1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 20 ۔ لیکچر لاہور ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 4, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 145

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 145

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 146

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 146

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    آج پرچہ پیسہ اخبار ۲۷؍اگست ۱۹۰۴ ؁ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا

    کہ حکیم مرزا محمود نام ایرانی لاہور میں فروکش ہیں وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہیں۔ دعویٰ کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔ مَیں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے اِس قدر شدت کم فرصتی ہے کہ مَیں اُن کی اس درخواست کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ کل ہفتہ کے روز جلسہ کا دن ہے جس میں میری مصروفیت ہوگی اور اتوار کے دن علی الصباح مجھے گورداسپور میں ایک مقدمہ کے لئے جانا جو عدالت میں دائر ہے ضروری ہے۔ مَیں قریباً بارہ دن سے لاہور میں مقیم ہوں۔ اس مدت میں کسی نے مجھ سے ایسی درخواست نہیں کی اب جبکہ مَیں جانے کو ہوں اور ایک منٹ بھی مجھے کسی اَور کام کے لئے فرصت نہیں تو مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اِس بے وقت کی درخواست سے کیا مطلب اور کیا غرض ہے لیکن تاہم مَیں حکیم مرزا محمود صاحب کو تصفیہ کے لئے ایک اور صاف راہ بتلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کل ۳ ؍ستمبر کو جو جلسہ میں میرا مضمون پڑھا جائے گا وہ مضمون ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار اپنے پرچہ میں بتمام و کمال شائع کردیں۔ حکیم صاحب موصوف سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کے مقابلہ میں اُسی اخبار میں اپنا مضمون شائع کرادیں اور پھر خود پبلک اِن دونوں مضمونوں کو پڑھ کر فیصلہ کرلے گی کہ کس شخص کا مضمون راستی پر اور سچائی اور دلائل قویہّ پر مبنی ہے۔ اور کِس شخص کا مضمون اِس مرتبہ سے گِرا ہوا ہے۔ میری دانست میں یہ طریق فیصلہ اُن بد نتائج سے بہت محفوظ ہوگا جو آج کل زیادہ مباحثات سے متوقع ہے بلکہ چونکہ اس طرز میں رُوئے کلام حکیم صاحب کی طرف نہیں اور نہ اُن کی نسبت کوئی تذکرہ ہے اِس لئے ایسا مضمون اُن رنجشوں سے بھی برتر ہوگا جو باہم مباحثات سے کبھی کبھی پیش آجایا کرتے ہیں۔ والسلام منہ

    الراقم میرزا غلام احمد قادیانی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 147

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 147

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اوّل* میں اُس خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے ایسی پُر امن گورنمنٹ کے سایہ میں ہمیں جگہ دی ہے جو ہمیں اپنے مذہبی اشاعت سے نہیں روکتی اور اپنے عدل اور داد گستری سے ہر ایک کانٹا ہماری راہ سے دُور کرتی ہے۔ سو ہم خدا کے شکر کے ساتھ اس گورنمنٹ کا بھی شکرکرتے ہیں۔

    بعد اس کے اے معزز سامعین اس وقت میں اُن مذہبوں کی نسبت جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اور جہاں تک مجھے طاقت ہے مَیں تہذیب کی رعایت سے بات کروں گا۔ تاہم مَیں جانتا ہوں کہ طبعاً بعض انسانوں کو اُن سچائیوں کا سُننا ناگوار معلوم ہوتا ہے جو اُن کے عقیدہ اور مذہب کے مخالف ہوں۔ سو یہ امر میرے اختیار سے باہر ہے کہ اس فطرتی نفرت کو دُور کر سکوں۔ بہرحال مَیں سچائی کے بیان میں بھی ہر ایک صاحب سے معافی چاہتا ہوں۔

    اے معزز صاحبان! مجھے بہت سے غور کے بعد اورنیز خدا کی متواتر وحی کے بعدمعلوم ہوا ہے کہ اگرچہ اس ملک میں مختلف فرقے بکثرت پائے جاتے ہیں اور مذہبی اختلافات ایک سیلاب کی طرح حرکت کررہے ہیں تاہم وہ امر جو اس کثرتِ اختلافات کا موجب ہے وہ درحقیقت ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر انسانوں کے اندر سے قوّت روحانیت اور خدا ترسی کی کم ہوگئی ہے۔ اور وہ آسمانی نور جس کے ذریعہ سے انسان حق اور باطل میں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 148

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 148

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    فرق ؔ کر سکتا ہے وہ قریباً بہت سے دلوں میں سے جاتا رہا ہے۔ اور دنیا ایک دہریت کا رنگ پکڑتی جاتی ہے یعنی زبانوں پر تو خدا اور پرمیشر ہے اور دلوں میں ناستک مت کے خیالات بڑھتے جاتے ہیں۔ اس بات پر یہ امر گواہ ہے کہ عملی حالتیں جیسا کہ چاہئے درست نہیں ہیں۔ سب کچھ زبان سے کہا جاتا ہے مگر عمل کے رنگ میں دکھلایا نہیں جاتا۔ اگر کوئی پوشیدہ راستباز ہے تو مَیں اُس پر کوئی حملہ نہیں کرتا۔ مگر عام حالتیں جو ثابت ہورہی ہیں وہ یہی ہیں کہ جس غرض کے لئے مذہب کو انسان کے لازم حال کیا گیا ہے وہ غرض مفقود ہے دل کی حقیقی پاکیزگی اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور اس کی مخلوق کی سچی ہمدردی اور حلم اور رحم اور انصاف اور فروتنی اور دوسرے تمام پاک اخلاق اور تقویٰ اور طہارت اور راستی جو ایک رُوح مذہب کی ہے اُس کی طرف اکثر انسانوں کو توجہ نہیں۔ مقام افسوس ہے کہ دنیا میں مذہبی رنگ میں تو جنگ و جدل روز بروز بڑھتے جاتے ہیں مگر روحانیت کم ہوتی جاتی ہے۔ مذہب کی اصلی غرض اُس سچّے خدا کا پہچاننا ہے جس نے اس تمام عالم کو پیدا کیا ہے اور اُس کی محبت میں اُس مقام تک پہنچنا ہے جو غیر کی محبت کو جلا دیتا ہے اور اس کی مخلوق سے ہمدردی کرنا ہے اور حقیقی پاکیزگی کا جامہ پہننا ہے۔ لیکن مَیں دیکھتا ہوں کہ یہ غرض اس زمانہ میں بالائے طاق ہے اور اکثر لوگ دہریہ مذہب کی کسی شاخ کو اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی شناخت بہت کم ہوگئی ہے اسی وجہ سے زمین پر دن بدن گناہ کرنے کی دلیری بڑھتی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ جس چیز کی شناخت نہ ہو نہ اس کا قدر دل میں ہوتا ہے اور نہ اس کی محبت ہوتی ہے اور نہ اس کا خوف ہوتا ہے تمام اقسام خوف اور محبت اور قدردانی کے شناخت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ آج کل دنیا میں گناہ کی کثرت بوجہ کمی معرفت ہے۔ اور سچے مذہب کی نشانیوں میں سے یہ ایک عظیم الشان نشانی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان کے وسائل بہت سے اس میں موجود ہوں تا انسان گناہ سے رُک سکے اور تا وہ خدا تعالیٰ کے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 149

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 149

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    حسنؔ و جمال پر اطلاع پاکر کامل محبت اور عشق کا حصہ لیوے اور تا وہ قطع تعلق کی حالت کو جہنم سے زیادہ سمجھے۔ یہ سچی بات ہے کہ گناہ سے بچنا اور خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جانا انسان کے لئے ایک عظیم الشان مقصود ہے اور یہی وہ راحت حقیقی ہے جس کو ہم بہشتی زندگی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ تمام خواہشیں جو خدا کی رضامندی کے مخالف ہیں دوزخ کی آگ ہیں۔ اور اِن خواہشوں کی پیروی میں عمر بسر کرنا ایک جہنمی زندگی ہے ۔ مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس جہنمی زندگی سے نجات کیونکر حاصل ہو؟ اس کے جواب میں جو علم خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ اس آتش خانہ سے نجات ایسی معرفتِ الٰہی پر موقوف ہے جو حقیقی اور کامل ہو۔ کیونکہ نفسانی جذبات جو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں وہ ایک کامل درجہ کا سیلاب ہے جو ایمان کو تباہ کرنے کے لئے بڑے زور سے بہ رہا ہے۔ اور کامل کاتدارک بجز کامل کے غیر ممکن ہے۔ پس اِسی وجہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک کامل معرفت کی ضرورت ہے کیونکہ مثل مشہور ہے کہ لوہے کو لوہے کے ساتھ ہی توڑ سکتے ہیں۔ یہ امر زیادہ دلائل کا محتاج نہیں کہ قدردانی اور محبت اور خوف یہ سب امور معرفت یعنی پہچاننے سے ہی پیدا ہوتے ہیں اگر ایک بچہ کے ہاتھ میں مثلاً ایک ایسا ٹکڑاہیرے کا دیا جائے جس کی کئی کروڑ روپیہ قیمت ہو سکتی ہے تو وہ صرف اس کی اُسی حد تک قدر کرے گا جیسا کہ ایک کھلونے کی قدر کرتا ہے۔ اور اگر ایک شخص کو اس کی لاعلمی کی حالت میں شہد میں زہر ملا کر دیا جائے تو وہ اُسے شوق سے کھائے گا اور یہ نہیں سمجھے گا کہ اس میں میری موت ہے۔ کیونکہ اس کو ایسے شہد کی معرفت نہیں۔ لیکن تم دانستہ ایک سانپ کے سوراخ میں ہاتھ ڈال نہیں سکتے۔ کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ ایسے کام سے مرنے کا اندیشہ ہے۔ ایسا ہی تم ایک ہلاہل زہر کو دیدہ و دانستہ کھا نہیں سکتے کیونکہ تمہیں یہ معرفت حاصل ہے کہ اس زہر کے کھانے سے مَر جاؤ گے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 150

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 150

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    پھرؔ کیا سبب ہے کہ اُس موت کی تم کچھ بھی پروا نہیں کرتے کہ جو خدا کے حکموں کے توڑنے سے تم پر وارد ہو جائے گی۔ ظاہر ہے کہ اس کا یہی سبب ہے کہ اس جگہ تمہیں ایسی معرفت بھی حاصل نہیں جیسا کہ تمہیں سانپ اور زہر کی معرفت حاصل ہے یعنی اُن چیزوں کی پہچان ہے یہ بالکل یقینی ہے اور کوئی منطق اس حکم کو توڑ نہیں سکتی کہ معرفت تامہ انسان کو ان تمام کاموں سے روکتی ہے جن میں انسان کے جان یامال کا نقصان ہو۔ اور ایسے رُکنے میں انسان کسی کفارہ کا محتاج نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بدمعاش لوگ بھی جو جرائم کے عادی ہوتے ہیں ہزاروں ایسے نفسانی جذبات سے دستکش ہو جاتے ہیں جن میں وہ یقیناًجانتے ہیں کہ دست بدست پکڑے جائیں گے اور سخت سزائیں دی جائیں گی۔ اور تم دیکھتے ہو کہ وہ لوگ روز روشن میں ایسے دوکانوں کے لوٹنے کے لئے حملہ نہیں کر سکتے جن میں ہزارہا روپے کھلے پڑے ہیں اور ان کے رستہ پر بیسیوں پولیس کے سپاہی ہتھیاروں کے ساتھ دَورہ کررہے ہیں۔ پس کیا وہ لوگ چوری یا استحصال بالجبر سے اس لئے رُکتے ہیں کہ کسی کفارہ پر اُن کوپختہ ایمان ہے یا کسی صلیبی عقیدہ کا اُن کے دلوں پر رُعب ہے؟ نہیں بلکہ محض اس لئے کہ وہ پولیس کی کالی کالی وردیوں کو پہچانتے ہیں۔ اور ان کی تلواروں کی چمک سے اُن کے دلوں پر لرزہ پڑتا ہے اور اُن کو اس بات کی معرفت تامہ حاصل ہے کہ وہ دست درازی سے ماخوذ ہو کر معًا جیل خانہ میں بھیجے جائیں گے اور اس اُصول پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ حیوانات بھی پابند ہیں۔ ایک حملہ کرنے والا شیر جلتی ہوئی آگ میں اپنے تئیں نہیں ڈال سکتا۔ گو کہ اس کے دوسری طرف ایک شکار بھی موجود ہو۔ اور ایک بھیڑیا ایسی بکری پر حملہ نہیں کر سکتا جس کے سر پر مالک اس کا معہ ایک بھری ہوئی بندوق اور کھچی ہوئی تلوار کے کھڑا ہے۔ پس اے پیارو! یہ نہایت سچا اور آزمودہ فلسفہ ہے کہ انسان گناہ سے بچنے کے لئے معرفت تامہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 151

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 151

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    کا محتاجؔ ہے نہ کسی کفارہ کا۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر نوحؑ کی قوم کو وہ معرفت تامہ حاصل ہوتی جو کامل خوف کو پیدا کرتی ہے تو وہ کبھی غرق نہ ہوتی۔ اور اگر لوط کی قوم کو وہ پہچان بخشی جاتی تو اُن پر پتھر نہ برستے۔ اور اگر اس ملک کو ذاتِ الٰہی کی وہ شناخت عطا کی جاتی جو بدن پر خوف سے لرزہ ڈالتی ہے تو اِس پر طاعون سے وہ تباہی نہ آتی جو آگئی۔ مگر ناقص معرفت کوئی فائدہ پہنچا نہیں سکتی۔ اور نہ اس کا نتیجہ جو خوف اور محبت ہے کامل ہو سکتا ہے۔ ایمان جو کامل نہیں وہ بے ُ سود ہے۔ اور محبت جو کامل نہیں وہ بے سُود ہے۔ اور خوف جو کامل نہیں وہ بے سُود ہے۔ اور معرفت جو کامل نہیں وہ بے ُ سود ہے۔ اور ہریک غذا اور شربت جو کامل نہیں وہ بے سُود ہے۔ کیا تم بھوک کی حالت میں صرف ایک دانہ سے سیر ہو سکتے ہو؟ یا پیاس کی حالت میں صرف ایک قطرہ سے سیراب ہو سکتے ہو؟ پس اے سُست ہمتو! اور طلبِ حق میں کاہلو! تم تھوڑی معرفت سے اور تھوڑی محبت سے اور تھوڑے خوف سے کیونکر خدا کے بڑے فضل کے اُمیدوار ہو سکتے ہو؟ گناہ سے پاک کرنا خدا کا کام ہے اور اپنی محبت سے دل کو پُر کر دینا اسی قادرو توانا کا فعل ہے اور اپنی عظمت کا خوف کسی دل میں قائم کرنا اُسی جناب کے ارادہ سے وابستہ ہے۔ اور قانونِ قدرت قدیم سے ایسا ہی ہے کہ یہ سب کچھ معرفت کاملہ کے بعد ملتا ہے۔ خوف اور محبت اور قدردانی کی جڑھ معرفت کاملہ ہے پس جس کو معرفت کاملہ دی گئی اس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی۔ اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی اُس کو ہر ایک گناہ سے جو بیباکی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی۔ پس ہم اِس نجات کے لئے نہ کسی خون کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیب کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے۔ جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کررہی ہے۔ ایسی قربانی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 152

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 152

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    کا ؔ دوسرے لفظوں میں نام اسلام ہے۔ اسلام کے معنے ہیں ذبح ہونے کے لئے گردن آگے رکھ دینا یعنی کامل رضا کے ساتھ اپنی روح کو خدا کے آستانہ پر رکھ دینا یہ پیارا نام تمام شریعت کی رُوح اور تمام احکام کی جان ہے۔ ذبح ہونے کے لئے اپنی دلی خوشی اور رضا سے گردن آگے رکھ دینا کامل محبت اور کامل عشق کو چاہتا ہے اور کامل محبت کامل معرفت کو چاہتی ہے۔ پس اسلام کا لفظ اِسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی قربانی کے لئے کامل معرفت اور کامل محبت کی ضرورت ہے نہ کسی اور چیز کی ضرورت۔ اِسی کی طرف خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتاہے۔ 3 3 ۱؂ یعنی تمہاری (قربانیوں) کے نہ تو گوشت میرے تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ خون بلکہ صرف یہ قربانی میرے تک پہنچتی ہے کہ تم مجھ سے ڈرو اور میرے لئے تقویٰ اختیار کرو۔

    اب جاننا چاہئے کہ مذہب اسلام کے تمام احکام کی اصل غرض یہی ہے کہ وہ حقیقت جو لفظ اسلام میں مخفی ہے اُس تک پہنچایا جائے۔ اسی غرض کے لحاظ سے قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کے لئے کوشش کررہی ہیں۔ کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں اور کہیں اُس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں۔ کیونکہ کسی کی محبت یا تو حُسن کے ذریعہ سے دل میں بیٹھتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا اور مبدأ ہے تمام مخلوق کا۔ اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا۔ اور مالک ہے تمام جزا سزا کا۔ اور مرجع ہے تمام امور کا۔ اور نزدیک ہے باوجود دُوری کے اور دُور ہے باوجود نزدیکی کے۔ وہ سب سے اُوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اَور بھی ہے۔ اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 153

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 153

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/153/mode/1up


    نہیںؔ کہہ سکتے کہ اُس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہرایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔ وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اُس نے ہریک چیز کو اُٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اُٹھا رکھا ہو۔ کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیداہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہریک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔ وہ آسمان اور زمین کی ہریک چیز کا نور ہے اور ہریک نُور اسی کے ہاتھ سے چمکا۔ اور اُسی کی ذات کا َ پرَ توہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔ کسی رُوح کی کوئی قوت نہیں جو اس سے نہ ملی ہو اور خود بخود ہو۔ اور اُس کی رحمتیں دو قسم کی ہیں (۱)ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرّات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیّا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جبکہ ہم خود موجود نہ تھے۔ نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔ غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں (۲)دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتّب ہوتی ہے اور اس کی تصریح کی کچھ ضرورت نہیں۔ ایسا ہی قرآن شریف میں وارد ہے کہ خدا کی ذات ہریک عیب سے پاک ہے اور ہر ایک نقصان سے مبرّا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اس کی تعلیم کی پیروی کر کے عیبوں سے پاک ہو۔ اور وہ فرماتا ہے 3 3 ۱؂ یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا اور اُس ذات بیچوں کا اس کو دیدار نہیں ہوگا وہ مرنے کے بعد بھی اندھا ہی ہوگا اور تاریکی اس سے جُدا نہیں ہوگی کیونکہ خدا کے دیکھنے کے لئے اِسی دنیا میں حواس ملتے ہیں اور جو شخص ان حواس کو دنیا سے ساتھ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 154

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 154

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/154/mode/1up


    نہیں لے جائے گا وہ آخرت میں بھی خدا کو دیکھ نہیں سکے گا۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف سمجھاؔ دیا ہے کہ وہ انسان سے کس ترقی کا طالب ہے اور انسان اس کی تعلیم کی پیروی سے کہا ں تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اِسی دنیا میں دیدارِ الٰہی میسر آسکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3 33۱؂۔ یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اِسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ اُن کی وجہ سے دل میں تکبّر پیدا ہو کہ مَیں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور ناتمام ہوں اور نہ اُن میں کوئی ایسی بدبو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو۔ نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے نہ ہوا نہ آگ نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا اُن پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کے قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اور نہ اپنے علم پرکوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز۔ بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت رُوح گری رہے اور دُعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا اور بے دست و پا بھی ہے اور اُس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیریں۔ پس اُس نے افتاں و خیزاں بہرحال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچا دیا اور اپنی لبوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا اور پھر قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔ 33333 ۲؂۔ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اُس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے نہ کسی چیز کے صفات اُس کی صفات کے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 155

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 155

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/155/mode/1up


    مانند ہیں۔ انسان کا علم کسی معلّم کا محتاج ہے اورپھر محدود ہے مگر اُس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور باایں ہمہ غیر محدود ہے۔ انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔ اورؔ انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے۔ لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیرمحدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔۔۔ اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔ اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔ پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔ کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔ اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔ یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔ اور اعمال کے متعلق یہ آیت جامع قرآن شریف میں ہے:۔ 3 33 ۱؂ یعنی خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ انصاف کرو اور عدل پر قائم ہو جاؤ۔ اور اگر اس سے زیادہ کامل بننا چاہو تو پھر احسان کرو۔ یعنی ایسے لوگوں سے سلوک اور نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی اور اگر اس سے بھی زیادہ کامل بننا چاہو تو محض ذاتی ہمدردی سے اور محض طبعی جوش سے بغیر نیت کسی شکریا ممنون منّت کرنے کے بنی نوع سے نیکی کرو۔ جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے فقط اپنے طبعی جوش سے نیکی کرتی ہے اور فرمایا کہ خدا تمہیں اس سے منع کرتا ہے کہ کوئی زیادتی کرو یا احسان جتلاؤ یا سچی ہمدردی کرنے والے کے کافر نعمت بنو اور اسی آیت کی تشریح میں ایک اور مقام میں فرماتا ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 156

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 156

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/156/mode/1up


    3یعنی کامل راستباز جب غریبوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں تو محض خدا کی محبت سے دیتے ہیں نہ کسی اور غرض سے دیتے ہیں اور وہ انہیں مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ یہ خدمت خاص خدا کے لئے ہے۔ اس کا ہم کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا شکر کرو۔ اور پھر سزا جزا کے بارے میں فرمایا۔ 33۲؂۔ یعنی بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے۔ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ اور گالی کے عوض گالی اور جو شخص معاف کردے مگر ایسا معاف کرنا جس کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کوئی خرابی۔ یعنی جس کو معاف کیا گیا ہے وہ کچھ سدھر جائے اور بدی سے باز آجائے تو اِس شرط سے معاف کرنا انتقام سے بہتر ہوگا اور معاف کرنے والے کو اس کا بدلہ ملے گا۔ یہ نہیں کہ ہر ایک محل بے محل میں ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دی جائے۔ یہ تو دُور از حکمت ہے۔ اور بعض اوقات بدوں سے نیکی کرنا ایسا مضر ہو جاتا ہے کہ گویا نیکوں سے بدی کی ہے۔ اور پھر فرمایا :۔3 3۳؂۔ یعنی اگر کوئی تجھ سے نیکی کرے تو تُو اس سے زیادہ نیکی کر اور اگر تو ایسا کرے گا تو ما بین تمہارے اگر کوئی عداوت بھی ہوگی تو وہ ایسی دوستی سے بدل جائے گی کہ گویا وہ شخص ایک دوست بھی ہے اور رشتہ دار بھی۔ اور فرمایا 3 3۴؂۔ 3 3۵؂۔3۶؂۔3 3۷؂۔ 3 3۸؂۔ 3 ۹؂۔ 3 3 ۱۰؂۔

    یعنی چاہئے کہ ایک تمہارا دوسرے کا گلہ مت کرے۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ مُردے بھائی کا گوشت کھاؤ۔ اور چاہئے کہ ایک قوم دوسری قوم پر ہنسی نہ کرے کہ ہماری اونچی ذاتؔ اور ان کی کم ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 157

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 157

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/157/mode/1up


    ممکن ہے کہ وہ تم سے بہتر ہوں۔ اور خدا کے نزدیک تو زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ نیکی اور پرہیزگاری سے حصّہ لیتا ہے۔ قوموں کا تفرقہ کچھ چیز نہیں ہے۔ اور تم بُرے ناموں سے جن سے لوگ چڑتے ہیں یا اپنی ہتک سمجھتے ہیں ان کو مت پکارو۔ ورنہ خدا کے نزدیک تمہارا نام بدکار ہوگا۔ اور بتوں سے اور جھوٹ سے پرہیز کرو کہ یہ دونوں ناپاک ہیں۔ اور جب بات کرو تو حکمت اور معقولیت سے کرو۔ اور لغو گوئی سے بچو۔ اور چاہئے کہ تمہارے تمام اعضاء اور تمام قوتیں خدا کی تابع ہوں اور تم سب ایک ہوکر اُس کی اطاعت میں لگو۔ اور پھر ایک مقام میں فرمایا 3۔3۔3۔33۔3۔3۔3 3۔3 ۱؂ ۔ اے وے لوگو جو خدا سے غافل ہو! دنیا طلبی نے تمہیں غافل کیا یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو اور غفلت سے باز نہیں آتے یہ تمہاری غلطی ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ پھر مَیں کہتا ہوں کہ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ اگر تمہیں یقینی علم حاصل ہو جائے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر کے اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہاری زندگی جہنمی ہے پھر اگر اس سے بڑھ کر تمہیں معرفت ہو جائے تو تم یقین کامل کی آنکھ سے دیکھ لو کہ تمہاری زندگی جہنمی ہے۔ پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ تم جہنم میں ڈالے جاؤگے اور ہریک عیاشی اور بے اعتدالی سے پوچھے جاؤ گے۔ یعنی عذاب میں ماخوذ ہو کر حق الیقین تک پہنچ جاؤگے۔ اِن آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یقین تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایکؔ ۱ یہ کہ محض علم اور قیاس سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ کوئی دُور سے دھوآں دیکھے اور قیاس اور عقل کو دخل دے کر سمجھ لے کہ اس جگہ ضرور آگ ہوگی۔ اور پھر دوسر۲یؔ قسم یقین کی یہ ہے کہ اس آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ پھر تیسریؔ ۳ قسم یقین کی یہ ہے کہ مثلاً اس آگ میں ہاتھ ڈال دے اور اس کی قوتِ احتراق سے مزہ چکھ لے۔ پس یہ تین قسمیں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 158

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 158

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/158/mode/1up


    ہوئیںؔ ۔ علم الیقین۔ عین الیقین۔ حق الیقین۔ اِس آیت میں خدا تعالیٰ نے سمجھایا کہ تمام راحت انسان کی خدا تعالیٰ کے قرب اور محبت میں ہے اور جب اس سے علاقہ توڑ کر دنیا کی طرف جھکے تو یہ جہنمی زندگی ہے۔ اور اس جہنمی زندگی پر آخرکار ہریک شخص اطلاع پالیتا ہے اور اگرچہ اس وقت اطلاع پاوے جب کہ یکدفعہ مال و متاع اور دنیا کے تعلقات کو چھوڑ کر مرنے لگے۔ اور پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔3۱؂۔ یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے مقام اور عزّت کا پاس کر کے اور اس بات سے ڈر کر کہ ایک دن خدا کے حضور میں پوچھا جائے گاُ گنہ کو چھوڑتا ہے اُس کو دو بہشت عطا ہوں گے (۱) اوّل اِسی دنیا میں بہشتی زندگی اس کو عطا کی جاوے گی اور ایک پاک تبدیلی اس میں پیدا ہوجائے گی اور خدا اس کا متولّی اور متکفل ہوگا ۔ دوسرے مرنے کے بعد جاودانی بہشت اس کو عطا کیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ وہ خدا سے ڈرا اور اس کو دنیا پر اور نفسانی جذبات پر مقدم کر لیا۔ پھر ایک اور جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے33۔3۔ 33۲؂۔ 33۔3۳؂۔ یعنی ہم نے کافروں کے لئے جو ہماری محبت دل میں نہیں رکھتے اور دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ زنجیر اور طوق گردن اور دل کے جلنے کے سامان تیار کر رکھے ہیں اور دنیا کی محبت کی اُن کے پیروں میں زنجیریں ہیں اور گردنوں میں ترکِ خدا کا ایک طوق ہے جس سے سر اُٹھا کر اوپر کو نہیں دیکھ سکتے اور دنیا کی طرف جھکے جاتے ہیں۔ اور دنیا کیخواہشوں کی ہر وقت ان کے دلوں میں ایک جلن ہے۔ مگر وہ جو نیکو کار ہیں وہ اِسی دنیا میں ایسا کافوری شربت پی رہے ہیں جس نے ان کے دلوں میں سے دنیا کی محبت ٹھنڈی کر دی ہے اور دنیا طلبی کی پیاس بجھا دی ہے۔ کافوری شربت کا ایک چشمہ ہے جو ان کوعطا کیا جاتا ہے اور وہ اس چشمہ کو پھاڑ پھاڑ کر نہر کی صورت پر کر دیتے ہیں تا وہ نزدیک اور دُور کے پیاسوں کو اس میں شریک کردیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 159

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 159

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/159/mode/1up


    اور ؔ جب وہ چشمہ نہر کی صورت پر آجاتا ہے اور قوت ایمانی بڑھ جاتی ہے اور محبت الٰہی نشوونما پانے لگتی ہے تب اُن کو ایک اور شربت پلایا جاتا ہے جو زنجبیلی شربت کہلاتا ہے۔ یعنی پہلے تو وہ کافوری شربت پیتے ہیں جس کا کام صرف اس قدر ہے کہ دنیا کی محبت اُن کے دلوں پر سے ٹھنڈی کردے لیکن بعد اس کے وہ ایک گرم شربت کے بھی محتاج ہیں تا خدا کی محبت کی گرمی اُن میں بھڑکے کیونکہ صرف بدی کا ترک کرنا کمال نہیں ہے۔ پس اِسی کا نام زنجبیلی شربت ہے۔ اور اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے جس کے معنے ہیں خدا کی راہ پوچھ اور پھر ایک مقام میں فرمایا۔ 3 3 ۱؂۔ یعنی نفسانی گرفتاریوں سے وہ شخص نجات پاگیا اور بہشتی زندگی کا مالک ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک بنالیا۔ اور ناکام اور نامراد رہا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو زمین میں دھنسایا اور آسمان کی طرف رُخ نہ کیا۔ اور چونکہ یہ مقامات صرف انسانی سعی سے حاصل نہیں ہو سکتے اس لئے جابجا قرآن شریف میں دُعا کی ترغیب دی ہے اور مجاہدہ کی طرف رغبت دلائی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3۲؂ یعنی دُعا کروکہ مَیں تمہاری دعا قبول کروں گا اور پھر فرماتا ہے۔ 3 33۳؂۔ یعنی اگر میرے بندے میرے وجود سے سوال کریں کہ کیونکر اس کی ہستی ثابت ہے اور کیونکر سمجھا جائے کہ خدا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مَیں بہت ہی نزدیک ہوں۔ مَیں اپنے پکارنے والے کو جواب دیتا ہوں۔ اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو مَیں اُس کی آواز سنتا ہوں۔ اور اُس سے ہم کلام ہوتا ہوں۔ پس چاہئے کہ اپنے تئیں ایسے بناویں کہ مَیں اُن سے ہم کلام ہو سکوں۔ اور مجھ پر کامل ایمان لاویں تا اُن کو میری راہ ملے۔ اور پھر فرماتا ہے۔ 3 ۴؂۔ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں اور ہماری طلب کے لئے طرح طرح کی کوششیں اور محنتیں کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھلا دیتے ہیں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ 3۔۵؂ یعنی اگر خدا سے ملنا چاہتے ہو تو



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 160

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 160

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/160/mode/1up


    دُعاؔ بھی کرو۔ اور کوشش بھی کرو۔ اور صادقوں کی صحبت میں بھی رہو۔ کیونکہ اس راہ میں صحبت بھی شرط ہے۔ یہ تمام احکام وہ ہیں جو انسان کو اسلام کی حقیقت تک پہنچاتے ہیں کیونکہ جیسا کہ مَیں بیان کر چکا ہوں اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا۔ اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہو جانا۔ اور خدا میں گُم ہو کر ایک موت اپنے پروارد کر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنا نہ کسی اور بنا پر۔ اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں۔ اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سُنتے ہوں۔ اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو۔ اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور انسانی قویٰ اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں۔ اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے تب خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے زندہ کلام اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اُس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اُس کی کُنہ تک نہیں پہنچتیں۔ وہ خود انسان کے دل سے نزدیک ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے۔ 3 3۱؂۔ یعنی ہم اُس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں۔ پس ایسا ہی وہ اپنے قرب سے فانی انسان کو مشرف کرتا ہے۔ تب وہ وقت آتا ہے کہ نابینائی دُور ہوکر آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے خدا کو اُن نئی آنکھوں سے ۔۔۔دیکھتا ہے۔ اور اُس کی آواز سُنتا ہے اور اُس کی نُور کی چادر کے اندر اپنے تئیں لپٹا ہوا پاتا ہے۔ تب مذہب کی غرض ختم ہو جاتی ہے اور انسان اپنے خدا کے مشاہدہ سے سفلی زندگی کا گندہ چولہ اپنے وجود پر سے پھینک دیتا ہے۔ اور ایک نُور کا پیراہن پہن لیتا ہے۔ اور نہ صرف وعدہ کے طور پر اور نہ فقط آخرت کے انتظار میں خدا کے دیدار اور بہشت کا منتظر رہتا ہے بلکہ اسی جگہ اور اِسی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 161

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 161

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/161/mode/1up


    دنیا ؔ میں دیدار اور گفتار اور جنت کی نعمتوں کو پالیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 33 3 ۱؂۔ یعنی جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو جامع صفات کاملہ ہے۔ جس کی ذات اور صفات میں اور کوئی شریک نہیں اور یہ کہہ کر پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔ اور کتنے ہی زلزلے آویں اور بلائیں نازل ہوں اور موت کا سامنا ہو۔ ان کے ایمان اور صدق میں فرق نہیں آتا۔ اُن پر فرشتے اُترتے ہیں اور خدا اُن سے ہم کلام ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بلاؤں سے اور خوفناک دشمنوں سے مت ڈرو اورنہ گذشتہ مصیبتوں سے غمگین ہو۔ مَیں تمہارے ساتھ ہوں اور مَیں اِسی دنیا میں تمہیں بہشت دیتا ہوں جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔ پس تم اس سے خوش ہو۔ اب واضح ہو کہ یہ باتیں بغیر شہادت کے نہیں اور یہ ایسے وعدے نہیں کہ جو پورے نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں اہلِ دل مذہب اسلام میں اس روحانی بہشت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ درحقیقت اسلام وہ مذہب ہے جس کے سچے پیروؤں کو خدا تعالیٰ نے تمام گذشتہ راستبازوں کا وارث ٹھہرایا ہے اور ان کی متفرق نعمتیں اس امتِ مرحومہ کو عطا کردی ہیں۔ اور اس نے اس دُعا کو قبول کر لیا ہے جو قرآن شریف میں آپ سکھلائی تھی اور وہ یہ ہے۔ 33 3 ۲؂۔ ہمیں وہ راہ دکھلا جو اُن راستبازوں کی راہ ہے جن پر تُو نے ہریک انعام اکرام کیا ہے۔ یعنی جنہوں نے تجھ سے ہر ایک قسم کی برکتیں پائی ہیں اور تیرے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے ہیں۔ اور تجھ سے دُعاؤں کی قبولیتیں حاصل کی ہیں اور تیری نصرت اور مدد اور راہ نمائی اُن کے شامل حال ہوئی ہے۔ اور ان لوگوں کی راہوں سے ہمیں بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تیری راہ کو چھوڑ کر اوراور راہوں کی طرف چلے گئے ہیں۔ یہ وہ دُعا ہے جو نماز میں پانچ وقت پڑھی جاتی ہے اور یہ بتلارہی ہے کہ اندھا ہونے کی حالت میں دنیا کی زندگی بھی ایک جہنم ہے اور پھر مرنا بھی ایک جہنم ہے اور درحقیقت خدا کا سچا تابع اور واقعی نجات پانے والا وہی ہوسکتا ہے جو خدا کو پہچان لے اور اُس کی ہستی پر کامل ایمان



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 162

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 162

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/162/mode/1up


    لے آوے اور وہی ہے جو گناہ کو چھوڑ سکتا ہے۔ اور خدا کی محبت میںؔ محو ہو سکتا ہے۔ پس جس دل میں یہ خواہش اور یہ طلب نہیں کہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ یقینی طور پر اُس کو نصیب ہو وہ ایک مردہ دل ہے اور جس دین میں یہ قوت نہیں کہ اس کمال تک پہنچادے اور اپنے سچے پیروؤں کو خدا کا ہم کلام بنادے وہ دین منجانب اللہ نہیں اور اس میں راستی کی رُوح نہیں۔ ایسا ہی جس کسی نبی نے اس راہ کی طرف لوگوں کو نہیں چلایا کہ خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ کے طالب ہوں اور کامل معرفت کے خواہاں ہوں۔ وہ نبی بھی خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ اور وہ خدا پر افترا کرتا ہے کیونکہ انسان کا عظیم الشان مقصود جس سے وہ گناہوں سے نجات پا سکتا ہے۔ یہی ہے کہ خدا کی ہستی اور اس کی سزا جزا پر اس کوپورا یقین آوے۔ مگر اس غیب الغیب خدا پرکیونکر یقین حاصل ہو جب تک اس کی طرف سے انا الموجود کی آواز نہ سُنی جاوے اور جب تک کہ انسان اس کی طرف سے کھلے کھلے نشان مشاہدہ نہ کرے۔ کیونکہ اس کی ہستی پر یقین کامل آوے۔ عقلی دلائل سے خدا کے وجود کا پتہ لگانا صرف اس حد تک ہے کہ عقل سلیم زمین اور آسمان اور ان کی ترتیب ابلغ اور محکم کو دیکھ کر یہ تجویز کرتی ہے کہ ان مصنوعات پُرحکمت کا کوئی صانع ہونا چاہئے۔ مگر یہ دکھلا نہیں سکتے کہ فی الحقیقت صانع ہے بھی اور ظاہر ہے کہ ہونا چاہئے صرف ایک خیال ہے اور ہے ایک امر واقعہ کا ثبوت ہے۔ اور دونوں میں فرق کھلا کھلا ہے۔ یعنی پہلی صورت میں صرف ضرورت صانع بتلائی گئی ہے۔ اور دوسری صورت میں اُس کے فی الواقع موجود ہونے کی شہادت دی جاتی ہے۔ غرض اس زمانہ میں کہ مذاہب کی باہمی کشاکش کا ایک تُندو تیز سیلاب چل رہا ہے۔ طالب حق کو اس اصل مقصود کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ مذہب وہی سچا ہے جو یقین کامل کے ذریعہ سے خدا کو دکھلا سکتا ہے۔ اور درجہ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ تک پہنچا سکتا ہے اور خدا کی ہمکلامی کا شرف بخش سکتا ہے اور اس طرح اپنی رُوحانی قوت اور رُوح پرور خاصیت سے دلوں کوگناہ کی تاریکی سے چھڑا سکتا ہے اور اس کے سوا سب دھوکہ دینے والے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 163

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 163

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/163/mode/1up


    ابؔ ہم اس ملک کے چند مذاہب پر نظر کرتے ہیں کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں یقینِ کامل تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا اُن کی کتابوں میںیہ وعدہ موجود ہے کہ وہ خدا کے یقینی مکالمہ سے شرف حاصل کرا سکتے ہیں ؟ اور اگر موجود ہے تو کیا اس زمانہ میں اُن میں سے کوئی اس کا مصداق پایا بھی جاتا ہے ؟ یا نہیں۔ سو سب سے پہلے قابل ذکر وہ مذہب ہے جو مسیحی مذہب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پس واضح ہو کہ اس مذہب کے بارے میں ہمیں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مسیحی صاحبوں کا اِس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ مسیح کے زمانہ کے بعد الہام اور وحی پر مُہر لگ گئی ہے۔ اور اب یہ نعمت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اور اب اِس کے پانے کی کوئی بھی راہ نہیں اور قیامت تک نومیدی ہے۔ اور فیض کا دروازہ بند ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہوگی کہ نجات پانے کے لئے ایک نئی تجویز نکالی گئی ہے۔ اور ایک نیا نسخہ تجویز کیا گیا ہے۔ جو تمام جہان کے اصول سے نرالا اور سراسر عقل اور انصاف اور رحم سے مخالف ہے اور وہ یہ ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام جہان کے گناہ اپنے ذمہ لے کر صلیب پرمرنامنظور کیا تا اُن کی اس موت سے دوسروں کی رہائی ہو۔ اور خدا نے اپنے بے گناہ بیٹے کومارا تا گنہگاروں کو بچاوے۔ لیکن ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی مظلومانہ موت سے دوسروں کے دل گناہ کی پلید خصلت سے کیونکر صاف اور پاک ہو سکتے ہیں۔ اور کیونکر ایک بے گناہ کے قتل ہونے سے دوسروں کو گذشتہ گناہوں کی معافی کی سند مل سکتی ہے۔ بلکہ اس طریق میں انصاف اور رحم دونوں کا خون ہے کیونکہ گناہ گار کے عوض میں بے گناہ کو پکڑنا خلاف انصاف ہے اور نیز بیٹے کو اس طرح ناحق سخت دلی سے قتل کرنا خلاف رحم ہے۔ اور اس حرکت سے فائدہ خاک نہیں اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اصل سبب گناہ کے سیلاب کا قلّتِ معرفت ہے۔پس جب تک ایک علّت موجود ہے تب تک معلول کی نفی کیونکر ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ علّت کا وجود معلول کے وجود کو چاہتا ہے۔ اب جائے حیرت ہے کہ یہ کیسا فلسفہ ہے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 164

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 164

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/164/mode/1up


    کہؔ گناہ کرنے کی علّت جو قلتِ معرفت باری تعالیٰ ہے وہ تو سرپر موجود کھڑی ہے مگر معلول اس کا جو ارتکاب گناہ کی حالت ہے وہ معدوم ہوگئی ہے۔ تجربہ ہزاروں گواہ پیش کرتا ہے کہ بجز معرفت کامل کے نہ کسی چیز کی محبت پیدا ہو سکتی ہے اور نہ کسی چیز کا خوف پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کی قدردانی ہوتی ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کسی فعل یا ترک فعل کو یا تو خوف کی وجہ سے کرتا ہے اور یا محبت کی وجہ سے۔ اور خوف اور محبت دونوں معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔ پس جب معرفت نہیں تو نہ خوف ہے اور نہ محبت ہے۔

    اے عزیزو اور پیارو! اس جگہ راستی کی حمایت اِس بیان کے لئے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں حضرات مسیحیوں کے ہاتھ میں کوئی امر صاف نہیں ہے۔ وحی کے سلسلہ پر تو پہلے سے مہر لگ چکی ہے اور مسیح اور حواریوں کے بعد معجزات بھی بند ہوگئے ہیں۔ رہا عقلی طریق۔ سو آدم زاد کو خدا بنانے میں وہ طریق بھی ہاتھ سے گیا اور اگر گذشتہ معجزات جواَب محض قصّوں کے رنگ میں ہیں پیش کئے جائیں تو اوّل تو ہر ایک منکر کہہ سکتا ہے کہ خدا جانے ان کی اصل حقیقت کیا ہے اور کس قدر مبالغہ ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مبالغہ کرنا انجیل نویسوں کی عادت میں داخل تھا۔ چنانچہ ایک انجیل میں یہ فقرہ موجود ہے کہ مسیح نے اتنے کام کئے کہ اگر وہ لکھے جاتے تو دنیا میں سما نہ سکتے۔ اب دیکھو کہ وہ کام بغیر لکھنے کے تو دنیا میں سما گئے لیکن لکھنے کی حالت میں وہ دنیا میں نہیں سمائیں گے۔ یہ کس قسم کا فلسفہ اور کس قسم کی منطق ہے۔ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے؟

    ماسوا اس کے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات موسیٰ ؑ نبی کے معجزات سے کچھ بڑھ کر نہیں ہیں۔ اور ایلیاؑ نبی کے نشانوں کا جب مسیحؑ کے نشانوں سے مقابلہ کریں تو ایلیاؑ کے معجزات کا پلّہ بھاری معلوم ہوتا ہے۔ پس اگر معجزات سے کوئی خدا بن سکتا ہے تو یہ سب بزرگ خدائی کے مستحق ہیں۔ اور یہ بات کہ مسیحؑ نے اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہا ہے یا کسی اَور کتاب میں اُس کو بیٹا کہا گیا ہے ایسی تحریروں سے اُس کی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 165

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 165

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/165/mode/1up


    خداؔ ئی نکالنا درست نہیں۔

    بائبل میں بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے کہا گیا ہے بلکہ بعض کو خدا بھی۔پھر مسیحؑ کی تخصیص بے وجہ ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا بھی کہ کسی دوسرے کواُن کتابوں میں بجز مسیح ؑ کے خدا یا خدا کے بیٹے کا لقب نہ دیا جاتا تب بھی ایسی تحریروں کو حقیقت پر حمل کرنا نادانی تھا۔ کیونکہ خدا کے کلام میں ایسے استعارات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مگر جس حالت میں بائبل کے رو سے خدا کا بیٹا کہلانے میں اَور بھی مسیحؑ کے شریک ہیں تو دوسرے شرکاء کو کیوں اس فضیلت سے محروم رکھا جاتا ہے۔

    غرض نجات کے لئے اس منصوبہ پر بھروسہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور گناہ سے باز رہنے کو اِس منصوبہ سے کوئی بھی تعلق نہیں پایا جاتا۔ بلکہ دوسرے کی نجات کے لئے خودکشی کرنا خود گناہ ہے۔ اور مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہرگز مسیحؑ نے اپنی رضا مندی سے صلیب کو منظور نہیں کیا۔ بلکہ شریر یہودیوں نے جو چاہا اُس سے کیا۔ اور مسیحؑ نے صلیبی موت سے بچنے کے لئے باغ میں ساری رات دُعا کی۔ اور اُس کے آنسو جاری ہوگئے۔ تب خدا نے بباعث اس کے تقویٰ کے اُس کی دُعا قبول کی اور اس کو صلیبی موت سے بچالیا۔ جیسا کہ خود انجیل میں بھی لکھا ہے۔ پس یہ کیسی تہمت ہے کہ مسیحؑ نے اپنی رضا مندی سے خود کشی کی۔ ماسوا اس کے عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور بکر کی اس سے درد سر جاتی رہے۔ ہاں ہم قبول کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نبی تھے اور ان کامل بندوں میں سے تھے جن کو خدا نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے لیکن وہ الفاظ جو ان کی نسبت یا دوسرے نبیوں کی نسبت جوکتابوں میں وارد ہیں اُن سے نہ ان کو اور نہ کسی اَور نبی کو ہم خدا بنا سکتے ہیں۔ مَیں ان امور میں خود صاحب تجربہ ہوں اور میری نسبت خدا تعالیٰ کی پاک وحی میں وہ اعزاز اور اکراؔ م کے لفظ موجود ہیں کہ مَیں نے کسی انجیل میں حضرت مسیح کے بارے میں نہیں دیکھے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 166

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 166

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/166/mode/1up


    اَب مَیں کیا یہ کہہ سکتا ہوں کہ مَیں حقیقت میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں۔ رہی انجیل کی تعلیم۔ سو میری رائے یہ ہے کہ تعلیم کامل وہ ہوتی ہے جو تمام انسانی قویٰ کی پرورش کرے۔ نہ صرف یہ کہ محض ایک پہلو پر اپنا تمام زور ڈال دے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ کامل تعلیم میں نے قرآن شریف میں ہی پائی ہے۔ وہ ہر ایک امر میں حق اور حکمت کی رعایت رکھتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً انجیل میں کہا گیا ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دے۔ مگر قرآن شریف ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ یہ حکم ہر حال اور ہر محل میں نہیں بلکہ موقع اور محل دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ صبر کو چاہتا ہے یا انتقام کو ‘ اور عفو کو چاہتا ہے یا سزا کو۔ اب ظاہر ہے کہ یہی قرآنی تعلیم کامل ہے اور بغیر اس کی پابندی کے انسانی سلسلہ تباہ ہو جاتا ہے اور نظام دنیا بگڑ جاتا ہے۔ ایسا ہی انجیل میں کیاگیا ہے کہ تو شہوت کی نظر سے بیگانہ عورت کی طرف مت دیکھ۔ مگر قرآن شریف میں ہے کہ نہ تو شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورتوں کو دیکھنے کی عادت کر کہ یہ سب تیرے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے۔ چاہئے کہ ضرورتوں کے موقعہ پر تیری آنکھ بند کے قریب ہو اور دھندلی سی ہو اور کھلی کھلی نظر ڈالنے سے پرہیز کر کہ یہی طریق پاک دلی کے محفوظ رکھنے کا ہے۔ اِس زمانہ کے مخالف فرقے شاید اس حکم سے مخالفت کریں گے کیونکہ آزادی کا نیا نیا شوق ہے مگر تجربہ صاف بتلا رہا ہے کہ یہی حکم صحیح ہے۔ دوستو! کھلی کھلی بے تکلّفی اور نظر بازی کے کبھی نتیجے اچھے نہیں نکلتے۔ مثلاً جس حالت میں ابھی ایک مرد نفسانی جذبات سے پاک نہیں اور نہ جوان عورت نفسانی جذبات سے پاک ہے تو اُن دونوں کو ملاقات اور نظر بازی اور آزادی کا موقعہ دینا گویا ان کو اپنے ہاتھ سے گڑھے میں ڈالنا ہے۔ ایسا ہی انجیل میں کہا گیا ہے کہ بغیر زنا کے طلاق درست نہیں۔ مگرقرآؔ ن شریف جائز رکھتا ہے کہ جہاں مثلاً خاوند اور عورت دونوں باہم جانی دشمن ہو جائیں اور ایک کی جان دوسرے سے خطرہ میں ہو۔ اور یا عورت نے زنا تو نہیں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 167

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 167

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/167/mode/1up


    کیا مگر زنا کے لوازم پیدا کرلئے ہیں اور یا اُس کو کوئی ایسی مرض ہوگئی ہے جس سے تعلق قائم رکھنے کی حالت میں خاوند کی ہلاکت ہے۔ یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہوگیا ہے جو خاوند کی نظر میں طلاق کا موجب ہے تو ان سب صورتوں میں طلاق دینے میں خاوند پر کوئی اعتراض نہیں۔ اب پھر ہم اصل مقصود کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ یقیناًیاد رکھو کہ حضرات مسیحیوں کے پاس نجات اور گناہ سے رُکنے کا کوئی حقیقی ذریعہ موجود نہیں کیونکہ نجات کے بجز اس کے اَور کوئی معنے نہیں کہ انسان کی ایسی حالت ہو جائے کہ گناہوں کے ارتکاب پر دلیری نہ کر سکے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر ترقی کرے کہ نفسانی محبتیں اُس پر غالب نہ آسکیں اور ظاہر ہے کہ یہ حالت بجز معرفتِ تامہ کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ اب جب ہم قرآن شریف کو دیکھتے ہیں تو ہم اس میں کھلے طور پر وہ وسائل پاتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی معرفت تامہ حاصل ہو سکے اور پھر خوف غالب ہو کر گناہوں سے رُک سکیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اُس کی پیروی سے مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ نصیب ہو جاتا ہے اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ اور انسان خدا سے علم غیب پاتا ہے اور ایک محکم تعلق اس سے پیدا ہو جاتا ہے اور دل خدا کے وصال کے لئے جوش مارتا ہے اور اس کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتاہے اور دُعائیں قبول ہو کر اطلاع دی جاتی ہے اور ایک دریا معرفت کا جاری ہو جاتا ہے جو گناہ سے روکتا ہے۔ اور پھر جب ہم انجیل کی طرف آتے ہیں تو گناہ سے بچنے کے لئے صرف اُس میں ایک غیر معقول طریق پاتے ہیں جس کو ازالہء گناہ سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ عجیب ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے انسانیت کی کمزوریاں تو بہت دکھلائیں اور خدائی کی کوئی خاص قوت ظاہر نہ ہوئی جو غیر سے ان کو امتیاز دیتی تا ہم وہ مسیحیوں کی نظر میں خدا کرکے مانے گئے۔

    اب ہم آریہ مذہب پرمختصر طور سے نظر کرتے ہیں کہ گناہ سے بچنے کے لئے ان کے مذہب میں کیا سامان پیش کیا گیا ہے۔ پس واضح ہو کہ آریہ صاحبوں کی وید مقدس نے سرے سے آئندہ زمانہ کے لئے خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ اور آسمانی نشانوں سے انکار کر دیا ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 168

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 168

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/168/mode/1up


    پس وید میں سے اس کامل تسلّی کو ڈھونڈنا کہ کسی کو خدا کے انا الموجود ہونےؔ کی آواز آوے اور خدا دُعاؤں کوسن کر ان کا جواب دیوے۔ اور نشانوں کے ذریعہ سے اپنا چہرہ دکھاوے ایک عبث کوشش اور لاحاصل تلاش ہے بلکہ ان کے نزدیک یہ تمام امر محالات میں سے ہیں۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ کسی چیز کا خوف یا محبت بغیر اس کی رؤیت اور کامل معرفت کے ممکن ہی نہیں اور صرف مصنوعات پر نظر ڈالنے سے کامل معرفت ہو نہیں سکتی۔ اسی وجہ سے محض عقل کے پیروؤں میں ہزاروں دہریہ اور ناستک مت والے بھی موجود ہیں۔ بلکہ جو لوگ فلسفہ کے پورے کمال تک پہنچتے ہیں وہی ہیں جن کو پورے دہریہ کہنا چاہئے۔ اور ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ عقل سلیم زیادہ سے زیادہ صرف اس حد تک کام دے سکتی ہے کہ مصنوعات پر نظر ڈالنے سے بشرطیکہ دہریہ پن کا رنگ اپنے اندر نہ رکھتی ہو یہ تجویز کر سکتی ہے کہ اِن چیزوں کا کوئی خالق ہونا چاہئے۔ نہ یہ کہ وہ خالق فی الواقع موجود بھی ہے اور پھر عقل ہی اس وہم میں گرفتار ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے کہ یہ سب کارخانہ خود بخود چلا آتا ہو۔ اور طبعی طور پر بعض چیزیں بعض کی خالق ہوں۔ پس عقل اس یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی جس کا نام معرفت تامہ ہے۔ جو قائم مقام دیدارِ الٰہی ہے۔ اور جس سے کامل طور پر خوف اور محبت پیدا ہوتے ہیں اور پھر خوف اور محبت کی آگ سے ہریک قسم کا گناہ جل جاتا ہے اور نفسانی جذبات پر موت آجاتی ہے اور ایک نورانی تبدیلی پیدا ہو کر تمام اندرونی کمزوریاں اور گناہ کی غلاظتیں دُور ہو جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ اکثر انسانوں کو اس کامل پاکیزگی کی پَرواہ نہیں ہے جو گناہ کے داغ سے بالکل مبرّا کرتی ہے اس لئے اکثر لوگ اس ضرورت کو محسوس کر کے اُس کی تلاش میں نہیں لگ جاتے بلکہ اُلٹے تعصب سے پُر ہو کر مخالفت ظاہر کرتے ہیں اور لڑنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں اور آریہ صاحبوں کا مسلک تو بہت ہی قابلِ افسوس ہے کہ وہ معرفت تامہ کے حقیقی وسیلہ سے تو قطعًا نومید ہیں اور عقلی وسائل بھی اُن کے ہاتھ میں نہیں رہے۔ کیونکہ جب کہ اُن کے نزدیک ذرّہ ذرّہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 169

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 169

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/169/mode/1up


    عالم ؔ کا انادی ہے جو خودبخود ہے۔ اور کسی کے ہاتھ سے وجود پذیر نہیں ہوا۔ اور تمام ارواح بھی مع اپنی تمام قوتوں کے انادی ہیں جن کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ تو اُن کے ہاتھ میں پرمیشر کی ہستی پر کونسی دلیل باقی رہی؟ اور اگر کہیں کہ ذراتِ عالم کا باہم جوڑنا اور رُوحوں کا ان میں داخل کرنا یہ پرمیشر کا کام ہے اور یہی اُس کی ہستی پر دلیل ہے تو یہ خیال نادرست ہوگا۔ کیونکہ جس حالت میں ارواح اور ذراّت خود بخود ایسے شکتی مان ہیں کہ قدیم سے اپنے وجود کو آپ سنبھالے ہوئے ہیں اور اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں۔ تو کیا وہ خود بخود باہم اِتّصال یا اِنفصال نہیں کر سکتے؟ اس بات کو کوئی قبول نہیں کرے گا کہ باوجود اس کے کہ تمام ذرّات یعنی پرمانو اپنی ہستی اور وجود میں کسی دوسرے کے محتاج نہیں اور باوجود اس کے کہ تمام ارواح یعنی جیو اپنی ہستی اور وجود میں اور اپنے تمام قویٰ میں کسی دوسرے کے محتاج نہیں مگر پھر بھی اپنے اتصال اور انفصال میں کسی دوسرے کے محتاج ہیں۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جو ناستک مت والوں کے لئے ایک مفت کا شکار ہے اور اس سے ایک آریہ بہت جلد ناستک مت میں داخل ہو سکتا ہے اور ایک چالاک دہریہ ہنسی ہنسی میں اس کو اپنے پیچ میں لا سکتا ہے۔ مجھے بہت افسوس ہے اور رحم بھی آتا ہے کہ آریہ صاحبوں نے شریعت کے دونوں پہلوؤں میں سخت غلطی کھائی ہے یعنی پرمیشر کی نسبت یہ عقیدہ قائم کیا ہے کہ وہ مبدء تمام مخلوق کا نہیں اور نہ سرچشمہ تمام فیوض کا ہے بلکہ ذرّات اور ان کی تمام قوتیں اور ارواح اور ان کی تمام قوتیں خود بخود ہیں۔ اور اُن کی فطرتیں اس کے فیوض سے محروم ہیں۔ پھر خود سوچ لیں کہ پرمیشر کی کیا ضرورت ہے اور کیوں وہ مستحق پرستش ہے اور کس وجہ سے وہ سرب شکتی مان کہلاتا ہے اور کس راہ سے اور کس طریق سے وہ شناخت کیا گیا ہے۔ کیا کوئی اس کا جواب دے سکتا ہے؟ کاش ہماری ہمدردی کسی دل میں اثر کرے۔ کاش کوئی شخص گوشہ تنہائی میں بیٹھے اور اِن باتوں میں فکر کرے۔ اے قادر خدا! اس قوم پر بھی رحم کر جو ہمارے پُرانے ہمسایہ ہیں۔ اُن



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 170

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 170

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/170/mode/1up


    میںؔ سے بہت سے دل حق کی طرف پھیر دے کہ تجھے سب قدرت ہے۔ آمین۔ یہ پہلو تو پرمیشر کے متعلق ہے جس میں اس قدر اُس خالقِ بے چوں کی حق تلفی ہے اور دوسرا پہلو جو آریہ مت مخلوق کے متعلق پیش کرتا ہے۔ اُن میں سے ایک تو تناسخ ہے۔ یعنی بار بار رُوحوں کا طرح طرح کی جونوں میں پڑ کر دنیا میں آنا۔ اس عقیدہ میں سب سے پہلے یہ امر عجیب اور حیرت انگیز ہے کہ باوجود دعویٰ عقل کے یہ خیال کیا گیا ہے کہ پرمیشر اس قدر سخت دل ہے کہ ایک گناہ کے عوض میں کروڑہا برس تک بلکہ کروڑہا اربوں تک سزا دیئے جاتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ اُس کے پیدا کردہ نہیں ہیں اور اُن پر اس کا کوئی بھی حق نہیں ہے بجز اس کے کہ بار بار جونوں کے چکر میں ڈال کر دُکھ میں ڈالے۔ پھر کیوں انسانی گورنمنٹ کی طرح صرف چند سال کی سزا نہیں دیتا؟ ظاہر ہے کہ لمبی سزا کے لئے یہ شرط ہے کہ سزا یافتوں پر کوئی لمبا حق بھی ہو مگر جس حالت میں تمام ذرّات اور ارواح خود بخود ہیں کچھ بھی اُس کا اُن پر احسان نہیں بجز اس کے کہ سزا کی غرض سے طرح طرح کی جونوں میں اُن کو ڈالے۔ پھر وہ کس حق پر لمبی سزا دیتا ہے۔ دیکھو اسلام میں باوجودیکہ خدا فرماتا ہے کہ ہر ایک ذرّہ اور ہریک رُوح کا مَیں ہی خالق ہوں اور تمام قوتیں ان کی میرے ہی فیض سے ہیں اور میرے ہی ہاتھ سے پیدا ہوئے ہیں اور میرے ہی سہارے سے جیتے ہیں۔ پھر بھی وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔33 3 ۱؂۔ یعنی دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نہ وہ ہمیشگی جو خدا کو ہے بلکہ دُور دراز مدّت کے لحاظ سے۔ پھر خدا کی رحمت دستگیر ہوگی کیونکہ وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور اس آیت کی تصریح میں ہمارے سیّد ومولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے یأتی علٰی جھنّم زمانٌ لیس فیھا احدٌ ونسیم الصبا تحرک ابوابھا۔ یعنی جہنم پر ایک وہ زمانہ آئے گا کہ اُس میں کوئی بھی نہ ہوگا۔ اور نسیم صبااُس کے کواڑوں کو ہلائے گی۔ لیکن افسوس کہ یہ قومیں خدا تعالیٰ کو ایک ایسا چڑچڑا اور کینہ ور قرار دیتی ہیں کہ کبھی بھی اُس کا غصّہ فرو نہیں ہوتا اور بیشمار اربوں تک جونوں میں ڈال کر پھر بھی گناہ معاف



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 171

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 171

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/171/mode/1up


    نہیںؔ کرتا۔ اور یہ اعتراض صرف آریہ صاحبوں پر نہیں حضرات مسیحیوں کا پھر بھی یہی عقیدہ ہے کہ وہ ایک گناہ کے لئے ابدی جہنم تجویز کرتے ہیں جس کا کبھی انتہا نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے۔ پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ ارواحِ انسانی اور اُن کی تمام قوتوں کا خود خالق ہے اور اُس نے آپ ہی بعض طبائع میں ایسی کمزوریاں رکھ دی ہیں کہ وہ مرتکب گناہ کی ہو جاتی ہیں۔ اورایک گھڑی کی طرح صرف اُس حدتک چلتی ہیں جو اُس حقیقی گھڑی ساز نے اُن کے لئے مقرر کر دی ہے تو پھر وہ ضرور کسی قدر رحم کے لائق ہیں کیونکہ اُن کے قصور اور کمزوریاں فقط اپنی طرف سے نہیں بلکہ اُس خالق کا بھی اُن میں بہت سا دخل ہے جس نے ان کو کمزور بنایا۔ اور یہ کیسا انصاف ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے کو سزا دینے کے لئے صرف تین دن مقرر کئے مگر دوسرے لوگوں کی سزا کا حکم ابدی ٹھہرایا جس کا کبھی بھی انتہا نہیں اور چاہا کہ وہ ہمیشہ اور ابد تک دوزخ کے تنور میں جلتے رہیں۔ کیا رحیم کریم خدا کو ایسا کرنا مناسب تھا؟ بلکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنے بیٹے کو زیادہ سزا دیتا کیونکہ وہ بوجہ خدائی قوتوں کے زیادہ سزا کا متحمل ہو سکتا تھا۔ خدا کا بیٹا جو ہوا۔ اُس کی طاقت کے ساتھ دوسروں کی طاقت کب برابر ہو سکتی ہے جو غریب اور عاجز مخلوق ہیں۔ غرض حضرات عیسائی اور آریہ صاحبان اس ایک ہی اعتراض کے دام میں ہیں۔ اور ان کے ساتھ بعض نادان مسلمان بھی۔ لیکن مسلمانوں کے دھوکہ کھانے میں خدا کے کلام کا قصور نہیں۔ خدا نے تو کھول کر فرما دیا کہ یہ اُن کا اپنا قصور ہے۔ اور یہ اسی طرح کا قصور ہے جیسا کہ وہ اب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ قراردیتے ہیں۔ اور دوسرے آسمان پر بٹھا رہے ہیں اور خدا کے کلام قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ مدت ہوئی کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہوچکے ہیں اور گذشتہ روحوں میں داخل ہوگئے مگر یہ لوگ کتاب اللہ کے برخلاف اُن کی آمد ثانی کا انتظار کررہے ہیں۔ پھر ہم اصل کلام کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ دوسرا پہلو تناسخ کے بطلان کا یہ ہے کہ وہ حقیقی پاکیزگی کے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 172

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 172

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/172/mode/1up


    برخلاؔ ف ہے۔ کیونکہ جب ہم ہرروز دیکھتے ہیں کہ کسی کی ماں فوت ہو جاتی ہے اور کسی کی ہمشیرہ اور کسی کی پوتی۔ تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ اس عقیدہ کے قائل اس غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ ایسی جگہ نکاح کرلیں جہاں نکاح کرنا وید کی رو سے حرام ہے۔ ہاں اگر ہر ایک بچہ کے ساتھ اُس کے پیدا ہونے کے وقت میں ایک لکھی ہوئی فہرست بھی ہمراہ ہو جس میں بیان کیا گیا ہو کہ وہ پہلی جون میں فلاں شخص کا بچہ تھا تو اس صورت میں ناجائز نکاح سے بچ سکتے تھے۔ مگر پرمیشر نے ایسا نہ کیا۔ گویا ناجائز طریق کو خود پھیلانا چاہا۔ پھر ماسوا اس کے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اس قدر جونوں کے چکر میں ڈالنے سے فائدہ کیا ہے۔ اور جب کہ تمام مدار نجات اور مکتی کا گیان یعنی معرفتِ الٰہی پر ہے تو یوں چاہئے تھا کہ ہرایک بچہ جو دوبارہ جنم لیتا پہلا ذخیرہ اس کے گیان اور معرفت کا ضائع نہ ہوتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہرایک بچہ جو پیدا ہوتا ہے خالی کاخالی دنیا میں آجاتا ہے اور ایک آوارہ اور فضول خرچ انسان کی طرح تمام پہلا اندوختہ برباد کر کے مفلس نادار کی طرح منہ دکھاتا ہے۔ اور گو ہزار مرتبہ اس نے وید مقدس کو پڑھا ہو ایک ورق بھی ویدکا یاد نہیں رہتا۔ پس اس صور ت میں جونوں کے چکر کے رُو سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ ذخیرہ گیان اور علم کا جوہزار مصیبت سے ہر ایک جون سے جمع کیا جاتا ہے وہ ساتھ ساتھ برباد ہوتا رہتا ہے نہ کبھی محفوظ رہے گا اور نہ نجات ہوگی۔ اول تو حضرات آریہ کے اصولوں کے رُو سے نجات ہی ایک محدود میعاد تھی۔ پھر اُس پر یہ مصیبت کہ سرمایہ نجات کایعنی گیان جمع ہونے نہیں پاتا۔ یہ بدقسمتی روحوں کی نہیں تو اَور کیا؟

    دوسرا امر جو مخلوق کی پاکیزگی کے مخالف آریہ صاحبوں کے عقائد میں داخل ہے وہ نیوگ کا مسئلہ ہے۔ مَیں اس مسئلہ کو وید مقدس کی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ اِس خیال سے میرا دل کانپتا ہے کہ مَیں اس قسم کی باتوں کووید کی طرف منسوب کروں۔ جہاں تک میرا علم اور کانشنس ہے مَیں یقین کرتا ہوں کہ انسانی فطرت ہرگز قبول نہیں کرے گی کہ ایک شخص اپنی پاکدامن بیوی کو جو خاندان اور عزت رکھتی ہے محض بچہ لینے کی خاطرسے دوسرے سے ہم بستر کرا وے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 173

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 173

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/173/mode/1up


    حالاؔ نکہ اس بیوی کا تعلق زوجہ ہونے کا اپنے شوہر سے قائم ہے اور وہ اس کی بیوی کہلاتی ہے اور نہ مَیں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ خود بیوی ایسی حرکت پر خود آمادہ ہو حالانکہ اس کا خاوند زندہ موجود ہے۔ انسان تو انسان ہے یہ غیرت تو بعض حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی مادہ کی نسبت ایسا روا نہیں رکھتے۔ مَیں اس جگہ کوئی بحث کرنا نہیں چاہتا سراسر ادب اور منّت سے آریہ صاحبوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر اس عقیدہ کو چھوڑدیں تو بہت بہتر ہوگا۔ پہلے سے ہی یہ ملک حقیقی پاکیزگی کے مقام سے بہت متنزل ہے پھر اگر عورتوں اور مردوں میں ایسی ایسی باتیں بھی رواج پاگئیں تو معلوم نہیں کہ اس ملک کا کیا انجام ہوگا۔ ساتھ ہی مَیں ایک اور عرض کے لئے جرأت کرتا ہوں کہ گو آریہ صاحبوں کو اس زمانہ میں مسلمانوں سے کیسی ہی نفرت ہے اور اسلام کے عقائد سے کیسی ہی بیزاری ہے مگر برائے خدا پر دہ کی رسم کو بکلّی الوداع نہ کہہ دیں کہ اس میں بہت سی خرابیاں ہیں جو بعد میں معلوم ہوں گی۔ یہ بات ہرایک فہیم انسان سمجھ سکتا ہے کہ بہت سا حصہ انسانوں کا نفسِ ا ّ مارہ کے ماتحت چل رہا ہے اور وہ اپنے نفس کے ایسے قابو ہیں کہ اس کے جوشوں کے وقت کچھ بھی خدا تعالیٰ کی سزا کا دھیان نہیں رکھتے۔ جوان اور خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر بدنظری سے باز نہیں آتے۔ اور ایسے ہی بہت سی عورتیں ہیں کہ خراب دلی سے بیگانہ مردوں کی طرف نگاہیں کرتی ہیں۔ اور جب فریقین کو باوجود ان کی اس خراب حالت میں ہونے کے پوری آزادی دی جائے تو یقیناًان کا وہی انجام ہوگا جیسا کہ یورپ کے بعض حصوں سے ظاہر ہے۔ ہاں جب یہ لوگ درحقیقت پاک دل ہو جائیں گے اور اُن کی امّارگی جاتی رہے گی اور شیطانی رُوح نکل جائے گی اور ان کی آنکھوں میں خدا کا خوف پیدا ہو جائے گا اور ان کے دلوں میں خدا کی عظمت قائم ہو جائے گی اور وہ ایک پاک تبدیلی کرلیں گے اور خدا ترسی کا ایک پاک چولا پہن لیں گے تب جو چاہیں سو کریں کیونکہ اس وقت وہ خدا کے ہاتھ کے خوجے ہوں گے گویا وہ مَرد نہیں ہیں اور اُن کی آنکھیں اس بات سے اندھی ہوں گی کہ نامحرم عورت کو بدنظری سے دیکھ سکیں یا ایسا بدخیال دل میں لا سکیں۔ مگراے پیارو! خدا آپ تمہارے دلوں میں الہام کرے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 174

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 174

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/174/mode/1up


    ابھیؔ وہ وقت نہیں کہ تم ایسا کرو۔اور اگر ایسا کروگے تو ایک زہر ناک بیج قوم میں پھیلاؤگے۔ یہ زمانہ ایک ایسا نازک زمانہ ہے کہ اگر کسی زمانہ میں پردہ کی رسم نہ ہوتی تو اس زمانہ میں ضرور ہونی چاہئے تھی کیونکہ کل جُگ ہے اور زمین پر بدی اور فسق و فجور اور شراب خواری کا زور ہے اور دلوں میں دہریہ پن کے خیالات پھیل رہے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے احکام کی دلوں میں سے عظمت اُٹھ گئی ہے۔ زبانوں پر سب کچھ ہے اور لیکچر بھی منطق اور فلسفہ سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل روحانیت سے خالی ہیں۔ ایسے وقت میں کب مناسب ہے کہ اپنی غریب بکریوں کو بھیڑیوں کے بنوں میں چھوڑ دیا جائے۔

    اے دوستو! اب طاعون سر پر ہے اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ سے علم دیا گیا ہے۔ ابھی بہت سا حصہ اس کا باقی ہے۔ بہت خطرناک دن ہیں معلوم نہیں کہ آئندہ مئی تک کون زندہ ہوگا اور کون مَر جائے گا اور کس گھر پر بلا آئے گی اور کس کو بچایا جائے گا۔ پس اُٹھو! اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔ اور یاد رکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہندو یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا۔ لیکن جو شخص ظلم اور تعّدی اور فسق و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے۔ تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔ سو اپنے خدا کو جلد راضی کرلو۔ اور قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے یعنی طاعون کے زور کا دن جس کی نبیوں نے خبر دی ہے۔ تم خدا سے صلح کرلو۔ وہ نہایت درجہ کریم ہے ایک دم کی گداز کرنے والی توبہ سے ستّر ۷۰برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔ اور یہ مت کہو کہ توبہ منظور نہیں ہوتی۔ یادرکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ ہمیشہ فضل بچاتا ہے نہ اعمال۔ اے خدائے کریم و رحیم! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر گِرے ہیں۔ آمین



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 175

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 175

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/175/mode/1up


    حصّہؔ دوم تقریر

    اے معزز سامعین! اب میں اپنے ایک دعویٰ کی نسبت جو مَیں نے اس ملک میں شائع کیا ہے آپ کی خدمت میں کچھ بیان کروں گا۔ یہ بات عقل اور نقل سے ثابت ہے کہ جب دنیا میں گناہ کی تاریکی غالب ہوجاتی ہے اور زمین پر ہر ایک قسم کی بدی اور بدکاری پھیل جاتی ہے اور روحانیت کم ہوجاتی ہے اور گناہوں سے زمین ناپاک ہو کر اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ایک زہریلی ہوا چلنے لگتی ہے۔ تو اس وقت رحمت الٰہی تقاضا فرماتی ہے کہ زمین کو دوبارہ زندہ کرے۔ جس طرح جسمانی موسموں کو دیکھتے ہو کہ ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ایک زمانہ خزاں کا ہوتا ہے کہ اس میں درختوں کے پھولوں اور پھلوں اور پتّوں پر بلا آتی ہے اور درخت ایسے بدنما ہو جاتے ہیں جیسے کوئی مرض دق سے نہایت درجہ دُبلا ہو جاتا ہے اور اُس میں خون کا نشان نہیں رہتا اور چہرہ پر مُردہ پن کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں یا جیسے کسی جذامی کا جذام انتہا درجہ تک پہنچ کر اعضاگرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر دوسرا زمانہ درختوں پر وہ آتا ہے جس کو موسم بہار کہتے ہیں۔ اس موسم میں درختوں کی صورتیں ایک دوسرا رنگ پکڑ لیتی ہیں اورپھل اور پھول اور خوشنما اور سرسبز پتّے ظاہر ہوجاتے ہیں۔یہی حالت نوع انسان کی ہے کہ تاریکی اور روشنی نوبت بہ نوبت اُن پر وارد ہوتی رہتی ہے۔ کسی صدی میں وہ خزاں کے موسم کی طرح انسانی کمال کے حسن سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں اور کسی وقت آسمان سے اُن پر ایسی ہوا چلتی ہے کہ اُن کے دلوں میں موسم بہار پیدا ہونے لگتی ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے یہی دونوں موسم انسانوں کے لازم حال رہے ہیں۔ سو یہ زمانہ بھی جس میں ہم ہیں بہار کی ابتدا کازمانہ ہے پنجاب پرخزاں کا زمانہ اس وقت زور میں تھاجس وقت اس ملک پر خالصہ قوم حکمران تھی کیونکہ علم نہیں رہا تھا اور ملک میں جہالت بہت پھیل گئی تھی اور دینی کتابیں ایسی گُم ہوگئی تھیں کہ شاید کسی بڑے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 176

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 176

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/176/mode/1up


    خاندان میںؔ دستیاب ہو سکتی ہوں گی۔ بعد اس کے گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ آیا۔ یہ زمانہ نہایت پُر امن ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم خالصہ قوم کی عملداری کے دنوں کو امن عامہ اور آسائش کے لحاظ سے انگریزی عملداری کی راتوں سے بھی برابر قرار دیں تو یہ بھی ایک ظلم اور خلاف واقعہ ہوگا۔ یہ زمانہ روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ ہے۔ اور آنے والی برکتیں اس کی ابتدائی بہار سے ظاہر ہیں۔ ہاں یہ زمانہ ایک عجیب جانور کی طرح کئی منہ رکھتا ہے۔ بعض منہ توحقیقی خدا شناسی اور راستبازی کے برخلاف ہونے کی وجہ سے خوفناک ہیں۔ اور بعض منہ بہت بابرکت اور راستبازی کےُ مؤ ّ ید ہیں۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ انگریزی حکومت نے انواع و اقسام کے علوم کو اس ملک میں بہت ترقی دی ہے۔ اور کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے کے لئے ایسے سہل اور آسان طریق نکل آئے ہیں کہ زمانہ گذشتہ میں اُن کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ اور جوہزارہا مخفی کتب خانے اس ملک میں تھے وہ بھی ظاہر ہوگئے اور تھوڑے ہی دنوں میں علمی رنگ میں زمانہ ایسا بدل گیا کہ گویا ایک نئی قوم پیدا ہوگئی۔ یہ سب کچھ ہوا مگر عملی حالتیں دن بدن کالعدم ہوتی گئیں اور اندر ہی اندر دہریت کا پودا بڑھنے لگا۔ گورنمنٹ انگریزی کے احسان میں کچھ شک نہیں۔ اِس قدر اپنی رعایا کو احسان پہنچایا اور معدلت گستری کی اور جابجا امن قائم کیا کہ اس کی نظیر دوسری گورنمنٹوں میں تلاش کرنا عبث ہے مگر وہ آزادی جو امن کا دائرہ پورا وسیع کرنے کے لئے رعایا کو دی گئی وہ اکثر لوگوں کو ہضم نہیں ہو سکی اور اس کے عوض میں جو خدا اور اس گورنمنٹ کا شکر بجا لانا چاہئے تھا بجائے اس شکر کے اکثر دلوں میں اس قدر غفلت اور دنیا پرستی اور دنیا طلبی اور لاپرواہی بڑھ گئی کہ گویا یہ سمجھا گیا کہ دنیا ہی ہمارے لئے ہمیشہ رہنے کا مقام ہے اور گویا کہ ہم پر کسی کا بھی احسان نہیں اور نہ کسی کی حکومت ہے اور جیسا کہ دستور ہے کہ اکثر گناہ امن کی حالت میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 177

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 177

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/177/mode/1up


    اسیؔ قانون قدرت کے رُو سے گناہوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ چنانچہ بباعث سخت دلی اور غفلت کے موجودہ حالت اس ملک کی نہایت خطرناک ہوگئی ہے۔ جاہل اور شریر لوگ جووحشیوں کی طرح ہیں وہ قابلِ شرم جرائم مثلاً نقب زنی اور زناکاری اور قتل ناحق وغیرہ سنگین جرائم کے ارتکاب میں مشغول ہیں۔ اور دوسرے لوگ اپنی اپنی طبیعت اور جوش نفس کے موافق طرح طرح کے دوسرے گناہوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ چنانچہ شراب خانے دوسری دوکانوں سے زیادہ آباد معلوم ہوتے ہیں۔ اور دوسرے فسق و فجور کے پیشے بھی دن بدن ترقی میں ہیں۔ عبادت خانے محض رسم ادا کرنے کے لئے ٹھہر گئے ہیں۔ غرض زمین پر گناہوں کا ایک سخت خطرناک جوش ہے اور اکثر لوگوں کے نفسانی شہوات بوجہ پورے امن اور کامل آسائش کے اس قدر جوش میں آگئے ہیں کہ جیسے جب ایک پُرزور دریا کا بند ٹوٹ جائے تو وہ ایک رات میں ہی ارد گرد کے تمام دیہات کو تباہ کر دیتا ہے۔ اورکچھ شک نہیں کہ دنیا میں ایک نہایت درجہ پر تاریکی پیدا ہوگئی ہے اور ایسا وقت آگیا ہے کہ یا تو خدا دنیا میں کوئی روشنی پیدا کرے اور یا دنیا کو ہلاک کر دیوے۔ مگر ابھی اِس دنیا کے ہلاک ہونے میں ایک ہزار برس باقی ہے اور دنیا کی زینت اور آرام اور آسائش کے لئے جو نئی نئی صنعتیں زمین پر پیدا ہوئی ہیں۔ یہ تغیر بھی صاف طور پر دلالت کررہا ہے کہ جیسے خدا تعالیٰ نے جسمانی طور پر اصلاح فرمائی ہے وہ روحانی طور پر بھی بنی نوع کی اصلاح اور ترقی چاہتا ہے کیونکہ روحانی حالت انسانوں کی جسمانی حالت سے زیادہ گِر گئی ہے۔ اور ایسی خطرناک منزل پر آپہنچی ہے کہ جہاں نوع انسان غضب الٰہی کا نشانہ بن سکتی ہے۔ ہر ایک گناہ کا جوش نہایت ترقی پر پایا جاتا ہے اور روحانی طاقتیں نہایت کمزور ہوگئی ہیں اور ایمانی انوار بُجھ گئے ہیں اور اب عقل سلیم ببداہت اس بات کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ اِس تاریکی کے غلبہ پر آسمان سے کوئی روشنی پیداہونی چاہئے کیونکہ جیسے جسمانی طور پر



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 178

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 178

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/178/mode/1up


    زمینؔ کی تاریکی کا دُور ہونا قدیم سے اس بات سے وابستہ ہے کہ آسمانی روشنی زمین پر پڑے۔ ایسا ہی رُوحانی طور پر بھی یہ روشنی صرف آسمان سے ہی اُترتی اور دلوں کو منور کرتی ہے۔ جب سے کہ خدا نے انسان کو بنایا ہے اس کا قانون قدرت یہی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وہ نوع انسان میں ایک وحدت نوعی پیدا کرنے کے لئے اُن میں سے ایک شخص پر ضرورت کے وقت میں اپنی معرفت تامہ کا نور ڈالتا ہے اور اس کو اپنے مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اپنی کامل محبت کا جام اس کو پلاتا ہے اور اس کو اپنی پسندیدہ راہ کی پوری بصیرت بخشتا ہے اور اس کے دل میں جوش ڈالتا ہے کہ تا وہ دوسروں کو بھی اس نُور اور بصیرت اور محبت کی طرف کھینچے جو اس کو عطا کی گئی ہے۔ اور اس طرح پر باقی لوگ اس سے تعلق پیدا کر کے اور اسی کے وجود میں شمار ہو کر اور اس کی معرفت سے حصہ لے کر گناہوں سے بچتے اور تقویٰ طہارت میں ترقی کرتے ہیں۔ اِسی قانون قدیم کے لحاظ سے خدا نے اپنے پاک نبیوں کی معرفت یہ خبر دی ہے کہ جب آدم کے وقت سے چھ ہزار برس قریب الاختتام ہو جائیں گے تو زمین پر بڑی تاریکی پھیل جائے گی اور گناہوں کا سیلاب بڑے زور سے بہنے لگے گا۔ اور خدا کی محبت دلوں میں بہت کم اور کالعدم ہو جائے گی۔ تب خدا محض آسمان سے بغیر زمینی اسباب کے آدم کی طرح اپنی طرف سے روحانی طور پر ایک شخص میں سچائی اور محبت اور معرفت کی رُوح پھونکے گا اور وہ مسیح بھی کہلائے گا کیونکہ خدا اپنے ہاتھ سے اُس کی رُوح پر اپنی ذاتی محبت کا عطر ملے گا۔ اور وہ وعدہ کا مسیح جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی کتابوں میں مسیح موعود بھی کہا گیا ہے شیطان کے مقابل پر کھڑا کیا جائے گا۔ اور شیطانی لشکر اور مسیح میں یہ آخری جنگ ہوگا۔ اور شیطان اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اور تمام ذریّت کے ساتھ اور تمام تدبیروں کے ساتھ اُس دن اس روحانی جنگ کے لئے تیار ہو کر آئے گا۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 179

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 179

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/179/mode/1up


    اورؔ دنیا میں شر اور خیر میں کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی ہوگی جیسے کہ اس دن ہوگی کیونکہ اُس دن شیطان کے مکائد اور شیطانی علوم انتہا تک پہنچ جائیں گے اور جن تمام طریقوں سے شیطان گمراہ کر سکتا ہے وہ تمام طریق اُس دن مہیّا ہو جائیں گے۔ تب سخت لڑائی کے بعد جو ایک روحانی لڑائی ہے خدا کے مسیح کو فتح ہوگی اور شیطانی قوتیں ہلاک ہو جائیں گی اور ایک مدت تک خدا کا جلال اور عظمت اور پاکیزگی اور توحید زمین پر پھیلتی جائے گی اور وہ مدت پورا ہزار برس ہے جو ساتواں دن کہلاتا ہے۔ بعد اس کے دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو وہ مسیح مَیں ہوں۔ اگر کوئی چاہے تو قبول کرے۔ اس جگہ بعض فرقے جو شیطان کے وجود سے منکر ہیں وہ تعجب کریں گے کہ شیطان کیا چیز ہے۔ پس اُن کو یاد رہے کہ انسان کے دل کے ساتھ دو کششیں ہروقت نوبت بہ نوبت لگی رہتی ہیں۔ ایک کشش خیر کی اور ایک کشش شر کی۔ پس جو خیر کی کشش ہے شریعت اسلام اُس کو فرشتہ کی طرف منسوب کرتی ہے۔ اور جو شر کی کشش ہے اس کو شریعت اسلام شیطان کی طرف منسوب کرتی ہے۔ اور مدعا صرف اس قدر ہے کہ انسانی سرشت میں دو کششیں موجود ہیں۔ کبھی انسان نیکی کی طرف جھکتا ہے اور کبھی بدی کی طرف۔ میرے خیال میں ہے کہ اس جلسہ میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو میرے اس بیان کو کہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا سے شرف مکالمہ اور مخاطبہ رکھتا ہوں انکار کی نظر سے دیکھیں گے اور تحقیر کی بھری ہوئی نگاہ سے میری طرف نظر کریں گے۔ لیکن میں انہیں معذور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ابتدا سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ پہلے خدا کے ماموروں اور مُرسلوں کو دل آزار باتیں سُننی پڑتی ہیں۔ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے ابتدائی زمانہ میں۔ وہ نبی اور رسول اور صاحب کتاب اور صاحب شریعت جس کی اُمت کہلانے کا ہم سب کو فخر ہے اور جس کی شریعت پر سب شریعتوں کا خاتمہ ہے اس کی سوانح کی طرف نگاہ کرو کہ کس طرح تیرہ برس تک مکّہ میں تنہائی اور غربت اور بیکسی کے عالم میں منکروں کے ہاتھ سے تکلیفیں اُٹھائیں اور کیونکر تحقیر اور ہنسی اور



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 180

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 180

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/180/mode/1up


    ٹھٹھے کا ؔ نشانہ بنے رہے اور آخر مکّہ سے بڑے ظلم اور تعدّی سے نکالے گئے۔ کس کو خبر تھی کہ آخر وہ کروڑہا انسانوں کا امام اور پیشوا بنایا جاوے گا۔ سو یہی سنّت الٰہی ہے کہ خدا کے منتخب لوگ اوّل اوّل حقیر اور ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں کہ ابتدا میں خدا کے فرستادوں کی شناخت کر سکتے ہیں اور ضرور ہے کہ وہ جاہل لوگوں کے ہاتھوں سے دُکھ اُٹھاویں اور طرح طرح کی باتیں اُن کے حق میں کہی جاویں۔ اور ہنسی اورٹھٹھا کیا جاوے۔ اور گالیاں دی جاویں۔ جب تک کہ وہ وقت آوے کہ اُن کے قبول کرنے کے لئے خدا دلوں کو کھول دے۔ یہ تو میرا دعویٰ ہے کہ جو مَیں نے بیان کیا۔ لیکن وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جوکدورت واقعہ ہوگئی ہے اُس کو دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں۔ اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہوگئی ہیں اُن کو ظاہر کردوں۔ اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دُعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض مقال سے ان کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اَب نابود ہوچکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں۔ اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہوگا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہوگا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو خدا نے اپنے ہاتھ سے میری تربیت فرما کر اور مجھے اپنی وحی سے شرف بخش کر میرے دل کو یہ جوش بخشا ہے کہ میں اس قسم کی اصلاحوں کے لئے کھڑا ہو جاؤں۔ اور دوسری طرف اس نے دل بھی تیار کر دیئے ہیں جو میری باتوں کے ماننے کے لئے مستعد ہوں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 181

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 181

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/181/mode/1up


    میںؔ دیکھتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے دنیا میں مامور کر کے بھیجا ہے اُسی وقت سے دنیا میں ایک انقلاب عظیم ہورہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جو لوگ حضرت عیسٰیؑ کی خدائی کے دلدادہ تھے اب ان کے محقق خود بخود اس عقیدہ سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور وہ قوم جو باپ دادوں سے بتوں اور دیوتوں پر فریفتہ تھی بہتوں کو اُن میں سے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ بُت کچھ چیز نہیں ہیں اور گو وہ لوگ ابھی روحانیت سے بے خبر ہیں اور صرف چند الفاظ کورسمی طور پر لئے بیٹھے ہیں لیکن کچھ شک نہیں کہ ہزارہا بیہودہ رسوم اور بدعات اور شرک کی رسیاں انہوں نے اپنے گلے پر سے اُتار دی ہیں۔ اور توحید کی ڈیوڑھی کے قریب کھڑے ہوگئے ہیں۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ کچھ تھوڑے زمانہ کے بعد عنایتِ الٰہی اُن میں سے بہتوں کو اپنے ایک خاص ہاتھ سے دھکہ دے کر سچی اور کامل توحید کے اس دارالامان میں داخل کر دے گی جس کے ساتھ کامل محبت اور کامل خوف اور کامل معرفت عطا کی جاتی ہے۔ یہ امید میری محض خیالی نہیں ہے بلکہ خدا کی پاک وحی سے یہ بشارت مجھے ملی ہے۔ اس ملک میں خدا کی حکمت نے یہ کام کیا ہے تا جلد تر متفرق قوموں کو ایک قوم بنا دے اور صلح اور آشتی کا دن لاوے۔ ہر ایک کو اس ہوا کی خوشبو آرہی ہے کہ یہ تمام متفرق قومیں کسی دن ایک قوم بننے والی ہے۔ چنانچہ حضرات مسیحی یہ خیالات شائع کررہے ہیں کہ عنقریب تمام دنیا کا یہی مذہب ہو جائے گاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کر کے مان لیں گے اور یہودی جو بنی اسرائیل کہلاتے ہیں ان کو بھی ان دنوں میں نیا جوش پیدا ہوگیا ہے۔ کہ ان کا ایک خاص مسیح جو ان کو تمام زمین کا وارث بنا دے گا انہی دنوں میں آنے والا ہے۔ ایسا ہی اسلام کی پیشگوئیاں بھی جو ایک مسیح کا وعدہ دیتی ہیں ان کے وعدہ کا دن بھی ہجرت کی چودھویں صدی تک ہی ختم ہوتا ہے۔ اور عام مسلمانوں کا بھی خیال ہے کہ ایسا زمانہ قریبؔ ہے کہ جب تمام زمین پر اسلام پھیل جائے گا اور



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 182

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 182

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/182/mode/1up


    بعض سناتن دھرم کے پنڈتوں سے میں نے سُناہے کہ وہ بھی اپنے ایک اوتارکے ظاہر ہونے کا زمانہ اسی زمانہ کو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آخری اوتار ہے جس سے تمام زمین میں دھرم پھیل جائے گا۔ اور آریہ صاحبان اگرچہ کسی پیشگوئی کے قائل تو نہیں تاہم اس ہوا کی تاثیر سے جو چل رہی ہے وہ بھی ہمّت اور کوشش کررہے ہیں کہ ایشیا اور یورپ اور امریکہ اور جاپان وغیرہ ممالک میں انہی کا مذہب پھیل جائے اور عجیب تریہ کہ بدھ مذہب والوں میں بھی نئے سرے یہی جوش پیدا ہوگیا ہے اور زیادہ تر ہنسی کی بات یہ ہے کہ اس ملک کے چوہڑے یعنی بھنگی بھی اس فکر میں پڑ گئے ہیں کہ کسی طرح وہ دوسری قوموں کی زد اور دست بُرد سے بچیں اور ان کو بھی کم سے کم اپنے مذہب کی حفاظت کی ایک طاقت حاصل ہوجائے۔ غرض اس زمانہ میں ایک ایسی ہوا چل پڑی ہے کہ ہر ایک فرقہ اپنی قوم اور اپنے مذہب کی ترقی کابڑے جوش سے خواہاں ہے اور چاہتے ہیں کہ دوسری قوموں کا نام و نشان نہ رہے جو کچھ ہوں وہی ہوں۔ اور جس طرح سمندر کے تلاطم کے وقت ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے اِسی طرح مختلف مذاہب ایک دوسرے پرحملہ کررہے ہیں۔ بہر حال ان تحریکوں سے محسو س ہورہا ہے کہ یہ زمانہ وہی زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہؔ مختلف فرقوں کو ایک قوم بنادے اور ان مذہبی جھگڑوں کو ختم کر کے آخر ایک ہی مذہب میں سب کو جمع کردے۔ اور اسی زمانہ کی نسبت جو تلاطم امواج کا زمانہ ہے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ 3 3 ۱؂۔ اس آیت کو پہلی آیتوں کے ساتھ ملا کر یہ معنے ہیں کہ جس زمانہ میں دنیا کے مذاہب کا بہت شور اُٹھے گا اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر ایسا پڑے گا جیسا کہ ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنا چاہیں گے تب آسمان و زمین کا خدا اِس تلاطم امواج کے زمانہ میں اپنے ہاتھوں سے بغیر دنیوی اسباب کے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 183

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 183

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/183/mode/1up


    ایک نیا سلسلہ پیدا کرے گا اور اس میں ان سب کو جمع کرے گا جو استعداد اور مناسبت رکھتے ہیں۔ تب وہ سمجھیں گے کہ مذہب کیا چیز ہے اور ان میں زندگی اور حقیقی راستبازی کی رُوح پھونکی جائے گی اور خدا کی معرفت کا ان کو جام پلایا جائے گا اور ضرور ہے کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ یہ پیشگوئی کہ آج سے تیرہ سو برس پہلے قرآن شریف نے دنیا میں شائع کی ہے پوری نہ ہو جائے۔ اور خدا نے اس آخری زمانہ کے بارہ میں جس میں تمام قومیں ایک ہی مذہب پر جمع کی جائیں گی صرف ایک ہی نشان بیان نہیں فرمایا بلکہ قرآن شریف میں اور بھی کئی نشان لکھے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ کہ اُس زمانہ میں دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکلیں گی اور ایک یہ کہ زمین کی پوشیدہ کانیں یعنی معدنیں بہت سی نکل آویں گی۔ اور زمینی علوم بہت سے ظاہر ہو جائیں گے۔ اورایک یہ کہ ایسے اسباب پیداہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے کتابیں بکثرت ہو جائیں گی (یہ چھاپنے کے آلات کی طرف اشارہ ہے) اور ایک یہ کہ اُن دنوں میں ایکؔ ایسی سواری پیدا ہو جائے گی کہ اونٹوں کو بیکار کردے گی اور اس کے ذریعہ سے ملاقاتوں کے طریق سہل ہو جائیں گے۔ اور ایک یہ کہ دنیا کے باہمی تعلقات آسان ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کو بآسانی خبریں پہنچا سکیں گے۔ اور ایک یہ کہ ان دنوں میںآسمان پر ایک ہی مہینہ میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔ اور ایک یہ کہ اس کے بعد زمین پرسخت طاعون پھیلے گی یہاں تک کہ کوئی شہر اور کوئی گاؤں خالی نہ رہے گا جوطاعون سے آلودہ نہ ہو اور دنیا میں بہت موت پڑے گی۔ اور دنیا ویران ہو جائے گی۔ بعض بستیاں تو بالکل تباہ ہو جائیں گی اور ان کا نام و نشان نہ رہے گا اور بعض بستیاں ایک حد تک عذاب میں گرفتار ہو کر پھر ان کو بچایا جائے گا۔ یہ دن خدا کے سخت غضب کے دن ہوں گے اس لئے کہ لوگوں نے خدا کے نشانوں کو جو اُس کے فرستادہ کے لئے اس زمانہ میں ظاہر ہوئے قبول نہ کیا اور خدا کے نبی کو جو اصلاحِ خلق



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 184

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 184

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/184/mode/1up


    کے لئے آیا ردّ کر دیا اور اُس کو جھوٹا قرار دیا۔ یہ سب علامتیں اِس زمانہ میں جس میں ہم ہیں پوری ہوگئیں۔ عقلمند کے لئے یہ صاف اور روشن راہ ہے کہ ایسے وقت میں خدا نے مجھے مبعوث فرمایا جب کہ قرآن شریف کی لکھی ہوئی تمام علامتیں میرے ظہور کیلئے ظاہر ہوچکی ہیں۔ یہ تمام علامتیں جومسیح موعود کے زمانہ کے بارہ میں ہیں اگرچہ حدیثوں میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن اس جگہ میں نے صرف قرآن شریف کو پیش کیا ہے۔ اور ایک اور علامت قرآن شریف نے مسیح موعود کے زمانہ کے لئے قرار دی ہے کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔3 3 ۱؂۔ یعنی ایک دن خدا کا ایسا ہے جیسا تمہارا ہزار برس ہے۔ پس چونکہ دن سات ہیں اس لئے اس آیت میں دنیا کی عمر سات ہزار برس قرار دی گئی ہے۔ لیکن یہ عمر اس آدم کے زمانہ سے ہے جس کی ہم اولاد ہیں۔ خدا کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا تھی۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ لوگ کون تھے اور کس قسم کے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سات ہزار برس میں دنیا کا ایک دور ختم ہوتا ہے۔ اِسی وجہ سےؔ اور اسی امر پر نشان قرار دینے کے لئے دنیا میں سات دن مقرر کئے گئے تا ہر ایک دن ایک ہزار برس پر دلالت کرے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا پر اس طرح سے کتنے دَور گزر چکے ہیں اور کتنے آدم اپنے اپنے وقت میں آچکے ہیں۔ چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے اس لئے ہم مانتے اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے۔ لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں ہے۔ افسوس کے حضرات عیسائیاں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف چھ ہزار برس ہوئے کہ جب خدا نے دنیا کوپیدا کیا اور زمین و آسمان بنائے اور اس سے پہلے خدا ہمیشہ کے لئے معطل اور بے کار تھا اور ازلی طور پر معطّل چلا آتا تھا۔ یہ ایسا عقیدہ ہے کہ کوئی صاحب عقل اس کو قبول نہیں کرے گا۔ مگر ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے یہ ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کر کے پھر ایسے ہی بنادے اور اُس نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی اُمّتوں کے بعد آیا جو ہم سب کا



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 185

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 185

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/185/mode/1up


    باپ تھا اس کے دنیا میں آنے کے وقت سے یہ سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے۔ اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے۔ یہ سات ہزار خدا کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔ یاد رہے کہ قانون الٰہی نے مقرر کیا ہے کہ ہر ایک امت کے لئے سات ہزار برس کا دور ہوتا ہے۔ اسی دَور کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانوں میں سات دن مقرر کئے گئے ہیں۔ غرض بنی آدم کی عمر کا دَور سات ہزار برس مقرر ہے۔ اور اِس میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پانچ ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا۔ یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں سے پانچ دن کے قریب گزر چکے تھے جیسا کہ سورۃ والعصر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف میں اشارہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب وہ سورۃ نازل ہوئی تب آدم کے زمانہ پر اسی قدر مدت گزر چکی تھی جو سورہ موصوفہ کے عددوں سے ظاہر ہے۔ اِس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔ قرآن شریف میں بلکہ اکثر پہلی کتابوں میں بھی یہ نوشتہ موجود ہے کہ وہ آخری مرسل جوآدم کی صورت پر آئے گا اور مسیح کے نام سے پکارا جائے گا ضرور ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جیسا کہ آدم چھٹے دن کےؔ آخر میں پیدا ہوا۔ یہ تمام نشان ایسے ہیں کہ تدبّر کرنے والے کے لئے کافی ہیں۔ اور اِن سات ہزار برس کی قرآن شریف اور دوسری خدا کی کتابوں کے رو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلّط کا زمانہ ہے اور پھر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلّط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا(یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سیّد و مولیٰ ختمی پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیاہے) اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلّط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 186

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 186

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/186/mode/1up


    ختم ہو جاتا ہے۔ اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر وبرکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔ اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔ اِس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سا۷ت ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔ کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفصّل طور پر اور یہ تفصیل قرآن شریف میں موجود ہے جس سے مسیح موعود کی نسبت قرآن شریف میں سے صاف طور پر پیشگوئی نکلتی ہے۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ تمام انبیاء اپنی کتابوں میں مسیح کے زمانہ کی کسی نہ کسی پیرایہ میں خبر دیتے ہیں اور نیز دجّالی فتنہ کو بھی بیان کرتے ہیں۔ اور دنیا میں کوئی پیشگوئی اس قوت اور تواتر کی نہیں ہوگی جیسا کہ تمام نبیوں نے آخری مسیح کے بارہ میں کی ہے۔ تاہم ایسے لوگ بھی اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں کہ اس پیشگوئی کی صحت سے بھی منکر ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے اس پیشگوئی کو ثابت کرو۔ مگر افسوس کہ اگر وہ قرآن شریف کو سوچتے یا اس میں غور کرتے تو انہیں اقرار کرنا پڑتا کہ یہ پیشگوئی قرآن شریف میں نہایت صراحت سے موجود ہے اور اس قدر صراحت سے موجود ہے کہ دانا کے لئے اس سے بڑھ کر تفصیل کی حاجت نہیں۔سورہ ؔ تحریم میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض افراداس امت کے ابن مریم کہلائیں گے کیونکہ اوّل مریم سے اُن کو تشبیہ دے کر پھر مریم کی طرح نفخ رُوح اُن میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اوّل وہ مریمی وجود لے کر اور اس سے ترقی کر کے پھر ابن مریم بن جائیں گے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں اوّل میرا نام مریم رکھا اور فرمایا۔ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنّۃ۔یعنی اے مریم تو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اور پھر فرمایا۔ یا مریم نفخت فیک من روح الصدق یعنی اے مریم میں نے صدق کی رُوح تجھ میں پھونک دی (گویا استعارہ کے رنگ میں مریم صدق سے حاملہ ہوگئی) اور پھر آخرمیں فرمایا۔ یا عیسٰی انی متوفّیک و رافعک اِلیّ۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 187

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 187

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/187/mode/1up


    یعنی اے عیسیٰ! میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔ پس اس جگہ مریمی مقام سے

    مجھے منتقل کر کے میرا نام عیسیٰ رکھا گیا اور اس طرح پر ابن مریم مجھے ٹھہرایا گیا تا وہ وعدہ جو سورہ تحریم میں کیا گیا تھا پورا ہو۔ ایسا ہی سورہ نور میں بیان کیا گیا ہے کہ تمام خلیفے اِسی اُمت میں سے پیدا ہوں گے۔ اور قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے کہ اس اُمت پر دو زمانے بہت خوفناک آئیں گے۔ ایک وہ زمانہ جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میںآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آیا۔ اور دوسرا وہ زمانہ جو دجّالی فتنہ کا زمانہ ہے جو مسیح کے عہد میں آنے والا تھا جس سے پناہ مانگنے کے لئے اس آیت میں اشارہ ہے۔ 3۱؂۔ اور اسی زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی سورہ نور میں موجود ہے۔ 3 3 ۲؂۔ اس آیت کے معنے پہلی آیت کے ساتھ ملاکر یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دین پر آخری زمانہ میں ایک زلزلہ آئے گا اور خوف پیدا ہو جائے گا کہ یہ دین ساری زمین پر سے گم نہ ہو جائے۔ تب خدا تعالیٰ دوبارہ اس دین کو روئے زمین پرمتمکن کر دے گا اور خوف کے بعد امن بخش دے گا جیسا کہ دوسری آیت میں فرماتا ہے۔ 3 3 ۳؂۔ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو اس لئے بھیجا کہ تادین اسلام کو سب دینوں پر غالب کردے۔یہ بھی مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ اورؔ پھر یہ آیت کہ3 3۴؂۔یہ بھی مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور قرآن شریف کی رُوسے مسیح موعود کے زمانہ کوحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے مشابہت ہے۔ عقلمندوں کے لئے جو تدبّر کرتے ہیں یہ ثبوت قرآنی تسلّی بخش ہے۔ اور اگر کسی نادان کی نظر میںیہ کافی نہیں ہیں تو پھر اس کو اقرار کرنا چاہئے کہ تورات میں نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کوئی پیشگوئی ہے نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی پیش خبری ہے کیونکہ وہ الفاظ بھی محض مجمل ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 188

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 188

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/188/mode/1up


    اور اِسی وجہ سے یہودیوں کو ٹھوکر لگی اور قبول نہ کیا۔ مثلاً اگر صاف لفظوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ پیشگوئی کی جاتی کہ مکّہ میں پیدا ہوں گے اور آپ کا اسم مبارک محمدؐ ہوگا اور آپ کے باپ کا نام عبداللہ اور دادا کا نام عبدالمطلب ہوگا اور آپ بنی اسماعیل کے خاندان میں سے ہوں گے اور مدینہ میں ہجرت کریں گے۔ اور موسیٰ سے اتنی مدت بعد پیدا ہوں گے تو ان نشانوں کے ساتھ کوئی یہودی انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اورحضرت مسیح کی پیشگوئی کی نسبت تو اَور بھی مشکلات یہودیوں پر پڑیں جن سے وہ اپنے تئیں واقعی معذور خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح کی نسبت یہ پیشگوئی ہے کہ وہ مسیح ظاہر نہیں ہوگا جب تک کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آوے۔ مگر الیاس تو اب تک نہ آیا۔ اور خدا کی کتاب میں یہ شرط تھی کہ وہ سچا مسیح جو خدا کی طرف سے آئے گا ضرور ہے کہ پہلے اُس سے الیاس دوبارہ دنیا میں آجاوے۔ حضرت مسیح کی طرف سے یہ جواب تھا کہ اس فقرے سے مراد مثیل الیاس ہے نہ کہ اصل الیاس۔ مگر یہودی کہتے ہیں کہ یہ خدا کے کلام کی تحریف ہے ہمیں تو اصل الیاس کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی نسبت جو پیشگوئیاں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ باریک ہوتی ہیں تا شقی اور سعید میں فرق ظاہر ہو جاوے۔

    پھر ماسوا اس کے یہ بات ظاہر ہے کہ جو دعویٰ راستی پرمبنی ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ ایک ہی قسم کا ثبوت نہیں رکھتا۔ بلکہ اس سچے ہیرے کی طرح جسؔ کے ہر ایک پہلو میں چمک نمودار ہوتی ہے وہ دعویٰ بھی ہر ایک پہلو سے چمکتا ہے۔ سو مَیں زور سے کہتا ہوں کہ میرا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اِسی شان کاہے کہ ہر ایک پہلو سے چمک رہا ہے۔ اوّل اِس پہلو کو دیکھو کہ میرا دعویٰ منجانب اللہ ہونے کا اور نیز مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہونے کا قریباً ستائیس برس سے ہے۔یعنی اس زمانہ سے بھی بہت پہلے ہے کہ جب براہین احمدیہ ابھی تالیف نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر براہین احمدیہ کے وقت میں وہ دعویٰ اسی کتاب میں لکھ کر شائع کیا گیا جس کو چوبیس برس کے قریب گزر چکے ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 189

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 189

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/189/mode/1up


    اب دانا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جھوٹ کا سلسلہ اس قدر لمبا نہیں ہوسکتا اور خواہ کوئی شخص کیسا ہی کذّاب ہو وہ ایسی بدذاتی کا اس قدر دور دراز مدّت تک جس میں ایک بچہ پیدا ہو کر صاحب اولاد ہو سکتا ہے طبعًا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ ماسوائے اس کے اس بات کوکوئی عقلمند قبول نہیں کرے گا کہ ایک شخص قریباً ستائیس برس سے خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہے اور ہر ایک صبح اپنی طرف سے الہام بنا کر اور محض اپنی طرف سے پیشگوئیاں تراش کر کے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر ایک دن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ الہام کیا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے۔ حالانکہ خدا جانتا ہے کہ وہ اس بات میں جھوٹا ہے۔ نہ اس کو کبھی الہام ہوا اور نہ خدا تعالیٰ اُس سے ہمکلام ہوا۔ اور خدا اس کو ایک *** انسان سمجھتا ہے مگر پھر بھی اس کی مدد کرتا ہے۔ اور اس کی جماعت کو ترقی دیتا ہے۔ اور ان تمام منصوبوں اور بلاؤں سے اُسے بچاتا ہے جو دشمن اس کیلئے تجویز کرتے ہیں۔ پھر ایک اَور دلیل ہے جس سے میری سچائی روز روشن کی طرح ظاہر ہوتی ہے اورمیرا منجانب اللہ ہونا بپایۂ ثبوت پہنچتاہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں جبکہ مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا یعنی براہین احمدیہ کے زمانہ میں جبکہ میں ایک گوشۂ تنہائی میں اس کتاب کو تالیف کررہا تھا اور بجز اس خدا کے جو عالم الغیب ہے کوئی میری حالت سے واقف نہ تھا تب اس زمانہ میں خدا نے مجھے مخاطب کر کے چندؔ پیشگوئیاں فرمائیں جو اسی تنہائی اور غربت کے زمانہ میں براہین احمدیہ میں چھپ کر تمام ملک میں شائع ہوگئیں اور وہ یہ ہیں:۔ یا احمدی انت مرادی ومعی سرّک سرّی۔ انت منّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی۔ فحانَ اَنْ تُعانَ وَتعرف بین النّاس۔ انت منّی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق۔ ینصرک اللّٰہ فی مواطن۔ انت وجیہ فی حضرتی۔ اخترتک لنفسی۔ وانّی جاعلک للناس امامًا۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء۔ یأتیک من کلِّ فجٍ عمیق۔ یأتون من کلِّ فجٍ عمیق۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 190

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 190

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/190/mode/1up


    ولا تصعّر لخلق اللّٰہ ولا تسئم من الناس۔ وقل ربّ لا تذرنی فردًا وانت خیر الوارثین۔ اصحاب الصفّۃ وما ادراک ما اصحاب الصُفّۃ۔ ترٰی أعینھم تفیض من الدمع ربّنا انّنا سمعنا منادیًا ینادی للایمان۔ انّی جاعلک فی الارض خلیفۃ۔ یقولون انّٰی لک ھٰذا۔ قل اللّٰہ عجیب لایُسءَل عمایفعل وھم یُسءَلون۔ ویقولون اِن ھٰذا الّا اختلاق قل اللّٰہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلّہ۔ یریدون ان یطفؤا نور اللّٰہ واللّٰہ مُتِمّ نورہٖ ولوکرہ الکافرون۔ یعصمک اللّٰہ ولولم یعصمک الناس۔ اِنّک باعیننا۔ سمّیتک المتو۔کّل۔ وما کان اللّٰہ لیتر۔کک حتّی یمیز الخبیث من الطیّب۔ شاتان تذبحان وکل من علیھا فان۔ وعسٰی ان تکرھوا شیءًا وھوخیر لکم وعسٰی ان تحبّوا شیءًا وھوشرّلکم واللّٰہ یعلم وانتم لا تعلمون۔

    ترجمہ :۔ خدا مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے۔ اے میرے احمد! تو میری مراد ہے اورمیرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید پس وہ وقت قریب ہے جو تیری مدد ؔ کے لئے لوگ طیار کئے جائیں گے۔ اور تجھ کو لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔ تو مجھ سے وہ مرتبہ اور مقام رکھتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ خدا ہر ایک میدان میں تجھے مدد دے گا۔ تو میری جناب میں عزّت رکھتا ہے۔ مَیں نے تجھے اپنے لئے چُنا ۔مَیں بہت سے لوگ تیرے تابع اور پَیرو کروں گا۔ اور تو ان کا امام کیا جائے گا۔مَیں لوگوں کے دلوں میں الہام کروں گا تا وہ اپنے مال سے تیری مدد کریں۔ دور دراز اور عمیق راہوں سے تجھے مالی مددیں پہنچیں گی۔ لوگ تیری خدمت میں دُور دُور کی راہوں سے آئیں گے۔ پس تجھے لازم ہے کہ اُن سے بدخلقی نہ کرے۔ اور ان کی کثرت اور انبوہ اور فوج در فوج آنے سے تھک نہ جائے اور یہ دُعا کیا کر کہ اے میرے خدا! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تجھ سے بہتر اَور کوئی وارث نہیں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 191

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 191

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/191/mode/1up


    خدا اصحاب الصفّہ تیرے لئے مہیّا کرے گا۔ اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا چیز اصحاب الصفّہ ہیں۔ تو دیکھے گا کہ ان کے آنسو جاری ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے خدا! ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سُنی جو لوگوں کو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ مَیں تجھے زمین میں خلیفہ بناؤں گا لوگ تحقیر کی راہ سے کہتے ہیں کہ تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ان کو کہہ دے کہ وہ خدا عجیب قدرتوں والا خدا ہے۔ جو کام وہ کرتا ہے کوئی پوچھ نہیں سکتا کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ اور وہ ہریک کے قول سے مواخذہ کرے گا کہ تم نے ایسا کیوں کہا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو صرف بناوٹ ہے۔ اِن کو جواب دے کہ خدا اس کاروبار کا بانی ہے۔ پھران کو ان کی لہو و لعب میں چھوڑ دے۔ خدا وہ خدا ہے جس نے اپنارسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تااِس دین کو سب دینوں پرغالب کرکے دکھاوے۔ یہ لوگ ارادہ کریں گے کہ جس نور کو خدا دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے اس کو بجھادیں مگر خدا اس نُور کو پورا کرے گا۔ یعنی تمام مستعد دلوں تک پہنچائے گا۔ اگرچہ کافر لوگ کراہت بھی کریں۔ خدا تمہیں اُن کی شرارت سے بچائے گا۔ اگرچہ لوگ بچا نہ سکیں۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں ہے کہ تجھے چھوڑ دے جب تک کہ وہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلاوے۔ دوؔ بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر اُس نے مرنا ہے۔ قریب ہے کہ ایک چیز کو تم بُرا سمجھو اور وہ چیز اصل میں تمہارے لئے بہتر ہو۔ اور ممکن ہے کہ ایک چیز کو تم اچھا سمجھو اور وہ چیز تمہارے لئے بُری ہو۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کونسی چیز تمہارے لئے بہتر ہے اور تم نہیں جانتے۔

    اب جاننا چاہئے کہ ان الہامات میں چار عظیم الشان پیشگوئیوں کا ذکر ہے (۱)ایک یہ کہ خدا تعالیٰ ایسے وقت میں جبکہ میں اکیلا تھا اور کوئی میرے ساتھ نہ تھا اُس زمانہ میں جس کو اب قریباً تیئیس سال گزرچکے ہیں مجھے خوشخبری دیتا ہے کہ تو اکیلا نہیں رہے گا اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ تیرے ساتھ فوج در فوج لوگ ہو جائیں گے اور وہ دُور دُور راہوں سے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 192

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 192

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/192/mode/1up


    تیرے پاس آئیں گے اور اس قدر کثرت سے آئیں گے کہ قریب ہے کہ تو اُن سے تھک جائے۔ یا بداخلاقی کرے۔ مگر تو ایسا نہ کر۔ (۲)دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ ان لوگوں سے بہت سی مالی مدد ملے گی۔ اِن پیشگوئیوں کے بارہ میں ایک دنیا گواہ ہے کہ جب یہ پیشگوئیاں براہین احمدیہ میں لکھی گئیں تب میں ایک تنہا آدمی گمنامی کی حالت میں قادیان میں جو ایک ویران گاؤں ہے پڑا تھا۔ مگر بعد اس کے ابھی دس۱۰ برس گزر نے نہیں پائے تھے کہ خدا تعالیٰ کے الہام کے موافق لوگوں کا رجوع ہوگیا۔ اور اپنے مالوں کے ذریعہ سے لوگ مدد بھی کرنے لگے یہاں تک کہ اب دو لاکھ سے زیادہ ایسے انسان ہیں جو میری بیعت میں داخل ہیں۔ اور انہیں الہامات میں ایک تیسری پیشگوئی یہ ہے۔ کہ لوگ کوشش کریں گے کہ اِس سلسلہ کو معدوم کردیں اور اس نور کو بجھا دیں مگر وہ اس کوشش میں نامراد رہیں گے۔ اب اگر کوئی شخص صریح بے ایمانی اختیار کرے تو اس کو کون روک سکتا ہے۔ ورنہ یہ تینوں پیشگوئیاں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے زمانے میں جبکہ ایک شخص گمنامی کی حالت میں پڑا ہے اور تنہا اور بے کس ہے اور کوئی ایسی علامت موجود نہیں ہے کہ وہ لاکھوں انسانوں کا سرداربنایا جائے اور نہ کوئی یہ علامت موجود ہے کہ لوگ ہزارہا روپے اس کی خدمت میں پیش کریں۔ پھرایسی حالت میں ایسے شخصؔ کی نسبت اس قدر اقبال اور نصرت الٰہی کی پیشگوئی اگر صرف عقل اور اٹکل کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے تو منکر کو چاہئے کہ نام لے کر اس کی نظیر پیش کرے۔ بالخصوص جبکہ ان دونوں پیشگوئیوں کو اُس تیسری پیشگوئی کے ساتھ ہی رکھا جائے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بہت کوشش کریں گے کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہ ہوں لیکن خدا پوری کرے گا تو بالضرورت ان تینوں پیشگوئیوں کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے ماننا پڑے گا کہ یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ انسان تو یہ بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اتنی مدّت تک زندہ بھی رہ سکے۔ پھر چوتھی پیشگوئی ان الہامات میںیہ ہے کہ ان دنوں میں اس سلسلہ کے دو مرید شہید کئے جائیں گے۔ چنانچہ شیخ عبدالرحمن



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 193

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 193

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/193/mode/1up


    امیر عبدالرحمن والیء کابل کے حکم سے اور مولوی صاحبزادہ عبداللطیف خاں صاحب امیرحبیب اللہ کے ذریعہ سے کابل میں شہید کئے گئے۔

    اِس کے سوااور صدہا پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقتوں پر پوری ہوگئیں چنانچہ ایک دفعہ مولوی حکیم نورالدین صاحب کوقبل از وقت خبر دی گئی کہ ان کے گھرمیں ایک بیٹا پیدا ہوگا اور اُس کے بدن پر کئی پھوڑے ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور وہ بیٹاپیدا ہوا۔ اور اُس کے بدن پر پھوڑے تھے۔مولوی صاحب موصوف اس جلسہ میں موجود ہوں گے اُن سے ہر ایک شخص حلفًا دریافت کر سکتا ہے کہ یہ بات سچ ہے یا نہیں۔ پھر سردار محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم نام بیمار ہوا اور آثار نا امیدی ظاہر ہوگئے اور مجھے الہام کے ذریعہ خدا نے خبر دی کہ تیری شفاعت سے یہ لڑکا اچھا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے ایک شفیق ناصح کے رنگ میں اس کے لئے بہت دُعا کی اور وہ لڑکا اچھا ہوگیا۔ گویا مردہ زندہ ہوا۔پھر ایسا ہی اُن کا دوسرا لڑکا عبداللہ خاں بیمار ہوا۔ وہ بھی خوفناک بیماری میں پڑ کر موت تک پہنچ گیا۔ اُس کی شفا کی نسبت بھی مجھے خبر دی گئی اور وہ بھی میری دُعا سے اچھا ہوگیا۔

    اِسیؔ طرح اور بہت سے نشان ہیں اگر وہ سب لکھے جائیں تو ممکن نہیں کہ وہ مضمون دس دن بھی ختم ہو سکے۔ ان نشانوں کے گواہ ایک دو نہیں بلکہ کئی لاکھ انسان گواہ ہے یعنی میں نے اُن نشانوں میں سے ڈیڑھ سو نشان اپنی کتاب نزول المسیح نام میں درج کیا ہے جو عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ وہ تمام نشان کئی قسم کے ہیں۔ بعض آسمان میں ظاہر ہوئے بعض زمین میں بعض دوستوں کے متعلق ہیں بعض دشمنوں کے متعلق جوپورے ہوچکے۔ بعض میری ذات کے متعلق ہیں بعض میری اولاد کے متعلق اور بعض ایسے نشان بھی ہیں کہ وہ محض کسی دشمن کے ذریعہ سے بغیر دخل میری ذات کے ظہور میں آگئے ہیں۔ جیسا کہ مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری نے اپنی کتاب فتح رحمان میں اپنے طور پر میرے ساتھ مباہلہ کیا اور یہ دُعا کی کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اس کو ہلاک کردے۔ چنانچہ اس دُعا کے بعد صرف چند دن گزرنے پائے تھے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 194

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 194

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/194/mode/1up


    کہ مولوی صاحب مذکور آپ فوت ہوگئے اور اپنی موت سے میرے سچا ہونے کی گواہی دے گئے اور ہزارہا ایسے لوگ ہیں کہ محض خوابوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے میرا سچا ہونا اُن پر ظاہر کر دیا غرض یہ نشان اس قدر کھلے کھلے ہیں کہ اگر ان کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو انسان کو بجز ماننے کے بن نہیں پڑتا۔ اِس زمانہ کے بعض مخالف یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر قرآن شریف سے یہ ثبوت ملے تو ہم مان لیں گے۔ مَیں اُن کے جواب میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں میرے مسیح ہونے کے بارے میں کافی ثبوت ہے۔جیسا کہ مَیں کسی قدر لکھ بھی چکاہوں۔

    ماسوا اس کے اس شرط کو پیش کرنا بھی صریح زبردستی اور حکومت ہے۔ کسی شخص کے سچا ماننے کے لئے یہ ضروری نہیں تاکہ اس کی کھلی کھلی خبر کسی آسمانی کتاب میں موجود بھی ہے اگریہ شرط ضروری ہے تو کسی نبی کی نبوت ثابت نہیں ہوگی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کے دعویٰ نبوت پر سب سے پہلے زمانہ کی ضرورت دیکھی جاتی ہےؔ ۔ پھریہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں۔ پھر یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ خدا نے اُس کی تائید کی ہے یا نہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمنوں نے جو اعتراض اُٹھائے ہیں اُن اعتراضات کا پورا پورا جواب دیا گیا یا نہیں۔ جب یہ تمام باتیں پوری ہو جائیں تو مان لیا جائے گا کہ وہ انسان سچا ہے ورنہ نہیں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ زمانہ اپنی زبان حال سے فریاد کررہا ہے کہ اِس وقت اسلامی تفرقہ کے دُور کرنے کے لئے اور بیرونی حملوں سے اسلام کو بچانے کے لئے اور دنیا میں گم شدہ روحانیت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے بلاشبہ ایک آسمانی مصلح کی ضرورت ہے جودوبارہ یقین بخش کر ایمان کی جڑھوں کوپانی دیوے۔ اور اس طرح پر بدی اور گناہ سے چھڑا کر نیکی اور راستی کی طرف رجوع دیوے۔ سو عین ضرورت کے وقت میں میرا آنا ایسا ظاہر ہے کہ مَیں خیال نہیں کرسکتا کہ بجز سخت متعصب کے کوئی اس سے انکار کر سکے۔ اور دوسری شرط یعنی یہ دیکھنا کہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں۔ یہ شرط بھی میرے آنے پر پوری ہوگئی ہے کیونکہ نبیوں نے یہ پیشگوئی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 195

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 195

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/195/mode/1up


    کی تھی کہ جب چھٹا ہزار ختم ہونے کو ہوگا تب وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ سو قمری حساب کے رُو سے چھٹا ہزار جو حضرت آدم کے ظہور کے وقت سے لیا جاتا ہے مدت ہوئی جو ختم ہو چکا ہے اور شمسی حساب کے رُو سے چھٹا ہزار ختم ہونے کوہے۔ ماسوا اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدّد آئے گا جو دین کو تازہ کرے گا اور اب اِس چودھویں صدی میں سے اکیس سال گزر ہی چکے ہیں اور بائیسو۲۲اں گزر رہا ہے۔ اب کیا یہ اس بات کا نشان نہیں کہ وہ مجدد آگیا۔ اور تیسری شرط یہ تھی کہ کیا خدا نے اس کی تائید بھی کی ہے یا نہیں۔ سو اس شرط کا مجھ میں پایا جانا بھی ظاہر ہے۔ کیونکہ اس ملک کی ہر ایک قوم کے بعض دشمنوں نے مجھے نابود کرنا چاہا اور ناخنوں تک زور لگایا اور بہت کوششیں کیں لیکن وہ اپنی تمام کوششوں میں نامراد رہے۔ کسی قوم کو یہ فخر نصیب نہ ہوا کہ وہ کہہ سکے کہ ہم میں سے کسی نے اس شخص کے تباہ کرنے کے لئے کسیؔ قسم کی کوششیں نہیں کیں اور ان کی کوششوں کے برخلاف خدا نے مجھے عزّت دی اور ہزارہا لوگوں کو میرے تابع کر دیا۔ پس اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تواور کیا تھا۔ کس کو معلوم نہیں کہ سب قوموں نے اپنے اپنے طور پر زور لگائے کہ تا مجھے نابود کردیں مگر مَیں اُن کی کوششوں سے نابود نہ ہو سکا بلکہ میں دن بدن بڑھتا گیا یہاں تک کہ دو لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہوگئی پس اگر خدا کا ایک پوشیدہ ہاتھ میرے ساتھ نہ ہوتا اور اگر میرا کاروبار محض انسانی منصوبہ ہوتا تو اِن مختلف تیروں میں سے کسی تیر کا مَیں ضرور نشانہ بن جاتا اور کبھی کا تباہ ہوا ہوتا۔ اور آج میری قبر کا بھی نشان نہ ہوتا۔ کیونکہ جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے اُس کے مارنے کے لئے کئی راہیں نکل آتی ہیں۔ وجہ یہ کہ خدا خود اس کا دشمن ہوتا ہے۔ مگر خدا نے ان لوگوں کے تمام منصوبوں سے مجھے بچا لیا جیسا کہ اُس نے چوبیس۲۴ برس پہلے خبر دی تھی۔ ماسوا اس کے یہ کیسی کھلی کھلی تائید ہے کہ خدا نے میری تنہائی اور گمنامی کے زمانہ میں کھلے لفظوں میں براہین احمدیہ میں مجھے خبر دیدی کہ مَیں تجھے مدد دوں گا اور ایک کثیر جماعت تیرے ساتھ کردوں گا۔ اور



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 196

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 196

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/196/mode/1up


    مزاحمت کرنے والوں کو نامراد رکھوں گا۔ پس ایک صاف دل لے کر سوچو کہ یہ کس قدر نمایاں تائید ہے اور کیسا کھلا کھلا نشان ہے۔ کیا آسمان کے نیچے ایسی قدرت کسی انسان کو ہے یا کسی شیطان کو کہ ایک گمنامی کے وقت میں ایسی خبر دے اور وہ پوری ہو جاوے اور ہزاروں دشمن اُٹھیں مگر کوئی اس خبر کو روک نہ سکے۔ پھر چوتھی یہ شرط تھی کہ مخالفوں نے جو اعتراض اُٹھائے اُن اعتراضات کا پورا پورا جواب دیا گیا یا نہیں۔ یہ شرط بھی صفائی سے طے ہو چکی کیونکہ مخالفوں کا ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں وہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے پس ان کو جواب دیا گیا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حضرت عیسٰی فوت ہوچکے ہیں اور پھر دوبارہ دنیا میں ہرگز نہیں آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کی زبان سے فرماتا ہے3 ۱؂۔ پہلی آیتوں کو ساتھ ملا کر ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قیامت کو حضرت عیسٰی سے پوچھے گا کہ کیا تونے ہی یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور ہماری پرستش کرنا۔ اور وہ جواب دیں گے کہ اے میرے خدا! اگر مَیں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تو عالم الغیب ہے۔ میں نے تو وہی باتیں اُن کو کہیں جو تُونے مجھے فرمائیں یعنی یہ کہ خدا کو وحدہٗ لاشریک اور مجھے اس کا رسول مانو۔ میں اُس وقت تک اُن کے حالات کا علم رکھتا تھا جب تک کہ مَیں اُن میں تھا۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دیدی تو تُو اُن پر گواہؔ تھا۔ مجھے کیا خبر ہے کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا۔ اب ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ جواب دیں گے کہ جب تک مَیں زندہ تھا عیسائی لوگ بگڑے نہیں تھے اور جب مَیں مر گیا تو مجھے خبر نہیں کہ ان کا کیا حال ہوا۔ پس اگر مان لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک بگڑے نہیں اور سچے مذہب پر قائم ہیں۔ پھر ماسوا اس کے اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی وفات کے بعد اپنی بیخبری ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے میرے خدا! جب تُونے مجھے وفات دیدی اُس وقت سے مجھے اپنی امت کا کچھ حال معلوم نہیں۔ پس اگر یہ بات صحیح مانی جائے کہ وہ قیامت سے پہلے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 197

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 197

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/197/mode/1up


    دنیا میں آئیں گے اور مہدی کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائیاں کریں گے۔ تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی یہ آیت غلط ٹھہرتی ہے۔ اور یا یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے۔ اور اس بات کو چھپائیں گے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہے تھے اور مہدی کے ساتھ مل کر عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں۔ پس اگر کوئی قرآن شریف پر ایمان لانے والا ہوتو فقط اس ایک ہی آیت سے تمام وہ منصوبہ باطل ثابت ہوتا ہے جس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مہدی خونی پیدا ہوگا۔ اور عیسیٰ اس کی مدد کے لئے آسمان سے آئے گا۔ بلاشبہ وہ شخص قرآن شریف کو چھوڑتا ہے جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے۔ پھر جب ہمارے مخالف ہر ایک بات میں مغلوب ہو جاتے ہیں تو آخرکار یہ کہتے ہیں کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ جیسے کہ آتھم کی پیشگوئی۔ مَیں کہتا ہوں کہ اب آتھم کہاں ہے؟ اس پیشگوئی کا تو ماحصل یہ تھا کہ جو شخص جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہی وفات پا جائے گا۔ سو آتھم وفات پاگیا۔ اور مَیں اب تک زندہ ہوں۔ اور وہ پیشگوئی شرطی تھی۔ یعنی میعاد اس کی شرط سے وابستہ تھی۔ پس جس حالت میں آتھم پیشگوئی کو سن کر ڈرتا رہا تو اُس نے اس شرط کو پورا کر دیا۔ اس لئے چند مہینہ اور مہلت اس کو دی گئی۔ افسوس کہ ایسے اعتراض کرنے والے اس بات کو نہیں سوچتے کہ جو یونس نبی نے پیشگوئی کی تھی اس ؔ کے ساتھ تو کوئی شرط نہ تھی۔ جیسا کہ یونہ نبی کی کتاب میں لکھا ہے۔ تا ہم وہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ اصل بات یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں یعنی وہ پیشگوئیاں جن میں کسی پر عذاب نازل ہونے کا وعدہ ہو۔ وہ خدا کے نزدیک ہمیشہ توبہ کی شرط سے یا صدقہ خیرات کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں یا خوف کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں اور توبہ اور استغفار اور صدقہ خیرات اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے کے ساتھ ان پیشگوئیوں میں تاخیر ہو سکتی ہے یا بالکل ٹل سکتی ہیں۔ ورنہ یونس نبی نبی نہیں ٹھہرتا کیونکہ اُس کی قطعی پیشگوئی خطا گئی۔ خدا کے عذاب کے ارادے جو کسی مجرم کی نسبت ہوتے ہیں صدقات خیرات دُعا سے بھی ٹل سکتے ہیں۔ اور مجرّد خوف سے بھی ٹل سکتے ہیں۔ پس جو پیشگوئی عذاب پر



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 198

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 198

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/198/mode/1up


    مشتمل ہو اُس کا ماحصل صرف اِس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ نے کسی شخص کی نسبت عذاب دینے کا ارادہ فرمایا ہے جس ارادہ کو کسی نبی پر اُس نے ظاہر بھی کر دیا ہے۔ پس کیا وجہ کہ وہ ارادہ اُس حالت میں تو صدقہ خیرات اور دُعا سے ٹل سکتا ہے کہ جب کسی نبی پر ظاہر نہ کیا گیا لیکن جب ظاہر کیا گیا ہو تو پھر ٹل نہیں سکتا۔ یہ خیال سراسر بیوقوفی ہے۔ اور اس میں تمام انبیاء کی مخالفت ہے ماسوا اس کے بعض پیشگوئیاں مجمل بھی ہوتی ہیں۔ اور بعض متشابہ ہوتی ہیں جو بعد میں اُن کی حقیقت کھلتی ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ بعض وقت کسی پیشگوئی کے معنے کرنے میں ایک نبی کا اجتہاد بھی خطا ہو سکتا ہے جس سے کچھ ضرر نہیں۔ نبی کے ساتھ بھی بشریت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بار۱۲ہ حواری بہشت میں بارہ تختوں پر بیٹھیں گے۔ مگر یہ بات صحیح نہ ہوئی۔ بلکہ ایک حواری مرتد ہو کر جہنم کے لائق ہوگیا۔ اور آپ نے فرمایا تھاکہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے کہ مَیں دوبارہ آجاؤں گا۔ یہ بات بھی صحیح نہ نکلی اور کئی اَور پیشگوئیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باعث اجتہادی غلطی کے پوری نہیں ہو سکیں۔ غرض یہ اجتہادی غلطیاں تھیں۔ اور میری پیشگوئیوں کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی صبر اور صدق سے سُننے والا ہوتو ایک لاکھ سے بھی زیادہ پیشگوئیاں اور نشان میری تائید میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ پس سخت کمینگی ہے کہ ہزاروں پیشگوئیوں سے جو پوری ہو چکیں کچھ فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اگر ایک سمجھ نہ آسکے تو اُس کو نشانہ اعتراض کا بنادیا جائے اور شور ڈال دیا جائے اور اِسی پر تمام فیصلہ کر دیا جائے۔ میں اُمید رکھتا ہوں اور یقین کامل سے کہتاہوں کہ اگر کوئی شخص چالیس۴۰ روز بھی میرے پاس رہے تو کوئی نشان دیکھ لے گا۔ اب میں ختم کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اس قدر طالب حق کے لئے بس ہے۔ وَالسَّلامُ عَلٰی من اتّبع الھُدٰی۔

    الراقم میرزا غلام احمد قادیانی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 199

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 199

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/199/mode/1up


    حاشیہؔ

    مجھ سے ایک صاحب حکیم مرزا محمود ایرانی نام نے آج ۲؍ستمبر ۱۹۰۲ء ؁ کو بذریعہ ایک خط کے دریافت کیا ہے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں۔ 3۱؂۔پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے۔ لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کومشخص کرتی ہے۔ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرن عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں۔ اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہوگا اُس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دو صدیوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ میرا وجود اسی طرح پر ہے۔ میرے وجود نے مشہور و معروف صدیوں میں خواہ ہجری ہیں خواہ مسیحی خواہ بکرماجیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دو صدیوں پرمشتمل ہے صرف کسی ایک صدی تک میری پیدائش اور ظہور ختم نہیں ہوئے۔ غرض جہاں تک مجھے علم ہے میری پیدائش اور میرا ظہور ہر ایک مذہب کی صدی میں صرف ایک صدی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دو صدیوں میں اپنا قدم رکھتا ہے۔ پس ان معنوں سے مَیں ذوالقرنین ہوں۔ چنانچہ بعض احادیث میں بھی مسیح موعود کا نام ذوالقرنین آیا ہے۔ اُن حدیثوں میں بھی ذوالقرنین کے یہی معنے ہیں۔ جو مَیں نے بیان کئے ہیں۔ اب باقی آیت کے معنے پیشگوئی کے لحاظ سے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قومیں بڑی ہیں جن کو مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے۔ اور مسیحی دعوت کیلئے پہلے انہیں کا حق ٹھہرایا گیا ہے۔ سو خدا تعالیٰ ایک استعارے کے رنگ میں اس جگہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے اپنی سیر میں دو قوموں کو پائے گا۔ ایک قوم کو دیکھے گا کہ وہ تاریکی میں ایک ایسے بدبو دار چشمے پر بیٹھی ہے کہ جس کا پانی پینے کے لائق نہیں اور اس میں سخت بدبو دار کیچڑ ہے اور اس قدر ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہہ سکتے۔ یہ عیسائی قوم ہے جو تاریکی میں ہے جنہوں نے مسیحی چشمہ کو اپنی غلطیوں سے بدبو دار کیچڑ میں ملا دیا ہے۔ دوسری سیر میں مسیح موعود نے جو ذوالقرنین ہے ان لوگوں کو دیکھا جو آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور آفتاب کی دھوپ اور اُن میں کوئی اوٹ نہیں۔ اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ اس سے بدن اُن کے جل رہے ہیں اور اوپر کی جلد سیاہ ہوگئی ہے۔ اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجز جلنےؔ کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا۔ یعنی اُن کو توحید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی۔ یعنی دینداری کی سچی خوبصورتی اور سچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصّب اور کینہ اور اشتعالِ طبع اور درندگی کے چلن ان کے حصہ میں آگئے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 200

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- لیکچر لاہور: صفحہ 200

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/200/mode/1up


    اِس پیرایہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور اُن کے حصّہ میں صرف ایک بدبو دار کیچڑ ہوگا۔ جس کو عربی میں حمأ کہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے ہاتھ صرف خشک توحید ہوگی جو تعصّب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے۔ اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہوگی۔ اور پھر مسیح جو ذوالقرنین ہے ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہوگی اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور اُن کی طبیعتیں سعادتمند ہوں گی۔ اور وہ ذوالقرنین سے جو مسیح موعود ہے مدد طلب کریں گے تا یاجوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور تاوہ اُن کے لئے سدِّ روشن بنادے گا۔ یعنی ایسے پختہ دلائل اسلام کی تائید میں ان کو تعلیم دے گا۔ یاجوج ماجوج کے حملوں کو قطعی طور پر روک دے گا۔ اور اُن کے آنسو پونچھے گا۔ اور ہر ایک طور سے ان کی مدد کرے گا۔ اور اُن کے ساتھ ہوگا۔ یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قبول کرتے ہیں۔ یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ اور اس میں صریح طور پرمیرے ظہور اور میرے وقت اور میری جماعت کی خبردی گئی ہے۔ پس مبارک وہ جو ان پیشگوئیوں کو غور سے پڑھے۔ قرآن شریف کی یہ سنّت ہے کہ اس قسم کی پیشگوئیاں بھی کیا کرتا ہے کہ ذکر کسی اَور کا ہوتا ہے اور اصل منشاء آئندہ زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورۃ یوسف میں بھی اِسی قسم کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ یعنی بظاہر تو ایک قصّہ بیان کیا گیا ہے مگر اس میں یہ مخفی پیشگوئی ہے کہ جس طرح یوسف کو اوّل بھائیوں نے حقارت کی نظر سے دیکھا مگر آخر وہی یوسف اُن کا سردار بنایا گیا۔ اس جگہ بھی قریش کے لئے ایسا ہی ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ردّ کر کے مکّہ سے نکال دیا۔ مگر وہی جو ردّ کیا گیا تھا ان کا پیشوا اور سردار بنایا گیا۔

    بڑا تعجب کا مقام ہے کہ اس قدر بار بار مسیح موعود یعنی اس عاجز کی نسبت قرآن شریف میں پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں مگر پھر بعض ایسے لوگ جو اپنے اندر بصیرت کی رُوح نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ لوگ اُن عیسائیوں کی طرح ہیں جو اب تک کہتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بائیبل میں کوئی پیشگوئی نہیں۔

    چشم باز و گوش باز و ایں ذکا

    خیرہ ام از چشم بندئ خدا

    ایں کمان از تیرہاُ پر ساختہ

    صید نزدیک است دور انداختہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں