1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

روحانی خزائن جلد 14 ۔رازحقیقت ۔ یونی کوڈ

'روحانی خزائن ۔ حضرت مسیح موعودؑ ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏ستمبر 3, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    روحانی خزائن جلد 14۔ راز حقیقت ۔ یونی کوڈ

    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 151
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ٹائیٹل پیج بار اوّل
    اے خدا اے چشمۂ نورِ ھُدیٰ
    از کرم ہا چشم ایں اُمّت کشا
    یک نظر کن سوئے ایں رازِ نہاں
    تا رہی اے طالب از وہم و گمان
    الحمد ﷲ والمنہ
    کہ یہ رسالہ جس کا نام ہے
    رازِ حقیقت
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح اور سچے سوانح ظاہر کرتا ہے اور ہمارے مباہلہ کے متعلق کئی نصیحتیں کر کے اصل غرض مباہلہ بتلاتا ہے۔
    اور بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب بھیروی مالک مطبع چھپا ہے اور بتاریخ ۳۰ ؍نومبر۱۸۹۸ ؁ء شائع ہوا۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 152
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 153
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اورؔ تواضع اور صبر اور تقویٰ اختیار کرو۔ اور خداتعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرماوے۔ بہتر ہے کہ شیخ محمد حسین اور اس کے رفیقوں سے ہر گز ملاقات نہ کرو کہ بسااوقات ملاقات موجب جنگ و جدل ہو جاتی ہے اور بہتر ہے کہ اس عرصہ میں کچھ بحث مباحثہ بھی نہ کرو کہ بسا اوقات بحث مباحثہ سے تیز زبانیاں پید اہوتی ہیں ضرور ہے کہ نیک عملی اور راست بازی اور تقویٰ میں آگے قدم رکھو کہ خدا ان کو جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ضائع نہیں کرتا۔ دیکھو حضرت موسیٰ نبی علیہ السلام جو سب سے زیادہ اپنے زمانہ میں حلیم اور متقی تھے تقویٰ کی برکت سے فرعون پر کیسے فتح یاب ہوئے۔ فرعون چاہتا تھا کہ اُن کو ہلاک کرے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں کے آگے خدا تعالیٰ نے فرعون کو مع اس کے تمام لشکر کے ہلاک کیا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بد بخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ ان کو ہلاک کریں اور نہ صرف ہلاک بلکہ اُن کی پاک روح پر صلیبی موت سے *** کا داغ لگا ویں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ *** ہے یعنی اس کا دل پلید اور ناپاک اور خدا کے قرب سے دور جا پڑتا ہے اور راندۂ درگاہِ الہٰی اور شیطان کی مانند ہو جاتا ہے۔ اِسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ اور یہ نہایت بد منصوبہ تھا کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت سوچا گیاتھاتا اس سے وہ نالائق
    قوم یہ نتیجہ نکالے کہ یہ شخص پاک دل اور سچا نبی اور خدا کا پیارا نہیں ہے بلکہ نعوذ باﷲ *** ہے جس کا دل پاک نہیں ہے اور جیسا کہ مفہوم *** کا ہے وہ خدا سے بجان ودل بیزار اور خدا اُس سے بیزار ہے لیکن خدائے قادر قیوم نے بد نیت یہودیوں کو اس ارادہ سے ناکام اور نا مراد رکھا اور اپنے پاک نبی علیہ السلام کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا
    بلکہ اس کو ایک سو بیس ۱۲۰برس* تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہودیوں کو اُس کے
    * حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس ۱۲۰برس کی عمر ہوئی تھی۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 154
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    سامنے ؔ ہلاک کیا۔ ہاں خدا تعالیٰ کی اُس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اولوالعزم نبی ایسا نہیں گزرا جس نے قوم کی ایذا کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پاکر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبّت میں آئے ہوئے تھے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخر کار خاکِ کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر خان یار کے محلہ میں با عزاز تمام دفن کئے گئے۔ آپ کی قبر بہت مشہور ہے۔ یُزَارُویُتَبَرَّکُ بِہٖ ۔
    ایسا ہی خدا تعالیٰ نے ہمارے سید و مولیٰ نبی آخر الزمان کو جو سیّد المتّقین تھے انواع و اقسام کی تائیدات سے مظفر اور منصور کیا گو اوائل میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی طرح داغ ہجرت آپ کے بھی نصیب ہوا مگر وہی ہجرت فتح اور نصرت کے مبادی اپنے اندر رکھتی تھی۔ سواے دوستو! یقیناًسمجھو کہ متقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا جب دو فریق آپس میں دشمنی کرتے ہیں اور خصومت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور پرہیز گار ہوتا ہے آسمان سے اس کے لئے مدد نازل ہوتی ہے اور اس طرح پر آسمانی فیصلہ سے مذہبی جھگڑے انفصال پا جاتے ہیں۔ دیکھو ہمارے سیّد و مولیٰ نبینا محمد
    لیکن تمام یہود و نصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب کہ حضرت ممدوح کی عمر صرف تینتیس برس کی تھی۔ اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزار ی تھی۔ احادیث صحیحہ سے یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی سیاح تھے۔ پس اگر وہ صلیب کے واقعہ پر مع جسم آسمان پر چلے گئے تھے تو سیاحت کس زمانہ میں کی۔ حالانکہ اہل لُغت بھی مسیح کے لفظ کی ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ مسح سے نکلا ہے اور مسح سیاحت کو کہتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ عقیدہ کہ خدا نے یہودیوں سے بچانے کے لئے حضرت عیسیٰ کو دوسرے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 155
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    صلی ؔ اﷲ علیہ وسلم کیسے کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابوجہل وغیرہ کفار کا کیا کچھ عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی۔ یقیناًسمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی۔ سو بھائیو! اس پر قدم مارو اور اس گھرمیں بہت زور کے ساتھ داخل ہو۔ پھر عنقریب دیکھ لو گے کہ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ مگر سب چیزوں سے زیادہ چمک رہا ہے جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں۔ وہ شوخی اور چالاکی کو پسند نہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو۔ تم اُس کی جماعت ہو جن کو اُس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چُنا ہے۔ سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اور اُس کے لب جھوٹ سے اور اُس کا دل ناپاک خیالات سے پرہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔ اے خدا کے بندو دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندرونوں کو دھو ڈالو۔ تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہو مگر خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنی ذرّیت کو ہلاکت سے بچاؤ۔ کبھی ممکن ہی نہیں کہ
    آسمان پر پہنچا دیا تھا سراسر لغو خیال معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا کے اس فعل سے یہودیوں پر کوئی حجت پوری نہیں ہوتی۔ یہودیوں نے نہ تو آسمان پر چڑھتے دیکھا اور نہ آج تک اُترتے دیکھا۔ پھر وہ اس مہمل اور بے ثبوت قصے کو کیونکر مان سکتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم حضرت سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو قریش کے حملہ کے وقت جو یہودیوں کی نسبت زیادہ بہادر اور جنگ جُو اور کینہ ور تھے صرف اسی غار کی پناہ میں بچا لیا جو مکہ معظمہ سے تین میل سے زیادہ نہ تھی تو کیا نعوذ باﷲ خدا تعالیٰ کو بزدل یہودیوں کا کچھ ایسا خوف تھا کہ بجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے اُس کے دل میں
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 156
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    خدا ؔ تم سے راضی ہو حالانکہ تمہارے دل میں اُس سے زیادہ کوئی اور عزیز بھی ہے۔ اس کی راہ میں فدا ہو جاؤ اور اس کے لئے محو ہو جاؤ اور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ۔ اگر چاہتے ہو کہ اسی دنیا میں خدا کو دیکھ لو۔ کرامت کیا چیز ہے؟ اور خوارق کب ظہور میں آتے ہیں؟ سو سمجھو اور یاد رکھو کہ دلوں کی تبدیلی آسمان کی تبدیلی کو چاہتی ہے۔ وہ آگ جو اخلاص کے ساتھ بھڑکتی ہے وہ عالم بالا کو نشان کی صورت پر دکھلاتی ہے۔ تمام مومن اگرچہ عام طور پر ہر ایک بات میں شریک ہیں یہاں تک کہ ہر ایک کو معمولی حالت کی خوابیں بھی آتی ہیں اور بعض کو الہام بھی ہوتے ہیں لیکن وہ کرامت جو خدا کا جلال اور چمک اپنے ساتھ رکھتی ہے اور خدا کو دکھلادیتی ہے وہ خدا کی ایک خاص نصرت ہوتی ہے جو اُن بندوں کی عزّت زیادہ کرنے کے لئے ظاہر کی جاتی ہے جو حضرت احدیّت میں جان نثاری کا مرتبہ رکھتے ہیں جب کہ وہ دنیا میں ذلیل کئے جاتے اور اُن کو برا کہا جاتا اور کذّاب اور مفتری اور بدکاراور *** اور دجّال اور ٹھگ اور فریبی ان کا نام رکھا جاتا ہے اور اُن کے تباہ کرنے کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں تو ایک حد تک وہ صبر کرتے اور اپنے آپ کو تھامے رہتے ہیں۔ پھر خدا تعالیٰ کی غیرت چاہتی ہے کہ اُن کی تائید میں کوئی نشان دکھاوے تب یکدفعہ اُن کا دل دکھتا اور ان کا سینہ مجروح ہوتا ہے تب وہ خدا تعالیٰ کے آستانہ
    یہودیوں کی دست درازی کا کھٹکا دُور نہیں ہو سکتا تھابلکہ یہ قصہ سراسر افسافہ کے رنگ میں بنایا گیا ہے۔ اور قرآن کریم کے صریح مخالف اور نہایت زبردست دلائل سے جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت شناخت کرنے کے لئے مرہم عیسیٰ ایک علمی ذریعہ اور اعلیٰ درجہ کا معیار حق شناسی ہے اور اس واقعہ سے پورے طور پر مجھے اس لئے واقفیت ہے کہ مَیں ایک انسان خاندان طبابت میں سے ہوں اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم جو اس ضلع کے ایک معزز رئیس تھے ایک اعلیٰ درجہ کے تجربہ کار طبیب تھے جنہوں نے قریباً ساٹھ سال اپنی عمر کے اس تجربہ میں بسر کئے تھے اور جہاں تک
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 157
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    پر تضرؔ عات کے ساتھ گرتے ہیں اور ان کی درد مندانہ دعاؤں کا آسمان پر ایک صعب ناک شور پڑتا ہے اور جس طرح بہت سی گرمی کے بعد آسمان پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بادل کے نمودار ہو جاتے ہیں اور پھر وہ جمع ہو کر ایک تہ بتہہ بادل پیدا ہو کر یکدفعہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی مخلصین کے دردناک تضرعات جو اپنے وقت پر ہوتے ہیں رحمت کے بادلوں کو اُٹھاتے ہیں اور آخر وہ ایک نشان کی صورت پر زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ غرض جب کسی مرد صادق ولی اﷲ پر کوئی ظلم انتہا تک پہنچ جائے تو سمجھنا چاہیئ کہ اب کوئی نشان ظاہر ہو گا۔
    ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است
    زیر آں گنجِ کرم بنہادہ است
    مجھے افسوس سے اس جگہ یہ بھی لکھنا پڑا ہے کہ ہمارے مخالف نا انصافی اور دروغگوئی اور کجروی سے باز نہیں آتے۔ وہ خدا کی باتوں کی بڑی جرأت سے تکذیب کرتے اور خدائے
    جلیل کے نشانوں کو جھٹلاتے ہیں۔ مجھے امید تھی کہ میرے اشتہار ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء کے بعد جو بمقابلہ شیخ محمد حسین بٹالوی اور محمد بخش جعفرز ٹلی اور ابو الحسن تبتی کے لکھا گیا تھا۔ یہ لوگ خاموش رہتے کیونکہ اشتہار میں صاف طور پر یہ لفظ تھے کہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۰ ؁ء تک اس بات کی میعاد مقرر ہو گئی ہے کہ جو شخص کاذب ہو گا خدا اُس کو ذلیل
    ممکن تھا ایک بڑا ذخیرہ طبّی کتابوں کا جمع کیا تھا ۔اور مَیں نے خود طب کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان کتابوں کو ہمیشہ دیکھتا رہا۔ اس لئے مَیں اپنی ذاتی واقفیت سے بیان کرتاہوں کہ ہزار کتاب سے زیادہ ایسی کتاب ہو گی جن میں مرہم عیسیٰ کا ذکر ہے۔ اور ان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ کے لیے بنائی گئی تھی۔ ان کتابوں میں سے بعض یہودیوں کی کتابیں ہیں اور بعض عیسائیوں کی اور بعض مجوسیوں کی۔ سو یہ ایک علمی تحقیقات سے ثبوت ملتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب سے رہائی پائی تھی اگر انجیل والوں نے اس کے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 158
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اورؔ رسوا کرے گا۔ اور یہ ایک کھلا کھلا معیار صادق و کاذب تھا جو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے قائم کیا تھا اور چاہیئ تھا کہ یہ لوگ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد چُپ ہو جاتے اور ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۰ ؁ء تک خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ زٹلی مذکور نے اپنے اشتہار ۳۰؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء میں وہی گند پھر بھر دیا جو ہمیشہ اس کا خاصہ ہے اور سراسر جھوٹ سے کام لیا۔ وہ اس اشتہار میں لکھتا ہے کہ کوئی پیشگوئی اس شخص یعنی اس عاجز کی پوری نہیں ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ ہم اس کے جواب میں بھی بجز لعنۃ اللّہ
    علی الکاذبین کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اصل تو یہ ہے کہ جب انسان کا دل بخل اور عناد سے سیاہ ہو جاتا ہے تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا اور سنتے ہوئے نہیں سُنتا۔ اُس کے دل پر خدا کی مہر لگ جاتی ہے۔ اُس کے کانوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ یہ بات اب تک کس پر پوشیدہ ہے کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی شرطی تھی اور خدا کے الہام نے ظاہر کیا تھا کہ وہ رجوع الی الحق کی حالت میں میعاد کے اندر مرنے سے بچ جائے گا۔ اور پھر آتھم نے اپنے افعال سے اپنے اقوال سے اپنی سراسیمگی سے اپنے خوف سے اپنے قسم نہ کھانے سے اپنے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ ایّام پیشگوئی میں اُس کا دل عیسائی مذہب پر قائم نہ رہا اور اسلام کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ گئی اور یہ کچھ بعید
    برخلاف لکھا ہے تو اُن کی گواہی ایک ذرّہ اعتبار کے لائق نہیں کیونکہ اوّل تو وہ لوگ واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہیں تھے اور اپنے آقا سے طرز بے وفائی اختیار کر کے سب کے سب بھاگ گئے تھے اور دوسرے یہ کہ انجیلوں میں بکثرت اختلاف ہے یہاں تک کہ برنباس کی انجیل میں حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ ان ہی انجیلوں میں جو بڑی معتبر سمجھی جاتی ہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعۂ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 159
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    نہ تھا ؔ کیونکہ وہ مسلمانوں کی اولاد تھا اور اسلام سے بعض اغراض کی وجہ سے مرتد ہوا تھا اسلامی چاشنی رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے اُس کو پورے طور پر عیسائیوں کے عقیدہ سے اتفاق بھی نہیں تھا۔ اور میری نسبت وہ ابتدا سے نیک ظن رکھتا تھا۔ لہٰذا اس کا اسلامی پیشگوئی سے ڈرنا قرین قیاس تھا۔ پھر جب کہ اُس نے قسم کھا کر اپنی عیسائیت ثابت نہ کی اور نہ نالش کی اور چور کی طرح ڈرتا رہا اور عیسائیوں کی سخت تحریک سے بھی وہ ان کاموں کے لئے آمادہ نہ ہؤا تو کیا اس کی یہ حرکات ایسی نہ تھیں کہ اُس سے یہ نتیجہ نکلے کہ وہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے ضرورڈرتا رہا۔ غافل زندگی کے لوگ تو نجومیوں کی پیشگوئیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں چہ جائیکہ ایسی پیشگوئی جو بڑے شدّو مد سے کی گئی تھی۔ جس کے سُننے سے اُسی وقت اُس کا رنگ
    زرد ہو گیا تھا۔ جس کے ساتھ درصورت نہ پورے ہونے کے مَیں نے اپنے سزا یاب ہونے کا وعدہ کیا تھا پس اس کا رُعب ایسے دلوں پر جو دینی سچائی سے بے بہرہ ہیں کیونکر نہ ہوتا۔ پھر جب کہ یہ بات صرف قیاسی نہ رہی بلکہ خود آتھم نے اپنے خوف اور سراسیمگی اور دہشت زدہ ہونے کی حالت سے جس کو صد ہا لوگوں نے دیکھا اپنی اندرونی بے قراری اور اعتقادی حالت کے 3کو ظاہر کر دیا اور پھر بعد میعاد قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے سے اُس 3کی حالت کو اَور بھی یقین تک پہنچایا اور پھر الہام الٰہی کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر بھی گیا تو کیا یہ تمام واقعات ایک منصف اور خدا ترس کے دل کو
    اور اپنے زخم اُن کو دکھلائے۔ پس اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت زخم موجود تھے جن کے لئے مرہم طیار کرنے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا یقیناًسمجھا جاتا ہے کہ ایسے موقعہ پر وہ مرہم طیار کی گئی تھی۔ اور انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس روز اُسی گردو نواح میں بطور مخفی رہے اور جب مرہم کے استعمال سے بکلی شفا پائی تب آپ نے سیاحت اختیار کی۔ افسوس کہ ایک ڈاکٹر صاحب نے راولپنڈی سے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں اُن کو
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 160
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اسؔ یقین سے نہیں بھرتے کہ وہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر الہامی شرط سے فائدہ اٹھا کر زندہ رہا اور پھرالہام الہٰی کی خبر کے موافق اخفاء شہادت کی وجہ سے مر گیا۔ اب دیکھو تلاش کرو کہ آتھم
    اس بات کا انکار ہے کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ مختلف قوموں کی کتابوں میں پایا جاتاہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو اس واقعہ کے سننے سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے بلکہ زندہ مگر مجروح ہونے کی حالت میں رہائی پائی بڑی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور خیال کیا کہ اس سے تمام منصوبہ کفارہ کا باطل ہوتا ہے۔ لیکن یہ قابل شرم بات ہے کہ اُن کتابوں کے وجود سے ا نکار کیا جائے جن میں یہ نسخہ مرہم عیسیٰ موجود ہے۔ اگر وہ طالب حق ہیں تو ہمارے پاس آ کر اُن کتابوں کو دیکھ لیں۔ اور صرف عیسائیوں کے لئے یہی مصیبت نہیں کہ مرہم عیسیٰ کی علمی گواہی اُن عقائد کو ردّکرتی ہے اور تمام عمارت کفارہ و تثلیث وغیرہ کی یکدفعہ گر جاتی ہے بلکہ ان دنوں میں اس ثبوت کی تائید میں اَور ثبوت بھی نکل آئے ہیں کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبّت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے۔ اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے اُن کو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوزآسف نبی کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اس واقعہ کی تائید وہ انجیل بھی کرتی ہے جو حال میں تبّت سے برآمد ہوئی ہے۔ یہ انجیل بڑی کوشش سے لندن سے ملی ہے۔ ہمارے مخلص دوست شیخ رحمت اﷲ صاحب تاجر قریباً تین ماہ تک لندن میں رہے اور اس انجیل کو تلاش کرتے رہے۔ آخر ایک جگہ سے میسّر آ گئی۔
    ٌٌ*نوٹ :۔ ایک نادان مسلمان نے اپنے دل سے ہی یہ بات پیش کی ہے کہ شاید یوز آسف سے زوجہ آصف مراد ہو جو سلیمان کا وزیر تھا۔ مگر اُس جاہل کو یہ خیال نہیں آیا کہ زوجہ آصف نبی نہیں تھی اور اُس کو شہزادہ نہیں کہہ سکتے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ دونوں مذکر نام ہیں۔ مؤنث کے لئے اگر وہ یہ صفات بھی رکھتی ہو نبیّہ اور شہزادی کہا جائے گا۔ نہ نبی اور شہزادہ۔ اس سادہ لوح نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ اُنیس سو کی مدت حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے ہی مطابق آتی ہے۔ سلیمان تو حضرت عیسیٰ سے کئی سو برس پہلے تھا۔ ماسوا اِس کے اس نبی کی قبر کو جو سری نگر میں واقع ہے بعض یوز آسف کے نام سے پکارتے ہیں مگر اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ ہمارے مخلص مولوی عبد اﷲ صاحب کشمیری نے جب سری نگر میں اس مزار کی نسبت تفتیش کرنا شروع کیا تو بعض لوگوں نے یوز آسف کا نام سُن کر کہا کہ ہم میں وہ قبر عیسیٰ صاحب کی قبر مشہورہے۔ چنانچہ کئی لوگوں نے یہی گواہی دی جو اب تک سری نگر میں زندہ موجود ہیں جس کو شک ہو وہ خود کشمیر میں جا کر کئی لاکھ انسان سے دریافت کرلے اب اس کے بعد انکار بے حیائی ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 161
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    کہا ںؔ ہے؟کیا وہ زندہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ کئی برس سے مر چکا مگر جس شخص کے ساتھ اُس نے
    یہ انجیل بدھ مذہب کی ایک پُرانی کتاب کا گویا ایک حصّہ ہے۔ بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک ہند میں آئے اورؔ ایک مدت تک مختلف قوموں کو وعظ کرتے رہے ۔ اور بدھ مذہب کی کتابوں میں جو اُن کے ان ملکوں میں آنے کا ذکر لکھا گیا ہے اُس کا وہ سبب نہیں جو لانبے بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ انہوں نے گوتم بدھ کی تعلیم استفادہ کے طور پر پائی تھی ایسا کہنا ایک شرارت ہے ، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب سے نجات بخشی تو انہوں نے بعد اس کے اس ملک میں رہنا قرینِ مصلحت نہ سمجھا اور جس طرح قریش کے انتہائی درجہ کے ظلم کے وقت یعنی جب کہ انہوں نے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے ملک سے ہجرت فرمائی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کے انتہائی ظلم کے وقت یعنی قتل کے ارادہ کے وقت ہجرت فرمائی۔ اور چونکہ بنی اسرائیل بخت النصر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلادِ ہند اور کشمیر اور تبّت اور چین کی طرف چلے آئے تھے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان ہی ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا۔ اور تواریخ سے اس بات کا بھی پتہ ملتا ہے کہ بعض یہودی اس ملک میں آ کر اپنی قدیم عادت کے موافق بدھ مذہب میں بھی داخل ہو گئے تھے۔ چنانچہ حال میں جو ایک مضمون
    سول ملٹری گزٹ پرچہ تاریخ ۲۳؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء میں چھپا ہے اُس میں ایک محقّق انگریز نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے اور اس بات کو بھی مان لیا ہے کہ بعض جماعتیں یہودیوں کی اس ملک میں آئی تھیں اور اس ملک میں سکونت پذیر ہوگئی تھیں اور اُسی پرچہ سول میں لکھا ہے کہ ’’ دراصل افغان بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں‘‘ غرض جب کہ بعض بنی اسرائیل بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے تو ضرور تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آ کر بدھ مذہب کے ردّ کی طرف متوجہ ہوتے اور اس مذہب کے پیشواؤں کو ملتے۔ سو ایسا ہی وقوع میں آیا۔ اسی وجہ سے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 162
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    ڈاکٹرؔ کلارک کی کوٹھی پر بمقام امرتسرمقابلہ کیا تھا وہ تو اب تک زندہ موجود ہے، جواب یہ مضمون لکھ رہا ہے
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوانح بدھ مذہب میں لکھے گئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس ملک میں بدھ مذہب کا بہت زور تھا اوربید کا مذہب مر چکا تھا اور بدھ مذہب بید کا انکار کرتا تھا۔*
    خلاصہ یہ کہ ان تمام امور کو جمع کرنے سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے۔ یہ بات یقینی اور پختہ ہے کہ بدھ مذہب کی کتابوں میں اُن کے اس ملک میں آنے کا ذکر ہے اور جو مزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر میں ہے جس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انیس ۱۹۰۰سو برس سے ہے۔ یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔ غالباً اُس مزار کے ساتھ کچھ کتبے ہوں گے جو اب مخفی ہیں۔ ان تمام امور کی مزید تحقیقات کے لئے ہماری جماعت میں سے ایک علمی تفتیش کا قافلہ طیار ہو رہا ہے جس کے پیشر و اخویم مولوی حکیم حاجی حرمین نور الدین صاحب سَلّمہٗ ربّہٗ قرار پائے ہیںیہ قافلہ اس کھوج اور تفتیش کے لئے مختلف ملکوں میں پھرے گا اور ان سرگرم دینداروں کا کام ہو گا کہ پالی زبان کی کتابوں کو بھی دیکھیں کیونکہ یہ بھی پتہ لگا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اُس نواح میں بھی گُم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں گئے تھے۔ لیکن بہر حال کشمیر جانا اور پھر تبت میں جا کر بدھ مذہب کی پستکوں سے یہ تمام پتہ لگانا اس جماعت کا فرض منصبی ہو گا۔ اخویم شیخ رحمت اﷲ صاحب تاجر لاہور نے ان تمام اخراجات کو اپنے ذمہ قبول کیا ہے۔ لیکن اگر یہ سفر جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے بنارس اور نیپال اور مدراس اور سوات اور کشمیر اور تبّت وغیرہ ممالک تک کیا جائے جہاں جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی بودوباش کا پتہ ملا ہے تو کچھ شک نہیں کہ یہ بڑے اخراجات کا کام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہر حال اﷲ تعالیٰ اس کو انجام دے دے گا۔ ہر ایک دانش مند سمجھ سکتاہے
    * صرف یہی بات نہیں کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہندوستان اور تبّت میں آنے کا تذکرہ ہے بلکہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کی پُرانی تحریروں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 163
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
    اے ؔ حیا و شرم سے دُور رہنے والو! ذرہ اس بات کو تو سوچو کہ وہ شہادت کے اخفا کے بعد کیوں جلد مر گیا۔
    کہ یہ ایک ایسا ثبوت ہے کہ اس سے یک دفعہ عیسائی مذہب کا تمام تانا بانا ٹوٹتا ہے اور انیس سو برس کا منصوبہ یکدفعہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس بات کا اطمینان ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس ملک ہند اور کشمیر وغیرہ میں آنا ایک واقعی امر ہے۔ اور اس کے بارے میں ایسے زبردست ثبوت مل گئے ہیں کہ اب وہ کسی مخالف کے منصوبہ سے چھپ نہیں سکتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان بیہودہ اور غلط عقائد کی اِسی زمانہ تک عمر تھی۔ ہمارے سیّد و مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا ہے صلیب کو توڑے گا اور آسمانی حربہ سے دجّال کو قتل کرے گا۔ اس حدیث کے اب یہ معنے کھلے ہیں کہ اُس مسیح کے وقت میں زمین و آسمان کا خدا اپنی طرف سے بعض ایسے امور اور واقعات پیدا کر دے گا جن سے صلیب اور تثلیث اور کفارہ کے عقائد خود بخود نابود ہو جائیں گے مسیح کا آسمان سے نازل ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہے کہ اُس وقت آسمان کے خدا کے ارادہ سے کسرِ صلیب کے لئے بدیہی شہادتیں پیدا ہو جائیں گی۔ سو ایسا ہی ہوا۔ یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ صد ہا طبّی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا اس بات کی کس کو خبر تھی کہ بدھ مذہب کی پرانی کتابوں سے یہ ثبوت مل جائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلادِ شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر ہندوستان اور کشمیر اور تبّت کی طرف آئے تھے۔ * یہ بات کون جانتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر میں قبر ہے۔ کیا انسان کی طاقت میں تھا کہ ان تمام باتوں کو اپنے زور سے پیدا کر سکتا۔ اب یہ واقعات اس طرح سے عیسائی مذہب کو مٹاتے ہیں جیسا کہ دن چڑھ جانے سے رات مٹ جاتی ہے۔ اس واقعہ کے ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کو وہ صدمہ پہنچتا ہے جو اُس چھت کو پہنچ سکتا ہے جس کاتمام بوجھ ایک شہتیر پر تھا۔ شہتیر ٹوٹا اور چھت گری۔ پس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت
    * نوٹ :۔ حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چند پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھااور شہزادہ بھی تھا۔ اور کشمیر میں اُس نے انتقال کیا۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ ۶۰۰سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے گزرا ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 164
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 164
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/164/mode/1up
    مَیں ؔ نے تو اُس کی زندگی میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر مَیں کاذب ہوں تو مَیں پہلے مروں گا۔ ورنہ مَیں آتھم کی موت کو دیکھوں گا سو اگر شرم ہے تو آتھم کو ڈھونڈ کر لاؤ کہ کہاں ہے۔ وہ میری عمر کے قریب قریب تھا اور عرصہ تیس ۳۰ برس سے مجھ سے واقفیت رکھتا تھا۔ اگر خدا چاہتا تو وہ تیس برس تک اور زندہ رہ سکتا تھا۔ پس یہ کیا باعث ہوا کہ وہ انہی دنوں میں جب کہ اُس نے عیسائیوں کی دلجوئی کے لئے الہامی پیشگوئی کی سچائی اور اپنے دلی رجوع کو چھپایا خدا کے الہام کے موافق فوت ہو گیا۔ خدااُن دلوں پر *** کرتا ہے جو سچائی کو پا کر پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔ اور چونکہ یہ انکار جو اکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خدا تعالیٰ کی نظر میں ظلمِ صریح تھا اس لئے اُس نے ایک دوسری عظیم الشان پیشگوئی کے پورا
    سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ انہی قدرتوں سے وہ پہنچانا گیا ہے۔ دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ 33۱؂ یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے بچ کر نکل گیا۔ اور اگر انجیل کو غور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔ کیا مسیح کی تمام رات کی درد مندانہ دُعا رد ہو سکتی تھی۔ کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبرمیں رہوں گا اِس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرا رہا تھا۔ کیا پیلا طوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشا نہیں معلوم ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچا لے۔ ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتارے جانا اور رسم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑے جانا اور خون کا نکلنا کیا یہ تمام وہ امور نہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دُعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔ بھلا مقبول کی ایسی دُعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی۔ پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔ اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکارو کہ تمہیں آ کر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔ غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی
    صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آ گئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے اُن میں کئی بادشاہ بھی ہوئے۔ اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 165
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 165
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/165/mode/1up
    کرنے ؔ سے یعنی پنڈت لیکھرام کی موت کی پیشگوئی سے منکروں کو ذلیل اور رسوا کر دیا۔ یہ پیشگوئی اس مرتبہ پر فوق العادت تھی کہ اس میں قبل از وقت یعنی پانچ برس پہلے بتایا گیا تھا کہ لیکھرام کس دن کس قسم کی موت سے مرے گا۔ لیکن افسوس کہ بخیل لوگوں نے جن کو مرنا یاد نہیں اس پیشگوئی کو بھی قبول نہ کیا اور خدا نے بہت سے نشان ظاہر کئے مگر یہ سب سے انکار کرتے ہیں۔ اب یہ اشتہار ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء آخری فیصلہ ہے۔ چاہیئ کہ ہر ایک طالب صادق صبر سے انتظار کرے۔ خدا جھوٹوں کذابوں دجالوں کی مدد نہیں کرتا۔ قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ عہد ہے کہ وہ مومنوں اور رسولوں کو غالب کرتا ہے۔ اب یہ معاملہ آسمان پر ہے ،زمین پر چلّانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دونوں فریق اُس کے سامنے ہیں اور عنقریب ظاہر ہو گا کہ اُس کی مدد اور نصرت کس طرف آتی ہے۔ و اٰخر دعوانا اَن الحمد للّٰہ رب العالمین۔ والسّلام علٰی من اتبع الھُدیٰ
    المشتھر خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء
    توریت میں وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل نبی موعود کے پیرو ہو کرحکومت اور سلطنت پائیں گے۔ غرض مسیح ابن مریم کو صلیبی موت سے مارنا یہ ایک ایسا اصل ہے کہ اسی پر مذہب کے تمام اصولوں کفارہ اور تثلیث وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اور یہی وہ خیال ہے کہ جو نصاریٰ کے چالیس کروڑ انسانوں کے دلوں میں سرایت کر گیا ہے۔ اور اس کے غلط ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اگر عیسائیوں میں کوئی فرقہ دینی تحقیق کا جوش رکھتا ہے تو ممکن ہے کہ ان ثبوتوں پر اطلاع پانے سے وہ بہت جلد عیسائی مذہب کو الوداع کہیں اور اگر اس تلاش کی آگ یورپ کے تمام دلوں میں بھڑک اُٹھے تو جو گروہ چالیس کروڑ انسان کا انیس سو برس میں تیار ہؤا ہے ممکن ہے کہ اُنیس ماہ کے اندر دست غیب سے ایک پلٹا کھا کر مسلمان ہو جائے۔ کیونکہ صلیبی اعتقاد کے بعد یہ ثابت ہونا کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مارے گئے بلکہ دوسرے ملکوں میں پھرتے رہے یہ ایسا امر ہے کہ یکدفعہ عیسائی عقائد کو دلوں سے اڑاتا ہے اور عیسائیت کی دنیا میں انقلاب عظیم ڈالتا ہے۔
    اے عزیزو! اب عیسائی مذہب کو چھوڑو کہ خدا نے حقیقت کو دکھا دیا۔ اسلام کی روشنی میں آؤ تا نجات پاؤ اور خدائے علیم جانتا ہے کہ یہ تمام نصیحت نیک نیتی سے تحقیق کامل کے بعد کی گئی ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 166
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 166
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/166/mode/1up
    خط ؔ مولوی عبداﷲ صاحب باشندۂ کشمیر
    فائدہ عام کے لئے معہ نقشہء مزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام
    اس اشتہار میں شائع کیا جاتا ہے
    از جانب خاکسار عبداﷲ بخدمت حضور مسیح موعود السَّلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہٗ
    حضرت اقدس! اس خاکسار نے حسب الحکم سرینگر میں عین موقعہ پر یعنی روضہ مزار شریف شاہزادہ یوز آسف نبی اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پہنچ کر جہاں تک ممکن تھا بکوشش تحقیقات کی اور معمّر اور سن رسیدہ بزرگوں سے بھی دریافت کیا اور مجاور وں اور گرد و جوار کے لوگوں سے بھی ہر ایک پہلو سے استفسار کرتا رہا۔
    جناب من عند التحقیقات مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ مزار درحقیقت جناب یوزآسف علیہ السلام نبی اﷲ کی ہے اور مسلمانوں کے محلہ میں یہ مزار واقع ہے۔ کسی ہندو کی وہاں سکونت نہیں اور نہ اُس جگہ ہندوؤں کا کوئی مدفن ہے۔ اور معتبر لوگوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قریباً اُنیس سو ۱۹۰۰ برس سے یہ مزار ہے۔ اور مسلمان بہت عزّت اور تعظیم کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی زیارت کرتے ہیں۔ اور عام خیال ہے کہ اس مزار میں ایک بزرگ پیغمبر مدفون ہے جو کشمیر میں کسی اور ملک سے لوگوں کو نصیحت کرنے کے لئے آیا تھا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے قریبًا چھ سو برس پہلے گذرا ہے۔ یہ اب تک نہیں کھلا کہ اس ملک میں کیوں* آیا ۔ مگر ؔ یہ واقعات بہرحال ثابت ہو چکے ہیں۔
    وہ نبی جو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں۔ اور یسوؔ ع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا نہایت قرینِ قیاس ہے کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جِیزَس بنا لیا ہے تو یوز آسف میں جیزس سے کچھ زیادہ تغیرّ نہیں ہے۔ یہ لفظ سنسکرت سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔ صریح عبرانی معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں کیوں تشریف لائے اس کا سبب ظاہر ہے۔ اور وہ ؔ یہ ہے کہ جبکہ ملک شام کے یہودیوں نے آپ کی تبلیغ کو قبول نہ کیا اور آپ کو صلیب پر قتل کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اور نیز دعا کو قبول کرکے حضرت مسیح کو صلیب سے نجات دے دی۔ اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح کے دل میں تھا کہ اُن یہودیوں کو بھی خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا ویں کہ جو بخت النصر کی غارت گری کے زمانہ میں ہندوستان کے
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 167
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 167
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/167/mode/1up
    اور تواتر شہادت سے کمال درجہ کے یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ بزرگ جن کا نام کشمیر کے مسلمانوں نے یوزآسف رکھ لیا ہے یہ نبی ہیں اور نیز شہزادہ ہیں۔ اس ملک میں کوئی ہندوؤں کا لقب ان کا مشہور نہیں ہے جیسے راجہ یا اوتار یا رِکھی ومُنی وسِدّہ وغیرہ بلکہ بالاتفاق سب نبی کہتے ہیں اور نبی کا لفظ اہل اسلام اور اسرائیلیوں میں ایک مشترک لفظ ہے۔ اور جبکہ اسلام میں کوئی نبی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نہیں آیا اور نہ آ سکتا تھا اس لئے کشمیر کے عام مسلمان بالاتفاق یہی کہتے ہیں کہ یہ نبی اسلام کے پہلے کا ہے۔ ہاں اس نتیجہ تک وہ اب تک نہیں پہنچے کہ جبکہ نبی کا لفظ صرف دو ہی قوموں کے نبیوں میں مشترک تھا یعنی مسلمانوں اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور اسلام میں تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آ نہیں سکتا تو بالضرور یہی متعیّن ہوا کہ وہ اسرائیلی نبی ہے کیونکہ کسی تیسری زبان نے کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کیا۔ بلاشبہ اس اشتراک کا صرف دو زبانوں اور دو قوموں میں تخصیص ہونا لازمی ہے۔* مگر بوجہ 3نبوت اسلا می قوم اس سے باہر نکل گئی۔ لہٰذا صفائی سے یہ بات طے ہو گئی کہ یہ نبی اسرائیلی نبی ہے۔ پھر اس کے بعد تواتر تاریخی سے یہ ثابت ہو جانا کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے پہلیؔ دلیل پر اور بھی یقین کا رنگ چڑھاتا ہے اور زیرک دلوں کو زور کے ساتھ اس طرف لے آتا ہے کہ یہ نبی
    ملکوں میں آ گئے تھے۔ سو اسی غرض کی تکمیل کے لئے وہ اس ملک میں تشریف لائے۔
    ڈاکٹر برنیر صاحب فرانسیسی اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ کئی انگریز محققوں نے اِس رائے کو بڑے زور کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے دراصل اسرؔ ائیلی ہیں جو تفرقہ کے وقتوں میں اس ملک میں آئے تھے۔ اور اُن کے کتابی چہرے اور لمبے کُرتے اور بعض رسوم اس بات کے
    * نوٹؔ : نبی کا لفظ صرف دو زبانوں سے مخصوص ہے اور دنیا کی کسی اور زبان میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا یعنی ایک تو عبرانی میں یہ لفظ نبی آتا ہے اور دوسری عربی میں۔ اس کے سوا تمام دنیا کی اور زبانیں اس لفظ سے کچھ تعلق نہیں رکھتیں۔ لہٰذا یہ لفظ جو یوز آسف پر بولا گیا کتبہ کی طرح گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص یا اسرائیلی نبی ہے یا اسلامی نبی مگر ختم نبوت کے بعد اسلام میں کوئی اور نبی نہیں آ سکتا لہٰذا متعیّن ہوا کہ یہ اسرائیلی نبی ہے۔ اب جو مدت بتلائی گئی ہے اُس پر غور کرکے قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور وہی شہزادہ کے نام سے پکارے گئے ہیں۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 168
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 168
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/168/mode/1up
    حضرت مسیح علیہ السلام ہیں کوئی دوسرا نہیں کیونکہ وہی اسرائیلی نبی ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرے ہیں۔پھر بعد اس کے اس متواتر خبر پر غور کرنے سے کہ وہ نبی شہزادہ بھی کہلاتا ہے یہ ثبوت نورٌ علٰی نور ہو جاتا ہے کیونکہ اس مدت میں بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی نبی شہزادہ کے نام سے کبھی مشہور نہیں ہوا۔ پھر یوز آسف کا نام جو یسوع کے لفظ سے بہت ملتا ہے ان تمام یقینی باتوں کو اَور بھی قوت بخشتا ہے۔ پھر موقعہ پر پہنچنے سے ایک اور دلیل معلوم ہوئی ہے کہ جیسا کہ نقشۂ منسلکہ میں ظاہر ہے اس نبی کی مزار جنوباً و شمالاً واقع ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شمال کی طرف سر ہے اور جنوب کی طرف پَیر ہیں اور یہ طرزِ دفن مسلمانوں اور اہلِ کتاب سے خاص ہے اور ایک اَور تائیدی ثبوت ہے کہ اس مقبرہ کے ساتھ ہی کچھ تھوڑے فاصلے پر ایک پہاڑ کوہ سلیمان کے نام سے مشہور ہے۔ اس نام سے بھی پتہ ملتا ہے کہ کوئی اسرائیلی نبی اس جگہ آیا تھا *۔یہ نہایت درجہ کی جہالت ہے کہ اس شہزادہ نبی کو ہندو قرار دیا جائے۔ اور یہ ایسی غلطی ہے کہ ان روشن ثبوتوں کے سامنے رکھ کر اس کے ردّ کی بھی حاجت نہیں۔ سنسکرت میں کہیں نبی کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ لفظ عبرانی اور عربی سے خاص ہے اور دفن کرنا ہندوؤں کا طریق نہیں۔ اور ہندو لوگ تو اپنے مُردوں کو جلاتے ہیں لہٰذا قبر کی صورت بھی قطعی یقین دلاتی ہے کہ یہ نبی اسرائیلی ہے قبر کے مغربی پہلو کی طرف ایک سوراخ واقع ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس سوراخ سے نہایت
    گواہ ہیں۔ پس نہایت قرین قیاس ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر اس ملک میں تبلیغ قوم کے لئے آئے ہوں گے۔ حال میں جو روسی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے جس کو لندن سے مَیں نے منگوایا ہے وہ بھی اِس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور جو بعض مصنفوں نے واقعات یوز آسف نبی کے لکھے ہیں جن کے یورپ کے ملکوں میں بھی ترجمے پھیل گئے ہیں ان کو پادری لوگ بھی پڑھ کر سخت حیران ہیں کیونکہ وہ تعلیمیں انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت ملتی ہیں بلکہ اکثر عبارتوں میں توارد معلوم ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی تبتی انجیل کا انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت تواردہے۔ پس یہ ثبوت ایسے نہیں ہیں کہ
    * یہ ؔ ضرور نہیں کہ سلیمان سے مراد سلیمان پیغمبر ہوں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسرائیلی امیر ہو گا جس کے نام سے یہ پہاڑ مشہور ہو گیا۔ اس امیر کا نام سلیمان ہو گا۔ یہ یہودیوں کی اب تک عادت ہے کہ نبیوں کے نام پر اب تک نام رکھ لیتے ہیں۔ بہرحال اس نام سے بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہود کے فرقہ کی کشمیر میں گذر ہوئی ہے جن کے لئے حضرت عیسیٰ کا کشمیر میں آنا ضروری تھا۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 169
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 169
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/169/mode/1up
    عمدہ خوشبو آتی رہی ہے۔ یہ سوراخ کسی قدر کشادہ ہے، اور قبر کے اندر تک پہنچی ہوئی ہے۔ اس سے یقین کیا جا تا ہے کہ ؔ کسی بڑے مقصود کے لئے یہ سوراخ رکھی گئی ہے غالباً کتبہ کے طور پر اس میں بعض چیزیں مدفون ہوں گی۔ عوام کہتے ہیں کہ اس میں کوئی خزانہ ہے مگر یہ خیال قابلِ اعتبار معلوم نہیں ہوتا۔ ہاں چونکہ قبروں میں اس قسم کا سوراخ رکھنا کسی ملک میں رواج نہیں۔ اس سے سمجھا جاتاہے کہ اس سوراخ میں کوئی عظیم الشان بھید ہے، اور صدہا سال سے برابر یہ سوراخ چلے آنا یہ اور بھی عجیب بات ہے۔ اِس شہر کے شیعہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے جو کسی ملک سے بطور سیاحت آیا تھا اور شہزادہ کے لقب سے موسوم تھا۔ شیعوں نے مجھے ایک کتاب بھی دکھلائی جس کا نام عین الحیات ہے۔ اس کتاب میں بہت سا قصہ بصفحہ ۱۱۹ ابن بابو یہ اور کتاب کمال الدین اور اتمام النعمت کے حوالہ سے لکھا ہے لیکن وہ تمام بیہودہ اور لغو قصّے ہیں۔ صرف اس کتاب میں اس قدر سچ بات ہے کہ صاحبِ کتاب قبول کرتا ہے کہ یہ نبی سیاح تھا اور شہزادہ تھا جو کشمیر میں آیا تھا ۔ اور اس شہزادہ نبی کے مزار کا پتہ یہ ہے کہ جب جامع مسجد سے روضہ بل یمین کے کوچہ میں آویں تو یہ مزار شریف آگے ملے گی۔ اس مقبرہ کے بائیں طرف کی دیوار کے پیچھے ایک کوچہ ہے اور داہنی طرف ایک پرانی مسجد ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تبرک کے طور پر کسی پُرانے زمانہ میں اس مزار شریف کے قریب مسجد بنائی گئی ہے اور اس مسجد کے ساتھ مسلمانوں کے مکانات ہیں۔ کسی دوسری قوم کانام و نشان نہیں اور اس نبی اﷲ کی قبر کے نزدیک داہنے گوشہ میں ایک پتھر رکھا ہے جس پر انسان کے پاؤں کا نقش ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ قدم رسول کا ہے۔ غالباً اس شہزادہ نبی کا یہ قدم بطور نشان کے باقی ہے۔ دو باتیں اس قبر پر بعض مخفی اسرار کی گویا حقیقت نما ہیں۔ ایک وہ سوراخ جو قبر کے نزدیک ہے دوسرے یہ قدم جو پتھر پر کند ہ ہے۔ باقی تمام صورت مزار کی نقشہ منسلکہ میں دکھائی گئی ہے۔ فقط
    کوئی ؔ شخص معاندانہ تحکم سے یکدفعہ ان کو ردّ کر سکے بلکہ ان میں سچائی کی روشنی نہایت صاف پائی جاتی ہے اور اس قدر قرائن ہیں کہ یکجائی طور پر ان کو دیکھنا اس نتیجہ تک پہنچاتا ہے کہ یہ بے بنیاد قصّہ نہیں ہے، یوز آسف کا نام عبرانی سے مشابہ ہونا اور یوزآسف کا نام نبی مشہورہونا جو ایسا لفظ ہے کہ صرف اسرائیلی اور اسلامی انبیاء پر بولا گیا ہے اور پھر اُس نبی کے ساتھ شہزادہ کا لفظ ہونا اور پھر اس نبی کی صفات حضرت مسیح علیہ السلام سے بالکل مطابق ہونا اور اس کی تعلیم انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بالکل ہمرنگ ہونا اور پھر مسلمانوں کے محلہ میں اس کا مدفون ہونا اور پھر انیس سو سال تک اس کے مزار کی مدّت بیان کئے جانا اور پھر اس زمانہ میں ایک انگریز کے ذریعہ سے تبّتی انجیل برآمد ہونا اور اس انجیل سے صریح طو رپر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت ہونا یہ تمام ایسے امور ہیں کہ ان کو یکجائی طور پر دیکھنے سے ضرور یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور اسی جگہ فوت ہوئے اور اس کے سوا اَور بھی بہت سے دلائل ہیں کہ ہم انشاء اﷲ ایک مستقل رسالہ میں لکھیں گے۔ من المشتھر
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 170
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 170
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/170/mode/1up
    حضرؔ ت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیزس یا یوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں یہ اُن کا مزار ہے اور بموجب شہادت کشمیر کے معمّر لوگوں کے عرصہ انیس سو برس کے قریب سے یہ مزار سری نگر محلہ خان یار میں ہے۔
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 171
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 171
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/171/mode/1up
    خاتمہؔ کتاب
    خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے مخالفوں کو ذلیل کرنے کے لئے اور اس راقم کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ جو سرینگر میں محلہ خان یار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے، وہ درحقیقت بلاشک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ مرہم عیسیٰ جس پر طب کی ہزار کتاب بلکہ اس سے زیادہ گواہی دے رہی ہے اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام نے صلیب سے نجات پائی تھی وہ ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ اس مرہم کی تفصیل میں کھلی کھلی عبارتوں میں طبیبوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ مرہم ضربہ سقطہ اور ہر قسم کے زخم کے لئے بنائی جاتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار ہوئی تھی یعنی اُن زخموں کے لئے جو آپ کے ہاتھوں اور پَیروں پر تھے۔‘‘ اس مرہم کے ثبوت میں میرے پاس بعض وہ طبّی کتابیں بھی ہیں جو قریباً سات سو برس کی قلمی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ طبیب صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ عیسائی، یہودی اور مجوسی بھی ہیں جن کی کتابیں اب تک موجود ہیں۔ قیصر روم کے کتب خانہ میں بھی رومی زبان میں ایک قرابا دین تھی اور واقعہ صلیب سے دو سو برس گذرنے سے پہلے ہی اکثر کتابیں دنیا میں شائع ہو چکی تھیں۔ پس بنیاد اس مسئلہ کی کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اوّل خود انجیلوں سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور پھر مرہم عیسیٰ نے علمی تحقیقات کے رنگ میں اس ثبوت کو دکھلایا۔ پھر بعد اس کے وہ انجیل جو حال میں تبّت سے دستیاب ہوئی اُس نے صاف گواہی دی کہ حضرت عیسیٰ ؑ ضرور ہندوستان کے ملک میں آئے ہیں۔ اس کے بعد اور بہت سی کتابوں سے اس واقعہ کا پتہ لگا۔ اور تاریخ کشمیر اعظمی جو قریبًا دو سو برس کی تصنیف ہے، اس کے صفحہ ۸۲ میں لکھا ہے کہ ’’سیّد نصیر الدین کے مزار کے پاس جو دوسری قبر ہے عام خیال ہے کہ یہ ایک پیغمبر کی قبر ہے۔‘‘ اور پھر یہی مؤرّخ اسی صفحہ میں لکھتا ہے کہ ’’ایک شہزادہ کشمیر میں کسی اور ملک سے آیا تھا اور زہد اور تقویٰ اور ریاضت اور عبادت میں وہ کامل درجہ پر تھا وہی خدا کی طرف سے نبی ہوا اور کشمیر میں آ کر کشمیریوں کی دعوت میں مشغول ہوا جس کا نام یوز آسف ہے اور اکثر صاحب کشف خصوصاً ملّاعنایت اﷲ جو راقم کا مرشد ہے۔ فرما گئے ہیں کہ اس قبر سے برکاتِ نبوت ظاہر ہو رہے ہیں۔‘‘ یہ عبارت تاریخ اعظمی کی فارسی میں ہے جس کا ترجمہ کیا گیا۔ اور محمڈن اینگلو اورنٹیل کالج میگزین ستمبر ۱۸۹۶ء اور اکتوبر ۱۸۹۶ء میں بہ تقریب ریویو کتاب شہزادہ یوز آسف جو مرزا صفدر علی صاحب، سرجن فوج سرکار نظام نے لکھی ہے تحریر کیا ہے کہ ’’یوز آسف کے مشہور قصہ میں جو ایشیا اور یورپ میں شہرہ آفاق ہو چکا ہے، پادریوں نے کچھ رنگ آمیزی کر دی ہے، یعنی یوز آسف کے سوانح میں جو حضرت مسیح کی تعلیم اور اخلاق سے بہت مشابہ ہے شاید یہ تحریریں پادریوں نے اپنی طرف سے زیادہ کر دی ہیں۔‘‘ لیکن یہ خیال سراسر سادہ لوحی کی بنا پر ہے بلکہ پادریوں کو اُسوقت یوز آسف کے سوانح ملے ہیں جبکہ اس سے پہلے تمام ہندوستان اور کشمیر میں مشہور ہو چکے تھے اور اس ملک کی پُرانی کتابوں میں اُن کا ذکر ہے اور اب تک وہ کتابیں موجود ہیں پھر پادریوں کو تحریف کے لئے کیا گنجائش تھی۔ ہاں پادریوں کا یہ خیال کہ شاید حضرت مسیح کے حواری اس ملک میں آئے ہوں گے اور یہ تحریریں یوز آسف کے سوانح میں اُن کی ہیں یہ سراسر غلط خیال ہے بلکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یوز آسف حضرت یسوع کا نام ہے جس میں زبان کے پھیر کی وجہ سے کسی قدر 3 ہو گیا ہے۔ اب بھی بعض کشمیری بجائے یوز آسف کے عیسیٰ صاحب ہی کہتے ہیں۔ جیسا کہ لکھا گیا۔
    والسّلام علٰی من اتّبع الہدیٰ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 172
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 172
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/172/mode/1up
    حاشیہؔ متعلقہ صفحہ اوّل اشتہار
    مؤرخہ ۳۰ ؍ نومبر ۱۸۹۸ء
    فوری ذلّت
    ذلتِ صادق مجو اے بے تمیز
    زیں رہے ہرگز نخواہی شد عزیز
    شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی بار بار یہی کہتے لرہے کہ ہم صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے مباہلہ چاہتے ہیں اور مذہب اسلام میں مباہلہ مسنون بھی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی درخواست ہے کہ ’’اگر ہم کاذب ٹھہریں تو فوری عذاب ہم پر نازل ہو۔‘‘ ا س کے جواب میں مَیں نے اشتہار ۲۱ ؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء میں مفصل لکھ دیا ہے کہ مباہلہ میں فوراً عذاب نازل ہونا بالکل خلاف سنت ہے۔ احادیث میں اب تک لَمّاحَال الحَول کا لفظ موجود ہے جس میں پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نجران کے نصاریٰ نے ڈر کر مباہلہ کو ترک کیا اور اگر وہ مجھ سے مباہلہ کرتے تو ابھی ایک سال گذرنے نہ پاتا کہ وہ ہلاک کئے جاتے ، سو اس حدیث سے مباہلہ کے لئے ایک سال تک کی شرط جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلی ہے اور مسلمانوں کے لئے قیامت تک یہی طریق مسنون ہے کہ حدیث کے لفظ کی رعایت کرکے مباہلہ کی مدت کو ایک سال سے کم نہیں کرنا چاہئیے بلکہ مردانِ خدا اور عارفانِ حق جو زمین پر حجّۃ اﷲ ہیں وہ ہمیشہ کے لئے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے وارث ہو کر اس معجزہ کے بھی وارث ہیں کہ اگر کوئی عیسائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا جانتاہے *یا کوئی اور مشرک جو کسی اور انسان کو خدا خیال کرتا ہے اُن سے اس امر میں مباہلہ کرے تو خدا تعالیٰ اس مدت میں یا کسی اور مدت میں جو الہامی تصریح سے ملہم کو معلوم ہو شخص مقابل کو اپنے غلبہ اور حق کی شہادت کے لئے کوئی آسمانی نشان دکھائے گا۔ اور یہ اسلام کی سچائی کے لئے ہمیشہ کے نشان ہیں جن کا مقابلہ کوئی قوم نہیں کر سکتی۔ غرض ایک برس کی میعاد جو وعید کی پیشگوئیوں میں ایک اَقَل مدت ہے ، نصوص صریحہ سے ثابت ہے اور یہ ضِد جو فوری عذاب چاہے وہی کرے گا جس کو علمِ حدیث سے سخت ناواقفی ہے۔ ایسا شخص مولویّت کی شان کو داغ لگاتا ہے۔ مَیں نے تو بٹالوی صاحب کے سمجھانے کے لئے یہ بھی لکھ دیا تھا کہؔ مباہلہ
    * انجیل سے ثابت ہے کہ نشان دکھلانے کی برکت حضرت مسیح کے زمانہ میں عیسائی مذہب میں پائی جاتی تھی بلکہ نشان دکھلانا سچے عیسائی کی نشانی تھی لیکن جب سے کہ عیسائیوں نے انسان کو خدا بنایا اور سچے رسول کی تکذیب کی تب سے یہ تمام برکتیں اُن میں سے جاتی رہیں۔ اور دوسرے مُردہ مذہبوں کی طرح یہ مذہب بھی مُردہ ہو گیا۔ اِسی وجہ سے ہمارے مقابلہ پر کوئی عیسائی آسمانی نشان دکھلانے کے لئے کھڑا نہیں ہو سکتا۔منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 173
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 173
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/173/mode/1up
    میں صرف ایک طرف سے بددعا نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرف سے بددعا ہوتی ہے۔ پس اگر ایک فریق مومن اورمسلمان کہلاتا ہے اور دوسرے فریق کو کافر اور دجّال اور بے دین اور *** اور مرتد کہہ کر اسلام سے خارج کرتا ہے جیسا کہ میاں محمد حسین بٹالوی ہے تو اس کو کس نے منع کیا ہے کہ وہ فوری عذاب کے لئے بددعا کرے۔ مگر ملہم اُس کی مرضی کا تابع نہیں ہو سکتا۔ ملہم تو خدا تعالیٰ کے الہام کی تابع داری کرے گا لیکن ۲۱ ؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء کا ہمارا اشتہار جو مباہلہ کے رنگ میں شیخ محمد حسین اور اُس کے دو ہمراز رفیقوں کے مقابل پر نکلا ہے وہ صرف ایک دعا ہے جس کا صرف مطلب یہ ہے کہ جھوٹے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلّت پہنچے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جھوٹا مارا جائے یا کسی کوٹھے سے گِرے۔ چونکہ محمد حسین اور زٹلی اور تبتی نے افتراؤں اور لعنتوں اور گالیوں سے صرف میری ذلّت چاہی ہے اس لئے میں نے خدا تعالیٰ سے یہی چاہا کہ اگر درحقیقت میں ذلّت کے لائق اور کاذب اور دجّال اور *** ہوں جیسا کہ محمد حسین نے اس قسم کی گالیوں سے اپنے رسالے بھر دےئے ہیں اور بار بار میرا دل دکھایا ہے تو اور بھی ذلیل کیا جاؤں اور شیخ محمد حسین کو خد اتعالیٰ کی طرف سے عزّت ملے اور بڑے بڑے مراتب پاوے لیکن اگرمَیں کاذب اور دجال اور *** نہیں ہوں تو جنابِ احدیت میں میری فریاد ہے کہ میرے ذلیل کرنے والے محمد حسین اور زٹلی اور تبتی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلّت پہنچے۔ غرض مَیں خدا تعالیٰ سے ظالم اور کاذب کی ذلّت چاہتا ہوں۔ ہم دونوں میں سے کوئی ہو، اور اس پر آمین کرتا ہوں۔ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ ان دونوں فریق میں سے جو فریق درحقیقت خد اتعالیٰ کی نظر میں ظالم اور کاذب ہے، اس کو خدا ذلیل کرے گا اور یہ واقعہ پندرہ جنوری ۱۹۰۰ ؁ء تک پورا ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اُس کی نظر میں کون ظالم اور کاذب ہے۔
    اگر اس عرصے میں میری ذلّت ظاہر ہو گئی تو بلاشبہ میرا کاذب اور ظالم اور دجّال ہونا ثابت ہو جائے گا اور اس طرح پر قوم کا روز کا جھگڑا مٹ جائے گا۔ اور اگر شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تبتی پر آسمان سے کوئی ذلّت آئے تو وہ اس بات پر دلیل قاطعہ ہو گی کہ انہوں نے گالیاں دینے اور دجال اور *** اور کذّاب کہنے میں میرے پر ظلم کیا ہے لیکن شیخ محمد حسین نے میرے عربی الہام پر اعتراض کرکے جو اشتہار ۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ ؁ء میں ہے یعنی جو فقرہ اَتَعْجَبُ لِامرِی ہے اپنے لئے ذلّت کا دروازہ آپ کھولا ہے گویا اپنے ہاتھوں سے فوری ذلّت کی خواہش کو پورا کیا ہے بلکہ فوری ذلّت تو ۱۵؍ دسمبر ۱۸۹۸ ؁ء سے ؔ پوری ہونی چاہئیے تھی اور انہوں نے اِس سے پہلے ہی ایک قابلِ شرم ذلّت اُٹھائی ہے جس کو فوری نہیں بلکہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 174
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 174
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/174/mode/1up
    پیشگی ذلّت کہنا چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ شیخ مذکور نے الہام موصوف کو دیکھ کر ایک موقعہ میں شیخ غلام مصطفی صاحب کے آگے جواسی شہر کے باشندے ہیں میرے اس اشتہار کو دیکھ کر یہ اعتراض کیا کہ الہام مندرجہ اشتہار میں جو یہ فقرہ ہے کہ اَتَعْجَبُ لاَِمرِی اِس میں نحوی غلطی ہے اور خدا کا کلام غلط نہیں ہو سکتا بلکہ اَتَعْجَبُ مِن اَمْرِی چاہئیے یہ وہ اعتراض ہے جس سے بلاتوقف شیخ کو ذلّت نصیب ہوئی کیونکہ عرب کے نامی شاعروں بلکہ جاہلیت کے جلیل الشان شعراء کے کلام سے ہم نے ثابت کر دیا ہے کہعجب کاصلہ لام بھی ہوا کرتا ہے۔اب بدیہی طور پر ظاہر ہے کہ شیخ صاحب موصوف نے یہ غلط اعتراض کرکے جو اُن کے کمال درجہ کی بے خبری اور جہالت پر دلالت کرتا ہے اہل علم کے سامنے اپنی نہایت درجہ کی پردہ دری اپنے ہاتھوں سے کرائی ہے اور ہر ایک دشمن اور دوست پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف نام کے مولوی اور علومِ عربیہ سے بے بہرہ ہیں اور ایسے شخص کے لئے جو مولوی کہلاتا ہے اس سے بڑھ کر اورکوئی ذلّت نہیں جو وہ درحقیقت مولویت کی صفات سے بے نصیب ہے۔ افسوس اس شخص کو اب تک خبر نہیں کہ اس فعل کا صلہ یعنی عجبکا کبھی مِنْ کے لفظ سے آتا ہے اور کبھی لام سے۔ ایک بچہ جس نے ہدایۃ النحو تک پڑھا ہو وہ بھی جانتا ہے کہ نحویوں نے لام کا صلہ بھی بیان کیا ہے جیسا کہ مِن کا بیان کیا ہے۔ چنانچہ اس صلہ کی شہادت میں جو شعر پیش کئے گئے ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے
    عجبت لمولود لیس لہ اب ومن ذی ولد لیس لہ ابوان
    شاعر نے اس شعر میں دونوں صلوں کا ذکر کر دیا ہے لام کا بھی اور مِن کا بھی۔ اور دیوان حماسہ کے صفحہ ۱۹ اور ۳۹۰ و ۴۱۱ و ۴۷۵ و ۵۱۱ میں جو سرکاری کالجوں میں داخل ہے جس کی فصاحت بلاغت مسلّم اورمقبول ہے جعفر بن عُلبہ اور دوسرے شاعروں کے پانچ شعر لکھے گئے ہیں جن میں اُن عرب کے نامی شاعروں نے عجب کا صلہ لام رکھا ہے۔ وہ یہ ہیں۔
    (۱) عجبتُ لمسراھا وانّی تخلَّصَت
    الیَّ و باب السجنِ دونی مُغْلق
    (۲) عجبت لسعی الدھر بینی وبینھا
    فلمّا انقضٰی مابیننا سکن الدھر
    (۳) عجبتُ لبُرئی منک یاعزّبعد ما
    عمرت زمانا منکِ غیر صحیح
    (۴) عجبت لعبدان ھجونی سفاہۃ
    ان اصطبحوا من شاۂم وتقیّلوا
    (۵) عجبًا لاحمد والعجائب جُمّۃ
    انّٰی یلوم علی الزمان تبذّلی
    اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ جو حدیث مشکوٰۃ کتاب الایمان صفحہ ۳ میں اسلام کے معنے کے بارے میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے مروی ہے جس کو متفق علیہ بیان کیا گیا ہے۔ ا س میں بھی عجب کے لفظ کا صلہ لام کے ساتھ آیا ہے اورؔ حدیث کے لفظ یہ ہیں عجبنا لہ یسئلہ و یُصَدِّقُہٗ۔ دیکھو اس جگہ عجبنا کا صلہ من نہیں لکھا بلکہ لام لکھا ہے اور عجبنا منہ نہیں کہا
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 175
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 175
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/175/mode/1up
    بلکہ عجبنا لہ کہا ہے۔ اب بٹالوی صاحب فرماویں کہ اہل علم کے نزدیک ایک مولوی کہلانے والے کی یہی ذلّت ہے یا اس کا کوئی او رنام ہے۔ اور یہ بھی فتویٰ دیں کہ اِس ذلّت کو فوری ذلّت کہنا چاہئیے یا کوئی اور نام رکھنا چاہئیے۔ شیخ کینہ ور نے اپنے جوش کینہ سے جلد تر اپنے تئیں اس شعر کا مصداق بنا لیا کہ
    مرا خواندی و خود بدام آمدی
    نظر پختہ ترکن کہ خام آمدی
    دیکھنا چاہئیے کہ میری ذلّت کی تلاش میں کیسی اپنی ذلّت ظاہر کر دی۔ جس شخص کو مشکوٰۃ شریف کی پہلی حدیث کی بھی خبر نہیں اور جو حدیث اسلام شناسی کا مدار ہے اس کے الفاظ بھی معلوم نہیں اور جو امر بخاری اور مسلم میں بتصریح مذکور ہے اس سے اب تک سفید ریش ہونے کی حالت میں بھی ایک ذرّہ اطلاع نہیں کیا ایک منصف انسان ایسے شخص کا نام مولوی رکھ سکتا ہے۔ پس جس شخص کی عربی دانی کا یہ حال ہے اور حدیث دانی کی یہ حقیقت کہ مشکوٰۃ کی پہلی حدیث کے الفاظ سے ہی ناآشنائی ہے اُس کا حال بے شک قابل رحم ہے اور اُس کی ذلّت پردہ پوشی کی کوششوں سے بالا تر ہے۔ اور اس کی یہ ذلّت بلاشبہ فوری ذلّت ہے جو نشان کے طور پر اس کی درخواست کے موافق ظاہر ہوئی۔ اُس نے اپنے مُنہ سے فوری ذِلّت مانگی خدا نے فوری ذلّت ہی دکھلائی۔
    ہم لکھ چکے ہیں کہ اس الہام کو کسی کی موت یا ٹانگ ٹوٹنے سے تعلق نہیں۔ یہ صرف کاذب کی ذلّت ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ سو قبل اس کے جو خدا تعالیٰ کا کوئی اور بھاری نشان ذلّت ظاہر کرنے کے لئے ہو یہ ذلّت بھی کاذب کے لئے خدا کے ہاتھ کا ایک تازیانہ ہے اور الہام اَتَعْجَبُ لاَِمرِی میں درحقیقت یہ ایک نکتہ پوشیدہ تھا کہ یہ الہام محمد حسین کے لئے ایک پوشیدہ پیشگوئی تھی جس میں اشارہ کے طو رپر یہ بیان تھا کہ محمدحسین فقرہ اتعجب لامری پر اعتراض کرے گا اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے محمد حسین کیا تو لامری کے لفظ پر تعجب کرتا ہے اور میرے اس الہام کو غلط ٹھہراتا ہے اور اس کا صلہ من بتلاتا ہے۔ دیکھ مَیں تیرے پر ثابت کروں گا کہ مَیں عشاق کے ساتھ ہوں اور تیری ذلّت ظاہر کروں گا۔ سو وہی ذلّت ظاہر ہوئی۔ اور اس پر حصر نہیں ہے۔ کیونکہ محمدحسین اور اس کے دوست اِس ذلّت کو حلوہ کی طرح ہضم کر جائیں گے یا شیرِ مادر کی طرح پی جائیں گے اس لئے وہ ذلّت جو کاذب اور ظالم کے لئے آسمان پر طیار ہے وہ اس سے بڑھ کر ہے۔ خدا نے مجھے الہام دیا ہے کہ جَزَآءُ سَیّءَۃٍ بِمِثْلِھَا پس اگر میں ناحق ذلیل کیا گیا ہوں تو خدا کے اُس ذلت دینے والے نشان کا اُمیدوار ہوں جو جھوٹے اور ظالم اور مفتری اور دجّال کے ذلیل کرنے کے بارے میں ہے۔ اور اگرمَیں ہی ایسا ہوں تو مَیں ذلیل ہونگا ورنہ ان دو فریق میں سے جو ظالم اور کاذب ہو گا وہ اس ذلّت کا مزہ چکھے گا۔ علاوہ اس علمی پردہ دری کے محمد حسین اور اس کے گروہ کو ایک اَور بھی فوری ذلّت پیش آئی ہے کہ واقعاتِ صحیحہ یقینیہ سے بپایہ ثبوت پہنچ گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے اور نہ آسمان پر چڑھے بلکہ یہود کے قتل کے ارادہ سے مخلصیپا کر ہندوستان میں آئے اور آخر ایک سو۱۲۰ بیس کی عمر میں سری نگر کشمیر میں فوت ہوئے۔ پس محمد حسین وغیرہ کے لئے یہ ماتم سخت اور ذلّت سخت ہے۔ منہ
    Ruhani Khazain Volume 14. Page: 176
    روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۴- رازِ حقیقت: صفحہ 176
    http://www.alislam.org/library/brow...n_Computerised/?l=Urdu&p=14#page/176/mode/1up
     
    Last edited: ‏جنوری 22, 2018

اس صفحے کو مشتہر کریں