1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 20 ۔ الوصیۃ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 4, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 299

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 299

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 300

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 300

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 301

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 301

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔ امّابعد چونکہ خدائے عزّوجلّ نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات نزدیک ہے اور اس بارے میں اُس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا۔ اور اِس زندگی کو میرے پر سرد کر دیااس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے دوستوں اور اُن تمام لوگوں کے لئے جو میرے کلام سے فائدہ اُٹھانا چاہیں چند نصائح لکھوں۔ سو پہلے میں اُس مقدس وحی سے اطلاع دیتا ہوں جس نے مجھے میری موت کی خبر دے کر میرے لئے یہ تحریک پیدا کی اور وہ یہ ہے جو عربی زبان میں ہوئی اور بعد میں اُردو کی وحی بھی لکھی جائے گی۔قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔ قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ شَیْءًا۔ وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَونَتَوَفَّیَنَّکَ۔ تَمُوْتُ وَ اَنَا رَاضٍ مِّنْکَ۔ جَاءَ وَقْتُکَ وَنُبْقِیْ لَکَ الْاٰیَاتِ بَاھِرَاتٍ۔ جَاءَ وَقْتُکَ وَنُبْقِیْ لَکَ الْاٰیَاتِ بَیِّنَاتٍ۔ قَرُبَ مَا تُوْعَدُوْنَ۔ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔ اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ۔ (ترجمہ) تیری اجل قریب آگئی ہے اور ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے جن کا ذکر تیری رسوائی کا موجب ہو۔ تیری نسبت خدا کی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 302

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 302

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    میعاد مقررہ تھوڑی رہ گئی ہے اور ہم ایسے تمام اعتراض دور اور دفع کر دیں گے اور کچھ بھی ان میں سے باقی نہیں رکھیں گے جن کے بیان سے تیری رسوائی مطلوب ہو۔ اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ مخالفوں کی نسبت ہماری پیشگوئیاں ہیں ان میں سے تجھے کچھ دکھا وؔ یں یا تجھے وفات دے دیں تو اس حالت میں فوت ہوگا جو میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ اور ہم کھلے کھلے نشان تیری تصدیق کے لئے ہمیشہ موجود رکھیں گے جو وعدہ کیا گیا وہ قریب ہے اپنے ربّ کی نعمت کا جو تیرے پر ہوئی لوگوں کے پاس بیان کر۔جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو خدا ایسے نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

    اس جگہ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم تیری نسبت ایسے ذکر باقی نہیں چھوڑیں گے جو تیری رسوائی اور ہتک عزت کا موجب ہوں اس فقرہ کے دو معنے ہیں (۱) اوّل یہ کہ ایسے اعتراضات کو جو رسوا کرنے کی نیت سے شائع کئے جاتے ہیں ہم دور کر دیں گے اور اُن اعتراضات کا نام و نشان نہ رہے گا (۲)دوسرے یہ کہ ایسے شکایت کرنے والوں کو جو اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑتے اور بدذکر سے باز نہیں آتے دُنیا سے اُٹھا لیں گے اور صفحۂ ہستی سے معدوم کر دیں گے تب اُن کے نابود ہونے کی وجہ سے اُن کے بیہودہ اعتراض بھی نابود ہو جائیں گے۔ پھر بعد اِس کے خدا تعالیٰ نے میری وفات کی نسبت اُردو زبان میں مندرجہ ذیل کلام کے ساتھ مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔

    ’’ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اُس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا۔ بعد اِس کے تمہارا واقعہ ہوگا تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا‘‘۔

    حوادث کے بارے میں جو مجھے علم دیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ ہر ایک طرف دنیا میں موت اپنا دامن پھیلائے گی اور زلزلے آئیں گے اور شدّت سے آئیں گے اور قیامت کا نمونہ ہوں گے اور زمین کو تہ و بالا کر دیں گے اور بہتوں کی زندگی تلخ ہو جائے گی۔ پھر وہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 303

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 303

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    جو توبہ کریں گے اور گناہوں سے دستکش ہو جائیں گے خدا اُن پر رحم کرے گا۔ جیسا کہ ہر ایک نبی نے اس زمانہ کی خبر دی تھی ضرور ہے کہ وہ سب کچھ واقع ہو۔ لیکن وہ جو اپنے دلوں کو درست کر لیں گے اور اُن راہوں کو اختیار کریں گے جو خدا کو پسند ہیں اُن کو کچھ خوف نہیں اور نہ کچھ غم۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تُو میری طرف سے نذیر ہے میں نے تجھے بھیجا تا مجرم نیکوکاروں سے الگ کئے جائیں اور فرمایا کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اورؔ بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا *۔ میں تجھے اس قدر برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

    اور آئندہ زلزلہ کی نسبت جو ایک سخت زلزلہ ہوگا مجھے خبر دی۔۔۔ اور فرمایا:

    ’’ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ ‘‘

    اس لئے ایک شدید زلزلہ کا آنا ضروری ہے۔ لیکن راستباز اس سے امن میں ہیں۔ سو راستباز بنو! اور تقویٰ اختیار کرو! تا بچ جاؤ۔ آج خدا سے ڈرو تا اُس دن کے ڈر سے امن میں رہو۔ ضرور ہے کہ آسمان کچھ دکھاوے اور زمین کچھ ظاہر کرے۔ لیکن خدا سے ڈرنے والے بچائے جائیں گے۔

    خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اُتریں گی کچھ تو اُن میں سے میری زندگی میں ظہور میں آ جائیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی


    اگر دنیا کی آنکھ کھلتی تو وہ دیکھتے کہ میں صدی کے سرپر ظاہر ہوا۔ اور چہارم حصہ کے قریب اب تک چودھویں صدی بھی گذر گئی اور احادیث کے مطابق عین میرے دعویٰ کے وقت رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن اور سورج گرہن بھی ہوا اور طاعون بھی ملک میں ظاہر ہوئی اور زلزلے بھی آئے اور آئیں گے مگر افسوس اُن پر جنہوں نے دنیا سے پیار کیا انہوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 304

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 304

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اور وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد۔

    یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۱؂ اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبیؔ کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 305

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 305

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا 33۱؂۔ یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسٰیؑ مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اِس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل میں اُن کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بیوقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسٰیؑ کی ناگہانی جدائی سے چالیس۴۰ دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہوگئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔

    سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سُنّت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو۲ قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو۲ جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت ؔ کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے

    بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ مَیں اِس جماعت کو جو تیرے پَیرو ہیں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 306

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 306

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایا اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہرہوں گے سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعامیں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔ اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آ جائے گی۔

    اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں* خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں


    ایسے لوگوں کا انتخاب مومنوں کے اتفاق رائے پر ہوگا۔ پس جس شخص کی نسبت چالیس۴۰ مومن اتفاق کریں گے کہ وہ اس بات کے لائق ہے کہ میرے نام پر لوگوں سے بیعت لے وہ بیعت لینے کا مجاز ہوگا اور چاہئے کہ وہ اپنے تئیں دوسروں کے لئے نمونہ بناوے۔ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذرّیت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اُس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے سو اُن دنوں کے منتظر رہو اور تمہیں یاد رہے کہ ہر ایک کی شناخت اُس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل از وقت ممکن ہے کہ وہ معمولی انسان دکھائی دے یا بعض دھوکہ دینے والے خیالات کی وجہ سے قابل اعتراض ٹھہرے جیسا کہ قبل از وقت ایک کامل انسان بننے والا بھی پیٹ میں صرف ایک نطفہ یا علقہ ہوتا ہے۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 307

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 307

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیاء اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔ اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔

    اورؔ چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے روح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی اور نفسانی جذبات کو بکلّی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اُس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔ دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔ درد جس سے خدا راضی ہو اُس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے۔ اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اُس فتح سے بہتر ہے جو موجب غضب الٰہی ہو۔ اُس محبت کو چھوڑ دو جو خدا کے غضب کے قریب کرے۔ اگر تم صاف دل ہو کر اُس کی طرف آ جاؤ تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مدد کرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ خدا کی رضا کو تم کسی طرح پا ہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر اپنی لذات چھوڑ کر اپنی عزت چھوڑ کر اپنا مال چھوڑ کر اپنی جان چھوڑ کر اُس کی راہ میں وہ تلخی نہ اُٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔ لیکن اگر تم تلخی اُٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آ جاؤ گے اور تم اُن راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔ لیکن تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے۔ وہی پانی جس سے تقویٰ پرورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔ تقویٰ ایک ایسی جڑھ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ ہیچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن قدم صدق نہیں رکھتا۔ دیکھو میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 308

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 308

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    آدمی ہلاک شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیاکی ملونی رکھتا ہے اور اُس نفس سے جہنم بہت قریب ہے جس کے تمام ارادے خدا کے لئے نہیں ہیں بلکہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے۔ پس اگر تم دنیا کی ایک ذرّہ بھی ملونی اپنے اغراض میں رکھتے ہو تو تمہاری تمام عبادتیں عبث ہیں۔ اس صورت میں تم خدا کی پیروی نہیں کرتے بلکہ شیطان کی پیروی کرتے ہو۔ تم ہرگز توقع نہ کرو کہ ایسی حالت میں خدا تمہاری مدد کرے گا۔بلکہؔ تم اس حالت میں زمین کے کیڑے ہو اور تھوڑے ہی دنوں تک تم اس طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح کہ کیڑے ہلاک ہوتے ہیں اور تم میں خدا نہیں ہوگا۔۔۔ بلکہ تمہیں ہلاک کر کے خدا خوش ہوگا لیکن اگر تم اپنے نفس سے درحقیقت مر جاؤ گے تب تم خدا میں ظاہرہو جاؤ گے اور خداتمہارے ساتھ ہوگا اور وہ گھر بابرکت ہوگا جس میں تم رہتے ہوگے اور اُن دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی جو تمہارے گھر کی دیواریں ہیں۔ اور وہ شہر بابرکت ہوگا جہاں ایسا آدمی رہتا ہوگا۔ اگر تمہاری زندگی اور تمہاری موت اور تمہاری ہر ایک حرکت اور تمہاری نرمی اور گرمی محض خدا کے لئے ہو جائے گی اور ہر ایک تلخی اور مصیبت کے وقت تم خدا کا امتحان نہیں کرو گے اور تعلق کو نہیں توڑوگے بلکہ آگے قدم بڑھاؤ گے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک خاص قوم ہو جاؤ گے۔ تم بھی انسان ہو جیسا کہ میں انسان ہوں اور وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے۔ پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔ اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اُس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔ کینہ وری سے پرہیز کرو اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو نہ معلوم کس راہ سے تم قبول کئے جاؤ۔

    تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اُس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں وہ لوگ جو پورے زور سے اس



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 309

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 309

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں اُن کے لئے موقع ہے کہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٰ بیعتؔ میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اُس کو جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اُس کے لئے اچھا تھا۔ مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے اُن پر کھولے جائیں گے۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اُس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔

    اے سننے والو سنو!! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔ یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ بلکہ وہ سنتا ہے اور بولتا بھی ہے، اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔ وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 310

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 310

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے۔ اور دُور ہے باوجود نزدیک ہونے کے۔ وہ تمثّل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اُس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اُس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔ اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام محامد ّ حقہ کا اور سرچشمہ ہے تمامؔ خوبیوں کا۔ اور جامع ہے تمام طاقتوں کا۔ اور مبدء ہے تمام فیضوں کا۔ اور مرجع ہے ہر ایک شَے کا۔ اور مالک ہے ہر ایک ُ ملک کا۔ اور ّ متصف ہے ہر ایک کمال سے۔ اور ُ منزّہ ہے ہر ایک عیب اور ضعف سے۔ اور مخصوص ہے اِس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اُسی کی عبادت کریں اور اُس کے آگے کوئی بات بھی اَنْ ہونی نہیں اور تمام روح اور اُن کی طاقتیں اور تمام ذرّات اور اُن کی طاقتیں اُسی کی پیدائش ہیں۔ اُس کے بغیر کوئی چیز ظاہر نہیں ہوتی۔ وہ اپنی طاقتوں اور اپنی قدرتوں اور اپنے نشانوں سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور اُس کو اسی کے ذریعہ سے ہم پا سکتے ہیں اور وہ راستبازوں پر ہمیشہ اپنا وجود ظاہر کرتا رہتاہے اور اپنی قدرتیں اُن کو دکھلاتا ہے اِسی سے وہ شناخت کیا جاتا اور اِسی سے اُس کی پسندیدہ راہ شناخت کی جاتی ہے۔

    وہ دیکھتا ہے بغیر جسمانی آنکھوں کے۔ اور سنتا ہے بغیر جسمانی کانوں کے۔ اور بولتا ہے بغیر جسمانی زبان کے۔ اسی طرح نیستی سے ہستی کرنا اُس کا کام ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ خواب کے نظارہ میں بغیر کسی مادہ کے ایک عالم پیدا کر دیتا ہے اور ہر ایک فانی اور معدوم کو موجود دکھلا دیتا ہے پس اسی طرح اس کی تمام قدرتیں ہیں۔ نادان ہے وہ جو اُس کی قدرتوں سے انکار کرے۔ اندھا ہے وہ جو اُس کی عمیق طاقتوں سے بے خبر ہے۔ وہ سب کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے بغیر اُن امور کے جو اُس کی شان کے مخالف ہیں یا اُس کے مواعید کے برخلاف ہیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 311

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 311

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں۔ اور اُس تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے اور تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گذر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدؐیہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اِس کے سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اِس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا کیونکہؔ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدؐیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اِس میں فیض ہے اِس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے مکالمہ مخاطبہ کا اُس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اِس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدؐیہ کی اس میں ہتک ہے ہاں اُمّتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اُس پر صادق آ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدؐیہ کی ہتک نہیں بلکہ اُس نبوت کی چمک اِس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے* اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیّت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔ اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے


    باوجود اس کے یہ خوب یاد رکھنا چاہیے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطّل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 312

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 312

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/312/mode/1up


    پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ3۱؂ اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ3 3 3۲؂ اُن کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ اُمّت محمدؐیہ ناقص اور ناتمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔ اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ۵ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اُس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔ مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فرد اُمت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور اُمّتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کےؔ معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے ایسے طور پر کہ اُن کا وجود اپنا وجود نہ رہا۔ بلکہ اُن کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہوگیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ نبیوں کی طرح اُن کو نصیب ہوا۔

    پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود اُمتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا کیونکہ ایسی صورت کی نبوت نبوت محمدیہ سے الگ نہیں بلکہ اگر غور سے دیکھو تو خود وہ نبوت محمدؐیہ ہی ہے جو ایک پیرایۂ جدید میں جلوہ گر ہوئی۔ یہی معنے اس فقرہ کے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے حق میں فرمایا کہ نَبِیُّ اللّٰہِ ۔ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی وہ نبی بھی ہے اور اُمّتی بھی ہے ورنہ غیر کو اس جگہ قدم رکھنے کی جگہ نہیں مبارک وہ جو اِس نکتہ کو سمجھے تا ہلاک ہونے سے بچ جائے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 313

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 313

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/313/mode/1up


    عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے وفات دے دی جیسا کہ خدا تعالیٰ کی صاف اور صریح آیت 3 ۱؂ اس پر شاہد ہے جس کے معنے آیات متعلقہ کے ساتھ یہ ہیں کہ خدا قیامت کو عیسیٰ سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی اپنی اُمت کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانو تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں ان میں تھا تو اُن پر شاہد تھا اور اُن کا نگہبان تھا اور جب تُو نے مجھے وفات دے دی تو پھر مجھے کیا علم تھا کہ میرے بعد وہ کس ضلالت میں مبتلا ہوئے۔ اب اگر کوئی چاہے تو آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کے یہ معنے کرے کہ جب تُو نے مجھے وفات دے دی۔ اور چاہے تو اپنی ناحق کی ضد سے باز نہ آ کر یہ معنے کرے کہ جب تُو نے مع جسمِ عنصری مجھے آسمان پر اُٹھا لیا۔ بہرحال اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ دُنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور صلیب توڑی ہوتی تو اس صورت میں ممکن نہیں کہ عیسیٰ جو خدا کا نبی تھا ایسا صریح جھوٹ خدا تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن بولے گا کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد میری اُمت نے یہ فاسد عقیدہ اختیار کیا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا قرار دے دیا۔ کیا وہ شخص جو دوبارہ دنیا میں آوے اور چالیس۴۰ برس دنیا میں رہے اورؔ عیسائیوں سے لڑائیاں کرے۔ وہ نبی کہلا کر ایسا مکروہ جھوٹ بول سکتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں پس جب کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ ؑ کو دوبارہ آنے سے روکتی ہے ورنہ وہ دروغ گو ٹھہرتے ہیں۔ تو اگر وہ مع جسم عنصری آسمان پر ہیں اور بموجب تصریح اس آیت کے قیامت کے دن تک زمین پر نہیں اُتریں گے تو کیا وہ آسمان پر ہی مریں گے اور آسمان میں ہی اُن کی قبر ہوگی لیکن آسمان پر مرنا آیت 3 ۲؂کے برخلاف ہے۔ پس اِس سے تو یہی ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر مع جسمِ عنصری نہیں گئے بلکہ مر کر گئے اور جس حالت میں کتاب اللہ نے کمال تصریح سے یہ فیصلہ کر دیا تو پھر کتاب اللہ کی



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 314

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 314

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/314/mode/1up


    مخالفت کرنا اگر معصیت نہیں تو اور کیا ہے۔

    اگر مَیں نہ آیا ہوتا تو محض اجتہادی غلطی قابل عفو تھی لیکن جب میں خدا کی طرف سے آ گیا اور صریح اور سچے معنے قرآن شریف کے کھل گئے تو پھر بھی غلطی کو نہ چھوڑنا ایمانداری کا شیوہ نہیں۔ میرے لئے خدا کے نشان آسمان پر بھی ظاہر ہوئے اور زمین پر بھی۔ اور صدی کا بھی قریباً چوتھا حصہ گذر گیا اور ہزار ہا نشان ظہور میں آ گئے اور دنیا کی عمر سے ساتواں ہزار شروع ہو گیا تو پھر اب بھی حق کو قبول نہ کرنا یہ کس قسم کی سخت دلی ہے دیکھو مَیں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ خدا کے نشان ابھی ختم نہیں ہوئے اُس پہلے زلزلہ کے نشان کے بعد جو ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء میں ظہور میں آیا جس کی ایک مدت پہلے خبر دی گئی تھی پھر خدا نے مجھے خبر دی کہ بہار کے زمانہ میں ایک اور سخت زلزلہ آنے والا ہے وہ بہار کے دن ہوں گے نہ معلوم کہ وہ ابتداء بہار کا ہوگا جب کہ درختوں میں ّ پتا نکلتا ہے یا درمیان اُس کا یا اخیر کے دن۔ جیسا کہ الفاظ وحی الٰہی یہ ہیں۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ چونکہ پہلا زلزلہ بھی بہار کے ایام میں تھا اس لئے خدا نے خبر دی کہ وہ دوسرا زلزلہ بھی بہار میں ہی آئے گا اور چونکہ آخر جنوری میں بعض درختوں کا پتّہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے اس لئے اِسی مہینہ سے خوف کے دن شروع ہوں گے اور غالباً مئی کے اخیر تک وہ دن رہیں گے۔*

    اور خدا نے فرمایا زَلْزَلَۃُ السَّاعَۃِ یعنی وہ زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا۔اورؔ پھر فرمایا

    لَکَ نُرِیْ اٰیٰتٍ وَّنَھْدِمُ مَایَعْمُرُوْنَظیعنی تیرے لئے ہم نشان دکھلائیں گے اور


    مجھے معلوم نہیں کہ بہار کے دنوں سے مراد یہی بہار کے دن ہیں جو اِس جاڑے کے گزرنے کے بعد آنے والے ہیں یا کسی اور وقت پر اس پیشگوئی کا ظہور موقوف ہے جو بہار کا وقت ہوگا بہرحال خدا تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہار کے دن ہوں گے خواہ کوئی بہار ہو مگر خدا ایک ایسے شخص کی طرح آئے گا جو رات کو پوشیدہ طور پر آتا ہے یہی خدا نے مجھے فرمایا ہے۔منہ

    ایک خدا کی وحی اِس بارے میں یہ بھی ہے۔ ’’تیرے لئے میرا نام چمکا‘‘۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 315

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 315

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/315/mode/1up


    جو عمارتیں بناتے جائیں گے ہم اُن کو گراتے جائیں گے۔ اور پھر فرمایا بھونچال آیا اور شدت سے آیا زمین تہ و بالا کر دی۔ یعنی ایک سخت زلزلہ آئے گا اور زمین کو یعنی زمین کے بعض حصوں کو زیر و زبر کر دے گا جیسا کہ لوط ؑ کے زمانہ میں ہوا۔ اور پھر فرمایا اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً یعنی مَیں پوشیدہ طور پر فوجوں کے ساتھ آؤں گا اُس دن کی کسی کو بھی خبر نہیں ہوگی جیسا کہ لوط ؑ کی بستی جب تک زیروزبر نہیں کی گئی کسی کو خبر نہ تھی اور سب کھاتے پیتے اور عیش کرتے تھے کہ ناگہانی طور پر زمین اُلٹائی گئی۔ پس خدا فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ گناہ حد سے بڑھ گیا اور انسان حد سے زیادہ دنیا سے پیار کر رہے ہیں اور خدا کی راہ تحقیر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور پھر فرمایا زندگیوں کا خاتمہ۔ اور پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا قَالَ رَبُّکَ اِنَّہٗ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَایُرْضِیْکَ رَحْمَۃً مِّنَّا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔ یعنی تیرا ربّ کہتا ہے کہ ایک امر آسمان سے اُترے گا جس سے تُو خوش ہو جائے گا یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے جو ابتدا سے مقدر تھی اور ضرور ہے کہ آسمان اُس امر کے نازل کرنے سے رُکا رہے جب تک کہ یہ پیشگوئی قوموں میں شائع ہو جائے۔ کون ہے جو ہماری باتوں پر ایمان لاوے بجز اُس کے کہ خوش قسمت ہو۔

    یاد رہے کہ یہ اعلان تشویش کے پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ آئندہ تشویش کی پیش بندی کے لئے ہے تا کوئی بے خبری میں ہلاک نہ ہو۔ ہر ایک امر نیّت سے وابستہ ہے پس ہماری نیّت دکھ دینے کی نہیں بلکہ دکھ سے بچانے کی نیّت ہے وہ لوگ جو توبہ کرتے ہیں خدا کے عذاب سے بچائے جائیں گے۔ مگر وہ بدقسمت جو توبہ نہیں کرتا اور ٹھٹھے کی مجلسوں کو نہیں چھوڑتا اور بدکاری اور گناہ سے باز نہیں آتا اُس کی ہلاکت کے دن نزدیک ہیں کیونکہ اُس کی شوخی خدا کی نظر میں قابلِ غضب ہے۔

    اِس جگہ ایک امر اور قابل تذکرہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ خدا نے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 316

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 316

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/316/mode/1up


    مجھےؔ میری وفات سے اطلاع دی ہے اور مجھے مخاطب کر کے میری زندگی کی نسبت فرمایا کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں ۔اور فرمایا کہ تمام حوادث اور عجائباتِ قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا پر کچھ حوادث پڑیں اور کچھ عجائبات قدرت ظاہر ہوں تا دنیا ایک انقلاب کے لئے طیّار ہوجائے اور اُس انقلاب کے بعد میری وفات ہو۔ اور مجھے ایک جگہ دکھلا دی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر اُس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔ پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اُس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے۔ اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اُس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ اُن برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔ تب سے ہمیشہ مجھے یہ فکر رہی کہ جماعت کے لئے ایک قطعہ زمین قبرستان کی غرض سے خریدا جائے۔ لیکن چونکہ موقعہ کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں اس لئے یہ غرض مدت دراز تک معرضِ التواء میں رہی۔ اب اخویم مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد جب کہ میری وفات کی نسبت بھی متواتر وحی الٰہی ہوئی۔ مَیں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے اس لئے میں نے اپنی ملکیّت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کیلئے تجویز کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنادے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لئے ہوگئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔ آمین یاربّ العالمین۔

    پھر مَیں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے اُنؔ پاک دلوں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 317

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 317

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/317/mode/1up


    کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہوچکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی اُن کے کاروبار میں نہیں۔ آمین یا ربّ العالمین۔

    پھر میں تیسری دفعہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر کریم اے خدائے غفور و رحیم تو صرف اُن لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی* اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور اطاعت کا ہے بجا لاتے ہیں


    بدظنیؔ ایک سخت بلا ہے جو ایمان کو ایسی جلدی جلا دیتی ہے جیسا کہ آتش سوزاں خس و خاشاک کو اور وہ جو خدا کے مرسلوں پر بدظنی کرتا ہے خدا اس کا خود دشمن ہو جاتا ہے اور اس کی جنگ کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اپنے برگزیدوں کے لئے اس قدر غیرت رکھتا ہے جو کسی میں اُس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ میرے پر جب طرح طرح کے حملے ہوئے تو وہی خداکی غیرت میرے لئے افروختہ ہوئی جیسا کہ اُس نے فرمایا۔ انی مع الرسول اقوم والوم من یلوم۔ واعطیک مایدوم۔ لک درجۃ فی السماء وفی الذین ھم یبصرون۔ ولک نری اٰیٰت ونھدم مایعمرون۔ وقالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا۔ قال انی اعلم مالا تعلمون۔ انی مھین من اراد اھانتک۔ لاتخف انی لایخاف لدی المرسلون۔ اتٰی امر اللّٰہ فلا تستعجلوہ بشارۃ تلقّا ھا النبیون۔ یا احمدی انت مرادی ومعی۔ انت منّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی وانت منّی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق وانت وجیہ فی حضرتی اخترتک لنفسی۔ اذا غضبت غضبت وکلما احببت احببت۔ ٰاثرک اللّٰہ علٰی کل شی ء الحمدللّٰہ الذی جعلک المسیح ابن مریم۔ لایسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ وکان وعدا مفعولا یعصمک اللّٰہ من العدا۔ ویسطو بکل من سطا۔ ذالک بماعصوا وکانوا یعتدون۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہٗ۔ یاجبال اوبی معہٗ والطیر۔ کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی۔ وھم من م بعدغلبھم سیغلبون۔ ان اللّٰہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔ ان الذین اٰمنوا انّ لھم قدم صدق عند ربّھم۔ سلام قولا من ربّ رحیم وامتا زوا الیوم ایّھا المجرمون۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 318

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 318

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/318/mode/1up


    اور تیرے لئے اور تیری راہ میں اپنے دلوں میں جان فدا کر چکے ہیں جن سے تُو راضی ہے اور جن کو تُو جانتا ہے کہ وہ بکلّی تیری محبت میں کھوئے گئے اور تیرے فرستادہ سے وفاداری اور پورے ادب اور انشراحی ایمان کے ساتھ محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھتے ہیں۔ اٰمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔

    اور چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلُّ رَحْمَۃٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اِس قبرستان میں اُتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اُس سے حصہ نہیں۔ اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اِس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے شرائط لگا دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہو سکیں جو اپنے صدق اور کامل راستبازی کی وجہ سے اُن شرائط کے پابند ہوں سو وہ تین۳ شرطیں ہیں۔ اور سب کو بجا لانا ہوگا۔

    (۱) اس قبرستان کی زمین موجودہ بطور چندہ کے میں نے اپنی طرف سے دی ہے لیکن اِس احاطہ کی تکمیل کیلئے کسی قدر اور زمین خریدی جائے گی جس کی قیمت اندازاً ہزار روپیہ ہوگی اور اس کے خوشنما کرنے کے لئے کچھ درخت لگائے جائیں گے اور ایک کنواں لگایا جائے گا اور اس قبرستان سے شمالی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گذر گاہ ہے اس لئے وہاں ایک پُل طیّار کیا جائے گا اور اِن متفرق مصارف کے لئے دو ہزار روپیہ درکار ہوگا سو کُل یہ تین ہزار روپیہؔ ہوا جو اِس تمام کام کی تکمیل کیلئے خرچ ہوگا۔ سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتاہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے اِن مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔ اور یہ چندہ محض اُنہیں لوگوں سے طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے۔ بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نور الدین صاحب کے پاس آنا چاہئے لیکن اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔ اس صورت میں ایک انجمن چاہئے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتاً فوقتاً جمع ہوتا رہے گا۔ اعلاء کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 319

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 319

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/319/mode/1up


    (۲) دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اِس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیّت کرے جو اُس کی موت کے بعد دسواں حصہ اُس کے تمام ترکہ کا حسب ہدائت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا۔ اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیّت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے۔ لیکن اس سے کم نہیں ہوگا۔ اور یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپرد رہے گی اور وہ باہمی مشورہ سے ترقی ءِ اسلام اور اشاعتِ علمِ قرآن و کتبِ دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے حسبِ ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گے۔ اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سلسلہ کو ترقی دے گا اس لئے اُمید کی جاتی ہے کہ اشاعتِ اسلام کے لئے ایسے مال بھی بہت اکٹھے ہو جائیں گے اور ہر ایک امر جو مصالح اشاعتِ اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام امور ان اموال سے انجام پذیر ہوں گے اور جب ایک گروہ جو متکفل اس کام کا ہے فوت ہو جائے گا تو وہ لوگ جو اُن کے جانشین ہوں گے اُن کا بھی یہی فرض ہوگا کہ اُن تمام خدمات کو حسبِ ہدایت سلسلہ احمدیہ بجا لاویں ان اموال میں سے اُن یتیموں اور مسکینوں اور نومسلموں کا بھی حق ہوگا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔ اور جائز ہوگا کہ اُن اموال کو بطور تجارؔ ت کے ترقی دی جائے۔یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دُور از قیاس باتیں ہیں۔ بلکہ یہ اُس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔ مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپرد ایسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔ سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اِس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں ہاں جائز ہوگا کہ جن کا کچھ گذارہ نہ ہو اُن کو بطورمدد خرچ اس میں سے دیا جائے۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 320

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 320

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/320/mode/1up


    (۳) تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو سچا اور صاف مسلمان ہو۔

    (۴) ہر ایک صالح جو اُس کی کوئی بھی جائداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔

    ھدایت

    (۱) ہر ایک صاحب جو حسب شرائط متذکرہ بالا کوئی وصیّت کرنا چاہیں تو ان کی وصیّت پر عملدرآمد اُن کی موت کے بعد ہوگا لیکن وصیّت کو لکھ کر اس سلسلہ کے امین مفوض الخدمت کو سپرد کر دینا لازمی امر ہوگا اور ایسا ہی چھاپ کر شائع کرنا بھی کیونکہ موت کے وقت اکثر وصایا کا لکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور چونکہ آسمانی نشانوں او ربلاؤں کے دن قریب ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے وقت میں وصیّت لکھنے والا بہت درجہ رکھتا ہے جو امن کی حالت میں وصیّت لکھتا ہے اور اِس وصیّت کے لکھنے میں جس کا مال دائمی مدد دینے والا ہوگا اُس کو دائمی ثواب ہوگا اور خیرات جاریہ کے حکم میں ہوگا۔

    (۲) ہر ایک صاحب جو کسی دوسری جگہ میں ہوں جو قادیاں سے دُور اس ملک کے کسی اورؔ حصہ میں ہوں اور وہ ان شرائط کے پابند ہوں جو درج ہو چکی ہیں تو اُن کے وارثوں کو چاہئے کہ ان کی موت کے بعد ایک صندوق میں ان کی میّت کو رکھ کر قادیان میں پہنچا ویں اور اگر اس قبرستان کی تکمیل سے پہلے یعنی پُل وغیرہ کی طیّاری سے پہلے کوئی صاحب فوت ہو جائیں جو حسب شرائط اس قبرستان میں دفن ہوں گے تو چاہئے کہ بطور امانت صندوق میں رکھ کر اپنی جگہ دفن کئے جائیں پھر تمام لوازم کی طیّاری کے بعد جو قبرستان کے متعلق ہیں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 321

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 321

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/321/mode/1up


    قادیان میں اُن کی میّت لائی جائے لیکن وہ صاحب جو بغیر صندوق کے دفن کئے جائیں اُن کا قبر میں سے نکالنا مناسب نہ ہوگا*۔

    واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ ایسے کامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں تا آئندہ کی نسلیں ایک ہی جگہ اُن کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں اور تا اُن کے کارنامے یعنی جو خدا کے لئے انہوں نے دینی کام کئے ہمیشہ کے لئے قوم پر ظاہر ہوں۔

    بالآخر ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کام میں ہر ایک مخلص کو مدد دے اور ایمانی جوش ان میں پیدا کرے اور اُن کا خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین

    مناسب ہے کہ ہر ایک صاحب ہماری جماعت میں سے جن کو یہ تحریر ملے وہ اپنے دوستوں میں اُس کو مشتہر کریں اور جہاں تک ممکن ہو اس کی اشاعت کریں اور اپنی آئندہ نسل کے لئے اس کو محفوظ رکھیں۔ اور مخالفوں کو بھی مہذب طریق پر اس سے اطلاع دیں اور ہر ایک بدگو کی بدگوئی پر صبر کریں اور دعا میں لگے رہیں۔

    وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

    الراقم خاکسار

    المفتقر الی اللّٰہ الصّمد غلام احمدؐ عافاہ اللّٰہ وایّد

    ۲۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء

    کوئی نادان اِس قبرستان اور اس انتظام کو بدعت میں داخل نہ سمجھے کیونکہ یہ انتظام حسب وحی الٰہی ہے انسان کا اس میں دخل نہیں۔ اور کوئی یہ خیال نہ کرے کہ صرف اس قبرستان میں داخل ہونے سے کوئی بہشتی کیونکر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ زمین کسی کو بہشتی کر دے گی بلکہ خدا کے کلام کا یہ مطلب ہے کہ صرف بہشتی ہی اس میں دفن کیا جائے گا۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 322

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 322

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/322/mode/1up


    الا ؔ اے کہ ہشیاری و پاک زاد

    پئے حرص دنیا مدہ دیں بباد

    بدیں دارِفانی دل خود مبند

    کہ دارد نہاں راحتش صد گزند

    اگر باز باشد ترا گوشِ ہوش

    زِگورت ندائے درآید بگوش

    کہ اے طعمۂِ من پس از چند روز

    پئے فکر دنیائے دوں کم بسوز

    ہراں کو بدنیائے دوں مبتلا است

    گرفتارِ رنج و عذاب و عنا است

    برست آنکہ برموت دارد نگاہ

    بریدہ زِ دنیا، دودیدہ براہ

    سفر کردہ پیش از سفر سوئے یار

    کشیدہ زِ دنیا ہمہ رخت و بار

    پئے دار عُقبٰی کمر بستہ چُست

    رہا کردہ سامان ایں خانہ سُست

    چوکارِ حیات است کارے نہاں

    ہماں بہ کہ دل بگسلی زیں مکاں

    جہنم کزو داد فرقاں خبر

    ہمیں حرص دنیا است جانِ پدر

    چو آخر زِ دنیا سفر کردن است

    چو روزے ازیں رہ گذر کردن است

    چرا عاقلے دل بہ بندد دراں

    کہ ناگہ وزد بر گُلِ او خزاں

    بدیں قحبہ بستن دلِ خود خطا است

    کہ این دشمنِ دین و صدق و صفا است

    چہ حاصل ازیں دلستانِ دو رنگ

    کہ گاہے بصلحت کُشدگہ بجنگ

    چرا دل نہ بندی بداں دلستاں

    کہ مہرش رہاند زِ بندِ گراں

    برو فکرِ انجام کن اے غوی

    زِ سعدی شنو گر زِ من نشنوی

    عروسی بود نوبتِ ماتمت

    اگر برنکوئی بود خاتمت



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 323

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 323

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/323/mode/1up


    ضمیمہ۱؂ متعلّقہ رسالہ الوصیّۃ


    رسالہ الوصیّۃ کے متعلق چند ضروری امرقابلِ اشاعت ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں:۔

    (۱) اوّل یہ کہ جب تک انجمن کارپرداز مصالح قبرستان اس امر کو شائع نہ کرے کہ قبرستان باعتبار لوازم ضروری کے من کل الوجوہ طیّار ہو گیا ہے اس وقت تک جائز نہ ہوگا کہ کوئی میّت جس نے رسالہ الوصیّۃ کے شرائط کی پابندی کی ہے قبرستان میں دفن کرنے کے لئے لائی جائے پُل وغیرہ لوازم ضروریہ کا پہلے طیّار ہو جانا ضروری ہوگا اور اُس وقت تک میّت ایک صندوق میں امانت کے طور پر کسی اور قبرستان میں رکھی جائے گی۔

    (۲) ہر ایک صاحب جو رسالہ الوصیّۃ کی پابندی کا اقرار کریں ضروری ہوگا کہ وہ ایسا اقرار کم سے کم د۲و گواہوں کی ثبت شہادت کے ساتھ اپنے زمانہ قائمی ہوش و حواس میں انجمن کے حوالہ کریں اور تصریح سے لکھیں کہ وہ اپنی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسو۱۰اں حصہ اشاعت اغراض سلسلہ احمدیہ کے لئے بطور وصیّت یا وقف دیتے ہیں۔ اور ضروری ہوگا کہ وہ کم سے کم د۲و اخباروں میں اس کو شائع کر دیں۔

    (۳) انجمن کا یہ فرض ہوگا کہ قانونی اور شرعی طور پر وصیّت کردہ مضمون کی

    نسبت اپنی پوری تسلی کر کے وصیّت کنندہ کو ایک سار ٹیفیکیٹ اپنے دستخط اور مہر کے

    ساتھدے دیں اور جب قواعد مذکورہ بالا کی رُو سے کوئی میّت اس قبرستان میں



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 324

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 324

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/324/mode/1up


    لائی جائے تو ضروری ہو گا کہ وہ سارٹیفکٹ انجمن کو دکھلایا جائے اور انجمن کی ہدایت اور موقع نمائی سے وہ میّت اس موقع میں دفن کی جائے جو انجمن نے اُس کے لئے تجویز کیا ہے۔

    (۴) اس قبرستان میں بجز کسی خاص صورت کے جو انجمن تجویز کرے نابالغ بچے دفن نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بہشتی ہیں اور نہ اس قبرستان میں اُس میّت کا کوئی دوسرا عزیز دفن ہوگا جب تک وہ اپنے طور پرُ کل شرائط رسالہ الوصیّت کو پورا نہ کرے۔

    (۵) ہر ایک میّت جو قادیان کی زمین میں فوت نہیں ہوئی ان کو بجز صندوق قادیان میں لانا ناجائز ہوگا اور نیز ضروری ہوگا کہ کم سے کم ایک ماہ پہلے اطلاع دیں تا اگر انجمن کو اتفاقی موانع قبرستان کے متعلق پیش آ گئے ہوں تواُن کو دُور کر کے اجازت دے۔

    (۶)اگر کوئی صاحب خدا نخواستہ طاعون کی مرض سے فوت ہوں جنہوں نے رسالہ الوصیّۃ کے تمام شرائط پورے کر دیئے ہوں اُن کی نسبت یہ ضروری حکم ہے کہ وہ د۲و برس تک صندوق میں رکھ کر کسی علیحدہ مکان میں امانت کے طور پر دفن کئے جائیں اور د۲و برس کے بعد ایسے موسم میں لائے جائیں کہ اس فوت ہونے کے مقاؔ م اور قادیان میں طاعون نہ ہو۔

    (۷) یاد رہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا دسو۱۰اں حصہ دیا جائے بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیّت کرنے والا جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے پابند احکام اسلام ہو اور تقویٰ طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو۔ اور مسلمان خدا کو ایک جاننے والا اور اُس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو۔

    (۸) اگر کوئی صاحب دسو۱۰یں حصہ جائداد کی وصیّت کریں اور اتفاقاً ان کی موت ایسی ہو کہ مثلاً کسی دریا میں غرق ہو کر اُن کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میّت کو لانا متعذّر ہو تو ان کی وصیّت قائم رہے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 325

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 325

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/325/mode/1up


    کہ گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں اور جائز ہوگا کہ ان کی یادگار میں اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر یہ واقعات لکھے جائیں۔

    (۹) انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہوگا اس کو اختیار نہیں ہوگا کہ بجز اغراض سلسلہ احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے۔ اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعت اسلام ہوگی اور جائز ہوگا کہ انجمن باتفاق رائے اُس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ سے ترقی دے۔

    (۱۰) انجمن کے تمام ممبر ایسے ہوں گے جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں اور پارسا طبع اور دیانت دار ہوں اور اگر آئندہ کسی کی نسبت یہ محسوس ہوگا کہ وہ پارسا طبع نہیں ہے یا یہ کہ وہ دیانت دار نہیں یا یہ کہ وہ ایک چال باز ہے اور دنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتا ہے تو انجمن کا فرض ہو گا کہ بلا توقف ایسے شخص کو اپنی انجمن سے خارج کرے اور اس کی جگہ کوئی اور مقرر کرے۔

    (۱۱) اگر وصیّتی مال کے متعلق کوئی جھگڑا پیش آوے تو اُس جھگڑے کی پیروی میں جو اخراجات ہوں وہ تمام وصیّتی مالوں میں سے دیئے جائیں گے۔

    (۱۲) اگر کوئی شخص وصیّت کر کے پھر کسی اپنے ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیّت سے منکر ہو جائے یا اس سلسلہ سے روگردان ہو جائے تو گو انجمن نے قانونی طور پر اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہو پھر بھی جائز نہ ہوگا کہ وہ مال اپنے قبضہ میں رکھے بلکہ وہ تمام مال واپس کرنا ہوگا کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں۔ اور خدا کے نزدیک ایسا مال مکروہ اور ردّ کرنے کے لائق ہے۔

    (۱۳) چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے اس انجمن کو دنیاداری کے رنگوں سے بکلّی پاک رہنا ہوگا اور اس کے تمام معاملات نہایت صاف اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں۔



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 326

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 326

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/326/mode/1up


    (۱۴ؔ ) جائز ہوگا کہ اس انجمن کی تائید اور نصرت کے لئے دُور دراز ملکوں میں اور انجمنیں ہوں جو ان کی ہدایت کے تابع ہوں۔ اور جائز ہوگا کہ اگر وہ ایسے ملک میں ہوں کہ وہاں سے میّت کو لانا متعذّر ہے تو اُسی جگہ میّت کو دفن کر دیں اور ثواب سے حصہ پانے کی غرض سے ایسا شخص قبل از وفات اپنے مال کے دسو۱۰یں حصہ کی وصیّت کرے اور اُس وصیتی مال پر قبضہ کرنا اُس انجمن کا کام ہوگا جو اُس ملک میں ہے اور بہتر ہوگا کہ وہ روپیہ اُسی ملک کے اغراضِ دینیہ کیلئے خرچ ہو اور جائز ہوگا کہ کوئی ضرورت محسوس کر کے وہ روپیہ اس انجمن کو دیا جائے جس کا ہیڈ کوارٹر یعنی مرکز مقامی قادیان ہوگا۔

    (۱۵) یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے اور جائز ہوگا کہ وہ آئندہ ضرورتیں محسوس کر کے اس کام کے لئے کوئی کافی مکان طیّار کریں۔

    (۱۶) انجمن میں کم سے کم ہمیشہ د۲و ممبر ایسے چاہئیں جو علم قرآن اور حدیث سے بخوبی واقف ہوں اور تحصیل علم عربی رکھتے ہوں اور سلسلہ احمدیہ کی کتابوں کو یاد رکھتے ہوں۔

    (۱۷) اگر خدانخواستہ کوئی ایسا شخص جو رسالہ الوصیّۃ کی رُو سے وصیّت کرتا ہے مجذوم ہو جس کی جسمانی حالت اس لائق نہ ہو جو وہ اس قبرستان میں لایا جائے تو ایسا شخص حسب مصالح ظاہری مناسب نہیں ہے کہ اس قبرستان میں لایا جائے لیکن اگر اپنی وصیّت پر قائم ہوگا تو اُس کو وہی درجہ ملے گا جیسا کہ دفن ہونے والے کو۔

    (۱۸) اگر کوئی کچھ بھی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور باایں ہمہ ثابت

    ہو کہ وہ ایک صالح درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے اور کوئی حصہ نفاق



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 327

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 327

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/327/mode/1up


    یا دنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ بھی میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہو سکتا ہے۔

    (۱۹) اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی خاص وحی سے ردّ کیا جائے تو گو وصیّتی مال بھی پیش کرے تا ہم اس قبرستان میں داخل نہیں ہوگا۔

    (۲۰) میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ہواُن کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔

    یہ وہ شرائط ضروریہ ہیں جو اوپر لکھی گئیں۔ آئندہ اس مقبرہ بہشتی میں وہ دفن کیا جائے گا جو ان شرائط کو پورا کرے گا۔ ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بدگمانی کا مادہ غالب ہو وہ ہمیں اس کارروائی میں اعتراضوں کا نشانہ بنا ویں اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ بلاشبہ اس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الٰہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسو۱۰اں حصہُ کل جائداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اپنا جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔3۔33 ۱؂۔ کیا لوگؔ یہ گمان کرتے ہیں کہ مَیں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے۔ اور ابھی ان کا امتحان نہ کیا جائے اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا اور انہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں دیئے پر ایسا گمان کہ کیوں یوں ہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے۔ کس قدر دُور از حقیقت ہے۔ اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنا ڈالی؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا رہا ہے کہ خبیث اور طیّب



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 328

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 328

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/328/mode/1up


    میں فرق کر کے دکھلا وے اِس لئے اُس نے اب بھی ایسا ہی کیا۔ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض خفیف خفیف امتحان بھی رکھے ہوئے تھے جیسا کہ یہ بھی دستور تھا کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قسم کا مشورہ نہ لے جب تک پہلے نذرانہ داخل نہ کرے۔ پس اس میں بھی منافقوں کے لئے ابتلا تھا۔ ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے۔ اور ثابت ہوجائے گا کہ بیعت کا اقرار انہوں نے سچا کر کے دکھلا دیا اور اپنا صدق ظاہر کر دیا۔ بے شک یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گذرے گا اور اس سے ان کی پردہ دری ہوگی۔ اور بعد موت وہ مرد ہوں یا عورت اس قبرستان میں ہرگز دفن نہیں ہوسکیں گے۔ 3 ۱؂۔ لیکن اس کا م میں سبقت دکھلانے والے راستبازوں میں شمار کئے جائیں گے۔ اور ابد تک خدا کی اُن پر رحمتیں ہوں گی۔

    بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کردیں گے اور نیز یہ بھی ثابت کریں گے کہ کس طرح انہوں نے میرے حکم کی تعمیل کی ۔خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اُس کے دفتر میں سابقین اوّلین لکھے جائیں گے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ زمانہ قریب ہے کہ ایک منافق جس نے دنیا سے محبت کر کے اس حکم کو ٹال دیا ہے وہ عذاب کے وقت آہ مار کر کہے گا کہ کاش میں تمام جائیداد کیا منقولہ اور کیا غیر منقولہ خدا کی راہ میں دے دیتا اور اس عذاب سے بچ جاتا ۔یاد رکھو !کہ اس عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان بے سُودہوگا اور صدقہ خیرات محض عبث۔ دیکھو! !میں بہت قریب عذاب کی تمہیں اطلاع دیتا ہوں اپنے لئے



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 329

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 329

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/329/mode/1up


    وہ زاد جلد تر جمع کرو کہ کام آوے ۔میں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مال لوں اور اپنے قبضہ میں کر لوں بلکہ تم اشاعتِ دین کے لئے ایک انجمن کے حوالہ اپنا مال کرو گے اور بہشتی زندگی پاؤ گے۔ بہتیرے ایسے ہیں کہ وہ دنیا سے محبت کر کے میرے حکم کو ٹال دیں گے مگر بہت جلد دنیا سے جدا کئے جائیں گے تب آخری وقت میں کہیں گے 33۔۱؂ والسّلام علٰی من اتّبع الھُدٰی۔

    الراقم خاکسار

    میرزا غلام احمدؐ خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود

    ۶؍ جنوری ۱۹۰۶ء



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 330

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 330

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/330/mode/1up


    بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ط


    روئیداد اجلاس اوّل مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہقادیان

    منعقدہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء

    حاضرین جلسہ


    حضرت مولوی نورالدین صاحب پریذیڈنٹ۔ خانصاحب محمد علی خانصاحب۔ صاحبزادہ بشیرالدین محمود احمد صاحب۔ مولوی سیّد محمد احسن صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب سیکرٹری مجلس۔

    چونکہ بعض ضروری ہدایات اور منظوریوں کا دینا اشد ضروری تھا اور احباب بیرونجات کو اطلاع دینے کے لئے کافی وقت نہ تھا۔ اس لئے بہ اجازت حضرت امام علیہ السلام بعد منظوری قواعد یہ جلسہ کیا گیا۔

    حسب ذیل معاملات طے ہوئے

    (۱) قرار پایا کہ مسودہ وصیّت مجوزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظور کیا جائے۔

    (۲) قرار پایا کہ وصیّت کے مسودہ کی سرِدست آٹھ سَو کاپیاں چھپوائی جائیں اور نیز الحکم اور بدر میں بھی چھپوایا جائے۔

    (۳) قرار پایا کہ وصیّت کنندگان کو ذیل کی ہدایات برائے تعمیل بھیجی جائیں اور



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 331

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 331

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/331/mode/1up


    یہ ہدایات وصیّت کی فارم کے نیچے چھپوائی جاویں۔

    الف۔اگر ضرورت ہو تو وصیّت کنندگان وصیّت کا مسودہ۔۔۔۔۔۔ طلب کریں اور اس کی نقل سادہ کاغذ پر از سر نو کریں اور جہاں جہاں جگہ چھوڑی گئی ہے وہاں حسب حالات خود خانہ پُری کرلیں۔ وصیّت کے لئے کاغذ مضبوط لگا ویں۔

    ب۔ جہاں تک ممکن ہو وصیّت کی رجسٹری کرائی جائے اور وصیّت نامہ پر حتی الوسع بطور گواہ ورثاء یا شرکائے وصیّت کنندہ کے دستخط ہوں۔ اور ساتھ ہی شہر یا گاؤں کے دو معزز گواہ ہوں۔

    ج۔ وصیّت کنندہ اور ایسا ہی گواہان خواہ خواندہ ہوں یا ناخواندہ اپنے دستخط یا مواہیر کے علاوہ نشان انگوٹھا ضرور لگا ویں۔ اور جو خواندہ ہیں وہ دستخط بھی کریں۔ اور مرد بائیں ہاتھ کا اور عورت دائیں ہاتھ کا انگوٹھا لگا وے۔

    د۔ اگر وصیّت کنندہ لکھ سکتا ہے تو اپنی وصیّت اپنے ہاتھ سے لکھے۔

    ھ۔ وصیّت پر اسٹامپ کی ضرورت نہیں۔

    و۔ وصیّت کنندہ کے اگر کوئی خاص حالات ہوں اور اس میں کسی قانونی مشورہ کی ضرورت ہو تو وہ۔۔۔۔۔۔ جو انجمن کے مشیر قانونی ہیں خط لکھ کر دریافت کر لیں۔

    (۴) ۔پنجاب میں جو مالکان اراضی ہیں اور اُن کی راہ میں وصیّت کرنے میں کوئی دقتیں ہیں تو اُن کے لئے مناسب ہے کہ وہ جس قدر جائیداد کی وصیّت کرنا چاہتے ہیں اسے بجائے وصیّت کے اپنی زندگی میں ہبہ کر دیں۔ اور ہبہ نامہ پر اپنے ورثائے بازگشت کے (اگر کوئی ہوں) دستخط کرائیں جن سے ایسے ورثاء کی رضامندی پائی جائے اور ہبہ نامہ کی رجسٹری ضروری ہے اور جائیداد موہوبہ کا داخل خارج مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ قادیان کے نام کرائیں لیکن ایسی صورت میں انہیں نئی پیدا کردہ جائیداد کے متعلق ایسا وقتاً فوقتاً کرنا ہوگا۔

    (۵)۔ اگر ہبہ مذکورہ رزولیوشن نمبر۴ میں بھی دقت ہو تو جس قدر جائیداد کی وصیّت یا ہبہ کرنا چاہتے ہیں اس کی قیمت بازاری مقرر کر کے یا اس کو فروخت کر کے قیمت مقرر کردہ یا زرِثمن کو مجلس کارپرداز مصالح قبرستان کے حوالے کریں۔ لیکن ایسی صورت میں جب وہ نئی جائیداد پیدا کریں تو اس



    Ruhani Khazain Volume 20. Page: 332

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲۰- الوصیّۃ: صفحہ 332

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=20#page/332/mode/1up


    کے متعلق بھی انہیں وقتاً فوقتاً ایسا ہی کرنا ہوگا۔

    (۶) جو احباب کوئی جائیداد نہیں رکھتے مگر آمدنی کی کوئی سبیل رکھتے ہیں وہ اپنی آمدنی کا کم از کم حصہ ماہوار انجمن کے سپرد کریں۔ یہ ان کا اختیار ہے کہ جو چندے وہ سلسلہ عالیہ کی امداد میں اس وقت دیتے ہیں ان کواس حصہ میں شامل رہنے دیں یا الگ کر دیں۔ اگر وہ اپنے موجودہ چندوں کو اس حصہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو جس طرح وہ چندہ بھیج رہے ہیں بھیجتے رہیں۔ البتہ اُن چندوں کو منہا کر کے جو بچے وہ بقیہ رقم فنانشل سیکرٹری مجلس کارپرداز مصالح قبرستان کے نام بھیج دیں۔ باقی خط و کتابت اس مجلس کے سیکرٹری سے کریں۔ لیکن ان کو وصیّت کرنی ہوگی کہ اُن کے مرنے کے بعد اُن کے متروکہ کی کم از کم حصہ کی مالک انجمن ہو۔

    نوٹ:- (۱) جو صاحب مزید واقفیت قانونی دربارہ وصیّت یا ہبہ بہ تعلّق مجلس کارپرداز مصالح قبرستان حاصل کرنا چاہیں وہ وصیّت یا ہبہ لکھنے سے پہلے خط و کتابت کر سکتے ہیں۔

    (۲) خاص حالات میں مجلس معتمدین سے بذریعہ خط و کتابت طے ہو سکتا ہے۔

    (۷) کل روپیہ جو چندہ قبرستان کے متعلق ہو یا جو زیر اشتہار الوصیّت صورتہائے متذکرہ بالا میں بھیجا جائے وہ صرف اس پتہ پر آنا چاہئے ’’فنانشل سیکرٹری مجلس کارپرداز مصالح قبرستان‘‘ اور کسی شخص کے نام یا کسی اور پتہ پر نہیں آنا چاہئے۔

    خاکسار محمد علی سیکرٹری ۲۹ ؍ جنوری ۱۹۰۶ء

    نورالدین یکم جولائی ۱۹۰۶ء

    میرزا غلام احمدؐ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں