1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 14 ۔کشف الغطاء ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 3, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 14۔ کشف الغطاء ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 177
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اے قادر خدا!
    اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزادے
    اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔
    آمین
    کَشْفُ الغِطَاء
    یعنی
    ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے
    بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور
    نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور
    نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا ردّ جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔اوریہ مؤلف
    تاج عزّت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہنددام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر
    بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے بادب گذارش
    کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سُن لیا جائے۔
    یہ رسالہ تالیف ہو کر ۲۷دسمبر ۱۸۹۸ ؁ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتما م حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے مطبوع ہوا۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 178
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 179
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    میںؔ تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں
    کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں۔
    چونکہ میں جس کا نام غلام احمد او ر باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستا ن کے اکثر اضلاع اور حیدر آباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔لہٰذ امیں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کرلیں ۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ نیا فرقہ ان ملکوں میں دن بدن ترقی پر ہے یہاں تک کہ بہت سے دیسی افسر اور معزز رئیس اور جاگیردار اور نامی تاجر اس فرقہ میں داخل ہو گئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اس لئے عام خیال کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کو اس فرقہ سے دلی عناد اور حسد ہے۔ اورممکن ہے کہ اس حسد کی وجہ سے خلاف واقعہ امورگورنمنٹ تک پہنچائے جائیں سو اسی لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ سے اپنے سچے واقعات اور اپنے مشن کے اصولوں سے اس محسن گورنمنٹ کو مطلع کروں۔
    اب میں صفائی بیان کے لئے ان امور کے ذکر کو پا۵نچ شاخ پر منقسم کرتا ہوں اوّل یہ کہ میں کون ہوں اور کس خاندان سے ہوں؟ سو اس بار ے میں اس قدر ظاہر کرنا کافی ہے کہ میرا خاندان ایک خاندانؔ ریاست ہے اور میرے بزر گ والیانِ ملک اور خودسر امیر تھے جو سکھوں کے وقت میں یکدفعہ تباہ ہوئے ۔اور سرکار انگریزی کا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 180
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اگرچہ سب پر احسان ہے مگر میرے بزرگوں پر سب سے زیادہ احسان ہے کہ انہوں نے اس گورنمنٹ کے سایۂ دولت میں آکر ایک آتشی تنور سے خلاصی پائی اور خطرنا ک زندگی سے امن میں آ گئے ۔میراباپ میرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پُرزور تحریر وں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکّام عزّت کی نگہ سے ان کودیکھتے تھے اور اخلاق کریما نہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے ۵۷ ؁ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کرپچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں میں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ وار لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں ۔اور میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تِمّوں کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جان فشانی سے مدد دی۔ غرض اسی طرح میرے ان بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ
    کی نظر میں ثابت کیا ہے۔ سو انہی خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی جو بڑے فتنہ کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے۔سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی مرزا غلا م قادر کا ذکر کیا ہے۔ اور میں ذیل میں اُن چند چٹھیات حکام بالا دست کو درج کرتا ہوں جن میں میرے والد صاحب اور میرے بھائی کی خدمات کا کچھ ذکر ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 181
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نقل مراسلہ
    (ولسن صاحب )نمبر۳۵۳
    تہور پناہ شجاعت دستگاہ
    مرزاغلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہٗ
    عریضہ شما مشعر بر یاددہانی خدمات و حقوق خود و خاندانِ خود بملاحظہ حضور ایں جانب درآمد۔ ماخوب میدانیم کہ بلا شک شماو خاندان شما از ابتدائے دخل وحکومت سرکار انگریزی جان نثار وفاکیش ثابت قدم ماندہ اید و حقوق شما دراصل قابلِ قدر اند۔ بہر نہج تسلی و تشفی دارید۔ سرکار انگریزی حقوق و خدمات خاندان شمارا ہرگز فراموش نہ خواہد کرد۔ بموقعہ مناسب برحقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و
    Translation of certificate of
    1. M. Wilson
    To,
    Mirza Ghulam Murtaza Khan
    Chief of Qadian.
    I have perused your application reminding me of your and your family's past services and rights. I am well aware that since the introduction of the British Govt you & your family have certainly remained devoted, faithful & steady subjects & that your rights are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the British Gov_ t_ _ will never forget your family's rights and services which will receive due consideration when a favourable opportunity offers itself. You must continue to be faithful and
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 182
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ درایں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است۔
    فقط
    المرقوم ۱۱؍جون۱۸۴۹ ؁ء
    مقام لاہور انار کلی
    نقل مراسلہ
    (رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور)
    تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضےٰ رئیس قادیان بعافیت باشند
    از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ درباب نگاہداشت سواران و بہمرسانی
    devoted subjects as in it lies the satisfaction of the Govt. and your welfare.
    11.6.1849_ _ Lahore
    Transtation of Mr. Robert Cast's Cretificate
    To,
    Mriza Ghulam Murtaza Khan
    Chief of Qadian
    As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Govt,in the mutiny of 1857 and maintained_ _ loyalty since its begining
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 183
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اسپان بخوبی بمنصہء ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بجلدوے اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ۵۷۶ مورخہ ۱۰؍اگست ۱۸۵۸ ؁ء پروانہ ھٰذا باظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔
    مرقومہ
    تاریخ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۵۸ ؁ء
    up to date and thereby gained the fovour of Govt, a khilat worth Rs.200/-is presented to you in recognition of good services and as a reward for your loyalty.
    More_ over in accordance with the wishes of chief commissioner as conveyed in his No.576.Dated.10th August 1858.This parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Govt,for your fidelity and repute.
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 184
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نقل مراسلہ
    فنانشل کمشنر پنجاب
    مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہٗ آپ کا خط ۲ ماہ حال کالکھا ہوا ملاحظہ حضور اینجانب میں گذرا ۔
    مرزا غلام مرتضی صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفاداررئیس تھا۔
    ہم آپ کی خاندانی لحاظ سے اسی طرح عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی کی جاتی تھی۔ ہم کو کسی اچھے موقعہ کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا ۔
    Translation of Sir Robert Egerton
    Financial Commr's:
    Murasala Dated.29 June 1876
    My dear friend
    Ghulam Qadir,
    I have perused your letter of the 2nd instant & deeply regret the death of your father Mirza Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful chief of Govt.
    In consideration of your family services.I will esteem you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will keep in mind the restoration and welfare of your family when a favourable opportunity occurs.
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 185
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    المرقوم ۲۹؍ جون ۱۸۷۶ ؁ء
    الراقم سررابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب
    یہ توؔ میرے باپ اورمیرے بھائی کا حال ہے اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ہے اس لئے میں اسی درویشانہ طرز سے گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں۔ قریباًانیس۱۹ برس سے ایسی ؔ کتابوں کے شائع کرنے میں مَیں نے اپنا وقت بسر کیا ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنی فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہیے اور میں نے اسیؔ غرض سے بعض کتابیں عربی زبان میں لکھیں اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دور دور ملکوں تک شائع کیا۔ اور اُن سب میں مسلمانوں کو باربار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکایا کہ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل وجانؔ اختیار کریں اور یہ کتابیں عرب اور بلا دشام اور کابل اور بخارا میں پہنچائی گئیں ۔اگر چہ میں سنتا ہوں کہ بعض نادان مولویوں نے ان کے دیکھنے سے مجھے کافر قرار دیا ہے اور میری تحریروں کو اس بات کا ایک نتیجہ ٹھہرایا ہے کہ گویا مجھے سلطنت انگریزی سے ایک اندرونی اور خفیہ تعلق ہے اور گویا میں ان تحریروں کے عوض میں گورنمنٹ سے کوئی انعام پاتا ہوں لیکن مجھے یقیناًمعلوم ہوا ہے کہ بعض دانشمندوں کے دلوں پر ان تحریروں کا نہایت نیک اثر ہوا ہے اور انہوں نے ان وحشیانہ عقائد سے توبہ کی ہے جن میں وہ بر خلاف اغراض اس گورنمنٹ کے مبتلاتھے ۔ان نیک تاثیرات کے لئے میری مذہبی تحریریں جو پادریوں کے مخالف تھیں بڑی محرک ہوئی ہیں ورنہ جس زور کے ساتھ میں نے مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے بلایا ہے اور جابجا سرحدی نادان ملّاؤں کوجو ناحق آئے دن فتنہ انگیزی کرتے اور افغانوں کو مخالفت کے لئے ابھارتے ہیں سرزنش کی ہے یہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 186
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پر زور تحریریں گورنمنٹ انگریزی کی حمایت میں متعصب اور نادان مسلمانوں کے لئے قابل برداشت نہ تھیں اور اب اہل عقل جب ایک طرف دینی حمایت کے مضمون میری تحریروں میں پاتے ہیں اوردوسری طرف میری یہ نصیحتیں سنتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور اطاعت کرنی چاہیے تو وہ میرے پر کوئی بدظنی نہیں کر سکتے اور کیونکر کریں یہ ایک واقعی امر ہے کہ مسلمانوں کو خدا اور رسول کا حکم ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں وفاداری سے اس کی اطاعت کریں ۔میں نے اپنی کتابوں میں یہ شرعی احکام مفصل بیان کر دیئے ہیں۔ اب گورنمنٹ غور فرما سکتی ہے کہ جس حالت میں میرا باپ گورنمنٹ کا ایسا سچا خیر خواہ تھا اور میر ابھائی بھی اُسی کے قدم پر چلا تھا اور میں بھی انیس برس سے یہی خدمت اپنی قلم کے ذریعہ سے بجا لاتاہوں تو پھر میرے حالات کیونکر مشتبہ ہو سکتے ہیں۔میری تمام جوانی اسی راہ میں گذری اور اب دائم المرض اور پیرانہ سالی کے کنارے پرپہنچ گیا ہوں اور ساٹھ سال کے قریب ہوں۔ وہ شخص سخت ظلم کرتا ہے کہ جو میرے وجود کو گورنمنٹ کے لئے خطر ناک ٹھہراتا ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ مذہبی امور کے متعلق بھی میں نے کتابیں تالیف کی ہیں اور نہ مجھے اس سے انکا ر ہے کہ پادری صاحبوں کے عقائد کے مخالف بھی میری تحریریں شائع ہو ئی ہیں جن کو وہ اپنے مذہبی خیالات کے لحاظ سے پسند نہیں کر سکتے۔ لیکن میرے لئے میری نیک نیتی کافی ہے جس کو خداتعالیٰ جانتا ہے اور میری مخالفت عام مسلمانوں کیؔ طرز مخالفت سے علیحدہ ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ مذہبی امور میں اس قدر غصہ بڑھایاجائے کہ مخالفوں کے حملوں کو قانونی جرائم کے نیچے لا کر گورنمنٹ سے ان کو سزا دلائی جائے یا اُن سے کینہ رکھا جائے بلکہ میرا اصول یہ ہے کہ مذہبی مباحثات میں صبر اور اخلاق سے کام لینا چاہیے۔ اسی وجہ سے جب عام مسلمانوں نے مصنف کتاب امہات المومنین کے سزا دلانے کے لئے انجمن حمایت اسلام کے ذریعہ سے گورنمنٹ میں میموریل بھیجے تو میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا بلکہ اُن کے برخلاف میموریل بھیجااور صاف طور پر لکھا کہ مذہبی امور میں اگر کوئی رنج دِہ امر پیش آوے تو اسلام کا اصول عفو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 187
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 187
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اور درگزر ہے۔ قرآن ہمیں صاف ہدایت کرتا ہے کہ اگر مذہبی گفتگو میں سخت لفظوں سے تمہیں تکلیف دی جائے تو تنگ ظرف لوگوں کی طرح عدالتوں تک مت پہنچو اور صبر او راخلاق سے کام لو۔ قرآن نے ہمیں صاف کہا ہے کہ عیسائیوں سے محبت اور خلق سے پیش آؤاور نیکی کرو ہاں نیک نیتی سے اور ہمدردی کی راہ سے اور سچائی کے پھیلانے کی غرض سے اور صلح کی بنا ڈالنے کے ارادے سے مذہبی مباحثات قابل اعتراض نہیں۔
    دوسری شاخ جومیرے مشن کے متعلق ہے میری تعلیم ہے ۔میں اپنی تعلیم کو قریباً انیس ۱۹برس سے شائع کر رہا ہوں ۔اور پھر خلاصہ کے طور پر اشتہار ۲۹؍مئی ۸۹۸ ا ؁ء اور نیز ۲۷؍فروری۱۸۹۵ ؁ء کے اشتہار میں ان تعلیموں کو میں نے شائع کیا ہے اور یہ تمام کتابیں اور اشتہار چھپ کر پنجا ب اور ہندوستان میں خوب شہرت پاچکے ہیں۔ اس تعلیم کاخلاصہ یہی ہے کہ خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور خدا کے بندوں سے ہمدردی اختیار کرو۔اور نیک چلن اور نیک خیال انسان بن جاؤ ۔ایسے ہو جاؤ کہ کوئی فساد اور شرارت تمہارے دل کے نزدیک نہ آسکے ۔جھوٹ مت بولو، افترا مت کرواور زبان اورہاتھ سے کسی کو ایذا مت دو اور ہر ایک قسم کے گناہ سے بچتے رہواورنفسانی جذبات سے اپنے تئیں روکے رکھو۔ کوشش کرو کہ تا تم پاک دل اور بے شر ہو جاؤ۔ وہ گورنمنٹ یعنی گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ تمہارے مال اور آبروئیں اور جانیں محفوظ ہیں بصدق اس کے وفادار تابعدار رہو اور چاہیئ کہ تمام انسانوں کی ہمدردی تمہارا اصول ہو۔ اور اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک منصوبہ اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاؤ۔خد اسے ڈرو اور پاک دلی سے اس کی پرستش کرو۔اور ظلم اور تعدیؔ اور غبن اور رشوت اور حق تلفی اور بے جا طرفداری سے باز رہو۔ اوربد صحبت سے پرہیز کرواور آنکھوں کو بدنگاہوں سے بچاؤاور کانوں کو غیبت سننے سے محفوظ رکھواور کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو بدی اور نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو اور ہر ایک کے لئے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 188
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 188
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سچے ناصح بنو اور چاہیئے کہ فساد انگیز لوگوں اور شریر اور بد معاشوں اور بد چلنوں کو ہرگز تمہار ی مجلس میں گذرنہ ہو۔ہر ایک بدی سے بچو اور ہرایک نیکی کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو اورچاہیئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بَری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے منزہ ہوں اورتم میں کبھی بدی اور بغاوت کا منصوبہ نہ ہونے پاوے اور چاہیئے کہ تم اس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پانا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔ وہ خدا اُسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اُس کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ اسی پر تجلی فرماتا ہے جو اُسی کا ہو جاتا ہے۔وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزّہ ہیں وہ اُس کی وحی کی جگہ ہیں اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہرہو جاتا ہے ۔یہ نمونہ اُس تعلیم کا ہے جو انیس برس سے اس جماعت کو دی جاتی ہے ۔اس لئے میں یقین کرتا ہوں کہ یہ جماعت خداسے ڈرنے والی اور گورنمنٹ برطانیہ کی دل سے تابعدار اور شکر گذار اور بنی نوع کی ہمدرد ہے ۔ان میں وحشیانہ جو ش نہیں ان میں درندگی کی خصلتیں نہیں۔اگر گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام ایک ذرّہ تکلیف اٹھا کر میری انیس ۱۹ برس کی تالیفات کو غور سے دیکھیں تو وہ اس تعلیم کو جو میں نے نمونے کے طور پر لکھی ہے میری اکثر کتابوں میں پائیں گے۔ کوئی مرید مرید نہیں رہ سکتا جب تک اپنے مرشد میں قول اور فعل کی مطابقت نہ پاوے۔ پھر اگر میرا قول تو یہ ہو جو میں نے اس کا نمونہ لکھا ہے اورمیرے فعل اس کے برخلاف ہوں تو کیونکر دانشمند انسانوں کا مجھ پر اعتقاد رہ سکتا ہے حالانکہ میری جماعت میں بہت سا حصہ عقلمندوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کا ہے۔ ان میں بعض اشخاص گورنمنٹ کے معزز عہدوں پر ہیں یعنی تحصیلدار اور اکسٹرااسسٹنٹ اور وکلاء اور ڈاکٹر اسسٹنٹ سرجن اور پنجاب کے معزز امیراور رئیس اور تاجر ہیں جن کے نام وقتاً فوقتاًمیں شائع کرتا رہتا ہوں ۔ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اس سے زیادہ کوئی بد ذاتی نہیں کہ کسی کی تعلیم توکچھ ہو اور خفیہ کارروائیاں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 189
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 189
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کچھ اور ہوں۔پس کیا نیک دل اور دانشمند انسان ایک دم کے لئے بھیؔ ایسے شریر کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔گورنمنٹ کے لئے یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ میری جماعت کے لوگ جاہل، وحشی، اوباش، بدمعاش اور بدرویہ لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے نیک انسان اور نیک چلنی میں شہرت یافتہ ہیں جو کئی ان میں سے گورنمنٹ کی نظر میں نیک چلنی اور نیک مزاجی اور پاک دلی اور خیر خواہی سرکار میں مسلّم ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے معزز عہدوں پر سرفراز ہیں۔ سرسیّد احمد خاں صاحب کے ۔سی۔ایس۔آئی نے جو اپنے آخری وقت میں یعنی موت سے تھوڑے دن پہلے میری نسبت ایک شہادت شائع کی ہے۔ اس سے گورنمنٹ عالیہ سمجھ سکتی ہے کہ اس دانا اور مردم شناس شخص نے میرے طریق اور رویّہ کو بدل پسند کیا ہے چنانچہ حاشیہ میں ان کے کلمات کو درج کرتا ہوں*۔
    * ’’مرزا غلام احمد صاحب قادیانی‘‘
    مرزا صاحب نے جو اشتہار ۲۵؍جون۱۸۹۷ ؁ء کو جاری کیا ہے اُس اشتہار میں مرزا صاحب نے ایک نہایت عمدہ فقرہ گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور وفاداری کی نسبت لکھا ہے ۔ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کو جو گورنمنٹ انگریزی کی رعیت ہے ایساہی ہونا چاہیے جیسا مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ اس لئے ہم اُس فقرہ کو اپنے اخبار میں چھاپتے ہیں۔مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ’’گورنمنٹ انگریزی کی خیرخواہی کی نسبت جو میرے پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ بھی محض شرارت ہے۔ سلطان روم کے حقائق بجائے خود ہیں مگر اس گورنمنٹ کے حقوق بھی ہمارے سر پر ثابت شدہ ہیں اور ناشکر گذاری ایک بے ایمانی کی قسم ہے۔
    اے نادانو!گورنمنٹ انگریزی کی تعریف تمہاری طرح میری قلم سے منافقانہ نہیں نکلتی بلکہ میں اپنے اعتقاد اور یقین سے جانتا ہوں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گورنمنٹ کی پنا ہ ہمارے لئے بالواسطہ خداتعالیٰ کی پناہ ہے اس سے زیادہ اس گورنمنٹ کی پُر امن سلطنت ہونے کا اور کیا میرے نزدیک ثبوت ہو سکتا ہے کہ خداتعالیٰ نے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 190
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 190
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اب خلاصہ کلام یہ کہ میری تعلیم یہی ہے جو اس جگہ میں نے نمونہ کے طور پر لکھی ہے ۔ اورؔ میری جماعت وہ گروہ معزز اور غریب طبع اور نیک چلن انسانوں کا ہے کہ میں ہرگز گمان نہیں کرسکتا کہ گورنمنٹ ان کی نسبت یہ رائے ظاہر کر ے کہ یہ لوگ اپنے چال چلن اور رویّہ کے لحاظ سے خطر ناک یامشتبہ ہیں ۔یہ میرے سلسلہ کی خوش قسمتی ہے کہ وحشی اور نادانوں اور بد چلنوں نے
    میری طرف رجوع نہیں کیابلکہ شریف اور معزز اور تعلیم یافتہ اور دیسی افسر اور اچھے اچھے عہدوں کے سرکاری ملازموں سے میری جماعت پُرہے۔ اور تنگ خیالات کے متعصب اور جاہل مسلمان جو وحشی اور نفسانی جذبات کے نیچے دبے ہوئے اور تاریک خیال ہیں وہ اس جماعت سے کچھ تعلق نہیں رکھتے بلکہ بخل اور عناد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دل آزاری کے منصوبوں میں مشغول ہیں اور کافر کافر کہتے ہیں۔
    یہ پاک سلسلہ اس گورنمنٹ کے ماتحت برپا کیا ہے۔ وہ لوگ میرے نزدیک سخت نمک حرام ہیں جو حکام انگریزی کے روبروئے ان کی خوشامدیں کرتے ہیں اُن کے آگے گرتے ہیں اور پھر گھر میں آکر کہتے ہیں کہ جو شخص اس ؔ گورنمنٹ کا شکر کرتا ہے وہ کافر ہے۔ یاد رکھو اور خوب یادر کھو کہ ہماری
    یہ کارروائی جو اس گورنمنٹ کی نسبت کی جاتی ہے منافقانہ نہیں ہے ولعنۃ اللّٰہ علی المنافقین بلکہ ہمارا یہی عقیدہ ہے جو ہمارے دل میں ہے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ مع تہذیب الاخلاق۲۴؍جولائی۱۸۹۷ ؁ء
    یہ مضمون خیر خواہی گورنمنٹ انگریزی میں نے اُس وقت شائع کیا تھا جن دنوں میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور دوسرے لوگوں نے سلطان روم کی تعریف میں مضمون لکھے تھے اور بوجہ خیرخواہی اس گورنمنٹ کے مجھ کو کافر ٹھہرایا تھا۔سیّد احمد خان صاحب خوب جانتے تھے کہ کس قدر میں انگریزی گورنمنٹ کا خیر خواہ اور امن پسند انسان ہوں اس لئے میں نے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں سید صاحب کو اپنی صفائی کا گواہ لکھوایا تھا ۔ منہ۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 191
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 191
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/191/mode/1up
    تیسری شاخ میرے امور کی جس کو گور نمنٹ کی خدمت تک پہنچانا از حد ضرور ی ہے میرے وہ الہامی دعوے ہیں جو مذہب کے متعلق میں نے ظاہر کئے ہیں۔ جن کو بعض شریر اہل غرض خطرناک صورت پر اپنے رسالوں اور اخباروں میں لکھتے ہیں اور خلافِ واقعہ باتیں کرتے ہیں اور افترا سے کام لیتے ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے اپنی دانا گورنمنٹ کے سامنے اس بات کو مدلل لکھنے کی زیادہ ضرورت نہیں کہ وہ خدا جو اس دنیا کا بنانے والا اور آئندہ زندگی کی جاودانی امیدیں اور بشارتیں دینے والا ہے اس کا قدیم سے یہ قانونِ قدرت ہے کہ غافل لوگوں کی معرفت زیادہ کرنے کے لئے بعض اپنے بندوں کو اپنی طرف سے الہام بخشتا ہے اور ان سے کلام کرتا ہے اور اپنے آسمانی نشان اُن پر ظاہر کرتا ہے اور اس طرح وہ خدا کو روحانیؔ آنکھوں سے دیکھ کر اور یقین اور محبت سے معمور ہو کر اس لائق ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کوبھی اس زندگی کے چشمہ کی طرف کھینچیں جس سے وہ پیتے ہیں تاغافل لوگ خدا سے پیار کر کے ابدی نجات کے مالک ہوں اور ہر ایک وقت میں جب دنیا میں خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور غفلت کی وجہ سے حقیقی پاک باطنی میں فتور آتا ہے تو خدا کسی کو اپنے بندوں میں سے الہام دے کر دلوں کو صاف کرنے کے لئے کھڑا کردیتا ہے ۔سو اس زمانہ میں اس کام کے لئے جس شخص
    کو اُس نے اپنے ہاتھ سے صاف کر کے کھڑا کیا ہے وہ یہی عاجز ہے اور یہ عاجز خدا کے اُس پاک اور مقدس بندہ کی طرز پر دلوں میں حقیقی پاکیزگی کی تخم ر یزی کے لئے کھڑا کیا گیا ہے جو آج سے قریباً انیس سو ۱۹۰۰ برس پہلے رومی سلطنت کے زمانہ میں گلیل کی بستیوں میں حقیقی نجات پیش کرنے کے لئے کھڑا ہوا تھا اور پھر پیلا طوس کی حکومت میں یہودیوں کی بہت سی ایذا کے بعد اُس کو خدا کی قدیم سنت کے موافق ان ملکوں سے ہجرت کرنی پڑی اور وہ ہندوستان میں تشریف لائے تا اُن یہودیوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا ویں جو بابل کے تفرقہ کے وقت ان ملکوں میں آئے تھے اور آخر ایک سو بیس کی عمر میں اس ناپائدار دنیا کو چھوڑ کر اپنے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 192
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 192
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/192/mode/1up
    محبوب حقیقی کو جاملے اور کشمیر کے خطہ کو اپنے پاک مزار سے ہمیشہ کے لئے فخر بخشا ۔کیا ہی خوش قسمت ہے سری نگر اور انموزہ اور خان یار کا محلہ جس کی خاک پاک میں اس ابدی شہزادہ خدا کے مقدس نبی نے اپنا مطہر جسم ودیعت کیااور بہت سے کشمیر کے رہنے والوں کو حیاتِ جاودانی اور حقیقی نجات سے حصہ دیا ہمیشہ خدا کا جلال اس کے ساتھ ہوآمین۔ سو جیسا کہ وہ نبی شہزادہ دنیا میں غربت اور مسکینی سے آیا اور غربت اور مسکینی اور حلم کا دنیا کو نمونہ دکھلایا اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ اس کے نمونہ پر مجھے بھی جو امیری اور حکومت کے خاندان سے ہوں اور ظاہری طور پر بھی اس شہزادہ نبی اللہ کے حالات سے مشابہت رکھتا ہوں ان لوگوں میں کھڑا کرے جو ملکوتی اخلاق سے بہت دور جاپڑے ہیں۔ سو اس نمونہ پر میرے لئے خدا نے یہی چاہا ہے کہ میں غربت اور مسکینی سے دنیا میں رہوں ۔خدا کے کلام میں قدیم سے وعدہ تھا کہ ایسا انسان دنیا میں پیدا ہو۔اسی لحاظ سے خدانے میرا نام مسیح موعود رکھا ۔یعنی ایک شخص جو عیسیٰ مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہمرنگ ہے۔خدا نے مسیح علیہ السلام کو رومی سلطنت کے ماتحت جگہ دی تھی اوراس سلطنت نے اُنؔ کے حق میں عمداً کوئی ظلم نہیں کیا مگر یہودیوں نے جو اُن کی قوم تھے بہت ظلم کیا اور بڑی توہین کی اور کوشش کی کہ سلطنت کی نظر میں اس کو باغی ٹھہرا ویں ۔مگر میں جانتا ہوں کہ ہماری یہ سلطنت جو سلطنتِ برطانیہ ہے خدا اس کو سلامت رکھے رومیوں کی نسبت قوانینِ معدلت بہت صاف اور اس کے حکام پیلاطوس سے زیادہ ترزیر کی اور فہم اور عدالت کی روشنی اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ اور اس سلطنت کی عدالت کی چمک رومی سلطنت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے ۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل کا شکر ہے کہ اس نے ایسی سلطنت کے ظلِّ حمایت کے نیچے مجھے رکھا ہے جس کی تحقیق کا پلہ شبہات کے پلہ سے بڑھ کر ہے۔
    غرض مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لئے مقرر کیا گیا ہے اس کے معنے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 193
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 193
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/193/mode/1up
    اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدا ئے قیوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نمونہ ٹھہرایا ہے تا امن اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں۔ میں نے اس نام کے معنے یعنی مسیح موعود کے صرف آج ہی اس طور سے نہیں کئے بلکہ آج سے انیس۱۹ برس پہلے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بھی یہی معنے کئے ہیں۔
    ممکن ہے کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں کیونکہ یہ باتیں دنیا کی سمجھ سے بڑھ کرہیں اور دنیا ان کو شناخت نہیں کر سکتی خاص کر قدیم فرقوں کے مسلمان جن کے ایسی پیشگوئیوں کی نسبت خطرناک اصول ہیں۔یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظا ر ہے جو فاطمہ مادر حسین کی اولاد میں سے ہو گااور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفانِ اسلام سے لڑائیاں کرے گا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں۔ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجو د ہے جو نادانی اوردھوکا سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں جو غالباً عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں اور صحیح اور راست صرف اس قدر ہے کہ ایک شخص عیسٰی علیہ السلام کے نام پر آنے والا بیان کیا گیا ہے کہ جو نہ لڑے گا اور نہ خون کرے گا اور غربت اور مسکینی اور حلم اور براہین شافیہ سے دلوں کو حق کی طرف پھیرے گا ۔سو خدانے کھلے کھلے کلام اور نشانوں کے ساتھ مجھے خبر دی ہے کہ وہ شخص تو ہی ہے اورؔ اس نے میری تصدیق کے لئے آسمانی نشان نازل کئے ہیں اور غیب کے بھید اور آنے والی باتیں میرے پر ظاہر فرمائی
    ہیں اور وہ معارف مجھ کو عطاکئے ہیں کہ دنیا ان کو نہیں جانتی۔اور یہ میرا عقیدہ کہ کوئی خونی مہدی دنیا میں آنے والا نہیں تمام مسلمانوں سے الگ عقیدہ ہے اور میں نے اس عقیدہ کو اپنی تمام جماعت اورلاکھوں انسانوں میں شائع کیاہے ۔اور یہ مسلمانوں کی امیدوں کے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 194
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 194
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/194/mode/1up
    برخلاف ہے ۔بلا شبہ ان کے عقیدے ایسے تھے کہ جو وحشیانہ جو شوں کو پیدا کرتے اورتہذیب اور شائستگی سے دور ڈالتے تھے اور غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ ایسے عقیدوں کا انسان ایک خطرناک انسان ہوتا ہے سو خدا نے جو رحیم کریم ہے میرے ظہور سے صلح کاری کی بنیاد ڈالی اور میری جماعت کے دلوں کو ان بیہودہ عقیدوں سے ایسا دھودیا ہے جیسے ایک کپڑا صابون سے دھویا جائے ۔پس یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اور جس طرح یہود کی امیدوں کے موافق حضرت مسیح علیہ السلام بادشاہ ہو کر نہ آئے اور نہ غیر قوموں سے لڑے آخر یہود نے ان پر ظلم کرنا شروع کیا اور کہا کہ یہ وہ نہیں ہے جس کا ہمیں انتظارتھا۔یہی سبب اس جگہ پیدا ہو گیا ۔ہاں اس کے ساتھ دوسرے اختلاف بھی ہیں چنانچہ ان لوگوں کا ایک یہ بھی مذہب ہے کہ حتی المقدور غیر قوموں سے کینہ رکھا جائے اور اگر موقعہ ملے تو ان کا نقصان بھی کیا جائے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہرگز کوئی آدمی مسلمان نہیں بنتا جب تک کہ دوسروں کی ایسی ہمدردی نہیں کرتا جیسا کہ اپنے نفس کے لئے اور میری یہی نصیحت ہے کہ دلوں کو صاف کرو اور تمام بنی نوع کی ہمدردی اختیار کرواور کسی کی بدی مت چاہو کہ اعلیٰ تہذیب یہی ہے ۔افسوس کہ یہ لوگ دوسری قوموں سے انتقام لینے کیلئے سخت حریص ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ عفو اور درگذرکرو اور کینہ ور اور منافق طبع مت بنو۔زمین پر رحم کروتا آسمان سے تم پر رحم ہو۔اور میں نے نہ صرف کہا بلکہ عملی طور پر دکھلایااور میں نے ہرگز پسند نہیں کیا کہ جو شخص شرکا ارادہ کرتا ہے اس کے لئے میں بھی شرکا ارادہ کر وں ۔مثلاً ڈاکٹر کلارک نے اقدامِ قتل کا
    الزام میرے پر لگا یا تھا جو عدالت میں ثابت نہ ہوا بلکہ اس کے برخلاف قرائن پیدا ہوئے۔ تب کپتان ڈگلس صاحب مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا آپ ڈاکٹر کلارک پرنالش کرنا چاہتے ہیں ؟تو میں نے انشراح صدر سے کہا کہ نہیں بلکہ میں نے ان عیسائیوں پر نالش کرنے سے بھی اعراض کیا جوؔ عدالت کی تحقیق کی رو سے ملزم ٹھہر ے تھے اگر عفو اور درگذر میرا مذہب نہ ہوتا تو اس قدر دکھ اٹھانے کے بعد میں ضرور نالش کرتا۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 195
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 195
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/195/mode/1up
    پھر جب انجمن حمایت اسلام لاہور کے ذریعہ سے اس نواح کے مسلمانوں نے رسالہ امہات المومنین کے مصنف پر مؤاخذہ کرانا چاہا اور اس مطلب کیلئے بحضور صاحب لیفٹیننٹ گورنر بہادر کئی میموریل بھیجے اور بہت جوش ظاہر کیا تو اس وقت بھی میں نے ان کے برخلاف میموریل بھیجا۔اور صاف لکھا کہ ہم مؤلّف امہات المومنین سے ہرگز انتقام نہیں چاہتے۔ ہاں معقول طور پر ردّلکھنا ہمارا فرض ہے۔ سوان امور میں ہمیشہ سے ان لوگوں اور ان کے مولویوں سے میرا اختلاف رہاہے جس سے ان کو بڑا رنج ہے۔ مگر میں ان سے کچھ دشمنی نہیں رکھتا ۔*اور بہر حال ان کو قابل رحم جانتا ہوں اور اس شخص سے زیادہ قابل رحم کون شخص ہو سکتا ہے جو سچائی اور راستی کی راہ کو چھوڑتا ہے۔ایک اختلاف عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی نسبت ہے جس سے یہ لوگ ہمیشہ افروختہ رہے۔میں نے ایک وسیع تحقیقات سے
    ثابت کیاہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اور مجھے بڑے پختہ ثبوت اس بات کے ملے ہیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب سے نجات دے کر ہندوستان کی طرف ان یہودیوں کی دعوت کے لئے روانہ کیا جو بخت نصر کے ہاتھ سے متفرق ہو کر فارس اورتبت اور کشمیر میں آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔چنانچہ آپ نے ان ملکوں میں ایک مدت تک رہ کر اور پیغام الٰہی پہنچا کر آخر سری نگر میں وفات پائی اور آپ کا مزار مقدس سری نگر محلہ خان یار میں موجود ہے جو شہزاہ نبی یوز خ آسف کی مزار کہلاتی ہے۔
    * نوٹ۔ ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں جب مولوی محمد حسین ڈاکٹر کلارک کی طرف سے گواہ ہو کر آیاتو میرے وکیل مولوی فضل دین صاحب نے محمد حسین کی نسبت ایک ایسے سوال کی مجھ سے اجازت چاہی جس سے عدالت میں محمد حسین کی بہت ذلت ہوتی تھی تب میں نے ان کو ایسے سوال سے منع کر دیا اور روک دیا۔ اگر میں دنیا میں کسی سے دشمنی رکھتا تو کیوں ایسا کرتا ۔منہ
    خ کشمیریوں کی بعض معزز قوموں کے نام کے ساتھ جیو کا لفظ ایک ابدی قومی یادر گار ہے جو ان کو بنی اسرائیل ثابت کرتی ہے کیونکہ جیو کے معنے یہودی ہی کے ہیں ۔اور یہ لفظ جیو بمعنے یہودی انگریزی میں بھی اسی طرح بنایا گیا ہے ۔اس زبردست ثبوت قومی نامو ں کی طرز مشابہت کے علاوہ ڈاکٹر برنیر مشہور فرانسیسی سیاح نے اپنے سفر نامہ میں زبردست دلائل اور نیز بڑے بڑے محققوں کی شہادت سے ثابت کیا ہے کہ اہل کشمیر اصل میں بنی اسرائیل ہی ہیں۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 196
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 196
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/196/mode/1up
    یسوع کا نام جیزس کے لفظ کی طرح اختلاط زبان کی وجہ سے یوز آسف ہو گیا۔
    چوتھی شاخ یہ ہے کہ ان دعووں کے بعد قوم کے علماء نے میرے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟اس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے دعویٰ مسیح موعود کو سن کر اور اس بات سے اطلاع پا کر کہ میں ان کے اس مہدی کے آنے سے منکر ہوں جس کی نسبت بہت سے وحشیانہ قصے انہوں نے بنا رکھے ہیں اور زمین پر خون کی ندیاں بہانے والا اس کو مانا گیا ہے ان مولویوں میں سے ایک شخص محمد حسین نامی نے جو ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنہ اور ساکن بٹالہ ضلع گورداسپورہ ہے میرے پر ایک کفر کا فتویٰ لکھا اور بہت سے مولویوں کے اس پرد ستخط کرائے اور مجھے کافر اور دجال ٹھہرایا۔یہاں تک کہ یہ فتویٰ دیا گیا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور ان کا مال لوٹ لینا جائز اور انؔ کی عورتوں کو جبراً اپنے قبضہ میں لے کر ان کے ساتھ نکاح کر لینا یہ سب باتیں درست ہیں بلکہ موجب ثواب ہیں*۔چنانچہ اشتہار مؤرخہ ۲۹؍ رمضان ۱۳۰۸ ؁ھ مطبوعہ مطبع حقانی لودیانہ اور رسالہ سیف مسلول مطبوعہ مطبع ایجرٹن پریس راولپنڈی کی پشت پر جو محمد حسین کی تحریک سے لکھے گئے ہیں یہ دونوں فتوے موجود ہیں مگر جب کہ رعب گورنمنٹ انگریزی سے ان فتووں پر عملدرآمدنہ ہو سکا تو محمد حسین نے ایک
    اورتدبیر سوچی/کہ اس شخص کو نہایت سخت گالیوں اور دلآزار کلمات سے ہمیشہ رنج دینا چاہیے۔ جیسا کہ اس نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ مطبوعہ ۱۸۹۸ء میں کئی جگہ اس بات کا خود اظہار کیا ہے۔ اس قسم کی گالیوں اور بد زبانیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے ایک چالاک شخص کو جس کا نام محمد بخش جعفر زٹلی ہے اور لاہور میں رہتا ہے مقرر کیا اور ہر ایک قسم کے گندے اشتہار خود لکھ کر اس کے نام پر چھپوائے۔
    * نوٹ۔ محمد حسین بٹالوی کا اصل مذہب یہی ہے کہ مہدی لڑائیاں کرنے والاآنے والا ہے مگر وہ گورنمنٹ کو محض جھوٹ کے طور پر یہ کہتا ہے کہ ایسے مہدی کامیں قائل نہیں ہوں حالانکہ وہ بارہا ظاہر کرچکا ہے کہ قائل ہے اگر گورنمنٹ دوسرے مولویوں کو جمع کر کے پوچھے کہ یہ شخص ان کے پاس مہدی کی نسبت کیا عقائد بیان کرتا ہے تو جلد ثابت ہو جائے گا کہ یہ شخص گورنمنٹ کو کیا کہتا ہے اور اپنے بھائیوں یعنی دوسرے علماء کو مہدی کے بارے میں کیا کہتا ہے ۔منہ
    / دیگر اشاعۃ السنہ نمبر ۵ جلد ۱۸ صفحہ ۱۴۶ و۱۵۴ و ۱۵۵۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 197
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 197
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/197/mode/1up
    اور درپردہ وہ سب کا رروائی خود محمد حسین نے کی اور اس اپنی کارروائی سے وہ لوگوں کو اطلاع بھی دیتا رہاہے اور اپنے رسالوں میں بھی شیخی کے طور پر یہ کام اپنی طرف منسوب کرتا رہا ہے اور یہ تمام اشتہارات جو نہایت چالاکی اور بدزبانی سے ایک سال سے یا کچھ زیادہ عرصہ سے محمد حسین شائع کر رہا ہے یہ نہایت اوباشانہ طریق سے گندے سے گندے پیرایہ میں لکھے جاتے ہیں اوران اشتہاروں میں کوئی پہلو میری بے عزتی اور بے آبروئی کا اٹھا نہیں رکھا اورمیرے تمام ننگ وناموس کو خا ک میں ملانا چاہا ہے اور ایسی گندی اور ناپاک تہمتوں پر مشتمل ہیں کہ میں گمان نہیں کرسکتا کہ اس سختی اور بے شرمی کا برتاؤ کبھی ذلیل سے ذلیل قوم کے آدمی نے کسی اپنے مخالف کے ساتھ کیا ہو۔ان اشتہارات میں سے جو ۱۲؍اگست ۱۸۹۸ء کا اشتہار ہے جو مطبع تاج الہند میں چھپاہے ایسا ہی ایک دوسرا اشتہار جو ۲۵؍ستمبر۱۸۹۸ء میں مطبع فخر الدین پریس لاہور میں طبع ہوا ہے اور ایساہی ایک تیسرا اشتہار اور ضمیمہ ۱۱؍جون۱۸۹۷ء کا جو اسی مطبع میں طبع ہوا ہے ان چاروں کا نمونہ کے طور پر کسی قدر مضمون اس جگہ درج کرتا ہوں تا حکام کو معلوم ہو کہ کہاں تک میری ذلت کا ارادہ کیا گیا ہے اور نہ ایک ماہ نہ دو ماہ بلکہ ایک سال سے ایسے گندے اشتہار جاری کر رہے ہیں جن کے متواتر زخموں کے بعد* مجھے اشتہار ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ء لکھنا پڑا۔جس میں جھوٹے کی ذلت خدا تعالیٰ سے طلب کی ہے اور محمد حسین کے یہ چاروں اشتہارجو جعفر زٹلی کے نام پر نکالے گئے مجھے بے عزّت کرنے کے لئے ان میں نہایت سخت اور گندے اور ناپاک الفاظ استعمال کئے ہیں۔ یعنی میری نسبت یہؔ لکھا ہے کہ’’اس شخص کی جو روکی اس کے بعض مریدوں سے آشنائی ہے‘‘اور پھر ٹھٹھے سے اپنے تئیں ملہم قرار دے کر میری نسبت لکھا ہے کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ ’’اس شخص کی جو رو محمد بخش جعفر زٹلی سے
    *یہ اشتہار مباہلہ ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ء اس وقت شائع نہیں کیا جب تک کہ کئی اشتہار بدر خواست مباہلہ ان لوگوں کی طرف سے متواتر میرے پاس نہیں پہنچے ۔چنانچہ علاوہ ان اشتہارات کے ایک چٹھی جعفر زٹلی مؤرخہ ۱۹؍نومبر۱۸۹۸ء اور پانچ اشتہارات متواتر یکے بعد دیگرے مباہلہ کی درخواست کے متعلق محمد حسین نے آپ شائع کرائے ہیں ۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 198
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 198
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/198/mode/1up
    نکاح کرے گی۔‘‘اور پھر میری نسبت ٹھٹھے سے لکھتا ہے کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ ’’قادیانی ایک سخت مقدمہ میں ماخوذ ہو کر پابجولاں قید فرنگ میں ڈالا جاوے گااور جلا وطن ہو گا اور حالتِ قید میں بالکل دیوانہ اور مخبط الحواس ہو جائے گا۔اور اس کے نیچے سے ایک ناسورکا پھوڑا پیدا ہوگا۔اور اس کو کوڑھ ہو جائے گا۔اور اس کے جسم میں بے شمار کیڑے پیدا ہوں گے اوراس کی صورت مطلقاً مسخ ہو جائے گی اور اس کی پیاری بیوی بعض مریدوں سے آشنائی کرے گی اور پھر وہ آوارہ ہو کر قادیانی سے طلاق حاصل کرے گی۔ اور پھر محمد بخش جعفر زٹلی سے اس کا نکاح ہو گا اور مولوی ابو سعید محمد حسین نکاح خوان ہوں گے * اور آخرکار قادیانی آنکھوں سے اندھا، کانوں سے بہرا ،زبان سے گونگا، خود کشی کرکے فی النارو السقر ہو جائے گا یعنی جہنم میں پڑے گا ‘‘اور پھر ٹھٹھے کے طور پر آخیر میں لکھتا ہے کہ ’’یہ سب الہام پورے ہو چکے صرف نکاح باقی ہے‘‘اور پھر میری نسبت تیسرے اشتہار میں ٹھٹھے سے لکھتا ہے کہ ’’سنا ہے کہ اس شخص کو طاعون ہو گئی اور کتوں نے اس کا گوشت کھایا‘‘۔اور پھر جولائی۱۸۹۷ ؁ء کے پرچہ میں میری تصویر ریچھ کی بنائی ہے۔
    علاوہ اس کے محمد حسین نے اپنے اشاعۃالسنہ ۱۸۹۸ ؁ء میں جابجا مجھے بد کار اور گورنمنٹ انگریزی کا بد خواہ اور خونی قرار دیا ہے۔ پس جب کہ یہ ظلم محمد حسین اور اس کے گروہ یعنی محمد بخش جعفر زٹلی وغیرہ کا حد سے زیادہ گذر گیا اور مجھے اس حد تک ذلیل کیا گیاکہ کوئی ایسا لفظ ذلت کا نہ چھوڑا جو میری نسبت استعمال نہ کیااور پھر مباہلہ کے لئے متواتر درخواست بھیجی۔تو بالآخر میں نے اشتہار ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ ؁ء جاری کیا جس کا مطلب صرف یہ تھا کہ خداتعالیٰ ہم دونوں گروہ میں سے اس کو ذلیل کرے جو جھوٹا ہے اور پھر اس اشتہار کی شرح ۳۰؍نومبر ۱۸۹۸ ؁ء کے اشتہار میں اور بھی تصریح سے کر دی اور محمد حسین نے میرے اشتہار ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ ؁ء کے بعد بھی جابجا مجھے بدنام کرنا چاہا اور میرے اشتہار ۲۱؍ نومبر۱۸۹۸ ؁ء کے جھوٹے طور پریہ معنے کئے کہ اس میں میرے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے حالانکہ اسی اشتہار میں
    *مولوی محمدحسین نے اپنے اشاعۃ السنہ ۱۸۹۸ ؁ء میں بڑے تمسخر کے طورپر لکھا ہے کہ ’’ان کی بیوی کا محمد بخش سے میں نکاح پڑھوں گا۔‘‘منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 199
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 199
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/199/mode/1up
    میں نے تین جگہ کھول کر بیان کر دیاتھا کہ یہ اشتہار صرف جھوٹے کی ذلت کے لئے ہے ہم دونوں فریق میں سے کوئی ہو۔ اورپھر میں نے یہ سن کر کہ محمد حسین میرے اشتہار ۲۱؍ؔ نومبرکے خلاف واقعہ معنے بیان کرتا ہے ۳۰؍نومبر۱۸۹۸ ؁ء کا اشتہار اس غرض سے شائع کیا کہ تا محمد حسین الٹے معنے کرکے لوگوں کو دھوکا نہ دیوے مگر میں نے سنا ہے کہ بعد اس کے پھر بھی وہ دھوکہ دیتا رہا ۔ایک بچہ بھی جو ادنیٰ استعداد رکھتا ہومیرے ان دونوں اشتہارات کو دیکھ کر جو ۲۱؍نومبر۹۸ ؁ء اور ۳۰؍نومبر۹۸ ؁ء میں جاری ہوئے تھے بد یہی طور پر سمجھ سکتا ہے کہ ان اشتہارات میں کسی کے قتل کرنے کی پیشگوئی نہیں ہے بلکہ محض جھوٹے کی ذلت کے لئے بددعا اور الہام ہے*۔اوریہی غرض تھی جس کی وجہ سے میں نے محمدحسین کا اشتہار جو محمد بخش اورابوالحسن تبتی کے نام سے جاری کیا گیا تھا ۔اشتہار ۲۱؍ نومبر ۹۸ ؁ء کے ساتھ چھاپ بھی دیا تھا اس سے میری یہ غرض تھی کہ تامعلوم ہو کہ محمدحسین نے محض بد زبانی سے مجھے ذلیل کرنا چاہا ہے اورمیں خدا سے یہ فیصلہ چاہتا ہوں کہ جو شخص ہم میں سے جھوٹا ہے وہ اسی طرح ذلیل ہو۔ میں نے اس رسالے کے اخیر پر اپنے دواشتہار یعنی ۲۱؍نومبر ۹۸ء ؁ اور ۳۰؍نومبر ۹۸ ء ؁ کاترجمہ انگریزی میں شامل کردیا ہے ۔یہ بات کہ میں نے کیوں یہ اشتہار ۲۱؍نومبر۹۸ ء ؁ لکھا اور کس صحیح ضرورت کی وجہ سے میں اس کے لکھنے کا مجاز تھا اس کا جواب میں ابھی دے چکا ہوں کہ میں ایک سال سے زیادہ عرصہ تک گندہ اشتہاروں کانشانہ رہایعنی محمدحسین اور اس کے گروہ کی طرف سے میری نسبت برابر ایک برس تک گالیوں کے اشتہار جاری ہوتے رہے اور ان اشتہارات میں میری سخت اہانت اور بے عزتی کی گئی اور مجھے ذلیل کرنے میں
    * الہام جزاء سیءۃ بمثلھا کہ جو اشتہار ۲۱؍نومبر۹۸ ء ؁ میں درج ہے یہ ظاہرکرتا ہے کہ جھوٹے کی ذلت تو ہو گی مگر اسی قسم کی جو اس نے اپنے فعل سے فریق ثانی کو پہنچائی ہو۔پس اس جگہ ذلت کی قسم مثل کے لحاظ سے قرار دی گئی ہے۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 200
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 200
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/200/mode/1up
    انتہا تک کوشش کی گئی یہاں تک کہ میری مستورات پر محض مفسدانہ شرارت سے بدکاری اور زنا کا الزام لگایا گیا۔اس درجہ کی دل آزاری اور بے حرمتی کے وقت جو انسانی غیرت کو حرکت میں لاتی ہے میرا حق تھا کہ میں عدالت میں نالش کرتا لیکن میں نے اپنے فقیرانہ اور صابرانہ طریق کے لحاظ سے کوئی نالش نہ کی اور ایک سال کے قریب تک ایسے اشتہارات جن کا ایک ایک لفظ میری بے عزتی کے لئے لکھا گیا تھا محمد حسین اور اس کے گروہ نے بذریعہ ڈاک قادیان میں میرے پاس پہنچائے حالانکہ میں ایسے گندے اخباروں اور اشتہاروں کا خریدار نہ تھا۔پس جب کہ باربار مجھے اس قسم کی گالیوں اور بہتانوں سے آزار پہنچایا گیا تو آخر میں نے مدت دراز کے صبر کے بعد نہایت نیک نیتی سے اشتہار۲۱؍نومبر ۹۸ ؁ء جو محض اس مضمون پر مشتمل تھا کہ جھوٹے کو خدا ذلیل کرے مگر اسی قسم کی ذلت سے جو اس نے پہنچائی جاری کیا۔
    پانچویںؔ شاخ قابلِ بیان یہ ہے کہ میرے ان دعووں سے پہلے میری نسبت ان لوگوں کا کیا ظن تھا اور ان دعووں کے بعد کیوں اس قدرعداوت اختیار کی؟سو اس جگہ اس قدر لکھنا کافی ہے کہ شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ جو مخالفوں کا سرگروہ ہے میرے ان دعاوی سے پہلے میری نسبت نہایت درجہ کا مدح خواں تھا۔ مجھ کو ایک نیک انسان اور ولی اور مسلمانوں کا فخر اور گورنمنٹ انگریزی کا نہایت درجہ کا خیر خواہ سمجھتا تھا چنانچہ وہ اپنے پرچہ اشاعۃ السنہ جون ۔جولائی ۔اگست ۱۸۸۴ ؁ء میں صفحہ ۱۶۹ میں میری نسبت لکھتا ہے کہ ’’یہ شخص اسلام کی مالی و جانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ ‘‘پھر اسی رسالہ کے صفحہ۱۷۶میں لکھتا ہے کہ ’’مؤلف براہین احمدیہ (یعنی اس راقم ) کے حالات وخیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین ایسے واقف کم نکلیں گے ۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ہمارے ہم مکتب بھی ہیں ۔ان کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ نے غدر ۱۸۵۷ ؁ء میں گورنمنٹ کا خیر خواہ ، جاں نثار وفادار ہونا عملاً بھی ثابت کر دکھایا اور پچاس گھوڑے گورنمنٹ کی مدد میں دیئے۔‘‘اور پھر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 201
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 201
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/201/mode/1up
    صفحہ ۱۷۷ اور ۱۷۸میں لکھتا ہے کہ’’مرزاغلام احمد صاحب درویشانہ طور پر گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں ہمیشہ مصروف رہے اور بار ہا انہوں نے لکھا ہے کہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے ۔اور خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک بارانِ رحمت بھیجا ہے ۔ایسی سلطنت سے لڑائی اورجہاد کرنا قطعی حرام ہے‘‘ایسا ہی محمد حسین نے اشاعۃ السنہ کے کئی اور پرچوں میں میری نسبت صاف طورپر گواہی دی ہے کہ ’’یہ شخص غریب طبع اور بے شراور گورنمنٹ انگلشیہ کا خیر خواہ ہے ‘‘اور اس گواہی پر سالہا سال تک اور اس وقت تک قائم رہا جب تک کہ میں نے ان لوگوں کے ان اعتقادات سے انکار نہ کیا کہ جوان لوگوں کے دلوں میں جمے ہوئے ہیں کہ دنیا میں ایک مہدی آئے گا اور نصاریٰ سے لڑے گا اور اس کی مدد کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور زمین پر کسی کافر کو نہیں چھوڑیں گے اور کافروں کی دولت مولویوں اوردوسرے مسلمانوں کو ملے گی اور اتنی دولت ملے گی کہ وہ اس کے رکھنے سے عاجز آجائیں گے۔ ان بے بنیاد اور بیہودہ قصوں کو میں نے قبول نہیں کیااور باربار لکھا کہ یہ خیالات حدیث اورؔ قرآن سے ثابت نہیں اور سراسر لغو اور باطل ہیں اور نہ صرف انکار کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ میں خداتعالیٰ کے ارادہ کے موافق اور اس کے الہام سے مسیح موعود کے نام پر آیا ہوں اور میں لوگوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ عام مسلمانوں کے یہ اعتقاد کہ بنی فاطمہ سے ایک مہدی اٹھے گا اور مسیح آسمان سے اس کی مدد کے لئے آئے گا۔پھر وہ زمین پر کافروں کے ساتھ لڑیں گے اور نصاریٰ کے ساتھ ان کی لڑائیاں ہوں گی اور مولویوں اوران کے ہم خیال لوگوں کو انعام دینے کے لئے بہت سامال اکٹھا کیا جائے گا۔یہ سب جھوٹے اور بے اصل خیالات ہیں بلکہ ایسی لڑائیاں کرنے والا کوئی نہیں آئے گا۔صرف روحانی طورپر غافل لوگوں کی اصلاح منظور تھی ۔سو اس اصلاح کے لئے میں آیا ہوں سو یہ وعظ میرا ان لوگوں کو نہایت برا معلوم ہوا کیونکہ کروڑہا خیالی روپوں کا نقصان ہوگیا ۔اور
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 202
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 202
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/202/mode/1up
    لوٹ کے مالوں سے قطعی نومیدی ہو گئی اور مسیح موعود اور مہدی کی جگہ پر ایک غریب انسان آیا جو لڑائیوں سے منع کرتا اور بغاوت کے پلید منصوبوں سے روکتا اور غریبانہ زندگی کی تعلیم دتیا ہے۔ پھر ایسا انسان ان لوگوں کو کیونکر اچھا معلوم ہوتا۔ ناچار اس کے قتل اور صلیب دینے کے لئے فتوے لکھے گئے ۔اس کی بیویوں اوراس کی جماعت کی عورتوں پر جبراً قبضہ * کرنا اور ان سے نکاح کرنا دینداری کا اصول ٹھہرایا گیا ۔گالیاں دینا اور جھوٹی تہمتیں لگانا اور اس کی بیوی کا ذکر کر کے پلید تہمتوں سے اس کو متّہم کرنا ثواب کا کام سمجھا گیااور پھر دوبارہ غیظ وغضب ان لوگوں کا اس بات سے بھی چمکا کہ محمد حسین نے اپنے ایک رسالہ میں سلطان روم کی بہت تعریف کی تھی۔اس کے مقابلہ پر میں نے ایک سفیر روم کی ملاقات کے بعد یہ اشتہار دیاکہ ہمیں سلطان روم کی نسبت سلطنت انگریزی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور اطاعت دکھلانی چاہیئے۔ اس سلطنت کے ہمارے سرپر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے ہر گز نہیں ہو سکتے۔ اس میری تحریر پر مولویوں نے بہت شور مچایا اور سخت سخت گالیاں دیں اور میرے ساتھ اتفاق رائے صرف سرسید احمد خان کے۔سی۔ایس۔آئی نے کیا ۔جیسا کہ میں ان کی کلام کو جس کو انہوں نے اپنے اخبار میں شائع کیا تھا اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں۔میں سچ سچ کہتاہوں کہ بجزان وجوہ کے اور کوئی وجہ عداوت ان لوگوں کی میرے ساتھ نہیں ہے ۔گورنمنٹ انگریزی کے عالی مرتبہ حکام ان لوگوں کے اشتہارات کو غور سے پڑ ھ کر معلوم کرؔ سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی درندگی کس حد تک پہنچ گئی ہے ۔اور میری تعلیم جو مدت انیس برس سے اپنی جماعت کو دے رہا ہوں وہ بھی اس محسن گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔میں نے اپنی جماعت کے لئے لازم
    * نوٹ:۔ دیکھو کتاب سیف مسلول صفحہ۳۴و ۴۰ مطبوعہ ایجرٹن پریس راولپنڈی بلاتاریخ اور اشتہار مولوی محمد وغیرہ مطبوعہ حقّانی پریس لدہانہ مورخہ ۲۹؍رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 203
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 203
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/203/mode/1up
    کر دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی بدی کا مقابلہ نہ کریں اور غریبانہ طرز پر زندگی بسر کریں اور اپنے نفس پر بھی میں نے یہی لازم کیا ہے کہ ان پلید تہمتوں اور بہتانوں کے مقابل پر خاموش رہوں۔ اسی وجہ سے ان لوگوں کی اوباشانہ باتوں کے مقابل پر ہمیشہ میں نے اور میری جماعت نے خاموشی اختیار کی۔ ایک منصف غور کر سکتا ہے کہ یہ کس قدر دل دکھانے والا طریق تھا کہ اس محمد حسین مولوی نے محمد بخش جعفر زٹلی اپنے دوست کے ذریعہ سے یہ اشتہار میری نسبت دیا کہ اس شخص کی بیوی اس کی جماعت سے آشنائی یعنی ناجائز تعلق رکھتی ہے مگر میں اس بہتا ن کے سننے سے خاموش رہا۔ پھر ایک دوسرے اشتہار میں لکھا کہ سنا ہے کہ یہ شخص مر گیا اور اس کا گوشت کتوں نے کھا یا میں نے پھر بھی صبر کیا۔پھر میری نسبت لکھا کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ اس کی بیوی آوارہ ہو کر محمد بخش جعفر زٹلی سے نکاح کرے گی اور محمد حسین نکاح پڑھے گا۔پھر بھی میں نے صبرکیا۔پھر ایک اور اشتہار میں مجھے ایک ریچھ قرار دے کر ایک تصویر ریچھ کی بنائی اور اس کے گلے میں رسہ ڈالا اور ساتھ اس کے گالیاں لکھیں۔اور پھر ایک اور اشتہار میں یہ الہام ظاہر کیا کہ یہ شخص قید ہوجائے گا اور کوڑھی ہوجائے گا۔اور پھر اسی محمد حسین نے اشاعۃ السنہ میں ایک جگہ لکھا کہ یہ شخص خونی ہے بدکار ہے اور باغی ہے ۔ان تمام اشتہارات کے بعد ان لوگوں نے باربارمباہلہ کی درخواست کی اور ان درخواستوں میں بھی گالیاں دیں ۔آخر نرمی اور ملائمت سے میری طرف سے ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ء کا اشتہار نکلا جس کا صرف یہ مطلب تھا کہ خدا ہم دونوں میں سے جھوٹے کو ذلیل کرے ۔مگر الہام میں ذلت کے ساتھ مثل کی شرط رکھی گئی ہے۔
    غرض جو کچھ مجھ میں اور ان میں آج تک واقعہ ہوا اس کی یہی کیفیت تھی جو میں نے بیا ن کی اور محمد حسین اور محمد بخش جعفر زٹلی کے تمام گندے اشتہار میرے پاس موجو د ہیں جن کا مضمون بطور خلاصہ اس رسالہ میں لکھ دیا گیا ہے۔اور ان کی تاریخ طبع مع نام مطبع ذیل میں لکھتا ہوں۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 204
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 204
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/204/mode/1up
    تاریخ اشتہار
    نام مطبع
    کیفیت
    ۱۱؍ؔ جون۱۸۹۷ء
    ۲۶؍جون۱۸۹۷ء
    ۲۳؍جون۱۸۹۷ء
    ۲۶؍مئی۱۸۹۷ء
    ۲۰؍اگست۱۸۹۷ء
    ۷؍اپریل۱۸۹۷ء
    ا شاعۃ السنہ
    محمد حسین بٹالوی ۱۸۹۱ء سے لے کر ۱۸۹۸ء تک
    تاج الہندلاہور تکیہ سادھواں
    اس اشتہار کا عنوان ضمیمہ اخبار جعفر زٹلی ہے۔ شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کے ایما سے لکھا گیا ہے جیساکہ شیخ مذکور نے اس بات کو اپنے اشاعۃ السنہ اور نیز گواہوں کے روبرو قبول کیا ہے۔ اس اشتہار میں نہایت گندی پیشگوئیاں لکھی ہیں ۔
    یہ بھی شیخ محمد حسین کے ایما سے لکھا گیا ہے۔
    یہ بھی شیخ محمد حسین کے ایما سے لکھا گیا ہے۔
    اس اشتہار میں قتل کی بھی دھمکی دی ہے ۔
    یہ بھی محمد حسین کے ایما سے لکھا گیا اور گالیوں سے بھراہوا ہے۔
    اس کے صفحہ چارتیسرے کالم میں لکھا ہے کہ مرزا مر گیا
    اور اس کی لاش عجائب خانہ میں رکھی گئی۔*
    ان تمام رسالوں میں جو ۱۸۹۱ء سے ۱۸۹۸ء تک ہیں مولوی محمد حسین نے ہر ایک طرح سے میرے پر تہمتیں لگائیں گالیاں دیں اور یہ بھی اقرار کیا کہ محمدبخش جعفر زٹلی کے تمام گندے اشتہار میری ایما اور تعلیم سے ہیں او ر محمدبخش کی بہت تعریف کی۔
    * صرف یہی بات نہیں کہ محمد حسین نے اپنے اشاعۃ السنہ میں قبول کیا ہے کہ یہ سب گالیاں اس کی تحریک سے اور اس کی تعلیم سے دی ہوئی ہیں بلکہ اس بات پر چند معزز آدمی گواہ بھی ہیں کہ محمد حسین ان اشتہارات کے بارے میں اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا مسودہ دیتا رہا ہے۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 205
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 205
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/205/mode/1up
    اخیر پر یہ امر قابل غور حکام ہے کہ صد ہامعزز اور شریف انسان میری پاک زندگی کے گواہ ہیں اور خود میری جماعت کے معزز عہدہ دار جو گورنمنٹ کی نظرمیں خاص اعتبار کے لائق ہیں۔ایساہی جو معزز رئیس اور تاجر ہیں میرے نیک اور شریفانہ چال چلن پر شہادت دے سکتے ہیں اور نہ میں ایسے خاندان سے ہوں کہ جو گورنمنٹ انگریزی کی نظر میں کبھی متہم تھا اور نہ کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی کوئی مجرمانہ حرکت مجھ سے ظہور میں آئی۔ اور میری جماعت میں اکثر معزز عہدہ دار اورر ئیس اور شریف تعلیم یافتہ ہیں جو کسی بد چلن کے ساتھ تعلق مریدی نہیں رکھ سکتے اور محمد حسین سے میری کوئی ذاتی عداوت نہیں اورنہ کوئی مالی شراکت۔ صرف مذہبی عقائد کا اختلاف ہے۔ہاں چونکہ ان لوگوں نے قریباًایک برس سے گالیاں دینا اور گندے اشتہار نکالنا اپنا طریق بنا لیا ہے ۔اس لئے ان کے بہت سے اشتہارات کے بعد جو قریباً ایک برس تک میرے نام آتے رہے اور ان کی متواتر درخواست مباہلہ کے بعد جو بذریعہ اشتہارات کی گئی میریؔ نیک نیتی او ر خداتر سی اور حلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ بجائے گالیوں کے خداتعالیٰ سے بطور مباہلہ فیصلہ چاہوں اور یہ طریق مبا ہلہ میں نے اپنی طرف سے ایجاد نہیں کیا بلکہ یہ قدیم سے اسلام میں بطور سنت چلا آتاہے ۔یہ اسلام کا طریق ہے کہ جو فیصلہ خودبخود نہ ہوسکے وہ بذریعہ مباہلہ خداتعالیٰ پر ڈالا جائے مگر میں نے کسی کی موت یا کسی اور مصیبت کے لئے ہرگز یہ اشتہار نہیں لکھا۔ خلاصہ اشتہار صرف یہ ہے کہ خداتعالیٰ دونوں فریق میں سے جو ظالم ہو اس کو مثلی ذلت پہنچائے۔میری عادت ہرگز نہیں کہ میں کسی کی موت کی نسبت خود بخود پیشگوئی کروں ۔چند آدمی جن کی نسبت اس سے پہلے پیشگوئی کی گئی تھی جیسے ڈپٹی آتھم اور پنڈت لیکھرام ۔ان لوگوں نے خود اصرار کیا تھا اور نہایت اصرار سے اپنی دستی تحریریں دی تھیں اور اس پر زور دیا تھا کہ ان کے حق میں پیشگوئی کی جائے ۔اور لیکھرام نے علاوہ میری پیشگوئی کے میرے حق میں بھی پیشگوئی کی تھی اور اشتہار دیا تھاکہ یہ شخص تین سال تک ہیضہ سے مر جائے گااور میری پیشگوئی کو اپنی رضا مندی سے ہزاروں انسانوں میں اس نے شائع
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 206
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 206
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/206/mode/1up
    کر دیاتھااور بذریعہ اشتہار خود ظاہر کر دیا تھا کہ یہ پیشگوئی میری رضا مندی سے ہوئی ہے۔ اور خود ظاہر ہے کہ لیکھرام جیسا مخالف شخص ایسی پیشگوئی سن کر بحالت نارضا مندی نالش کرنے سے کیونکر رک سکتا تھا۔یہ واقعہ صد ہا آدمیوں کو معلوم ہے کہ وہ اس پیشگوئی کے حاصل کرنے کے لئے قریباً دو ماہ تک قادیان میں رہا تھا۔ پھر پیشگوئی کے بعد پانچ برس برابر زندہ رہا اور کسی کے پاس شکایت نہ کی کہ میرے خلا ف مرضی یہ پیشگوئی ہوئی۔آخر پیشگوئی کی میعاد کے اندر ہی خدا تعالیٰ کی مرضی سے اس جہان سے گذر گیا ۔اس نے موت کے وقت بھی میری نسبت کوئی شک ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ دل سے جانتا تھا کہ میں شریر النفس اور منصوبہ باز نہیں ہوں۔ اور جو شخص روح القدس سے بولتا ہے کیا وہ اس بد معاش سے مشابہت رکھتا ہے جو شیطانی اور مجرمانہ فریب سے کوئی حرکت بے جا کرتا ہے؟جو خدا سے بولتا ہے وہ خلقت کے رو برو کبھی شرمندہ نہیں ہوسکتا ۔یہ ہزار ہا شکر کا محل ہے کہ مہربان اور منصف مزاج اور دانا گورنمنٹ کے سایہ کے نیچے ہم زندگی بسر کرتے ہیں ۔اگر میری قوم کے یہ مولوی مجھ پر دانت پیستے ہیں اور مجھ کو جھوٹا اور بداعمال خیال کرتے ہیں تو میں اس محسن گورنمنٹ کو اپنےؔ اور ان لوگوں کے فیصلہ کے لئے اس طرح پرمنصف کرتا ہوں کہ کوئی آئندہ کی غیب گوئی جو انسان کی نیکی یا بدی سے کچھ بھی تعلق نہ رکھے اورکسی انسانی فرد پر اس کا اثر نہ ہواپنے خدا سے حاصل کر کے بتلاؤں اور اپنے صدق یا کذب کا اس کو مدار ٹھہراؤں اور درصورت کاذب ہونے کے ہر ایک سزا اُٹھاؤں مگر ان میں کو ن ہے جو اس فیصلہ کو منظور کرے؟۔
    افسوس کہ اس محمد حسین کو خوب معلوم ہے کہ لیکھرام نے نہایت اصرار سے یہ پیشگوئی حاصل کی اور ایک مدت تک قادیاں میں اسی غرض سے میرے پاس رہاتھا۔اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خود سرکاری قوانین سے واقف تھے۔پس کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایسا آدمی جو اکسٹرااسسٹنٹ بھی رہ چکا تھا میرے خود بخود پیشگوئی کرنے کی حالت میں خاموش رہ سکتا۔اور ایک دستی تحریر ان کی مسل مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں مَیں نے شامل بھی کرائی ہے ۔اور
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 207
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 207
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/207/mode/1up
    پھر یہ اشتہار مباہلہ جو ۲۱؍نومبر ۱۸۹۸ء کو شائع کیا گیا باوجود اس کے جو کسی کی ذات سے اس کو خصوصیت نہیں بلکہ صرف جھوٹے کی ذلت کے لئے شائع کیا گیا ہے ایسی آہستگی اور احتیاط سے اس کو میں نے شائع کیا ہے کہ جب تک محمد حسین کے گروہ کی طرف سے متواتر اشتہار اور خطوط بطلب مباہلہ میرے پاس نہیں پہنچے اس وقت تک میں نے اس اشتہار کو روک رکھا ۔یہ تمام اشتہار طلب مباہلہ کے میرے پاس موجود ہیں۔غرض ان تمام واقعات کا صحیح نقشہ جو آج تک مجھ میں اور محمد حسین کے گروہ میں ظہور میں آئے یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے ۔
    اور میں اس رسالہ کے اخیر میں اپنے دونوں اشتہار یعنی ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ء کا اشتہار اور ۳۰؍نومبر۱۸۹۸ء کا اشتہار ملاحظہ حکّام کے لئے شامل کرتا ہوں۔
    بالآخر میں اپنی دانا اور محسن گورنمنٹ کی خدمت میں یہ امر پیش کرنا بہت ضرور ی سمجھتا ہوں کہ میری قوم کے مولویوں کو محض اس وجہ سے مخالفت ہے کہ میں ان کی امیدوں اور آرزوؤں کے برخلاف اپنی جماعت کو تعلیم کرتا ہوں۔جس قسم کے مہدی اور مسیح کے وہ منتظر تھے میں ان اعتقادات کا مخالف ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے پر یہ ظاہر فرمایاہے کہ ؔ یہ تمام باتیں بے اصل اور جھوٹ ہیں کہ کوئی ایسا مہدی یا مسیح دنیا میں آئے گا کہ جو مذہب اور دین کے پھیلانے کے لئے خونریزیاں کرے گا۔خدا نے ہرگز نہیں چاہاکہ اس طور سے دین کو پھیلاوے ۔اگر ہمارے پیغمبر صلے اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مخالفوں سے لڑائیاں ہوئی تھیں تو وہ لڑائیاں دین پھیلانے کے لئے ہرگز نہ تھیں صرف بطور مدافعت کے تھیںیعنی
    محض اس لئے ہوئی تھیں کہ اس وقت کے مخالف جاہلانہ مذہبی تعصب سے مسلمانوں کو روئے زمین سے نابود کرنا چاہتے تھے ان کو قتل کرتے تھے اور بڑی بڑی تکلیفیں دیتے تھے اور نہیں چھوڑتے تھے کہ اسلام کے لئے آزادی سے وعظ کیا جائے۔ سو ان مجرمانہ حرکات کے بعد سزا دہی کے طورپر وہ لوگ قتل کئے گئے جنہوں نے ناحق بے گناہ محض مذہبی کینہ سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 208
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 208
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/208/mode/1up
    مسلمانوں کو قتل کیا تھا ۔مگر اب مذہبی کینہ اور تعصب سے مسلمانوں کو کوئی قتل نہیں کرتا اور مذہب کے لئے ان پر کوئی تلوار نہیں چلاتا ۔ہاں دنیا داری کے طور پر دنیا داروں کی باہم لڑائیاں ہوتی ہیں سو ہوا کریں ہمیں ان سے کیا غرض ہے۔پھر جس حالت میں اسلام کے نابود کرنے کے لئے کوئی تلوار نہیں اٹھاتا تو سخت جہالت اور قرآن کی مخالفت ہے کہ دین کے بہانہ سے تلواراٹھائی جائے ۔اگر کوئی ایسا شخص خونی مہدی یا مسیح کے نام پر دنیا میں آوے اور لوگوں کو ترغیب دے کہ تم کافروں سے لڑو تو سمجھنا چاہیے کہ وہ کذّاب اور جھوٹا ہے اور قرآن کی تعلیم کے موافق کارروائی نہیں کرتا بلکہ مخالف راہ پر چلتا ہے ۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسے اعتقاد والے قرآن کی پیروی نہیں کرتے بلکہ ایک جاہلانہ رسم اور عادت کے بت کی پرستش کرتے ہیں اور یہ پادریوں کی بھی نادانی اور سراسر غلطی ہے کہ ناحق ہمیشہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ اسلام میں تلوار سے دین کو بڑھانا قرآن کا حکم ہے اور اس طرح پر نادان جاہلوں کو اور بھی بیہودہ اور باطل خیالات کی طرف رجوع دیتے اور ابھارتے ہیں ۔ان لوگوں کو قرآن کا علم نہیں ہے او رنہ خدا سے الہام پاتے ہیں کہ تا خدا کے کلام کے معنے خدا سے معلوم کریں اور اس طرح پر ناحق ایک خلاف واقعہ بات کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں ۔مجھے خدا نے قرآن کا علم دیا ہے۔ اور زبان عرب کے محاورات کے سمجھنے کے لئے وہ فہم عطا کیا ہے کہ میں بلا فخر کہتاہوں کہ اس ملک میں کسی دوسرے کو یہ فہم عطا نہیں ہوا۔ میں زور سے کہتا ہوں کہ قرآن میں ایسی تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ دین کو تلوار کے ساتھ مدد دی جائے یا اعتراض کرنے والوں پر تلوار اٹھائی جائے۔ قرآن باربار ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم مخالفوں کی ایذاپر صبر کرو۔ پس یقیناًسمجھنا چاہیے کہ ایسا مہدی یامسیح اسلام میں ہرگز نہیں آئے گا کہ جو دین کے لئے تلوار اٹھائے۔ سچا دین دلائل کے ذریعہ سے دلوں کے اندر جاتا ہے نہ تلوار کے ساتھ بلکہ تلوار تو اور بھی مخالف کو اعتراض کا موقعہ دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہایت فضل کیا ہے کہ ان لوگوں کے ان باطل خیالات
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 209
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 209
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/209/mode/1up
    کے دور کرنے کے لئے مسیح موعود کا آسمان سے اترنا خلاف واقعہ ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ خدا کے فضل سے میری کوششوں سے ثابت ہو چکا ہے اور اب تمام انسانوں کو بڑ ؔ ے بڑے دلائل اور کھلے کھلے واقعات کی وجہ سے مانناپڑے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز آسمان پر مع جسم عنصری نہیں گئے ۔بلکہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اور ان دعاؤں کے قبول ہونے کی وجہ سے جو تمام رات حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی جان بچانے کے لئے کی تھیں صلیب سے اور صلیبی *** سے بچائے گئے اور ہندوستان میں آئے اور بدھ مذہب کے لوگوں سے بحثیں کیں آخر کشمیر میں وفات پائی اور محلہ خان یار میں آپ کا مزار مقدس ہے جو شہزادہ نبی کے مزار کے نام پر مشہور ہے۔پھر جب کہ آسمان سے آنے والا ثابت نہ ہو سکابلکہ اس کے برخلاف ثابت ہوا تو اس مہدی کا وجود بھی جھوٹ ثابت ہو گیاجس نے ایسے مسیح کے ساتھ مل کر خونریزیاں کرنا تھا۔کیونکہ بموجب قاعدہ تحقیق اور منطق کے دولازمی چیزوں میں سے ایک چیز کے باطل ہونے سے دوسری چیز کا بھی باطل ہونا لازم آیا ۔لہٰذا ماننا پڑ ا کہ یہ سب خیالات باطل اور بے بنیاد اور لغو ہیں اور چونکہ توریت کے رو سے مصلوب *** ہو جاتا ہے اور *** کا لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ملعون خدا سے درحقیقت دور جاپڑے اور خدا اس سے بیزار ہو جائے اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے تو پھر نعوذ باللہ خدا کا ایسا پیارا ۔ایسا برگزیدہ ۔ایسا مقدس نبی جو مسیح ہے اس کی نسبت ایسی بے ادبی کوئی سچی تعظیم کرنے والا ہرگز نہیں کرے گا اور پھر واقعات نے اور بھی
    اس پہلو کو ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے۔بلکہ اس ملک سے کفار کے ہاتھ سے نجات پا کر پوشیدہ طور پر ہندوستان کی طرف چلے آئے۔ لہٰذا ان نادان مولویوں کے یہ سب قصے باطل ہیں اور یہ سب خطر ناک امیدیں لغو ہیں اور ان کا نتیجہ بھی بجز مفسد انہ خیالات کے اور کچھ نہیں ۔اگر میرے مقابل پر ان لوگوں کے اعتقادات کا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 210
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 210
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/210/mode/1up
    عدالت میں اظہار لیا جائے تو معلوم ہو کہ کیسے یہ لوگ خطر ناک اعتقادات میں مبتلا ہیں کہ نہ صرف راستی سے دور بلکہ امن اور سلامت روشی سے بھی دور ہیں۔
    اور میں اخیر پر اس رسالہ کواس بات پر ختم کرنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ عیسائی عقیدوں کے لحاظ سے حضرت مسیح کا دوبارہ آنا پولیٹیکل مصالح سے کچھ تعلق نہیں رکھتا مگر جس طور سے حال کے اسلامی مولویوں نے حضرت عیسیٰ کا آسمان سے اترنا اور مہدی کے ساتھ اتفاق کر کے جہاد ی لڑائی کرنا غلط طور پر اپنے اعتقادمیں داخل کر لیا ہے یہ عقیدہ نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے اور جو کچھ حال میں حضرت عیسیٰ کے ہندوستان میں آنے اور کشمیر میں وفات پانے کا مجھے ثبوت ملا ہے وہ ان خطرناک خیالات کو دانشمند دلوں سے بکلی مٹا دیتا ہے۔ اور میری یہ تحقیق عارضی اور سرسری نہیں بلکہ نہایت مکمل ہے۔ چنانچہ ابتدا اس تحقیق کا اُس مرہم سے ہے جو مرہم عیسیٰ کہلاتی ہے اور مرہم حواریین بھی اس کو کہتے ہیں اورطب کی ہزار کتاب سے زیادہ میں اس کاذکر ہے اور مجوسی او ر یہودی اور عیسائی اور مسلمان طبیبوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ میں نے بہت ساحصہ اپنی عمر کا فنِ طبابت کے پڑھنے میں بسر کیا ہے اور ایک بڑا ذخیرہ کتابوں کابھی مجھ کوملا ؔ ہے اس لئے چشم دید طور پر یہ دلیل مجھ کو ملی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے فضل سے اور اپنی دردمندانہ دعاؤں کی برکت سے صلیب سے نجات پاکر اور پھر عالمِ اسباب کی وجہ سے مرہم حواریین کو استعمال کر کے اور صلیبی زخموں سے شفا پا کر ہندوستان کی طرف آئے تھے ۔صلیب پر ہرگز فوت نہیں ہوئے کچھ غشی کی صورت ہوگئی تھی جس سے خدا کی مصلحت سے تین دن ایسی قبرمیں بھی رہے جو گھر کے دار تھی اور چونکہ یونس کی طرح زندہ تھے آخر اس سے باہر آگئے۔*
    *نوٹ:۔ یہ امر یقینی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور انہوں نے خود یونس نبی کے مچھلی کے قصہ کو اپنے قصہ سے جو تین دن قبر میں رہنا تھا مشابہت دے کر ہر ایک دانا کو یہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 211
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 211
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/211/mode/1up
    اور پھر دوسرا ماخذ اس تحقیق کا مختلف قوموں کی وہ تاریخی کتابیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان اور تبت اور کشمیر میں آئے تھے اور حال میں جو ایک روسی سیّاح نے بدھ مذہب کی کتابوں کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت کیا ہے وہ کتاب میں نے دیکھی ہے اور میرے پاس ہے وہ کتاب بھی اس رائے کی مؤیّد ہے۔
    اور پھر سب سے اخیر شاہزادہ نبی کی قبر جو سری نگر محلہ خان یار میں ہے جس کو عوام
    سمجھا دیا ہے کہ وہ یونس نبی کی طرح قبر میں زندہ ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے اور جب تک قبرمیں رہے زندہ رہے ۔ورنہ مردوں کو زندوں سے کیا مشابہت ہو سکتی ہے اور ضرور ہے کہ نبی کی مثال بے ہودہ اور بے معنی نہ ہو انجیل میں ایک دوسری جگہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے جہاں لکھا ہے کہ زندہ کو مردوں میں کیوں ڈھونڈتے ہو۔ بعض حواریوں کا یہ خیال کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت ہوگئے تھے ہرگز صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ کا قبر سے نکلنا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلانا اور یونس نبی سے اپنی مشابہت فرمانا یہ سب باتیں اس خیال کو ردّ کرتی ہیں اور اس کے مخالف ہیں۔
    پھر حواریوں میں اس مقام میں اختلاف بھی ہے چنانچہ برنباس کی انجیل میں جس کو میں نے بچشم خود دیکھا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر فوت ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور انجیل سے ظاہر ہے کہ برنباس بھی ایک بزرگ حواری تھا اور آپ کا آسمان پر جانا ایک روحانی امر ہے ۔آسمان پر وہی چیز جاتی ہے جو آسمان سے آتی ہے اور جو زمین کا ہے وہ زمین میں جاتا ہے ۔توریت اور قرآن نے بھی یہی گواہی دی ہے اور جب کہ یہودی صلیبی کارروائی کی وجہ سے حضرت مسیح کے روحانی رفع سے منکرتھے اس لئے ان کو جتایا گیا کہ حضرت مسیح آسمان پر گئے یعنی خداتعالیٰ نے نجات دے کر *** سے جو نتیجہ صلیب تھا ان کو بَری کر لیا اور ان چند حواریوں کی گواہی کیونکر لائق قبول ہو سکتی ہے جو واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہ رہے اور جن کے پاس شہادت رویت نہیں ہے۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 212
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 212
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/212/mode/1up
    شہزادہ یوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسیٰ صاحب نبی کی قبر کہتے ہیں اس مطلب کی مؤیّد ہے اور اس قبر میں ایک کھڑکی بھی ہے جو برخلاف دنیاکی تمام قبروں کے اب تک موجود ہے۔ کشمیر کے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قبر کے ساتھ کوئی خزانہ بھی مدفون ہے اس لئے کھڑکی ہے میں کہتا ہوں شاید کچھ جواہرات ہوں مگر میری دانست میں یہ کھڑکی اس لئے رکھی ہے کہ کوئی عظیم الشان کتبہ اس قبر کے اندر ہے یہ اسی طرح کا واقعہ معلوم ہوتا ہے جیساکہ انہی دنوں میں ضلع پیرا کوئی میں جو ممالک شمال مغرب کے ضلع سرحد نیپال میں ایک گاؤں ہے ایک ٹیلہ کے اندر سے ایک بھاری صندوق نکلا ہے جس میں جواہرات اور زیوراور کچھ ہڈی اور راکھ تھی اور صندوق پریہ کندہ تھا کہ گو تم بدھ ساکی منی کے پھول ہیں۔ اور نبی کا لفظ جو اس صاحب قبر کی نسبت کشمیر کے ہزار ہالوگوں کی زبان پر جاری ہے یہ بھی ہمارے مدعا کے لئے ایک دلیلہے* کیونکہ نبی کا لفظ عبری اور عربی دونوں زبانوں میں مشتر ک ہے دوسری کسی زبان میں یہ لفظ نہیں آیا اور اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کبھی نبی نہیں آئے گا اس لئے متعین ہوا کہ یہ عبرانی نبیوں میں سے ایک نبی ہے اور پھر شاہزادہ کے لفظ پر غور کر کے اور بھی ہم اصل حقیقت سے نزدیک آجاتے ہیں۔ اور پھر کشمیر کے تمام باشندوں کا اس بات پر اتفاق دیکھ کر کہ یہ نبی جس کی کشمیر میں قبر ہے ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے۔صاف طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو متعین کر رہا ہے اور صفائی سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہی وہ پاک اور معصوم نبی اور خدا تعالیٰ کے جلال کے تخت سے ابدی شہزادہ ہے جس کو نالائق اور بد قسمت یہودیوں نے صلیب کے ذریعہ سے مارنا چاہا تھا۔
    * ایک اور دلیل ہمارے اس دعویٰ پر یہ ہے کہ جس قدر حال تک کتابیں یوزآسف کی سوانح اور تعلیم کے متعلق ہم کو ملی ہیں جس کی قبر سرینگر میں ہے وہ تمام تعلیم انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بشدت مشابہت رکھتی ہے بلکہ بعض فقرات تو بعینہٖ انجیل کے فقرات ہیں۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 213
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 213
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/213/mode/1up
    غر ض یہ ایسا ثبوت ہے کہ اگر اس کے تمام دلائل یکجائی نظر سے دیکھے جائیں تو ہماری قوم کے غلط کارمولویوں کے خیالات اس سے پاش پاش ہو جاتے ہیں اور امن اور صلح کاری کی مبارک عمارت اپنی چمک دکھلاتی ہے جس سے ضرور ی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ کوئی آسمان پر گیا اور نہ وہ لڑنے کے لئے مہدی کے ساتھ شامل ہو کر شورِ قیامت ڈالے گا بلکہ وہ کشمیر میں اپنے خدا کی رحمت کی گود میں سو گیا۔
    اے معزز ناظرین !اب میں نے جو کچھ میرے اصول اور ہدایتیں اور تعلیم تھی سب گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ظاہر کر دیں میری ہدایتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صلح کاری اور غریبی سے زندگی بسر کرو اور جس گورنمنٹ کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ اس کے سچے خیر خواہ اور تابعدار ہو جاؤ نہ نفاق اور دنیادار ی سے ۔ آخر دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا اقبال دن بدن بڑھا وے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم سچے دل سے اس کے تابعدار اور امن پسند انسان ہوں۔آمین
    راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں
    ۲۷؍دسمبر۱۸۹۸ ؁ء
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 214
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 214
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/214/mode/1up
    ضمیمہؔ رسالہ ھٰذا
    قابل توجہ گورنمنٹ
    مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے بعد محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کا انگریزی میں ایک رسالہ ملا جس کو اس نے مطبع وکٹوریہ پریس لاہور میں چھاپ کر بماہ ۱۴؍اکتوبر۱۸۹۸ ؁ء میں شائع کیا ہے ۔اس رسالہ کے دیکھنے سے مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ اس نے اس میں میری نسبت اور نیز اپنے اعتقاد مہدی کے آنے کی نسبت نہایت قابل شرم جھوٹ سے کام لیا ہے اور سراسرا فتراء سے کوشش کی ہے کہ مجھے گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں باغی ٹھہراوے لیکن اس صحیح اور سچے مقولہ کے رو سے کہ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری زیرک اورروشن دماغ گورنمنٹ جلد معلوم کر لے گی کہ اصل حقیقت کیا ہے ۔
    اوّل امر جو محمد حسین نے خلاف واقعہ اپنے اس رسالہ میں میری نسبت گورنمنٹ میں پیش کیا ہے یہ ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ کو اطلاع دیتا ہے کہ یہ شخص گورنمنٹ عالیہ کے لئے خطرناک ہے یعنی بغاوت کے خیالات دل میں رکھتا ہے۔ لیکن میں زور سے کہتاہوں کہ اگر میں ایسا ہی ہوں تو اس نمک ّ*** اور بغاوت کی زندگی سے اپنے لئے موت کو ترجیح دیتا ہوں ۔میں ادب سے توجہ دلاتا ہوں کہ
    گورنمنٹ عالیہ میری نسبت اور میری تعلیم کی نسبت جہاں تک ممکن ہو کامل تحقیقات کرے اور میری جماعت کے اُن معزز عہدہ داروں اوردیسی افسروں اوررئیسوں اور دوسرے معزز اورتعلیم یافتہ لوگوں سے جن کی کئی سو تک تعداد ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 215
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 215
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/215/mode/1up
    حلفاً دریافت کرے کہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کیا کیا ہدایتیں ان کو دی ہیں اور کس کس تاکید سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے وصیتیں کی ہیں اور نیز گورنمنٹ اس مولوی یعنی محمد حسین کی اس شہادت کو غور سے دیکھے جو اس نے اپنی اشاعۃ السنہ میں جس کا ذکر اس رسالہ میں ہو چکا ہے میری کتاب براہین احمدیہ کے ریویو کی تقریب پر میرے خیالات اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے خیالات کی نسبت جو گورنمنٹ انگریزی کے متعلق ہیں اپنے ہاتھ سے لکھی ہے اور نیز میری ان تحریروں کو جو برابر انیس سال سے گورنمنٹ عالیہ کی تائید میں شائع ہو رہی ہیں غور سے ملاحظہ فرماوے اور ہر ایک پہلو سے میری نسبت تحقیقات کرے۔ پھر اگر میرے حالات گورنمنٹ کی نظر میں مشتبہ ہوں تو میں بدل چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ سخت سے سخت سزا مجھ کو دیدے لیکن اگر میرے اصل حالات کے برخلاف یہ تمام رپورؔ ٹیں گورنمنٹ میں محمد حسین مذکو ر نے پہنچائی ہیں تو میں ایک وفادار اور خیرخواہ جان نثار رعیت ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ عالیہ میں بتمام تر ادب داد خواہ ہوں کہ محمد حسین سے مطالبہ ہو کہ کیوں اس نے ان صحیح واقعات کے برخلاف گورنمنٹ کو خبر دی جن کو وہ اپنے ریویو براہین احمدیہ میں تسلیم کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے بارہ سال تک برابر اس پہلی رائے کے برخلاف کوئی رائے ظاہر نہ کی اور اب دشمنی کے ایام میں مجھے باغی قرار دیتا ہے حالانکہ میں نے اس محسن گورنمنٹ کی خیر خواہی میں انیس سال تک اپنے قلم سے وہ کام لیا ہے اور ا یسے طور سے ممالک دور دراز تک گورنمنٹ کی انصاف منشی کی تعریفوں کو
    پہنچایا ہے کہ میں دعویٰ سے کہتاہوں کہ اس کارروائی کی نظیر دوسروں کے کارناموں میں ہرگز نہیں ملے گی۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اپنی عاجزانہ عرض گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رسان زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداًاور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھر اہوا جھوٹ بولا ہے اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے ۔اس دعوے کی میرے پاس پختہ وجوہات اور کامل شہادتیں اور گواہ موجود ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ میں ایک
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 216
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 216
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/216/mode/1up
    وفادار خاندان میں سے ہوں جنہوں نے اپنے مال سے اور جان سے گورنمنٹ پر اپنی اطاعت ثابت کی ہے۔ میری اس درد ناک فریاد کو یہ محسن گورنمنٹ غور سے توجہ فرماوے گی اور جھوٹ بولنے والے کو تنبیہ کرے گی۔
    دوسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے وہ یہ ہے کہ گویا میں نے کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ کی سلطنت آٹھ سا ل کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی۔ میں اس بہتان کا جواب بجز اس کے کیا لکھوں کہ خدا جھوٹے کو تباہ کرے، میں نے ایسا الہام ہرگز شائع نہیں کیا۔ میری تمام کتابیں گورنمنٹ کے سامنے موجودہیں میں بادب گذارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ اس شخص سے مطالبہ کرے کہ کس کتاب یا خط یا اشتہا ر میں مَیں نے ایساالہام شائع کیا ہے ؟اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ اس کے اس فریب سے خبردار رہے گی کہ یہ شخص اپنے اس جھوٹے بیان کی تائید کے لئے یہ تدبیر نہ کرے کہ اپنی جماعت اور اپنے گروہ میں سے ہی جو مجھ سے اختلاف مذہب کی وجہ سے دلی عناد رکھتے ہیں جھوٹے بیان بطور شہادت گورنمنٹ تک پہنچاوے۔اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمدورفت اور ملاقات نہیں تا میں نے ان کو کچھ زبانی کہا ہو۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اپنی کتابوں میں اور اشتہاروں میں شائع کرتا ہوں۔ اورمیرے خیالات اور میرے الہامات معلوم کرنے کے لئے میری کتابیں اور اشتہارات متکفل ہیں اورمیریؔ جماعت کے معززین گواہ ہیں ۔غرض میں بادب التماس کرتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ اس خلاف واقعہ مخبری کا اس شخص سے مطالبہ کرے۔ کپتان ڈگلس صاحب سابق ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپورہ مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں جو میرے پر دائر ہوا تھالکھ چکے ہیں کہ یہ شخص مجھ سے عداوت رکھتا ہے اسی لئے جھوٹ بولنے سے کچھ بھی پرہیز نہیں کرتا۔
    تیسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے یہ ہے کہ یہ شخص مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔اس کے جواب میں اتنا لکھنا کافی ہے کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 217
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 217
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/217/mode/1up
    کی نبوت ثابت ہوتی رہی ہے اسی طرح میرے اس دعویٰ کو میرے خدا نے ثابت کیا ہے۔ اور خداتعالیٰ کے آسمانی نشانوں نے میری گواہی دی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ محمد حسین اور اس کے دوسرے ہم جنس مولوی کیوں مجھے جھوٹا کہتے ہیں اور کیوں اس قدر دشمنی کرتے ہیں؟ سوابھی میں اس رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ یہ عداوت اس وجہ سے ہے کہ میری تعلیم ان کے اغراض اور مقاصد کے برخلاف ہے یعنی اس عقیدہ کے برخلاف کہ مسیح موعود آسمان سے اترے گا اور مہدی کے ساتھ شامل ہو کر نصاریٰ سے لڑائیاں کرے گا*اور مہدی کا وجود ان لوگوں کی نظر میں اس لئے ضروری ہے کہ مسیح موعود خلیفہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں ہے جیسا کہ محمد حسین نے خود اپنے رسالہ جلد نمبر۱۲صفحہ۳۸۰ میں سلطان روم کی خلافت کی تقریب میں اس بات کو اپنا اعتقاد ظاہر کیا ہے۔ سو ان لوگوں نے اسی دلیل سے مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت مہدی قرشی کی ضرورت ٹھہرائی ہے اور پھر بہت سی لڑائیوں کا ذکر کیا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ عقائد نہایت خطر ناک ہیں کیونکہ اس عقیدہ کا آدمی ہمیشہ اپنے دل میں خلافِ امن منصوبے رکھتا ہے ۔مگر میں ان عقائد کے برخلاف ہوں میں ایسے کسی مسیح اور مہدی کو نہیں مانتا جو کافروں سے لڑائیاں کرے گا اور ان کے مال مولویوں اور ان کے گروہ کو دے گا۔
    * نوٹ:۔ مولوی محمدحسین نے جو حال میں ایک انگریزی رسالہ گورنمنٹ کو دکھلانے کے لئے اکتوبر۱۸۹۸ء میں شائع کیا ہے تا اس کو سرکار انگریزی کچھ زمین دے اس میں اُس نے برخلاف اپنے عقیدہ کے لکھا ہے کہ وہ مہدی موعود کے آنے کا قائل نہیں ہے حالانکہ اسی انکار کی وجہ سے اس نے مجھے ملحد اور دجال ٹھہرایا ہے۔ سو اُس نے گورنمنٹ کے سامنے یہ نہایت قابل شرم جھوٹ بولا ہے۔ اپنے ہم جنس مولویوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتا ہے کہ مہدی موعود آئے گا اور نصاریٰ کے ساتھ لڑائیاں کرے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی مدد کے لئے آسمان سے اتریں گے اور گورنمنٹ کے آگے برخلاف اس کے بیان کرتا ہے میں بادب عرض کرتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ مولویوں کے روبرو اس بارے میں اس کا اظہار لے تاوہ حقیقت کھل جائے جس کووہ ہمیشہ چھپاتا ہے۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 218
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 218
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/218/mode/1up
    سو میں اس لئے ان کی نظرمیں جھوٹا ہوں کہ میرے عقیدے سے ان کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری اس تعلیم سے ان کے خیالی منافع کا بڑا ہی نقصان ہوا ہے مگر یہ میرا قصور نہیں ہے ۔اُن کی خود غلط کاریوں اور غلط فہمیوں کا قصور ہے۔ اور محمد حسین کا اس رسالہ میں یہ لکھنا کہ میں اس مہدی کو نہیں مانتا جس کی اُس کے تمام ہم جنس مولوی انتظار کر رہے ہیں اور جس کی تائید کے لئے حسب خیال ان کے مسیح آسمان سے نازل ہو گا۔ یہ سراسر منافقانہ تحریر ہے جو اس کے دل ؔ میں نہیں ہے اور صدہا مولوی پنجاب اور ہندوستان کے گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ ایسے خونی مہدی کو مانتا ہے مگر منافقانہ طور پر گورنمنٹ کے پاس اس عقیدہ کے برخلاف بیان کر تا ہے اگر اس کے ہم جنس مولویوں سے جیسے مولوی احمد اﷲ امرتسری۔ مولوی رشید احمد گنگوہی۔ مولوی عبد الجبار امرتسری۔ مولوی محمد بشیر بھوپالی۔ مولوی عبدالحق دہلوی۔ مولوی ابراہیم آرہ ۔مولوی عبدالعزیز لدھیانوی اور خاص کر مولوی نذیر حسین دہلوی
    استاد محمد حسین سے حلفاً پوچھا جائے کہ تم لوگ مہدی موعود کی نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہو وہ لڑائیوں کے لئے آنے والا ہے یا نہیں ؟اور نیز یہ کہ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ تم میں سے ہے اور تمہارے عقیدہ پر ہے یا وہ الگ ہے اور کیا وہ اس وقت کی خلافت کو قریش کے سوا کسی اور کے لئے تجویز کرتا ہے تو ان گواہیوں سے یہ تمام منافقانہ کارروائی محمد حسین کی گورنمنٹ پر ایسی ظاہر ہو جائے گی جیسا کہ ایک سفید کی ہوئی اور خوبصورت بنائی ہوئی قبر میں سے کھودنے کے وقت اندر کی ہڈیاں اورآلائشیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔
    میں اپنی زیرک اور روشن دماغ گورنمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ شخص مہدی کی
    نسبت وہی عقیدہ رکھتا ہے جو اس کے ہم جنس دوست یعنی دوسرے مولوی پنجاب اور ہندوستان کے عقیدہ رکھتے ہیں۔گورنمنٹ سمجھ سکتی ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ محمد حسین اتنے بڑے اجماعی عقیدہ میں دوسرے مولویوں سے اختلاف رکھ کر پھر ان کا دوست
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 219
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 219
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/219/mode/1up
    اور سرگروہ رہ سکے اور اس پرایک اور دلیل بھی ہے کہ یہ شخص اپنے اشاعۃ السنہ جلدنمبر۱۲صفحہ۳۸۰ میں صاف لکھ چکا ہے کہ ’’خلافت صرف قریش کے لئے مسلّم ہے دوسری قوم کا کوئی شخص خلیفہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ اب سوچنا چاہیے کہ یہ کیونکر تجویز کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح دوبارہ آویں گے تو وہ بادشاہ ہوں گے کیونکہ وہ تو قریش میں سے نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل میں سے ہے تو پھر بغیر وجود خلیفہ کے لڑائیاں کیو نکر ہوں گی اس لئے ان تمام مولویوں کو ماننا پڑا ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت ایک قرشی خلیفہ ہونا ضروری ہے جو وقت کا بادشاہ ہو۔ اسی وجہ سے مہدی معہود کے انکار کرنے سے تمام عقائد ان لوگوں کے درہم برہم ہو جاتے ہیں اور پھر مسیح کا آسمان سے اترنا بھی لغو ٹھہر جاتا ہے ۔کیونکہ زمین پر کوئی خلیفہ برحق نہیں جس کے ہم ر کاب ہو کر مسیح علیہ السلام کا فروں سے لڑیں۔اسی وجہ سے محمد حسین بدل یقین رکھتا ہے کہ ضرور مسیح کے اترنے کے وقت قریش میں سے مہدی موعود آئے گا جو خلیفہ وقت ہو گا اور مسیح موعود اس کی بیعت کرنے والوں کے ساتھ مل کر حقِ خدمت ادا کرے گا اسی ؔ وجہ سے صحیح بخاری کی یہ حدیث کہ اِمَامُکُم مِنْکُم ان لوگوں کے نزدیک بقرینہ لفظ امام اور نیز بقرینہء لفظ مِنْکُمْ کے مہدی موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے مگر ہمارے نزدیک اس جگہ امام سے مراد مسیح ہے جو روحانی امامت رکھتا ہے ۔اور یہ رائے ہماری برخلاف محمد حسین اور اس کے تمام ہم جنس مولویوں کے ہے جو پنجاب اور ہندوستان میں رہتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اما م کے لفظ سے جو حدیث میں ہے مہدی
    معہود مراد لیتے ہیں جو قریش میں سے ہو گا اور لڑائیاں کرے گا اور مسیح موعود اس کا مشیر اور صلاح کار ہو کر آئے گا مگر خلیفہ وقت مہدی ہو گا۔ غرض یہ لوگ حدیث اَلاَ ءِمُۃُ مِنْ قُرَیْشٍکی رو سے جس کے غلط معنے ان کے دلوں میں جمے ہوئے ہیںیہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ آخر کار خلافت قریش میں آجائے گی اور اس خلیفہ کا نام محمد مہدی ہو گا جو بنی فاطمہ میں سے ہو گا اور مذہب کے لئے بہت خونریزیاں کرے گا۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 220
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 220
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/220/mode/1up
    اگر محمد حسین کو اتنا ہی پوچھا جائے کہ تمہارے اعتقاد کے موافق جب مسیح آسمان سے نازل ہو گا تو بقول تمہارے مسیح خلیفہ تو نہیں ہو سکتا کیونکہ قریش میں سے نہیں تو پھر کون خلیفہ ہو گا جو کفار سے جہاد کرے گا؟اور بخار ی کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ سے کون امام مراد ہے تو یہ لوگ ہرگز نہیں کہیں گے کہ امام سے مراد مسیح موعود ہے بلکہ یہی کہیں گے کہ مہدی مراد ہے یعنی وہ شخص جو قریش میں سے ہو گا۔ سو اس سوال سے ان لوگوں کی ساری قلعی کھل جاتی ہے۔ غور کرنا چاہیے کہ جس حالت میں محمد حسین لاَمَھْدِیَّ اِلَّاعِیْسٰی کی حدیث کو صحیح خیال نہیں کرتا اور بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ کے یہ معنے کرتا ہے کہ اس امام سے مراد مسیح موعود نہیں ہے بلکہ وہ شخص ہے جو قریش میں سے خلیفہ وقت ہو گا تو کیاا س تقریر سے صاف طور پر نہیں کھلتا کہ مہدی کو مانتا ہے اور اس کا منتظر ہے ؟تو اس صورت میں ا س شخص کا کس قدر قابلِ شرم جھوٹ ہے کہ سرکار انگریزی کو کچھ سناتا ہے اور اپنے گھر میں اعتقاد کچھ رکھتا ہے۔
    اگر حکّام والا جاہ اس بارے میں مجھ سے اس شخص کی گفتگو کراویں اور گفتگو کے وقت اس کے ہم جنس دوسرے مولوی بھی پاس کھڑے کرائے جائیں تو فی الفور کھلؔ جائے گا کہ اب تک یہ شخص برخلاف اپنے دلی اعتقاد کے گورنمنٹ کو دھوکا دیتا رہا ہے۔
    میرے پاس اس کی ایسی تحریریں موجود ہیں جن کی وجہ سے اس سوال کے وقت اس کی وہ ذلت ہو گی جو اشتہار ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ ؁ء میں جھوٹے کے لئے خداتعالیٰ سے درخواست کی گئی ہے۔
    کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ حضور گورنمنٹ میں اس قدر جھوٹ بولے۔ اگر یہ شخص قریشی خلیفہ کے آنے سے منکر ہوتا جس کو عام لفظوں میں مہدی کہتے ہیں اور میری طرح اسی مسیح کو مانتا کہ جو نہ لڑے گااور نہ خونریز یاں کرے گا تو بلا شبہ میری طرح اس کے لئے بھی کفر کا فتویٰ لکھا جاتا ۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 221
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 221
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/221/mode/1up
    میں گورنمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں اس شخص کے کھانے کے دانت اور اور دکھانے کے اور ہیں۔اپنے ہم جنس مولویوں پراُن کے خیال کے موافق اپنا عقیدہ ظاہر کرتا ہے اور پھر جب گورنمنٹ کے دکھلانے کے لئے تحریر کرتا ہے تو وہاں گورنمنٹ کو خو ش کرنے کے لئے یہ عقیدہ بیان کردیتا ہے کہ ’’میں نہیں مانتا کہ کوئی مہدی آئے گا اور لڑائیاں کرے گا‘‘۔لیکن اگریہ مہدی کو نہیں مانتا تو دوسرے مولویوں کا جومانتے ہیں کیونکر سرگروہ اور ایڈوکیٹ کہلاتا ہے ؟ان باتوں کا انصاف گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے نزدیک گورنمنٹ ہم دونوں کی اصلیت تک اس صورت میں بآسانی پہنچے گی کہ ہم دونوں کے اپنے روبرو اور دوسرے مولویوں کے روبرو اس مقدمہ میں اظہار لے ۔اس وقت جو منافقانہ طرز کا آدمی ہو گا اس کی تمام حقیقت کھل جائے گی ۔لہٰذا
    بادب التماس ہے
    کہ یہ فیصلہ ضرورکیا جائے جب کہ یہ فاش جھوٹ اس نے اختیار کیا ہے تو کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں گورنمنٹ تک پہنچاتا ہے ان میں سچ بولتا ہے؟منہ
    تمّت
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 222
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 222
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/222/mode/1up
    نَحْمَدُہٗ وَنُصَلّی
    میر ی وہ پیشگوئی جو الہام ۲۱؍نومبر۱۸۹۸ء میں فریق کا ذب کے بارے میں تھی یعنی
    اس الہام میں جس کی عربی عبارت یہ ہے کہ جزاء سیءۃ بمثلھا وہ مولوی محمد حسین بٹالوی پر
    پوری ہو گئی
    میری التماس ہے کہ گورنمنٹ عالیہ اس اشتہار کو توجہ سے دیکھے
    مندرجہ عنوان امر کی تفصیل یہ ہے کہ ہم دو فریق ہیں ایک طرف تو میں اور میری جماعت اور دوسری طرف مولوی محمد حسین اور اس کی جماعت کے لوگ یعنی محمد بخش جعفرزٹلی اور ابوالحسن تبتی وغیرہ........محمدحسین نے مذہبی اختلاف کی وجہ سے مجھے دجّال اور کذّاب اور مُلحد اور کافر ٹھہرایا تھا اور اپنی جماعت کے تمام مولویوں کو اس میں شریک کر لیا تھا۔اور اسی بنا پر وہ لوگ میری نسبت بدزبانی کرتے تھے اور گندی گالیاں دیتے تھے ۔آخر میں نے تنگ آکر اسی وجہ سے مباہلہ کا اشتہار ۲۱؍نومبر ۹۸ ؁ء جاری کیا جس کی الہامی عبارت جزاء سیءۃ بمثلھا میںیہ ایک پیشگوئی تھی کہ ان دونوں فریق میں سے جو فریق ظلم اور زیادتی کرنے والا ہے اس کو اُسی قسم کی ذلت پہنچے گی جس قسم کی ذلت فریق مظلوم کی کی گئی ۔سو آج وہ پیشگوئی پوری ہو گئی کیونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنی تحریروں کے ذریعے سے مجھے یہ ذلت پہنچائی تھی کہ مجھے مسلمانوں کے
    اجماعی عقیدہ کا مخالف ٹھہرا کر ملحد اور کافراور دجّال قرار دیا اور مسلمانوں کو اپنی اس قسم کی تحریروں سے میری نسبت بہت اکسایا کہ اس کو مسلمان اور اہل سنت مت سمجھو کیونکہ اس کے عقائد تمہارے عقائد سے مخالف ہیں۔ اور اب اس شخص کے رسالہ ۱۴؍اکتوبر ۱۸۹۸ ؁ء کے پڑھنے سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 223
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 223
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/223/mode/1up
    جس کو محمد حسین نے اس غرض سے انگریزی میں شائع کیا ہے کہ تا گورنمنٹ سے زمین لینے کے لئے اس کو ایک ذریعہ بناوے مسلمانوں اور مولویوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ یہ شخص خود ان کے اجماعی عقیدہ کا مخالف ہے۔کیونکہ وہ اس رسالہ میں مہدی موعود کے آنے سے قطعی منکر ہے جس کی تمام مسلمانوں کو انتظار ہے جو ان کے خیال کے موافق حضرت فاطمہ کی اولادمیں سے پیدا ہوگا اور مسلمانوں کا خلیفہ ہو گااور نیز ان کے مذہب کاپیشوا او ردوسرے فرقوں کے مقابل پر مذہبی لڑائیاں کرے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی مدد اور تائید کے لئے آسمان سے اتریں گے اور ان دونوں کا ایک ہی مقصد ہو گا اور وہ یہ کہ تلوار سے دین کو پھیلاویں گے۔ اور اب مولوی محمد ؔ حسین نے ایسے مہدی کے آنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور اس انکار سے نہ صرف وہ مہدی کے وجود کا منکر ہوا بلکہ ایسے مسیح سے بھی انکار کرنا پڑا جو اس مہدی کی تائید کے لئے آسمان سے اترے گا اور دونوں باہم مل کر مخالفین اسلام سے لڑائیاں کریں گے ۔اور یہ وہی عقیدہ ہے جس کی وجہ سے محمدحسین نے مجھے دجّال اور ملحد ٹھہرایا تھا اور اب تک مسلمانوں کو یہی دھوکا دے رہا تھا کہ وہ
    اس عقیدہ میں ان سے اتفا ق رکھتا ہے اور اب یہ پردہ کھل گیا کہ وہ دراصل میرے عقیدہ سے اتفاق رکھتا ہے۔ یعنی ایسے مہدی اور ایسے مسیح کے وجود سے انکاری ہے اس لئے مسلمانوں کی نظر میں اور ان کے تمام علماء کی نظر میں ملحد اور دجّال ہو گیا ۔سو آج پیشگوئی جزآء سیّءۃ بمثلھا اس پر پوری ہوگئی کیونکہ اس کے یہی معنی ہیں کہ فریق ظالم کو اُسی بدی کی مانند سزاہو گی جو اس نے اپنے فعل سے فریق مظلوم کو پہنچائی۔
    رہی یہ بات کہ اس نے مجھے گورنمنٹ انگریزی کا باغی قرار دیا۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل سے اُمید رکھتا ہوں کہ عنقریب گورنمنٹ پر بھی یہ بات کھل جائے گی کہ ہم دونوں
    میں سے کس کی باغیانہ کارروائیاں ہیں۔ ابھی سلطان روم کے ذکر میں اس نے میرے پر حملہ کر کے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر۳ جلد۱۸ صفحہ ۹۸ و ۹۹و ۱۰۰میں ایک خطر ناک اور باغیانہ مضمون لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ’’سلطان روم کو خلیفہ برحق سمجھنا چاہیے اور اُس کو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 224
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 224
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/224/mode/1up
    دینی پیشوا مان لینا چاہیے ۔اور اس مضمون میں میرے کافر ٹھہرانے کے لئے یہ ایک وجہ پیش کرتا ہے کہ یہ شخص سلطان روم کے خلیفہ ہونے کا قائل نہیں ہے۔‘‘سو اگرچہ یہ درست ہے کہ میں سلطان روم کو اسلامی شرائط کے طریق سے خلیفہ نہیں مانتا کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور ایسے خلیفوں کا قریش میں سے ہونا ضروری ہے لیکن یہ میرا قو ل اسلامی تعلیم کے مخالف نہیں بلکہ حدیث اَلاَءِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ سے سراسر مطابق ہے۔مگر افسوس کہ محمد حسین نے باغیانہ طرز کا بیان کر کے پھر اسلام کی تعلیم کو بھی چھوڑا حالانکہ پہلے خود بھی یہی کہتا تھا کہ سلطان خلیفہ مسلمین نہیں ہے اور نہ ہمارا دینی پیشوا ہے اور اب میری عداوت سے سلطان روم اس کا خلیفہ اور دینی پیشوا بن گیا۔ اور اس جوش میں اس نے انگریزی سلطنت کا بھی کچھ پاس نہیں کیا اور جو کچھ دل میں پوشیدہ تھاوہ ظاہر کر دیا اور سلطان روم کی خلافت کے منکر کو کافر ٹھہرایا۔ اور یہ تمام جوش اس کو اس لئے پیدا ہوا کہ میں نے انگریزی سلطنت کی تعریف کی اور یہ کہا کہ یہ گورنمنٹ نہ محض مسلمانوں کی دنیا کے لئے بلکہ ان کے دین کیلئے بھی حامی ہے۔ اب وہ بغاوؔ ت پھیلانے کے لئے اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی دینی حمایت انگریزوں کے ذریعہ سے ہمیں پہنچی ہے اور اس بات پر زور دیتاہے کہ دین کا
    حامی فقط سلطانِ روم ہے ۔مگر یہ سراسر خیانت ہے ۔اگر یہ گورنمنٹ ہمارے دین کی محافظ نہیں تو پھر کیونکر شریروں کے حملوں سے ہم محفوظ ہیں۔ کیا یہ امر کسی پر پوشیدہ ہے کہ سکھوں کے وقت میں ہمارے دینی امور کی کیا حالت تھی اور کیسے ایک بانگ نماز کے سننے سے ہی مسلمانوں کے خون بہائے جاتے تھے۔ کسی مسلمان مولوی کی مجال نہ تھی کہ ایک ہندوکو مسلمان کر سکے۔اب محمد حسین ہمیں جواب دے کہ اُس وقت سلطان روم کہاں تھا اور اس نے
    ہماری اس مصیبت کے وقت ہماری کیا مدد کی تھی؟پھر وہ ہمارا دینی پیشوا اور خدا کا سچا خلیفہ کیونکر ہوا۔آخر انگریز ہی تھے جنہوں نے ہم پریہ احسان کیا کہ پنجاب میں آتے ہی یہ ساری روکیں اٹھا دیں ہماری مسجدیں آباد ہو گئیں۔ہمارے مدرسے کھل گئے اور عام طور پر ہمارے وعظ ہونے لگے اور ہزار ہا غیر قوموں کے لوگ مسلمان ہوئے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 225
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 225
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/225/mode/1up
    پس اگر ہم محمد حسین کی طرح یہ اعتقاد رکھیں کہ ہم صرف پولیٹیکل طور پر اور ظاہری مصلحت کے لحاظ سے یعنی منافقانہ طورپر انگریزوں کے مطیع ہیں ورنہ دل ہمارے سلطان کے ساتھ ہیں کہ وہ خلیفہ اسلام اوردینی پیشوا ہے اس کے خلیفہ ہونے کے انکار سے اور اس کی نافرمانی سے انسان کافر ہو جاتا ہے تو اس اعتقاد سے بلاشبہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے چھپے باغی اور خداتعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔تعجب ہے کہ گورنمنٹ ان باتوں کی تہ تک کیوں نہیں پہنچتی اور ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے۔ میں گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ادب سے عرض کرتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ غور سے اس شخص کے حالات پر نظر کرے کہ یہ کیسے منافقانہ طریقوں پر چل رہا ہے ،اور جن باغیانہ خیالات میں آپ مبتلا ہے وہ میری طرف منسوب کرتا ہے۔
    بالآخر یہ بھی لکھنا ضرور ی ہے کہ جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیاں دیں اور محمد بخش جعفرزٹلی سے دلائیں اور طرح طرح کے افترا سے میری ذلت کی اس میں میری فریاد جناب الٰہی میں ہے جو دلوں کے خیالات کو جانتا ہے اورجس کے ہاتھ میں ہر ایک کا انصافؔ ہے میں خدا سے یہی چاہتا ہوں کہ جس قسم کی میری ذلت جھوٹے بہتانوں سے اس شخص نے کی یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں مجھے باغی ٹھہرانے کے لئے خلاف واقعہ باتیں بیان کیں وہی ذلت اس کو پیش آوے ۔میرا ہرگز یہ مدعانہیں ہے کہ بجز طریق 3۱؂ کے کسی اور ذلت
    میں یہ مبتلا ہوبلکہ میں مظلوم ہونے کی حالت میں یہی چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرے لئے اس نے ذلت کے سامان کئے ہیں اگر میں ان تہمتوں سے پاک ہوں تو وہ ذلتیں اس کو پیش آویں۔اگرچہ میں جانتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بہت حلیم اور حتی المقدور چشم پوشی کرنے والی ہے لیکن اگرمیں بقول محمد حسین باغی ہوں یاجیسا کہ میں نے معلوم کیا ہے کہ خود محمدحسین کے ہی باغیانہ خیالات ہیں توگورنمنٹ کافرض ہے کہ کامل تحقیقات کر کے جو شخص ہم دونوں میں سے درحقیقت مجرم ہے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 226
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 226
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/226/mode/1up
    اس کو قرار واقعی سزا دے تا ملک میں ایسی بدی پھیلنے نہ پاوے۔ حفظ امن کے لئے نہایت سہل طریق یہی ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے نامی مولویوں سے دریافت کیا جائے کہ یہ شخص جو ان کا سرگروہ اور ایڈووکیٹ کہلاتا ہے اس کے کیااعتقاد ہیں ؟اور کیا جو کچھ یہ گورنمنٹ کو اپنے اعتقاد بتلاتا ہے اپنے گروہ کے مولویوں پر بھی ظاہر کرتا ہے؟کیونکہ ضرور ہے کہ جن مولویوں کا یہ سرگروہ اور ایڈووکیٹ ہے ان کے اعتقاد بھی یہی ہوں جو سرگروہ کے ہیں۔
    بالآخر ایک اور ضروری امر گورنمنٹ کی توجہ کے لئے یہ ہے کہ محمد حسین نے اپنے اشاعۃ السنہ جلد۱۸ نمبر۳ صفحہ۹۵ میں میری نسبت اپنے گروہ کو اکسایا ہے کہ یہ شخص واجب القتل ہے پس جب کہ ایک قوم کا سرگروہ میری نسبت واجب القتل ہونے کا فتویٰ* دیتا ہے تو مجھے گورنمنٹ عالیہ کے انصاف سے امید ہے کہ جو کچھ ایسے شخص کی نسبت قانونی سلوک ہونا چاہیے وہ بلا توقف ظہور میں آوے تا اس کے معتقد ثواب حاصل کرنے کے لئے اقدامِ قتل کے منصوبے نہ کریں۔فقط
    راقم خاکسار مرزا غلام احمد ازقادیاں
    ۲۷ ؍دسمبر۱۸۹۸ ؁ء-
    *نوٹ: محمدحسین نے اس قتل کے فتویٰ کے وقت یہ جھوٹا الزام میرے پرلگایا ہے کہ گویا میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے اس لئے میں قتل کرنے کے لائق ہوں مگر یہ سراسرمحمدحسین کا افترا ہے جس حالت میں مجھے دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بُراکہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتلاتا؟ کیونکہ اس سے تو خود میرا بُرا ہونا لازم آتا ہے۔منہ
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں