1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 18 ۔ایک غلطی کا ازالہ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 4, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 205

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 205

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    ایک غلطی کا ازالہ

    از

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 206

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 206

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    ایک غلطی کا ازالہ

    ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعوے اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اُٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مُرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں اُن میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 207

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 207

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اِسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں دیکھو براہین احمدیہ صفحہ۵۰۴ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ۵۵۷ براہین میں درج ہے ’’دنیا میں ایک نذیر آیا‘‘ اس کی دوسری قراء ت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیّٖن ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہؔ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تومعصیت ہے اور آیت ۱؂ اور حدیث لَانَبِیَّ بَعْدِیْ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی

    کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 208

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 208

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    اس پر ظلّی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمدکی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ۱؂ اس کے معنی یہ ہیں کہ لَیْسَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِ الدُّنْیَا وَلٰکِنْ ھُوَاَبٌ لِرِجَالِ الْاٰخِرَۃ لِاَنَّہٗ خَاَتَمَ النّبِیِّیْن وَلَا سَبِیْل اِلٰی فَیُوضِ اللّٰہ مِن غَیْرِتُوَسّطِہٖ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا لہٰذا خاتم النبیّٖن کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسیٰ ؑ کے اُترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنی لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کرغیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفّٰی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے ۲؂۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ اُمت مکالمات و مخاطبات الٰہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کیؔ طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 209

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 209

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَمَنِ ادَّعٰی فَقَدْکَفَرَ۔ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبییّن کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبییّن پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبییّن میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلّی طورپر محمداور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمدؐ خاتم النبییّن ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اُسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسیٰ بغیر مُہر توڑنے کے آ نہیں سکتا کیونکہ اس کی نبوت ایک الگ نبوت ہے اور اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ333 ۱؂* سو یاد رکھنا چاہیے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔ اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خداتعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی

    لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے اور نبی

    * یہ ضرور یاد رکھو کہ اس اُمت کیلئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علومِ غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت 33 ۲؂سے ظاہر ہے پس مصفّٰی غیب پانے کیلئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت 3گواہی دیتی ہے کہ اس مصفّٰی غیب سے یہ اُمت محروم نہیں اور مصفّٰی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہِ راست بند ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کیلئے محض بروز اور ظلّیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔ فتدبر۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 210

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 210

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اِسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنی ہیں خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ اور جب کہ خود خداتعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر ردّ کر دوں یا کیونکر اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتاہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰؔ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولااور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللّٰہہوں مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔ کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے کیونکہ خدا کی تائیداُن کے ساتھ نہیں۔ اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 211

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 211

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ


    باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول کہ

    ’’من نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب‘‘

    اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بِلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی* یہ بات ظاہر ہے کہ جیساکہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی

    یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریق سے نہ تو خاتم النبییّن کی پیشگوئی کی مُہر ٹوٹی اور نہ اُمت کے کل افراد مفہوم نبوت سے جو آیت کے مطابق ہے محروم رہے مگر حضرت عیسیٰ کو دوبارہ اُتارنے سے جن کی نبوت اسلام سے چھ سَو برس پہلے قرار پا چکی ہے اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا اور آیت خاتم النبییّن کی صریح تکذیب لازم آتی ہے۔ اس کے مقابل پر ہم صرف مخالفوں کی گالیاں سنیں گے۔ سو گالیاں دیں۔ َ۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 212

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 212

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=18#page/212/mode/1up


    میرے مخالف حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہوگا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ خاتم النبییّن کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درحقیقت خاتم النبییّن تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ اور نہ اسؔ سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت3 3 بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمدہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہا نہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ تمہاری حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی موعود خَلق اور خُلق میں ہمرنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اس کا اسم آنجناب کے اسم سے مطابق ہوگا یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہوگا اور اس کے اہل بیت میں سے ہوگا* اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہوگا۔ یہ عمیق اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رو سے اسی نبی میں سے نکلا ہوا ہوگا اور اسی کی روح کا روپ ہوگا اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق بیان کیا یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا اور بروز

    یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سلمان منا اھل البیت علٰی مشرب الحسن۔ میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سِلم۔ اور سِلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور شحنا کو دور کرے گی دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 213

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 213

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=18#page/213/mode/1up


    کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بروزی انسان صاحب بروز کا بیٹا یا نواسہ ہو ہاں یہ ضرور ہے کہ روحانیت کے تعلقات کے لحاظ سے شخص مورد بروز صاحب بروز میں سے نکلا ہوا ہو اور ازل سے باہمی کشش اور باہمی تعلق درمیان ہو۔ سو یہ خیال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان معرفت کے سراسر خلاف ہے کہ آپ اس بیان کو تو چھوڑ دیں جو اظہار مفہوم بروز کے لئے ضروری ہے اور یہ امر ظاہر کرنا شروع کر دیں کہ وہ میرا نواسہ ہوگا بھلا نواسہ ہونے سے بروز کو کیا تعلق۔اور اگر بروز کے لئے یہ تعلق ضروری تھا تو فقط نواسہ ہونے کی ایک ناقص نسبت کیوں اختیار کی گئی بیٹاہونا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے باپ ہونے کی نفی کی ہے لیکن بروز کی خبر دی ہے۔ اگر بروز صحیح نہ ہوتا تو پھر آیت وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ میں اُس موعود کے رفیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کیوں ٹھہرتے اور

    دکھا کر غیر مذہب والوں کو اسلام کی طرف جھکا دے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی۔ اور میں خدا سے وحی پاکر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اُس حدیث کے جو کنز العمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں چنانچہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے۔ منہ *

    نوٹ از ناشر۔ براہین احمدیہ میں یہ کشف بایں الفاظ درج ہے:۔ ’’ اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اس میں سِر یہی ہے کہ افاضہ انوار الٰہی میں محبت اہل بیت کو بھی بہت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔ اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غَیبتِ حس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علیؓ نے تالیف کیا ہے۔ اور اب علیؓ وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے‘‘۔فالحمد للہ علی ذالک (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۵۹۹ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 214

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 214

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=18#page/214/mode/1up


    نفی بروز سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے جسمانی خیال کے لوگوں نے کبھی اُس موعود کو حسن کی اولاد بنایا اور کبھی حسین کی اور کبھی عباس کی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہوگا، اس کے نام کا وارث، اس کے خلق کا وارث، اس کے علم کا وارث، اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا اور اس میں فنا ہو کر اس کے چہرہ کو دکھائے گا۔ پس جیسا کہ ظلی طور پر اُس کا نام لے گا، اُس کا خلق لے گا، اُس کا علم لے گا ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔ تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو محمد اور دو احمد نہیں ہوگئے اسی طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبییّن کی مُہر ٹوٹ گئی کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔ اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہی محدود رہی۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ

    من تو شدم تو من شدی

    من تن شدم تو جاں شدی

    تا کس نہ گوید بعد زیں

    من دیگرم تو دیگری

    لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے تو بغیرؔ خاتم النبییّن کی مُہر توڑنے کے کیونکر دنیا میں آ سکتے ہیں۔ غرض خاتم النبییّن کا لفظ ایک الٰہی مُہر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 215

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 215

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=18#page/215/mode/1up


    کی نبوت پر لگ گئی ہے اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مُہر ٹوٹ جائے ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خداتعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ نے معراج کی رات جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقام سے آگے نکل گئے تو کیونکر رو رو کر اپنی غیرت ظاہر کی۔ تو پھر جس حالت میں خدا تو فرمائے کہ تیرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور پھر اپنے فرمودہ کے برخلاف عیسیٰ کو بھیج دے تو پھر کس قدر یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلآزاری کا موجب ہوگا۔ غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختم نبوت میں فرق نہیں آتا اور نہ مُہر ٹوٹتی ہے لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام دجال کشی کا عیسیٰ سے ہوا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آیت کریمہ نعوذباللہ اس سے جھوٹی ٹھہرتی ہے۔ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مُہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مُہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ بروزی طور کی نبوت اور رسالت سے ختمیت کی مُہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت عیسیٰ کے نزول کا خیال جو !مستلزم تکذیب آیت 3َ ہے وہ ختمیت کی مُہرکو توڑتا ہے اور اس فضول اور خلاف عقیدہ کا تو قرآن شریف میں نشان نہیں اور کیونکر ہو سکتا کہ وہ آیت

    ممدوحہ بالا کے صریح برخلاف ہے لیکن ایک بروزی نبی اور رسول کا آنا قرآن شریف سے



    Ruhani Khazain Volume 18. Page: 216

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 216

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=18#page/216/mode/1up


    ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے اس آیت میں ایک لطافت بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا ذکر تو اس میں کیا گیا جو صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے لیکن اس جگہ اس مورد بروز کا بتصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہ کی طرح زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے گئے۔ اس ترک ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ مورد بروز حکم نفی وجود کا رکھتا ہے اس لئے اس کی بروزی نبوت اور رسالت سے مُہر ختمیت نہیں ٹوٹتی۔ پس آیت میں اس کو ایک وجود منفی کی طرح رہنے دیا اور اس کے عوض میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا ہے اور اسی طرح آیتمیں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا یعنی دینی برکات کے چشمے بہہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں سچے اہل اسلام ہو جائیں گے۔ اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی۔ اور گو خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی اور دونوں خونوں سے حصہ رکھتا ہوں لیکن میں روحانیت کی نسبت کو مقدم رکھتا ہوں جو بروزی نسبت ہے۔ اب اس تمام تحریر سے مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔ میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں۔ ہاں میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی، علیہ الصلوٰۃ والسلام۔

    خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں۔۵؍ نومبر ۱۹۰۱ء

    اشتہار کتاب آیات الرحمان

    یہ قابل قدر کتاب مکرمی مولوی سیدمحمداحسن صاحب نے کتاب عصائے موسیٰ کے ردّ میں لکھی ہے اور مصنف عصائے موسیٰ کے اوہام کا ایسا استیصال کر دیا ہے کہ اب اُس کو اپنی وہ کتاب ایک دردانگیز عذاب محسوس ہو گی۔ یہ تجویز قرار پائی ہے کہ اس کے چھپنے کے لئے اس طرح پر سرمایہ جمع ہو کہ ہر ایک صاحب جو خریدنا چاہیں ایک روپیہ جو اس کتاب کی قیمت ہے بطور پیشگی روانہ کر دیں۔ یہ خواہش ہے کہ جلد تر یہ کتاب چھپ جائے اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔ والسلام خاکسار میرزا غلام احمد عفی عنہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں