1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 15 ۔تحفہ غزنویہ ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 4, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 529

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 529

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 530

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 530

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 531

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 531

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    531

    نحمدہٗ ونصلّی

    اے پئے تحقیر من بستہ کمر

    درجواب اِشتہار عبدالحق غزنوی

    نیستت جز ہجو من کارِ دگر

    می کشائی ہر دمے برمن زباں

    چُوں نترسی از خدائے رازداں

    از سر تقویٰ ہمی باید جدال

    تاکجا دشنام ہا اے بدخصال

    نیستی گرگِ بیابانی نہ مار

    ترک کن ایں خوئی وازحق شرم دار

    اے عجب از سیرتت اے پُر غضب

    از حقیقت بے خبر دُور از ادب

    خیزو اوّل فہمِ خود راکُن درست

    نکتہ چیں راچشم می باید نخست

    دل شود از بد زبانی ہا سیاہ

    بد زباناں را در آنجانیست راہ

    کم نشیں با زمرۂ مُستہزئین

    تا بیابی حصّۂ از مہتدین

    روز وشب بدگفتنم کارِ توشد

    *** و تحقیر کردارِ تو شد

    *** آں باشد کہ از رحماں بود

    *** نااہل و دوں آساں بود

    گر سفیہے لعنتے بر ما کند

    او نہ بر ما خویش را رُسوا کند

    ہر کہ مے دارد دلِ پرہیزگار

    چوں عجب دارد زِ کارِ کردگار

    آنکہ ازیک قطرہ انسانے کند

    و از دو مُشتِ تخم بستانے کند

    چوں منے را گر مسیحائی کند

    یا گدائے را شہنشاہی کند

    نیست از فضل و عطائے او بعید

    کور باشد ہرکہ از انکار دید

    ہاں مشو نومید زاں عالی جناب

    بندہ باش وہرچہ می خواہی بیاب



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 532

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 532

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    532

    قادؔ راست وخالق و ربّ مجید

    ہرچہ خواہد می کند عجزش کہ دید

    نطفہ را رُوئے درخشاں می دہد

    سنگ را لعل بدخشاں می دہد

    برکسے چوں مہربانی مے کند

    از زمینی آسمانی مے کند

    ہم چنیں برمن عطائے کردہ است

    فضل ہا بے انتہائے کردہ است

    مظہر انوارِآں بے چوں شدم

    در معارف از ہمہ افزوں شدم

    یارِمن بر من کرم دارد بسے

    صد نشاں دارم اگر آید کسے

    بشنوید اے مردگاں من زندہ ام

    اے شبانِ تیرہ من تابندہ ام

    ایں دوچشم من کہ زیب ایں سرم

    بیند آں یارے کہ یارے دلبرم

    ایں قدم تا عرش حق دارد گذر

    وایں دو گوشم را رسد از حق خبر

    صدہزاراں نعمتم بخشیدہ اند

    وایں رُخم از غیر حق پوشیدہ اند

    می دہم فرعونیاں را ہرزماں

    چوں ید بیضائے موسیٰ صد نشاں

    زیں نشانہا بدرگاں کور و کر اند

    صد نشاں بینند و غافل بگذرند

    دُور افتادم ز چشمانِ بشر

    از مقامم کس نمے دارد خبر

    درمن افتادند از نقص عقول

    بخت برگردیدہ محروم از قبول

    کس ز راز جان من آگاہ نیست

    عقل شاں را تا در ما راہ نیست

    از سر حمق است جوش وجنگ شاں

    واز پئے اطفاء حق آہنگ شاں

    اے مزوّر گربیائی سُوئے ما

    و از وفا رخت افگنی در کوئے ما

    واز سر صدق و صداقت پروری

    روزگارے درحضور ما بری

    عالمے بینی ز ربّانی نشاں

    سوئے رحماں خلق و عالم راکشاں

    من نہ مے خواہم کہ آزارے دہم

    برسر ہر ماہ دینارے دہم

    ہم چنیں یک سال می باید قیام

    از من ایں عہداست و از توالتزام



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 533

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 533

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    533

    گر گذشت ایں سال وعدم بے نشاں

    ہرچہ میگوئی ہمے گو بعد زاں

    صالحاں را ایں طریق و سنت است

    راہ استعجال راہِ *** است

    ہرکہ روشن شددروں از حضرتش

    کیمیا باشد دمے درصحبتش

    ہرکہ او را ظلمتے گیرد بہ راہ

    دامن پاکاں است او را عذر خواہ

    آںؔ خدا با یارِ خود یاری کند

    با وفاداراں وفاداری کند

    ہرکہ عشقش در دل و جانش فتاد

    ناگہاں جانے در ایمانش فتاد

    عشق حق گردد عیاں بر رُوئے او

    بُوئے او آید ز بام وکُوئے او

    دید او باشد بحکم دید او

    خود نشیند حق پئے تائید او

    بس نمایاں کارہا کاندر جہاں

    مے نماید بہر اکرامش عیاں

    صد شعاعش مے دہد چوں آفتاب

    تا مگر جانے بر آید از حجاب

    ایں چنیں برمن کر مہا کردہ است

    منکرم برخود ستمہا کردہ است

    علمِ قرآں علم آں طَیّب زباں

    علم غیب از وحی خلّاقِ جہاں

    ایں سہ ۳ علمم چوں نشانہا دادہ اند

    ہرسہ ہمچوں شاہداں استادہ اند

    آدمی زادے ندارد ہیچ فن

    تادر آویزد دریں میداں بمن

    حجتِ رحماں بر ایشاں شد تمام

    یاوہ گوئی ماند در دستِ لئام

    از کسوف و ترک آں نورے کہ بود

    مہر و مہ ہم پیشم آمد در سجود

    ایں نشاں برآسماں رحماں نمود

    برزمیں ہم دستِ ہیبت ہا کشود

    ہست لطف یارِ من برمن اتم

    او مرا شد من ہم از بہرش شدم

    دِلبرم درشد بجان و مغز و پوست

    راحت جانم بیاد رُوئے اوست

    رازہا دارم بیارِ دلبرم

    شد عیاں از من بہارِ دلبرم

    ہرکسے دستے بہ دامانے زند

    ما بہ ذیل حیّو قیّوم و اَحَد



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 534

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 534

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    534

    اے دریغا قوم من نشناختند

    نقد ایماں درحسدہا باختند

    ایں جہانِ پُرستم کور وکر است

    چشمِ شاں از چشم بوماں کمتراست

    ذرّۂ بودم مرا بنواختند

    چوں خورے گشتم زچشم انداختند

    میاں عبد الحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار نکالا ہے جو درحقیقت مولوی عبدالجبار اور اُن کے بھائیوں کی طرف سے معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ اس اشتہار میں جس قدر سخت زبانی اور ٹھٹھا اور ہنسی ہے جو قدیم سے طریق سفہاء کا ہے اس کو ہم خداؔ تعالیٰ کے عدل کے سپرد کرکے اصل باتوں کا جواب دیتے ہیں وَ بِاللّٰہ التّوفیق۔

    یہ اشتہار دو رنگ کے حملوں پر مشتمل ہے ۔ اوّل میاں عبد الحق نے بعض گذشتہ نشانوں اور پیشگوئیوں کو جو فی الواقع پوری ہوچکیں یا وہ جو عنقریب پوری ہونے کو ہیں پیش کرکے عام لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ گویا وہ پوری نہیں ہوئیں۔ مثلاً وہ اپنے اشتہار میں لکھتا ہے کہ ڈپٹی آتھم اور احمد بیگ ہوشیارپوری اور اس کے داماد والی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ مگر ہمیں تعجب ہے کہ مولوی کہلاکر پھر ایسا گندہ جھوٹ بولنا ان لوگوں کی طبیعت کیونکر گوارا کر لیتی ہے کس کو معلوم نہیں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں رجوع الی الحق اور توبہ کی شرط کے ساتھ مشروط تھیں۔ مگر احمد بیگ بباعث اس کے کہ اس کی نظر کے سامنے کوئی ہیبت ناک نمونہ موجود نہیں تھا اس شرط سے فائدہ اٹھانہ سکا اور پیشگوئی کی منشاء کے موافق عین میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کی موت نے صفائی سے پیشگوئی کی ایک ٹانگ کو پورا کرکے دکھلا دیا۔ احمد بیگ وہ شخص تھا جس کی موت نے مخالف



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 535

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 535

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    535

    مولویوں میں بڑا ماتم پیدا کیا اور محمد حسین نے لکھا کہ یقیناًاس شخص کو علم نجوم آتا ہے جس کی پیشگوئی ایسی صفائی سے پوری ہوگئی‘‘۔ مگر احمد بیگ کے داماد اور اس کے والدین اور اقارب نے جب یہ ہولناک نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو ایسا خوف طاری ہوا کہ قبل از مُردن مُردہ سمجھ لیا گیا اس لئے جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس مشاہدہ سے بہت رجوع الی اللہ ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور بعض نے مجھ کو خط لکھے کہ تقصیر معاف کریں اور ان کے گھروں میں دن رات ماتم شروع ہوا اور صدقہ خیرات اور نماز روزہ میں لگ گئے اور اس گاؤں کے لوگ عورتوں کارونا اور چیخنا سنتے رہے غرض ؔ وہ تمام زن و مرد خوف سے بھر گئے او ریونس کی قوم کی طرح اُس عذاب کو دیکھ کر توبہ اور صدقہ او رخیرات میں مشغول ہوگئے۔ پھر سوچ لو کہ ایسی حالت میں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کیا معاملہ ہونا چاہیئے تھا۔ ایساہی ڈپٹی آتھم بھی احمد بیگ والے نشان کو سن چکا تھا اور بذریعہ اخبارات او راشتہارات کے یہ نشان لاکھوں انسانوں میں مشہور ہوچکا تھا اس لئے اس نے بھی پیشگوئی کے سننے کے بعد خوف اور ہراس کے آثار ظاہر کئے۔ لہٰذا پیشگوئی کی شرط کے موافق خدا نے تاخیر دی کیونکہ شرط خدا کا وعدہ تھا اور وہ اپنے وعدہ کے برخلاف نہیں کرتا۔ یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی چالیس دن کی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی ٹل گئی اور نینوا کے رہنے والے جو ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے ان میں سے ایک بچہ بھی نہ مرا اور یونس نبی اس خیال اور اس ندامت سے کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی اپنے ملک سے بھاگ گیا۔ اب سوچو کہ کیا یہ ایمانداری



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 536

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 536

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    536

    ہے کہ اس اعتراض کرتے وقت اس قصّہ کو یاد نہیں کرتے اور اس جگہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ قال لن ارجع الیھم کذّابًا یعنی یونس نے کہا کہ اب میں جھوٹا کہلاکر پھر اس قوم کی طرف ہرگز نہیں جاؤں گا۔ اگر حدیث پر اعتبار ہے تو در منثور میں اس موقع کی تفسیر میں حدیثیں دیکھ لو اور اگر عیسائیوں کی بائبل پراعتبار ہے تو یونہ نبی کی کتاب کو دیکھو آخر کسی وقت تو شرم چاہیئے ۔ بے حیائی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے اس ناانصافی اور ظلم کاخدا تعالیٰ کے پاس کیا جواب دوگے کہ تم لوگوں نے سو ۱۰۰ پیشگوئی صفائی سے پوری ہوتے دیکھی اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ایک دو پیشگوئیاں جن کو تم لوگ اپنی ہی جہالت سےؔ سمجھ نہ سکے جو مشروط بشرائط تھیں ان پر شور مچا دیا۔ مگر یہ شور مجھ سے اور میری پیشگوئیوں سے خاص نہیں ہے۔ بھلا کسی ایسے نبی کا تو نام لو جس کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت جاہلوں نے شور نہ مچایا ہو کہ وہ پوری نہیں ہوئیں۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشگوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرّع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔ اس پر صرف یونس کا قصّہ ہی گواہ نہیں بلکہ قرآن اور حدیث اور تمام نبیوں کی کتابوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی کو عذاب دینے کا ارادہ فرماتا ہے اور اُ س پر کوئی بلا نازل کرنا چاہتا ہے تو وہ بلا دعا اور توبہ اور صدقات سے ٹل سکتی ہے اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ جو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اگر اپنے اس ارادہ پر کسی نبی یارسول یا محدث کو مطلع کردے تو اس صورت میں وہی ارادہ پیشگوئی کہلاتا ہے ۔ پس جبکہ مانا گیا ہے کہ وہ ارادہ دعا اور صدقہ اور خیرات سے ٹل سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ محض اس سبب سے کہ اس ارادہ کی کسی ملہم کو اطلاع بھی دی گئی ہے ٹل نہیں سکتا۔ کیا وہ ارادہ اطلاع



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 537

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 537

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    537

    دینے کے بعد کچھ اور چیز بن جاتا ہے یا خدا کو اطلاع دینے کے بعد دعا اور توبہ اور صدقہ کے ذریعہ سے اس کو ٹال دینا ناگوار معلوم ہونے لگتا ہے اور قبل از اطلاع اس کو ٹالنا ناگوار معلوم نہیں ہوتا۔ افسوس کہ نادان لوگ خدا تعالیٰ کے وعدہ اور اس کی وعید میں کچھ فرق نہیں سمجھتے۔ وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قُدوسیّت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے اور بسا اوقات اس تقاضا سے اپنے ملہمین کو اطلاع بھی دے دیتا ہے پھر جب شخص مجرم تو بہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اُس تقاضاؔ کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الٰہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر محجوب و مستور کر دیتا ہے ۔ یہی معنے ہیں اس آیت کے کہ 33۱؂ یعنی رحمتی سبقت غضبی ۔ اگر یہ اصول نہ مانا جائے تو تما م شریعتیں باطل ہو جاتی ہیں۔ پس کس قدر ہمارے مخالفوں پر افسوس ہے کہ وہ میرے کینہ کے لئے شریعت اسلامیہ پر تبر چلاتے ہیں۔ وہ جب حق بات سنتے ہیں تو تقویٰ سے کام نہیں لیتے بلکہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کو رد کرنا چاہیے۔نہ معلوم کہ وہ معارف حقّہ کو رد کرتے کرتے کہاں تک پہنچیں گے۔ یہ جو لکھا ہے کہ اولیاء کے مقابلہ سے سلب ایمان کا خطرہ ہے وہ خطرہ اس وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ صدیقوں اور اولیاء کی باتیں سچائی کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور ستون ایمان ہوتی ہیں مگر اُن کا مخالف اپنا یہ اصول مقرر کر لیتا ہے کہ ان کی ہر ایک بات کو رد کرتا جائے اور کسی کو قبول نہ کرے کیونکہ حسد اور عداوت بُری بلا ہے لہٰذا ایک دن کسی ایسے مسئلہ میں مخالفت کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان فی الفور رخصت ہو جاتا ہے مثلاً جیسا کہ یہ مسئلہ کہ خدا کاعذاب کا ارادہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 538

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 538

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    538

    خواہ اُس ارادہ کو کسی ملہم پر ظاہر کیا ہو یا نہ کیا ہو دعا اور صدقہ اور توبہ اور استغفار سے ٹل سکتا ہے کس قدر سچا اور مغز شریعت اور تمام نبیوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے مگر کیاممکن ہے کہ ایک نفسانی آدمی جومجھ سے مخالفت رکھتا ہے وہ اس نکتہ معرفت کو میرے مُنہ سے سن کر قبول کر لے گا؟ ہرگز نہیں۔ وہ تو سنتے ہی اس فکر میں لگ جائے گا کہ اس کاکسی طرح رد کرنا چاہیئے تا کسی پیشگوئی کی تکذیب کا یہ ذریعہ ٹھہر جائے ۔ اگر اس شخص کو خدا کاخوف ہوتا تو لوگوں کی طرف نہ دیکھتا اور ریاکاری سے غرض نہ ؔ رکھتا بلکہ اپنے تئیں خدا کے سامنے کھڑا سمجھتا اور وہی بات منہ پر لاتا جو بپابندی تقویٰ بیان کرنے کے لائق ہوتی۔ اور ملامت اٹھاتا اور لوگوں کی *** سنتا مگر سچائی کی گواہی دے دیتا۔ ولٰکن اذا غلبت الشقوۃ فاین السعادۃ۔

    دوسرا حملہ میاں عبد الحق کا یہ ہے کہ وہ تجویز جو میں نے خدا تعالیٰ کے الہام سے بطور اتمام حجت پیش کی تھی جس کو میں اس سے پہلے بھی بذریعہ اشتہار شائع کرچکا تھا یعنی بیماروں کی شفا کے ذریعہ سے استجابت دعا کا مقابلہ اس تجویز کو میاں عبد الحق منظور نہیں فرماتے اور یہ عذر کرتے ہیں کہ بھلا سارے مشائخ اورعلماء ہندوستان و پنجاب کس طرح جمع ہوں اور ان کے اخراجات کا کون متکفّل ہو۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کیا فضول او رلچر عذر ہے۔ جس حالت میں یہ لوگ قوم کا ہزارہا روپیہ کھاتے ہیں تو ایسے ضروری کام کے لئے دو چار روپیہ تک کرایہ خرچ کرنا کیا مشکل ہے یہ تو ہم نے قبول کیا کہ یہ لوگ دین کے لئے کوئی تکلیف اپنے پر گوارا نہیں کرسکتے لیکن ایسی ضروری مہم کے لئے کہ ہزارہا لوگ ان کے پنجہ سے نکلتے جاتے ہیں اور بزعم ان کے وہ کافر بنتے جاتے ہیں چند درہم کرایہ کے لئے جیب سے نکالنا کوئی بڑی مصیبت نہیں اور اگر کوئی شخص ایسا ہی 3



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 539

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 539

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    539

    3 ۱؂ کامصداق ہے تو اس کو عبدالحق کی وکالت کی ضرورت نہیں میں دوسو کوس تک کے کرایہ کاخود ذمہ وار ہوسکتا ہوں چاہیے کہ وہ کسی سے قرض لے کر لاہور پہنچ جائے اور اپنے شہر کے کسی رئیس کاسار ٹیفکیٹ مجھے دکھلا دے کہ حقیقت میں اس مولوی یا پیر زادہ پر سخت رزق کی مار نازل ہے قرضہ لے کر لاہور میں پہنچا ہے۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ کرایہ میں دے دوں گا بشرطیکہ کوئی نام کا مولوی یا پیرزادہ نہ ہو نامی ہو جیسے نذیر حسین دہلوی وغیرہ۔ اور اگر یہ تجویز منظوؔ ر نہیں تو صرف ضلع لاہور امرتسر گورداسپورہ لدھیانہ کے مولوی اور مشائخ اکٹھے ہو جائیں ان میں سے بھی بشرط مذکورہ بالاہر ایک مصیبت زدہ کا کرایہ میں دے دوں گا۔ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاعلموا انکم سترجعون الی اللّٰہ ثم تُسءَلون۔

    پھر میاں عبد الحق نے یہ کارروائی کی ہے کہ یہ عذر کرکے جس کا ابھی ہم نے جواب دیاہے اپنی طرف سے ٹھٹھے او رہنسی سے ایک نشان مانگا ہے او راس ٹھٹھے میں گذشتہ منکرین سے کم نہیں رہے۔ کیونکہ عرب کے لوگوں نے اس قسم کے ہنسی اور ٹھٹھے سے کبھی نشان نہیں مانگا کہ فلاں صحابی کی ٹانگ کمزور ہے وہ درست ہوجائے یا اس کی کسی آنکھ میں بصارت نہیں وہ ٹھیک ہو جائے ۔ہاں مکہ کے لوگوں نے یہ نشان مانگا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سونے کا ہو جائے اور اس کے ارد گرد نہریں بھی جاری ہوں اور نیز یہ کہ آپ ان کے دیکھتے ہوئے آسمان پر چڑھ جائیں اور دیکھتے دیکھتے آسمان پر سے اتر آئیں اورخدا کی کتاب ساتھ لاویں اور وہ اس کو ہاتھ میں لے کر ٹٹول بھی لیں تب ایمان لائیں گے۔ اس درخواست میں اگرچہ جہالت تھی لیکن میاں عبدالحق کی طرح ایذا دینے والی شرارت نہ تھی۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لوگوں نے نشان مانگے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اُن درخواست کنندہ لوگوں کو ان کے مُنہ مانگے نشان نہیں دیئے گئے تھے بلکہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 540

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 540

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ

    540

    زجر اور توبیخ سے جواب دیا گیا تھااور قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھاکہ 333 ۱؂ یعنی خدا تعالیٰ کی شان اس تہمت سے پا ک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا ملہم کو یہ قدرت حاصل ہوکہ جو الوہیّت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی قدرت سے دکھلائے اور فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں ؔ تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ محض امر الٰہی کی پیروی کرتاہوں ۔ پھر مجھ سے یہ درخواست کرنا کہ یہ نشان دکھلا اور یہ نہ دکھلا سراسر حماقت ہے ۔جو کچھ خدا نے کہا وہی دکھلا سکتا ہوں نہ اور کچھ۔ اور انجیل میں خود تراشیدہ نشان مانگنے والوں کو صاف لفظوں میں حضرت مسیح مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرام کار لوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو بجز یونس نبی کے نشان کے اور کوئی نشان دکھلایانہیں جائے گا یعنی نشان یہ ہوگا کہ باوجود دشمنوں کی سخت کوشش کے جو مجھے سولی پر ہلاک کرنا چاہتے ہیں مَیں یونس نبی کی طرح قبر کے پیٹ میں جو مچھلی سے مشابہ ہے زندہ ہی داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا اور پھر یونس کی طرح نجات پاکر کسی دوسرے ملک کی طرف جاؤں گا۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے جیسا کہ اُس حدیث سے ثابت ہے کہ جو کنز العمال میں ہے یعنی یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے نجات پاکر ایک سرد ملک کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی کشمیر جس کے شہر سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔ غرض جب حضرت مسیح سے ان کے دشمنوں نے نشان مانگا اور میاں عبدالحق کی طرح بعض خودتر اشیدہ نشان پیش کئے کہ ہمیں یہ دکھلاؤ اور یہ دکھلاؤ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہی جواب تھا جو ابھی ہم نے تحریر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں عبد الحق کا ایسے اقتراحی نشان



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 541

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 541

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/541/mode/1up

    541

    کے مانگنے میں کچھ قصور نہیں ہے بلکہ حسب آیت 3 ۱؂ ا ن کی طبیعت ہی اُن بدبخت کفار کے مشابہ واقع ہوئی ہے جو خداتعالیٰ کے نشانوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور اپنی طرف سے اختراع کرکے درخواستیں کرتے تھے کہ ایسے ایسے نشان دکھاؤ ۔ لیکن اگر افسوس ہے تو صرف یہ ہے کہ ؔ ان لوگوں نے مولوی کہلاکر ہنسی ٹھٹھا اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ جو شخص عبد الحق کے اشتہار کو غور سے پڑھے گا اس کو قبول کرنا پڑے گا کہ انہوں نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کا شرارت اور بے ادبی سے ذکر کرکے ان کی ٹانگ کی درستی یا آنکھ کی نظر کی نسبت جو نشان مانگا ہے یہ ایک اوباشانہ طریق پر ٹھٹھا کیاہے جو کسی پرہیزگار اور نیک بخت کا کام نہیں ہے ۔ پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے ۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیاکہ 3 ۲؂ یعنی لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کاکام ہے۔ لیکن اب تو نہ ہم عبد الحق پر افسوس کرتے ہیں نہ اس کے دوسرے رفیقوں پرکیونکہ ان لوگوں کا ظلم اور نا انصافی اور دروغ گوئی اور افترا حد سے گذ ر گیا ہے اسی اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لو کہ کس قدر جھوٹ سے کام لیا ہے کیا کسی جگہ بھی خدا تعالیٰ سے حیاکی ہے چنانچہ ہم بطور نمونہ بطرز قولہ و اقول اس ظالم شخص کے جھوٹوں کا ذخیرہ ذیل میں لکھ دیتے ہیں جو اسی اشتہار میں اس نے استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔

    قولہ۔ مرزا بارہا متفرق مواضع کے مباحثات میں شرمندہ اور لاجواب ہوا اور ہر مجمع میں خائب اور خاسر اور نامراد رہا۔



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 542

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 542

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/542/mode/1up

    542

    اقول۔ کیوں میاں عبد الحق کیا یہ تم نے سچ بولا ہے۔ کیا اب بھی ہم لعنۃ اللّٰہ علیالکاذبین نہ کہیں ۔ شاباش ! عبد اللہ غزنوی کا خوب تم نے نمونہ ظاہر کیا۔ شاگرد ہوں تو ایسے ہوں۔ بھلا اگر سچے ہی ہو تو ان مجامع اور مجالس کی ذرہ تشریح تو کرو جن میں مَیں شرمندہ ہوا اس قدر کیوں جھوٹ بولتے ہو کیامرنا نہیں ہے؟ بھلا ان مباحثات کی عبارات تو لکھو جن میں تم یا تمہاراکوئی اور بھائی غا ؔ لب رہا ورنہ نہ مَیں بلکہ آسمان بھی یہی کہہ رہا ہے کہلعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ میری طرف سے اتمام حجت اس سے زیادہ کیاہو سکتا تھا کہ میں نے قرآن سے ثابت کردیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ حدیث سے ثابت کردیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے اور ان کی عمر ایک سو پچیس برس کی تھی۔ معراج کی حدیث نے ثابت کردیا کہ وہ مردوں میں جاملے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پرحضرت یحییٰ کے پاس انہیں دیکھا۔ کیااب بھی ان کے مرنے میں کسر باقی رہ گئی۔ تمام صحابہ کااُن کی موت پر اجماع ہوگیا اور اگر اجماع نہیں ہوا تھا تو ذرہ بیان تو کرو کہ جب حضرت عمر کے غلط خیال پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیں گے حضرت ابوبکر نے یہ آیت پیش کی کہ3 ۱؂ تو حضرت ابوبکر نے کیا سمجھ کر یہ آیت پیش کی تھی اور کونسا استدلال مطلوب تھا جو مناسب محل بھی تھا اور صحابہ نے اس کے معنے کیا سمجھے تھے اور کیوں مخالفت نہیں کی تھی اور کیوں اس جگہ لکھا ہے کہ جب یہ آیت صحابہ نے سنی تو اپنے خیالات سے رجوع کرلیا۔ اسی طرح میں نے حدیثوں سے ثابت کردیا ہے کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ ہے جیسا کہ حدیث یَکسر الصَّلیبسے سمجھا جاتا ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 543

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 543

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/543/mode/1up

    543

    پھر آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ میری ہی دعوت کے وقت میں آسمان پر رمضان میں خسوف کسوف عین حدیث کے موافق وقوع میں آیا اور میرے ہاتھ پر سو۱۰۰ کے قریب نشان ظاہر ہو ا جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں جن کی تفصیل کتاب تریاق القلوب میں درج ہے کوئی طریق باقی نہیں رہا جس سے میں نے اتمامِ حجت نہیں کیا۔ نقلی طور پر میں نے اتمام حجت کیا۔ عقلی طورپر میںؔ نے اتمام حُجت کیا۔آسمانی نشانوں کے ساتھ میں نے اتمام حجت کیا اب اگر کچھ حیا ہے تو خود سوچ لو کہ کون شرمندہ اور خائب اور خاسر اور نامراد رہا اور میں نے صرف اسی پر بس نہیں کی۔ بارہا اشتہار دیئے کہ اگر آپ لوگوں میں کچھ سچائی ہے تو میرے مقابلہ پر آؤ قرآن سے دکھلاؤ یاحدیث سے دکھلاؤ کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر زندہ مع جسم عنصری آسمان پر سے اتریں گے۔ میں تو اب بھی ماننے کو طیار ہوں اگر آیت3 ۱؂ کے معنے بجز مارنے اور ہلاک کرنے کے کسی حدیث سے کچھ اور ثابت کرسکو یاکسی آیت یا حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کامع جسم عنصری آسمان پر چڑھنا یامع جسم عنصری آسمان سے اترنا ثابت کرسکو۔ یا اگر اخبار غیبیہ میں جو خدا تعالیٰ سے مجھ پر ظاہر ہوتی ہیں میرا مقابلہ کرسکو یا استجابت دعامیں میرا مقابلہ کرسکو یا تحریر زبان عربی میں میرا مقابلہ کرسکو یا اور آسمانی نشانوں میں جو مجھے عطا ہوئے ہیں میرامقابلہ کرسکو تو میں جھوٹا ہوں۔ آپ لوگ تو ان سوالات کے وقت مُردہ کی طرح ہوگئے یہی وجہ تو ہے کہ آپ لوگوں کو چھوڑ کر ہزارہا نیک مرد اور عالم فاضل اس جماعت میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔ اے عزیز! یہ اوباشانہ فضولیاں کچھ کام نہیں دے سکتیں۔ کیاحق کے طالب ایسی بیہودہ باتوں سے رُک سکتے ہیں ؟ یہ غزنی نہیں ہے



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 544

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 544

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/544/mode/1up

    544

    یہ پنجاب ہے جس میں بفضلہ تعالیٰ دن بدن لوگ زیرک اور اہل فراست ہوتے جاتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ انہی اوباشانہ جھوٹوں کی وجہ سے عقلمند لوگ آپ لوگوں سے بد اعتقاد ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ اب اگرچہ خاص لوگ اہل علم و اہل جاہ و ثروت دس ہزار کے قریب ہماری جماعت میں موجود ہیں مگر عام تعداد تیس ہزار سے بھی زیادہ ہے اس کاکیا سبب ہے یہی تو ہے کہ آپ لوگ صرف ٹھٹھے ہنسی اور گالیوں سے کام نکالتے ہیں کوئیؔ راست روی کا پہلو اختیار نہیں کرتے۔ سیدھی بات تھی کہ آپ لوگ ملہم کہلاتے ہیں استجابت دعا کا بھی دعویٰ ہے چند پیشگوئیاں جو استجابت دعا پر بھی مشتمل ہوں بذریعہ اشتہار شائع کردیں اور اس طرف سے میں بھی شایع کردوں ایک برس سے زیادہ میعاد نہ ہو پھر اگرآپ لوگوں کی پیشگوئیاں سچی نکلیں تو ایک دم میں ہزارہا لوگ میری جماعت کے آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جھوٹے کا مُنہ کالا ہوجائے گا۔ کیا آپ اس درخواست کو قبول کرلیں گے؟ ممکن نہیں ۔ پس یہی وجہ ہے کہ حق کے طالب آپ لوگوں سے بیزار ہو تے جاتے ہیں۔ صرف گالیوں اور بے ثبوت افتراؤں سے کون مان لے گا۔ اب بھی میں نے آپ لوگوں پر رحم کرکے ایک اشتہار شایع کیاہے اور ایک اشتہار میری جماعت کی طرف سے شائع ہوا ہے مگر کیاممکن ہے کہ آپ لوگ اس تصفیہ کے لئے کسی مجمع میں حاضر ہو سکیں گے آپ لوگوں کی نیت بخیر نہیں۔ منہ سے گالیاں دینا تحقیر کرنا کافر اور دجال کہنا *** بھیجنا جھوٹ بولنا اور جھوٹی فتح کا اظہار کرناکیا اس سے کوئی فتح حاصل ہوسکتی ہے بلکہ ہمیشہ نبی اور راستباز شریر لوگوں سے ایسے ہی الفاظ سنتے رہے ہیں۔ اگر خدا پر بھروسہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ہے تو اس کی طرف سے کوئی پیشگوئی شایع کرو اور بالمقابل ہم سے دیکھ لو ورنہ مردہ کی طرح پڑے رہو



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 545

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 545

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/545/mode/1up

    545

    اور انتظار وقت کرو۔ اگر صرف گالیاں دینا ہے تو میں آپ کا مُنہ بند نہیں کرسکتا ۔ نہ حضرت موسیٰ ایسی بیہودہ گوئیوں کامُنہ بند کرسکے نہ حضرت عیسیٰ بند کرسکے اور نہ ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بند کرسکے۔ لیکن آپ لوگوں میں اگر کوئی رشید ہو تو اُس کو سوچنا چاہیئے کہ میری دعوت کے قبول کرنے کے لئے کس قدر مسلمانوں میں پُرجوش حرکت ہو رہی ہے۔ پشاور سے چل کر راولپنڈی، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیر آباد، امرؔ تسر، لاہور، جالندھر، لدھیانہ، انبالہ، پٹیالہ، دہلی، الہ آباد، بمبئی،کلکتہ ،مدراس، حیدرآباددکن غرض کہاں تک بیان کریں پنجاب او ر ہندوستان کے تمام شہروں اور دیہات کو دیکھو شاذ نادر ایساکوئی شہر ہوگا کہ جو اس جماعت کے کسی فرد سے خالی ہوگا۔ اب اگر مسلمانوں کی سچی ہمدردی ہے تو صرف یہ اوباشانہ باتیں کافی نہیں ہیں کہ مرزا بارہا لاجواب ہوچکاہے اور خائب اور خاسر اور نامراد رہا ہے۔ اب ایسے جھوٹ سے تو واقف کار لوگوں کو مردار سے زیادہ بدبو آتی ہے اور کوئی شریف اس کو پسند نہیں کرے گا۔ یوں تو ہندو اور چوہڑے اور چمار اور ادنیٰ سے ادنیٰ لوگ بارہا کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں سے مذہب میں گفتگو کرکے لاجواب کردیا اور وہ ہمارے ہر مجمع میں لاجواب اور خائب اور خاسر اور نامراد رہے۔ مگر شریف انسان کو ایسے ناپاک جھوٹ سے نفرت چاہیئے۔ اے عزیز اگر ایمان اور مسلمانوں کی ہمدردی کا حصہ ایک ذرّہ بھی دِل میں موجود ہے تو اِن فضول گوئیوں کا اب یہ وقت نہیں ہے۔ اب واقعی طور پر کوئی مقابلہ کرکے دِکھلانا چاہیئے۔ تا سیہ رُوئے شود ہرکہ دروغش باشد۔

    قولہ۔ مباہلہ میں کما حقہ علیٰ رؤس الاشہاد رُسوا اور ذلیل ہوکر قابل خطاب اور لائق جواب علماء عظام وصوفیہ کرام نہیں رہا۔

    اقول۔ افسوس کہ مباہلہ کا ذکر کرکے او ر اس قدر قابلِ نفرت جھوٹ بول کر



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 546

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 546

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/546/mode/1up

    546

    اور بھی تم نے اپنی رُسوائی اور پردہ دری کرائی۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ لوگوں کا حیا کہاں گیا اور تقویٰ اور راست گوئی سے اس قدر کیوں دشمنی ہوگئی۔ سوچ کر دیکھ لو کہ جس قدر تم پر اور تمہاری جماعت پر ادبار ہے وہ مباہلہ کے دن کے بعد ہی شروع ہوا ہے۔ یہ تو میری سچائی کا ایک بڑانشان تھا جس سے آپ نے اپنی بدقسمتی سے ذرہ فائدہ نہیں اُٹھایا۔ نہ معلوم آپ لوگ کس غار کے اندر بیٹھے ہوکہ زمانہ کے حالات کی کچھ بھی خبر نہیں۔ ہزارہا لوگ بول اُٹھے ہیں اور ؔ بے شمار روحیں محسوس کر گئی ہیں کہ ہمارے اقبال اور ترقی اور تمہارے ادبار اور تنزّل کا دِن مباہلہ کا دِن ہی تھا۔ ایک ادنیٰ مثال دیکھ لوکہ مباہلہ کے دن بلکہ اسی وقت علی رؤس الاشہاد جبکہ مباہلہ ختم ہی ہوا تھا اور ابھی تم او رہم دونوں اُسی میدان میں موجود تھے اور تمام مجمع موجود تھا خدا تعالیٰ نے میری عزت اُس مجمع پر ظاہر کرنے کے لئے ایک فوری ذلّت اور فوری رُسوائی تمہارے نصیب کی یعنی فی الفور ایک گواہ تمہاری جماعت میں سے کھڑاکردیا وہ کون تھا منشی محمد یعقوب جو حافظ محمد یوسف کا بھائی ہے۔ اُس نے قسم کھائی او ررو رو کرمجھے مخاطب کرکے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچے ہو کیونکہ میں نے مولوی عبد اللہ غزنوی سے سنا ہے کہ ایک خواب کی تعبیر کے موقع پر انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور کہا کہ ایک نور آسمان سے اُترا ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔اب دیکھو کہ تم ابھی مباہلہ کے مکان سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے کہ خدا نے تمہیں ذلیل کردیا اور جس شخص کی استادی کاتم فخر کرتے ہو اُسی نے گواہی دے دی کہ تم جھوٹے اور غلام احمد قادیانی سچا ہے۔ اب اس سے زیادہ مباہلہ کا فوری اثر کیاہوگا کہ میرے لئے خدا کا اکرام و اعزاز اُسی وقت ظاہر ہوگیا اور اُسی وقت میری سچائی کی گواہی مل گئی اور گواہی بھی تمہارے اُس اُستاد کی یعنی عبد اللہ غزنوی کی کہ اگر اُس کی بات نہ مانو تو عاق کہلاؤکیونکہ تمہارا سارا شرف اُسی کے طفیل ہے اگر اُس کو



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 547

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 547

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/547/mode/1up

    547

    تم نے جھوٹا سمجھا تو پھر تم ناخلف شاگرد ہو۔ غرض یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ مباہلہ ہوتے ہی اُسی میدان میں اُسی گھڑی اُسی ساعت خدا نے تمہیں تمہارے ہی اُستاد کی گواہی سے تمہاری ہی جماعت کے آدمی کے ذریعہ سے ذلیل اور رسوا کردیا اور نامرادی ظاہر کردی۔پھر مباہلہ کے بعد ایک اور نشان میری عزّت کا پیدا ہوا جس کے لاکھوں انسان گواہ ہیں اوروہ یہ کہ ہمارے سلسلہ کے لئے ؔ مجھے وہ فتوحات مالی ہوئیں کہ اگر میں چاہتا تواُن سے ایک غزنی کا بڑاحصہ خرید سکتا۔ چنانچہ اس پر سرکاری ڈاک خانجات کے وہ رجسٹر گواہ ہیں جن میں منی آرڈر درج ہوا کرتے ہیں۔ مگرکیا تمہیں اِس کے بعد کوئی ۲؍ کامنی آرڈر بھی آیا اگر آیا تو اِس کا ثبوت دو۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ہزارہا روپیہ جو مباہلہ کے بعد مجھے بھیجا گیا جو تیس ہز۳۰۰۰۰ار روپیہ سے کم نہ تھاکیا اِس بات پر دلیل نہیں ہے جو مسلمان لوگوں نے مجھے عزت اور بزرگی کی نظر سے دیکھا اور مجھے عزیز رکھ کر میرے پر اپنے مال فدا کئے۔ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس سے انکارکرنا آفتاب پر تھوکنا ہے۔ پھر مباہلہ کی تاثیر کا نشان یہ ہے کہ یہ تیس ہزار آدمی کی جماعت جو اب میرے ساتھ ہے یہ مباہلہ کے بعد ہی مجھ کو ملی۔ آتھم کا وفات پاکر ہمیشہ کے لئے اسلامی مخالفت کو ختم کرکے دُنیا سے رخصت ہو جانا مباہلہ کے بعد ہی پیشگوئی کے موافق ظہور میں آیا۔ پیشگوئی کا یہ منشاء تھا کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا مذہب رکھتا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم نے مجھ سے پہلے وفات پاکر میری سچائی پر مہر لگادی۔ پھر بعد اس کے لیکھرام کے قتل کاوہ نشان ظاہر ہوا جس پر تخمیناً تین ہزار مسلمان اور ہندوؤں نے ایک محضر نامہ پر جو ہماری طرف سے طیار ہوا تھا یہ گواہی اپنی قلم سے ثبت کردی کہ یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔ اسی محضر نامہ پر سیّد فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر کے دستخط ہیں جو مخالف جماعت میں سے ہوکر تصدیق کرتا ہے۔



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 548

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 548

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/548/mode/1up

    548

    یہ یقینی امر ہے کہ تیس ہزار کے قریب لوگ اس پیشگوئی کو دیکھ کر ایمان لائے۔ ورنہ ہماری جماعت مبا ہلہ سے پہلے تین سو سے زیادہ نہ تھی۔ پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے نشانوں کی اِس قدر بارش ہوئی کہ سو سے زیادہ نشان ظہور میں آیا جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ بڑے بڑے امراء اور تاجر اِس جماعت میں داخل ہوئے اور ایک دُنیا ارادت اور اعتقادؔ کے ساتھ میری طرف دوڑی اور ایک عظیم الشان قبولیت زمین پر پھیل گئی۔ کیااس میں تمہاری ذلّت نہ تھی۔ انسان دُور بیٹھا ہوا اندھے کے حکم میں ہوتا ہے اگر ایک دو ہفتہ قادیاں میں آکر دیکھو کہ کیونکر ہزارہا کوس سے ہر طرف سے لوگ آرہے ہیں اور کیونکر ہزارہا روپیہ میرے قدموں پر ڈال رہے ہیں اور کیونکر ہر ایک ملک سے قیمتی تحفے اور سوغاتیں اور پھل چلے آتے ہیں اور کیونکر صدہا لوگوں کے لئے ایک وسیع لنگر خانہ طیار ہے اور کیونکر ہماری جامع مسجد میں صدہا آدمی جو بیعت میں داخل ہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور کیونکر بے شمار زیارت کرنے والے قدموں پر گرے جاتے ہیں تو غالباً یہ نظارہ آپ کے لئے بباعثِ شدّتِ غم ناگہانی موت کاموجب ہوگا۔ اب ذرہ انصاف سے سوچو کہ مباہلہ کے بعد کون رسوا اور ذلیل ہوا اور کس نے عزت پائی۔ اگر تمہیں خبر ہوتی کہ مباہلہ کے پہلے میری جماعت کیا تھی اور قبولیت کس قدر تھی اور پھر مباہلہ کے بعد کس قدر قبولیت زمین پرپھیل گئی اور کس قدر فوج در فوج لوگ اِس مبارک سلسلہ میں داخل ہوئے تو یقین تھا کہ تم شدّت غم سے مدقوق یا مسلول ہوکر مُدّت سے مر بھی جاتے۔ مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا *** کا کام ہے اور اِس قسم کو سچ نہ سمجھنا بھی *** کا کام کہ میری عزت اور قبولیت مباہلہ سے پہلے ایک قطرہ کے موافق تھی اور اب مباہلہ کے بعد ایک دریا کی مانند ہے۔

    غرض ہر ایک پہلو سے خدا نے میری مدد کی یہاں تک کہ میں نے خدا تعالیٰ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 549

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 549

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/549/mode/1up

    549

    سے الہام پاکر ایک پیشگوئی اپنی کتابوں میں شائع کی تھی کہ عبد الحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک میرا چوتھا بیٹا پیدا نہ ہو۔ سو الحمد للہ کہ وہ بھی تمہاری زندگی میں ہی پیدا ہوگیا جس کانام مبارک احمد ہے اور اسی طرح سو کے قریب او رنشان ظاہر ہوا اور عزت پر عزت حاصل ہوتی گئی یہاں تک کہ دشمنو ں نے میری عزت کو ؔ اپنے لئے ایک عذاب دیکھ کر درد حسد سے مقدمات بھی بنائے لیکن ہر میدان میں مخذول اور مردود رہے۔ اب بتلاؤ کہ تمہیں مباہلہ کے بعد کونسی عزت اور قبولیت ملی اور کس قدر جماعت نے تمہاری بیعت کی اور کس قدر فتوحات مالی نصیب ہوئیں اور کس قدر اولاد ہوئی بلکہ تمہارامباہلہ تو تمہاری جماعت کے مولوی عبد الواحد کو بھی لے ڈوبا اور اس کی بھی بیوی کے فوت ہونے سے خانہ بربادی ہوئی۔ مجھے خدا نے وعدہ دیا تھا کہ مباہلہ کے بعد دو اور لڑکے تمہارے گھر پیدا ہوں گے سو دو اور پیدا ہوگئے اور وہ دونوں پیشگوئیاں جو صدہا انسانوں کو سنائی گئی تھیں پوری ہوگئیں۔ اب بتلاؤ کہ تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں۔ ذرہ جواب دو کہ اِس فضول گوئی کے بعد کس قدر لڑکے پیدا ہوئے۔ ذرہ انصاف سے کہو کہ جبکہ تم منہ سے دعوے کرکے اور اشتہار کے ذریعہ سے لڑکے کی شہرت دے کر پھر صاف نامراد اور خائب و خاسر رہے ۔ کیا یہ ذِلّت تھی یاعزت تھی ؟ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مباہلہ کے بعد جو کچھ قبولیت مجھ کو عطا ہوئی وہ سب تمہاری ذلّت کا موجب تھی۔

    قولہ۔ کیا آتھم اور داماد مرزا احمد بیگ اور آپ کے فرزند موعود کا کوئی نتیجہ ظہور میں آیا۔

    اقول۔ ہزارہا دانشمند انسان اِس بات کو مان گئے ہیں کہ آتھم پیشگوئی کے مطابق مرگیا اور اگر زندہ ہے تو پیش کرو اور اگر یہ کہو کہ میعاد کے اندر فوت نہیں ہوا



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 550

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 550

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/550/mode/1up

    550

    تو یہ تمہارا حمق ہے کہ ایسا خیال کرو کیونکہ پیشگوئی شرطی تھی اور شرط کے تحقق نے میعاد کی رعایت کو باطل کردیا تھااور نیز میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یونس نبی کو سچا نبی مانتے ہو یا نہیں اس کی پیشگوئی کیوں خطا گئی اس میں تو کوئی شرط بھی نہ تھی پھر اگر حیا اور ایمان ہے تو شرطی پیشگوئیوں پر کیوں اعتراض کرتے ہو۔ دیکھو یو نہ نبی کی کتاب اور دُرِّمنثور کہ کیسے یونہ نبی کو پیشگوئی کے ؔ خطا جانے سے تکالیف اٹھانی پڑیں۔ اب یونس کو مجھ سے زیادہ تر بُرا کہو کہ اُس کی قطعی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی خطا گئی۔ اے نادانو! اسلام پر کیوں تبر چلاتے ہو حق یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی میں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتاہے کہ توبہ اور استغفار اور رجوع سے اس میں تاخیر ڈال دے گو اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو تمام صدقات اور خیرات اور دعوات باطل ہو جائیں گی اور یہ اصول جو تمام نبیوں کا مانا ہوا ہے کہ یُرَدُّ القَضَاءُ بِالصَّدَقَاتِ وَالدُّعَاء صحیح نہیں رہے گا۔ ماسوا ا س کے ہر ایک عقلمند سوچ سکتاہے کہ میرااور ڈپٹی آتھم کا مقابلہ کسی میرے دعوے کے متعلق نہ تھا۔ اِس تمام بحث کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ آتھم یہ کہتا تھا کہ عیسائی دین سچا ہے اور نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفتری ہیں اور قرآن خدا کا کلام نہیں بلکہ انسان کا افترا ہے ۔ اور میں کہتا تھا کہ عیسائی مذہب اپنی اصلیت پر قائم نہیں اور تثلیث و کفّارہ وغیرہ سب باطل ہیں۔ پس جب پندرہ دن بحث کے ختم ہوگئے تو آخری دن میں جیسا کہ خداتعالیٰ نے مجھے الہام کیا میں نے اُسی مجلس بحث میں جس میں ستر ۷۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی موجود ہوں گے آتھم کو مخاطب کرکے کہا کہ تم نے اپنی کتاب میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کا نام دجّال رکھا ہے اور اِسلام کو جھوٹامذہب ٹھہرایا ہے اور دیکھو اس وقت تم نے عیسائی مذہب کے



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 551

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 551

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/551/mode/1up

    551

    حامی ہوکر بحث کی ہے اور میں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کی حمایت میں بحث کی ہے۔ اب میں خدا سے الہام پاکر کہتا ہوں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص جھوٹے مذہب کا حامی ہے وہ سچے کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی ہاویہ میں گرایا جاوے گا یعنی مرے گا۔ مگر جو سچے مذہب کا حامی ہے وہ سلامت رہے گا۔ اورجھوٹے کی موت پندرہ مہینہ کے اندر اِس حالت میں ہوگی جبکہ وہ حق کی طرف کچھ بھی ؔ رجوع نہ کرے گا۔ جب میں یہ پیشگوئی بیان کرچکا جس کا یہ خلاصہ ہے تو اُسی وقت آتھم نے زبان نکالی اورتوبہ کرنے والوں کی طرح دونوں ہاتھ اُٹھائے او ردجّال کہنے سے اپنی پشیمانی ظاہر کی۔ پس بلاشبہ ایک عیسائی کی طرف سے یہ ایک رجوع ہے جس کے ستر۷۰ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی گواہ ہیں اور بعد اس کے برابر پندرہ مہینے تک عبد اللہ آتھم کا گوشہء تنہائی میں بیٹھنا اور امرتسر کے عیسائیوں کا ترک صحبت کرنا اور قانوناً نالش کرنے کا حق رکھ کر پھر بھی نالش نہ کرنا اور اقرر کرنا کہ میں ان لوگوں کی طرح حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا اورباوجود چار ہزار روپیہ انعام پیش کرنے کے قسم کھانے سے انکار کرنا اور میعاد پیشگوئی میں ایک حرف بھی ردِّ اسلام میں نہ لکھنا اور روتے رہنا اور برخلاف اپنی قدیم عادت کے ترک مباحثہ مسلمانوں سے کرنا یہ تمام ایسی باتیں ہیں کہ اگر انسان مفسد اور سیہ دل نہ ہوتو ضرور ان سے نتیجہ نکالے گا کہ بلاشبہ عبد اللہ آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد ڈرا اور اسلامی عظمت کو دِل میں بٹھایا۔ لہٰذا ضرور تھا کہ بقدر اپنے رجوع کے الہامی شرط سے فائدہ اُٹھاتا۔ پھر ان سب باتوں سے قطع نظر کرکے وہ شخص کیسا مسلمان ہے کہ جو اس قسم کے مذہبی مباحثہ میں جس کا نعوذ باللہ میرے مغلوب ہونے کی حالت میں اثر بد اسلام پر پڑتا ہے پھر بھی کہے جاتا ہے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ اے نادان اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی تو پھر تجھے عیسائی ہو جانا چاہئے کیونکہ اس صورت میں



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 552

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 552

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/552/mode/1up

    552

    عیسائی مذہب کا سچا ہونا ثابت ہوا۔ تم لوگوں کے لئے کیسے فخر کی بات تھی کہ دو شخص دو قوموں میں سے اسلام کے مقابل پر اُٹھے یعنی آتھم اور لیکھرام ۔اور اُن کو ایک آسمانی فیصلہ کے طور پر سنایا گیا کہ جو شخص جھوٹے مذہب پر ہوگا وہ اُس فریق سے پہلے مرجائے گاکہ جو سچے مذہب پر قائم ہے چنانچہ میری زندگی میں ہی آتھم اور لیکھرام دونوں مرگئے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہوں اور اگر اسلام سچا نہ ہوتا تو ممکن تھا بلکہ ضروری تھا کہ ؔ میں پہلے ان سے مر جاتا۔ پس خدا سے ڈرو اور اُس فتح کو جو خدا کے کمال فضل سے اِسلام کو نصیب ہوئی میرے حسد کے لئے شکست کے پیرایہ میں بیان مت کرو۔ دیکھو اِس وقت آتھم کہاں ہے اور لیکھرام کس ملک میں ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ کئی برس ہوئے کہ آتھم فوت ہوگیا اور فیروزپور میں اُس کی قبر ہے۔ پس جبکہ پیشگوئی کی اصل غرض جو میری زندگی میں ہی آتھم کا فوت ہوجانا تھاپوری ہوچکی تو کیوں بار بار میعاد کا ذکر کرکے روتے ہو اور کہتے ہو کہ فوت تو ہوا مگر میعاد کے اندر فوت نہیں ہوایہ کیسا بیہودہ عذر ہے۔ اے نادانو ں اور خدا کی شریعت کے اسرار سے غافلو ! جبکہ وعید کی پیشگوئی میں خدا کو یہ بھی اختیار ہے کہ توبہ اور رجوع کرنے سے سرے سے عذاب کو ہی ٹال دیتا ہے تو کیا میعاد کی کمی و بیشی اس پر کوئی اعتراض پیدا کرسکتی ہے۔ 3 ۱ ؂ اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی رحمت اور رحیمانہ رعایت کو مخفی رکھنا نہیں چاہتا۔ پس جبکہ آتھم نے پیشگوئی کو سن کر اُسی وقت سر جھکا دیا اور زبان نکال کر اوردونوں ہاتھ اُٹھاکر توبہ اور ندامت کے آثار ظاہر کئے جس کے گواہ ڈاکٹر مارٹن کلارک بھی ہیں اور بہت سے معزز مسلمان اور عیسائی جن میں سے میرے خیال میں خان محمد یوسف خاں صاحب رئیس امرتسر بھی ہیں جو اُس وقت موجود تھے توکیا اس رجوع نے کوئی حصہ شرط کا پورا نہ کیا۔ میں



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 553

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 553

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/553/mode/1up

    553

    سچ سچ کہتا ہوں کہ اعتراض اس صورت میں ہوتا تھا جبکہ باوجود اس قدر انکسار اور خوف او رتذلّل آتھم کے جو اُس نے ظاہر کیا اور باوجود اس کے کہ وہ مارے غم کے دیوانہ وار ہوگیا اور آیندہ مقابلہ اور مباحثہ سے زبان بند کرلی پھر بھی خدا تعالیٰ اپنی شرط کا کچھ بھی اس کو فائدہ نہ پہنچاتا اور سخت گیری سے میعاد کے اندر ہی اُس کی زندگی کو ختم کردیتا۔ کیا اِس سے خدا کی پاک صفات کی معرفت حاصل نہیں ہوتی کہ اُس نے آتھمؔ کی تضرع اور خوف کا بھی اُسے فائدہ پہنچا دیا اور پھر پیشگوئی کی منشاء کے موافق اُس کے رشتہ حیات کو بھی توڑ دیا تا ثابت ہو کہ جس قدر آتھم نے انکسار اورخوف ظاہر کیا بظاہر اس کی پاداش یہ تھی کہ کم سے کم دس سال اس کو اور زندگی دی جاتی تابموجب آیت 3 ۱؂ وہ اپنے دِلی خوف کی پوری پاداش کو پا لیتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس لئے اس کو جلد ہلاک کردیا کہ تا پادری لوگ نادان لوگوں کو دھوکہ نہ دیں اور اپنے مذہب کی حقانیت پر اس کی زندگی کو دلیل نہ ٹھہرائیں۔ میں تو اُسی وقت ڈر گیا تھا جبکہ عام مجمع میں آتھم نے اپنی زبان مُنہ سے باہر نکالی او ررونے والی صورت بناکر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور ظاہر کیا کہ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتا ہوں۔ اور اُسی وقت مجھے خیال آیا تھا کہ اب یہ شخص اپنی اس ندامت کے اقرار سے خدائے رحیم کے آستانہ پر گرا ہے دیکھئے اس کا نتیجہ کیا ہوگا کیونکہ میں جانتا تھا کہ خدا رحیم ہے اور اُس کی اِسی صفت کی وجہ سے یونس نبی پر ابتلا آیا اور جن کے لئے اُس نے چالیس دن تک ایک مہلک عذاب کا وعدہ کیا تھا اُن کے دامن کا ایک ذرہ گوشہ بھی چاک نہ ہوا۔ اور یاد رہے کہ حق کے طالبوں کو اِس پیشگوئی اور لیکھرام والی پیشگوئی سے ایک علمی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آتھم کی پیشگوئی بباعث اُس کے ڈرنے اور خوف کھانے کے جمالی رنگ پر ظاہر ہوئی



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 554

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 554

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/554/mode/1up

    554

    اور لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ بباعث اس کی شوخی اور بیباکی اور بد زبانی کے جو پیشگوئی کے بعد اور بھی زیادہ ہوگئی تھی جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی اور اُس کی زبان کی چھری آخر اُسی پر چل گئی۔

    یہ تو آتھم کی نسبت ہم نے بیان کیا اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت ہم بار بار بیان کرچکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی دو ٹانگیں تھیں۔ ایک احمد بیگ کی موت کے متعلق اور ایک اُس کے داماد کے متعلق ؔ ۔ سو تم سن چکے ہو کہ احمد بیگ مُدّت ہوئی کہ پیشگوئی کی منشاء کے موافق فوت ہوچکا ہے اور اس کی قبر ہوشیارپور میں موجود ہے۔ رہا اس کاداماد سو پیشگوئی کی شرط کی وجہ سے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی گئی اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیشگوئی شرطی تھی۔ پھر جب احمد بیگ شرط سے لاپروا رہ کر مرگیا تو اس کی موت نے اس کے داماد اور دوسرے اقارب کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈریں اور شرط سے فائدہ اُٹھائیں سو ایساہی ہوا اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کے متعلق جو شرطی الہام تھا اس کی یہ عبارت تھی۔ ایھّا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علٰی عقبک۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ یہ الہام قبل از وقت بمقام ہوشیارپور شیخ مہرعلی کے مکان پر بحاضری حافظ محمد یوسف یا منشی محمد یعقوب و نیز بحاضری منشی الٰہی بخش صاحب آپ کی جماعت میں سے ایک شخص کو جس کا نام عبد الرحیم تھا یا عبد الواحد تھا سنایا گیا تھا اور بعد میں یہ الہام چھپ بھی گیا تھا۔ غرض یہ پیشگوئی شرطی تھی جیساکہ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور اگر وہ شرطی بھی نہ ہوتی تا ہم بوجہ وعید ہونے کے یونس نبی کی پیشگوئی سے مشابہ ہوتی۔ اور خدا کی باتوں کا صبر سے انجام دیکھنا چاہیئے نہ شرارت سے اعتراض۔

    اور فرزند موعود کی نسبت جو اعتراض تھا اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ہمارے مخالفوں کی کچھ ایسی عقل ماری گئی ہے کہ اعتراض کرنے کے



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 555

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 555

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/555/mode/1up

    555

    وقت اُن کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اعتراض کا کوئی موقع بھی ہے یانہیں۔ اے نادان ! خدا تعالیٰ نے جیسا کہ وعدہ فرمایا تھا مجھے چار لڑکے عطا فرمائے اور ہر ایک لڑکے کی پیدایش سے پہلے مجھے اپنی خاص وحی کے ذریعہ سے اس کے پیدا ہونے کی بشارت دی اور وہ ہر چہار بشارتیں ہر چہار اشتہار کے ذریعہ سے قبل از وقت دنیا میں شایع کی گئیں جن کے لاکھوں انسان ان ملکوں میں گواہ ہیں۔ پھر میں سمجھ نہیں سکتا کہ اعتراض کیاؔ ہوا ۔اعتراض تو تمہاری حالت پر واقع ہوتا ہے کہ مُنہ سے نکالا کہ خدا کے فضل سے میرے لڑکا ہوگا اوراس پیشگوئی کو اشتہار میں شائع کیا اورپھر وہ لڑکا اندر ہی اندر تحلیل پاگیا ۔باہر آنا اُس کو نصیب نہ ہوا ۔کاش وہ مُردہ ہی پیدا ہوتا تا تمہارے ہاتھ میں کچھ تو بات رہ جاتی۔ یہ بھی مباہلہ کا بد اثر تم پر پڑا کہ اولاد سے نامراد رہے۔ غرض میرے گھر میں تو اولاد کی بشارت کے بعد چار لڑکے ہوئے اور ہر ایک لڑکے کی پیدایش سے پہلے خدا نے خبر دی جس کو میں نے ہزارہا لوگوں میں شائع کیا مگر تم بتلاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا پیدا ہوا۔تم تو اب تک اس اعتراض کے نیچے ہو۔کاش ایک صادق سے مباہلہ نہ کرتے تو شاید اب تک لڑکا ہو جاتا۔ سو آئینہ لے کر اپنا عیب دیکھو۔ میرے پر نکتہ چینی کا کوئی محل نہیں۔ ہاں اگر میں نے کوئی ایسا الہام شائع کیا ہے جس کے یہ معنے ہوں کہ اسی الہام کے قریب حمل سے اور اسی سال میں وہ لڑکا پیدا ہوگا تو وہ میرا الہام شائع کردو مگر خبردار کوئی اس قسم کا اعتراض پیش نہ کرنا جو اس سے پہلے بعض منافقوں نے حدیبیہ کے قصے پر پیش کیا تھا جس سے عمر فاروق کو خدا نے بچایا اور منافق ہلاک ہوئے۔ اے عزیز کیوں میرے کینہ کے لئے شریعتِ محمدیّہ سے دست بردار ہوتے ہو۔ اس جگہ تو کوئی ہاتھ ڈالنے کی تمہیں جگہ نہیں اور باوصف اس کے یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ کبھی نبی اپنی پیشگوئی کے محل اور



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 556

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 556

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/556/mode/1up

    556

    موقع کے سمجھنے میں غلطی بھی کرسکتا ہے چنانچہ علماء اس پر دلیل حدیث ذَھَبَ وَہْلِیْ کو پیش کرتے ہیں جو بخاری میں موجود ہے۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی تاویل کی غلطی سے پیشگوئی غلط نہیں ٹھہرسکتی اور نہ غیرالہامی ٹھہرسکتی ہے پس جب نبیوں کی پیشگوئی میں یہاں تک وسعت ہے کہ نبی کے غلط معنے پیشگوئی کو کچھ حرج نہیں پہنچاتے تو پھر اعتراض اُسی صورت میں ہوگا جبکہ الہام کا اسی کے الفاظ سے غلط ہونا ثابت ہو جائے۔

    قولہ ۔ مرزا یقیناًجانتا ہے کہ اِس فضول کام کے لئے نہ کسی نے آنا ہےؔ اور نہ یہ کام ہونا ہے مفت کی میری شیخی مشہور ہو جائے گی۔

    اقول۔ اے ناسمجھ خدا سے ڈر کیا دین کے کام کو فضول کام کہتاہے کیا خدا کے نبی فضول کام میں ہی مشغول رہے۔ اے عزیز ! کیا یہ کام فضول ہے جس سے ہزارہا جانیں جھوٹ اور ضلالت سے نجات پاتی ہیں اور اندرونی تفرقہ اس اُ مّت کا جس نے مسلمانوں کو کمزور کردیا ہے دُور ہوتا ہے۔ اگر یہ کام فضول ہے تو کیا دوسرے کام شریعت کے لئے ضروری تھے جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ مثلاً نذیر حسین دہلوی باوجود پیرانہ سالی کے شیخ محمدحسین بٹالوی کے لڑکے کی شادی پر بٹالہ آیا اور سیالکوٹ کے ضلع تک گیا۔ بجز کھانے پینے کے اور کیا غرض تھی۔ اِس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اِسی وجہ سے انحطاط میں ہے کہ حال کے مولوی ضروری کاموں کا نام فضول کام رکھتے ہیں اور اپنے نفسانی تجارتوں کے لئے عدن او ر مسقط تک سیر کر آتے ہیں اس کو کوئی فضول نہیں سمجھتا مگر تائید اسلام کے کاموں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور یوں گوشت پلاؤ کھانے اور شادیوں کی دعوتوں میں شامل ہونے کے لئے صدہا کوس چلے جاتے ہیں۔ یہ خوب دینداری ہے کہ یوں تو ملک میں شور مچا رہے ہیں کہ گویا اِس جماعت میں داخل ہوکر تیس ہزار آدمی کافر ہوگیا اور ہوتا جاتا ہے اور جب



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 557

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 557

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/557/mode/1up

    557

    کہا جائے کہ آؤ فیصلہ کرو تو جواب ملتا ہے کہ اس فضول کام کے لئے علماء کو فرصت کہاں ہے اور کرایہ کے لئے خرچ کہاں۔ ہم اس وقت ایسے علماء کو خدا کی حجت پوری کرنے کے لئے کرایہ کی مدد دینے کو بھی حسب شرائط مذکورہ بالا طیار ہیں۔ کاش کسی طرح اُن کے دل سیدھے ہوں۔ اسلام سب مذہبوں پر غالب ہوتا ہے۔ یہ کیسا اسلام ان کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تسلی نہیں دے سکتا۔ غرض اب ہم نے ان کا یہ عذر بھی توڑ دیا۔

    قولہ ۔ اے نئے عیسائیو اور نیا گرجا بنانے والو۔ ہم ایک سہل اور نہاؔ یت آسان طریق بتلاتے ہیں۔

    اقول۔ اے حد سے بڑھنے والے کیا اُن مسلمانوں کا نام عیسائی رکھتا ہے جو اسلام کے حامی اور زمین پر حُجّت اللّٰہ ہیں۔ اگر مسلمان تیرے جیسے ہی ہوتے تو اسلام کا خاتمہ تھا۔ پھر اس کے بعد آپ نے تمسخر اور ٹھٹھے سے مولوی عبد الکریم صاحب کا ذِکر کیاہے اور نشان یہ مانگا ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو جو ایک ٹانگ میں کچھ کمزوری ہے اور ایک آنکھ کی بصارت میں خلل ہے یہ دونوں عارضے جاتے رہیں۔ اور اس ذکر سے اصل غرض آپ کی صرف ٹھٹھا اور ہنسی ہے اور یہ مقولہ محض اُن کا فروں کی طرح ہے جو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اوریہ نشان مانگتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اس کے لڑکے جس قدر مرگئے ہیں اُن کو زندہ کردے۔ مگر ہم اِس ٹھٹھے کا ابھی جواب دے چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان بوجہ اپنی انسانیت کے کسی نہ کسی نقص سے خالی نہیں ہوتا اور ہمیشہ امراض آفات بھی لاحق رہتے ہیں۔ عزیز و اقارب بھی مرتے ہیں لیکن کوئی شریف نشان مانگنے کے بہانہ سے اِس طرح پر دِل نہیں دُکھاتا۔ یہ قدیم سے رذیلوں اور سفیہوں کا کام ہے اور ہمارے ملک میں اِس قسم کا ٹھٹھا



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 558

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 558

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/558/mode/1up

    558

    ہنسی اکثر مراسی کیا کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ میاں عبد الحق نے کیوں یہ طریق اختیار کیا ہے۔ بھلا اگر ابھی کوئی میاں عبد اللہ غزنوی پر چند ایسے اعتراض کردے کہ اگر وہ ملہم تھا تواُس کو چاہیئے تھا کہ اپنے فلاں فلاں ذاتی نقص دُور کرتا اور لوگوں کو یہ نشان دکھلاتا تو مجھے معلوم نہیں کہ غزنوی صاحبان کیا جواب دیں گے۔ اے عزیز ! اگر تم دوسرے کو اِس طرح پر دُکھ دوگے تو وہ تمہارے باپ اور تمہارے مرشد تک پہنچے گا۔ پس اِن فتنہ انگیز باتوں سے فائدہ کیا ہوابلکہ خدا کے نزدیک اپنے باپ اور اپنے مرشد کی تحقیر کرنے والے تم خود ٹھہروگے۔ اور اگر خدا کی قضا و قدر سے خود تمہاری دونوں آنکھوں پر نزول الماء نازل ہو جائے یا ٹانگوں پر فالج پڑے تو یہ ؔ ساری ہنسی یاد آجائے۔ اے غافلو! دوسروں پر کیوں عیب لگاتے ہو۔ کیا ممکن نہیں کہ خود تم کسی وقت ایسے بدنی نقص میں مبتلا ہو جاؤ کہ لوگ تم پر ہنسیں یا تمہارے چھونے سے پرہیز کریں ۔ خدا سے ڈرو اور کفار کا شعار اختیار نہ کرو۔ یاد رکھو کہ تمام نبیوں نے اُن لوگوں کو ملعون ٹھہرایاہے جو نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگتے ہیں۔ دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ اِس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں انہیں کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا۔ایسا ہی قرآن نے ان لوگوں کانام ملعون رکھا جو لوگ حضرت سیّدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تجویز سے نشان مانگا کرتے تھے جن کابار بار *** کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر ہے جیسا کہ وہ لوگ کہتے تھے 3 3 ۱؂ یعنی ہمیں حضرت موسیٰ کے نشان دکھلائے جائیں یا حضرت مسیح کے اور کبھی آسمان پر چڑھ جانے کی درخواست کرتے تھے اور کبھی یہ نشان مانگتے تھے کہ سونے کا گھر آپ کے لئے بن جائے اور ہمیشہ انہیں نفی میں جواب ملتا تھا۔ تمام قرآن شریف کو



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 559

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 559

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/559/mode/1up

    559

    اوّل سے آخر تک دیکھو کہیں اِس بات کا نام و نشان نہ پاؤ گے کہ کسی کافر نے اپنی طرف سے یہ نشان مانگا ہو کہ کسی کی ٹانگ درست کردو یا آنکھ درست کردو یا مُردہ زندہ کردو۔ تو آنحضرت نے وہی کام کردیا ہو اور نہ انجیل میں اس کی کوئی نظیر ملے گی کہ کفار نشان مانگنے آئے اور اُنہیں دکھایا گیا بلکہ ایک دفعہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ فلاں شخص جس کی نئی شادی ہوئی تھی اور سانپ کے کاٹنے سے مرگیا تھا اُس کو زندہ کردو تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے بھائی کو دفن کرو۔ غرض قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ مکہ کے پلید اور حرامکار کافر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے نشان مانگا کرتے تھے اور ہمیشہ اس سوال کی منظوری سے محروم رہتے اور خداتعالیٰ سے لعنتیں سنتےؔ تھے ایسا ہی تمام انجیل پڑھ کر دیکھ لو کہ اقتراحی نشان مانگنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گالیاں سنا کرتے تھے۔ سواے عزیز! کچھ خدا کا خوف کرو عمر کا اعتبار نہیں۔ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ پر نشان ظاہر کرتا ہے مگر اُس سنت کے موافق جو قدیم سے اپنے مامورین سے رکھتا ہے۔ اور بلاشبہ اس سُنت کے التزام سے ایک شخص اگر شیطان بن کر بھی آوے تب بھی اُس کو الٰہی نشانوں سے قائل کردیا جائے گا لیکن اگر خدا کی سنت قدیمہ کے مخالف دیکھنا چاہے تو اس کا اُس نعمت سے کچھ حصہّ نہیں اور بالیقین وہ ایسا ہی محروم مرے گا جیسا کہ بوجہل وغیرہ محروم مرگئے۔ اے عزیز آپ کا اختیار ہے کہ اُس طرح پر جو خدا نے مجھے مامور کیا ہے ایک جماعت لنگڑوں لولوں اندھوں اور کانوں اور دوسرے بیماروں کی لے آؤ اور پھر اُن میں سے قرعہ اندازی کے طریق پر جس جماعت کو خدا میرے حوالہ کرے گا اگر اُن میں مَیں مغلوب رہا تو جس قدر تم نے اپنے اشتہار میں گالیاں دی ہیں اُن سب کا میں مستحق ہوں گا ورنہ وہ تمام گالیاں تمہاری طرف رجوع



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 560

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 560

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/560/mode/1up

    560

    کریں گی۔ دیکھو اِس طریق سے بھی وہی تمہارا مطلب حاصل ہے پھر اگر دل میں مادہ فساد نہیں تو ایسا اُلٹا طریق کیوں اختیار کرتے ہو جس طریق کے اختیار کرنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر حرامکار کہلائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جہنمی اور *** کہلائے۔ اگر تمہارے دِل میں ایک ذرہ ایمان ہے تو یہ طریق جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں اِس میں حرج کیاہے۔ کیا تم گالیوں اور دہریہ کہنے سے فتح پاجاؤگے۔ یقیناًاُسی گروہ کی فتح ہے جو دہریہ نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور ہنسی ٹھٹھے سے پرہیز کرتے ہیں اور گذشتہ کافروں کی طرح اپنے اقتراح سے نشان نہیں مانگتے بلکہ خدا کے پیش کردہ نشانوں میں غور کرتے ہیں۔ اے موت سے غافل امانت اور دیانت کے طریق سےؔ کیوں باہر جاتا ہے اور ایسی باتیں کیوں زبان پر لاتا ہے جن میں تیرا دِل ہی تجھے ملزم کر رہا ہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ سچ کہہ کیا اب تک تجھے خبر نہیں کہ خدا کو محکوم بناکر کوئی بات امتحان کے طور پر اس سے مانگنا یہ طریق صلحاء کا نہیں ہے بلکہ خدا کی کلام میں اِس طریق کو ایک معصیت اور ترکِ ادب قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کو غور سے پڑھ اور پھر سوچ کہ جو لوگ اقتراحی نشا ن مانگتے تھے یعنی اپنے اپنے خود تر اشیدہ نشانوں کو طلب کرتے تھے ان کو قرآن میں کیا جواب ملتا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں موردِ غضب تھے یا موردِ رحم تھے اور اگر کچھ حیا اور شرم اور شوقِ تحقیق حق ہے اور اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو اپنے اُن علماء سے جو دین سے کچھ خبر رکھتے ہیں یہ فتویٰ لو کہ کیا خدا پر یہ حق واجب ہے کہ جب اس کے کسی نبی یا محدث یارسول سے کوئی فرقہ کفار اور بے ایمانوں کا خود تر اشیدہ نشان مانگے تو وہ نشان اس کو دکھلاوے اور اگر نہ دکھلاوے تو وہ نبی جس سے ایسا نشان طلب کیا جائے جھوٹا ٹھہرے گا پس اگر یہ فتویٰ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 561

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 561

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/561/mode/1up

    561

    تجھے علماء سے مل گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پھر تجھے تیرا پیش کردہ نشان دکھلادوں گا اور اگر نہ ملا تو تیرے جھوٹ کی یہ سزا تجھے کافی ہے کہ تیری ہی قوم کے نامی علماء نے تیری تکذیب کی اور ہماری طرف سے یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ نامی علماء جیسے نذیر حسین دہلوی اور رشید احمد گنگوہی ہرگز تجھے یہ فتویٰ نہیں دیں گے اگر چہ تو اُن کے سامنے روتا روتا مر بھی جائے اور ناظرین کو چاہیے کہ اِس شخص کا جو خدا کی شریعت میں تحریف اور تلبیس کرتا ہے پیچھا نہ چھوڑیں جب تک ایسا فتویٰ علماء کا پیش نہ کرے۔ کیونکہ وہ طریق جو نشان مانگنے میں اُس نے اختیار کیا ہے وہ خدا سے ہنسی اور ٹھٹھا ہے۔ یاد رہے کہ سب سے پہلے دنیا میں شیطان نے حضرت عیسیٰ سے بیت المقدس میں نشان مانگا تھا اور کہا تھا کہ اپنے تئیں اس عمارت سے نیچے گرادے اگر زندہؔ بچ رہا تومیں تجھ پر ایمان لاؤں گا مگر حضرت مسیح نے فرمایا کہ دور ہو اے شیطان کیونکہ لکھا ہے کہ خدا کا امتحان نہ کر۔ اس جگہ ایک پادری صاحب انجیل کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ درحقیقت وہ انسان ہی تھا جس نے حضرت مسیح سے اقتراحی نشان مانگا تھا اور حضرت مسیح نے خود اُس کا نام شیطان رکھا کیونکہ اُس نے خدا کو اپنی مرضی کا محکوم بنانا چاہا۔ پس انجیل کے اِس قصے کی رُو سے میاں عبد الحق کے لئے بھی بڑی خوف کی جگہ ہے جب انسان امانت سے بات نہیں کرتا تو اُس وقت شیطان کا محکوم ہوتا ہے گویا خود وہی ہوتا ہے چنانچہ آیت 3 ۱؂ اِس کی شاہد ہے۔

    قولہ۔ مرزا اور مرزائیوں کو قیامت اور حساب اور جنت او ردوزخ پر ایمان نہیں دہریہ مذہب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ جس کو قیامت پر ایمان ہوتا ہے وہ ایساآزاد دھوکہ باز مفتری علی اللّٰہ وعلی الرسول وعلی الناس نہیں ہوتا۔



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 562

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 562

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/562/mode/1up

    562

    اقول۔میں سچ سچ کہتاہوں کہ یہ سب صفات آپ لوگوں میں ہیں بلکہ آپ لوگ دہریوں سے بدتر ہیں کیونکہ دہریہ توخدا تعالیٰ کی ہستی پر اپنے زعمِ باطل میں دلیل نہیں پاتا۔ مگر آپ لوگ ایمان کا دعویٰ کرکے بھی پھر قابلِ نفرت جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ آپ لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے تواس وقت آپ لوگ صریح خدا اور اس کے رسول پر افترا کرتے ہیں اور اگر افترا نہیں کرتے تو تمہیں خدا کی قسم ہے کہ بتلاؤ کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ افسوس کہ قرآن شریف میں 3 ۱؂ کی آیت پڑھتے ہو اور خوب جانتے ہو کہ سارے قرآن شریف میں ہرجگہ توفّیبمعنی قبض روح ہے۔ اور ایسا ہی یقین رکھتے ہو کہ تمام حدیثوں میں بھی توفّیبمعنی قبض روح ہے اور پھر افترا کے طور پرکہتے ہو کہ اِس جگہ پر توفّیبمعنی زندہ اُٹھا لینے ؔ کے ہیں ۔ پس اگر تم اِس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا نہیں کرتے تو بتلاؤ اور پیش کرو کہ کس حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے۔ ہائے افسوس اس قدر جھوٹ اور افترا۔ اے لوگو! کیا تم نے مرنا نہیں کیا کبھی بھی قبر کا منہ نہیں دیکھو گے۔

    از افتراء و کذب شماخوں شدست دل

    داند خدا کہ زیں غم دیں چوں شدست دل

    ہیچم عیاں نشد کہ شمارا بکینہ ام

    زینساں چرادلیر و دگر گوں شدست دل

    پھر جبکہ حدیث نبوی سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم خاکی آسمان پر چلے گئے تھے یا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر سے اُترنے والے ہیں اور قرآن اُن کو اُن لوگوں میں داخل کرتا ہے جو توفّی کے حکم کے نیچے ہیں اور معراج کی حدیث اِس بات کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت نے معراج کی رات میں حضرت عیسیٰ کو



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 563

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 563

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/563/mode/1up

    563

    وفات یافتہ روحوں میں دیکھا ہے او رایک سو پچیس برس کی عمرجو حدیثوں میں بیان کی گئی ہے وہ صاف کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ اِس قدر زمانہ گذرنے کے بعد ضرور فوت ہوگئے ہیں ایسا ہی وہ حدیث کنز العمال کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ دوسرے ملک میں چلے گئے اس کی مؤید ہے تو پھر یہ کس قدر خدا اور اُس کے رسول پر افترا ہے کہ آپ لوگ اب تک اِس جھوٹے عقیدہ سے باز نہیں آتے۔ اگر دنیا میں وہی مسیح ؑ دوبارہ آنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ اس کو وفات یافتہ نہ کہتا اور حدیث میں کسی جگہ اس بات کی صراحت ہوتی کہ حضرت عیسیٰ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں اور کسی وقت زندہ مع جسم عنصری اُتریں گے۔ مگر اب تو تمام حدیثیں دیکھ لی گئیں اِس بات کا پتہ نہیں ملتا کہ کسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زند ہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر زندہ مع جسم آسمان پر سے اُتریں گے۔ اور اُترنے والے کی صفت میں یہ تو لکھا ہے کہ امامکم منکم مگر یہ نہیں لکھا کہ امامکم من انبیاء بنی اسرائیل۔ اب سوچو کہ افترا کی ***ؔ کس پر قرآن اور حدیث دونوں کرتے ہیں ہم پر یا تم پر۔ اگر ہمارے اِس ثبوت کا کچھ جواب ہے تو پیش کرو ورنہ تم بلاشبہ خدا کے نزدیک مفتری ہو۔ اور پھر اسی پر بس نہیں بات بات میں تمہارے افترا ظاہر ہیں اور تمہاری زبانیں جھوٹ سے پلید ہیں۔ بھلا بتلاؤ کہ مباہلہ کے بارے میں جو میرے ساتھ تم نے کیا تھا کس قدر بار بار تم نے جھوٹ بولا او ر کہا کہ مباہلہ میں مجھ کو فتح ہوئی۔ اے سچائی کے دشمن اور حیا کے ترک کرنے والے سوچ اور سمجھ کہ خدا نے تو اُسی وقت اُسی مقام میں منشی محمدیعقوب کی گواہی سے تجھے ذلیل کیا۔کیا یہی تیری فتح تھی کہ تیرے ہی اُستاد عبد اللہ غزنوی نے میری سچائی کی گواہی دے دی۔ اب اگر میں مفتری ہوں اور قیامت اور حساب اور دوزخ پر مجھے ایمان نہیں تو تجھے ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عبداللہ غزنوی



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 564

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 564

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/564/mode/1up

    564

    تیرا اُستادمجھ سے بڑھ کر مفتری تھا اور قیامت اور حساب اور دوزخ اور جنت پر ایمان نہیں رکھتا تھا کیونکہ بقول تمہارے اُس نے ایک ایسے آدمی کو سچا اور منجانب اللہ قرار دیا جو خدا پر افترا کرتا تھا۔ اے نادان یہ تمام تیری گالیاں تیری طرف ہی عود کرتی ہیں جب تک تو یہ ثابت نہ کرے کہ جو کچھ تیرے استاد عبد اللہ نے گواہی دی وہ صحیح نہیں ہے۔ اے ظالم تو کیوں استاد کا عاق بنتا ہے تجھے تو چاہیئے تھا کہ سب سے پہلے تو ہی مجھے قبول کرتا کیونکہ تو نے اپنے اس اشتہار میں بھی اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ لکھے ہیں۔ ’’ عبد الحق غزنوی تلمیذ حضرت مولانا مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی ‘‘۔ اے بے ادب تو نے اپنے اُستاد کو یہی صِلہ دینا تھا کہ جس شخص کو وہ راستباز کہتا ہے تو نے اُس کو کذّاب قرار دیا اور جبکہ تیری اِس مخالفت کے رُو سے عبد اللہ غزنوی مفتری ٹھہرا۔ اور اُس نے ناحق دروغ کے طورپر مجھے مظہرانوار الٰہی ٹھہرایاتو اب تجھے تو شرم سے مر جانا چاہیئے کہ تو اُسی مفتری کا شاگرد ہے۔ میں نہیں کہتا کہ مولوی عبد اللہ غزنوی مفتری تھااور نہ ؔ میں اِس کا نام کذّاب اوردھوکہ باز رکھتا ہوں لیکن تو نے بلا شبہ اس کو مفتری بنا دیا۔ خدا تجھ کو اس کی مکافات دے کہ ایسے عبد صالح کو تونے عبد طالح قرار دیا کیونکہ جس حالت میں وہ مجھے صادق اورخدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور میں بقول تیرے مفتری اور کذّاب او ردجّال ہوں تو یہی نام عبد اللہ کو بھی تیری طرف سے تحفہ پہنچا۔ مگر تیرے پر کوئی کیا افسوس کرے کیونکہ عبد اللہ تو عبد اللہ تو نے تو اُس کے مرشد کو بھی مفتری ٹھہرایا کیونکہ میاں صاحب کو ٹھہ والے جو مولوی عبد اللہ صاحب کے مرشد تھے قریب موت کے وصیت کرگئے تھے کہ پنجاب میں



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 565

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 565

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/565/mode/1up

    565

    مہدی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے بلکہ پیدا ہوچکا اور اب ہم اُس کے زمانہ میں ہیں * و ہ لوگ اب تک زندہ موجود ہیں جن کو یہ کشف سنایا گیا تھا۔ مگر اے ناحق شناس تو نے مُرشد کے مرُشد کا بھی ادب نگہ نہ رکھا۔ پس آفرین تیرے پر کہ تو نے اپنے مرشد اور مرشد کے مرشد سے خوب نیکی کی اور اُن کا نام مفتری اور کذاب رکھا اگر مولوی عبد اللہ صاحب کی اولاد اپنے باپ کی کچھ عزت کرتے ہیں تو چاہیئے کہ ایسے آدمی کو فی الفور اپنی جماعت میں سے نکال دیں کیونکہ جو اُستاد اور مرشد کا مخالف ہو اُس کے وجود میں خیر نہیں۔ اے بے ادب کیا تو ایسے بزرگ کی بے ادبی کرتا ہے جس کی شاگردی کا تو خود قائل ہے اور اگر تو یہ جواب دے کہ منشی محمد یعقوب صرف ایک گواہ ہے تو یہ دوسری بشارت بھی سن لے کہ چونکہ ضرور تھا کہ مباہلہ کے بعد ہر طرح سے خدا تجھے ذلیل کرے اور تیری رسوائی دنیا پر ظاہر ہو۔ اِس لئے اُسی دن جبکہ ہم مباہلہ سے فراغت پاچکے یا شاید دوسرے دن بوقت شام حافظ محمد یوسف داروغہ انہار نے جن کی بزرگی کے تم سب لوگ قائل ہو مجھ سے ملاقات کی اور ایک بڑی جماعت میں جو سو کے قریب آدمی تھا گواہی دی کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے ایک کشف اپنا مجھے سنایا ہے کہ ایک نورؔ آسمان سے گرا اور وہ قادیاں پر نازل ہوا اور میری اولاد اس سے محروم رہ گئی یعنی وہ لوگ اس کو قبول نہیں کریں گے اور مخالف

    اگرچہ میاں صاحب موصوف کے مُنہ سے صرف مہدی کا لفظ نکلا تھا کہ وہ پیدا ہوگیا اور زبان اس کی پنجابی ہے مگر سامعین نے قرائن مقرر کے لحاظ سے یہی سمجھا تھا کہ مہدی معہود ان کی مراد ہے کیونکہ اس وقت اُسی کی انتظار ہے اور عام محاورہ لوگوں کا یہی ہے کہ جب مثلاً کوئی کہتاہے کہ مہدی کب ظاہرہوگا تو اُس کا مقصود مہدی معہود ہی ہوتا ہے اور مخاطب

    یہی سمجھتا ہے۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 566

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 566

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/566/mode/1up

    566

    ہو جائیں گے۔ اور اس فیض سے بے نصیب رہ جائیں گے* حافظ محمد یوسف صاحب اب تک زندہ ہیں ایک مجلس مقرر کرو اور مجھے اس میں بلاؤاور پھر ان دونوں بزرگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھو کہ یہ دونوں واقعات اُنہوں نے بیان کئے ہیں یا نہیں اور یہ لوگ تمہاری جماعت میں سے ہیں اور نیز مولوی عبد اللہ کے مربی اور محسن بھی۔ اب بتلاؤ کہ کیسی تمہاری جان شکنجہ میں آگئی او ر کس طرح صفائی سے ثابت ہوگیا کہ تم ہی مفتری ہو خدا اپنی مخلوق کو تمہارے افتراؤں سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین

    قولہ۔ مرزا کی کتابیں اس قسم کے جھوٹ اور افتراؤں سے بھری ہوئی ہیں کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کرسکتا۔

    اقول ۔ اس تقریر کا دوسرے لفظوں میں مآل یہ ہے کہ عبد اللہ غزنوی نے ایسے مفتری کا نام صادق اورمنجانب اللہ رکھ کر ایک ایسے جھوٹ اورافترا

    * معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف اُس زمانہ کا ہے جبکہ یہ راقم اپنی عمر کے ابتدائی زمانہ میں مولوی

    عبد اللہصاحب کو بمقام خیروی جاکر ملا تھا اور تفاول نکالا تھا کہ مجھے خیر اور بہتری ملی۔ تب عبداللہ صاحب کو اپنی نسبت دعا کے لئے کہا تو اُنہوں نے دوپہر کے وقت شدّت گرمی میں گھر میں جاکر میری نسبت دعا کی اور میری نسبت اپنا ایک الہام سنایا اور وہ یہ کہ انت مولا نا فانصرنا علی القوم الکافرین اور بوقت ظہر گھر سے واپس آکر تبسم کے ساتھ مجھے کہا کہ خدا کی مجھ سے یہ عادت نہ تھی جو تمہارے معاملہ میں ظہور میں آئی اور اپنی فارسی زبان میں فرمایا کہ اس الہام سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ صحابہ کے رنگ پر تمہارے شامل حال نصرت الٰہی رہے گی۔ اور پھر میں قادیاں میںآیا تو ایک خط ڈاک میں بھیجا جس میں مکرر اً یہی الہام تھا اور شاید بعض اور فقرے بھی تھے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب ممدوح نے اسی تقریب اور تحریک سے قادیاں پر نور نازل ہوتا دیکھا۔ اچھا آدمی تھا خدا اُس پر رحمت نازل کرے آمین۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 567

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 567

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/567/mode/1up

    567

    سے کام لیا ہے کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کرسکتا۔ اب سچ کہہ اے میاں عبد الحق کیا کوئی مومن باللہ ایسی دلیری کرسکتا ہے جو میاں عبداللہ نے کی کہ مفتری کا نام صادق اورآسمانی نور رکھا۔ خدا تعالیٰ تو مفتریوں پر *** بھیجتا ہے پس جس شخص نے ایسا جھوٹا الہام اورکشف بنایا کہ یہ بیان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر خدا تعالیٰ کا نور نازل ہوا اور میری اولاد اُس سے بے نصیب رہ گئی اُ س کی نسبت آپ لوگوں کا کیا فتویٰ ہے۔ ضروریہ فتویٰ شائع کرنا چاہیئے۔ 3 ۱؂۔ آپ تو یہ رونا روتے تھے کہ نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے۔ اب آپ کے اقرار سے یہ ثابت ہوا کہ عبد اللہ غزنوی کئی مرتبہ خدا پر جھوٹ بول کراور حضرت احدیّت پر افترا کرکے اِس دنیا سے گذر گیا ہے اور جو خدا پر افترا کرے اُس سے بدتر کون ہوسکتا ہے۔ ؂

    مراخواندی و خود بدام آمدی نظر پختہ ترکن کہؔ خام آمدی

    قولہ۔ تین صریح جھوٹ ثابت کرتا ہوں جو کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم و حیا والے آدمی کا کام نہیں۔

    اقول۔ اے شرم اور حیا سے دُور اِس تیرے قول سے بھی میں کچھ رنج نہیں کرتا کیونکہ پہلے بے ایمانوں کے طریق اور عادت کو تو نے پورا کیا ۔ہر ایک نبی اور خدا کا مامور اور صادق اور صدیق جو دنیا میں آیااُس کو بدبخت کفار نے جھوٹا کہا بلکہ کذّاب نام رکھا اور تو نے ساری جانکاہی سے تین مقام پیش کئے جن میں تیرے زعم باطل میں میں نے جھوٹ بولا ہے اوروہ تین مقام یہ ہیں جن کا جواب دیتا ہوں۔

    قولہ۔ اوّل جھوٹ یہ ہے کہ صفحہ پانچ سطر ۲۰ و ۲۱ میں لکھا ہے کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت لمّا توفّیتنیفرمانا اور حدیثوں میں



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 568

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 568

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/568/mode/1up

    568

    جیسا کہ بخاری میں ہے۔ اس کے معنے امتّنی بیان کرنا۔

    اقول۔ اس نادان معترض کی اس پوچ اورلچر عبارت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اس جگہ آیت یا عیسٰی انّی متوفّیک کی تفسیر میں یہ قول ہے کہ متوفّیک ممیتک یہ قول نہیں کہ لما توفیتنی۔ اَمتّنی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ میری کلام کا اصل مقصود احادیث کا خلاصہ مطلب بیان کرنا ہے نہ یہ کہ کسی حدیث کے ٹھیک ٹھیک لفظ لکھنا جیسا کہ میرے اس فقرہ کے ذکر کرنے سے کہ اور حدیثوں میں یعنی بخاری وغیرہ میں۔ یہ میرا مدعا سمجھا جاتا ہے اور منصف کو میرے کلام پر غور کرنے سے شک نہیں رہے گا کہ میرا مُدعا اِس جگہ حرف احادیث کا خلاصہ اور مآل اقوال لکھنا ہے نہ نقل عبارت اور ظاہر ہے کہ جو شخص مثلاً بیس ایسی حدیثوں کے معنے بیان کرنے لگتا ہے جو مختلف الفاظ میں آئی ہیں اور مآل واحد ہے تو اُس کو اُن احادیث کا حاصل مطلب لکھنا پڑتا ہے تا وہ لفظ سب پر منطبق ہو اور نیز اصل مقصود کا مفسر ہوجائے۔ اسی طرح اصل مقصود بخاری وغیرہ کا اَمتّنیہے جو ذِکر کے قابل تھا اور اگرچہ خاص بخاری کا لفظ متوفّیک ممیتک ہے مگر میرے بیان میں صرف بخاری کے الفاظ پر حصر نہیں رکھا گیا۔ عموماً احادیث کی بحث ہے بخاری ہو یا غیر بخاری اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ خود بخاری نے اسی مقام میں اس آیت یعنی فلمّا توفیتنی کو بغرض تظاہر آیتینؔ ذِکر کرکے جتلادیا ہے کہ یہی تفسیر فلمّا توفّیتنی کی ہے اوروہی استدلال قول ابن عباس کا اس جگہ صحیح ہے جیسا کہ انّی متوفّیک میں صحیح ہے اور نیز اس جگہ یہ یاد رہے کہ خدا تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے اُس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے ایک صدق با عتبار ظاہر الاقوال دوسرے صدق باعتبار التاویل والمآل ۔ پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ مریم کا بیٹا تھااور



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 569

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 569

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/569/mode/1up

    569

    ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمٰعیل و اسحاق کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔ دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفّار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کرکے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ اُنہی کے کلمات ہیں اور یا جو قصّے توریت کے ذکر کئے گئے ہیں اور اُن میں بہت سا تصرف ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ جس اعجازی طرز اور طریق اور فصیح فقروں اور دلچسپ استعارات میں قرآنی عبارات ہیں اِس قسم کے فصیح فقرے کافروں کے منہ سے ہرگز نہیں نکلے تھے اور نہ یہ ترتیب تھی بلکہ یہ ترتیب قصوں کی جو قرآن میں ہے توریت میں بھی بالالتزام ہرگز نہیں ہے۔ حالانکہ فرمایا ہے 33 ۱؂ اور اگر یہ کلمات اپنی صورت اور ترتیب اور صیغوں کے رُو سے وہی ہیں جو مثلاً کافروں کے مُنہ سے نکلے تھے تو اِس سے اعجاز قرآنی باطل ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ فصاحت کفار کی ہوئی نہ قرآن کی اور اگر وہی نہیں تو بقول تمہارے کذب لازم آتا ہے کیونکہ اُن لوگوں نے تو اور اور لفظ اور اور ترتیب او راور صیغے اختیار کئے تھے اور جس طرح متوفّیک اور توفّیتنی دو مختلف صیغے ہیں۔ اِسی طرح صدہا جگہ ان کے صیغے اور قرآنی صیغے باہم اختلاف رکھتے تھے مثلاً توریت میں ایک قصۂ یوسف ہے نکال کر دیکھ لو اور پھر قرآن شریف کی سورہ یوسف سے اس کامقابلہ کرو تو دیکھو کہ کس قدر صیغوں میں اختلاف اور بیان میں کمی بیشی ہے بلکہ بعض جگہ بظاہر معنوں میں بھی اختلاف ہے ایسا ہی قرآن نے بیان کیاہے کہ ؔ ابراہیم کا باپ آزر تھا لیکن اکثر مفسر لکھتے ہیں کہ اس کا باپ کوئی اور تھا نہ آزر۔ اب اے نادان جلد توبہ کر کہ تو نے پادریوں کی طرح قرآن پر بھی حملہ کردیا۔ صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے کہ اِنّما الاَعمال بِالنیّات



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 570

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 570

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/570/mode/1up

    570

    اسی طرح جب ہم نے دیکھا کہ اس محل میں تمام احادیث کامقصود مشترک یہ ہے کہ توفیتنی کے معنے ہیں اَمتّنیتو بصحت نیت اس کا ذِکر کردیا۔ اس طرز کے بیان کو جھوٹ سے کیا مناسبت اور جھوٹ کو اس سے کیانسبت ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ امام بخاری کامُدعا اس فقرہ متوفّیک ممیتک سے یہ ثابت کرنا ہے کہ لمّا توفّیتنی کے معنے ہیں اَمتّنیاور اسی لئے وہ دو مختلف محل کی دو آیتیں ایک جگہ ذکر کرکے اور ایک دوسرے کو بطور تظاہر قوت دے کر دکھلاتا ہے کہ ابن عباس کا یہ منشاء تھا کہ لمّا توفّیتنی کے معنی ہیں اَمتّنی۔ اس لئے ہم نے بھی بطور تاویل اور مآل کے یہ کہہ دیا کہ حدیثوں کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے اَمتّنیہے* بھلااگر یہ صحیح نہیں ہے تو تُو ہی بتلا کہ جبکہ متوفّیک کے معنے ممیتک ہوئے تو اس قول ابن عباس کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے کیا معنے ہوئے ؟ کیا ہمیں ضرور نہیں کہ ہم لمّا توفّیتنیکے معنے ایسی حدیث کی رُو سے کریں جیسی کہ حدیث کے رُو سے متوفّیک کے معنے کئے گئے ہیں۔ اگر ہم اِس بات کے مجاز ہیں کہ ایک ہی محل کی دو آیتوں کی تفسیر میں ایک آیت کی تفسیر کو بطور حجت پیش کردیں تو اِس میں کیا جھوٹ ہوا کہ ہم نے لکھ دیا کہ حدیث کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لمّا اَمتّنی ہیں۔ جبکہ توفی کے ایک صیغہ میں حدیث کی رُو سے یہ مستفاد ہوچکا کہ اس کے معنے وفات دینا ہے تو وُہی استدلال دُوسرے صیغہ میں بھی جاری کرنا کیوں حدیثی استدلال سے باہر سمجھا جاتا ہے اور یہ کہناکہ ہم اُسی قول کو حدیث کہیں گے جس کااسناد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو

    * اِس طور کے قول قرآن شریف میں صدہا پائے جاتے ہیں کہ متکلم کے تو اور الفاظ اور اور اور

    پیرایہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے الگ پیرایہ میں بیان فرمایا اور پھر کہا کہ یہ اُسی کاقول ہے افسوس کہ میرے بخل کے لئے یہ لوگ اب قرآن شریف پر بھی اعتراض کرنے لگے۔ اب تو خطرناک علامتیں ظاہر ہوگئیں خدا اپنا فضل کرے ۔ آمین۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 571

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 571

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/571/mode/1up

    571

    یعنی وہ مرفوع متصل ہو یہ اور جہالت ہے کیا جو منقطع حدیث ہو اور مرفوع متصل نہ ہو وہ حدیث نہیں کہلاتی ۔شیعہ مذؔ ہب کے امام اور محدث کسی حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچاتے تو کیا اُن اخبار کا نام احادیث نہیں رکھتے اور خود سُنیوں کے محدثوں نے بعض اخبار کو موضوع کہہ کرپھر بھی اُن کا نام حدیث رکھا ہے اور حدیث کو کئی قسموں پر منقسم کرکے سب کا نام حدیث ہی رکھ دیا ہے۔ افسوس کہ تم لوگوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اُن باتوں کا نام بھی جھوٹ رکھتے ہو جس طرز کو قرآن شریف نے اختیار کیاہے اور محض شرارت سے خدا کی پاک کلام پر حملہ کرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں نے پلاؤ کی ساری رکابی کھالی تو اُس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے۔ اور جھوٹ یہ کہ اُس نے چاول کھائے ہیں رکابی کو توڑ کرتو نہیں کھایا۔ اور جبکہ نصوص حدیثیہ کااستدلال کلّیت کا فائدہ بخشتا ہے تو یہ کہنا کہ حدیث کے رُو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لمّا اَمتّنیہیں یعنی اِس بنا پر کہ متوفّیک مُمِیتکآچکا ہے اس میں کون سا کذب اور دروغ ہے لیکن ایسے جاہل کو کون سمجھائے جو اپنی جہالت کے ساتھ تعصب کی زہر بھی مخلوط رکھتا ہے۔ مگر غنیمت ہے کہ جیسا کہ یہ لوگ تین جھوٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ایسا ہی تین جھوٹ میری طرف بھی منسوب کئے۔ ہم اِس ابراہیمی مشابہت پر فخر کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے جھوٹ اور افترا کو ان کے مُنہ پر مارتے ہیں۔

    قولہ۔دوسرا جھوٹ اسی صفحہ سطر ۲۳ و۲۴ میں لکھا ہے۔ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی ایسانہیں گذرا جو فوت نہیں ہوگیا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے قرآن شریف میں فقط خَلَتْ مِنْ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 572

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 572

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/572/mode/1up

    572

    قَبلہِ الرُّسل موجود ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر گذرے۔

    اقول۔ کیا گذرنا بجز مرنے کے کوئی اور چیز بھی ہے ۔جو شخص دنیا سے گذر گیا اُسی کو تو کہتے ہیں کہ مرگیا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ۔ ؂

    پدر چوںؔ دور عمرش منقضی گشت

    مرا ایں یک نصیحت داد و بگذشت

    اب بتلاؤ کہ بگذشت کے اس جگہ کیا معنے ہیں کیا یہ کہ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا باپ زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا گیا تھا یا یہ کہ مرگیا تھا۔ اے عزیز کیا ان تاویلات رکیکہ سے ثابت ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے۔ تما م دنیا کا یہ محاورہ ہے کہ جب مثلاً کہا جائے کہ فلاں بیمار گذر گیا تو کوئی بھی یہ معنے نہیں کرتا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گیا اور عربی میں بھی گذرنا بمعنی مرنا ایک قدیم محاورہ ہے چنانچہ ایک فاضل کی نسبت جو کسی کتاب کو تالیف کرنا چاہتا تھا اور قبل از تالیف مرگیا کسی کا یہ ُ پرانا شعر ہے ؂

    ولم یتفق حتّی مضی بسبیلہ وکم حسرات فی بطون المقابر

    یعنی اس فاضل کو اس کتاب کا تالیف کرنا اتفاق نہ ہوا یہاں تک کہ گذر گیا اور قبروں کے پیٹ میں بہت سی حسرتیں ہیں یعنی اکثر لوگ قبل اس کے جو اپنے ارادے پورے کریں مر جاتے ہیں اور حسرتوں کو قبروں میں ساتھ لے جاتے ہیں۔ اب دیکھو کہ اس جگہ بھی گذرنا بمعنی مرنے کے ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ کس تفسیر والے نے یہ معنے لکھے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہرایک محقق مفسر جو عقل اور بصیرت اور علم بصیرت سے حصہ رکھتا ہے یہی معنے لکھتا ہے۔ دیکھو تفسیر مظہری صفحہ ۴۸۵ زیر آیت قد خلت من قبلہ الرسل یعنی مضت و ماتت من قبلہ الرسل یعنی



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 573

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 573

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/573/mode/1up

    573

    پہلے نبی دنیا سے گذر گئے اور مرگئے۔ اور الف لام سے اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی ان میں سے موت سے خالی نہیں رہا۔ ایسا ہیتفسیر تبصیر الرحمان و تیسیر المنان للشیخ العلامہ زین الدین علی المہائمی۔ زیر آیت قد خلت لکھا ہے قد خلت۔ منہم من مات ومنہم من قتل فلا منافات بین الرسالۃ والقتل والموت۔ دیکھو صفحہ ۱۷۷۔ جلد ؔ پہلی۔ تبصیر الرحمان۔ یعنی گذشتہ انبیاء دنیا سے اس طرح گذر گئے کہ کوئی مرگیا اور کوئی قتل کیا گیا۔ پس نبوت اور موت اور قتل میں کچھ منافات نہیں۔ ایسا ہی تفسیر جامع البیان للشیخ العلامہ سیّد معین الدین ابن شیخ سید صفی الدین صفحہ ۲۱ میں زیر آیت قد خلت من قبلہ الرسل لکھا ہے۔ قد خلت من قبلہ الرسل بالموت اوالقتل فیخلو محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایضًا یعنی تمام نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے موت کے ساتھ یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے ۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے گذر جائیں گے۔ ایسا ہی حاشیہ غایۃ القاضی وکفایۃ الراضی علیٰ تفسیر البیضاویجلد۳ صفحہ ۶۸ مقام مذکور کے متعلق یہ لکھا ہے۔لیس( رسولنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم) متبرءً عن الھلاک کسائر الرسل ویخلو کما خلوا۔ یعنی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ پہلے اُن سے تمام پیغمبر مرچکے ہیں وہ بھی مریں گے۔ اور جیسا کہ وہ اِس دنیا سے گذر گئے وہ بھی گذر جائیں گے۔ ایسا ہی تفسیر جمل میں جس کادوسرا نام فتوحات الٰہیہ ہے یعنی جلد ایک صفحہ۳۳۶ میں زیر تفسیر آیت وما محمد۔ قد خلت یہ لکھا ہے۔ کانہم اعتقدواانہ لیس کسائر الرسل فی انہ یموت کما ماتوا۔ یعنی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو گویا یہ گمان ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے نبیوں کی طرح نہیں مریں گے بلکہ زندہ رہیں گے سو



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 574

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 574

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/574/mode/1up

    574

    فرمایا کہ وہ بھی مرے گا جیسا کہ پہلے تمام نبی مرگئے۔ ایسا ہی تفسیر صافی زیر آیت مذکورہ جلد اوّل میں لکھا ہے۔ فسیخلوا کما خلوا بالموت اوالقتل یعنی حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے ایسا ہی گذر جائے گا جیسا کہ دوسرے نبی موت یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تفسیر والوں نے لفظ خلت کے معنے ماتت ہی کیا ہے یعنی اِس آیت کے یہی معنے کئے ہیں کہ جیسے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہوگئے ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پائیں ؔ گے ۔ اب دیکھو کہ حضرت مسیح کی موت پر یہ کس قدر روشن ثبوت ہے جو تمام تفسیروں والے یک زبان ہوکر بول رہے ہیں کہ پہلے جس قدر دنیا میں نبی آئے سب فوت ہوچکے ہیں۔ ماسوا اِس کے ہر ایک ایماندار کا یہ فرض ہے کہ اِس مقام میں جن معنوں کی طرف خود اللہ جلّ شانہٗ نے اشارہ فرمایا ہے اُنہی معنوں کو درست سمجھے اور اس کے مخالف معنوں کو زَیغ اور الحادیقین کرے۔ اور یہ بات نہایت بدیہی او راظہر من الشمس ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ نے آیت 3 ۱؂ کی تفسیر میں آپ ہی فرما دیا ہے 3 ۱؂ پس اِس ساری آیت کے یہ معنے ہوئے کہ پہلے تمام نبی اس دنیا سے موت یا قتل سے گذر چکے ہیں۔ سو اگر یہ نبی بھی اُنہی کی طرح موت یا قتل سے گذر جائے توکیا تم دین سے پھر جاؤگے۔ اِس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اِس مقام میں خدا تعالیٰ نے دنیا سے گذر جانے کے دو ہی طورپر معنے قراردیئے ہیں ایک یہ کہ بذریعہ موت حتف انف یعنی طبعی موت کے انسان مرجائے اور دوسرے یہ کہ مارا جائے یعنی قتل کیاجائے ۔ غرض خدا تعالیٰ نے خلت کے لفظ کو موت یا قتل میں محصور کردیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کوئی تیسرا شق بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا تو خلت کے



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 575

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 575

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/575/mode/1up

    575

    معنوں کی تکمیل کے لئے اِس کو بھی بیان فرماتا مثلاً یہ کہنا افاْئن مات اوقُتل اورُفع الی السماء بجسمہ کما رُفع عیسٰی انقلبتم علٰی اعقابکم۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سارے نبی پہلے اِس سے گذر چکے ہیں پس اگر یہ نبی بھی مر جائے یا قتل کیا جائے یا عیسیٰ کی طرح مع جسم آسمان پر اُٹھایا جائے تو کیا تم اِس دین سے پھر جاؤگے۔ اب اے عزیز کیا تو خدا پر اعتراض کرے گا کہ وہ اِس تیسری شق کا بیان کرنا بھول گیا اور صرف دوشق بیان کئے۔ لیکن عقلمند خوب جانتے ہیں کہ لفظ خلت جو ایک تشریح طلب لفظ تھا اس کی تشریح صرف موت یا قتل سے کرنا اس بات پر قطعی دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اِس مقام میں خلت کے معنے یا موت یا قتل ہے اور کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا یقینی امرؔ ہے جو اس سے انکار کرنا گویا خدا کی اطاعت سے خارج ہونا اور اس پر افترا کرنا ہے۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں اپنے ہی منہ سے بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے یا مرنا یا قتل کئے جانا ہے تو اِس سے مخالف بولنا کذب عظیم اور ایک بڑاافترا ہے اور صغائر میں سے نہیں ہے بلکہ کبیرہ گناہ ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک خلت کے معنے دو میں ہی محصور ٹھہرے یعنی مرنا یا قتل کئے جاناتو اِس سے زیادہ افترا اور دروغ کیا ہوگا کہ جس طرح نصاریٰ نے خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اِسی طرح خواہ نخواہ بغیر دلیل اور سلطان مبین کے خلت کے معنوں میں آسمان پر بجسم عنصری اُٹھائے جانا داخل سمجھا جائے ہاں اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوگا کہ جبکہ اَئمہ لغت عرب نے بھی خلت کے معنے کہیں یہ نہیں لکھے کہ کوئی شخص زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے تو کیاحاجت تھی کہ خدا تعالیٰ نے 3 کے ساتھ لفظ خلت کی تشریح فرمائی تو اس کاجواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ فیج اعوج کے زمانہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 576

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 576

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/576/mode/1up

    576

    میں خلت کے یہ معنے بھی کئے جائیں گے کہ حضرت مسیح کو زندہ مع جسم عنصری آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے۔ لہٰذا اِس تشریح سے بطور حفظ ماتقدم پہلے سے ہی ان خیالاتِ فاسدہ کا ردّ کردیا۔ اب اس تمام تحقیق کے رُو سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے ان معنوں میں کوئی جھوٹ نہیں بولابلکہ آپ ناراض نہ ہوں آپ خود بوجہ ترک معنی قرآن اِس قول شنیع دروغگوئی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ میں آپ کو ہزارروپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں اگر آپ کسی قرآن شریف کی آیت یا کسی حدیث قوی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابی یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات یا دواوین اور ہر ایک قسم کے اشعار یا اسلامی فصحاء کے کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کرسکیں کہ خلت کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔ خدا ؔ تعالیٰ کا قرآن شریف میں اوّل خلت کا بیان کرنا اور پھر ایسی عبارت میں جو بموجب اصول بلاغت و معانی تفسیر کے محل میں ہے صرف مرنا یا قتل کئے جانا بیان فرمانا۔ کیامومن کے لئے یہ اِس بات پر حجت قاطع نہیں ہے کہ خلت کے معنے اِس محل میں دو ہی ہیں یعنی مرنا یاقتل کئے جانا۔ اب خدا کی گواہی کے بعد اور کس کی گواہی کی ضرورت ہے۔ الحمد للّٰہ ثم الحمد للّٰہ کہ اسی مقام میں خدا تعالیٰ نے میری سچائی کی گواہی دے دی اور بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے مرنا یا قتل کئے جانا ہے۔ آپ نے تو اِس مقام میں اپنے اس اشتہار میں میری نسبت یہ عبارت لکھی ہے کہ ایسا جھوٹ بولا ہے کہ کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم اور حیا کے آدمی کا کام نہیں۔ لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ وہی جھوٹ قرآنی شہادت سے آپ پر ثابت ہوگیا۔ اب بتلایئے کہ میں آپ کی نسبت کیا کہوں۔ آپ نے ناحق جلد بازی کرکے میرا نام دروغگو رکھالیکن میں نہیں چاہتا کہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 577

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 577

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/577/mode/1up

    577

    بدی کا بدی کے ساتھ جواب دوں بلکہ اگر اسلامی شریعت میں جھوٹ بولناحرام اور گناہ نہ ہوتا تو میں بعوض آپ کے کذاب کہنے کے آپ کو صدیق کہتا اور بعوض اس کے کہ آپ نے محض دروغگوئی سے مجھے ذلیل اور شکست یافتہ قرار دیاآپ کو معزز اور فتحیاب کے نام سے پکارتا۔

    قولہ۔ تیسرا جھوٹ اسی صفحہ سطر ۲۷ میں جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کا حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام نبیوں کی موت پر اجماع ہو جانا یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ اصحاب کرام تو لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے سب سے ثبوت دینا تو مشکل ہے۔

    اقول۔ اس جگہ مجھے آپ لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے کہ کیسے خدا نے عقل و علم اور دیانت کو سینوں میں سے چھین لیا۔ کیا اِسی مایۂ علمی پرآپ لوگ مولوی کہلاتے ہیں اور ایک دُوسرے کا نام علماء کرام اور صوفیہ عظام رکھتے ہیں۔اے قابل رحم نادان یہ بات فی اؔ لواقع سچ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت کی نسبت صحابہ کرام کا اجماع ہوگیا تھا اور جس طرح خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اجماع پایا گیا ہے اسی قسم کا بلکہ اس سے افضل و اعلیٰ یہ اجماع تھا اور اگر کوئی جرح قدح اس اجماع پر ہوتا ہے تو اس سے زیادہ جرح قدح خلافت مذکورہ کے اجماع پر ہوگا۔ درحقیقت یہ اجماع خلافت ابوبکر کے اجماع سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ اِس میں کوئی ضعیف قول بھی مروی نہیں جس سے ثابت ہو جو کسی صحابی نے حضرت ابوبکر کی مخالفت کی یا تخلف کیا یعنی جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر بطور استدلال کے یہ آیت پڑھی کہ 333 3 ۱؂ جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہے اس میں کوئی جز الوہیت کی نہیں اور اس سے پہلے تمام رسول



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 578

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 578

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/578/mode/1up

    578

    دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں۔ پس ایسا ہی اگر یہ بھی مرکر یا قتل ہوکر دنیا سے گذر گیا تو کیا تم دین سے پھر جاؤگے تو اس آیت کے سننے کے بعد کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی اور اُٹھ کر یہ عرض نہیں کی کہ یہ آپ کا استدلال ناقص او ر ناتمام ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بعض نبی زندہ بجسم عنصری زمین پر موجود ہیں جیسے الیاس و خضر اور بعض آسمان پر جیسے ادریس اور عیسیٰ تو پھر اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت موت کیونکر ثابت ہو اور کیوں جائز نہیں کہ وہ بھی زندہ ہوں بلکہ تمام صحابہ نے اس آیت کو سن کر تصدیق کی اور سب کے سب اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ تمام نبیوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مرنا ضروری تھا پس یہ اجماع بلا توقف اور تردّ د واقع ہوا لیکن وہ اجماع جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مانا جاتا ہے اِس میں بعض صحابہ کی طرف سے بیعت کرنے میں کچھ توقف اور تردّد بھی ہو ا تھا گو کچھ دنوں کے بعد بیعت کرلی اور اس ابتلا میں خود حضرت علی رضی اللہ ؔ عنہ بھی مبتلا ہوگئے تھے لیکن گذشتہ انبیاء کی موت پر کسی صحابی کو بعد سننے صدیقی خطبہ کے کوئی ابتلا پیش نہیں آیا اور نہ ماننے میں کچھ بھی توقف اور تردّد کیا بلکہ سنتے ہی مان گئے ۔ لہٰذا اسلام میں یہ وہ پہلا اجماع ہے جو بلا توقف انشراح صدر کے ساتھ ہوا ۔خلاصہ کلام یہ کہ بے شک نصوص صریحہ کے رُو سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر جس میں حضرت مسیح بھی داخل ہیں اجماع ہوگیا تھا بلکہ حضرت مسیح اس اجماع کا پہلا نشانہ تھے۔ اب ذیل میں نصوص حدیثیہ کے رُو سے ثبوت لکھتا ہوں تا معلوم ہوکہ ہم دونوں میں سے کون شخص خدا تعالیٰ سے خوف کرکے سچ پر قائم ہے اور کون شخص دلیری سے جھوٹ بولتا



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 579

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 579

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/579/mode/1up

    579

    اور نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے۔

    واضح ہو کہ اِس بارے میں صحیح بخاری میں جو اصحّ الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارتیں ہیں۔ عن عبد اللّٰہ بن عباس ان ابابکر خرج وعمریکلم النّاس فقال اجلس یا عمر فابٰی عمر ان یجلس فاقبل الناس الیہ وترکوا عمر فقال ابوبکراما بعد من منکم یعبد محمدًا فان محمدًا قد مات ومن کان منکم یعبد اللّٰہ فان اللّٰہ حیٌّ لایموت قال اللّٰہ3333 ۱؂۔ الی الشاکرین۔ وقال واللّٰہ کانّ الناس لم یعلموا ان اللّٰہ انزل ھذہ الاٰیۃ حتّی تلاھا ابوبکر فتلقاھا منہ الناس کُلّھم فما اسمع بشرا من الناس الّایتلوھا۔۔۔ ان عمرًا قال واللّٰہ ماھو الّا ان سمعتُ ابابکر تلاھا فعقرت حتّی ما یقلنی رجلا ي وحتّی اھویت الی الارض حتّی سمعتہ تلاھا انّ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد مات ۔ یعنی ابن عباس سے روایت ہے کہ ابوبکر نکلا (یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا (یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے بلکہ زند ہ ہیں) پس ابوبکرنے کہا کہ اے عمر بیٹھ جا مگر عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ پس لوگ ابوبکر کی طرف متوجہ ہوگئے اور عمر کو چھوڑ دیا پس ابوبکر نے کہا کہ بعد حمد و صلوٰۃ واضح ہو کہ ؔ جو شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہوگیا اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں اور حضرت



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 580

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 580

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/580/mode/1up

    580

    ابوبکر نے الشاکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی* کہا راوی نے پس بخدا گو یا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابوبکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا ۔ پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابوبکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہاجو اِس آیت کو پڑھتا نہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابوبکر سے ہی سنی جب اُس نے پڑھی پس میں اُس کے سننے سے ایسابے حواس اور زخمی ہوگیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گراجاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے۔ اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔ وعمر بن الخطاب یکلّم النّاس یقول لہم مامات رسُول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔ ولا یموت حتّی یقتل المنافقین۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ؔ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کرلیں فوت نہیں ہوں گے اور ملل و نحل شہر ستانی خ میں اس قصّہ کے متعلق یہ عبارت ہے ۔ قال عمر بن الخطاب من قال ان محمدا

    * اس آیت کا اگلا فقرہ یعنی افان مات اوقتل صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گذر جانا

    صرف دو قسم پر ہے یا بذریعہ موت حتف انف اور یا بذریعہ قتل اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ گذر جانا اِس طرح بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ نے گذر جانے کی تشریح لفظ افان مات اوقتلسے آپ کردی اور اس پر حصر کردیا تو اس کے بعد نہ ماننا کسی صالح مومن کاکام نہیں ۔ منہ

    خ الملل لابی الفتح الامام محمد بن عبد الکریم الشھرستانی المتوفّی

    ۵۴۸ ھ قال التاج السبکی فی طبقاتہٖ کتاب الملل والنحلِ للشھرالستانی ھوعندی خیر کتاب فی ھٰذاالباب صفحہ۹۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 581

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 581

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/581/mode/1up

    581

    مات فقتلتہ بسیفی ھٰذا۔ وانما رُفع الی السماء کمارُفع عیسی ابن مریم علیہ السلام وقال ابوبکر بن قحافۃ من کان یعبد محمدًا فان محمدًا قدمات ومن کان یعبد اِلٰہ محمدٍ فانہ حیّ لا یموت وقرء ھذہ الاٰیۃ 333 3 ۱؂ فرجع القوم الی قولہ۔ دیکھو ملل نحل جلد ثالث ۔ ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تو میں اپنی اِسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گابلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسیٰ بن مریم اُٹھائے* گئے اور ابوؔ بکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہوگئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خد ا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا یعنی ایک

    * حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سیّدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت

    یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مرگئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہوگیا تھا اوروہ اس کلمہ کو جو آنحضرت مرگئے کلمہ کفر اورارتداد سمجھتے تھے۔ خدا تعالیٰ ہزارہا نیک اجر حضرت ابوبکر کو بخشے کہ جلد تر اُنہوں نے اس فتنہ کو فروکردیا اور نص صریح کو پیش کرکے بتلا دیا کہ گذشتہ تمام نبی مرگئے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا درحقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فیج اعوج کے کذّابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کردیا گویا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذّاب مارے۔ یا الٰہی ان کی جان پر کروڑہا رحمتیں نازل کر آمین۔ اگر اِس جگہ خلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جا بیٹھے ہیں تب تو اِس صورت میں ؔ حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 582

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 582

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/582/mode/1up

    582

    خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ اُن کی نسبت خلود کا گمان ہو۔ اور پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی ؔ اللہ علیہ وسلم) رسول ہیں اور سب رسول دُنیا سے گذر گئے کیا اگر وہ فوت ہوگئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤگے تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کرلیا۔ اب سوچو کہ حضرت ابوبکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا

    مضر نہیں بلکہ اُن کی مؤید ٹھہرتی ہے۔ لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی 3 ۱؂ جس پر حضرت ابوبکر کی نظر جاپڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گذر گئے گو مرکر گذر گئے یا زندہ ہی گذر گئے یہ دجل اور تحریف اورخدا کی منشاء کے برخلاف ایک عظیم افترا ہے۔ اور ایسے افترا عمداً کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے برخلاف اُلٹے معنے کرتے ہیں وہ بلا شبہ ابدی *** کے نیچے ہیں۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اُس وقت تک اِس آیت کا علم نہیں تھا او ردوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اُس سہوو نسیان میں گرفتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور اُن کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔ پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مانند نہ ہوں۔ لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیت پڑھ کر اور 3 ۱؂ سنا کر دلوں میں بٹھا دیا کہ خلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں (۱) حتف انف سے مرنا یعنی طبعی موت ۔(۲) مارے جانا۔ تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اِس کلمہ پر متفق ہوگئے کہ گذشتہ نبی سب مرگئے ہیں اور فقرہ 3 ۱؂ کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے مخالفانہ خیالات سے رجوع کرلیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ منہ



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 583

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 583

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/583/mode/1up

    583

    کہ تمام نبی فوت ہوچکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قطعیۃ الدلالت نہیں تھا

    تووہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے محض ظنی اور شکی امر پر کیونکر قائل ہوگئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت یہ آپ کی دلیل ناتمام ہے اور کوئی نصّ قطعیۃ الدلالت آپ کے ہاتھ میں نہیں ۔ کیا آپ اب تک اِس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رافعک الیّمیں حضرت مسیح کا بجسمہ العنصری آسمان پر جانا بیان فرماتا ہے۔ کیا بل رفعہ اللّٰہ الیہ بھی آپ نے نہیں سنا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مستبعد ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خلت کی تشریح فقرہ أفأن مات أوقتل میں پاکر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا ہاں اُن کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہوگئے اور اُن کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اُٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں۔ سبحان اللہ کیسے سعید اور وقّاف عندالقرآن تھے کہ جب آیت میں غور کرکے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہوچکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کردیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا اور تب حضرت حسّان بن ثابت نے یہ مرثیہ کہا

    کنتَ السواد لناظری فعمی علیک الناظر

    من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذرُ

    یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس میری آنکھیں تو تیرے مرنے سے اندھی ہوگئیں اب تیرے بعد میں کسی کی زندگی کو کیاکروں۔ عیسیٰ مرے یاموسیٰ مرے بیشک مرجائیں مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔ یاد رہے کہ اگر حضرت ابوبکر کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 584

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 584

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/584/mode/1up

    584

    موت سے باہر ہوتے تو وہ ہرگز اس آیتؔ کو بطور استدلال پیش نہ کرتے اور اگر صحابہ کو اس آیت کے ان معنوں میں جو تمام نبی فوت ہوچکے ہیں کچھ تردّد ہوتا تو وہ ضرور عرض کرتے کہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر یہ دلیل ناتمام ہے اور کیا وجہ کہ عیسیٰ کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر نہ گئے ہوں۔ لیکن اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت کا بھی اُسی دن فیصلہ ہوا اور صحابہ نے اس آیت کو سن کر بعد اس کے کبھی دم نہیں مارا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں۔ اور چونکہ صحیح بخاری کے لفظ کُلّہمسے ثابت ہوگیا کہ اُس وقت سب صحابہ موجود تھے اور کسی نے اِس آیت کے سننے کے بعد مخالفت نہ کی اس لئے ماننا پڑا کہ اُن سب کا تمام گذشتہ انبیاء کی موت پر اجماع ہوگیا اور یہ پہلا اجماع تھا جوصحابہ میں ہوا۔ اور خلافت ابوبکر کے اجماع سے جو بعداس کے ہوا یہ اجماع بہت بڑھ کر تھا کیونکہ اس میں کسی نے دم نہیں مارااور خلافت ابوبکر میں ابتدا میں اختلاف ہوگیا تھا۔ ہاں اِس جگہ یہ خیال گذرتا ہے کہ اِس آیت کے سننے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ مذہب تھا کہ باوجود مر جانے کے وہ بھی دنیا میں واپس آئیں گے کیونکہ انہوں نے ان کا رفع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع ایک ہی طور کا قرار دیا اور جبکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم تو حضرت عایشہ کے گھر میں ہی اب تک پڑا ہے تو وہ باوجود اقرار مشابہت کے کس طرح اِس بات کے قائل ہوسکتے تھے کہ حضرت مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا لیکن آیت کو سن کر یہ خیال بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس روز تمام صحابہ اس بات پر ایمان لائے کہ اس سے پہلے سب نبی فوت ہوچکے ہیں اور درحقیقت بڑی بے ادبی تھی اور سخت گناہ تھا کہ نبی خاتم الرسل



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 585

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 585

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/585/mode/1up

    585

    افضل الانبیاء فوت ہو جائیں ان کی میّت سامنے پڑی ہو اور کسی دوسرے نبی کی نسبت یہ خیال ہوکہ وہ فوت نہیں ہوا۔ درحقیقت یہ خیال اور محبت اور تعظیم رسول کریم ؔ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔ ایمانداری اور تقویٰ سے سوچو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں۔ اِس خیال کا ردّ بجز اس کے کب ممکن تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت مسیح اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت ثابت کرتے بھلا اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت قد خلت کے پڑھنے سے یہ ارادہ نہ تھا کہ حضرت مسیح وغیرہ انبیاء گذشتہ کی موت ثابت کریں تو انہوں نے حضرت عمر کے خیال کا ردّ کیا کیا۔ حضرت عمر کے اس خیال کا تمام دار مدار حضرت مسیح کے زندہ اٹھائے جانے پر تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اپنے اجتہاد سے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے دِل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر ہمارے نبی احق و اولیٰ ہیں کہ زندہ آسمان پر چلے جائیں کیونکہ یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ خدا تعالیٰ کسی نبی کو زندہ آسمان پر اپنے پاس بلالے اور بلحاظ طریقت و حسن ادب یہ بات کفر کے رنگ میں تھی کہ ایسا سمجھا جائے کہ گویا حضرت مسیح تو زندہ آسمان پر چلے گئے۔ اور وہ نبی جو خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء ہے جس کے وجود باجود کی بہت سی ضرورتیں ہیں وہ عمر طبعی تک بھی نہ پہنچے اگر بے ایمانی اور تعصب مانع نہ ہو تو یہ آیت مذکورہ بالا ایک بڑی نص صریح اِس بات پر ہے کہ تمام صحابہ کا اِسی پر اتفاق ہوگیا تھا کہ مسیح وغیرہ تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام فوت ہوچکے ہیں اور اگریہ نہیں تو بھلا ہوش کرکے اور خدا سے ڈر کر



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 586

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 586

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/586/mode/1up

    586

    بتلاؤ کہ اس مخالفت کے وقت میں جو حضرت ابوبکر کی رائے اور حضرت عمر کی رائے میں واقع ہوئی تھی جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی رائے کی تائید میں یہی پیش کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ؔ ہیں سوایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھائے جائیں گے اور پھر کیوں ممتنع اور محال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود بہتر اور افضل ہونے کے حضرت مسیح کی طرح آسمان پر نہ اُٹھائے جائیں۔ اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر کی رائے کے ردّ کرنے میں جو آیت 3 ۱؂ پڑھی اِس سے اُن کا اگر یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت عیسیٰ بھی جن کا حوالہ دیا جاتا ہے فوت ہوچکے ہیں تو پھر اور کیامطلب تھا اور کیونکر حضرت عمر کے خیال کا بجز اس کے ازالہ ہوسکتا تھا اور آپ کا یہ کہنا کہ اس پر اجماع نہیں ہوا ۔یہ ایسا صریح جھوٹ ہے کہ بے اختیار رونا آتا ہے کہ کہاں تک آپ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اے عزیز ! بخاری میں تو اس جگہ کُلُّھمکا لفظ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ کل صحابہ اُس وقت موجود تھے اور لشکر اسامہ جو بیسہز۲۰۰۰۰ار آدمی تھا اس مصیبت عظمیٰ واقعہ خیر الرسل سے رُک گیا تھا اوروہ ایساکون بے نصیب اور بدبخت تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنی اور فی الفور حاضر نہ ہوا۔ بھلا کسی کا نام تو لو۔ ماسوا اِس کے اگر فرض بھی کرلیں کہ بعض صحابہ غیر حاضر تھے تو آخر مہینہ دو مہینہ چھ مہینہ کے بعد ضرور آئے ہوں گے پس اگر انہوں نے کوئی مخالفت ظاہر کی تھی اور آیت قدخلت کے اور معنے کئے تھے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کرسکیں تو پس یہی ایمان اور دیانت کے برخلاف ہے کہ ایسے جامع اجماع کے برخلاف آپ عقیدہ رکھتے ہیں حضرت مسیح کی موت پر یہ ایک ایسا زبردست اجماع ہے کہ کوئی بے ایمان



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 587

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 587

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/587/mode/1up

    587

    اس سے انکار کرے تو کرے نیک بخت اور متقی آدمی تو ہرگز اِ س سے انکار نہیں کرے گا اب بتلاؤ کہ حضرت مسیح کی موت پر اجماع تو ہوا زندگی پرکہاں اجماع ثابت ہے برابر تفسیروں والے ہی لکھ جاتے ہیں کہ یہ بھی قول ہے کہ تین دن یا تین گھنٹے کے لئے مسیح مربھی گیا تھا گویا مسیح کے لئے دو موتیںؔ تجویز کرتے ہیں۔ میتتہ الاولٰی ومیتتہ الاخرٰی اور امام مالک کا قول ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے مرگیا۔ یہی قول امام ابن حزم کا ہے۔ معتزلہ برابر اس کی موت کے قائل ہیں اور بعض صوفیہ کرام کے فرقے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح مرگیا اور اس کے خُلق اور خُوپر کوئی اور شخص اسی اُمّت میں سے دنیا میں آئے گا اور بروزی طور پر وہ مسیح موعود کہلائے گا۔ اب دیکھو جتنے مُنہ اُتنی ہی باتیں اجماع کہاں رہا۔ اجماع صرف موت پر ہوااور یہی اجماع آپ لوگوں کو ہلاک کرگیا۔ اب روافض کی طرح حضرت ابوبکر کو کوستے رہو جنہوں نے آپ کے اِس عقیدہ کی بیخ کنی کی۔ اعلموا رحمکم اللّٰہ ان حاصل کلامنا ھذا ان الاجماع علٰی موت المسیح عیسی بن مریم وغیرہ من النبیین الذین بعثوا قبل سیدنا ورسُولنا المصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثابت متحقق بالنصوص الحدیثیۃ القطعیۃ والروایات الصحیحۃ المتواترۃ۔ ویعلم کل من عندہ علم الحدیث ان ھذا الاجماع قد انعقد فی ناد محشود و محفل مشھود عند اجتماع جمیع بدور الاصحاب وبجور الالباب۔ فما تناضلوا بالانکار۔ وما ردّوا رأی امامہم المختار۔ وما ذکروا شیئا من ھفوتہ۔ وما صالوا علٰی فوھتہ ۔ بل سکنت عند بیان الصدیق قلوبہم۔ ومالت الی السلم حروبہم۔ ووجدوا البرھان المحکم والدلیل القویّ الجلیل ۔ فتحاموا القال والقیل۔ وصُقِلَ الخواطرُ۔



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 588

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 588

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/588/mode/1up

    588

    وانارالقلوبُ ونشط الفاتر۔ وکانوا قبل ذالک غرضَ اللَّظی۔ اوکرجل التھبت احشاء ہ بالطوٰی بما عیل صبرھم بموت النبیّ سیدھم المصطفٰی محمدنالمجتبٰی وبما قلقت قلوبھم وصارفؤادھم فارغا بما فقد وا حبّھم خیر الوریٰ وکانوا کالمبھوتین فاذا قام عبد اللّٰہ الصدیق ۔ فتح علیھم باب التحقیق۔ و اَروَاھُم من ھٰذا الرحیق ۔ و قُضِی الامرواُزیل الشبھاتُ۔ وسکنت الاصواتُ۔ وانعقد الاجماع علٰی موت المسیح وسائر الانبیاء الماضین۔ بل ھو اوّل ما اجمع علیہ الصحابۃ بعد موت خاتم النبیین۔ ولھٰذا الاجماع شان اکبرمن اجماعٍ انعقد علٰی خلافۃ ابی بکر نالصدیق فانؔ الصحابۃ اتفقوا علیہ کلہم وما بقی من فریق۔ وقبلوا ذالک الامرمن غیر تردّد وتوقفٍ بل بأتمّ الاذعان والیقین۔ وکان کلہم یتلون الآیت ویُقرُّون بموت الرسل ویبکون علی موت سیّد المرسلین۔ حتّی اذا سمع الفاروق الاٰیۃ قال عُقِرت وما تقلنی رجلای وکان من الحزن کالمجانین۔ وقال حسّان وھویرثی رسُول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم۔

    کنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر یعنی ای سیّدی وحبیبی کنت قرّۃ عینی فَفَقَدَ نُور عینی بفُقدانک ولا ابالی بعدک ان یموت عیسیٰ او مُوسیٰ اونبی آخرفانی کنت علیک اخاف فاذامتَّ فلیمت من کان من السّابقین وفی ھٰذہ اشارۃ الٰیانّ الاٰیۃ التی تلاھا الصدیق نبّھت الصحابۃ علٰی موت الانبیاء کلہم فمابقی لھم ھمّ فی شانہم مثقال ذرّۃ وما کانوا متأسفین۔ بل استبشروا بموت الجمیع بعد موت رسُولھم الامین ولوکان الامر خلاف ذالک اعنی ان ثبت حیٰوۃ احد من الانبیاء السابقین بنصّ القرآن وبآیۃ من



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 589

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 589

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/589/mode/1up

    589

    آیات الفرقان فکادوا ان یموتوا اسفا علٰی رسولھم وکادوا ان یلحقوا بالمیتین۔ ولکنھم لمّا علموا ان رسُولنا صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم لیس بمنفرد بورود الموت من اللّٰہ العلّام بل الانبیاء کلھم ماتوا من قبل وسقوا کأس الحمام تھلّلت وجوھھم واستبشرت قلوبھم فکانوا یتلون ھٰذہ الاٰیۃ فی سکک المدینۃ واسواقھا ومات المنافقون ولم یبق لھم سعۃ ان یعترضوا علی الاسلام بموت نبینا الصبیح وحیات المسیح فالحمد للّٰہ علٰی ھٰذا العون الصریح ۔ ان کلمۃ الاسلام ھی العلیا ویبرق نورہ من کل جنب وشفا۔ واللّٰہ ارسل محمّدًا وھویکرمہ الی یوم الدین۔ واذا ثبت الاجماع ولم یبق القناع وسطع الصبح وازال الظلمۃ الشعاع۔ فاسئل المنکرین مابقی من عذرھم وقد حصحص الحقّ النباعُ وکُرّر الثبوتُ واحکمت الاضلاعُ وکمل الادواء والاھجاعُ۔ فمن ادعی بعد ذالک علٰی رفع ھذاالاجماع ۔ وعزاؔ امرنا الی الابداع۔ فعلیہ الدلیل القطعی من الکتاب والسنۃ واثبات اجماع انعقد علٰی حیات المسیح فی عھد الصحابۃ۔ وانّی لھم ھٰذا ولو ماتوا متفکرین۔ وکیف ولیس عندھم حجۃ من اللّٰہ ولیس معہم سلطان مبین۔ ان یتبعون الّا آباء ھم الذین کانوا مخطئین۔ قست القلوب ورُفعت الامانت وما بقی فیہم الا فضول الھذر وما بقی فیہم من یطلب کالمتقین۔ و اذا قیل لھم آمنوا بمن جائکم من عند ربکم علٰی رأس الماءۃ وعند ضرورۃٍ احسّھا قلوب المؤمنین۔ قالوا لا نعرف من جاء وما نراہ الا احدًا من الدجّالین وقد عُلِّموا انّہ یجیءھم حکمًا عدلًاویحکم بینہم فیما کانوا فیہ مختلفین۔ فکیف یصیرحاکمہم محکومہم وکیف یقبل کلما اجمعوا من رطب و



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 590

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 590

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/590/mode/1up

    590

    یابس مالھم لا یتفکرون کالعاقلین۔ و یسبّوننی عدوا بغیر علم فاللّٰہ خیر محاسبا وھویعلم ما فی صدور العالمین۔ وقد کانوا یستفتحون من قبل ویعدّون المائین۔ فلمّا جاء ھم من یرقبونہ نبذوا وصایا اللّٰہ ورسُولہ وراء ظھورھم کانہ جاء فی غیر وقتہ وکانہم ما عرفوہ من علامۃ وکانوا من المعذورین۔ الم یروا کیف یتم اللّٰہ بہ الحجّۃ بآیات السماء ویعصم عرض رسُولہ من قوم کافرین۔ بل کفروا بہ وقالوا فاسقٌ ومن المفترین۔ فسیعلمون من فسق ومن کان یفتری علی اللّٰہ وان اللّٰہ لا یخفی علیہ خافیۃ واللّٰہ لا یجعل عاقبۃ الخیر اِلّا لقوم متقین۔ و ما قیل لی الّا ما قیل للرسل من قبل تشابھت القلوب ۔ وزُیّن لہم اعمالھم وحسبوا انہم یعطون الثواب علی مایؤذوننی ویدخلون الجنّۃ بالتحقیر والتکذیب والتوھین۔ وکفّرونی وفسّقونی وکذّبونی وجھّلونی وقالوا کافرٌ شرّالنّاس۔ ولوشاء اللّٰہ لما قالوا ولٰکن لیتمّ ماجاء فی نبأ خیر المرسلین۔ وماینطقون الّا بطرًا وریاءَ الناس ولا یدبّرون الاَمْرَ کالمنصفین۔ ولا تجدفی قلوبہم احقاق الحق کالصالحین بل تجد کثیرا منھم یکیدون کل کیدٍ لیطفؤاؔ نور اللّٰہ بافواھہم وما کانوا خائفین۔ الا یقرء ون القراٰن اَوْلا یجاوزحناجرھم اوصاروا من المعرضین۔ الا یعلمون کیف قال اللّٰہ یا عیسٰی انّی متوفّیک۔ وقال فلمّا توفّیتنی فما یقبلون بعد کتاب مبین۔ الا یذکرون ان اجماع الصحابۃ قد انعقد علٰی موت الانبیاء کلّھم اجمعین۔ ایرتابون فیہ اوکانوا من المعتدین۔ مالہم لا یذکرون یومًا مات فیہ رسُول اللّٰہ وثبت معنی التوفّی بموتہ وجمع فی الصحابۃ کرب الاوّلین والاٰخرین۔ ونزلت علیھم مصیبۃ لن ینال



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 591

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 591

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/591/mode/1up

    591

    کمثلہ احدمن العالمین۔ وقال بعضہم لا نسلم موت رسُول اللّٰہ وانہ سیرجع لقتل المنافقین۔ فحینئذ قام منھم عبد کان اعلم بکتاب اللّٰہ وایّدہ اللّٰہ بروحہ فصارمن المتیقظین۔ وقال ایّھا الناس ان محمدًا مات کمامات اخوانہ من النّبیّین من قبلہ فلا تصرّوا علٰی ما تعلمون ولا تکونوا من المسرفین۔وقرء الاٰیۃ وقال3333333 ۱؂ فماکان من الصحابۃ من خالفہ اوتصدی للجدال کالمنکرین۔ ورُفع النزاع الذی نَشَأ بین الصحابۃ وقاموا من المجلس معترفین باکین۔ ولا یخفی انّ مقصود الصدیق رضی اللّٰہ عنہ من قراء ۃ ھٰذہ الاٰیۃ ما کان الّا تعمیم الموت وتسکین القلوب المضطرۃ بعموم ھٰذہ السنۃ و تنجیۃ المحزونین ممّا نزل علیھم و تسلیۃ المُضطرین۔ وافحام المنافقین الضاحکین۔ ولو فرضنا ان الاٰیۃ تدل علٰی موت زمرۃ من الانبیاء فقط لا علی موت سائر النبیین فیفوت المقصود الذی تحرّاہ الصدیق بقراء ۃ ھٰذہ الاٰیۃ کما لا یخفی علی العالمین ۔ فان ابابکر رضی اللّٰہ عنہ ما کان مقصدہ من قرأتھا الا ان یبطل ما زعم عمرومن معہ من حیات نبیّنا صلّی اللّٰہ علیہ وسلم وعودہ الی الدنیا مرۃ اخریٰ ولا یحصل ھٰذا المقصود من ھٰذہ الاٰیۃ التی قرء ت اِستدلالا الَّا بعد ان تُجْعل الاٰیۃ دلیلًاوبُرھانًا علٰی مَوتِ جمیع الانبیاء الماضین۔ ولیس بخفی ان مقصد ابی بکر من قراءۃ ھذہ الاٰیۃ کان تسلیۃ الصحابۃ بتعمیم سنۃ الموت وتبکیت المنافقین۔ وازالۃؔ مااخذ الصحابۃ بموت نبیہم من قلق وکرب وضَجرٍ وبکاء وانین ۔ فلو کان مفھوم الاٰیۃ مقصورا علٰی ذکرموت البعض وحیات



    Ruhani Khazain Volume 15. Page: 592

    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 592

    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=15#page/592/mode/1up

    592

    البعض فبایّ غرض قرأھا ابوبکر فانھا کانت تخالف ماقصدہ بھٰذا المعنٰی وماکانت قراء تھا مفیدۃً للسامعین۔ وما کان حاصلھا الا ان یزید قلق الصحابۃ ویزید حُزنھم فوق ما اُحزنوا و یسحّ الاجاج علٰی جرح المجروحین۔ فان رسولھم الذی کان احبّ الاشیاء الیھم وکان جاء ھم کالعھاد۔ وکانوا یرقبون اثمار برکاتہ رقبۃ اھلّۃ الاعیاد۔ مات قبل اتمام آمالھم وقبل قلع المفسدین۔ واقیالھم بل مات قبل اھلاک الکاذبین الذین ادعوا النبوّۃ وثوّروا الفتن فی الارضین۔ فلوکان ابن مریم وغیرہ احیاءً من غیر ضرورۃٍومات نبیّنا الذی کانت ضرورتہ لاُمّۃٍ من غیر ریبۃ وشُبھۃٍ فایُّ رُزءٍ کان اکبرمن ذالک لھٰؤلاءِ المخلصین۔ و ایّ مصیبۃ کانت اصعب من ھذہ المصیبۃ لقوم فقدوا نبیھم خیر النبیین فلذٰلک کانو ا یرجون طول حیات النبی النبیل وما کان احد منھم یظنّ انہ یموت بھٰذا الوقت وبھٰذا العمر القلیل۔ ویرجع الٰی ربّہ الجلیل و یترکھم متألمین۔ فحسبوا موتہ فی غیر اوانہ ۔ وقبل قطع الشوک و ارواء بستانہ۔ وقبل اجاحۃ مسیلمۃ الکذّاب واعوانہ فاخذھم مایأْخذ الیتامی الصغار عند ھلاک المتکفّلین۔ وھذا اٰخرما اردنا فی ھٰذا الباب

    والحمدُ للّٰہ رَبّ العالمین

    تمّت

    المؤلّف

    میرزا غلام احمد عافاہُ اللہ وَایّد
     

اس صفحے کو مشتہر کریں