۷۵

    عراق ۲۳۶ح

    عرب ۷۷،۸۱،۱۳۳،۱۷۵ح،۲۳۲،۲۵۴تا۲۵۶،

    ۲۶۲،۲۶۷،۲۹۷ح،۳۲۰،۳۳۱ح،۳۸۰،۴۶۵،۴۶۹

    آنحضرت ؐ کی بعثت کے وقت عرب کی ناگفتہ بہ حالت اورآپ کی اصلاح کے نتیجہ میں غیر معمولی تبدیلی ۴۶۳،۴۶۴

    غارثور ۴۶۶

    غارحرا ۴۶۵

    ف،ق،ک،گ

    فارس ۷۷،۲۳۵،۲۳۷ح،۲۳۹،۲۴۰،۲۴۲،۲۷۱،۴۶۰

    فارس پر الہام میں الف لام ہونے کی وضاحت ۳۳۱ح

    فرید کوٹ ۳۵۲

    فیروزپور ۱۸۲،۳۵۱،۳۵۲،۴۴۶

    قادیان ۱،۶۸،۱۲۷،۱۵۳،۱۷۶،۳۴۵،۳۵۳،

    ۴۰۴،۴۰۵،۴۰۶،۴۰۷،۴۰۸

    قصور ۳۳۵

    کابل ۳۵۲

    کابل میں جماعت احمدیہ ۴۰۷

    کانگڑہ

    ہندوؤں کا کانگڑہ کے مندر پر جانوروں کی قربانیاں چڑھانا ۳۷۱

    کشمیر ۷۷

    کلکتہ ۱۲۲،۱۲۳

    کوہاٹ ۳۵۲

    کوہ طُور

    الہام فاحرزعبادی الی الطورمیں طُور سے مراد ۳۹۷

    مسیح موعود ؑ کا اپنی جماعت کوہ طور کی پناہ میں لے

    جانے سے مراد ۸۸

    کوہ طور میں نشان کے طریق پر بڑے بڑے زلزلے آنا ۸۹

    کوہ ہمالیہ

    وید اور آریہ فاضلوں کے نزدیک اس سے پرے کوئی

    آبادی نہیں ۱۵۱،۴۴۹

    گروہرسہائے( ضلع فیروز پور)

    اس گاؤں کی وجہ تسمیہ ۳۵۲

    یہاں بابانانک ؒ کے تبرکات قرآن کریم اور تسبیح

    کی موجودگی ۳۵۱،۴۴۶

    گورداسپور ۱،۲۶۳ ح در ح،۳۵۴

    ل،م،ن،ہ،ی

    لاہور ۳،۶،۹،۱۲،۱۲۲،۱۲۳،۱۲۷،۲۵۵،۲۵۹،

    ۳۳۵،۳۵۲،۳۵۳،۴۰۵،۴۰۶

    لدھیانہ ۳۳۶

    مالیر کوٹلہ ۳۳۹

    مانڈلے(خلیج بنگال کا جزیرہ) ۱۱۷

    محمدی پور تحصیل چونیاں

    باوانانک کے تبرکات پہلے یہاں تھے ۳۵۲

    مدینہ منورہ ۸۲ح،۳۲۲،۳۵۵،۳۵۷،۳۹۱

    آنحضرت کی ہجرت مدینہ کا ذکر ۴۶۷

    مصر ۷۷

    مکہ معظمہ ۸۲ح،۸۶ح،۱۴۵،۲۵۵،۲۶۲،۲۶۵،۳۱۹،

    ۳۲۲،۳۵۵،۳۶۷،۴۱۱،۴۶۴،۴۶۵،۴۶۶،۴۶۷



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 541

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 541

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/541/mode/1up

    53

    وطن سے ہجرت کرتے وقت آنحضرتؐ کا مکہ سے خطاب ۳۹۰

    آنحضرتؐ اور صحابہ پر تیرہ سالہ مکی دور میں مظالم ۳۹۰

    اہل مکہ کے واجب القتل ہونے کی وجوہ ۲۳۳

    کفارمکہ کااپنا اقرار کہ وہ واجب القتل ہیں ۲۳۵

    باوانانک کا ایک برس تک مکہ میں روزے رکھنا ۳۶۵

    ملتان

    مسیح موعود ؑ کا ملتان کی ایک خانقاہ میں بابانانک ؒ کے ہاتھ

    سے یااللّٰہ کا لفظ لکھاہوا دیکھنا ۲۱۶

    نابھہ ریاست ۳۵۲

    ہردوار ۴۵

    ہندوؤں کا ہر دوار کے میلہ پر گنگامائی سے مرادیں مانگنا ۳۷۱

    ہندوستان ۱۲،۷۷،۱۱۴،۱۵۰،۳۳۱ح،۳۷۱،۴۰۷،۴۶۰

    آنحضرت ؐ کاہندوستان میں کنھیا (کرشن) نام کے نبی

    ہونے کا فرمان ۳۸۲

    مسیح موعود ؑ کا ہندوستان میں نبی ہونے پر ایمان ۳۷۲

    قرآن شریف کے ذریعے کروڑہا ہندوؤں کو مخلوق پرستی کی

    بلاء سے نجات ملنا ۲۲۰

    ہندومسلمانوں کو غیر قوم سمجھتے ہیں ۴۵۷

    مسلمانوں اور ہندوؤں میں باہمی نفرت کے اسباب ۴۵۶

    ہندوستانی مسلمانوں کی ہندوؤں سے عداوت کی بنیادیں

    اصل میں سیاسی نہیں مذہبی ہیں ۴۵۷

    ہندوؤں کی ابتداء سے یہ خواہش ہے کہ گورنمنٹ اور ملک

    کے معاملات میں اُن کا دخل ہو ۴۵۶

    ہندوستان میں دواقوام ہندو اور مسلمان کی موجودگی اور

    باہم اتفاق کی ضرورت ۴۴۳

    ہندوؤں اورمسلمانوں میں صلح کابنیادی اصول ۴۵۸

    ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح کے قیام کی ضرورت ۴۴۴،۴۵۶

    ہوشیار پور

    مرلی دھر آریہ سے ہوشیار پور میں مناظرہ ۱۲۶

    یمن ۱۷۵

    یورپ ۸۴ح،۱۴۹،۱۵۲،۲۳۱،۲۳۶،۲۶۷،

    ۳۲۳،۴۵۰،۴۶۸

    یورپ کے ممالک کا جواز طلاق کا قانون پاس کرنا ۴۱۴

    عربوں کے آنحضرت ؐ کو صدق دل سے قبول کرنے کو

    یورپی محققین کا ایک فوق العادت امر تسلیم کرنا ۳۳۶ح

    یورپی علماء کے بزرگوں کو عربوں کی شاگردی کا فخرہے ۲۳۷ح

    یاجوج و ماجوج سے مراد یورپی عیسائی اقوام ۸۳ح،۸۷

    لایدان لقتالھم لاحدٍ سے مرادیورپی طاقتیں ۳۹۷

    یورپ کی صنعتی ترقی کے نتیجہ میں عالمگیر تمدنی انقلاب ۸۷،۸۸



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 542

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 542

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/542/mode/1up

    54

    کتابیات

    آ،ا،ب،پ،ت

    آریہ گزٹ فیروزپور ۱۸۲

    انجیل(دیکھئے مضامین میں عنوان انجیل)

    بائیبل(دیکھئے مضامین میں عنوان بائیبل) ۸۳،۲۲۵،۲۶۶

    بخاری صحیح

    حدیث کی کتب میں اوّل درجہ کی سمجھی جاتی ہے ۳۹۵

    بدر(اخبار) ۳۵۳

    براہین احمدیہ ہر چارحصص(تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ ) ۳،۴۴،۳۳۱ح،۳۹۴،۳۹۸،۴۰۳،۴۰۵،۴۰۷

    اس کی تالیف کا باعث ستیار تھ پرکاش کی اشاعت تھی ۵

    پیغام صلح(تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ ) ۴۳۷،۴۴۳

    مسیح موعود ؑ کی آخری تصنیف جو وفات سے دو دن قبل تصنیف فرمائی اس میں آپ نے ہندوستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے ہندووں اور مسلمانوں کے مابین صلح اوررواداری کی بنیادیں بیان فرمائی ہیں ۴۳۹تا۴۷۱

    اس کا مضمون پڑھے جانے کے متعلق اشتہار کی نقل ۴۸۸

    تاریخ طبری ۲۶۱ح

    تشحیذالاذہان(رسالہ) ۳۵۳

    تکذیب براہین احمدیہ(ازپنڈت لیکھرام) ۱۷۷

    توریت(دیکھئے مضامین میں عنوان بائیبل) ۱۸۲،۲۲۲، ۲۲۵،۲۳۹،۲۶۹،۲۷۰،۳۶۰،۴۷۱

    ج،چ،ح،خ

    جنم ساکھی (بھائی بالاوالی)سکھوں کی مقدس کتاب

    ۳۵۴،۳۵۶تا۳۶۷

    چشمۂ معرفت(تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ )

    یہ کتاب آریوں کے مذہبی جلسہ منعقدہ دسمبر۱۹۰۷ء میں

    پڑھے جانے والے ان کے معترضانہ مضمون کا جواب ہے ۱

    اس کے لکھنے کی دواغراض ۸

    حقیقۃ الوحی (تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ ) ۱۷۷،۳۳۸

    اس میں بہت سے نشانات لکھنے کاذکر ۳۱۳،۳۲۸

    خالصہ تواریخ (مؤلفہ بھائی گیان سنگھ جی گیانی) ۳۶۷،۳۶۸

    خبط احمدیہ ( ازپنڈت لیکھرام) ۳۰۳

    لیکھرام کی مسیح موعود ؑ کے بالمقابل دعائے مباہلہ

    کی اشاعت ۵،۱۸۳

    د،ر،ز،ژ،س،ش

    دارقطنی ۳۳۰ح

    دارقطنی کی حدیث کسوف و خسوف کی تشریح ۳۲۹ح

    دساتیر

    پارسیوں کی مقدس کتاب جو وید سے قدیم ہونے کی مدعی ہے ۴۰۱

    ریویوآف ریلیجنز(رسالہ) ۳۵۳

    زبور ۱۸۲،۳۶۰،۳۶۳

    ژند (پارسیوں کی آسمانی کتاب)

    رگوید کی بہت سی تعلیمیں ژند کی تعلیم کا سرقہ ہیں ۲۷۱

    ست بچن (تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ )

    اس میں چولہ باوانانک کا تفصیلی ذکر ہے ۳۵۴

    ستیار تھ پرکاش (مصنف پنڈت دیانند) ۱۵۸،۲۰۸

    اس میں پرمیشر کے غضبی صفات ظاہر کرنے والے اسماء ۴۸

    اس میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا

    کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے ۲۶

    انسانی روح کے متعلق دیانند کا عقیدہ ۱۱۵،۱۲۲،۱۲۶



    Ruhani Khazain Volume 23. Page: 543

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۳- انڈیکس: صفحہ 543

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=23#page/543/mode/1up

    55

    دوسرے ایڈیشن میں سے روح کے متعلق دیانند کی تعلیم

    کو نکال دیاجانا ۱۲۷

    دیانند کی یہ تعلیم کہ صرف اس راجا کو ماننا چاہیئے جو وید کی

    تعلیم کے موافق چلتا ہو ۲۰۷

    ستیارتھ پرکاش میں نیوگ کی تعلیم ۱۴۱

    اس میں دیانند کی اسلام کے ظہور کے وقت آریہ ورت کی

    مذہبی حالت بگڑنے کی گواہی ۲۶۶

    اس میں بابانانک کا ذکر توہین آمیزاور ناملائم الفاظ میں ۵،۲۱۶

    سرمہ چشم آریہ (تصنیف حضرت مسیح موعود ؑ ) ۱۲۷،۱۷۸

    سوانح عمری حضرت محمد صاحب(ازپرکاش دیوجی) ۲۳۴ح،۲۳۶ح

    آنحضرت ؐکے حالات پراس کتاب کاطویل اقتباس ۲۵۵تا۲۶۴

    شبھ چنتک (قادیان کے آریوں کا اخبار)

    اس اخبار کے مینیجر اور ایڈیٹر مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کے مطابق طاعون سے ہلاک ہوئے ۶۸،۱۵۳

    عصائے موسیٰ(ازبابو الہٰی بخش اکونٹنٹ لاہور) ۳

    فیروز پور گزٹیر مطبوعہ۱۸۸۹ء ۳۵۲

    فیض رحمانی (مؤلفہ مولوی غلام دستگیر قصوری) ۳

    گرنتھ(سکھوں کی مقدس کتاب) ۳۵۴،۳۵۶،۳۵۷،۳۵۸،۳۶۳

    لسان العرب (قدیم عربی لغت)

    اس میں لفظ مکر کے معانی و تفسیر ۲۰۰

    اس میں جنگ بدر کے موقع پر ابوجہل کی دعائے مباہلہ ۱۷۶

    مسلم صحیح ۸۱ح،۸۲ح،۳۲۲،۳۹۷

    مسیح موعود کے وقت اونٹنیاں ترک ہونے کی پیشگوئی ۳۲۱

    منو شاستر

    اس کی رو سے مرد کو بعض حالات میں طلاق کا حق

    حاصل ہے ۲۸۷

    میزان الحق (از پادری فنڈل) ۲۴۰،۴۶۲

    اس میں عرب کے اہل کتاب کی مذہبی اور اخلاقی حالت

    کی گراوٹ کا اعتراف ۲۳۹

    وید(نیز دیکھئے مضامین میں عنوان وید)

    ۵،۱۶،۲۰،۲۲،۳۲،۳۷،۱۰۴،۱۱۳،۱۳۵،۱۷۶،۲۸۶ح،

    ۲۸۹،۳۰۹،۳۱۹،۳۶۰،۳۷۱،۳۸۵،۴۴۷،۴۴۸
     

اس صفحے کو مشتہر کریں